یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
عنوان کتاب:
اسلامی تاریخ میں اصلاحی تحریکیں
مصنف: مرتضی مطہری
اصلاح
اصلاح کا مطلب ہے ”نظم و باقاعدگی پیدا کرنا“ اور اس کا الٹ فساد ہے۔ اصلاح اور فساد کا ایک متضاد جوڑا بناتی ہیں جن کا ذکر قرآن اور دیگر الہامی کتابوں میں اکثر آیا ہے۔ متضاد زوج جو کہ اعتقادی اور اجتماعی اصطلاحوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں ان کو اگر آمنے سامنے رکھا جائے تو مطالب کے سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے‘ مثلاً ہم یہ متضاد زوج سنتے ہیں‘ توحید و شرک‘ ایمان و کفر‘ ہدایت و ضلالت‘ عدل و ظلم‘ خیر و شر‘ اطاعت و معصیت‘ شکر و کفران‘ اتحاد و اختلاف‘ غیبت اور شہادت‘ علمیت و بے علمی‘ تقویٰ و فسق‘ تکبر و انکسار وغیرہ۔
کچھ متضاد اصطلاحیں ایک دوسرے کے معنی کی وضاحت کر کے مثبت اور منفی پہلو کا اظہار کرتی ہیں‘ اصلاح اور فساد اسی قسم کی اصطلاحیں ہیں‘ قرآن میں اصلاح کا بعض دفعہ دو افراد کے رابطہ میں (اصلاح ذات‘ البین) استعمال ہوا ہے بعض دفعہ خاندانی ماحول کے متعلق اور بعض دفعہ وسیع تر معاشرتی ماحول کے متعلق جو کہ اس وقت میرے پیش نظر ہے اور اس کا قرآن کی کئی سورتوں میں ذکر ہے(سورئہ بقر ۱۱‘ ۲۲۰‘ سورئہ اعراف ۵۶‘ ۱۷۰‘ ہود ۸۸‘ ۱۱ اور قصص ۱۹) ۔ اس کے بعد جب میں اس مضمون میں لفظ اصلاح استعمال کروں گا تو میرا مقصد معاشرے کی سطح پر اصلاح ہو گا یعنی اصلاح معاشرہ ہو گا۔
قرآن نے پیغمبروں کو مصلح قرار دیا ہے جیسے کہ حضرت شعیبعليهالسلام نے فرمایا:
( ان ارید الا الاصلاح ما استطعت وما توفیقی الا بالله علیه توکلت و الیه انیب )
”میں اپنی استطاعت کے آخری امکان تک صرف اصلاح کرنا چاہتا ہوں‘ میری کامیابی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے‘ میں صرف اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔“
اس کے برعکس قرآن منافق مصلحتوں کی سختی سے سرزنش کرتا ہے‘ قرآن میں وارد ہے کہ
( و اذا قلیللهم لا تفسدوا فی الارض قالوا انما نحن مصلحون الا انهم هم المفسدون و لکن لا یشعرون )
”اگر ان کو بتایا جائے کہ زمین پر فساد نہ پھیلاؤ‘ تو وہ کہتے ہیں کہ وہ تو صرف اصلاح کر رہے ہیں‘ ہرگز ایسا نہیں! وہ تو زمین پر فساد پھیلا رہے ہیں اور خود اس کو محسوس نہیں کرتے۔“
بلاشک اصلاح اسلام کی روح ہے‘ ہر مسلمان بحأثیت مسلمان اصلاح کا طالب ہے اور وہ لاشعوری طور پر اصلاح کا طرفدار ہے‘ قرآن میں اصلاح کی چاہت پیغمبری کا جزو ہے اور اس کی اہمیت ”امربالمعروف و نہی عن المنکر“ جیسی ہے جو کہ اسلام کی اجتماعی تعلیمات کا ایک رکن ہے۔ ہر امربالمعروف و نہی عن المنکر اجتماعی اطلاح کے زمرے میں نہیں آتا‘ لیکن اجتماعی اصلاح ان تمام امور پر محیط ہے جو کہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے زمرے میں آتے ہیں‘ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ ہر وہ مسلمان جو کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے بارے میں محتاط ہوتا ہے‘ وہ اجتماعی اصلاح کے بارے بھی کافی حساس ہوتا ہے۔
یہ امر قابل صد ستائش اور باعث مسرت ہے کہ دور جدید میں اجتماعی اصلاح کے بارے لوگوں میں احساس پیدا ہو رہا ہے‘ لیکن اس رجحان میں کچھ افراط و بے اعتدالی پیدا ہو گئی ہے کہ وہ تمام خدمات جو اجتماعی اصلاح کے علاوہ پیش کی گئی‘ ان کی اہمیت کو گھٹا دیا گیا‘ ہر خدمت کو اجتماعی اصلاح کے زمرے میں پرکھا جاتا ہے اور انسان کی اہمیت کا اندازہ ان امور سے لگایا جاتا ہے جو کہ وہ اجتماعی اصلاح کے لئے سرانجام دیتا ہے‘ یہ انداز فکر صحیح نہیں ہے‘ اجتماعی اصلاح یقینا سوسائٹی کی ایک خدمت ہے‘ لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر خدمت اجتماعی اصلاح ہو‘ تپ دق اور سرطان کے علاج کی ایجاد خدمت تو ہے لیکن اصلاح نہیں ہے۔ وہ ڈاکٹر جو صبح سے لے کر شام تک بیماروں کا علاج کرتا ہے اس نے اجتماعی خدمت تو کی ہے لیکن اجتماعی اصلاح نہیں کی‘ کیونکہ اجتماعی اصلاح کے سلسلے میں معاشرہ کو ایک مخصوص سمت کی طرف موڑنا ایک ڈاکٹر کے بس میں نہیں ہے‘ لیکن ان کی اس خدمت کو کہ وہ اجتماعی اصلاح کے زمرے میں نہیں آتی‘ کوئی اہمیت نہ دینا بھی قطعاً صحیح نہیں ہے۔ شیخ مرتضیٰ انصاری اور صدرالمتالحین کی خدمات عظیم تر ہیں‘ لیکن ان کے کام کو اصلاح اور ان کو مصلح کا درجہ نہیں دیا گیا‘ مثلاً تفسیر مجمع البیان جو کہ نو سال پہلے لکھی گئی اور اس سے ہزاروں انسانوں نے استفادہ کیا‘ بے شک ایک کدمت ہے‘ لیکن اصلاح اجتماع کے زمرے میں نہیں آتی‘ یہ ایک ایسی خدمت ہے جو کہ ایک عالم نے عالم تنہائی میں سرانجام دی۔ کئی ایسے مواقع ہیں کہ کچھ اشخاص نے اپنی ذاتی نیک اور مثالی زندگیوں میں ناقابل فراموش خدمات انجام دیں‘ لیکن انہوں نے معاشرے کی اصلاحی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیا‘ لہٰذا نیک لوگ ایک مصلح کی طرح سوسائٹی کے لئے بہت اہمیت رکھتے ہیں‘ کیونکہ وہ مصلح نہ کہلوانے کے باوجود خدمت کرتے ہیں۔
مندرجہ ذیل جملے میں نے نہج البلاغہ سے ماخوذ کئے ہیں‘ حضرت علی علیہ السلام نے اپنی حیثیت اجتماعی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر ایک مصلح کی صورت میں پہنچوائی ہے۔
حضرت علیعليهالسلام
”اے خدایا! تو خوب جانتا ہے کہ ہم نے کیا کیا! میرا مقصد طاقت کا اظہار اور ذاتی مفاد کا حصول نہیں تھا بلکہ تمہارے ان امور کا احیاء تھا جو آپ کی طرف لے جانی والی شاہراہ کے سنگ میل ہیں‘ اس سے تمہارے شہروں میں دیرپا اور نمایاں اصلاح کرنا مقصود تھا تاکہ رسوا اور کچلی ہوئی انسانیت کو تحفظ مل سکے اور تمہارے ان احکامات کو جن کی پرورش نہیں کی گئی شدت کے ساتھ نافذ کرنا تھا۔“
امام حسین علیہ السلام نے بھی دور معاویہ میں دورانِ حج ایک بڑے اجتماع میں جو اہم صحابہ پر مشتمل تھا‘ اپنے والد کے درجہ بالا دیئے ہوئے کلمات دہرائے اور اپنا کردار بحیثیت مصلح آشکارا کیا۔
امام حسین علیہ السلام نے اپنے بھائی محمد ابن حنفیہ کے نام وصیت نامہ میں ایک مصلح کی حیثیت سے اپنے اصلاحی کاموں کی تشریح کی‘ ان میں فرمایا:
انی لم اخرج اشراً ولا بطراً ولا مفسداً ولا ظالماً انما خرجت لطلب الاصلاح فی امة جدی ارید ان امر بالمعروف و انهی عن المنکر و آسیر بسیرة جدی و ابی
”میرا انقلاب ذاتی مفاد کے لئے فساد و ظلم کرنا نہیں‘ بلکہ میں نے جد امجد ۱ کی امت کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا ہے‘ میرا ارادہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی پہچان کرانا اور میرا مقصد اپنے والد اور دادا کی سیرت پر چلنا ہے۔“
اسلامی تاریخ میں اصلاحی تحریکیں
آئمہ ہدیٰعليهالسلام کی زندگیاں تعلیمات‘ رہبری اور اجتماعی اصلاح کی غمازی کرتی ہیں‘ ان کے علاوہ ہم اسلامی تاریخ میں اور بھی کئی اصلاحی تحریکیں دیکھتے ہیں‘ لیکن چونکہ ان تحریکوں کا مفصل مطالعہ نہیں کیا گیا‘ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی تاریخ ایک جمود کا شکار رہی ہے اور اصلاحی تحریکیں ناپید ہیں۔
ہزاروں سال پہلے مسلمانوں کے اذہان میں ایک خیال ابھرا (پہلے سنیوں میں‘ پھر شیعوں میں) کہ ہر صدی کے شروع میں ایک ”مجدد“ کا دین کے احیاء کے لئے ظہور ہوتا رہا ہے۔ سنیوں نے اس روایت کو ابوہریرہ سے نقل کیا کہ ہر صدی کے آخر میں ایک ایسا شخص آتا ہے جو خدا کے دین کی تجدید کراتا ہے‘ اگرچہ اس روایت کی پختگی اور تاریخی ثبوت کا تعین نہیں ہو سکتا‘ لیکن مسلمان عمومی طور پر اس بات کے متعلق یقین کے ساتھ توقعات رکھتے ہیں اور ہر صدی میں ایک یا ایک سے زیادہ مصلح رونما ہوتے رہے ہیں۔ عملی طور پر یہ صرف اور صرف اصلاحی تحریکیں رہی ہیں اس لئے اصلاح‘ مصلح‘ اصلاحی تحریکیں اور حال ہی میں استعمال ہونے والا لفظ ”مذہبی خیالات کی تجدید“ وہ الفاظ ہیں جن سے مسلمانوں کے کان مانوس ہیں۔
اسلامی تاریخ میں اصلاحی تحریکوں کا بغور مطالعہ اور ان کا عملی تجزیہ ان کے لئے مفید اور قوی ثابت ہو سکتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ایسے باصلاحیت افراد یہ کام کر گزریں گے اور اپنے مطالعہ اور علمی تحقیق کے نتائج خواہش مند افراد کے سامنے پیش کریں گے۔
یہ ظاہر ہے کہ وہ تمام تحریکیں جن کا مقصد اصلاح ہو‘ ایک ہی طرح کی نہیں رہی ہیں‘ بعض ایسی تھیں کہ ان کا بنیادی مقصد اصلاح تھا اور اس طرح وہ قدرتی طور پر اصلاح تھیں‘ کچھ ایسی تھیں جنہوں نے اصلاح لانے کی آڑ میں فساد برپا کیا اور کچھ ایسی بھی تھیں جو کہ شروع میں اصلاحی پہلو لے کر ابھریں لیکن بعد میں اپنے راستے سے بھٹک گئیں۔
عثمانیوں اور عباسیوں کے ادوار میں علویوں کا ابھرنا بھی اصلاح کا قیام تھا۔ اس کے برعکس بابک خرم دین اور اس قسم کی دیگر تحریکیں اتنی بے ہودہ اور غلاظت اور کثافت اور آلودگی میں ڈوبی ہوئی تھیں کہ اسلام کو ان کی وجہ سے کافی نقصان پہنچا‘ ان کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں عباسیوں کی ظالمانہ حکومت کے خلاف نفرت اور غصہ کم ہو گیا‘ ان تحریکوں کا مقصد شاید عباسیوں کی حکومت کو دوام دینا تھا۔ حقیقت میں ان تحریکوں نے عباسیوں کو مواقع فراہم کئے۔ شعوبیہ کی تحریک کا آغاز بھی اصلاحی تھا‘ کیونکہ یہ مہم امویوں کی تفریق کی پالیسی کے خلاف تھی اور ان کا نعرہ تھا:
( یا یها الناس انا خلقنا کم من ذکر و انتی و جعلنا کم شعوبا و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عندالله اتقاکم )
چونکہ شعوبیہ تفریق کی پالیسی کے خلاف تھے‘ لہٰذا ان کو ”اہل التسومیہ“ سے پکارا گیا اور ان کا نعرہ قرآن کی مندرجہ بالا آیت تھا‘ لہٰذا شعوبیہ کہلائے جانے لگے‘ لیکن بدقسمتی سے وہ خود اس بات کا شکار ہو گئے جس کے خلاف انہوں نے علم انقلاب بلند کیا تھا‘ یعنی وہ نسل اور قوم کی تفریق میں مبتلا ہو گئے‘ ان کے اس عمل نے عباسیوں کو ایک اور موقع فراہم کیا‘ شاید عباسیوں نے ایک گھناؤنی سازش کی اور ایرانیوں کو اسلامی عدل کے راستے سے ہٹا کر ایرانی نسل پرستی کے چکر میں ڈال دیا۔ تاریخ میں شعوبیہ کے انتہائی گروپ نے جس شدت کے ساتھ عباسیوں کی حمایت کی ہے وہ اس مفروضے کو تقویت دیتا ہے۔
اسلامی تحریکیں کچھ صرف فکری تھیں‘ کچھ اجتماعی اور بعض فکری اور اجتماعی دونوں پہلو لئے ہوئے تھیں‘ غزالی کی تحریک صرف ایک فکری تحریک تھی اس کے خیال میں اسلامی علوم اور اسلامی خیالات آسیب زدہ تھے۔ اس لئے اس نے ”احیاء علوم دین“ پر کام کیا‘ علویوں اور سربداروں کی تحریکیں حکومت وقت کے خلاف اجتماعی تحریکیں تھیں‘ اخوان الصفا کی تحریک فکری اور اجتماعی دونوں حیثیتوں میں تھی۔
اوپر دی گئی تحریکوں میں چند ترقی پسند تھیں اور کچھ دوسری‘ مثلاً اشعری چوتھی صدی میں اور اخباریگری (شیعوں میں) دسویں صدی میں اور وہابی تحریک بارہویں صدی میں صرف رجعت پسند تحریکیں تھیں۔
ان تمام تحریکوں کے جو عملی یا فکری ہیں یا ترقی پسند اور رجعت پسند ہیں بغور مطالعہ اور وسیع تحقیق کی ضرورت ہے‘ ان کا مطالعہ اس وجہ سے اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ حال ہی میں کچھ موقع پرستوں نے موجودہ خلا سے فائدہ اٹھایا اور انہوں نے اسلامی تاریخ میں تحریکوں کا تجزیہ ذہن میں پہلے سے طے شدہ ”مقصد“ اور ”قیاس“ کے تحت کرنے کی کوشش کی تاکہ اپنی عالمانہ رائے ناسمجھ لوگوں کے سامنے پیش کر سکیں۔
اس وقت ہم ایک مختصر جائزہ میں ان اسلامی تحریکوں کا تذکرہ کریں گے‘ جو پچھلے ایک سو سال سے چل رہی ہیں کیونکہ یہ دور ہماری موجودہ زندگی کے قریب تر ہے‘ ہماری کوشش یہ معلوم کرنا ہو گا کہ ان تحریکوں نے کیا اثرات مرتب کئے ہیں۔
تیرہویں صدی ہجری کے دوسرے نصف میں اور انیسویں صدی عیسوی میں ایران‘ مصر‘ شام‘ لبنان‘ شمالی افریقہ‘ ترکی‘ افغانستان اور ہندوستان میں اسلاسمی تحریکیں چلائی گئی ہیں‘ وہ لوگ جنہوں نے مصلح ہونے کا دعویٰ کیا اور اصلاح کرنے کے لئے خیالات اور نظریات پیش کئے ان ملکوں میں نمودار ہوتے رہے ہیں‘ یہ تحریکیں صدیوں کے جمود کے بعد شروع ہوئیں‘ یہ کسی حد تک مغرب کی سیاسی‘ اقتصادی اور تہذیبی نو آبادیاتی پالیسیوں کے خلاف تھیں اور اسلامی دنیا میں احیاء اور بعثت ثانیہ شمار کی گئی ہیں۔
سید جمال الدین
پچھلے ایک سو سال کی تحریک کے سلسلے کی بنیادی حیثیت جمال الدین اسد آبادی بہ عرف عام ”افغانی“ کی ہے‘ یہ وہی شخصیت تھی جس نے اسلامی حکومت کو ضرورت اصلاح اور تشکیل نو کے لئے جگایا اور مسلمانوں میں معاشرتی برائیوں کو آشکارا کیا اور ان کو اصلاح کا راستہ دکھا کر ان برائیوں کی اصلاح کا راستہ دکھایا۔ اگرچہ سید کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے لیکن ان کے فلسفہ اصلاح کے بارے میں بہت کم بتایا گیا ہے یا شاید میں نے اس کے فلسفے کے بارے میں سنا اور جانا نہیں ہے‘ تاہم یہ معلوم کرنے سے کافی فائدہ ہو گا کہ سید نے اسلامی معاشرہ کی کن برائیوں کی تشخیص کی ہے اور ان کا کیا علاج تجویز کیا‘ نیز اپنے فلسفہ اصلاح کے مقاصد کے حصول کی خاطر کون سے راستے اختیار کئے۔
جس تحریک کی انہوں نے ابتداء کی وہ اپنی وسعت کے لحاظ سے فکری اور اجتماعی تھی جہاں وہ مسلمانوں کے خیالات میں تجدید چاہتے ہیں وہاں وہ نظام زندگی میں بھی احیاء چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو ایک شہر‘ ایک ملک حتیٰ کہ ایک براعظم تک محدود نہیں رکھا۔ ہر ملک میں تھوڑا تھوڑا وقت گزار کر انہوں نے ایشیاء‘ یورپ اور افریقہ کے طول و عرض میں سفر کیا‘ جس ملک میں بھی وہ گئے وہاں پر لوگوں کے مختلف طبقات کے ساتھ اپنی روحانی وابستگی کافی حد تک استوار کی‘ حتیٰ کہ کچھ ممالک کے فوجی یونٹوں میں دخل اندازی کی تاکہ افواج میں اثر و رسوخ پیدا کیا جائے۔
سید نے بہت سے اسلامی ملکوں کا دورہ کر کے قریبی مشاہدہ کیا جس سے انہیں ان ملکوں کے بارے زیادہ آگاہی ہوئی‘ اس سے ان کو موقع ملا کہ ان ملکوں کی پیچیدگیوں کو سمجھے اور وہاں کی قابل عزت شخصیتوں کا گہرا مطالعہ کیا‘ تمام دنیا کا دورہ اور خصوصاً یورپ میں ان کا زیادہ وقت گزارنا اس سلسلے میں کارآمد ثابت ہوا کہ ترقی یافتہ ممالک میں کیا ہو رہا ہے اور یورپ کی تہذیب کو سمجھنے اور یورپی لیڈروں کے ارادوں کو بھانپنے میں ممد و معاون ثابت ہوا۔ اپنی کوشش اور مشن کے دوران میں سید نے اپنے زمانے اور دنیا کو سمجھا اور اسلامی ممالک کا مناسب اور صحیح علاج بھی دریافت کیا جس کے لئے انہوں نے اپنا مشن شروع کیا تھا۔ سید کے نزدیک اندرونی استبداد اور بیرونی استعمار دو اہم اور توجہ طلب برائیاں تھیں جن سے اسلامی معاشرہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے‘ انہوں نے ان کے خاتمہ کے لئے کوششیں کیں اور بالآخر اپنے مشن کی خاطر جان دے دی‘ وہ یہ ضروری اور ناگزیر سمجھتے تھے کہ ان دو تباہ کن اسباب کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں میں سیاسی بیداری ہو اور وہ سیاست میں بھرپور حصہ لیں۔
اپنی کھوئی ہوئی عظمت کی بحالی اور دنیا میں پروقار مقام حاصل کرنے کے لئے کہ مسلمان بجا طور پر اس کے اہل ہیں‘ سید اس کو ناگزیر سمجھتے تھے کہ وہ اصلی اسلام کی طرف پلٹیں‘ حقیقت میں وہ مسلمانوں کے نیم مردہ بدن میں نئی روح پھونکنا چاہتے تھے۔ تجدید کی پہلی شرط یہ ہے کہ بدعنوانی کو ختم کر کے تنظیم نو کی جائے اور پھر مسلمانوں میں اتحاد پیدا کیا جائے‘ انہوں نے محسوس کیا کہ استعماریت آشکارا اور پوشیدہ دونوں طریقوں سے مذہبی اور غیر مذہبی نفاق و انتشار کا بیج بو رہی ہے‘ انہوں نے ان چھپے ہوئے عزائم کو واضح کیا۔
سید کی دو خصوصیات
سید کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ وہ شیعہ اور سنی دونوں سوسائٹیوں کا بہت قریبی علم رکھتے تھے‘ لہٰذا وہ سنی اور شیعہ دونوں معاشروں کے فرق پر مکمل عبور رکھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ سنی معاشرہ ایک آزاد اور خود مختار ادارہ نہیں ہے اور وہ استبدادی اور استعماری طاقتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ سنیوں کے مذہبی علماء کا طبقہ حکومتوں سے وابستہ رہا ہے اور وہ صدیوں سے حکومت کو سوسائٹی کا ”اولوالامر“ کہتا چلا آیا ہے‘ اس لئے سنی معاشرے کے مذہبی علماء کو وہ نظرانداز کر دیتے تھے اور براہ راست عوام سے رابطہ رکھتے تھے۔ ان کے خیال میں سنی مذہبی علماء میں یہ صلاحیت پیدا نہ ہو سکی کہ وہ نوآبادیاتی نظام اور استحصال کے خلاف کوئی محاذ بنا سکیں اور اس سلسلے میں ان کا کوئی کردار نہیں۔
لیکن شیعی مذہبی علماء ایک آزاد ادارہ کی حیثیت سے واضح امتیاز کے ساتھ ایک قومی طاقت ہیں‘ ان کا عوام کے ساتھ گہرا رشتہ رہا اور ہمیشہ حکام کے استبداد کو چیلنج کرتے رہے ہیں‘ اس لئے سید جمال نے سب سے پہلے شیعہ سوسائٹی کے علماء سے اپیل کی۔ انہوں نے اپنی مہم کا آغاز ذی فہم لوگوں سے کیا اور فیصلہ کیا کہ یہی وہ طبقہ ہے کہ ہر آمر اور نوآبادیت کے خلاف جنگ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
ان خطوط کی عبارت جو انہوں نے شیعہ علماء کو لکھی‘ خصوصاً مرحوم حاجی میرزا حسین شیرازی اور کئی وہ قراردادیں جو انہوں نے تہران‘ مشہد‘ اصفہان‘ تبریز‘ شیراز اور دوسری مذہبی جگہوں کے خدا پرست اہم شخصیات کو بھیجیں‘ اس امر کی کھل کر وضاحت کرتی ہیں۔
سید جمال سمجھ گئے تھے کہ گو کہ شیعی مذہبی علماء میں سے چند نے اپنے وقت میں استبدادی طاقتوں کے ساتھ روابط جوڑے‘ لیکن انہوں نے معاشرے‘ عوام اور مذہب سے بھی اپنا رشتہ قائم رکھا‘ دشمنوں کے کیمپوں سے اپنے عوام کی خدمت کی‘ تاہم کچھ ایسے لوت تھے جو یقینا اغیار کے بہت قریب چلے گئے‘ لیکن بہت ہی مختصر تھے۔ تاریخ سے واضح ہے کہ عموماً شیعوں نے اپنے مذہبی علماء سے اپنا مذہبی رشتہ نہیں توڑا۔
سید جمال کے مشن نے شیعی مذہبی علماء کے طبقے پر کافی اثرات مرتب کئے‘ چاہے وہ تمباکو تحریک ہو جس میں شیعہ علماء نے اندرونی استبداد اور بیرونی استعماریت کے خلاف ایک طوفان کھڑا کیا یا آئینی حکومت کے قیام کی تحریک ہو اور اس میں بھی شیعہ علماء کی رہبری اور تائید موجود تھی۔
