تاريخ اسلام (امير المؤمنين (ع) كى حيات طيبہ)- جلد 3
گروہ بندی متن تاریخ
مصنف مركز تحقيقات علوم اسلامي
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


تاريخاسلام (۳)

امير المؤمنينعليه‌السلام كى حيات طيبہ

مؤلف : مركز تحقيقات اسلامي

مترجم : معارف اسلام پبلشرز


نام كتاب: تاريخ اسلام ۳ (امير المؤمنينعليه‌السلام كى حيات طيبہ)

مؤلف: مركز تحقيقات اسلامي

مترجم: معارف اسلام پبلشرز

ناشر: نور مطاف

جلد: سوم

اشاعت: سوم

تاريخ اشاعت: ربيع الثاني۱۴۲۸ھ _ق

تعداد: ۲۰۰۰

Web : www.maaref-foundation.com

E-mail: info@maaref-foundation.com

جملہ حقوق طبع بحق معارف اسلام پبلشرز محفوظ ہيں _


عرض ناشر:

ادارہ معارف اسلام پبلشرز اپنى اصلى ذمہ دارى كو انجام ديتے ہوئے مختلف اسلامى علوم و معارف جيسے تفسير، فقہ، عقائد، اخلاق اور سيرت معصومين(عليہم السلام) كے بارے ميں جانے پہچانے محققين كى قيمتى اور اہم تاليفات كے ترجمے اور طباعت كے كام كو انجام دے رہاہے_

يہ كتاب تاريخ اسلام ۳ (امير المؤمنينعليه‌السلام كى حيات طيبہ) جو قارئين كے سامنے ہے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے اہل بيت اطہار كى سيرت اور تاريخ پر لكھى جانے والى كتابوں كے سلسلے كى ايك كڑى ہے جسے گذشتہ سالوں ميں ترجمہ كرواكر طبع كيا گيا تھا_ اس ترجمہ كے دستياب نہ ہونے اور معزز قارئين كے مسلسل اصرار كے باوجود اس پر نظر ثانى اور اسے دوبارہ چھپوانے كا موقع نہ مل سكا_

خداوند عالم كے لطف و كرم سے اس سال كہ جسے رہبر معظم (دام ظلہ) كى جانب سے رسول اعظمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا سال قرار ديا گيا ہے، اس نفيس سلسلے كى تيسرى جلد كو ، نظر ثانى اور تصحيح كے بعد دوبارہ زيور طبع سے آراستہ كيا جارہاہے_ ہم اميد كرتے ہيں كہ خداوند متعال كے فضل و كرم، امام زمان (عجل اللہ تعالى فرجہ الشريف) كى خاص عنايت اور ادارے كے ساتھ تعاون كرنے والے محترم فضلاء كے مزيد اہتمام و توجہ سے اس سلسلے كى بعد والى جلدكہ جو حضرت زہرا اور ائمہ معصومين كى حيات طيبہ كے بارے ميں ہے كوبھى جلد از جلدچھپوا كر مطالعہ كے شائقين كى خدمت ميں پيش كرسكيں گے_

ان شاء اللہ تعالى

معارف اسلام پبلشرز


حضرت على _ كى زندگي مختلف ادوار

حضرت علىعليه‌السلام كى تريسٹھ سالہ زندگى كو پانچ ادوار ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے :

۱_ ولادت سے حضرت محمد مصطفىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے مبعوث ہونے تك _

۲_ بعثت سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ہجرت تك

۳_ ہجرت سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت تك

۴_ رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت سے خلافت ظاہرى تك

۵_ خلافت ظاہرى سے شہادت تك


پہلا سبق

ولادت سے حضرت محمد مصطفيصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے مبعوث بہ رسالت ہونے تك

ولادت

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے زير دامن آپ كى پرورش

بعثت سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ہجرت تك

حضر ت علىعليه‌السلام وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے دين اسلام قبول كيا

بے نظير قربانى

ہجرت سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت تك

علىعليه‌السلام رسول خدا كے امين

علىعليه‌السلام رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بھائي

علىعليه‌السلام اور راہ خدا ميں جنگ

علىعليه‌السلام جنگ بدر كے بے نظير جانباز

حضرت علىعليه‌السلام رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے تنہا محافظ

جنگ خندق ميں علىعليه‌السلام كا كردار


علىعليه‌السلام فاتح خيبر

امير المومنينعليه‌السلام كى سياسى زندگى ميں جنگجوئي كے اثرات

حضرت علىعليه‌السلام اور پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جانشينى

حديث يوم الدار

حديث منزلت

قرآن مجيد ميں حضرت ہارونعليه‌السلام كے مقامات و مناصب

حديث غدير

سوالات

حوالہ جات


ولادت

حضرت علىعليه‌السلام نے ۱۳ رجب بروز جمعہ ' عام الفيل(۱) كے تيسويں سال ميں (بعثت سے دس سال قبل) خانہ كعبہ ميں ولادت پائي اس نومولود بچے كے والد كا نام عمران(۲) تھا وہ قبيلہ بنى ہاشم كے سردار تھے اور مكہ كے بااثر لوگوں ميں شمار كئے جاتے تھے آپكى والدہ فاطمہ بن اسد ابن ہاشم ابن عبد مناف تھيں _ آپعليه‌السلام كو خانہ كعبہ كے طواف كے درميان درد زہ محسوس ہوا چنانچہ آپ معجزے كے زير اثر خانہ كعبہ كى عمارت ميں داخل ہو گئيں جہاں حضرت علىعليه‌السلام كى ولادت ہوئي_

خانہ كعبہ ميں امير المومنين حضرت علىعليه‌السلام كى ولادت كو عام شيعہ مورخين و محدثين اور علم انساب كے دانشوروں نے اپنى كتابوں ميں تحرير كيا ہے اور اب تك كسى دوسرے شخص كو يہ فضيلت حاصل نہيں ہوئي ہے(۳)

پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے زير دامن آپ كى پرورش

حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جب پہلى مرتبہ وحى نازل ہوئي تو اس وقت حضرت عليعليه‌السلام كى عمر دس سال


سے زيادہ نہ تھي_ حضرت علىعليه‌السلام كى زندگى كا وہ حساس ترين دور تھا جس ميں حضرت محمد بن عبداللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے زير سايہ عاطفت آپ كى شخصيت كى تشكيل ہوئي آيندہ جو واقعات رونما ہونے والے تھے ان كا چونكہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو مكمل علم تھا اور بخوبى يہ جانتے تھے كہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بعد حضرت علىعليه‌السلام ہى امت مسلمہ كے امور كى زمام سنبھاليں گے اس لئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے منظم دستورالعمل كے تحت اپنے زير دامن تربيت كى غرض سے اس وقت جب كہ حضرت علىعليه‌السلام كى عمر چھ ہى سال تھى ان كے والد كے مكان سے اپنے گھر منتقل كر ليا تاكہ براہ راست اپنى زير نگرانى تربيت و پرورش كرسكيں _(۴)

حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو حضرت علىعليه‌السلام سے اس قدر محبت تھى كہ آپ كو معمولى دير كى جدائي بھى گوارانہ تھى چنانچہ جب كبھى عبادت كى غرض سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مكہ سے باہر تشريف لے جاتے(۵) تو حضرت علىعليه‌السلام كو بھى ہمراہ لے جاتے_

حضرت علىعليه‌السلام نے اس دور كى كيفيت اس طرح بيان فرمائي ہے : يہ تو آپ سب ہى جانتے ہيں كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو مجھ سے كس قدر انسيت تھى اور مجھے جو خاص قربت حاصل تھى اس كا بھى آپ كو علم ہے ميں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى پر شفقت آغوش ميں پرورش پائي ہے جب ميں بچہ تھا تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مجھے گود ميں لے ليا كرتے تھے مجھے آپ گلے سے لگاتے تھے اور اپنے ساتھ سلاتے تھے ميں اُن كے بدن كو اپنے بدن سے چمٹا ليتا تھا اور آپ كے بدن كى خوشبو سونگھتا تھا ، آپ نوالے چباتے اور ميرے منھ ميں ديتے تھے '' _

جس طرح ايك بچہ اپنى ماں كے پيچھے چلتا ہے اسى طرح ميں پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پيچھے پيچھے چلتا تھا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہر روز اپنے اخلاقى فضائل كا پرچم ميرے سامنے لہراتے اور فرماتے كہ ميں بھى آپ كى پيروى كروں _(۶)

اس دوران حضرت علىعليه‌السلام نے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے اخلاق گرامى اور فضائل انسانى سے بہت زيادہ كسب فيض كيا اور آپ كى زير ہدايت و نگرانى روحانيت كے درجہ كمال پر پہنچ گئے_


بعثت سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ہجرت تك

حضرت علىعليه‌السلام وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے دين اسلام قبول كيا _

حضرت علىعليه‌السلام كا اولين افتخار يہ ہے كہ آپ نے سب سے پہلے دين اسلام قبول كيا بلكہ صحيح معنوں ميں يوں كہيئے كہ آپ نے اپنے قديم دين كو آشكار كيا _

دين اسلام قبول كرنے ميں پيشقدمى وہ اہم موضوع ہے جس كو قرآن نے بھى بيان كيا ہے(۷) يہى نہيں بلكہ جن لوگوں نے فتح مكہ سے قبل دين اسلام قبول كيا اور راہ خدا ميں اپنے جان و مال كو نثار كيا انھيں ان لوگوں پر فوقيت دى ہے جو فتح مكہ كے بعد ايمان لائے اور جہاد كيا(۸) اس پس منظر ميں اس شخص كى عظمت كا اندازہ لگايا جاسكتا ہے جو سب سے پہلے دين اسلام سے مشرف ہوا اور اس وقت ايمان لايا جب كہ ہر طرف دشمنان اسلام كى طاقت كا ہى دور دورہ تھا يہ ايك عظيم افتخار تھے كہ ديگر تمام فضائل اس كى برابرى نہيں كر سكتے _

بہت سے مورخين كا اس بات پر اتفاق ہے كہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر پہلى مرتبہ وحى پير كے دن نازل ہوئي اور اس كے اگلے دن حضرت علىعليه‌السلام ايمان لائے _(۹)

حضرتعليه‌السلام نے دين اسلام قبول كرنے ميں جو دوسروں پر سبقت حاصل كى سب سے پہلے خود پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس كى صراحت كرتے ہوئے صحابہ كے مجمع عام ميں فرمايا تھا '' روز قيامت مجھ سے حوض كوثر پر وہ شخص سب سے پہلے ملاقات كرے گا جس نے دين اسلام قبول كرنے مےں تم سب پر سبقت كى اور وہ ہے على بن ابى طالبعليه‌السلام (۱۰)

خود حضرت علىعليه‌السلام نے بھى مختلف مواقع پر اس حقيقت كى صراحت فرمائي ہے _ايك جگہ آپ فرماتے ہيں '' اس روز جب كہ اسلام كسى كے گھر تك نہيں پہنچا تھا اور صرف پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و حضرت خديجہعليه‌السلام اس دين سے مشرف ہوئي تھيں ميں تيسرا مسلمان تھا _ ميں نور وحى و رسالت كو ديكھتا تھا اور نبوت كى خوشبو سونگھتا تھا _(۱۱)


دوسرى جگہ آپ فرماتے ہے : '' خدا وندا ميں وہ پہلا شخص ہوں جس نے تيرى طرف رجوع كيا ، تيرے پيغام كو سنا امور تيرے پيغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى دعوت پر لبيك كہا ''(۱۲)

بے نظيرقربانى

آپ كے ديگر افتخار ميں سے ايك افتخار يہ بھى ہے جب آپعليه‌السلام شب ہجرت (جوكے ليلة المبيت كے نام سے مشہور ہے)پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بستر پر سو گئے اور اس دوران آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مكہ سے مدينے ہجرت فرمائي اور تمام مورخين نے اس واقعہ كو بيان كيا ہے اہل قريش ميں سے چاليس بہادروں نے يہ فيصلہ كر ليا تھا كہ اس رات رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو قتل كر ديں اس غرض سے انہوں نے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے گھر كو نرغے مےں لے ليا _ اس رات حضرت علىعليه‌السلام نے اپنى جان كى بازى لگا كر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى حفاظت فرمائي اور جو خطرات رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو پيش آنے والے تھے ان كو اپنے مول لے ليا _

يہ قربانى اس قدر اہم اور قابل قدر تھى جيسا كہ متعدد روايات(۱۳) سے معلوم ہوتا ہے كہ اللہ تعالى نے اس موقع پر يہ آيت نازل فرمائي (ومن الناس من يشرى نفسہ ابتغاء مرضات اللہ واللہ رء وف بالعباد)(۱۴) يعنى انسانوں ميں سے كوئي ايسا بھى ہے جو رضائے الہى كى طلب ميں اپنى جان كھپا ديتا ہے اور ايسے بندوں پر اللہ بہت مہربان ہے _

ہجرت سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت تك

عليعليه‌السلام رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے امين

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو جب يہ حكم ملاكہ مكہ سے مدينہ تشريف لے جائيں تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو اپنے قبيلے كے افراد ميں كوئي بھى ايسا شخص نظر نہ آيا جو حضرت علىعليه‌السلام سے زيادہ امين و صادق ہو چناچہ اس بناء پر رسول خدا


نے على عليه‌السلام كو اپنا جانشين مقرر كيا اور فرمايا كہ لوگوں كو ان كى امانتيں جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس تھيں واپس كر ديں اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جو قرض واجب ہيں انھيں بھى ادا كر ديں اس كے بعد آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى دختر فاطمہعليه‌السلام اور بعض ديگر خواتين كو ساتھ لے كر مدينہ آجائيں _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ہجرت كے بعد حضرت علىعليه‌السلام ان امور كو انجام دينے كے لئے جن كے بارے ميں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا تھا تين دن تك مكہ ميں تشريف فرما رہے اس كے بعد آپ اپنى والدہ فاطمہ ' دختر رسول خدا حضرت فاطمہعليه‌السلام فاطمہ بن زبير اور ديگر بعض عورتوں كے ہمراہ پيدل مدينہ كى جانب روانہ ہوئے اور قبا ميں پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جاملے(۱۵)

جس وقت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى نظر حضرت علىعليه‌السلام پر پڑى تو ديكھا كہ حضرت علىعليه‌السلام كے پيروں ميں پيدل چلنے سے چھاليں پڑ گئي ہيں اور ان سے خوں ٹپكنے لگا ہے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى انكھوں ميں آنسو بھر آئے اور آپ نے فرط محبت سے گلے لگا ليا اور آپ كے حق مےں دعا كى اس كے بعد آپ نے لعاب دہن حضرت عليعليه‌السلام كے پيروں پر لگايا جس كى وجہ سے زخم بھر گئے _(۱۶)

عليعليه‌السلام رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بھائي

ہجرت كر كے مدينہ تشريف لے جانے كے بعد پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جو اہم و سودمند اقدامات كئے ان ميں ايك يہ تھا كہ مہاجرين و انصار كے درميان رشتہ اخوت و برادرى بر قرار كيا چنانچہ اس وقت مسجد ميں جتنے بھى لوگ موجود تھے ان كے درميان رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علىعليه‌السلام كے علاوہ رشتہ برادرى قائم كر ديا _ حضرت علىعليه‌السلام تنہا رہ گئے تھے آپ نے پيغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں عرض كيا : يا رسول اللہ آپ نے ميرے علاوہ ہر ايك كو رشتہ برادرى ميں منسلك كر ديا ؟ اس موقع پر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وہ تاريخى جملہ اپنى زبان مبارك سے ادا كيا جس سے يہ اندازہ ہوتا ہے كہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى نظر ميں حضرت عليعليه‌السلام كا كيا مقام تھا اور آپ كى نظروں ميں انكى كتنى وقعت و اہميت تھى _

آپ نے فرمايا '' قسم ہے اس خدا كى جس نے مجھے حق كے ساتھ مبعوث كيا ميں نے تمہارے


رشتہ برادرى ميں تاخير نہيں كى بلكہ تمہيں اپنے رشتہ اخوت و برادرى كے ليے منتخب كيا ہے تم ہى دين و دنيا ميں ميرے بھائي ہو ''( ۱۷ ) _

علىعليه‌السلام اور راہ خدا ميں جنگ

حضرت على كى شخصيت اپنى قربانيوں اور راہ حق ميں جانبازيوں كے باعث صحابہ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے درميان لاثانى و بے مثال ہے(۱۸) غزوہ تبوك كے علاوہ آپ نے تمام غزوات ميں شركت كى اور غزوہ تبوك ميں پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ہدايت كے مطابق آپ مدينہ ميں مقيم رہے يہ آپ كى قربانى اور جانبازى كا ہى نتيجہ تھا كہ سپاہ اسلام نے سپاہ شرك پر غلبہ حاصل كيا اگر اسلام كے اس جيالے كى جانبازياں نہ ہوتيں تو ممكن تھا كہ وہ مشرك و كافر جو مختلف جنگوں ميں اسلام كے خلاف بر سرپيكار رہے چراغ رسالت كو آسانى سے خاموش اور پرچم حق كو سرنگوں كر ديتے _

يہاں ہم حضرت علىعليه‌السلام كى ان قربانيوں كا سر سرى جائزہ ليں گے جو آپ نے جنگ كے ميدانوں (بدر ' احد ' خندق اور خيبر)ميں پيش كيں _

عليعليه‌السلام جنگ بدر كے بے نظير جانباز

جنگ بدر ميں حضرت علىعليه‌السلام كى شخصيت دو وجہ سے نماياں رہى _

۱ _ جنگ فرد بفرد : جس وقت مشركين كے لشكر سے عتبہ ' شيبہ اور وليد جيسے تين نامور دليروں نے ميدان جنگ ميں اتر كر سپاہ اسلام كو للكارا تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم پر حضرت عبيدہ بن حارث ' حمزہ بن عبدالمطلب اور على بن ابى طالبعليه‌السلام ان سے جنگ كرنے كے لئے ميدان جنگ مےں اتر آئے _ چنانچہ حضرت عبيدہ عتبہ سے ' حضرت حمزہ ، شيبہ سے اور حضرت علىعليه‌السلام وليد سے برسر پيكار ہو گئے _


مورخين كا بيان ہے : حضرت على عليه‌السلام نے پہلے ہى وار ميں دشمن كو قتل كر ڈالا ' اس كے بعد آپعليه‌السلام حضرت حمزہ كى مدد كے لئے پہنچے اور ان كے حريف كے بھى دم شمشير سے دو ٹكڑے كرديئے اس كے بعد يہ دونوں بزرگ حضرت عبيدہ كى جانب مدد كى غرض سے بڑھے اور ان كے حريف كو بھى ہلاك كر ڈالا(۱۹) _

اس طرح آپعليه‌السلام لشكر مشركين كے تينوں نامور پہلوانوں كے قتل ميں شريك رہے _ چنانچہ آپ نے معاويہ كو جو خط لكھا تھا اس ميں تحرير فرمايا كہ وہ تلوار جس سے ميں نے ايك ہى دن ميں تيرے دادا (عتبہ)' تيرے ماموں (وليد)' تيرے بھائي (حنظلہ)اور تيرے چچا (شيبہ)كو قتل كيا تھا اب بھى ميرے پاس ہے(۲۰) _

۲ _ اجتماعى و عمومى جنگ_ مورخين نے لكھا ہے كہ جنگ بدر ميں لشكر مشركين كے ستر(۷۰)

سپاہى مارے گئے جن ميں ابوجہل ' اميہ بن خلف ' نصر بن حارث و اور ديگر سر برآوردہ سرداران كفار شامل تھے ' ان ميں سے ستائيس سے پينتيس كے درميان حضرت علىعليه‌السلام كى شمشير كے ذريعہ لقمہ اجل ہوئے ، اس كے علاوہ بھى دوسروں كے قتل ميں بھى آپ كى شمشير نے جو ہر دكھائے _ چنانچہ اس وجہ سے قريش آپ كو '' سرخ موت ''كہنے لگے كيونكہ اس جنگ ميں انھيں ذلت و خوارى اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے ہاتھوں نصيب ہوئي تھى(۲۱) _

حضرت علىعليه‌السلام رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے تنہا محافظ

جنگ احد ميں بھى حضرت علىعليه‌السلام كے كردار كا جائزہ دو مراحل ' يعنى مسلمانوں كى فتح و شكست ' كے پس منظر ميں ليا جاسكتا ہے _

مرحلہ فتح و كاميابى :

اس مرحلے ميں لشكر اسلام كو كاميابى اور مشركين كو پسپائي آپ ہى كے دست مبارك سے ہوئي_ لشكر قريش كا اولين پر چمدار طلحہ بن ابى طلحہ جب حضرت علىعليه‌السلام كے حملوں كى تاب نہ لاتے


ہوئے زمين پر گر گيا تو اس كے بعد دوسرے نو افراد نے يكے بعد ديگر پرچم لشكر اپنے ہاتھوں ميں ليا ليكن جب وہ بھى حضرت علىعليه‌السلام كى شمشير سے مارے گئے تو لشكر قريش كے لئے راہ فرار كے علاوہ كوئي چارہ نہ تھا(۲۲) _

مرحلہ شكست :

جب آبناے '' عينين'' كے بيشتر كمانداروں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم سے سرتابى كى اور اپنى جگہ سے ہٹ گئے تو اس وقت خالد بن وليد اپنے گھڑ سوار لشكر كے ساتھ اس پہاڑ كا چكر كاٹ كر اس آبنائے كى راہ سے مسلمانوں پر ايك دم حملہ آور ہوا چونكہ يہ حملہ اچانك اور انتہائي كمر شكن تھا اسى لئے جنگ كے اس مرحلے ميں ستر مسلمانوں كو شہادت نصيب ہوئي اور باقى جو چند بچ گئے تھے انھوں نے راہ فرار اختيار كى _

اس مرحلے ميں حضرت علىعليه‌السلام كا اہم ترين كردار يہ تھا كہ آپ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے وجود مقدس كى پاسبانى و حفاظت كے فرائض انجام دے رہے تھے _

ان حالات مےں جبكہ چند مسلمانوں كے علاوہ سب اپنى جان بچانے كى خاطر ميدان جنگ سے فرار كر گئے اور لشكر قريش نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو ہر طرف سے اپنے حملوں كا نشانہ بناليا تو اس وقت حضرت علىعليه‌السلام ہى تھے جنہوں نے اپنے حملوں سے دشمن كو آگے بڑھنے سے روكا چنانچہ دشمنان اسلام كا وہ گروہ جو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے نزديك آكر حملہ كرنا چاہتا تھا آپ ہى كى تيغ سے ہلاكت كو پہنچا_

اميرالمومنين علىعليه‌السلام كى يہ قربانى اتنى اہم و قابل قدر تھى كہ حضرت جبرئيلعليه‌السلام نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو اس كى مبارك بادى دى چنانچہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھى يہ فرمايا كہ :''على منى و انا من على '' (يعنى على مجھ سے ہيں اور ميں على سے ہوں ) اس قربانى كو قدر ومنزلت كى نگاہ سے ديكھا اور جب غيب سے يہ ندا آئي :''لا سيف الا ذوالفقار و لا فتى الا علي'' تو دوسروں كو بھى حضرت علىعليه‌السلام كى اس قربانى كا انداز ہ ہوا(۲۳)

خود حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے اصحاب كے ساتھ اپنى گفتگو كے درميان اس قربانى كا ذكر كرتے


ہوئے فرمايا : جس وقت لشكر قريش نے ہم پر حملہ كيا تو انصار ومہاجرين نے اپنے گھروں كى راہ اختيار كى مگر ميں ستر سے زيادہ زخم كھانے كے باوجود آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى مدافعت و پاسبانى كرتا رہا_(۲۴ )

حضرت علىعليه‌السلام نے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى پاسبانى و مدافعت كى خاطر دشمن كا جم كر مقابلہ كيا كہ آپ كى تلوار ٹوٹ گئي اس وقت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنى وہ شمشير جس كا نام ''ذوالفقار'' تھا آپ كو عطا فرمائي چنانچہ آپ نے اسى سے راہ خدا ميں اپنے جہاد كو جارى ركھا _(۲۵)

جنگ خندق ميں علىعليه‌السلام كا كردار

مختلف لشكروں (احزاب) كے دس ہزار سپاہيوں نے تقريباً ايك ماہ تك مدينہ كا محاصرہ جارى ركھا _ اتنى مدت گذرجانے كے بعد بالآخر دشمن كو اس كے علاوہ كوئي چارہ نظر نہ آيا كہ وہ اپنے مضبوط وطاقتور لشكر كو جس طرح بھى ممكن ہو سكے خندق پار كرائے_ اس فيصلے كے بعد عربوں كے ''نامور پہلوان عمر بن عبدود'' نے اپنے ساتھ پانچ سپاہى ليے اور اس جگہ سے جہاں خندق كم چوڑى تھى پار كرآيا اور جنگ كے لئے للكارا _ حضرت علىعليه‌السلام نے اس كى اس دعوت جنگ كو قبول كيا اور اس كے نعروں كا جواب دينے كيلئے آگے بڑھے چنانچہ سخت مقابلے كے بعد عربوں كاوہ دلاور ترين جنگجو پہلوان جسے ايك ہزار جنگى سپاہيوں كے برابر سمجھا جاتا تھا ، حضرت علىعليه‌السلام كى شمشير سے زمين پر گر پڑا عمرو كے ساتھيوں نے جب اس كى يہ حالت ديكھى تو وہ فرار كرگئے اور ان ميں سے جو شخص فرار نہ كرسكا وہ ''نوفل' تھا _ چنانچہ وہ بھى حضرت علىعليه‌السلام كے ايك ہى وار سے عمرو سے جاملا_ عمروبن عبدود كى موت (نيز بعض ديگر عوامل) اس امر كا باعث ہوئے كہ جنگ كا غلغلہ دب گيا او رمختلف لشكروں ميں سے ہر ايك كو اپنے گھر واپس جانے كى فكر دامنگير ہوئي_

اس جنگ ميں حضرت علىعليه‌السلام نے ميدان جنگ كى جانب رخ كيا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا: خدايا جنگ بدر كے دن عبيدہ اور احد ميں حمزہ كو تو نے مجھ سے جدا كرديا اب علىعليه‌السلام كو تو ہرگزند سے محفوظ فرما_ اس


كے بعد آپ نے يہ آيت پڑھى( رب لا تذرنى فردا و انت خيرالوارثين ) _(۲۶)

جب عمرو كے ساتھ ميدان جنگ ميں مقابلہ ہوا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا :

''برزالايمان كله الى الشرك كله'' (*) يعنى ايمان وشرك كے دو مظہر كامل ايك دوسرے كے مقابل ہيں )

ا ور جب آپ ميدان جنگ سے فاتح و كامران واپس آئے تو پيغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا : ''لو وزن اليوم عملك بعمل امة محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لرجح عملك بعلمہم''_(يعنى اگر آج تمہارے عمل كا امت محمد كے تمام اعمال (پسنديدہ) سے مقابلہ كياجائے تو (بے شك) اس عمل كو ان پر برترى ہوگي_(۲۷)

علىعليه‌السلام فاتح خيبر

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے يہوديوں كے مركز ''خيبر'' كا محاصرہ كيا تو اس غزوہ كے ابتدائي دنوں ميں حضرت علىعليه‌السلام آشوب چشم كے باعث اس ميں شريك نہيں ہوسكتے تھے چنانچہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پرچم اسلام دو مسلمانوں كو ديا ليكن وہ دونوں ہى يكے بعد ديگرے كامياب ہوئے بغير واپس آگئے_

يہ ديكھ كر پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا يہ پرچم ان كا حق نہ تھا علىعليه‌السلام كو بلاؤ عرض كيا گيا كہ ان كى آنكھ ميں درد ہے _ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ : علىعليه‌السلام كو بلاؤ وہى ايسا مرد ہے جو خدا اور اس كے رسول كو عزيز ہے وہ بھى خدا اور اس كے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو عزيز ركھتا ہے _(۲۸)

جس وقت حضرت علىعليه‌السلام پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حضور تشريف لائے تو آپ نے دعا فرماتے ہوئے اپنے دہان مبارك سے لعاب ان كى آنكھوں پر لگايا جس كے باعث درد چشم زائل ہوگيا اس كے بعد حضرت علىعليه‌السلام نے پرچم اٹھايا اور ميدان جنگ كى جانب روانہ ہوگئے_

يہودى دلاور اپنے قلعے سے نكل كر باہر آئے _ مرحب كابھائي حارث نعرا لگاتا ہوا حضرت علىعليه‌السلام كى جانب بڑھا مگر چند ہى لمحے بعد اس كا مجروح بدن خاك پر تڑپنے لگا _ مرحب اپنے بھائي كى


موت سے سخت رنجيدہ خاطر ہوا چنانچہ اس كا انتقام لينے كى غرض سے وہ ہتھياروں سے ليس حضرت علىعليه‌السلام سے لڑنے كے لئے ميدان جنگ ميں اتر آيا _ پہلے تو دونوں كے درميان كچھ دير گفت و شنيد ہوئي مگر پلك جھپكتے ہى جانباز اسلام كى شمشير بران مرحب كے سر پر پڑى اوآن كى آن ميں اسے خاك پر ڈھير كرديا_ دوسرے يہودى دلاوروں نے جب يہ ماجرا ديكھا تو وہ بھاگ گئے اور اپنے قلعے ميں چھپ گئے اور دروازہ بند كرليا _ حضرت علىعليه‌السلام نے ان بھاگنے والوں كا تعاقب كيااور جب دروازہ بند پايا تو قدرت حق سے اسى دروازے كو جسے بيس آدمى مل كر بند كيا كرتے تھے تن تنہا ديوار قلعہ سے اكھاڑ ليا اور يہوديوں كى قلعہ خندق پر گرايا تاكہ سرباز اسلام اس كے اوپر سے گذر كر فساد اور خطرہ كے آخرى سرچشمہ كو كچل ديں _(۲۹)

عزوہ خيبر ميں چونكہ مسلمانوں كو حضرت علىعليه‌السلام كى قربانى و دلاورى سے فتح و كامرانى حاصل ہوئي تھى اسى وجہ سے آپ كو ''فاتح خيبر '' كے لقب سے ياد كيا جاتا ہے_

اميرالمومنينعليه‌السلام كى سياسى زندگى ميں جنگجوئي كے اثرات

حضرت علىعليه‌السلام كى شجاعت و دلاورى اور جرائتيں جوكہ مختلف غزوات، بالخصوص غزوہ بدر ميں ابھر كر سامنے آئيں ہم نے انكو مختصر طور پر يہاں بيان كيا ہے '' جس كى وجہ يہ ہے كہ ا سى جنگى پہلو كا اسلام كى آيندہ تاريخ اور آپعليه‌السلام كى سياسى زندگى كے حالات قلمبند كرنے ميں اہم ونماياں كردار تھے_ چنانچہ اس كے اثرات و نتائج كى تلاش و جستجو ہميں تاريخ اسلام ميں پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت كے بعد سے كرنى چاہيئے

راہ خدا ميں علىعليه‌السلام كى جانبازيوں او رآپ كے ہاتھوں مشركين كى ہلاكت (تمام غزوات، بالخصوص غزوہ بدر ميں )كى وجہ سے آپ كے خلاف كفار قريش كے دلوں ميں وہ دشمنى و عداوت پيدا ہوگئي جس كے اثرات بعد ميں منظر عام پر آئے_

عثمان اور حضرت علىعليه‌السلام كے درميان خليفہ وقت مقرر كئے جانے سے متعلق چھ ركنى كميٹى ميں جو


گفتگو ہوئي اس سے اندازہ ہوتا ہے كہ كفار و قريش كے دلوں ميں آپ كے خلاف كس قدر دشمنى وعداوت تھى اس گفتگو كے اقتباس ہم يہاں پيش كرتے ہيں :

''مسئلہ خلافت كے سلسلہ ميں عثمان نے حضرت علىعليه‌السلام سے خطاب كرتے ہوئے كہا تھا ميں كيا كروں ، قريش آپ كو پسند نہيں كرتے كيونكہ آپ نے ان كے ايسے ستر(۷۰) آدميوں كو (جنگ بدر و احد اور ديگر غزوات ميں )تہ تيغ كيا ہے جن كا شمار قبيلے كے سرداروں اور سربرآوردہ اشخاص ميں ہوتا تھا (چنانچہ ان كے دلوں ميں بھى كينہ و عداوت ہے ''_(۳۰)

اس كى دوسرى مثال يزيد كے وہ اشعار ہےں جو اس نے حضرت سيد الشہداءعليه‌السلام اور آپ كے بہتّر عزيز و اقرباء اور ياران باوفا كى شہادت پر كہے تھے_ وہ لعين جب كہ نشہ فتح وكامرانى ميں مست و سرشار تھا اور حسين بن علىعليه‌السلام كا سر مبارك اس كے پاس لايا گيا تو اس ملعون نے اس موقعے پر جو اشعار كہے ان كا مفہوم يہ ہے: احمد (پيشوائے اسلام) نے جو كام انجام ديئے ہيں ان كے مقابل اگر ميں ان كى آل سے انتقام نہ لوں تو خندف كى نسل سے نہيں _

ہاشم نے دين كے نام پر حكومت حاصل كى تھى ورنہ اس پر نہ غيب سے خبر آئي تھى نہ وحى نازل ہوئي تھي_ ہم نے علىعليه‌السلام سے اپنا بدلہ ليا اور سوار شجاع اور سورما (حسين بن على (ع))كو قتل كرديا _(۳۱)

حضرت علىعليه‌السلام اور پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جانشيني

بلا شك و ترديد اسلام كے جو عظےم و اہم ترين مسائل ہيں ان ميں امت كى ولايت وقيادت نيز امور مسلمين كى راہبرى و سرپرستى بھى شامل ہے _ چنانچہ اس اہميت كو مد نظر ركھتے ہوئے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى يہ كوشش تھى كہ آئندہ جس اسلامى معاشرے كى تشكيل ہوگئي اس كے مسئلہ رہبرى كو اپنے زمانہ حيات ميں ہى طے كرديں _ چنانچہ ''دعوت حق كے اولين روز سے ہى آپ نے توحيد كے ساتھ مسئلہ خلافت كو واضح كرنا شروع كردياتھا_ چونكہ حضرت علىعليه‌السلام ہى كى وہ شخصيت تھى جو تمام فضائل وكمالات كى مالك تھى اسلئے خداوند متعال كى طرف سے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو حكم ملا كہ مسلمانوں كے دينى و


دنيوى امور كى سرپرستى كےلئے اپنے بعد ان كى جانشينى كا اعلام فرماديں _

رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس الہى پيغام كا اعلان مختلف مواقع پر فرمايا يہاں ہم اختصار كے پيش نظر ان تين احاديث كا ہى ذكر كريں گے جو آپ نے مختلف اوقات ميں بيان فرمائي ہيں :

۱_ حديث يوم الدار

۲_ حديث منزلت

۳_ حديث غدير

حديث يوم الدار

بعثت كى تين سال كے بعد جب يہ آيت نازل ہوئي ''وانذر عشيرتك الاقربين''(۳۲) يعنى رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس كام پر مامور كئے گئے كہ وہ سب سے پہلے اپنے عزيز واقرباء كو دعوت اسلام ديں _ اس مقصد كے تحت پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم پر حضرت علىعليه‌السلام نے بنى ہاشم كے چاليس سرداروں كو جن ميں ابوطالب، ابولہب ، حمزہ ، وغيرہ شامل تھے مدعو كيا جب سب لوگ كھانے سے فارغ ہوئے تو پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا اے فرزندان عبدالمطلب عرب كے جوانوں ميں مجھے كوئي بھى ايسا نظر نہيں آتا جو تمہارے لئے مجھ سے بہتر پيغام لايا ہو _ ميں تمہارے لئے ايسا پيغام لے كر آياہوں جس ميں دونوں جہان كى خير وسعادت ہے_ خداوند تعالى نے مجھے حكم ديا ہے كہ ميں تمہيں اس كى طرف دعوت دوں _ تم ميں سے ايسا كون ہے جو اس راہ ميں ميرى مدد كرے تاكہ وہ ميرا بھائي ، وصى اور جانشين قرار پائے _ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے اس سوال كو تين مرتبہ دہرايا اور ہر مرتبہ حضرت علىعليه‌السلام ہى اپنى جگہ سے اٹھے اور انہوں نے اپنى آمادگى كا اعلان كيا_

اس وقت رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علىعليه‌السلام كى جانب اشارہ كرتے ہوئے فرمايا : تو گويا علىعليه‌السلام ہى ميرے بھائي ، وصى اور جانشين ہيں لہذا تم ان كى بات سنو اور ان كى اطاعت كرو _(۳۳)


حديث منزلت

صرف وہ غزوہ جس ميں حضرت علىعليه‌السلام نے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى حكم كے پيروى كرتے ہوئے شركت نہيں كى غزوہ تبوك تھا _ چنانچہ اس مرتبہ آپ جانشين رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى حيثيت سے اور ان واقعات كا سد باب كرنے كى غرض سے جن كے رونما ہونے كا احتمال تھا مدينہ ميں ہى قيام پذير رہے_

جس وقت منافقوں كو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ارادے كى خبر ہوئي تو انہوں نے ايسى افواہيں پھيلائيں جن سے حضرت علىعليه‌السلام اور پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے تعلقات ميں كشيدگى پيدا ہوجائے اور حضرت علىعليه‌السلام كو يہ بات باور كراديں كہ اب آپ سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو پہلى سى محبت نہيں _ چنانچہ جب آپ كو منافقين كى ان شرپسندانہ سازشوں كا علم ہوا تو ان كى باتوں كو غلط ثابت كرنے كى غرض سے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں تشريف لے گئے اور صحيح واقعات كى اطلاع دي_ رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علىعليه‌السلام كو مدينہ واپس جانے كا حكم ديتے ہوئے اس تاريخى جملے سے حضرت علىعليه‌السلام كے اس مقام و مرتبہ كو جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے نزديك تھا اس طرح بيان فرمايا : ''كيا تم اس بات سے خوش نہيں ہو كہ ميرے اور تمہارے درميان وہى نسبت ہے جو كہ موسىعليه‌السلام اور ہارونعليه‌السلام كے درميان تھي_ مگر يہ كہ ميرے بعد كوئي نبى نہيں ہوگا_(۳۴)

قرآن مجيد ميں حضرت ہارون كے مقامات ومناصب:

اب ديكھنا يہ ہے كہ قرآن پاك كى نظر ميں حضرت ہارون كے وہ كون سے مناصب و مقامات تھے جو حضرت علىعليه‌السلام ميں بھى نبوت كے علاوہ (چنانچہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خود ہى مذكورہ حديث ميں آپ كو اس سے مستثنى قرار ديا ہے) بدرجہ اتم موجود تھے_

چنانچہ جب ہم قرآن كى جانب رجوع كرتے ہيں تو ديكھتے ہيں كہ حضرت موسىعليه‌السلام نے حضرت ہارونعليه‌السلام كے لئے مندرجہ ذيل مناصب چاہے تھے_ مقام وزارت :( واجعل لى وزيرا من اهلى هارون اخي' ) _(۳۵) _ ''ميرے كنبے سے ہارون كو وزير مقرر كردے جوكہ ميرے بھائي ہيں ''_


تقويت و تائيد''واشد به ازري'' _ اس كے ذريعے ميرا ہاتھ مضبوط كر

مقام نبوت:''واشركه فى امري''اور اس كو ميرے كام ميں شريك كردے''_

حضرت موسىعليه‌السلام نے جو چيزيں خداوند تعالے سے مانگيں اس نے ان كا مثبت جواب ديا اور مذكورہ تمام مقامات حضرت ہارون كو عطا كرديئے_ چنانچہ اس سلسلے ميں قرآن مجيد فرماتاہے:''قد اوتيت سوالك يا موسي_ ''اے موسى جو تم نے مانگا ہم نے عطا كيا''_

اس كے علاوہ حضرت موسىعليه‌السلام نے اپنى غير موجودگى ميں حضرت ہارونعليه‌السلام كو اپنا جانشين مقرر كيا _ (وقال موسى لاخيہ ہارون اخلفنى فى قومي)موسى نے حضرت ہارون سے كہا تم ميرى قوم ميں ميرے خليفہ اور جانشين ہو ''_

حديث منزلت كے مطابق وہ تمام مناصب و مقامات جو ہارون كےلئے بيان كئے گئے ہيں ، صرف ايك منصب كے علاوہ كہ جسے آيت سے مستثنى قرار ديا ہے، حضرت علىعليه‌السلام كےلئے ثابت ہيں _

اس لحاظ سے حضرت عليعليه‌السلام ہى امت مسلمہ ميں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ياور و مددگار اور خليفہ ہيں _(۴۰)

حديث غدير

ہجرت كے دسويں سال پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جس وقت ''حجة الوداع''(۴۱) سے واپس تشريف لا رہے تھے تو ماہ ذى الحجہ كى اٹھارہ تاريخ كو آپ نے ''غدير خم '' كے مقام پر فرمان خداوندى كے مطابق حكم ديا كہ سارے مسلمان يہاں توقف كريں اس كے بعد ايك لاكھ سے زيادہ افراد كى موجودگى ميں حمد وستائشے بارى تعالى كے بعد جو خطبہ ديا اسے جارى ركھتے ہوئے آپ نے دريافت فرمايا : اے لوگو تم ميں ايسا كون ہے جسے تمام مومنين پر برترى حاصل ہو ؟

سب نے كہا يہ تو خدااور اس كا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہى بہتر جانتاہے _ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا خداوند تعالى نے مجھے ولايت سے سرفراز فرمايا ہے اور مجھے تمام مومنين پر ان كے نفسوں سے زيادہ تصرف كا حق حاصل ہے_


اس كے بعد آپ نے حضرت على عليه‌السلام كا ہاتھ اونچا كيا چنانچہ وہ تمام لوگ جو اس وقت وہاں جمع تھے انہوں نے حضرت علىعليه‌السلام كو پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے دوش بدوش ديكھا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا : جس كا مولا و سرپرست ميں ہوں علىعليه‌السلام اس كا مولا و سرپرست ہے _(۴۲) چنانچہ يہ جملہ آپ نے تين مرتبہ دہرايا_

اس كے بعد مزيد فرمايا : ''اے پروردگار تو اسے دوست ركھ جو علىعليه‌السلام كو دوست ركھے اور اسے دشمن ركھ جو علىعليه‌السلام كو دشمن ركھے _ خداوندا ياران علىعليه‌السلام كى مدد فرما اور اس كے دشمنوں كو ذليل و خواركر_(۴۳)

