تاريخ اسلام (2)پيغمبر اكرم (ص) كى زندگي- جلد 2
گروہ بندی متن تاریخ
مصنف مركز تحقيقات علوم اسلامي
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام كتاب: تاريخ اسلام (زندگى پيامبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) (۲)

مؤلف: مركز تحقيقات اسلامي

مترجم: معارف اسلام پبلشرز

ناشر: نور مطاف

جلد: دوم

اشاعت: تیسری

تاريخ اشاعت: ذی القعده ۱۴۲۷ ھ_ق

جملہ حقوق طبع بحق معارف اسلام پبلشرز محفوظ ہيں _


عرض ناشر:

ادارہ معارف اسلام پبلشرز اپنى اصلى ذمہ دارى كو انجام ديتے ہوئے مختلف اسلامى علوم و معارف جيسے تفسير، فقہ، عقائد، اخلاق اور سيرت معصومين(عليہم السلام) كے بارے ميں جانے پہچانے محققين كى قيمتى اور اہم تاليفات كے ترجمے اور طباعت كے كام كو انجام دے رہاہے_

يہ كتاب(عہد رسالت ۲) جو قارئين كے سامنے ہے پيغمبر اكرم(صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم) اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے اہل بيت اطہار (عليہم السلام) كى سيرت اور تاريخ پر لكھى جانے والى كتابوں كے سلسلے كى ايك كڑى ہے جسے گذشتہ سالوں ميں ترجمہ كرواكر طبع كيا گيا تھا_ اس ترجمہ كے دستياب نہ ہونے اور معزز قارئين كے مسلسل اصرار كے باوجود اس پر نظر ثانى اور اسے دوبارہ چھپوانے كا موقع نہ مل سكا_

خداوند عالم كے لطف و كرم سے اس سال كہ جسے رہبر معظم (دام ظلہ) كى جانب سے رسول اعظمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا سال قرار ديا گيا ہے، اس نفيس سلسلے كى دوسرى جلد كو ، نظر ثانى اور تصحيح كے بعد دوبارہ زيور طبع سے آراستہ كيا جارہاہے_ ہم اميد كرتے ہيں كہ خداوند متعال كے فضل و كرم ، امام زمان (عجل اللہ تعالى فرجہ الشريف) كى خاص عنايت اور ادارے كے ساتھ تعاون كرنے والے محترم فضلاء كے مزيد اہتمام و توجہ سے اس سلسلے كى بعد والى جلدوں كو بھى جلد از جلدچھپوا كر مطالعہ كے شائقين كى خدمت ميں پيش كرسكيں گے_

ان شاء اللہ تعالى

معارف اسلام پبلشرز


مقدمہ

سيرت نگارى كى مختصر تاريخ

علم تاريخ، تمام اقوام ميں رائج فنون ميں سے ايك فن ہے_ مورخين ،تاريخ لكھنے كے لئے سفر كرتے اور دنيا بھر ميں گھومتے رہتے ہيںجبكہ عوام اس كى معرفت كے شوقين اور علماء و مفكرين اس كى شناخت كے سلسلے ميں اپنى دلچسپى كا اظہار كرتے ہيں_

مسلمان مورخين نے تاريخ اسلام اور ماضى ميں رونما ہونے والے واقعات كو اكٹھا كركے تاريخ كے صفحات پر قلمبند كيا ہے_

چونكہ تاريخى حقائق كو شروع ہى سے خفيہ طاقتوں نے اپنے پنجوں ميں جكڑ كر جھوٹ اور فريب كے ساتھ مخلوط كرديا ہے لہذا تاريخى كتب و اسناد كى انتہائي دقت كے ساتھ چھان بين ، معتبر اور غير معتبر كى شناخت اور تاريخى حقائق كو افسانوى و بے بنياد مطالب سے جدا كرنا ہر محقق و مصنف كا فريضہ ہے_

مورخين اسلام نے تاريخى واقعات كو محفوظ كئے جانے كى ضرورت محسوس كرتے ہوئے آغاز ہى سے تاريخ نگارى كا كام شروع كرديا تھا_ سب سے پہلے سيرت پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر عروَة بن زُبير ( متولد ۲۳ھ، متوفى ۹۴ھ) نے كتاب تحرير كى _ اس كے بعد عاصم بن قتادہ ( متوفى


۱۲۰ھ) محمد بن مسلم بن شہاب زہرى ( متولد ۵۱ ھ، متوفى ۱۲۴ھ) ،عبداللہ بن ابى بكر بن حزم انصارى (متوفى ۱۳۵) اورپھر محمد بن اسحاق بن يسار ( متولد ۸۵ ھ، متوفى ۱۵۲ھ) كہ جن كى كتاب بعد ميں ابن ہشام كے كام كى بنياد قرار پائي_ پھر ان كے بعد كتاب ''المغازي'' كہ مصنف واقدى (متولد ۱۵۱ھ ، متوفى ۲۰۷ھ) اور ابن سعد ( متوفى ۲۳۰) كا نام ليا جاسكتا ہے_ مذكورہ مورخين كى كتب ميں سے اب سيرت ابن اسحاق كا كچھ حصّہ ، جبكہ واقدى كى ''المغازي'' سيرت ابن ہشام اور طبقات ابن سعد ہمارى دسترس ميں ہيں_

دوسرے مشہور اسلامى مورخين ميں يعقوبى ( متوفى ۲۹۲ھ) طبرى ( متولد ۲۲۴، متوفى ۳۱۰ھ) مسعودى (متولد ۲۸۷، متوفى ۳۴۶ھ) كا نام ليا جاسكتا ہے_ جن كى كتابيں تاريخ كى قديمى كتب شمار ہوتى ہيں انہى كتب كى جانب محققين رجوع كرتے ہيںاور انہيںبطور حوالہ پيش كرتے ہيں_


ہدف تاليف

تاريخ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بارے ميں اب تك بہت سى كتابيں مختلف زبانوں ميں لكھى جاچكى ہيں اور ہر لكھنے والے نے ايك خاص زاويہ سے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى زندگى كا جائزہ ليا ہے_

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى سيرت پر قلم اٹھانے والوں كى كاوشيں لائق تحسين ہيں مگر يہ كہنا پڑتا ہے كہ ايك ايسى كتاب كى كمى محسوس ہوتى ہے جو مختصر ہونے كے ساتھ ساتھ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى زندگى كے اہم واقعات كا تجزيہ بھى كرے_

چونكہ موجودہ كتابيں درسى كتب كے عنوان سے قابل استفادہ نہيں ہيں لہذا اس كمى كو پورا كرنے كے ليے انتہائي سعى و كوشش كى گئي ، جس كا نتيجہ موجودہ كتاب ہے ، يہ كتاب دو حصوں پر مشتمل ہے_


پہلا حصّہ ''پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى زندگى كے آغاز سے جنگ بدر تك ''اور دوسرا حصّہ ''احد سے رحلت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تك'' كے حالات اپنے دامن ميں سميٹے ہوئے ہے_ اس كتاب كى خصوصيات مندرجہ ذيل ہيں_

۱_ مطالب كو جمع كرتے وقت اس بات كا لحاظ ركھا گيا ہے كہ ايسے اصلى منابع اور قديم كتب سے استفادہ كيا جائے جو صدر اسلام سے قريب تر زمانہ ميں تاليف كى گئي ہوں_

۲_ كتاب ميں بيان كئے گئے واقعات كى صحت كے بارے ميں مزيد اطمينان كے لئے متعدد مصادر سے رجوع كيا گيا ہے_

۳_ كتاب ميں واقعات نقل كرنے كے علاوہ ، واقعات كا تجزيہ اور زمانہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جنگوں ميں شكست و فتح كے اسباب كا جائزہ ليا گيا ہے_ نيز يہود، منافقين اور مشركين كى اسلام دشمن كا روائيوں پر بھى روشنى ڈالى گئي ہے_

۴_ تاريخى واقعات كے ضمن ميں شان نزول كى مناسبت سے قرآنى آيات ذكر كرنے كى كوشش كى گئي ہے_

۵_ قمرى تاريخوں كے ساتھ ساتھ شمسى اور عيسوى تاريخوں كو بھى ذكر كيا گيا ہے تا كہ جنگوں اور صدر اسلام كے ديگر اہم واقعات كے دوران موسمى حالات واضح رہيں_

۶_ فاصلہ اور دورى بعض جنگوں اور واقعات كا محل وقوع مدينہ سے دورى كيلومٹر ميں معين كى گئي ہے_

۷_ افراد اور مختلف مقامات كے نام پر اعراب لگاديئےئے ہيں تا كہ پڑھنے والوں كے لئے ان الفاظ كى صحيح تلفظ كے ساتھ ادائيگى ممكن ہوجائے_

۸_ كتاب كے مطالب كو اسباق كى شكل ميں بيان كيا گيا ہے جبكہ ہر سبق كے بعد كچھ سوالات بھى پيش كئے گئے ہيں_

۹_ اس كتاب ميں بہت سے نئے مطالب پيش كئے گئے ہيں جسكى وجہ سے يہ كتاب منفرد، انتہائي مفيد اور دلچسپ ہوگئي ہے_


پہلا سبق

غزوہ بنى قينقاع

حضرت فاطمہ زہرا (ع) كا حضرت على (ع) كے ساتھ عقد

غزوہ سويق

غزوہ بنى سليم

''قَرَدَة''ميں سرّيہ زيد بن حارثہ

غزوہ غَطَفَان

جنگ احد كے مقدمات

جنگ رونما ہونے كے اسباب

پہلا قدم: جنگى بجٹ كى فراہمي

لشكر كى جمع آوري -- سياسى پناہ گزين

لشكر قريش كى مدينہ روانگي -- عباس كى خبر رساني

سپاہ قريش راستہ ميں

معلومات كى فراہمى

لشكر ٹھڑنے كى خبر

مدينہ ميں ہنگامى حالت

فوجى شوراى كى تشكيل

آخرى فيصلہ

سوالات

حوالہ جات


غزوہ بنى قَينُقاع

بدر كى زبردست لڑائي نے علاقہ كے جنگى توازن كو مسلمانوں كے حق ميں كرديا _ جنگ كے بعد منافقين اور يہودى ، مسلمانوں كى فتح مبين سے حسد كرنے لگے اس لئے كہ وہ مسلمانوں كى ترقى سے سخت خائف تھے_ انھوں نے رسول خدا --صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے كئے گئے معاہدوں كے برخلاف مسلمانوں اور اسلام كو بدگوئي اور دشنام طرازى كا نشانہ بنايا اور مگر مچھ كے آنسوبہاتے ہوئے قريش كو مسلمانوں سے انتقام لينے كے لئے بھڑكانے لگے_ ان كے شعراء ہجويہ نظموںميں كفار كے ليے مسلمان خواتين كے اوصاف بيان كركے مسلمانوں كى ناموس كى اہانت كرتے تھے_

رسول خدا نے مذكورہ '' مفسدين فى الارض'' ( زمين پر فساد پھيلانے والوں) كے قتل كا حكم صادر فرمايا اور وہ لوگ قتل كرديئے گئے_(۱)

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بخوبى جانتے تھے كہ يہودى آئندہ انتقامى جنگ ميں مدينہ سے باہر كے دشمنوں كے لئے راستہ ہموار اور اسلام كى پيٹھ پر خنجر كا وار كريں گے_ اس لئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس مشكل سے بچنے كے لئے راستہ ڈھونڈ تے رہے اور سياسى و دفاعى طاقت كو زيادہ سے زيادہ


مضبوط كرنے كى كوشش فرماتے رہے_

مدينہ كے يہوديوں ميں بنى قينقاع كے يہوديوں نے سب سے بڑھ چڑھ كر پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے خلاف سرد جنگ چھيڑ ركھى تھى ، انہوں نے نازيبا اور توہين آميز نعرے بلند كركے عملى طور پر عہد و پيمان كو لغو كرديا تھا_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حجت تمام كرنے كى غرض سے بنى قينقاع كے بازار ميں مجمع سے خطاب كے دوران انہيں نصيحت كى اور اُس اجتماعى معاہدئے پر كاربند رہنے كى تاكيد فرمائي جو دونوں طرف سے كيا گيا تھا_ اور فرمايا كہ '' قريش كى سرگذشت سے عبرت حاصل كرو اس لئے كہ مجھے ڈرہے كہ جن مصيبتوں نے قريش كو اپنى لپيٹ ميں لے ليا تھا وہ تمھيں بھى نہ جكڑ ليں'' _

پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى نصيحتيں يہوديوں كے لئے بے اثر ثابت ہوئيں انہوںنے گستاخانہ جواب ديا: ''اے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كياآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہميں قريش سمجھ ركھا ہے؟ ناتجربہ كاروں سے جنگ ميں كاميابى كے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مغرور ہوگئے ہيں ( معاذ اللہ) خدا كى قسم اگر ہم تمہارے خلاف جنگ كے لئے اٹھ كھڑے ہو ئے تو آپ - - ---صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو معلوم ہوجائے گا كہ مرد ميدان ہم ہيں يا كوئي اور؟

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كى تمام گستاخيوں اور جسارتوں كے باوجود اپنے غصّہ كو پى ليا اور انھيں ان كے حال پر چھوڑديا ، مسلمانوں نے بھى بردبارى سے كام ليا تا كہ ديكھيں آئندہ كيا ہوتا ہے؟

ابھى چند دن بھى نہ گذرے تھے كہ فتنہ كى آگ بھڑك اُٹھى _ ايك مسلمان عورت بنى قينقاع كے بازار ميں زيورات خريدنے كى غرض سے ايك سُنار كى دُكان كے سامنے بيٹھ گئي، يہوديوں نے اس عورت كے چہرے سے نقاب اتروانا چاہاليكن اس نے انكار كرديا


اس يہودى سنارنے چپكے سے اس عورت كى لاعلمى ميں اس كے كپڑے كے كنارہ كو اس كى پشت پر باندھ ديا جب وہ عورت كھڑى ہوئي تو اس كا جسم عريان ہوگيا تمام يہودى ہنسنے لگے، عورت نے فرياد شروع كى اور مسلمانوں كو مدد كے لئے پكارا ايك مسلمان نے اس يہودى سناركو قتل كرڈالا ، يہوديوں نے بھى حملہ كركے اس مسلمان كو قتل كرديا_

بات بڑھ گئي اور مسلمان انتقام لينے كے لئے اُٹھ كھڑے ہوئے ،بنى قينقاع كے يہودى دكانيں بندكركے اپنے قلعوں ميں چھپ گئے_

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے مدينہ ميں '' ابولبابہ''(۲) كواپنا جانشين معيّن فرمايا اور لشكر اسلام كے ہمراہ ۱۵ شوال بروز ہفتہ ۲ ھ (ہجرت كے ۲۰ ماہ بعد اور جنگ بدر كے ۳۸ دن بعد) بنى قينقاع كے قلعہ كا محاصرہ كرليا، يہ محاصرہ پندرہ روز تك جارى رہا يہاں تك كہ يہوديوں نے تنگ آكر خود كو مسلمانوں كے حوالہ كرديا_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے منافقين كے سربراہ ''عبداللہ بن اُبَّي '' كى منّت و سماجت كى وجہ سے ان كے قتل سے درگزر فرمايا اور انھيں شام كے مقام ''اذراعات'' كى جانب ملك بدر كرديا، ان كے اموال كو مسلمانوں كے لئے مال غنيمت قرار ديا اور خمس نكالنے كے بعد مسلمانوں كے درميان تقسيم كرديا_(۳)

حضرت فاطمہ زہرا (ع) كا حضرت علي (ع) كے ساتھ عقد

اسلام كى عظيم ترين خاتون حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا كا عقد ہجرت كے دوسرے سال بدر كى لڑائي كے دو ماہ بعد حضرت على عليہ السلام سے ہوا_

شادى كى تقريب نہايت سادہ مگر معنوى شان و شوكت كے ساتھ منعقد ہوئي


، حضرت فاطمہ زہرا (ع) كا مہر ۵۰۰ درہم(۴) تھاجو حضرت على (ع) نے اپنى زرہ فروخت كركے پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں پيش كيا_

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس ميں سے كچھ درہم اپنے اصحاب كو ديئے تا كہ بازار سے حضرت فاطمہ زہرا (ع) كے ليے جہيز كا سامان خريد لائيں_

مندرجہ ذيل چيزيں جہيز كے عنوان سے خريدى گئيں:

۱_ سات درہم كا ايك پيراہن

۲_ ايك درہم كى سر پراوڑھنے والى چھوٹى چادر

۳_ايك كالى چادر (قطيفہ)

۴_ايك عربى چارپائي جو لكڑى اوركھجور كے پتوں كى بنى ہوئي تھي

۵_دو توشك جن كا اوپر والا حصّہ مصرى كتان كا بنا ہوا تھا اور ايك ميں اون اور دوسرے ميں كھجور كے پتّے بھرے ہوئے تھے_

۶_چار تكيے جن ميں سے دواون اور دو كھجور كى چھال سے بھرے ہوئے تھے_

۷_ پردہ

۸_ چٹائي

۹_ چكى ( ہاتھ سے چلانے والي)

۱۰_ ايك بڑا طشت

۱۱_ كھال كى ايك مشك

۱۲_ ايك لكڑى كا پيالہ ( دودھ كے لئے)

۱۳_ايك كھال كا برتن ( پانى كے لئے)


۱۴_ لوٹا

۱۵_ تابنے كے چند بڑے برتن

۱۶_مٹى كے چند كوزے

۱۷_ چاندى كا دست بند

پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے اصحاب جب بازار سے لوٹے تو انھوں نے سامان آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے سامنے ركھا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جب اپنى بيٹى كا جہيز ديكھا تو فرمايا:'' خدايا ان لوگوں كى زندگى كو مبارك قرار دے جن كے زيادہ تر ظروف مٹى كے ہيں''(۵)

اس با بركت شادى كا پہلا ثمرہ حضرت امام حسن مجتبى عليہ السلام ہيں آپ ۱۵ رمضان المبارك تين ہجرى كو جنگ احد سے پہلے متولد ہوئے_(۶)

غزوہ سويق

پانچ ذى الّحجہ ۳ ھ، ق بمطابق ۵جون ۶۲۴ئجنگ بدر ميںذلّت آميز شكست كے بعد ابو سفيان نے يہ نذر كى كہ جب تك محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جنگ اور بدر كا انتقام نہيںلوں گا اس وقت تك عورتوں كے پاس نہيں جاو ںگا_ لہذا اس نے قبيلہ قريش كے دو سو،سواروں كو جمع كر كے مدينہ كى جانب كو چ كيا_

چونكہ دو سو ،سواروں كے ذريعہ مدينہ پر حملہ كرنے كى جرا ت اسميں نہيں تھى اس لئے شہر سے دور اس نے لشكر كو ٹھہرايا اور رات كى تاريكى سے فائدہ اُٹھا كر ''سلّام بن مشُكم ''كے پاس پہنچا جو كہ نبى نُضَيركے يہوديوںكا ايك بڑا آدمى تھا _ اس نے ابو سفيان كو مسلمانوں كى دفاعى كمزوريوں سے آگاہ كيا_


ابو سفيان لشكر گاہ كى طرف پلٹ آيا اور كچھ سپاہيوں كے ہمراہ حملے كى نيت سے مدينہ كى طرف بڑھااور ''عُرَيض' ' نامى جگہ پر لوٹ مار كي، دو گھروں ، كھجور كے چند درختوں يا كھيتوں ميں آگ لگائي اورنخلستان ميں كام كرنے والے دو مسلمانوں كو قتل كر ديا _

جب دشمنوںكے حملے كى خبر پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو پہنچى تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بغير كسى تاخير كے ''ابو لبابہ '' كومدينہ ميں اپنا جانشين بنايااور مہاجرين و انصار ميں سے دو سو آدميوں كا لشكر لے كر دشمن كے تعاقب ميں نكل پڑے ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ''قَرقَرَةُ الكُدر' ' تك دشمن كا پيچھا كيا ليكن دشمن فرار ہو چكا تھا اور بھاگتے ہوئے ''سويق(۷) كے تھيلے ''كو گراںبارى سے بچنے كے لئے راستہ ہى ميںپھينك گيا تھا _ اس وجہ سے يہ غزوہ' غزوہ سويق كے نام سے مشہور ہوا_(۸)

غزوہ بنى سُلَيم

۱۵محرم ۳ ھق بمطابق ۱۵ جولائي ۶۲۴ئ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كويہ خبر ملى كہ غطفان و بنى سليم كے قبائل مكہ اور شام كے درميان بخارى كے راستے ميں (اطراف قَرقَرالكُدر ميں ) مدينہ پر حملہ كرنے كى تيارياں كر رہے ہيں_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دو سو افراد كے ساتھ ان كى طرف بڑھے دشمن نے جب لشكر اسلام كو نزديك ہوتے ہوئے محسوس كيا تو رات كى تاريكى كا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھاگ كھڑے ہوئے_

لشكر اسلام نے دشمنوں كے پانچ سو اونٹ غنيمت ميں حاصل كئے اور مدينہ كى طرف لوٹ آئے_(۹)


''قَرَدَة''ميں سرّيہ زيد بن حارثہ

يكم جما دى الثانى ۳ ھ ق بمطابق ۲۲ نومبر ۶۲۴ئ جنگ بدر اور يثرب ميں اسلامى تحريك كے نفوذ كے بعد ' قريش كا مغربى تجارتى راستہ جو مكہ سے شام كى طرف جاتاتھا مسلمانوں كے زير نگين آجانے كى وجہ سے غير محفوظ ہو گياتھا _ قريش نے يہ ارادہ كيا كہ اپنے اورقافلہ كے تحفظ كے لئے اس راستہ كو چھوڑ كر طويل مشرقى راستہ اپنائيں_ يہ راستہ نجد كى آباديوں سے ہوكر، عراق اور عراق سے شام جاتا تھا_ انھوں نے اس راستہ سے گزرنے كے لئے ''راہنما'' كا انتظام كيا_

اس راستے سے پہلا قافلہ ''صفوان بن اُميّہ ''اور قريش كے ديگر سرداروں كى سربراہى ميں شام گيا_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قافلے كى روانگى سے باخبر ہوتے ہى بلاتاخير ايك سو سواروں پر مشتمل ايك مضبوط لشكر تشكيل ديا اور ''زيد بن حارثہ ''كو اس كا كمانڈر بناكر حكم ديا كہ اس نئے راستے پر پہلے سے پہنچ كر قريش كے قافلے كا راستہ بند كرديں_ جناب زيد نجد كى طرف روانہ ہوئے اور اونٹوں كے نشان قدم كے ذريعہ قافلے كا تعاقب كيا، يہاں تك كہ مقام ''قَرَدہ ''پر كارواں كو جاليا_

قافلے كے نگران اور سر براہ افراد بھاگ كھڑے ہوئے اور پورا قافلہ بغير كسى خونريزى كے مسلمانوں كے ہاتھ آگيا اور قافلے كے دو نگہبان اسير ہوگئے_

خمس نكالنے كے بعد بقيہ مال '' جو كہ اسى ''۸۰ ''ہزار درہم تھے'' جنگى دستے كے سپاہيوں

كے درميان تقسيم ديا گيا_(۱۰)


غزوہ غَطَفَان

نجد ميں ''ذى امرّ ''كے مقام پر رياض سے ۱۱كيلوميٹر شمال مغرب ميں ۱۲ ربيع الاول ۳ ھ_ ق بمطابق ۵ ستمبر ۶۲۴ء كو يہ غزوہ ہوا_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو خبر ملى كہ '' بنى ثَعلَبَہ'' اور '' بنى مُحارب'' كى ايك بڑى جمعيت نے ''ذى ا مَرّ'' كے مقام پر ڈيرہ ڈال ركھا ہے اور دُعثور بن حارث نامى شخص كى كمان ميں مدينہ پر حملے كا ارادہ ركھتے ہيں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم چارسوپچاس جنگجو افراد كو جمع كركے دشمن كى طرف بڑھے_ يہ اطلاع ملتے ہى دشمن پہاڑيوں كى جانب بھاگ گيا _ غرض كہ كوئي ٹكراؤ نہيں ہوا_(۱۱)

جنگ احد كے مقدمات

بروز ہفتہ۷ شوال ۳ ھ ق بمطابق ۲۶ مارچ ۶۲۵ئ

جنگ رونما ہونے كے اسباب

اسلامى مركز ''مدينہ'' پر قريش كے فوجى حملے كے مختلف اسباب ہيں جنكى جانب مختصر طور پر اشارہ كيا جا رہا ہے_

۱_ جنگ بدر ميںمسلمانوں كى شاندار فتح ، قريش، يہود اور منافقين كے لئے باعث ننگ اور ناگوار تھي_ قريش نہ صرف اپنے سرداربلكہ اپنى سردارى ، ہيبت اور عربوں كے درميان موجود اثر و رسوخ كوبھى كھو بيٹھے اور يہ زمانہ جاہليت كے عربوں كے لئے نہايت رنج كا باعث تھا جو سردارى كو اپنا قومى فخر سمجھتے تھے_


۲ _ كينہ و انتقام كى آگ ; قريش اور ان كے مقتولين كے وارثوں كے دلوں ميں كينہ اور انتقام كى آگ شعلہ ور تھى اور قريش كے سرداروں نے كشتگان بدر پر رونے كو حرام قرار ديا تھا تا كہ مناسب موقع پر ان كے جذبات بھڑكا كر منظم طريقے سے اسلام اور مسلمانوں سے انتقام ليا جاسكے_

۳ _يہوديوں كا بھڑكانا ; يہوديوں كے لئے اسلام كا پھيلنا خوش آئند نہ تھا _ لہذا انھوں نے مشركين قريش كو بھڑكانے ميں بڑا زبردست كردار ادا كيا_ بطور نمونہ ملاحظہ ہو _ ''كعب بن اشرف ''جنگ بدر كے بعد مدينہ سے مكہ كى طرف دوڑا اور وہاں قريش كے مقتولين كے لئے مرثيہ كہا اور مگر مچھ كے آنسو بہا كر ان كے زخم تازہ كرديئے _ يہاں تك كہ انہيں جنگ پر آمادہ كرنے كے لئے پاك باز مسلمان عورتوں كى خوبصورتى كا نقشہ اشعار كے قالب ميں ڈھال كر پيش كيا تا كہ مشركين كو مسلمانوں كے ساتھ جنگ كرنے، اور ان كى عورتوں اور لڑكيوں كو اسير بنانے پر اُكسائے_

۴_ اقتصادى محاصرے كا توڑ; قريش كى اقتصادى و معاشى زندگى كا دار و مدار تجارت پر تھا ، تجارتى راستے غير محفوظ ہونے اور مسلمانوں كے حملے كے ڈرسے ان كى تجارت خطرے ميں پڑ گئي تھى اور اقتصادى و معاشى زندگى جارى ركھنا مشكل ہوگيا تھا اس لئے اس محاصرے كو توڑنا اور ان مشكلات سے جان چھڑوانا بہت ضرورى ہوگيا تھا_

۵ _ آئندہ كے لئے پيش بندي: قريش اس بات سے بخوبى واقف تھے كہ اگر مسلمانوں كو قدرت حاصل ہوگئي تو وہ انہيں ہرگز نہيں چھوڑيں گے اور گذشتہ چند سالہ آزار و اذيت كا جواب ضرور ديں گے_ اس كے علاوہ بُت پرستوں كے ہاتھوں سے مسجد الحرام كو آزاد كروانے كے لئے كسى بھى كوشش سے دريغ نہيں كريں گے_


يہ سارى باتيں سبب بنيں كہ قريش حملہ كرنے ميں پيش قدمى كريں اور بزعم خود اسلام اور پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا كا م تمام كرديں_

پہلا قدم ، جنگى بجٹ كى فراہمي

اس وسيع فوج كشى كے سلسلے ميں سب سے پہلا عملى اقدام جنگى مشقوں اور ديگر امور كے لئے زيادہ سے زيادہ بجٹ كى فراہمى تھا ، قريش ، دارالندوہ ( قريش كے مشورہ كرنے كى جگہ ) ميں جمع ہوئے اور بحث و مباحثہ كے بعد آخر ميں يہ طے پايا كہ پچاس ہزار طلائي دينار( تقريباً ساڑھے سات كروڑ تومان) ہونا چاہيئےوريہ رقم اس تجارتى كارواں كے منافع سے مہيّا كى گئي جس كوجنگ بدر سے پہلے ابوسفيان مكّہ ميں صحيح و سالم لے آيا تھا_(۱۲)

قرآن اس سلسلے ميں كہتا ہے كہ ''بيشك كافر اپنے اموال كو خرچ كرتے ہيں تا كہ (لوگوں كو) خدا كے راستہ سے باز ركھيں وہ لوگ ان اموال كو خرچ كر رہے ہيں ليكن يہ ان كى حسرت كا باعث ہوگا_ اس كے بعد ان كو شكست ہوگى اور آخرت ميں كافر جہنّم ميں جائيں گے _(۱۳)

لشكر كى جمع آوري

كفار قريش ، جنہوں نے نزديك سے اسلامى سپاہيوں كى شجاعت اور جذبہ شہادت كو

ديكھا تھا ، انھوں نے تہيّہ كيا كہ پورى توانائي كے ساتھ جنگ كے لئے اُٹھ كھڑے ہوں اور قريش كے علاوہ مكّہ كے اطراف و جوانب ميں موجود قبائل كے بہادروں كو بھى


جنگ ميں شركت كى دعوت ديں_

چار آدميوں كو عرب كے باديہ نشين قبائل كے درميان بھيجا گيا تا كہ انھيں لڑنے اور مدد كرنے كى دعوت ديں، يہ چار آدمى ، عَمرو بن عَاص ، ہُبَيرہ بن ابو وَہَب ، ابن الزَّبَعرى اور ابو عَزَّہ تھے_

ابو عزہ شروع ميں اس ذمّہ دارى كو قبول نہيں كر رہا تھا ، وہ كہتا تھا كہ '' جنگ بدر كے بعد محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تنہا مجھ پر احسان كيا اور مجھ كو بغير تاوان كے آزاد كرديا ميں نے اُن سے وعدہ كيا تھا كہ ان كے مقابل آنے والے كسى بھى دشمن كى مدد نہيں كروں گا _ ميں اپنے پيمان كاوفادار ہوں''_

ليكن لوگوں نے اس كو قانع كيا تو وہ باديہ نشين قبائل كے درميان جاكر اشعار كے ذريعہ لوگوں كو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے خلاف جنگ كرنے پر اكساتا اور لشكر اكٹھا كرتا رہا _دوسرے تين آدميوں نے بھى قبائل كو لڑائي پر اكساكر جمع كيا اور انجام كار قبائل كنَانہ اور تھَامہ كے كچھ لوگ قريش كے ساتھ مل كر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے خلاف جنگ كرنے پر تيار ہوگئے_(۱۴)

سياسى پناہ گزين

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كے مدينہ ہجرت كے بعد ابوعامر فاسق ،قبيلہ اَوس كے ۵۰ افراد كے ساتھ مشركين كے سربرآوردہ افراد كى پناہ ميں آگيا تھا وہ مشركين مكّہ كو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے خلاف جنگ كرنے پر اكساتا رہتا تھا اور اپنے قبيلے كے افراد كے ساتھ مشركين كى تياريوں ميں شريك تھا اس نے كہا كہ يہ ۵۰ افراد ميرے قبيلے كے ہيںاور جس وقت ہم سرزمين مدينہ پر


پہنچيں گے اس وقت قبيلہ اوس كے تمام افراد ہمارى طرفدارى كے لئے اُٹھ كھڑے ہوںگے_

لشكر قريش كى مدينہ روانگي

مكمل تيارى كے بعد قريش نے لشكر كو كوچ كا حكم ديا ، يہ لشكر تين ہزار افراد پر مشتمل تھا جس ميں سات سو زرہ پوش ، دو سو گھڑ سوار ، تين ہزار اونٹ اور بے پناہ اسلحہ كے علاوہ دوران جنگ گا بجا كر سپاہيوں كو تازہ دم كرنے كے ليے ۱۵ عورتيں بھى شريك تھيں_

مشركين كے لشكر كا سپہ سالار ابوسفيان تھا ، سواروں كى كمان خالد بن وليد كے ہاتھ ميں تھى اور ''عكرمہ بن ابى جہل ''خالد كے نائب كى حيثيت سے شريك تھا اس بار لشكر مشركين ہر ايسے اختلاف سے اجتناب كر رہا تھا جو ان كو دو گروہوں ميں بانٹ ديتا_

عبّاس كى خبر رساني

جب لشكر نے كوچ كا ارادہ كيا تو پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے چچا عبّاس بن عبدالمطلب نے '' جو مخفى طور پر مسلمان ہوچكے تھے اور بہت قريب سے قريش كى تياريوں اور كوچ پر نظر ركھے ہوئے تھے'' پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو مشركين كے لشكر كى جنگى صورتحال كى اطلاع دينے كے ليے ايك خط تحرير كيا_

اور قبيلہ بنى غفار كے ايك قابل اعتماد شخص كے ذريعہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں بھيجا_ يہ فرستادہ اتنى تيزى سے روانہ ہوا كہ مكّہ اور مدينہ كا درميانى فاصلہ صرف تين دن ميں طے كر ليا_


جب يہ سوار مدينہ پہنچا تو اس وقت پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ' ' قُبا'' ميں تھے _ وہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس پہنچا اور خط ديا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خط ايك شخص كو دياتا كہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو سُنائے پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے فرمايا كہ اس كا مضمون كسى كو نہ بتانا_

مدينہ كے يہودى اور منافقين نامہ بَر كے آنے سے آگاہ ہوچكے تھے _ اور انھوں نے مشہور كرديا كہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس بُرى خبر پہنچى ہے_ تھوڑى ہى دير ميں لوگ قريش كى لشكركشى سے باخبر ہوگئے_(۱۵)

سپاہ قريش راستہ ميں

راستہ ميں جہاں كہيں پڑاؤ ہوتا لشكر كے ہمراہ موجود عورتيں گانا بجانا شروع كرديتيں اور مقتولين قريش كى ياد دلاكر سپاہيوں كو بھڑكاتى قريش كے سپاہى جہاں كہيں پانى كے كنارے رُكتے اونٹوں كو ذبح كركے اُن كا گوشت كھاتے_(۱۶)

عمروبن سالم خزاعى نے مكّہ اور مدينہ كے درميان مقام ''ذى طوى '' ميں قريش كو خيمہ زن ديكھا تو مدينہ آئے اور جو كچھ ديكھا تھا اس كى خبر پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو دي(۱۷) _

معلومات كى فراہمي

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جمعرات كى رات ۵ شوال ۳ ھ ق، بمطابق ۲۴ مارچ ۶۲۵كو فضالہ كے سراغ رساں بيٹوں ''انس اور مونس ''كو دشمن كى نقل و حركت كے بارے ميں معلومات اكھٹى كرنے كے لئے بھيجا_ انھوں نے قريش كو ''عقيق '' كے مقام پر ديكھا اور ان كے پيچھے ہولئے جب لشكر نے ''وطاء '' كے مقام پر پڑاؤ ڈالا تو وہاں سے پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں


رپورٹ پيش كرنے كے لئے واپس آگئے_(۱۸)

لشكر ٹھہرنے كى خبر

جيسے ہى سپاہ مشركين نے احد كے نزديك وطاء كے مقام پر پڑاؤ ڈالا تو پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ''حُباب بن مُنذر ''كو پوشيدہ طور پر مامور فرمايا كہ دشمن كى قوّت كا اندازہ كريں اور ضرورى معلومات جمع كركے اس كى رپورٹ ديں_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس بات كى تاكيد كى كہ اپنى رپورٹ دوسروں كى موجودگى ميں پيش نہ كريں مگر يہ كہ دشمن كى تعداد كم ہو ( تو اس وقت كوئي حرج نہيں ہے)_

''حُباب ''دشمن كے لشكر كے قريب پہنچے اور نہايت دقت نظر سے جائزہ لے كر واپس آئے اور پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے تنہائي ميں ملاقات كى اور كہا كہ ''اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميں نے ايك بڑا لشكر ديكھاہے ميرا اندازہ ہے كہ كم و بيش تين ہزار افراد ، دو سو گھوڑے اور زرہ پوش سپاہيوں كى تعداد تقريباً سات سو كے قريب ہوگى ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پوچھا كہ تم نے عورتوں كو بھى ديكھا؟ حباب نے كہا كہ ايسى عورتيں ديكھى ہيں جن كے پاس گانے بجانے كا سامان ہے_ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' يہ عورتيں مردوں كو لڑائي پر اُكسانا اور مقتولين بدر كى ياد دلانا چاہتى ہيں، اس سلسلہ ميںتم كسى سے كوئي بات نہ كرنا خدا ہمارى مدد كے لئے كافى اور بہترين حفاظت كرنے والا ہے اے خدا ہمارى روانگى اور حملہ تيرى مدد سے ہوگا_(۱۹)


مدينہ ميں ہنگامى حالت

شب جمعہ ۶ شوال ۳ ھ ق، بمطابق ۲۵ مارچ ۶۲۵ئ _ اوس و خزرج كے برجستہ افراد سعد بن معاذ ، اُسَيد بن حُضَير اور سعد بن عُبَادة چند مسلح افراد كے ہمراہ مسجد اور پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كے گھر كے دروازہ پر حفاظت كے لئے كھڑے ہوگئے_

مشركين كے شب خون مارنے كے خوف سے صبح تك شہر مدينہ كى نگرانى كى جاتى رہي_(۲۰)

فوجى شورى كى تشكيل

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس فكر ميں تھے كہ اگر مسلمان مدينہ ميں رہ كر شہر كا دفاع كريں گے تو مسلمانوں كى فوجى شان و شوكت كمزور پڑ جائے گى اور دشمن جرى ہوجائے گا اور ممكن ہے دشمن كے شہر كے قريب ہوتے ہى منافقين و يہود اندرونى سازش ( يا بغاوت) كے ذريعہ دشمن كى كاميابى كى راہ ہموار كريں دوسرى طرف شہر ميں رہنے كا فائدہ يہ ہے كہ قريش مجبور ہوں گے كہ شہر پر حملہ كريں اور اس صورت ميں دست بدست لڑائي كے حربوں كو بروئے كار لاكر دشمن پر ميدان تنگ اور شكست سے دوچار كيا جاسكتا ہے اور شہر ميں رہنا سپاہيوں ميں دفاع كے لئے زيادہ سے زيادہ جوش پيدا كرے گا_

قريش بھى اسى فكر ميں تھے كہ اگر مسلمان مدينہ ميں رہے تو درختوں كو كاٹ كر اور نخلستان ميں آگ لگا كر ناقابل تلافى اقتصادى نقصان پہنچايا جائے گا_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دفاعى حكمت عملى كى تعيين كے لئے اجلاس بلايا اور اصحاب سے مشورہ طلب كيا اجلاس ميں حضوراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اعلان كيا كہ اگر آپ لوگ مصلحت سمجھيں تو ہم مدينہ


ميں رہيں اور دشمنوں كو اسى جگہ چھوڑديا جائے جہاں وہ اُترے ہيں تا كہ اگر وہ وہيں رہيں تو زحمت ميں مبتلا رہيں اور اگر مدينہ پر حملہ كريں تو ہم ان كے ساتھ جنگ كريں_

عبداللہ بن اُبى نے اُٹھ كر كہا كہ '' يا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابھى تك كوئي دشمن اس شہر پر فتحياب نہيں ہوسكا ماضى ميں ہم نے دشمن كے ساتھ جب بھى ميدان ميں لڑائي كى شكست سے دوچار ہوئے اور جب بھى دشمن نے چاہا ہمارے شہر ميں آئے تو ہم نے شكست دى لہذا آپ انھيں ان كے حال پر چھوڑ ديجئے _ اس لئے كہ اگر وہ وہيں رہے تو بدترين قيد ميں ہيں اور اگر حملہ آور ہوئے تو ہمارے بہادر ان سے لڑيں گے ، ہمارى عورتيں اور بچّے چھتوں سے ان پر پتھراؤ كريں گے اور اگر پلٹ گئے توشرمندہ رسوا ، نااُميد اور بغير كسى كاميابى كے واپس جائيں گے '' مہاجر ين و انصار كے بزرگ افراد حسن نيّت كے ساتھ اسى خيال كے حامى تھے ليكن شہادت كے شوقين نوجوانوں كى بڑى تعداد خصوصاً وہ لوگ جو جنگ بدر ميں شريك نہيں ہوسكے تھے دشمن سے روبرو لڑنے كے لئے بے قرار تھے اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے يہ خواہش ظاہر كر رہے تھے كہ دشمن كے مقابل ميدان كار زار ميں لے چليں_

اس اكثريت ميں لشكر اسلام كے دلير سردار حضرت حمزہ (ع) بھى تھے انھوں نے فرمايا: اس خدا كى قسم جس نے قرآن كو نازل فرمايا ہم اس وقت تك كھانا نہيں كھائيں گے جب تك شہر سے باہر دشمنوں سے نبرد آزمائي نہ كرليں_

جواں سال افراد كچھ اس طرح كا استدلال پيش كر رہے تھے كہ : اے خدا كے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہم اس بات سے ڈر رہے ہيں كہ كہيں دشمن يہ خيال نہ كر بيٹھيں كہ ہم ان كے سامنے آنے سے ڈرتے ہيںاور شہر سے باہر نكلنا نہيں چاہتے _ ہميں اچھا نہيں لگتا قريش اپنے رشتہ داروں كى طرف واپس جاكر كہيں كہ ہم نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو يثرب ميں محصور كرديا ; اور ( اس طرح) اعراب


كو ہمارے مقابلے ميں دلير بناديں_(۲۱)

آخرى فيصلہ

جوانوں كے اصرار پر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اكثريت كى رائے كو قبول فرمايا اور مسلمانوں كے ساتھ نماز جمعہ ادا كى ،خطبہ ميں انہيں جانفشانى اور جہاد كى دعوت دى اور حكم ديا كہ دشمن سے جنگ كرنے كے لئے تيار ہوجائيں ، پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے نماز عصر جماعت كے ساتھ پڑھائي ، اس كے بعد فوراً گھر كے اندر تشريف لے گئے ، جنگى لباس زيب تن فرمايا ''خود ''سرپر ركھى تلوار حمائل كى اور جب اس حليہ ميں گھر سے باہر تشريف لائے تو وہ لوگ جو باہر نكلنے كے سلسلہ ميں اصرار كر رہے تھے، شرمندہ ہوئے اور اپنے دل ميں كہنے لگے كہ '' جس بات كى طرف پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا ميلان نہيں تھا ہميں اس كے خلاف اصرار كرنے كا حق نہيں تھا''_ اس وجہ سے وہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے قريب آئے اور كہا كہ'' اگر آپ چاہيں تو مدينہ ميں رہيں '' رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے فرمايا '' يہ مناسب نہيں ہے كہ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لباس جنگ پہن لے اور قبل اس كے كہ خدا دشمنوں كے ساتھ جنگ كى سرنوشت كو روشن كردے وہ لباس جنگ كو اُتار پھينكے _

اب ہم جو كہہ رہے ہيں وہ كرتے جائيں خدا كا نام لے كر راستہ پرگامزن ہوجاؤ اگر صبر كروگے تو كامياب رہوگے''_(۲۲)


سوالات:

۱ _ غزوہ بنى قينقاع كب واقع ہوا اور اس كا نتيجہ كيا رہا؟

۲_ ''ذى قرد'' كے مقام پر سّريہ ''زيد بن حارثہ ''كس مقصد كے تحت انجام پايا؟

۳_ حضرت على (ع) و حضرت فاطمہ (ع) كا عقد مبارك كس سال ہوا؟

۴_ جنگ احدشروع ہونے كے اسباب كيا تھے؟

۵_ جنگ احد كا بجٹ كفّار نے كس طرح پورا كيا؟

۶_ راہ خدا سے روكنے كى خاطر مال خرچ كرنے كے سلسلہ ميں قرآن كيا كہتا ہے؟

۷_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قريش كى روانگى سے كيسے واقف ہوئے؟

۸_ دشمن كا مقابلہ كرنے كيلئے مسلمانوں نے آخرى فيصلہ كيا كيا ؟


حوالہ جات

۱_ان شعراء كے نام حسب ذيل ہيں:

كعب بن اشرف يہودى ، ابى عفك يہودى اور مشركين ميں سے ايك عورت عصماء بنت مروان ، طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۲۷/۲۸_

۲_ ابن ہشام كى تحرير كے مطابق بشير بن عبدالمنذر ( ابولبابہ) اور ابن اسحاق كى تحرير كے مطابق عبادہ بن وليد بن عبادہ بن صامت_

۳_ مغازى واقعدى جلد ۱ ص ۱۷۶، سيرة ابن ہشام جلد ۳ ص ۴۷، تاريخ طبرى جلد ۲ ص ۴۹۷، طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۲۷_

۴_ ہر درہم ۱۲ نخود كے يعنى آدھا مثقال چاندى كے برابر ہے اس حساب سے آپ كا مہر ۲۵۰ مثقال چاندى ہے_

۵_ اللہم بارك لقوم: جُلّ انيتہم الخزف _ كشف الغمہ جلد ۱ ص ۳۵۹_

۶_مزيد معلومات كے لئے كشف الغمہ كى طرف رجوع كريں ج۱ ص ۳۷۴/۳۴۸، بحار الانوار ج ۴۳ ص ۱۴۵/۹۲ مطبوعہ بيروت ،سيرة المصطفى ص ۳۲۹_۳۲۶_

۷_ انشاء اللہ حضرت علي(ع) و فاطمہ (ع) كے عقد كا تفصيلى حال امامت كى تاريخ ميں بيان كيا جائے گا_

۸_ سويق ايك غذا ہے جو چاول اور جوكے آٹے، شہد اور دودھ سے يا پھر خرمے آٹے اور روغن سے بنتى ہے_ جيسے ستّو_

۹_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۱۸۱_ طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۱۳۰_ سيرة ابن ہشام جلد ۲ ص ۴۴، دلائل النبوة بيہقى جلد ۲ ص ۳۲۲_

۱۰_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۱۸۳_ طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۳۵_ سيرة ابن ہشام جلد ۴/۳ ص ۴۳_


۱۱_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۱۹۷_طبقات جلد ۲ ص ۳۶ _ متاع الاسماع ص ۱۱۲_

۱۲_ مغازى واقعدى جلد ۱ ص ۱۹۰_۱۹۳_ طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۳۴_

۱۳_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰۰_

۱۴_ سورہ انفال آيت ۳۶_

۱۵_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰_

۱۶_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰۴_

۱۷_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰۵،۲۰۶_

۱۸_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰۵_

۱۹_ مغازى واقدى جلد ۱ ، ص ۲۰۶،۲۰۷_

۲۰_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۷۰،۲۰۸_

۲۱_ مغازى واقدى جلد ۱، ص ۲۰۸_

۲۲_ مغازى واقدى جلد ۱ ، ص ۲۱۹،۲۰۹_

۲۳_ مغازى واقدى جلد ۳، ص ۲۴۱،۲۱۳_


دوسرا سبق

لشكر اسلام كى روانگي

لشكر توحيد كا پڑاؤ

منافقين كى خيانت

صف آرائي

دشمن اپنى صفوں كو منظم كرتاہے

جنگى توازن

جنگ كيسے شروع ہوئي؟

دشمن كے حوصلے بلند كرنے ميں موسيقى كا كردار

اجتماعى حملہ

فتح كے بعد شكست

پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا دفاع كرنيوالوں كى شجاعت

ام عمارہ شير دل خاتون

لشكر كى جمع آوري

سوالات

حوالہ جات


لشكر اسلام كى روانگي

روانگى كے وقت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تين نيزے طلب فرمائے اور تين پرچم تيار كيئے لشكر كا عَلَم على بن طالب(ع) ، قبيلہ '' اوس'' كا پرچم '' اُسَيد بن حُضَير '' اور قبيلہ خزرج كا پرچم '' سعد بن عبادة'' كے سپُرد كيا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جمعہ كے دن عصر كے وقت ايك ہزار افراد كے ساتھ مدينہ سے باہر نكلے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم گھوڑے پر سوار اور ہاتھ ميں نيزہ ليے ہوئے تھے _ مسلمانوں كے درميان صرف سو افراد كے جسم پر زرہ تھي_

لشكر اسلام مقام ''شيخان ''پر پہنچا تو ناگہاں ايك گروہ شور و غل كرتا ہوا پيچھے سے آن پہنچا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پوچھا كہ يہ كون ہيں؟ لوگوں نے عرض كيا: اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم '' يہ عبيد اللہ بن اُبّى كے ہم پيمان يہودى ہيں''_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' ان تك يہ بات پہنچا دو كہ ہم ان كى مددسے بے نياز ہيں'' اس كے بعد فرمايا كہ '' مشركين سے جنگ كرنے كے لئے مشركين سے مدد نہ لى جائے''_(۱)

لشكر توحيد كا پڑاؤ

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے شيخان كے پاس پڑاؤ ڈالا اور محمد بن مسلمہ كو ۵۰ افراد كے ساتھ لشكر اسلام


كے خيموں كى حفاظت پر مامور فرمايا_

اس مقام پر جنگ ميں شركت كے خواہشمند نوجوان آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس آئے اور جنگ ميں شركت كى اجازت چاہى ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہيں جنگ ميں شركت كرنے كى اجازت نہ دى ،انہوں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض كيا كہ رافع بن خَديج ايك ماہر تيرانداز ہے اور رافع نے بھى اونچى ايڑى والے جوتے پہن كر اپنے قد كى بلندى كا مظاہرہ كيا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے رافع كو شركت كى اجازت دے دي_ سُمرَة بن جُندُب نے عرض كيا كہ ميں رافع سے زيادہ قوى ہوں ، ميں ان سے كشتى لڑنے كے لئے تيار ہوں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا ٹھيك ہے، كُشتى لڑو_ سمرہ نے رافع كو پٹخ ديا تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے بھى شركت كى اجازت ديدي_(۲)

عبداللہ بن حجش نے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض كيا كہ : اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا دشمنوں نے وہاں ڈيرہ ڈال ركھا ہے_ ميں نے پہلے ہى خدا كى بارگاہ ميں دُعا كى ہے كہ كل جب دشمن سے مقابلہ ہوتو وہ مجھے قتل كرديں ،ميرا پيٹ پھاڑ ڈاليں ،ميرے جسم كو مثلہ كرديں تا كہ اسى حالت ميں خدا كا ديدار كروں اور جس وقت خدا مجھ سے پوچھے كہ كس راہ ميں تيرى يہ حالت كى گئي؟ تو ميں كہہ سكوں كہ اے خدا تيرى راہ ميں_(۳)

عمر و بن جموح ايك پاؤں سے اپاہج تھے جن كے چار بيٹے پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہمراہ جنگوں ميں شير كى طرح لڑتے تھے، جب جنگ اُحد پيش آئي تو عزيز و اقارب نے عمرو بن جموح كو شركت سے منع كيا اور كہا كہ چونكہ تم پاؤں سے اپاہج ہو لہذا فريضہ جہاد كا بار تمہارے دوش پر نہيں ہے، اس كے علاوہ تمہارے بيٹے تو پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہمراہ جنك كيلئے جارہے ہيں_ اس نے كہا كہ ''وہ لوگ تو جنّت ميں چلے جائيں_ اور ميں يہاں تمہارے پاس رہ جاؤں؟'' ان كى بيوى نے ديكھا كہ وہ ہتھياروں سے ليس ہوتے ہوئے زير لب يہ دعا كر


رہے ہيں كہ '' خدايا مجھے گھر واپس نہ پلٹا_'' بيٹوں نے اصرار كيا كہ جنگ ميں شركت سے اجتناب كريں تو وہ پيغمبراكرم كى خدمت ميں پہنچے اور عرض كيا'' اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ميرے بيٹے نہيں چاہتے كہ مجھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ اس جنگ ميں شركت كرنے ديں، بخدا ميرى خواہش ہے كہ اس ناقص پاؤں كو بہشت كى سرزمين سے مَس كروں_''

پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا:

'' خدا نے تمہيںجنگ سے معاف ركھا ہے اور فريضہ جہاد تمہارے كندھوں سے اٹھاليا ہے_''

وہ نہيں مانے تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كے بيٹوں سے فرمايا كہ '' اگر تم ان كو نہ رو كو تو تمہارے اوپر كوئي گناہ نہيں ہے_ شايد خدا ان كو شہادت نصيب كردے _(۴)

آفتاب غروب ہوا ،جناب بلال نے اذان دي، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجاہدين اسلام كے ساتھ نماز جماعت ادا كي_

دوسرى طرف دشمن كے لشكر ميں عكرمہ بن ابى جہل كو چند سواروں كے ساتھ خيموں كى حفاظت پر مامور كرديا گيا _(۵)

منافقين كى خيانت

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صبح سويرے شيخان سے احد (مدينہ سے ۶كلوميٹردور) كى طرف روانہ ہوئے _ مقام شوط پر منافقين كا سرغنہ عبداللہ بن ابى بن سلول اپنے تين سوساتھيوں سميت مدينہ واپس لوٹ گيا_ اس نے اپنے بہانہ كى توجيہ كے لئے كہا كہ '' محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جوانوں كى بات سنى ہمارى بات نہيں سنى اے لوگو ہميں نہيں معلوم كہ ہم كس لئے اپنے آپ كو قتل كئے


جانے كے لئے پيش كرديں:؟ عبداللہ بن عمر و بن حرام ان كے پيچھے گئے اور كہا كہ '' اے قوم خدا سے ڈرو، ايسے موقع پر كہ جب دشمن نزديك ہے اپنے قبيلے اور پيغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو تنہا نہ چھوڑو'' منافقين نے جواب ديا '' اگر ہميں يقين ہوتا كہ جنگ ہوگى تو ہم تمہيں نہ چھوڑتے، ليكن ہميں معلوم ہے كہ كسى طرح كى جنگ نہيں ہوگي''_

عبداللہ بن عمرو جوكہ ان سے نا اميد ہوچكے تھے ان سے كہنے لگے، اے دشمنان خدا خدا تمہيں اپنى رحمت سے دور كرے اور بہت جلد خدا اپنے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو تم سے بے نياز كردے گا_

ان تين سو افراد كے چلے جانے كے بعد قبيلہ بنى حارثہ اور قبيلہ بنى سلمہ كے افراد بھى سست پڑگئے اور واپس جانے كيلئے سوچنے لگے مگر خدا نے انھيں استوار ركھا_(۶)

صف آرائي

۷/ شوال ۳ ھ ق بمطابق ۲۶مارچ ۶۲۵ئبروز ہفتہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے احد ميں نماز صبح ادا كرنے كے بعد لشكر كى صف آرائي شروع كردي_ كوہ احد كو پيچھے اور مدينہ كو اپنے سامنے قرار ديا_ سپاہيوں كو مكمل طور پر ترتيب دينے كے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تقرير فرمائي اور كہا كہ ''تعريف اور جزاء اس شخص كے لئے ہے جو اپنے فريضے كو صبر و سكون اور متانت و يقين كے ساتھ انجام ديتا ہے ، اس لئے كہ جہاد انتہائي دشوار كام اور بہت سى مشكلات و پريشانيوں كا حامل ہے_ ايسے لوگ بہت كم ہيں جو اس ميں ثابت قدم ہيں، مگر وہ لوگ جن كو خدا ہدايت و پائيدارى عطا فرمائے ،خدا اس كا دوست ہے جو اس كا فرماں بردار ہے اور شيطان اس كا دوست ہے جو اس كى پيروى كرتا ہے ''_

''ہر چيز سے پہلے جہاد ميں ثابت قدم رہو اور اس وسيلے سے ان سعادتوں كو اپنے لئے


فراہم كرو جن كا خدا نے وعدہ كيا ہے_ اختلاف، كشمكش اور ايك دوسرے كو كمزور بنانے كا ارادہ ترك كردو كيونكہ يہ باتيں حقارت و ناتوانى كا سبب ہيں''_

پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے '' عبداللہ بن جُبَير'' كو ۵۰ تيراندازوں كے ساتھ درّہ كوہ عينين كى نگرانى پر معين فرمايا اور درّہ كى حفاظت كے لئے جنگى حكمت عملى بتاتے ہوئے فرمايا: ہم فتحياب ہوں يا شكست كھائيں تم اپنى جگہ ڈٹے رہنا اور دشمن كے سواروں كو تيراندازى كے ذريعہ ہم سے دور كرتے رہنا_ تا كہ وہ پيچھے سے ہم پر حملہ نہ كريں اگر ہم قتل كرديئےائيں تو ہمارى مدد نہ كرنا اور اگر ہم فتحياب ہوجائيں اور مال غنيمت حاصل كرنے لگيں پھر بھى تم ہمارے پاس نہ آنا تم اپنى جگہ مضبوطى سے ڈٹے رہنا يہاں تك كہ ہمارا كوئي حكم تمہارے پاس آجائے_(۷)

دشمن اپنى صفوں كو منظم كرتاہے

ابوسفيان نے بھى اپنى فوج كى صفوں كو منظم كيا پيادہ زرہ پوش لشكر كو درميان ميں ''خالد بن وليد ''كى كمان ميں سواروں كا ايك دستہ دائيں جانب اوردوسرا دستہ ''عكرمہ بن ابى جہل'' كى سركرد گى ميں بائيں جانب ترتيب ديا، سياہ پرچم قبيلہ ''بنى عبدالدّار''كے افراد كے سپرد كيا اور شرك و الحاد كے وجود كى حفاظت كے لئے حكم ديتے ہوئے كہا كہ '' لشكر كى كاميابى پرچم داروں كى استقامت ميں پوشيدہ ہے ہم نے بدر كے دن اسى وجہ سے شكست كھائي تھى اب اگر اپنے آپ كو تم اس كے لائق ثابت نہيں كروگے تو پرچم دارى كا فخر كسى اور قبيلے كو نصيب ہوگا ، ان باتوں سے اس نے ''بنى عبدالدار ''كے جاہلى احساسات كو ابھارا يہاں تك كہ وہ آخرى دم تك جان كى بازى لگانے كيلئے آمادہ ہوگئے _(۸)


جنگى توازن

اب ايك ہولناك جنگ كے دہانہ پر لشكر توحيد و شرك ايك دوسرے كے مقابل كھڑے ہيں اور ان دونوں لشكروں كا جنگى توازن مندرجہ ذيل ہے_(۹)

تفصيل لشكر اسلام لشكر مشركين باہمى نسبت

فوجي ۷۰۰ ۳۰۰۰ مسلمانوں كى نسبت ۷/۲:۴ زيادہ

زرہ پوش ۱۰۰ ۷۰۰ مشركين ۷ گنا زيادہ

نيزہ بردار ۱۰۰ ۷۰۰ مشركين ۷ گنا زيادہ

شہ سوار ۲ ۲۰۰ مشركين ۱۰۰گنا زيادہ

جنگ كيسے شروع ہوئي؟

دونوں لشكروں كے درميان ٹكراؤ كا باعث بننے والا پہلا شخص '' ابوعامر '' تھا_ احد كے دن آگے بڑھتا ہوا لشكر اسلام كے مقابل آيا اور آواز دے كر كہنے لگا، اے اوس ميں ابوعامر ہوں ،لوگوں نے كہا '' اے فاسق تيرى آنكھيں اندھى ہوجائيں '' ابوعامر اس غير متوقع جواب كے سننے سے اہل مكّہ كے درميان ذليل ہوگيا_ اس نے كہا كہ '' ميرى غير موجود گى ميں ميرا قبيلہ فتنہ و فساد ميں مبتلا ہوگيا ہے _ '' اسكے بعد اس نے مسلمانوں سے جنگ كا آغاز كرديا لشكر اسلام نے اس پر اور اس كے ساتھيوں پر سنگ بارى كى اس كے بيٹے'' حنظلہ ''جو كہ لشكر اسلام ميں تھے، انھوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اجازت مانگى تا كہ اپنے باپ كو قتل كرديں ليكن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اجازت نہيں دي_(۱۰)

''ابوعامر ''كى عقب نشينى كے بعد مشركوں كا پرچمدار '' طلحہ بن ابى طلحہ'' جسے لشكر كا مينڈھا كہا جاتا تھا، مغرورانہ انداز ميں آگے بڑھا اور چلّا كر كہا كہ ''تم كہتے ہوكہ ہمارے


مقتولين دوزخ ميں اور تمہارے مقتولين بہشت ميں جائيں گے _ اس صورت ميں آيا كوئي ہے جسے ميں بہشت ميں بھيجوں يا وہ مجھے دوزخ ميں پہنچادے ؟'' حضرت على عليہ السلام مقابلے كے لئے آگے بڑھے_

جنگ شروع ہوئي اور تھوڑى ہى دير ميں مشركين كا پرچم دار شمشير على (ع) كى بدولت كيفر كردار كو پہنچا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خوش ہوگئے اور مجاہدين اسلام نے صدائے تكبر بلند كى _

طلحہ كے بھائي نے پرچم اُٹھاليا اور آگے بڑھاجبكہ دوسرے چند افراد بھى پرچم سرنگوں ہوجانے كى صورت ميں شرك كا دفاع كرنے اور دوبارہ پرچم اٹھانے كے لئے تيار بيٹھے تھے_(۱۱)

دشمن كے حوصلے بلند كرنے ميں موسيقى كا كردار

اسلام كے مجاہد اپنے مقدّس دين كے دفاع كے لئے لڑرہے تھے اور اپنے دل و دماغ ميں شہادت كى آرزو كو پروان چڑھار ہے تھے ليكن مشركين كے سپاہيوں كا مقصد پست مادّى آرزوؤں كا حصول اور انتقام كے سوا كچھ نہ تھا _ مشركين كے نامور افراد جنگ كے دوران سپاہيو ںكے ان ہى جذبات كو بھڑ كار ہے تھے اور يہ ذمّہ دارى ان آوارہ عورتوں كى تھى جو آلات موسيقى بجاتيں اور مخصوص آواز ميں ترانے گاتى تھيں تا كہ ايك طرف لشكر كے جنسى جذبات بھڑكائيں اور دوسرى طرف انتقام كى آگ شعلہ ور كريں تا كہ وہ لوگ نفسياتى دباؤ كے تحت جنگ جارى ركھيں _

جو شعريہ بد قماش عورتيں پڑھ رہى تھيں ان كا مطلب كچھ اس طرح تھا'' ہم طارق كى بيٹياں ( وقت سحر طلوع ہو نے والا ستارہ) ہيں اور بہترين فرش پر قدم ركھتى ہيں_ اگر دشمن


كى طرف بڑھوگے تو ہم تمہارے ساتھ بغل گير ہوگئيں، اگر دشمن كو پيٹھ دكھاؤ گے اور فرار كرو گے تو ہم تم سے جدا ہوجائے گئيں _(۱۲)

اجتماعى حملہ

حضرت علي(ع) نے نئے پرچم دار پر حملہ كيا اور وہ بھى اپنے گندے خون ميں لوٹنے لگا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم سے اجتماعى حملہ شروع ہوا، مجاہدين اسلام ايسى شجاعت سے لڑرہے تھے جس كى تعريف بيان سے باہر ہے_ اس دوران على (ع) ، حمزہ(ع) اور ابودجانہ بے خوفى كى عظيم مثال تاريخ بشريت ميں ثبت كرتے ہوئے سپاہ دشمن پر بجلياں گرار ہے تھے ان كى تمام تر كوشش يہ تھى كہ پرچم داروں كے پير اُكھاڑديں اس ليے جنگ زيادہ تر اسى حصّہ ميں ہو رہى تھى _ چونكہ اس زمانے ميں پرچم كا سرنگوں ہوجانا شكست اور خاتمہ جنگ سمجھا جاتا تھا اسى وجہ سے مشركين كے پرچم دار انتہائي شجاعت كا مظاہرہ كر رہے تھے اور بنى عبدالدار كے قبيلہ كے افراد نہايت غيظ و غضب كے عالم ميںاپنے پرچم دار كے اردگرد جنگ كرتے جاتے تھے اور جب كوئي پرچم دار قتل ہوجاتا تو احتياطى فوجيں بلافاصلہ جلدى سے بڑھ كر پرچم كھول ديتى تھيں _ اس دوران دشمن كے شہ سواروں نے تين مرتبہ سپاہيان اسلام كے محاصرہ كو توڑنا چاہا اور ہر بار عبداللہ بن جبير كے دستے نے مردانہ وار، نہايت بہادرى كے ساتھ تيراندازى كے ذريعے ان كو پيچھے دھكيل ديا_

حضرت على (ع) كى تلوار، حمزہ (ع) كى دليرى اور عاصم بن ثابت كى تيراندازى سے'' بنى عبدالدار'' كے نو پرچم داريكے بعد ديگر ے ہوا ہوگئے اور رعب و وحشت نے مشركين كے سپاہيوں كو گھير ليا _ آخرى بار انہوں نے ''صئواب ''نامى غلام كو پرچم ديا_ صواب سياہ چہرے


اور وحشت ناك حُليے كے ساتھ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى طرف بڑھا، شدت غضب سے آنكھيں سرخ اور منہ سے كف جارى تھا_ ليكن على (ع) نے حملہ كيا اور تلوار كى ايسى ضربت اس كى كمر پر لگائي كہ وہ وہيں ڈھير ہوگيا_

مسلمانوں نے مشركين كى صفوف كود رہم بر ہم كرديا وہ عورتيں، جودف بجار ہى تھيں اور گانے گارہى تھيں ، دف پھينك كر پہاڑوں كى طرف بھاگيں، مشركين كے لشكر ميں فرار اور شكست شروع ہوئي اور تھوڑى ہى دير ميں زيادہ تر لوگ بھاگ گئے اور اس طرح جنگ كا پہلا مرحلہ مشركين كى شكست اور مجاہدين اسلام كى كاميابى پر ختم ہوا_

فتح كے بعد شكست

راہ خدا ميںجہاد، رضائے خدا كى طلب ، آئين اسلام كى نشر و اشاعت كے علاوہ مجاہدين اسلام كا كوئي اور مقصد نہ تھا وہ آخرى وقت تك بہادرى كے ساتھ جنگ كرتے رہے اور نتيجہ ميں فتحياب ہوئے_ ليكن فتح كے بعد بہت سے مسلمان مقصد سے ہٹ گئے اور ان كى نيت بدل گئي _ قريش نے جو مال غنيمت چھوڑا تھا اس نے بہت سے لوگوں كے اخلاص كى بنياديں ہلاديں انہوں نے فرمان رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور جنگ كے مقصد كو بُھلا ديا_ دشمنوں كے تعاقب سے چشم پوشى كركے مال غنيمت كى جمع آورى ميں مشغول ہوگئے_ انہوں نے اپنى جگہ يہ سوچ ليا تھا كہ دشمن كا كام تمام ہوگيا ہے_

درّہ كى پشت پر موجود محافظوں نے جب دشمن كو فرار اور مجاہدين كو مال غنيمت جمع كرتے ہوئے ديكھا تو جنگى حكمت عملى كے اعتبار سے اس اہم درّے كى حفاظت كى حساس ذمّہ دارى كو بُھلا ديا اور كہا كہ '' ہم يہاں كيوں رُكے رہيں؟ خدا نے دشمن كو شكست دى اور اب تمہارے بھائي مال غنيمت جمع كررہے ہيں_ چلو تا كہ ہم بھى ان كے ساتھ شركت


كريں'' _ عبداللہ بن جبير نے ياد دلايا كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے يہ نہيں فرمايا تھا كہ '' اگر ہم قتل كرديئےائيں تو ہمارى مدد نہ كرنا اور اگر ہم كامياب ہوگئے اور مال غنيمت جمع كرنے لگے تب بھى ہمارے ساتھ شركت نہ كرنا بلكہ عقب سے ہمارى حفاظت كرتے رہنا؟'' عبداللہ نے بہت سمجھايا كہ كمانڈر كے حكم سے سرتابى نہ كرو، ليكن كوئي فائدہ نہيں ہوا_ انہوں نے غنيمت كے لالچ ميں اپنى جگہ كو چھوڑديا اوردرّے سے نكل آئے عبداللہ صرف دس ۱۰ افراد كے ساتھ وہاں باقى رہ گئے_

مشركين كى فوج كے شہ سواروں كے سردار ''خالد بن وليد ''نے جب درّے كو خالى ديكھا تو اپنے ما تحت فوجيوں كو ليكر وہاں حملہ كرديا اور چند بچے ہوئے تيراندازوں پر ٹوٹ پڑا ''عكرمہ بن ابى جہل ''نے اپنى ٹولى كے ساتھ خالد بن وليد كى پشت پناہى كى ، جن تيراندازوں نے درّہ نہيں چھوڑا تھا انھوں نے مردانہ وار مقابلہ كيا يہاں تك كہ ان كے تركش كے تمام تير خالى ہوگئے اس كے بعد انھوں نے نيزے اور پھر آخر ميں شمشير سے جنگ كى يہاں تك كہ سب شہيد ہوگئے_

سپاہيان اسلام اطمينان كے ساتھ مال غنيمت جمع كرنے ميں مشغول تھے كہ يكا يك خالد بن وليد لشكر اسلام كى پشت پر آپہنچااور جنگى حكمت عملى والے اہم حصّہ كو فتح كرليا_ دوسرى طرف سے مشركين اپنے فرار كو جارى ركھے ہوئے تھے جبكہ خالد بن وليد چلّا چلّاكر شكست خوردہ لشكر قريش كو مدد كے ليے پكار رہا تھا_ اسى دوران بھاگنے والوں ميں پيچھے رہ جانے والى ايك عورت نے كُفر كے سرنگوں پرچم كو لہرا ديا_ تھوڑى ہى دير ميں قريش كا بھاگا ہوا لشكر واپس آگيا اور شكست خوردہ لشكر پھر سے منظم ہوگيا_

سپاہ اسلام افرا تفرى اور بدنظمى كى وجہ سے تھوڑى ہى دير ميں سامنے اور پيچھے سے محاصرہ


ميں آگئيںاور پھر نئے سرے سے دو لشكروں كے درميان جنگ شروع ہوگئي_

مسلمان حواس باختہ ہوگئے اور نہ صرف دشمن كے ہاتھ سے مارے جانے لگے بلكہ ايك دوسرے كو بھى مار نے لگ گئے_

دوبارہ شروع ہونے والى غير مساوى جنگ كے شور و غوغہ كے دوران ''ابن قمئہ ''نے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے دفاع ميں مصروف اسلامى لشكر كے اہم سردار ''مصعب بن عُمير ''پر حملہ كرديا اور وہ خدا سے عہد و پيمان نبھاتے ہوئے اپنے خون ميں غلطان ہوگئے_

''مصعب ''نے لڑائي كے وقت چہرے كو چھپا ركھا تھا تا كہ پہچانے نہ جائيں_ ''ابن قمئہ ''نے سمجھا كہ اس نے پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو قتل كرديا ہے_ اس وجہ سے چلّايا كہ '' اے لوگو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قتل ہوگئے ''_ اس خبر سے قريش كے سردار اس قدر خوش ہوئے كہ ہم آواز ہو كر چلّانے لگے ''محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قتل ہوگئے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قتل ہوگئے''_(۱۳)