تاریخ میں یہ نہیں ملتا کہ سید جمال الدین نے جو کہ ایک انقلابی مسلمان تھے‘ شیعہ مذہبی علماء کو کمزور اور پست کیا ہو‘ حالانکہ بعض لاعلمی اور ناواقفیت کے نتیجے میں ان کو کافی تکالیف اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔
(نقش روحانیت پیشرو در جنبش مشروطیات ایران‘ تالیف حامد الگیار‘ ترجمہ: ابوالقاسم سری)
جناب محیط طباطبائی لکھتے ہیں کہ
”سید نے اپنے یورپ کے پہلے دورہ میں جب وہ وہاں ”عروة الوثقٰی“ رسالہ نکالنا چاہتے تھے‘ یہ محسوس کیا کہ روحانی لوگوں میں اصلاح لانے کی قوت موجود ہے اس بات کو انہوں نے ایک خط میں واضح کیا جو انہوں نے مصر میں مقیم ایک ایرانی بنام داغستانی کو لکھا (حکومت کو دھوکہ دینے کے لئے انہوں نے اپنا جعلی نام داغستانی رکھا ہوا تھا) اس میں انہوں نے فرمایا کہ علمائے ایران نے اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کی ہے اور یہ ایرانی حکومت ہے جو عوام کے لئے مشکلات پیدا کر رہی ہے اور ان کے زوال اور تباہی کا سبب بن رہی ہے۔ تہران میں موجودگی کے وقت علماء کے خلاف کوئی بات نہیں کی‘ جو کہ ان کے مزاج پر گراں گزرے‘ اس کے برعکس انہوں نے علماء کے ساتھ قریبی روابط رکھے۔ انہوں نے ایک رسالہ ”پنچیریہ“ شائع کیا‘ اس کا عربی ترجمہ بیروت میں ہوا اور چھپ کر تقسیم بھی ہوا۔ ایران آنے پر وہ اس رسالہ کی کچھ کاپیاں اپنے ساتھ لائے اور یہاں صاحبان علم و دانش میں تقسیم کیں‘ مذہبی اساتذہ کے ساتھ ملاقات کے دوران شعوری اور لاشعوری طور پر اس بات کا خیال رکھا کہ غرور و خود پسندی کا احساس نہ ہونے پائے‘ سنا ہے کہ جب سید نے مرحوم جناب جلوہ سے پہلی ملاقات کی تو انہوں نے اس بات کے پوچھنے پر کہ ”سید مصر میں شیخ (ابو علی سینا) کے کلمات پر درس دیتا ہے۔“ نفی میں جواب دیا‘ تاکہ جلوہ ان کی بات سے مشتعل نہ ہوں۔“
(نقش سید جمال الدین در بیداری مشرق زمین‘ ص ۳۹-۴۰‘ ۵۲)
سید جمال کی دوسری خصوصیت یہ تھی کہ گو وہ ایسے مصلح تھے جو مسلمانوں کو مغرب کی جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے حصول پر آمادہ کر رہے تھے تاکہ جہالت اور لاعلمی پر قابو پایا جا سکے وہاں وہ جدیدیت میں انتہا پسندی کے خطرہ سے بھی پوری طرح آگاہ تھے۔ ان کا نظریہ یہ تھا کہ مغربی سائنسی علوم اور ٹیکنالوجی مسلمانوں کی جہان بینی اور نظریات کے درمیان ایک توازن برقرار رکھا جائے‘ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ مسلمان مغربی طرز کی جہان بینی پر فریفتہ ہو جائیں اور اسی عینک سے دنیا کو دیکھنے کی کوشش کریں اور یوں اسلامی جہان بینی سے دور ہٹ جائیں‘ وہ نہ صرف مغربی سیاست اور استعمار کے خلاف لڑے‘ بلکہ تہذیبی استعمار کے خلاف بھی سعی کی‘ انہوں نے ان لوگوں کے خلاف مہم چلائی جو کائنات اور قرآن مقدس اور اسلامی فلسفہ کی مغربی نقطہ نظر سے تاویل کرنا چاہتے تھے‘ وہ یہ مناسب نہیں سمجھتے تھے کہ قرآن کے مابعدالطبیعاتی مفاہیم کی‘ انسان کے شعوری اور مادی معاملات کی اصطلاحوں میں تاویل کی جائے۔
ہندوستان کے دورے کے دوران ان کا تعارف ایک مسلمان مصلح سر سید احمد خان سے ہوا‘ انہوں نے دیکھا کہ وہ مابعدالطبیعاتی مسائل کی علم سائنس کے نام پر اور سائنس کے بہانے سے تشریح کی کوشش کر رہے ہیں کہ غیب اور معقولات کو قابل احساس و مشاہدہ قرار دے کر ان کی تاویل کی جائے اور وہ معجزہ کا ادراک عام اور سادہ معنوں میں کرنا چاہتے ہیں حالانکہ یہ معجزے قرآن میں بڑے واضح ہیں‘ قرآن کے آسمانی مفاہیم کو زمینی مفاہیم میں تبدیل کر دیں۔ سید نے ان باتوں پر اعتراض کیا‘ اس عہد کے ایک مورخ نے سید کے ہندوستانی دور کے متعلق اور سر سید احمد خان کے سلسلے میں ان کے موقف کے بارے میں لکھا ہے:
”اگر سید احمد نے مذہب میں اصلاح کے متعلق باتیں کی ہیں تو سید جمال نے مسلمانوں کو فتنہ انگیز مصلحوں اور اصلاحوں میں انتہا پسندی کے خطرات سے آگاہ کیا۔ جہاں سید نے جدید نظریات کو جذب کرنے کی ہدایت کی‘ وہاں سید جمال اپنے اس استدلال پر قائم رہے کہ صرف مذہبی عقیدہ ہی ان تمام اسباب سے افضل ہے اور اس میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ انسان کی راہ مستقیم پر چلنے کی رہنمائی کرے‘ اگر سید نے مسلمانوں کو جدید تربیت حاصل کرنے کا شوق دلایا تو سید جمال نے تربیت کے ان نئے طریقوں کو ہندوستانی مسلمانوں کے مذہب اور قوم کے لئے زہر قاتل قرار دیا۔ سید جمال جو کہ نئے نظریات اور تعلیمات کے علمبردار تھے‘ سید احمد جیسے جدیدیت پسند شخص کے سامنے آئے تو مجبور ہو گئے کہ وہ پرانے خیالات اور نظریات کے سرگرم حامی بنیں‘ تاہم وہ اپنے پہلے نظریے دینی فکری تحریک پر قائم رہے۔“
اسلامی سوسائٹی میں جن بیماریوں کی سید جمال نے تشخیص کی‘ وہ یہ ہیں:
۱ ۔ حکام کا استبداد۔
۲ ۔ عام مسلمانوں میں جہالت‘ بے خبری اور ان کے کاروان علم و تمدن میں سست رفتاری۔
۳ ۔ مسلمانوں میں خرافات کا نفوذ اور ان کی اصلی اسلام سے دوری۔
۴ ۔ مذہبی اور دنیاوی مسائل و معاملات میں مسلمانوں کے درمیان جدائی اور نااتفاقی۔
۵ ۔ مغربی استعمار کے اثرات۔
ان بیماریوں کے علاج کے لئے سید نے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے‘سفر‘ ذاتی روابط‘ خطبات‘ کتابوں کی اشاعت‘ رسالے اور مختلف پارٹیوں اور گروپوں کی تنظیم کرنا حتیٰ کہ فوجی ملازمت میں شمولیت۔ وہ ۶۰ سال زندہ رہے اور ہمیشہ کنوارے رہے اور اہل و عیال سے بے نیاز رہے‘ کیونکہ ان کی زندگی ہمیشہ غیر یقینی تھی۔ وہ ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر کرتے رہے تھے‘ زیادہ تر وقت جیل میں‘ جلاوطنی میں اور یا گھر میں نظربند کی حیثیت سے گزارتے تھے‘ اس صورت حال میں وہ بال بچوں کی ذمہ داری سے کیسے عہدہ برآ ہو سکتے تھے۔
اوپر دی ہوئی برائیوں کے ختم کرنے کے لئے جو تجاویز انہوں نے پیش کیں‘ وہ یہ ہیں:
۱) استبدادی حکام کی خود غرضی کے خلاف جنگ
کون یہ جنگ لڑے؟ عوام‘ لیکن عوام کو کس طرح میدان جنگ میں اتارا جائے؟ کیا اس راسے سے کہ ان کو بتایا جائے کہ تمہارے حقوق کو کس طرح پامال کیا گیا ہے؟ یہ بجا ہے کہ اس کو بنیادی اہمیت دی جائے‘ لیکن یہ کافی نہیں تو پھر کیا کرنا چاہئے؟ بنیادی کام یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں پختہ یقین پیدا کرنا چاہئے کہ سیاسی جدوجہد ایک شرعی اور مذہبی فریضہ ہے‘ یہ واحد راستہ ہے اور لوگ اس وقت تک اطمینان سے نہیں بیٹھیں گے جب تک وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر لیتے۔ وہ لوگ غفلت میں ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ سیاست اور مذہب ایک دوسرے سے جدا ہیں‘ مذہب اور سیاست کی ہم بستگی کو عام لوگوں پر آشکارا کرنا چاہئے۔
مذہب اور سیاست میں باہمی رابطہ کی ضرورت پر زور‘ سیاسی بیداری کا احیاء جو کہ ہر مسلمان کا ایک شرعی فریضہ ہے اور اس کا ملکی سیاست میں عملی شرکت اور ساتھ ہی اسلامی سوسائٹی کا قیام‘ وہ نظریات ہیں جو سید کے نزدیک ان وقتی بیماریوں کا علاج ہیں‘ وہ عملاً اپنے عصر کے استبدادی حکام کے ساتھ لڑتے رہے اور اپنے پیروکاروں کو ان کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے پر اکساتے رہے‘ ناصر الدین شاہ پر حملہ انہی کی تحریکوں کا نتیجہ تھا۔
۲) جدید سائنسی اور ٹیکنالوجی سے لیس ہونا
یہ ایک حقیقت ہے کہ سید جمال نے اس سلسلے میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا اور انہوں نے سکول اور سائنسی ادارے نہیں بنائے‘ انہوں نے صرف قلم اور زبان سے اس کی تبلیغ کی۔
۳) اصلی اسلام کی طرف پلٹنا
اسکا مطلب ان خرافات اور بے کار حاشیہ آرائیوں کا خاتمہ ہے جو اسلام کی لمبی تاریخ کے دوران اس میں شامل کر دی گئی ہیں۔ سید کے نزدیک اسلام کی طرف پلٹنے کا مطلب قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنا اور دوبارہ اپنے صالح اسلاف کی سیرت پر کاربند ہونا ہے۔ انہوں نے صرف قرآن کی طرف پلٹنا تجویز نہیں کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ خود قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنے کو ضروری سمجھتا ہے‘ مزید برآں وہ ”حسبنا کتاب اللّٰہ“ کے جملہ میں موجود تمام خطرات سے بخوبی واقف تھے۔ یہ وہ جملہ ہے جو ہر زمانے اور ہر دور میں اسلام کے چہرے کو مسخ کرتا رہا ہے۔
۴) نظریات پر ایمان و عقیدہ
وہ اپنی تحریروں اور خطبات سے مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ چیز بٹھانے کی کوشش کرتے رہے کہ اسلام میں ایک مکتب فکر اور نظریہ کی وجہ سے یہ طاقت موجود ہے کہ وہ مسلمانوں کو اندرونی استبداد اور بیرونی استعمار سے نجات دلا کر ان کو ایک اعلیٰ و ارفع مقام پر پہنچا دے‘ مسلمان ارادے کے ساتھ جم جائیں تاکہ وہ کسی دوسرے مکتب فکر کی ضرورت محسوس نہ کریں۔
اس نظریے کی وجہ سے سید نے اپنی تحریروں اور تقاریر میں اسلام کے ان اوصاف پر روشنی ڈالی‘ مثلاً اسلام میں فکر کی طاقت کا اقرار‘ مدلل برہان اور مفہوم صراط مستقیم پر چلتے ہوئے انسان میں ہر کمال سوائے پیغمبری کے حاصل کرنے کی صلاحیت‘ انسان کی ذاتی شرافت‘ اسلام کا سائنسی مذہب ہونا‘ عمل اور سخت محنت کا مذہب‘ کوشش اور جدوجہد کا مذہب‘ فساد کے خلاف اصلاح کا مذہب‘ حلال و حرام کا مذہب‘ عزت اور عدم قبول ذلت کا مذہب اور ذمہ داریاں قبول کرنے کا مذہب ہونا ہے۔
سید نے اسلام میں نظریہ توحید پر کافی زور دیا ہے‘ انہوں نے کہا کہ اسلام صرف برہانی یقین توحید کی بنیاد قرار دیتا ہے‘ استدلال اور برہانی توحید ہی تمام غلط عقیدوں کے لئے بہت بڑی تردید ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہی سوسائٹی فساد اور شرک کو ختم کر سکتی ہے جو استدلال اور برہانی یقین پر اعتماد کرتی ہے‘ نہ کہ وہ جو قیاس‘ واقعات اور حالات کی موافقت پر یقین رکھتی ہے۔ لوگوں کو استدلال کی تعلیم دی جائے تاکہ فکر کی عزت مذہبی نقطہ نظر سے قائم ہو جائے۔
اس وجہ سے سید نے فلسفہ الٰہی اسلامی کی ضرورت کا احساس دلایا اور ان کے ماننے والوں نے اس کی پیروی کی‘ انہوں نے ایک بااعتماد شاگرد محمد عُبدہ کو فلسفہ پڑھنے کی تلقین کی۔ کہا جاتا ہے کہ محمد عُبدہ نے اشارات ابو علی سینا کی اپنے ہاتھ سے دو کاپیاں تیار کیں اور ایک کے آخر میں سید کی تعریف کی ہے‘ غالباً یہ اسی ہمت افزائی کا اثر تھا کہ عُبدہ نے فلسفہ پر کچھ کتابیں شائع کیں۔ پہلی دفعہ نجات بو علی‘ البصائر النصیریہ ابن سہلان ساوجی اور شاید اشارات ابو علی سینا میں سے المشرقین کے کچھ حصے شائع کئے۔
احمد امین نے اپنی کتاب ظہور اسلام(ج ۱‘ ص ۱۹۰) میں لکھا ہے کہ سنی فکر کے مقابلے میں فلسفہ شیعہ فکر کے ساتھ زیادہ سازگار ہے۔ اپنے نقطہ نظر کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فاطمیوں نے جو مصر کے شیعہ حاکم تھے‘ فلسفہ کو زیادہ رواج دیا۔ فاطمیوں کے زوال اور سنی روح کے آنے سے فلسفہ مصر سے رخصت ہو گیا‘ حال ہی میں سید جمال (جو شیعہ رجحانات رکھتا ہے) کے مصر آنے پر اس خطہ میں فلسفہ کا دوبارہ ظہور ہوا۔
اپنے اس مشن کے دفاع میں کہ اسلام ایک جامع اور آزاد مکتب فکر اور نظریہ رکھتا ہے‘ سید نے یورپی ممالک کے اعتراضات کے خلاف مہم چلائی۔ یورپ میں اسلام کو ایک جبری دین اور قضا و قدرت کا محتاج تصور کیا جاتا تھا اور یہ کہ اسلام شخصی آزادی کی نفی کرتا ہے اور یہی اسباب ہیں جو کہ اسلام کے انحطاط کا سبب بنے ہیں۔(انسان و سرنوشت)
وہ یہ بھی تبلیغ کرتے تھے کہ اسلام سائنس کا مخالف ہے اور مسلمانوں کو سائنس سے دور رکھنا اسلام کی تعلیمات میں شامل ہے۔
اپنے رسالہ ”عروة الوثقٰی“ میں انہوں نے ایک مضمون میں اسلام کے نظریہ قضا و قدرت کا دفاع کیا اور یہ ثابت کیا کہ یہ فلسفہ نہ صرف غیر انحطاطی ہے‘ بلکہ اس نے ترقی اور بلندی میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔(پائے گذر نہضت ہائے اسلامی‘ سید جمال الدین)
اس طرح انہوں نے ایک فرانسیسی فلاسفر ارنسٹ رنان ( Iernest Renan ) کا منہ توڑ جواب دیا‘ جو اسلام کو سائنس کا مخالف مذہب سمجھتا تھا اور کہتا تھا کہ مسلمانوں کے زوال کا سبب اسلام ہی ہے۔(رسالہ اسلام و علم‘ از ہادی خسروی شاہی)
۵) بیرونی استعمار کے خلاف جنگ
اس کا مطلب اسلامی ممالک کے اندرونی معاملات میں سیاسی دخل اندازی اور اقتصادی استعمار جس میں حصول مراعات کے ظالمانہ نظام کا اجراء اور مسلمانوں کے اقتصادی اور مالی ذرائع کو ختم کر کے تہذیبی استعمار کو لانا اور پھر مسلمانوں کی تہذیب کو برباد کرنا اور ان کو تہذیبی طور پر کمزور بنانا ہے۔ آخری نوآبادیاتی یا استعمار یہ ہے کہ اس بات کو ثابت کریں کہ صرف مغربی تہذیب ہی ہے جو انسان کی خوشحالی کا سبب بن سکتی ہے‘ تہذیبی استعمار اتنی شدت کے ساتھ پھیلایا گیا کہ ذی فہم مسلمان بھی یہ یقین کرنے لگے کہ اگر کسی مشرقی کو تہذیب یافتہ ہونا ہے تو وہ اہل یورپ کی تقلید کرے‘ وہ یورپی وضع قطع اختیار کر کے ان کی زبان سیکھے‘ ان کا لباس زیب تن کرے‘ ان کی عادات‘ خصائل‘ اعتقادات‘ فلسفہ‘ آرٹ اور تمام دیگر چیزیں اپنائے۔
سید نے دین اور سیاست کی ہم بستگی کو دو محاذوں پر ضروری قرار دیا‘ پہلا محاذ‘ اندرونی استبداد اور دوسرا خطرہ بیرونی استعمار۔ انہوں نے انتھک کوشش کی کہ مسلمانوں کے ضمیر کو استبداد اور استعمار کے خلاف بیدار کیا جائے اور اس پروگرام کا ان کے اصلاحی مشن میں اہم مقام ہے۔ اس کے مقابل میں استعمار کے کارندوں نے”سیکولرزم“ اور ”علمانیت“ کے نام پر مذہب اور سیاست کے درمیان دیوار بنانے کی کوشش کی۔ اس مخالف تحریک کی روح رواں کمال اتاترک تھا اور اس کا واحد مقصد سید جمال کے پروگراموں کو چیلنج کرنا تھا۔ عرب دنیا میں سیکولرزم کا پروپیگنڈہ عربی عیسائیوں نے کیا۔ یہ نظریہ صاف ظاہر کرتا ہے کہا گر مذہب اور سیاست میں ہم بستگی پیدا کر دی جائے تو عربی عیسائیوں کو لئے کوئی ایسا کام نہیں رہ جاتا جو وہ سوسائٹی میں ادا کر سکیں۔ عرب عیسائی اس میں اکیلے نہیں تھے بلکہ کچھ مسلمان بھی اس نظریہ میں ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مذہبی روشن خیال اور ذی فہم لوگ بھی ان کے پرجوش طرفدار بن گئے‘ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟
یہ مسلمان حقیقت میں ایک اور بیماری کا شکار تھے‘ ہم جانتے ہیں کہ سنی دنیا میں خلیفہ اور حاکم ایک ہی ہوتا تھا اور جس کی اطاعت مذہبی فریضہ تھا‘ دین اور سیاست کا ایسا رابطہ بنایا گیا کہ سیاست نے دین کو استعمال کرنا شروع کر دیا‘ اس لئے ان کا مقصد یہ تھا کہ عثمانی خلیفہ اور حاکم مصر ایک دنیاوی مقام پر فائز سمجھے جائیں نہ کہ دینی‘ تاکہ لوگوں کا مذہبی اور ملی ضمیر ان پر تنقید کے سلسلے میں آزاد رہے‘ یہ صحیح راستہ تھا‘ سید جمال کے نزدیک دین اور سیاست کی وابستگی کا یہ مطلب نہیں‘ بقول کواکبی:
”جو کچھ اس نے تعلیم دی وہ یہ تھی کہ مسلمان عوام اپنی سیاسی سرنوشت میں اپنی شرکت کو ایک مذہبی فریضہ و ذمہ داری سمجھیں‘ دین اور سیاست کی وابستگی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مذہب کو سیاست سے ملایا جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاست کو مذہب کے ساتھ ملا دیا جائے۔
وہ عرب جو سیکولرزم اور دین کو سیاست سے جدا رکھنے کے لئے مہم چلاتے رہے‘ انہوں نے کبھی اس سے انکار نہیں کیا کہ عوام کا سیاست میں شامل ہونا ایک دینی فریضہ ہے‘ لیکن دین اور سیاست کی جدائی کی جو پالیسی اتاترک نے اختیار کی وہ عوام کے لئے ایک بدبختی تھی‘ ایران میں بھی ایسا ہی ہوا اور عملاً دین کو سیاست سے جدا کر دیا گیا۔ دوسرے لفظوں میں اس کو اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ پیکر اسلام سے اسلام کا ایک عزیز ترین عضو جدا کر دیا گیا۔“
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اوپر دیئے گئے مفہوم کے تحت دین اور سیاست کی وابستگی یعنی حکام کو مقام قدس دینا صرف سنی مکتب کے ساتھ وابستہ ہے‘ تشیع اس کو قبول نہیں کرتا‘ اس کا ان کی تاریخ میں وجود نہیں ملتا‘ ان کے ہاں ”اولوالامر“ کی تشریح ایسی ہرگز نہیں ہے جو سنیوں نے کی ہے۔
۶) اسلامی اتحاد
غالباً سید جمال ہی پہلا شخص تھا جس نے مغرب کے خلاف اسلامی اتحاد کا نعرہ بلند کیا‘ اسلامی اتحاد کا مطلب مذہبی اتحاد نہیں ہے جو کہ غیر عملی امر ہے‘ اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ ایک متحدہ سیاسی محاذ بنایا جائے اور استعماریت کے خلاف متحدہ صف بنائی جائے۔
سید نے مسلمانوں کو آگاہ کیا کہ مغربی عیسائیوں میں عموماً اور انگلستان میں خصوصاً ابھی تک ”صلیبی روح“ زندہ اور شعلہ زن ہے‘ بے شک مغرب نے تعصب کے خلاف آزاد منشی کا برقعہ پہن لیا ہے‘ لیکن ان کے اندر مسلمانوں کے خلاف تعصب ابھی تک موجود ہے۔ مغرب پرستوں کے برخلاف تعصب کا ہونا سید کے نزدیک برا نہیں تھا‘ ہر دوسری چیزوں کی طرح تعصب بھی افراط و تفریط اور اعتدال رکھتا ہے‘ تعصب میں افراط انسان میں غیر استدلالی جانبداری اور اندھی تقلید پیدا کرتا ہے‘ جو برائیاں ہیں‘ اپنے منطقی و عقلی عقائد کی حمایت کے معنی میں تعصب بہت اچھی چیز ہے۔
سید نے فرمایا:
”اہل یورپ جو یہ جانتے ہیں کہ دین ہی وہ واسطہ ہے جو کہ مسلمانوں کو آپس میں ملاتا ہے‘ اس کو کمزور کرنے کے لئے انہوں نے تعصب کی مکارانہ مخالفت کی‘ لیکن خود ہر مذہب اور ہر جماعت سے زیادہ متعصب ہیں‘ گلیڈسٹوں سینٹ پرس کی روح کا ترجمان ہے‘ یعنی صلیبی جنگوں کی یاددہانی کرانے والا۔“
سید کے حقیقت پسندانہ خیالات کو اس وقت مزید تقویت پہنچی‘ جب جنگ عظیم اول میں یہودی افواج کے یورپی کمانڈر نے عرب اسرائیل جنگ کے دوران بیت المقدس کو مسلمانوں سے لے کر یہودیوں کی تحویل میں دے دیا اور صیہونی حکومت اسرائیل کا قیام کر کے یہ اعلان کیا ”اب صلیبی جنگیں ختم ہو گئیں“۔
استعماریت نے قوم پرستی اور نسل پرستی کے بیج بوئے اور مسلمان ملکوں میں ”پان عربی ازم‘ پان ایرانی ازم‘ پان ترکی ازم اور پانی ہندو ازم“ کے نعرے بلند ہونے لگے۔ ایسی پالیسی کے تحت مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دی گئی‘ شیعہ سنی جھگڑے ہوئے‘ دنیائے اسلام کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے بہت سے حصوں میں بانٹ دیا گیا۔ یہ سب کچھ ”اسلامی اتحاد“ کے خلاف استعماری سازشیں تھیں۔