يہ تھيں وہ سرافرازياں جو حضرت علىعليه‌السلام نے زندگى كے اس اولين مرحلے ميں حاصل كيں كہ جس كى مدت دس سال سے زيادہ نہ تھى _ اگرچہ ديگر كتب ميں آپ كى سوانح حيات مفصل طور پر بيان كى گئي ہے مگر يہاں اختصار سے كام ليتے ہوئے انہى پر اكتفا كرتے ہيں _


سوالات

۱_ حضرت علىعليه‌السلام كى زندگى كے مختلف ادوار كے بارے ميں لكھيئے؟

۲_ بعثت سے قبل حضرت علىعليه‌السلام كى زندگى ميں كون سا اہم ترين واقعہ پيش آيا؟آپ كے اقوال كے روشنى ميں اس كى مختصر اً وضاحت كيجئے؟

۳_ حضرت علىعليه‌السلام كے امتيازات وافتخارات ميں سے ان دو كى كيفيت بيان كيجئے جو بعثت كے بعد اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ہجرت سے قبل رونما ہوئے_

۴_ جنگ بدر ميں حضرت علىعليه‌السلام كا كيا كردار رہا اختصار سے لكھ يے_

۵_ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے غزوہ احزاب كے موقع پر حضرت علىعليه‌السلام كے بارے ميں كيا فرمايا تھا؟

۶_ حضرت علىعليه‌السلام نے مختلف جنگوں (بالخصوص جنگ بدر)ميں دلاورى كے جو جوہر دكھائے اورمشركين كو قتل كيا وہ آپ كى سياسى زندگى پر كس طرح اثر انداز ہوئے اور كب منظر عام پر آئے ان كى كوئي مثال لكھيئے

۷_ حديث ''يوم الدار'' كى مختصر وضاحت كيجئے اور بتايئے مذكورہ حديث پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بعد امامعليه‌السلام كى جانشينى پر كس طرح دلالت كرتى ہے؟


حوالہ جات

۱_ عام الفيل وہ سال كہلاتا ہے جس ميں ابرہہ ہاتھيوں پر سوار لشكر كے ساتھ كعبہ كو نيست و نابود كرنے كى غرض سے آيا تھا_

۲_ حضرت عمران كے چار فرزند تھے جن كے نام طالب ، عقيل ، جعفر اور على تھے وہ ابوطالب كى كنيت سے مشہور تھے_ بعض مورخين نے حضرت علىعليه‌السلام كے والد كا نام عبدمناف بھى بيان كيا ہے (تفصيل كيلئے ملاحظہ ہو شرح ابن ابى الحديد ج۱ ص ۱۱)

۳_حضرت علىعليه‌السلام كى ولادت كو اہل سنت كے محدثين و مورخين نے بھى اپنى كتابوں ميں خانہ كعبہ ميں تحرير كيا ہے منجملہ ان كے مسعودى نے مروج الذہب (ج ۲ ص ۳۴۹)حاكم نے مستدرك (ج ۳ ص ۴۸۳) اور آلوسى نے شرح قصيدہ _ عبدالباقى افندى ص ۱۵ مزيد تفصيل كيلئے اہل سنت كے دانشوروں كے نظريات كو جاننے كيلئے ملاحظہ ہو كتاب ''الغدير'' ج ۴ ص ۲۳_ ۲۱

۴_ سيرت ابن ہشام ج ۱ /۲۶۲ ، كامل ابن اثير ج ۲/ ۵۸ كشف الغمہ ج ۱ / ۷۹ ، تاريخ طبرى ج ۲ / ۳۱۲ البتہ مورخين كى رائے ميں حضرت علىعليه‌السلام كے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے گھر منتقل ہونے كا سبب وہ قحط سالى تھى جس سے شہر مكہ دوچار ہواتھا اور ابوطالب كى زندگى چونكہ تنگ دستى ميں گزر رہى تھى اس لئے حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى تجويز پر آپ كے قبيلے كے لوگ ان كے ہر فرزند كو اپنے ساتھ لے گئے اور حضرت علىعليه‌السلام كو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے ساتھ لے آئے ليكن شہيد مطہرى نے نقل مكانى كى اس وجہ كو مسترد كيا ہے اور اسے مورخين كے ذہن كى اختراع قرار ديا ہے_ جس كا سبب رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے اس اقدام كى اہميت اور قدر وقيمت كو كم كرنا مقصود ہے اس سلسلے ميں موصوف كا مطمع نظر متن كتاب ميں ملاحظہ ہو _

۵_ تاريخ طبرى ج ۲/ ۳۱۳ شرح ابن ابى الحديد ج ۱۳/۱۹۹ _ كشف الغمہ ج ۱ / ۱۱۷ كامل ابن اثير ج ۲ /۵۸ وسيرة ابن ہشام ج ۱ / ۲۶۳

۶_ نہج البلاغہ خطبہ قاصعہ (۱۹۲)ولقد كنت اتبعه اتباع الفصيل اثر امه يرفع لى كل يوم من اخلاقه علماً يا مرنى بالاقتداء به

۷_ سورہ واقعہ آيہ( السابقون السابقون اولئك المقربون ) _ جنہوں نے اسلام قبول كرنے ميں سبقت


كى وہى افراد خدا كى رضا ورحمت كے حصول ميں سبقت ركھتے ہيں _

۸_ سورہ حديد آيہ ۱۰( لاَيَستَوى منكُم مَن أَنفَقَ من قَبل الفَتح وَقَاتَلَ أُولَئكَ أَعظَمُ دَرَجَةً من الَّذينَ أَنفَقُوا من بَعدُ وَقَاتَلُوا ) ''تم ميں سے جو لوگ خرچ اور جہاد كريں گے وہ كبھى ان لوگوں كے برابر نہيں ہوسكتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد كيا ان كا درجہ بعد ميں خرچ اور جہاد كرنے والوں سے بڑھ كر ہے''_

۹_ سيرت ابن ہشام ج ۱ / ۲۴۶ ، كشف الغمہ ج ۱/۱۱۳ ، تاريخ طبرى ج ۲/ ۳۱۰ _ سنن ابن ماجہ ج ۱/ ۵۷

۱۰ _''اولكم ورداً على الحوض اولكم اسلاماً على بن ابى طالب _ مستدرك حاكم ج ۳/ ۱۳۶ ، كشف الغمہ ج ۱ / ۱۰۵ _ تاريخ بغداد ج ۲/ ۸۱ شرح ابن ابى الحديد ج ۳ / ۳۸۵ وغيرہ مزيد اطلاع كيلئے ملاحظہ ہو الغدير ج ۳/ ۲۲۰

۱۱_ نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲ _''ولم يجمع بيت واحد يومئذ فى الاسلام غير رسول اللہ وخديجة انا ثالثہما ا رى نورالوحى والرسالة واشم ريح النبوة''_

۱۲_ نہج البلاغہ خ ۱۳۱ _اللهم انى اول من اناب وسمع واجاب

۱۳_ روايات سے مزيد آگہى كے لئے ملاحظہ ہو تفسير برہان ج ۱ / ۲۰۶ ، تفسير الميزان ج ۲/ ۹۹، مطبوعہ جامعہ مدرسين بحار ج ۱۹ صفحات (۵۶_ ۷۸_ ۸۷)

۱۴_ بقرہ آيہ ۲۰۷

۱۵_ قبا مدينہ سے دو فرسخ كے فاصلے پر واقع ہے يہاں قبيلہ بنى عمروبن عوف آباد تھا(معجم البلدان) ج ۴ / ۳۰۱

۱۶_ اعيان الشيعہ ج ۱/ ۳۷۷ (دس جلدي) منقول از سيرت حلبى واسد الغابہ

۱۷_والذى بعثنى بالحق الخ انت اخى فى الدنيا و الاخرة _ مستدرك حاكم ج ۳/ ۱۴

۱۸_ ''غزوہ'' اصطلاح ميں اس جنگ كو كہتے ہيں جس ميں پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بذات خود موجود رہتے تھے _ ايسى جنگوں كى تعداد چھبيس يا ستائيس ہيں اورجن جنگوں ميں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم موجود نہ تھے انہيں اصطلاحاً ''سريہ'' كہاجاتا ہے جن كى تعداد پينتيس سے چھياسٹھ تك كے درميان بتائي گئي ہے_

۱۹_ الصحيح من سيرة النبى ج ۳/۱۹۲ ، بحار ج ۱۹/ ۲۲۵ _ ۲۵۴ _۲۹۰


۲۱_ الصحيح من سيرة النبى ج ۳ / ۲۰۳ _۲۰۲_ مناقب ج ۲/ ۶۸ نيز ملاحظہ ہو بحار ج ۱۹/ ۲۷۹_ ۲۷۶_ ۲۹۱

۲۲_ بحار ج ۲۰/۵۰ _ ۵۱ ،الصحيح من سيرة النبىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ج ۴ / ۲۱۸_ ۲۱۳_

۲۳_ ملاحظہ ہو تاريخ طبرى ج ۲/ ۵۱۴ كامل ابن اثير ج ۲/ ۱۵۴ وشرح ابن ابى الحديد ج ۱۴/ ۲۵۰ اس واقعے كا ذكر تمام مذكورہ كتب ميں مختصر سے فرق كے ساتھ موجود ہے _

۲۴_ بحار ج ۲۰ / ۷۰ خصال صدوق (مترجم) ج ۲ / ۱۲۷_

۲۵_ بحار ج ۲۰/ ۵۴ تفسير على ابن ابراہيم سے منقول_

۲۶_ ۱۲۷ _ بحارج ۲۰ / ۲۱۶_ ۲۱۵ _

۲۷_ بحار ج ۲۰ / ۲۰۵_

۲۸_''ا رونيه ترونى رجلاً يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله (ارشاد مفيد / ۶۶)_

۲۹_ ارشاد مفيد / ۶۷ / ۶۵ بحار ج ۲۱ / ۱۶_ ۱۴_

۳۰ _ شرح ابن ابى الحديد ج ۹/ ۲۳_ الصحيح ج ۳/ ۲۲۰_

۳۱_ مقتل خوارزمى ۲ /۵۹ _

لستُ من خندف ان لم انتقم من بنى احمد ما كان فعل

لعبت هاشم بالملك فلا خبر جاء و لا وحى نزل

قد اخذنا من على ثارناوقتلنا الفارس الليث البطل

۳۲_ سورہ شعرا ء ۲۱۴ _

۳۳_ تاريخ طبرى ج ۲/ ۳۲۱ و ۳۲۰ كامل ابن اثير ج ۲/ ۶۳ _ ۶۲ مجمع البيان ج ۸/ ۷ الغدير ج ۲ / ۲۷۸ ''فا يكم يؤازرنى على هذاالامر على ان يكون اخى ووصى وخليفتى فيكم ...؟ ان هذا اخى و وصيى وخليفتى فيكم فاسمعوا له واطيعوه'' _

۳۴_اما ترضى ان تكون منى بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبى بعدى _ غاية المرام كے صفحہ ۱۵۲ سے ۱۰۷پر ايك سو ستر (۱۷۰)محدثين كے طريق سے ''حديث منزلت'' كو نقل كيا گيا ہے ان ميں سے سو طريق اہل سنت والجماعت كے ہيں _ صاحب المراجعات نے بھى (۱۳۹_ ۱۴۱) پر مذكورہ حديث كو صحيح


مسلم ، بخارى ، سنن ابن ماجہ ومستدرك حاكم اور اہل سنت كے ديگر مصادر سے نقل كيا ہے_

۳۵_ سورہ طہ ۲۹_ ۳۰_

۳۶_ _۳۷_ ۳۸ _ سورہ طہ آيات ۳۱_۳۲_ ۳۶_

۳۹_سورہ احزاب آيت ۱۴۲_

۴۰_ رہبرى امت مصنفہ جعفر سبحانى سے ماخوذ صفحات ۱۶۸ _ ۱۶۷_

۴۱_ فرمان خداوندى سورہ مائدہ آيت ۶۷ ''( ياأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلّغ مَا أُنزلَ إلَيكَ من رَبّكَ وَإن لَم تَفعَل فَمَا بَلَّغتَ رسَالَتَهُ وَالله ُ يَعصمُكَ من النَّاس ) '_

۴۲_من كنت مولاه فهذا على مولاه _اللهم وال من والاه و عاد من عاداه وانصر من نصره واخذل من خذله _ ملاحظہ ہو الغدير ج ۱/ ۱۱_۹


دوسر ا سبق

رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت سے خلافت ظاہرى تك

وفات پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو جھٹلانا

غير متوقع حادثہ

پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جانشينى كا مسئلہ شيعوں كى نظر ميں

لاتعلقي

امت كى پريشانى كا خطرہ

لوگوں كا دور جاہليت كى جانب واپس چلے جانے كا خطرہ

منافقين كا خطرہ

شورى

وصى اور جانشين كا تقرر

سقيفہ ميں رونما ہونے والے حالات

اس خطبے كے اہم نكات

انصار كا رد عمل

علىعليه‌السلام كى بيعت كے بارے ميں تجويز

سقيفہ كے واقعات كے بعد حضرت علىعليه‌السلام كا رد عمل

علىعليه‌السلام نے كيوں عجلت نہيں كي؟

سوالات

حوالہ جات


رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت سے خلافت ظاہرى تك(۱)

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے زمانہ حيات ميں حضرت علىعليه‌السلام كى زندگى كے تعميرى اور كردار ساز بعض حادثات وواقعات كا جائزہ ترتيب وار گذشتہ فصل ميں ليا جاچكا ہے _ چونكہ ہمارا مطمع نظر تاريخ اسلام كا تجزيہ وتحليل ہے نہ كہ ان بزرگوار شخصيات كے احوال زندگى كو بيان كرنا اسيلئے بہت سے ايسے واقعات جن كا امامعليه‌السلام نے ان مراحل ميں سامنا كيا ، ان كا ذكر نہيں كياجاسكا_اب ہم يہاں پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت كے بعد تاريخ اسلام كے واقعات كا جائزہ ليں گے_

وفات پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو جھٹلانا

رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت كے بعد سب سے پہلا واقعہ جو مسلمانوں كے سامنے آيا وہ عمر كى جانب سے رونما ہوا چنانچہ انہوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے گھر كے سامنے بآواز بلند كہا كہ جو شخص يہ كہے گا كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت ہوگئي ميں اسى تلوار سے اس كا سر قلم كردوں گا اگر چہ حضرت ابن عباس و ديگر صحابہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وہ آيت بھى سنائي جس كا مفہوم يہ ہے كہ موت سے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو بھى مفر نہيں(۲) مگر اس كا ان پر اثر نہ ہوا بوقت رحلت ابوبكر مدينہ سے باہر تھے _ چند لحظے گذرنے كے بعد وہ بھى آن پہنچے اور عمر كى داد و فرياد كى جانب توجہ كي ے بغير وہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے گھر ميں داخل ہوگئے اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے چہرہ مبارك سے چادر ايك طرف كركے بوسہ ديا اور مسجد ميں واپس آگئے اور يہ اعلان كيا كہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رحلت فرماگئے ہيں _ اس كے بعد انہوں نے بھى اسى آيت كى تلاوت كى اس پر عمر نے كہا ايسا لگتا ہے كہ ميں نے آج تك گويا يہ آيت سنى ہى نہيں تھى(۳)


غير متوقع حادثہ

جس وقت حضرت علىعليه‌السلام پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو غسل دينے ميں مشغول اور مسلمان تكميل غسل و كفن كا انتظار كر رہے تھے تاكہ نماز جنازہ ميں شركت كرسكيں خبر آئي كہ كچھ لوگ ''سقفيہ بنى ساعدہ'' ميں جمع ہيں او رخليفہ منتخب كئے جانے كے بارے ميں بحث كر رہے ہيں اور قبيلہ خزرج كے سردار سعد بن عبادہ كا نام خلافت كےلئے پيش كيا گيا ہے_

عمر اور ابوبكر نے جيسے ہى يہ خبر سنى فوراً سقيفہ كى طرف روانہ ہوئے_ راستے ميں ابوعبيدہ بن جراح كو بھى مطلع كيا اور تينوں افراد نے سقيفہ(۴) كى جانب رخ كيا _

اس وقت تك معاملہ انصار كے ہاتھ ميں تھا ليكن جيسے ہى يہ تينوں مہاجر وہاں پہنچے تو تنازع شروع ہوگيا اور ہر شخص اپنى اہليت وشايستگى كى تعريف كرنے لگا _ بالآخر ابوبكر كو پانچ رائے كے ذريعے سقيفہ ميں خليفہ چن ليا گيا _

برادران اہل سنت نے اس واقعہ كو حقيقت سمجھ ليا اور خليفہ كے انتخاب كو مشاورت اور اجماع مسلمين كا نام دے كر اسے تسليم كرليا_

اس حقيقت كو آشكار كرنے كے لئے ضرورى ہے كہ مندرجہ ذيل عنوانات كا تجزيہ كياجائے تاكہ اصل واقعے كى وضاحت ہوسكے_

پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جانشينى كا مسئلہ شيعوں كى نظر ميں

شيعوں كا عقيدہ ہے كہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جانشينى كا مسئلہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے زمانہ حيات ميں ہى فرمان خدا كے ذريعے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے طے اور واضح كرديا تھا اور جو كچھ سقيفہ بنى ساعدہ ميں پيش آيا وہ فرمان خدا اور حكم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے خلاف محض ايك تحريك تھي_

گذشتہ فصل ميں ہم نے چند ايسى دليليں اور حديثيں بيان كى تھےں جو مذكورہ دعوے كو ثابت كرتى ہيں _ يہاں اس مسئلے كا تاريخى واقعات كى روشنى ميں جائزہ لياجائے گا_


پيغمبر اكرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے دوش مبارك پر ايك عالمى تحريك كى قيادت تھى يہ بات بھى واضح و روشن ہے كہ اس تحريك كے پروان چڑھنے اور سياسى ، ثقافتى نيز اجتماعى سطح پر گہرى تبديلى لانے كيلئے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا زمانہ رسالت (بعثت سے رحلت تك) كافى نہ تھا اگرچہ اسلام كے اس عظےم رہبر و پيشوا نے اس مختصر و محدود عرصے ميں ہى انسان كى تكميل اور اسلامى معاشرے كى تشكيل كے لئے بہت عظيم واساسى اقدامات كئے ليكن اس عالمى تحريك كو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بعد بھى جارى و سارى رہناتھا_

اس بات كو مد نظر ركھتے ہوئے كہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت اچانك واقع نہيں ہوئي بلكہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس كے وقوع پذير ہونے سے كچھ عرصہ قبل محسوس كرليا تھا كہ جلد ہى اس دنيا سے كوچ كر جائيں گے _ چنانچہ آپ نے ''حجةالوداع'' كے موقع پر كھلے لفظوں ميں اس كا اعلان بھى كرديا تھا اس كے بعد آپ كے پاس اسلام كے مستقبل سے متعلق سوچنے كے لئے وقت كافى تھا اور آپ كوئي اصولى روش وتدبير اختيار كركے ان عوامل كى پيش بندى كرسكتے تھے جن سے انقلاب خداوندى كى راہ ميں آئندہ كسى خطرے كے آنے كا امكان ہوسكتا تھا_ان حالات و واقعات كے بارے ميں غيبى عوامل كى مدداور سرچشمہ وحى سے ارتباط كو عليحدہ كركے بھى غور كياجاسكتا ہے ايسى صورت اور ان واقعات كى روشنى ميں رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے سامنے اسلام كے مستقبل سے متعلق تين ہى ممكن راہيں ہوسكتى تھيں :

لا تعلقي

شوري

اپنے وصى اور جانشين كے بارے ميں وصيت

اب ہم تاريخى حقائق اور ان سياسى واجتماعى حالات كو مد نظر ركھتے ہوئے جو اس وقت اسلامى معاشرہ پر حكم فرما تھے مذكورہ بالا تينوں راہوں كا اجمالى جائزہ ليں گے_


لاتعلقي

لاتعلقى سے مراد يہ ہے كہ ہم اس بات كے قائل ہوجائيں كہ رسول خد اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو اسلام كے مستقبل سے كوئي سرو كار نہ تھا بلكہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے نوشتہ تقدير اور آئندہ حالات كے رحم وكرم پر چھوڑ ديا تھا_

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جيسى شخصيت كے بارے ميں ايسى بے سرو پا باتوں كا فرض كرلينا كسى طرح بھى حقائق وواقعات كے موافق نہيں ہے كہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى اسلامى رسالت كا مقصد يہ تھا كہ دور جاہليت كے جتنے بھى رگ وريشے اس دور كے انسان ميں ہوسكتے تھے انہيں اس كے دل وجان كے اندر ہى خشك كردياجائے اور اس كے بجائے ايك جديد اسلامى انسان كى تعمير كى جائے _ جب بھى كوئي ہادى و راہنما نہ ہو تو معاشرہ بے سرپرست رہ جائے اور انقلاب ميں ايك ايسا خلاء پيدا ہوجائے گا جس كى وجہ سے اس كو مختلف قسم كے خطرات لاحق ہوجائيں گے _ مثال كے طور پر :

لوگوں كا دور جاہليت كى جانب واپس چلے جانے كا خطرہ

اس ميں كوئي شك نہيں ہے كہ روح رسالت اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى تحريك كے مقاصد كو وہى شخص پايہ تكميل تك پہنچاسكتا تھا كہ جس كو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پہچنواياتھا اور امت كے كسى فرد ميں اسكى صلاحيت نہ تھى كہ وہ رسول كے بعد زمام دارى اور رسالت كے مقصد كے درميان كوئي متين تناسب قائم كرسكے اور اسلامى معاشرہ سے ان جاہلى تعصبات كو دور كرسكے جو ابھى تك معاشرہ كى رگ و پے ميں موجود تھے كہ جس نے انہيں مہاجر، انصار ، قريش و غير قريش اور مكى و مدنى وغيرہ ميں تقسيم كر ركھا تھا_


تھے آپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ كاغذ و دوات لے آؤ تاكہ ميں تمہارے لئے ايسا نوشتہ لكھ دوں كہ جس سے تم (ميرے بعد)ہرگز گمراہ نہ ہو(۵)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا يہ فرمانا ہى اس بات كى واضح و روشن دليل ہے كہ آيندہ رونما ہونے والے خطرات كے بارے ميں آپ كو تشويش تھى اور ان كا سد باب كرنے كے لئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كوشاں تھے _

شورى

شورى سے مراد يہ ہے كہ گويا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے بعد مسلمانوں كى رہبرى كو انہى كے وست اختيار ميں دے ديا تھا كہ جسكو چاہيں منتخب كر ليں _

اگرچہ اسلام نے قانون اور اصول شورى (مشاورت)كا احترام كيا ہے اور قرآن ميں اس كا شمار اوصاف مومنين ميں ہوتا ہے(۶) ليكن اس كا تعلق ان واقعات سے ہے جو مسلم معاشرے كے درميان رونما ہوتے ہيں اور ان كى بارے ميں كوئي نص صريح موجود نہ ہو كيونكہ اسلام كے قوانين و احكام مشوروں سے طے نہيں ہوتے يہى وجہ تھى كہ وہ ذمہ دارياں (تكاليف) جو وحى كى ذريعے معين كى گئيں تھيں ان كے بارے ميں پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے كسى سے مشورہ نہ كيا چنانچہ مسئلہ ولايت و امامت كا شمار بھى ايسے ہى مسائل ميں ہوتاہے جو امور مشاورت كى حدود سے خارج ہيں يہى نہيں بلكہ اس كے بارے ميں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھى اپنى رائے كا اظہار نہيں فرما سكتے تھے _

يہى وجہ ہے كہ جس وقت قبيلہ بنى عامر كى ايك جماعت پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملاقات كرنے كے لئے آئي اور اس نے يہ تجويز پيش كى كہ ہم اس شرط پر ايمان لانے كو تيار ہيں كہ آپ اپنے بعد خلافت ہمارى تحويل ميں دے ديں اگرچہ اس وقت پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم انتہائي پر آشوب حالات سے دو چار تھے نيز قريش(۷) كى جانب سے آپ پر سخت دباؤ بھى تھا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كوخوفزدہ كرنے كى كوشش بھى كى جا رہى تھى مگر اس كے باوجود آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا يہ كام خداند تعالى كا ہے (اور اس ميں مجھے كوئي اختيار نہيں )وہ جسے بھى مناسب سمجھے گا اسے ہى ميرے بعد ميرا جانشين مقرر كرے گا(۸) _


اس كى علاوہ اسلام كى فلاح و بہبود كى خاطر پيغمبر اكرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نظام شورى كو سودمند اقدام خيال فرماتے تو آپ يقينا اپنے زمانہ حيات كے دوران ايسے دستورات عمل كا سلسلہ مرتب فرماتے جس كے ذريعے امت مسلمہ خود كو اس اقدام كے لئے تيار كر ليتى كہ شورى كے ذريعے نظام حكومت جارى ركھ سكے كيونكہ دور جاہليت كے نظام حكومت ميں كوئي ايسا ادارہ كار فرمانہ تھا جو شورى كى ذريعے نظام حكومت چلاسكے اگرچہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے كسى وقت بھى نظام شورى اور راس كے دائرہ عمل نيز مشخصات كو منفى قرار نہيں ديا اور نہ ہى مسلمانوں كو يہ ہدايت فرمائي كہ وہ اس سے گريز كريں _

اس سے قطع نظر ابو بكر نے جب عمر كو اپنا جانشين مقرر كيا تو يہ اس امر كى واضح دليل تھى كہ اس اقدام كے ذريعے نظام شورى كى نفى كى گئي اور يہ ثابت ہو گيا كہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نظام شورى كے حامى نہ تھے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسے اپنا حق سمجھتے تھے كہ زمانہ حيات ميں كسى ايسے شخص كو مقرر فرما ديں جو رحلت كے بعد آپ كا جانشين ہو سكے يہى نہيں بلكہ عمر بھى خليفہ مقرر كرنا اپنا حق سمجھتے تھے اور اسے انہوں نے چھ افراد كے درميان محدود كر ديا تھا تاكہ وہ اپنے درميان ميں سے كسى ايك شخص كو خليفہ مقرر كر ليں اور ان افراد كے علاوہ انہوں نے تمام امت مسلمہ كو اس حق سے محروم كر ديا تھا_

وصى اور جانشين كا تقرر

وصايت (عملى جانشينى)سے ہمارى مراد يہ ہے كہ تنہا ايك يہى ايسى راہ ہے جو حقائق اور فطرت اور خلافت كى واقعيت سے عين سازگار ہے اور ہم كہہ سكتے ہيں كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسلام كى آيندہ فلاح و بہبود كى خاطر يہ مثبت اقدام فرمايا تھا اور خدا عالم كے حكم سے ايك شخص كو جانشين كى حيثيت سے مقرر كر ديا تھا چنانچہ صرف يہى ايك ايسا مثبت اقدام تھا جو مستقبل ميں اسلام كى خير و صلاح اور رسالت كو خطرات سے محفوظ ركھنے كا ضامن ہو سكتا تھا _ اسلام ميں سبقت ، اور دوسرے مسلمانوں كى نسبت عليعليه‌السلام كى واضح و امتيازى خصوصيات كى بناء پر كسى دوسرے شخص كو ان كے علاوہ


پيغمبر اكرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جانشينى كا حق حاصل نہ تھا _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت علىعليه‌السلام كى باہمى زندگى كے ايسے بہت سے شواہد موجود ہيں جو اس بات پر دلالت كرتے ہيں كہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس حيثيت سے حضرت علىعليه‌السلام كى تربيت فرمارہے تھے كہ آيندہ اسلامى معاشرے كے آپعليه‌السلام ہى قائد و رہبر ہيں پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آپعليه‌السلام كو حقائق رسالت كى بہت سے خصوصيات سے نوازا تھا حضرت علىعليه‌السلام جب كبھى پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے كوئي بات دريافت فرماتے تو آپكا سوال ختم ہونے كے بعد رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كلام كى ابتدا فرماتے اور تہذيب و افكار كے ہدايا و تحائف كى دولت سے آپعليه‌السلام كو معزز و مفتخر فرماتے چنانچہ روز و شب كا زيادہ وقت باہمى گفتگو اور خلوت مےں گذرتا _

اس كے علاوہ رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علىعليه‌السلام كى جانشينى كا مختلف مواقع پر اعلان بھى فرما ديا تھا چنانچہ اس ضمن ميں بكثرت احاديث نبوى موجود ہيں جس ميں سے حديث يوم الدرار ' حديث الثقلين ' حديث منزلت اور سب سے اہم غدير (حضرت علىعليه‌السلام كے دست مبارك پر مسلمانوں كا بيعت كرنا)قابل ذكر اور اس دعوے كى شاہد و گواہ ہيں(۹) _

مزيد بر آں رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى وفات كے بعد بہت سے حوادث رونما ہوئے اور آپ نے پورى زندگى جہاد و ذمہ دارى ميں گذارى جس سے يہ بات ثابت ہوتى ہے كہ آپعليه‌السلام ہى رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے جانشين ہيں آپ كى لياقت كا ايك نمونہ يہ ہے كہ جن مسائل كو حل كرنا خلفاء كے لئے ناممكن تھا انھيں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہى سے حل كرتے تھے ليكن اس كے برعكس ہميں خلفاء كے زمانہ ميں ايك موقعہ بھى ايسا نظر نہيں آتا كہ جس ميں امامعليه‌السلام نے كسى مشكل كے حل كيلئے يا اسلام كے نظريہ سے مزيد آگہى كے لئے كسى سے رجوع كيا ہو(۱۰)

سقيفہ ميں رونما ہونے والے حالات

معن بن عدى اور عويم بن ساعدہ نامى دو افراد كے دلوں ميں '' سعد بن عبادہ خزرجى '' كے


خلاف كدورت تھى ان كے ذريعے عمر اور ابوبكر كو خبر ملى كہ انصار سقيفہ بنى ساعدہ ميں جمع ہو رہے ہيں چنانچہ يہ دونوں حضرات نہايت عجلت كے ساتھ اضطراب و پريشانى كے عالم ميں ابو عبيدہ كے ہمراہ سقيفہ ميں داخل ہوئے عمر گفتگو كا آغاز كر كے ابوبكر كى خلافت كيلئے ميدان ہموار كرنا چاہتے تھے ليكن ابو بكر نے منع كر ديا اور كہا كہ اگر مجھ سے كوئي فرو گذاشت ہو جائے تو تم اس كى تلافى كرو چنانچہ اس كے بعد انھوں نے تقرير شروع كى اور خداوند عالم كى وحدنيت اور رسالت رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى شہادت كے بعد كہا كہ مہاجرين ميں ہم وہ پہلے افراد تھے جنہوں نے دين اسلام قبول كيا اور اس لحاظ سے تمام لوگ ہمارے پيروكار ہيں ہم طائفہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور مركز قبائل عرب ميں سے ہيں نيز ان كے درميان نقطئہ ربط و تعلق ہيں آپ انصار بھى خدا و رسول كے ياور و مددگار ہيں پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پشتيبان اور ہمارے سردار ہيں دين اور اس كے فائدے ميں آپ ہمارے شريك ہيں _ خداوند تعالى كى رضا ميں راضى رہے اور اس پاك پروردگار نے تم سے مہاجر بھائيوں كے لئے جو كچھ چاہا اسے قبول كرنے ميں لائق و شائستہ ترين افراد ثابت ہوئے ليكن تمہيں اس پر حسد نہيں كرنا چاہيے اسلام كى ترقى كى خاطر تم نے مشكلات ميں اپنى طاقت كے جوہر دكھائے اس بنا پر تمہارے لئے يہ زيبا نہيں كہ اپنے ہى ہاتھوں سے اس دين كى بيخ كُنى كرو_ ميں تمہيں ابو عبيدہ اور عمر كى بيعت كى دعوت ديتا ہوں ميں دونوں ہى كو قابل و اہل سمجھتا ہوں(۱۱) اس موقعے پر ان دونوں نے كہا : لوگوں ميں سے كسى كو تم پر برترى حاصل نہيں ہے _ تم پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے يار غار ہو

اس خطبے كے اہم نكات

ابو بكر نے جو تقرير كى اس كے بعض نكات كا ذكر كرنا يہاں ضرورى ہے _(۱۲)

ابوبكر نے پہلے مہاجرين كى تعريف كى تاكہ ان كى عظمت انصار كے ذہنوں پر نقش ہو جائے اس كے بعد جس حد تك ممكن تھا اُس نے انصار كى بھى تعريف و توصيف بيان كى اور خود كو منصف كى حيثيت سے ظاہر كيا جس كا نتيجہ يہ ہوا كہ انصار كو اپنى طرف متوجہ كر ليا اس تردو كے بر خلاف جو


خلافت كے سلسلہ مےں انصار كے ذہنوں ميں تھا ابوبكر نے يقين كے ساتھ كہا مہاجرين كى خلافت جو خدا كى مرضى كے مطابق ہے اور يہى خدا كا حتمى فيصلہ ہے چنانچہ ہر قسم كا تذبذب ختم ہو گيا ابوبكر نے خلافت كو مہاجرين كا مسلم حق ثابت كرنے كے بعد اس سلسلہ ميں انصار كى كسى بھى فعاليت كو خدا سے عہد شكنى اور دين كو برباد كرنے كے مترادف قرار دے ديا اپنى تقرير كے آخر ميں ابوبكر نے حاضرين كو عُمر و ابوعبيدہ كى بيعت كى دعوت دى وہ طبيعى طور پر ابوبكر كو مقدم سمجھتے تھے گويا وہ پہلے ہى خليفہ كى تعيين كے سلسلہ ميں منصوبہ بنا چكے تھے _(۱۳)

انصار كا ردّعمل

پروگرام كے تحت ابوبكر كى ہونے والى تقرير سن كر انصار اپنے گذشتہ موقف سے ہٹ گئے اور انہوں نے مہاجرين كے سامنے اپنے سرخم كر ديئے ان ميں '' حباب بن منذر '' ہى ايك ايسے انصار تھے جنہوں نے كھڑے ہو كر يہ دھمكى دى كہ اگر مہاجرين انصار سے مصالحت نہيں كرتے تو ہم عليحدہ مستقل حكومت قائم كر ليں گے ليكن عمر نے فورا ہى اس كى گفتگو كى كمزورى سے فائدہ اٹھاتے ہوئے كہا كہ افسوس دو تلواريں ايك ميان ميں نہےں سماسكتيں خدا كى قسم عرب اس بات پر ہرگز راضى نہےں ہوں گے كہ حكومت تمہارے حوالے كر دى جائے اس كى وجہ يہ تھے كہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تم ميں سے نہےں تھے _(۱۴) مہاجرين اور انصار كے درميان حصول اقتدار كى خاطر بہت سخت كشمكش ہونے لگى چنانچہ انصار كے دو قبيلوں اوس اور خزرج كے درميان شديد اختلاف پيدا ہو گيا قبيلہ اوس كے سردار ''اسيد بن حضير'' كا ميلان مہاجرين كى طرف تھا ، اس نے اظہار رغبت كيا انكى پيروى كرتے ہوئے '' بشير بن سعد خزرجى '' نے لوگوں كو مہاجرين كى بيعت كى جانب رغبت دلانا شروع كى بالاخر اس كشمكش كا نتيجہ يہ ہوا كہ خلافت كا فيصلہ ابوبكر كے حق ميں ہوگيا اور انھيں پانچ رائے كے ذريعے خليفہ منتخب كر ليا گيا _(۱۵)

اس واقعے كا اگر اجمالى طور پر جايزہ ليں تو اس نتيجے پر پہنچيں گے كہ سقيفہ ميں جو كچھ پيش آيا


اور اس ميں ابوبكر كو خليفہ منتخب كيا گيا وہ انتخاب كے اصول و ضوابط كے منافى تھا _

اس معاملے مےں فيصلہ اتنى عجلت و جلدى سے كيا گيا كہ كسى صاحب فكر شخص كو اتنا موقعہ ہى نہےں ديا گيا كہ وہ اس مسئلے كے بارے ميں غور و فكر كر سكے اور كسى مخالف كوبھى اتنى مہلت نہ ملى كہ وہ اپنے دعوے كے حق ميں دليل پيش كر سكے اس عجلت و تندى كے باعث روح انتخابات كى اچھى طرح پائمالى كى گئي كہ حتى كہ ان لوگوں سے بھى جو سقيفہ ميں موجود تھے حق رائے دہى سلب كر ليا گيا شروع سے آخر تك ذاتى ميلانات و احساسات كار فرما رہے اس كے علاوہ انتخاب اس طرح كيا گياكہ بيشتر مسلمان قطعى لاعلم و بے خبر رہے اور جنہيں اطلاع بھى ہوئي تو وہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے مراسم تجہيز و تكفين ميں منہمك و مشغول تھے وہ سقيفہ والے انتخابات ميں شريك نہيں ہو سكتے تھے _

جانشين رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے انتخاب كے لئے جس مجلس كى تشكيل كى گئي تھى اس ميں كم از كم كوئي ايسا شخص تو اپنے افراد خاندان كے ہمراہ وہاں پيش پيش رہتا جس كى قدر و منزلت پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى نظروں ميں وہى تھى جو حضرت ہارون كى حضرت موسيعليه‌السلام كے نزديك تھى اس واقعے پر جب ہم شروع سے آخر تك نظر ڈالتے ہيں تو ديكھتے ہيں يہ سب اس طرح پيش آيا كہ قبيلہ بنى ہاشم بالخصوص اس كے سردار يعنى اميرالمومنين علىعليه‌السلام ان واقعات سے قطعى بے خبر اور لاعلم ركھا گيا _

علىعليه‌السلام كى بيعت كے بارے ميں تجويز

حضرت علىعليه‌السلام پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے جسد مبارك كى تجہيز و تدفين ميں منہمك و مشغول تھے كہ ابو سفيان ' جس مےں حس تدبر و سياست فہمى بہت تيز تھى ' پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے گھر پہنچا تاكہ مسلمانوں كے درميان اختلاف پيدا كرے اور حضرت علىعليه‌السلام كے سامنے يہ تجويز پيش كى كہ آپعليه‌السلام كے دست مبارك پر بيعت كرے ليكن حضرت علىعليه‌السلام اسكى نيت كو جانتے تھے لہذا اسكى باتوں كو قطعى اہميت نہ دى اور فرمايا تمہارا مقصد مسلمانوں كے درميان فتنہ پھيلانا ہے_(۱۶)

جس وقت ابوسفيان نے يہ تجويز پيش كى توعين اس وقت حضرت عباس نے بھى چاہا كہ اپنے


بھتيجے كے دست مبارك پر بيعت كريں ليكن حضرت علىعليه‌السلام نے ان كى تجويز كو بھى منظور كرنے سے انكار كر ديا _(۱۷)

حضرت عباس كى تجويز كو حضرت علىعليه‌السلام نے كيوں منظور نہےں فرمايا اس كا ذكر بعد مےں كيا جائے گا ، يہاں ابوسفيان كى تجويز كے بارے ميں وضاحت كر دينا ضرورى ہے كہ ابو سفيان كى كى پيشكش حسن نيت پر مبنى نہيں تھى بلكہ اس كا مقصد اختلاف و فتنہ پرپا كرنا تھا اس نے جانشينى پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بارے ميں مسلمانوں كى رسہ كشى اور اختلاف كو اچھى طرح محسوس كر ليا تھا وہ جانتا تھا كہ ابو بكر و عمر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جانشينى كے چكر ميں ہےں اور اسے يہ معلوم تھا كہ سياسى اور معنوى اعتبار سے بنى ہاشم ہى ان كا مقابلہ كر سكتے ہيں لہذا وہ اپنے ناپاك مقصد كے حصول كے غرض سے خدمت امامعليه‌السلام مےں آيا اور آپ كو جنگ كيلئے ابھارا _

آپ نے ابوسفيان كى گفتگو سے اس اختلاف كا اندازہ لگا ليا تھا چنانچہ آپ خود فرماتے ہيں ميں ايك طوفان ديكھ رہا ہوں كہ جس كى منھ زوريوں كو خون ہى روك سكتا ہے(۱۸) پھر آپ اپنى رائے مےں صحيح تھے اگر بنى ہاشم اور ان كے سردار حضرت على بن ابيطالبعليه‌السلام فداكارى اور صبر سے كام نہ ليتے تو اس طوفانى اختلاف كو كشت و خون كے علاوہ كوئي چيز خاموش نہيں كر سكتى تھى _

سقيفہ كے واقعات كے بعد حضرت علىعليه‌السلام كا ردعمل

سقيفہ ميں جو اجتماع ہوا تھا وہ اس طرح اختتام پذير ہوا كہ انصار و مہاجرين مےں سے چند افراد نے ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت كر لى اس كے بعد يہ مجمع مسجد كى جانب روانہ ہوا تاكہ وہاں عام مسلمان بيعت كر سكيں عمر اس مجمع مےں پيش پيش تھے اور راہ ميں جو بھى ملتا اس سے كہتے كہ وہ ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت كر لے _(۱۹)

حضرت علىعليه‌السلام ابھى پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے جسد مبارك كے تكفين و تدفين مےں مشغول و منہمك تھے كہ لوگوں كے شورو غل كى صدائيں سنائي ديں اور صحيح واقعے كا اس كے ذريعے علم ہوا خلافت كى اہليت كے


بارے ميں جب مہاجرين كى يہ حجت و دليل آپ كو بتائي گئي كہ انہوں نے اس بات پر احتجاج كيا كہ خليفہ خاندان قريش اور شجر نبوت كى شاخ ہو تو اس پر آپعليه‌السلام نے فرمايا كہ انہوں نے تكيہ تو درخت پر ہى كيا ليكن اس كے پھل كو تباہ كر ڈالا _(۲۰)

حضرت علىعليه‌السلام كا دوسرا رد عمل پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے جسد مبارك كى تدفين كے بعد ظاہر ہوا _ حضرت علىعليه‌السلام مسجد مےں تشريف فرما تھے اس وقت بنى ہاشم كے افراد بھى كافى تعداد ميں وہاں موجود تھے بعض وہ لوگ جو ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت كر چكے تھے آپ كے اور افراد بنى ہاشم كے گرد جمع ہو گئے اور كہنے لگے كہ طائفہ انصار نيز ديگر افراد نے ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت كر لى ہے آپ بھى بيعت كر ليجئے ورنہ تلوار آپ كا فيصلہ كرے گى _

حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا كہ ميں ان سے زيادہ بيعت كے لئے اہل وقابل ہوں تم لوگ ميرے ہاتھ پر بيعت كرو تم نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے قربت كے باعث خلافت انصار سے لے لى اور انہوں نے بھى يہ حق تسليم كر ليا خلافت كے لئے ميرے پاس بھى دلائل موجود ہيں مےں پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے زمانہ حيات ميں ہى نہےں بلكہ رحلت كے وقت بھى ان كے سب سے زيادہ قريب و نزديك تھا ميں وصى ' وزير اور علم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا حامل ہوں ميں كتاب خدا اور سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بارے مےں سب سے زيادہ واقف و باخبر ہوں امور كے نتائج كے بارے ميں تم سے زيادہ جانتا ہوں ، ثبات و پائداراى مےں تم سے سب سے بہتر محكم و ثابت قدم ہوں اس كے بعد اب تنازع كس بات پر ہے؟(۲۱)

اس پر عمر نے كہا : آپ مانيں يا نہ مانيں ہم آپ كو بيعت كئے بغير جانے نہيں ديں گے حضرت علىعليه‌السلام نے انھيں فيصلہ كن انداز ميں جواب ديتے ہوئے فرمايا كہ دودھ اچھى طرح دوہ لو اس مےں تمہارا بھى حصہ ہے آج خلافت كے كمر بند كو ابو بكر كيلئے مضبوط باندھ لو كل وہ تمہيں ہى لوٹا ديں گے _(۲۲)

اس وقت وہاں عبيدہ بھى موجود تھے انہوں نے حضرت علىعليه‌السلام سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ اے ميرے چچا زاد بھائي رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے آپ كى قرابت داري، اسلام ميں آپ كے سابق


الاسلام ،اور اس كے مددگار اور آپ كى علمى فضيلت سے ہميں انكار نہيں ليكن آپ ابھى جو ان ہيں اور ابوبكر آپ ہى كے قبيلے كے معمر آدمى ہيں اس بار خلافت كو اٹھانے كيلئے وہ بہتر ہيں آپ كى اگر عمر نے وفا كى تو ان كے بعد خلافت آپ كو پيش كر دى جائي گى لہذا آپ اس وقت فتنہ و آشوب بپانہ كيجئے يہ آپ كو بخوبى علم ہے كہ عربوں كے دلوں ميں آپ كى كتنى دشمنى ہے _ (۲۳)

حضرت علىعليه‌السلام كا تيسرا رد عمل وہ تقرير تھى جو آپ نے مہاجرين و انصار كے سامنے فرمائي اسى تقرير كے دوران آپ نے فرمايا تھا '' اے مہاجرين و انصار خدا پر نظر ركھو اور ميرے بارے ميں تم نے جو پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عہد و پيمان كيا تھا اسے فراموش نہ كرو حكومت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم يہ كو ان كے گھر سے اپنے گھر مت لے جاؤ

تم يہ بات جانتے ہو كہ ہم اہل بيت اس معاملے مےں تم سے زيادہ حقدار ہيں _ كيا تم كسى ايسے شخص كو نہيں چاہتے جسے مفاہيم قرآن، اصول و فروع دين اور سنت پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر عبور حاصل ہے تاكہ وہ اسلامى معاشرے كا بحسن و خوبى نظم ونسق برقرار كرسكے ميں خدائے واحد كو گواہ كركے كہتا ہوں كہ ايسا شخص ہم ميں موجود ہے اور تمہارے درميان نہيں ، نفسانى خواہشات كى پيروى مت كرو اور حق سے دور نہ ہوجائو نيز اپنے گذشتہ اعمال كو اپنى بد اعماليوں سے فاسد و كثيف نہ ہونے دو ''_

بشير بن سعد نے انصار كى ايك جماعت كے ساتھ كہا : اے ابوالحسن اگر انصار نے آپ كى يہ تقرير ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت كرنے سے پہلے سن لى ہوتى تو دہ آدمى بھى ايسے نہ ہوتے جو آپ كے بارے ميں اختلاف كرتے_(۲۴)

علىعليه‌السلام نے كيوں عجلت نہيں كي؟

تاريخ كے اس حصے كا مطالعہ كرنے كے بعد ممكن ہے كہ يہ سوال سامنے آئے كہ اگر حضرت علىعليه‌السلام بھى دوسروں كى طرح امر خلافت ميں عجلت كرتے اور حضرت عباس و ابوسفيان كى تجويز مان ليتے


تو شايد يہ منظر سامنے نہ آيا ہوتا اس بات كى وضاحت كے لئے يہاں اس بات كا واضح كردينا ضرورى ہے كہ آپ كى خلافت كا مسئلہ دو حالتوں سے خالى نہ تھا يا تو رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آپ كو خداوند تعالى كے حكم سے اس مقام كے لئے منتخب كرليا تھا (اس پر شيعہ عقائد كے لوگوں كا اتفاق ہے) ايسى صورت ميں عوام كا بيعت كرنا يا نہ كرنا اس حقيقت كو بدل نہيں سكتا اور اگر بالفرض خلافت كے معاملے ميں امت كو اس كے فيصلے پر آزاد چھوڑديا تھا تو پھر كيوں حضرت علىعليه‌السلام لوگوں كے حق انتخاب كو سلب كرتے_ وہ امت كو اس حال پر چھوڑديتے كہ وہ جسے بھى چاہيں اپنا خليفہ مقرر كريں _

اس سے بھى زيادہ اہم بات يہ ہے كہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا جسد مبارك ابھى زمين كے اوپر ہى تھا ، حضرت علىعليه‌السلام پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے وصى كے لئے ايسى صورت ميں يہ كيسے ممكن تھا كہ وہ جسد اطہر پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو زمين پر ركھے رہنے ديں اور خود اپنے كام كے چكر ميں نكل جائيں _

حضرت علىعليه‌السلام نے پہلے اپنا فرض ادا كيا پھر لوگوں كے سامنے تشريف لائے _ دوسرے بھى يہ بات جانتے تھے كہ اگر ايسے ميں حضرت عليعليه‌السلام تشريف لے آتے تو وہ ہرگز اپنے مقصد و ارادے ميں كامياب نہ ہوتے_ چنانچہ دوسروں نے امر خلافت كے سلسلے ميں عجلت كى اور حضرت علىعليه‌السلام كو اس وقت اطلاع دى جب كام تمام ہوچكاتھا_(۲۵)


سوالات

۱_ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت كے بعد كيا واقعہ پيش آيا اور وہ كس طرح رفع ہوا؟

۲_ زمانہ مستقبل ميں اسلام كى قيادت ورہبرى كے سلسلے ميں پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى نظر ميں كونسى ممكن راہيں تھيں سب كى كيفيت بتايئے اور ہر ايك كا مقصد بيان كيجئے؟

۳_ اگر پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جانب سے كوئي شخص جانشين كى حيثيت سے منتخب نہ كيا گيا ہوتا تو مستقبل ميں اسلام كے لئے كيا خطرات لاحق ہوسكتے تھے مختصر طور پر لكھيئے؟

۴_ خلافت كے سلسلے ميں جس شورى كى تشكيل كى گئي تھى اسكى نفى كے لئے دو تاريخى شواہد و دلائل بيان كيجئے؟

۵_ امر خلافت ميں پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وصايت كو پيش نظر ركھا تھا اس ميں تاريخ و احاديث كى بنياد پر دو دليل پيش كيجئے؟

۶_ سقيفہ كا واقعہ كس طرح پيش آيا ، مہاجرين ميں سے وہاں كون لوگ موجود تھے وہ وہاں كس لئے پہنچے اور اس كا كيا نتيجہ برآمد ہوا؟

۷_ بيعت كے سلسلے ميں حضرت علىعليه‌السلام پر اپنے چچا عباس اور ابوسفيان كى تجاويز كا كيوں اثر نہ ہوا؟

۸_ واقعہ سقيفہ كے بارے ميں حضرت علىعليه‌السلام كا كيا رد عمل تھا؟


حوالہ جات

۱_ حضرت علىعليه‌السلام كى زندگى كے دوواقعات جو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے زمانہ حيات ميں پيش آئے وہ مختصر طور پر تاريخ عصر نبوت ميں بيان كرديئے گئے ہيں _

۲_ آل عمران ۱۴۴ _( وَمَا مُحَمَّدٌ إلاَّ رَسُولٌ قَد خَلَت من قَبله الرُّسُلُ أَفَإين مَاتَ أَو قُتلَ انقَلَبتُم عَلَى أَعقَابكُم ) (محمد اس كے سوا كچھ نہيں كہ بس ايك رسول ہيں ان سے پہلے اور رسول گذر چكے ہيں اگر وہ مرجائيں يا قتل كرديئے جائيں تو تم لوگ الٹے پائوں پلٹ جاؤ گے_

۳_ تاريخ طبرى ج ۳/۲۰۰ كامل ابن اثير ج ۲/ ۳۲۳، شرح ابن ابى الحديد ج ۱/ ۱۲۸_

۴_ سقيفہ كے لغوى معنى سايبان ہيں _ سقيفہ مدينہ ميں مسجد النبىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ۶۰۰ قدم كے فاصلے پر باب السلام كے راستے ميں واقع ہے _ يہ جگہ بنى ساعدہ بن كعب خزرمى سے متعلق تھى _ لوگ اس سايبان كے نيچے اپنے معاملات كا فيصلہ كرنے كے لئے جمع ہوتے تھے بعد ميں يہ جگہ سقيفہ بنى ساعدہ كے نام سے مشہور ہوگئي_ (معجم البلدان ج ۳/ ۲۲۸)_

۵_ شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج ۶/ ۵۱، المراجعات / ۲۶۰ _ ۲۵۹ منقول از صحيح بخارى و مسلم ، تاريخ ابى الفدا ج ۱/۱۵۱ائتونى بدواة وصحيفة اكتب لكم كتاباً لا تضلون بعده _

۶_ وامرہم شورى بينہم (سورہ شورى آيت ۳۸)_

۷_ حضرت ابوطالبعليه‌السلام و حضرت خديجہعليها‌السلام كى وفات كے بعد پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور قبيلہ بنى عامر كے درميان سخت رنجش پيدا ہوگئي جس كے باعث قريش پہلے كى نسبت اب زيادہ آپ پر دبائو ڈالنے لگے نيز حملات كرنے كى كوشش كرنے لگے تھے_

۸_ سيرة ابن ہشام ج ۲ / ۶۶ ''الامر الى الله يضعه حيث يشائ''

۹_ گذشتہ فصل ميں حديث ثقلين كے علاوہ ديگر احاديث كا مختصر جائزہ لياجاچكا ہے اسى وجہ سے يہاں اس كے دوبارہ نقل كرنے سے گريز كيا گيا ہے_

۱۰ _ تاريخ اس امر كى گواہ ہے كہ خلفاء وقت نے جب كبھى ضرورت محسوس كى حضرت علىعليه‌السلام سے رجوع كيا اور آپ سے درخواست كى ان كى مشكلات حل كرنے ميں انكى مدد فرمائيں _ ان واقعات كى كيفيت آيندہ ابواب ميں بيان كى جائے گا_


يہ حصہ كتاب تشيع مولود طبيعى اسلام ترجمہ التشيع والاسلام_ شہيد باقر الصدر سے ماخوذ ہے ص۲۸_

۱۱_ الامامة والسياسة ج ۱/ ۱۴_ ۳۱_

۱۲_ يہاں يہ بات بھى قابل ذكر ہے كہ ابوبكر كى تقرير كے بعد عمر نے بھى اپنے خيالات كا اظہار كيا اور كہا كہ ميں نے راستہ طے كرنے كے دوران كسى منصوبے يا لائحہ عمل كے بارے ميں غور و فكر نہيں كيا ہے سوائے اس كے جو ابوبكر نے بيان كيا ہے مجھے اس سے كلى اتفاق ہے اور جو كچھ انہوں نے اپنى زبان سے كہاہے بلكہ اس سے بھى سنے بہترما من شى كنت زرته فى الطريق الا انا به او باحسن منه _ تاريخ طبرى ج ۳/ ۲۱۹ ، كامل ابن اثير ج ۲/ ۳۲۷ _

۱۳_ طرح ہاى رسالت (ج ۱ / ۲۵۷ _ ۲۵۵)كا خلاصہ_

۱۴_ الامامة والسياسة (ج ۱/ ۲۱_۱۶)كامل ابن اثير ج ۲/ ۳۲۹_ ۲۲۸)تاريخ طبرى (ج ۳/ ۲۲۰_ ۲۱۸)_

۱۵_ ان پانچ رائے ميں سے تين تو ابوبكر، عمر اور ابوعبيدہ كى تھيں اور انصار ميں سے دو رائے بشير ابن سعد واسيد بن حضير كى تھيں _ ان پانچ افراد كے علاوہ باقى لوگ اپنے سرداران قبائل كے تابع تھے_ چنانچہ ہر قبيلے كا سردار جو رائے ديتا اس قبيلے كے تمام افراد اس كى پيروى كرتے اور اپنى مرضى سے كوئي رائے نہ ديتے_

۱۶_ كامل ابن اثير ج ۲/ ۳۲۶ _ تاريخ طبرى ج ۳/ ۲۰۹ ارشاد مفيد ۱۰۲_

۱۷_ تاريخ طبرى ج ۴/ ۲۳۰ _ شرح ابن ابى الحديد ج ۱/ ۱۹۲_

۱۸_انى لارى عجاجةلا يطفئها الالدم _ شرح ابن ابى الحديد ج ۱۲/ ۴۴_ كامل ج ۲/ ۳۲۵ _ تاريخ طبرى ج ۳/ ۲۰۹_

۱۹_ شرح ابن ابى الحديد ج ۳/۲۰۹_

۲۰_ احتجوا بالشجرة واضاعوا الثمرة_ نہج البلاغہ خ ۶۶_

۲۱_ احتجاج طبرى ج ۱/۹۵ الامامة والسياسة ج ۱ / ۱۸_

۲۲_ احلب حلباً ہناك شطرہ وشد لہ اليوم ليرد عليك غداً_

۲۳_ الامامة والسياسة ج ۱ / ۱۸ شرح ابن ابى الحديد ج ۶/ ۱۲_۱۱_ احتجاج طبرسى ج ۱/ ۹۶ _

۲۴_ الامامة والسياسة ج ۱۹/ ۱۸ _ احتجاج طبرسى ج ۱/ ۹۶ _

۲۵_ ماخوذ از كتاب ''خلافت و ولايت'' /۶۳_


تيسرا سبق

رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت سے خلافت ظاہرى تك ۲

حضرت علىعليه‌السلام كے گھر ميں پناہ گزيني

انصار سے مدد چاہنا

حساس صورت حال

قيام نہ كرنے كے دلائل اور وجوہات

معقول فوجى طاقت كى كمي

اسلام اور اسلامى وحدت كا تحفظ

جاہليت كى طرف بازگشت

كينہ توز دشمن

بيعت كا انجام

مسئلہ فدك

فدك پر قابض ہونے كے محركات

۱)مخالفين كو اپنى جانب متوجہ كرنا۲) جمع وخرچ كى مد ميں كمي

علىعليه‌السلام كى اقتصادى قوت كے باعث خطرے كا احتمال

مخالفين كى سركوبي

شورش كا دباجانا

حضرت فاطمہعليه‌السلام كى وفات

سوالات

حوالہ جات


حضرت علىعليه‌السلام كے گھر ميں پناہ گزيني

صحابہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميں ايسے پاك طينت لوگ بھى موجود تھے جنہوں نے ابوبكر كى بيعت نہيں كى تھي_ چنانچہ موصوف كو خليفہ بنائے جانے پر انہوں نے اعتراض كيا اور اس كے اظہار كے لئے انہوں نے پناہ گزينى كى راہ اختيار كى اور اس مقصد كے لئے بنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت فاطمہعليه‌السلام كے گھر ميں جمع ہوگئے_

ان ميں سے بعض افراد كے نام مورخين نے اپنى كتابوں ميں درج كئے ہيں _(۱)

حضرت فاطمہعليه‌السلام كا گھر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى حيات ميں خاص احترام كى نظر سے ديكھا جاتا تھا_ چنانچہ بنى ہاشم ' بعض مہاجرين اور اہل بيتعليه‌السلام كا آپ كے گھر ميں پناہ گزيں ہونے كا فطرى طور پر مقصد ہى يہ تھا كہ كوئي شخص زبردستى پناہ گزينوں كى بيعت كى غرض سے مسجد ميں لانہيں سكتا تھا _ بالاخر عمر كو ايك دستے كے ساتھ مقرر كيا گيا كہ وہ حضرت فاطمہعليه‌السلام كے گھر پر جائيں اور پناہ گزينوں كو نكال كر باہر لائيں تاكہ وہ خليفہ كے ہاتھ پر بيعت كريں _ عمر ايك گروہ كے ساتھ حضرت فاطمہعليه‌السلام كے گھر كى جانب روانہ ہوئے اور بڑى كشمكش كے بعد حضرت علىعليه‌السلام كو باہر لايا گيا اور آپ كو مسجد لے گئے جہاں آپ كو مجبور كيا گيا كہ ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت كريں ليكن حضرت علىعليه‌السلام اپنے ارادے پر قائم رہے_

جب ديكھا كہ حضرت علىعليه‌السلام اپنے عزم وارادے پر قائم ہيں تو لوگ بھى آپ سے دستكش ہوگئے_(۲)


انصار سے مدد چاہنا

اس واقعے كے بعد حضرت علىعليه‌السلام اور حضرت فاطمہعليه‌السلام راتوں كو انصار كے گھر تشريف لے جاتے اور اہل بيت سے متعلق پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى وصايا اور احاديث كى جانب توجہ دلاتے ہوئے ان سے مدد كے خواہاں ہوتے وہ لوگ جواب ميں كہتے اے بنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہم اس شخص كے ہاتھ پر بيعت كرچكے ہيں اگر تمہارے چچا كے بيٹے نے ابوبكر سے قبل ہم سے بيعت كرنے كے لئے كہا ہو تا تو ہم علىعليه‌السلام كے مقابل كسى دوسرے شخص كو ترجيح نہ ديتے_ اس پر حضرت علىعليه‌السلام فرماتے كيا عجيب بات ہے كيا تمہيں مجھ سے يہ توقع تھى كہ جنازہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو تكفين و تدفين كيئےغير اسے يونہى گھر ميں چھوڑ ديتا اور اس حكومت كو حاصل كرنے كى غرض سے' جو اس عظےم المرتبت انسان نے چھوڑى تھى ، كشمكش و تنازع ميں پڑجاتا ؟

فاطمہ زہراعليه‌السلام فرماتيں : ابوالحسن نے جو كچھ كيا وہ صحيح تھا اور لوگوں نے جو كچھ كيا ہے خدا ان سے باز پرس كرے گا _(۳)

حساس صورتحال

حضرت علىعليه‌السلام جس كيفيت وحالت سے گذر رہے تھے وہ بہت زيادہ حساس تھى كيونكہ آپ كو جو فرض سپرد كيا گيا تھا وہ نہايت ہى مشكل مگر بہت ہى عظےم واہم تھا_ ايك طرف آپ ديكھ رہے تھے كہ خلافت واسلامى قيادت اصل راہ سے دور ہوگئي ہے جس كے باعث فطرى طور پر بہت سے حقوق پائمال ہوكر رہ جائيں گے_

دوسرى طرف آپ ديكھ رہے تھے كہ مسلمان چونكہ گروہوں ميں تقسيم ہوگئے تھے،اسى لئے ان ميں اختلافات بھى شروع ہوگئے ہيں _ اب ديكھنا يہ ہے كہ اس حساس حالت و كيفيت ميں حضرت علىعليه‌السلام كا كيا فرض ہے كيا داخلى موقع پرست جماعت كى خود غرضى پر مبنى حركات كو برداشت كركے سكوت اختيار كئے رہنا يا ان حالات كے خلاف سركشى اور كسى تحريك كا آغاز كرنا؟


اگرچہ مسجد نبوى صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميں مہاجرين و انصار كى موجودگى ميں حضرت علىعليه‌السلام اور آپ كے طرفداروں كى پند ونصےحت نيز روشن و واضح تقارير نے اس حقيقت كو آشكارا كردياتھا _ آپ كے سامنے اب دو ہى راہيں تھيں پہلى تو يہى كہ بغاوت كركے اپنا حق واپس لے ليا جائے اور دوسرى يہ كہ اسلام كے تحفظ كى خاطر سكوت اختيار كياجائے_

موجود قرائن ودلائل سے ثابت ہے كہ ان حالات ميں حضرت علىعليه‌السلام كے لئے قيام كرنا اسلام كے حق ميں ہرگز سود مند نہ تھا _ جس كا نتيجہ يہ ہوسكتا تھا كہ اسلامى معاشرہ منتشر ہوكر رہ جائے اور لاتعداد گروہ و افراد دين اسلام سے برگشتہ ہوكر واپس عہد جاہليت ميں اور ديگر خرافات كى جانب چلے جائيں _

قيام نہ كرنے كے دلائل اور وجوہات

حضرت علىعليه‌السلام نے مختلف مواقع پر جو تقارير كيں اگر ہم ان كا اور ان حالات كا جو اس وقت اسلامى معاشرہ پر مسلط و طارى تھے جائزہ ليں تو ہميں اس سوال كا جواب مل جائے گا كہ حضرت علىعليه‌السلام نے كيوں قيام نہيں كيا اب ہم ان نكات كو بيان كر رہے ہيں جن سے يہ باتيں روشن ہوجائےں گي_

۱_ معقول فوجى طاقت كى كمي

مندرجہ بالا سوال كا جواب ديتے ہوئے خود حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا تھا:

امر خلافت ميں ميرى كوتاہى موت كے خوف كى وجہ سے نہيں تھى بلكہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے فرمان كے مطابق تھى كيونكہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا تھا كہ امت نے تجھ سے خيانت كى ہے ، انہوں نے مجھ سے جو عہد كيا ہے اسے وہ وفا نہيں كريں گے_ درحاليكہ تم ميرے لئے ايسے ہى ہو جيسے حضرت موسىعليه‌السلام


كے لئے حضرت ہارون عليه‌السلام تھے_

اس كے بعد آپ نے مزيد فرمايا كہ ميں نے سوال كيا كہ ايسى حالت ميں مجھے كيا كرنا چاہيئے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا تھا كہ اگر كوئي ايسا شخص مل گيا جو تمہارى مدد كرے تو تم ان سے جنگ وجدال كرنا اور اپنا حق حاصل كرلينا اگر ايسا نہ ہوا تو تم اس خيال سے در گذر كرنا ، اپنى خون كى حفاظت كرنا تاكہ تم ميرے پاس مظلوم آؤ _(۴)

آپ نے ايك جگہ اور بھى اس تلخ حقيقت كى صراحت كرتے ہوئے فرمايا تھا: اگرمجھے چاليس با عزم افراد مل جاتے تو ميں اس گروہ كے خلاف انقلاب اور جنگ و جدال كرتا_(۵)

ايك جگہ آپ نے يہ بھى فرمايا تھا كہ ميں نے اپنے اطراف ميں نظر ڈالى اور ديكھا كہ جز ميرے اہل بيتعليه‌السلام كے ميرا كوئي يار ومددگار نہيں مجھے يہ گوارانہ ہوا كہ انہيں موت كے منہ ميں دے دوں _(۶)

۲_ اسلام اور اسلامى وحدت كا تحفظ

وہ نو مسلم عرب جن ميں سے دور جاہليت كے رسم ورواج كى عادت و خوا بھى مكمل طور پر ختم نہيں ہوئي تھى اور جذبہ ايمان واسلامى عقيدہ ان كے دلوں ميں پورے طور پر راسخ نہيں ہوا تھا انہيں مد نظر ركھتے ہوئے ہر قسم كى داخلى جنگ مسلمانوں كى طاقت كے انحلال اور اسلام كے انہدام كا باعث ہوتى بالخصوص ان حالات ميں جب كہ ''اہل ردہ'' نے جزيرہ العرب كے اطراف ميں مركزى حكومت كے خلاف اپنا پرچم لہرادياتھا(۷) ان كے علاوہ ايران اور روم كى دو شاہنشاہى طاقتيں اس موقع كى تلاش ميں تھيں كہ قائم شدہ حكومت سے برسر پيكار ہوں اگر حضرت علىعليه‌السلام ان متزلزل مسلمانوں اور بيرونى دشمنوں كو پيش نظر ركھتے ہوئے بھى تلوار كا سہارا ليتے اوراپنا حق حاصل كرنے كى خاطر ابوبكر سے جنگ وجدال كرتے تو نوعمر اسلامى طاقت اور مركزيت كو مدينہ ميں نقصان پہنچتا اور اسلام كو نيست ونابود كرنے كى غرض سے بيرونى طاقتوں كے لئے يہ بہترين


موقع ہوتا شايد يہى وجہ تھى كہ سقيفہ كے واقعات سے متعلق آپ نے جو تقرير كى تھى اس ميں اتحاد كى اہميت اور تفرقہ اندازى كے برے نتائج كى جانب اشارہ كرتے ہوئے فرمايا تھا: فتنے كى امواج كو نجات كى كشتيوں سے چاك كردو، اختلاف پيدا كرنے سے گريز كرو ، فخر فروشى كى علامات كو سرسے اتار دو ، ميرى خاموشى كا سبب ميرى وہ دانش وباطنى آگاہى ہے جس ميں ميں غرق ہوں اگر تم بھى ميرى طرح باخبر ہوتے تو كنويں كى رسى كى مانند مضطرب و لرزاں ہوجاتے_ (۸)

۳_ جاہليت كى طرف بازگشت

قرآن مجيد ميں ايك آيت اس امر كى جانب اشارہ كر رہى تھى كہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت كے بعد ايك گروہ واپس دور جاہليت كى طرف چلاجائے گا چنانچہ فرماتا ہے :( فان مات او قتل انقلبتم على اعقابكم ) _(۹)

اس آيت مباركہ كى روشنى ميں پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو اسلامى معاشرہ كى آيندہ زندگى كے بارے ميں سخت تشويش تھى _ سقيفہ ميں جو واقعہ پيش آيا اس كا جائزہ لياجائے تو يہ بات واضح ہوجائے گى اس روز كس طرح يہ راز روشن عياں ہوگيا اور ايك بار پھر قبائلى تعصبات اور دور جاہليت سے متعلق افكار و خيالات دونوں جانب سے تقارير كے دوران اشارہ و كنايہ ميں نماياں ہوگئے_

اس كے عالوہ قبائل ميں سے بعض گروہ جو كچھ عرصہ قبل ہى مسلمان ہوئے تھے، رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خبر رحلت سنتے ہى مرتد ہوگئے اور اپنے آبا واجدا كے دين كى طرف واپس چلے گئے اور مركزى حكومت كى مخالفت شروع كردي_

دوسرى طرف ''مسيلمہ'' ، ''سجاح'' اور ''طليحہ '' نے بھى نجد ويمامہ كے علاقوں ميں اپنى نبوت كا دعوا كركے دوسرا پرچم لہراديا اور كچھ لوگوں كو بھى اپنے گرد جمع بھى كرليا_

اگرچہ حضرت علىعليه‌السلام حق بجانب تھے مگر اس وضع وكيفيت كو ديكھتے ہوئے كيا يہ زيبا تھا كہ اپنا پرچم لہراكر انقلاب وقيام كا اعلان كرديں ؟ چنانچہ حضرت علىعليه‌السلام نے اہالى مصركو جو خط لكھا تھا اس ميں آپ


نے اس نكتے كى جانب اشارہ فرمايا تھا ميں نے ديكھا ہے كہ لوگوں ميں ايك گروہ دين اسلام سے برگشتہ ہوگيا ہے اور وہ اس فكر ميں ہے كہ آئين محمدى صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو نيست ونابود كردے ، مجھے يہ خوف محسوس ہواكہ اگر ميں اسلام اور اہل اسلام كى مدد نہ كروں تو مجھے اس بات كے لئے بھى تيار رہنا چاہيئے كہ اسلام كى تباہى كا منظر اپنے آنكھوں سے ديكھوں دنيا كى حكومت چند روزہ ہے جو سراب يا ابر كى طرح سرعت سے گذر جانے والى ہے _ اسلام كى تباہى اس حكومت كے ترك كرنے سے زيادہ مجھ پر شاق والمناك گذرے گى _(۱۰)

۴_ كينہ تو ز دشمن

حضرت علىعليه‌السلام كے مسلمانوں ميں ہى بہت سے دشمن موجود تھے اور يہ وہ لوگ تھے جن ميں سے كسى كا باپ ' كسى كا بھائي يا كوئي دوسرا قرابت دار جنگ كے دوران آپ كے ہاتھوں مارا گيا تھا اور يہ دشمنى وكينہ توزى ان كے دلوں ميں اسى وقت سے چلى آرہى تھي_

ايسے حالات ميں جب كبھى حضرت علىعليه‌السلام نے مسلح ہوكر قيام كيا اور اپنا حق طلب كرنے كى كوشش كى تو يہى دشمن فريب ونفاق كو ہوا دينے لگتے اور يہ كہتے پھرتے كہ علىعليه‌السلام نے مسلمانوں كے درميان رخنہ پيدا كرديا ہے اور دين كے نام پر جنگ و پيكار بر اتر آئے _اگر حضرت علىعليه‌السلام نے ان سے جنگ كى ہوتى تو اس كے يہ نتائج نكل سكتے تھے_

ممكن تھا كہ جنگ كے ابتدائي چند لمحات ميں ہى آپعليه‌السلام كے بہت سے عزيز و ہمدرد تہ تيغ كئے جاتے اور پھر بھى حق حقدار كو نہ ملتا_

جب آپ كے دوست خير خواہ تہ تيغ كرديئے جاتے تو مخالفين كا قتل ہونا بھى فطرى امر تھا اور اس كا مجموعى نتيجہ يہ ہوتا كہ مركز ميں مسلمانوں كى طاقت رو بزوال ہونے لگتي_

اور جب مركزى طاقت كمزور ہونے لگتى تو وہ قبائل جو مركز سے دور تھے اور جن كے دلوں ميں دين اسلام نے پورى طرح رسوخ نہيں كيا تھا ، مرتدين كى صفوں ميں جاملتے اور شايد ان كے طاقتور ہونے اور مركز ميں رہبر كى زبونى كے باعث اسلام كے چراغ كى روشنى ماند پڑنے لگتي_


بيعت كا انجام

اكثر مورخين نے لكھا ہے كہ حضرت علىعليه‌السلام نے حضرت فاطمہعليه‌السلام كى رحلت تك ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت نہيں كي_(۱۱)

حضرت فاطمہ(سلام عليہا) كى وفات كے بعد جب آپعليه‌السلام نے لوگوں كى بے رخى اور مسلمانوں كى پريشان حالى كا مشاہد ہ كيا تو آپعليه‌السلام نے اسلام اور مسلمانوں كى خاطر خاموشى اختيار كرنے ميں ہى مصلحت سمجھى مگر اس كے باوجود يہ تلخ واقعات آپعليه‌السلام كے دل سے كبھى محو نہ ہوسكے اور ہميشہ ان دنوں كو ياد كركے شكوہ و شكايت كرتے تھے_

چنانچہ خطبہ''شقشقيہ '' ميں فرماتے ہيں : ''فرائت ان الصبر على ہاتااحجى فصبرت وفى العين قذى و فى الملق شجا''(عقل اور اس فرض كے مطابق جس كا پورا كرنا مجھ پر واجب تھا) مجھ پر يہ بات واضح و روشن تھى كہ ميرے لئے صبر و شكيبائي كے علاوہ كوئي چارہ نہيں لہذا ميں نے صبر وتحمل سے كام ليا مگر اس طرح گويا ميرى آنكھ ميں خار اور گلے ميں ہڈى اٹك گئي ہو_(۱۲)

مسئلہ فدك

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت كو ابھى دس دن بھى نہ گذرے تھے كہ حضرت فاطمہعليه‌السلام كو يہ خبر ملى كہ خليفہ كے كارندوں نے ان كے كام كرنے والوں كو ''فدك'' سے باہر نكال ديا ہے اور اس كے تمام كاموں كو اپنے اختيار ميں لے ليا ہے_

بنت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس زمين كو حاصل كرنے كى غرض سے بنى ہاشم كى خواتين كے ہمراہ خليفہ كے پاس گئيں اس وقت ابوبكر اور حضرت فاطمہعليه‌السلام كى درميان جو گفتگو ہوئي وہ ذيل ميں درج ہے:

حضرت فاطمہعليه‌السلام : تم نے ميرے كارندوں كو ''فدك'' سے كيوں باہر نكالا اور مجھے ميرے حق سے محروم كيا ؟

خليفہ: ميں نے آپ كے والد سے سنا ہے كہ پيغمبركوئي چيز ميراث ميں نہيں چھوڑتے_


حضرت فاطمہ عليه‌السلام : فدك كى زمين ميرے والد نے اپنے زمانہ حيات ميں مجھے بخش دى تھى اور اس وقت اس كى مالك ميں ہى تھي_

خليفہ: آپ كے پاس اس دعوے كے ثبوت ميں كيا شاہد و گواہ موجود ہيں ؟

حضرت فاطمہعليه‌السلام : ہاں ميرے شاہد وگواہ علىعليه‌السلام اور ام ايمن ہيں چنانچہ ان حضرات نے حضرت زہراعليه‌السلام كى درخواست پر يہ شہادت دى كہ آپعليه‌السلام پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے زمانہ حيات ميں اس كى مالك تھيں _(۱۴) بعض مورخين نے يہ بھى نقل كيا ہے كہ حضرت امام حسنعليه‌السلام و حضرت امام حسينعليه‌السلام نے بھى گواہى دي_(۱۵)

فخر رازى نے يہ قول نقل كيا ہے كہ : پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے غلاموں ميں سے ايك غلام نے بھى حضرت فاطمہعليه‌السلام كے مالك ہونے كى گواہى دى بلاذرى نے اس غلام كے نام كے تصريح بھى كى ہے اور لكھا ہے كہ اس كا نام ''رباح'' تھا_( ۱۶)

جب يہ گواہياں گذر گئيں تو حضرت علىعليه‌السلام نے خليفہ كو ان (ابوبكر)كى خطاء كى طرف متوجہ كيا (كيونكہ خليفہ نے گواہى اس شخص سے طلب كى تھى جس كے تصرف ميں فدك تھا اور متصرف (قابض) سے گواہى مانگنا اسلامى ميزان و عدل كے سراسر خلاف ہے) اور فرمايا كہ اگر ميں اس مال كا دعويدار ہوں جو دوسرے كے قبضے ميں ہے تو آپ گواہ كس سے طلب كريں گے مجھ سے كہ مدعى ہوں يا اس سے جس كے تصرف ميں مال ہے؟

ابوبكر نے كہا كہ آپ گواہ پيش كريں اس پر حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا كہ فدك ہمارے تحت تصرف ہے اور اب دوسروں نے يہ دعوى كيا ہے كہ يہ اموال عامہ ہيں ايسى صورت ميں وہ گواہ پيش كريں ناكہ ہم(۱۷)

خليفہ نے حضرت علىعليه‌السلام كى اس دليل پر سكوت اختيار كيا اور حلبى كے قول كے مطابق انہوں نے بذريعہ تحرير اس بات كى تصديق كى كہ فدك حضرت فاطمہ زہراعليه‌السلام كى ملكيت ہے _ ليكن عين اسى وقت عمر وہاں پہنچ گئے اور دريافت كيا كہ يہ كيسا مكتوب ہے ؟ اس پر ابوبكر نے كہا كہ ميں نے اس ورق


پر تصديق حق مالكيت حضرت فاطمہ عليه‌السلام كى ہے عمر نے كہا كہ فدك سے جو آمدنى ہوگى اس كى تو آپ كو ضرورت ہے كيونكہ عرب مشركين نے اگر كل كہيں مسلمانوں كے خلاف بغاوت كردى تو آپ جنگ كے اخراجات كہاں سے مہيا كريں گے_

چنانچہ اس نے ابوبكر سے ورق ليا اور چاك كرديا_(۱۸)

فدك پر قابض ہونے كے محركات

خليفہ كى جانب سے فدك پر قابض ہونے كے جو مختلف محركات تھے ان كى كيفيت ذيل ميں درج ہے:

۱_ مخالفين كو اپنے جانب متوجہ كرنا

خليفہ وقت نے اس بات كو بخوبى سمجھ ليا تھا كہ وہ عوام پر اس وقت تك اپنى فرمانروائي قائم نہيں كرسكتے تاوقتى كہ وہ اپنے مخالفين كو اپنا ہمنوا و ہمخيال نہ بناليں اور مختلف طريقوں سے جب تك ان كے افكار و قلوب كو اپنى جانب متوجہ نہ كريں گے ان دستوں پر حكمرانى كرتے رہنا ان كے لئے مشكل ہوگا_

بااثر افراد اشخاص ميں سے ايك ابوسفيان كہ جس كے اعتقاد كو بدلا جاسكتا تھا كيونكہ سقيفہ كا واقعہ جب پيش آيا تو اس نے حضرت علىعليه‌السلام كے سامنے بيعت لينے كى تجويز پيش كى تھى نيز مسلح ہوكر قيام كرنے كو دعوت دى تھى اور(بنى ہاشم سے خطاب كرتے ہوئے) كہاتھا كہ آپ لوگ اٹھيں اور زمام امور اپنے ہاتھ ميں ليں تو ميں مدينہ كو سوار وپيادہ فوج سے بھردوں گا_(۱۹) ليكن يہ شور و غل ابتدائي چند روز تك برقرار رہا اس كے بعد ختم ہوگيا_

خليفہ وقت نے ابوسفيان كى خوشنودى حاصل كرنے كى غرض سے وہ دولت جو بيت المال و زكات كے نام پر جمع كركے لائے تھے ، اسے بخش دى اس كے علاوہ اس كے لڑكے يزيد كا بھى


انہوں نے سپاہ اسلام كے فرماندار كى حيثيت سے شام كے علاقے فتح كرنے كے لئے انتخاب كيا اور بالآخر اسے عالم اسلام كے شاداب ترين علاقے يعنى شام كا فرمانروا مقرر كرديا جس وقت يہ خبر ابوسفيان كو پہنچى اس نے كہا ابوبكر نے صلہ رحم كيا ہے_(۲۰)

جن افراد كى خوشنودى حاصل كرنا خليفہ كيلئے ضرورى تھى وہ بہت سے افراد تھے_ اور بہت سے افراد مہاجرين اور انصار ميں سے ايسے تھے جو سقيفہ ميں موجود نہيں تھے يا بعد ميں جنہوں نے مجبوراً خليفہ كى بيعت كى تھى ان كا شمار بھى اس زمرے ميں تھا_

اس كے علاوہ خزرجى قبيلے كے لوگوں نے چونكہ پہلے دن بيعت نہيں كى تھى ان كى دلجوئي بھى خليفہ كے لئے ضرورى تھى يہى نہيں بلكہ انصار كى خواتين بھى خليفہ كے عطيات سے بے بہرہ نہ رہيں _(۲۱)

۲_ جمع وخرچ كى مد ميں كمي

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس جو كچھ اثاثہ و سرمايہ تھا اسے آپ نے رحلت سے قبل تقسيم كرديا اور رحلت كے بعد آپ كے جو بھى نمايندگان مدينے پہنچے وہ بھى اس شہر ميں مختصر پونچى لے كر داخل ہوئے مگر يہ قليل آمدنى نئي قائم شدہ حكومت كى نظر ميں كافى نہ تھى بالخصوص ان حالات ميں جب كہ اطراف كے قبائل نے مخالفت كا پرچم لہرا ديا تھا اور مركزى حكومت كو زكات دينے ميں پس وپيش كررہے تھے_

۳_ علىعليه‌السلام كى اقتصادى قوت كے باعث خطرے كا احتمال

قيادت ورہبرى كى جو شرائط ہوسكتى ہيں وہ سب حضرت علىعليه‌السلام ميں موجود تھےں او رمالى اعتبار سے بھى اگر آپ كى حالت قوى ہوتى تو فطرى طور پر ضرورت مند افراد آپ كے گرد جمع ہونے لگتے چنانچہ ممكن تھا كہ افراد كايہ اجتماع خلافت كى مشينرى كے لئے كوئي مسئلہ پيدا كرديتا_


مخالفين كى سركوبي

اپنى خلافت كے ابتدائي دنوں ميں ابوبكر كے سامنے جو مشكلات آئيں ان ميں سے ايك يہ تھى كہ بعض مسلمان مرتد ہوگئے تھے ان كا مقابلہ كرنے كى غرض سے خليفہ نے جنگ كا حكم ديا اور ان سے جنگ كرنے كے لئے سپاہى روانہ كيئے_

يہاں يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ وہ لوگ جو ابوبكر كے دور خلافت ميں ''اہل ردّہ'' كے نام سے مشہور ہوئے تھے كيا واقعى وہ اسلام سے برگشتہ ہوگئے تھے يا محض اس لئے كہ انہوں نے حكومت وقت كے سامنے چونكہ اپنا سر خم نہيں كيا تھا اس لئے انہيں مرتد كہہ كر بدنام كرديا گيا در حاليكہ وہ اصلى و حقيقى اسلام پر كاربند تھے؟

اس سوال كى وضاحت كے لئے يہ بتانا ضرورى ہے كہ : لفظ ارتدادكا مادہ ''ردد'' ہے اور اس كے معنى ہيں واپس ہوجانا' عرف عام اور مسلم فقہاء كى اصطلاح ميں اس كے معنى دين سے پھر جانا ہے اور يہ ضرورى نہيں كہ لفظ دين اس كے ساتھ استعمال ہو _ اب بھى ردد اور ارتداد كے معانى دين سے پھر جانا كے ہے _

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جان سوز خبر رحلت جب پھيلى تو بعض وہ لوگ جو كچھ عرصہ قبل ہى مسلمان ہوئے تھے اور دور دراز مقامات پر آباد تھے تردد ميں مبتلا ہو كر دين سے برگشتہ ہوگئے اور بالخصوص اس وقت جبكہ مشركين ميں ہمت و حوصلہ پيدا ہونے لگا تھا اور وہ اسلام كے خلاف بر سر پيكار ہونے كے لئے زيادہ سنجيدگى سے سوچنے لگے تھے_