اس بے بنياد خبر كا پھيلنا دشمن كى جرا ت كا باعث بنا اور لشكر قريش سيلاب كى طر ح اُمنڈ پڑا ، مشركين كى عورتوں نے مصعب كے پاك جسم اور شہدا ميں سے بہت سے افراد كے اجساد اطہار كو مثلہ كرديا_

دوسرى طرف اس خبر نے جنگ ميں مصروف مجاہدين اسلام كو بہت بڑا روحانى صدمہ پہنچايا، اكثر لوگوں نے ہاتھ روك ليا اور پہاڑ پر پناہ لينے كے لئے بھاگ گئے _بعض ايسے حواس باختہ ہوئے كہ انھوں نے يہ سوچا كہ كسى كو فوراً مدينہ ميں عبداللہ بن اُبّى كے پاس بھيجيں تا كہ وہ واسطہ بن جائے اور قريش سے ان كے لئے امان مانگے _

پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مسلمانوں كو اپنى طرف بُلا رہے تھے اور فرماتے تھے'' اے بندگان خدا ميرى طرف آؤ اے فلاںفلاں ميرى طرف آؤ'' ليكن جو لوگ ايمان سے بے بہرہ


تھے اپنى جان بچانے كے ليے جيسے بھاگ رہے تھے ويسے ہى بھاگتے رہے_ ان ميں سے بعض پہاڑ كے دامن ميں بھاگتے ہوئے خدا كى جانب سے كئے گئے وعدہ فتح سے بد گمان ہوگئے زمانہ جاہليت كے افكار و خيالات نے ان كاپيچھا كرنا شروع كرديا بعض نے قرار پر فرار كو ترجيح دى اور مدينہ چلے گئے اور تين دن تك اپنے آپ كو چھپائے ركھا_(۱۴)

پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا دفاع كرنيوالوں كى شجاعت

درّے ميںچند افراد باقى رہ گئے اور ايسى شجاعت كے ساتھ دشمن كے پے درپے حملوں كو روك كر پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا دفاع كر رہے تھے جس كى تعريف نہيں كى جاسكتى _ علي(ع) نے ايك لمحہ كے لئے بھى ميدان نہيں چھوڑا_ آپ اپنى تلوار سے مسلسل دشمن كے سَر پر مَوت برسا رہے تھے اور بعض كو موت كے گھاٹ اتار كر دوسروں كو فرار پر مجبور كر رہے تھے_

حضرت على (ع) نے بہت زخم كھائے ليكن پھر بھى نہايت تيزى كے ساتھ شير كى طرح غُرا كر شكار پر حملہ كرتے اور پروانہ وار پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے گرد چكّر لگاتے كہ مبادا كوئي نور خدا كى اس شمع كے وجود كو خاموش كردے ايسا منظر باربارآتا رہا كہ خدا اس بہادرى كا گواہ ہے _

جبرئيل (ع) نے آسمان سے آواز بلند كى _

لا فتى الا على لا سيف الا ذوالفقار(۱۵)

تاريخ بھى اس حقيقت كى گواہ ہے _ اہل سنت كے مورخ ابن ہشام لكھتے ہيںكہ '' احد كى جنگ ميں قريش كے زيادہ تر افراد حضرت علي(ع) كے ہاتھوں قتل ہوئے''(۱۶)

احد كے معركہ ميں بہادرى كا جوہر دكھانيوالوں ميں لشكر اسلام كے دلير سردار جناب حمزہ


بن عبدالمطلب بھى تھے جنہوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا دفاع كرتے ہوئے دلاورانہ جنگ ميں بہت سے مشركين كو واصل جہنم كيا _ ابوسفيان كى بيوى ہند نے جبير ابن مطعم كے ''وحشي'' نامى غلام سے وعدہ كيا تھا كہ اگر تم محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، حمزہ (ع) يا على (ع) كو قتل كردو تو آزاد ہوجاؤ گے_ وہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تك تو نہ پہنچ سكا اور علي(ع) بھى ميدان جنگ ميں ہر طرف سے چوكّنے تھے_ اس نے جب جناب حمزہ كو ديكھا كہ وہ شدّت غيظ و غضب ميں ارد گرد سے بے خبر ہيں تو اپنے ذہن ميں ان كے قتل كا نقشہ ترتيب دينے لگا جناب حمزہ شير كى طرح قلب لشكر پر حملہ آور ہوتے اور جس شخص تك پہنچتے اس كو خاك و خون ميں غلطان كرديتے _

وحشى ايك پتّھر كى آڑ ميں چھپ گيا اور جب جناب حمزہ مصروف جنگ تھے اس وقت اُس نے اپنے نيزے كا نشانہ ان كى طرف لگا كر ان كو شہيد كرديا_ جبكہ ابوسفيان كى بيوى ہندنے جناب حمزہ (ع) كے جسمَ پاك كو مثلہ كيا_

پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا دفاع كرنے والوں ميں سے ايك ابو دجانہ بھى تھے مسلمانوں كے ميدان جنگ ميں واپس آجانے كے بعد جب آتش جنگ دوبارہ بھڑ كى تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ايك تلوار لى اور فرماياكہ'' كون ہے جو اس تلوار كو لے اور اس كا حق ادا كرے؟'' چند افراد اٹھے، ليكن ان ميں سے كسى كو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تلوار نہيں دى اور پھر اپنى بات دُہرائي_اس دفعہ ابودجانہ اٹھے اور انہوں نے كہا يا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميں آمادہ ہوں_

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ اس شمشير كا حق يہ ہے كہ اسے دشمن كے سر پر اتنا مارو كہ يہ ٹيڑھى ہوجائے اور اس بات سے مكمل طور پر ہوشيار رہوكہ كہيں دھو كے ميں تم كسى مسلمان كو قتل نہ كردينا _ يہ كہہ كر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وہ تلوار ان كو عطا فرمائي _(۱۷)

ابودجانہ نے ايك سُرخ رنگ كا كپڑا اپنے سَر پر باندھا اور دشمن كى طرف مغرورانہ


انداز ميں بڑھے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' اس طرح كى چال كو خدا پسند نہيں كرتا مگر يہ كہ جنگ كا ہنگام ہو، ابودجانہ نے راہ خدا ميں قلب دشمن پر حملہ كيا اور ان كے سروں پر تلوار كے اتنے واركئے كہ تلوار ٹيڑھى ہوگئي_

اُمّ عمارہ شير دل خاتون

اُمّ عمارہ وہ شير دل خاتون ہيں جو مدينہ سے سپاہ اسلام كے ساتھ آئي تھيں تا كہ محاذ كے پيچھے رہ كر ديگرخواتين كے ساتھ لشكر اسلام كيلئے امدادى كاموں ميں شركت كريں، ان كے زخموں كى مرہم پٹى كا انتظام كريں، زخميوں كے زخموں پر پٹى باندھيں اور مجاہدين كو پانى پہنچائيں _

اگرچہ جہاد عورتوں پر واجب نہ تھا مگر جب اُمّ عمارہ نے ديكھا كہ لوگ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس سے پراگندہ ہوگئے ہيں اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو آگ و خون كے درميان تنہا اور بے يار و مدد گار چھوڑ ديا ہے اور ان كى جان خطرے ميں ہے تو ام عمارہ نے وجود اسلام خطر ے ميں گھرا ہوا ديكھ كر ايك بھاگنے والے كى تلوار اُچك لى اور مردانہ وار دشمن كے لشكر كى طرف بڑھيں اور ہر طرف لڑنے لگيں تا كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جان محفوظ رہے_ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس شير دل خاتون كى شجاعت سے بہت خوش ہوئے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ نُسَيبہ ( اُمّ عمارہ ) دختر كعب كى منزلت آج كے دن ميرے نزديك فلاں فلاں سے زيادہ بلند ہے_(۱۸)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے لئے سپَر بنے ہوئے چند افراد كى بے مثال فداكارى كے باوجود آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شديد زخمى ہوئے_

''عتبہ'' نے چار پتّھر پھينك كر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے چند دانت شہيد كر ديئے _ ''ابن قمئہ ''نے


آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے چہرے پرايسا شديد زخم لگايا كہ آپ كے خود كى كڑياں آپ كے رخساروںميں پيوست ہوگئيںپيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم زخموں كى بناپر كافى كمزور ہوگئے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ظہر كى نماز بيٹھ كر اداكي_

ميدان چھوڑ دينے والوں ميں سے سب سے پہلے كعب بن مالك نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كو پہچانااور چلّا كر كہا '' پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم زندہ ہيں'' ليكن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے خاموش رہنے كا حكم ديا_

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو درّے كے دہانے تك لے جايا گيا جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وہاں پہنچے تو بھاگ كر وہاں آئے ہوئے مسلمان بہت شرمندہ ہوئے_ ''ابوعبيدہ جراح ''نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے چہرہ مبارك ميں در آنے والى زنجير كى كڑيوں كو باہر نكالا حضرت على (ع) اپنى سپر ميں پانى بھر ا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے اپنا خون آلود سر اور چہرہ دھويا_

لشكر كى جمع آوري

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم درّے كے دہانے پر پہنچ گئے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسلمانوں كو بلايا ،جب لشكر اسلام نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو زندہ ديكھا تو گروہ گروہ اور فرد فرد اكٹھے ہونے لگے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كو راہ خدا ميں جنگ و جہاد اور پہلى جگہوں پر واپسى كى دعوت دى _

شكست كے بعد پھر سے اسلامى فوجيں منظم ہوگئيں، افراد اور سامان جنگ كى كمى كے باوجود دوبارہ حملہ شروع كرديا گيا اور جنگ كى آگ بھڑكانے والوں كو پھر سے اپنى لپيٹ ميں لے ليا_ مشركين كى فوج نے عقب نشينى شروع كى اور مسلمان دوبارہ اپنى اپنى جگہوں پر پہنچ گئے_

اسلامى لشكر كى شجاعت و بہادرى نے دوبارہ دشمن كے سياہ قلب كو خوف و وحشت ميں


مبتلا كرديا، مشركين كے لشكر كے سردار ابوسفيان نے اس خطرے كے باعث كہ كہيں مجاہدين اسلام آغاز جنگ كى طرح دوبارہ ان پر جھپٹ پڑيں، جنگ بندى كے حكم كے ساتھ جنگ كے خاتمے كا اعلان كرديا_


سوالات

۱_ منافقين نے جنگ ميں كيسے خيانت كي؟

۲_ لشكر اسلام اور شرك كا جنگى توازن بيان فرمائيں؟

۳_ كيا وجہ تھى كہ دشمن نے سپاہ اسلام كا محاصرہ كرليا تھا؟

۴_ كن لوگوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كا دفاع كرنے ميں جواں مردى كا ثبوت ديا؟


حوالہ جات

۱_ الصحيح مين سيرة النبى ج ۴، ص ۱۹۳و مغازى واقدى ج۱ ، ص ۲۱۵_

۲_ مغازى واقدى ج ۱ ، ص ۲۱۶_

۳_ مغازى واقدى ج ۱، ص ۲۱۹_

۴_ مغازى واقدى ج ۱ ص ۲۶۴_

۵_ مغازى واقدى ج ۱ ص ۳۱۷_

۶_( اذهَمَّت طائفَتَان منكُم اَن تفشَلا و الله وليُّهُما و على الله فَليَتَوكَّل المؤمنون ) _ (آل عمران۱۲۲) مغازى واقدى ج ۱ ص ۳۱۹_ جوامع السيرة ص ۱۵۹_ تاريخ پيامبر دكتر آيتى ص ۲۸۶ طبع ششم اعيان الشيعہ ج ۱ ص ۲۵۴_

۷_ مغازى واقدى ج ۱، ص ۲۲۰ سے ۲۲۴تك _

۹_ يہ نقشہ جزل طلاس كى كتاب'' پيامبر و آئين نبرد ''سے استفادہ كرتے ہوئے تھوڑى سى تبديلى كے ساتھ تيار كيا گيا ہے_

۱۰_ مغازى واقدى ج ۱_ ص ۲۲۳_

۱۱_ مغازى واقدى ج۱ ص ۲۲۳_

۱۲_ نحن بنات الطارق_ نمشى على النَّمَارق_ ان تقبلو _ او تُدبر والفارق _ مغازى واقدى ج ۱، ص ۲۲۳/ ۲۲۵_

۱۳_ مغازى واقدى ج ۱ ص ۲۲۹،۲۳۲_

۱۴_ مغازى واقدى ج ۱ ص ۲۳۷، الصحيح ج ۳،ص ۲۲۶_ كامل ج ۲،ص ۱۰۹_

۱۵_ على (ع) جيسا كوئي جواں مرد اور ذوالفقار جيسى كوئي تلوار نہيں ہے_

۱۶_ سيرة ابن ہشام ج ۲ ، ص ۱۰۰_ تفسير البرہان ج ۱ ، ص ۳۱۳_

۱۸_ سيرة ابن ہشام ج ۲، ص ۶۸_ مغازى واقدى ج ۲ ، ص ۲۵۹_

۱۹_ مغازى واقدى ج ۱، ص ۲۶۹_ تفسير على ابن ابراہيم ج ۱ ، ص ۱۱۶_ اور شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج ۴ ، ص ۲۶۶_


تيسرا سبق

شہيدوں كے پاكيزہ جسم كے ساتھ كيا سلوك ہوا؟

طرفين كے نقصانات

مفہوم شہادت

نفسياتى جنگ

كہاں جارہے ہيں؟

احد ميں مسلمانوں كى شكست كے اسباب كا جائزہ

شہداء كى لاشيں

ان كو يہيں دفن كروانيكى دعا مستجاب ہوگئي

مدينہ كى طرف

نماز مغرب كا وقت آن پہنچا

شہيدوں كى ايك جھلك

ايك عقلمند صاحب ثروت كى شہادت

بوڑھے عارف كى شہادت

حجلہ خون

مدينہ ميں منافقين كى ريشہ دوانياں

مدينے سے ۲۰ كيلوميٹر دور '' حمراء الاسد'' ميں جنگى مشق

ابو عزّہ شاعر كى گرفتاري

سوالات

حوالہ جات


شہيدوں كے پاكيزہ جسم كے ساتھ كيا سلوك ہوا؟

جنگ كے خاتمہ اور ميدان جنگ كے خالى ہوجانے كے بعد قريش كى اوباش عورتيں اور مشركين كے سپاہي، شہيدوں كے پاكيزہ اجسام كى طرف بڑھے اور انتقام كى آگ بجھانے كے لئے انہوں نے لرزادينے والے مظالم ڈھائے اور شہيدوں كے پاكيزہ اجسام كو مثلہ كيا ، ابوسفيان كى بيوى ہند اس گروہ ميں شامل عورتوں ميں پيش پيش تھى اس نے جناب حمزہ اور تمام شہيدوں كے اعضا كاٹ كر گلوبند اور دست بند بنايا اور جب جناب حمزہ كے جسد اطہر كے پاس پہنچى اُن كے سينہ كو چاك كر كے جگر نكال كر دانت سے چبانا چاہا ليكن كوشش كے باوجود چبانہ سكى بالآخر زمين پر پھينك ديا_

اس بدترين جُرم كے ارتكاب كے بعد وہ '' ہند جگر خوار'' كے نام سے مشہور ہوگئي _

حنظلہ كے علاوہ كہ جن كا باپ(ابوعامر) سپاہ مشركين ميں تھا، تمام شہيدوں كے جسموں كو مثلہ كرديا گيا_(۱)

طرفين كے نقصانات

جنگ احد ميں مسلمانوں كى طرف سے ستّر (۷۰ )آدميوں نے جام شہادت نوش فرمايا


ان ميں چار افراد مہاجرين اور بقيہ انصارميں سے تھے اور تقريباً ستر (۷۰ )افراد زخمى ہوئے_مشركين ميں سے بائيس(۲۲) سے ليكر چھبيس(۲۶) افراد تك ہلاك ہوئے جن ميں سے آدھے حضرت على (ع) كى تلوار كا نشانہ بنے_(۲)

مفہوم شہادت

منافقين مدينہ ميں سے'' قزمان'' نامى ايك شخص تھا _ جب بھى رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے سامنے اس كا ذكر كيا جاتا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے كہ '' وہ جہنمّى ہے''_

جب جنگ احد كا آغاز ہوا تو قزمان لشكر اسلام سے روگردانى كر كے عبداللہ بن ابّى اور ديگر منافقين سے جاملا_ جب وہ مدينہ پہنچا تو عورتوں نے اس كو لعنت و ملامت كى اسے غيرت محسوس ہوئي تو وہ اسلحہ سے ليس ہو كر احد كى طرف روانہ ہوا، مردانہ وار جنگ كى اور نہايت شجاعت اور دليرى كے ساتھ چند مشركين كو قتل اور زخمى كيا _ جنگ كے آخرى لمحات ميں بہت زيادہ زخمى ہوكر ميدان جنگ ميں گر پڑا مسلمان اس كى طرف دوڑے اور كہا'' خوش ہوجاؤ كہ جنت تمہارا ٹھكانہ ہے'' اس نے كہاكہ ميں كيوں خوش ہوں؟ ميں نے صرف اپنے قبيلے كى عزت كے لئے جنگ كى ہے اگر ميرا قبيلہ نہ ہوتا تو ميں جنگ نہ كرتا زخموں كے درد كو اس سے زيادہ برداشت نہ كرسكا اور تركش سے ايك تير نكال كے خودكشى كرلى _(۳)

نفسياتى جنگ

لوگوں كے افكار و عقائد ميں نفوذ كرنے كے لئے مناسب وقت كى ضرورت ہوتى ہے


جبكہ افكا۷ر و عقائد كو خراب كرنے كے ليے شكست اور مصيبتوں ميں مبتلا ہونے والے زما۷نے جيسا مناسب اور كوئي زمانہ نہيںہوتا، موقع كى تلاش ميں رہنے والے دشمن نے اس اصول كے تحت شكست كے آخرى لمحات كو اپنے عقائد كى نشر و اشاعت كے لئے غنيمت سمجھا اور مخالف اسلام نعروں كے ذريعہ سادہ لوح افراد كو دھوكہ دينے اور انہيں متاثر كرنے كى كوشش كى _كيونكہ يہ ايسا موقع تھا جب غلط پروپيگنڈہ نہايت آسانى كے ساتھ شكست خوردہ قوم كے دلوں پراثر كر سكتا تھا_

ابوسفيان اور عكرمہ بن ابى جہل نے ''اُعلُ ھُبل '' (ھبل سرفرازرہے )كا نعرہ بلند كيا_ يعنى ہمارے بتوں نے ہميں كامياب كيا_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسلمانوں كو حكم ديا كہ تم كہو''اَلله اَعلى وَ اَجَلّ'' خدا برتر اور بزرگ ہے_ مشكرين كا نعرہ تبديل ہوا اور ابوسفيان چلايا:''نَحنُ لَنَا العُزّى وَ لا عزّى لَكُم'' ہمارے پاس عُزّى نامى بُت ہے ليكن تمہارے پاس نہيں ہے_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ تم بھى بلند آواز سے كہو''الله مَولانَا وَ لا مَولى لَكُم'' اللہ ہمارا مولا ہے اور تمہارا كوئي مولا نہيں ہے_

مشركين كا نعرہ دوبارہ بدل گيا ابوسفيان نے نعرہ بلند كيا كہ '' يہ دن روز بدر كا بدل ہے''_ مسلمانوں نے پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم سے كہا كہ '' يہ دونوں دن آپس ميں برابر نہيں ہيں'' ہمارے مقتولين بہشت ميں اور تمہارے مقتولين جہنم ميں ہيں_ ابوسفيان نے كہا كہ '' ہمارا اور تمہارا آئندہ سال مقام بدر ميں وعدہ رہا''_(۴)

كہاں جا رہے ہيں؟

جنگ كى آگ بُجھ گئي ، دونوں لشكر ايك دوسرے سے جُدا ہوگئے، مشركين كے لشكر نے


كوچ كا ارادہ كيا پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سوچنے لگے ، ديكھيں يہ لوگ كہاں جاتے ہيں؟ كيا يہ لوگ موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے مدينہ پر حملہ كرنا چاہتے ہيں يا مكّہ كا راستہ اختيار كرتے ہيں؟ حالات سے آگاہى كے لئے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت على (ع) سے فرمايا '' اے على (ع) تم جاكر دشمن كى خبر لاؤ اگر تم نے ديكھا كہ يہ لوگ گھوڑوں پر سوار اونٹوں كو كھينچتے ہوئے لے جاتے ہيں تو سمجھنا كہ مدينہ پر حملہ كا ارادہ ہے_ اس صورت ميں خدا كى قسم ہم ان سے لڑيں گے_ اور اگر وہ اونٹوں پر سوار ہوكر گھوڑوں كو كھينچتے ہوئے لے چلے تو سمجھنا كہ مكّہ جانے كا ارادہ ركھتے ہيں''(۵) _

حضرت على (ع) دور سے دشمن پر نظر ركھے ہوئے ديكھ رہے تھے كہ وہ انٹوں پر سوار ہوكر اپنے ديار پلٹ جانے كا ارادہ ركھتے ہيں_

احد ميں مسلمانوں كى شكست كے اسباب كا جائزہ

جنگ كے پہلے مرحلے ميں سپاہ اسلام كى فتح اور بعد كے مرحلہ ميں ان كى شكست كى وجہ احد كے واقعات ديكھنے كے بعد بڑى آسانى سے واضح ہوجاتى ہے_ليكن وحى كى زبان سے مسلمانوں كى شكست كے اسباب مختصراً بيان كيئے جاتے ہيں_

۱_ جنگى نظم و ضبط كى كمى ، سردار كى نافرمانى اور جنگى اعتبار سے اہم جگہ كو چھوڑ دينا مسلمانوں كى شكست كى اہم وجوہات ہيں_ قرآن كہتا ہے كہ '' خدا نے ( احد ميں دشمنوں پر) فتحيابى كا تم سے سچّاوعدہ كيا _ اس موقع پر تم اس كے فرمان كے مطابق جنگ كر رہے تھے (اور يہ كاميابى جارى تھي)_ يہاں تك كہ تم سست ہوگئے اور اپنے كام ميں نزاع كرنے لگے _ جس چيز كو تم دوست ركھتے تھے ( دشمن پر غلبہ كو ) تمہيں دكھا ديا گيا پھر اس كے بعد تم نے نافرمانى كى _(۶)


۲_ ايمان كى كمزورى اور دنيا پرستي، نئے نئے مسلمان ہونے والوں ميں ايك گروہ نے دشمن كا پيچھا كرنے كى بجائے مال غنيمت جمع كرنے كو ترجيح دى اور اسلحہ ركھ كرمال غنيمت جمع كرنے لگا_ قرآن مندرجہ بالا آيات كے آخر ميں كہتا ہے كہ ''تم ميں سے بعض دُنيا طلب تھے اور بعض آخرت كے خواہاں، اس كے بعد اللہ نے تم كو ان سے منصرف كرديا( اور تمہارى كاميابى شكست پر تمام ہوئي) تا كہ تم كو آزمائے_(۷)

دوران جنگ ايك بڑى تعداد كا اپنى جان بچانے كيلئے ميدان فرار اور پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو تنہا دشمن كے نرغے ميں دشمن كے حوالے كرنا،ا ن افراد كے دنيا پرست اور ضعيف ايمان كا بہت بڑانمونہ ہے_

پيغمبر كے قتل كى افواہ ، اور وہ اس طرح كہ بعض مسلمان تو اسلام كى بنياد ہى سے نااميد ہوگئے تھے قرآن اس سلسلہ ميں كہتا ہے كہ '' محمد نہيں ہيں مگر فرستادہ خدا كہ اُن سے پہلے بہت سے پيامبر ہوچكے اور اس دنيا سے جاچكے ہيں_ اگر وہ بھى مرجائيں يا شہادت پاجائيں تو كيا تم اپنے جاہليت كے دين پر پلٹ جاؤگے؟(۸)

شہداء كى لاشيں

مشركين كے لشكر كے ميدان جنگ سے نكل جانے كے بعد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لشكر اسلام كے مجاہدين كے ساتھ شہيدوں كى ميّت پر حاضر ہوئے تا كہ ان كو سُپرد خاك كريں_ جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے شہيدوں كے مُثلہ شدہ اجسام ، خصوصاً سيّد الشہداء حضرت حمزہ كے پارہ پارہ بدن كو ديكھا تو دل غم سے پاش پاش ہوگيا اور مشركين كى طرف سے آپ كے دل ميں مزيد غصّہ اور نفرت كا طوفان اُٹھ كھڑا ہوا_وہاں مسلمانوں نے يہ عہد كيا كہ اگر دوسرى لڑائي ميں وہ مشركين پر فتح پائيں گے تو ايك آدمى كى تلافى ميں كافروں كے تيس اجسام كو


مثلہ كريں گے ليكن مندرجہ ذيل آيت نازل ہوئي اور مسلمانوں نے اس خيال كو ترك كرديا_

''اگر تم چاہتے ہو كہ ان كو سزا دو تو اپنى سزا ميں ميانہ روى اختيار كرو اور حد اعتدال سے

خارج نہ ہوجاؤ اور اگر صبر كرو تو يہ صبر كرينوالوں كے لئے بہتر ہے_(۹)

پھر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت حمزہ كے پاكيزہ جسم پر نماز پڑھى اور ان كے پہلو ميں ايك ايك شہيد كو لٹا كر ہر ايك پر الگ الگ نماز پڑھى اس طرح ستر نمازيں پڑھى گئيں_(۱۰)

حضرت حمزہ كى بہن ''صفيہ '' اپنے شہيد بھائي كا جنازہ ديكھنے آئيں تو ان كے بيٹے زبير نے روكنا چاہا ( تا كہ بہن اس حال ميں بھائي كونہ ديكھے) ليكن جناب صفيہ نے فرمايا كہ ''مجھے معلوم ہے ميرى بھائي كو مثلہ كيا گيا ہے _ بخدا اگر ميں ان كے سر ہانے پہنچوں گى تو اپنے غمگين ہونے كا اظہار نہيں كروں گى اور راہ خدا ميں اس مصيبت كو برداشت كروں گي'' لوگوں نے ان كو چھوڑ ديا وہ اپنے بھائي كے سرہانے آئيں اور ان كے لئے خدا سے دُعائے مغفرت كي_

رسول اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے حكم ديا كہ قبريں كھودى جائيں اور ان اجسام كو دفن كرديا جائے شہدا اپنے لباس كے ساتھ دفن ہوئے اور جس شہيد كے تن پر مناسب لباس نہ تھا اس كے جسم كو ايك پارچے سے ڈھانپ ديا گيا_ اكثر شہدا كو اسى ميدان جنگ ميں سپرد خاك كيا گيا كچھ لوگ اپنے شہدا كو مدينہ لے گئے _ اس طرح سے شہيدوں كا پہلا قبرستان ''گلزار شہدائ'' مدينہ كے نزديك كوہ احد كے دامن(۱۱) ميں بنا_

ان كو يہيں دفن كر وانيكى دُعا مستجاب ہوگئي

عمر و بن حرام كى بيٹى ''ہند ''جس كے شوہر ''عمر و بن جموح ''بيٹے خلاد ''اور بھائي ''


''عبداللہ عمرو ''اس مقدّس جہاد ميں شہيد ہوئے ، احد ميں آئي تا كہ اپنے عزيزوں كى ميتيںمدينہ لے جائے_ ہند نے ان تينوں كے جنازے اونٹ پر ركھے اور مدينہ كا راستہ ليا_ مدينہ جاتے وقت راستے ميں كچھ عورتيں مليں جو پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى صحيح خبر پانے كے لئے احد كى طرف آر ہى تھيں_ عورتوں نے ہند سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كا حال دريافت كيا تو اس نے نہايت خندہ پيشانى سے جواب ديا كہ ' ' الحمد للہ رسول خدا زندہ ہيں_ ( گويا اس نعمت كے مقابل تمام مصيبتيں ہيچ تھيں) دوسرا مدہ يہ ہے كہ خدا نے كافروں كے رُخ كو پھير ديا جبكہ وہ غيظ و غضب سے بھرے ہوئے تھے _عورتوں نے اس سے پوچھا '' يہ جنازے كس كے ہيں؟ '' اس نے كہا '' ايك ميرے شوہر ، دوسرا ميرے بيٹے اور تيسرا ميرے بھائي كا جنازہ ہے''_

وہ عورت اونٹ كى مہار كو مدينہ كى طرف كھينچ رہى تھى ليكن اونٹ بڑى مشكل سے راستہ طے كر رہا تھا_ ان عورتوں ميں سے ايك نے كہا كہ ''شايد اونٹ كا بار بہت گراں ہے'' ہند نے جواب ديا :'' نہيں يہ اونٹ بہت آسانى سے دو اونٹوں كا بار اٹھاتا ہے''_ ہند جب اونٹ كو احد كى طرف پلٹاتى تو اونٹ بڑى آسانى سے چلنے لگتا ، اس نے اپنے دل ميں كہا كہ '' يہ كيا بات ہے؟'' رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس آئي اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سارا ماجرا بيان كيا _ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہند سے سوال كيا كہ '' جب تيرا شوہر گھر سے باہر نكلا تو اس نے خدا سے كيا مانگا تھا؟ '' ہند نے كہا ، اے اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وہ جب گھر سے باہر نكلے تھے تو اس وقت انكى دُعا تھى '' خدا يا مجھے ميرے گھر واپس نہ پلٹانا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے فرمايا: '' تيرے شوہر كى دُعا مستجاب ہوئي'' خدا نہيں چاہتا كہ يہ جنازے گھر كى طرف واپس جائيں تم تينوں جنازوں كو احد ہى ميں دفن كرو اور يہ جان لو كہ يہ تينوں افراد دوسرى دُنيا ميں بھى ساتھ ہى رہيں گے''_


ہند نے سسكتے ہوئے كہا '' اے اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ خدا سے دُعا كيجئے كہ ميں بھى (آخرت ميں) ان كى پاس رہوں_(۱۲)

مدينہ كى طرف

جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے شہيد اصحاب كو دفن كرچكے تو انہوں نے مدينہ كى طرف روانہ ہونے كا حكم ديا_ بہت سے مسلمان زخمى تھے_ جناب فاطمہ زہرا (ع) كے ساتھ زخميوں كے ديكھ بھال كے لئے احد ميں جو چودہ عورتيں آئي تھيں وہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ تھيں_

كچھ لوگ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ديدار اور استقبال كے لئے شہر سے باہر آئے تا كہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى سلامتى كا اطمينان حاصل كريں_ قبيلہ بنى دينار كى ايك عورت نے جب اپنے باپ ، شوہر اور بھائي كے شہيد ہوجانے كى خبر سُنى تو اس نے كہا كہ '' رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى كيا خبر ہے؟'' لوگوں نے بتايا كہ ''رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ٹھيك ہيں''_ اس عورت نے كہا كہ '' ذرا مجھے راستہ ديد و تا كہ ميں خود ان كى زيارت كروں'' اور جب اس نے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو زندہ وسلامت ديكھا تو كہا كہ '' اے اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم زندہ ہيں تو اب اسكے بعد ہر مصيبت آپكے وجود كى وجہ سے بے وقعت ہے_(۱۳)

''حمنہ بنت حجش ''رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس آئيں تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے فرمايا '' حمنہ ميں تجھے تعزيت پيش كرتا ہوں''_ انہوں نے پوچھا كہ كس كى تعزيت ؟ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا ''تمھارے ماموں حمزہ كى '' حمنہ نے كہا: انا للہ و انا اليہ راجعون ،خدا ان كى مغفرت كرے اور ان پر اپنى رحمت نازل فرمائے انہيں شہادت مبارك ہو، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا '' ميں پھر تعزيت پيش كرتا ہوں'' حمنہ نے كہا '' كس كى تعزيت''؟ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا '' تمہارے


بھائي عبداللہ بن حجش كى '' حمنہ نے كہا خدا ان كى مغفرت كرے اور ان پر اپنى رحمتيں نازل كرے اور ان كو بہشت مبارك ہو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پھر فرمايا كہ '' ميں پھر تم كو تعزيت پيش كرتا ہوں''حمنہ نے پوچھا '' كس كى تعزيت؟ آپ نے فرمايا كہ '' تمہارے شوہر مصعب بن عمير كى '' حمنہ نے ايك آہ سرد بھرى اور گريہ كرنا شروع كيا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' شوہر جو مقام عورت كے دل ميں ركھتا ہے وہ كسى كا نہيں ہوتا''_ اس كے بعد لوگوں نے حمنہ سے پوچھا كہ تم اس قدر كيوں غمزدہ ہوگئيں ؟ حمنہ نے كہا كہ '' ميں نے اپنے بچّوں كى يتيمى كو ياد كيا تو ميرا دل بھر آيا_(۱۴)

شہيد عمروبن معاذ كى ماں ''كبشہ '' آگے بڑھيں اور انہوں نے بڑے غور سے رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا چہرہ مبارك ديكھا اور اس كے بعد كہا'' اب جب ميں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو صحيح و سالم ديكھ ليا تو مصيبت كا اثر ميرے دل سے زائل ہوگيا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كے بيٹے عمروبن معاذ كى شہادت پر ان كو تعزيت پيش كى ، دلاسہ ديا اور فرمايا '' اے عمرو كى ماں ميں تجھے مدہ سناتا ہوں اور تم شہيدوں كے اہل و عيال كو مدہ سنادو كہ ان كے شہدا بہشت ميں ايك دوسرے كے ساتھ ہيں اور ہر ايك اپنے عزيزوں اور خاندان والوں كى شفاعت كرے گا_'' عمرو كى ماں نے كہا '' اے پيغمبرخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اب ميں خوش ہوں'' اور اس كے بعد عرض كيا '' اے پيغمبرخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان كے پس ماندگان كے لئے دعا فرمايئےرسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے اس طرح دعا كى '' خدايا ا ن كے دلوں سے غم كو زائل كردے ، ان كے مصيبت زدہ دل كے زخموں پر مرہم ركھ اور ان كے پس ماندگان كے لئے بہترين سرپرست قرار دے_(۱۵)


نماز مغرب كا وقت آن پہنچا

بلال نے اذان دي، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مسجد ميں اس حالت ميں تشريف لائے كہ لوگ ان كے شانوں كو پكڑے ہوئے تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے نماز پڑھى واپسى پر ديكھا كہ نالہ و شيون كى آوازوںميں شہر مدينہ ڈوبا ہوا ہے ، لوگ اپنے شہيدوں كى عزادارى اور ان پر رونے ميں مصروف ہيں _ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا:

'' ليكن حمزہ كا كوئي نہيں ہے جو ان پر گريہ كرے'' مدينہ كى عورتيں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے گھر آئيں اور مغرب سے لے كر رات تك نوحہ و عزادارى ميں مصروف رہيں _

شہيدوں كى ايك جھلك

صرف ايك سجدہ وہ بھى محراب عشق ميں خون بھرا سجدہ_

انصار ميں سے عمروبن ثابت نامى ايك شخص جن كى عرفيت'' اصيرام'' تھي_ ہجرت كے بعد جب انكے سامنے اسلام پيش كيا گيا_ انھوں نے اسے قبول كرنے سے انكار كرديا ليكن

جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا احد كے لئے نكلے تو ان كے دل ميں نور ايمان جگمگا اُٹھا_ انھوں نے تلوار اُٹھائي اور نہايت سرعت كے ساتھ لشكر اسلام سے جاملے ، مردانہ وار جنگ كى اور زخموں سے چور ہوكر گر پڑے_ جب مسلمانوں نے اپنے مقتول سپاہيوں كو ميدان جنگ ميں ڈھونڈھنا شروع كيا تو اس وقت ان كو بھى ديكھا كہ ابھى زندہ ہيں، لوگوں نے ان سے دريافت كيا كہ '' تم نے اپنے قبيلہ كى حمايت ميں جنگ كى ہے يا تم مسلمان ہوگئے ہو؟ '' انھوں نے جواب ديا كہ '' ميں مسلمان ہوگيا ہوں ميں نے ميدان جہاد ميں قدم ركھ ديا ہے اور اب اپنے خون ميں غلطاں ہوں_'' ابھى تھوڑى دير نہ گذرى تھى كہ وہ شہيد ہوگئے ، جب


ان كا واقعہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا سے بيان كيا گيا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا '' كہ وہ جنّتى ہے'' ہاں قبل اس كے وہ نماز پڑھے اور خدا كے لئے سجدہ كرے، اس نے جنّت كى راہ لي، اس نے صرف ايك سجدہ كيا وہ بھى خون بھرا سجدہ محراب عشق ميں_(۱۶)

ايك عقلمند صاحب ثروت كى شہادت

''مخيرق ''ايك يہودى دانش مند اور مال دار آدمى تھا خرمے كے درخت اور بہت زيادہ مال و متاع كا مالك تھا جب احد كا دن آيا تو اس نے يہوديوں سے مخاطب ہوكر كہا '' خدا كى قسم تمہيں خوب معلوم ہے كہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى نصرت تم پر واجب ہے ''_ يہوديوں نے عذر پيش كيا كہ آج ہفتے كا دن ہے(۱۷) _اس نے كہا كہ '' تمھارے نزديك اب كوئي ہفتہ نہيں ہے''_ پھراس نے لباس جنگ زيب تن كيا اپنے جسم پر ہتھيار سجائے اور احد كى طرف روانہ ہونے كے لئے تيار ہوا نكلنے سے پہلے اس نے اپنے رشتہ داروں سے كہا '' اگر ميں آج قتل كرديا جاؤں تو ميرے سارے مال كا اختيار محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو ہے، وہ جہاں چاہيں خرچ كريں''_ اس كے بعد وہ احد كى طرف چل پڑا اور مجاہدين راہ خدا سے جاملا ، جہاد كرتے ہوئے شہيد ہوا _ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كى وصيّت كے مطابق ان كے مال كو اپنى تحويل ميں لے ليا اور ابن اسحاق كى تحرير كے مطابق مدينہ ميں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كے بہت سے اوقاف اور امور خير انجام دينے والى چيزيں انہى كے مال سے تھيں_(۱۸)

بوڑھے عارف كى شہادت

''خيثمہ''بوڑھے مگر صاحب معرفت تھے ان كے بيٹے بدر كى لڑائي ميں شہادت كے


درجے پر فائز ہوچكے تھے لشكر اسلام كى احد كى طرف روانگى سے قبل انہوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض كيا كہ '' كل رات خواب ميں، ميں نے اپنے بيٹے كو ديكھاہے كہ بہشت كے باغوں ميں چلا جارہا ہے، بہشت كے درختوں كے نيچے اس كى نہروں كے كنارے ٹہل رہا ہے، ميرے بيٹے نے مجھ سے كہا كہ بابا جان ہمارے پاس آجايئےہ ہم نے خدا كے وعدے كو سچّاپاياہے اے اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميں اس بات كا مشتاق ہوں كہ اپنے بيٹے كے پاس پہنچ جاؤں اے پيغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميرى داڑھى سفيد اور ميرى ہڈياں كمزور ہوچكى ہيں ميں چاہتا ہوں كہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميرے لئے دعا فرمائيں كہ خدا مجھے شہادت نصيب كرے'' _ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا'' خدايا اس شخص كى آرزو پورى فرما '' اور وہ احد كى جنگ ميں شہيد ہوگيا_

حجلہ خون

۲۵ سالہ جوان ''حنظلہ ''، جنگ احد كى آگ بھڑكانيوالوں ميں سے ايك شخص ابوعامر فاسق كے بيٹے تھے، جس وقت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى طرف سے جہاد كے لئے عام تيارى كا اعلان ہوا، اس وقت جناب حنظلہ، عبداللہ بن اُبيّ كى لڑكى سے شادى كرنے كى تيارياں كررہے تھے_ يہ دو لہا اوردلہن اپنے باپوں جو كافر اور منافق تھے، كے برخلاف اسلام اور پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر مكمل ايمان ركھتے تھے_ جس وقت محاذ جنگ پر جانے كى دعوت كى صدا جناب حنظلہ كے كانوں سے ٹكرائي تو پريشان ہوگئے كہ اب كيا كريں؟ ابھى تو شادى كے مراسم ادا ہوئے ہيں اب حجلہ عروسى ميں جائيں يا محاذ جنگ پر؟ انہوں نے بہتر سمجھا كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اجازت لے ليں تا كہ شب زفاف مدينہ ميں رہيں اور دوسرے دن ميدان جنگ ميں حاضر ہوجائيں_


پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اجازت ديدي، صبح سويرے غسل كرنے سے پہلے، اپنى دلہن سے محاذ جنگ پر جانے كے لئے الوداع كيا تودلہن كى آنكھيں آنسووں سے ڈبڈباگئيں اپنے شوہر سے چند منٹ ٹھہرنے كو كہا اور ہمسايوں ميں سے چار آدميوں كو بلايا تا كہ وہ لوگ اس كے اور اس كے شوہر كے درميان گواہ رہيں _

حنظلہ نے دوسرى بار خداحافظ كہا اور محاذ جنگ كى طرف روانہ ہوگئے _

دلہن نے ان گواہوں كى طرف رخ كيا اور كہا كہ رات ميں نے خواب ميں ديكھا كہ آسمان شگافتہ ہوا اور ميرے شوہر اس ميں داخل ہوئے اور اس كے بعد آسمان جُڑگيا _ ميرا خيال ہے كہ وہ شہادت كے درجہ پر فائزہونگے_

جب جناب حنظلہ لشكر اسلام سے جاملے تو انہوں نے ابوسفيان پر حملہ كيا ، ايك تلوار اس كے گھوڑے پر پڑى تو وہ گرپڑا ، ابوسفيان كى چيخ پكار پر چند مشركين مدد كو بڑھے اور اس طرح ابوسفيان نے جان بچائي _ دشمن كے ايك سپاہى نے جناب حنظلہ كو نيزہ مارا، نيزے كا شديد زخم لگنے كے باوجود حنظلہ نے نيزہ بردار پر حملہ كيا اور تلوار سے اس كو قتل كرڈالا_ نيزے كے زخم نے آخر كاراپنا كام كرڈالا اور جناب حنظلہ، حجلہ خون ميں عروس شہادت سے جاملے_

پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' ميں نے ديكھا حنظلہ كو فرشتے غسل دے رہے تھے'' اس وجہ سے ان كو ''حنظلہ غَسيل الملائكہ ''كہتے ہيں_(۱۹)

دولہادلہن كا اخلاص اور ايمان واقعى بہت تعجب انگيز ہے اور محاذ جنگ پر لڑنے والے ہمارے پيكر ايثار مجاہدين،ان كے خاندان والوں اور ان كى بيويوں كے لئے الہام بخش اور مقاوت كا نمونہ ہے_(۲۰)


مدينہ ميں منافقين كى ريشہ دوانياں

جنگ احد كے بعد عبداللہ بن ابى اور اس كے تمام منافق ساتھيوں نے طعن و تشنيع كا سلسلہ شروع كرديا اور مسلمانوں پر پڑنے والى عظيم مصيبت پر خوشحال تھے، يہودى بھى بد زبانى كرنے لگے اور كہنے لگے كہ '' محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سلطنت حاصل كرنا چاہتے ہيں ، آج تك كوئي پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس طرح زخمى نہيں ہواوہ خود بھى زخمى ہوئے اور اصحاب بھى مقتول اور زخمى ہيں'' _(۲۱)

وہ رات بڑى حساس رات تھى ہر آن يہ خطرہ سروں پر منڈلا رہا تھا كہ كہيں منافقين اور يہود، مسلمانوں اور اسلام كے خلاف شورش برپا نہ كرديں اور اختلاف پيدا كر كے شہر كے سياسى اتحاد اور يك جہتى كو ختم نہ كرديں_

مدينہ سے ۲۰ كيلوميٹر دور'' حمراء الاسد'' ميں جنگى مشق

۸ شوال ۳ ہجرى قمرى بمطابق ۲۷ مارچ ۶۲۵ئ (عيسوي) بروز اتوار ہر طرح كى داخلى و خارجى ممكنہ سازش كى روك تھام اور مكمل طور پر ہوشيار اور آمادہ رہنے كے لئے اوس و خزرج كے سر بر آوردہ افراد نے مسلح افراد كى ايك جماعت كے ساتھ مسجد اور خانہ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے دروازے پر رات بھر پہرہ ديا_ اتوار كى صبح رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے نماز صبح ادا كركے جناب بلال كو حكم ديا كہ لوگوں كو دشمن كے تعاقب كے لئے بلائيں اور اعلان كريں كہ ان لوگوں كے سوا كوئي ہمارے ساتھ نہ آئے جو كل جنگ ميں شركت كرچكے ہيں _

بہت سے مسلمان شديد زخمى تھے ليكن فوراً اٹھ كھڑے ہوئے اور جنگى لباس زيب تن كر كے ، اسلحہ سے آراستہ ہوكر تيار ہوگئے _ پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پرچم حضرت على (ع) كے ہاتھ ميں ديا اور عبداللہ بن ام مكتوم كو مدينہ ميں اپنا جانشين معيّن فرمايا_ اس حيرت انگيز روانگى كى وجہ يہ تھى كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو يہ پتہ چل گيا تھا كہ قريش كے سپاہيوں نے مدينہ لوٹ كر ( اسلام و


مسلمانوں كا ) كام تمام كردينے كا ارادہ كرليا ہے_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حمراء الاسد پہنچے اور وہاں حكم ديا كہ سپاہى ميدان ميں بكھرجائيں اور رات كے وقت اس وسيع و عريض زمين پر آگ روشن كرديں، تا كہ دشمن كو يہ گمان ہو كہ ايك بہت بڑا لشكر ان كا پيچھا كر رہا ہے_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تين رات وہاں ٹھہرے رہے اورہر رات اس عمل كو دہرايا جاتا رہا _

اسى جگہ ''معبد خزاعى ''نے پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں پہنچ كو خبر دى كہ قريش دوبارہ مدينہ پر حملہ كرنے كا قصد ركھتے ہيں _ پھر معبد نے ابوسفيان سے جا كر كہا كہ ميں نے لشكر بے كراں اور غيظ و غضب سے تمتماتے چہرے ديكھے ہيں _ ابوسفيان اس خبر سے وحشت زدہ ہوگيا اور مدينہ پر حملہ كرنے كے ارادے سے باز رہا _

اس جنگى مشق نے مجاہدين اسلام اور اہل مدينہ كے حوصلوں كو بڑھايا، ان كے دل سے خوف كو دور كيا اور دشمن كے دل ميں اور زيادہ خوف بٹھاديا_ اور جب تين دن كے بعد مسلمان مدينہ پلٹ كر آئے تو ان كى حالت ايسى تھى كہ گويا ايك بہت بڑى فتح حاصل كركے لوٹے ہوں_(۲۲)

ابوعَزَّہ شاعر كى گرفتاري

قريش كا بلبل زباں شاعر ابوعزّہ بدر كى لڑائي ميں مسلمانوں كے ہاتھوں اسير ہو كر آيا تھا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بغير تاوان كے اس شرط پر آزاد كرديا كہ كسى كو مسلمانوں كے خلاف نہيں بھڑكائے گا_ ليكن اس نے عہد شكنى كى اور اشعار كے ذريعہ جنگ احد كے لئے مشركين كو اسلام كے خلاف لڑنے كى دعوت ديتا رہا _ حمراء الاسد ميں لشكر اسلام كے ہاتھوں دوبارہ گرفتار اور ايك مرتبہ پھر معافى كاخواستگار ہوا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قبول نہيں فرمايا اور ارشاد فرمايا كہ '' مومن ايك سوراخ سے دوبارہ نہيں ڈساجاتا''(۲۳) اس كے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس كے قتل كا حكم ديديا_(۲۴)


جنگ احد كے بارے ميں جو آيات نازل ہوئيں وہ سورہ آل عمران كى ۶۰ آيتيں ( ۱۲۰ سے ۱۷۹ تك ) ہيں_ اس سال كے اہم واقعات ميں سے پيغمبراسلام نےصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حفصہ بنت عمر كے ساتھ ماہ شعبان ميں عقد اور زينب بنت خزيمہ كے ساتھ آپ كا نكاح ہوا_(۲۵)


سوالات

۱_ قُزمان كو شہيد كيوں نہيں ماناجاتا ؟

۲_ دشمن نے نفسيانى جنگ كيسے شروع كي؟

۳_ مسلمانوں كى شكست كے بارے ميں منافقين نے كس رد عمل كا اظہار كيا؟

۴_ جنگ احد ميں مسلمانوں كى شكست كے اسباب اختصار كے ساتھ بيان كيجئے_

۵_ حمراء الاسد كى جنگى مشق كس لئے ہوئي؟

۶_ شہداء احد كہاں دفن ہوئے؟ شہداء احد ميں سے كچھ لوگوں كے نام بيان كيجئے _


حوالہ جات

۱_سيرة حلبى ج ۲، ص ۲۴۴، مغازى واقدى ج ۱،ص ۲۷۴_

۲_ الصحيح ج ۴ ، ص ۳۱۹_ ارشاد شيخ مفيد ص ۴۳_ بحارالانوار ج ۲۰، ص ۹۰_

۳_سيرة ابن ہشام ص ۹۳_ مغازى واقدى ج ۱، ص ۲۲۴_ ۲۲۳_

۴_: بحار الانوار ج ۲۰ ، ص ۴۴_

۵_بحار الانوار ج ۲۰ ، ص ۹۷، واقدى ج ۱ ص ۲۹۸ پر كہتا ہے كہ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سعد بن ابى وقاص كو بھيجا_

۶_( وَلَقَد صَدَقَكُم الله وَعدَهُ اذ تَحُسُّونَهُم با ذنه حَتيّ اذَا فَشلتُم وَ تَنَزَعتُم فى الامر وَ عَصَيتُم مّن بَعذ مَا ا َرَى كُم مَّا تُحبُّونَ ) (آل عمران _ ۱۵۲)

۷_( منكُم مَّن يُريدُ الدُّنيَا وَ منكُم مَّن يُريدُ الاخرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُم عَنهُم ليَبتَليَكُم ) (آل عمران _ ۱۵۲)_

۸_( وَمَا مُحَمَّدٌ الا رَسُولٌ قَد خَلَت من قَبله الرُّسُلُ اَفَا نْ مَّاتَ ا َو قُتلَ انقَلَبتُم عَلى ا َعقبَكم ) (آل عمران _۱۴۴)_

۹ _( و انْ عاقَبْتُم فعاقبُوا بمثل ما عُوقبْتُم به و َ لَئن صَبَرتُم فهو خيرٌ للصابرين ) ( نحل ، آيت ۱۲۶)نيز رجوع كريں _ شرف النبىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ص ۳۴۷_

۱۰_ مغازى واقدى ج ۲ ، ص ۲۶۷_ ابن ہشام ج ۲، ص ۹۵،۹۷_

۱۱_ مغازى واقدى ج ۱، ص ۲۶۷_ سيرت ابن ہشام ج ۲،ص ۹۷_

۱۲_ مغازى واقدى ص ۲۶۴،۲۶۶_

۱۳_ سيرة ابن ہشام ج ۲،ص ۹۹_ مغازى واقدى ج ۱ ص ۲۹۲_

۱۴_ مغازى واقدى ج ۱ ص ۲۹۱_ سيرة ابن ہشام ج ۲،ص ۹۸_


۱۵_ مغازى واقدى ص ۳۱۵_ ۳۱۶_

۱۶_ سيرة ابن ہشام ج ۲ ص ۹۰_

۱۷_ يہوديوں كے مذہب ميں ہفتہ تعطيل كا دن ہے _

۱۸_ سيرة ابن ہشام ج ۲، ص ۸۸_ تاريخ طبرى ج ۲، ص ۵۳۱_ مغازى واقدى ج ۱ ،ص ۲۶۲، ۲۶۳_

۱۹_ سيرة ابن ہشام ج ۲، ص ۷۴_ بحارالانوار ج ۲۰ ص۵۷_ مغازى واقدى ج ۱ ، ۲۷۳_

۲۰_ اس شادى كے نيتجہ ميں جناب عبداللہ بن حنظلہ غسيل الملائكہ پيدا ہوئے جنھوںنے ۶۲ھ ميں امام حسين(ع) كى شہادت كے بعد اہل مدينہ كى ايك جماعت كے ساتھ يزيد بن معاويہ كے خلاف علم بغاوت بلند كيا تاريخ اسلام ميں عوام كے اس انقلابى اقدام اور يزيد بن معاويہ كے جرائم پر مبنى واقعہ كو واقعہ حرّہ كے نام ياد كيا جاتا ہے _

۲۱_ مغازى واقدى ج ۱ ، ص ۳۱۷_

۲۲_ طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۴۸، مغازى واقدى ج ۱ ص ۳۳۸، تاريخ طبرى ج ۲ ص ۵۳۴_ تفسير نورالثقلين ج ۱ ص ۴۱۰_ سيرة حلبى ج ۲ ص ۲۵۷، سيرة ابن ہشام ج ۲ ص ۱۰۱_ تفسير نمونہ ج ۲ ص ۱۷۷،۱۷۴_

۲۳_لايلدغ المؤمن من حُجر: مَّرتين _

۲۴_ سيرہ حلبى ج ۲ ، ص ۲۵۹_

۲۵_ سيرة حلبى ج۲، ص ۲۵۸_


چوتھا سبق

سريہ ابوسلمہ بن عبدالاسد

سريہ عبداللہ بن انيس انصاري

رجيع كا واقعہ

بئر معونہ كا واقعہ

سريہ عمر ابن اميہ

غزوہ بنى نضير

دہشت گرد سے انتقام

غزوہ بدر الموعد

۴ ہجرى كے ديگر اہم واقعات

سوالات

حوالہ جات


سريہ ابوسَلَمَہ بن عبدُالاسد

يكم محرم ۴ ء ہجرى قمرى(۱) بمطابق ۱۶ جون ۶۲۵ئ بروز جمعرات _

رسول خدا بخوبى جانتے تھے كہ احد كى شكست كے اثرات كو فداكارى اورزبردست و وسيع پيمانے پر جنگى اور سياسى اقدامات كے ذريعہ زائل كرنا چاہيے_ دوسرى طرف منافقين اور يہود، اسلام كے داخلى نظام كو نقصان پہنچانے كى كوشش ميں لگے ہوئے تھے_ ہم عہد قبيلے بھى سست پڑگئے تھے ، اگر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ايك جنگى اور سياسى قابل قدر مشق يا حملہ نہ كرتے تو مدينہ كى مثال اس مجروح كى سى ہوتى جو حجاز كے بيابان ميں پڑا ہو اور اپنا دفاع نہ كرسكتا ہو اورباديہ نشين مردہ خواروں ، قريش و بنى كنانہ اور ان كے ہم عہد عرب ويہود كے كينہ توز بھيڑيوں كے لئے لذيذ لقمہ بن جاتا _

اسى دوران قبيلہ طَيّى كے ايك شخص نے پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو خبر دى كہ '' بنى اسد'' مدينہ پر حملہ كرنے اور مسلمانوں كے مال كو لوٹنے كے لئے بالكل تيار بيٹھے ہيں _ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابوسلمہ كو سردار لشكر بنايا اور پرچم ان كے ہاتھ ميں ديكر ايك سوپچاس مجاہدين كو ان كے ہمراہ كيا اور حكم ديا كہ راتوں كو خفيہ راستوں سے سفر كريں اور دن ميں پناہ گاہوں ميں سوجائيں_ اور دشمن كے سروں پر اچانك بجلى كى طرح گرپڑيں تا كہ دوسرے قبيلوں سے مدد لينے كى فرصت نہ ملے _ ابوسلمہ ،آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم كے مطابق روانہ ہوئے اور مدينہ سے ۳۳۰ كيلومٹر كى دورى پر مقام ''قَطَن'' كے اطراف ميں جاپہنچے وہاں پتہ چلا كہ دشمن


ڈركے مارے بھاگ گئے ہيں ، ابوسلمہ نے اونٹوں اور بھيڑوں كے باقى ماندہ گلے كو جمع كيا اور بہت زيادہ مال غنيمت ليكر مدينہ پلٹ آئے _ احد كے بعد اس كاميابى نے يہوديوں اور منافقين پر مسلمانوں اور اسلام كے طاقتور ہونے كا مثبت اثر ڈالا اور اسلامى لشكر ،دشمن پرمُنہ توڑ حملہ كرنے والے اور ہم پيمان قبيلے كے لئے دفاعى تكيہ گاہ كے عنوان سے دوبارہ نماياں ہوا _(۲)

سريہ عبداللہ بن انيس انصاري

تاريخ ۵محرم ۴ ہجرى قمرى بمطابق ۲۰جون ۶۲۵-ئ بروز سوموار _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو خبر ملى كہ '' سفيان بن خالد'' نے مقام '' عُرنہ'' ميں جانبازان اسلام سے لڑنے كے ليئے لشكر آمادہ كر ركھا ہے _ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس جنگى سازش كو ناكام بنانے كے لئے عبداللہ بن انيس كو حكم ديا كہ'' عُرنہ ''جائيں اور اس كو قتل كرديں_

عبداللہ كہتے ہيں كہ اس ذمّہ دارى كے بعد ميں نے تلوار سنبھالى اور چل پڑا يہاں تك كہ عصر كے وقت ميں اس كے قريب پہنچ گيا _ جب اس كے قريب گيا تو اس نے پوچھا كہ تم كون ہو؟ ميں نے كہا كہ '' قبيلہ خزاعہ كا ايك آدمى ہوں، ميں نے سنا ہے تم مسلمانوں سے جنگ كے لئے لشكر جمع كر رہے ہو، ميں آيا ہوں كہ تمہارے ساتھ مل جاؤں'' _ '' عبداللہ كہتے ہيں كہ اسى طرح ہم ساتھ چلتے رہے يہاں تك كہ جب وہ بالكل تنہا ہوگيا اور ميں نے مكمل طور پر دسترس حاصل كرلى تو تلوار سے حملہ كر كے اس كو قتل كرديا جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس پہنچا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا '' ہميشہ سرخ رو اور سربلند رہو_(۳)


رَجيع كا واقعہ

ماہ صفر ۴ ہجرى قمري(۴) تقريباً جولائي ۵ ۶۲ئ كے آخر ميں پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دشمنوں كى سازشوں كو ناكام بنانے اور امن و امان قائم ركھنے كى غرض سے جنگى دستوں كو بھيجنے كے ساتھ ساتھ مناسب مواقع پر ثقافتى اور تبليغاتى دستے غير جانبدار قبائل كى طرف بھيجتے رہے تا كہ اسلام كے معارف كى نشر و اشاعت ہوسكے اور كبھى خود قبائل كى درخواست پر بھى مبلغين بھيجے جاتے تھے_

كچھ قبيلے اس سے غلط فائدہ اٹھا تے اور مبلغ و معلم كو بلانے كے بعد بڑى بے دردى سے قتل كرديتے تھے_

رجيع كا واقعہ احد كے بعد اس طرح پيش آيا كہ قبيلہ'' عَضَل'' اور '' قارہ '' كا ايك وفد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس پہنچا اور كہا كہ ہمارے قبيلے كے كچھ لوگ مسلمان ہوگئے ہيں اپنے اصحاب كى ايك جماعت ہمارے يہاں بھيج ديں تا كہ ہميں قرآن اور احكام اسلام سكھائيں_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فريضہ الہى كے بموجب چھ افراد كو ان كے ساتھ بھيجا اور ''مَرثَدبن اَبى مَرثَد غَنَوي ''كو اس جماعت كا قائد معيّن فرمايا _ مبلغين اسلام اس حال ميں احكام الہى پہنچانے كے لئے ان قبيلوں كى طرف روانہ ہوئے كہ ايك ہاتھ ميں اسلحہ ، دوسرے ميں قرآن كے نوشتے اور سينہ ميں علوم الہى اور عشق خدا تھا _ مكّہ سے ۷۰ كيلوميٹر شمال كى جانب جب چشمہ رجيع كے مقام پر پہنچے تو دونوں قبيلوں نے عہدشكنى كى اور قبيلہ ہُذَيل كى مدد سے ان پر حملہ كرديا _

معلمين قرآن نے اپنا دفاع كيا ، حملہ آوروں نے كہا كہ '' ہم تمہيں قتل نہيں كريں گے


بلكہ تمہيں قريش كے ہاتھ زندہ بيچ ديں گے اور اس كے بدلہ ميں كچھ چيزيں حاصل كريںگے'' تين مبلغين نے كسى بھى طرح خود كو حوالے نہيں ہونے ديا اورنہايت بہادرى سے مقابلہ كرتے ہوئے شہيد ہوگئے _ دوسرے تين افراد ''زَيد ، خُبَيب اور عبداللہ'' نے خود كو ان كے حوالے كرديا _ حملہ آور تينوں كو مكہ كى طرف لے گئے تا كہ ان كو قريش كے ہاتھوں فروخت كريں _ ابھى راستہ ہى ميں تھے كہ عبداللہ نے تلوار پر قبضہ كر كے جنگ كى يہاں تك كہ شہيد ہوگئے _ ان لوگوں نے دوسرے دو اسيروں كو مكّہ كے بڑے لوگوں كے ہاتھوں فروخت كرديا_ زيد كو صفوان بن اُميّہ نے پچاس۵۰ اونٹوں كے بدلے خريدا تا كہ اس كو اپنے باپ اميّہ بن خَلَف كے خون كے انتقام ميں قتل كرے اور خُبَيب كو عُقبَہ بن حارث نے اسّي۸۰ مثقال سونے كے عوض خريدا تا كہ انہيں اپنے باپ كے انتقام ميں دار پر چڑھا دے جو بدر ميں مارا گيا تھا _

زيد كى زندگى كے آخرى لمحہ ميں ، ابوسفيان آگے بڑھا اور كہاكہ ''كيا تم پسند كرتے ہو كہ تمہارى جگہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قتل ہوجائيں؟ زيد نے كہا '' خدا كى قسم مجھے يہ پسند نہيںہے كہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پير ميں كانٹا چبھے يا كوئي آزار پہنچے اور ميں صحيح و سالم رہوں '' _

ابوسفيان نے كہا '' ميں نے ابھى تك محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جيسا كسى كو نہيں ديكھا جو اپنے اصحاب ميں اس طرح كى محبوبيت ركھتا ہو'' _

خُبَيب نے بھى چند دنوں تك زندان ميں رہ كر شہادت پائي _ شہادت كے وقت ا نہوں نے اجازت مانگى تا كہ دور ركعت نماز ادا كريں اس كے بعد فرمايا كہ '' خدا كى قسم اگر مجھے اس بات كا خوف نہ ہوتا كہ تم گمان كروگے كہ ميں موت سے ڈرگيا ہوں تو ميں اور زيادہ نمازيں پڑھتا'' پھر آسمان كى جانب رخ كر كے دعا كى _ تختہ دار پر لٹكانے كے بعد كافروں نے


پيش كش كى كہ اسلام كو چھوڑ ديں ، انہوں نے جواب ميں خدا كى واحدانيت كى گواہى دى اور كہا كہ '' خدا كى قسم روئے زمين كى سارى چيزيں مجھے دے كر اگر يہ كہا جائے كہ اسلام چھوڑ دوں تب بھى ميں اسلام نہيں چھوڑوں گا_''

اس مجاہد اور شہيد كا پاكيزہ جسم ايك مدّت تك تختہ دار پر لٹكا رہا ، آخر كا خفيہ طور پر كسى نے اُتارا اور دفن كرديا_(۵)

بئْر مَعُونہ كا واقعہ

ماہ صفر ۴ ہجرى قمرى بمطابق جولائي ۶۲۵ئ مدينہ ميں كچھ نوجوان رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے قرآنى و اسلامى علوم كا درس ليتے اور مسجد ميں دينى بحث و مباحثہ ميں شريك ہوتے تھے_ قرآن مجيد سے ان كى واقفيت اتنى تھى كہ وہ مبلّغ اسلام ہوسكتے تھے_

ايك دن قبيلہ بنى عامر كا ''اَبُو بَرا ''نامى شخص رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں آيا اور كہا كہ '' اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے اصحاب ميں سے كچھ افراد نَجد كى سرزمين پر بھيج ديں تو مُجھے اُميد ہے كہ وہ لوگ آپ كى دعوت قبول كريں گے'' آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا '' ميں نجدوالوں سے اپنے اصحاب كے بارے ميں ڈرتا ہوں''_ اَبو برا نے كہا كہ ميں ان كى حفاظت كى ذمّہ دارى ليتا ہوں وہ لوگ ميرى پناہ ميں رہيں گے'' رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسلام سے آشنائي ركھنے والے چاليس(۶) معلمين قرآن كو'' مُنذر بن عَمرو'' كى سربراہى ميں ايك رہنما كے ساتھ سرزمين نجد كى طرف روانہ كيا تا كہ وہاں اسلامى حقائق كى تبليغ كريں_

جب يہ لوگ ''بئر مَعُونہ ''كے مقام پہنچے تو اس جماعت كے ايك شخص نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا خط قبيلہ بَنى عامر كے سردار كے سامنے پيش كيا _ سردار قبيلہ نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا خط پڑھے بغير


نامہ بر كو قتل كرديا اور بَنى عامر سے نامہ بر كے ساتھ آنے والوں كو قتل كرنے كے سلسلہ ميں مدد مانگى انہوں نے كہا كہ '' ہم اَبُوبَرا كى امان كو نہيں توڑيں گے''_ اس نے فوراً قبائل بَنى سُلَيم سے اس سلسلہ ميں نُصرت چاہى تو وہ سب كے سب مبلغين اسلام پر ٹوٹ پڑے _ چاليس ۴۰ مبلغين نے مردانہ وار مقابلہ كيا يہاں تك كہ شہيد ہوگئے، صرف عَمرو بن اُميّہ جو صرف زخمى ہوئے تھے اس حادثہ كے بعد مدينہ پہنچنے ميں كامياب ہوئے_

انہوں نے راستہ ميں قبيلہ بنى عامر كے دو ۲ افراد كو ديكھا اور اپنے شہيد دوستوں كے انتقام ميں ان دونوں كو قتل كرديا_ جب مدينہ پہنچے اور مبلغين كى شہادت كے واقعہ كو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں نقل كيا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بہت غمگين ہوئے اور اُن مجرمين پر نفرين كي_(۷)

سريہ عَمروبن اُميَّہ

حادثہ رَجيع كے بعد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس درد انگيز حادثہ ميں شہيد ہونے والے شہيدوں

كے خون كا انتقام لينے اور جرائم كا ارتكاب كرنے والے اصلى مجرموں كو كيفر كردار تك

پہنچانے كے لئے عَمُروبن اُمَيَّہ ضَمري كو ايك آدمى كے ساتھ مامور كيا كہ مكّہ جاكر ابوسفيان كو قتل كرديں، وہ لوگ مكّہ پہنچے اور رات كے وقت شہر ميں داخل ہوئے ليكن مكّہ والوں ميں سے ايك شخص نے انہيں پہچان ليا، مجبوراً ان لوگوں نے شہر سے باہر نكل كر ايك غار ميں پناہ لى اور واپسى پر قريش كے تين نمك خوار اور ايك جاسوس كو گرفتار كيا اور انہيں مدينہ لے آئے_(۸)


غَزوَہ بَني نُضَير

تاريخ : ربيع الاول ۴ ہجرى قمري

مدينہ واپسى كے وقت واقعہ بئر معونہ ميں تنہا بچ جانے والے شخص عَمروبن اُمَيَّہ كے ہاتھوں بَنى عامر كے دو آدميوں كے قتل نے ايك نئي مشكل پيدا كردى كيونكہ اس نے غلطى سے بے قصور افراد كو قتل كرديا تھا اور جو عہد و پيمان بَنى عامر نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے كيا تھا اس كے مطابق مسلمانوں كو ان مقتولين كا خون بہا ادا كرنا چاہيئےھا _ دوسرى طرف بَنى نَضير كے يہودى مسلمانوں كے ہم پيمان ہونے كے ساتھ ساتھ بنى عامر سے بھى معاہدہ ركھتے تھے_ لہذا اپنے پيمان كے مطابق ان لوگوں كو بھى خوں بہا ادا كرنے ميں مسلمانوں كى مدد كرنى چاہيئےھي_

چند دن پہلے پيش آنے والے بئر مَعُونہ اور رَجيع كے منحوس حادثات كے بعد يہودى ، منافقين كے ساتھ مل كر مسلمانوں كا مذاق اڑاتے اور كہتے '' جو پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، خدا كا بھيجا ہوا ہوتا ہے وہ شكست نہيں كھاتا'' _ يہ لوگ ہر آن شورش برپا كرنے كے موقع كى تلاش ميں رہتے_

اب وہ وقت آگيا تھا كہ خداوند عالم مسلمانوں كو بنى نضير كے يہوديوں كى بدنيتى سے آگاہ كرے، بَنى نَضير سے عہد و پيمان كے مطابق مقتولين كى ديّت ادا كرنے ميں مدد طلب كرنے كے لئے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم چند اصحاب كے ساتھ بنى نَضير كے قلعہ ميں داخل ہوئے_ انھوں نے ظاہراً تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى پيش كش كا استقبال كيا ليكن خفيہ طور پر ايك دوسرے سے مشورہ كيا اور طے كيا كہ مناسب موقع ہاتھ آيا ہے اس سے فائدہ اٹھائيں اور پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى شمع حيات گُل كرديں_

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ايك گھر كى ديوار كے پاس بيٹھے ہوئے تھے_ ان لوگوں نے '' عمرو'' نامى


ايك شخص كو بھيجا كہ چھت سے ايك پتّھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے سراقدس پر گرادے _فرشتہ وحى نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو آگاہ كرديا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسى حالت ميں جس حالت ميں ان كى مشكوك نقل و حركت كا نظارہ فرمارہے تھے ، اطمينان سے اُٹھے اور اكيلے ہى مدينہ كى طرف چل ديئےحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے اصحاب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى تاخير سے پريشان ہوئے تو مدينہ لوٹ آئے_رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے محمد بن مَسلَمہ كو بنى نَضير كے پاس بھيجا اور كہلوايا كہ مدينہ كو دس ۱۰ دن كے اندر چھوڑديں جب بَنى نَضير كے سربرآوردہ افراد نے پيغام سُنا تو ان كے درميان ايك ہنگامہ برپا ہوگيا ، ہر آدمى اپنا نظريہ پيش كرنے لگا وہ لوگ مدينہ سے نكلنے كى سوچ ہى رہے تھے كہ عبداللہ ابن اُبى نے پيغام بھيجا كہ تم لوگ يہيں ٹھہرو اور اپنا دفاع كرو ميں دو ہزار افراد كو تمہارى مدد كے لئے بھيجوں گا اور بنى قُريظَہ كے يہودى بھى ہمارے ساتھ تعاون كريں گے_