سید کا مقصد اسلامی سوسائٹی کے نیم مردہ بدن میں حضرت عیسیٰعليهالسلام کی طرح مزاحمت اور جہاد کی روح پھونکنا تھا‘ انہوں نے مسلمانوں کو بتایا کہ جہاد کے اصول کو دوبارہ اپنائیں‘ کیونکہ اس کا بھولنا ان کے انحطاط کا اہم سبب تھا‘ اگر مغربی لوگوں میں صلیبی روح ابھی تک موجود ہے تو مسلمان جہادی روح کو کیوں چھوڑ چکے ہیں؟
کتاب سیری در اندیشیا ہائے سیاسی عربی میں منقول ہے کہ
”سید برطانیہ کو نہ صرف استعماری قوت بلکہ مسلمانوں کا ”صلیبی دشمن“ تصور کرتا تھا‘ ان کا خیال تھا کہ برطانیہ کا مقصد اسلام کی مکمل بیخ کنی ہے اور وہ مسلمانوں کا اس لئے دشمن ہے کہ وہ اسلام کے ماننے والے ہیں۔ یہ برطانیہ کی پالیسی رہی ہے کہ مسلمانوں کا کچھ علاقہ ان سے چھین کر کسی دوسری اسلام دشمن کمیونٹی کو دے دیتا ہے‘ لہٰذا وہ مسلمانوں کی شکست پر خوش ہوتا ہے اور اپنا مفاد مسلمانوں کی تباہی و بربادی میں دیکھتا ہے۔ برطانیہ کے خلاف مہم میں ان کو اور بھی یقین ہو گیا کہ اسلام مزاحمت اور جہاد کا دین ہے اور انہوں نے دینی جہاد کے شروع کرنے پر مزید زور دیا۔ ان کے نزدیک اس حکومت کے خلاف جس نے اسلام کو ختم کرنے کا تہیہ کیا ہوا تھا‘ طاقت استعمال کرنے کے سوا کوئی اور چارئہ کار نہیں تھا۔“
۷) مغرب کے جاہ و جلال کے خلاف جنگ
انیسویں صدی میں جو واقعات و تبدیلیاں مغرب میں ہوئے ہیں‘ ان سے اکثر مسلمان ناواقف رہے اگر ان میں کسی نے یورپ کا چکر لگایا اور تھوڑا بہت جانا کہ مغرب میں خیا ہو رہا ہے‘ تو ان سے مرعوب ہو گئے اور ان کی ترقی نے ان کو بہت متاثر کیا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ مشرق کے مسلمان مغرب کے عیسائیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان کے اندر اتنی طاقت ہے کہ وہ اٹھ سکیں۔ ناصرالدین نے مغرب کے ایک دورے کے دوران اپنے وزیراعظم کو کہا کہ
”اے وزیراعظم! ہم مغرب تک پہنچنے کی کوشش نہ کریں‘ آپ نے فقط جو کرنا ہے‘ وہ یہ ہے کہ جب تک میں زندہ رہوں‘ کوئی شخص اپنی آواز بلند نہ کرے۔“
سر سید احمد خان جو ہندوستان میں مسلم لیڈر تھے‘ شروع شروع میں مسلسل برطانوی استعماریت کے خلاف لڑتے رہے‘ یہ بات ان کے دوستوں اور مخالفین دونوں نے تسلیم کی ہے کہ ۱۲۸۴ ھ میں پہلے برطانوی دورے نے ان کے ذہن پر کافی اثرات مرتب کئے۔ انہوں نے مغرب کی تمدنی اور سیاسی ترقی‘ اقتصادی فوجی اور تہذیبی طاقت کا مشاہدہ کیا‘ تو استعماریت دشمن خیالات ہوا میں بکھر گئے‘ وہ مغربی تہذیب سے اس قدر متاثر ہوئے اور اس کے رعب و دبدبہ میں آئے کہ یہ گمان کر بیٹھے کہ اس تہذیب کو توڑنا یا اس کے آگے چوں چرا کرنا محال ہے۔ انہوں نے سوچا کہ برطانیہ کے خلاف جہاد کرنا بے فائدہ ہے‘ اس لئے انہوں نے نہ صرف اپنے آپ کو ہندوؤں کی کوششوں سے لاتعلق کر لیا جو وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر برطانوی استعماریت کے خلاف کر رہے تھے‘ بلکہ مسلمانوں کی تحریک مسلم لیگ کو بھی سبوتاژ کرنے کی کوشش کی‘ جس تحریک کے علامہ اقبال ایک کارکن تھے۔ انہوں نے مسلم لیگ سے تعاون کرنا چھوڑ دیا‘ انہوں نے یہ رائے قائم کی کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ ہندوؤں کے مقابلے میں انگریزوں کی خوشنودی حاصل کریں۔ اب بدلا ہوا سر سید مغربی تہذیب و تمدن کا پرچار کرنے والا بن گیا‘ شاید انہوں نے یہ بھی کوشش کی کہ قرآن کی تاویل مغربی مادی نقطہ نظر سے کی جائے۔
اس کے برعکس سید جمال نہ تو مغربی تہذیب سے متاثر ہوئے اور نہ ہی اس سے مرعوب ہوئے‘ انہوں نے مسلمانوں کو ناامیدی اور مایوسی سے دور رہنے کی تلقین کی اور مغربی استعماریت کے ہّوے کے خلاف جرات مندی کے ساتھ جہاد کرنے کے لئے اکٹھا کیا۔
ڈاکٹر حمید عنایت نے لکھا ہے:
”سید جمال نے ناامیدی اور مایوسی کے خلاف اپنے جہاد کو اپنے رسالہ ”عروة الوثقٰی“ میں خوب ابھار‘ وہ یہ رسالہ عربی زبان میں پیرس سے نکالتے تھے۔ یہ بات اسی زمانے کی ہے جب کہ برطانوی استعمار ایشیاء میں پوری طرح کامیاب و کامران ہو چکا تھا۔ کئی واقعات کے رونما ہونے سے مثلاً ایران کی ۱۸۵۶ ء میں جنگ ہرات میں شکست‘ ۱۸۵۷ ء میں ہندوستانی بغاوت کی ناکامی اور ۱۸۸۲ ء میں مصر پر قبضہ ہو جانا‘ مسلمانوں کے ذہنوں میں برطانوی استعماریت ایک ناقابل شکست طاقت کی حیثیت سے جاگزیں ہو گئی۔ سید جمال نے سوچا کہ جب تک مسلمانوں کو ”عقدئہ ب یچارگی“ سے آزاد نہ کرا لیا جائے ان کا بیرونی نوآبادیت اور اندرونی استبداد کے خلاف انقلاب برپا کرنا ناممکن ہے۔ انہوں نے اپنا مشن بنایا کہ مسلمانوں میں جہاد کی روح پھونکی جائے‘ انہوں نے مسلمانوں کی صفوں میں مکمل اتحاد و یکجہتی پر زور دیا تاکہ برطانیہ کے توسیع پسندانہ عزائم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جا سکے۔“
سید کے اس نظریے کا اظہار ان کے اس مضمون سے ہوتا ہے جو انہوں نے ”ایک کہانی“ کے عنوان سے اپنے رسالہ ”عروة الوثقٰی“ میں شائع کیا‘ اس کا خلاصہ یہ ہے:
”شہرالتسخر کے باہر ایک عبادت گاہ تھی جہاں ہر مسافر رات کے اندھیرے کے ڈر سے پناہ لیتا تھا‘ لیکن جو کوئی بھی عبادت گاہ جاتا تھا تو پراسرار موت کا شکار ہو جاتا۔ اس نے لوگوں کے دلوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا اور لوگوں نے عبادت گاہ میں پناہ لینی چھوڑ دی۔ آخرکار ایک ایسا شخص جو اپنی زندگی سے عاجز تھا‘ پختہ ارادے کے ساتھ اس کے اندر گھس گیا‘ اچانک خوفناک اور ڈراؤنی آوازیں ہر طرف سے آنے لگیں‘ لیکن آدمی ڈٹا رہا اور ہر خوف و اندیشہ کے لئے تیار رہا‘ کیونکہ وہ اپنی زندگی سے تنگ تو آ ہی چکا تھا۔ اس کے عزم سے عبادت گاہ کا خوفناک طلسم دھڑام سے گر گیا‘ عبادت گاہ کی دیواروں میں بڑے شگافوں سے ان کے گنجینے اس آدمی کے قدموں میں گر گئے‘ تب اس کو معلوم ہوا کہ سابقہ لوگ جس چیز سے قتل ہوئے وہ صرف غیبی خوف تھا۔ برطانیہ بھی اسی طرح ایک عبادت خانہ ہے جہاں بھٹکے ہوئے لوگ سیاست کے اندھیرے سے خوف کھا کر پناہ لیتے ہیں‘ دہشت نات توہمات ان کو برباد کر کے رکھ دیتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کبھی کوئی ایسا شخص جو کہ اپنی زندگی سے مایوس ہو چکا ہو‘ لیکن ناقابل تسخیر حوصلے کا مالک ہو تو وہ اس طلسمی عبادت گاہ کے اندر داخل ہو کر بلند چیخ کے ساتھ اس کی دیواروں کو پاش پاش کر دے۔“
یہ اسی طرح کی کہانی ہے جو کہ مثنوی مولانا رومی کی تیسری کتاب میں ”مہمانوں کو قتل کرنے والی مسجد“ کے عنوان سے موجود ہے‘ لیکن سید نے اس کو تھوڑے سے رد و بدل کے ساتھ مسجد کی بجائے عبادت گاہ کے نام سے بتایا ہے تاکہ غیر مسلم ماحول میں بھی اس کو سمجھایا جا سکے۔
سید کی آرزو
سید نے مسلم سوسائٹی کے لئے جو اصلاحی پروگرام اور معاشرتی نظریہ پیش کیا تھا اس کا اگر خلاصہ پیش کیا جائے تو ”اسلامی اتحاد“ سب سے نمایاں مقام رکھتا ہے‘ نسل‘ زبان‘ علاقہ اور گروپ کے اختلافات کو اسلامی بھائی چارہ کی جگہ قطعاً نہیں لینی چاہئے اور مسلمانوں کے تہذیبی‘ نظریاتی اور روحانی اتفاق میں شگاف ڈالنے کے لئے کسی بات کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ ان کے نزدیک مسلم دنیا وہ ہے جہاں کا ہر فرد تعلیم یافتہ اور عالم ہو‘ عہد حاضر کے آئینی اور ٹیکنالوجی علوم سے کماحقہ آگاہ ہو اور ہر قسم کی استعماریت اور استبدادیت سے آزاد ہو۔ وہ چاہتے تھے کہ مغربی تہذیب کو اسلامی تہذیب کا پیروکار بننا چاہئے نہ کہ اس کا الٹ۔ اسلام کا حاکم اس کے ابتدائی دنوں کے حاکم کی طرح ہونا چاہئے‘ یعنی سادہ اور بغیر پیچیدہ اسباب‘ آرائش و زینت کے جو بعد میں اسلامی تاریخ کے طویل دور میں ان کے ساتھ مل گئے‘ حق کے لئے جہاد کی روح مسلمانوں میں دوبارہ عود کر آئے اور ذاتی عزت و وقار اور دوسرے لفظوں میں استعماریت اور استبداد سے نفی ان کی ذات میں پیدا ہو جائے۔
جہاں تک ہمارا خیال ہے سید نے جاگیرداری نظام جو ان دنوں اسلامی سوسائٹی میں موجود تھا‘ کے متعلق کوئی رائے نہیں دی اور نہ ہی اسلامی تعلیمی اور خانوادگی نظاموں کے سلسلے میں رائے دی‘ حالانکہ وہ ان سے کافی وابستہ رہے۔ معلوم نہیں کہ سید کے خیال میں ان نظاموں کو اسلام کے طے شدہ معیار کے مطابق کس طرح اپنایا جا سکتا تھا‘ بے شک انہوں نے اپنے زمانے کی استبدادی حکومت کے خلاف بے رحم جنگ لڑی‘ لیکن انہوں نے سنجیدگی کے ساتھ اسلام کے سیاسی فلسفہ کا نقشہ نہیں کھینچا‘ جس کے ساتھ ان کا متواتر لگاؤ رہا‘ اس کی شکل و صورت کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا‘ غالباً استعماریت اور استبدادیت کے خلاف ابتدائی مہمات میں وہ کافی مصروف رہے اور ان کو ایسا کرنے کا موقع نہ مل سکا‘ شاید ان کے خیال میں اسلامی انقلاب کے لئے پہلا قدم یہ تھا کہ مسلمانوں کو آمریت اور نوآبادیاتی نظام کے خلاف مہم میں لگانا چاہئے۔ جب ایک دفعہ وہ اس میں کامیاب ہو گئے تو دوسرا صحیح قدم اٹھانا ان کے لئے مشکل نہیں ہو گا‘ لہٰذا مہم کا دوسرا حصہ سید نے آنے والوں کے لئے چھوڑ دیا۔
سید کی خصوصیات
سید قدرتی اور اکتسابی دونوں صلاحیتوں کے مالک تھے‘ اس قسم کا ملاپ بہت کم لوگوں میں ہوتا ہے‘ اس بات کی ان تمام لوگوں نے تصدیق کی ہے جنہوں نے سید کو قریب سے دیکھا۔ لاجواب ذہانت رکھنے کے ساتھ ہی فصاحت اور خطابت بھی عروج پر تھی‘ ان کی آواز میں جادو تھا‘ مصر میں ان کی خطابت لوگوں کے ذہنوں میں طوفان برپا کر دیتی اور لوگ جذبات سے چیخنے چلانے لگتے۔
اکتسابی صلاحیتوں میں سے اہم صلاحیت یہ تھی کہ ان کو صحیح اسلامی تہذیب ہوئی‘ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم قزدین‘ تہران اور نجف میں حاصل کی۔ خصوصاً نجف میں انہوں نے اپنے زمانے کی دو عظیم ہستیوں جناب مجتہداعظم خاتم الفقہاء حاج شیخ مرتضیٰ انصاری اعلیٰ اللہ مقامہ اور نامور فلسفی و روحانی پیشوا ملا حسینقلی ہمدانی سے فیض حاصل کیا۔ سید نے علوم عقلی کی تعلیم ان سے حاصل کی اور یہ دونوں مرحوم بزرگ حاج ملا ہادی سبزواری کے شاگرد تھے۔ ان کے علاوہ نجف کے دو اہم معزز افراد بھی سید کے دوست بن گئے‘ ان میں سے ایک سید احمد تہرانی کربلائی اپنے دور کے مشہور عارف اور حکیم بزرگ تھے اور دوسرے سید سعید حبوبی جو عراق کے مشہور شاعر‘ ادیب‘ عارف اور مجاہداعظم تھے۔ ان کے انقلابی خیالات نے عراقی انقلاب میں اہم کردار ادا کیا‘ ان دونوں سے سید کی دوستی مرحوم اخوند ہمدانی کے مکتب میں ہوئی۔
سید کے حالات زندگی لکھنے والے ان فلسفیانہ‘ اخلاقی‘ تربیتی‘ سلوکی اور علمی خیالات سے نابلند ہیں جو کہ اخوند ہمدانی کے مکتب میں رائج تھے اور وہ لوگ سید احمد تہرانی کربلائی اور سید سعید حبوبی کے متعلق بھی زیادہ نہیں جانتے۔ وہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ سید کے دل و دماغ پر اس مکتب اور دوسرے حضرات کا کیا اثر تھا‘ ان سطور کے لکھنے والے کو جب سید پر ان حضرات کے اثر کا علم ہوا تو سید کی شخصیت کے کئی نئے پہلو سامنے آئے اور ان کی شخصیت کی ایک نئی اہمیت کا پتہ چلا۔
اسلامی تہذیب کے بارے میں وسیع علم کا ہونا اور اس کے عمیق اثرات نے سید کو ہندوستان کے دورے کے دوران یورپی تہذیب کی رو میں بہہ جانے سے بچایا۔
سید کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ ان کو اپنے زمانے کے تمام علوم پر کافی دسترس تھی‘ وہ کئی بیرونی زبانیں جانتے تھے‘ مثلاً انگریزی‘ فرانسیسی اور روسی زبان۔ انہوں نے براعظم ایشیاء‘ یورپ اور افریقہ کے کچھ حصوں میں سفر کیا‘ ہر مقام پر مناسب قیام کرتے رہے۔ ان ملکوں کی اہم شخضیات‘ سیاسی حضرات‘ صاحبان علم و دانش سے ان کی ملاقاتیں ہوئیں‘ ان تمام چیزوں نے وسیع النظری میں بہت اضافہ کیا۔
ان کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے اسلامی دنیا کو بہت قریب سے دیکھا۔ حجاز‘ مصر‘ ہندوستان‘ ایران‘ ترکی اور افغانستان کا دورہ کر کے تمام اہم لوگوں سے ملاقات کی‘ ہر ملک میں انہوں نے مناسب قیام کیا اور ان کی تحریکوں کا تجزیہ کیا اور ان کی شخصیات و رجحانات کا گہرا مطالعہ کیا‘ اس چیز نے سید کو ان غلطیوں سے بچا لیا جن کے دوسرے مصلح مرتکب ہوئے۔
ان کی چوتھی خصوصیت یہ تھی کہ اسلامی ممالک کی سیاسی‘ اقتصادی اور جغرافیائی حالات کے متعلق ان کی معلومات وسیع تھیں‘ جو خط انہوں نے میرزا حسین شیرازی کو لکھا‘ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایران کے اس دور کے مسائل سے پوری طرح باخبر تھے اور ان کو پردہ سیاست کے پیچھے استعماری چال بازیوں و عیاریوں کا بھی پورا علم تھا۔
کواکبی
سنی اصلاحأ دنیا کا تیسرا علمبردار شیخ عبدالرحمان کواکبی ہے‘ وہ صفوی نژاد اور شام کا رہنے والا تھا اور شیخ صفی الدین اردبیلی کی نسل میں سے تھا‘ وہ ترکی اور فارسی زبانیں جانتا تھا اور عُبدہ کا براہ راست اور سید جمال کا بالواسطہ شاگرد تھا۔ وہ شام میں ۱۲۷۱ ھ میں پیدا ہوا اور زندگی کا زیادہ حصہ اپنے ملک میں ہی گزرا۔
زندگی کے آخری ایام میں وہ مصر گیا اور چند سال گزارنے کے بعد ۱۲۲۱ ھ میں ۵۰ سال کی عمر پا کر وہیں فوت ہو گیا۔
کواکبی اسلامی فلاسفر تھا اور وہ استبدادیت کے خلاف اٹھا۔ وہ ان ترک استبدادی حکام کے خلاف برسرپیکار رہا جو شام پر حکومت کر رہے تھے۔ کواکبی نے دو یادگاریں چھوڑی ہیں‘ ایک کتاب ”طبائع الاستبداد“ جس کا فارسی ترجمہ ایران میں آئینی تحریک کے دوران شائع ہوا اور دوسری کتاب ”ام القریٰ“ جس میں اصلاح لانے کے طریقے بتائے گئے ہیں۔
سید کی طرح کواکبی نے بھی سیاسی بیداری کو بنیادی طور پر اہم اور ضروری سمجھا۔ وہ یہ بھی یقین کرتے تھے کہ سیاسی حکومت چاہے وہ آئینی ہو یا کسی اور شکل میں بذات خود اتنی صلاحیت نہیں رکھتی کہ استبدادیت کے سیلاب کو روک سکے‘ یہ ممکن ہے کہ کسی قسم کی حکومت بھی استبدادی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ حقیقت میں استبداد کو روکنے کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں میں اجتماعی سیاسی شعور پیدا کیا جائے اور ان کے ضمیر کو جگایا جائے‘ تاکہ وہ حکام پر کڑی نظر رکھ سکیں۔
استبدادیت کے اژدھا کو صرف عوام کے ضمیر کی بیداری ہی دور رکھ سکتی ہے‘ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم حکومت وقت کو اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں‘ حکومت ہرگز حکومت نہیں جب تک کہ لوگوں کی شعوری سطح بلند نہ ہو‘ لہٰذا کواکبی سید جمال کے مطابق‘ لیکن عُبدہ کے خلاف اس رائے پر قائم رہے کہ اصلاح کے تمام پروگراموں سے پہلے مسلمانوں کا سیاسی شعور بلند کیا جائے۔ کواکبی دین اور سیاست کی ہم بستگی کا سختی سے پابند تھا اور اس کا اعتقاد تھا کہ اسلام دین سیاست ہے اور اگر ”اسلامی توحید“ کو صحیح طور پر سمجھا جائے اور لوگ کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کے مفاہیم سے کماحقہ آگاہ ہو جائیں تو وہ استبدادیت کے خلاف ناقابل تسخیر دیوار بنا سکتے ہیں۔
دو ممتاز پیشروؤں کی طرح (سید جمال اور عُبدہ) کواکبی بھی اصلی توحیدی نظریے کے سیاسی اور عملی پہلوؤں پر اعتماد کرتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہافضل الذکر لا اله الا الله ہے اور اس کو اسلام کی بنیاد قرار دیا گیا ہے‘ اس کا مطلب صرف اور صرف یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے اور عبادت کا مطلب خضوع و خشوع ہے‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف اللہ ہی کے آگے خضوع و خشوع ہے‘ ہر وہ امر جو اطاعت خدائے بزرگ کے زمرے میں نہیں آتا‘ وہ شرک اور بت پرستی ہے۔ کواکبی اسلامی توحید کو صرف فکری‘ اعتقادی اور نظری جو تھیوری پر اختتام پذیر ہو‘ نہیں سمجھتا تھا بلکہ اس کو عمل اور خارجی مقاصد کی طرف لے جانا چاہتا تھا‘ تاکہ نظام توحیدی کا ٹھوس نظریہ قائم ہو جائے۔
انصاف سے دیکھا جائے تو اسلام کی علمی‘ اجتماعی اور سیاسی وحدت کی تفسیر علامہ مجتہداعظم میرزا محمد حسین نائینی مرحوم سے زیادہ کسی نے نہیں کی‘ انہوں نے اپنی کتاب ”تنبیہ الامہ و تنزیہ الملہ“ میں قرآن اور نہج البلاغہ سے لاجواب استدلال پیش کئے۔ کواکبی جیسے فلاسفر جس کی تلاش میں ہیں‘ مرحوم نائینی نے معتبر اسلامی مدارک سے اس کتاب میں خوب انداز سے پیش کئے‘ لیکن بدقسمتی سے ہمارے وقت کی شورش زدہ ذہنیت نے کتاب کے نشر ہونے پر اپنا ایسا ردعمل دکھایا کہ مرحوم نے مکمل خاموشی اختیار کر لی۔
کواکبی کی رائے میں ہر استبدادی حاکم اپنی کرسی کو بچانے کے لئے ”قدسی“ جبہ پہن لیتا ہے اور دینی علوم میں حصہ دار بننے کا بہانہ صرف اس لئے کرتا ہے کہ وہ مذموم مقاصد حاصل کرے‘ صرف جو چیز لوگوں کو اس بات سے بچا سکتی ہے کہ ظالم حکام ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال نہ کریں‘ وہ یہ ہے کہ عوام کی دینی اور سیاسی شعور کی سطح بہت ہی بلند ہو۔
کواکبی نے اسلام کے کچھ علماء سلف (اہل سنن میں) پر تنقید کی کہ انہوں نے نظم و ضبط کے نام پر عدل اور آزادی کا گلا گھونٹ دیا‘ یعنی انہوں نے امن و امان کے نام پر آزادی کی رکاوٹ کا سبب بن کر ظالم اور استبدادی حکام کے ہاتھ مضبوط کئے‘ آزادی کو جو کہ انسانیت کے لئے اللہ پاک کا بہترین تحفہ ہے‘ قتل کیا اور عدل کو اپنے پاؤں تلے روندا۔
آزادی اور نظم و ضبط کے رابطہ میں کواکبی نے آزادی کو مقدم سمجھا اور اس طرح دین اور سیاست یا دین و آزادی میں‘ دین کو مقدم جانا‘ کیونکہ دین ہی صحیح آزادی (جو سیاسی ضمیر کو بیدار کرتی ہے) کو حاصل کرنے کا اہم سبب ہے‘ علم اور آزادی یا علم و سیاست کے موازنہ میں اس نے یقین کیا کہ تمام علوم ہمیں آزادی کی رو میں نہیں بہا لے جاتے اور اجتماعی آگاہی کی سطح پر ان دونوں کو ایک ساتھ نہیں رکھا جا سکتا‘ لہٰذا استبدادی حاکم کچھ علوم پر عبور نہیں رکھتا‘ بلکہ وہ خود ان کے رائج کرنے والا بن جاتا ہے‘ لیکن ان دوسرے علوم سے دہشت زدہ رہتا ہے جو کہ عوام میں اجتماعی اور سیاسی بیداری پیدا کرتے ہیں‘ انہوں نے لوگوں کو آمریت اور ظلم کے خلاف آزادی کی جستجو کے لئے بیدار کیا۔
کواکبی کہتا ہے:
”استبدادی حکام علوم لغت اور زبان پر عبور حاصل کرنے کے اس وقت تک مخالفت نہیں کرتے جب تک یہ سننے اور پڑھنے والوں میں حکمت اور شجاعت پیدا نہیں کرتی‘ وہ جانتے ہیں کہ تاریخ میں حسان کی طرح کم ہی ایسے شاعر ہوتے ہیں جو اپنی سحر بیانی سے لوگوں کے جذبات کو ابھار کر ایک لشکر کی صورت میں دشمن کے مقابلے میں لے جاتے ہیں‘ مسنتقین اور شیلی دوبارہ پیدا نہیں ہوتے‘ اس طرح استبدادی حکام ان دینی علوم کو بھی برداشت نہیں کر سکتے‘ مثلاً آخرت‘ عملی زندگی اور روحانیت وغیرہ۔ جو علوم ان کے لئے خطرناک ہیں وہ یہ ہیں‘ علوم حقیقی زندگی‘ فلسفہ عقلی‘ ملک اور اس کی حکومت کا علم‘ تاریخ اور خطابت کا علم‘ وہ ان سے علوم سے خوف زدہ رہتے ہیں‘ جو جہالت اور بے عملی کے بادلوں کو اڑا لے جائیں اور آفتاب درخشاں ظاہر ہو کر پانے تابانی سے انسانی دماغوں میں حرارت اور روشنی پیدا کر دے۔
(سیری در اندیشہ ہائے سیاسی عرب‘ ۱۶۹)
عرب دنیا کی اصلاحی لہروں میں کمی
یہ تین شخصیتیں ہی صرف سُنی سوسائٹی میں ایسی ہیں جن کو مصلح کی حیثیت سے پہچانا جا سکتا ہے‘ ہمارا مطلب سید جمال‘ عُبدہ اور کواکبی ہے۔ اہمیت کے پیش نظر وہ پہلے‘ دوسرے اور تیسرے نمبر پر دیئے گئے ناموں کی طرح آتے ہیں‘ ان کے پیروکار خصوصاً سید جمال کے‘ مصر‘ شام‘ الجیریا‘ تیونس‘ مراکش اور مغرب میں پھیلتے رہے اور انہوں نے سید جمال اور عُبدہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے کو مصلح ظاہر کیا‘ لیکن ان میں سے کوئی بھی اپنے اسلاف جیسے مقام حاصل نہیں کر سکا‘ بلکہ ان میں بعض اصلاح کی بجائے فساد کرتے رہے اور مصلح کی بجائے فسادی کے نام سے مشہور ہوئے۔ اس طرح کا ایک آدمی سید محمد رشید رضا ہے جو سب سے زیادہ اپنے آپ کو مصلح کہتا تھا اور کہتا تھا کہ صرف وہ ہی سید جمال اور عُبدہ کے مشن کو آگے لئے جا رہا ہے‘ لیکن اس کے اندر ان دونوں کے خیالات کے اثرات نہیں پائے جاتے تھے اور وہ زیادہ تر ابن تیمیہ اور عبدالوہاب کے افکار سے متاثر تھا۔ موخرالذکر دونوں حضرات مصلح نہیں تھے بلکہ وہابیت کے مبلغ تھے‘ شیعوں کے بارے اس کے مفروضے اور متعصبانہ رائے نے ثابت کر دیا کہ وہ کسی اصلاحی تحریک کے چلانے کے اہل نہیں۔ اصلاح طلبی کی سب سے بنیادی شرط یہ ہے کہ اصلاح لانے والا کسی ایک فرقہ کو دوسرے فرقہ پر فوقیت نہ دے اور وہ تعصب و کینہ پروری سے مبرا ہو رشید رضا اس بنیادی شرط کو پورا نہیں کرتا‘ یہ معجزہ ہوتا اگر وہ تعصب سے اتنا ہی بالاتر ہوتا جتنا کہ اس کا استاد عُبدہ تھا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اوپر دی گئیں تین شخصیتوں کے علاوہ عرب دنیا میں اور کوئی اصلاح کا علمبردار کیوں نہ بن سکا؟ کیوں نہ بعد میں آنے والے مصلح اپنے اسلاف کے مشن کو جاری رکھ سکے؟ ان میں عبدالحمید ابن بادیس جزائری‘ طاہرالزاہرادی جزائری سوری‘ عبدالقادر مغربی‘ جمال الدین کاظمی سوری اور محمد بشیر ابراہیمی وغیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے‘ کیوں اسلامی تحریکوں کی کشش ختم ہو گئی اور اس کے مقابلے میں قومی اور عربی تحریکیں مثلاً بعث تحڑیک‘ ناصرازم‘ سوشلسٹ اور مارکسٹ تحریکیں ابھرنے لگیں‘ نوجوانوں کو متوجہ کرنے میں کامیاب ہونے لگیں؟
ہر شخص اپنی رائے قائم کر سکتا ہے‘ لیکن اس بندہ کی رائے یہ ہے:
”اسلامی تحریکوں کی جاذبیت کے کم ہونے کا سب سے اہم سبب یہ ہے کہ سید جمال اور عُبدہ کے بعد کے مصلحوں نے وہابیت کا پرچار کیا اور وہابیت کا مسلک تنگ نظری ہے‘ انہوں نے تحریکوں کو ”اسلاف پرستی“ کی نوعیت کا بنا دیا جس میں سابقہ طریقوں کو ابن تیمیہ حنبلی کی پیروی میں لے آئے۔ حقیقت میں وہ اصلی اسلام کو دوبارہ لانے کی کوشش میں حنبلی مکتب سے آگے نہ جا سکے‘ جو اسلامی مذاہب میں سب سے زیادہ سطحی ہے۔
استبداد اور استعمار کے خلاف جہاد کی سپرٹ حنبلی عقائد کے مخالفوں کے خلاف جہاد میں بدل گئی‘ خصوصاً ابن تیمیہ حنبلی جس کا سربراہ تھا۔“
اقبال
عرب ملکوں کے علاوہ بھی کہیں کہیں ایسی مصلح شخصیتیں ابھری ہیں جن کو ہم اہم اور برگزیدہ کہہ سکتے ہیں‘ مثلاً اقبال لاہوری کو بلاشک اسلامی دنیا میں ایک مصلح کی حیثیت دی جا سکتی ہے‘ اس کے اصلاحی نظریات اس کے ملک کی سرحدوں کو پار کر گئے۔ اقبال میں جہاں خوبیاں ہیں‘ وہاں کچھ نقائص بھی ہیں۔
اقبال کی خوبیوں میں ایک یہ تھی کہ انہیں مغربی دنیا کی تہذیب کا وسیع علم حاصل تھا‘ مغربی فلسفہ حیات اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو سے گہری وابستگی رہی‘ جس کی وجہ سے مغرب میں اسے بلند پایہ مفکر اور فلسفی سمجھا جاتا ہے۔
اقبال کی دوسری خوبی یہ تھی کہ مغربی تہذیب کے ساتھ گہری وابستگی اور اس کے وسیع علم کے باوجود وہ مغرب کو ایک جامع انسانی نظریے سے محروم سمجھتا تھا‘ بلکہ اس کو یقین تھا کہ صرف مسلمانوں میں ہی ایسے افراد ہیں جو اجتماعی زندگی میں اصلاح پیدا کر سکتے ہیں اور تہذیب انسان کو ایک ضابطہ حیات دے سکتے ہیں‘ انہوں نے مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ وہ صرف سائنسی اور معاشی میدانوں میں مغرب کی تقلید کریں‘ لیکن مغربیت کا ان کو شکار نہیں ہونا چاہئے۔
اقبال نے فرمایا:
”مغربی دنیا نے صحیح طور پر اپنے آپ کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی جس کے نتیجے میں ان کے اندر ”میں“ کا عنصر پیدا ہوا اور وہ انا کا شکار ہوئے جو ان کو غلط راسے پر لے گئے‘ وہ جمہوری راستے تلاش کرنے کی کوشش میں ہیں لیکن ایسے جمہوری راستے جن میں امیروں کو فائدہ اور غریبوں کی خستہ حالی ہو۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آج کل کا یورپ انسانی اخلاقیات میں ایک بہت بڑا کانٹا بنا ہوا ہے اس کے برعکس مسلمان بلند ترین اخلاق کے حامل ہیں اور ان کے اندر روحانی جذبات اٹھتے ہیں۔“(احیائے فکر دینی‘ ص ۲۰۴)
اقبال میں ایک اور خوبی یہ تھی کہ وہ بھی ذہنی طور پر ان مسائل کی تلاش میں سرگرداں رہے جس کی تلاش کے لئے عُبدہ پریشان رہے‘ یعنی مسلمان کس طرح اپنے سیاسی‘ اقتصادی اور اجتماعی مسائل حل کریں اور اس کے ساتھ ہی اپنے دین‘ عقائد اور اصل اسلامی روح کو بھی قائم رکھیں‘ اس لئے انہوں نے ان مسائل کے حل کے لئے ”اجتہاد“ اور ”اجماع“ پر توجہ دی۔ اقبال نے اجتہاد کو اسلام میں حرکت پیدا کرنے والا انجن قرار دیا۔
اقبال اپنے ان ہم عصروں سے جنہوں نے مغربی ممالک میں تعلیم حاصل کی‘ کچھ مختلف تھے‘ اس نے تصوف‘ روحانیت اور ماورایت اپنے اندر سمو دیئے تھے۔ وہ روح اور دماغ کی تقویت کی طرف زیادہ توجہ دیتے رہے‘ ان کے نزدیک ذکر و فکر‘ مراقبہ‘ عقویت نفس‘ تجزیہ نفس پر جو بالآخر مکمل قناعت اور روحانیت پر منتج ہو‘ زیادہ زور دیتے رہے‘ یہ تمام چیزیں موجودہ دور کی اصلاح میں ”محاسبہ نفس یا محاکمہ ذات“ کے نام سے پہچانی جاتی ہیں‘ جس سے آج کل انکار کیا جاتا ہے۔ اقبال جہاں مذہبی افکار کی تخلیق نو چاہتے تھے وہاں اس کو بالکل بے کار سمجھتے تھے اگر اس کے ساتھ ساتھ اسلامی معنویت کا احیاء نہ ہو۔ اقبال صرف ایک مفکر نہیں تھا‘ بلکہ صاحب عمل بھی تھا‘ اس کا عمل جدوجہد پر یقین کامل تھا‘ وہ استعماریت کے خلاف اٹھا‘ اس کا ثبوت اس کے اس عمل سے لگتا ہے کہ وہ مملکت اسلامی پاکستان کے بانیوں میں سے تھا۔
دوسری وصف جو کہ اقبال میں موجود ہے‘ وہ یہ ہے کہ وہ ایک زبردست شاعر تھا‘ اس نے اپنی صلاحیتیں مقصد اسلام کو واضح کرنے کے لئے وقف کر دیں‘ کواکبی نے اس کو ایک شاعر کی حیثیت سے حسن بن ثبات انصاری‘ کمیت اسدی‘ دعبل بن علی خزاعی کی صف میں کھڑا کیا ہے۔ اس کی اردو کی انقلابی نظموں کو عربی اور فارسی میں اس طرح ترجمہ کیا گیا ہے کہ اس کی اصل روح بحال رہے۔
اگرچہ اقبال رسمی طور پر سُنی مذہب رکھتا تھا‘ لیکن وہ محمد و اہل بیتعليهالسلام کے ساتھ بے پناہ عقیدت رکھتا تھا‘ اس نے انعليهالسلام کی شان میں ایسی انقلابی اور تعلیمی نظمیں کہی ہیں کہ جو تمام شیعہ شعراء کی فارسی زبان میں شائع شدہ کتابوں میں نہیں ملتیں‘ تاہم علامہ اقبال کا منتہائے نظر شاعری کرنا نہیں تھا‘ اس کو اس نے صرف مسلم سوسائٹی کو بیدار کرنے کے لئے استعمال کیا۔
اقبال کے فلسفہ کو ”فلسفہ خودی“ کا نام دیا گیا‘ اس کا نظریہ تھا کہ مشرق کا اسلام اپنی اصلی حیثیت کھو چکا ہے اور اس کو دوبارہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ایک شخص جب اپنی شخصیت کو بکھرا ہوا دیکھتا ہے یا اس کو کھو دیتا ہے تو وہ اپنے سے بہت دور چلا جاتا ہے اور خود اپنے لئے بھی ایک اجنبی بن جاتا ہے اور مولانا رومی کے الفاظ میں (اقبال ذہنی طور پر مولانا رومی سے کافی منسلک تھا اور اس کی زندگی پر اس کے کافی اثرات ہیں) ”اس نے دوسرے لوگوں کی زمین پر گھر بنایا اور بجائے اپنا کام کرنے کے دوسرے کے لئے کام کیا۔“
اقبال نے کہا کہ سوسائٹی ایک فرد کی طرح ہوتی ہے جو کہ روح اور شخصیت رکھتی ہے‘ فرد کی طرح سوسائٹی بھی جھٹکے اور ہچکولے کھاتی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ان جھٹکوں کے نتیجے میں یہ اپنی انفرادیت کھو بیٹھے اور اس کو اپنے آپ پر بھی یقین نہیں رہے۔ ایسی صورت میں اس کو اپنی ذات پر اعتماد نہیں رہتا اور ذاتی و خودی کو ختم کر کے اس وقت زمین پر لڑکھڑانے لگتی ہے جب اس کو مغربی تہذیب اور سوسائٹی کے سامنے لایا جاتا ہے۔
اقبال کے خیال میں اسلامی تہذیب ایسے مرحلے پر پہنچ چکی ہے کہ بدکاریاں اس کے اندر ناسور کی طرح گھس گئی ہیں اور اس کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہیں‘ گماں ہے کہ وہ اپنا وجود ہی گنوا دے۔
اقبال کے نزدیک خود شناسی اور خودی‘ اسلام کی روح اور اہم خاصیتیں ہیں‘ مصلحوں کے آگے سب سے اہم اور ضروری کام یہ ہے کہ سوسائٹی میں یقین اور اعتقاد کو صحیح اسلامی تہذیب‘ اسلامی روح اور خودی کی شکل میں لایا جائے اور یہ اقبال کے ”فلسفہ خودی“ کا نچوڑ ہے۔
اقبال نے اپنے اشعار‘ مقالات‘ خطبات اور مجلسوں میں ہمیشہ یہ کوشش کی کہ مسلمانوں کو ان کی کھوئی عظمت کی یاد دلائی جائے تاکہ یہ امت اپنی مجددیت‘ عظمت‘ لیاقت‘ علمیت اور شائستگی کو دوبارہ بحال کرے اور اپنے آپ کو دوبارہ ایک ”مومن“ بنائے‘ اس کی کوشش رہی کہ اسلامی تاریخ میں چھپی ہوئی شخصیتوں کے کردار کو منظرعام پر لا کر امت مسلمہ کو آگاہ کیا جائے‘ اس وجہ سے اسلامی سوسائٹی اقبال کی کافی احسان مند ہے۔
اقبال کے اسلامی اصلاحی کارنامے کچھ حد تک ان کے آبائی سرزمین سے باہر کی دنیا میں متعارف ہوئے‘ لیکن اس حد تک نہیں جہاں تک سید جمال الدین افغانی نے اپنے مشن کو وسیع کیا‘ اس لئے اقبال کے مشن کا زیادہ تر اثر محدود رہا‘ لیکن دو نقائص اقبال کی شخصیت کو سوالنامہ بنا دیتے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ وہ اسلامی کلچر کی گہرائیوں سے پوری طرح واقفیت نہیں رکھتا‘ مغربی اصطلاح میں وہ بے شک فلسفی تھا‘ لیکن اسلامی فلسفے سے زیادہ آگاہی نہیں تھی۔ اقبال کا نقطہ نظر ان چیزوں کے بارے میں واضح نہیں‘ مثلاً فلسفہ اثبات واجب‘ علم اقبل از ایجاد اور دوسرے علوم الٰہیات کے بارے‘ اس کا فلسفہ ختم نبوت بھی ختم دین پر اختتام پذیر ہوتا ہے‘ جو کہ بذات خود اقبال کے مدعا اور نظریہ کے خلاف ہے اور یہ اقبال کے اسلامی فلسفے کے بارے میں ناواقفیت کی دلیل ہے۔ دیگر علوم اور معارف اسلامی کے بارے اس کا مطالعہ سحطی ہے‘ عرفان کی منزل میں اس کی روح ہندوستانی اور صوفیانہ ہے۔ مولانا رومی کا زبردست مرید ہے‘ اس نے اسلامی عرفان کو اس کی اعلیٰ سطح پر نہ پہچانا اور عرفان کے گہرے اثرات بازگشت سے بیگانہ رہا۔
دوسرا پہلو جس کی وجہ سے اقبال کا فلسفہ تنقید کا نشانہ بن سکتا ہے یہ ہے کہ اس نے سید جمال کی طرح اسلامی ممالک کا وسیع دورہ نہیں کیا‘ لہٰذا وہ یہ دعویٰ نہیں کر سکتا تھا کہ وہ ان ممالک کی تحریکوں کا اور ان کی عادات و حالات کا ذاتی علم رکھتا ہے‘ اس لئے اس نے ان ممالک کی چند شخصیات کے بارے میں اپنی رائے قئام کرنے میں غلطی کی اور استعماری سرگرمیوں کا صحیح اندازہ نہ کر سکا۔ اقبال نے اپنی کتاب ”احیائی فکر دینی در اسلام“ میں حجاز کی وہابی تحریک‘ ایران کی بہائی تحریک‘ ترکی میں اتاترک کی تحریک کو اصلاحی اور اسلامی کہا ہے۔
اس نے اپنے اشعار میں اسلامی ممالک کے کچھ نااہل ڈکٹیٹروں کی تعریفیں بھی کیں‘ اقبال جو کہ مخلص مسلمان اور مصلح تھے‘ ان کی غلطیوں کو قابل معافی نہیں کہا جا سکتا۔
جدید ترکی میں کم و بیش ایسے لوگ نمودار ہوئے جو اپنے آپ کو مصلح کہتے تھے‘ اقبال نے احیاء فکر دینی کے سلسلے میں ضیاء نامی شاعر کے نظریات کئی دفعہ پیش کئے۔ حقیقت میں ضیاء ایک انتہا پسند شاعر تھا اور اقبال جیسے وسیع النظر شخص کو اس کے خیالات کو پیش نظر کرنا چاہئے تھا۔
شیعوں کی اصلاحی تحریکیں
اب تک ہم نے ایسی تحریکوں کا ذکر کیا جو کہ اہل تسنن نے چلائیں‘ اس میں شک نہیں کہ سید جمال ایران کے باشندے اور شیعہ تھے‘ لیکن سنی مشن میں اصلاحی تحریکوں کی کہانی سید جمال کو بھی اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ اہل شیعہ کی تحریکات جن کا بنیادی مقصد سنیوں سے بہت مختلف تھا‘ مختلف ماحول اور انواع میں ملتی ہیں‘ دنیائے شیعیت میں اصلاحی تحریکوں اور اصلاحی پروگراموں کے بارے میں بہت کم سنا گیا ہے‘ اس سوال پر کہ کیا کرنا چاہئے؟ شیعہ تحریکوں کا بڑا مقصد استبدادی اور استعماری طاقتوں کے خلاف مہم چلاتا رہا۔ سُنی تاریخ میں ہمیں ایسی کوئی تحریک نہیں ملتی جیسے شیعوں نے داخلی استبدادیت اور خارجی استعماریت کے خلاف چلائیں‘ مثلاً ایران میں تحریک تمباکو‘ جس کی قیادت مذہبی رہنماؤں نے کی‘ اس تحریک کے نتیجے میں غیر ملکی دباؤ کو قبول نہیں کیا گیا اور ان کو (غیر ملکی کمپنی) بہت سخت دھچکا لگا۔ انقلاب عراق جس میں عراقیوں نے انگلستان سے آزادی حاصل کر کے اسلامی مملکت عراق قائم کی‘ ایران میں آئینی تحریک جس میں استبدادی حکام کے خلاف مہم چلائی گئی اور استبدادی سلطنت کو ایک آئینی حکومت میں بدلا اور آخر میں موجودہ اسلامی تحریک ایران‘ جس کو مذہبی رہنماؤں نے چلایا‘ شیعہ تحریکیں ہیں۔
یہ تمام تحریکیں شیعہ روحانی رہنماؤں کی قیادت میں چلائی گئیں‘ ان رہنماؤں نے اصلاحی منصوبے بنا کر ان کو لاگو کرنے کے طریقے دریافت کئے۔ تمباکو تحریک ایران کے علماء نے شروع کی‘ اس کی رہنمائی شیعہ مجتہد آقائے میرزا حسن شیرازی نے کی اور اس کو کامیابی سے ہمکنار کیا‘ انقلاب عراق کی رہنمائی مجتہداعظم آقا میرزا محمد تقی شیرازی نے کی۔ یہ حیران کن بات ہے کہ میرزا محمد تقی شیرازی جیسے متقی‘ زاہد‘ محاسبہ نفس کرنے والا اور مصلح یکدم میدان جنگ میں آ جائے اور وہ بھی اس طرح گویا اس نے ساری عمر جنگوں میں گزاری ہو۔ ایران کی آئینی تحریک کی ابتدائی رہنمائی اخوند ملا‘ محمد کاظم خراسانی و آقا شیخ عبداللہ مازندرانی جو کہ مراجع نجف تھے‘ نے کی اور بعد میں علمائے تہران سید عبداللہ بہبہانی اور سید محمد طباطبائی نے رہنمائی کی۔
سنی دنیا میں مذکورہ بالا تحریکوں کی جو مذہبی مصلحوں اور روحانی رہنماؤں کی زیرنگرانی چلائی گئیں‘ نظیر نہیں ملتی اور وہ تحریکیں جو اصفہان‘ تبریز اور مشہد میں چلائی گئیں‘ ان کی مثال بھی سنی دنیا میں نہیں ملتی‘ مشہد کی تحریک حاجی آقا حسین قمی کی قیادت میں چلائی گئی۔
آخر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سنی علماء نے کسی تحڑیک کی قیادت کیوں نہیں کی؟ جبکہ وہ استبدادیت اور استعماریت کے خلاف جہاد کے لئے بہت کچھ کہتے رہے‘ اس کے برعکس شیعہ علماء ان تحریکوں کی رہنمائی کر کے کامیابی کے ساتھ عظیم انقلاب لائے‘ لیکن انہوں نے موجود برائیوں کے متعلق کم سوچا اور ان بیماریوں کے حل کے سلسلے میں بہت کم تجاویز پیش کیں‘ اسلام کے سیاسی فلسفہ کے بارے میں کم گفتگو کی۔
ان دو پہلوؤں کی شیعہ اور سنی روحانی نظام میں حیثیت کے متعلق نہایت محتاط مطالعہ کی ضرورت ہے۔ سنی نظام روحانیت حکام کے ہاتھوں ایک مذاق بن گیا‘ کیونکہ سنی علماء نے حکام کو ”اولوالامر“ کا درجہ دے رکھا تھا۔
اگر عُبدہ جیسی شخصیت مفتی کا عہدہ لینا چاہتا ہے تو اس کو خدپو عباس کا اجازت نامہ چاہئے اور اگر شیخ محمود شلتوت جیسی عظیم المرتبت شخصیت اور مصلح کو جامعہ الازہر کا چانسلر بنانا یا اسلامی قوانین کے مفتی اعظم کے عہدہ پر بٹھانا مقصود ہے تو جمال عبدالناصر جیسی سیاسی اور فوجی شخص کے آرڈر کی ضرورت ہو۔
لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ سنی روحانیت ایک پابند روحانی ہت ےاور اس میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ دوسری پارٹی کے خلاف اٹھے اور لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لے۔
لیکن شیعہ روحانیت ایک آزاد ادارہ ہے اور وہ اپنی طاقت (روحانی نقطہ نظر سے) صرف اللہ سے لیتے ہیں اور اجتماعی نقطہ نظر سے یہ عوام سے طاقت لیتے ہیں‘ لہٰذا تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں شیعہ روحانیت ایک ایسی طاقت رہی جو مظلوموں کی ڈھارس ہو‘ لہٰذا پہلے ہی بتایا جا چکا ہے کہ سید جمال نے ان ملکوں جہاں سنی آبادی زیادہ تھی براہ راست عوام سے رابطہ قائم کیا‘ لیکن ایران میں جہاں شیعہ آبادی زیادہ تھی‘ علماء کی طرف رجوع کیا۔ سنی ممالک میں وہ چاہتا تھا کہ عوام کو جگایا جائے لیکن شیعہ ممالک میں علماء ہی انقلاب لانے کی ابتداء کریں‘ یہی بات ہے کہ شیعہ روحانیت حاکموں کی دسترس سے باہر رہی۔ اس کی وجہ سے شیعہ روحانیت میں انقلاب لانے کی صلاحیت موجود ہے‘ جبکہ سنی روحانیت میں ایسا نہیں۔
شیعہ روحانیت نے عملاً کارل مارکس کے اس نظریے کو مسترد کر دیا کہ مذہب حکومت اور سرمایہ کی مثلث تمام تاریخ میں قائم رہی‘ ان تینوں اسباب نے ہم دست اور ہم کار ہو کر عوام کے خلاف ایک طبقے کو جنم دیا اور ان اسباب کی وجہ سے لوگوں میں ذاتی بیگانگی پیدا ہوئی۔ تاہم فلسفی اور اصلاح پلان کے نقطہ نظر سے شیعہ دنیا میں ایسی شخصیتیں ظاہر ہوئیں جنہوں نے خالص اصلاحی نظریات پیش کئے‘ مثلاً آیت اللہ بروجردی‘ علامہ شیخ محمد کاشف انعطاء‘ علامہ سید محسن عاملی‘ اور علامہ شرف الدین عاملی اور خصوصاً علامہ نائینی۔ اہل نظر کے لئے یہ بات دلچسپ ہو گی کہ ان بزرگوں کے اصلاحی نظریات کا تجزیہ اور تحلیل کریں‘ یہ ظاہر ہے کہ یہ نظریات اپنے اپنے پس منظر میں محدود ہیں۔ میں نے اپنے مقالہ ”مزایا و خدمات آیت اللہ بروجردی“ میں ان کے اصلاحی نظریات خصوصاً اسلامی اتحاد کے بارے میں تشریح کی ہے‘ یہ پورا مقالہ انسائیکلوپیڈیا آف اسلام میں درج کیا گیا ہے۔