ليكن اطراف وجوانب كى باقى مسلمانوں كى نگاہيں مركز پر لگى ہوئي تھيں اور وہ اس بات كا انتظار كر رہے تھے كہ ديكھيں جانشينى كا مسئلہ كہاں جاكر ختم ہوتا ہے چنانچہ جب انہيں اس واقعے كى اطلاع ملى كہ بعض افراد نے سقيفہ بنى ساعدہ ميں ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت كرلى مگر بعض قبائل كے لوگوں نے جن ميں بنى ہاشم اور ان كے سربراہ حضرت علىعليه‌السلام چند صحابہ رسول مقبولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور قبيلہ خزرج كے سردار (سعد بن عبادہ) نے بيعت كرنے سے انكار ركرديا ہے_


مدينہ ميں مسئلہ خلافت پر جو كشمكش ہوئي اس كے باعث كچھ عرب قبائل سقيفہ ميں ابوبكر كے ہاتھ پر كى جانے والى بيعت كى مخالفت پر اتر آئے اور انہيں حكومت وقت كو زكات ادا كرنے ميں تامل ہوا (كيونكہ زكات اس شخص كو دى جاسكتى تھى جسے متفقہ طور پر خليفہ وقت تسليم كرليا گيا ہو)جس كا سبب قانون زكات سے منكر ہونا نہ تھا كيونكہ اس كى ادائيگى كو وہ جزو دين سمجھتے تھے بلكہ اس كا اصل سبب يہ تھا كہ حكومت جيسے شاندار منصب كے لئے اس شخص كو جوپيغمبر اكرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا جانشين كہلائے جانے كا بھى مستحق نہيں تھا ، اسے متفقہ طور پر تسليم نہيں كيا گيا تھا_

ابوبكر نے خالد بن وليد كى سركردگى ميں چند سپاہى زكات وصول كرنے كى غرض سے روانہ كئے اور يہ ہدايت دى كہ اگر لوگ زكات نہ ديں تو ان سے جنگ كى جائے _ ابن ماجہ كے علاوہ اہل سنت كے ديگر تمام محدثين نے ابوہريرہ سے نقل كيا ہے كہ عمر نے اس مسئلہ پر ابوبكر سے اختلاف كيا اور كہا كہ آپ كيوں بے سبب لوگوں كا خون بہانے پرتلے ہوئے ہيں درحاليكہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تو يہ فرمايا ہے كہ ميں اس كام كے لئے مامور كيا گيا ہوں كہ لوگوں سے اس وقت تك جنگ كر تا رہوں جب تك وہ شہادين نہ كہہ ليں ، مگر اس كے بعد ان كا خون نيز ان كا مال قابل احترام ہے_ اس پر ابوبكر نے فرمايا قسم ہے خدا كى كہ اگر لوگ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو زكات ميں خواہ اونٹ كى رسى ہى ديتے تھے مگر مجھے نہ ديں گے اور نماز وزكات كے درميان تفرقہ ڈاليں گے تو ميں ان سے جنگ كروں گا _ يہ سن كر عمر نے كہا كہ ميں نے ديكھا ہے كہ خداوند تعالى نے ابوبكر كا سينہ قتال(جنگ وپيكار) كے لئے فراخ كرديا ہے اور ميں نے جان ليا ہے كہ وہ حق بجانب ہےں _(۲۲)

جامعة الازہر كے استاد دانشكدہ ادبيات عالم متبحر حسن(۲۳) ابراہيم حسن فرماتے ہيں كہ ابوبكر جن لوگوں سے اس بنا پر جنگ كررہے تھے كہ وہ مرتد ہوگئے تھے در حقيقت ان ميں سے كوئي بھى مرتد نہيں ہوا تھا وہ لوگ دين اسلام سے نہيں پھرے تھے بلكہ حكومت سے ان كے اختلاف كا سبب كچھ اور تھا_(۲۴)

اس كے بعد ابوبكر كى ان لوگوں سے جنگ كے محرك كے متعلق لكھتے ہيں خليفہ نے مرتدين


كيلئے سزا معين كى اور انہيں قتل كرديا يہ ايك سياسى حكم تھا اس وقت اس كا جارى كرنا حكومت كيلئے ان كے اسلام لانے سے بہتر تھا_

شورشوں كا دباجانا

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنى زندگى كے آخرى دنوں ميں اسامہ كے ہمراہ لشكر روانہ كرنے كى ہر ممكن كوشش كى مگر اس خدمت كو ابوبكر نے انجام نہ ديا اس لشكر كے روانہ كئے جانے كے بعد خليفہ وقت اور ان كے ہمنوا افراد نے كوشش كى كہ جتنى بھى شورشيں اس وقت ابھرى تھيں يكے بعد ديگر ے دبادى جائيں _

طليحہ' سجاح' مسيلمہ اور اياس بن عبداللہ ان لوگوں ميں سے تھے جنہوں نے يا كسى گوشے ميں پيغمبرى كا دعوا كيا يا سركشى كى ، قتل كرديئے گے يا انہوں نے فرار كى راہ اختيار كى _ جنوب اور مشرق ميں آبا د قبائل اور وہاں كے شہروں ميں آباد لوگ دوبارہ مدينہ كے مطيع و فرمانبردار ہوگئے كيونكہ انہوں نے اس بات كو سمجھ ليا تھا كہ خانہ جنگى سے كوئي فائدہ نہيں بلكہ مصلحت اس ميں ہے كہ مركزى حكومت كى اطاعت قبول كرليں _

حضرت فاطمہعليه‌السلام كى وفات

جس سال رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا انتقال ہوا اسى سال آپ كى اكلوتى بيٹى فاطمہ زہراعليه‌السلام نے بھى وفات پائي باپ كى موت اور مختصر مدت كے بعد جو سانحات پيش آئے انہوں نے فاطمہ زہراعليه‌السلام كے جسم و روح كو غمگين بناديا _

حضرت زہراعليه‌السلام كے دل ودماغ پر ان واقعات كا ايسا گہرا اثر ہوا كہ آپ كے فرمانے كے بموجب اگر يہ مصائب وآلام دنوں پر پڑتے تو رات كى تاريكى ميں تبديل ہوجاتے _(۲۵) ان


صدمات كى تاب نہ لاكر صاحب فراش ہوگئيں ، وہ لوگ جو پيغمبرا كرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خاطر جان بكف رہا كرتے تھے اور ان كے پاس جو كچھ تھا وہ آپ كے والد محترمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے وجود كى بركت سے ہى تھا اب ايسے پھرے كہ ان ميں سے چند ہى آپ كى عيادت كو آئے_

جناب صدوق اس ضمن ميں فرماتے ہيں : مہاجر وانصار كى كچھ خواتين آپ كى عيادت كے لئے گئيں آپ نے اس وقت كو غنيمت جانا اور اس موقعے پر جو خطبہ ارشاد فرمايا اس كے بعض اہم اقتباسات يہاں كئے جاتے ہيں :

افسوس تمہارے مردوں نے خلافت كو رسالت كى پائيگاہ، نبوت كى اقامت گاہ اور منزل وحى سے الگ كرديا اور دنيا ودين كے ماہروں سے زمام خلافت چھين ليں يقينا اس ميں انكا سراسر نقصان ہے انہيں ابوالحسنعليه‌السلام سے كيا عداوت تھي_

جى ہاں : انہےں علىعليه‌السلام كى راہ خدا ميں برہنہ شمشير، دليرى اور شجاعت كا خوف تھا_

قسم خدا كى اگر خلافت كو علىعليه‌السلام كے ہاتھ سے نہ ليا ہوتا تو ان كے امور و مسائل كو حل كرنے ميں وہعليه‌السلام خود حصہ ليتے اور انتہائي رضا و رغبت سے شادمانى وكامرانى كى جانب انہيں ہدايت كرتے، تشنگان عدل وانصاف آپ كے چشمہ داد و عدالت سے سيراب ہوتے محروم ولاچار لوگ ان كى پناہ صولت ميں دلير و شير دل ہوجاتے _(۲۶)

بنت رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جب تك علالت كے باعث صاحب فراش رہيں(۲۷) كسى شخص نے آپكے چہرے پر شادابى اور مسكراہٹ نہ ديكھى آپ ہفتے ميں دو مرتبہ (پير اور جمعرات) شہداء كے مزارات پر جاتيں اور ان كے لئے دعائے خير فرماتےں _(۲۸)

اور بالاخر ہجرت كے گيارہوےں سال ميں بتاريخ سوم جمادى الآخر اٹھارہ سال كى عمر ميں آپ نے اس جہان فانى سے كنارہ كرليا اور اپنے والد بزرگوار كے پاس پہنچ گئيں _(۲۹)

حضرت علىعليه‌السلام نے دختر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو غسل ديا نيز آپ كى وصيت كے مطابق خواص كے علاوہ ديگر افراد كى غير موجودگى ميں نماز جنازہ ادا كى اور راتوں رات آپ كے جسد مطہر كو سپرد خاك كركے


قبركے نشان كو محو كرديا اس كے بعد آنحضرتعليه‌السلام نے مزار پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جانب رخ كيا اور فرمايا:

يا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميرى اور اپنى دختر كى جانب سے جواب آپ كے جوار ميں پہنچ گئي ہيں اور بہت جلد آپ سے جاملى ہيں سلام قبول فرمايئے اور يا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ كى برگزيدہ و پاك دختر كى جدائي كے باعث ميرا پيمانہ صبر لبريز ہوچكا ہے اور اب مجھ ميں غم برداشت كرنے كى تاب نہيں

آپ كے پيارى بيٹى جلد ہى آپ كو مطلع كرديں گى كہ آپ كى امت نے ان پر ستم رواركھنے كى غرض سے كيا كيا باہمى سازشيں نہ كيں ان پر جو كچھ گذرى انہى كى زبانى سنيئے اور يہ وقت كس طرح گذرا اس كى كيفيت انہى سے دريافت فرمايئے اگرچہ آپ كى رحلت و زمانہ حيات كے درميان كافى عرصہ نہيں گذرا ہے اور آپ كى ياد دلوں سے بھى محو نہيں ہوئي ہے_(۳۰)

-

سوالات

۱ _ حضرت علىعليه‌السلام كے گھر ميں كن لوگوں نے پناہ لى اور كيوں ؟

۲ _ واقعہ سقيفہ كے بعد حضرت عليعليه‌السلام كا كيا موقف رہا ؟ اس حساس كيفيت كى وضاحت كيجئے ؟

۳ _ حضرت علىعليه‌السلام كے اقوال كى روشنى ميں كنارہ كشى كے اسباب بيان كيجئے ؟

۴ _ حضرت علىعليه‌السلام نے خليفہ وقت سے كس وقت مصالحت كى تھى ؟

۵ _ فدك كہاں واقع ہے يہ مسلمانوں كے ہاتھ كس طرح آيا اور رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے زمانہ حيات مےں كسے بخشا ؟

۶ _ فدك پر قابض ہونے كے محركات بيان كيجئے ؟

۷ _ ابوبكر كى حكومت كے مقابل اہل '' ردہ '' كا كيا ردعمل رہا كيا وہ سب مرتد ہو گئے تھے ؟

۸ _ مرتدين كے ساتھ جنگ كرنے ميں ابوبكر كے پيش نظر كيا محركات تھے اس بارے ميں خليفہ ثانى كا بھى نظريہ پيش كيجئے ؟

۹ _ حضرت فاطمہ زہراعليها‌السلام كى وفات كس سنہ ميں واقع ہوئي رحلت كے وقت آپ كى كيا عمر تھى آپ كى تكفين و تدفين كى رسومات كس طرح ادا كى گئيں ؟


حوالہ جات

۱ _ جن حضرات كے نام ديئے گئے ہيں ان مےں زبير ' عباس بن ابى لہب ' سلمان ' ابوذر ' مقداد عمار، براء ' ابى بن كعب'سعد بن ابى وقاص اور طلحہ شامل ہيں ليكن الفصول المہمة ميں ان افراد كے علاوہ ديگر حضرات كے نام بھى درج ہيں _

۲ _ الامامة والسيلة ج۱ / ۲۰ _

۳ _ الامامة والسيلمة ج۱ / ۱۹_

۴ _ الشيعة والى كمون / ۱۸ _

۵ _لو وجدت اربعين ذويى عذم منهم لنا هضت القوم شرح ابن ابى الحديد ج۲ / ۴۷ و ۲۲

۶ _ نہج البلاغہ (صبحى صالح)خلبہ ''فنظرت فاذا ليس معين الا اهل بيتيى فضنت بهم عن الموت _

۷ _ اس جماعت نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى وفات كے بعد اسلام كى مركزى حكومت كے خلاف بغاوت شروع كر دى اور ايك مدت اس كے حملے جارى رہے _

۸ _ نہج البلاغہ خطبہ ج'' شقوا امواج الفتن بسفن النجاة ، عرجوا عن طريق المناضرة وضعوا بتيجان المفاخرة اندمجت على مكنون علم لوبحت به لاضطربتم الاشية فى الطوى البيصره'' _

۹ _'' وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افان مات او قتل انقلبتم على اعقابكم ومن ينقلب على عقبيہ فلن يضراللہ شيئا وسيجزى اللہ الشاكرين'' (محمد اس كے سوا كچھ نہيں كہ بس ايك رسول نہيں ان سے پہلے اور رسول بھى گذر چكے ہيں كيا اگر وہ مر جائيں يا قتل كر ديئے جائيں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤں گے ؟ ياد ركھو جو الٹا پھرے گا وہ اللہ كا كچھ نقصان نہ كرے گا البتہ جو اللہ كے شكر گزار بندے بن كر رہيں گے انھيں وہ اس كى جزادے گا)آل عمران آيہ ۱۴۴_

۱۰ _ نہج البلاغہ خط ۶۲ _

''فامسكت يديى حتى رايت راجعة الناس قد رجعت عن الاسلام يدعون الى محق دين محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فخشيت ان لم انصر الاسلام واهله ان ارى فيه ثلما اوهدما تكون المصيبة به على اعظم من فوت ولايتكم التى هيى متاع ايام قلائل يزول منها ماكان كما يزول السراب اوكما يتقشع السحاب '' _


۱۱ _ تفصيل كے لئے ملاحظہ ہو اسد الغابہ ج۳ / ۲۲۲ ' تاريخ يعقوبى ۲ / ۱۲۶ ' استيعاب ج۲ / ۲۴۴ ' التنبيہ والا شراف / ۲۵۰ اور الامامة والسيامة ج۱ / ۲۰ _

۱۲ _ نہج البلاغہ خطبہ ۳، يہاں يہ بات قابل ذكر ہے كہ حضرت علىعليه‌السلام كى مصالحت اور اجتماعا ميں شركت اسى حد تك تھى كہ جتنى اسلام و مسلمين كى حفاظت كا تقاضا تھا _

۱۳ _فدك خيبر كے نزديك مدينہ سے ۱۴۰ كلوميٹر كے فاصلے پر سرسبز و زرخيز زمين تھى فتح خيبر كے بعد رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ايك وفد ''فدك'' كے سرداروں كے پاس بھيجا اور بحث و گفتگو كے بعد وہاں كے رہنے والوں نے يہ عہد كيا كہ ہر سال خيبر كى جتنى پيداوار ہوگى اس كا نصف حصہ وہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں بھيج ديا كريں گے اور اس كے عوض حكومت كى جانب سے ان كى حفاظت كى جائے گي_اسلامى نظريے كے مطابق وہ زمين جو بغير جنگ كے مسلمانوں كو حاصل ہوتى ہے وہ خالص پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و امامعليه‌السلام كا حصہ ہے اس مسئلے كى رو سے ''فدك'' صرف رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا حق تھا چنانچہ رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھى شيعہ محدثين و مفسرين نيز بعض سنى مفكرين كے قول كے مطابق جس وقت آيت ذالقربى حقہ (سورہ اسراء آيت ۲۶) نازل ہوئي تو آپ نے اپنى دختر حضرت فاطمہعليه‌السلام كو بلايا اور ''فدك'' انہيں ديديا(كشف الغمہ ج ۱ / ۷۶ ۴) _

۱۴_ احتجاج طبرى ج ۱/ ۱۳۱_

۱۵_ مروج الذہب ج ۳/ ۲۳۷_

۱۶_ فتوح البلدان ۴۴ شيعہ احاديث ميں مذكورہ بالا شواہد كے علاوہ اسماء بنت عميس كا نام بھى شاہد كى حيثيت سے آيا ہے_

۱۷_ احتجاج طبرى ج ۱/ ۱۲۲_

۱۸_ اعيان الشيعہ (دس جلدي) ج۱/۳۱۸ منقول از سيرہ حلبي_

۱۹_ كامل ابن اثير ج ۲ / ۳۲۶ شرح ابن ابى الحديد ج ۲/ ۴۵ _

۲۰_ تاريخ طبرى ج۳/۲۰۲_

۲۱_ زيد بن ثابت كچھ رقم لے كر بنى عدى كى ايك خاتون كے پاس پہنچے اور كہا كہ يہ وہ رقم ہے جو خليفہ نے عورتوں كے درميان تقسيم كى ہے اور يہ تمہارا حصہ ہے اس نيك خاتون نے اپنى ذہانت كے باعث اس رقم كو قبول


كرنے سے انكار كيا اور كہا كيا ميرا دين خريدنے كے لئے مجھے يہ رشوت دى جارہى ہے _ (شرح ابن ابى الحديدج۲/۵۳، طبقات ابن سعد ج ۳/۱۸۲)_

۲۲_البدايہ والنہايہ ج ۶ /۳۱۱ قال عمر ھو الاّ ان را يت اللہ قد شرح صدر ابى بكرللقتال فعرفت انہ الحق ''ليكن صحيح بخارى ج ۷/ ۱۷۱ ميں عمر كا جملہ اس طرح نقل كيا ہے فواللہ ما ہو الا ان قد شرح اللہ صدر ابى بكر فعرفت انہ الحق ''_

۲۳_ تاريخ اسلام ج ۱/ ۳۵۱_

۲۴_ تاريخ اسلام ج ۱/ ۳۵۲_

۲۵_ صبت على مصائب لوانہاصبت على الايام صرن لياليا

۲۶_احتجاج طبرسى ج ۱/ ۱۴۹ ، شرح ابن ابى الحديد ج /۱۶ / ۲۳۳، بلاغات النساء /۱۹ اور دلائل الامامہ طبري/ ۳۹_

۲۷_ حضرت فاطمہعليه‌السلام كتنے عرصے تك عليل رہيں اس كے بارے ميں اختلاف ہے ابن شہر آشوب نے مناقب ميں بيان كيا ہے كہ آپ چاليس دن تك مريض رہيں اور اسى مرضى كے باعث آپ كى وفات واقع ہوئي حضرت امام باقرعليه‌السلام سے مروى ہے كہ آپ پندرہ تك عليل رہيں اور اس كے بعد آپ كى رحلت ہوئي_(اعيان الشيعہ ج ۱/ ۳۱۹)_

۲۸_ اعيان الشيعہ ج ۱/ ۳۱۹_

۲۹ _ حضرت فاطمہ زہراعليها‌السلام كى تاريخ وفات اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت كے بعد آپ كى مدت عمر كے بارے ميں اختلاف ہے كتاب كے متن مےں جو بات درج كى گئي ہے وہ اقوال مشہور كے مطابق ہے مورخين نے لكھا ہے كہ حضرت فاطمہ(س)رحلت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بعد كم از كم چاليس دن اور زيادہ سے زيادہ آٹھ ماہ اس جہان فانى ميں تشريف فرما رہيں مذكورہ بالا دونوں اقوال كے علاوہ مختلف روايات ميں دو ماہ سے پچھتر دن ' تين ماہ اور چھ ماہ عرصہ بھى نقل كيا گيا ہے _

۳۰ _ نہج البلاعہ (صبحى صالح)خ ۲۰۲ _


چوتھا سبق

رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت سے خلافت ظاہرى تك ۳

سر زمين شام و عراق كى فتح

خليفہ وقت كى قرآن و سنت سے واقفيت

حضرت علىعليه‌السلام ، اور ابوبكر كى علمى و سياسى مشكلات

جانشينى كا تعين

قلمر و اسلام كى وسعت

فتوحات كى خوشنجريوں كے اثرات

حضرت علىعليه‌السلام كے ساتھ خليفہ ثانى كے سياسى و علمى مشورے

بنى ہاشم كى گوشہ نشيني

احاديث نبوى كى حفاظت و كتابت پر پابندي

بيت المال كى تقسيم ميں خليفہ كا رويہ

خليفہ دوم كا قتل

كونسى شورى ؟

مذكورہ شورى كے بارے ميں عليعليه‌السلام كا رويہ

حضرت علىعليه‌السلام كى شركت اور اس كى وجہ


عثمان كى خلافت

مسلمانوں كا بيت المال

حضرت علىعليه‌السلام كے پند و نصايح

خليفہ سوم كا قتل

حضرت علىعليه‌السلام كى نظر ميں عثمان كا قتل

پچيس سالہ حكومت خلفاء كے دوران علىعليه‌السلام كے كارنامے

سوالات

حوالہ جات


سرزمين شام و عراق كى فتح

داخلى جنگوں كى آگ جب خاموش ہو گئي تو خليفہ وقت نے دو اہم لشكر تيار كيئے ان ميں سے ايك لشكر خالد كے زير فرمان عراق كى جانب روانہ كياجس پر اس وقت ساسانى حكومت كا اثر و غلبہ تھا اور دوسرا لشكر ابو عبيدہ كى سركردگى ميں شام كى سمت ' مشرقى روم كى جانب روانہ كيا _

خالد سب سے پہلے '' حيرہ '' كى طرف متوجہ ہوا ليكن وہاں كے حاكم نے صلح و امن كا طريقہ اختيار كيا اور نوے ہزار درہم ادا كر كے اپنے ملك كے تابع سرزمين كو مسلمين كى در ازدستى سے بچا ليا حيرہ كے بعد '' آبلہ '' '' عين التمر '' اور '' انبار '' جيسے شہر جنگ يا معاہدہ صلح كے ذريعے تابع و مطيع كئے گئے _

عراق كى جانب جب لشكر روانہ كيا گيا تھا تو وہ كاميابى سے ہمكنار ہوا مگر جو لشكر رومى شانہشاہيت كے متصرفات كو فتح كرنے كى غرض سے بھيجا گيا تھا اس كے بارے مےں احتمال تھا كہ كہيں شكست سے دو چار نہ ہو اس خدشے كے پيش نظر ابوبكر نے خالد كو عراق سے واپس بلا ليا اور مسلمانوں كى مدد كے لئے انھيں شام كى جانب جانے پر مقرر كيا خالد كے چلے جانے كے بعد قبيلہ بكر كے سردار مثنى نے لشكر عراق كے ماندارى كى ذمہ دارى قبول كى اور حيرہ سے بابل (يہ شہر موجودہ حلہ كے نزديك واقع تھا)كى جانب روانہ ہوئے خالد جب اپنا مختصر لشكر اسلام لے كر '' يرموك '' پہنچے تو لشكر اسلام كو اس سے بہت فرحت حاصل ہوئي اور بے مثال بہادرى و دليرى سے جنگ كر


كے انہوں نے سپاہ روم كو شكست دى چنانچہ انھوں نے پسپا ہو كر دمشق ميں پناہ لى _

خليفہ وقت كى قرآن و سنت سے واقفيت

ابوبكر اگرچہ مسند خلافت پر متمكن ہو گئے ليكن مہاجر و انصار كى نظروں ميں ان كا شمار افضل و اعلى دانشور صحابہ رسول ميں نہيں ہوتا تھا مثلا تفسير قرآن مجيد كے وہ قابل اعتناء توجہ مطالب بيان نہےں كر سكتے تھے چنانچہ جلال الدين سيوطى جيسا تتبع مفسردس سے زيادہ تفسير و مطالب تفسير ان سے نقل نہےں كر سكا ہے جبكہ وہى مفسر حضرت علىعليه‌السلام كے بارے ميں لكھتا ہے كہ علم تفسير ميں آپ كى بہت سے روايات بيان كى گئي ہيں _(۵)

حنبلى مسلك كے پيشوا مام احمد بن حنبل كو دس لاكھ احاديث ياد تھيں ''(۶) مسند'' ميں انہوں نے پچاس ہزار سات سو احاديث نقل كى ہيں او جو احاديث انہوں نے ابوبكر كے واسطے سے نقل كى ہيں ان كى تعداد اسى (۸۰) سے كم ہى ہے(۷)

ابن كثير نے بہت زيادہ تلاش و جستجو كے بعد ابوبكر سے منقول بہتر (۷۲) احاديث جمع كى ہےں اور انھيں ''مجموعہ مسند صديق '' كا نام ديا ہے جلال الدين سيوطى كى علم تفسير و احاديث پر كافى دسترس تھى اس نے مجموعہ ابن كثير كا سند كے اعتبار سے جايزہ ليا ہے اور ان كى تعداد كو اس نے ايك سو چار تك پہنچا ديا ہے(۸)

حضرت علىعليه‌السلام ' اور ابوبكر كى علمى و سياسى مشكلات

اوپر جو بيان كيا گيا ہے اس كے پيش نظر ابوبكر كے لئے علمى ہى نہيں بلكہ سياسى مشكلات ميں بھى اس كے سوا چارہ نہ تھا كہ ضرورت كے وقت حضرت علىعليه‌السلام سے رجوع كريں اور آپ سے مدد چاہيں اور يہ بات اس امر كى واضح دليل ہے كہ حضرت علىعليه‌السلام كتاب خدا ،حديث رسولعليه‌السلام اور اسلام


كے سياسى مصالح كے بارے ميں سب سے زيادہ باخبر ، ذى ہوش شخص تھے مثال كے طور پر ہم يہاں دو واقعے بيان كر رہے ہيں _

اہل روم سے جنگ كرنے كے بارے ميں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا خود فرمان تھا اسے نافذ كرنے مےں ابوبكر كو تردد تھا اس سلسلے ميں انہوں نے بعض صحابہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مشورہ بھى كيا چنانچہ ہر شخص نے اس سے متعلق اپنى رائے كا اظہار كيا بالاخر انہوں نے حضرت علىعليه‌السلام سے مشورہ كيا اور رائے جاننا چاہى آپ نے پيغمبرخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم كو نافذ كئے جانے كى ترغيب دلائي اور مزيد فرمايا '' ان فعلت ظفرت '' يعنى اگر آپ يہ اقدام كريں گے تو كامياب ہوں گے خليفہ نے بھى آپ كے كہنے پر عمل كيا _(۹)

۲ _ ايك شخص نے شراب پى ركھى تھى نشہ كى حالت ميں اسے خليفہ كے روبرو لايا گيا اس شخص نے كہا مجھے علم نہ تھا كہ شراب پينا حرام قرار ديا گيا ہے كيونكہ اب تك ميں نے اس ماحول ميں پرورش پائي ہے جہاں شراب كو حلال سمجھا جاتا ہے خليفہ كى سمجھ ميں نہيں آيا كہ كيا كريں چنانچہ انہوں نے ايك شخص كو حضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں روانہ كيا اور كہا كہ اس مشكل كو حل فرمائيں _(۱۰)

جانشينى كا تعين

عمر نے ابوبكر كو خليفہ بنانے كے لئے بہت زيادہ سعى وكوشش كى جس كا مقصد يہ تھا كہ خليفہ اول كے بعد خلافت ان كو ملے ، ابوبكر نے بھى ان كى مرضى كے خلاف كوئي اقدام نہ كيا_ جس وقت بستر علالت پر وہ تھے تو انہوں نے عثمان كو بلايا اور كہا لكھو:

يہ عہد نامہ ابوبكر جانشين رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا مسلمانوں كے لئے ہے بات يہيں تك پہنچى كہ ابوبكر پر غشى طارى ہوگئي عثمان كو يہ گمان گذرا كہ شايد خليفہ گذر گئے ہيں چنانچہ انہوں نے اس عہدنامے كى اس طرح تكميل كي_ ابوبكر نے اپنے بعد عمر بن خطاب كو اپنا جانشين مقرر كيا ہے _ اسى اثناء ميں ابوبكر كو ہوش آگيا اور جب انہيں يہ معلوم ہوا كہ عثمان نے كيا لكھا ہے تو انہوں نے كہا ''تم نے


ٹھيك لكھا ہے اس معاملے ميں ميرى اور تمہارى ايك ہى رائے ہے_ (۱۱)

حضرت علىعليه‌السلام نے نہج البلاغہ ميں ابوبكر كے اس اقدام پر سخت تنقيد كى ہے _ چنانچہ فرماتے ہيں ''عجيب بات ہے كہ وہ شخص جو زندگى ميں لوگوں سے كہا كرتا تھا كہ وہ ميرا عذر قبول كريں اور (علىعليه‌السلام كے ہوتے ہوئے) اس كو خلافت سے معذور ركھيں خود مرتے وقت خلافت (كى دلہن) كا پلا دوسرے سے باندھ گيا _(۱۲)

قلمرواسلام كى وسعت

عمر كے دور خلافت ميں مسلمانوں كو بہت سى فتوحات نصيب ہوئيں اور ايران و روم جيسى دو عظےم شہانشاہى حكومتوں كے دروازے ان پر كھل گئے_

عراق ميں مسلمانوں نے جس تيزى سے پيشرفت كى اس كے باعث انہيں يہ اميد نظر آنے لگى كہ ساسانى حكومت كے اصل سرزمين پر بھى وہ حملہ كرسكيں گے چنانچہ عمر نے ابوعبيدہ كو ايران كى فتح كے لئے فرماندار مقرر كيا اور مثنى چونكہ عراق ميں مقيم تھے انہيں حكم ديا كہ وہ اپنے لشكر كے ساتھ ابوعبيدہ كى اطاعت و پيروى كريں _

ايران كے بادشاہ ''يزدگرد سوم'' نے اپنے سرداروں كو كثير طاقت جمع كرنے كے بعد حكم ديا كہ وہ مسلمانوں كى پيشرفت كو روكيں اگرچہ اس كے سردار ہر چند لايق و جنگجو تھے مگر وہ سب ايك دوسرے كے بعد يا تو قتل ہوئے يا انہوں نے لشكر اسلام سے صلح كرلي_ ايرانى سرداروں ميں بہمن جادويہ ہى ايسا سردار تھا جو مطيع و فرمانبردار نہ ہوا چونكہ اس كى فوج ہاتھيوں كے لشكر سے آراستہ تھى جنہيں ديكھ كر عربوں كے گھوڑے بھڑك گئے چنانچہ ''جسر'' ميں ابوعبيدہ شہيد ہوئے اورباقى لشكر نے پسپا ہوكر فرات كے پار جاكر پناہ لي_

ليكن ايك سال بعد(۱۴ ھ) ميں سپاہ اسلام نے مثنى كے زير فرمان ''بويب(۱۲) '' ميں سپاہ ايران پر فتح پائي اور اس سے جنگ جسر كى شكست كى تلافى ہوگئي_


اس كے بعد قادسيہ وقوع پذير ہوئي اس سے قبل كہ جنگ شروع ہو ايرانى اور اسلامى افواج كے سپہ سالاروں (سعد وقاص اور رستم فرح زاد) كے درميان ايلچيوں كے ذريعے گفت وشنيد ہوتى رہى _ ايلچيوں كى اس ملاقات ميں سپاہ اسلام كے سپہ سلار نے بھى مطالبہ كيا كہ دو چيزوں ميں سے ايك چيز قبول كى جائے، اسلام يا جزيے كى ادائيگى _ ليكن رستم فرح زاد جو بڑا خود سر سردار تھا يہى كہتا رہا كہ جس وقت تك ہم تمہيں قتل نہ كرديں گے دم نہ ليں گے_

بالآخر چار دن كى جنگ كى بعد مسلمان فتح و كامرانى سے ہمكنار ہوئے اور اس طرح محرم سنہ ۱۴ ھ ميں ايران كے دروازے لشكر اسلام پر كھل گئے اور نور ايمان وتوحيد نے اس سرزمين كو اپنى آمد سے منور كيا_

دوسرى طرف شہنشاہ روم كى فوج نے يرموك ميں اپنى شكست كے بعد دمشق ميں پناہ لى اور اپنى اس شكست كے تلافى كرنے كى غرض سے اس نے عظےم فوجى طاقت جمع كى ليكن يہ لشكر بھى شكست سے دوچار ہوا اور مسلمانوں نے دمشق و اردن جيسے شہروں پر فتح پائي_ سنہ ۱۷ ميں مسلمانوں نے فلسطين كو بھى جو فوجى اور تاريخى لحاظ سے اہم شہر تھا ، تسخير كيا_ ۱۹ ھ ميں عمر وعاص نے بحر احمر كو عبور كركے مصر كى جانب رخ كيا_''بابليوں '' ميں باز نطينى سپاہ سے مقابلہ ہوا اس ميں بھى لشكر اسلام كو كاميابى نصيب ہوئي _ وہاں سے وہ عين الشمس اور روم كى جانب روانہ ہوا تاكہ شہنشاہ روم كى رضايت حاصل كركے اسكندريہ پہنچ جائے _ چنانچہ چند ماہ كے محاصرے كے بعد اسكندريہ كو بھى فتح كرليا اور اس طرح شمالى افريقہ كے لئے راستہ ہموار ہوگيا_

فتوحات كى خوشخبريوں كے اثرات

مغايرت و مخالفت سے قطع نظر جو محركات خلفاء كے زمانے ميں ان فتوحات كے ذريعے مسلمانوں كو ہوئے اگر ان كا موازنہ ان جنگوں اور فتوحات سے كياجائے جو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے زمانے ميں ظہور پذير ہوئيں تو اس نكتے كو ملحوظ خاطر ركھنا ضرورى ہے ، ان فتوحات سے يہ ثابت نہيں ہوتا


كہ ان كے باعث دربار خلافت كى شان وشوكت ميں اضافہ ہوا ، اس ميں شك نہيں كہ ايك طاقتور و فاتح فوج كو اعلى مقاصد ، حوصلہ مندانہ آمادگى ، فن حرب وضرب سے واقفيت اور فوجى تربيت جيسے عوامل و اوصاف كا مجموعہ ہوناچاہئے مگر اس كا چندان ربط و تعلق موجودہ سپہ سالاروں سے نہيں تھا _ مسلمانوں كى فتح وكامرانى ميں جو عوامل كار فرما تھے اور انہيں دو عظيم شہنشاہى حكومتوں سے قوت آزما ہونے كيلئے ترغيب دلاتے تھے، وہ پيغمبرا كرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى يہ خوش خبرى تھى كہ مسلمان ايران اور وم جيسى سرزمينوں كو فتح كريں گے ان كے علاوہ بھى ديگر ايسے عوامل تھے جن سے مسلمانوں كى ميدان جنگ ميں حوصلہ افزائي ہوتى تھى مگر انكا تعلق كسى طرح بھى حكومت وقت سے نہ تھا بلكہ ان ميں وہ شہرت ونيك نامى كے عناصر كار فرماتھے جو رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور شير خدا علىعليه‌السلام جيسے پيشوايان اسلام نے اپنے كردار كے ذريعے قائم كئے تھے_

حضرت علىعليه‌السلام كے ساتھ خليفہ ثانى كے سياسى وعلمى مشورے

حضرت علىعليه‌السلام خليفہ اول كى طرح خليفہ دوم كے بھى اہم مشكل كشا تھے اور ان كى بھى سياسى و علمى مشكلات كو حل فرماتے تھے يہاں ہم بطور مثال دو واقعات پيش كررہے ہيں _

جنگ قادسيہ ميں سپاہ ايران كى شكست كے بعد ايران كے بادشاہ يزدجرد نے فيروزان كے كمانڈرى ميں عظيم لشكر مرتب كيا تاكہ وہ آيندہ عربوں كے حملات كا سد باب كرسكے ، كوفہ كے حاكم نے خط كے ذريعے تمام واقعات كى اطلاع خليفہ كو دى ، عمر مسجد ميں آئے اور اصحاب سے مشورہ كيا كہ وہ مدينہ ميں ہى رہيں يا اس علاقے ميں پہنچ كر جو بصرہ وكوفہ كے درميان واقع ہے ، سپاہ اسلام كى كمان سنبھاليں _ عثمان اور طلحہ نے دوسرے نظريے كى تائيد كى اور اس ضمن ميں مزيد كہا كہ آپ سرداران سپاہ شام ويمن كو لكھيں كہ وہ آپ سے ملحق ہوں _ ليكن حضرت علىعليه‌السلام نے دونوں ہى نظريات كى مخالفت كى اور فرمايا كہ وہ شہر جو حال ہى ميں مسلمانوں كے تصرف ميں آئے ہيں انہيں فوج سے خالى نہيں رہنا چاہيئےيونكہ ايسى صورت ميں ممكن ہے كہ حبشہ كى فوج يمن پر اور روم كا لشكر


شام پر قبضہ كرلے _ عمر كى پہلى تجويز كے بارے ميں بھى آپ نے مشورہ ديا اور فرمايا كہ اگر آپ مدينہ سے باہر چلے جائيں گے تو ممكن ہے كہ اطراف كے اعراب اس موقع كا فائدہ اٹھائيں اور يہاں كوئي فتنہ بپا كريں اس كے علاوہ اگر آپ محاذ جنگ پر پہنچيں گے تو دشمن جرى ہوجائے گا كيونكہ جب عجمى سپاہى آپ كو ديكھيں گے تو كہيں گے كہ عربوں كى جڑ بنياد يہى شخص ہے گر اس كو كاٹ ڈاليں تو سارا جھگڑا ہى پاك ہوجائے گا_

حضرت علىعليه‌السلام كى بات سننے كے بعد عمر نے روانگى كے خيال كو ترك كرديا اور كہا كہ قابل عمل رائے علىعليه‌السلام كى ہے مجھے انہى كى پيروى كرنى چاہيئے_(۱۳)

ايك شخص خليفہ كے پاس آيا اور شكايت كى كہ ميرى بيوى كے يہاں شادى كے چھ ماہ بعد ولادت ہوئي ہے عورت نے بھى اس بات كو قبول كيا اس پر خليفہ نے حكم ديا كہ اسے سنگسار كياجائے ليكن حضرت علىعليه‌السلام نے حد جارى كرنے سے منع كيا اور فرمايا كہ قرآن كى روسے عورت چھ ماہ پورے ہوجانے پر وضع حمل كرسكتى ہے كيونكہ مدت حمل اور شيرخوار تيس ماہ معين ہے_(۱۴)

اور دوسرى آيت ميں دودھ پلانے كى مدت دوسال بتائي گئي ہے _(۱۵) اور اگر تيس ماہ ميں سے دو سال كم كرديئے جائيں تو مدت حمل چھ ماہ رہ جاتى ہے _ حضرت علىعليه‌السلام كى منطقانہ گفتگو سننے كے بعد عمر نے كہا''لو لا على عليه‌السلام لهلك عمر'' _''اگر علىعليه‌السلام نہ ہوتے تو عمر ہلاك ہوجاتا''_(۱۶)

بنى ہاشم كى گوشہ نشيني

ابوبكر و عمر كے زمانہ خلافت ميں بنى ہاشم اور حضرت علىعليه‌السلام كے ہوا خواہوں كو عملى طور پر حكومت كے اہم عہدوں سے دور ركھا گيا اور يہ كوشش كى گئي كہ اس زمانے كہ دل ودماغ سے اہل بيتعليه‌السلام كى اعلى اقتدار كو محو كردياجائے_

اس كے مقابل اموى گروہ بتدريج معاشرے كى رہبرى ميں اثر رسوخ پيدا كرتا رہا _ اس


نظريے كے بہت سے تاريخى شواہد موجود ہيں جن ميں سے چند كا ذكر ذيل ميں كياجاتا ہے_

۱_ ابوبكر نے اس زمانے كى وسيع وعريض مملكت ميں سے چھوٹا سا حصہ بھى بنى ہاشم ميں سے كسى كو نہيں ديا كہ جبكہ شام كو سياسى اہميت حاصل ہونے كے باوجود ابوسفيان كے بيٹے يزيد كے اختيار ميں ديديا تھا _(۱۷)

۲_ عمر ''حميص'' كى حكومت حضرت ابن عباس كو دينے سے منصرف ہوگئے جبكہ معاويہ كو شام پر مسلط كرنے كے سلسلہ ميں كسى قسم كا دريغ نہيں كيا _

۳_ محض چند لوگوں كى اس شكايت پر كہ عمار ياسر ايك ضعيف انسان ہيں خليفہ دوم نے كوفہ كى گورنرى سے انہيں معزول كيا اور مغيرہ كو گورنر مقرر كيا چند روز بعد مغيرہ كى بھى شكايت پہنچى ليكن اس كا ذرہ برابر اثر نہ ہوا_(۱۸)

خليفہ اول و دوم اگرچہ ابوسفيان سے بہت زيادہ خوش نہ تھے اور اسى وجہ سے انہوں نے اموى خاندان كے افراد كو حد سے زيادہ سياسى امور ميں داخل ہونے نہيں ديا مگر اس كا ميدان انہوں نے عثمان كے زمانہ خلافت ميں ہموار كرديا تھا _ مثلاً عمر جانتے تھے كہ شورى جس كى انہوں نے تشكيل كى ہے اس كانتيجہ يہ برآمد ہوگا كہ عثمان كو خليفہ منتخب كرلياجائے گا چنانچہ اس نے خود بھى يہ بات كہہ دى تھى كہ اگر عثمان حاكم ہوئے تو وہ بنى اميہ كو لوگوں پر مسلط كرديں گے_(۱۹)

احاديث نبوى كى حفاظت و كتابت پر پابندي

جيسا كہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى تاريخ حيات ميں بيان كياجاچكا ہے كہ آپ نے اپنى زندگى كے آخرى لمحات ميں چاہا تھا كہ امت كے لئے ايك نوشتہ لكھ ديں تاكہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بعد وہ گمراہ نہ ہو مگر عمر نے منع كيا اور كہا كہ ہمارى لئے قرآن كافى ہے_

اس خيال كى پيروى كرتے ہوئے انہوں نے اپنے زمانہ خلافت ميں حكم ديا كہ احاديث پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو قلم بند نہ كياجائے اور اگر انہيں كوئي حديث لكھى ہوئي مل جاتى تو اسے ضبط كركے جلوا ديتے_


انہوں نے تمام شہروں ميں يہ منادى كرادى كہ اگر كسى كے پاس كوئي حديث ہے تو وہ اسے نيست ونابود كردے _(۲۰) چنانچہ قاسم بن محمد بن ابى بكر سے منقول ہے كہ عمر كے زمانے ميں احاديث بہت زيادہ جمع ہوگئيں جب ان كے پاس لائي گئيں تو حكم ديا كہ انہيں جلاديا جائے_(۲۱)