منافقين كے ليڈر كے پيغام نے يہوديوں كو ہٹ دھرمى پر ڈٹے رہنے اور دفاع كے ارادے كو مضبوط اور حوصلہ افزا بناديا لہذا قبيلہ بنى نضير كے سردار '' حُيَيَّ بن اَخطَب'' نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس پيغام بھيجا كہ '' ہم جانے والے نہيں ہيں آپ كو جو كرنا ہو كر ليجئے'' رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے كسى قسم كى امداد پہنچنے سے پہلے ہى بنى نضير كے قلعہ كا محاصرہ كر ليا چھ۶ دن كے محاصرہ ميں يہوديوں كا قلعے سے باہر ہر طرح كا رابطہ منقطع ہوگيا_ آخر كاران لوگوں نے منافقين اور بنى قُريظَہ كى كمك سے مايوس ہوكر مجبوراً خود كو لشكر اسلام كے حوالہ كرديا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہيں اجازت دى كہ اسلحہ كے علاوہ اپنے منقولہ اموال ميں سے جتنا چاہيں ساتھ لے جائيں_

حريص يہوديوں نے جتنا ممكن تھا اونٹوں پر بار كيا يہاں تك كہ گھر كے دروازوں كو چوكھٹ سميت اُكھاڑ كر اونٹوں پر لادليا_ ان ميں سے كچھ لوگ خيبر كى طرف اور كچھ شام كى


طرف روانہ ہوئے جبكہ دو افراد مُسلمان ہوگئے_ يہوديوں كے غير منقول اموال اور قابل كاشت زمينيں پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہاتھ آئيں(۱) تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انصار كو بلايا ان كى سچّى خدمتوں ، ايثار اور قربانيوں كو سراہا اور فرمايا كہ '' مہاجرين تمہارے گھروں ميں تمہارے مہمان ہيں ان كى رہائشے كا بار تم اپنے كاندھوں پر اٹھائے ہوے ہو _ اگر تم راضى ہو تو بنى نضير كے مال غنيمت كو ميں مہاجرين كے درميان تقسيم كردوں تا كہ وہ لوگ تمہارے گھر خالى كرديں؟ سَعدبن معاذ اور سعدبن عُبَادَة قبيلہ اَوس و خَزرَج كے دونوں سرداروں نے جواب ديا _ ''اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مال غنيمت ہمارے مہاجر بھائيوں كے درميان بانٹ ديجئے اور وہ بدستور ہمارے گھروںميں مہمان رہيں''_رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بنى نضير كے تمام اموال اور قابل كاشت زمينوں كو مہاجرين كے درميان تقسيم كرديا اور انصار ميں سے صرف دو افراد يعنى سَہل بن حُنَيف اور ابو دُجَانہ كو جو كہ بہت زيادہ تہى دست تھے ، كچھ حصّہ عنايت فرمايا_

سورہ حشر بَنى نَضير كے يہوديوں كى پيمان شكنى كے بارے ميں نازل ہوا _(۱۰)

دہشت گرد سے انتقام

بَنى نضير كے واقعہ كے بعد يہودى سے مسلمان ہونے والے يَامين بن عُمَير سے ايك دن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ تم نے نہيں ديكھا تمہارا چچا زاد بھائي ميرے بارے ميں كيا ارادہ ركھتا تھا وہ چاہتا تھا ميرا خاتمہ كردے؟ يامين نے ايك شخص كو دس ۱۰ دينار ديئے اور اس سے كہا كہ عمروبن جحاش ( وہى يہودى جس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے سر پر پتّھر گرانے كا ارادہ كيا تھا) كو قتل كردے ،وہ شخص گيا اور اُس ذليل يہودى كو اس كے انجام تك پہنچا ديا_(۱۱)


غزوہ بدر الموعد

تاريخ يكم ذى القعدہ ۴ ھ ق(۱۲) بمطابق ۲۱ اپريل ۶۲۶ ء

جنگ احد ختم ہو جانے كے بعد ابوسفيان نے كاميابى سے سرمست ہوكر مسلمانوں كو دھمكايا كہ آئندہ سال بدر ميں ان سے مقابلہ كرے گا_ ايك سال گزر چكا تھا اور مسلمان مختلف جنگوں ميں كچھ نئي كاميابياں حاصل كرچكے تھے ، ابوسفيان ڈر رہا تھا كہ مبادا كہيں جنگ نہ چھڑ جائے اور شكست سے دوچار ہونا پڑے لہذا بدر نہ جانے كے ليے بہانے ڈھونڈ رہا تھا اور چاہتا تھا كہ كسى طرح مسلمانوں كو بھى منحرف كردے_ ابوسفيان نے اس ہدف تك پہنچنے كے لئے ايك سياسى چال چلى اور نعيم نامى ايك شخص كو مامور كيا كہ مدينہ جائے اور افوا ہيں پھيلائے تا كہ لشكر اسلام كے حوصلے پست ہوجائيں _ ابوسفيان كے كارندے نے مدينہ پہنچنے كے بعد نفسياتى جنگ كا آغاز كرديا اور موقع كى تلاش ميں رہنے والے منافقين نے اس كى افواہوں كو پھيلانے ميں مدد كى اور لشكر ابوسفيان كے عظيم حملے كى جھوٹى خبر نہايت آب و تاب كے ساتھ لوگوں كے سامنے بار بار بيان كرنے لگے_ ليكن اس نفسياتى جنگ نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان كے باوفا اصحاب كے دل پر ذرہ برابر بھى اثر نہيں ڈالا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس جماعت كے مقابل جو ذرا ہچكچاہٹ كا اظہار كر رہى تھى فرمايا : اگر كوئي ميرے ساتھ نہيں جائے گا تو ميں تنہاجاؤں گا''_ پھر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پرچم اسلام حضرت على (ع) كے سپرد كيا اور پندرہ سو افراد كے ساتھ مدينہ سے ۱۶۰ كيلومٹر ، بدر كى طرف روانہ ہوگئے_ اس حالت ميں كہ آپ كے ساتھ صرف دس گھوڑے تھے_

اپنى سازش كى ناكامى اور مسلمانوں كى آمادگى كى خبر سُنكر ابوسفيان بھى دو ہزار افراد كے ساتھ بدر كى طرف روانہ ہواليكن مقام '' عُسفَان'' ميں خشك سالى اور قحط كو بہانہ بنا كر خوف و


وحشت كے ساتھ مكّہ لوٹ گيا_

بدر ميں ابوسفيان كے انتظار ميں مصروف مسلمانوں نے مقام بدر ميں لگنے والے سالانہ بازار ميں اپنا تجارتى سامان فروخت كيا اور ہر دينار پر ايك دينار منافع كماكر سولہ ۱۶ دن كے بعد مدينہ پلٹ آئے_

اس طرح سے كفار قريش كے دل ميں خوف و وحشت كى لہر دوڑ گئي اور احد كى شكست كے آثار محو ہوگئے_اس لئے كہ قريش كو يہ بات اچّھى طرح معلوم ہوچكى تھى كہ اسلام كا لشكر اب شكست كھانے والا نہيں ہے_(۱۳)

۴ ہجرى ميں رونما ہونے والے ديگر اہم واقعا ت _

۱: امام حسين (ع) كى ولادت با سعادت ۳ شعبان _(۱۴)

۲: حضرت على (ع) كى والدہ گرامى جناب فاطمہ بنت اسد بن ہاشم كى وفات، كہ در حقيقت جن كے مادرى حق كا بار رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر تھا_

۳: پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ايك بيوى زَينَب بنت خُزَيمَة كا انتقال_

۴:رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا جناب اُم سَلَمہ ،'' ہند بنت ابى اميّہ'' سے نكاح كرنا ، جو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى بيويوں ميں ايك پارسا اور عقل و دانش سے مالا مال بيوى تھيں ، شيعہ اور سنى دونوں نے ان سے بہت سى حديثيں نقل كى ہيں_


سوالات

۱_ سريہ ابو سَلَمة كا كيا نتيجہ رہا؟

۲_ واقعہ رجيع كيوں كر واقع ہوا اور كتنے لوگ شہيد ہوئے؟

۳_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عمربن اميّہ كو مكّہ كيوں بھيجا؟

۴_ سريہ عبدُ اللہ بن اُنَيس كا كيا نتيجہ رہا؟

۵_ بنى نضير كے يہوديوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے قتل كا ارادہ كيوں كيا؟

۶_ غزوہ '' بدر الموعد'' ميں لشكر اسلام كا مقابلہ كرنے سے ابوسفيان كيوں ڈرگيا؟


حوالہ جات

۱_ بعض لوگوں كى تحرير كے مطابق ۱۵ محرم، طبقات ابن سعد ج ۲، ص ۳۴۰_ واقدى كى تحرير كے مطابق يكم محرم مغازى ج ۱ ، ۲ ۲۴۰_

۲_طبقات ابن سعد ج۲ ص ۳۴۰_مغازى واقدى ج۱ ص ۳۴۰_

۳_طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۵۱_امتاع الاسماع ص ۲۵۴_

۴_ ابن ہشام نے سريہ رجيع كا تذكرہ جنگ احد كے بعد ہجرت كے تيسرے سال كے واقعات ميں كيا ہے ر_ك ''ج ۳ ص ۱۷۸''_

۵_ تاريخ طبرى ج ۲ ص ۵۳۰ سے ۵۴۲ تك سيرة ابن ہشام ج ۳ ص ۷_۱_

۶_ بقول ابو سعيد ۷۰ افراد_

۷_ مغازى واقدى ج ۱ ص ۳۴۶_ طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۵۱/۵۳_ سيرة ابن ہشام ج ۳ ص ۱۹۳_

۸_ تاريخ طبرى ج ۲ ص ۵۴۲_مواہب اللدنّيہ ميں اس سر يہ كو ۶ ھ ميں ، صلح حديبيہ سے پہلے ذكر كيا گياہے _ ج ۱ ص ۱۲۵_

۹_ مخالف اسلام اور مفسد قبيلہ '' بنى نضير ''كے يہوديوں كے اخراج كے بعد صرف بنى قريظہ كے يہودى مدينہ ميں رہ گئے ،بنى نضير كے باقى اموال و املاك كى تقسيم كے بعد مہاجر مسلمانوں سے اقتصادى پريشانى ايك حد تك دور ہوئي_

۱۰_ مغازى واقدى ج ۱ _ ص ۳۶۳/ ۳۸۰ ، سيرة ابن ہشام ج ۳ ص ۱۹۶، طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۵۷، تاريخ طبرى ج ۲ ص ۵۵۱/۵۵۵، تاريخ دمشق ج ۱ ، ص ۴۱_

۱۱_ سيرة ابن ہشام ج ۳ ص ۲۰۳_

۱۲_ اس غزوہ كى تاريخ ابن ہشام شعبان ۴ ھ اور واقعدى ذى قعدہ ۴ ھ سمجھتے ہيں سيرة ابن ہشام ج ۳ ص ۲۲۰_ مغازى واقدى ج ۱، ص ۳۸۴ ملاحظہ ہو_

۱۳_ مغازى واقدى ج ۱، ص ۳۸۴سے ۳۸۹تك _ سيرة ابن ہشام ج ۳ ص ۲۲۰_

۱۴_ مروج الذّھب ج ۲ ، ص ۲۸۹_


پانچواں سبق

غزوہ ذات الرقاع

غزوہ دومةُ الجندَل

غزوہ خندق (احزاب)

لشكر احزاب كى مدينہ كى طرف روانگي

لشكر كى روانگى سے متعلق رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا آگاہ ہونا

بجلى كى چمك ميں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے كيا ديكھا؟

مدينہ لشكر كفار كے محاصرے ميں

بنى قريظہ كى عہد شكني

خطرناك صورتحال

ايمان و كفر كا آمنا سامنا

سوالات


غَزوہ ذاتُ الرّقاع

تاريخ : دسويں محرم ۵ ہجرى قمرى(۱) بمطابق ۱۳ جون ۶۲۶ ء بروز بدھ

غزوہ بنى نضير كے بعد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو خبر ملى كہ قبيلہ غَطَفَان يعنى بنى ثعلبہ اور بنى مُحارب نے مسلمانوں سے جنگ كے لئے كچھ لشكر جمع كر ركھا ہے_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سازش كو ناكام بنانے كے لئے مدينہ ميں جناب ابوذر كو اپنا جانشين بنايااور خود چار سو افراد كا لشكر لے كر نجد كى طرف روانہ ہوئے،آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دشمن كے عظيم لشكر كے روبرو ہوئے مگر دشمن كو خوف و دہشت نے گھير ليا اور كسى طرح كے ٹكراؤ سے پہلے ہى دشمن متفرق ہوگيا_

اس سفر ميں دشمن كے حملے كے پيش نظر ، خطرناك ماحول ميں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے لشكراسلام كے ساتھ نماز خوف ادا كى پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے سفر كى كلُ مدّت ۱۵ روز تھي_(۲)

غزوہ دُومَةُ الجَندَل

روانگى بروز اتوار ۲۵ ربيع الاول ۵ ھ ق، مطابق ۲۶ اگست ۶۲۶ء

مدينہ واپسى ۲۰ ربيع الثانى ، بمطابق ۲۰ ستمبر ۶۲۶ ئ بروز جمعرات

مخبروں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو خبر دى كہ دُومَةُ الجندل ميں بہت سے لوگ جمع ہوگئے ہيں اور مسافروں كا راستہ روكنے كے علاوہ ان پر ظلم و ستم بھى ڈھار ہے ہيں ان كا ارادہ ہے كہ مدينہ پر حملہ كريں_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سبَاعَ بن عرفُطَہ غَفاري كو مدينہ ميں اپنا جانشين معيّن


فرمايا اور ہزار آدميوں كے لشكر كے ساتھ دُومَةُ الجندل كى طرف روانہ ہوگئے_

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے سپاہى راتوں كو راستہ طے كرتے اور دن كو درّوں ميں چُھپ كر آرام كرتے تھے_ دشمن كو لشكر اسلام كى روانگى كا پتہ چلا تو ان پر ايسار عب طارى ہواجوپہلے كبھى نہيں ہوا تھا اور فوراً ہى اس علاقے سے فرار ہوگئے _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم چند دن علاقے ميں قيام پذير رہے اور مختلف دستوں كو اطراف و جوانب ميں بھيجا تا كہ معلومات اكٹھى كرنے كے لے ساتھ ساتھ دشمنوں كى ممكنہ سازشوں كو ناكام بنائيں_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۲۵ روز كے بعد مدينہ پلٹ آئے_ لوٹتے وقت فراز نامى شخص سے ، جس كا قبيلہ قحط سے متاثر ہوا تھا ، معاہدہ كيا اور اسے اجازت دى كہ مدينہ كے اطراف كى چراگاہوں سے استفادہ كرئے(۳) _

اس غزوہ كى اہميت كى وجہ يہ ہے كہ مدينہ سے دور دراز كے علاقوں تك جادہ پيمائي اور خشك و ہولناك صحراؤں سے عبور كرنے ميں مسلمانوں كى طاقت كا مظاہرہ ہوا اور دوسرى طرف اسلام مشرقى روم كى سرحدوں تك نفوذ كرگيا اور يہ فوجى تحريك روميوں كى تحقير كا موجب بنى _ مسعودى كى تحرير كے مطابق ، تاريخ اسلام ميں روم جيسى بڑى طاقت كى گماشتہ حكومت كے ساتھ فوجى مقابلہ كرنے كے لئے يہ پہلا قدم تھا _(۴)

غزوہ خَندَق ( اَحزاَب)

تقريباً ۲۳ شوال ۵ ھ ق(۵) بمطابق ۱۹ مارچ ۶۲۶ئ

غزوہ خندق كے اسباب

بنى نضير كے يہودى جنہوںنے بغض و كينہ اور انتقامى جذبات كے ساتھ مدينہ چھوڑا تھا


خاموشى سے نہيں بيٹھے جب يہ لوگ خيبر پہنچے تو ان كے سردار حُيَّ بن اَخطَب اور كنَانَةبن اَبى الحُقيق ، ابُو عامر فاسق اور ايك جماعت كے ساتھ مكہ روانہ ہوئے قريش اور ان كے تابعين كو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جنگ كى دعوت دى ،انہوں نے قريش سے كہا كہ '' محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى طرف سے بہت بڑا خطرہ ہمارئے انتظار ميں ہے اگر فوراً پسپا كردينے والا لشكر تيار نہ كيا گيا تو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہرجگہ اور ہر شخص پر غالب آجائيں گے''_

ايك طرف بدر مَوعد ميں قريش كى شكست و سرنگونى ، جنگ كى دھمكى دينے كے باوجود لشكر اسلام كے خوف سے حاضر نہ ہونا اور لشكر اسلام كى پے درپے كاميابى نے قريش كو اس حقيقت كى طرف متوجہ كيا كہ مسلمانوں كى بڑھتى ہوئي جنگى طاقت كے پيش نظر اسلامى تحريك كو كچلنے كے ليے كوئي بنيادى اقدام كرنا چاہيے _ اسى وجہ سے قريش خود اس فكر ميں تھے كہ ايك عظيم لشكر تيار كريں اور اب بہترين موقع آن پہنچا تھا_ اس لئے كہ يہوديوں نے اعلان كيا كہ ہم تمہارے ساتھ رہيں گے يہاں تك كہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو جڑسے اكھاڑ كرپھينك ديں لہذا وہ قريش كے سرداروں كے ساتھ كعبہ ميں گئے اور وہاں انہوں نے قسم كھائي كہ ايك دوسرے كو بے سہارا نہيں چھوڑيں گے اور پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مقابلے كے لئے آخرى فرد تك ايك دل اور ايك زبان ہوكر ڈٹے رہيں گے_(۶) قريش نے يہوديوں كے سربرآوردہ افراد سے پوچھا كہ تم قديم كتاب كے جاننے والے اور عالم دين ہو تم فيصلہ كرو كہ ہمارا دين بہتر ہے يا محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا؟ يہوديوں كے چالاك و دھوكہ باز سرداروں نے جواب ديا كہ '' تمہارا دين بہتر ہے اور تم حق پر ہو''_

يہ يہودى توحيد پر ايمان كے باوجود ايسى بات كہہ كر سخت گناہ كے مرتكب ہوئے اور انہوں نے اپنى سياہ تاريخ ميں ننگ و عار والے ايك بڑے دھبے كا اضافہ كيا_ ايك يہودى


مصنف ڈاكٹر اسرائيل اپنى كتاب '' تاريخ يہوديان عربستان'' ميں لكھتاہے كہ '' ہرگز يہ بات مناسب نہيں تھى كہ يہودى ايسى خطا كے مرتكب ہوتے اگرچہ قريش ان كى خواہش كو رد كرديتے ، اس كے علاوہ ہرگز يہ بات صحيح نہيں تھى كہ ملّت يہود، بُت پرستوں كے پاس پناہ ليتى اس لئے كہ يہ روش تورات كى تعليمات كے مطابق نہيں ہے_(۷)

قرآن اس اتحاد كى طرف اشارہ كرتے ہوئے كہتا ہے كہ '' كيا تم نے ان لوگوں كو نہيں ديكھا كہ جن كو كتاب سے كچھ حصّہ ديا گيا ہے وہ كس طرح بتوں اور طاغوت پر ايمان لاتے ہيں اور كافرين و مشركين سے كہتے ہيں كہ تمہارا راستہ مومنين كى بہ نسبت حقيقت سے زيادہ نزديك ہے''(۸) _

جب مشركين نے يہودى سرداروں سے مدد كا وعدہ اور روانگى كى تاريخ معيّن كى تو يہوديوں نے بھى ان سے وعدہ كيا كہ بنى قُريظَہ كے يہوديوں كو جو اس وقت ساكن مدينہ تھے ، مدد كے لئے بلائيں گے _ قريش كو پيمان شكنى اور جنگ پر آمادہ كرنے كے بعد يہودى وفد قبيلہ غَطفان كى طرف روانہ ہوا ، قبيلہ غَطفان كے افراد نے ان كى ہمراہى كے علاوہ اپنے ہم عہد قبيلہ بنى اسد كو مدد كى دعوت دى اور قريش نے اپنے حليف قبيلہ بنى سُلَيم كو مدد كيلئے بلايا(۹) _

يہوديوں كى شہ پر اسلام كے خلاف ايك بہت بڑا محاذ تيار ہو گيا ، جس ميں مشركين ، مستكبرين ، منافقين ، يہود ، مدينہ سے فرار كرنے والے ،قريش كے مختلف قبائل ، بنى سليم ، بنى غطفان ، بنى اسد اور ديگر احزاب و قبائل شامل تھے اور سب نے مل كر اسلام كے خلاف جنگ كى ٹھانى ہوئي تھى تا كہ نور خدا كوخاموش كرديں_جنگى اخراجات اور اسلحہ كى فراہمى يہود كى طرف سے انجام پائي_


لشكر احزاب كى مدينہ كى طرف روانگي

مختلف قبيلوں اور گروہوں كى طرف سے اس جنگى معاہدے كے نتيجہ ميں اكٹھے ہونے والے افراد كى مجموعى تعداد دس ۱۰ ہزار سے زيادہ(۱۰) اور لشكر كى كمان ابوسفيان كے ہاتھوں ميں تھي_لشكر احزاب كے جنگجو افراد اسلحہ سے ليس روانگى كيلئے تيار تھے_ اس زمانہ ميں جنگى ايمونيشن اور سازوسامان سے ليس اتنا بڑا لشكر سرزمين حجاز نے كبھى نہيں ديكھا تھا_

ماہ شوال ۵ ہجرى ميں ابوسفيان نے احزاب كے سپاہيوں كو تين الگ الگ دستوں ميں يثرب كى جانب روانہ كيا_

لشكر كى روانگى سے متعلق رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا آگاہ ہونا

جب يہ لشكر مكّہ سے مدينہ كى طرف روانہ ہوا تو قبيلہ خُزاعة كے چند سوار نہايت سرعت كے ساتھ پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس پہنچے اور سپاہ احزاب كى روانگى كى خبر دي_

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے لشكر كى جمع آورى اور آمادہ باش كے اعلان كے ساتھ جنگى ٹيكنيك اور دفاعى طريقہ كار كى تعيين كے لئے اصحاب سے مشورہ فرمايا اور مشاورتى كو نسل ميں يہ بات پيش ہوئي كہ مدينہ سے باہر نكل كر جنگ كى جائے يا مدينہ كے اندر موجود رہيں اور شہر كو ايك طرح سے قلعہ بناديں؟ سلمان فارسى نے كہا '' اے اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جب ہم ايران ميں تھے تو اس وقت اگر دشمن كے شہ سواروں كے حملے كا خطرہ ہوتا تھا تو شہر كے چاروں طرف خندق كھود ديتے تھے'' دفاع كے لئے منعقدہ مجلس مشاورت نے سلمان كى رائے كو مان ليا اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سلمان كے نقشہ كے مطابق خندق كھودنے كا حكم ديا_(۱۱)

اس زمانہ ميں مدينہ ، تين طرف سے طبيعى ركاوٹوں جيسے پہاڑوں ، نخلستان كے جھنڈ اور


نزديك نزديك بنے ہوئے گھروں ميں گھرا ہوا تھا صرف ايك طرف سے كھلا اور قابل نفوذ تھا_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہردس ۱۰ آدميوں كو چاليس زراع كے ايك قطعہ ارض كو كھودنے پر مامور كيا _ جزيرة العرب كى گرم اور جھلسا دينے والى ہوا كے بر خلاف مدينہ سرديوں ميں صحرا كى طرح سرد اور تكليف دہ تھا ، جن دنوں خندق كى كھدائي ہو رہى تھى تين ہزار مسلمان صبح سويرے آفتاب طلوع ہونے سے پہلے جاڑے كى سخت سردى ميں لبوں پر ، پُر شور نعرہ اور دلوں ميں حرارت ايمانى كے جوش و ولولہ كے ساتھ كام ميں مشغول ہوتے اور غروب آفتاب تك كام كرتے رہتے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھى تمام مسلمانوں كے ساتھ ساتھ كام ميں مشغول تھے_ پھاؤڑے چلاتے ، مٹّى كو زنبيل ميں ڈال كر كاندھوںپر ركھ كر باہر لاتے تھے_ سلمان نہايت تيزى سے چند آدميوں كے برابر كام كر رہے تھے _ مہاجر و انصار ہر ايك نے كہا كہ سلمان ہم ميں سے ہيں، ليكن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا'' سلمان ہم اہل بيت(ع) ميں سے ہيں''(۱۲) _

بجلى كى چمك ميں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے كيا ديكھا؟

خندق كھودتے كھودتے سلمان كے سامنے ايك بہت بڑا سفيد پتّھر آگيا_ انہوں نے اور دوسرے افراد نے كافى كوشش كى مگر پتّھر اپنى جگہ سے ہلا تك نہيں _ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو خبر ہوئي تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تشريف لائے اور ہتھوڑے سے پتّھر پر ايك ضرب لگائي، اس ضرب كى وجہ سے ايك بجلى چمكى اور پتّھر كا ايك حصّہ ٹوٹ كر بكھر گيا_ پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے صدائے تكبير بلند كى ، جب دوسرى اور تيسرى بار آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ضرب لگائي تو ہر ضرب سے بجلى چمكى اور پتّھر كے ٹكڑے


ہونے لگے، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہر بار صدائے تكبير بلند كرتے رہے ، جناب سلمان نے سوال كيا كہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بجلى چمكتے وقت تكبير كيوں كہتے تھے؟

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا ''جب پہلى بار بجلى چمكى تو ميں نے يمن اور صَنعاء كے محل كھلتے ديكھے، دوسرى مرتبہ بجلى كے چمكنے ميں شام و مغرب كے سرخ محلوں كو فتح ہوتے ديكھا، اور جب تيسرى بار بجلى چمكى تو ميں نے كسرى كے محلات كو ديكھا كہ جو ميرى اُمت كے ہاتھوں مسخر ہوجائيں گے''_(۱۳)

مومنين رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى بشارت سے خوش ہوگئے اور '' بشارت، بشارت'' كى آواز بلند كرنے لگے_ ليكن منافقين نے مذاق اُڑايا اور كہا كہ ''حالت يہ ہے كہ دشمن ہر طرف سے ٹوٹ پڑ رہے ہيں اور اتنى جرا ت نہيں ہے كہ ہم قضائے حاجت كے لئے باہر نكل سكيں اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ايران و روم كے محلوں كى فتح كى گفتگو كر رہے ہيں _ سچ تو يہ ہے كہ يہ باتيں فريب سے زيادہ نہيں ہيں( معاذ اللہ ) قرآن منافقين كے بارے ميں كہتا ہے '' منافقين او ر وہ لوگ جن كے دلوں ميں بيمارى ( نفاق) ہے وہ كہتے ہيں كہ يہ وعدے جو خدا اور اس كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كر رہے ہيں يہ دھوكے سے زيادہ نہيں ہيں''(۱۴) _

منافقين خندق كھودنے ميں مسلمانوں كى مدد كر رہے تھے مگر ان كى كوشش تھى كہ كسى بہانے سے اپنے كاندھوں كو اس بوجھ سے خالى كريں اس طرح وہ اپنے نفاق كو آشكار كر رہے تھے_

خندق كى كھدائي تمام ہوئي جس كى لمبائي ۱۲۰۰۰ زراع تقريباً ۴/۵ كلوميٹر ،گہرائي ۵ ہاتھ اور اس كى چوڑائي اتنى تھى كہ ايك سوار گھوڑے كو جست ديگر پار نہيں كرسكتا تھا_ آخر ميں خندق كے بيچ ميں كچھ دروازے بناديئےئے اور ہر دروازے كى نگہبانى كے لئے ايك قبيلہ


معيّن كرديا گيا اور زبير بن عوام كو دروازوںكے محافظين كى سربراہى پر معيّن كيا گيا(۱۵) _

مسلمانوں نے خندق كے پيچھے اپنے لئے مورچے بنالئے اور شہر كے دفاع كے لئے تيرانداز مكمل آمادگى كے ساتھ موجود تھے_

مدينہ لشكر كفار كے محاصرے ميں

كفر كا حملہ آور لشكر ابوسفيان كى سركردگى ميں خندق كھدجانے كے چھ دن بعد سيلاب كى طرح مدينہ پہنچ گيا _ انہوں نے شہر كے چاروں طرف اور اپنے آگے ايك بڑى خندق ديكھى اور مسلمانوں كى اس دفاعى حكمت عملى پر حيران رہ گئے_ جنگى ديدہ وروں نے كہا'' يہ فوجى حربہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ايرانيوں سے سيكھا ہے اس لئے كہ عرب اس ڈھنگ سے واقف نہيںہيں_'' كفارنے مجبوراً اپنے خيمے خندق كے سامنے لگالئے_ دشمن كے لشكر كے خيموں سے سارا بيابان سياہ ہوگيا_ لشكر اسلام نے بھى خندق كے اس طرف خيمے لگالئے اور دشمن سے مقابلے اور اس كے حملے سے بچنے كے لئے تيار ہوگئے _

بَنى قُريَظہ كى عہد شكني

لشكر احزاب اور اس كے سپہ سالار ابوسفيان كے دماغ پرمسلمانوں پر برق رفتارى سے كاميابى حاصل كرنے كا بھوت سوار تھا، خندق جيسى بڑى ركاوٹ كے سامنے آجانے سے اب راستے كى تلاش ميں لگ گئے تا كہ لشكر كو خندق كے پار پہنچا سكيں _

مدينہ سے شہر بدر كيئے جانے والے يہودى قبيلے بنى نضير كا سردارحى ابن اخطب جنگ كى آگ بھڑكانے كا اصلى ذمّہ دار تھا _وہ خندق كى موجود گى كيوجہ سے سپاہ احزاب كے حملے كو


ناكام ہوتے ہوئے ديكھ كرسب سے زيادہ خوف زدہ تھا، وہ كوشش كر رہا تھا كہ جلد سے جلد احزاب كى كاميابى كا كوئي راستہ مل جائے _ اس نے مدينہ كے اندر سے محاذ كھولنے كا ارادہ كيا _ اس پروگرام كو عملى جامہ پہنا نے كے لئے بَني قُريَظہ كے يہودى جو مدينہ ميں مقيم تھے، بہترين وسيلہ تھے _ اس نے رئيس قبيلہ سے گفتگو كرنے كا ارادہ كيا، قلعہ بَني قُريَظہ كى طرف گيا اور قلعہ كے بند دروازوں كے پيچھے سے گفتگو كى ، قبيلہ بَني قُريَظہ كے سردار كَعب بن اَسَد نے جواب ديا كہ ہم نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عہد و پيمان كيا ہے اور ہم يہ معاہدہ نہيں توڑ سكتے اس لئے كہ سوائے سچّائي اور وفادارى كے ان سے ہم نے اور كچھ نہيں ديكھا ہے_

حُيّ، كعب كو بھڑكانے ميں كامياب ہوگيا اور اس نے اپنے لئے قلعہ كا دروازہ كھلواليا_ قلعہ ميں داخل ہوا اور بَني قُريَظہ كے بزرگ افراد كو اس بات پر آمادہ كرليا كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے كئے ہوئے اپنے عہد و پيمان كو توڑديں اور اپنى فوجيں نيز دوسرا سامان حملہ آوروں كوديديں_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو جب بَني قُريَظہ كے يہوديوں كى پيمان شكنى كى خبر ملى تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قبيلہ اوس و خزرج كے دو بزرگ افراد سَعد بن مُعَاذ اور سَعد بن عُبادة كو مزيد تحقيقات كے لئے قلعہ بَني قُريَظہ روانہ كيا _ وہ لوگ اس بات پر مامور تھے كہ اگر يہ خبر صحيح ہو تو خفيہ طور پر اس كى اطلاع رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كوديں_ انہوں نے واپسى پر خفيہ كوڈ'' عَضَل'' و ''قارّہ'' كے الفاظ كے ساتھ يہوديوں كى پيمان شكنى كى خبر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كودى _(۱۶)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسلمانوں كے ولولے كو باقى ركھنے كے لئے نعرہ تكبير بلند كيا اور فرمايااے مسلمانو ميں تمہيں كاميابى كى بشارت ديتا ہوں _(۱۷)


خطرناك صورتحال

اسلامى تحريك ايك حساس موڑ پر تھى ايك طرف اسلحہ سے ليس دشمن كا دس ہزار افراد پر مشتمل لشكر شہر كے سامنے خيمہ زن تھا اور ہر لحظہ اس بات كا امكان تھا كہ خندق كو پار كر كے شہر ميں كشت وخون كا بازار گرم نہ كردے_ اور دوسرى طرف قبيلہ بَني قُريَظہ كے خائن يہودى پيمان شكنى كر كے مسلمانوں كى پيٹھ ميں خنجر گھونپنے كے لئے آمادہ تھے نہتے مسلمانوں بچّوں اور عورتوں پر يہوديوں كے حملے كا خطرہ ، كفار كے لشكر كا خندق عبور كرنے كے خطرہ سے زيادہ خطرناك تھا _

اس ہنگامے ميں منافقين، شيطانى قہقہوں ، طعنوں اور اشارے و كنائے سے مسلمانوں كے زخموں پر نمك پاشي، لوگوں كو دشمن كے سامنے ہتھيار ڈال دينے كى تشويق ،اپنے گھروں كے دفاع كا سامان نہ ہونے كا بہانہ بنا كر فرار كا قصد اور اپنى دفاع جگہوں كو چھوڑ دينے كا ارادہ كر رہے تھے _ قرآن اس سلسلہ ميں كہتا ہے كہ :

'' جب ايك گروہ ( منافقين اور سياہ قلب افراد) نے كہا كہ اے يثرب كے لوگو اب سرزمين يثرب تمہارے رہنے كى جگہ نہيں ہے_ لذا پلٹ جاؤاور ان ميں سے ايك گروہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اجازت مانگ رہا ہے اور كہتا ہے كہ ہمارے گھر كھلے ہوئے ہيں ، دفاع كا كوئي انتظام نہيں ہے _ ايسى صورت ميں ان كا ارادہ و مقصد فرار كے سوااور كچھ نہيں ''(۱۸)

ليكن خدااور اس كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ايمان ركھنے والے جاں باز نہ صرف ايسے طوفانوں سے لرزاں نہيں ہوئے بلكہ اور زيادہ مستحكم ہوگئے _ قرآن ان كے بارے ميں كہتا ہے :

'' جب مسلمانوں نے احزاب كے لشكر كو ديكھا تو كہا كہ يہ وہى ہے جس كا وعدہ اللہ اور اس كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے كيا ہے اور اس واقعہ نے ان كے ايمان و تسليم كو بڑھانے كے علاوہ اور


كچھ نہيں كيا''(۱۹)

اس حساس موقع پر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مسلسل اپنى شعلہ بار تقريروں سے اسلام كے جاں بازوں كے حوصلے بڑھاتے رہے ،ان كے فرائض ياد لاتے رہے اور فرماتے '' اگر تم صبر سے كام لوگے اور خدا پر بھروسہ كروگے تو كامياب رہوگے_ '' اور ان لوگوں كو خدا اور اس كے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى فرماں بردارى كى طرف توجّہ دلاتے رہے _

ايسى حالت ميں جاں بازان اسلام اپنے محاذ كى نگہبانى اور تحفظ كے ساتھ ساتھ خندق كے اس طرف بَني قُريَظہ كے شب خون مارنے كے خطرے كو ناكام بنانے كے لئے ۵۰۰ جاں باروں كا ايك گشتى دستہ ليكر پورى تيارى كے ساتھ گشت لگاتے رہے اور راتوں كو اپنے نعرہ تكبير كى بلند آوازوںسے دشمن كے دلوں ميں خوف و ہراس ڈالتے رہے_ اس طرح غفلت كے عالم ميں دشمن كو حملے كرنے كا موقع نہيں مل سكا اور مدينہ پر حملے كا خطرہ ٹل گيا _

ايمان و كفر كا آمنا سامنا

خندق كے دوسرى طرف لشكر احزاب بہت دونوں تك يوں ہى پڑا رہا ليكن نہ پيادوں ميں سے كوئي خندق عبور كرسكا اور نہ سواروں ميں سے _آخر كار لشكر شرك ميں سے پانچ آدميوں عَمروبَن عَبدوَدّ، عكرمةَ بن اَبى جَہل ، ہُبَيرة بَن اَبى وَہب، نَوفل بَن عَبداللہ ، ضرار بن خَطّاب جنگى لباس پہننے كے بعد غرور و تكبّر كے ساتھ اتحادّيوں كى لشكر گاہ سے باہر آكر ان كو مخاطب كرتے ہوئے كہا كہ ''آج پتہ چل جائے گا كہ حقيقى بہادر كون ہے؟''

اس كے بعد انہوں نے ايڑلگا كر گھوڑوں كو اس حصّہ كى طرف سے اُڑايا جو خندق كا كم چوڑا حصّہ تھا _ جانبازوں كا دفاع ان كو نہ روك سكا عَمروبَن عَبدوَدّ نے بلند آواز سے


مبارز طلبى كى اور مذاق اُڑانے والے لہجہ ميں بولا '' اے بہشت كے دعويدارو كہاں ہو؟ كيا كوئي ہے كہ جسے ميں بہشت روانہ كروں يا وہ مجھے جہنّم بھيج دے ؟'' وہ اپنى بات كا تكرار كرتا رہا يہاں تك كہ اس نے كہا '' ميں نے اتنى آوازيں دى كہ ميں تھك گيا اور ميرى آواز بيٹھ گئي ہے''

اس موقع پر پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسلمانوں كى طرف رخ كيا اور فرمايا كيا كوئي ہے جو اس كے شركو ہمارے سروں سے دور كرے؟'' حضرت على (ع) نے آمادگى كا اعلان كيا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كو اجازت نہيں دى اور اپنى بات پھر دہرائي ،مجاہدين اسلام كے درميان سكوت كى حكمرانى تھى كسى ميں بھى قريش كے بڑے پہلوان سے مقابلہ كى جرا ت نہ تھى _ تيسرى بار آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پھر فرمايا اور اس موقع پر بھى حضرت على (ع) ہى تھے جنھوں نے آمادگى كا اعلان كيا _

نتيجہ ميں پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت على (ع) كو اجازت ديدى اور اپنا عمامہ ان كے سرپر ركھا، اپنى تلواران كو عطا كي_ جب علي(ع) قريش كے اس بہادر سے لڑنے كے لئے چلے تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا'' اب كل ايمان كل شرك كے مقابل ہے''(۲۰)

اس زمانہ كے آئين رزم كے مطابق اسلام و شرك كے دونوں بہادروں نے رجز خوانى كى اور اس كے بعد تلوار نيام سے باہر نكال كر حملہ آور ہوگئے_ جنگ كے وقت ميدان ميں اتنى گرد اُڑ رہى تھى كہ دونوں ميں سے كوئي دكھائي نہيں ديتا تھا يہاں تك كہ على (ع) كے نعرہ تكبير كى آواز گونجي، پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا'' خدا كى قسم علي(ع) نے اس كو قتل كرديا _''

يہ واقعہ اس قدر برق آسا اور حيرت انگيز تھا كہ عمرو كے ساتھى اس كے قتل كوديكھنے كے بعد فوراً فرار كر گئے _ نوفل بن عبداللہ خندق پار كرنے كے لئے كو دتے وقت اس ميں


گرگيااور جان بازان اسلام نے اس پر سنگ بارى كردي، وہ چلّانے لگا كہ عرب كا قتل جواں مردى كے ساتھ ہوتا ہے_ على عليہ السلام نہايت سرعت سے خندق ميں كود پڑے اور اس كو بھى قتل كر ڈالا_(۲۱)

خندق كے دن حضرت على (ع) كى ضربت آئين اسلام كے استقرار كا سبب بنى اس لئے كہ اگر حضرت على (ع) ، عَمرو بن عَبدودّ كو قتل نہ كرديتے تو لشكر احزاب كى مسلمانوں كے سلسلہ ميں جرا ت بڑھ جاتى اور ان ميں سے دوسرے افراد بھى خندق كو پار كر كے حيات اسلام كا خاتمہ كرديتے_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس ضربت كى فضيلت ميں فرمايا_ '' روز خندق علي(ع) كى ضربت تمام جن و انس كى عبادت سے افضل ہے''(۲۲)

اس كے دوسرے دن خالدبن وليد نے شكست كے جبران كے لئے خندق كے كم چوڑے حصّہ كى طرف سے اپنے شہ سواروں كے دستہ كو خندق سے عبور كرانا چاہا ليكن مجاہدين اسلام كے مردانہ واردفاع نے، جو غروب تك جارى رہا ، دشمن كے ہر طرح كے ابتكار عمل كى قوّت كو سلب كرليا_


سوالات :

۱_ غزوہ دومة الجندل كى اہميّت كس چيز ميں ہے؟

۲_ جنگ احزاب كے اصلى محرّك كون لوگ ہيں؟

۳_ خندق كھود نے كى تجويز كس نے پيش كي؟

۴_ بنى قُرَيظَہ كے يہوديوں نے كيوں پيمان شكنى كي؟

۵_ جنگ خندق ميں ضربت على (ع) كى اہميت كس وجہ سے ہے؟


حوالہ جات

۱_ اس غزوہ كى تاريخ ميں اختلاف ہے، ابن ہشام اس كو جمادى الاولى ۴ھ كے واقعات ميں ذكر كرتے ہيں ليكن واقدى اور مسعودى نے اسے محرم ۵ ھ كے واقعات ميں ذكر كيا ہے_ سيرة ابن ہشام ج ۳ ص ۲۱۳_ تاريخ طبرى ج ۲ ، ص ۵۵۵_ مغازى واقدى ج ۱ ص ۳۹۵ _ التنبہ و الاشراف مسعودى ملاحظہ ہو_

۲_ سيرة ابن ہشام ج۳ص ۲۱۳_ تاريخ طبرى ج ۲ ص ۵۵۷/۵۵۵_

۳ _ مغازى واقدى ج ۱ ص ۴۰۲ تا ۴۰۴_ طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۶۲_

۴_ التنبيہ و الاشراف ص ۲۱۵_

۵_ ليكن غزوہ احزاب كى صحيح تاريخ مورخين نے بيان نہيں كى ہے اور كہا ہے كہ شوال يا ذى قعدہ ۵ ہجرى ہے_ مذكورہ بالا فرض كى بنا سپاہ احزاب كے ذريعہ مدينہ كا محاصرہ ۲۳ شوال ۵ ہجرى ہوگا_

۶_ اكثر مورخين نے لكھا ہے كہ ايك مہينے تك مدينہ پر لشكر احزاب كا محاصرہ تھا_ اور پھر مورخين كى اكثريت نے لكھا ہے كہ دشمن كے فرار كے بعد بلافاصلہ اسلامى سپاہيوں نے اسى دن بنى قريظہ كے لشكر اور قلعہ كا محاصرہ كرليا جس كى تاريخ ۲۳ ذى قعدہ بيان كى گئي ہے ليكن غزوہ احزاب كى دقيق تاريخ مؤرخين نے بيان نہيں كى بلكہ لكھاہے كہ ۵ ھ ق ميں ماہ شوال يا ذى القعدہ ميں يہ غزوہ پيش آيا ليكن اگر بنى قريظہ كے قلعہ كى تاريخ كو دقيق فرض كريں تو پھر دشمن نے مدينہ كا محاصرہ ۲۳ شوال ۵ ھ ق كو كيا_

۷_ طبقات ابن سعد ج۲ ص ۶۶_ تاريخ طبرى ج ۲ ص ۵۶۵_

۸_حيات محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، ڈاكٹر ہيكل ص ۲۹۷_

۹_( اَلم تَرَ الى الّذين اُوتوا نَصَيباً من الكتب يُؤمنون بالجبت و الطّاغوت و يقولون للّذين كَفَرُوا هؤلاء اَهدى منَ الَّذينَ اَمنُو سبيلاً ) (نسائ/۵۱)_

۱۰_ تاريخ طبرى ج ۲ ص ۵۶۶_

۱۱_ التنبيہ و الاشراف ميں مسعودى كى نقل كے مطابق حملہ آواروں كى تعداد چوبيس ہزار تھي_


۱۲_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۴۴۴_

۱۳_سيرة حلبيہ ج ۲ ص ۳۱۳_'' سلمانُ منّا اہلَ البيت''_

۱۴_ سيرة حلبيہ ج ۲ ص ۳۱۳_ تاريخ طبرى ج ۲ ص ۵۶۹ _ تاريخ بغداد ج ۱ ص۱۳۱ ، ۱۳۲ تھوڑے سے اختلاف كے ساتھ_

۱۵_( و اذ يقولُ المُنافقون و الّذين فى قلوبهم مَرَضٌ ما وعدنا اللهُ و رسُولُه الا عُزوراً ) (احزاب۱۲) تاريخ طبرى ج ۲ ص ۵۷۰_

۱۶_ تاريخ يعقوبى ج۲ ص ۵۰_

۱۸_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۴۵۴/۴۵۹ سے تلخيص كيساتھ_ عَضَل و قارّہ دو قبيلوں كے نام ہيں _ يہ وہ قبيلے ہيں جنہوں نے اصحاب رجيع والے واقعہ ميں بے وفائي كى ، اپنا پيمان توڑڈالا اور مسلمانوں كو شہيد كيا ان كلمات كے استعمال كا مطلب يہ تھا كہ بنى قريظہ نے بھى ان دوقبيلوں كى مانند پيمان شكنى كى ہے _

۱۸_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۴۵۹_

۱۹_( وَ اذ قَالت طَائفةٌ منهُم يَا اَهلَ يَثربَ لا مُقامَ لَكم فَارجعُوا وَيَستَاذن فريقٌ مَنهُمُ البَّنيَّ يَقولُونَ انَّ بُيُو تَنَاعَورة وَ مَا هيَ بعَورَة: ان يُريدُونَ الّا فراراً ) ( احزاب/۱۳) _

۲۰_( وَ لمّارَا المؤمنُونَ الا حزاَبَ قَالوا هذا مَا وَعَدَنَا اللهُ و رَسُولُهُ و صَدَقَ الله و رَسُولُهُ و مَازَادَ هُم اَلّا ايماناً و تَسليماً ) (احزاب /۲۲) _

۲۱_ برزالايمانُ كُلَّہ، الى الشرك كُلہ_

۲۲_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۴۷۰_ ارشاد شيخ مفيد ص ۵۳_

۲۳_ ضَربة عَليّ يومَ الخَندَق اَفضَلُ من عبادة الثَقَلَين_ دلائل الصدق ج ۲ ص ۱۷۵، مستدرك ج ۳ ص ۳۲_


چھٹاسبق

دشمن كى صفوں ميں تفرقہ پيدا كرنے كى كوشش

بنى قريظہ ور مشركين كے درميان پھوٹ

دشمن كى صفوں ميں لشكر اسلام كا سپاہي

شہداء اسلام اور كشتگان كفر

لشكر احزاب كى شكست كے اسباب

جنگ احزاب كے نتائج

غزوہ بنى قريظہ

ايك خيانت كا ر مسلمان اور اسكى توبہ كى قبوليت

بنى قريظہ كا اپنے آپ كو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حوالے كرنا

سعد ابن معاذ كا فيصلہ

سعد كے فيصلے كى دليليں

پيمان شكنى كا انجام

اسارى اور مال غنيمت

سوالات

حوالہ جات


دشمن كى صفوں ميں تفرقہ پيدا كرنے كى كوشش

ايك طرف دشمن كے حوصلے بہت زيادہ كمزور ہوچكے تھے اور دوسرى طرف مسلمان بھى بہت زيادہ دباؤ محسوس كر رہے تھے_ ايسے حالات ميں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے كوشش كى كہ دشمن كى صفوں ميں اختلاف پيدا ہوجائے اور احزاب كے فوجى اتحاد كا شيرازہ بكھرجائے، اس غرض سے آپ نے قبائل غَطفَان كے سر برآوردہ افراد كے پاس پيغام بھيجا كہ '' كيا تم لوگ اس كام كے لئے تيار ہو كہ مدينہ كى كھجوروں كا تيسرا حصّہ تم كو ديدوں اور تم اپنے خاندان كى طرف پلٹ جاؤ اور دوسرے قبيلوں ميں بھى اس بات كى تبليغ كرو كہ وہ جنگ سے دست بردار ہوجائيں؟'' ان لوگوں نے مصالحت كے لئے نصف كا مطالبہ كيا اور پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس مذاكرے كے لئے حاضر ہوگئے_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے كاغذ، قلم اور دوات لانے كا حكم ديا تا كہ ايك ثلث كى قرارداد لكھى جائے_ اس وقت مدينہ كے سربرآوردہ افراد سَعد بن عُبَادَة اور سَعدَ بن مُعاذ آگئے، انہوں نے كہا كہ'' اے اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم يہ حكم خدا كى طرف سے ہويا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا ذاتى نظريہ ہو، ہم اس كے فرمانبردار ہيں ليكن اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمارا نظريہ جاننا چاہتے ہيں تو ہم ان كو باج ( ٹيكس) نہيں ديں گے_ جاہليت كے زمانہ ميں جب ہم مشرك تھے تو اس وقت خريدنے يا مہمان بننے كے علاوہ ہمارا خرما ان تك نہيںپہنچتا تھا، اب جب ہم اسلام سے سرفراز ہيں تو كيا ان كو ٹيكس ادا كريں؟ ہمارے اور ان كے درميان تلوار كو فيصلہ كرنا چاہيئے_(۱)


غَطَفَان كے قبيلے كے سربرآوردہ افراد جب خالى ہاتھ واپس جار ہے تھے اس وقت آپس ميں باتيں كرتے جارہے تھے كہ '' ان لوگوں نے جنگ جارى ركھنے كے علاوہ اور كوئي راستہ ہى اختيار نہيں كيا اور آخرى فرد تك اپنے ہدف كے دفاع كے لئے تيار ہيں ايك ہم ہيں كہ سخت سردى اور خشك بيابان ميں اپنے اونٹ اور گھوڑوں كو فنا كر رہے ہيں_''

بنى قريظہ اور مشركين كے درميان پھوٹ

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مشركين كے قبائل كے درميان اختلاف پيدا كرنے كى كوشش كر رہے تھے جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ جنگ لڑنے كے لئے اُٹھ كھڑے ہوئے تھے اور ساتھ ہى يہ كوشش بھى كر رہے تھے كہ بنى قريظہ كے يہوديوں كے مشركين سے تعلّقات بگڑ جائيں اور انہيں ايك دوسرے سے بدظن كر كے ان كے فوجى اتحاد ميں تزلزل پيدا كرديں_ اسى وقت ايك مناسب موقعہ بھى ہاتھ آگيا _ دشمن كے محاذ كا ايك آدمى جس كا نام نعيم بن مسعود تھا مسلمان ہوگيا_ وہ ايك طرف تو بنى قريظہ كے يہوديوں سے اچّھے تعلّقات ركھتا تھا اور دوسرى طرف مشركين كے لئے مكمل طور پر قابل اطمينان تھا _ وہ جس كے دل ميں نور ايمان جگمگار رہا تھا، رات كے اندھيرے ميںاپنے خيمہ سے باہر نكلا اور پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے خيمہ ميں پہنچ گيا _ اور عرض كہ '' اے اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميں نے اسلام قبول كرليا ہے _ ليكن ميرے قبيلے والے ميرے مسلمان ہونے سے بے خبر ہيں آپ جو حكم فرمائيں ميں اس كى تعميل كے لئے حاضر ہوں ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے فرمايا'' جہاں تك ہو سكے جنگ ميں دشمن كے ارادہ كو كمزور بنادو'' ان كو پراگندہ كر دو اس لئے كہ جنگ ايك فريب ہے''_


نَعيم بنَ مَسعُود محلہ بنى قريظہ ميں پہنچا پہلے يہ ان لوگوں كا نديم رہ چكا تھا اس نے بنى قريظہ كو مخاطب كركے كہا ''اے بنى قُريظَہ تم اپنے ساتھ ميرى دوستى اور يكرنگى سے واقف ہو''_ ان لوگوں نے كہا '' ہم بھى اس بات كو اچّھى طرح جانتے ہيں اور تمہارے بارے ميں بدگمان نہيں ہيں''_

نعيم نے كہا كہ '' جوبات ميں كہنے جارہا ہوں اس كى شرط يہ ہے كہ تم ميرے راز كو چھپاكر ركھو گے، اور وہ يہ كہ جنگ دشوار ہے، اور قريش و غَطَفَان جنگ ميں سُست پڑ رہے ہيں _ عَمرو بن عَبدوَدّ ان كا پہلوان ماراگيا اور قبيلہ غَطَفان كے لوگ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے خفيہ طور پر يہ ساز باز كر رہے ہيں كہ وہ مدينہ كے خرما كا آدھا محصول لے ليں اور ا پنى راہ ليں ، ايسى صورت ميں اگر قريش و غَطَفَان كو موقع ملا تو ممكن ہے فتحياب ہوجائيں اور اگر ہار گئے تو اپنا بوريہ بسترلے كر اپنے وطن چلے جائيں گے، جبكہ تم ايسا كام نہيں كرسكتے، تمہارے بال بچّے، گھر بار ، كھيتى باڑى اور تمہارے نخلستان يہاں ہيں ، قريش و غَطَفَان كى شكست كى صورت ميں محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تم سب كا محاصرہ كرليں گے_ اورتمہارى امانتيں تمہيں نہيں ديں گے لہذا تم قريش و غَطَفَان كو ساتھ لے كر جنگ نہ كرو مگر يہ كہ ان كے سر بر آوردہ افراد كو يرغمال بناكر اپنے پاس ركھ لو اور اس طرح ان كو، محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ صلح كا معاہدہ كرنے كا موقعہ نہ دو تا كہ وہ تمہيںبے سہارا چھوڑ كر اپنے كام ميں نہ لگ جائيں''_

بنى قريظہ كے يہوديوں نے كہا كہ ''تم بہت پر خلوص مشورہ دے رہے ہو ، ہم تمہارا شكريہ ادا كرتے ہيں اور تمہارے نظريے كو عملى جامہ پہنائيں گے''_

نعيم وہاں سے ابوسفيان اور قريش و غَطَفَان كے دوسرے سربرآوردہ افراد كے پاس آيا اور كہا'' ايك بات ميںنے سنى ہے جو ازراہ خير خواہى تمہيں بتانا چاہتا ہوں ليكن شرط يہ


ہے كہ اس راز كو چھپا كر ركھنا''_

ان لوگوں نے كہا :'' بہت خوب كيا كہنا چاہتے ہو _''

نعيم نے كہا '' بنى قريظہ ،محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ اپنى پيمان شكنى پرپشيمان ہيں اور وہ چاہتے ہيں كہ جو بھول ان سے ہوئي ہے اس كا جبران كريں _انہوں نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو پيغام بھيجا ہے كہ ہم قريش و غَطَفَان كے ستر۷۰ سر كردہ افراد كو پكڑ كرآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حوالے كرديں گے تا كہ آپ ان كو قتل كرديں اس كے بعد جنگ كے خاتمہ تك باقى افراد كو ختم كرنے كے لئے ہم لوگ آپ كے ساتھ ہيں _

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے يہ پيش كش قبول كرلى ہے تم لوگ اب ہوشيار رہنا اگر يہود تم سے ضمانت كے طور پر كچھ افراد مانگيں تو ايك آدمى بھى ان كے حوالے نہ كرنا _

دوسرى طرف سے احزاب كے سر كردہ افراد جو ٹھنڈى راتوں اور يثرب كے بے آب و گياہ بيابان ميںاپنى طاقتوں كو ضائع كر رہے تھے، بنى قريظہ كى طرف اپنے نمائندے بھيجے اور ان سے كہلوايا كہ :

'' ہم تمہارى طرح اپنے گھر ميں نہيں ہيں ہمارے چوپائے دانہ اور گھاس كى كمى كى بناپر تلف ہوئے جارہے ہيں ، لہذا جنگ كے لئے نكلنے ميں جلد سے جلد ہمارے ساتھ تعاون كا اعلان كرو تا كہ مل جل كر مدينہ پر حملہ كرديں اور اس جنگ سے چھٹكارا مل جائے_ ''

يہوديوں نے جواب ديا'' پہلى بات تو يہ ہے كہ آج ہفتہ ہے اور ہم اس دن كسى كام كو ہاتھ نہيں لگاتے_ دوسرى بات يہ ہے كہ ہم تمہارے ساتھ مل كر جنگ نہيں كريں گے ليكن ايك شرط پر اور وہ يہ كہ تم اپنے اہم افراد ميں سے كسى كو ہمارے حوالہ كردو تا كہ ہم اطمينان كے ساتھ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ جنگ كريں اس لئے كہ ہميں ڈرہے كہ اگر تم جنگ سے عاجز


آجاؤگے تو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ ساز باز كرلوگے اور ہميںبے سہارا چھوڑ دوگے ، ہم تنہا ان سے جنگ كى طاقت نہيں ركھتے اس طرح ہم كہيں كے نہيں رہيں_

جب قريش اور غَطَفَان كے نمائندے واپس آئے اور مذاكرات كے نتيجہ سے آگاہ كيا تو ان لوگوں نے كہا '' بخدا نعيم بن مسعود نے سچ كہا تھا'' لہذا ا نہوں نے پھر سے پيغام بھيجا كہ ہم ايك آدمى كو بھى تمہارے حوالہ نہيں كريں گے اگر تم واقعى اہل نبرد ہو تو آؤ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جنگ ميں ہمارى مدد كرو_

بنى قريظہ نے بھى اس پيغام كو سننے كے بعد ان كے بارے ميں شك كيا اور كہا كہ '' نعيم سچ كہہ رہا تھا يہ لوگ چاہتے ہيں كہ ہميں محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ الجھاديں اور اگر موقعہ مل جائے تو اس سے فائدہ حاصل كريں ورنہ ہميںبے سہارا چھوڑديں اور اپنے شہر كى طرف واپس پلٹ جائيں، پھر ايسى صورت ميں محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مقابلہ كى سكت ہم ميں نہيں ہے_'' بنى قريظہ كے يہوديوں نے قريش اور غَطَفَان كے سرداروں كو پھر سے پيغام ديا كہ جب تك ہميں كچھ لوگ ضمانت كے طور پر نہ دوگے اس وقت تك ہم تمہارے ساتھ مل كر محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جنگ نہيں كريں گے_

دشمن كے درميان تفرقہ پھيل گيا ، دل خوف ہراس سے لبريز ہوگئے، ايك دوسرے كے بارے ميں بدگمانى ميں مبتلا ہوگئے اور جنگ جارى ركھنے كے سلسلہ ميں اختلاف ہوگيا_ اورخدانے اس طرح سے ان لوگوں كو ايك دوسرے كى مدد سے باز ركھا _ جاڑے كى سردرات ميں خدائي مدد لشكر توحيد كو مل گئي اور خدا كے اذن سے بہت تيز ہوائيں چليں اور دشمنوں كے خيموں كو جڑ سے اُكھاڑ كر پھينك ديا آگ بجھادى ان كى ديگوں كو الٹ دى اور شديد گردو غبار نے فضا كو تاريك بناديا_(۲)


دشمن كى صفوں ميں لشكر اسلام كا سپاہي

مختلف احزاب كے سرداروں كے درميان جو اختلاف ہوگيا تھا اس كى اطلاع ملنے كے بعد اسى سردى اور طوفان كے عالم ميں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جناب حُذَيفہ بن يَمان كو معين فرمايا كہ وہ دشمن كے درميان جا كر ان كے حالات كى اطلاع حاصل كريں _

جناب حذيفہ فرماتے ہيں :كہ ميں نكلا اور رات كى تاريكى ميں دشمن كے خيموں ميں وارد ہوا وہاں ميں نے د يكھا كہ شديد گردو غبار اُڑ رہا ہے اور خدا كے لشكر يعنى ''ہوا'' نے نہ كوئي ديگ چھوڑى ہے اور نہ كوئي خيمہ باقى ركھا ہے اور نہ آگ جل رہى ہے_ ميں احزاب كے سر برآوردہ افراد كے درميان پہنچا اور وہيں بيٹھ گيا _ابوسفيان كھڑا ہوا اور اس نے كہا '' ہر آدمى اس بات سے ہوشيار رہے كہ اس كے پہلو ميں جو بيٹھا ہے وہ كون ہے؟ '' حذيفہ فرماتے ہيں كہ ميں نے فوراً اس آدمى كا ہاتھ پكڑليا جو ميرے پاس بيٹھا تھا اور ميں نے اس سے پوچھا كہ تو كون ہے؟ اس نے كہا '' ميں معاويہ ابن ابى سفيان ہوں''_ جو آدمى ميرے بائيں جانب بيٹھا تھا ميں نے اس كا ہاتھ پكڑليا اور اس سے پوچھا كہ تو كون ہے؟ اس نے كہا '' ميں عمرو بن عاص ہوں'' پھر ابوسفيان نے كہا كہ '' ہم اس سے زيادہ پائيدارى كا مظاہرہ نہيں كرسكتے كہ اس شديد سردى ميں يہاں ٹھہريں ، ہمارى سوارياں اورہمارے گھوڑے كمزور ہوگئے اور ہمارے آدمى بيمار پڑ گئے _

دوسرى طرف يہوديوں نے ہمارے لئے كچھ بھى باقى نہيں چھوڑا_ يہ طوفان ہمارى آگ كو بجھا رہا ہے ، ہمارے خيموں كو پارہ پارہ كر رہا ہے _ اس بات كا خوف ہے كہ كہيں خود سپاہيوں ميں داخلى جنگ نہ چھڑجائے ، اس بناپر ہميںاپنا اثاثہ باندھ كر مكّہ پلٹ جانا چاہيئے_


ابھى سپيدہ سحرى نماياں نہيں ہوا تھا كہ دس۱۰ ہزار كے لشكر نے نہايت ذلت كے ساتھ فرار كو ثابت قدمى پر ترجيح دى اور مكہ كى طرف بھاگ كھڑا ہوا _ اس طرح خدا نے مسلمانوں كى قسمت ميں نصرت اور دشمنوں كے نصيب ميں بكھرنا اور شكست اُٹھانا قرار ديا_

۲۳/ ذى القعدہ بدھ كى صبح پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور لشكر اسلام كے سامنے كفار كى فوج ميں سے كوئي بھى باقى نہ تھا _ سب كے سب بھاگ چكے تھے_ پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اجازت ديدى كہ مسلمان محاذ كو چھوڑ ديں اور شہر كى طرف لوٹ چليں_(۳)

شہداء اسلام اور كشتگان كفر

اس جنگ اور تيراندازى كے نتيجہ ميں لشكر اسلام كے چھ آدمى درجہ شہادت پر فائز ہوئے ان ميں سے ايك سَعد بن مُعاذ تھے جن كے ہاتھ كى نس كو ايك تير نے كاٹ ڈالا تھا وہ بنى قريظہ والے واقعہ تك زندہ تھے ليكن چند روز بعد شہيد ہوگئے_ مشركين ميں سے تين افراد قتل ہوئے جن ميں سے دو كى ہلاكت حضرت على (ع) كے ہاتھوں ہوئي _(۴)

جنگ احزاب كے بارے ميں سورہ احزاب ۹ سے ۲۵ نمبر تك كى آيتيں نازل ہوئيں_

لشكر احزاب كى شكست كے اسباب

۱: لشكر اسلام كا خندق كھودنا_

۲: احزاب كے بہادر اور شجاع پہلوان '' عمرو بن عبدود'' كا قتل جس نے كفار كے حوصلوں پر بُرا اثر ڈالا_

۳: لشكر اسلام كى ثابت قدمى و پائيدارى اور اپنے محاذ كى باقاعدہ نگہبانى اور شہر مدينہ كى


مكمل حفاظت_

۴: محاصرہ كرنے والوں كے لشكر اور چوپايوں كے لئے آب و دانہ كى كمى _

۵: موسم كا ناسازگار ہونا اور شديد سردى ميں حملہ كرنا جو اہل مكّہ كے لئے ناسازگار تھا _

۶: دشمن كے جنگى اتحاد كے شيرازے كا منتشر ہوجانا جو لشكر اسلام كے سربراہ حضرت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى فراست كا نتيجہ تھا _

۷: غيبى امداد_ قرآن اس سلسلہ ميں كہتا ہے : '' اے مومنو تم پر جو خدا كى نعمتيں تھيں تم انہيں ياد كرو ، اس وقت جب تمہارے ساتھ جنگ كے لئے لشكر آيا ہوا تھا، تو ہم نے ہوا اور اس لشكر كو بھيجاجس كو تم نہيں ديكھتے تھے اور تم جو كچھ كرتے ہو خدا اس سے آگاہ ہے_(۵)

جنگ احزاب كے نتائج

جنگ احزاب كا خاتمہ ، قريش كے لئے مصيبتوں كا آغاز تھا _ اس لئے كہ ايك طرف تو قريش اور مشركين ميں مسلمانوں پر حملہ كرنے كى طاقت نہيں رہى تھى اور اعراب كے درميان ان كى حيثيت بہت گر گئي تھى اور دوسرى طرف جزيرة العرب ميں تحريك اسلامى كى حالت روز بروز مستحكم و مضبوط ہوتى جا رہى تھي_ اس كے بعد ابتكار عمل لشكر اسلام كے ہاتھوں ميں تھا _ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' اس كے بعد ان ( قريش) سے ہم جنگ كريںگے يہ لوگ جنگ كى ابتداء نہيں كرسكتے _(۶)

جنگ احزاب كے بعد قريش كى اقتصادى حالت بہت زيادہ كمزور ہوگئي جبكہ حكومت اسلامى اقتصادى اعتبار سے مضبوط ہوگئي تھى _ چنانچہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مكّہ كے قحط زدہ افراد كے لئے مالى امداد روانہ فرمائي _


غزوہ بنى قُرَيظَہ

بروز بدھ ۲۳ ذى القعدہ ۵ ھ بمطابق ۱۷ اپريل ۶۲۷ ئ

احزاب كا شكست خوردہ لشكر مايوسى كے عالم ميں مدينہ سے بھاگ گيا _ خندق كھودنے اور بيرونى دشمنوں سے مقابلہ كرنے ميں ہفتوں كى مسلسل اور انتھك كوشش كے بعد مسلمان اپنے گھروں كو لوٹے تا كہ آرام كريں _ مدينہ ميں ابھى پورے طريقہ سے امن و امان برقرار نہيںہونے پايا تھا كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وحى كے ذريعہ اطلاع ملنے كے بعد بلال كو حكم ديا كہ وہ لوگوں كو جمع كرنے كے لئے اس طرح عام اعلان كريں كہ '' جو خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا پيروكارہے وہ نماز عصر قلعہ بنى قُريَظہ كے پاس پڑھے''_

اسى دن عصر كے وقت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تين ہزار جاں بازوں كے ساتھ بنى قُريَظہ كے قلعہ كى طرف چل پڑے، لشكر اسلام كے آگے آگے مجاہدين اسلام كا علم اٹھائے ہوئے حضرت على (ع) چل رہے تھے _ چنانچہ آپ(ع) بقيہ مسلمانوں كے پہنچنے سے پہلے ہى چند افراد كے ساتھ قلعہ كے پاس پہنچ گئے _

لشكر اسلام نے قلعہ بنى قُريَظہ كا محاصرہ كرليا _ محاصرہ ۱۵ دن تك جارى رہا(۷) اس مدت ميں چند بار تيراندازى كے علاوہ كوئي حملہ نہيں ہوا_ بنى قُريَظہ كے يہودى سمجھ گئے كہ لشكر اسلام سے مقابلہ كرنے كا كوئي فائدہ نہيں ہے، لہذا اپنے نمائندے كو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس بھيجا اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اس جگہ سے كوچ كرنے اور اپنے مال و اسباب كو اپنے ساتھ لے جانے كى اجازت مانگى رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كى پيش كش كو رد كرديا_انہوں نے دوبارہ در خواست كى كہ ان كو مدينہ ترك كرنے اور اپنے اموال سے صرف نظر كرنے كى اجازت دى جائے_ ليكن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جانتے تھے كہ اگر بنى قُريَظہ كے يہوديوں كو بھى بنى قَينقُاع اور بنى


نَضير كے يہوديوں كى طرح آزاد چھوڑديا جائے تو وہ مسلمانوں كے چنگل سے نكلتے ہى بدّو اعراب كو بھڑ كا كر مسلمان اور اسلام كے خلاف نئي سازشوں كا آغاز كرديں گے، جس طرح كہ بنى قينقاع كى تحريك پر جنگ احد كى آگ بھڑ كى اور بنى نضير كى تحريك پر غزوہ خندق (احزاب) كى ہمہ جانبہ سازش ہوئي_ لہذا پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس پيش كش كو قبول كرنے سے انكار كيا اور فرمايا كہ تم بغير كسى قيد و شرط كے اپنے آپ كو ہمارے حوالے كردو_(۸)

ايك خيانت كار مسلمان اور اسكى توبہ كى قبوليت

ايك طرف تو يہودى محاصرے كى وجہ سے تنگ آچكے تھے اور دوسرى طرف ان كے دل ميںخوف و وحشت بيٹھا ہوا تھا_انہوں نے اپنے ديرينہ دوست اور ہمسائے '' ابُولبابہ'' كے متعلق رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے درخواست كى كہ اَبُولباَبہ كو مشورے كے لئے ہمارے پاس بھيجئے_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے يہ درخواست قبول كرلى اور ابولبابہ كو اجازت ديدى كہ وہ قلعہ بنى قريظہ جائيں_ جب ابولبابہ وہاں پہنچے تو يہوديوں نے ان كے گرد حلقہ بناليا ، ان كى عورتوں اور بچّوں نے رونا شروع كرديا_ ان كى آہ و زارى نے ابولبابہ كو متاثر كيا _ ان كے مردوں نے ابولبابہ سے سوال كيا كہ ''كيا اس ميں صلاح ہے كہ ہم بلا قيد و شرط خود كو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے سپرد كرديں يا صلاح نہيں ہے''؟

ابولبابہ اپنے احساسات سے بہت زيادہ متاثر تھے انہوں نے جواب ديا كہ ہاں، ليكن انگلى سے اپنى گردن كى طرف اشارہ كيا كہ اگر تم خود كو ان كے حوالے كردوگے توتمہارى گردن اڑادى جائے گي_

ابولبابہ نے اپنى اس بات سے ''جس كے ذريعہ يہوديوں كو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حوالے


كرنے سے منع كيا تھا''_

خدا اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى بارگاہ ميں بہت بڑى خيانت كے مرتكب ہوئے تھے_ ناگہان ان كو احساس ہوا كہ وہ تو بہت بڑے گناہ كے مرتكب ہوچكے ہيں ،لہذا فوراً قلعہ سے باہر آئے، چونكہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا سامنا كرتے ہوئے شرم آرہى تھى اس لئے سيدھے مسجد ميں پہنچے اور خود كو مسجد كے ايك ستون سے رسّى كے ذريعے باندھ ديا كہ شايد خدا ان كى توبہ قبول كرلے_ ابولبابہ كے واقعہ كى خبر لوگوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو دي، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا اگر مسجد جانے سے پہلے وہ ميرے پاس آتے تو ميں خدا سے ان كے لئے استغفار كرتا اب اسى حالت پر رہيں يہاں تك كہ خدا ان كى توبہ قبول كرلے _ابولبابہ كى خيانت كے بارے ميں سورہ انفال كى آيت ۲۷نازل ہوئي كہ :