ایرانی اسلامی تحریک
تاریخ دور حاضر کے صاحبان علم و دانش اس بات کو مانتے ہیں کہ ہماری صدی کے دوسرے نصف میں تقریباً تمام یا کم از کم کچھ ممالک میں اسلامی تحریکیں ظاہراً یا خفیہ طور پر ابھرتی رہی ہیں‘ یہ تحریکیں عملی طور پر سرمایہ داری‘ استبدادیت اور مادیت پرستی جو کہ استبدادیت کی جدید نئی شکل ہے‘ کے خلاف کام کرتی رہیں۔ سیاسی ماہرین اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ مسلمان جہالت اور ”ذہنی قحط“ کے دور سے گزر کر اپنی ”ہیئت اسلامی“ کی تشکیل کر رہے ہیں‘ تاکہ سرمایہ دار مغرب اور کمیونسٹ مشرق کا مقابلہ کر سکیں‘ لیکن کسی بھی اسلامی ملک میں اس تحریک نے اتنی زیادہ وسیع اور عمیق شخل اختیار نہیں کی جتنی کہ ایران میں ۱۹۶۰ ء سے شروع کی ہے اور جو ایران میں اس تحریک کی موجودہ شکل ہے اس کی بھی کوئی مثال نہیں ملتی‘ اس لئے یہ ضروری ہے کہ تاریخ کی اس لاجواب اور بہت اہم تحریک کا مفصل جائزہ لیا جائے۔
اب جبکہ ہمارے عوام اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں‘ ان کو اس تحریک کی ماہیت سے بے خبر نہیں رکھا جانا چاہئے‘ اب جب تحریک زوروں پر ہے تو یہ بہت ضروری ہے کہ اس کے تمام پہلوؤں کو ان لوگوں پر آشکارا کیا جائے جو کہ اس میں کام کر رہے ہیں‘ یہ ان لوگوں کے مفاد میں ہو گا کیونکہ وہ اس کے مقاصد کے حصول تک جدوجہد کر رہے ہیں‘ ساتھ ہی شاید یہ تجزیہ ان لوگوں کے لئے بہت ضروری نہیں ہو گا جو ان تمام معاملات کے احاطہ سے باہر ہیں۔
اس وقت جب تحریک اپنے عروج پر ہے اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک میدان جس میں گرد و غبار کا ایک بڑا طوفان آیا ہوا ہے‘ اس میں مشاہدہ کرنا یا تصویر اترانا ناممکن ہو جاتا ہے یہ صرف اس وقت ممکن ہے کہ ایک یا زیادہ تصویریں بنائی جائیں جب طوفان گرد و غبار ختم ہو جائے اور مطلع صاف ہو۔ بہرحال اس تحریک جا تجزیہ ان لوگوں کے لئے جنہوں نے اس میں کام کیا اور ساتھ ہی ان بعد میں آنے والوں کے لئے جو اس کے دوررس نتائج کو دیکھیں گے‘ بہت اور مفید ہو گا۔ میری نظر میں اس کا تجربہ ان خطوط پر کرنا چاہئے:
۱ ۔ تحریک کی نوعیت
۲ ۔ تحریک کے مقاصد
۳ ۔ تحریک کی قیادت
۴ ۔ تحریک کا بحران
تحریک کی نوعیت
تمام قدرتی واقعات اور حوادث جو اجتماعی اور تاریخی ہوں‘ وہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ تمام تاریخی تحریکیں نوعیت کے اعتبار سے ایک طرح کی نہیں ہوتیں‘ اسلامی تحریک ”صدر اسلام“ کی نوعیت کسی بھی طور پر فرانسیسی انقلاب یا روس کے انقلاب اکتوبر کی طرح نہیں ہے۔
کسی ایک تحریک کی نوعیت کا تعین مختلف طریقوں سے کیا جا سکتا ہے‘ مثال کے طور پر ان لوگوں اور گروہوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے جو اس تحریک کے پہیہ کو گھما رہے ہوتے ہیں‘ پھر ان اسباب اور حالات سے جو کہ انقلاب کی زمین تیار کرنے میں ممد و معاون ہوئے ہیں یا ان راستوں سے بھی اس کی نوعیت کا تعین کیا جا سکتا ہے جو کہ تحریک اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر اختیار کرتی ہے اور وہ آواز بھی جو تحریک میں طاقت اور روحانیت پیدا کر دے‘ نوعیت کے تعین میں کام کر سکتی ہے۔
ایران کی موجودہ تحریک کسی ایک گروہ یا ٹریڈ یونین کی تحریک نہیں ہے‘ یہ تحریک نہ ایک مزدور‘ ایک کسان‘ ایک طالب علم‘ ایک دانشور‘ ایک صنعت کار‘ ایک روحانی عالم کی تحریک نہیں ہے‘ بلکہ یہ تحریک ہر ایک کی ہے‘ اس میں امیر اور غریب عورت اور مرد‘ سکول کا طالب علم اور استاد‘ مزدور‘ کسان غرضیکہ تمام طبقوں کی نمائندگی ہے۔ عظیم مراجع کا ایک اعلامیہ ملک کے پورے طول و عرض پر چھا جاتا ہے اور ہر طبقہ کے لوگ اس کو مانتے ہیں‘ اس کی آواز شہروں اور دیہاتوں میں یکساں سنائی دیتی ہے‘ اس کا خراسان اور آذربائیجان کے عوام پر اتنا ہی اثر ہے جتنا ملک سے دور یورپ اور امریکہ میں بیٹھے ہوئے ایرانی طلباء پر۔ اس نے غیر متاثرہ لوگوں میں اتنا ہی جوش و ہیجان پیدا کیا جتنا کہ مظلوم اور محروم لوگوں کے اندر‘ دونوں طبقوں کے دلوں میں استحصال کے خلاف یکساں نفرت ابھری۔
یہ تحریک ان مفسرین کے رد کے لئے ایک سنہری تاریخی ثبوت ہے‘ جو تاریخ کی تفسیر مادی نقطہ نظر سے کرتے ہیں اور مادیت پرستی کے حامی ہیں اور وہ صرف اقتصادیات ہی کو سوشل ڈھانچہ میں اہمیت دیتے ہیں اور اجتماعی تحریکوں کو طبقاتی کشمکش کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ مادیت پرستوں کا عقیدہ کہ تمام راستوں کا منتہا ”شکم“ یعنی خوراک کا حصول ہے‘ اس تحریک کے سامنے ہیچ ہے۔
موجودہ تحریک ان تحریکوں کی مانند ہے جیسی پیغمبروں نے تاریخ انسانیت میں تحریکیں چلائی ہیں‘ جو ”خود آگاہی الٰہی“ یا ”خدا آگاہی“ کے لئے تھیں‘ خود آگاہی الٰہی کی جڑیں انسانی فطرت میں گہری اتری ہوئی ہیں اور یہ ضمیر باطن سے پھوٹتی ہیں پیغمبرانہ پیغام انسان فطری شعور کے ان پہلوؤں کو جگاتا ہے کہ اس کا اصل مقام کیا ہے‘ وہ کس شہر اور دیر سے آیا ہے‘ یہ احساس اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے اندر عجیب اور حیران کن کیفیات اور لگاؤ محسوس کرنے لگتا ہے اور یہ لگاؤ اس کو خدا کے قریب لے جاتا ہے‘ خدا کی قربت ایک انتہائی سودمند قربت ہے‘ اس قربت میں تمام اچھی صفات مثلاً خوبصورتی‘ مساوات‘ عدل‘ کمال و زیبائی‘ قربانی‘ ایثار اور دوسرے کے مفادات کے لئے سوچنا موجود ہیں۔
ہر انسان کے دل میں خدا کی پہچان اور اس کی عبادت کرنے کا جذبہ موجود ہوتا ہے‘ پیغمبر انسان کے ان احساسات کو ابھارتے ہیں جو اس کو ہر شکل اور مظہر میں بلندی اور عالی مرتبت کی طرف لے جاتے ہیں اور پستی و کمزوری کے احساسات ختم ہو جاتے ہیں اور انسان کو یہ نظریہ دیتے ہیں کہ وہ سچائی اور صراط مستقیم کی اس لئے پیروی کریں کہ وہ حق اور حقیقت ہیں‘ نہ کہ اس لئے کہ ان کے اپنے ذاتی مفادات اس میں وابستہ ہیں اور باطل کی دشمنی اس لئے کرتے ہیں کہ باطل‘ باطل ہے۔
ہر نقصان اور فائدہ سے بے نیاز عدالت‘ انصاف‘ درستی اور سچائی‘ خدائی ہیں جو خود نصب العین اور مقصود کی صورت میں آتی ہیں‘ یہ صرف تنازعہ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے اوزار نہیں ہیں۔
جب کسی انسان میں خدائی بیدار ہو جاتی ہے تو انسانی اعلیٰ اقدار اس میں بصورت نصب العین آ جاتی ہیں‘ تو وہ ایک شخص کا طرفدار صرف ایک شخص کے عنوان سے یا ایک شخص کا دشمن صرف ایک شخص کے عنوان سے نہیں رہتا اور عدل کا طرفدار ہوتا ہے نہ کہ عادل کا‘ وہ ظلم کا دشمن ہوتا ہے نہ کہ ظالم کا۔ اس کی عادل کی طرفداری اور ظالم کی دشمنی نفسیاتی اور ذاتی دباؤ کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ اصولی اور مسلکی ہوتی ہے۔
جو اسلامی وجدان ہماری سوسائٹی میں پیدا ہوا ہے‘ وہ اسلامی اقدار کی جستجو کے لئے ہے‘ یہ وجدان تمام جماعتوں کا مشترکہ وجدان ہے اور تمام طبقات کو ہم آہنگ کر کے ایک ہی حرکت میں چلا رہا ہے۔
اس تحریک کی جڑیں ہمارے ملک میں اس صدی کے آخری حصہ میں ہونے والے واقعات میں ملتی ہیں اور ان حالات میں جہاں ان واقعات نے ہماری سوسائٹی کے اسلامی اقدار سے الجھنے کی کوشش کی۔
یہ ظاہر ہے کہ ہمارے ملک میں آخری نصف صدی میں ایسے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے اسلامی اقدار کی مخالف سمت اختیار کی اور جن کا مقصد یہ تھا کہ ان مصلحوں کی لائی ہوئی اصلاحوں کو سبوتاژ کیا جائے جو بیسوی صدی کے آخر میں چلائی گئیں‘ ایسے حالات بغیر کسی شدید ردعمل کے زیادہ دیر تک نہیں رہ سکتے تھے۔
ایران میں نصف صدی کے اخیر میں کیا ہوتا رہا؟ اس کو مختصراً مندرجہ ذیل صورت میں پیش کیا جا سکتا ہے:
۱ ۔ مکمل استبدادیت اور ہر قسم کی آزادی کا خاتمہ‘ جدید نوآبادیاتی نظام کا نفوذ۔
۲ ۔ نفوذ استعمار نو‘ یعنی ایک خطرناک اور ناقابل دید صورت میں سیاسی‘ اقتصادی اور تہذیبی استعمار کو نافذ کرنا۔
۳ ۔ دین اور سیاست میں دوری پیدا کرنا‘ بلکہ دین کو میدان سیاست سے بالکل الگ کر دینا۔
۴ ۔ ایران کو زمانہ جاہلیت قبل از اسلام کی طرف لے جانے اور مجوسی تہذیب کے اجراء کی کوشش‘ مہمدی ہجری کی مجوسی کیلنڈر میں تبدیلی اس بات کی مظہر ہے۔
۵ ۔ اسلامی بیش بہا تہذیب میں تحریف اور تبدیلیاں لا کر اس کو موہوم ایرانی کلچر میں تبدیل کرنا۔
۶ ۔ ایرانی مسلمانوں کو بے دریغ قتل کرنا اور سیاسی لیڈروں کو جیلوں میں اذیتیں دے دے کر مارنا۔
۷ ۔ نام نہاد اصلاح کے باوجود سوسائٹی میں طبقاتی تفاوت کا پیدا کرنا۔
۸ ۔ غیر مسلموں کو مسلمانوں پر حکومت میں اور دیگر تمام شعبو ں میں فوقیت دینا۔
۹ ۔ اسلامی قوانین اور اقدار میں یا تو براہ راست تحریف کرنا اور ختم کرنا یا لوگوں کی کلچرل اور سوشل زندگیوں میں فساد کی ترویج اور اشاعت کی شکل میں اسلامی قوانین کا خاتمہ کرنا۔
۱۰ ۔ ادبیات فارسی کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا اور یہ جتلانا کہ فارسی زبان کو بیرونی اصطلاحات سے نجات دلائی جا رہی ہے (حالانکہ وہ اس فارسی ادب کو تباہ کر رہے تھے جو ہمیشہ اسلام کا حافظ و نگہبان رہا تھا)۔
۱۱ ۔ اسلامی ممالک کے ساتھ روابط کرنا اور غیر ممالک کے ساتھ استوار کرنا‘ اسلام دشمن ممالک جیسے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بڑھانا۔
ان حالات نے جو تقریباً آدھی صدی تک رہے‘ ہماری سوسائٹی کے مذہبی ضمیر کو زخمی کیا اور بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔
دوسری طرف بین الاقوامی سطح پر ہونے والے واقعات نے لبرل مغرب اور سوشلسٹ مشرق کے جھوٹے سیاسی پروپیگنڈہ کو بے نقاب کر دیا۔ روشن خیال طبقات کو جو امیدیں ان دونوں سے تھیں‘ وہ ناامیدی اور مایوسی میں تبدیل ہو گئیں۔ انہی حالات میں پچھلے چند سالوں سے اسلامی محققین‘ ناقدین‘ سکالرز‘ مصنفین اور مولفین اس مشن میں کامیاب ہونے لگے کہ نوجوان نسل کو اسلام کی دلکش اور کارآمد تعلیمات سے آگاہ کیا جائے۔
ایران کے بہادر اور جوشیلے مذہبی رہنما عرصہ سے ان زیادتیوں کی وجہ سے مغموم و فکرمند تھے اور اس موقع کی تلاش میں تھے کہ کب انقلاب کے لئے اٹھا جائے؟ ظلم اور دباؤ کی چکی میں پچھلے پچاس سال سے پسنے والی قوم نے جو مغرب پسند اور مشرق پسند کے پروپیگنڈہ میں محصور تھی‘ یک لخت اسلامی تعلیمات کی آواز پر لبیک کہا اور متحد ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ ایرانی اسلامی تحریک میں یہ اسباب کافی کارگر ثابت ہوئے۔
اسلامی انقلاب کے نعرہ نے تمام ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا‘ شہروں‘ قصبوں‘ دیہاتوں دور دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو کسی ایک لائن کا انتخاب نہیں بتایا گیا ہے‘ کسی ایک نعرہ کا انتخاب بھی نہیں کرایا گیا‘ لیکن ان تمام نعروں سے لوگوں کی آشنائی ان کے اندر صرف اسلامی ضمیر کے بیدار ہونے پر ہوئی۔ کیا ان نعروں میں کوئی ایک نعرہ بتایا جا سکتا ہے جو کہ غیر اسلامی ہو؟
تحریک کے مقاصد
یہ تحریک کن مقاصد کے حصول کے لئے چلائی گئی اور یہ کیا چاہتی ہے؟ کیا یہ ڈیموکریسی چاہتی ہے؟ کیا یہ ہمارے ملک سے استعماریت کو ختم کرنا چاہتی ہے؟ کیا یہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے ابھری ہے؟ کیا یہ نسلی امتیاز سے چھٹکارا حاصل کرنے اور مساوات کے لئے چلائی گئی ہے؟ کیا یہ استبدادیت کو ختم کرنے کے لئے ہے؟ اور کیا یہ مادیت پرستی کے اثر کو زائل کرنے کے لئے ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔
تحریک کی نوعیت کے پیش نظر جو بتائی جا چکی ہے اور ان بیانات و اعلانات کی روشنی میں جو اس تحریک کے رہنما گاہے بگاہے دیتے رہتے ہیں‘ مندرجہ بالا سوالات کا جواب ”ہاں“ اور ”نہ“ دونوں صورتوں میں دیا جا سکتا ہے۔ ”ہاں“ اس لئے کہ اوپر دیئے گئے تمام مقاصد اس تحریک کے ہدف ہیں اور ”نہ“ اس لئے کہ یہ تحریک ایک مقصد میں محصور نہیں ہے‘ اسلاسمی تحریک کسی صورت میں بھی محدود نہیں ہوتی‘ کیونکہ اسلام ایک ”ناقابل تقسیم کل“ ہے اور اس کے متعلق کچھ مقاصد کے محسوس کر لینے سے اس کا کردار ختم نہیں ہو جاتا ہے۔
تاہم اس کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ موقع شناسی کے پیش نظر کچھ مقاصد کو دوسروں پر فوقیت نہیں اور مختلف مقاصد کے حصول و مراحل کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتا ہے۔ کیا اسلام خود موقع شناسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے بتدریج نہیں آیا ہے؟ آج تحریک نفی و انکار کی منزل پر ہے اور استبداد و استعمار پر کاری ضرب لگا رہی ہے‘ کل جب یہ مرحلہ طے کر کے اثبات اور تعمیرنو کی منزل آئے گی تو دوسرے مسائل توجہ طلب ہوں گے۔
اس مضمون کے شروع میں ہم نے حضرت علی علیہ السلام کے اصلاحی مقاصد کا تذکرہ کیا تھا جو نہج البلاغہ میں پائے جاتے ہیں۔ ہم نے یہ بھی بتایا کہ اصلاحی مقاصد کی اسی طرح کا نظریہ ان کے بیٹے حسین علیہ السلام کا بھی تھا۔ امام حسینعليهالسلام نے عہد معاویہ میں ایام حج کے دوران میں صحابہ اور ممتاز شخصیات کے ایک اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے اس نظریہ کی تشریح کی‘ انہوں نے جو اصلاحی مقاصد بیان فرمائے وہ تمام اسلامی تحریکوں پر حاوی ہیں‘ ہر دور میں کسی نہ کسی اسلامی اصلاحی تحریک نے ان مقاصد میں سے کسی خاص جز یا فرع کو لیا ہے‘ انہوں نے کلی مقاصد ان چار جملوں میں ارشاد فرمائے:
۱)ترد المعالم من دینک
خدا کے راستے کی محو شدہ نشانیوں کو جن کے بغیر اسلام کی پہچان نہیں ہو سکتی‘ واپس لایا جائے‘ یعنی اسلام کے بنیادی اصولوں کی واپسی اور اسلام حقیقی کا احیاء۔ بدعتوں کو ختم کر دینا چاہئے اور اصلی سنت کو دوبارہ جاری کیا جانا چاہئے‘ دوسرے لفظوں میں خود اسلام کے اندر فکری‘ روحی اور ضمیری اصلاح لائی جانی چاہئے۔
۲)نظهد الاصلاح فی بلادک
وہ بنیادی حقیقی اور دوررس نتائج کی حامل اصلاح لائی جانی چاہئے جو ہر مشاہدہ کرنے والے کی توجہ مبذول کرائے‘ لوگوں کی زندگی میں بہبود و بہتری کی علامات نظر آئیں یعنی خلق خدا کے انداز زندگی میں بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں۔
۳)یا من المظلومون من عبادک
خدا کے مظلوم بندوں کو ظالموں کے شہر سے پناہ دی جائے‘ ظالموں کے ظلم سے چھٹکارا حاصل کیا جائے‘ یعنی انسانوں کے اجتماعی روابط میں اصلاح کی جائے۔
۴)تقام المعطلة من حدودک
خدا کے معطل شدہ مقررات اور اسلام کے قوانین کو جن میں نقص پیدا کر دیا گیا ہے‘ دوبارہ اصلی حالت میں لانا‘ اسلامی حدود اور قوانین کے ذریعے لوگوں کی اجتماعی زندگی پر اسلام کی حاکمیت بحال کرنا‘ یعنی مدنی اور اجتماعی معاملات میں اسلامی نظام قائم کرنا۔
ہر مصلح جو اوپر دیئے گئے چار اصولوں پر عملی جدوجہد کے ذریعے اس قابل ہوا کہ لوگوں کے اذہان کو اصلی اسلام کی طرف لے جائے اور بدعتوں و خرافات کا خاتمہ کر دے۔ جس نے عمومی زندگیوں میں اصلاح کر کے خوراک‘ مکان‘ طبی امداد اور تعلیم مہیا کی‘ جس نے روابط انسانی کے تحت انسانوں میں برابری‘ بھائی چارہ‘ احساس اخوت اور ہمسائیگی کو برقرار رکھا اور جو سوسائٹی کو ایسا نظام حکومت دے جو خدائی اور اسلامی حاکمیت اور انتظام حکومت پر مبنی ہو تو یقینا اس نے بحیثیت ایک مصلح انتہائی کامیابی حاصل کر لی۔
تحریک کی قیادت
کوئی تحریک بغیر قیادت کے کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی‘ لیکن جب ایک تحریک اسلامی ہو اور اس کے مقاصد بھی کلی طور پر اسلامی ہوں تو اس کی قیادت کونسا لیڈر کرے؟ یا کونسے لیڈروں کا گروپ کرے؟
سب سے پہلے قیادت کو ان تمام شرائط پر پورا اترنا چاہئے جو کہ اس کے کام کے متعلق ہوں‘ پھر رہنما مکمل طور پر اسلام شناس ہونے چاہئیں اور ان کو اسلام کے فلسفہ اخلاقی‘ اجتماعی‘ سیاسی اور معنوی سے کماحقہ آگاہ ہونا چاہئے۔ وہ اسلام کے فلسفہ جہان بینی سے مکمل واقفیت رکھتے ہوں‘ وہ ہستی خلقت‘ مبداء‘ خالق ہستی‘ ہستی کی ضرورت اور وجوہات وغیرہ کے بارے میں علم رکھتے ہوں‘ وہ انسان اور سوسائٹی کے بارے میں مکمل اور عمیق آگاہی رکھتے ہوں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ یہ رہنما فرد کی سوسائٹی کے ساتھ روابط کے سلسلے میں اسلامی آئیڈیالوجی کے بارے میں ایک واضح ذہن رکھیں کہ انسان سوسائٹی بنانے میں کیا کردار ادا کرتا ہے؟ وہ سوسائٹی میں کن چیزوں کو عزیز رکھتا ہے؟ اور کن چیزوں کے خلاف ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ اور اس کے آخری مقاصد کیا ہیں؟ اور وہ ان مقاصد کی تکمیل کے لئے کون سے راستے استعمال کرتا ہے؟
یہ ظاہر ہے کہ صرف وہ اشخاص قیادت کر سکتے ہیں‘ جن کی رسومات سے آزاد اسلامی معاشرہ میں پرورش ہوئی ہو اور جو قرآن‘ سنت‘ فقہ اور معارف اسلامی سے مکمل آگاہی رکھتے ہوں‘ لہٰذا صرف مذہبی اور روحانی قائدین ہی اسلامی تحریکوں کی قیادت کر سکتے ہیں۔ تقریباً ایک سال اور آٹھ مہینے قبل (بارہویں محرم کی شب ۱۳۹۶ ھ) میں ایک مسلم خواتین اور مردوں کے اجتماع میں مدعو تھا‘ میں نے پہلے نہیں سوچا تھا کہ یہ اجتماع ایک درجن سے زیادہ خصوصی دوستوں پر مشتمل ہو گا۔ کچھ صاحبان نظر اور اسلامی مفکرین بھی وہاں موجود تھے۔ آج ان میں سے کچھ ایران سے دور ہیں‘ کچھ جلا وطن کر دیئے گئے ہیں اور کچھ فوت ہو چکے ہیں۔
موقع و محل کے پیش نظر‘ کیونکہ یہ اجتماع مسلمانوں پر مشتمل تھا‘ وہ سننے والے تمام اسلامی‘ مذہبی معاملات میں دلچسپی رکھتے تھے‘ لہٰذا تمام بولنے والوں اور خود مجھ سے التجا کی گئی تھی کہ ہم ایسی تقریریں کریں کہ شرکاء کو کچھ فائدہ پہنچے۔
میں خود شش و پنج میں گرفتار تھا کہ موضوع سخن کیا ہونا چاہئے؟ خصوصاً اس بات کی وجہ سے کہ یہ تقریر ٹیپ ہونی تھی اور بعد میں طلباء میں تقسیم کی جانی تھی‘ اچانک سننے والوں میں سے ایک غیر ذمہ دار آدمی نے ایک بات کہی اور وہی میرا موضوع سخن بن گیا‘ اس کی بات کا خلاصہ یہ ہے:
”لوگوں کو ان علوم (اسلامی معارف) کے شر سے نجات دلائی جائے۔“
اس وقت میں ان باتوں کو یاد کرنے کی کوشش کروں گا‘ جو میں نے اس سوال کے جواب میں کہی تھیں‘ کیونکہ یہ باتیں ہمارے موضوع کے متعلق ہیں۔
ارسطو نے فلسفہ کے بارے میں یہ جملے کہے ہیں کہ