ابوبكر نے بھى اپنے زمانہ خلافت ميں پانچ سو احاديث جمع كيں _ عائشہ فرماتى ہيں : مجھ سے كہا كہ احاديث ميرے پاس لاؤ جب انہيں لايا گيا تو ان سب ميں آگ لگادى گئي _(۲۲) چنانچہ يہ روش عمر بن عبدالعزيز كے دور خلافت تك جار رہى _

اس رويے كو اختيار كرنے كى وجہ وہ يہ بتاتے تھے كہ اگر عوام كى توجہ احاديث كى جانب رہے تو وہ قرآن سے دور ہوجائيں گے درحاليكہ قرآن كا يہ ارشاد ہے كہ ''پيغمبر جو كچھ تمہارے لئے لائے ہيں ، اسے قبول كرلو اور جس چيز سے منع كيا ہے اس سے باز رہو ''_(۲۳) رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى اطاعت كا امكان پيدا ہونے كے لئے ضرورى ہے كہ وہ احاديث جن ميں بالخصوص اوامر و نواہى كے بارے ميں آپ نے فرمايا محفوظ رہنى چاہئے ورنہ كس طرح رسول كى اطاعت ہوسكے گى ؟

بيت المالك كى تقسيم ميں خليفہ كا رويہ

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے عہد ميں سپاہيوں اور حكومت كے كاركنوں كى تنخواہ مقرر نہ تھى بلكہ اخراجات زندگى مال غنيمت كے ذريعے مہيا كئے جاتے تھے _ اس كى تقسيم ميں لوگوں كے سابقہ زندگي' عربوں كى نسلى فضيلت يا پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ قرابت دارى كو ملحوظ نہيں ركھا جاتا تھا_

خليفہ اول كے زمانے ميں بھى يہى طريقہ رائج رہا ليكن خليفہ دوم كے زمانے ميں اس طريقہ كار كو بدل ديا گيا انہوں نے سپاہيوں اور حكومت كے كاركنوں كى تنخواہ كے لئے عليحدہ رجسٹر بنايا اور اس كى تقسيم كے لئے نسل ونسبت كو معيار قرار ديا ان كے درميان عرب كو عجم پر ، قحطان كے عرب كو عدنان كے عرب پر ، مضر كو ربعيہ پر ، قريش كو غير قريش پر اور بنى ہاشم كو بنى اميہ پر برترى و


فضيلت تھى اور انہيں بيشتر مراعات حاصل تھيں _(۲۴)

كچھ عرصہ گذرا تھا كہ ذخيرہ اندوزوں اور دنيا پرستوں نے اس طريقہ كار كى بدولت جس طرح بھى ممكن ہوسكتا تھا مال جمع كرنا شروع كرديا وہ غلاموں اور كنيزوں كو خريد ليتے اور انہيں مختلف كاموں پر زبردستى لگاديتے تاكہ ان كے لئے زندگى كى سہولتيں فراہم كرنے كے علاوہ ہر روز نقدرقم بھى اپنے آقائوں كو لاكر ديں _

خليفہ دوم كا قتل

فيرو زايرانى ابولو لو مغيرہ كا غلام تھا_ اپنى زندگى كے اخراجات پوركرنے كے علاوہ وہ مجبور تھا كہ ہر روز دو درہم مغيرہ كو ادا كرے اس نے ايك روز خليفہ كو بازار ميں ديكھا اس نے فرياد كى كہ اس كے آقانے اس سے ہرروز دو درہم وصول كرنے كا جو بار اس پر ڈالا ہے وہ اس كےلئے ناقابل برداشت ہے _ ليكن خليفہ نے بڑى بے اعتنائي سے جواب ديا كہ تجھ جيسے ہنرمند اور ماہر فن شخص كے لئے اتنى مقرر كردہ رقم كوئي زيادہ نہيں ميں نے تو يہ سنا ہے كہ تو ايسى چكى بناسكتا ہے جو ہوا كے رخ پر گردش كرتى ہے_ كيا ايسى چكى تو ميرے لئے بھى بناسكتا ہے ؟ فيروز كو چونكہ خليفہ كى بے اعتنائي سے بہت تكليف پہنچى تھى اس نے كہا كہ ميں آپ كيلئے ايسى چكى بنائوں گا جس كى مشرق و مغرب ميں كہيں مثال نہ ملے گى اور بالآخر ماہ ذى الحجہ ۲۳ ھ ميں اس نے خليفہ كو قتل كرديا_

كونسى شوري؟

عمر نے جب موت كے آثار ديكھے تو انہوں نے چھ ايسے افراد كو جن سے اس كے بقول پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنى زندگى كے آخرى لمحات ميں بہت خوش تھے ، بلوايا وہ يہ چھ افراد تھے:

حضرت علىعليه‌السلام _ عثمان _ طلحہ اور زبير _ عبدالرحمن بن عوف اور سعد وقاص_


عمر نے ہر ايك كى معنوى خصوصيت بيان كرنے كے بعد كہا كہ : اگر ميرے بعد خليفہ مقرر كرنے كے سلسلے ميں تم نے اتفاق رائے سے كام ليا تو تمہيں نيز تمہارے فرزندان كو درخت خلافت كے ميوے سے فےض پہنچے گا ورنہ خلافت كى گيند كو معاويہ اچك ليگا _ اس كے بعد انہوں نے اباطلحہ كو كچھ ضرورى نصيحتيں كيں اور مزيد فرمايا اگر پانچ افراد نے اتفاق رائے كيا اور ايك نے مخالفت يا چار افراد ايك طرف ہوگئے اور دو شخص دوسرى جانب ، تو ايسى صورت ميں جو اقليت ميں ہوں ان كى گردن اڑا دينا اگر دونوں فريق برابر ہوئے تو حق اس طرف جائے گا جس طرف عبدالرحمن ہوں گے اگر تين دن گذر جائيں او ركسى بھى مرحلے پر اتفاق رائے نہ ہو تو سب كو قتل كردينا اور مسلمانوں كو ان كے حال پر چھوڑنا كہ اس كے بعد وہ جسے بھى چاہيں خليفہ مقرر كريں _(۲۵)

حضرت عمر كے انتقال كے بعد اس شورى ميں طلحہ نے اپنا حق حضرت عثمان كو دے ديا اور زبير حضرت علىعليه‌السلام كے حق ميں دستبردار اور سعد بن ابى وقاص نے اپنا ووٹ عبدالرحمن بن عوف كو دےديا ، يوں خلافت كے ليئے صرف تين اميدوار يعنى حضرت عثمان، حضرت علىعليه‌السلام اور عبدالرحمن باقى بچ گئے پھر عبدالرحمن بن عوف نے حضرت علىعليه‌السلام كى جانب رخ كيا اور كہا كہ ميں اس شرط پر آپ كى بيعت كرتاہوں كہ آپ كتاب خدا ، سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور شيخين كى روش پر عمل كريں گے اس پر حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا كہ ميں كتاب خدا اور سنت پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور اپنے اجتہاد كى بنياد پر عمل كروں گا_ عبدالرحمن نے يہى بات عثمان كى جانب رخ كركے كہى عثمان نے ان كى اس شرط كو فوراً قبول كرليا ،ا س كے بعد انہوں نے عثمان كے ہاتھ پر ہاتھ ركھديا اور انہےں ''اميرالمؤمنين'' ہونے كى حيثيت سے سلام كيا _(۲۶)

مذكورہ شورى كے بارے ميں حضرت علىعليه‌السلام كى نظر

جس وقت شورى كے اراكين كا تعين ہوا تو حضرت علىعليه‌السلام نے ابتدا ہى ميں اس كے فيصلے سے باخبر كرديا تھا اور عباس سے كہا تھا ''عدلت عنا'' يعنى ہمارے خاندان سے خلافت كا رخ موڑ ديا گيا ہے انہوں نے دريافت كيا كہ آپ نے كيسے جانا تو آپ نے فرمايا كيونكہ عثمان كو ميرے


مقابل لايا گيا ہے_ (۲۷)

جب شورى كے نتيجے كا اعلان كيا گيا تو اس وقت بھى آپ نے فرمايا تھا عمر نے اپنى موت كے بعد خلافت كو ايك جماعت ميں محدود كرديا اور مجھے بھى اس جماعت كا ايك ركن قرار ديا ہے بھلا ميرا اس شورى سے كيا تعلق ہے ان ميں سے سب سے پہلے ہى كے مقابلہ ميں ميرے استحقاق ميں كب شك تھا كہ جواب اس قسم كے لوگوں ميں شامل كرليا گيا ہوں ؟ وہ پرندہ كى طرح كبھى زمين پر چلتے تھے اور كبھى اڑنے لگتے تھے مجبوراً ميں نے بھى نشيب وفراز ميں ان سے ہم آہنگى كى ان ميں سے ايك (سعد بن ابى وقاص) تو كينہ توزى كى وجہ سے حضرت عثمان كى طرف چلاگيا اور دوسرا (عبدالرحمن بن عوف) دامادى اور بعض ناگفتہ باتوں كى وجہ سے ادھر جھك گيا_(۲۸)

حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے اس بيان كے ذريعے اس مجلس مشاورت كے حقيقى چہرے كو بے نقاب كرديا اور يہ بات واضح كردى كہ آپ كا شمار كسى طرح بھى اس شورى كے اراكين ميں نہےں ہے اس كے علاوہ عثمان كے حق ميں رائے دہى ان كے رائے غير جانبدار نہ تھى بلكہ اس ميں كينہ توزى اور قرابت دارى جيسى ذاتى اغراض شامل تھيں اور جس وقت خلافت كيلئے فيصلہ كيا جارہا تھا اس وقت يہ عوامل كار فرما تھے_

حضرت علىعليه‌السلام كى شركت اور اس كى وجہ

جيسا كہ اس سے قبل اشارہ كياجاچكا ہے كہ عمر نے جس شورى كى تشكيل كى تھى اس كى ہيئت شروع سے ہى يہ بتا رہى تھى كہ اس كے ذريعے حضرت عليعليه‌السلام كو اميرالمومنينعليه‌السلام منتخب نہيں كياجائے گا اب يہاں يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ جب حضرت علىعليه‌السلام نے جب پہلے ہى يہ انداز لگاليا تھا تو آپ نے اس شورى ميں شركت ہى كيوں فرمائي؟

اس سوال كا جواب دينے كے لئے ضرورى ہے كہ ان نكات كى جانب توجہ دلائي جائے جن ميں بعض آپ ہى كے اقوال ہيں _


۱_ ابن عباس نے آپ سے كہا تھا كہ اس شورى ميں شركت نہ كيجئے تواس پر آپ نے يہ فرمايا كہ مجھے اختلاف پسند نہيں _ (۲۹)

۲_ قطب راوندى كے قول كے مطابق ابن عباس كے سوال كے جواب ميں ہى آپ نے يہ فرمايا تھا كہ ميں جانتا تھا كہ شورى كى تشكيل كس نہج پر ہوئي ہے اس كے باعث خلافت ہمارى خاندان سے چلى جائے گى ليكن ميں نے ان كى اس شورى ميں شركت كى جس كى وجہ يہ تھى كہ عمر نے مجھے خلافت كا اہل و شايستہ جانا ليكن اس سے قبل انہوں نے ہى كہا تھاكہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا ہے كہ نبوت اور امامت ايك گھر ميں جمع نہ ہوں اب ميں اس شورى ميں شامل كرليا گياہوں تو چاہتاہوں لوگوں كے سامنے كہ ان (عمر)كے فعل كى ان كى بيان كردہ روايت كى مخالفت كو واضح كردوں _(۳۰)

مذكورہ شورى ميں حضرت علىعليه‌السلام كى عدم شركت كے باعث فيصلہ كرنے كا اختيار عبدالرحمن كو ہوتا ايسى صورت ميں اگر حضرت علىعليه‌السلام مخالفت كرتے تو اس ہدايت كے مطابق جو عمر نے كى تھى تو آپ كو قتل كروايا جاتا اس اعتبار سے صحيح اور منطقى راہ وہى تھى جسے آپ نے پيش نظر ركھا_

عثمان كى خلافت

خليفہ دوم كى وفات كے بعد عثمان نے زمام امور اپنے ہاتھوں ميں سنبھالى ، انہوں نے روز اول سے وہى راہ اختيار كى جس كا عمر كو خدشہ تھا_ چنانچہ بتدريج اپنے قرابت داروں (بنى اميہ) كو اہم مناصب پرمقرر كرنا شروع كيا_

اپنے ماموں زاد بھائي عبداللہ ابن عامر كو جس كى عمر ابھى پچيس سال ہى كى تھى بصرے كا والى مقرر كرديا اور اپنے ماموں وليد ابن عقبہ جيسے بدكار شخض كو كوفہ كا گورنر مقرر كيا يہ شخص بحالت مستى مسجد ميں داخل ہوا اور فجر كى نماز ميں چار ركعت پڑھادى نماز پڑھانے كے بعد اس نے اپنے مقتديوں سے كہا كہ اگر آپ چاہيں تو ميں مزيد چند ركعت پڑھاسكتاہوں _


معاويہ كو عمر نے دمشق اور اردن كا گورنر مقرر كيا تھا ليكن عثمان نے ان ميں حمص ، فلسطين اور جزيرہ كے علاقوں كا بھى اضافہ كرديا اور اس كے لئے ايسے مواقع فراہم كرديئے جس سے اس كے تسلط واقتدار ميں اضافہ ہوسكے_

اسى طرح انہوں نے اپنے رضاعى بھائي عبداللہ بن سعد كو مصر كا گورنر مقرر كيا_ مروان بن حكم كو پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے شہر بدر كرديا تھا مگر عثمان نے اسے اپنے حواريوں ميں شامل كركے اسے اپنا مشير مقرر كرديا_

مختصر يہ كہ ان كى خلافت كے دوران قليل عرصے ميں ہى بصرہ، كوفہ ، شام اور مصر جيسے چار عظےم صوبے جنہيں فوجى اجتماعى اور اقتصادى اعتبار سے خاص اہميت حاصل تھى ، بنى اميہ كے زير تسلط آگئے اور وہ عرب خاندان جو صحابہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى نسلوں سے تھے نيز ديگر افراد قبائل حكومت كے عہدوں سے محروم كرديئے گئے_

اموى دستے نے بھى اس موقع كو غنيمت جانا اور شروع سے ہى اپنى وضع وحالت كو استحكام دينے سے كوئي دقيقہ فرو گذاشت نہ كيا_

ابوسفيان نے عثمان كے دور خلافت كى ابتدا ميں ہى اپنے قبيلے كے لوگوں سے كہنا شروع كرديا تھا كہ اے بنى اميہ حكومت كو گيند كى مانند ايك ہاتھ سے دوسرے ہاتھ كى جانب اچھالتے رہو ميرى ہميشہ يہى آرزو رہى ہے كہ حكومت تمہارے ہى ہاتھوں ميں رہے اور تمہارے بچوں كو ورثے ميں ملے_(۳۱) ابوسفيان كى نصےحت كے مطابق بنى اميہ اس پر كاربند ہوگئے كہ امور حكومت ميں داخل ہوكر اپنے ان رسوخ كو وسيع كريں اور خلافت كو سلطنت ميں تبديل كرديں تاكہ اسے اموى خاندان كى ميراث بنانے ميں كامياب ہوسكيں _

مسلمانوں كا بيت المال

وہ كثير دولت جو تازہ مفتوحہ علاقوں سے بطور خراج اور مال غنيمت خلافت اسلاميہ كے مركز كى


جانب كشاں كشاں چلى آرہى تھى ، ايسا طرہ امتياز بن گئي تھى جس نے خليفہ سوم كى حيثيت كو ديگر خلفاء سے عليحدہ كرديا تھا_ چنانچہ خليفہ نے خود ہى يہ امتياز حاصل كرليا تھا كہ اگر چاہيں تو وہ اس مال و دولت ميں تصرف كرسكتے ہيں _

قرابت دار،ہم قوم افراد ،قريش كے امرا اور بعض اراكين مجلس ومشاورت اس مال و دولت سے بخشش و بخشايش كے ذريعے فيضياب ہورہے تھے_ اسلامى خلافت كى وسيع و عريض سرزمين پر صوبہ دار اور حكام بھى اسى راہ و روش پر عمل كر رہے تھے_( ۳۳) چنانچہ مسعودى لكھتا ہے كہ : جس وقت عثمان كا قتل ہوا اس وقت ان كے پاس ايك لاكھ پچاس ہزار سونے كے دينار تھے اور دس لاكھ درہم تھے_ ''وادى القري'' ، ''حنين '' اور ديگر مقامات پر جو باغات تھے ان كى قيمت كا تخمينہ ايك لاكھ سونے كے دينار لگايا گيا تھا _ اونٹوں كے گلے اور گھوڑوں كے غول ان سے عليحدہ تھے _(۳۴) حاكم بصرہ بيت المال سے جو سونے اور چاندى كے سكے نكال كر عثمان كے پاس لايا تھا انہوں نے انہيں كيل سے ناپ ناپ كر پيمانے سے خاندان بنى اميہ كى خواتين اور ان كے بچوں كے درميان تقسيم كئے تھے_(۳۵)

عبداللہ بن شرح كو پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے شہر بدر كرديا تھا _ فتح افريقہ كے بعد جب وہ واپس آيا اور وہاں سے مال غنيمت اپنے ساتھ لايا تو اس كى قيمت پچيس لاكھ بيس ہزار دينار تھى _ عثمان نے يہ سارا مال اسے ہى بخش ديا_(۳۶)

ايك روز اس نے حكم ديا كہ بيت المال سے دو لاكھ درہم سفيان اور ايك لاكھ درہم مروان كو عطا كرديئے جائيں _(۳۷) اس كے علاوہ ديگر ايسے بہت سے مواقع پر جن كے ذكر كى يہاں گنجائشے نہيں ، موصوف نے دل كھول كر داد و دہش سے كام ليا_

حضرت علىعليه‌السلام كے پندو نصايح

جس وقت لوگ اور بزرگ صحابى عثمان كى راہ و روش اور ان كے كارندوں كى زيادتيوں سے


تنگ آگئے تو وہ حضرت علىعليه‌السلام كے پاس پہنچے اور شكايات كے ضمن ميں يہ درخواست كى كہ وہ ان كے نمايندے كى حيثيت سے عثمان كے پاس جائيں اور كہيں كہ وہ لوگوں كو اپنے كارندوں كے شر سے نجات دلائيں _اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام عثمان كے پاس تشريف لے گئے اور آپ نے نصيحت فرمائي _ دوران گفتگو ان سے كہاكہ : عثمان خدا سے ڈرو اور اپنے اوپر رحم كرو خدا كے بہترين بندوں ميں وہ عادل پيشوا ہے جو خود ہدايت يافتہ ہو اور دوسروں كو بھى ہدايت كرے مروان سے تم اتنے نہ دبو كہ وہ تمہيں اس پختہ عمر اور پيرانہ سالى ميں جہاں چاہے ليئے پھرے_(۳۸) بعض صحابہ رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جب عثمان كى كاركردگى اور ان كے كارندوں كى زيادتيوں پر اعتراض كيا تو عثمان كا عتاب نازل ہوا _ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے جن بزرگ صحابہ سے انہوں نے ناروا سلوك كيا ان ميں سے تين قابل ذكرہيں _

حضرت ابوذرعليه‌السلام نيك صالح بزرگ تھے ان كا شمار پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے عظےم الشان صحابہ ميں ہوتا تھا _ عثمان نے انہيں شہر بدر كركے ''ربذہ''(۳۹) چلے جانے كا حكم ديا يہى نہيں بلكہ يہ حكم جارى كرديا كہ رخصت كرنے كى غرض سے ان كے ساتھ كوئي شخص نہ جائے_ چنانچہ جس وقت وہ روانہ ہوئے تو انہيں رخصت كرنے كے لئے حضرت علىعليه‌السلام آپ كے دو فرزند اور حضرت عقيل و حضرت عمار ياسر كے علاوہ اور كوئي شخص نہ تھا _(۴۰)

عمار ياسر اور عبداللہ بن مسعود بزرگ صحابہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر بھى وہى حالت گذر گئي جس سے حضرت ابوذرعليه‌السلام دوچار ہوئے تھے_ عبداللہ كے بارے ميں ان كے غلاموں كو حكم ديا گيا كہ وہ انہيں خوب زدو كوب كريں _چنانچہ انہوں نے موصوف كو اس برى طرح زمين پر پٹخا اور اتنا مارا كہ ان كى پسلياں ٹوٹ گئيں _ بيت المال سے جو انہيں وظيفہ دياجاتا تھا وہ بھى منقطع كرديا گيا اور لوگوں كو منع كرديا گيا كہ كوئي ان كى عيادت كو نہ جائے_(۴۱)

حضرت عمار نے جب يہ اعتراض كيا كہ بيت المال كو پانى كى طرح بہايا جارہا ہے اور حكومت كے عہدے نالايق افراد كو ديئے جارہے ہيں تو ان پر بھى خليفہ اور انكے خدمتگاروں كا عتاب نازل ہوا جن كے باعث وہ مرض فتق ميں مبتلا ہوگئے _(۴۲)


خليفہ سوم كا قتل

بنى اميہ كو كارگاہ خلافت اور ولايت كے صدر ومقامات پر بروئے كار اور بر سر اقتدار لانا ، ان كا موقع سے ناجائز فائدہ اٹھانا اور ان بزرگ ہستيوں كى جانب نكتہ چينى كيا جانا جن كا شمار بزرگ صحابہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميں ہوتاتھا ايسے عوامل تھے جن كے باعث لوگ عثمان كے خلاف طيش وغضب ميں آگئے اور انفرادى اعتراضات، عوامى غم وغصہ كا سبب بن گئے_

عوامى غم وغصہ كا مقابلہ كرنے كى غرض سے عثمان نے حاكم شام معاويہ اور بصرہ كے گورنر عبداللہ بن سعد كو خط لكھا اور مخالفين كى سركوبى كے لئے ان سے مدد چاہي_(۴۳)

مسلمين كو جب اس بات كى اطلاع ہوئي كہ خليفہ نے اپنى راہ و روش پر تجديد نظر كى بجائے ان كى سركوبى كے اقدامات شروع كرديئے ہيں تو انہوں نے فيصلہ كيا كہ اس قضيے كا فيصلہ ہى كرديں _ چنانچہ اس غرض سے كثير تعداد ميں لوگ مصر سے اور كچھ لوگ كوفہ سے مدينہ پہنچے ، مزيد مہاجرين و انصار بھى ان كے ساتھ شامل ہوگئے اور سب نے دل بناكر عثمان كے گھر كا محاصرہ كرليا_

اگرچہ عوام كے نمايندگان اور خليفہ كے درميان بہت زيادہ كشمكش نيز كئي مرتبہ طولانى گفتگو ہوئي اس موقع پر حضرت علىعليه‌السلام نے خليفہ كو پند ونصائح بھى كئے اور عثمان نے ان پر كاربند رہنے كا وعدہ كيا مگر انہوں نے نہ صرف انہيں عملى جامہ نہ پہنايا بلكہ جنگ و مقابلے پر اتر آئے اور اس بات پر اصرار كركے كہہ ''وہ پيراہن جو خداوند متعال نے مجھے پہنايا ہے ميں اسے ہرگز نہ اتاروں گا''(۴۴) خلافت سے برطرف ہونے كے احتمال كو مسترد كرديا_

عثمان كے گھر كا محاصرہ چاليس دن تك جارى رہا اس دوران گھر كے اندر سے تير چلتے رہے جس ميں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ايك ضعيف العمر صحابى بھى شہيد ہوگئے _ عوام نے مطالبہ كيا كہ قاتل كو ان كے حوالے كياجائے مگر انہوں نے يہ بات نہ مانى چنانچہ لوگوں نے ان كے گھر پر ہجوم بپا كرديا جس كے باعث عثمان قتل ہوگئے_(۴۵)


حضرت علىعليه‌السلام كى نظر ميں عثمان كا قتل(۴۶)

نہج البلاغہ ميں مجموعى طور پر سولہ مقامات پر عثمان كے بارے ميں بحث ہوئي ہے جن ميں سے زيادہ كا تعلق قتل عثمان سے ہے _ حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے خطبات ميں ايك طرف تو خود كو اس حادثہ قتل سے برى الذمہ قرار ديا ہے اور دوسرى طرف انہوں نے خود كو عثمان كے مددگار ميں شامل نہيں كيا ہے بلكہ جن لوگوں نے ان كے خلاف شورش كى تھى انہيں عثمان كے مددگاروں پر ترجيح دى ہے اس كے ساتھ ہى يہ سانحہ قتل آپ كى نظر ميں مجموعى طور پر اسلامى مصالح و منافع كے مواقع و سازگار نہ تھا_

بظاہر يہ اقوال اور موضوعات مختلف و متضاد نظر آتے ہيں مگر ان ميں اس طرح ہم آہنگى و مطابقت پيدا كى جاسكتى ہے كہ : حضرت علىعليه‌السلام چاہتے تھے كہ عثمان اپنے طريقہ كار سے دست بردار ہوجائيں اور اسلامى عدل كى صحيح راہ اختيار كرديں اورضرورت پيش آجائے تو انہيں گرفتار بھى كرليں تاكہ ان كى جگہ اہل خليفہ بر سر اقتدار آئے اور وہ ان كے دو ركے بدعنوانيوں كى تفتيش كرے اور اس سے متعلق جو حكم خداوندى ہواسے جارى كرے_

اس طرح حضرت علىعليه‌السلام نے نہ تو عثمان كے قتل سے اپنى رضا مندى كا اظہار كيا ہے اور نہ ہى ان كى شورش كرنے والوں كے ساتھ رويے كى تائيد كى ہے _ حضرت علىعليه‌السلام كى يہى كوشش تھى كہ خون نہ بہاياجائے اور شورش كرنے والوں كے جو جائز مطالبات ہيں انہيں تسليم كياجائے اور اس طرح عثمان يا تو اپنى راہ و روش پر تجديد نظر كريں يا خلافت سے برطرف ہوجائيں تاكہ يہ كام كسى ايسے شخص كے سپرد كياجاسكے جو اس كا اہل ومستحق ہو_

عثمان اور انقلابيوں كے درميان جو تنازع ہوا ا س كے بارے ميں حضرت علىعليه‌السلام كا فيصلہ يہ تھا كہ عثمان نے ہر چيز كو اپنے اور اپنے عزيز واقارب كے لئے مخصوص كرديا تھا اور جو شيوہ انہوں نے اختيار كيا تھا وہ پسنديدہ نہ تھا اور تم شورش كرنے والوں نے بھى عجلت و بے تابى سے كام ليا جو برى چيز ہے_(۴۷)


جس وقت حضرت علىعليه‌السلام فرد ثالث كى حيثيت سے انقلابيوں كے مطالبات عثمان كو بتا رہے تھے تو آپ نے اس تشويش كا اظہار فرمايا تھا كہ ہوسكتا ہے كہ انہيں مسند خلافت پر قتل كردياجائے اور اگر ايسا ہوا تو مسلمانوں پرعظےم مصيبتوں كے دروازے كھل جائيں گے _ چنانچہ اس ضمن ميں آپ نے عثمان سے كہا كہ ميں تمہيں قسم دلا كر كہتا ہوں كہ ايسا كوئي كام نہ كرنا جس كے باعث تمہارا شمار امت كے مقتول پيشواؤں ميں ہو كيونكہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اكثر فرياد كرتے تھے كہ اس امت كے ايك پيشوا كا قتل ہوگا اور اس كے بعد كشت وكشتار كے دروازے كھل جائيں گے''_(۴۸)

عثمان كے قتل كو بہانہ بناكر طلحہ وزبير نے لوگوں كو حضرت علىعليه‌السلام كے خلاف مشتعل كرنا چاہا تھا اسى لئے ايك موقعے پر آپعليه‌السلام نے انہيں عثمان كے قتل ميں ملوث قرار ديا تھا اور فرمايا تھا:

عثمان كے خون كا بدلہ لينے كى اس لئے جلدى تھى كہيں ايسا نہ ہو كہ انہيں اس خون كا ذمہ دار قرار دياجائے كيونكہ ان پر الزام آرہا تھا كہ انہيں سب سے زيادہ عثمان كے قتل كئے جانے پر اصرار تھا _(۴۹)

حضرت علىعليه‌السلام نے دو موقعوں پر معاويہ كو سخت قصور وارقرار ديا كيونكہ عثمان كے قتل كو اس نے سازش نيز حضرت عليعليه‌السلام كى اسلامى حكومت ميں رخنہ اندازى كى غرض سے بطور آلہ كار استعمال كرنا چاہاتھا _ اس لئے اس قتل پر وہ بہت زيادہ رنج و افسوس ظاہر كر رہا تھا اور اپنے مفاد كى خاطر وہ مظلوم خليفہ كے خون كا قصاص لينے كيلئے لوگوں ميں اشتعال پيدا كر رہا تھا_(۵۰)

پچيس سالہ حكومت خلفاء كے دوران علىعليه‌السلام كے كارنامے

عثمان كا قتل ''۳۵ھ'' كے اواخر ميں ہوا اور يہيں پر حضرت علىعليه‌السلام كى زندگى كے چوتھے مرحلے كى تكميل ہوئي وہ خلافت كو چونكہ اپنا حق سمجھتے تھے اسى لئے اس پچيس سالہ دور ميں انہيں خلفائے ثلاثہ كى حكومت سے اختلاف بھى رہا اس كے باوجود انہوں نے خلفائے وقت كى مدد، ہدايت اور تعليم احكام سے كوئي دريغ نہ كيا اور اسى طرح آپ نے عالم اسلام كى قابل قدر خدمات انجام


ديں _

اگرچہ گذشتہ اسباق ميں ہم حضرت علىعليه‌السلام كى بعض كارگزاريوں كے بارے ميں واقفيت حاصل كرچكے ہيں ، ليكن يہاں ہم محض بطور ياد دہانى ترتيب وار آپ كے اہم ترين كارناموں كا ذكر كريں گے:

۱_ قرآن كى تفسير ،ا س كى جمع آورى اور علم تفسير ميں بعض شاگردوں كى تربيت_

۲_ دانشوران علم بالخصوص يہود ونصارى كے سوالات كے جواب اور ان كے شبہات كا ازالہ_

۳_ ايسے واقعات كے احكامات بيان كرنا جو اس وقت تازہ اسلام ميں رونما ہوچكے تھے اور ان كے بارے ميں بالخصوص نص قرآن و سنت پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم موجود نہيں تھي_

۴_ خلفاء كے سياسى وعلمى مسائل حل كرنا اور ان كى جانب سے مشورہ كئے جانے پر ايسے نظريات پيش كرنا جو ان كے مشكلات كو دور كرسكيں چنانچہ ان كى بعض مشكلات كو گذشتہ صفحات ميں بطور نمونہ پيش كياجاچكاہے_

۵_ اپنے پاك ضمير اور روشن ذہن شاگردوں كى تربيت وپرورش كرنا جو سير وسلوك كيلئے آمادہ رہيں _

۶_ بعض لاچار و مجبور انسانوں كى زندگى كے مخارج پورا كرنے كى سعى وكوشش كرنا_

۷_ ان لوگوں كى دل جوئي و پاسبانى جن پر حكام وقت كى جانب سے ستم روا ركھے جاچكے تھے_


سوالات

۱_ ابوبكر نے داخلى مسائل حل كرنے كے بعد كيا اقدامات كيئے؟

۲_ حضرت علىعليه‌السلام نے دو مرتبہ ابوبكر كے سياسى وعلمى مسائل حل كئے ان كے بارے ميں بھى لكھيئے؟

۳_ عمر كس طرح بر سر اقتدار آئے كيا انہيں عہدہ خلافت پر منصوب كيا گيا يا منتخب كيا گيا _ ان كے بارے ميں شورى كى تشكيل ہوئي اس كے بارے ميں وضاحت كرتے ہوئے ابوبكر كے اقدام سے متعلق حضرت علىعليه‌السلام كے نظريے كى صراحت كيجئے؟

۴_ مسلمانوں نے ايران كو كب فتح كيا؟ مختصر طور پر وضاحت كيجئے ؟

۵_ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت كے بعد احاديث كو نقل وجمع كرنا كيوں ممنوع قرار ديا گيا اس كے اسباب كيا تھے؟

۶_ عمر نے جانشين مقرر كرنے كے سلسلے ميں كيا راہ اختيار كي؟

۷_ عثمان كى مالى حكمت عملى كس بنياد پر قائم تھي؟

۸_ عثمان كے عہد خلافت ميں اموى گروہ كو كيا مراعات حاصل تھي؟

۹_ عثمان كے قتل كے كيا اسباب تھے؟

۱۰_ حضرت علىعليه‌السلام نے پچيس سال تك سكوت وخاموشى كى زندگى بسر كى اس دوران آپ نے كون سے نماياں كارنامے انجام ديئے پانچ واقعات كا ذكر كيجئے_


حوالہ جات

۱_ يہ شہر كوفہ اورموجودہ نجف كے درميان واقع تھا_

۲_ بعقوبى (ج۲/۱۳۱) نے يہ رقم ستر ہزار اور ايك لاكھ كے درميان ترديد كے ساتھ نقل كى ہے_

۳_ نہراردن اور جھيل طبريہ كے نزديك صحرائي علاقہ جہاں لشكر اسلام اور سپاہ روم كا مقابلہ ہوا_

۴_ بلاذرى لكھتا ہے كہ لشكر اسلام نے پہلے دمشق فتح كيا اور اس كے بعد اسے يرموك پر كاميابى حاصل ہوئي(فتوح البلدان /۱۴۰)

۵_ اتقان ج ۲ / ۳۲۸

۶_ تذكرة الحفاظ ذہبى ج ۲ /۴۳۱

۷_ مسند حنبل ج ۱/ ۱۴_۲

۸_ تاريخ خلفاء ۹۴_۸۶

۹_ تاريخ يعقوبى ج ۲/ ۱۳۲

۱۰_ كافى ج ۲/ حديث ۱۶ / ارشاد مفيد /۱۰۷ حضرت علىعليه‌السلام نے اس مسئلے كو اس طرح حل كيا كہ وہ شخص اسے عام لوگوں كے درميان لےجائيں اور ان سے پوچھيں كيا تم نے اس شخص كے سامنے اس آيت كى تلاوت كى ہے جس كى رو سے شراب كو حرام قرار ديا گيا ہے اگر ان كا جواب مثبت ہو تو اس شخص پر حد جارى كى جائے_ وگرنہ اس سے كہاجائے كہ وہ اپنے اس فعل سے توبہ كرے خليفہ نے ايسا ہى كيا اور اس شخص نے نجات پائي_

۱۱_ كامل ابن اثير ج ۲/ ۴۲۵ ' تاريخ طبرى ج ۴/ ۴۲۹ ' شرح ابن ابى الحديد ج ۱/ ۱۶۳_

نہج البلاغہ خطبہ سوم''فواعجباً بينا هو يستقبلها فى حياته اذ عقدر لاخر بعد وفاية''

۱۲_ يہ عراق ميں كوفہ كے نزديك نہر ہے جو فرات سے نكلى ہے_

۱۳_ اعيان الشيعہ ج ۱/ ۳۴۹_ نہج البلاغہ خ ۱۴۶_ بحار مطبوعہ كمپانى ج ۹/۵۰۱

۱۴_وحملہ وفصالہ ثلاثون شہرا (احقاف آيہ ۱۵)

۱۵_ والوالدات يرضعن اولادہن حولين كاملين (بقرہ ۲۳۲)

۱۶_ مروج الذہب ج ۲/ ۳۲۱ _


۱۷_ مروج الذہب ج ۲/ ۳۳۱

۱۸ _ تاريخ يعقوبى ج۲ / ۱۵۵ ' كامل ابن اثير ج۳ / ۳۳ ۳۱ _

۱۹ _ تاريخ يعقوبى ج۲ / ۱۵۸ ' شرح ابن ابى الحديد ج' / ۱۸۶ ''ان ولى حمَّل بن ابى معيط وبنى امية على رقاب الناس

۲۰ _ شيعہ در اسلام / ۱۱ منقول از '' كنزالعمال ' مقدمہ مراہ العقول ج۱ / ۳۰ _

۲۱ _ طبقات ابن سعد ج۵ / ۱۸۸ ' مقدمہ مراة العقول ج۱ / ۲۹ _

۲۲ _ شيعہ در اسلام ۱۱ _

۲۳ _ سورہ حشر آيہ( ماآتا كم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا )

۲۴ _ مورخين نے سپاہيوں اور كاركنان حكومت كى تنخواہوں كے جو اعداد و شمار درج كيے ہيں ان كى رقوم ميں نماياں فرق ہے مثلا عباس بن عبدالمطلب كى سالانہ تنخواہ بارہ ہزار درہم تھى جب كہ ايك مصرى سپاہى كو سالانہ تنخواہ صرف تين سو درہم دى جاتى تھى معاويہ اور ان كے باپ كى سالانہ تنخواہ پانج ہزار درہم مقرر تھى جب كہ مكہ كے ايك عام باشندے كى تنخواہ جس نے مہاجرت نہيں كى تھى صرف چھ سو درہم ہى تھى ازدواج پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو سالانہ تنخواہ چار سو درہم ملتے تھے جبكہ ايك يمنى سپاہى كى تنخواہ ۴۰۰ درہم تھى (تاريخ يعقوبى ج۲ / ۱۵۳ ' كامل ابن اثير ج۲ / ۵۰۲ _

۲۵ _ (خلاصہ)شرح ابن ابى الحديد ج۱ / ۱۸۶ _

۲۶ _ طبرى كے قول كے مطابق (ج۴ / ۲۲۷)جس وقت مجلس مشاورت (شورى)كى تشكيل ہوئي طلحہ مدينہ ميں نہ تھے اور اس مجلس كى تشكيل باقى پانج فرادنے كى _

۲۷_ شرح نہج البلاغہ جلد ۳_

۲۸_ كامل ابن اثير جلد ۳ ص ۶۷ ، شرح نہج البلاغہ ج ۱ ص ۱۹۱ ، تاريخ طبرى ج ۴ ص ۲۲۶_

۲۹ _ نہج البلاغہ خ ۳ _

۳۰ _حتى اذا مضى لمبيله جعلها فيى جماعة زعم انيى احدهم فيالله وللشورى متى اعترض الريب فيى مع الاول منهم حتى صرت آقرن الى هده النظائر لكنيى اسففت اذاسفوا


وطرت اذ طاروا فصغى رجل منھم لضغنہ ومال الاخر لصہرہ مع ھن وھن

۳۱_ كامل ابن اثير ج۳ / ۶۶ ' ' انيى اكرہ الخلاف '' _

۳۲ _ شرح ابن ابى الحديد ج۱ / ۱۸۹ _

۳۳ _ تاريخ يعقوبى ج۲ / ۱۶۵ ' شرح ابن ابى الحديد ج ۳ / ۱۹ ' مروج الذھب ج۲ / ۳۳۵ ' كامل ابن اثير ج۳ / ۱۰۷ _

۳۴ _ مروج الذھب ج۲ / ۳۴۳ الاغانى ۶/ ۳۵۶ الفاظ كے معمولى اختلاف كى ساتھ يہ عبارت نقل كى ہے '' :

يا بنيى امية تلقفوها تلقف الكرة فوالذيى يحلف به ابو سفيان مازلت ارجوها لكم لتصيد ن الى صبيانكم وراثة

۳۵ _مروج الذہب ج ۲/ ۳۴۳_ ۳۴۱

۳۶_ مروج الذہب ج ۲/ ۳۳۲

۳۷_ شرح ابن ابى الحديد ج ۱/ ۱۹۹ ، الغدير ج ۸/۲۵۸

۳۸ _ ايضاَ

۳۹_ شرح ابن ابى الحديد ج ۱/۱۹۹

۴۰_ نہج البلاغہ خ ۱۶۴_ ''... فلا تكون لمروان سيقة بسوقك حيث شاء بعد جلال السن و تقضى العمر'' _

۴۱_ ربذہ كا انتخاب اس لئے كيا گيا تھا كہ يہ جگہ بہت خشك اور سخت مقامات پر واقع تھى اور حضرت ابوذر نے اپنے كفر كا بشيرر زمانہ اسى جگہ گذارا تھا اس لئے انہيں اس سے سخت نفرت تھي_

۴۲_ مروج الذہب ج ۲/ ۳۳۹_ ۳۴۲ كامل ابن اثير ج ۳/ ۱۱۳ ، تاريخ طبرى ج ۴/ ۲۸۳

۴۳ _ الغدير ج ۹/ ۳، ۶، ۱۱۰ ، شرح ابن ابى الحديد ج ۳/ ۴۰

۴۴_ الغدير ج ۹/۱۱۳ _ ۱۱۰ شرح ابن ابى الحديد ج ۳/ ۴۷ ، الامامة والسياسة ج ۱ / ۳۶ _ ۳۵

۴۵_ ان خطوط كے متوب كتاب الغدير كى جلد ۹ ميں مشاہدہ كريں _

۴۶_ شرح ابن ابى الحديد ج ۲/ ۱۵۲ _۱۵۱ _ لا انزع قميصاً البسنية اللہ _


۴۷_ عثمان كے سانحہ قتل كے بارے ميں يہ كتابيں ملاحظہ ہوں :''الامامة والسياسة ج ۱_ الغدير ج ۹ ، شرح ابن ابى الحديد ج ۲ اور كامل ابن اثير ج ۳

۴۸_ يہاں اس سانحہ كا محض جائزہ ليا گيا ہے_

۴۹_استا ثر فاساء الاثرة وجزعتم فسا تم الجزع (نہج البلاغہ خ ۳۰)

۵۰_ نہج البلاغہ خ ۱۶۴''انى انشدك الله الا تكون امام هذه الامة المقتول فانه كان يقال يقتل فى هذه الامة امام يفتح عليها القتل والقتال الى يوم القيامة ''

۵۱_نہج البلاغہ خ ۱۷۴''والله ما استعجل متجردا الطلب بدم عثمان الاخوفاً من ان يطالب بدمه لانه مظنه ولم يكن فى القوم احرص عليه منه'' _

۵۲ _ اس واقعے كى تفصيلات آيندہ صفحات ميں آئے گى _

۵۳ _ اس سلسلہ ميں نہج البلاغہ كا تيسرا حصہ ملاحظہ ہو (سيرى در نہج البلاغہ نامى كتاب تاليف شہيد استاد مطہرى (رح)كے صفحات ۱۷۵ ' ۱۶۵ سے بطور خلاصہ ماخوذ)_

۵۴ _ يہاں يہ بات قابل ذكر ہے كہ حضرت علىعليه‌السلام كى ولادت سے خلافت ظاہرى تك كى زندگى كے حالات محقق گرانقدر استاد جعفر سبحانى كى كتاب '' پوھشى عميق از زندگى عليعليه‌السلام (و ديگر معتبر كتب سے اخذ كئے گئے ہيں )_