'' اے ايمان لانے والو دين كے كام ميں خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے خيانت نہ كرو اور اپنى امانت ميں خيانت نہ كرو درحالانكہ تم جانتے ہو_''(۹)

ابولبابہ چھ دن تك، دن ميں روزہ ركھتے نماز كے وقت ان كى بيٹى ستون سے ان كے ہاتھ پير كھول ديتى _ طہارت اور فريضہ كى ادائيگى كے بعد ان كو دوبارہ مسجد كے ستون سے باندھ ديتى تھيں، يہاں تك كہ فرشتہ وحى بشارت كے ساتھ آن پہنچا كہ ابولبابہ كى توبہ قبول ہوگئي ہے_ان كى توبہ كے بارے ميں سورہ توبہ كى آيت ۱۰۲نازل ہوئي كہ :

'' ان ميں سے ايك گروہ نے اپنے گناہ كا اعتراف كرليا كہ انہوں نے نيك و بد اعمال كو با ہم ملاديا ہے عنقريب خدا ان كى توبہ قبول كرلے گا بيشك خدا بخشنے والا اور بڑا مہربان ہے_''(۱۰)

لوگوں نے خوشى ميں چاہا كہ ابولبابہ كى رسّى كو كھول ديں ليكن اس نے كہا كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم


ميرى رسيوں كى گرہيں كھوليں گے جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نماز كے لئے مسجد ميں تشريف لائے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كى رسى كى گرہوں كو كھول ديا_ ابولبابہ تمام عمر نيكى اور اچّھے عمل پر باقى رہے اور پھر كبھى بھى محلہ بنى قريظہ ميں آپ نے قدم نہيں ركھا_(۱۱)

بنى قريظہ كا اپنے آپ كو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حوالے كرنا

يہوديوں سے مذاكرات اور گفتگو كسى نتيجے تك نہ پہنچ سكى _ كچھ دن تك انہوں نے اپنے آپ كو رسولخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حوالے كرنے سے انكار كيا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے لشكر اسلام كو آمادہ رہنے كا حكم ديا تا كہ حملہ كر كے ان كے قلعے كو فتح كيا جائے_ يہوديوں نے سمجھ ليا كہ لشكر اسلا م كا حملہ اور ان كى كاميابى يقينى ہے، بھاگنے كا كوئي راستہ باقى نہيں ہے، مجبوراً قلعے كے دروازوں كو كھول ديا اور بلا قيد و شرط خود كو لشكر اسلام كے حوالہ كرديا_(۱۲)

حضرت على (ع) اپنے لشكر كے ہمراہ قلعے ميں داخل ہوئے اور ان سے مكمل طور پر ہتھيار كھوالئے(۱۳) پھر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مردوں كو قيد خانے ميں منتقل كرنے كا حكم صادر فرمايا اور ان كى حفاظت كى ذمہ دارى محمد بن مَسلَمَة كے سپرد كي، عورتوں اور بچّوں كو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم كے مطابق دوسرى جگہ نگرانى ميں ركھا گيا_(۱۴)

سعد بن معاذ كا فيصلہ

بنى قُريَظہ كے يہودى چونكہ قبيلہ اَوس كے ہم پيمان تھے لہذا انہوں نے پيش كش كى كہ ان كے بارے ميں سَعدبن مُعاذ فيصلہ كريں وہ لوگ اس فكر ميں تھے كہ شايد گزشتہ دوستى كى بدولت سَعدبن مَعاذ ان كى سزا ميں تخفيف كے قائل ہوجائيں گے_


قبيلہ اَوس كے لوگوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نہايت اصرار كے ساتھ يہ درخواست كى كہ اس گروہ كو آزاد كرديں، وہ لوگ قبيلہ خَزرَج سے رقابت كى بناپر اپنى بات پر اصرار كر رہے تھے اس كى وجہ يہ تھى كہ پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بنى قَينقاع كو'' عبداللہ بن اُبّى خَزرجى ''كى خواہش پر آزاد كرديا تھا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان لوگوں سے بھى فرمايا كہ '' كيا تم اس بات كے لئے تيار ہو كہ تمہارے بزرگ سَعدبن مُعَاذ ا ن كے بارے ميں فيصلہ كرديں؟'' سب نے كہا كہ ہاں، اے اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہم بھى ان كے فيصلے كے سامنے سرجھكا ديں گے''(۱۵)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سَعدبن مُعَاذ كو بلانے كے لئے آدمى بھيجا _ اس وقت آپ ہاتھ كى رگ كٹ جانے كى وجہ سے زخمى حالت ميں بستر پر رُفَيْدَہ نامى عورت كے خيمہ ميں پڑے تھے جس نے جنگى مجروحين كى خدمت كے لئے اپنى زندگى وقف كردى تھى _ اَوس كے جوانوں نے ان كو چارپائي پر لٹايا اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں لے چلے راستہ ميں انہوں نے سَعد سے درخواست كى كہ اپنے ہم پيمان كے ساتھ اچّھا سلوك كرنا، انہوں نے جواب ميں فرمايا كہ '' سَعد كے لئے وہ زمانہ آن پہنچا ہے كہ جس ميں كسى ملامت كرنے والے كى ملامت سے سَعد ڈرنے والا نہيں ہے_''

جب سَعد لشكر گاہ ميں پہنچے تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ تم اپنے بزرگ كے احترام ميں كھڑے ہوجاؤ حاضرين اُٹھ كھڑے ہوئے سَعد نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے عدالت پر مبنى حكم كے بعد مہاجر و انصار سے يہ عہد ليا كہ وہ جو حق سمجھيں گے اس كا اجراء ہوگا اور بنى قُريَظہ كے يہوديوں نے بھى اس كو قبول كيا_(۱۶)

اس كے بعد سعد ابن معاذ نے بہ آواز بلند اعلان كيا كہ ''يہوديوں كے مرد قتل كرديئےائيں عورتيں اور بچّے اسير بنا لئے جائيں اور ان كے اموال كو ضبط كرليا جائے''


رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' سعد ابن معاذنے قانون الہى كے مطابق فيصلہ كيا''(۱۷)

سَعد كے فيصلے كى دليليں

۱: يہوديوں كى دينى كتاب ( تورات) كا فيصلہ ،جو بلا شك و شبہ يہوديوں كو قبول ہوگا_

كيونكہ تورات ميں آيا ہے كہ '' جب تم جنگ كے ارادے سے كسى شہر كا قصد كرو تو پہلے ان كو صلح كى دعوت دو اگر وہ لوگ جنگ كو ترجيح ديں تو شہر كا محاصرہ كرو اور جب شہر پر تسلّط ہوجائے توتمام مردوں كو تہ تيغ كردو او رعورتوں ، بچّوں ، جانوروں اور جو كچھ بھى شہر ميں ہو اس كو مال غنيمت ميں شامل كرلو'' _(۱۸)

۲: مدينہ ميں وارد ہونے كے بعد پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا يہوديوں سے معاہدہ_ جس معاہدے پر فريقين كے دستخط ہوئے تھے اس كى ايك دفعہ يہ تھى كہ جب يہود پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان كے ساتھيوں كے خلاف كوئي قدم اٹھائيں يا اسلحہ اور سوارى ان كے دشمنوں كو ديں تو پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو ان كا خون بہانے ،ان كے اموال كو ضبط كرنے اور ان كى عورتوں اور بچّوں كو اسير كرنے كا حق حاصل ہوگا_

۳: سَعد اور سارے دور انديش مسلمان اس بات كو جانتے تھے كہ اگر وہ لوگ اس مہلكہ سے جان بچاكر نكل گئے تو بنى قَينُقاع كے يہوديوں كى طرح كہ جنہوں نے اپنى تحريك پر احد كى جنگ چھيڑدى تھى اور بہت سے لوگوں كى شہادت كا سبب بن گئے تھے اور بنى نَضير كى طرح كہ جنہوں نے جنگ احزاب كا فتنہ كھڑا كرديا اور قريب تھا كہ اسلام كى بنياد كو اكھاڑ ديں، يہ لوگ بھى اسلام كے خلاف عظيم اتحادى لشكر بناليں گے اور ان خطرناك عناصر كا زندہ رہنا اسلامى تحريك كے لئے مفيد نہيں تھا_


پيمان شكنى كا انجام

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حكم ديا كہ اسيروں كے ساتھ اچھا سلوك كيا جائے _ اس لئے زيادہ مقدار ميں ٹھنڈا پانى ان كے سامنے ركھا گيا_ پھر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم كے مطابق خندق كھودى گئي اور سات سو ۷۰۰(-۱۶) بدبخت جنگجو يہوديوں جو صلح و آشتى ، جيو اور جينے دو، كے خصوصى سلوك كے باوجود پيمان شكنى كے ذريعہ مسلمان كو نيست و نابود كردينے كا قصد ركھتے تھے ، ان كو حضرت علي(ع) اور زبير كى تلوار نے فنا كے گھاٹ اتار ديا_ كچھ لوگ قبيلہ اوس كے افراد كے ذريعہ ہلاك ہوئے_جى ہاں عہد شكنى كرنے والا ضرور كيفر كردار تك پہنچتا ہے_ قتل كئے جانے والوں ميں وہ عورت بھى تھى جس نے محاصرے كے دوران قلعے كے ا وپر سے پتّھر گرا كر'' خَلَادبن سُوَيد ''كو شہيد كرديا تھا_(۲۰)

اس گروہ كے خاتمے كے بعد مدينہ خائن عناصر كے وجود اور مسلح داخلى ريشہ دوانى كرنے والے اس گروہ سے پاك ہوگيا جو ملك ميں رہ كردو سروں كے مفاد ميں كام كرتے تھے_

اسارى اور مال غنيمت

بنى قُريَظہ سے جو مال غنيمت ہاتھ لگا تھا اس ميں پندرہ سو تلواريں ، تين سو زرہيں، دو ہزار نيزے ،دھات اور چمڑے كى بنى ہوئي پندرہ سوسپر، بہت زيادہ لباس بر تن اور گھر كے سامان ، نيز بہت زيادہ شراب تھى جس كو زمين پر بہاديا گيا _(۲۱)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مال غنيمت كا خمس نكالنے كے بعد بقيہ مال مجاہدين كے درميان تقسيم كرديا_ پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سَعدبن عُبَادَة كو بنى قُريَظہ كے اسيروں كے ساتھ شام بھيجا تا كہ ان كو بيچنے كے بعد سپاہ اسلام كے لئے گھوڑے اور اسلحہ مہيّا كريں(۲۲) يہ جنگ ۸ذى الحجہ ۵ ہجرى قمرى بمطابق ۲ مئي ۶۲۷ عيسوى كو تمام ہوئي_


سوالات

۱_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دشمن كے درميان كيسے اختلاف ڈالا؟

۲_ لشكر احزاب كى شكست كے اسباب بيان كيجئے_

۳ _ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بنى قريظہ كے خلاف لشكر كشى كيوں كي؟

۴_ كيا سَعدبن مُعاذ نے يہوديوں كے بارے ميں عادلانہ فيصلہ كيا؟

۵_ابولبابہ كون سى خيانت كے مرتكب ہوئے_


حوالہ جات:

۱_ سيرة ابن ہشام ج ۳ ص ۲۳۴_ بحارالانوار ج ۲۰ص ۲۵۲_

۲_ سيرة ابن ہشام ج ۳ ص ۲۴۰_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۴۸۰، تاريخ طبرى ج ۲ ص ۵۷۸

۳_ تاريخ طبرى ج ۲ ص ۵۸۰_ سيرة ابن ہشام ج ۳ ص ۲۴۲_ مغازى واقدى ج۲ص ۴۸۹_

۴_ مرحوم استاد ڈاكٹر ابراہيم آيتى كى ياد تازہ رہے انہوں نے شہداء احزاب كى تعداد بارہ اور قريش كے مقتولين كى تعداد چار لكھى ہے '' تاريخ پيامبر '' مطبوعہ دانشگاہ تہران ص ۳۷۳_ ۳۷۲ ملاحظہ ہو _ اسى طرح مشہور مورخ يعقوبى نے شہداء مسلمين كى تعداد چھ اور كشتگان قريش كى تعداد آٹھ بتائي ہے _ تاريخ يعقوبى ج ۲ ص ۵۱ مطبوعہ بيروت _

۵_( يَا اَيُّها الَّذينَ آمَنُوا اذكُرٌوا نعمَةَ الله عَليكمُ اذ جائَتكُمْ جُنُودٌ فَاَرسَلنَا عَلَيهم ريحاً و جُنوداً لَم تَرَوها و كَانَ الله بما تعملون بَصيراً ) ( احزاب _۹)

۶_اَلآن نضْزوهُم وَ لا يَغزَونا ( ارشاد شيخ مفيد/ ۵۶)_

۷_ مسعودى كى نقل كے مطابق ۱۵ دن جبكہ ابن ہشام و غيرہ كے نزديك ۲۵ دن ر _ك سيرہ ابن ہشام ج۳ ص ۲۴۶_

۸_ تاريخ طبرى ج ۲ ص ۵۸۲/۵۸۴_ مغارى واقدى ج ۲ ص ۴۹۷/۵۰۰_ طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۷۴، سيرہ ابن ہشام ج ۳ ص ۲۴۴/ ۲۵۰

۹_( يا ايّها الذين آمنوا لا تخونوا الله و الرَّسُولَ و تَخونواَ اماناتكُم و اَنتُم تعلمون ) (انفال۲۷)

۱۰_( و آخرون اعترفوا بذنوبهم خَلَطُوا عَمَلاً صَالحاً و آخَرَ سَيئاً عسى الله اَن يَتُوبَ عَلَيهم انَّ الله غَفُورٌ رَحيم ) ( توبہ ۱۰۲) سيرة ابن ہشام ج ۲ ص ۲۳۷، ۲۳۸_ تاريخ طبرى ج ۲ ص ۵۸۵_

۱۱_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۵۰۹_


۱۲_ ايضاً_

۱۳_ فروغ ابديت ج ۲، ص ۵۶۱_

۱۴_مغازى واقدى ج ۲، ص ۵۱۰_

۱۵_ ارشاد شيخ مفيد ص ۵۸_ سيرة ابن ہشام ج ۲ ص ۲۳۹_

۱۶_ جناب سعد ايك متقى ، عادل، دانش مند اور سياسى سوجھ بوجھ ركھنے والے انسان تھے_ جنگ احزاب ميں جو زخم ان كو لگا تھا اس بناپر وہ بستر شہادت پر پڑے ہوئے اپنى زندگى كے آخرى دن گزار رہے تھے ظاہر ہے كہ ايسا آدمى اپنى نفسانى خواہش كے زير اثر فيصلہ نہيں كريگا اور مصالح اسلامى كو يہوديوں كے ساتھ اپنى ديرينہ دوستى پر فدا نہيں كرے گا اور يہوديوں كى عظيم خيانت كے باوجود ان پر زيادتى نہيں كرے گا _

۱۷_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۵۱۰_۵۱۲_

۱۸_ تورات سفر تثنيہ، فصل ۲۰_

۱۹_ ان كى تعداد ۶۰۰، ۶۵۰ اور ۹۰۰ بھى لكھى گئي ہے_

۲۰_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۵۱۳/۵۱۷_

۲۲_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۵۱۰_ بحار الانوار ج ۲۰ ص ۲۱۲_

۲۱_ مفازى واقدى ج ۲ ص ۵۲۳_


ساتواں سبق

چھ ہجرى كاآغاز

غزوہ بنى لحيان

مفسدين فى الارض كا قتل

غزوہ بنى مصطلق

ايك حادثہ

زيدبن ازقم كا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو خبر پہنچانا

باپ اور بيٹے ميں فرق

بنى مصطلق كا اسلامى تحريك ميں شامل ہونا

ايك فاسق كى رسوائي

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى بيوى پر تہمت

صلح حديبيہ -- مكہ كى راہ پر

قريش كا موقف

قريش كے نمائندے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے سُفرائ

بيعت رضوان -- صلح نامے كا متن

صلح كے مخالفين

ابوبصير كا واقعہ اور صلح نامے كى دوسرى شرط كا خاتمہ

صلح حديبيہ كے نتائج كا تجزيہ

سوالات


چھ ہجرى كا آغاز

يہ سال ، سياسى اور جنگى اعتبار سے تاريخ اسلام ميں اہم ترين سال شمار كيا جاتا ہے_اس لئے كہ لشكر احزاب كى شكست اور ہجرت كے پانچويں سال يہوديوں پر مسلمانوں كى كاميابى كے بعد لشكر اسلام كے حملے شروع ہوئے_ اس طرح كہ اس سال ۲۴ جنگى دستے (سريہّ) مختلف ذمہ داريوں كے ساتھ بھيجے گئے اور ان ميں سے بہت سے گروہ اہم كاميابيوں اور بہت زيادہ مال غنيمت كے ساتھ مدينہ واپس آئے _اس سال چار غزوات اور كل ۲۸ جنگى حملے وقوع پذير ہوئے(۱) اور صلح حديبيہ كا اہم معاہدہ بھى اسى سال طے پايا _اب اختصار كے ساتھ اس سال كے اہم جنگى واقعات بيان كرتے ہيں_

غزوہ بنى لحى ان

يكم ربيع الاوّل ۶ ہجرى(۲) بمطابق ۲۳ جولائي سنہ ۶۲۷ئ بروز منگل_

سنہ ۴ ہجرى ميں بَنى لحيان كے ہاتھوں مبلغين اسلام كى شہادت كے سلسلے ميں رونما ہونے والے بدترين سانحے ''رجيع '' كے مجرمين كو تنبيہ كرنے كيلئے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تيار ہوئے _ اب دو سال كے بعد جو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو مناسب موقع ملا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابن ام مكتوم كو مدينہ ميں


اپنا جانشين معين فرمايا اور لشكر اسلام كے ايك ہزار افراد كے ساتھ مختصر راستے سے شمال كى طرف روانہ ہوئے_ اور يوں ظاہر كيا كہ جيسے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شام جار ہے ہوں ليكن چند منزليں طے كرنے كے بعد آپ داہنى طرف مُڑ گئے اور نہايت تيزى سے بَنى لحيَان كى طرف آگئے_مگر لشكر اسلام كى آمد سے، دشمن آگاہ تھے لہذا پہاڑوں كى طرف بھاگ گئے_رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ايك جنگى مشق كى اور لشكراسلام كے دستوں كے ساتھ را ہ مكّہ ميں واقع ''عُسفَان ''كى طرف روانہ ہوئے اور پھر آپ نے دو جاسوسوں كو مامور كيا كہ وہ قريش كى خبر لائيں_

اس جنگى مشق نے قرب و جوار ميں آباد قبائل كى نفسيات پر بہت گہرا اثر ڈالا اور قريش كى شان و شوكت اور وقار ان كى نظروں سے گر گيا_لشكر اسلام اس مشق كے بعد واپس مدينہ لوٹ آيا(۳)

مفسدين فى الارض كا قتل ( مطالعہ كيلئے)

تاريخ: شوال ۶ہجري

قبيلہ عُرَينَہ سے آٹھ آدمى مدينہ آئے اور انہوں نے اسلام قبول كر ليا _ مدينہ كى آب وہوا ان كوراس نہ آئي اور وہ بيمار پڑگئے_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كو اپنے اونٹوں كى چراگاہ پر بھيج ديا تا كہ وہ لوگ كھلى ہوا ميں تازہ دودھ پى كر صحت مند ہو جائيں_

چند دنوں تك جو ، ان لوگوں نے اونٹوں كا دودھ استعمال كيا تو تندرست و توانا ہوگئے ليكن بجائے اس خدمت كى قدر دانى كے انہوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے چرواہے ''يسار'' كو نہايت بيدردى سے قتل كرديا اس كے ہاتھ پاؤں اور سر قلم كرديا ، زبان اور آنكھوں ميں


كانٹے چبھوديئےور پھر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے تمام پندرہ اونٹوں كو چُرا لے گئے_

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ''كُرزَ بن جَابر ''كو ۲۰ افراد كے ساتھ ان كا پيچھا كرنے كے لئے بھيجا_ كُرْز اور اس كے ساتھى ان كو اسير كر كے مدينہ لائے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حكم ديا كہ زمين پر فساد پھيلانے والوں كے ہاتھ پير كاٹ كر، سُولى پر لٹكا ديا جائے _اس طرح سے ان كو خيانت كى سزا مل گئي _قرآن مجيد كى يہ آيت مفسدين كے بارئے ميں نازل ہوئي كہ :

'' ان لوگوں كى سزا جو لوگ خدا اور اس كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ جنگ كرتے ہيں اور زمين پر فساد پھيلانے كى كوشش كرتے ہيں، سوائے اس كے اور كچھ نہيں ہے كہ وہ قتل كئے جائيں يا سُولى چڑھا ديئےائيں يا ان كے ہاتھ پير مخالف سمتوں سے كاٹ ديے جائيں يا ان كو ملك بدر كرديا جائے ان كے لئے دنيا ميں تباہى اور آخرت ميں عذاب عظيم ہے_(۴)

غزوہ بنى مُصطَلق يا مُرَيسيع

شعبان ۶ ہجرى(۵) بمطابق نومبر ،دسمبر ۶۲۷ئ

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو خبر ملى كہ بنى مُصطَلق (قبيلہ خزاعہ كى ايك شاخ) سپاہ اسلام كے خلاف اسلحہ اور لشكر جمع كرنے كى فكر ميں ہيں_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تحقيق كے لئے بُريدة بن حُصَيد اَسلَمى كو اس علاقے ميں بھيجا ، برُيدہ ،بنى مُصطَلق كى طرف روانہ ہوئے اور اجنبى بن كر قبيلے كے سردار سے رابطہ قائم كيا اور واپسى پراس خبر كے صحيح ہونے كى تائيد كى _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابوذر غفارى كو مدينہ ميں اپنا جانشين مقرر كيا اورايك ہزار جان بازوں كے ہمراہ پير كے دن دوسرى شعبان كو دشمن كى طرف چل پڑے اور چاہ مُريَسْيَع(۶) كے پاس خيمہ زن ہوئے اس غزوہ ميں كچھ ايسے منافقين بھى مال غنيمت كے لالچ ميں لشكر


اسلام كے ساتھ ہوگئے جو كسى جنگ ميں حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ نہيں تھے_

مقام مُريَسْيَع ميں دونوں لشكروں كى صفيں آراستہ ہوئيں _ فرمان رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے مطابق تيراندازوں نے حملہ كيا اور تھوڑى دير ميں بنى مصطَلق ہارگئے اور ان كا ايك آدمى بھى فرار نہ كر سكا _ ان كے دس آدمى مارے گئے اور باقى اسير ہوئے _اس حملے ميں ايك مسلمان بھى شہيد ہوا _

جنگ ميں مال غنيمت كے طور پر دو ہزار اونٹ اور پانچ ہزار گوسفندمسلمانوں كے ہاتھ آئے اور دو سو خاندان بھى اسير ہوئے(۷)

ايك حادثہ

جنگ ختم ہونے كے بعد واپسى راہ ميں ايك چھوٹا سا حادثہ پيش آگيا ، اگررسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس پر مخصوص مہارت كے ساتھ قابو نہ پاگئے ہوتے تو اسلام كے لئے ايك نيا خطرہ بن جاتا_

پانى كے بارے ميں جَہْجاہ غفارى جوكہ عمر بن خطاب كا غلام اور مہاجرين ميں سے تھا، اور سنَان جُہْنى جو كہ انصار ميں سے تھا، آپس ميں الُجھ گئے _ سنَا ن نے مدد كيلئے آواز دى اے انصار اورجہجاہ نے مدد كے لئے پكارا،اے مہاجرين نزديك تھا كہ بہت بڑا ہنگامہ كھڑا ہو جائے_ منافقين كے سردار عبد اللہ بن اُبى نے موقع كو غنيمت جانا اور اپنے آس پاس كے لوگوں سے بولا_

خدا كى قسم ہمارا اور ان جلابيب(۸) كا معاملہ اس مثل جيسا ہے كہ '' اپنے كُتّے كو موٹا كرو تا كہ وہ تمہيں ہى كو كاٹ كھائے_'' ليكن خدا كى قسم جب ہم مدينہ پلٹ كے جائيں


گے تو چونكہ ہم مدينہ كے با عزّت لوگ ہيں اس لئے ان زبوں حال اور بے چارے مہاجرين كو باہر نكال ديں گے(۹)

زيد بن ارقم كا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو خبر پہنچانا

زيد بن ارقم نے جب عبد اللہ بن اُبى كى باتيں سنيں تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس گئے اور اس كى سازش آميز اور منافقانہ باتوں كو پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے سامنے نقل كرديا _رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے زيد كى خبر كے بارے ميں وحى كے ذريعہ اطمينان حاصل كرلينے كے بعد زيد كے كان كو پكڑ كر كہا '' يہ اس شخص كے كان ہيں جس نے اپنے كانوں كے ذريعہ خدا سے وفا كى ہے_''

عبد اللہ بن اُبيّ نے جب زيد كے اطلاع دينے كى خبر سُنى تو رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس پہنچا اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے سامنے جھوٹى قسم كھا كر كہنے لگا كہ ميں نے ايسى بات نہيں كہى اور چونكہ وہ اپنے قبيلے كے درميان بزرگوں اور صاحب احترام شخصيتّوں ميں شمار كيا جاتا تھا اس لئے انصار ميں سے كچھ لوگ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حضور ميں پہنچے اور ابيّ كے فرزند كى حمايت ميں كہا كہ شايد زيد نے ايسى بات كا وہم كيا ہو يا ان كے كانون نے غلط سُنا ہو يہاں تك سورہ منافقون كے نازل ہونے كے بعد اس پاك دل نوجوان كو اطمينان حاصل ہوا اور عبداللہ بن ابيّ ذليل ہوا_(۱۰)

عمر بن خطاب نے اس واقعہ كو سُننے كے بعد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے خواہش ظاہر كى كہ عبداللہ بن اُبيّ قتل كو كرديا جائے _ ليكن آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرما يا كہ '' ايسى صورت ميں دشمن كہيں گے كہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے اصحاب كو قتل كررہے ہيں مصلحت يہ ہے كہ ہم جلد سے جلد نكل چليںتا كہ باطل انديشے دلوں سے رخت سفر باندھ كر نكل جائيں''_


كوچ كا حكم ہونے كے بعد لشكر اسلام ايك رات دن مسلسل چلتا رہا_ يہاں تك كہ آفتاب ان كے سر پر پہنچ گيا، اس وقت ٹھہر نے كا حكم ديا گيا _ جاں بازان اسلام تھكن كى وجہ سے خاك پر پڑے رہے اور گہرى نيند سوگئے _ اس اطمينان اور خوشى كے ساتھ جو ايك لمبى اور غير معمولى تھكن كے بعد روح و اعصاب كو حاصل ہوتى ہے ، كدورتيں دلوں سے نكل گئيں اور كينہ كى آگ خود بخود بجھ گئي_(۱۱_۱۲)

باپ اور بيٹے ميں فرق

عبد اللہ بن اُبى كے بيٹے نے سوچا كہ شايد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس كے باپ كے قتل كا فرمان صادر كريں گے تو فوراً رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس آيا اور كہنے لگا '' اے رسول اللہ سب لوگ جانتے ہيں كہ كوئي بھى ميرى طرح باپ سے نيك بر تاؤنہيں كرتا ليكن اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا فرمان يہ ہے كہ وہ قتل كيا جائے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حكم ديں ميں خوداسے قتل كروں گا''_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب ديا '' نہيں تم اس كے ساتھ اچّھا سلوك كرو '' پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بزرگانہ سلوك نے ابن ابى ّكے دوستوں كے در ميان اس كى حيثيت و شخصيّت كو جھنجھوڑ كرر كھ ديا _ يہاں تك كہ لوگ كھلم كھلا اس كو برا بھلا كہنے لگے_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عفو و در گذر كے ذريعے خطرناك دشمن كو ٹكڑ ے ٹكڑے كر ڈالا،ايك دن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عمر بن خطاب كو مخاطب كر كے فرمايا جناب عُمر سے خطاب كرتے ہوئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے كہا كہ '' جس دن تم اس كو قتل كرنے كے لئے كہہ رہے تھے اگر ميں قتل كر ديتا تو اس كے دفاع ميں بجلياں كوند پڑتيںليكن اگر آج ہم اس كے قتل كا حكم ديديں تو لوگ اس كى جان كے درپے ہو جائيں گے_(۱۳)


بَني مُصْطَلقْ كا اسلامى تحريك ميں شامل ہونا

جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مال غنيمت اور اسارى كو مسلمانوں كے درميان تقسيم كيا اس وقت بنى مصطلق كے رئيس '' حارث بن ابى ضرار'' كى بيٹي''جوُيرْيہّ'' ايك مسلمان كے حصّے ميں آئيں انہوں نے اپنے مالك سے طے كيا كہ ميں كچھ رقم ادا كركے آزاد ہو جاؤں گى ليكن ان كے پاس پيسے نہيں تھے_ان كى صرف ايك اميد تھى پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كالطف و مہرباني، پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس آئيں اور كہا'' ميں حارث كى بيٹى ہوں اور اسير ہو كر آئي ہوں _،ور ميں نے يہ طے كر ليا ہے كہ كچھ پيسے ادا كركے آزاد ہو جاؤں اے اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميں آئي ہوں تا كہ اس رقم كى ادادئيگى ميں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميرى مدد فرمائيں _ ''رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' آيا تمہيں يہ پسند ہے كہ ميںتمہارے لئے اس سے بہتر كا م انجام دوں ؟ جن پيسوں كى تم قرض دار ہو اس كو ميں ادا كردوں پھر تم سے شادى كرلوں ؟ جُوَيْريّہ اس پيش كش سے مسرور ہوگئيں_

جُوَيْريّہ سے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى شادى كى خبر اصحاب ميں پھيل گئي لوگوں نے بنى مُصطَلق كے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے رشتہ دار بن جانے كے احترام ميں اپنے اسارى كو آزاد كرديا _ جب بنى مُصْطَلق نے لشكر اسلام كا يہ بڑا پن اور در گذر ديكھا تو مسلمان ہو گئے اور ايك با بركت شادى كے نتيجہ ميں وہ سب كے سب اسلامى تحريك ميں شامل ہوگئے_(۱۴)

ايك فاسق كى رسوائي

بنى مصْطَلق كے مسلمان ہو جانے كے بعدرسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وَليد بن عُقْبة بن اَبى مُعيط كو ان كى طرف زكوة وصول كرنے كے لئے بھيجا_ بنى مصطلق نے جب سُنا كہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا


نمائندہ ان كى طرف آرہا ہے تو وہ استقبال كے لئے دوڑ پڑے ليكن وليد دڑگيا اور اس نے خيال كيا كہ وہ لوگ جنگ كرنے كے لئے آمادہ ہيں ، لہذا اس نے مدينہ واپس آكر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا سے كہا كہ '' وہ لوگ مجھے قتل كردينا چاہتے تھے اور انہوں نے زكوة ادا كرنے سے بھى انكار كرديا ہے ''_

بنى مُصْطَلق كے ساتھ دوبارہ جنگ كى باتيں لوگوں كى زبان پر چڑ ھ گئيں اس واقعہ كے بعد بنى مُصْطَلق كا ايك وفد مدينہ آيا اور اس نے حقيقت حال بيان كى(۱۵) اس واقعہ كے بارے ميں سورہ حجرات كى مندرجہ ذيل آيت نازل ہوئي :

'' اے ايمان لانے والو اگر كوئي فاسق تمہارے پاس كوئي خبر لائے تو اس كى تحقيق كرو كہيں ايسا نہ ہو كہ نادانى كى بنا پر لوگوں (كى جان و مال) كو نقصان پہنچادو پھر (جب معلوم ہو كہ فاسق نے جھوٹ بولا تھا )تو جو كچھ كيا ہے اس پر تم كو پشيمانى ہو_(۱۶)

آنحصرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى بيوى پر تہمت (واقعہ افك)(مطالعہ كيلئے)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جب بھى سفر پر جانا چاہتے (حتّى كہ جنگ كے لئے بھي) تو اپنى بيويوں كے درميان قرعہ نكالتے تھے جس كے نام قرعہ نكل آتا اسى بيوى كو اپنے ساتھ لے جاتے تھے_

غزوہ بنى مُصْطَلق كے موقع پر جناب عائشےہ كے نام قرعہ نكلا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم انہيں اپنے ساتھ لے گئے_جنگ سے واپسى كے دوران جب مدينہ كے قريب پہنچے تو وہيں ٹھہر گئے اور آرام كرنے لگے_اسى اثنا ميں عائشےہ اس بات كى طرف متوجہ ہوئيں كہ ان كا گلوبند گم ہو گيا ہے اس كو ڈھونڈنے كے لئے آپ خيمہ گاہ سے دور چلى گئيں جب واپس پلٹيں تو لشكر اسلام وہاں سے كوچ كرچكا تھا اور عائشےہ تنہا رہ گئي تھيں_ ايك متقى اورنيك شخص جن كا نام صفوان


بن مُعطل تھا اورجو لشكر اسلام كے پيچھے پيچھے اطلاعات حاصل كرنے كے لئے چلا كرتے تھے ، وہاںپہنچے اور جناب عائشےہ كو ديكھا كہ وہاں تنہا ہيں _ نہايت ادب سے اونٹ سے نيچے اُترے ، اونٹ كو زمين پر بٹھايا اور خود دوركھڑے ہوگئے يہاں تك كہ عائشےہ اونٹ كى پشت پر سوار ہوگئيں انہوں نے اونٹ كى مہار پكڑى اور راستے ميں گفتگو كئے بغير مدينہ لے آئے_جب يہ لوگ مدينہ پہنچے تو منافقين نے عبداللہ بن اُبيّ كى قيادت ميں صفوان اور عائشےہ كے بارے ميں تہمتيں تراشيں ، ناواقف ان تہمتوں كولے اڑے ،مدينہ ميں تہمتوں اور افواہوں كا بازار گرم تھا ، اور ہر آدمى ايك الگ بات كہنے لگا ، جناب عائشےہ بيمار ہوگئيں اور اس تہمت كے غم ميں جو بے گناہى كے با وجود ان پر لگائي گئي تھى روتى رہتيں اور كسى وقت چين نہ پاتيں ، قريب تھا كہ اس موضوع پر فتنہ بر پا ہوجائے كہ سورہ نور كى آيات نمبر ۱۱ سے ۲۷ تك نازل ہوئيں اور عائشےہ كو يہ خوش خبرى سنائي گئي كہ خدا تمہارى پاكيزگى پر گواہ ہے_(۱۷) پھر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تہمت لگانے والوں پر حد جارى كى _ جن لوگوں پر حدجارى كى گئي ان ميں حسّان بن ثابت اور حَمنہ كا نام بھى نظر آتا ہے_(۱۸)

ابن اسحاق كہتا ہے كہ بعد ميں معلوم ہوا كہ صفوان بن معطل در اصل مرادنگى سے عارى اور عورتوں كے ساتھ نزديكى نہيں كر سكتا تھے_ يہ مرد پارسا كسى جنگ ميں شہيدہو گئے_(۱۹)

صلح حديبيہ

ذى قعدہ ۷ ہجرى بمطابق فرورى و مارچ ۶۲۸ عيسوي


مكہ كى راہ پر:

لشكر اسلام كى پے در پے كاميابيوں اور مشركين مكّہ كى گوشہ گيرى نے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو اس بات پر آمادہ كيا كہ دوسرى بار جزيرة العرب ميں مسلمانوں كى حيثيت و وقار كے استحكام كے لئے اقدام كريں _آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حكم ديا كہ مسلمان سفر حج كے لئے تيار ہو جائيں اور ہمسايہ قبائل جو ابھى تك حالت شرك پر باقى تھے ان سے آپ نے مسلمانوں كے ساتھ اس سفر پر چلنے كى خواہش ظاہر كى _ ان ميں سے بہت سے لوگوں نے عذر پيش كيا اور ساتھ چلنے سے انكار كرديا _

اس سفر ميں عبادتى اور معنوى خصوصيات كے علاوہ مسلمانوں كے لئے وسيع اجتماعى اور سياسى مصلحتيں بھى تھيں_ اس لئے كہ عرب كے متعصب قبائل نے مشركين كے غلط پروپيگنڈے كى بنا پر يہ سمجھ ركھا تھا كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خانہ كعبہ كے لئے'' جو سلف كى بارگاہ اور افتخار كا مظہر ہے'' ، كسى طرح اس كى قدر و منزلت كے قائل نہيں ہيں اور اسى وجہ سے اسلام كے پھيلاؤ سے شدتّ كے ساتھ ہر اساں تھے _ اب غلط خيالات كے پردے چاك ہوئے اور انہوں نے ديكھ ليا كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، حج كو ايك واجب فريضہ جانتے ہيں _ ايك طرف اگر قريش مانع نہيں ہوئے اور زيارت كعبہ كى توفيق ہوگئي تو يہ مسلمانوں كے لئے بڑى كاميابى ہوگى كہ وہ چند سال كے بعد ہزاروں مشركين كى آنكھوں كے سامنے اپنى عبادت كے مراسم ادا كريں گے دوسرى طرف اگر قريش مسلمانوں كے مكّہ ميں داخل ہونے سے مانع ہوئے تو اعراب كے جذبات طبعى طورپر مجرو ح ہوجائيں گے كہ ان لوگوں نے مسلمانوں كو فريضہ حج انجام دينے كے لئے آزادكيوں نہ چھوڑا _ يہ سفر چونكہ جنگى سفر نہ تھا اس لئے پرسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حكم ديا كہ ہر شخص اپنے ہمراہ صرف ايك تلوار '' مسافر كا اسلحہ '' كے


عنوان سے ركھ سكتا ہے _ اسكے علاوہ اور كوئي ہتھياز ركھنے كى اجازت نہيں ہے _رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قربانى كے لئے ستر(۷۰) اونٹ مہيّا كئے اور چودہ سو مسلمانوں كے ساتھ مكہ كى طرف روانہ ہوئے اور مقام ذو الحليفہ ميں احرام باندھا_

آپ نے عباد بن بشر كو ۲۰ مسلمانوں كے ساتھ ہر اول دستہ كے عنوان سے آگے بھيج ديا تا كہ را ستے ميںآنے والے لوگوں كے كانوں تك لشكر اسلام كى روانگى كى خبر پہنچا ديں اور كسى خطرے يا سازش كى صورت ميں اس كى خبر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو ديں_(۲۰)

قريش كا موقف

جب قريش ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى روانگى سے آگاہ ہوئے تو انہوں نے بتوں (لات و عزّي) كى قسم كھائي كہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو مكّہ ميں آنے سے روكيں گے _ قريش كے سرداروں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو روكنے كے لئے خالد بن وليد كو دو سو سواروں كے ساتھ مقام '' كُراع الغَميم ''بھيجا جہاں پہنچ كر يہ لوگ ٹھہر گئے _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قريش كے موقف سے آگاہى كے بعد يہ چاہتے تھے كہ خونريزى كے ذريعے اس مہينے اور حرم كى حرمت مجروح نہ ہو اس لئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے راہنما سے فرمايا كہ كارواں كو اس راستے سے لے چلو كہ جس راستے ميں خالد كا لشكر نہ ملے _

راہنما ، قافلہ اسلام كو نہايت دشوار گذار راستوں سے لے گيا يہاں تك كہ يہ لوگ مكہ سے ۲۲ كيلوميٹر دور'' حديبيّہ'' كے مقام پر پہنچ گئے_ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سب كو يہ حكم ديا كہ يہيں اُتر جائيں اور اپنے خيمے لگاليں(۲۱)


قريش كے نمائندے آنحضرت صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں

قريش نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حقيقى مقصد سے با خبر ہونے كيلئے اپنے يہاں كى اہم شخصيتوں كو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں بھيجا تا كہ وہ مسلمانوں كا مقصد جان ليں_

قريش كے پہلے نمائندہ وفدميں بُديل خزاعى قبيلہ خزاعہ كے افراد كے ساتھ آيا _ جب وہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا '' ميں جنگ كے لئے نہيں آيا ميں تو خانہ خدا كى زيارت كے لئے آيا ہوں '' نمائندے واپس چلے گئے اور انہوں نے يہ اطلاع قريش كو پہنچا دى _ليكن قريش نے كہا'' خدا كى قسم : ہم ان كو مكہ ميں داخل نہيں ہونے ديں گے ، چاہے ان كا آنا خانہ خدا كى زيارت كى غرض سے ہى كيوں نہ ہو '' _ د وسرے اور تيسرے نمائندہ وفود بھيجے گئے اور انہوں نے بھى '' بُديل '' والى صورت حال بيان كى _

قريش كے تيسرے نمائندے '' حليس بن علقمہ '' جو عرب كے تير اندازوں كا سر براہ تھا، نے قريش كے سرداروں كو مخاطب كر كے كہا كہ '' ہم نے ہرگز تم سے يہ معاہدہ نہيں كيا كہ ہم خانہ خدا كے زائرين كو روكيں گے ، خدا كى قسم اگر تم لوگ، محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو آنے سے روكو گے تو ميں اپنے تيرانداز ساتھيوں كے ساتھ تمہارے اوپر حملہ كركے تمہارى اينٹ سے اينٹ بجادوں گا _ قريش اپنے اندر اختلافات رونما ہونے سے ڈرگئے اور انہوں نے ''حليس ''كو اطمينان دلايا كہ ہم كوئي ايسا راستہ منتخب كريں گے جوتمہارى خوشنودى كا باعث ہوگا_

قريش كا چوتھا نمائندہ ''عُروة بن مسعود ''تھاجس پر قريش اطمينان كامل ركھتے تھے_ وہ جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملا تو اس نے كوشش كى كہ اپنى باتوں ميں قريش كى طاقت كو زيادہ اور اسلام كى قوّت كو كم كركے پيش كرے اور مسلمانوں كو جھك جانے اور بلا قيد و شرط واپس


جانے پر آمادہ كرلے_ ليكن جب وہ واپس گيا تو اس نے قريش سے كہا كہ '' ميں نے قيصر و كسرى اور سلطان حبشہ جيسے بڑے بڑے بادشاہوں كو ديكھا ہے مگر جو بات محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميں ہے وہ كسى اور ميں نہيں ''_

ميں نے ديكھا كہ مسلمان ان كے وضو كا ايك قطرہ پانى بھى زمين پر گرنے نہيں ديتے وہ لوگ تبرك كے لئے اس كو جمع كرتے ہيں اور اگر ان كا ايك بال بھى گر جائے تو ان كے اصحاب فوراً تبرك كے لئے اُٹھا ليتے ہيں ، لہذا اس خطرناك موقع پر نہايت سوچ سمجھ كر قدم اٹھانات(۲۲)

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے سُفرائ

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ايك تجربہ كار شخص كو جسكا نام'' خراش ''تھا اپنے اونٹ پر سوار كيا اور قريش كے پاس بھيجا ، ليكن ان لوگوں نے اونٹ كو قتل كرديا اور پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے نمائندے كو قتل كرنے پر اترآئے ، مگر يہ حادثہ تيراندازان عرب كے ايك دستے كى وساطت سے ٹل گيا _

قريش كى نقل و حركت يہ بتا رہى تھى كہ ان كے سر پر جنگ كاجنون سما يا ہوا ہے_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مسئلہ كے مسالمت آميز حل سے مايوس نہيں ہوئے _ لہذا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قريش كے پاس ايسے شخص كو نمائندہ بنا كر بھيجنے كا ارادہ كيا جس كا ہاتھ كسى بھى جنگ ميں قريش كے خون سے آلودہ نہ ہوا ہو، لہذا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عمر بن خطاب كو حكم ديا كہ وہ قريش كے پاس جائيں _ ليكن انہوںنے جانے سے معذرت كرلى _ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے عثمان بن عفّان كو '' جن كى اشراف قريش سے قريب كى رشتہ دارى تھى '' اشراف قريش كے پاس بھيجا _ عثمان قريش كے ايك


آدمى كى پناہ ميں مكّہ ميں وارد ہوئے اور پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پيغام كو قريش كے سر كردہ افراد تك پہنچا يا _ انہوں نے پيش كش رد كرنے كے ساتھ ساتھ عثمان كو بھى اپنے پاس روك ليا اور واپس جانے كى اجازت نہيں دى _ مسلمانوں كے درميان يہ افواہ اڑ گئي كہ قريش نے عثمان كو قتل كردياہے_(۲۳)

بيعت رضوان

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے نمايندے كى واپسى ميں تاخير كى وجہ سے مسلمانوں كے در ميان عجيب اضطراب اور ہيجان پيدا ہو گيا اور مسلمان جوش و خروش ميں آكر انتقام پر آمادہ ہو گئے_ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كى جذبات كو متحرك كرنے كے لئے فرمايا '' ہم يہاں سے نہيں جائيں گے جب تك كوئي فيصلہ نہيں ہو جاتا _ '' اس خطرناك صورتحال ميں اگر چہ مسلمانوں كے كے پاس جنگ كے لئے ضرورى ہتھيار اور سازو سامان نہ تھا پھر بھى رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ارادہ كيا كہ اپنے اصحاب كے ساتھ عہد و پيمان كى تجديد كريں ، چنانچہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ايك درخت كے سايہ ميں بيٹھ گئے اور سوائے ايك كے تمام اصحاب نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہاتھ پر بعنوان بيعت ہاتھ ركھا اور قسم كھائي كہ خون كے آخرى قطرے تك اسلام كا دفاع كريں گے_

يہ وہى ''بيعت رضوان ''ہے كہ جس كے بارے ميں قرآن ميں آيا ہے :

'' خداوند عالم ان مومنين سے جنھوں نے تمہارے ساتھ درخت كے نيچے بيعت كي، خوش ہو گيا اور ان كے وفا و خلوص سے آگاہ ہو گيا، اللہ نے ان كے اوپر سكون كى چيز نازل كى اور عنقريب فتح ، اجر كے عنوان سے ان كے لئے قرار دى ہے''_(۲۴)

بيعت كى رسم ختم ہوئي ہى تھى كہ عثمان لوٹ آئے اور قريش كے وہ جاسوس جو دور سے


بيعت كا واقعہ ديكھ رہے تھے پريشان ہو كر بھاگ كھڑے ہوئے( تا كہ اس خطرناك صورتحال كى خبر قريش كے گوش گزار كريں)_ قريش كے سر برآوردہ افراد نے '' سہيل بن عمرو'' كو صلح كا معاہدہ طے كرنے كے لئے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں بھيجا_(۵ ۲)

صلح نامے كامتن

جب سہيل بن عمرو، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں پہنچا تو يوں گويا ہوا '' قريش كے سربرآوردہ افراد كا خيال ہے كہ آپ اس سال يہاں سے مدينہ واپس چلے جائيں اور حج و عمرہ كو آيندہ سال انجام ديں ''_

پھر مذاكرات كا باب كھل گيا اور سہيل بن عمرو بات بات پر بے موقع سخت گيرى سے كام لے كر پر يشانى كھڑى كرتا رہا _ جب كہ پيغمبر-اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم چشم پوشى كے رويے كو اس لئے نہيں چھوڑ رہے تھے كہ كہيں صلح كا راستہ ہى بند نہ ہو جائے _مكمل موافقت كے بعد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت على (ع) سے فرمايا كہ صلح نامہ لكھو ، حضرت على (ع) نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم سے لكھا:

بسم الله الرحمن الرحيم

سہيل نے كہا كہ ہم اس جملے سے آشنا نہيں ہيں آپ بسمك اللہم لكھيں _ ( يعنى تيرے نام سے اے خدا) رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے موافقت فرمائي پھر حضرت على (ع) نے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم سے لكھا ''يہ وہ صلح ہے جسے اللہ كے رسول محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم انجام دے رہے ہيں''_

سہيل بولا '' ہم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رسالت اور نبوت كو قبول نہيں كرتے اگر اس كو قبول كرتے تو آپ سے ہمارى لڑائي نہ ہوتى _


لہذا آپ اپنا اور اپنے باپ كا نام لكھيں(۲۶)

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علي(ع) كو حكم ديا كہ اس جملے كو مٹاديں ليكن حضرت علي(ع) نے عرض كيا '' ميرے ہاتھوں ميں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا نام مٹانے كى طاقت نہيں ہے '' رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے ہاتھوں سے اس جملے كو مٹا ديا _(۲۷)

صلح نامے كى كچھ شرائط يوں تھيں:

۱_ قريش اور مسلمان دونوں عہدكرتے ہيںكہ دس سال تك ايك دوسرے سے جنگ نہيں كريں گے تا كہ جزير ةالعرب ميں اجتماعى امن و امان اور صلح قائم ہوجائے_

۲_ جب بھى قريش كا كوئي آدمى مسلمانوں كى پناہ ميں چلا جائے گا تو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس كو واپس كريںگے ليكن اگر مسلمانوں ميں سے كوئي شخص قريش كى پناہ ميں آجائے گا تو قريش پر لازم نہيں كہ وہ اس كو واپس كريں_

۳_ مسلمان اور قريش جس قبيلے كے ساتھ چاہيں عہد و پيمان كر سكتے ہيں_

۴_ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان كے اصحاب اس سال مدينہ واپس جائيں اور آئندہ سال زيارت خانہ خدا كے لئے آسكتے ہيں_ليكن شرط يہ ہے كہ تين دن سے زيادہ مكّہ ميں قيام نہ كريں اور مسافر جتنا ہتھيار لے كر چلتا ہے اس سے زيادہ ہتھيار اپنے ساتھ نہ ركھيں(۲۸) _

۵_ مكہ ميں مقيم مسلمان اس معاہدے كى روسے اپنے مذہبى امور آزادى سے انجام دے سكتے ہيں اور قريش انہيں آزار يا مجبور نہيں كريں گے كہ وہ اپنے مذہب سے پلٹ جائيںيا ان كے دين كا مذاق نہيں اڑائيں گے _اسى طرح وہ مسلمان جو مدينہ سے مكہ آئيں ان كى جان و مال محترم ہے_(۲۹)

معاہدہ كے دو نسخے تيار كئے گئے اور ايك نسخہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں پيش كيا گيا اس


كے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جانوروں كو ذبح كرنے كا حكم ديا اور وہيں سرمنڈوايا(۳۰) اور اس طرح۱۹ دن كے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدينہ كى طرف روانہ ہو گئے_

صلح كے مخالفين( مطالعہ كيلئے)

صلح كا معاہدہ كچھ مسلمانوں خصوصاً بعض مہاجرين كى ناراضگى كا باعث بنا اور مسلمانوں كو سب سے زيادہ تكليف صلح نامہ كى دوسرى شق كى وجہ سے ہوئي جس ميں مسلمانوں كے پاس پناہ لينے والوں كو واپس كردينے كو لازم قرار ديا گيا تھا ، مخالفين صلح ميں سب سے آگے عمر بن خطاب تھے واقدى كى روايت كے مطابق عمر اور ان كے ہمنوا افراد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں پہنچے اور كہا كہ '' اے اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كيا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے نہيں كہا تھا كہ ہم جلدى ہى مكہ ميں داخل ہو كر كعبہ كى كنجى لے ليں گے اور دوسروں كے ساتھ عرفات ميں وقوف كريں گے ؟ اور اب حالت يہ ہے كہ نہ ہمارى قربانى خانہ خدا تك پہنچى اور نہ ہم خود رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عمر كو جواب ديا كہ '' كيا ميں نے اسى سفر كے لئے كہا تھا؟ عمر نے كہا '' نہيں'' پھر مقبول رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عمر كى طرف رخ كيا اور فرمايا كہ '' كيا تم احد كا دن بھول گئے ہو جس دن تم بھاگتے ہوئے پيچھے مُڑكر نہيں ديكھتے تھے اور ميں تمہيں پكار رہا تھا ؟ كيا تم احزاب كا دن بھول گئے ؟ كيا تم فلا دن بھول گئے ؟''

مسلمانوں نے كہا اے اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جو كچھ سوچ ركھا ہے ہم نے اس

كے بارے ميں نہيں سوچا تھا _ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اور اس كے حكم كو ہم سے بہتر جانتے ہيں_

اسى طرح جب صلح نامہ لكھا گيا تو عمر اپنى جگہ سے اُٹھ كر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس آئے اور كہا '' اے اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كيا ہم مسلمان نہيں ہيں ؟ '' آپ نے فرمايا : '' بے شك ہم مسلمان


ہيں '' عمر نے كہا كہ ''پھر دين خدا ميں ہم كيوں ذلت اور پستى برداشت كريں ؟آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ ميں خدا كا بندہ اور اس كا رسول ہوں ميں خدا كے حكم كى كبھى بھى مخالفت نہيں كروں گا اور خدا بھى مجھے تباہ نہيں كرے گا _(۳۱) عمر بن خطاب كہتے ہيں كہ'' ميں نے كبھى بھى حديبيہ كے دن كى طرح اسلام كے بارے ميں شك نہيں كيا_(۳۲)

ابو بصير كى داستان اور شرط دوم كا خاتمہ( مطالعہ كيلئے)

ابو بصير نامى ايك مسلمان جو مدت سے مشركين كى قيد ميں زندگى گزار رہے تھے مدينہ بھاگ آئے قريش نے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو خط لكھا اور خط بنى عامر كے ايك شخص كے حوالہ كيا اور اپنے غلام كو اس كے ساتھ كرديا اور ياددلايا كہ صلح حديبيہ كى دوسرى شق كے مطابق ابو بصير كو واپس كريںرسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے معاہدے كے مطابق ابو بصير سے كہا تمہيں مكہ لوٹ جانا چاہيے، كيونكہ ان كے ساتھ حيلہ بازى سے كام لينا كسى طرح بھى صحيح نہيںہے_ ميں مطمئن ہوں كہ خداتمہارى اور دوسروں كى آزادى كا وسيلہ فراہم كرے گا''_

ابو بصير نے عرض كيا'' كيا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مجھے مشركين كے سپر د كررہے ہيں تا كہ وہ مجھے دين خدا سے بہكاديں ؟ ''رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پھر وہى بات دہرائي اور ان كو قريش كے نمائندے كے سپرد كرديا _ جب وہ لوگ مقام ذو الحليفہ ميں پہنچے تو ابو بصير نے ان محافظين ميں سے ايك كو قتل كر ديا_ اور اس كى تلوار اور گھوڑا غنيمت كے طور پر لے ليا اورمدينہ لوٹ آئے_ جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں پہنچے تو كہا_ '' اے اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ نے اپنے عہد كو پورا كيا اور مجھے اس قوم كے سپرد كرديا ميں نے اپنے دين كا دفاع كيا تا كہ ميرا دين بر باد نہ ہو ''_

ابو بصير چونكہ مدينہ ميں نہيں رہ سكتے تھے اس لئے صحرا كى طرف چلے گئے اور دريائے


سرخ كے ساحل پر مكہ سے شام كى طرف جانے والے قافلوں كے راستے ميں چھپ گئے جو لوگ مكہ ميں مسلمان ہوئے تھے اور معاہدے كے مطابق مدينہ نہيں آسكتے تھے وہ ابو بصير كے پاس چلے جاتے تھے رفتہ رفتہ ان كى تعداد زيادہ ہو گئي اور انہوں نے قريش كے تجارتى قافلوں پر حملے كر كے نقصان پہنچا نا شروع كرديا _ قريش نے اس آفت سے بچنے كے لئے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو خط لكھا اور ان سے عاجزانہ طور پر خواہش كى كہ ابوبصير اور ان كے ساتھيوں كو مدينہ بلاليں اور پناہ گزينوں كو واپس كرنے والى شرط صلح نامہ كے متن سے حذف كردى جائے_(۳۳)

صلح حديبيہ كے نتائج كا تجزيہ

۱_ پے در پے جنگيں ايك دوسرے سے براہ راست روابط ميں ركاوٹ بنى ہوئي تھيں ليكن اس صلح نے افكار كے آزادانہ ارتباط اور اعتقادى بحث و مباحثہ كا راستہ كھول ديا اور يہ روابط عرب معاشرے ميں اسلامى روش اور دلوں ميں اسلام كے نفوذ كى وسعت كا ذريعہ بن گئے اس طرح كہ صلح حديبيہ والے سال پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ مسلمانوں كى تعداد چودہ سو تھى جبكہ فتح مكہ والے سال دس ہزار افراد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ تھے_

۲_ صلح كے ذريعہ داخلى امن و امان قائم ہو جانے كے بعد اسلام كى عالمى تحريك كو سرحدوں كے پار لے جانے اور عالمى پيغام كو نشر كرنے كے لئے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو موقع مل گيا _

۳_ يہ صلح در حقيقت تحريك اسلامى كو مٹانے كے لئے وجود ميں آنے والے ہر طرح كے نئے جنگى اتحاد كے لئے مانع بن گئي اور اس طرح لشكر اسلام كے ہاتھ يہ موقعہ آگيا كہ وہ خيبر كے يہوديوں جيسے بڑے دشمن كو راستے سے ہٹا سكيں _

صلح كے فوائد كے بارے ميں امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں ''پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى زندگى كى تاريخ ميں كوئي واقعہ صلح حديبيہ سے زيادہ فائدہ مند نہيں تھا ''_(۳۴)


سوالات

۱_ہجرت كا چھٹا سال كس اہميت كا حامل ہے؟

۲_ مفسدين فى الارض (زمين پر فساد پھيلانے والے)كون لوگ تھے اور كيوں قتل كئے گئے؟

۳_ بنى مُصْطَلق كيوں كر اسلام كے گرويدہ ہوئے؟

۴_ صلح حديبيہ كے معاہدہے كا كيا نتيجہ رہا؟

۵_ بيعت رضوان كے بارے ميں آپ كيا جانتے ہيں؟

۶_ كون لوگ صلح كے مخالف تھے؟

۷_ عبداللہ بن اُبيّ نے غزوہ بنى مصطلق ميں كيا كيا اور كون سا سورہ اس موقعہ پر نازل ہوا؟

۸_ حديث ''افك'' كيا ہے ؟ مختصراً بيان كيجئے_

۹_ آية ''( يا ايها الذين آمنوا ان جائكم فاسق بنباء فتبينوا ) كس كے بارے ميں اور كس موقع پر نازل ہوئي؟

۱۰_ صلح كى دوسرى شرط كيسے لغو ہوئي؟


حوالہ جات

۱_ ڈاكٹر آيتى مرحوم كى كتاب '' تاريخ پيامبر'' ملاحظہ ہو ص ۳۸۹، ۴۶۴

۲_ اس غزوہ كى تاريخ ميں بھى اختلاف ہے واقدى كہتے ہيں كہ يہ يكم ربيع الاول ۶ھ ميں واقع ہوا تھا ليكن ابن ہشام كے مطابق يہ ماہ جمادى الاوّلى ميں واقع ہواہے_مغازى واقدى ج ۲ ص ۵۳۵ _سيرہ ابن ہشام ج ۳ ص ۲۷۹ ملاحظہ ہو_

۳_مغازى واقدى ج ۲ ص ۵۳۵_طبرى ج ۲ ص ۵۹۵ _طبقات ابن سعد ج ۲ص۷۸_سيرت ابن ہشام ج ۳ ص ۲۹۲_

۴_( انّما جزآؤا الذين يُحاربُونَ اللّهَ وَ رَسُولَه وَ يَسْعَوْنَ فى الْاَرض فَساداً ا َنْ يُقْتَّلوُا اَوْ يُصَلََََّبُوا اَوْ تُقَّطَّعَ اَيْديهم وَ اَرْجُلُهُم من خلاف اَوْ يُنْفَوا منْ اَلارْض ذلكَ لَهُم خزْيٌ فى الدُنيا وَ لَهُم فى الآخرَة عَذابٌ عَظيم ) (مائدہ_۳۳)(طبقات ج ۲ ص ۹۲)_

۵_ ابن سحاق ،اور ابن ہشام نے اس غزوہ كو ۶ ہجرى كے واقعات ميں نقل كيا ہے ا گر چہ واقدي، ابن سعد اور مسعودى جيسے تاريخ نويسوں نے اسے كو سنہ ۵ ہجرى كے واقعات ميں ذكر كيا ہے_ سيرت ابن ہشام ج ۳ ص ۳۰۲ _ مغازى واقدى ج ۱ ص ۴۰۴ _ طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۹۳ _ التنبيہ و الاشراف ص ۲۱۵ _

۶_ مُريَسْيَع سے فُرع تك جو مدينہ سے آٹھ منزل پر واقع ہے ايك روز كى مسافت كا راستہ ہے_بعض لغت ميں ''مُريَسْيَع '' ذكر ہوا ہے اگر ايك روز مسافت والى بات درست مان لى جائے تو اس كا مدينہ سے فاصلہ صرف آٹھ كلوميٹر ہوگا جو كہ ايك بعيد بات ہے ( مصحح) _

۷_ تاريخ پيامبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ڈاكٹر آيتى مرحوم ص ۴۰۷_

۸_جَلابيب جلباب كى جمع ہے _ كشادہ پيرہن كو كہتے ہيں _ جو لوگ مسلمان ہو جاتے تھے مشركين ان كے لئے يہ لفظ استعمال كرتے تھے(ر _ك ) سيرت ابن ہشام ج ۳ ص ۳۰۳_


۹_ تاريخ طبرى ج ۲ ، ص ۶۰۴_( يَقُولُون لَئنْ رَجَعْنَا الَى الْمَدينَة لَيُخْرجَنَّ الا َعَزَّ منْها الا ذَلّ ) (سورہ منافقون آيت _۸)_

۱۰_ سيرت ابن ہشام ج ۳ ص ۳۰۳_ ۳۰۵_

۱۱_ تاريخ طبرى ج ۲ ص ۶۰۶ ،۶۰۷_

۱۲_انتظامى اصولوں اور علم نفسيات ميں اس اصول سے بخوبى استفادہ كيا جا سكتا ہے كہ ہر فوج ميں تشتت ، اختلاف اور كينہ توزى كو روكنے كے لئے آتش اختلاف كو شعلہ ور ہونے كى فرصت دينے كے بجائے_انہيں كام ميں اتنا مشغول كرديا جائے كہ آپس ميں جھگڑ نے كى فرصت ہى نہ رہے اور نہ ہى گمراہ كن خيالات ان كے ذہن ميں باقى بچيں_

۱۳_تاريخ طبرى ج ۲_ص ۶۰۸_

۱۴_تاريخ طبرى ج ۲ ص ۶۱۰_

۱۵_سيرت ابن ہشام ج ۳ ص ۳۰۹_

۱۶_( يا ايها الذين آمنوا ان جائكم فاسق بنب ا: فتبينوا ان تصيبوا قوماً بجهالة: فتصبحوا على ما فعلتم نادمين ) _(حجرات آيت۶)_

۱۷_تاريخ طبرى ج ۲ ص ۶۱۱ _ سيرت ابن ہشام ج ۳ ص ۳۰۹ _ مغازى واقدى ج ۱ ص ۳۲۶ سے ص ۴۳۴ تك ، طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۶۵ _ اسباب النزول واحدى ص ۲۱۴ سے ۲۱۷ تك _نہايہ الارب ۴۱۷ _۴۰۵_

۱۸_ اگر چہ حسان بن ثابت شاعر اسلام اور پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى بولتى ہوئي زبان تھے _ مگرتہمت كے جرم ميں ان كى اس حيثيت كو نہيں ديكھا گيا_حَمنہ شہيد مصعب بن عمير كى بيوي، شہيد عبداللہ بن جحش كى بہن ، پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى پھوپى كى لڑكى اور ان كى بيويوں ميں سے ايك بيوى كى بہن تھى _ مگر قوانين الہى كو جارى كرنے ميں مجرم كے لئے ان باتوں كى گنجائشے نہيں ہے _سيرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۳۰۹ _

۱۹_ سيرت ابن ہشام ج ۳ ص ۳۱۹_

۲۰_سيرت ابن ہشام ج ۳ ص ۳۲۱ _ طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۹۵_


۲۱_ سيرت ابن ہشام ج ۳ ص ۳۲۳ _ ۳۲۴_ طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۹۶_

۲۲_ سيرت ابن ہشام ج ۳ ص ۳۲۵سے ص ۳۲۸ تك_

۲۳_سيرت ابن ہشام ج ۳ ص ۳۲۸ _ ۳۲۹_

۲۴_لَقَدْ رَضيَ اللہ عن المؤمنين اذ يبايعونك تحت الشّجرہ فَعَلمَ مََا فى قُلُوبہم فَاَنْزَلَ السَّكينَةَ عَلَيْہم وَ اَثابَہُم فَتْحاً قَريباً(فتح/۱۸)_

۲۵_ سيرت ا بن ہشام ج ۳ ص ۳۳۰و ۳۳۵_

۲۶_سيرت ابن ہشام ج ۳ ص ۳۳۱_ ۳۳۲_

۲۷_ بحار الانوار ج ۲۰ ص ۳۳۳_۳۵۲_

۲۸_ سيرت ابن ہشام ج ۳ ص ۳۳۲_

۲۹_ بحار الانوار ج ۲۰ ص ۳۵۰_

۳۰_ سيرت ابن ہشام ج ۳ ص ۳۳۳_

۳۱_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۶۰۵ سے ۶۱۰تك

۳۲_مغازى واقدى ج ۲ ص ۶۰۷ ارْتَبْتُ ارْتياباً مُنْذُ اَسْلَمْتُ الا يوَمَئذ:

۳۳_ سيرت ابن ہشام ج ۲ ص ۳۳۷ _۳۳۸ تاريخ طبرى ج ۲ ص ۵۳۹ تھوڑے سے اختلاف كے ساتھ_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۶۲۴ سے ۶۳۱ تك _حيات الصحابة ج ۱ ص ۱۳۳_

۳۴_ ''ما كانَ قَضيَّة اَعظَمَ بَرَكَةً منہا'' فروع ابديت ج ۲ ص ۶۰۰_


آٹھواں سبق

پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام كے عالمى پيغام كا اعلان

سياسى حكمت عملى كے نكات كى رعايت

خسروپرويز كے نام خط اور اسكى گستاخي

حبشہ كے بادشاہ نجاشى كے نام آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا خط

دوسرے حكمرانوں كا موقف

خيبر كے يہوديوں سے جنگ كے اسباب

لشكر توحيد كى روانگي

معلومات كى فراہمي

جنگى اعتبار سے مناسب جگہ پر لشكر گاہ كى تعيين

لشكر كيلئے طبّى امداد رسانى كا انتظام

جديد معلومات

آغاز جنگ اور پہلے قلعہ كى فتح

سردار كے حكم سے روگرداني

جنگى حكمت عملي

على (ع) فاتح خيبر

سوالات


پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے عالمى پيغام كا اعلان

محرم ۷(۱) بمطابق اپريل ۶۲۸

صلح حديبيہ كے معاہدے نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو جنوب (مكّہ) كى طرف سے مطمئن كر ديا اور پر امن فضا كے سبب عرب كے سر برآوردہ افراد كا ايك گروہ، اسلام كا گرويدہ ہو گيا _ اس موقع پر اسلام كے عظيم رہنما نے فرصت كو غنيمت جا نا اور اس وقت كے حكمرانوں ، قبائلى سرداروں اور عيسائي راہنماؤں سے مذاكرہ اور مكاتبہ كا باب كھول ديا اور خدا كے حكم سے اپنے آئين كو ،جو ايك عالمى آئين دنيا كى قوموں كے سامنے پيش كيا _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جو خطوط ، دعوت اسلام كے عنوان سے سلاطين ، قبائل كے روساء اور اس زمانے كى سياسى و مذہبى نماياں شخصيتوں كو تحرير فرمائے تھے وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى دعوت كے طريقہ كار كى حكايت كرتے ہيں _

اس وقت ۱۸۵ خطوط كے متن ہمارى دسترس ميںہيں جن كو پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تبليغ، دعوت اسلام يا ميثاق و پيمان كے طور پر تحرير فرمايا تھا_(۲)

يہ خطوط دعوت و تبليغ كے سلسلے ميں اسلام كى روش اور طريقہ كار كہ جس كى بنياد ، منطق و برہان پر تھى نہ كہ جنگ و شمشير پر ، روشنى ڈالتے ہيں ، جو حقائق ان خطوط ميں پوشيدہ ہيں اور جو دلائل ، اشارات ، نصيحتيں اور راہنمائي رسو ل خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دوسرى قوموں كے سامنے پيش كى ہيں ، وہ اسلام كے عالمى پيغام اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى دعوت كے طريقہ كار كا منہ بولتا ثبوت ہيں _


سياسى حكمت عملى كے نكات كى رعايت

مختلف علاقوںاور سلاطين كے پاس رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بھيجے ہوئے افراد اور سفراء معارف اسلامى سے آگاہ اور اس پر تسلّط ركھنے كے ساتھ ساتھ، ادب و سخن ميں كم نظير تھے اور اس زمانے كے لوگوں كے معاشر تى اور دينى آداب و رسوم سے وافقيت ركھتے تھے _ اس زمانے كى طاقتوں كا سامنا كرنے ميں عين يقين او ر صاف گوئي كے ساتھ ان كى ظاہرى وضع و قطع بھى سياسى حكمت عملى كے نكات كى رعايت كى حكايت كرتى تھى _(۳)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عالمى پيغام رسالت پر مشتمل خطوط، ايك ہى دن چھ منتخب افراد كے ذريعے ايران ، روم ، حبشہ ، مصر ، يمامہ ، بحرين ، اُردن اور حيرہ كى طرف روانہ فرمائے_(۴)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خطوط پر (محمد رسول اللہ) '' جو كہ آپ كى انگوٹھى پر كھدا ہوا تھا''كى مہر لگاتے اور خطوط كو بند كركے مخصوص موم سے چپكا ديا كرتے تھے _(۵)

جس زمانے ميں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم يہ خطوط تحرير فرمارہے تھے، اس وقت دنيا كى دو بڑى طاقتيں، ايران اور ر وم اپنے اپنے ملك كا رقبہ بڑھانے كے سلسلے ميں ايك دوسرے كے ساتھ دست و گريبان تھيں اور دنيا كى سياست انہى كے گرد گھوم رہى تھى _ قيصر روم كے نام رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے خط كا مضمون يہ تھا_

بسم الله الرحمن الرحيم

محمد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى طرف سے روم كے بزرگ ''قيصر ''كے نام

سچّائي اور ہدايت كى اتباع كرنے والوں پر سلام ،تمہيںاسلام كى طرف دعوت ديتا ہوں ، اسلام كو قبول كر لو تا كہ صحيح و سالم رہو اور خدا بھى تم كو ( خود تمہارے ايمان كا اور تمہارے زير


