تاریخ اسلام( دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظم ۖ تک )
گروہ بندی متن تاریخ
مصنف مہدی پیشوائی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


تاریخ اسلام

دور جاہلیت سے وفات مرسل اعظمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تک

مہدی پیشوائی

مترجم : کلب عابد خان سلطانپوری

مجمع جہانی اہل البیت


حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔


اگرچہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشت پناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔


ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، اہل تشیع کے جلیل القدر عالم دین آقائے پیشوائی کی گرانقدر کتاب ''تاریخ اسلام '' فاضل جلیل عالیجناب مولانا کلب عابد خان سلطانپوری ہندی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں، اس منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام


عرض مترجم

عرصۂ داراز سے یہ خواہش تھی کہ ایک ایسی تاریخی کتاب کا ترجمہ کروں جو کسی حد تک کامل، معتبر، مستند اور مدلل ہو۔ جس میں واقعات کے تمام جزئیات کے حوالے درج ہوں۔ اور واقعات کا تجزیہ او ران کی تحلیل نیز شبہات و اعتراضات کے مدلل جوابات دیئے گئے ہوں۔ چنانچہ اس سلسلہ میں کافی جستجو اور تحقیق کے بعد، مؤلف محترم جناب مہدی پیشوائی صاحب کی کتاب ''تاریخ اسلام'' میری نظروں سے گزری، کتاب کے مطالعہ کے بعد اندازہ ہوا کہ مجھے ایسی ہی کتاب کی تلاش تھی چنانچہ ابھی اسی فکر میں تھا کہ مجمع جہانی اہل البیت ٪ کی جانب سے اس کتاب کے ترجمہ کا کام میرے سپرد کیا گیا تو میں نے بخوشی قبول کرلیا مضامین و مقالات وغیرہ لکھنے کا شوق پہلے ہی سے تھا اور حقیر کے متعدد مضامین ادارۂ تنظیم المکاتب کے ماہانہ رسالہ میں شائع ہوچکے ہیں لیکن ترجمہ کے میدان میں یہ میری پہلی کاوش ہے۔ترجمہ کیسا ہے یہ فیصلہ قارئین کے حوالہ ہے البتہ اتنا بہرحال طے ہے کہ ایک زبان کے جملہ مطالب کسی دوسری زبان میں منتقل کرنا کتنا مشکل ہے اس کا اندازہ وہی حضرات لگاسکتے ہیں جنھوں نے اس میدان میں قدم رکھا ہے۔ میری کوشش یہی تھی کہ کتاب کے جملہ مطالب ہمارے اردو زبان معاشرہ تک پہنچ جائیں اگر چہ بشریت کے ناطے ہر قسم کے کمال کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔

امید ہے کہ میری یہ کوشش بارگاہ الٰہی میں شرف قبولیت حاصل کرے گی نیز حقیر اور اس کے تمام بزرگوں کے لئے ذخیرۂ آخرت قرار پائے گی۔

والسلام

احقر العباد:کلب عابد خان


مقدمۂ مولف

تمام تعریفیں اس ذات پروردگار کے لئے ہیں جس نے ہمیں اس کتاب کی نگارش کی توفیق عطا کی اور درود و سلام ہو عظیم الشان رسول، حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور اس کے برحق معصوم جانشینوں اور اصحاب پاک پر۔

قارئین کرام کی خدمت میں جو کتاب پیش کی جا رہی ہے یہ دس سال سے زیادہ عرصہ تک ملک کی اعلیٰ علمی درس گاہوں اور دوسرے تعلیمی اداروں میں نوٹس کی صورت میں تدریس کی جاچکی ہے۔ یہ کتاب، دقیق مطالعہ اور کلاس میں کئے گئے طرح طرح کے تاریخی سوالات کے جوابات میں، تاریخ اسلام سے برسوں کی واقفیت اور انسیت کے بعد تدوین و تالیف ہوئی ہے۔

اس کتاب کی تدوین و تالیف میں کچھ نکات کا لحاظ کیا گیا ہے جس کی طرف قارئین کرام، مخصوصاً طالب علموں اور اساتذہ کرام کی توجہ مبذول کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

١۔ کتاب کے پہلے حصہ کی فصلوں میں ظہور اسلام سے قبل، جزیرة العرب کے حالات کو بطور مفصل بیان کیا گیاہے اس لئے کہ اس دور کے حالات سے مکمل واقفیت کے بغیر اسلامی تاریخ کے بے شمار واقعات کا صحیح ادراک کرنا اور ان کا تحلیل و تجزیہ کرنا ناممکن ہے۔

اسلامی تاریخ میں بہت سے واقعات کا تعلق زمانۂ جاہلیت سے ہے لہٰذا ظہور اسلام کے بعد جزیرة العرب کے حالات کو سمجھنے کے لئے ظہور اسلام سے پہلے کے حالات سے واقفیت ضروری ہے۔ اسی بنا پر ان واقعات کے صحیح ادراک اور ان کے ایک دوسرے سے مربوط ہونے اور ظہور اسلام کے بعد اس علاقہ میں آنے والی بنیادی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لئے اس باب کے مباحث کوکچھ تفصیل سے پیش کیا گیا ہے، اس کے برخلاف بعد کے ابواب میں ہماری سعی و کوشش رہی ہے کہ حتی الامکان اختصار سے کام لیا جائے۔


٢۔ زیادہ تر حوالے حاشیہ پر، اس لئے ذکر کردیئے گئے ہیں تاکہ اگر قاری محترم واقعات کی تفصیلات کو معلوم کرنا چاہے تو اس سے کم از کم بعض حوالہ جات کی طرف رسائی حاصل کرسکے اس کے علاوہ یہ کوشش بھی کی گئی ہے کہ واقعات کی شہرت یا اس کا تواتر ثابت ہو جائے۔

٣۔ عام طور سے تاریخی واقعات کی تفصیلات اور اس کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرنے کے بعد آخر میں اس کے حوالے ذکر کئے جاتے ہیں جب کہ اصل میں وہ حوالے ان تمام تفصیلات اور جزئیات کے نہیں ہوتے ۔ ان حوالوں کو دیکھ کر قاری خیال کرتا ہے کہ اس کے زیر مطالعہ بحث کی تفصیلات تمام کتابوں میں موجود ہیں۔ جبکہ یہ طریقہ زیادہ دقیق اور درست نہیں ہے خاص طور سے اگر بعض تفصیلات بہت زیادہ اہم یا محل اختلاف ہوں۔

اس کتاب میں عام روش کے برخلاف ہر واقعہ کی تمام تفصیلات اور پہلوؤں کو بالکل الگ کر کے بیان کیا گیاہے۔ مثال کے طور پر جنگوں کی تفصیلات جیسے وقوع جنگ کا سبب، اس کی تاریخ، دونوں طرف کے سپاہیوں کی تعداد، جنگ کا طریقہ، طرفین کو پہنچنے والے نقصانات، مال غنیمت کی تقسیم کا طریقہ اور جنگ کے آثار و نتائج وغیرہ ، جدا طریقہ سے ذکر ہوئے ہیں ان جزئیات کا مطالعہ کرنے سے قاری متوجہ ہو جاتا ہے کہ واقعات کا کون سا حصہ کس کتاب میں بیان ہوا ہے اور ضرورت کے وقت آسانی سے اس کتاب کی طرف رجوع کرسکتا ہے۔ مولف کے عقیدہ کے مطابق اس روش کے اپنانے میں (کئی اہم اور لطیف فائدے ہیں) بہت زیادہ دقت اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں مؤلف کو زیادہ زحمت اٹھانا پڑتی ہے۔

٤۔ قرآنی شواہد اور حدیثی تائیدات پوری کتاب میں ذکر ہوئی ہیں البتہ ضرورت کے تحت (قرآن کریم کی آیات، روایات اور تاریخی متون کے خاص حصوں کو عربی متن کے طور پر حاشیہ پر تحریر کردیا گیا ہے اور اس کا ترجمہ اصل کتاب میں نقل کردیا گیا ہے تاکہ کتاب کے متن میں یکسانیت اور روانی باقی رہے اور جو حضرات عربی داں نہیں ہیں ان کے لئے ملال آور نہ ہو۔


٥۔ ضروری مقامات پر بحث کی مناسبت سے تجزیہ اور تحلیل کر کے شبہات کا واضح جواب دیا گیا ہے جبکہ بعض مقامات پر تفصیلی تجزیہ سے پرہیز کرتے ہوئے بہت سے موضوعات (جیسے جنگ فجار میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شرکت اور آپ کے سینہ کا شگافتہ کرنا اور عبد المطلب کے نذر کی بحث) کو اس لئے نظر انداز کیا گیا ہے کہ کتاب کی تدریس صرف ٣٤ درسوں کی صورت میں ہونا طے پائی ہے لہٰذا اس کے لئے اس سے زیادہ ضخیم ہونا مناسب نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بعض مطالب تخصصی اور مہارتی پہلو رکھتے ہیں اور ان کے ذکر کا اپنا محل ہے۔ لہٰذا اصل موضوع کی طرف مختصر سے اشارہ کے بعد اس طرح کی بحثوں کے حوالے حاشیہ پر بیان کردیئے گئے ہیں تاکہ اس موضوع میں دلچسپی لینے والے حضرات ان کی طرف رجوع کرسکیں۔

٦۔ دوسرے درجے کے مطالب، اقوال کے اختلاف کی جگہیں، غیر ضروری گوشے اور تکمیلی و اضافی تفصیلات وغیرہ عام طور سے حاشیہ پر بیان کی گئیں ہیں ۔ بہر حال کتاب کو دقیق، مستحکم اور مفید بنانے کے لئے، مطالب کے نقل میں دقت، ترجموں کی صحت، تجزیہ و تحلیل کی درستگی اور پھر ان کی نتیجہ گیری میں ہر ممکن کوشش اور زحمتیں اٹھائی گئیں ہیں ۔ لیکن پھر بھی کتاب، نقص ا و راصلاح و تکمیل سے بے نیاز نہیں ہے۔ لہٰذا اساتذہ کرام اور طلاب محترم اور صاحبان نظر کی تنقید اور مشورے کتاب کی اصلاح اور تکمیل کی راہ میں مفید ثابت ہوں گے۔

خلوص اور وفاداری کا تقاضہ ہے کہ اپنے دیرینہ دوست، نامور خطیب، مایہ ناز قلم کار حجة الاسلام و المسلمین الحاج غلام رضا گل سرخی کاشانی مرحوم کا بھی تذکرہ کروں جن کے تعاون اور مدد سے اس کتاب کی تدوین کا ابتدائی کام انجام پایاہے۔ لہٰذا اپنے اس مرحوم دوست کے لئے خداوند عالم کی بارگاہ میں رحمت اور بلندی درجات کا خواہاں ہوں۔ اور اسی طرح سے حجج اسلام الحاج شیخ علی اکبر ناصح اور فرج اللہ فرج الٰہی کا بھی شکر گزار ہوں کہ ان حضرات نے کتاب کی تصحیح، ٹائپ اور مقدماتی مباحث کی تدوین اور تالیف میں ہمارا ہر طرح سے تعاون کیا۔

آخر میں درسی کتابوں کی تدوین اور تاریخ اسلام کے شعبہ کے سرپرست نیز اراک کی آزاد اسلامی یونیورسٹی کا بھی شکر گزار ہوں۔

والسلام

قم۔ مہدی پیشوائی

محرم الحرام ١٤٢٤ ہجری قمری


پہلا حصہ

مقدماتی بحثیں

پہلی فصل : جزیرة العرب کی جغرافیائی، سماجی اور ثقافتی صورتحال

دوسری فصل: عربوں کے صفات اور نفسیات

تیسری فصل: جزیرہ نمائے عرب اور اس کے اطراف کے ادیان و مذاہب


پہلی فصل

جزیرة العرب کی جغرافیائی، سماجی اور ثقافتی صورتحال

جزیرہ نمائے عرب جس کو ''جزیرة العرب'' بھی کہتے ہیں یہ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ نما ہے جو مغربی ایشیا کے جنوب میں واقع ہے۔

یہ جزیرہ مغربی شمال سے مشرقی جنوب تک ''غیر متوازی چوکور'' شکل میں ہے.(١) اور اس کی مساحت تقریباً بتیس (٣٢) لاکھ مربع کلو میٹر ہے.(٢) اس جزیرہ نما کے تقریباً ٤٥ حصے میں اس وقت سعودی عرب واقع ہے.(٣) اور اس کا بقیہ حصہ دنیا کی موجودہ سیاسی تقسیم بندی کے اعتبار سے چھ ملکوں یعنی یمن، عمان، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور کویت میں بٹا ہوا ہے۔

اس جزیرہ نما کی سرحد، جنوب کی سمت سے خلیج عدن، تنگۂ باب المندب، بحر ہند اور بحر عمان میں محدود ہے اور مغرب کی سمت میں یہ بحر احمر اور مشرق کی طرف خلیج عمان، خلیج فارس اور عراق تک پھیلا ہوا ہے اور شمال کی جانب سے ایک وسیع صحرا جو کہ درّۂ فرات سے سر زمین شام تک ہے اس جزیرہ کو گھیرے

______________________

(١)حسین قراچانلو، حرمین شریفین (تہران: انتشارات امیر کبیر، ط ١، ١٣٦٢)، ص ٩.

(٢) یورپ کی ایک تہائی مساحت، فرانس کی چھ گنا مشرقی اور مغربی جرمنی کی نو برابر، دس برابر اٹلی ملک کی، ٨٠ گنا سویزرلینڈ اور ایران کی مساحت کے دوگنی مساحت ہے۔

(٣) مؤسسۂ گیتا شناسی، گیتا شناسی کشورھا (تہران: انتشارات گیتا شناسی، ط ٤، ١٣٦٥)، ص ٢٠٥.


ہوئے ہے۔ اور چونکہ اس علاقہ کی، دریا اور پہاڑ وغیرہ جیسی کوئی قدرتی سرحد نہیں ہے لہٰذا جغرافیہ دان قدیم زمانے سے ہی سعودی عرب کی شمالی سرحدوں کے بارے میں اختلاف نظر رکھتے ہیں۔(١)

اگرچہ جزیرہ نمائے عرب خلیج فارس، بحر عمان، بحر احمر اور بحر مڈی ٹرانہ سے گھرا ہوا ہے لیکن صرف جنوبی حصہ کے علاوہ اس پانی سے کوئی فائدہ نہیں ہے اور یہ علاقہ دنیا کے بہت زیادہ خشک اور گرم علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہاں ایک ایسا بڑا دریا بھی موجود نہیں ہے جس میں بحری جہاز کا راستہ ہو بلکہ اس کے بجائے وہاں ایسی گھاٹیاں موجود ہیں جن میں کبھی کبھار سیلاب آجاتا ہے۔

اس علاقہ میں خشکی کی وجہ، اس جزیرہ میں پھیلے ہوئے ایسے پہاڑ ہیں جو ایک بلند دیوار کے مانند جزیرۂ سینا سے شروع ہوتے ہیں اور مغرب کی سمت میں بحر احمر کے ساتھ ساتھ پھیلے ہوئے ہیں اور جنوب کے مغربی گوشہ سے ٹیڑھے ترچھے (غیر مستقیم) انداز میں جنوبی اور مشرقی ساحل سے ، خلیج فارس تک ان کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس طرح سے سعودی عرب تین طرف سے اونچے پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے اور یہ پہاڑ سمندروں کی رطوبت کو اس علاقہ میں سرایت کرنے سے روک دیتے ہیں۔(٢)

دوسرے یہ کہ اس کے اطراف کے ملکوں میں پانی کا ذخیرہ اتنا کم ہے کہ افریقا اور ایشیا کی اس وسیع آراضی کی گرمی اور خشکی کو یہاں کی مختصر سی بارش متعادل موسم میں تبدیل نہیں کرسکتی۔ کیونکہ عرب میں ہمیشہ چلنے والی موسمی ہوائیں (جن کو سموم کہتے ہیں) بحر ہند کے جنوبی علاقہ سے اٹھتے ہوئے ابرباراں کو جزیرة العرب میں برسنے سے روک دیتی ہیں۔(٣)

______________________

(١) فیلیپ خلیل حتی، تاریخ عرب، ترجمہ: ابو القاسم پایندہ (تہران: انتشارات آگاہ، طبع دوم، ١٣٦٦ ش)، ص ٢١

(٢) علی اکبر فیاض ، تاریخ اسلام، (تہران: انتشارات تہران یونیورسٹی، ط ٣ ١٣٦٧)، ص٢؛ آلبرمالہ و ژول ایزاک، تاریخ قرون وسطی تا جنگ صد سالہ، ترجمہ: میرزا عبد الحسین ہژیر (تہران: دنیای کتاب، ١٣٦٢)، ص ٩٥.

(٣) فلیپ حتی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٤


جزیرة العرب کی تقسیم

عرب اور عجم کے جغرافیہ نویسوں نے جزیرة العرب کو کبھی موسم (آب و ہوا) کے لحاظ سے اور کبھی قوم یا نسل کی بنیاد پر تقسیم کیا ہے.(١) اور بعض معاصر دانشوروں نے اس کو مندرجہ ذیل تین بنیادی علاقوں میں تقسیم کیا ہے:

١۔ مرکزی حصہ جس کا نام ''صحرائے عرب'' ہے۔

٢۔ شمالی حصہ جس کا نام ''حجاز'' ہے۔

٣۔ جنوبی حصہ جو ''یمن'' کے نام سے مشہور ہے۔(٢)

_______________________

(١) مَقدِسی، چوتھی صدی کا مسلمان دانشور کہتا ہے کہ ملک عرب چار بڑے علاقوں ، حجاز، یمن ، عمان اورہجر پر مشتمل ہے۔ (احسن التقاسیم فی معرفة الاقالیم، ترجمہ علی نقی منزوی (تہران: گروہ مؤلفین و مترجمین، ایران، ط ١، ١٣٦١)، ص ١٠٢، لیکن دوسروں نے کہا ہے کہ وہ پانچ حصے یعنی تہامہ، حجاز، نجد، یمن اور عروض پر مشتمل ہے. (الفداء ،تقویم البلدان، ترجمہ: عبد المحمد آیتی (تہران: انتشارات بنیاد فرھنگ ایران، ١٣٤٩)، ص ١٠٩، یاقوت حموی، معجم البلدان، بہ تصحیح محمد امین الخانجی الکتبی (قاہرہ: مطبعة السعادة، ط ١، ١٣٢٤ھ. ق)، ص١٠١، اور ٢١٩؛ شکری آلوسی، بغدادی، بلوغ الارب فی معرفة احوال العرب، (قاہرہ: دار الکتب الحدیثہ، ط ٢،)، ج١، ص ١٨٧؛ جواد علی، المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام (بیروت: دار العلم ، للملایین، ط ١، ١٩٦٨)، ج١، ص ١٦٧۔

ان کے علاوہ دوسری تقسیمات بھی ذکر ہوئی ہیں جس کا ہمارے زمانے میں کوئی خاص فائدہ نہیں ہے ۔ رجوع کریں: گوستاولوبون، تمدن اسلام و عرب، ترجمہ: سید ہاشم حسینی (تہران: کتاب فروشی اسلامیہ)، ص ٣١

(٢) یحیی نوری، اسلام و عقائد و آراء بشری، (جاہلیت و اسلام) ، تہران: مطبوعاتی فراہانی ١٣٤٦)، ص٢٣٤۔ ٢٣١)


جزیرة العرب کی تقسیم، اس کے شمالی اور جنوبی (قدرتی) حالات کی بنا پر

موجودہ دور میں ایک دوسری بھی تقسیم رائج ہوئی ہے جو اس کتاب کے لئے زیادہ مناسب ہے۔ یہ تقسیم، زندگی کے ان حالات کی بنیاد پر ہے جو اس علاقہ کے انسانوں، حیوانوں اور مقامات پر اثر انداز تھے اور یہ شرائط وہاں کے باشندوں کی انفرادی اور اجتماعی خصوصیات اور تبدیلیوں میں جلوہ گر ہوئے جو ظہور اسلام تک باقی رہے کیونکہ جزیرة العرب دومخالف جغرافیائی حالات کا گہوارہ رہا ہے اور وہاں کے اجتماعی حالات کا دارو مدار پانی کے وجود پر ہے اور پانی کی موجودگی یا عدم موجودگی ہی وہاں کے اجتماعی حالات پر اثر انداز ہوتی ہے جس کی بنا پر اس کا جنوبی علاقہ یعنی ''یمن'' ،اس کے شمالی اور مرکزی علاقہ سے الگ ہو جاتا ہے۔

جنوبی جزیرة العرب (یمن) کے حالات

اگر ہم اس سرزمین کے نقشہ پر نگاہ ڈالیں تو جزیرة العرب کے مغربی جنوب کے آخر میں ایک علاقہ مثلث کی شکل میں نظر آتا ہے جس کے مشرقی ضلع میں بحر عرب کا ساحل اور مغربی ضلع میں بحر احمر کا ساحل ہے اور ظہران (جوکہ مغرب میں واقع ہے) سے وادی حضر موت (جوکہ مشرق میں واقع ہے) تک کھینچے جانے والے خط کو مثلث کا تیسرا ضلع قرار دیا جاسکتا ہے ان حدود میں جو علاقہ ہے اس کو قدیم زمانے سے ''یمن'' کہا جاتا ہے اس علاقہ میں پانی کی فراوانی اور مسلسل بارش کی وجہ سے کاشتکاری اچھی اور آبادی زیادہ رہی ہے۔ اس بنا پر یہ علاقہ شمالی یا مرکزی جزیرة العرب سے قابل قیاس نہیں ہے۔


جیسا کہ معلوم ہے کہ ایک بڑی آبادی کے لئے دائمی جائے سکونت کی ضرورت پڑتی ہے اور اسی وجہ سے قصبے اور شہر بنتے ہیں اور لوگ بڑی تعداد میں وہاں بستے ہیں اور ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں جس کے نتیجے میں کوئی نظام لازم ہوتا ہے لہٰذا اس کے لئے قانون بنایا جاتا ہے (اگرچہ وہ ابتدائی اور آسان ہی کیوں نہ ہو) اور یہ بات واضح ہے کہ قوانین کے ساتھ حکومت کا ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ ان دونوں میں تلازم پایا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس علاقہ میں حضرت مسیح کی ولادت سے صدیوں سال قبل حکومتیں قائم ہوئی ہیں اور ان کے ذریعہ تہذیب و ثقافت کو رواج ملا ہے.(١) ۔ جو حکومتیں اس علاقہ میں قائم ہوئی ہیں وہ یہ ہیں:

١) حکومت معین: یہ حکومت ١٤٠٠ سے ٨٥٠ سال قبل عیسوی تک برقرار رہی اور حکومت سبا کے تسلط پر ختم ہوگئی۔

٢)حکومت حضر موت: جو ١٠٢٠ عیسوی سے قبل شروع ہوئی اور ٦٥ عیسوی کے بعد تک باقی رہی اور حکومت سبا کے مسلط ہونے کے ساتھ ختم ہوگئی۔

٣)حکومت سبا: جو ٨٥٠ عیسوی سے لیکر ١١٥ عیسوی سال قبل مسیح تک برسر اقتدار رہی اور حمیری سبا وریدان کے برسر اقتدار آتے ہی بکھر گئی۔

٤)حکومت قتیان: جو ٨٦٥ سے لے کر ٥٤٠ سال قبل مسیح تک برسر اقتدار رہی اور حکومت سبا کے آتے ہی نابود ہوگئی۔

٥) حکومت سبا و ریدان: حضر موت اور اطراف یمن جن کے بادشاہوں کے سلسلہ کو ''تبع'' کہا گیا ہے اور ان کی حکومت سال عیسوی سے ١١٥ سال پہلے شروع ہوئی اور عیسوی کے بعد ٥٢٣ء تک برقرار رہی اور اس کی راجدھانی ''ظفار'' تھی۔(٢)

_______________________

(١) سید جعفر شہیدی، تاریخ تحلیلی اسلام (تہران: مرکز اشاعت یونیورسٹی، ط٦، ١٣٦٥)، ص ٣.

(٢) احمد حسین شرف الدین، الیمن عبر التاریخ (قاہرہ: مطبعة السنة المحمدیہ ، ط ٢، ١٣٨٤ھ.ق)، ص ٥٣.


جنوبی عرب کی درخشاں تہذیب

یمن کی پر رونق تہذیب مورخین کی نگاہ میں قابل تحسین واقع ہوئی ہے جیسا کہ ہَرُودَت (قبل مسیح پانچویں صدی میںیونان کا ایک بزرگ مورخ) دور سبا میں اس سرزمین کی تہذیب اور عالی شان محلوں اور ہیرے اور جواہرات سے مرصع دروازوں کا ذکر کر کے کہتا ہے کہ ان میں سونے چاندی کے ظروف اور قیمتی دھاتوں سے بنی ہوئی پلنگیں موجود تھیں۔(١) کچھ مورخین نے صنعاء کے عالی شان محل (غمدان) کا ذکر کیا ہے جو بیس منزلہ تھا جس میں سو عدد کمرے تھے اور کمروں کی دیواریں بیس ہاتھ لمبی اور ساری چھتیں آئینہ کاری اور شیشے سے مزین تھیں۔(٢)

ستر ابون (روم کا مشہور سیاح) نے بھی سن عیسوی سے ایک صدی قبل اس سرزمین کا دورہ کیا تو اس علاقہ کے تمدن کے بارے میں ھرودت کی طرح اپنے خیالات کا اظہار اس طرح سے کیا۔ مأرب ایک عجیب و غریب شہر ہے جس کی عمارتوں کی چھتیں عاج سے بنائی گئی ہیں اور ان کو ہیرے اورجواہرات سے مرصع تختیوں سے مزین کیا گیا ہے۔ اور وہاں ایسے خوبصورت ظروف دیکھنے کو ملے جن کو دیکھ کر انسان حیرت زدہ ہو جائے۔(٣)

اسلامی مورخین اور جغرافیہ دان جیسے مسعودی (وفات ٣٤٦ھ) اور ابن رُستہ (تیسری صدی ہجری کے دانشوروں سے ہیں)نے بھی اس علاقہ کے لوگوں کی ظہور اسلام سے قبل، پُر رونق اور خوشحال زندگی، عمارتوں اور آبادیوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔(٤)

_______________________

(١) گوستاولوبون، تمدن اسلام و عرب، ترجمہ: سید ہاشم حسینی (تہران: کتاب فروشی اسلامیہ)، ص ٩٢.

(٢) سید محمود شکری آلوسی بغدادی، بلوغ الارب فی معرفة احوال العرب (قاہرہ: دار الکتب الحدیثہ، ط٢)، ج١، ص ٢٠٤.

(٣) جرجی زیدان، تاریخ تمدن اسلام، ترجمہ: علی جواہر کلام (تہران: امیر کبیر، ١٣٣٣)، ج١، ص ١٣.

(٤) مسعودی، مروج الذہب و معادن الجوہر، تحقیق: محمد محیی الدین عبد الحمید (دار الرجاء للطبع و انشر)، ج٢، ص ٨٩؛ ابن رستہ، الاعلاق النفیسہ، ترجمہ و تعلیق: حسین قراچانلو (تہران: امیر کبیر، ط ١، ١٣٦٥)، ص ١٣٢.


انیسویں اور بیسویں صدی میں آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطالعے اور بحثوں اور مورخین کی تحقیقات سے اس علاقہ کی تاریخ واضح ہوئی اور ایسی نئی دستاویزات اور شواہد ملے جن سے اس سرزمین کے درخشاں اور قدیمی تمدن کا پتہ چلتاہے۔ عدن، صنعائ، مأرب اور حضر موت کے آثار قدیمہ اس بات کے گواہ ہیں کہ عرب کے جنوبی علاقہ یمن اور اس کے نواح میں بسنے والوں میں عظیم تمدن پایا جاتا تھا جو فینیقیہ اور بابل کے تمدن کے مقابلہ میں تھا۔ یمن کے قدیمی تمدن کا ایک مظہر مأرب کا سب سے بڑا بند تھا۔(١) یہ بند جو دقیق ریاضی محاسبات اور پیچیدہ نقشہ کے مطابق بنایا گیا تھا اس کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا نقشہ بنانے والا علم ہندسہ کا کس قدر ماہر تھا کہ اس سے اس علاقہ میں کس قدر کاشتکاری اور خوشحالی پیدا ہوئی۔(٢)

یمن کے لوگ کاشتکاری کے علاوہ، تجارت بھی کرتے تھے اور سبئیان مشرق و مغرب کی تجارت کا وسیلہ تھے کیوں کہ ملک یمن اس زمانہ میں چند متمدن ملکوں کے درمیان واقع تھا۔ ہندوستان کے تاجر اپنے تجارتی مال کو سمندر کے ذریعہ یمن اور حضر موت لایا کرتے تھے اور یمن کے تاجر اس کو حبشہ، مصر، فینیقیہ، فلسطین، مدین کے شہر، ادوم، عمالقہ اور مغربی ممالک لے جایا کرتے تھے۔ اور اہل مکہ بھی اپنے تجارتی مال کو خشکی کے راستے سے دنیا کے مختلف آباد علاقوں میں بھیجتے تھے(٣) ۔ ایک زمانہ تک مشرق و سطیٰ کی تجارت یمنیوں کے ہاتھ میں تھی(٤) بحر احمر کی راہوں میں مشکلات کی بنا پر سبئیوں نے خشکی کے

_______________________

(١) مأرب بند، یمن کے موجودہ دار الحکومت صنعاء کے مشرقی سمت میں ١٩٢کلو میٹر کے فاصلہ واقع پر ہے۔

(٢) اس بند کے نقشے اور اس کی تعمیری خصوصیات سے مزید آگاہی کے لئے رجوع کریں : فرہنگ قصص قرآن (ضمیمۂ قصص قرآن) صدر بلاغی، (تہران: امیر کبیر، ط ٣، ص ٨٢ اور ٨٨؛ احمد حسین شرفالدین، الیمن عبر التاریخ ، ص ١٣٢۔ ١٢٢۔

(٣) جرجی زیدان، تاریخ تمدن اسلام، ج١، ص ١١.

(٤) ویل ڈورانٹ، تاریخ تمدن، ترجمہ: احمد آرام و ھمکاران (تہران: سازمان انتشارات و آموزش انقلاب اسلامی، ط٢، ١٣٦٧)، ج١، ص ٣٤١.


راستے کو اختیار کیا اسی لئے وہ یمن سے شام تک کی مسافت کو جزیرة العرب کے مغربی ساحل سے طے کرتے تھے۔ یہ راستہ ''مکہ'' اور ''پترا'' سے گزر کر شمال کی جانب مصر، شام اور عراق کی طرف نکلتا ہے۔(١)

مأرب کے بند کی تباہی

یمنیوں میں برائیوں کا رواج اور اندرونی فتنوں اور فسادات کی بنا پر وہاں کا چمکتا ہوا خورشیدتمدن روز بروز غروب ہونے لگا تھا اور بند مأرب جو کہ مرمت کا محتاج تھا وہاں کے حکمراں اور باشندے اس کی مرمت نہیں کرسکے آخر کار ٹوٹنے کی وجہ سے سیلاب نے آس پاس کی آبادی اور کھیتی کو نابود کردیا اوراس کے اطراف میں پانی کی قلت کی بنا پر کاشتکاری ختم ہوگئی اور لوگ دوسری جگہ کوچ کرنے پر مجبور ہوگئے(٢) ۔ قرآن کریم کے دو سوروں میں قوم سبا کا نام آیا ہے۔

ایک ملکۂ سبا کے ذکر اور ان کے نام حضرت سلیمان کے خط کی مناسبت سے اس طرح تذکرہ ہے ''زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ (ہدہد) آیا اور کہا: میں ایسی چیز جانتا ہوں جس سے آپ باخبر نہیں ہیں میں سرزمین سبأ سے آپ کے لئے یقینی خبر لایاہوں میں نے ایک خاتون کو دیکھا جو وہاں حکومت کرتی ہے اور تمام چیزیں اس کے اختیار میں ہیں (خاص طور سے ) ایک بڑا تخت رکھتی ہے''۔(٣)

اور دوسری جگہ مأرب نامی بند کے ٹوٹنے سے سیلاب کی آمد اور برائیوں اور فحشاء کے رواج کے

_______________________

(١) فیلیپ حِتی، تاریخ عرب، ترجمہ: ابوالقاسم پایندہ (تہران: سازمان انتشارات آگاہ، ط٢، ١٣٦٦)، ص ٦٥۔ ٦٤؛ رجوع کریں: گوشتاولوبون، تمدن اسلام و عرب، ص ٩٤؛ احمد حسین شرف الدین، الیمن عبر التاریخ، ص ١٠٥؛ آلوسی، بلوغ الارب، ج١، ص ٢٠٣.

(٢) حسن ابراہیم، تاریخ سیاسی اسلام، ترجمہ: ابوالقاسم پایندہ (تہران: سازمان انتشارات جاویدان، ط ٥، ١٣٦٢)، ص ٣٢.

(٣) سورۂ نمل ،٢٧، آیت ٢٣۔ ٢٢.


نتیجے میں قوم کے انحطاط کی مناسبت سے یوں ذکر ہوا ہے ۔ ''اور قوم سبأ کے لئے ان کے وطن ہی میں ہماری نشانیاں تھیں کہ داہنے بائیں دونوں طرف باغات تھے۔ تم لوگ اپنے پروردگار کا دیا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو تمہارے لئے پاکیزہ شہر اور بخشنے والا پروردگار ہے۔ مگر ان لوگوں نے انحراف کیاتو ہم نے ان پر بڑے زوروں کا سیلاب بھیج دیا اور ان کے دونوں باغات کو ایسے دو باغات میں تبدیل کردیا جن کے پھل بے مزہ تھے اوران میں جھاؤ کے درخت اور کچھ بیریاں تھیں یہ ہم نے ان کی ناشکری کی سزا دی ہے اور ہم ناشکروں کے علاوہ کس کو سزا دیتے ہیں۔ اور جب ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں کچھ نمایاں بستیاں قرار دیں اور ان کے درمیان سفر کو معین کردیا کہ اب دن و رات جب چاہو سفر کرو محفوظ رہوگے۔ تو انھوں نے اس پر بھی یہ کہا کہ پروردگار ہمارے شہروں اور آبادیوں میں دوری پیدا کردے اور اس طرح اپنے نفس پر ظلم کیا تو ہم نے انھیں کہانی بنا کر چھوڑ دیا اور انھیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا کہ یقینا اس میں صبر و شکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں پائی جاتی ہیں۔(١)

حمزہ اصفہانی نے اس بند کی تباہی کو ظہور اسلام سے چار صدی قبل(٢) ، ابوریحان بیرونی نے تقریبا ٥صدی قبل(٣) اور یاقوت حموی نے حبشیوں کے تسلط کے زمانہ میں ذکر کیا ہے(٤) اور چونکہ حبشیوں کا تسلط چھٹی صدی کے وسط میں ہوا تھا لہٰذا بعض مورخین کا گمان ہے کہ اس بند

_______________________

(١) سورۂ سبا، ٣٤،آیت ١٩۔ ١٥

(٢) حمزہ اصفہانی، تاریخ پیامبران و شاھان( تاریخ ملوک الارض و الانبیائ)، ترجمہ: جعفر شعار (تہران: امیر کبیر، ط ٢، ١٣٦٧)، ص ١٢٠ اور ١٣٢۔

(٣) آثار الباقیہ، ترجمہ: ابکر دانا سرشت (تہران: امیر کبیر، ط ١ ، ١٣٦٣)، ص ١٨١۔

(٤) معجم البلدان، تصحیح محمد امین الخانجی الکتبی (قاہرہ: مطبعة السعادة، ط ١، ١٣٢٤ھ.ق)، ج٧، ص ٣٥٥.


کی تباہی ٥٤٢ سے ٥٧٠ عیسوی کے درمیان میں ہوئی ہے۔(١) بہرحال شاید اس بند کی تباہی تدریجی طور پر ہوئی ہے اور چند بار مرمت کے بعد آخر کار یہ منہدم ہوگیا۔

قرآن مجید میں قوم تُبّع(٢) اور ان کے انجام کار کا دو جگہ پر ذکر ہوا ہے۔

١۔ ''بھلا یہ لوگ زیادہ بہتر ہیں یا قوم تُبَّع اور ان سے پہلے والے افراد جنھیں ہم نے اس لئے تباہ کردیا کہ یہ سب مجرم تھے''(٣)

٢۔ان سے پہلے قوم نوح، اصحاب رس(٤) اور ثمود نے بھی تکذیب کی تھی۔ اور اسی طرح قوم عادوفرعون ، قوم لوط ،اصحاب ایکہ(٥) اورقوم تُبَّع نے بھی رسولوں کی تکذیب کی تو ہمارا وعدہ پورا ہوگیا۔(٦)

جزیرة العرب پرجنوبی تہذیب کے زوال کے اثرات

جنوبی ملکوں کا انحطاط اور جزیرة العرب کے جنوب میں تمدن کا زوال اور بند مأرب کی تباہی اس علاقہ کے حالات کی تبدیلی کا باعث بنی کیونکہ وہاں پر زندگی کی سہولیتں مفقود ہوگئیں تھیں اور بند کے

_______________________

(١) فیلیپ خلیل حتی، تاریخ عرب، ص٨٢.

(٢) تُبَّع (جس کی جمع تبایعہ ہے) یمن میں حمیری بادشاہوں کا لقب ہوا کرتا تھا ۔ یہ لوگ دوسرے درجہ کے بادشاہ ہوا کرتے تھے پہلے درجہ کے بادشاہ، سبا اور ریدان کے بادشاہ تھے جنھوں نے ١١٥ سال قبل مسیح سے ٢٧٥ سال بعد مسیح تک حکومت کی ہے۔ سبا، ریدان، حضر موت اور شَحر ، کے دوسرے درجے کے بادشاہوں نے ٢٧٥ سے ٥٣٢ تک بعد مسیح حکومت کی ہے۔ (احمد حسین شرف الدین، الیمن عبر التاریخ، ص ٩٧۔ ٩٠)

(٣) سورۂ دخان، ٤٤،آیت ٣٧.

(٤) وہ قوم جو یمامہ میں زندگی بسر کرتی تھی۔

(٥) قوم شعیب.

(٦)ق.(٠ ٥) ١٤۔ ١٢.


اطراف کی کھیتیاں پانی کی عدم موجودگی کی بنا پر ختم ہوگئیں تھیں لہٰذا وہاں پر آباد قوموں میں سے کچھ لوگ مجبور ہوکر دوسری جگہ کوچ کرگئے۔ اس انتشار کے نتیجے میں تنوخ خاندان جو کہ یمنی قبیلہ ازد سے تھا، حیرہ (عراق) ہجرت کرگیا اور وہاں ''لخمیان'' کی حکومت کی بنیاد ڈالی اور ''آل جَفنہ'' کا خاندان شام چلا گیا اور وہاں مشرقی اردن کے علاقہ میں حکومت کی بنیاد ڈالی اور ''سلسلۂ غسانیان'' کے نام سے مشہور ہوا۔(١)

قبیلۂ اوس اور خزرج، یثرب (مدینہ) خزاعہ، مکہ اور اس کے اطراف میں قبیلۂ بجیلہ و خثعم اور دوسرے چند گروہ، سروات کے علاقہ میں جاکر ہمیشہ کے لئے بس گئے(٢) اور ان میں سے ہر ایک نے اپنی ایک مستقل تاریخ کی بنیاد ڈالی۔

شمالی جزیرة العرب{حجاز} کے حالات

حجاز ایسا خشک علاقہ ہے جہاں پر بارش کم ہوتی ہے اور (پہاڑی اور ساحلی علاقوں کے علاوہ) لو چلتی ہے اور اس سے وہاں کے باشندوں کی زندگی متاثر ہے اور چونکہ یہاں کے رہنے والے، یمنیوں کے برخلاف آب و گیاہ کی کمی کی بنا پر صرف پالتو جانوروں کا ایک مختصر گلہ یا اونٹ کے علاوہ دوسری چیزیں نہیں رکھ سکتے تھے لہٰذا یہ لوگ اپنی خوراک اور پوشاک عموماً اونٹ کے ذریعہ فراہم کرتے تھے اور چونکہ دور دراز کے علاقوں میں ہجرت اور صحراؤوں میں رفت و آمد صرف اسی طرح کی گلہ داری کے ذریعہ ممکن تھی لہٰذا ایک سیاسی نظام کا قیام اور خانہ بدوشوں کے لئے دائمی سکونت ممکن نہ تھی اس وجہ سے

_______________________

(١) حمزۂ اصفہانی، تاریخ پیامبران و شاہان، ص ٩٩ اور ١١٩ ؛ نیز رجوع کریں: حسن ابراہیم حسن، تاریخ سیاسی اسلام، ص ٤٤؛ ابوریحان بیرونی، الآثار الباقیہ، ص ١٨١ اور ١٨٣۔

(٢) کارل بروکلمان، تاریخ ملل و دول اسلامی، ترجمہ: ھادی جزایری، (تہران: ادارہ ترجمہ ونشر کتاب، ١٣٤٦)، ص٥.


یہاں کے لوگ (جنوبی علاقہ کے لوگوں کی بہ نسبت جو کہ شہر نشین اور کاشتکار تھے) غیر متمدن، خانہ بدوش اور صحرا ئی لوگ تھے۔ مکہ کے علاوہ حجاز کے دوسرے شہر کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے تھے۔

انھیں علاقائی دشواریوں اورخراب راستوں کی وجہ سے اہل حجاز کا، اس زمانہ کے متمدن لوگوں سے کوئی خاص تعلق نہیں تھا اور یہ قدرتی اور جغرافیائی حالات باعث بنے تھے کہ یہ علاقہ سلاطین جہاں کی طمع اور ان کے حملوں سے محفوظ رہا اور اس طرح سے دنیا کے بڑے سلاطین اور فاتحان عالم جیسے رامِس دوم چودھویں صدی میں قبل مسیح ، سکندر مقدونی کو قبل مسیح چوتھی صدی میں اورایلیوس گالوس (اگوست کے زمانہ میں پہلی صدی عیسوی میں روم کا بادشاہ) کو حجاز پر تسلط سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور اسی طرح ایرانی شہنشاہوں نے بھی اس علاقہ پر قبضہ نہیں کیا اسی لئے حجاز کے لوگ آسودہ خاطر ہوکر اپنی زندگی گزار رہے تھے(١) ۔ ایک مورخ اس بارے میں لکھتا ہے:

جس وقت دمتریوس، یونانی سردار (اسکندر کے بعد) سعودی عرب پر قبضہ کرنے کے ارادہ سے پترا پہونچا تو اس علاقہ کے بدّووں نے اس سے کہا: اے امیر بزرگ! کیوں ہم سے جنگ کے لئے آئے ہو؟ ہم ایسے ریگستانی علاقہ میں زندگی بسر کر رہے ہیں کہ جہاں زندگی گزارنے کی کوئی چیز موجود نہیں ہے ہم اس بیابان اور تپتے ہوئے صحرا میں اس بنا پر زندگی بسر کر رہے ہیں کہ کسی کے ماتحت اور غلام بن کر نہ رہیں۔ لہٰذا ہماری جانب سے پیش کردہ ہدیہ قبول فرمائیں اور اپنی جگہ واپس چلے جائیں اورایسی صورت میں ہم آپ کے باوفا ساتھیوں میں سے ہوں گے لیکن اگر آپ نے ہمارا محاصرہ کر کے، ہمارے صلح کے مشورے کو قبول نہ کیا تو آپ کو ایک زمانہ تک اپنی راحت و سکون کی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑے گا اور آپ ہماری اس عادت اور طرز زندگی کو جو شروع سے چلی آرہی ہے تبدیل نہیں کرسکتے اور اگر ہم میں سے چند افراد کو اسیر کر کے لے بھی گئے تو آپ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا کیونکہ یہ لوگ اپنی ہمیشہ کی آزاد زندگی کو چھوڑ کر آپ کی غلامی نہیں کرسکتے۔ لہٰذا دمتریوس نے

_______________________

(١) جرجی زیدان، تاریخ تمدن اسلام، ترجمہ: علی جواہر کلام، (تہران: امیر کبیر، ١٣٣٣)، ج١، ص ١٥.


ان کے پیش کردہ ہدیہ کو قبول کرلیا اور ایک ایسی جنگ سے جس میں مشکلات اور پریشانیوں کے علاوہ اس کے ہاتھ کچھ نہ آتا چشم پوشی کر کے واپس چلا گیا۔(١)

ایک دانشمند کہتا ہے کہ جزیرة العرب انسان اور زمین کے درمیان روابط کے منقطع نہ ہونے کا ایک کامل نمونہ ہے۔ اگر مختلف ملکوں میں جیسے ہندوستان، یونان، اٹلی، انگلینڈ اور امریکہ میں موقع پرست قومیں مسلسل ایک دوسرے کو شکست دینے یا اپنے زیر تسلط رکھنے کی بنا پر دوسری جگہ کوچ کرگئی ہیں۔ تاریخ عرب میں کوئی ایسا جنگجو بادشاہ نہیں ملا جس نے ریگستان کے سینہ کو چاک کرکے وہاں پر دائمی سکونت اختیار کی ہو، بلکہ عرب کے لوگ (تاریخی دستاویزات کے مطابق) ہمیشہ اپنی سابقہ حالت پر باقی رہے۔ اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔(٢)

صحرا نشین

جزیرة العرب کا شمالی علاقہ (حجاز) زیادہ تر صحرائی ہے لہٰذا وہاں کے اکثر قبائل ظہور اسلام سے قبل بادیہ نشین و صحرا گرد تھے۔ بدو عرب قدرتی مناظر سے محروم اوراپنے زندگی کے میدان میں صرف گلہ بانی کے ذریعہ وہ بھی محدود اور قدیم طرز پر، زندگی گزارتے تھے۔ وہ لوگ بھیڑ بکریوں کے اون اور اونٹ کے بالوں سے بنے ہوئے خیموں میں زندگی بسر کرتے تھے۔ اور جس جگہ آب و گیاہ موجود ہو وہیں جاکر بس جاتے تھے اور پانی اور سبزے کے ختم ہونے پر دوسرے علاقہ کی طرف کوچ کرنے پر مجبور ہوجاتے تھے یہ لوگ ہریالی اور چراگاہ کی کمی کی وجہ سے صرف چند اونٹ اور مختصر گلہ کے علاوہ دوسرے چوپائے نہیں رکھ سکتے تھے۔ جیسا کہ کہا گیا ہے : ''صحرا میں تین چیزوں، بدو عرب، اونٹ

_______________________

(١) گوسٹاولوبون، تاریخ تمدن اسلام، ج١، ص ٨٨.

(٢) فیلیپ حتی، تاریخ عرب، ص ١٤۔


اور کھجور کے درخت کی حکومت ہوتی ہے''۔ اور اگر اس میں ریگزار کا بھی اضافہ کردیا جائے تو بنیادی طور پر چار چیزوں کا صحرا پر غلبہ ہوتا ہے۔ پانی کی قلت، گرمی کی شدت، راہوں کی صعوبت اور آذوقہ کی کمی، عام طور سے انسانوں کے بڑے دشمن ہیں اور انسانوںکو خوف و خطرہ انھیں سے ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب یہ معلوم ہو کہ عرب اور صحرا نے کبھی بھی غیروں کے تسلط کو اپنے اوپر برداشت نہیں کیا تو ہمیں تعجب نہیں کرنا چاہیئے. صحرا کی خشکی، اس کا استمرار اور یکسانیت، بدؤوں کے جسم و عقل کی تکوین میں تجلی پاگیا تھا۔ یہ لوگ کاشتکاری یا دوسرے پیشے اور کام کو اپنی شان کے لائق نہیں سمجھتے تھے۔(١) لہٰذا متمدن حکومتوں اور شہری نظام کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور صحرا و ریگستانی علاقوں میں زندگی بسر کرنے کو ترجیح دیتے تھے اور یہ بات ان کی موروثی خصلت میں شامل تھی۔(٢)

یہ لوگ ایک وسیع صحرا کے سپوت اور آزاد مزاج تھے لہٰذا بغیر کسی عمارت کی رکاوٹ کے یہ لوگ صاف و شفاف ہو اسے بہرہ مند ہوتے تھے، سورج کی دائمی تپش اور بارش و سیلاب کے پانی کو روکنے کے لئے کوئی سد نہیں تھا بلکہ تما م چیزیں قدرتی طور پر آزاد اور اپنی اصلی حالت پر تھیں۔

کاشتکاری اور کاروبار نے انھیں محدود اور مصروف نہیں کر رکھا تھا اور نہ ہی شہر کی بھیڑ بھاڑ سے وہ تنگ آگئے تھے اور چونکہ آزاد زندگی کی عادت تھی لہٰذا آزادی کو پسند کرتے تھے اور اپنے کو کسی قانون اور نظام کا پابند نہیں سمجھتے تھے اور جو بھی ان پر فرمانروائی کرنا چاہتا تھا اس سے پوری طاقت کے ساتھ لڑتے تھے۔ صرف دو چیزیں ان کو محدود کئے ہوئے تھیں:

١۔ ایک بت پرست نظام کی قید و بند اور اس کے مذہبی رسومات ۔

٢۔دوسرے قبیلوں کے آداب و رسومات اور قبیلے سے وابستگی کی بنا پر جو ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی تھیں۔

_______________________

(١) فیلیپ حتی، تاریخ عرب، (تہران: آگاہ ط٢، ١٣٦٦)، ص ٣٥، ٣٣.

(٢) گوسٹاولوبون، تاریخ تمدن اسلام، ج١، ص ٦٥۔ ٦٤؛ ویل ڈورانٹ، تاریخ تمدن،( عصر ایمان)، ج٤، (بخش اول)، ترجمہ: ابوطالب صارمی (تہران: سازمان انتشارات و آموزش انقلاب اسلامی، ط٢، ١٣٦٨)، ص ٢٠١.


البتہ ان کے یہاں قبیلہ کے رسم و رواج کی پیروی خلوص اور اعتقاد جازم کے ہمراہ تھی۔(١)

لارمنس بلجیکی (مشرقی محقق) کہتا ہے: عرب، آزادی اور ڈیموکراسی کا نمونہ تھے۔ لیکن ایسی افراطی ڈیموکراسی جس کی کوئی حد نہیں تھی۔ اور جو بھی ان کی طاقت اور آزادی کو محدود کرنا چاہتا تھا (اگرچہ یہ محدودیت ان کے فائدہ میں ہو) وہ اس کے خلاف قیام کرنے کے لئے تیار ہو جاتے تھے۔ جس سے ان کے ظلم اور جرائم کا پتہ چلتا ہے جس سے تاریخ عرب کا ایک عظیم حصہ پُر ہے۔(٢)

قبائلی نظام

ظہور اسلام سے قبل حجاز کا علاقہ کسی حکومت کے تابع نہیں تھا اور وہاں کوئی سیاسی نظام نہیں پایا جاتا تھا اسی بنا پر ان کی معاشرتی زندگی ایران اور روم کے لوگوں سے بہت زیادہ فرق کرتی تھی۔ کیونکہ یہ دونوں ملک سعودی عرب کے ہمسایہ تھے اور ان میں مرکزی حکومت پائی جاتی تھی جس کے زیر نظر ملک کے تمام علاقے تھے اور وہاں پر مرکز کے قوانین نافذ تھے۔ لیکن حجاز (مجموعی طور سے شمال اور مرکز جزیرة العرب کے علاقہ کو کہتے ہیں) میں ایک مرکزی حکومت شہروں میں بھی موجود نہیں تھی۔ عرب کے سماج کی بنیاد قبیلے پر اور ان کا سیاسی اور اجتماعی نظام، قبائلی نظام کے مطابق تھا۔ اور یہ نظام ان کی زندگی کے تمام پہلوؤں میں نمایاں تھا۔ اور اس نظام میں لوگوں کی حیثیت صرف کسی قبیلہ سے منسوب

_______________________

(١) احمد امین، فجرالاسلام، (قاہرہ: مکتبة النہضة المصریة، ط٩، ١٩٦٤)، ص ٤٦.

(٢) وہی حوالہ، ص ٣٤۔ ٣٣، نعمان بن منذر (حیرہ کے بادشاہ) نے کسریٰ (بادشاہ ایران)، کے جواب میں جس نے پوچھا تھا کہ کیوںعرب کی قوم ایک حکومت اور نظام کے تحت نہیں رہتی ہے؟ کہا دوسری قومیں چونکہ اپنے کو کمزور محسوس کرتی ہیں اور دشمن کے حملہ سے خوف کھاتی ہیں ، لہٰذا اپنے کاموں کوایک خاندان کے سپرد کردیتی ہیں لیکن عربوں میں ہر ایک چاہتاہے کہ ہم بادشاہ رہیں اور وہ خراج و ٹیکس دینے سے نفرت کرتے ہیں (آلوسی بلوغ الارب، ج١، ص ١٥٠)


ہونے کی بنا پرمتعین ہوتی تھی۔

قبیلہ جاتی زندگی کا تصور نہ تنہا صحرا نشینوں میں بلکہ شہروں میں بھی نمایاں تھا۔ اس علاقہ میں ہر قبیلہ ایک مستقل ملک کے مانند تھا اور اس دور میں قبائل کے درمیان تعلقات ویسے ہی تھے جیسے آج کسی ملک کے تعلقات دوسرے ملکوں سے ہوتے ہیں۔

نسلی رشتہ

اس زمانہ میں عربوں میں ''ملیت'' اور ''قومیت'' وحدت دین، زبان یا تاریخ جیسے مختلف موضوعات کی بنیاد پر متصور نہیں تھی بلکہ چند خاندانوں کے مجموعہ کو'' قبیلہ'' کہتے تھے اور حسب و نسب اور خاندانی رشتے اور ناطے ہی افراد کے درمیان تعلقات کی بنیاد تھے۔ اور انھیں چیزوں کی بنیاد پر لوگوں کے درمیان تعلقات اور رشتے قائم تھے کیونکہ ہر قبیلہ کے لوگ اپنے کو اسی قبیلہ کے خون سے سمجھتے تھے.(١) خانوادے کے اجتماع سے خیمہ اور خیموں کے اجتماع سے قبیلہ وجود پاتا تھا ۔ اور متعدد قبیلوں سے مل کر بڑی تنظیمیں تشکیل پاتی تھیں جیسے یہودیوں کی تنظیم ایک ہی نسل اور خاندان کی بنیاد پر تھی۔ یہ لوگ اپنے خیموں کو اتنا قریب نصب کرتے تھے کہ اس سے چند ہزار افراد پر مشتمل قبیلہ ہو جاتا تھا اور پھر ایک ساتھ مویشیوں کے ہمراہ کوچ کرتے تھے۔(٢)

قبیلہ کی سرداری

قبیلہ کے سردار اور نمائندہ کو ''شیخ'' کہا جاتا تھا(٣) شیخ عام طور پرسن رسیدہ ہوتا تھا اور قبیلہ کی سرداری چند چیزوں کی بنا پر ملتی تھی۔ بڑی شخصیت، تجربہ یا قبیلہ سے دفاع کرنے میں شجاعت کا اظہار

_______________________

(١) احمد امین ، فجر الاسلام، ص ٢٢٥؛ عبد المنعم ماجد، التاریخ السیاسی للدولة العربیہ، (قاہرہ: ط ٧، ١٩٨٢)، ص٤٨.

(٢) کارل بروکلمان، تاریخ دول و ملل اسلامی، ص ٦۔ ٥.

(٣) رئیس ، امیر اور سید بھی کہا جاتا ہے۔ (عبد المنعم ، التاریخ السیاسی للدولة العربیہ، ص ٤٩)


اور کثرت مال ہے(١) شیخ کے انتخاب میں امتیازی صفات جیسے سخاوت، شجاعت، صبر، حلم، تواضع اور انداز بیان کا لحاظ بھی کیا جاتا تھا۔(٢)

قبیلہ کا سردار، فیصلے ، جنگ اوردوسرے عمومی امور میں، ڈکٹیٹر شپ کا درجہ نہیں رکھتاتھا بلکہ ہر کام کے لئے ،اس کمیٹی سے مشورہ لیتا تھا جو بزرگان قوم و قبیلہ کے ذریعہ تشکیل پاتی تھی اور یہی وہ افراد تھے جو شیخ کا انتخاب کرتے تھے او ر جب تک اس کے گروہ والے اس سے خوش رہتے تھے وہ اپنے منصب پر باقی رہتا تھا(٣) ورنہ معزول کردیا جاتا تھا. لیکن بہرحال قبیلہ کے دستور کے مطابق، تمام افراد رئیس کی پیروی کرتے تھے اوراس کے مرنے کے بعداس کا بڑا بیٹا اور کبھی ایک سن رسیدہ شخص جس کے اندر اس کی تمام خوبیاں پائی جاتی تھیں یا وہ شخص جو خاص شخصیت اور لیاقت کا مالک ہوا کرتا تھا اسے اس منصب کے لئے چنا جاتا تھا۔

دین اسلام نے قبیلہ جاتی نظام سے جنگ کی اور اس کو ختم کیا اور حسب و نسب جو اس نظام کی بنیاد تھی اس کو اہمیت نہیں دی اور نئے اسلامی معاشرے کی بنیاد، وحدت عقیدہ اور ایمان پر استوار کی، جو کہ اجتماعی رشتہ جوڑ نے میں بہت مؤثرہے اور اس طرح وحدتِ خون کی جگہ، وحدت ایمان کو بنیاد قرار دیا اور تمام مومنین کو آپس میں بھائی بھائی قرار دیا(٤) اور اس طرح سے عرب سماج کے ڈھانچے کی بنیاد میں تبدیلی پیدا ہوئی۔

_______________________

(١) وہی حوالہ.

(٢) آلوسی، بلوغ الارب، تصحیح محمد بہجة الأثری، (قاہرہ: دارالکتب الحدیثہ، ط٣)، ج٢، ص ١٨٧

(٣) فیلیپ حتی،تاریخ عرب، ص ٣٩.

(٤) (انما المومنون اخوة) سورۂ حجرات، ٤٩،آیت ١٠.


قبائلی تعصب

تعصب اس حد تک تھا کہ قبیلہ کی روح قرار دیا گیا تھا اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ شخص بے انتہا اپنے قبیلہ کے افراد سے وابستہ تھا۔ مجموعی طور پر صحرا نشینوں میں قبیلہ جاتی تعصب، وطن پرستی کے تعصب کی مانند تھا.(١) وہ کام جو ایک متمدن شخص اپنے ملک، مذہب یا قوم کے لئے انجام دیتا ہے بدو عرب اپنے قبیلے کے لئے انجام دیتے تھے اور اس راہ میں ہر کام انجام دینے کے لئے تیار رہتے تھے، یہاں تک کہ اپنی جان نثار کر دیتے تھے۔(٢)

عربوں کے درمیان، قبائلی لوگوں کا برتاؤ اپنے بھائیوں اور رشتہ داروں کے حق میں تعصب کی حد تک ہوتا تھا یعنی یہ لوگ ہر حال میں اپنے اقرباء کی حمایت کرتے تھے چاہے وہ حق پر ہوں یا باطل پر، خطاکار ہوں یا درست کار، ان کی نظروں میں اگر کوئی اپنے بھائی کی حمایت کرنے میں کوتاہی کرے تو اس کی شرافت داغ دار ہوجاتی ہے اس سلسلہ میں وہ کہتے تھے کہ اپنے بھائی کی مدد کرو چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔

ایک عرب شاعر نے اس بارے میں کہا ہے: جس وقت ان کے بھائیوں نے مشکلات میں ان کی مدد چاہی تو وہ بغیر کسی سوال اور دلیل کے ان کی مدد کو دوڑ پڑے۔(٣)

یہی وجہ تھی کہ اگر قبیلہ کے کسی فرد کی اہانت ہوجاتی تو وہ پورے قبیلہ کی اہانت سمجھی جاتی تھی۔ اور قبیلہ کے لوگوںکی ذمہ داری ہوتی تھی کہ اس اہانت اور بے عزتی کے داغ کو مٹانے کے لئے وہ اپنی پوری طاقت صرف کردیں۔(٤)

دین اسلام اس طرح کے اندھے قبائلی تعصب کی مذمت کرتا ہے اور اسے جاہلانہ اور غیر منطقی قرار دیتا

_______________________

(١) فیلیپ حتی ، گزشتہ حوالہ، ص ٣٨.

(٢) ویل ڈورانٹ ، گزشتہ حوالہ، (عصر ایمان) ، ج٤، ص ٢٠٠.

(٣) لایسئلون اخاہم حین یندبہم ٭ فی النائبات علی ماقال برہانا(احمد امین، گزشتہ حوالہ، ص ١٠)

(٤) حسن ابراہیم حسن، تاریخ سیاسی اسلام، ترجمہ: ابوالقاسم پایندہ (تہران: سازمان انتشارات جاویدان، ط٥، ١٣٦٢)، ج١، ص ٣٨۔ ٣٧؛ عبد المنعم ماجد، گزشتہ حوالہ، ص ٥١۔ ٥٠.


ہے۔'' اس وقت کو یاد کرو جب کفار اپنے دلوں میں زمانہ جاہلیت جیسا تعصب رکھتے تھے''۔(١)

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے فرمایا ہے: جو شخص تعصب کرے یا اس کے لئے تعصب کیا جائے وہ اسلام سے خارج ہے(٢) آپ نے یہ بھی فرمایا ہے: جو شخص تعصب کی بات کرے یا لوگوں کو تعصب کی طرف دعوت دے یا تعصب کی روح اور فکر رکھتے ہوئے مرجائے وہ ہم میں سے نہیں ہے(٣) نیز آپ نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم لوگوں نے عرض کیا: مظلوم کی مدد کرنا تو معلوم ہے، ظالم کی کس طرح سے مدد کریں؟ آپ نے فرمایا: اسے ظلم کرنے سے روکو۔(٤)

قبائلی انتقام

عرب میں اس وقت کوئی ایسی مرکزی حکومت یا کمیٹی موجود نہیں تھی جو لوگوں کے اختلافات کو ختم کرے اور وہاں پر عدل و انصاف قائم کرسکے۔ جس پر ظلم و ستم ہوتا تھا وہ اپنا انتقام لیتا تھا اور اگر ظالم دوسرے قبیلہ کا ہوا کرتا تھا تو مظلوم کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنا بدلہ اس قبیلہ کے تمام افراد سے لے اور یہ چیز

_______________________

(١) (اذجعل الذین کفروا فی قلوبهم الحمیة حمیة الجاهلیة ) سورۂ فتح،٤٨ آیت ٢٦.

(٢)من تعصب او تعصب له فقد خلع ربقة الاسلام من عنقه (صدوق)، ثواب الاعمال، و عقاب الاعمال ،( تہران: مکتبة الصدوق)، ص ٢٦٣؛ کلینی، الاصول من الکافی (تہران:مکتبة الصدوق، ط ٢، ١٣٨١ھ.ق)، ج٢، ص٣٠٨.

(٣)لیس منا من دعا الی عصبیة، و لیس منا من قال (علی عصبیة) و لیس منا من مات علی عصبیة ۔ (سنن ابی داؤد (بیروت: دارالفکر)، ج٤، کتاب الادب، باب فی العصبیة، ص ٣٣٢، حدیث ٥١٢١).

(٤)عن انس قال: قال رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم انصر أخاک ظالماً أو مظلوماً قالوا: یا رسول اللّٰه هذا ننصره مظلوماً فکیف ننصره ظالماً؟ قال: تأخذ فوق یدیه ۔ (صحیح بخاری بحاشیة السندی (بیروت: دارالمعرفة)، ج٢، کتاب المظالم، ص ٦٦؛ مسند احمد، ج٣، ص٢٠١).


عربوں میں بہت عام تھی(١) ۔ کیونکہ لوگوں کی خطائیں پورے قبیلہ کی طرف منسوب ہوتی تھیں اور قبیلہ کا ہر فرد رشتہ دار ہونے کی وجہ سے ذمہ دار تھا کہ وہ اپنے قبیلے کے تمام افراد کی مدد کرے۔ (بغیر اس بات کا خیال رکھتے ہوئے کہ وہ حق پر ہے یا ناحق) اور یہ ذمہ داری شروع میں گھر، خاندان اور اقرباء کی جانب سے انجام پا تی تھی۔ اور جب اس میں وہ کامیاب نہیں ہوتے تھے اور خطرہ نہیں ٹلتا تھا تو گروہ اور قبیلہ کے دوسرے افراد اس کی مدد کرتے تھے۔

اگر کوئی قتل ہو جاتا تھا تو قصاص کی ذمہ داری اس کے قریب ترین رشتہ دار پر ہوتی تھی(٢) اور اگر مقتول دوسرے قبیلہ سے ہوتا تھا تو وہاں پر انتقام کی ''رسم'' جاری ہوتی تھی اور قاتل کے قبیلہ کے ہر فرد کو یہ خطرہ لاحق رہتا تھا کہ کہیں مقتول کے بدلہ میں اسے اپنی جان سے ہاتھ نہ دھونا پڑے۔ کیونکہ ان کی صحرائی سنت اور رسم یہ تھی کہ ''خون صرف خون کے ذریعہ دھلتا ہے'' اور خون کا بدلہ صرف خون ہے۔

لوگوں نے ایک اعرابی سے کہا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ جس نے تمہیں اذیت پہنچائی ہے اسے معاف کردو اور انتقام نہ لو؟ اس نے جواب دیا کہ میں خوش ہوؤں گا اگر بدلہ لوں اور جہنم میں جاؤوں۔(٣)

قبائلی رقابت اور فخر و مباہات

اس زمانہ میں عرب کا ایک دوسرا طریقہ یہ ہوا کرتا تھا کہ وہ ایک دوسرے پر فخر و مباہات کیا کرتے تھے اور جو چیزیں اس سماج میں عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں (اگرچہ وہ چیزیں موہوم اور بے

______________________

(١) حسن ابراہیم حسن، گزشتہ حوالہ، ص ٣٩.

(٢)بروکلمان، گزشتہ حوالہ، ص ٧۔ ٦.

(٣) نویری، نہایة الارب فی فنون الادب (وزارة الثقافہ و الارشاد القومی المصریہ)، ج٦، ص ٦٧.


بنیاد ہوتی تھیں)اس پر ناز کرتے تھے اور اس کی بنا پر دوسرے قبائل پر فخر کرتے تھے۔ میدان جنگ میں شجاعت، بخشش اور وفاداری،(١) مال و دولت کثرت اولاد اور کسی بڑے قبیلہ سے تعلق ہر ایک اس زمانہ کے عرب کی نگاہ میں بڑی اہمیت کا حامل اور وسیلہ ٔ برتری تھا اور وہ اس چیز کو اپنے افتخار کا ذریعہ سمجھتے تھے۔

قرآن کریم نے ان کی باتوں کی اس طرح سے مذمت کی ہے:

''اور یہ بھی کہہ دیا کہ ہم اموال اور اولاد کے اعتبار سے تم سے بہتر ہیں او رہم پر عذاب ہونے والا نہیں ہے آپ کہہ دیجئے کہ میرا پروردگار جس کے رزق میں چاہتا ہے کمی یا زیادتی کر دیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ہیں اور تمہارے اموال اور اولاد میں کوئی ایسا نہیں ہے جو تمہیں ہماری بارگاہ میں قریب بنا سکے علاوہ ان کے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کئے''۔(٢)

ایک دن کسریٰ (بادشاہ ایران) نے نعمان بن منذر (بادشاہ حیرہ) سے پوچھا کہ کیا قبائل عرب میں کوئی ایسا قبیلہ ہے جو دوسروں پر شرف اور برتری رکھتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا: ہاں! تو اس نے کہا: ان کے شرف کی وجہ کیا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ جس کے باپ دادا میں سے تین شخص لگاتار رئیس قبیلہ ہو ں اور ان کی نسل سے چوتھا بھی رئیس بنے تو قبیلہ کی ریاست اس کے خاندان کو ملتی ہے۔(٣)

عصر جاہلیت میں عرب قبیلہ کے افراد کی کثرت کو اپنے لئے مایہ ٔ افتخارسمجھتے تھے اور اس طرح اپنے رقیب قبائل پر فخر و مباہات کرتے اور ان سے افراد کی تعداد کا مقابلہ کرتے تھے(٤) یعنی اپنے افراد کی تعداد بتا کر یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ان کے قبیلہ کی تعداد دشمن کے مقابلہ میں زیادہ ہے۔

ایک دن دو قبیلوں کے درمیان اس قسم کا تفاخر شروع ہوا، ہر ایک نے اپنے قبیلہ کے افتخارات بیان

______________________

(١) آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٨٠۔

(٢)سورۂ سبا،٣٤، آیت ٣٧۔ ٣٥

(٣) آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٨١۔

(٤) منافرہ، نفر سے بنا ہے یعنی ہر ایک اپنی تعداد دوسرے سے زیادہ بتاتا تھا۔ (آلوسی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٨٨.) اس قسم کے تفاحر کے بے شمار واقعات، ظہور اسلام سے قبل تاریخ عرب میں نقل ہوئے ہیں۔


کئے اور طرفین نے دعویٰ کیا کہ ہماری خوبیاں اور قبیلہ کے افراد، دوسرے قبیلہ کے مقابل میں زیادہ ہیں اس موقع پر دونوں کی تعداد کو شمار کیا گیا، زندہ لوگوں کی سرشماری مفید ثابت نہیں ہوئی تو مردوں کے شمارش کی نوبت آئی اور دونوں طرف کے لوگ قبرستان گئے اور اپنے اپنے مردوں کو شمار کیا۔(١)

قرآن کریم نے ان کے اس جاہلانہ اور غیر عاقلانہ طرز عمل کی اس طرح سے مذمت کی ہے۔

''تمہیں باہمی مقابلۂ کثرت مال اور اولاد نے غافل بنادیا ، یہاں تک کہ تم نے قبروں سے ملاقات کرلی اور اپنے مردوں کی قبر وںکو شمار کیا اور اس پر فخر و مباہات کیا ایسا نہیں ہے کہ گمان کرتے ہو ، دیکھو تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا''۔(٢)

نسب کی اہمیت

جاہل عربوں کے درمیان کمال کا ایک اہم معیار، نسب ہوا کرتا تھا جو ان کی نظر میں بہت اہمیت رکھتا تھا یہاں تک کہ بہت ساری خوبیاں ''نسب'' کی بنا پر ہوا کرتی تھیں۔(٣)

قبائل عرب میں نسلی تفاخر بہت زیادہ پایا جاتا تھا جس کا واضح نمونہ وہ قومی رقابتیں ہیں جو عدنانیوں

______________________

(١) سید محمد حسین طباطبائی، تفسیر المیزان، ج٢٠، ص ٣٥٣؛ آلوسی،گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٧٩

(٢) سورۂ تکاثر، ١٠٢،آیت ٣۔ ١

(٣) مثلاً اس زمانہ کی رسم یہ تھی کہ اگر کسی کا باپ عرب اور ماں عجمی ہوتی تھی تو اس کو طعنہ اور تحقیر کرنے کے لئے ''ہجین'' کہتے تھے (جو نسب کی پستی اورناخالصی پر دلالت کرتا ہے) اور اگر کوئی اس کے برعکس ہوتا تھا تو اس کو ''مذَرّع''۔۔کہتے تھے۔ ھجین ارث سے محروم رہتا تھا (ابن عبد ربہ اندلسی، العقد الفرید، (بیروت: دار الکتاب العربی، ١٤٠٣ھ.ق)، ج٦، ص ١٢٩؛ ھجین مرد صرف اپنی جیسی عورتوں سے شادی کرنے کا حق رکھتا تھا (محمد بن حبیب المحبر، (بیروت: دار الآفاق الحدیدة)، ص ٣١٠؛ شہرستانی، الملل و النحلل، (قم: منشورات الرضی، ط٢) ص ٢٥٤. دور اسلام میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ھجین کے خون بہا کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا: اسلام کے ماننے والوں کے خون کی قیمت برابر ہے۔(ابن شہر آشوب، مناقب،( قم: المطبعة العلمیہ، ج١، ص ١١٣.


(شمالی عرب) اور قحطانیوں (جنوبی عرب) کے درمیان پائی جاتی تھیں۔(١) اسی بنا پر وہ لوگ اپنے نسب کی شناخت اور حفاظت کو اہمیت دیتے تھے۔

نعمان بن منذر کسریٰ کے جواب میں کہتا ہے: عرب کے علاوہ کوئی بھی امت، اپنے نسب سے واقف نہیں ہے اور اگر ان کے اجداد کے بارے میں پوجھا جائے تو اظہار لاعلمی کرتے ہیں لیکن ہر عرب اپنے آباء و اجداد کو پہچانتا ہے اورغیروں کو اپنے قبیلہ کا جزء نہیں مانتا اور خود دوسرے قبیلہ میں شامل نہیں ہوتا اور اپنے باپ کے علاوہ دوسروں سے منسوب نہیں ہوتا۔(٢)

لہٰذا تعجب کی بات نہیں ہے کہ علم ''نسب شناسی'' اس وقت ایک محدود علم تھا جس کی بڑی اہمیت تھی اور نسب دانوں کوایک خاص مقام حاصل تھا۔

آلوسی جوکہ عرب شناسی کے مسئلہ میں صاحب نظر ہے کہتا ہے: عرب کے جاہل اپنے نسب کی شناخت اور حفاظت کو بہت اہمیت دیتے ہیں کیونکہ یہ شناخت الفت و محبت کا ایک وسیلہ تھی وہ اور ان کے یہاں اس کی زیادہ ضرورت پڑتی تھی کیونکہ ان کے قبائل متفرق ہوتے تھے اور جنگ کی آگ مستقل ان کے درمیان شعلہ ور تھی اور لوٹ و مار ان کے درمیان رائج تھا۔ اور چونکہ وہ کسی قدرت کے ماتحت نہیں

______________________

(١)جواد علی، المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام، (بیروت: دار العلم للملائین، ١٩٦٨م)، ج١، ص ٤٩٣کے بعد؛ شوقی ضیف، تاریخ الادب العربی، العصر الجاہلی، ص ٥٥۔

(٢)آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص١٤٩۔ زمانہ اسلام میں عمر بن خطاب نے اسی فکر سے متاثر ہوکر عراق کے نبطیوں سے جنھوں نے اپنا تعارف اپنے رہنے کی جگہ سے کیا تھا ، ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا: اپنے نسب کو سیکھو اورعراق کے نبطویں کی طرح نہ بنو اس لئے کہ جب ان سے ان کے خاندان اور نسب کے بارے میں پوچھا جاتاہے تو جواب میں کہتے ہیں فلاں جگہ اور فلاں محل کا رہنے والا ہوں ۔ (ابن خلدون ، مقدمہ، تحقیق: خلیل شحادہ و سہیل زکار، نویں فصل، ص ١٦٢؛ ابن عبد ربہ اندلسی، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٣١٢)۔


رہنا چاہتے تھے جو ان کی حمایت کرے لہٰذا وہ مجبور ہوکر اپنے نسب کی حفاظت کیا کرتے تھے تاکہ اپنے دشمن پر کامیاب ہوسکیں کیونکہ رشتہ داروں کی آپسی محبت، حمایت اور تعصب ایک دوسرے کے الفت اور تعاون کا باعث بنتی ہے اور رسوائی اور تفرقہ سے رکاوٹ کا باعث قرار پاتی ہے۔(١)

دین اسلام ہر طرح کی قومی برتری کا مخالف ہے اگر چہ قرآن کریم قریش اور عرب کے درمیان نازل ہوا تھا لیکن اس کے مخاطبین صرف قریش، عرب یا اس کے مانند دوسرے افراد نہیں ہیں بلکہ اس کے مخاطبین عوام الناس ہیں اور اس میں مسلمانوں او رمومنین کے فرائض بیان کئے گئے ہیں۔ قرآن کریم قومی فرق کو فطری جانتا ہے اور اس فرق کا فلسفہ بتاتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو پہچانیں اور قومی اور نسلی فخر و مباہات کی مذمت کرتا ہے اور بزرگی کا معیار ''تقویٰ'' کوبتاتا ہے۔

اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تم میں شاخیں اور قبیلے قرار دیئے ہیں تاکہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو بیشک تم میں خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے اور اللہ ہر شیٔ کا جاننے والا اور ہر بات سے باخبر ہے۔(٢)

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے نسلی اور خاندانی فخر و مباہات کی شدت سے مخالفت کی ہے۔ جس کے چند نمونے یہ ہیں:

١۔ فتح مکہ کے موقع پر جب قریش کا اصلی قلعہ منہدم ہوگیا تو آپ نے فرمایا: اے لوگو! خداوند عالم نے نور اسلام کے ذریعہ، زمانۂ جاہلیت میں رائج فخر و مباہات کو ختم کردیا۔ آگاہ ہوجاؤ کہ تم نسل آدم سے ہو اور آدم خاک سے پیدا ہوئے ہیں۔ خدا کا بہترین بندہ وہ ہے جو متقی ہو کسی کے باپ کا عربی

______________________

(١) بلوغ الارب، ج٣، ص ١٨٢؛ اسی طرح رجوع کریں: المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام، ج١، ص٤٦٧۔ ٤٦٦۔

(٢) سورۂ حجرات،٤٩، آیت ١٣۔ حضرت امام صادق سے ایک روایت کے مطابق اور بعض تفسیروں کیبنیاد پر، مذکورہ آیت میں کلمۂ ''قبائل'' سے مراد عرب کے چھوٹے چھوٹے گروہ ہیں جن میں سے ہر ایک کو ''قبیلہ''کہا جاتا ہے اور ''شعوب'' سے مراد غیر عربی گروہ ہے۔ (طبرسی، مجمع البیان، تفسیر سورۂ حجرات، ذیل آیۂ ١٣)


ہونا فضیلت نہیں رکھتا ، یہ صرف زبانی بات ہے اور جس کا عمل اسے کسی مرتبہ پر نہ پہنچا سکے اس کا نسب و خاندان بھی اسے کسی مرتبہ پر نہیں پہنچا سکتا۔(١)

٢۔ حجة الوداع کے موقع پر ایک مفصل خطبہ کے دوران جو کہ اہم اور بنیادی مسائل پر مشتمل تھا آپ نے فرمایا: کوئی عربی، عجمی پر فضیلت نہیں رکھتا، صرف تقویٰ کے ذریعہ آدمی بزرگ اور محترم قرار پاتا ہے۔(٢)

٣۔ایک دن آپ نے قریش کے سلسلے میں گفتگو کے دوران، جناب سلمان کی باتوں کی تائید فرمائی اور قریش کے غلط طرز فکراور انکی نژاد پرستی کے مقابلہ میں روحانی کمالات پر تکیہ کرتے ہوئے فرمایا: اے گروہ قریش! ہر شخص کا دین ہی اس کا حسب و نسب ہے اور ہر کسی کا اخلاق و کردار ہی اس کی مردانگی ہے اور ہر ایک کی اساس اور بنیاد اس کی عقل و فہم اور دانائی ہے۔(٣)

______________________

(١) کلینی ، الروضة من الکافی، (تہران: دار الکتب الاسلامیہ، ط٢)، ص ٢٤٦؛ مجلسی، بحار الانوار، (تہران: دار الکتب اسلامی)، ج٢١، ص ١٣٧ ، اور ١٣٨، اور الفاظ میں تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ، سیرہ ابن ہشام، ج٤، ص ٥٤، پر نقل ہوا ہے۔

(٢) حسن بن علی بن شعبہ، تحف العقول (قم: مؤسسة النشر الاسلامی، ط٣، ١٣٦٣)، ص ٣٤.

(٣) کلینی ، گزشتہ حوالہ، ص ١٨١۔


قبائلی جنگیں

اگر عرب کے درمیان کوئی قتل رونما ہوتا تھا تو اس کی ذمہ داری قاتل کے قریبی ترین افراد پر عائد ہوتی تھی اور چونکہ قاتل کا قبیلہ اس کی حمایت پر آمادہ اور کمر بستہ نظر آتا تھا ، لہٰذا انتقام کے لئے خون ریز جنگیں ہوتی تھیں. اور یہ جنگیں جو عام طور پر چھوٹی باتوں پر ہوتی تھیں کئی سالوں تک جاری رہتی تھیں جیسا کہ ''جنگ بسوس'' جو کہ دو قبیلوں بنی بکر اور بنی تغلب کے درمیان (یہ دونوں قبیلے ربیعہ سے تھے)

چھڑی چالیس سال تک جنگ جاری رہی اور اس جنگ کی وجہ یہ تھی کہ پہلے قبیلہ کا اونٹ جو کہ بسوس نامی خاتون کا تھا بنی تغلب کی چراگاہ میں چرنے کے لئے چلا گیا تو اسے ان لوگوں نے مار ڈالا۔(١)

اسی طرح سے'' داحس اور غبراء نامی'' دو خون ریزجنگ قیس بن زہیر (قبیلہ ٔ بنی قیس کا سردار) اور حذیفۂ ابن بدر (قبیلۂ بنی فزارہ کا سردار) کے درمیان ایک گھوڑ دوڑ کے سلسلہ میں رونما ہوئی اور مدتوں جاری رہی۔ داحس اور غبراء نامی دو گھوڑے تھے ایک قیس کا اور دوسرا حذیفہ کا تھا۔ قیس نے دعوا کیا کہ اس کا گھوڑا مسابقہ میں جیتا ہے اور حذیفہ نے دعوا کیا کہ اس کا گھوڑا مسابقہ میں بازی لے گیا ،اسی مختصر سی بات پر دونوں کے درمیان جنگ کی آگ بھڑک ا ٹھی اور بہت زیادہ قتل اور خونریزی رونما ہوئی۔(٢) اور اس طرح کے واقعات ''ایام العرب'' کے نام سے مشہورہوئے۔ اور اس کے بارے میں کتابیں لکھی گئیں۔البتہ کبھی چند اونٹ خون بہا کے طور پر دے کر مقتول کی دیت ادا کردی جاتی تھی۔ اور ہر قبیلہ کے بزرگ اس قسم کے مسائل کے لئے راہ حل تلاش کرتے اور اس کو قوم کے سامنے پیش کرتے تھے لیکن وہ اس کو قوم پر تھوپتے نہیں تھے۔ اور زیادہ تر قبائل ان تجاویز کو اس وقت قبول کرتے تھے جب طولانی جنگوں سے تھک اور ناامید ہوجاتے تھے تو ان تجاویز کو قبول کرلیتے تھے۔

اگر قاتل کا گروہ، خطاوار کو قصاص کے لئے مقتول کے سپرد کردیتا تو یہ جنگ رونما نہ ہوتی لیکن ان

______________________

(١) محمد احمد جادالمولی بک، علی محمد البجاوی و محمد ابو الفضل ابراہیم، ایام العرب فی الجاہلیة، (بیروت: دار احیاء التراث العربی)، ص ١٦٨۔ ١٤٢؛ رجوع کریں: ابن اثیر، الکامل فی التاریخ (بیروت: دار صادر، ١٣٩٩ھ.ق)، ج١، ص ٥٣٩۔ ٥٢٣۔

(٢)عبد الملک بن ہشام، سیرة النبی، تحقیق: مصطفی السقائ(اور دوسرے لوگ)، (قاہرہ: مطبعة مصطفی البابی الحلبی، ١٣٥٥ھ.ق)، ج١، ص٣٠٧؛ یاقوت حموی، معجم البلدان، قاہرہ: مطبعة السعادة، ط١، ١٣٢٣ھ.ق)، ج١، ص٢٦٨ لفظ (صاد) ۔ ابن اثیر اور جاد المولی بک دونوں قیس کا گھوڑا جانتے تھے۔(الکامل فی التاریخ، ج١، ص ٥٨٢۔ ٥٦٦؛ ایام العرب، ص ٢٧٧۔ ٢٤٦)۔


کی نظروں میں ایسا کرنا ان کی عزت و وقار کے خلاف تھا اسی بنا پر وہ اپنے لئے بہتر سمجھتے تھے کہ خطاکار کو خود سزا دیں۔ کیونکہ بادیہ نشینوں کی نگاہ میں عزت اور آبرو کی حفاظت سب سے زیادہ اہم تھی اور وہ اپنے تمام اعمال میں اس بات کا اظہار کیا کرتے تھے۔

ان کے درمیان جو قوانین اور دستورات رائج تھے وہ کم و بیش حجاز کے شہروں یعنی طائف، مکہ اور مدینہ میں بھی نافذ تھے۔ کیونکہ ان شہروں کے باشندے بھی اپنے سماج میں بادیہ نشینوں کی طرح مستقل اور آزاد رہتے تھے اور کسی کی پیروی نہیں کرتے تھے بادیہ نشینوں میں تعصب اور آبرو پرستی، بے حد اور مبالغہ آمیز تھی۔ لیکن مکہ میں کعبے کے احترام اور تجارتی مرکز ہونے کی بنا پر ایک حد تک متوسط تھی۔(١)

قرآن کریم اس قسم کے تعصب اور انتقام کی مذمت کرتا ہے اور نصرت اور حمایت کا معیار، حق و عدالت کو قرار دیتا ہے اور تاکید فرماتا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ عدالت کو شدت کے ساتھ قائم کریں اگرچہ یہ عدالت والدین اور رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

''اے ایمان والو! عدل و انصاف کے ساتھ قیام کرو اور اللہ کے لئے گواہی دو چاہے اپنی ذات یا اپنے والدین اور اقرباء کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ جس کے لئے گواہی دینا ہے وہ غنی ہو یا فقیر اللہ دونوں کی حمایت کا تم سے زیادہ سزاوار ہے لہٰذا خبردار! خواہشات کا اتباع نہ کرنا تاکہ انصاف نہ کرسکو اور اگر توڑ مروڑ سے کام لیا یا بالکل کنارہ کشی کرلی تو یاد رکھو کہ اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے''۔(٢)

______________________

(١) بروکلمان،گزشتہ حوالہ، ص٨.

(٢)سورۂ نسائ، ٤،آیت ١٢٥.


غارت گری اور آدم کشی

بدو عرب اپنے قبیلہ کے علاوہ دوسروں سے دوستی اور محبت نہیں کرتے تھے ان کا دائرہ فکر اور فہم صرف اپنے قبیلہ تک محدود ہوتا تھا یہ لوگ اس قدر متعصب اور قبیلہ پرست ہوتے تھے کہ دنیا کی ساری چیزیں صرف اپنے لئے چاہتے تھے اور سب سے زیادہ اپنے اور اپنے رشتہ داروں کا فائدہ چاہتے تھے جیسا کہ ان میں سے کسی نے زمانۂ اسلام میں اپنی جاہلیت کی تہذیب سے متاثر ہوکر اس طرح سے دعا کی، اے خدا! مجھ پر اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحم فرما اور ہمارے علاوہ کسی پر رحم نہ کر۔(١)

ان میں صحرائی زندگی کی بنا پر جو محرومیت پائی جاتی تھی اس کی بنا پر وہ غارت گری کیا کرتے تھے کیونکہ ان کی سرزمین نعمتوں سے محروم تھی اور وہ اس کمی اور محرومیت کو لوٹ مار کے ذریعہ پورا کرتے تھے۔ رہزنی اور غارت گری کو نہ صرف یہ کہ برا فعل نہیں سمجھتے تھے بلکہ (جیسے آج کے دور میں ایک شہر یا صوبہ پر قبضہ کرلینے کو فخر سمجھتے ہیں) اپنے لئے باعث فخر اور شجاعت سمجھتے تھے۔(٢)

البتہ قبیلوں کے درمیان جو رقابت پائی جاتی تھی وہ بھی جنگ اور غارت کا سبب بنتی تھی اور زیادہ تر اختلافات اور جھگڑے، چراگاہوں پر قبضہ کرلینے کی بنا پر ہوتے تھے۔ اور کبھی قبیلہ کی سرداری کے انتخاب پر بھی رشتہ داروں کے درمیان جنگ و خونریزی ہوتی تھی۔ مثلاً اگر بڑا بھائی سرداری کے منصب پر فائز ہو اور مرجائے تو اس کے دوسرے بھائی اپنی عمر کے مطابق قبیلہ کی سرداری کے خواہاں رہتے تھے اور مرنے والی کی اولاد اپنے باپ کے مقام کی آروزمند ہوتی تھی۔ اسی بنا پر اکثر قبیلوں اور

______________________

(٢) اللہم ارحمنی و محمداً و لاترحم معنا احداً (صحیح بخاری، شرح و تحقیق: الشیخ قاسم الرفاعی، (بیروت: دار القلم)، ج٨، کتاب الادب، باب ٥٤٩، ح ٨٩٣، ص ٣٢٧، اور تھوڑے سے الفاظ کے اختلاف کے ساتھ: سنن ابی داؤد (بیروت: دارالفکر)، ج٤، کتاب الادب، باب ''من لیست لہ غیبة''، ص ٢٧١.)

(٣) گوسٹاولوبون، گزشتہ حوالہ، ص ٦٣.


رشتہ داروں کے درمیان جو کہ نسب اور محل سکونت کے لحاظ سے بہت قریب تھے، سخت اختلافات اور جھگڑے ہوتے تھے۔ شعراء بھی اپنے اشعار کے ذریعہ فتنہ کی آگ بھڑکایا کرتے تھے۔ وہ اشعار میں اپنے قبیلہ کے افتخارات کو بیان کرتے تھے اور دوسرے قبیلہ کے عیوب کو برملا کرتے تھے اور لوگوں کے ذہنوں میں گزشتہ باتوں کو تازہ کر کے ان کے دلوں میں کینہ اور لڑائی کا جذبہ پیدا کرتے تھے۔ اکثر و بیشتر ان کے درمیان لڑائیاں صرف معمولی اور چھوٹی بات پر ہوتی تھیں۔ جس وقت فتنہ کی آگ بھڑکتی تھی تو دونوں قبیلے ایک دوسرے کی جان کے پیاسے ہوجاتے تھے اور ایک دوسرے کو نابود کرنے کی فکرمیں لگ جاتے تھے۔(١)

وحشی گری اور تمدن سے دوری ان کی غارت گری کا ایک دوسرا سبب تھا۔ ابن خلدون کی نگاہ میں اس قوم کے لوگ وحشی تھے اور ان کے درمیان وحشی گری اس قدر پائی جاتی تھی کہ جیسے ان کے سرشت اور عادت میں رچ بس گئی ہو، مثال کے طور پر، کھانے کی دیگ بنانے کے لئے انھیں سنگ کی ضرورت پڑتی تھی تو وہ اس کی خاطر عمارتوں کو مسمار کردیتے تھے تاکہ کھانے کی دیگ ان پتھروں سے بنائیں یا محلوں اور بڑی عمارتوں کو اس بنا پر ویران کردیتے تھے تاکہ ا س کی لکڑی سے خیمہ بنائیں یا اس سے عمارتیں اور ستون خیمہ تیار کریں۔ غارت گری کی عادت ان میں اس قدر پائی جاتی تھی کہ جو بھی چیز وہ دوسروں کے ہاتھوں میں دیکھتے تھے اسے لوٹ لیا کرتے تھے۔ ان کی روزیاں نیزوں کے بل پر فراہم ہوتی تھیں دوسروں کا مال چوری کرنے سے کبھی باز نہیں آتے تھے بلکہ ان کی نظر اگرکسی کے مال و ثروت یا وسائل زندگی پر پڑتی تھی تو اسے وہ لوٹ لیا کرتے تھے۔(٢)

ان کی آمدنی کا ایک ذریعہ لوٹ اور غارت ہوا کرتا تھا جس وقت وہ کسی قبیلہ پر حملہ آور ہوتے تھے تو

______________________

(١) حسن ابراہیم حسن، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٨.

(٢) مقدمہ ترجمۂ محمد پروین گنابادی ، (تہران: مرکز انتشارات علمی و فرہنگی، ط٤، ١٣٦٢)، ج١، ص ٢٨٦۔ ٢٨٥.


ان کے اونٹوں کو لوٹ لیا کرتے تھے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنالیا کرتے تھے۔

دوسرا قبیلہ بھی کمین گاہ میں بیٹھا اسی تاک میں لگا رہتا تھا اور اسے بھی جب موقع ملتا تھا یہی حرکت کربیٹھتا تھا۔ اور جب دوسروں سے دشمنی نہیں ہوتی تھی تو آپس میں ایک دوسرے سے لڑتے تھے۔ جیسا کہ قطامی (بنی امیہ کے پہلے دور کا) شاعر اپنے اشعار میں ا س بات کا تذکرہ کرتا ہے:

ہمارا کام پڑوسیوں اور دشمنوں پر ہجوم اور غارت گری تھا اور اگرہمیں کبھی کوئی نہ ملتا تو اپنے بھائی کا مال لوٹ لیا کرتے تھے۔(١)

اس زمانے میں جو جنگیں اوس اور خزرج نامی دو قبیلوںکے درمیان قصاص اور خونخواہی کی بنا پر شروع ہوئی تھیں وہ یثرب (مدینہ) میں اس قدر شدید اور زیادہ بڑھ گئی تھیں کہ کسی میں جرأت نہیں تھی کہ وہ اپنے علاقے یا جائے امن سے دور جائے ان لڑائیوں نے عرب کی زندگی کو مفلوج اور ان کی حالت کو پست کردیا تھا۔ قرآن مجید ان کی اس رقت بار حالت کو یاد دلاکر، اسلام کے سایہ میں جو ان کے درمیان بھائی چارگی قائم ہوئی اس کے بارے میں اس طرح سے ذکر کرتا ہے۔

''... اور اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ تم لوگ آپس میں دشمن تھے اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی تو تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے اور تم جہنم کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں نجات دی اور اللہ اسی طرح اپنی آیتیں بیان کرتا ہے کہ شاید تم ہدایت یافتہ بن جاؤ''۔(٢)

___________________

(١) و احیاناً علی بکر اخینا٭اذا مالم نجد الا اخانا ۔

احمد امین، گزشتہ حوالہ، ص٩؛ فیلیپ حتی، گزشتہ حوالہ، ص٣٥؛ حماسة ابی تمام حبیب اوس الطائی (کلکتہ: مطبع لیسی، ١٨٩٥ئ)،ص ٣٢.

(٢) سورۂ آل عمران،٣، آیت ١٠٣


حرام مہینے

صرف حرام مہینوں (ذیقعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب) میں جو کہ جناب ابراہیم اور جناب اسماعیل کی دیرینہ سنت کی یاد اوران کی بچی ہوئی تعلیمات میں سے تھی(١) ان مہینوں کے احترام میں عربوں کے درمیان، آپس میں جنگ بندی (مقدس صلح) کا قانون پایا جاتا تھا۔ اور ان کو موقع ملتا تھا کہ وہ کچھ دن سکون سے رہیں اور تجارت اور کعبہ کی زیارت کرسکیں(٢) اور ان مہینوں میں کوئی جنگ ہوجاتی تھی تو اس کو ''حرب الفجار'' (ناروا اور گناہ آلود جنگ) کہتے تھے۔(٣)

عرب کے سماج میں عورت

جاہل عربوں میں جہالت اور خرافات کا ایک واضح نمونہ، عورت کے بارے میں ان کے مخصوص نظریات تھے۔ اس دور کے معاشرے میں عورت انسانیت کے معیار ،سماجی حقوق اور آزادی

______________________

(١) سید محمد حسین طباطبائی، تفسیر المیزان (بیروت: موسسہ الاعلمی للمطبوعات، ط ٢، ١٣٩١ھ.ق)، ج٩، ص ٢٧٢.

(٢) وہ لوگ مہینوں کے ناموں کو بدل کر کے حرام مہینوں کو پیچھے کردیتے تھے اور اپنے کو اس کے حد و حدود سے الگ کر کے حرام مہینے میں بھی جنگ و خونریزی کرتے تھے اسی مناسبت سے خداوند عالم نے فرمایا ہے: ( محترم مہینوں میں تقدیم و تاخیر، کفر میں ایک قسم کی زیادتی ہے۔ جس کے ذریعہ کفار کو گمراہ کیا جاتا ہے کہ وہ ایک سال اسے حلال بنالیتے ہیں اور دوسرے سال اسے حرام کردیتے ہیں تاکہ اتنی تعداد برابر ہو جائے جتنی خدا نے حرام کی ہے۔ اور حرام خدا حلال بھی ہو جائے ...)، (سورۂ توبہ، ٩،آیت ٣٧.)

(٣) ابن واضح، تاریخ یعقوبی، (نجف: المکتبة الحیدریہ، ١٣٨٤ھ.ق)، ج٢، ص١٢؛ شہرستانی، الملل و النحلل، (قم: منشورات الرضی، ط ٢)، ج٢، ص ٢٥٥.


سے بالکل محروم تھی۔ اور اس سماج میں گمراہی اور سماج کے وحشی پن کی بنا پر لڑکی اور عورت کا وجود باعث ذلت و رسوائی سمجھا جاتا تھا۔(١) وہ لڑکیوں کو میراث کے قابل نہیں سمجھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ارث کے حقدار صرف وہ لوگ ہیں جو تلوار چلاتے ہیں اور اپنے قبیلہ کا دفاع کرتے ہیں۔(٢) ایک روایت کی بنا پر عرب میں عورت کی مثال اس مال جیسی تھی جو شوہر کے مرنے کے بعد (لڑکا نہ ہونے کی صورت میں) شوہر کے دوسرے اموال اور ثروت کی طرح سوتیلی اولاد کے پاس منتقل ہوجاتی تھی۔(٣)

واقعات گواہ ہیں کہ شوہر کے مرنے کے بعد اس کا بڑا لڑکا اگر اس عورت کو رکھنے کا خواہش مند ہوتا تھا (یعنی اپنی بیوی بنانا چاہتا تھا) تو اس کے اوپر ایک کپڑا ڈال دیتا تھا اور اس طریقہ سے میراث کے طور پر عورت اسے مل جایا کرتی تھی اس کے بعد اگر وہ چاہتا تھا تو اسے بغیر کسی مہر کے، صرف میراث ملنے کی بنا پر اس سے شادی کرلیتا تھا اور اگر اس سے شادی کا خواہش مند نہ ہوتا تو دوسروں سے اس کی شادی کردیتا تھا اور اس عورت کا مہر خود لے لیتا تھا۔ اور اس کے لئے یہ بھی ممکن تھا کہ اسے ہمیشہ کے لئے دوسرے مردوں سے شادی کرنے سے منع کردے، یہاں تک وہ مرجائے اور اس کے مال کا مالک بن جائے۔(٤)

______________________

(١) سید محمد حسین طباطبائی، تفسیر المیزان (قم: مطبوعاتی اسماعیلیان، ط٣، ١٣٩٣ھ.ق)، ج٢، ص٢٦٧۔

(٢) ابوالعباس المبرد، الکامل فی اللغة و الادب، مع حواشی: نعیم زرزور (اور) تغارید بیضون (بیروت: دار الکتب العلمیہ، ط١، ١٤٠٧ھ.ق)، ج١، ص ٣٩٣؛ محمد بن حبیب، المحبر (بیروت: دارالافاق الجدیدة)، ص ٣٢٤۔

(٣) کلینی، الفروع من الکافی، (تہران: دار الکتب الاسلامیہ، ط٢، ١٣٦٢)، ج٦، ص ٤٠٦.

(٤)طباطبائی، گزشتہ حوالہ، ج٤، ص ٢٥٨۔ ٢٥٤؛ سیوطی، الدرالمنثور فی التفسیر بالماثور، (قم: مکتبة آیة اللہ مرعشی نجفی، ١٤٠٤ھ.ق)، ج٢، تفسیر آیۂ ٢٢ سورۂ نسائ، ص ١٣٢۔ ١٣١؛ شہرستانی، الملل و النحل (قم: منشورات الرضی، ط٢)، ج٢، ص ٢٥٤؛ حسن، حسن، حقوق زن در اسلام و یورپ (ط٧، ١٣٥٧)، ص٣٤۔عرب اس شخص کو ''ضیزن'' کہتے تھے جو باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی کو اپنی بیوی بنالیتا تھا۔ (محمد بن حبیب، المحبر ، ص ٣٢٥)، ابن قتیبہ دینوری نے اس قسمکی عورتوں کی تعداد کو ذکر کیا ہے، جنھوں نے شوہر کے مرنے کے بعد اپنے لڑکوں سے شادی کرلی تھی (المعارف، تحقیق: ثروة عکاشہ، قم: منشورات الرضی، ص ١١٢.)


چونکہ باپ کی بیوی سے شادی کرنا اس وقت قانوناً منع نہیں تھا۔ لہٰذا قرآن کریم نے ان کو اس کام سے منع کیا(١) ۔ دور اسلام میں مفسرین کے کہنے کے مطابق ایک شخص جس کا نام ''ابو قبس بن اسلت'' تھا جب وہ مر گیا تو اس کے لڑکے نے چاہا کہ اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ شادی کرے تو خدا کی جانب سے یہ آیت نازل ہوئی( لایَحِلُّ لَکُمْ اَن تَرِثُوْا النِّسَائَ... ) ،(٢) تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ تم عورت کو ارث میں لو۔

اس سماج میں متعدد شادیاں بغیر کسی رکاوٹ کے رائج تھیں۔(٣)

عورت کی زبوں حالی ( ٹریچڈی)

یہ بات مشہور ہے کہ عربوں میں سب سے بری رسم یہ تھی کہ وہ لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے۔ کیونکہ لڑکیاں ایسے سماج میں جو تہذیب اور تمدن سے دور، ظلم و بربریت میں غرق ہو، مردوں کی طرح لڑکر اپنے قبیلہ سے دفاع نہیں کرسکتی تھیں کیونکہ لڑنے کی صورت میں یہ ممکن تھا لڑکیاں دشمن کے ہاتھ لگ جائیں اور ان سے ایسی اولادیں پیدا ہوں جو باعث ننگ اور عار بنیںلہٰذا وہ لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے(٤) اور کچھ لوگ مالی مشکلات کی خاطر، فقر و افلاس کے خوف

______________________

(١)''ولاتنکحوا ما نکح آبائکم من النسائ'' ( سورۂ نسائ، ٤،آیت ٢٢.)

(٢) طباطبائی، گزشتہ حوالہ، ج٤، ص ٢٥٨؛ طبری، جامع البیان فی تفسیر القرآن (بیروت: دارالمعرفہ، ط ٢، ١٣٩٢ھ.ق)، ج٤، ص ٢٠٧؛ سورۂ نساء کی آیت نمبر ١٩ کی تفسیر کے ذیل میں۔

(٣) طباطبائی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٦٧۔

(٤) شیخ عباس قمی، سفینة البحار (تہران: کتابخانۂ سنایی، ج١)، ص ١٩٧ (کلمۂ جھل)؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق: محمد ابو الفضل ابراہیم (قاہرہ: دار احیاء العربیہ، ١٩٦١ئ)، ج١٣، ص ١٧٤؛ کلینی ، الاصول من الکافی، (تہران: دار الکتب الاسلامیہ)، ج٢، باب ''البر بالوالدین''، ح١٨، ص ١٦٣؛ قرطبی، تفسیر جامع الاحکام (بیروت: دار الفکر)، ج١٩، ص ٢٣٢۔


سے ایسا کرتے تھے۔(١)

مجموعی طور پر لڑکیاں اس سماج میں منحوس سمجھی جاتی تھیں قرآن کریم نے ان کی اس غلط فکر کو اس طرح سے نقل کیا ہے:

''اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی بشارت دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ خون کے گھونٹ پینے لگتا ہے، قوم سے منھ چھپاتا ہے کہ بہت بری خبر سنائی گئی ہے اب اس کو ذلت سمیت زندہ رکھے یا خاک میں ملادے، یقینا یہ لوگ بہت برا فیصلہ کر رہے ہیں''۔(٢)

عورت کو محروم اور دبانے کی باتیں اس زمانے کے عربی ادب اور آثار میں بہت زیادہ ملتی ہیں جیسا کہ ان کے درمیان یہ بات عام تھی کہ جس کے پاس لڑکی ہوتی تھی اس سے وہ لوگ کہتے تھے کہ ''خدا تم کو اس کی ذلت سے محفوظ رکھے اور اس کے اخراجات کو پورا کرے اور قبر کو داماد کا گھر بنادے۔(٣)

ایک عرب شاعر نے اس بارے میں کہا ہے:

جس باپ کے پاس لڑکی ہو اور وہ اس کو زندہ رکھنا چاہے تو اس کے لئے تین داماد ہیں: ١)ایک وہ گھر جس میں وہ رہتی ہے۔ ٢)دوسرے اس کا شوہر جو اس کی حفاظت کرتا ہے۔ ٣)اور تیسرے وہ قبر جو اس کو اپنے اندر چھپالیتی ہے۔ لیکن ان میں سب سے بہتر قبر ہے۔(٤)

______________________

(١) سورۂ انعام،٦، آیت ١٥١؛ سورۂ اسرائ،١٧، آیت ٣١؛ قرطبی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٣٢۔

(٢) سورۂ نحل، ١٦،آیت ٥٩۔ ٥٨۔

(٣)آمنکم اللّٰه عار ها و کفاکم مؤنتها، وصاهرتم القبر!

(٤) لکل اب بنت یرجی بقائها

ثلاثة اصهار اذا ذکرو الصهر

فبیت یغطیها و بعل یصونها

و قبر یواریها و خیرهم القبر!

(عائشہ عبد الرحمن بنت الشاطی، موسوعة آل النبی (بیروت: دار الکتاب العربیہ، ١٣٨٧ھ.ق، ص ٤٣٥.)

کہتے ہیں کہ ایک شخص جس کا نام ابوحمزہ تھا وہ صرف اس وجہ سے اپنی بیوی سے ناراض ہوگیا اور پڑوسی کے یہاں جاکر رہنے لگا کہ اس کے یہاں لڑکی پیدا ہوئی تھی۔ لہٰذا اس کی بیوی اپنی بچی کو لوری دیتے وقت یہ اشعار پڑھتی تھی۔


ابوحمزہ کو کیا ہوگیا ہے کہ جو ہمارے پاس نہیں آتا ہے اور پڑوسی کے گھر میں رہ رہا ہے وہ صرف اس بنا پر ناراض ہے کہ ہم نے لڑکا نہیں جنا! خدا کی قسم یہ کام میرے دائرۂ اختیار میں نہیں ہے جو بھی وہ ہم کو دیتا ہے ہم اسے لے لیتے ہیں۔ہم بمنزلۂ زمین ہیں کہ کھیت میں جو بویا جائے گا وہی اگے گا ۔(١)

حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو اس کی ماں کی باتیں اس سماج کے نظام کے خلاف ایک احتجاج ہیں اور ان کے درمیان عورت کی پائمالی کا ایک طرح سے اظہار ہے۔

سب سے پہلا قبیلہ جس نے اس غلط رسم کی بنیاد ڈالی، وہ قبیلۂ ''بنی تمیم'' تھا کہا جاتا ہے کہ اس قبیلہ نے نعمان بن منذر کو ٹیکس دینے سے انکار کردیا جس کی وجہ سے ان کے درمیان جنگ ہوئی جس میں بہت ساری لڑکیاں اور عورتیں اسیر کرلی گئیں جس وقت بنی تمیم کے نمائندے اسیروں کو چھڑانے کے لئے نعمان کے دربار میں حاضر ہوئے تو اس نے یہ اختیار خود ان عورتوں کو دیدیا کہ چاہیں تو حیرہ میں رہیں اور چاہیں تو بنی تمیم کے پاس چلی جائیں۔ قیس بن عاصم جو کہ قبیلہ کا سردار تھا اس کی لڑکی بھی اسیروں کے درمیان تھی اس نے ایک درباری سے شادی کرلی تھی لہٰذا اس نے دربار میں رکنے کا

______________________

(١) ما لابی حمزة لایأتینا

یظل فی البیت الذی یلینا

غضبان الا نلد البنینا

تالله ما ذالک فی ایدینا

وانما نأخذ ما أعطینا

و نحن کالارض لزارعینا

ننبت ما قدزرعوه فینا

(جاحظ، البیان والتبیین، بیروت: داراحیاء التراث العربی، ١٩٦٨ئ، ج١، ص ١٢٨۔ ١٢٧؛ عایشہ بنت الشاطی، گزشتہ حوالہ، ص ٤٣٤۔ ٤٣٣؛ آلوسی، بلوغ الارب فی معرفة احوال العرب، ج٣، ص ٥١.


فیصلہ کرلیا، قیس اس بات سے سخت ناراض ہوا اور اس نے اسی وقت عہد کرلیا کہ اس کے بعد وہ اپنی لڑکیوں کو قتل کر ڈالے گا،(١) اور اس نے یہ کام انجام دیا۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ یہ رسم دوسرے قبیلوں میں بھی رائج ہوگئی، کہا جاتا ہے کہ اس جرم اور جنایت میں قیس، اسد، ہذیل اور بکر بن وائل نامی قبیلے شامل تھے۔(٢)

البتہ یہ رسم عام نہیں تھی کچھ قبیلے اور بڑی شخصیتیں اس کام کی مخالف تھیں، ان میں سے جناب عبد المطلب پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے جد تھے جو اس کام کے شدید مخالف تھے،(٣) اور کچھ لوگ جیسے زید بن عمرو بن نفیل اور صعصعہ بن ناجیہ، لڑکیوں کو ان کے باپ سے فقر کے خوف سے زندہ درگور کرتے وقت لے لیتے تھے اور ان کو اپنے پاس رکھتے تھے۔(٤) اور کبھی لڑکیوں کے عوض میں ان کے باپ کو اونٹ دیدیا کرتے تھے۔(٥) لیکن واقعات گواہ ہیں کہ یہ رسم عام طور پر رائج تھی، کیونکہ :

١۔صعصعہ بن ناجیہ نے زمانۂ اسلام میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہا تھا کہ میں نے دور جاہلیت میں ٢٨٠ لڑکیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچایا ہے(٦)

______________________

(١)ابوالعباس المبرد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٩٢؛ ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١٣، ص ١٧٩۔

(٢) ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١٣، ص ١٧٤۔

(٣) آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٢٤؛ تاریخ یعقوبی، (بیروت: دار صادر)، ج٢، ص١٠

(٤) آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٤٥، ابن ہشام، السیرة النبویہ، تحقیق: مصطفی السقاء (اوردوسرے لوگ) (تہران: آفسٹ، مکتبة الصدر)، ج١، ص ٢٤٠۔

(٥) محمد ابوالفضل ابراہیم( اور ان کے معاونین)، قصص العرب (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ط٤)، ج٢، ص٣١؛ ابوالعباس المبرد، گزشتہ حوالہ، ص ٢٩٤؛ فرزدق کے جد، صعصعہ، عصر اسلام کے شاعر تھے اور وہ اپنے جد کے اس فعل پر افتخار کرتے تھے اور کہتے تھے : و منا الذی منع الوائدات فأحیا الوئید فلم یوأد۔ (قرطبی، تفسیر جامع الاحکام، ج١٩، ص ٢٣٢)۔

(٦) ابوالعباس المبرد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٩٤


٢۔قیس بن عاصم نے عہد کرنے کے بعد (جیسا کہ پہلے گزر چکا) اپنی ١٢ یا ١٣لڑکیوں کو قتل کیا۔(١)

٣۔پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے پہلے پیمان عقبہ میں (بعثت کے بارہویں سال) جو کہ یثربیوں کے ایک گروہ کے ساتھ کیا تھا،معاہدہ کی ایک شرط یہ قرار دی کہ لڑکیوں کو زندہ درگور نہ کریں۔(٢)

٤۔ فتح مکہ کے بعد پیغمبر اکرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے خدا کے حکم سے اس شہر کی مسلم عورتوں سے بیعت لیتے وقت یہ شرط رکھی تھی کہ اپنی لڑکیوں کو قتل کرنے سے پرہیز کریں۔(٣)

٥۔قرآن کریم نے متعدد مقامات پر اس رسم کی شدید مذمت فرمائی ہے۔ لہٰذا ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مسئلہ اس سماج کی سب سے بڑی مشکل تھی جس کے بارے میں قرآن کریم نے خبردار کیا ہے۔

١۔ اور خبردار! اپنی اولاد کو فاقہ کے خوف سے قتل نہ کرو کہ ہم انھیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمھیں بھی رزق دیتے ہیں بیشک ان کا قتل کردینا بہت بڑا گناہ ہے۔(٤)

______________________

(١) ابن اثیر، اسد الغابہ (تہران: المکتبة الاسلامیہ، ١٣٣٦)، ج٤، ص ٢٢٠ (شرح حال قیس بن عاصم) منقول ہے کہ قیس عصر اسلام میں مسلمان ہوئے اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچے اور عرض کیا: زمانۂ جاہلیت میں،میں نے اپنی آٹھ لڑکیوںکو زندہ درگور کردیاتھا اب اس فعل کا جبران کیسے کروں؟ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ ان میں سے ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو ۔ اس نے کہا: میرے پاس بہت اونٹ ہیں ۔ تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ان میں سے ہرایک کے بدلے اونٹ کی قربانی بھی کرسکتے ہو۔ (قرطبی، تفسیر جامع الاحکام، ج١٩، ص ٢٣٣.)

(٢) ابن ہشام ، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص٧٥.

(٣) ''یا ایها النبی اذا جائک المؤمنات یبایعنک علی ان لا یشرکن بالله شیئاً ولایسرقن و لایزنین و لا یقتلن اولادهن و لایأتین ببهتان یفترینه بین ایدیهن و ارجلهن ولایعصینک فی معروف فبایعهن واستغفر لهن اللّٰه ان اللّٰه غفور رحیم ۔'' (سورۂ ممتحنہ،٦٠،آیت ١٢.)

(٤) سورۂ اسرائ،١٧، ''ولا تقتلوا اولادکم خشیة املاق نحن نرزقهم وایاکم ان قتلهم کان خطأ کبیراً ، آیت ٣١.


٢۔ اور اسی طرح ان شریکوں نے بہت سے مشرکین کے لئے اولاد کے قتل کو بھی آراستہ کردیا ہے تاکہ ان کو تباہ و برباد کردیں اوران پر دین کو مشتبہ کردیں۔(١)

٣۔ یقینا وہ لوگ خسارہ میں ہیں جنھوں نے حماقت میں بغیر جانے بوجھے اپنی اولاد کو قتل کردیا۔(٢)

٤۔ اپنی اولاد کوغربت کی بنا پر قتل نہ کرنا کہ ہم تمھیں بھی رزق دے رہے ہیں اورانھیں بھی۔(٣)

٥۔ اور جب زندہ درگور لڑکیوںکے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ انھیں کس گناہ میں مارا گیا ہے۔(٤)

______________________

(١) سورۂ انعام، ٦،(وَکَذَلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیرٍ مِنْ الْمُشْرِکِینَ قَتْلَ َوْلاَدِهِمْ شُرَکَاؤُهُمْ لِیُرْدُوهُمْ وَلِیَلْبِسُوا عَلَیْهِمْ دِینَهُمْ وَلَوْ شَائَ اﷲُ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا یَفْتَرُونَ) آیت ١٣٧.

(٢) سورۂ انعام، ٦،( قَدْ خَسِرَ الَّذِینَ قَتَلُوا َوْلاَدَهُمْ سَفَهًا بِغَیْرِ عِلْمٍ ) آیت ١٤٠.

(٣)سورہ انعام،٦،( وَلاَتَقْتُلُوا َوْلاَدَکُمْ مِنْ ِمْلاَقٍ نَحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَِیَّاهُم ) آیت ١٥١.

(٤) سورۂ تکویر، ٨١،( واذالمؤودة سئلت بای ذنب قتلت) آیت ٩۔ ٨.


دوسری فصل

عربوں کے صفات اور نفسیات

متضاد صفات

بدو عرب میں وحشیانہ عادت اور لوٹ مار کے باوجود اچھی عادتیں ، جیسے عفو و کرم، مہمان نوازی، شجاعت اور دلیری بھی پائی جاتی تھی۔ خاص طور سے وہ اپنے وفائے عہد و پیمان کے شدید پابند تھے یہاں تک کہ اپنے عہد و پیمان کی خاطر اپنی جان کی بازی لگادیتے تھے۔ اور یہ ان کی سب سے نمایاں صفت شمار ہوتی تھی۔ ان کے اندر متضاد صفات کو دیکھ کر لوگ حیرت و استعجاب میں پڑ جاتے تھے۔ اور وہ ایسے دور دراز علاقہ میں زندگی بسر کرتے تھے جو دنیا میں کم نظیر تھا۔ اگر ان کے حالات زندگی ایسے نہ ہوتے تو اس بات کا سمجھنا بہت مشکل تھا۔ وہی لڑاکو عرب جو لوٹ مار کے پیاسے تھے جس وقت ان کے اندر انتقام کی آگ بھڑکتی تھی تو وہ بدترین جرائم کرنے سے بازنہیں آتے تھے۔ اپنے گھر میں بہت بڑے مہمان نواز، مہربان اور مونس تھے۔ اگر ایک کمزور اور بے چارہ، ان سے پناہ مانگتاتھا یا ایک ستمدیدہ (اگرچہ دشمن ہی کیوں نہ ہو) ان کی طرف دست نیاز دراز کرتا تھا یا اس کو اپنی پناہ گاہ سمجھتا تھا تو اس کے ساتھ اس طرح پیش آتے تھے کہ گویا وہ شخص، ان کے خاندان یا قبیلہ کا ایک فرد ہے. او رکبھی تو اس کادفاع


کرنے میں اپنی جان کی بازی لگا دیتے تھے۔(١)

میدان جنگ میں شجاعت و دلیری عفو و درگزر، قبیلہ کے سامنے تسلیم اور ایسے ظالموںسے انتقام لینے میں ، جنھوں نے اس کے یا اس کے رشتہ داروں کے حقوق کو پائمال کردیا تھا بے رحمی کے ساتھ پیش آنا عرب کی شرافت اور فضیلت سمجھی جاتی تھی۔(٢)

عربوں کی اچھی صفتوں کی بنیاد

جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ عربوں کے درمیان اگرچہ پانی اور چراگاہوںکے بارے میں رقابت اکثر کشمکش کا باعث بنتی تھی اور قبائل کوایک دوسرے کے ساتھ الجھا اور کشت و کشتار پر مجبور کردیتی تھی۔ لیکن دوسری طرف سے ان کے اندر کمزوری اور عاجزی کے احساس نے ہی ان کے مزاج کی سختی اور لجاجت کے مقابلہ میں اس فکر کو ہوا دی تھی کہ سبھی ایک مقدس رسم کے محتاج ہیں۔ اور ایسی سرزمین میں جہاں مہمان سرائیں اور مسافر خانے نہ ہوتے ہوں، مہمانوں کی ضیافت سے بچنا ان کے اخلاق اور عزت کے خلاف تھا۔ عہد جاہلیت کے شعراء ہمارے زمانے کے صحافیوں کا رتبہ رکھتے تھے۔ان کی بہادری اور دلیری کے ساتھ ان کی مہمان نوازی ، قوم عرب کی نمایاں فضیلت شمار کی جاتی تھی ۔ اور اس کے بارے میں وہ اشعار کہا کرتے تھے اور پڑھتے تھے۔(٣)

______________________

(١) ڈاکٹر گوسٹاولوبون، تمدن اسلام و عرب، ترجمہ: سید ہاشم حسینی، ص ٦٥۔ ٦٤؛ ویل ڈورانٹ، اس بارے میں لکھتا ہے: ''عرب کے بدو، مہربان بھی تھے اور خونخوار بھی، سخی بھی تھے اور کنجوس بھی، خیانت کار بھی تھے اورامین بھی، محتاط بھی تھے اور بہادر بھی ،اگرچہ فقیر تھے لیکن دنیا میں کرم و بزرگی سے پیش آتے تھے'' تاریخ تمدن، ترجمہ: ابوطالب صارمی (تہران: سازمان انتشارات و آموزش انقلاب اسلامی، ط ٢،)، ج٤، ص ٢٠١.

(٢) احمد امین، فجر الاسلام، (قاہرہ: مکتبة النہضة المصریہ، ط ٩، ١٩٦٤م)، ص ٧٦.

(٣) فلیپ حتی، تاریخ عرب، ترجمہ: ابوالقاسم پایندہ، (تہران: آگاہ، ط ٢، ١٣٦٦)، ص ٣٥۔ ٣٣.


لیکن یہ خیال رکھنا چاہیئے کہ ان کی بہت ساری اچھی خوبیاں جیسے شجاعت، مہمان نوازی، کرم اور پناہ گزینوں کی حمایت (جیسا کہ بعد میں اسلامی تعلیم اور کلچر میں یہ چیزیں ذکر ہوئی ہیں) روحانی اور انسانی اقدار سے نشأت نہیں پائی ہیں۔ بلکہ معاشرتی اسباب اور جاہلی کلچر جیسے قبیلوں کے درمیان فخر و مباہات کی بنا پر تھیں۔ کیونکہ ایسے ماحول میں جہاں پر نظم و امنیت نہ ہو، شجاعت اور دلیری ان کی زندگی کا لازمہ تھی۔ نام و نمود سے دلچسپی، منصب کی آرزو و تمنا، شعراء کی مذمت کا خوف، ذلت و رسوائی اور بدمزاجی وغیرہ نے عربوں کو جود و سخاوت، وفائے عہد، پناہ گزینوں کی حمایت اور اس طرح کی دوسری اچھائیوں پر اکسایا تھا۔ مہمان نوازی اور دلیری کی عادتیں ایسے ماحول میں کہ جہاں لوگ مال واولاداور جنگجوؤں کی کثرت تعداد پر فخر کیا کرتے تھے۔ ان کی سربلندی اور عزت کا وسیلہ بن گئی تھی اور یہ بات اس کے لئے واضح ہے جو تاریخ اسلام سے آگاہ ہے۔(١)

جہالت اور خرافات

حجاز کے عرب جو عموماً صحرا میں زندگی بسر کرتے تھے۔ تہذیب اور کلچر سے دور فکری جمود میں اس طرح سے گرفتار ہوگئے تھے کہ بہت سی چیزوں کے درمیان موجود نسبت کو نہیں سمجھ سکتے تھے۔ وہ چیزوں کی منطقی تحلیل اور تجزیہ نہیں کرسکتے تھے اور نہ ہی علت و معلول کے درمیان موجود رابطے کو پوری طرح سے سمجھ سکتے تھے۔ مثلاً اگر ایک شخص مریض ہوگیا اور تکلیف جھیل رہاہے تو ا سکے اطراف کے لوگ اس کے لئے دوا تجویز کرتے تھے اور وہ اس درد و درمان کے درمیان ایک طرح کا ربط سمجھتا تھا لیکن یہ فہم، دقیق اور تحلیلی نہیں ہوا کرتی تھی۔ وہ صرف اتنا جانتا تھا کہ اس کے قبیلہ کے لوگ اس دوا کو فلاں درد میں استعمال کرتے ہیں۔ بطور نمونہ وہ آسانی سے یہ بات مان لیتا تھا کہ قبیلہ کے سردار کا خو ن ہادی نامی

______________________

(١) رجوع کریں: جعفر مرتضی العاملی، الصحیح من سیرة النبی الاعظم، (قم: ١٤٠٢ھ.ق)، ج١، ص ٥٤۔ ٥٠.


مسری بیماری ( جو عموماً کتے کے کاٹنے سے پیدا ہوتی ہے)کا علاج کرتاہے اسی طرح وہ یہ تصور کرتا تھا کہ بیماری کی وجہ، روح کی کثافت ہوا کرتی ہے جو بیمار کے اندر داخل ہوجاتی ہے اسی بنا پر یہ کوشش ہوا کرتی تھی کہ وہ روح، بیمار کے بدن سے نکل جائے، یا اگر کسی کے بارے میں پاگل ہو جانے کا خطرہ ہوتا تھا تواس کی گردن میں مردار کی ہڈی یا غلاظت مل دیا کرتے تھے تاکہ وہ جنون سے محفوظ رہ سکے۔ دیو کا عقیدہ بھی ان کے یہاں ملتاہے وہ معتقد تھے کہ بھیانک شکلیں رات کے وقت خالی مکانوں میں دکھائی پڑتی ہیں یا بیابانوں میں لوگوں کے راستے میں حائل ہوجاتی ہیں اور ان کو آزار و اذیت پہنچاتی ہیں۔

جس وقت وہ اپنے مویشیوں کو پانی پلانے کے لئے گھاٹ پر لے جاتے تھے تو اگر وہاں پر وہ پانی نہیں پیتے تھے تو یہ خیال کرتے تھے کہ ان کے سینگ کے درمیان ایک دیو بیٹھا ہے جو انھیں پانی نہیں پینے دیتا ہے لہٰذا وہ دیو کو بھگانے کے لئے ان مویشیوں کے سر او رمنھ پر ڈنڈے مارا کرتے تھے۔(١) اس قسم کی مضحکہ خیز حرکتیں ان کے درمیان بہت زیادہ رائج تھیں۔

وہ اس طرح کی حرکتوں کے بارے میں (جب کہ یہ حرکتیں ان کے قبیلہ کے اندر پائی جاتی ہوں) زرّہ برابر بھی شک و تردید نہیں کرتے تھے کیونکہ انکار اور تردید کی وجہ، دقت نظر، بیماری کی تحقیق کی صلاحیت، اسباب و عوارض اور ان کا علاج وغیرہ ہے جبکہ اس زمانہ میں عرب، جہالت میں زندگی بسر کر رہے تھے اور اس حد تک فہم و فراست ان کے اندر نہیں پائی جاتی تھی۔(٢)

البتہ کبھی جاہلیت کے اشعار یا اس زمانے کے محاورے یا ان کی داستانوں میں روشن فکری کے اشارے اور علت و معلول کے درمیان میں ارتباطات کی باتیں ملتی ہیں ۔ لیکن وہ بھی عمیق تفکر ،تشریح اور تجزیہ کے قابل نہیں ہیں۔ اور چیزوںکے بارے میں تجزیہ کی صلاحیت کے نہ ہونے کا اصل راز

______________________

(١) محمود شاکری آلوسی، بلوغ الارب فی معرفة احوال العرب، تصحیح: محمد بہجة الاثری (قاہرہ: دار الکتب الحدیثہ ط٣)، ج٢، ص ٣٠٣.

(٢) جاہل عربوں کی خرافات کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے رجوع کریں: بلوغ الارب فی معرفة احوال العرب، ج٢، ص ٣٦٧۔ ٣٠٣؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، (قاہرہ: دا راحیاء الکتب العربیہ)، ج١٩، ص ٤٢٩۔ ٣٨٢۔


ان کے درمیان موجود مختلف طرح کے موہومات اور خرافات تھے جنھیں وہ یقین کرتے تھے۔ اور اس طرح کے باور سے عرب اوراسلام کی تاریخی کتابیں پر ہیں۔(١)

علم و فن سے عربوں کی آگاہی

بعض دانشوروں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ عربوں کے یہاں مختلف طرح کے علوم جیسے طب، ستارہ شناسی، قیافہ شناسی(٢) وغیرہ پائے جاتے تھے لیکن یہ دعوا مبالغہ آمیز ہے۔ عربوں کی آگاہی ان علوم و فنون سے ایک علم و فن کی حد تک منظم و مرتب شکل میں نہیں تھی بلکہ ایک سطحی اور بکھری ہوئی معلومات کی شکل میں تھی جوان کو حدس و گمان اور قبیلہ کے بڑے بوڑھے مرد اور عورتوں سے سن سنا کر حاصل ہوئی تھیں۔ لہٰذا اس طرح کی معلومات کو ''علم'' نہیں کہا جاسکتا ہے۔ مثلاً ستارہ شناسی کے سلسلے میںعربوں کی آگاہی صرف بعض ستاروں کے وقت طلوع اور غروب تک محدود تھی وہ بھی صرف اس بنا پر تھی کہ اس وسیع و عریض صحرا میں راستوں کی تلاش یا شب و روز کے اوقات کو معلوم کرسکیں۔ طب کے بارے میں ان کی آگاہی، ابن خلدون کے کہنے کے مطابق اس طرح سے تھی:

طب کے بارے میں معلومات عام طور سے بعض لوگوں میں مختصر اور محدود تجربات کی بنیاد پر تھی اور علم طب وراثتی طور پر قبیلہ کے بڑے بوڑھوںکے ذریعہ نسل در نسل منتقل ہوتے ہوئے ان کی اولاد تک پہنچ جاتا تھا۔ اور کبھی کبھار بعض مریض اس علاج کے ذریعہ ٹھیک بھی ہوجایا کرتے تھے۔ لیکن وہ معالجہ نہ طبی قانون کے مطابق ہوا کرتا تھا او رنہ ہی انسان کے مزاج او رفطرت کے مطابق۔(٢) حارث بن کلدہ کی طبابت بھی اسی طرح کی تھی۔

______________________

(١) آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ١٨٢، ٢٦١۔ ٢٢٣ ؛ اور ٣٢٧.

(٢) مقدمہ، ترجمہ: محمد پروین گنابادی، (تہران: مرکز انشارات علمی و فرہنگی، ١٣٦٢، ط ٤)، ج٢) ص ١٠٣٤۔


امی لوگ

اہل حجاز قرآن کریم کی تعبیر کے مطابق ''امی'' یعنی نومولود بچہ کے مانند ہمیشہ جاہل اور ان پڑھ ہوا کرتے تھے ۔اور لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔

بلاذری اس بارے میں لکھتا ہے:

ظہور اسلام کے وقت صرف ١٧ افراد قریش میں او ریثرب (مدینہ) میں دو بڑے قبیلے اوس اورخزرج کے درمیان ١١، افراد لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔(١)

جبکہ قریش مکہ میں ایک خاص مقام او ردرجہ رکھتے تھے او رتجارت کے پیشہ میں لکھنے پڑھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس وجہ سے یہ کیسے باور کیا جاسکتاہے کہ وہ قوم جوا س حد تک جہالت اور نادانی میں ڈوبی ہواس کے پاس اس قسم کے علوم ہوں جس کا بعض دانشوروں نے دعوی کیا ہے؟!