پانچواں سبق

خلافت ظاہرى سے شہادت تك

حضرت عليعليه‌السلام كى بيعت

بيعت كے بعد لوگوں ميں سرور و شادمانى

قريش كى وحشت و پريشانى

گوشہ نشين لوگ

حضرت عليعليه‌السلام كى بيعت كے امتيازات

سوالات كے جوابات

حضرت عليعليه‌السلام نے كن مقاصد كے تحت حكومت قبول فرمائي

ابتدائي اقدامات

نيك اور صالح كاركنوں كا تقرر

معاويہ كى برطرفي

مساوى حقوق كى ضمانت

لوٹے ہوئے مال كى واپسي

بدعنوانيوں ميں ملوث دولتمندوں كى رخنہ اندازي

سوالات

حوالہ جات


حضرت عليعليه‌السلام كى بيعت

عثمان كے قتل كے بعد اپنے آيندہ كے ہادى و راہنما كا انتخاب كرنے كى غرض سے مہاجرين و انصار حضرت علىعليه‌السلام كے گرد جمع ہو گئے جو لوگ اس مقصد كے تحت حضرت علىعليه‌السلام كے پاس آئے ان مےں عمار ياسر ' ابوالھيشم ' ابو ايوب انصارى ، طلحہ اور زبير جيسے جليل القدر صحابہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پيش پيش تھے _

حضرت علىعليه‌السلام كے دست مبارك پر بيعت كرنے كى خاطر آپ كے گھر كى طرف ايك جم غفير روانہ ہوا ان ميں سب كا يہى اصرار تھا كہ امور خلافت كى لگام آپ سنبھاليں انہوں نے ايك زبان ہو كر كہا : اے ابوالحسن عثمان قتل كر ديئے گئے اور ہميں اپنے ہادى و راہنما كى ضرورت ہے اور ہم آج آپ سے زيادہ كسى كو شايستہ و قابل نہيں سمجھتے جن لوگوں نے دين اسلام قبول كيا آپ ان مےں سب پر سبقت لے گئے اور دوسروں كے مقابل پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے آپ ہى سب سے زيادہ نزديك تھے _

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا : مجھے تمہارى حكومت كى ضرورت نہيں تم جسے بھى اپنا رہنما اختيار كرو گے ميں بھى اس سے اتفاق كروں گا _(۱)

سب نے ايك زبان ہو كر كہا : آپ كے علاوہ ہم كسى كو بھى نہےں چاہتے(۲) لوگوں كا اصرار جارى رہا مگر حضرت علىعليه‌السلام كى جانب سے انھيں جواب نفى كى صورت ميں ہى ملتا رہا بالآخر وہ اپنے مقصد ميں كامياب ہوئے بغير حضرت كے گھر سے باہر نكل آئے _

اگرچہ لوگوں كى آمد و رفت كا سلسلہ جارى رہا مگر حضرت عليعليه‌السلام كسى طرح بھى خلافت قبول


كرنے كے لئے راضى ہى نہےں ہوتے تھے اور ہر بار يہى جواب ديتے كہ اس امر كے لئے تم لوگ مجھے مجبور مت كرو امير بننے سے ميرے لئے بہتر يہى ہے كہ وزير (۳) رہوں ليكن انہوں نے يہى كہا كہ ہم اپنے اس فيصلے سے ہرگز رو گرداں نہ ہوں گے اور آپ كے دست مبارك پر بيعت كريں گے(۴) اور ہر طرف سے بيعت كى خاطر آپ كے گرد ہجوم ہونے لگا _

آپ كے گرد لوگ كس طرح جمع ہوئے اس كى كيفيت خود ہى بيان فرماتے ہيں :

اچانك ميرے گرد لوگوں كا ہجوم اس طرح ہو گيا كہ لگتا تھا گويا يہ انسان نہ ہوں بلكہ چرغ بجو كى گردن پر گھنے بال ہوں اس ازدحام ميں ميرے بچے حسن و حسين بھى روندے گئے اور لوگوں كے اس ہجوم كے باعث ميرا لباس بھى دو جانب چاك ہو گيا لوگوں كى يہ حالت تھى گويا اوہ انسان نہےں بلكہ ايسے مويشى ہيں جن كے سر پر گلے بان نہ ہو ان مےں سے ہر ايك ميرى طرف ہى چلا آرہا تھا _(۵)

ليكن اس كے بعد بھى حضرت عليعليه‌السلام نے بلا قيد و شرط حكومت قبول كرنے سے انكار كر ديا اور فرمايا كہ : ميں تمہيں كل صبح تك كى مہلت ديتا ہوں اپنے اپنے گھر جاؤ اور اپنے فيصلے پر غور كر لو اگر اس كے بعد بھى تم لوگ اپنے فيصلے پر قائم رہے تو تمہيں ميرى حكومت كے سامنے سر تسليم خم كرنا ہو گا اور تم مجھ سے يہ نہ چاھو گے كہ ميں سابق خلفاء كى روش كا پيرو كار رہوں اگر يہ شرط منظور ہے تو كل صبح مسجد ميں جمع ہو جانا ورنہ تمہيں اختيار ہے جسے چاہو اپنا خليفہ مقرر كر لو _

اگلے روز لوگ مسجد ميں جمع ہوئے امير المومنين حضرت عليعليه‌السلام منبر پر تشريف لے گئے اور فرمايا : لوگو كل جب ہم آپس ميں جدا ہوئے تو اس وقت ميرى يہ كيفيت تھى كہ مجھے تمہارى حكومت سے بيزارى تھى جب كہ تمہارا يہ اصرار تھا كہ ميرے علاوہ كوئي دوسرا شخص تمہارے امور كى زمام نہ سنبھالے يہ جان لو اگرچہ تمہارے مال (بيت المال مسلمين)ميرے دست اختيار ميں ہے مگر مجھے يہ حق نہيں كہ تمہارے بغير اس ميں سے ايك درہم بھى نكالوں ميں اسى صورت ميں تم پر حكومت كر سكتا ہوں ورنہ تم ميں سے كسى كى ذمہ دارى قبول كرنے كو ميں تيار نہيں(۶) جس وقت حضرت


على عليه‌السلام كى تقرير ختم ہوئي تو لوگوں نے بلند آواز كہا ہم نے جو عہد كيا تھا آج بھى اسى پر قائم ہيں اور خدا كو گواہ كر كے كہتے ہيں كہ ہم آپ كے دست مبارك پر بيعت كرنے كيلئے تيار ہيں اس كے بعد موجوں كى مانند لوگوں ميں جوش و خروش پيدا ہو گيا اور بيعت كے لئے لوگوں كا اد حام ہو گيا _

سب سے پہلے طلحہ اور زبير نے آپ كے دست مبارك پر بيعت كى اس كے بعد ان لوگوں نے بيعت كى جو مصر ' بصرہ اور كوفہ سے آئے ہوئے تھے اس كے بعد عام لوگ اس سعادت سے سرفراز ہوئے _(۷)

بيعت كے بعد لوگوں ميں سرور و شادماني

حضرت علىعليه‌السلام كے دست مبارك پر بيعت كرنے كے بعد لوگ انتہائي خوش و خرم تھے كيونكہ انہوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہاتھ پر بيعت كى تھى _

بيعت كے بعد لوگوں ميں جو باطنى خوشى و مسرت تھى اسے حضرت علىعليه‌السلام نے اس طرح بيان فرمايا ہے : ميرے ہاتھ پر بيعت كرنے كے بعد لوگوں كى مسرت و شادمانى كا يہ حال تھا كہ بچے تك وجد و سرور ميں آگئے تھے _ ضعيف العمر لرزتے ہوئے پيروں سے چل كر ' بيمار دوسروں كے كاندھوں پر سوار ہو كر ميرے پاس آئے اور جو لوگ معذور تھے ان كى دلوں ميں مجھ تك پہنچنے كى حسرت ہى رہ گئي _(۸)

عام لوگوں كى خوشى و مسرت كے علاوہ بعض بزرگ صحابہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ايك دوسرے كے بعد عوام ميں تشريف لائے اور انہوں نے بھى تقارير كے ذريعے اپنى دلى مسرت كا اظہار كيا اس ضمن ميں انہوں نے عوام كو دعوت دى كہ وہ عہد و پيمان پر مضبوطى سے قائم رہيں اور نئي حكومت كو تقويت بخشيں جن لوگوں نے اس موقعے پر تقارير كيں ان مےں سے بعض كے نام درج ذيل ہيں _

۱ _ انصار كے نمائندہ ثابت بن قيس نے كہا : يا اميرالمو منين خدا كى قسم اگرچہ دوسرے لوگوں كو خلافت كے لحاظ سے آپ پر سبقت حاصل ہے ليكن دين ميں وہ آپ پر برترى حاصل نہ كر


سكے انھيں آپ كى ضرورت تھى ليكن آپ ان سب سے بے نياز رہے '' ۲ _ (۹) خزيمہ بن ثابت نے اس موقعے پر كہا : يا اميرالمومنين ہمارى نظر ميں آپ كے علاوہ كوئي ايسا نہيں جس كے ہاتھوں ميں اپنے معاملات كى لگام دے سكيں

ايمان ميں آپ كو سب پر برترى حاصل ہے خدا شناسى مےں آپ عارف كامل ہيں اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے مقامات و مراتب كے سب سے زيادہ حق دار آپ ہى ہيں دوسروں ميں جو خصوصيات پائي جاتى ہيں وہ آپ ميں بھى موجود ہيں ليكن جو فضائل و كمالات آپ كى ذات ميں ہيں ان سے وہ محروم ہيں(۱۰)

۳ _ صعصعہ بن صوحان نے كہا : يا اميرالمو منين مقام خلافت نے آپ كى ذات كے ذريعے بنت و رونق پائي ،خلافت كو آپ كى ضرورت ہے اور آپكو اس كى ضرورت قطعى نہيں _(۱۱)

قريش كى وحشت و پريشاني

قريش اور حق سے روگرداں وہ تمام لوگ جنہوں نے عثمان كے عہد ميں حكومت مےں خاص مراعات حاصل كر لى تھيں حضرت علىعليه‌السلام كے دورخلافت ميں بہت مضطرب و پريشان ہوئے چنانچہ ان كے لئے اس كے سوا كوئي چارہ كار نہ تھا كہ سرتسليم خم كرديں كيونكہ اب رائے عامہ اميرالمومنين حضرت عليعليه‌السلام كے ساتھ تھى اور وہ لوگ كسى ايسى راہ پر گامزن نہيں رہ سكتے تھے جو اسلامى معاشرے كے منافى ہو اسى لئے انہوں نے حضرت عليعليه‌السلام كے دست مبارك پر بيعت كر لى ليكن ان كے دلوں ميں كدورت ابھى تك باقى تھى جس كى وجہ يہ تھى كہ حضرت عليعليه‌السلام كى تلوار نے بہت سے مشركين قريش اور كفار كے سرتن سے جدا كئے تھے _

اس كے علاوہ وہ يہ بھى جانتے تھے كہ حضرت علىعليه‌السلام كى حكمت علمى اس بات كو ہرگز برداشت نہيں كر سكتى كہ بيت المال كو غارت كيا جائے _

قريش كے دلوں ميں حضرت علىعليه‌السلام كے خلاف جو كينہ و دشمنى كے جذبات تھے ان كے بارے


ميں ابن ابى الحديد لكھتا ہے : اگرچہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت سے اس وقت تك كافى عرصہ گذر چكا تھا مگر قريش كے دلوں ميں انعليه‌السلام كے خلاف اس قدر بغض و كينہ تھا كہ كسى طرح كم نہيں ہوتا تھا يہى نہيں بلكہ اس كينہ و عداوت كو انہوں نے اپنے بچوں تك كے ذھنوں پر نقش كر ديا _(۱۲)

گوشہ نشين لوگ

بعض لوگوں نے حضرت عليعليه‌السلام كے دست مبارك پر بيعت كرنے سے كنارہ كشى بھى كى _مسعودى نے انھيں قعاد (زمين گير)(۱۳) اور ابوالفداء نے انھيں معتزلہ (گوشہ نشين(۱۴) )كے عنوان سے ياد كيا ہے جب حضرت علىعليه‌السلام سے ان كے بارے مےں سوال كيا گيا تو آپ نے فرمايا : يہ وہ لوگ ہيں جنھوں نے نہ حق كا ساتھ ديا اور نہ ہى باطل كى مدد كيلئے كھڑے ہوئے(۱۵) ان لوگوں ميں سعد بن و قاص ' عبداللہ بن عمر ' حسان بن ثابت ' كعب بن مالك ' قدامہ بن فطعون ' مغيرہ بن شعبہ اور ديگر چند افراد شامل تھے _(۱۶)

يہ لوگ اپنے اس فعل كى توجيہ كے لئے بيجا عذر بہانے تراشتے تھے مثلا جب سعد قاص سے بيعت كے لئے كہا گيا تو انہوں نے جواب ديا كہ جب تك سب لوگ بيعت نہ كر ليں گے ميں بيعت نہيں كروں گا _(۱۷)

يہ لوگ تو اچھى طرح جانتے تھے كہ اميرالمومنين علىعليه‌السلام حق پر ہيں اور حق بھى ان كے ساتھ ہے آپ كوہر اعتبار سے دوسروں پر فضيلت و برترى حاصل تھى ليكن ان كى نخوت اور جسمانى ہوا و ہوس نے انھيں حق سے دور كر ديا تھا چنانچہ اميرالمو منين حضرت عليعليه‌السلام نے ان كو ان كے حال پر چھوڑ ديا اور بيعت كيلئے مجبور نہ كيا البتہ ان ميں سے چند لوگ بالخصوص سعد بن و قاص اور عبداللہ بن عمر بعد ميں بہت پشيمان ہوئے _


حضرت عليعليه‌السلام كى بيعت كے امتيازات

حضرت علىعليه‌السلام كے دست مبارك پر بيعت روز جمعہ بتاريخ پچيس ذى الحجہ ۳۵ ھ انجام پذير ہوئي اس كے بعض امتيازات ہم يہاں بيان كر رہے ہيں : _

۱ _ حضرت علىعليه‌السلام نے مستقبل كى حكومت كے استحكام كى خاطر لوگوں كو يہ موقعہ ديا كہ وہ آزاد انہ طور پر اپنا رہبر انتخاب كريں اور انہيں اتنى مہلت دى كہ وہ اس كے بارے ميں مكمل طور پر غور و فكر كرليں تاكہ پورے شعور كے ساتھ آيندہ كيلئے اپنے رہبر كا انتخاب كريں _

۲_ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كى بيعت عمومى تھى اور ايك عوامى تجويز كے طور پر پيش كى گئي تھى اس كے برعكس گذشتہ خلفاء كے ہاتھ پر بيعت كا معاملہ عوامى تحريك پر مبنى نہ تھا بلكہ بقول عمر : ابوبكر كى بيعت كا اتفاقى واقعہ تھا جو ''اچانك'' كسى پيش بندى كے بغير حادثى طور پر رونما ہوا اور صرف دو افراد (عمر اور ابوعبيدہ) كى تجويز پر اس مسئلے كو پيش كيا گيا _

عمر كو بھى عوام كى تجويز پر خليفہ مقرر نہيں كيا گيا تھا بلكہ انہيں ابوبكر نے اس منصب پر مامور كيا تھا_ عثمان كو بھى عوام كى تجويز پر خليفہ منتخب نہيں كيا گيا تھا بلكہ چھ افراد پر مشتمل شورى ميں سے صرف دو افراد كى موافقت سے جسے خليفہ ثانى نے منتخب كيا يہ كام انجام پذير ہوا_(۱۹)

۳_ حضرت علىعليه‌السلام كى بيعت كو لوگوں نے خود قبول كيا اور يہ كام اس وقت عمل پذير ہوا جب لوگوں نے پہلے سے اس مسئلے پر غور كرليا تھا جبكہ سابقہ خلفاء نے عوام كو غور و فكر كرنے كا موقع ہى نہيں ديا بلكہ ان كى سعى وكوشش يہ تھى كہ جس قدر جلد ممكن ہوسكے يہ كام ختم ہوتاكہ تاكہ خير كے باعث اس ميں موانع پيدا نہ ہوں _

۴_ بيعت كے لئے جس جگہ كو مركز بنايا وہ مسجد تھى تاكہ تمام مسلمين اس ميں شركت كرسكيں اور اگر كسى كو كوئي اعتراض ہو تو اسے پيش كرے در حاليكہ گذشتہ خلفاء كى بيعت ميں اس خصوصيت كو مد نظر نہيں ركھا گيا_

۵_ حضرت علىعليه‌السلام كے دست مبارك پر بيعت كرنے كے لئے كسى كو مجبور نہيں كيا گيا چنانچہ جس


وقت عبداللہ بن عمر كى بيعت كا مسئلہ سامنے آيا اور انہوں نے بيعت كرنے سے انكار كرديا تو مالك اشتر نے اميرالمومنين عليه‌السلام حضرت علىعليه‌السلام سے كہا تھا كہ اگر آپ اجازت ديں تو ان كى گردن تن سے جدا كردى جائے ، تو حضرت علىعليه‌السلام نے ان كى اس تجويز كو صرف قبول ہى نہيں كيا بلكہ اپنى طرف سے يہ ضمانت بھى دى كہ عبداللہ بن عمر كو كوئي شخص تكليف و آزار نہ پہنچائے_(۲۰)

سوالات كے جوابات

جيسا كہ پہلے ذكر كيا جاچكا ہے اور نہج البلاغہ ميں مندرج اميرالمؤمنين حضرت علىعليه‌السلام كے خطبات سے بھى اس حقيقت كى وضاحت ہوتى ہے اگرچہ لوگ آپ كے دست مبارك پر بيعت كرنے كے لئے مصر تھے مگر آپ نے اس كام كے آغاز سے ہى خود كو كسى بھى پيشقدمى سے باز ركھا _(۲۱)

ممكن ہے يہ سوال پيش آئے كہ : حضرت علىعليه‌السلام اس كے باوجود كہ خلافت كو اپنا حق سمجھتے تھے اور بر سرا قتدار آنے كے لئے شايستہ ترين انسان بھى تھے ، نيز عوام آپ كے دست مبارك پر بيعت كرنے كے لئے ہر طرف سے جمع ہوگئے تھے پھر عوام كے اصرار كے باوجود اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے شروع ہى سے منصب خلافت كو قبول كرنے سے كيوں منع فرمايا ؟

حضرت علىعليه‌السلام كے لئے منصب خلافت قبول نہ كرنے كى وجہ يہ نہ تھى كہ وہ حكومت كى ذمہ داريوں نيز ان سے پيدا ہونے والى مشكلات كا مقابلہ كرنے كے لئے خود كو عاجز وناتوان سمجھتے تھے بلكہ اس كا اصل سبب يہ تھا كہ آپعليه‌السلام اسلامى معاشرہ كى اجتماعى و معنوى كيفيت پر گہرى نظر ركھتے تھے اور اس كى بہت سى مشكلات آپ كے پيش نظر تھيں اس لئے آپ چاہتے تھے كہ لوگوں كا امتحان ليں تاكہ يہ اعلان ہوجائے كہ عوام آپ كى انقلابى روش كو برداشت كرنے كے لئے كس حد تك تيار ہيں اور ان كا جب مشكلات سے سامنا ہو تو وہ يہ نہ كہيں كہ اميرالمومنين علىعليه‌السلام نے انہيں صحيح حالات سے بے خبر ركھا اور ان كے انقلابى جذبات نيز جوش و خروش سے فائدہ اٹھاليا_

چنانچہ يہى وجہ تھى كہ آپ نے عوام سے كہا تھا كہ : آپ لوگ مجھے معاف ركھيں يہ ذمہ دارى


كسى دوسرے شخص كے سپرد كرديں كيونكہ جو مقصد ميرے پيش نظر ہے اس ميں اتنى زيادہ مشكلات ہيں كہ لوگوں ميں انہيں برداشت كرنے كى طاقت اور انسانى عقول ميں انہيں قبول كرنے كى تاب ہى نہيں _ عالم اسلام كے افق پر ظلم وبدعت كے سياہ بادل چھائے ہوئے ہيں اور اسلامى راہ و روش ميں تبديلى واقع ہوگئي ہے_ (۲۲)

حضرت علىعليه‌السلام نے كن مقاصد كے تحت حكومت قبول فرمائي_

اس ميں كوئي شك نہيں كہ وہ شخص جسے حضرت علىعليه‌السلام عليه‌السلام كے كردار و اخلاق اور طرز زندگى كے بارے ميں ادنى سى واقفيت ہے اتنا تو جانتا ہى ہے كہ آپ جيسے بزرگوار شخص كى قطعى يہ آرزو تمنا نہ تھى كہ لوگوں پر حكومت كريں اور منصب خلافت قبول كرنے ميں ہرگز يہ مقصد كار فرما نہ تھا كہ مال ودولت ، جاہ و ثروت اور حكومت و اقتدار حاصل ہو_

آپعليه‌السلام نے بھى گفتگو كے دوران كئي مرتبہ يہ بات لوگوں كے گوش گزار كردى تھى _ چنانچہ حضرت علىعليه‌السلام اور ابن عباس كے درميان جو گفتگو ہوئي اس كا اقتباس يہاں پيش كياجارہا ہے:

ابن عباس كہتے ہيں بصرہ كے راستے ميں واقع ''ذى قار'' نامى منزل پر حضرت علىعليه‌السلام سے ميرى ملاقات ہوئي آپ اپنا نعلين سى رہے تھے انہيں سيتے ہوئے آپ نے فرمايا كہ ان جوتيوں كى كيا قيمت ہوگي؟ ميں نے عرض كيا كہ : اب ان كى كيا قيمت رہ گئي اس پر آپ نے فرمايا :

والله لهى احب الى من امر بكم الا ان اقيم حقا او ادفع باطلا (۲۳)

خدا كى قسم مجھے يہ نعلين تم پر حكومت كرنے سے كہيں زيادہ عزيز ہيں مگر يہ كہ حق كو قائم كروں اور باطل كا قلع قمع كردوں _

اور ايك جملے ميں تو آپ نے زمامدارى كو گندے پانى اور ايسے لقمے سے تشبيہ دى ہے جو گلے ميں پھنسا ہو _ چنانچہ فرماتے ہيں : ''هذا ماء آجن ولقمه يَفضَّ بها اكلها'' (۲۴)

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے خطبہ شقشقيہ كے آخر ميں اس مقصد كى وضاحت فرمائي ہے كہ


آپ نے زمامدارى كو كيوں قبول فرمايا: قسم ہے اس خدا ئے پاك كى جس نے دانے كو چاك كيا اور انسان كى تخليق كى اگر لوگ كثير تعداد ميں ميرے گرد جمع نہ ہوگئے ہوتے' ہم كاروں كى مدد سے حجت قائم نہ ہوگئي ہوتى اور اگر خداوند تعالى نے علماء سے يہ عہد و پيمان نہ ليا ہوتا كہ ظالموں كى شكم پرى اور مظلومين كى فاقہ كشى پر وہ خاموش نہ رہيں تو ميں خلافت كے شتر كى مہار كو اس كى كمر پر پھينك ديتا اور پہلے ہى جام ميں اسے آخرى جام كى طرح سيراب كرديتا_(۲۵)

حضرت علىعليه‌السلام كے ان اقوال سے واضح ہے كہ آپ نے دو اہم بنيادوں پر زمام حكومت سنبھالى _ پہلى تو يہى كہ لوگ خود چل كر آپعليه‌السلام كے پاس آئے اور يہ اعلان كيا كہ حكومت كى حمايت كريں گے اور دوسرى بنياد يہ تھى كہ آپعليه‌السلام عدل وانصاف بر قرار كركے ظلم وستم كا سد باب كرنا چاہتے تھے_

ابتدائي اقدامات

جب آپ كو بيعت سے فرصت ملى تو آپ نے اعلان فرمايا كہ جن مقاصد كے تحت آپ نے حكومت كو قبول فرمايا ہے انہيں حقيقت كى شكل ديں گے_ حضرت علىعليه‌السلام نے جو سياسى مسلك اور طريق كار اختيار كيا وہ كوئي ايسا اتفاقى امر نہ تھا جس كى تخليق اسى روز كى گئي ہو بلكہ يہ ايسے دستور العمل كا مجموعہ تھا جو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى راہ و روش سے حاصل كيا گيا تھا اور اس كا سرچشمہ وحى و قرآن تھے_

وہ كام جنہيں حضرت علىعليه‌السلام كى نظر ميں اولويت حاصل تھى اور جنہيں فورا ہى انجام دينا چاہتے تھے وہ ان تين حصوں پر مشتمل تھے_

۱)نيك اور صالح كاركنوں كا تقرر

۲)برترى وامتيازى سلوك كى برطرفى اور سب كے لئے مساوى حقوق كى ضمانت

۳)تاخت وتاراج كئے ہوئے مال كو واپس كرنا او ربيت المال كى عادلانہ تقسيم


نيك اور صالح كاركنوں كا تقرر

حضرت علىعليه‌السلام نے اپنى حكومت كے ابتدائي دنوں ميں عثمان كے حكام اور كارندوں كو برطرف كرديا كيونكہ ظلم و ستم اور اسلامى قوانين نيز مردم سالارى كى سياست سے ان كى نا آشنائي ، عثمان كے خلاف قيام كرنے كے اہم اسباب ميں ايك سبب تھا_

مغيرہ بن شعبہ نے حضرت علىعليه‌السلام سے گفتگو كرتے ہوئے يہ تجويز پيش كى پہلے حكام كو ان كے مناصب پر بحال و برقرار ركھاجائے ليكن حضرت علىعليه‌السلام نے انكى اس تجويز كو منظور نہ كيا اور فرمايا كہ خدا كى قسم ميں اپنے دينى فرائض كى انجام دہى ميں سستى نہ كروں گا_(۲۶)

جن محركات كے تحت حضرت علىعليه‌السلام نے يہ اقدامات كئے ان كے بارے ميں آپ دوسرى جگہ فرماتے ہيں : ميں اس بات سے غمگين واندوہناك ہوں كہ اس امت كى حكومت كے سرپرست بے خبر اور ناكارہ لوگ ہوں وہ بيت المال كو تباہ كريں ، بندگان خدا كو آزادى سے محروم كركے انہيں اپنا غلام بناليں ، نيك و صالح لوگوں سے جنگ كريں اور فاسق و فاجر لوگوں كو اپنا يار ومددگار بنائيں _

اس جماعت ميں كچھ لوگ ايسے ہيں جو شراب پيتے ہيں اور ان پر حد جارى كى جاچكى ہے ، انہيں ميں ايسے لوگ بھى ہيں جنہوں نے اسلام اس وقت تك قبول نہيں كيا جب تك ان كے لئے كوئي عطيہ مقرر نہيں كيا گيا _(۲۷) حضرت علىعليه‌السلام نے عثمان كے مقرر كردہ حكام كو برطرف كركے ان كى جگہ نيك وصالح اور دور انديش لوگوں كو مختلف صوبوں كى حكومتوں پر مقرر كيا اس زمانے ميں بصرہ ، مصر اور شام كاشمار اسلامى قلمرو كے عظيم صوبوں ميں ہوتا تھا _ چنانچہ آپ نے عثمان بن حنيف كو بصرہ كا ،سہل بن حنيف كو شام كا اور قيس بن سعد كو مصر كا صوبہ دار مقرر فرماكر ان مناصب سے سرفراز فرمايا_ والى كوفہ ابوموسى اشعرى كو مالك اشتر كے اصرار پر انكے عہدے پر بحال ركھا_(۲۸)


معاويہ كى برطرفي

جيسا كہ اوپر بيان كياجاچكا ہے كہ عثمان كے حكام و عمّال كو برطرف كرنے كا مقصد يہ تھا كہ حضرت علىعليه‌السلام چاہتے تھے كہ تباہى و فساد كارى كے خلاف محاذ قائم كركے اجتماعى عدل و انصاف كى بنيادوں كو محكم واستوار كريں اور آپعليه‌السلام چونكہ معاويہ كے نظر و فكر وكاركردگى سے بخوبى واقف تھے اسى لئے انہوں نے اس بات كى مخالفت كى كہ وہ حكومت كے كسى منصب پر برقرار رہے اگر چہ انعليه‌السلام كے چچا زاد بھائي ابن عباس نے معاويہ كى سفارش بھى كى كہ انہيں مختصر عرصے كے لئے ہى سہى اس كے عہدے پر بحال ركھا جائے ليكن حضرت علىعليه‌السلام نے اس سفارش كو بھى قبول نہيں فرمايا_

جب مغيرہ كى يہ كار گرنہ ہوئي كہ سابقہ حكام كو ان كے عہدوں پر بحال ركھا جائے تو انہوں نے حضرت علىعليه‌السلام سے كہا كہ معاويہ كو شام كى صوبہ دارى سے معزول نہ كيجئے كيونكہ وہ گستاخ ہے اور شام كے لوگوں اسى كے مطيع و فرمانبردار ہيں عمر نے اسے چونكہ شام كا گورنر مقرر كيا تھا لہذا آپ كے پاس بہانہ ہے _ اس پر حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا : خدا كى قسم ميں اسے دو روز بھى كسى عہدے پر بحال نہ ركھوں گا(۲۹) جس وقت عباس كو مغيرہ كى تجويز كے بارے مےں اطلاع ہوئي تو انہوں نے بھى اميرلمومنين علىعليه‌السلام كى خدمت ميں يہى عرض كى كہ مجھے اس بات سے اتفاق نہيں كہ فى الحال آپ معاويہ كو اس كے منصب سے معزول كريں جس وقت وہ آپ كے دست مبارك پر بيعت كريں گے اور آپ كاكام استحكام پذير ہو جائے اس كے بعد آپ اسے برطرف كيجئے اس پر حضرت عليعليه‌السلام نے فرمايا : خدا كى قسم ' تلوار كے علاوہ ميں اسے كوئي اور چيز نہ دوں گا _(۳۰)

حضرت علىعليه‌السلام نے جو يہ روش اختيار كى اس كے بارے ميں ان چند نكات كا بيان كردينا ضرورى ہے _

اميرالمومنين حضرت عليعليه‌السلام بخوبى واقف تھے كہ معاويہ كسى بھى صورت ميں ان كے دست مبارك پر ہرگز بيعت نہ كرے گا اور آپ كا حكم نہ مانے گا كيونكہ جذبہ اقتدار پسندى و زراندوزى كے علاوہ قبائلى تعصب اور وہ ديرينہ دشمنى جو اس كے دل ميں حضرت علىعليه‌السلام كے خلاف تھى اس راہ ميں


مانع و حائل تھى كہ وہ حضرت علي عليه‌السلام كى حكومت كے نمايندے كى حيثيت سے كوئي خدمت انجام دے اور امر واقعى يہ ہے كہ حضرت علىعليه‌السلام اور معاويہ كے جذبہ كار گردگى و مقاصد كے درميان متضاد تطبيق كا فاصلہ تھا اور اسى كے باعث دونوں كے مابين باہمى تعاون كا امكان نہ تھا _

اگر حضرت علىعليه‌السلام نے كوئي ايسا فرمان جارى كر ديا ہوتا جس سے اس بات كى تائيد ہوتى كہ وہ شام كى صوبہ دارى پر بحال رہے تو اس بات كا امكان تھا كہ معاويہ اس فرمان كا فائدہ اٹھا كر اسے اپنى فرمانروائي كا پروانہ تصور كرتا ہے اور اس طرح اسے شام ميں پہلے سے كہيں زيادہ قدم جمانے كا موقع مل جاتا _

معاويہ جيسے استبداد پسند عمال اور ديگر مفسد كارندوں كى عملہ خلافت مےں موجودگى ايسے عوامل تھے جن كے باعث مسلمين كے درميان رنجش پيدا ہوئي اور انہوں نے عثمان كے خلاف بغاوت كر دى اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كى حكومت چونكہ حقوق سے محروم و ستمديدہ طبقات كى پناہگاہ تھى اسى لئے اگر اس ميں معاويہ جيسے لوگ بر سر اقتدار رہتے تو اس بات كا امكان تھا كہ عوام ميں دربارہ غم و غصہ پيدا ہو جائے اور وہ اكثريت جو حضرت عليعليه‌السلام كى طرفدار تھى اسے اميرالمومنينعليه‌السلام كى ذات اور اس حكومت سے جس كى آيندہ تشكيل كرتے مايوسى ہوتى چنانچہ ان كے اور اس اقليت كى درميان جو حضرت عليعليه‌السلام كى شخصيت كو بہر حال حجت تسليم كرتے تھى اختلاف پيدا ہو جاتا _

مذكورہ بالا دلائل نيز پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے منقول يہ روايت كہ فرزندان اميہ پر حكومت حرام ہے ايسے عوامل تھے جن كے باعث حضرت عليعليه‌السلام نے معاويہ كو خط لكھ كر مطلع كيا كہ اسے اس عہدے سے برطرف كر كے اس كى جگہ سہل بن حنيف كو شام كا صوبہ دار مقرر كيا جاتا ہے _(۳۱)

مساوى حقوق كى ضمانت

جيسا كہ ہم جانتے ہيں كہ اسلام نے دور جاہليت كے امتيازى سلوك كو قطعى طور پر باطل قرار ديا ہے مگر پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت كے بعد عہد جاہليت كى اس رسم كا بتدريج رواج ہونے لگا اور عثمان


كے زمانہ خلافت ميں اسے مزيد فروغ ملا _

حضرت علىعليه‌السلام نے زمام حكومت اپنے اختيار ميں لينے كے بعد عہد جاہليت كے تمام امتيازى سلوك كو يكسرہ ختم كر ديا اور اس بات كى ضمانت دى كہ تمام مسلمانوں كے حقوق مساوى و يكساں ہيں چنانچہ اس بارے مےں خود فرماتے ہےں ذليل (مظلوم و ستمديدہ) اس وقت تك ميرے نزديك عزيز وار جمند ہے جب تك اس كے حق كو ظالم سے نہ لے لوں اور زور مند (ظالم و ستمگر) اس وقت تك ميرے نزديك برا اور ناتواں ہے جب تك مظلوم كا حق اس سے حاصل نہ كر لوں(۳۲) _

لوٹے ہوئے مال كى واپسي

حضرت عليعليه‌السلام نے مالى امور ميں بھى واضح و روشن راستہ اختيار كيا اس سلسلے مےں آپعليه‌السلام كے سامنے دو اہم مسئلے تھے پہلا تو يہى كہ عثمان كى خلافت كى زمانہ ميں ايك مخصوص گروہ نے بہت دولت جمع كى تھى دوسرا مسئلہ بيت المال كى تقسيم تھا _

حضرت علىعليه‌السلام نے آغاز خلافت ميں جو خطبات ديئے ان مےں اپنى آيندہ كى راہ و روش كو واضح و روشن كر ديا ہے چنانچہ ايك خطبے ميں فرماتے ہيں وہ اراضى جو عثمان نے مخصوص افراد كو ديدى ہے اور وہ ثروت جو اس (عثمان) نے اپنے قرابت داروں ميں تقسيم كر دى ہے اسے بيت المال ميں واپس لا كر جمع كريں گے _ اس كے ساتھ ہى آپ نے عوام كو يہ يقين دلايا كہ بيت المال كى تقسيم ميں مساوات سے كام لينگے _

اميرالمومنين حضرت عليعليه‌السلام نے اپنے خطبے كے ايك حصے ميں يہ بھى فرمايا تھا كہ :

ميں بھى تم ميں سے ايك فرد ہوں اور اور سود و زياں ميں تمہارے ساتھ شريك ہوں ميں تمہارى رہبرى سيرت محمديصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے مطابق كرنا چاھتا ہوں اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے احكامات كو تم لوگوں كے درميان نافذ و جارى كروں گا ياد ركھو ہر وہ جاگير جو عثمان نے كسى كو دى اور جو بھى مال عوامى ملكيت


ميں سے كسى كو بخشا تھا وہ واپس بيت المال ميں لايا جائے گا اس مےں خواہ وہ رقم شامل ہو جس سے خواتين كو مہر ادا كيا گيا ہو اور خواہ اس سے كنيزيں خريديں گئيں ہوں كيونكہ عدالت كا دروازہ وسيع ہے اور جس پر عدل و انصاف تنگ ہو گيا ہو اس پر جور و ستم كا ميدان اس سے كہيں زيادہ تنگ كر ديا جائے گا _(۳۳)

اپنے دوسرے خطبے ميں آپعليه‌السلام نے فرمايا تھا كہ '' لوگو ياد ركھو تم مےں سے جس كو دنيا نے نگل ليا ہے اور جنہوں نے املاك و كاشت كى زمين جمع كر لى ہے جن ميں انہوں نے نہريں جارى كر دى ہيں ' سوارى كيلئے تيز رفتار گھوڑے حاصل كر لئے ہيں اور اپنے لئے خوبصورت كنيزيں خريد كر ليں ہيں انہوں نے اپنے اس رنگ و ڈھنگ سے رسوائي و بدنامى مول لى ہے انھيں ميں اس لہو لعب سے جس ميں وہ غوطہ زن ہيں اگر نجات دلانا چاہوں اور تسليم شدہ حق كے كنارے پر انھيں لانا چاہتا ہوں تو وہ ميرے اس عمل پر غضبناك نہ ہوں اور يہ نہ كہيں كہ ابى طالب كے فرزند نے ہميں ہمارے حقوق سے محروم كر ديا ہے ...''