نگيں افراد كے ايمان كا ) دوہرا اجر دے گا _ اے اہل كتاب ميں تم كو اس بات كى طرف دعوت ديتا ہوں جو تمہارے اور ہمارے در ميان يكساں ہے اور وہ يہ ہے كہ سوائے خدائے واحد كے ہم كسى كى عبادت نہ كريں اور كسى كو اس كا شريك قرار نہ ديں اور ہم ميں سے بعض ، بعض كو رب نہ بنائيں اور جب وہ لوگ روگردانى كريں تو كہو كہ تم گواہ رہو ہم مسلمان ہيں_(۶)

محمد رسول اللہ(۷)

جب دحيہ كلبى نے خط، قيصر روم تك پہنچا يا تو اس نے اسلام اور دين موعود انجيل كے بارے ميں مفصل تحقيقات كے بعد مندرجہ ذيل عبارت پر مشتمل خط رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو لكھا_

'' يہ خط اس رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے لئے ہے جس كى بشارت عيسي(ع) نے دى ہے (يہ خط) قيصر بادشاہ روم كى طرف سے ہے _آپ كا خط اور قاصد ہمارے پاس پہنچا ميں اس بات كى سچّى گواہى ديتا ہوں كہ خدا نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو رسالت پر مبعوث كيا ہے _ آپ كا نام اور آپ كا تذكرہ اس انجيل ميں ديكھ رہا ہوں جو ہمارے ہاتھ ميں ہے_ عيسي(ع) بن مريم نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے آنے كى بشارت دى ہے _ ميں نے بھى روميوں كو دعوت دى ہے كہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ايمان لائيں اور مسلمان ہو جائيں ليكن انہوں نے اطاعت نہيں كى اور اسلام نہيں لائے _ حالانكہ اگر وہ ہمارى بات مانتے تو ان كے لئے بہتر تھا _ ميں تمنّا كرتا ہوں كہ اے كاش آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا خدمت گزار ہوتا اورآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پير دھوتا ''_

پھر قيصر نے خط كوتحائف كے ساتھ دحيہ كلبى كے ذريعہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس بھيج ديا_(۸)


شاہ ايران خسرو پرويز كے نام رسول اللہ كے خط كا متن_

بسم الله الرحمن الرحيم

محمد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى طرف سے ايران كے عظيم كسرى كے نام_

سلام ہو اس شخص پر جو سچائي اور ہدايت كا پيرو ہو ، خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ايمان لا يا ہو اور گواہى ديتا ہو كہ اس كے علاوہ كوئي پروردگار نہيں ہے _اس كا كوئي شريك نہيں ہے اور محمد اس كے بندے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہيں_ميںتمہيں خدا كى طرف بلاتا ہوں اس لئے كہ ميں خلق خدا كے درميان خدا كا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہوں تا كہ ميں زندہ افراد كو خوف و اميد دلاؤں_

تم اسلام قبول كر لو تا كہ محفوظ رہو اور اگر تم نے انكار كيا تو تمہارے پيرو كاروں كا بوجھ بھى تمہارے سررہے گا_

محمد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ(۹)

عبد اللہ بن حذافہ نے پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا خط ايران كے دربار ميں پہنچا يا _ جب مترجمين نے بادشاہ كے سامنے خط پڑھا تو وہ بھڑك اُٹھا كہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كون ہے؟ جو اپنے نام كو ميرے نام سے پہلے لكھتا ہے؟ اور خط پڑھے جانے سے پہلے ہى اس نے ٹكڑے ٹكڑے كرديا_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا قاصد مدينہ واپس آيا اور اس نے سارا ماجرا بيان كيا _آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہاتھوں كو آسمان كى طرف بلند كيا اور فرمايا :

'' خدايا اس شخص نے ميرا خط پھاڑڈالا تو اس كى حكومت كو ٹكڑے ٹكڑے كردے_(۱۰)

خسرو پرويز كے نام خط اور اسكى گستاخي

ساسانى بادشاہ نے طاقت كے نشے ميں چور ہوكر يمن كے كٹھ پتلى حاكم''بَاذان'' كو لكھا


كہ مجھے خبر ملى ہے كہ مكّہ ميں كسى قريشى نے نبوّت كا دعوى كيا ہے تم دو دلير آدميوں كو وہاں بھيجو تا كہ وہ اس كو گرفتار كركے ميرے پاس لائيں ''_

حاكم يمن '' بَاذَان'' نے مركز كے حكم كے مطابق دو دلير آدميوں كو حجاز روانہ كيا جب يہ لوگ طائف پہنچے تو وہاں كے ايك شخص نے مدينہ كيطرف راہنمائي كى اور دونوں افراد مدينہ جا پہنچے اور باذان كا خط پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو ديا _ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى عظمت و ہيبت اور اطمينان نے پيغام لانے والوں كو وحشت ميں ڈال ديا_

جب پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كے سامنے اسلام پيش كيا تو وہ لرزنے لگے ، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا ''اب تم جاؤ ، كل ميں اپنا فيصلہ سناؤں گا' ' _دوسرے دن جب والى يمن كے كارندے جواب لينے كے لئے پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں پہنچے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' پروردگار عالم نے مجھے خبر دى ہے كہ كل رات جب رات كے سات گھنٹے گزر چكے تھے( ۱۰ جمادى الاوّل سنہ ۷ھ كو) '' خسرو پرويز '' اپنے بيٹے '' شيرويہ'' كے ہاتھوں قتل ہو گيا ہے اور اس كا بيٹا تخت سلطنت پر قابض ہو گياہے پھر رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كو بيش قيمت تحائف دے كر يمن روانہ كيا_ انہوں نے يمن كى راہ لى اور باذان كو اس خبر سے مطلع كيا _ باذان نے كہا كہ '' اگر يہ خبر سچ ہے تو پھر يقينا وہ آسمانى پيغمبر ہے اور اس كى پيروى كرنا چاہيئے ابھى تھوڑى دير نہ گزرى تھى كہ شيرويہ كا خط حاكم يمن كے نام آن پہنچا جس ميں لكھا تھا كہ '' آگاہ ہو جاؤ كہ ميں نے خسرو پرويز كو قتل كرديا اور ملت كا غم و غصّہ اس بات كا باعث بنا كہ ميں اس كو قتل كردوں اس لئے كہ اس نے فارس كے اشراف كو قتل اور بزرگوں كو متفرق كرديا تھا_جب ميرا خط تمہارے ہاتھ ميں پہنچے تو لوگوں سے ميرے لئے بيعت لو اور اس شخص سے جو نبوت كا دعوى كرتا ہے اور جس كے خلاف ميرے باپ نے حكم ديا تھا ، ہرگز سختى كا بر تاؤ نہ كرنا


يہاں تك كہ ميرا كوئي نيا حكم تم تك پہنچے_

شيرويہ كے خط نے اس خبر كى تائيد كردى جو رسول خد اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عالم غيب اور وحى كے ذريعہ دى تھى _ ايرانى ناد حاكم باذان اور ملك يمن كے تمام كارندے جو ايرانى تھى ، مسلمان ہوگئے اور يمن كے لوگ رفتہ رفتہ حلقہ بگوش اسلام ہونے لگے _ باذان نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے نام ايك خط ميں اپنے اور حكومت كے كارندوں كے اسلام لانے كى خبر پہنچائي_(۱۱)

حبشہ كے بادشاہ نجاشى كے نا م آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا خط

بسم الله الرحمن الرحيم

محمد رسول اللہ كى طرف سے زمامدار حبشہ نجاشى كے نام _ تم پر سلام ہو ، ہم اس خدا كى تعريف كرتے ہيں جس كے سوا كوئي خدا نہيں ، وہ خدا كہ جو بے عيب اور بے نقص ہے_ فرمان بردار بندے اس كے غضب سے امان ميں ہيں وہ خدا اپنے بندوں كے حال كو ديكھنے والا اور گواہ ہے_

ميں گواہى ديتا ہوں كہ جناب مريم كے فرزند عيسي(ع) روح اللہ اور كلمة اللہ ہيں جو پاكيزہ اور زاہدہ مريم كے بطن ميں تھے ،خدا نے اسى قدرت سے جس سے آدمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو بغير ماں باپ كے پيدا كيا ان كو بغير باپ كے ماں كے رحم ميں پيدا كيا _

ميں تمہيں لا شريك خدا كى طرف دعوت ديتا ہوں اور تم سے يہى چاہتا ہوں كہ تم ہميشہ خدا كے مطيع اور فرمان بردار اور ميرے پاكيزہ آئين كى پيروى كرتے رہو_ اس خدا پر ايمان لاؤ جس نے مجھے رسالت پر مبعوث فرمايا_

ميں پيغمبر خدا ہوں، تمہيں اور تمہارے تمام لشكر والوں كو اسلام كى دعوت ديتا ہوں اور


اس خط اورسفير كو بھيج كر ميں اپنے اس عظيم فريضے كو پورا كررہا ہوں جوميرے اوپر ضرورى ہے اور تمہيں وعظ و نصيحت كررہا ہوں_ سچائي اور ہدايت كے پيروكاروں پر سلام_

محمد رسول اللہ

نجاشى نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے خط كو ليا، آنكھوں سے لگايا، تخت سے نيچے اُترا اور تواضع كے عنوان سے زمين پر بيٹھ گيا اور كلمہ شہادتين زبان پر جارى كيا اور پھر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے خط كے جواب ميں لكھا_

بسم الله الرحمن الرحيم

يہ خط محمد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى طرف ، نجاشى كى جانب سے ہے ، اس خدا كا درود و سلام آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ہو جس كے علاوہ كوئي خدا نہيں اور جس نے ميرى ہدايت كي_ حضرت عيسى (ع) كے بشر اور پيغمبر ہونے كے مضمون كا حامل خط ملا _ زمين و آسمان كے خدا كى قسم جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بيان فر ما يا وہ حقيقت ہے_ ميں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے دين كى حقيقت سے آگاہى حاصل كى اور مہاجر مسلمانوں كى ضرورتوں كے پيش نظر ضرورى اقدامات انجام ديئے گئے ہيں_ اب ميں اس خط كے ذريعے گواہى ديتا ہوں كے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كے رسول وہ صادق شخص ہيں جن كى تصديق آسمانى كتابيں كرتى ہيں _ ميں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے چچا زاد بھائي ( جعفر بن ابى طالب) كے سامنے اسلام و ايمان و بيعت كے مراسم انجام ديئےيں اوراب اپنا پيغام اور قبول اسلام كى خبر پہنچانے كے لئے اپنے بيٹے ''رارہا'' كو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں بھيج رہا ہوں اور اعلان كرتاہوں كہ ميں اپنے علاوہ كسى كا ضامن نہيں ہوں _ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اگر حكم ديں تو ميں خود آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت با فيض ميں حاضر ہو جاؤں _ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود و سلام ہو_

نجاشي(۱۲)


دوسرے حكمرانوں كا موقف

مصر و يمامہ كے سر براہان مملكت نے تحائف كے ساتھ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے خط كا جواب ديا ليكن كوئي مسلمان نہيں ہوا_مصر كے حاكم مُقوقس نے بھى تحائف كے ساتھ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے خط كا جواب انتہائي احترام كے ساتھ ديا(۱۳)

يمامہ كے حاكم نے جواب ميں لكھا كہ ميں اس شرط پر مسلمان ہونے كو تيار ہوں كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بعد حكومت ميرے ہاتھ ميں ہو _ اس پيش كش كو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قبول نہيں كيا اور فرمايا يہ بات خداى امور ميں سے ہے(۱۴) _

بحرين كا حاكم مسلمان ہو گيا اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس كو اسى طرح بطور حاكم باقى ركھا _ اُردن كے حاكم نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے سفير كے سامنے اپنى جنگى طاقت كا مظاہرہ كيا اور مدينہ پر لشكر كشى كى فكر ميں تھا اس سلسلہ ميں مركزى حكومت (روم) سے رائے طلب كى ليكن جب قيصر روم كى بدلى ہوئي نگاہوں كو ديكھا تو سب كچھ سمجھ گيا اور تمام سياسى لوگوں كى طرح اپنا موقف بدل ديا _ پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے سفير كى دلجوئي كى اور تحفے تحائف اس كے حوالے كئے_(۱۵)

خيبر كے يہوديوں سے جنگ كے اسباب

اسلام شروع ہى سے يہوديوں كى بد عہدى اور سازشوں كا شكار تھا يہوديوں كا ايك گرو ہ مدينہ سے ۱۶۵ كيلوميٹر دور شمال ميں خيبر نامى ايك ہموار اور وسيع جگہ پر سكونت پذير تھا كہ جہاں انہوں نے اپنى حفاظت كے لئے نہايت مضبوط اور مستحكم سات قلعے بنا ركھے تھے يہوديوں كى تعداد بيس ہزار سے زيادہ تھى جن ميںسے اكثر جوان اور جنگجو افراد تھے_


صلح حديبيہ نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو اس بات كا موقعہ ديا كہ عالمى پيغام كا اعلان كرنے كے علاوہ جزيرة العرب سے يہوديوں كے آخرى خطرناك مركز كى بساط لپيٹ ديں كيونكہ ايك توسياسى اور جنگى نكتہ نظر سے خيبر ايك مشكوك مركز شمار ہوتا تھا اور خيبر كے يہوديوں ہى نے جنگ احزاب كى آگ بھڑ كائي تھى اس لئے ممكن تھا كہ وہ دوبارہ مشركين كو بھڑ كائيں _

دوسرے يہ كہ ايران وروم ايسى بڑى طاقتوں سے يہوديوں كے بہت قريبى تعلقات تھے_ اور ہر لمحہ يہ انديشہ تھا كہ بڑى طاقتوں كوور غلا كر يا ان كى مدد سے يہ لوگ اسلام كو جڑ سے اكھاڑديں_

تيسرے يہ كہ، صلح حديبيہ كہ وجہ سے يہودى يہ سوچنے لگے تھے كہ لشكرى اور جنگى اعتبار سے كمزور ہونے كى بنا پر مسلمانوں نے صلحنامہ قبول كيا ہے ، لہذا يہودى اس فكر ميں تھے كہ موقعے سے فائدہ اٹھا تے ہوئے تحريك اسلام پر ناگہانى ضر ب لگائي جائے _ ہر چند كہ صلح حديبيہ كے معاہدے نے قريش و يہود كے جنگى اتحاد كے امكان كو ختم كر ديا تھا ليكن ديگر ايسے قبائل موجودتھے جو يہوديوں كے امكانى حملے كى صورت ميں ان كا ساتھ دے سكتے تھے_ يہ وجوہات تھيں جو اس بات كا سبب بنيں كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم يہوديوں كى سر كوبى كے لئے پيش قدمى كريں اور آتش فتنہ كو خاموش كرديں _

لشكر توحيد كى روانگي

يكم ربيع الاوّل ۷ ہجرى(۱۶) بروز ہفتہ بمطابق ۱۲ جولائي ۶۲۸ عيسوي

رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سولہ سو جاں بازوں كے ساتھ مدينہ سے روانہ ہوئے اور ہميشہ كى طرح ناگہانى طور پر دشمن كے سر پر پہنچنے كے لئے تيزى سے مقام رجيع كى جانب روانہ ہوئے


_ (يہ ايك چشمہ ہے جو خيبر و غطفان كى سرزمين كے درميان واقع ہے اور غطفان كى ملكيت ہے _) چنانچہ اس طرح آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دشمن كو بھى غافل بنا يا اور دو جنگى حليفوں يعنى خيبر كے يہوديوں اور غطفان كے بدووںكے در ميان جدائي بھى ڈال دى _

معلومات كى فراہمي

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے روانگى سے قبل لشكر اسلام كے آگے ''عباد بن بشر'' كو چند سواروں كے ساتھ دشمن كے لشكر كى خبر لانے كے لئے بھيجا _ ان لوگوں نے ايك يہودى جاسوس كو گرفتار كرليا اور اس كو دھمكا كے ،خيبر كے يہوديوں كے اہم جنگى راز اور يہوديوں كے پست حوصلوں كے بارے ميں معلومات حاصل كرليں_(۱۷)

خيبر كا مضبوط قلعہ راتوں رات مسلمانوں كے محاصرے ميں آگيا _ صبح سوير ے خيبر كے يہودى مسلمانوں كے حملہ اور محاصرے سے غافل قلعوں سے باہر نكلے اور بيلچے، تھيلے و غيرہ لے كر كھيتوں اور نخلستانوں كى طرف چل پڑے كہ اچانك مسلمانوں پر نظر پڑى جو خيبر كو ہر طرف سے گھيرے ہوئے تھے_ وہ لوگ ڈر كے مارے خيبركے قلعوں كى طرف بھا گے اور آواز دى '' محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہم سے لڑنے آئے ہيں''_(۱۸)

جنگى اعتبار سے مناسب جگہ پر لشكر گاہ كى تعيين

ابتدا ميں لشكر اسلام نے خيموں كو نصب كرنے كے لئے ايك جگہ كا انتخاب كيا ليكن يہ جگہ بہت زيادہ مرطوب ہونے كے علاوہ صحت و صفائي كے اعتبار سے بھى نا مناسب اور يہوديوں كے تيروں كى زد پر واقع تھى جب يہ جگہ جنگى اعتبار سے مناسب معلوم نہ ہوئي تو


رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے اصحاب سے مشورہ كركے نخلستان كى پشت پر مناسب ترين رجيع نامى جگہ كو لشكر گاہ كے لئے معين فرمايا اور كچھ سپاہيوں كو اس جگہ كى حفاظت اور نگہبانى كے لئے مقرر كرديا _ جو بارى بارى لشكر گاہ كى نگہبانى اور حفاظت كا فريضہ انجام ديتے _(۱۹)

لشكر كے لئے طبى امداد رسانى كا انتظام

زخميوں كى ديكھ بھال كرنے والى ''نُسَيْبَہ'' نامى خاتون چند ايسى عورتوں كے ساتھ جو اس فن سے آشنا تھيں مدينہ سے لشكر اسلام كے ہمراہ آئيں اور لشكر گاہ كى پشت پرجنگى مجروحين كى مرہم پٹى كے لئے ايك خيمہ نصب كيا اور جانبازوں كى مدد كے لئے تيار ہو گئيں_(۲۰)

جديد معلومات

مقام رجيع ميں ايك يہودى نے جو بہت زيادہ خوف زدہ ہو گيا تھا خودكو لشكر اسلام كے حوالہ كر ديا اور كہنے لگا كہ اگر كچھ خبريں لشكر اسلام كو دے تو كيا اس كو امان ملے گى ؟ جب اس كو امان دى گئي تو اس نے بہت سے جنگى راز فاش كرديئےور بتايا كہ يہوديوں كے درميان ختلاف ہو گيا ہے _ پھر مسلمانوں كى قلعوں اور حصاروں تك راہنمائي كي_(۲۱)

آغاز جنگ اور پہلے قلعہ كى فتح

خيبر ميں سات قلعے تھے جن كے نام ، ناعم ، قموص ، كتيبہ ، نطاة ، شقّ، وطيح ، سلالم ہيں ان قلعوں كے در ميان فاصلہ تھا _ رجيع كو لشكر گاہ كے عنوان سے منتخب كرنے اور ترتيب دينے ميں تقريباً سات دن لگ گئے ، اس كے بعد لشكر اسلام دن ميں قلعوں پر حملہ كرتا اور راتوں كو اپنى قيام گاہ پر واپس آجاتا تھا_جنگ كے پہلے دن پچاس جانبازان اسلام تيروں


سے مجروح ہوئے ، علاج كے لئے انكو اس خيمہ ميں پہنچايا گياجو اس كام كے لئے نصب كيا گيا تھا_

بالآخر سات دنوں كے بعد ناعم نامى پہلا قلع فتح ہوا، اس كے بعد رفتہ رفتہ سارے قلعے لشكر اسلام كے قبضہ ميں آگئے_

ان قلعوں ميں سے ايك قلعہ كى فتح كے دوران اس يہودى كى زوجہ اسير ہوئي جس نے لشكر اسلام كے لئے معلومات فراہم كرنے ميں مدددى تھى _ رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے اُس كے شوہر كے حوالے كرديا_(۲۲)

سردار كے حكم سے روگرداني

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جب ''ناعم'' نامى قلعہ كى حصاركے قريب پہنچے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے لشكر كو صف آرا كيا اور فرمايا كہ جب تك حكم نہ پہنچے اس وقت تك جنگ نہ كرنا _ اس موقع پر ايك سپاہى نے خود سرانہ طور پر ايك يہودى پر حملہ كرديا ليكن يہوديوں كے ہاتھوں مارا گيا_ جاں بازوں نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال كيا كہ كيا يہ شہيد شمار ہوگا؟آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' منادى بہ آواز بلند اعلان كردے كہ جو اپنے سپہ سالار كے حكم سے سرتابى كرے جنت اس كے لئے نہيں ہے_(۲۳)

جنگى حكمت عملي

لشكر اسلام كى كمان رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہاتھ ميں تھى اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے فرمان كے مطابق عمدہ جنگى حكمت عملى كے ساتھ لشكر اسلام ايك ايك قلعہ كا محاصرہ كر تا جارہا تھا اور كوشش كررہا تھا


كہ جس قلعہ كا محاصرہ ہو چكا ہو اس كا رابطہ دوسرے قلعوں سے منقطع كردے اور اس طرح قلعہ كو فتح كرلينے كے بعد دوسرے قلعہ كا محاصرہ كرتا تھا_

وہ قلعے جن كا ايك دوسرے سے ارتباط تھا يا جن كے اندر جنگجو زيادہ استقامت كا مظاہرہ كرتے تھے ذرا دير ميں فتح ہوتے تھے_ليكن وہ قلعے جن كا آپس ميں رابطہ بالكل منقطع ہو جاتا تھا وہ كمانڈروں كے رعب و دبدبہ كے سامنے ج ہى ہتھيار ڈال ديتے تھے اور ان كو فتح كرنے ميں قتل و خونريزى بھى كم ہوتى تھى _(۲۴)

على عليہ السلام فاتح خيبر

قلعے يكے بعد ديگرے فتح ہوگئے صرف دو قلعے باقى رہ گئے اور يہودى ان قلعوں كے اوپر سے مسلمانوں پر بڑى تيزى سے تير بر سارہے تھے_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے اصحاب ميں سے ايك صحابى ( ابوبكر) كو لشكر كى سردارى ديكر قلعہ فتح كرنے كے لئے روانہ كيا اور ان كے ہاتھو ں ميں پرچم ديا _ ليكن وہ بغير پيش قدمى كيئے شكست كھاكر پلٹ آئے_

دوسرے دن پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے لشكر كا علَم،دوسرے صحابى (عمر) كے حوالہ كيا ليكن وہ بھى پيش قدمى نہ كرسكے اور شكست كھا كر واپس آگئے_

تيسرے دن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پرچم، سعد بن عبادة كے حوالہ كيا ليكن وہ بھى شكست سے دوچارہوئے، خود وہ اور ان كا لشكر زخمى ہو گيا اور وہ بھى بيٹھ رہے_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' كل ميں علم اس كے حوالے كروںگا جس كو خدا اور اس كا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دوست ركھتے ہيںاور وہ بھى خدا اور اس كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو دوست ركھتا ہے _ وہ شكست كھانے والا اور بھاگنے والا نہيں ، خدا اس كے ہاتھوں فتح عطا كرے گا_(۲۵)


رات ختم ہوئي صبح نمودار ہوئي _ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علي(ع) كو بلانے كے لئے بھيجا آپ(ع) آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں تشريف لائے جبكہ آپكى آنكھوں ميں درد تھا چنانچہ فرمايا '' حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نہ ميں دشت ديكھ پا رہا ہوں اور نہ پہاڑ '' پھر آپ(ع) پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے قريب پہنچے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا '' آنكھيں كھولو'' رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے اپنا لعاب دہن على (ع) كى آنكھوںميں لگايا تو آپكى آنكھيں شفا ياب ہوگئيں _(۲۶) پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پرچم، حضرت على (ع) كو ديا اور كاميابى كے لئے دعا كي، امير المومنين على (ع) قلعہ كى طرف چل پڑے_

حضرت على (ع) كى سركردگى ميں جب لشكر، قلعہ كے نزديك پہنچا تو مرحب كے بھائي حارث نے اپنے مشّاق اور تيز رفتار شہ سواروں كے ساتھ لشكر اسلام پر حملہ كيا ، مسلمان بھاگے على (ع) تنہا اپنى جگہ جمے رہے، علي(ع) كى تلوار كى ضرب نے اپنا كام كيا اور حارث قتل ہو گيا_ يہوديوں پر خوف و وحشت طارى ہو گيا وہ قلعہ كے اندر بھاگ گئے اور قلعہ كے دروازہ كو مضبوطى سے بند كر ليا _ مسلمانوں نے جب يہ منظر ديكھا تو ميدان ميں پلٹ آئے ، اس موقعہ پر خيبر كا مشہور پہلوان اور حارث كا بھائي''مرحب'' اپنے بھائي كى موت پر بے تاب ،اسلحہ ميں غرق ، غصّہ ميں بھر ا، رجز پڑھتا ہوا قلعہ سے باہر كو دپڑا_

وہ كہہ رہا تھا : '' خيبر مجھے جانتا ہے ميں مرحب ہوں اسلحہ ميں غرق ، آزمودہ كار پہلوان ہوں _ كبھى ميں نيزے سے وار كرتاہوں كبھى شمشير سے ، جب شير غصّہ كے عالم ميں ہو تو كوئي كھچار كے قريب نہيں پھٹكتا(۲۷)

حضرت على (ع) نے اس كے جواب ميں فرمايا:

ميں وہ ہوں كہ ميرى ماں نے ميرا نام حيد ر(شير) ركھا ہے ميں بہادر اور جنگلوں كا شير ہوں_(۲۸)


اس كے بعد زبردست جنگ شروع ہوئي ، شمشير علي، (ع) مرحب كے سر ميں درآئي اور اس كى سپر ،پتّھر كے خود اور سر كو دانتوں تك دوٹكڑے كرديا _ يہ ضرب ايسى خطرناك او دل ہلا دينے والى تھى كہ جسے ديكھ كر بعض يہودى بہادربھاگ كھڑے ہوئے اور قلعہ كے اندر جا چھپے اور بقيہ افراد على (ع) كے ساتھ دست بدست جنگ ميں مارے گئے_علي(ع) نے شير كى طرح يہوديوںكا پيچھا قلعہ كے دروازے تك كيا پھر قلعہ كے دروازے كيطرف متوجہ ہوئے اور اسے اكھاڑ ليا اور جنگ كے اختتام تك سپر كى طرح استعمال كرتے رہے پھر اس كو اس خندق كے اوپر ركھ ديا_ جو قلعہ كے چاروں طرف كھدى ہوئي تھي_(۲۹)

يہ دروازہ اتنا وزنى تھا كہ لشكر اسلام كے آٹھ سپاہى اس كو نہ اٹھا سكے_ حضرت علي(ع) اس اعجازى قوّت كے بارے ميں فرماتے ہيں كہ '' ميں نے ہرگز بشرى قوّت سے اسے نہيں اكھاڑا بلكہ خدا داد قوّت كے زير اثر اور روز جزا پر ايمان كى بنا پر يہ كام كيا ہے _(۳۰) على (ع) كى شجاعت ، بہادى اور ان كے ہاتھوں كى طاقت سے خيبر كى فتح اور دوسروں كى ناتوانى كے بارے ميں بہت سى حديثيں اہل سنّت كى كتابوں ميں موجود ہيںمزيد معلومات كيلئے ان ماخذوں كى طرف اشارہ كيا جارہا ہے_(۳۱)


سوالات

۱_ رسول خدانے كس ، كس بادشاہ كو خط لكھے؟

۲_ يمن كا حاكم اور وہاں كے لوگ كيوں كر مسلمان ہوئے؟

۳_ قيصرنے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے لئے كيا جواب لكھا؟

۴_ دوسرے حكمرانوں كا موقف كيا تھا؟

۵_ رسول خدا نے خيبر كے يہوديوں سے كيوں جنگ كي؟

۶_ خيبر ميں حضرت على (ع) كى شجاعت كے بارے ميں كچھ بيان كيجئے_


حوالہ جات

۱_ طبقات ابن سعد ج ۱ ص ۲۵۸_

۲_ '' الوثائق السياسيہ '' مصنفہ پروفيسر حميد اللہ پاكستانى ليكچر رپيرس يونيورسٹي_مكاتيب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم '' مؤلفہ حجة الاسلام و المسلمين على احمدى ميانجى اور '' محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و زمامداران'' مصنفہ صابر ى ہمدانى ملاحظہ ہوں_

۳_ دحيہ كلبى اور عَمروبن اميّہ اور دوسرے سفراء كى زندگى كا مطالعہ كرنے سے يہ بات واضح ہو جاتى ہے_

۴_ طبقات ابن سعد ج ۱ ص ۲۵۸ _ سيرت حلبى ج ۳ ص ۲۴۰_

۵_ طبقات ابن سعد ج ۳ ص ۲۴۱ و ج ۱ص ۲۵۸_

۶_ قل يا اہل الكتاب تعالوا الى كلمة سوائ: بيننا و بينكم الا نعبد الّا اللہ و لا نشرك بہ شيئا و لا يتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ فان تولوّا فقولوا اشہدوا بانّا مسلمون(آل عمران ۶۴)_

۷_ تاريخ يعقوبى ج ۲ ص ۷۷_

۸_ تاريخ يعقوبى ج ۲ ص ۷۷_

۹_ تاريخ يعقوبى ج ۲ ص ۷۷_

۱۰_ طبقات ابن سعد ج ۱ ص ۲۵۹_

۱۱_ سيرہ حلبى ج ۳ ص ۲۴۷ _ طبقات ابن سعد ج ۱ ص ۲۶۰ _ كامل ج ۲ ص ۲۴۶ _ تاريخ طبرى ج ۲ ص ۶۵۵_

۱۲_ تاريخ طبرى ج ۲ ص ۶۵۳ _۶۵۲ سيرت حلبى ج ۳ ص ۲۴۸_

۱۳_ كامل ج ۲ ص ۲۱۰ طبقات ج ۱ ص ۲۶۰_ سيرت حلبى ج ۳ ص ۲۵۰_

۱۴_ طبقات ابن سعد ج ۱ ص ۲۶۳ _ سيرة حلبى ج ۳ ص ۲۵۰_

۱۵_ سيرة حلبى ج ۳ ص ۲۵۵_

۱۶_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۶۳۴_

۱۷_ مغازى واقدى ج ۲ ص۰ ۶۴_

۱۸_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۶۴۲_


۱۹_ مغازى واقدى ج ۲ ص۶۴۳ _

۲۰_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۶۸۵ _۶۸۷_

۲۱_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۶۴۶_

۲۲_مغازى واقدى ج ۲ ص ۶۴۶_

۲۳_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۶۴۹ _ '' لا تحلّ الجنّة لعاص''_

۲۴_ جرجى زيدان نے خيبر كے قلعوں كى تصوير اپنى كتاب تاريخ التمدن الاسلامى ميں دى ہے ج ۱ ص ۶۱_

۲۵_ لاعطين الراية غدا رجلا يحبہ اللہ و رسولہ و يحب اللہ و رسولہ كراراً غير فرار لا يرجع حتى يفتح اللہ على يديہ ، بحار الانوار ج ۲۱_۲۸ _

۲۶_ حضرت على (ع) نے فرمايا كہ اس كے بعد ميں درد چشم ميں ہرگز مبتلا نہيں ہوا_

۲۷_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۶۵۴ _۶۵۳_

۲۸_ ارشاد مفيد ص ۶۷_

۲۹_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۶۵۴_ ۶۵۵_

۳۰_ بحار الانوار ج ۲۱ ص ۲۶_

۳۱_صحيح بخارى ج ۵ ص ۷۱ ۱ و ج ۵ ص ۲۳ _ تاريخ بخارى ج ۱ ص ۱۱۵ و ج ۴ ص ۱۱۵ _ صحيح مسلم ج ۷ ص ۱۲۱ و ج ۵ ص ۱۹۵ و ج ۷ ص ۱۲۰ _ مسند الحافظ ابى داؤد ص ۳۲۰_مسند امام احمد بن حنبل ج ۱ ص ۹۹ و ج ۲ ص ۳۸۴ سنن ترمذى ج ۵ ص ۶۳۸ _ سنن ابن ماجہ ج ۱ ص ۶۵ _ خصايص ص ۴ _ تاريخ طبرى ج ۲ ص ۳۱۰ _ طبقات ج ۳ ص ۱۵۶ _عقد الفريد ج ۳ ص ۹۴ _ مستدرك حاكم ج ۳ ص ۴۰۵_ معجم الصغيرطبرانى ص ۱۶۳_ حلية الاوليا ج ۱ ص ۴۳۰_ سنن الكبرى ج ۹ ص ۱۰۷ _ مناقب ابن مغازلى ص ۱۷۶ _ استيعاب در حاشيہ الاصابہ ج ۳ ص ۳۶۶ _ مصابيح السنة ج ۲ ص ۲۰۱_معالم التنزيل ج ۴ ص ۱۵۶ _الشفا قاضى عياض ج ۱ ص ۲۷۲ _ اسد الغابہ ج ۳ ص ۲۵ _ تذكرة الخواص سبط ابن جوزى ص ۱۵_شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج ۴ ص ۲۲۱_ كفاية الطالب باب ۶۲ص ۱۱۶ _ البداية و النہاية ابن كثير ج ۴ ص ۱۸۴_ مجمع الزوائد ج ۹ ص ۱۲۳ _ الاصابة ج ۲ ص ۵۰۲ _ينابيع المودة ص ۴۱_


نواں سبق

طرفين كے خسارئے كا تخمينہ

اسيروں كيساتھ اچھا برتاؤ

فتح كے وقت در گزر

مال غنيمت

مال غنيمت ميں خيانت كى سزا

مال غنيمت كى تقسيم

خيبر پر حملے كے نتائج

خيبر ميں لشكر اسلام كى كاميابى كے اسباب

فدك -- غزوہ وادى القري

تيما -- فتح خيبر كے بعد انجام پانے والے سرايا

مكہ كى طرف (عُمرَةُ القضائ)

جنگ موتہ ، عالمى استكبار سے پہلا مقابلہ

گريہ كيوں؟ -- غير مساوى طاقتوں كى جنگ

لشكر اسلام كے دلير سردار جعفر ابن ابى طالب كى شہادت

عبداللہ ابن رواحہ اور زيد ابن حارثہ كى شہادت

مجاہدين كى واپسي

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جعفر ابن ابيطالب كے سوگ ميں

جنگ ذات السلاسل

سوالات


طرفين كے خسارے كا تخمينہ

آخرى قلعہ كى فتح كے نتيجہ ميں يہوديوں كو شكست اور لشكر اسلام كو فتح حاصل ہوئي اس جنگ ميں يہوديوں كے ۹۳ سے زيادہ بڑے بڑے جنگجو ہلاك ہوئے جبكہ شہداء اسلام كى تعداد۲۰ افراد سے زيادہ نہ تھى _ اس كے علاوہ قلعوں پرحملے كے نتيجے ميں كچھ يہودى ، لشكر اسلام كى اسيرى ميں آئے_

اسيروں كيسا تھ اچّھا برتاؤ

قلعوں ميں سے جب ايك قلعہ فتح ہوا تو حيّ بن اخطب كى بيٹى صفيّہ اور ايك دوسرى عورت اسير ہوئي تو حضرت بلال ان دونوں كو يہوديوں كے مقتولين كى لاشوں كے قريب سے گزار كر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں لائے پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اُٹھے اور صفّيہ كے سر پر عباڈال دى اور دونوں عورتوں كے آرام كے لئے لشكر گاہ ميں ايك جگہ معين فرما دى پھر بلال سے سخت لہجہ ميں كہا '' كيا تمہارے دل سے مہرو محبّت ختم ہوگئي ہے كہ تم ان عورتوں كو ان كے عزيزوں كے پاس سے گزار كرلا رہے ہو ؟ '' صفّيہ ''كے دل پر پيغمبر كى محبّت نے بڑا اثر كيا بعد ميں آپ، پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى باوفا بيويوں كے زمرہ ميں شامل ہوئيں _(۱)


فتح كے وقت در گزر

تاريخ كے فاتحين نے جب بھى دشمن پر كاميابى حاصل كى تو شمشير انتقام سے اپنے كينہ كى آگ كو بجھايا اور دشمن كى تباہى ميں بڑى بے رحمى كا ثبوت ديا ليكن خدا رسيدہ افراد نے ہميشہ كاميابى كے موقعہ پر دشمنوں كے ساتھ نہايت لطف و محبّت كا سلوك كيا ہے _ فتح خيبر كے بعد ، خيبر كے جن افراد نے زيادہ مال صرف كر كے جنگ احزاب كى عظيم شورش بر پا كى تھى اور اسلام كو خاتمہ كے دہانہ پر لاكھڑا كيا تھا ان كے سروں پر پيغمبررحمتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے لطف و عطوفت كا سايہ رہا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہيں اجازت دى كہ سرزمين خيبر ميں اپنے گھروں ميں كام اور حسب سابق كھيتى باڑى ميں مشغول رہيں اس كے بدلے خيبر كى آمدنى كا آدھا حصّہ مسلمانوں كو ديں_آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فتح كے وقت نيزے كى نوك پر اسلام مسلّط نہيں كيا بلكہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كو مذہبى شعائر و رسوم كى ادائيگى كى آزادى مرحمت فرمائي_(۲)

مال غنيمت

فتح خيبر اور يہوديوںكو غير مسلح كرنے كے بعد كافى مقدار ميں ہتھيار ، جنگى سازو سامان ، يہوديوں كے زيورات سے مالامال خزانہ ، كھانے كے برتن ،كپڑے ، بہت سے چوپائے اور كھانے پينے كا بہت زيادہ سامان مال غنيمت كے طور پر لشكر اسلام كے ہاتھ آيا _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حكم ديا كہ ايك شخص جانبازان اسلام كے در ميان اعلان كرے كہ '' ہر مسلمان پر لازم ہے كہ مال غنيمت كو بيت المال ميں لا كر جمع كردے _چاہے وہ ايك سوئي اور دھاگہ ہى كيوں نہ ہو _ اس لئے كہ خيانت ننگ و عار ہے اور قيامت ميں اس كى سزا آگ ہے_(۳)


پھر عادلانہ تقسيم كے لئے تمام مال غنيمت ايك جگہ جمع ہوا اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حكم ديا كہ اس ميں سے كچھ نقد كى صورت ميں لوگ تبديل كر لائيں _

'' فروہ'' جو مال غنيمت بيچنے كے كام پر مامور كئے گئے تھے ، انہوں نے مال غنيمت ميں سے ايك دستار ،دھوپ سے بچنے كے لئے اپنے سر پر باندھ ركھى تھى ، فراغت كے بعد دستار اتارے بغيربے خبرى كے عالم ميں اپنے خيمہ ميں چلے گئے وہاں دستار كاخيال آيا تو فوراً خيمہ سے باہر نكلے اور دستار مال غنيمت كے ڈھير پر ركھ دى _ جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو يہ خبر ملى تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا'' يہ آگ كى دستار تھى جو تم نے اپنے سر پر باندھ ركھى تھى _(۴)

مال غنيمت ميں خيانت كى سزا

سپاہيوں ميں سے '' كَركَرہ'' نامى ايك شخص رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كے مركب كى نگہبانى پر مامور تھا واپسى كے دوران اسے ايك تير لگا اور وہ مارا گيا_رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے لوگوں نے پوچھا كہ كيا ''كركرہ''شہيد ہے ؟ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا '' مال غنيمت ميں سے عبا چرا نے كے جرم ميں اب آگ ميں جل رہا ہے''_

اس موقع پر ايك شخص نے پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے كہا كہ '' ميں نے بغير اجازت كے ايك جوڑا جوتا مال غنيمت سے لے ليا ہے _'' آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرما يا '' واپس كردو ورنہ قيامت كے دن آگ كى صورت ميں يہ تمہارے پيروں ميں ہوگا _(۵)

مال غنيمت كى تقسيم

خمس نكالنے كے بعد ، جانبازان اسلام كے در ميان مال غنيمت تقسيم ہوا، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے


ان عورتوں كو جنہوں نے لشكر اسلام كى مدد اور تيمار دارى كى تھى بيش قيمت گلوبند و غيرہ عطا فرمائے_(۶)

ايك شخص كو ايك خرابہ سے دو سو درہم ملے پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خمس نكال ليا اور بقيہ در ہم اس كو ديدئے_(۷)

لشكر اسلام خيبر سے كوچ كرنے ہى والا تھا كہ مہاجرين حبشہ كے سرپرست جعفر ابن ابى طالب حبشہ سے واپس آگئے جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو مدينہ ميں نہيں پايا تو خيبر كى طرف چل پڑے _ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جعفر(ع) كى واپسى پر بہت خوش ہوئے سات قدم ان كے استقبال كے لئے بڑھے اور فرمايا سمجھ ميں نہيں آتا كہ كس بات كے لئے زيادہ خوشى مناؤں ؟فتح خيبر كے لئے يا جعفر كى واپسى كے لئے؟''(۸)

خيبر پر حملے كے نتائج

خيبر كا حملہ ، اسلام كے خلاف يہوديوں كى اقتصادى اور جنگى طاقت كى كمى كا باعث بنا_ اس حملے كے دوسرے نتائج ميں سے ايك يہ ہے كہ ، يہوديوں كے اس گروہ كے ہتھيار ڈال دينے كى بدولت مشركين كى فوج ميں خوف و ہراس پھيل گيا اوراسلام كى تحريك مزيد پائيدار ہوگئي_

خيبر ميں لشكر اسلام كى كاميابى كے اسباب

۱_ بہترين جنگى حربوں اور موثر حكمت عملى كا استعمال

۲_ پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام كى دقيق اور حكيمانہ سپہ سالارى اور لشكر اسلام كا سپہ سالار كے حكم پر مكمل عمل كرنا_


۳_ جنگى حوالے سے مناسب جگہ پر پڑاؤ

۴_ خيبر كے كامل محاصرے تك لشكر اسلام كى مكمل پوشيدگى _

۵_ دشمن كے حالات كى اطلاع او ر ہر قلعہ ميں لشكر كى تعداد و كيفيت كے بارے ميں مكمل معلومات _

۶_ حضرت على (ع) كى بے امان جنگ '' ايسى جنگ كہ دشمن كے نقصانات ميں سے آدھا نقصان دست زبردست حيدر كرار كى توانائي كا نتيجہ تھا_

فدَك

خيبر سے ايك منزل اور مدينہ سے ۱۴۰ كيلوميٹر دور كچھ يہودى فدك نامى ايك قصبہ ميں رہتے تھے_يہ لوگ خيبر كے يہوديوں كے انجام سے خوفزدہ تھے ا ور خدا نے ان كے دل ميں خوف و دہشت مزيد بڑھاديا _ اس وجہ سے انہوں نے پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے نمائندہ كے جواب ميں ايك شخص كو معاہدہ صلح كے لئے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس بھيجا اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے معاہدہ كيا كہ آدھا فدك آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حوالہ كريں گے اور اسميں كھيتى كرنے كے ساتھ ساتھ اس كى آمدنى بھى ان كے حوالہ كريں گے _(۹)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فدك فاطمہ زہراء سلام اللہ عليھا كو عطا كرديا _ فدك كى سالانہ آمدنى ، ۲۴۰۰۰درہم تھى جناب فاطمہ(ع) اس آمدنى كا بيشتر حصّہ بے سہارا لوگوں كى امداد اور اجتماعى مصالح ايسے امور خير ميں صرف كرتى تھيں _(۱۰)

غزوہ وادى القري( ۷ ھ ق)

خيبر كى جنگ ختم ہونے كے بعد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدينہ سے ۳۵۰ كيلوميٹر دور وادى القرى كى


طرف روانہ ہوئے جو يہوديوں كا ايك اہم مركز شمار كيا جاتا تھا _ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس كا محاصرہ كر ليا ، قلعہ چند دنوں تك لشكر اسلام كے محاصرے ميں رہا _ انجام كار فتح و كامرانى كے بعد آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے زمينوں كو انہى كے قبضہ ميں رہنے ديا اوروہى معاہدہ جو خيبر كے يہوديوں سے ہوا تھا ان سے بھى طے پايا_(۱۱)

تَيمائ( ۷ ھ ق)

مسعودى كى تحرير كے مطابق '' تيمائ''(۱۲) كے لوگ يہودى اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے دشمن تھے جب ان لوگوں نے وادى القرى كے فتح ہونے كى خبر سنى تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے صلح كرلى اور جزيہ دينے پر تيار ہوگئے(۱۳) اس طرح سے جزيرة العرب سے يہوديوں كى طرف سے جنگى خطرہ بالكل ہى ختم ہوگيا_

فتح خيبر كے بعد انجام پانے والے سرايا

خيبر كى فتح كے بعد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے ديرينہ دشمن كى طرف سے مطمئن ہوگئے اور مدينہ ميں وہ امن و سكون ہوا جو پہلے كبھى نہ تھا _ماہ صفر سے لے كر ذيقعدہ تك چند مہينوں كى مدّت ميں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے صرف چھ گروہ اطلاعات حاصل كرنے يا ان بكھرے دستوں اور جماعتوں كى تنبيہ و سزا كے لئے روانہ فرمائے جنہوںنے امن و امان ميں رخنہ ڈال ركھا تھا_ ان سرايا كے علاوہ كوئي دوسرا جنگى حملہ وقوع پذير نہيں ہوا_(۱۴)

مكہ كى طرف ( عمرة القضائ)

يكم ذيقعدہ ۷ ھ(بروز جمعرات بمطابق ۳ فرورى سنہ ۶۲۸ئ)


صلح حديبيہ كے ايك سال بعد صلح نامہ كے مطابق مسلمان عمرہ بجالانے كے لئے تين روز تك مكہ ميں ٹھہر سكتے تھے _رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لشكر اسلام كے دو ہزار افراد كے ساتھ عمرہ كے لئے روانہ ہوئے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہمراہ صلح حديبيہ اور بيعت رضوان ميں شامل تمام افراد موجود تھے سوائے خيبر ميں شہيد يا اس سے قبل وفات پا جانے والے مسلمانوں كے ، البتہ ك۱چھ دوسرے لوگ بھى سفر ميں شريك ہوگئے تھے_

معاہدے كے مطابق چونكہ مسلمان سوائے تلوار كے (جو مسافر كا اسلحہ سمجھا جاتا تھا)اپنے ساتھ زيادہ ہتھيار نہيں ركھ سكتے تھے_ اس لئے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ممكنہ خطرے سے بچنے كے لئے لشكر اسلام كے ايك سردار كو دوسو جاں بازوں كے ہمراہ كافى اسلحہ كے ساتھ آگے بھيج ديا تا كہ وہ لو گ '' مرّ الظّہران'' پر مكہ سے ۲۲ كيلوميٹر شمال ميںٹھہريں اور ايك درّہ ميں آمادہ رہيں _

مسلمان ، مكہ كے قريب پہنچے ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ناقہ قصوى پر سوار اور عبداللہ ابن رواحہ مہار تھامے ہوئے فخر كے ساتھ رجز پڑھتے جاتے تھے_

دو ہزار مسلمان خاص شان وشوكت كے ساتھ جبكہ ان كى آواز فرط شوق سے لرزرہى تھى '' لبيك اللّہم لبيك'' كى آواز بلند كرتے جارہے تھے_ برسوں بعد ، كعبہ كى زيارت كى توفيق نصيب ہوئي تھي_

قريش نے شہر مكہ خالى كرديا تھا اور پہاڑ كى بلنديوں سے مسلمانوں كى جمعيت كو ديكھنے ميں مشغول تھے_ مسلمانوں كى صدائے لبيك كى پر شكوہ گونج نے ان كے دلوں پر وحشت طارى كردى تھى ، عمرہ ادا كرنے كے بعد احتياطى فوج كى جگہ دوسرے گروہ نے لے لى اور انہوں نے عمرہ كے فرائض انجام ديئے_


مكہ ميں تين روزہ قيام كى مہلت تمام ہوئي _ قريش نے ايك شخص كو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس بھيجا اور مطالبہ كيا كہ جتنى ج ى ہو سكے مكّہ سے نكل جائيں_

اس سفر ميں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مكّہ كے شمال ميں ۱۲ كيلوميٹر كے فاصلہ پر مقام َسرف ميں جناب ميمونہ سے عقد فرمايا اور اس طرح قريش كے در ميان اپنى حيثيت اور زيادہ مضبوط كرلي_(۱۵)

عمرة القضاء كے بعد ۷ ھ ميں چار دوسرے سرايا بھى پيش آئے_

جنگ موتہ

يكم جمادى الاوّل ۸ ھ بمطابق اگست،ستمبر ۶۲۹ئ

عالمى استكبار سے پہلا مقابلہ

رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بادشاہ بُصْرى كے پاس ايك سفير بھيجا سفير رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جب شام كى سرحد پر واقع سرزمين ''موتہ ''پر(۱۷) پہنچے تو وہاں كے حاكم نے سفير كو قتل كر ديا _(۱۸) ربيع الاول كے مہينہ ميں پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى طرف سے ۱۶ مبلغين مقام '' ذات اَطلاح'' كے سفر پر مامور كئے گئے وہ بھى اسى سرزمين كے لوگوں كے ہاتھوں قتل كرديئے گئے _ ان ميں سے ايك آدمى زخمى ہوا اور لاشوں كے بيچ گر پڑا اور پھر كسى طرح فرار ہو كر مدينہ پہنچا_(۱۹)

يہ واقعات سبب بنے كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم موتہ كى طرف ايك لشكر روانہ فرمائيں_

جہاد كا فرمان صادر ہوتے ہى تين ہزار مسلمان جمع ہوگئے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے لشكر كے سپہ سالاروں كو مندرجہ ذيل ترتيب كے مطابق معين فر مايا_


جب تك زيد ابن حارثہ زندہ رہيں وہ تمہارے سپہ سالار ہوں گے اور اگر زيد شہيد ہوگئے تو پھر جعفر ابن ابى طالب(۲۰) او ر ا گر وہ بھى شہيد ہو گئے تو عبداللہ ابن رواحہ اور اگروہ بھى شہيد ہوگئے تو مسلمان اپنے درميان سے خود ہى ايك سالار كا انتخاب كر ليں(۲۱)

گريہ كيوں؟

لشكر كى روانگى كے وقت اہل مدينہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہمراہ جانبازان اسلام كو رخصت كرنے كے لئے جمع ہوئے عبداللہ ابن رواحہ گھوڑے پر سوار تھے اور آگے اپنے بيٹے كو سوار كئے ہوئے تھے اور اسى حالت ميں شدّت كے ساتھ گريہ فرمارہے تھے _ لوگوں نے سوچا كہ وہ بيوى اور بيٹے كى محبت اور ان سے جدائي كے غم ميں يا موت كے خوف سے رورہے ہيں عبداللہ ابن رواحہ جب لوگوں كے گمان كى طرف متوجہ ہوئے تو سر اٹھايا اور كہا '' اے لوگوں ، ميرا گريہ زندگى ، بيوي، بيٹے، گھربار اور خاندان كى محبّت ميں نہيں ، ميں شہادت سے نہيں ڈرتا اور نہ ہى اس وجہ سے رورہا ہوں بلكہ ميرے گريہ كا سبب قرآن كى مندرجہ ذيل آيت ہے _

''( و انْ منْكُمْ الاّ وَاردُهَا كَانَ عَلى رَبّكَ حَتْمَاً مَقْضيّاً ثُمَّ نُنَجيَ الَّذينَ اتَّقَوا وَ نَذَرُ الْظَالمينَ فيهَا جثيّاً ) (۲۲)

''تم ميں سے كوئي شخص باقى نہيں رہے گا جز اس كے كہ دوزخ ميں جائے اور يہ تمہارے پروردگا ر كا حتمى حكم ہے _ دوزخ ميں داخل ہونے كے بعد ہم ان افراد كو جو خدا ترس اور


باتقوا تھے، نجات ديں گے اور ستم گاروں كو چھوڑديںگے تا كہ وہ گھٹنوں كے بل آگ ميں گر پڑيں_

مجھے اطمينان ہے كہ مجھے جہنّم ميں لے جايا جائے گا ليكن يہ كيسے پتہ چلے كہ نجات دى جائے گى _(۲۳)

پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسلمانوں كے ساتھ شہر كے دروازہ تك مجاہدين كو رخصت كيا اور فرمايا ''دفع اللہ عنكم و ردّكم سالمين غانمين'' يعنى خدا تمہارا دفاع كرے اور سلامتى اور غنيمت كے ساتھ واپس پلٹائے ليكن عبداللہ ابن رواحہ نے جواب ميں شعر پڑھا جس كا مطلب تھا_ميں خداوند رحمان سے مغفرت طلب كرتا ہوں اور اس سے شمشير كى ايسى ضربت كا خواہاں ہوں جو ميرى زندگى كو ختم كردے_(۲۴)

خداحافظ كہتے وقت عبداللہ ابن رواحہ نے پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نصيحت كرنے كى خواہش كى ، حضرت نے فرمايا '' جب تم ايسى سرزمين پر پہنچو جہاں اللہ كى عبادت كم ہوتى ہے تو اس جگہ زيادہ سجدے كرو''_عبداللہ نے كہا كچھ اور نصيحت فرمائيں ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا '' خدا كو ياد كرو، خدا كى ياد مقصد تك پہنچنے ميںتمہارى مددگار ہے ''(۲۵) _رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے لشكر كے اميروں كو حكم ديا كہ '' خدا كے نام سے اس كى راہ ميں جنگ كرواور جو خدا كا انكار كرے اس سے لڑو _ دھوكہ بازى نہ كرو، بچوں كو قتل نہ كرو، جب مشركين سے سامنا ہوتو تين چيزوں ميں سے ايك كى دعوت دو اور جب كسى ايك كو قبول كرليں تو ان سے دست بردار ہو جاؤ _ پہلے اسلام كى دعوت دو اگر قبول كرليں تو ان سے جنگ نہ كرو_ دوسرے ان سے مطالبہ كرو كہ اپنى زمين سے چلے جائيں اور ہجرت كريں اگر قبول كرتے ہيں تو ان كے لئے وہى حقوق ہيں جو دوسروں كے لئے ہيں ،اگران دونوں باتوں كے قبول كرنے سے انكار كريں


تو جزيہ ادا كرنے كى دعوت دو اگر ان تمام باتوں سے سرتابى كريں تو خدا سے مدد مانگو اور ان سے جنگ كرو''(۲۶) _

غير مساوى طاقتوں كى جنگ

لشكر اسلام موتہ كى جانب روانہ ہوا_ جنوب عمان ميں ۲۱۲ كيلوميٹر دور مقام ''معان''پرخبر ملى كہ بادشاہ روم ہرَقُل ايك لاكھ سپاہيوں كو ''بلقائ'' كے علاقہ ميں سرزمين ''مآب'' تك بڑھا لا يا ہے_ اور اس علاقہ كے ايك لاكھ عرب جنگجو روميوں كى مدد كے لئے لشكر روم سے آملے ہيں _

يہ خبر اميران لشكر كے آپس ميں مشورہ كا سبب بنى _ شروع ميں تو ان كا ارادہ تھا كہ اس واقعہ كى خبر پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو دى جائے اور ان سے معلوم كيا جائے كہ كيا كرنا چاہيئےكن عبداللہ ابن رواحہ نے شجاعانہ و حماسہ ساز تقرير كے ذريعے انہيںاس فكر سے بازر كھا_ آپ نے لشكر كو خطاب كرتے ہوئے كہا '' اے لوگوں خدا كى قسم ، جو چيز تمہيں اس وقت ناپسند ہے اسى كو طلب كرنے كے لئے تم نكلے ہو يہ وہى شہادت ہے جس كے شوق ميں تم نے سفر كى زحمت برداشت كى ہے ، ہم نے كبھى بڑے گروہ ، كثير جماعت اور عظيم لشكر كے ذريعہ جنگ نہيں كى ،ہم ايمان كى طاقت سے لڑتے ہيں جس كى بدولت خدا نے ہميں بزرگى دى ہے ، اٹھو اور اپنے راستہ پر چل پڑو ہمارے سامنے (احَدُ الحسنين ) دوا چھے راستے ہيں ، فتح يا شہادت_(۲۷)

عبد اللہ ابن رواحہ كى شعلہ بار تقرير كے بعد لشكر اسلام ٹڈى دل لشكر كى طرف چل پڑا _ اور بلقاء كى سر حد پر روم كا دو لا كھ كا لشكر تين ہزار مجاہدين سے روبرو ہوا _ لشكر اسلام كى بے


امان جنگ شروع ہوئي اور اللہ والے جو شہادت كو بقاء كاراز سمجھتے تھے، شہادت كے استقبال كے لئے دوڑ پڑے_

لشكر اسلام كے دلير سردار جعفر ابن ابى طالب(ع) كى شہادت

جنگ كے شور و غل ميں جعفر ابن ابى طاب نے پرچم ہاتھ ميں ليا اور مردانہ وار قلب لشكر پر حملہ كرديا اور ان كے نرغہ ميں گھر گئے آپ نے اپنے گھوڑے كو پيچھے چھوڑ ديا تا كہ وہ دشمن كے ہاتھ نہ آسكے اور پيادہ لڑتے رہے(۲۸) جب آپ كا داہنا ہاتھ قلم ہوا تو پرچم كو بائيں ہاتھ ميں سنبھالا يہاں تك كہ آپ كا باياں ہاتھ بھى كٹ گيا اس كے بعد آپ نے پرچم كو سينے سے لگاليا _ يہاں تك كہ شہادت كى سعادت سے مشرف ہوئے خدا نے ان كے كٹے ہوئے ہاتھوں كے بدلے دو پر عنايت كئے تا كہ وہ فرشتوں كے ساتھ جنّت ميں پرواز كريں اس لئے آپ(ع) '' جعفر طيار'' كے لقب سے ملقب ہوئے _(۲۹)

عبداللہ ابن رواحہ اور زيد ابن حارثہ كى شہادت

جناب جعفر كى شہادت كے بعد زيد ابن حارثہ نے پرچم اٹھايا اور لشكر كفر پر حملہ كرديا اور دليرانہ جنگ كے بعد درجہ شہادت پر فائز ہوئے _ تيسرے سردار لشكر عبداللہ ابن رواحہ نے پرچم اٹھايا تھوڑى دير تك سوچتے رہے كہ جنگ جارى ركھى جائے يا نہيں ، آخر كار رجز پڑھتے ہوئے سپاہ دشمن پر حملہ آور ہوئے_

اے نفس ، اگر تو ابھى قتل نہيں ہوگا تو بالآخر مرہى جائے گا_كبوتر(فرشتہ) مرگ آن پہنچا ہے _


جو تيرى آرزو تھى اس كا وقت بھى آگيا ہے _

اگر ان دونوں (جعفر اور زيد)كے راستے پر چلو گے تو نجات پاجاؤگے_

يہ رجز پڑھ كر عبداللہ دليرانہ انداز ميں قلب لشكر پر حملہ آور ہوئے ان كى تلوار كافروں كے سروں پر موت كے شعلے بر سار ہى تھى _ آخر كار عبداللہ بھى اپنے رب سے جا ملے اور انہيں اسى انداز ميں شہادت نصيب ہوئي جو انہوں نے خداوند عالم سے طلب كى تھى كہ ان كے جسم كو گلگوں بناديا جائے_(۳۰)

مجاہدين كى واپسي

عبد اللہ ابن رواحہ كى شہادت كے بعد سپاہيوں كى رائے اور پيش كش سے خالد ابن وليد(۳۱) سردار لشكر بنے _ خالد نے جنگ كو بے نتيجہ ديكھا اور رات تك تھوڑى بہت پراگندہ طور پر جنگ جارى ركھى ، رات كو جب دونوں لشكر جنگ سے رك گئے تو خالد نے لشكر گاہ كے پيچھے بہت سے سپاہيوں كو بھيجا تا كہ صبح كو خوب شور و غل مچاتے ہوئے لشكر سے آمليں _ صبح شور و غل سنكر روميوںنے يقين كر ليا كہ مدينہ سے ايك عظيم امدادى لشكر آن پہنچا ہے _ چونكہ رومى مسلمانوں كى تلوار كى طاقت اور ان كے جذبہ شہادت كوديكھ چكے تھے اس لئے جنگ ميں پس و پيش كرتے ہوئے حملہ كرنے سے باز رہے اور مسلمانوں كے حملہ كا انتظار كرتے رہے اور جب انہوں نے ديكھا كہ خالد كا حملہ كا كوئي ارادہ نہيں ہے تو عملى طور پر جنگ بندى ہو گئي _ خالد نے عقب نشينى كے ذريعہ مسلمانوں كو دشمن كے دولا كھ جنگجوؤں كے چنگل سے بچاليا_

اس جنگ كے نتيجہ ميں ايك طرف مسلمان روميوں كے جنگى حربوں اور طريقہ كار سے


آگاہ ہوگئے اور دوسرى طرف شہادت كے شيدا لشكر اسلام كا رعب و دبدبہ روم كى مغرور فوج كے دلوں ميں بيٹھ گيا_ لشكر مدينہ واپس آيا لوگ نہايت بر انگيختہ اور غيظ وغضب كے عالم ميں تھے اور سپاہى ملول و خاموش ، لوگ آگے بڑھے اور خاك اٹھا كر سپاہيوں كے چہروں پر ڈالنے اور شور كرنے لگے كہ '' اے فراريو تم لوگ خدا كے راستے سے فرار كرتے ہو؟ سپاہى اپنے گھروں ميں چلے گئے اور ملامت كے خوف سے ايك مدّت تك گھروں سے باہر نہ نكلے _ يہاں تك كہ نماز جماعت ميں بھى نہيں آتے تھے _ پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا'' يہ لوگ فرارى نہيں ہيں اور انشاء اللہ حملہ كرنے والے ہو جائيں گے''(۳۲) _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جعفر ابن ابيطالب(ع) كے سوگ ميں

مسلمانوں كى كيفيت اور خصوصاً جعفر كى موت سے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بے حد غمگين تھے _ حضرت جعفر كے شہيد ہونے پر آپ نےصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شدّت كے ساتھ گريہ كيا جعفر كے گھر والوں كو تسلّى دينے كے لئے ان كے گھر تشريف لے گئے اور فرمايا كہ '' ميرے بچے ، عون ومحمد اور عبداللہ كہاں ہيں ؟ جناب جعفر كى بيوى اسمائ، حضرت جعفر كے بيٹوں كو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں لائيں ،آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے شہيد كے بچوںكو پيار كيا ، گلے لگايا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى آنكھوں سے آنسو نكل كرڈاڑھى پر بہنے لگے _حضرت جعفر كى بيوى نے پوچھا _ '' اے اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميرے ماں باپ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر فدا ہوں ، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميرے بچوّںكو اس طرح پيار كررہے ہيں جيسے كسى يتيم كو پيار كياجاتا ہے گويا ان كے باپ اس دنيا ميں نہيں رہے ؟''رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے فرمايا ، ہاں وہ قتل كرديئےئے ، پھر فرمايا، اے اسماء ايسا نہ ہو كہ تم اپنى زبان سے كوئي ناروا بات نكالو اور سينہ كو بى كرو ميں تمہيں خوشخبرى سناتا ہوں ، خدا نے جعفر كو دو ، ''پَر'' عطا كئے ہيں جن سے وہ بہشت ميں پرواز كرتے ہيں _(۳۳)


جنگ ذات السّلاسل

جمادى الثانى ۸ ھ ق ستمبر ،اكتوبر ۶۲۹ ئ

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو اطلاع ملى كہ قبلائل بَليّ اور قضاعة كے كچھ لوگ جمع ہو كر مدينہ پر حملہ كرنے كى فكر ميں ہيں _

پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم سے لشكر تيار ہوا اور اس كى سپہ سالارى عمروبن عاص كے سپرد ہوئي _ اسكى وجہ يہ تھى كہ عمرو كى بڑى ماں (دادى يا ناني) قبيلہ بليّ سے تھى رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے چاہا كہ عمرو بن عاص كو سپہ سالارى ديكر اس گروہ كے دلوں كو اسلام كى طرف مائل كيا جائے _ عمروبن عاص اور اس كا لشكر دن ميں كمين گاہ ميں چھپے رہتے اور راتو ں كو سفر كرتے جس وقت دشمن كے قريب پہنچے تو پتہ چلا كہ دشمن كى تعداد زياد ہے _ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابو عبيدہ جراح كو دو سو فراد كے ايك دستہ كے ساتھ مدد كے لئے بھيجا عمروبن عاص كے لشكر نے ابو عبيدہ كے امدادى لشكر كے ساتھ قبائل بليّ ، عذرہ اور بَلْقين كے تمام رہائشےى علاقہ كا دورہ كيا ليكن دشمن پہلے ہى خبر پا كر علاقہ سے بھاگ چكے تھے _

صرف آخرى مقام پر لشكر اسلام اور لشكر كفر كے در ميان ايك گھنٹہ تك ٹكراؤہوا جس ميں ايك مسلمان زخمى اور دشمن شكست كھا كر فرا كر گئے _(۳۴)(۳۵)


سوالات

۱_خيبر ميں لشكر كى كاميابى كے اسباب كيا تھے؟

۲_مال غنيمت ميں خيانت كے سلسلہ ميں ايك واقعہ بيان كيجئے_

۳_ فدك كاواقعہ كيا ہے؟

۴_ عمرة القضاء كس مہينہ ميں تھا؟

۵_ روم كى بڑى طاقت سے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے سپاہيوں نے كيوں جنگ كى ؟

۶_ روانگى كے وقت عبد اللہ ابن رواحہ كيوں رورہے تھے؟

۷_ جعفر ابن ابيطالب'' جعفر طياّر'' كے نام سے كيوں مشہور ہوئے؟


حوالہ جات

۱_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۶۷۳

۲_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۶۷۱ و سيرت ابن ہشام ج ۳ ص ۳۵۱ _۳۵۲

۳_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۶۸۰

۴_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۶۸۱

۵_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۶۸۱

۶_ سيرت ابن ہشام ج ۳ ص ۳۵۶ _۳۵۷

۷_مغازى واقدى ج ۲ ص ۶۸۲

۸_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۶۸۳_زاد المعاد ج ۳ ص ۳۳۳ _سنن ابى داود (۲۷۴۵ ) صحيح بخارى ج ۷ ص ۳۷۱

۹_مغازى واقدى ج ۲ ص ۷۰۶_

۱۰_پوہشى عميق از زندگانى على (ع) ص ۲۶۱ _۲۶۶

۱۱_تاريخ طبرى ج ۳ ص ۱۷ _۱۶ سے تلخيص _ محمد رسول اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم ص۲۸۴_فتوح البلدان ص ۴۷

۱۲_ تيماء ، مدينہ سے آٹھ منزل پر مدينہ اور شام كے راستہ ميں ايك مقام ہے _

۱۳_التنبيہ والاشراف ص ۲۲۴

۱۴_تاريخ پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مصنفہ ڈاكٹر آيتى كے مطابق ص ۴۸۶ _۴۸۳_

۱۵_مغازى واقدى ج ۲ ص ۷۴۰ _ ۷۳۱ يہاں خلاصہ ذكر كيا گيا ہے_

۱۶_سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۵_

۱۷_ يہ سرزمين ا ب شہداء موتہ كى آرام گاہ ہے اور سرزمين اردن ہاشمى ميں واقع ہے_

۱۸_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۷۵۵ _ بحارالانوار ج ۲۱_۵۸

۱۹_ طبقات كبرى ج ۲ ص ۱۲۸_مغازى ج ۲ ص ۷۸۲

۲۰_ اگر چہ اہل سنت كى بہت سى تاريخوں ميں يہ بات مرقوم ہے كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے لشكر كا پہلا اميرزيد بن حارث كو

معيّن فر ما يا اور زيد كے قتل ہوجانے كى صورت ميں جعفر بن ابى طالب اور ان كے بعد عبداللہ بن رواحہ ليكن كعب بن مالك كے شہداء موتہ كے بارے ميں مرثيہ سے ثابت ہوتا ہے كہ جعفر لشكر كے پہلے امير تھے_ كعب كہتے ہيں كہ '' اذ يہتدون بجعفر ولوائة قدّام اوّلہم فنعم الاوّل'' سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۲۸_

۲۱_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۷۵۸ _ بحار الانوار ج ۲۱ ص ۵۵ _

۲۲_ سورہ مريم آيت ۷۱_۷۲_

۲۳_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۵ _ اور تاريخ طبرى ج ۳ ص ۳۷

۲۴_'' ولكننّى ا سا ل الرّحمن مغفرة وضَربةً ذا ت فرع: تقذف الزّبداً '' سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۵_

۲۵_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۷۵۸_

۲۶_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۷۵۷بحارالانوار ج ۲۱ ص ۲۱_

۲۷_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۷ _ تاريخ طبرى ج ۳ ص ۳۸_

۲۸_ بحارالانوار ج ۲۱ ص ۵۴_

۲۹_ بحارالانوار ج ۲۱ ص ۶۲ _ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۲۰_

۳۰_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۲۱ _

۳۱_ خالد ابن وليد اور عمرو ابن عاص دونوں آپس ميں دوست اور اسلام كے سخت ترين دشمن تھے مسلمانوں كى پے در پے فتوحات او رعمرة القضاء كے موقع پر ان كى شا ن و شوكت و عظمت ديكھنے كے بعد ان لوگوں نے يہ سمجھ ليا كہ اسلام كى كاميابى اور فتح يقينى ہے _ اس وجہ سے ان دونوں نے يہ الگ الگ طے كيا كہ مسلمان ہوجائيں _ لہذا دونوں ايك دوسرے سے الگ اور بے خبر مدينہ كى طرف چلے اور راستہ ميں اچانك ايك دوسرے سے مل گئے اور پھر مدينہ ميں رسول خدا كى خدمت ميں شرفياب ہوئے اور اسلام قبول كيا _(مغازى واقدى ج ۲ ص ۷۴۱ _۷۵۰ملاحظہ ہو)_

۳۲_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۷۶۵_


۳۳_ مغازى واقدى ج ۲ ص ۷۶۷ _بحارلاانوارج ۲۱ _ ص ۵۶_۵۷

۳۴_ مغاز ى واقدى ج ۲ ص ۷۶۹ سے ۷۷۲ _ تاريخ طبرى ج ۳ ص ۳۳_۳۲ سے خلاصہ بيان كيا گيا ہے_

۳۵_ شيعہ منابع ميں يہ واقعہ يوں درج ہے كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے صحابہ ميں سے تين افراد ابو بكر ، عمر اور عمر و بن عاص ، كو اس سريہ كا امير مقرر فرمايا _ ليكن وہ لوگ جنگى كاميابى حاصل نہ كر سكے اس لئے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے چوتھى بار حضرت على (ع) كو امير بنا كر لشكر كے ساتھ روانہ فرمايا اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علي(ع) اور سپاہيوں كو مسجد احزاب تك رخصت كيا _حضرت علي(ع) صبح سويرے دشمن پر حملہ آور ہوئے ، دشمن ايك گروہ كثير كے ساتھ حملہ روكنے كے لئے آگئے ليكن حضرت على (ع) كى بے امان جنگ و پيكار نے دشمن كے دفاعى حملہ كو ناكام بنا ديا اور دشمن كو شكست دينے كے بعد على (ع) كامياب و سرفراز ہو كر مال غنيمت اور اسيران جنگ كے ساتھ رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں پلٹے پروردگارقہار سورہ والعاديات ميں اس واقعہ كى طرف اشارہ كرتا ہے_