شعر

عہد جاہلیت کے عربوں میں صرف ایک اہم خوبی پائی جاتی تھی کہ وہ شعر او رخطابت میں مہارت رکھتے تھے ان کے یہاں، شاعر ایک مورخ، ماہر نساب، ھجاگر، عالم اخلاق، صحافی، پیشین گوئی کرنے والا اور جنگ کا وسیلہ سمجھا جاتا تھا۔(٢) اس زمانے میں عرب کے بڑے شعراء کی موسمی بازاروں میں جیسے عکاظ، ذی المجاز اور مجنہ(٣) میں تجارتی اور ادبی آثار کی موسمی اور عمومی نمائشیں لگتی تھیں جس میں

______________________

(١) فتوح البلدان، (قم: منشورات مکبتة الارمیہ، ١٤٠٤ھ.ق)، ص ٤٥٩۔ ٤٥٧.

(٢) ویل ڈورانٹ، تاریخ تمدن، ج٤، عصر ایمان (بخش اول)، ترجمہ ابوطالب صارمی (تہران: سازمان انتشارات و آموزش انقلاب اسلامی ط٢)، ص ٢٠٢.

(٣) اس بازار کے بارے میں رجوع کریں : بلوغ الارب، ج٢، ص ٢٧٠۔ ٢٦٤


شعراء اپنے عمدہ اشعار او رقصیدوں کو پیش کیا کرتے تھے اور اس میں سے جس کے اشعار منتخب ہوتے تھے وہ اور اس کے قبیلہ والے اسے اپنے لئے باعث فخر و عزت سمجھتے تھے اور اس کے اشعار کو اہمیت او راعزاز کے طور پر خانہ کعبہ کی دیوار پر لٹکادیا جاتا تھا ''معلقات سبعہ'' سات بہترین، فصیح و بلیغ اور عمدہ قصیدے سات عظیم شاعر کے تھے جس کی مثال اور نظیر اس زمانہ میں نہیں ملتی تھی۔ لہٰذا انھیں دیوار کعبہ پر لٹکادیاگیاتھا۔(١) اور اسی وجہ سے انھیں معلقات سبعہ(سات عددلٹکے ہوئے قصیدے) بھی کہا جاتا تھا۔

عرب کے اشعار اپنے تمام تر لفظی حسن کے باوجود تہذیب و ثقافت کے نہ ہونے کی بنا پربلندی فکر سے خالی ہوا کرتے تھے۔ اس زمانہ کے اشعار کے عناوین، زیادہ تر عشق، شراب، عورت، جنگ اور قومی مسائل ہوا کرتے تھے۔ او راس میں لفظی جذابیت او رادبی نزاکتیں پائی جاتی تھیں۔

عرب اور ان کے پڑوسیوں کی تہذیب

علم و ہنر کے لحاظ سے عرب کے حالات کا تجزیہ کرنے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عرب کے جاہل اس زمانہ کے دو متمدن پڑوسی ملک یعنی ایران اور روم کے ساتھ تجارتی روابط اور مبادلہ کی بنا پر وہاں کے تمدن سے بہرہ مند تھے؟ او رکیا یہ روابط اور تعلقات ان کی زندگی میں ا نقلاب کا باعث بنے تھے؟

اس سوال کا جواب دینے کے لئے ہمیں یہ یاد دہانی کرانی چاہیئے کہ حجاز کے لوگ اس علاقے کی قدرتی اور جغرافیائی صورت حال کے لحاظ سے نہ صرف سیاسی اعتبار سے اس زمانے کی حکومتوںکے اثر و رسوخ سے دور تھے بلکہ تہذیب و ثقافت کے لحاظ سے بھی ان کے دائرہ نفوذ سے خارج رہے ہیں عربوں کے لئے پڑوسی ملکوںکی تہذیب اور کلچر سے متاثر ہونے کے صرف تین راستے تھے:

١۔ تجارت ٢۔ ایران و روم کے زیر نفوذ حکومتیں (حیرہ او رغسان) ٣۔ اہل کتاب (یہودی اور عیسائی)لیکن ہمیں یہ دیکھنا چاہیئے کہ یہ اثرات کس حد تک تھے۔ اس سلسلہ میں بعض مورخین کے

______________________

(١) رجوع کریں: معلقات سبع، ترجمہ: عبد المحمد آیتی، تہران: سازمان انتشارات اشرفی، ط٢، ١٣٥٧)


تاثرات مبالغہ آرائی سے خالی نہیں ہیں، جیسا کہ بعض نے کہا ہے:

قبائل عرب کے تعلقات ایران اور روم کے ساتھ ہونے کی بنا پر ایک حد تک وہ ان دونوں ملکوںکے کلچر اور تہذیب سے واقف ہوگئے تھے۔ عرب کے لوگ جب بھی تجارت کے لئے ایران اور روم جایا کرتے تھے تو ان دونوں ملکوں میں تہذیب اور کلچر کے نمونہ دیکھتے تھے۔ اور متوجہ ہوتے تھے کہ ایرانیوں اوررومیوں کی زندگی، عربوں کی زندگی سے کتنا فرق کرتی ہے۔ جیسا کہ ان کے آثار کو واضح طور پر زمانۂ جاہلیت کے اشعار میں دیکھا جاسکتا ہے اس کے علاوہ مسافر اور تاجر حضرات بہت سارے الفاظ اور قصوں کو ایران او روم کی سرزمین سے عربوں کے لئے تحفہ کے طور پر لیجاتے تھے اور اس کے ضمن میں ایرانیوں اور رومیوں کے بعض عقائد اور افکار بھی ان تک پہنچ جاتے تھے۔(١)

لیکن یہ خیال رہے کہ ان دونوں ملکوں میں حجاز کے تاجروںکی آمد و رفت بہت زیادہ ہونے کے باوجود ان کے تمدن اور فکری ارتقاء میں مؤثر نہیںبن ہوسکی کیونکہ ان تمدنوںکی روشنی بہت ہی تنگ راہ گزر سے پہنچتی تھی او رکبھی تودوسروں سے منقول باتوں میں تحریف پائی جاتی تھی ۔ جیسا کہ بعض واقعات جوایرانیوں او ررومیوں کے سلسلے میں نقل کئے گئے ہیں ان میں تحریف پائی گئی ہے درحقیقت اس زمانہ کے عرب، علم و دانش کو اپنے پڑوسیوں سے حاصل نہیں کیا کرتے تھے کیونکہ اس سلسلے میں ان کے لئے رکاوٹیں درپیش تھیں کہ جن میں سے کچھ یہ ہیں:

١۔ قدرتی رکاوٹ: جیسے پہاڑ، سمندر، صحراء وغیرہ جس کی بنا پر پڑوسیوں سے عربوں کے رابطے دشوار او رمشکل ہوگئے تھے۔

٢۔ عربوں کی اجتماعی زندگی اور عقلی و فکری سطح: اس زمانے کے ایرانیوں اور رومیوں سے

______________________

(١) حسن ابراہیمی، تاریخ سیاسی اسلام ، ترجمہ: ابوالقاسم پایندہ(تہران: سازمان انتشارات جاویدان، ط ٥، ١٣٦٢)، ج١، ص ٣٤.


بہت فاصلہ رکھتی تھی جبکہ دوسری قوموں کے تمدن کو اپنانا ثقافتی نزدیکی کی صورت میں ممکن تھا۔

٣۔ عربوںکے درمیان جہالت: یہ چیز سبب بنی کہ جو لوگ رومیوں اور ایرانیوں سے رابطہ رکھتے تھے ان کے درمیان بعض حکمت آمیز باتیں یا داستانیں اور محاورات یا تاریخی واقعات اس انداز سے نقل ہوں کہ ناقل آسانی سے اس کو اپنے دل و دماغ میں محفوظ کر سکے اور بدو عرب یا دوسرے لوگ اس کو سمجھ سکیں اس وجہ سے ان کے درمیان رابطہ سطحی حد تک تھا اور وہ دقیق او رعمیق آگاہی سے بے خبر تھے۔

لہٰذا یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ پڑوسی ملکوں سے عربوں کے تعلقات صرف ان کی مادی اور ادبی زندگی میں مؤثر واقع ہوئے ہیں۔(١)

یہودیوں کی موجودگی کے اثرات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہودی حضرت موسیٰ کے زمانے سے اوراس کے بعد رومیوں کے مظالم، خاص طور سے یروشلم کی تباہی و بربادی کے بعد حجاز کی طرف ہجرت کرگئے۔(٢) حجاز میں یہودیوں کی آمد سے اس علاقہ کی زندگی کے حالات میں کافی تبدیلی آئی۔ اور توریت اور تلمود کی داستانیں بھی عربوں میں منتقل ہوگئیں۔(٣)

ایسی دستاویزات سامنے آئی ہیں جن سے پتہ چلا ہے کہ عربوں کے مقابلہ میں یہودیوں کی فکری اور مذہبی سطح بلند تھی. ظہور اسلام کے بعد بھی وہ بعض مسلمانوں سے اپنے مذہبی سوالات پوچھتے تھے۔(٤) لیکن چونکہ دین یہود (عیسائیوں کے دین کی طرح) بری طرح سے تحریف کا شکار ہوگیاتھا،لہٰذا عرب، جو افکار یہودیوں سے لیتے تھے وہ بیہودہ اور مسخ شدہ ہوا کرتے تھے یہودیوں کی تعلیم نہ صرف یہ کہ ان کے لئے راہ گشا نہ تھی بلکہ ان کی گمراہی میں اضافہ کا باعث تھی۔

______________________

(١) رجوع کریں: فجر الاسلام، ص ٢٩.

(٢) یہودی عام طور سے مدینہ میں خیبر ، فدک، او رتیماء میں رہتے تھے او رکچھ طائف میں بھی تھے لیکن کوئی ایسی نشانی نہیں ملتی جس سے پتہ چلے کہ مکہ میں بھی یہودی رہا کرتے تھے۔

(٣) جرجی زیدان، تاریخ تمدن اسلام، ترجمہ: علی جواہر کلام (تہران: امیر کبیر ١٣٣٣)، ج١، ص ١٦، تلخیص کے ساتھ)

(٤) صحیح بخاری، دار مطابع الشعب، ج٩، ص ١٣٦، کتاب الاعتصام بالکتاب و السنہ.


ایران اور روم کے مقابلہ میںعربوں کی کمزوری اور پستی

جیسا کہ ہم عرض کرچکے ہیں کہ حجاز کے لوگ ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر ایک قبیلہ کی شکل میں زندگی بسر کرتے تھے اور زیادہ تر بادیہ نشین ہوا کرتے تھے، ان کے درمیان ایک مرکزی حکومت نہیں تھی جوان کو منظم کرسکے ۔ وہ ہمیشہ لڑائی جھگڑا اور قبائلی جنگوں میں الجھے رہا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے وہ ذلیل اور کمزور تھے اور اس زمانہ میں دوسری قوموںکے نزدیک ہرگز عزت نہیں رکھتے تھے اور جیسا کہ یہ قوم، قبیلہ اور خاندان کے دائرہ میں محصور تھی اور خیموں کی محدود فضا، اور اونٹوں کے چرانے سے تعصب، محرومیت اور بے نظمی کا شکار تھے۔ لہٰذا وہ ہرگز اپنے ملک اورجزیرة العرب کے حدود سے باہر نکل کر نہیں سوچتے تھے۔ او رنہ صرف ان کے ذہنوں سے پڑوسی ملکوں پر فتح و کامرانی کا تصور ختم ہوگیا تھا بلکہ اس زمانہ کی قدرتمند طاقتوں، یعنی روم اور ایران کے سامنے بری طرح سے کمزوری اور حقارت کا احساس کرنے لگے تھے جیسا کہ ایک شخص جس کا نام قتادہ تھا جو کہ خود ایک عرب تھا اس زمانے کی عرب قوم کو حقیر و ذلیل، پست و گمراہ اور گرسنہ ترین قوم تصور کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ''وہ لوگ دوشیروں یعنی بڑی طاقتوں ایران او رروم کے درمیان پھنسے ہوئے تھے اوران سے ڈرتے تھے۔(١)

اس بات کی شہادت اس طرح سے دی گئی ہے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مکہ میں اپنی دعوت کے زمانے میں ایک دن عرب کے کچھ بزرگوں سے گفتگو کی اوران کو اسلام کی طرف دعوت دی اور قرآن مجید کی چند آیات جو فطری اور اخلاقی تعلیمات پر مشتمل تھیں ان کے سامنے پڑھیں تو وہ سب کے سب متأثر ہوگئے، ہر ایک نے اپنے طور سے تعریف کی لیکن ان کے بزرگ مثنی بن حارثہ نے کہا:

ہم دو پانی کے درمیان گھرے ہوئے ہیں ایک طرف سے عرب کا پانی اور ساحل اور دوسری جانب سے ایران اور کسریٰ کی نہروں کا پانی، کسریٰ ہم سے عہد و پیمان باندھ چکا ہے کہ کوئی حادثہ نہیں رونما ہونے دیں گے او رکبھی خطا وار کو پناہ نہیں دیں گے۔ شاید تمہارے آئین کو قبول کرنا، شہنشاہوں کی خوشی کا باعث قرار نہ پائے اگر اس سرزمین پر ہم سے کوئی خطا سرزد ہو تو قابل چشم پوشی ہے لیکن ایسی خطائیں ایران کے علاقہ میں (کسریٰ کی طرف سے) قابل بخشش نہیں ہیں۔(٢)

______________________

(١) طبری، جامع البیان فی تفسیر القرآن، (بیروت: دار المعرفہ، ط٢، ١٣٩٢ھ.ق)، ج٤، ص٢٥ (تفسیر آیۂ...و کنتم علی شفاحفرة من النار ...) زاہیة قد ورة ،الشعوبیة ، و اثرہ الاساسی،الاجتماعی فی الحیاة الاسلامیة فی عصر العباسی الاول. (بیروت: دار الکتاب اللبنانی، ط١، ١٩٧٢ئ)، ص٣٤؛ احمد امین، ضحی الاسلام، (قاہرہ: مکتبة النہضہ، ط٧)، ج١، ص١٨.

(٢) محمد ابوالفضل ابراہیم ( اور ان کے معاونین)، قصص العرب (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ١٣٨٢ھ.ق)، ج٢، ص ٣٥٨؛ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، (بیروت: مکتبة المعارف، ط٢، ج٣، ص ١٤٤۔


موہوم افتخار

مورخین، عربوں کے احساس حقارت کے متعلق لکھتے ہیں کہ ایک سال قبیلہ بنی تمیم، خشک سالی میں گرفتار ہوگیا اور کسریٰ نے ان کو اجازت نہیں دی کہ عراق کے سرسبز و شاداب او رزرخیز علاقہ سے فائدہ اٹھائیں۔ یہاں تک کہ ان کے بزرگوں میں سے ایک شخص جس کا نام حاجب ابن زرارہ تھا اس قبیلہ کی نمائندگی میں کسریٰ کے دربار میں گیا اور اس سے مدد مانگی کسریٰ نے کہا: ''تم عرب لوگ خیانت کار ہو، اگر اس بارے میں تم کو اجازت دیدوں تو تم بلوا اور فتنہ برپا کردو گے۔ لوگوں کو میرے خلاف ورغلاؤ گے اور مجھے رنجیدہ اور ملول کروگے۔ حاجب نے کہا: میں ضمانت لیتا ہوں کہ اس قسم کی بات پیش نہیں آئے گی۔ کسریٰ نے پوچھا: کیا ضمانت رکھتے ہو؟'' اس نے کہا:اپنی کمان تمہارے پاس گروی رکھ دیتا ہوں۔ کسریٰ نے قبول کرلیا اور حاجب نے اپنی کمان (جو کہ شجاعت و دلیری کا نمونہ اور بہادری کی علامت سمجھی جاتی تھی) کسریٰ کے پاس گروی رکھ دی اور اس طرح سے کسریٰ کی موافقت حاصل کرلی۔ حاجب کے مرنے کے بعد اس کے لڑکے عطارد نے باپ کی کمان کسریٰ


سے واپس لے لی۔(١)

اس واقعہ کے بعد ایک زمانہ تک قبیلۂ بنی تمیم اس طرح کے اغوا شدہ افراد کو کسریٰ کی جانب سے قبول کرنے کو اپنے لئے بہت بڑا فخر سمجھتے تھے۔(٢) دوسری جانب سے چونکہ قبیلۂ ''بنی شیبان، عجلیوں اوریشکریوں'' کی مدد سے جنگ ''ذی قار'' میں خسرو پرویز پر فتح پاگیا تھا۔(٣) لہذا اس کامیابی کو بے انتہا اپنی عزت و سربلندی کا باعث سمجھتا تھا اوراس کے باوجود کہ وہ جیت گئے تھے۔

پھر بھی اس پر ان کو یقین نہیں آتا تھا اور ہر وقت اس کے بار ے میں فکر مند اور خوف زدہ رہتے تھے۔ اور ان کے اندر اتنی جرأت نہیں تھی کہ اس کامیابی اور فتح کو عربوں کی عجم پر کامیابی کہہ سکیں ۔ بلکہ اس کوایک اتفاقی حادثہ (نہ کہ عربوںکا افتخار) او رجنگ میں درگیر تین قبیلوں کا افتخار سمجھتے تھے۔ اس کامیابی کی بنا پر ان کی خود ستائی اس حد تک بڑھ گئی کہ ابو تمام(٤) شاعر نے قبیلۂ بنی تمیم کے مقابلہ میں

______________________

(١) آلوسی، بلوغ الارب، ج١، ص ٣١٣۔ ٣١١؛ محمد بن عبد ربہ، العقد الفرید (بیروت: دار الکتاب العربی، ١٤٠٣ھ.ق)، ج٢، ص٢٠؛ ابن قتیبہ، المعارف، تحقیق: ثروة عکاشہ (قم: منشورات الرضی)، ص ٦٠٨۔

(٢)احمد امین، ضحی الاسلام، ج١، ص١٩۔

(٣) اس جنگ کی ابتدا اس طرح سے ہوئی کہ خسرو پرویز حرہ کے حاکم نعمان بن منذر کی لڑکی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا تھا لیکن نعمان نے اس کی مخالفت کی لہٰذا کسریٰ کی جانب سے اسے دربار میں بلاکر قید میں ڈال دیا گیااور قیدخانہ میں ہی وہ مرگیا اس وقت خسروپرویز نے ہانی بن مسعود شیبانی سے کہا کہ نعمان کے مال و دولت کو جواس کے پا س ہے اسے دیدے۔ اس نے دینے سے انکار کیا جس کے نتیجے میں کسریٰ نے اپنے سپاہیوں کو بنی شیبان (جو کہ بکر بن وائل کا ایک خاندان تھا) سے جنگ کرنے کے لئے بھیجا اور اس جنگ میں ایران کی فوج ہار گئی (ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، بیروت: دار اصادر ١٣٩٩ھ.ق، ج١، ص ٤٨٩۔ ٤٨٥، رجوع کریں مقدسی، البدء والتاریخ (پیریس: ١٩٠٣م)، ج٣، ص ٢٦.

(٤) ابو تمام حبیب بن اوس طائی۔


(جو کہ ایک دن حاجب کی کمان کسریٰ کے پاس رکھنے کو افتخار سمجھتے تھے ) ابودلف عجلی(١) کی مدح میں اس طرح کے اشعار کہے:

اگر ایک دن تمیم اپنی کمان پر افتخار کرتے تھے اور اس کو اپنی عزت و شرف اور سربلندی کا باعث سمجھتے تھے تو تمہاری تلوروں نے جنگ ذی قار میں ایسے لوگوںکے تخت حکومت کو جو کہ کمان حاجب کو گروی رکھے ہوئے تھے، درہم و برہم کردیا۔(٢)

دور جاہلیت

ہم نے جزیرة العرب اور وہاں کے لوگوں کی بحث میں ظہور اسلام سے قبل کے دور کو، عصر جاہلیت، اوروہاں کے باشندوں کو، ''جاہل عرب'' کے نام سے یاد کیا ہے۔ یہاں پر یہ بیان کرتا چلوں کہ ایسے شواہد موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ''عصر جاہلیت'' کی اصطلاح ظہور اسلام کے بعد(قرآن کے الہام کے ذریعہ) اسلام سے قبل زمانہ کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان استعمال ہوتی تھی۔اور ایک خاص مفہوم رکھتی تھی۔(٣) کچھ معاصر مورخین نے اس دور کا تخمینہ ١٥٠ سال سے ٢٠٠ سال قبل از بعثت پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لگایا ہے۔(٤)

______________________

(١) ابودلف قاسم بن عیسی عجلی

(٢) اذا افتخرت یوماً تمیم بقوسها

و زادت علی ما وطدت من مناقب

فانتم بذی قار، امالت سیوفکم

عروش الذین استرهنوا قوس حاجب

احمد امین، ضحی الاسلام، ج١، ص ١٩؛ مسعودی، التنبیہ او الاشراف، تصحیح: عبداللہ اسماعیل الصاوی (قم: مؤسسة نشر منابع الثقافیہ الاسلامیہ)، ص٢٠٩؛ جلال الدین ھمایی، شعوبیہ (اصفہان: کتابفروشی صائب، ٢٣٦٣)، ص ١٢۔ ١١

(٣)جواد علی، المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام (بیروت: دار العلم للملایین، ط١، ص ٤٢۔ ٤١۔

(٤) عمر فروخ، تاریخ صدر الاسلام و الدولة لامویہ (بیروت: دار العلم للملایین، ط٣، ١٩٧٦ئ)، ص٤٠۔


اگر چہ لفظ جاہلیت ''جہل'' سے نکلا ہے لیکن جہل یہاں پر علم کے مقابلہ میں نہیں ہے بلکہ عقل اور منطق کے مقابل میں ہے۔(١) یہ صحیح ہے کہ اس زمانے میں جزیرة العرب کے لوگ (اس تشریح کی بنا پر جو دی گئی ہے) پڑھے لکھے نہیں تھے۔ اورعلم و دانش سے بے بہرہ تھے او راس زمانے کو ''عصر جاہلیت'' کہا جاتا تھا۔ نہ صرف یہ کہ جہالت کی بنا پر بلکہ غلط فکر اور عقل و منطق سے دور، بے بنیاد رسم و رواج، برے صفات، جیسے کینہ توزی، خود پسندی، فخر فروشی، اندھے تعصب کی بنا پر اسلام نے سختی کے ساتھ ان سے مقابلہ کیا ۔(٢)

شاید کہا جاسکتا ہے کہ یہاں پر جہل کا مفہوم ''نافہمی'' کے مانند ہے۔ جس کا لازمہ جہالت نہیں ہے بلکہ کج فکری، کم عقلی اور ہلکے دماغ کے افراد کو بھی جاہل کہہ سکتے ہیں۔(٣)

قرآن کریم میں متعدد مقامات پر جاہلیت کو اس انداز سے بیان کیا گیا ہے، جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے:

١۔ اہل کتاب میں سے کچھ لوگوں کی بے جا، غلط توقعات اور امیدیں یہ تھی کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کی مرضی کے مطابق مشورہ دیں، اسے ''حکم جاہلیت'' کہا گیاہے۔(٤)

______________________

(١) عمر فروخ کہتا ہے: جاہلیت اس جہل پر دلالت کرتی ہے جو حلم کے مقابلہ میں ہے نہ کہ جو علم کے مقابلہ میں ہے ۔ (تاریخ صدر الاسلام، ص٤٠).

(٢) رجوع کریں: طباطبائی، تفسیر المیزان، ج٤، ص ١٥٥۔ ١٥١، احمد امین، فجر الاسلام، ص ٧٨۔ ٧٤؛ آلوسی، بلوغ الارب، ج١، ص ١٨۔ ١٥؛ شوقی ضیف، تاریخ الادب العربی، ج١، ''العصر الجاہلی'' (قاہرہ دار المعارف، ط ٧)، ص ٣٩۔ اس مطلب کی تائید کے لئے ہماری کچھ احادیث ہیں جس میں جہل کو عقل کے مقابلہ میںقرار دیا گیا اور اصول کافی جیسی کتاب میں ''فصل العقل والجہل'' ، (ج١، ص ١١ کے بعد) میں اس طرح کی احادیث بیان ہوئی ہیں۔

(٣) جواد علی کہتے ہیں: ''میری نظر میں جاہلیت، بیوقوفی، کم عقلی، غرور، کند ذہنی، غصہ او رحکم ودستور الٰہی کے مقابلہ میں سر تسلیم خم نہ کرنے سے پیدا ہوتی ہے او ریہ وہ صفات ہیں جن کی اسلام نے مذمت کی ہے اس بنا پر یہ ویسے ہی ہے جیسے آج کوئی سفیہ اوراحمق گالی بکے اوراخلاق و تہذیب کا خیال نہ کرے تو ہم اس سے کہیں گے: اے نادان یہاں سے دور ہوجا! اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ انسان جاہل ہے'' (المفصل فی تاریخ العرب فی الاسلام، ج١، ص ٤٠

(٤) ''افحکم الجاہلیة یبغون...'' سورۂ مائدہ، ٥،آیت ٥٠۔


٢۔ خداوند عالم نے بت پرست عربوں کے اندھے تعصب کو ''جاہلیت کا تعصب'' قرار دیا ہے۔(١)

٣۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویوں کو خبردار کیا گیاہے کہ اپنی گزشتہ جاہلیت کی رسم و رواج کے مطابق خود نمائی کے ساتھ گھر سے باہر نہ نکلیں۔(٢)

٤۔ خداوند عالم نے منافقین اور ضعیف الایمان لوگوں کے ایک گروہ کو جنگ احد میں لشکر اسلام کے شکست کھا جانے کے بعد جن کے حوصلہ پست ہوگئے تھے اور تشویش و بدبینی کا شکار ہوگئے تھے۔ ان کی مذمت کی ہے کہ خدا کے بارے میں ''جاہلیت'' جیسا گمان رکھتے ہو۔(٣)

خداوند عالم نے بیان کیا ہے کہ جس وقت جنا ب موسیٰ نے اپنی قوم کو گائے کے کاٹنے کا حکم دیا تو ان کی قوم والوں نے کہا: ''کیا آپ ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں؟ جناب موسیٰ نے فرمایا: خدا کی پناہ مانگتا ہوںکہ میں جاہلوں میں سے ہو جاؤں''۔(٤)

امیر المومنین حضرت علی بت پرست عربوں کی ذلت و پستی اورتاریک زندگی کا نقشہ کھینچتے ہوئے ان کی جہالت کی بنا پر ان کی دماغی پستی کا ذکر فرماتے ہیں۔(٥)

______________________

(١) سورۂ فتح،٤٨( ِذْ جَعَلَ الَّذِینَ کَفَرُوا فِی قُلُوبِهِمْ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّة) آیت ٢٦۔

(٢) سورۂ احزاب، ٣٣( وَقَرْنَ فِی بُیُوتِکُنَّ وَلاَتَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الُْولَی ) آیت ٣٣۔

(٣) سورۂ آل عمران، ٣(...وَطَائِفَة قَدْ َهَمَّتْهُمْ َنْفُسُهُمْ یَظُنُّونَ بِاﷲِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ...) آیت ١٥٤۔

(٤) سورۂ بقرہ، ٢(قَالُوا َتَتَّخِذُنَا هُزُوًا قَالَ َعُوذُ بِاﷲِ َنْ َکُونَ مِنْ الْجَاهِلِینَ ) آیت ٦٧۔

(٥)واستخفیتم الجاهلیة الجهلائ ۔ (صبحی صالح، نہج البلاغہ، خطبہ ٩٥)


تیسری فصل

جزیرہ نمائے عرب اور ا سکے اطراف کے ادیان و مذاہب

ظہور اسلام کے وقت عرب کے اکثر پیشوا بت پرست تھے لیکن ملک عرب کے گوشہ و کنار میں مذہبی رہبروں کی پیروی کرنے والے اور مختلف ادیان جیسے عیسائیت، یہودیت، حنفیت، مانوی اور صابئی وغیرہ بھی موجودتھے۔ اس بنا پر عرب کے لوگ صرف ایک دین کی پیروی نہیں کرتے تھے اس کے علاوہ ہر ایک دین اور آئین، ابہام اور تیرگی سے خالی نہ تھا۔ اسی بنا پر ایک طرح کی سرگردانی اورحیرانگی ، ادیان کے سلسلے میں پائی جاتی تھی۔ ہم یہاں پر ہر ایک دین اور مذہب کے بارے میں مختصر توضیح دے رہے ہیں:

موحدین

موحدین یا دین حنیف(١) کے معتقد ایسے لوگ تھے جو مشرکین کے برخلاف بت پرستی سے بے زار، خداوند متعال اور قیامت کے عقاب و ثواب کا عقیدہ رکھتے تھے۔ ان میں سے کچھ عیسائیت کے ماننے والے تھے۔ لیکن بعض مورخین، ان کو بھی دین حنیف پر سمجھتے ہیں و رقہ بن نوفل، عبد اللہ بن حجش، عثمان بن حویرث، زید بن عمر بن نفیل(٢) ، نابغۂ جعدی (قیس بن عبد اللہ) امیہ بن ابی ا لصلت، قس بن

______________________

(١) حنیف (جس کی جمع حنفاء ہے) اس شخص کو کہتے ہیں جودین ابراہیم کا پیرو ہو (طبرسی، مجمع البیان، شرکة المعارف، ج١، ص ٢١٦.)

(٢) محمد بن حبیب، (المحبر (بیروت: دار الافاق الجدیدہ)، ص ١٧١.


ساعدہ ، ابوقیس صرمہ بن ابی انس، زہیرابن ابی سلمیٰ، ابوعامر اوسی (عبد عمرو بن صیفی) عداس (عتبہ بن ربیعہ کا غلام) رئاب شنی او ربحیرہ راہب جیسے افراد کو بھی دین حنیف کے معتقدین میں سمجھا جاتا ہے۔(١) ان میں سے بعض ،حکماء یا مشہو رشعراء تھے۔

البتہ وحدانیت کی طرف رحجان کا سبب ان کی پاک فطرت او رروشن فکر اوراس زمانے کے رائج ادیان کی بے رونکی اور اس سماج میں پائے جانے والے مذہبی خلا میں تلاش کرنا چاہیئے۔ یہ لوگ اپنی پاک فطرت کے ذریعہ خلاق عالم، مدبر جہاں کے معتقد تھے او رعقل و خرد سے دور ایک پست آئین جیسے بت پرستی کو قبول نہیں کر سکتے تھے۔ اور یہودی مذہب بھی صدیاں گزر جانے کے بعد اپنی حقیقت اور معنویت کو کھو بیٹھا تھا۔ اور روشن فکر افراد کے اندر پائی جانے والی بے چینی کو اطمینان اور سکون میں نہیں بدل سکتے تھے اسی بنا پر بعض الوہیت کے متلاشی افراد کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ آئین حق کی تلاش میںوہ اپنے اوپر سفر کی صعوبتوں اور پریشانیوں کو روا جانتے ہوئے مسیحی اور یہودی علماء اور دوسرے آگاہ لوگوں سے بحث اور گفتگو کیا کرتے تھے۔(٢) اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بعثت کی نشانیوں کے سلسلے میں آسمانی کتابوں میں جواشارے ملتے ہیں ان کے بارے میں تحقیق کرتے تھے اور چونکہ معمولاًکسی نتیجہ تک نہیں پہنچتے تھے لہٰذا اصل وحدانیت کو قبول کرتے تھے۔ بہرحال وہ اپنی مذہبی عبادتوں اور رسومات کو کس طرح انجام دیتے، یہ ہمارے لئے واضح نہیں ہے۔

______________________

(١) مسعودی، مروج الذہب، ترجمہ: ابو القاسم پایندہ (تہران: ادارۂ ترجمہ و نشر کتاب، ط٢، ١٣٥٦)، ج١، ص ٦٨۔ ٦٠؛ ابن ہشام، سیرة النبی، تحقیق: مصطفی السقاء و معاونین، (قاہرہ: مطبعة مصطفی البابی الحلبی، ١٣٥٥ھ.ق)، ج١، ص ٢٣٧؛ ابن کثیر، السیرة النبویہ، تحقیق: مصطفی عبد الواحد (قاہرہ: مطبعة عیسی البابی الحبی، ١٣٨٤ھ.ق)، ج١، ص ١٦٥۔ ١٢٢؛ محمد بن اسحاق، السیر و المغازی، تحقیق: ڈاکٹر سہیل زکار (بیروت: دار الفکر، ط٢، ١٤١٠ھ.ق)، ص١١٦۔ ١١٥؛ محمد بن حبیب بغدای، المنمق فی اخبار قریش، تحقیق: خورشید احمد فارق (بیروت: عالم الکتب، ط١، ١٤٠٥ھ.ق)، ص ١٩۔ ١٣۔

(٢) ابن کثیر، گزشتہ حوالہ، ص ١٥٦؛ محمد ابوالفضل ابراہیم (اور معاونین)، قصص العرب، (قاہرہ: دار احیاء الکتب العربیہ،ط٥)، (قم: آفسیٹ منشورات الرضی، ١٣٦٤)، ج١، ص٧٢۔


اس نکتہ کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ دین حنیف کے پیرو کار، بعض لوگوں کے خیال کے برخلاف ہدایت اور عرب سماج کی تبدیلی میں توحید کے مسئلہ میں کوئی رول نہیں رکھتے تھے۔ بلکہ جیسا کہ مورخین نے صراحت کی ہے کہ وہ لوگ تنہائی اور انفرادی شکل میں زندگی بسر کرتے تھے اور غور و فکر میں لگے رہتے تھے اور کبھی بھی ایک گروہ یا ایک منظم فرقہ کی شکل میں نہیں تھے اور ان کے پاس کوئی ایسا دین و آئین نہیں تھا جس میں ثابت اور معیّن احکام بیان کئے گئے ہوں۔ ان لوگوں نے آپس میں طے کر رکھا تھا کہ لوگوں کے اجتماعی مراکز سے دور رہیں اور بتوں کی پرستش سے بچیں اس قسم کے لوگ اپنی جگہ پر مطمئن تھے ا ور خیال کرتے تھے کہ ان کی قوم والوںکے عقائد باطل ہیں اور اپنے کو تبلیغ و دعوت کی زحمت میں مبتلا کرنے کے بجائے صرف اپنے نظریات کا اظہار کرتے تھے۔ اور اپنی قوم والوں سے ان کے تعلقات ٹھیک ٹھاک تھے ان کے درمیان کسی قسم کا ٹکراؤ نہیں رہتا تھا۔(١)

عیسائیت

دین عیسائیت کے ماننے والے بھی عرب کے بعض علاقوں میں پائے جاتے تھے۔ یہ دین، جنوب کی سمت حبشہ سے اور شمال کی سمت سوریہ سے اور نیز جزیرہ نمائے سینا سے عرب میں آیا تھا۔ لیکن اس سرزمین کو کوئی خاص ترقی نہیں ملی۔(٢) جزیرة العرب کے شمال میں عیسائیت،( قبیلۂ تغلب )کے درمیان(قبیلۂ ربیعہ کی ایک شاخ) اور(غسان)اور قبیلۂ ''قضاعہ'' کے بعض لوگوں کے

______________________

(١) جواد علی، المفصل فی تاریخ العرب، قبل الاسلام (بیروت: دار العلم للملایین، ط١، ١٩٦٨ئ)،ج٦، ص ٤٤٩؛ حسینی طباطبایی، خیانت در گزارش تاریخ (تہران: انتشارات چاپخش، ١٣٦٦ش)، ج١، ص١٢٠؛ ابن ہشام، سیرة النبی، ج١، ص ٢٣٧۔

(٢) حسن ابراہیمی حسن، تاریخ سیاسی اسلام، ترجمہ: ابوالقاسم پایندہ (تہران: سازمان انتشارات جاویدان، ط٥، ٢٣٦٢)، ج١، ص٦٤۔


درمیان رائج تھی۔(١- ٢)

قس بن ساعدہ، حنظلہ طائی اور امیہ بن صلت کو بھی عیسائیوں کے بزرگوں میں شمار کیا ہے ان میں سے کچھ لوگوں نے اجتماعی جگہوں پر جانا چھوڑ دیاتھا اور جنگلوں میں جاکر آباد ہوگئے تھے۔(٣)

یمن میں عیسائیت

یمن میں عیسائیت چوتھی صدی عیسوی میں داخل ہوئی ''فلیپ حِتّی'' جو کہ خود ایک عیسائی ہے ، لکھتا ہے: ''عیسائیوں کا پہلا گروہ عربستان کے جنوب میں گیا یہ خبر صحیح ہے یہ وہی گروہ تھا جس کو ''کنتانیتوس'' نے ٣٥٦ئ عیسوئی میں تئوفیلوس اندوس اربوس کی سرپرستی میں بھیجا اور یہ کام اس زمانہ کے سیاسی عوامل اور عربستان کے جنوبی علاقہ میں ایران اور روم کے نفوذ کی خاطر انجام دیاگیا تھا عدن میں ایک اور ملک حمیربان میں دو دوسرے کلیسوں کی بنیاد رکھی ، نجران کے لوگ ٥٠٠ئ میں ایک نئے دین کے گرویدہ ہوگئے تھے۔(٤)

______________________

(١) گزشتہ حوالہ، ص ٦٤؛ شہاب الدین الابشہی، المستطرف فی کل فن مستظرف (بیروت:داراحیاء التراث العربی)، ج٢، ص٨٨؛ ابن قتیبہ، المعارف، تحقیق: ثروت عکاشہ (دار الکتب، ١٩٦٠ئ)، ص ٦٢١؛ الامیر ابوسعید الحمیری، الحور العین، تحقیق: کمال مصطفی، (تہران: ١٩٧٢ئ)، ص١٣٦۔

(٢) عثمان بن حویرث اور ورقہ بن نوفل (بنی اسد سے، قریش کا ایک خاندان) کو ہم نے دین حنیف کے معتقدین میں سے ذکرکیا ہے و نیز امرء القیس کے لڑکوں (قبیلۂ بنی تمیم سے تھے) کو مسیحی بیان کیاہے (تاریخ یعقوبی، ج١، ص ٢٢٥)

(٣) احمد امین، فجر الاسلام، (قاہرہ: مکتبة النہضة المصریہ، ط٩، ١٩٦٤ئ)، ص٢٧۔

(٤) تاریخ عرب، ترجمہ: ابوالقاسم پایندہ (تہران: انتشارات آگاہ، ط ٢، ١٣٦٦)، ص ٧٨؛ کچھ مورخین نے یمن میںعیسائیوں کے نفوذ کا آغاز ایک فیمیون نامی شامی زاہد کے اس علاقہ میں آکر اس کے کام کرنے کے وقت بتاتے ہیں (ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٥۔ ٣٢؛ یاقوت حموی، معجم البلدان، (بیروت: داراحیاء التراث العربی)، ج٥، ص ٢٦٦؛ لفظ نجران، لیکن یہ افسانوی شکل رکھتا ہے اور جو کچھ حتی سے نقل ہوا ہے اس کے مطابق نہیں ہے۔


ظہور اسلام کے وقت، طی، مذحج، بہرائ، سلیح، تنوخ، غسّان اور لحم قبائل یمن میں عیسائی تھے۔(١)

عیسائیوں کا سب سے اہم مرکز یمن میں ''نجران شہر'' تھا نجران ایک آباد او رپررونق شہر تھا وہاں کے لوگوں کا مشغلہ زراعت، ریشمی کپڑوں کی بناؤٹی، کھال کی تجارت او ر اسلحہ سازی تھا۔ یہ شہر تاجروں کے راستوں میں پڑتا تھا جو حیرہ تک پھیلا ہوا تھا۔(٢)

عیسائیت اس طرح سے یمن میں رائج ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ یمن میں ذونواس برسراقتدار آیااور اس نے عیسائیوں پر سختیاں کی تاکہ وہ اپنے آئین سے دست بردار ہو جائیں۔ جس وقت عیسائیوں نے مقابلہ کیا تو ان کو آگ سے بھرے ہوئے گڑھوں میں جلا دیاگیا۔(٣)

آخرکار ذونواس، حکومت حبشہ کی مداخلت سے ٥٢٥ئ میں شکست کھا گیا او رعیسائی دوبارہ برسر اقتدا

حیرہ میں عیسائیت

ایک دوسراعلاقہ جہاں پر عیسائیوں نے نفوذ کیا وہ ''شہر حیرہ'' تھا جو عربستان کے شرق میں واقع تھا۔ یہ مذہب رومی اسیروں کے ذریعہ اس علاقہ میں آیا تھا۔ حکومت ایران ہرمز اول کے زمانے سے ایسی جگہوں پر مسلط ہوگئی جہاں کے رہنے والے رومی اسیر تھے ان میں سے کچھ اسیر حیرہ میں رہتے تھے۔

______________________

(١) تاریخ یعقوبی، (نجف: مکتبة الحیدریہ، ١٣٨٤ھ.ق)، ج١، ص ٢٢٤

(٢) احمد امین، گزشتہ حوالہ، ص ٢٦

(٣) مفسرین کاایک گروہ کہتا ہے کہ سورۂ ''بروج'' کی ٤ سے ٩ تک آیتیں مسیحیوں کے قتل عام کے بارے میں نازل ہوئی ہیں یا یہ واقعہ ان آیتوں کا ایک مصداق ہے (تفسیر المیزان، ج٢، ص ٢٥٧۔ ٢٥١؛ جیسا کہ خداوند عالم سورۂ بروج کی ٩۔ ٤، آیتوں میں ارشاد فرماتا ہے۔

(٤) احمد امین، گزشتہ حوالہ، ص ٢٧.


بعض کے عقیدہ کے مطابق سرزمین حیرہ میں عیسائیت کے نفوذ کا سرچشمہ یہی اسیر تھے۔ بہرحال عیسائی مبلغین حیرہ میں رہتے تھے اور اپنے مذہب کی نشر واشاعت میں مشغول رہتے تھے۔ عربوں کے بازاروں میں وعظ و نصیحت او رتبلیغ کرتے تھے۔ اور قیامت، جنت و جہنم کے مسئلہ سے آگاہ کرتے تھے ان کی محنتوں اورکوششوں کے نتیجہ میں ایک گروہ اس آئین کا گرویدہ ہوگیا اور حد ہے کہ ہند (نعمان پنجم کی بیوی) نے بھی مذہب عیسائیت کو قبول کرلیا اور اس نے ایک معبد بنایا جو ''معبد ہند'' کے نام سے مشہو ر ہوا اور طبری کے زمانے تک باقی رہا۔ حنظلہ طائی، قس بن ساعدہ اور امیہ بن صلت (جن کا تذکرہ ہم پہلے کرچکے ہیں) حیرہ کے لوگوں میں سے تھے۔(١)

نعمان بن منذر (بادشاہ حیرہ ) نے بھی عدی بن زید کی تشویق پر آئین مسیحیت قبول کرلیا۔(٢)

قرآن مجید میں ایسی متعدد آیات موجود ہیں جن میں عیسائیوں کے افکار وعقائد کو بیان کرکے ان میں سے جو غلط اور ضعیف عقائد اوراعمال ہیں (خاص طور پر حضرت عیسیٰ کی الوہیت کے بارے میں) جوان کے خیالات ہیں، ان کو بیان کیا گیا ہے۔(٣) اور یہ چیزیں بہت اہم گواہ ہیں کہ یہ دین جزیرة العرب میں نزول قرآن کے وقت موجودتھا۔

اس کے علاوہ نجران کے عیسائیوں کے ساتھ، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مباہلہ (جوکہ تاریخ اسلام میں مشہور ہے) بھی اس بات کا ثبوت ہے۔(٤)

______________________

(١) احمد امین، گزشتہ حوالہ، ص ١٨، ٢٥، ٢٦، ٢٨.

(٢) محمد ابو الفضل ابراہیم (اور اس کے ساتھی) قصص العرب،ج١، ص ٧٣؛ احمد امین، گزشتہ حوالہ، ص ٢٧

(٣) سورۂ مائدہ، آیت ١٨، ٧٢، ٧٣؛ سورۂ نسائ، آیت ١٧١؛ سورۂ توبہ، آیت ٣٠؛ لیکن قرآن نے، عیسائیوں کو یہودیوں کے مقابلہ میں جو کہ مسلمانوں کے سخت دشمن تھے ان کا قریبی دوست بتایا ہے۔ (مائدہ، ٥، آیت ٨٢).

(٤) سید محمد حسین طباطبائی، تفسیر المیزان، (مطبوعاتی اسماعیلیان، ط ٣، ١٣٩٣ھ.ق)، ج٣، ص ٢٢٨ و ٢٣٣).


البتہ جیساکہ اشارہ ہوچکا ہے کہ مذہب عیسائیت بھی زمانہ کے گزرنے کے ساتھ اس کی اصالت اور معنویت کا نورماند پڑ گیا ہے اور وہ تحریفات کا شکار ہوگیاہے۔ لہٰذا اس زمانہ کے لوگوں کے فکری اور عقیدتی خلاء کو پر نہیںکیا جاسکتا اور ان کے مضطرب و پریشان قلب و ضمیر کو سکون نہیں بخشا جاسکتا ۔

دین یہود

دین یہودکا ظہور اسلام سے چند صدی قبل عربستان میں نفوذ ہواتھا اور بعض یہودی نشین علاقے ظہور میں آچکے تھے جن میں سے سب سے معروف ''یثرب'' تھا جسے بعد میں ''مدینہ'' کہا گیا ''تیمائ،(١) ''فدک''(٢) اور ''خیبر''(٣) بھی یہودی نشین علاقے تھے۔ یثرب کے یہودی تین گروہ میں بٹے ہوئے تھے:١۔ طائفہ ٔ بنی نظیر ٢۔ طائفہ ٔ بنی قینقاع ٣۔ طائفہ ٔ بنی قریظہ۔(٤)

______________________

(١) یاقوت حموی کے بقول، تیماء ایک چھوٹا سا شہر تھا جو شام او روادی القریٰ کے بیچ پڑتا تھا (معجم البلدان، ج٢، ص ٦٧)، او روادی القری مدینہ او رشام کے بیچ مدینہ کا ایک علاقہ تھا۔ وہی حوالہ، ج٥، ص ٣٤٥.) لہٰذا تیماء شام اور مدینہ کے بیچ پڑتا تھا ؛ مقدسی چوتھی صدی کا اسلامی دانشور ، کہتا ہے کہ ''تیمائ'' ایک ایسا قدیمی شہر ہے جوایک وسیع زمین میں کھجوروں کے درختوں سے پُر بے شمار باغات پانی کی فراوانی ابلتے ہوئے چشموں کی بنا پر دلکش اور حسین منظر جو کہ ایک لوہے کی جالی سے تالاب میں گرتاہے اور پھر باغوں میں جاتا ہے، میٹھے پانی کے کنویں بھی موجود تھے، جنگل میں واقع تھا لیکن اب اس کا اکثر حصہ ویران ہوگیا ہے'' (احسن التقاسیم فی معرفة الاقالیم، ترجمہ: علی نقی منتروی (گروہ مولفین و مترجمین ایران)

(٢)فدک ایک گاؤں ہے جس کا فاصلہ مدینہ سے دو یا تین روز پیدل مسافت کے ذریعہ طے ہوتا ہے (معجم البلدان، ج٤، ص ٢٣٨)

(٣)خیبر ایک ایسا علاقہ ہے جو تقریباً ٩٦ میل (١٩٢کلو میٹر) مدینہ کے شمال کی جانب (شام کی طرف) پڑتا ہے کہ جہاں سات قلعے کاشتکاری کی زمینیں اور بہت سے کھجور کے باغات تھے (معجم البلدان، ج٢، ص ٤٠٩) اس کا فاصلہ مدینہ سے اس سے بھی کم او رزیادہ بیان کیا گیا ہے (ابوالفداء تقویم، ترجمہ: عبد المحمد آیتی (انتشارات بنیاد فرہنگی ایران)، ص ١٢٣۔

(٤)حسن ابراہیم حسن، گزشتہ حوالہ، ص ٦٤.


مدینہ میں مذکورہ تین قبیلوں کے علاوہ دو قبیلے اوس او رخزرج بھی رہتے تھے جو تیسری صدی عیسوئی کے نزدیک، یمن سے آئے تھے۔ یہ دونوں قبیلے یثرب میں یہودیوں کے مقیم اور مستقر ہو جانے کے بعد وہاں مستقر ہوئے تھے۔ یہ دو قبیلے بت پرست تھے اور یہودیوں کے پہلو میں رہنے کی بنا پران میں سے کچھ لوگ، دین یہود کے گرویدہ ہوگئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ طائف میں بھی کچھ یہودی رہتے تھے جویمن او ریثرب سے نکالے گئے تھے۔(١)

یہودی عربستان کے جس علاقہ میں رہتے تھے وہاں اپنی مہارت کی بنا پر زراعت میں مشہور تھے یہ لوگ مدینہ میں بھی زراعت کے علاوہ دوسرے ہنر کی وجہ سے جیسے آہنگری، رنگریزی، اوراسلحوں کے بنانے کی بنا پر مشہور ہوگئے تھے۔(٢)

دین یہود کے ماننے والے قبیلۂ حمیر ،بنی کنانہ، بنی حارث بن کعب، کندہ(٢) غسّان و جذام میں بھی پائے جاتے تھے۔(٣)

یمن میں یہودی

یہودی جس علاقہ میں رہتے تھے اپنے عقائد و افکار او رتوریت کی تعلیمات کو ترویج دیتے تھے۔ یمن بھی ایک زمانہ تک یہودیوں کے زیر نفوذ رہا ہے اور ذونواس (بادشاہ یمن ) نے جو کہ یہودی ہوگیاتھا۔

______________________

(١) بلاذری، فتوح البلدان (بیروت: دار الکتب العلمیہ، ١٣٩٨ھ.ق)، ص٦٧۔

(٢) احمد امین، فجر الاسلام، ص ٢٤

(٢) ابن قتیبہ، المعارف، تحقیق: ثروت عکاشہ(قم: منشورات الرضی)، ط١، ص ١٤١٥ھ.ق)، ص ٦٢١؛ الامیر ابو سعید بن نشوار الحمیری، الحور العین، تحقیق: کمال مصطفی (تہران: ١٩٧٢.)، ص ١٣٦، کتاب المستطرف ، ج٢، ص ٨٨، پر قبیلۂ حمیر کا نام (نمیر) لکھا ہوا ہے جو غلط چھپا ہے۔

(٣) تاریخ یعقوبی، ج١، ص ٢٥٧.


عیسائیوں کو کچل کر، دین یہود کے قانونی دین ہونے کا اعلان کردیاتھا۔ بعض مورخین کے عقیدے کے مطابق ذونواس کا یہ اقدام مذہبی جذبہ کے تحت نہیں تھا بلکہ قومی اور وطن پرستی کے جذبہ کی خاطر تھا۔ اس اعتبار سے کہ نجران کے عیسائی ملک حبشہ سے دوستانہ تعلقات رکھتے تھے اور حکومت حبشہ، نجران میں عیسائیوں کی حمایت کو مدعا بناکر ، یمن کے امور میں مداخلت کرتی تھی اور اس طرح وہ اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوگئے۔ ذونواس اوراس کے طرفداروں نے چاہا کہ وہاں پر عیسائیوں کو کچل کر، حبشہ کو اس علاقہ اورمرکز سے محروم کردیں۔ اسی بنا پر اس نے عیسائیوں کا قتل عام شروع کردیا۔

نجران کے عیسائیوں کے قتل عام کے بعد ان میں کا ایک آدمی بچ گیا تھا جو بھاگ کر حبشہ پہنچا اوروہاں کے بادشاہ سے مدد مانگی ۔ جس کی بنا پر دونوں ملکوں میں جنگ چھڑ گئی اور ذونواس ٥٢٥ئ میں شکست کھا گیا او رنجران کا علاقہ دوبارہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ تک عیسائیوں کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔(١)

صابئین

بعض مورخین اس گروہ کے آغاز کو ''سلطنت تہمورث'' کے زمانہ میں بتاتے ہیں او راس کا بانی ''بوذاسف'' کو جانتے ہیں۔ ابوریحان بیرونی (٤٤٠ھ۔ ٣٦٠ھ) اس گروہ کے آغاز کی تاریخ بیان کرنے کے بعد کہتا ہے: ''ہم ان کے بارے میں اس سے زیادہ نہیں جانتے تھے کہ وہ خداوند عالم کی وحدانیت کے قائل ہیں اوراس کو ہر طرح کے صفات بد سے منزہ اور بے عیب جانتے ہیں جیسے وہ کہتے ہیں :خدا محدود نہیں ہے، دکھائی نہیںدیتا ، ظلم نہیں کرتا، تدبیر عالم کو فلک اور آسمانی کہکشاؤوں کی طرف نسبت دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ حیات افلاک اوراس کے نطق، شنوائی اور بینائی کے معتقد

______________________

(١) احمد امین، گزشتہ حوالہ، ص ٢٣، ٢٤ اور ٢٧؛ رجوع کریں: ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج١، ص ٣٧؛ یاقوت حموی، معجم البلدان، ج٥، ص ٢٦٦


ہیں،انوار کی تعظیم کرتے ہیں۔ یہ لوگ ستاروں پر عقیدہ رکھنے کی بنا پر، ان کی حرکتوں سے زمین کے مقدرات کو مربوط جانتے تھے اور ان کے مجسموں کو اپنے معبد میں نصب کرتے تھے ۔ جیسا کہ انھوں نے سورج کے مجسمہ کو بعلبک میں، چاند کے مجسمہ کو حران میں اور زھرہ کے مجسمہ کوایک قریہ میں نصب کر رکھا تھا۔(١)

صابئین کامرکز ''حران''(٢) شہر تھا۔ یہ دین ایک زمانہ میں روم، یونان، بابل اوردنیا کے دوسرے علاقوں تک پھیل گیاتھا۔(٣)

قرآن مجید نے ان میں سے تین مقامات کاذکر کیا ہے۔(٤) یہ فرقہ ہمارے زمانے میں ختم ہوتا جارہا ہے ان میں سے کچھ لوگ صرف خوزستان(٥) ، اور عراق(٦) میں باقی رہ گئے ہیں۔(٧)

______________________

(١) الآثار الباقیہ، ترجمہ: اکبر دانا سرشت، (تہران: ط ٣، ١٣٦٣)، ص ٢٩٥۔ ٢٩٤.

(٢) حران، دجلہ اور فرات کے درمیان ایک بڑا شہر تھا لیکن آج ویران ہوگیاہے اورایک کھنڈر دیہات میں تبدیل ہوگیاہے .صدر اسلام میں یہ شہر آباد تھا اور اور جید علماء یہاں سے پیدا ہوئے ہیں (معجم البلدان، ج٢، ص ٢٣٦۔ ٢٣٥؛ تقویم البلدان، ص ٣٠٧۔ ٣٠٦؛ محمد معین: فرہنگ فارسی، (تہران: امیر کبیر)، ج٥، ص ٤٥٧.

(٣) طباطبائی، تفسیر المیزان، ج١٠، ص ٢٧٩.

(٤) سورۂ بقرہ، ٢، آیت ٦٢؛ سورۂ مائدہ،٥، ٦٩؛ سورۂ حج، ٢٢، آیت ١٧.

(٥)دریائے کارون کے ساحلی علاقے، اہواز،خرم شہر، آبادان، شادگان اور دشت میشان ہیں)

(٦) بغداد میں دجلہ او رفرات کے ساحلی علاقے حلہ، ناصریہ، عمارہ، کوت، دیالی، کرکوک ،موصل ،رمادی ،سلیمانیہ ، اور کربلا ہیں۔

(٧) کلمۂ صابئی کے ریشہ اوراصل کے سلسلہ میں اور کیا یہ عربی کلمہ ہے یا عبری؟ اور اس کے معنی کیا ہیں اور نیز صابئیوں کے عقائد اور یہ کسی نبی کے ماننے والے ہیں ، رجوع کریں آلوسی، بلوغ الارب، ج٢، ص ٢٢٨۔ ٢٢٣؛ یحیی نوری، اسلام و عقائد و آراء بشری، (تہران: موسسہ مطبوعاتی فراہانی، ط ٢، ١٣٤٦)، ص ٤٣٢۔ ٤٣١؛ شہرستانی، الملل و نحل، تحقیق: محمد سید گیلانی (بیروت: دار المعرفہ)، ج١، ص ٣٣٠، ج٢، ص ٥.


مانی دین

دین زردشتی، مزدکی اور مانوی کا منبع او رمرکز ایران رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ادیان ظہور اسلام سے قبل بھی حجاز میں موجودتھے یانہیں؟ اس بار ے میں مورخین کے درمیان اختلاف ہے بعض معاصر مورخین کا کہنا ہے کہ یہ ادیان ظہور اسلام سے قبل حجاز میں موجودتھے لیکن تاریخی دستاویزات اس علاقہ میں صرف دین مانوی کے وجود کی تصدیق کرتی ہیں۔

یعقوبی لکھتا ہے: عربوں کا ایک گروہ دین یہودیت کا گرویدہ ہوگیاتھا اور ایک گروہ دین عیسائیت کو ماننے لگا تھا اور ایک گروہ جو زندیق ہوگیاتھااس نے دین ثنوی (دوگانہ پرستی) کو اپنا لیا تھا۔(١)

اگرچہ کلمۂ ''زندیق'' ملحد اور منکر خدا کے معنی میں استعمال ہوتا تھا لیکن صاحبان نظر کے عقیدے کے مطابق، دراصل ایک ایسا فرقہ تھا جو دین مانوی کی پیروی کرتا تھا اور پھر یہ کلمہ تمام مانویوں کے لئے بولا جانے لگا۔ اس رو سے کافر اور دھری اس میں شامل ہوگئے اسی وجہ سے قدیم حوالوں میں ''زندقہ'' سے مراد دین مانی ہے(٢) اور دین مانوی عیسائیت اور یہودیت سے مل کر بنا ہے۔(٣)

______________________

(١) تاریخ یعقوبی، ج١، ص ٢٢٦.

(٢) احمد امین، فجر الاسلام، ص ١٠٨؛ داؤد الہامی، ایران و اسلام (قم: مرکز نشر جدید)، ص ٣٩٢۔ بیرونی اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد کہ مزدکیان زند، کی پیروی کرنے کی وجہ سے زنادقہ کہے جاتے ہیں۔ لکھتاہے: ''مانویان کو بھی مجازی طور سے زنادقہ کہتے ہیں۔ اور فرقہ باطنیہ کو بھی اسلام میں ایسے کہتے ہیں: کیونکہ یہ دو گروہ خداوندعالم کو بعض صفات سے متصف کرنے میں او رنیز ظواہر کی تاویل کرنے میں مزدکیہ کے مشابہ ہیں'' (الآثار الباقیہ، ترجمہ: اکبردانا سرشت، ص ٣١٢)

عبد الحسین زرین کوب اس سلسلہ میں لکھتے ہیں: ''لفظ زندیق کہ جس کی اصل زندیک پہلوی ہے، جوآج کل تقریباً مسلم سمجھا جاتاہے، اسلامی عہد میں اس سے قطع نظر کہ یہ مانوی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ تمام ایسے افراد جو ایک طرح سے شک و الحاد اور بے اعتقادی میں متہم تھے ان کو بھی زندیق کہا جاتا ہے؛ ( نہ شرقی نہ غربی، انسانی، ص ١١٠)۔

(٣) شہرستانی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٤٤، ایک مستشرق کہتا ہے: اگر دین مانی کوایسا زردشتی دین سمجھیں جس میں مسیحیت کی آمیزش ہوئی ہے تو یہ کلام حقیقت سے بہت قریب ہے بہ نسبت اس کے اسے ایسا عیسائی دین سمجھیں جس میں زردشت کی آمیزش ہوئی ہے۔ (احمد امین، فجر الاسلام، ص ١٠٤)، مانی او راس کے دین کے بارے میں رجوع کریں: عبد الحسین زرین کوب، نہ شرقی نہ غربی، انسانی، ص ٧٦۔ ٧٢۔


مورخین کے ایک گروہ نے وضاحت کی ہے کہ زندقہ کا قریش کے درمیان وجود تھااور اس کو، انھوں نے اہل حیرہ سے اپنایا تھا۔(١) اور اس دین کو حیرہ سے لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ مراد ''دوگانہ پرستی'' ہے کیونکہ حیرہ، ایران کا پڑوسی اوراس کے زیر اثر تھا اورادیان ایرانی جنکی بنیاد دوگانہ پرستی پر قائم تھی، وہاں تک پہنچ گئے تھے۔

ستاروں کی عبادت

زمانۂ جاہلیت میں جزیرة العرب میں رہنے والوں کا ایک گروہ، بہت سارے دوسرے علاقہ کے لوگوں کی طرح اجرام آسمانی جیسے سورج، چاند اور بعض ستاروں کی عبادت کرتا تھا۔ اور انہیں بہت ہی

______________________

(١) ابن قتیبہ، المعارف (قم: منشورات الرضی، ط١، ١٤١٥ھ.ق)، ص ٦٢١؛ الابشہی، المستطرف فی کل فن مستظرف، ج٢، ص ٨٨؛ ابن رستہ، املاق النفسیہ، ترجمہ: حسین قرہ چانلو، (تہران: امیر کبیر، ط١، ١٣٦٥)، ص ٢٦٤؛ احمد امین، فجر الاسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ص ١٠٨؛ محمد بن حبیب بغدادی کے بقول، قریش سے صخر بن حرب (ابوسفیان) عقبہ بن ابی معیط، ابی بن خلف، ابوعزہ (عمربن عبداللہ جمحی) نضر بن حارث، نبیہ و منبہ (مجاج بن عامر سہمی کے لڑکے) عاص بن وائل سہمی، اور ولید بن مغیرہ مخرومی، اس گروہ میں تھے۔ (المنمق فی اخبار قریش) ص ٢٨٩۔ ٢٨٨؛ المحبر ص ١٦١)، لیکن اسلام کے مقابلہ میں ان کا کوئی بھی کلام یا موقف اس مطلب کی تصدیق نہیں کرتا ہے، بلکہ شواہد و قرائن سے ان کی بت پرستی کا پتہ چلتا ہے ۔ عبد الحسین زرین کوب، زندیق و زنادقہ کی بحث میں لکھتے ہیں : ''... لفظ زندقہ جیسا کہ ثعلب سے نقل کیا گیا ہے دہریہ کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ دہریہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو حوادث اور امور عالم کوایک صانع مختار کی طرف نسبت دینے کے منکر ہوئے ہیں قریش کے زنادقہ کے نام ابوسفیان ، عقبہ بن معیط، نضر بن حارث، عاص بن وائل او رولید بن مغیرہ بھی انھیں میں سے ہیں جودرحقیقت اس طرح کا عقیدہ رکھتے تھے۔ قریش کے بزرگوں اور اہم شخصیتوں کی خبروں اوران کے اشعار سے پتہ چلتا ہے کہ زندقہ ان کو کہا گیا ہے جو صانع عالم، حشر و حیات، عقبیٰ کے عقیدہ کا انکار کرتے تھے۔ (نہ شرقی نہ غربی، انسانی ، ص ١٠٧)۔


طاقتور اور قوی شے سمجھتا تھا۔ جن کے ذریعہ دنیا اور دنیا والوں کے انجام کا پتہ چلتا تھا مثلاً قبیلۂ خزاعہ او رحمیر، ستارۂ ''شعریٰ'' کو جو کہ ایک ثابت او ردرخشان ستارہ ہے اس کی پرستش کرتے تھے اور اسی طرح ابوکبشہ جو پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مادری اجداد میں سے تھے، وہ اس ستارہ کی پرستش کرنے والوں میں سے تھے۔(١)

قبیلۂ طیٔ کے کچھ لوگ ''ستارۂ ثریا'' کی پرستش کیا کرتے تھے۔(٢) افلاک اور ستاروںکی پرستش کا مسئلہ اتنا رائج ہوگیا تھاکہ عرب کے افسانوں ادبیات اور خرافات میں اس کا ذکر ملتا ہے۔(٣) صابئین جو کہ سورج اور چاندکی پرستش کیا کرتے تھے ان کے علاوہ دوسرے تمام بت پرست بھی ان دو آسمانی موجود کو مقدس سمجھتے تھے۔(٤)

قرآن مجیدنے آسمانی اجرام کی پرستش کرنے سے منع فرمایا ہے اور اس کی پرستش کی مذمت کی ہے اور تاکید فرمائی ہے کہ یہ محدود موجودات، خود پروردگار عالم کی مخلوق اوراس کے فرمان اورارادہ کے تابع ہیں اور بارگاہ پروردگار میں سجدہ ریز او رخاضع ہیں۔ اس وجہ سے وہ خداوند عالم کی جانب سے بشر کے لئے دلیل اور راہنما قرار دیئے گئے ہیں کیونکہ یہ ساری چیزیں اس کی قدرت او رعلم کی نشانیاں ہیں۔ ''اور اسی نے تمہارے لئے رات اور دن اور آفتاب و ماہتاب سب کو مسخر کردیا ہے اور ستارے بھی اسی کے حکم کے تابع ہیں بیشک اس میں بھی صاحبان عقل کے لئے قدرت کی بہت ساری نشانیاں پائی جاتی ہیں''۔(٥)

اور اسی خدا کی نشانیوں میں سے رات اور دن اور آفتاب و ماہتاب ہیں لہٰذا آفتاب و ماہتاب کو

______________________

(١) طباطبائی، تفسیر المیزان، ج١٩، ص ٤٩.

(٢) آلوسی، بلوغ الارب، ج٢، ص ٢٤٠.

(٣) رجوع کریں: وہی حوالہ، ص ٢١٥، ٢٢٠، ٢٣٠، ٢٣٧، ٢٣٩، ٢٤٠، اسلام و عقائد اور آراء بشری، ص ٢٩٧۔ ٢٩٥۔

(٤) طباطبائی ، گزشتہ حوالہ، ج١٧، ص ٣٩٣۔

(٥) سورہ نحل، ١٦، آیت ١٢.


سجدہ نہ کرو بلکہ اس خدا کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے اگر واقعاً اس کے عبادت کرنے والے ہو''(١) اور وہی ستارہ شعریٰ کا مالک ہے''(٢)

یہ آیات اس بات کی گواہ ہیں کہ بعثت پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ میں ان اجرام کی پرستش اور عبادت رائج تھی۔

جنات اور فرشتوں کی عبادت

اس بات سے قطع نظر کہ ہم نے سابق میں مختلف ادیان کے ماننے والوں کا تذکرہ کیا ہے، عرب میں ایسے گروہ بھی موجود تھے جو جِن اور فرشتوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔ عبد اللہ بن زبعری (جو کہ مکہ کا ایک سردار تھا) کہتا ہے ہم لوگ فرشتوںکی عبادت کرتے تھے۔ یہودی، عزیر کی اور عیسائی عیسیٰ کی پرستش کرتے تھے، محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پوچھیں کیا ہم سب ان معبودوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے؟۔(٣)

بنو ملیح جو قبیلۂ خزاعہ کی ایک شاخ تھی وہ جن کی عبادت کرتے تھے(٤) ، کہتے ہیں جن لوگوں نے سب سے پہلے جن کی پرستش کی وہ یمن کے لوگ تھے اس کے بعد قبیلۂ بنی حنیفہ تھا اور پھر آہستہ آہستہ عربوں میں یہ بات رائج ہوگئی۔(٥) بعض مفسرین کے کہنے کے مطابق ایک گروہ کا عقیدہ تھا کہ خداوند عالم نے جنات کے ساتھ شادی کی ہے اور فرشتے اس کی اولاد ہیں۔(٦)

خداوندعالم نے قرآن مجید میں جن اور فرشتوںکی عبادت اور ان کے بارے میں غلط اعتقاد کی مذمت فرمائی ہے۔ اور ان لوگوں نے جنات کو خدا کا شریک بنادیا ہے حالانکہ خدا نے انھیں پیدا کیا

______________________

(١) سورۂ فصلت، ٤١، آیت ٣٧.

(٢) سورۂ نجم، ٥٣،آیت ٤٩.

(٣) ابن ہشام، السیرة النبویہ (قاہرہ: مطبعة مصطفی البابی الحلبی، ١٣٥٥ھ.ق)، ج١، ص ٣٨٥۔

(٤) ہشام بن محمد کلبی، کتاب الاصنام، ترجمہ: سید محمد رضا جلالی نائینی، تہران: ١٣٤٨، ص ٤٢.

(٥) طباطبائی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٤٢.

(٦) طبرسی، مجمع البیان، شرکة المعارف الاسلامیہ، ١٣٧٩ھ.ق، ج٨، ص ٤٦.


ہے۔(١) اور جس دن خداسب کو جمع کرے گا اور پھر ملائکہ سے کہے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کرتے تھے۔ تو وہ عرض کریں گے کہ تو پاک و بے نیاز او رہمارا ولی ہے یہ ہمارے کچھ نہیں ہیں اور یہ جنات کی عبادت کرتے تھے اوران کی اکثریت انھیں پر ایمان رکھتی تھی۔(٢)

یہ بالکل واضح ہے کہ یہ سوال، استفہامی پہلو رکھتا ہے اور اس سے مجہول کا پتہ نہیں چل سکتا ہے کیونکہ خداوند عالم تمام چیزوں سے واقف ہے بلکہ اس سوال کا مقصد یہ ہے کہ حقائق فرشتوں کی زبان سے بیان ہوں تاکہ ان کی عبادت کرنے والوں کا سرجھکا رہے اور فرشتوں کے جواب سے بھی بات واضح ہوتی ہے کہ وہ اس بات سے راضی نہیں تھے کہ انسانوں کا ایک گروہ ان کی پرستش کرے۔ لیکن جنّات اس بات سے راضی تھے۔

بہرحال ان دو ناقابل دید موجودات کی پرستش، ثنوی آئین سے مشابہت رکھتی تھی کیونکہ وہ لوگ جنات کو باعث شر و اذیت اور فرشتوںکو سرچشمۂ نور اور رحمت و برکت سمجھتے تھے بعض عرب،رات کے وقت جب کسی درہ میں داخل ہوتے تھے تو کہتے تھے کہ اس سرزمین کے احمقوں کے شر سے ان کے بزرگ اور رئیس سے پناہ مانگتا ہوں۔(٣) اور عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ بات کہنے سے ان کا بڑا جِن، احمقوں کے شر سے ان کو محفوظ رکھتا ہے ۔ اس بات کی تصدیق قرآن میں کلام خدا کے ذریعہ ہوئی ہے۔ ''اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنات کے بعض لوگوں کی پناہ ڈھونڈ رہے تھے تو انھوں نے گرفتاری میں اوراضافہ کرلیا''۔(٤)

______________________

(١) سورۂ انعام، ٦،آیت ١٠٠.

(٢) سورۂ سبا ، ٣٤،آیت ١٤۔ ٤٠.

(٣)اعوذ بعزیز هذا الوادی من شر سفهاء قومه (آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٣٢.

(٤)و انه کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن فزادوهم رهقاً'' سورۂ جن،٧٢، آیت٦


شہرمکہ کی ابتدائ

شہر مکہ کی تاریخ حضرت ابراہیم کے زمانے سے ملتی ہے کہ جب آپ حکم خدا سے اپنی زوجہ محترمہ ہاجرہ اور اپنے شیر خوار فرزند جناب اسماعیل کو شام لیکر آئے اور انھیں ایک خشک اور بے آب و گیاہ سرزمین میں لاکر ٹھہرا دیا۔(١) اور حکم و ارادۂ الٰہی سے آب زمزم ان دونوںکے لئے جاری ہوا(٢) اس کے بعد جنوب کے قبائل میں سے قبیلۂ جرہم (جو کہ قحطی اور خشک سالی کی بنا پر شمال کی جانب حرکت میں تھا) اس جگہ جاکر بس گیا۔(٣) جناب اسماعیل جوان ہوئے اور جرہمی قبیلہ کی لڑکی سے شادی کی.(٤) جناب ابراہیم خدا کی جانب سے مامور ہوئے کہ اپنے فرزند اسماعیل کی مدد سے کعبہ کی بنیاد ڈالیں(٥) چنانچہ کعبہ کی تعمیر کے ساتھ شہر مکہ کا قیام عمل میں آیا اور زمانے کے گزرنے کے ساتھ نسل اسماعیل وہاں بڑھنے لگی۔

دین ابراہیم کی باقی ماندہ تعلیمات

جناب عدنان، عرب عدنانی ( عرب مکہ)کے جد اعلی اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بیسویں جد، جناب اسماعیل کی نسل سے تھے۔ اور حجاز، نجد، تہامہ میں رہنے والے عدنانی جناب اسماعیل(٦) کی اولاد، میں سے

______________________

(١) سورۂ ابراہیم، ١٤،آیت ٣٧.

(٢) ابن ہشام، السیرة النبویہ، (قاہرہ: مطبعة مصطفی البابی الحلبی، ١٣٥٥ھ.ق)، ج١، ص ٥٥ و ١١٦؛ ازرقی، تاریخ مکہ، تحقیق: رشدی الصالح ملحس (قم: منشورات الرضی، ١٣٦٩)، ج١، ص٥٥؛ تاریخ یعقوبی (نجف: المکتبة الحیدریہ، ١٣٤٨ھ.ق)، ج١، ص١٨؛ ابن رستہ، الاعلاق النفیسہ، ترجمہ: حسین قرہ چانلو (تہران: امیر کبیر، ١٣٦٥)، ص ٥١۔

(٣)ازرقی، گزشتہ حوالہ، ص ٥٧؛ مسعودی، مروج الذہب (بیروت: دار الاندلس، ط١، ١٩٦٥.)، ج٢، ص ٢٠.

(٤) تاریخ یعقوبی، ج١، ص ١٩؛ ازرقی، گزشتہ حوالہ، ص ٥٧.

(٥)سورۂ بقرہ،٢، آیت ١٢٧.

(٦) ایک تفسیر کی بنیاد پر سورۂ حج کی ٧٩ ویں آیت ''ملة ابیکم ابراہیم'' میں اسی مطلب کی طرف اشارہ ہوا ہے (طبرسی، مجمع البیان، ج٧، ص ٩٧.)


تھے جو برسوں سے شریعت ابراہیمی کی پیروی کرتے تھے۔ یعقوبی کے کہنے کے مطابق:

قریش اورجناب عدنان کی ساری اولادیںدین ابراہیمی کے بعض احکام کی پابند تھیں وہ لوگ کعبہ کی زیارت کیا کرتے تھے، حج کے اعمال بجالاتے تھے، مہمان نواز تھے، حرام مہینوں کا احترام کیا کرتے تھے برے کاموں سے پرہیز اور ایک دوسرے کے ساتھ قطع تعلق اور ظلم کو برا سمجھتے تھے اور بدکاروں کو سزا دیتے تھے۔(١)

سنت ابراہیمی اوران کی بچی ہوئی تعلیمات جیسے خدا پر اعتقاد ، محارم کے ساتھ شادی کی حرمت، حج و عمرہ اور قربانی کے اعمال، غسل جنابت(٢) ختنہ، میت کی تکفین و تدفین(٣) وغیرہ ظہور اسلام کے زمانہ تک اسی طرح ان کے درمیان رائج تھیں اور جسم کی نظافت او رزائد بالوں کے کاٹنے وغیرہ کے بارے میں موجودہ دس سنتوں کے وہ پابند تھے۔(٤) اسی طرح وہ چار مہینوں کا تقدس واحترام جو سنت ابراہیمی(٥) میں پایا جاتا تھا اس کا بھی وہ عقیدہ رکھتے تھے او راگر ان کے درمیان کسی وجہ سے کوئی جنگ یا خون خرابہ، ان مہینوں میں واقع ہو جاتا تھا تواسے ''جنگ فجار'' (ناروا اور گناہ آلودجنگ) کہا کرتے تھے۔(٦) اسی وجہ سے آئین توحید اس علاقہ کے عربوں کے درمیان بہت زمانہ سے پایا جاتا تھا اور بت پرستی بعد میں وہاں پر آئی ہے جوان کے دین توحیدی سے منحرف ہونے کا باعث بنی ۔

______________________

(١) تاریخ یعقوبی، ج١، ص ٢٢٤.

(٢) مجلسی، بحار الانوار، (تہران: دار الکتب الاسلامیہ)، ج١٥، ص ١٧٠؛ ہشام کلبی، الاصنام، ص ٦.

(٣) شیخ حرعاملی، وسائل الشیعہ (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ط ٤،)، ج١، کتاب الطہارة ، ابواب الجنابہ حدیث ١٤، ص ٤٦٥؛ طبرسی، احتجاج (نجف: المطبعة المرتضویہ، ١٣٥٠ہ.ق)، ص ١٨٩.

(٤) شہرستانی، الملل و النحل (قم: منشورات الرضی)، ج٢، ص ٢٥٧.

(٥) طباطبائی ، المیزان (بیروت: موسسة الاعلمی للمطبوعات)، ج٩، ص ٢٧٢.

(٦) شہرستانی، گزشتہ حوالہ، ص٢٥٥؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ١٢.


عربوں کے درمیان بت پرستی کا آغاز

مختلف دستاویزات اور شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ عربوں کے درمیان بت پرستی کے نفو ذ کا اصلی سرچشمہ اوران کے درمیان بت پرستی کے آغاز کے دو سبب تھے۔

الف: عمرو بن لُحیّ (قبیلۂ خزاعہ کا سردار)نام کا ایک شخص، جو کہ اپنے زمانہ میں مکہ میں بہت زیادہ با اثر و قدرت مند اور کعبہ کا متولی تھا۔(١) شام گیااور وہاں پر عمالقہ(٢) کے ایک گروہ سے اس کی ملاقات ہوئی جو بت پرست تھے۔ جب اس نے ان لوگوں سے بت پرست ہونے کی وجہ دریافت کی توان لوگوں نے کہا: یہ ہمارے لئے بارش نازل کرتے ہیں، ہماری مدد کرتے ہیں'' اس نے ان لوگوں سے ایک بت مانگا توان لوگوں نے اسے ''ھبل'' بت دیا اور وہ اسے لیکر مکہ آیا اور کعبہ میں نصب کردیا اور لوگوں سے کہا کہ اس کی عبادت کریں۔(٣)

______________________

(١) ازرقی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٨٨، ١٠٠، ١٠١؛ محمود آلوسی، بلوغ الارب فی معرفة احوال العرب (قاہرہ: دار الکتب الحدیثہ، ط٣)، ج٢، ص ٢٠٠؛ علی بن برہان الدین الحلبی، السیرة الحلبیہ (بیروت: دار المعرفہ)، ج١، ص١٦۔

(٢) عمالقہ، جناب نوح کے لڑکوںکا ایک گروہ تھاان کے جد عملاق یا عملیق کی مناسبت سے ان کا نام عمالقہ پڑا۔ (ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج١، ص ٨ اور ٧٩؛ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، ج٢، ص ١٨٨؛ علی ابن برہان الدین الحلبی، السیرة الحلبیہ، ج١، ص١٧.

(٣) آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٠١؛ شہرستانی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٤٣؛ علی بن برہان الدین الحلبی، گزشتہ حوالہ، ص١٧؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ٢٢٤؛ شہاب الدین الابشہی، المستطرف (بیروت: دار احیاء التراث العربی)، ج٢، ص٨٨؛ مسعودی، مروج الذہب (بیروت: دار الاندلس،ط١)، ج٢، ص ٢٩؛ ہشام کلبی، الاصنام، ترجمہ: سید محمد رضا جلالی نایینی، ١٣٤٨)، ص٧؛ محمد بن حبیب، المنمق فی اخبار قریش، تحقیق: خورشید احمد فارق (بیروت: عالم الکتب، ط١، ١٤٠٥ھ.ق)، ص ٣٢٨۔ بعض منابع میں آیا ہے کہ وہ ''ہبل'' کو عراق سے لایا تھا۔ (ازرقی، اخبار مکہ، ج١، ص١١٧؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج١، ص ٧٩؛ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، ج٢، ص ١٨٨۔ لیکن ایک روایت کے مطابق، ھبل بت کا پتھر ''مأزمین'' (عرفات و مشعر کے درمیان ایک گزرگاہ ہے)، سے لیا گیا تھا، اور یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس جگہ سے گزرتے تھے تو اظہار نفرت کرتے تھے (محمد بن حسن حر عاملی، وسائل الشیعہ، بیروت: دار احیاء التراث الاسلامی، ج١٠، کتاب الحج، باب استحباب التکبیر بین المأزمین) ص ٣٦، حدیث١.)


اس کے علاوہ دو بت ''اساف''(١) اور ''نائلہ'' کو بھی اس نے کعبہ کے پہلو میں رکھ دیا اور لوگوں کو ان کی پرستش کے لئے ابھارا اور ورغلایا(٢) اور اس طرح سے عرب میں بت پرستی کی بنیاد پڑی۔

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: عمرو بن لحی پہلا وہ شخص تھا جس نے دین اسماعیل میں تحریف کی اور بت پرستی کی بنیاد ڈالی۔ اور میں نے ا سکو آتش جہنم میں دیکھا ہے۔(٣)

ب: جب جناب اسماعیل کی نسل مکہ میں کافی بڑھ گئی تو وہ لوگ مجبور ہوکر ذریعہ معاش کی تلاش میں دوسرے شہروں اور علاقوں کی طرف کوچ کرگئے۔ او رچونکہ انھیں مکہ او رحرم سے بہت لگاؤ اور محبت تھی لہٰذا کوچ کرتے وقت ان میں سے ہر ایک نشانی اور یادگار کے طور پر حرم کا ایک پتھر اپنے ساتھ لے گیا اور جہاں پر جاکر وہ بسے اس کو ایک گوشہ میں رکھ کر (کعبہ کے گرد طواف کے مانند) اس کے گرد طواف کرتے تھے۔ اور آہستہ آہستہ وہ اپنے اصلی جذبہ اور لگاؤ اور ہدف کو بھولتے گئے اور سارے پتھر ایک بت کی شکل میں تبدیل ہوگئے او رپھر نوبت یہ آگئی کہ جس پتھر کو وہ پسند کرتے تھے اسی کی پرستش کرنے لگتے تھے اوراس طرح وہ اپنے سابقہ آئین کو بھول گئے۔(٤)

البتہ اس علاقہ میں بت پرستی کے نفوذ کے لئے یہ دونوں اسباب نقطۂ آغاز قرار پائے ہیں ورنہ دوسرے عوامل جیسے جہل، حس گرائی (جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا خدا ملموس اور محسوس

______________________

(١) اساف کو ہمزہ کے زبر اور زیر دنوں طرح سے لکھا گیا ہے۔ (ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٨٤۔

(٢) ازرقی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٨٨؛ شہرستانی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٤٣ اور ٣٤٧.

(٣) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٧٩؛ علی بن برہان الدین، گزشتہ حوالہ، ص ١٧؛ ابن عبد البر، الاستیعاب، (درحاشیہ الاصابہ)، ج١، ص ١٢٠، شرح حال اکثم بن جون خزاعی؛ابن اثیر، اسد الغابة (تہران: المکتبة الاسلامیہ)، ج٤، ص٣٩٠؛ شیخ محمد تقی التستری، الاوائل، ط١، ص ٢١٧؛ ابی الفدا اسماعیل بن کثیر، السیرة النبویہ(قاہرہ: مطبعة عیسی البابی الحلبی، ١٣٨٤ھ.ق)، ج١، ص٦٥؛ ازرقی، گزشتہ حوالہ، ص ١١٦۔

(٤) آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٢٠؛ المستطرف، ج٢، ص ٨٨؛ ابی الفداء اسماعیل بن کثیر، السیرة النبویہ، ج١، ص ٦٢؛ البدایہ و النہایہ (بیروت: مکتبة المعارف)، ج٢، ص ١٨٨؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٧٩؛ طباطبائی، المیزان، ج١٠، ص ٢٨٦۔


(مادی)،ہو۔(١) قبیلہ جاتی اختلافات اور کشمکش، (ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ اپنی لئے ایک الگ بت قرار دے) قبائل کے رئیسوں اور بزرگوں کی جاہ طلبی (وہ چاہتے تھے کہ عوام اسی طرح جہالت اور گمراہی میں پڑی رہے تاکہ وہ اچھی طرح سے حکمرانی کرسکیں) اور آخرکار گزشتہ لوگوں کی اندھی تقلید اس کی ترویج میں معاون ثابت ہوئی اور آہستہ آہستہ بت پرستی کی مختلف صورتیں اور عبادت کے مختلف طریقے، نذر و نیاز اور ان سے استمداد کے بے شمار طریقے انجام پانے لگے(٢) اور بتوں کی تعداد میں اس طرح سے اضافہ ہونے لگا کہ ہر گھر میں ایک بت پایا جانے لگا۔(٣) جس سے وہ سفر کے موقع پر برکت حاصل کرتے تھے اوراسے مس کرتے تھے فتح مکہ کے موقع پر ٣٦٠ بت اس شہر میں موجود تھے۔(٤)

کیا بت پرست، خدا کے قائل تھے؟

بت پرست ''اللہ'' کے منکر نہیں تھے اور جیسا کہ قرآن نے نقل کیا ہے کہ یہ لوگ بھی خدا کو، زمین و آسمان اور اس جہان کاخالق سمجھتے ہیں۔(٥) لیکن یہ دو بڑی خطاؤں کے مرتکب ہوگئے تھے جوان کی

______________________

(١) طباطبائی، المیزان، ج١٠، ص ٢٨٦۔

(٢) سورۂ انعام، آیت ١٣٨، ١٣٩؛ سورۂ مائدہ، آیت ٣، ٩٠، ١٠٣، ہشام کلبی، الاصنام، ص ٢٨۔

(٣) کلبی، گزشتہ حوالہ، ص ٣٢۔

(٤) شیخ طوسی، الامالی، (قم: دار الثقافہ، ط١، ١٤١٤ھ.ق)، ص ٣٣٦؛ آلوسی، بلوغ الارب، ج٢، ص ٢١١؛ ازرقی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٢١؛ السیرة الحلبیہ، ج٣، ص ٣٠؛ رجوع کریں: المیزان، ج٢٦۔ امام رضا کی ایک روایت کی مطابق۔

(٥) اگر ان سے پوچھئے: کہ کس نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے؟ تو یقینا وہ کہیں گے خدا نے (سورۂ لقمان، آیت ٢٥، سورۂ زمر، آیت ٣٨، زخرف، آیت٩، اور اگر آپ ان سے سوال کریں گے کہ خود ان کا خالق کون ہے تو کہیں گے کہ اللہ (زخرف، آیت٨٧، پیغمبر ذرا ان سے پوچھئے کہ تمہیں زمین و آسمان سے کون رزق دیتا ہے اور کون تمہاری سماعت و بصارت کا مالک ہے اور کون مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ نکالتا ہے اور کون سارے امور کی تدبیر کرتا ہے تو یہ سب یہی کہیں گے کہ اللہ! (یونس آیت٣١.)


گمراہی کی اصلی جڑ تھی۔

١۔ اللہ اور اس کی صفات کے بارے میں غلط شناخت؛ وہ لوگ خدا کے بارے میں مبہم او رگنگ ذہنیت رکھتے تھے ۔ اور اس بات کی شہادت اس سے ملتی ہے کہ وہ خدا کے لئے بیوی اور بچوں کے قائل تھے۔ وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں تصور کرتے تھے یعنی خدا کے لئے انسان اور دوسرے جانداروں کی طرح جسم او رمادہ اور زاد و ولد کے قائل تھے۔ خداوند عالم نے ان کے غلط خیال کی متعدد آیات میں مذمت فرمائی ہے: ''اوران لوگوں نے ان ملائکہ کو جو رحمان کے بندے ہیں لڑکی قرار دیدیا ہے کیا یہ ان کی خلقت کے گواہ ہیں تو عنقریب ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور پھر اس کے بارے میں سوال کیاجائے گا''۔(١)

''بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں وہ ملائکہ کے نام لڑکیوں جیسے رکھتے ہیں''۔(٢)

''اور مشرکوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ اللہ نے کسی کو اپنا فرزندبنالیا ہے حالانکہ وہ اس امر سے پاک و پاکیزہ ہے بلکہ وہ سب اس کے محترم بندے ہیں''۔(٣)

اس کے لئے بغیر جانے بوجھے بیٹے اور بیٹیاں بھی تیار کردی ہیں۔ جب کہ وہ بے نیاز اوران کے بیان کردہ اوصاف سے کہیں زیادہ بلند و بالا ہے۔

وہ زمین و آسمان کا ایجاد کرنے والا ہے۔ اس کے اولاد کس طرح ہوسکتی ہے اس کی تو کوئی بیوی بھی نہیں ہے اور وہ ہر شے کا خالق ہے اور ہر چیز کا جاننے والا ہے''۔(٤)

''اور ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے اس نے کسی کو اپنی بیوی بنایا ہے نہ بیٹا''۔(٥)

______________________

(١) سورۂ زخرف، آیت ١٩.

(٢) سورۂ نجم، آیت ٢٧.

(٣) سورۂ انبیاء ، آیت ٢٦.

(٤) سورۂ انعام، آیت ١٠١۔ ١٠٠.

(٥) سورۂ جن، آیت ٣.


اس کے علاوہ خداوند عالم نے متعدد آیات میں مشرکوں کی مذمت فرمائی ہے کہ چونکہ وہ لڑکیوں کو برا سمجھتے تھے لہٰذا اسے خدا کی جانب منسوب کرتے تھے اور لڑکوں کواچھا سمجھتے تھے لہٰذا اسے اپنی طرف منسوب کرتے تھے''

کیاخدا کے لئے لڑکیاں اور تمہارے لئے لڑکے ہیں!۔(١)

''پھر اے پیغمبر! ان کفار سے پوچھئے کہ کیاتمہارے پروردگار کے لئے لڑکیاں ہیں اور تمہارے لئے لڑکے ہیں؟ یا ہم نے ملائکہ کو لڑکیوں کی شکل میں پیدا کیاہے اور یہ اس کے گواہ ہیں؟''۔(٢)

''کیا تم لوگوں نے لات او رعزی کودیکھا ہے او رمنات جو ان کا تیسرا ہے اسے بھی دیکھا ہے تو کیا تمہارے لئے لڑکے ہیں اور اس کے لئے لڑکیاں ہیں یہ انتہائی ناانصافی کی تقسم ہے یہ سب وہ نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے طے کر لئے ہیں۔(٣)

''سچ بتاؤ کیاخدانے اپنی تمام مخلوقات میں سے اپنے لئے لڑکیوں کو منتخب کیاہے اور تمہارے لئے لڑکوں کو پسند کیا ہے؟''۔(٤)

''اور انھوں نے خدا اور جنات کے درمیان بھی رشتہ قرار دیدیا حالانکہ جنّات کو معلوم ہے کہ انھیں بھی خدا کی بارگاہ میں حاضر کیا جائے گا،خدا ان سب کے بیانات سے بلند و برتر او رپاک و پاکیزہ ہے''۔(٥)

ایک تفسیر کی بنا پر خداوند عالم کی جِنّ سے نسبت او ررشتہ داری اس بنا پر تھی کہ وہ خیال کرتے تھے کہ خدا نے جنات کے ساتھ شادی کر رکھی ہے اور فرشتے (اس شادی کا نتیجہ اور ثمرہ ہیں) اس کی اولاد ہیں۔(٦)

______________________

(١) سورۂ طور، آیت ٣٩.

(٢) سورۂ صافات، آیت ١٥٠۔ ١٤٩.

(٣)سورۂ نجم، آیت ٢٣۔ ١٩؛ لات ، عزیٰ اور منات تین بتوں کے نام تھے جن کو گویا وہ فرشتوں کا روپ سمجھتے تھے چونکہ تینوں نام مونث ہیں (رجوع کریں: تفسیر نمونہ، ج٢٢، ص ٥١٨).

(٤) سورۂ زخرف، آیت ١٦.

(٥) سورۂ صافات، آیت ١٥٩۔ ١٥٨.

(٦) سیوطی، الدر المنثور، ج٧، ص ١٣٣؛ ابن کثیر ، تفسیر، ج٤، ص ٢٣؛ طبرسی، مجمع البیان، ج٨، ص ٤٦٠۔


٢۔ یہ بتوں کو چھوٹا خدا او راپنے اور اللہ کے درمیان واسطہ بتاتے ہیں اور ان کی عبادت کو خدا کی بارگاہ میں قرب اور رضایت کا باعث سمجھتے تھے۔ جبکہ عبادت صرف اللہ سے مخصوص ہے۔

دوسری طرف سے اگرچہ بتوں کو دنیا کا ''خالق'' نہیں سمجھتے تھے لیکن ان کے لئے ایک قسم کی ربوبیت اور عالم ہونے کے مرتبہ کے قائل تھے اور ان کودنیا کے امور کی تدبیر میں اور انسان کے تقدیر میں موثر جانتے تھے اور اپنی مشکلات اور پریشانیوں کے دور ہونے کے لئے ان سے مدد مانگتے تھے۔ جبکہ اسلام کی نظر میں جس طرح دنیاکاخالق ''اللہ'' ہے اورامور دنیا کی تدبیر (توحید افعالی)بھی صرف اسی کے ہاتھ میں ہے(١) اور بت، بے جان اور ناقابل فہم وارادہ موجودات ہیں۔

قرآن مجید ان کے بے بنیاد خیالات کو نقل کر کے، اس طرح ان کی مذمت کرتا ہے:

''اور یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر ان کی پرستش کرتے ہیں جو نہ نقصان پہنچاسکتے ہیں او رنہ فائدہ اور یہ لوگ کہتے ہیں: یہ خدا کے یہاں ہماری سفارش کرنے والے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم لوگ خدا کواس بات کی اطلاع دے رہے ہو جس کا علم اسے آسمان و زمین میں کہیں نہیں ہے وہ پاک و پاکیزہ ہے اور ان کے شرک سے بلند و برتر ہے''۔(٢)

''آگاہ ہو جاؤ کہ خالص بندگی صرف اللہ کے لئے ہے او رجن لوگوں نے اس کے علاوہ سرپرست بنائے ہیں یہ کہہ کر کہ ہم ان کی پرستش صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب

______________________

(١) ۔ ''و قل الحمد لله الذی لم یتخذ ولدأًولم یکن له شریک فی الملک و لم یکن له ولی من الذل و کبره تکبیراً ۔'' (سورۂ اسرائ، آیت ١١١(،''قل اللهم مالک الملک تؤتی الملک من تشاء و تنزع الملک ممن تشاء و تعز من تشاء و تذل من تشاء بیدک الخیر انک علی کل شیء قدیر ۔'' (آل عمران، آیت ٢٦.)

(٢) سورۂ یونس،(١٠) آیت ١٨(وَیَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اﷲِ مَا لاَیَضُرُّهُمْ وَلاَیَنْفَعُهُمْ وَیَقُولُونَ هَؤُلَائِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اﷲِ قُلْ َتُنَبِّئُونَ اﷲَ بِمَا لاَیَعْلَمُ فِی السَّمَاوَاتِ وَلاَفِی الَْرْضِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَی عَمَّا یُشْرِکُونَ )


کردیںگے۔ اللہ ان کے درمیان تمام اختلافی مسائل میں فیصلہ کردے گا کہ اللہ کسی بھی جھوٹے اورناشکری کرنے والے کو ہدایت نہیں دیتا ہے''۔(١)

''خدائے یکتا کے بجائے انھوں نے دوسرے خداؤں کواختیار کر لیا تاکہ ان کی عزت کا سبب بنے''(٢)

''اوران لوگوں نے خداکو چھوڑ کر دوسرے خدا بنالئے ہیں کہ شایدان کی مدد کی جائے''۔(٣)

اسی بنا پر بت پرست، عبادت اورامور عالم کی تدبیر میں بتوں کو خدا کا شریک قرار دیتے ہیں اور قرآن مجید ان کو ''مشرک'' قرار دیتا ہے۔

پریشان کن مذہبی صورتحال

بہرحال ظہور اسلام کے وقت، بت پرستی وسیع پیمانے پر اپنی تمام صورتوں اور پہلوؤں کے ساتھ حنیفیت کے چہرے کو مسخ کرچکی تھی۔اور دینی لحاظ سے مشرکین کی بہت بری حالت ہوچکی تھی ایک طرف سے بت پرست بت پرستی اور اس کے رسومات کے سختی سے پابند تھے اور دین ابراہیم کی بچی ہوئی تعلیمات جیسے حج، عمرہ اور قربانی کو ناقص ،تحریف شدہ ،خرافات او رشرک آمیز باتوں سے آمیختہ شکل میں انجام دیتے تھے مثلاً کعبہ کی تعظیم کے ساتھ دوسری بھی عبادت گاہیں بنا رکھی تھیں کہ جہاں کعبہ کی طرح طواف کرتے تھے اور ان کے لئے ہدیہ بھیجتے تھے او روہاں پر قربانی کرتے تھے۔(٤) کعبہ کے پاس ان کی نمازیں صرف شور و غل او رتالی بجاکر ہوتی تھیں۔(٥) قبیلۂ قریش والے احرام حج اور ''لبیک''

______________________

(١) سورۂ زمر،(٣٩)(َلاَلِلَّهِ الدِّینُ الْخَالِصُ وَالَّذِینَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ َوْلِیَائَ مَا نَعْبُدُهُمْ ِلاَّ لِیُقَرِّبُونَا ِلَی اﷲِ زُلْفَی ِنَّ اﷲَ یَحْکُمُ بَیْنَهُمْ فِی مَا هُمْ فِیهِ یَخْتَلِفُونَ ِنَّ اﷲَ لاَیَهْدِی مَنْ هُوَ کَاذِب کَفَّار ) آیت ٣۔

(٢) سورۂ مریم، (١٩)( وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اﷲِ آلِهَةً لِیَکُونُوا لَهُمْ عِزًّا) آیت ٨١.

(٣) سورۂ یٰس،(٣٦)( وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اﷲِ آلِهَةً لَعَلَّهُمْ یُنصَرُونَ ) آیت ٧٤.

(٤) ابی الفداء اسماعیل بن کثیر، السیرة النبویہ (قاہرہ: مطبعة عیسی البابی الحلبی، ١٣٨٤ھ۔ق)، ج١، ص٧؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، (قاہرہ: مطبعة مصطفی البابی الحلبی، ١٣٥٥ھ.ق)، ج١، ص ٨٥.

(٥) سورۂ انفال، آیت ٣٥۔


کہتے وقت خدا کے نام کے ساتھ بتوں کا نام لیتے تھے۔(١)

اور اس طرح سے حج ابراہیمی کو جو کہ توحید کا عالی ترین نمونہ ہے شرک سے آلودہ کرتے تھے۔ دو قبیلے اوس او رخزرج، حج کے اعمال انجام دینے کے بعد، منیٰ میں جاکر سرمنڈوانے کے بجائے اپنے شہر (یثرب) کی جانب ''بت منات'' (جو کہ مکہ کے راستے میں دریا کے کنارے پر واقع ہے)،(٢) کے پاس سرمنڈاتے تھے۔(٣) مشرکین (خواہ مرد ہوں یا عورت) کعبہ کا برہنہ طواف کرتے تھے۔(٤) ظاہر ہے کہ کعبہ کے پا س لوگوں کے سامنے اس طرح کے اعمال کا کتنا برا منظر رہتا رہاہوگا۔

قریش اپنے بتوں کو کعبہ کے پاس رکھتے تھے اوراسے مشک وعنبرسے معطر کرتے تھے اور ان کے سامنے سجدہ کرتے تھے پھر اس کے چاروں طرف جمع ہوکر لبیک کہتے تھے۔(٥) اگرچہ وہ ظاہری طور پر چار مہینوں کی حرمت کا خیال کرتے تھے لیکن اپنے کواس حکم سے آزاد رکھنے کے لئے ان مہینوں کے نام او رظاہری لحاظ سے ان کو تبدیل کرکے حرام مہینوں کو بعد میں کردیتے تھے۔(٦)

______________________

(١)لبیک اللهم لبیک، لاشریک لک لبیک الا شریک هو لک تملکه و ما ملک ۔ (ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٨٠؛ ابن کثیر، گزشتہ حوالہ، ص ٦٣؛ شہرستانی، الملل و النحلل، ج٢، ص ٢٤٧؛ ابن کثیر البدایہ والنہایہ، ج٢، ص ٨٨.)

(٢) ہشام کلبی، الاصنام، ترجمہ: سید محمد رضا جلالی نایینی، ١٣٤٨، ص ١٣؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج١، ص ٨٨؛ آلوسی٧ بلوغ الارب، ج٢، ص ٢٠٢۔

(٣) ہشام کلبی، گزشتہ حوالہ، ص ١٤۔

(٤) ازرقی، اخبار مکہ، ج١، ص ١٧٨ اور ١٨٢؛ آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٤٤؛ صحیح مسلم بشرح النووی، ج١٨، کتاب التفسیر، ص ١٦٢۔

(٥) طباطبائی، تفسیر المیزان، ج ١٤، ص ٤١٤۔

(٦)سورۂ توبہ،٩، آیت ٣٧؛ ازرقی، اخبار مکہ، ج١، ص ١٨٣؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٤٥.


ظہور اسلام کی روشنی میں بنیادی تبدیلی

ظہور اسلام اور روز بروز اس کے فروغ کے ساتھ اہل حجاز کی زندگی کے تمام پہلوؤں میں گہری او روسیع پیمانہ پر تبدیلی رونما ہوئی۔اور ایک مکمل انقلاب اور تبدیلی پیدا ہوئی۔ اور آہستہ آہستہ اس کے اثرات جزیرة العرب کے چاروں طرف پھیل گئے۔

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی مسلسل او رپیہم جنگ کے ذریعہ اس بت پرستی کو جوان کی تمام بدبختیوں کی جڑ تھی، اکھاڑ پھینکااور نظام توحیدکوا س کی جگہ پر پیش کیااور قبائلی اور قومی نظام نیز غلط رسم و رواج کوختم کردیااور قومی عصبیت کو مٹا کر اس کی جگہ پر حق و عدل کی تعلیم دی۔ جذبۂ انتقام اور قبائلی قتل و غارت کو صلح و آشتی میں بدل دیااور مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی بنادیا۔عورت کو قید و بدبختی سے نجات دلائی اور اسے سماج میں بلند مقام عطا کیا۔اور جاہل عوام سے آگاہ امتی بنا دیا۔

قبائلی نظام کے بدلے، امت اور امامت کا نظام قائم کیا اورعرب کے بکھرے اور پراگندہ قبائل کو ''ایک امتی'' بنادیا۔ان کو قبائلی زندگی کے تنگ دائرہ سے نکال کر عالمی نظام کی طرف راہنمائی فرمائی۔ اور اسلام کی روشنی میں قوم عرب کوایسی عظمت و طاقت بخشی کہ دو عظیم حکومتوں کی بنیادوں کوہلاکر رکھ دیا اور یہ بات اتنی واضح اور روشن تھی کہ غیر مسلم مصنفوں اور دانشوروں نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔ بطور نمونہ ان میں سے تین لوگوں کے خیالات یہاں پر پیش کر رہے ہیں:

ڈاکٹر گوستاد لوبون فرانسوی کہتا ہے: ''پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ایک عظیم معجزہ یہ تھا کہ انھوں نے اپنی وفات سے قبل عرب کے پراگندہ قافلے کوایک جگہ جمع کردیااور اس سرگرداں اور پریشان کاروان سے، ایک ملت کی تشکیل دی اور اس طرح سب کو ایک دین کے سامنے تسلیم کے ساتھ ایک پیشوا اور رہبر کا مطیع اور فرمانبردار بنادیا...


اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی زحمتوں سے ایسے نتائج حاصل کئے کہ اسلام سے قبل کوئی بھی دین خواہ وہ یہودیت ہو یا عیسائیت کسی نے ایسے نتائج نہیں حاصل کئے ۔ اور اسی وجہ سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا عربوں کی گردن پر بہت بڑا حق ہے۔اگر ہم چاہیں کہ کسی ذات کی قدر واہمیت کا اندازہ اس کے کردار او ر نیک آثار کے ذریعہ لگائیں توقطعی اور مسلم طور سے حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سب سے عظیم مرد تاریخ قرار پائیں گے ۔ ہم اس عظیم دین کو جسے آپ لیکر آئے اور لوگوں کواس کی طرف دعوت دی، اس کے ماننے والوں کے لئے خدا کی جانب سے عظیم نعمت سمجھتے ہیں۔(١)

توماس کار لایل انگریز کہتا ہے: خداوندعالم نے عرب کواسلام کے ذریعہ، تاریکی سے اجالے اور روشنی کی طرف ہدایت فرمائی اور اس کی روشنی میں عرب کی خاموش قوم کواس مردہ سرزمین پر زندہ کردیا، جبکہ عرب آغاز خلقت سے بے نام و نشان صحراوؤں میں، تہی دست تھے جودیہاتوں میں زندگی بسر کرتے تھے نہ ان کی آواز سنائی پڑتی ہے اور نہ ہی ان کی طرف سے کوئی حرکت اور جنبش نظر آتی ہے۔ خداوند عالم نے جس وقت ایک پیغمبر کونور وحی اور رسالت کے ساتھ ان کی ہدایت کے لئے بھیجا توان کی گمنامی کو شہرت میں اور ان کی حیرت او ر سرگردانی کو بیداری میں اوران کی پستی و حقارت کو سربلندی میں اور عاجزی و ناتوانی کو قدرت مندی میں تبدیل کردیا۔ اس کا نور جہاں چمکا اس کی روشنی سے وہاں کی جگہ منور ہوگئی اوراس کی ہدایت کی روشنی دنیا کے مشرق و مغرب اور شمال و جنوب تمام ستموں میں اس طرح پھیل گئی کہ ظہور اسلام کو ایک صدی بھی نہیں گزری تھی کہ اسلامی حکومت نے اپنا ایک قدم ہندوستان اور دوسرا قدم اسپین میں رکھ دیا۔(٢)

ویل ڈورانٹ لکھتا ہے: اس وقت کسی نے خواب بھی نہیں دیکھا تھاکہ ایک صدی بعد، یہ خانہ بدوش حکومت روم کے ماتحت رہنے والے علاقے نصف ایشا، پورے ایران، مصر اور شمال افریقا کا زیادہ تر علاقہ فتح کر کے، اسپین کی طرف بڑھ جائیں گے۔ سچ ہے کہ یہ تاریخی سورج جو عربستان

______________________

(١) تمدن اسلام او رغرب، ترجمہ: سیدہاشم رسولی (تہران: کتابفروشی اسلامی)، ص ١٣٠۔ ١٢٨.

(٢) الابطال، عربی ترجمہ: محمد السباعی کے قلم سے (قاہرہ: ط٣، ١٣٤٩ھ.ق)، ٩.


سے طلوع ہوا تھا اس کے ذریعہ عرب مڈیٹرانہ کے نصف علاقے پر مسلط ہوگئے اوردین اسلام کو وہاں پر پھیلانا، قرون وسطیٰ کے حیرت انگیز اجتماعی واقعات میں سے ہے۔(١)

شہر مکہ کی توسیع او رمرکزیت

پہلے یہ بیان کرچکے ہیں کہ جزیرة العرب کے زیادہ تر لوگ زمانۂ جاہلیت میں بادیہ نشین اور صحرا نورد ہوتے تھے۔ کیونکہ شہر نشینی حجاز کے علاقہ میں زیادہ رائج نہیں تھی اس علاقہ میں آبادیوں کے لحاظ سے جسے شہر کہا جاتا تھا درحقیقت وہ چھوٹے شہر ہوا کرتے تھے ۔ جس میں زیادہ آبادی نہیں ہوا کرتی تھی۔ بعض معاصر مورخین اس علاقہ کے شہر نشینوں کی آبادی کو ١٦(٢) اور بعض دوسرے مورخین پوری آبادی کا ١٧ فیصد(٣) حصہ سمجھتے تھے ۔ اس محاسبہ کا اصول واضح نہیں ہے لیکن یہ بات مسلّم ہے کہ شہر نشینوں کی آبادی کا تناسب فیصد کے لحاظ سے بہت کم ہوا کرتا تھا۔ان میں سے صرف شہر مکہ میں جو حجاز کے جنوبی علاقہ (بحر احمر سے تقریباً ٨٣... کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے) میں ایک اہم شہر تھا، ظہور اسلام سے چند صدی قبل اس میں توسیع ہوئی اور آہستہ آہستہ وہاں بہت سارے لوگ آکر بس گئے ۔

مکہ کی توسیع کے دو اسباب تھے:

الف: تجارتی مرکز:

چونکہ شہر مکہ ایک خشک و بے آب و گیاہ اور سنگلاخ علاقہ میں واقع ہے لہٰذا زراعت یا کارخانے اور فیکٹریوں کے لگانے کے امکانات اور وسائل وہاں مہیا نہیں تھے

______________________

(١)ویل ڈورانٹ، تاریخ تمدن، ج٤، عصر ایمان، (بخش اول)، ترجمہ: ابوطالب صارمی (تہران: سازمان انتشارات و آموزش انقلاب اسلامی، ط٢، ١٣٦٨، ص ١٩٧.

(٢) ویل ڈورانٹ، گزشتہ حوالہ، ص ٢٠٠.

(٣) فیلیپ حتی، تاریخ عرب، ترجمہ: ابوالقاسم پایندہ، ١٣٤٤، ج١، ص ١٢٥.


وہاں کے لوگ قدیم زمانے سے مجبور تھے کہ اپنی زندگی، تجارت کے ذریعہ چلائیں۔ لیکن ان کی تجارت صرف مکہ تک محدود تھی۔(١)

عرب کے علاوہ دوسرے تاجر اپنے مال کو مکہ میں لاکر بیچتے تھے۔ تجارتی مال شہر کے تاجروں کے ذریعہ خریدا جاتاتھا اور پھر شہر میں بیچا جاتا تھا۔(٢) یا جزیرة العرب کے اندر فصلی بازار میں لیجا کر وہ بیچتے تھے۔ یہاں تک کہ جناب ہاشم (پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دوسرے جد) نے امیر شام (جوکہ حکومت روم کا پٹھو تھا) کے ساتھ ایک پیمان باندھا، تاکہ مکہ کے تجار آزادی کے ساتھ اس ملک سے آمد و رفت کرسکیں۔(٣)

اس کے علاوہ انھوں نے ایسے قبائل سے پیمان باندھا جو شام کے راستے میں واقع تھے تاکہ مکہ کے تجارتی قافلوں سے تعرض نہ کریں اور ان سے عہدکیا کہ ان کی اشیاء تجارتی بغیر کرایہ لئے ہوئے تجار مکہ کے توسط سے محل تجارت تک پہنچائی جائیں گی ۔(٥) اور آپ کے بھائیوں (عبد الشمس، نوفل اور مطلب) نے بھی اسی طرح کے عہد و پیمان ، حاکم حبشہ، شہنشاہ ایران(٦) اور شہنشاہ یمن(٧) کے ساتھ کئے۔

راستوں کی امنیت کے بعد، جناب ہاشم نے یمن اور شام میں تجارتی خطوط کی بنیاد ڈالی(٨) کہ

______________________

(١) ابن واضح، تاریخ یعقوبی، (نجف: مکتبة الحیدریہ، ١٣٨٤ھ.ق)، ج١، ص ٢١٥.

(٢) محمد بن حبیب بغدادی، المنمق فی اخبار قریش، تحقیق: خورشید فارق (بیروت: عالم الکتب ، ط ١، ١٤٠٥ھ.ق)، ص ٤٢

(٣) ابن واضح، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢١٤.

(٤) گزشتہ حوالہ، ص ٢١٣.

(٥) ابن سعد، طبقات الکبریٰ، (بیروت: دار صادر)، ج١، ص ٧٨.

(٦) ابن واضح ، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢١٥.

(٧) محمد بن جریر طبری، تاریخ الامم و الملوک (بیروت: دار قاموس الحدیث)، ج٢، ص ١٨٠؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، (بیروت: دار صادر)، ج٢، ص١٦.

(٨) طبری، گزشتہ حوالہ، ص ١٨٠؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، (قاہرہ: مطبعہ مصطفی البابی الحلبی، ١٣٥٥ھ.ق)، ج١، ص ١٤٣.


جس کا حلقۂ اتصال مکہ تھا،جو ان دو تجارتی مرکز کے نصف راستے میں واقع تھے۔(٢) اس طرح سے قریش نے دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت کا آغاز کیا۔(٣) اس وقت سے مکہ کے تجار، فصلی بازاروں جیسے ''عکاظ، ذوالمجاز اور مجنہ'' میں شرکت کرنے کے علاوہ جاڑے کی فصل میں یمن، حبشہ اور گرمی کی فصل میں شام اور غزہ کا سفر کرتے تھے۔

وہ لوگ ان مسافرتوں میں عطریات، بخور، ریشمی لباس، چمڑا اور دوسروں چیزوں کوجو ہندوستان، چین اور دوسرے علاقوں سے یمن میں آیا کرتی تھیں خرید کر خشکی کے راستے سے تمام جزیرة العرب میںحضر موت کے راستہ بحراحمر(٤) کے سامنے سے ہوتے ہوئے مکہ میںلایا کرتے تھے پھر غزہ، بیت المقدس، دمشق اور بحر مڈیٹرانہ کی بندرگاہ تک پہنچایا کرتے تھے۔اور شام کے بازاروں سے گیہوں، تیل، زیتون، لکڑی، اور ریشم کی بنی ہوئی چیزوں کو خریدتے تھے۔ اسی طرح سے جدہ کی بندرگاہ کے ذریعہ (جوکہ مکہ سے ٨٠ کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے) بحر احمر کو عبور کر کے حبشہ میں داخل ہوتے تھے اور اس طرح علاقائی چیزوں کودوسری جگہ لیجاتے تھے۔(٥)

اس تجارتی راہ کے کھلنے سے، شہر مکہ ، ایک پر منفعت تجارتی مرکز میں تبدیل ہوگیا اور وہاں کے رہنے والوں کی زندگی میں بڑی تبدیلی رونما ہوئی اور خدوند عالم نے اس تجارتی سفر کی برقراری کو قریش کے لئے راحت وآرام کا سبب قرار دیا ہے ''قریش کے انس والفت کی خاطر، جوانھیں سردی اور

______________________

(١) احمد امین، فجر الاسلام، (قاہرہ: مکتبة النہضہ المصریہ، ط٩، ١٣٦٤.)، ص ١٤۔ ١٢؛ ڈاکٹر شوقی ضیف.

(٢) طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ؛ابن اثیر، گزشتہ حوالہ، ص ١٦.

(٣) احمد امین، گزشتہ حوالہ، ص ١٢؛ عبد المنعم ماجد، التاریخ السیاسی للدولة العریہ)، (قاہرہ: مکتبة الابحلوا المصریہ) ص ٧٩.

(٤) حسن ابراہیم حسن، تاریخ سیاسی اسلام، ترجمہ: ابوالقاسم پایندہ (تہران: انشارات جاویدان، ط٤ ١٣٦٠ھ.ق)، ص ٥٦.


گرمی کے سفر سے ہے ابرہہ کو ہلاک کردیاہے۔ لہٰذا انھیں چاہئے کہ اس گھر کے مالک کی عبادت کریں۔ جس نے انھیں بھوک میں سیر کیا ہے اور خوف سے محفوظ رکھا''۔(١)

ب: کعبہ کا وجود:

شہر مکہ کی توسیع اور اس کی اقتصادی رونق کاایک دوسرا سبب کعبہ کا وجود تھا کیونکہ عرب کے لوگ سال میں دوبار اعمال حج انجام دینے کے لئے اس شہر میں آتے تھے اور قریش جو کہ کعبہ سے متعلق مختلف امور کے ذمہ دار تھے حجاج کے قیام و طعام کا انتظام کرتے تھے۔ دوسری طرف سے اعمال حج کے ساتھ زائروں اور مکہ کے تاجروں کے درمیان تجارتی معاملات بھی انجام پاتے تھے۔(٢) اور یہ دو چیزیں شہر کی توسیع اور اقتصادی رونق میں مددگار ثابت ہوئیں۔

البتہ سرزمین حرم کا تقدس واحترام بھی جو کہ اطراف حرم میں ا من و سکون کا سبب بنا ہوا تھا مکہ کی تجارتی رونق میں بہت زیادہ موثر ثابت ہوا ۔ جیسا کہ خداوند عالم فرماتا ہے: ''اور یہ کفار کہتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ حق کی پیروی کریں گے تو اپنی زمین سے اچک لئے جائیں گے۔ تو کیا ہم نے انھیں ایک محفوظ حرم پر قبضہ نہیں دیاہے جس کی طرف ہر شیء کے پھل ہماری دی ہوئی روزی کی بنا پر چلے آرہے ہیں لیکن ان کی اکثریت سمجھتی ہی نہیں ہے''۔(٣)

جناب ابراہیم نے بھی اپنی شریک حیات اور بچوںکو کعبہ کے پاس ٹھہرانے کے بعد خداکی بارگاہ میں اس طرح سے دعا فرمائی: ''پروردگار! میں نے اپنی ذریت میں سے بعض کو تیرے محترم مکان کے قریب بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ دیا تاکہ نمازیں قائم کریں اب تو لوگوں کے دلوں کوان کی طرف موڑ دے اور انھیں پھلوں کا رزق عطا فرما تاکہ وہ تیرے شکر گزار بندے بن جائیں''۔(٤)

______________________

(١) سورۂ قریش،آیت ٤۔ ١.

(٢) عباس زریاب، سیرۂ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (تہران: سروش، ط ١، ١٣٧٠)، ص ٦٧۔ ٦٦.

(٣) سورۂ قصص، آیت ٥٧.

(٤) سورۂ ابراہیم، آیت ٣٧.


''اور اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم نے دعا کی کہ پروردگار اس شہر کوامن کا شہر قرار دیدے اور اس شہرکے ان لوگوں کو جواللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہوں پھلوں کا رزق عطا فرما''۔(١)

ارشاد ہوا کہ پھر جو کافر ہو جائیں گے انھیں دنیا میں تھوڑی نعمتیںدے کر آخرت میں عذاب جہنم میں زبردستی دھکیل دیا جائے گا جو بدترین انجام ہے۔

قریش کی تجارت اور کلیدبرداری

دو چیزیں،تجارت اور کعبہ کا وجود، شہر مکہ کی توسیع او رمرکزیت کا سبب قرار پائیں اور مکہ میں قریش کے اقتدار کے اضافہ کا باعث بھی بنیں کیونکہ اقتصادی طاقت اور کعبہ کے سارے مذہبی پروگرام ان کے اختیار میں تھے۔

١۔ قریش نے آہستہ آہستہ تجارت کے ذریعہ بے شمار دولت جمع کرلی اور مکہ میں بڑے بڑے ثروت مند پیدا ہوگئے جن میں بعض کی دولت و ثرو ت کی مقدار مبالغہ آمیزبتائی گئی ہے۔ جیسا کہ ان میں سے ایک کی دولت کی مقدار ایک قافلہ میں تیس ہزار دینار سے زیادہ تھی۔(٢)

قریش کی اہم شخصیتوں کے پاس سیاحتی علاقے اور طائف جیسی پاکیزہ جگہ جو آب و ہوا کے لحاظ سے سرزمین شام کا ایک حصہ سمجھی جاتی ہے۔(٣) باغات اور سیاحتی مراکز موجود تھے۔(٤) عباس ابن

______________________

(١) سورۂ بقرہ، آیت ١٢٦.

(٢) جواد علی، المفصل فی التاریخ العرب (بیروت: دار العلم للملایین، ط١، ١٩٦٨ئ)، ج١، ص ١١٤۔ گویا مقصود، سعیدابن العاص (ابی احیحہ) ہے کہ واقدی کے بقول (المغازی، ج١، ص ٢٧) شام سے پلٹتے وقت جنگ بدرکے موقع پر قریش کے قافلہ کی سب سے زیادہ دولت اس کے پاس تھی۔ لیکن واقدی کی عبارت اس صراحت کے ساتھ نہیں ہے ۔

(٣) فیلیپ حِتی، گزشتہ حوالہ، ص ١٣٠

(٤) طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٢١؛ بلاذری، فتوح البلدان، (بیروت: دار الکتب العلمیہ، ١٣٩٨ھ.ق)، ص ٦٨۔


عبد المطلب کے پاس طائف میں انگور کا باغ تھا کہ جس کا انگور شراب بنانے کے لئے مکہ جایا کرتا تھا(١) او روہ مکہ کے بڑے سودخوروں میں سے تھا(٢) عبد المطلب کے مرنے کے بعد انھیں دو یمنی کپڑوں میں لپیٹا گیا جس کی قیمت ہزار مثقال سونا تھی۔(٣) (جس سے ان کے ورثہ کی دولت کا اندازہ لگایا جاسکتاہے) ، کہا جاتا ہے کہ ان کی لڑکی ''ہند'' نے ایک دن میں چالیس غلاموںکو آزاد کیا۔(٤) ولید بن مغیرہ (قبیلۂ بنی مخزوم کا سردار) جس کے پاس بے شمار دولت اور متعدد اولادیں تھیں وہ ہر جگہ مشہور تھا۔(٥) بعد میںغرور اور گھمنڈ کی بنا پر، قرآن نے اس کی سرزنش کی(٦) عبداللہ بن جدعان تیمی کی دولت اور اس کی عمومی مہمان نوازی افسانے کے طور پر نقل ہوئی ہے۔(٧) شعرائ، انعام و اکرام کی خاطر اس کی مدح سرائی کرتے تھے۔(٨)

ایک شاعر نے اس کو ''قیصر'' سے تشبیہ دی تھی۔(٩) کہتے ہیں کہ اس نے قبیلہ جاتی جنگ میں اپنے

______________________

(١) بلاذری، گزشتہ حوالہ، ص ٦٨۔

(٢) ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٤، ص ٢٥١

(٣) ابن واضح، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٠۔

(٤) شوقی ضیف، گزشتہ حوالہ، ص ٥١؛ جاحظ، المحاسن و الاضداد (بیروت: دار مکتبہ عرفان)، ص ٦٢۔ فصل محاسن السخائ)۔

(٥) ایک تفسیر کے مطابق۔ آیت ''لولا نزل هذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم ۔'' (سورۂ زخرف، آیت ٣١.) میں دو بڑی شخصیتوں سے مراد مکہ میں ولید ابن مغیرہ ، اور طائف میں عروہ ابن مسعود ثقفی تھے کہ مشرکین ان کی بے شمار دولت کی بنیاد پر انھیں نبوت کے لئے نامزد کئے ہوئے تھے۔

(٦) طباطبائی، تفسیر المیزان، ج٢، ص ٩٣؛ ابن کثیر، تفسیر ، ج٤، ص ٤٤٢؛ تفسیر سورۂ المدثر۔

(٧) ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، (بیروت: مکتبہ المعارف، ط٢، ١٩٧٧ئ)، ج٢، ص ٢٢٩؛ آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٨٩؛ محمد احمد جاد المولی بک ( و معاونین)، ایام العرب فی الجاہلیہ (بیروت: داراحیاء التراث العربی)، ص ٢٤٨۔

(٨) آلوسی، گزشتہ حوالہ، ٨٧؛ ابن کثیر، گزشتہ حوالہ، ص ٢٢٩۔

(٩) یوم بن جدعان، بجنب الحزورة

کانہ قیصرا و ذو الد سکرہ

(بکری، معجم ماستعجم، عالم الکتب، ط٣، ١٤٠٣ھ.ق)، ج٢، ص ٤٤٤؛ لفظ حزورہ؛ شوقی ضیف، گزشتہ حوالہ، ص ٥١.)


ساتھیوں اور لڑنے والوں کو ١٠٠٠ اونٹ دے رکھے تھے۔(١) اور سو (١٠٠) لوگوں کواپنے خرچ پر مسلح کیا تھا۔(٢) وہ غلاموں کو رکھتاتھااو رکنیزوں کو فروخت کرتاتھا۔(٣) اور سونے کے برتن میں پانی پیتاتھا۔(٤) پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فتح مکہ کے بعد جس وقت جنگ حنین کے لئے روانہ ہوئے۔ تو صفوان امیہ (مکہ کا ایک مشرک) سے سو (١٠٠) زرہ اور ضروری اسلحے امانت کے طور پر لئے۔(٥)

٢۔ دوسری طرف سے، قریش نے قصی (رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چوتھے جد) کے زمانہ سے کعبہ کی کنجی قبیلۂ خزاعہ کے ہاتھوں سے لے رکھی تھی۔(٦) اور حج و زیارت اور طواف سے مربوط مختلف ذمہ داریاں ، جیسے حاجیوںکے لئے پانی کی فراہمی (سقایہ) او رقیام و طعام کا انتظام (رفادہ) کعبہ کی دربانی اور پردہ داری (سدانہ) اور کعبہ کی نگہبانی اورخدمت گزاری (عمارہ) قریش کے مختلف

______________________

(١) محمد احمد جاد المولی بک، گزشتہ حوالہ، ص ٣٣٤۔

(٢) گزشتہ حوالہ، ص ٣٢٩۔

(٣) ابن قتیبہ، المعارف، تحقیق: ثروت عکاشہ (قم: منشورات الشریف الرضی، ط١، ١٤١٥ھ.ق)، ص ٥٧٦؛ مسعودی، مروج الذہب، (بیروت: دار الاندلس، ط١)، ج٢، ص ٢٨٧؛ جواد علی، گزشتہ حوالہ، ص ٩٦۔

(٤) آلوسی، گزشتہ حوالہ، ص ٨٧۔

(٥) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٤، ص ٨٣؛ واقدی، المغازی، تحقیق: مارسڈن جانس، ج٣، ص ٨٩٠؛ ابن سعد، طبقات الکبریٰ، (بیروت: دار صادر)، ج٢، ص ١٥٠؛ حلبی، السیرة الحلبیہ (بیروت: دار المعرفہ)، ج٣، ص٦٣۔ اسی طرح رسول خدا اپنے چچازاد بھائی نوفل بن حارث بن عبدالمطلب سے تین ہزار نیزہ، امانت کے طور پر لیا (حلبی، گزشتہ حوالہ،) یہ سب ان کے عظیم مالی اقتدار کی علامت تھا ۔

(٦) ازرقی، اخبار مکہ، تحقیق: رشدی الصالح ملحس (قم: منشورات الرضی، ط١، ١٤١١ھ.ق)، ج١، ص ١٠٧؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٣٠۔


سرداروں کے درمیان بٹی ہوئی تھی اور اس طرح سے انھیں مذہبی حمایت بھی حاصل تھی۔

اس کے علاوہ شہر کے اجتماعی امور کو بھی جیسے پرچم داری، دیت اور نقصان کا بدلہ دینے میں نظارت اور اختلافات کو ختم کرنے کی نمایندگی کواپنے قبیلوں کے درمیان بانٹ کر شہر کے کاموں کو اپنے ہاتھ میں لے رکھا تھا۔(١)

قریش کا اقتداور اثر و رسوخ

قریش جن کا شمار ایک زمانہ میں ایک چھوٹے خاندان میں ہوا کرتا تھا اور فقیر و تنگدست سمجھے جاتے تھے اور جنوب حجاز میں انکا کوئی مقام ودرجہ نہیں تھا وہ اپنے اقتصادی اور دینی انتظامات کی بنا پر آہستہ آہستہ عرب کے ایک طاقتور قبیلہ کی شکل میں ظاہر اور معروف ہوئے۔

اور شرف و بزرگی اور اہمیت کے اعتبار سے اپنے کودوسرے قبیلوں سے بلند کردیا۔ایک معاصر مورخ کے کہنے کے مطابق اس وقت قبیلۂ قریش حجاز کے تمام قبیلوں کی بہ نسبت بہت زیادہ امتیازات و خوبیاں رکھتا تھا۔ جس طرح سے لاوی لوگ حجاز کے یہودیوں کے درمیان اور راہب عیسائیوں کے درمیان امتیاز رکھتے تھے۔(٢)

خاص طور سے ہاتھیوں کے لشکر اور ابرہہ کی شکست کے بعد قریش جو کہ کلیددار کعبہ تھے ان کا احترام لوگوں کی نظروں میں بڑھ گیا۔(٣) اور انھوں نے اس واقعہ سے اپنے حق میں اورفائدے

______________________

(١) ابن عبد ربہ (العقد الفرید، (بیروت: دار الکتاب العربی، ١٤٠٣ھ.ق) ج٣، ص ٣١٤؛احمد امین، گزشتہ حوالہ، ٢٢٧؛ آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٤٥؛ البتہ یہ اقدامات بعض عیسائی مورخین جیسے جرجی زیدان اور لامنس کے تصور کے برخلاف، اس دور کے حکومتی محکموں اور دفتروں جیسا نہیں تھا بلکہ ایک ابتدائی اور قبیلہ کی شکل رکھتا تھا۔

(٢) فیلیپ حِتی، گزشتہ حوالہ، ص ١٧۔

(٣) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٥٩؛ ازرقی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٧٦۔


اٹھائے۔ اپنے کو ''آل اللہ ، جیران اللہ اور سکان اللہ'' کہتے تھے۔(١) اور اس طرح انہوں نے اپنے مذہبی مراکز کوہموار کیااوران کی قدرت و طاقت کے احساس نے انھیں فساد اور انحصار طلبی کی طرف مائل کردیا۔(٢) اور اس طرح سے انھوں نے دوسرے قبائل پر اپنی طرف سے نئے قوانین کا سلسلہ تھوپ دیا۔ مثلاً قریش دوسرے قبیلوں سے بغیر کسی شرط کے لڑکی لاتے تھے۔ لیکن اپنی لڑکیوں کو اس شرط پر انھیں دیتے تھے کہ قریش کی خاص دینی بدعتیں مخصوصاً اعمال حج اور طواف کو وہ قبول کرلیں۔(٣) اور جو مسافر مکہ میں داخل ہوتے تھے ان سے ٹیکس وصول کرتے تھے۔(٤) اوراسے قریش کا حق سمجھتے تھے۔(٥) اس کے علاوہ حج کا پروگرام وہ اپنے ہاتھ میں رکھ کر حاجیوں کواپنے قوانین کا اس طرح تابع بناتے تھے کہ حاجیوں کی روانگی منی اور رمی جمرات سے ان کی اجازت پر موقوف ہوتی تھی۔(٦)

اسی طرح قریش اہل مکہ کے علاوہ دوسرے حاجیوں کو مجبور کرتے تھے کہ طواف کا لباس ان سے خریدیں ورنہ برہنہ طواف کریں اور اگر انھوں نے اپنے لباس میں طواف کیا تو طواف کے بعد

______________________

(١) ابن عبد ربہ، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٣١٣؛ ازرقی، گزشتہ حوالہ، ص ١٧٦۔

(٢) ازرقی، گزشتہ حوالہ، ص ١٧٦۔

(٣) گزشتہ حوالہ، ص ١٧٩؛ آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٤٣۔

(٤) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٧٠.