تم سب ہى بندگان خدا ہو اور بيت المال بھى خدا كا ہى مال ہے يہ تم ميں مساوى طور پر تقسيم كيا جائے گا

اس كے بعد آپ نے فرمايا كہ ميرے پاس بيت المال كا كچھ حصہ موجود ہے تم سب ميرے پاس آكر اپنا حصہ لے لو چاہے عرب ہو يا عجم ' وظيفہ دار ہو يا غير وظيفہ دار_(۳۴)

اس طرح حضرت علىعليه‌السلام نے نہايت تيزى كے ساتھ قطعى طور پر ناروا عصبيت اور امتيازات كا خاتمہ كر ديا _

حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے ايك اقدام سے اس جماعت كے اثر و رسوخ كا قلع قمع كر ديا جو عثمان كى خلافت كے دوران ابھرى تھى عثمان نے انھيں كثير مال و دولت اور جاگير سے نواز تھا حضرت عليعليه‌السلام نے اس مال و جاگير كو بيت المال ميں جمع كر ديا _(۳۵)


بدعنوانيوں ميں ملوث دولتمندوں كى رخنہ اندازي

بيت المال كى مساويانہ تقسيم كے باعث محرومين اور مستضعفين كو جس قدر خوشى و مسرت ہوئي اتنا ہى صدمہ ان چند مغرور افراد كو پہنچا جنہيں جاہ طلبى كى ہوا و ہوس تھى _ انہيں چند سال ميں چونكہ جو رو ستم كركے كئي گنا زيادہ تنخواہيں نيز وظائف لينے كى عادت ہوگئي تھى اس لئے حضرت علىعليه‌السلام كى مساويانہ روش تقسيم مال سے جب وہ دچار ہوئے تو انہيں سخت پريشانى ہوئي_

ايك روز وليد بن عقبہ اس جماعت كے نمايندے كى حيثيت سے حضرت علىعليه‌السلام كے پاس آيا اور كہنے لگا كہ اے ابوالحسن اگر چہ ہم (بنى عبد مناف) بھى آپ كے بھائيوں ميں سے اور آپ جيسے ہى ہيں ليكن آپ نے تو ہم پر ظلم وستم ہى بپا كرديا ہم اس شرط پر آپ كى بيعت كرنے كو تيار ہيں كہ وہ مال و متاع جو ہم نے عثمان كے عہد خلافت ميں جمع كيا ہے وہ آپ ہم سے واپس نہ ليں اور ان كے قاتلوں كو ہلاك كرديں ليكن ہمارے مفادات كو كوئي خطرہ ہوا اور آپ كے رويے سے ہم خوفزدہ ہوئے تو ہم آپ سے عليحدہ ہو كر شام كى جانب كوچ كرجائيں گے_

يہ سن كر حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا كہ : تم جو يہ كہہ رہے ہو كہ ميں نے ظلم وستم كيا ہے (اور ميرے اس اقدام كو ظلم وستم سے تعبير كياجاسكتا ہے)تو يہ ظلم حق و انصاف كى جانب سے ہوا ہے اور يہ كہ وہ مال جو تمہارے پاس ہے اسے ميں نظر انداز كردوں تو ميں ايسا نہيں كرسكتا كيونكہ حق خدا كو پائمال ہوتے ہوئے ديكھ كر ميں چشم پوشى نہيں كرسكتا اب يہ مال خواہ تمہارے چنگل ميں ہو يا كسى اور شخص كے_(۳۶)

جب اس جماعت كے سردار كو يقين ہوگيا كہ وہ گفتگو يا دھمكى كے ذريعے اپنا مدعى حاصل نہيں كرسكتے تو انہوں نے اپنى پورى قوت سے حضرت علىعليه‌السلام كى قائم كردہ نو بنياد حكومت كى بيخ كنى شروع كردى اور اس كے خلاف بر سر پيكار ہوگئے_

اس بارے ميں عمرو بن عاص نے معاويہ كو لكھا تھا كہ جو بھى فيصلہ كيا ہے اس پر جلد ہى عمل كيجئے كيونكہ جس طرح لكڑى كے اوپر سے چھال اتارلى جاتى ہے ابى طالب كا فرزند اسى طرح اس مال و دولت كو جوتمہارے پاس ہے ، تمہارے تن سے اتروائے گا_


سوالات

۱_ حضرت علىعليه‌السلام كے دست مبارك پر عوام نے كس طرح بيعت كى مختصر طور پر وضاحت كيجئے؟

۲_ كيا كچھ لوگوں نے حضرت علىعليه‌السلام كے دست مبارك پر بيعت كرنے سے كنارہ كشى كي؟ اگر ايسا كيا تو كيوں ؟

۳_ جب عوام نے حضرت علىعليه‌السلام كے دست مبارك پر بيعت كى تو قريش كيوں مضطرب وپريشان ہوئے؟

۴_ حضرت علىعليه‌السلام كے دست مبارك پر بيعت كرنے كى خصوصيات بيان كيجئے؟

۵_ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے ابتداء ميں لوگوں كے اصرار كے باوجود كيوں خلافت كى زمامدارى قبول كرنے سے مثبت جواب نہيں ديا؟

۶_ جب حضرت علىعليه‌السلام نے خلافت كى زمامدارى قبول فرمائي تو آپ كى نظر ميں كون سے كام مقدم اور فورى انجام دينے كے تھے؟

۷_ عثمان كے عہد سے وابستہ حكام كو معزول يا بحال ركھے جانے كے كيا اسباب تھے ، اس كے بارے ميں حضرت علىعليه‌السلام كے نظريات بيان كيجئے؟

۸_ حضرت علىعليه‌السلام كى مالى روش سے مال اندوز لوگ كيوں غضبناك ہوئے اس كا سدباب كرنے كےلئے انہوں نے كيا اقدام كيا ؟


حوالہ جات

۱_ لا حاجة لى فى امركم فمن اخترتم رضيت بہ

۲_ كامل ابن اثير ج /۱۹۰۳ تاريخ طبرى ج ۴/ ۴۲۷ تاريخ ابى الفداء ج ۱ /۱۷

۳_ لا تفعلوا فانى اكون وزيراً خيرا من ان اكون اميراً

۴_ كامل ابن اثير ج ۳/ ۱۹۰، انساب الاشراف بلاذرى ج ۲/ ۲۰۹ ، تاريخ ابى الفداء ج ۱/ ۱۷۱

۵_ نہج البلاغہ خ شقشقيہ (خ ۳)

۶_فما راعنى الا والناس كعرف الضبع الى ينشا لون علَّى من كل جانب حتى لقد وطى الحسنان و شق عطفاى مجتمعين حولى كربيضة الغنم

۷_ تاريخ طبرى ج ۴/ ۴۲۸ كامل ابن اثير ج ۳/ ۱۹۳

۸_ تاريخ طبرى ج ۴/ ۴۲۸ كامل ابن اثير ج ۳/۱۹۳

۹_ نہج البلاغہ خ ۲۲۹

وبلغ سرور الناس ببيعتهم اياى ان ابتهج بها الصغير و هدج اليها الكبير وكامل نحوها العليل وحسرت اليها الكعاب

۱۰_ تاريخ يعقوبى ج۲/ ۱۷۹

۱۱_ تاريخ يعقوبى ج ۲/ ۱۷۹

۱۲_ تاريخ يعقوبى ج ۲/ ۱۷۹

۱۳_ شرح ابن ابى الحديد ج ۱۱/ ۱۱۴

۱۴_ مروج الذہب ج ۲/ ۳۵۳

۱۵_ تاريخ ابى الفداء ج ۱/ ۱۷۱

۱۶ _ استيعاب ج ۳/ ۵۵ ''اولئك قوم قعدوا عن الحق ولم يقوموا مع الباطل''

۱۷_ مروج الذہب ج ۲/ ۳۵۳

۱۸_ تاريخ ابى الفداء ج۱/۱۷۱ ، الانساب الاشراف بلاذرى ج ۲/ ۲۰۷


۱۹_ عثمان خود بھى مذكورہ شورى كے ركن تھے اور انہوں نے خود بھى اپنى خلافت كے حق ميں رائے دى _

۲۰_انساب الاشراف بلاذرى ج ۲/ ۲۰۷، تاريخ طبرى ج ۴/ ۴۲۸

۲۱_ ملاحظہ ہو خطبات ۲۲۹، ۱۳۷

۲۲_ نہج البلاغہ خ ۹۲

دعونى والتمسوا غيرى فانا مستقبلون امراً له وجوه والوان لا تقوم له القلوب ولا تثبت عليه العقول وان الافاق قداغاقت والمحجة تنكرت

۲۳_ نہج البلاغہ خ ۳۳

۲۴_ نہج البلاغہ خ ۵

۲۵_ نہج البلاغہ خ ۳

اما والذى فلق الحبة وبرى النسمة لولا حضور الحاضر وقيام الحجة بوجود الناصر وما اخذ الله على العلماء ان يقاروا على كظة ظالم و لا سغب المظلوم لا لقيت حبلها على غاربها و لسقيت آخرها بكا س اولها _

۲۶_ واللہ لا اداہن فى دينى _ مروج الذہب ج ۲/ ۳۵۵_ ۳۵۴، كامل ابن اثير ج ۳/ ۱۹۷ _ تاريخ طبرى ج ۴ / ۴۴۰

۲۷_ نہج البلاغہ مكتوب ۶۲

۲۸_ تاريخ يعقوبى ج ۲ / ۱۷۹

۲۹_لا والله لا استعمل معاوية يومين ابداً كامل ابن اثير ج ۳/ ۱۹۷ ، مروج الذہب ج ۲/ ۲۵۶ ، تاريخ طبرى ج ۴/ ۴۴۱

۳۰_لا والله لا اعطيه الا السيف ، كامل ابن اثير ج ۳/ ۱۹۷ تاريخ طبرى ج ۴/ ۴۴۴

۳۱_ مذكورہ خط كا متن ان كتابوں ميں ملاحظہ ہو : شرح ابن ابى الحديد ج ۱/ ۲۳۰ تاريخ التواريخ ج ۱/ ۳۸ ، انساب الاشراف بلاذرى ج ۲/ ۲۱۱ درسيرہ ائمہ اثنى عشرى ج ۱/ ۴۴۲

۳۲_الذليل عندى عزيز حتى آخذ الحق له ، والقوى عندى ضعيف حتى آخذ الحق منه _


نہج البلاغہ خ ۳۷

۳۳_ ثورة الحسينعليه‌السلام للمہدى شمس الدين ۵۷، شرح ابن ابى الحديد ج ۱/ ۲۶۹ ، نہج البلاغہ خ ۱۵ (يہ قول مختصر ترميم كے ساتھ نقل كيا گيا ہے)

۳۴_ شرح ابن ابى الحديد ج ۷/ ۳۷

۳۵_ اس واقعے كى تفصيل كے لئے ملاحظہ ہو مروج الذہب ج ۲/ ۲۵۳ ، شرح نہج البلاغہ خوئي ج ۳ / ۲۱۵

شرح ابن ابى الحديد ج ۱/ ۲۷۰ فى ظلال نہج البلاغہ ج ۱/ ۱۳۰ ، شرح نہج البلاغہ بحرانى ج ۱/ ۲۹ اور سيرہ الائمہ مصنفہ علامہ سيد محسن امين ج ۱/ جزء دوم /۱۱

۳۶_ شرح ابن ابى الحديد ج ۷/ ۳۹_ ۳۸

۳۷_ ''ماكنت صانعاً فاصنع اذ قشرك ابن ابى طالب من كل مال تملكہ كما تقشر عن العصا لحاہا '' شرح ابن ابى الحديد ج ۱/ ۲۷۰ ، شرح نہج البلاغہ خوئي ج ۳/ ۲۱۵ ، الغدير ج ۷/ ۲۸۸


چھٹا سبق

خلافت ظاہرى سے شہادت تك ۲

ناكثين (حكومت علىعليه‌السلام كى مخالفت)

موقف ميں تبديلي

مكہ ميں مخالفين كا جمع ہونا

سپاہ كے اخراجات

عراق كى جانب روانگي

سپاہ كى جانب عثمان بن حنيف كے نمايندوں كى روانگي

پہلا تصادم

دھوكہ و عہد شكني

جمل اصغر

سردارى پر اختلاف

خبر رساني

سوالات

حوالہ جات


ناكثين(حكومت علىعليه‌السلام كى مخالفت)

حضرت علىعليه‌السلام نے ايك خطبے ميں حكومت كے مخالفين كو تين گروہوں ميں تقسيم كيا ہے _

(۱) _ وہ يہ ہيں :

اصحاب جمل : جنہيں آپعليه‌السلام نے ناكثين كے نام سے ياد كيا ہے_

اصحاب صفين : انہيں آپعليه‌السلام نے قاسطين كہا ہے اور

اصحاب نہروان : (خوارج_ جو مارقين كہلائے ہيں )

ناكثين كى ذہنى كيفيت يہ تھى كہ وہ انتہائي لالچى ' زرپرست اور امتيازى سلوك روا ركھنے كے طرفدار تھے _ چنانچہ حضرت علىعليه‌السلام نے جہاں كہيں عدل و مساوات كا ذكر كيا ہے وہاں آپعليه‌السلام كى توجہ بيشتر اسى گروہ كى جانب رہى ہے_

''قاسطين'' كا تعلق ''طلقائ(۲) '' كے فرقہ سے تھا اس گروہ كى تشكيل ميں بعض فراري، بعض حكومت سے ناراض اورعثمان كے كارندے شامل تھے _ يہ لوگ ذہنى طور پر حيلہ گر اور نفاق پسند تھے_ وہ لوگ حضرت علىعليه‌السلام كى حكومت كا زوال چاہتے تھے تاكہ حكومت ان كے دست اختيار ميں آجائے_

تيسرے گروہ كى اخلاقى حالت يہ تھى كہ وہ ناروا عصبيت كے قائل تھے ، ذہنى خشكى كو تقدس تصور كرتے تھے اور ان كى جہالت خطرناك حد تك پہنچ گئي تھي_

يہاں ہم اختصار كو مد نظر ركھتے ہوئے ان گروہوں كا تعارف كراتے ہوئے انكى حيثيت كا


جائزہ ليں گے اور يہ بتائيں گے كہ ان ميں سے ہر گروہ نے حضرت على عليه‌السلام كى حكومت كے خلاف كيا كيا كارگزارياں كيں _

ناكثين

طلحہ وزبير كى عرصہ دارز سے يہ آرزو تھى كہ وہ اس مقام پر پہنچيں جہاں سے عالم اسلام پر حكمرانى كرسكيں _ عثمان كے قتل كے بعد رائے عامہ حضرت علىعليه‌السلام كى جانب اس بناپر متوجہ ہوگئي كہ انہوں نے آپعليه‌السلام كو ہى عہدہ خلافت كے لئے شايستہ ترين انسان سمجھا_ چنانچہ جب وہ لوگ اقتدار سے نااميد ہوگئے تو حضرت علىعليه‌السلام كے دست مبارك پر بيعت كرنے كے لئے پيش پيش رہے اور بظاہر سب پر سبقت لے گئے_

حضرت علىعليه‌السلام كى بيعت ميں سبقت لے جانے كى وجہ يہ تھى كہ وہ چاہتے تھے كہ اپنے اس اقدام سے خليفہ وقت كو اپنى جانب متوجہ كريں تاكہ اس طريقے سے وہ اپنے مقاصد تك پہنچ سكيں _ ليكن ان كى توقع كے خلاف اميرالمومنينعليه‌السلام نے انكے ساتھ ديگر تمام مسلمين كى طرح يكساں سلوك روا ركھا اور اس طرح ان كى تمام حسرتوں پر پانى پھرگيا_

يعقوبى نے لكھا ہے كہ طلحہ اور زبير اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے پاس آئے اور كہا كہ پيغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بعد ہم سے بہت زيادہ ناانصافى كى گئي ہے ، اب آپ ہميں خلافت كى مشينرى ميں شريك كرليجئے_

اس پر اميرالمومنين علىعليه‌السلام نے فرمايا : قوت و پايدارى ميں تو تم ميرے ساتھ شريك ہوہى شدائد اورسختيوں ميں بھى تم ميرے ساتھ رہو(۳) _ حضرت علىعليه‌السلام كے اس اقدام سے يہ دونوں حضرات ايسے برگشتہ ہوئے كہ انہوں نے دستگاہ خلافت سے عہد شكنى كا فيصلہ كرليا اور آخر كا اس كا انجام جنگ ''جمل'' كى صورت ميں رونما ہوا_

برگشتگى كا دوسرا عامل يہ تھا كہ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے بيت المال كو تمام مسلمانوں كے


درميان مساوى تقسيم كيا _ اميرالمومنين حضرت على عليه‌السلام كا يہ رويہ طلحہ اور زبير كے لئے ناقابل برداشت تھا _ انہوں نے زبان اعتراض دراز كى اور بيت المال ميں سے اپنا حصہ بھى نہيں ليا_

حضرت علىعليه‌السلام نے انہيں اپنے پاس بلايا اور فرمايا : كيا تم ميرے پاس اس مقصد كے لئے نہيں آئے تھے كہ زمام خلافت كو ميں اپنے دست اختيار ميں لے لوں درحاليكہ مجھے اس كا قبول كرنا ناپسند تھا ؟ كيا تم نے اپنى مرضى سے ميرے ہاتھ پر بيعت نہيں كى ؟ اس پر انہوں نے جواب ديا كہ : ہاں اس ميں ہمارى مرضى شامل تھى _ يہ سن كر حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا تو تم نے مجھ ميں كون سى بات ديكھى جو اعتراض شروع كرديا اور ميرى مخالفت پر اتر آئے ؟ انہوں نے جواب ديا كہ ہم نے اس اميد پر بيعت كى تھى كہ خلافت كے اہم امور ميں آپ كے مشير رہيں گے_ اب ديكھتے ہيں كہ آپ نے ہمارے مشورے كے بغير بيت المال كو مساوى تقسيم كرديا جو چيز ہمارى رنجيدگى كا سبب ہوئي ہے وہ يہ ہے كہ آپ عمر كى روش كے خلاف جارہے ہيں وہ بيت المال كى تقسيم ميں لوگوں كے سابقہ كارناموں كو ملحوظ خاطر ركھتے تھے _ ليكن آپ نے اس امتياز سے چشم پوشى كى جو ہميں حاصل ہے آپ نے ہميں ديگر مسلمانوں كے برابر سمجھا ہے جب كہ يہ مال ہمارى جانبازى كے ذريعے شمشير كے بل پر حاصل ہواہے_

يہ سن كر حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا : امور خلافت ميں جہاں تك مسئلہ مشورت كى بات ہے تو مجھے خلافت كى كب چاہ تھى اس كى جانب آنے كى تم نے ہى مجھے دعوت دى تھى مجھے چونكہ مسلمانوں كے باہمى اختلافات اور ان كے منتشر ہوجانے كا خوف تھا اسى لئے اس ذمہ دارى كو قبول كرليا جب بھى كوئي مسئلہ ميرے سامنے آيا تو ميں نے حكم خدا كو اور سنت پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جانب رجوع كيا اور اس كا حل تلاش كرليا _ اسى لئے اس معاملے ميں مجھے تمہارے مشورے كى ضرورت پيش نہ آئي _ البتہ اگر كسى روز ايسا معاملہ پيش آيا جس كا حل قرآن اور سنت پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ذريعے نہ نكل سكے تو مجھے تمہارے مشورے كى ضرورت محسوس ہوگى ، تو تم سے ضرور مشورہ كروں گا_

رہا بيت المال كا مسئلہ تو يہ بھى ميرى اپنى خصوصى روش نہيں ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے زمانے ميں ميں


نے ديكھا ہے كہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بيت المال كو مساوى تقسيم كيا كرتے تھے_

اس كے علاوہ اس مسئلے كے بارے ميں بھى قرآن نے حكم ديا ہے كہ يہ كتاب اللہ آپ كے سامنے ہے اس ميں كوئي غلط بات درج نہيں ہے يہ كتاب ہميں مساوات و برابرى كى دعوت ديتى ہے اور اس نے ہر قسم كے امتيازى سلوك كو باطل قرار ديا ہے_

يہ كہنا كہ بيت المال آپ كى شمشير كے زور پر ہاتھ آيا ہے تو اس سے پہلے بھى ايسے لوگ گذرے ہيں جنہوں نے جان ومال سے اسلام كى مدد كى ہے_ ليكن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بيت المال كى تقسيم ميں كسى كے ساتھ امتيازى سولك روانہ ركھا_(۴)

طبرى لكھتا ہے كہ : جب طلحہ ہر قسم كے امتيازى سلوك سے مايوس و نااميد ہوگيا تو اس نے يہ مثل كہى : ہميں اس عمل سے اتنا ہى ملا ہے جتنا كتے كو سونگھنے سے ملتا ہے_ ۵)

ايك طرف تو طلحہ اور زبير اس بات سے مايوس ونااميد ہوگئے كہ انہيں كوئي مقام و مرتبہ ملے گا اور ان كے ساتھ امتيازى سلوك روا ركھا جائے گا اور دوسرى طرف انہيں يہ اطلاع ملى كہ عائشہ نے حضرت علىعليه‌السلام كے خلاف مكہ ميں پرچم لہراديا ہے _ چنانچہ انہوں نے فيصلہ كيا كہ مكہ كى جانب روانہ ہوں اسى لئے حضرت علىعليه‌السلام كے پاس آئے اور كہا كہ ہم عمرہ كى غرض سے آپ كى اجازت كے خواہاں ہيں _

ان كے جانے كے بعد حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے دوستوں سے فرمايا كہ : خدا كى قسم ان كا ارادہ ہرگز عمرہ كا نہيں بلكہ ان كا مقصد عہد شكنى اور خيانت ہے_(۶)

موقف ميں تبديلي

عائشہ كو پہلے دو خلفاء كے دور ميں جو مراعات حاصل تھيں ان سے وہ عثمان كے عہد آخر خلافت ميں محروم كردى گئيں چونكہ وہ ان كى حكومت سے عاجز و پريشان تھيں اسى لئے انہوں نے عثمان كے خلاف پرچم شورش لہراديا نيز زور بيان اور اپنى رفتار كے ذريعے اس نے مسلمانوں كو


خليفہ وقت كے خلاف شورش و سركشى كى دعوت دي_ (۷)

شعلہ شورش كو ہوا دينے كے باعث وہ خود كو اپنے مقصد ميں كامياب محسوس كر رہى تھى اس لئے وہ مكہ كى جانب روانہ ہوگئيں اور ہر لمحہ عثمان كے قتل نيز مسلمين كا طلحہ كے ہاتھ پر بيعت كرنے كا انتظار كرنے لگيں _

جس وقت عثمان كے قتل كى خبر انہيں ملى تو انہوں نے كہا كہ : خدا اس كو غارت كرے اپنے ان كرتوتوں سے ہى تو مارا گيا ، خداوند تعالى اپنے بندوں پر ظلم نہيں كيا كرتا _(۸) عثمان كے قتل كے بعدانہوں نے مسلمانوں سے كہا كہ وہ عثمان كے مارے جانے كے باعث پريشان خاطر نہ ہوں اگر وہ مارے گئے تو كيا ہوا مقام خلافت كے لئے بہترين اور لائق ترين شخص طلحہ تو تمہارے درميان موجود ہيں ان كے ہاتھ پر بيعت كرو اور تفرقہ سے دور رہو_

اپنے اس بيان كے بعد وہ بڑى تيزى سے مدينہ كى جانب روانہ ہوئيں انہيں اطمينان تھا كہ عثمان كے بعد منصب خلافت طلحہ كے ہاتھ آجائے گا ، اسى لئے راستے ميں خود ہى گنگنارہى تھى كہ : ميں گويا اپنى آنكھوں سے ديكھ رہى ہوں كہ لوگ طلحہ كے ہاتھ پر بيعت كر رہے ہيں ميرى سوارى كو تيز ہانكو تاكہ ميں ان تك پہنچ جائوں _(۹)

عبيد بن ام كلاب مدينہ سے واپس آرہے تھے راستے ميں ان سے ملاقات ہوگئي ، انہوں نے مدينہ كى حالت ان سے دريافت كى عبيد نے ان سے كہا كہ عوام نے عثمان كو قتل كرديا ، آٹھ روز تك وہ يہ فيصلہ نہ كرسكے كہ كيا كريں _ عائشہ نے دريافت كيا كہ اس كے بعد كيا ہوا؟ انہوں نے كہا كہ : الحمدللہ كام بحسن و خوبى تمام ہوا اور مسلمانوں نے ايك دل اور ايك زبان ہوكر علىعليه‌السلام بن ابى طالبعليه‌السلام كو منتخب كرليا _

عائشہ نے يہ خبر سننے كے بعد كہا خدا كى قسم اگر خلافت كا فيصلہ علىعليه‌السلام كے حق ميں ہوا ہے تو اب آسمان زير و زبر ہوجائيں گے مجھے يہاں سے واپس لے چلو فوراًمجھے يہاں سے لے چلو(۱۰)

چنانچہ وہ وہيں سے مكہ كى جانب روانہ ہوگئيں ليكن اب انہوں نے اپنا نظريہ بدل ديا تھا اور يہ


كہہ رہى تھيں كہ : عثمان بے گناہ مارا گيا ميں اس كے خون كا بدلہ لينے كے لئے سركشى كروں گى _ عبيد نے ان سے كہا كہ ان كے خون كا مطالبہ تم كيسے كرسكتى ہو كيونكہ وہ تم ہى تو ہو جس نے سب سے پہلے عثمان كے قتل كيئے جانے كى تجويز پيش كى اور تم ہى تو كہا كرتى تھيں كہ ''نعثل'' كو قتل كردو كيونكہ وہ كافر ہوگيا ہے اور آج تم ہى انہيں مظلوم و بے گناہ كہہ رہى ہو_

عائشہ نے كہا كہ ہاں عثمان ايسا ہى تھا ليكن اس نے توبہ كرلى تھى اور لوگوں نے ان كى توبہ كى طرف سے بے اعتنائي كى اور انہيں قتل كرديا اس كے علاوہ ميں نے كل جو كچھ كہا تھا تمہيں اس سے كيا سروكار؟ ميں آج جو كہہ رہى ہوں تم اسے مانو كيونكہ ميرى آج كى بات كل سے بہتر ہے_(۱۱)

مكہ پہنچنے كے بعد عائشہ مسجد الحرام كے سامنے محمل سے اتريں اور پورى سترپوشى كے ساتھ وہ حجر الاسود كے جانب روانہ ہوئيں ، لوگ ان كے چاروں طرف جمع ہوگئے ، عائشہ نے ان كے سامنے تقرير كى اور كہا كہ عثمان كا خون ناحق ہوا ہے ، انہوں نے اہل مدينہ اور دوسرے لوگوں كے جذبات كو ان كے خلاف جنہوں نے عثمان كے قتل ميں حصہ ليا تھا برافروختہ كيا اور حاضرين سے كہا كہ وہ عثمان كے خون كا بدلہ ليں اور قاتلوں كے خلاف شورش كرنے كى دعوت دى _(۱۲)

مكہ ميں مخالفين كا جمع ہونا

مكہ ميں عائشہ نے جيسے ہى حضرت عليعليه‌السلام كے خلاف پرچم لہرا ديا آپ كے مخالفين ہر طرف سے ان سے گرد جمع ہوگئے _

طلحہ و زبير بھى حضرت عليعليه‌السلام سے عہد شكنى كركے ان كے ہمنوا ہوگئے دوسرى طرف بنى اميہ حضرت علىعليه‌السلام كے ايك زمانے سے دشمن چلے آرہے تھے اور كسى مناسب موقع كى تلاش ميں تھے اور عثمان كے قتل كے بعد وہ مدينہ سے فرار كرے چونكہ مكہ پہنچ گئے تھے اس لئے وہ بھى عائشہ كے زير پرچم آگئے _ اس طرح عثمان كے زمانے كے وہ تمام والى و صوبہ دارجنہيں حضرت علىعليه‌السلام نے معزول


كرديا تھا وہ سب عائشہ كے ساتھ ہوگئے مختصر يہ كہ وہ تمام مخالف گروہ جنہيں حضرت علىعليه‌السلام سے پرخاش تھى مكہ ميں جمع ہوگئے اور اس طرح ناكثين كى تحريك كا اصل بيج يہاں بويا گيا ، مخالف گروہوں كے سردار عائشہ كے گھر ميں جلسات كى تشكيل كركے شورش و سركشى كى طرح اندازى پر بحث وگفتگو كرتے_

عائشہ نے كہا كہ : اے لوگو يہ عظےم حادثہ ہے جو رونما ہوا ہے اور جو واقعہ رونما ہوا ہے وہ قطعى ناپسنديدہ ہے ، اٹھو اور اپنے مصرى بھائيو سے مدد طلب كرو شام كے لوگ بھى تمہارا ساتھ ديں گے ، شايد اس طرح خداوند تعالى عثمان اور ديگر مسلمانوں كا بدلہ دشمنوں سے لے_

طلحہ وزبير نے بھى اپنى تقارير كے دوران عائشہ كى حضرت علىعليه‌السلام كے خلاف جنگ كرنے ميں حوصلہ افزائي كى اور كہا كہ وہ مدينہ سے رخصت ہو كر ان كے ساتھ چليں _

جب انہوں نے عائشہ كے جنگ ميں شريك ہونے كى رضامندى حاصل كرلى اور عائشہ نے بھى اس تحريك كى قيادت سنبھال لى تو يہ گروہ عمر كى دختر اور پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى زوجہ حفصہ كى جانب گئے ، انہوں نے كہا كہ مجھے عائشہ سے اتفاق رائے ہے اور ميں ان كى تابع ہوں اگر چہ انہوں نے يہ فيصلہ كرليا تھا كہ عائشہ كے ہمراہ چليں مگر ان كے بھائي عبداللہ اس روانگى ميں مانع ہوئے_(۱۳)

سپاہ كے اخراجات

عثمان نے جو رقم اپنے رشتہ داروں ميں تقسيم كردى تھى اور وہ كثير دولت جو ان كے پردازوں كے ہاتھ آئي تھى وہ سب اسى مقصد كے لئے استعمال كى گئي چنانچہ بصرہ كے معزول گورنر عبداللہ بن عامر اور عثمان كے ماموں زاد بھائي نے سب سے پہلے عائشہ كى دعوت كو قبول كيا اور اپنا بہت سا مال انہيں دے ديا _ عثمان كا معزول كردہ يمن كا گورنر يعلى بن اميہ نے بھى اپنى كثير دولت جس ميں چھ ہزار درہم اور چھ سو اونٹ شامل تھے اس فتنہ پرور لشكر كے حوالے كرديئے _(۱۴) اور اس لشكر ناكثين كے اخراجات فراہم كئے_


عراق كى جانب روانگي

''ناكثين'' كى سعى و كوشش سے مسلح لشكر فراہم ہوگيا، سرداران سپاہ نے اس بات پر غور كرنے كے لئے كہ جنگى كاروائي كہاں سے شروع كى جائے آپس ميں مشورہ كيا اور انہوں نے يہ فيصلہ كيا كہ عراق كى جانب روانہ ہوں اور كوفہ وبصرہ جيسے دو عظےم شہروں كے باشندوں سے مدد ليں كيونكہ طلحہ اور زبير كے بہت سے خير خواہ وہاں موجود تھے اور اس كے بعد وہاں سے اسلامى حكومت كے مركز پر حملہ كريں _

اس فيصلہ كے بعد عائشہ كے منادى نے مكہ ميں جگہ جگہ اعلان كيا كہ ام المومنين اور طلحہ اور زبير كا ارادہ بصرہ جانے كا ہے جس كسى كو اسلامى حريت كا پاس ہے اور عثمان كے خون كا بدلہ لينا چاہتا ہے وہ ان كے ساتھ شريك ہوجائے_

جب ہزار آدمى ضرورى سامان جنگ كے ساتھ جمع ہوگئے تو انہوں نے مكہ سے عراق كى جانب كوچ كيا راستے ميں ان كے ساتھ بہت سے لوگ شامل ہونے لگے يہاں تك كہ ان كى تعداد تين ہزار تك پہنچ گئي _(۱۵)

عائشہ اپنے مخصوص ''عسكر'' نامى شتر پرلشكر كے سپاہ كے پيش پيش تھى اور اُميہ ان كے اطراف ميں چل رہے تھے اور سب كا ارادہ بصرہ پہنچنا تھا_

راہ ميں جو حادثات رونما ہوئے ان ميں سے ہم يہاں ايك كے بيان پر ہى اكتفا كرتے ہيں _

راستے ميں انہيں جہاں پہلى جگہ پانى نظر آيا وہاں ان پر كتوں نے بھونكنا اوريھبكنا شروع كرديا ، عائشہ نے دريافت كيا كہ يہ كونسى جگہ ہے انہيں بتايا گيا كہ يہ ''حَوا ب''ہے _ يہ سن كر عائشہ كو پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى وہ حديث ياد آگئي جس ميں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے يہ پيشن گوئي كى تھى كہ حواب كے كتے ازواج مطہرات ميں سے ايك پر غرائيں گے اور انہيں اس سفر سے باز رہنے كے لئے فرمايا تھا(۱۶) _ عائشہ اس حادثے سے پريشان ہوگئيں اور فرمايا :''انالله و انا اليه راجعون''


ميں وہى زوجہ ہوں جنہيں پيغمبر اكرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كے مستقبل كے بارے ميں آگاہ كرديا تھااور فوراً ہى واپس چلے جانے كا فيصلہ كيا _ ليكن طلحہ وزبير نے جب يہ ديكھا كہ عائشہ جنگ كے خيال كو ترك كيا چاہتى ہيں تو انہيں اپنى آرزوئيں خاك ميں ملتى ہوئي نظر آئيں چنانچہ انہوں نے يہ كوشش شروع كردى كہ عائشہ اپنے فيصلے سے باز رہيں بالآخر جب پچاس آدميوں نے يہ جعلى گواہى دى كہ يہ جگہ ''حَوا ب'' نہيں تو وہ مطمئن ہوگئيں _(۱۷)

ناكثين كى سپاہ بصرہ كے قريب آكر رك گئي ، عائشہ نے عبداللہ بن عامر كو بصرہ روانہ كيا اور بصرہ كے كچھ بڑے افراد كے نام خط لكھا اور ان كے جواب كا انتظار كرنے لگي_

سپاہ كى جانب عثمان بن حنيف كے نمايندوں كى روانگي

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كى جانب سے بصرہ ميں مقرر صوبہ دار عثمان بن حنيف كو جب يہ اطلاع ہوئي كہ عائشہ كا لشكرشہر ''ابوالاسود دوئلي'' كے گرد نواح ميں پہنچ گيا ہے تو انہوں نے ''عمران بن حصين'' كو سردار لشكر كے پاس بھيجاتاكہ وہ يہ جان سكيں كہ بصرہ كى جانب آنے كا كيا سبب و محرك ہے _ انہوں نے سب سے پہلے عائشہ سے ملاقات كى اور ان سے دريافت كيا كہ بصرہ كى جانب آپ كے آنے كا كيا مقصد ہے؟ انہوں نے فرمايا كہ عثمان كے خون كا بدلہ اور ان كے قاتلوں سے انتقام لينا_

طلحہ اور زبير سے بھى انہوں نے يہى سوال كيا انہوں نے بھى عائشہ كى بات دہرادى ، عثمان بن حنيف نے طلحہ سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ كيا تم نے حضرت علىعليه‌السلام كے دست مبارك پر بيعت نہيں كي؟ انہوں نے كہاں ہاں مگر ميرى بيعت دباؤ كى وجہ سے تھى _(۱۸)

عثمان بن حنيف كے نمايندگان نے تمام واقعات كى انہيں اطلاع دى عائشہ بھى اپنے لشكر كے ہمراہ ''حفر ابوموسي'' نامى جگہ سے روانہ ہوكر بصرہ ميں داخل ہوگئيں اور ''مربد'' كو جو كبھى بہت وسيع و كشادہ ميدان تھا ''لشكر گاہ'' قرار ديا _


عثمان بن حنيف نے اپنے نمايندگان سے گفتگو كرنے كے بعد فيصلہ كيا كہ جب تك اميرالمومنين حضرت على عليه‌السلام كى جانب سے كوئي حكم نامہ نہيں ملتا وہ سپاہ كو قلب شہر ميں آنے سے روكيں _چنانچہ انہوں نے حكم ديا كہ لوگ مسلح ہوجائيں اور جامع مسجد ميں جمع ہوں _

جب لوگ مسجد ميں جمع ہوگئے تو قيس نامى شخص نے صوبہ دار بصرہ كى جانب سے ان كے سامنے تقرير كى اور كہا كہ وہ عائشہ كے لشكر كا استقامت و پائيدارى سے مقابلہ كريں _(۲۰)

ابن قتيبہ كے قبول كے مطابق خود عثمان بن حنيف اور ان كے ساتھيوں نے بھى اس موقع پر تقريريں كى اور اسى دوران كہا ان دو اشخاص (طلحہ اور زبير) نے بھى حضرت علىعليه‌السلام كے دست مبارك پر بيعت كى تھى مگر يہ بيعت رضائے خداوندى كى خاطر نہ تھى اسى لئے انہوں نے عجلت كى اور چاہا كہ اس سے پہلے كہ بچہ اپنى ماں كا دودھ چھوڑ دے وہ بڑا اور جوان ہوجائے ان كا خيال ہے كہ انہوں نے دباؤ كى وجہ سے بيعت كى ہے درحاليكہ ان كا شمار قريش كے زورمند لوگوں ميں ہوتا ہے اگر چاہتے تو بيعت كرتے صحيح طريق وہى ہے جو عام لوگوں نے طے كيا ہے اور حضرت علىعليه‌السلام كے دست مبارك پر بيعت كى اب آپ لوگ بتائيں كيا رائے ہے ؟

يہ سن كر حكيم بن جبلہ عبدى اپنى جگہ سے اٹھے اور كہا كہ ہمارى رائے يہ ہے كہ اگر انہوں نے ہم پر حملہ كيا تو ہم بھى جنگ كريں گے اور اگر وہ حملہ كرنے سے باز رہے تو ہم اس كا استقبال كريں گے ، اگرچہ مجھے اپنى زندگى بہت عزيز ہے مگرراہ حق ميں جان دينے كا مجھے ذرا خوف نہيں _ دوسرے لوگوں نے بھى اس رائے كو پسند كيا _(۲۱)

پہلا تصادم

جب عائشہ كا لشكر ''مربد'' ميں داخل ہوگيا تو بصرہ كے بعض وہ لوگ جو ان كے طرفدار تھے ان كى سپاہ مےں شامل ہوگئے ان كے علاوہ بصرہ كے باشندے اور عثمان كے حامى بھى كثير تعداد ميں ان كے گرد جمع ہوگئے_


سرداران لشكر كى تقارير اور عثمان كى تحريك ''بدلہ خون'' كے باعث عثمان كے حامى و طرفدار دو گروہوں ميں تقسيم ہوگئے ايك گروہ نے عائشہ ،طلحہ اور زبير كے بيانات كى تائيد كى اور انہوں نے كہا كہ آپ يہاں عمدہ مقصد كے لئے تشريف لائے ہيں _

ليكن دوسرے گروہ نے ان پر دروغگوئي كا الزام لگايا اور كہا كہ خدا كى قسم تم جو كچھ كہہ رہے ہو وہ سراسر فريب ہے اور جو كچھ تم اپنى زبان سے بيان كررہے ہو وہ ہمارے فہم سے باہر ہے_

اس باہمى اختلاف كا نتيجہ يہ ہوا كہ انہوں نے ايك دوسرے پر خاك اچھالنى شروع كردى اور حالات كشيدہ ہوگئے_(۲۲)

سرداران لشكر مروان ، عبداللہ بن زبير اور چند ديگر افراد كے ساتھ صوبہ دار بصرہ كى جانب روانہ ہوئے اور انہوں نے عثمان بن حنيف سے درخواست كى كہ وہ اس جگہ سے چلے جائيں _ ليكن انہوں نے ان كى اس درخواست كى پروا نہ كى _

عثمان بن حنيف كے لشكر اور جارحين كے درميان شديد تصادم ہوا جو غروب آفتاب تك جارى رہا _ مدافعين كے قتل اور جانبين ميں سے بہت سے لوگوں كے زخمى ہوجانے كے بعد بعض لوگوں كى مداخلت كے باعث يہ جنگ بند ہوئي اور طرفين كے درميان عارضى صلح كا عہد نامہ لكھا گيا اس عہد نامہ صلح كى شرايط يہ تھيں كہ :

۱_ بصرہ كى صوبہ دارى و مسجد اور بيت المال حسب سابق عثمان بن حنيف كے اختيار ميں رہے گا_

۲_ طلحہ اور زبير نيز ان كے آدميوں كو يہ آزادى ہے كہ وہ بصرہ ميں جہاں بھى چاہيں آجاسكتے ہيں _

۳_ طرفين ميں سے كس كو بھى يہ حق حاصل نہيں كہ وہ دوسرے كے لئے كوئي پريشانى پيدا كرے_

۴_ يہ عہد نامہ اس وقت تك معتبر ہے جب تك حضرت علىعليه‌السلام يہاں تشريف لے آئيں اس


كے بعد لوگوں كو صلح يا جنگ كا اختيار ہوگا_

جب عہدنامے پر دستخط ہوگئے اور طرفين كے درميان صلح ہوگئي تو عثمان بن حنيف نے اپنے طرفداروں كو حكم ديا كہ وہ اپنا اسلحہ ايك طرف ركھ ديں اور اپنے گھروں كو واپس جائيں _( ۲۳)

دھوكہ وعہد شكني

لشكروں كے سرداروں نے بصرہ ميں قدم جمانے كے بعد يہاں كے قبائل كے سربرآوردہ اشخاص سے ملاقاتيں كرنا شروع كيں اور سبز باغ دكھا كر انہيں بہت سى چيزوں كا لالچ ديا جس كے باعث بہت سے دنيا اور جاہ طلب لوگوں نے ان كى دعوت كو قبول كرليا _

طلحہ اور زبير نے جب اپنا كام مستحكم كرليا تو وہ اپنے عہد كى پاسدارى سے رو گرداں ہوگئے_ چنانچہ صوبہ دار كے گھر پر شبخون ماركر عثمان بن حنيف كو گرفتار كرليا اور انہےں سخت ايذا پہنچائي ، پہلے تو انہيں سخت زدو كوب كيا اور پھر سر، داڑھى اور دونوں ابروں كے بال نوچے اس كے بعد بيت المال پر حملہ كيا وہاں كے چاليس پاسبانوں كو قتل كركے باقى كو منتشر كرديا اور خزانے ميں جو كچھ مال ومتاع موجود تھا اسے لوٹ ليا_

اس طرح شہر پر جارحين سپاہ كا قبضہ ہوگيا اور جو اہم و حساس مراكز تھے وہ ان كے تحت تصرف گئے _ جارحين نے مزيد رعب جمانے كے لئے ان لوگوں ميں سے پچاس افراد كو جنہيں انہوں نے گرفتار كيا تھا عوام كے سامنے انتہائي بے رحمى كے ساتھ وحشيانہ طور پر قتل كرديا_(۲۴)

عائشہ نے حكم ديا كہ عثمان بن حنيف كا بھى خاتمہ كردياجائے مگر ايك نيك دل خاتوں مانع ہوئيں اور انہوں نے كہا كہ عثمان بن حنيف اصحاب پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميں سے ہيں _ رسول خدا كے احترام كا پاس كيجئے اس پر عائشہ نے حكم ديا كہ انہيں قيد كرليا جائے_(۲۵)

جمل اصغر

حكيم بن جبلہ كا شمار بصرہ كے سر برآوردہ اشخاص ميں ہوتا تھا انہيں جس وقت عثمان بن حنيف


كى گرفتارى كے واقعے كا علم ہوا تو انہوں نے اپنے طائفہ ''عبدالقيس '' كے جنگجو جوانوں كو مسجد ميں بلايا اور پر ہيجان تقرير كے بعد تين آور بعض اقوال كے مطابق سات سو افراد كو لے كر حملہ كا اعلان كرديا اور جارحين سپاہ كے مقابل آگئے_

اس جنگ ميں جسے جنگ جمل اصغر سے تعبير كيا گيا ہے حكيم بن جبلہ اور انكے ساتھيوں نے سخت پائمردى سے دشمن كا مقابلہ كيا يہاں تك جس وقت بازار كارزار پورے طور پر گرم تھاجارحين لشكر كے ايك سپاہى نے حكيم بن جبلہ پر حملہ كركے ان كا ايك پير قطع كرديا انہوں نے اسى حالت ميں اس سپاہى پر وار كيا اور اسے مار گرايا وہ اسى طرح ايك پير سے دشمن سے نبرد آزما ہوتے رہے حملہ كرتے وقت يہ رزميہ اشعار ان كى زبان پر جارى تھے_

يا ساق لن تراعى

ان معى ذراعى

احمى بها كر اعي

اے پير تو غم مت كر كيونكہ ابھى ميرے ہاتھ ميرے ساتھ ہيں اور ان سے ہى ميں اپنا دفاع كروں گا_

وہ اسى حالت ميں مسلسل جنگ كرتے رہے يہاں تك كہ نقاہت وكمزورى ان پر غالب آگئي اور شہيد ہوگئے _ ان كے فرزند ، بھائي اور دوسرے ساتھى بھى اس جنگ ميں قتل ہوگئے_(۲۶)

حكيم بن جبلہ پر غلبہ پانے كے بعد جارحين لشكر كے سرداروں نے دوبارہ فيصلہ كيا كہ عثمان بن حنيف كو قتل كردياجائے مگر انہوں نے كہا كہ تمہيں معلوم ہے كہ ميرا بھائي ''سہل'' مدينہ كا صوبہ دار ہے اگر تم مجھے قتل كرو گے تو وہ تمہارے عزيز واقارب كو مدينہ ميں نيست ونابود كردے گا چنانچہ اس بنا پروہ ان كے قتل سے باز رہے اور انہيں آزاد كرديا_(۲۷)

سردارى پر اختلاف

''ناكثين'' كے لشكر سرداران كو جب ابتدائي جنگوں ميں فتح و كامرانى حاصل ہوئي اور انہوں نے شہر پر بھى قبضہ كرليا تو ان ميں يہ اختلاف پيدا ہوا كہ سربراہ كسے مقرر كياجائے ان ميں سے ہر


شخص كى يہى كوشش تھى كہ فتح كے بعد اولين نماز جو مسجد ميں ادا كى جائے اس ميں وہى امام جماعت كے فرائض انجام دے يہ باہمى كشمكش اس قدر طولانى ہوئي كہ نزديك تھا كہ آفتاب طلوع ہوجائے چنانچہ لوگوں نے بلند آواز سے كہنا شروع كيا اے صحابہ پيغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ''الصلوة الصلوة ''ليكن طلحہ و زبير نے اس كى جانب توجہ نہ كى ، عائشہ نے مداخلت كى اور حكم ديا كہ ايك روز طلحہ كے فرزند محمدا ور دوسرے روز زبير كے بيٹے عبداللہ امامت كريں گے _(۲۸)

خبر رساني

طلحہ اور زبير نے جب بصرہ پر قبضہ كرليا تو وہ كارنامے جو انہوں نے انجام ديئے تھے انكى خبر شام كے لوگوں كو بھيجى گئي _ عائشہ نے بھى ان خبروں كى تفاصيل اہل كوفہ كو لكھى اور ان سے كہا كہ حضرت علىعليه‌السلام كى بيعت سے دستكش ہوجائيں اور عثمان كے خون كا بدلہ لينے كے ئے اٹھ كھڑے ہوں _ يمامہ اور مدينہ كے لوگوں كو بھى خط لكھے گئے اور انہيں فتح بصرہ كى اطلاع كے ساتھ يورش و شورش كا مشورہ ديا گيا _(۲۹)