( بسم الله الرحمن الرحيم_والعاديات ضَبْحاً_ فالموريات قدحا_ً فالمغيرات صبحاً_ فاثرن به نقعا_ً فوسطن به جمعا_ً )

قسم ہے ان گھوڑوں كى جو نتھنوں كو پُھلاتے پتّھر پرٹاپ مار كر چنگارياں نكالتے ہيں پھر صبح دم حملے كرتے ہيں _ (كفار كے ديار ميں وہ) گردو غبار بلند كرتے اور دشمن كے دل ميں گھس جاتے ہيں _

تفضيلات كےلئے ارشاد شيخ مفيد ص ۸۶ _۹۰ مجمع البيان ج ۱۰ ص ۵۲۸_ بحارالانوار ج ۲۱ ص ۷۶ _ ۷۷ مناقب ابن شہر آشوب ج ۳ ص۱۴۰_۱۴۲كى طرف رجوع كريں


دسواں سبق

فتح مكہ(۱)

قريش كى عہد شكني

تجديد معاہدہ كى كوشش

لشكر اسلام كى تياري

راستوں كوكنٹرول كرنے كيلئے چيك پوسٹ

ايك جاسوس كى گرفتاري

مكہ كى جانب

دشمن كو ڈرانے كيلئے عظيم جنگى مشق

مشركين كا پيشوا مومنين كے حصار ميں

مكہ ميں نفسياتى جنگ

شہر كا محاصرہ

ايك فوجى دستہ كے ساتھ مشركين كى جھڑپ

سوالات


فتح مكہ

قريش كى عہد شكني

روانگى كى تاريخ: ۱۰ رمضان المبارك ۸ ھ(۱) بمطابق ۶جنورى ۶۲۹ ئ

فتح كى تاريخ : ۱۹ رمضان المبارك ۸ ھ بمطابق ۱۳ جنورى ۶۲۹

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس فكر ميں تھے كہ مكّہ ، يہ خانہ توحيد جو مشركين كے گھيرے ميں ہے اس كو آزاد كراديں ،ليكن اس راستے ميں صلح حديبيہ ركاوٹ تھي_آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نہيں چاہتے تھے كہ اس معاہدے كو توڑكرمكہ فتح كريں كہ جس كى رعايت كا انہوں نے خود كو پابند بنايا تھا_ ليكن جب كسى امّت كا وقت قريب آتا ہے اورمہلت كى مدّت ختم ہوجاتى ہے تو الہى قانون كے مطابق ايسے حالات پيدا ہوجاتے ہيں كہ ايك قوم يا گروہ كا خاتمہ ہوجائے اور ان كے مد مقابل كے لئے كاميابى كا راستہ كھل جائے_

موتہ كى جنگ اس بات كا سبب بنى كہ قريش مسلمانوں كو كمزور سمجھنے لگے اور صلح حديبيہ كا معاہدہ توڑنے كى سوچنے لگے لہذا جب روميوں كے مقابلہ ميں مسلمانوں كى شكست كى خبر مكہ پہنچى تو قريش نے اس كو لشكر اسلام كى كمزورى پرحمل كيا اور مسلمانوں كے ہم پيمان اور ہمدرد قبيلوں كو آنكھيں دكھانے لگے_


صلح حديبيہ كے معاہدہ كے مطابق كوئي بھى قبلہ دونوں گروہوں يعنى قريش يا مسلمانوں كے ساتھ معاہدہ كر سكتا تھا _ خزاعہ نے حضرت محمد صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم سے اور بنى بكر نے قريش سے معاہدہ كيا ۸ ھ ميں خزاعہ اور بنى بكر كے در ميان جھگڑا ہوا قريش نے اس حملہ ميں خزاعہ كے خلاف بنى بكر كى خفيہ طريقہ سے مدد كى ، چہرہ پر نقاب ڈال كر ان كے ساتھ مل كر حملہ كيا _

اس حادثہ ميں قبيلہ خزاعہ كے كچھ لوگ مظلومانہ طريقہ سے قتل كرديئے گئے اور اس طرح صلح حديبيہ كا عہد و پيمان ٹوٹ گيا _ كيونكہ قريش رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حليف قبيلہ كے خلاف جنگ ميں كود پڑے تھے_(۲)

تجديد معاہدہ كى كوشش

ابو سفيا ن بھانپ گيا كہ يہ گستاخى جواب كے بغير نہيں رہے گى درحقيقت قريش نے لشكر اسلام كے لئے خود ہى حملہ كا موقعہ فراہم كرديا تھا لہذا وہ لوگ فوراً ہى مدينہ پہنچے كہ شايد معاہدہ كى تجديد ہو جائے_

ابوسفيان مدينہ ميں اپنى بيٹى ، رسو ل خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ا كى زوجہ '' اُمّ حبيبہ'' كے گھر پہنچا چونكہ باپ اور بيٹى نے كئي سال سے ايك دوسرے كو نہيں ديكھا تھا _ اس لئے باپ كا خيا ل تھا كہ بيٹى بڑے اچھے انداز سے استقبال اور پذيرائي كرے گى اور اس طرح وہ اپنے مقصد كو عملى جامہ پہننانے ميں كامياب ہو جائے گا _ ليكن جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كے گھر ميں وارد ہوا اور چاہا كہ بستر پر بيٹھ جائے تو بيٹى نے بے اعتنائي كے ساتھ بستر كو لپيٹ ديا _ ابو سفيان نے تعجب سے پوچھا كہ '' تم نے اس كو لپيٹ كيوں ديا _؟ '' بيٹى نے جواب ديا كہ '' آپ مشرك اور نجس ہيں ،


ميں نے يہ مناسب نہيں سمجھا كہ آپ ،رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جگہ بيٹھيں_

ابو سفيا ن نے صلح نامہ كى مدّت بڑھانے كےلئے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا سے رجوع كيا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے كوئي جواب نہيں ديااور صرف خاموش رہے_ ابوسفيان نے بزرگوں ميں سے ہر ايك سے وساطت كےلئے رابطہ قائم كيا مگر نفى ميں جواب ملا _حضرت على (ع) كى راہنمائي ميں ابوسفيان مسجد كى طرف آيا اور يك طرفہ صلح نامہ كى مدّت ميں اضافہ كا اعلان كيا پھر غصّے اور مايوسى كے عالم ميں بغير كسى نتيجہ كے مكّہ واپس پلٹ گيا _(۳)

ستم رسيدہ قبيلہ '' خزاعہ'' كے افراد نے اپنى صدائے مظلوميت پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے كانوں تك پہنچانے كے لئے عمروابن سالم كو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں بھيجا وہ مدينہ ميں وارد ہوا اور سيدھا مسجد كى طرف گيا اور لوگوں كے در ميان كھڑے ہو كر مخصوص انداز سے ايسے دردناك اشعار پڑھے جو قبيلہ خزاعہ كے استغاثہ اور مظلوميت كى حكايت كررہے تھے اس نے پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو ''خزاعہ'' كيساتھ كئے جانے والے معاہدے كى قسم دلائي اور فريادرسى كا طلب گار ہوا اس نے كچھ اشعار پڑھے جن كا مطلب يہ تھا _

اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آدھى رات كو ہم جب وَتيْرَہ(۴) كے كنارے تھے اور ہم ميں سے كچھ لوگ ركوع و سجود كى حالت ميں تھے تو مشركين نے ہم پر حملہ كيا ،جبكہ ہم مسلمان تھے ، انہوں نے ہمارا قتل عام كيا(۵) _

عمرو كے جاں گداز اشعار سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كا مہر و محبت سے لبريز دل درد سے تڑپ اٹھا_ لہذا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا'' اے عمرو ہم تمہارى مدد كريں گے''(۶)


لشكر اسلام كى تياري

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے روانگى كا مقصد بتائے بغير لشكر اسلام كو تيار ہونے كا حكم ديا اور قريبى قبائل اور مدينہ والوں نے لشكر ميںشركت كى _مجموعى طورپر دس ہزار جانبازوں نے خود كو روانگى كے لئے تيار كر ليا ،كسى كو خبر نہيں تھى كہ اس تيارى كا مقصد كيا ہے ؟ اور لشكر كا آخرى ہدف كہاں جا كر تمام ہوگا ؟ اس لئے كہ كچھ لوگوں كا يہ خيا ل تھا كہ حديبيہ كا معاہدہ ابھى تك باقى ہے_

راستوںكو كنٹرول كرنے كيلئے چيك پوسٹ

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دشمن كو غافل ركھنے كے لئے نہايت خفيہ طريقہ سے قدم اُٹھار ہے تھے اور بہت باريك بينى سے كام لے رہے تھے اس كام كے لئے ان كے حكم سے مدينہ كے تمام راستوں پر پہرے بيٹھاديئےئے تھے اور مشكوك افراد كى رفت و آمد پر كٹرى نگاہ ركھى جارہى تھى كہ كہيں ايسا نہ ہو كہ قريش كے جاسوس لشكر اسلام كى روانگى سے آگاہ ہوجائيں_آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دعا كى ،خدايا آنكھوں اور خبروں كو قريش سے پوشيدہ كردے تا كہ ہم اچانك ان كے سروں پر پہنچ جائيں_(۷)

ايك جاسوس كى گرفتاري

سخت حفاظتى تدابير كے با وجود ، حاطب ابن ابى بلتعہ نامى ايك مسلمان نے اس لالچ ميں آكر كہ اگر اس نے قريش كى كچھ خدمت كردى تو اس كے وابستگان ،مكہ ميں گزند سے محفوظ رہيں گے اور يہ سمجھ كر كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شايد مكہ كاہى قصد ركھتے ہوں ، ايك خط قريش كو لكھا تا كہ ان كو خبر كردے اور يہ خط سارہ نامى ايك عورت كے حوالے كيا جو پہلے گا نے


بجانے والى عورت تھى اوراسے كچھ پيسے بھى ديئےا كہ وہ غير معروف راستہ سے مدينہ سے مكہ جائے اور يہ خط قريش كے سر كردہ افردا تك پہنچا دے _

جبرئيل امين (ع) نے آكر پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو يہ خبر پہنچا دى اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بلا تاخير على ابن ابى طالب(ع) كو زبير كے ساتھ اس عورت كو گرفتار كرنے كے لئے روانہ كيا_ يہ لوگ نہايت تيزى كے ساتھ مكہ كى طرف چلے اور راستہ ميں مقام خُلَيْقَہ ميں اس عورت كو گرفتار كركے اس كے سامان كى تلاشى لى ليكن كوئي خط نہيں ملا ، سارہ نے بھى كسى خط يا كسى خبر كے اپنے ساتھ ركھنے كا شدّت سے انكار كيا _ ليكن على (ع) نے بہ آواز بلند كہا كہ '' خدا كى قسم پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كبھى بھى غلط بات نہيں كہتے لہذا جتنى جلد ى ہو سكے خط نكال دے ورنہ ميں تجھ سے خط نكلوالوں گا '' عورت نے جب دھمكى كو يقينى سمجھا توكہنے لگى '' آپ لوگ ذرا دور ہٹ جائيں ميں خط دے رہى ہوں اس وقت اس نے اپنے جوڑے (سر كے بندھے ہوے بالوں ) ميں سے ايك خط نكالا اور على (ع) كے حوالہ كرديا_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خط لكھنے والے كو طلب كيا اور بازپرس كى اس نے خدا كى قسم كھائي اور كہا كہ اس كے ايمان ميں كسى طرح كى تبديلى نہيں ہوئي ہے ليكن چونكہ ميرے بيوى بچّے مشركين قريش كے ہاتھوں ميں اسير ہيں اس لئے ميں نے چاہا كہ اس خبر كے ذريعہ ميرے گھر والوں كى تكليف ميں كچھ كمى ہو جائے(۸) _

اس غرض سے كہ ايسا واقعہ پھر نہ دہرا يا جائےچند آيتيں نازل ہوئيں ايك آيت ميں ارشاد ہوتا ہے _'' اے ايمان والو ميرے دشمن اور اپنے دشمن كو دوست نہ بناؤ اور ان كے ساتھ محبت اور دوستى كى پينگيں نہ بڑھاؤ''(۹)

پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس كى جاہلانہ خطا كو معاف كرديا اور اس كى توبہ قبول كرلي_


مكّہ كى جانب

كہاں جانا ہے اور كس مقصد سے جاناہے يہ تو معلوم نہ تھا اس كے علاوہ حكم صادر ہونے كے وقت تك يہ بھى معلوم نہ تھا كہ كس وقت جانا ہے _ رمضان المبارك كى دسويں تاريخ ۸ ھ ق كو روانگى كا حكم صادر ہوا_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مدينہ كے باہر لشكر اسلام كا معائنہ كيا پھر روانگى كا حكم ديا اور مدينہ سے تھوڑے سے فاصلہ پر(حد ترخّص سے نكلنے كے بعد) پانى مانگ كر روزہ افطار كيا اور سب كو حكم ديا كہ روزہ افطار كرليں _ بہت سے لوگوں نے افطار كر ليا ليكن ايك گروہ نے يہ سوچا كہ اگر روزہ كى حالت ميں جہاد كريں تو اس كا زيادہ اجر ملے گا _ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس گروہ كى حكم عدولى سے ناراض ہوئے اور فرمايا كہ يہ لوگ گنہگار اور سركش ہيں _(۱۰)

لشكر اسلام بغير كسى توقف كے تيزى سے بڑھتا رہا _ دس ہزار جانبازوں نے مدينہ سے مكہ كا راستہ ايك ہفتہ ميں طے كيا اور رات كے وقت مكہ سے ۲۲ كيلوميٹر شمال كى جانب '' مرّ الظہران'' پہنچ كر خيمہ زن ہو گيا_(۱۱)

دشمن كو ڈرانے كيلئے عظيم جنگى مشق

پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مرّ الظہران ميں حكم ديا كہ دس ہزار كا لشكر پورے ميدان ميں بكھر جائے او ر ہر آدمى آگ جلائے تا كہ لشكر اسلام كى عظمت نماياں ہو اور مشركين قريش كے دل ميں زيادہ سے زيادہ خوف پيدا ہو اور وہ سمجھ ليں كہ اب اس عظيم لشكر سے مقابلہ كى طاقت ان ميں نہيںہے اور ہر طرح كے مقابلہ سے نا اميد ہو جائيں ، تا كہ مكہ بغير كسى خونريزى كے فتح ہو جائے اور حرمت خانہ خدا محفوظ رہ جائے_


رات كے اندھيرے ميں آگ كے شعلے لپك رہے تھے_ صحرا آگ كا ايك وسيع و عريض خرمن نظرآرہا تھا _ لشكر اسلام كے ہمہمہ كى آواز دشت ميں گونج رہى تھي_

ابوسفيان ، حكيم بن حزام اور بديل بن ورقائ، ديكھنے اور پتہ لگانے كے لئے مكّہ سے باہر نكلے(۱۲) _دوسرى جانب عباس ابن عبدالمطلب نے جو مقام حجفہ سے پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہمركاب تھے_ دل ميں سوچا كہ كيا ہى بہتر ہو اگر طرفين كے فائدہ كے لئے كام كيا جائے تا كہ خونريزى نہ ہو _ لہذا سفيد خچّر پر سوار ہو كر مكّہ كى طرف چلے كہ شايد كسى كے ذريعہ لشكر اسلام كے حملہ اور محاصرہ كى خبر قريش كے سر بر آوردہ افراد كے كانوں تك پہنچا سكيں اور ان كو دلاور ان اسلام كى عظيم طاقت اور بے پناہ جرا ت و ہمت سے آگاہ كركے ہر طرح كے مقابلہ كى بات سوچنے سے باز ركھيں_

جناب عباس نے رات كى تاريكى ميں ابوسفيان كى آواز سنى وہ كہہ رہا تھا '' ميں نے ابھى تك اتنى زيادہ آگ اور اتنا باعظمت لشكر نہيں ديكھے''_

ابوسفيان كا ساتھى كہہ رہا تھا ''يہ قبيلہ خزاعہ والے ہيں جو جنگ كے لئے جمع ہوئے ہيں ''

ابوسفيان نے كہا كہ '' ايسى آگ روشن كرنا اور اس طرح لشكر تشكيل دينا خزاعہ كے بس كى بات نہيں''_

عباس نے ان كى بات كاٹى اور كہا كہ ابوسفيان

ابوسفيان نے عباس كى آواز پہچان لى اور فوراً كہا '' عباس تم ہو'' كيا كہہ رہے ہو _ عباس نے جواب ديا '' خدا كى قسم يہ آتش رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے لشكر نے روشن كى ہے وہ ايك طاقتور اور نہ ہارنے والا لشكر لے كر قريش كى طرف آئے ہيں اور قريش ميں ان سے مقابلہ كرنے كى ہرگز طاقت نہيں ہے _


عباس كى باتوں سے ابوسفيان كے دل ميں اور زيادہ خوف پيدا ہوا، خوف كى شدّت سے كا نپتے ہوئے اس نے كہا '' عباس ميرے ماں باپ تم پر فدا ہوں بتاؤ ميں كيا كروں؟ عباس نے جب ديكھا كہ ان كى بات مؤثر ثابت ہوئي تو فرمايا '' اب صرف چارہ يہ ہے كہ تم ميرے ساتھ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ملاقات كےلئے آؤ اور ان سے امان طلب كرو ورنہ سارے قريش كى جان خطرہ ميں ہے '' _

اس كے بعد آپ نے اس كو اپنى سوارى پر سوار كيا اور لشكرگاہ اسلام كى طرف لے چلے''(۱۳)

مشركين كا پيشوا ، مومنين كے حصار ميں

عباس نے ابوسفيان كو سپاہ اسلام كى عظيم لشكر گاہ سے گزارا، سپاہيوں نے عباس اور پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى مخصوص سوارى كو ، جس پر عباس سوار تھے، پہچانا اور ان كے گزر نے سے مانع نہيںہوئے بلكہ ان كے لئے راستہ چھوڑ ديا راستے ميں عمر كى نظر ابوسفيان پر پڑى تو انہوں نے چاہا كہ اسى جگہ اس كو قتل كرديں ليكن چونكہ عباس نے اسے امان دى تھى اس لئے وہ اپنے ارادہ سے باز رہے يہاں تك كہ عباس اور ابوسفيان رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے خيمہ كے پاس پہنچ كر سوارى سے اترے_ عباس اجازت لينے كے بعد پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے خيمہ ميں آئے _ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے سامنے عباس اور عمر ميں كچھ لفظى جھڑپ ہوئي ، عمر يہ اصرار كررہے تھے كہ ابوسفيان دشمن خدا ہے اور اس كو اسى وقت قتل ہو نا چاہئے ليكن عباس كہہ رہے تھے كہ ميں نے اسے امان دى ہے _ پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حكم ديا كہ ابوسفيان كو ايك خيمہ ميں ركھا جائے اور صبح كو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس لايا جائے _ صبح سويرے عباس ، ابوسفيان كو پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حضور ميں لائے _ جب


آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى نظر ابوسفيان پرپڑى تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا'' كيا ابھى وہ وقت نہيں آيا ہے كہ تو يہ سمجھے كہ خدا ئے يكتا كے سوا اور كوئي خدا نہيں ہے ؟ ''ابوسفيان نے جواب ديا ميرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كتنے بردبار ، كريم اور وابستگان كے اوپر مہربان ہيں،_ ميں نے اب سمجھ ليا كہ اگر خدائے واحد كے علاوہ كوئي اورخدا ہوتا تو ہمارى مدد كرتا _

جب اس نے خدا كے يگانہ ہونے كا اعتراف كر ليا تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' كيا ابھى وہ وقت نہيں آيا ہے كہ تم جانو كہ ميں خدا كا پيغمبر ہوں''_

ابوسفيان نے كہا مجھے آپ كى رسالت ميں تردد ہے '' عباس تردد سے ناراض ہوئے اور اس سے كہا '' اگر تم اسلام قبول نہيں كروگے توتمہارى جان خطرہ ميں ہے'' _ابوسفيان نے خدا كى يگانگى اور پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رسالت كى گواہى دى _(۱۴) اور بظاہر مسلمانوں كى صف ميں داخل ہوگيا _اگر چہ كبھى بھى حقيقى مومن نہيں ہوا _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جانتے تھے كہ ابوسفيان كو ابھى رہا كرنے كا وقت نہيں ہے _ ہوسكتا ہے كہ وہ مكّہ جا كر كوئي سازش كرے اس لئے مناسب ہے كہ وہ اسلام كى طاقت كا بخوبى مشاہدہ كرلے اور فتح مكّہ كے سلسلے ميں سپاہ اسلام كے ارادہ كو مكمل طور پر محسوس كرلے اور اس خبر كو تمام مشركين قريش تك پہنچادے تا كہ تمام سر كردہ افراد مقابلہ كا خيال اپنے دل سے نكال ديں اس وجہ سے ابوسفيان كو ايك درّہ ميں كھڑا كيا گيا ، سپاہ اسلام اسلحہ ميں غرق منظم دستوں كى صورت ميں اس كے سامنے سے گزرنے لگى ، جنگى مشق كے دوران مجاہدين اسلام كى تكبير كى آواز كوہ و دشت مكہ ميں گونج اٹھتى اور مجاہدين كے دل وفور شوق سے لبريز ہو جاتے تھے_

لشكر اسلام كے مسلح دستوں كى عظمت نے ابوسفيان كو اتنا ہر اساں كرديا كہ اس نے بے


اختيار عباس كى طرف مخاطب ہو كر كہا '' كوئي بھى طاقت ان لشكروں كا مقابلہ نہيں كر سكتى سچ مچ تمہارے بھتيجے نے بڑى زبردست سلطنت حاصل كرلى ہے ''_

عباس نے غصّہ ميں كہا '' يہ سلطنت نہيں بلكہ خداوند عالم كى طرف سے نبوت و رسالت ہے _(۱۵)

عباس نے پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے كہا '' اے اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، ابوسفيان جاہ پرست آدمى ہے اس كو كوئي مقام عطا فرمائيں''_

رسول خد اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' ابوسفيان لوگوں كو اطمينان دلا سكتا ہے كہ جو كوئي اس كى پناہ ميں آجائے گا امان پائے گا _ جو شخص اپنا ہتھيار زمين پر ركھ كر اس كے گھر ميں چلا جائے اور دروازہ بند كرلے يامسجد الحرام ميں پناہ لے لے وہ سپاہ اسلام سے محفوظ رہے گا_(۱۶)

مكہ ميں نفسياتى جنگ

ابوسفيان مكمل طور پر حواس باختہ اور لشكر اسلام كى جنگى طاقت سے ہراساں تھا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مصلحت اسى ميںسمجھى كہ اس كو رہا كرديں _ تا كہ وہ اپنى قوم ميں جا كران كے حوصلوں كو متزلزل كرے يہ وہى مقصد تھا جو پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم چاہتے تھے _

ابوسفيان نے اس كام كو بخوبى انجام ديا _ اس نے مكہ ميں نفسياتى دباؤ بڑھا كر قريشيوں كو ہراساں كرنے اور بغير خونريزى كے ہتھيا ر ڈال دينے ميں بڑا اہم كردار ادا كيا _(۱۷)

شہر كا محاصرہ

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سپاہيوں كو چار دستوں ميں تقسيم فرمايا اور ہر دستہ كو ايك سمت سے شہر كے اندر روانہ كيا _ اور فوج كے كمانڈروں كو حكم ديا كہ جو تم سے لڑے (صرف اسى سے لڑنا)اس


كے علاوہ كسى سے جنگ نہ كرنا _ چنانچہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے صرف چند مفسدين كو جن كى خيانت كى سزا موت سے كم نہ تھى مستثنى ركھا(اور ان سے جنگ كا حكم ديا)_(۱۸)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے چاروں طرف سے شہر كے محاصرہ كى تركيب اپنا كر مشركين كے فرار كو ناممكن بناديا اور ان كے لئے صرف ايك ہى راستہ باقى چھوڑاكہ ہتھيار ڈال ديں _

ايك فوجى دستہ كے ساتھ مشركين كى جھڑپ

لشكر اسلام كے شہر ميں داخل ہوتے وقت مشركين متعرض نہيں ہوئے _ صرف قريش كا ايك افراطى گروہ'' صفوان ابن اميّہ ابن خلف ''اور عكرمةبن اَبيْ جہل كى رہبرى ميں خالد ابن وليد والے دستہ سے ٹكرا گيا _ اس جھڑپ ميں دشمن كے ۲۸_ افراد نہايت ذلت سے مارے گئے اورباقى لوگ مكہ سے بھاگ گئے_(۱۹)


سوالات

۱_ قريش نے صلح حديبيہ كے معاہدہ كى خلاف ورزى كس طرح كي؟

۲_ اپنى عہد شكنى پر قريش كا رد عمل كيا رہا؟

۳_ جاسوس جال ميں كيسے پھنسا؟

۴_ فتح مكہ ميں كون سے تركيبيں استعمال كى گئيں؟


حوالہ جات

۱_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۳۱

۲_ اتبا ع الاسماع ج۱ ص ۳۵۷ _ سيرت ابن ہشام ج ۳ ص ۳۲_

۳_سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۳۸ _۳۹

۴_ وتيرہ ، مكہ سے جنوب مغرب كى طرف ۱۶ كيلوميٹر كے فاصلہ پر واقع تھا

۵_ قبيلہ خزاعہ كے افراد اسلام سے پہلے بنى ہاشم كے ہم پيمان تھے اس لئے كہ عبد المطلب نے ان سے معاہدہ كيا تھا _ عمروابن سالم جو مدد طلب كرنے كے لئے آيا تو اس نے اسى قديم معاہدہ كو بنياد قرارد يكر كہا _

يا ربّ انّى ناشدٌ محمداً حلْفَ ابينا وابيه الْاَتْلدا (اى القديم)

انّ قريشاً اخلفو ك المَوْعدَا وقتلونا رُكَّعاً وَ سُجَّدَاً (سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۳۶)

۶_سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۳۷_

۷_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۳۹_

۸_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۴۰ _۴۱

۹_( يا ا َيُها الَّذينَ آمَنُوا لا تَتَخذُوا عَدُوى وَ عَدُوّ كُم ا َولياء تَلْقون الَيهم بالْمَوَدَة ) (ممتحنہ/۱) ''سيرة ابن ہشام '' ج ۴ ص ۴۱_

۱۰_مغازى واقدى ج ۲ ص ۸۰۲ _

۱۱_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۴۲_

۱۲_مغازى واقدى ج ۲ ص ۸۱۴_

۱۳_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۴۴_۴۵

۱۴_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۴۵ _۴۶

۱۵_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۴۶_۴۷

۱۶_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۴۶

۱۱۷_ پيامبر و آئين نبرد جنرل طلاس ص ۴۶۲_

۱۸_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۴۸_ ۵۱ مغازى واقدى ج ۲ ص ۸۲۵_

۱۹_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۴۹ _ مغازى واقدى ج ۲ ص ۸۲۵ _


گيارھواں سبق

شہر مكہ ميں داخلہ

صدائے اتحاد

اذان بلال

بت شكن، بت پرست

آزاد شدہ شہر ''مكہ'' كيلئے والى اور معلم دين كا تقرر

اسلام كے نام پر خونريزى اور جرائم

جنگ حنين

دشمن كى سازش سے پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى آگاہي

حنين كى طرف روانگي

دشمن كى اطلاعات اور تياري

درہ حنين ميں

فرار

واپسى مقابلہ، كاميابي

عورتوں اور بوڑھوں كو قتل نہ كرو

آغاز جنگ ميں مسلمانوں كى شكست كاتجزيہ

سوالات

حوالہ جات


شہر مكہ ميں داخلہ

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لشكر اسلام كے ساتھ فاتحانہ انداز ميں شہر مكّہ ميں داخل ہوئے آپ كے چہرہ اقدس پر ايسار عب و دبدبہ اور ہيبت و جلال تجلى ريز تھا جو تعريف كى حد سے باہر ہے _

اسلام كو بہت بڑى فتح نصيب ہوئي تھى آپ اہل مكہ كے گھروں ميں نہيں گئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے جان نثار اور مہربان چچا ابوطالب(ع) كے مزار كے پاس مقام حَجونٌ ميں خيمہ لگا ياگيا_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كچھ دير تك خيمہ ميں آرام فرماتے رہے پھر غسل كے بعد جنگى لباس پہن كر مركب پر سوار ہوئے مجاہدين بھى تيار ہوگئے اور پھر سب مسجد الحرام كى طرف روانہ ہوئے _ جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى نگاہ كعبہ پر پڑى تو آگے بڑھے اور حجر اسود كواستلام كيا(۱) حالانكہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مركب پر سوار تھے_اسى حالت ميں تكبير كہتے جاتے تھے اور لشكر اسلام آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے جواب ميں صدائے تكبير بلند كرتا جاتا تھا_(۲) '' حق آيا اور باطل ختم ہو گيا اور باطل تو ختم ہونے والا ہى تھا_(۳)

صدائے اتحاد

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے كعبہ كى كنجى عثمان ابن طلحہ سے لى اور دروازہ كھول ديا _ تمام مسلمانوں نے مل كر دعائے وحدت پڑھى _

''لا اله الا اللّه وَحدَه لا شَريكَ لَه ، صدق وَعْدَه ،


ونصر عبده و هزم الاحزاب وحده'' (۴)

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كعبہ كے اندر تشريف لے گئے اور جناب ابراہيم (ع) اور دوسرے افراد كى جو تصويريں مشركين نے بنا ركھى تھيں ان كو ديوار كعبہ سے مٹا ديا اور اسى حالت ميں فرمايا ''خدا ان لوگوں كو قتل كرے جو ان چيزوں كى تصويريں بناتے ہيں جن كو انہوں نے پيدا نہيں كيا''(۵) _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور بتوں كو توڑ نے كے لئے ان كے كاندھے پر سوار حضرت على نے تمام بتوں كو توڑ ڈالا اور خانہ توحيد كو تمام كفر و شرك كى علامتوں سے پاك كرديا _(۶) اس كے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے لوگوں كے سامنے جن كى آنكھيں فرمان پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى منتظر تھيں '' مندرجہ ذيل خطبہ ارشاد فرمايا _

'' اس خدا كى تعريف جس نے اپنا وعدہ سچ كردكھايا اور اپنے بندہ كى مدد كى ، جس نے تنہا ،احزاب (گروہوں ) كو شكست دى ، تم كيا كہتے ہو اور كيا تصوّر كرتے ہو؟ '' مكہ والوں نے كہا كہ '' خير و نيكى اور نيكى كے سوا ہميںاور كوئي گمان نہيں ہے كہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بزرگورا بھائي اور صاحب اكرام بھتيجے ہيں ''_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا '' ميں وہى بات كہتا ہوں جو ہمارے بھائي يوسف نے كہى تھى : قال لا تثريب عليكم اليوم يغفر اللہ لكم و ہو ارحم الراحمين(۷) آج تمہارے اوپر كوئي ملامت نہيں ہے خدا تم كو بخش دے وہ رحم كرنے والوں ميں سب سے زيادہ مہربان ہے _

اس كے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ ہر وہ ربا(سود) جو جاہليت ميں معمول بن گيا تھا اور ہر وہ خون اور مال جوتمہارى گردن پر تھا اور فضول فخر و مباہات ، پا مال اور ختم كرديئےئے ہيں_ ليكن كعبہ كى نگہبانى ، پردہ داري، كليد بردارى اور حاجيوں كو سيراب كرنے كا افتخار باقى


ہے _ جو لوگ تازيانہ يا غلطى و خطا سے قتل كرديئےائيںان كے لئے سوا يسى اونٹنياں ديت كے طور پر دى جائيں جن ميں چاليس اونٹنياں حاملہ ہوں _ خدا نے جاہليت كے كبر و غرور اور آباؤ اجداد پر افتخار كو ختم كرديا تم آدم(ع) كى اولاد ہو اور آدم (ع) مٹى سے پيدا كئے گئے ہيں اور تم ميں سب سے زيادہ خدا كے نزديك قابل عزت وہ ہے جو تم ميں سب سے زيادہ پر ہيزگار ہے _ بے شك خدا نے مكّہ كوز مين و آسمان كى پيدائشے كے وقت حرم امن قرار ديا ہے اور اللہ كى عطا كى ہوئي حرمت كى بنا پر يہ ہميشہ حرم الہى رہے گا_

ہم سے پہلے اور ہمارے بعد كسى كے لئے بھى اس كى حرمت پامال كرنا نہ جائز تھا اور نہ جائز ہے_ اور ميرے لئے بھى اس كى حرمت صرف ايك دن تھوڑى دير كے لئے اٹھائي گئي (اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے تھوڑى مدّت كى طرف اشارہ فرمايا) مكہ كے جانوروں كا نہ شكار اور نہ ان كو مكہ سے ہنكانا چاہيئےہاں كے درختوں كو كاٹنا نہيں چاہيئےور اس سرزمين پر پڑى ہوئي گم شدہ چيز كو اٹھانا جائز نہيں ہے _ مگر اس كے لئے جو اعلان كرنے كا ارادہ ركھتا ہو_ اور مكّہ كے سبزے كو اكھاڑنا بھى جائز نہيں ہے _'' عباس نے كہا اے اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سوائے ''اذخر''(۸) كے پودوں كے كہ قبروں اور گھروں كو صاف كرنے كے لئے جس كو اكھاڑ پھينكنے كے علاوہ كوئي چارہ ہى نہيں ہے _'' رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تھوڑى دير تك چپ رہے پھر فرمايا سوائے اذخر كے كہ اس كا اكھاڑنا حلال ہے _ وار ث كے بارے ميں وصيت صحيح نہيں ہے اور كسى عورت كے لئے حلال نہيں ہے كہ وہ اپنے شوہر كى دولت سے اجازت كے بغير بخشش وعطا كرے _مسلمان ، مسلمان كا بھائي ہے اور تمام مسلمان آپس ميں بھائي ہيں ، مسلمانوں كو چاہيئےہ دشمن كے مقابل متحد اور ہم آہنگ رہيں ، ان كا خون محفوظ رہے، ان ميں دور و نزديك سب برابر ہيں_جنگ ميں ناتوان اور توانا برابر مال غنيمت سے بہرہ مند


ہوں _ لشكر كے ميمنہ اور ميسرہ ميں شركت كوئي معيار نہيں ، مسلمان كافر كے خون كے بدلے قتل نہيں كيا جائے گا اور كوئي صاحب پيمان ، معاہدہ ميں قتل نہيں كياجائے گا _ دو مختلف دين ركھنے والے ايك دوسرے كى ميراث نہيں پائيں گے _ مسلمان اپنے علاقہ والوں كو ہى صدقات و زكوة ديں گے دوسرى جگہ والوں كو نہيں ، عورت اپنى پھو پھى اور خالہ كى سوتن نہ بنے ، مدعى كو دليل اور شاہد پيش كرنا چاہيئےور منكر كے ذمّہ قسم ہے _

كوئي عورت بغير محرم كے ايسے سفر پر نہ جائے جس كى مدّت تين روز سے زيادہ ہو_عيد الفطراور عيد قربان كے روزں سے منع كرتا ہوں _ اور ايسا لباس پہننے سے منع كرتا ہوں جس سے تمہارى شرمگاہ كھلى رہے يا ايسا لباس پہننے سے منع كرتا ہوں كہ جس سے تمہارى شرمگاہ كھلى رہے يا ايسا لباس پہنتے سے منع كرتا ہوں كہ جب تمہارے لباس كا كنارہ ہٹ جائے توتمہارى شرمگاہ نظر آنے لگے _ مجھے اميد ہے كہ تم نے يہ سارے مطالب سمجھ لئے ہوں گے_(۹)

اذان بلال

ظہر كا وقت آن پہنچا ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بلال كو حكم ديا كہ كعبہ كى چھت پر جا كر اذان ديں جس وقت بلال بلند آواز ميں اشہد انَّ محمداً رسول اللہ'' پر پہنچے تو گھروں ميںخوفزوہ دبكے ہوئے مشركين كے سر كردہ افراد نے باتيں بنائيں اور توہين آميز جملے كہے _ابو سفيان نے كہا '' ليكن ميں كچھ نہيں كہتا اس لئے كہ اگر ميں كوئي بات كہوں گا تويہى ريت كے ذرّے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو خبر پہنچا ديں گے اور ہر ايك كى بات آنحضرت صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم تك پہنچ جائے گى _


بت شكن ، بت پرست

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان بت پرستوں سے بيعت لى جواب مسلمان ہوگئے تھے اورعورتوں كے لئے بھى پانى كا ايك برتن لا يا گيا اور اس ميں تھوڑا سا عطر ملا ياگيا _ عورتوں نے اپنے ہاتھ بيعت كى غرض سے پانى كے اندر ڈالے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے يہ عہد و پيمان ليا كہ وہ شرك، زنا اور چورى نہ كريں

پھر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سب كو حكم ديا كہ جو بت ان كے پاس ہيں ان كو توڑڈاليں يہاں تك كہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بڑے بڑے مشركين كو بتوں كے توڑنے كے لئے قرب و جوار ميں بھيجا _يہ لوگ بتوں پر اعتقاد ركھتے تھے اور اپنے مفادات كے لئے بتوں كى حمايت كرتے تھے اب خود ہى بت شكنى ميں مصروف ہوگئے_

آزاد شدہ شہر ''مكہ ''كے لئے والى اور معلم دين كا تقرر

مشرك قبيلے '' ہوازن اور ثقيف'' كى سازشوں كى خفيہ خبريں پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تك پہنچ چكى تھيں_ اب ان كے علاقوں ميں پہنچ كر سازشوں كو كچل دينا پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے لئے ضرورى تھا _ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بيس سالہ لائق اور مدبّر جوان ''عتّاب بن اسيد'' كو شہر مكہ كا والى بنايا(۱۱) اور معاذ ابن جبل كو جو معارف اسلام سے واقف فقيہ تھے ، تبليغ اسلام اور مكہ والوں كو احكام دين سے آشنا كرنے كے لئے معلّم كے عنوان سے معيّن فرمايا_(۱۲) فتح مكہ كے سلسلہ ميں سورہ نصر نازل ہوا _ ( ۱۳ )

اسلام كے نام پر خونريزى اور جرائم

فتح مكہ كے بعد ر سول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خالدبن وليد كو بت شكنى اور تبليغ اسلام كے لئے ۳۵۰ ، مہاجرين و انصار كے ساتھ قبيلہ بنى جذيمہ كى طرف بھيجا _خالد نے وہاں پہنچنے كے بعد بنى


جذيمہ كو كسى قسم كا حملہ نہ كرنے كا يقين دلا كر غير مسلح كرديا اور پھر زمانہ جاہليت ميں بنى جذيمہ كے ہاتھوں قتل ہوجانے والے چچا كا بدلہ لينے كے لئے فرمان رسول خدا كى مخالفت كرتے ہوئے ان كو اسير بناليا اور پھر قتل كا حكم ديديا_ مہاجرين و انصار نے خالد بن وليد كے حكم پر عمل كئے بغير اسيروں كو آزاد كرديا جبكہ خالد كے قبيلہ ، بنى سليم نے بعض اسيروں كو قتل كرڈالا اور اس طرح كچھ بے گناہوں كو موت كے گھاٹ اتاردياگيا_

جب يہ خبر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تك پہنچى تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا '' خدايا خالدنے جو كيا ہے اس كے لئے ميں تيرى بارگاہ ميں بيزارى كا اظہار كرتا ہوں''_پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علي(ع) كو معين فرمايا كہ مقتولين كا خون بہا اور ستم رسيدہ افراد كو ہر جانہ ادا كريں _

جو مال رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے ديا تھا حضرت عليصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسے اپنے ساتھ لے كر بنى جذيمہ كے پاس پہنچے ،مقتولين كا خوں بہا اور نقصانات كا ہر جانہ ادا كيا _ يہاں تك كہ لكڑى كے اس برتن كا بھى حساب ہوا جس ميں كتّا پانى پيتا تھا جب آپ اس بات سے مطمئن ہوگئے كہ اب كوئي خون بہا اور ہر جانہ باقى نہيں رہا تو جو مال باقى بچا تھا اس كو بھى آپ(ع) نے ان كے درميان تقسيم كرديا تاكہ مصيبت زدہ افراد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے راضى ہوجائيں _(۱۴)

حضرت على (ع) واپس پلٹے تو اپنے كام كى رپورٹ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں پيش كى آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا'' ميرے ماں باپ فداہوں'' تم نے بڑا عمدہ كام كيا _ تم نے جو كيا وہ ميرى نظر ميں سرخ بالوں والے اونٹ ركھنے سے بہتر ہے _(۱۵)

جنگ حنين

۵ /شوال ۸ ھ بمطابق ۲۹ جنورى ۶۲۹ ء بروز جمعة المبارك


مشركين كے اہم مركز مكہ كى فتح نے اطراف مكہ كے مشرك قبيلوں كے دلوں ميں شديد رعب ووحشت پيدا كرديا _ ان قبيلوں نے تحريك اسلام كى موج كو روكنے كے لئے ارادہ كيا كہ تمام قبائل كے اتحاد اور وحدت سے ايك وسيع منصوبہ كے تحت غفلت كے عالم ميں مسلمانوں كے حملہ سے پہلے ہى حملہ كرديا جائے_

ہوازن ، ثقيف ، نضر ، سعد اور چند دوسرے قبيلوں نے مل كر اسلام كے خلاف ايك مشتركہ محاذ بنا يا اور قبيلہ ہوازن كے دلير اور شجاع سردار مالك بن عوف كو لشكر كا سپہ سالار چناگيا _(۱۶)

دشمن كى سازش سے پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى آگاہي

جنگى محاذكى تشكيل اور دشمن كى سازشوں كى خبر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے كانوں تك پہنچى آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سرا غرساں دستہ كے ايك آدمى كو دشمن كے جنگى راز حاصل كرنے كے لئے متحدہ قبائل كے درميان بھيجا _ پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا فرستادہ دشمن كے لشكر ميں گھس كر ان كے منصوبوں اورخفيہ جنگى ارادوں سے باخبر ہوگيا اور لشكر كا تجزيہ كرنے كے بعد مكّہ واپس آيا اور جو كچھ ديكھا اور سنا تھا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں بيان كرديا_(۱۷)

حنين كى طرف روانگي

دشمن كے حالات سے مكمل آگاہى كے بعد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ''۱۲ ہزار ''سپاہيوں كے ہمراہ ''دس ہزار فتح مكہ ميں شركت كرنے والے مہاجرين و انصار اور دوہزار ان دليران مكہ كے ساتھ جو اسلامى تحريك سے آملے تھے '' مكّہ سے دشمن كى طرف روانہ ہوئے _(۱۸) يہ لشكر


جزيرة العرب كى تاريخ ميں بے نظير تھا ساتھيوں ميں سے ايك شخص نے سفر كى ابتدا ميں جب جاں بازوں كى كثرت اور لشكر اسلام كے جنگى سازو سامان كو ديكھا تو كہا كہ '' اب مسلمان ، سپاہ كى كمى كى بنا پر مغلوب نہيں ہوںگے ''(۱۹) وہ اس بات سے غافل تھا كہ صرف افراد اور ساز و سامان ہى كاميابى كا سبب نہيں ہوتے _

دشمن كى اطلاعات اور تياري

دشمن كے لشكر كے سپہ سالار مالك بن عوف نے تين آدميوں كو جاسوسى اور لشكر اسلام كا تجزيہ كرنے كے لئے بھيجا وہ لوگ لشكر اسلام كو ديكھنے اور اس كى عظمت و ہيبت كا مشاہدہ كرنے كے بعد وحشت زدہ ہو كر واپس گئے اور لشكر اسلام كى عظيم طاقت كى خبر سپہ سالار كو پہنچائي _ اس خبر سے مالك كو احساس ہو گيا كہ آمنے سامنے كى جنگ ميں اس كا لشكر ، لشكر اسلام كا مقابلہ نہيں كرسكے گا _ لہذا اس نے اپنے آدميوں كو حكم ديا كہ حنين كى بلنديوں پر جنگى اعتبار سے مناسب جگہوں ، پتّھروں كے پيچھے اور پہاڑ كى بلنديوں پر مورچہ سنبھال ليں اور اس تنگ جگہ پر لشكر اسلام كے آتے ہى يكبار گى حملہ كرديں _ جنگجو افراد كو جنگ ميں زيادہ استقامت كرنے پر مجبور كرنے كے لئے اس نے حكم ديا كہ عورتوں ، بچّوں ، چوپايوں اور ديگر اموال كو بھى اپنے ساتھ لے ليں تا كہ ان (مال و غيرہ )كے دفاع كى زيادہ كوشش كريں_(۲۰)

درہ حنين ميں

مكہ سے ۲۸ كيلوميٹر شرق ميں واقع درّہ حنين كے نزديك لشكر اسلام منگل كى رات ۱۰/شوال ۸ ھ كو پہنچ گيا _ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم كے مطابق لشكر اسلام رات كو سوگيا اور صبح


سويرے خالد ابن وليد كى كمان ميں لشكر كا ہر اول دستہ تياركركے آگے بھيج ديا گيا_

خالد مكہ كے شمال مشرق ميں ۱۲ كيلوميٹر دور مقام جعّرانہ تك بڑھے_ ۱۰شوال كى صبح ،دونوں لشكرآپس ميں ملے اور درّہ حنين ميں داخل ہوگئے _(۲۱)

فرار

دشمن ،لشكر اسلام كے لئے آمادہ اور منتظر تھا لہذايكبار گى مسلمانوں پر ٹوٹ پڑا، صبح كى تاريكى ان كى مددگار اور سنگلاخ چٹانيں پناہ گاہ تھيں _ ان پناہ گاہوں سے لشكر اسلام پر تير بارانى ہور ہى تھى اور گھوڑے بدك رہے تھے_

مسلمان فوج بھاگنے لگى ، سب سے پہلے بنى سليم كے سواروں نے جو خالد كى كمان ميں تھے فراركو قرار پر ترجيح دى اس كے بعد دوہزار مكّى بھاگنے والوں كے ساتھ ہوگئے پھر تو باقى افراد بھى بھاگنے لگے _ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس صرف دس آدمى رہ گئے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دشمن كے نرغے ميں گھرے نہايت دليرى سے مقابلہ كررہے تھے اور اردگرد جو لوگ تھے وہ مردانہ وار جنگ ميں مصروف تھے _ اس مقابلہ ميں ''ايمن'' نامى لشكر اسلام كا سپاہى ،اپنے رہبر اور مقصد كا دفاع كرتے ہوئے خاك و خون ميں غلطاں ہو كر شہادت پر فائز ہو گيا_(۲۲)

واپسى ،مقابلہ ،كاميابي

پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس حساس موقع پر مخصوص انداز سے متفرق اور بھا گے ہوئے لشكر كو جمع كيا جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے لشكر كو فرار كرتے ہوئے ديكھا تو فرمايا '' لوگو كہاں بھاگے جارہے ہو؟ اس كے بعد پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے چچا عباس سے '' جن كى آواز بلند تھي'' كہا آواز ديں كہ '' اے


گروہ انصار اے اصحاب بيعت رضوان ، پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى طرف پلٹ آؤ'' پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى استقامت و پائيدارى اور عباس كى آواز سے مسلمان ہوش ميں آگئے اور ايك كے بعد ايك پلٹ آئے _ مقابلہ كرنے والے لشكر كى تعداد سو تك پہنچ گئي اور بہادروں كى زبردست جنگ شروع ہوئي جنگ كى تپش ميں پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ ''اب جنگ كا تنور دہك اٹھا ہے''_

ميدان رزم و پيكار كے شجاع ترين بہادر حضرت على عليہ السلام شروع ہى سے شمع نبوت كے اردگر د پروانہ وار چكر لگاتے ہوئے ، جان كى بازى لگا كر پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا دفاع كررہے تھے_ اس عرصہ ميں آپ نے بنى ہوازن كے ۴۰ جيالوں كو جہنّم رسيد كيا_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دشمن كے ناگہانى حملہ كے خلاف اپنى حكيمانہ اور دقيق رہبرى كے ذريعہ ايك نئے طريقہ كار كا انتخاب فرماياآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بہ نفس نفيس رجز پڑھتے اور ايسى شجاعت كے ساتھ دشمن سے مقابلہ كرتے جو تعريف سے باہر ہے _ دشمن اپنى فتح كو بچانے كى كوشش كررہے تھے ليكن لحظہ بہ لحظہ كمزور ہوتے جارہے تھے اور سامنے لشكر اسلام كى تعداد ہر لحظہ بڑھتى جارہى تھى _

آخر كار دشمن كا دفاعى حصار ٹوٹ گيا ، مال وزن اور اولاد كى محبت ،دشمن كى پائيدارى كے لئے مضبوط سہارا نہ بن سكى _لشكر اسلام كے واپس پلٹ آنے اور شجاعانہ جنگ كى بدولت نيز دن كى روشنى پھيلتے ہى دشمن كى شكست كے آثار نماياں ہوئے اور اسلام كو كاميابى ملى(۲۳) _ دشمن چھ ہزار اسير اور بہت زيادہ مال غنيمت جو چوبيس ہزار اونٹوں چاليس ہزار گوسفند اور تقريباً آٹھ سو پچاس كلو گرام چاندى پر مشتمل تھا چھوڑ كر ميدان جنگ سے بھاگ گئے_(۲۴)


عورتوں اور بوڑھوں كو قتل نہ كرو

جنگ كى آگ بھڑك رہى تھى تواس وقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ايك عورت كى لاش كے پاس سے گزر ے لوگوں نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو بتايا كہ يہ وہ عورت ہے جس كو خالد بن وليد نے قتل كيا ہے_ پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجاہدين ميں سے ايك شخص كے ذريعہ حكم بھيجا كہ خالد كے پاس پہنچ كر كہو كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تمہيں عورتوں اور بوڑھوں كو قتل كرنے سے منع فر ما رہے ہيں _(۲۵)

چند قدم آگے بڑھ كر آپ نے ايك دوسرى عورت كى لاش ديكھ كر فرمايا _'' اس كو كس نے قتل كيا ہے ؟'' ايك شخص نے آگے بڑھ كر كہا'' اے اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميں نے اسے قتل كيا ہے ميں نے اس كو اپنى سوارى كى پشت پر بٹھايا تھا اس نے مجھے مار ڈالنا چا ہاتو ميں نے اس كو قتل كرديا '' آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا _'' اس كو سپرد خاك كردو''_(۲۶)

دشمن كے فرار كے بعد آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حكم ديا كہ تمام مال غنيمت '' بدَيل بن وَرْقائ'' كى نگرانى ميں مقام ''جعّرانہ'' ميں جمع كيا جائے اور لشكر كے چند دستے مشركين كے تعاقب ميں جائيں جو مقام ْنخْلہ اور اوطاس كى طرف بھاگ گئے تھے_تعاقب كرنے والے دستے دشمن كو مكمل شكست ديكر اپنے مركز پر پلٹ آئے_

آغاز جنگ ميں مسلمانوں كى شكست كا تجزيہ

۱_ غرور، كثرت اور جنگى سازو سامان پر اعتماد اور نتيجہ ميں خود فريبى اور غيبى امداد سے غفلت آغاز جنگ ميں مسلمانوں كى شكست و فرار كے اہم اسباب تھے_

جيسا كہ خداوند عالم قرآن مجيد ميں ارشاد فرماتا ہے_

'' خدا نے بہت سے جگہوں پر تمہارى مدد كى من جملہ جنگ حنين ميںتمہارى مدد كى ، اس وقت جب تمہيں تمہارى كثرت نے تعجب ميں ڈال ديا _ ليكن اس نے ذرا سا بھى فائدہ نہيں


پہنچايا اور زمين اپنى تمام وسعتوں كے با وجود تم پر تنگ ہوگئي پھر تم روگرداں ہو كر بھاگ گئے پھر خدا نے پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور مومنين پر سكينہ (اطمينان) نازل كيا اور ايسا لشكر نازل كيا جس كو تم ديكھتے نہ تھے اور كافروں كو ذلت و عذاب ميں ڈال ديا _(۲۷)

۲_ دوسرا سبب ،لشكر اسلام ميں ابوسفيان و غيرہ ايسے منافقين كا وجود تھا جو دشمن كے پہلے ہى حملہ سے بھاگ كھڑے ہوئے اور نتيجہ ميں دوسرے سپاہيوں كے حوصلوں كى كمزورى كا سبب بنے اور وہ لوگ بھى بھاگ گئے_

۳_ شب كى تاريكى اور جغرافيائي حالات بھى دشمن كے لئے معاون ثابت ہوئے_


سوالات

۱_ فتح مكہ كے موقع پر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى تاريخى تقرير كا كچھ حصّہ بيان كيجئے _

۲_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فتح مكہ كے بعد اہل مكہ كے ساتھ كيا سلوك كيا ؟

۳_ خالد بن وليد '' بنى جذيمہ'' كے ساتھ مجرمانہ سلوك كا مرتكب كيوں ہوا؟

۴_ مسلمانوں كے ساتھ ،قبيلہ ہوازن اور ثقيف كے لڑنے كا محرك كيا تھا؟

۵_ دشمن كے ارادوں سے لشكر اسلام كيوں كر آگاہ ہوا؟

۶_حملہ كے آغاز ميں مسلمانوں كے فرار و شكست كے اسباب كيا تھے؟


حوالہ جات

۱_ استلام يعنى حجر اسود پر ہاتھ پھيرنا_

۲_ امتاع الاسماع ج ۱ ص ۳۷۸ مطبوعہ قاہرہ _

۳_ جاء الحق و ذہق الباطل ان الباطل كان زہوقاً(اسرائ/۸۱)_

۴_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۵۴_

۵_مغازى واقدى ج ۲ ص ۸۳۴_

۶_اعيان الشيعہ ج ۱ ص ۳۵۸_

۷_ (سورہ يوسف /۹۲)_

۸_ اذخر ايك خوشبو دار گھاس ہے جو اطراف مكہ ميں اگتى ہے_

۹_مغازى واقدى ج ۲ ص ۸۳۶_

۱۰_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۵۶_ طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۱۳۷_

۱۱_سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۸۳_

۱۲_ مغازى واقدى ج ۳ ص ۸۸۹_

۱۳_ مغازى واقدى ج ۳ ص ۸۸۹_

۱۴_ تاريخ يعقوبى ج ۲ ص ۶۱_سيرت ابن ہشام ج ۴ ص۷۰،۷۳_ مغازى واقدى ج ۳ ص ۸۷۵سے ۸۸۲_طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۱۴۷_

۱۵_تاريخ يعقوبى ج ۲ ص ۶۱ _

۱۶_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۸۲_

۱۷_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۸۲_

۱۸_ سيرت ابن ہشام ج۴ ص ۸۳_

۱۹_ مغازى واقدى ج ۳ ص ۸۸۹_


۲۰_مغازى واقدى ج ۳ ص ۸۸۸_سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۸۱_

۲۱_مغازى واقدى ج ۳ص ۸۹_

۲۲_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۸۵ _ ۸۶_

۲۳_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۸۷ _۸۸ _ارشاد شيخ مفيد ص ۷۴_

۲۴_ تاريخ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ڈاكٹر آيتى مرحوم ص ۵۵۲_

۲۵_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۰۰_ مغازى واقدى ج ۳ ص ۹۱۲_

۲۶_مغازى واقدى ج ۳ ص ۹۱۲_

۲۴_( لَقَدْنَصَرَكُم اللّهُ فى مَواطنَ كَثيرة وَ يَوْمَ حُنَيْن اذَا اَعْجَبَتْكُم كَثْرَتُكُم فَلَمْ تُغْن عَنْكُم شَيْئاً وَضَاقَت عَلَيْكُم اْلارْضُ بمَا رَحُبَتْ ثُمَ وَلَّيْتُمْ مُدْبرينَ ثُمَّ اَنْزَلَ اللّهُ سَكينَتَهُ عَلَى رَسُوله وَ عَلَى الْمُؤمنين وَ اَنْزَلَ جُنُوداً لَمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الذَينَ كَفَرُوا وَ ذلكَ جَزَائُ الْكافرين ) (سورہ توبہ/۲۵/۲۴)_


بارھواں سبق

طائف كى جنگ

جديد جنگى ہتھياروں كى ٹيكنالوجي

واپسي

ہوازن كے اسيروں كى رہائي

مال غنيمت كى تقسيم

وہ افراد جن كى دلجوئي كى گئي

منافقين كا اعتراض

دوستوں كے آنسو

مدينہ واپسي

غزوہ تبوك

ايك ہولناك خبر

منافقين كى حركتيں

بہانے تراشياں

منافقين كے خفيہ مركز كا انكشاف

جنگى اخراجات كى فراہمي

اشك حسرت

سوالات


طائف كى جنگ

شوال ۸ ھ بمطابق جنورى ، فرورى ۶۲۹ ئ

لشكر اسلام كى كاميابى كے ساتھ حنين كى جنگ ختم ہوگئي _ دشمن كے لشكر كا سردار مالك بن عوف اپنے ساتھيوں كے ساتھ بھا گ كر مكہ سے ۷۵ كيلوميٹر دور طائف ميں پناہ گزيں ہوا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كچھ مجاہدين اسلام كو ساتھ لے كر طائف كى طرف روانہ ہوئے تا كہ حجاز ميں مشركين كى آخرى پناہ گاہ كو بھى ختم كرديا جائے_

لشكر اسلام طائف پہنچا ، مشركين بلند ديواروں والے مضبوط قلعہ ميں بے پناہ كھانے پينے كے سامان اور قلعہ كے اندرہى پانى كے انتظام كے ساتھ نہايت اطمينان كے ساتھ مقابلہ كرنے لگے اور قلعہ كى ديواروں كے اوپرسے لشكر اسلام پر تيروں كى بارش شروع كردي_(۱)

جديد جنگى ہتھياروں كى ٹيكنالوجي

طائف كے مستحكم قلعہ كو فتح كرنے كے لئے حضرت سلمان نے ايك تجويز رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں عرض كى كہ منجنيق اور پتّھر و گولہ بارى سے محفوظ كرنے والى گاڑيوں كو كام ميں لا كر قلعوں كو فتح كيا جا سكتاہے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت سلمان كو حكم ديا كہ اس قسم كا اسلحہ مہيّا


كرو _حضرت سلمان اس كام ميں مشغول ہوگئے اور قلعہ كى ديواروں كے پار بڑے بڑے پتھّر پھينكنے كے لئے منجنيق(جيسے آجكل كاٹينك) اور قلعہ كى تباہى كى خاطر ديواروں كے نزديك پہنچنے كے لئے مخصوص گاڑى كو ميدان جنگ ميں پہنچايا_

گاڑى كى چھت موٹے اور سخت چمڑے كى بنى ہوئي تھى جس پر دشمنوں كے تير اثر انداز نہيں ہو سكتے تھے_(۲) (جيسے آجكل كى بكتر بندگاڑياں) اسى طرح پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم سے بہت زيادہ مقدار ميں خاردار شاخيں'' خار خسك'' قلعہ كے اطراف ميں بكھيردى گئيں (يہ كانٹے گويا بارودى سر نگوں كى مانند تھے جو دشمن كے سپاہيوں گھوڑوں اور اونٹوں كے پيروں ميں چبھ جاتے تھے)_(۳)

مخصوص گاڑى كے ذريعہ مجاہدين اسلام قلعہ كى ديوار تك پہنچ گئے اور ديوار كے كچھ حصّہ كو گرانے اور قلعہ كو فتح كرنے ميں دير نہ تھى كہ دشمن نے آگ اور پگھلے ہوئے لوہے كے ذريعہ حملہ كركے گاڑى كى چمڑے كى چھت كو جلا كر تہس نہس كرڈالا جس كے نتيجہ ميں بعض مجاہدين اسلام شہيد يا زخمى ہوئے اور قلعہ فتح كر نے كى كوشش با ر آورنہ ہو سكى _

واپسي

طائف ۲۰ دن سے زيادہ لشكر اسلام كے محاصرہ ميں رہا _ قبيلہ ثقيف كے افراد بڑى پامردى سے مقابلہ كررہے تھے ،قلعہ كے اندر غذائي اور ديگر ضروريات كے سامان كى وافر موجود گى كى بنا پر محاصرہ بے معنى تھا اور قلعہ فتح كرنے كے لئے ايك طولانى محاصرے كى ضرورت تھى _ايك طرف مدينہ سے دورى ،غذا اور جانوروں كے چارے كى كمى كا خطرہ ، اس كے علاوہ حرمت كا مہينہ اور حج كا زمانہ نزديك تھا_


رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اعلان كيا كہ غلاموں ميں سے جو كوئي بھى قلعہ سے باہر آجائيگا وہ آزاد ہے چنانچہ چند لوگوں نے خود كو لشكر اسلام كے حوالہ كرديا اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس آكر دشمن كے حالات كى اطلاع ديدى _ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان لوگوں كو آزاد كرديا اور اس كے بعد اعلان كيا كہ طائف كا محاصرہ ختم كيا جائے اور سب واپس لوٹ جائيں_(۴)

ہوازن كے اسيروں كى رہائي

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم درہ ''جعّرانہ'' يا جَعْرانہ (يہى زيادہ مشہور ہے ) لوٹ آئے تا كہ اسيروں اور مال غنيمت كے بارے ميں فيصلہ كيا جائے _ يہاں اسارى سائبان كے نيچے ٹھہرے ہوئے تھے_قبيلہ ہوازن كے بعض افراد جو جنگ ميں شريك نہيں تھے يا اسير نہيں ہوئے تھے _ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں حاضر ہوئے اور اسيران ہوازن كى رہائي كى درخواست كى پيغمبر رحمتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كى خواہش كو قبول فرمايا اور چھ ہزار اسيران ہوازن كو آزاد كرديا_(۵) اس طرح جزيرة العرب كابہت بڑا اور خطرناك قبيلہ اسلام كى طرف مائل ہو گيا _

جنگ كى آگ بھڑ كانے والوں كے رہبر مالك بن عوف كو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پيغام بھجوايا كہ ہتھيار ڈال دو تو مال اور خاندان كى واپسى كے علاوہ سو اونٹ بھى عطا كئے جائيں گے_قبيلہ ہوازن كے سلسلہ ميں پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحمت اور جواں مردى نے مالك ابن عوف جيسے سركش كو رام كرديا اوروہ راتوں رات طائف سے بھاگ كر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كى خدمت ميں پہنچ كر مسلمان ہوگيا_ اس طرح فتنہ كے اہم سبب ، قبيلہ ہوازن كا خطرہ ٹل گيا_(۶)


مال غنيمت كى تقسيم

اسيروں كى آزادى كے بعد كچھ سپاہى رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے گردجمع ہوئے اور نہايت اصرار كے ساتھ مال كى تقسيم كے خواستگار ہوئے _ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا_

'' خدا كى قسم اگر تہامہ كے درختو ںكے برابر بھى گوسفند اور اونٹ تمہارے لئے ہوں تو ميں ان سب كو تمہارے ہى در ميان تقسيم كروں گا _ تم ميرے اندر خوف ، بخل اور جھوٹ نہيں پاؤگے _ مال غنيمت ميں ميرا حق پانچويں (خمس) حصّے سے زيادہ نہيں ، ميں اسے بھى تمہيں دے دوں گا لہذا اگر كسى نے ايك سوئي اور دھاگہ بھى اٹھايا ہو تو لوٹا دے اس لئے كہ غنيمت ميں خيانت كى سزا قيامت كے دن رسوائي ، بدنامى اور آتش كے سوا كچھ نہيں ہے _''

اس وقت انصار ميں سے ايك شخص ايك دھاگے كا گھچا لے آيا اور كہا '' ميں اس كو اپنے اونٹ كا سامان سينے كے لئے لے گيا تھا _''

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ اس دھاگہ ميں سے ميں نے اپنا حق تمہيں بخشا(اب باقى مسلمانوں كا مسئلہ ہے اگر وہ بھى اپنا حق تمہيں بخش ديں تو لے لو)مرد انصارى نے كہا كہ اگر اتنا سخت مسئلہ ہے تو مجھے دھاگے كى كوئي ضرورت نہيں ہے _ اور دھاگے كا گچھا مال غنيمت كے ڈھير ميں لے جا كرر كھ ديا_(۷)

وہ افراد جن كى دلجوئي كى گئي

جب مال غنيمت كى تقسيم شروع ہوئي اور تمام افراد كا حصّہ ديديا گيا ، تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مال غنيمت كے خمس كو سرداران قريش كے درميان تقسيم كرديا اور ابوسفيان، اس كے بيٹے معاويہ، حكيم ابن حزام ، حارث بن حارث اور حارث بن ہشام اور ...''جوكل تك گروہ


شرك و كفر كے سردار تھے'' ان ميں سے ہر ايك كو سو اونٹ اورعظمت و مرتبت كے لحاظ سے معمولى افراد كو پچا س يا پچاس سے كم اونٹ عطا فرمائے_(۸)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى بخشش كے دو سبب تھے ايك تو يہ كہ يہ لوگ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى عطوفت و محبت سے متاثر ہو كر اسلام كى طرف مائل ہوںتا كہ كينہ ختم ہوجائے ، اصطلاح ميں اس عمل كو ''تاليف قلوب'' كہتے ہيں اور فقہ اسلام ميں زكات كے مصارف ميں سے ايك مصرف يہ بھى ہے_دوسرى بات يہ تھى كہ جزيرة العرب كے مشرك قبائل كے سربرآوردہ افراد اسلام قبول كرليںتا كہ كم سے كم لڑائي ہو اور جزيرة العرب كے باقى افراد حلقہ بگوش اسلام ہوجائيں_

منافقين كا اعتراض

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى بخششيں بہت سے سپاہيوں كے اعتراض كا سبب بنيں اسى درميان ان افراد نے سب سے زيادہ اعتراض كى آواز بلند كى جو بظاہر احكام دين پر توجہ ديتے تھے مگر باطن ميں ان كو دين سے كوئي سروكار نہ تھا كوردل ذوالخويصرہ نے عتاب آميز لہجہ ميں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے كہا '' اے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا سے ڈريں اور عدل و انصاف سے كام ليں''_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، اس شخص كى باتوں سے برہم ہوئے اور فرمايا '' اگر انصاف و عدالت سے كام نہيں لوں گا تو پھر عدالت كس كے پاس ملے گى ''؟ اصحاب ميں سے ايك صحابى نے عرض كى كہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اگر اجازت ہو تو جسارت كے جواب ميں اسكا سرتن سے جدا كردوں ؟ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اجازت نہيں دى اور فرمايا كہ :''ج ى اس شخص كو ايسے پيرو مليںگے جو دين ميں اتنى باريك بينى سے كام ليں گے كہ دين سے خارج ہوجائيں گے''_(۹)


دوستوں كے آنسو

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى بخششوں نے قريش اور قبائل كے سر برآوردہ افراد يہاں تك كہ انصار كو بھى رنجيدہ كرديا اور وہ يہ سوچنے لگے كہ يہ بخششيں خاندان اور رشتہ داريوں كى بناپر ہيں_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو انصار سے يہ اميد نہ تھى ، آپ رنجيدہ ہوئے اور ان سے فرمايا: '' كيا تم اس بات پر راضى نہيں ہو كہ دوسرے افراد گوسفندوں اور اونٹوں كے ساتھ اپنے گھر كوجائيں اور تم رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہمراہ اپنے گھروں كو واپس جاؤ''(۱۰)

انصار، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى بات سن كر شدّت سے روئے اور عرض كيا:'' ہمارے لئے يہى كافى ہے كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمارے حصّہ ميں ہوں ، ہم اسى پر راضى ہيں''(۱۱)

مدينہ واپسي

مال غنيمت كى تقسيم تما م ہوئي ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عمرہ كے قصد سے مقام جعرانہسے احرام باندھا اور زيارت خانہ خدا كے لئے مكّہ كى سمت روانہ ہوئے_

عمرہ كى ادائيگى كے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عتّاب بن اميد اور معاذبن جبل '' جنہيں مكّہ كا امير اور معّلم دين بنا يا گيا تھا'' كى ماموريت كى مدّت بڑھادى _اس كے بعد ذى القعدہ كے مہينہ ميں مہاجرين اور انصار كے ساتھ مدينہ لوٹ آئے_(۱۲)

غزوہ تبوك(۱۳)

ايك ہولناك خبر

۹ ھ ،رجب كا مہينہ بڑى گرمى كا مہينہ تھا ، شديد قحط اور گرانى كے زمانہ كے بعد كہ


جس سے لوگ حد درجہ پريشان ہو چكے تھے _ پھلوں اور كھجور كے چننے كا زمانہ آگيا _ لوگوں نے ذرا اطمينان كا سانس لينے كا سوچا ہى تھاكہ ہولناك قسم كى خبريں پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس آنے لگيں كہ مسلمانوں كو جزيرة العرب كى شمال مشرقى سرحدوں پر رومى بادشاہ كى طرف سے خطرہ ہے _

ميدہ اور زيتون كا تيل فروخت كرنے كے لئے مدينہ آنے والے نبطى تاجروں نے بتايا كہ '' بادشاہ روم ''ہرقل ''(۱۴) نے بلقاء كے علاقہ ميں ايك عظيم لشكر جمع كرركھا ہے اور لشكر كے كھانے پينے كا انتظام اور ايك سال كى تنخواہ كى ادائيگى كے علاوہ سرحدى قبائل لخم اور جذام كو بھى اپنے ساتھ ملاليا ہے اور اسلامى سرزمين پر حملہ اور اسلامى تحريك كو مٹا دينے كا ارادہ ركھتا ہے _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ايك ايسا عظيم لشكر جمع كرنے كے لئے آمادہ ہو گئے جو روم ايسى بڑى طاقت كے لشكر سے مقابلہ كى طاقت ركھتا ہو _

پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جنگوں ميں منزل مقصود معين نہيں فرماتے تھے_اس كے بر خلاف اس بار لشكر جمع كرنے كے آغاز ہى ميں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے منزل مقصودكا اعلان كرديا _ تا كہ لشكر ، دشت سوزاں ميں دور دراز كے راستہ كو طى كرنے ، دشوار كام كے انجام دينے اور نہايت طاقتور دشمن سے جنگ كرنے كے لئے تما م تياريوں كے ساتھ ضرورى سازوسامان اور غذا لے كر روانہ ہو_(۱۵)

منافقين كى حركتيں

منافقين نے لشكر اسلام كى تيارى كے آغاز ميں ، حكومت اسلامى ميں دى گئي آزادى


سے سوء استفادہ كرتے ہوئے ، حساس ترين لمحات ميں مايوس كن پروپيگنڈہ اور نفسياتى جنگ كے ذريعہ مسلمانوں كو راہ خدا ميں جہاد سے باز ركھنے كى كوشش كى ،يہ لوگ در حقيقت استكبارى طاقتوں كے مفادات كے لئے قدم اٹھارہے تھے _