(٥) جواد علی، گزشتہ حوالہ، ج٤، ص ٢١۔

(٦) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ٦٩؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ١٢٥، ١٣٠؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ (بیروت: دار صادر)، ج٢، ص ٢٠؛ ازرقی، گزشتہ حوالہ، ص ١٨٩۔


اسے پھینک دیں۔(١) (تاکہ مجبور ہوکر قریش سے لباس خریدیں) او رحاجیوں کو یہ حق نہیں تھا کہ وہ اپنے پاس موجود غذا کو استعمال کریں بلکہ اہل مکہ کی تیار کردہ غذا استعمال کریں۔(٢) (اور ان کے بازاروں سے غذائیں خریدیں) ٩ھ میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی کو مکہ بھیجا تاکہ مشرکین سے برائت کا اعلان کریں۔ قطعنامہ کی ایک شق جس کا علی نے حج کے عمومی پروگرام میں اعلان کیایہ تھی کہ آج کے بعد سے کوئی بھی کعبہ کا برہنہ طواف نہ کرے۔(٣)

مکہ میں قریش کے اثر ورسوخ کا پتہ لگانااس اعتبار سے قابل اہمیت ہے کہ ہم اس کے ذریعہ سے پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی پریشانیوں اور مشکلات کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور پھر غور کریں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سامنا کتنے بڑے اور طاقتور دشمن سے تھا۔ خاص طور پر مکہ میں دعوت اور تبلیغ دین کے دوران بغیر کسی قوت و طاقت ونیز محدود حامیوں کے ساتھ، قریش سے ڈٹ کر مقابلہ کیااور ان کے پنجہ سے پنجہ لڑا دیا!

______________________

(١) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ٧٢؛ ازرقی، گزشتہ حوالہ، ص ١٧٤، ١٧٨، ١٨٢؛ کعبہ کا برہنہ طواف جس کے بارے میں پہلے بیان کرچکے ہیں اور نیز اس خاتون کی داستان جس نے بہت ہی بری حالت میں طواف کیا اور کہتی تھی: الیوم یبدو بعضہ او کلہ۔ و ما بدا منہ فلا احلہ، ا س سختی اورانحصا رطلبی کے نتیجہ میں تھا (ازرقی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٧٨، ١٨٢؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٤، ص ١٩٠؛ آلوسی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٤٤؛ صحیح مسلم بشرح النووی، ج١٨، ص ١٦٢، کتا ب التفسیر.)

(٢) ازرقی، گزشتہ حوالہ، ص ١٧٧.

(٣) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٤، ص ١٩٠.


دوسرا حصہ

حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ولادت سے بعثت تک

پہلی فصل: اجداد پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

دوسری فصل: حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بچپن اور جوانی

تیسری فصل: حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جوانی


پہلی فصل

اجداد پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حسب و نسب

حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سلسلۂ نسب میں، آپ کے بیس اجداد کا تذکرہ اس طرح سے موجود ہے:

عبد المطلب، ہاشم، عبد مناف، قصی، کلاب، مرہ، کعب، لوی، غالب، فھر، مالک، نضر، کِنانہ، خزیمہ، مدرکہ، الیاس، مُضَر، نِزَار، مُعَدّ اور عدنان۔(١)

لیکن حضرت اسماعیل تک آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دوسرے اجداد اور ان کے ناموں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔(٢)

______________________

(١) طبری، تاریخ الامم و الملوک (بیروت: دار القاموس الحدیث)، ج٢، ص ١٩١؛ ابن اثیر، اسد الغابہ (تہران: المکتبة الاسلامیہ)، ج١، ص١٣؛ طبرسی، اعلام الوری (تہران: دار الکتب الاسلامیہ،ط٣)، ص ٦۔٥۔

(٢) ابن اثیر، گزشتہ حوالہ، ص ١٣؛ ابوبکر احمد بن حسین بیہقی، دلائل النبوة، ترجمہ: محمود مہدوی دامغانی (تہران: مرکز انتشارات علمی و فرہنگی، ١٣٦١)، ص ١١٨؛ مسعودی، التنبیہ و الاشراف (قاہرہ: دارالصاوی للطبع و النشر)، ص١٩٦۔ ١٩٥؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ (بیروت: دارصادر)، ج٢، ص٣٣؛ جمال الدین احمد بن عنبہ، عمدة الطالب فی انساب آل ابی طالب (قم: منشورات الرضی، ط ٢)، ص٢٨۔


آپ اپنے سلسلۂ نسب کو بیان کرتے وقت جب عدنان پر پہنچتے تھے تو ٹھہر جاتے تھے اور بقیہ کو نہیں بیان فرماتے تھے۔(١) اور دوسروں کو بھی اسی بات کی نصیحت فرماتے تھے.(٢) اور عدنان سے اسماعیل تک اپنے اجداد کے سلسلۂ نسب کے بارے میں فرمایا: کہ اہل نساب نے جو بات کہی ہے وہ جھوٹ ہے۔(٣)

عرب کے تمام قبیلے دو گروہوں میں بٹے ہوئے تھے۔ ''قحطانی اور ''عدنانی''(٤) اور قریش عدنان (رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بیسویں جد) سے انتساب کی بنا پر، عدنانی کہے جاتے ہیں۔ عدنانی عرب میں، جس کا خاندان اور سلسلۂ نسب نضر بن کنانہ سے ملتا ہے وہ قرشی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ قریش، آپ کا نام یا لقب تھا۔(٥)

______________________

(١) ابن سعد، طبقات الکبری، (بیروت: دار صادر)، ج١، ص ٥٦؛ ہشام بن محمد الکلبی، جمھرة النسب، تحقیق: ناجی حسن (بیروت: عالم الکتب، ط١)، ص ١٧۔

(٢) ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب (قم: المطبعة ا لعلمیہ)، ج١، ص ١٥٥؛ طبرسی، گزشتہ حوالہ، ص٦؛ مجلسی، بحار الانوار، (تہران: دار الکتب الاسلامیہ)، ج١٥، ص ١٠٥۔

(٣) کلبی، گزشتہ حوالہ، ص١٧؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص٥٦؛ ابن شہر آشوب، گزشتہ حوالہ، ص ١٥٥؛ ابن عنبہ، گزشتہ حوالہ، ص ٢٨۔

(٤) پہلے گروہ کو یمانی (یمنی) اور دوسرے گروہ کو مضری، نزاری اور قیسی بھی کہتے ہیں

(٥)ابن شہرآشوب، گزشتہ حوالہ، ص ١٥٤؛ ابن عنبہ، گزشتہ حوالہ، ص ٢٦؛ طبرسی، گزشتہ حوالہ، ص٦؛ ابن قتیبہ، المعارف، تحقیق: ثروة عکاشہ (قم: منشورات الرضی، ١٤١٥ھ.ق)، ص٦٧؛ طبرسی، مجمع البیان، (تہران: شرکة المعارف الاسلامیہ)، ج١٠، ص ٥٤٥؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، (قاہرہ: مطبعة مصطفی البابی الحلبی،، ١٣٥٥ھ.ق)، ج١، ص ٩٦؛ ابن عبد ربہ، العقد الفرید (دار الکتاب العربی، ١٤٠٣ھ.ق)، ج٣، ص ٣١٢؛ ابن کثیر، السیرة النبویہ، (قاہرہ: مطبعة عیسی البابی الحلبی)، ج١، ص ٨٤؛ محمد امین بغدادی سویدی، سبائک الذہب فی معرفة قبائل العرب (بیروت: دار صعب)، ص ٦٢؛ ابن واضح، تاریخ یعقوبی، (نجف : المکتبة الحیدریہ، ١٣٨٣ھ.ق)، ج١، ص ٢٠٤۔

بعض اہل نساب نے، فہربن مالک بن نضر کو قرشی کہا ہے۔ رجوع کریں: کلبی، گزشتہ حوالہ، ص ٢١؛ ابن سعد.گذشتہ حوالہ، ص٥٥؛ ابن عنبہ، گذشتہ حوالہ، ص٢٦؛ ابن ہشام، گذشتہ حوالہ، ص ٩٦؛ محمد امین بغدای، گذشتہ حوالہ، ص٦٢؛ ابن واضح، گذشتہ حوالہ، ص ٢٠٤؛ ابن حزم، جمھرة انساب العرب (بیروت: دار الکتب العلمیہ، ط١، ١٤٠٣ھ.ق)، ص١٢؛ حلبی، السیرة الحلبیہ، (انسان العیون) (بیروت: دار المعرفہ)، ج١، ص٢٦۔ ٢٥۔ دوسرے اقوال بھی اس بات میں موجود ہیں کہ جن کا ذکر کرنا فائدہ نہیں رکھتا۔ رجوع کریں: السیرة الحلبیہ، ج١، ص٢٧۔


قبیلۂ قریش(١) متعدد خاندانوں او رحصوں میں بٹا ہوا تھا۔ جیسے بنی مخزوم، بنی زھرہ، بنی امیہ ، بنی سہم اور بنی ہاشم(٢) اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آخری خاندان سے تھے ۔

حضرت عبد المطلب کی شخصیت

حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اجداد میں ہم زیادہ تر معلومات آپ کے پہلے جد عبد المطلب کے بارے میں رکھتے ہیں کیونکہ ان کا دور حیات عصر اسلام سے نزدیک رہا ہے۔

جناب عبد المطلب، ایک ہر دل عزیز، مہربان، عقلمند، سرپرست اور قریش کی ایسی پناہ گاہ تھے(٣) جن کا کوئی مقابل اور رقیب نہیں تھا۔ وہ تمام عظیم الٰہی شخصیتوں کی طرح اپنے معاشرے میں نمایاں کردار رکھتے تھے ۔ طولانی عمر پانے کے باوجود مکہ کے آلودہ سماج کے رنگ میں اپنے کو کبھی

______________________

(١) عرب کے قبیلے اور گروہ چھوٹے اور بڑے ہونے کے لحاظ سے اور اس کے اندر جو شاخیں پیدا ہوئی تھیں ان کے اعتبار سے ترتیب وار انھیں شعب، قبیلہ، عمارہ، بطن، فخذ اور فصیلہ کہا جاتا تھا۔ جیسے خزیمہ، شعب، کنانہ، قبیلہ، قریش، عمارہ، قصی، بطن، ہاشم، فخذ، اور عباس کو فصیلہ کہا جاتا تھا (ابن حزم، العقدالفرید، ج٣، ص ٣٣٠؛ ڈاکٹر حسین مؤنس، تاریخ قریش، (دار السعودیہ، ط ١، ١٤٠٨ھ.ق) ، ص ٢١٥) اس بنیاد پر بعض دانشوروں نے قریش کو ''قبیلہ'' اور بعض نے ''عمارہ'' کہا ہے۔ لیکن اس بات کا خیال رہے کہ اس تقسیم بندی کی بنیاد اور اصل ، محل بحث ہے۔ اور اصولی طور پر بعض محققین نے اس تقسیم بندی کو قبول نہیں کیا ہے۔ (تاریخ قریش، ص ٢١٦۔ ٢١٥)، ہم یہاں پر اس بحث سے ہٹ کر صرف آسانی کے لئے قریش کو قبیلہ کے عنوان سے ذکر کرتے ہیں۔

(٢)مسعودی نے قبیلۂ قریش میں ٢٥ خاندان بتائے ہیں اور ان کا نام ذکر کیاہے۔ (مروج الذہب، (بیروت: دار الاندلس، ط١، ١٩٦٥)، ج٢، ص ٢٦٩.)

(٣) حلبی، گزشتہ حوالہ، ص٦۔


نہیں رنگا۔ اس وقت مکہ میں معاد کا عقیدہ نہیں پایا جاتا تھا یا بہت کم تھا۔ لیکن عبد المطلب نہ صرف معاد کا عقیدہ رکھتے تھے بلکہ روز قیامت کی جزا اور سزا کے بارے میں بھی تاکید فرماتے تھے اور کہتے تھے: اس دنیا کے بعد ایسی دنیا آئے گی جس میں اچھے اور برے لوگ، اپنے اعمال کی جزا اور سزا پائیں گے۔(١)

جبکہ اس وقت جزیرة العرب کے ماحول میں قبیلہ جاتی عصبیت عام تھی اور جیساکہ ہم بیان کرچکے ہیں ہر شخص جھگڑے اور اختلافات میں (بغیر حق و باطل کا خیا ل کئے) اپنے قبیلے، خاندان اور احباب کی حمایت کرتا تھا۔ لیکن جناب عبد المطلب، ایسے نہیں تھے۔ چنانچہ حرب بن امیہ جو کہ آپ کے خاندان اور دوستوں میں سے تھا اس پر اتنا دباؤ ڈالا، تاکہ وہ ایک یہودی کا خون بہا دیدے جو اس کے ورغلانے پر قتل ہوا تھا(٢) وہ اپنی اولاد کو ظلم و ستم اور دنیا کے پست اور گھٹیا کاموں سے منع کرتے تھے اور اچھے صفات کی ترغیب دلاتے تھے۔(٣)

جناب عبد المطلب کا جو طریقۂ کار تھا اسلام نے زیادہ تر اس کی تائید فرمائی ہے ۔ ان میں کچھ چیزوں ، جیسے حرمت شراب، حرمت زنا، زناکار پر حد جاری کرنا، چور کے ہاتھ کاٹنا، فاحشہ عورتوں کو مکہ سے جلا وطن کرنا اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا، محرموں سے شادی کرنااور خانہ کعبہ کا برہنہ طواف کرنے کو حرام قرار دینا اور نذر کی ادائیگی کو واجب جاننا اور حرام مہینوںکی قداست و احترام او رمباہلہ

______________________

(١)گزشتہ حوالہ، ص٦؛ شکری آلوسی، بلوغ الارب فی معرفة احوال العرب، تصحیح محمد بہجة الاثری، (قاہرہ: دار الکتب الحدیثہ، ط٢)، ج١، ص٣٢٤۔

(٢) حلبی، گزشتہ حوالہ، ص ٦؛ آلوسی، گزشتہ حوالہ، ص ٣٢٣؛ ابن اثیر ، الکامل فی التاریخ، ج٢، ص ١٥؛ بلاذری، انساب الاشراف، تحقیق: محمد حمید اللہ (قاہرہ: دار المعارف)، ج١، ص٧٣.

(٣) حلبی، گزشتہ حوالہ، ص ٧؛ مسعودی، مروج الذہب، ج٢، ص ١٠٩.


وغیرہ(١) کے وہ قائل تھے۔ایک روایت میں آیاہے کہ عبدالمطلب ''خدا کی حجت'' اورابوطالب ان کے ''وصی'' تھے۔(٢)

خاندان توحید

حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا خاندان، موحد تھا۔ علماء امامیہ کے عقیدے کے مطابق آپ کے آباء و اجداد حضرت عبد اللہ سے لیکر حضرت آدم تک سب موحد تھے اوران کے درمیان کوئی مشرک نہیں تھا۔ اس بارے میں آیات و روایات سے استدلال ہوا ہے۔ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: ''خداوند عالم نے مجھے ہمیشہ پاک مردوں کی صلبوں سے پاکیزہ عورتوں کے رحموں میں منتقل کیا۔ یہاں تک اس دنیا میں بھیج دیا اور اس نے مجھے ہرگز جاہلیت کی کثافتوں سے آلودہ نہیں کیا''(٣) اور ہمیں یہ معلوم ہے

______________________

(١) آلوسی، گزشتہ حوالہ، ٣٢٤؛ ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ٧؛ رجوع کریں: السیرة الحلبیہ، ج١، ص ٧؛ رجوع کریں: الخصال صدوق، باب الخمسہ، ج٢، ص ٣١٣۔ ٣١٢۔

(٢) صدوق، اعتقادات، ترجمہ: سید محمد علی بن سید محمد الحسنی (تہران: کتابخانۂ شمس، ط٣، ١٣٧٩ھ.ق)، ص١٣٥؛ مجلسی، بحار الانوار، ج١٥، ص ١١٧؛ رجوع کریں: اصول کافی، ج١، ص ٤٤٥۔

جناب عبد المطلب سے مربوط بحثوں میں سے ایک بحث خدا کی راہ میں ایک فرزند کی قربانی ، ان کی نذر ہے جس کی خبر مشہور ہونے کے باوجود جس طرح سے تاریخ کی کتابوں میں آئی ہے وہ سند اور متن کے لحاظ سے جائے اشکال ہے۔ اوراس سلسلہ میں بحث و تحقیق کی ضرورت ہے۔(رجوع کریں: علی دوانی، تاریخ اسلام از آغاز تا ہجرت، ص ٥٩۔ ٥٤؛ من لایحضرہ الفقیہ، تحقیق: علی اکبر غفاری، ج٣، ص ٨٩؛ باب الحکم بالقرعہ، حاشیہ، تعلیقہ ٔ آغائے غفاری) چونکہ یہ کتاب اختصار کے طور پر لکھی گئی ہے لہٰذا اس کے بارے میں بحث کرنے سے صرف نظر کرتے ہیں۔

(٣) صدوق، گزشتہ حوالہ، ص ١٣٥؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ص ١١٧؛ مفید، اوائل المقالات (قم: مکتبة الداوری)،ص ١٢؛ طبرسی، مجمع البیان، ج٤، ص ٣٢٢؛ تفسیر آیہ ٧٤ سورۂ انعام، بعض معاصر دانشوروں نے اس حدیث کو طہارت نسل یعنی ولادت و پیدائش کا سبب، ازدواج قرار دیا ہے (نہ آزاد اور غیر مشروع روابط) سے تفسیر کیا ہے کہ اگر اس تفسیر کو قبول کریں تو ہماری بحث کے لئے شاہد قرار نہیں پائے گا۔ (سید ہاشم رسولی محلاتی، درس ھایی از تاریخ تحلیلی اسلام ماھنامہ پاسدار اسلام، ١٣٦٧، ج١، ص ٦٤).


کہ کوئی بھی نجاست شرک سے بدتر نہیں ہے اگر ان کے درمیان کوئی ایک بھی مشرک ہوتا تو انھیں ہرگز پاک نہ کہا جاتا۔

علمائے امامیہ کا عقیدہ ہے کہ جناب ابوطالب اور آمنہ بنت وھب موحد(١) تھے۔

حضرت علی نے فرمایا ہے کہ خدا کی قسم! میرے والد اور اجداد عبد المطلب، ھاشم اور عبد مناف میں سے کوئی بھی بت پرست نہیں تھا وہ لوگ دین ابراہیمی کے پیرو تھے اور کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔(٢)

______________________

(١) مفید، گزشتہ حوالہ، ص ١٢؛ صدوق، گزشتہ حوالہ، اہل سنت کے بعض نامور علماء جیسے فخر رازی اور سیوطی بھی اس سلسلے میں امامیہ کے ہم عقیدہ ہیں۔ رجوع کریں: بحار الانوار، ج١٥، ص ١٢٢۔ ١١٨.

(٢) صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، تصحیح علی اکبر الغفاری (قم: موسسہ النشر الاسلامی، ١٣٦٣)، ج١، ص ١٧٥؛ الغدیر، ج٧، ص ٣٨٧.


دوسری فصل

حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بچپن اور جوانی

ولادت

جاہل عرب میں تاریخ کی کوئی منظم اور مستقل، ابتدا مقرر نہیں تھی بلکہ علاقے کے اہم واقعات جیسے کسی بڑی اور مشہور شخصیت کے مرنے یا دو قبیلوں کے درمیان خون ریز جنگ کے دن کو ایک زمانے تک تاریخ کا آغاز قرار دیتے تھے۔(١) یہاں تک تمام قبائل عرب میں تاریخ کے آغاز کے لئے ایک معین دن نہیں تھا بلکہ اس قبیلہ کے نزدیک جو بھی اہم واقعہ رونما ہوتا تھا اسی کو تاریخ کی ابتدا قراردیتے تھے۔(٢)

جس وقت ابرہہ (حبشہ کا بادشاہ) نے، ہاتھیوں سمیت لشکر کے ساتھ خانۂ کعبہ کو مسمار کرنے کے

______________________

(١) اس واقعہ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے رجوع کریں: مسعودی، التنبیہ و الاشراف، ص ١٨١۔ ١٧٢؛ ڈاکٹر محمد ابراہیم آیتی، تاریخ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (ط ٢، انتشارات دانشگاہ تہران، ١٣٦١)، ص ٢٧۔ ٢٦.

(٢) مسعودی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٧.


لئے مکہ پر حملہ کیا(١) تو اعجاز پروردگار اور اس کی غیبی طاقت کے مقابلہ میں شکست کھا گیا۔ اور اس واقعہ سے اس زمانہ کے دوسرے تمام واقعات تحت الشعاع میں آگئے اور وہ سال ایک عرصہ تک''عام الفیل'' کے عنوان سے تاریخ کی شروعات قرار پایا٭ اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسی سال مکہ میں پیدا ہوئے۔(٢)

یہ واقعہ بعض قرائن اور شواہد کے لحاظ سے جیسے حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت، جوکہ ٦٢٢ اور آپ کی وفات ٦٣٤ئ میں (٦٠ یا ٦٣) سال کی عمر میں ہوئی ہی اور یہ واقعہ تقریباً ٥٦٩ئ ، ٥٧٠ئ

______________________

(١) شیخ طوسی، الامالی، (قم: دار الثقافہ، ط١، ١٤١٤ھ.ق)، ص ٨٢۔ ٨٠؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ص ٩٧۔ ٩٤،ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٥٥۔ ٤٤؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ص ٩٦۔ ٦٧؛ محمد بن حبیب بغدادی، المنمق فی ا خبار قریش، تحقیق: خورشید احمد فارق (بیروت: عالم الکتب، ط ١، ١٤٠٥ھ.ق)، ص ٧٧۔ ٧٠)۔

٭ ہاتھیوں کے لشکر کے واقعہ سے پہلے قریش قصی (جو کہ ایک بڑی اور نامور شخصیت تھی اور جس نے پہلی بار قریش کو قدرت مند بنایا) کو تاریخ کی شروعات قرار دیتے تھے (ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ٤)

(٢) کلینی ، اصول الکافی (تہران: دار الکتب الاسلامیہ، ١٣٨١ھ.ق)، ج١، ص ٤٣٩؛ ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٤؛ مسعودی، مروج الذہب، ج٢، ص ٢٧٤؛ مجلسی، بحار الانوار، ج١٥، ص ٢٥٢۔ ٢٥٠؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ص ٩٥؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ص ٧٣۔ ٧٢؛ ابن کثیر، السیرة النبویہ، ج١، ص٢٠١؛ محمد بن سعد، طبقات الکبری، ج١، ص ١٠١؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج١، ص١٤؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج١، ص١٦٧؛ الشیخ عبد القادر بدران، تہذیب تاریخ دمشق (بیروت:دار احیاء التراث العربی، ط٣، ١٤٠٧ھ.ق)، ج١، ص ٢٨٢؛ ابن اسحاق، السیر و المغازی، تحقیق: سہیل زکار (بیروت: دار الفکر، ط١، ١٣٩٨ھ.ق)، ص٦١۔


کے بیچ میں رونما ہوا ہے۔(١)

___________________________

(١) علی اکبر فیاض، تاریخ اسلام، (تہران: انتشارات تہران یونیورسٹی، ط٣، ١٣٦٧)، ص ٧٢؛ عباس زریاب، سیرۂ رسول اللہ (پہلے حصہ سے ہجرت کے آغاز تک) (تہران: سروش، ط ١، ١٣٧٠)، ص ٨٧۔ ٨٦؛ سید جعفر شہیدی ، تاریخ تحلیلی اسلام تا پایان امویان (تہران: مرکز نشر یونیورسٹی، ط ١٠، ١٣٦٩)، ص ٣٧۔

اس سلسلہ میں کہ کیا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ولادت ٹھیک اسی عام الفیل میں ہوئی یا اس سے پہلے یا بعد میں اورنیز عام الفیل کو عیسوی سالوں سے مطابقت کرنے میں دوسرے نظریات او راحتمالات بھی ذکر ہوئے ہیں کہ جس کے نقل کرنے کی اس کتاب میں ضرورت نہیں ہے۔ مزید معلومات کے لئے رجوع کریں: محمد ختم پیامبران، ج١، ص ١٧٧۔ ١٧٦؛ مقالہ سید جعفر شہیدی؛ رسولی محلاتی ، درسھای از تاریخ تحلیلی اسلام (قم: ماہنامہ پاسدار اسلام ١٤٠٥ھ.ق)، ج١، ص ١٠٧ کے بعد؛ ابن کثیر ، السیرة النبویہ، ج١، ص ٢٠٣؛ تہذیب تاریخ ذمشق، ج١، ص ٢٨٢۔ ٢٨١؛ سید حسن تقی زادہ، از پرویز تاچنگیز (تہران: کتابفرشی فروغی، ١٣٤٩)، ص ١٥٣؛ جسین مونس، تاریخ قریش (الدار السعودی، ط ١، ١٤٠٨ھ.ق)، ص ١٥٩۔ ١٥٣؛ اس کے علاوہ بعض یورپی مورخین اسلامی کتابوں میں ابرھہ کی لشکر کشی کا مقصد دینی جذبہ اور کعبہ اور یمن میں قلیس معبد کے د رمیان رقابت کو بتایاہے، ملکوں کی فتح اورابرھہ کا حملہ ایران جزیرة العرب کے شمالی راستے سے حکومت روم کے اکسانے پر بتایا گیا ہے؛ فیاض، گزشتہ حوالہ، ص ٦٢؛ ابوالقاسم پایندہ، مقدمہ ترجمہ فارسی قرآن مجید، ص ۔ لز۔) جس کے بارے میں الگ سے بحث اور تحقیق کی ضرورت ہے جواس کتاب کے حجم سے باہر ہے۔


کم سنی اور رضاعت کا زمانہ

حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابھی دو مہینے کے تھے(١) کہ آپ کے پدر بزرگوار جناب عبد اللہ، ملک شام سے تجارتی سفر کی واپسی میں، شہر یثرب میں انتقال فرماگئے اور وہیں پر آپ کو سپردخاک کردیا گیا۔(٢)

قرآن کریم نے ان کی یتیمی کواس انداز میں بیان کیا ہے: ''کیااس نے تم کو یتیم پاکر پناہ نہیں دی

______________________

(١) کلینی ، گزشتہ حوالہ، ص ٤٣٩؛ ابن واضح، گزشتہ حوالہ، ص٦؛ ابوالفتح محمد بن علی الکراجکی، کنز الفوائد (قم: دارالذخائر،ط١، ١٤١٠ھ.ق)، ج٢، ص ١٦٧؛ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سن باپ کے مرنے کے سال، سات مہینے اور ٢٨ روز بھی لکھا ہے۔ (محمد بن سعد، طبقات الکبری، (بیروت: دار صادر، ج١، ص ١٠٠)، بعض مورخین نے، حضرت عبد اللہ کی وفات کو حضرت رسول اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی ولادت کے قبل ہی تحریر کیا ہے۔ (ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ١٠٠۔ ٩٩؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج١، ص ١٣؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج١، ص ١٦٧؛ الشیخ عبدالقادر بدران، تہذیب تاریخ دمشق، تالیف ابن عساکر (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ط ٣ ، ١٤٠٧ھ.ق)، ج١، ص ٢٨٤.) لیکن بعض اسناد و شواہد، پہلی روایت کی تائید کرتے ہیں ان میں سے عبدالمطلب کے اشعار بھی ہیں جو اسی مطلب پر دلالت کرتے ہیں:

اوصیکم یا عبد مناف بعدی

بمفرد بید ابیه فرد

فارقه وهو ضجیج المهد

فکنت کالام له فی المجد

(تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ١٠؛ رجوع کریں: ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب (قم: المطبعة العلمیہ)، ج١، ص ٣٦.)

(٢) تہذیب تاریخ دمشق، ج١٧، ص ٢٨٢؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٩٩؛ مسعودی، التنبیہ والاشراف، ص١٩٦؛ محمد بن جریر الطبری، تاریخ الامم و الملوک، (بیروت: دارالقاموس الحدیث)، ج٢، ص ١٧٦؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، (بیروت: دار صادر)، ج٢، ص١٠۔


ہے اور کیا تم کو گم گشتہ پاکر منزل تک نہیں پہنچایا اور تم کو تنگ دست پاکر غنی نہیں بنایا''۔(١)

آمنہ کے لال نے ولادت کے ابتدائی دنوں میں اپنی ماں کا دودھ پیا(٢) اور اس کے بعد تھوڑے دن تک (ابولہب کی آزاد شدہ کنیز) ثوبیہ نے اپنا دودھ پلایا۔(٣)

اس دور میں رسومات عرب(٤) کے مطابق آپ کو حلیمہ سعدیہ نامی دایہ کے سپرد کردیا گیا۔ وہ قبیلۂ بنی سعد بن بکر سے تعلق رکھتی تھیں اور دیہات(٥) میں زندگی بسر کرتی تھیں۔ دایہ حلیمہ نے دو سال تک آپ کو دودھ پلایا(٦) اور پانچ سال تک پرورش کی اس کے بعد آپ کے گھر والوں کے سپرد کردیا۔(٧)

ایک نومولود بچہ کو کسی بادیہ نشین کے سپرد کرنے کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ اس کی پرورش صحرا کی پاک و صاف اور کھلی فضا میں ہو اور مکہ میں ''وبا'' کی بیماری کے خطرے سے دور رہے۔(٨)

______________________

(١) سورۂ ضحی، آیت ٨۔ ٦۔

(٢) تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ٦؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص١٤٣۔

(٣)تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٦؛ طبرسی، اعلام الوریٰ، ص٦؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ص ١١٠؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج١، ص١٥؛ مجلسی، بحار الانوار، ج١٥، ص٣٨٤۔

(٤) حلبی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص١٤٦۔

(٥)تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٧؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص١٧١؛ محمد بن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ١١٠؛ مسعودی، التنبیہ والاشراف، ص ١٩٦؛ مروج الذہب، ج٢، ص٢٧٤؛ طبرسی، اعلام الوریٰ، ص٦؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ص١٠٢۔ ١٠١؛ ابن کثیر، السیرة النبویہ، ج١، ص٢٢٥؛ ابن اسحاق، السیر والمغازی، تحقیق: سہیل زکار، ط١، ١٣٩٨ھ.ق)، ص٤٩۔

(٦)بلاذری، انساب الاشراف، تحقیق: محمد حمید اللہ (قاہرہ: دارالمعارف)، ج١، ص٩٤؛ مقدسی، البدء و التاریخ، ط پیریس، ١٤٠٣ئ، ج٤، ص١٣١؛ مجلسی، بحار الانوار، ج١٥، ص ٤٠١؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ،ج١، ص١١٢۔

(٧) تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٧؛ ابن شہر آشوب، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٣٣؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ص٩٤؛ مسعودی، مروج الذہب، ج٢، ص٢٧٥۔

(٨) ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق:محمد ابوالفضل ابراہیم (قاہرہ: دار احیاء الکتب العربیة، ١٩٦١)، ج١٣، ص٢٠٣؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ص٤٠١۔


اس کے علاوہ بدو قبیلوں کے درمیان زبان کی فصاحت و بلاغت اور خالص اصیل عربی سے آگاہی بھی ایک اہم چیز تھی جو بعض ہم عصر مورخین کی طرف سے بیان ہوئی ہے۔(١)

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ایک جملہ، جو اس موضوع کی مناسبت سے نقل ہوا ہے جو شاید اس مقصد کے لئے شاہد قرار پائے، یہ ہے:

''میں تم لوگوں میں سب سے زیادہ فصیح ہوں کیونکہ میں قرشی ہوں اور میں نے قبیلہ بنی سعد بن بکر میں دودھ بھی پیاہے''(٢)

بعض تاریخی کتابوں میں جناب حلیمہ کو دایہ کے طور پر انتخاب کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ چونکہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یتیم تھے لہٰذا کوئی دایہ آپ کو لینے کے لئے تیار نہیں ہوئی کیونکہ دائیاں دودھ پلانے کے عوض بچہ کے باپ سے اجرت لیتی تھیں اور چونکہ اس وقت دائی حلیمہ کو مکہ میں کوئی بچہ نہیں ملا تھا لہٰذا حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یتیم ہونے کے باوجود مجبوراً رضاعت کے لئے قبول کرلیا۔(٣) لیکن دایوں کی طرف

______________________

(١) جعفر سبحانی، فروغ ابدیت (قم: مرکز انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی حوزۂ قم، ط٥، ١٣٦٨)، ج١، ص ١٥٩؛ سید جعفر مرتضی العاملی، الصحیح من سیرة النبی الاعظم (قم: ١٤٠٠ھ.ق)، ج١، ص ٨١۔

(٢) انا اعربکم انا قرشی واسترضعت فی بنی سعد بن بکر، (ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج١، ص ١٧٦۔ اور رجوع کریں: ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ١١٣؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ص ١٤٦؛ ابو سعید واعظ خرگوشی، شرف النبی، ترجمہ: نجم الدین محمود راوندی (تہران: انتشارات بابک، ١٣٦١). ص ١٩٦۔

کہا جاتا ہے کہ جس زمانہ میں حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، حلیمہ کے پاس دیہات میں رہ رہے تھے واقعۂ شق صدر پیش آیا۔ لیکن تاریخ اسلام کے محققین اور تجزیہ نگاروں نے متعدد دلیلوں کی بنا پر اس موضوع کو حقیقت سے دور اور من گڑھت گردانا ہے۔ (رجوع کریں: سید جعفر مرتضی العاملی، الصحیح من سیرة النبی الاعظم، ج١، ص ٨٢؛ سید ہاشم رسولی محلاتی، تاریخ تحلیلی اسلام کے دروس، ج١، ص ١٨٩و ٢٠٤؛ شیخ محمد ابویہ، اضواء الی السنة المحمدیہ (مطبعة صور الحدیثہ، ط ٢، ھ.ق)، ج١، ص ١٧٧۔ ١٧٥.

(٣) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٧٢۔ ١٧١؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ،ص٩٣؛ ابن سعد،گزشتہ حوالہ، ص١١١۔ ١١٠.


سے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یتیمی کی خاطر قبول نہ کرنے کی وجہ قابل قبول نظرنہیں آتی۔ کیونکہ :

١۔ جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ بعض کتابوں میں نقل ہوا ہے کہ جناب عبد اللہ کا انتقال، حضرت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ولادت کے چند مہینے بعد ہوا ہے اس لحاظ سے وہ اس وقت یتیم نہیں ہوئے تھے۔

٢۔ جناب عبد المطلب کی عظیم شخصیت اور مکہ میں ان کا بلند مقام اور درجہ اور ان کی دولت و ثروت کودیکھتے ہوئے نہ صرف دایوں نے لینے سے انکار نہ کیا ہوگا بلکہ ایسے خاندان کے بچہ کی رضاعت کے لئے آپس میں جھگڑا کرتی ہوں گی ۔

٣۔ بہت ساری تاریخی کتابوں میں یہ واقعہ نقل ہوا ہے لیکن یہ بات کہیں نہیں ذکر ہے۔(١) ٭

والدہ کا انتقال اور جناب عبد المطلب کی کفالت

جناب آمنہ دائی حلیمہ سے اپنے بچہ کو لینے کے بعد ام ایمن(جناب عبد اﷲ کی کنیز) کے ساتھ ایک قافلہ کے ہمراہ مدینہ گئیں تاکہ اپنے شوہر جناب عبد اللہ کی قبر پر جاکر حاضری دے سکیں اورآپ کے ماموؤں سے ملاقات کرسکیں۔(٢)

مدینہ میں ایک ماہ قیام کے بعد مکہ پلٹتے وقت مقام ابواء میں آپ کا انتقال ہوگیا اور وہیں آپ کو دفن کردیا گیا اس وقت حضرت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم چھ سال کے تھے۔(٣)

______________________

(١) منجملہ ایک بزرگ اور نامور محدث ابن شہر آشوب نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے لیکن حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یتیمی کے موضوع کو جس طرح سے بیان کیا گیا ہے اس میں نہیں ہے (مناقب آل ابی طالب، ج ١، ص ٣٣.)

٭ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رضاعت کا مسئلہ چاہے حلیمۂ سعدیہ کے ذریعہ ہو یا دیگر کنیزوں کے ذریعہ محل اختلاف ہے ، شیعہ محققین نے اسے قبول نہیں کیا ہے. مترجم.

(٢) عبدالمطلب کی ماں سلمی ، مدینہ کی رہنے والی تھیں اور بنی نجار سے تعلق رکھتی تھیں. (بیہقی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٢١.)

(٣) ابن اسحاق، گزشتہ حوالہ، ص٦٥؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ص ٩٤؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ١١٦؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص١٧٧؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ص ١٢١؛ طبرسی، گزشتہ حوالہ، ص ٩؛ صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، تصحیح علی اکبر الغفاری (قم: مؤسسہ النشر الاسلامی، ١٣٦٣)، ج١، ص١٧٢؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٧؛ الشیخ عبدالقادر بدران، تہذیب تاریخ دمشق، ج١، ص٢٨٣۔


ام ایمن قافلہ کے ساتھ آپ کو مکہ لے کر آئیں اور جناب عبد المطلب کے حوالہ کردیا۔(١)

جناب عبد المطلب نے آپ کی سرپرستی اور کفالت کی ذمہ داری اپنے سر لے لی، اور جب تک وہ زندہ رہے اپنے پوتے کی اچھی طرح سے دیکھ بھال کرتے رہے اورآپپر ان کی نظر عنایت ہوتی تھی اور کہتے تھے کہیہ بلند مقام پائے گا۔(٢)

______________________

(١)حلبی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٧٢۔

(٢) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٧٨؛ صدوق، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٧١؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ص ٤٠٦؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٩۔


جناب عبد المطلب کا انتقال اورجناب ابوطالب کی سرپرستی

حضرت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آٹھ سال کے تھے کہ آپ کے دادا جناب عبد المطلب کا انتقال ہوگیااور آپ کی کفالت کی ذمہ داری جناب ابوطالب کو سونپ دی۔ جناب ابوطالب اور جناب عبداللہ (رسول خدا کے پدر بزرگوار) ایک ہی ماں سے تھے۔(٣)

اس وقت جناب ابوطالب کی مالی حالت اچھی نہیں تھی وہ کثیر العیال اورتنگدست تھے۔(٤) لیکن وہ ایک بہادر، باعزت، قابل احترام(٥) اور قریش کے درمیان بلند درجہ رکھتے تھے۔(٦) وہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو

______________________

(٣) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص١٨٩؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ص ٤٠٦؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٩٤۔

(٤) تاریخ یعقوبی، ج٢، ص١١؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١١٩؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ٤٠٧؛ سہیلی، الروض الانف (قاہرہ: مؤسسة المختار)، ج١، ص ١٩٣۔

(٥) تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ١١؛ جواد علی،المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام (بیروت: دار العلم للملایین، ط١، ١٩٦٨ئ)، ج٤، ص ٨٢۔

(٦) ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق: محمد ابو الفضل ابراہیم (قاہرہ: دار احیاء الکتب العربیہ، ١٩٦٢ئ)، ج١٥، ص ٢١٩۔


بہت زیادہ چاہتے تھے ۔ یہاں تک کہ اپنے بیٹوں سے زیادہ انھیں عزیز رکھتے تھے۔(١)

فاطمہ بنت اسد نے بھی آپ کی پرورش اور سرپرستی میں اہم کردار ادا کیا اور اس سلسلے میں بہت زیادہ زحمتیں اٹھائیں وہ نہ صرف محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ایک مہربان ماں کی طرح چاہتی تھیں بلکہ آپ کواپنے بچوں پر ہمیشہ مقدم رکھتی تھیں۔ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کبھی بھی ان کی زحمتوںکو فراموش نہیں کرتے تھے اور ہمیشہ اپنی ایک ماں کی طرح انھیں یاد فرماتے تھے۔(٢)

شام کا سفر او رراہب کی پیشین گوئی

ایک سال جناب ابوطالب قریش کے قافلہ کے ساتھ تجارت کے لئے شام گئے تو حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خواہش اوراصرار پر (مورخین کے اختلاف کے مطابق اس وقت آپ کی عمر ٨، ٩، ١٢یا ١٣ سال کی تھی) آپ کواپنے ہمراہ لے گئے جس وقت قافلہ مقام بصریٰ(٣) پر پہنچا توایک معبد کے کنارے آرام کی غرض سے رک گیا، اس معبد میں ''بحیرا'' نام کا ایک راہب رہتا تھا، جو عیسائیوں کا بزرگ پادری تھا۔ جب مجمع کے درمیان اس کی نظر ابوطالب کے بھتیجے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر پڑی تو اس کی خاص توجہ کا مرکز بن گئی اس لئے کہ وہ پیغمبر موعود کی بعض نشانیوں سے آگاہ تھا. جب اس نے ان نشانیوں کو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اندر دیکھا تو اس نے آپ سے مختصر گفتگو اور سوالات کے بعد آپ کے آئندہ ''نبی'' ہونے کے بارے

______________________

(١) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١١٩؛ ابن شہر آشوب، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٣٦؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ص ٤٠٧؛ شیخ عبدالقادر بدران، تہذیب تاریخ دمشق، ج١، ص ٢٨٥.

(٢) تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ١١؛ ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٤؛ مقدمہ اصول کافی، ج١، ص ٤٥٣.

(٣) دمشق کے علاقہ میں حوران سرزمین کا ایک قصبہ ہے (یاقوت حموی، معجم البلدان، (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ١٣٩٩ھ.ق)، ج١، ص ٤٤١.


میں خبر دیدی اور جناب ابوطالب سے تاکید کی کہ اس بچہ کا خاص خیال کریں اور اس کویہود کے شر سے محفوظ رکھیں۔(١)

اس واقعۂ کے سلسلہ میں چند نکات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے:

١۔ یہ واقعہ بعض تاریخی او رحدیثی کتابوں میں مختصر انداز میں اور بعض دوسری کتابوں میں بطور مفصل نقل ہوا ہے۔ لیکن اصل واقعہ میں کسی قسم کی شک و تردید نہیں پائی جاتی کیونکہ قرآن مجید نے متعدد آیات میں حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بعثت کے سلسلہ میں گزشتہ پیغمبروں کی پیشین گوئیوں کونقل کر کے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات اور نشانیوں کے سلسلہ میں علمائے اہل کتاب کی آگاہی اور معرفت کی تائید کی ہے۔(٢) اور اسی طرح اہل کتاب کی متعدد پیشین گوئیاں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بعثت کے سلسلہ میں تاریخ و

______________________

(١)اس واقعہ کو اسلامی مورخین و محدثین نے مندرجہ ذیل کتابوں میں نقل کیاہے:

ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج١، ص ١٩٣۔ ١٩١؛ محمد بن جریر طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج٢، ص ١٩٥؛ سنن ترمذی، ج٥؛ المناقب، باب٣، ص ٥٩٠؛ المناقب، باب٣، ص ٥٩٠، حدیث ٢٦٢٠؛ ابن اسحاق، السیر و المغازی، تحقیق:سہیل زکار، ص٧٣؛ محمد بن سعد، طبقات الکبری، ج١، ص ١٢١؛ مسعودی، مروج الذہب، ج٢، ص ٢٨٦؛ صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، ج١، ١٨٦۔ ١٨٢؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج١، ص ٩٦؛ بیہقی، دلائل النبوة، ترجمۂ محمود مہدی دامغانی، ج١، ص ١٩٥؛ طبرسی، اعلام الوری، ص ١٨۔ ١٧؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج١، ص ٣٩۔ ٣٨؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج٢، ص ٢٧؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج١، ص ١٥؛ شیخ عبد القادر بدران، تہذیب تاریخ دمشق (تالیف حافظ ابن عساکر)، ج١، ص ٢٧٠ و ٣٥٤؛ ابن کثیر، سیرة النبی، ج١، ص ١٩١؛ مجلسی، بحار الانوار، ج١٥، ص ٤٠٩۔

(٢) سورۂ بقرہ، آیت ٤١، ٤٢، ٨٩، ١٤٦؛ سورۂ اعراف، آیت ١٥٧؛ سورۂ انعام، آیت ٢٠؛ سورۂ صف، آیت٦۔


حدیث کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں۔(١)

٢۔ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں علمائے اہل کتاب کی کتابوں میں جو علامتیں اور نشانیاں تھیں ان میں سے کچھ آپ کی ذاتی زندگی اور جسمانی خصوصیات کے بارے میں تھیں (جیسے عرب ہونا ایک باعظمت خاتون سے شادی کرنا وغیرہ) آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جسمانی نشانیوں میں سے سب سے نمایاں نشانی یہ تھی کہ آپ کے دونوں شانوں کے درمیان ایک بڑا تل تھا جس کو ''خال نبوت'' یا ''مہر نبوت'' کہا گیا ہے۔(٢)

٣۔ بحیرا راہب کی پیشین گوئی صرف قافلہ والوں کے لئے نئی بات تھی ورنہ جناب ابوطالب بلکہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تمام قریبی رشتہ دار آپ کے درخشندہ مستقبل سے باخبر تھے۔(٣)

______________________

(١) رجوع کریں: جعفر سبحانی، راز بزرگ رسالت (تہران: کتابخانۂ مسجد جامع تہران، ١٣٥٨)، ص ٢٧٨۔ ٢٦٢؛ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سلسلہ میں گزشتہ پیغمبروں کی پیشین گوئیوں کے بارے میں مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں سے ذیل کی تین کتابوں کو نمونہ کے طور پر ذکر کیا جاسکتا ہے۔

محمد در تورات وانجیل تالیف: پروفیسر ، عبد الاحد داؤد: ترجمہ فضل اللہ نیک آئین؛ مدرسہ سیار، تالیف: شیخ محمد جواد بلاغی، ترجمہ: ع۔ و؛ انیس الاعلام، تالیف: فخر الاسلام۔

(٢) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٩٣؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ص ١٩٥؛ سنن ترمذی، تحقیق: ابراہیم عطوہ عوض (بیروت: دار احیاء التراث العربی)، ج٥، المناقب، باب ٣، ص ٥٩٠، حدیث ٢٦٢٠؛ شیخ عبدالقادر بدران، تہذیب تاریخ دمشق، ج١، ص ٢٧٨؛ ابن کثیر، سیرة النبی، ج١، ص ٢٤٥؛ صحیح بخاری، تحقیق: الشخ قاسم الشماعی الرفاعی، ج٥، ص ٢٨، باب ٢٣، حدیث ٧١۔

(٣) تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ١١؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج١، ص ٨١؛ اصول کافی، ج١، ص ٤٤٧۔


عیسائیوں کے ذریعہ تاریخ میں تحریف

بعض عیسائی مورخین نے حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بحیرا کی ملاقات کے واقعہ میں تحریف کی ہے اور یہ دعویٰ کیا

ہے کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس ملاقات میں بحیرا راہب سے توریت او ر انجیل کی تعلیمات حاصل کیں۔(١)

ویلڈورانٹ نے نرم لہجے میں اس بے بنیاد دعوے کی طرف اشارہ کیا ہے:

... آپ کے چچا ابوطالب آپ کو ١٢ سال کی عمر میں اپنے ساتھ ایک قافلہ کے ہمراہ شام کے شہر بصریٰ تک لیکر گئے، یہ بعید نہیں ہے کہ اس سفر میں آپ دین یہود اور آئین عیسیٰ کی بعض تعلیمات سے آگاہ ہوئے ہوں۔(٢)

اس تہمت اور تحریف کا ہمیں اس طرح جواب دینا چاہئے:

١۔ مورخین کا اتفاق ہے کہ محمد امی تھے اور لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔

٢۔ مورخین نے لکھا ہے کہ اس وقت اپ کی عمر ١٢ سال سے زیادہ نہیں تھی۔

٣۔ بحیرا کے دیدار اور آپ کی بعثت کے درمیان کافی عرصے کا فاصلہ تھا۔

٤۔ بحیرا سے آپ کی ملاقات بہت مختصر ہوئی تھی اس دوران اس نے کچھ سوالات کئے اور آپ نے ان کے جوابات دیئے۔

اس بنا پر یہ کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ ایک بچہ جس نے مدرسے میں تعلیم حاصل نہ کی ہو وہ ایک مختصر ملاقات میں کیسے توریت و انجیل کی تعلیمات حاصل کرسکتا ہے کہ جسے چالیس سال کے بعد ایک

______________________

(١) گوستاولوبون، تمدن اسلام وعرب، ترجمہ: سید ہاشم حسینی، ص ١٠١؛ اجناس گلدزیھر، العقیدة و الشریعہ فی الاسلام، ترجمۂ عربی (قاہرہ: دار الکتب حدیثہ، ط٢)، ص ٢٥؛ محمد غزالی، محاکمۂ گلدزیھرصہیونیست، ترجمۂ صدر بلاغی (تہران: حسینیۂ ارشاد، ١٣٦٣)، ص ٤٧؛ کارل بروکلمان، تاریخ الشعوب الاسلامیہ،ترجمۂ عربی بہ قلم نبیہ امین فارس ( اور) منیر البعلبکی، (بیروت: دار العلم للملایین، ط١، ١٩٨٨ئ)، ص ٣٤؛ اسی طرح رجوع کریں: خیانت در گزارش تاریخ، ج١، ص ٢٢٥۔ ٢٢٠۔

(٢) تاریخ تمدن، عصر ایمان، (بخش اول) ، ترجمہ ابوطالب صارمی اور ان کے ساتھی (تہران: سازمان انتشارات وآموزش انقلاب اسلامی، ط ٢، ١٣٦٨)، ص ٢٠٧۔


کامل شریعت کی شکل میں لوگوں کے سامنے پیش کرے؟

٥۔ اگر حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے راہب سے کچھ سیکھا ہوتا تو بہانہ باز ضدی اور ہٹ دھرم قریش اس کو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف تبلیغ کرنے میں دستاویز قرار دیتے جبکہ تاریخ اسلام میں ہمیں اس طرح کی کوئی بات نظر نہیں آتی ہے اور نہ ہی قرآن مجید میں جہاں قریش کی تہمتوں کا جواب دیا گیا ہے وہاں پر اس موضوع کے بارے میں کوئی تذکرہ ہوا ہے۔

٦۔ اگر اس طرح کی کوئی بات صحیح تھی تو اسے قافلہ والوں نے کیوں نہیں نقل کیا؟

٧۔ اگر حقیقت میں اس طرح کا کوئی دعویٰ تھا تو شام کے مسیحیوں نے کیوں نہیں نقل کیا او ریہ دعویٰ کیوں نہ کیا کہ ہم محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے استاد تھے؟

٨۔ اور اگر یہ دعو یٰ صحیح مان لیا جائے تواس کا لازمہ یہ ہوگا کہ اسلام کی تعلیمات اورتوریت و انجیل کی تعلیمات میں یکسانیت ہواور نہ صرف یہ کہ ان کی تعلیمات میں یکسانیت نہیں پائی جاتی بلکہ قرآن کریم نے یہودیوں اور عیسائیوںکے بہت سارے عقائداور توریت و انجیل کی بہت ساری تعلیمات کو نقل کرکے انھیں باطل قرار دیا ہے۔(١)

ایک روز عمرو بن خطاب پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے، یہودیوں سے سنی ہوئی حدیثوں کو لکھنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: ''کیا تم یہود و نصاریٰ کے مانند اپنے دین کے بارے میں پریشان اور سرگرداں ہو؟ یہ نورانی اور پاک دین میں تمہارے لئے لیکر آیا ہوں اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو وہ صرف میری پیروی کرتے۔(٢)

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینے میں (جہاں بہت سے یہودی رہتے تھے) بہت سارے احکام اور پروگراموں

______________________

(١) سورۂ نسائ، آیت ٤٧،٥١، ١٧١؛ سورۂ مائدہ، آیت ٧٣۔٧٢؛ سورۂ توبہ، آیت ٣٠۔

(٢) شیخ عباس قمی، سفینة البحار، ج٢، ص ٧٢٧، لفظ ''ھوک''؛ مجد الدین ابن اثیر، النہایہ فی غریب الحدیث و الاثر، ج٥، ص ٢٨٢، وہی الفاظ تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ.


میں یہودیوںکی مخالفت کرتے تھے۔(١) یہاں تک کہ وہ (یہودی) کہنے لگے۔ یہ شخص ہمارے سارے پروگراموںکی مخالفت کرنا چاہتا ہے''۔(٢)

عیسائیوں کے درمیان جس شخص نے اس بات کو اسلام کے خلاف جھوٹ، افتراء پردازی او رزہر گھولنے کا بہانہ او ردستاویز قرار دیا وہ کونستان ویرژیل گیور گیو ہے جس نے اس بات کو اس قدر مسخ اور تحریف شدہ نقل کیاہے وہ نہ صرف یہ کہ کسی معیار سے تناسب نہیں رکھتا بلکہ خود عیسائیوں کے دعوے سے مناسبت نہیں رکھتا ہے، وہ کہتا ہے:

''ابن ہاشم ـ عرب کا راویـ لکھتا ہے: بحیرہ ؟ لوگوں کے تصور کے برخلاف عیسائی نہیں تھا بلکہ مانوی تھا اور ایک سن رسیدہ شخص کا پیرو تھا جس کا نام مانی تھا اور اس نے ساسانیوں کے دور حکومت میں پیغمبری کا دعوا کیا تھا اور ساسانیوں کے پہلے بادشاہ، بہرام اول نے اسے ٢٧٦ئ میں خوزستان میں گندی شاپور کے دروازہ کے سامنے سولی پر چڑھوا دیا تھا''۔

مانی جس نے پیغمبری کا دعوا کیا تھا اس کے پیرکاروں میں سے بحیرہ بھی تھا جو یہ عقیدہ رکھتا تھا کہ خدا ایک قوم سے مخصوص نہیں ہے بلکہ دنیا کی ساری قوموں سے تعلق رکھتا ہے۔ اور چونکہ دنیا کی ساری قومیں اس سے وابستہ ہیں لہٰذا خداوند جس قوم میں جب چاہتا ہے ایک پیغمبرمبعوث کردیتا ہے جواسی قوم کی زبان میں لوگوں سے باتیں کرے۔(٣)

______________________

(١) مرتضی العاملی، الصحیح من سیرة النبی الاعظم (قم: ١٤٠٣ھ.ق)،ص ١٠٦۔

(٢) حلبی، گزشتہ حوالہ،ج٢، ص٣٣٢۔

(٣) محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پیامبری کہ از نو باید شناخت، ترجمہ: ذبیح اللہ منصوری، ص ١٠٥، اس کتاب میں بے شمار غلطیاں اور تحریفات ہوئی ہیں جس نے کتاب کی علمی اہمیت کو کم کردیاہے۔ مترجم: کے طریقۂ کار کی بھی ایک الگ داستان ہے جو اہل فضل و شرف پر مخفی نہیں ہے ، رجوع کریں: مجلہ نشر دانش، سال ٨، نمبر٢، ص ٥٢، مقالہ پدیدہ ای بہ نام ذبیح اللہ منصوری، کریم امالی کے قلم سے۔


بظاہر اس کی ابن ہشام سے مراد عبد الملک بن ہشام (م٢١٣ھ.ق) معروف کتاب ''السیرة النبویہ'' کے مؤلف ہیں جوتاریخ اسلام کا ایک مہم ماخد ہے لیکن کلمہ مانوی کا ذکر نہ صرف سیرۂ ابن ہشام میں بلکہ کسی بھی قدیمی اسلامی کتاب میں نہیں ملتا ہے اس شخص کو تاریخ کی کتابوں میں مسیحی (اور بہت کم یہودی) کہا گیا ہے او رخود موضوع بحث سے بھی اس کے مسیحی ہونے کا پتہ چلتاہے۔ اب سوال یہ ہے کہ گیورگیو نے یہ باتیں کہاں سے نقل کی ہیں؟!

اس کے علاوہ دین مانی کا شام میں کوئی پیرو نہیں تھا اور جیسا کہ ہم نے (جزیرة العرب) میں ادیان و مذاہب کے تجزیہ کے باب میں یہ کہا ہے کہ دین مانی کا مرکز ایران تھا۔ لہٰذا ہمیں ایک محقق کے کہنے کی بنا پر، یہ سوچنے کا حق ہے کہ بحیرا کے مانوی ہونے کا دعوا صرف اس بنا پر تو نہیں ہے کہ خداوند عالم کی توحید اور اسلام کے عالمی دین ہونے کے مسئلہ میں مانی کی تقلید تو نہیں کی جارہی ہے؟

یہ وہ چیزیں ہیں جس کی مثال ہمیں گزشتہ صدیوں میں مسیحیوں سے بہت دیکھنے کو ملی ہیں او ران کے لئے یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ بلند ترین فکر کو وہ منسوخ ادیان کی طرف نسبت دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان ادیان کے ماننے والے زیادہ نہیں ہیں تاکہ ان کے لئے یہ چیز باعث افتخار بن سکے۔

صرف اسلام ایک ایسا دین ہے کہ، صلیبی جنگ کو سیکڑوں سال گزرنے کے باوجود، جس سے آج بھی عیسائی پریشان او رخوف زدہ ہیں۔ لہٰذا ان کی یہ کوشش رہی ہے کہ جھوٹ او رسچ ہر طریقے سے اس دین کی تعلیمات کی عظمت کو لوگوں کی نظروں میں کم کریں۔(١)

لیکن اس بات پر توجہ رہے کہ اگر بالفرض اس واقعہ کی ہم نفی بھی کریں تو عظمت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں کوئی کمی نہیں واقع ہوگی کیونکہ بعثت اور پیغمبر موعود کے ظہور کی پیشین گوئیاں صرف اس مسئلہ میں منحصر نہیں ہیں لیکن جیسا کہ متن میں کہا گیا ہے کہ چونکہ مستشرقین نے اس واقعہ کو جو متون اسلامی میں آیا ہے تاریخ اسلام کی تحریف کا دستاویز قرار دیا ہے۔ لہٰذا ہم نے بھی ان کی باتوں کو ذکر کرکے اس پر تنقید کی ۔

______________________

(١) محمد خاتم پیامبران، ج١، ص١٨٨؛ مقالہ سید جعفر شہیدی۔ بعض معاصر ایرانی محققین نے بحیرا کے ساتھ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ملاقات میں شک و تردید پیدا کی ہے اور اصل واقعہ کی صحت کے بارے میں بحث کی ہے جو تاریخی لحاظ سے قابل بحث و تحقیق ہے۔ رجوع کریں: نقد و بررسی منابع سیرۂ نبوی (مجموعۂ مقالات) پژوہشکدۂ حوزہ و دانشگاہ ١٣٧٨ ؛ رمضان محمدی، نقد و بررسی سفر پیامبر اکرم بہ شام ، ص ٣٣٠۔ ٣٢١۔.


تیسری فصل

حضرت محمد مصطفٰےصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جوانی

حلف الفضول١

''حلف الفضول'' قریش کے بہترین او راہم ترین عہد و پیمان میں سے ہے.(٢) جو قریش کے چند قبیلوں کے درمیان انجام پایا۔ یہ پیمان اس بنا پر انجام پایا کہ قبیلۂ بنی زبید کا ایک شخص مکہ آیا اور اس نے عاص بن وائل کا سامان ، جو کہ بنی سہم کے قبیلہ سے تھا، فروخت کردیا۔ عاص نے مال کو لیا لیکن

______________________

١جس واقعہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جوانی کے عالم میں اس میں شرکت کی ''جنگ فجار'' ہے اس واقعہ کو حلف الفضول سے پہلے جب آپ کی عمر ١٤ سے ٢٠ سال کی تھی، نقل کیا گیا ہے ۔ لیکن چونکہ اس جنگ کے سلسلہ میں آپ کی شرکت میں شک پایا جاتا ہے بلکہ ایسے شواہد ملتے ہیں جواس کی نفی کرتے ہیں لہٰذا ہم نے اس کو بیان نہیں کیاہے۔ (الصحیح من سیرة النبی الاعظم، ج١، ص ٩٧۔ ٩٥؛ درس ھایی تحلیلی از تاریخ اسلام، ج١، ص ٥٠٣۔ ٣٠٣

(٢)ابن سعد، طبقات الکبری (بیروت: دار صادر)، ج١، ص ١٢٨؛ محمد بن حبیب، المنمق فی اخبار قریش، تحقیق خورشید احمد فارق (بیروت: عالم الکتب،ط١، ١٤٠٥ھ.ق)، ص٥٢۔


اس کی قیمت نہیں دی زُبیدی نے بارہا اس سے مطالبہ کیا لیکن اس نے دینے سے انکار کردیا۔ جیسا کہ یہ چیز پہلے بیان کی جاچکی ہے کہ اس وقت جزیرة العرب میں قبیلہ جاتی نظام پایا جاتا تھا۔ او رہر قبیلہ اپنے افراد کے منافع کی حمایت کرتا تھا۔ اگر کسی پردیسی پر ظلم ہوتا تھا تو اس کا کوئی ناصر و مددگار اورانصاف کرنے والا نہیں ہوتا تھا۔ جب سرداران قریش، کعبہ کے پاس اکٹھا ہوئے تو زبیدی مجبور ہوکر ''ابوقبیس'' پہاڑی کے اوپر گیا اور رنج و مصیبت میں ڈوبے ہوئے اشعار پڑھ کر ان سے انصاف کی فریاد کی۔(١)

انصاف کی مانگ سن کر زبیر بن عبد المطلب کی سرکردگی اور پیش قدمی میں، بنی ہاشم، بنی عبد المطلب، بنی زہرہ، بنی تمیم، اور بنی حارث (جو کہ قریش کے نامور قبیلہ سے تھا) عبداللہ بن جدعان تیمی کے گھر میں جمع ہوئے اور عہد و پیمان کیا کہ ہر مظلوم اور ستم دیدہ کی فریاد پر حق وانصاف دلانے کے لئے ایک ہو جائیں اورشہر مکہ میں کسی پر ظلم نہ ہونے دیں، چاہے وہ ان لوگوں سے وابستہ ہو یا کوئی پردیسی ہو، چاہے وہ فقیر اور معمولی انسان ہو یا ثروتمند اور باعزت۔ اس کے بعد عاص کے پاس جاکر زبیدی کا حق لے کر اسے دیدیا۔(٢) حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عمر اس وقت ٢٠ سال تھی جب آپ اس عہد کے ممبران میں سے تھے۔(٣)

______________________

(١) یا آل فهر {یاللرجال خ ل} لمظلوم بضاعته

ببطن مکة نائی الأهل و النفر

و محرم اشعث {شعث خ ل} لم یقض عمرته

یا آل فهر و بین الحجر

والحجر هل مخفر من بنی سهم بخفرته

ام ذاهب فی ضلالح مال معتمر

ان الحرام لمن تمت حرامته

و لا حرام لثوب الفاجر الغدر

(٢) محمد بن حبیب، گزشتہ حوالہ، ص ٥٣۔ ٥٢؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ١٢٨؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص١٣؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج١، ص١٤٢؛ بلاذری، انساب الاشراف، تحقیق: الشیخ محمد باقرالمحمودی (بیروت: مؤسسة الاعلمی للمطبوعات، ط١، ١٣٩٤ھ.ق)، ج٢، ص١٢۔

(٣) محمد بن سعد، گزشتہ حوالہ، حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سن اس وقت اس سے بھی زیادہ نقل ہوا ہے؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ١٣، المنمق، ص ٥٣؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، (قاہرہ: دار احیاء الکتب العربیہ، ١٩٦٢م)، ج١٥، ص ٢٢٥


اس عہد و پیمان میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شر کت میں ایک بہادرانہ قدم اور اس جاہل سماج میں ایک طرح سے ''حقوق بشر'' کی حمایت تھی۔ اور اس لحاظ سے یہ اقدام بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ آپ کے ہم سن و سال جوان، مکہ میں عیش و عشرت اور خوشگزرانی میں سرگرم تھے۔ اور انسانی اقدار جیسے مظلوم کی حمایت، سماج کی تطہیر او رعدالت کا نفاذ ان کے لئے معنی و مفہوم نہیں رکھتا تھا۔ اور آپ قریش کے بزرگوں کے بغل میں کھڑے ہوکر اس طرح کے عہد و پیمان میں شرکت فرماتے تھے۔ اور بعثت کے بعد اپنی اس شرکت کو نیک او راچھا کہتے تھے اور فرماتے تھے۔

''میں نے عبد اللہ بن جدعان کے گھر میں ایک پیمان میں شرکت کی کہ اگر اس کے بدلے مجھے سرخ بالوں کا اونٹ دیدیا جاتا توپھر بھی میں اتنا خوش نہ ہوتا۔ اور اگر دور اسلام میں بھی ہمیں اس طرح کے عہد و پیمان کی دعوت دیں تو ہم ا سکو قبول کریں گے''۔(١)

یہ عہد اس لحاظ سے موجود عہدوں میں سب سے اہم او ربرتر تھا اور اسے ''حلف الفضول'' کہا گیاہے۔(٢) یہ عہد ہمیشہ مظلوموں اور بے پناہوں کی پناہ گاہ تھا او ربعد میں بھی کئی مرتبہ مظلوموں اور پردیسیوں کواس پیمان کی مدد سے مکہ کے بدمعاشوں اور سرغنہ لوگوںکے چنگل سے رہائی ملی۔(٣) ٭

______________________

(١) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ١٤٢؛ یعقوبی، گزشتہ حوالہ، ص١٣؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ص١٦؛ محمد بن حبیب، گزشتہ حوالہ، ص١٨٨۔

(٢) محمد ابن حبیب، گزشتہ حوالہ، ص ٥٥۔ ٥٤۔

(٣) گزشتہ حوالہ، بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٣

٭عصر اسلام میں اس عہد و پیمان کی یاد بھی باقی ہے جیسا کہ امام حسین نے ولید بن عتبہ بن ابی سفیان سے جو معاویہ کا بھتیجا او رمدینہ کا حاکم تھا ایک زمین کے سلسلہ میں اختلاف کی صورت میں اسے دھمکی دی کہ اگر طاقت کا استعمال کیا تو تلوار لیکرمسجد پیغمبر میں (قریش) کو ایسے عہد و پیمان کی دعوت دوں گا۔ یہ بات سن کر قریش کی کچھ شخصیتوں نے آپ سے نصرت کا وعدہ کیا جب ولید کو اس کی اطلاع ملی تو وہ اپنے ارادہ سے پیچھے ہٹ گیا!(ابن ہشام ، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٤٢؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٤؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢١٥؛ ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١٥، ص ٢٢٦؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ (بیروت: دار صادر)، ج٢، ص ٤٢۔


شام کی طرف دوسرا سفر

جناب خدیجہ (دختر خویلد) ایک تجارت پیشہ، شریف اور ثروتمند خاتون تھیں۔ تجارت کے لئے لوگوں کو ملازمت پر رکھتی تھیں اور انھیں اپنا مال دے کر تجارت کے لئے بھیجتی تھیں اور انھیں ان کی مزدوری دیتی تھیں۔(١)

جب حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ٢٥ سال کے ہوئے(٢) تو جنا ب ابوطالب نے آپ سے کہا: میں تہی دست ہوگیا ہوں او رمشکلات و دشواریوں میں گرفتار ہوں اس وقت قریش کا ایک قافلہ تجارت کے لئے شام جارہا ہے۔ کاش تم بھی خدیجہ کے پاس جاتے او ران سے تجارت کا کام لیتے،وہ لوگوں کو تجارت کے لئے بھیجتی ہیں ۔

دوسری طرف سے جناب خدیجہ جو حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پسندیدہ اخلاق، صداقت و راست گوئی اور امانتداری سے آگاہ ہوگئی تھیں آپ کے پاس پیغام بھیجا کہ اگر ہمارے تجارت کے کام کو قبول کریں تو دوسروں سے زیادہ انھیں اجرت دوں گی۔ اور اپنے غلام میسرہ کو بھی ان کا ہاتھ بٹانے کے لئے بھیجوں گی۔

حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کی اس پیشکش کو قبول کرلیا۔(٣) او رمیسرہ کے ہمراہ قریش کے کاروان

______________________

(١) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٩٩؛ ابن اسحاق، السیر و المغازی، تحقیق: سہیل زکار (بیروت: دار افکر، ط١، ١٣٩٨ھ.ق)، ص٨١؛ سبط ابنالجوزی، تذکرة الخواص ،ص ٣٠١، میں کہتا ہے کہ ''جناب خدیجہ نے ان کو ٹھیکہ پر کام دیا تھا'' اورابن اثیر اسدالغابہ میں ، ج١، ص١٦ ۔ پر لکھتا ہے: '' ان کو مزدوری یا ٹھیکہ پر کام دیا تھا''۔

(٢) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٢٩۔

(٣) ایسے ثبوت ملتے ہیں کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا کام مضاربہ کی شکل میں تھا آپ مزدوری پر کام نہیں کرتے تھے (الصحیح من سیرة النبی الاعظم، ج١، ص ١١٢)


کے ساتھ شام کے لئے روانہ ہوگئے(١) اس سفر میں انھیں گزشتہ سے زیادہ فائدہ ملا۔(٢)

میسرہ نے اس سفر میں حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعہ ایسی کرامتیں دیکھیں کہ وہ حیرت و استعجاب میں پڑ گیا۔ اس سفر میں ''نسطور راہب'' نے آپ کے آئندہ رسالت کی بشارت دی۔ اسی طرح میسرہ نے دیکھاکہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایک شخص کا ، تجارت کے معالمہ میں اختلاف ہوگیاہے وہ شخص کہتا تھا کہ لات و عزیٰ کی قسم کھاؤ تاکہ میں تمہاری بات کو قبول کروں۔

آپ نے جواب دیا: میں نے ابھی تک کبھی لات و عزیٰ کی قسم نہیں کھائی ہے۔(٣)

میسرہ نے سفر سے پلٹتے وقت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی کرامتوں اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا۔جناب خدیجہ سے آکر بتایا۔(٤)

______________________

(١) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ١٩٩؛ ابن اسحاق، گزشتہ حوالہ، ص ٨١

(٢) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ١٣٠

(٣) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ١٣٠۔

(٤) ابن اسحاق، گزشتہ حوالہ، ص٨٢؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ١٣١؛ ابناثیر، الکامل، فی التاریخ الکامل فی التاریخ ( بیروت: دار صادر)، ج٢، ص٣٩؛ طبری، تاریخ الامم والملوک (بیروت: دارالقاموس الحدیث)، ج٢، ص ١٩٦؛ بہقی، دلائل النبوة، ترجمۂ محمود مہدوی دامغانی (تہران: مرکز انتشارات علمی و فرہنگی، ١٣٦١)، ج١، ص٢١٥؛ ابن اثیر، اسد الغابہ (تہران: المکتبة الاسلامیہ)، ج٥، ص ٤٣٥؛ ابی بشر، محمد بن احمد الرازی الدولابی، الذریة الطاھرة، تحقیق:السید محمد جواد الحسینی الجلالی (بیروت: مؤسسة الاعلمی للمطبوعات، ط٢، ١٤٠٨ھ.ق)، ص ٤٦۔ ٤٥۔


جناب خدیجہ کے ساتھ شادی

جناب خدیجہ ایک باشعور ،دور اندیش او رشریف خاتون تھیں اور نسب کے لحاظ سے قریش کی عورتوں سے افضل و برتر تھیں۔(١) وہ متعدد اخلاقی اور اجتماعی خوبیوں کی بنا پر زمانۂ جاہلیت میں ''طاہرہ''(٢) اور ''سیدۂ قریش''(٣) کے نام سے پکاری جاتی تھیں۔ مشہور یہ ہے کہ اس سے قبل آپ نے دوبار شادی کی تھی اورآپ کے دونوں شوہروں کا انتقال ہوگیا تھا۔(٤)

تمام بزرگان قریش آپ سے شادی کرنا چاہتے تھے(٥) قریش کی معروف ہستیاں، جیسے عقبہ بن ابی معیط، ابوجہل اورابوسفیان نے آپ کے ساتھ شادی کا پیغام بھیجا لیکن آپ، کسی سے

______________________

(١) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٠١۔ ٢٠٠؛ ابن سعد ، گزشتہ حوالہ، ج١، ص١٣١؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٢١٥؛ رازی دولابی، گزشتہ حوالہ، ص٤٦؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج٢، ص ٣٩۔

(٢) ابن اثیر، اسد الغابہ، ج٥، ص٤٣٤؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٢٤؛ عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ (بیروت: دار احیاء التراث العربی)، ج٤، ص٢٨١؛ ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفة الاصحاب (الاصابہ کے حاشیہ پر) ج٤، ص ٢٧٩۔

(٣) حلبی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٢٤۔

(٤) ان کے گزشتہ شوہر عتیق بن عائد (عابد نسخہ بدل) اور ابوھالہ ہند بن نباش تھے۔ (ابن کثیر، اسد الغابہ، ج٥، ص ٤٣٤؛ ابن حجر، گزشتہ حوالہ، ص ٢٨١؛ ابن عبد البر، گزشتہ حوالہ، ص ٢٨٠؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٢٩؛ ابو سعید خرگوشی، شرف النبی، ترجمہ: نجم الدین محمود راوندی (تہران: انشارات بابک، ١٣٦١)، ص ٢٠١؛ شیخ عبد القادر بدران، تہذیب دمشق (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ط ٣، ١٤٠٧ھ۔ق)، ج١، ص ٣٠٢)، لیکن کچھ اسناد و شواہد اس بات کی حکایت کرتے ہیں کہ جناب خدیجہ نے اس سے قبل شادی نہیں کی تھی او رحضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ کے پہلے شوہر تھے۔ بعض معاصر محققین بھی اس بات کی تاکید کرتے ہیں (مرتضیٰ العاملی، جعفر، الصحیح من سیرة النبی الاعظم، ج١، ص ١٢١)۔

(٥) ابن سعد، گزشتہ حوالہ؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ص ٢١٥؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٩٧؛ حلبی، گزشتہ حوالہ؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج٢، ص ٤٠.


شادی کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئیں۔(١)

دوسری طرف خدیجہ، حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رشتہ دار تھیں اور دونوں کا نسب قصی سے ملتا تھا آپ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے روشن مستقبل سے بھی باخبر تھیں(٢) اور ان سے شادی کی خواہش مند تھیں۔(٣)

جناب خدیجہ نے حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس شادی کا پیغام بھیجوایا اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے چچا کی مرضی سے اس پیغام کو قبول کرلیااور یہ شادی انجام پائی۔(٤) مشہور قول کے مطابق خدیجہ اس وقت ٤٠ برس کی تھیں اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ٢٥ سال کے تھے۔(٥) جناب خدیجہ پہلی خاتون تھیں جنھوں نے حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ شادی کی۔(٦)

______________________

(١) مجلسی، بحار الانوار (تہران: دار الکتب الاسلامیہ)، ج١٦، ص ٢٢۔

(٢) مجلسی، گزشتہ حوالہ ، ص ٢١۔ ٢٠؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٠٣؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب (قم: المطبعة العلمیہ)، ج١، ص ٤١۔

(٣) مجلسی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٣۔ ٢١۔

(٤) ابن اسحاق،گزشتہ حوالہ، ص ٨٢؛ بلاذری، انساب الاشراف، محمد حمید اللہ (قاہرہ: دار المعارف)، ج١، ص٩٨؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص١٦؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج٢، ص٤٠؛ رازی دولابی، گزشتہ حوالہ، ص ٤٦؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٢٧؛ ابن شہر آشوب، ج١، ص ٤٢؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج١٦، ص ١٩۔

(٥) بلاذری، گزشتہ حوالہ، ص٩٨؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٣٢؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ١٩٦؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٢٨؛ ابن عبد البر، الاستیعاب، ج٤، ص ٢٨٠؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج٥، ص ٤٣٥؛ الکامل فی التاریخ، ج٢، ص ٣٩۔ جناب خدیجہ کی شادی کے وقت ان کی عمر کے بارے میں دوسرے اقوال بھی موجود ہیں۔ رجوع کریں: امیر مھیا الخیامی، زوجات النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم واولادہ (بیروت: مؤسسة عز الدین، ط١، ١٤١١ھ.ق)، ص ٥٤۔ ٥٣۔

(٦) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٠١؛ رازی دولابی، گزشتہ حوالہ، ص ٤٩؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢١٦؛ ابو سعید خرگوشی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٠١؛ شیخ عبد القادر بدران، تہذیب تاریخ دمشق، ج١، ص ٣٠٢؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج٥، ص٤٣٤۔


حجر اسود کا نصب کرنا

حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نیک اخلاق و کردار، امانت و صداقت اور اچھے اعمال نے اہل مکہ کو ان کا گرویدہ بنادیاتھا۔ سب آپ کو ''امین'' کہتے تھے(١) آپ لوگوںکے دلوں میں اس طرح سے بس گئے تھے۔ کہ حجر اسود(٢) کے نصب کے سلسلہ میں لوگوں نے آپ کے فیصلہ کا استقبال کیا اور آپ نے اپنی خاص تدبیر او رحکمت عملی کے ذریعہ ان کے درمیان موجوداختلاف کو حل کردیا۔ جس کی توضیح یہ ہے۔

جس وقت حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ٣٥ برس کے ہوئے تو مکہ کے پہاڑوں سے چشمہ کے جاری ہونے کی وجہ سے خانہ کعبہ کی دیواریں کئی جگہ سے منہدم ہوگئیں کعبہ میں اس وقت تک چھت نہیں تھی اور اس کی دیواریں چھوٹی تھیں اس اعتبار سے اس کے اندر موجود چیزیں محفوظ نہیں تھیں۔ قریش نے چاہا کہ کعبہ کی چھت کو بنائیں لیکن وہ یہ کام نہیں انجام دے سکے۔ اس کے بعد مکہ کے بزرگوں نے چاہا کہ کعبہ کی دیوار کو توڑ کر پھر سے از نو تعمیر کریں او راس پر چھت بھی ڈالیں۔

لہٰذا کعبہ کی تعمیر نو کے بعد، قریش کے قبیلوں کے درمیان حجر اسود کے نصب کرنے کے سلسلہ میں اختلاف پیدا ہوگیااور قبیلہ جاتی رسّہ کشی اور فخر و مباہات دوبارہ زندہ ہوگئیں، ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ اس پتھر کے نصب کرنے کا شرف اس کو حاصل ہو بعض قبیلوں نے تواپنے دونوں ہاتھوں کو خون سے لبریز طشت میں ڈال کر یہ عہد کیا کہ یہ افتخار دوسرے قبیلہ کے پاس نہیں جانے دیں گے۔

______________________

(١) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٢١؛ ابن ہشام، ج١، ص ٢١٠؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢١١؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج١٥، ص ٣٦٩۔

(٢) یہ پتھر کعبہ کے مقدس ترین اجزاء میں سے ہے۔ روایات میں نقل ہوا ہے کہ یہ بہشتی اور آسمانی پتھر ہے جس کو جنا ب ابراہیم نے حکم خدا سے کعبہ کا جزء قرار دیا ہے (مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٩٩۔ ٨٤)، ازرقی، تاریخ مکہ، تحقیق: رشدی الصالح ملحس، (بیروت: دارالاندلس، ط٣، ١٤٠٣ھ.ق)، ج١، ص ٦٣۔ ٦٢؛ حجر اسود ابھی تک باقی ہے جو انڈہ کے شکل ، سیاہ رنگ، مائل بہ سرخی ہے او رکعبہ کے رکن شرقی میں زمین سے ڈیڑھ میٹر کی بلندی پر نصب ہے او رطواف کا آغاز وہیں سے ہوتاہے۔


آخرکار قریش کے ایک بزرگ اور سن رسیدہ شخص کے مشورہ پر یہ طے پایا کہ کل جو شخص سب سے پہلے باب بنی شیبہ (یا باب صفا) سے مسجد الحرام میں داخل ہوگا ۔ وہی قبائل کے درمیان حجر اسود کے نصب کرنے کا فیصلہ کرے گا۔

اچانک حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس دروازہ سے داخل ہوئے سب نے ملکر کہا: یہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، امین ہیں ہم سب ان کے فیصلہ پر راضی ہیں لہٰذا آنحضرت کے حکم سے ایک چادر منگائی گئی اور چادر کو پھیلا کر اس میں حجر اسود کو رکھا گیا اور قبائل کے سرداروں سے کہا گیا کہ ہر ایک اس کا ایک گوشہ پکڑ لے اور سب ملکر پتھر کو دیوار تک لائیں جب پتھر دیوار کے پاس آگیاتو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کواپنے دست مبارک سے اٹھاکر اپنی قدیمی جگہ پر رکھ دیا۔(١) اور اس طرح آپ نے اپنے حکیمانہ او رمدبرانہ عمل کے ذریعہ قبائل کے درمیان موجود اختلاف کو حل فرمایا اور انھیں ایک خون ریز جنگ سے بچالیا۔

علی مکتب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں

کعبہ کی تعمیر نو کے چند سال بعد او ربعثت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے چند سال قبل مکہ میں ایک مرتبہ سخت قحط پڑا۔ اس وقت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا جناب ابوطالب تہی دست اور کثیر العیال تھے۔ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے دوسرے چچا عباس کو (جو کہ بنی ہاشم کے ثروتمند ترین افراد میں سے تھے) مشورہ دیاکہ ہم میں سے ہر ایک ابوطالب کے ایک فرزند کو اپنے گھر لے جائے تاکہ ان کا مالی بوجھ کم ہوجائے۔

______________________

(١) ابن سعد، گزشتہ ، ج١، ص ١٤٦۔ ١٤٥؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ١٥۔ ١٤؛ مجلسی، گزشتہ، ج١٥، ص ٣٣٨۔ ٣٣٧؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٠٠۔ ٩٩؛ مسعودی، مروج الذہب، (بیروت: دار الاندلس، ط١، ١٩٦٥.)، ج٢، ص ٢٧٢۔ ٢٧١؛ بعض مورخین نے کعبے کی خرابی اوراس کی تعمیر نو کاسبب ایک دوسرا واقعہ نقل کیا ہے لیکن سب نے حجر اسود کے نصب کے سلسلے میں آپ کے فیصلہ کونقل کیاہے۔ رجوع کریں: ابن اسحاق، السیر و المغازی، ص ١٠٣؛ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٠٥؛ بیہقی، دلائل النبوة، ترجمہ: محمود مہدوی دامغانی، ج١، ص٢١٠۔


عباس اس بات پر راضی ہوگئے او ردونوں ابوطالب کے پاس گئے اور اپنی بات ان سے کہی تو وہ بھی راضی ہوگئے او رپھر جعفر کو عباس نے او رحضرت علی کو حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی تربیت اور کفالت میں لے لیا اور حضرت علی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر میں رہنے لگے۔ یہاں تک کہ خداوند عالم نے ان کو مبعوث بہ رسالت کیا اور علی نے آپ کی تصدیق اور پیروی کی۔(١)

حضرت علی اس وقت چھ سال کے تھے.(٢) یہ ان کی شخصیت سازی او رتربیت پذیری کا حساس دور تھا گویا حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم چاہتے تھے کہ ابوطالب کے کسی ایک لڑکے کی تربیت کر کے ان کی اور ان کے شریک حیات کی زحمتوں کا بدلا چکا دیں۔ لہٰذا ابوطالب کی اولاد میں سے علی کو اس معاملہ میں مستعدتر پایا۔ جیسا کہ آپ نے علی کی کفالت قبول کرنے کے بعد فرمایا ہے: میں نے اس کو منتخب کیا جس کو خدا نے منتخب کیا ہے۔(٣)

حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم علی سے بہت محبت کرتے تھے اور ان کی تربیت میں کسی قسم کی کوشش سے پیچھے نہیں ہٹے۔ فضل بن عباس (علی کا چچا زادبھائی)کہتا ہے کہ: میں نے اپنے والد محترم (عباس بن عبد المطلب) سے پوچھا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے فرزند وں میں سے کس کو سب سے زیادہ چاہتے ہیں؟کہا: علی ابن ابی طالب کو۔

______________________

(١) ابن ہشام، السیرة النبویہ،(قاہرہ: مکتبہ مصطفی البابی الحلبی)، ١٣٥١ ھ.ق)، ج١، ص ٢٦٢؛ طبری، تاریخ الامم والملوک (بیروت: دار القاموس الحدیث)، ج٢، ص ٢١٣؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ (بیروت: دار صادر)، ١٣٩٩ھ.ق)، ج٢، ص٥٨؛ بلاذری، انساب الاشراف، تحقیق: الشیخ محمد باقر المحمودی (بیروت: مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات، ط١)، ١٣٩٤ھ.ق، ج٢، ص ٩٠؛ ابن ابی الحدید ، شرح نہج البلاغہ (قاہرہ: دار احیاء الکتب العربیہ، ١٩٦٢ئ)، ج١٣، ص ١٩ اور ج ١، ص ١٥۔

(٢) ابن ابی الحدید،گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٥؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب (قم: المطبعة العلمیہ)، ج٢، ص١٨٠۔

(٣)ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین (نجف اشرف: منشورات المکتبة الحیدریہ)، ص ١٥۔


میں نے کہا: میں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لڑکوں کے بارے میں پوچھا ہے ۔ کہا:رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے تمام لڑکوں میں علی کو زیادہ چاہتے ہیں اور سب سے زیادہ ان پر مہربان ہیں میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ انھوں نے علی کو زمانۂ کمسنی سے اپنے سے الگ کیاہو؟ مگر ایک سفر میں جو آپ نے جناب خدیجہ کے لئے کیا تھا۔ ہم نے کسی پدر کو اپنی اولاد کے بارے میں رسول خدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ا سے زیادہ مہربان نہیں دیکھاہے اور نہ ہی علی سے زیادہ فرمانبردار کوئی لڑکا دیکھا ہے جواپنے باپ کی فرمانبرداری کرے۔(١)

بعثت کے بعد حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی کواس طرح سے تعلیمات اسلام سے آگاہ کیا کہ اگر رات میں وحی نازل ہوتی تھی تو صبح ہونے سے قبل علی کو بتادیتے تھے او راگر دن میں وحی نازل ہوتی تھی تو رات ہونے سے قبل علی کو اس سے آگاہ کردیتے تھے۔(٢)

علی سے پوچھا گیا: کس طرح آپ نے دوسرے اصحاب سے پہلے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے حدیث سیکھی؟ تو آپ نے جواب دیا: جب میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پوچھتا تھا تو وہ جواب دیتے تھے او رجب میں خاموش رہتاتھا تو وہ خود مجھے حدیث بتاتے تھے۔(٣)

حضرت علی نے اپنے دورخلافت میں اپنی تربیت کے زمانہ کو یاد کر کے اس طرح سے فرمایا ہے:

''او رتم رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قریبی قرابت کے حوالے سے میرا مقام اور بالخصوص قدر و منزلت جانتے ہی ہو میں بچہ تھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھے گود میں لے لیا تھا مجھے اپنے سینہ سے چمٹائے رکھتے تھے اور بستر میں اپنے پہلو میں جگہ دیتے او رجسم مبارک کو مجھ سے مس کرتے تھے اور اپنی خوشبو مجھے سنگھاتے تھے ۔ وہ کوئی چیز خود چباتے پھر اس کے لقمے میرے منھ میں دیتے تھے اور میں ان کے پیچھے پیچھے اس طرح لگا رہتا تھا جیسے اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے پیچھے رہتا ہے وہ ہر روز مجھے اخلاق حسنہ کی تعلیم دیتے تھے

______________________

(١) ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١٣، ص ٢٠٠۔

(٢) شیخ طوسی، الامالی (قم: دار الثقافہ للطباعة والنشر و التوزیع، ط١، ١٤١٤ھ.ق)، ص ٦٢٤۔

(٣) سیوطی، تاریخ الخلفاء (قاہرہ: ط٣، ١٣٨٣ھ.ق)، ص ١٧٠۔


اور مجھے اس کی پیروی کا حکم دیتے تھے۔ وہ ہمیشہ (کوہ) حرا میں مجھے ساتھ رکھتے تھے اور وہاں انھیں میرے سوا کوئی نہیں دیکھتا تھا... اور جب حضور پر پہلے پہل وحی نازل ہوئی تو میں نے شیطان کی چیخ سنی جس پر میں نے پوچھا یا رسول اللہ! یہ آواز کیسی ہے؟

فرمایا: یہ شیطان ہے جواپنی عبادت سے محروم ہوگیا ہے جو کچھ میں سنتا ہوں تم بھی سنتے ہو اور جو کچھ میں دیکھتا ہوں تم بھی دیکھتے ہوفرق صرف یہ ہے کہ تم نبی نہیں ہو بلکہ تم میرے وزیر ہو اور یقینا خیر پر ہو۔(١)

اگرچہ یہ بات بعثت کے بعد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عبادت سے مربوط ہوسکتی ہے جو آپ نے غار حرا میں انجام دی ہے لیکن یہ بات پیش نظر رہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عبادت غار حرا میں غالباً رسالت سے قبل رہی ہے ۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ موضوع، حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت سے قبل کا تھا اور شیطان کے نالہ و فریاد کا سننا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بعثت کے وقت، جب قرآن کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تھیں۔ اس وقت سے مربوط ہے۔ بہرحال علی کی پاکیزہ نفسی اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مسلسل تربیت کی وجہ سے وہ بچپنے ہی سے اپنی چشم بصیرت و بصارت اور گوش سماعت اور قلبی ادراک کے ذریعہ ایسی چیز وںکو دیکھتے اور سنتے تھے جو عام انسانوں کے لئے ممکن نہیں تھا۔

______________________

(١) نہج البلاغہ، صبحی صالح، خطبہ ١٩٢


تیسرا حصہ

بعثت سے ہجرت تک

پہلی فصل: بعثت اور تبلیغ

دوسری فصل: علی الاعلان تبلیغ اور مخالفتوں کا آغاز

تیسری فصل: قریش کی مخالفتوں کے نتائج اور ان کے اقدامات


پہلی فصل

بعثت اور تبلیغ

رسالت کے استقبال میں

جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آباء و اجداد موحد تھے اور ان کا خاندان طیب و طاہر تھا اور خدا نے انھیں حسب و نسب کی طہارت کے علاوہ بہترین تربیت سے نوازا تھا وہ بچپنے سے ہی اہل مکہ کے برے اخلاق اور بت پرستی میں ملوث نہیں تھے۔(١) وہ بچپنے سے ہی خداوند عالم کی عنایت اور اس کی خاص تربیت کے زیر نظر تھے اور آپ کے زمانۂ تربیت کو حضرت علی نے اس طرح سے بیان فرمایا ہے:

''اور خدا نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دودھ بڑھائی کے وقت ہی سے اپنے فرشتوں میں سے ایک عظیم المرتبت ملک کو آپ کے ساتھ کردیا تھا جو شب و روز بزرگوں کی راہ اور حسن اخلاق کی طرف لے چلتا تھا۔(٢)

______________________

(١)علی بن برہان الدین الحلبی، السیرة الحلبیہ (انسان العیون) ، (بیروت: دار المعرفہ)، ج١، ص ٢٠٤۔ ١٩٩؛ ابی الفداء اسماعیل بن کثیر، السیرة النبویہ، تحقیق: مصطفی عبد الواحد (قاہرہ: مطبعہ عیسی البابی الحلبی)، ج١، ص ٢٥

(٢)و لقد قرن اللّٰه به من لدن ان کان فطیماً اعظم ملک من ملائکته، یسلک به طریق المکارم و محاسن اخلاق العالم لیله و نهاره... ، نہج البلاغہ، حطبہ ١٩٢.


حضرت امام محمد باقر ـ نے فرمایا ہے: جس وقت سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دودھ چھوڑایاگیا خداوند عالم نے آپ کے ساتھ ایک بڑے فرشتہ کو کردیا تاکہ وہ آپ کو نیکیوں اور اچھے اخلاق کی تعلیم دے اور برائیوں اور برے اخلاق سے روکے یہ وہی فرشتہ تھا جس نے جوانی میں آپ کو مبعوث بہ رسالت ہونے سے قبل آواز دی تھی اور کہا تھا: ''السلام علیک یا محمد رسول اللّٰہ'' لیکن آپ نے سوچا کیا کہ یہ آواز پتھر اور زمین سے آرہی ہے کافی غور کیا لیکن کچھ نظر نہ آیا۔(١)

بعثت سے قبل حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عقل و فکر کامل ہوچکی تھی اور آپ کو اپنے یہاں کے آلودہ ماحول سے تکلیف اور کوفت ہوتی تھی لہٰذا آپ لوگوں سے بچتے تھے۔(٢) اور ٣٧ سال کی عمر میں آپ کے اندر معنویت پیدا ہوگئی تھی اور آپ محسوس کرتے تھے کہ غیب کے دریچے آپ کے لئے کھلے ہوئے ہیں آپ کے بارے میں جو باتیں اکثر آپ کے رشتہ داروں اور اہل کتاب کے دانشوروں جیسے بحیرا، نسطور وغیرہ کے ذریعہ سنی گئی تھیں، وہ عنقریب رونما ہونے والی تھیں کیونکہ آپ ایک خاص نور دیکھنے لگے تھے اور آپ کے اوپر اسرار فاش ہونے لگے تھے اور اکثر آپ کے کانوں سے غیب کی صدا ٹکراتی تھی لیکن کسی کو آپ دیکھتے نہیں تھے۔(٣) کچھ دنوں تک خواب کی حالت میں آواز سنائی پڑتی تھی کہ کوئی انھیں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کہہ رہا ہے ایک دن مکہ کے اطراف کے بیابانوں میں ایک شخص نے آپ کو رسول اللہ کہہ کر پکارا آپ نے پوچھا تو کون ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ''میں جبرئیل ہوں۔

______________________

(١) ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق: محمد ابو الفضل ابراہیم (قاہرہ: دار احیاء الکتب العربیہ، ١٩٦١ئ)، ج١، ص ٢٠٧

(٢) ابن کثیر ، سابق ، ج ١، ص ٣٨٩.

(٣) حلبی، سابق، ج١، ص ٣٨١۔ ٣٨٠؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، تحقیق : مصطفی السقاء او ردوسرے افراد(قاہرہ: مطبعہ مصطفی البابی الحبی، ١٣٥٥ھ) ، ج١، ص ١٥٠؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک (بیروت: دار القاموس الحدیث)، ج٢، ص ٢٠٤۔ ٢٠٣؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب (قم: المطبعہ العلمیہ)، ج١، ص ٤٣؛ مجلسی، بحار الانوار، (تہران: دار الکتب الاسلامیہ، ج١٨، ص ١٨٤ اور ١٩٣؛ مراجعہ: تاریخ یعقوبی (نجف: المکتبہ الحیدریہ، ١٣٨٤ھ)، ج٢، ص ١٧.


خداوند عالم نے مجھے بھیجا ہے تاکہ تمہیں پیغمبری کے منصب پر مبعوث کروں حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جس وقت یہ خبر اپنی زوجہ کو سنائی تو وہ خوش ہوکر بولیں ''امید کرتی ہوں کہ ایسا ہی ہو''۔(١)

اس وقت حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سال میں کچھ دن ''غار حرا''(٢) میں رہا کرتے تھے اور دعا و عبادت کیا کرتے تھے(٣) اور اس طرح کی گوشہ نشینی اور غار حرا میں عبادت، قریش کے خدا پرستوں میں سابقہ نہیں رکھتی تھی۔(٤) پہلا شخص جس نے اس سنت کو قائم کیا حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جد حضرت عبد المطلب تھے کہ جب ماہ رمضان آتا تھا تو غار حرا میں چلے جاتے تھے اور فقیروں کو کھانا کھلایا کرتے تھے۔(٥)

______________________

(١) ابن شہر آشوب، سابق ، ج١، ص ٤٤؛ مجلسی ، سابق، ج١٨، ص ١٩٤؛ طبرسی، اعلام الوریٰ باعلام الہدی (تہران: دار الکتب السامیہ،ط٣)، ص ٣٦؛ ان دلائل و شواہد کو دیکھتے ہوئے جیسا کہ مرحوم کلینی نے روایت کی ہے حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس وقت ''نبی'' تھے لیکن ابھی مرتبۂ رسالت پر نہیں پہنچے تھے (الاصول من الکافی، تہران: مکتبہ الصدوق، ١٣٨١ھ)، ج١، ص ١٧٦۔

(٢) غار حرا مکہ کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے اور اس لحاظ کہ خورشید وحی کے طلوع کی جگہ قرار پائی ''جبل النور'' (کوہ نور) کہا جاتا ہے کچھ سال پہلے شہر مکہ سے اس پہاڑ تک تھوڑا فاصلہ پایا جاتا تھالیکن اب، شہر مکہ کی توسیع کی بنا پر پہاڑ کے کنارے تک گھر بن گئے ہیں، حرا پہاڑ جو کئی پہاڑ کے بیچ میں ہے سب سے بلند اور اونچا ہے غار حرا جو پہاڑ کی چوٹی میں واقع ہے ''در اصل وہ غار نہیں ہے بلکہ پتھر کی ایک عظیم پٹیہ جو پتھر کے دو بڑے ٹکڑوں کے اوپر چپکی ہوئی اس سے ایک چھوٹا سا غار تقریباً ڈیڑھ میٹر کا بن گیا تھا ،غار کا منھ پھیلا ہوا ہے ہر شخص آسانی سے اس میں آجاسکتاہے لیکن آدھا حصہ اس کا بعد والا تنگ اور اس کی چھت چھوٹی ہے اور سورج کی روشنی غار کے آدھے حصہ سے زیادہ نہیں پہنچ پاتی ہے۔

(٣) نہج البلاغہ، تحقیق صبحی صالح، خطبہ ١٩٢ (قاصعہ)؛ ابن ہشام، سابق ، ج١، ص ٢٥١.

(٤) ابن ہشام، سابق ، ج١، ص ٢٥١؛ سابق، ج٢، ص ٢٠٦؛ ابن کثیر، سابق ، ج١، ص ٣٩٠؛ بلاذری۔

(٥) حلبی، سابق، ص ٣٨٢.


رسالت کا آغاز

حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جب چالیس برس کے ہوئے(١) تو اس وقت بھی آپ اپنے قدیمی دستور کے مطابق کچھ دن کے لئے غار حرا میں چلے گئے تو وہاں وحی کا نمائندہ نازل ہوا اور خدا کی بارگاہ سے قرآن مجید کی ابتدائی آیات آپ کے سینہ پر نازل ہوئیں۔(٢)

(بسم الرحمن الرحیم. اقرأ باسم ربک الذی خلق. خلق الانسان من علق. اقرأ و ربک الأکرم الذی علَّم بالقلم علم الانسان ما لم یعلم''(٣)

اس خدا کا نام لے کر پڑھو جس نے پیدا کیا ہے

اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے

پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے

جس نے قلم کے ذریعہ تعلیم دی ہے

اور انسان کو وہ سب کچھ بتا دیا ہے جو اسے نہیں معلوم تھا۔

خداوند عالم نے حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ فرشتۂ وحی (جناب جبرئیل) کا دیدار اور اس کے پیغام پہنچانے کو قرآن مجید میں دو مقام پر ذکر فرمایا ہے:

______________________

(١) ابن ہشام، سابق، ص ٢٤٩؛ طبری ، سابق، ص ٢٠٩؛ بلاذری، ص ١١٥۔ ١١٤؛ ابن ، الطبقات الکبریٰ (بیروت: دار صادر)، ج١، ص ١٩٠؛ مسعودی، التنبیہ و الاشراف، (قاہرہ: دار الصاوی للطبع و النشر)، ص ١٩٨؛ حلبی ، سابق ، ص ٣٦٣؛ مجلسی، سابق ، ص ٢٠٤۔

(٢) طبرسی، مجمع البیان (تہران: شرکة المعارف الاسلامیہ، ١٣٧٩ھ )، ج١٠، ص ٥١٤؛ مسعودی، مروج الذہب، (بیروت: دار الاندلس، ط ١، ١٩٦٥ئ)، ج٢، ص ١٢٩و ٢٧٦۔

(٣) سورۂ علق، آیت ٥۔ ١


قسم ہے ستارہ کی جب وہ ٹوٹا

تمہارا ساتھی (محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) نہ گمراہ ہوا ہے اور نہ بہکا

اور وہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتا ہے

اس کا کلام وہی وحی ہے جو مسلسل نازل ہوتی رہتی ہے

اسے (فرشتہ) نہایت طاقت والے (جبرئیل) نے تعلیم دی ہے

وہ صاحب حسن و جمال جو سیدھا کھڑا ہوا

جبکہ وہ بلند ترین افق پر تھا

پھر وہ قریب ہوا اور آگے بڑھا

یہاں تک کہ دو کمان یا اس سے کم کا فاصلہ رہ گیا

پھر خدا نے اپنے بندہ کی طرف جس راز کی بات کرنا چاہی وحی کردی

دل نے اس بات کو جھٹلایانہیں جس کو آنکھوں نے دیکھا

کیا تم اس سے اس بات کے بارے میں جھگڑا کر رہے ہو جو وہ دیکھ رہاہے۔(١)

تو میں ان ستاروں کی قسم کھاتا ہوں جو پلٹ جانے والے ہیں

چلنے والے اور چھپ جانے والے ہیں

اور رات کی قسم جب ختم ہونے کو آئے

______________________

(١) سورۂ نجم، آیت ١٢۔ ١ ؛ اسلامی دانشوروں نے ان آیات کو پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی بعثت سے مربوط قرار دیا ہے قرائن اور شواہد بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں (مراجعہ کریں: مجلسی، بحار الانوار، ج١٨، ص ٢٤٧؛ محمد ہادی معرفت، التمہید فی علوم القرآن، ج١، ص ٣٥؛ احمد بن محمد القسطلانی، المواہب اللدنیہ بالمنح المحمدیہ، تحقیق: صالح احمد الشامی (بیروت: المکتب الاسلامی، ط ١، ١٤١٢ھ) ج٣، ص ٨٩۔ ٨٨؛ لیکن دوسری تفسیر کی بنیاد پر معراج سے مربوط ہے۔


اور صبح کی قسم جب سانس لینے لگے

بیشک یہ ایک معزز فرشتے کا بیان ہے

وہ صاحب قوت ہے اور صاحب عرش کی بارگاہ کا مکین ہے

وہ وہاں قابل اطاعت اور پھر امانت دار ہے

اور تمہارا ساتھی پیغمبر دیوانہ نہیں ہے

اور اس نے فرشتہ کو بلند افق پر دیکھا ہے

اور وہ غیب کے بارے میں بخیل نہیں ہے

اور یہ قرآن کسی شیطان رجیم کا قول نہیں ہے

تو تم کدھر چلے جارہے ہو۔(١)

______________________

(١) سورۂ تکویر، آیت ٢٦۔ ١٥.


طلوع وحی کی غلط عکاسی

بعض تاریخ اور حدیث کی کتابوں میں پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی بعثت کو غلط اور افسانوی شکل میں نقل کیا گیا ہے جو کسی طرح سے حدیث اور تاریخی معیاروں کے مطابق، قابل قبول نہیں ہے اور اس اعتبار سے کہ یہ خبر، مشہور ہے۔ فارسی کی درسی کتابوں میں بھی نقل ہوئی ہے۔ لہٰذا مناسب ہے ہم اس کو نقل کریں اور اس پر تنقید کریں۔

عائشہ کہتی ہیں کہ پہلی بار جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر وحی نازل ہوئی تو وہ سچا خواب تھا وہ جو بھی خواب دیکھتے تھے وہ صبح روشن کے مانند ہوا کرتا تھا اس کے بعد وہ چاہتے کہ گوشہ نشین ہوجائیں اور پھر غار حرا میں گوشہ نشین ہو جاتے تھے اور وہاں کچھ راتیں عبادت میں بسر کرتے اور پھر اپنے اہل خانہ کے پاس

واپس چلے آتے تھے اور خدیجہ سے آذوقہ لیتے تھے (اور پھر غار حرا میں واپس چلے جاتے تھے) یہاں تک کہ حق آپ کے پاس آیا اور آپ اس وقت غار میں تھے۔ فرشتہ وحی آپ کے پاس آیا اور کہا: پڑھو۔ کہا:میں پڑھنا نہیں جانتا ہوں۔

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ فرشتے نے مجھے پکڑا اور زور سے دبایا یہاں تک کہ میں بے دم ہوگیا پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھو۔ میں نے کہا: میں پڑھنا نہیں جانتا ہوں دوبارہ ہم کو پکڑا اور اتنی زور سے دبایا کہ میری ساری طاقت چلی گئی۔ اس وقت مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھو میں نے کہا: میں پڑھنا نہیں جانتا ہوں تیسری بار پھر مجھے پکڑا اور اتنی زور سے دبایا کہ میری ساری طاقت ختم ہوگئی پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھو اپنے پروردگار کے نام سے جو خالق ہے... (پانچویں آیت تک)


اس وقت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لرزتے ہوئے دل کے ساتھ پلٹے اور جناب خدیجہ کے پاس پہنچے اور فرمایا: مجھے اڑھادو! مجھے اڑھادو! تو انھوں نے اڑھا دیا تاکہ آپ کا اضطراب اور خوف ختم ہو جائے{!} رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ جو کچھ پیش آیا تھا اسے آپ نے خدیجہ سے بتایا اور فرمایا کہ میں اپنے بارے میں خوف زدہ ہوں{!} خدیجہ نے کہا: قسم خدا کی! خدا آپ کو ہرگز رسوا نہ فرمائے گا؛ کیونکہ آپ اپنے رشتہ داروں اور گھر والوں کے ساتھ نیکی اور غیروں کے ساتھ بخشش و خیرات کرتے ہیں ۔ فقیروں اور تہی دستوں کی دلجوئی اور مہمانوں کی ضیافت اور حق والوں کی مدد فرماتے ہیں۔

پھر جناب خدیجہ آپ کے ساتھ، اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں وہ ایک سن رسیدہ اور نابینا شخص تھے اور زمانۂ جاہلیت میں عیسائیت کے گرویدہ ہوگئے تھے وہ عبرانی زبان سے واقف تھے او رانجیل کو اسی زبان میں لکھتے تھے۔

خدیجہ نے ان سے کہا: عمو زادہ! اپنے بھائی کی بات سنیئے (کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں؟) ورقہ نے کہا: ''بھائی تم نے کیا دیکھا؟'' رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا ان سے بتایا۔ ورقہ نے کہا: ''یہ وہی ناموس (فرشتہ) ہے جو موسیٰ پر نازل ہوا تھا کاش آج میں جوان ہوتا۔ کاش میں اس دن زندہ رہوں؟ جب تمہاری قوم والے تم کو شہر سے باہر کردیں گے''۔


رسول خدا نے فرمایا: ''کیا یہ لوگ مجھے شہر سے باہر کردیں گے۔کہا: ہاں...''(١)

تنقید و تحلیل

جیسا کہ اشارہ کیا جاچکا ہے کہ یہ روایت اس شکل میں قابل قبول نہیں ہوسکتی کیونکہ مندرجہ ذیل دلائل کی بنیاد پر سند اور متن دونوں لحاظ سے ناقابل اعتبار ہے۔

١۔ اس واقعہ کی ناقل عائشہ ہیں اور وہ بعثت کے چوتھے یا پانچویں سال پیدا ہوئیں۔(٢) لہٰذا وہ واقعہ کے وقت موجود ہی نہیں تھیں کہ واقعہ کی عینی گواہ بن سکیں اور چونکہ وہ اصلی راوی کا نام کہ شاید جس سے یہ واقعہ سنا ہے ذکر نہیں کرتیں لہٰذا ان کی نقل، فاقد سند اور علوم حدیث کی اصطلاح میں ''مرسل'' ہے اور روایت مرسل قابل اعتبار نہیں ہے۔

٢۔ اس روایت کی بنیاد پر فرشتۂ وحی نے متعدد بار حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پڑھنے کے لئے کہا اور آپ نے اظہار ناتوانی فرمایا۔ اگر مقصد یہ تھا کہ آنحضرت کلام خدا کو لوح سے دیکھ کر پڑھیں تو ایسی چیز معقول نہ تھی؛ کیونکہ خدا اور اس کا فرشتہ جانتا تھا کہ آپ امی ہیں اور پڑھنا نہیں جانتے ہیں اور اگر مقصد یہ تھا کہ فرشتہ کے کہنے پر آپ پڑھیں تو یہ کام کوئی مشکل نہیں تھا۔ جس سے حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (جو کہ ذہانت اور دقت میں معروف تھے) کمال عقل و فکر کے باوجود عاجز رہے ہوں!

______________________

(١) صحیح بخاری، شرح و تحقیق: الشیخ قاسم الشماعی الرفاعی (بیروت: دار القلم، ط١، ١٤٠٧ھ.ق)، ج١، ص٦٠۔ ٥٩،کتاب بدء الوحی؛ صحیح مسلم، بشرح امام النووی (بیروت: دار الفکر، ١٤٠٣ھ.ق)، ج٢، ص٢٠٤۔ ١٩٧، باب بدء الوحی الی رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٠٦۔ ٢٠٥۔

(٢) عسقلانی ، الاصابہ فی تمیز الصحابہ (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ط١، ١٣٢٨ھ) ج ٤، ص ٣٥٩۔


٣۔ فرشتۂ وحی کے ذریعہ مسلسل دباؤ کے کیا معنی ہوسکتے ہیں؟ جبکہ ہم جانتے ہیں کہ یاد کرنا ایک ذہنی کام ہے جس میں دباؤ کارگر نہیں ہوتا ہے اگر خیال کریں کہ یہ کام اس لئے تھا کہ حضرت، قدرت خدا سے اچانک پڑھنا سیکھ جائیں تو صرف ارادۂ الٰہی اس کام کے لئے کافی تھا ان مقدمات کی ضرورت نہیں تھی اور اگر دباؤ کے مسئلہ کو رسول خدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ا، پروردگار عالم اور عالم غیب سے مربوط سمجھیں پھر بھی قابل تاویل نہیں ہے کیونکہ جیسا کہ خداوند عالم نے صراحت کے ساتھ قرآن میں بیان کردیا ہے کہ پیغمبروں کا رابطہ عالم غیب سے ان تین طریقوں میں سے کسی ایک کے ذریعہ رہا ہے۔

١۔ ڈائرکٹ رابطہ اور بغیر کسی واسطہ کے پیغام الٰہی کو دریافت کرنا؛

٢۔ آواز کے ذریعہ، بغیر کسی کو دیکھے ہوئے؛

٣۔ فرشتۂ وحی کے ذریعہ۔(١)

صرف وحی کے بغیر کسی واسطے کے دریافت کرنے پر پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے دباؤ اور سختی کو برداشت کیا اور بعض روایتوں کی بنیاد پر آپ کا چہرہ متغیر ہو جایا کرتا تھا اور عرق کے قطرات موتی کی شکل میں آپ کے چہرے سے گرنے لگتے تھے۔(٢)

لیکن اگر پیغام الٰہی فرشتہ کے ذریعہ بھیجا جاتا تھا تو حضرت پر کوئی خاص کیفیت طاری نہیں ہوا کرتی تھی جیسا کہ حضرت امام صادق فرماتے ہیں: ''جس وقت وحی جبرئیل لے آکر آتے تھے تو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عام حالت میں فرماتے تھے۔ یہ جبرئیل ہیں یا جبرئیل نے مجھ سے اس طرح یہ کہا ہے لیکن

______________________

(١)''و ما کان لبشر ان یکلمه اللّٰه الا وحیا او من ورآ حجاب او یرسل رسولاً فیوحی باذنه مایشاء انه عل حکیم'' (سورۂ شوریٰ، آیت ٥١) اس بارے میں مزید آگاہی کے لئے مراجعہ کریں: (بحار الانوار، ج١٨، ص ٢٤٦، ٢٥٤، ٢٥٧

(٢)ابن سعد، سابق، ج١، ص ١٩٧؛ ابن شہر آشوب، سابق ، ج١، ص ٤٣؛ مجلسی ، گزشتہ ، ج١٨، ص ٢٧١۔


اگر وحی آپ پر براہ راست نازل ہوتی تھی تو گرانی اور بوجھ کا احساس کرتے تھے اور بے ہوشی جیسی کیفیت آپ پر طاری ہو جایا کرتی تھی''(١) جب جبرئیل حامل وحی ہوا کرتے تھے تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کو دیکھ کر نہ تنہا کوئی خاص احساس نہ کرتے تھے بلکہ جب بھی آپ کی خدمت میں وہ حاضر ہوتے تھے، بغیر آپ کی اجازت کے آپ کی خدمت میں قدم نہیں رکھتے تھے اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بارگاہ میں نہایت ہی ادب سے بیٹھتے تھے۔(٢)

اس تشریح اور توضیح کے ساتھ چونکہ مورخین کا اتفاق ہے کہ قرآن کی ابتدئی آیات کو جبرئیل غار حرا میں لے کر آئے تھے لہٰذا کسی طرح کا بوجھ اور سنگینی نہیں پائی جاتی تھی۔ لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ذمہ داری کی سنگینی کا احساس نہیں تھا اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بت پرستوں کی مخالفت کی فکر نہیں تھی۔

٤۔ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آمادگیوں اور تیاریوں کو دیکھتے ہوئے اور اس سے قبل، غیبی پیغاموں کے دریافت کودیکھتے ہوئے، کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا کہ حضرت گھبرائے ہوں اور خوف و اضطراب آپ پر طاری ہوا ہو اس سے قطع نظر بعض کتابوں میں ذکر ہوا ہے کہ جناب جبرئیل شب شنبہ اور شب یکشنبہ کے ابتدائی حصہ میں پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے قریب آئے اور تیسری بار (یعنی دوشنبہ کے دن) تھا کہ منصب رسالت پر آپ کو فائز کردیا گیا۔(٣) لہٰذا غار حرا میں بھی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا پہلا دیدار، فرشتے سے نہیں

______________________

(١) مجلسی ، سابق، ص ٢٦٨ اور ٢٧١؛ صدوق ، التوحید (تہران: مکتبة الصدوق)، ص ١١٥؛ مراجعہ کریں: مہر تابان، (آیة اللہ سید محمد حسین حسینی طہرانی کا انٹریو مرحوم علامہ سید محمد حسین طباطبائی سے) ص ٢١١۔ ٢٠٧۔

(٢) صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ (ہم: موسسہ النشر الاسلامی، ١٤٠٥ھ)، ج١، ص ٨٥؛ علل الشرایع (نجف: المکتبة الحیدریہ، ١٣٨٥ھ)، باب ٧، ص ٧۔

(٣) طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٠٧؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٠٥؛ مسعودی، مروج الذہب، ج٢، ص ٢٧٦؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ١٧۔


ہوا کہ اس کو دیکھ کر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خوف و اضطراب طاری ہوا ۔ اصولی طور پر جب تک کوئی ہر لحاظ سے سرّ الٰہی (رسالت) کو لینے کے لئے تیار نہ ہو خدائے حکیم اتنا بڑا عہدہ اور منصب اس کو نہیں عطا کرتا ہے۔

٥۔ کس طرح یہ بات قابل قبول ہوسکتی ہے کہ جناب خدیجہ کی معلومات (جو کہ ایک عام فرد تھیں) پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے زیادہ تھیں اور وہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خوف و اضطراب کو دیکھ کر ان کی دلجوئی اور دلداری کرتی تھیں۔

٦۔ اور سب سے زیادہ قبیح بات یہ کہ ہم حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں تصور کریں جو کہ رسالت اور لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے تھے کہ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ کیا چیز آئندہ رونما ہونے والی ہے اور جبرئیل امین کو نہیں پہچانتے تھے اوراس کے پیغام کو صحیح طرح سے تشخیص نہیں دے سکتے یہاں تک کہ ایک ضعیف اور نابینا مسیحی نے ان کی رسالت کے اوپر مہر تصدیق لگائی اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس کے اظہارات کے ذریعہ اپنی رسالت کے بارے میں اطمینان حاصل ہوا اور ان کے دل کو سکون و قرار ملا۔ اس بات کا بے بنیاد ہونا اتنا واضح ہے کہ کسی دلیل یا برہان کی ضرورت نہیں ہے۔

٧۔ اس خبر میں حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف جس شک و تردید کی نسبت دی گئی ہے وہ قرآن کی آیت کے مطابق نہیں ہے قرآن فرماتا ہے کہ (قلب محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) نے جس چیز کو دیکھا اس کو جھٹلایا نہیں۔(١)

طبرسی (مشہور شیعہ عالم دین اور مفسر) کہتے ہیں:

''خداوند عالم اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو وحی نہیں کرتا مگر یہ کہ اس کو روشن دلیلوں کے ہمراہ کرے اور اسے اطمینان ہو جاتا ہے کہ جو کچھ اس پر وحی ہوتی ہے وہ خدا کی جانب سے ہے اور اسے کسی دوسری چیز کی ضرورت نہیں پڑتی اور اس پر خوف و اضطراب طاری نہیں ہوتا۔(٢)

______________________

(١)''ما کذب الفؤاد ما رأیٰ '' سورۂ نجم ، آیت ١١

(٢) مجمع البیان ، ج١٠، ص ٣٨٤، تفسیر آیہ ''یا ایها المدثر ...''


حضرت امام صادق نے اپنے ایک صحابی کے سوال کرنے پر کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وحی کے وقت، اس بات سے کیوں نہیں ڈرے کہ یہ شیطان کا وسوسہ ہوسکتا ہے؛ فرمایا: ''جس وقت خداوند عالم، اپنے کسی بندے کو رسالت کے درجہ پر فائز کرتا ہے تو اس کو ایسا اطمینان و سکون عطا کردیتا ہے کہ جو کچھ خدا کی جانب سے اس پر نازل ہو وہ اس کے لئے ویسے ہی ہو جیسے کوئی اپنی آنکھ سے دیکھ رہا ہو۔(١)

کتاب صحیح بخاری اور صحیح مسلم (جس میں عائشہ سے روایت نقل ہوئی ہے) کی شرح کرنے والے مشہور عالم ہونے کے باوجود، چونکہ اصل روایت کو مسلم جانتے تھے چونکہ اس کی صحیح تفسیر اور توضیح میں درماندہ اور حیران و پریشان ہوئے، ضعیف اور بے بنیاد توجیہات میں لگ گئے، جو باعث تعجب ہے۔(٢)

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی بعثت کے بارے میں اس کے مشابہ چند حدیثیں، عبد اللہ بن شدّاد، عبید بن عُمیر، عبد اللہ بن عباس اور عروہ بن زبیر جیسے راویوں کے ذریعہ نقل ہوئی ہیں۔ جنکی ہم نے توضیحات پیش کی ہیں ان کے ذریعہ، ان کا جعلی ہونا واضح ہو جاتا ہے اور اس کے بیان کرنے کی ضرورت

______________________

(١) مجلسی، بحار الانوار ، ج١٨، ص ٢٦٢؛ محمد ہادی معرفت، التمہید فی علوم القرآن (مرکز مدیریت حوزہ علمیہ قم)، ج١، ص ٤٩.

(٢) جہاں تک ہمیں معلوم ہے کہ پہلا شخص جو اس روایت کے ضعیف اور بے اعتبار ہونے کی طرف متوجہ ہواوہ مرحوم سید عبد الحسین شرف الدین موسوی (١٢٩٠۔ ١٣٧٧ھ.ق) جبل عامل کے مایہ ناز شیعہ عالم دین تھے جنھوں نے اپنی کتاب ''الی المجمع العلمی العربی بدمشق'' اور کتاب النص و الاجتہاد، ص ٣٢٢۔ ٣١٩ میں اس روایت پر تنقید اور تجزیہ کیا ہے پھر ہمارے محققین اور علماء نے خاص طور سے دانشمند معظم جناب علی دوانی نے مذکورہ کتاب میں اس کے ذیل میں تفصیلی بحث اور تحقیق فرمائی ہے اور مسئلہ کو مکمل حل کردیا ہے اور ہم نے اس بحث میں ان کی تحقیقات سے استفادہ کیا ہے۔

شعاع وحی برفراز کوہ حرا، ص ١٠٨۔ ٧٠؛ تاریخ اسلام از آغاز تا ہجرت، ص ١١٠۔ ٩٨؛ نقشہ ائمہ در احیاء دین، ج٤، ص٤٤۔ ٦؛ الصحیح من سیرة النبی الاعظم، ج١، ص٢٣٢۔ ٢١٦؛ خیانت در گزارش تاریخ، ج٢، ص ٢٣۔ ١٣؛ التمہید، ج١، ص٥٦۔ ٥٢؛ درسھایی تحلیلی از تاریخ اسلام، ج٢، ص ٢٣٦۔ ١٩٦۔


نہیں پڑتی۔(١) یہ غلط خبر مسیحیوں کی کتابوں میں بھی نقل ہونے لگی ہے او ران میں سے کچھ لوگوں نے اس کو زہر چھڑکنے اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف وسوسہ ڈالنے کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔(٢)

اس تنقید کے ذریعہ ان کی، غلط فہمی کا بے بنیاد ہونا بھی واضح اور آشکار ہو جاتا ہے۔

مخفی دعوت

حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تین سال تک خاموشی سے لوگوں کو تبلیغ کی(٣) کیونکہ مکہ کے حالات ابھی ظاہری تبلیغ کے لئے ہموار نہیں ہوئے تھے۔ اس تین سال کے دوران آپ مخفی طور سے ایسے افراد سے ملے جن کے بارے میں آپ کو معلوم تھا کہ وہ اسلام قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

لہٰذا ان کو خدا کی وحدانیت اس کی عبادت اور اپنے نبوت کی طرف دعوت دی۔ اس عرصہ میں قریش آپ کے دعوے سے باخبر ہوگئے تھے۔ لہٰذا جب کہیں اپ کو راستے میں دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ نبی عبدالمطلب کا جوان آسمان سے باتیں کرتا ہے۔(١) لیکن چونکہ آپ عمومی جگہوں پر کلام نہیں کرتے تھے لہٰذا آپ کی دعوت کی باتوںسے کوئی باخبر نہیں تھا اور اسی بنا پر وہ لوگ کوئی عکس العمل نہیں دیکھاتے تھے۔

______________________

(١) سید مرتضیٰ عسکری، نقش عائشہ در احیائے دین، انتشارات مجمع علمی اسلامی، ج ٤، ص ١٢.

(٢) مراجعہ کریں: دائرة المعارف الاسلامیہ، ترجمہ عربی توسط محمد ثابت الفندی ( اور دوسرے افراد)، ج٣، ص ٣٩٨۔ (لفظ بحیرا)۔ مونٹگومری واٹ۔ ادینبورو یونیورسٹی کے عربی محکمہ کا چیرمین۔ ان لوگوں میں سے ہے جس نے اس سلسلہ میں زہر چھڑکا ہے اور بے بنیاد باتیں کہی ہیں ۔ وہ کہتا ہے: ''... ایک ایسے شخص کے بارے میں جس نے آٹھویں صدی عیسوی میں مکہ جیسے دور داراز شہر میں زندگی بسر کی، یہ ایمان رکھنا کہ خدا کی جانب سے وہ پیغمبری کے لئے مبعوث ہوا ہے حیرت کی بات ہے لہٰذا تعجب کی بات نہیں ہے اگر ہم یہ سنیں کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خوف اور شک لاحق ہوا تھا۔ اس سلسلے میں قرآن اور احادیث میں ایسے شواہد ملتے ہیں جو اس کی زندگی سے مربوط ہیں اور پتہ نہیں کب اسے، اطمینان حاصل ہوا کہ خدا نے اس کو فراموش نہیں کیا ہے !!۔دوسرا خوف، جنون کا خوف تھا کیونکہ اس زمانہ میں عرب عقیدہ رکھتے تھے کہ اس طرح کے افراد، روحوں یا جنات کے قبضہ میں ہیں ۔

مکہ کے کچھ لوگ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے الہامات کو ایسا بتاتے تھے اوروہ خود بھی کبھی اس تردید کا شکار ہو جاتے تھے کہ حق ان لوگوں کے ساتھ ہے یا نہیں؟!! (محمد پیامبر و سیاستمدار، ترجمہ اسماعیل والی زادہ (تہران: کتابفروشی اسلامی، ١٣٤٤)، ص ٢٧۔ ٢٦.

(٣) ابن ہاشم، سابق ، ج١، ص ٢٨٠؛ طبری، سابق ، ج٢، ص ٢١٦؛ مسعودی ، مروج الذہب، ج٢، ص ٢٧٦۔ ٢٧٥؛ بلاذری، سابق، ج١، ص ١١٦؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص١٩؛ حلبی، سابق، ج١، ص ٤٥٦؛ طوسی، الغیبہ (تہران: مکتبہ نینوی الحدیثہ)، ص٢٠٢؛ صدوق ، کمال الدین و تمام النعمة، (قم: موسسہ النشر الاسلامی، ١٣٦٣)، ج٢، ص ٣٤٤، ح ٢٩.


اس عرصہ میں کچھ لوگ مسلمان ہوئے اور انھیں ابتدائی مسلمانوں میں سے ایک شخص جس کا نام ارقم تھا اس نے اپنا گھر (جو صفا پہاڑی کے کنارے تھا) پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حوالہ کردیا حضرت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور تمام مسلمان اسی گھر میں ؛ جو تبلیغات کا سنٹر تھا ظاہری تبلیغ کے زمانہ تک جمع ہوتے تھے اور وہیں نماز پڑھا کرتے تھے۔(٢)

پہلے مسلمان مرد اور عورت

تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ جناب خدیجہ وہ پہلی خاتون ہیں جو مسلمان ہوئیں اور مردوں میں حضرت علی ـ وہ پہلے شخص ہیں جو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گرویدہ ہوئے۔(٣-٤) کیونکہ یہ بات فطری ہے کہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م

نے غار حرا سے پلٹنے کے بعد اپنے آئین کو سب سے پہلے اپنی شریک حیات جناب خدیجہ اور حضرت علی جو اسی گھر کی ایک فرد اور آپ کی آغوش کے پروردہ تھے ان کے درمیان بیان کیا اور ان دونوں حضرا ت نے، جو کہ آپ کی نبوت کی نشانیوں اور صداقت و راستگوئی سے اچھی طرح واقف تھے، اس کی تصدیق کی۔

______________________

(١) تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ١٩؛ ابن سعد ، الطبقات الکبریٰ ، ج١، ص ١٩٩؛ بلاذری، سابق ، ج١، ص ١١٥

(٢) حلبی، سابق، ج١، ص ٤٥٧۔ ٤٥٦.

(٣) ابن ہشام نے ابتدائی مسلمانوں کی تعداد ٨ افراد تک اس طرح سے نقل کی ہے ''علی، زید بن حارثہ، ابوبکر، عثمان بن عفان، زبیر بن عوام، عبد الرحمان بن عوف، سعد بن وقاص اور طلحہ بن عبید اللہ'' (السیرة النبویہ، ج١، ص ٢٦٩۔ ٢٦٢.)

(٤) جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے کہ چونکہ علی بچپنے سے موحد تھے اور کبھی بت پرستی میں آلودہ نہیں ہوئے ان کے مسلمان ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ پہلے (معاذ اللہ) بت پرست تھے اور پھر اسے ترک کردیا۔ (جبکہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دوسرے اصحاب کے بارے میں ایسا ہی تھا) بلکہ انھوں نے حقیقت میں دین اسلام جو کہ اسی توحید پر استوار تھا بہ عنوان دین آسمانی قبول کیا۔ زینی دحلان لکھتے ہیں'' علی ہرگز سابقہ شرک نہیں رکھتے تھے؛ کیونکہ وہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ایک فرزند کی طرح آنحضرت کے ہمراہ اور ان کے زیر تربیت تھے اور تمام امور میں ان کی پیروی کرتے تھے حدیث میں آیاہے کہ تین افراد نے ہرگز کفر نہیں اختیار کیا، مومن آل یاسین، علی بن ابی طالب ، آسیہ فرعون کی بیوی( السیرة النبویہ، ج١، ص ٩٢) ابن سعد علی کے بارے میں نقل کرتا ہے کہ لم یعبد الاوثان قط لصغرہ۔ (الطبقات الکبریٰ، ج٣، ص ٢١) اور ابن حجر ہیثمی مکی (٩٧٤٢ھ.ق) ابن سعد کے اس جملہ کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے: و من ثم یقال فیہ کرم اللّٰہ وجہہ۔ (الصواعق المحرقہ۔ الباب التاسع، ص ١٢٠) قبول اسلام کے وقت علی کے سن کے بارے میں مراجعہ کریں: شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید (ط مصر) ج١٣، ص ٢٣٥۔ ٢٣٤۔


حضرت علی کی سبقت کی دلیلیں

جو کچھ ذکر ہو چکا ہے اس کے اعتبار سے اگر کوئی حدیث یا تاریخی سند اس مطلب کی تائید نہ بھی کرے پھر بھی اس کا ثابت کرنا اتنا مشکل نہیں ہے جبکہ بے شمار دلیلیں اور شواہد ایسے موجود ہیں جو اس موضوع کی تائید کرتے ہیں، نمونہ کے طور پر ان میں سے کچھ یہ ہیں:

١۔ حضرت علی کے پہلے اسلام قبول کرنے کو پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے بیان کیا ہے اور مسلمانوں کے ایک گروہ کے درمیان فرمایا ہے: ''تم میں سے سب سے پہلا شخص، جو روز قیامت مجھ سے حوض (کوثر) پر ملاقات کرے گا وہ علی بن ابی طالب ہوں گے جنھوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا ہے''۔(١)

______________________

(١) اولکم وروداً علی الحوض ، اولکم اسلاماً علی بن ابی طالب۔ (ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفة الاصحاب، حاشیة الاصابہ میں، (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ط ١، ١٣٢٨ھ)، ج٣، ص ٢٨؛ ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١٣، ص ٢٢٩؛ مراجعہ کریں: الحاکم النیشاپوری، المستدرک علی الصحیحین، تحقیق: عبد الرحمن المرعشی(بیروت: دار المعرفہ، ط١، ١٤٠٦ھ)، ج٣، ص ١٧؛ خطیب بغدادی، تاریخ بغداد (بیروت: دار الکتاب العربی)، ج٢، ص ٨١؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٤٣٢؛ بعض روایات میں اس طرح نقل ہوا ہے: اول ہذہ الامة وروداً علی الحوض اولہا اسلاماً علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ۔ (حلبی، گزشتہ حوالہ، ص ٤٣٢.)