”اگر تم فلسفی بننا چاہتے ہو تو اپنے کو فلسفیانہ رنگ میں رنگو اور اگر تم فلسفی نہیں بننا چاہتے تو بھی اپنے آپ کو فلسفی رنگ میں رنگو۔“
اس کی توضیح میں اس طرح کروں گا کہ ارسطو نے کہا کہ اگر فلسفہ صحیح ہے تو اس کی تائید کرو اور اگر غلط ہے تو اس کا انکار کرو‘ اگر فلسفہ قابل تائید ہے تو چاہئے کہ فلسفی ہو کر فلسفیانہ انداز میں اس کی تائید کرو اور اگر فلسفہ ناقابل تائید ہے تو چاہئے کہ فلسفی بن کر فلسفیانہ انداز میں اس کی ترید کرو۔ اس وجہ سے ہر حالت میں فلسفے کا جاننا ضروری ہے اور کسی فلسفہ کا انکار بھی ایک فلسفہ کی قسم ہے۔ وہ لوگ جو کچھ علوم کو اس طرح حاصل کر لیتے ہیں کہ ان کے علوم کا فلسفیانہ غور فکر سے کوئی باہمی رشتہ نہیں ہوتا اور یہ لوگ فلسفہ کی نفی کرنے لگتے ہیں‘ یہ بہت سخت غلطی میں مبتلا ہیں۔
اس بات سے قطع نظر کہ علماء اسلام نے ہزاروں سال کے عرصہ میں انسانی معاشرہ‘ تمدن جہاں اور جہاں کے معارف‘ علوم ریاضیات‘ علوم طبیعات‘ علوم انسانی‘ فلسفیانہ علوم‘ قانون اور ادبیات کے سلسلے میں کوئی خدمت کی ہے یا نہیں‘ حالانکہ بے شک انہوں نے خدمت کی‘ لیکن میں کہتا ہوں کہ ہماری فقہ‘ ہمارا فلسفہ‘ ہمارا فلسفہ زندگی‘ فلسفہ تعلیم و تربیت‘ اخلاقیات‘ تفسیر‘ احادیث‘ ادبیات اور ہمارے قوانین کو قبول کرتا ہے تو وہ ایک فقیہ بنتا ہے‘ ایک فلسفہ بنتا ہے اور ایک عارف بنتا ہے اور اگر وہ اس کی نفی کرتا ہے تو اس کو بھی ان علوم کو سمجھنا چاہئے اور ان کو اکٹھا کر کے سوچ و بچار کے بعد ان کی تردید کرنی چاہئے۔ یہ قطعاً صحیح نہیں ہے کہ ایک آدمی جو ایک فلسفہ اور فقہ کی کتاب کے متعلق کچھ نہیں جانتا‘ وہ صرف کتاب کو دیکھ کر ہی اس کی تردید کر دے۔
میں اپنے نقطہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہوں گا کہ ہماری تحریک عملاً عروج پر ہے‘ کسی اجتماع تحریک کے لئے ضروری ہے کہ فکری اور کلچرل تحریکیں اس کی پشت پناہی پر ہونی چاہئیں‘ بصورت دیگر معاشرتی وابستگیاں اس پر حاوی ہو کر اس اجتماعی تحریک کو جذب کرنا شروع کر دیتی ہیں اور اس کا رخ موڑ دیتی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ اسلامی تمدن کی دولت سے ناواقف تھے اور وہ مکھی کی طرح دوسرے معاشروں کے جالے میں پھنس گئے‘ دوسری طرف وہ اسلامی معاشرتی حریک جو ہماری اپنی اجتماعی تحریک سے نکلی ہے وہ اپنے قدیمی کلچرل سے مستفید ہوتی ہے اور دوسرے خارجی کلچر سے متاثر نہیں ہوتی۔ یہ ہمارے لئے کافی نہیں ہو گا کہ ہم اسلام کی تحریک کو اس طرح چلائیں کہ دوسرے کلچرز کی اینٹوں سے اپنے کلچر کی عمارت کی تعمیر کریں‘ مثلاً ہم مارکسزم یا دوسرے نظریات کو دیکھیں اور ان کو اسلام میں ملانے کی کوشش کریں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ ہم صرف اسلام کی ہدایت نہ کریں‘ بلکہ اسلام کے فلسفہ اخلاق‘ فلسفہ تاریخ‘ فلسفہ سیاسیات‘ فلسفہ اقتصادیات‘ فلسفہ دین‘ فلسفہ الٰہی جو اسلامی تعلیمات کے متن میں موجود ہیں‘ کی تدوین کریں اور ہمارے افراد ان کو اختیار کریں۔
قیادت کی اہمیت پر مزید روشنی ڈالنے کے لئے میں یہ کہتا ہوں کہ آج ہمیں خواجہ نصیرالدین طوسی‘ ابو علی سینا‘ ملا صدار‘ شیخ انصاری‘ شیخ بہائی اور محقق حلی جیسے بزرگ علماء کی ضرورت ہے‘ لیکن یہ علماء ہم ایسے نہیں چاہتے جیسے جیسے وہ اپنے اپنے ادوار میں تھے‘ بلکہ اوپر دیئے ہوئے علماء دور عصر کے مزاج کے مطابق ہونے چاہئیں اور وہ اس دور کے تمام احساسات سے بخوبی واقف ہونے چاہئیں۔
میں اپنے سوال کو سمجھانے کے لئے مزید کہوں گا کہ کچھ نوجوانوں نے جو ولولہ انگیز جذبہ ایمانی رکھتے ہیں‘ میرے سے رائے طلب کی کہ وہ یونیورسٹیوں کی تعلیم مکمل کر کے ڈگریاں لینے والے ہیں‘ اب اسلامی علوم کے سیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ان میں سے کچھ اتنے شوقین ہیں کہ وہ یونیورسٹی کی تعلیم کو فوراً ختم کر کے اسلاف کی تعلیمات کو سیکھنا چاہتے ہیں‘ لیکن میں نے ان سے اتفاق نہیں کیا اور ان کو نصیحت کی کہ وہ یونیورسٹی کی تعلیم ادھوری نہ چھوڑیں بلکہ اس کو مکمل کر کے پھر اپنی پسند کی لائن اختیار کریں۔ میں نے ان کو رائے دی کہ کچھ ان میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد سائنسی علوم کے خاص خاص شعبوں میں مہارت حاصل کریں اور کچھ اپنے آپ کو مذہبی علوم کے لئے وقف کریں۔ میں نہیں چاہتا کہ کافی سارے لوگ عوامی فنڈ پر گزارہ کریں۔
نوجوانوں کا یہ رجحان ایک صحت مندانہ فعل ہے‘ اس طرح سے یہ طالب علم زمانہ قدیم کے علوم اور جدید سائنسی علوم میں ایک رابطہ کا کام کریں گے اور اس سے بیش بہا اسلامی فائدہ پہنچے گا۔
ان نظریات کو سمیٹنے پر جو میں نے اس اجتماع میں پیش کئے‘ یہ خلاصہ پیش کیا جا سکتا ہے:
”یہ عظیم اور خود کفیل اسلامی کلچر ہے جس پر تحریک کا سارا دار و مدار ہے اور ہونا چاہئے‘ یہ علمائے اسلام اسلامی کلچر کے ماہرین اور زمانہ شناس ہیں جو قیادت کر سکتے ہیں اور جن کو کرنی چاہئے۔“
چند روز پیشتر میرے ایک دوست نے ایک کتاب دی‘ جس میں ”در روش“ کے عنوان سے ایک مقالہ تھا۔ یہ مقالہ ایک دوست نے لکھا‘ جو سالہا سال سے یورپ میں رہا ہے۔ میں اس ے کبھی نہیں ملا ہوں‘ لیکن اس کا عقیدت مند ہوں۔ اس مقابلہ میں اس نے ”روایتی لیڈرشپ“ پر بحث کی ہے‘ اس مقالہ کے شروع میں اس نے ”حرکت“، ”بنیاد“ اور حرکت کی بنیاد میں تبدیلی کو بیان کیا ہے کہ کس طرح حرکت ماہیت میں تغیر اور تحریک پیدا کرتی ہے‘ نظاموں اور قالبوں کی صورت میں آتی ہے‘ اس نے ”متحرک“ کی ساکن میں تبدیلی پر بھی بحث کی ہے۔ اگر ہماری اجتماعی طاقتیں موج در موج اٹھیں اور جذب ہو جائیں تو یہ حرکت کی بنیاد میں تبدیلی کی وجہ ہے۔ یہ اس لئے ایسا ہے‘ کیونکہ عمل اور فکر کو ایک شکل و قالب دینے کی ضرورت ہے‘ لہٰذا سب سے بنیادی کام یہ ہے کہ قالب‘ قالبوں کو ختم کر دینا چاہئے‘ پھر فرض کر لینا کہ دین اسلام نوجوان کا دین ہے اور نوجوان قالبوں کو ختم کرتے ہیں‘ پس اسلام قالب شکنی کا دین ہے‘ اس کے بعد اس نے ”سنتی روایتی لیڈرشپ“ کے سوال پر بحث کی ہے‘ جو اس وقت ہمارے زیربحث ہے۔
میرا یہ نادید دوست ہمیں اس بات کی اجازت دینے پر پس پشت نہیں کرے گا کہ اس کے بیان پر تنقید کی جائے‘ ہم بیان کی کمزوریوں اور کوتاہیوں کی نشان دہی کو خوش آمدید کہیں گے۔
پہلی بات جو ہمارے دوست نے سوچی ہے‘ وہ یہ ہے کہ حرکت اور جنبش کے لئے ثبات کا انکار ضروری ہے‘ لیکن اس نے یہ نہیں سوچا کہ اگر حرکت ثبات کے بغیر ہو تو اس کا نتیجہ ابتری اور بے نظمی ہے‘ نہ کہ ترقی و ارتقاء۔
قرآن جہاں ہدایت‘ حرکت اور کمال کی تعلیم دیتا ہے وہاں وہ صراط مستقیم کی تعلیم بھی دیتا ہے۔ انسان کو جب صراط مستقیم پر چلنا ہے تو یہ صراط مستقیم بذات خود کیا ہے؟ کیا صراط مستقیم ہدایت کرتا ہے؟ کیا یہ راستہ بھی متحرک ہے؟ کیا یہ صراط مستقیم محافظ ہے اور ان کا نگراں ہے جو کہ اس راستے کو اختیار کرتے ہیں؟ کیا یہ حرکت کو بنیاد میں تبدیل کرنے والا عامل ہے؟ کیا روایتی رہبروں کے لئے یہ گناہ ہے کہ وہ کلچر کے پاسدار ہیں؟ یعنی اس کلچر کے جو کمال اور حرکت کے ساتھ صراط مستقیم پر ہے۔
علامہ اقبال نے کیا خوب کہا:
”زندگی صرف تغیر اور سادہ نہیں ہے۔“
اس کے اندر بقاء و دوام کے عناصر موجود ہیں اور مزید کہتا ہے کہ
”اسلام خدا کے ساتھ وفاداری کا مطالبہ کرتا ہے‘ نہ کہ حکومت استبداد کی وفاداری کا۔“
اور خدا ہر زندگی کی اخروی روحانی بنیاد ہے‘ لہٰذا خدا کے ساتھ وفاداری کا مطلب اپنی طبیعت مثالی کے ساتھ وفاداری ہے۔ ایک سوسائٹی جو اس حقیقت پسندانہ نکتے پر یقین رکھتی ہو اسے چاہئے کہ وہ بذات خود اپنی زندگی میں ”ابدیت“ اور ”تغیر“ کی آپس میں سازگاری پیدا کرے‘ اجتماعی حیات کی تنظیم کے لئے ابدی اصول اس کے پاس ہونے چاہئیں‘ اس تغیر دائمی دنیا میں جو چیز ابدی و دائمی ہے وہ ہمارے لئے ایک مضبوط جگہ کھڑے ہونے کے لئے مہیا کرتی ہے۔
ہمارے دوست نے ”ساکن“ اور ”ثابت“ میں اشتباہ کیا ہے‘ اگر وہ اسلامی کلچر سے بخوبی واقف ہوتا‘ تو وہ یہ جانتا کہ تغیر اور متغیر ہونا بغیر ثبات کے ناممکن ہیں۔ ہر چیز جو حرکت کرتی ہے یا کم از کم منزل اور مرحلہ میں تبدیلی واقع ہوتی ہے‘ وہ ایک خاص معین مدار میں حرکت کرتی ہے یا تبدیلی لاتی ہے‘ وہ مدار بذات خود ثبات ہے‘ اس میں کوئی تبدیلی یا حرکت نہیں‘ وہ چیز جو تبدیل ہوتی ہے یا کچھ عبور کرتی ہے وہ مرحلہ و منزل ہے نہ کہ مدار اور راستہ ہے۔
اگر ہمارے دوست ہر چیز کے ”وجود تاریخی“ کا قائل ہے‘ حتیٰ کہ اصول حقائق‘ مکتب‘ آئیڈیالوجی اور کلچر کا وجود تاریخی ہونا‘ تو پھر ہزار اور چار سو سال پرانے اسلام جس کی جان و دل سے وہ دفاع کرتا ہے‘ سے کیا چاہتا ہے؟
شاید یہ کہا جائے کہ اسلام بذات خود حرکت اور جنبش ہے‘ جو اپنے وجود کو دائمی زندگی بخشتا ہے‘ نہ کہ بنیاد و نظام۔ ہمارا جواب یہ ہے کہ اسلام نہ تو حرکت ہے اور نہ متحرک‘ نہ جنبش ہے اور نہ جنبش دینے والا‘ یہ اسلامی سوسائٹی ہے جو اسلام کے مدار میں اور صراط مستقیم پر حرکت کر رہی ہے یا چاہئے کہ اسلامی سوسائٹی کو حرکت میں ہونا چاہئے‘ نہ کہ اسلام کو۔
یہ صحیح ہے کہ بعض دفعہ کوئی عظیم ہلچل مچا دینے والا واقعہ یا اجتماعی واقعہ اپنی اصل روح سے محروم ہو جاتا ہے اور آداب و رسوم و تکلفات کا ایک بے اثر سلسلہ باقی رہ جاتا ہے۔
حضرت امیرالمومنین علیعليهالسلام نے فرمایا ہے کہ
”امویوں کے ہاتھوں میں اسلام کی ایسی مثثال تھی جیسے کوئی شخص کسی برتن کو الٹا پکڑے ہوئے ہو اور برتن میں موجود تمام چیز نیچے گر رہی ہو‘ حتیٰ کہ برتن خالی ہو جائے اور صرف برتن اس کے ہاتھ میں رہے۔“
یکفا الاسلام کما یکفا الانا
یہ اجتماعی عمل حرکت کو بنیاد میں تبدیل کرنے کے مترادف ہے‘ ایک مثال سے میں اس کی مزید توضیح کرنا چاہتا ہوں۔
امام حسین علیہ السلام کی روایتی عزاداری حرکت کی بنیاد میں تبدیلی ہے‘ یہ عزاداری کے جس کے متعلق کہا گیا ہے:
من بکی او بکی او بتا کی و جبت له الجنة
بہت سی اہم باتیں اس میں پنہاں ہیں۔ عزاداری کا اصل فلسفہ یہ ہے کہ یزید‘ ابن زیاد اور اس کے ساتھیوں سے اظہار بیزاری کیا جائے اور امام حسینعليهالسلام کی طرفداری اور حمایت کی جائے۔ حسینعليهالسلام نے ایک وقت میں ایک مکتب کی صورت اختیار کی‘ وہ ایک ہی وقت میں ایک اجتماعی اور معین شدہ سوسائٹی کے طور طریقوں کی مثال بن گئے اور دوسرے معین شدہ طور طریقوں کی نفی کرنے والے بن گئے‘ حقیقت میں ایک آنسو کا قطرہ بہانا ذاتی قربانی کے مترادف ہے۔
سخت ترین یزیدی شرائط اور پابندیوں کی موجودگی میں حزب حسینیعليهالسلام میں شمولیت اختیار کرنا‘ شہداء پر برملا آنسو بہانا‘ سچوں کی حمایت کا بہ بانگ دہل اعلان کرنا اور اہل باطل کے خلاف اہل حق کے ساتھ مل کر جنگ کرنا‘ حقیقت میں ذاتی قربانی کی قسمیں ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حسینعليهالسلام بن علیعليهالسلام کی عزاداری حقیقت میں ایک حرکت ہے‘ ایک موج ہے اور ایک اجتماعی جنگ ہے۔
لیکن زمانے کے ساتھ ساتھ یہ فلسفہ اور یہ روح معدوم ہوتی گئی اور برتن خالی ہونا شروع ہو گیا‘ حتیٰ کہ برتن کا تمام مواد ختم ہو گیا اور یہ صرف ایک ”عادت“ بن گئی کہ کچھ لوگ جمع ہو کر عزاداری کے مراسم میں مشغول رہتے ہیں۔ ان کے بحث و مباحثے کسی ایک اجتماعی سمت کا تعین نہیں کرتے‘ اجتماعی نقطہ نظر سے اس کو کوئی بامعنی اور نتیجہ خیز عمل قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ یہ نقطہ ایک مذہبی فریضہ سمجھا جاتا ہے اور مذہبی رسم کی حیثیت اختیار کر گئی ہے اور اس کا عہد حاضر کے حسینیوں اور عہد حاضر کے یزیدیوں اور عبدالیوں سے کوئی سروکار نہیں رہا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حرکت بنیاد یا عادت میں تبدیل ہو گئی ہے اور یہ ہے برتن کا خالی ہو جانا‘ یہ اتنی رسمی صورت اختیار کر گئی ہے کہ اگر یزید بن معاویہ قبر سے نکل آئے تو وہ نہ صرف خوشی سے اس رسم میں شریک ہو گا‘ بلکہ ان رسوم کی ادائیگی کے لئے ایک بڑے گروہ کی تشکیل بھی کرے گا۔ ان اجتماعوں میں لگاتار آنسو بہانے کا کیا فائدہ؟ یہ بات صحیح ہے اور میں نے کئی اجتماعات میں اس کے متعلق بیان کیا ہے‘ لیکن ہمارے دوست سے سوال یہ ہے کہ آیا ہمارا پرانا کلچر جو کہ روایتی رہبری کی حفاظت میں ہے‘ کیا چیز ہے؟ کیا سید جمال‘ مدرس‘ آیت اللہ خمینی اور طالقانی ان رسوم اور وضع داریوں کے محافظ ہیں؟ پھر ہم پوچھیں گے کہ رہنماؤں میں سے کونسا ایسا رہنما ہے جو عوام میں اتنا ہیجان اور حرکت پیدا کر سکے‘ جتنا کہ روایتی لیڈرشپ پیدا کر سکتی ہے؟ کیا کوئی غیر سمی رہنما پچھلے دس سال کے دوران لوگوں میں دس فیصد حرکت پیدا کر سکا ہے؟
کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو کہ اسلامی تحریک کی قیادت کو ”مذہبی علماء کے طبقے“ سے روشن خیال طبقے کی طرف منتقل کرنا چاہتے ہیں‘ وہ دلائل دیتے ہیں کہ ایرانی سوسائٹی ایک مذہبی سوسائٹی ہے اور اجتماعی عمر کے لحاظ سے پندرہویں اور سولہویں صدی کے یورپ کی مانند ہے‘ جہاں صرف مذہبی نعروں نے لوگوں میں حرکت پیدا کی۔ دوسری طرف ایرانی لوگ مسلم ہیں اور شیعہ عقیدہ رکھتے ہیں‘ جو انقلابی اور حرکت پیدا کرنے والا مذہب ہے۔ آج کا ایران اجتماعی صورت میں پندرہویں اور سولہویں صدی کے یورپ کی مانند ہے‘ جہاں کی فضا میں صرف مذہبی سانس لی جا سکتی ہے اور صرف مذہبی نعروں کی بناء پر ہیجان پیدا کیا گیا ہے۔
تیسری دلیل یہ ہے کہ ہر سوسائٹی میں ایسے مخصوص روشن خیال افراد کا گروہ موجود رہتا ہے جو انسانی خود آگاہی رکھتے ہیں اور موجودہ دور کے انسان کے مصائب و مسائل کا احساس رکھتے ہیں اور صرف اسی گروہ میں صلاحیت ہے کہ سوسائٹی کی آزادی کا بوجھ اٹھا سکیں۔ ایران کے آج کے روشن خیال اگر موجودہ ایران اور موجودہ یورپ کا آپس میں مقابلہ کریں تو وہ غلطی پر ہوں گے اور یہ ھھھھ میں ہو گا کہ وہ ایران کے لئے وہی نسخہ تجویز کریں جو یورپ کے لئے رسل اور سارتر تجویز کر رہے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آج کا ایران پندرہویں اور سولہویں صدی کے یورپ کی سطح پر ہے‘ نہ کہ بیسویں صدی کے یورپ کی سطح کا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اسلام ”مسیحیت“ نہیں ہے‘ اسلام اور بالخصوص شیعی اسلام حرکت‘ انقلاب و خون‘ آزادی‘ جہاد اور شہادت کا مذہب ہے۔ ایران کے روشن خیال اس فریب نظر میں نہ آئیں‘ کیونکہ آج کے یورپ میں مذہب نہیں ہے اور وہاں مذہبی نقوش کو ختم کر دیا گیا ہے‘ لہٰذا ایران میں بھی مذہبی نقوش کو ختم کر دینا چاہئے۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ نہ تو ایران یورپ ہے اور نہ اسلام مسیحیت ہے۔ ایران کے روشن خیال افراد کو چاہئے کہ وہ اس انقلاب کے عظیم منبع سے حرکت اور طاقت حاصل کر کے اپنے لوگوں کی آزادی کی کوشش کریں‘ لیکن یہ یقینی ہے کہ اس کے ساتھ کچھ شرائط بھی ہیں‘ ان کے مطابق پہلی شرط یہ ہے کہ اس وقت مذہب کے جو محافظ اور نگہبان ہیں‘ ان کی نمبرداری ختم کرنی چاہئے۔
ان روشن خیال افراد سے میری پہلی گزارش یہ ہو گی کہ ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام ایک ”حقیقت“ ہے نہ کہ ”مصلحت“ اور یہ ایک ”نصب العین“ ہے نہ کہ ”ایک وسیلہ“، لہٰذا صرف وہ افراد اسلام کی طاقت اور حرکت سے مستفیض ہو سکتے ہیں جو اس کو حقیقت اور ہدف سمجھتے ہیں‘ نہ کہ وہ جو اس کو مصلحت اور وسیلہ خیال کرتے ہیں۔ اسلام ایک ایسا ”اوزار“ نہیں ہے جس سے سولہویں صدی میں استفادہ کیا گیا ہے اور اب بیسویں صدی میں اس کے استعمال کی ضرورت نہ رہی ہو۔ اسلام انسانیت کے لئے صراط مستقیم ہے‘ ایک متمدن انسان اتنا ہی اس کی رہنمائی کا محتاج ہے جتنا ایک غیر متمدن انسان۔ یہ ترقی یافتہ انسان کو اتنی ہی آزادی اور نجات و سعادت عطا کرتا ہے جتنا ابتدائی انسان میں! یہ ایک بہت بڑا المیہ ہو گا کہ ہم اسلام کو محض ایک وسیلہ اور ایک مصلحت کے طور پر جہان بینی اور اجتماعی حالات کے لئے استعمال کریں۔ اس لئے ہم ان لوگوں سے اپیل کریں گے کہ وہ ان حالات کا ایک حقیقت پسندانہ جائزہ لیں اور اسلام کو اگر وہ حقیقت اور ہدف کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تو ہرگز مصلحت اور وسیلہ کی نگاہ سے بھی نہ دیکھیں۔
تاہم اگر اسلام ایک وسیلہ اور اوزار ہے تو پھر یہ حقیقی اسلام ہے نہ کہ وہ اسلاسم جس پر صرف اسلام کا خول چڑھایا گیا ہو‘ اگر ہر وسیلہ اور اوزار کے استعمال کے لئے خصوصی مہارت حاصل کرنا ضروری ہوتی ہے تو پھر اسلام کے لئے بھی ایسا ہونا چاہئے۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک نام نہاد روشن خیال جو فلاں پروفیسر کے ساتھ صبح کے ناشتے میں شریک رہتا ہے‘ کبھی اس نے ایسا علم حاصل کرنے کی کوشش کی ہے کہ حقیقی اور نقلی اسلام کی پہچان کی جا سکے؟ اور کبھی سوسائٹی کے مفاد کے لئے اس علم کو استعمال کیا ہے؟
تیسری بات اگر مجھے معاف کیا جائے تو عرض کروں گا کہ یہ قابل احترام روشن خیال افراد کافی دیر کے بعد خواب سے بیدار ہوئے ہیں‘ کیونکہ قدیم متولوں نے حرکت و قوت کے اس سرچشمے کی نشاندہی کی ہے اور وہ اس سے استفادہ کرنے کے طریقوں سے واقف ہیں اور وہ اب نہیں چاہتے کہ ان کا ”خول“ اتر جائے۔
لہٰذا ہم ان روشن خیالوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ ”انتقال اقتدار“ اور ”خول کے اتراؤ“ کے خوابوں کو بھول جائیں اور عالم انسانیت کی دوسری خدمت اور اس کے متعلق فکر کرنے پر اپنی توجہ مبذول کریں۔
اسلام‘ اسلامی تہذیب‘ اسلام کی طاقت اور صلاحیت کو اسلام کے ان متولیوں کے لئے چھوڑ دینی چاہئے جو اسلام کی نگہداشت کرتے ہیں اور جو اسلام کے ماحول میں پروان چڑھے ہیں اور جن کے اوزاروں سے عام لوگ مانوس ہیں۔
رسالہ ”اقبال معمارِ تجدید بنائے اسلام“ میں سید جمال کی سرگرمیوں اور انہوں نے اسلامی دنیا میں جو ہیجان اور انقلابی کیفیت برپا کر دی‘ کے بارے میں تجزیہ کرتے ہوئے درج ہے کہ