اسلام كے خلاف منافقين كى خيانت آميز تحريك تاريخ اسلام ميں '' مسجد ضرار'' كے واقعہ كے نام سے مشہور ہے _ اس كى تفصيل حسب ذيل ہے _

منافقين ميں سے ايك سر كردہ '' ابوعامر'' نامى فاسق ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى مدينہ ہجرت كے بعد اپنى خيانتوں كى بدولت بھاگ كر مكہ اور طائف چلا گيا او ر ان كے فتح ہونے كے بعد وہاں سے بھاگ كر روم چلا گيا اور وہاں سے مدينہ كے منافقين سے رابطہ اور فكرى امداد كرتا رہتا تھا _ اس نے اپنے ہواخواہوں كو خط ميں لكھا كہ '' ميں قيصر روم كے پاس جارہاہوں اور اس سے فوجى مداخلت كى درخواست كروں گا تا كہ اس كى مدد سے مدينہ پر حملہ كريں اب تم ''قبا'' كے ديہات ميں مسلمانوں كى مسجد كے مقابلہ ميں ايك مسجد بناؤ اور نماز كے موقع پر وہاں جمع ہو ، فريضہ كى ادائيگى كے بہانے اسلام اور مسلمانوں كے بارے ميں اپنے منصوبوں كو كس طرح عملى جامہ پہنايا جائے كے موضوع پر گفتگو كيا كرو_

يہ مسجد ، لشكر اسلام كے تبوك روانہ ہونے سے پہلے بن كر تيار ہوگئي _ منافقين اس مسجد كى آڑميں اپنى كاركردگى كو منظم شكل دے سكتے تھے ، لوگوں كو دھوكہ دينے كے لئے ان لوگوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے درخواست كى كہ آپ مسجد ميں نماز ادا كريں اور مسجد كا افتتا ح فرمائيں_

رسول 'صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے جواب ميں فرمايا '' ابھى ميں سفركا ارادہ ركھتا ہوں اور سفر كى تيارى ميں مصرف ہوں اگر خدا نے چاہا تو واپسى پر آؤںگا ''_(۱۶)


بہانے تراشياں

منافقين جنگ ميں شركت نہ كرنے كے لئے بڑے لچر بہانے تراشتے رہتے تھے_رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے '' جدّ ابن قيس'' نامى ايك منافق سے كہا_

'' كيا تم روميوں كے ساتھ لڑنے كے لئے خود كو آمادہ كرنے كا ارادہ نہيں ركھتے؟''جدّا بن قيس نے جواب ديا '' اے اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مجھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس بات كى اجازت ديں كہ ميں شہر ہى ميں رہوں مجھے فتنہ ميں نہ ڈاليں _ اس لئے كہ ميرے قبيلہ كے لوگ جانتے ہيں كہ كوئي مرد بھى ميرى طرح عورتوں كا ديوانہ نہيں ، مجھے ڈر ہے كہ اگر ميں روم كى عورتوں كو ديكھوںگا تو فتنہ (وگناہ) ميں پڑ جاؤں گا''_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے منہ پھير ليا اور فرمايا'' جہاں جانا چاہتے ہو جاؤ''(۱۷)

قرآن اس منافق كى بہانہ بازى كے بارے ميں فرماتا ہے:

'' ان ميں سے كچھ لوگ كہتے ہيں كہ ہم كوجہاد ميں شركت كرنے سے معاف ركھيں اور فتنہ ميں نہ ڈاليں آگاہ ہو جاؤ كہ يہ لوگ خود فتنہ ميں پڑے ہوئے ہيں اور بے شك دوزخ كافروں كو گھيرے ہوئے ہے ''_(۱۸)

منافقين كام ميں رخنہ ڈالنے اور جنگ كے بارے ميں لوگوں كے حوصلے پست كرنے كے لئے كہتے تھے اس گرمى كے موسم ميں جنگ كے لئے نہ جاؤ يہ موسم جنگ كے لئے مناسب نہيں ہے _خدا ان لوگوں كے بارے ميں فرماتا ہے :

'' جن لوگوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ركاب ميں حكم جہاد سے روگردانى كى وہ خوش ہيں اور راہ خدا ميں جان و مال كے ساتھ جہاد كرنے كوناگوار جانتے ہيں (اور مومنين كو بھى جہاد سے منع كرتے ہيں)وہ لوگ كہتے ہيں كہ اس گرمى ميں كوچ نہ كرو _ ان سے كہہ ديجئے كہ دوزخ


كى آگ زيادہ جلانے والى ہے اگرلوگ سمجھ ليں _(۱۹)

منافقين، آرام طلب ثروت مندافراد اور كچھ ناواقف اعراب نے مختلف بہانوںسے جنگ ميں شركت كرنے سے گريز كيا_

خداوند عالم اعراب كے بارے ميں فرماتا ہے :

'' باديہ نشينوں (اعراب) ميں سے كچھ لوگ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس عذر كرتے ہوئے آئے اور جہاد سے معافى چاہ رہے تھے اور كچھ لوگ جو خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى تكذيب كرتے تھے_ جہاد سے بيٹھ رہے كافر ج ہى دردناك عذاب ميں مبتلا ہوں گے''_(۲۰)

منافقين كے خفيہ مركز كا انكشاف

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو خبر ملى كہ منافقين كا ايك گرو ہ سُوَيْلَمْ يہودى كے گھر ايك انجمن بنا كر سازشوں اور لوگوں كو جہاد ميں شركت كرنے سے روكنے كى پلا ننگ ميں مصروف ہے _ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جانتے تھے اگر ان كے ساتھ كوئي عبرتناك اور فيصلہ كن سلوك نہ كيا گيا تو يہ مكارانہ سازشوں سے اسلام كو نقصان پہنچائيں گے_آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حكم ديا كہ اس گروہ كے مركز كو گھير كر آگ لگادى جائے _ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم سے اسلام كے چند محافظين نے اس گھر كو آگ لگادى اور منافقين كے فرار كے نتيجہ ميں يہ گروہ ختم ہو گيا اور فرار كے دوران چھت سے گرنے كى وجہ سے ايك منافق كى ٹانگ ٹوٹ گئي_(۲۱)

جنگى اخراجات كى فراہمي

مضبوط لشكر مرتب كرنے كے لئے مخيّر اور ثروت مند مسلمانوں نے جاں بازان اسلام


كى مالى امداد كى اور مسلمانوں نے اخراجات جنگ مہيا كرنے ميں بے مثال دلچسپى كے ساتھ حصہ ليا _ مسلمان عورتوں نے اپنے زيورات رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس بھيج ديئےا كہ جنگ كے اخراجات ميں كام آئيں _ ہر شخص اپنى طاقت كے مطابق مدد كرنے ميں كو شاں تھا_ مثال كے طور پر ايك غريب مزدور ايك صاع ( تين كيلو) خرما پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں لايا اور عرض كرنے لگا'' _ اے اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميں نے نخلستان ميں كام كيا تو دو صاع خرما مزدورى ملى ايك صاع ميں نے اپنے گھر كے لئے ركھ ليا اور ايك صاع جنگ كے اخراجات جمع كرنے كے لئے لايا ہوں''_

منافقين نے يہاں بھى غلط پرو پيگنڈہ جارى ركھا _ اگر كوئي دولت مند مالى امداد كرتا تو كہتے '' ريا كارى كررہا ہے ''_ اور اگر كوئي غريب خلوص كى بناپر تھوڑى سى مدد كرتا تو كہتے كہ '' ''خدا كو اس مددكى ضرورت نہيں ''(۲۲)

منافقين كى ان باتوں كے بارے ميں قرآن مجيد ميں خدا فرماتا ہے:

'' جو لوگ مدد كرنے والے مومنين اور اپنى استطاعت كے مطابق عطا كرنے والوں كے صدقہ ميں عيب نكالتے اور مذاق اڑاتے ہيں خدا ان كا تمسخر كرتا ہے اور ان كے لئے دردناك عذا ب ہے'' _(۳۲)

اشك حسرت

منافقين كى سازشوں ،پروپيگنڈوں اور افواہوں كے بالمقابل پاكيزہ دل مومنين كا ايك گروہ جنگ ميں شركت كے شوق ميں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں حاضر ہوا چونكہ يہ لوگ غريب تھے اور سوارى كا انتظام نہ تھا لہذا انہوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے خواہش كى كہ ان كو


مركب عطا كيا جائے تا كہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ركاب ميں صحراؤں كا سفر كركے جہاد مقدس ميں شركت كريں_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا _ ميرے پاس كوئي ايسى سوارى نہيں ہے جس پر تم كو سوار كروں _ يہ لوگ اس وجہ سے افسوس اور گريہ كرتے ہوئے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس سے نكلے كہ ان كو جہاد ميں شركت كى توفيق حاصل نہ ہو سكى _ يہ جماعت تاريخ ميں گروہ '' بكّاؤون''(۲۴) كے نام سے مشہور ہوئي _ ( يعنى بہت رونے والے) خدا قرآن مجيد ميں ان كو اس طرح ياد كرتا ہے_

'' اى پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،مومنين جہاد كے لئے تيار ہو كر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس آئيں تا كہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان كو كسى مركب پر سوار كرديں ( اور ميدان جہاد لے جائيں ) اور آپ نے جواب ميں فرمايا كہ ميرے پاس مركب نہيںہے جس پر ميں تم كو سوار كروں اور وہ لوگ اس حالت ميں واپس چلے گئے كہ غم كى شدت سے ان كى آنكھوں سے آنسو جارى تھے كہ اخراجات سفر كيوں نہ فراہم كر سكے _ ايسے لوگوں پر جہاد ترك كردينے ميں كوئي گناہ نہيں ہے ''(۲۵)


سوالات

۱_ طائف كى جنگ ميں كس قسم كا اسلحہ استعمال ہوا؟

۲_ ہوازن كے اسيروں كى رہائي نے ان كے اسلام كى طرف ميلان پر كيا اثر ڈالا_

۳_رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى بخششيںكن وجوہات كى بناء پر تھيں؟

۴_ لشكر كے چند افراد كا اعتراض كس چيز پر اور كس تصوّر كے زير اثر تھا؟

۵_ روم كى بڑى طاقت كے حملہ كے ارادہ اور ان كے فوجى نقل و حمل سے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كس طرح آگاہ ہوئے؟

۶_ جنگ سے فرار كيلئے منافقين كيا بہانے تراش رہے تھے؟

۷_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے منافقين كے گروہ كے گھر كے لئے كياحكم ديا؟


حوالہ جات

۱_سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۲۱_۱۲۵

۲_مغازى واقدى ج ۳ ص ۹۲۷

۳_ پيامبرى و حكومت ص ۳۷۶

۴_ طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۱۵۸

۵_سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۳۰_۱۳۱

۶_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۳۳_

۷_ سيرت ابن ہشام ج ۴ص ۱۳۴_ ۱۳۵

۸_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۳۵

۹_سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۳۹_ انجام كار وہ زمانہ امام على عليہ اسلام ميں خوارج كے رہبروں ميں سے ايك رہبر بنا اور نہروان كى جنگ ميں حضرت علىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے سپاہيوں كے ہاتھوں قتل ہو گيا_

۱۰_ يہ ياد دلانا ضرورى ہے كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى گفتگو كاصرف كچھ حصّہ يہاں پر نقل ہوا ہے _

۱۱_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۴۱_۱۴۲

۱۲_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۴۳ _

۱۳_ شام كى سر حد پر حجر سے جو راستہ شام كو جاتا ہے اس كے درميان تبوك ايك مضبوط قلعہ تھا اور آج كل سعودى عرب ميں مدينہ سے ۷۷۸ كيلوميٹر دور ايك فوجى شہر ہے_

۱۴_ ہر اكيلو س بھى لكھا گيا ہے_

۱۵_امتاع الاسماع ج ۱ ص ۴۴۵_۴۴۶ _طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۱۶۵_ سيرت حلبى ج ۳ ص ۱۴۱_سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۵۹

۱۶_ سيرت حلبيہ ، مطبوعہ بيروت ج ۳ ص ۱۴۴ _ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۷۳ _امتاع الاسماع ج ۱ ص ۴۸۰

۱۷_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۵۹_

۱۸_( وَ منْهُمْ مَنْ يَقُولُ ائْذنْ ليْ وَلاَ تَفْتنّى اَلاَ فى الْفتْنَة سَقَطوُا وَ اَنَّ جَهَنَّمَ مُحيطَةُ بالْكَافرين ) _(سورہ توبہ آيت ۴۹)

۱۹_( فرحَ الْمُخَلَّفُونَ بمَقْعَدهمْ خلاَفَ رَسُول اللّه وَ كَرهوُا اَنْ يُجَاهدوُا باَمْوالهمْ وَ اَنْفُسهمْ فى سبيل اللّه وَ قَالُوا لاَتَنْفَروُا فى الْحَر قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَراً لَوْ كَانوُا يَفْقَهُون ) _(توبہ/۸۱)_

۲۰_( وَ جَائَ الْمُعَذَّرُونَ منَ الْاَعْراب ليُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذينَ كَذَّبُوا اللّه وَ رَسُولَهُ سَيُصيبَ الَّذين كَفَرُوا منْهُمْ عَذَابٌ اَليم ) (توبہ/۹۰)_

۲۱_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۶۰_

۲۲_ تفسير مجمع البيان ج ۵ص ۲۵۷_اسباب النزول واحدى ص ۱۷۲_

۲۳_( اَلَّذيْنَ يَلْمزُونَ الْمُطَّوعين منَ الْمُوْمنيْن فى الصَّدَقَات وَالَّذينَ لاَ يَجدُوْنَ الاَّ جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُونَ منْهُمْ سَخرَ اللّهُ منْهُمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَليم ) (توبہ/۷۹)_

۲۴_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۶۱_

۲۵_( وَ لاَ عَلَى الَّذين اذَا مَا اَتَوْكَ لتَحْملَهُمْ قُلْتَ لاَ اَجدُ مَا اَحْملُكُمْ عَلَيْه تَوَلَّوْا وَ اَعيُنهمْ تَفيضُ منَ الدَّمْع حُزْناً الاّ يَجدوُا مَا يُنْفقُون ) (توبہ/۹۲)


تيرھواں سبق

بے نظير لشكر

منافقين كى واپسي

شخصيت پر حملہ

تپتا صحرا

حضرت ابوذر كا واقعہ

لشكر اسلام تبوك ميں

دومة الجندل كے بادشاہ كى گرفتاري

پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر حملہ كى سازش

مسجد ضرار كو ويران كردو

اسلحہ فروخت نہ كرو

جنگ ميں دعا كى تاثير

غزوہ تبوك سے ماخوذ نتائج

سوالات


بے نظير لشكر

منافقين كى رخنہ اندازى اور پروپيگنڈے ، راستہ كى دورى ، شديد گرمى ، خشك سالى ، دشمن كا بے شمارلشكر،ان ميں سے كوئي چيزبھى مسلمانوں كو وسيع پيمانہ پر جنگ ميں شركت سے نہ روك سكي_

تقريباً تيس ہزار افراد نے آمادگى كا اعلان كيا اور'' ثنية الوداع ''كى لشكر گاہ ميں خيمہ زن ہوگئے اس مسلح لشكر كے پاس دس ہزار گھوڑے اور بارہ ہزار اونٹ تھے_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے لشكر گاہ ميں سپاہيوں كا معائنہ كيا ، پرچم ان كے حوالے فرمايا اور روانگى كے لئے آمادہ ہوگئے_(۱)

منافقين كى واپسي

منافقين كے سر براہ عبداللہ ابن ابى نے اپنے چند ساتھيوں كے ساتھ '' ذباب ''كے علاقہ ميں _ ثنية الوداع ميں جو لشكر گاہ تھى اس سے ذرا پيچھے_ خيمے نصب كئے اور وہيں سے مدينہ لوٹ گئے اور كہا '' محمد اس گرمى ، دورى ، اور سختى ميں روميوں سے لڑنے جارہے ہيں ، وہ سمجھتے ہيں كہ روميوں كے ساتھ جنگ ايك كھيل ہے خدا كى قسم ميں ديكھ رہا ہوں كہ كل ان كے اصحاب اسير اور گرفتار ہوجائيں گے_(۲)


منافقين چاہتے تھے كہ عين روانگى كے موقع پر نفسياتى حربوں كے ذريعہ لشكر اسلام كے حوصولوں كو كمزور كرديا جائے _ ليكن ان كى يہ چال كارگر نہ ہوئي _(۳)

شخصيت پر حملہ

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ركاب ميں حضرت على (ع) كو ہر جنگ ميں شركت كا افتخار حاصل تھا ليكن اس جنگ ميں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم سے شريك نہيں ہوئے اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم كے مطابق مدينہ كى ديكھ بھال كے لئے مدينہ ميں ہى رك گئے _ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم منافقين كى سازشوںسے آگاہ تھے كہ كہيں ايسا نہ ہو كہ شرك پر باقى رہ جانے والے اعراب كى مدد سے منافقين ، شہر مدينہ پر مجاہدين سے خالى ہو جانے كى بنا پر حملہ كرديں اور كوئي ناگوار حادثہ پيش آجائے_ پريشان كن سياسى حالات ميں سازشوں كا مقابلہ كرنے كيلئے اسلام كے مركز كى ديكھ بھال صرف علي(ع) كر سكتے ہيں_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت على (ع) كو اپنى جگہ پر اس لئے بٹھايا تا كہ اطمينان سے جہاد كے لئے جا سكيں _ منافقين نے علي(ع) كو اپنى سازشوں ميں ركاوٹ محسوس كيا تو ان كو ميدان سے ہٹانے كے لئے ما حول بنانا ، افواہيں پھيلانا اور در حقيقت ان كى شخصيت پر حملہ كرنا شروع كرديا _ انہوں نے يہ افواہ پھيلائي كہ '' رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،على (ع) سے افسردہ خاطر ہوگئے تھے اس ليے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے بے اعتنائي كى اور اپنے ساتھ نہيں لے گئے '' يہ باتيں على (ع) كے كانوں تك پہنچيں تو آپ(ع) نے اسلحہ اٹھايا اور مدينہ سے تين ميل دور مقام '' جرف'' ميں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جا ملے اور عرض گيا: اے اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم منافقين كہتے ہيں كہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مجھ سے تنگ آگئے ہيں اس لئے مدينہ چھوڑ ے جارہے ہيں ، آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا :


'' وہ لوگ جھوٹ بولتے ہيں _ ميں نے اپنے بعد تمہيں مدينہ ميں حفاظت اور نگہبانى كے لئے چھوڑا ہے _اس وقت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وہاں موجود بہت سارے اصحاب كے سامنے حضرت على (ع) سے فرمايا _

'' ميرے بھائي مدينہ واپس جاؤ، مدينہ كے لئے ميرے يا تمہارے علاوہ كوئي مناسب نہيں، تم ہى ميرے خاندان ، مقام ہجرت (مدينہ) اور ميرى قوم كے در ميان ميرے جانشين ہو ، كيا تمہيں يہ پسند نہيں كہ تم ميرے ليے ايسے ہى ہو جيسے موسي(ع) كےلئے ہارون(ع) مگر يہ كہ ميرے بعد كوئي پيغمبر نہيں ہوگا''_

حضرت على (ع) مدينہ لوٹ آئے اور رسول خد اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے مقصد كے لئے روانہ ہوگئے _(۴)

تپتا صحرا

سختيوں ميں گھرے ہوئے لشكر '' جيش العُسْرَہ'' كى كمان ۶۱ سالہ با ہمت و جرى رہبر يعنى رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہاتھ ميں تھى _دشمن تك پہنچنے كے لئے سپاہيوں كو ۷۷۸ ، كيلوميٹر كے گرم ريگستان كو عبور كرنا تھا _لشكر چل پڑا ، آفتاب آگ بر سارہا تھا _ شديد گرمى كا خطرہ دشمن سے كم نہ تھا_ ليكن لشكر اسلام بھى استقامت و مقاومت كا پيكر تھا _ صرف چند منافقين تخريب كارى اور اذيت رسانى كے ارادے سے ساتھ ہوگئے تھے_ يہ لوگ راستہ ميں خيانت آميز حركتيں اور زہر يلے پروپيگنڈے كررہے تھے_ لشكر اسلام كا گزر اصحاب '' حجر''(۵) كے علاقہ سے ہوا، اصحاب حجر كے ويران شہر ميں ايك كنواں تھا سپاہيوں نے كنويں سے پانى كھينچا اور ظروف بھر لئے _ جس وقت يہ لوگ اترے اور سپاہى آرام كرنے لگے تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ نہ كنويں كا پانى پينا اور نہ آٹا گوندھنا اور اگرآٹا گوندھ ليا ہے تو اس كو نہ


كھانا بلكہ چوپايوں كو ديدينا ''_

اسى طرح آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' آج رات كوئي لشكر گاہ سے باہر نہ نكلے'' اس رات لشكر گاہ سے كوئي باہر نہيں گيا سوائے دو افراد كے اور ان كے ساتھ ناگوار حادثات پيش آئے_

صبح سويرے لشكر اسلام رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس طلب آب كے لئے پہنچا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دعا فرمائي ، بارش ہوئي اور پانى گڑھوں ميں بھر گيا _ جان بازوں نے بارش كے پانى سے مشكيں بھر ليں _ ايك منافق نے كہا '' ايك گذر تا ہوا بادل تھا جو اتفاقاً برس گيا_(۶) ايك جگہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا اونٹ گم ہو گيا كچھ لوگ ڈھونڈھنے كے لئے نكلے منافقين ميں سے ايك شخص نے كہا كہ يہ كيسے پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہيں جو آسمانوں كى خبر ديتے ہيں ليكن يہ نہيں معلوم كہ ان كا اونٹ كہاں ہے _ يہ باتيں پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تك پہنچائي گئيں تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا'' خدا جو بتاديتا ہے ميں غيب كى وہى باتيں جانتا ہوں '' اسى وقت جبرئيل نازل ہوئے اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو اونٹ كى جگہ سے با خبر كيا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا ميرااونٹ فلان وادى ميں ہے اور اس كى مہار فلاں درخت ميں الجھ گئي ہے جاؤ اس كو پكڑ لاؤ''_(۷)

حضرت ابوذر كا واقعہ

چلتے چلتے راستہ ميںحضرت ابوذر كا اونٹ بيٹھ گيا انہوں نے بڑى كوشش كى كہ كسى طرح قافلہ تك پہنچ جائيں _ ليكن كامياب نہ ہو سكے _ چنانچہ اونٹ سے اتر پڑے _ سامان پيٹھ پر لادا اور پيدل ہى چل پڑے _ آفتاب شدت كى گرمى بر سارہا تھا _ابوذر پياس سے نڈھال چلے جارہے تھے _ اپنے آپ كو بھلا چكے تھے اور صرف لشكر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تك پہنچنے كے علاوہ كوئي مقصد نہ تھا_ پياس سے تپتے ہوئے جگر كے ساتھ پيدل ، پستيوں اور بلنديوں كو پيچھے


چھوڑتے ہوئے چلے جارہے تھے_ كہ دور سے آپ كى نگاہيں لشكراسلام پر پڑيں ، آپ نے اپنى رفتار بڑھادى اس طرف ايك سپاہى كى نظر ايك سياہى پر پڑى اس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض كى كہ '' كوئي شخص ہمارى طرف آرہا ہے ''_ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا '' اچھى بات ہے وہ ابوذر ہونگے '' آنے والى سياہى اور قريب ہو گئي ايك شخص نے چلّا كر كہا '' وہ ابوذر ہيں'' خدا كى قسم وہى ہيں '' آنحضرت نے فرمايا:

خدا ابوذر پر رحمت نازل كرے وہ اكيلے راستہ طے كرتے ہيں ، تنہا مريں گے اور تنہا اٹھائے جائيں گے _(۸)

لشكر اسلام تبوك ميں

لشكر اسلام نے اپنا سفر جارى ركھا اور تبوك پہنچ گيا _ ليكن روميوں كو اپنے سامنے نہيں پايا اس لئے كہ رومى ، لشكر اسلام كى كثرت سے واقف ہو چكے تھے اور لشكر اسلام كى شجا عت اور بلند حوصلوں كى اطلاع ان كو پہلے سے تھى _(۹) اس بنا پر انہوں نے جان بچانے ہى ميں عافيت سمجھى اور شمال كى طرف عقب نشينى اختيار كرلى _(۱۰)

تبوك ميں لشكر اسلام نے اپنا پڑاؤ ڈال ديا _ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے لشكر كے سامنے تقرير كى _(۱۱) مسلمان بيس دن تك تبوك ميں رہے_(۱۲) رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وہاں چند گروہوں كو اپنے زير اثر قبيلوں سے عہد و پيمان باندھنے كے لئے مختلف سرحدى علاقوں ميں روانہ فرمايا، سرحدى علاقوں ميں بسنے والے قبيلوں سے عہد و پيمان كے بعد جزيرة العرب كى سرحديں محفوظ ہوگئيں _


دومة الجندل كے بادشاہ كى گرفتاري

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سواروں كے ايك دستہ كو خالدبن وليد كى سربراہى ميں دومة الجندل روانہ كيا _ خالد اور اس كے سپاہيوں نے وہاں كے بادشاہ اُكيدر اور اس كے بھائي حسان پر جب وہ ايك وحشى گائے كا پيچھا كررہے تھے غفلت كے عالم ميں حملہ كرديا _ حسان ماراگيا اور اُكيدر گرفتار ہو گيا _ خالد نے اُكيدر كو گرفتار كرنے كے بعد دُومةُ الجندل كو فتح كيا اور مال غنيمت كے ساتھ واپس پلٹا _ اُكيد ر كو پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں پيش كيا گيا _ رسولخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے صلح كا معاہدہ كيا اور جزيہ ادا كرنا ضرورى قرار دے كر آزاد فرما ديا_(۱۳)

تبوك ميں شہر اَيْلَہ ، جہاں عيسائي آباد تھے ، كے رئيس يوحَنّا ابن رُوْبہَ نے دومة الجندل كے واقعات سننے كے بعد پيش قدمى كى اور پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں آكر اپنے آپ كو اور اپنے قبيلہ كو اسلام كى حمايت كے سايہ ميں پہنچا ديا _ وہاں يہ طے پايا كہ اہل اَيلہ سالانہ تين سو طلائي دينا ربعنوان جزيہ ادا كريںگے_(۱۴)

پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر حملہ كى سازش

مقام تبوك ميں بيس دن قيام كے بعد ، لشكر اسلام نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم كے بموجب واپسى كا ارادہ كيا _ منافقين نے ديكھا جنگ يا لشكر اسلام كے قتل اور زخمى ہونے كى نوبت ہى نہيں آئي تو انہوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے قتل كا منصوبہ بنايا كہ واپسى كے دوران گھاٹى ميں چھپ جائيں اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے اونٹ كو بھڑ كا ديں تا كہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اونٹ سے گر كر درّوں ميں لڑھك كر ختم ہو جائيں_

جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس گھاٹى پر پہنچے تو خدا نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو منافقين كے ارادوں سے آگاہ


كرديا_ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اصحاب سے فرمايا كہ وہ لوگ درّہ كے نيچے سے گزريں اورآنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خود گھاٹى كے اوپر روانہ ہوئے _ عمار ياسر سے فرمايا كہ اونٹ كى مہار كھينچتے ہوئے لے چليں اور حذيفہ بن يمان سے فرمايا كہ اونٹ كو پيچھے سے ہانكتے رہيں _ جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم گھاٹى كے اوپر پہنچے تو منافقين نے چاہا كہ حملہ شروع كريں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے غصّہ كے عالم ميں حذيفہ كو حكم ديا كہ ان كو بھگادو جب حذيفہ نے ان پر حملہ كيا تو منافقين رسوائي كے ڈرسے فوراً ہى بھاگ كھڑے ہوئے اور شب كى تاريكى ميں لشكر سے جاملے _ دوسرے دن صبح اُسيد ابن حضير نے پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ان لوگوں كو قتل كر ڈالنے كى اجازت مانگى ليكن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اجازت نہيں دى _(۱۵)

مسجد ضرار كو ويران كردو

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تبوك سے واپسى پر جب منزل ذى آوان پر پہنچے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وحى اور مندرجہ ذيل آيات كے نزول كے ذريعہ مسجد ضرار كے بانيوں كے منصوبہ سے باخبر ہوگئے قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے_

'' جن لوگوں نے ضرر پہنچانے ،كفر اختيا ركرنے ، مسلمانوں كے درميان تفرقہ ڈالنے اور ان لوگوں كے لئے مركز بنانے كے لئے جو اس سے پہلے خدا اورسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جنگ كرتے تھے _ مسجد بنائي ہے _ البتہ يہ لوگ قسم كھاتے ہيں كہ سوائے نيكى كے اور كچھ نہيں چاہتے اور خدا گواہى ديتا ہے كہ يہ لوگ جھوٹے ہيں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہرگز اس مسجد ميں نماز كے لئے نہ كھڑے ہوں _ وہ مسجد جو پہلے ہى دن سے اساس تقوى پر بنى ہے زيادہ بہتر ہے كہ آپ اس ميں كھڑے ہوں اس مسجد ميں وہ لوگ ہيں جو خود كو پاك و پاكيزہ ركھنے كو دوست ركھتے ہيں


اور خدا بھى مطہرين كو دوست ركھتا ہے ''_(۱۶)

ان آيات كے نزول كے بعد آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے چند مسلمانوں كو حكم ديا كہ '' جاؤ اور اس مسجد كو كہ جس كو ستم گروں نے بناياہے ، ويران كردو اور جلاڈالو ''رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم پر فوراً عمل ہوا اور مسجد كى چھت كو جو كھجور كى لكڑى سے بنائي گئي تھى آگ لگادى گئي ، منافقين بھاگ كھڑے ہوئے اور آگ بجھنے كے بعد مسجد كى ديواروں كو مليا ميٹ كرديا گيا _(۱۷)

اسلحہ فروخت نہ كرو

تبوك كے واقعہ كے بعد بہت سے جانبازوں نے يہ سمجھ كر كہ جہاد كا كام اب تما م ہوگيا اپنے اسلحہ كو بيچنا شروع كرديا _ دولت مند اسلحہ خريد نے لگے تا كہ اپنى قوت ميں اضافہ كريں جب يہ خبر پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو ملى تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس كام سے منع كيا اور فرمايا: '' ہمارى امت سے كچھ لوگ اسى طرح اپنے دين كا دفاع كرتے رہيں گے_ يہاں تك كہ دجال ظہور كرے''_(۱۸)

جنگ ميں دعا كى تاثير

تبوك كے واقعہ كے بعد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خدواند عالم كى بارگاہ ميں شكر ادا كيا اور فرمايا

'' خدايا اس سفر ميں جو اجر ملا اور جو كچھ پيش آيا ہم اس پر تيرى بارگاہ ميں شكريہ ادا كرتے ہيں اس اجر و پاداش ميں وہ لوگ بھى ہمارے شريك ہيں جو عذر شرعى كى وجہ سے يہاں رك گئے تھے'' حضرت عائشےہ نے كہا '' اے اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ لوگوں كو سفركى تكليفيں


اور سختياں جھيلنا پڑيں ايسے ميں جو لوگ گھروں ميں رہ گئے كيا وہ بھى آپ كے ساتھ شريك ہيں ؟ '' رسول خد اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا '' ہم نے جہاں كہيں بھى سفر كيا ، جہاں كہيںبھى خيمہ زن ہوئے، جو لوگ مدينہ ميں رہ گئے تھے وہ ہمارے ساتھ تھے _ ليكن چونكہ يہ لوگ بيمارتھے اس لئے عملى طور پر ہمارے ساتھ نہ آسكے ، قسم اس ذات كى جس كے قبضہ قدرت ميں ميرى جان ہے _ ان كى دعا ہمارے ہتھياروں سے زيادہ دشمن پر انداز ہوئي _(۱۹)

غزوہ تبوك سے ماخوذ نتائج

۱_غزوہ تبوك موجب بنا كہ تاريخ اسلام ميں پہلى بار مسلمانو۷ں ميں سے ہر وہ شخص جو اسلحہ اٹھانے پر قادر تھا ، ميدان ميں آجائے(۲۰) اس طرح كہ مومنين ميں سے كسى نے بھى اس حكم كو ماننے سے انكار نہيں كيا مگر تين آدميوں نے كہ جنكى توبہ خدا نے بعد ميں قبول كرلى در حقيقت اس لشكر كشى نے مسلمانوں كى جنگى صلاحيتوں كو آشكار كيا _

۲_ تبوك كى جنگى مشق ، لشكر اسلام كے مضبوط ارادے اور جسمانى و روحانى طاقت كا مظاہرہ تھى اس لئے كہ نہايت نظم و نسق كے ساتھ ، اس دور كے ابتدائي وسائل كے ذريعہ انتہائي دشوار گزار اور طولانى راستہ طے كرنا ، لشكر اسلام كے حوصلوں كى بلندى اور تجربہ كارى كا ثبوت ہے _

۳_ غزوہ تبوك ، اعراب كى نظر ميں مسلمانوں كى عسكرى و معنوى عظمت بڑھانے كا موجب بنا _وہ اعراب جوابھى شرك پر باقى تھے اس حقيقت كو سمجھ گئے كہ جو لشكر نہايت سختى برداشت كركے روميوں سے لڑنے كے لئے سينكڑوں ميل كى مسافت طے كرسكتا ہے تو وہ بڑى آسانى سے مشركين عرب كا بھى مقابلہ كر سكتا ہے اور اسى لئے ہم ديكھتے ہيں كہ تبوك


كے واقعہ كے بعد جزيرة العرب كے مختلف قبائل كى طرف سے مدينہ ميں وفود آنا شروع ہوگئے تا كہ اپنے قبيلہ كے مسلمان ہو جانے كا اعلان كريں اسى وجہ سے ہجرت كے نويں سال كو''و فود كا سال'' كہا جاتا ہے_

۴_ جزيرة العرب كى سرحدوں كا سرحدى قبائل سے معاہدہ كے بعد محفوظ ہو جانا _

۵_ منافقين كے مكروہ كردار كاپردہ فاش ہو جانا _ جو اس واقعہ ميں بے حد رسوا ہوئے_

۶_ غزوہ تبوك اس بات كا سبب بنا كہ مسلمان ،رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت كے بعد بڑى آسانى سے شام اور روم كے مختلف علاقوں كو آزاد كراليں _


سوالات

۱_ روم كى بڑى طاقت كے استكبارى لشكر سے لڑنے كے لئے كتنے مسلمان تيار ہوئے ؟

۲_رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے راستہ ميں حضرت ابوذر كے بارے ميں كيا فرمايا؟

۳_ مدينہ سے تبوك كا فاصلہ كتنے كلو ميٹر ہے اور رسول خد اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى عمرمبارك اس سال كتنى تھى ؟

۴_ منافقين نے يہ كيوں چاہا كہ على (ع) مدينہ ميں نہ رہيں؟

۵_ منافقين نے كن مقاصد كيلئے مسجد ضرار كو تعمير كيا تھا؟

۶_كونسى آيات مسجد ضرار كے بارے ميں نازل ہوئيں پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس مسجد كے بارے ميں كيا فرمان جارى كيا؟

۷_ غزوہ تبوك كے كيا نتائج رہے؟

۸_ پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو ختم كردينے كى سازش والا واقعہ كيا تھا؟


حوالہ جات

۱_ مغازى واقدى ج ۳ ص ۹۹۶_۱۰۰۲_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۶۲_

۲_مغازى واقدى ج ۳ ص ۹۹۵_

۳_امتاع الاستماع ج ۱ ص ۴۵۰_

۴_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۶۳ _ارشاد شيخ مفيد ص ۸۳_امتاع الاسماع مقر يرى ج ۱ ص ۴۵۰_ انساب الاشراف ج ۱ ص ۹۴_۹۶ _صحيح بخارى ج ۵ (كتاب المغازى باب تبوك) ص ۱۲۹ _ صحيح مسلم ج ۲ص۳۶۰ _مسند احمد ابن حنبل ج ۳ ص ۵۰ _مستدرك حاكم ج ۳ ص ۱۰۹ _ سنن ابن ماجہ ج ۱ ص ۴۲ _ الاستيعاب ج ۳ ص ۳۴ ، ۳۵ بر حاشيہ الاصابہ_

۵_''اصحاب حجر'' قوم ثمود كے معذب افراد تھے جنہوں نے ناقہ صالح كوپئے كرديا تھا اور خدا نے ان كو ان كے گناہ كے جرم ميں سخت عذاب ميں مبتلا كيا _ ان كا ويران شہر مدينہ اور دمشق كے درميان واقع ہے _ چونكہ ان لوگوں نے پہاڑ كے دامن ميں اپنے گھر بنائے تھے اس لئے اصحاب حجر كے نام سے پكارے گئے _ يہ علاقہ مدينہ منورہ سے ۳۴۴ كيلوميٹر كے فاصلہ پر واقع ہے_

۶_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۶۴_۱۶۶_ امتاع الاسماع ج ۱ ص ۴۵۶_

۷_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۶۶ _ امتاع الاسماع ج ۱ ص ۴۵۶_

۸_رَحمَ اللّهُ اَبَاذَر يَمْشى وَحْدَه وَ يَموُت وَحَده وَ يَبْعَث وَحْدَه _'' رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى يہ غيبى پيش گوئي پورى ہو كررہى كئي برس بعد جب عثمان نے ابوذر كو جلا وطن كيا تو وہاں آپ نے فقر ور نج كى بناء پر تنہائي اور غربت كے عالم ميں دم توڑا _ عبداللہ ابن مسعود نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے يہ بات خودسنى تھى آپ ان كے جنازہ پر پہنچے دوستوں كے ساتھ انكے دفن ميں شركت كى پھر وہيں آپ نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى اس بات كو ياد كيا اور روئے _ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۶۷ _

۹_ روميوں نے جنگ موتہ ميں لشكر اسلام كے بلند حوصلوں كو ديكھا تھا اور سپاہ اسلام كى فتوحات پر مشتمل خبريں سننے كے بعد انہوں نے يہ سمجھ ليا تھا كہ مسلمانوں سے روبرو ہوكر مقابلہ كى ان ميں طاقت نہيں ہے _

۱۰_ پيامبرو آئين نبرد جنرل مصطفى طلاس ص ۴۸۳ _

۱۱_پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى تقرير كامتن مغازى واقدى ج ۳ ص۱۰۱۵و ۱۰۱۶ پر موجود ہے _

۱۲_ ابن اسحاق كے قول كے مطابق ۱۰ سے ۱۵ دن تك _سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۷۰_

۱۳_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۶۹_مغازى واقدى ج ۳ ص ۱۰۲۵_

۱۴_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۶۹_ مغازى واقدى ج ۳ ص ۱۰۴۲_

۱۵_سيرت حلبى ج ۳ص ۱۴۳ _ مغازى واقدى ج ۳ ص ۱۰۴۳_

۱۶_( وَالَّذينَ اتَّخَذوُا مَسْجداً ضرَارَاً وَ كُفْرَاً وَ تَفْريقَاً بَيْنَ الْمُؤْمنيْنَ وَ ارْصَاداً لمَنْ حَارَبَ اللّهَ وَ رَسوُلَهُ منْ قَبْلُ و لَيَحْلفنَّ انْ اَرَدْنَا الاَ الْحُسْنى وَاللّه يَشْهَدُ اَنَّهُمْ لَكَاذبُونَ لاَ تَقُمْ فيه اَبَداً لَمَسْجدٌ اُسّسَ عَلَى الَّتَقْوى منْ اَوَّل يَوْم: اَحَقُّ اَنْ تَقُومَ فيه ، فيه رجَالٌ يُحبُّونَ اَنْ يَتَطَهرُوا وَ اللّهُ يُحبُّ الْمُطّهّريْنَ ) _(توبہ /۱۰۶و۱۰۷)_

۱۷_ سيرت حلبى ج ۳ ص ۱۴۴_ سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۷۴_ مغاز واقدى ج ۳ ص ۱۰۴۶_ امتاع الاسماع ج۱ ص ۴۸۰_ تفسير التاويل و حقائق التنزيل نسخہ خطي، واقعہ مسجد ضرار از ص ۴۷۳ تا ۴۷۵_

۱۸_ مغازى واقدى ج ۳ ص ۱۰۵۷،۱۰۵۶_

۱۹_ مغازى واقدى ج ۳ ص ۱۰۵۶ _ ۱۰۵۷_

۲۰_ عبداللہ بن ابّى اور ديگر ۸۳ منافقين كے علاوہ _


چودھواں سبق

منافقين كے سربراہ كى موت

مدينہ ميں مختلف قبائل كے نمائندہ و فود كى آمد

وہ دين جس ميں نماز نہيں اس كا كوئي فائدہ نہيں

ابراہيم كا سوگ

خرافات سے جنگ

مشركين سے بيزاري

حضرت على (ع) اہم مشن پر

مباہلہ

حضرت على (ع) كى يمن ميں ماموريت

سوالات


منافقين كے سربراہ كى موت

واقعہ تبوك كے بعد مسلمانوں كى كاميابيوں ميں سے ايك كاميابى منافقين كے فتنہ پرور سربراہ عبداللہ ابن ابى كى موت ہے وہ تھوڑ ے عرصہ تك بيمار رہ كر مر گيا اور اس طرح تحريك اسلامى كے ايك سخت ترين داخلى دشمن كا شر برطرف ہو گيا_(۱)

مدينہ ميں مختلف قبائل كے نمائندہ وفود كى آمد

فتح مكہ اور تبوك پر لشكر كشى كے بعد، ہر طرف سے مختلف قبائل كى نمائندگى كرنے والے وفود مدينہ ميں آئے _ چنانچہ اسى لئے سنہ ۹ ھ كو'' عام الوفود'' ( وفود كا سال) كہا جاتا ہے _ اعراب اس بات كے منتظر تھے كہ اسلام اور قبيلہ قريش كى باہمى چپقلش كا كيا نتيجہ نكلتا ہے ؟ اس لئے كہ قريش عرب كے پيشوا اور خانہ كعبہ كے متولى تھے_ جب مكہ فتح ہو گيا اور قريش مغلوب ہوگئے تو دوسرے عرب قبائل يہ سمجھ گئے كہ ان ميں اسلام سے مقابلہ كى طاقت نہيں ہے _ غزوہ تبوك سے يہ حقيقت اور زيادہ روشن ہوگئي تھى _ لہذا ناچار گروہ در گروہ دين خدا ميں داخل ہونے لگے_


وہ دين جس ميں نماز نہيں اس كا كوئي فائدہ نہيں

عرب كے سخت ترين قبيلہ ، ثقيف كى جانب سے چھ سركردہ افراد پر مشتمل ايك وفداسلام قبول كرنے كے بارے ميں مذاكرہ كرنے كے لئے مدينہ آيا اور مغيرہ ابن شعبة ثقفى كے گھر ٹھہرا ، پذيرائي كا سامان رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے گھر سے مغيرہ كے گھر بھيجا گيا انہوں نے اسلام قبول كرنے كے سلسلے ميں كچھ تجويزيں ركھيں منجملہ ان كے ايك يہ تھى كہ ''لات'' كے بتخانہ كو تين سال تك ويران نہ كريں_ دوسرے يہ كہ ان سے نماز معاف ہوجائے ، جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كى تجويزوں كو قبول نہيں كيا تو وہ ترك نماز پر اصرار كرنے لگے _ آنحضرت(ع) نے فرمايا '' جس دين ميں نماز نہيں اس كا كوئي فائدہ نہيں''_ آخر كار انہوں نے اسلام قبول كيا اور نماز پڑھنے اور شرعى احكام پر عمل كرنے كے لئے آمادہ ہوگئے_(۲)

ابراہيم كا سوگ

پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى بيوى ماريہ قبطيہ(۳) سے ايك بيٹا پيدا ہوا _ ولادت كى صبح پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے اصحاب كو يہ خوش خبرى سنائي كہ كل رات خدا نے مجھے بيٹا عطا كيا ہے جس كا نام ميں نے اپنے جد ا،براہيم (ع) كے نام پر ابراہيم (ع) ہى ركھاہے _ ولادت كے ساتويں دن آپ(ع) نے عقيقہ ميں ايك گوسفند ذبح كيا اورمولود كے سر كے بال تراش كر اس كے برابر چاندى مسكينوں ميں صدقہ كے طور پر تقسيم كي_ پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى دوسرى بيويوں نے جب يہ ديكھا كہ ماريہ كے ذريعہ پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صاحب اولاد ہوگئے ہيں تو ان كو ماريہ پررشك ہوا_(۴)

۱۸/ مہينہ كے بعد پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا اكلوتا بيٹا بيمار پڑا اور انتقال كر گيا _پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس كے انتقال سے غم و اندوہ ميںمبتلا ہوئے_


خرافات سے جنگ

جس دن ابراہيم كا انتقال ہوا اس دن آفتاب كو گہن لگا _ لوگوںنے يہ سوچا كہ پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بيٹے كے غم ميں آفتاب كو گہن لگا ہے _ پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نہيں چاہتے تھے كہ لوگ خرافات كى طر ف مائل ہوں اس لئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم منبر پر تشريف لے گئے اور فرمايا '' آفتاب و ماہتاب قدرت كى نشانى ہيں وہ سنت الہى كے مطابق خاص راستے پر گردش كرتے ہيں اور انہيں ہرگز كسى كى ولادت ياموت پر گہن نہيں لگتا ، سورج گہن كے موقع پر تمہارا فريضہ يہ ہے كہ تم نماز پڑھو_(۵)

مشركين سے بيزاري

۱۰/ذى الحجہ ۹ ھ بمطابق ۲۲ مارچ ۶۳۱ ئ

حج كا زمانہ آگيا _ ابھى تك مشركين حج كے مراسم ميں گذشتہ لوگوں كے طريقہ كے مطابق شركت كرتے تھے_اس سال مشركين سے بيزارى ( سورہ برائت)(۶) والى آيتيں نازل ہوئيں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابتدا ميں ابوبكر كو امير الحاج كے عنوان سے مكہ روانہ كيا اور حكم ديا كہ ان آيات كو لوگوں كے مجمع ميں پڑھيں_ابوبكر اور ديگر مسلمان حج كے لئے مكہ كى طرف جادہ پيما ہوئے _

حضرت على (ع) اہم مشن پر

ابھى تھوڑى دير نہ گزرى تھى كہ جبرئيل نازل ہوئے اور خدا كى طرف سے پيغام لے كر آئے كہ '' مشركين سے بيزارى والے پيغام كو يا آپ خود پہنچا ئيں يا وہ شخص پہنچائے جو


آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے اہل بيت (ع) سے ہو'' رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنى اونٹنى ''' ناقہ عضبائ'' كو على (ع) كے حوالہ كيا اور فرمايا ابوبكر سے جا كر وہ آيتيں لے لو جو مشركين سے بيزارى و برائت كے سلسلہ ميں نازل ہوئي ہيں اور زائرين خانہ خدا كے مجمع ميں خود پڑھو_ بروايت شيخ مفيد ،ابوبكر نے آيا ت كو على (ع) كے حوالہ كيا اور مدينہ لوٹ آئے _(۷) اور پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى بارگاہ ميں پہنچ كر كہا '' كيا ميرے بارے ميں وحى نازل ہوئي ہے ؟'' رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے نہايت اطمينان سے فرمايا'' جبرئيل (ع) تشريف لائے اور خدا كا پيغام پہنچايا كہ اس كام كو ميرے يا ميرے اہل بيت كے فرد كے علاوہ كوئي دوسرا انجام نہيں دے سكتا _(۸)

حضرت على (ع) حج كے دوران مجمع كے درميان كھڑے ہوئے اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے فرمان كے مطابق اعلان كيا كہ '' اے لوگو كوئي كافربہشت ميں نہيں جائے گا اور اس سال كے بعد كسى مشرك كو حج نہيں كرنے ديا جائے گا اور نہ ہى كعبہ كا برہنہ طواف كرنے كى اجازت ہوگى _ جس كى رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے كوئي قرار داديا معاہدہ ہے تو وہ معاہدہ اپنى مدت تك باقى ہے اور دوسروں كو بھى آج سے چارمہينے كى مہلت ہے كہ ہر گروہ اپنے مسكن اور اپنى سرزمين كو پلٹ جائے _ چار مہينے كے بعد كسى بھى مشرك كے لئے كوئي عہد و پيمان نہيں رہ جائے گا مگر ان لوگوں كے لئے جنہوں نے خدا اور اس كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ايك مدت تك كے لئے عہد و پيمان كيا ہے _ اس سال كے بعد مشركين نہ حج بجالائيں گے اور نہ كعبہ كے گرد برہنہ طواف كريں گے _(۹)


مباہلہ

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دنيا كے سر كردہ افراد كو خط لكھنے كے بعد ايك خط اسقف ''نجران'' (مكہ كے جنوب مشرق ميں ۹۱۰ كيلوميٹر كے فاصلہ پر ايك شہر ہے )كو لكھا اور اس ديار كے عيسائيوں كو اسلام كى دعوت دى _

خط ميں كہا گيا تھا كہ اگر اسلام قبول نہيں كرتے تو جزيہ دو تا كہ تمہيں اسلامى حكومت كى حمايت حاصل ہوجائے يا پھر جنگ كے لئے تيار ہوجاؤ_اسقف نے حضرت عيسى (ع) كے بعد ايك پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ظہور كى بشارت آسمانى كتابوں ميں پڑھ ركھى تھى اس لئے اس نے اپنے نمائندوں كو مدينہ بھيجنے كا ارادہ كيا _عيسائيوں كا ايك عالى مرتبہ وفد مذاكرہ اور اسلام كے مسائل كے بارے ميں تحقيق كے لئے مدينہ پہنچا اور يہاں پہنچنے كے بعد انہوں نے مكمل آزادى كے ساتھ اپنے مذہبى مراسم مسجد مدينہ ميں انجام ديئے_ اس كے بعد حضرت عيسى (ع) كے بارے ميں ايك تفصيلى بحث شروع ہوئي _ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت عيسى (ع) كے بارے ميں فرمايا'' وہ خدا كى مخلوق اور اس كے بندے ہيں جن كو خدا نے مريم كے رحم ميں ركھا_(۱۰)

عيسائي نمائندے كہہ رہے تھے كہ '' عيسى (ع) خدا كے بيٹے ہيں اس لئے كہ مريم نے بغير كسى مرد كى قربت كے ان كو جنا ہے _ جواب ميں آيت نازل ہوئي اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس كو پيش كيا كہ عيسى (ع) كى خلقت آدم (ع) كى تخليق كى طرح ہے خدا نے ان كو خاك سے پيدا كيا _(۱۱) يعنى اگر باپ كا نہ ہونا خدا كا بيٹا ہونے كى دليل ہے تو آدم كا نہ باپ تھا اور نہ ماں لہذا وہ خدا كا بيٹا ہونے كے زيادہ سزاوار ہيں_

مذاكرات اور بحثيں جارى رہيں ، عيسائي مذہبى نمائندے پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى منطق كے سامنے خاموش ہوگئے ، ليكن ان كا بے جا تعصب حقيقت و ايمان كو ماننے سے ركاوٹ بنا رہا_


فرشتہ وحى نازل ہوا اور پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو حكم ملا كہ ان لوگوں كو مباہلہ كے لئے بلائيں_

يعنى دونوں گروہ صحرا ميں جائيں اور ايك معين وقت پر خدا كى بارگاہ ميں دعا كريں اور جھوٹے پر لعنت بھيجيں_(۱۲)

مباہلہ كے بارے ميں علامہ طباطبائي مرحوم فرماتے ہيں كہ '' مباہلہ''، اسلام كے زندہ معجزات ميں سے ہے ، ہر با ايمان شخص اسلام كے پہلے پيشوا كى پيروى ميں حقائق اسلام ميں سے كسى حقيقت كے اثبات كے لئے مخالف سے مباہلہ كر سكتا ہے اور خداوند عالم سے درخواست كر سكتا ہے كہ مخالف كو كيفر كردار تك پہنچائے اور شكست دے ''(۱۳)

مباہلہ كا وقت قريب آيا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسلمانوں اور اپنے وابستگان كے درميان سے صرف چار افراد كا انتخاب كيا جو اس تاريخى واقعہ ميں شريك ہوئے اور وہ ہيں حضرت على (ع) پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى باعظمت بيٹى فاطمہ زہراء سلام اللہ عليہا اور حسن و حسين (ع) اس لئے كہ تمام مسلمانوں كے درميان ان چار افراد سے زيادہ پاكيزہ اور با ايمان انسان موجود نہ تھے_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے ساتھ جانے والوں سے كہا كہ جب ہم وہاں پہنچيں تو ہمارى دعا پر آمين كہنا_

پھر بے مثال معنوى شان و شوكت كے ساتھ ، آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حسين(ع) كو گود ميں لئے حسن (ع) كا ہاتھ پكڑے اور فاطمہ (ع) و على (ع) ان كے پيچھے اس مقام كى طرف چلے جہاں مباہلہ ہونا قرار پايا تھا_ جب عيسائيوں كى منتظر نگاہيں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان كے ساتھ آنے والے نورانى اور ملكوتى چہروں پر پڑيں تواسقف اعظم نے كہا _'' ميں ايسے ديكھ رہاہوں كہ اگر يہ شخصيات بارگاہ الہى ميں دعاكريں تو بيابان ديكھتے ديكھتے جہنم ميں بدل جائے اور عذاب كى چادر سرزمين نجران كو اپنے دامن ميں لپيٹ لے_اس بات كا خطرہ ہے كہ تمام عيسائي ختم


ہوجائيں''(۱۴)

آخر كا وہ جزيہ دينے پر تيار ہوگئے اور طے پايا كہ ہر سال دو ہزار حلے اور تيس آہنى زرہيں بطور جزيہ ديا كريں گے _(۱۵)

حضرت على (ع) كى يمن ميں ماموريت

جب يمن كے فرماں روا اور كچھ لوگ اسلام كے گرويدہ ہوگئے تو رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ايك دانش مند صحابى معاذبن جبل كو قرآن كى تعليم اور تبليغ اسلام كے لئے اس علاقہ ميں بھيجا _وہ كچھ دنوں كے بعد لوٹ آئے_ پھر چند دنوں كے بعد پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خالد ابن وليد كو روانہ كيا _ خالد اپنى خشونت اور سلوك كى بنا پر لوگوں كے دلوں ميں ايمان كى لونہ بڑھا سكے_

اس وجہ سے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت على عليہ السلام كو حكم ديا كہ يمن جا كر اس علاقہ كے لوگوں كو اسلام كى دعوت ديں ،احكام دين سكھائيں اور واپسى پر نجران كے لوگوں سے جزيہ وصول كرتے ہوئے آئيں_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم كے مطابق حضرت على عليہ السلام چند مسلمانوں كے ساتھ يمن كى طرف روانہ ہو گئے _وہاں آپ(ع) نے حيرت انگيز فيصلوں اور پر زور تقريروںسے شيفتگان حق كو اسلام كى طرف مائل كيا _قبيلہ ہمدان كے درميان آپ كى صرف ايك تقرير اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے خط كے پڑھنے سے اس قبيلہ كے لئے وہ مثل ثابت ہو گئي كہ '' دل سے جو بات نكلتى ہے اثر كرتى ہے'' اور اس طرح ايك دن سے بھى كم مدت ميں يہ عظيم قبيلہ حلقہ بگوش اسلام ہو گيا _(۱۶) قبيلہ ہمدان كے مسلمان ہو جانے سے پورے يمن ميں اسلام كى اشاعت پر بہت اچھا اثر پڑا_


سوالات

۱_مشركين سے بيزارى والى آيات كو كس نے لوگوں كے سامنے پڑھا؟

۲_ مباہلہ كيا ہے؟

۳_ مباہلہ ميں شركت كے لئے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے على (ع) ، فاطمہ (ع) ، اور حسن (ع) و حسين (ع) ہى كو كيوں منتخب فرمايا؟

۴_ نجران كے عيسائيوں نے آخر ميں كيا كيا؟

۵_ حضرت علي(ع) نے يمن ميں اپنى ذمہ دارى كو كيسے ادا كيا؟


حوالہ جات

۱_مغازى واقدى ج ۳ ص ۱۰۵۷_

۲_ مغازى واقدى ج ۳ ص ۹۶۵_سيرت النبويہ ابن كثير ج ۴ ص ۵۶_

۳_ماريہ قبطيہ ايك كنيز تھيں جنكو '' مقوقس'' بادشاہ مصر نے پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو ہديہ ديا تھا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے نكاح كرليا تھا_

۴_طبقات ابن سعد ج ۱ ص ۱۳۴، ۱۳۵_

۵_ فروغ ابديت ج ۲ ص ۸۰۳_محاسن ص ۳۱۳ _ سيرت حلبى ج ۳ ص ۳۱۰_۳۱۱_

۶_ سورہ توبہ كى آيت اسے ۵ تك _البتہ بعض افراد بعد كى آيا ت كو بھى اس كا جزء سمجھتے ہيں _

۷_ چونكہ اہل سنت نے انكے پلٹ آنے كو اہانت سمجھا اس لئے انكى كتابوں ميں يہ نقل بہت عام ہے كہ ابوبكر اپنى امارت پر باقى رہے اور مكہ چلے گئے ليكن على (ع) نے آيات برائت كو مشركين كے سامنے پڑھا _ملاحظہ فرمائيں تفسير ابن كثير ج ۲ ص ۳۳۳ _ مسند احمد بن حنبل ج ۲ ص ۳۳۲ _ مجمع الزوائد ج ۷ ص ۲۹ _ الدر المنثور ج ۳ ص ۲۰۹ _ ليكن نسائي و طبرى لكھتے ہيں كہ ابوبكر پريشانى كے ساتھ مدينہ پلٹے _رجوع كريں خصائص ص ۲۰ تفسير طبرى ج ۱۰ ص ۴۶_

۸_ بحار الانوار ج ۲۱ ص ۲۷۵_

۹_سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۱۹۰ _ امتاع الاسماع ج ۱ ص ۴۹۸ _ مجمع البيان ج ۵ ص ۳ _تفسير تبيان ج ۵ ص۱۹۸_

۱۰_( انَّمَا الْمَسيْحُ عيْسَى بْنَ مَرْيَمَ رَسُولُ اللّه وَ كَلمَتُهُ اَلْقى ها مَرْيَمَ وَ روُحٌ منْهُ ) (نسائ/۱۷۱)_

۱۱_( انَّ مَثَلَ عيسَى عنَْدَ اللّه كَمَثَل آدَمَ خَلَقَهُ منْ تُرَاب: ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُون ) (آل عمران/۵۹)_

۱۲_( فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَائَنَا وَ اَبْنَائَكُمْ وَ نسَائَنَا وَ نسَائَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهلْ فَنَجْعَلْ )


( لَعْنَةَ اللّه عَلَى الْكَاذبينَ ) (آل عمران/۶۱) بحار الانوار ج ۲۱/ص ۳۴۰ و۳۵۳_تفسير الميزان ج ۳ ص ۲۲۸_

۱۳_فروغ ابديت ج ۲ ص ۸۲۱ _

۱۴_سيرت نبويہ بر حاشيہ سيرت حلبى ج ۳ ص ۴_

۱۵_ آيت مباہلہ، اہل بيت (ع) كى شان ميں نازل ہونے كے سلسلہ ميں اہل سنت كى كتابوں ميں بہت سى اسناد موجود ہيں _ ملاحظہ ہو _ صحيح مسلم ج ۷ ص ۱۲۰_ سنن ترمذى ج ۴ ص ۲۹۳ _ مسند احمد ج ۱ ص ۱۸۵ _ تفسير طبرى آيہ مباہلہ كے ذيل ميں _ احكام القران جصاص ج ۲ ص ۱۴_مستدرك حاكم ج ۳ ص ۱۵۰_معرفتہ علوم الحديث حاكم ص ۵۰_ دلائل النبوة ابى نعيم ص ۲۹۷ _ مصابيح السنة ج ۲ ص ۳۰۴_معالم التنزيل ج ۱ ص ۳۰۲بر حاشيہ المخازن _اسباب النزول واحدى ص ۷۵_ الكشاف زمخشرى ج ۱ ص ۳۶۸ _عمدہ بطريق ص ۹۵_تفسير كبير فخر رازى ج ۸ص ۸۵_جامع الاصول ابن اثير ج ۹ ص ۴۷۰_الشفا قاضى عياض ج ۲ ص ۳۶_مناقب خوارزمى ص ۹۶_كامل ابن اثير ج ۲ ص ۲۰۰_ذخائر العقبى محب الدين طبرى ص ۲۵ _ انوار التنزيل بيضاوى ص ۷۴_ كفاية الطالب ص ۵۵_مطالب السئول ص ۷_ تذكرة الخواص سبط ابن جوزى ص ۸_تفسير قرطبى ج ۴ ص ۱۰۴_سيرت احمد زينى دحلان سيرت الحلبيہ كے حاشيہ پر ج ۳ ص ۵ _ تفسير كشف الاسرار و عدة الابرار ج ۲ ص ۱۴۷_

۱۶_بحار الانوار ج ۲۱ ص ۳۶۰ _ ۳۶۳كامل ابن اثير ج ۲ ص ۳۰۵_


پندرھواں سبق

حجة الوداع

جہان عدالت باعث عداوت ہے

حجة الوداع كے موقعہ پر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى پرجوش تقرير

غدير خم

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى تقرير كا ترجمہ

سوالات


حجة الوداع

روانگى كى تاريخ : ۲۵ ذى القعدہ ۱۰ ھ بمطابق ۲۶ فرورى ۶۳۱ ء بروز ہفتہ

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم سے اعلان كيا گيا كہ اس سال رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حج بيت اللہ كيلئے مكہ تشريف لے جائيں گے _ اس خبر نے لوگوں كے اشتياق كو بھڑ كا ديا اور ہزاروں مسلمان آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ چلنے كے لئے تيار ہوگئے_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابودجانہ كو مدينہ ميں اپنا جانشين معين فرمايا اور ساٹھ قربانى كے جانور لے كر ۲۵/ ذى القعدہ كو حج ادا كرنے كے لئے تمام ہمراہيوں كے ساتھ مكہ كى طرف روانہ ہوگئے_(۱)

اس سفر ميں پيغمبر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى بيوياں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ تھيں جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدينہ سے ۹ كيلوميٹر جنوب ميں مقام ذوالحليفہ پر پہنچے تو آپ نے لباس احرام پہنا اور '' لَبَّيْكَ اَللَّہُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لاَ شَريْكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، انَّ الْحَمْدَ وَ الْنّعْمَةَ لَكَ وَ الْمُلْكَ ، لاَ شَريكَ لَكَ '' كى آواز بلند كى _ روانگى كے دس دن بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مكہ پہنچ گئے مسجد الحرام ميں وارد ہوئے، كعبہ كا طواف كيا ، حجر اسود كو بوسہ ديا اور مقام ابراہيم (ع) پر دو ركعت نماز پڑھى ، پھر صفا و مروہ كے درميان سعى فرمائي _


جہان عدالت باعث عداوت ہے

علىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم يمن ميں تبليغ اسلام ميں مشغول تھے كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے سفر حج سے آگاہ ہوئے تو اپنے ماتحت افراد كے ساتھ مكہ كى طرف روانہ ہو گئے آدھے راستہ ميں ہمراہيوں كى كمان ايك افسر كے سپرد كى اور تيزى سے پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس مكہ پہنچے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں اپنى كارگزارى كى رپورٹ پيش كى _جب يمن كى طرف سے آنيوالاكاروان مكّہ سے نزديك ہوا تو على (ع) ان كے استقبال كے لئے بڑھے ليكن اميد كے برخلاف آپ نے ديكھا كہ انہوں نے بيت المال كے كپڑوں اور چادروں كو جو نجرانيوں نے جزيہ كے طور پر ديئے تھے، اپنے درميان تقسيم اور لباس احرام بنا كر پہن ليا ہے _ حضرت علي(ع) اس ناشائستہ حركت پر اپنے ماتحت افسر پر سخت ناراض ہوئے اور اس سے كہا '' تم نے كپڑوں كو كيوں تقسم كيا؟

اس نے جواب ميں كہا كہ '' جانبازوں نے اس بات پر اصرار كيا كہ ميں كپڑوں كو امانت كے طور پر انہيں ديدوں اور حج كے مراسم ادا كرنے كے بعد ان سے واپس لے لوں''_ عليصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' تم كو يہ اختيار نہيں تھا'' پھر آپ(ع) نے تمام كپڑے واپس لے لئے اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى تحويل ميں دينے كے لئے تہہ كر كے ركھ دئے_ايك گروہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں پہنچا اور عليصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى سخت گيرى كى شكايت كى ،رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ناراض ہونے والوں سے كہا كہ ''على (ع) پر تنقيد نہ كرو وہ خدا كا حكم جارى كرنے ميں قاطع اور سخت گير ہيں_(۲)

حجة الوداع كے موقعہ پررسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى پر جوش تقرير

پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حج كے دوران عرفہ كے دن نماز سے پہلے خطبہ پڑھا اور اس كے دوسرے دن منى ميں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى تقرير كچھ اس طرح كى تھي(۳)


خداوند عالم اس بندہ كے چہرہ كو منور اور شاداب ركھے جو مير ى بات كو سنے ، ياد ركھے، محفوظ كرے اور پھر ان لوگوں تك پہنچائے جنہوں نے نہيں سنى ، بہت سے فقہ كے حامل ايسے ہيں جو خود فقيہ نہيں ہيں اور بہت سے فقہ كے پہنچانے والے ايسے ہيں كہ جو ايسے شخص تك پہنچا تے ہيں جو ان سے زيادہ عقلمند ہيں _ تين چيزيں ايسى ہيں كہ جن سے مرد مسلمان كا دل خيانت نہيں كرتا ، عمل كو خالص خدا كے لئے انجام دينا ، رہبروں كے لئے بھلائي چاہنا ، يك رنگى اختياركرنا اور مومنين كى جماعت سے جدا نہ ہونا اس لئے كہ ان كى دعا ہر ايك كو گھيرے رہتى ہے ''_

پھر فرمايا_'' اے لوگوں تم شايد اب اس كے بعد مجھے نہ ديكھو آيا تم جانتے ہو كہ يہ كون سا شہر ، كو ن سا مہينہ اور كون سا دن ہے؟''

لوگوں نے كہا '' ہاں يہ حرمت كا شہر ، حرمت كا مہينہ اور حرمت كا دن ہے ''_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا'' خدا نے تمہارے خون تمہارے مال كى حرمت كو اس شہر ، اس مہينہ اور اس دن كى حرمت كى طرح قرار ديا ہے _ كيا ميں نے (پيغام) پہنچا ديا ''_ مجمع نے كہا ''ہاں'' آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا '' خدا يا تو گواہ رہنا''_

پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ارشاد فرمايا'' خدا سے ڈرتے رہو اور كم نہ تولو ، زمين ميںتباہى نہ پھيلاو اور ہر وہ شخص جس كے پاس كوئي امانت ہو وہ اسے (اس كے مالك تك) پہنچائے، اسلام ميں سب لوگ برابر ہيں اس لئے كہ سب آدم (ع) و حوا كى اولاد ہيں _ عربى كو عجمى پر اور عجمى كو عربى پرسوائے پرہيزگارى كے اور كوئي برترى حاصل نہيں'' كيا ميں نے (پيغام) پہنچا ديا؟ لوگوں نے كہا'' ہاں'' آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا'' خدايا گواہ رہنا''_

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا '' اپنے نسب كو ميرے پاس نہ لانا بلكہ اپنے عمل كو ميرے پاس لانا


، جو ميں لوگوں سے كہتا ہوں تم بھى يہى كہو ، كيا ميں نے (پيغام)پہنچا ديا ؟ لوگوں نے كہا ''ہاں'' فرمايا '' خدايا تو گواہ رہنا''_

پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا وہ خون جو جاہليت ميں بہايا گيا ہے ميرے پير كے نيچے ہے (يعنى اس كى كوئي حيثيت نہيں) اور پہلا خون جس كو ميں اپنے پير كے نيچے قرار ديتا ہوں وہ آدم ابن ربيعہ ابن حارث(۴) (رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے وابستگان ميں سے ايك شير خوار بچہ جسے بنى سعد بن بكر نے مارڈالا تھا) كا خون ہے_كيا ميں نے (پيغام)پہنچا ديا؟ لوگوں نے كہا'' جى ہاں'' فرمايا'' خدايا گواہ رہنا''_

پھر فرمانے لگے'' ہر وہ سودجو جاہليت كے زمانہ ميں تھا ميرے پيروں كے نيچے ہے پہلاسود جو ميں اپنے پيروں كے نيچے ركھتا ہوں وہ عباس ابن عبدالمطلب كا رہا ہے '' كيا ميں نے (پيغام) پہنچا ديا؟ '' مجمع نے كہا'' ہاں'' فرمايا خدا يا تو گواہ رہنا _ پھر فرمايا بے شك ماہ حرام ميں تاخير، كفر ميں زيادتى كا باعث ہے اور كافرين اس سے گمراہ ہوں گے (كيونكہ وہ ) ايك سال كو حلال اور ايك سال كو(اپنے فائدہ كيلئے) حرام شمار كرتے ہيں تا كہ جس مہينہ كو خدا نے حرام كيا ہے اپنے مفاد كے موافق بناليں_ آگاہ ہو جاؤ كہ زمانہ ،گزشتہ صورتحال كى طرف پلٹ گيا ہے كہ جس دن خدا نے آسمان اور زمينوں كو پيدا كيا ، بيشك خداوند عالم كے نزديك اس كى كتاب ميں بارہ مہينے ہيں ان ميں سے چار مہينے حرمت كے ہيں _'' رجب ''جو كہ جمادى او ر شعبان كے درميان ہے اوراس كو '' رجب مضر'' كہتے ہيں اور پھر پے در پے تين مہينے ذى القعدہ ، ذى الحجة اور محرم ہيں''بتاؤ ميں نے تمہيں خبردار كرديا؟ لوگوں نے جواب ديا؟ '' ہاں'' آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا '' خدايا توگواہ رہنا''_ پھر فرمايا ميں تم كو عورتوں كے ساتھ نيكى كرنے كيلئے كہتا ہوں اس لئے كہ ان كو تمہارے سپر د كيا گيا ہے وہ