٢۔ علمائے کرام اور محدثین نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م دوشنبہ کے دن مبعوث بہ نبوت ہوئے اور علی ـ نے اس کے دوسرے دن (سہ شنبہ) آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔(١)

٣۔ حضرت علی نے خود فرمایا ہے:

اس روز اسلام، صرف پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور خدیجہ کے گھر میں داخل ہوا تھا اور میں ان میں سے تیسرا شخص تھا میں نے نور وحی اور رسالت کو دیکھا اور نبوت کی خوشبو کو محسوس کیا۔(٢)

٤۔ امیر المومنین علی ایک دوسری جگہ اسلام میں اپنی سبقت کے بارے میں اس طرح سے بیان فرماتے ہیں:

اے خدا! میں وہ پہلا شخص ہوں جو تیری طرف آیا ہوں اور تیرے پیغام کو سنا اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت پر لبیک کہی ہے مجھ سے پہلے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے علاوہ کسی نے نماز نہیں پڑھی ہے۔(٣)

______________________

(١)استنبیء النبی یوم الأثنین و صلی علی یوم الثلاثائ ۔ (ابن عبد البر، گزشتہ حوالہ، ص ٣٢؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ (بیروت: دار صادر، ١٣٩٩)، ج٢، ص ٥٧.) حاکم نیشاپوری، اس حدیث کو دو طریقہ سے ''نبیء رسول اللّٰه... '' اور ''وحی رسول اللّٰه یوم الاثنین ...'' نقل کیا ہے (گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ١١٢.) بعض روایات میں اس طرح نقل ہوا ہے:استنبیء النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یوم الاثنین و اسلم علی یوم الثلاثائ ۔ (ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ص ٢٢٩؛ جوینی خراسانی، فرائد السمطین (بیروت: مؤسسة المحمودی للطباعة و النشر، ط ١ ج١، ص ٢٤٤)۔ علی خود بھی اس بات پر تاکید کرتے تھے اور فرماتے تھے کہبعث رسول اللّٰه یوم الاثنین و اسلمت یوم الثلاثائ ۔ (سیوطی،تاریخ الخلفاء (قاہرہ: المکتبة التجاریہ الکبریٰ، ط ٣، ١٣٨٣ھ)، ص ١٦٦؛ الشیخ محمد الصبان، اسعاف الراغبین، درحاشیہ نور الابصار، ص ١٤٨؛ احمد بن حجر الھیتمی المکی، الصواعق المحرقہ (قاہرہ: ط٢، ١٣٨٥ھ ١٢٠.)

(٢)لم یجمع بیت واحد یومئذ فی الاسلام غیر رسول اللّٰه و خدیجه و انا ثالثهما، اریٰ نور الوحی و الرسالة و اشم ریح النبوة ۔ (نہج البلاغہ، تحقیق : صبحی صالح، خطبہ ١٩٢ (قاصعہ)

(٣)اللّٰهم انی اول من اناب، و سمع و اجاب، لم یسبقنی الا رسول اللّٰه بالصلاة ۔ (گزشتہ حوالہ، خطبہ ١٣١)


٥۔ اور ایک جگہ آپ نے اس طرح سے فرمایا: میں خدا کا بندہ ، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بھائی اور صدیق اکبر ہوں میرے بعد اس کلام کو، سوائے جھوٹے، افتراء پرداز کے کوئی نہیں کہے گا۔ میں نے سات سال کی عمر میں، لوگوں سے پہلے رسول خدا کے ساتھ نماز پڑھی ہے۔(١)

٦۔ عفیف بن قیس کندی کہتا ہے: میں دور جاہلیت میں عطر کا تاجر تھا۔ ایک تجارتی سفر کی غرض سے مکہ گیا جب مکہ میں داخل ہوا تو عباس (جو کہ مکہ کے ایک تاجر اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا تھے) کا مہمان ہوا، ایک دن میں مسجد الحرام میں عباس کے بغل میں بیٹھا ہوا تھا اور سورج نصف النہار کو پہنچ چکا تھا اس عالم میں ایک جوان مسجد میں داخل ہوا جس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا اس نے ایک نظر آسمان پر ڈالی اور پھر کعبے کی طرف رخ کر کے کھڑا ہوااور نماز پڑھنے میں مشغول ہوگیا کچھ دیر گزری تھی کہ ایک خوبصورت نوجوان آیا اور اس کے داہنی طرف کھڑا ہوگیا پھر ایک نقاب پوش خاتون آئی اور ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہوگئی اور تینوں ایک ساتھ نماز میں مشغول ہوگئے اور رکوع و سجود بجالانے لگے۔

میں (بت پرستوں کے بیچ یہ منظر دیکھ کر کہ تین افراد آئین بت پرستی سے ہٹ کر ایک دوسرے آئین کو اپنائے ہوئے ہیں) حیرت میں پڑگیا اور عباس کی طرف رخ کر کے کہا: یہ بہت بڑا واقعہ ہے! اس نے بھی اسی جملہ کو دہرایا اور مزید کہا: کیا تم ان تینوں کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا نہیں: اس نے کہا: پہلا شخص جو دونوں سے پہلے داخل ہوا وہ میرا بھتیجا محمد بن عبد اللہ ہے اور دوسرا شخص میرا دوسرا بھتیجا علی بن ابی طالب ہے اور تیسرے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زوجہ ہیں. محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دعوا ہے کہ اس کا دین خدا کی طرف سے نازل ہوا

______________________

(١)انا عبد اللّٰه و اخو رسوله و انا الصدیق الاکبر لایقولها بعدی الا کاذب مفتر. صلیت مع رسول اللّٰه قبل الناس سبع سنین . (طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢١٢؛ ابن اثیر، کامل فی التاریخ، ج٢، ص٥٧.) اور اسی مضمون پر کتاب ''مستدرک علی الصحیحین، ج٣، ص ١١٢؛ میں جمع آوری ہوئی ہے۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج١٣، ص ٢٠٠، و ٢٢٨؛ مراجعہ کریں: مناقب علی بن ابی طالب ، ابوبکر احمد بن موسی مردویہ اصفہانی ، اور مقدمہ عبد الرزاق محمد حسین حرز الدین (قم: دار الحدیث، ط١، ١٤٢٢ھ)، ص ٤٨۔ ٤٧.


ہے اور ابھی روئے زمین پر ان تینوں کے علاوہ کسی نے اس دین کی پیروی نہیں کی ہے۔(١)

اس واقعہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی دعوت کے آغاز میں آپ کی زوجہ جناب خدیجہ کے علاوہ صرف حضرت علی ـ نے آپ کے آئین کو قبول کیا تھا۔

اسلام کے قبول کرنے میں پیش قدمی کرنا ایک ایسی فضیلت ہے جس پر قرآن نے تکیہ کر کے فرمایا ہے: ''جو لوگ اسلام لانے میں پیش قدم تھے خدا کی بارگاہ میں بلند درجہ رکھتے ہیں اور وہی اللہ کی بارگاہ میں مقرب ہیں''۔(٢)

دین اسلام، قبول کرنے میں سبقت کے موضوع پر قرآن کی خاص توجہ اس حد تک ہے کہ جو لوگ فتح مکہ سے قبل ایمان لائے اور خدا کی راہ میں اپنی جان اور مال سے دریغ نہیں کیا، یہ لوگ ان لوگوں سے جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے اور جہاد کیا، بنص قرآن ان سے افضل اور برتر ہیں۔

''اورتم میں فتح مکہ سے پہلے انفاق اور جہاد کرنے والا اس کے جیسا نہیں ہوسکتا ہے جو فتح کے بعد انفاق اور جہاد کرے۔ پہلے جہاد کرنے والے کا درجہ بہت بلند ہے اگر چہ خدا نے سب سے نیکی کا

______________________

(١) طبری ، سابق، ج٢، ص ٢١٢؛ ابن ابی الحدید، سابق، ج ١٣، ص ٢٢٦۔ ابن ابی الحدید نے اس واقعہ کو عبد اللہ بن مسعود سے بھی نقل کیا ہے: وہ مکہ کے سفر میں اس واقعہ کے گواہ تھے۔ حلبی، السیرة الحلبیہ، ج١، ص ٤٣٦۔ اسی طرح مراجعہ کریں: ابن عبد البر، الاستیعاب (الاصابہ کے حاشیہ میں) ج٣، ص ١٦٥؛ عفیف بن قیس کندی کے حالات زندگی کی تشریح میں، ص ٣٣؛ پر علی کے حالات زندگی میں تھوڑا لفظ کے اختلاف کے ساتھ؛ محمد بن اسحاق، السیر و المغازی، تحقیق: ڈاکٹر سہیل زکار، (بیروت، دار المعرفہ، ط١، ١٣٩٨ھ) ص ١٣٨۔ ١٣٧؛ ابو الفتح کراجکی، کنز الفوائد (قم: دار الذخائر، ط ١، ١٤١٠ھ)، ج١، ص ٢٦٢۔ اور اسلام قبول کرنے میں علی کی پیش قدمی کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کرنے کے لئے الغدیر کی طرف رجوع کریں۔ ج٢، ص ٣١٤؛ ج ٣، ص ٢٢٤۔ ٢٢٠

(٢) ''والسابقون السابقون. اولئک المقربون. '' سورۂ واقعہ، آیت ١١۔ ١٠.


وعدہ کیا ہے اور وہ تمہارے جملہ اعمال سے باخبر ہے''۔(١)

مسلمانوں کے ایمان کی برتری کی وجہ فتح مکہ (جو کہ ٨ھ میں رخ پایا) سے پہلے یہ تھی کہ وہ لوگ ایسے وقت میں ایمان لائے کہ جب اسلام، جزیرة العرب میں پورے طور سے قدم نہیں جما سکا تھا اور ابھی بت پرستوں کا اڈہ ، یعنی شہر مکہ شکست ناپزیر قلعہ کے مانند باقی رہ گیا تھا اور ہر طرف سے خطرات مسلمانوں کی جان و مال کو خوف زدہ کئے ہوئے تھے. البتہ مدینہ کی طرف مسلمانوں کی ہجرت کے بعد اور دو قبیلے، اوس و خزرج اور مدینہ کے اطراف میں موجودہ قبائل کا، اسلام کی طرف رحجان پیدا ہونے سے وہاں ترقی اور کچھ امنیت پائی جانے لگی تھی اور بہت ساری لڑائیوں میں انھیں کامیابی بھی ملی۔ لیکن چونکہ خطرات ابھی پورے طور سے برطرف نہیں ہوئے تھے۔ لہٰذا ایسی صورت میں اسلام کی طرف رجحان اور جان و مال کی قربانی خاص اہمیت رکھتی تھی۔ یقینا ایسا کام، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تبلیغ کے آغاز میں جبکہ قریش کی قدرت کے علاوہ اور کوئی قدرت اور بت پرستوں کی طاقت کے علاوہ اور کوئی طاقت نہ تھی، بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

اسی وجہ سے پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے اصحاب کے درمیان اسلام میں سبقت کو ایک بہت بڑا افتخار سمجھا جاتا تھا اور اس توضیح کے ذریعہ اسلام کے سلسلہ میں حضرت علی کی سبقت کی اہمیت اور آپ کے معیار کا اچھی طرح سے اندازہ ہو جاتا ہے۔

اسلام قبول کرنے میں سبقت کرنے والے گروہ

اس زمانہ کے اجتماعی گروہوں ا ور طبقوں میں سے دو طبقہ اسلام قبول کرنے میں پیش قدم تھا۔

الف: جوانوں کا طبقہ:

ابتدائی مسلمانوں کی فہرست کا تجزیہ کرنے اور دوسرے شواہد سے یہ پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر ابتدائی مسلمان جوان تھے۔ بزرگ اور سن رسیدہ افراد مخالف تھے اور بت پرستی

______________________

(١) ''لایستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قاتل اولٰئک اعظم درجة من الذین انفقوا من بعد و قاتلوا و کلًّا وعد اللّٰہ الحسنیٰ...'' (سورۂ حدید، آیت ١٠)


کا رواج ان کے افکار میں رچ بس گیا تھا۔ لیکن جوان نسل کے اذہان اور افکار، جوانی کی بنا پر نئے عقائد او رافکار کو قبول کرنے کے لئے آمادہ اور تیار تھے۔

ایک تاریخی رپورٹ کی بنیاد پر پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے مخفی دعوت کے زمانہ میں جوانوں اور ضعیفوں کا ایک گروہ اسلام کا گرویدہ ہوگیا تھا۔(١)

جس وقت پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے ظاہری تبلیغ کا آغاز کیا اور آپ کی اتباع اور پیروی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا تو قریش کے سردار کئی مرتبہ ابوطالب سے شکایت کرنے کے بعد، آخری بار ان کے پاس آئے اور ان سے کہا: ہم کئی بار تمہارے پاس آچکے ہیں تاکہ تمہارے بھتیجے کے بارے میں تم سے بات کریں کہ ہمارے آباؤ و اجداد اور خداؤوں کو برا بھلا نہ کہیں اور ہمارے بچوں، جوانوں، غلاموں اور کیزوں کو ہمارے راستے سے نہ ہٹائیں...''۔(٢)

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے جب طائف کا تبلیغی سفر کیا تو اس شہر کی اہم شخصیتوں نے اس ڈر سے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا کہ کہیں ان کے جوان آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پیروی نہ کرنے لگیں۔(٣) مسلمانوں کے حبشہ ہجرت کرنے کے بعد جب قریش کے نمائندے مہاجرین کو پلٹانے کے لئے نجاشی کے دربار میں گئے تو درباریوں سے گفتگو کے دوران اسلام کی طرف مکہ کے جوانوں کے رحجانات کی شکایت کی۔(٤)

ایک شخص قبیلۂ ''ہذیل'' سے مکے میں آیا تو پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے اسے اسلام کی طرف دعوت دی۔

______________________

(١) ابن سعد ، طبقات الکبریٰ (بیروت: دار صادر)، ج١، ص ١٩٩.

(٢)بلاذری، انساب الاشراف، تحقیق: محمد حمید اللہ (قاہرہ: دار المعارف، ط ٣)، ج١، ص ٢٢٩؛ مراجعہ کریں: بحار الانوار، ج١٨، ص ١٨٥

(٣)ابن سعد ، گزشتہ حوالہ، ص ٢١٢۔

(٤)ابن ہشام ، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٥٨؛ طبرسی، اعلام الوریٰ، (تہران: دار الکتب الاسلامیہ، ط ٣)، ص ٤٤؛ سبط ابن جوزی، تذکرة الخواص (نجف: المکتبہ الحیدریہ، ١٣٨٣ھ)، ص ١٨٦۔


ابوجہل نے اس ہذلی سے کہا: ''کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اس کی بات کو قبول کرلو؛ اس لئے کہ وہ ہم کو بے وقوف اور ہمارے گزشتہ آبا و اجداد کو جہنمی کہتا ہے اور دوسری عجیب و غریب باتیں کرتا ہے!''

ہذلی نے کہا: تم کیوں نہیں اس کو اپنے شہر سے باہر کردیتے؟

ابو جہل نے جواب دیا: اگر وہ باہر چلا گیا اور جوانوں نے اس کی باتوں کو سن لیا اور اس کی شیرین بیانی کو دیکھ لیا تو وہ اس کے گرویدہ ہو جائیں گے اور اس کی پیروی کرنے لگیں گے اور ممکن ہے وہ ان کی مدد سے ہم پر حملہ کردے۔(١)

عتبہ: ( قریش کا ایک سردار) نے بھی اسعد بن زرارہ (جو کہ مدینہ میں قبیلۂ خزرج کے بزرگوں میں سے تھا) سے ملنے پر پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م سے جوانوں کے رحجانات اور لگاؤ کا شکوہ کیا۔(٢)

ابتدائی مسلمانوں کی فہرست کا تجزیہ کرنے سے پتہ چلتاہے کہ ان میں زیادہ تر افراد کی عمر، اسلام قبول کرتے وقت ٣٠ سال سے کم تھی۔ مثلاً سعد بن وقاص ١٧(٣) یا ١٩(٤) سال، زبیر بن عوام ١٥(٥) یا ١٦(٦) او رعبد الرحمن بن عوف ٣٠ سال کے تھے کیونکہ وہ ''عام الفیل'' کے دس سال بعد پیدا ہوئے تھے۔(٧) مصعب ابن عمیر بھی تقریباً ٢٥ سال کے تھے۔ کیونکہ جنگ احد ٣ھ میں شہادت کے وقت تقریباً چالیس سال کے تھے۔(٨) ارقم جن کا گھر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اختیار میں تھا وہ ٢٠ یا ٣٠

______________________

(١)بلاذری، سابق، ص١٢٨.

(٢) طبرسی ، سابق، ص ٥٦.

(٣) ابن سعد ، سابق، ج٣، ص ١٣٩.

(٤) حلبی، سیرة الحلبیہ، (بیروت: دار المعرفہ)، ج١، ص ٤٤٦.

(٥) حلبی، سابق، ج١، ص ٤٣٤.

(٦) ابن سعد، سابق، ج٣، ص ١٠٢.

(٧) گزشتہ حوالہ، ص ١٢٤.

(٨) ابن سعد، سابق، ج٣، ص ٢٢٢.


سال کے تھے کیونکہ مرتے وقت (٥٥ھ) میں وہ ٨٠ یا ٨٢ سال کے تھے۔(١)

ب: محروموں اور مظلوموں کا طبقہ:

اس گروہ کا مطلب جو اسلامی کتابوں میں ''ضعیفوں'' اور ''مستضعفین'' کے نام سے ذکر ہوا ہے۔ غلام یا آزاد شدہ افراد تھے جو اپنی آزادی کے باوجود عربوں کی رسم کے مطابق ایک طرح سے اپنے آپ کو آقاؤوں سے متعلق اور وابستہ سمجھتے تھے اور اصطلاح میں ان کو ''مولیٰ'' (آزاد شدہ) کہا جاتا تھا۔ مستضعفین کا دوسرا گروہ پردیسی اور مسافروں کا تھا جو دوسرے علاقوں سے آکر مکہ میں بس گئے تھے اور چونکہ وہاں کے کسی قبیلہ سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا لہٰذا وہ مجبوری کے تحت اپنی جان و مال کی حفاظت کے لئے کسی ایک طاقت ور قبیلہ کی پناہ میں رہتے تھے لیکن پھر بھی قریش کے لوگوں کے مساوی حقوق سے محروم تھے اور اجتماعی لحاظ سے انھیں ایک پست اور حقیر طبقہ سمجھا جاتا تھا۔

مکہ میں اس گروہ کا کوئی قبیلہ یا خاندان نہیں تھا اور نہ ہی اس کے پاس کوئی قدرت و طاقت تھی(٢) لیکن اسلام قبول کرنے میں سب سے آگے تھے لہٰذا ان کا مسلمان ہو جانا مشرکوں پر بہت ہی تلخ اور گراں گزرا اور انھیں مسلمانوں کی تحقیر کا مناسب بہانہ مل گیا۔

ایک روایت کی بنا پر جب پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م مسجد الحرام میں تشریف فرما ہوتے تھے تو آپ کے ضعیف پیرو، جیسے عمار یاسر، خباب بن الارت، صُہَیب بن سنان، بلال بن رَباح، ابوفَکیَہ اور عامر بن فُہَیر، آپ کے پہلو میں بیٹھتے تھے تو قریش ان کا مذاق اڑاتے تھے اور طعنہ دے کر ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ دیکھو اس کے ہم نشین ایسے لوگ ہیں۔ خدا نے ہم سب لوگوں کے درمیان میںسے فقط ان

______________________

(١) ابن سعد، سابق، ج٣، ص ٢٤٤۔ عبد المتعال مصری نے ایک کتاب ''شباب قریش فی بدء الاسلام'' کے نام سے تالیف کی ہے اورقریش کے جن چالیس جوان افراد نے دعوت اسلام کو قبول کیا تھا ان کو ترتیب کے ساتھ ذکر کیا ہے اور انھیں سنّی بتایا ہے ، جن میں سب سے اول حضرت علی ہیں۔ ص ٣٤۔ ٣٣.

(٢)بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٥٦اور ١٨١؛ رجوع کریں: طبقات الکبریٰ، ج٣، ص ٢٤٨۔


پر احسان کیاہے (کہ اسلام کو قبول کرکے ہدایت یافتہ ہوئے ہیں)۔(١)

ایک دن قریش کے سرداروں کا ایک گروہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مجلس کے بغل سے گزرا تو اس وقت صہیب ، خبّاب، بلال، عمار وغیرہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بارگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے ان لوگوں نے یہ منظر دیکھ کر کہا: ''اے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! اپنی قوم والوں میں سے صرف ان پر تکیہ کیاہے؟! کیا ہم ان کی پیروی کریں؟! کیا خدا نے صرف ان پر احسان کیا ہے (اور ان کی ہدایت کی ہے؟!) ان کو اپنے سے دور کردو شاید ہم تمہاری پیروی کرلیں ۔ اس وقت سورۂ ''انعام'' کی ٥٢ ویں اور ٥٣ ویں آیت نازل ہوئی۔(٢)

''اور خبر دار جو لوگ صبح و شام اپنے خدا کو پکارتے ہیں اور خدا ہی کو مقصود بنائے ہوئے ہیں انھیں اپنی بزم سے الگ نہ کیجئے گا۔ نہ آپ کے ذمہ ان کا حساب ہے اور نہ ان کے ذمہ آپ کا حساب ہے کہ آپ انھیں دھتکار دیں اور اس طرح ظالموں میں شمار ہوجائیں''۔

اور اسی طرح ہم نے بعض کو بعض کے ذریعہ آزمایا ہے تاکہ وہ یہ کہیں کہ یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے ہمارے درمیان فضل و کرم کیا ہے اور کیا وہ اپنے شکر گزار بندوں کو بھی نہیں جانتا؟!(٣)

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کے ابتدائی سالوں میں قریش نے چند نمائندے مدینہ بھیجے تاکہ اس شہر کے یہودیوں سے آپ کے بارے میں تحقیق کریں۔ ان لوگوں نے یہودیوں سے کہا: ''جو حادثہ ہمارے شہر میں رونما ہوا ہے اس کے لئے ہم تمہارے پاس آئے ہوئے ہیں ایک یتیم اور حقیر جوان بڑی بڑی باتیں کر رہا ہے اس کا خیال ہے کہ وہ ''رحمان'' کی طرف سے بھیجا گیا ہے اور ہم، صرف ایک شخص کو اس نام سے جو ''یمامہ'' میں رہتا ہے جانتے ہیں''

یہودیوں نے پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی خصوصیات کے بارے میں چند سوالات کئے ان میں ایک سوال یہ تھا

______________________

(١)گزشتہ حوالہ۔

(٢) طبرسی، مجمع البیان، ج٢، ص ٣٠٥.

(٣)سورۂ انعام،آیت ٥٣۔ ٥٢۔


کہ کن لوگوں نے اس کی پیروی کی ہے؟

ان لوگوں نے کہا: ہم میں سے پست لوگوں نے۔

یہودیوں کا بڑا عالم ہنسا اور کہا: یہ وہی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہے جس کی نشانیاں ہماری کتابوں میں موجود ہیں اور اس کی قوم اس کی شدید دشمن ہو جائے گی۔(١)

البتہ مفلوک الحال لوگوں کا تیزی کے ساتھ اسلام کی طرف رجحان ہرگز مصلحتی اسلام یا طبقاتی منافع کی خاطر نہیں تھا بلکہ انسانی تسلط اور حکمرانی کے نفی کا پہلو اور خدائی حکمرانی کے قبول کرنے کا مسئلہ تھا اور یہ مسئلہ سب سے زیادہ، مستکبرین اور تسلط خواہوں کے اجتماعی طاقت کے لئے خطرہ بن گیا تھا اوران کی مخالفت کو اکسانے کا باعث بنا تھا جیسا کہ گزشتہ پیغمبروں کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہو ا ہے۔

''تو ان کی قوم کے بڑے لوگ جنھوں نے کفر اختیار کرلیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم تو تم کو اپنا ہی جیسا ایک انسان سمجھ رہے ہیں اور تمہارے اتباع کرنے والوںکو دیکھتے ہیں کہ وہ ہمارے پست طبقہ کے سادہ لوح افراد ہیں۔ ہم تمہارے لئے اپنے اوپر کسی فضیلت وبرتری کے قائل نہیں ہیںبلکہ تمھیں جھوٹا خیال کرتے ہیں''۔(٢)

''تو ا ن کی قوم کے بڑے لوگوں نے کمزور بنادیئے جانے والے لوگوں میں سے جوایمان لائے تھے ان سے کہنا شروع کیا کہ کیا تمھیں اس کا یقین ہے کہ صالح خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ بیشک ہمیں ان کے پیغام کا ایمان اور ایقان حاصل ہے۔ تو بڑے لوگوں نے جواب دیا کہ ہم تو ان باتوں کے منکر ہیں جن پر تم ایمان لائے ہو''۔(٣)

______________________

(١) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٦٥؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٤٩٩۔

(٢) سورۂ ہود، آیت ٢٧۔

(٣) سورۂ اعراف، آیت ٧٦۔ ٧٥۔


دعوت ذو العشیرہ

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی رسالت کے تیسرے سال فرشتۂ وحی خدا کا حکم لیکر آپ کے پاس نازل ہوا کہ اپنے خاندان والوں اور رشتہ داروں کو ڈرائیں اور انھیں دعوت دیں:

''اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈارئیے اور جو صاحبان ایمان آپ کا اتباع کرلیں ان کے لئے اپنے شانوں کو جھکا دیجئے پھر یہ لوگ آپ کی نافرمانی کریں تو کہہ دیجئے کہ میں تم لوگوں کے اعمال سے بیزار ہوں''(١)

اس آیت کے نازل ہونے پر پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے علی کو حکم دیا کہ کھانے کا انتظام کیا جائے اور عبد المطلب کی اولاد کو دعوت دی جائے تاکہ خدا کا حکم ان تک پہنچایا جاسکے۔ چنانچہ علی نے ایسا ہی کیا۔ تقریباً کم و بیش چالیس (٤٠) افراد جمع ہوئے جن میں ابوطالب، حمزہ اور ابولہب بھی تھے، کھانا کم تھا اور عام طور سے اتنا کم کھانا اتنے بڑے مجمع کے لئے ناکافی تھا۔ لیکن سب نے سیر ہوکر کھایا ۔ ابولہب نے کہا: ''اس نے تم پر جادو کر دیا ہے'' یہ بات سن کر سارا مجمع پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات سننے سے کنارہ کش ہوگیا اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی کوئی بات نہیں کہی اور مجلس کسی نتیجہ پر پہنچے بغیر تمام ہوگئی۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم سے دوسرے دن علی نے پھر اسی طرح کھانے کا انتظام کیا اور ان لوگوں کو دعوت دی اس مرتبہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجمع سے کھانا کھانے کے فوراً بعد فرمایا: ''عرب کے درمیان کوئی ایسا نہیں ہے جو مجھ سے بہتر چیز تمہارے لئے لے کر آیا ہو میں دنیا اور آخرت کی بھلائی اور نیکی تمہارے لئے لیکر آیا ہوںخدا نے حکم دیا ہے کہ تم کو اس کی جانب دعوت دوں تم میں سے کون ہے جو اس وقت میری مدد کرنے کے لئے تیار ہے؟ تاکہ وہ میرا بھائی، وصی اور جانشین تمہارے درمیان قرار پائے''

کسی نے جواب نہ دیا، علی جو کہ سب سے کم سن تھے، کہا: اے خدا کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! میں آپ کی مدد

______________________

(١)سورۂ شعرا، آیت ٢١٦۔ ٢١٤۔


کرنے کے لئے تیار ہوں'' پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''یہ تمہارے درمیان میرا بھائی، وصی اور جانشین ہے، اس کی باتوں کو سنو اور اس کی اطاعت کرو''۔(١)

یہ واقعہ ہم کو ایک بنیادی مطلب کی طرف راہنمائی کرتاہے کہ ''نبوت'' اور ''امامت'' دو ایسے بنیادی اصول ہیں جو ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں کیونکہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے اپنی رسالت کے ابتدائی

______________________

(١) یہ واقعہ اسلامی دانشوروں کے درمیان ''بدء الدعوة'' ،''یوم الدار'' اور ''یوم الانذار'' کے نام سے مشہور ہے، اکثر محدثین، مفسرین اور مورخین نے اس واقعہ کو تھوڑے سے الفاظ کے اختلاف کے ساتھ نقل کیا ہے ، ان میں سے محمد بن جریر الطبری، تاریخ الامم و الملوک، ج٢، ص ٢١٧؛ ابن اثیر، الکامل فی تاریخ ، ج٢، ص ٦٣؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج١٣، ص ٢١١؛ بیہقی، دلائل النبوة، ترجمہ محمود مہدی دامغانی، ج١، ص ٢٧٨؛ طبرسی، مجمع البیان، ج٧، ص ٢٠٦؛ شیخ مفید، الارشاد، ص ٢٩؛ علی بن موسی بن طاوس، الطرائف فی معرفة مذاہب الطوائف، ج١، ص٢٠؛ حلبی، السیرة الحلبیہ، (انسان العیون)، ج١، ص ٤٦١؛ مجلسی، بحارالانوار، ج١٨، ص ١٧٨؛ ١٨١، ١٩١، ٢١٤؛ علامہ امینی ، الغدیر، ج٢، ص ٢٨٩۔ ٢٧٨؛ سید مرتضی عسکری، نقش ائمہ در احیاء دین، ج٢، ص ٨٦؛ ج٦، ص ١٨۔ ١٧؛ احمد حنبل، مسند، ج١، ص ١٥٩۔ قابل ذکر ہیںجیسا کہ مرحوم علامہ امینی نے توجہ دی ہے کہ مورخین کے درمیان طبری نے اپنی تاریخ میں اسی طرح سے نقل کیا ہے جیسا کہ ہم نے لکھا ہے۔ لیکن اپنی تفسیر (جامع البیان، ج١٩، ص ٧٥) میں کلام پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دو جگہ پر تحریف کر کے بجائے میرا وصی اور جانشین کے ''ایسااور ویسا'' لفظ ذکر کیا ہے:فأَیُّکم یؤازرنی علی هذا الامر علی ان یکون اخی و کذا و کذا ثم قال ان هذا اخی و کذا و کذا فأسمعوا له و اطیعوه ۔ اسماعیل بن کثیر شامی نے بھی اپنی تین کتابوں میں (تفسیر ، ج٣، ص ٣٥١، البدایہ و النہایہ، ج٣، ص ٤٠، السیرہ النبویہ، ج١، ص ٤٥٩) ، میں اس غلط روش میں اس کی پیروی کی ہے! البتہ ان دو افراد کے خاص نظریات کی بنا پر اس مسئلہ میں ان کے مقاصد کو سمجھنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔


سالوں میں اپنی نبوت کے اعلان کے دن، مسلمانوں کی آئندہ رہبری اور امامت کو بھی بیان کیا۔

دوسری طرف سے یہ تصور نہ ہو کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے صرف ایک بار وہ بھی ''غدیر خم'' میں (اپنی زندگی کے آخری مہینے میں) علی کی امامت کو بیان کیا ہے۔ بلکہ دعوت ذو العشیرہ کے علاوہ بھی دوسری مناسبتوں سے (جیسے حدیث منزلت میں) بھی اس موضوع کو ذکر فرمایا ہے: البتہ غدیر میں سب سے زیادہ واضح اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے، جہاں مجمع بھی بہت زیادہ تھا۔

سوروں کی ترتیب نزول کے لحاظ سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ دعوت ذو العشیرہ کا واقعہ، دعوت ظاہری سے کچھ دن پہلے پیش آیا ہے۔(١)

______________________

(١)سورۂ ''شعرائ'' جس میں آیات انذار موجود ہے سورۂ واقعہ کے بعد نازل ہوا ہے اور پھر ترتیب وار سورۂ ''نمل، قصص، اسرائ، یونس، ھود، یوسف'' اور ''سورۂ حجر'' جس میں علنی دعوت کا حکم ''فاصدع بما تؤمر'' موجود ہے نازل ہوا ہے (محمد ہادی معرفت، التمہید فی علوم القرآن، ج١، ص ١٠٥)


دوسری فصل

علی الاعلان تبلیغ اور مخالفتوں کا آغاز

ظاہری تبلیغ کا آغاز

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م ایک عرصہ سے مخفی دعوت کا آغاز کرچکے تھے اس کے بعد خداوند عالم کی طرف سے آپ کوحکم ملا کہ اپنی دعوت کو علی الاعلان پیش کیجئے اور مشرکین سے نہ ڈریئے۔ ''پس آپ اس بات کا واضح اعلان کردیں جس کا حکم دیا گیا ہے اور مشرکین سے کنارہ کش ہو جائیں ہم ان استہزاء کرنے والوں کے لئے کافی ہیں''۔(١)

یہ فرمان ملنے پر ایک دن پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م مقام ''ابطح''(٢) میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ''میں خدا کی جانب سے بھیجا گیا ہوں تم کو خدائے یکتا کی عبادت اور بتوں کی عبادت ترک کرنے کی دعوت دیتا

______________________

(١) سورۂ حجر، آیت ٩٥

(٢)ابطح سے مراد ، منیٰ کے نزدیک ایک درہ ہے (یاقوت حموی، معجم البلدان، ج١، ص ٧٤) گویا حج کے وقت منی میں حاجیوں کے اجتماع کے موقع پر فرمایا ہے۔


ہوں جو کہ نہ تمہیں نفع پہنچاتے ہیں اور نہ نقصان، نہ تمہارے خالق ہیں اور نہ ہی رازق، اور نہ کسی کو زندہ کرتے ہیں اور نہ کسی کو مارتے ہیں''۔(١)

اس دن سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت ایک نئے مرحلہ میں داخل ہوگئی اور آپ نے اجتماعی پروگراموں میںحج کے دوران، منیٰ اوراطراف مکہ میں رہنے والے قبائل کے درمیان دعوت و تبلیغ، شروع کردی۔

قریش کی کوششیں

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے ظاہری تبلیغ کے آغاز میں، قریش نے کوئی خاص عکس العمل (ریکشن) نہیںدکھایا؛ لیکن جس دن سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے بتوں کا کھلے الفاظ میں سختی سے انکار کیا اور بتوں کوایک بے شعور اور بے اثر؛ موجود بتایا، ان کو طیش آگیا اور وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مخالفت اور ان کے خلاف گروپ بازی پر کمر بستہ ہوگئے۔(٢) لیکن چونکہ مکہ میں قبیلہ جاتی نظام پایا جاتا تھا لہٰذا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو گزند پہنچانے پر انھیں قبیلۂ بنی ہاشم کے انتقام کا خطرہ لاحق تھا لہٰذا وہ قریش کے سرکردہ لوگوں سے مشورہ کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کودعوت سے روکنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ابو طالب پر جو کہ اس کے چچا ہیں اور ان کی نظر میں محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بڑا احترام ہے ،دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اپنے بھتیجے کو اس راہ پر چلنے سے منع کریں۔ لہٰذا وہ لوگ کئی بار جناب ابوطالب سے اس خیال سے ملے کہ وہ (ابوطالب) حسب و نسب اور سن کے لحاظ سے

______________________

(١) تاریخ یعقوبی، ج١، ص ١٩۔ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی پہلی ظاہری دعوت مختلف صورتوں میں نقل ہوئی ہے۔ اور شایدآنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد بت پرستوں کو اس طرح کے بیانات سے دعوت دی ہے۔ مراجعہ کریں: یعقوبی، سابق، ص ١٩؛ طبری ، سابق، ج٢، ص ٢١٦؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج١، ص ١٢١؛ بیہقی، سابق، ج١، ص ٢٧٩؛ طبری ، اعلام الوریٰ ، (تہران: دار الکتب الاسلامیہ، ط ٣) ص ٣٩؛ مجلسی، بحار الانوار ، ج١٨، ص ١٨٥؛ حلبی، سابق، ج١، ص ٤٦١.

(٢)طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢١٨؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ (قاہرہ: مطبعة مصطفی البابی الحلی، ١٣٥٥ھ.ق)، ج١، ص ٢٨٢؛ ابن سعد، طبقات الکبریٰ، ج١، ص١٩٩؛ ابناثیر، الکامل فی التاریخ، ج٢، ص٦٣۔


سماج میں اپناایک مقام رکھتے ہیں اور ان سے کہا کہ وہ اپنے بھتیجے کو منع کریں کہ وہ ان کے خداؤوں کو برا بھلا'' اور ان کے دین و آئین کو بیکار؛ اور ان کو بیوقوف اور ان کے آباء و اجداد کو گمراہ کہنے سے باز آجائے۔

وہ لوگ ان ملاقاتوں میں کبھی دھمکی کے ذریعہ اور کبھی مال و ثروت او رریاست کی لالچ دے کر ان سے مطالبہ کرتے تھے اور جب کسی نتیجہ پر نہ پہنچے تو ابوطالب سے پیش کش کی کہ اس کو (محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) عمارہ بن ولید بن مغیرہ سے جو کہ ایک خوبصورت اور طاقت ور جوان، اور قریش کا شاعر ہے بدل لیں۔ لیکن ابوطالب نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔ ایک مرتبہ کفار قریش نے جناب ابوطالب اور پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کو جنگ اور قتل کی سخت دھمکی دی تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کی دھمکی کے جواب میں فرمایا: ''چچا جان! اگر سورج کو ہمارے داہنے ہاتھ پر اور چاند کو بائیں ہاتھ پر رکھ دیں پھر بھی میں اپنے کام سے باز نہ آؤں گا ۔ یہاں تک کہ خداوند اس کام کو کامیابی سے ہمکنار کردے یا میں اس راہ میں نابود ہوجاؤ ں۔(١)

______________________

(١)طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٠٠۔ ٢١٨؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٢٨٧۔ ٢٨٢ اور ٣١٣، ٣١٦؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٨٢؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٠٣۔ ٢٠٢؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ،ص ٢٣٢۔ ٢٣١؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج٢، ص ٦٥۔ ٦٣؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٤٦٣۔ ٤٦٢؛ ابن کثیر، السیرة النبویہ (قاہرہ: مطبعة عیسی البابی الحبی، ١٣٨٣ھ.ق)، ج١، ص٤٧٤۔

اس نقل کے مطابق، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سورج اور چاند سے جواب دینا قریش کی دھمکی سے ظاہراً مناسبت نہیں رکھتا تھا اور اس کے سند میں بھی بحث ہوئی ہے لیکن جو جواب بعض کتابوں میں نقل ہوا ہے وہ قریش کی دھمکی سے مناسبت رکھتا ہے۔ اس نقل کی بنیاد پر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے چچا سے قریش کے دھمکی آمیز پیغام کو سننے کے بعد آسمان کی طرف رخ کر کے فرمایا: ''میرے لئے تبلیغ اور رسالت کا چھوڑنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا تم میں سے کوئی ہاتھ پھیلائے اور چاہے کہ خورشید کا ایک شعلہ اپنے ہاتھ میں لے لے'' اس وقت جناب ابوطالب نے قریش کے نمائندوں سے کہا: خداکی قسم! میرے بھتیجے نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ہے۔ تم لوگ یہاں سے پلٹ جاؤ!'' (حافظ نور الدین ھیثمی، مجمع الزوائد، بیروت: دار الکتاب، ج٦، ص ١٥؛ معجم اوسط، کبیر طبرانی اور مسند ابی یعلی کے نقل کے مطابق) ھیثمی نے روایت ابویعلی کی سند کو صحیح بتایاہے اور مزید رجوع کریں۔ فقہ السیرةکی طرف۔ محمد غزالی، عالم المعرفہ، ص ١١٥۔ ١١٤.


ابوطالب کی طرف سے حمایت کا اعلان

قریش کی دھمکیوں پر جناب ابوطالب نے (رشتہ داری کے ناتے) پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کا اعلان کیا اور قبیلۂ بنی ہاشم کے لوگوں کو خواہ وہ مسلمان رہے ہوں یا بت پرست سب کو اسی کام کے لئے آمادہ کیا اور قریش کو خبر دار کیا کہ اگر ان کے بھتیجے کو گزند پہنچا تو بنی ہاشم کے انتقام سے وہ بچ نہیں سکتے ہیں۔(١) کیونکہ قبائلی جنگ ایک خطرناک کام تھا اور اس کے نتائج افسوس ناک اور غیر مشخص تھے اور قریش کے سردار ابھی اس قسم کا خطرہ مول لینے کے لئے تیار نہیں تھے۔ لہٰذا وہ اپنی اس دھمکی کو پورا نہیں کرسکے اور ناکام رہے۔ بنی ہاشم میں سے صرف ابولہب، دشمنوں کی صف میں تھا۔

قریش کی طرف سے مخالفت کے اسباب

یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قریش نے پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی ظاہری دعوت کے ابتدائی سالوں میں جبکہ اس وقت اسلام کی تعلیمات اور قرآن کے احکام ابھی تھوڑے سے نازل ہوئے تھے، کن خطرات کا احساس کرلیا تھا کہ مخالفت کے لئے کمر بستہ ہوگئے تھے؟

کیا ان کی مخالفت فقط اس بنا پر تھی کہ وہ بت پرست تھے یا دوسرے اسباب و علل بھی پائے جاتے تھے۔ (البتہ یہ گفتگو قریش کے سرداروں او ران کے بزرگوں کے جذبات کے بارے میں ہے، لیکن عوام الناس اپنے قبائل کے سرداروں کی پیروی میں تھے۔ ان کے احساسات اور جذبات کو ابھارنا اور ان کو ایک نئے دین کے خلاف ورغلانا کوئی زیادہ مشکل کام نہیں تھا۔ کیونکہ وہ لوگ اپنے عقائد و

______________________

(١)ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص٢٨٧؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ص٢٢٠؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب (قم: المطبعة العلمیہ)، ج١، ص٥٩؛ ابن اثیر، گزشتہ حوالہ، ص ٦٥؛ ابن کثیر، گزشتہ حوالہ، ص ٤٧٧؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ص ٤٦٣۔


آداب و رسوم کے اس قدر پابند تھے کہ کسی بھی جدید دین کے مقابلہ میں عکس العمل دکھا سکتے تھے۔(١)

مکہ میں قریش کی قدرت ، نفوذ او ران کے اعلیٰ مقام کو دیکھتے ہوئے شاید ان کی مخالفت کو سمجھنا دشوار نہ تھا اس لئے کہ تجارت اور خانہ کعبہ کی کنجی کی ذمہ داری کی بحث میں اس بات کی طرف اشارہ کیا جاچکا ہے کہ یہ قبیلہ مکہ کی اجتماعی اور اقتصادی قدرت کو اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے تھا اور اپنے کسی رقیب کو برداشت نہیں کرتا تھا او رکسی کو اجازت نہیں دیتاتھا کہ بغیر اس کی یا اس کے قبیلہ کی مرضی کے کوئی قدم اٹھا سکے۔ قریش دوسرے قبائل سیخراجلیتے تھے اوران کے ساتھ دوگانہ سلوک کرتے تھے۔ اور اپنی سیاست خانۂ خدا کے زائروں پر تھوپتے تھے۔

اس بنا پر یہ فطری بات تھی کہ بزرگان قریش، حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دین کو برداشت نہ کریں؛ کیونکہ وہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ابتدائی بیانات سے سمجھ گئے تھے کہ اس کا دین ہمارے دین کے برخلاف اور ضد ہے۔ اس کے علاوہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ پیش بینی کردی گئی تھی کہ بہرحال ایک گروہ، آپ کے دین کو قبول کرے گا اور آپ کو اس کے ذریعہ شہرت ملے گی۔ لہٰذا یہ چیزیں ہرگز قریش کی شان کے مطابق نہ تھیں۔

ان تمام باتوں کے پیش نظر مکہ میں نازل ابتدائی آیات اور سوروں اور تمام دستاویز اور شواہد کے تجزیہ و تحلیل سے قریش کی مخالفت کے اسباب و عوامل میں سے چند اہم اسباب کو شمار کیا جاسکتا ہے:

______________________

(١) خداوند عالم نے قرآن مجید میں، متعدد مقامات پر ان کے دینی تعصب؛اورموروثی عقائد اور رسم و رواج کی تقلید کے بارے میں ذکر فرمایا ہے اور اس کی مذمت کی ہے۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں: سورۂ بقرہ، آیت ١٧٠، مائدہ، آیت ١٠٤؛ یونس، آیت ٧٨؛ لقمان ، آیت ٢١؛ زخرف ، آیت ٣٢۔ ٢٢.


١۔ سماجی نظام کے بکھرنے کا خوف

مکہ میں رائج سماجی نظام کے قبائلی ہونے کے اعتبار سے، اور قریش کے پاس بہت ہی زیادہ امتیازات ہونے کی بنا پر ایک طرح سے وہاں قریش کی استکباری حکومت پائی جاتی تھی اور سرداران قریش اس

نظام کے عادی ہوگئے تھے لہٰذا وہ کسی طرح سے تیار نہیں تھے کہ ایک معمولی سی ضرب بھی اس نظام کے ڈھانچہ پر لگے!

یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پیروی کرنے والاپہلا گروہ جوانوں، ضعیفوں، محروموں اور غلاموں کا تھا۔ او رخود آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی سرمایہ داروں میں سے نہیں تھے بلکہ بچپن میں یتیم، جوانی میں نادار اور تہی دست اور قبیلہ کے ا ندر آپ کا شمار دوسرے درجہ کے افراد میں ہوتا تھا۔ آپ کے چچا ابوطالب بھی تمام خاندانی شرافتوں کے باوجود تنگدست تھے اور یہ تمام چیزیں سرداران قریش کو خبردار کر رہی تھیں کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت تبلیغ نے ان کے نظام اجتماعی کی بنیادوں کو خطرہ میں ڈال دیا اور ہم نے یہ بھی مشاہدہ کیا ہے کہ وہ لوگ، تبلیغ کے انھیں ابتدائی دنوں سے جوانوں، محروموں اور غلاموں کے رجحانات کا شکوہ کرتے تھے۔ اور حبشہ سے مہاجرین کو پلٹانے کے لئے قریش کے نمائندوں نے نجاشی کے دربار میں اپنے آپ کو مکہ کے سرمایہ داروں کا نمائندہ بتایا۔(١)

قرآن ان کے اس استکبارانہ نظریات پر معترض ہوا (کیونکہ مکہ یا طائف کا کوئی ثروتمند پیغمبری کے درجے پر فائز نہیں ہوا تھا) اوراس کو اس طرح سے بیان کیا: ''اور یہ کہنے لگے کہ آخر یہ قرآن دو بستیوں (مکہ و طائف) کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں نازل کیا گیا ہے''۔(٢)

ایک تفسیر کی بنیاد پر مرد بزرگ سے مراد مکہ میں ولید بن مغیرہ (بنی مخزوم کا سردار) اور طائف میں عروہ بن مسعود ثقفی (مشہور دولتمند) ہے۔(٣) اس آیت کی شان نزول کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ ایک دن ولید نے کہا: کس طرح سے یہ قرآن محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نازل ہوا؟ اور مجھ پر نازل نہ ہوا؟ جبکہ میں

______________________

(١)وقد بعثنا فیهم اشراف قومهم ۔ (ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج١، ص ٣٥٨.

(٢)''و قالوا لولا نزل هذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم'' (سورۂ زخرف، آیت ٣١)

(٣) طبرسی، مجمع البیان، ج٩، ص ٤٦.


قریش کا سید و سردار ہوں!''(١) لہٰذا ابتدا میں قریش حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت سے اس لئے مخالف ہوگئے کہ وہ ان کے اجتماعی نظام کے لئے خطرہ بن گئے تھے نہ اس لحاظ سے کہ انھوں نے ایک نیا آئین پیش کیا تھا۔

اقتصادی خوف

بعض معاصر محققین نے قریش کی مخالفت کا ایک قوی سبب اقتصادی مقاصدکو قرار دیا ہے۔ قرآن مجید کی مکی آیات کا ایک حصہ ثروتمند وں اور مالداروں کی شدت سے مذمت کرتاہے۔ مکہ کے بڑے سرمایہ داروں او ردولتمندوں نے (جیسا کہ تجارت اور کعبہ کی کنجی کی بحث میں، بعض افراد کی بے شمار دولت سے آگاہ ہوچکے ہیں) ان آیات کو سن کر، خطرے کا احسا س کیا کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دین کو ترقی ملنے پر، ان کے اقتصادی منافع خطرے میں پڑ جائیں گے۔ اس طرح کی کچھ آیات بطور نمہ پیش ہیں:

''اب مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دو جس کو میں نے اکیلا پیدا کیا ہے۔ اور اس کے لئے کثیر مال قرار دیا ہے۔ او رنگاہ کے سامنے رہنے والے بیٹے قرار دئے ہیں ۔ اور ہر طرح کے سامان میں وسعت دی ہے اور پھر بھی چاہتا ہے کہ او راضافہ کروں۔ ہرگز نہیں یہ ہماری نشانیوں کا سخت دشمن تھا''۔(٢)

''ہم عنقریب اسے جہنم واصل کردیں گے۔ اور تم کیا جانو کہ جہنم کیاہے۔ وہ کسی کو چھوڑ نے والا اور باقی رکھنے والا نہیں ہے۔ بدن کو جلا کر سیاہ کردینے والا ہے''۔(٣)

______________________

(١) ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج١، ص٣٨٧؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج١، ص٥٠۔

(٢) سورۂ مدثر، آیت ١٦۔ ١١۔

(٣)''سأصلیه سقر،وماادریٰک ما سقر،لاتبق ولاتذر،لواحة للبشر'' (سورۂ مدثر، آیت ٢٩۔ ٢٦) ، سورۂ مدثر کو سوروں کی ترتیب نزول کے اعتبار سے چوتھا سورہ کہا گیا ہے۔ (التمہید، ج١، ص ١٠٤)


''ابولہب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ ہلاک ہو جائے۔ نہ اس کا مال ہی اس کے کام آیا او رنہ اس کا کمایا ہوا سامان ہی۔ وہ عنقریب بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا''۔(١)

''تباہی اور بردبادی ہے ہر طعنہ زن اور چغلخور کے لئے۔ جس نے مال کو جمع کیا اور خوب اس کا حساب رکھا۔ اس کا خیال تھا کہ یہ مال اسے ہمیشہ باقی رکھے گا۔ ہرگز نہیں اسے یقینا حطمہ میں ڈال دیا جائے گا۔ او رتم کیا جانو کہ حطمہ کیا شے ہے۔ یہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔ جو دلوں تک چڑھ جائے گی''۔(٢)

''پھر جس نے خدا کی راہ میں مال عطا کیا اور تقویٰ اختیار کیا۔اور نیکی کی تصدیق کی۔ تو اس کے لئے ہم آسان راہ کا انتظام کردیں گے۔ اور جس نے بخل کیا اور لاپرواہی برتی۔ اور نیکی کو جھٹلایاہے۔ اس کے لئے سختی کی راہ ہموار کردیں گے۔ اور اس کا مال کچھ کام نہ آئے گا جب وہ ہلاک ہو جائے گا''۔(٣)

ان آیات میں غور وغوض کرنے سے ا ور ان کی شان نزول کے بارے میں تحقیق کرنے سے پتہ چلتاہے کہ یہ آیات ان کی مخالفت کے اظہار کے بعد نازل ہوئی ہیں (اور ان کی ابتدائی مخالفت کی علت نہیں تھیں) اور شاید مخالفت اور دشمنی میں شدت پیدا کرنے کے لئے اور مخالفین کی تعداد کے بڑھنے میں مؤثر تھیں۔

بہرحال، مکہ کے بڑے سرمایہ دار اور تاجر حضرت کے اصل مخالفین میں تھے۔

______________________

(١)''تبَّت یدا ابی لهب و تب، ما اغنی عنه ماله و ماکسب، سیصلی ناراً ذات لهب'' ۔ (سورۂ مسد، آیت ٣۔ ١) سورۂ مسد کو سوروں کی ترتیب نزول کے اعتبار سے چھٹا سورہ کہا گیاہے۔ (التمہید ، ج١، ص ١٠٤)

(٢)سورۂ ھمزة، آیت ٧۔ ١۔

(٣) ''فأما من اعطیٰ و اتقی و صدق بالحسنیٰ، فسنیسره للیسری، و اما من بخل و استغنیٰ و کذب بالحسنیٰ فسنیسره للعسری و مایغنی عنه ماله اذا تردیٰ''

(سورۂ لیل، آیت ١١۔ ٥) اس سورہ کو ترتیب نزول کے اعتبار سے نواں سورہ کہا گیا ہے۔ (التمہید، ج١، ص ١٠٤)


ایک مورخ کہتا ہے: ''چونکہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی قوم کو راہ راست اور اس نور کی طرف بلا رہے تھے جو ان پر نازل ہوا تھا لہٰذا دعوت کے آغاز میں وہ آپ سے دور نہیں ہوئے اور قریب تھا کہ وہ آپ کی باتوں کو قبول کرلیں۔ اسی اثنا میں آپ نے ان کے طاغوتوں اور خداؤوں کو برا بھلا کہنا شروع کردیا اور قریش کا ایک ثروتمند اور مالدار گروہ طائف سے آیا(١) اور آپ کی باتوں کو ناپسند کیا اور قبول کرنے سے انکار کردیااور آپ کے ساتھ بری طرح سے لڑنے کے لئے کھڑا ہوگیا اور اپنے چاہنے والوں کو آپ کے خلاف ورغلایا اس وقت کچھ لوگ آپ سے کنارہ کش ہوگئے اور آپ کو چھوڑ دیا۔(٢)

______________________

(١) گویا ان لوگوں نے اپناسرمایہ طائف میں لگا رکھا تھا اور مکہ کے علاوہ وہاں پر بھی تجارت کا ایک مرکز بنا رکھا تھا۔

(٢) طبری، تاریخ الامم و الملوک (بیروت: دارالقاموس الحدیث)، ج٢، ص ٢٢١؛ جو لوگ انسانی زندگی اور سماج کی تبدیلیوں کو صرف مادی نظر سے دیکھتے ہیں وہ اسلام سے قریش کی مخالفت کا سبب، اقتصادی مقاصد کو حد سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں وہ درحقیقت مسئلے کے صرف ایک پہلو کو نظر میں رکھتے ہیں۔ پطروشف کی (جو کہ روس کا مشہور اسلام اور ایران شناس او رلنینگراڈ یونیورسٹی کے شرق شناسی کالج کا پروفیسر ہے، کو اس قسم کے مسئلہ میں قضاوت اورتفکر کا ایک نمونہ سمجھا جاسکتا ہے، وہ لکھتا ہے کہ ''... بزرگان مکہ، ربا خور اور غلاموں کی تجارت کرتے تے اور کھلم کھلا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تبلیغات کی مخالفت کرتے تھے یہ نہیں کہا جاسکتاہے کہ اس دشمنی کا سبب دینی تعصب تھا بلکہ بت پرستی کے خلاف محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تبلیغات مکہ کے تاجروں کے سیاسی اور تجارتی منافع کے لئے خطرہ بن گئی تھیں، کیونکہ آپ کی دعوت سے ممکن تھا کہ کعبہ اور بتوں کی پرستش ختم ہو جائے اور یہ نہ تنہا زوار کے ہجوم کو کم کرے گا بلکہ مکہ کے بازار کو بھی ماند اور اس شہر کے تجارتی معاملات کودوسرے علاقوں سے بھی کم کردے گا بلکہ مکہ کے سیاسی نفوذ کے ختم ہونے کا باعث بنے گا۔ یہی وجہ تھی کہ صنادیدمکہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت کو اپنے منافع کے لحاظ بہت زیادہ خطرناک سمجھ رہے تھے اور آپ سے نفرت کرتے تھے (اسلام در ایران، ترجمۂ کریم کشاورزی، ج٧، تہران: انشارات پیام، ١٣٦٣، ص ٢٦)، متن میں جو وضاحت ہم نے کی ہے اس سے پطروشفتکی کے نظریہ کا بے بنیاد ہونا ثابت ہو جاتا ہے اور مزید توضیح کی ضرورت نہیں رہ جاتی۔


پڑوسی طاقتوں کا خوف و ہراس

قرآن مجید نے ان کے خوف و ہراس کے اظہارات کو نقل کیا ہے جو انھیں پڑوسی ملکوں اور طاقتوں سے اسلام قبول کرنے کی صورت میں لاحق تھا۔ اور اس خوف و ہراس کو بے جا قرار دیا ہے۔

''اور کفار کہتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ حق کی پیروی کریں گے تواپنی زمین سے اچک لئے جائیں گے۔ تو کیا ہم نے انھیں ایک محفوظ حرم پر قبضہ نہیں دیا ہے جس کی طرف ہر شے کے پھل ہماری دی ہوئے روزی کی بنا پر چلے آرہے ہیں لیکن ان کی اکثریت سمجھتی ہی نہیں ہے''۔(١)

ایک دن حارث بن نوفل بن عبد مناف نے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہا: ''ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں وہ حق ہے۔ لیکن اگر ہم آپ پر ایمان لے آئیں اور آپ کے ہم عقیدہ ہو جائیں تو ہمیں ڈر ہے کہ کہیں عرب ہمیں اپنی سرزمین سے نکال نہ دیں اور ہم عرب سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں''۔(٢)

ان کے اظہارات سے پتہ چلتاہے کہ انھیں ایران و روم کے شہنشاہوں(٣) کی ناراضگی کا خوف بھی تھا۔ اور یہ چیز پڑوسی ملکوں کے مقابلہ میں عربوں کی حقارت اور کمزوری کی علامت بھی ہے۔ جیسا کہ ایک دن پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے عرب کے چند بڑے لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دی اور قرآن کریم کی کچھ آیات کو جو فطری اور اخلاقی تعلیمات پر مشتمل تھیں ان کے لئے تلاوت فرمائی ؛ تو وہ سب کے سب بے حد متاثر ہوئے اور ہر ایک نے اپنے طور پر آپ کی تحسین و تعریف کی لیکن مثنی بن حارثہ جو، ان کا رأس رئیس اور اصل سرغنہ تھا اس نے کہا: ''ہم دو پانی کے بیچ بسے ہوئے ہیں ایک طرف سے عرب کا دریا اور ساحلی علاقہ اور دوسری طرف سے ایران اور کسریٰ کی نہریں ہم کو گھیرے ہوئے ہیں، کسریٰ نے ہم سے عہد لے رکھا ہے کہ کوئی نئی بات نہ ہونے پائے اور کسی خطاکار کو پناہ نہ دی جائے ۔

____________________

(١) سورۂ قصص، آیت٥٧۔

(٢) طبرسی، مجمع البیان، ج٧، ص٢٦٠؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، (قم: المطبعة العلمیہ)، ج١، ص٥١۔

(٣) مناقب، ج١، ص ٥٩۔


لہٰذا شاید آپ کے آئین کو قبول کرنا شہنشاہوں کیلئے خوش آئند نہ ہو۔ اور اگر ہم سے ، سرزمین عرب میں کوئی غلطی ہو جائے تو وہ قابل چشم پوشی ہے لیکن اس طرح کی غلطیاں ایران کے علاقے میں (کسری کی طرف سے) قابل عفو و بخشش نہیں ہیں۔(١)

قبیلہ جاتی رقابت اور حسد

قبائلی ڈھانچے کا ایک اثر یہ ہوا کہ اہم موضوعات پر رقابت اور بے حد فخر و مباہات شروع ہوگئے جس کی وجہ سے اس قبائلی سماج میں ناانصافی ہونا شروع ہوگئی اور چونکہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م قبیلۂ بنی ہاشم سے تھے لہٰذا سارے سرداران قبائل رقابت اور قبائلی حسد کے جذبہ کے تحت آپ کی نبوت کو (جو کہ بنی ہاشم کی شرافت اور فخر و مباہات کا باعث تھی) قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ ابوجہل قبیلۂ بنی مخزوم سے تھا،جو کہ قبائل قریش میں سے ثروتمندترین اور پرنفوذ ترین قبیلہ تھا اس نے اس بات کو کھل کر بیان کیا:

''ہم نے عبد مناف کے لڑکوں سے شرف و بزرگی کی خاطر جنگ کی، وہ لوگوں کو کھانا کھلاتے تھے لہٰذا ہم نے بھی لوگوں کو کھانا کھلانا شروع کردیا وہ لوگوں کے لئے سواری کا انتظام کرتے تھے۔ لہٰذا ہم نے بھی ایسا کیا وہ لوگوں کو پیسہ دیتے تھے تو ہم نے بھی ایسا کیا۔ یہاں تک ہم دونوں برابر ہوگئے اور دو گھوڑوں کی طرح دونوں میں مسابقہ ہوا اس وقت وہ کہنے لگے کہ ہم میں سے ایک پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے درجہ پر فائز ہوا جس کے اوپر آسمان سے وحی نازل ہوتی ہے لہٰذا اب ہم کس طرح سے اس مرتبہ میں ا س کا مقابلہ کرسکتے ہیں؟ خدا کی قسم ہم ہرگز اس پر ایمان نہ لائیں گے او رنہ ہی اس کی تصدیق کریں گے''!۔(٢)

______________________

(١) محمد ابوالفضل ابراہیم (اور ان کے معاونین)، قصص العرب (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ١٣٨٢ھ.ق)،ج٢، ص ٢٥٨؛ ابن کثیر، الدایہ و النہایہ (بیروت: مطبعة المعارف، ط٢، ١٩٧٧ئ)، ج٣، ص ١٤٤۔

(٢)ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٣٧؛ ابن شہر آشوب، ج١، ص ٥٠؛ ابن کثیر، السیرة النبویہ، تحقیق: مصطفی عبد الواحد (قاہرہ: ١٣٨٤ھ.ق)، ج١، ص ٥٠٧۔ ٥٠٦۔


امیہ بن ابوالصلت ، جو کہ طائف کا بہت بڑا شاعر اور رئیس تھا اور پہلے حنفاء میں رہتا تھا۔(١) اور اسی جذبہ کے تحت اس نے اسلام کو قبول نہیں کیا کہ وہ برسوں سے پیغمبر موعود کے انتظار میں تھا لیکن وہ خود ایک حد تک امید لگائے بیٹھا ہوا تھا کہ اس درجہ پر فائز ہوگا۔ لہٰذا اس نے جیسے ہی پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعثت کی خبر سنی ، آپ کی پیروی سے کنارہ کش ہوگیا اور اس کی وجہ اس نے زنان ثقیف سے حیاء و شرم بتائی اور کہا: ''مدتوں سے ہم نے ان سے کہا تھا کہ ہم پیغمبر موعود بنیں گے اب کس طرح سے یہ برداشت کریں کہ وہ ہم کو عبد مناف کے ایک جوان کا پیرو دیکھیں''۔(٢)

______________________

(١) مراجعہ کریں: ا س کتاب کے باب ''جزیرة العرب او راس کے اطراف میں ادیان و مذاہب'' میں (حنفا).

(٢) ابن کثیر ، السیرة النبویہ، ج١، ص ١٣٠.


تیسری فصل

قریش کی مخالفت کے نتائج او ران کے اقدامات

مسلمانوں پر ظلم و تشدد

مسلمانوں کی روز بروز بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ جناب ابوطالب سے قریش کی گفتگو کرنے کا کوئی نتیجہ نہ نکلا اور بنی ہاشم پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی حمایت کے لئے کھڑے ہوگئے تو وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو جانی نقصان پہنچانے سے ناتواں ہوگئے اور مسلمانوں کو نئی نئی اذیتیں اور سزائیں دینا شروع کردیں تاکہ اس طرح سے انھیں اسلام کی طرف جانے سے منع کردیں گے۔(١)

قریش کے لئے مشکل یہ تھی کہ نومسلم افراد صرف ایک دو قبیلہ سے نہیں تھے جن کو آسانی سے روکا جاسکتا ہے بلکہ ہر قبیلہ سے چند افراد اس نئے دین کو اپنائے ہوئے تھے۔ مشرکین مکہ کے آزار و اذیت سے تنگ آکر جن مسلمانوں نے ٥ ھ میں حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی ان کی فہرست پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ عورتیں اور مرد مختلف قبائل (جیسے بنی عبد شمس، بنی اسد، بنی عبد الدار، بنی زہرہ، بنی مخزوم، بنی جمح، بنی عدی، بنی حارث، بنی عامر اور نبی امیہ) سے مسلمان ہوئے تھے۔

______________________

(١) طبری، تاریخ الامم والملوک، (بیروت: دار القاموس الحدیث)، ج٢، ص٢٢١۔


اس بنا پر مشرکوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ ہر قبیلہ، اپنے مسلمانوں کو سزائیں دے تاکہ دوسرے قبائل کے افراد کے مداخلہ کرنے سے ان میں تعصب نہ پیدا ہو اور وہ کوئی عکس العمل نہ دکھائیں۔

زیادہ تر تکلیفیں اور سزائیں نومسلم مستضعفوں کو دی جاتیں تھیں کہ جن کے بارے میں ہم نے بتایا ہے کہ وہ غلام، پردیسی اور بغیر کسی قبیلہ کی حمایت کے رہتے تھے۔(١) یاسر اور ان کے فرزند عمار، بلال بن رباح، خبّاب بن ارت، ابوفُکَیہ، عامر بن فُھَیر، صُھَیب بن سنان اور خواتین اور کنیزوں میں سُمَیّہ، ام عُبَیس، (یا اُم عُنَیس)، زِنِّیرہ، لَبیبہ (یا لُبَنیہ) اور نَہدیّہ؛ یہ وہ افراد تھے(٢) جن کو مختلف مواقع پر بھوک اور پیاس، قید و بند، ضرب و شتم اور مکہ کے تپتے ہوئے ریگ زار پر لٹاکر شدید گرمی کے عالم میں سزائیں دی گئیں یا تپتے ہوئے صحرا میں آھنی زرہ پہنا کر یا ان کی گردنوں میں رسی باندھ کر بچوں کے ذریعہ پھرایا گیا۔

حبشہ کی طرف ہجرت

خود پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م ، جناب ابوطالب اور بنی ہاشم کی حمایت کے سایہ میں قریش کے جانی نقصان سے محفوظ تھے۔ لیکن اور دوسرے مسلمانوں کی بے پناہ اذیتوں اور سزاؤوں کو دیکھ کر (ایک وقتی راہ حل اور امان کی خاطر) آپ نے ان کو سمجھایا کہ، ملک حبشہ ہجرت کرجائیں اور فرمایا کہ ''وہاں کا بادشاہ انصاف پسند اور وہاں کی سرزمین سچی اور با امن ہے۔(٣)

______________________

(١)بلاذری، انساب الاشراف، تحقیق: ڈاکٹر محمد حمیداللہ (قاہرہ: دار المعارف، ط٣)، ج١، ص١٩٧؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، (بیروت: دار صادر)، ج٢، ص٦٦۔

(٢) بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٩٦۔ ١٥٦؛ ابن اثیر، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٧٠۔ ٦٦۔

(٣) ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج١، ص ٣٤٤؛ تاریخ الامم والملوک، ج٢، ص٢٢٢؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج٢، ص ٧٦۔


اس زمانہ میں صرف حبشہ مسلمانوں کے ہجرت کے لئے مناسب جگہ تھی ۔ ایران و روم یا اس کے زیر اثر دوسرے علاقے جیسے شام اور یمن ہر ایک کے لئے ممکن تھا کہ کسی نہ کسی وجہ سے (قریش کے ورغلانے یا اپنی سیاست کی بنا پر) مسلمانوں کو قبول نہ کریں یا ہجرت کے بعد ان کے لئے مشکلات اور پریشانیاں کھڑی کردیں۔ اس کے علاوہ حبشہ مسلمانوں کے لئے ایک جانی پہچانی جگہ تھی۔ کیونکہ اہل مکہ تجارت کی غرض سے وہاں آیا جایا کرتے تھے۔(١)

اس کے علاوہ حبشہ کے لوگ مسیحی تھے۔ خدا پرستی کے عقیدہ میں وہ مسلمانوں کے ساتھ شریک تھے۔ کہا جاتا ہے کہ حبشہ کے مسیحی ''یعقوبی'' فرقہ سے تعلق رکھتے تھے اور یہ فرقہ خدا کو اکیلی ماہیت (یک اقنوم) جانتا تھا اور تثلیث (یعنی تین خداؤوں کا عقیدہ) نہیں رکھتا تھا اور اس لحاظ سے ان کا عقیدہ توحید اسلامی سے قریب تھا۔(٢)

بہرحال پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کہنے پر بعثت کے پانچویں سال(٣) ، مسلمانوں کا ایک ١٥ نفری(٤) گروہ خفیہ طریقے سے مکہ چھوڑ کر، بندر شعیبہ کے راستے سے، بحر احمر کو عبور کرتا ہوا حبشہ پہنچا۔ یہ گروہ دو تین مہینے حبشہ میں رہنے کے بعد قریش کے اسلام لانے کی افواہ اور مسلمانوں پر سے اذیتوں او ردباؤ کے ختم ہونے کی خبر سن کر دوبارہ مکہ پلٹ آیا۔(٥)

______________________

(١) طبری، گزشتہ حوالہ، ص٢٢١۔

(٢) عمر فروخ، تاریخ صدر الاسلام و الدولة الامویہ (بیروت: دار العلم، للملایین، ط٣، ١٩٧٦ئ)، ص ٥٤؛ ڈاکٹر عباس زریاب، سیرۂ رسول اللہ، تہران؛ سروش، ط١، ١٣٧٠)، ص١٦٩۔

(٣) ابن سعد، طبقات الکبریٰ، ج١، ص٢٠٤؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج١، ص٢٢٨؛ ابن اثیر، گزشتہ حوالہ، ص٧٧۔

(٤) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص٢٠٤؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٣٤٤؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ص ٢٢٢۔ ٢٢١۔

(٥) بلاذری، گزشتہ حوالہ، ص٢٢٧۔


لیکن چونکہ زور و زبردستی اور سزائیں ویسے ہی برقرا رتھیں لہٰذا پھر مسلمانوں کا ایک دوسرا گروہ اسی راستے سے حبشہ پہنچا۔ اس مرتبہ ان کی تعداد (عورت و مرد ملا کر) ایک سو ایک افراد پر مشتمل تھی(١) اور ان کی سرپرستی جعفر ابن ابی طالب کے ذمہ تھی جب مہاجرین، حبشہ میں امن و سلامتی کے ساتھ رہنے لگے تو ایک مدت کے بعد قریش کو خطرے کا احساس ہوا اور انھوں نے اپنا نمائندہ، نجاشی کے دربار میں بھیجا تاکہ وہ بادشاہ سے مطالبہ کرے کہ مہاجرین کو ان کے شہر واپس بھیج دیا جائے۔ ادھر جناب ابوطالب اس سازش سے آگاہ ہوگئے اور انھوں نے ایک خط نجاشی کے پاس لکھا اور اس سے مہاجرین کی حمایت کی درخواست کی۔(٢)

نجاشی کے دربار میں قریش کے نمائندوں کے دعوے کے بعد، جناب جعفرابن ابی طالب نے مفصل طریقے سے سنجیدہ الفاظ میں موقع کے لحاظ سے گفتگو فرمائی۔ اور بہت اچھے انداز میں اپنے موقف کا دفاع کیا اور نجاشی کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی نجاشی نے پناہ گزینوں کو قریش کے

______________________

(١)ابن سعد، سابق، ص ٢٠٧۔ مہاجرین کی تعداد اس سے بھی کم لکھی گئی ہے لیکن مہاجرین کے ناموں کی تعداد جو کہ تاریخ میں درج ہے وہ پہلی تعداد کی تصدیق کرتی ہے۔ مراجعہ کریں: ابن ہشام، سابق، ص ٣٥٣۔ ٣٤٦؛ ڈاکٹر محمد ابراہیم آیتی، تاریخ ، (انتشارات تہران یونیورسٹی، ط ٢ ، ١٣٦١)، ص ١٣٢۔ ١٢٢.

(٢)ابن ہشام، سابق، ج١، ص ٣٥٧؛ مجلسی، بحار الانوار، ج١٨، ص ٤١٨؛ نقل طبرسی کے مطابق جناب ابوطالب نے اپنے خط میں یہ اشعار لکھے تھے :

تعلم ملیک الحبش ان محمداً

نبی کموسی والمسیح بن مریم

اتی بالهدی مثل الذی اتیابه

و کل بأمر اللّٰه یهدی ویعصم

وانکم تتلونه فی کتابکم

یصدق حدیث لاحدیث مرجم

فلاتجعلوا لله ندّاً و اسلموا

فان طریق الحق لیس بمظلم

(اعلام الوریٰ، ص٤٥)


نمائندوں کے سپرد کرنے سے انکار کردیا اور ان کو اپنی حمایت میں رکھا۔(١)

البتہ تمام مہاجرین کو سزائیں نہیں ملی تھیں ان میں سے کچھ طاقت ور قبیلے کے لوگ بھی تھے اور مشرکین کی مجال نہیں تھی کہ ان کو اذیتیں یا سزائیں دیتے۔ لیکن بہرحال مکہ کا ماحول بہت پرآشوب اورتکلیف دہ ہوگیا تھا اور شاید پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کا مقصد یہ بھی رہا ہو کہ مسلمانوں کوایسے ماحول سے دور رکھ کر حبشہ میں اسلام کی حمایت اور اس کے دین کے مخالفوں کے خلاف ایک مرکز وجود میں آئے۔

جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ حبشہ میں مہاجرین کا بسنا تبلیغی اثرات کے لحاظ سے خالی نہ تھا جیسے کہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے اسلام قبول کیا اور پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م سے روابط برقرار کئے۔(٢) گویا قریش نے اس اندیشے کے پیش نظر اپنے نمائندے کو بھیجا تھا۔

کچھ ایسے شواہد اور ثبوت ملتے ہیں کہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م مسلسل مہاجرین کے حالات کی خبرگیری فرماتے تھے جیسا کہ بعض کے ارتداد اور عبد اللہ بن جحش (ایک مہاجر) کے مرنے کی خبر آپ کو ملی۔(٣)

اس مرتبہ حبشہ میں مہاجروں کا قیام زیادہ رہا اور اس عرصے میں گیارہ لوگ وہاں فوت ہوگئے، ٣٩٠ ، افراد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت سے پہلے مکہ پلٹ آئے، کچھ عورتیں اور ٢٦ مرد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت اور جنگ بدر کے بعد مدینہ پلٹ آئے اور آخری گروہ جعفر ابن ابی طالب کی سرپرستی میں ہجرت کے ساتویں سال واپس ہوا اور جنگ خیبر کے تمام ہو جانے کے بعد اس مقام پرپیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی خدمت میں پہنچا۔(٤)

______________________

(١)طبرسی، گزشتہ حوالہ، ص ٤٤۔ ٤٣؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص٣٦٠۔ ٣٥٦؛ ابن اثیر، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٨١۔ ٧٩۔

(٢) بعض کتابوں میں نقل ہوا ہے کہ حبشہ سے پلٹتے وقت جعفر ابن ابی طالب کے ہمراہ وہاں کے ستر افراد تھے ۔ اور پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م سے گفتگو کے بعد وہ سب کے سب مسلمان ہوگئے۔ (مجمع البیان، ج٣، ص ٢٣٤)

(٣) ابن سعد، سابق، ص ٢٠٨

(٤)ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٨، ص٩٧؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص٢٣٨؛ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، (بیروت: مکتبہ المعارف، ط١،١٩٦٦ئ)، ج٤، ص١٤٣؛ آیتی، گزشتہ حوالہ، ص١٣٢۔


حضرت فاطمہ زہرا ٭ کی ولادت

شیعہ مورخین کے درمیان مشہور قول کی بنا پر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا بعثت کے پانچویں سال مکہ میں متولد ہوئیں۔(١) وہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سب سے چھوٹی اولاد تھیں اور آپ کی شریک حیات جناب خدیجہ کے بطن سے پیدا ہوئیں اور ہجرت کے بعد مدینہ میں ان کی شادی علی کے ساتھ ہوئی۔ شہزادی نے اسی کمسنی کے عالم میں اپنے والد بزرگوار کے ساتھ مشرکوں سے جہاد کیا اور طاقت فرسا مشکلات کو برداشت کیا اور اس زمانہ کے مصائب و آلام کو ہمیشہ یاد رکھا۔

اسراء اور معراج

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کا بطور اعجاز راتوں رات مکہ سے بیت المقدس کی طرف سفر کرنا (اسرائ) اور وہاں سے خداوند عالم کی قدرت کاملہ کے ذریعہ آسمانوںکا سفر کرنا (معراج) کہلایا اور ان دونوں واقعات کو مکہ کے واقعات میں شامل کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ دونوں واقعات، مکی سوروں میں نقل ہوئے ہیں لیکن وقوع واقعہ کے سال میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے ان دونوں سفر کا مقصد یہ تھا کہ خداوند عالم کی عظمت کی نشانیوں کوا س وسیع و عریض کائنات اور آسمانوں میں آپ مشاہدہ کریں اور فرشتوں اور پیغمبروں کی روحوں سے ملاقات، بہشت و دوزخ کے اندر کا ماحول، اوراہل بہشت اورانکے درجات وغیرہ کا مشاہدہ فرمائیں جیسا کہ خداوند عالم نے سورۂ اسراء میں اس بات کا تذکرہ اس طرح سے کیا ہے۔

''پاک و پاکیزہ ہے وہ پروردگار جواپنے بندے کو راتوں رات مسجد الحرام سے مسجد اقصی تک لے

______________________

(١) مجلسی، بحار الانوار، ج٤٣، ص٧ کے بعد۔ لیکن اہل سنت کے درمیان ان کی ولادت بعثت کے پانچ سال پہلے مشہورہے۔ (سید جعفر شہدی، زندگی فاطمہ زہرا) (تہران: دفتر نشر فرھنگ اسلامی، ١٣٦٥، ط٧)، ص ٣٢۔ ٢٤۔


گیا جس کے اطراف کو ہم نے بابرکت بنایاہے تاکہ ہم اسے اپنی بعض نشانیاں دکھلائیں بیشک وہ پروردگار سب کی سننے والا اور سب کچھ دیکھنے والا ہے''۔(١)

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے اس سفر میں جن مراحل کو طے کیا اس کو بیان کرنے کے بعد ''معراج'' کے بارے میں بھی فرمایا: ''اس نے (پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم )اپنے پروردگار کی کچھ بڑی نشانیاں دیکھی ہیں''۔(٢)

ساتویں امام سے ایک شخص نے سوال کیا کہ جب خدا مکان نہیں رکھتا تو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو آسمانوں پر کیوں لے گیا؛ تو آپ نے فرمایا: خداوند عالم زمان و مکان سے مبرا ہے اس نے چاہا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعے فرشتوں اور آسمانوں کے ساکنوں کو عزیز اور بزرگ قرار دے اور آپ ان کا مشاہدہ کریں اور یہ بھی چاہا کہ آپ کو اپنی عظمت کی نشانیوں کا نظارہ کرائے تاکہ آپ وہاں سے زمین پر آنے کے بعد لوگوں سے سارا ماجرا بیان کریں اور یہ فعل ہرگز اس معنی میں نہیں ہے جس کو فرقۂ مشبہ کہتے ہیں اور خداوند عالم، جسم، مادہ اور مکان سے منزہ ہے۔(٣)

روایات معراج کی تحلیل اور ان کا تجزیہ

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے آسمانی سفر کے بارے میں بہت ساری روایات نقل ہوئی ہیں جس کو طبرسی (مشہور و معروف مفسر) نے چار حصوں پر تقسیم کیا ہے:

١۔ وہ روایات جو متواتر ہونے کی بنا پر قطعی اور مسلم ہیں جیسے اصل معراج۔

٢۔ وہ روایات جن میں ایسی باتوں کا تذکرہ ہوا ہے جس کو قبول کرنا عقل کی روسے قباحت نہیں

______________________

(١)سورۂ اسرائ، آیت١۔

(٢)لقد رأی من آیات ربه الکبریٰ (سورۂ نجم، آیت ١٨.)

(٣) بحرانی، تفسیرالبرہان، (قم: دار الکتب العلمیہ، ١٣٩٣ھ) ، ج٢، ص ٤٠٠.


رکھتا ہے اور جو کسی مسلّم دستور کے خلاف نہیں ہیں جیسے آسمانوں میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سفر کرنا، پیغمبروں کی زیارت، بہشت و دوزخ وغیرہ کی زیارت۔

٣۔ ایسی حدیثیں جن کا ظاہر، ان مسلّم اصولوں کے خلاف نہیں ہے جو آیات یا اسلامی روایات سے ماخوذ ہیں لیکن اس کے باوجود وہ قابل تاویل و توجیہ ہیں اس طرح کی حدیثوں کی ایسی تاویل کرنا چاہیئے جو صحیح اعتقاد اور محکم دلیل کے موافق ہو جیسے وہ روایات جو یہ کہتی ہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اہل بہشت کے ایک گروہ کو بہشت میں اور اہل دوزخ کے ایک گروہ کو دوزخ میں دیکھا ہے ان مناظر کے بارے میں کہا جائے کہ یہ ایک طرح سے بہشت اوردوزخ واقعی کی مثال اور صورت تھی۔

٤۔ ایسے مطالب جو ظاہراً قابل قبول نہیں ہیں اور قابل تاویل و توجیہ بھی نہیں ہیں۔ جیسے یہ کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سفر میں خدا کو چشم ظاہری سے دیکھا اور اس سے باتیں کیں اور تخت الٰہی پر ا س کے بغل میں بیٹھے۔ اس طرح کی مطالب باطل اور بے بنیاد ہیں۔(١)

علمائے امامیہ کے عقیدہ کے مطابق پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی معراج جسمانی تھی یعنی وہ اپنے ''جسم'' اور ''روح'' کے ساتھ سفر پر گئے تھے۔(٢)

اسلامی روایات کی بنیاد پر روزانہ کی پنجگانہ نماز معراج کے سفر میں واجب ہوئی ہے۔(٣) اگر

______________________

(١) مجمع البیان، (تہران: شرکہ المعارف)، ج٦، ص ٣٩٥، تفسیر آیہ ٔ سورۂ اسرائ.

(٢) مجلسی، سابق، ج١٨، ص ٢٩٠؛ تفسیر نمونہ، ج١٢، ص ١٧ کے بعدآج کے علمی قوانین کے اعتبار سے واقعۂ معراج کا رونما ہونا ممکن ہے رجوع کیجئے: تفسیر نمونہ، ج١٢، ص ٣٠۔ ١٧؛ فروغ ابدیت ، ج٢، ص ٣٩٤.

(٣) کلینی، الفروع من الکافی، (تہران: دار الکتب الاسلامیہ)، ط٢، ١٣٦٢)، ج٣، ص ٤٨٧۔ ٤٨٢؛ ابن سعد، طبقات الکبریٰ، ج١، ص٢١٣؛ صحیح بخاری، تحقیق: الشیخ قاسم الشماعی الرفاعی، (بیروت: دار القلم، ط١، ١٤٠٧ھ.ق)، ج٥، مناقب الانصار، باب ١٠٤، ص١٣٤۔ ١٣٢؛ شیخ محمد بن حسن حر عاملی، وسایل الشیعہ، (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ط٤)، ج٣، کتاب الصلاة، ص٧، حدیث٥، ص٣٥، حدیث ١٤، ص٦٠، حدیث٦؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج١٨، ص٣٤٨؛ سید ہاشم بحرانی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص٩٣٣.


معراج سے قبل پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م یا علی کو نماز پڑھتے دیکھا گیا یا ان سے نماز نقل ہوئی تو وہ نماز غیر واجب یا ایسی نماز تھی جو روزانہ کی پنجگانہ نماز کے شرائط اور خصوصیات کے مطابق نہیں تھی۔(١)

بنی ہاشم کا سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ

جب قریش کے سرداروں کو جناب ابوطالب سے ملنے پر کوئی نتیجہ نہ نکلا اور حبشہ سے مہاجرین کے پلٹانے میں ناکام رہے اوردوسری طرف سے بڑی اور اہم شخصیتیں اسلام قبول کرنے لگیں اور مختلف قبائل سے اسلام کی پیروی کرنے والے افراد میں اضافہ ہونے لگا تو ناچار ہوکر یہ پلان بنایا کہ دباؤ کے نئے طریقوں کو اپنایا جائے اور وہ یہ کہ بنی ہاشم اور بنی مطلب کے خاندان کو اجتماعی اور اقتصادی طور پر دبائیں تاکہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت سے ہاتھ اٹھالیں اور ان کو ہمارے سپرد کردیں۔ اس مشورے کے بعد آپس میں ایک عہدنامہ لکھا گیا کہ بنی ہاشم سے نہ لڑکی لیں اور نہ ان کو لڑکی دیں اور نہ ہی ان سے خرید و فروخت او رمعاملہ کریں۔(٢)

اس سے قبل بیان کرچکے ہیں کہ مکہ کے لوگوں کا ذریعہ معاش صرف تجارت تھا اور اقتصاد و تجارت پر اختیار اور کنٹرول سارا قریش کا تھا۔لہٰذا اگر وہ کسی شخص یا گروہ کا بائیکاٹ کر دیتے تھے تواس کا مطلب، اس کی مکمل محرومیت ہوتی تھی۔ اسی لئے ان کی نظر میں یہ بہت موثر حربہ تھا اور اس بات کی امید تھی کہ بنی ہاشم جلد ہی ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں گے۔

شادی کا بائیکاٹ اور بنی ہاشم کے ساتھ قطع روابط، جس کاکہ بعض کتابوں میں قریش کے عہدنامہ

______________________

(١)علامہ امینی، الغدیر، ج٣، ص٢٤٢۔

(٢) ابن ہشام ، السیرة النبویہ، ج١، ص ٣٧٥؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٢٥؛ بلاذری ، انساب الاشراف، تحقیق: محمد حمید اللہ (قاہرہ: دارالمعارف، ط٣)، ج١، ص ٢٣٤.


کے ایک بند کے طور پر ذکر ہوا ہے(١) زیادہ تراجتماعی پہلو رکھتا تھا گویا وہ لوگ چاہتے تھے کہ بنی ہاشم اس لحاظ سے بھی سخت مشکلات اور دباؤ میں رہیں۔

اس عہدنامہ پر دستخط کے بعد جناب ابوطالب کے مشورے(٢) سے بنی ہاشم کے تمام افراد چاہے وہ مسلمان ہوں یا کافر(٣) ، (سوائے ابولہب کے) ''شعب ابوطالب(٤) '' میں جمع ہوئے(٥) اور

______________________

(١) بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٣٤؛ ابن سعد، طبقات الکبریٰ، ج١، ص ٢٠٩؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج١٤، ص ٥٨.

(٢) بلاذری، گزشتہ حوالہ، ص ٢٣٠؛ ابن شہر آشوب، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٦٣؛ ابن اسحاق، السیر و المغازی، تحقیق: سہیل زکار (بیروت: دارالفکر، ط ١، ١٣٩٨ھ)، ص ١٥٩؛ مجلسی، بحار الانوار، ج١٩، ص ١٨.

(٣) ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق: محمد ابو الفضل ابراہیم (قاہرہ: دار احیاء الکتب العربیہ، ١٩٦١.)، ج١٤، ص ٦٤؛ قتال نیشاپوری، روضة الواعظین (بیروت: موسسة العلمی للمطبوعات، ط ١، ١٤٠٦ھ، ص ٦٣.

(٤) دو پہاڑوں کے بیچ کے درّہ اورشگاف کو ''شعب'' کہتے ہیں۔ ''شعب ابوطالب'' جو کہ بعد میں ''ابویوسف'' کے نام سے مشہور ہوا، عبد المطلب کی وجہ سے قرار پایا ہے۔ جب ان کی آنکھیں ضعیف ہوگئیں تو انھوں نے اس کو اپنی اولاد کے درمیان تقسم کردیا۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بھی اپنے والد بزرگوار جناب عبد اللہ کا حصہ ملا۔ اس درّہ میں بنی ہاشم کے گھر تھے (یاقوت حموی، معجم البلدان، ج٣، ص ٣٤٧) جدید تحقیقات کی روشنی میں شعب ابی طالب۔ بعض لوگوں کے تصور کے برخلاف، حجون میں جو کہ آج اہل مکہ کے درمیان ''جنة المَعلاة'' کے نام سے ا ورا یرانیوں کے درمیان ''قبرستان ابوطالب'' کے نام سے معروف ہے، نہیں ہے۔ بلکہ مسجد الحرام کے قریب، صفا و مروہ پہاڑی کے بغل اورابوقبیس پہاڑ کے شمالی حصہ میں واقع ہے۔ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی ولادت اور جناب خدیجہ کا گھر اسی درّہ میں تھا اور پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م ہجرت کے وقت تک اسی درّہ میں رہتے تھے۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مدینہ ہجرت کرجانے کے بعد، عقیل ابن ابی طالب وہاں رہنے لگے اور ان کے بعد محمد بن یوسف ثقفی، (حجاج کے بھائی) نے اس کو عقیل کے لڑکوں سے خریدا اور اپنے گھر میں شامل کرلیا۔ گویا اس کے بعد اس کا نام شعب ابی یوسف پڑ گیا اور بعض قدیمی مورخ ا س کو اسی نام سے یاد کرتے ہیں،پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی جائے ولادت اسی خاص جگہ پر ہے اور عبد العزیز کے زمانہ میں، مکہ کے میئر نے اسے لائبریری میں تبدیل کردیا اور ١٣٩٩ھ میں عزہ سڑک کی توسیع میں اسے ختم کردیا گیا۔ (فصلنامۂ میقات حج، شمارہ ٣، ماہ بہار ١٣٧٢، مقالہ سیدعلی قاضی عسکر، شعب ابی طالب کے بارے میں تحقیق، ص ١٧١۔ ١٤٩.

(٥)پہلی محرم سات بعثت (ابن سعد، طبقات الکبریٰ، ج١، ص ٢٠٩)


تین سال(١) تک جب تک بائیکاٹ جاری رہا) وہاں گزارے۔

اگر چہ قریش کا پیمان اجتماعی اور اقتصادی پہلو رکھتا تھا لیکن چونکہ قریش کو پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م اور بنی ہاشم سے بہت زیادہ بغض و عناد تھااور وہ اعلان کرچکے تھے کہ ہم میں اور بنی ہاشم میں حل کا واحد راستہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا قتل ہے اسی وجہ سے جناب ابوطالب، حضرت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور بنی ہاشم کی جان کے بارے میں بہت فکرمند تھے لہٰذا انھوں نے درّہ میں جاکر پناہ لی تاکہ ان کی حفاظت اور نگرانی کرنا آسان رہے۔ اور تاریخ میں بنی ہاشم کے مردوں کی تعداد چالیس افراد(٢) نقل ہوئی ہے جنھیں آپ نے شعب کی نگہبانی کے لئے مقرر کیا تھا اور آپ ہر شب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہتے تھے کہ کچھ دیر استراحت کرنے کے بعد اپنی جگہ بدل دیں او ران کی جگہ اپنے فرزند علی کو لٹادیتے تھے(٣) تاکہ اس طرح محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جان قریش کے حملہ اور سوء قصد سے محفوظ رہ سکے۔

اس دوران قریش نے شعب میں راشن غلہ کے پہنچنے میں رکاوٹ کھڑی کردی اور بنی ہاشم، ہر طرح کے لین دین سے محروم اور سخت مشکلات میں گرفتار ہوگئے صرف وہ محرم کے مہینہ میں (حج اور عمرہ کے موسم میں) آذوقہ کی فراہمی کے لئے شہر میں جاتے تھے۔(٤) اس وقت بھی، قریش مکہ کی طرف جانے والے تجارتی قافلوں کو خبردار کردیتے تھے کہ بنی ہاشم کو کوئی چیز فروخت نہ کریں ورنہ ان کے اموال غارت کردیئے جائیں گے۔(٥) اور اگر بنی ہاشم؛ قریش سے کوئی چیز خریدنا چاہتے

______________________

(١)ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ٢٠٩؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ص ٢٣٤۔ ٢٣٣؛ ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ج ٢، ص ٢٥؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ (بیروت: دار صادر)؛ ج٢، ص ٨٧؛ فتال نیشاپوری، گزشتہ حوالہ، ص ٦٤۔ ٦٣.

(٢) ابن شہر آشوب، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٦٣؛ طبرسی، اعلام الوریٰ (تہران: دار الکتب الاسلامیہ: ط ٣)، ص ٤٩.

(٣) فتال نیشاپوری، روضة الواعظین، (بیروت: موسسة الاعلمی للمطبوعات، ط ١، ١٤٠٦ھ)، ص ٦٣؛ ابن شہر آشوب، گزشتہ حوالہ، ص ٦٤؛ طبرسی گزشتہ حوالہ، ص ٥٠؛ ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١٤، ص ٦٤؛ رجوع کریں: گزشتہ حوالہ، ص ١٦٠.

(٤)ابن شہر آشوب، گزشتہ حوالہ، ص٦٥؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ٢٠٩؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ص ٢٣٤؛ ابن اسحاق ، گزشتہ حوالہ، ص ٥٩.

(٥) طبرسی، گزشتہ حوالہ.


تھے تووہ اس کی قیمت بہت زیادہ بتاتے تھے تاکہ وہ خرید نہ سکیں۔(١)

بعض اوقات ابو العاص بن ربیع(٢) اور کبھی حکیم بن حزام(٣) قریش کی نظروں سے بچا کر شعب کے اندر غلہ اور راشن پہنچاتے تھے بنی ہاشم سے حضرت علی راتوںکو چھپ کر شعب سے نکلتے تھے اور کھانے کا سامان فراہم کرتے تھے۔(٤)

اس عرصہ میں جناب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، جناب ابوطالب اور جناب خدیجہ کی دولت تمام ہوگئی اور وہ تہی دست اور مشکلات میں گرفتار ہوگئے۔(٥) خاص طور سے جناب خدیجہ نے اپنی ساری دولت شعب میں پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی راہ میں خرچ کردی۔(٦)

تین سال گزر نے کے بعد جب پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے دیمکوں کے ذریعہ اس عہدنامہ کے کھا جانے کی اطلاع ابوطالب کے ذریعہ، قریش کودی۔(٧) اور دوسری طرف سے عہدنامہ پردستخط کرنے والے بعض افراد جو بنی ہاشم کی حالت زار پر رنجیدہ تھے۔(٨) وہ اس عہد سے، بیزار ہوگئے اور ان کی

______________________

(١) مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج١٩، ص ١٩؛ ابن اسحاق، گزشتہ حوالہ، ص ١٥٩.

(٢) ابن شہر آشوب، گزشتہ حوالہ، ص٦٥؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ص٥١۔

(٣) ابن اسحاق، گزشتہ حوالہ، ص١٦١؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٣٧٩؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ص٢٣٥؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ص١٩۔

(٤) ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج١٣، ص ٢٥٤۔

(٥) ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ٢٥؛ طبرسی، اعلام الوریٰ، ص ٥٠

(٦)طبرسی، ابن شہر آشوب، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٦٤.

(٧) ابن اسحاق، گزشتہ حوالہ، ص ١٦١؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٣٤؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢١٠؛ ابن شہر آشوب، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٦٥.

(٨) ابن اسحاق، گزشتہ حوالہ، ص ١٦٢، ١٦٥، ١٦٦؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ص ٢٣٤؛ ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١٤، ص ٥٩؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج٢، ص٨٨؛ مجلسی ، بحار الانوار، ج١٩، ص ١٩۔


پیش قدمی سے یہ عہد لغو ہوگیا۔(١) اور اس طرح بنی ہاشم اپنے گھروں کی طرف پلٹ آئے۔(٢)

حضرت علی نے اپنے ایک خط میں معاویہ سے اس مشکل اور پُررنج دور کا تذکرہ اس طرح سے کیاہے:

''... تو ہماری قوم نے ہمارے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل کرنے اور ہماری جڑ اکھاڑ دینے کا ارادہ کرلیااور ہمارے خلاف کتنے ہی ناپاک عزائم استوار کئے اور کون سی ناشائستہ حرکت ہوگی جس کا ہمیں نشانہ نہ بنایا ہو۔ ہمارا جینا حرام کردیا اور خوف و ہراس کوہمارا اوڑھنا بچھونا بنادیا اور ہمیں ایک دشوار گزار پہاڑ (کی گھاٹی) میں سر چھپانے پر مجبور کردیا اور (آخرکار) ہمارے لئے جنگ کی آگ بھڑکادی (اس برے وقت میں) اللہ تعالیٰ نے ہم (بنی ہاشم) کو (ایسی) ہمت عطا فرمائی کہ ہم نے حریم رسالت کا بچاؤ کیا اور آپ کی شان حرمت پرآنچ نہ آنے دی۔ ہمارے مومن یہ خدمات ثواب کی خاطر بجالاتے تھے اور ہمارے کافر خونی قرابت کے پیش نظر حمایت کرتے تھے. قریش کے جو لوگ مسلمان ہوگئے تھے وہ ان مصائب سے بچے ہوئے تھے جن میں ہم گرفتار تھے کیونکہ کسی کی حفاظت تو باہمی معاہدہ کر رہا تھا او رکسی کا قبیلہ اس کے بچاؤ کے لئے تیار کھڑا تھا اس لئے اسے قتل ہو جانے کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔(٣)

جناب ابوطالب اور جناب خدیجہ کی وفات

بعثت کے دسویں سال شعب سے بنی ہاشم کے نکلنے کے کچھ ہی دن بعد پہلے جناب خدیجہ اوراس کے بعد ابوطالب کی وفات ہوگئی۔(٤)

______________________

(١) بعثت کے دسویں سال میں (ابن سعد، گزشتہ)، ج١، ص ٢١٠، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٣٦۔

(٢) طبرسی ، گزشتہ حوالہ، ص ٥٢۔ ٥١۔

(٣) نہج البلاغہ، تحقیق: صبحی صالح، مکتوب نمبر ٩.

(٤) بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٣٦؛ ابن اثیر ، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص٩.


ان دو بڑی شخصیتوں کا اس دنیا سے اٹھ جانا جناب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے بہت بڑی اور جانگداز مصیبت تھی۔(١) ان دو گہرے دوست اور وفادار ناصر کے رحلت کر جانے کے بعد آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے مسلسل سخت او رناگوار واقعات پیش آئے۔(٢) اور زندگی آپ پر دشوار ہوگئی۔

جناب خدیجہ کا کارنامہ

ان دو بڑی شخصیتوں کے غیر متوقع فقدان کا اثر، فطری تھا اس لئے کہ اگر چہ جناب خدیجہ سطح شہر میں جناب ابوطالب جیسا دفاعی کردار نہیں ادا کرسکتی تھیں لیکن گھر کے اندر نہ تنہا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے مہربان جانثار اور دلسوز شریک حیات تھیں بلکہ اسلام کی سچی اور واقعی مددگار تھیں بلکہ مشکلات اور پریشانیوں میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تسکین قلب اور سکون کا باعث تھیں۔(٣)

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م اپنی زندگی کے آخری لمحات تک جناب خدیجہ کو یاد کیا کرتے تھے۔(٤) اور اسلام کے سلسلے میں ان کی پیش قدمی، زحمات اور رنج و الم کو فراموش نہیں کرتے تھے۔ آپ نے ایک دن عائشہ سے فرمایا: ''خداوند عالم نے خدیجہ سے بہترمجھے زوجہ نہیں دی جس وقت سب کافر تھے وہ ہم پر ایمان لائیں۔ جب سب نے مجھے جھٹلایاتوانھوں نے میری تصدیق کی اور جب دوسروں نے مجھے محروم کیا تو اس نے اپنی ساری دولت میرے لئے خرچ کردی۔ اور خداوند عالم نے مجھے اس سے فرزند عطا کیاہے۔(٥)

______________________

(١) ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ٢٩؛ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے اس سال کا نام ''عام الحزن'' رکھا۔ (مجلسی، بحار الانوار، ج١٩، ص ٢٥.)

(٢) ابن اسحاق، گزشتہ حوالہ، ص ٢٤٣؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٥٧؛ طبرسی، اعلام الوریٰ، ص ٥٣.

(٣)وکا نت وزیرة صدق علی الاسلام و کان یسکن الیها ۔ (ابن اسحاق، گزشتہ حوالہ، ص ٢٤٣؛ ابن ہشام ، گزشتہ حوالہ.

(٤)امیرمهنا الخیامی، زوجات النبی واولاده، (بیروت موسسہ عز الدین، ط ١، ١٤١١ھ)، ص ٦٣۔ ٦٢.

(٥) ابن عبد البر، الاستیعاب (در حاشیہ الاصابہ)، ج ٤، ص ٢٨٧؛ دولابی، گزشتہ حوالہ، ص ٥١.


جناب ابوطالب کا کارنامہ !

جیسا کہ ہم نے بیان کیاہے کہ جناب ابوطالب نہ صرف بچپنے اور نوجوانی میں محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سرپرست تھے بلکہ ان کی رسالت کے زمانہ میں بھی بے انتہا ان کے حامی اور پشت پناہ تھے۔ اور مشرکوںکی عداوتوں او رکارشکنیوں کے مقابل میں ایک عظیم دیوار تھے۔ ابوطالب کی حیات کے زمانے میں قریش بہت کم پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جانی آزار و اذیت کی جرأت رکھتے تھے ایک دن بزرگان قریش میں سے کچھ لوگوں نے ایک شخص کو ورغلایا کہ مسجد الحرام میں جاکر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جسم پر اونٹ کی اوجھڑی ڈال دے چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا جب جناب ابوطالب کو واقعہ کی خبر ملی توآپ نے اپنی تلوار نیام سے نکالی اور

''حمزہ'' کے ہمراہ ان کو ڈھونڈنے کے لئے نکل پڑے او رحمزہ سے کہا کہ یہی اوجھڑی ان میں سے ہر ایک کے جسم پر مل دیں۔(١)

ابوطالب کی رحلت کے بعد قریش بہت گستاخ ہوگئے تھے ۔ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م پر کوڑا پھینکتے تھے۔(٢) خود آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہے کہ ''قریش مجھے ضرر نہیں پہنچا سکے یہاں تک کہ ابوطالب کی وفات ہوگئی۔(٣)

______________________

(١) کلینی ، الاصول من الکافی، (تہران: دار الکتاب الاسلامیہ، ١٣٨١ھ)، ج١، ص ٤٤٩؛ علامہ امینی، الغدیر، ج٧، ص ٣٩٣؛ مجلسی ، بحار الانوار، ج١٨، ص ١٨٧؛ رجوع کریں: الغدیر، ج٧، ص ٩ ٣٥، ٣٨٨، ٣٩٣؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ٢٠.

(٢) ابن سعد، طبقات الکبریٰ، ج١، ص ٢١١؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج٢، ص ٢٢٩؛ بیہقی، دلائل النبوہ، ترجمہ، محمود مہدوی دامغانی، (تہران: مرکز انتشارات علمی و فرہنگی، ١٣٦١)، ج٢، ص٨٠؛ ابن اثیر، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٩١۔

(٣) ابن اسحاق، السیر و المغازی، ص٢٣٩؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٥٨؛ طبری ، گزشتہ حوالہ، ص ٢٢٩؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج١، ص ٦٨؛ ابن اثیر، گزشتہ حوالہ، ص ٩١؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ص ٨٠، سبط ابن جوزی، تذکرة الخواص، (نجف:المکتبة الحیدریہ، ١٣٨٣ھ)، ص ٩.


ایمان ابوطالب

تمام شیعہ علماء کا عقیدہ ہے کہ ابوطالب مسلمان اور مومن تھے۔(١) لیکن پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی حمایت کی خاطر آپ نے اسلام کا اظہار نہیں کیا تھا اور چونکہ اس سماج میں خاندانی تعصب پایا جاتا تھا۔ لہٰذا ظاہری طور پر آپ نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کی خاطر خاندان کا عنوان دیا تھا۔(٢)

''ابوطالب اصحاب کہف کے مانند تھے جو اپنے ایمان کو چھپائے رہے اور تظاہر بہ شرک کرتے تھے اور خدا نے ان کو دو اجر عطا کیا ہے''۔(٣)

اہل سنت کے ایک گروہ نے جناب ابوطالب کے ایمان کا انکار کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ مرتے دم تک ایمان نہیں لائے اور دنیا سے کفر کی حالت میں گئے۔ لیکن ان کے اس کے دعوے کے برخلاف بے شمار دلیلیں اور شواہد موجود ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ آئین اسلام اور نبوت حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایمان و اعتقاد رکھتے تھے ۔اختصار کے طور پر ہم صرف دو دلیل پیش کرتے ہیں:

١۔ ان کے اشعار اور اقوال: جنا ب ابوطالب کے بے شمار اشعار و اقوال جو ہم تک پہنچے ہیں ان میں سے بعض میں آپ نے صراحت کے ساتھ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی نبوت اور ان کی حقانیت کا ذکر فرمایا

______________________

(١) شیخ مفید، اوائل المقالات (قم: مکتبة الداوری،)، ص ١٣؛ قتال نیشاپوری، گزشتہ حوالہ، ص ١٥٥؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج١٤، ص ٦٥؛ طبرسی، مجمع البیان، ج٣، ص ٢٨٧، تفسیر آیۂ ٢٦ سورۂ انعام ؛ علی بن طاووس، الطرائف فی معرفة مذاہب الطوائف (قم: مطبعة الخیام، ١٤٠٠ھ)، ص ٢٩٨.

(٢) طبرسی، گزشتہ حوالہ، ج٧، ص ٣٦٠، تفسیر آیۂ ٥٦ سورۂ قصص.

(٣) کلینی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٤٤٨؛ صدوق الامالی، (قم: المطبعة الحکمہ)، ص ٣٦٦؛ (مجلسی ٨٩)؛ قتال نیشاپوری، گزشتہ حوالہ، ص ١٥٦؛ علامہ امینی، الغدیر، ج٧، ص ٣٩٠؛ مفید، الاختصاص، (قم: منشورات جماعة المدرسین)، ص ٢٤١.


ہے۔(١) او ریہ اشعار و اقوال اسلام کے سلسلہ میں ان کے ایمان اور عقیدہ کا واضح اور روشن ثبوت ہیں۔ ان کے چند اشعار نمونہ کے طور پر یہاں پیش ہیں:

تعلم ملیک الحبش ان محمداً نبی کموسیٰ و المسیح بن مریم

أتیٰ بالهدیٰ مثل الذی اتیابه و کل بامر اللّٰه یهدی و یعصم(٢)

(اے حبشہ کے بادشاہ یہ جان لے کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مانند موسیٰ او رمسیح پیغمبر ہیں وہی نور ہدایت جسے وہ دونوں لے کر آئے تھے وہ بھی لیکر آئے ہیں اور تمام پیغمبران الٰہی خدا کے حکم سے لوگوں کی ہدایت کر کے گناہ سے روکتے ہیں)

الم تعلموا اَنَّا وَجَدنَا محمداً ٭رسولاً کموسیٰ خطّ فی اول الکتب (٣)

______________________

(١) ابوطالب کے شعر کا ایک دیوان ہے جس کو ابونعیم علی بن حمزہ بصری تمیمی لغوی (م ٣٧٥ھ.ق سیسیل میں) نے جمع کیا ہے اور شیخ آغا بزرگ تہرانی نے اس کا ایک نسخہ بغداد میں آل سید عیسی عطار کی لائیریری میں دیکھا ہے۔ (الذریعہ، ج٩، قسم اول، ص ٤٣۔ ٤٢) اور اسی طرح قبیلۂ بنی مھرم سے ابو ھفان عبد اللہ بن احمد عبدی (جو کہ ایک شیعہ شاعر، مشہور ادیب اور بصرہ کے رہنے والے تھے) کے پاس ایک کتاب، شعر ابی طالب بن عبد المطلب و اخبارہ، کے نام سے تھی (رجال نجاشی، تحقیق: محمد جواد النائینی، بیروت، ط ١، ١٤٠٨ھ) ، ج٢، ص ١٦، نمبر ٥٦٨) مرحوم شیخ آغا بزرگ تہرانی نے اس کا ایک نسخہ بغداد میں آل سید عطار کی لائبریری میں دیکھاہے جس میں پانچ سو (٠٠ ٥) سے زیادہ اشعار تھے اور ١٣٥٦ھ میں نجف میں شائع ہوا۔ (الذریعہ، ج١٤، ص ١٩٥)، امیر المومنین علی چاہتے تھے کہ ابوطالب کے اشعار نقل اور جمع اوری ہوں اور آپ نے فرمایا: ''ان کو یاد کرو اور اپنی اولاد کو بھی یاد کرواؤ، ابوطالب دین خدا کے پیرو تھے او ران اشعار میں بے شمار علوم پائے جاتے ہیں''۔ (الغدیر، ج٧، ص ٣٩٣)۔

(٢) طبرسی، اعلام الوریٰ، ص ٤٥؛ مجمع البیان، ج٤، ص ٢٨٨؛ علامہ امینی، الغدیر، ج٧، ص ٣٣١.

(٣) کلینی ، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٤٤٩؛ طبرسی، مجمع البیان، ج٤، ص ٢٨٧؛ ابن ہشام ، السیرة النبویہ، ج١، ص ٣٧٧؛ ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١٤، ص ١٨١؛ شیخ ابوالفتح الکراجکی، کنز الفوائد، تحقیق: الشیخ عبداللہ نعمہ (قم: دار الذخائر، ط ١، ١٤١٠ھ)، ج١، ص ١٨١؛ امینی، الغدیر، ج٧، ص ٣٣٢۔


(کیا تمھیں نہیں معلوم کہ ہم نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مانند موسیٰ پیغمبر پایاہے اور اس کا نام و نشان گزشتہ آسمانی کتابوں میں ذکر ہے)

و لقد علمت ان دین محمدٍ

من خیر ادیان البریه دیناً(١)

(مجھے یقینی طور پر معلوم ہے کہ دین محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، دنیا کے بہترین ادیان میں سے ہے)

٢۔ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م سے ابوطالب کی حمایتیں: پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے لئے جناب ابوطالب کی بے انتہا پشت پناہی اور حمایتیں جو تقریباً سات سال تک بغیر کسی وقفہ اور سستی کے جاری رہیں اور اس مدت میں قریش کے مقابل میں مقاومت اور بے شمار مصائب اور مشکلات کو برداشت کرنا آپ کے ایمان اور عقیدے کے سلسلے میں دوسرا واضح ثبوت ہے۔ آپ کے ایمان کے منکر یہ تصور کرتے ہیں کہ آپ نے یہ ساری مشکلات اور پریشانیاں خاندانی جذبہ کے تحت سہیں۔ جبکہ خاندانی روابط انسان کو اس طرح کی طاقت فرسا زحمتوں اور قربانیوں اور طرح طرح کے خطرات مول لینے پر ہرگز آمادہ نہیں کرسکتے ہیں۔ اس طرح کی قربانیوں کے لئے ہمیشہ ایمانی اوراعتقادی جذبہ ضروری ہے۔ اگر جناب ابوطالب کا جذبہ صرف خاندانی روابط تھا تو حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دوسرے چچاؤوں نے جیسے عباس اورابولہب نے ایساکام کیوں نہیں کیا؟!۔(٢)

محققین کے ایک گروہ کی نظر میں، بعض لوگوں نے جو کوشش کی ہے کہ جناب ابوطالب کے کفر کو ثابت کریں

______________________

(١) ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ص ٥٥؛ امینی، گزشتہ حوالہ، ص ٣٣٤؛ عسقلانی، الاصابہ فی تمییزالصحابہ، (بیروت: دار احیاء التراث العربی)، ج٤، ص ١١٦؛ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، (بیروت: مکتبة المعارف، ط ٢، ١٩٧٧م)، ج٣، ص ٤٢.

(٢) ایمان ابوطالب کے بارے میں متعدد کتابیں لکھی جاچکی ہیں کہ جن میں سے کچھ کا تذکرہ شیخ آغا بزرگ تہرانی نے اپنی کتاب الذریعہ میں، ج ٢، ص ٥١٠ سے ٥١٤ پر کیا ہے ۔او رمرحوم علامہ امینی نے بھی کتاب الغدیر میں ، ج ٧، ص ٣٣٠ سے ٤٠٣ تک تفصیلی طور پر بحث کی ہے اور انیس کتابیں جو کہ اسلام کے جید علماء کے ذریعہ ایمان ابوطالب کے اثبات اوران کے حسن عاقبت کے سلسلے میں لکھی گئی ہیں ان کا ذکر فرمایا ہے۔ او رچالیس حدیثیں ان کے ایمان کے اثبات میں نقل کی ہیں۔ اورجلد ہشتم کے آغاز میں بھی اس سلسلے میں مخالفوں کے اعتراضات او رشبہات کا جواب دیاہے۔


یہ سیاسی جذبہ اور بعض تعصبات کی بنا پر ہے کیونکہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بڑے اصحاب (جوکہ بعد میں علی کے سیاسی رقیب بنے) عام طور پر پہلے بت پرست تھے۔ صرف علی تھے جو سابقۂ بت پرستی نہیں رکھتے تھے اور بچپنے سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مکتب میں پرورش پائی۔ جو لوگ یہ چاہتے تھے کہ علی کے مقام اور مرتبہ کو کم کریں اور نیچہ دکھائیں تاکہ آئندہ ان کے برابر ہوسکیں، مجبوری کی بنا پر ان کی پوری کوشش تھی کہ وہ ان کے والد بزرگوار کے کفر کو ثابت کریں تاکہ ان کا بت پرست ہونا ثابت ہوسکے۔ درحقیقت ابوطالب کا اس کے علاوہ کوئی جرم نہیں تھا کہ وہ علی کے باپ تھے اگر علی جیسے فرزند نہ رکھتے تو ایسے اتہامات ان پر نہ لگائے جاتے!۔

ان حق پامالیوں اور عباسی اور اموی کوششوں کو بھی، نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ان میں سے کسی ایک کے جد، اس مرتبہ پر فائز نہیں ہوئے تھے۔اور اسلام میں پہل نہیں رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے وہ کوشش کرتے تھے کہ ان کے باپ کے کفر کو ثابت کریں تاکہ اس طریقہ سے ان کے مقام اور مرتبہ کو کم کرسکیں! ۔

جو اتہام جناب ابوطالب پر لگایا گیاوہ آپ کی بہ نسبت عباس بن عبد المطلب (پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م اور حضرت علی کے چچا او رسلسلۂ خلفاء عباسی کے جد) سے زیادہ مناسبت رکھتا تھا ، کیونکہ عباس، فتح مکہ ٨ھ تک کفر کی حالت میں مکہ میںرہے اور جنگ بدر میں مشرکوں کے لشکر کے ساتھ اسیر ہوئے اور فدیہ دیکر آزاد ہوئے۔ فتح مکہ کے واقعہ پر مکہ کے راستے میں آپ لشکر اسلام تک گئے اور پھر مکہ واپس پلٹ آئے اور بہت ہی کوششوں کے بعد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ابوسفیان (مشرکوں کا سرغنہ) کے لئے امان لی! اس کے باوجود کسی نے نہیں کہا کہ عباس کافر تھے! کیااس طرح کا فیصلہ ان دو لوگوں کے بارے میں فطری اور عقلی نظر آتا ہے؟!اس اعتبار سے محققین جنا ب ابوطالب کے کفر کے سلسلے میں پائی جانے والی حدیثوں کو جعلی سمجھتے ہیں۔(١)

______________________

(١) ڈاکٹر عباس زریاب، سیرۂ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ( تہران: سروش، ج١، ١٣٧٠)، ص ١٧٨و ١٧٩.


ازواج پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م

جب تک جناب خدیجہ زندہ رہیں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کسی دوسری خاتون سے شادی نہیں کی(١) ان کے انتقال کے بعد آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دوسری خواتین سے شادی کی جن میں حضرت عائشہ کے علاوہ سب بیوہ تھیں۔ان میں سے پہلی سودہ اور ان کے شوہر سکران بن عمرو حبشہ کے مہاجروں میں سے تھے جو وہاں انتقال کرگئے تھے اور وہ بغیر سرپرست کے ہوگئی تھیں۔

بعض مستشرقین نے پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی شادیوں کے بارے میں بزدلانہ تہمتوں کو دستاویز بناکر اس کو ہوس بازی اور شہوت پرستی سے تفسیر کیا ہے۔(٢)

جبکہ مسئلہ کی منصفانہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شادیاں معمولاً عام جذبہ کے تحت نہیں ہوئیں تھیں بلکہ سیاسی، سماجی اور اسلام کی مصلحتوں کے پیش نظر ہوئی تھیں ان میں سے بعض خواتین بے سرپرست اور بیوہ تھیں اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے شادی کر کے ان کو اپنی سرپرستی میں لے لیا تھا اور بعض دوسرے بڑے خاندان یا قبائل سے تعلق رکھتی تھیں اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مقصد ان قبائل یا خاندان کی حمایت حاصل کرنا تھا۔اور بعض وقت شادی کا مقصد جاہلی رسم و رواج کو مٹانے کی خاطر تھا۔ اس مطالب کی وضاحت کے لئے کچھ قرائن اورشواہد پیش ہیں۔

١۔ جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے پچیس سال کی عمر میں یعنی مکمل جوانی کے عالم میں جناب خدیجہ کے ساتھ شادی کی جن کی عمر بر بنائے مشہور آپ سے زیادہ تھی اور ان کے جوانی کا دور گزر چکا تھا۔ ٢٥ سال تک ان کے ساتھ زندگی گزاری۔

٢۔ جب تک جناب خدیجہ زندہ رہیں کسی دوسری خاتون سے شادی نہیں کی۔ جبکہ ا س دور کے سماج میں متعدد ازواج کا ہونا ایک عام رسم تھی۔

______________________

(١) ابن عبد البر، الاستیعاب، (حاشیہ الاصابہ میں) ، ج ٤، ص ٢٨٢؛ صحیح مسلم؛ امام النووی کی شرح (بیروت: دار الفکر)، ج١٥ھ ص ٢٠١.

(٢) محمد حسین ھیکل، حیات محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (قاھرہ: مکتبة النہضة المصریہ، ط ٨، ١٩٦٣.)، ص ٣١٥و ٣١٦ و ٣٢٥.


٣۔ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی بعد کی شادیاں ٥٠ سال کے بعد (ہجرت سے پہلے کم ، اور ہجرت کے بعد زیادہ) ہوئی تھیں۔ ایک طرف سے پیری کا زمانہ اور دوسری طرف سے سیاسی، سماجی اور نظامی مشکلات اور پریشانیوں کے عروج کا زمانہ تھا ایسے حالات میں کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ کوئی شہوت پرستی کی فکر میں لگا ہوگا؟ کیا اصولی طور پر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ میں اس طرح کے کاموں کی فرصت رکھتے تھے؟

٤۔ کیا ایسی عورتوں کے ساتھ زندگی بسر کرنا عیش و شہوت پرستی کی خاطر تھا جو مختلف طرح کے سلیقے اور اخلاق رکھتی ہوں اور ان میں سے بعض نے اپنے برے اخلاق او اطوار اور ز نانہ حسادت کی وجہ سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو رنجیدہ اور ملول کیاہو۔(١)

٥۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج میں سے ہر ایک، الگ الگ قبیلہ سے تعلق رکھتی تھیں اوران میں آپس میں کوئی رشتہ داری نہیں تھی۔ کیاپیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مختلف قبائل سے تعلق رکھنا اتفاقی مسئلہ تھا؟

٦۔ مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کے بعد اسلام وہاں تیزی سے پھیلنے لگا تھا اور لوگوں کے دلوں میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے معنوی نفوذ کے علاوہ آپ کی اجتماعی اور سیاسی قدرت بھی زیادہ ہوگئی تھی لہٰذا قبائل عرب کے رؤسا اپنے لئے افتخار سمجھتے تھے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کی لڑکی سے شادی کریں لیکن آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جن خواتین کو شادی کے لئے چنا تھا وہ عموماً ضعیف اور بیوہ اور لاوارث تھیں جبکہ خود آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مردوںکو کنواری لڑکیوں سے شادی کرنے کے لئے تشویق کرتے تھے۔ ہم یہاں پر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج میں سے چند کا تذکرہ بطور نمونہ پیش کرتے ہیں۔

۱ام حبیبہ:

وہ اسلام کے کٹر دشمن ابوسفیان کی لڑکی تھیں وہ اپنے شوہر عبید اللہ بن جحش (رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پھوپھی کے لڑکے) کے ساتھ حبشہ چلی گئیں تھیں۔ عبید اللہ وہاں جاکر مرتد اور مسیحی ہوگئے اور شراب نوشی میں افراط کی وجہ سے کفر کی حالت میں دنیا سے گئے۔(٢)

______________________

(١) اس بارے میں زیادہ معلومات حاصل کرنے کے لئے سورۂ تحریم کی آیت ١ سے ٥ تک مراجعہ کریں۔

(٢) محمد بن سعد، طبقات الکبریٰ، (بیروت: دار صادر)، ج٧، ص ٩٧؛ شیخ عباس قمی، سفینة البحار ، ج١، لفظ حب ، ص ٢٠٤.


جب پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کواس واقعہ کی خبر ملی تو آپ نے ٦ھ میں(١) عمرو بن امیہ ضمیری کو حبشہ نجاشی کے پاس بھیجا اور ان سے درخواست کی کہ ام حبیبہ کا عقد ان سے کردیا جائے۔نجاشی نے ام حبیبہ کی شادی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کردی۔ اس کے بعد وہ ایک سال تک حبشہ میں رہیں اور ٨ھ میں مہاجروں کے آخری گروہ کے ساتھ مدینہ پلٹ آئیں۔(٢) اس وقت ان کی عمر ٣٠ سے ٤٠ سال کے بیچ تھی۔(٣)

ظاہر ہے کہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کا یہ اقدام اس نومسلم خاتون سے دلجوئی کی خاطر تھا۔ کیونکہ وہ اپنے باپ اور خاندان والوں سے الگ ہوکر اپنے مسلمان شوہر کے ساتھ حبشہ چلی گئی تھیں اور پھر عالم غربت میں شوہر کا سایہ بھی اٹھ گیا تھا لہٰذا ان کے ساتھ اس سے بہتر کیا اقدام ہوسکتا تھا کہ انھیں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زوجہ ہونے کا شرف ملے؟

جن اسباب کا دعوا مسیحی مورخین نے کیا ہے اگر اس کو فرض کرلیا جائے تو یہ کس طرح سے معقول ہوگا کہ ایک شخص ایسی خاتون سے شادی کرے جو دوسرے ملک میں رہ رہی ہو اور اس کے پلٹنے کی کوئی امید نہ ہو؟!

٢۔ ام سلمہ:

ام سلمہ (ھند) ابی امیہ مخزومی کی لڑکی تھیں ان کے پہلے شوہر ابوسلمہ (عبد اللہ) مخزومی(٤) رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔(٥) ان سے چار لڑکے ہوئے جن میں سے ایک کا نام سلمہ تھا اسی کی مناسبت سے انھیں ''ام سلمہ'' اور ''ابوسلمہ'' کہا جانے لگا۔(٦)

______________________

(١) ابن اثیر، اسد الغابہ، ج٥، ص ٤٥٨؛ مسعودی، مروج الذہب، (بیروت: دار الاندلس)، ج٢، ص ٢٨٩، حمد اللہ متوفی، تاریخ خلاصۂ تاریخ، بہ اہتمام عبدالحسین نوالی )تہران: امیر کبیر، ١٣٦٢)، ص ١٦١.

(٢) ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، ج٤، ص ١٤٤، حمد اللہ مستوفی، گزشتہ حوالہ، ص ١٦١.

(٣) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ٩٩؛ شیخ عباس قمی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٠٤.

(٤) عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، ج٤، ص ٤٥٨، ابن اثیر، اسدالغابہ، ج٥، ص ٥٨٨.

(٥) ابن اثیر، گزشتہ حوالہ، ص ٢١٨.

(٦) گزشتہ حوالہ، ص ٥٨٨؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٤، ص ٢٩٤؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٥، ص ٥٨٨.


ابو سلمہ جنگ احد میں زخمی ہوئے اور اسی زخم کے اثر سے جمادی الثانی ٣ھ میں شہادت کے درجے پر فائز ہوئے(١) گویا ام سلمہ اور ان کے شوہر (بنی مخزوم) کے قبیلہ اور خاندان سے مدینہ میں کوئی نہیں رہ گیا تھا۔ اس لئے کہ وہ کہتی ہیں کہ جس وقت ابوسلمہ کا انتقال ہوا تو میں بہت غمگین ہوئی اور اپنے آپ سے کہا: عالم غربت میں! میں اس طرح سے گریہ کروںگی کہ ہر جگہ میرے گریہ کا تذکرہ ہوگا۔(٢)

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ٤ھ میں ان سے شادی کی(٣) اس وقت وہ بڑھاپے اور ضعیفی کی منزلوں میں قدم رکھ چکی تھیں۔(٤) اور ان کا سب سے چھوٹا بچہ شیرخوار تھا۔(٥)

واضح رہے کہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کا اس شادی سے مقصد یہ تھا کہ اس کی اور اس کے یتیم بچوں کی سرپرستی کرسکیں۔ کیاایک بیوہ اور سن رسیدہ خاتون سے شادی کرنا اور اس کے چاریتیم بچوں کی کفالت اور نگہہ داشت کرنا اپنی جگہ پر ایک ریاضت نہ تھی؟!

ام سلمہ زہد و تقویٰ اور فضیلت کے لحاظ سے حضرت خدیجہ کے بعد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج میں سے سرفہرست تھیں(٦) انھیں خاندان امامت سے خاص تعلق اور انسیت تھی اور وہ بارہا خاندان اہل بیت کی طرف سے علوم و اسرار ولایت کی امانتوںکی محافظ رہی ہیں۔(٧)

______________________

(١) ابن عبد البر، الاستیعاب، ج٤، ص ٨٢.

(٢) امیر مھنا الخیامی، زوجات النبی او اولادہ (بیروت: موسسہ عز الدین، ط ١، ١٤١١ھ)، ص ١٩٩.

(٣) ابن حجر، گزشتہ حوالہ، ص ٤٥٨؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٨، ص ٨٧.

(٤) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ٩٠، ٩١؛ محمد بن حبیب، المحبر (بیروت: دار الافاق الجدیدہ)، ص ٨٤

(٥) ابن حجر، گزشتہ حوالہ، ص ٤٥٨؛ ابن سعد ، گزشتہ حوالہ، ص ٩١.

(٦) مامقانی، تنقیح المقال، ج٣، (فصل النسائ)، ص٧٢.

(٧) مامقانی، گزشتہ حوالہ، شیخ محمد تقی التستری، قاموس الرجال (تہران: مرکز نشر الکتاب ، ١٣٧٩ھ)، ج١٠، ص ٣٩٦.


٣۔ زینب بنت جحش:

زینب، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پھوپھی کی لڑکی تھیں اور اس سے قبل (پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے منھ بولے بیٹے) زید بن حارثہ کی زوجہ تھیں۔(١) اور زید سے جدائی کے بعد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے عقد میں آگئیں۔

زید پہلے حضرت خدیجہ کے غلام تھے انھوں نے حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ شادی کرنے کے بعد زید کو اپنے شوہر حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حوالے کردیا۔ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بعثت سے قبل اس کو آزاد کردیا اور پھر اپنا منھ بولا بیٹا قرار دیا۔ اس دن سے اس کو ''زید بن محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم '' کہا جانے لگا۔(٢)

بعثت کے بعد خداوند عالم نے منھ بولے بیٹے کی رسم کو باطل اور بے اعتبار قرار دیا۔

''اللہ نے نہ تمہاری منھ بولی اولاد کواولاد قرارنہیں دیا یہ سب تمہاری زبانی باتیں ہیں اور اللہ تو صرف حق کی بات کہتا ہے اور سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے''۔

ان بچوں کوان کے باپ کے نام سے پکارو کہ یہی خدا کی نظر میں انصاف سے قریب تر ہے اور اگر ان کے باپ کو نہیں جانتے ہو تو یہ دین میں تمہارے بھائی اور دوست ہیں اور تمہارے لئے اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے جو تم سے غلطی ہوگئی ہے۔ البتہ تم اس بات کے ضرور ذمہ دار ہو جو تمہارے دلوں نے قصداً انجام دیاہے اور اللہ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے۔(٣)

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان آیات کے نزول کے بعد زید سے فرمایا: تم زید بن حارثہ ہو اور اس دن سے وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا آزاد کردہ (مولیٰ رسول اللہ) کہا جانے لگا۔(٤)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے زینب کی شادی کرنا چاہی۔ زینب جو کہ عبد المطلب کی نواسی اور جن کا تعلق قریش کے مشہور قبیلہ سے تھا پہلے راضی نہیں ہوئیں کیونکہ زید نہ صرف قریش سے تعلق نہیں رکھتے تھے بلکہ ایک آزاد

______________________

(١) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٨، ص ١٠١؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج٢، ص ٢٢٦؛ ابن حجر ، الاصابہ، ج٤، ص ٥٦٤.

(٢) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ابن اثیر، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٢٤؛ ابن حجر ، گزشتہ حوالہ، ص ٥٦٣.

(٣)سورۂ احزاب، آیت ٤، ٥.

(٤) آلوسی، تفسیر روح المعانی، (بیروت: دار احیاء التراث العربی)، ج٢١، ص ١٤٧.