”اس نے اتنی طاقت اور اثر کیسے حاصل کیا؟ وہ کیا اسباب تھے جو اس بات کے موجب بنے کہ تن تنہا ایک شخص کی آواز مملکتوں کے حدود کو توڑ کر لوگوں کے دلوں میں اترتی رہی‘ کیا یہ اس سبب کے علاوہ کوئی سبب تھا کہ مسلمان اس آواز کو اپنے کسی شناسا کی آواز محسوس کرتے تھے۔ محسوس کرتے ہیں کہ یہ آواز اپنی درخشاں تاریخ‘ تہذیب کے ضمیر کی گہرائیوں اور اعلیٰ افتخار سے ابھری تھی۔ انہوں نے دیکھا کہ یہ آواز کوئی اجنبی آواز نہیں تھی اور نہ ہی باہر کے خیالات کی عکاسی کرنے والی آواز تھی۔ یہ انہی آوازوں کی گونج تھی جو کبھی حرا‘ مکہ‘ مدینہ‘ احد‘ قادسیہ‘ بیت المقدس‘ جبل الطارق اور صلیبی جنگوں کے دوران ابھری تھیں۔ یہ وہی صدا تھی جو عزت و وقار کے لئے جہاد کرنے کے لئے بلند کی گئی اور تاریخ اسلام میں یہ صدا بار بار گوش گزار ہوتی رہی۔“
یہ جو کچھ سید کے بارے کہا گیا ہے‘ بالکل ٹھیک ہے اور حقائق پر مشتمل ہے‘ اس کی صدا تہذیبی روح کی گہرائیوں سے اور اسلام کی پرافتخار تاریخ سے نکلی تھی۔ یہ اس لئے کہ سید بذات خود اسی تہذیب کی پیداوار تھا اور اس کی روح نے اسی تہذیب میں نشوونما پائی۔
ایران کی اسلامی بیداری کی تحریکوں کے لئے یہ باعث افتخار ہے کہ ان کی قیادت ان بہادر‘ نڈر اور صاحب علم افراد کے ہاتھ میں ہے جو موجودہ دور کی ضروریات و احتیاجات سے کماحقہ آگاہ ہیں‘ عوام کے ہمدرد ہیں اور اسلام کی سربلندی کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ ناامیدی‘ مایوسی اور جو شیطان کی فوجیں ہیں‘ ان کے اندر نہیں پائی جاتیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ مراجع کے مقابلے میں ماضی میں کئی ایسے مراجع گزرے ہیں جن کی حوزئہ مرجعیت کی شان بہت اعلیٰ اور ان کے مقلدین کی تعداد بہت زیادہ رہی ہے‘ لیکن مقابلتاً ان کی شہرت اور اثر کم تھا‘ غیر متزلزل طور پر مذہبی کاموں کے لئے اپنے آپ کو وقف کرنا موجودہ قیادت کی امتیازی صفت ہے۔
ہم اس بے لوث عظیم الشان قیادت کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ہمارے لئے یہ بات باعث فخر ہو گی کہ ان شاندار خدمات کو تاریخ کے صفحوں میں محفوظ کر لیں اور خداوند عزوجل کے سامنے دست بدعا ہوں کہ ان کی کامیابیوں میں اضافہ کرے۔
مراجع عظام جن میں آیت اللہ العظمیٰ شریعت مداری‘ آیت اللہ العظمیٰ گل پائیگانی‘ آیت اللہ العظمیٰ مرغشی نجفی جنہوں نے کلمہ حق کی آواز بلند کی‘ اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی اور فخر کا باعث بنے ہیں‘ ان کے نام گرامی تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ درخشاں رہیں گے۔ یہ صرف وہ کم ترین اجر ہے جو خداوند تعالیٰ نے ان کو عطا کیا ہے۔
لیکن مجھے ان کے متعلق کہنے دیجئے جو کہ ”پردیسی“ ہے اور ہمارے دلوں کی دھڑکنیں اس کے ساتھ ساتھ ہیں۔ اس کا نام‘ اس کی یاد‘ اس کے کلمات‘ اس کی پرجوش روح‘ اس کا پختہ ارادہ و عزم‘ اس کی استقامت‘ اس کی شجاعت‘ اس کی رجائیت اور اس کا ایمانی جذبہ ہر خاص و عام کی زبان پر ہے یعنی میرا مقصد فرزندان ایران میں سے سب سے پیارا اور سب سے اعلیٰ‘ آنکھوں کی ٹھنڈک اور ملت ایران کا عزیز ترین استاد عالی قدر اور ہمارا بزرگ حضرت آیت اللہ العظمیٰ خمینی ادام اللہ ظلہ العالی‘ وہ ایسا حسین تحفہ ہے جو خداوند تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمایا ہے اور وہ ان واضح کلمات کے مصداق ہیں:
ان الله فی کل خلف عدوه ینقون عنه تحریف المبطلین
میری قلم بے تاب ہے کہ اس استاد بزرگ کہ جس کی صحبت اور شاگردی میں‘ میں نے ۱۲ سال گزارے‘ کچھ لکھوں‘ میں نے ان سے بے پناہ روحانی اور معنوی فیض حاصل کئے۔
ظاہراً اس اسلامی بیداری کی تحریک میں روحانی اور غیر روحانی شخصیات کی بھاری تعداد نے حصہ لیا‘ ایسے لوگ اور گروپ بھی جو کہ اس تحریک کی فکری اور عملی فعالیت سے کئی سال پہلے اس میں کام کر رہے تھے‘ بلاشبہ انہوں نے جدید نسل کے ذہنوں میں ایسے خیالات اور نقش بنائے جو اس عظیم تحریک کے لئے ممد و معاون ثابت ہوئے۔ کچھ دوسرے لوگوں نے تحریک کے آخری مرحلے تک پہنچانے میں تعاون کیا‘ اس کو وسعت دینے اور اہمیت کے ظاہر کرنے کے لئے بہت زیادہ قربانیاں دیں‘ حتیٰ کہ ان کو جیلوں میں ڈالا گیا‘ ان کو نیست و نابود کیا گیا‘ ان کو خوفناک اذیتیں دے دے کر ان کی زندگیاں ختم کر دی گئیں‘ کچھ اور ایسے ہیں جن کے تاریخ میں درخشندہ طور پر محفوظ کر لئے گئے ہیں‘ وہ تحریک میں وسعت پیدا کر کے اس کو بلندیوں پر لے گئے اور اس کو ایک خاص سمت میں ڈال دیا۔ تاہم کچھ ایسے بھی ہیں جو آدھے راستے پر ہی تھک گئے اور ان کے اعصاب جواب دے گئے اور انہوں نے اپنے قدم روک لئے اور کچھ نے اپنے کو بدل لیا‘ کچھ نے اپنے راستے کو بدل کر دوسرے نظریات کو جذب کر کے اپنے ذہنوں میں ناسور پیدا کر لئے۔ اگر اس تحریک کی تحلیلی اور علمی تاریخ تعصبات اور تہمات سے بالاتر ہو کر لکھی جائے تو یہ ایک ضخیم کتاب بنے گی‘ اس چھوٹی سی کتاب میں ہم اس موضوع پر زیادہ نہیں لکھ سکتے اور ان تمام مطالب کی وضاحت نہیں کر سکتے‘ ہم صرف یہاں خداوند تعالیٰ سے دست بدعا ہیں کہ وہ تمام لوگوں کی خیر و برکت دے جن کی سچے دل کی اور نیک نیت کے ساتھ اس تحریک کے مقاصد کے حصول کی خاطر سرگرم ہیں۔
تحریک کا بحران
دوسرے کئی واقعات کی طرح تحریکیں بھی بحرانوں کا شکار ہوتی رہتی ہیں‘ لیکن یہ قیادت کا فرض ہے کہ وہ تحریک کو بحران سے بچائے۔ اگر بحران آ بھی جائے تو قیادت اعتماد کر کے اپنی تحویل میں تمام ذرائع سے استفادہ حاصل کر کے بحران سے تحریک کو بچانے کی پوری کوشش کرتی ہے۔ بحران کو سمجھنے میں سستی کرنے یا اس کی اہمیت کا صحیح اندازہ نہ لگا سکنے کی وجہ سے یا تو تحریکیں منزل مقصود تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہو جاتیں ہیں یا ان کا رخ کسی دوسری طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس تحریک کے کچھ ممکنہ خطرات کا جائزہ لیں‘ کچھ خطرات ہماری نظروں سے اوجھل بھی رہ سکتے ہیں۔
۱) غیر ملکی نظریات کا دخل
باہر کے نظریات دو طرح سے اثیر پذیر ہوتے ہیں‘ ایک دشمن کی طرف سے ہوتا ہے۔ جب ایک معاشرتی تحریک ایسی منزل پر پہنچ جاتی ہے‘ جہاں اس میں پوری قوم کو حرکت میں لانے کی اہلیت پیدا ہو جاتی ہے اور تحریک تیزی سے مقبول ہونے لگتی ہے تو اس وقت تحریک تمام دوسرے نظریات پر چھا جاتی ہے اور دوسرے نظریات کے حامی لوگ اس کی ناکامی کی کوشش شروع کر دیتے ہیں‘ وہ بیرونی نظریات تحریک کے اثر کو کم یا زائل کرنے میں ایک کردار ادا کرتے ہیں۔
اسلام کے پہلے ادوار میں کچھ ایسا ہی ہوا‘ جب اسلام دنیا کے نقشے پر وسیع سے وسیع تر ہونے لگا تو اسلام کے دشمنوں نے اسلام کو مسخ کرنے کے لئے تحریفی جہاد کیا اور اسلام کے لیبل میں اپنے نظریات کو پھیلانے کی کوشش کی‘ جیسے صیہونی تحریکیں۔ انہوں نے جس طریقے سے اسلامی اقدار کو مسخ کرنے کی کوشش کی وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے‘ لیکن اللہ کے ان صاحب علم حضرات کا شکریہ ادا کرنا چاہئے جنہوں نے اس کی بروقت تشخیص کر کے اس کا مداوا کیا اور ان کے اثر کو زائل کرنے میں کامیاب ہوئے اور ان حضرات کی کوششیں آج بھی جاری ہیں۔
اسلام کے خلاف دوسرا طریقہ خود اسلام کے پیروؤں کے ہاتھوں استعمال ہوا‘ بعض دفعہ پیروکار مکتب فکر کو طور پر نہ سمجھنے کی وجہ سے دوسرے متوازی نظریات سے شعوری اور غیر شعوری طور پر متاثر ہو جاتے ہیں اور دوسرے نظریات کو اپنے مکتب کے رنگ میں پیش کرتے ہیں‘ اسی طرح کے حالات اسلام کے اولین ادوار میں پیش آئے‘ مثلاً کچھ لوگوں نے اسلام کی خدمت کے خیال سے یونانی فلسفہ‘ ایرانی رسومات و آداب اور ہندوستانی تصوف کو اسلامی تعلیمات میں شامل کرنے کی کوشش کی۔ خوش قسمتی سے صاحبان دانش حضرات کی عمیق نظروں نے ان باتوں کو فوراً بھانپ کر ان کا تدارک کیا‘ انہوں نے ان کا تنقیدی جائزہ لے کر درآمد شدہ نظریات کی بیخ کنی کی۔
آج جبکہ ایران میں اسلامی تحریک اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور دوسرے تمام مکتب ہائے فکر پر چھا چکی ہے تو ایسے حالات پیدا کئے جا سکتے ہیں جو اس تحریک کے رخ کو موڑنے یا اس کو ختم کرنے پر منتج ہوں۔ ایک گروہ ایسا ہے جو مادیت پرستی کا واضح رجحان رکھتا ہے‘ لیکن ان کو احساس ہے کہ ان کے نعروں میں اتنی جاذبیت نہیں ہے کہ وہ ایرانی نوجوانوں کو متاثر کر سکیں‘ لہٰذا انہوں نے اپنے نعرہ کو اسلامی رنگ دینے کی کوشش کی۔ یہ قدرتی امر ہے کہ اسلام جن نوجوان اذہان میں آیا ان میں مادیت کا اثر پہلے سے موجود تھا‘ وہ مادیت کی لپیٹ میں تھے۔ یہاں اسلام سطحی طور پر آیا اور ایسے نوجوانوں کے اذہان کو اسلام سے ہٹایا جا سکتا ہے‘ ایک دوسری صورت جو بہت خطرناک ہو سکتی ہے وہ یہ ہے کہ ایسے افراد جو بنیادی طور پر اسلامی تعلیمات سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہوتے اور بیرونی نظریات پر فریفتہ ہوتے ہیں‘ وہ اخلاقیات پر لکھنا اور بولنا شروع کر دیتے ہیں‘ حالانکہ اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ وہ دراصل بیرونی نظریے کے اخلاقیات کا پرچار کر رہے ہیں۔ یہ اپنے آپ کو صرف اخلاقیات تک محدود نہیں رکھتے‘ بلکہ دوسرے علوم مثلاً تاریخ‘ فلسفہ‘ مذہب‘ پیغمبری کا تصور‘ اقتصادیات‘ سیاسیات‘ بین الاقوامیت اور تفسیر وغیرہ کے متعلق بھی بولنا اور لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔
بحیثیت ذمہ دار شخص کے اور ان ذمہ داریوں کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے اوپر ڈالی ہیں‘ یہ اپنا فرض اولین سمجھتا ہوں کہ میں اسلامی تحریک کے ان بڑے بڑے لیڈروں کو کہ جن کی میرے ذہن میں بہت قدر و منزلت ہے‘ آگاہ کروں کہ وہ بیرونی نظریات پر اسلامی فکر کی مہر ثبت کر کے ارادی یا غیر ارادی طور پر اس کا پرچار کر رہے ہیں اور یہ بات اسلام کی بنیادوں کے لئے بہت ہی خطرناک ہے۔
ہم ذمہ دار اشخاص ہیں اور ہم نے دور جدید زبان میں اسلام کے کئی پہلوؤں پر زیادہ لٹریچر شائع نہیں کیا ہے۔ یہ یقینی بات ہے کہ اگر ہم نے پاک اور صاف پانی زیادہ مقدار میں جمع کیا ہوتا تو لوگ گندے پانی سے اپنے آپ کو سیراب نہ کرتے‘ اس کا حل یہ ہے کہ ہم اسلامی مکتب فکر کے نظریات کو آج کی زبان میں متعارف کرائیں۔ ہمارے تعلیمی مراکز خاص طور پر جاگ چکے ہیں‘ لیکن انہیں ان عظیم تعلیمی فکری ذمہ داریوں سے آگاہ ہونا چاہئے جو ان کے کندھوں پر ڈالی گئی ہیں‘ انہیں اپنی مصروفیات کو تیز سے تیز تر کرنا چاہئے‘ وہ صرف فقہ اور بنیادی امور تک اپنے آپ کو محدود نہ رکھیں کیونکہ ایسا کرنے سے وہ دور جدید کے نوجوانوں کی ضروریات کو پورا نہیں کر سکیں گے۔
۲) انتہائی قدامت پسندی
کسی بھی کام میں انتہا پسندی سے پرہیز اور میانہ روی اختیار کرنے سے کچھ مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے‘ میانہ روی کا راستہ نہایت ہی تنگ اور پُرخطر ہوتا ہے‘ ذرا سی بے احتیاطی اس راستے سے دور لے جانے کی موجب بن سکتی ہے۔ مذہب میں ”صراط مستقیم“ کو ”بال“ سے زیادہ باریک قرار دیا ہے‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس راستے پر ہر قدم سوچ سمجھ کر رکھنا چاہئے۔
یہ ظاہر ہے کہ انسانی سوسائٹی کے سامنے نئے نئے مسائل ہیں اور ان کے حل کے لئے نئے طریقے اپنانے کی ضرورت ہے‘ عصر حاضر کے مسائل اور روز بروز کے پیچیدہ واقعات کا حل کرنا اسلامی تعلیمات کا دفاع کرنے والوں کا فرض ہے‘ اس لئے ایک مجتہد اور مرجع کا وجود ہر دور میں ضروری ہے‘ اس لئے زندہ مجتہد کی ضرورت کا احساس ہوتا ہے‘ اگر تمام مسائل ایک ہی نوعیت کے ہوں تو پھر زندہ اور فوت شدہ مجتہد کی تقلید میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔
باحیات مجتہد جب دور حاضر کے مسائل پر توجہ نہ دے رہے ہوں تو وہ مردوں یا فوت شدگان کے زمرہ میں آ جاتے ہیں‘ قدامت پسندوں کا مسئلہ یہاں سمجھایا جا سکتا ہے۔
کچھ دوسرے ”عوام زدہ“ ہیں‘ وہ عوام الناس کی حکمرانی سے متاثر ہیں اور ان کا معیار صرف عوام الناس کے مزاج پر منحصر ہوتا ہے۔ عوام الناس عموماً پیچھے کی طرف دیکھتے ہیں اور مستقبل اندیش نہیں ہوتے‘ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو موجودہ مسائل سے آگاہ ہیں اور سوسائٹی کے مستقبل پر نظر رکھتے ہیں‘ لیکن بدقسمتی سے وہ اسلام پر سختی سے کاربند نہیں ہیں‘ ان کے لئے صرف یہ معیار ہے کہ حالات کا رخ کس طرف ہے اور اس کو ”آزاد اجتہاد“ کا نام دیتے ہیں۔
بجائے اس کے کہ وہ سچ اور جھوٹ کی پہچان اسلام کی کسوٹی پر کریں‘ وہ حالات کے رخ پر بہتے ہیں اور اقتدار اعلیٰ کے موڈ اور قوت کو اسلام کا معیار قرار دیتے ہیں‘ مثلاً ایک سے زیادہ شادی کو عورتوں کے دور غلامی کی نشاندہی قرار دیتے ہیں اور یہی کچھ پردہ کے متعلق کہتے ہیں۔
وہ دلیل دیتے ہیں کہ مزارعیت‘ شراکت اور جاگیرداری‘ جاگیردارانہ نظام کے اثرات ہیں اور اس طرح بہت سے احکام کو وہ زمانہ رفتہ کے باقیات سمجھتے ہیں‘ ان کا کہنا ہے کہ اسلام دین‘ عقل اور اجتہاد ہے اور اجتہاد اس کا متقاضی ہے کہ
یہ ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ وہ معیار جو اصل تسنن کے روشن فکروں مثلاً عُبدہ اور اقبال نے مختلف مسائل کے بارے میں بیان کئے ہیں‘ جیسے عبادات اور محاصلات کے فرق کے بارے اور اجماع‘ اجتہاد اور شوریٰ وغیرہ کی مخصوص تشریحات کی ہیں‘ ان کے تصورات ہمارے لئے کہ ہم شیعہ عقائد کی ترقی پسندانہ اسلامی ثقافت کے ماحول میں پروان چڑھے ہیں‘ کبھی قابل قبول نہیں۔ شیعہ فقہ‘ شیعہ حدیث‘ شیعہ کلام‘ شیعہ فلسفہ‘ شیعہ تفسیر‘ شیعہ فلسفہ اجتماع ایسے سنی علوم کے مقابلے میں زیادہ ترقی یافتہ اور زیادہ واضح ہیں۔
یہ سچ ہو سکتا ہے کہ جغرافیائی اور غیر جغرافیائی بنیادوں پر سُنّی دنیا شیعہ دنیا کی نسبت دور حاضر کی تہذیب اور اس کی مشکلات کے بارے میں زیادہ علم رکھتی ہے اور انہوں نے ان مشکلات کو حل کرنے کے لئے مستعدی سے کوشش بھی کی ہو گی۔ اس کے مقابلے میں شیعوں نے ان مشکلات کے حل کے لئے زیادہ مستعدی نہیں دکھائی‘ لیکن پچھلے چند سالوں میں سنیوں اور شیعوں نے اس میدان میں جو کام کئے ہیں ان کے تقابل سے یہ معلوم ہوتا ہے‘ اہل بیت اطہارعليهالسلام کے مکتب کی پیروی کی برکت سے شیعوں کے پیش کردہ نظریات زیادہ گہرے اور زیادہ منطقی ہیں۔ ہم کو اس کی ضرورت نہیں ہے کہ ہم عُبدہ‘ اقبال‘ فرید وجدی‘ سید قطب‘ محمد قطب‘ محمد غزالی جیسے حضرات کو اپنا ماڈل بنائیں۔
بہرحال غیر معتدل جدت پسندی کا شکار شیعہ‘ سنّی دونوں ہیں‘ اس طرح کی جدت پسندی کا مقصد یہ ہے کہ اسلام میں سے اسلامی عناصر نکال پھینکے جائیں اور غیر اسلامی عناصر داخل کر دیئے جائیں اور یہ سب اس لئے کیا جاتا ہے کہ اسلام کو نئے زمانے کے سانچے میں ڈھالا جائے اور موجودہ زمانے کی نفسیات کے مطابق بنایا جائے‘ یہ تحریک کے لئے نقصان دہ ہے اور تحریک کے ارباب حل و عقد کا فرض ہے کہ وہ اس کی روک تھام کریں۔
۳) نامکمل چھوڑنا
پچھلے ایک سو سال کی اسلامی بیداری کی تحریکوں کا مطالعہ کیا جائے تو یہ ایک بدقسمتی نظر آئے گی کہ ان تحریکوں کی مذہبی قیادت میں ایک بنیادی کمزوری رہی ہے کہ انہوں نے دشمن پر مکمل کامیابی حاصل کرنے تک کوشش کی‘ لیکن آخر میں آ کر اپنی سرگرمیوں کو روک دیا اور اپنی ریاضت کا پھل دوسروں کے حوالے کر دیا اور غالباً دشمنوں کے ہاتھوں میں! اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی اپنی غصب شدہ زمین حاصل کر لینے کے بعد گھر میں آرام سے بیٹھ جائے اور دوسرے اس کی زمین کو آباد کر کے بیج بوئیں اور فصل کھائیں۔ عراقی انقلاب شیعہ علمائے دین کی قیادت میں ابھرا‘ لیکن شیعہ مکتب فکر نے اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اور اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔
ایران کی آئینی تحریک بھی شیعہ علماء کے زیراثر تھی‘ لیکن نامکمل چھوڑ دی گئی اور اس سے صحیح نتائج بھی حاصل نہ کئے جا سکے‘ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک ایسا ڈکٹیٹر پیدا ہوا جس نے آئین کی حکمرانی کو صرف نام کی حد تک باقی رکھا‘ صرف یہ نہیں بلکہ لوگوں نے یہ سوچنا شروع کر دیا کہ ڈکٹیٹرشپ آئینی حکومت سے زیادہ فیض رساں ہے اور آئینی حکومت ایک گناہ ہے۔ یہ بھی بڑے افسوس کی بات ہے کہ تمباکو کی تحریک بھی اس وقت نامکمل چھوڑ دی گئی جب معاہدہ کی منسوخی کا اعلان کیا گیا‘ حالانکہ یہ تحریک لوگوں کو صحیح اسلامی حکومت بنانے کے لئے متحد اور منظم کر سکتی تھی۔
ایران میں موجودہ اسلامی تحریک ایک نظام سے انکار کی منزل پر ہے‘ لوگ متحد چٹان کی طرح استبدادیت اور نوآبادیت کے خلاف اٹھ کھڑے ہیں‘ انکار کی منزل کے بعد ہمیشہ اثبات اور تعمیر کی منزل آیا کرتی ہے‘ ”لا اللہ کے بعد الا اللہ“ کی منزل ہے‘ کسی تحریک میں انکار و اثبات کی منزل کے بعد اثبات اور تعمیر کی منزل زیادہ کٹھن اور دشوار ہوتی ہے‘ آج مکتب کو اور علماء کو اس بات کا احساس ہونا کہ وہ اس کام کو ادھورا چھوڑیں یا مکمل کریں‘ ان کی ہوشیاری کی نشاندہی کرے گی۔
۴) موقع پرستوں کی رخنہ اندازیاں
کسی تحریک میں شامل موقع پرستوں کی رخنہ اندازیاں اور اثر و رسوخ سے اس تحریک کو بڑا خطرہ لاحق ہوتا ہے‘ یہ صحیح رہنما کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ان کے اثرات کو زائل کریں اور ان کی کوششوں کو ناکام کریں۔ کوئی تحریک جب ابتدائی دشوار منازل کو طے کر لیتی ہے تو اس تحریک کے باایثار‘ صاحب ایمان اور مخلص کارکنوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے‘ کیونکہ اس منزل کے پانے کے فوراً بعد موقع پرست ان کے گرد اپنا حلقہ بنا لیتے ہیں‘ دشواریاں اور مشکلات جتنی کم ہوتی جائیں گی‘ اتنے ہی زیادہ موقع پرست تحریک کے ساتھ اپنی وابستگی ظاہر کریں گے۔ وہ موقع پرست کوشش کرتے رہتے ہیں کہ سچے اور باایثار انقلابیوں کو بتدریج راستے سے ہٹاتے جائیں‘ یہ عمل اتنا زیادہ ہمہ گیر ہو چکا ہے کہ اب کہا جاتا ہے کہ
”انقلاب خود اپنے بچوں کو جھاتا جاتا ہے۔“
لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ انقلاب خود نہیں ہوتا‘ جو اپنے بچوں کو نگل جاتا ہے‘ بلکہ یہ موقع پرست کی رخنہ اندازی اور ریشہ دوانی سے غفلت برتنے کا نتیجہ ہوتا ہے۔
زیادہ دور نہ جایئے! یہاں ایران میں وہ کون لوگ تھے جو آئینی انقلاب لائے اور وہ کون تھے جنہوں نے انقلاب کی کامیابی پر اعلیٰ عہدے سنبھالے؟ اور اس کا آخری نتیجہ کیا نکلا؟