اپنے امر ميں سے كوئي چيز اپنے ہاتھ ميں نہيں ركھتيں تم نے انہيں خدا سے بطور امانت ليا ہے_ خدا كے حكم كے مطابق تم نے ان سے قربت كى ہے تمھارا ان پر كچھ حق ہے ، ان كى معمول و رائج غذا اور لباس تم پر لازم ہے اور تمھارا حق ان پر يہ ہے كہ كسى كا پير تمہارے بستر تك نہ پہنچنے ديں _تمہارى اطلاع اور اجازت كے بغير تمہارے گھروں ميںكسى كو داخل نہ ہونے ديں _ پس اگر ان ميں سے كوئي چيز انجام نہ ديں تو ان كى خواب گاہ سے دورى اختيار كرواور نہايت نرمى سے تنبيہ كرو_

كيا ميں نے تبليغ كردي؟ ''لوگوں نے كہا ''ہاں'' حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا ''خدا يا گوہ رہنا''_ پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم گويا ہوئے '' اب ميں تم سے غلاموں كے بارے ميں كچھ كہتا ہوں جو كھانا تم كھاتے ہو وہى ان كو بھى كھلاؤ، جو تم پيتے ہو وہى ان كو بھى پلاؤ ،اگر يہ خطا كريں تو سزا كو معاف كردينا _ كيا ميں نے تبليغ كردي؟ '' سب لوگ بولے ''ہاں'' حضرت نے فرمايا'' خدايا تو گواہ رہنا'' پھر فرمانے لگے _'' مسلمان، مسلمان كا بھائي ہے ، ان كے ساتھ حيلہ اور خيانت نہ كرو، ان كى پيٹھ پيچھے بد گوئي نہ كرو نہ ان كا خون حلال ہے اور نہ مال، مگر ان كى رضايت سے ، كيا ميں نے تبليغ كردي؟ '' لوگوں نے كہا ہاں_ فرمايا ''خدا يا تو گواہ رہنا''_

پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے كہا '' شيطان آج كے بعد اس بات سے نا اميد ہو گيا كہ ا س كى پرستش ہوگى _ليكن پرستش كے علاوہ جن كاموں كو تم چھوٹا سمجھتے ہو ان پر عمل ہوگا اور وہ (شيطان) اسى پر راضى اور خوش ہے _ كيا ميں نے بتاديا؟ لوگوں نے كہا ہاں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا '' خدا يا گواہ رہنا'' پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا ''دشمن خدا ميں سب سے زيادہ گستاخ وہ ہے جو اپنے قتل كرنے والے كے علاوہ كسى كو قتل كرے اور اپنے مارنے والے كے علاوہ كسى كو مارے _ جو اپنے آقا كى نافرمانى كرے اس نے اس چيز كا انكار كرديا جو خدا نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نازل كى ہے اور جو


كوئي اپنے باپ كے علاوہ كسى اور كى طرف اپنى نسبت دے اس پر خدا ، فرشتوں اور تمام لوگوں كى لعنت ہے _ كيا ميں نے بتاديا ؟ مجمع بولا '' ہاں'' فرمايا'' خدايا گواہ رہنا'' _پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ارشاد فرمايا '' ميں مامور ہوں كہ جہاد كروں تا كہ لوگ خدا كى يكتائي اور ميرى رسالت كے معتقد ہوجائيں _ جب اس كا اقرار كرليں گے توگوياانہوںنے ا پنے مال اور خون كو محفوظ كرليا سوائے ان حقوق كے جو انكى گردنوں پر ثابت ہيں اور ان كا حساب خدا پر ہے ''كيا ميں نے بتاديا؟ '' لوگوں كے كہا '' ہاں'' فرمايا '' خدايا گواہ رہنا'' _پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہيں ايسا نہ ہو كہ ميرے بعد تم گمراہ كرنے والے كافر ہو جاؤ كہ تم ميں سے بعض ، بعض كى گردنوں كے مالك (مالك الرقاب) ہو جائيں_ ميں تمہارے درميان ايسى چيز چھوڑے جارہاہوں كہ اگر تم اس سے متمسك رہے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے _

كتاب خدا اور ميرى عترت و خاندان _(۵) كيا ميں نے تبليغ كردى لوگوں نے كہا _ ''بے شك'' فرمايا'' خدايا گواہ رہنا''_ اس كے بعد فرمايا _ البتہ تم سے سوال ہو گا لہذا تم ميں جو حاضر ہے وہ غائب تك ( يہ پيغامات) پہنچادے_(۶)

غدير خم

۱۸ /ذى الحجہ ۱۰ ھ بمطابق ۱۹ مار چ ۶۳۱ء بروز اتوار

اتوار ۱۸ ذى الحجہ كو جب پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حجفہ سے غدير خم كے پاس پہنچے تو امين وحى حضرت جبرئيل ،خدا كى جانب سے يہ پيغام لائے كہ '' اے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كى طرف سے جو پيغام آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نازل كيا گيا ہے وہ لوگوں تك پہنچاديں ، اور اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے نہيں پہنچا يا تو رسالت كومكمل نہيں كيا _ خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو لوگوں سے بچائے گابے شك خدا كافروں كو ہدايت نہيں كرتا_(۷)


اس طرح خدا كى جانب سے پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو حكم ديا گيا كہ لوگوں كے درمياں كھلم كھلا حضرت على (ع) كا تعارف كروائيں اور انكى ولايت و اطاعت (جو مسلمانوں پر فرض ہے) كا اعلان كرديں _ حجاج كا كاروان جحفہ(۸) پہنچا _ پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حكم ديا كہ وہ لوگ جو آگے بڑھ گئے ہيں لوٹ آئيں اور باقى ٹھہر جائيں تمام مسلمان جمع ہوگئے ان كى تعداد ايك لاكھ بيس ہزار سے زيادہ تھى _ اس روز سخت گرمى كے عالم ميں لوگ پيروں كے نيچے عبا بچھائے ، دامن كو سائبان بنا كر سروں پر ركھ رہے تھے _ نماز جماعت ادا گئي ،پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نماز كے بعد اس بلند منبر پر جلوہ افروز ہوئے جو اونٹوں كے پالانوں سے بنا يا گيا تھا اور ايك تقرير فرمائي_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى تقرير كا ترجمہ ملاحظہ ہو

حمد و ثنا خداسے مخصوص ہے ہم اس سے مدد چاہتے اور اس پر ايمان ركھتے ہيں اس پر توكل كرتے اور نامناسب عمل سے اس كى پناہ چاہتے ہيں وہ خدا جس كے سوا كوئي ہادى اور رہنما نہيں ، جس كى وہ ہدايت كرے اس كو كوئي گمراہ كرنے والا نہيں ، ميں گواہى ديتا ہوں كہ اس كے سوا كوئي معبود نہيں ہے اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس كے بندہ اور پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہيں _ اے لوگو عنقريب ميں دعوت حق كو لبيك كہنے والا اور تمہارے درميان سے جانے والا ہوں _ ميں بھى جوابدہ ہوں اور تم بھى جواب دہ ہو تم ميرے بارے ميں كيا كہتے ہو ؟ لوگوں نے بہ آواز بلند كہا _

'' ہم گواہى ديتے ہيں كہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنى رسالت كو پہنچا ديا، نصيحت اور كوشش كى ،خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو نيك جزا دے ''_ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا '' كيا تم اس بات كى گواہى ديتے ہو كہ اللہ كے سوا اوركوئي خدا نہيں ہے _اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس كے بندہ اور فرستادہ ہيں اور يہ كہ بہشت ، دوزخ ، موت حق ہے اور قيامت كے دن ميں كوئي شك و شبہ نہيں ہے اور خدا قبروں سے تمام سونے


والوں كو اٹھائے گا؟

لوگوں نے كہا '' جى ہاں'' ہم شہادت ديتے ہے''_

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا '' خدايا گواہ رہنا'' بيشك ميں دوسرے جہان ميں جانے اور حوض كوثر كے كنارے پہنچنے ميں تم پر سبقت لے جاؤں گا _ اور تم حوض پر ميرے پاس حاضر ہوگے _ وہاں ستاروں كى تعداد ميں چاندى كے جام اور پيالے ہوں گے _ ديكھنا يہ ہے كہ تم ميرے بعد ان دو گراں بہا چيزوں سے كيا سلوك كرتے ہو جو ميں تمہارے درميان چھوڑے جارہا ہوں؟

مجمع ميں سے ايك شخص نے بلند آواز سے كہا '' اے اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وہ دو گراں قدر چيزيں كيا ہيں؟ فرمايا جو بزرگ ہے وہ كتاب خدا ہے جو تمہارے درميان اللہ كى مضبوط رسى ہے اور دوسرے ميرے اہل بيتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عترت ہيں _ خدائے مہربان اور عالم نے مجھے بتايا ہے كہ يہ دونوں ہر گز ايك دوسرے سے الگ نہيں ہوں گے يہاں تك كہ حوض (كوثر) پر ميرے پا س پہنچيں گے قرآن و عترت سے آگے نہ بڑھنا اور ان دونوں كى پيروى سے منہ نہ موڑنا ورنہ ہلا ك ہوجاؤ گے_

اس كے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علي(ع) كے ہاتھ كو پكڑا اور اتنا بلند كيا كہ دونوں كى بغل كى سفيدى نماياں ہوگئي اور لوگوں نے ان كو ديكھا اور پہچانا_

پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا '' اے لوگو اہل ايمان پر خود ان سے زيادہ حقدار كون ہے؟'' لوگوں نے كہا '' خدا اور اس كا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بہتر جانتا ہے _'' آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا:

''بيشك خدا ہمارا مولا ہے اور ميں مومنين كا مولا ہوں اور مومنين كے نفسوں سے اولى اور زيادہ حقدار ہوں _ لہذا جس كا ميں مولا ہوں على (ع) اس كے مولا ہيں _(۹) آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم


نے اس بات كو تين بار اور حنبلى حضرات كے پيشوا ، احمد بن حنبل كے قول كے مطابق چار بار تكرار فرمايا اس كے بعددعا كے لئے ہاتھ بلند كركے فرمايا

'' بارالہا تو اس كو دوست ركھ جو اسے (علي) دوست ركھے اور اس كو دشمن ركھ جو اس سے دشمنى كرے اس سے محبت فرما جو اس (على (ع) ) سے محبت كرئے اور اس كو مبغوض قرار دے جو اس (على (ع) ) سے بغض كرئے، اس كے دوستوں كى مدد فرما او رجو اس كو رسوا كرے اسے ذليل فرما اور اسے حق كا مدار و محور قرار دے ''(۱۰)

پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرماياكہ'' حاضرين غائبين تك يہ پيغام پہنچاديں'' ابھى مجمع پراگندہ بھى نہيں ہوا تھا كہ جبرئيل امين ، وحى الہى لے كر آپہنچے اور آيہ كريمہ '( اليوم اكملت لكم دينكم و اتممت عليكم نعمتى و رضيت لكم الاسلام دينا ً ) (۱۱) نازل ہوئي_

'' آج ميں نے تمہارے دين كو كامل كرديا ، تم پر اپنى نعمتيں تمام كرديں اور تمہارے لئے دين اسلام كو پسند كر ليا ہے ''_اس موقعہ پر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا: دين كے كمال ، نعمت كے اتمام اور ميرى رسالت و على كى ولايت پر خداوند متعال ك-ے راضى ہوجانے كے پر مسرت موقعہ پر ، '' اللہ اكبر'' (اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بلند آواز سے تكبير كہي) اس كے بعد مسلمانوں نے على ابن ابيطالب(ع) كو امير المومنين كے عنوان سے مبار ك باد دى اور سب سے پہلے ابوبكر و عمر ، حضرت على (ع) كى پاس آئے اور كہا '' مبارك ہو مبارك ہو ، اے ابوطالب (ع) كے بيٹے آج سے آپ(ع) ہمارے اور تمام مومنين كے مولا ہوگئے ''_

پھر شاعر انقلاب اسلام ، حسان بن ثابت نے كہا يارسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اگر جازت ہو تو ميں اس سلسلہ ميں كچھ اشعار پڑھوں _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا خدا كى بركت سے پڑھو_ اور حسان نے فى البديہہ واقعہ غدير خم كو


اشعار ميں بيان كيا _ ہم يہاں ان كے اشعار ميںسے تين شعر نقل كررہے ہيں _

يناديهم يوم الغدير نبيّهُم

بخُم فَاسْمَع بالرّسول مناديا

فقال لهم: قم يا على فَانَّني

رضيتك من بعدى اماما ً ''و هاديا''

فمن كنت مولاه فهذا وليّه

فكونوا له اتباعَ صدْق مواليّا

يعنى غدير كے دن پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے لوگوں كو آواز دى ، كيا آواز رسا تھى على (ع) سے فرمايا كہ اٹھو ميںنے تمہيں اپنے بعد لوگوں كى ہدايت اور امامت كے لئے منتخب كيا _

ميں جس كا مولا ہوں على اس كے ولى ہيں ، لہذا از روئے صدق و راستى ان كے پيرو اور دوست بن كر رہو _(۱۲)


سوالات

۱_ كو ن سى تاريخ كو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حجة الوداع كے لئے تشريف لے گئے؟

۲_ غدير كے دن مسلمانوں كا كتنا مجمع تھا؟

۳_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قافلہ روكنے كا حكم كيوں ديا؟

۴_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے غدير كے دن حضرت على (ع) كے بارے ميں كيا فرمايا؟

۵_ غدير كے واقعہ كے بعد كون سى آيت نازل ہوئي؟


حوالہ جات

۱_مغازى واقدى ج ۳ص ۱۰۸۹ _سيرت ابن ہشام ج ۴ص۲۴۸_

۲_اہل سنت كى چند دوسرى كتابوں ميں اس طرح لكھا ہے كہ ''نبى اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا تم علىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے كيا چاہتے ہو؟علىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مجھ سے ہيں اور ميں ان سے ہوں اور وہ ميرے بعد ہر مومن كے ولى وسرپرست و صاحب اختيار ہيں _ ترمذى ج ۵ ص ۶۳۲_ مستدرك حاكم ج ۳ص ۱۱۰_۱۱۱_البداية والنہاية ج ۷ ص ۳۴۵_اسد الغابہ ج ۴ ص ۱۰۷_۱۰۸ _ مسند احمد ابن حنبل ج ۵ ص ۳۵۶_سيرت ابن ہشام ج ۴ ص ۲۵۰ ، تاريخ طبرى ج ۳ ص ۱۴۹

۳_ يہ تقرير سيرت كى مختلف كتابوں ميں دو طريقوں سے نقل كى گئي ہے ايك '' عرفہ ميں تقرير'' كے عنوان سے اور دوسرى '' منى ميں تقرير'' كے عنوان سے تفصيلات كيلئے رجوع كريں: مغازى واقدى ج ۳ ص ۱۱۰۳_سيرت ابن ہشام ج۴ _ تاريخ يعقوبى ج۲ ص ۱۱۰ طبرى ج ۳ ص ۱۵۰_

۴_ مغازى واقدى ميں '' اياس بن ربيعة بن حارث '' ذكر ہوا ہے_

۵_انّى تَاركٌ فيْكُمُ الثَّقَلَيْن كتَاب اللَّه وَ عتْرَتى انْ تَمَسَّكْتُمَْ بهما لَنْ تَضّلُوا _ يہ عبارت اہل سنت كى جن معتبر كتابوں ميں مختصر انداز سے ذكر كى گئي ہے ان ميں سے چند كے نام مندرجہ ذيل ہيں _ صحيح مسلم ج ۷ ص ۱۲۲ _ سنن ترمذى ج ۲ ص ۳۰۷_ سنن دارمى ج ۲ ص ۱۴و۱۷و۲۶و۵۹_ خصائص نسائي ص ۳۰_مستدرك حاكم ج ۳ ص ۱۰۹_ كفاية الطالب ج ۱ ص ۱۱_ طبقات ابن سعد ج ۴ ص ۸ _ عقد الفريد ج ۲ ص ۳۲۶و ۱۵۸_ اسد الغا بة ج ۲ ص ۱۲_ حلية الاوليا ج ۱ ص ۳۵۵_ تذكرة الخواص ص ۳۳۲_ منتہى الارب _ مصابيح السنة ج ۲ ص ۲۰۵_۲۰۶

۶_ سيرت ابن ہشام ج ۳،۴، ص ۶۰۳ _تاريخ يعقوبى ج ۲ ص ۱۱۰ _ مغازى واقدى ج ۳ ص ۱۱۰۳_ طبرى ج ۳ ص ۱۵۰ _

۷_( يَا اَيُّهَا الرَّسُولُ بَلّغْ مَا اُنْزلَ الَيْكَ منْ رَّبّكَ وَ انْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رسَالَتَهُ وَ اللّهُ يَعْصمُكَ منَ النّاس انَّ اللّهَ لاَ يَهْدى الْقَوْمَ الْكَافريَْن ) (مائدہ/۶۸)


۸_مكہ اور مدينہ كے راستہ ميں جحفہ ايك بيابان ہے جہاں غدير خم واقع ہے يہاں سے ہر كارواں جدا ہو كر اپنے ديار كى طرف چلا جاتا ہے_

۹_من كنت مولاه فهذا على مولاه

۱۰_اللّهُمَّ وَالَ مَنْ وَالاهُ وَ عَاد مَنْ عَادَاهُ وَاَحَبّ مَنْ اَحَبَّهُ وَ اَبْغض مَنْ اَبْغَضَهُ وَ انْصُرْ مَنْ نَصَرَهْ وَ اْخْذُلْ مَنْ خَذََلَه وَ اَدْر الْحَقَ مَعَهُ حَيْثُ دَار _

۱۱_ سورہ مائدہ آيت ۳

۱۲_ الغدير ج ۱ ص ۹تا ۱۲_ تفسير الميزان ج ۶ ص ۵۳ تا ۵۹ _ علامہ امينى مرحوم نے گيارہويں جلدپر مشتمل اپنى عظيم اور تحقيقى كتاب الغدير ميں حديث غدير كو ايك سو دس اصحاب كى زبانى نقل كيا ہے نيز آپ نے غدير كے بارے ميں اہل سنت كے محدثين ومورخين كے اقوال كو ذكر فرمايا ہے_ يہ بھى ياد دلانا ضرورى ہے كہ يہ كتاب فارسى زبان ميں ترجمہ ہو گئي ہے _


سولہواں سبق

شورشيں

اسود عنسى كا واقعہ

يمن ميں انقلابى بغاوت

مسيلمہ كذاب كا واقعہ

جھوٹے پيغمبر كى طرف ميلان كا سبب ''قومى تعصب''

جھوٹوں كا انجام

رحلت پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے وقت كے حالات كا تجزيہ

لشكر اسامہ كى روانگي

اہل بقيع كے مزار پر

واقعہ قرطاس يا نامكمل تحرير

ناتمام نماز

وداع پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

يہ نور ہرگز نہيں بجھے گا

سوالات


شورشيں

حجة الوداع سے واپسى كے بعد تھكن كى شدت كى بناپر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم چند دنوں تك بيمار رہے اس دوران آپ كى تھكاوٹ اور طبيعت كى ناسازى كى خبر چاروں طرف پھيل گئي اور موقعہ كى تلاش اور فائدہ كے چكر ميں رہنے والے افراد نے پيغمبرى كا دعوى كرديا_'' مسيلمہ كذاب'' نے يمامہ اور نجد ميں خود كو پيغمبر اور'' رحمان اليمامة ''كہا _ ''اسود عنسي'' نے يمن ميں خود كو پيغمبر كہا اور شورش كا آغاز كرديا_ اس كے علاوہ'' سجاح ''نامى عورت اور'' طليحہ'' نامى ايك شخص نے بھى اس طرح كے دعوى سے لوگوں كو دھوكہ دينا شروع كرديا _ اس فتنہ كى جڑيں بہت پھيلى ہوئي تھيں ان دھوكہ بازوں نے قومى اور قبائلى تعصب سے فائدہ اٹھا يا اور ايك جماعت كو اپنے گرد جمع كرليا اور جب ان كو قدرت حاصل ہوگئي تو اپنى حكومت و سلطنت كو وسعت دينے لگے_

اسود عنْسيّ كا واقعہ

نمونہ كے طور پر اَسوَد عنسى كا واقعہ پيش ہے جس كو پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ناسازگارى طبع كى خبر نے نبوت كے لالچ ميں ڈال ديا اس نے يمن ميں زمانہ جاہليت كے طور طريقوں اور رسوم


كو كتب عتيق كے قوانين كے ساتھ ملاكر ايك نئے نقطہ خيال كى بنياد ركھى وہ ايك كاہن اور شعبدہ باز تھا جو الٹى سيدھى باتوں كو مسجعّ اور مقفّى بنا كر اس طرح پيش كرتا كہ جو بھى سنتا بد دل ہو جا تا _ جنگجوئي ميں بڑا سنگدل اور چالاك تھا_ظلم و ستم ميں لوگوں كى جان و مال كى پروا نہيں كرتا تھا_

اَسوَدعنسيّ نے اپنے سپاہيوں كے ساتھ چند دنوں ميں نجران پر قبضہ كرليا اور بلافاصلہ يمن كے دار السلطنت صنعا ء پر حملہ كرديا_'' شہر ابن باذام''(۱) ايرانى جو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كى طرف سے آزادہ شدہ اور اس علاقہ پر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم سے حكومت كرتے تھے ، انہوں نے لشكر تيار كيا تا كہ اسود كے راستہ كو روك ليں ليكن شورشيوں كے فورى حملہ كى بنا پر شہر ابن باذام كا لشكر ، اسود كے لشكر كا كچھ نہ كر سكا اور شہر ابن باذام اس حملہ ميں شہيد ہو گئے_

اسود عنسيّ كامياب اور كاميابى سے مغرور ہو كر صنعاء ميں داخل ہوا _ اعرابى جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھى دوبارہ اسود كے ہاتھوں اسلام سے خارج ہونے لگے گروہ در گروہ قبائل نے اس كى بيعت كرلى اور خود كو اس كے حوالہ كرديا _ تھوڑى ہى مدت ميں اسود نے تمام يمن ، طائف، بحرين اور حدود عدن پر تسلط جماليا _ان علاقوں ميں باقى ماندہ مسلمانوں نے بھى خوف سے سكوت اختيار كر ليا _اسود نے شہر ابن باذام كى بيوى ''آزاد '' كو زبردستى اپنى بيوى بناليا_(۲)

يمن ميں انقلابى بغاوت

بستر علالت ہى سے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مدعيان نبوت كے ساتھ جنگ كے لئے نمائندے بھيجنا اورخط لكھنا شروع كيئے_(۳)


آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ايك خط ميں يمن كے ايرانى ، سركردہ افراد كو حكم ديا كہ دين مقدس اسلام كے دفاع كےلئے قيام كريں اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پيغام كو دينداورں ، با حميت و غيرت مند افراد تك پہنچائيں اور كوشش كريں كہ فساد كى جڑ اَسود عنسى كو خفيہ يا آشكار ا طور پر ختم كيا جا سكے_(۴)

يمن كے آزاد ايرانيوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے فرمان كے مطابق اسلام پر باقى رہ جانے والے قبائل كو اپنے ساتھ تعاون كے لئے بلايا اورجب يہ معلوم ہواكہ اسود اور سپہ سالار لشكر قيس ميں اختلاف ہے تو انہوں نے قيس كے سامنے نہايت خاموشى سے اس موضوع كو پيش كيا اور اس طرح سپہ سالار لشكر كو اپنے ساتھ ملاليا_(۵)

اسود كے قصركے اندرونى معلومات حاصل كرنے كے لئے ''آزاد'' سے رابطہ قائم كيا گيا جو شہر ابن باذام كى بيوى اور اسود كے تصرف ميں تھي_

'' آزاد'' ايك آزادى پسند، شير دل، مؤمنہ اور باعزت خاتون تھيں ان لوگوں كى مدد كى لئے اٹھ كھڑى ہوئيں اور مفيد و قيمتى راہنمائيوں كے ذريعہ انھوں نے مومنين كو اسود كے قتل پر آمادہ كيا _ قصر مكمل طور پر نگہبانوں كى نگرانى ميں تھا_ '' آزاد'' كى راہنمائي ميں ايك سرنگ كے ذريعہ جو اَسوَد عنسى كے كمرہ ميں پہنچتى تھى رات كو جب وہ نيم خوابيدگى كے عالم ميں تھا ، انقلابى مومنين نے حملہ كرديا _ فيروز نے اس كا سر زور سے ديوار سے ٹكرا ديا اور اس كى گردن مروڑدى _اسود كى آواز وحشى گائے كى طرح بلند ہوئي آزاد نے فوراً ايك كپڑا اس كے منہ ميں ٹھونس ديا _ پہرہ دارمحل كے اندر ہونے والى چيخ پكار سے مشكوك ہوگئے اور كمرہ كى پشت سے انہوں نے پوچھا كہ خيريت تو ہے؟ '' آزاد'' نے نہايت اطمينان سے جواب ديا _'' كوئي بات نہيں ہے پيغمبر پر وحى آرہى ہے'' اس طرح انقلابى مومنين اپنى مہم ميں كامياب ہوئے اور پيغمبرى كے جھوٹے دعويدار كو دوزخ ميں پہنچا ديا_دوسرے دن صبح


مسلمانوں نے اسلامى نعرے لگائے اور كلمہ شہادتين زبان پر جارى كيا _ اَشْہَدُ اَنْ لاَ الہَ الاَّ اللّہ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمّدا رَسُولُ اللّہ _ اور اعلان كيا كہ لوگو اَسوَ د ايك جھوٹے شخص سے زيادہ كچھ نہ تھا اس كے بعد اس كا سر لوگوں كى طرف پھينك ديا _

شہر ميں ايك ہنگامہ شروع ہوگيا اور قصر كے نگہبانوں نے اس فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے محل كو لوٹ ليا اور جو كچھ اس ميں تھالے كر فرار ہوگئے _ اس وقت مسلمانوں نے آواز دى كہ نماز كے لئے لوگ صف بستہ ہوجائيں اور پھر نماز كے لئے لوگ كھڑے ہوگئے_(۶)

جس رات اَسوَد مارا گيا اسى رات وحى كے ذريعہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو معلوم ہوگيا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا'' كل رات ايك مبارك خاندان سے ايك مبارك شخص نے عنسى كو قتل كرديا'' لوگوں نے پوچھا ''وہ كون تھا''_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا _ فيروز تھا _فيروز كامياب رہے_(۷)

مسيلمہ كذاب كا واقعہ

يمامہ ميں مسيلمہ كذاب نے بھى پيغمبرى كا دعوى كركے اپنا ايك گروہ بناليا اورفتنہ پردازى ميں مشغول ہوگيا _ وہ كوشش كرتا تھا كہ بے معنى سخن گوئي كے ذريعہ قرآن سے معارضہ كرے _ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابھى سفر حج سے لوٹے تھے كہ دو افراد مسيلمہ كذاب كا خط آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس لے كر پہنچے _ اس ميں لكھا تھا '' مسيلمہ خدا كے رسول كى طرف سے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كے رسول كے نام '' ميں پيغمبرى ميں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا شريك ہوں آدھى زمين قريش سے متعلق ہے اور آدھى مجھ سے، ليكن قريش عدالت سے كام نہيں ليتے _(۸)

رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بہت ناراض ہوئے اور مسيلمہ كے نامہ بروں سے فرمايا '' اگر تم سفير اور قاصد


نہ ہو تے تو ميں تمہارے قتل كا حكم ديديتا_ تم لوگ كس طرح اسلام سے جدا ہو كر ايك تہى مغز آدمى كے پيرو ہوگئے_ پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حكم ديا كہ مسيلمہ كو بہت سخت جواب لكھا جائے _ ''خدائے رحمن و رحيم كے نام سے محمد رسول اللہ كى طرف سے دروغ گو مسيلمہ كى طرف_ سلام ہو ہدايت كى پيروى كرنے والوں پر ، زمين ،خدا كى ملكيت ہے اور وہ اپنے صالح بندوں ميں سے جس كو چاہتا ہے زمين كا وارث قرار ديتا ہے اور نيك انجام پرہيزگاروں كے لئے ہے_(۹)

جھوٹے پيغمبر كى طرف ميلان كا سبب ''قومى تعصب''

طبرى كا بيان ہے كہ ايك شخص يمامہ گيا اور پوچھا مسيلمہ كہاں ہے؟

لوگوں نے كہا كہ '' پيغمبر خدا كہو''

اس شخص نے كہا '' نہيں ميں پہلے اس كو ديكھوں گا''

جب اس نے مسيلمہ كو ديكھا تو كہا كہ '' تو مسيلمہ ہے''؟

'' ہاں''

كيا تمہارے اوپر فرشتہ نازل ہوتا ہے؟

ہاں ،اور اس كا نام رحمن ہے_

نور ميں آتا ہے يا ظلمت ميں؟

مسيلمہ نے كہا '' ظلمت ميں''

اس شخص نے كہا كہ ميں گواہى ديتا ہوں كہ تو جھوٹا ہے اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سچے ہيں ليكن ميں رَبيعہ كے جھوٹے كو مُضر (حجاز) كے سچّے سے زيادہ دوست ركھتا ہوں_(۱۰)


جھوٹوں كا انجام

نبوت كى جھوٹى دعويدار سجاح كے ساتھ مسيلمہ نے شادى كرلى _(۱۱) رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت كے بعد لشكر اسلام نے اس كى سركوبى كى اور اس كے قتل كے بعد اس كى جھوٹى نبوت كى بساط اُلٹ گئي_(۱۲)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے زمانہ ميں مدعيان نوبت ميں طُلَيحہ نامى ايك شخص تھا جو قبيلہ طيّ، اَسد اور قبيلہ غطفان ميں ظاہر ہوا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قبيلہ بنى اسد ميں اپنے نمائندوں كو پيغام بھيجا كہ اس كے خلاف قيام كريں _ وہ لوگ اس پر حملہ آور ہوئے اور وہ فرار كر گيا_(۱۳) اس طرح رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى تدبير سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى زندگى كے آخرى دنوں ميں يا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى وفات كے بعد جھوٹے پيغمبروں كى بساط الٹ دى گئي_

رحلت پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے وقت كے حالات كا تجزيہ

بيمارى سے نسبتاً افاقہ كے كچھ ہى دنوں بعد آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دوبارہ عليل ہوئے _ ہر چند كہ تمام جزيرة العرب، حكومت اسلامى كے زير اثر تھا ليكن ايك طرف پيغمبرى كے جھوٹے دعويداروں نے سر اٹھا ركھا تھا اور بہت سے قبائل كے رؤساء كہ جن كے دلوں ميں ابھى تك اسلام كى جڑيں مضبوط نہيں ہوئيں تھيں_ اپنے سابقہ امتيازات سے ہاتھ دھو بيٹھے تھے جو كہ ان پر دشوار تھا_ وہ پيغمبرى كے جھوٹے دعويداروں سے مل كر شورش پر آمادہ ہوگئے_ دوسرى طرف موقعہ كى تلاش ميں رہنے والے منافقين كا مكمل پلا ننگ كے ساتھ يہ ارادہ تھا كہ اسلام كے عظيم رہبر كى آنكھ بند ہوتے ہى حكومت اسلامى پر قبضہ كرليں اور اس كو امامت وولايت كے صحيح راستہ سے منحرف كرديں_


بہر حال ، رہبر اسلام كى رحلت ،شورشيوں اور مرتدين كے حوصلوں كى تقويت كاموجب ہوتى ، دوسرا اہم موضوع يہ كہ پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جانشينى كے سلسلہ ميں كھينچا تانى كے نتيجہ ميں امت اسلامى كے درميان بہت بڑا شگاف پيدا ہوجاتاجوايك بہت بڑا خطرہ ثابت ہوتا _روم ايسى بڑى طاقت بھى انتظار ميں تھى كہ جزيرة العرب پر حملہ كركے اسلام كى جڑكو كاٹ دے _ فتنے اٹھ چكے تھے اندرونى و بيرونى تحريكيں اور سازشيں اسلام كى بنيادوں كو چيلنج كررہى تھى _

لشكر اسامہ كى روانگي

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اندرونى سازشوں كے خاتمہ اور خارجى تحريكوں كى سركوبى كے لئے لشكر اسامہ كى تشكيل اور روانگى كا حكم صادر فرمايا _ سپاہيوں كى حوصلہ افزائي كے لئے اپنے ہاتھوں سے پرچم بنا كر ۱۷ يا۱۸ سالہ جوان اسامہ كے سپرد كيا اور سپہ سالار معين فرمايا_(۱۴) اس بہادر نوجوان نے اس لشكر كى كمان سنبھالى جو عالمى استكبار سے جنگ كے لئے آمادہ تھا_ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسامہ كو حكم ديا كہ اپنے باپ كى شہادت گاہ كى طرف روانہ ہو جاؤ اور جانے ميں جلدى كرو _ صبح كو نہايت تيزى سے ناگہانى طور پر دشمن پر حملہ كردو_(۱۵) پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسلمانوں سے كہا كہ لشكر اسامہ ميں شركت كريں اور جتنى جلد ى ہو سكے روانگى كے لئے تيار ہو جائيں_

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كے مقاصد ميں سے ايك مقصد يہ تھا كہ سازشوں كا تانابانا بننے والے ، لشكر كے ساتھ مدينہ سے خارج ہوجائيں تا كہ شہر سازشيوں كے وجود سے خالى ہوجائے اور امير المومنين على (ع) كى خلافت كے راستہ ميں ركاوٹ نہ بنيں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جوان سال اسامہ كا


انتخاب بھى اس لئے فرمايا تھا كہ اولاً: آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم يہ بتانا چاہتے تھے كہ ذمہ دارياں شخصيت اور لياقت كى بناپر ہوتى ہيں نہ كہ سن و سال اور موہوم شرافتوں كى بناپر، تا كہ آئندہ لوگ حضرت على (ع) كو يہ كہہ كر خلافت سے الگ نہ كر سكيں كہ وہ جوان ہيں _ثانياً: اسامہ كے والد زيدابن حارثہ روميوں كے ساتھ جنگ كرتے ہوئے شہيد ہوئے تھے اس لئے ان ميں روميوں كے خلاف جنگ كرنے كا زيادہ جذبہ تھا اور سپہ سالارى كا عہدہ سونپ دينے كے بعد عملى طور پر ان كى دلجوئي بھى ہو جاتى _

اسامہ نے مدينہ كے قريب مقام '' جرُف'' ميں پڑاؤ ڈال ديا_ بزرگ صحابہ اور مہاجرين سب كے سب اسامہ كے لشكر كے سپاہى اور ان كى ماتحتى ميں تھے _ يہ بات ان ميں سے بعض كےلئے بڑى سخت تھى انہوں نے اعلانيہ طور پر اسامہ كى سپہ سالارى پر اعتراض كيا كہ بزرگوں كى سپہ سالارى كے لئے نوجوان كو كيوں منصوب كيا گيا؟ لشكر كى روانگى ميں عملى طور پر خلاف ورزياں ہوئيں چند دنوں تك لشكر ركا رہا _ مخالفت كر نيوالوں نے لشكر كى روانگى ميں كوتاہى كى اوراپنے بے ہودہ مقاصد كو انجام دينے كے لئے روانگى ميں تاخير كرائي_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بستر علالت پر سمجھ ليا كہ لشكر گاہ سے لشكر كى روانگى كو روكنے كےلئے لوگ كيا كررہے ہيں ، آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بستر سے اٹھے اور بخار نيز غيظ و غضب كے عالم ميں مسجد ميں تشريف لائے خدا كى حمد كے بعد فرمايا '' اے لوگو ميں لشكر كى روانگى ميں دير ہونے سے بہت ناراض ہوں گويا اسامہ كى سپہ سالارى تم ميں سے ايك گروہ كے اوپر گراں گذرى اور تم نے اعتراضات شروع كرديئےم اس سے پہلے بھى ان كے باپ كى سپہ سالارى پراعتراض كررہے تھے ، خدا كى قسم اس كا باپ سپہ سالارى كے لئے مناسب تھا اور وہ خود بھى


مناسب ہے_

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم گھر واپس آگئے اور ہر اس صحابى سے جو آپ كو ديكھنے كے لئے آتا تھا فرماتے: '' لشكر اسامہ كو روانہ كرو''(۱۶)

ليكن سازشيں اس سے بالاتر تھيں يہاںتك كہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا _'' جو لشكر اسامہ سے روگردانى كرے اس پر خدا كى لعنت ہو''(۱۷)

اہل بقيع كے مزار پر

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شديد بيمارى كے عالم ميں حضرت علىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (۱۸) كا سہارا لئے قبرستان بقيع كى طرف چلے، اصحاب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پيچھے پيچھے روانہ ہوئے جب بقيع كے قبرستان ميں پہنچے تو فرمايا:'' ميں مامور ہوں كہ خداوند عالم سے اہل بقيع كے لئے طلب مغفرت كروں ''_پھر فرمايا'' اے زير خاك آرام كرنے والو تم پر ميرا سلام ہو، تم اطمينان و مسرت سے آرام كرو كہ تمھارا زمانہ ان لوگوں كے زمانہ سے زيادہ آسودہ ہے _ فتنے اندھيرى رات كے ٹكٹروں كى طرح بڑھ آئے ہيں '' پھر فرمايا '' على (ع) ہر سال جبرئيل (ع) ميرے پاس قرآن كو ايك مرتبہ پيش كرتے تھے اور اس سال دو بار انہوں نے پيش كيا اس لئے كہ ميرا وقت قريب آگيا ہے''(۱۹)

واقعہ قرطاس يا نا مكمل تحرير

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى زندگى كے آخرى دن تھے ، جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آنكھيں كھوليں تو اپنے بستر كے ارد گرد چند اصحاب كو ديكھا جن كو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم كے مطابق اس وقت لشكر اسامہ كے


ساتھ ہونا چاہيئے تھا_ امت ميں اختلاف كى روك تھام كے لئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا _'' كاغذ اور دوات لاؤ تا كہ ميں تمہارے لئے ايك چيز لكھ دوں كہ اس كے بعد گمراہ نہ ہوگے ''_ ان ميں سے ايك صاحب نے چاہا كہ اٹھ كر قلم دوات لے آئيں ليكن جناب عمر نے اظہار خيال فرمايا '' يہ ( پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جانب اشارہ)ہذيان بك رہے ہيں ، قرآن تمہارے پاس ہے اور كتاب آسمانى ہمارے لئے كافى ہے '' ايك گروہ نے عمر كا ساتھ ديا اور كچھ لوگوں نے ان كى مخالفت كى ، شور و غل بر پا ہوا _ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا '' اٹھو اور ميرے گھر سے نكل جاؤ''_(۲۰)

ناتمام نماز

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى علالت كے دوران ايك دن حضرت بلال نے اذان دى اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے گھر و دروازہ پر آكر آواز دى '' نماز خدا تمہارے اوپر رحمت نازل كرے'' _ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بہت زيادہ بيمارتھے اس وجہ سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' لوگوں كو كوئي نماز پڑھا دے اس لئے كہ ميں بيمار ہوں''_ عائشےہ نے كہا كہ ابوبكر كو تلاش كرو اور حفصہ نے كہا عمر كو لاؤ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دونوں كى باتيں سنيں اور دونوں بيويوں سے كہا '' ان باتوں سے خود كو روكو كہيں تم ان عورتوں كى طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے يوسف كو گمراہ كرنا چا ہا تھا''_آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شديد بيمارى كے عالم ميں اٹھے ، علي(ع) اور فضل بن عباس نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے دونوں شانوں كو سہارا دے ركھا تھا ، مسجد ميں تشريف لائے ، ابوبكر كو محراب ميں ديكھا كہ نماز كے لئے كھڑے ہوگئے ہيں ، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہاتھ سے اشارہ كيا كہ ہٹ جاؤ_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے ان كى نماز كومكمل نہ ہونے ديا اور دوبارہ نہايت مختصر نماز كا اعادہ كيا _ جب آپ-صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم گھر تشريف لے گئے تو ابوبكر ،


عمر اور دوسرے افراد كو بلوا بھيجا جب يہ لوگ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس آئے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے پوچھا كہ '' لشكر اسامہ كے ساتھ كيوں نہيں گئے؟ انہوں نے جواب ديا '' ہم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے تجديد بيعت كے لئے لوٹ آئے اور ہم نے يہ نہيں چاہا كہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى بيمارى كى خبر دوسروں سے پوچھيں''(۲۱) _

وداع پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى بيمارى نے شدت اختيار كرلى ، فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا ،آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بستر كے پاس بيٹھى ہوئي باپ كے نورانى اور ملكوتى چہرہ كو ديكھ رہى تھيں _جس پر بخار كى شدت كى بنا پر پسينہ كے قطرے جھلملار ہے تھے، جناب فاطمہ (ع) نے جناب ابوطالب عليہ السلام كا شعر جو پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بارے ميں تھا پڑھا _

وَاْبيَضُ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بوجهه

ثمال اليتامى عصمة للارامل

يعنى : روشن چہرہ اس چہرہ كى آبرومندى كے وسيلہ سے بارش طلب كى جاتى ہے جو يتيموں كى پناہ گاہ اور بيوہ عورتوں كى نگہدار ى كرنے والا ہے _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آنكھيں كھوليں اور فرمايا، بيٹى ، شعر نہ پڑھو ، قرآن پڑھو :

( وَ مَا مُحَمّد الاَ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مَنْ قَبْله الرُّسُل اَفانْ مَاتَ اَوقُتل انْقَلَبْتُمْ عَلَى اَعْقابكُمْ وَ مَنْ يَنْقَلبْ عَلَى عَقبَيْه فَلَنْ يَضُرَّ اللّهَ شَيْئاً وَ سَيَجْزى اللّهُ الشَّاكريْنَ ) (۲۲)

'' محمد نہيں ہيں مگر پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ، ان سے پہلے بھى بہت سے پيغمبر گزر چكے ہيں تو كيا اگر


انكا انتقال ہوجائے يا قتل كرديئےائيں توكيا تم اپنے گزشتہ لوگوں كے عقائد كى طرف پلٹ جاؤ گے ؟ اور جو اپنے گزشتگان كے آئين كى طرف پلٹ جائے گا وہ خدا كو كوئي نقصان نہيں پہنچائے گا _ خدا شكر كرنے والوں كو نيك جزاء دے گا''_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آہستہ سے حضرت فاطمہ سلام اللہ عليہا كے كان ميں كوئي بات كہى آپ(ع) نے گريہ شروع كيا _ پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنى بيٹى كى تكليف برداشت نہ كر سكے اور دوبارہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان(ع) كے كان ميں كوئي بات كہى تو جناب فاطمہ چپ ہوگئيں اور مسكرانے لگيں _

بعد ميں جب لوگوں نے جناب فاطمہ (ع) سے سوال كيا كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آپ(ع) سے كيا كہا تھا كہ پہلى بار آپ(ع) روئيں اور دوسرى بار مسكرائيں ؟ آپ(ع) نے جواب ديا '' پہلى بار آنحضرت سے رحلت كى خبر سنى تو مغموم ہوگئي دوسرى بار آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بشارت دى كہ اے فاطمہ ميرے اہل بيت (ع) ميں سے تم سب سے پہلے مجھ سے ملوگى اس پر ميں بشاش ہوگئي_(۲۳)

پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنى حيات كے آخرى لمحوں ميں على عليہ السلام كو بلايا اور فرمايا '' علي(ع) ميرا سر اپنى آغوش ميں لے لو كہ امر خدا آن پہنچا ہے''_

اے على (ع) جب ميں اس دنيا ميں نہ رہوں تو مجھے غسل دينا اور پہلى بار مجھ پر نماز پڑھنا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا سر علي(ع) كى گود ہى ميں تھا كہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رحمت بارى سے جا ملے _

يہ عظيم حادثہ ۲۸/صفر ۱۱ ہجرى بروز پير بمطابق ۲۸ مئي ۶۳۲ ء كورونما ہوا(۲۴) _ ليكن مورخين اہل سنت كے مطابق پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت ۱۲ ربيع الاول سنہ ۱۱ ھ ق(۲۵) بمطابق ۱۰ جون سنہ ۶۳۲كو ہوئي_

حضرت على (ع) نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كے پاكيزہ جسم كو غسل ديا، كفن پہنا يا اور نماز پڑھى اس عالم


ميں كہ آنسو آپ(ع) كى آنكھوں سے رواں تھے اور فرمايا _

'' ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اے اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بيشك آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے مرنے سے وحى كا سلسلہ منقطع ہو گيا ''_

وہ چيز جو دوسرے پيغمبروں كى موت كے بعد منقطع نہيں ہوئي ( يعنى نبوت و احكام الہى اور آسمانى خبريں) اگر آپ صبر كا حكم نہ ديتے اور نالہ و فغاں سے منع نہ فرماتے تو ميں آپ (ع) كے فراق ميں اتنا روتا كہ ميرے اشكوں كا سرچشمہ خشك ہو جاتا _(۲۶)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت كى خبر نہايت تيزى سے مدينہ ميں پھيل گئي ، علي(ع) جب غسل و كفن ميں مشغول تھے اس وقت ايك گروہ پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے جانشين كا مسئلہ حل كرنے كے لئے سقيفہ(۲۷) ميں الجھ رہا تھا _غسل دينے كے بعد پہلے علي(ع) نے نمازپڑھى پھر مسلمان دستہ دستہ آتے گئے اور نماز پڑھتے گئے ، پھر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كو مسجد كے پہلو ميں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے گھر ميں دفن كرديا گيا_(۲۸)

يہ نور ہرگز نہيں بجھے گا

پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دار بقاء كى طرف روانہ ہوگئے ، ليكن يہ نور نہ تو گل ہوا ہے اور نہ ہوگا_آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا آئين مشعل ہدايت كى طرح بشر كے لئے تاريك راستوں ميں راہنما ہے اور كروڑوں ، اربوں انسان صديوں سے اسے آئين كے پيرو ہيں_

آج بھى روزانہ ايك ارب سے زيادہ مسلمان سارى دنيا ميں كروڑوں بار '' اشہد ان لا الہ الا اللہ و اشہد ان محمدرسول اللہ '' كى آواز گلدستہ اذان سے سن رہے ہيں اور بے پناہ محبت كے ساتھ اس آواز كے دلبر با ترنم كو اپنى زبان پر جارى كرتے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) پر درود بھيجتے


ہيں اور آسمانى كتاب كو پڑھتے اور اس سے سبق حاصل كرتے ہيں _ قرآن كريم ۱۱۴ سورتوں كے ساتھ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رسالت كا جاودانہ معجزہ اور زندہ گواہ ہے _خدا نے ان كے دين كو آخرى دين اور ان كو آخرى پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قرار ديا ہے _(۲۹) جو ان كے آئين كى پيروى نہ كرے (گمراہ ہے ) خدا اس كى عبادت كو قبول نہيں كرے گا اور آخرت ميں وہ گھاٹے ميں رہے گا_(۳۰)

جى ہاں يہ نور آج بھى لوگوں كے دلوں اوران كى عقل و خرد پر جگمگارہا ہے _

يہ نور ہر جگہ چمكا اور تھوڑى ہى مدت ميں جزيرة العرب سے نكل كر ہر جگہ پھيل گيا_ روم اور ايران كى مطلق العنان حكومتوں كو اپنے ہالہ ميں لے ليا_ اور ايك طرف قلب فرانس اور اسپين تو دوسرى طرف ہندتك پہنچ گيا_ڈوبتى ہوئي بشريت كو نجات بخشى اور اس كو ايك عظيم تمدن سے روشناس كرايا _

ختم نبوت كے بعد يہ نور معصوم رہنماؤں ميں درخشندہ ہوا اور ہدايت كے يہ پاك انوار اور نورى پيكر، فتنوں كى تيرگى ميں انسانوں كى ہدايت كے لئے كمر بستہ ہوئے اور انسانيت كو الہى واسلامى زندگى كى طرف بلايا اور آج بھى نجات بشريت كا واحد راستہ قرآن و عترت كى پيروى ہے_

آخر كلام ميں عرض ہے كہ مسلمان ،ان كى تعليمات سے استفادہ كرتے ہوئے اپنے راستہ كو تلاش كريں ،ستم كے بوجھ تلے دبے ہوئے تيرہ بخت اور حيران و سرگردان انسان كى رہائي كا واحد راستہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا آئين ہے _ تحريكيں شروع ہوں گى اور كفر و ارتداد و نفاق اور ظلم و ستم مغلوب ہوں گے اور كمزور افراد زمانہ كے راہبر اور زمين كے وارث ہوںگے_(۳۱)

امام مہدى ( عجل اللہ لہ الفرج) تشريف لائيں گے پھر سارى دنيا ميں ايك اسلامى حكومت قائم ہوگى اور سارى دنيا ميں ايك پرچم لہرائے گا :لاَ الهَ الَّااللّهَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّه _يہ نور كبھى بجھ نہيں سكتا_


سوالات

۱_ اَسوَدعسنيّ كون تھا؟

۲_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مدعيان پيغمبر سے كيسے مقابلہ كيا ؟

۳_رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدانے اسامہ كو سپہ سالار كے عنوان سے كيوں منصوب فرمايا؟

۴_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدااسامہ كے لشكر كى روانگى پر كيوں اصرار كررہے تھے؟

۵_رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ''تحرير''كيوں نہ لكھ سكے؟

۶_ رسول خدانے كس تاريخ كو رحلت فرمائي؟

۷_ پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو كس نے غسل و كفن ديا ؟

۸_ پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت فاطمہ(ع) كے كان ميں كيا راز بتايا؟

۹_ كيا آخر ميں لشكر اسامہ روانہ ہوا ؟ كس وقت؟

۱۰_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كہاں مدفون ہوئے ؟


حوالہ جات

۱_ باذان بھى مرقوم ہے _ ر_ك كامل بن اثير ج ۲ ص ۳۳۷_

۲_ تاريخ طبرى ج ۳ ص ۲۴۰ _۲۲۷_

۳_ در آستانہ سال زاد پيامبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ص ۲۴۷_

۴_ تاريخ طبرى ج ۳ ص ۲۳۱_

۵_ تاريخ طبرى ج ۳ ص ۲۳۱_

۶_تاريخ طبرى ج ۳ ص ۲۲۷_۲۳۶_

۷_تاريخ طبرى ج ۳ ص ۲۳۹_

۸_ خط كا متن : من مسيلمہ رسول اللہ الى محمد رسول اللہ اما بعد فاننى قد اشركتُ فى ہذا الامر معك و ان لنا نصف الارض و لقريش نصف الارض ولكن قريشا قوم يعتدون تاريخ طبرى ج ۳ ص ۱۴۶ _ العبر ج ۲ ص ۵۸ _

۹_ خط كا متن :بسْم اللّه الرّحْمن الرَّحيم ، منْ مُحَمَّد رَسُول اللّه الى مُسَيْلمه الكَذَّاب: السَّلامُ عَلَى مَن اتَّبَعَ الْهُديْ، اَمَّا بَعْدُ : فَانَّ الْاَرْض للّه يُورثُهَا مَنْ يَشَائُ منْ عبَاده وَالْعَاقبَةُ للْمُتَقين _ تاريخ طبرى ج ۳ ص ۱۴۶ _العبر ج ۲ ص ۵۸_

۱۰_ تاريخ طبرى ج ۳ ص ۲۸۶ _

۱۱_ تاريخ طبرى ج ۳ ص ۲۷۴ _

۱۲__ تاريخ طبرى ج ۳ ص ۲۹۰_

۱۳_ تاريخ طبرى ج ۳ ص ۲۵۶_

۱۴_ سيرت حلبى ج ۳ ص ۲۰۷_ پرمرقوم ہے كہ اسامہ ۱۷ سال كے اور بعض نے ۱۸ سال لكھا ہے ليكن مُسلَّمہ طور پر انكى عمر ۲۰سال سے زيادہ تھى _

۱۵_ طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۱۹۰_

۱۶_ طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۱۹۰ _۱۹۱_

۱۷_ شر ح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج ۲ ص ۲۱ _منتہى الآمال ص ۱۲۸ _انيس المومنين نسخہ قلمى ص ۳_


۱۸_ ابن سعد نے لكھا ہے كہ اُبوُ مَؤيھَبَة كے ساتھ گئے ،طبقات ۲۰۴_

۱۹_ ارشاد شيخ مفيد ص ۹۷_

۲۰_ ارشاد ص ۹۸_ منتہى الآمال ص ۱۲۸_بحارالانوار ج ۲۲ص ۴۶۹_ جناب عمر كا يہ قول اہل سنت كى كتابوں ميں مختلف طريقوں سے مذكور ہے _ ابن اثير تاريخ كامل ميں لكھتا ہے : رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا قلم اور دوات لاؤ تا كہ تمہارے لئے وہ بات لكھ دوں جس سے تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے _ لوگوں نے كہا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہذيان بك رہے ہيں (نعوذ باللہ)_ برہان الدين حلبى شافعى لكھتے ہيں _ قال بعضہم و ہو سيدنا عمر : بعض نے كہا يعنى عمر نے كہا رجوع كريں كامل ابن اثير ج ۲ ص ۳۲۰ _ سيرت حلبيہ ج ۳ ص ۳۴۴ _مزيد مطالعہ كے ليے ملاحظہ فرمائيں صحيح بخارى كتاب العلم ج ۱ ص ۲۲ _ مسند احمد ج ۱ ص ۳۲۴ _ طبقات ج ۲ ص ۳۷ _صحيح مسلم ج ۲ ص ۱۴_ مسند احمد ج ۱ ص ۲۲۱_ البدا ية و النہايہ ج ۵ ص ۲۲۰ _حياة محمد ص ۴۷۵ _شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج ۲ ص ۲۲۰ _ملل و نحل ج ۱ ص ۳ ۱ _ سقيفہ جوہرى _ الوفاء ج ۲ ص ۷۸۹_كنز العمال ج ۳ ص ۱۳۸ _ مجمع الزوائد ج ۹ ص ۳۳_

۲۱_ ارشاد شيخ مفيد ص ۹۷_۹۸ منتہى الآمال ص ۱۲۸ _ تلخيص الشافى شيخ طوسى ج ۳ ص ۲۲۶_

۲۲_ آل عمران /۱۴۴_

۲۳_ طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۲۴۷ و ۲۴۸ _ارشاد شيخ مفيد ص ۹۸ _اعلام الورى ص ۱۴۳ _ ذہبى نے كتاب سيرت ميں لكھا ہے كہ پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت زہرا سلام اللہ عليہاسے فرمايا تم اس بات سے راضى نہيں ہو كہ تم مومنہ عورتوں كى سردار ہو ، يا اس امت كى عورتوں كى سردار ہو؟ تو فاطمہ(ع) زہر ا ہنس پڑيں _ سيرت ذہبى ص ۳۸۰ _

۲۴_ بحار الانوار ج ۲۲ ص ۵۱۴_

۲۵_بحارالانوار ج ۲۲ ص ۵۳۴_

۲۶_نہج البلاغہ فيض خطبہ ۲۲۶ص ۷۳۲_

۲۷_سائبان والى جگہ جہاں لوگ جمع ہوتے تھے_

۲۸_ بحار الانوار ج ۲۲ ص ۵۱۸_

۲۹_( وَلكنْ رَسُوُلُ اللّه وَ خَاتَمُ النَّبيّنَ ) (سورہ احزاب/۴۰)

۳۰_( وَ مَنْ يَبْتَغ غَيْرَ الاسْلاَمَ دينَاً فَلَنْ يّقْبَلَ منْهُ وَ هُوَ فى اْلآخرَة منَ الْخَاسريْنَ ) ( آل عمران/۸۵)

۳۱_( وَ نُريْدُ اَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذيْنَ اسَتُضْعفُوا فى الْاَرْض وَ نَجْعَلَهُمْ اَئمَّةً وَ نَجْعَلَهُمُ الْوارثيْنَ ) (قصص/۵)


فہرست

عرض ناشر: ۴

مقدمہ ۵

سيرت نگارى كى مختصر تاريخ ۵

ہدف تاليف ۷

پہلا سبق ۹

غزوہ بنى قَينُقاع ۱۰

حضرت فاطمہ زہرا (ع) كا حضرت علي (ع) كے ساتھ عقد ۱۲

غزوہ سويق ۱۴

غزوہ بنى سُلَيم ۱۵

''قَرَدَة''ميں سرّيہ زيد بن حارثہ ۱۶

غزوہ غَطَفَان ۱۷

جنگ احد كے مقدمات ۱۷

جنگ رونما ہونے كے اسباب ۱۷

پہلا قدم ، جنگى بجٹ كى فراہمي ۱۹

لشكر كى جمع آوري ۱۹

سياسى پناہ گزين ۲۰

لشكر قريش كى مدينہ روانگي ۲۱

عبّاس كى خبر رساني ۲۱

سپاہ قريش راستہ ميں ۲۲


معلومات كى فراہمي ۲۲

لشكر ٹھہرنے كى خبر ۲۳

مدينہ ميں ہنگامى حالت ۲۴

فوجى شورى كى تشكيل ۲۴

آخرى فيصلہ ۲۶

سوالات: ۲۷

حوالہ جات ۲۸

دوسرا سبق ۳۰

لشكر اسلام كى روانگي ۳۱

لشكر توحيد كا پڑاؤ ۳۱

منافقين كى خيانت ۳۳

صف آرائي ۳۴

دشمن اپنى صفوں كو منظم كرتاہے ۳۵

جنگى توازن ۳۶

جنگ كيسے شروع ہوئي؟ ۳۶

دشمن كے حوصلے بلند كرنے ميں موسيقى كا كردار ۳۷

اجتماعى حملہ ۳۸

فتح كے بعد شكست ۳۹

پيغمبراسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا دفاع كرنيوالوں كى شجاعت ۴۲

اُمّ عمارہ شير دل خاتون ۴۴


لشكر كى جمع آوري ۴۵

سوالات ۴۷

حوالہ جات ۴۸

تيسرا سبق ۴۹

شہيدوں كے پاكيزہ جسم كے ساتھ كيا سلوك ہوا؟ ۴۹

شہيدوں كے پاكيزہ جسم كے ساتھ كيا سلوك ہوا؟ ۵۰

طرفين كے نقصانات ۵۰

مفہوم شہادت ۵۱

نفسياتى جنگ ۵۱

كہاں جا رہے ہيں؟ ۵۲

احد ميں مسلمانوں كى شكست كے اسباب كا جائزہ ۵۳

شہداء كى لاشيں ۵۴

ان كو يہيں دفن كر وانيكى دُعا مستجاب ہوگئي ۵۵

مدينہ كى طرف ۵۷

نماز مغرب كا وقت آن پہنچا ۵۹

شہيدوں كى ايك جھلك ۵۹

ايك عقلمند صاحب ثروت كى شہادت ۶۰

بوڑھے عارف كى شہادت ۶۰

حجلہ خون ۶۱

مدينہ ميں منافقين كى ريشہ دوانياں ۶۳


مدينہ سے ۲۰ كيلوميٹر دور'' حمراء الاسد'' ميں جنگى مشق ۶۳

ابوعَزَّہ شاعر كى گرفتاري ۶۴

سوالات ۶۶

حوالہ جات ۶۷

چوتھا سبق ۶۹

سريہ ابوسَلَمَہ بن عبدُالاسد ۷۰

سريہ عبداللہ بن انيس انصاري ۷۱

رَجيع كا واقعہ ۷۲

بئْر مَعُونہ كا واقعہ ۷۴

سريہ عَمروبن اُميَّہ ۷۵

غَزوَہ بَني نُضَير ۷۶

دہشت گرد سے انتقام ۷۸

غزوہ بدر الموعد ۷۹

۴ ہجرى ميں رونما ہونے والے ديگر اہم واقعا ت _ ۸۰

سوالات ۸۱

حوالہ جات ۸۲

پانچواں سبق ۸۳

غَزوہ ذاتُ الرّقاع ۸۴

غزوہ دُومَةُ الجَندَل ۸۴

غزوہ خَندَق ( اَحزاَب) ۸۵


غزوہ خندق كے اسباب ۸۵

لشكر احزاب كى مدينہ كى طرف روانگي ۸۸

لشكر كى روانگى سے متعلق رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا آگاہ ہونا ۸۸

بجلى كى چمك ميں آنحضرت صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے كيا ديكھا؟ ۸۹

مدينہ لشكر كفار كے محاصرے ميں ۹۱

بَنى قُريَظہ كى عہد شكني ۹۱

خطرناك صورتحال ۹۳

ايمان و كفر كا آمنا سامنا ۹۴

سوالات : ۹۷

حوالہ جات ۹۸

چھٹاسبق ۱۰۰

دشمن كى صفوں ميں تفرقہ پيدا كرنے كى كوشش ۱۰۱

بنى قريظہ اور مشركين كے درميان پھوٹ ۱۰۲

دشمن كى صفوں ميں لشكر اسلام كا سپاہي ۱۰۶

شہداء اسلام اور كشتگان كفر ۱۰۷

لشكر احزاب كى شكست كے اسباب ۱۰۷

مكمل حفاظت_ ۱۰۸

جنگ احزاب كے نتائج ۱۰۸

غزوہ بنى قُرَيظَہ ۱۰۹

ايك خيانت كار مسلمان اور اسكى توبہ كى قبوليت ۱۱۰


بنى قريظہ كا اپنے آپ كو رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حوالے كرنا ۱۱۲

سعد بن معاذ كا فيصلہ ۱۱۲

سَعد كے فيصلے كى دليليں ۱۱۴

پيمان شكنى كا انجام ۱۱۵

اسارى اور مال غنيمت ۱۱۵

سوالات ۱۱۶

حوالہ جات: ۱۱۷

ساتواں سبق ۱۱۹

چھ ہجرى كا آغاز ۱۲۰

غزوہ بنى لحى ان ۱۲۰

مفسدين فى الارض كا قتل ( مطالعہ كيلئے) ۱۲۱

غزوہ بنى مُصطَلق يا مُرَيسيع ۱۲۲

ايك حادثہ ۱۲۳

زيد بن ارقم كا آنحضرت صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو خبر پہنچانا ۱۲۴

باپ اور بيٹے ميں فرق ۱۲۵

بَني مُصْطَلقْ كا اسلامى تحريك ميں شامل ہونا ۱۲۶

ايك فاسق كى رسوائي ۱۲۶

آنحصرت صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى بيوى پر تہمت (واقعہ افك)(مطالعہ كيلئے) ۱۲۷

صلح حديبيہ ۱۲۸

مكہ كى راہ پر: ۱۲۹


قريش كا موقف ۱۳۰

قريش كے نمائندے آنحضرت صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں ۱۳۱

آنحضرت صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے سُفرائ ۱۳۲

بيعت رضوان ۱۳۳

صلح نامے كامتن ۱۳۴

صلح كے مخالفين( مطالعہ كيلئے) ۱۳۶

ابو بصير كى داستان اور شرط دوم كا خاتمہ( مطالعہ كيلئے) ۱۳۷

صلح حديبيہ كے نتائج كا تجزيہ ۱۳۸

سوالات ۱۳۹

حوالہ جات ۱۴۰

آٹھواں سبق ۱۴۳

پيغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے عالمى پيغام كا اعلان ۱۴۴

سياسى حكمت عملى كے نكات كى رعايت ۱۴۵

شاہ ايران خسرو پرويز كے نام رسول اللہ كے خط كا متن_ ۱۴۷

خسرو پرويز كے نام خط اور اسكى گستاخي ۱۴۷

حبشہ كے بادشاہ نجاشى كے نا م آنحضرت صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا خط ۱۴۹

دوسرے حكمرانوں كا موقف ۱۵۱

خيبر كے يہوديوں سے جنگ كے اسباب ۱۵۱

لشكر توحيد كى روانگي ۱۵۲

معلومات كى فراہمي ۱۵۳


جنگى اعتبار سے مناسب جگہ پر لشكر گاہ كى تعيين ۱۵۳

لشكر كے لئے طبى امداد رسانى كا انتظام ۱۵۴

جديد معلومات ۱۵۴

آغاز جنگ اور پہلے قلعہ كى فتح ۱۵۴

سردار كے حكم سے روگرداني ۱۵۵

جنگى حكمت عملي ۱۵۵

على عليہ السلام فاتح خيبر ۱۵۶

سوالات ۱۵۹

حوالہ جات ۱۶۰

نواں سبق ۱۶۲

طرفين كے خسارے كا تخمينہ ۱۶۳

اسيروں كيسا تھ اچّھا برتاؤ ۱۶۳

فتح كے وقت در گزر ۱۶۴

مال غنيمت ۱۶۴

مال غنيمت ميں خيانت كى سزا ۱۶۵

مال غنيمت كى تقسيم ۱۶۵

خيبر پر حملے كے نتائج ۱۶۶

خيبر ميں لشكر اسلام كى كاميابى كے اسباب ۱۶۶

فدَك ۱۶۷

غزوہ وادى القري( ۷ ھ ق) ۱۶۷


تَيمائ( ۷ ھ ق) ۱۶۸

فتح خيبر كے بعد انجام پانے والے سرايا ۱۶۸

مكہ كى طرف ( عمرة القضائ) ۱۶۸

جنگ موتہ ۱۷۰

عالمى استكبار سے پہلا مقابلہ ۱۷۰

گريہ كيوں؟ ۱۷۱

غير مساوى طاقتوں كى جنگ ۱۷۳

لشكر اسلام كے دلير سردار جعفر ابن ابى طالب(ع) كى شہادت ۱۷۴

عبداللہ ابن رواحہ اور زيد ابن حارثہ كى شہادت ۱۷۴

مجاہدين كى واپسي ۱۷۵

رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جعفر ابن ابيطالب(ع) كے سوگ ميں ۱۷۶

جنگ ذات السّلاسل ۱۷۷

سوالات ۱۷۸

حوالہ جات ۱۷۹

دسواں سبق ۱۸۲

فتح مكہ ۱۸۳

قريش كى عہد شكني ۱۸۳

تجديد معاہدہ كى كوشش ۱۸۴

لشكر اسلام كى تياري ۱۸۶

راستوںكو كنٹرول كرنے كيلئے چيك پوسٹ ۱۸۶


ايك جاسوس كى گرفتاري ۱۸۶

مكّہ كى جانب ۱۸۸

دشمن كو ڈرانے كيلئے عظيم جنگى مشق ۱۸۸

مشركين كا پيشوا ، مومنين كے حصار ميں ۱۹۰

مكہ ميں نفسياتى جنگ ۱۹۲

شہر كا محاصرہ ۱۹۲

ايك فوجى دستہ كے ساتھ مشركين كى جھڑپ ۱۹۳

سوالات ۱۹۴

حوالہ جات ۱۹۵

گيارھواں سبق ۱۹۶

شہر مكہ ميں داخلہ ۱۹۷

صدائے اتحاد ۱۹۷

اذان بلال ۲۰۰

بت شكن ، بت پرست ۲۰۱

آزاد شدہ شہر ''مكہ ''كے لئے والى اور معلم دين كا تقرر ۲۰۱

اسلام كے نام پر خونريزى اور جرائم ۲۰۱

جنگ حنين ۲۰۲

دشمن كى سازش سے پيغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى آگاہي ۲۰۳

حنين كى طرف روانگي ۲۰۳

دشمن كى اطلاعات اور تياري ۲۰۴


درہ حنين ميں ۲۰۴

فرار ۲۰۵

واپسى ،مقابلہ ،كاميابي ۲۰۵

عورتوں اور بوڑھوں كو قتل نہ كرو ۲۰۷

آغاز جنگ ميں مسلمانوں كى شكست كا تجزيہ ۲۰۷

سوالات ۲۰۹

حوالہ جات ۲۱۰

بارھواں سبق ۲۱۲

طائف كى جنگ ۲۱۳

جديد جنگى ہتھياروں كى ٹيكنالوجي ۲۱۳

واپسي ۲۱۴

ہوازن كے اسيروں كى رہائي ۲۱۵

مال غنيمت كى تقسيم ۲۱۶

وہ افراد جن كى دلجوئي كى گئي ۲۱۶

منافقين كا اعتراض ۲۱۷

دوستوں كے آنسو ۲۱۸

مدينہ واپسي ۲۱۸

غزوہ تبوك(۱۳) ۲۱۸

ايك ہولناك خبر ۲۱۸

منافقين كى حركتيں ۲۱۹


بہانے تراشياں ۲۲۱

منافقين كے خفيہ مركز كا انكشاف ۲۲۲

جنگى اخراجات كى فراہمي ۲۲۲

اشك حسرت ۲۲۳

سوالات ۲۲۵

حوالہ جات ۲۲۶

تيرھواں سبق ۲۲۸

بے نظير لشكر ۲۲۹

منافقين كى واپسي ۲۲۹

شخصيت پر حملہ ۲۳۰

تپتا صحرا ۲۳۱

حضرت ابوذر كا واقعہ ۲۳۲

لشكر اسلام تبوك ميں ۲۳۳

دومة الجندل كے بادشاہ كى گرفتاري ۲۳۴

پيغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر حملہ كى سازش ۲۳۴

مسجد ضرار كو ويران كردو ۲۳۵

اسلحہ فروخت نہ كرو ۲۳۶

جنگ ميں دعا كى تاثير ۲۳۶

غزوہ تبوك سے ماخوذ نتائج ۲۳۷

سوالات ۲۳۹


حوالہ جات ۲۴۰

چودھواں سبق ۲۴۲

منافقين كے سربراہ كى موت ۲۴۳

مدينہ ميں مختلف قبائل كے نمائندہ وفود كى آمد ۲۴۳

وہ دين جس ميں نماز نہيں اس كا كوئي فائدہ نہيں ۲۴۴

ابراہيم كا سوگ ۲۴۴

خرافات سے جنگ ۲۴۵

مشركين سے بيزاري ۲۴۵

حضرت على (ع) اہم مشن پر ۲۴۵

مباہلہ ۲۴۷

حضرت على (ع) كى يمن ميں ماموريت ۲۴۹

سوالات ۲۵۰

حوالہ جات ۲۵۱

پندرھواں سبق ۲۵۳

حجة الوداع ۲۵۴

جہان عدالت باعث عداوت ہے ۲۵۵

حجة الوداع كے موقعہ پررسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى پر جوش تقرير ۲۵۵

غدير خم ۲۵۹

رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى تقرير كا ترجمہ ملاحظہ ہو ۲۶۰

سوالات ۲۶۴


حوالہ جات ۲۶۵

سولہواں سبق ۲۶۷

شورشيں ۲۶۸

اسود عنْسيّ كا واقعہ ۲۶۸

يمن ميں انقلابى بغاوت ۲۶۹

مسيلمہ كذاب كا واقعہ ۲۷۱

جھوٹے پيغمبر كى طرف ميلان كا سبب ''قومى تعصب'' ۲۷۲

جھوٹوں كا انجام ۲۷۳

رحلت پيغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے وقت كے حالات كا تجزيہ ۲۷۳

لشكر اسامہ كى روانگي ۲۷۴

اہل بقيع كے مزار پر ۲۷۶

واقعہ قرطاس يا نا مكمل تحرير ۲۷۶

ناتمام نماز ۲۷۷

وداع پيغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۲۷۸

يہ نور ہرگز نہيں بجھے گا ۲۸۰

سوالات ۲۸۲

حوالہ جات ۲۸۳