شدہ غلام تھے لیکن چونکہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے اس کی شادی کے بارے میں زیادہ تاکید فرمائی لہٰذا زینب راضی ہوگئیں یہ شادی نسلی اور طبقاتی امتیازات کے خاتمہ کا ایک نمونہ تھی اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصرار کا راز بھی یہی تھا۔

طرفین میں بدسلوکی اور بدخلقی کی وجہ سے کچھ دن میں اس جوڑے کی مشترک زندگی کی بنیادیں ہلنے لگیں اور جدائی کے قریب پہنچ گئیں۔ چند مرتبہ زید نے چاہا کہ اس کو طلاق دیدیں لیکن پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے مصالحت کرنے کے لئے کہا اور فرمایا: اپنی زوجہ کو رکھو!۔(١)

آخر کار زید نے اس کو طلاق دیدی، جدائی کے بعد پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م خدا کی طرف سے مامور ہوئے کہ زینب کے ساتھ شادی کریں تاکہ منھ بولے بیٹے کی مطلقہ کے ساتھ شادی کرنا مسلمانوں کے لئے دشوار نہ ہواور غلط رسم و رواج جو کہ زمانہ ٔ جاہلیت سے لوگوں کے درمیان رائج تھا۔ عملی طور سے اسے ختم کردیں۔ کیونکہ عرب منھ بولے بیٹے کو ہر لحاظ سے اپنا واقعی بیٹا سمجھتے تھے۔ لہٰذا اس کی زوجہ کے ساتھ شادی کرنا جائز نہیں جانتے تھے قرآن مجید نے اس شادی کے مقصد اور سبب کواس طرح سے بیان کیا ہے:

''او راس وقت کو یاد کرو جب تم اس شخص سے جس پر خدا نے بھی نعمت نازل کی اور تم نے بھی احسان کیا یہ کہہ رہے تھے کہ اپنی زوجہ کو روک کر رکھو، اور اللہ سے ڈرو اورتم اپنے دل میں اس بات کو چھپائے ہوئے تھے جسے خدا ظاہر کرنے والا تھا(٢) اور تمھیں لوگوںکے طعنوں کا خوف تھا حالانکہ خدا زیادہ حقدا رہے کہ اس سے ڈرا جائے اس کے بعد جب زید نے اپنی حاجت پوری کرلی تو ہم نے

______________________

(١) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٨، ص ١٠٣.

(٢) مفسروں کے عقیدہ کے مطابق جو کچھ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دل میں تھا وہ یہ تھا کہ خداوند عالم نے ان کو باخبر کردیا تھا کہ زید اپنی زوجہ کو طلاق دے گا اور وہ اس کے ساتھ شادی کریں گے تاکہ اس جاہلانہ رسم کوتوڑیں لیکن پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے لوگوںکے ڈر سے اس کا اظہار نہیں کیا۔ یہ مطلب چوتھے امام سے نقل ہوا ہے (آلوسی، گزشتہ حوالہ، ج٢٢، ص ٢٤؛ طبرسی، مجمع البیان، ج٨، ص ٣٦٠.)


اس عورت کا عقد تم سے کردیا تاکہ مومنین کے لئے منھ بولے بیٹوںکی بیویوں سے عقد کرنے میں کوئی حرج نہ رہے جب وہ لوگ اپنی ضرورت پوری کرچکیں اور اللہ کا حکم بہرحال نافذ ہو کر رہتا ہے''۔(١)

منافقوں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر تہمت اور بدگوئی کے لئے اس شادی کو دلیل اور بہانہ بنایا کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے لڑکے کی زوجہ (بہو) کے ساتھ شادی کی ہے۔(٢)

خداوند عالم ان کے جواب میں فرماتا ہے:

''محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اور سلسلہ انبیاء کے خاتم ہیں اور اللہ ہر شی کو خوب جاننے والا ہے''۔(٣)

بعض مسیحی مورخین نے اس شادی کوایک عشقیہ داستان کی صورت میں پیش کیاہے اور اس کو بہت بڑھا چڑھا کر بیان کیا ہے۔(٤)

______________________

(١) سورۂ احزاب، آیت ٣٧.

(٢) ابن اثیر ، گزشتہ حوالہ، ج٧، ص ٤٩٤؛ طبرسی، مجمع البیان، ج٨، ص ٣٣٨؛ قسطلانی ، المواہب اللدنیہ بالمنح المحمدیہ، تحقیق: صالح احمد الشامی، (بیروت: المکتب السلامی ط١، ١٤١٢ھ)، ج٢، ص ٨٧.

(٣) سورۂ احزاب، آیت ٤٠.

(٤) دائرة المعارف الاسلامیہ، عربی ترجمہ احمد السنتناوی (اور اس کے معاونین) ، ج١١، ص ٢٩، کلمۂ زینب؛ محمد حسین ھیکل، حیات محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، ص ٣٢٣۔ ٣١٦۔ مغربی مورخین کے کہنے کے مطابق پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م ایک دن زید کے گھر گئے اور وہاں اچانک ان کی نظر زینب پر پڑی اور وہ اس کے حسن و خوبصورتی کے عاشق ہوگئے جب زید کو اس بات کی خبر لگی تو اس نے زینب کو طلاق دیدی! اور...جبکہ زینب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے رشتہ داروں میں سے تھی اور حجاب اس زمانہ میں معمول نہیں تھا اور وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے کوئی نئی فرد نہیں تھیں۔ عام طور سے ایک خاندان کے لوگ ایک دوسرے سے آگاہ رہتے ہیں۔ ہمیں یہ یاد دہانی کرانی چاہئے کہ اس طرح کے کچھ واقعات جو مغربی مورخین کے سوء استفادہ کا باعث بنے ہیں وہ غیر معتبر اور بے بنیاد روایتوں سے ماخوذ ہیںجو بعض تاریخ اسلام (جیسے تاریخ طبری ، ج٢، ص ٤٢، طبقات الکبریٰ، ج ٨، ص ١٠١)، میں نقل ہوئے ہیں اور دوسرے مؤلفین نے بھی بغیر توجہ کے ان سے نقل کیا ہے لیکن ہم نے دیکھا کہ قرآن نے بھی اس واقعہ کو وضاحت کے ساتھ دوسرے انداز میں بیان کیا ہے اور علمائے اسلام نے بھی ان روایات کو غیر قابل قبول قرار دیا ہے ان میں سے سید مرتضی علم الہدی، شیعوں کے نامور عالم دین (م: ٤٣٦ھ)، نے اس روایت کو ''روایت خبیثہ'' کہا ہے۔ (تنزیہ الانبیائ، ص ١١٤) اور آلوسی بغدادی نے اس کو واقعہ نگاروںکی ناقابل قبول بات کہی اور شارح مواقف سے نقل ہوا ہے اس نے کہا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس ناروا نسبت سے مبرا سمجھنا چاہئے (روح المعانی، ج٢٢، ص ٢٥۔ ٢٤)


لیکن ان کا یہ دعوا، پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی نبوت اور عصمت کی شان کے مطابق نہیں ہے اور اس کے علاوہ ہم نے دیکھا کہ مسئلہ کچھ اور تھا جو تاریخ کے دامن میں محفوظ ہے اور قرآن نے بھی اس کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی ازواج میں سے ان چند کا تذکرہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے متعدد ازواج کے ہونے کے مقصد کو واضح کردیتا ہے اور بقیہ کے حالات بھی تقریباً انھیں کے مثل ہیں لہٰذا ان کے تذکرہ کی ضرورت نہیں رہ جاتی ہے۔

قرآن کی جاذبیت

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دینے میں بہت کم اپنی طرف سے کچھ کہتے تھے. ان کی دعوت کا بہترین وسیلہ قرآن کی آیات ہوا کرتی تھیں جو عربوں کی سماعتوں کو سحر انگیز کشش میں بدل دیتی تھیں۔

حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سب سے بڑا معجزہ قرآن ہے جو فصاحت و بلاغت، الفاظ و کلمات، جملوں کی ترکیب، انتخاب الفاظ اور آیات قرآن کی ایک خاص صدا کے لحاظ سے معجزہ ہے جس میں بے انتہا زیبائی ،دلکشی اور جذابیت پائی جاتی ہے کہ جس کا مثل پیش کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ اسی وجہ سے قرآن مجید ''چیلنج'' کرتا ہے اور منکروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ اگر تمھیں ا س میں کوئی شک ہے تو اس کے ایک سورہ کا جواب لے آؤ۔(١)

حجاز کے عرب، شاعر اور شعر شناس تھے، قرآن کی آیات کی فصاحت و بلاغت اور زیبائی کودیکھ کر وہ اس کے شیدائی اوراس میں مجذوب ہوجاتے تھے۔ وحی کے کلمات ، ان کی سماعتوں میں دلکش نغموں اور دلنشین صداؤوں سے زیادہ، لذت بخش محسوس ہوتے تھے اور کبھی تو شدت تاثیر سے قرآن کی

______________________

(١)سورۂ بقرہ، آیت ٢٣۔


آیات ان کے وجود کی تہوں تک اس قدر نفوذ کرجاتی تھیں کہ کافی دیر تک اپنی جگہ پر لذت و کشش میں غرق کھڑے رہتے تھے!۔

ایک شب قریش کے کچھ سردار جیسے ابوسفیان اورابوجہل ایک دوسرے سے بے خبر حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر کے اطراف میں چھپ گئے اور صبح تک قرآن کی آیات کو سنتے رہے جو آپ نماز شب میں تلاوت فرماتے تھے اور صبح سویرے پلٹتے وقت جب ایک نے دوسرے کو دیکھا تو ایک دوسرے کی ملامت کرنے لگے اور کہا: پھر ایسی حرکت نہیں کریں گے کیونکہ اگر احمقوں نے ہمیں دیکھ لیا تو ہمارے بارے میں کچھ اور سوچیں گے (سوچیں گے کہ ہم مسلمان ہوگئے) لیکن اس کے باوجود یہ حرکت کئی دوسری راتوں میں پھر انجام دی اور ہر مرتبہ یہ طے کرتے تھے کہ دوبارہ اس طرح کی بے احتیاطیاں نہیں کریں گے۔(١)

جادوگری کا الزام

حج کا موسم پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تبلیغ او ردعوت کے لئے مناسب موقع ہوا کرتا تھا کیونکہ عرب کے مختلف قبیلوں کے لوگ اعمال حج بجالانے کے لئے مکہ میں آیا کرتے تھے ،لہٰذا اس موقع پر حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے صدائے توحید کو جزیرة العرب کے تمام رہنے والوں تک پہنچانا آسان کام تھا۔ لہٰذا اس لحاظ سے حج کا موسم سرداران قریش کے لئے خطرناک بن گیا تھا اور وہ اس سے خوف زدہ رہتے تھے لہٰذا موسم حج کے شروع ہوتے ہی بزرگان قریش کا ایک گروہ، ولید بن مغیرہ (جوکہ ایک سن رسیدہ شخص اور قبیلہ بنی مخزوم کا سردار تھا) کے پاس جمع ہوا ،اس نے کہا کہ حج کا موسم آگیا ہے لوگ ہر طرف سے تمہارے شہر میں آرہے ہیں اور انھوں نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں سن رکھا ہے۔ لہٰذا تم سب اس کے بارے میں ایک

______________________

(١) ابن ہشام، الشیرة النبویہ، ج١، ص ٣٣٧.


ہی بات کہو، مختلف باتیں کہہ کر ایک دوسرے کو جھٹلاؤ نہیں۔

ان لوگوں نے کہا: جو کچھ تم کہو وہی ہم بھی کہیں گے۔

اس نے کہا: تم لوگ کہو، میں سنتا ہوں۔

ہم اسے کاہن کہیں گے۔

نہیں، خدا کی قسم وہ کاہن نہیں ہے ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے وہ نہ کاہنوں کی طرح پڑھتا ہے اور نہ مسجع کلام کرتا ہے۔

ہم اسے دیوانہ کہیں گے۔

نہیں وہ دیوانہ بھی نہیں ہے۔ ہم نے دیوانگی کودیکھا ہے اور اس کے آثار کو بھی جانتے ہیں نہ اس کا جسم غیر ارادی طور پر لرزتا ہے اور نہ ہی دیو اس میں وسوسہ کرتا ہے۔

ہم اسے شاعر کہیں!

شاعر بھی نہیں ہے۔ ہم شعر کی قسموں کو پہچانتے ہیں جو وہ کہتاہے وہ شعر نہیں ہے۔

ہم اسے ساحر اور جادوگر کہیں۔

نہیں وہ ساحر بھی نہیں ہے۔ ہم نے ساحروں کے سحر کو دیکھا ہے کہ کس طرح وہ رسیوں کو پھونکتے اور ان کو گرہ لگاتے ہیں۔! اس کا کام سحر نہیں ہے۔

پھر ہم اسے کیا کہیں؟

خدا کی قسم اس کا کلام شیرین اور دلنشین ہے اور اس کا درخت شاداب اور اس کی ٹہنیاں پرثمر ہیں اس طرح کی جتنی باتیں اس کے بارے میں کہوگے، اس کا غلط ہونا واضح ہو جائے گا۔ لہٰذا تمام چیزوں سے بہتر ہے کہ ہم اسے جادوگر کہیں ۔ کیونکہ وہ اپنے سحر آمیز کلمات کے ذریعہ باپ بیٹے، بھائی بھائی ، عورت مرد اور ایک قبیلہ کے افراد میں جدائی ڈال دیتا ہے۔!


لہٰذا قریش کے سردار، اس ارادہ سے متفرق ہوگئے اوراس دن سے حاجیوں کے راستے میں بیٹھتے تھے اور ان کو ہوشیار کرتے تھے کہ رسو لخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملاقات نہ کریں۔(١)

قریش کی اعلی کمیٹی نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جس کلام کو ''جادو'' کہا وہ قرآن مجید کی دلنشین آیات تھیں کہ جس کو سننے کے بعد ہر شخص متاثر ہو جاتا تھا اور اس کو قرآن کا گرویدہ اور عاشق بنا دیتا تھا۔قرآن کی آیات سننے پر پابندی ا س حد تک لگائی کہ قریش کے سردار، بڑی شخصیتوں سے جیسے اسعد بن زرارہ جو کہ مدینہ سے مکہ آیا ہوا تھا اس سے جاکر کہا کہ طواف کے وقت اپنے کان میں روئی لگالیں تاکہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سحر کے خطرہ سے محفوظ رہیں!!(٢)

طائف کا تبلیغی سفر

طائف مکہ سے ١٢ فرسخ (تقریباً ٧٢ کلومیٹر) کے فاصلہ پر واقع ہے یہ علاقہ اور یہاں کی آب و ہوا بہترین اور موسم خوش گوار ہے ۔ اس زمانہ میں طائف کے باغوں کے انگور مشہور تھے۔(٣)

قریش کے بعض ثروتمندوں کے باغ اور زمینیں وہاں تھیں۔ خود طائف کے لوگ بھی دولت مند تھے اور رباخوری میں مشہور تھے اور طائف میں اس وقت ایک قدرت مند قبیلہ ''ثقیف'' رہا کرتا تھا۔

جناب خدیجہ اور جناب ابوطالب کی رحلت کے بعد قریش کی جانب سے حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر دباؤ اور اذیتیں بڑھ گئیں اورمکہ میں تبلیغی کام دشوار ہوگیااور دوسری طرف سے یہ بھی ضروری تھا کہ لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دینے کا کام نہ رکے، لہٰذا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ارادہ کیا کہ طائف جائیں اور وہاں کے لوگوں کواسلام کی طرف دعوت دیں، شاید وہاں پر ان کا کوئی ناصر و مددگار پیدا ہوجائے اس سفر میں

______________________

(١) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٢٨٩۔ ٢٨٨.

(٢) طبرسی، اعلام الوریٰ، ص ٥٦.

(٣) یاقوت حموی، معجم البلدان، ج ٤، ص٩.


زید ابن حارثہ(١) اور حضرت علی(٢) آپ کے ساتھ تھے۔

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے طائف میں قبیلۂ ثقیب کے تین افراد سے، جن میں ایک کی زوجہ، قبیلۂ قریش ''خاندان بنی جمح''(٣) سے تھی ملاقات کی اور ان کو اسلام کی طرف دعوت دی اور ان سے مدد چاہی۔ لیکن انھوں نے آپ کی بات قبول نہیں کی اور آپ کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آئے۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے درخواست کی کہ وہ اس بات کو چھپالیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ چیز مکہ تک پہنچ جائے اور قریش کی دشمنیاں اور گستاخیاں ہم سے زیادہ نہ بڑھ جائیں۔ لیکن ان لوگوں نے کوئی توجہ نہیں دی۔

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دوسرے بزرگان طائف کے پاس بھی گئے لیکن ان لوگوں نے بھی آپ کی بات قبول نہیں کی اور اپنے جوانوں کے بارے میں ڈرے کہ کہیں وہ نئے دین کے گرویدہ نہ ہوجائیں۔(٤)

طائف کے بزرگوں نے، اوباشوں کمینوں پست لوگوں اور غلاموں کو ورغلایا اور ان لوگوں نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ہلّڑ، ہنگامہ اور گالم گلوج کرتے ہوئے پیچھا کیا اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر پتھر برسائے جس سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دونوں پیر اور زید کا سر زخمی ہوگیا۔

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک انگور کے باغ میں جو عتبہ اور شیبہ (قریش کے سرمایہ دار) کا تھا وہاں چلے گئے اور ایک

______________________

(١) طبری، تاریخ الامم و الملوک (بیروت: دار القاموس الحدیث)، ج٢، ص ٢٣٠؛ بلاذری، انساب الاشراف۔ تحقیق: محمد حمید اللہ (قاہرہ: دار المعارف)، ج١، ص ٢٣٧.

(٢) ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق: محمدابوالفضل ابراہیم، (قاہرہ: دار احیاء الکتب العربیہ، ١٩٦١ئ)، ج١٤، ص٩٧و ج٤، ص ١٢٨۔ ١٢٧؛ مدائنی کی نقل کے مطابق۔

(٣) طبری، گزشتہ حوالہ، ص ٢٣٠؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٢، ص ٦٠.

(٤) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ٢١٢.


انگور کے درخت کے سایہ میں پناہ لی اور وہاں بیٹھ کر خدا سے مناجات کی۔

عتبہ اور شیبہ جوانگور کے باغ کے اندر سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تعاقب اور اذیت کا منظر دیکھ رہے تھے ان کو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حالت زار پر ترس آیا۔ لہٰذا کچھ انگور اپنے مسیحی غلام ''عدّاس'' (جوکہ نینوا کا رہنے والا تھا) کے ذریعہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس بھیجا۔

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کو نوش فرماتے وقت ''بسم اللہ'' کہی یہ دیکھ کر ''عداس'' کے اندر تحقیق و جستجو کا جذبہ بھڑک اٹھا۔اور پھر اس نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مختصر گفتگو کے بعد کہ جس میں آپ نے اپنی رسالت کا تذکرہ کیا۔ آپ کے قدموں پر گر پڑا اور آپ کے ہاتھ پیر اور سرکا بوسہ لینے لگا(١) اور مسلمان ہوگیا۔(٢)

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م دس دن طائف میں(٣) رہنے کے بعد ثقیف کی عدم حمایت اور ان کے اسلام نہ قبول کرنے پر مایوس ہوکر دوبارہ مکہ واپس آگئے۔

کیا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کسی سے پناہ مانگی؟

کہا جاتا ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مکہ میں دوبارہ پلٹنے کے بعد مطعم بن عدی سے پناہ مانگی اور اس کی پناہ میں مکہ میں داخل ہوئے لیکن اس سلسلے میں جو قرائن اور شواہد ملتے ہیں ان کودیکھنے کے بعد یہ بات بالکل بعید نظر آتی ہے. ان میں سے کچھ شواہد یہ ہیں:

١۔ یہ بات کس طرح سے قبول کی جاسکتی ہے کہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے دس سال تبلیغ و دعوت اور بت

______________________

(١) طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٣٠؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص٦٢.

(٢)ابن واضح ، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٣٠.

(٣) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢١٢؛ ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١٤، ص ٩١؛ مجلسی، بحار الانوار، ج١٩، ص ٢٢؛ طائف میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قیام کی مدت اس سے بھی زیادہ لکھی گئی ہے۔


پرستوں سے مقابلہ کرنے کے بعد، پناہندگی کی ذلت و خواری کو قبول کیا ہو؟ جبکہ اپنی ساری عمر میں کسی کے احسان مند نہیں ہوئے۔

٢۔ اگر چہ جناب ابوطالب، اس وقت دنیا سے رحلت فرماگئے تھے لیکن بقیہ بنی ہاشم وہاں موجود تھے او ران کے درمیان بہادر افراد جیسے جناب حمزہ موجود تھے جن سے قریش کو ڈر تھا کہ کہیں وہ انتقام نہ لیں جیسا کہ شب ہجرت کے واقعہ میں بھی سردار ان قریش نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قتل کی سازش میں بنی ہاشم کے خون خواہی او ر انتقام کے خوف سے چند قبیلوں کو اپنے ساتھ کرلیا تھا۔

٣۔ بعض تاریخی کتابوں میں نقل ہوا ہے کہ زید آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ تھے اور بعض مورخین کی نقل کے مطابق حضرت علی بھی آپ کے ہمراہ تھے (اصولی طور پر یہ بعید ہے کہ حضرت علی ایسے سفر میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ نہ رہے ہوں) لہٰذا تین افراد کا ایک گروہ موجودتھا جو اپنا دفاع کرسکتا تھا۔ لہٰذا پناہ لینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

٤۔ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م عرب کے بہادروں میں سے تھے لہٰذا ان کوایک کمزور اور ضعیف انسان نہیں سمجھنا چاہئے کہ جو بھی چاہے انھیں ضرر پہنچا دے۔ جیسا کہ حضرت علی نے میدان جنگ میں ان کی شجاعت کی تعریف ا س طرح کی ہے:

''جس وقت جنگ کی آگ شدید شعلہ ور ہوتی تھی تو ہم رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس پناہ مانگتے تھے اور اس وقت ہم میں سے کوئی بھی ان سے زیادہ دشمن سے نزدیک نہیں ہوتا تھا''۔(١)

٥۔ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے قبیلہ جاتی نظام سے جو کہ بہت ساری مشکلات اور پریشانیوںکی جڑ تھی ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،پناہندگی کی رسم جو کہ قبیلہ جاتی نظام کا ایک حصہ تھی اس کا سہارا لیتے اور اس کی تائید فرماتے ۔

______________________

(١) کنا اذا احمر البأس اتقینا برسول اللّٰہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فلم یکن احد منا اقرب الی العدو منہ (نہج البلاغہ، تحقیق: صبحی صالح، ص٥٣٠؛ غریب کلامہ، نمبر ٩٠).


٦۔ بلاذری(١) اور ابن سعد(٢) کی خبر میں بیان ہوا ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا طائف کی طرف سفر شوال کے آخری دنوں میں ہوا تھا اگر اس خبر کو صحیح مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا طائف میں قیام اور پھر مکہ واپسی، حرام مہینے میں ہوئی تھی اور حرام مہینوں میں عام طور سے لڑائی جھگڑا اور خون ریزی بند ہو جاتی تھی اسی بنا پر آنحضرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا تاکہ پناھندگی کا مسئلہ پیداہوتا۔

ان قرائن کو دیکھتے ہوئے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم طائف سے واپس ہونے کے بعد (کہتے ہیں کہ ایک شب آپ نے ''نخلہ''(٣) میں قیام کیا اور وہاں جنّات کے ایک گروہ نے، قرآن کی آیات کو سنا)،(٤) وادی نخلہ کے راستے سے مکہ آگئے۔(٥)

عرب قبائل کو اسلام کی دعوت

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے مکہ اور اس کے اطراف میں رہنے والے قبائل عرب کو اسلام کی طرف دعوت دی جیسا کہ آپ کِندَہ، کَلب، بَنی حنیفہ اور بنی عامر بن صعصعہ ، قبیلے کے پاس تشریف لے گئے او ران کو اسلام کی طرف دعوت دی۔ ابولہب بھی آپ کے پیچھے گیا اور لوگوں کو آپ کی پیروی کرنے سے منع کیا۔(٦)

______________________

(١) انساب الاشراف، ج١، ص ٢٣٧.

(٢) طبقات الکبریٰ، ج١، ص ٢١٠.

(٣) طائف اور مکہ کے درمیان ایک محلہ ہے جس کی دوری ایک رات میں طے ہوتی ہے۔ (السیرة النبویہ، ج٢، ص ٦٣)

(٤)طبری، گزشتہ حوالہ، ص ٢٣١؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٦٣.

(٥) مراجعہ کریں: الصحیح من سیرة النبی الاعظم، ج٢، ص ١٦٨۔ ١٦٧.

(٦) ابن ہشام ، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٦٦۔ ٦٥؛ طبری ، تاریخ الامم و الملوک (بیروت: دار القاموس الحدیث) ، ج٢، ص ٢٣٣؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج١، ص ٢٣٨۔ ٢٣٧؛ ابن اسحاق، السیر و المغازی، تحقیق: سہیل زکار، ص ٢٣٢؛ نیز قبائل: بنی فزارہ ،غسان، بنی مرہ، بنی سلیم، بنی عبس، بنی حارث، بنی عذرہ، حضارمہ، بنی نضر اور بنی بکاء میں سے ہر ایک کودعوت دی لیکن کسی نے قبول نہیں کیا۔ (ابن سعد، طبقات الکبریٰ)، (بیروت: دار صادر، ج١، ص ٢١٧۔ ٢١٦)


جس وقت پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے بنی عامر سے گفتگو کی، ان کے بزرگوں میں سے ایک شخص جس کا نام بحیرہ بن فراس تھا ، اس نے کہا: ''اگر ہم آپ کی بیعت کریں اور دعوت کو قبول کریں او رخدا آپ کو آپ کے دشمنوں پر کامیاب کرے تو کیا آپ وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کا جانشین ہم میں سے ہوگا؟''

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''یہ کام خدا سے مربوط ہے وہ ا س امر کو جہاں چاہے گا وہاں قرار دے گا''(١)

اس نے تعجب اور انکار کے عالم میں جواب دیا: ہم آپ کی راہ میں قبائل عرب سے مقابلہ کریں اورآپ سینہ سپر بنیں اور جب خدا آپ کو کامیاب کردے تو مسئلہ دوسرے کے ہاتھ میں چلا جائے؟ہم کو آپ کے دین کی ضرورت نہیں ہے۔(٢)

منقول ہے کہ ایسی پیش کش قبیلۂ کندہ کی طرف سے بھی ہوئی اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا جواب بھی وہی تھا۔(٣)

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ جواب اور رد عمل دو اعتبار سے قابل توجہ ہے:

اول: یہ کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا تاکید فرماناکہ ان کی جانشینی کا مسئلہ خدا سے مربوط ہے، خود آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جانشینی کے انتصابی ہونے پر گواہ ہے یعنی یہ منصب ایک الٰہی منصب ہے اور اس سلسلے میں انتخاب، خدا کی طرف سے انجام پاتا ہے نہ لوگوں کی طرف سے۔

دوسرا: سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے انسانی حکمرانوں کے برخلاف جو کہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے ہر طرح کی چال چلتے تھے اور اس کی توجیہ و تاویل کرتے تھے ، امر تبلیغ میں غیر

______________________

(١) الأمر للہ {الی اللّٰہ} یضعہ حیث یشائ۔

(٢) ابن ہشام ، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٦٦؛ حلبی ، السیرة الحلبیہ، (بیروت: دار المعرفہ)، ج٢، ص ١٥٤؛ ذینی دحلان، السیرة النبویہ والآثار المحمدیہ، (بیروت: دار المعرفہ، ط٢)، ج١، ص ١٤٧؛ سید جعفر مرتضی العاملی، الصحیح من سیرة النبی، ج ٢، ص ١٧٦۔ ١٧٥

(٣) ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، (بیروت: مکتبہ المعارف، ط ١، ١٩٦٦.)، ج٣، ص ١٤٠


اخلاقی روش اختیار نہیں کی ۔ جبکہ اس زمانہ میں ایک بہت بڑے قبیلہ کا مسلمان ہو جانا بہت اہمیت رکھتا تھا لیکن (اس کے باوجود بھی آپ تیار نہیں ہوئے کہ لوگوں سے ایسے وعدے کریں جس کا پورا کرنا آپ کے بس سے باہر ہو)۔

بہر حال حج و عمرہ کے موسم میں، اور حرام مہینوں کے احترام میں، امنیت پیدا ہوئی اور بہت سے گروہ مختلف علاقوںسے مکہ اور منی یا مکہ کے اطراف میں لگنے والی بازاروں جیسے موسمی بازار عکاظ، مجنّہ اورذی المجاز میں جاتے تھے(١) اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وہاں پر اپنے تبلیغی مشن کو جاری رکھتے اور اس کو اور توسیع دیتے تھے ۔

آپ بزرگان قبائل کے پاس جاتے تھے اور ان کو تبلیغ کرتے اور اگر مکہ کے مسافر اور زائر خود مسلمان نہیں ہوتے تھے تو کم از کم آپ کے بعثت کی خبر اپنے علاقہ میں پھیلاتے تھے اور یہ کام آپ کی کامیابی کی راہ میں ایک قدم تھا۔

______________________

(١) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢١٦.


چوتھا حصہ

ہجرت سے عالمی تبلیغ تک

پہلی فصل: مدینہ کی طرف ہجرت

دوسری فصل: مدینہ میں پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے بنیادی اقدامات

تیسری فصل: یہودیوں کی سازشیں

چوتھی فصل: اسلامی فوج کی تشکیل


پہلی فصل

مدینہ کی طرف ہجرت

مدینہ میں اسلام کے نفوذ کا ماحول

وادی القریٰ ایک بڑا درّہ ہے جہاں سے، یمن کے تاجروں کا شام جانے کا راستہ مکہ کے اطراف سے ہوتا ہوا گزرتا ہے اس درّے کی لمبائی شمال سے جنوب تک ہے اور اس میں چند ایسی زمینیں بھی تھیں جو آب و گیاہ سے مالا مال اور کھیتی باڑی کے لائق تھیں ۔(١) اور وہاں سے قافلے گزرتے وقت اس سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ مکہ کے شمال میں ٥٠٠ کلومیٹر کے فاصلہ پر انھیں زمینوں میں سے ایک زمین میں قدیمی شہر ''مدینہ'' پڑتاتھا جو ہجرت رسول خدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ا کے بعد ''مدینة الرسول'' اور پھر ''مدینہ'' کہا جانے لگا۔

اس شہر کے لوگوں کا پیشہ اہل مکہ کے برخلاف کھیتی باڑی اور باغبانی تھا۔ مدینہ کے اجتماعی حالات اور آبادی کا تناسب بھی مکہ سے بالکل الگ تھا۔ اس شہر میں یہودیوں کے تین بڑے قبیلے ''بنی نضیر''، ''بنی قینقاع'' اور ''بنی قریظہ'' رہتے تھے۔ دو مشہور قبیلہ ''اوس اور خزرج'' بھی جن کی اصالت یمنی (قحطانی) تھی مأرب بند ٹوٹنے کے بعد(٢) جنوب سے ہجرت کر کے اس شہر میں یہودیوں کے بغل

______________________

(١) یاقوت حموی ، معجم البلدان، (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ١٣٩٩ھ) ج٤ ، ص ٣٣٨.

( ۲) وہی مصنف، ج٥، ص ٣٦، مأرب بند ٹوٹنے کا تذکرہ ہم اس کتاب کے پہلے حصہ میں کرچکے ہیں.


میں آکر رہنے لگے تھے۔

جس زمانے میں پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م مکہ میں تبلیغ الٰہی میں سرگرم تھے مدینہ میں ایسے واقعات رونما ہو رہے تھے جن سے ہجرت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ماحول ہموار ہو رہا تھا اور پھر یہ شہر اسلام کے پیغام اور تبلیغی مرکز میں تبدیل ہوگیا ان واقعات میں سے چند یہ ہیں۔

١۔ یہودیوں کے پاس شہر کے اطراف میں زرخیز زمینیں تھیں اور ان میں انھوں نے کھجور کے باغات لگا رکھے تھے جن سے ان کی مالی حالت اچھی ہوگئی تھی(١) کبھی کبھار ان کے اور اوس و خزرج کے درمیان نوک جھوک ہوجایا کرتی تھی۔ یہودی ان سے کہتے تھے کہ عنقریب ایک پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آنے والا ہے ہم اس کی پیروی کریں گے اور اس کی مدد سے تم کو قوم عاد وارم کی طرح نابود کردیں گے۔(٢)

______________________

(١) مونٹگری واٹ، محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فی المدینہ، تعریف: شعبان برکات (بیروت: منشورات المکتبة العصریہ) ، ص ٢٩٤ پرکہتے ہیں کہ اوس و خزرج کے مدینہ آنے سے قبل ،قبائل عرب ١٣ قلعوں اور کالونیوں کے مقابلے میںیہودیوں کے پاس ٥٩ قلعہ تھے (گزشتہ حوالہ، ٢٩٣؛ وفاء الوفاء ، ج١، ص ١٦٥.) اس سے دونوں کی زندگی کے معیار اور فاصلہ کا پتہ چلتا ہے۔

(٢) ابن ہشام ، گزشتہ حوالہ، ج ٢، ص ٧٠؛ طبری ، ج٢، ص ٢٣٤؛ بیہقی، دلائل، ترجمہ محمود مہدوی دامغانی (تہران، مرکز انتشارات علمی و فرہنگی، ١٣٦١) ج٢، ص١٢٨۔ مراجعہ کریں: ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب ، ج١، ص ٥١؛ طبرسی، اعلام الوریٰ، ص ٥٦، جو یہودی بعثت پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے بارے میں اس طرح پیشین گوئی کرتے تھے ،وہی بعثت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ان سے دشمنی کے لئے کھڑے ہوگئے۔ اس وجہ سے قرآن ان سے اس طرح سے معترض ہوا ''اور جب ان کے پاس خدا کی طرف سے کتاب آئی ہے جوان کی توریت وغیرہ کی تصدیق بھی کرنے والی ہے اور اس کے پہلے وہ دشمنوں کے مقابلہ میں اسی کے ذریعہ طلب فتح بھی کرتے تھے لیکن اس کے آتے ہی منکر ہوگئے حالانکہ اسے پہچانتے بھی تھے تو اب ان کافروں پر خدا کی لعنت ہو۔


چونکہ یہودیوں کے کلچر کا معیار بلند تھا اور بت پرست انھیں احترام کی نظر سے دیکھتے تھے ۔ لہٰذا اس سلسلے میں ان کی باتوں کو باور کرتے تھے اور چونکہ یہ دھمکیاں کئی بار دی گئیں تھیں لہٰذا مسئلہ مکمل طور سے اوس و خزرج کے ذھن میں جاگزیں ہوگیا تھا اور ذہنی طور پر مدینہ والے ظہور پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے لئے آمادہ ہوگئے تھے۔

٢۔ برسوں پہلے سے اوس و خزرج کے درمیان کئی مرتبہ جنگ و خونریزی ہوچکی تھی ان میں سے آخری جنگ ''بغاث'' تھی جس کے نتیجہ میں بے انتہا جانی نقصانات او ربربادیاںدونوں طرف ہوئی تھیں اور دونوں گروہ نادم و پشیمان ہوکر صلح کرنا چاہتے تھے لیکن کوئی معتبر اور بے طرف شخص نہیں مل رہا تھا جو ان کے درمیان صلح کراسکے۔ عبد اللہ بن ابی جو خزرج کے بزرگوں میں سے تھاجنگ بعاث میں بے طرف ہوگیا اور چاہتا تھا کہ دونوں گروہ میں صلح کرا کے ان پر حکومت کرے اور اس کی تاج پوشی کے اسباب بھی مہیا ہوچکے تھے۔(١) لیکن مکہ میں پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م سے اوس و خزرج کی ملاقاتوں نے (جن کا عنقریب ذکر کریں گے) واقعات کا رخ یکسر بدل دیا۔ اور عبد اللہ بن ابی اپنا مقام کھو بیٹھا۔

مدینہ کے مسلمانوں کا پہلا گروہ

مکہ میں پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے ظاہری پیغام کے ابتدائی سالوں میں مدینہ کے لوگ مکہ کے مسافروں اور زائروں کے ذریعہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بعثت سے آگاہ ہوگئے تھے اور ان میں سے کچھ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت سے مشرف ہوکر مسلمان ہوگئے لیکن کچھ ہی دنوں بعد وہ رحلت کرگئے یا قتل کر دیئے گئے تھے۔(٢) بہرحال وہ، لوگوں کواسلام کی طرف نہیں بلا سکے تھے۔

______________________

(١) طبرسی، گزشتہ حوالہ، ص ٥٨٠.

(٢) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٧٠۔ ٦٧؛ طبری ، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٣٣؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج١، ص٢٣٨؛ بیہقی ، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١١٨.


بعثت کے گیارہویں سال پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بزرگان خزرج میں سے چھ لوگوں کو حج کے موسم میں منیٰ میں دیکھا اور ان کو اسلام کی طرف دعوت دی ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: جان لو! یہ وہی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہے جس کی بعثت سے یہودی ہمیں ڈراتے ہیں۔ لہٰذا ایسی صورت میں کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ ہم سے پہلے اس کے دین کو قبول کرلیں۔ لہٰذا وہ سب اسلام لے آئے اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہا: ہم اپنی قوم کو دشمنی اور ٹکراؤ کی بدترین حالت میں چھوڑ کر آئے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ خداوند متعال آپ کے ذریعہ ان میں الفت ڈال دے گا۔ اب ہم مدینہ واپس جارہے ہیں اور ان کواس دین کی طرف بلائیں گے۔ اگر ان لوگوں نے بھی اس دین کو قبول کرلیا تو کوئی بھی ہماری نظروں میں اپ سے زیادہ عزیز و محترم نہ ہوگا۔

اس گروہ نے مدینہ واپس جانے کے بعد لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دی۔ ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ نغمۂ اسلام پورے یثرب میں پھیل گیا اور کوئی گھر ایسا نہیں بچا جہاں پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی باتیں نہ ہوتی ہوں۔(١)

عقبہ کا پہلا معاہدہ

بعثت کے بارہویں سال مدینہ کے بارہ لوگوں نے حج کے موسم میں ''عقبۂ منیٰ''(٢) کے کنارے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیعت کی۔(٣) اس گروہ میں دس خزرجی اور دو اوسی تھے اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ دونوں قبیلے گزشتہ کدورتوں کو بھول کر ایک دوسرے کے دوش بدوش اسلام کے پرچم تلے جمع ہوگئے تھے۔

______________________

(١) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٧٣۔ ٧٠؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ص ٢٣٥۔ ٢٣٤؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٢٨؛ مجلسی، بحار الانوار، ج١٩، ص ٢٥.

(٢) ''عقبہ''

(٣)گزشتہ سال، بیعت کرنے والے ٥ افراد تھے جن میں ٧ افراد کا اور اضافہ ہوا


اور بیعت کی تھی کہ کسی کو خدا کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے، چوری اور زنا نہیں کریں گے، اپنے بچوں کو قتل نہیں کریں گے، ایک دوسرے پر تہمت (زنا کا الزام) نہیں لگائیں گے نیک کاموں میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم کی مخالفت نہیں کریں گے۔(١)

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے اس عہد کی پابندی کرنے والوں سے ، اس کے عوض میں بہشت کا وعدہ کیا۔(٢)

وہ موسم حج کے بعد مدینہ آگئے اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے تقاضا کیا کہ ایک شخص کو ان کے شہر میں بھیجیں تاکہ وہ مدینہ کے لوگوں کو اسلام اور قرآن کی تعلیم دے۔رسول خدا نے مصعب بن عمیرکو بھیجا۔(٣)

مصعب کی تبلیغ اور کوششوں سے مسلمانوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ مکہ کے اہم اور خاص لوگ اسلام کی مخالفت کے لئے کمر بستہ ہوگئے تھے مگر جوانوں اور مستضعفوں نے آپ کا استقبال کیا۔ لیکن مدینہ میں تقریباً اس کے بالکل برعکس ماحول تھا یعنی اہم اور خاص لوگ پیش قدم اور آگے تھے اور عوام ان کے پیچھے چل رہی تھی یہ ایک ایسا سبب تھا جس کی وجہ سے اسلام تیزی کے ساتھ اس شہر میں پھیلا۔

______________________

(١) چونکہ اس عہد میں جنگ و جہاد کی بات نہیں ہوئی ۔ لہٰذا اس کو ''بیعة النسائ'' کہا گیا جیسا کہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے اس کے بعد فتح مکہ میں اس شہر کی مسلمان عورتوں سے اسی طرح کا عہدو پیمان کیا جس کا ذکر سورۂ ممتحنہ کی آیت ١٢ میں ہوا ہے

(٢) وہی حوالہ؛ ابن طبقات الکبریٰ ج١، ص ٢٢٠

(٣) مصعب، قریش کے ایک جوان اور قبیلہ بنی عبددار کے ایک ثروتمند اور مالدار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اوران کے والدین ان سے بہت محبت کرتے تھے لیکن مسلمان ہو جانے کی وجہ سے انھیں گھر سے نکال دیا اور مال و ثروت سے محروم کردیا، وہ ایک حقیقی اور انقلابی مسلمان تھے اوردوبار حبشہ کی طرف ہجرت کرچکے تھے (ابن اثیر، اسد الغابہ، ج٤، ص٣٧٠۔٣٦٨)


عقبہ کا دوسرا معاہدہ

بعثت کے تیرہویں سال حج کے موسم میں ٧٥ افراد جن میں سے گیارہ افراد او سی (اور بقیہ خزرجی) اور دو خاتون تھیں قافلۂ حج کے ساتھ مدینہ سے مکہ آئے اور ١٢ ذی الحجہ کو ''عقبۂ منیٰ'' کے کنارے دوسرا عہد شب کی تاریکی میں (مخفی صورت میں) پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ کیا۔ اس عہد میں انھوں عہد کیا کہ اگر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے شہر کی طرف ہجرت کی تو وہ اسی طرح ان کی حمایت کریں گے جیسے وہ اپنی ناموس اور اولاد کی حمایت کرتے ہیں اور جن لوگوں سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جنگ کریں گے ان سے وہ لڑیں گے۔ اس اعتبارسے اس بیعت کو ''بیت الحرب'' بھی کہا گیا ہے۔

عہد کے بعد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم سے بارہ افراد نمائندے کے طور پر(نقیب) انتخاب ہوئے (مرکزی کمیٹی) تاکہ مدینہ پلٹنے کے بعد ہجرت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے تک ان کے امور کی سرپرستی کرسکیں۔(١)

اور یہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی کارکردگی کا ایک طریقہ تھا اور موجودہ افراد کو منظم کرنے میں آپ کی سعی و کوشش تھی۔

عہد نامہ کے تمام ممبران کے نام تاریخ اسلام کی مفصل کتابوں میں تحریر ہیں۔

مدینہ کی طرف ہجرت کا آغاز

تمام مخفیانہ امور کے باوجود جو کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور مدینہ والوں کے درمیان انجام پائے تھے، قریش اس بیعت سے آگاہ ہوکر بیعت کرنے والوں کی گرفتاری میں لگ گئے۔ مگر انھوں نے اتنی تیزی سے کام کیا کہ فوراً مکہ کو ترک کردیا اورصرف ایک شخص کے علاوہ کوئی گرفتار نہ ہوا۔

______________________

(١) بیہقی، گزشتہ حوالہ، ص ١٤٠۔ ١٣٢؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ٩٠۔ ٨١؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ص ٢٥٤۔ ٢٤٠؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ٢٢٣۔ ٢٢١؛ گزشتہ حوالہ، ص ٢٣٧؛ طبرسی، اعلام الوریٰ ، ص ٦٠۔ ٥٩؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج ١٩، ص ٢٦ ۔ ٢٥.


اہل مدینہ کے کوچ کر جانے کے بعد قریش سمجھ گئے کہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے لوگوں کو اپنا حامی اور مدینہ میں اپنا ایک مرکز بنالیا ہے لہٰذا انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ اور زیادہ سختی کرنا شروع کردی۔ اور حد سے زیادہ انھیں برا بھلا کہنے لگے اور اس قدر انھیں تکلیفیں پہنچائیں کہ ایک بار پھر (حبشہ کی ہجرت سے پہلے کی طرح) مکہ میں زندگی گزارنا دشوار ہوگیا۔(١)

اس بنا پر پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے مسلمانوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دیدی اور فرمایا: مدینہ کی طرف کوچ کرو خداوند متعال نے انھیں تمہارا بھائی اور جائے امن قرار دیا ہے۔(٢) مسلمانوں نے ڈھائی مہینے کے اندر (نصف ذی الحجہ سے آخری صفر تک) آہستہ آہستہ ان تمام مشکلات اور پریشانیوں کے باوجود جو قریش نے سرراہ کھڑی کر رکھی تھیں، مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور مکہ میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، علی، ابوبکر اور چند افراد کے علاوہ کوئی مسلمان باقی نہ بچا۔

انصار کی تاریخ میں جوافراد مکہ سے مدینہ گئے ''مہاجرین'' او رمدینہ کے مسلمان جنھوں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کی ''انصار'' کہلائے۔

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قتل کی سازش

مکہ کے مسلمانوں نے ہجرت کے بعد مدینہ میں قیام کیا ،ادھر قریش کے سردار سمجھ گئے کہ مدینہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اوران کے چاہنے والوں کے لئے ایک مرکز اور پناہ گاہ بن چکا ہے اور وہاں کے لوگ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے

______________________

(١) بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٥٧؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٤١۔ ٢٤٠؛ ابن سعد گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٢٦؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٦.

(٢)ان اللّٰه عزوجل قد جعل لکم اخوانأًو داراً تأمنون بها (ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١١١؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج١، ص ١٨٢؛ ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ج٣، ص ١٦٩.

(٤) حلبی، السیرة الحلبیہ، (انسان العیون) بیروت: دار المعرفہ) ج٢، ص ١٨٩.


دشمن سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہیں اس وجہ سے وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت سے ڈرے کیونکہ اس چیز نے قریش کو چند خطرات سے روبرو کردیاتھا۔

١۔ مسلمان ان کی دسترس سے باہر ہوچکے تھے نئی صورت حال کے پیش نظر، حالات کے بارے میں پیش بینی اور حوادث کی راہ میں تاثیر گزاری قریش کے ہاتھ سے نکل چکی تھی۔

٢۔ چونکہ اہل مدینہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جنگ میں حمایت کا عہد کرچکے تھے لہٰذا اس بات کا امکان تھا کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم انتقام کی خاطر ان کی مدد سے کہیں مکہ پر حملہ نہ کردیں۔(١)

٣۔ اگر فرض کرلیا جائے کہ جنگ نہیں ہوئی پھر بھی ان کے لئے ایک بڑا خطرہ لاحق تھا۔ کیونکہ مدینہ، قریش کے تاجروں کے لئے مناسب بازار تھا اور اس شہر سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے بعد، بہت بڑا اقتصادی نقصان ان کو ہونے والا تھا۔

٤۔ مدینہ، مکہ سے شام کے تجارتی راستہ کے کنارے پر پڑتا تھا اور مسلمان اس راستے کو ناامن بنا کر کاروبار تجارت میں خلل ڈال سکتے تھے۔

یہ فکریں اور الجھنیں باعث بنیں کہ سرداران قریش ''دار الندوہ'' (قریش کے سازشوں کا اڈہ اورقصی کی نشانی) میں اکٹھا ہوئے اور چارہ جوئی میں لگ گئے۔

کچھ نے مشورہ دیا کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو شہر بدر یا قید کرلیا جائے لیکن یہ دو مشورے بعض دلیلوں کی بنیاد پر رد ہوگئے۔ آخر کار یہ طے پایا کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل کردیا جائے لیکن ان کو قتل کرنا آسان کام نہیں تھا کیونکہ اس کے بعد بنی ہاشم سکون سے نہ بیٹھتے اور خون خواہی کے لئے کھڑے ہو جاتے اس بنا پر طے کیا کہ ہر قبیلہ سے ایک جوان تیار ہو ، تاکہ راتوں رات سب ملکر محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر حملہ کردیں اور ان کو بستر خواب پر ہی قتل کردیں۔ ایسی صورت میں قاتل ایک شخص نہیں ہوگا اور بنی ہاشم بھی خون خواہی کے لئے کھڑے نہیں ہوسکتے کیونکہ ان کے لئے ان تمام قبیلوں سے جو اس قتل میںشریک تھے، جنگ کرنی ناممکن ہوگی ،لہٰذا

______________________

(١) گزشتہ حوالہ.


وہ مجبور ہوکر خون بہا لینے پر راضی ہو جائیں گے اور ماجرا اسی پر تمام ہو جائے گا۔ قریش نے اپنی سازش کوعملی جامہ پہنانے کے لئے ربیع الاول کی پہلی شب کاانتخاب کیا ۔ خداوند عالم ان کی سازش کو اس طرح سے بیان کرتا ہے:

''اور پیغمبر آپ اس وقت کو یاد کریں جب کفار تدبیریں کرتے تھے کہ آپ کو قید کرلیں یا شہر بدر کردیں یا قتل کردیں اور ان کی تدبیروں کے ساتھ سا تھ خدا بھی اس کے خلاف انتظام کر رہا تھا او روہ بہترین انتظام کرنے والا ہے''۔(١)

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی ہجرت

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وحی کے ذریعہ ''دار الندوہ'' کی سازش سے آگاہ ہوئے اور حکم خدا ہوا کہ مکہ سے باہر چلے جائیں۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی ماموریت سے علی کو آگاہ کیا اور فرمایا: ''آج کی شب میرے بستر پر سوجاؤ اور میری سبز چادر اوڑھ لو''علی نے بے خوف و خطر اس ذمہ داری کو قبول کیا۔

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس شب ابوبکر کے ساتھ ''غار ثور'' میں چلے گئے جو مکہ کے جنوبی علاقے (مدینہ کے مخالف سمت) میں واقع تھا۔اور تین روز غار میں رہے تاکہ قریش ان کو پانے سے ناامید ہوجائیں اور راستہ پرامن ہو جائے اور آپ ہجرت کو جاری رکھ سکیں، خداوند عالم نے قرآن مجید میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تنہائی اور بے یاوری کا ذکر فرمایا ہے کہ آپ کے ساتھ ایک نصر کے علاوہ کوئی دوسرا نہ تھا اور وہ بھی اضطراب و پریشانی کا شکار ہوگیا تھا۔ لیکن قریش اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود خدا کی قدرت سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تک نہیں پہنچ سکے۔

______________________

(١) ''و اذ یمکر بک الذین کفروا لیثبتوک او یقتلوک او یخرجوک و یمکرون و یمکر اللّٰه و اللّٰه خیر الماکرین'' سورۂ انفال، آیت ٣٠.


''اگر تم پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد نہ کرو گے تو ان کی مدد خدا نے کی ہے اس وقت جب کفار نے انھیں وطن سے باہر نکال دیا اور وہ ایک شخص کے ساتھ نکلے اور دونوں غار میں تھے تو وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ رنج نہ کرو خدا ہمارے ساتھ ہے پھر خدا نے اپنی طرف سے اپنے پیغمبر پر سکون نازل کردیا اور ان کی تائید ان لشکروں سے کردی جنھیں تم نہ دیکھ سکے اور اللہ ہی نے کفار کے کلمہ کو پست بنا یا ہے اوراللہ کا کلمہ در حقیقت بہت بلند ہے۔ کہ وہ صاحب عزت و غلبہ بھی ہے اور صاحب حکمت بھی ہے''۔(١)

عظیم قربانی

حضرت علی اس شب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بستر پر سوئے اور قریش کے مسلح افراد نے رات کی تاریکی میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر کا محاصرہ کرلیا اور صبح سویرے ننگی تلواروں کے ساتھ گھر کے اندر گھس گئے ،اسی عالم میں علی بستر سے اٹھ گئے اس وقت تک وہ لوگ اپنے منصوبے کو سوفیصد درست اور کامیاب سمجھ رہے تھے لیکن علی کو دیکھتے ہی انھیں سخت حیرت ہوئی اور وہ ان کی طرف لپکے، یہ دیکھ کر علی نے اپنی تلوار کھینچ لی اور مقابلہ کے لئے تیار ہوگئے جب انھوں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مخفی ہونے کی جگہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے بتانے سے انکار کردیا۔(٢)

______________________

(١) سورۂ توبہ، آیت ٤٠.

(٢) دارالندوہ اورلیلة المبیت کا واقعہ الفاظ اور عبارتوں کے فرق کے ساتھ اختصار و تفصیل سے مندرجہ ذیل کتابوں میں نقل ہوا ہے۔

تاریخ الامم و الملوک، ج٢، ص٢٤٥۔ ٢٤٢؛ السرة النبویہ، ج٢، ص١٢٨۔ ١٢٤؛ طبقات الکبریٰ، ج١، ص ٢٢٨۔ ٢٢٧؛ دلائل النبوة، ج٢، ص ١٤٩۔ ١٤٧؛ انساب الاشراف، ج١، ص٢٦٠۔ ٢٥٩؛ الکامل فی التاریخ، ج٢، ص ١٠٣۔ ١٠١؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٣٢؛ اعلام الوریٰ، ص٦١؛ امالی شیخ طوسی، ص ٤٤٧۔ ٤٤٥ و ص ٤٧١۔ ٤٦٣؛ مناقب ابن شہر آشوب، ج١، ص ١٨٣۔ ١٨٢؛ مناقب خوارزمی، ص ٧٣؛ کنز الفوائد کراجکی، ج٢، ص٥٥؛ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، ج٣، ص ١٨٠۔ ١٧٥؛ السیرة النبویہ، ج٢، ص٢٠٦۔ ١٨٩؛ تاریخ بغداد، ج١٣، ص ١٩٢۔١٩١؛ بحار الانوار، ج١٩، ص ٦٥۔ ٤٧۔


اس رات جو شخص بھی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بستر پر سوتا اس کے بچنے کی امید نہیں تھی لیکن حضرت علی شعب ابوطالب میں بھی اکثر راتوں میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جگہ سوتے تھے اور اپنے کو سپر قرار دیتے تھے اور خطرہ مول لیتے تھے تاکہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جان محفوظ رہ سکے خداوند عالم نے ان کی اس قربانی کو اس طرح بیان کیا ہے:

''اور لوگوں میں وہ بھی ہیں جو اپنے نفس کو مرضی پروردگار کے لئے بیچ ڈالتے ہیں اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے''۔(١)

مفسرین او رمحدثین کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی کی عظیم قربانی کے سلسلے میں ''لیلة المبیت'' میں نازل ہوئی۔(٢)

حضرت علی نے اپنے ایک بیان میں قریش کی سازش کو ذکر کرنے کے بعد اس خطرناک رات میں اپنی حالت کواس طرح سے بیان فرمایا ہے:

''...پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھ سے فرمایاکہ ان کے بستر پر سوجائوں اور اپنی جان کو ان کے لئے سپر قرار دوں۔ بے خوف اس ماموریت کو میں نے قبول کیا ،میں خوش تھا کہ آپ کی راہ میں قتل کیا جاؤوں ۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

______________________

(١) سورۂ بقرہ، آیت ٢٠٧۔

(٢) فتال نیشاپوری، روضة الواعظین (بیروت: موسسة الاعلمی للمطبوعات، ط ١، ١٤٠٦ھ.ق)، ص ١١٧؛ ابن اثیر ، اسد الغابہ، ج٤، ص ٢٥؛ مومن شبلنجی، نور الابصار (قاہرہ: مکتبة المشہد الحسینی)، ص ٨٦؛ طبرسی، مجمع البیان، ج١، ص ٣٠١؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق: محمد ابوالفضل ابراہیم (قاہرہ: داراحیاء الکتب العربیہ، ١٩٦١.)، ج١٣، ص ٢٦٢؛ سبط ابن الجوزی، تذکرة الخواص (نجف: المکتبة الحیدریہ، ١٣٨٣ھ.ق)، ص ٣٥؛ تقی الدین ابوبکر حموی، ثمرات الاوراق (حاشیہ المستطرف میں)، ص ٢٠؛ عبد الحسین امینی، الغدیر، ج٢، ص ٨٠؛ مرحوم مظفر نے اہل سنت کے نامور علماء اور مفسرین جیسے ثعلبی، قندوزی، حاکم نیشاپوری، احمد ابن حنبل، ابو السعادات، غزالی، فخر رازی، اور ذہبی سے نقل کیا ہے کہ سبھی نے کہا ہے کہ یہ آیت حضرت علی کی شان میں نازل ہوئی ہے۔


ہجرت کر گئے اور میں ان کے بستر پر لیٹا رہا۔ قریش کے مسلح افراد کو اس بات کا یقین تھا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل کردیں گے لہٰذا وہ گھر میں گھس گئے اور جب وہاں پہنچے جہاں میں لیٹا تھا تو میں نے یہ دیکھ کر اور تلوار ہاتھ میں لے لی اور اپنا اس طرح دفاع کیا کہ خدا جانتاہے اور لوگ بھی اس سے آگاہ ہیں''۔(١)

قبا میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا داخلہ

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی سے فرمایا کہ میری ہجرت کے بعد اپنے مکہ ترک کرنے سے پہلے، لوگوں کی جو امانتیں ان کے پاس ہیں اسے لوگوںکو واپس کردیں۔(٢) اور ان کی دختر فاطمہ اور بنی ہاشم کے دوسرے چند افراد جواس وقت تک ہجرت نہیں کرسکے تھے ان کی ہجرت کے مقدمات فراہم کریں۔(٣)

حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے چوتھی ربیع الاول (بعثت کے چودھویں سال) غار کو مدینہ کے ارادہ سے ترک کیا(٤) اور اسی مہینے کی بارہویں تاریخ کو مدینہ کے باہر محلہ ''قبا'' میں قبیلۂ بنی عمرو بن عوف کے رہنے کی جگہ پہنچے(٥) اور چند روز علی کے انتظار میں وہاں ٹھہرے رہے٭ اور اس دوران ایک مسجد

______________________

(١) صدوق، الخصال (قم: منشورات جامعہ المدرسین)، ج٢، ص ٣٦٧، باب السبعہ؛ مفید ، الاختصاص (قم: منشورات جماعة المدرسین)، ص ١٦٥.

(٢) ابن ہشام ، السیرة النبویہ، ج٢، ص ١٢٩؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٤٧؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج١، ص ٢٦١؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج١، ص ١٨٣.

(٣) شیخ طوسی، الامالی (قم: دارالثقافہ، ط١، ١٤١٤ھ.ق)، ص٤٦٨؛ رجوع کریں: مفید، الاختصاص، ص١٤٧؛ تاریخ الخلفائ، ص ١٦٦؛ مجلسی، بحار الانوار، ج١٩، ص٦٢۔

(٤) محمد بن سعد، طبقات الکبریٰ، ج١، ص٢٣٢؛ مجلسی، بحار الانوار، ج١٩، ص٨٧۔

(٥) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ١٣٧؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ص ٢٤٨؛ طبرسی، اعلام الوریٰ، ص ٦٤؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ص٢٦٣؛ بیہقی، دلائل النبوة، ترجمہ: محمود مہدوی دامغانی (تہران: مرکز انتشارات علمی و فرھنگی، ١٣٦١)، ج٢، ١٧٢۔

٭رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ٹھہرنے کی مدت میں اختلاف ہے۔


وہاں پر تعمیر کی۔(١)

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت کے بعد علی تین دن مکہ میں ٹھہرے رہے اور اپنے فریضے کو بہ حسن و خوبی انجام دیا(٢) پھر اپنی والدۂ گرامی فاطمہ بنت اسد، فاطمہ زہرا دختر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور فاطمہ دختر زبیر بن عبد المطلب کودو دوسرے افراد کے ہمراہ لے کر قبا میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جاملے۔(٣)

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مدینہ میں داخلہ

حضرت علی کے قبا میں پہنچنے کے بعد پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بنی نجار (عبد المطلب کے مادری رشتہ دار) کے ایک گروہ کے ساتھ مدینہ گئے۔ راستہ میں قبیلہ بنی سالم بن عوف کے محلہ میں پہلی نماز جمعہ پڑھی۔ شہر میں داخل ہوتے وقت لوگوں نے بہت ہی پرجوش انداز میں آپ کا استقبال کیا۔ قبائل کے سرداروں اور بڑی شخصیتوں نے ناقۂ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زمام کو پکڑ کر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے درخواست کی کہ ان کے محلہ میں تشریف لے چلیں۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ناقہ کے راستہ کو خالی کردو اسے خدا کی جانب سے حکم ملا ہے وہ جہاں بیٹھے گا میں وہیں اتر جاؤوں گا''

گویا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی تدبیر اور حکمت عملی کے ذریعہ چاہتے تھے کہ (حجر اسود کے نصب کے فیصلہ کی طرح) ان کی میزبانی کا شرف و افتخار کسی خاص قبیلہ یا خاندان کو حاصل نہ ہو اور آئندہ سماج میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔

آخر کارآنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا اونٹ محلہ بنی نجار میں ابوایوب انصاری خالد بن خزرجی کے گھر کے قریب بیٹھ گیا اس وقت (ایسی جگہ پر بیٹھا جو دو یتیموں کی تھی جہاں بعد میں مسجد النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بنی) ۔

______________________

(١) ابن شہر آشوب، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٨٥؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ص ١٦٦ و ١٧٢؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص٢٤٩۔

(٢) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص١٣٨؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ص ٢٤٩۔

(٣)ابن شہر آشوب، گزشتہ حوالہ، ص ١٨٣؛ رجوع کریں: اعلام الوریٰ، ص٦٦؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٣٤۔


پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چاروں طرف بے شمار لوگ اکٹھا ہوگئے ہر ایک کی آرزو تھی کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے میزبان ہم بنیں۔ ابوایوب انصاری آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامان سفر کواپنے گھر لے گئے اور ساتھ میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے گھر تشریف لے گئے۔ اور اس وقت تک وہاں آپ نے قیام کیا جب تک مسجد النبی اور اس کے ساتھ ہی آپ کی رہائش کے لئے حجرہ نہ بن گیا۔(١)

ہجری تاریخ کا آغاز

ہجرت بڑی تبدیلیوں کی شروعات اور اسلام کی پیش رفت میں ایک اہم موڑ کا نام ہے کیونکہ اسی کے سایہ میں مسلمانوں نے گھٹن اور دشواریوں کے ماحول سے نکل کر آزاد ماحول میں قدم رکھا اور آزادی کے ساتھ ایک نقطہ پر متمرکز ہوگئے اور ایسے حالات میں یہ چیز ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔اگر ہجرت انجام نہ پاتی تو مکہ میں اسلام گھٹ گھٹ کر دم توڑ دیتا اور ہرگز اسے ترقی نہ ملتی۔ ہجرت کے بعد مسلمانوں نے سیاسی اور نظامی سرگرمیاں شروع کردیں اور اسلام جزیرة العرب میں پھیل گیا۔

اس بنا پر ہجرت، اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کا آغاز قرار پائی لیکن کس شخص نے پہلی مرتبہ اس تاریخ کی بنیاد ڈالی؟ اور کس وقت سے یہ تاریخ رائج ہوئی؟ مورخین اسلام کے درمیان مشہور یہ ہے کہ یہ کام عمر بن خطاب کے زمانہ میں، اس کے ذریعہ سے اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مشورہ سے انجام پایا۔(٢)

______________________

(١) گزشتہ حوالہ.

(٢) ابن واضح ، تاریخ یعقوبی، (نجف: المکتبة الحیدریہ، ١٣٨٤ھ.ق)، ج٢، ص١٣٥؛ مسعودی، التنبیہ و الاشراف (قاہرہ: دارالصاوی للطبع والنشر، ص٢٥٢؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ (بیروت: دار صادر)، ج١، ص١٠؛ الشیخ عبدالقادر بدران، تہذیب تاریخ دمشق (تالیف حافظ ابن عساکر) (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ط٣، ١٤٠٧ھ.ق) ، ج١، ص٢٤۔ ٢٣۔


لیکن محققین اورتاریخ اسلام کے تجزیہ نگاروں کی تحقیقات سے پتہ چلتاہے کہ اس امر کے بانی خود پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م تھے۔ اسلام کے بڑے مورخین کے ایک گروہ نے لکھا ہے کہ پیغمبر ا کرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد ماہ ربیع الاول میں حکم دیا کہ اسی مہینہ سے تاریخ لکھی جائے۔(١)

اس مطلب کے گواہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کچھ خطوط، مکاتبات اور تاریخی دستاویزات ہیں جو تاریخی کتابوں سے ہم تک پہنچی ہیں اور ان کی تاریخ نگارش آغاز ہجرت سے ذکر ہوئی ہے اس کے دو نمونہ یہاں پیش ہیں:

١۔ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے مُقنا کے یہودیوں سے ایک عہدو پیمان کیا اور اس پر آپ نے دستخط فرمائی اس کے آخر میں یہ لکھا ہے کہ اس عہد نامہ کو علی بن ابی طالب نے ٩ ھ میں تحریر کیا ہے۔(٢)

٢۔ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے نجران کے مسیحیوں کے ساتھ جو عہد و پیمان کیا اس میں بھی یہ ذکر ہوا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی کو حکم دیا کہ اس میں لکھو کہ یہ پیمان ٥ھ میں لکھا گیاہے۔(٣)

بعض قرائن اور شواہد کی بنا پر ٥ھ تک ہجرت کو اصل اور بنیاد بناکر واقعات اور روداد و حوادث کو مہینوںکی تعدا کے لحاظ سے لکھا جاتا تھا۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں:

١۔ ابوسعید خدری کہتے ہیں: ''ماہ رمضان کا روزہ تغییر قبلہ کے ایک ماہ بعد، ہجرت کے

______________________

(١)طبری، تاریخ الامم و الملوک، (بیروت: دار القاموس الحدیث)، ج٢، ص٢٥٢؛ نور الدین السمہودی، وفاء الوفاء باخبار دار المصطفیٰ، (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ط٣، ١٤٠١ھ.ق)، ج١، ص٢٤٨؛ مجلسی ، بحار الانوار، ج٤٠، ص٢١٨، ابن شہر آشوب کی نقل کے مطابق۔

(٢) بلاذری، فتوح البلدان (بیروت: دار الکتب العلمیہ، ١٣٩٨ھ.ق)، ص ٧٢۔ ٧١؛ اس سند کے اصل متن میںعلی بن ابی طالب (واؤ کے ساتھ) لکھا ہوا ہے جس کی وجہ تاریخ کی کتابوں میں بتائی گئی ہیں ۔ رجوع کریں: الصحیح من سیر ة النبی الاعظم، ج٣، ص ٤٨۔ ٤٦.

(٣)الشیخ عبدالحی الکتانی، الترتیب الاداریہ (بیروت: دار احیاء التراث العربی)، ج١، ص١٨١۔


اٹھارویں مہینہ میں واجب ہوا ہے۔(١)

٢۔ سفیان بن خالد سے جنگ کے لئے بھیجے ہوئے لشکر کا کمانڈر عبد اللہ بن اُنیَس کہتا ہے کہ میں پیر کے دن پانچ محرم کو ہجرت کے پچاسویں مہینے میں مدینے سے نکلا۔(٢)

٣۔ محمد بن مسلمہ قبیلۂ قرطا(٣) سے جنگ کے بارے میں لکھتا ہے:میں دس محرم کو مدینہ سے باہر گیا اور انیس دن کے بعد محرم کی آخری رات ، ہجرت کے ٥٥ویں مہینے میں، مدینہ واپس آیا۔(٤)

اس بنا پر ہجری، تاریخ کے بانی پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م ہی تھے۔ لیکن شاید خلافت عمر کے دور تک اسے بہت زیادہ شدت اور عمومیت نہیں مل سکی تھی۔(٥) اور چونکہ عمر کے دور میں زمان حوادث اور بعض دستاویزات اور مطالبات کی تاریخ میں اختلاف کی کچھ صورتیں پیش آئیں۔(٦) لہٰذا انھوں نے اس مسئلے کو ١٦ھ میں قانونی شکل دی اور ربیع الاول (مدینے میں پیغمبر کے داخلے کا مہینہ )کے بجائے ماہ محرم کو ہجری سال کا آغاز قرار دیا۔(٧)

______________________

(١) الشیخ حسن الدیار بکری، تاریخ الخمیس، (بیروت: مؤسسة شعبان)، ج١، ص ٣٦٨۔

(٢)واقدی، المغازی، تحقیق: مارسڈن جانس (بیروت: مؤسسة الاعلمی للمطبوعات)، ج٢، ص٥٣١۔

(٣) بنی بکر کا ایک خاندان ہے۔

(٤)واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٥٣٤۔

(٥) سیدجعفر مرتضی عاملی، الصحیح من سیرة النبی الاعظم، ج٣، ص ٥٥.

(٦) طبری، گزشتہ حوالہ، ص ٢٥٢؛ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ (بیروت: مکتبة المعارف ط٢، ١٣٩٤ھ.ق)، ج٧، ص ٧٤۔ ٧٣؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق: محمد ابوالفضل ابراہیم (قاہرہ: دار احیاء الکتب العربیہ، ١٩٦١م)، ج١٢، ص ٧٤؛ ابن کثیر، الکامل فی التاریخ، ج١، ص ١١۔١٠.

(٧) ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب ، ج١، ص ١٧٥؛ الصحیح من سیرة النبی الاعظم، ج٣، ص ٣٥؛ مزید معلومات کے لئے رجوع کریں: الصحیح من سیر ة النبی الاعظم، ج٣، ص ٥٦۔ ٣٢.


دوسری فصل

مدینہ میں پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے سیاسی اقدامات

مسجد کی تعمیر

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے مدینہ میں(١) قیام کے بعد یہ ضرورت محسوس کی کہ ایک مسجد بنائی جائے جو مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کا سینٹر اور نماز جمعہ اور جماعت کے وقت جمع ہونے کی جگہ قرار پائے۔ اس وجہ سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس زمین کو جہاں پہلے دن آپ کا اونٹ بیٹھا تھا اور وہ دو یتیموں کی تھی ان کے اولیاء سے خریدی اور مسلمانوں کی مدد سے وہاں ایک مسجد تعمیر کی(٢) جو آپ کے نام یعنی ''مسجد النبی'' کے نام

______________________

(١) یاقوت حموی، معجم البلدان (بیروت: داراحیاء التراث العربی، ١٣٩٩ھ.ق)، ج٥، ص ٤٣٠، (لغت: یثرب)

(٢)محمد بن سعد، طبقات الکبریٰ (بیروت: دار صادر)، ج١، ص ٢٣٩؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک (بیروت: دار القاموس الحدیث)، ج٢، ص ٢٥٦؛ بیہقی، دلائل النبوة، ترجمہ محمود مہدی دامغانی (تہران: مرکز انتشارات علمی و فرہنگی، ١٣٦١)، ج٢، ص ١٨٧؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب (قم: المطبعة العلمیہ)، ج١، ص ١٨٥؛ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، (بیروت: مکتبة المعارف، ط ٢، ١٩٧٧.)، ج٣، ص ٢١٥؛ الدین الحلبی، السیرة الحلبیہ، (انسان العیون)، (بیروت: دار المعرفہ، ج٢، ص ٢٥٢؛ مجلسی، بحار الانوار، (تہران: دار الکتب الاسلامیہ)، ج١٩، ص ١٢٤.


سے مشہور ہوئی۔ ہجرت کے بعد آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ پہلا اجتماعی اقدام تھا۔ مسجد کی تکمیل کے بعد، اس کے پہلو میںدو کمرے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپ کی ازواج کے رہنے کے لئے بنائے گئے۔(١) اس کے بعد آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابوایوب کے گھر سے وہاں چلے گئے۔(٢) اور آخری عمر تک اسی کمرے میں زندگی بسر کی۔

اصحاب صُفّہ

مسلمانوں کے مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد، انصار نے مہاجر مسلمانوں کو جہاں تک ہوسکا اپنے گھر وں میں ٹھہرایا اور ان کے لئے زندگی کی سہولتیں فراہم کیں۔(٣)

لیکن اصحاب صفہ جوایک فقیر، مسافر بے گھر اور ہر لحاظ سے محروم طبقہ تھا ان کے رہنے کے لئے مسجد کے آخر میں وقتی طور پر ایک سائبان بنادیا گیا تھا۔

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م ان کی خبرگیری فرماتے تھے اور جہاں تک ہوسکتا، ان کے لئے کھانے کی چیزیں فراہم کرتے تھے اور انصار کے سرمایہ داروں کو ان کی مدد کے لئے تشویق کرتے تھے۔ مسلمانوں کا یہ طبقہ جو انقلابی، مومن او رخوبیوں کا مالک تھا ''اصحاب الصفہ'' کے نام سے معروف ہوا۔(٤)

______________________

(١) ایک کمرہ سودہ اور ایک کمرہ عائشہ کے لئے بنایا گیا (محمد بن سعد، سابق، ص ٢٤٠؛ حلبی، سابق، ص ٢٧٣)

(٢)ابن ہشام، السیرة النبویہ، (قاہرہ: مطبعة المصطفی البابی الحلبی، ١٣٥٥ھ.ق)، ج٢، ص١٤٣؛ ابن شہر آشوب، گزشتہ حوالہ، ص١٨٦۔

(٣)ابن واضح، تاریخ یعقوبی، (نجف: المکتبة الحیدریہ، ١٣٨٤ھ.ق)، ج٢، ص٣٤۔

(٤) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص٢٥٥؛ نور الدین السمہودی، وفاء الوفاء باخبار دار المصطفی (بیروت: داراحیاء التراث العربی، ط٣، ١٤٠١ھ.ق)، ج٢، ص٤٥٨۔ ٤٥٣؛ مجلسی، بحار الانوار، ج١٧، ص٨١؛ ج٢٢، ص٦٦، ١١٨، ٣١٠، ج٧٠، ص١٢٩۔ ١٢٨، ج٧٢، ص٣٨؛ رجوع کریں: مجمع البیان، ج٢، ص٣٨٦، تفسیر آیۂ: ''للفقراء الذین احصروا فی سبیل اللّٰہ لایستطیعون ضربًا فی الارض...'' (سورۂ بقرہ، آیت ٢٧٣) و عبدالحی الکتانی، التراتیب الاداریہ، ج١، ص٤٨٠۔ ٤٧٣۔


اس گروہ کی تعداد ہمیشہ گھٹتی بڑھتی رہتی تھی۔ جن کے رہنے کاانتظام ہو جاتا تھا وہ وہاں سے چلے جاتے تھے اور دوسرے نئے افراد آکر ان میں شامل ہو جاتے تھے۔(١)

عام معاہدہ

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے مدینہ میں قیام کے بعد ضرورت محسوس کی کہ لوگوں کی اجتماعی حالت کو منظم کریں؛ کیونکہ آپ کے بلند اہداف کی تکمیل کے لئے شہر کی تنظیم ضروری تھی جبکہ اس وقت مدینہ کی آبادی کی ترکیب غیر مناسب تھی۔ عرب کے متعدد گروہ اس شہر میں رہتے تھے اور ان میں سے ہر فرد دو بڑے قبیلہ اوس و خزرج میں سے کسی ایک سے تعلق رکھتا تھا۔ یہودی بھی اسی شہر میں ان کے اطراف میں بسے ہوئے تھے اور ان سے تعلقات رکھتے تھے اور اب مکہ کے مسلمان بھی ان میں اکثر بڑھ گئے تھے اس عالم میں ممکن تھا کہ کوئی حادثہ پیش آجائے اسی وجہ سے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تدبیر سے ایک پیمان نامہ لکھا گیا جسے اسلام میں ''پہلا اساسی قانون'' یا سب سے بڑی قرار داد اور تاریخی دستاویز کہا گیا۔

اس قرارداد نے مدینہ میں رہنے والے مختلف گروہوں کے حقوق معین کئے اور یہ قانون شہری آبادی میں مسالمت آمیز زندگی اوران کے درمیان نظم و عدالت کو برقرار رکھنے کا ضامن بنا اور ہرطرح کے ہنگامے اوراختلاف کے جنم لینے سے مانع بنا۔ اس عہدنامہ کے چند اہم بند یہ تھے:

______________________

(١) ابونعیم اصفہانی، حلیة الاولیاء (بیروت: دار الکتاب العربی، ط ٢، ١٣٨٧ھ.ق)، ج١، ص ٣٤٠۔ ٣٣٩؛ ابونعیم نے اصحاب صفہ کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ (حلیة الاولیائ، ج١، ص ٣٨٥۔ ٣٤٧)، اس نے اس گروہ کی تعداد ٥١ افراد بتائی ہے اور ان میں سے ہر ایک کا ذکر کیاہے۔ (ان میں کچھ عورتوں کے نام بھی ملتے ہیں)۔ لیکن ان میں سے کچھ کواصحا ب صفہ میں شما رنہیں کیا ہے۔ جن افراد کوابونعیم نے اس گروہ میں شمار کیا ہے ۔ وہ یہ ہیں: بلال، براء بن مالک، جندب بن جنادہ، حذیفہ بن یمان، جناب بن الارت... ذوالبحاین، (عبد اللہ) سلمان، سعید بن ابی وقاص، سعد بن مالک، (ابو سعید خدری)، سالم (مولا ابی حذیفہ) اور عبد اللہ بن مسعود۔


١۔ مسلمان اور یہودی(١) ایک امت ہیں۔

٢۔ مسلمان اور یہودی اپنے دین کی پیروی میں آزاد ہیں۔

٣۔ قریش کے مہاجرین، اسلام سے قبل اپنی سابق رسم (یعنی خون بہا دینے) پر باقی رہیں گے اگر ان کا کوئی فرد کسی کو قتل کرے یا اسیر ہو تو عدالت اور خیرخواہی کے جذبہ کے تحت سب مل کر اس کا خون بہا دیں اور فدیہ دے کر اسے آزاد کرائیں۔

٤۔ بنی عمرو بن عوف (انصار کا ایک قبیلہ) اور تمام دوسرے قبیلہ بھی خون بہا اور فدیہ کے سلسلہ میں اسی طرح عمل کریں۔

٥۔ کوئی یہ حق نہیں رکھتا ہے کہ کسی کے غلام، فرزند یا خاندان کے کسی دوسرے فرد کو بغیر اس کی اجازت کے پناہ دے۔

٦۔ اس عہدنامہ پر دستخط کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ سب مل کر شہر مدینہ کا دفاع کریں۔

٧۔ مدینہ ایک مقدس شہر ہے اس میں ہر طرح کا خون خرابہ حرام ہوگا۔

٨۔ اس عہدنامہ پر دستخط کرنے والوں میں اگر کبھی اختلاف پیدا ہوا تو اس اختلاف کو دور کرنے والے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہوں گے۔(٢)

سلسلۂ حوادث کا تجزیہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ پیمان (جو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مدینہ آنے کے ابتدائی مہینوں میں انجام پایا تھا)،(٣) شہر کے امن و سکون میں موثر ثابت ہوا؛ کیونکہ ٢ھ تک یعنی جنگ بدر کے بعد تک ''بنی قینقاع'' کی فتنہ پردازیوں کی بنا پر اس قبیلہ سے جو جنگ ہوئی، کوئی کشیدگی اہل مدینہ کے درمیان نقل نہیں ہوئی ہے۔

______________________

(١) یہاں پر یہودی سے مراد، بنی عمرو بن عوف اور مدینہ کے تمام مقامی یہودی ہیں لیکن یہودیوں کے تین قبیلے، بنی قینقاع، بنی نضیر، اور بنی قریظہ سے پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے الگ پیمان کیا تھا جس کی تفصیل آئندہ بیان ہوگی۔

(٢) ابن ہشام، سابق، ج٢، ص ١٥٠۔ ١٤٧؛ اس عہدنامہ کے بندوں سے تفصیلی آگاہی کے لئے، رجوع کریں: فروغ ابدیت ، ج١، ص ٤٦٥۔ ١٦٢

(٣) اسلامی مورخین نے اس عہد و پیمان کی تنظیم مدینہ میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پہلے خطبہ کے بعد نقل کی ہے لہٰذا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کا مدینہ میں اس عہد و پیمان کا منعقد کرنا، آپ کے ابتدائی اقدامات کا جز تھا۔


مہاجرین و انصار کے درمیان بھائی چارگی کا معاہدہ

ہجرت کے پہلے سال(١) پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دوسرا اہم اجتماعی اقدام یہ کیا کہ مہاجرین و انصار کے درمیان رشتہ اخوت و برادری برقرار کیا۔ ماضی میں مسلمانوں کے ان دو گروہوں میں پیشہ اور نسل کے لحاظ سے تفاوت اور کشمش پائی جاتی تھی؛ کیونکہ انصار، جنوب (یمن) سے ہجرت کر کے آئے تھے اور انکا تعلق ''قحطانی'' نسل سے تھا۔ اور مہاجرین، عرب کے شمالی حصہ سے آئے او ران کا تعلق ''عدنانی'' نسل سے تھا اوردور جاہلیت میں، ان دونوں کے درمیان نسلی کشمش پائی جاتی تھی۔

دوسری طرف سے انصار کا مشغلہ کاشتکاری اور باغ بانی تھا۔ جبکہ مکہ کے عرب، تاجر تھے اور کاشتکاری کو ایک پست مشغلہ سمجھتے تھے۔ اس سے قطع نظر یہ دونوں گروہ دو الگ ماحول کے پروردہ تھے اور اب نور اسلام کے سبب آپس میں دینی بھائی ہوگئے تھے۔(٢) اور ایک ساتھ مدینہ میں رہتے تھے۔ لہٰذا اس بات کا اندیشہ تھا کہ کہیں قدیمی عصبیت نہ بھڑک اٹھے کیونکہ مسلمانوں کے ان دو گروہوں میں گزشتہ افکار و خیالات اور کلچر کے اثرات ابھی بعض لوگوں کے ذہنوں میں باقی رہ گئے تھے۔ لہٰذا پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے ان دو گرہوں کے درمیان رشتہ اخوت و برادری برقرار کیا اور ہر مہاجر کو، انصار میں سے کسی ایک کا بھائی(٣)

______________________

(١) ہجرت کے پانچ یا آٹھ مہینے بعد (سمہودی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٦٨؛ مجلسی، بحار الانوار، ج١٩، ص ١٣٠، حاشیہ مقریزی کے نقل کے مطابق)

(٢)''انما المومنون اخوة'' سورۂ حجرات ، آیت ١٠.

(٣) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٥٠؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٢٣٨؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٩٢؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج١٩، ص ١٣٠؛ یہ دینی برادری اور دینی تعاون کی بنیاد پر تھی جیسا کہ روایت میں بیان ہوا ہے کہ اخی رسول اﷲ بین الانصار و المہاجرین، اخوة الدین (طوسی، امالی، (قم: دارالثقافہ، ١٤١٤ھ.ق)، ص ٥٨٧.


بنایا اور علی کو اپنا بھائی بنایا۔(١)

البتہ مہاجرین و انصار کے درمیان رشتۂ اخوت و برادری برقرار کرنے میں ایمان و فضیلت کے لحاظ سے ایک طرح کے تناسب اور برابری کا لحاظ رکھا گیا(٢) اور پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کا رشتۂ اخوت علی سے قائم ہوا جبکہ دونوں مہاجر تھے لہٰذا اس زاویۂ نظر سے یہ بات قابل توجیہ و تاویل ہے۔

یہ عہد و پیمان مہاجروں اور انصار کے درمیان مزید اتحاد و اتفاق کا باعث بنا جیسا کہ انصار نے پہلے سے زیادہ، مہاجروں کی مالی امداد کے لئے تیار ہوگئے۔ اور مال غنیمت کی تقسم کے موقع پر ''بنی نضیر''

______________________

(١) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص١٥٠؛ عسقلانی، الاصابہ تمییز الصحابہ (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ط١، ١٣٢٨ھ.ق)، ج٢، ص٥٠٧؛ الشیخ سلیمان القندوزی الحنفی، ینابیع المودة (بیروت: مؤسسة الاعلمی للمطبوعات)، ج١، باب٩، ص٥٥؛ سبط ابن الجوزی، تذکرة الخواص (نجف: المطبعة الحیدریہ، ١٣٨٣ھ.ق)، ص٢٠، ٢٢، اور ٢٣ کتاب فضال میں احمد ابن حنبل کی نقل کے مطابق؛ ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفة الاصحاب، (الاصابہ کے حاشیہ)، ج٣، ص٣٥؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص٢٩٢؛ سمہودی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٢٦٨؛ المظفر، دلائل الصدق (قم: مکتبہ بصیرتی)، ج٢، ص٢٧١۔ ٢٦٨۔

(٢) شیخ سلیمان قندوزی، گزشتہ حوالہ، ج١، باب٩، ص٥٥ احمد حنبل کے نقل کے مطابق؛ امینی، الغدیر، ج٣، ص١١٢؛ مرتضی العاملی، الصحیح من سیرة النبی الاعظم، ١٤٠٣ھ.ق)، ج٣، ص٦٠؛ طوسی، الامالی، ص٥٨٧۔

وہ حدیثیں جو یہ بیان کرتی ہیں کہ اس عہد و پیمان میں حضرت علی کی اخوت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ برقرار ہوئی ہے وہ، حدیث شناسی کے معیار کے مطابق قابل انکار نہیں ہیں۔اس بنا پر ابن تیمیہ اور ابن کثیر کی باتیں اس سلسلہ میں ان کے خاص جذبہ اور فکر کی دین ہے اور علمی حیثیت نہیں رکھتی ہیں ۔ رجوع کریں: الغدیر ، ج٣، ص ١٢٥۔ ١١٢، ١٧٤۔ ٢٢٧، و ج٧، ص ٣٣٦.


نے مہاجروں کی خاطر اپنے حق کو نظر انداز کردیا۔(١) اور بارگاہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں مہاجروں کی طرف سے ان کی کوششوں کا شکریہ، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے حیرت آور تھا۔(٢) خداوند عالم نے اس موقع پر انصار کی ایثارگری کو اس طرح سراہا ہے۔

''یہ مال ان مہاجر فقراء کے لئے بھی ہے جنھیں ان کے اموال سے محروم اور گھروں سے نکال باہر کردیا گیا ہے اور وہ صرف خدا کے فضل اور اس کی مرضی کے طلبگار ہیں اور خدا و رسول کی مدد کرنے والے ہیں کہ یہی لوگ دعوئے ایمان میں سچے ہیں۔ اور جن لوگوں نے دارالہجرت اور ا یمان کو ان سے پہلے اختیار کیا تھا وہ ہجرت کرنے والوں کو دوست رکھتے ہیں اور جو کچھ انھیں دیا گیا ہے اپنے دلوں میں اس کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے ہیں اور اپنے نفوس پر دوسروں کو مقدم کرتے ہیں ، چاہے انہیں کتنی ہی ضرورت کیوں نہ ہو۔ اور جسے بھی اس کے نفس کی حرص سے بچالیا جائے وہی لوگ نجات پانے والے ہیں''۔(٣)

صحرا نشینوں کا مزاج دو طریقے کا تھا ایک طریقہ ان کا یہ تھا کہ وہ اپنے قبیلہ کے اندر اپنے اعزاء و اقرباء کی مدد و نصرت کرتے تھے۔ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے ان کی اس خصوصیت کو اسلامی وحدت اور اتفاق کی راہ میں استعمال کیا (کہ مہاجروں کے ساتھ انصار کی ایثار و قربانی اس کا ایک جلوہ ہے) اور ان کا دوسرا طریقہ یہ تھا کہ ان کے مزاج میں،بیگانہ افراد سے جنگ و جدال کرنا تھا۔ پیغمبر ا کرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے اس جذبہ

______________________

(١)واقدی، المغازی، تحقیق: مارسڈن جانس، (بیروت: مؤسسة الاعلمی للمطبوعات)، ج١، ص٣٧٩؛ ابن شبہ، تاریخ المدینة المنورة، تحقیق: فہیم محمد شلتوت (قم: دار الفکر، ١٤١٠ھ.ق)، ج٢، ص٢٨٩۔

(٢) مسند احمد، ج٣، ص ٢٠٤؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص٢٩٢؛ ابن کثیر، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص٢٢٨؛ ابن شبہ، گزشتہ حوالہ، ص٤٩٠۔

(٣) سورۂ حشر، آیت ٩۔ ٨۔


کو دشمنان اسلام سے جنگ کرنے میں اور ان کے حملوں کا دفاع کرنے میں استعمال کیا۔(١)

______________________

(١)''محمد رسول اللّٰه و الذین معه اشداء علی الکفار رحماء بینهم'' (سورۂ فتح، آیت ٢٩.)

یہودیوں کے ان تین قبیلوں کے اصلی وطن اور نسب کے بارے میں مورخین کے درمیان اتفاق نظر نہیں پایاجاتا اس سلسلہ میں تاریخی اخبار و اسناد کی آشفتگی اور تناقض کے باعث، حقیقت کی تعیین بہت مشکل و دشوار ہوگئی ہے۔ مشہور یہ ہے کہ جب شام میں یہودیوں کے اوپر، شہنشاہ روم کی جانب سے سختی اور دباؤ بڑھا تو وہ جزیرة العرب کی سمت مدینہ میں چلے گئے اور وہاں جاکر بس گئے۔ (معجم البلدان، ج٥، ص ٨٤، لغت مدینہ، وفاء الوفاء ، ج١، ص ١٦٠)، قحطانی (اوس و خزرج) مارب بند ٹوٹنے کے بعد وہاں گئے اور اس کے کنارے جاکر بس گئے۔ (معجم البلدان، ج١، ص ٣٦؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، (بیروت: دار صادر، ج١، ص ٦٥٦) اور جیسا کہ اس سے قبل ہم بیان کرچکے ہیں کہ ان دو گروہوں کے درمیان آپس میں کشمکش پائی جاتی تھی۔لیکن کچھ مورخین کا عقیدہ ہے کہ وہ جزیرة العرب کے مقامی عرب تھے اور یہودیوں کی تبلیغات کے نتیجہ میں اس دین کوانھوں نے اپنالیا تھا۔ (احمد سوسہ، مفصل العرب والیہود فی التاریخ، (وزارة الثقافہ و الاعلام العراقیہ، ط ٥، ١٩٨١عیسوی)، ص ٦٢٩۔ ٦٢٩)، اور بعض دوسرے مورخین کا کہنا ہے کہ مدینہ میں یہودیوں کے بسنے کی تاریخ حضرت موسیٰ کے زمانہ میں بتائی گئی ہے جو ایک افسانہ اور من گڑھت قصہ ہے (معجم البلدان، ج٥، ص ٨٤؛ وفاء الوفاء ، ج١، ص ١٥٧) اور بعض تاریخی کتابوں و نیز کچھ روایات میں یہ نقل ہوا ہے کہ ان کو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نشانیوں کے سلسلہ میں جو آگاہی تھی اس کی بنا پر وہ آپ کے محل ہجرت کی تلاش میں، فدک ، خیبر، تیماء اور یثرب ( مدینہ) گئے اور وہاں جاکر بس گئے۔ (معجم البلدان، ج٥، ص ٨٤؛ وفاء الوفائ، ج١، ص ١٦٠؛ کلینی ، الروضہ من الکافی، ص ٣٠٩؛ مجلسی، بحار الانوار، ج١٥، ص ٢٢٦) یہ مفہوم، پہلے نظریہ کے مطابق اوراس کے ساتھ جمع ہوسکتاہے۔ کیونکہ یہ بات ممکن ہے کہ وہ لوگ روم کے دباؤ کے بعد، پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے عنقریب مبعوث ہونے کے سلسلہ میں جو خبریں رکھتے تھے) اس کی بنا پر وہ اس علاقہ کی طرف چلے گئے ہوں اور روایتیں بھی اس مطلب کی تائید کرتی ہیں۔(عبد القادر بدران، تہذیب تاریخ دمشق، تالیف ابن عساکر، (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ط ٣، ١٤٠٧ھ.ق)، ج١، ص ٣٥١؛ وفاء الوفاء ، ج ١، ص ١٦٠)، یہودیوں کے ان تین قبیلوں کے نسب کے بارے میں بھی ( گزشتہ حاشیہ کا بقیہ)۔اختلاف نظر پایا جاتاہے کہ کیا یہ بنی اسرائیل کے یہودیوں میں سے تھے یا عرب نسل کے تھے؟ کچھ لوگ دوسرے نظریہ پر زور دیتے ہیں۔ (احمد سوسہ، گزشتہ حوالہ، ص ٦٢٧)۔ یعقوبی بھی قبیلۂ بنی نضیر اور بنی قریظہ کو، نسل عرب سے قرار دیتا ہے۔ (تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ٤٢۔ ٤٠؛ رجوع کریں: وفاء الوفائ، ج١، ص ١٦٢) شاید یہ کہا جاسکتاہے۔ قرآن کی متعدد آیات میں یہودیوں کو ''بنی اسرائیل'' کے عنوان سے خطاب کیا گیا ہے جو کہ جزیرة العرب کے یہودیوں پر بھی صادق آتا تھا اور نیز پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م سے یہودیوں کی مخالفت اس نسلی جذبہ کے تحت کہ وہ بنی اسرائیل سے نہیں ہیں اور اسی طرح عرب کے علمائے نساب کی جانب سے ان کے نسب کو بیان نہ کیاجانا (جبکہ ان کا سارا دارومدار قبائل عرب کے نسب کی حفاظت پر تھا) ایساقرینہ ہے جو پہلے نظریہ کے درست ہونے کو بتاتا ہے۔ بہرحال چونکہ اس سلسلہ میں مزید تنقید و تحقیق اس کتاب کے دائرہ سے باہر ہے لہٰذا اتنے ہی پر اکتفا کرتے ہیں.


یہودیوں کے تین قبیلوں کے ساتھ امن معاہدہ

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے عمومی عہد و پیمان کے علاوہ، (جس میں اوس و خزرج کے علاوہ یہودیوں کے یہ دو قبیلے بھی شریک تھے) یہودیوں کے تینوں قبیلوں بنی قینقاع، بنی نضیر اور بنی قریظہ میں سے ہر ایک کے ساتھ الگ الگ عہد و پیمان کیا کہ جس کو ''پیمان عدم تجاوز'' کا نام دیا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ اس سے قبل بیان کرچکے ہیں کہ یہ تینوں قبیلے مدینہ اور اس کے اطراف میں زندگی بسر کرتے تھے اور یہ لوگ اس پیمان میں پابند ہوئے تھے کہ مندرجہ ذیل چیزوں پر عمل کریں گے:

١۔ مسلمانوں کے دشمن کی مدد نہیں کریں گے اوران کو اسلحہ، سواری اور جنگی وسائل نہیں دیں گے۔

٢۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور مسلمانوں کے ضرر میں کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے۔اور علی الاعلان اور چھپ کر کسی طرح سے انھیں ضرر نہیں پہچائیں گے۔

٣۔ اگر اس معاہدہ کے برخلاف انھوں نے عمل کیا تو پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ہر طرح کی سزا دینے کا حق ہے چاہے وہ، ان کو قتل کریںیا ان کی عورتوں اور بچوں کو اسیر کریں یا ان کی جائیداد ضبط کرلیں۔

اس معاہدہ پر ترتیب وار تینوں قبیلوں کے سرداروں نے یعنی ''مخیریق ، حی بن اخطب، اور کعب ابن اسد'' نے دستخط کئے۔(١)

گویا اس وقت یہودیوں کو مسلمانوں کی طرف سے خطرے کا احساس نہیں تھا۔ یا اپنے لئے بے طرفی بہتر سمجھتے تھے اور سوچتے تھے کہ اسلام کے دوسرے دشمن، مسلمانوں کی شکست کے لئے کافی ہیں۔ لہٰذا اس طرح کے عہد و پیمان کے کرنے میں وہ پیش قدم تھے۔(٢)

______________________

(١) طبری، اعلام الوری باعلام الھدیٰ (تہران: دار الکتب الاسلامیہ، ط٣)، ص٦٩؛ مجلسی، بحار الانوار، ج٩، ص١١١۔ ١١٠؛ رجوع کریں: واقدی، مغازی، ج١، ص١٧٦، ٣٦٥، ٣٦٧ و ج٢، ص٤٥٤؛ ابن ہشام، السیر ة النبویہ، ج٣، ص٢٣١؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٤٣۔ بعد میں پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے اس عہدنامہ کی رو سے انہیں سزائیںدیں۔

(٢) مجلسی، گزشتہ حوالہ، ص ٦٩ اور ١١٠.


ان اقدامات کی وجہ سے مدینہ اوراس کے اطراف کا ماحول پرامن ہوگیاتھا اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فتنہ و آشوب سے بے فکر ہوگئے تھے۔ اور وقت اس بات کا آگیا تھا کہ قریش کے خطرے سے مقابلہ کرنے کے لئے کوئی چارہ اور تدبیر اپنائیں اور ایک نئے معاشرے کی بنیاد کے مقدمات فراہم کریں۔

منافقین

یہودیوں کے گروہ کے علاوہ دوسرے گروہ بھی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت کے بعد مدینہ میں وجود میں آئے کہ قرآن نے ان کو ''منافقین'' کہا ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو بظاہر اپنے کو مسلمان کہتے تھے لیکن در حقیقت یہ بت پرست(٢) اور ان میں بعض یہودی(٣) تھے۔

ان لوگوں نے جب اسلام کی روز بروز بڑھتی ہوئی قدرت کو دیکھا اور علی الاعلان مقابلہ کرنے سے عاجز ہوگئے تو بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر خود کو مسلمانوں کی صفوں میں داخل کردیا۔

منافقین، یہودیوں سے راز و نیاز رکھتے تھے اور چھپ کر مسلمانوں کے خلاف سازشیںکرتے تھے۔ ان کا سرغنہ اور لیڈر عبد اللہ ابن ابی تھا جس کے بارے میں ہم کہہ چکے ہیں کہ مدینہ میں اس کی رہبری کے مقدمات فراہم ہوچکے تھے لیکن پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے تشریف لانے سے مدینہ کے سیاسی حالات بدل گئے اور وہ اس مقام پر پہنچنے سے محروم ہوگیا۔ اور اس کے دل میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے

______________________

(١) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٦٠ اور ١٦٦؛ نویری، نہایة الارب، ترجمہ: محمود مہدی دامغانی (تہران انتشاراتامیر کبیر، ط ١، ١٣٦٤)، ج١، ص ٣٣٢.

(٢) حلبی، السیرة الحلبیہ، (انسان العیون)، (بیروت: دار المعارفہ)، ج١، ص ٣٣٧؛ نویری، گزشتہ حوالہ، ص ٣٣٩؛ ابن ہشام ، گزشتہ حوالہ، ص ١٧٤.


کینہ و حسد پیدا ہوگیا۔(١)

منافقین کی تخریب کاریاں اس قدر زیادہ تھیں کہ قرآن نے مختلف سوروں میں جیسے، بقرہ ، آل عمران، توبہ، نسائ، مائدہ، انفال، عنکبوت، احزاب، فتح ، حدید، منافقون، حشر و تحریم میں ان کا تذکرہ فرمایا ہے، لہٰذا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی لڑائی اس گروہ سے، مشرکوں اور یہودیوں سے زیادہ مشکل اور سخت تھی۔ کیونکہ وہ مسلمانوں کے سامنے، اپنے کو مسلمان بتاتے تھے لہٰذا پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کے ظاہری حکم کے تحت ان سے جنگ نہیں کرسکتے تھے۔ اسلام کے خلاف اس گروہ کی خراب کاریاں، منظم طریقے سے ایک گروپ کی شکل میں، عبد اللہ ابن ابی کی موت ( ٩ ھ)،(٢) تک اسی طرح جاری رہیں۔ لیکن اس کے بعد سست اور بہت کم ہوگئیں۔

______________________

(١) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص٢٣٨۔ ٢٣٧؛ بیہقی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٦٥؛ نویری، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٣٣٨؛ ابن شبہ، تاریخ المدینة المنورة، تحقیق: فہیم محمد شلتوت (قم: دار الفکر، ١٤١٠ھ.ق)، ج١، ص٣٥٧؛ احمد زینی دحلان، السیرة النبویہ و الآثار المحمدیہ (بیروت: دار المعرفہ، ط٢)، ج١، ص١٨٤۔

(٢) مسعودی، التنبیہ والاشراف (قاہرہ: دار الصاوی للطبع و النشر)، ص ٢٣٧.


تیسری فصل

یہودیوں کی سازشیں

یہودیوں کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزیاں

یہودی (مسیحیوں کی طرح) پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے عنقریب، مبعوث ہونے سے آگاہ تھے۔ قرآن مجید کے بقول ''اہل کتاب'' پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کو اپنی اولاد کی طرح پہچانتے تھے(١) اور انھوں نے جن اوصاف اور نشانیوں کو توریت اورانجیل میں پڑھ رکھا تھا، ان کو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اندر منطبق پاتے تھے۔(٢)

اس بنا پر امید یہ تھی کہ یہ لوگ اوس و خزرج سے پہلے مسلمان ہو جائیں گے کیونکہ جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے کہ اسلام کی طرف ان دو قبیلوں کے رجحانات کا ایک سبب یہ تھا کہ یہودیوں نے پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی بعثت کے بارے میں جو پیشین گوئیاں کر رکھی تھیں وہ ''وارننگ'' کی صورت میں تھیں۔ لیکن ان میں سے صرف چند افراد نے اسلام قبول کیا۔ لیکن اس کے باوجود وہ اپنے دین پر قائم تھے، ہجرت کے ابتدائی سالوں میں ان کے روابط مسلمانوں سے ٹھیک تھے اور اس چیز پرشاہد؛ ان کا وہ معاہدہ ہے

______________________

(١) سورۂ بقرہ، آیت ١٤٦؛ سورۂ انعام، آیت ٢٠.

(٢) سورۂ اعراف، آیت ١٥٧؛ سورۂ آل عمران، آیت ٨١؛ سورۂ انعام، آیت ١١٤؛ سورۂ قصص، آیت ٥٢.


جو''عدم تجاوز'' کے عنوان سے پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے ساتھ کیا گیاتھا۔ لیکن ابھی کچھ دن نہیں گزرے تھے کہ انھوں نے اپنا رویہ بدل دیا اور مخالفت پر اتر آئے ان کی ایک شرارت یہ تھی کہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے صفات کو چھپاتے یا بدل دیتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمیں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صفات اپنی کتابوں میں نہیں ملے ہیں اور اس کے صفات، اس پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صفات نہیں ہیں جو آنے والا ہے۔(١)

قرآن نے ان کے اس رویہ او رطرز عمل کی مذمت کی ہے:

''اور جب ان کے پاس خدا کی طرف سے کتاب آئی جوان کے توریت وغیرہ کی تصدیق بھی کرنے والی ہے اور اس کے پہلے وہ دشمنوںکے مقابلے میں اسی کے ذریعہ طلب فتح بھی کرتے تھے لیکن اس کے آتے ہی منکر ہوگئے حالانکہ اسے پہچانتے بھی تھے تو اب کافروں پر خدا کی لعنت ہے''۔(٢)

یہودی مختلف طریقے سے مخالفت اور شرارتیں کرتے تھے ان میں سے کچھ یہ ہیں:

١۔ نامعقول او رغیر منطقی چیزوں کی فرمائش کرتے تھے جیسے وہ مطالبہ کرتے تھے کہ ان کیلئے آسمان سے کوئی کتاب یا (نامہ) نازل ہو۔(٣)

٢۔ الٹے سیدھے اور پیچیدہ دینی سوالات کرتے تھے تاکہ مسلمانوں کے(٤) ذہن پریشان اور چکرا جائیں۔ اگر چہ تمام جگہوں پر پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے متقن اور واضح جوابات دیئے لیکن اس کا نتیجہ وہ برعکس نکالتے تھے۔

______________________

(١)حلبی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٢٠؛ بیہقی، ج٢، ص ١٨٦؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب (قم: المطبعة العلمیہ)، ج١، ص ٥١؛ واقدی، المغازی، ج١، ص ٣٦٧.

(٢) سورۂ بقرہ، آیت ٨٩.

(٣) سورۂ نسائ، آیت ١٥٣؛ سورۂ آل عمران، آیت ١٨٣.

(٤) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٦٠؛ ابن شہر آشوب، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٥٤؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٢٢۔ ٣٢١؛ زینی دحلان، السیرة النبویہ و الآثار المحمدیہ (بیروت: دار المعرفہ)، ج١، ص ١٨٠۔ ١٧٨.


٣۔ مسلمانوں کی ایمانی اور اعتقادی بنیادوں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے تھے جیسا کہ وہ ایک دوسرے سے کہتے تھے: (جاؤ اور بظاہر) جو کچھ مومنوں پر نازل ہوا ہے اس پر صبح کو ایمان لے آؤ اور شام کو انکار کردو (اور پلٹ آؤ ) شاید اس طرح وہ لوگ بھی پلٹ جائیں۔(١)

٤۔ مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈالنے کی کوشش کرتے تھے جیسا کہ ان میں سے ایک شخص جس کا نام شأس بن قیس تھا وہ چاہتا تھا کہ اوس و خزرج کے درمیان پرانے کینہ و حسد کو جگا کر لڑائی جھگڑے اور جنگ کی آگ کو شعلہ ور کردے لیکن پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے بر وقت اقدام سے یہ سازش ناکام ہوگئی۔(٢)

یہودیوں کی مخالفت کے اسباب

یہودی دراصل ایک منافع پرست، لالچی(٣) ، ہٹ دھرم اور بہانہ باز لوگ تھے۔ قرآن مجید نے یہودیوں اور مشرکوں کو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن قرار دیاہے۔(٤) کیونکہ یہ دونوں گروہ، صاحب منطق اور استدلال نہیں تھے. اپنی کینہ توزی کے باعث ہر طرح کی مخالفت اور خلاف ورزی سے باز نہیں آتے تھے یہودیوں کی اسلام سے مخالفت کے اسباب و علل کو چند چیزوں میں خلاصہ کیا جاسکتا ہے:

١۔ یہودیوں کی متعصب فکریں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رشک کرتی تھیں لہٰذا وہ کسی ایسے کی پیغمبری کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے جو ان کی نسل سے نہ ہو۔(٥)

______________________

(١) سورۂ آل عمران، آیت ٧٢.

(٢) ابن ہشام ، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٠٤، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٣٢٠۔ ٣١٩.

(٣) ''و لتجدنہم احرص الناس علی حیوٰة...'' (سورۂ بقرہ، آیت ٩٦.)

(٤) سورۂ مائدہ، آیت ٨٢.

(٥) سورۂ بقرہ، آیت ٩٠، ١٠٩؛ سورۂ نسائ، آیت ٥٤؛ ابن ہشام،گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٦٠؛ زینی دحلان، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٧٦؛ واقدی، المغازی، ج١، ص ٣٦٥.


٢۔ وہ لوگ (یہودی) نفوذ اسلام سے قبل مدینہ میں اقتصادی اور سماجی لحاظ سے اچھی پوزیشن رکھتے تھے کیونکہ وہ کاروبار، صنعت ، کاشتکاری(١) اور ربا خوری(٢) کے ذریعہ شہر کے اقتصاد کو اپنے کنٹرول میں لئے ہوئے تھے۔

دوسری طرف سے اوس و خزرج کے درمیان اختلافات ڈال کر ان کی قدرت و طاقت کو کمزور کردیاتھا۔ اور بنی قینقاع، خزرجیوں کے ساتھ رہ کر، اور بنی نضیر اور بنی قریظہ، اوسیوں کے ساتھ رہ کر اختلافات اور قبائلی جنگ کی آگ ان کے درمیان بھڑکا چکے تھے۔(٣)

ہجرت کے بعد اوس و خزرج پرچم اسلام کے زیر سایہ اکٹھا ہوگئے اور اسلام کی روز بروز بڑھتی ہوئی قدرت و طاقت کا وہ احساس کرنے لگے اور تصور کرتے تھے کہ بہت جلد علاقہ پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہو جائے گی اور وہ اپنا مقام کھو بیٹھیں گے اور یہ چیز ان کے تحمل سے باہر تھی۔

٣۔ علمائے یہود وہاں کے سماج میں اپنا ایک بڑا مقام اور درجہ رکھتے تھے اور عام لوگ بغیر قید و شرط کے ان کی پیروی اور اطاعت کرتے تھے۔ یہاں تک جو احکام وہ خدا کے حکم کے برخلاف کہتے تھے اسے بھی آنکھ بند کرکے وہ قبول کرلیتے تھے۔(٤)

______________________

(١) بنی قینقاع زرگری (زیورات) کا کام کرتے تھے (مونٹ گری واٹ، محمد فی المدینہ، تعریب: شعبان برکات، بیروت: المکتبة العصریہ) ، اور ایک بازار ان کے نام کا مدینہ میں موجود تھا (ابن شبہ، تاریخ المدینہ المنورہ، تحقیق: فہیم محمد شلتوت، قم: دار الفکر، ج١، ص ٣٠٦، یاقوت حموی، معجم البلدان، ج٤، ص ٤٢٤؛ اور بنی نضیر اور بنی قریظہ نے اطراف مدینہ میں قلعے اور کالونیاں بنا رکھی تھیں و کاشت کاری اور باغ داری کا کام کرتے تھے۔ (یاقوت حموی، گزشتہ حوالہ، ج١، کلمہ بنی نضیر اور بطحان؛ نور الدین السمہودی، وفاء الوفاء باخبار دار المصطفی ، (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ط ٣، ١٤٠١ھ.ق)، ج١، ص ١٦١.)

(٢) سورۂ نسائ، آیت ١٦١.

(٣) سورۂ نسائ، آیت ١٦١.

(٤) سورۂ توبہ، آیت ٣١.


اور اس سے قطع نظر، ان کے آمدنی کا ذریعہ تحفے تحائف اور خیرات وغیرہ تھیں جسے عام یہودی توریت کی پاسداری اور محافظت کے عنوان سے دیتا تھا۔ اسی وجہ سے وہ ڈرتے تھے کہ اگر یہودیوں نے اسلام کو قبول کرلیا تو یہ آمدنی ختم ہو جائے گی۔(١)

٤۔ وہ لوگ، جناب جبرئیل کے ساتھ (جو کہ خدا کا پیغام لے کر پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م پر نازل ہوتے تھے) دشمنی کرتے تھے(٢) اور اس بات کو بہانہ قرار دیکر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مخالفت کرتے تھے۔

٥۔ قرآن مجید یہودیوں کے بہت سارے عقائد و اعمال اور توریت کی تعلیمات کو باطل قرار دیتا ہے(٣) اور بہت سارے احکام اور پروگراموں میں یہودیوں کی مخالفت کرتا ہے۔(٤)

اس موضوع کا تعلق گزشتہ زمانہ سے ہے؛ ظہور اسلام سے قبل، اہل کتاب، ثقافتی لحاظ سے بت پرستوں کے مقابلے میں بلند درجہ رکھتے تھے اور مشرکین ان کو احترام کی نظروں سے دیکھتے تھے۔(٥)

ظہور اسلام کے بعد بھی یہ ذھنیت کم و بیش باقی تھی۔ اس بنا پر مدینہ کے مسلمان کبھی دینی مسائل کے بارے میں ان سے سوالات کرلیتے تھے اور وہ توریت کی باتوں کو عربی میں مسلمانوں کے

______________________

(١) سورۂ بقرہ، آیت ٧٩؛ سورۂ آل عمران، آیت١٨٧؛ سورۂ توبہ، آیت٣٤؛ بیہقی، دلائل النبوة، ترجمہ: محمود مہدوی دامغانی (تہران: مرکز انتشاراتعلمی و فرہنکی، ١٣٦١)، ج٢، ص١٨٧۔ ١٨٦۔

(٢) سورۂ بقرہ، آیت ٩٨؛ ابن سعد، طبقات الکبریٰ، (بیروت: دار صادر)، ج١، ص١٧٥؛ حلبی، السیرة الحلبیہ، (انسان العیون) (بیروت: دار المعرفہ)، ج١، ص٣٢٩۔

(٣) سورۂ نسائ، آیت ٤٦، ١٥٨۔ ١٥٥؛ سورۂ توبہ، آیت ٣٠۔

(٤) مرتضی العاملی، الصحیح من سیرة النبی الاعظم، ١٤٠٣ھ.ق)، ج٣، ص١٠٦؛ رجوع کریں: صحیح بخاری، شرح و تحقیق: الشیخ قاسم الشماعی الرفاعی (بیروت: دارالقلم، ط١، ١٤٠٧ھ.ق)، ط٧، باب ٤٨٦، حدیث ١١٨٨؛ صحیح مسلم، بشرح النووی، ج١٤، ص٨٠۔

(٥) مرتضی العاملی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص١٧٦۔ ١٧٥۔


لئے تفسیر کرتے تھے۔ جبکہ ان کی مذہبی معلومات زیادہ غلط اورتحریف شدہ ہوتی تھیں۔ اس وجہ سے پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے مسلمانوں کو نصیحت فرمائی کہ اہل کتاب کی باتوں کی تصدیق نہ کریں۔(١)

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایک دن عمر بن خطاب سے فرمایا: اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، اگر خود حضرت موسیٰ زندہ ہوتے تو وہ میری پیروی کرتے(٢) اس طرح کے مسائل نے یہودیوں کی دشمنی کو بڑھا دیا تھا۔ لہٰذا وہ کہتے تھے کہ یہ شخص ہمارے تمام پروگراموں کی مخالفت کرنا چاہتا ہے۔(٣)

قبلہ کی تبدیلی

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، مکہ میں اپنی مدت اقامت کے دوران او رہجرت کے بعد کچھ عرصے تک حکم خدا سے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے. یہودیوں نے اپنی دشمنی کو آشکار کرنے کے بعد، اس موضوع کو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف تبلیغ اور زہر چھڑکنے کے لئے دستاویز قرار دیا اور کہتے تھے: وہ اپنے دین میں استقلال نہیں رکھتا اور ہمارے قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتا ہے وہ لوگ اس بات پر زیادہ زور دیتے تھے۔

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م اس صورت حال سے آسودہ خاطر تھے اور راتوں کو آسمان کی طرف نگاہ کر کے نزول وحی کے منتظر رہتے تھے تاکہ نئے فرمان کے پہنچنے کے ساتھ یہودیوں کی

______________________

(١) صحیح بخاری، گزشتہ طبع، ج٩، باب ١١٩٠، ص٧٧٢۔

(٢) حلبی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٣٧٢؛ رجوع کریں: ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج١، ص٥٢۔

(٣) حلبی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص٣٣٢۔


تبلیغات ختم ہو جائیں۔(١)

ہجرت کے سترہ مہینے کے بعد جس وقت پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م مسلمانوں کے ساتھ ظہر کی دو رکعت نماز ''بیت المقدس'' کی طرف پڑھ چکے تھے فرشتۂ وحی نازل ہوا اور قبلہ کی تبدیلی کا حکم سنایا اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کعبہ کی طرف موڑ دیا اور پیغمبر نے بعد کی دو رکعت نماز کعبہ(٢) کی جانب رخ کر کے پڑھی۔ خدا نے اس چیز

______________________

(١)ابن واضح، تاریخ یعقوبی، (نجف: المکتبة الحیدریہ، ١٣٨٤ھ.ق)، ج٢، ص٣٤؛ محمد بن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٢٤٢؛ الشیخ للحر العاملی، وسائل الشیعہ،ط٤، ١٣٩١ھ.ق)، ج٣، کتاب الصلوة، ابواب القبلہ، باب٢، حدیث٣، ص٢١٦؛ طباطبائی، المیزان، (بیروت: مؤسسة الاعلمی للمطبوعات، ط٣، ١٣٩٣ھ.ق)، ج١، ص ٣٣١۔ قبلہ کی تبدیلی کی تاریخ، ہجرت کے بعد سات مہینے سے سترہ مہینے نقل ہوئی ہے۔ (وفاء الوفائ، ج١، ص٣٦٤۔ ٣٦١؛ بحار الانوار، ج١٩، ص ١١٣) لیکن علامہ طباطبائی ١٧ مہینے کی تائید فرماتے ہیں۔ (وہی حوالہ).

(٢) مورخین کے ایک گروہ کے کہنے کے مطابق یہ واقعہ، قبیلۂ بنی سلمہ کی ایک مسجد میں رونما ہوا جو ''مسجد القبلتین'' سے مشہور ہوئی۔ (ابن واضح، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٣٤؛ محمد بن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٤٢؛ سمہودی، وفاء الوفائ، ج١، ص ٣٦٢۔ ٣٦١؛ زمخشری ، تفسیر الکشاف، (بیروت: دار المعرفہ)، ج١، ص ١٠١؛ لیکن ایک دوسرے گروہ نے قبیلۂ بنی سالم بن عوف کی مسجد کو، جہاں پر پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے پہلی نماز جمعہ برگزار کی تھی واقعہ کی جگہ بتایاہے (طبرسی، اعلام الوریٰ، ص ٧١؛ مجلسی، بحار الانوار، ج١٩، ص ١٢٤؛ علی بن ابراہیم سے نقل کے مطابق) اور کچھ تاریخی خبریں بتاتی ہیں کہ یہ واقعہ خود مسجد النبی میں رونما ہوا (ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٤١؛ سمہودی، وفاء الوفائ، ج١، ص ٣٦٠؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج١٩، ص ٢٠١۔ ٢٠٠) مسجد القبلتین محل وقوع کے لحاظ سے جس کی ہمارے زمانے میں تعمیر نو ہوئی ہے اور مدینہ کے شمال میں واقع ہے قبیلہ بنی سلمہ سے میل کھاتی ہے ؛ کیونکہ قبیلہ بنی سالم، مدینہ کے جنوب میں بسا ہوا تھا بہرحال مورخین کے درمیان قبلہ کی تبدیلی کے مکان میں اختلاف نظر کا پایا جانا اس کی عظمت کو کم نہیں کرتا ہے۔


کا تذکرہ اس طرح سے فرمایا ہے:

''اے رسول! ہم آپ کی توجہ کو آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں تو ہم عنقریب آپ کو اس قبلہ کی طرف موڑ دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں لہٰذا آپ اپنا رخ مسجد الحرام کی طرف موڑ لیجئے اور جہاں بھی رہیئے اسی طرف رخ کیجئے ۔ اہل کتاب خوب جانتے ہیں کہ خدا کی طرف سے یہی برحق ہے اور اللہ ان لوگوںکے اعمال سے غافل نہیں ہے''۔(١)

قبلہ کی تبدیلی سے مسلمانوں کا استقلال پورا ہوگیا اور یہ یہودیوں کے لئے بہت ہی گراں حادثہ تھا۔ لہٰذا انھوں نے اب دوسرے طریقے سے کہنا شروع کردیا کہ کیوں مسلمانوں نے اپنے قدیمی قبلہ سے منھ پھیر لیا؟ خداوند عالم نے قبلہ کی تبدیلی سے پہلے ہی یہودیوں کی حرکت سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو آگاہ کردیا تھا اور اس کے جواب کو بھی وضاحت کے ساتھ بیان کردیا تھا۔ کہ مشرق و مغرب اور روئے زمین کا ہر حصہ خدا کا ہے وہ جدھر نماز پڑھنے کا حکم دے، ادھر نماز پڑھنا چاہئے اور زمین کا کوئی حصہ اپنی جگہ پر ذاتی کمال نہیں رکھتا''۔

''عنقریب احمق لوگ یہ کہیں گے کہ ان مسلمانوں کواس قبلہ سے کس نے موڑ دیا ہے جس پر پہلے قائم تھے تو اے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! کہہ دیجئے کہ مشرق و مغرب سب خدا کے ہیں وہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت کردیتا ہے''۔(٢)

اس جواب کے بعد پھر یہودیوں کے پاس منفی تبلیغ کا کوئی بہانہ نہیں رہ گیا تھا اور قبلہ کی تبدیلی کے ساتھ دو نئے اور پرانے آئین کے پیرووں کے درمیان مشترک رابطہ ختم ہوگیا اور یہ دو گروہ ایک دوسرے سے جدا ہوگئے اور ان کے درمیان روابط میں خلل پڑ گیا۔

'' آپ ان اہل کتاب کے لئے کوئی بھی آیت اور دلیل پیش کردیں یہ آپ کے قبلہ کو ہرگز نہ مانیں گے اور آپ بھی ان کے قبلہ کو نہ مانیں گے اور یہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کو نہیں مانتے اور

______________________

(١) سورۂ بقرہ، آیت ١٤٤

(٢) سورۂ بقرہ، آیت ١٤٢


اپنے اور اے پیغمبر!آپ علم کے آجانے کے بعد اگر ان کے خواہشات کا اتباع کرلیں گے تو آپ کا شمار ظالموں میں ہوجائے گا''۔(١)

قرآن مجید کی آیات سے اس طرح استفادہ ہوتا ہے کہ قبلہ کی تغییرمیں خداوند عالم کی طرف سے یہودیوں پر انتقاد کے علاوہ مومنین کا امتحان بھی لیا گیا ہے کہ کس حد تک وہ ایمان و اخلاص رکھتے ہیں اور خدا کے حکم کے سامنے تسلیم ہیں۔

''اور ہم نے پہلے قبلہ کو صرف اس لئے قبلہ بنایاتھا کہ ہم یہ دیکھیں کہ کون رسول کا اتباع کرتا ہے اور کون پچھلے پاؤں پلٹ جاتا ہے۔اگر چہ یہ قبلہ ان لوگوں کے علاوہ سب پر گراں ہے جن کی اللہ نے ہدایت کردی ہے اور خدا تمہارے ایمان کو ضائع نہیں کرتا( سابق قبلہ کی طرف تمہاری نمازیں صحیح ہیں ) کیونکہ خدا بندوں کے حال پر مہربان اور رحم کرنے والا ہے''۔(٢)

کچھ روایات میں، اس امتحان کی اس طرح تفسیر کی گئی ہے کہ مکہ کے لوگ کعبہ کے فدائی تھے۔ خداوند عالم نے مکہ میں وقتی طور پر، بیت المقدس کو اس لئے قبلہ قرار دیا تاکہ خدا کے نیک اور فرمانبردار بندے (جواپنی خواہشات کے برخلاف صرف خدا اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم کی پیروی میں اس کی طرف نماز پڑھتے ہیں) خدا کے نافرمان اور خود رائے بندوں سے الگ پہچانے جائیں۔ لیکن مدینہ میں، جہاں زیادہ تر لوگ بیت المقدس کے طرفدار تھے خداوند عالم نے ان کے لئے کعبہ کو قبلہ قرار دیا تاکہ وہاں بھی یہ دو دستے معین ہوسکیں۔(٣)

______________________

(١) سورۂ بقرہ، آیت ١٤٥

(٢) سورۂ بقرہ، آیت ١٤٣.

(٣) طباطبائی، المیزان (بیروت: موسسة الاعلمی، للمطبوعات، ط ٣، ١٣٩٣ھ.ق)، ج١، ص ٣٣٣؛ بعض روایات و نیز کچھ تاریخی خبروں کی بنیاد پر پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م مکہ میں بھی کعبہ کی طرف پشت نہیں کرتے تھے۔ (وسائل الشیعہ، ج٣، ص ٢١٦، کتاب الصلاة، ابواب القبلہ، حدیث٤)، بلکہ اس کو بیت المقدس کے ساتھ ایک سمت میں قرار دیتے تھے اوردونوں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ (حلی، السیرة الحلبیہ، ج٢، ص ٣٥٧.)


چوتھی فصل

لشکر اسلام کی تشکیل

اسلامی فوج کا قیام

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م مکہ میں سکونت کے دوران فقط ایک مبلغ تھے اور لوگوں کے لئے عملی میدان میں ایک الٰہی راہنما تھے اور ان کی خدمات، لوگوں کی ہدایت و راہنمائی اور بت پرستوں اور مشرکوں سے فکری اوراعتقادی جنگ تک محدود تھیں۔ لیکن مدینہ میں آنے کے بعد، دینی رسالت کے ابلاغ و راہنمائی کے علاوہ مسلمانوں کی سیاسی رہبری بھی آپ کے ذمہ آگئی تھی؛ کیونکہ مدینہ میں نئی صورت حال پیش آگئی تھی اور آپ نے اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر ایک نئے معاشرے کے قیام کے سلسلہ میں ابتدائی قدم اٹھایا تھا۔ اس بنا پر آپ احتمالی خطرات اور دشواریوں سے مسلمانوں کو آگاہ کرکے ایک دور اندیش، شائستہ اور آگاہ سیاسی رہبر کی شکل میں اس کی چارہ جوئی کی فکر میں لگ گئے، مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیا ن رشتہ اخوت و برادری کی برقراری، عمومی عہد و پیمان کی تنظیم و اجراء و نیز یہودیوں کے ساتھ عدم تجاوز کے معاہدہ پر دستخط یہ وہ اقدامات تھے جنھیں آپ نے بطور احتیاط انجام دیئے تھے۔


جو سورے اور آیات مدینہ میں نازل ہوئیں وہ سیاسی اور سماجی احکام و دستورات پر مشتمل تھیں اوروہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے سیاسی امور میں مفید اور راہ گشا تھیں۔ جیسے کہ خداوند عالم کی طرف سے جہاد اور دفاع کا حکم صادر ہوا(١) اور اس کے بعد پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے قصد کیا کہ ایک دفاعی فوج تشکیل دیں۔

اس فوج کا قیام عمل میں آنا اس لحاظ سے اہمیت رکھتا تھا کہ اس بات کا گمان تھا کہ مکہ کے مشرکین (جو ہجرت کے بعد مسلمانوں کو سزائیں اور تکلیف نہیںدے پا رہے تھے) اس مرتبہ مرکز اسلام (مدینہ) پر فوجی حملہ کردیں۔ اس بنا پر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس طرح کے گمان کا مقابلہ کرنے کے لئے ہجرت کے پہلے سال کے آخر میں ایک اسلامی فوج کی بنیاد ڈالی۔ یہ فوج شروع میں تعداد اور جنگی سازو سامان کے لحاظ سے محدود تھی ۔ لیکن بہت جلدی دونوں لحاظ سے اسے ترقی ملی۔ یہاں تک کہ آغاز قیام میں جنگی ماموریت یا گشتی عملیات میں بھیجی جانے والی ٹولیاں ساٹھ افرادسے زیادہ پر مشتمل نہیں ہوتی تھیں۔ اور ان کی سب سے زیادہ تعداد جو بہت کم دیکھنے میں ائی دو سو سے زیادہ نہیں پہنچی۔(٢)

ہجرت کے دوسرے سال جنگ بدر میں ان کی تعداد تین سو سے تھوڑا زیادہ تھی۔ لیکن فتح مکہ میں (ہجرت کے آٹھویں سال ) سربازان اسلام کی تعداد دس ہزار افراد تک پہنچ گئی تھی۔ اور فوجی سازوسامان کے اعتبار سے بھی بہت اچھی حالت ہوگئی تھی۔

بہرحال یکے بعد دیگرے، واقعات کے رونما ہونے سے پتہ چلتا ہے کہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی پیش بینی درست تھی۔ کیونکہ ہجرت کے دوسرے سال طرفین کے درمیان متعدد جھڑپیں ہوئیں اگر مسلمانوں کے پاس دفاعی طاقت نہ ہوتی تو ان جھڑپوں کے نتیجہ میں مسلمان، مشرکوں کے ہاتھوں بری طرح سے مارے جاتے۔(٣)

______________________

(١) ''اذن.... یقاتلون بانہم ظلموا و ان اللّٰہ علی نصرہم لقدیر، الذین اخرجوا من دیارہم بغیر حق'' (سورۂ حج، آیت ٤٠۔ ٩٣)، اسی طرح سے رجوع کریں : المیزان، ج١٤، ص ٣٨٣؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ٣٦.

(٢) ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، (بیروت: دار صادر)، ج٢،ص ١١٢.

(٣) پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے کل غزوات کی تعداد ٢٦ اور سریات کی تعداد ٣٦ نقل ہوئی ہے۔ (ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب ، ج١، ص ١٨٦، طبرسی، اعلام الوریٰ ، ص ٧٢)، کچھ مورخین نے سریات کی تعداد اس سے زیادہ نقل کی ہے (مسعودی، مروج الذھب، ج٢، ص ٢٨٢)، بخاری، ایک روایت میں ان کی تعداد ١٩ ذکرہوئی ہے (صحیح بخاری ، ج٦، ص ٣٢٧.)


فوجی مشقیں

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انھیں تھوڑے سے سپاہیوں کے ذریعے ایک طرح کی چھوٹی فوجی نقل و حرکت شروع کردی جس کو درحقیقت ایک مکمل جنگ نہیں کہہ سکتے ہیں۔ اوران مشقوں میں سے کسی ایک میں دشمن سے نوک جھوک اور جنگ پیش نہیں آئی جیسے حمزہ بن عبد المطلب کا تیس افراد پر مشتمل سریہ (ہجرت کے آٹھویں مہینے میں) جس نے قریش کے قافلہ کو مکہ کی طرف پلٹتے وقت پیچھا کیا تھا۔اور عبیدہ بن حارث کا ساٹھ افراد پر مشتمل سریہ جس نے (آٹھویں مہینے میں) ابوسفیان کے گروہ کا پیچھا کیا۔ اور سعید بن وقاص کا بیس افراد پر مشتمل سریہ جس نے ( نویں مہینے میں )قریش کے قافلے کا پیچھا کیا۔ لیکن اس کو پانہیں سکا۔(١)

اسی طرح سے خود پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے (گیارہویں مہینے میں) مسلمانوں کے ایک گروہ کے ساتھ، قریش کے قافلے کا تعاقب کیا اور سرزمین ''ابوائ'' تک پہنچ گئے، لیکن کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا۔

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سفر میں قبیلۂ ''بنی ضَمرة'' سے عہد و پیمان کیا کہ وہ بے طرف رہیں اور دشمنان اسلام کا ساتھ نہ دیں۔

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ربیع الاول کے مہینے (بارہویں مہینے) میں، کرز بن جابر فہری، جس نے گلۂ (ریوڑ) مدینہ کو غارت کردیا تھا اس کا تعاقب، سرزمین بدر تک کیا لیکن وہ مل نہ سکا، جمادی الآخر

______________________

(١) واقدی، المغازی، تحقیق: مارسڈن جونس، ج١، ص ١١۔ ٩؛ محمد بن جریر الطبری، تاریخ الامم والملوک (بیروت: دار القاموس الحدیث)، ج٢، ص ٢٥٩؛ رجوع کریں: ابن ہشام ، السیرة النبویہ، ج٢، ص ٢٤٥۔ ٢٥١؛ ابن اسحاق نے ان سریات کو ٢ھ کے واقعات میں قرار دیا ہے۔ (طبری، گزشتہ حوالہ،) اگر بالفرض اس نقل کو ہم صحیح قرار دیں تو ہمیں قبول کرنا چاہیئے کہ اسلامی فوج کی تشکیل ٢ھ میں ہوئی ہے لیکن پھر بھی یہ مطلب موضوع کی اہمیت کو کم نہیں کرتا بلکہ اس سلسلہ میں پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے عمل کی تیزی کو بتاتا ہے.