قوم پرست رہنما‘ قومی سورما اور آزادی کے تمام متوالے راستے سے ہٹا کر بھلا دیئے گئے اور انہوں نے بھوک و گمنامی کی حالت میں دم توڑ دیا‘ لیکن اس کے مقابلے میں وہ ”سورما“ جو آخری وقت تک انقلابیوں کے خلاف آمریت کے جھنڈے تلے لڑتے رہے‘ وزیراعظم کے عہدے پر پہنچے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آئینی حکومت کے بھیس میں مطلق العنانی وجود میں آئی۔
موقع پرستوں نے اپنے ہتھیار اسلام کے پہلے دور میں بھی استعمال کئے‘ خلیفہ عثمان کے زمانے میں وزارت اور مشاورت کے اہم عہدوں پر وہ لوگ فائز ہو گئے جو اس قابل نہیں تھے اور جو اہل تھے ان کو یا تو ملک بدر کر دیا گیا یا ان کے حلقہ اثر کو محدود کر دیا گیا‘ مثلاً ابوذر غفاریؓ اور عمار یاسرؓ۔
قرآن نے فتح مکہ(سورئہ حدید‘ ۱۰) سے قبل کے انفاق‘ جہاد اور فتح کے بعد کے انفاق اور جہاد کا تذکرہ کر کے درحقیقت جو فتح مکہ سے پہلے اور فتح مکہ کے بعد کے مومنوں‘ مجاہدوں اور اہل انفاق کے فرق کو واضح کیا ہے۔ جنہوں نے فتح سے پہلے قربانیاں پیش کیں‘ وہ ان کی طرح نہیں ہیں جنہوں نے فتح کے بعد ایسا کیا۔ پہلے والے دوروں کی نسبت اعلیٰ وصفوں کے مالک ہیں‘ معنی صاف واضح ہیں کہ فتح سے پہلے صرف مصیبت و مشقت کے کڑوے گھونٹ تھے‘ لڑنے والوں کا یقین پختہ تھا اور ان کی قربانیں بے لوث اور سچی تھیں‘ وہ موقع پرستی اور ذاتی مفاد سے کوسوں دور تھے‘ لیکن فتح کے بعد قربانیاں اور کوششیں کسی ذاتی مقصد کے بغیر نہیں تھیں۔
پہلے مجاہدین کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ
”آپ کے ۲۰ نفر کافروں کے ۱۰۰ نفر کے برابر ہیں‘ لیکن اگر ان میں یقین کامل پیدا نہ ہوا ہو‘ اسلامی روح ان کے اندر پوری طرح نہ سمائی ہوئی ہو اور وہ اسلامی تحریک پر پختہ یقین نہ رکھتے ہوں تو اسلام وہاں صرف موقع پرستی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور پھر ان کے ایک ۱۰۰ آدمی دشمن کے ۲۰ آدمیوں کے برابر ہوتے ہیں۔“
مختصراً یہ کہ موقع پرستوں کے خلاف جہاد کرنا تحریک کو صہیح راستے پر چلانے کے لئے اشد ضروری ہے۔
۵) مستقبل کی مبہم و غیر واضح منصوبہ بندی
فرض کریں کہ ہم ایک ایسے بے تکے اور بوسیدہ مکان کو ختم کرنا چاہتے ہیں جس میں ہم انتہائی مشکل حالات میں رہ رہے ہیں اور اس کی جگہ ایسا مکان بنانا چاہتے ہیں جس میں سابقہ مکان کے نقائص موجود نہ ہوں‘ ہمرای راحت و آرام کے ساز و سامان سے پوری طرح لیس ہو۔ اس صورت میں دو چیزیں ہمارے دماغ میں آئیں گی‘ ایک منفی احساس موجودہ بوسیدہ مکان کی برائیوں کے بارے میں اور مثبت احساس نئے مکان کے اوصاف کے بارے میں‘ جس کو ہم جلد سے جلد بنانا چاہتے ہیں۔ منفی احساس کے ضمن میں ہم پر آشکارا ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے‘ ظاہراً اس بات کی تشریح کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ ہم اس فرسودہ مکان کو کیوں گرانا چاہتے ہیں‘ لیکن اس مثبت احساس کے حوالے سے اگر نئے مکان کے بارے ہمیں مفصلاً بتا دیا جائے کہ اس میں کیا کیا سہولتیں ہوں گی تو اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی کہ ہم اس کو قبول کر لینے کے اعلان میں کوئی رکاوٹ محسوس نہ کریں‘ لیکن جبکہ ایک صورت میں کہ نئے مکان کا کوئی پلان ہمارے سامنے نہ رکھا جائے اور صرف یہ کہا جائے کہ اس بوسیدہ مکان کو گرانے کے بعد ایک عالی شان مکان تعمیر کیا جائے گا‘ تو یہ ہمارے تجسس کو بڑھائے گا اور ساتھ ہی تشویش کا عنصر بھی نمایاں ہو گا۔
یہ ایک مثال سے سمجھایا جا سکتا ہے کہ فرض کریں‘ انجینئروں کے دو گروپ تعمیرات کے دو مختلف پلان دیتے ہیں‘ ایک گروپ نے نہایت محتاط طریقے سے پلان بنایا اور اس کی تمام تفصیلات اور اندرونی ڈھانچہ کی وضاحت کی ہے اور اس کے مقابل میں دوسرے گروپ نے جو تعمیرات میں کافی مہارت رکھنے کی وجہ سے لوگوں کا اعتماد رکھتا ہے‘ اپنے پلان کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا ہے‘ صرف زبانی طور پر یقین دلایا ہے کہ اس کی بنائی ہوئی بلڈنگ اعلیٰ درجہ کی ہو گی‘ تو یہ ممکن ہے کہ اس گروپ کی مبہم و غیر واضہ اعلان کی وجہ سے ہم دوسرے گروپ کی طرف مائل ہو جائیں۔
ہمارے مذہبی علماء انجینئروں کے اس گروپ جیسے ہیں جن کو لوگوں کا اعتماد تو حاصل ہے لیکن انہوں نے مستقبل کے کسی واضح پلان کے بارے میں عوام کو آگاہ نہیں کیا اور نہ ہی ایسا پلان پیش کیا ہے جس کو منظور کرایا جا سکے‘ جب کہ دوسری جماعتوں کے پاس منصوبے اور نقشے موجود ہیں جو واضح ہیں اور بخوبی معلوم ہے کہ حکومت‘ قانون‘ آزادی‘ سرمایہ‘ ملکیت‘ عدالت اور اخلاقیات کے لحاظ سے وہ کس طرح کے معاشرے کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔
اس تجربے سے ثابت ہے کہ مستقبل کا واضح لائحہ عمل کا نہ ہونا انسان کے لئے کافی نقصان دہ ہے‘ کسی تحریک کے لئے بڑا ضروری ہے کہ اس کا مستقبل کے پلان کے متعلق ان کے لیڈروں کے درمیان مکمل رضامندی اور اتفاق ہو‘ تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔ ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ثقافت کے خام مال کے لحاظ سے ہم کسی کے محتاج نہیں ہیں اور ہمیں کسی اور سرچشمے کی ضرورت نہیں‘ صرف جس بات کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ اپنے مقصد کے لئے ثقافتی مال کو باہر نکال کر صاف کیا جائے اور اس کو کارآمد بنایا جائے‘ اس کے لئے ہوشیاری‘ محنت اور وقت کے صحیح استعمال کی ضرورت ہے۔
یہ چیز باعث اطمینان ہے کہ ہوشیاری اور بیداری کا ہمارے حوزہ ہائے علمیہ میں آغاز ہو چکا ہے اور امید کرتا ہوں کہ اس میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا اور ہماری آرزو جلد پوری ہو جائے گی۔
اللهم حقق رجائنا و لا تخیب آمالن
۶) چھٹا اندیشہ
جو الٰہی تحریک کیلئے خطرناک بن سکتا ہے وہ اس کے امور کے متعلق ہے
یہ افکار کی سمت میں تغیر اور ارادوں میں تبدیلی ہے‘ الٰہی تحریک اللہ کے لئے چلائی جاتی ہے اور اس کو اللہ کے لئے چلتے رہنا چاہئے۔ آخری کامیابی تک اس میں اللہ کے سوا کسی قسم کا خیال تحریک میں داخل نہیں ہونا چاہئے‘ تبدیلی کا ارادہ تک نہیں کرنا چاہئے‘ اگر ان میں ذرا بھی کمزوری ہو گی تو اندیشے اور خطرات اس کے راستے میں آ جائیں گے اور اس کو تباہ کر دیں گے جو تحریک کا آغاز کرتا ہے وہ خوشنودی اللہ کے علاوہ اور کچھ سوچ بھی نہیں سکتا‘ وہ اللہ کی ذات مقدس پر مکمل توکل رکھتا ہے اور ذہنی طور پر خود کو ہر وقت اللہ کے حضور میں حاضر سمجھتا ہے۔ قرآن میں شعیبعليهالسلام نبی کی زبانی ارشاد ہوتا ہے:
( ان ارید الا الاصلاح ما استطعت وما توفیقی الا بالله علیه توکلت و الیه انیب )
”مسلمانوں کا ایک گروہ جنگ لڑنے کے بعد مدینہ واپس لوٹا تو رسول خدا نے ان سے فرمایا:
مرحبا بقوم قضوا الجهاد الاصغر و بقی علیهم الجهاد الاکبر
”آفرین ہے ان لوگوں پر جنہوں نے جہاد اصغر تو مکمل کر لیا‘ لیکن جہاد اکبر ابھی باقی ہے۔“
وہ بولے:
یا رسول الله وما الجهاد اکبر
”جہاد اکبر کیا ہے؟“
فرمایا:
”خواہش نفس کے خلاف جہاد۔“
انکار کی منزل پر جب ساری سرگرمیاں بیرونی دشمنوں سے برسرپیکار رہنے میں صرف ہو رہی ہوتی ہیں‘ خیال اور نیت کو پاک و آلائش سے الجھنا قدرے آسان ہوتا ہے لیکن جب تحریک عروج پر پہنچ جائے اور تعمیر کی مثبت منزل آ جائے اور جب موقع پرستوں کو کافی مواقع میسر ہوں تو اس منزل پر اتحاد و یگانگت اور خلوص کو قائم رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
سورئہ مائدہ تو قرآن کی ان آخری سورتوں میں سے ایک ہے جو رسول اکرم ۱ کی زندگی کے آخری دو تین مہینوں میں اتری۔ اس وقت مشرکین کی پوری طرح سرکوبی ہو چکی تھی اور ان کی طرف سے اسلام کو کوئی خطرہ نہیں تھا‘ ایسے وقت غدیر خم کے مقام پر امامت کی اہمیت کے متعلق آگاہ کیا گیا۔ اللہ کے حکم سے علی علیہ السلام کی امامت اور خلافت کا اعلان کیا گیا اور مسلمانوں کے لئے اس خطرے کا خدائی اعلان ہوا:
”اب تک تم اپنے دشمنوں سے ڈرتے تھے کہ وہ تم کو تباہ و برباد کر دیں گے‘ اب یہ پریشانی دور ہو چکی ہے‘ اب پریشانی خدا کی طرف سے ہے‘ اب تم اپنے دشمنوں اور کافروں سے نہ ڈرو‘ بلکہ مجھ سے ڈرو‘ کیونکہ میں تمہاری گھات میں ہوں۔“
( الیوم یئس الذین کروا من دینکم فلاتخشوهم واحشون )
یعنی کیا؟ مطلب صرف یہ ہے کہ اسلامی معاشرے کو صرف اس بات سے خطرہ ہونا چاہئے کہ وہ اللہ کے راستے سے ہٹ نہ جائیں اور خدا کو بھلا نہ دیں اور سنت کو بدل نہ دیں‘ یہ ناگزیر الٰہی قانون ہے کہ جو قوم خدا کے بتائے ہوئے راستوں سے بھٹک جائے تو خدا ان کی حالت کو بدل دیتا ہے۔
( ان الله لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما با نفسهم ) (رعد‘ ۱۶)
”خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی‘ جب تک وہ خود اپنی سوچ اور عمل سے اپنے آپ کو نہیں بدلتے۔“
مصلح کی کامیابی کی شرطیں
میں اس مضمون کے اختتام پر مولائے متقیان حضرت علیہ علیہ السلام کے نہج البلاغہ میں منقول اقوال زرین میں سے ایک قول کو بیان کرنے کا شرف حاصل کرتا ہوں‘ جس میں انہوں نے چند ایسی خاصیتیں بتائی ہیں جو کہ ایک انقلابی مصلح کے لئے ضروری ہیں‘ میں اس کی تفسیر بیان کرنے کی بھی جسارت کر رہا ہوں۔
انہوں نے فرمایا:
انما یقیم امرالله سبحانه من لا یصانع ولا یضارع ولا یتبع المطالمع (نہج البلاغہ‘ ۱۵۷)
ان جملوں کا مطلب ”فرامین خدا کی تائید کرنا“ ہے۔
پچھلی صدی میں جتنے اسلامی مصلح گزرے ہیں‘ انہوں نے اس قول کو ”اسلامی فکر کی احیاء“ سے تعبیر کیا ہے۔ ذکر اس کا ہے کہ بعض ایسے موقعے آتے ہیں کہ کسی معاشرے میں خدا کے احکام زمین پر آ رہتے ہیں‘ ان کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے اور ان احکام کو دوبارہ نافذ کرنا ہوتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون شخص ہے جو اس پیغمبرانہ کام کو سرانجام دینے کی قدرت رکھتا ہے؟
علی علیہ السلام کے اقوال زرین میں لفظ ”انما“ تین خصوصیتوں کی شرط لگاتا ہے جن سے ایک مصلح کو محفوظ رہنا چاہئے‘ یہ ہیں:
”مصانعہ‘ مضارعہ (مشابہت) اور لالچ کی غلامی۔“
لفظ ”مصانعہ“ کے لئے مجھ کو کوئی ایک ایسا لفظ نہیں مل سکا جو اس کے مفہوم کو پورے طور پر ادا کر سکے‘ مثلاً ”مصلحت“، ”احتیاط برتنا“ وغیرہ‘ یہ سب مصانعہ کے ذیل میں آتے ہیں لیکن مصانعہ کا مفہوم اس سے زیادہ وسیع ہے۔ جب علیعليهالسلام کے سامنے یہ تجویز پیش کی گئی کہ معاویہ کو معزول کرنے کے سلسلے میں جلدی نہ کریں تو اس بات کو علیعليهالسلام اور ان کے رفقاء نے ”مصانعہ“ سے تعبیر کیا‘ یہاں تک کہ علیعليهالسلام اس ”مصلحت“ کی خاطر اس بات پر بھی تیار نہ ہوئے کہ معاویہ ایک گھنٹہ بھی اپنے عہدے پر باقی رہے۔ علیعليهالسلام اس کو ”مصانعہ“ سمجھتے تھے‘ حالانکہ یہ اس طرح کی مصلحت تھی جس سے سیاست دان کام لیتے ہی رہتے ہیں۔
بعض اوقات رفقاء اور احباب علیعليهالسلام کے پاس آتے تھے اور منہ پر ان کی تعریف کرتے تھے‘ ان کی عظمت کا ذکر کرتے تھے اور ان کے لئے القابات استعمال کرتے تھے اور اگر امور و معاملات میں کوئی نقص نظر آتا تھا تو وہ گول کر جاتے تھے اور ظاہر نہیں کرتے تھے۔ علیعليهالسلام سختی سے منع کرتے تھے کہ یہ طرز عمل اختیار نہ کرو اور کہتے تھے کہ یہ طرز عمل ایک طرح کی ”مصانعہ“ ہے اور کہتے تھے:
لا تحالطونی بالمصانعه ولا تکلمونی بما تکلم به الجبابرة
”مصالحت کے ساتھمجھ سے نہ ملا کرو اور میرے ساتھ وہ اندازِ گفتگو اختیار نہ کرو جو ظالم و جابر لوگوں کے ساتھ گفتگو کرتے وقت اختیار کیا جاتا ہے‘ یعنی خوشامد‘ چاپلوسی‘ تعریف و ستائش اور بڑے بڑے القابات سے اپنی گفتگو کو آراستہ نہ کیا کرو۔“
وہ صاف صاف کہا کرتے کہ مجھ کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ جب لوگ مجھ سے ملیں تو تکلفات و تعریف و ستائش کی بجائے نقائص اور عیوب کو صاف صاف بیان کر دیا کریں۔
احکام خدا کے صادر کرنے کے معاملے میں جھجک اور ہچکچاہٹ ”مصانعہ“ ہے‘ امور میں دوست‘ ساتھی‘ اولاد‘ رشتہ دار اور مرید کے ساتھ رو رعایت سے کام لینا ”مصانعہ“ ہے۔
قرآن کریم میں لفظ ”ادھان“ آیا ہے‘ آج کل عام طور پر لفظ ”مداہنہ“ کا رواج ہے۔ ”ادھان“ یعنی ”لیسپاپوتی“، یہ لفظ ایسے موقع پر استعمال کیا جاتا ہے جب کسی کام کو سنجیدگی سے انجام نہ دیا جائے صرف اوپری سطح پر‘ صرف ظاہر کو در ست کر دیا جائے‘ لیکن کام کی اسپرٹ کی طرف توجہ نہ کی جائے۔
قرآن فرماتا ہے کہ
”کفار کو تو یہ پسند ہے کہ اہل مداہنہ میں سے ہوتے تاکہ وہ مداہنہ سے کام لیتے‘ مثلاً توحید‘ اخوت‘ مساوات‘ امتناع سود‘ ان سب کا ظاہر ٹھیک ٹھیک رہتا‘ نہ کہ ان کی روح اور ان کی حقیقت۔“
مختصر یہ کہ کفار چاہتے تھے کہ تم اہل مصانعہ ہوتے اور تم وہ نہیں ہو‘ پس محض ظاہر کو سنوارنے پر قناعت کر لینا ”مصانعہ“ ہے۔
ہم بتا چکے ہیں کہ خدائی احکام کی تعمیل کے سلسلے میں دوستوں‘ اولاد‘ رشتہ داروں‘ مریدوں کے ساتھ رعایت برتنا ”مصانعہ“ ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں ایک قصہ تاریخ میں درج ہے‘ جو اس لحاظ سے سبق آموز ہے:
”ایک دفعہ علیعليهالسلام سپہ سالار کی حیثیت سے اپنے سپاہیوں کے ساتھ یمن سے واپس آ رہے تھے‘ یمنی پوشاکیں ان کے ساتھ تھیں‘ جو وہ بیت المال کے لئے لا رہے تھے۔ نہ تو خود آپعليهالسلام نے ان میں سے کوئی پوشاک زیب تن فرمائی‘ نہ کسی سپاہی کو پہننے دی۔ جب آپعليهالسلام مکہ سے ایک دو منزل کے فاصلے پر پہنچے (اس وقت رسول خدا حج کے لئے مکہ آئے ہوئے تھے) تو حضرت علیعليهالسلام اپنی کارگزاری پیش کرنے کے لئے خود آگے بڑھ گئے اور آنحضرت ۱ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پھر اپنے لشکر کے پاس واپس آئے تاکہ سپاہیوں کے ہمراہ مکہ میں داخل ہوں۔ جس وقت آپعليهالسلام لشکر کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ سپاہیوں نے وہ پوشاکیں پہن رکھی ہیں‘ علیعليهالسلام نے بغیر کسی ہچکچاہٹ‘ رو رعایت اور سیاسی مصلحت اندیشی کے وہ لباس اتروا لئے اور واپس رکھوا دیئے‘ سپاہیوں پر یہ بات گراں گزری۔ جب یہ سپاہی آنحضرت کے حضور میں حاضر ہوئے تو آنحضرت ان سے مختلف مختلف سوالات کرتے رہے‘ اسلسلسے میں بھی پوچھا کہ کیا تم لوگ تم اپنے سپہ سالار کے رویے سے خوش ہو؟ وہ بولے کہ جی ہاں‘ لیکن اور پھر انہوں نے پوشاکوں والا واقعہ بیان کیا‘ اس موقع پر حضرت علیعليهالسلام کے بارے میں رسول خدا نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا:
انه لا خیش فی ذات الله
”وہ ذات خدا کے معاملے میں بہت سخت گیر ہیں۔“
یعنی جہاں تک احکام خداوندی کا تعلق ہے وہ کسی مصانعہ اور رو رعایت سے کام نہیں لیتے‘ مصانعہ اور مصانعہ پسندی ایک طرح کی کمزوری اور برائی ہے‘ اس کے مقابلے میں سخت گہری کا اصول ہے جو ایک طرح خی دلیری اور طاقت ہے۔“
اور اب ”مضارعہ“ مضارعہ یعنی مشابہت‘ جو شخص کسی معاشرے کی اصلاح کرنا اور اس کو بدلنا چاہتا ہے‘ اس کو خود اس معاشرے کے لوگوں جیسا نہیں ہونا چاہئے یعنی اس کو ان کمزوریوں سے پاک ہونا چاہئے‘ جن میں اس معاشرے کے لوگ مبتلا ہیں‘ تبھی وہ کامیابی سے ہمکنار ہو سکتا ہے ( ع)
و غیر تقی یا مر الناس بالتقی
طبیب ید اوی الناس وهو علیل
جہاں تک جسمانی بیماریوں کا تعلق ہے‘ یہ ممکن ہے کہ کبھی ایک بیمار دوسرے بیمار کی بیماری دور کرنے میں کامیاب ہو جائے‘ لیکن روحانی اور معاشرتی علاج کے معاملے میں یہ ناممکن ہے‘ اپنی ذات کی اصلاح معاشرے کی اصلاح پر مقدم ہے۔ اسی طرح آپ نے ارشاد فرمایا:
”خدا کی قسم میں نے تم کو کسی ایسی بات کا حکم نہیں دیا جس پر حکم دینے سے پہلے خود عمل نہ کیا ہو اور تم کو ایسی بات سے منع نہیں کیا جس سے پہلے خود پرہیز نہ کیا ہو۔“
جو شخص عوام الناس کا امام و رہنما بننے کا خواہش مند ہے‘ اس کو پہلے خود اپنی ذات کی تعلیم و تربیت پر توجہ کرنا ہو گی‘ اس کے بعد عوام الناس کی تعلیم و تربیت کی باری آئے گی۔ دوسروں کو تعلیم و ادب سے آراستہ کرنے والے زیادہ سے زیادہ محترم وہ شخص ہے جو خود اپنی شخصیت کو تعلیم و ادب سے سنوارے۔
اور اب ”لالچ کی غلامی“ علیعليهالسلام نے فرمایا:
الطمع دق موبد (نہج البلاغہ‘ کلمات قصاء‘ حکمت‘ ۱۸۱)
لالچ ایک جاودانی غلامی ہے‘ ہر قسم کی غلامی میں امید ہوتی ہے کہ مالک آزاد کر دے گا‘ لیکن لالچ جیسی غلامی میں تو ایسی کوئی امید نہیں ہوتی‘ اس غلامی میں وہاں کا اختیار آقا کی بجائے خود غلام کو ہوتا ہے‘ جو شخص احکام خدا کو عملی جامہ پہنانا چاہتا ہو اس کو ان زنجیروں سے آزاد ہونا چاہئے۔
دینی مصلح کی کامیابی کے لئے روحانی آزادی لازمی ہے‘ جس طرح مصلحتوں کو پیش نظر رکھنے والا گھٹیا انسان خدائی اصلاح کے سلسلے میں کامیاب نہیں ہوتا‘ جس طرح خود بیماری میں مبتلا انسان اپنے معاشرے کو شفا نہیں دے پاتا‘ اسی طرح نفسانی طمع اور لالچ کا بندہ بھی دوسروں کو معاشرتی اور روحانی زنجیروں سے آزاد کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
اے پروردگار! تو دلوں اور ذہنوں کا مالک ہے اور سب دل تیرے اختیار میں ہیں‘ ہم کو سیدھے راستے پر قائم اور نفس آمارہ کے شر سے محفوظ رکھ!
فہرست
اصلاح ۴
حضرت علی عليهالسلام ۵
اسلامی تاریخ میں اصلاحی تحریکیں ۷
سید جمال الدین ۹
سید کی دو خصوصیات ۱۰
۱) استبدادی حکام کی خود غرضی کے خلاف جنگ ۱۴
۲) جدید سائنسی اور ٹیکنالوجی سے لیس ہونا ۱۴
۳) اصلی اسلام کی طرف پلٹنا ۱۴
۴) نظریات پر ایمان و عقیدہ ۱۵
۵) بیرونی استعمار کے خلاف جنگ ۱۷
۶) اسلامی اتحاد ۱۸
۷) مغرب کے جاہ و جلال کے خلاف جنگ ۱۹
سید کی آرزو ۲۲
سید کی خصوصیات ۲۲
کواکبی ۲۴
عرب دنیا کی اصلاحی لہروں میں کمی ۲۷
اقبال ۲۸
شیعوں کی اصلاحی تحریکیں ۳۲
ایرانی اسلامی تحریک ۳۴
تحریک کی نوعیت ۳۵
تحریک کے مقاصد ۳۸
۱) ترد المعالم من دینک ۳۸
۲) نظهد الاصلاح فی بلادک ۳۹
۳) یا من المظلومون من عبادک ۳۹
۴) تقام المعطلة من حدودک ۳۹
تحریک کی قیادت ۴۰
تحریک کا بحران ۴۹
۱) غیر ملکی نظریات کا دخل ۴۹
۲) انتہائی قدامت پسندی ۵۰
۳) نامکمل چھوڑنا ۵۲
۴) موقع پرستوں کی رخنہ اندازیاں ۵۴
۵) مستقبل کی مبہم و غیر واضح منصوبہ بندی ۵۵
۶) چھٹا اندیشہ ۵۷
مصلح کی کامیابی کی شرطیں ۵۸