میں ایک سو پچاس یا (دوسو) افراد کے ساتھ قریش کے تجارتی قافلہ کو جو کہ ابوسفیان کی سرپرستی میں (مکہ سے شام) جارہا تھا، اس کا تعاقب کیا (غزوہ ذات العشیرہ) اور اس بار بھی اس کے قافلہ تک نہ پہنچ سکے اور قبیلۂ ''بنی مدلج'' کے ساتھ عہد و پیمان کیا اور مدینہ پلٹ آئے(١) لہٰذا اس طرح کی چھوٹی فوجی نقل و حرکت کو درحقیقت فوجی مشقیں یا قدرت نمائی کہنا چاہیئے نہ واقعی جنگ۔

فوجی مشقوں سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مقاصد

قرائن سے پتہ چلتاہے کہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کا ان چھوٹے سرایااور غزوات سے مقصد، نہ دشمنوں کو لوٹنا اور غارت کرنا تھا اور نہ ان سے جنگ اور ٹکراؤ کرنا تھا۔ کیونکہ (جیسا کہ ہم نے مشاہدہ کیا ہے) ایک طرف سے اسلامی سپاہیوں کی تعداد کم تھی اور دشمن کے سپاہیوں کی تعداد ان کے دو برابر تھی۔ اور دوسری طرف ان سرایا میں سے کچھ میں انصار بھی شریک تھے اور ان لوگوں نے ''عقبہ دوم'' کے عہد و پیمان میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ مدینہ کے اندر دفاع کا وعدہ کیا تھا نہ کہ مدینہ کے باہر دشمن سے جنگ کرنے کا۔

اس کے علاوہ مدینہ کے لوگ کاشتکار اور باغبان بھی تھے اور بادیہ نشین قبائل کی طرح غارت گری اور لوٹ مار کی عادت نہیں رکھتے تھے۔ اور اگر اوس و خزرج آپس میں جنگ بھی کرتے تھے تو وہ مقامی پہلو رکھتا تھا ۔ او رجنگ کی آگ بھڑکانے والے یہودی ہوتے تھے وہ کبھی قافلوں کے مال کو لوٹا نہیں کرتے تھے یا قبائل کے اموال کو ان کے علاقے سے ہڑپ کرلے نہیں جاتے تھے۔ اس کے علاوہ اگر ان کا سامنا دشمن سے ہوتا تھا تو جنگ کی رغبت نہیں رکھتے تھے ۔ جیسا کہ حمزہ نے ایک شخص کے ذریعہ جو بے طرف تھا، جنگ کرنے سے پرہیز کیا۔(٢)

ان قرائن و شواہد کے لحاظ سے گویا پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م ان مشقوں سے خاص مقصد رکھتے تھے ۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں:

______________________

(١) واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ١٣۔ ١١؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ص ٢٦١۔ ٢٥٩.

(٢) واقدی، گزشتہ حوالہ، ص٩.


١۔ شام کی طرف جانے والے قریش کے تجارتی راستے کو دھمکی اور وارننگ دینا ؛مکے کے تاجروں کے قافلے شہر مدینہ کے پاس سے بحر احمر کے درمیان سے ہوکر گزرتے تھے لہٰذا وہ شہر سے ١٣٠ کلو میٹر سے زیادہ فاصلہ نہیں رکھ سکتے تھے۔(١)

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی اس نقل و حرکت کے ذ ریعہ، قریش کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ اگر وہ چاہیں کہ مدینہ میں بھی (مکہ کی طرح) مسلمانوں کے کاموں میں رخنہ ڈالیں، تو ان کا تجارتی راستہ خطرہ میں پڑجائے گا اور ان کا تجارتی مال مسلمانوں کے ذریعہ ضبط ہوسکتا ہے۔٭

یہ وارننگ قہری طور سے مشرکین مکہ کو، کہ جن کے نزدیک تجارت ایک حیاتی مسئلہ تھا ، روکنے کے لئے ایک قومی محرک تھا اور ایک واقعی دھمکی تھی تاکہ اپنے محاسبات میں، مسلمانوں کے ساتھ رویہ میں تجدید نظر کریں۔

البتہ یہ خیال رہے کہ مسلمانوں کو حق حاصل تھا کہ مشرکین مکہ کے ا موال کو ضبط کرلیں؛ کیونکہ انھوں نے مہاجرین کو مکہ ترک کرنے کے لئے مجبور کیا تھا اور ان کی جائداد کو ہڑپ لیا تھا۔(٢)

______________________

(١) مونٹ گری، محمد فی المدینہ، تعریب: شعبان برکات (بیروت: المکتبہ العصریہ)، ص٥.

٭ بعد میں دھمکی صحیح ثابت ہوئی اور (جیسا کہ ہم بیان کریں گے) قریش شام کے تجارتی راستہ کے مسدود ہونے سے سخت ناراض ہوئے اور شام جانے کے لئے دوسرے راستہ کی تلاش میں لگ گئے۔

(٢) پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت کے بعد، عقیل نے مکہ میں خانہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (شعب ابوطالب) اور بنی ہاشم نے مہاجروں کے گھروں پر قبضہ کرلیا۔ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے فتح مکہ کے موقع پر حجون میں (مکہ کے باہر) خیمہ لگایا ۔ لوگوں نے عرض کیا ''کیوں اپ اپنے گھر تشریف نہیں لے جاتے؟'' آپ نے فرمایا: مگر عقیل نے ہمارے لئے گھر چھوڑ رکھا ہے؟!! (واقدی، مغازی، ج٣، ص ٨٢٨؛ ابن سعد، طبقات الکبریٰ (بیروت: دار صادر)، ج١، ص ١٣٦؛ قسطلانی، المواہب اللدنیہ والمنح المحمدیہ (بیروت: دار الکتب العلمیہ، ط١، ١٣١٦ھ۔ق)، ج١، ص ٢١٨؛ بعد میں عقیل کے وارثوں نے اس گھر کو سودینار میں حجاج بن یوسف کے بھائیوں کے ہاتھ بیچ دیا (حلبی، السیرة الحلبیہ، ج١، ص ١٠٢۔ ١٠١؛ اسی طرح خاندان بنی جحش بن رئاب کے ہجرت کرنے کے بعد، ان کے گھر مکہ میں خالی پڑے رہے۔ ابوسفیان نے یہ کہکرکہ ان کی لڑکی ان میں سے ایک کی زوجہ ہے، ان کے گھروں کو لے لیا۔ (ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٢، ص ١٤٥)، اس کے علاوہ صہیب کے مدینہ ہجرت کرتے وقت، مشرکین نے ان کا پیچھا کیا اور مال و دولت کو چھین لیا لیکن اس کی جان بچ گئی (ابن ہشام، ج٢، ص ١٢١.)


لیکن یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہیئے کہ اسلام کا دائرہ کار، ذاتی انتقام اور فردی حساب چکانے کے مرحلہ سے آگے بڑھ کر درحقیقت دوبڑی قدرت کے ٹکراؤ میں بدل چکا تھا۔اور طرفین ایک دوسرے کے سپاہیوں کو کمزور کرنے میں لگ گئے تھے۔اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ مسلمانوں کی نظر میں، دشمن کو اقتصادی نقصان پہنچانا اور ان کے اندر رعب و وحشت کا ڈالنا۔ ان کے تجارتی مال، یامال غنیمت سے زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔ جیسا کہ عبد اللہ بن جحش کے سریہ اور جنگ بدر تک مشرکوں کا کوئی مال مسلمانوں کے ہاتھ نہیں لگا تھا۔

٢۔ یہ سرگرمیاں ، ایک طرح سے مسلمانوں کی جنگی قدرت کی نمائش اور مشرکین مکہ کے لئے وارننگ تھیں کہ مدینہ پر فوجی حملہ کرنے کے بارے میں نہ سوچیں۔ کیونکہ مسلمانوں میں دفاعی طاقت پیدا ہوگئی ہے اور وہ ان کے حملوں کا دفاع کرسکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم قریش کی مخالفت کے اسباب و علل کے تجزیہ کی بحث میں پڑھ چکے ہیں کہ جس وقت پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م مکہ میں رہ رہے تھے ا ور مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی تو قریش کے سرمایہ دا راپنے اقتصادی تسلط کا زوال دیکھ رہے تھے اور اب جبکہ شہر مدینہ کافی امکانات اور استعداد کے ساتھ ایک اسلامی مرکز میں تبدیل ہوگیا تھا کس طرح ممکن تھا کہ مکہ کے ثروت پرست اپنے کو امان میں سمجھیں ، اس وجہ سے ضروری تھا کہ شروعات مسلمانوں کی طرف سے ہو، تاکہ مشرکین اس شہر پر قبضہ نہ کرسکیں۔

٣۔ شاید یہ فوجی سرگرمیاں ایک طرح سے مدینہ کے یہودیوں کے لئے بھی الٹی میٹم تھیں ( جو اپنی دشمنی کو آشکار کرچکے تھے) تاکہ تخریب کاری سے ہاتھ اٹھالیں اور فوجی کاروائی کا ارادہ نہ کریں ورنہ مسلمان، فتنہ کی آگ کو سختی کے ساتھ خاموش کردیں گے۔(١)

______________________

(١) محمد حسین ھیکل، حیات محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (قاہرہ: مکتبة النہضة المصریہ، ط٨، ١٩٦٣م)، ص ٢٤٨۔ ٢٤.


عبد اللہ بن جحش کا سریہ

ہجرت کے دوسرے سال رجب کے مہینہ میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عبد اللہ بن جحش (اپنے پھوپھی کے لڑکے) کو مہاجرین میں سے آٹھ افراد کے ساتھ، خبر رسانی اور خفیہ اطلاعات کی مہم پر بھیجا اوران کو مہر بند خط دیا اور فرمایا: ''دوروز راستہ طے کرنے کے بعد اس خط کو کھولنا اوراس کے مطابق عمل کرنا اور اپنے ہمراہ لوگوں میں سے کسی کو ہمراہی پر مجبور نہ کرنا'' اس نے دو دن راستہ طے کرنے کے بعد، خط کو کھولا تو حکم اس طرح سے تھا ''جس وقت میرے خط کو پڑھنا اپنے راستہ کو جاری رکھنا اور جب سرزمین ''نخلہ'' میں (مکہ اور طائف کے درمیان) پہنچنا تو وہاں چھپ کر قریش کودیکھنا اور ہم کو وہاں کی صورت حال سے آگاہ کرنا'' عبد اللہ نے اعلان کیا کہ وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم کی اطاعت کرتے ہیں اور ان لوگوں سے کہا ''جو شخص بھی شہادت کے لئے تیار ہے آئے، ورنہ آزادہے اور پلٹ جائے۔ ان سب نے کہا کہ ہم تیار ہیں۔ یہ گروہ ''نخلہ'' میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ قریش کا ایک قافلہ عمربن الحضرمی کی سرپرستی میں طائف سے مکہ پلٹ رہا تھا ۔عبد اللہ اور اس کے ساتھیوں نے چاہا کہ قافلہ پر حملہ کردیں لیکن ماہ رجب کا آخری دن تھا۔ ایک نے دوسرے سے کہا:اگر یہ لوگ حرم میں داخل ہوگئے تو تقدس حرم کی خاطر ان سے جنگ نہیں ہوسکے گی اور اگر یہاں پر ہم ان سے جنگ کریں تو ماہ حرام کی حرمت کو پائمال کردیںگے۔

آخرکار قافلے پر حملہ کردیا اورعمرو بن الحضرمی کو قتل کر ڈالا اوردو لوگوں کو اسیر کرلیا اور مال غنیمت اور اسیروںکے ساتھ مدینہ پلٹ آئے۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے، ان کے اس خود سرانہ اقدام پر افسوس ظاہر کیا اور اسیروں اور مال غنیمت کو لینے سے انکار کردیا اور فرمایا: ''میں نے نہیں کہا تھا کہ ماہ حرام میں جنگ نہ کرنا''

اس واقعہ کا بہت چرچہ ہوا، ایک طرف اس گروہ کی جنگ و خون ریزی حرام مہینہ میں مسلمانوں کے لئے دشوار بن گئی اور عبد اللہ کی سرزنش کی اور دوسری طرف سے قریش اس واقعہ کا غلط پروپیگنڈہ کر کے کہتے تھے۔ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حرام مہینے کے تقدس اور احترام کو پائمال کردیا ہے،اور اس مہینہ میں خون ریزی کی ہے! یہودی بھی اس پر زہر چھڑک کر کہہ رہے تھے : یہ کام مسلمانوں کے ضرر میں تمام ہوگا، اسی وقت فرشتۂ وحی نازل ہوا اور خدا کا فرمان سنایا:


''پیغمبر یہ آپ سے محترم مہینوں میں جہاد کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ ان میں جنگ کرنا گناہ کبیرہ ہے اور راہ خدا سے روکنا او رخدا او رمسجد الحرام کی حرمت کا انکار کرنا ہے اور اہل مسجد الحرام کو وہاں سے نکال دینا خدا کی نگاہ میں جنگ سے بھی بدتر گناہ ہے اور فتنہ و فساد برپاکرنا تو قتل سے بھی بڑا جرم ہے۔ اور یہ کفار و مشرکین برابر تم لوگوں سے جنگ کرتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کے امکان میں ہو تو تم کو تمہارے دین سے پلٹادیں...''۔(١)

ان آیات کے نزول کے ذریعہ کہ جس میں عبد اللہ کے ضمنی تبرئہ کے ساتھ قریش کو فتنہ کا باعث اور ان کے گناہ کو ماہ حرام میں قتل سے بہت بڑا بتایا گیاہے مسلمانوں کے خلاف جو فضا مکدر ہوگئی تھی وہ ختم ہوگئی اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قریش کے نمائندوں کی درخواست پر اسیروں کو رہا کردیا، ان میں سے ایک مسلمان ہو کر مدینہ میں رہ گیا۔(٢)

ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ کبھی افراد، یا پارٹیاں اپنے حسن نیت (لیکن سوء تدبیر کے ساتھ) کی بنا پر ایسے اقدامات انجام دیتی ہیں جس کے برے اثرات سماج میں پیدا ہوتے ہیں اور ان کی حسن نیت، ان کے اقدامات کے خطرناک نتائج کا جبران نہیں کرسکتی ہے۔ عبد اللہ بن حجش اور ان کے ساتھیوں کا اقدام بھی کچھ اسی طرح کا تھا۔

جنگ بدر

یہ جنگ، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی فوجی مشقوں ، اور شام کی طرف قریش کے تجارتی راستہ کی دھمکی کے بعد ہوئی اور یہ مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان پہلی بڑی جنگ تھی جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے جمادی

______________________

(١) سورۂ بقرہ، آیت ٢١٧.

(٢) ابن ہشام، السیرة النبویہ، (مطبعہ مصطفی البابی، الحلبی، ١٣٥٥ھ.ق)، ج٢، ص ٢٥٥۔ ٢٥٢؛


الآخر کے مہینہ میں قریش کے قافلہ کا جو ابوسفیان کی سربراہی میں شام کی طرف جارہاتھا، سرزمین ''ذات العُشَیرہ'' تک تعاقب کیا لیکن ان تک پہنچ نہ سکے۔اس وجہ سے شام کے علاقہ میں سراغ رسان سپاہیوں کو بھیجا جن کے ذریعہ کفار قریش کے قافلہ کے پلٹنے کی خبر ملی۔(١)

مال و اسباب کے لحاظ سے قافلہ بہت بڑا تھا۔ ان کے اونٹ کی تعداد ایک ہزار تھی اور ان کا سرمایہ ٥٠ ہزار دینار نقل ہوا ہے کہ جس میں تمام قریش شریک تھے۔(٢)

قافلوں کا قدرتی راستہ ، بدر کے علاقہ سے شروع ہوتا تھا۔(٣) پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے قافلہ کو ضبط کرنے(٤) کے لئے تین سو تیرہ افراد(٥) اور بہت کم امکانات(٦) کے ساتھ، بدر کی طرف گئے۔

ابوسفیان شام سے پلٹتے وقت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ارادہ سے آگاہ ہوگیا۔ لہٰذا ایک طرف مکہ میں اپنا تیز رفتار نمائندہ بھیج کر قریش سے مدد مانگی(٧) اور دوسری جانب سے قافلہ کے راستہ کو دا ہنی طرف (بحر احمر

______________________

(١) واقدی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٠.

(٢) واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٧؛ مجلسی ، بحار الانوار، (تہران: دارالکتب الاسلامیہ، ١٣٨٥ھ.ق)، ج١٩، ص ٢٤٨۔ ٢٤٥.

(٣) بدر، شہر مدینہ کے جنوب غربی میں پڑتا ہے جو آج ایک شہر کی شکل میں بدل گیا ہے اور علاقائی مرکز اسی نام پر ہے مدینہ کی شاہر اہ ، جدہ اور مکہ کی طرف اسی جگہ سے گزرتی ہے۔اور یہاں سے مدینہ کا فاصلہ ١٥٣ کلو میٹر او رمکہ کا فاصلہ ٣٤٣ کلو میٹر ہے۔ (محمد عبدہ یمانی، بدر الکبریٰ، جدہ: دار القبلہ للثقافہ الاسلامیہ، ط١، ١٤١٥ھ۔ق)، ص ٢٥۔ اور جس وقت سے مدینہ اور مکہ کے درمیان شاہراہ بنی ہے ۔ حج کے زمانہ میں حاجیوں کا سفر اس راستہ سے نہیں ہوتا ہے

(٤) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٥٨.

(٥) محمد بن سعد، طبقات الکبریٰ، (بیروت: دار صادر)، ج٢، ص ٢٠، طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٧٢.

(٦) مسلمانوں کے پاس ستر (٧٠) اونٹ تھے اور چند افرادایک اونٹ پر سوار ہوتے تھے (واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٦؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٢٦٣) اور صرف ایک گھوڑا (شیخ مفید ، الارشاد، ص ٧٣؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج١، ص ١٨٧؛ مجلسی، بحار الانوار، ج١٩، ص ٣٢٣؛ مسند احمد، ج ١، ص ١٢٥؛ اور بنا بر نقل دو گھوڑا رکھتے تھے (واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٦؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ٢٤۔ ٢٢؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ٣٧)، اور چھ جنگی زرہ اور آٹھ تلوار رکھتے تھے۔ (ابن شہر آشوب، گزشتہ حوالہ، ص ١٨٧؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج١٩، ص ٣٢٣.)

(٧) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٥٨؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٢٨.


کے ساحل کی طرف) موڑ دیا اور قافلہ کو تیزی کے ساتھ، خطرے کے مقام سے دور کردیا۔(١)

ابوسفیان کی درخواست پر نوسو پچاس(٢) جنگجو مکہ سے قافلہ کی نجات کے لئے مدینہ کی طرف گئے۔ جبکہ مشرکین راستے میں ہی قافلے کی نجات سے آگاہ ہوگئے تھے لیکن ابوجہل کی لجاجت اور ہٹ دھرمی نے ان کو ٹکراؤ پر مجبور کردیا۔ ابھی مسلمان قافلہ کی جستجو میں تھے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خبر ملی کہ لشکر قریش بدر کے علاقہ کے قریب پہنچ چکا ہے۔ لہٰذا ایسے موقع پر کوئی فیصلہ کرنا مشکل ہوگیاتھا۔ کیونکہ تھوڑے سے سپاہیوں اور اسلحوں کے ساتھ قافلہ کے افراد کو گرفتار کرنے کے لئے آئے ہوئے تھے نہ کہ ایسی فوج سے جنگ کرنے کے لئے آئے تھے جن کے سپاہیوں کی تعدا، ان کے سپاہیوں کے تین برابر ہو۔ اگر (بالفرض) عقب نشینی بھی کرنا چاہتے تو فوجی مشقوں کے پروپیگنڈہ کا اثر ختم ہوجاتا اور ممکن تھا کہ دشمن ان کا پیچھا کر کے مدینہ پر حملہ کردیتے۔ لہٰذا فوراً ایک فوجی کمیٹی تشکیل پانے کے بعد، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسلمانوں (خاص طور سے انصار) کی رائے اور مشورہ سے اور مقداد اور سعد بن عبادہ کی پرجوش تقریر کے بعد دشمن سے جنگ کا ارادہ کرلیا۔(٣)

١٧ رمضان(٤) کی صبح کو، جنگ کا آغاز ہوا۔ شروع میں حمزہ، عبیدہ اور علی نے شیبہ، عتبہ اور ولید بن عتبہ سے الگ الگ جنگ کی اور اپنے مدمقابل کو قتل کیا(٥) اور یہ سرداران قریش کے حوصلہ پر سخت چوٹ تھی(٦) لہٰذا سی وقت عمومی جنگ شروع ہوگئی۔ لشکر اسلام اتنی تیزی کے ساتھکامیاب ہوا کہ ظہر

______________________

(١)ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٢٧٠؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٤١.

(٢) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٦٩؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٥؛ ابن شہر آشوب، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٨٧؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج١٩، ص ٢١٩.

(٣) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٢٦٨۔ ٢٦٦؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٤٩۔ ٤٨؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ١٤

(٤) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٢٧٨؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ١٩۔ ١٥ و ٢٠.

(٥) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٢٧٧؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ٢٣۔ ١٧ور ٢٤؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج١٩، ص ٢٧٩؛ ابن اثیر الکامل فی التاریخ (بیروت: دار صادر)، ج٢، ص ١٢٥.

(٦) شیخ مفید، الارشاد، (قم: الموتمر العالمی الفیہ الشیخ المفید، ط ١، ١٤١٣ھ.ق)، ص ٦٩.


کے وقت(١) جنگ دشمن کی شکست اور عقب نشینی پر تمام ہوگئی۔ مشرکین میں ٧٠ افراد مارے گئے(٢) اور ستر (٧٠) افراد اسیر ہوئے(٣) اور مسلمانوں میں سے چودہ (١٤) افراد شہید ہوئے۔(٤)

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی موافقت سے قیدی خون بہا دے کر آزاد ہوگئے اور جن کے پاس پیسہ نہ تھا لیکن پڑھے لکھے تھے ان کے بارے میں رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حکم دیا کہ انصار کے دس جوانوں کو پڑھنا لکھنا سکھائیں پھر آزاد ہوجائیں۔(٥) اور بقیہ اسیر پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے احسان پر آزاد ہوئے۔(٦)

مسلمانوں کی کامیابی کے اسباب

مسلمانوں کی درخشاں کامیابی، ان کے پہلے فوجی حملہ میں ہی، قریش کے رعب و حشمت کو توڑ دیا اور ان کو سرگرداں اور مبہوت کردیا، لشکر قریش کی شکست اس قدر غیر متوقع تھی کہ جب رسول خدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ا کا نمائندہ، لشکر اسلام کے مدینہ پلٹنے سے پہلے، شہر میں داخل ہوا اور کامیابی کی خبر سنائی، تو مسلمانوں کو

______________________

(١) واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ١١٢؛ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے جنگ تمام ہونے کے بعد مدینہ کے راستہ میں نماز عصر پڑھی (واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ١١٤۔ ١١٢)

(٢) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص١٨؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص٢٩٤؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٣٧۔

(٣) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ٢٢۔ ١٨؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ص١١٦؛ طبری، گزشتہ حوالہ، صص ٢٩٤؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٣٧؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج١، ص١٨٩؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج١٩، ص ٢٩١۔

(٤) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص١٧؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٣٧؛ ابن شہر آشوب، گزشتہ حوالہ، ص١٨٩۔

(٥) زید بن ثابت نے اس طرح سے لکھنا پڑھنا سیکھا۔

(٦)ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص١٨۔


شروع میں باور نہ ہوا اور نمائندہ کو جنگ سے فراری اور ہارا ہوا سمجھا۔(١)

لیکن ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ اسیروں کو شہر میں لایا گیا۔ اس کامیابی کا چرچہ حبشہ تک پہنچا اور جب نجاشی کو یہ خبر ملی تو اس نے خوشی کا اظہار کیا اور مسلمان مہاجروں کو دربار میں بلایا اور یہ خوش خبری ان کو سنائی۔(٢)

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے فرمایا:

''جنگ بدر وہ پہلی جنگ تھی جس میں خداوند عالم نے اسلام کو عزیز اور شرک کو ذلیل و خوار کیا۔(٣)

شیطان، جنگ بدر کے دن اس قدر ذلیل و خوار ہوا کہ (عرفہ کے دن کے علاوہ کہ خدا کی رحمت کے نزول اور بڑے گناہوںکی مغفرت کا مشاہدہ کیا تھا) کبھی ایسا نہیں ہوا تھا''۔(٤)

اس حیرت انگیز کامیابی کے اسباب و علل کو اس طرح سے خلاصہ کے طور پر بیان کیا جاسکتا ہے:

١۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی لائق اور شائستہ کمانڈری٭ اور آپ کی شجاعت اور دلیری؛ علی جنگ بدر کو یاد کر کے فرماتے ہیں: ''جس وقت جنگ کی آگ سخت شعلہ ور ہوئی تو ہم رسول کی پناہ میں چلے گئے اور

______________________

(١) واقدی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص١١٥۔

(٢) گزشتہ حوالہ، ص ١٢١.

(٣) گزشتہ حوالہ، ص ٢١.

(٤) گزشتہ حوالہ، ص ٧٨.

٭اس کے باوجود کہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م بعثت سے قبل، فوجی سابقہ نہیں رکھتے تھے اور موخین نے صرف ان کی شرکت جوانی میں (یا نوجوانی میں) جنگ ''فجار'' میں نقل کی ہے اوراس میں شک پایا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود آپ ایک ٹریننگ یافتہ کمانڈر یا تجربہ کار کمانڈر کی طرح، اتنے اچھے طریقہ سے کمانڈری کے فرائض انجام دیئے کہ کبھی بھی مسلمانوں کو اس طرح سے فتح حاصل نہیں ہوئی۔


اس وقت ہم میں سے کوئی بھی، آپ سے زیادہ دشمن سے نزدیکتر نہیں تھا''۔(١)

٢۔ علی کی بے نظیر شجاعت اور جان نثاری؛ اس طرح سے کہ جنگ میں مارے گئے دشمنوں میں سے نصف کو آپ نے اکیلے قتل کیا تھا۔(٢)

شیخ مفید نے ٣٥ لوگوں کا نام لیا ہے۔ جو جنگ بدر میں مارے گئے تھے، اور کہتے ہیں: شیعہ اور اہل سنت راویوں نے بطور اتفاق لکھا ہے کہ اتنے افراد کو علی نے قتل کیا ہے اس کے علاوہ اور بھی قتل ہوئے تھے جن کے قاتل کے بارے میں اختلاف ہے یا علی ان کے قتل میں شریک تھے۔(٣)

٣۔ اگر چہ مسلمانوں کے ایک گروہ نے مدینہ سے نکلتے وقت، بے رغبتی اور کھلے انداز میں

______________________

(١) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص٢٣؛ مسنداحمد حنبل، ج١، ص١٢٦؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق: محمد ابوالفضل ابراہیم (قاہرہ: دار احیاء الکتب العربیہ، ١٩٦١ئ)، ج١٣، ص٢٧٩۔

(٢) ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١، مقدمہ، ص٢٤؛ شیخ مفید، الارشاد، (قم: المؤتمر العالمی لألفیة الشیخ المفید، ط١، ١٤١٣ھ.ق)، ص٧٢۔

(٣) شیخ مفید، گزشتہ حوالہ، ص ٧٢۔ ٧٠؛ بلاذری اور واقدی نے اس گروہ کی تعداد ١٨ افراد نقل کی ہے (انساب الاشراف، ج١، ص ٣٠١۔ ٢٩٧؛ المغازی، ج١، ص ١٥٢؛ اسی طرح سے رجوع کریں؛ بحار الانوار، ج ١٩، ص ٢٩٣) جنگ خندق، جنگ بدر کے تین سال بعد ہوئی۔ جس وقت عمرو بن عبدود، عرب کا مشہور پہلوان، خندق کے کنارے لڑنے کے لئے چیلنج کررہا تھا تو علی اس کے مقابلہ میں گئے اس نے علی سے کہا: تمہارا باپ میرا دوست تھا لہٰذا میں نہیں چاہتا ہوں کہ تم میرے ہاتھ سے قتل ہو! ۔ ابن ابی الحدید معتزلی، نہج البلاغہ کا مشہور شارح اس گفتگو کو نقل کرنے کے بعد لکھتا ہے کہ ''ہمارے استاد ابو الخیر مصدق بن شبیب نحوی جس وقت اس حصہ کو پڑھاتے تھے تو کہتے تھے: عمرو نے جھوٹ کہا ہے اس نے علی کی جنگ کو بدر و احدمیںدیکھ رکھا تھا لہٰذا اگر ان سے لڑتا تو قتل ہو جاتا، اس وجہ سے بہانہ کیا اور اس طرح سے علی سے لڑنے میں دیر کیا''۔ (شرح نہج البلاغہ، ج١٩، ص ٦٤.)


ناپسندی کا اظہار کیا تھا۔(١) اور نیز کچھ بزرگ مہاجروں نے، فوجی کمیٹی میں، اپنی کمزوری کا اظہار کیا او رناامید کرنے والی باتیں کہیں۔(٢) لیکن زیادہ تر مسلمان ایمان میں غرق اوران کے حوصلہ بلند تھے۔ اور اس طرح سے بہادرانہ انداز میں لڑے کہ مشرکوں کو بہت تعجب ہوا۔

٤۔ خداکی غیبی مدد(٣) چند طریقے سے ہوئی:

الف: جنگ کی رات بارش کا ہونا، جس سے مسلمانوں کی پانی کی ضرورت پوری ہوگئی اور ان کے قدموں کے نیچے کی زمین سخت ہوگئی، اور اس پر چلنا آسان کام ہوگیا ۔(٤)

ب: اس رات مسلمانوں کو بڑی اچھی نیند آئی(٥) اور وہ سکون سے سوئے صرف پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م صبح تک بیدار رہے اور لشکر اسلام کی کامیابی کے لئے دعا کرتے رہے۔(٦)

ج: مسلمانوں کی نصرت و مدد کے لئے فرشتوں کا نزول اور ان کا میدان جنگ میں حاضر ہونا۔(٧)

د: مشرکین کے دلوں میں رعب ووحشت کا ڈالنا۔(٨)

______________________

(١) سورۂ انفال، آیت ٦۔ ٥

(٢) واقدی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٤؛ حلبی، السیرة الحلبیہ، (انسان العیون) (بیروت: دار المعرفہ)، ج٢، ص٣٨٦۔ ٣٨٥؛ مجلسی، بحار الانوار، ج١٩، ص٢٤٧۔

(٣) سورۂ آل عمران، آیت ١٢٣

(٤) سورۂ انفال، آیت١١؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ص٥٤؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص١٥ و ٢٥۔

(٥) سورۂ انفال، آیت ١١؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ص٥٤؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ص٣٩٢۔ لیکن قریش خوف و اضطراب کی وجہ سے صبح تک بیدار تھے اور تکلیف کی وجہ سے کھانا نہیں کھا سکتے تھے۔ (واقدی، گزشتہ حوالہ، ص٥٤۔

(٦) شیخ مفید، گزشتہ حوالہ، ص٧٣؛ مسند احمد، ج١، ص١٢٥؛ مجلسی، بحار الانوار، ج١٩، ص٢٧٩۔

(٧) سورۂ انفال، آیت ٩؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٧٩۔ ٧٦؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٨٦

(٨) سورۂ انفال، آیت ١٢.


اسلامی لشکر کی کامیابی کے نتائج اور آثار

اس جنگ میں، اسلامی فوج کی کامیابی سے جو آثار و نتائج حاصل ہوئے ہیں ان میں سے کچھ یہ ہیں:

١۔ خداوند عالم نے پہلے ہی مسلمانوں سے مشرکین کے قافلہ یا مکہ کے فوجیوں کے مقابلہ میں کامیابی کا وعدہ کیا تھا۔(١) اور پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے جنگ کی کمیٹی کے جلسہ کے آخر میں خدا کا یہ وعدہ مسلمانوں کو پہنچادیا تھا۔(٢) اور خدا کی نصرت و مدد سے اس کامیابی کے ملنے پر مسلمان خوش ہوگئے۔ اور ان کا ایمان و اعتقاد قوی اورمستحکم ہوگیا۔

٢۔ منافقین اور مدینہ کے یہودی اس کامیابی سے بہت ناراض ہوئے اور ذلت و خواری کا احساس کیا جس وقت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نمائندہ نے مسلمانوں کی بڑی کامیابی کی اطلاع مدینہ کے لوگوں کو دی۔ منافقین نے افواہیں پھیلانا شروع کردیں اور کہنے لگے: ''محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قتل کردیئے گئے ہیں اور مسلمان شکست کھاکر متفرق ہوگئے ہیں''۔(٣)

یہودیوں نے بھی اپنے کینہ کا اظہار کیا۔(٤) کعب الاشرف، جو کہ یہودیوں کے بزرگوں میں سے تھا، اس نے کہا: یہ جو کہتے ہیں کہ جنگ میں مارے جانے والے عرب کے بڑے اور سربرآوردہ لوگ تھے۔ اگر یہ خبر درست ہے تو اس روئے زمین کی زندگی سے بہتر زمین کے نیچے دفن ہو جانا ہے''۔(٥)

٣۔ اطراف مدینہ کے قبائل: اس کامیابی کو اسلام کی حقانیت اور خدا کی نصرت کی نشانی سمجھ کر

______________________

(٢) سورۂ انفال، آیت ٧.

(٣)واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٩.

(٤) گزشتہ حوالہ، ص ١١٥؛ بلاذری، انساب الاشراف، تحقیق: محمد حمید اللہ، (قاہرہ: دارالمعارف، ط ٣.)، ج١، ص ٢٩٤.

(٥) طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٩٧.

(٦) واقدی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص١٢١؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص٥٥؛ رجوع کریں: بیہقی، ج٢، ص٣٤١۔


اسلام کی طرف راغب ہوگئے۔

یعقوبی لکھتاہے: جب خداوند عالم نے جنگ بدر میں اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سرافراز اور کامیاب کردیا اور قریش کے کچھ لوگ قتل ہوگئے تو قبائل عرب، اسلام کی طرف راغب ہوگئے اور کچھ وفود کو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ وہ آگے لکھتا ہے کہ جنگ بدر کے چار یا پانچ مہینے بعد قبیلہ ربیعہ، سرزمین ''ذی قار'' میں کسریٰ سے لڑا اور انھوں نے ایک دوسرے سے کہا: کہ میدان جنگ میں اس تہامی (محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) کے شعار سے استفادہ کرو اس وقت وہ یا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، یا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی فریاد کے ساتھ لڑے اور کامیاب ہوئے۔(١)

٤۔ قریش کے لوگ متوجہ ہوئے کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قدرت اور مسلمانوں کی طاقت کا اندازہ لگانے میں وہ اپنے محاسبات میں غلطی اور اشتباہ کا شکار ہوئے ہیں۔ وہ ہرگز تصور نہیں کرتے تھے کہ انھیں اتنی سخت شکست، چند فراری لوگوں کے ہاتھ، کاشتکاروں کی مدد سے، اٹھانی پڑے گی۔ قریش اس نتیجہ پر پہنچے کہ ان کی تجارت خطرے میں پڑجائے گی اور اب وہ مکہ کے تجارتی راستے سے شام نہیں جاسکتے ہیں۔

صفوان بن امیہ نے قریش کے سرداروں کے مجمع میں کہا: ''محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور اس کے ساتھیوں نے ہماری تجارت کو خطرہ میں ڈال دیا ہے نہیں معلوم ان کے ساتھ کیا کریں؟ وہ ساحل کو نہیں چھوڑیں گے اور ساحل کے لوگ سب ان کے ہم پیمان اور ساتھ ہوگئے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کہاں جائیں؟ اس شہر میں ہمارے اخراجات، گرمیوں میں شام کے تجارتی سفر سے اور جاڑوں میں حبشہ کے تجارتی سفر سے، پورے ہوتے تھے۔ اگر ہم اسی طرح اس شہر میں رہیں تو مجبور ہوکر ہمیں اپنا سارا سرمایہ کھانا پڑے گا اور اپنی ساری دولت سے ہاتھ دھونا پڑے گا اور ہماری زندگی ختم ہو جائے گی''۔

آخر کار اس مجمع میں طے پایا کہ عراق کے راستے سے شام جائیں اس وقت صفوان ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ، جس میں تنہا اس کا حصہ تین لاکھ درہم تھا، عراق کے راستے سے شام کی طرف روانہ ہوا۔ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م اس قافلہ کی روانگی سے باخبرہوکر جمادی الآخر ٣ھ میں ایک سو سپاہیوں کا ایک دستہ

______________________

(١) تاریخ یعقوبی، (نجف: المکتبة الحیدریہ، ١٣٨٤ھ.ق)، ج٢، ص ٣٨.


زید بن حارثہ کی سربراہی میں ان کے اموال کو ضبط کرنے کے لئے بھیجا۔ جب دستہ وہاں پہنچا تو یہودی قافلہ کے اکثر آدمی فرار کر گئے تھے۔ اسلامی سپاہیوں نے ان کے مال کو ضبط کرلیا اور ایک یا دو اسیر کے ساتھ مدینہ پلٹ آئے۔(١) تاریخ میں اس ماموریت کو ''سریة القرَدَہ''(٢) کہا گیا ہے۔(٣)

بنی قینقاع کی عہد شکنی

بنی قینقاع، پہلا یہودی قبیلہ تھا جس نے اپنے دوستی اور عدم تجاوز کے عہد کو توڑا۔ جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ جنگ بدر میں مسلمانوں کی کامیابی، یہودیوں اور منافقوں کے لئے بہت شاق ، اور انھیں ناراض کرنے والی تھی۔ اس بنا پر یہ قبیلہ جنگ بدر کے بعد سے، دشمنی دکھانے لگا۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کو خبردار کیا کہ قریش کے انجام سے نصیحت لواور مسلمان ہو جائو کیونکہ تم لوگوں نے ہمارے صفات اور نشانیوں کواپنی کتاب میں پڑھ رکھا ہے اور میری نبوت سے اچھی طرح آگاہ ہو۔(٤)

ان لوگوں نے کہا: قریش پر کامیابی نے تم کو مغرور کردیا ہے، قریش تاجر پیشہ لوگ تھے اگر ہم سے جنگ کی تو دیکھنا کہ ہم اہل جنگ ہیں! ان تکبرانہ باتوںکے ذریعہ انھوں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وارننگ پر خاص توجہ نہیں دی، اور اسی طرح اپنے اختلافات کو برقرار رکھا۔ ایک دن ان یہودیوں میں سے ایک نے ،

______________________

(١) واقدی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٩٨۔ ١٩٧.

(٢) ''سریة القرَدہ'' بھی نقل ہوا ہے (بحارالانوار، ج٢٠، ص ٤؛ حوالہ، طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٥

(٣) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٥٤۔ ٥٣؛ مجلسی، بحارالانوار، ج٢٠، ص ٥۔ ٤.

(٤) ''قل للذین کفروا ستغلبون و تحشرون الی جہنم و بئس المہاد. قد کان لکم آیة فی فئتین التقتا فئة تقاتل فی سبیل اللّٰہ و اخریٰ کافرة یرونہم مثلیہم رأی العین واللّٰہ یؤید بنصرہ من یشاء ان فی ذالک لعبرة لاولی الابصار'' سورۂ آل عمران، آیت ١٣۔ ٢١.


مدینہ کے اطراف میں اس قبیلہ کے ایک بازار میں، ایک انصار کی زوجہ کی اہانت کی۔ اس حرکت سے مسلمانوں کے جذبات بھڑک اٹھے۔ اس عورت نے مسلمانوں سے فریاد کی تو ایک مسلمان نے اس یہودی کو قتل کردیا۔ اس پر سارے یہودی، اس مسلمان پر ٹوٹ پڑے اور اسے قتل کردیا۔ اس فتنہ انگیزی کی وجہ سے دو لوگ مارے گئے لیکن اگر وہ حسن نیت سے کام لیتے تو دوبارہ امنیت کا برقرار ہونا ممکن تھا، اور اس طرح کے واقعات دوبارہ پیش نہ آتے۔ لیکن ان لوگوں نے احتیاطی تدبیریں اپنانے کے بجائے قلعہ میں جا کر پناہ لے لی اور مسلمانوں کے خلاف مورچہ سنبھال لیا۔

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے ان کے قلعہ کے محاصرہ کا حکم صادر فرمایا۔ پندرہ دن محاصرہ کے بعد، عبد اللہ ابن ابی (خزرجی) جو کہ پہلے ان کا ہم پیمان تھا اس کے کہنے پر پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے موافقت کی کہ وہ اپنے اسلحوں کوچھوڑ کر مدینہ کے باہر چلے جائیں۔ چنانچہ وہ لوگ شام کے ''اذرعات'' علاقہ میں چلے گئے۔ یہ واقعہ ہجرت کے دوسرے سال ماہ شوال میں پیش آیا۔(١)

بنی قینقاع، شجاع ترین یہودی تھے(٢) اور جیسا کہ ان کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے سازو سامان اور قدرت پر مغرور تھے۔ او رشاید اپنے ہم نواؤوں، خزرج اور بنی عوف(٣) کی حمایت سے بھی دلگرم ہوگئے تھے۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ خزرجی جو کہ سب سے آگے تھے اور واسطہ بنے ہوئے تھے۔ وہ بھی ان کی سزاؤوں کے کم کرانے میں کچھ نہیں کرسکے(٤) عبادہ بن صامت عوفی بھی ان سے الگ ہوگئے۔(٥)

______________________

(١) واقدی، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٥٢۔ ٥٠؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٠٩۔ ٣٠٨؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٢٩٨۔ ٢٩٧.

(٢) واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ١٧٨.

(٣) واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ١٧٨؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٥٠.

(٤) گویا پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے عبد اللہ بن ابی کے واسطہ بننے کواس اعتبار سے قبول کیا کہ بظاہر وہ مسلمان تھا اور مسلمانوں کی وحدت کی بقاء اور فتنہ و فساد کو روکنے کے لئے کوشش کررہا تھا۔

(٥) واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ١٧٩.


دوسری طرف سے یہودیوں کے دو قبیلے بنی نضیر اور بنی قریظہ کے پہلے ہمنوا، اوسی تھے اور گویا اسی وجہ سے وہ بنی قینقاع کی مدد کے لئے آگے نہیں بڑھے ۔ اور شاید سعد بن معاذ ۔ اوس کا سردار۔ اس بحران میں ان کے مداخلہ کو روکنے کے لئے اہم کردار رکھتا تھا۔ بہرحال مدینہ سے اس قبیلہ کی جلاوطنی، مسلمانوں کے لئے مفیدثابت ہوئی۔ اور اس طرح سے ان تینوں قبیلوںکی قدرت بھی بٹ گئی اور مدینہ کے بقیہ یہودیوں کے لئے ایک طرح سے وارننگ بھی تھی کہ اس طرح کی غلطیاں وہ آئندہ نہ کریں۔

جناب فاطمہ زہرا سے حضرت علی کی شادی

جنگ بدر میں مسلمانوں کی کامیابی کے بعد دوسرا مبارک واقعہ جو خانۂ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں رونما ہوا ، وہ علی کی شادی تھی جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دختر، فاطمہ زہرا سے ہوئی۔(١)

فاطمہ زہرا، پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خاص اکرام و احترام کے لحاظ سے اور اپنی لیاقت اور ممتاز شخصیت و فضیلت کے اعتبار سے ایسی خاتون تھیں جن کے متعدد لوگ خواستگار تھے۔ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے چند معروف اصحاب، جن میں بعض سرمایہ دار بھی تھے، ان سے شادی کرنا چاہتے تھے۔ لیکن پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے

موافقت نہیں کی(٢) اور فرمایا: ''خدا کے فیصلہ کا منتظر ہوں''(٣) انھوں نے حضرت علی کو مشورہ دیا کہ فاطمہ کی خواستگاری کے لئے جائیں۔

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جناب فاطمہ کی رائے معلوم کرنے کے بعد علی کی خواستگاری کی موافقت کردی۔(٤)

______________________

(١) مجلسی، بحارالانوار، ج٤٣، ص ٩٧

(٢) مجلسی، گزشتہ حوالہ، ١٠٨؛ ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ٣٤.

(٣) ابن سعد، طبقات الکبریٰ، (بیروت: دار صادر)، ج٨، ص١٩.

(٤) مجلسی، گزشتہ حوالہ، ص ٩٣.


اور اپنی دختر سے فرمایا: ''تجھ کو ایسے شخص کی زوجیت میں دے رہا ہوں جو سب سے نیک اور اسلام لانے میں پیش قدم تھا''(١) اور علی سے بھی فرمایا: ''قریش کے کچھ لوگ ہم سے نالاں ہیں کہ کیوں اپنی دختر انھیں نہیں دی۔ میں نے ان کے جواب میں کہا: یہ کام خدا کے ارادہ سے ہوا ہے۔ فاطمہ کی ہمسری کے لئے علی کے علاوہ کوئی شائستگی نہیں رکھتا ہے''۔(٢)

یہ شادی نہایت ہی سادگی اور خوشحالی کے ساتھ تھوڑے سے مہر(٣) او رمختصر سے جہیز کے ساتھ انجام پائی(٤) جو اسلام میں ازدواجی روابط کے لئے معنوی قدر و قیمت کے اعتبار سے اعلیٰ ترین نمونہ سمجھی جاتی ہے۔

جنگ احد

قریش نے جنگ بدر میں شکست کھانے کے بعد، مسلمانوں سے انتقام لینے کے لئے تجارتی قافلہ کے منافع کو خرچ کر کے، مدینہ پر حملہ کرنے کے مقدمات فراہم کرلئے۔(٥) اور بعض قبائل کی حمایت حاصل کرکے بہت سارے جنگی سازو سامان(٦) کے ساتھ مکہ سے نکل پڑے اور میدان جنگ میں

______________________

(١) امینی، الغدیر، ج٣، ص٢٠.

(٢) مجلسی، گزشتہ حوالہ، ص ٩٢.

(٣) گزشتہ حوالہ، ص ١١٢.

(٤) مزید آگاہی کے لئے رجوع کریں: ڈاکٹر سید جعفر شہیدی، زندگانی فاطمہ زہرا (تہران: دفتر نشر فرہنگ اسلامی، ١٣٦٥ ھ.ق)، ص ٧٦۔ ٤٤؛ امیر مھنا الخیامی، زوجات النبی و اولادہ، (بیروت: موسسہ عز الدین، ط ١، ١٤١١ھ.ق)، ص ٣٢٨۔ ٣٢٢.

(٥) واقدی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٠٠؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٦٤؛ ابن سعد، طبقات الکبریٰ، ج٢، ص٣٧.

(٦) مشرکین کے سپاہیوں کی تعداد تین ہزار تھی جن میں سات سو افراد زرہ پوش، دو سو گھوڑے اور ایک ہزار اونٹ تھے۔ (واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٠٤۔ ٢٠٣؛ محمد بن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ٣٧؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ (قاہرہ: دار احیاء الکتب العربیہ، ١٩٦٢م)، ج١٤، ص ٢١٨.


سپاہیوں کی تشویق کے لئے کچھ عورتوں کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔(١)

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م، مکہ میں اپنے چچا عباس کی مخفی خبر کے ذریعہ قریش کے ارادے سے آگاہ ہوگئے۔(٢) اور آپ نے ایک فوجی کمیٹی بناکر دشمن سے مقابلہ کرنے کے لئے، مسلمانوں سے مشورہ کیا۔ عبد اللہ ابن ابی اور انصار کے کچھ بزرگ نیز بعض مہاجر شخصیتیں جیسے حمزہ، چاہتے تھے کہ شہر کے باہر دشمن سے مقابلہ کریں کیونکہ شہر میں رہنا دشمن کی جرأت کا باعث بنے گا اور مسلمانوں کی ناتوانی اور کمزوری کی علامت قرار پائے گا۔ اور جنگ بدر میں سپاہ اسلام کی قدرت نمائی کے اعتبار سے نامناسب سمجھا جائے گا۔(٣)

آخر کار پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے اس بہادر او رانقلابی گروہ کی رائے کو قبول کیا او رایک ہزار(٤) افراد کے ساتھ احد٭کے پہاڑ کی طرف چل دیئے۔ بیچ راستے میں عبد اللہ بن ابی یہ بہانہ کر کے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جوانوں کے مشورے پر عمل کیا اور ہماری رائے کو نظر انداز کیا(٥) اور نیز اس بات کو دلیل بنا کر کہ

______________________

(١) واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٠٣۔ ٢٠٢؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ٣٧؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٦٦.

(٢) واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٠٤ اور ٢٠٦؛ ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١٤، ص ٢٧؛ ایک نقل کی بنا پر قبیلہ خزاعہ جو کہ دوست دار پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور مسلمان تھا۔ اس موضوع سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو باخبرکیا (ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ص ٢١٨)، اور ممکن ہے کہ دونوں طریقوں سے خبر پہنچی ہو۔

(٣) واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٢١٢۔ ٢١٠، ٢١٣؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٦٧؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص٣٨.

(٤) ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب (قم: المطبعة العلمیہ)، ج١، ص ١٩١؛ مجلسی ، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص١١٧.

٭ احد پہاڑ ، مدینہ کے شمالی سمت میں واقع ہے۔ اور قدرتی روکاوٹوں کی بنا پر دشمن جنوب کی سمت سے مدینہ میں داخل نہیں ہوسکتا تھا لہٰذا مجبور تھا کہ اطراف شہر کا چکر لگا کر شمال کی سمت سے حملہ کرے۔ (محمد حمید اللہ، رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم در میدان جنگ، ترجمہ سیدغلام رضا سعیدی (تہران: مرکز انتشارات محمدی ، ١٣٦٣ھ.ش)، ص ٨٥۔ ٧٩.

(٥) واقدی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢١٩؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٣٩؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٦٨.


جنگ نہیں ہوگی۔(١) ، تین سو (٣٠٠) افراد کے ساتھ مدینہ پلٹ آیا۔

اسلامی لشکر جس کی تعداد کم ہوکر سات سو (٧٠٠) افراد ہوچکی تھی،(٢) پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م لشکر اسلام کی تعداد کم ہونے کے باعث انھیں احد پہاڑ کے کنارے روکا۔ اس پہاڑ کو پیچھے، مدینہ کواپنے سامنے، اور عینین پہاڑ کو مسلمانوں کے داہنی طرف قرار دیا(٣) اسلامی لشکر مغرب کی سمت اور مشرکین، مشرق کی سمت میں تھے۔(٤) اس وقت پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے پورے علاقے پر فوجی نقطۂ نظر سے، نظر دوڑائی تو آپ کی توجہ عینین پہاڑ کی طرف مرکوز ہوگئی؛ کیونکہ ممکن تھا کہ دوران جنگ، دشمن اس گوشے سے مسلمانوں کے محاذ کے پیچھے پہنچ جائے۔ اس بنا پر ایک مسلمان کمانڈر عبد اللہ بن جبیر کو پچاس تیر اندازوں کے ساتھ اس گوشہ کی حفاظت کے لئے مامور کیا اور فرمایا: ''چاہے ہم جیتیں یا ہاریں، تم لوگ یہیں رہنا اور اسپ سوار لشکر کو تیر اندازی کے ذریعہ ہم سے دور کردینا تاکہ پشت کی جانب سے ہم پر حملہ نہ کرسکیں''(٥) ٭

______________________

(١) سورۂ آل عمران، آیت ١٦٧؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٢١٩؛ طبرسی، مجمع البیان (شرکة المعارف الاسلامیہ، ١٣٧٩ھ.ق)، ج٢، ص ٥٣٣.(٢) طبرسی، اعلام اوریٰ، (تہران: دار الکتب الاسلامیہ، ط٣)، ص ٨٠؛ ابو سعید واعظ خرگوشی، شرف النبی، ترجمہ: نجم الدین محمد راوندی (تہران: انتشاراتبابک، ١٣٦١ھ.ش)، ص ٣٤٥؛ حلبی، السیرة الحلبیہ (انسان العیون)، (بیروت: دار المعرفہ)، ج٢، ص ٤٩٤؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٧٠.(٣) واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٢٠؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ٣٩؛ نور الدین سمہودی، وفاء الوفاء با اخبار دار المصطفی (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ط ٣، ١٤٠١ھ.ق)، ج١، ص٢٨٤.(٤) واقدی، گزشتہ حوالہ، ص٢٢٠۔(٥) مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص ٢٥ و ٤٩؛ رجوع کریں: ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٧٠؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٤٠۔ ٣٩؛ سمہودی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٨٥؛ محمد بن جریر الطبری، تاریخ الامم و الملوک (بیروت: دارالقاموس الحدیث)، ج٣، ص ١٤.

٭ تاریخی کتابوں میں، مسلمان تیر اندازوں کے مورچہ سنبھالنے کی جگہ کو ''پہاڑ'' یا وادی کا دہانہ کہا گیا ہے۔ عام طور سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ احد پہاڑ کے شگاف کی جگہ یہی ہے کہ جہاں سے جنگ کے دوسرے دور میں خالد بن ولیدنے مسلمانوں پر حملہ کیا تھا۔ لیکن محمد بن سعد کاتب ، واقدی، جس کے استاد کی رپورٹیں اور خبریں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ کی جنگوں کے بارے میں، خاص طور پر جغرافیائی لحاظ سے معتبر اور مستند ہیں، (المغازی، تحقیق: مارسڈن جونس، مقدمہ، ص ٦، ق٣١)، وہ اس حصہ کو عینین کے نام سے ذکر کرتا ہے (طبقات الکبریٰ، ج٢، ص ٣٩)، کہ جس کے بارے ہم نے بیان کیا ہے کہ وہ ایک پہاڑ تھا جو لشکر اسلام کے بائیں طرف موجود تھا۔ اور شاید اس لحاظ سے کہ اس کے بغل میں دو چشمے تھے۔ (الطبقات الکبریٰ، ج٢، ص ٣٩)، اس کا نام عینین رکھا گیا ہو؛ کیونکہ عین کا ایک معنی، چشمہ ہے۔ مسلمانوں کے قدیم جغرافیہ دانوں نے اس حصہ کو پہاڑ کہا ہے۔ یاقوت حموی لکھتا ہے: ''عینین احد کا ایک پہاڑ ہے ،اس کے اوراحد کے درمیان ایک وادی ہے'' (معجم البلدان، ج٤، ص ١٧٤؛ مادہ عین، عبد اللہ بکری اندلسی بھی کہتا ہے: ''عینین پہاڑ، احد میں واقع ہے اور پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے جنگ احد میں تیر اندازوں کو اس پہاڑ پر ٹھہرا رکھا تھا'' (معجم مااستعجم من سماء البلاد و والمواضع، ج٣، ص ٩٧٨؛ مادہ عین)تمام دستاویزات اور تاریخی و جغرافیائی قرائن و شواہد اور علاقہ احد کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکالا جاسکتاہے کہ عینین سے مراد ایک مٹی کا ٹیلہ تھا جو احد پہاڑ کے سامنے اور شہر مدینہ کے بائیں طرف واقع تھا اور جنگ اس ٹیلہ اور پہاڑ کے بیچ میں ہوئی ہے،اس جنگ کے شہدائ، میدان جنگ ہی میں مدفون ہیں اور ان کی قبریں ان دونوں کے بیچ میں ہیں۔ اس بنا پر تیراندازوں کے مورچہ سنبھالنے کی جگہ، احد کے پہاڑ میں نہیں تھی اور جیسا کہ خود مؤلف نے نزدیک سے اس جگہ کا مشاہدہ کیا ہے۔ اصولی طور پر احد پہاڑ میں کوئی ایسا شگاف نہیں موجود جس سے دو سو (٢٠٠)، گھوڑ سوار سپاہی گزر سکیں۔پروفیسر محمد حمید اللہ، جس نے ١٩٣٢۔ ١٩٤٥۔ ١٩٤٧۔ ١٩٦٣، عیسوی میں جنگ احد کے میدان کا دقیق طور سے مطالعہ او رتجزیہ کیا ہے اس سلسلہ میں اس نے اہم اور قیمتی تحقیقات انجام دی ہیں۔ رجوع کریں (رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم در میدان جنگ، ترجمہ سید غلام رضا سعیدی، ٩٥۔ ٩٢.


ابوسفیان نے بھی لشکر کو آراستہ کیااورعلم دار کا انتخاب کیا، اس زمانہ میں ''علمدار'' میدان جنگ میں بہت اہم کردار ادا کرتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ علم کو کسی بہادر اوردلیر شخص کے ہاتھ میں دیا جاتاتھا۔ علمدار کی استقامت و پائیداری اور میدان جنگ میںعلم کا لہرانہ، سپاہیوں کے جوش و خروش کا باعث قرار پاتا تھا۔ اوراس کے برخلاف علمدار کا مارا جانا اورعلم کی سرنگونی ان کے حوصلے کے پست اور ثبات قدم میں لغزش کا باعث بنتی تھی۔

ابوسفیان نے علمداروں کو قبیلۂ ''بنی عبد الدار'' سے (جو کہ شجاعت اور بہادری میں مشہور تھے)

انتخاب کیا اوران سے کہا: ہم جانتے ہیں کہ تم عبدالدار علمداری کے لئے ہم سے لائق تر ہواو رعلم کی اچھی طرح سے حفاظت کرتے ہو او رہمارے خیال کو اس طرف سے مطمئن رکھو گے کیونکہ جب لشکرکا علم سرنگوں ہو گیا تو وہ لشکر ٹک نہیں پائے گا''۔(١)

جنگ کے پہلے مرحلے میں مسلمانوں کی فتح

ہجرت کے تیسرے سال(٢) ١٥ شوال کو جنگ شروع ہوئی اور زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ مسلمان جیت گئے اور مشرکین ہار کھا کر بھاگنے لگے۔ ان کے شکست کی وجہ ،بہت زیادہ نقصان نہیں تھی؛ کیونکہ جنگ کے آخر تک کل نقصان (اس سلسلہ میں سب سے زیادہ تعداد جو نقل ہوئی ہے) پچاس افراد سے زیادہ کا نہیں ہوا تھا۔(٣) اور یہ تعداد لشکر شرک کی کل تعداد کے بہ نسبت، بہت ہی کم تھی۔ بلکہ ان

______________________

(١) واقدی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٢١؛ ابن ہشام ، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص١٠٦۔

(٢) مجلسی، بحار الانوار، ج٢٠، ص ١٨؛ عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، دار احیاء التراث العربی، ط ١، ١٣٢٨ھ.ق، ج١، ص ٣٥٤۔ تیسرے ساتویں، آٹھویں، نویں، اور گیارہوں روز بھی بیان کیا گیا ہے۔ (تاریخ الامم و الملوک، ج ٣، ص ١٤، وفاء الوفاء باخبار دار المصطفی، ج١، ص ٢٨١.)

(٣) رجوع کریں: السیرة الحلبیہ، ج٢، ص ٥٤٧، کل قتل ہونے والے مشرکین کی تعداد ٢٣ اور ٢٨ افراد نقل ہوئی ہے ۔ ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ، ج١٥، ص ٥٤؛ ابن سعد، طبقات الکبریٰ ، ج٢، ص ٤٣؛ بلاذری، اسباب الاشراف، ج١، ص ٣٢٨.


کے شکست کھانے کی وجہ علمدار کا مارا جانا تھا۔ ان میں سے نو افراد علی کے قوی ہاتھوں کے ذریعہ ہلاک ہوئے تھے۔(١) اور مسلسل علم کے گرنے کی وجہ سے ان کے حوصلے پست ہوگئے اور وہ فرار کرنے لگے۔(٢)

علی نے بعد میں اس موضوع کو دلیل بنایا جیسا کہ عمر کے قتل ہو جانے کے بعد خلیفہ کے انتخاب کے لئے جو چھ افراد پر مشتمل شوریٰ بنی اس میں اس موضوع کو آپ نے اپنے درخشاں کارناموں کا ایک حصہ سمجھ کر تذکرہ کیا جس کی تائید شوریٰ کے افراد نے کی۔(٣)

قریش کے علمدار کے قتل ہونے کے بعد لشکر شرک کی صفوں میں ہلچل مچ گئی اور سب فرار کرنے لگے ۔ اور مسلمانوں نے ان کا تعاقب کرتے وقت جب میدان جنگ میں مال غنیمت کودیکھا تواس کو اکٹھا کرنے میں مشغول ہوگئے۔ اکثر تیر اندازوں نے جب یہ منظر دیکھا تو مال غنیمت جمع کرنے کی لالچ میں اس خیال سے کہ جنگ ختم ہوچکی ہے اپنے محاذ کو چھوڑ دیا اور پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے دستور کے بارے میں عبد اللہ بن جبیر کے خبردار کرنے پر بھی کوئی توجہ نہیں دی۔(٤)

______________________

(١) شیخ مفید، الارشاد (قم: الموتمر العالمی لالفیة الشیخ المفید، ط١، ١٤١٣ھ۔ق)، ص ٨٨؛ مجلسی ، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص ٥١؛ مجمع البیان، (شرکة المعارف الاسلامیہ)، ج٢، ص ٤٩٦۔

(٢) طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ١٧؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٤١؛ سمہودی، وفاء الوفائ، ج١، ص ٢٨٨؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج ٢٠، ص ٢٦.

(٣) صدوق، الخصال، (قم: منشورات جامعة المدرسین فی الجامعہ العلمیہ، ١٤٠٣ھ.ق)، ص ٥٦٠.

(٤) سورۂ آل عمران، آیت ١٥٢.


مشرکوں کی فتح

تیراندازوں کی خلاف ورزی کے سبب جنگ کی صورت حال بدل گئی ؛کیونکہ خالد بن ولید نے دو سو (٢٠٠) سواروں کے ساتھ اس جگہ پر حملہ کردیا جہاں کے بارے میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے سپاہیوں کو آگاہ کیا تھا اور عبد اللہ بن جبیر کو بچے ہوئے دس افراد کے ساتھ شہید کردیا اور پشت محاذ سے مسلمانوں پر حملہ کردیا۔

دوسری طرف سے عمرة ـ علقمہ کی لڑکی اور قریش کی ایک عورت جو کہ میدان جنگ میں موجود تھیـ نے علم کو زمین سے اٹھا کر فضا میں لہرا دیا.(١) قریش خالد کے حملے اور پرچم کو لہراتا ہوا دیکھ کرخوشحال ہوگئے اور انھوں نے دوبارہ حملہ کردیا۔(٢) چونکہ اس وقت مسلمانوں کی فوج تتر بتر گئی تھی اور کمانڈروں کا رابطہ سپاہیوں سے ٹوٹ گیا تھا۔ لہٰذا وہ مقابلہ نہیں کرسکے اور بری طرح سے شکست کھاگئے۔ چند دوسرے محرکات بھی اس شکست کا باعث بنے، وہ یہ ہیں:

١۔ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے قتل ہونے کی افواہ۔(٣)

٢۔ اس زمانے میں دونوں طرف کی فوجیں مخصوص لباس نہیں رکھتی تھیں اور میدان جنگ میں

______________________

(١) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٨٣؛ طبری، گزشتہ حوالہ ، ج٣، ص ١٧؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص ٥١؛ طبرسی، مجمع البیان، ج٢، ص ٤٩٦۔ حسان بن ثابت ـ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کا شاعرـ نے اس مناسبت سے ایک شعر میں قریش کی مذمت کی ہے اور کہا ہے: اگر اس دن عمرہ نہ ہوتا تو بردہ فروشوں کے بازار میں بیچ دیئے جاتے (ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٨٤؛ ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١٤ ص ٢١٧.

(٢) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٤٢۔ ٤١؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٨٢؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ١٧؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص ٤٩۔٢٦.

(٣)ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٨٢؛ گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ١٧؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص ٢٧۔ ٢٦.


صرف نعروں کے ذریعہ ایک دوسرے کی فوج کو پہچانا جاتا تھا۔ جب قریش نے دوبارہ حملہ کیا تو مسلمانوں کی صفیں زیادہ سرگرداں ہوگئیں اور ایک دوسرے کو پہچان نہ سکے اور آپس میں ایک دوسرے کے اوپر اس طرح تلوار چلانے لگے(١) کہ حسیل بن جابر( حذیفہ بن یمان کے والد) مسلمانوں کے ہاتھ مارے گئے۔(٢) لیکن جب اپنی حالت سمجھ گئے تو دوبارہ نعرہ بلند کیا اور جنگ کا نقشہ بدلا۔(٣)

٣۔ ہوانے سمت بدلی، اس وقت تک جو ہوا مشرق سے چل رہی تھی۔ وہ مغرب سے چلنے لگی اور جنگ کو مسلمانوں پر دشوار کردیا۔(٤)

بہرحال مسلمانوں کی صفیں اس طرح سے منتشر ہوئیں کہ ان میں سے زیادہ تر لوگ فرار کر گئے اور کچھ لوگ پہاڑ کی چوٹی پر بھاگ گئے جبکہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے خود میدان جنگ میں مقابلہ کیا اور بھاگنے والوں سے پائیداری اوراستقامت کے لئے کہا۔(٥) صرف علی اور چند دوسرے افراد میدان جنگ میں ڈٹے رہے۔(٦)

علی ، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بغل میں کھڑے ہوکر تلوار چلارہے تھے اور کئی مرتبہ انھوں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دشمنوں

______________________

(١) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٤٢؛ رجوع کریں: وفاء الوفائ، ج١، ص ٢٨٦.

(٢) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٤٣ و ٤٥؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٩٣؛ سمہودی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٨٨؛ سید علی جان مدنی، الدرجات الرفیعہ (قم: منشورات مکتبة بصیرتی، ١٣٩٧ھ.ق)، ص ٢٨٣.

(٣) بلاذری، انساب الاشراف، تحقیق: محمد حمید اللہ (قاہرہ: دار المعارف، ط ٣، )، ص ٣٢٢.

(٤) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٤٢.

(٥) سورۂ آل عمران، آیت ١٥٤۔ ١٥٣؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ص ٣١٨؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٢٠؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج ٢٠، ص ٤٧؛ ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١٥، ص ٢٣ و ٢٥.

(٦) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٤٧؛ ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج ١٥، ص ٢١ و ٢٩.


کے حملوں کودور کیا(١) اور آپ کی بے نظیر استقامت و پائیداری کی بنا پر آسمان احد میں صدائے غیبی گونجی: لا فتیٰ الا علی و لاسیف الا ذوالفقار۔(٢)

یہاں تک کہ ایک مسلمان نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پہچان لیا اور میدان جنگ میں باقی رہ جانے والے چند افراد (یافرار کے بعد واپس آنے والے افراد) آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گرد اکٹھا ہوئے اور جنگ کے عالم میں احد پہاڑ کے کنارے پہنچے(٣) اور جنگ کی گردو غبار بیٹھی۔

اس موقع پر ابوسفیان نے مسلمانوں کے حوصلہ کو کمزور کرنے کے لئے افواہیں پھیلانا شروع کردیں اور نفسیاتی جنگ چھیڑ دی اور نعرے لگانے لگا: اعل ھبل اعل ھبل، سرفراز ہو اے ھبل، سرفراز ہو اے ھبل! پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کے نعرے کے جواب میں فرمایا: اللّٰہ اعلیٰ و اجل۔ خدا بلند و برتر ہے! ابو سفیان نے کہا: لنا العزی و لاعزی لکم۔ ہم عزی بت رکھتے ہیں اورتم عزی نہیں رکھتے ہو۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم سے ایک مسلمان نے اس کے جواب میں کہا: اللّٰہ مولیٰ و لا مولیٰ لکم۔ خدا ہمارا مولا ہے اور تمہارا کوئی مولا نہیں ہے۔(٤)

______________________

(١) شیخ مفید، الارشاد، (قم: الموتمر العالمی لالفیہ الشیخ المفید، ١٤١٣ھ.ق)، ص ٨٩؛ طبری ، گزشتہ حوالہ، ج١٤، ص ٢٥٠؛ حافظ بن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق (ترجمہ الامام علی ابن ابی طالب)، تحقیق: محمد باقر المحمودی (بیروت: دارالتعارف للمطبوعات، ط ١، ١٣٩٥ھ.ق)، ج١، ص ١٥٠؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص ٨٨.

(٢) طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ١٧؛ ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١٤؛ شیخ مفید، گزشتہ حوالہ، ص ٨٧؛ مجلسی گزشتہ حوالہ، ج ٢٠، ص ٥٤، ١٠٥، ١٠٧۔

(٣) طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص١٩؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٨٩۔٨٨؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص ٥٤۔

(٤) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٤٨۔ ٤٧؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٢٧؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٢٤؛ ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١٥، ص ٣١۔ ٣٠؛ ابوسعید واعظ خرگوشی، شرف النبی، ترجمۂ نجم الدین محمود راوندی (تہران: انشارات بابک، ١٣٦١ھ.ق)؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٥٣١؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص ٣٢و ٤٥.


اس جنگ میں (بنا بر مشہور) ستر(١) افراد مسلمانوں میں سے جن میں جناب حمزہ ـ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچاـ اور مصعب بن عمیر بھی تھے درجۂ شہادت پر فائز ہوئے۔ جبکہ احد میں مسلمانوں نے شکست کھائی اور قریش کے سپاہیوں میں سے کوئی نہیں مرا اور ظاہری محاسبات کی بنیاد پر اگر وہ لوگ ، اس وقت مدینہ پر بھی حملہ کرتے تو کامیاب ہوجاتے لیکن قریش کے سردار، اس اقدام(٢) کے انجام سے پریشان ہوئے اوراس سے چشم پوشی کر کے مکہ واپس چلے گئے اور مسلمانوں سے انتقام لیکر خوش ہوگئے تھے کہ بدر میں جتنے لوگ ان کے مارے گئے تھے اتنے کو انھوںقتل کردیا ہے جبکہ نہ مدینے کو کوئی نقصان پہنچا تھا اور نہ شام کا تجارتی راستہ آزاد ہوا تھا۔ اس خیال سے کہ کہیں دشمن یہ گمان نہ کریں کہ مسلمانوں کو کچل دیا ہے ۔ اور مدینہ پر حملہ کی جرأت نہ کرسکیں، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جنگ کے ایک دن بعد، اسلامی سپاہیوں کے ساتھ جو زیادہ تر زخمی تھے، سرزمین ''حمراء الاسد'' تک مشرکوں کا پیچھا کیا اور جب اطمینان حاصل ہوگیا کہ وہ دوبارہ حملے کا ارادہ نہیں رکھتے تو آپ مدینہ پلٹ آئے۔(٣)

______________________

(١) بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٢٨؛ طبرسی، اعلام الوریٰ (تہران: دارالکتب الاسلامیہ، ط ٣)، ص ٨٢؛ ابوسعیدواعظ خرگوشی، گزشتہ حوالہ، ص ٣٤٦؛ سمہودی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٢٩٢۔ ٢٩١؛ مجلسی ، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص ١٨؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٥٤٧.

(٢) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ١١٠؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٥٥٠.

(٣) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ١٠٧ اور ١١٠؛ ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١٥، ص ٣٣۔ ٣١؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٥٥٠؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص ٤٠، ٤١ اور ٩٩.


جنگ احد کے نتائج

جنگ احد میں مسلمانوں کی شکست کے کچھ آثار و نتائج یہ ہیں:

١۔ اگر چہ اس جنگ میں فوجی لحاظ سے مسلمانوں نے شکست کھائی۔ لیکن ان کے لئے یہ عبرت تھی کہ آئندہ فرمان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سرپیچی نہ کریں اور بعد کی جنگوں میں اس طرح کی خلاف ورزیاں دوبارہ نہ ہوں۔

٢۔ منافقین فتنہ انگیزی پر اتر آئے اور مسلمانوں کی شکست پر خوشی کا اظہار کرنے لگے لہٰذا ان کی مذمت کی گئی۔(١)

٣۔ یہودیوں نے بھی اپنے کینہ کو آشکار کردیا او رکہا: محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، بادشاہی کے چکر میں ہیں۔ اور کوئی بھی پیغمبر اس طرح سے شکست نہیں کھایا ہے۔(٢)

٤۔ دشمنان اسلام، اطراف مدینہ میں گستاخ ہوگئے اور سازش اور فتنہ انگیزی کرنے لگے۔

مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے قبیلۂ بنی اسد کی ناکام نقل و حرکت کا نمونہ واقعۂ ''رجیع'' اور واقعہ ''بئر معونہ'' ہے۔

٥۔ مسلمانوں کے مدینہ پلٹنے کے بعد غم و اندوہ کا بادل شہر پر چھا گیااور مایوسی اور ناامیدی پورے شہر میں نظر آرہی تھی۔ اور منافقوں اور یہودیوں کے شیطانی وسوسے بھی احد میں ابوسفیان کی نفسیاتی جنگ کو مدینہ میں اپنائے ہوئے تھے اور اس طرح نقصان پہنچا رہے تھے. خداوند عالم نے سورۂ آل عمران کی کچھ آیات کے ذریعہ ان کے اثرات کو ختم کیااور مسلمانوں کے حوصلہ کو بلند کیا۔ ابن اسحاق کے کہنے کے مطابق اس سورہ کی ٦٠ آیتیں جنگ احد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔(٣)

خداوند عالم نے ان آیات میں مسلمانوں کو شکست کے راز کی طرف متنبہ کیاہے اور ان کو خبردار کیا ہے کہ اگر ''فوجی شکست'' کھائے ہیں تو وہ ناامید نہ ہوں کہ ''نفسیاتی شکست'' بھی کھائیں اور نیز ان کو متوجہ کیا کہ ان کے ''شکست کا راز''، ''فوجی قوانین کی عدم پابندی'' اور مال دنیا کی طرف توجہ تھی اگر بدر میں خدا کی مدد سے کامیاب ہوئے تو اس بنا پر تھا کہ صرف خدا کے لئے لڑ رہے تھے لیکن اس جنگ میں مال غنیمت کے چکر میں پڑ گئے اور شکست کھاگئے۔ (یہاں پرسورہ آل عمران کی کچھ آیات کا ترجمہ پیش ہے)

______________________

(١) واقدی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣١٨۔ ٣١٧.

(٢) واقدی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣١٧؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٥٤٩.

(٣) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ١١٢.


''اور اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی ہے جب کہ تم کمزور تھے لہٰذا اللہ سے ڈرو شاید تم شکر گزار بن جاؤ''۔

اور اللہ و رسول کی اطاعت کرو کہ شاید رحم کے قابل ہو جاؤ ـ خبردار سستی نہ کرنا، مصائب پر محزون نہ ہونا اگر تم صاحب ایمان ہو تو سربلندی تمہارے ہی لئے ہے ـ اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچی تو قوم کو بھی ( دشمنوں)اس سے پہلے ( بدرمیں)ایسی ہی تکلیف پہنچ چکی ہے اور ہم ایام( فتح و شکست) کو لوگوں کے درمیان الٹتے پلٹتے رہتے ہیں تاکہ خدا صاحبان ایمان کو دیکھ لے اور تم میں سے بعض کوگواہ قرار دے اور وہ ظالمین کودوست نہیں رکھتا ہے۔

کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ تم جنت میں یوں ہی داخل ہو جاؤ گے جب کہ خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو بھی نہیں جانا ہے ـ تم موت کی ملاقات سے پہلے اس کی بہت تمنا کیا کرتے تھے اور جیسے ہی اسے دیکھا، دیکھتے رہ گئے ـ خدا نے اپنا وعدہ اس وقت پورا کردیا جب تم اس کے حکم سے کفار کو قتل کر رہے تھے یہاں تک کہ تم نے کمزوری کا مظاہرہ کیا اور آپس میں جھگڑا کرنے لگے او راس وقت خدا کی نافرمانی کی جب ا سنے تمہاری محبوب شے کودکھلادیاتھا۔ تم میں کچھ دنیا کے طلب گار تھے اور کچھ آخرت کے۔ اس کے بعد تم کو ان کفار کی طرف سے پھیر دیا تاکہ تمہارا امتحان لیا جائے اور پھر اس نے تمہیں معاف بھی کردیا کہ وہ صاحبان ایمان پر بڑا فضل و کرم کرنے والا ہے۔

کیا جب تم پر وہ مصیبت پڑی جس کی دوگنی تم کفار پر ڈال چکے تھے تو تم نے یہ کہنا شروع کردیاکہ یہ ایسے ہوگیا تو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ کہہ دیجئے کہ یہ سب خود تمہاری طرف سے ہے اور اللہ ہر شے پر قادر ہے۔(١)

جنگ احد میں شکست سے مسلمانوں کے فوجیوں کا اعتبار ختم ہوگیااو رباعث بنا کہ مدینہ کے اطراف میںدشمنان اسلام، مسلمانوں کے خلاف سازش کریں اور مدینہ پر حملہ کی سازش اور نقشہ تیار کرنے کے لئے ایسے وقت کا انتخاب، مسلمانوں کی فوجی کمزوری کی خاطر تھا۔(٢) ان سازشوں کے چند نمونے یہ ہیں:

______________________

(١) سورۂ آل عمران، ١٢٣، ١٣٢، ١٣٩، ١٤٠، ١٤٢، ١٤٣، ١٥٢ اور ٦٥ ویں آیتیں

(٢) واقدی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٤٢.


١۔ سریۂ ابوسلمہ : پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کو خبر ملی کہ ''قبیلۂ بنی اسد'' نے مدینہ پر حملے کا ارادہ کرلیا ہے لہٰذا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے، ابوسلمہ کو ایک سو پچاس افراد کا کمانڈر بناکر ان کے علاقہ میں بھیج دیا او رحکم دیاکہ قبل اس کے کہ دشمن حملہ کریں تم ان پر حملہ کردینا۔ لہٰذا یہ لوگ نزدیک راستے سے ، بہت تیزی کے ساتھ بنی اسد کی سرزمین پر پہنچ گئے۔ جب ان کے قافلہ والوں نے دیکھا تو مبہوت اورہواس باختہ ہوگئے اور فوراً فرار کر گئے اور ابوسلمہ مال غنیمت اور چند اسیروں کو لے کر مدینہ پلٹ آئے۔(١)

اس کامیابی سے کسی حد تک مسلمانوں کے فوجیوں کا اعتبار بلند ہوا او رمنافقین و یہودی اوراطراف مدینہ کے قبائل سمجھ گئے کہ ان کی سوچ و فکر کے برخلاف، مسلمان ابھی کچلے نہیں گئے ہیں۔

٢۔ واقعۂ رجیع: ماہ صفر ٤ھ میں قبیلۂ ''بنی لحیان'' کے ورغلانے پر ''قبیلۂ عضل و قارہ'' کے چند افراد ، مدینہ میں داخل ہوئے اور اظہار اسلام کے ساتھ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہا: ہمارے قبیلہ سے کچھ افراد مسلمان ہوگئے ہیں، کسی کو آپ بھیجئے جو ہم کو قرآن اور اسلامی احکام کی تعلیمات دے، پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے دس افراد٭ کو ان کے ہمراہ بھیجا۔ جب وہ لوگ قبیلۂ ہذیل کے ''رجیع'' نامی مقام پر پانی کے کنارے پہنچے تو قبیلۂ عضل و قارہ کے افراد نے بنی لحیان کی مدد سے ان پر حملہ کردیا، مبلغین اسلام نے دفاع کیا لیکن ایک طرفہ جنگ میں اکثر شہید ہوگئے اور دو افراد اسیر ہوئے۔ مشرکین ان دو اسیروں کو مکہ لے کر گئے اور انھیں جنگ بدر کے مقتولین کے ورثہ کے ہاتھوں بیچ دیا اور ان لوگوں نے ان دو اسیروں کو بہت ہی دردناک اور فجیع طریقہ سے شہید کردیا۔(٢)

______________________

(١) گزشتہ حوالہ، ص ٣٤٣۔ ٣٤٠؛ محمد بن سعد، طبقات الکبریٰ ، ج ٢، ص ٥٠.

٭ بعض مورخین کے کہنے کے مطابق چھ یا سات افراد تھے (ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ١٧٨؛ ابن شہر آشوب، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٩٤؛ واقدی ، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٥٥.)

(٢) واقدی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٦٢۔ ٣٥٤؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٥٦۔ ٥٥؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ١٩٢۔ ١٧٨؛ ابن شہر آشوب ، گزشتہ حوالہ، ص ١٩٥۔ ١٩٤؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص ١٥٢۔ ١٥١.


ایسا لگتا ہے کہ مذکورہ دو قبیلوں نے مشرکین مکہ کے ساتھ سازباز کر رکھا تھا اور موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انھوں نے ایسی خیانت کی۔

٣۔ بئر معونہ کا قصّہ: یہ واقعہ، واقعۂ رجیع سے زیادہ دردناک اوردلخراش تھا۔ اور ماہ صفر ٤ ھ میں رونما ہوا۔ ابوبراء ـ قبیلۂ بنی عامر کا بزرگـ مدینہ میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوااور بغیر اسلام کا اظہار کئے یا اس کی طرف بے رغبتی کا اظہار کئے ہوئے درخواست کی کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے اصحاب کے ایک گروہ کو ''نجد'' کے لوگوںکو اسلام کی طرف دعوت دینے کے لئے ، اس علاقہ میں بھیجیں ، شاید وہ اسلام کو قبول کرلیں۔

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے فرمایا: ''میں نجد کے لوگوں سے مسلمانوں کے بارے میں ڈرتا ہوں'' ۔

ابوبراء نے کہا: ''یہ لوگ ہمارے پناہ میں رہیں گے''۔ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے اپنے بہترین اصحاب اور قاریان قرآن میں سے ستر(١) افراد کو بھیجا ۔ یہ گروہ جب ''بئر معونہ'' پر پہنچا، تو اپنے ایک قاصد کو پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ایک خط دے کر عامر بن طفیل کے پاس بھیجا۔ اس نے خط کو نہیں پڑھا اور اس کو قتل کردیا۔ اس وقت بنی عامر سے اس کے ساتھیوں کو قتل کرنے کے لئے مدد مانگی تو ان لوگوں نے ابوبراء کے امان کے احترام میں اس کام سے اجتناب کیا ۔ عامر بن طفیل نے قبیلۂ ''بنی سلیم'' کے کچھ افراد کی مدد سے مبلغین اسلام کے گروہ پر حملہ کردیا تو مجبور ہوکر انھوں نے اپنا دفاع کیا اور صرف کعب بن زید اور عمر و بن امیہ خمری کے علاوہ سب شہید ہوگئے۔(٢)

______________________

(١) ایک نقل کے مطابق چالیس آدمی تھے (طبری، تاریخ الامم والملوک، ج٣، ص٣٤؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٣، ص١٩٤؛ واقدی، المغازی، ج١، ص٣٤٧.)

(٢) طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٣٤۔ ٣٣؛ طبرسی، مجمع البیان، (شرکة المعارف الاسلامیہ)، ج٢، ص ٥٣٣؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب (قم: المطبعة العلمیہ)، ج١، ص ١٩٦۔ ١٩٥؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص ١٤٨۔ ١٤٧؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٣٤٨۔ ٣٤٦؛ ابن ہشام ، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ١٩٣؛ ابن سعد، طبقات الکبریٰ، ج٢، ص ٥٣۔ ٥١.


عمرو بن امیہ دشمن کے ذریعہ اسیر ہوا اور پھر آزاد ہوکر مدینہ پلٹتے وقت بنی عامر کے دو افراد کو جو کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ عہد و پیمان کئے ہوئے تھے (اور وہ اس سے بے خبر تھا) قتل کردیا۔(١)

بنی نضیر کے ساتھ جنگ(٢)

عمرو بن امیہ کے ذریعہ بنی عامر (پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے ہم پیمان) کے دو افراد کے قتل ہونے پر پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے اس واقعہ پر افسوس اور ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا: ''ان کو ہمیںدیت دینی چاہیئے''۔(٣)

دوسری طرف سے قبیلۂ بنی عامر نے ایک خط کے ذریعہ ان سے دیت کا مطالبہ کیا۔(٤)

اس لئے کہ بنی عامر نے قبیلۂ بنی نضیر کے ساتھ بھی عہد و پیمان کیا تھا۔ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م ان کو دیت دینے کے لئے مہاجر و انصار کے چند افراد کے ساتھ مدینہ کے اطراف میں ان کے ٹیلہ کے پاس گئے اور ان سے باتیں کیں۔ بنی نضیر کے سردار تیار ہوگئے۔ لیکن خفیہ طور پر ایک شخص کو بھیجا تاکہ دیوار کے اوپر جاکر جہاں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بیٹھے تھے ایک بڑا پتھر پھینک کر آپ کو قتل کردے.رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غیبی راستے سے ان کی اس سازش سے آگاہ ہوگئے۔(٥) اور فوراً اس جگہ کو ترک کر کے مدینہ واپس چلے آئے اور

______________________

(١) طبری، گزشتہ حوالہ، ص ٣٤؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ١٩٥؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ٥٣.

(٢) کچھ مورخین اور سیرت نگاروں نے (مشہور قول کے برخلاف) اس واقعہ کی تاریخ، جنگ احد سے قبل اور اس کی وجہ دوسری چیز ذکر کی ہے۔ استادعلامہ سید جعفر مرتضی العاملی نے اس نقل کو ترجیح دیاہے (الصحیح من سیرة النبی الاعظم، ج٦، ص ٤٤۔ ٣٢)

(٣) ابن سعد، طبقات الکبریٰ، ج٢، ص ٥٣؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ١٩٥؛ طبری، تاریخ الامم والملوک، ج٣، ص ٣٥؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٥٢.

(٤) واقدی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٥٢ اور ٣٦٤.

(٥) بیہقی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٣٣٥؛ واقدی ، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٦٦۔ ٣٦٥؛ طبرسی، اعلام الوریٰ باعلام الہدیٰ (تہران: دار الکتب الاسلامیہ)، ص٨٨.


ان کو خبردار کیاکہ مدینہ کو ترک کردیں اور اپنے ما ل و اثاث کو اپنے ساتھ لے کر چلے جائیں۔ وہ لوگ مرعوب ہوکر مدینہ سے چلے گئے؛ لیکن عبد اللہ بن ابی نے ان کو مقابلہ کرنے کے لئے کہا اوران سے وعدہ کیا کہ جنگ پیش آنے کی صورت میں مسلح افراد کے ساتھ ان کی مد د کریں گے۔ اوراگر انھیں مدینہ سے نکالا گیا تو وہ بھی مدینہ کو ترک کردیں گے۔(١)

کچھ تاریخی خبریں بتاتی ہیں کہ اس واقعہ سے قبل، قریش نے ان کو مسلمانوں کے خلاف سازش اور جنگ کرنے کے لئے ورغلایا تھا۔(٢) اور اس واقعہ میں ان کا بھڑکانا اور ورغلانا بے اثر نہیں تھا۔

بنی نضیر، عبد اللہ کے جھوٹے وعدوں سے دھوکہ کھا گئے اور مدینہ ترک کرنے سے پھر گئے۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم پر لشکر اسلام نے پندرہ دن تک ان کے قلعہ کا محاصرہ کیا۔اس عرصہ میں کہیں سے مدد کی کوئی خبر نہیں آئی لہٰذا وہ مجبور ہوکر، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی موافقت پر اپنے اسلحوں کو زمین پر ڈال کر اپنے مال و اثاثہ زندگی کو اونٹوں پر لاد کر کچھ لوگ اذرعات شام اور کچھ لوگ جن میں ان کا رئیس حی ابن اخطب بھی تھا۔ خیبر کی طرف چلے گئے۔ اور اہل خیبر نے ان کا پرجوش استقبال کیا اور ان سے اظہار اطاعت کیا۔(٣)

چونکہ بنی نضیر بغیر جنگ کے تسلیم ہوئے تھے۔ لہٰذا ان کے مال و اثاثہ کو بہ شکل ''خالصہ''(٤) پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی خدمت میں پیش کیا گیا ۔ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مہاجر و انصار کے درمیان پیمان اخوت و برادری کی

______________________

(١) سورۂ حشر، آیت ١١؛ طبرسی، مجمع البیان، (تہران: شرکة المعارف الاسلامیہ، ١٣٧٩ھ.ق)، ج١٠، ص ٣٦٤؛ مجلسی ، بحار الانوار، ج٢٠، ص ١٦٥ اور ١٦٩.

(٢) سمہودی، وفاء الوفائ، ج١، ص ٢٩٨۔ ٢٩٧.

(٣) ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٣، ص ٢٠٣۔ ١٩٩؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٣٩۔ ٣٦؛ واقدی، المغازی، ج١، ص ٣٨٠۔ ٣٦٣؛ بلاذری، انساب الاشراف، تحقیق: محمد حمید اللہ (قاہرہ: دارالمعارف)، ص ٣٣٩؛ رجوع کریں: سمہودی، وفاء الوفائ، ج١، ص ٢٩٨۔ ٢٩٧.

(٤) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٢٠١؛ سمہودی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٩٨؛ مجلسی، بحار الانوار، ج٢٠، ص ٦٦ اور ١٧٣.


بنیاد پر انصار کی مرضی اور موافقت سے اس کو مہاجرین کے درمیان تقسیم کردیا۔(١)

خداوند عالم نے قرآن مجید میں بنی نضیر کی خیانت اوران کے برے انجام کااس طرح سے تذکرہ فرمایا ہے:

''وہی وہ ہے جس نے اہل کتاب کے کافروں کو پہلے ہی حشر میں ان کے وطن سے نکال باہر کیا تم تواس کا تصور بھی نہیں کر رہے تھے کہ یہ نکل سکیں گے اور ان کا بھی یہی خیال تھا کہ ان کے قلعے انھیں خدا سے بچالیں گے لیکن خداایسے رخ سے پیش آیاجس کا انھیں وہم و گمان بھی نہیں تھا اوران کے دلوں میں رعب پیدا کر دیا کہ وہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے اور صاحبان ایمان کے ہاتھوں سے اجاڑ نے لگے تو صاحبان نظر عبرت حاصل کرو۔ اور اگر خدا نے ان کے حق میں جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی توان پر دنیا ہی میں عذاب نازل کردیتا اورآخرت میں تو جہنم کا عذاب طے ہی ہے۔ یہ اس لئے کہ انھوں نے اللہ اور رسول سے اختلاف کیا او رجو خدا سے اختلاف کرے اس کے حق میں خدا سخت عذاب کرنے والا ہے۔(٢)

جنگ خندق (احزاب)

یہ جنگ، ماہ شوال ٥ھ میں ہوئی(٣) جنگ کا آغاز اس طرح سے ہوا کہ ''حی ابن اخطب'' اور ''بنی نضیر'' کے کچھ سردار جو خیبر میں پناہ لئے ہوئے تھے نیز قبیلۂ بنی وائل کا ایک گروہ مکہ میں قریش سے ملا اور ان کو پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م سے جنگ کے لئے رغبت دلائی اور اس راہ میں ان کی ہر طرح کی مدد و نصرت کا وعدہ کیا۔

______________________

(١) سمہودی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٠١؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٢٠١؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٧٧؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ص ١٧٢۔ ١٧١.

(٢) سورۂ حشر ، آیت ٤۔ ٢؛ ابن عباس سورۂ حشر کو سورۂ ''بنی نضیر'' کہتے ہیں (طبرسی، مجمع البیان، ج١٠، ص ٢٥٨.)

(٣) بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٤٣؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٦٥؛ ابن ہشام ، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٢٢٤.


قریش نے ان سے پوچھا: کہا ہمارا دین بہتر ہے یا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دین؟ وہ یہودی اور خدا پرست تھے اور فطری طور پر انھیں بت پرستی کی تائید نہیں کرنی چاہیئے تھی۔ کہنے لگے: تمہارا دین، محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دین سے بہتر ہے۔ اور تم حق سے نزدیک تر ہو۔

قریش ان کی باتوں سے خوش حال ہوکر جنگ کے لئے آمادہ ہوگئے۔ خداوند عالم ان کے دشمنانہ فیصلہ کی اس طرح مذمت فرماتاہے۔

''کیاتم نے نہیں دیکھاکہ جن لوگوں کو کتاب کا کچھ حصہ دے دیا گیا وہ شیطان اور بتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور کفار کو بھی بتاتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں سے زیادہ سیدھے راستے پر ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور جس پر خدا لعنت کردے آپ پھر اس کا کوئی مددگار نہ پائیں گے۔(١)

یہودی لیڈروں کا یہ کینہ توز فیصلہ، عدل و انصاف اور منطق سے اس قدر دور تھا کہ آج کے دور کے بعض یہودی، اس فعل کی وجہ سے ان کی مذمت کرتے ہیں۔ ڈاکٹر اسرائیل ولفنون یہودی، ''سرزمین عرب میں یہودیوں کی تاریخ ''نامی ایک کتاب میں لکھتا ہے:

''ان کو اتنی واضح اور آشکار غلطی نہیں کرنا چاہیئے کہ قریش کے لیڈروں کے سامنے بتوںکی عبادت کو توحید اسلامی سے افضل و برتر بتائیں اگر چہ قریش ان کے تقاضا کو رد کردیتے کیونکہ بنی اسرائیل بت پرستوںکے درمیان صدیوں سے پرچمدار توحیدتھے۔(٢)

بہرحال، یہودیوں کے لیڈر پھر قبیلۂ ''غطفان'' کے پاس گئے اوران سے مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے میں ساتھ دینے کے لئے کہا٣) اس قبیلہ سے خاندان بنی فزارہ، بنی مرہ اور بنی اشجع نے

______________________

(١) سورۂ نسائ، آیت ٥٢۔ ٥١.

(٢) محمد حسین ھیکل، حیات محمد (قاہرہ: مکتبة النہضة المصریہ، ط ٨، ١٩٦٣.)، ص ٣٢٩.

(٣) انھوں نے غطفان سے وعدہ کیا کہ اس حمایت و نصرت کے بدلہ میں خیبر میں ایک سال خرمہ کی پیداوار کو انھیں دیدیں گے (بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٤٣؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٤٤).


حمایت کا اعلان کیا(١) اور اسی طرح قبیلۂ بنی سلیم اور بنی اسد کی بھی حمایت حاصل کر لی۔(٢)

قریش نے بھی اپنے اتحادیوں اور حامیوں، جیسے قبیلۂ ثقیف اور بنی کنانہ کی حمایت حاصل کرلی۔(٣) اور اس طریقے سے ایک طاقتور فوجی اتحاد وجود میں آگیا اورایک دس ہزار کا لشکر(٤) ابوسفیان کی سرکردگی میں مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔ مدینہ کے راستہ میں ، حی ابن اخطب نے ابوسفیان سے وعدہ کیا کہ قبیلۂ بنی قریظہ کو بھی جس کے پاس سات سو پچاس (٧٥٠) جنگجو تھے، ان کے لشکر کی حمایت میں جنگ میں شامل کریں گے۔(٥)

اس لحاظ سے قریش اور یہودیوں نے اس جنگ کی تیاری میں عظیم دولت صرف کردی اور سپاہیوں کو مختلف قبائل سے اکٹھا کیاوہ اس جنگ کو کامیاب ترین جنگ تصور کرتے تھے اور قصد کرلیا تھا کہ مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹادیں گے۔

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م ، قبیلۂ خزاعہ (جو کہ مسلمانوں کے حامی تھے) کی خفیہ خبروںکے ذریعہ لشکر احزاب کی حرکت سے باخبر ہوگئے۔(٦)

______________________

(١) طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٤٤؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٢٢٥.

(٢) محمد بن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٦٦؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٤٤٣؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب (قم: المطبعة العلمیہ)، ج١، ص ١٩٧؛ مجلسی، بحار الانوار، ج٢٠، ص ١٩٧.

(٣) بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٤٣.

(٤) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٦٦؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٤٦؛ ابن ہشام ، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص٢٣٠؛ سمہودی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٠١؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص ٢٠٠.

(٥) واقدی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٤٥٤.

(٦) حلبی، انسان العیون (السیرة الحلبیہ)، (بیروت: دار المعرفہ، ج٢، ص ٦٣١.


پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم سے ایک فوجی کمیٹی تشکیل پائی اور گویا جنگ احد کے تجربہ کے پیش نظر کسی نے مدینہ سے باہر جانے کا مشورہ نہیں دیا اور سب شہر میں رہنے پر متفق ہوگئے۔(١)

مدینہ کے اردگرد قدرتی روکاوٹیں ، جیسے گھر، کھجور کے باغ وغیرہ، موجود تھیں جودشمن کو شہر میں داخل ہونے سے روک رہی تھیں(٢) سلمان فارسی نے مشورہ دیا کہ اطراف شہر کے جس حصہ میں اس طرح کی روکاوٹ موجود نہیں، ایک خندق کھودی جائے جو لشکر کے گزرنے میں رکاوٹ بنے۔(٣)

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور مسلمانوں کی مسلسل کوشش اور زحمتوںکے ذریعہ اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عملی شرکت سے ایک بڑی خندق کھودی گئی۔(٤) پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے عورتوں، بچوں اور عام لوگوںکو شہر کے اندر قلعوں اور

______________________

(١) شیخ مفید، الارشاد (قم: الموتمر العالمی لالفیة الشیخ المفید، ط ١، ١٤١٣ھ.ق)، ص ٩٦؛ ابن شہر آشوب، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٩٧؛

(٢) حلبی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٦٣٦؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٦٦؛

(٣) بلاذری، گزشتہ حوالہ، ص ٣٤٣؛ ابن سعد ، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٦٦؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٤٤؛ ابن شہر آشوب ، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ١٩٨؛ طبرسی، اعلام الوریٰ، ص٩٠؛ مجلسی، بحار الانوار، ج٢٠، ص ٢١٨

(٤) ابن سعد کے نقل کے مطابق، خندق کی کھودائی چھ دن میں تمام ہوئی۔ (طبقات الکبریٰ، ج٢، ص ٦٧) پروفیسر محمد حمید اللہ، اس دور کا مسلمان دانشور جس نے ، دشمنان اسلام کے ساتھ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جنگ کے میدانوں کو کئیمرتبہ قریب سے مشاہدہ کیااور اس کے بارے میں تحقیقات کی ہیں وہ معتقد ہے کہ خندق بہ شکل N اور ساڑھے پانچ کلو میٹر لمبی تھی (رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم در میدان، ترجمۂ سید غلام رضا سعیدی، (تہران: کانونانتشارات محمدی، ١٣٦٣ش)، ص ١١٤۔ ١١٣؛ گویا اس محاسبہ کا اصول اور قاعدہ یہ ہے کہ اسلامی سپاہیوں کی تعداد تین ہزار (٣٠٠٠) افراد پر مشتمل تھی اور خندق کھودتے وقت دس دس افراد کے دستے بنائے گئے تھے اور ہر دستہ ٤٠ ہاتھ کھودتا تھا (طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٤٥؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص ١٩٨؛ لہٰذا فطری طور پر ہرایک کے حصہ میں ٤ ہاتھ آیا ہوگا جو تقریباً ٦ ہزار میٹر (٦ کلو میٹر) ہوگا ۔


پناہ گاہوں میں رکھا۔(١) لشکر اسلام میں (قول مشہور کی بنا پر) کل تین ہزار افراد تھے۔(٢) خندق اور ''سلع'' پہاڑ کے بیچ ٹھکانہ بنایا۔ اور پہاڑ کواپنی پشت پر قرار دیا۔(٣)

لشکر احزاب کا کمانڈر سمجھ رہا تھا کہ جنگ احد کی طرح شہر کے باہر مسلمانوں سے مقابلہ کریں گے۔ لیکن ایسا نہ ہوا او رجب وہ شہر کے دروازے کے پاس پہنچے تو خندق دیکھ کر حواس باختہ ہوگئے! کیونکہ خندق کا استعمال، جنگی ٹکنیک کے لحاظ سے عرب میں رائج نہ تھا۔(٤) ا س وجہ سے مجبور ہوکر خندق کے پیچھے ڈیرہ ڈال کر شہر کا محاصرہ کرلیا۔

محاصرہ بیس روز تک باقی رہا اس دوران طرفین خندق کے دونوں طرف سے ایک دوسرے کے اوپر تیراندازی کرتے تھے اور قریش کے جنگجو مسلمانوں کی صفوں میں رعب و وحشت ڈالنے کے لئے فوجی مشقیں اور تیراندازی کرتے تھے(٥) دشمن کے ذریعہ شہر کا محاصرہ کرنے سے مسلمان مشکلات اور دشواریوں میں پڑ گئے تھے اور شہر کے حالات برے اور خطرناک ہوگئے تھے جس کا تذکرہ خداوند عالم نے اس طرح سے کیا ہے:

______________________

(١)ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص٦٧؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص٤٦؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص٦٣٦۔

(٢) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٦٦؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٤٦؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص٢٣١؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص٢٠٠، سمہودی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٣٠١۔

(٣) بلاذری، ج٢٠، ص٣٤٣؛ محمد بن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص٦٦؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص٢٣١؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص٤٦؛ سمہودی، ج١، ص٣٠١۔

(٤) بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٣٤٣؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص٤٨؛ ابن واضح، تاریخ یعقوبی، (نجف: المکتبة الحیدریہ، ١٣٨٤ھ.ق)، ج٢، ص٤١؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص٦٣٦و ٦٥٧۔

(٥) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٦٧؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص٦٣٧۔ ٦٣٦۔


''اس وقت جب کفار تمہارے اوپر کی طرف سے اور نیچے کی سمت سے آگئے اور دہشت سے نگاہیں خیرہ کرنے لگیں اور کلیجے منھ کو آنے لگے اورتم خدا کے بارے میں طرح طرح کے خیالات میں مبتلا ہوگئے۔ اس وقت مومنین کا باقاعدہ امتحان لیا گیا اورانھیں شدید قسم کے جھٹکے دیئے گئے''۔(١)

بنی قریظہ کی خیانت

اس موقع پر ایک دوسرا واقعہ رونما ہوا جس نے مسلمانوں کی حالت کو بدتر کردیا وہ یہ کہ قبیلۂ بنی قریظہ نے عدم تجاوز کے پیمان کو توڑ دیا اور لشکر احزاب کی حمایت کا اعلان کردیا۔ اس قبیلہ کی خیانت، حی ابن اخطب کے شیطانی وسوسہ کے ذریعہ انجام پائی۔(٢) اس سازش کے فاش ہونے سے بہت سارے مسلمانوں کے حوصلہ پست ہوگئے۔ لیکن پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی کوشش تھی کہ اس کے برے اثرات کو مٹادیں۔

بنی قریظہ نے صرف عہد شکنی پر اکتفا نہ کی بلکہ عملی طور سے دو دوسری بڑی خیانتوں کے مرتکب ہوگئے۔ پہلی یہ کہ لشکر احزاب کے لئے غذائی رسد کا کام انجام دیا جو کہ آذوقہ کے لحاظ سے سخت مشکلات میں گرفتار تھے اسی طرح سے ایک مرتبہ مسلمانوں نے ''قبا'' کے علاقہ میں ایک قافلہ کودیکھا جو خرما، جو اور چارہ لئے ہوئے تھا اور وہ قریظہ کی طرف سے سپاہ احزاب کے لئے بھیجا جارہا تھا، لہٰذا اس کو ضبط کرلیا۔(٣)

دوسری یہ تھی کہ شہر کے اندر پناہ گاہوں میںعورتوں اور عام لوگوں کے درمیان، دہشت گردی کے

______________________

(١) سورۂ احزاب، آیت ١١۔ ١٠.

(٢) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ٦٧؛ ابن ہشام ، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٢٣١؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٤٧۔ ٤٦؛ سمہودی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٠٣؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص ٢٠١۔ ٢٠٠.

(٣) سمہودی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٠٤؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٦٤٧.


ذریعہ ان کے اندر رعب و وحشت پیدا کردیاتھا اور ایک روز ان میں سے ایک شخص قلعہ کے اندر تک پہنچ گیا تھا جو ''صفیہ'' پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پھوپھی کے ذریعہ مارا گیا۔(١)

ایک رات بنی قریظہ نے قصد کیا کہ مرکز مدینہ پر حملہ کریں اس وجہ سے حی ابن اخطب کو قریش کے پاس بھیجا اوران سے کہا کہ ایک ہزار افراد قریش سے اور ایک ہزار افراد غطفان سے اس حملہ میں ان کی مدد کریں۔ اس نقل و حرکت کی خبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ملی اور شہر میں سخت رعب و وحشت طاری ہوگیا۔

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پانچ سو افراد کواس شہر کی حفاظت کے لئے مامور کیا ۔ وہ لوگ راتوں کو تکبیر کے نعروں کے ساتھ گشت کرتے تھے اور لوگوں کے گھروں کا پہرہ دیتے تھے۔(٢)

لشکر احزاب کی شکست کے اسباب

لیکن ان تمام دشواریوں کے باوجود ، خندق کھودنے کے علاوہ، چند دوسرے اہم اسباب کی وجہ سے حالات مسلمانوں کے حق میں بدل گئے تھے۔ اور آخرکار لشکر احزاب کی ناکامی کا باعث بنا۔ وہ اسباب یہ تھے:

______________________

(١) بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٤٧؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٤٦٣۔ ٤٦٢؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٥٠؛ سمہودی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٠٢.

(٢) واقدی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٤٦٠؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٦٣٦؛ ابوبکر سے نقل ہواہے کہ وہ جنگ احزاب کو یاد کرتے تھے اور بنی قریظہ کی اس خیانت کے بارے میں کہتے تھے: ہم مدینہ میں اپنے بچوں (اور عورتوں) کے بارے میں قریش او رغطفان کے بہ نسبت بنی قریظہ سے زیادہ ڈرتے تھے (واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٤٦٠.)


١۔ بنی قریظہ اور لشکر احزاب کے درمیان اختلاف کاپیدا ہونا

نعیم بن مسعود، قبیلۂ غطفان کا ایک فرد تھا جو جلدی ہی مسلمان ہواتھااس نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اجازت سے(١) بنی قریظہ سے جاکر ملاقات کی اوران سے پرانی دوستی ہونے کی بنا پر پہلے ان کو اپنی طرف متوجہ کیا پھر عہد شکنی پر ان کی مذمت کی اور کہا:تمہاری صورت حال، لشکر قریش سے الگ ہے اگر جنگ کسی مرحلہ پر نہ پہنچی تووہ اپنے وطن کی طرف پلٹ جائیں گے لیکن تم کہاں جاؤ گے؟ اگر جنگ تمام نہ ہوئی تو مسلمان تم کونابود کردیںگے۔ اور پھر ان کو مشورہ دیا کہ لشکر احزاب کے کچھ کمانڈروں کواغواہ کر کے ضمانت کے طور پر جنگ کے تمام ہونے تک رکھے رہیں۔

پھر اس بات کو فوجی راز اور بنی قریظہ کے مخفی ارادے کے عنوان سے قریش اور اپنے قبیلہ غطفان کے سرداروں سے بتایا اور کہا کہ بنی قریظہ کاارادہ ہے کہ اس بہانہ سے تمہارے کچھ افرادکو گرفتار کرکے حسن نیت اور پچھلی باتوںکی تلافی کے عنوان سے حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حوالہ کریں۔ اوران کو خبردار کیا کہ ایسا مشورہ قبول نہ کریں۔ اس نے یہ چال اپنائی اوران دوگروہوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا اور متحدہ احزاب کا محاذ اندر سے کمزور ہوگیا۔(٢)

عمرو بن عبدود کا قتل

گویا قریش تین لحاظ سے مشکلات اوردشواریوں میں گرفتار تھے اور چاہتے تھے کتنی جلدی جنگ کو تمام کریں۔

پہلا: یہ کہ جنگ میں تاخیر ہونے کی بنا پر غذائی مواد کم ہوگیا تھا۔

______________________

(١) ان الحرب خدعة.

(٢) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٦٩؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٢٤٠؛ طبری ، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٥١۔ ٥٠؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٦٥٠؛ سمہودی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٠٤؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص ٢٠٧.


دوسرا: یہ کہ آہستہ آہستہ ہوا ٹھنڈی ہونے لگی تھی جس کی وجہ سے خیموں میں رہنا دشوا رہوگیا تھا۔

تیسرا: یہ کہ ماہ ذیقعدہ جو کہ ماہ حرام تھا وہ قریب ہوگیا تھا لہٰذا اگر جنگ ماہ شوال میں تمام نہ ہو پائی تو مجبوراً انھیں تین مہینے مسلسل رکنا پڑے گا۔(١)

اس وجہ سے طے کیا کہ ہر صورت میں جنگی روکاوٹوں کو ختم کریں اس بنا پر لشکر احزاب کے پانچ بہادر اپنے گھوڑوں کوایڑ لگا کرخندق کے باریک حصہ سے دوسری طرف پہنچ گئے(٢) اور تن بہ تن جنگ کے لئے رجز خوانی کرنے لگے ان میں سے ایک عرب کا سب سے بہادر اور نامور پہلوان ''عمرو بن عبدود'' تھا جو کہ ''شہشوار قریش'' اور ''شہشوار یلیل'' کے نام سے مشہور تھا۔(٣) خندق کو پھاند کر ''ھل من مبارز'' کی صدا بلند کی۔ لیکن کوئی مسلمان اس سے مقابلہ کے لئے تیار نہ ہوا۔(٤) یہ چیلنج کئی

______________________

(١) محمد حمید اللہ، رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم در میدان جنگ، ترجمہ : سید غلام رضا سعیدی، ص ١٢٨

(٢) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص٦٨؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص٤٧٠؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص٤٨؛ شیخ مفید، الارشاد، (قم: المؤتمر العالمی لالفیة الشیخ المفید، ط١، ١٤١٣ھ.ق)، ص٩٧؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص٢٠٣۔

(٣)چونکہ وہ ''یلیل'' نامی سرزمین پر تن تنہا، دشمن کے ایک گروہ پرغالب ہواتھا لہٰذا وہ اسی نام سے مشہور ہوا (بحار الانوار، ج٢٠، ص ٢٠٣) وہ جنگ بدر میں زخمی ہوگیا تھا اسی وجہ سے جنگ احد میں شریک نہیں ہوا تھا۔ اور تین سال کے بعد پھر جنگ خندق میں آیاتھا لہٰذا اپنے کو ایک علامت کے ذریعہ مشخص کر رکھا تھا تاکہ لوگوں کی توجہ اپنی جانب جلب کرے۔ (ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٣، ص ٢٣٥؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج٣، ص ٤٨؛ ابن اثیر، الکامل فی تاریخ، ج٢، ص ١٨١)۔

(٤)واقدی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص٤٧٠؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق: محمد ابوالفضل ابراہیم(دار احیاء الکتب العربیة، ١٩٦٤ئ)، ج١٣، ص٢٩١ و ج١٩، ص٦٣؛ مجلسی، بحار الانوار، ج٢٠، ص٢٠٣۔


مرتبہ دھرایا اورہر مرتبہ صرف علی ، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اجازت سے اس کی طرف بڑھے۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''کل ایمان، کل کفر و شرک کے مقابلہ میں جارہا ہے''۔(١)

علی نے ایک فردی جنگ میں بہادرانہ انداز میں عمرو بن عبدود کو ہلاک کردیا، عمرو بن عبدود کے قتل ہوتے ہی چار دوسرے پہلوان جواس کے ساتھ خندق پھاند کر آئے تھے اور علی سے لڑنے کے منتظر تھے، فرار کر گئے! اور ان میںسے ایک گھوڑے کے ساتھ خندق میں گر گیا اور مسلمانوں کے ذریعہ قتل ہوا۔(٢)

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے علی کی اس عظیم شجاعت و بہادری پر ان سے فرمایا: ''آج اگر میں تمہارے اس عمل کواپنی پوری امت کے اعمال سے موازنہ کروں تو تمہارا یہ عمل ان پر بھاری قرار پائے گا۔ کیونکہ عمرو بن عبدود کے قتل ہونے سے مشرکین کا کوئی گھر ایسا نہیں بچا جس میں ذلت و رسوائی نہ چھائی ہو اور مسلمانوں کا کوئی گھر ایسا نہیں تھا جس میں عزت و سربلندی نہ آئی ہو۔(٣)

اہل سنت کے ایک بزرگ محدث حاکم نیشاپوری کے نقل کے مطابق، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: جنگ خندق میں علی بن ابی طالب کی لڑائی عمرو بن عبدود سے روز قیامت تک میری امت کے اعمال سے یقینا افضل ہے''۔(٤)

عمرو کے قتل ہوتے ہی لشکر احزاب کے حوصلہ پست ہوگئے اور شکست کے آثار ان کے لشکر میں نمودار ہوئے اور مختلف قبیلے جو جنگ کرنے کے لئے آئے تھے ہر ایک اپنے وطن کی طرف واپس جانے لگا۔(٥)

______________________

(١) برز الاسلام کلہ الی الشرک کلہ۔ (ابن ابی الحدید، گزشتہ حوالہ، ج١٩، ص٦١؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص٢١٥.)

(٢) بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٤٥؛ محمد بن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٦٨؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٢٣٦؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٤٨؛ سمہودی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣٠٣.

(٣) ابو الفتح محمد بن علی الکراجکی، کنز الفوائد (قم: دارالذخائر، ١٤١٠ھ.ق)، ج١، ص ٢٩٨؛ مجلسی، بحار الانوار، ج٢٠، ص ٢٠٥، ٢١٦.

(٤) المستدرک علی الصحیحین، تحقیق: عبد الرحمن المرعشی (بیروت:دار المعرفہ، ط ١، ١٤٠٦ھ.ق)، ج٣، ص ٣٢.

(٥) کراجکی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٩٩.


غیبی امداد

آخری وار، خداوند عالم نے امداد غیبی کی شکل میں ان پر یہ کیا کہ ٹھنڈی ہوااور شدید طوفان کو رات میں ان پر مسلط کردیا۔ طوفان نے ان کے ٹھکانوں کو تہس نہس کردیا اور ان کے لئے وہاں ٹھہرنا دشوار ہوگیا آخر کار ابوسفیان نے مکہ پلٹنے کا حکم صادر کیا۔(١)

خداوند عالم نے اپنی نصرت کا اس طرح سے تذکرہ فرمایا ہے:

''ایمان والو! ا سوقت اللہ کی نعمت کو یاد کرو جب کفر کے لشکر تمہارے سامنے آگئے او رہم نے ان کے خلاف تمہاری مدد کے لئے تیز ہوااور ایسے لشکر بھیج دیئے جن کو تم نے دیکھا بھی نہیں تھا اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔ اور خدا نے کفار کوان کے غصہ سمیت واپس کردیا کہ وہ کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکے اوراللہ نے مومنین کو جنگ سے بچالیا اوراللہ بڑی قوت والا اور صاحب عزت ہے''۔(٢)

اس جنگ میں احزاب کے سرداروں کی طرف سے عظیم سرمایہ خرچ کرنے ،اور اتنی کثیر تعداد میں سپاہیوں کواکٹھاکرنے کے باوجود ان کے لئے اس جنگ کا نتیجہ تلخ آور اورغم انگیز تھا۔ کیونکہ نہ مدینہ کو کوئی نقصان پہنچا اور نہ ہی وہ شام کے تجارتی راستے کو آزاد کراسکے۔ اس وجہ سے ابوسفیان کی کمانڈری بدنام ہوئی اور قریش کی عظمت و ہیبت کم ہوگئی۔ یہ وہ جنگ تھی جس کے بعد مسلمان دفاعی حالت سے نکل کر تہاجمی قدرت کے مالک ہوگئے یعنی حملہ کرنے کی پوزیشن میں آگئے ۔

______________________

(١) بلاذری، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٣٤٥؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص٧١؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص٥٢۔ ٥١؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج١، ص١٩٨؛ طبرسی، اعلام الوریٰ، ص٩٢؛ سمہودی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٣٠٥؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص٢٠٩۔ ٢٠٨۔

(٢) سورۂ احزاب، آیت ٩ اور ٢٥.


پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے فرمایا: ''اس کے بعد ہم حملہ کریں گے وہ ہم پر حملہ نہیں کرسکتے''(١) اور اسی طرح سے ہوابھی۔ اس جنگ میں چھ افرادشہید ہوئے(٢) اور دشمن کی طرف کے تین افراد مارے گئے۔(٣)

جنگ بنی قریظہ

لشکر احزاب کے پلٹ جانے کے بعد، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مامور ہوئے کہ بے خوف بنی قریظہ کی طرف جائیں اوران کا کام تمام کردیں۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فوراً لشکر کے کوچ کا حکم دیا اور اسی روز عصر کے وقت لشکر اسلام نے قلعہ بنی قریظہ کا محاصرہ کرلیا۔ بنی قریظہ نے اپنے قلعہ میں مورچہ سنبھال کر تیراندازی شروع کردی اور پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی شان میں نازیبا کلمات کے ذریعہ گستاخی کی۔

٢٥ روز محاصرہ کے بعد آخرکار ان کے پاس تسلیم کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ گیا قبیلۂ اوس جس نے پہلے بنی قریظہ کے ساتھ عہد و پیمان کیا تھا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے درخواست کی کہ ان کے ہم نواؤوں کے ساتھ بنی قینقاع کے یہودیوں جیسا برتاؤ کریں۔

______________________

(١) شیخ مفید، الارشاد، ص١٠٦؛ صحیح بخاری، تحقیق: الشیخ قاسم الشماعی الرفاعی (بیروت: دار القلم، ط١، ١٤٠٧ھ.ق)، ج٥، ص٢١٥؛ کتاب المغازی، باب ١٤٦، حدیث ٥٩٣؛ طبرسی، مجمع البیان، ج٨، ص٣٤٥؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص٢٠٩۔

(٢) ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٤٢؛ واقدی، المغازی، ج٢، ص٤٩٢؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٣، ص٢٦٤؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص٥٨؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج١، ص١٩٨۔ اس جنگ کے شہداء کی تعداد اس سے زیادہ نقل ہوئی ہے۔رجوع کریں: تاریخ پیامبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، محمد ابراہیم آیتی (تہران: مؤسسہ انتشارات و طبع تہران یونیورسٹی، ١٣٦١)، ص٣٧٢۔

(٣) واقدی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص٤٩٦؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص٢٦٥؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص٥٩؛ ابن شہر آشوب، گزشتہ حوالہ، ج١، ص١٩٨؛ یعقوبی نے دشمن کے مقتولین کی تعداد آٹھ بتائی ہے۔ (ج٢، ص٤٢.)


آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' تمہارے بزرگ، سعد بن معاذ کو اس سلسلے میں قضاوت کا حق حاصل ہے '' اوسیوں اور بنی قریظہ نے اس قضاوت کو قبول کیا، سعد کو ایسی ماموریت ملنے کے بعد قبیلہ جاتی اور جاہلی رسم و رواج کے مطابق، بنی قریظہ کے حق میں فیصلہ کرنا چاہیئے تھا ۔ لیکن وہ اپنے قبیلہ والوں کی باتوں سے متأثر نہیں ہوئے اور اعلان کیا کہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے ۔ اس کے بعد دونوں طرف کی تائید حاصل کرنے کے بعد فیصلہ کیا کہ ان کے لوگوں کو قتل کردیا جائے اور ان کے بچوں اورعورتوں کو اسیر اوران کے مال ودولت کو غنیمت سمجھ کر لے لیا جائے۔

یہ حکم اجرا ہوا، حی ابن اخطب، قبیلۂ بنی نضیر کا سردار بھی قتل ہونے والوں میں تھا، جس نے مسلمانوں کے ساتھ ان کی پیمان شکنی میں تشویق اوراہم کردار ادا کیا تھا۔ کیونکہ اس نے بنی قریظہ سے وعدہ کیا تھا کہ ان کا ساتھ دے گا اور شکست کھانے کی صورت میں ان کے انجام میں شریک رہے گا۔ اسے جب زندگی کے آخر لمحات میں، خیانت اور فتنہ گری کے باعث، برا بھلا کہا گیا تو بجائے گناہوں کے اعتراف اور اظہار پشیمانی کے، اپنی اور بنی قریظہ کی بری عاقبت کو خداوند عالم کے جبر و تقدیر کا نتیجہ قرار دیا۔ اس نے پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م سے کہا: میں تمہاری دشمنی سے پشیمان نہیں ہوں لیکن جو خدا جس کو رسوا کرے رسوا ہو جاتا ہے'' اور پھر لوگوں سے مخاطب ہوکر کہا: خدا کے ارادہ کے مقابلہ میں مجھے ڈر اور خوف نہیں ہے اور یہ شکست و رسوائی یقینی ہے جو خدا کی جانب سے بنی اسرائیل کے لئے مقرر ہوئی ہے''۔(١)

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے اسیروں کے ایک گروہ کوایک مسلمان کے ذریعہ نجد بھیجا تاکہ ان کو بیچ کر

______________________

(١) اس جنگ کی تفصیل معلوم کرنے کے لئے مندرجہ ذیل کتابوں کی طرف رجوع کریں: (طبقات الکبری، ج٢، ص٧٨۔ ٧٤؛ تاریخ الامم والملوک، ج٣، ص٥٨۔ ٥٣؛ المغازی، ج٢، ص٥٢٤۔ ٤٩٦؛ السیرة النبویہ، ج٣، ص٢٦١۔ ٢٤٤؛ وفاء الوفائ، ج١، ص٣٠٩۔ ٣٠٥؛ بحار الانوار، ج٢٠، ص٢٣٨۔ ٢٣٣۔


مسلمانوں کے لئے اسلحے اور گھوڑے خریدے ۔(١)

قرآن کریم نے ان کے برے انجام کا اس طرح سے ذکر کیا ہے:

''اوراس نے کفار و مشرکین کی پشت پناہی کرنے والے اہل کتاب کوان کے قلعوں سے نیچے اتاردیااوران کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا کہ تم نے ان میں سے کچھ کو قتل کیا اور کچھ کو قیدی بنالیا۔ اور پھر تمہیں ان کی زمینوں ان کے گھروں اور ان کے اموال اور ایسی زمین کا وارث بنادیا جن میں تم نے قدم بھی نہیں رکھا تھا اور بیشک اللہ ہر شے پر قادر ہے۔(٢)

تجزیہ و تحلیل

اگرچہ اس واقعہ کی تفصیلات (جیسے بنی قریظہ کے سپاہیوں کی تعداد یا جو لوگ فرمان قتل کو بجالائے) کے بارے میں مورخین کے درمیان اختلاف موجود ہے لیکن اصل واقعۂ زمانۂ قدیم سے مورخین کے درمیان مشہور اور مسلم تھا اور ہے یہاں پر اگر اس مسئلہ کے بارے میں دو نظریوںکا تجزیہ و تحلیل کریں تو بے جا نہ ہوگا۔

١۔ بعض یورپی تاریخ نگاروں نے بنی قریظہ کے ساتھ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سلوک پر نکتہ چینی کی ہے اور اسے

______________________

(١) ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٣، ص ٢٥٦؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج٣، ص ٥٨؛ ایک گروہ کو بھی ، سعد ابن عبادہ کے ذریعہ اس سلسلہ میں شام بھیجا (واقدی، المغازی، ج٢، ص ٥٣٣) جنگ خندق و بنی قریظہ کے بارے میں مذکورہ کتابوںکے علاوہ رجوع کریں: تفسیر المیزان، ج١٦، ص ٣٠٣۔ ٢٩١.

(٢) سورۂ احزاب، آیت ٢٧۔ ٢٦.


ایک وحشیانہ اور غیر انسانی اقدام کہا ہے۔(١) لیکن بنی قریظہ کے جرم و جنایات کودیکھتے ہوئے اس نکتہ چینی کو قبول نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان لوگوں نے نہ صرف عہد شکنی اور جنگ کے اعلان پر اکتفا کی بلکہ جیسا کہ بیان ہوا مدینہ کے اندر دہشت پھیلانے والی کاروائیاں اور نیز لشکر احزاب کے لئے غذائی رسد کا کام انجام دے کر او رحقیقت میں ان کی مالی امداد کے ذریعہ عملی طور پر جنگ میں شریک تھے اور ہم جانتے ہیںکہ اس طرح کے اقدامات جنگ کے مواقع پر کسی قوم کے نزدیک قابل چشم پوشی نہیں ہیں اور اس کے مجرموں کو سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔

اس کے علاوہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م اس عہد و پیمان کی رو سے جوان سے کیا تھا ان کو سزائیں دینے کا حق رکھتے تھے لیکن اوسیوں کی درخواست پر فضل کے عنوان سے سعد کی قضاوت کا مشورہ دیا اور اس مشورہ کو اوسیوں اور بنی قریظہ نے قبول کرلیا. لہٰذا اعتراض کا کوئی سوال باقی نہیں رہ جاتا ہے۔

اس سے قطع نظر، یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ عفو و درگزر کہاں اور کس کے بارے میں بہتر او رمناسب ہے؟ کیا وہ لوگ ، جو انسانی صورت تو رکھتے ہیں لیکن انسانی وقار کو پائمال کردیتے ہیں اوراپنے کسی معاہدہ کے پابند نہیں ہوتے ۔

______________________

(١) مونٹ گری واٹ، محمد فی المدینہ، تعریب: شعبان برکات (بیروت: منشورات المکتبة العصریہ)، ص ٣٢٧، مولف کتاب نے بھی ٢٣ سال تک ان یورپی سیرت نگاروں کا ہم نوا بن کر بنی قریظہ کی مذمت پر اعتراض کیا ہے وہ بنی قریظہکی بڑی خیانت کا تذکرہ کرنے کے باوجود لکھتاہے: ''جنگ خندق میں مدینہ کا محاصرہ کرنے سے مسلمانوںکی زندگی دشوار ہوگئی تھی اور مکہ پر حملہ آوروں کے ساتھ بنی قریظہ کا مل جانا ایک ممکن الوقوع امر تھا اور جب بھی ا یسا ہوتا، مسلمانوں کی شکست یقینی تھی اور احتمال قوی پایا جاتا تھا کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تحریک بالکل مٹ جاتی...'' اس کے باوجود وہ مزید لکھتا ہے لیکن محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان پر رحم کرنا چاہیئے تھا (مصطفی حسینی طباطبائی، خیانت در گزارش تاریخ (تہران: انتشارات چاپخش، ط ١، ١٣٦٦)، ج٣، ص ١٦٥۔ ١٦٤)


جن کا وجود، دشمنی، کینہ او رہٹ دھرمی سے لبریز ہو، عفو و گزشت کے قابل ہیں؟(١)

کیا بنی نضیر کے یہودیوں کے ساتھ ''حی ابن اخطب'' کی رہبری میں نرمی کا سلوک نہیں کیا گیا تھا؟ لیکن وہ سازش کرنے سے باز نہ آئے اور مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شریک ہوگئے۔ کیا ضمانت پائی جاتی تھی کہ حی ابن اخطب اور کعب بن اسد گزشتہ امور کی تکرار نہیں کریں گے۔ اور دوسرے بڑے لشکر کو اسلام او رمسلمانوں کی نابودی کے لئے اکٹھا نہیں کریں گے؟ کیا ان کے ساتھ نرمی اور مہربانی کا برتاؤ ، ایک خونخوار جانور پر رحم کرنے جیسا نہیں ہے۔

مدینہ کے محاصرہ کے ایام میں ، ایک دن ابوسفیان نے پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کوایک دھمکی آمیز خط میں لکھا: ''لات و عزیٰ کی قسم، اس لشکر کے ساتھ تجھ سے جنگ کرنے کے لئے آیا ہوں اور ہم چاہتے ہیںکہ ہرگز دوبارہ جنگ کی ضرورت نہ پڑے اس حملہ میں تم کو نیست و نابود کردیں گے۔ لیکن اگر (بغیر جنگ کے) مکہ پلٹ گئے تو روز احد کے مانند تمہارے لئے ایک دن ایسا لائیں گے کہ عورتیں اس دن گریبان چاک کر ڈالیں گی۔(٢) کیااگر ایسی صورت حال پیش آجائے تو بنی قریظہ دوسری بار لشکر احزاب کا ساتھ نہیں دیں گے؟

اس سے قطع نظر کہ سعد کا حکم توریت کے حکم کے مطابق تھا اور شایدوہ یہودیوں سے قریبی تعلقات

______________________

(١) بنی قریظہ کے آخری ایام میں ان کے بعض مخفی مذاکرات (جیسے کعب بن اسد کا مشورہ، عورتوں اور بچوں کے قتل کرنے اور پھر مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے کا ) او رنیز پھانسی دینے سے قبل ان کی بعض حرکتوں اور عکس العمل نے، ان کی شدید دشمنی، بے رحمی او رہٹ دھرمی کا پردہ فاش کردیا، جیسا کہ ان میں سے ایک کو بعض مسلمانوں کی درخواست پر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے معاف کردیا لیکن وہ اپنی حرکت سے باز نہ آیا اور اسے بھی قتل کرنا پڑا ۔ (ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٣، ص ٢٥٤۔ ٢٥٣.)

(٢) واقدی، المغازی، ج٢، ص ٤٩٢.


اور ہم پیمان ہونے کی وجہ سے ان کے قضائی قوانین سے آگاہی بھی رکھتے تھے۔

توریت میں اس طرح سے نقل ہوا ہے: ''جس وقت کسی شہر کی طرف جنگ کے لئے جاؤ تو پہلے ان تک صلح کا پیغام پہنچاؤ اور اگر وہ تم کو صلح آمیز جواب دیں اور شہر کا دروازہ تمہارے لئے کھول دیں، جس میں تمام قوم کے لوگ پائے جاتے ہوں اور ٹیکس دیکر تمہارے تابع ہو جائیں، تو ان سے جنگ نہ کرنا ۔ اور اگر تم سے صلح نہ کرکے، جنگ کریں تو ان کا محاصرہ کرلو اور چونکہ تمہارے خدا نے کا ان کو تمہارے حوالے کردیا ہے لہٰذا ان کے تمام مردوں کو تلوار سے قتل کرڈالو۔اور ان کی عورتوں، بچوں اورمویشیوں اور جو کچھ ان کے شہر میں ملے یعنی ان کے تمام مال غنیمت کو لوٹ لو اور اسے کھاؤ۔(١)

٢۔ اس دور کا ایک محقق، بنی قریظہ کی سزائوںکا منکر ہوگیاہے اور کچھ دلائل اور قرائن کو دلیل بنا کر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جانب سے اس طرح کی سخت سزاؤوں کے دیئے جانے کو بعیدقرار دیتا ہے۔(٢)

یہ نظریہ ـ اگرچہ بعض یورپی تاریخ نگاروںکی تنقید یا صہیونزم کے پروپیگنڈہ کے مقابلہ میں ایک طرح کا دفاعیہ تو ہوسکتا ہے لیکن جیسا کہ بعض بڑے دانشمندوں نے اس نظریہ پر تنقید کی ہے،(٣) یہ دلائل محکم نظر نہیں آتے، خاص طور سے اس استدلال میں سورۂ احزاب کی ٢٦ ویں آیت کی طرف توجہ نہیں دی گئی ہے جو کہ اصل واقعہ کی حکایت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، جنگ احزاب کے بعد سے تاریخ میں بنی قریظہ کا کوئی واقعہ نظر نہیں آتا جبکہ اگر واقعہ صحیح نہ ہوتا تو فطری طور ان کے بعد کے حالات، تاریخ میں ذکر ہوتے۔

______________________

(١) توریت ، ترجمۂ ولیم کلن قیس اکسی، لندن، ١٣٢٧ ھجری ، سفر مثنی، بیسویں فصل اس سلسلہ میں مزید آگاہی کے لئے سعدکی کتابوںکی طرف رجوع کریں: جعفر سبحانی، فروغ ابدیت، ج٢، ص ١٥٧۔ ١٥٤.

(٢) سید جعفر شہیدی، تاریخ تحلیلی اسلام تا پایان امویان (تہران: مرکز نشر یونیورسٹی، ط ٦، ١٣٦٥)، ص ٧٥۔ ٧٣

(٣) سیدعلی میر شریفی، نگرشی کوتاہ بہ غزوۂ بنی قریظہ، مجلہ نور علم، شمارہ ١١، اور ١٢.


جنگ بنی مصطلق

شعبان ٦ھ(١) میں پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کو خبر ملی کہ حارث بن ابی ضرار، بنی مصطلق کا رئیس (قبیلۂ خزاعہ کا ایک خاندان) ، اپنے قبیلہ والوں اوراس کے علاقہ کے کچھ عرب لوگوں کو مدینہ پر حملہ کے لئے تیار کر رہا ہے ۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسلامی سپاہیوں کو آمادہ کیا اور ''مریسیع'' ٭کنواں کے پاس، بحر احمر کے ساحلی علاقہ تک گئے. اس علاقے میں جنگ ہوئی اور بنی مصطلق بہت جلد ہار کھا گئے اوران سے بہت ساری دولت اور اسیر مسلمانوں کے ہاتھ لگے۔(٢)

جُویریہ ـ حارث کی لڑکی ـ بھی اسیروں میں تھی۔ حارث اپنی لڑکی کی آزادی کے لئے مدینہ میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے غیب سے خبر دی کہ وہ دو اونٹ اپنی لڑکی کی رہائی کے لئے لایاہے اور راستے میں چھپا رکھاہے، تو وہ مسلمان ہوگیا۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جویریہ کو آزاد کردیااور پھر اس سے شادی کرلی۔(٣)

______________________

(١) مورخین کے بعض گروہ، جیسے واقدی، بلاذری، اور محمد بن سعد اس غزوہ کو پانچویں سال کے حوادث میں سے شمار کرتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے اس کو جنگ احزاب کے پہلے تحریر کیا ہے۔ بعض قرائن ، ان کے اس نظریہ کی صحت پر دلالت کرتے ہیں۔ رجوع کریں: السیرة النبویہ، ج٣، ص٣٠٢، حاشیۂ؛ وفاء الوفائ، ج١، ص٣١٤.

٭اسی مناسبت سے اس غزوہ کو غزوۂ مریسیع بھی کہا جاتاہے۔

(٢) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٣٠٨۔ ٣٠٢؛ طبری ، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٦٦۔ ٦٣؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج ٢٠، ص ٢٩٠۔ ٢٨١)

(٣) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٣٠٨؛ مفید، الارشاد (قم: المؤتمر العالمی لالفیة الشیخ المفید، ط ١، ١٤١٣ھ.ق)، ص ١١٩۔ ١١٨؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب (قم: المطبعة العلمیہ)، ج١، ص ٢٠١.


مسلمانوں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے احترام میں اسیروں کو جو اب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زوجہ کے رشتہ دار سمجھے جانے لگے تھے، آزاد کردیا اس وجہ سے جویریہ کو اپنے رشتہ داروں کی بہ نسبت سب سے بابرکت عورت کے عنوان سے یاد کرتے تھے۔(١)

یہ شادی پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شادیوں میں ایک نمونہ تھی جو بہت سارے اجتماعی فوائد رکھتی تھی اور ذاتی پہلؤوں سے ہٹ کر اجتماعی لحاظ سے انجام پائی تھی۔

عمرہ کا سفر

٦ھ میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قصد کیا کہ ''عمرہ'' کرنے کے لئے مکہ جائیں۔ ہجرت کے بعد سے اس دن تک مسلمان حج و عمرہ نہیں کرپائے تھے، اس مذہبی سفر میں معنوی پہلؤوں کے علاوہ ایک طرح کی مذہبی نمائش بھی تھی جو تبلیغی اثر رکھتی تھی، کیونکہ اس سے زائرین اوراہل مکہ کو اپنی طرف متوجہ کرنا تھا اور پیغمبر کو اپنے اصحاب کی کثرت تعداد کو دکھاناتھا۔ اور نیز یہ اقدام اس بات کی بھی علامت تھا کہ حج و عمرہ جو کہ مشرکین کے یہاں ایک عظیم اور مقدس عبادت ہے وہ دین محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں بھی موجود ہے اور اسے ایک فریضہ واجب قرار دیاگیاہے ۔ اور یہ چیز ان کے قلوب و جذبات کو جلب کرنے میں موثر تھی. اور اگر قریش عمرہ بجالانے سے روکتے تو لوگوںکے خیالات ان کے حق میں مضر ثابت ہوتے، کیونکہ قریش کعبے کی کنجی کے مالک تھے اور ہمیشہ حجاج کو حج کی تشویق او رترغیب دلاتے تھے اوران کے ٹھہرنے اور کھانے کا انتظام کرتے تھے اور ا س کواپنے لئے ایک افتخار اور سعادت سمجھتے تھے۔ لہٰذا اگر وہ مسلمانوںکو مکہ میں داخل ہونے سے روکتے تو لوگ ان سے نفرت کرنے لگتے اور سبھی سمجھ جاتے کہ

______________________

(١) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٣٠٨۔ ٣٠٧؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٤١١؛ طبری، اعلام الوریٰ، (تہران: دار الکتب الاسلامیہ)، ص ٩٤؛ بعض تاریخی کتابوں میں یہ شادی دوسری طرح سے ذکر ہوئی ہے۔


اس کام کا مقصد صرف مسلمانوں کے ساتھ دشمنی اور جھگڑا کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔(١)

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ذیقعدہ کے مہینہ میں ایک ہزار آٹھ سو افراد(٢) کے ہمراہ مکہ روانہ ہوئے اس سفر میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم سے تمام افراد، صرف ایک تلوار اپنے ساتھ حمائل کئے تھے (جو کہ اس زمانہ میں ہر ایک مسافر اپنے ساتھ رکھتا تھا) اور نیز قربانی کے اونٹ، مدینہ سے اپنے ساتھ لے کر گئے تھے تاکہ قریش کو معلوم ہو جائے کہ وہ جنگ کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔

قریش جب پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی روانگی سے آگاہ ہوئے تو طے کیا کہ ان کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے اور ان کے سراغ میں سپاہیوںکے ساتھ مکہ سے باہر آگئے اورپیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مجبور ہوکر سرزمین ''حدیبیہ'' میں رک گئے۔ قریش نے کئی نمائندے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس بھیجے تاکہ ان کے مقصد سے آگاہ ہوں ہر مرتبہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے فرمایا: ''ہم جنگ کا اراہ نہیں رکھتے ہیں او رعمرہ کے قصد سے آئے ہیں'' لیکن اس کے باوجود قریش ان کو اسی طرح شدت سے منع کرتے رہے اور مسئلہ مشکل میں پڑ گیا۔

______________________

(١) جیسا کہ جب قریش نے مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روکا تومکہ کے ایک بزرگ حلیس بن علقمہ نے قریش کودھمکی دی کہ اگر وہ اس کام سے باز نہ آئے تو اپنے قبیلہ والوں کوان سے جنگ کے لئے اکٹھا کریں گے۔ (ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٢، ص ٩٦؛ حلبی، السیرة النبویہ، ج٢، ص ٦٩٦.

(٢) کلینی، الروضة من الکافی (تہران: دار الکتب الاسلامیہ، ١٣٦٢)، ص ٣٢٢؛ مورخین نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ اصحاب کی تعداد ٧٠٠، ١٣٠٠، ١٤٢٥، ١٦٠٠، ١٧٠٠، تک نقل کی ہے۔ (السیرة الحلبیہ، ج٢، ص ٦٨٩، المغازی، ج٢، ص ٦١٤؛ طبقات الکبری، ج٢، ص ٩٨۔ ٩٥؛ تاریخ الامم و الملوک، ج٣، ص ٧٢؛ السیرة النبویہ، ابن ہشام، ج٣، ص ٣٣٢؛ مجمع البیان، ج٩ ، ص ١١٠.


بیعت رضوان

آخرکار پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عثمان بن عفان کو ان کے پاس بھیجا تاکہ ان کے مقصد سے قریش کو آگاہ کریں۔ عثمان کے پلٹنے میں تاخیر ہوئی تو مسلمانوں کے درمیان یہ افواہ اڑی کہ قریش نے ان کو قتل کردیا ہے۔(١)

اس موقع پر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے اصحاب کوایک درخت کے نیچے جمع کیا او ران کے ساتھ عہد و پیمان پائیدار کیا۔(٢)

بیعت کی رسم ختم ہوئی ہی تھی کہ معلوم ہوا کہ عثمان کے قتل کی خبر غلط تھی یہ عہد نامہ چونکہ درخت کے نیچے کیا گیا او راس میں شرکت کرنے والوں سے خدا نے خوشنودی اور رضایت کا اظہار کیا(٣) لہٰذا اس کو ''بیعت رضوان'' اور ''بیعت شجرہ'' کہا گیا ہے۔

پیمان صلح حدیبیہ (فتح آشکار)

عثمان کے بے نتیجہ پلٹنے کے بعد آخرکار سہیل بن عمرو قریش کا نمائندہ بن کر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آیا اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مذاکرات کئے او رکہا کہ قریش کی طرف سے ہر طرح کی بات چیت کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ اس سال مسلمان عمرہ نہ کریں۔(٤)

اس گفتگو کے ذریعہ جو عہد و پیمان کیا گیا وہ ''صلح حدیبیہ'' کے نام سے مشہو رہوا ،جس کی شرطیں یہ ہیں:

١۔ قریش اور مسلمان اس بات کا عہد کریں کہ دس سال تک ایک دوسرے سے جنگ نہیں کریں گے اور اجتماعی امن و امان برقرار رکھیں گے۔

٢۔ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور تمام مسلمان اس سال مکہ میں داخل نہیں ہوں گے لیکن آئندہ سال قریش اسی موقع پر مکہ سے باہر چلے جائیں گے اور مسلمان تین دن مکہ میں رہ کر عمرہ کریں گے؛ اور مسافر جتنا ہتھیار لے کر چل سکتا ہے اس سے زیادہ وہ اپنے ساتھ ہتھیار نہ رکھیں۔(٥)

______________________

(١) المغازی، ج٢، ص ٦٠٢.

(٢) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٣٣٠؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ص ٧٨؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ٩٩۔ ٩٧؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج١، ص ٣٥٠؛ طبرسی، اعلام الوریٰ، ص ٩٦.

(٣)''لقد رضی اللّٰه عن المومنین اذ یبایعونک تحت الشجرة فعلم ما فی قلوبهم فانزل السکینة علیهم و اثابهم فتحاً قریباً' ' سورۂ فتح، آیت ١٨.

(٤) طبری، گزشتہ حوالہ، ص ٧٨؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٣٣١.

(٥) اس شرط کی رو سے، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم او رمسلمانوں نے ٧ھ میں عمرہ انجام دیا جس کو ''عمرة القضائ'' کہا گیا ہے۔


٣۔ اگر قریش کا کوئی آدمی اپنے سرپرست کی اجازت کے بغیر محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس چلا جائے تواس کو مکہ واپس کیا جائے اور اگر محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھیوں میں سے کوئی قریش کے پاس آجائے تو قریش اس کو واپس نہیں کریں گے۔

٤۔ ہر قبیلہ آزاد ہے چاہے وہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ عہد و پیمان کرے یا قریش کے ساتھ ، (اس مقام پر قبیلۂ خزاعہ نے مسلمانوں کے ساتھ عہد و پیمان کا اعلان کیا اور بنوبکر نے قریش کے ساتھ عہد و پیمان کا اعلان کیا)۔

٥۔ مسلمان اور قریش دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خیانت نہیں کریں گے اور ان کے دشمن کا ساتھ نہیں دیں گے اور دشمنی کا اظہار نہیں کریں گے۔(١)

٦۔ مکہ میں اسلام کی پیروی آزاد رہے گی ا و رکسی بھی شخص کو ایک خاص دین کی پیروی کی خاطر اذیت نہیں دی جائے گی اور اس کی مذمت نہیں کی جائے گی۔(٢)

٧۔ اصحاب محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے جو شخص حج یا عمرہ یا تجارت کے لئے مکہ جائے اس کی جان و مال امان میں رہے گی اور قریش میں سے جو شخص مصر یا شام جانے کے لئے مدینہ کے راستہ سے گزرے گا اس کی جان و مال امان میں رہے گی۔(٣)

______________________

(١) پیمان کی اس شرط کا عربی متن یہ ہے: ''لااسلال و لا اغلال و ان بیننا و بینہم عیبة مکفوفة'' اسلال کے معنی خفیہ چوری اور کسی کی حمایت و مدد کرنا اور نیز رات کو حملہ کرنے کے معنی میں ہے ۔ (ابن اثیر، النہایة فی غریب الحدیث والاثر، ج٢، ص ٣٩٢، مادۂ سل) قرائن کے حساب سے، یہاں دوسرے معنی مراد ہیں (احمد میانجی ، مکاتیب الرسول، ج١، ص ٢٧٧)، اسی وجہ سے (بعض معاصر مورخین کے برخلاف) ہم نے اس کا ترجمہ چوری نہیںکیاہے۔

(٢) طبرسی، گزشتہ حوالہ، ص ٩٧؛ بلاذری، گزشتہ حوالہ، ص ٣٥١۔ ٣٥٠؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٣٣٢؛ طبرسی، اعلام الوریٰ، ص ٩٧؛ بحار الانوار، ج٢٠، ص ٣٥٢؛ او ررجوع کریں : طبقات الکبریٰ، ج٢، ص ٩٧، ١٠١، ١٠٢۔

(٣) طبرسی، اعلام الوریٰ، ص ٩٧؛ حلبی، السیرة الحلبیہ، ج٢، ص ٧٧؛ مجلسی، بحار الانوار، ج٢٠، ص ٣٥٠ اور ٣٥٢.


پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پیشین گوئی

پیمان صلح کے اصول پر موافقت کے بعد، جس وقت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کہنے پر علی نے صلح نامے کا مضمون لکھا تو نمائندہ قریش نے صلح نامے کے اوپر، بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم،اور نام محمد کے بعد'' رسول اللہ'' لکھنے کی مخالفت کی اور اس موضوع پر گفتگو کافی طولانی ہوگئی اور آخرکار رسول خدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ا نے کچھ مصلحتوں کے پیش نظر جو اس عہد و پیمان میں پائی جاتی تھیں، مجبور ہوکر موافقت کی اور علی رسول اللہ کا عنوان مٹانے سے کنارہ کش ہوگئے تو آپ نے فرمایا: ایسے حالات تمہارے لئے بھی پیش آئیں گے او رمجبور ہوکر تمہیں بھی ماننا پڑے گا(١) اور یہ پیشین گوئی جنگ صفین میں مسئلہ حکمیت کے موقع پر معاویہ کے اصرار پر علی کے نام کے آخر سے'' امیر المومنین کا عنوان'' مٹانے پر ، پوری ہوئی۔(٢)

صلح حدیبیہ کے آثار و نتائج

چونکہ مسلمان مستقبل میں اس صلح کے آثار و نتائج سے بے خبر تھے، لہٰذا اس کو ''شکست'' سمجھتے تھے(٣) اور کچھ لوگ اس کو منت و سماجت کہتے تھے۔(٤) تاکہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس صلح پر دستخط کرنے سے روک

______________________

(١) طبرسی، مجمع البیان، ج٩، ص ١١٨؛ مجلسی ، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص ٣٥٠۔ ٣٣٤؛ صلح حدیبیہ کے سلسلہ میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے رجوع کریں: مکاتیب الرسول، علی احمد میانجی، ج١، ص ٢٧٥ اور ٢٨٧؛ کتاب وثائق، تالیف محمد حمید اللہ، ترجمہ: محمود مہدوی دامغانی، (تہران: ط و نشر بنیاد، ط ١، ١٣٦٥)، ص ٦٦و ٦٨.

(٢) نصربن مزاحم، گزشتہ حوالہ، ص ٥٠٩۔ ٥٠٨؛ طبرسی، گزشتہ حوالہ، ص ٩٧؛ ابن واضح ، تاریخ یعقوبی، (نجف: المکتبة الحیدریہ، ١٣٨٤ھ.ق)، ج٢، ص ١٧٩؛ ابوحنیفہ دینوری، الاخبار الطوال، تحقیق: عدالمنعم عامر (قاہرہ: داراحیاء الکتب العربیہ ، ١٩٦٠.)، ص ١٩٤؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ (بیروت: دار صادر)، ج٣، ص ٣٢؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ص ٧٠٨.

(٣) مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج٢٠، ص ٣٥٠.

(٤) واقدی، مغازی، ج٢، ص ٦٠٧؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٣، ص ٣٣١؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک ج٣، ص ٩٧؛ حلبی، السیرة الحلبیہ، ج٢، ص ٧٠٦؛ اس واقعہ میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ارادہ کی بعض مسلمانوں کی طرف سے کھلی مخالفت ایک طرح سے حکم پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یادرحقیقت حکم خدا کے مقابلہ میں ان کے بے جا اجتہاد یا خودرائے کی علامت تھی۔ اس قسم کی حرکت جو کہ بعد میں بھی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چند صحابیوںکی طرف تکرار ہوئی، تاریخ اسلام میں تلخ و ناگوار واقعات کا سرچشمہ بنی جبکہ مسلمان ہونے کا مطلب حکم خدا اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت اور پیروی ا وران کے ارادہ کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہے جیسا کہ خداوند عالم فرماتا ہے: ''و ماکان لمؤمن و لامؤمنة اذا قضی اللّٰہ و رسولہ أمراً أن یکون لہم الخیرة من أمرہم و من یعص اللّٰہ و رسولہ فقد ضل ضلالاً مبیناً'' (سورۂ احزاب، آیت ٣٦.)


سکیں؛ لیکن جیسا کہ پیغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پیشین بینی کی تھی،اس صلح میں متعدد سیاسی و سماجی اثرات و نتائج پائے جاتے تھے۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں:

١۔ اس صلح کے نتیجے میں مشرکین نے مسلمانوں کے وجود کو تسلیم کیا۔ جبکہ اس سے پہلے مشرکین مسلمانوں کے وجود کوتسلیم نہیں کرتے تھے اور ان کی نابودی میں لگے ہوئے تھے۔

٢۔ مشرکین اور مسلمانوں کے درمیان جو آ ہنی دیوار حائل تھی وہ اس صلح کے نتیجہ میں گر گئی او رمکہ و مدینہ میں امد و رفت، اور دونوں طرف کے لوگوں میں آزادانہ ارتباط اوراعتقادی بحث و مباحثہ کی وجہ سے مشرکین کی ایک بہت بڑی تعداد مسلمانوں کے استدلال اور نئی منطق کو سن کر اسلام کی طرف راغب ہوگئی اور مسلمان ہونے والوں کی تعداد اس صلح کے بعد فتح مکہ والے سال تک، ان کی گزشتہ مجموعی تعداد کے برابر یا اس سے زیادہ ہوگئی۔(١)

اس بارے میں یہ جاننا کافی ہوگا کہ اس سفر میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب اٹھارہ سو (١٨٠٠) سے زیادہ نہیں تھے جبکہ دو سال بعد فتح مکہ کے موقع پر اسلامی سپاہیوںکی تعداد دس ہزار تک پہنچ گئی تھی۔

امام جعفر صادق ، اسلام کے حق میں حالات کی اس بڑی تبدیلی کے بارے میں فرماتے ہیں: ''ابھی دو سال صلح کا زمانہ تمام نہیں ہوا تھا کہ قریب تھا کہ اسلام پورے مکہ پر چھا جائے''۔(٢)

______________________

(١) ابن ہشام ، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٣٣٦؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٨١؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٧١.

(٢) طبرسی، اعلام الوریٰ، ص ٩٨؛ مجلسی، بحار الانوار، ج٢٠، ص ٣٦٣.


٣۔ قریش کی مخالفتیں او ردشمنیاں اور ان کے فوجی حملوں کی وجہ سے، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے اتنا موقع فراہم نہیں ہوسکا تھا کہ جزیرة العرب کے ا ندر اور باہر اعلیٰ پیمانے پر تبلیغ کرسکیں، لیکن صلح کے بعد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کامیاب ہوئے کہ دشمنوں کو مدینہ کے اطراف سے ختم کر کے متعدد تبلیغی جماعتیں مختلف علاقوں میں بھیجیں۔ جیسا کہ ہم بیان کریں گے۔ دنیا کے سربراہوں او راہم شخصیتوں کو اسلام کی طرف دعوت کے خطوط، صلح حدیبیہ کے بعد ہی بھیجے گئے ہیں۔

٤۔ یہ صلح ایک طرح سے فتح مکہ کا باعث قرار پائی۔ اس لئے کہ صلح کی چوتھی شرط کے بموجب قبائل کا قریش یا مسلمانوں سے ملنا، آزاد اعلان ہوا تھا اور قبیلہ ''خزاعہ'' مسلمانوں کے ساتھ متحد ہوگئے تھے اور قریش نے اس قبیلے پر حملہ کر کے عہد شکنی کی جس کے نتیجہ میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فتح مکہ کا اقدام کیا۔

یہ صلح اپنے درخشندہ آثار و نتائج کے لحاظ سے، مسلمانوں کے لئے بہت بڑی فتح اور کامیابی قرار پائی۔ جیسا کہ حدیبیہ سے پلٹتے وقت، مدینہ کے راستے میں ''سورۂ فتح'' پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نازل ہوا(١) اور خداوند عالم نے اس صلح کو ''فتح مبین'' کہا۔(٢)

______________________

(١) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٠٥۔ ١٠٤؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٣٣٤؛ طبرسی، اعلام الوریٰ، ص٩٨؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ص ٧١٤.

(٢) ''انا فتحنا لک فتحاً مبیناً''.


پانچواں حصہ

عالمی دعوت سے رحلت پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تک

پہلی فصل: عالمی تبلیغ

دوسری فصل: اسلام کا پھیلاؤ

تیسری فصل:حجة الوداع اور رحلت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم


پہلی فصل

عالمی تبلیغ

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عالمی رسالت

اگرچہ دین اسلام بظاہر جزیرہ نمائے عرب، اور ایک مختصر سے قبیلے سے شروع ہوا تھا اور پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی اسی عرب قوم سے تعلق رکھتے تھے لیکن اسلام ایک علاقے یا عربوں سے مخصوص دین نہیں تھا جس پر قرآن مجید کی وہ بہت سی آیات دلیل اور شاہد ہیں جن میں عربوں یا قریش سے خطاب نہیں کیا گیا بلکہ قرآن کے مخاطب ناس (تمام لوگ) ہیں، البتہ جن مواقع پر اسلام کے پیروؤں سے کوئی پیغام مخصوص ہے یا انہیں کچھ شرعی احکامات بتائے گئے ہیں وہاں قرآن مجید کے مخاطب، صرف مومنین یا مسلمان ہیں۔ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی اپنی بعثت کی ابتداء سے ہی مکہ میں اپنے دین کو عالمی عنوان سے پیش کیا۔ چنانچہ قرآن مجید کی متعدد آیات میں اسلام کے اس عالمی پیغام کی طرف واضح اشارہ موجود ہے۔ جس کے چند نمونے ہم یہاں پیش کر رہے ہیں:

١۔'' اے پیغمبر! آپ کہہ دیجئے۔ اے لوگو!بیشک میں تم سب کی طرف رسول بناکر بھیجا گیا ہوں''۔(١)

______________________

(١)قل یا ایها الناس انی رسول اللّٰه الیکم جمیعاً ، سورۂ اعراف، آیت ١٥٨.


٢۔ ''اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا ہے مگر تمام انسانوں کے لئے بشیر اور نذیر بناکر''۔(١)

٣۔ ''یہ قرآن مجید تمام عالمین کے لئے یادآوری کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے''۔(٢)

٤۔ ''یہ کتاب ذکر اور قرآن مبین کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جو زندہ ہیں''۔(٣)

٥۔ ''پروردگار وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجاتاکہ اس دین کو تمام ادیان پر کامیاب اور کامران کردے''۔(٤)

٦۔ ''اور ہم نے آپ کو عالمین کے لئے سوائے رحمت کے اور کچھ نہیں بنا کر بھیجا ہے''۔(٥)

یہ تمام آیتیں مکی سوروں کی ہیں جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت اور آپ کا پیغام سب لوگوں کے لئے تھا اور مکہ سے ہی آپ کے پیغام کی یہ خصوصیت واضح اور روشن تھی۔ لیکن ان تمام روشن اور واضح دلائل کے باوجود بعض مغربی لوگوں نے جیسے ''گولت زیہر'' نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دین اور پیغام نیز آپ کی رسالت کو بعد میں عمومیت دی گئی اور آپ کی ابتدائی تعلیمات اس زمانہ کے عرب ماحول کی ضروریات سے زیادہ نہیں تھیں(٦) جبکہ گزشتہ بیان کی روشنی میں یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ اس مغربی مدعی کی بات میں کتنا دم ہے اور ہمیں اس کے بارے میں مزید گفتگو کی ضرورت نہیں ہے۔

______________________

(١)و ما ارسلناک الا کافةً للناس بشیراً و نذیراً ، سورۂ سبا، آیت ٣٨.

(٢)و ما هو الا ذکر للعالمین ، سورۂ قلم، آیت ٥٢.

(٣)ان هو الا ذکر و قران مبین لینذر من کان حیاً ، سورۂ یٰس، آیت ٧٠۔ ٦٩.

(٤)هو الذی ارسل رسوله بالهدیٰ ودین الحق لیظهره علی الدین کله ...، سورۂ توبہ، آیت ٣٣.

(٥)و ما ارسلناک الا رحمة للعالمین ، سورۂ انبیائ، آیت ١٠٧.

(٦)رجوع کیجئے: محاکمۂ گولت زیہر، یہودی، محمدغزالی مصری، صدر بلاغی کا ترجمہ (تہران، حسینیۂ ارشاد ١٣٦٣)، ص ٨٠۔ ٧٩ ۔


عالمی تبلیغ کا آغاز

اگر پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مکہ میں قیام کے دوران اور اس کے بعد ہجرت کے چند سال بعد تک، اسلام کو جزیرہ نمائے عرب سے باہر پھیلانے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ مشرکین مکہ، یہودیوں اور دوسرے دشمنان دین کی ریشہ دوانیوں نے آپ کو اس کا موقع ہی نہیں دیا تھا۔ لیکن جب صلح حدیبیہ کے بعد اسلام کے سامنے سے قریش کے تمام حملوں کے خطرات ٹل گئے اور آپ کو مدینہ میں نسبتاً سکون اور اطمینان حاصل ہوا تو آپ نے ذی الحجہ ٦ھ یا محرم ٧ھ میں اس دور کے اہم بادشاہوں کو خطوط لکھے جن میں ان کو اسلام کی طرف دعوت دی، پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایک دن کے اندر چھ خطوط اپنے چھ صحابیوں کے ذریعے اس دور کے شہنشاہان مملکت کے نام بھیجے جن کے نام یہ ہیں: نجاشی بادشاہ حبشہ، قیصر روم، خسرو پرویز بادشاہ ایران، مقوقص بادشاہ مصر، حارث بن شمر غسانی حاکم شام، حوضہ بن عدی بادشاہ یمامہ۔(١)

البتہ یہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عالمی تبلیغ کا آغاز تھا اور دنیا کے اہل اقتدار کی طرف آپ کے دعوت نامے صرف انھیں چھ خطوط میں محدود نہیں رہے بلکہ آپ نے اس کے بعد بھی اپنی وفات تک مختلف مواقع پر دنیا کے دوسرے علاقوں میں بھی اپنے سفیر بھیجے تھے(٢) جن میں خطوط کا مضمون تقریباً ایک جیسا ہی تھا اور سب کے سب بہت ہی سادہ، بے تکلف اور صریح عبارت میں لکھے گئے تھے البتہ دنیا کے شہنشاہان مملکت کا عکس العمل ان کے مقابلے میں یکساں نہیں تھا۔

______________________

(١)ابن سعد، طبقات الکبریٰ، ج ١، ص ٢٦٢۔ ٢٥٨.

(٢)علی احمدی میانجی، مکاتیب الرسول، ج١، ص٣١، ابن ہشام نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خطوط کودس عدد (سیرة النبویہ، ج ٤، ص ٢٥٤)، یعقوبی نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کل تبلیغی خطوط کی تعداد تیرہ عدد (تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٦٧۔ ٦٦) اور مسعودی نے کتاب التنبیہ و الاشراف میں (ص ٢٣٦۔ ٢٢٧) ان خطوط کی تعداد چھ بتائی ہے۔ اس زمانے کے ایک محقق نے آپ کے خطوط کی کل تعداد بیس بتائی ہے۔ (احمد صابری ہمدانی، محمد و زمامداران، (قم: دار العلم، ج٢، ص ١٣٤٦)


جنگ خیبر

خیبر چند قلعوں کے مجموعے کا نام تھا، جہاں کے لوگوں کا مشغلہ کھیتی باڑی کرنا اور مویشی پالناتھا، وہ علاقہ چونکہ بہت ہی زرخیز تھا لہٰذا اس کو حجاز کے غلّے(١) کا گودام کہا جاتا تھا۔ خیبریوں کی اقتصادی حالت بہت اچھی تھی جس کا پتہ اس غذا اور اسلحوں کے اس ذخیرے سے لگایا جاسکتا ہے جو مسلمانوں کے ہاتھوں ان قلعوں کی فتح کے بعد سامنے آیا تھا۔ یہ قلعے نظامی اعتبار سے مستحکم اور مضبوط بنے ہوئے تھے جن کے اندر موجود فوجیوں کی تعداد دس ہزار تھی(٢) اسی وجہ سے یہودی اپنے کو سب سے طاقتور سمجھتے تھے اور یہ تصور کرتے تھے کہ مسلمانوں کے اندر ان سے جنگ کرنے کی ہمت اور طاقت نہیں ہے۔(٣)

٦ھ میں سلام بن ابی الحقیق جو بنی نضیر کا ایک سردار تھا اور خیبر کے یہودیوں کی لیڈر شب اس کے ہاتھ میں آگئی تھی اس نے قبیلۂ غطفان اوردوسرے مشرک قبیلوں کو جمع کر کے مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کی خاطر بڑی فوج تیار کرلی اس کی ان فتنہ انگیزیوں کی وجہ سے مسلمانوں کے ہاتھوں اس کے قتل ہو جانے کے بعد خیبریوں نے اس کی جگہ اسیر ابن زارم٭ کو اپنا سردار چن لیا اس نے بھی اسلام دشمنی کی وجہ سے ان قبائل کو اسلام کے خلاف اکسایا۔(٤)

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے گزشتہ دشمنیوں اور جھگڑوں کو مصالحت کے ساتھ حل کرنے کے لئے عبد اللہ بن رواحہ کی سرپرستی میں ایک وفد اس کے پاس بھیجا تاکہ اس کو راضی کرسکے وہ جب عبد اللہ بن رواحہ اور

______________________

(١) واقدی ،المغازی، تحقیق مارسڈن جونس، ج٢، ص٦٣٤، سیرة النبویہ، ابن ہشام، ج٤، ص٣٦٠.

(٢) واقدی ،گزشتہ حوالہ، ص٧٠٣۔ ٣٦٧، یعقوبی نے ان کی تعداد بیس ہزار افراد لکھی ہے۔ (ج٢، ص٤٦.)

(٣) واقدی ،گزشتہ حوالہ، ص ٦٣٧۔

٭یسیرم بن رزام یا رازم بھی لکھا گیا ہے۔ (ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٤، ص٢٦٦.)

(٤)الکبریٰ ابن سعد، ج٢، ص٩٢۔ ٩١.


اپنے کچھ یہودی ساتھیوں کے ساتھ ایک وفد کی صورت میں مدینہ کی طرف آرہا تھا تو راستے میں اپنے اس فیصلے سے نادم ہوا اور اس نے سوچا کہ عبد اللہ کو قتل کردے، چنانچہ طرفین کی اس چھڑپ میں وہ اور اس کے ساتھی مارے گئے(١) اور اس طرح پیغمبر کی یہ مصالحت آمیز کوشش کارگر نہ ہوسکی۔

ان تمام سازشوں اور فتنوں کے علاوہ موجودہ دور کے ایک مورخ کے بقول اس وقت یہ خطرہ بھی پایا جاتا تھا کہ خیبر کے یہودی، مسلمانوںسے پرانی دشمنی کی بناپر اور بنی قینقاع، بنی نضیر اور بنی قریظہ کی شکست کا بدلہ لینے کے لئے ایران یا روم کے آلۂ کار بن سکتے ہیں اور ان کے اشارے پر مسلمانوں پر حملہکر سکتے ہیں۔(٢)

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جب صلح حدیبیہ کے بعد جنوبی علاقے کے خطرات کی طرف سے مطمئن ہوگئے تو آپ نے ٧ھ کے آغاز میں ١٤٠٠، افراد پر مشتمل، لشکر کے ساتھ(٣) ، یہودیوں کی گوش مالی کے لئے شمال کی طرف روانہ ہوئے اور اسلامی فوج کے لئے ایسے راستے کا انتخاب کیا جس سے غطفان جیسے طاقتور قبیلے کا رابطہ جس کا اس وقت خیبریوں سے معاہدہ تھا خیبریوں سے ٹوٹ گیا ، جس کے بعد ان کے درمیان ایک دوسرے کی امداد اور تعاون کا کوئی امکان باقی نہیں رہ گیا۔(٤) یہودیوں پر اچانک اور ان کی بے توجہی سے فائدہ اٹھا کر حملہ کرنے کی حکمت عملی کے نتیجہ میں راتوں رات قلعۂ خیبر اسلامی فوج کے محاصرے میں آگیا اور جب صبح ہوئی تو یہودیوں کے سردار اس خطرہ کی طرف متوجہ ہوئے۔

______________________

(١) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ،ج ٤، ص ٢٦٧۔ ٢٦٦.

(٢)محمد حسین ہیکل، حیات محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، (قاہرہ: مکتبہ النہضہ المصریہ، ط٨)، ص ٣٨٦.

(٣) واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٦٨٩، طبقات الکبریٰ محمد بن سعد، (بیروت: دار صادر) ج٢، ص ١٠٧، گزشتہ حوالہ، ابن ہشام، ج٤، ص ٣٦٤.

(٤)واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٦٣٩.


البتہ پھر بھی مسلمانوں اور خیبریوں کی یہ جنگ برابر کی لڑائی نہیں تھی کیونکہ وہ لوگ بہت ہی مضبوط و مستحکم اور مورچہ بند قلعوں کے اندر تھے اور انھوں نے قلعوں کے دروازے بند کر رکھے تھے اور میناروں کے اوپر سے تیر اندازی کر کے یا پتھر برسا کر اسلامی فوج کو قلعہ کی دیوار سے نزدیک نہیں ہونے دے رہے تھے چنانچہ ایک حملے میں اسلامی فوج کے پچاس سپاہی زخمی ہوگئے۔(١)

دوسری طرف سے ان کے پاس کافی مقدار میں خوراک کا ذخیرہ موجود تھا مگر اس محاصرہ کے طولانی ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے پاس خوراک کا ذخیرہ کم ہوگیاانجام کار نہایت دشواریوں اور زحمتوں کے بعد خیبر کے قلعے یکے بعد دیگرے مسلمانوں کے قبضہ میں آنے لگے لیکن آخری قلعہ جس کا نام قموص تھا اوراس کا سپہ سالار مرحب تھا جو یہودیوں کا مشہور پہلوان بھی تھا یہ قلعہ آخر تک کسی طرح فتح نہ ہوسکا اور اسلامی فوج کے سپاہی اس پر قبضے نہ کرسکے۔ ایک روز پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسلامی فوج کا پرچم حضرت ابوبکر اور دوسرے روزحضرت عمر کے حوالہ کیا اور فوج کو ان کے ساتھ یہ قلعہ فتح کرنے کے لئے روانہ کیا لیکن دونوں افراد کسی کامیابی اور فتح کے بغیر رسول خدا کے پاس واپس آگئے(٢) ۔ آپ نے یہ صورت حال دیکھ کر ارشاد فرمایا:

''کل میں یہ پرچم اس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوںخداوند عالم اس قلعہ کو فتح کرائے گا وہ ایسا شخص ہے جو خدا اور رسول کو دوست رکھتا ہے اور خدا اور اس کا رسول بھی اسے دوست رکھتے ہیں وہ کرار غیر فرار ہوگا'' اس رات پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تمام صحابہ کی یہی آرزو تھی کہ کل پیغمبر، اسلامی فوج کا پرچم اس کے حوالے کردیں جب سورج طلوع ہوا، پیغمبر نے فرمایا: علی کہاں ہیں؟ سب نے عرض کی کہ علی کو آشوب چشم ہے اور وہ آرام کر رہے ہیں ،پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی کو طلب کیا اور آپ کی آنکھوں کو

______________________

(١)وہی حوالہ ، ص ٦٤٦.

(٢)طبری، تاریخ الامم و الملوک (بیروت: دار القاموس الحدیث)، ج٣، ص ٩٣؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٤، ص ٣٤٩؛ ابن کثیر، البدایہ و النہایہ (بیروت: مکبتة المعارف، ط ٢، ١٩٧٧ع) ج٤، ص١٨٦.


اپنی کرامت سے شفا بخشی اور اس کے بعد اسلامی فوج کا علم ان کے حوالے کیا اور فرمایا :

ان کی طرف جاؤ اور جب ان کے قلعہ کے پاس پہنچنا تو پہلے انھیں اسلام کی دعوت دینا اور خدا کے احکام کی اطاعت کے بارے میں جو ان کا وظیفہ ہے وہ ان کو یاد دلانا، خدا کی قسم اگر پروردگار نے تمہارے ہاتھوں ان میں سے ایک شخص کو بھی ہدایت کر دی تو یہ تمہارے لئے اس سے کہیں بہتر ہے کہ تمہارے پاس سرخ بالوں ٭ والے بہت سے اونٹ ہوں۔(١)

______________________

٭ سرخ بالوں والے اونٹ سب سے زیادہ پسندیدہ اور قیمتی ہوتے تھے یہ مثال بہت زیادہ مال و دولت کی طرف اشارہ تھی ۔

(١)پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کا یہ کلام اور حضرت علی کی سر داری تھوڑے سے الفاظ اور تعبیرات کے اختلاف کے ساتھ مندرجہ ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہیں:

صحیح بخاری، تحقیق: الشیخ قاسم اشماعی الرفاعی (بیروت: دار القلم، ط١، ١٤٠٧ھ.ق)، ج٥؛ کتاب المغازی، باب ١٥٥، ص٢٤٥؛ صحیح مسلم، بشرح النوی (بیروت: دار الفکر، ١٤٠١ھ.ق)، ج١٥، ص١٧٧۔ ١٧٦؛ ابن سعد، طبقات الکبریٰ (بیروت: دار صادر)، ج٢، ص١١١۔ ١١٠؛ صدوق، کتاب الخصال (قم: منشورات جماعة المدرسین، ١٤٠٣ھ.ق)، ص٣١١ (باب الخمسة)؛ طبری، تاریخ الامم والملوک (بیروت: دار القاموس الحدیث)، ج٣، ص٩٣؛ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة (بیروت: مؤسسة الاعلمی للمطبوعات)، ج١، ص٤٧؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ (بیروت: دار صادر)، ج٢، ص ٢١٩؛ ابن عبد البر، الاسیتعاب فی معرفة الاصحاب، (در حاشیۂ الاصابہ)، ج٣، ص٣٦؛ حاکم نیشاپوری، المستدرک علی الصحیحین (بیروت: دار المعرفہ، ١٤٠٦ھ.ق)، ج٣، ص١٠٩؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٣، ص٣٤٩؛ ابن حجر ہیثمی مکی، الصواعق المحرقة، مکتبة القاہرہ، ١٣٨٥ھ.ق)، ص١٢١؛ واقدی، المغازی، ج٢، ص٦٣٥؛ ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٤٦؛ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، ج٤، ص١٨٦؛ حلبی، انسان العیون (السیرة الحلبیہ)، ج٢، ص٧٣٦۔ ٧٣٣؛ ابوجعفر محمد بن حسن طوسی، الامالی (قم: دار الثقافہ، ١٤١٤ھ.ق)، ص٣٨٠۔


حضرت علی ـ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم کے مطابق روانہ ہوئے اور ایک دلیرانہ جنگ میں مرحب کو قتل کیا اور بے نظیر و لاجواب شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مستحکم او رمضبوط قلعے کو فتح کرلیا۔ جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اس فتنہ اور فساد اور سازشوں کے اڈے یعنی خیبر کی فتح میں چند اسباب اور عوامل کارفرما تھے جن میں سے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بہترین سپہ سالاری اور جنگی حکمت عملی (جیسے دشمن کی غفلت سے فائدہ اٹھانا دشمن سے متعلق خبریں اور ان کے قلعوں کی اندرونی معلومات حاصل کرنا) اور بالآخر حضرت علی ـ کی بے نظیر شجاعت کا بھی اس میں کافی اہم کردار تھا۔ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی کی اس بہادری اور فداکاری کو اس انداز سے سراہا کہ اس دور کے ہر مسلمان بچے بچے کی زبان پر آپ کی بہادری کا کلمہ تھا اور اس کے مدتوں بعد تک آئندہ نسلوں کو بھی یہ واقعہ معلوم تھا اور اس دور کی تاریخ میں اسے اتنا عیاں اور روشن سمجھا جاتا تھا کہ معاویہ نے اپنی حکومت میں حضرت علی ـ پر سب و شتم کو عام کرنے کے باوجود جب ایک دن سعد وقاص سے کہا کہ تم علی پر سب و شتم کیوں نہیں کرتے ہو؟ تو اس نے کہا: میں یہ کام ہرگز نہیں کرسکتا ہوں، کیونکہ مجھے بخوبی یاد ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کی ایسی تین فضیلتیں بیان فرمائی ہیں کہ میری آرزو اور تمنا ہے کہ کاش ان میں سے صرف ایک ہی فضیلت میرے اندر بھی پائی جاتی۔

١۔ ایک جنگ (جنگ تبوک) میں جاتے وقت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کو مدینہ میں اپنا جانشین بنادیا تھا تو انھوں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہا تھا کہ آپ نے مجھے شہر میں بچوں اور عورتوں کے ساتھ چھوڑ دیا! پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: '' کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ تمہاری نسبت میرے ساتھ ویسی ہی ہو جو ہارون کو موسیٰ سے حاصل تھی (یعنی ان کی جانشینی اور خلافت) بس فرق اتنا سا ہے کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا''۔

٢۔ آپ نے جنگ خیبر میں فرمایا: کل میں پرچم اس شخص کے سپرد کروں گا جو خدا اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دوست رکھتا ہوگا اور خدا اور پیغمبر بھی اس سے محبت کرتے ہوں گے اس دن ہم سب کی یہی آرزو تھی کہ یہ مقام اور منصب ہمیں مل جائے۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: علی کو بلاؤ! ان کو بلایا گیا جبکہ ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں لگایا اور آپ کی آنکھیں فوراً ٹھیک ہوگئیں اور آپ نے فوج کا علم ان کے حوالے کیا اور خدا نے ان کے سرپر قلعہ ٔ قموص کی فتح کا سہرا باندھا۔


٣۔ جب مباہلہ سے متعلق قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی ''فقل تعالوا ندع ابنائنا و ابنائکم''(١) تو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی ، فاطمہ ، حسن اور حسین کو بلایا اور کہا: ''خدایا! یہ میرے اہل بیت ہیں''(٢)

حضرت علی ـ نے اس تاریخ ساز جنگ کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا : ''ہمیں جنگجوؤں، اسلحوں اور جنگی سازو سامان کے ایک پہاڑ (طوفان) سے مقابلہ کرنا پڑا، ان کے قلعہ نا قابل تسخیر اور ان کی تعداد بہت زیادہ تھی ان کے دلاور اور بہادر ہر روز قلعوں سے باہر آتے تھے، مبارز طلب کرتے تھے اور ہماری فوج کا جو شخص بھی میدان میں قدم رکھتا تھا مارا جاتا تھا جس وقت جنگ کی آگ بھڑک گئی اور دشمن نے مبارز طلب کیا ،ہمارے سپاہیوں کے ہاتھ پیر دہشت اور خوف کے مارے لرز نے لگے اور وہ ایک دوسرے کو عاجزانہ نگاہوں سے دیکھ رہے تھے سب نے مجھ سے آگے بڑھنے کے

______________________

(١)سورۂ آل عمران، آیت ٦١.

(٢)شرح صحیح مسلم، النووی، ج١٥، ص ١٧٦، سعد وقاص (قبیلۂ بنی زہرہ سے) جو کہ سابقین اسلام میں سے تھا اور ١٧ سال کی عمر میں (الطبقات الکبریٰ، ج٣، ص ١٣٩، یا ١٩ سال کی عمر میں (السیرة الحلبیہ، ج٩، ص ٤٣٤) مکہ میں دائرہ اسلام میں آگیا وہ جب مدینہ میں تھا تو اس کا شمار بڑے مہاجروں میں ہوتا تھا اور سیاسی طور پر حضرت علی کا رقیب اور عمر کے قتل ہو جانے کے بعد خلافت کی چھ رکنی کمیٹی کا ایک ممبر تھا۔ اور اس کمیٹی میں اس نے علی کو ووٹ نہیں دیا، (ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج١، ص١٨٨) عثمان کے قتل ہو جانے کے بعد حضرت علی لوگوں کے عظیم استقبال پر ظاہری طور پر خلافت و حکومت کی باگ ڈور سنبھالی اس وقت بہت ہی لوگ تھے جنھوں نے آپ کی بیعت نہیں کی ان میں یہ بھی ایک تھا۔ (مسعودی، مروج الذہب، ج٢، ص ٣٥٣؛ ابن اثیر ، الکافی فی التاریخ، ج٣، ص١٩١) لیکن ان تمام باتوں کے باوجود علی کی تین بڑی فضیلتوں کا معترف تھا۔


لئے کہا: پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی مجھ سے کہا کہ آگے بڑھو اور قلعہ پر حملہ کرو، میں نے قدم آگے بڑھایا اور ان کے جس پہلوان اور بہادر سے روبرو ہوا اس کو ہلاک کر ڈالا اور ان کے جس جنگجو نے میرا مقابلہ کرنا چاہا وہ زمین پر نظر آیا اور آخر کار وہ عقب نشینی پر مجبور ہوگئے ،اس کے بعد اس شیر کی طرح جو اپنے شکار کا پیچھا کر رہا ہو میں نے ان کا پیچھا کیا یہاں تک کہ انھوں نے قلعے میں پناہ لے لی اور اس کے دروازے کو بند کر لیا، میں نے قلعہ کے دروازے کو اکھاڑ پھینکا اور تنہا قلعہ میں داخل ہوگیا اس موقع پر خداوند عالم کے علاوہ میرا اور کوئی معاون و مددگار نہیں تھا۔(١)

آخری قلعہ فتح ہونے کے بعد خیبریوں نے اپنی شکست تسلیم کرلی اور ہتھیار ڈال دئے اور جنگ تمام ہوگئی ۔ مورخین کے مطابق یہودیوں کے ٩٣ آدمی(٢) مارے گئے اور شہداء اسلام کی تعداد ٢٨ تھی۔(٣)

یہودیوں کا انجام

جب خیبر کے یہودیوں نے اپنی شکست تسلیم کرلی تو انھوں نے اس بات کو دلیل بنا کر کہ وہ لوگ کھیتی باڑی کے ماہر ہیں، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے یہ خواہش کی کہ وہ لوگ اپنے اس علاقہ میں اسی طرح باقی رہیں اور کھیتی باڑی کرتے رہیں۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کی اس درخواست کو قبول فرما لیا لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ ہر سال اپنی کھیتی باڑی اورغلہ کی آمدنی کا آدھا حصہ اسلامی حکومت کو ادا کریں گے(٤) اور جس وقت بھی

______________________

(١)صدوق، الخصال، ص ٣٦٩، باب السبعہ.

(٢)بحار الانوار، مجلسی، ج٢١، ص٣٢.

(٣)تاریخ پیامبر اسلام: محمد ابراہیم آیتی، (تہران: ناشر دانشگاہ تہران، چ ٣، ١٣٦١) ص ٤٧٥۔ ٤٧٣.

(٤) واقدی، المغازی، ج ٢، ص ٦٩٠، معجم البلدان، یاقوت حموی، ج٢، ص ٤١٠ (لغت خیبر.)


آنحضرت کہیں ان لوگوں کواس ملک سے باہر جانا ہوگا.(١) یہ معاہدہ حضرت عمر کی خلافت کے زمانہ تک اسی طرح باقی رہا مگر خلیفۂ دوم کے دور حکومت میں ان لوگوں نے مسلمانوں کے خلاف پھر شورش کرنا چاہی تو حضرت عمر نے ان کو شام کی طرف جلاوطن کردیا۔(٢)

فدک

اہل خیبر کی شکست کے بعد، فدک کے یہودی کسی مقابلہ کے بغیر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے تسلیم ہوگئے اور خیبریوں کے معاہدے کی طرح، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایک معاہدہ کیا اور چونکہ فدک کسی جنگ کے بغیر فتح ہوا تھا لہٰذا اس کی آدھی آمدنی ''خالصہ'' یعنی رسول خدا کی ذاتی ملکیت قرار پائی۔(٣)

______________________

(١) ابن ہشام،السیرة النبویہ، ج ٣، ص ٣٥٢.

(٢) یاقوت حموی،گزشتہ حوالہ، ص ٤١٠، فتوح البلدان (بیروت: ١٣٩٨) ص ٣٧۔ ٣٦.

(٣) بلاذری، گزشتہ حوالہ،ص ٤٢، گزشتہ حوالہ، ابن ہشام، ج ٢، ص ٣٥٢، الکامل فی التاریخ ، ابن اثیر، ج٢، ص ٢٢٤، گزشتہ حوالہ واقدی، ج ٢، ص٧٠٧، گزشتہ حوالہ، یاقوت حموی، ج ٤، ص ٢٣٨ (لغت فدک): الاموال، ابو عبید قاسم بن سلام: تحقیق محمد خلیل ہراس (بیروت: دار الفکر، ط ٢، ١٣٩٥ھ ص ١٦.


دوسری فصل

اسلام کا پھیلاؤ

جنگ موتہ

جیسا کہ گزر چکا ہے کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے صلح حدیبیہ کے بعد اپنی عالمی رسالت کا آغاز کیا اور دنیا کے شہنشاہان مملکت کو اسلام کی طرف دعوت دی اس زمانے کے ملکوں میں روم اور ایران جیسی بڑی حکومتیں سپر پاور سمجھی جاتی تھیں، قیصر روم تک پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نبوت کے بارے میں خبریں پہنچی تھیں جس کی بنا پر وہ اسلام قبول کرنے کی طرف مائل تھا لیکن جب اس نے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو اسے عیسائیوں اور روم کی فوج کی بہت سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جس کی بنا پر اسے مجبوراً اپنے فیصلہ کو تبدیل کرنا پڑا،(١) اس سے صاف واضح ہے کہ ان کے دوسرے امراء اور عہدے دار اسلام کے بارے میں معاندانہ رویہ رکھتے تھے۔ اس زاویہ نگاہ سے جنگ موتہ کی ابتدا کی صحیح علت تلاش کی جاسکتی ہے!! پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے جزیرۂ نمائے عرب سے باہر اپنی دعوت اور تبلیغ کو عام کرنے کے لئے ٨ھ میں حارث بن عمیرازدی کو یہ خط دے کر بُصریٰ ''شام'' کے بادشاہ کے پاس بھیجا۔(٢)

______________________

(١)زینی دحلان، السیرة النبویہ و الآثار المحمدیہ (بیروت : دار المعرفہ ، ط٢) ج٢، ص ١٧٠۔ ١٧١؛ حلبی، السیرة الحلبیة (انسان العیون) ، (بیروت،: دار المعرفة)، ج٣، ص ٢٨٩۔ ٢٩٠.

(٢) حلبی لکھتا ہے کہ یہ خط، روم کے بادشاہ ہرقل کے نام تھا جو اس وقت شام میں رہتا تھا، سیرة الحلبیہ، ج٢، ص ٧٨٦.


شرخبیل بن عمروغسانی جو اس وقت قیصر روم کی طرف سے شام کا گورنر تھا(١) اس نے رسول خدا کے سفیر کو قید کرلیا اوران سے ان کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھ تاچھ کرنے کے بعد ''موتہ'' نامی گاؤں میں انھیں قتل کر ڈالا، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے یہ حادثہ تلخ اور ناگوار تھا اور آپ اس سے بہت غمزدہ اور متأثر ہوئے۔(٢)

اگرچہ ایک آدمی کے قتل ہو جانے سے کوئی جنگ نہیں چھڑتی ہے لیکن اس دور میں سفرائے ملت کو جو اہمیت اور حقوق حاصل تھے ان کے مطابق اور دوسرے اخلاقی اصولوں کے برخلاف پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سفیر کا قتل در حقیقت آپ کے لئے ایک طرح کی نظامی اور فوجی دھمکی تھی اور شام کے گورنر کی طرف سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مسالمت آمیز دینی دعوت کے مقابلے میں اپنی قدرت کا اظہار تھا اسی وجہ سے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس علاقہ میں ایک فوج روانہ کرنے کا ارادہ کیا آپ کے اس اقدام کو اسلام کا پیغام عزت اوردشمن کے مقابل اپنی نظامی قوت کے اظہار کا نام بھی دیا جاسکتا ہے۔ اس بنیاد پر رسول خدا نے ٣ ہزار سپاہیوں پر مشتمل ایک لشکرسرزمین موتہ کی طرف روانہ کیا جس کی سپہ سالاری بالترتیب جناب جعفر بن ابوطالب(٣) ؛ زیدبن حارثہ اور عبد اللہ بن رواحہ کے حوالے کی۔ یعنی اگر ان میں سے کوئی ایک شخص

______________________

(١)وہی حوالہ ، ج٢، ص ٧٨٦.

(٢)واقدی، المغازی، تحقیق مارسڈن جونس (بیروت: مؤسسة الاعلمی للمطبوعات) ج٢، ص ٧٥٥، طبقات الکبریٰ، ابن سعد، بیروت: دار احیائ، ج٢، ص ١٢٨.

(٣)جعفر بن ابی طالب، حبشہ میں برسوں سکونت کے بعد ٧ھ میں مدینہ پلٹ کر آئے اور فتح خیبر کے بعد اسی علاقہ میں پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی خدمت میں شرفیاب ہوئے اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ (ابن سعد، الطبقات الکبری، (بیروت: دار صادر)، ج٤، ص٣٥؛ ابن اثیر، اسد الغابہ (تہران: المکتبة الاسلامیہ، ١٣٣٦ش)،ج١، ص ٢٨٧؛ ابن عبد البر، الاستیعاب، (حاشیہ اصابہ میں)، ج ١، ص ٢١٠؛ ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، تحقق سید احمد صفر (قم: منشوراتالشریف الرضی، ١٤١٦ھ)، ص٣٠؛ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، (بیروت: مکتبة المعارف) ، ج٤، ص٢٠٦.)


شہید ہو جائے تو دوسرا شخص اس کے بعد فوج کا سپہ سالار ہوگا۔(١)

موتہ نامی ایک دیہات کے کنارے اسلامی فوج کا سامنا روم کی فوج سے ہوا جس کے فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ تھی۔ تینوں سپہ سالاروں نے ترتیب واراسلامی فوج کا پرچم اپنے ہاتھوں میں بلند کرتے ہوئے جنگ کی اور منزل شہادت پر فائز ہو گئے اس کے بعد اسلامی فوج کے سپاہیوں نے خالد بن ولید کو اپنا سپہ سالار منتخب کیا اس نے مختلف طریقوں سے پہلے تو دشمن کو مرعوب کیا اور اس کے بعد عقب نشینی کا حکم دیدیا اور اسلامی فوج کو مدینہ واپس لے آیا۔(٢)

واقدی نے... اس جنگ کے شہداء کی تعدادآٹھ(٣) اور ابن ہشام نے بارہ(٤) ذکر کی ہے اور

______________________

(١)طبرسی، اعلام الوریٰ بأعلام الہدیٰ (دار الکتب الاسلامیہ)، ط٣، ص ١٠٧۔ مشہور یہ ہے کہ اس لشکر کی سپہ سا لاری میں جناب زید جناب جعفر پر مقدم تھے لیکن کچھ شیعہ روایات (جیسا کہ طبرسی نے نقل کیا ہے) جناب جعفر کے مقدم ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور قرائن و شواہد بھی اسی کی تائید کرتے ہیں۔ (جعفر سبحانی، فروغ ابدیت (قم: مرکز انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی، ١٣٦٨، ط٥، ج٢، ص ٢٩٣۔ ٢٩١۔) محمد بن سعد کی ایک روایت بھی اسی مضمون کی تائید کرتی ہے۔ (الطبقات الکبریٰ، ج٢، ص١٣٠) مزید اطلاع کے لئے مجموعۂ مقالات ''دراسات و بحوث فی التاریخ و الاسلام''، جعفر مرتضی، ج١، ص٢١٠ کے بعد، مراجعہ کریں۔

(٢)ابن ہشام، السیرة النبویہ (قاہرہ: مطبعة مصطفی البابی الحلبی، ١٣٥٥ھ ) ج٤، ص٢١۔ ١٩؛ محمد بن جریر طبری، تاریخ الامم و الملوک (بیروت: دار القاموس الحدیث)، ج٣، ص١١٠۔ ١٠٧؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٥٦٩۔ ٧٥٥؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٣٠۔ ١٢٨؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٧٩٣۔ ٧٨٧؛ طبرسی، اعلام الوریٰ، ص ١٠٤۔ ١٠٢؛ زینی دحلان، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٧٢۔ ٦٨؛ مجلسی، بحار الانوار (تہران: دار الکتب الاسلامیہ، ١٣٨٤ھ)، ج٢١، ص ٦٣۔ ٥٠؛ طوسی، الامالی (قم: دار الثقافہ، ط١، ١٤١٤ھ)، ص ١٤١۔

(٣)المغازی، ج٢، ص ٧٦٩.

(٤) السیرة النبویہ، ج٤، ص ٣٠.


بعض جدید کتابوں میں ان کی تعداد سترہ (١٧)(١) ذکر کی گئی ہے آج بھی ان شہداء کی قبریں، شہر موتہ(٢) کے نزدیک موجود ہیں اور تینوں سپہ سالاروں کی قبروں کے اوپر بہترین گنبد موجود ہیں اور جناب جعفر کی قبر کے نزدیک ایک خوبصورت مسجد بھی موجود ہے۔(٣)

فتح مکہ

جیسا کہ گزر چکا صلح حدیبیہ کے معاہدے کی ایک شق دس سال تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان جنگ بندی تھی، اس کی بنا پر پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کو قریش کی شرارتوں اور ان کے فوجی حملوں کی طرف سے سکون اور اطمینان حاصل ہوگیا تھا۔ اسی کے بعد آپ نے بہت بلند اقدامات کئے اور مختلف علاقوں میں تبلیغ کے لئے متعدد لوگوں کو بھیجا اور اپنی عالمی رسالت کا باقاعدہ آغاز کیا۔ مدینہ کے اطراف میں بہت سے دشمن قبائل کو غیر مسلح کردیایاان سے صلح اوردوستی کا معاہدہ کیا اور خیبر جو تمام فتنوں کا اڈہ اور مرکز تھا وہ تو آپ کے ہاتھ پہلے ہی فتح ہو چکا تھا۔

قریش کی عہد شکنی

صلح حدیبیہ کے معاہدے کے دو سال بعد قریش نے اس معاہدے کو توڑ دیا کیونکہ اس صلح نامہ کی چوتھی شق کے مطابق ہر قبیلہ کو یہ اختیار تھا کہ وہ یا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ معاہدہ کرلے یا قریش کے ساتھ دوستی

______________________

(١) محمد ابراہیم آیتی، تاریخ پیامبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (تہران: ناشر : تہران یونیورسٹی ، ١٣٦١)، ص ٥٠١.

(٢) یہ شہر ملک اردن کے جنوبی صوبہ کرک میں ہے جو کہ شہر امان ( اردن کا دار الحکومت) سے ١٣٥ کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے.

(٣) جعفر سبحانی، ملک اردن کے سفر کی رپورٹ (موتہ: ایک یادگاری جگہ ہے) مجلہ ٔ درسہائی از مکتب اسلام، سال ٣٨ شمارہ ٧ ، ماہ مہر ١٣٧٧.


کرلے۔ اسی دوران قبیلۂ خزاعہ نے مسلمانوں کے ساتھ اور قبیلۂ بنو بکر (بنی کنانہ) نے قریش کے ساتھ اتحاد کرلیا۔(١) ٨ ہجر ی، میں قبیلہ بنی بکر نے، قبیلۂ خزاعہ پر حملہ کردیا ،اس حملہ میں قریش نے فوجی سازو سامان اور لاؤ لشکر کے ساتھ بنی بکر کا تعاون کیا اورکچھ خزاعیوں کو قتل کرڈالا۔ جس کی بنا پر حدیبیہ کا معاہدہ ٹوٹ گیا۔(٢) اس کی وجہ سے قبیلۂ خزاعہ کے سردار نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مدد طلب کی۔ حضرت نے عمومی تعاون کا اعلان کردیا(٣) اور یہ ارادہ کیا کہ مکہ پر حملہ کردیا جائے مگر اس حملہ کی اطلاع قریش کو نہ ہونے پائے اور دشمن کو اس بات کا پتہ نہ چلے اور مکہ کسی طرح کی خونریزی اور جنگ کے بغیر مسلمانوں کے قبضہ میں آجائے،آپ نے اپنے مقصد کو پوشیدہ رکھا(٤) اور یہ حکم دیا کہ مکہ کے راستہ کو زیر نظر رکھا جائے(٥) اور خدا سے دعا کی کہ قریش کو آپ کے اس اقدام سے بے خبررکھے۔(٦) پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تمام قوت و طاقت کو جمع کر کے دس ہزار(٧) کا لشکر لیکر مکہ کی طرف روانہ

______________________

(١)ظہور اسلام سے قبل ان دو قبیلوں کے درمیان دشمنی اور خون خرابہ ہوتا رہتا تھا۔ (السیرة النبویہ، ابن ہشام، ج٤، ص ٣١) اسی زمانہ سے خزاعہ نے عبد المطلب کے ساتھ عہد باندھاتھا۔ (المغازی، واقدی، ج٢، ص ٧٨١.)

(٢) السیرة النبویہ، ابن ہشام، ج١، ص ٣٣، المغازی واقدی، ج٢، ص٧٨٣، تاریخ یعقوبی، ابن واضح (نجف، المکتبة الحیدریہ، ١٣٨٤ھ.ق) ابن ہشام کہتا ہے: ''اس حملہ میں ایک شخص قبیلۂ خزاعہ کا مارا گیا''(ج٤، ص ٣٣) لیکن واقدی اور ابن سعد نے مارے جانے والوں کی تعداد ٢٠ عدد لکھی ہے (المغازی، ج٢، ص ٧٨٤، طبقات الکبریٰ، ج٢، ص ١٣٤.)

(٣) واقدی، گزشتہ حوالہ،ج٢، ص ٨٠٠۔ ٧٩٩، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٣٥.

(٤)واقدی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٨٠٢۔ ٧٩٦؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٣٤.

(٥)واقدی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص٧٩٦ ۔ ٧٨٦؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٣٤.

(٦) ابن ہشام ، گزشتہ حوالہ، ج٤؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٣٤؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ٤٧.

(٧) ابن ہشام ، گزشتہ حوالہ، ج٤، ص ٤٢۔ ٤٣؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٣٥؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٨٠١.


ہوگئے آپ کی یہ تدبیر کارگر ثابت ہوئی اور جب تک اسلامی فوج نے مکہ کے دروازہ کے سامنے (مرّ الظہران کے مقام پر) پڑاؤ نہ ڈال دیا قریش کے جاسوس اس سے باخبر تک نہ ہوسکے۔

جناب عباس، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا اس وقت تک مکے میں موجود تھے اور جب اسلامی لشکر مکہ کی طرف آرہا تھا تو یہ مدینے کی طرف جارہے تھے، جحفہ کی منزل پر وہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہونچے اور مسلمانوں کے ساتھ مکہ واپس پلٹ آئے۔ اسلامی لشکر نے مکہ کے باہر جو پڑاؤ ڈال رکھا تھا اس کی آخری شب میں شہر سے باہر ابو سفیان سے آپ کا سامنا ہوا آپ اس کو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں لائے(١) ابوسفیان اسلامی لشکر کی عظمت اور کثرت کو دیکھ کر مبہوت رہ گیا رسول خدا نے اس کو معاف فرما دیا اور جناب عباس کی اس درخواست کے مطابق کہ جو شخص بھی مسجد الحرام میں پناہ لے لے یا اپنے گھر میں بیٹھا رہے یا ابوسفیان کے گھر میں پناہ لے لے، وہ امان میں ہے۔

اسلامی لشکر کے مکہ میں داخل ہونے سے پہلے ابوسفیان نے رسول خدا کی طرف سے جاری امان نامے کی اطلاع اہل مکہ کو دیدی اس تدبیر کی وجہ سے آپ کو کسی طرح کے خون خرابے کی نوبت نہیں ائی اوراہل شہر کی طرف سے کسی قسم کی مزاحمت اور مقابلہ کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور مکہ آسانی کے ساتھ فتح ہوگیا، شہر کے صرف ایک حصہ میں جہاں کچھ ہٹ دھرم قسم کے قریش رہتے تھے انھوں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مقابلہ کرنا چاہا جن میں سے کچھ لوگ مارے گئے۔(٢)

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مکہ میں داخل ہونے کے بعد اونٹ پر سوار ہوکر خانہ کعبہ کا طواف کیا اور اس دوران آپ کے ہاتھ میں جو عصا تھا اس کے ذریعہ کعبہ کے چاروں طرف رکھے ہوئے بتوں کو گراتے رہے اور فرماتے رہے: (حق آگیا اور باطل چلا گیا بیشک باطل، تو نابود ہونے والا ہے)۔(٣)

______________________

(١) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٤٢، ٤٤، ٤٦؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٨١٩۔ ٨١٧.

(٢)١٥ سے ٢٨ افراد ۔ (ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٥٠؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٨٢٥؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٣٦.)

(٣)(جاء الحق و زهق الباطل ان الباطل کان زهوقاً )، سورۂ اسرائ، آیت ٨١.


اور اس کے بعد جیسا کہ مورخین اور محدثین کے درمیان مشہور ہے حضرت علی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم سے آپ کی دوش مبارک پر چڑھے اور وہ بڑا بت جو کعبہ کے اوپر تھا اس کو نیچے گرادیا اور وہ زمین پر گرتے ہی چکنا چور ہوگیا۔(١)

علامہ امینی نے اس واقعہ کو اہل سنت کے ٤١ محدثین سے نقل کیا ہے (الغدیر، ج٧، ص ١٢١، تذکرة الخواص، اور بحار اور دوسری کتابوں میں منقول کچھ روایات کے مطابق) یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کسی سال میں رونما ہوا ہے اور شب میں قریش کی نظروں سے دور انجام پایا ہے اور اس بات کا احتمال پایا جاتا ہے کہ واقعہ دو طرح سے رونما ہوا ہے۔ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے شانے پر علی کے سوار ہونے کا واقعہ قدیم زمانے سے متعدد شعراء کے اشعار میں بیان ہوا ہے ان میں سے ابن العرندس حلی نویں صدی ہجری کے شاعر نے ایک بہترین قصیدہ کے ضمن میں کہا ہے: و صعود غارب احمد فضل لہ دون القربة و الصحابہ افضلا (الغدیر، ج٧، ص ٨) یعنی علی کا احمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شانے پر سوار ہونا ایک ایسی بڑی فضیلت ہے اور ان کے لئے یہ فضیلت قرابتداری اور صحابی ہونے کے علاوہ ہے۔ اسی طرح ابن ابی الحدید نے اپنے ''سبع علویات'' قصائد میں سے ایک قصیدے میں جو کہ فتح مکہ کے موقع کا ہے، کہا ہے کہ:

رغبت بأسمیٰ غارب احدقت به

ملائک یتلون الکتاب المسطرا

بغارب خیر المرسلین و اشرف الأ

نام و ازکیٰ فاعل و طیء الثّریٰ

''قرآن کی تلاوت کرنے والے ملائکہ جس بلندترین دوش مبارک کا احاطہ کئے ہوئے تھے اس پر آپ سوار ہوئے ، جو اس دنیا میں سب سے بہترین ذات گرامی رسولوں میں سب سے بہتر لوگوں میں سب سے زیادہ باعظمت اور مقدس جس نے اس زمین پر قدم رکھا ''(دکتر محمد ابراہیم آیتی بیرجندی، تاریخ پیامبر اسلام، انتشارات دانشگاہ تہران، ص ٥٣٠۔ ٥٢٩).

______________________

(١) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٤، ص ٥٩؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٨٣٢؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٣٦؛ اسی طرح رجوع کریں، طوسی، امالی (قم: دار الثقافہ، ١٤١٤ھ)، ص ٣٣٦؛ حلبی، السیرة الحلبیہ (بیروت: دارالمعرفہ)، ج٣، ص ٣٠؛ زینی دحلان، السیرة النبویہ و الآثار المحمدیہ (بیروت: دار المعرفہ، ط١، ١٤١٦ھ)، ج١، ص ٣٢٢؛ علی بن موسی بن طاووس، الطرائف فی معرفة مذاہب الطوائف (قم: مطبعة الخیام)، ج١، ص٨١۔ ٨٠؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب (قم: المطبعة العلمیہ)، ج٢، ص ١٣٦۔ ١٣٥؛ جار اللہ زمخشری، تفسیر کشاف، مکتبہ مصطفی البابی الحلبی، ج٢، ص ٢٤٤.


امام جعفر صادق سے منقول روایت کے مطابق حضرت علی نے جس بت کو توڑا تھا اس کانام ''ہبل'' تھا جس کو پیغمبر کے حکم سے باب بنی شیبہ میںدفن کردیا جو مسجد الحرام کا ایک دروازہ ہے تاکہ لوگ مسجد الحرام میں داخل ہوتے وقت اس کے اوپر سے گزر کر جائیں اور اسی بنا پر اس دروازے سے مسجد الحرام میں داخل ہونا مستحب قرار پایا ہے۔(١)

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی طرف سے عام معافی کا اعلان

اگر چہ قریش اور مشرکین مکہ نے آغاز اسلام سے لیکر اب تک مسلمانوں کی دشمنی، مخالفت اور ان پر دباؤ اور ظلم اور تشدد میں کسی قسم کی فروگزاشت نہیں کی تھی اور اس دن پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس ہر قسم کا انتقام لینے کی قوت اور طاقت تھی اس کے باوجود آپ نے چند لوگوں کے علاوہ کہ جنھوں نے کچھ زیادہ ہی بڑے جرائم کا ارتکاب کیا تھا،(٢) بقیہ سب لوگوں کو عام معافی دینے کا اعلان کر دیا اور فرمایا :

میں اپنے بھائی یوسف کی بات ہی کہوں گا کہ آج تمہارے اوپر کوئی سرزنش نہیں ہے خدا تمہیں معاف کرے اور وہ ارحم الراحمین، سب سے زیادہ مہربان ہے(٣) جاؤ تم لوگ جاؤ، تم لوگ آزاد شدہ ہو۔(٤)

______________________

(١)حر عاملی، وسایل الشیعہ (بیروت: دار احیاء التراث الاسلامی)، ج ٩، ص ٣٢٣، ابواب مقدمات الطواف، باب استحباب دخول المسجد الحرام من باب بنی شیبہ، حدیث ١.

(٢)مورخین نے ان کی تعداد آٹھ سے دس تک لکھی ہے (السیرة النبویہ، ابن ہشام، ج ٤، ص ٥٣ ۔ ٥١؛ المغازی

واقدی، ج٢، ص ٨٢٥، طبقات الکبریٰ ابن سعد، ج٢، ص ١٣٦، البتہ ان میں سے کچھ لوگوں کو معاف کردیا گیا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا۔

(٣)''لاتثریب علیکم الیوم یغفر اللّٰه لکم و هو ارحم الراحمین ''سورۂ یوسف ، آیت ٩٢.

(٤) حلبی، السیرة الحلبیہ (انسان العیون)، ج٣، ص ٤٩؛ زینی دحلان، السیرة النبویہ و الآثار المحمدیہ، ج٢، ص ٩٨.


قریش جو ذلت کے ساتھ تسلیم ہوئے تھے اور انھیں حضرت کی طرف سے سخت انتقامی کاروائی کا خدشہ تھا آپ کی اس شرافتمندانہ اور کریمانہ عفو و بخشش سے بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ رسول خدا نے خانۂ کعبہ کے پاس لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

خداوند عالم نے اول تخلیق سے مکہ کو محترم اور مقدس قرار دیا ہے یہ شہر روز قیامت تک حرم اور مقدس سرزمین ہے کسی مسلمان کو حق نہیں ہے کہ اس سرزمین پر خون ریزی کرے اس کا درخت کاٹے، اس شہر کی حرمت مجھ سے پہلے کسی شخص پر حلال نہیں ہوئی اور نہ میرے بعد کسی پر حلال ہوگی اور میرے لئے بھی صرف اسی وقت (یہاں کے لوگوں پر غصہ کی وجہ سے) حلال ہوئی ہے اور اس کے بعد اس کی وہی صورت حال رہے گی یہ بات حاضرین، غائبین تک پہونچادیں۔(١)

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے فتح مکہ کے بعد وہاں کی مسلمان عورتوں سے یہ عہد لیاکہ کسی کو خدا کا شریک نہ بنائیں، چوری نہ کریں، زنا نہ کریں، اپنے بچوں کو قتل نہ کریں، اپنے ناجائز بچوں کو بہتان اور حیلے کے ذریعہ اپنے شوہروں کے سر نہ تھوپیں اور نیک کاموں میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نافرمانی نہ کریں۔(٢)

بعض شہرت یافتہ لوگوں نے جو بعد میں بہت ہی مشہور ہوئے اور کسی عہدے یا مقام تک

______________________

(١)ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٤، ص ٥٨؛ ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ٥٠؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ج ٢، ص ٨٤٤؛ الفاظ کے کچھ اختلاف کے ساتھ۔

(٢) سید محمد حسین طباطبائی، المیزان فی تفسیر القرآن، ج١٩، ص ٢٤٦۔ یہ عہدنامہ سورۂ ممتحنہ کی آیت نمبر ١٠ ''یا ایہا النبی اذا جاء ک المؤمنات یبایعنک علی ان لا یشرکن باللّٰہ شیئاً و لایسرقن و لایزنین و لایقتلن اولادہن و لایأتین ببھتان یفترینہ بین أیدیہن و أرجلہن و لایعصینک فی معروف فبایعہن و استغفر لہن اللّٰہ ان اللّٰہ غفور رحیم'' کے نازل ہونے کے بعد انجام پایا، اس کو بیعة النساء بھی کہا جاتا ہے۔


پہونچے انھوں نے بھی فتح مکہ میں اسلام کا اظہار کیا ، جس میں ابوسفیان(١) اور اس کا بیٹا معاویہ(٢) بھی شامل تھا۔

فتح مکہ سے پہلے مسلمانوں کے سخت اور دشوار گزار حالات کی بنا پر اور فتح مکہ کے بعد اس کی جگہ، امن و سکون اور اطمینان کا ماحول پیدا ہو جانے کی وجہ سے پروردگار عالم نے فتح مکہ سے پہلے مسلمان ہو جانے والے افراد کو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہونے والے لوگوں سے بہتر اور با عظمت قرار دیا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ ''تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم راہ خدا میں انفاق نہیں کرتے ہو جب کہ آسمان اور زمین کی میراث کا تعلق خدا سے ہے جن لوگوں نے فتح مکہ سے پہلے انفاق اور جہاد کیا ان کا درجہ یقینا ان لوگوں سے زیادہ افضل ہے جنھوں نے بعد میں انفاق اورقتال کیا ہے خدا کا ہر وعدہ نیک ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو پروردگار اس سے بخوبی واقف ہے۔(٣)

فتح مکہ کے آثار اور نتائج

چونکہ مکہ مشرکین بلکہ اسلام مخالف تمام طاقتوں کا سب سے اہم اڈا اور سب سے مضبوط قلعہ اور مورچہ تھا اور مخالفین اسلام کی اصل حمایت اور پشت پناہی یہیں سے ہوتی تھی اور اسی کی بنا پر ان کے حوصلے بلند رہتے تھے۔ اس بنا پر اس شہر کی پسپائی اور اس شہر پر مسلمانوں کا قبضہ تاریخ اسلام میں ایک اہم

______________________

(١)ابن سعد، طبقات الکبریٰ، ج ٢، ص ١٣٥؛ ابن اثیر ، اسد الغابہ (تہران: المکتبة الاسلامیہ، ١٣٣٦)، ج٤، ص ٣٨٥ و ج٥، ص ٢١٦؛ ابن عبد البر، الاستیعاب (در حاشیہ الاصابة) ج٢، ص ٨٥.

(٢) ابن اثیر، گزشتہ حوالہ، ج٤، ص ٣٨٥؛ زینی دحلان، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ٩٦.

(٣)''وما لکم ان لا تنفقوا فی سبیل اللّٰه و لله میراث السمٰوات والارض لایستو منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل اولٰئک اعظم درجة من الذین انفقوا من بعد وقاتلوا وکلًّا و عد اللّٰه الحسنی واللّٰه بما تعملون خبیر'' سورۂ حدید ، آیت ١٠.


باب ہے جس کے بعد یہ بالکل مسلم ہوگیا کہ اب یہاں بت پرستی کا کوئی وجود باقی نہیں رہ سکتا۔ دوسری طرف عرب کے دوسرے قبیلے بھی فتح مکہ اور قریش جیسے بڑے قبیلے کے اسلام لانے کے منتظر تھے اورجس وقت مکہ فتح ہوا اور قریش مسلمان ہوگئے تو ہر طرف سے تمام قبائل کے نمائندے یکے بعد دیگرے دائرۂ اسلام میں داخل ہوگئے(١) صرف دو قبیلوں ،ہوازن اور ثقیف کے علاوہ تمام عرب قبائل نے اسلام کے مقابلے میں اطاعت کا اظہار کیا،(٢) جن میں مندرجہ ذیل قبیلوں کے نمائندے شامل تھے:

قشیر بن کعب،(٣) باھلہ،(٤) ثعلبیہ،(٥) صُدا،( ٦) بنی اسد،(٧) بلّی،(٨) عذرة،(٩) ثمالہ،(١٠) اور حدّان(١١) ، ان سب نمائندوں نے پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی خدمت میں پہنچ کر آپ کی اطاعت کا اعلان کردیا۔

______________________

(١) شہاب الدین احمد نویری، نہایة الارب فی فنون الادب، ترجمۂ محمود مہدی دامغانی، (تہران: امیر کبیر، ١٣٦٥) ج ٣، ص ١١.

(٢)حلبی، السیرة الحلبیہ (بیروت: دار المعرفہ)، ج ٣، ص ٦١.

(٣)ابن سعد، طبقات الکبریٰ (بیروت: دار صادر)، ج١، ص ٣٠٣.

(٤)گزشتہ حوالہ، ص ٣٠٧.

(٥)گزشتہ حوالہ، ص ٢٩٨؛ نویری، گزشتہ حوالہ، ص ٣٧.

(٦)ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ٣٢٦.

(٧)ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ٢٩٢؛ نویری، گزشتہ حوالہ، ٣٨.

(٨)ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ٣٣٠؛ نویری، گزشتہ حوالہ، ٨٩.

(٩)ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص٣٣١ ؛ نویری، گزشتہ حوالہ، ٨٣.

(١٠)ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ٣٥٢؛ نویری، گزشتہ حوالہ، ١٠٣.

(١١)ابن سعد، گزشتہ حوالہ.


جنگ حنین (ھوازن) اور جنگ طائف کے بعد جو فتح مکہ کے بعدہوئیں ، قبیلۂ ثقیف، جس کی حیثیت طائف میں وہی تھی جو مکہ میں قبیلۂ قریش کو حاصل تھی اس طاقتور قبیلے کے نمائندے بھی رسول اللہ کی خدمت میں پہونچے اور اسلام قبول کرنے کے لئے آپ کے سامنے کچھ شرائط رکھے لیکن آپ نے ان میں سے کوئی ایک شرط بھی قبول نہیں کی جس کے بعد وہ لوگ کسی شرط کے بغیر اسلام لے آئے(١) جو اسلام کی پیش رفت کے لئے ایک بڑی کامیابی تھی۔

جنگ حنین ٭

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م فتح مکہ کے بعد (جو بیس رمضان المبارک( ٢) کو حاصل ہوئی) دو ہفتہ تک اسی شہر میں قیام پذیر رہے۔(٣) اور اس شہر کی صورت حال اور حالات کو درست کیا اور اپنے منادی کے ذریعے یہ اعلان کرایا کہ جس شخص کے گھر میں بھی کوئی بت ہو وہ اس کو توڑ دے۔(٤) اس کے علاوہ آپ نے کچھ لوگوں کو مکہ اور اس کے اطراف کے بتوں اور بتکدوں کو توڑ نے کے لئے مامور کیا۔(٥)

______________________

(١)واقدی، المغازی ، ج١، ص ٩٦٦.

٭ذو المجاز کے قریب ایک درہ جس کا نام حنین تھا۔ یا طائف کے قریب ایک پانی کی جگہ جس کا فاصلہ مکہ تک تین رات تک کا تھا۔(المواہب اللدنیہ، ج١، ص٣٢٨.)

(٢) واقدی، المغازی، تحقیق مارسدن جونس (بیروت: مؤسسة الأعلمی للمطبوعات)، ج٣، ص ٨٨٩؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک (بیروت: دار القاموس الحدیث)، ج٣، ص ١٢٥.

(٣) واقدی، گزشتہ حوالہ، طبری، گزشتہ حوالہ؛ قسطلانی، المواہب اللدنیہ بالمنح المحمدیہ (بیروت: دار الکتب العلمیہ، ط ١، ١٤١٦ھ) ج١، ص ٢٢٦.

(٤)ابن واضح، تاریخ، یعقوبی، (نجف: المکتبة الحیدریہ، ١٣٨٤ھ.)، ج٢، ص ٥٠.

(٥) قسطلانی، گزشتہ حوالہ، ص ٢٢٧؛ نویری، نہایة الارب فی فنون الادب، ترجمہ محمود مہدوی دامغانی (تہران: امیر کبیر، ط١، ١٣٦٥) ج٢، ص ٢٨١۔ ٢٨٠؛ ابن سعد، طبقات الکبریٰ (بیروت: دار صادر)، ص ١٤٧۔ ١٤٥۔


اسی دوران رسول خدا کو یہ اطلاع دی گئی کہ قبیلہ ہوازن، قبائل ثقیف ، نصر ، جشم، سعد بن بکر اور قبیلۂ بنی ہلال کے ایک گروہ کی پشت پناہی میں، مالک بن عوف نصری کی سرکردگی میں مکہ کے اوپر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں،(١) جب تحقیق کی گئی تو یہ اطلاع بالکل صحیح نکلی کہ مذکورہ بالا قبائل پر مشتمل ایک بڑی فوج مکہ پر حملہ کرنے کے ارادے سے اوطاس نامی سرزمین پر پڑاؤ ڈال چکی ہے۔ رسول خدا نے مزید تحقیق کے لئے اپنے ایک آدمی کو بھیجا اس نے خفیہ تحقیق کی جس کے نتیجے میں مکہ کی طرف ہوازن کی فوج کی پیش رفت مسلم ہوگئی۔(٢)

اس وقت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ فوجی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ ترکیب اپنائی جائے کہ دشمن کو حملے کا موقع ہی نہ ملے اسی لئے آپ نے بڑی سرعت کے ساتھ عتاب بن اسید کو مکہ کا حکمراں قرار دیا(٣) اور بارہ ہزار کی فوج (جن میں دس ہزار آپ کے ساتھ مدینہ سے آئے تھے اور دو ہزار مکہ میں تازہ مسلمان ہونے والے شامل تھے)،(٤) لیکر دشمن کی فوج کی طرف چل پڑے اور قبیلۂ بنی سلیم کو اپنی فوج کا مقدمة الجیش قرار دیا۔(٥) راستے میں مسلمانوں کی فوج کی کثرت کو دیکھ کر بعض مسلمانوں کو غرور ہو رہا تھا اور وہ کہہ رہے تھے کہ اب ہم فوج کی قلت کی بنا پر نہیں ہاریں گے(٦) ۔ لیکن عملاً بات اس کے برعکس ثابت ہوئی چنانچہ خداوند عالم نے قرآن مجید میں اس امر کی صاف یاد دہانی کرائی ہے(٧) کہ اس جنگ میں افراد کی کثرت اور فوجیوں کی زیادتی سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔

______________________

(١) ابن ہشام، سیرة النبویہ (قاہرہ: مطبعة مصطفی البابی الحلبی )، ج٤، ص ٨٠؛ تاریخ الامم و الملوک (بیروت: دار القاموس الحدیث)، ج٣، ص ١٢٦.

(٢) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ج٤، ص ٨٢؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص ١٢٧؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص ٨٩٣۔

(٣)واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٨٨٩؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ص ١٢٧.

(٤) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٨٣؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ص ١٢٧؛ ابن سعد طبقات الکبریٰ (بیروت: دار صادر)، ج٢، ص ١٥٠؛ طبرسی، اعلام الوریٰ، ط ٣، المکتبة الاسلامیہ، ص ١١٣؛ ابن واضح، ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ٥٢

(٥)واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٨٩٣؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ١٥٠.

(٦)واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٨٨٩؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ١٥٠؛ طبرسی، گزشتہ حوالہ، ص ١١٣؛ شیخ مفید، الارشاد (قم: مکتبة بصیرتی)، ص ٧٤.

(٧) سورۂ توبہ، آیت ٩.


آغاز جنگ میں مسلمانوں کی شکست اور عقب نشینی

اسلامی فوج صبح کی تاریکی میں وادی حنین پہونچی، وادی حنین میں پہنچتے ہی ہوازن کے جنگجو اور سپاہی جو پہلے ہی پتھروں کے پیچھے شگافوں اور درّوںکے اندر چھپے ہوئے تھے اور وہاں سے مورچے سنبھال رکھے تھے انھوں نے اچانک مسلمانوں پر دھاوا بول دیا،(١) دشمن کا اچانک یہ حملہ اتنا کاری تھا کہ مسلمان بالکل وحشت زدہ ہوکر رہ گئے۔ پہلے قبیلۂ بنی سلیم نے جو مقدمة الجیش تھا عقب نشینی اور راہ فرار اختیار کی ،(٢) اس کے بعد دوسرے لوگ بھی فرار کرنے لگے۔ اور نوبت یہاں تک پہونچی کہ صرف حضرت علی دوسرے چند لوگوں کے ساتھ رسول خدا کے پاس باقی رہ گئے اور دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا(٣) شیخ مفید کی نقل کے مطابق صرف بنی ہاشم سے نو افراد رسول خدا کے پاس باقی رہ گئے تھے جن میں ایک حضرت علی تھے، عباس بن مطلب آپ کے چچا آپ کے دائیں طرف اور فضل بن عباس رسول خدا کے بائیں طرف تھے اور حضرت علی آپ کے روبرو تلوار سے جہاد کر رہے تھے۔(٤)

مسلمانوں کی عالیشان فتح

اتنے مسلمانوں کے فرار کر جانے کے باوجود پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م صبر و استقامت، شجاعت اور بہادری کا بہترین نمونہ تھے چنانچہ آپ کے اندر کسی قسم کا ضعف و تزلزل یا گھبراہٹ پیدا نہ ہوئی اور آپ سکون اوراطمینان کے ساتھ میدان جنگ میں ڈٹے رہے اور فرار ہونے والوں سے فرمایا: اے لوگو! تم لوگ

______________________

(١) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ٨٥؛ واقدی، گزشتہ ، ص ٨٩٥؛ طبری ، گزشتہ ، ص ١٢٨؛ طبرسی، اعلام الوریٰ، ص ١١٤؛ مجلسی، بحار الانوار، (تہران: دار الکتب الاسلامیہ، ١٣٨٤ھ) ج٢١، ص ١٦٩؛ شیخ مفید، گزشتہ ، ص ٧٥۔

(٢) واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٨٩٧؛ ابن سعد ، گزشتہ حوالہ، ص ١٥٠.

(٣)واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٩٠٠؛ ابن واضح ، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ٥٢.

(٤)الارشاد، ص ٧٤، اس جنگ میں حضرت علی کی شجاعت کے متعلق، رجوع کریں : امالی، شیخ طوسی (قم: دارالثقافہ، ط ١، ١٤١٤ھ)، ص ٥٧٥۔ ٥٧٤.


کہاں بھاگ رہے ہو؟ واپس آؤ کہ میں پیغمبر خدا محمد بن عبد اللہ ہوں اور اپنے چچا جناب عباس (جو اس وقت آپ کے ساتھ میدان جنگ میں بنی ہاشم کے بچے افراد میں سے تھے اوربلند آواز رکھتے تھے) سے فرمایا کہ لوگوں کو آواز دو اور پکارو اور انھوں نے مجھ سے جو عہد و پیمان اور بیعت کی ہے اس کو انھیں یاد دلاؤ، جناب عباس نے ان لوگوں کو بلند آواز سے پکار کر کہا: ''اے اہل بیعت شجرہ! اے اصحاب سورہ بقرہ! تم کہاں فرار کر رہے ہو؟ تم نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جو عہد اور پیمان کیا تھا اس کو یاد کرو''(١)

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی استقامت آپ کی ثابت قدمی اور پائیداری نیز مسلمانوں کو باربار واپسی کی دعوت دینے کا یہ اثر ہوا کہ بھاگ جانے والے مسلمان آہستہ آہستہ واپس پلٹنا شروع ہوئے اور رسول خدا کے پرچم تلے دوبارہ دشمن کے مقابلے میں ڈٹ گئے، کچھ دیر نہ گزری تھی کہ دشمن کی فوج کا سپہ سالار اورعلمبردار حضرت علی کے ہاتھوں مارا گیا(٢) اور خداوند متعال کی غیبی امداد(٣) کے ذریعہ ہوازن کی فوج کو بہت سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا اورچار ہزار اسیر، بارہ ہزار اونٹ اور بہت زیادہ مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگا۔(٤) جنگ کے اختتام پر جن قبائل کے سردار مسلمان ہوگئے تھے ان کی خواہش اور درخواست کی بنا پر پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے اسیروں کو آزاد کردیا۔(٥) اس جنگ کے شہداء کی تعداد چار افراد ذکر ہوئی ہے۔(٦)

______________________

(١) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ١٥١؛ ابن واضح ، تاریخ یعقوبی ، ج٢، ص ٥٢؛ مجلسی، بحار الانوار ، ج٢١، ص ١٥٠۔

(٢) ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٥٢۔

(٣) سورۂ توبہ، آیت ٢٦۔

(٤) طبرسی، اعلام الوریٰ، ج٢، ص ١١٦،کے مطابق اسیروں کی تعداد اور مال غنیمت کی مقدار چھ ہزار اسیر اور چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار سے زیادہ گوسفند اور چارہزار چاندی، (طبقات الکبریٰ، (بیروت: دار صادر)، ج٢، ص ١٥٢.)

(٥) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ١٥٥۔ ١٥٣؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ص ١٣٢ اور ١٣٥۔

(٦) ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ١٠١؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص ١٥٢؛ واقدی،گزشتہ حوالہ، ص ٢٢٩؛ ابن واضح، گزشتہ حوالہ، ص ٥٢؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ص١٣٢۔


خداوند عالم نے اس جنگ میں مسلمانوں کی ابتدائی شکست اور آخر میں امداد غیبی کے سہارے ان کی بہترین کامیابی کا تذکرہ اس طرح فرمایا ہے:

''پروردگار عالم نے بہت سارے مواقع پر تمہاری مدد کی ہے اور حنین کے دن بھی کہ جب تمہاری کثرت نے تم کو غرور میں مبتلا کردیا تھا لیکن تم سے اس نے کوئی خطرہ دور نہیں کیا اور زمین اپنی تمام وسعتوں سمیت تمہارے اوپر تنگ ہوگئی اور تم دشمن کو پیٹھ دکھا کر فرار کر گئے''(١) تب پروردگار عالم نے اپنے رسول اور مومنین کے اوپر اپنا سکون نازل کیا اور ایسے لشکر نازل کئے جن کو تم نے نہیں دیکھا اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا تھا ان پر عذاب نازل کیا اور کافرین کی سزا یہی تھی''۔

جنگ تبوک٭

جنگ موتہ کے اسباب اور عوامل پر غور اور فکر کے درمیان ہم اس سے واقف ہوچکے ہیں کہ شہنشاہ روم کو اس تازہ اور جدید اسلامی حکومت سے کس قدر دشمنی تھی اور آپ نے یہ بھی ملاحظہ فرمایا کہ رومی فوج سے مسلمانوں کی فوج کی پہلی مڈبھیڑ میں مسلمانوں کو شکست کا منھ دیکھنا پڑا، اس زمانے میں روم اور

____________________

(١) سورۂ توبہ، آیت ٢٦۔ ٢٥۔

٭تبوک مدینہ اور دمشق کے بالکل درمیان ایک مشہور و معروف جگہ ہے (قسطلانی، المواہب اللدنیہ بالمنح المحمدیہ (بیروت: دار الکتب العلمیہ، ١٣١٦ھ.ق)، ج١، ص٣٤٦؛ زینی دحلان، السیرة النبویہ و الآثار المحمدیہ (بیروت: دار المعرفہ، ج٢، ص١٢٥) مدینہ سے اس کا فاصلہ نوے فرسخ ہے اور یہ مسافت بارہ (١٢) رات میں طے ہوتی تھی۔ (مسعودی، التنبیہ والاشراف (قاہرہ: دار الصاوی للطبع والنشر، ص٢٣٥) اوراس زمانہ میں جزیرہ نمائے عربستان کا سرحدی علاقہ تھا جو روم کی سرحد سے شام میں ملتا تھا آج تبوک سعودی عرب کا ایک شہر ہے جو اردن کی سرحد کے نزدیک ہے اور مدینہ سے اس کا فاصلہ تقریباً چھ سو کلو میٹر ہے.


ایران دو بڑی طاقتیں تھیں اور ان میں آپس میں بہت طویل جنگیں بھی ہوچکی تھیں لیکن اس کے باوجود ان کو یہ ہرگز برداشت نہیں تھا کہ ان کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی تیسری طاقت سر ابھار سکے! اس لئے یہ فطری بات تھی کہ فتح مکہ میں مسلمانوں کی بے مثال کامیابی اور جنگ حنین میں ان کے ہاتھوں قبیلۂ ھوازن کی شکست ، رومیوں کے لئے (جو جزیرہ نمائے عرب کے شمال میں شام کے علاقہ میں واقع تھا) ایک اچھی خبر نہ تھی، ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے اور جنگ موتہ میں رومیوں کی کامیابی کو نظر میں رکھتے ہوئے شہنشاہ روم کی طرف سے فوجی نقل و حرکت ایک فطری بات تھی ٩ھ میں مدینہ اور شام کے درمیان تجارت کرنے والے قافلوں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ اطلاع دی کہ شہنشائے روم ہرقُل مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہے۔(١)

حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس خبر کو سنجیدگی سے سنا اور اس سے مقابلہ کے لئے تیاریاں شروع کردیں کیونکہ شہنشاہ روم اپنی سیاسی اور فوجی قدرت اور طاقت اور مسلمانوں سے سابقہ دشمنی کی بنا پر اسلام اور مسلمانوں کا بدترین اور خطرناک ترین دشمن تصور کیا جاتا تھا۔(٢)

اطلاعات سے پتہ چلا تھا کہ ہرقل نے کچھ عرب قبائل جیسے لخم، حزام ، عملہ اور غسان کو بھی اپنی اس نقل و حرکت میں اپنے ساتھ کر رکھا ہے اور اس کے لشکر کا مقدمة الجیش عنوان سے بلقاء نامی علاقہ تک پیش روی کر کے آگے بڑھ آیا تھا۔(٣) اور ہر قل نے خود حمص کے علاقہ میں پڑاؤ ڈال رکھا ہے۔(٤)

______________________

(١) واقدی، المغازی، تحقیق: مارسڈن جانس (بیروت: مؤسسة الاعلمی للمطبوعات)، ج٣، ص٩٩٠؛ ابن سعد، طبقات الکبری، (بیروت: دار صادر)، ج٢، ص١٦٥؛ قسطلانی، گزشتہ حوالہ، ص ٣٤٦؛ حلبی، السیرة الحلبیہ (بیروت: دار المعرفہ)، ج٣، ص٩٩۔ یہ گزارش نبطی تاجروں کے ذریعے دی گئی تھی جو تیل اور سفید آٹا مدینہ لے جاتے تھے۔ (واقدی، گزشتہ حوالہ، ص٩٩٠۔ ٩٨٩۔

(٢)واقدی، گزشتہ حوالہ، ص٩٩٠۔

(٣) واقدی، گزشتہ حوالہ، ابن سعد، گزشتہ حوالہ۔

(٤)ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص١٦٦۔


پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تک یہ اطلاع اس وقت پہونچی جب گرمی اپنی شباب پر تھی،(١) فصل کاٹنے اور پھلوں کے چنّے کا زمانہ آچکا تھا لوگ بہت تنگی میں تھے اور اپنے گھروں اور کاروبار زندگی کو ترک کرنا ان کے لئے بہت دشوار تھا۔(٢) پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے سب کی رضا کارانہ شرکت کا اعلان کردیا اور مکہ کے علاوہ عرب کے دوسرے بادیہ نشین قبیلوں سے مدد طلب کی اور مسلمانوں سے یہ خواہش بھی کی کہ جنگ کے وسائل او راخراجات پورا کرنے میں مدد کریں،(٣) اس سے پہلے حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا طریقۂ کار یہ تھا کہ عام طور پر کسی بھی جنگ کے لئے نکلتے وقت اپنے مقصد اور اپنی منزل کا اعلان نہیں کرتے تھے لیکن اس بار آپ نے صاف طور پر یہ اعلان کردیا کہ ہماری منزل اور ہمارا مقصد تبوک ہے تاکہ لوگ اس طویل اور مشکل سفر کی زحمتوں کو نظر میں رکھ کر اس کے لئے تیاری کریں۔(٤)

ایسے نامناسب وقت اور حالات کے باوجود مسلمانوں نے بہت ہی اخلاص، لگن، انتہائی جوش اور جذبہ کے ساتھ آپ کی مدد کی۔(٥) تقریباً تیس ہزار(٦) کی فوج دس ہزار(٧) گھوڑوں، بارہ ہزار

______________________

(١) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، قسطلانی، گزشتہ حوالہ؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، طبری، تاریخ الامم و الملوک (بیروت: دار القاموس الحدیث)، ج٣، ١٤٢۔

(٢) واقدی، گزشتہ حوالہ، قسطلانی، گزشتہ حوالہ، ص ٩٩٢؛ طبری، گزشتہ حوالہ؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ (قاہرہ: مکتبة مصطفی البابی الحلبی، ١٩٥٥ھ.ق)، ج٤، ١٥٩۔

(٣) ابن سعد، گزشتہ حوالہ؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٩٩١۔ ٩٩٠؛ قسطلانی، گزشتہ حوالہ، ج١، ص٣٤٧؛ حلبی، گزشتہ حوالہ؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص ١٦٠؛ طبرسی، اعلان الوری، دار الکتب الاسلامیہ ص١٢٢۔

(٤) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص١٦٥ اور ١٦٧؛ واقدی، گزشتہ حوالہ؛ قسطلانی، ص٣٤٦؛ طبرسی، گزشتہ حوالہ؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ص٩٩؛ ابن ہشام، گزشتہ حوالہ، ص١٥٩۔

(٥) واقدی، گزشتہ حوالہ، ص٩٩١؛ طبری، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص١٤٢۔

(٦)ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص١٦٦؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ص٩٩٦ و ١٠٠٢؛ قسطلانی، گزشتہ حوالہ، ص٣٤٩؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ص١٠٢

(٧) واقدی، گزشتہ حوالہ، ص١٠٠٢؛ ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص١٦٦۔


اونٹوں(١) کے ساتھ روانگی کے لئے تیار ہوگئی اس کے برخلاف منافقوں نے نہ صرف یہ کہ کسی عذر کے بغیر میدان جنگ کی طرف حرکت نہیں کی(٢) ، بلکہ انھوں نے دوسرے لوگوں کو بھی مختلف بہانوں، جیسے گرمی زیادہ ہے وغیرہ وغیرہ میدان میں جانے سے روک دیا۔(٣) جن کی مذمت میں قرآن کی آیت بھی نازل ہوئی۔(٤)

بعض مسلمان کسی معقول عذر کے بغیر ، اسلامی لشکر کے ساتھ نہیں گئے ان کو قرآن کریم نے متخلفین (اپنی جگہ پر رہ جانے والا) قرار دے کر ان کی مذمت فرمائی ہے۔(٥) کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن کو واقعاً جہاد میں جانے کا بے پناہ شوق تھا لیکن ان کے پاس جنگی سازو سامان نہیں تھا اس کی بنا پر وہ جنگ میں جانے سے محروم رہ گئے۔(٦)

مدینہ میں حضرت علی کی جانشینی

مدینہ کے حالات بھی کچھ کم حساس نہ تھے جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اسلامی فوج کو بہت دور دراز علاقے کا سفر درپیش تھا اور دوسری طرف منافقین، اسلام کا اظہار کرنے کے باوجود، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہمراہی سے سرپیچی کرچکے تھے اور عبد اللہ بن ابی جو منافقوں کا سرغنہ تھا اس نے کافی لوگوں کو اپنے گرد اکٹھاکر رکھا تھا۔(٧)

______________________

(١) مسعودی، النتبیہ والاشراف (قاہرہ: دارالصاوی للطبع والنشر)، ص٢٣٥۔

(٢) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص١٦٦۔ ١٦٥؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ص٩٩٥۔

(٣) واقدی، گزشتہ حوالہ، ص٩٩٣؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٤، ص ١٠٦؛ قسطلانی، گزشتہ حوالہ، ص٣٤٢۔

(٤)سورۂ توبہ، آیت ٨١۔

(٥) سورۂ توبہ، آیت ٨١۔

(٦) سورۂ توبہ، آیت ٩٣۔ ٨٧۔

(٧) واقدی، گزشتہ حوالہ، ص ٩٩٥؛ ابن ہشام ، گزشتہ حوالہ، ج٤، ص ١٦٢۔


نیز منافقین کے علاوہ مکہ کے شکست خوردہ دشمنان اسلام یا مکہ اور مدینہ کے اطراف میں بادیہ نشین قبیلوں کی طرف سے بھی فتنہ اور فساد کا امکان تھا اس بنا پر یہ ضروری تھا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عدم موجودگی میں کوئی ایسا طاقت ور اور مضبوط شخص نئی اور تازہ حکومت کی باگ ڈور سنبھالے اورکسی قسم کے فتنہ کا سر نہ ابھر نے دے کیونکہ بہت ممکن تھا کہ کچھ ناگوار حادثات پیش آجائیں، اسی بنا پر پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے حضرت علی کو مدینہ میں اپنا جانشین قرار دیا اور فرمایا: ''مدینہ کو سنبھالنے کے لئے یا میرا رہنا ضروری ہے یا تمہارا رہنا ضروری ہے''(١)

مسعودی لکھتے ہیں : سب سے زیادہ مشہور قول یہی ہے کہ رسول خدا نے علی کو مدینہ میں اپنا جانشین اس لئے قرار دیا تاکہ جو لوگ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ سفر میں نہیں جارہے ہیں ان کی نگرانی کرتے رہیں اور انھیں قابو میں رکھیں۔(٢)

حضرت علی اس جنگ کے علاوہ تمام جنگوں میں پیغمبر اسلام کے ہمراہ(٣) اور آپ کے لشکر کے علمبردار رہ چکے تھے،(٤) اسی بنا پر منافقین نے یہ مشہور کردیا کہ رسول خدا نے حضرت علی کو مدینہ میں اس لئے چھوڑ دیا ہے کہ آپ کو ان سے کوئی لگاؤ اور محبت نہیں رہ گئی ہے ،یہ افواہ سننے کے بعد حضرت علی کو بہت ملال ہوا، آپ اسلحہ سجا کر منزل جرف٭میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس پہونچے اورمنافقین

______________________

(١) مفید ، الارشاد (قم: مکتبہ بصیرتی)، ص٨٢؛ طبرسی، اعلام الوری، ص ١٢٢۔

(٢)و الاشهر ان رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه و آله وسلم استخلف علیاً علی المدینة لیکون مع من ذکرنا من المتخلفین ۔ (التنبیہ و الاشرف۔ ص٢٣٦)۔

(٣)ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفة الاصحاب (حاشیہ الاصابہ میں) ، ج٣، ص ٣٤؛ حلبی، السیرة الحلبیہ، ج٣، ص ١٠٤؛ قسطلانی، المواہب اللدنیہ، ج١، ص٣٤٨۔

(٤) ابن عبد البر، گزشتہ حوالہ، ص ٢٧؛ جعفر مرتضی العاملی، الصحیح من سیرة النبی الاعظم، ١٤٠٣ھ۔ق، ج٤، ص ١٩٦۔ ١٩٣.

٭جرف، مدینہ سے تین میل کے فاصلہ پر ایک محلہ تھا۔


کی افواہ کو آپ کی خدمت میں بیان کیا اور آپ کے سامنے اس بات کا شکوہ بھی کیا، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''وہ لوگ جھوٹے ہیں میں نے تم کو اپنا جانشین قرار دیا ہے۔ تم واپس جاؤ اور میرے اہل او رعیال اور اپنے گھر والوں کے درمیان میرے جانشین رہو کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسی سے تھی فرق صرف یہ ہے کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہے''(١) ۔

شیخ مفید کی روایت کے مطابق آپ نے یوں ارشاد فرمایا: ''اے میرے بھائی! تم اپنی جگہ واپس پلٹ جاؤ؛ چونکہ مدینہ کا نظام میرے یا تمہارے بغیر نہیں چل سکتا، بیشک تم میرے اہل بیت، دار ہجرت اور میری قوم کے درمیان میرے خلیفہ ہو۔ کیا تم راضی نہیں ہو کہ(٢)

ابن عبد البر قرطبی پانچویں صدی ہجری کے عالم اہل سنت تحریر کرتے ہیں کہ جنگ تبوک میں حضرت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی کو مدینہ میں اپنے اہل خانہ کے درمیان اپنا جانشین قرار دیا تھا۔ اوران سے فرمایا تھا کہ تم کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی...''(٣)

بخاری اور مسلم کی نقل کے مطابق پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے حضرت علی کے شکوہ کے بعد جناب موسیٰ کے بھائی، ہارون سے ان کی تشبیہ دی اور مذکورہ جملہ ارشاد فرمایا:(٤)

______________________

(١)افلا ترضی یا علی ان تکون منی بمنزلة هارون من موسی الا انه لا نبی بعدی (ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٤، ص١٦٣؛ حلبی، السیرة الحلبیہ، ج٣، ص١٠٤.)

(٢)ارجع یا اخی الی مکانک، فان المدینة لاتصلح الا بی او بک، فانت خلیفتی فی اهل بیتی و دار هجرتی و قومی، اما ترضی... (الارشاد، ص٨٣)

(۳)خلفه رسول اللّٰه علی المدینه و علی عیاله بعده فی غزوة تبوک و قال له انت منی .. (الاستیعاب، ج٣، ص٣٤.)

(۴)صحیح بخاری، شرح و تحقیق: شیخ قاسم شماعی رفاعی، (بیروت: دار القلم، ط١، ص١٤٠٧ھ.ق)، ج٦، ص٣٠٩؛ المغازی، باب ١٩٥، ح ٨٥٧؛ صحیح مسلم، بشرح النووی (بیروت: دار الفکر، ١٤٠١ھ.ق)، ج١٥،

ص ١٧٥؛ فضائل الصحابہ، فضائل علی بن ابی طالب۔ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ حدیث منزلت، مذکور کتابوں کے علاوہ مندرجہ ذیل کتب میں بھی آئی ہے:المواہب اللدنیہ، ج١، ص٣٤٨؛ الاستعیاب فی معرفة الاصحاب، (الاصابہ کے حاشیہ میں)، ج٣، ص٣٤؛ البدایہ والنہایہ، ج٥، ص٧ و ج٨، ص٧٧؛ مسند احمد، ج١، ص١٧٩؛ کنز العمال، ح ١٤٢٤٢، ٣٢٨٨١، ٣٦٥٧٢؛ الجامع الصحیح، ترمذی، المناقب، باب ٢١، ح ٣٧٣٠؛ النتبیہ والاشراف، ص٢٣٥؛ الصواعق المحرقہ، ص١٢١؛ الاصابہ، ج٢، ص٥٠٩، شمارۂ ٥٦٨٨؛ سیرۂ زینی دحلان، ج٢، ص١٢٦؛ مروج الذہب، ج٣، ص١٤؛ امالی شیخ طوسی، ص٥٩٩۔


رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ مشہور حدیث اور آپ کا یہ مشہور فرمان جو حدیث منزلت کے نام سے مشہور ہے یہ حضرت علی کی امامت اور جانشینی کی بہترین اور واضح دلیل ہے کیونکہ اگر چہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کا یہ فرمان صرف ایک خاص واقعہ یعنی سفر تبوک سے متعلق تھا لیکن اس میں مستثنی منقطع اس بات کی دلیل ہے کہ

______________________

بعض کتابوں کی نقل کے مطابق، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سفر میں محمد بن سلمیٰ کو اور بعض دوسرے نقل کے مطابق سباع بن عرفطہ کو اپنا جانشین مدینہ میں مقرر کیا تھا۔ (رجوع کریں: ابن ہشام، سیرة النبویہ، ج٤، ص ١٦٢؛ السیرة الحلبیہ، ج٣، ص١٠٢؛

تاریخ الامم والملوک، ج٣، ص ١٤٣؛ طبقات الکبری، ج٢، ص١٦٥؛ المواہب اللدنیہ، ج١، ص ٣٤٨) لیکن جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ روایات کی کثرت اور تواتر کے باوجود علی کی جانشینی،کے متعلق جو شیعہ سنی کی معتبر کتابوں میں موجود ہیں ان کی مخالف روایتوں کے اوپر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ ابن عبد البر، پانچویں صدی کا بزرگ مورخ، رجال نویس اور فقیہ لکھتا ہے: حدیث ''انت منی بمنزلة ہارون من موسی...'' کو صحابہ کے ایک گروہ نے نقل کیا ہے۔ اور یہ حدیث صحیح ترین اور موثق ترین روایات میں سے ہے۔ اور اس کو سعد بن ابی وقاص، ابن عباس، ابو سعید خدری، ام سلمہ، اسماء بنت عمیس، جابر بن عبداللہ انصاری، اور بے شمار روایوں نے نقل کیا ہے کہ جن کے نام یہاں پر نقل کرنے سے بہت طویل فہرست بن جائے گی۔(الاستیعاب، ج٣، ص٣٤)


حضرت علی صرف عہدۂ نبوت کے علاوہ دوسرے تمام عہدوں میں جس میں سے ایک پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جانشینی بھی ہے جناب موسیٰ کے بھائی جناب ہارون کے مثل اور برابر ہیں۔(١)

راستے کی دشواریاں

ان تمام زخمتوں اور مشکلات کے باوجود اسلامی فوج مدینہ سے کوچ کر گئی لیکن جیسا کہ پہلے سے ہی اس بات کااندازہ لگایا جا رہا تھا مسلمانوں کو تبوک کے راستے میں چند وجوہ کی بناپر مثلاً راستہ طولانی ہونے کی وجہ سے، سواریوں کی قلت (کہ ہر تین آدمیوں کے لئے ایک گھوڑا تھا) گرمی کی شدت، پانی کی کمی اور تشنگی جیسی بے پناہ مشکلات اور زحمتوں کا سامنا کرنا پڑا اسی بنا پر تاریخ اسلام میں اس جنگ کو ''غزوة العسرہ''(٢) یعنی مشکلات کی جنگ یا ''جیش العسرة''(٣) یعنی زحمت اور مشکلات کے لشکر کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔

______________________

(١)اس واضح اور روشن بیان کے باجود علمائے اہل سنت کے درمیان حلبی شامی اور ابن تیمیہ نے تعصب کی بنا پر اس حدیث کی دلالت میں شک و شبہ ڈال دیا ہے۔ اس حدیث کی دلالت اور اس کے حوالوں اور تقریباً سو سے زیادہ طرق سے منقول اس حدیث کے بارے میں مزید آگاہی کے لئے، کتاب الغدیر، ج٣، ص٢٠١۔ ١٩٧؛ احقاق الحق، ج٥، ص ٢٣٤۔ ١٣٣ و کتاب پیشوائی از نظر اسلام، تالیف استاد آیت اللہ جعفر سبحانی (انتشارات مکتب اسلام، ١٣٧٤ش)، پندرہویں فصل میں مراجعہ فرمائیں۔

(٢) ابن سعد، طبقات الکبری، ج٢، ص١٦٧؛ قسطلانی، المواہب اللدنیہ، ج١، ص٣٤٦؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص١٠٦

(٣)صحیح بخاری، ج٦، ص٣٠٨؛ مسعودی، التنبیہ والاشراف، ص٢٣٥؛ قسطلانی، گزشتہ حوالہ، ص٣٤٦۔ یہ نام اور عنوان، سورۂ توبہ کی آیت ١١٧ ''لقد تاب اللّٰه علی النبی والمهاجرین والانصار الذین اتبعوه فی ساعة العسرة ...'' سے لیا گیا ہے۔


بہرحال اسلامی فوج اتنی طویل مسافت طے کرنے کے بعد سرزمین تبوک پہنچی ،لیکن وہاں رومی فوج کا کہیں دور دور تک پتہ نہیں تھا. بعد میں معلوم ہوا کہ رومی فوج کی نقل و حرکت کی خبریں سب بے بنیاد تھیں۔(١) اور یہ افواہ صرف مسلمانوں کے اندر رعب اور اضطراب پیدا کرنے کے لئے پھیلائی گئی تھی۔(٢)

اس علاقہ کے سرداروں سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے معاہدے

رسول خدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ا نے بیس دن تک تبوک میں قیام فرمایا(٣) اور اس مدت میں ''ایلہ'' کے حاکم اور سرزمین ''جربائ'' اور ''اذرخ'' کے لوگوں سے صلح کا معاہدہ ہوا اور انھوں نے جزیہ ادا کرنے کا عہد کیا اس کے علاوہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایک مختصر فوجی نقل اور حرکت کے ذریعہ دومة الجندل کے مقتدر بادشاہ کے ساتھ ایک صلح نامہ پر دستخط کئے اور وہ بھی جزیہ اور ٹیکس دے کر آپ کے سامنے تسلیم ہوگیا۔(٤)

غزوہ تبوک رجب ٩ھ میں پیش آیا۔(٥) جس کے کچھ مناظر سورۂ توبہ میں منعکس ہوئے ہیں خاص طور سے اس میں وہ دشواریاں مشکلات اور فوج کے کوچ کرنے سے پہلے یا اس کے بعد بعض مسلمانوں کی سستی، کاہلی، اور منافقین کی خیانت اور گڑبڑیاں شامل ہیں۔ مسجد ضرار کا مشہور واقعہ بھی غزوۂ تبوک کے ساتھ ہی پیش آیا جس کا ذکر سورۂ توبہ کی ١٠٧ ویں آیت میں ہوا ہے۔

______________________

(١) واقدی، المغازی، ج٣، ص١١٩١۔ ١٩٩٠۔

(٢) حلبی، گزشتہ حوالہ، ص٩٩۔

(٣) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص١٦٦، ١٦٨؛ واقدی، گزشتہ حوالہ، ص١٠١٥۔

(٤) طبرسی، اعلام الوری، ص١٢٣؛ قسطلانی، گزشتہ حوالہ، ص٣٥٠؛ طبری، تاریخ الامم والملوک، ج٣، ص١٤٦۔

(٥) ابن سعد، طبقات الکبری، ج٢، ص١٦٥؛ ابنہشام، سیرة النبویہ، ج٤، ص١٥٩؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ص٩٩؛ قسطلانی، گزشتہ حوالہ، ص٣٤٦۔


غزوۂ تبوک کے آثار اور نتائج

اگر چہ اس رنج و مشکلات بھرے سفر میں کوئی جنگ نہ ہوئی لیکن اس کے بہت ہی مفید نتائج سامنے آئے جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں:

١۔ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سفر میں حجاز اور شام کے سرحدی علاقوں کے قبائل اور سرداران قوم سے صلح کا معاہدہ کر کے ان علاقوں کی امنیت کو یقینی کردیا اور آپ کو یہ اطمینان ہوگیا کہ اب یہ لوگ قیصر روم سے ساز باز نہیں کریں گے۔

٢۔ آپ کی اس فوجی نقل و حرکت سے اسلامی فوج کے سپہ سالار اس علاقے کی مشکلات راہ و روش اورپانی کے ذخائر سے اچھی طرح واقف ہوگئے اور انھوں نے اس زمانے کی بڑی طاقتوں کے مقابلہ میں لشکر کشی کا طریقہ بھی سیکھ لیا۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی وفات کے بعد مسلمانوں نے سب سے پہلے سرزمین شام کو ہی فتح کیا ۔

٣۔ اس عمومی رضا کارانہ مشن میں مومن اور منافق کی باقاعدہ پہچان ہوگئی اور مسلمانوں کی صفوں میں ایک طرح کا تصفیہ ہوگیا اور کھرے اور کھوٹے کی پہچان ہوگئی ۔(١)

٤۔اسلامی فوج کے اندر اعتماد نفس پیدا ہوا اور ان کا اعتبار بڑھ گیا اور دوسرے عرب قبائل بھی اسلام کی طرف مائل ہوگئے اور ان کے نمائندے بھی پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی اطاعت اور پیروی کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے یہ بھی اس فوجی نقل و حرکت کا ایک بہترین اور اہم نتیجہ ہے جس کی وضاحت ہم مندرجہ ذیل سطروں میں پیش کر رہے ہیں۔

جزیرہ نمائے عرب میں اسلام کا نفوذ اوراس کا پھیلاؤ

جس طرح کہ فتح مکہ جزیرہ نمائے عرب میں اسلام کے نفوذ اور اس کی وسعت کا اہم ترین موڑ تھا اسی طرح جنگ تبوک بھی اس راستے میں دوسرا اہم قدم تھا۔ کیونکہ یہ نقل و حرکت جو در حقیقت ایک بڑی

______________________

(١) جعفر سبحانی، فروغ ابدیت،( قم: انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی، ط٥، ١٣٦٨)، ج٢، ص٤٠٤۔ ٤٠٣۔


فوجی مشق کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس سے مسلمانوں کی فوجی قوت اور طاقت کے اعتماد میں اضافہ ہوا اور سب نے یہ سمجھ لیا کہ اسلام کی فوجی طاقت اس منزل تک پہونچ چکی ہے کہ جو دور دراز علاقوں میں پہونچ کر دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت سے ٹکرلے سکتی ہے۔ اس فوجی نقل و حرکت کا سیاسی، فوجی اور نظامی اثر اتنا زیادہ تھا کہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے واپس مدینہ پہونچ جانے کے بعد بہت سے قبیلوں کے وہ سردار جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے انھوں نے بھی سمجھ لیا کہ اب شرک اور بت پرستی کے خاتمہ کا دور آ پہونچا ہے۔ چنانچہ وہ بھی مدینہ آئے اور پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی اطاعت کا اعلان کردیا۔ اس سال جن قبیلوں کے نمائندے اور ان کے وفود پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ٩ ھ کو ''سنة الوفود'' یعنی قبیلوں کے وفد اور ان کے سفیروں کے آنے کا سال قرار دیا گیا ہے۔(١)

مشرکین سے برائت کا اعلان

فتح مکہ کے بعد توحید کے پھلنے پھولنے اور شرک اور بت پرستی کے جڑ سے خاتمے اور دوسرے خرافات اور باطل افکار و خیالات جن کی بنیاد بھی بت پرستی ہی تھی سب کے خاتمے کا بہترین ماحول پیدا ہوچکا تھا اور اکثر شہروں او ردیہاتوں میں لوگ بت پرستی سے دور ہو کر اسلام کے پرچم تلے آگئے تھے لیکن کچھ متعصب، نادان اور ہٹ دھرم اب بھی اپنے جاہلانہ رسم و رواج سے دست بردار نہیں تھے اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس نئے دین کو قبول کرنا ان کے لئے بہت ہی دشوار تھا۔

دوسری طرف اگر چہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس زمانہ تک چند بار عمرہ کیا تھا۔ لیکن آپ کو ابھی تک حج کرنے کا کوئی موقع نہیں مل سکا تھا اور مشرکین مکہ، حج کو اپنے اسی پرانے طور طریقے اور خرافات کے

______________________

(١) ابن ہشام، سیرة النبویہ، ج٤، ص ٢٠٥۔ سیرت لکھنے والوں نے ان فہرستوں کو ثبت کیا ہے او ران کی تعداد کو ٦٠ سے زیادہ لکھا ہے۔ رجوع کریں: طبقات الکبری، ج١، ص٢٩١؛ تاریخ پیامبر اسلام، محمد ابراہیم آیتی، ص٦٤٢۔ ٦٠٩۔


ساتھ بجالاتے تھے اور تیسرے یہ کہ فتح مکہ کے بعد رسول خدا اور مشرکین کے درمیان دو طرح کے معاہدے ہوئے تھے:

١۔ ایک عام معاہدہ یہ تھا کہ حج میں ہر ایک کی شرکت آزاد ہے اور کسی کو حج سے نہیں روکا جائے گا اور محترم مہینوں میں ہر ایک کے لئے امنیت قائم رہے گی اور کسی سے کوئی برا سلوک نہیں کیا جائے گا۔

٢۔ دوسرا معاہدہ بعض عرب قبیلوں سے ایک معین مدت تک کیا گیا تھا۔(١)

غزوہ تبوک کے بعد سورۂ برائت نازل ہوا اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خدا کی طرف سے یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ آپ مشرکین مکہ سے بیزاری کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ ان معاہدوں کی ایک آخری مدت معین کردیں اور اس کے علاوہ ان آیتوں میں جو دوسرے دستور العمل آئے ہیں ان کو بھی نافذ اور لاگو کریں۔

سورہ برائت کی ابتدائی آیات کا ترجمہ یہ ہے:

مسلمانوں جن مشرکین سے تم نے عہد و پیمان کیا تھا اب ان سے خدا اور رسول کی طرف سے مکمل بیزاری کا اعلان ہے ۔ لہٰذا کافرو! چار مہینے تک آزادی سے زمین میں سیر کرو اور یہ یاد رکھو کہ خدا سے بچ کر نہیں جاسکتے ہو اور خدا کافروں کو ذلیل کرنے والا ہے۔ اور اللہ و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے حج اکبر کے دن انسانوں کے لئے اعلان عام ہے کہ اللہ اور اس کے رسول دونوں مشرکین سے بیزار ہیں لہٰذا اگر تم توبہ کرلو گے تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر انحراف کیا تو یاد رکھنا کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے ہو اور پیغمبر آپ کافروں کو دردناک عذاب کی بشارت دے دیجئے، علاوہ ان افراد کے جن سے تم مسلمانوں نے معاہدہ کر رکھا ہے اور انھوں نے کوئی کوتاہی نہیں کی ہے اور تمہارے خلاف ایک دوسرے کی مدد نہیں کی ہے تو چار مہینے کے بجائے جو مدت طے کی ہے اس وقت تک عہد کو پورا کرو کہ خدا تقویٰ اختیار کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ پھر جب یہ محترم مہینے گزر جائیں تو کفار کو جہاں پاؤ قتل کردو اور گرفت میں لے لو اور قید کردو اور ہر راستہ اور گزرگاہ پر ان کے لئے بیٹھ جاؤ اور راستہ تنگ کردو۔ پھر اگر توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو کہ خدا بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے۔(٢)

______________________

(١) ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٤، ص ١٩٠۔

(٢) سورۂ برائت، آیت ٥۔ ١.


پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مخصوص نمائندہ اور سفیر

ان آیات کے نازل ہونے کے بعد پیغمبر اسلام نے اس سورہ ٔ برائت کی ابتدائی آیتوں کی تعلیم حضرت ابوبکر کو دی اور ان کو یہ ذمہ داری سونپی کہ ان آیتوں کو عید قربان کے دن حاجیوں کے درمیان پڑھ کر سنائیں حضرت ابوبکر مکہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ اسی دوران وحی الٰہی نازل ہوئی اور پیغمبر کو حکم دیا گیا کہ یہ پیغام یا آپ خود پہنچائیں یا وہ شخص پہنچائے جو آپ سے ہو۔(١)

یہ حکم الٰہی نازل ہونے کے بعد آپ نے حضرت علی کو حکم دیا کہ مکہ کی طرف روانہ ہو جائیں اور راستے میں ابوبکر سے آیتوں کو لے لیں اور پھر حاجیوں کے مجمع میں ان کو مشرکین سامنے پڑھ کر سنادیں۔ حضرت علی رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مخصوص اونٹ پر سوار ہوکر مکہ کی طرف روانہ ہوئے اور پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا پیغام ابوبکر تک پہنچایا ،انھوں نے آیتیں حضرت علی کے حوالے کردیں اور مایوس و دل ملول اور ناراض و غمگین ہوکر مدینہ واپس پلٹ آئے اور پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچ کر یہ عرض کیا کہ ''آپ نے مجھے اس کام کے لئے لائق اورشائستہ سمجھا لیکن کچھ وقت نہیں گزرا تھا کہ آپ نے مجھے اس عہدے سے معزول کردیا ۔ کیا اس بارے میں خدا کا کوئی پیغام آیا ہے؟''

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''ہاں! خدا کا نمائندہ آیا ہے جس نے یہ کہا ہے کہ میرے علاوہ یا جو شخص مجھ سے ہے اس کے علاوہ کسی دوسرے شخص میں اس کام کی صلاحیت نہیں ہے''۔

اعلان برائت کا متن اورپیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا اَلٹی میٹم

حضرت علی مکہ میں داخل ہوئے او ردس ذی الحجہ کو سورۂ برائت کی ابتدائی آیات کو حاجیوں کے عام مجمع کے درمیان پڑھ کر سنایا ،(٢) اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا درج ذیل شرح کے ساتھ الٹی میٹم تمام حاجیوں کے گوش گزار کردیا۔

______________________

(١)''لایؤدیها عنک الا انت او رجل منک'' ۔

(٢) یہ واقعہ تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ مندرجہ ذیل کتابوں میں نقل ہوا ہے۔ تاریخ الامم والملوک، ج٣، ص١٥٤؛ سیرۂ ابن ہشام، ج٤، ص ١٩٠؛ الکامل فی التاریخ ، ج٢، ص٢٩١؛ تفسیر مجمع البیان، ج٥، ص ٣؛ تذکرة الخواص، ص٥٧؛ البدایہ والنہایہ، ج٥، ص٣٧ اور ٣٨ اور ج٧، ص٣٥٨؛ تفسیر روح المعانی، ج١، تفسیر سورۂ توبہ؛ تفسیر المنار، ج١٠، ص١٥٧۔


١۔ خدا اور پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م مشرکین سے بیزار اور دور ہیں۔

٢۔ آئندہ سال کسی مشرک کو حج کرنے کا حق نہیں ہے۔

٣۔ کسی شخص کو برہنہ ہوکر طواف کعبے کرنے کی اجازت نہیں ہے۔(١)

٤۔ مشرکین کو آج سے لے کر چار مہینے تک یہ مہلت ہے کہ وہ اپنی پناہ گاہ اور اپنی سر زمین کی طرف لوٹ جائیں اور چار مہینے کے بعد کسی مشرک کیلئے کوئی عہد و پیمان نہیں رہے گا مگر وہ لوگ جو رسول اللہ سے عہد و پیمان رکھتے ہیں، ان لوگوں کا معاہدہ اس کی معینہ مدت تک اپنی پرانی شکل و صورت پر باقی رہے گا۔

٥۔ کوئی کافر جنت میں نہیں جاسکتا۔(٢)

آپ کے اس الٹی میٹم اور اعلان برائت کے بعد جب تمام مشرکین اپنے وطن واپس گئے تو انھوں نے ایک دوسرے کی ملامت کرنا شروع کردی اور یہ کہا کہ جب قریش ہی مسلمان ہوگئے تو اب ہم کیا کریں چنانچہ وہ لوگ بھی مسلمان ہوگئے۔(٣) اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کرنے نہیں آیا کسی شخص نے برہنہ ہوکر خانہء کعبہ کا طواف نہیں کیا۔(٤)

______________________

(١) برہنہ ہوکر طواف کرنا مشرکوں کی دینی پستی کا ایک نمونہ تھا اور یہ قریش کی انحصار طلبی کی بنا پر تھا ۔ اس سلسلے میں اس کتاب کے پہلے حصہ کی تیسری فصل میں ''پریشان کن'' دینی حالات کے بحث میں توضیح دی گئی ہے۔

(٢) پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ الٹی میٹم اختصاریا تفصیل کے ساتھ مندرجہ ذیل کتابوں میں نقل ہوا ہے:

سیرۂ ابن ہشام، ج٤، ص ١٩١؛ تفسیر المیزان، ج٩، ص١٦٣ اور ١٦٥؛ تفسیر المنار، ج ١٠، ص١٥٧؛ البدایہ والنہایہ، ج٧، ص ٥٨؛ الغدیر، ج٦، ص٣٤٧ اور ٣٤٨۔

(٣)طبری، تاریخ الامم والملوک، ج٣، ص١٥٤؛ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج٢، ص٢٩١.

(٤) ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٤، ص١٩١؛ ابن اثیر، البدایہ والنہایہ، ج٥، ص٣٧۔


نجران کے عیسائی نمائندوں کی انجمن سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مباہلہ٭

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جس طرح دنیا کے مختلف بادشاہوں اوراہل حکومت کو اسلام کی طرف دعوت دینے کے لئے خطوط لکھتے تھے اسی طرح آپ نے ایک خط اسقف نجران کے پاس بھی لکھا اس خط میں آپ نے جناب ابراہیم و اسماعیل، اسحاق و یعقوب کے خدا کی حمد و ثنا کیساتھ اس سے (اور دوسرے عیسائیوں سے) یہ تقاضا اور خواہش کی کہ بندوں کی عبادت سے پرہیز کرتے ہوئے خداوند عالم کی اطاعت کریں. اور بندوں کی ولایت و بندگی سے نکل کر خدا کی بندگی کریں اور اس کی ولایت کے سامنے سر تسلیم خم کردیں یا ٹیکس ادا کرو۔ ورنہ جنگ کیلئے تیار رہیں(١) بعض روایات کے مطابق پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے سورۂ آل عمران کی ٦٤ ویں آیت(٢) کو بھی اپنے خط میں ذکر کیا تھا۔(٣)

______________________

٭نجران یمن کا ایک علاقہ تھا جو مکہ کی سمت تھا۔ (یاقوت حموی، معجم البلدان (بیروت: داراحیاء التراث العربی، ج٥، ص٢٦٦)، عماد الدین ابوالفدائ( ٧٣٢۔ ٦٧٢) لکھتے ہیں کہ ''نجران ایک چھوٹا سا شہر ہے جو نخلستان سے بھرا پڑا ہے، معتدل راستہ کے ذریعے مکہ سے نجران تک کا فاصلہ تقریباً بیس دن میں طے ہوتا ہے۔ (تقویم البلدان، عبد المحمد آیتی، انتشارات فرہنگ بنیاد ایران، ١٣٤١، ص ١٢٧۔) یہ شہر چند صدیوں کے بعد وسیع و عریض ہوگیا تھا؛ کیونکہ زینی دحلان (١٣٠٤۔ ١٢٣١ھ۔ق)، لکھتے ہیں: کہ نجران ایک بڑا شہر ہے جو مکہ سے سات منزلوں پر ہے ۔ یمن کی سمت جس میں ٧٣ قریہ ہیں، سعودی عرب کے موجودہ نقشہ کے مطابق نجران اسی ملک کا ایک شہر ہے۔ جویمن کی سرحد کے پاس ہے۔

(١) ابن واضح، تاریخ یعقوبی (نجف: مکتبة الحیدریہ، ١٣٨٤ھ.ق)، ج٢، ص٧١۔٧٠؛ رجوع کریں: البدایہ والنہایہ (بیروت: مکتبة المعارف، ١٩٧٧ئ)، ج٥، ص٥٣؛ بحار الانوار، ج٢١، ص ٢٨٥؛ وثائق، محمد حمید اللہ، ترجمہ: ڈاکٹر محمود مہدوی دامغانی، ص٣٤؛ علی احمدی، مکاتیب الرسول، (ط٣، ١٣٦٣ش)، ج١، ص ١٧٥۔

(٢) ''قل یا اهل الکتاب تعالوا الی کلمة سواء بیننا و بینکم الا نعبد الا اللّٰه و لانشرک به شیئاً ولایتخذ بعضنا بعضاً ارباباً من دون اللّٰه فان تولوا فقولوا اشهدوا بأنا مسلمون ۔''

(٣)سید بن طاووس، الاقبال بالاعمال الحسنه فیما یعمل مرة فی السنه، تحقیق: جواد الفیومی الاصفهانی (قم: مرکز انتشارات دفتر تبلیغات حوزۂ علمیہ قم، ط٢، ص١٣٧٧)، ج٢، ص٣١١۔


پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کا خط ملنے کے بعدنجران کے پادری نے بزرگان نجران او روہاں کی مذہبی اور سیاسی شخصیتوں کو ایک جگہ جمع کیا تاکہ ان سے اس موضوع کے بارے میں گفتگو کرسکے، کیونکہ عیسائی علماء کے پاس بعثت پیغمبر کی قریب الوقوع علامتیں موجود تھیں، لہٰذا ان کی میٹنگ میں یہ طے پایا کہ ایک وفد مدینہ جائے جو قریب سے پیغمبر سے گفتگو کرے اور آپ کی نبوت کے دلائل کے بارے میں تحقیق کرے۔

نصارائے نجران کا یہ وفد جب مدینے پہونچا۔ تو اس میں اس وقت کی ان کی تینبڑی شخصیتیں بھی موجود تھیں جس میں خود اسقف (پاپ) بھی موجود تھا، پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے ان سے گفتگو کر کے ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی نیز ان کے سامنے قرآن مجید کی بعض آیتوں کی تلاوت بھی فرمائی۔ عیسائیوں نے کہا: ہم آپ سے پہلے ہی مسلمان تھے۔

حضرت نے فرمایا: تم لوگ جھوٹ کہتے ہو اسلام لانے سے تمہارے لئے تین چیزیں مانع ہیں (یعنی تم لوگوں کو تین چیزوں کی بنا پر مسلمان نہیں کہا جاسکتا) تم لوگ صلیب کی عبادت کرتے ہو، سور کا گوشت کھاتے ہو اور خدا کو صاحب اولاد سمجھتے ہو (یعنی جناب عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہتے ہو) ۔

اس کے بعد جناب عیسیٰ کی بندگی اورالوہیت کے بارے میں بحث شروع ہوگئی انھوں نے جناب عیسیٰ کے معجزات کو دلیل بنا کر، جیسے آپ مردوں کو زندہ کرتے تھے، غیب کی خبر دیتے تھے، مریضوں کو شفا عطا کرتے تھے۔ کیونکہ آپ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے لہٰذا آپ کو وہ لوگ خدا کہہ رہے تھے۔ جب کہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م آپ کی بشریت اور آپ کے بشر ہونے کے بارے میں تاکید فرما رہے تھے، یہ بحث اور گفتگو کافی طولانی ہوگئی اور انھوں نے بالآخر جناب عیسیٰ کی بشریت کو قبول نہیں کیا، اسی دور ان خداوند عالم کی طرف سے پیغمبر پر یہ وحی نازل ہوئی۔

جن لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ خدا وہی عیسی بن مریم ہے وہ کافر ہوگئے ہیں(١) در حقیقت جناب عیسیٰ کی مثال خدا کے نزدیک خلقت آدم کی طرح ہے کہ جن کو خاک سے پیدا کیا او ران سے کہا ہو جاؤ تو وہ

______________________

(١) سورۂ مائدہ، آیت ١٧۔


وجود میں آگئے۔٭(اگر جناب عیسیٰ کا بن باپ کے متولد ہونا ان کے فرزند خدا ہونے کی دلیل ہے تو جناب آدم تو اس منصب کے لئے زیادہ اولیٰ اور برتر تھے کیونکہ نہ ان کا کوئی باپ تھا اور نہ ماں۔ (جو کچھ جناب عیسیٰ کے بارے میں کہا گیا وہ) حق (ہے جو) آپ کے پروردگار کی طرف سے ہے پس آپ انکار کرنے والوں میں سے نہ ہوجائیں)،(١) پیغمبر علم کے آجانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ حجتی کریں ان سے کہہ دیجئے کہ آؤ ہم لوگ اپنے اپنے فرزندوں، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔(٢)

ان آیات کے نزول کے بعد پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے فرمایا: ''خداوند عالم نے مجھے حکم دیا ہے کہ اگر تم اسلام قبول نہیں کرتے ہو تو میں تمہارے ساتھ ''مباہلہ''(٣) کروں۔''

انھوں نے کہا کہ ہم اس بارے میں غور کریں گے۔ اس کے بعد وہ اپنی اپنی قیام گاہ کی طرف واپس چلے گئے پھر آپس میں بیٹھ کر مشورہ کیا ان کے پادری اور وفد کے سردار نے ان کو اس خطرے کی طرف متوجہ کردیا کہ دیکھو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے رسول ہیں اوراگر تم ان سے مباہلہ کرو گے تو عذاب نازل ہو جائے گا لیکن اس کے ساتھیوں نے اس کی ایک نہ سنی، مباہلہ پراصرار کرتے رہے۔ آئندہ روز، مباہلے کا

______________________

٭طبری کے نقل کے مطابق سورۂ آل عمران کی تقریباً ستر (٧٠) آیتیں اسی مناسب سے نازل ہوئیں ہیں۔(اعلام الوری، ص١٢٩.)

(١)سورۂ آل عمران، آیت ٦٠.

(٢)سورۂ آل عمران، آیت٦١۔

(٣) حلبی، السیرة الحلبیہ (بیروت: دار المعرفہ)، ج٣، ص٢٣٦۔ ٢٣٥؛ زینی دحلان، السیرة النبویہ، ج٢، ص١٤٤؛ مجلسی، بحار الانوار، ج٢١، ص٣٤٧ (تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ) علامہ مجلسی نے عیسائیوں کے وفود کے ساتھ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مناظرہ اورملاقات کو بحار الانوار کی ٢١ ویں جلد میں صفحہ ٣١٩ سے ٣٥٥ تک مختلف کتابوں سے جمع کیا ہے۔


وقت طے پایا۔ اس وقت ان کے پادری نے کہا دیکھو کل یہ دیکھنا کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مباہلہ کے لئے کس طرح آتے ہیں اگر اپنے بچوں اور اہل خانہ کے ساتھ آئیں تو ان سے مباہلہ نہ کرنا کیونکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ انھیں اپنی بات پر یقین و اعتماد ہے او روہ اس راستے میں صرف اپنی ہی جان نہیں بلکہ اپنے قریب ترین بچوں اور خاندان والوں کی جان کو بھی خطرے میں ڈالنے کے لئے تیار ہیں اور اگر بالفرض وہ اپنے ساتھیوں اور اصحاب کے ساتھ آتے ہیں تو ان سے مباہلہ کرلو او ریاد رکھو کہ ان کی بات اور دعویٰ بے بنیاد اور بے دلیل ہے۔ یعنی وہ اپنے ساتھ ان لوگوں کو لاکر اپنے ظاہری عظمت و جلال کو ہمارے اوپر ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔(١)

آئندہ روز پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مقررہ وقت پر اپنے ساتھ حضرت علی ، جناب فاطمہ ، امام حسن اور امام حسین کو لیکر مباہلہ کے لئے روانہ ہوئے۔(٢)

پادری نے آپ کے ساتھ ان حضرات کو دیکھ کر پوچھا کہ یہ لوگ کون ہیں؟ جواب دیا گیا کہ پیغمبر کے ابن عم ہیں وہ آپ کی بیٹی ہیں اور یہ دونوں آپ کی بیٹی کے بیٹے ہیں۔(٣)

پادری نے کہا : میں اس وقت ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ خدا سے دعا کریں کہ پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دے تو پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دے گا ان سے مباہلہ نہ کرنا ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے اور روئے زمین پر ایک عیسائی بھی باقی نہ رہ جائے گا۔

______________________

(١) طبرسی، اعلام الوری، (تہران: دار الکتب، الاسلامیہ، ط٣)، ص١٢٩؛ مجمع البیان، ج٢، ص٤٥٢؛ مجلسی، بحار الانوار، ج٢١، ص ٣٣٧۔

(٢)حلبی، سیرة الحلییہ، ج٣، ص٢٣٦؛ زینی دحلان، السیرة النبیویہ والآثار المحمدیہ، ج٢، ص١٤٤۔

(٣) ابن واضح ، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٧٢؛ طبرسی، اعلام الوری، ص١٢٩۔


پادری کی اس خطرے کی گھنٹی سے عیسائی مباہلہ کرنے سے باز رہے(١) اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ ایک معاہدہ کر کے ٹیکس دینے کے لئے تیار ہوگئے جس کی تفصیل تاریخی کتابوں میں موجود ہے۔(٢)

______________________

(١) حلبی، گزشتہ حوالہ، زینی دحلان، گزشتہ حوالہ؛ زمخشری، تفسیر الکشاف، (بیروت: دار المعرفہ)، ج١، ص١٩٣؛ فخر رازی، مفاتیح الغیب، (التفسیر الکبیر) (بیروت: دار التراث الاسلامی)، ج٨، ص٨٢؛ سید محمد حسین طباطبائی، المیزان فی تفسیر القرآن، ج٣، ص ٢٣١ (تفسیر ثعلبی کی نقل کے مطابق)؛ قاضی بیضاوی، انوار التنزیل، ص٧٤۔

(٢) رجوع کریں: تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٧٢؛ طبقات الکبری، ج٢، ص ٣٥٨؛ فتوح البلدان، ص٧٦۔ ٧٥. وثائق، ترجمہ: محمود مہدوی دامغانی، ص١٣٥۔ ١٣٤؛ السیرة النبویہ و الآثار المحمدیہ، ج٢، ص١٤٤؛ السیرة الحلبیہ، ج٣، ص٢٣٦؛ تفسیر کشاف، ج١، ص١٩١؛ التفسیر الکبیر (مفاتیح الغیب)، ج٨، ص١٨٢؛ المیزان فی تفسیران ، ج٣، ص٢٣٢۔


تیسری فصل

حجة الوداع اور رحلت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

حجة الوداع

حج؛ اسلام کا ایک عبادی اور سیاسی رکن ہے جس کے بانی حضرت ابراہیم ـ تھے، اس کتاب کے پہلے حصہ کی دوسری فصل میں ہم نے ظہور اسلام سے پہلے تک قدرت و طاقت اور قریش کے نفوذ اور ان کی دینی حالتوں کی بحث میں روشنی ڈالی ہے کہ قریش اور تمام مشرکین کس طرح حج اور عمرہ کیا کرتے تھے جو ایک واقعی حج نہیں تھا بلکہ انھوں نے حج ابراہیمی کو بالکل مسخ کر کے رکھ دیاتھا اور اس میں طرح طرح کی رسم و رواج اور خرافات کی آمیزش کردی تھی۔

یہاں پر یہ بھی بیان کرنا مناسب ہوگا کہ قریش اپنے کو ''سکان حرم اللہ'' (حرم نشین) ،(١) سمجھتے تھے اور چونکہ سرزمین ''عرفہ'' حرم سے باہر ہے اس لئے قریش حج کے زمانے میں مشرکین کے برخلاف، میدان عرفات میں نہیں جاتے تھے بلکہ وہ لوگ مزدلفہ ''مشعر'' میں وقوف (ٹھہرا) کرتے تھے۔(٢) اور وہاں سے منیٰ چلے جاتے تھے۔ دوسری طرف یثرب کے لوگ ''منات'' نامی بت کے

______________________

(١) ازرقی، اخبار مکہ، تحقیق: رشدی (قم: منشوراتالرضی، ط١، ١٤١١ھ۔ق)، ج١، ١٧٦؛ ابن عبد ربہ، العقدالفرید، (بیروت: دار الکتاب العربی، ١٤٠٣ھ۔ق)، ج٣، ص٣١٣۔

(٢)واقدی، المغازی، ج٣، ص١١٠٢؛ زینی دحلان، السیرة النبویہ، ج٢، ص١٤٣۔


پاس جو یثرب اور مکہ کے راستے میں سمندر کے کنارے پر موجود تھا۔ وہاں سے احرام باندھتے تھے۔(١) اور جو لوگ وہاں مُحرِم ہوتے تھے وہ لوگ صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کرتے تھے۔(٢)

اسی طرح مشرکین حج کرتے وقت سنت ابراہیمی کے برخلاف غروب سے پہلے ہی میدان عرفات سے مزدلفہ کی طرف کوچ کرجاتے تھے(٣) ان تمام باتوں کی وجہ سے حج ابراہیمی کا چہرہ بالکل تبدیل ہوگیا تھا اور یہ عظیم الٰہی اور توحیدی عبادت، شرک اورخرافات کا پلندہ بن گئی تھی وجوب حج کی آیت(٤) نازل ہونے کے بعد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے پہلے سے اعلان شدہ پروگرام کے مطابق مدینہ او راطراف کے مسلمانوں کے ساتھ حج کی طرف روانہ ہوئے اور(٥) اس سفر میں آپ نے جناب ابراہیم کے حقیقی اورواقعی حج کی، عملی طور پر مسلمانوں کو تعلیم دی، حضرت، مناسک حج کے دوران مسلسل یہ تاکید فرماتے رہے کہ مسلمان مناسک حج کو آپ سے اچھی طرح سیکھ لیں کیونکہ شاید آئندہ سال آپ کو حج نصیب نہ ہو،(٦) آپ فرماتے تھے کہ مواقف اور مشاعر حج کو دھیان میں رکھو کیونکہ یہ جناب ابراہیم کی میراث ہے۔(٧)

______________________

(١)ہشام کلبی، الاصنام، ترجمہ: سید محمد رضا جلالی نایینی، ١٣٤٨ش، ص١٣؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج١، ص٨٨؛ محمود شکری آلوسی، بلوغ الارب فی معرفة احوال العرب، تصحیح محمد بھجة الاثری، (قاہرہ: دارالکتب الحدیث)، ج٢، ص٢٠٢۔

(٢) حلبی، السیرة الحلبیہ، ج٣، ٣١٧۔

(٣) واقدی، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص١١٠٤۔

(٤)سورۂ حج، آیت ٢٧۔

(٥)کلینی، الفروع من الکافی (تہران: دار الکتب الاسلامیہ، ١٣٨٤ھ.ق)، ج٢١، ص٣٩٠۔

(٦)ابن سعد، الطبقات الکبری، ج٢، ١٨١؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ج٣، ص٣٢٧۔

(٧)واقدی، گزشتہ حوالہ، ص١١٠٤۔


آپ نے اس سفر میں، مشرکین، خاص طور سے قریش کی بدعتوں سے حج کو پاک اور صاف کردیا باوجودیکہ آپ خود قریش سے تعلق رکھتے تھے آپ نے عرفات میں وقوف کیا اور وہاں سے مزدلفہ تشریف لے گئے۔(١) کیونکہ حکم خدا یہی تھا کہ'' پھر جہاں سے لوگ روانہ ہوتے ہیں وہیں سے آ پ بھی روانہ ہوں''(٢) اسی طرح آپ نے میدان عرفات سے سورج غروب ہونے کے بعد مزدلفہ کی طرف کوچ کیا۔(٣) یہ حج مختلف اسباب اورمناسبتوںکی وجہ سے'' حجة الوداع '''' حجة الاسلام '' اور ''حجة البلاغ'' کہا گیا۔(٤)

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کا تاریخی خطبہ

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے مناسک حج کے دوران روز عرفہ، عرفات کے میدان میں حاجیوں کے جم غفیر میں ایک بہت ہی اہم اور تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا اور اس کے دوران بہت سے اہم مسائل پر روشنی ڈالی اور ان کے بارے میں بار بار تاکید او روصیت فرمائی اس میں سے ایک یہ بھی تھا کہ جب آپ نے ذی الحجہ اور خاص طور سے اس روز عرفہ کی عظمت اور قداست کا تمام حاضرین سے اعتراف لے لیا توفرمایا:

اے لوگو! جب تک تم لوگ خدا سے ملاقات نہ کرلو تم سب لوگوں کے خون، اموال ناموس اور آبرو بالکل اس مہینے اور اس دن کی حرمت اور قداست کی طرح محترم ہیں اور ان میں سے کسی پر تجاوز کرنا حرام ہے آپ نے فرمایا: جاہلیت میں بہائے جانے والے خون کا بدلہ، اسلام کے زمانہ میں

______________________

(١) واقدی، گزشتہ حوالہ، ص١١٠٢؛ زینی دحلان، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص١٤٣؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ج٢١، ص٣٩٢۔

(٢)سورۂ بقرہ، آیت ١٩٩۔

(٣)واقدی، گزشتہ حوالہ، ص١١٠٤؛ مجلسی، گزشتہ حوالہ، ص٣٧٩۔

(٤)زینی دحلان، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص١٤٣۔


ناقابل اجراء ہے۔ اور ربا حرام ہے۔

اسی طرح آپ نے حرام مہینوں میں تبدیلی یا ان کے مؤخر کرنے کا سبب کفر میں افراط کو قرار دیا اور فرمایا کہ یہ بات بھی آج کے بعد ممنوع ہے۔(١)

عورتوں کے حقوق کے بارے میں یہ تاکید اور وصیت فرمائی: ''عورتوں کے ساتھ نیک برتاؤ کرو کیونکہ وہ تمہارے ہاتھوں میں خدا کی امانتیں ہیں اور قوانین الٰہی کے ذریعہ تمہارے اوپر حلال ہوئی ہیں'' اس کے بعد فرمایا: ''حاضرین، غائبین تک میرایہ پیغام پہونچا دیں کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہے اور تم مسلمانوں کے بعد کوئی امت نہ ہوگی''۔ اس کے بعد آپ نے جاہلیت کی رسم و رواج اورعقائد کو بالکل باطل اور کالعدم قرار دیدیا۔(٢)

عظیم فضیلت

جیسا کہ بزرگ محدثین اور مفسرین نے بیان کیا ہے کہ آیۂ مباہلہ کے نزول کے بعد پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے ساتھ چار لوگ مباہلہ کے لئے آئے تھے، یہ ان کے لئے بہت بڑی اور عظیم فضیلت ہے کیونکہ آیت اور واقعۂ مباہلہ نے یہ واضح کردیا کہ حسن و حسین رسول خدا کے فرزند اور حضرت علی آپ کا نفس ہیں اور آپ کی بیٹی جناب فاطمہ وہ تنہا خاتون ہیں جو مباہلہ میں تشریف لائیں آیت میں نساء کا مصداق آپ کے علاوہ او رکوئی نہیں ہو سکتا ۔

جناب عائشہ سے نقل ہوا ہے کہ روز مباہلہ، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان چاروں افراد کو اپنی سیاہ (اور لکیر دار) عبا کے نیچے لیکر اس آیت کی تلاوت فرمائی:

( انما یرید اللّٰه لیذهب عنکم الرجس اهل البیت و یطهرکم تطهیراً ) (٣)

اس بارے میں تمام علماء شیعہ اور اہل سنت کا اتفاق ہے کہ مباہلہ کے دن یہی چاروں حضرات

______________________

(١) حرام مہینوں کی تبدیلی اوران کے ناموں میں الٹ پھیر اس کتاب کے پہلے حصہ میں ''اسلام سے پہلے عرب کی معاشرتی صورت حال، کی بحث میں''حرام مہینوں'' کے عنوان کے تحت کی ہے۔

(٢)ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج٤، ص٢٥٢۔ ٢٥٠؛ حلبی، السیرة الحلبیہ، ج٣، ص٣١٢؛ ابن سعد، طبقات الکبری، ج٢، ص١٨٦؛ واقدی، المغازی، ج٣، ص١١١١؛ مجلسی، بحار الانوار، ج٢١، ص٣٨٠۔ اس بات کا خیال رہے کہ ابن سعداور واقدی کے کہنے کے مطابق پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ خطبہ میدان منی میں ارشاد فرمایا ہے۔

(٣)( سورۂ احزاب، آیت ٣٢)؛ زمخشری، گزشتہ حوالہ، ؛ فخر رازی نے عائشہ کا نام لئے بغیر، اس روایت کونقل کیا ہے اور یہ جملہ بڑھایاہے ''جان لو کہ یہ روایت اہل تفسیر و حدیث کے درمیان صحیح حدیث کی طرح ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے'' (تفسیر کبیر، ج٨، ص٨٢)؛ شبلنجی کہتا ہے: ''یہ روایت متعدد صحیح سندوںکے ساتھ نقل ہوئی ہے۔


پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے ساتھ آئے تھے اور کتب تاریخ و تفسیر و حدیث میں اس بارے میں بے شمار روایتیں نقل ہوئیہیں(١) اور تمام محققین نے ان حضرات کی اس عظیم فضیلت پر تاکید کی ہے۔

______________________

(١) منجملہ مندرجہ ذیل منابع:تفسیر الکشاف، ج١، ص١٩٣؛ مفاتیح الغیب، (تفسیر الکبیر)، ج٨، ص٨٢ ؛ الدر المنثور، (دار الفکر)، ج٢، ص ٢٣١ تا ٢٣٣؛ (کتاب الدلائل میں حاکم ، ابن مردویہ، ابونعیم کے نقل کے مطابق؛ ترمذی، ابن المنذر، بیہقی، در کتاب السنن، و ابن جریر)، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٧١؛ ابوسعید واعظ خرگوشی، شرف النبی، ترجمہ: نجم الدین محمود راوندی (تہران: انتشارات بابک، ١٣٦١)، ص٢٦٢؛ قاضی بیضاوی، انوار التنزیل، (ط قدیم رحلی)، ص٧٤؛ نورالابصار، ص١١١؛ مناقب علی بن ابی طالب، ابن مردویہ، تدوین و ترتیب و مقدمہ: عبدالرزاق حرز الدین، ص٢٢٦۔ لیکن اس ضمن میں وسیع ترین اور تفصیلی بحث مرحوم سید بن طاووس کی کتاب ''الاقبال بالاعمال الحسنة فیما یعمل مرة فی السنہ'' ،ج٢، ص٣٤٨۔ ٣١٠؛ میں پائی جاتی ہے۔میدان مباہلہ میں اہلبیت کی موجودگی کے بارے میں ان تمام روایات کی حکایت کے باوجود بعض مورخین کی طرف سے تعصب کے تحت مباہلہ کی روایت میں خرد برد ہوئی ہے اور اپنے اپنے سلیقہ کے مطابق اس میں کمی اور زیادتی کی گئی ہے ان میں سے ، بلاذری، ابن کثیر اور شعبی نے حضرت علی کے نام کو حدیث مباہلہ سے حذف کردیا ہے (رجوع کریں: فتح البلدان، ص٧٥، البدایہ والنہایہ، ج٥، ص٥٤؛ الدر المنثور، ج٢، ص ٢٣٢) اور حلبی و زینی دحلان نے عائشہ اور حفصہ کو میدان مباہلہ میں موجودگی کیلئے نامزد قرار دیتے ہوئے عمر سے نقل کیا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اگر عیسائیوں سے میں مباہلہ کرتا تو علی، فاطمہ، حسن، حسین، ٪ عائشہ اور حفصہ کو لیتا اور حاضر ہوتا ۔ (السیرةالحلبیہ، ج٣،ص٢٣٦.السیرة النبویہ و الآثار المحمدیہ، ج٢، ص١٤٥۔ ١٤٤؛ اور سیوطی نے ابن عساکر سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مباہلہ کے لئے، ابوبکر اور ان کے لڑکوں کو ، عمر اور ان کے لڑکوں کو، عثمان اور ان کے لڑکوں کو اور علی اور ان کے لڑکوں کو دعوت دی!! (الدر المنثور، ص٣٣٣.)ان روایات کا جعلی اور تحریف شدہ ہونا اس قدر واضح ہے کہ توضیح کی ضرورت نہیں ہے ۔صرف بطور اشارہ یادہانی کراتے ہیں کہ اگر کلمہ ''نسائنا'' پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج کو بھی شامل ہوتا تو کیوں اور کس طرح صرف ان میں سے دو بیویاں( دو خلیفہ کی لڑکیاں) مباہلہ میں حاضر ہونے کی لیاقت رکھتی تھیں؟!


اہل سنت و الجماعت کے عظیم محدث،'' مسلم''، سعد وقاص سے نقل کرتے ہیں کہ ان کا بیان ہے کہ جس روز یہ آیت ''فقل تعالوا ندع ابنائنا و ابنائکم'' نازل ہوئی ،رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی اور فاطمہ اور حسن اور حسین کو بلایا اور فرمایا: ''خدایا! یہ میرے اہل بیت ہیں''(١)

زمخشری نے واقعۂ مباہلہ اور روایت عائشہ کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ واقعہ اصحاب کساء کی سب سے طاقتور دلیل ہے اور پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی حقانیت کا سب سے واضح اور روشن برہان ہے۔(٢)

قاضی بیضاوی نے بھی واقعۂ مباہلہ کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ واقعہ پیغمبر کی نبوت کی حقانیت اور آپ کے ساتھ آنے والے آپ کے اہل بیت کی فضیلت کی بہترین دلیل ہے۔(٣)

سید بن طاوؤس نے کتاب سعد السعود میں تحریر کیا ہے کہ ''محمد بن عباس بن مروان نے اپنی کتاب ''مانزل من القرآن فی النبی و اہل بیتہ'' میں حدیث مباہلہ کو صحابہ اور غیر صحابہ کی ٥١ سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے''(٤)

اس بحث کے اختتام پر صرف یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ واقعۂ مباہلہ کی تاریخ، سن اور مہینہ کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے(٥) کیونکہ اس مقام پر اس کی تحقیق کی گنجائش نہیں ہے لہٰذا ہم نے مورخین کے طریقۂ کار اور سنت کے مطابق اس کو ١٠ھ کے واقعات میں ذکر کردیا ہے۔

______________________

(١) صحیح مسلم، بشرح النووی، ج١٥، ص١٧٦۔

(٢)تفسیر الکشاف، ج١، ص١٩٣۔

(٣)انوار التنزیل، طبع قدیم، رحلی، ص٧٤۔

(٤)مجلسی، بحار الانوار، ج٢١، ص٣٥٠۔

(٥)اس کے متعلق مزید معلومات کے لئے رجوع کریں: مکاتیب الرسول، ج١، ص١٧٩ و فروغ ابدیت،ط٥، ج٢، ص٤٤٥۔ ٤٤١۔

٭یہ وہ جگہ تھی جہاں سے مختلف ممالک کے حاجیوںکے راستے الگ ہو جایا کرتے تھے۔ مصر عراق اور مدینے کا راستہ وہیں سے جدا ہوتا تھا۔


واقعۂ غدیر اور مستقبل کے رہنما کا تعارف

حجة الوداع سے واپسی کے موقع پر ١٨ ذی الحجہ کے دن حجفہ سے تین میل کے فاصلہ پر سرزمین ''غدیر خم'' ٭میں آیۂ (یا ایہا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک و ان لم تفعل فما بلغت رسالتہ...)(١) کے نزول کے بعد پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے بے آب و گیاہ میدان میں شدید گرمی کے باوجود ایک لاکھ حاجیوں کے کاروان کو رکنے کا حکم دیا اور نماز ظہر ادا کرنے کے بعد ایک بلند مقام پر تشریف لے گئے اور ایک فصیح و بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا: اس میں پہلے تو آپ نے اپنی عمر کے تمام ہونے کی اطلاع دی اور اس کے بعد اپنی تبلیغ او ررسالت سے متعلق مسلمانوں کے خیالات معلوم کئے تو سب نے ایک زبان ہو کر آپ کی تبلیغ، ہدایت اور ارشاد و راہنمائی کی تعریف کی۔ اس کے بعد آپ نے کتاب و عترت یعنی ثقلین کے بارے میں نصیحت فرمائی اور یہ تاکید کی کہ مسلمان دونوں سے متمسک رہیں تاکہ گمراہ نہ ہوں اور آپ نے مزید فرمایا کہ خداوند عالم نے ان کو یہ اطلاع دی ہے کہ یہ دونوں قیامت تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے لہٰذا لوگ ان سے آگے نہ بڑھیں اور نہ ہی ان سے پیچھے رہ جائیں۔

اس موقع پر آپنے حضرت علی کا ہاتھ بلند کیا اور ان کو مسلمانوں کے آئندہ رہبر اور خلیفہ کے عنوان سے پہچنواتے ہوئے یہ فرمایا: خداوند عالم میرا مولا ہے اور میں تمام مومنین کامولاہوں(اور ان کے اوپر ان سے زیادہ اولویت رکھتا ہوں) اور جس کا میں مولا ہوں علی اس کے مولا ہیں۔ پروردگارا! تو اس سے محبت فرما جو علی سے محبت کرے اس کو دشمن رکھنا جو علی سے دشمنی رکھے۔ خدایا! علی کے مددگاروں کی مدد فرما ان کے دشمنوں کو خوار اورذلیل فرما، پروردگارا! علی کو حق کا محور قرار دے۔

______________________

(١) اے پیغمبر! آپ اس حکم کو پہنچا دیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیاگیاہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کونہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا ، اللہ کافروں کی ہدایت نہیں کرتا ہے۔ (سورۂ مائدہ، آیت ٦٧)


اسی وقت یہ آیۂ قرآن نازل ہوئی:( الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دیناً... ) (١) جس میں دین کی تکمیل اور ہدایت کی نعمت کے اتمام کا اعلان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہاتھوں حضرت علی کے خلیفہ منسوب ہو جانے کے بعد کردیا گیااس کے بعد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب نے حضرت علی کو اس منصب کی مبارکبادی۔(٢)

یہ واقعۂ غدیر کا ایک مختصر سا خاکہ ہے اور چونکہ یہ اہم واقعہ اتنا مشہور اور متواتر ہے جس کی وجہ سے ہم نے اس پورے واقعہ کی تفصیل بیان کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی ،کیونکہ دوسرے اسلامی محققین اور دانشوروں نے اس واقعہ کے مختلف گوشوں اور پہلوؤں کو بیان کیاہے خاص طور سے علامہ امینی نے اپنی بیش قیمت اور اہم کتاب الغدیر میں اس واقعہ کی سند اور متن او ردلالت پر ہر اعتبار سے بحث کی ہے اور اس واقعہ کے تمام اہم پہلوؤں کے بارے میں تحقیق اور جستجو فرمائی ہے لہٰذا اسی بنا پر ہم اس مقام پر صرف چند نکتوں کو بطور یاد دہانی ذکر کر کے چند اہم سوالات کے جوابات دینا چاہتے ہیں۔

١۔ واقعۂ غدیر، حضرت علی کی ولایت اور امامت کی اہم دلیل اور سند ہے او رزمانہ کی ترتیب کے اعتبار سے یہ آخری سند ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کی امامت کی صرف یہی ایک تنہا دلیل ہے کیونکہ جیسا کہ آپ نے اس کتاب میں بھی ملاحظہ فرمایا کہ امت کی رہبری اور امامت کی اہمیت کے پیش نظر، پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے بعثت کے ابتدائی ایام میں ہی اپنے اعزاء اور اقرباء کو اپنی رسالت اور اسلام کی طرف دعوت دیتے وقت واقعۂ ذوالعشیرہ میں اپ کی امامت کا بھی تذکرہ کیاتھااور اس کے بعد بھی آپ مختلف مواقع پر (جیسا کہ تبوک میں) ا س بات کی مسلسل یاد دہانی کراتے رہے۔

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جانشینی، ایک خدائی مسئلہ ہے اس کے بارے میں بھی آپ پہلے یہ پڑھ چکے ہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علنی دعوت کے ابتدائی سالوں میں جب مختلف قبائل کو اسلام کی دعوت دی تو قبیلۂ بنی عامر بن

______________________

(١) آج کفار تمہارے دین سے مایوس ہوگئے ہیں لہٰذا تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا ہے اور اپنی نعمتوں کو تمام کردیاہے اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنادیاہے۔ (سورۂ مائدہ، آیت ٣)

(٢)علامہ امینی، الغدیر فی الکتاب والسنہ و الادب (بیروت: دار الکتاب العربیہ)، ج١، ص١١۔ ١٠۔


صعصہ کے سردار کے جواب میں آپ نے فرمایا: '' میری جانشینی خدا سے مربوط ہے اور وہ اس کو جہاں چاہے گا قرار دیدے گا''(١)

اپنی جانشینی سے متعلق پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی تبلیغ کے دوران جو طریقۂ کار اپنایاتھااورایک ہی شخصیت پر آپ کی نگاہ مسلسل ٹکی ہوئی تھی اگر ہم اس کو انصاف کے ساتھ دیکھیں نیز اگر ہم علمی برتری، ایثار و فداکاری، لیاقت وشایستگی اور تجربہ کے لحاظ سے اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے درمیان غور سے دیکھیں اور ان تمام باتوں اور فضیلتوں کو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جانشینی کا معیار قرار دیں توہم اس نتیجہ تک پہونچیں گے کہ حضرت علی ہر لحاظ سے بے مثال اور لاجواب نظر آتے ہیں کیونکہ پیغمبر کھلم کھلا اور علی الاعلان آپ کو اپنی جانشینی کے لئے پیش کرنے پر تاکید فرماتے تھے اور ہر موقع اور مناسبت پر کسی نہ کسی طرح آپ کی برتری، فضیلت اورافضلیت کو لوگوں کے گوش گزار کرتے تھے اوران تمام فضائل اور کمالات میں پیغمبر کا کوئی صحابی بھی حضرت علی کے ہم پلہ نہیں تھا۔

٢۔ جیسا کہ اس بارے میں اشارہ کیا گیا ہے کہ حدیث غدیر کی شہرت اور تواتر کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں پایا جاتا اور علماء اہل سنت کے ایک گروہ نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے۔٭

______________________

(١) الامر للّٰہ یضعہ حیث یشائ۔

٭وہ لوگ حضرت علی کی امامت سے متعلق اس کی دلالت کی بارے میں شک و شبہ پیدا کرتے ہیں کہ جس کی وضاحت ہم پیش کریں گے۔ مثلاً ١٣٧١.ش، میں ترکی کے شہر استانبول میں شیعہ شناسی سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرس منعقد ہوئی تھی جس میں اسلامی ممالک کے علماء اوردانشوروں نے شرکت کی تھی اور اس میں ایک وفد ایران کے برجستہ علماء اور محققین پر مشتمل تھا اسی کانفرنس میں کسی مقرر نے جب حدیث غدیر کا انکار کیا تو سوریہ یونیورسٹی کے مشہور اور معروف دانشمند ڈاکٹر محمد سعید رمضان بوتی نے یہ کہا تھا کہ حدیث غدیر پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ارشاد ہے یہ آپ سے نقل ہوئی ہے اس میں کسی قسم کی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔ البتہ یہ شیعوںکے مدعا پر دلالت نہیں کرتی... البتہ اگرچہ اس کے بعد اس جملہ کا جواب بھی، ایران کے محقق نے اس طرح سے پیش کردیا کہ ''یہ شیعہ عقیدہ پر دلالت کرتی ہے۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں: ''منطق شیعہ ھا در کنکرھا و مجامع علمی'' آیة اللہ سبحانی، انتشارات مکتب اسلام ط١، ١٣٧٦۔ش، ص ٢١، ٢٧۔


جیسا کہ علامہ امینی نے الغدیر میں یہ ثابت کیا ہے کہ اس اہم تاریخی واقعہ کو ایک سو دس (١١٠) صحابیوں اور ٨٤ تابعیوں نے نقل کیاہے اور ٣٦٠ علماء و محققین اہل سنت نے اس حدیث کواپنی کتابوں میں ذکر کیا اور ان میں سے کچھ لوگوں نے اس کی سند کی صحت کا بھی اعتراف کیا ہے(١) اسلامی تاریخ کے اہم واقعات میں سے شاید ہی کوئی واقعہ ہو جس کی شہرت اور سند اتنی محکم اور مستحکم ہو۔

البتہ واقعۂ غدیر کو اکثر محدثین نے نقل کیاہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ (مختلف اسباب کی بنا پر جو اہل علم اور تحقیق سے پوشیدہ نہیں ہے) مورخین نے اس واقعہ کو ہضم کرلیا ہے صرف مورخین کے درمیان یعقوبی نے اس کو حجة الوداع کے بعدمختصر طور پر ذکر کیا ہے۔(٢)

______________________

(١) الغدیر، ج١، ص١٥١۔ ١٤۔

(٢)و خرج صلی اللّٰه علیه و آله و سلم لیلاً منصرفاً الی المدینة فصار الی موضع بالقرب من الجحفة یقال له ''غدیرخم'' لثمانیة عشر لیلة من ذی الحجة و قام خطیبا'ٔو أخذ بید علی بن ابی طالب علیه السلام فقال:ألست اولی بالمؤمنین من أنفسهم؟ قالوا: بلی یا رسول اللّٰه، قال: فمن کنت مولاه فعلی مولاه، اللّٰهم و ال من والاه و عاد من عاداه ۔ (ج٢، ص١٠٢)

مسعودی نے (مشہور کے خلاف) اس کو حدیبیہ کے سفر سے پلٹتے وقت ذکر کیا ہے، وہ یوں رقمطراز ہے:

''... و فی منصرفہ عن الحدیبیة قال لامیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ بغدیر خم: من کنت مولاہ فعلی مولاہ و ذلک فی الیوم الثامن عشر من ذی الحجہ...'' (التنبیہ و الاشراف (قاہرہ: دار الصاوی للطبع و النشر و التألیف)، ص٢٢١)

وہ مروج الذہب میں حضرت علی کے برجستہ فضائل کو شمار کرتے ہوئے حدیث ولایت کواختصار کے ساتھ یوں نقل کرتے ہیں:

''الاشیاء التی استحق بها اصحاب رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه و آله و سلم الفضل هی: السبق الی الایمان، والهجرة، والنصرة لرسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه و آله و سلم، والقربی منه، والقناعةو بذل النفس له، والعلم بالکتاب و التنزیل، والجهاد فی سبیل اللّٰه، والورع، والزهد، والقضائ، والحکم، والفقه، والعلم، و کل ذلک لعلی علیه السلام، منه النصیب الاوفر، و الحظ الأکبر، الی ما ینفرد به من قول رسول اللّٰهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حین آخی بین اصحابه،: ''انت أخی''وهو صلی اللّٰه علیه و آله و سلم لاضد له و لاند. و قوله صلوات اللّٰه علیه : ''انت منی بمنزلة هارون من موسیٰ الا انه لانبی بعدی'' و قوله علیه الصلاة والسلام : ''من کنت مولاه فعلی مولا، اللّٰهم وال من والاه و عاد من عاداه...'' (مروج الذهب، (بیروت: دار الاندلس، ط١، ١٩٦٥)، تحقیق: یوسف اسعد داغر، ج٢، ص٤٢٥.)


اگر چہ تاریخ طبری میں جن کا طریقۂ کار ہی یہ ہے کہ وہ ہر واقعہ کی تفصیل اور گہرائی تک جاتے ہیں لیکن توقع کے برخلاف اس واقعہ کوذکر ہی نہیںکیا ،اگر چہ انھوں نے غدیر کے اثبات کے لئے ایک مستقل کتاب ''کتاب الولایة''(١) کے نام سے تالیف کی کہ جوآٹھویں صدی ہجری تک موجودتھی اور نجاشی(٢) {متوفی ٥٤٠ھ} اور شیخ طوسی(٣) { متوفی ٤٦٠۔ ٣٨٥ ہجری قمری} نے اس کتاب کا تذکرہ کیاہے اور اس کتاب تک اپنی سند کو بھی ذکر کیا ہے۔

______________________

(١)ابن شہر آشوب، معالم العلماء (نجف: المطبعة الحیدریہ، ١٣٨٠ھ.ق)، ص١٠٦؛ ابن طاووس، الطرائف فی معرفة مذاہب الطوائف (قم: مطبعة الخیام، ١٤٠٠ھ.ق)، یہ بطریق، عمدة عیون صحاح الاخبار، تحقیق: مالک المحمودی و ابراہیم البھادری (قم: ١٤١٢ھ.ق)، ج١، ص١٥٧۔

اس کتاب کے دوسرے نام بھی ذکر ہوئے ہیں۔ جیسے: کتاب الفضائل، حدیث الولایہ اور کتاب غدیر خم، گویا انمیں سے کچھ عنوان ایسے ہیں جو کتاب کے مطالب کے لحاظ سے کتاب شناس لوگوں کے ذریعہ سے رکھے گئے ہیں۔ اور کچھ دوسرے نام شاید کتاب کے ایک خاص حصہ کا ہے جو مستقل طور پر شائع ہوا ہے جیسا کہ بعد کے حاشیہ میں آیا ہے نجاشی نے اس کو ''الرد علی الحرقوصیہ'' کے نام ذکر کیاہے۔ ''حرقوص بن زہیر'' خوارج کاایک سردار تھا۔ گویااس نام گزاری کا مقصد یہ تھا کہ مخالفین ولایت علی کو ناصبی اور خارجی بتائیں۔

(٢)محمد بن جریر ابوجعفر الطبری عامی لہ کتاب الرد علی الحرقوصیة ذکر طرق خبر یوم الغدیراخبرنا القاضی ابواسحاق ابراہیم بن مخلد قال حدثنا ابی قال حدثنا محمد بن جریر بکتابہ ''الرد علی الحرقوصیة'' (نجاشی، فہرست مصنفی الشیعہ، قم: مکتبة الداوری، ص٢٢٥؛ ) ''سید ابن طاووس'' نے بھی کتاب الاقبال ، ج٢، ص٢٣٩ ، میں اسی نام سے ذکر کیا ہے۔

(٣) محمد بن جریر طبری، ابوجعفر صاحب التاریخ، عامی المذہب لہ کتاب غدیر خم و شرح امرہ بصفتہ اخبرنا بہ احمد بن عبدون عن الدوری عن ابن کامل عنہ (طبرسی، الفہرست، مشہد: مشہد یونیورسٹی ١٣٥١ش، ص٢٨١.)


ابن کثیر متوفی ١٧٤ھ نے بھی واقعہ غدیر کو حجة الوداع کے بعد ذکر کر کے یہ کہا ہے: ابو جعفر محمد بن جریر طبرسی مولف تفسیر اور تاریخ نے اس حدیث پر توجہ کی ہے اور اس کی سند اور الفاظ کو دو جلدوں میں جمع کیا۔(١) اس کے بعد انھوں نے طبری کی کچھ روایات کو حدیث غدیر سے متعلق نقل کیا وہ دوسرے مقام پر لکھتے ہیں : میں نے طبری کی ایک کتاب دیکھی ہے جو دو بڑی جلدوں پر مشتمل تھی اور اس میں انھوں نے حدیث غدیر کو جمع کیا ہے۔(٢)

ابن شہر آشوب متوفی ٥٨٨ ھ لکھتے ہیں اس (طبری) نے کتاب غدیر خم کو تالیف کی اور اس میں اس واقعہ کی شرح کی اور اس کتاب کا نام ''الولایة'' رکھا۔(٣)

ابن طاوؤس بھی راوة حدیث غدیر کو شمار کرتے وقت کہتے ہیں :حدیث غدیر کو محمد بن جریر مولف تاریخ نے ٧٥ سندوں کے ساتھ روایت کیا اور اس بارے میں ایک مستقل کتاب تالیف کی ہے جس کا نام حدیث الولایہ ہے۔(٤)

یحییٰ بن حسن معروف جو ''ابن بطریق'' کے نام سے معروف ہیں (٦٠٠ھ۔ ٥٢٣ھ) تحریر کرتے

______________________

(١) وقد اعتنی بأمر ہذا الحدیث ابوجعفر محمد بن جریر طبری صاحب التفسیر و التاریخ فجمع فیہ مجلد ین اورد فیہما طرقہ والفاظہ... (البدایہ والنہایہ، ج٥، ص٢٠٨.) یہ بات قابل ذکر ہے کہ ابن کثیر نے عین حادثۂ غدیر کو نقل کرتے وقت اس میں خدشہ ظاہر کیا ہے انشاء اللہ ہم بعد میں اس کے متعلق بحث کریں گے۔

(٢)و قدرأیت له کتاباً فجمع فیهااحادیث غدیر خم فی مجلدین ضخمین ۔ (گزشتہ حوالہ، ج١١، ص١٤٧، حوادث سال ٣١٠ کے ضمن میںجو کہ طبری کے مرنے کا سال ہے، )

(٣)لہ (طبری) کتاب غدیر خم و شرح امرہ و سماہ کتا ب الولایة۔ (معالم العلمائ، ص١٠٦)

(٤) و قد روی الحدیث فی ذالک محمد بن جریر الطبری صاحب التاریخ من خمس و سبعین طریقاً و افرد لہ کتاباًسماہ حدیث الولایة. (الطرائف، ج١، ص١٤٢.)


ہیں: محمد ابن جریر طبری مولف کتاب تاریخ نے روایت غدیر کو ٧٥ سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے اور اس بارے میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے جس کا نام کتاب ''الولایہ'' ہے۔(١)

جن محققین اور مورخین کے نام ہم نے ذکر کئے ہیں ان لوگوں نے کتاب الولایہ کا ایک مختصر اور اجمالی خاکہ ہی بیان کیا ہے اور بعض حضرات جیسے ابن کثیر نے اس کی صرف بعض روایات نقل کرنے پر اکتفا کی ہے، قاضی نعمان مغربی مصری (ابو حنیفہ نعمان بن محمد تمیمی متوفی ٣٦٣ھ) وہ واحد شخص ہیں جنھوں نے طبری کی روایات میں سے ٧٥ روایتیں حضرت علی ـ کے فضائل میں اپنی کتاب ''شرح الاخبار فی فضائل الائمة الاطہار'' میں نقل کی ہیں اوراسی طرح انھوں نے طبری کی باتوں کو آئندہ نسلوں کے لئے منتقل کردیا۔(٢)

وہ کہتے ہیں کہ: ''یہ کتاب بہت ہی دلچسپ کتاب ہے جس میں طبری نے حضرت علی کے فضائل کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔(٣)

طبری نے اس کتاب کو کس بنا پر تالیف کیا ہے۔(٤) قاضی نعمان اس سبب اور وجہ کو بیان کرنے

______________________

(١)و قدذکر محمد بن جریر الطبری، صاحب التاریخ خبر یوم الغدیر و طرقہ من خمسة و سبعین طریقاً و افردالہ کتاباً سماہ کتاب الولایة۔ (عمدة عیون صحاح الاخبار، ج١، ص١٥٧.)

(٢)یہ کتاب ١٤١٤ھ.ق، میں مؤسسہ نشر اسلامی در قم، کے توسط سے تین جلدوں میں طبع ہوچکی ہے اور پہلی جلد میں صفحہ ١٣٠ کے بعد طبری کی روایات نقل ہوئی ہیں۔

(٣)و ہو کتاب لطیف بسط فیہ ذکر فضائل علی علیہ السلام (گزشتہ حوالہ، ج١، ص١٣٠.)

(٤) گزشتہ حوالہ، ج١، ص ٣١٠؛ ان کے کتاب تالیف کرنے کا سبب یہ تھاکہ انھیں اطلاع ملی کہ علمائے بغداد میں سے ایک نے حدیث غدیر کا انکار کیا ہے او ریہ دعوی کیا ہے کہ حضرت علی حجة الوداع سے واپسی کے موقع پر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ نہیں تھے بلکہ یمن میں تھے، طبری کو یہ بات سن کر بہت غصہ آیا اورانھوں نے اس کی رد میں کتاب الولایہ تحریر کی اور اس میں حدیث غدیر کو مختلف سندوں کے ساتھ ذکر کر کے اس کی صحت کو ثابت کیا۔ حافظ ابن عساکر اور شمش الدین محمد ذہبی کے بقول مذکورہ شخص ابوبکر ابوداؤد {سلیمان بن اشعث} سجستانی مؤلف {سنن} تھا۔ اور یہ حضرت علی کے بغض و دشمنی میں مشہور تھا۔ (تاریخ مدینہ دمشق، ج٢٩، ص٨٧؛ میزان الاعتدال، ج٢، ص٤٣٤؛ تاریخ بغداد، ج٩، ص٤٦٨ ٤٦٧.)


کے بعد مزید یہ کہتے ہیں کہ طبری نے اس کتاب میں ولایت علی سے متعلق ایک باب مختص کیا ہے اور اس میں پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م سے مروی صحیح روایات کو ذکر کیا ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خواہ حجة الوداع سے پہلے یا حجة الوداع کے بعد فرمایا:

''من کنت مولاه فعلی مولاه اللّٰهم وال من والاه و عاد من عاداه و انصر من نصره و اخذل من خذله''اور یه بھی فرمایا : علی امیر المومنین ، علی اخی، علی وزیری، علی وصیی، علی خلیفتی علی امتی من بعدی، علی اولی الناس بالناس من بعدی''

اور اس کیعلاوہ دوسری روایتیں بھی ہیں جو حضرت علی کی جانشینی کو ثابت کرتی ہیں اور جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ امت کی رہبری اور اس کی قیادت کی باگ ڈور آپ کو ہی ملنا چاہئے تھی اور کسی کو آپ سے آگے بڑھنے کا یا آپ کے اوپر حکومت کرنے کا حق نہیں ہے''۔(١)

٣۔ اس بارے میں جو لائق ذکرشبہ ایجاد کیاگیا ہے وہ بعض علمائے اہل سنت جیسے فخر رازی اور قاضی عضد ایجی کی طرف سے اس کے مفاد میں شک و شبہ پیدا کرنا ہے۔ انھوں نے اصل واقعہ کو تو قبول کیا ہے لیکن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خطبۂ غدیر میں حضرت علی کے بارے میں جو کلمۂ مولیٰ استعمال کیا ہے اور اس سے ولایت الٰہیہ اور امامت کے معنی سمجھ میں آتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ کلمۂ مولا، دوست اور ناصر وغیرہ کے معنی میں ہے او ران کا دعویٰ یہ ہے کہ یہ واقعہ حضرت علی کی ولایت اور خلافت پر دلالت نہیں کرتا ہے بلکہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس خطبہ میں حضرت علی کی دوستی اور محبت کا حکم دیا تھا یہ لوگ کہتے ہیں کہ مَفعَل (مولیٰ) لغت میں اَفعل (اولیٰ) کے معنی میں نہیں آیا ہے اس بنا پر پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس خطبہ میں لفظ مولیٰ کے معنی دوست کے ہیں۔(٢)

______________________

(١) شرح الاخبار، ج١، ص١٣٥۔ ١٣٤۔ اسی طرح کتاب الولایہ کے متعلق مزید معلومات کے لئے رجوع کریں: پارہ ھای بر جای ماندۂ کتاب فضائل علی بن ابی طالب، رسول جعفریان، فصلنامۂ میقات حج، شمارۂ ٣٤۔

(٢) الغدیر، ج١، ص٣٥٠، ٣٥٤ و ٣٥٦۔


علامہ امینی نے اپنی بہت ہی علمی، تحقیق اور جستجو کے بعد قرآنی، حدیثی، لغوی اور دوسرے شواہد ذکر کرنے کے بعد ادیبوں اور بڑے بڑے لغت شناس کے کلام سے استشہاد کرنے کے بعد اس دعویٰ کی بے مائیگی اور کمزوری کو ثابت کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ ان تینوں مقامات پر لفظ مولا، اولیٰ کے معنی میں شائع اور رائج تھا۔ نمونہ کے طور پر مندرجہ ذیل آیتوں میں سیاق و سباق کا لحاظ رکھتے ہوئے لفظ مولا کے معنی ولی یا متولی امر یا صاحب اختیار کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوسکتے۔

آیہ:( فالیوم لایؤخذ منکم فدیة و لا من الذین کفروا مأوٰیکم النار هی مولیٰکم و بئس المصیر ( ۔(١) ) واعتصموا باللّٰه هو مولیٰکم فنعم المولیٰ و نعم النصیر ( ۔(٢) ) ذٰلک بأن اللّٰه مولی الذین آمنوا و ان الکافرین لا مولیٰ لهم ( ۔(٣) ) بل اللّٰه مولیٰکم و هو خیر الناصرین ( ۔(٤) ) قل لن یصیبنا الا ماکتب اللّٰه لنا هو مولیٰنا ( ۔(٥) ) یدعوا لمن ضره أقرب من نفعه لبئس المولی و لبئس العشیر ) (٦)

مفسرین نے ان آیات میں ''مولیٰ'' کے معنی کی تفسیر اوراس کے معنی ''اولیٰ'' ہی ذکر کئے ہیں۔

حدیث میں یہ بھی آیا ہے''ایما امرأة نکحت بغیر اذن مولاه فنکاحها باطل'' (٧) ،

______________________

(١) سورۂ حدید، آیت ١٥۔

(٢) سورۂ حج، آیت ٧٨۔

(٣) سورۂ محمد، آیت ١١۔

(٤) سورۂ آل عمران، آیت ١٥٠۔

(٥) سورۂ توبہ، آیت ٥١۔

(٦) سورۂ حج، آیت ١٣۔

(٧)ابو جعفر محمد بن الحسن طوسی، الاقتصاد الہادی الی طریق الرشاد (تہران: مکتبہ جامع چہل ستون، ١٤٠٠ھ۔ق)، ص٢١٧۔ مسند احمد کے نقل کے مطابق، ج٦، ص٤٤؛ یہ بطریق، عمدة عیون صحاح الاخبار، ج١، ص١٥٩؛ ابن حزم، ابومحمد علی بن احمد، المحلی، تحقیق: احمد محمد شاکر، (بیروت: دارالآفاق الحدیثہ)، ج٩، ص٤٧٤، مسألة ١٨٣٨۔


(جو عورت اپنے مولا کی اجازت کے بغیر، نکاح کر لے تو اس کا نکاح باطل ہے)، محدثین اور فقہاء نے اس حدیث میں مولیٰ کے معنی بھی عورت کا ولی اور سرپرست بیان کئے ہیں۔

علامہ امینی نے ''لفظ مولا'' کے ستائیس احتمالی معنی گنوائے ہیں اوریہ ثابت کیا ہے کہ بروز غدیر خطبۂ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں ان معانی میں سے بعض معنی کا مراد لینا مستلزم کذب ہے اور بعض کاارادہ کرنا مستلزم کفر ہے ، بعض دوسرے معنی کامراد لینا ناممکن اور بعض کا مراد لینا لغو اور بے فائدہ ،یا بالکل ہلکا اور سبک ،لہٰذا صرف اور صرف ''اولیٰ بالشیئ'' ہی مراد لیا جا سکتا ہے۔(١)

اس کے بعد علامہ امینی نے ان چودہ جید علماء اور محدثین اہل سنت کی گفتگو کو بھی ذکر کیاہے جنھوں نے ''خطبہ غدیر'' میں لفظ مولیٰ سے اولیٰ بالشیء کے معنی مراد لیئے ہیں جن میں شمس الدین ابو المظفرسبط ابن جوزی حنفی (٦٥٤۔ ٥١١ ہجری قمری) بھی ہیں۔ جو یہ کہتے ہیں:

''اہل سیرت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ واقعۂ غدیر حجة الوداع سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی واپسی کے موقع پر ١٨ ذی الحجہ کو اصحاب کی کثیر تعداد اور ایک کثیر مجمع کے درمیان جنکی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار تھی پیش آیا اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں''

اس کے بعد انھوں نے لفظ مولا کے دس احتمالی معنی ذکر کئے اور پھر اس کے نو معنی میں رد وقدح کرنے کے بعد صرف دسویں معنی یعنی وہی اولیٰ بالتصرف کے معنی کی تصدیق کی ہے اور اس کے لئے سورۂ حدید کی ١٥ ویں آیت کو شاہد اور دلیل کے طور پر پیش کیا ہے اور تعبیر مولیٰ کو، حضرت علی کی امامت اور آپ کی اطاعت کو قبول کرنے کے بارے میں صریح اور واضح نص قرار دیا ہے۔(٢)

______________________

(١) الغدیر، ج١، ص٣٧٠۔ ٣٦٧۔

(٢) ۔۔۔فتعین الوجه العاشر و هو ''الاولی'' و معناه من کنت اولی به من نفسه فعلی اولی به فعلم ان جمیع المعانی راجعة الی الوجه العاشر ودل علیه ایضاً قوله صلی اللّٰه علیه وآله وسلم، الست اولی بالمؤمنین من أنفسهم و هذا نص صریح فی اثبات امامته و قبول طاعته ۔۔۔ (تذکرة الخواص، (نجف: المکتبة الحیدریہ، ١٣٨٣ھ۔ق)، ص٣٣۔ ٣٠۔

اس کے بعد اس زمانے کے کچھ شعراء کے اشعار منجملہ حسان بن ثابت ( جو خود واقعۂ غدیر میں موجود تھے)کے اشعار نقل کئے ہیں کہ انھوں نے کلمۂ مولیٰ سے لفظ ''امام'' سمجھاہے اور اس کواپنے اشعار میں نظم بھی کیا ہے۔


شواہد اور قرائن

خطبہ کے اندر اور اس سے الگ ایسے متعدد شواہد و قرائن بھی موجود ہیں جن سے معنی ٔ مذکور کی تائید ہوتی ہے اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسئلہ حضرت علی کی دوستی اور محبت کے اعلان سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں:

الف: ایک لاکھ حاجیوں کواس چلچلاتی دھوپ میں، صرف حضرت علی کی دوستی اور محبت کے اعلان کے لئے رکنے کا حکم دینا کوئی معقول بات نہیں ہے کیونکہ مسلمانوں کی برادری اور بھائی چارگی اور آپسی محبت کوئی ایسے ڈھکی چھپی بات نہیں تھی جو مسلمانوں سے پوشیدہ ہو اور اس کے لئے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کواعلان کی ضرورت پیش آئے خاص طور سے حضرت علی کی شخصیت سے دوستی اور محبت، کس سے پوشیدہ رہ سکتی ہے۔

ب: خطبے کا مقدمہ جو پیغمبر کی رحلت کے قریب ہونے کے بارے میں ایک طرح کی پیشین گوئی ہے آنحضرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ت کی جانشینی سے ارتباط اور مناسبت رکھتا ہے نہ کہ حضرت علی کی دوستی سے۔

ج: پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے پہلے اپنے بارے میں ''اولیٰ بالنفس'' کی تعبیر استعمال کی اس کے بعد حضرت علی کو دوسروں سے اولیٰ ہونے کے طور پر پہچنوایا یہ مقارنت واضح اور روشن دلیل ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، حضرت علی کے لئے اسی مقام ولایت امر مسلمین کو ثابت کر رہے تھے جس منصب پر آپ خود فائز تھے٭۔

______________________

٭ احمد بن حنبل نے اپنی مسند جلد١، ص١١٩، پر اور ابن اثیر نے اسد الغابہ ، ج٤، ص٢٨۔ پر ایک روایت نقل کی ہے کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''الست اولی من المومنین من انفسہم و ازواجی وأمّہاتہم'' کیامیں مومنین پر ان کی جانوں کی بہ نسبت اولی بالتصرف اورمقدم نہیں ہوں اور کیا میری بیویاں ان کی مائیں نہیں ہیں۔ یہ بالکل واضح اور طے شدہ بات ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویوں کا مسلمانوں کی ماں ہونا ، سورہ احزاب کی چھٹی آیت کے مطابق صرف حضرت سیمخصوص ہے جو آپ کے منصب سے مناسبت رکھتا اور اس مقام پر اس کو مسلمانوں کی جان و مال پر اولویت کے ساتھ ذکر کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے عہدہ نبوت کو پہچنوانا چاہتے تھے اور پھر اسی کے مثل یعنی حضرت علی کی ولایت اور خلافت کا اعلان کرنا مقصود تھا۔ واضح رہے کہ ابن کثیر کہ جس کا ایک خاص نظریہ اور عقیدہ ہے اور اس نے مذکورہ حدیث کونقل کرنے کے بعد کسی وضاحت اوردلیل کے بغیر اس روایت کو ضعیف اورغریب کہا ہے۔ البدایہ والنہایہ، ج٥، ص٢١١۔ جبکہ اس کے پہلے راوی یعنی عبد الرحمان بن ابی لیلی علماء اہل سنت کے مطابق موثق ہیں اور یہ روایت دوسری سندوں سے بھی نقل ہوئی ہے۔ رجوع فرمائیں: الغدیر، ج١، ص ١٧٨۔ ١٧٧۔


د: خطبۂ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد مسلمانوں کا حضرت علی کو ''مولائے مومنین'' کے عنوان سے مبارکباد پیش کرنا یہ صرف امامت سے مناسبت رکھتاہے۔ خداوند عالم کی طرف سے دین کے اکمال اور نعمت کے اتمام کا اعلان دوستی کے موضوع اور عنوان سے کسی طرح میل نہیں کھاتا ہے۔

و: حسان بن ثابت شاعر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور اس زمانہ میںعرب کا مشہور شاعر اور ادیب جو خود واقعۂ غدیر میں موجود تھا اس نے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اجازت سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خطبہ کو نظم میں پیش کیا اور اس میں کلمۂ مولیٰ کو ''امام'' اور ''ہادی'' کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ ایک شعر:

و قال له قم یا علی فاننی

رضیتک من بعدی اماماً و هادیاً

امیر المومنین نے معاویہ کو جو اشعار لکھ کر بھیجے تھے، اس میں اس طرح لکھا ہے:

واوجب لی ولایته علیکم

رسول اللّٰه یوم غدیر خم(١)

______________________

(١) مکمل طور سے ان قرائن اور شواہد کے بارے میں آگاہی کے لئے رجوع کریں: الغدیر، ج١، ص٣٨٥۔ ٣٧٠؛ پیشوائی از نظر اسلام، جعفر سبحانی، ص٢٣٨۔ ٢٣٤۔


٤۔ ابن کثیر نے واقعۂ غدیر کو حضرت علی کے سفر یمن سے مربوط قرار دیا ہے جو حجة الوداع سے پہلے پیش آیا تھا اور اس میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ چونکہ اس سفر میں حضرت علی نے اپنے ہم سفر ساتھیوں کے مال غنیمت میںبے جا اور غیر شرعی استعمال کی (قبل اس کے کہ اس کو رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پیش کرتے) مخالفت کی تھی اور آپ کے ساتھی آپ کی ا س عدالت پر رنجیدہ ہوئے تھے۔(١) اسی بنا پر پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے غدیر خم میں حضرت علی کی فضیلت اور امانتداری اور عدالت کو بیان کیا اور آپ کے نزدیک جو قرب و منزلت ان کو حاصل تھی اس کو بیان کیا ۔ اور بہت سارے لوگوں کے دلوں میں جو آپ کے تئیں کینہ و کدورت اور حسد تھا اسے ختم کیا۔(٢)

یہ تاویل اور توجیہ صحیح نہیں ہے کیونکہ یمن کے سفر سے متعلق، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پہلی ملاقات میں حضرت علی کے ہم سفر ساتھیوں کا جواب مکے میں (حج سے پہلے) دیدیا تھا۔ اور فرمایا تھا: لوگ علی کی شکایت نہ کریں۔ خدا کی قسم وہ حکم الٰہی کے نافذ کرنے میں بہت سخت اور بے خوف ہیں۔(٣)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس صریحی بیان سے مسئلہ ان لوگوں کے لئے تمام ہوگیا جوآنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کچھ سننا چاہتے تھے اور پھر کوئی بات نہیں رہ جاتی کہ تین سو (٣٠٠) افراد(٤) کے لئے جو رنجش حضرت علی سے پیدا ہوگئی تھی اور اس کوآپ نے بھی دور کردیا تھا۔ دوبارہ اس کو پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک لاکھ کے مجمع میں بیان فرماتے۔

______________________

(١) اس واقعہ کی مزید معلومات کے لئے رجوع کریں: واقدی، مغازی، ج٣، ص١٠٨١؛ البدایہ والنہایہ، ج٥، ص٢٠٩۔ ٢٠٨۔

(٢)فبین فیها فضل علی بن ابی طالب و براء ة عرضه مماکان تکلم فیه بعض من کان معه بأرض الیمن، بسبب ماکان صدر منه الیهم من المعدلة التی ظنها بعضهم جوراً و تضییقاً و بخلاً، و الصواب کان معه و ذکر من فضل علی و امانته و عدله و قربه الیه ما ازاح به ماکان فی نفوس کثیر من الناس منه (البدایہ والنہایہ،ج٥، ص٢٠٨۔)

(٣)یا ایها الناس لاتشکوا علیاً فو اللّٰه انه لاخشن فی ذات اللّٰه او فی سبیل اللّٰ ہ {من ان یشکی}۔ (تاریخ الامم والملوک، ج٣، ص١٦٨؛ (نہایة الارب فی فنون الأدب، ترجمۂ :محمودمہدوی دامغانی، ج٢، ص٣٢٩؛ الدایہ والنہایہ، ج٥، ص٢٠٩؛ رجوع کریں: ترجمة الامام علی من تاریخ مدینة دمشق، تالیف: حافظ ابن عساکر، تحقیق: الشیخ محمد باقر المحمودی (بیروت: دار التعارف للمطبوعات، ١٣٩٥ھ۔ق)، ج١، ص٣٨٦۔

(٤) مورخین اور سیرت نگاروں نے یمن کی ماموریت میں حضرت علی کی سپہ سالاری کے ماتحت سپاہیوں کی تعداد تین سو (٣٠٠) افراد لکھی ہے۔ رجوع کریں: واقدی، مغازی، ج٣، ص١٠١٩؛ طبقات الکبری، ج٢، ص١٦٩۔


٥۔ اگر حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی کو غدیر میں امام بنایا ہوتا تو اصحاب آپ کے بعد آپ کے اس حکم کی مخالفت نہ کرتے اور آپ کی صریحی تاکید اور وصیت سے منہ نہ موڑتے کیونکہ آپ کے اصحاب صالح اور با ایمان لوگ تھے۔ جنھوں نے راہ اسلام میں اپنی جان اور مال کے ذریعے کامیاب امتحان دیاتھا لہٰذا یہ بہت ہی بعید بات ہے کہ اتنا عظیم واقعہ پیش آئے اور وہ لوگ اس کی مخالفت کر بیٹھیں خاص طور سے جبکہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت اور غدیر کے درمیان میں تقریباً ستر (٧٠) دنوں کا مختصر سا فاصلہ پایا جاتا ہے لہٰذا یہ بہت بعید ہے کہ اتنی جلدی لوگ ایسے واقعہ کو فراموش کر دیں۔

اس سوال کے جواب کے لئے اگر ہم رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دور کے حادثات اور واقعات پر ایک سرسری نگاہ ڈالیں تو اگرچہ اصحاب کے روحانی مراتب اور درجات مجموعی طور سے اپنی جگہ پر مسلم ہیں مگر پھر بھی پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فرمان سے سرپیچی کرنا ان لوگوں کے درمیان کوئی نئی بات نہیں تھی کیونکہ اس دور میں بھی کچھ مسلمانوں کا ایمان ایسا ناپختہ تھا کہ وہ لوگ خدا و پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے احکام کے سامنے مکمل طور پر سرتسلیم خم نہیں کرتے تھے خاص طور پر جب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حکم ان کے ذاتی مفادات، قبیلہ کے رسم و رواج اور ان کے سیاسی افکار سے میل نہیں کھاتا تھا تو پھر وہ لوگ ایک طرح سے اپنی رائے اور اجتہاد کے ذریعہ یہ کوشش کرتے تھے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رائے کو تبدیل کردیں ورنہ خود ہی اس پر عمل پیرا ہونے میں کوتاہی کرتے تھے اور بسا اوقات آپ کے اوپر اعتراض بھی کرتے تھے۔ اس طرح کے حادثات اور مخالفتوں کے نمونے، جیسے صلح حدیبیہ میں صلح نامہ لکھتے وقت، حجة الوداع میں احرام سے خارج ہونے کا مسئلہ، لشکر اسامہ کی روانگی اور حیات پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آخری ایام میں قلم و دوات جیسے مشہور واقعات بھی تاریخ میں ثبت ہیں ایسے تمام واقعات کو علامہ سید شرف الدین نے اپنی گراں قدر کتاب ''النص و الاجتہاد'' میں ذکر فرمایا ہے۔


اس کے علاوہ قرآن مجید کی متعدد آیات، پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم کی پیروی کے واجب و لازم ہونے کے اوپر تاکید کرتی ہیں اور اس کو ایمان کا جز قرار دیتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو اس خطرہ کی طرف متوجہ بھی کیاہے کہ حکم پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سرپیچی یا آپ کے اوپر سبقت نہ کریں اور یہ امیدنہ رکھیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، ان کی اطاعت کریں گے۔ مندرجہ ذیل آیات سے یہ صاف واضح ہو جاتاہے کہ اس زمانہ میں بھی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مخالفت ہوتی رہتی تھی جیسا کہ ارشاد ہے:

( فلیحذر الذین یخالفون عن امره أن تصیبهم فتنة او یصیبهم عذاب الیم ) (١)

''جو لوگ حکم خدا کی مخالفت کرتے ہیں وہ اس امر سے ڈریں کہ ان تک کوئی فتنہ پہنچ جائے یا کوئی دردناک عذاب نازل ہوجائے''

( یاایها آمنوا لاتقدموا بین یدی اللّٰه و رسوله و اتقوا اللّٰه ان اللّٰه سمیع علیم ) (٢)

''ایمان والو! خبردار خدا و رسول کے سامنے اپنی بات کو آگے نہ بڑھاؤ اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ ہر بات کا سننے والا اور جاننے والا ہے''

( واعلموا ان فیکم رسول اللّٰه لو یطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم ) (٣)

''اور یاد رکھو کہ تمہارے درمیان خدا کا رسول موجود ہے یہ اگر بہت سی باتوں میں تمہاری بات مان لیتا تو تم زحمت میں پڑ جاتے''

( و ما کان لمومن و لا مومنة اذا قضی اللّٰه و رسوله امراً ان یکون لهم الخیرة من امرهم و من یعص اللّٰه و رسوله فقد ضل ضلالاً بعیداً ) (٤)

''اور کسی مومن مرد یا عورت کواختیار نہیں ہے کہ جب خدا و رسول کسی چیز کا فیصلہ کردیں (یا کوئی حکم دیں) تو وہ بھی اپنے امر کے بارے میں صاحب اختیار بن جائے اور جو بھی خدا و رسول کی نافرمانی

______________________

(١) سورۂ نور، آیت ٦٣۔

(٢) سورۂ حجرات، آیت ١۔

(٣) سورۂ حجرات، آیت ٧۔

(٤)سورۂ احزاب، آیت ٣٦۔


کرتا ہے وہ کھلی ہوئی گمراہی میں ہے''

( و ما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللّٰه فلا و ربک لایومنون حتی یحکموک فیما شجر بینهم ثم لایجدوا فی انفسهم حرجاً مما قضیت و یسلموا تسلیماً ) (١)

''اور ہم نے کسی رسول کو بھی نہیں بھیجا ہے مگر صرف اس لئے کہ حکم خدا سے اس کی اطاعت کی جائے پس آپ کے پروردگار کی قسم کہ یہ ہرگز صاحب ایمان نہ بن سکیں گے جب تک آپ کو اپنے اختلافات میں حَکَم نہ بنائیں۔ اور پھر جب آپ فیصلہ کردیں تواپنے دل میں کسی طرح کی تنگی کا احساس نہ کریں اور آپ کے فیصلہ کے سامنے سراپا تسلیم ہوجائیں''

( یأ ایها الذین آمنوا اطیعوا اللّٰه و رسوله و لاتولوا عنه و انتم تسمعون ) (٢)

''ایمان والو! اللہ و رسول کی اطاعت کرو اور اس سے روگردانی نہ کرو جب کہ تم سن بھی رہے ہو''

ان تمام باتوں کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر چہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے بے پناہ محنت و مشقت اور زحمتیں اٹھا کر قبیلہ یا قوم پرستی کے نظام اور اس کے خطرناک اثرات جیسے قبیلہ جاتی تعصب، ایک دوسرے سے رقابت، یا قبیلوں کے درمیان میں رقابتیں جو خود دور جاہلیت کے لوگوں کے لئے ایک درد سر تھا، ان سب کو ختم کردیاتھا، لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ یہ تمام رسم و رواج بعض مسلمانوں کے اندر اسی طرح چھپے ہوئے تھے جس طرح سے راکھ کے نیچے آگ دبی ہوتی ہے اور اسی لئے مختلف اوقات میں وہ ابھر کے سامنے آجاتے تھے۔

جیسا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے فوراً بعد اوس اور خزرج دونوں قبیلے والوں نے اپنے پرانے قبیلہ جاتی

______________________

(١)سورۂ نسائ، آیت٦٥۔ ٦٤۔

(٢) سورۂ انفال، آیت ٢٠۔


نظام کو زندہ کردیا اور دونوں طرف سے یہ آوازیں بلندہوگئیں ''نحن الامراء و انتم الوزراء و منا امیر و منکم امیر''ہم لوگ حاکم اور امیر ہیں اور تم لوگ وزیر ہو یا ایک امیر اور حاکم ہمارے درمیان سے ہوجائے اور ایک امیر و حاکم تمہارے درمیان سے ہوجائے۔(١) جبکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ''میں اور ہم'' کی حدوں کو قبیلوں کی سرحدوں سے اٹھا دیا گیا تھا اور سب کے سب ایک ''ہم'' کے اعتبار سے ایک دوسرے کے ایمانی بھائی تھے جیسا کہ ارشاد ہے''انما المومنون اخوة''

اس بنا پر یہ بالکل طے شدہ بات ہے کہ چاہے کتنی ہی خوش فہمی اور حسن ظن کیا جائے پھر بھی قریش کے بعض سیاسی لوگ مکہ کے زمانہ کی طرح بنی ہاشم سے رقابت کا احساس رکھتے تھے اور اس طرح کے معیاروں کی بنا پر انھیں ایک ہاشمی کی خلافت قبول نہیں تھی۔

٦۔ سورۂ مائدہ کی تیسری اور ٦٧ ویں آیت کی شان نزول کے بارے میں کتب تفسیر و حدیث میں دوسرے اور بھی احتمالات ذکر کئے گئے ہیں لیکن ان کی اسناد اور دوسرے فراوان شواہد اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ دو آیتیں غدیر خم میں نازل ہوئیں ہیں۔(٢)

ان دونوں آیتوں کا مضمون بھی گواہ ہے کہ ان دونوں آیتوں کا تعلق پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد امت کی رہبری اور امامت جیسے اہم کام سے ہے اور وہ دوسرے واقعات جنھیں بعض لوگوں نے ذکر کیا ہے ان سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہے مثلاً تیسری آیت میں مندرجہ ذیل جن چار باتوں کی تاکید کی گئی ہے اور اس میں ان پر تکیہ کیا گیا ہے یہ صرف امامت ہی سے مناسبت رکھتی ہیں۔

الف: کفار کی مایوسی کیونکہ وہ لوگ یہ تصور کرتے تھے کہ اسلام صرف اور صرف پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی تک باقی ہے اور آپ کی وفات کے بعد اسلام کی بساط خود بخودالٹ جائے گی لیکن حضرت علی جیسی ایک مضبوط، مستحکم،عادل اور برجستہ شخصیت کی جانشینی کے اعلان کے بعد یہ طے ہوگیاکہ

______________________

(١) ابن قتیبہ دینوری، الامامة و السیاسة (قم: منشورات الشریف الرضی)، ص٢٥۔ ٢٤۔

(٢) اس مضمون سے مزید آگاہی کے لئے، رجوع کریں: الغدیر، ج١، ص٢٤٧۔ ٢١٤۔


اسلام باقی رہے گا لہٰذا وہ لوگ اس سے مایوس ہوگئے۔

ب: تکمیل اسلام، کیونکہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا جانشین معین ہوئے بغیر اور امت کی رہبری کا سلسلہ جاری رہے بغیر یہ دین و مذہب منزل تکمیل تک نہیں پہونچ سکتا تھا۔

ج:تکمیل رہبری کے تسلسل کے ساتھ، ہدایت کی نعمت کا اتمام۔

د: خداوندعالم کی طرف سے اسلام کی تکمیل کے اعلان کے علاوہ اس کو آخری مذہب اوردین قرار دیا جانا۔(١)

لشکر اسامہ

پہلے آپ پڑھ چکے ہیں کہ ٨ھ میں جنگ موتہ میں اسلامی فوج کے ایک سپہ سالار جناب زید بن حارثہ بھی تھے اور اس میں مسلمانوں کورومیوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اوراس لشکر کے تینوں سردار سمیت بعض دوسرے اسلامی سپاہیوں نے بھی جام شہادت نوش کیا تھا۔

٩ ھ میں بھی رسول خدا نے سر زمین تبوک تک اسلامی فوج کے ساتھ پیش قدمی کی تھی لیکن وہاں کوئی جنگ نہیں ہوئی اور آپ کا یہ اقدام ایک قدرتمند فوجی مشق کی حد تک ہی رہ گیااسی لئے گزشتہ واقعات کی بنا پر شہنشاہ روم کی دشمنی اور اس کی فوجی قدرت و طاقت آپ کے لئے ہمیشہ ایک مسئلہ بنی ہوئی تھی اور آپ مسلسل رومیوں سے ٹکراؤ اور جنگ کے بارے میں متفکر رہتے تھے اسی بنا پر جب آپ حجة الوداع سے لوٹ کر مدینہ واپس آئے تو آپ نے زید بن حارثہ کے بیٹے اسامہ کی سپہ سالاری میں ایک لشکر منظم کیااور ایک فوج بنائی اوران کو یہ حکم دیا کہ سرزمین

______________________

(١) اس سلسلہ میں مزید آگاہی کے لئے اور سورۂ مائدہ کی ان دو آیتوں کے درمیان ایک آیت کے فاصلہ کے بارے میں اور یہ کہ، یہ تیسری آیت حرام گوشت کے احکام سے متعلق ہے اور یہ ولایت کے مسئلہ سے مناسبت نہیں رکھتی ان تمام چیزوں کے بارے میں رجوع کریں تفسیر نمونہ، ج٤، ص ٢٧١۔ ٢٦٣۔


''اُبنیٰ'' ٭جوان کے والدکی شہادت کی جگہ ہے وہاں تک پیش قدمی کریں اور رومیوں سے جنگ کریں۔

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فوج کی سربراہی کا پرچم اسامہ(١) کے حوالے کیااوران کو فوجی اور نظامی احکامات کے متعلق نصیحتیںبھی کیں،انھوں نے مقام جُرف٭ کو اپنی فوج کے قیام کے لئے منتخب کیا تاکہ باقی فوج بھی وہاں آکر جمع ہو جائے۔(٢)

اس فوج میں انصار و مہاجرین کے کچھ شناختہ اور مشہور و معروف افراد جیسے ابوبکر، عمر، ابوعبیدہ جراح، سعد بن ابی وقاص(٣) ، عبد الرحمان بن عوف، طلحہ، زبیر، اسید بن حضیر، بشیر بن سعد(٤) (ابوالاعور) سعید بن زید(٥) ،قتادہ بن نعمان اور سلمہ بن اسلم(٦) ، بھی موجود تھے۔

______________________

٭ ابنیٰ، دنیا کے وزن پر ہے۔ سرزمین شام کا ایک علاقہ ہے جو عسقلان اور رملہ کے درمیان، موتہ سے نزدیک ہے۔ (حلبی، السیرة الحلبیہ(بیروت: دارالمعرفہ)، ج٣، ص٢٢٧)۔

(١) اسامہ کا سن اس وقت ١٧ ، ١٨ یا ١٩ سال لکھا ہے اور کسی تاریخ میں بھی ان کا سن ٢٠ سال سے زیادہ نہیں لکھا گیاہے۔

٭شام کی جانب مدینہ سے تین میل کے فاصلہ پر ایک جگہ ہے۔

(٢)ابن سعد، طبقات الکبری، (بیروت: دار صادر)، ج٢، ص١٩٠؛ شیخ عبد القادر بدران، تہذیب تاریخ دمشق، تالیف حافظ ابن عساکر (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ١٤٠٧ھ۔ق)، ج١، ص١٢١؛ زینی دحلان، السیرة النبویہ والآثار المحمدیہ، ج٢، ص١٣٨؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ص٢٢٧۔

(٣) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص١٩٠؛ حلبی، السیرة الحلبیہ، (بیروت: دار المعرفہ)، ج٣، ص٢٢٧؛ زینی دحلان، السیرة النبویہ و الآثار المحمدیہ، ج٢، ص١٣٨۔

(٤) ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق: محمد ابوالفضل ابراہیم، دار الکتب العربیہ، ج٦، ص٥٢؛ سقیفۂ ابوبکر احمد بن عبد العزیز جوہری کے نقل کے مطابق۔

(٥) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص١٩٠؛ شیخ عبدالقادر بدران، تہذیب تاریخ دمشق، تالیف حافظ ابن عساکر، (بیروت: دار احیاء التراث العربی، ١٤٠٧ھ۔ق)، ج١، ص١٢١۔

(٦) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، ص١٩٠؛ تقی الدین احمد بن علی مقریزی، امتاع الاسماع، تحقیق: محمد عبد الحمید النمیسی (بیروت: دار الکتب العلمیہ، ط١، ١٤٢٠ھ۔ق)، ج٢، ص١٢٤؛ تہذیب تاریخ دمشق، ج١، ص١٢١۔


پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جب اسامہ کی فوج کو حرکت کرنے کا حکم دیا تھااس وقت تک آپ بالکل صحت مند اور تندرست تھے لیکن اگلے ہی دن آپ کو بخار عارض ہوا اور بالآخر یہی آپ کے مرض الموت میں تبدیل ہوگیا۔ بستر بیماری پر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ کچھ لوگ اسامہ کی کم عمری کی بنا پر ان کی سپہ سالاری پر معترض ہیں اسی لئے ابھی اسامہ کی فوج مدینہ سے حرکت نہیں کرپائی ہے. رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسی بیماری کی حالت میں اور رنج والم کے ساتھ مسجد میں تشریف لے گئے اور ایک خطبہ میں لوگوں کواسامہ کی فوج کے ساتھ تعاون اور ان کے ساتھ روانہ ہونے کی ترغیب دلائی اور فرمایا:

ایہا الناس! اے لوگو! یہ کیا باتیں ہیں جو میں نے اسامہ کی سپہ سالاری کے بارے میں بعض لوگوں سے سنی ہیں؟ آج تم اسامہ کی سپہ سالاری کے بارے میں گلہ مند ہو اور اس سے پہلے ان کے والد کی

سپہ سالاری کے بار ے میں بھی تمہیں گلہ تھا جب کہ خدا کی قسم زید، سپہ سالاری کے لائق تھے اور ان کا بیٹا بھی ان کے بعد ا س منصب کے لائق اور اس کا سزاوار ہے ۔الخ۔(٣)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں آپ کی صحت بہت ہی زیادہ ڈھل گئی اور آپ پر مسلسل غش طاری ہو رہا تھا جب ایک بار آپ کو بے ہوشی سے افاقہ ہوا توآپ نے لشکر اسامہ کے بارے میں پوچھا، تو لوگوں نے کہا کہ روانگی کے لئے تیار ہو رہاہے۔ حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ: ''اسامہ کی فوج کو

______________________

(٣) ابن سعد، گزشتہ حوالہ، مقریزی، گزشتہ حوالہ، ج٢، ص١٢٤؛ زینی دحلان، گزشتہ حوالہ؛ شیخ عبدالقادر بدران، گزشتہ حوالہ؛ حلبی، گزشتہ حوالہ، ص٢٢٨۔ بخاری اور مسلم میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا فرمان اس طرح سے نقل ہوا ہے:

''ان تطعنوا فی امارته فقد کنتم تطعنون فی امارة ابیه من قبل و ایم اللّٰه ان کان لخلیقا للامارة وان کان لمن احب الناس الی و ان هذا لمن احب الناس الی بعد'' ۔ (صحیح بخاری، تحقیق: شیخ قاسم الشماعی الرفاعی، (بیروت: دار القلم، ١٤٠٧ھ۔ق)، ج٦، ص٣٢٦؛ المغازی، باب ٢٠٣، حدیث٩؛ صحیح مسلم، بشرح النووی، (قم: دار الفکر، ١٤٠١ھ۔ق)، ج١٥، فضائل الصحابة، ص١٩٥۔)


روانہ کرو خدا ان لوگوں پر لعنت کرے''(١) جو اسامہ کے لشکر کے ساتھ نہ جائیں، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ان تمام تاکیدوں کے بعدچودہ روز تک جن میں آپ مریض رہے(٢) مختلف لوگوں کے متعددبہانوں کی وجہ سے اسامہ کی فوج کی روانگی اسی طرح تعطل کا شکار رہی اور اس فوج نے حرکت نہیں کی یہاں تک کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت ہوگئی، جیسا کہ ہم نے غدیر خم کے واقعہ کے ذیل میں وضاحت کی تھی کہ یہ واقعہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ بعض مسلمان پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صریحی احکام اور فرامین سے سرپیچی کے مرتکب ہوئے ہیں۔

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا اعلیٰ مقصد

اسامہ کی فوج کو روانہ کرنے کے لئے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مسلسل کوششوں اور محنتوں کے اندر بعض اہم نکات اور موضوعات پائے جاتے ہیں جن کی طرف توجہ دینا بہت ضروری ہے۔

١۔ اتنی عظیم اسلامی فوج کو روانہ کرتے وقت اس کی سپہ سالاری ایک ایسے سردار کے حوالے کرناجس کی عمر بیس سال سے کم تھی جبکہ یہ فوج اس وقت کے قوی ترین دشمن اور اسلامی دارالحکومت سے بہت دور اور حساس علاقہ میں جنگ کے لئے بھیجی جارہی تھی۔

٢۔ اس فوج میں اسامہ کی سپہ سالاری کے تحت ایسے تجربہ کار اور ماہرین جنگ سپہ سالار اور کمانڈر بھی رکھے گئے تھے نیز اس میں ایسے قبیلوں کے سردار اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مشہور اصحاب بھی موجود تھے جواپنے

______________________

(١) ''جهزوا جیش اسامة، لعن اللّٰه من تخلف عنه ۔ (محمد بن عبد الکریم شہرستانی (قم: منشورات الشریف الرضی)، ص٢٩؛ اگرچہ شہرستانی نے اس گروہ کے بارے میں رسول خدا کی لعنت کو حدیث مرسل کہا، لیکن ابی الحدید، ابوبکر احمد بن عبد العزیز جوہری نے ''سقیفہ'' کتاب میں ا س لعنت کو حدیث مسند کے طور پر عبداللہ بن عبد الرحمان سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت نے کئی مرتبہ فرمایا: انفذ وابعث اسامہ، لعن اللّٰہ من تخلف عنہ (شرح نہج البلاغہ، ج٦، ص ٥٢)۔

(٢) ابو واضح، تاریخ یعقوبی (نجف: المکتبة الحیدریہ، ٢٣٨٤ھ۔ق)، ج٢، ص١٧٨۔


کو مقام و منزلت اور ایک خاص عظمت کا حامل سمجھتے تھے اور وہ لوگ اس نوجوان سپہ سالار کا یہ منصب خود حاصل کرنے کے لئے تیار ی کر رہے تھے۔

٣۔ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م اگر چہ یہ بخوبی جانتے تھے کہ اب یہ آپ کی عمر مبارک کے آخری ایام ہیں (اور خطبۂ غدیر میں آپ نے اس کی طرف اشارہ بھی فرما دیا تھا) اور اسی کے ساتھ تاریک فتنہ اور خطرناک حوادث کے بادل امت اسلامیہ کے سر پر منڈلارہے ہیں آپ نے اسلامی فوج کوایک دور ترین خطے کی طرف روانہ فرمایا اور انصار و مہاجرین کے سرکردہ افراد کوان کے ساتھ کردیا آپ کی اس تدبیر اور دور اندیشی اور الٰہی سیاست کو نظر میں رکھنے کے بعد اس میں کوئی تردید نہیں رہ جاتی کہ آپ نے اتنے عظیم اقدام کو یقینا کسی اہم مقصد کے لئے انجام دیا تھا کہ ان تمام مشکلات اور خطرات کو سہہ لینااس کے مقابلہ میں بہت آسان تھا۔

ان تما م نکات کی تحقیق اور ان پر توجہ کرنے کے بعد بہ آسانی یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ رومیوں سے فوجی ٹکراؤ کے علاوہ آپ کی نظر میں دو اہم مقصد اور بھی تھے۔

(الف) پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسامہ کو اسلامی لشکر کا سپہ سالار اس لئے بنایا تھا تاکہ مسلمانوں کو عملاً اس حقیقت کی طرف متوجہ کردیں کہ کسی عہدے اور مقام تک پہنچنے کے لئے صلاحیت اور لیاقت معیار ہوتی ہے اور کسی کی کم عمری اور جوانی سے اس کی لیاقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، جس طرح کسی انسان کے سن کی زیادتی سے اس کے اندر لیاقت پیدا نہیں ہوجاتی اسی لئے پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے اعتراض کرنے والوں کو یہ جواب دیا تھا کہ : ''زید بھی سپہ سالاری کے لائق تھے اور اب ان کا بیٹا ان کے بعد اس منصب کے لائق ہے''

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے اپنے اس واضح اور دو ٹوک بیان سے اسامہ کی لیاقت اور شائستگی کو واضح کردیا اور جو لوگ عمرکی زیادتی یا قبیلہ وغیرہ کوایسے عہدے اور مقام میں دخیل سمجھتے ہیں ان کے باطل افکار کی وضاحت فرمادی ۔ کیا اس کے علاوہ اس کی اور کوئی وجہ ہوسکتی ہے کہ آ پ نے اسامہ کی سپہ سالاری کے


بارے میں جو اتنی تاکید کی تھی اس کے ذریعہ آپ عملاً حضرت علی کی خلافت کے لئے راہ ہموار کر رہے تھے اور جو لوگ حضرت علی کی جوانی کو بہانہ بنا کر خلافت سے متعلق آپ کی لیاقت اور صلاحیت کے بارے میں انگلی اٹھانا چاہتے تھے آپ ان کا جواب دے رہے تھے۔

(ب) پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ارادہ یہ تھاکہ آپ کی وفات کے وقت حضرت علی کے وہ سیاسی رقباء جن کے دل میں خلافت کی لالچ تھی مدینہ سے دور رہیں (اسی لئے مہاجرین و انصار کے چنندہ افراد کو آپ نے اسامہ کی فوج میں شامل کیا تھا تاکہ ان لوگوں کے جانے کے بعد ان کے عدم موجودگی میں حضرت علی حکومت کو اپنے ہاتھ میں لے لیں او رمخالفین کے لئے کوئی صورت باقی نہ رہے اور جب وہ لوگ میدان جنگ سے واپس پلٹیں تو حضرت علی کی حکومت مستحکم ہوچکی ہو۔(١)

اسی سے یہ بھی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ پیغمبر کی اتنی تاکید اور اصرار کے باوجود بھی کچھ لوگ اسامہ کے ساتھ جانے سے کیوں جان چرا رہے تھے؟ اور آج یاکل پر ٹال مٹول کے ذریعہ، انھوں نے لشکر اسامہ کو روانہ ہونے سے کیوں روک دیا؟ یہاں تک کہ رسول اللّٰہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات ہوگئی۔

______________________

(١) ابن ابی الحدید، (٦٥٦ھ) نے اس تحلیل پر جو ناقابل قبول تنقید کی ہے (شرح نہج البلاغہ، ج١، ص١٦) اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شیعوں کی یہ تحلیل قدیم زمانہ سے مورخین کے درمیان پائی جاتی تھی۔


وہ وصیت نامہ جو لکھا نہ جاسکا!

پنجشنبہ کے دن (رحلت سے چار دن پہلے) جب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بستر علالت پر تھے آپ نے فرمایا: ''قلم اورکاغذ لے آؤ تاکہ میں تمہارے لئے کچھ لکھ دوں جس سے تم لوگ میرے بعد گمراہ نہ ہو'' حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا آپ کے اوپر درد اور مرض کا غلبہ ہے اور آپ ہذیان بک رہے ہیں قرآن ہمارے پاس ہے وہی ہمارے لئے کافی ہے۔ اسی دوران حاضرین کے درمیان اختلاف ہوگیا بعض لوگوں نے اُس کی بات کی تائید کی اور کچھ لوگ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فرمان کی تائید کر رہے تھے اسی میں شور و ہنگامہ بڑھتا گیا

اسی دوران پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہا : آپ کے حکم کی تعمیل کی جائے آپ نے فرمایا: ''یہ سب کچھ ہونے کے بعد؟ مجھے میرے حال پر چھوڑ دو (جو مجھے درد و غم اور تکلیف ہے) مجھے اسی حالت پر رہنے دو اور تم لوگ میرے بارے میں جو کچھ کہہ رہے ہو (میری طرف ہذیان کی جو نسبت دے رہے ہو) میری یہ حالت اس سے کہیں بہتر ہے، یہاں سے باہر نکل جاؤ''۔

جو کچھ آپ نے پڑھا یہ اس قصے کا خلاصہ ہے جو اہل سیرت او رمحدثین نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عمر کے آخری ایام کے واقعات کے ذیل میں نقل کیا ہے۔(١)

اگر چہ یہ واقعہ بعض کتابوں میں تحریف کر کے یاتوڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے کچھ لوگوں نے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کا نام ہی غائب کردیا، یا صرف اس کی بات کے مضمون کو نقل کیا ہے اور بعض اوقات اس کی طرف سے عذر تراشی کی کوشش کی گئی ہے لیکن تما م شواہد و قرائن اس بات کے گواہ ہیں کہ پیغمبر کا یہ اقدام در اصل اپنی جانشینی کے لئے حضرت علی کی شناخت کرانا اور مسلمانوں کو رہبری اور قائد کے بغیر نہ چھوڑ دینے کے سلسلے کی ایک کڑی تھی اور اگر بعض حاضرین نے کسی نہ کسی طریقے سے آپ کو وصیت نامہ لکھنے نہیں دیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھ رہے تھے کہ آپ کیا تحریر کرنا چاہتے ہیں۔

جیساکہ عبد اللہ بن عباس اس نکتہ پر توجہ او رمذکورہ واقعہ کی طرف اشارہ کرنے کے بعد افسوس بھرے الفاظ میں یوں بیان کرتے ہیں۔ (پنجشنبہ کا دن کتنا دردناک تھا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''میرے لئے کاغذ اور دوات لے آؤ تاکہ تمہارے لئے کچھ لکھ دوں اور تم اس کے بعد گمراہ نہ ہو لیکن انھوں نے

______________________

(١) نمونہ کے طور پرملاحظہ کریں: صحیح بخاری، تحقیق: الشیخ قاسم السماعی الرفاعی؛ (بیروت: دار القلم، ط١، ١٤٠٧)، ج١، کتاب العلم، باب کتابة العلم (باب ٨٢،)، ج١٢، ص١٢٠ و ج٦؛ المغازی، باب ١٩٩، ص ٣١٨۔ ٣١٧؛ صحیح مسلم، بشرح النووی، ج١١، باب ترک الوصیة لمن لیس لہ شیء یوصی فیہ، ص٨٩؛طبقات الکبری، (بیروت: دار الصادر)، ج٢، ص٢٤٢، ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ابوبکر جوہری کے نقل کے مطابق۔


نہیں سنا.....''(١) کیونکہ یہ واقعہ بہت مشہور بلکہ تاریخ اسلام کے مسلمات میں سے ہے اور گزشتہ اورموجودہ تمام لوگوں نے ا س کو نقل کیا ہے اور کافی حد تک اس کے بارے میں بحث کی ہے لہٰذا اسی مقدار پر ہم اکتفا کر رہے ہیں اور اس کے بارے میں مزید تحقیق و جستجو اور اس سے متعلق عذر تراشیوں پر تنقید یا بعض ابہامات کا جواب دینے یا اس بارے میں جو سوالات پیدا ہوتے ہیں ان کو ذکر کرنا نہیں چاہتے بلکہ اس کے لئے اس کی متعلقہ کتابوں کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔(٢)

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی رحلت

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م ٢٣ سال تک الٰہی پیغام کو پہنچا کر اور اس راہ میں مسلسل دعوت و جہاد اور اپنی رسالت کی انجام دہی کے راستے میں مختلف نشیب و فراز سے گزر کر آخرکار روز دوشنبہ ٢٨ صفر ١١ھ(٣) کے دن ١٤

______________________

(١)''لما اشتد النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وجعه قال ائتونی بکتاب اکتب لکم کتاباً لاتضلوا بعده قال عمر ان النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غلبه الوجع و عندنا کتاب اللّٰه حسبنافاختلفوا و کبر اللغط قال قوموا عنی ولاینبغی عندی التنازع فخرج ابن عباس یقول ان الرزیة کال الرزیة ماحال بین رسول اللّٰه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و بین کتابه ۔ (صحیح بخاری، ج١، ص١٢٠؛ رجوع کریں:الطبقات الکبری، ج٢، ص٢٤٤۔)

(٢) مثال کے طور پر ذکر شدہ کتب کی طرف رجوع کریں: الطرائف، ابن طاووس، علی بن موسی، (قم: مطبعة الخیام)، ج٢، ص٤٣٥۔ ٤٣١؛ النص والاجتہاد، شرف الدین، سید عبد الحسین موسوی (بیروت: دار النعمان، ط٣، ١٣٨٤ھ۔ق)، ص١٧٧۔ ١٦٢؛ جعفر سبحانی، فروغ ابدیت، (قم: مرکز انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی، ط٥، ١٣٦٨)، ج٢، ص٥٠٠۔ ٤٩٣؛ مصطفوی، حسن الحقائق فی تاریخ الاسلام والفتن والاحداث، ص ١٣٥۔ ١٢٩؛ یوسف غلامی، پس از غروب (قم: دفتر نشر معارف، ج١، ١٣٨٠)، ص٥٣۔ ٣٨۔ محمد حسین ھیکل، حیات محمد (قاہرہ: مکتبة النہضہ المصریہ، ط٨، ١٩٦٣)، ص٥٠١؛ شرح امام نووی بر صحیح مسلم (طبع شدہ با اصل صحیح مسلم) ج١١، ص٩٣۔ ٨٩۔

(٣) محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، (تہران: دار الکتب الاسلامیہ، ١٣٨٥ھ۔ق)، ج٢٢، ص٥١٤، تاریخ وفات رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں دوسرے اقوال بھی نقل ہوئے ہیں۔ رجوع کریں: گزشتہ حوالہ، ص ٥٢١۔ ٥١٤؛ ابن سعد، طبقات الکبری، ج٣، ص٢٧٤۔ ٢٧٢؛ السیرة الحلیة، ج٣، ص٤٧٣۔


روز بیمار(١) رہنے کے بعد عالم بقا کی طرف رحلت فرما گئے اور مسجد کے برابر میں آپ کا جو حجرہ تھا اسی میں آپ کودفن کیا گیا بعد میں جب بعض خلفاء کے دور میں اس مسجد کی توسیع کی گئی تو آپ کا مرقد مطہرمسجد ( مشرقی سمت )میں شامل ہوگیا۔

اگر چہ ہجرت کے کچھ دنوں بعد مسلمانوں کی مالی حالت اور خود پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مالی حالت بھی بہتر ہوگئی تھی اور آپ کے مخصوص اموال (اموال خالصہ) اور دوسری آمدنی کے ذرائع بھی آپ کے پاس موجود تھے اور آپ کی ظاہری قدرت و طاقت اور روحانی نفوذ میں بے حد اضافہ ہوچکا تھا لیکن آپ کی ذاتی زندگی میں ذرہ برابر تبدیلی نہیں آئی تھی اور آپ مسجد کے برابر میں اپنے حجرے میں اسی طرح سادگی کے ساتھ رہتے تھے نہ آپ نے کوئی مال جمع کیاتھا ،نہ لوگوں کی طرح آپ کے پاس کوئی بڑا گھر تھا آپ کا وہ بستر جس پر آپ آرام فرماتے تھے وہ بھی ایک چمڑے کا بستر تھا جس کے اندر کھجور کی پتیاں بھری ہوئی تھیں،(٢) چٹائی کے اوپر نماز پڑھتے تھے اور اکثر اوقات اسی چٹائی اور بوریئے کے اوپر آرام کرتے تھے جس کے نشان آپ کے چہرے یا بدن پر نمایاں ہو جاتے تھے۔(٣) آپ نے اپنی عمر کے آخری ایام میں یہ حکم فرمایا کہ بیت المال کے وہ چند دینار جو آپ کی ایک زوجہ کے پاس بچے ہوئے تھے ان کو غرباء میں تقسیم کردیا جائے۔(٤) آپ نے اسی طرح سادگی سے زندگی گزاری اور بالآخر اپنے سادے حجرے میں دنیا سے تشریف لے گئے لیکن اس کے باوجود آپ نے ایک عظیم دین ایک آسمانی کتاب اور ایک موحد اور خدا پرست امت کو اپنی یادگار کے طور پر چھوڑا او ردنیا کی تاریخ میں ایک نئے تمدن اور ثقافت کی بنیاد رکھی۔

______________________

(١) ابن واضح، تاریخ یعقوبی، (نجف: المکتبة الحیدریہ، ١٣٨٤ھ۔ق)، ج٢، ص١٧٨۔

(٢)حلبی، السیرة الحلبیہ، ج٣، ص٤٥٤۔

(٣)گزشتہ حوالہ۔

(٤)ابن سعد، طبقات الکبری، ج٢، ص٢٣٩۔ ٢٣٧۔


رحلت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وقت اسلامی سماج، ایک نظر میں

پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے مکہ سے ہجرت کے بعد مدینہ میں قیام کر کے وہاں کے آزاد اور معاون ماحول سے استفادہ کرتے ہوئے اسلامی معاشرے کی سنگ بنیاد رکھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے راستوں سے رکاوٹوں کو ہٹاتے چلے گئے اسلامی امت کو ایک دینی اور سیاسی شناخت عطا کی اور الٰہی پیغام کو مکمل طور سے لوگوں تک پہنچا دیااور جس وقت آپ نے رحلت فرمائی آپ اپنی رسالت کو پایۂ تکمیل تک پہنچا چکے تھے اور درخشندہ اور روشن کامیابیاں آپ کے قدم چوم رہی تھیں لیکن اس کے باوجود اس وقت کے معاشرے میں کچھ مخصوص حالات اور افکار پھیلے ہوئے تھے جن میں سے اہم چیزوں کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے۔

١۔ جیساکہ اشارہ کیا جاچکا ہے کہ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نے اسلامی تعلیم کے سایہ میں عرب کے مختلف اور پراگندہ قبیلوں کو (جن کا کام ایک دوسرے سے جھگڑا کرنا تھا) ایمان اور عقیدے کے مشترک رشتے کی بنا پر ایک دوسرے سے جوڑ دیا اور ان کے درمیان میں دینی بھائی چارا (عقد مواخات) قائم کردیا۔ ماضی کی پراکندہ قوم اور افراد کو امت واحدہ میں تبدیل کردیا اور آپ نے انھیں لوگوں کی مدد سے الٰہی حکومت تشکیل دی جس کی رہبری کے فرائض آپ خود انجام دے رہے تھے۔ آپ کا دار الحکومت اور مرکز شہر مدینہ تھا، اس حکومت میں وہ مسائل اور سماجی باتیں جن کے بارے میں خدا کی طرف سے نص موجود نہیں تھی مسلمانوں کی رائے اور مشوروں سے حل ہوتے تھے، ان کے پاس مکمل طور سے آزادیٔ رائے پائی جاتی تھی عربوں نے اسلام کے سایہ میں پہلی بار اس قسم کی وحدت، قدرت اور معنویت کو قریب سے دیکھا تھا لیکن اس کامیابی کو اسی طرح باقی رکھنے کے لئے ایسے ہی مقتدر، شائستہ اور لائق رہبراور قائد کی ضرورت تھی جو پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے بعد نظام امت و امامت پر بھروسہ کرتے ہوئے خود پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرح اسلامی معاشرے کو معنوی اور سیاسی دونوں لحاظ سے آگے بڑھا سکے۔


٢۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے وقت پورے جزیرہ نمائے عرب سے تقریباً بت پرستی کا خاتمہ ہوچکا تھا اگرچہ جزیرة العرب کے باہر کوئی فتح نہیں ہوئی تھی لیکن پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عالمی دعوت اور تبلیغ کی بنا پر اسلام کا پیغام دنیا کے شہنشاہان مملکت کے کانوں تک پہونچ چکا تھا لیکن خود جزیرہ نمائے عرب میں وہ بہت سے لوگ جو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں مسلمان ہوئے تھے (خاص طور سے فتح مکہ اور جنگ تبوک کے بعد) وہ صرف اور صرف ظاہری طور اسلام لائے تھے کیونکہ انھوں نے اسلامی حکومت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لئے اسلام قبول کیا تھا ان میں سے اکثر لوگوں کے دلوں تک اسلام اور ایمان نہیں اترا تھا اور پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کو اتنی فرصت نہیں مل پائی کہ آپ دینی مبلغین کو بھیج کر ان کی ثقافتی اور مذہبی بنیادوں کودرست کرسکیں اس میں سے بہت سے لوگوں نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ایک بار بھی نہیں دیکھا تھا بلکہ ان کے سردار اور نمائندے ہی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملاقات کرتے تھے اسی لئے دوبارہ اسلام کی قدرت کے ضعیف ہونے اور کفر و بت پرستی اور ارتداد کی واپسی کا بہت احتمال تھا اس وجہ سے بھی اسلامی رہبری کا جاری رہنا ضرور ی تھا تاکہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ ثقافتی مشن جاری رہے اور اسلام کی تعلیمات کی وضاحت اور تبیین اور تبلیغی اور ثقافتی نیز روحانی رشد و ہدایت کا سلسلہ منزل تکمیل تک پہونچ جائے۔

٣۔ ٩ھ میں منافقین کے سرکردہ لیڈر عبد اللہ بن ابی کی موت کے بعد اگر چہ اس خائن گروپ کی قدیم شکل و صورت ختم ہوگئی تھی اور وہ استحکام باقی نہیں رہ گیا تھا لیکن پھر بھی اس ٹولہ کے افراد مدینہ اور اس کے اطراف میں موجود تھے یہ لوگ ہر لمحہ ایسی فرصت کی تلاش میں رہتے تھے جس سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں پر کوئی کاری ضرب لگا سکیں۔ منافقین (جو اسلام کے اندرونی دشمن تھے) کے علاوہ دو بیرونی خطرے بھی اسلام کے سامنے تھے ایک شہنشاہ روم دوسرے شہنشائے ایران جیسا کہ اس وقت کے قرائن و شواہد سے ان کی اسلام دشمنی اور اسلام کے بارے میں ان کے منفی نظریات کی تائید ہوتی ہے۔ یہ خطرناک مثلث یقینا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو متفکر کرنے کے لئے کافی تھا اورآنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے اس کو ناکارہ بنانے کے واسطے چارہ جوئی کرنا ضروری تھی۔ یہ مسئلہ بھی ایسے حساس لمحات اور حالات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جس کے لئے مسلمانوں کی وحدت اور ایک پرچم تلے کسی طاقت ور رہبر اور قائد کی رہبری کی ضرورت ہے۔


٤۔ جیسا کہ گزر چکا ہے کہ اسلام کے ظہور سے پہلے جزیرہ نمائے عرب میں رہنے والے لوگوں کی زندگی قبیلہ جاتی نظام پر استوار تھی اور قبیلہ جاتی نظام، رشتہ داری اور نسل پرستی کی بنیادوں پر استوار تھا ایسے نظام کے سماجی اسباب، جیسے قبیلہ جاتی تعصب فخر و مباہات ایک دوسرے سے انتقام لینا، قبیلہ جاتی جنگ ، یہ سب ان کے لئے درد سر بنے ہوئے تھے۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بے پناہ زحمت و مشقت برداشت کر کے اسلام کی وحدت بخش تعلیم اور کلمۂ توحید کے سہارے اس نظام کو درہم برہم کردیا اور مشترک ایمان کو مشترک خون اور مشترک نسل کا جائے گزین بنادیا اور قبیلہ جاتی نظام کے جو خطرناک اور برے اثرات تھے ان کو کافی حد تک ختم کردیا یہ سب اسلام، قرآن اور رسالت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بہترین نتائج ہیں۔

لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اس نظام جاہلیت کی جڑیں (اس کی پرانی جڑوں کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں ابھی تک باقی تھیں اور جب کبھی کسی حادثہ کی ہوائیں اس دبی ہوئی آگ کے اوپر سے راکھ کو اڑا لیجاتی تھیں تو ان کی قبیلہ پرستی کی فکریں سامنے آجاتی تھیں اور پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م نہایت زیرکی اور ہوشیاری سے اس کا سد باب کردیتے تھے اور اس کو کسی بحران اور حادثہ میں تبدیل نہیں ہونے دیتے تھے یہ بات اس زمانہ کے حساس حالات کی عکاس ہے کہ مسلمانوں کی وحدت جو بہت قیمتی سرمایہ لگا کر حاصل ہوئی تھی اس کو کس قدر خطرہ تھا انھیں قبیلہ جاتی رسم و رواج اور ذہنیتوں کی بہترین دلیل خود سقیفہ کا واقعہ بھی ہے جو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے فوراً بعد سامنے آیا تھا یہ قلبی دھڑکن اور فکر اس زمانہ کے مسلمانوں کے سرکردہ افراد کے وظیفہ کواور بھی سنگین کردے رہی تھی۔ اور ان کے سامنے ایک سخت امتحان تھا اس سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ کون لوگ وحدت اور اتحاد کی حفاظت کے لئے ایثار و قربانی کے لئے حاضر ہیں اور کون لوگ پر انے نظام جاہلیت پر اب بھی مصر ہیں۔


٥۔ پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م مدینہ ہجرت کر نے کے بعد مسلمانوں کے دینی اور سیاسی قائد و رہبر تھے اور آپ یہ دونوں وظیفے ایک ساتھ انجام دیتے تھے۔ جس طرح مسلمان آپ کی خدمت میں بیٹھ کر آپ کی تقریریں، خطبات اور آپ کے ہونٹوں سے نکلنے والے کلمات وحی کو سنتے رہتے تھے اسی طرح آپ کی امامت میں نماز جماعت پڑھتے تھے اور روحانی اعتبار سے آپ کی ذات اور شخصیت میں اس قدر ڈوبے ہوئے تھے کہ آپ کے وضو کے پانی کے قطروں کو تبرک سمجھتے تھے اور یہی لوگ آپ کے حکم سے میدان جنگ میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش کرتے تھے، دشمنوں کو قتل کرتے تھے، اور خود بھی شہید ہو جاتے تھے، آپ کی طرف سے شہروں کی حکمرانی اور گورنری کے لئے منصوب ہوتے تھے، آپ کی نمائندگی اور سفارت کے طور پر مخالفین سے مذاکرات کرتے تھے۔

لہٰذا آپ کی رحلت کے بعد صرف یہ کافی نہیں تھا کہ آپ کا جانشین صرف اسلامی معاشرے کی سیاسی رہبری کرے بلکہ اس کے لئے یہ ضروری تھا کہ آپ کی جگہ پر کوئی ایسا شخص بیٹھے جو سیاسی رہبری کے علاوہ لوگوں کی دینی ضروریات او ر ان کے دینی مسائل سے بھی بخوبی عہدہ برآ ہوسکے یعنی دینی اور ا سلامی علوم اور معارف کے بارے میں اتنا وسیع علم اور آگہی رکھتا ہو کہ اس جگہ پر بھی وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خالی جگہ کو پُر کرسکے۔


فہرست

حرف اول ۴

عرض مترجم ۷

مقدمۂ مولف ۸

پہلا حصہ ۱۱

مقدماتی بحثیں ۱۱

پہلی فصل ۱۲

جزیرة العرب کی جغرافیائی، سماجی اور ثقافتی صورتحال ۱۲

جزیرة العرب کی تقسیم ۱۴

جزیرة العرب کی تقسیم، اس کے شمالی اور جنوبی (قدرتی) حالات کی بنا پر ۱۵

جنوبی جزیرة العرب (یمن) کے حالات ۱۵

جنوبی عرب کی درخشاں تہذیب ۱۷

مأرب کے بند کی تباہی ۱۹

جزیرة العرب پرجنوبی تہذیب کے زوال کے اثرات ۲۱

شمالی جزیرة العرب{حجاز} کے حالات ۲۲

صحرا نشین ۲۴

قبائلی نظام ۲۶

نسلی رشتہ ۲۷

قبیلہ کی سرداری ۲۷

قبائلی تعصب ۲۹


قبائلی انتقام ۳۰

قبائلی رقابت اور فخر و مباہات ۳۱

نسب کی اہمیت ۳۳

قبائلی جنگیں ۳۷

غارت گری اور آدم کشی ۳۹

حرام مہینے ۴۲

عرب کے سماج میں عورت ۴۲

عورت کی زبوں حالی ( ٹریچڈی) ۴۴

دوسری فصل ۵۰

عربوں کے صفات اور نفسیات ۵۰

متضاد صفات ۵۰

عربوں کی اچھی صفتوں کی بنیاد ۵۱

جہالت اور خرافات ۵۲

علم و فن سے عربوں کی آگاہی ۵۴

امی لوگ ۵۵

شعر ۵۵

عرب اور ان کے پڑوسیوں کی تہذیب ۵۶

ایران اور روم کے مقابلہ میںعربوں کی کمزوری اور پستی ۵۹

موہوم افتخار ۶۰

دور جاہلیت ۶۲


تیسری فصل ۶۵

جزیرہ نمائے عرب اور ا سکے اطراف کے ادیان و مذاہب ۶۵

موحدین ۶۵

عیسائیت ۶۷

یمن میں عیسائیت ۶۸

حیرہ میں عیسائیت ۶۹

دین یہود ۷۱

یمن میں یہودی ۷۲

صابئین ۷۳

مانی دین ۷۵

ستاروں کی عبادت ۷۶

جنات اور فرشتوں کی عبادت ۷۸

شہرمکہ کی ابتدائ ۸۰

دین ابراہیم کی باقی ماندہ تعلیمات ۸۰

عربوں کے درمیان بت پرستی کا آغاز ۸۲

کیا بت پرست، خدا کے قائل تھے؟ ۸۴

پریشان کن مذہبی صورتحال ۸۸

ظہور اسلام کی روشنی میں بنیادی تبدیلی ۹۰

شہر مکہ کی توسیع او رمرکزیت ۹۲

الف: تجارتی مرکز: ۹۲


ب: کعبہ کا وجود: ۹۵

قریش کی تجارت اور کلیدبرداری ۹۶

قریش کا اقتداور اثر و رسوخ ۹۹

دوسرا حصہ ۱۰۲

حضرت محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ولادت سے بعثت تک ۱۰۲

پہلی فصل ۱۰۳

اجداد پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۱۰۳

حضرت محمد مصطفی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حسب و نسب ۱۰۳

حضرت عبد المطلب کی شخصیت ۱۰۵

خاندان توحید ۱۰۷

دوسری فصل ۱۰۹

حضرت محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بچپن اور جوانی ۱۰۹

ولادت ۱۰۹

کم سنی اور رضاعت کا زمانہ ۱۱۲

والدہ کا انتقال اور جناب عبد المطلب کی کفالت ۱۱۵

جناب عبد المطلب کا انتقال اورجناب ابوطالب کی سرپرستی ۱۱۷

شام کا سفر او رراہب کی پیشین گوئی ۱۱۸

عیسائیوں کے ذریعہ تاریخ میں تحریف ۱۲۱

کامل شریعت کی شکل میں لوگوں کے سامنے پیش کرے؟ ۱۲۲

تیسری فصل ۱۲۵


حضرت محمد مصطفٰے صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جوانی ۱۲۵

حلف الفضول١ ۱۲۵

شام کی طرف دوسرا سفر ۱۲۸

جناب خدیجہ کے ساتھ شادی ۱۳۰

حجر اسود کا نصب کرنا ۱۳۲

علی مکتب پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں ۱۳۳

تیسرا حصہ ۱۳۷

بعثت سے ہجرت تک ۱۳۷

پہلی فصل ۱۳۸

بعثت اور تبلیغ ۱۳۸

رسالت کے استقبال میں ۱۳۸

رسالت کا آغاز ۱۴۱

طلوع وحی کی غلط عکاسی ۱۴۴

تنقید و تحلیل ۱۴۶

مخفی دعوت ۱۵۱

پہلے مسلمان مرد اور عورت ۱۵۲

حضرت علی کی سبقت کی دلیلیں ۱۵۳

اسلام قبول کرنے میں سبقت کرنے والے گروہ ۱۵۷

الف: جوانوں کا طبقہ: ۱۵۷

ب: محروموں اور مظلوموں کا طبقہ: ۱۶۰


دعوت ذو العشیرہ ۱۶۳

دوسری فصل ۱۶۶

علی الاعلان تبلیغ اور مخالفتوں کا آغاز ۱۶۶

ظاہری تبلیغ کا آغاز ۱۶۶

قریش کی کوششیں ۱۶۷

ابوطالب کی طرف سے حمایت کا اعلان ۱۶۹

قریش کی طرف سے مخالفت کے اسباب ۱۶۹

١۔ سماجی نظام کے بکھرنے کا خوف ۱۷۱

اقتصادی خوف ۱۷۲

پڑوسی طاقتوں کا خوف و ہراس ۱۷۵

قبیلہ جاتی رقابت اور حسد ۱۷۶

تیسری فصل ۱۷۸

قریش کی مخالفت کے نتائج او ران کے اقدامات ۱۷۸

مسلمانوں پر ظلم و تشدد ۱۷۸

حبشہ کی طرف ہجرت ۱۷۹

حضرت فاطمہ زہرا ٭ کی ولادت ۱۸۳

اسراء اور معراج ۱۸۳

روایات معراج کی تحلیل اور ان کا تجزیہ ۱۸۴

بنی ہاشم کا سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ ۱۸۶

جناب ابوطالب اور جناب خدیجہ کی وفات ۱۹۰


جناب خدیجہ کا کارنامہ ۱۹۱

جناب ابوطالب کا کارنامہ ! ۱۹۲

ایمان ابوطالب ۱۹۳

ازواج پیغمبر اسلا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م ۱۹۷

۱ام حبیبہ: ۱۹۸

٢۔ ام سلمہ: ۱۹۹

٣۔ زینب بنت جحش: ۲۰۱

قرآن کی جاذبیت ۲۰۴

جادوگری کا الزام ۲۰۵

طائف کا تبلیغی سفر ۲۰۷

کیا پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کسی سے پناہ مانگی؟ ۲۰۹

عرب قبائل کو اسلام کی دعوت ۲۱۱

چوتھا حصہ ۲۱۴

ہجرت سے عالمی تبلیغ تک ۲۱۴

پہلی فصل ۲۱۵

مدینہ کی طرف ہجرت ۲۱۵

مدینہ میں اسلام کے نفوذ کا ماحول ۲۱۵

مدینہ کے مسلمانوں کا پہلا گروہ ۲۱۷

عقبہ کا پہلا معاہدہ ۲۱۸

عقبہ کا دوسرا معاہدہ ۲۲۰


مدینہ کی طرف ہجرت کا آغاز ۲۲۰

پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قتل کی سازش ۲۲۱

پیغمبر اسلا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی ہجرت ۲۲۳

عظیم قربانی ۲۲۴

قبا میں پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا داخلہ ۲۲۶

پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مدینہ میں داخلہ ۲۲۷

ہجری تاریخ کا آغاز ۲۲۸

دوسری فصل ۲۳۱

مدینہ میں پیغمبر اسلا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے سیاسی اقدامات ۲۳۱

مسجد کی تعمیر ۲۳۱

اصحاب صُفّہ ۲۳۲

عام معاہدہ ۲۳۳

مہاجرین و انصار کے درمیان بھائی چارگی کا معاہدہ ۲۳۵

یہودیوں کے تین قبیلوں کے ساتھ امن معاہدہ ۲۳۹

منافقین ۲۴۰

تیسری فصل ۲۴۲

یہودیوں کی سازشیں ۲۴۲

یہودیوں کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزیاں ۲۴۲

یہودیوں کی مخالفت کے اسباب ۲۴۴

قبلہ کی تبدیلی ۲۴۷


چوتھی فصل ۲۵۱

لشکر اسلام کی تشکیل ۲۵۱

اسلامی فوج کا قیام ۲۵۱

فوجی مشقیں ۲۵۳

فوجی مشقوں سے پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مقاصد ۲۵۴

عبد اللہ بن جحش کا سریہ ۲۵۷

جنگ بدر ۲۵۸

مسلمانوں کی کامیابی کے اسباب ۲۶۱

اسلامی لشکر کی کامیابی کے نتائج اور آثار ۲۶۵

بنی قینقاع کی عہد شکنی ۲۶۷

جناب فاطمہ زہرا سے حضرت علی کی شادی ۲۶۹

جنگ احد ۲۷۰

جنگ کے پہلے مرحلے میں مسلمانوں کی فتح ۲۷۳

مشرکوں کی فتح ۲۷۵

جنگ احد کے نتائج ۲۷۹

بنی نضیر کے ساتھ جنگ(٢) ۲۸۳

جنگ خندق (احزاب) ۲۸۵

بنی قریظہ کی خیانت ۲۹۰

لشکر احزاب کی شکست کے اسباب ۲۹۱

١۔ بنی قریظہ اور لشکر احزاب کے درمیان اختلاف کاپیدا ہونا ۲۹۲


عمرو بن عبدود کا قتل ۲۹۲

غیبی امداد ۲۹۵

جنگ بنی قریظہ ۲۹۶

تجزیہ و تحلیل ۲۹۸

جنگ بنی مصطلق ۳۰۲

عمرہ کا سفر ۳۰۳

بیعت رضوان ۳۰۵

پیمان صلح حدیبیہ (فتح آشکار) ۳۰۵

پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پیشین گوئی ۳۰۷

صلح حدیبیہ کے آثار و نتائج ۳۰۷

پانچواں حصہ ۳۱۰

عالمی دعوت سے رحلت پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تک ۳۱۰

پہلی فصل ۳۱۱

عالمی تبلیغ ۳۱۱

پیغمبر اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عالمی رسالت ۳۱۱

عالمی تبلیغ کا آغاز ۳۱۳

جنگ خیبر ۳۱۴

یہودیوں کا انجام ۳۲۰

فدک ۳۲۱

دوسری فصل ۳۲۲


اسلام کا پھیلاؤ ۳۲۲

جنگ موتہ ۳۲۲

فتح مکہ ۳۲۵

قریش کی عہد شکنی ۳۲۵

پیغمبر اسلا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی طرف سے عام معافی کا اعلان ۳۲۹

فتح مکہ کے آثار اور نتائج ۳۳۱

جنگ حنین ٭ ۳۳۳

آغاز جنگ میں مسلمانوں کی شکست اور عقب نشینی ۳۳۵

مسلمانوں کی عالیشان فتح ۳۳۵

جنگ تبوک٭ ۳۳۷

مدینہ میں حضرت علی کی جانشینی ۳۴۰

راستے کی دشواریاں ۳۴۴

اس علاقہ کے سرداروں سے پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے معاہدے ۳۴۵

غزوۂ تبوک کے آثار اور نتائج ۳۴۶

جزیرہ نمائے عرب میں اسلام کا نفوذ اوراس کا پھیلاؤ ۳۴۶

مشرکین سے برائت کا اعلان ۳۴۷

پیغمبر اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مخصوص نمائندہ اور سفیر ۳۴۹

اعلان برائت کا متن اورپیغمبر اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا اَلٹی میٹم ۳۴۹

نجران کے عیسائی نمائندوں کی انجمن سے پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مباہلہ٭ ۳۵۱

تیسری فصل ۳۵۶


حجة الوداع اور رحلت پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۳۵۶

حجة الوداع ۳۵۶

پیغمبر اسلا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کا تاریخی خطبہ ۳۵۸

عظیم فضیلت ۳۵۹

واقعۂ غدیر اور مستقبل کے رہنما کا تعارف ۳۶۲

شواہد اور قرائن ۳۷۲

لشکر اسامہ ۳۷۹

پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا اعلیٰ مقصد ۳۸۲

وہ وصیت نامہ جو لکھا نہ جاسکا! ۳۸۵

پیغمبر اسلا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی رحلت ۳۸۶

رحلت پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وقت اسلامی سماج، ایک نظر میں ۳۸۸