سوالات

۱_ جس وقت اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے زمام حكومت سنبھالى تو وہ كون سے گروہ تھے جو آپ كى مخالفت پر اتر آئے؟

۲_ وہ كون سے عوامل تھے جن كے باعث طلحہ اور زبير نے اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے دست مبارك پر بيعت كرنے كے بعد عہد شكنى كى اور مخالفين كى صف ميں شامل ہوگئے_

۳_ ناكثين كى تحريك كا اصل مركز كہاں واقع تھا اور اس كى كس طرح تشكيل ہوئي ؟

۴_ عثمان كے قتل سے قبل عائشہ كا كيا موقف تھاا ور انہوں نے اسے كيوں اختيار كيا تھا ؟

۵_ جب عثمان قتل ہوئے اور اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام بر سر اقتدار آگئے تو عائشہ نے اپنا موقف كيوں تبديل كرديا تھا؟

۶_ جب عثمان بن حنيف كو يہ علم ہوا كہ ''ناكثين'' كا لشكر بصرہ كے نزديك پہنچ گيا ہے تو انہوں نے كيا اقدام كيا ؟

۷_ حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر كے بصرہ پہنچنے سے قبل وہاں كيا كيفيت طارى تھى اس كا مختصر حال بيان كيجئے ؟


حوالہ جات

۱_ نہج البلاغہ خطبہ سوم ملاحظہ ہو جس ميں آپعليه‌السلام فرماتے ہيں :''فلما نهضت بالامر نكثت طائفة ومرقت اخرى وقسط آخرون ''_ حضرت علىعليه‌السلام سے قبل پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھى دشمنان اسلام كے بارے ميں پيشين گوئي كردى تھى _ چنانچہ حضرت علىعليه‌السلام سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خطاب كرتے ہوئے ان كے يہ نام بيان كئے تھے : ''يا على ستقاتل بعدى الناكثون والقاسطين والمارقين'' (شرح ابن ابى الحديد ج ۱/ ۲۰۱)

۲_ ''طلقاء '' وہ لوگ تھے جو فتح مكہ كے دوران مسلمانوں كے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے ليكن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سب كو آزاد كرديا تھا اور فرمايا تھا كہ''اذهبوا انتم الطلقائ''

۳_ تاريخ يعقوبى ج ۲/ ۱۸۰ _۱۷۹ _''انتما شريكاى فى القوة والاستقامة عوناى اى على العجز الا ود ''

۴_ شرح ابن ابى الحديد ج ۷/ ۴۲ _ ۴۰

۵_مالنا من هذالامر الاكحسة انف الكلب (تاريخ طبرى ج ۴/ ۴۲۹)

۶_والله ما اراد العمرة ولكنهما اراد الغدرة (تاريخ يعقوبى ج ۲/۱۸۰)

۷_ عثمان كے خلاف عائشہ كے اقوال واقدامات كے لئے ملاحظہ ہو (الغدير ج ۹/۸۶ _۷۷)

۸_اَبعده الله بما قدمت يداه وما الله بظلام للعبيد'' _ الغدير ج ۹/ ۸۳

۹_ الغدير ج ۹/ ۸۲ ابومخنف ' لوط بن ےحيى الازدى سے منقول

۱۰_ كامل ابن اثير ج ۳/ ۲۰۶ تاريخ طبرى ج ۴/ ۴۴۸ _ الغدير ج ۹ / ۸۲ / ۸۰ انساب الاشراف ج ۲/ ۲۱۷_

۱۱_ عبيد نے عائشہ كے جواب ميں يہ اشعار پڑھے:

فمنك البدء ومنك الضير

ومنك الرياح ومنك المطر

و انت امرت بقتل الامام

و قلت لنا انه قد كفر

فهبنا اطعناك فى قتله

و قاتله عندنا من امر

الامامة والسياسة ج ۱/ ۵۱_ تاريخ طبرى ج ۴/ ۴۵۹_۴۵۸ يعنى ان اختلاف كا سرچشمہ اور تغيرات كا باعث تم ہى تو ہو تمہارى وجہ سے سخت طوفان اور فتنے بپا ہوئے تم نے ہى عثمان كے قتل كا حكم ديا اور كہا كہ وہ كافر ہوگيا


ہے اب بالفرض ہم نے تمہارى اطاعت كى خاطر اس قتل ميں حصہ ليا اصل قاتل وہ ہے جس نے اس قتل كا حكم ديا _

۱۲_ تاريخ طبرى ج ۴/ ۴۴۸ _ كامل ابن اثير ج ۳/ ۲۰۷ _ انساب الاشراف بلاذرى ج ۲/ ۲۱۸

۱۳_ تاريخ طبرى ج ۴/ ۴۵۲

۱۴_ تاريخ طبرى ج ۴/ ۴۵۱ _ ابن اثير ج ۳/ ۲۰۸ _ تاريخ يعقوبى ج ۲/ ۱۸۱ ليكن طبرى كى تاريخ ج ۴/ ۴۵۰ و ۴۵۱ پر يعلى بن اميہ كے اونٹوں كى تعداد چھ ہزار چھ سو لكھى ہے _

كامل ابن اثير ۳/ ۲۰۸ تاريخ يعقوبى ۲/۱۸۱

۱۵_ تاريخ طبرى ۴/ ۴۵۲ _۴۵۱

۱۶_ اس حديث كے متن كو مختلف مورخےن نے بيان كيا ہے _ يعقوبى نے ج ۲/۱۸۱ پر نقل كيا ہے :''لا تكونى التى تنجحك كلاب الحواب'' (عائشہ تم ان ميں سے نہ ہونا جن پر حواب كے كتے بھونكيں ) ليكن ابن اثير تاريخ ج ۲/۲۱۰)كامل اور بلاذرى نے انساب الاشراف (ج ۲ / ۲۲۴)ميں اس طرح درج كيا ہے ''ليت شعرى ايتكن تبنہا كلاب الحواب '' اور ابن ابى الحديد نے ج ۱۰/ ۳۱۰ پر يہى حديث دوسرے الفاظ كے ساتھ پيش كى ہے_

۱۷_ مروج الذہب ج ۳/ ۳۵۷ _ انساب الاشراف ج ۲/ ۲۲۴ الامامة والسياسات ج ۱/۶۰ ليكن يعقوبى نے (ج ۲ /۱۸۱)شہادت دينے والوں كى تعداد چاليس لكھى ہے_

۱۸_ تاريخ طبرى ج ۴ ص ۴۶۱ كامل ابن ايثرج ۳/ ۲۱۱_

۱۹_ شرح ابن ابى الحديد ج ۹/ ۳۱۳ ، تاريخ طبرى ج ۴/ ۴۶۲ ، ۴۶۱ _ كامل ابن اثير ج ۳/۲۱۱ _الامامة والسياسة ج ۱/۶۱ يہ گفتگو اگرچہ بہت مفصل ہے مگر يہاں اس كا خلاصہ ديا گيا ہے_

۲۰ _ مربد شہر كے كنارہ پر ايك ميدان تھا جہاں منڈى لگتى تھي_

۲۱_ تاريخ طبرى ج ۴/ ۴۶۲

۲۲_ الامامة والسياسةج ۱ / ۶۱_ ۶۰

۲۳_ تاريخ طبرى ج ۴/ ۴۶۳ _ كامل ابن اثير ج ۳/ ۲۱۳ _ ۲۱۲


۲۴_ الجمل للمفيد / ۱۵۱_ ۱۵۰ _ تاريخ طبرى ج ۴/ ۴۴۶ _ كامل ابن اثير ج ۳/ ۲۱۴ مروج الذہب ج ۲/ ۳۵۸ شرح ابن ابى الحديد ج ۹ /۳۲۰ الامامة والسياسة ۱/۶۵

۲۵_ مروج الذہب ج ۲ / ۳۵۸ شرح ابن ابى الحديد ج ۹/ ۳۲۱

۲۶_ تاريخ طبرى ج ۴ / ۲۶۸ كامل ابن اثير ۲۱۶ _ ۲۱۵

۲۷ _ كامل ابن اثير ج ۳/ ۲۱۶ _۲۱۷ _ تاريخ طبرى ج ۴/ ۴۷۱ _ ۴۷۰ الجمل للمفيد / ۲۵۲ _ ۱۵۱

۲۸_ الجمل للمفيد ۱۵۳ _ كامل ابن اثير ج ۳/ ۲۱۹ _ تاريخ طبرى ج ۴/ ۴۷۴ _ يہاں يہ بات قابل ذكر ہے كہ عثمان حنيف كے اس قول كے علامہ مفيد نے بصرہ كى ايك خاتون سے نقل كيا ہے_

۲۹_ مروج الذہب ج ۲/ ۳۵۸ _ الجمل للمفيد / ۱۵۲ _ تاريخ يعقوبى ج ۲/ ۱۸۱

۳۰_ كامل ابن اثير ج ۳/ ۲۲۰ _۲۱۹ _ تاريخ طبرى ج ۴/ ۴۷۲_ عائشہ نے جو خط مدينہ اور يمامہ كے لوگوں كو لكھا تھا اس كا متن علامہ مفيد نے اپنى تاليف ''الجمل'' كے صفحہ ۱۶۰ پر درج كيا ہے_


ساتواں سبق

خلافت ظاہرى سے شہادت تك ۳

حضرت علىعليه‌السلام كى بصرہ كى جانب روانگي

ربذہ ميں قيام

لشكر كا جاہ وجلال

صلح كى كوشش

لشكر كے لئے دستورالعمل

دشمن كو متفرق كرنے كى آخرى كوشش

فيصلہ كن جنگ

عام معافي

سوالات

حوالہ جات


حضرت علىعليه‌السلام كى بصرہ كى جانب روانگي

اميرالمومنينعليه‌السلام كى حكومت كے مخالفوں كا وجود ميں آنا ان كے درميان اتحاد و الفت اور ان كے لشكر كا بصرہ كى جانب روانہ ہونا اور پھر اس پر قابض ہوجانے كوہم بيان كرچكے ہيں اب مدينہ چلتے ہيں تاكہ وہاں سے اميرالمومنينعليه‌السلام كے ساتھ بصرہ كى طرف روانہ ہوجائيں _

معاويہ نے حضرت علىعليه‌السلام كى حكومت كے خلاف سركارى سطح پر سركشى كى تھى اور اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے دست مبارك پر بيعت كرنے سے قطى انكار كرديا تھا اسى لئے حضرت علىعليه‌السلام بھى ان سے نبرد آزما ہونے كے لئے ابتدائي تيارى ميں مشغول تھے ، اس ضمن ميں انہوں نے حضرت بن حنيف، قيس بعد سعد اور ابو موسى جيسے اپنے كارپردازوں كو خطوط كے ذريعہ مطلع كيا كہ معاويہ كے خلاف جنگ كرنے كى غرض سے لوگوں كو آمادہ كريں _

اس اثناء ميں حضرت علىعليه‌السلام كو عائشہ ، طلحہ اور زبير كى سركشى نيز ان كے لشكر كى عراق كى جانب روانگى كى اطلاع ملى _ حضرت علىعليه‌السلام جانتے تھے كہ موجودہ حالات ميں ان تينوں حضرات كى يورش معاويہ كى سركشى سے كہيں زيادہ سنگين ہے كيونكہ معاويہ اسلامى حكومت كے دو دراز علاقے ميں سرگرم عمل تھا ليكن يہ لوگ مركز خلافت ميں بھى يكجا جمع اور اس كے گرد و نواح ميں شورش كيئے ہوئے تھے اس كے علاوہ بصرہ اور كوفہ سياسى اور عسكرى اعتبار سے خاص اہميت كے حامل ہيں چنانچہ اس بناء پر اس سے پہلے كہ يورش وبغاوت كے شعلے ديگر مقامات تك پہنچيں آپعليه‌السلام نے


مصلحت امر اس ميں سمجھى كہ انكے آتش فتنہ كو خاموش كرنے كے لئے خود ہى پيشقدمى كريں اگر چہ كچھ لوگوں نے يہ تجويز بھى پيش كى آپ طلحہ اور زبير كے تعاقب كو نظر انداز كرديں مگر آپ نے اس تجويز كو قبول كرنے سے قطعى انكار كرديا اور فرمايا كہ خدا كى قسم ميں بجو نہيں ہوں جس كو پكڑنے كے لئے لوگ اس كے بھٹ پر دھيمے سروں ميں گاتے بجاتے ہيں اور اچانك اس كو پكڑ ليتے ہيں _ اپنے مخالفين سے پورى طرح باخبر ہوں ميں حق پسند وں كى شمشير براں سے ان لوگوں كا كام تمام كردوں گا جنہوں نے حق كے نام پر سر كشى ويورش كا سہارا ليا ہے ميں اپنے مطيع و فرمانبردار ہمكاروں كى مدد سے ان تمام سركشوں كو جو راہ حق ميں رخنہ اندازى پر تلے ہوئے ہيں ، ہميشہ كے لئے راستے سے ہٹادوں گا اور اپنے اس عمل كو تا دم واپسين جارى ركھوں گا_

حضرت علىعليه‌السلام نے مسلمانوں كو مسجد ميں جمع ہونے كا حكم ديا جب لوگ جمع ہوگئے تو آپعليه‌السلام نے عام لوگوں پر يہ واضح كرنے كے لئے مخالفين كے اغراض و مقاصد كيا ہے اس موضوع سے متعلق درج ذيل تقرير فرمائي_

''لوگوں عائشہ بصرہ كى جانب چلى گئي ہيں _ طلحہ و زبير ان كے ہمراہ ہيں ان دونوں كا يہ خيال ہے كہ خلافت پر صرف انھى كا حق ہے كسى اور كا نہيں _ طلحہ ، عائشہ كا چچا زاد بھائي ہے اور زبير ان كے داماد ہيں (اور عائشہ كى سعى و كوشش انہى كے لئے ہے)خدا كى قسم اگر يہ دونوں اپنے مقاصد ميں بالفرض كامياب ہوبھى گئے تو پھر ان دونوں ميں وہ سخت تنازع ہوگا كہ ان ميں ايك دوسرے كى گردن ماردے گا _ خدا شاہد ہے كہ جو شخص سرخ اونٹ پر سوار ہوكر روانہ ہوتا ہے وہ زيادہ دور تك راستے طے نہيں كرتا اور اس سے كوئي عقدہ وا بھى نہيں ہوتا مگر يہ كہ وہ گناہ كے راستے پر چلے اور خدا كا غضب اس پر نازل ہوتا كہ وہ اور اس كے ساتھى ہلاكت كو پہنچيں _

خدا كى قسم انجام كار يہ ہوگا كہ ان ميں سے ايك تہائي افراد مارے جائيں گے ، ايك تہائي فرار كرجائيں گے اور ايك تہائي توبہ كرليں گے_

عائشہ وہى خاتون ہيں ''جسٌ پَر حَوْا َبْ ''كے كتے غرارہے ہيں ، طلحہ اور زبير بھى جانتے


ہيں كہ وہ ٹھيك راستے پر نہيں چل رہے ہيں _ افسوس اس عالم كے حال پر جو اپنے جہل كے باعث ماراگيا اور وہ اپنے علم سے بہرہ مند نہ ہوسكا_

مجھے قريش سے كيا سرو كار خدا گواہ ہے جب وہ حالت كفر ميں تھے ميں نے انہيں قتل كيا اس وقت بھى وہ ہوا وہوس اور شيطانى وسواس كے دام فريب ميں ہيں (اسى لئے شورش بپا كئے ہوئے ہيں )يہ سب ميرے ہاتھوں مارے جائيں گے _(۱)

حضرت علىعليه‌السلام نے افكار عامہ كو بيدار كرنے كى غرض سے دوسرے اور تيسرے روز پر ہيجان تقارير كيں اور بالآخر آپعليه‌السلام نے اعلان جنگ كرديا _ سہل بن حنيف كو مدينے ميں اپنا جانشين مقرر كيا(۲) اور خود مسلح و مجہز لشكر كے ساتھ جو سات سو سے زيادہ افراد پر مشتمل تھا مدينہ سے عراق كى جانب روانہ ہوئے_

''ناكثين'' پر قابو پانے كے لئے اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كا لشكر پہلے مكہ كى جانب روانہ ہوا ليكن جب آپ ''ربذہ(۳) '' نامى مقام پر پہنچے تو معلوم ہوا كہ مخالفين وہاں سے كوچ كرچكے ہيں _ چنانچہ وہاں سے آپعليه‌السلام نے عراق كى جانب رخ كيا _

ربذہ ميں قيام

حضرت علىعليه‌السلام نے ربذہ ميں چند روز قيام فرمايا اس عرصے ميں مدينہ سے كچھ انصار جن ميں خزيمہ بن ثابت اور تقريباً چھ سو طائفہ طى كے منظم سوار اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر سے متصل ہوگئے _(۴)

عثمان بن حنيف بھى دشمنوں كے چنگل سے نجات پانے كے بعد ربذہ ميں حضرت علىعليه‌السلام سے آن ملے انہوں نے حضرت علىعليه‌السلام سے ملاقات كرنے كے بعد كہا يا اميرالمومنينعليه‌السلام جس روز آپ نے مجھے روانہ كيا تھا اس وقت ميرى داڑھى بہت گھنى تھى ليكن آج ميں آپ كى خدمت ميں ايك بے ريش نوجوان كى صورت ميں حاضر ہوا ہو حضرت علىعليه‌السلام نے انہيں صبر كى تلقين كى اور ان كے لئے


دعا فرمائي _ (۵)

اسى طرح اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے ہاشم مرتال كو خط دے كر حاكم كوفہ كى جانب روانہ كيا تاكہ اس سے پہلے كہ طلحہ اور زبير وہاں پہنچيں وہاں كے گورنر كى عسكرى مدد حاصل كرلى جائے _ ليكن موسى اشعرى حاكم كوفہ نے صرف حضرت علىعليه‌السلام كے نمايندے سے سيدھے منہ بات نہ كى بلكہ حضرت علىعليه‌السلام كے خط كو بھى انہوں نے غايب كرديا اورہاشم مرتال كو يہ دھمكى دى كہ وہ انہيں قيدى بناليں گے انہوں نے كوفہ كے لوگوں كو بھى سختى سے منع كرديا اور كہا كہ حضرت علىعليه‌السلام كى مدد نہ كريں _ گورنر كى حيثيت سے اعلان كيا كہ اگر جنگ كى نوبت آئي تو پہلے وہ عثمان كے قاتلوں كے خلاف جنگ كريں گے اور اس كے بعد وہ دوسروں كى طرف متوجہ ہوں گے _(۶) حضرت علىعليه‌السلام كے نمايندے نے ان تمام واقعات كى اميرالمومنينعليه‌السلام كو خبر كى _

يہ خط حضرت علىعليه‌السلام كو ''ذى قار'' نامى مقام پر موصول ہوا _

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے فرزند عزيز حضرت امام حسنعليه‌السلام اور حضرت عمار ياسر كو اپنے پاس بلايا اور ان دونوں حضرات كو اس كام پر مقرر كيا كہ اہل كوفہ كے لئے وہ خط لے كر روانہ ہوں اور وہاں پہنچ كر وہاں كے لوگوں كو مدد كيلئے آمادہ كريں _

حضرت علىعليه‌السلام نے خط ابوموسى كو بھى لكھا اور انہيں ان كے منصب سے معزول كرديا _ اميرالمومنينعليه‌السلام نے اس خط ميں لكھا تھا كہ انہوں نے اپنے موقف كا صحيح استعمال نہيں كيا اور اسى بنا پر انہيں سخت تنبيہہ بھى كى اس كے علاوہ حضرت علىعليه‌السلام نے مالك اشتر كو ان كے پيچھے روانہ كيا_

حضرت امام حسنعليه‌السلام اور حضرت عمارعليه‌السلام نے كوفہ پہنچنے كے بعد حضرت علىعليه‌السلام كا خط وہاں كے لوگوں كو سنايا اور اس سلسلے ميں تقارير بھى كيں _ حضرت علىعليه‌السلام كى تحرير اور حضرت امام حسنعليه‌السلام اور حضرت عمارعليه‌السلام كى تقرير كا اثر يہ ہوا كہ اہل كوفہ ان كے گرويدہ ہوگئے اور انہوں نے اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے ساتھ خلوص نيت اور اظہار محبت كيا اور ان كے فرمان كے آگے سر تسليم خم كرديا_

حضرت امام حسنعليه‌السلام نے ابوموسى كى معزولى كا بھى اعلان كيا اور ان كى جگہ قرظة بن كعب'' كو گورنر


مقرر كيا _

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے نمايندے كى سعى و كوشش اور بصيرت افروز تقارير كے باعث كچھ لوگوں نے اپنى رضامندى كا اعلان كرديا چنانچہ چند روز بعد تقريباً سات ہزار افراد ''ذى قار'' ميں حضرت علىعليه‌السلام سے جاملے _ حضرت امام حسنعليه‌السلام كى كاميابى پر حضرت علىعليه‌السلام بہت مسرور ہوئے اور انہوں نے اپنے فرزند دلبند سے اظہار تشكر كيا_(۷)

لشكر كا جاہ وجلال

اميرالمومنينعليه‌السلام حضرت علىعليه‌السلام كا وہ مسلح وعظےم لشكر جو مدينہ اور كوفہ ميں جمع ہوا تھا اور بصرہ كے نواح ميں قيام پذير تھا اس لشكر كے بارے ميں منذر بن جارود نے لكھا ہے كہ ميں شہر بصرہ سے باہر نكل كر آيا تاكہ حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر كا نظارہ كرسكوں _

اس وقت وہاں ہزار مسلح سوار موجود تھے اور ابو ايوب انصارى تنو مند گھوڑے پر سوا ران كے پيش پيش چل رہے تھے_ ان كے علاوہ بھى وہاں دوسرے عسكرى دستے تھے جن ميں ہر دستہ ہزار مسلح افراد پر مشتمل تھا اور دستوں كى كمانڈرى خزيمہ بن ثابت ، ابو قتادہ عمار ياسر، قيس بن سعد اور عبداللہ بن عباس جيسے جليل القدر صحابہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كرتے تھے اور يہ تمام دستے ابو ايوب كى فوج كے پيچھے چل رہے تھے_

انہى جنگجو دستوں ميں ايك دستہ حضرت علىعليه‌السلام كى زير قيادت ديگر تمام دستوں سے آگے چل رہا تھا _ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے دائيں بائيں حضرت امام حسنعليه‌السلام اور حضرت امام حسينعليه‌السلام چل رہے تھے اور ان كے آگے حضرت علىعليه‌السلام تا ديگر فرزند محمد بن حنفيہ پرچم ہاتھ ميں لئے چل رہے تھے_ عبداللہ ابن جعفر ،حضرت علىعليه‌السلام كے پيچھے تھے ان كے علاوہ عقيل كے فرزند اور بنى ہاشم كے نوجوانوں نے حضرت علىعليه‌السلام كو انگشترى كے نگينہ كى طرح اپنے درميان لے ركھا تھا _ كچھ معمر بدرى بزرگ (مہاجر و انصار)بھى ان ہى دستوں ميں نظر آرہے تھے_(۸)


بصرہ پہنچنے سے قبل حضرت علىعليه‌السلام نے ''زاويہ'' نامى جگہ پر قيام فرمايا اور يہاں چار ركعت نماز ادا كى نماز سے فارغ ہونے كے بعد آپ نے دوبارہ سجدہ كيا اور اس قدر گريہ و زارى كى كہ آنكھوں سے آنسو جارى ہوگئے پھر دعا كے لئے ہاتھ آسمان كى طرف اٹھائے اور عرض كى خداوند تعالى اس جماعت نے ميرے حكم كى نافرمانى كركے مجھ پر ظلم كيا ہے يہ لوگ بيعت سے منحرف ہوگئے ہيں _ اے خدا اب تو ہى مسلمانوں كى حفاظت فرما _(۹)

صلح كى كوشش

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كا مقصد جنگ كرنا نہ تھا بلكہ آپ چاہتے تھے كہ ''ناكثين'' نے جو فتنہ كى آگ بھڑكائي ہے اسے خاموش كرديں اس مقصد كى برآورى كيلئے اور كشت وخون كو روكنے كى خاطر ، حضرت علىعليه‌السلام نے ہر ممكن كوشش كى اور جو بھى ممكن طريقہ ہوسكتا تھا آپعليه‌السلام اسے بروئے كار لائے اميرالمومنينعليه‌السلام نے جو صلح طلبانہ اقدامات كئے ان كے چند نمونے يہاں پيش كئے جاتے ہيں :

۱_ بصرہ پہنچنے سے قبل آپعليه‌السلام نے صعصعہ بن صوحان اور عبداللہ بن عباس كو جداگانہ طور پر خط دے كر عائشہ ، طلحہ اور زبير كے پاس بھيجا كہ شايد ان كو مذاكرہ اور پند ونصيحت كے ذريعے جنگ كرنے سے باز ركھاجاسكے _ ليكن ان لوگوں نے حصرت علىعليه‌السلام كے نمايندگان اور آپعليه‌السلام كے پند ونصايح كے آگے سر تسليم خم نہ كيا اور جنگ كے علاوہ كوئي دوسرا راستہ اختيار كرنے سے انكار كرديا_(۱۰)

۲_ حضرت علىعليه‌السلام نے جنگ كے دن فيصلہ كيا كہ كلام اللہ كو درميان لاكر اسے حكم قرار ديں _ چنانچہ آپعليه‌السلام نے حضرت مسلم نامى شخص كو قرآن پاك ديا اور فرمايا كہ ان لوگوں سے كہو كہ ہمارے اور تمہارے درميان قرآن ہى حاكم ومنصف ہے ، خدا سے ڈرو اور مسلمانوں كا خون بہانے سے گريز كرو _

اس جوان نے حضرت علىعليه‌السلام كے حكم پر عمل كيا ليكن انہوں نے مسلم كا وہ ہاتھ قلم كرديا جس ميں


قرآن مجيد تھا انہوں نے قرآن دوسرے ہاتھ مےں لے ليا اور حسب سابق انہيں قرآنى حكومت كى دعوت دى مگر ان سنگدلوں نے ان كا دوسرا ہاتھ بھى قطع كرديا اور انہيں شہيد كرديا _ (۱۱)

۳_ حكومت قرآن كى دعوت دينے والے جوان مسلم كے قتل نے كشت وخون كا سد باب كرنے والے اقدامات سے حضرت علىعليه‌السلام كو مايوس كرديا _ آپعليه‌السلام نے آخرى مرتبہ عمار ياسر كو بھيجا يہ وہ بزرگ صحابى تھے جن كے بارے ميں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا تھا كہ جو لوگ انہيں قتل كريں گے ان كا شمار ظالموں ميں ہوگا اور ان كے مقام و مرتبے نيز ايمان كے بارے ميں نبى اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا تھا: حق ہميشہ عمار كے ساتھ ہے اور عمار حق سے پيوستہ _''عمار'' نے بھى پند و نصيحت كے ذريعے سمجھانے كى كوشش كى انہوں نے دشمنوں كى سپاہ سے خطاب كرتے ہوئے كہا اے لوگو تم نے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ انصاف كا رويہ اختيار نہ كيا تم نے اپنى عورتوں كو تو اپنے گھروں ميں محفوظ كرديا اور زوجہ مطہر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو گھر سے نكال كر نيزوں اور تلواروں كے روبرو لے آئے_

اس كے بعد وہ مزيد آگئے بڑھے اور عائشہ كے ہودج كے مقابل آكر ان سے گفتگو كى ان كى يہى كوشش تھى كہ وہ ان فتنہ انگيزوں كے ساتھ شريك نہ ہوں وہ ابھى گفتگو كرہى رہے تھے كہ دشمن كے تير ہر جانب سے ان كى طرف آنے لگے _ اگرچہ انہوں نے اپنے سر كو اس طرف يا اس طرف خميدہ كركے خود كو تيروں كى زد سے بچاليا اور قطع گفتگو كركے اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں حاضر ہوئے اور كہا كہ : جنگ كے علاوہ چارہ نہيں ہے_(۱۲)

۴_ ناكثين كى جانب سے شدت كے ساتھ مسلسل تير اندازى شروع ہوگئي ادھر سپاہ اسلام كا نعرہ بلند ہوا كہ : يا اميرالمومنينعليه‌السلام دشمن ہم پر تيروں كى بارش كر رہا ہے دفاع كا حكم صادر كيجئے_

اس وقت ايك مرد كا جنازہ اميرالمومنينعليه‌السلام كے روبرو لايا گيا جسے دشمن نے اپنے تيروں كا نشانہ بنايا تھا_

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے يہ حالت ديكھ كر رخ مبارك آسمان كى جانب كيا اور زبان حال سے فرمايا :خداوند تو عادل وداد گر ہے شاہد و گواہ رہنا _اس كے بعد اپنے ساتھيوں سے كہا كہ تم صبر


كرو تاكہ دشمن پر حجت تمام ہوجائے اس كے بعد ايك جنازہ اور لايا گيا ، حضرت على عليه‌السلام نے اس مرتبہ بھى وہى بات دہرادى يہاں تك كہ صحابى بزرگ عبداللہ بن بديل اپنے فرزند كا جنازہ لے كر آئے اور اسے حضرت علىعليه‌السلام كے ربرو ركھ ديا اور عرض كيا كہ يا اميرالمومنينعليه‌السلام ہم كب تك صبر كريں دشمن ہمارے جوانوں كو يكے بعد ديگرے قتل كئے جارہا ہے _(۱۳)

حضرت علىعليه‌السلام مسلسل تين دن تك پورى كوشش كرتے رہے كہ جنگ وخون ريزى نہ ہو مگر افسوس انہيں اپنے اس ارادے ميں كاميابى نہ ہوئي چنانچہ آپ نے خود كو اس اقدام كے ربرو پايا جو پہلے كئي مرتبہ انجام پذير ہوا تھا اس كے بعد اميرالمومنينعليه‌السلام نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى زرہ پہنى ، عمامہ سر مبارك پر ركھا _ ذوالفقار كمر ميں حمائل كى دلدل پر سوار ہوكر پرچم محمد بن حنفيہ كو ديا(۱۴) مجہز و مسلح ہوكر آپ نے لشكر كا معائنہ كيا جو كہ بيس ہزار پر مشتمل تھا_ طلحہ اور زبير نے بھى اپنے لشكر كا معائنہ كيا جس ميں تيس ہزار سے زيادہ نفوس شامل تھے اب دونوں لشكر پورى طرح جنگ كے لئے آمادہ و تيار تھے _

لشكر كے لئے دستورالعمل

دشمن پر حملہ كرنے سے قبل حضرت علىعليه‌السلام نے اپنى سپاہ كے لئے چند نكات صادر كئے اور فرمايا كہ جب دشمن كو شكست ہوجائے تو مجروحين سے جنگ نہ كريں ، قيديوں كو قتل نہ كياجائے، فرار كرنے والوں كا تعاقب نہ كياجائے _ عورتوں كو برہنہ نہ كياجائے_ مقتولين كے ناك كان قطع نہ كئے جائيں كسى كى پردہ درى نہ ہو ، فاتح سپاہى مفتوحےن كے مال كے پاس سے بھى نہ گذريں البتہ ميدان جنگ ميں اگر ہتھيار' گھوڑے ' غلام يا كنيز ہاتھ آجائيں ' تو انہيں غنيمت ميں لے ليں _(۱۵)


دشمن كو متفرق كرنے كى آخرى كوشش

دونوں لشكر ايك دوسرے كے مقابل صف آرا ہوئے اس سے قبل كہ جنگ شروع ہو حضرت علىعليه‌السلام كو يہ موقع مل گيا كہ زبير ان كے سامنے آگئے _ اگر چہ حضرت علىعليه‌السلام نے ان سے چند ہى جملے كہے جن كا ان كے دل پر ايسا گہرا اثر ہوا كہ دشمن كے سرداروں ، فوج كى تشكيل كا شيرازہ منتشر ہوگيا جس وقت حضرت علىعليه‌السلام نے گفتگو كے دوران زبير كو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى حديث سنائي اور كہا كہ اے زبير كيا وہ دن ياد ہے جب كہ تو نے ميرى گردن ميں اپنا ہاتھ حمايل كر ركھا تھا اور پيغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے يہ ديكھ كر تجھ سے پوچھا تھا كہ كياتجھے على سے بہت پيا ر ہے؟ اور تو نے جواب ديا تھا آخر كيوں نہ پيار كروں يہ ميرا ماموں زاد بھائي ہى تو ہے اس كے بعد پيغمبرا كرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا تھا تو مستقبل قريب ميں اس سے جنگ كرے گا درحاليكہ تو ستمگر ہوگا _(۱۶) زبير نے جب يہ حديث سنى تو كہا''انا لله وانا اليه راجعون'' مجھے پورا واقعہ ياد آگيا ميں آپعليه‌السلام سے ہرگز جنگ نہ كروں گا اس كے بعد انہوں نے ديگر سرداران كى پر ہيجان اور وسوسہ انگيز باتوں كى جانب توجہ كئے بغير ميدان جنگ سے كنارہ كشى اختيار كرلى اور ''وادى اسباع''نالى مقام پر ''عمروبن جرموز'' كے ہاتھوں قتل ہوئے _(۱۷)

حضرت علىعليه‌السلام نے اس خيال سے كہ شايد طلحہ بھى جنگ سے باز رہيں اور نوبت خون ريزى كى نہ آئے ان سے بھى ملاقات كى اور فرمايا كہ وہ كون سا عامل تھا جس كے باعث تو نے شورش و سركشى كى _ انہوں نے جواب ديا كہ عثمان كے خون كا بدلہ ، اس پر حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا : خدا اس شخص كو پہلے قتل كرے جو اس گناہ ميں ملوث ہو _ پھر فرمايا : اچھا يہ بتا كہ عثمان كا قاتل كون ہے ميں يا تو ؟ كيا تو نے نہيں سنا كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ميرے بارے ميں فرمايا تھا : خدايا تو اسے دوست ركھ جو علىعليه‌السلام كا دوست ہو اور اسے دشمن ركھ جو على سے دشمنى كرے كيا تو ان لوگوں ميں شامل نہ تھا جنہوں نے سب سے پہلے بيعت كي؟ طلحہ نے كہا ميں توبہ واستغفار كرتاہوں اس كے بعد وہ بھى كسى كى پند و نصيحت كے بغير ميدان جنگ سے چلے گئے _(۱۸)

ليكن ان كا بھى وہى انجام ہوا جس سے زبير دوچار ہوئے تھے_ مروان كيونكہ عائشہ كے لشكر


ميں تھا اوراس نے ديكھ ليا تھا كہ حضرت على عليه‌السلام طلحہ كے ساتھ گفتگو ميں مشغول ہيں تو اسے يہ خوف لاحق ہوا كہ كہيں وہ بھى حضرت علىعليه‌السلام كى بصيرت افروز تقرير سے متاثر نہ ہوجائيں _ دوسرى طرف مروان كا يہ گمان تھا كہ عثمان كے قتل كى سازش ميں وہ بھى ملوث ہے چنانچہ اس نے اس موقع كو غنيمت جانا اور اس وقت جب كہ ہنگامہ كا ر زار گرم تھا مروان نے طلحہ كى پشت پر تير مارا اور انہيں زمين پر گراديا(۱۹)

فيصلہ كن جنگ

سرداران سپاہ كى اشتعال انگيز تقارير پر تيس ہزار سے زيادہ افراد پر مشتمل مسلح لشكر كى تيارى ' بعض سرداران قبائل كے نام تحرير و زبانى پيغام رساني، مختلف شہروں كے لوگوں كى شورش و سركشى ميں شركت ودعوت ، لشكر كشى كے ذريعے بصرہ پر قبضہ ، وہاں كے بعض مسلمانوں كا قتل اور ان كى شكنجہ كشى ايسے قرائن وشواہد ہيں جو اس پر دلالت كرتے ہيں كہ مخالف سرداروں ، گورنروں كا كشت وخون كا مقصد اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كى حكومت كو سرنگوں كرنے كے علاوہ كچھ نہ تھا ان حالات ميں حضرت علىعليه‌السلام كے ہمدردانہ پند ونصايح اور صلح پسندانہ اقدامات كا ان كے دلوں پر اثر نہ ہونا فطرى تھا اسى لئے انہوں نے پہلے تو حضرت علىعليه‌السلام كى لشكر كى جانب تير اندازى كى اس كے بعد چند سپاہيوں كو قتل كركے دائيں اور بائيں جانب سے حملہ شروع كرديا_

اميرالمومنينعليه‌السلام حضرت علىعليه‌السلام نے پرچمدار لشكر محمد حنفيہ كو حكم ديا كہ دشمن كى فوج كے قلب پر حملہ آور ہوں ليكن مسلسل تير اندازى كے باعث انكى نظروں كے سامنے چونكہ اندھيرا سا چھاگيا تھا اسى لئے حملہ كرنے ميں انہيں تردد ہوا اس پر حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا كہ پيشقدمى كيوں نہيں كرتے ؟ محمد حنفيہ نے اس كى وجہ بتائي_

اس پر حضرت علىعليه‌السلام نے پرچم ان كے ہاتھ سے لے ليا اور خود ہى غرائے شير كى مانند دشمن پر حملہ كرديا، حملہ كرنا تھا كہ دشمن كا لشكر اس طرح منتشر ہوگيا گويا تند و تيز ہوا كے جھونكے نے گرد وخاك


كو ادھر ادھر بكھير ديا ہو _ (۲۰)

اس موقع پر ''ازد بنى ناجيہ'' اور'' بنى ضبہ'' جيسے عرب قبائل اونٹ كے گرد جمع ہوگئے جس پر لشكر كا كمانڈر سوار تھا اور بھڑكى ہوئي جنگ ميں غير معمولى فداكارى كا مظاہر كيا _

خلاف معمول عائشہ كے لشكر كے ساتھ پرچم نہ تھا البتہ پرچم كى جگہ لشكر سے آگے آگے اونٹ (جمل) چل رہا تھا اور يہى گويا ان كا پرچم تھا(۲۱) _ اور اسى سے ان كے سپاہيوں كى حوصلہ افزائي ہو رہى تھى اور جب تك يہ اونٹ اپنى جگہ قائم رہا دشمن نے خود ميں كسى قسم كى كمزورى يا شكست محسوس نہ كى _

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے مالك اشتر كو حكم ديا كہ وہ دشمن كے بائيں بازو پر حملہ آور ہوں اور انہوں نے جسے ہى ميسرہ پر حملہ كيا لشكر دشمن كى صفيں يك لخت منتشر ہوگئيں اور انہوں نے اپنى عافيت راہ فرار ميں سمجھي_

اب جو لشكر باقى رہ گيا تھا وہ حسب سابق ''اونٹ'' اوراس كے سوار كا دفاع وتحفظ كر رہا تھا _ فطرى طور پر اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كى سپاہ نے بھى اپنى پورى طاقت اسى حصہ پر لگادى تھى _ چنانچہ اس ''اونٹ'' كے گرد شديد خونى جنگ شروع ہوگئي _(۲۲)

سرگردنوں سے جدا ہو كر ، ہاتھ جسموں سے كٹ كٹ كر فضا ميں بكھر رہے تھے نوك شمشير مسلسل دشمن كے شكموں كو چاك كئے جارہى تھيں مگر اس كے باوجود عائشہ كے سپاہى اس اونٹ ''جمل'' كى حفاظت آہنى فصيل كى مانند كر رہے تھے انہوں نے اس اونٹ كو اپنے حلقہ مےں لے ركھا تھا اور اس كا سختى سے دفاع كيا جارہا تھا_

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے سمجھ ليا كہ جب تك يہ اونٹ اپنے پيروں پر كھڑا رہے گا جنگ كا خاتمہ نہ ہوگا اس پر آپعليه‌السلام نے اپنے لشكر كو مخاطب كرتے ہوئے فرمايا كہ اس اونٹ كى ٹانگيں كاٹ دو كيونكہ جيسے ہى يہ اونٹ زمين پر گرے گا دشمن كا لشكر منتشر ہوجائے گا_(۲۳)

حضرت علىعليه‌السلام كے فرمان كے مطابق تلواريں بلند ہوئيں او ہر طرف سے تيروں كى بارش جمل كى


جانب ہوگئي يہاں تك كہ تيروں كے پھل اس اونٹ كے پورے بدن ميں اتر گئے_

جن لوگوں نے اونٹ كى مہار اپنے ہاتھوں ميں سنبھال ركھى تھى وہ يكے بعد ديگرے زمين پر گرنے لگے ان ميں سب سے پہلے گرنے والا بصرہ كا مشہور و معروف قاضى ''كعب بن سور'' تھا اس نے قرآن مجيد اپنى گردن ميں حمايل كر ركھا تھا اس كے ايك ہاتھ ميں عصا اور دوسرے ميں اونٹ كى مہار اس كے بعد قريش نے پيش قدمى كى اور انہوں نے بھى مہار كو اپنے ہاتھ ميں تھاما يہاں تك كہ ستر افراد نے يكے بعد ديگرے دفاع كى خاطر جان دے دى ، قريش كے بعد بنى ناجيہ، بنى ضبہ اور ازد قبائل كے لوگوں نے بالترتيب اس كے مہار كو سنبھالا ليكن وہ بھى قتل ہوئے مختصر يہ كہ بقول زبير جس نے بھى اس اونٹ كى مہار كو تھاما وہ فوراً ہى مارا گيا _(۲۴)

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے ان گروہوں كے ہمراہ نخعى اور ہمدانى قبائل كے حامى و طرفدار تھے مركزى نقطے كى جانب شدت سے حملہ كركے دشمن كو منتشر و متفرق كرديا اور بجير نخعى سے فرمايا كہ اس وقت يہ اونٹ تمہارے دست اختيار ميں ہے اس كى ٹانگوں كى رگيں كاٹ دو ، بجير نے شمشير سے اس پر حملہ كيا اونٹ زور سے چيخا اور زمين پر گر پڑا جب وہ زمين پر گر گيا تو باقى لشكر بھى فرار ہوگيا_

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے سپاہيوں نے آپعليه‌السلام كے حكم سے عائشہ كے كجاوہ كو ايك طرف منتقل كيا پہلے تو اس اونٹ كو مار كر جلايا اور پھر اس كى راكھ كو فضا ميں منتشر كرديا_

حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے اس حكم كے ثبوت نيز اس كى تائيد ميں كتاب خدا سے استشہاد پيش كرتے ہوئے فرمايا كہ اے لوگو يہ اونٹ بنى اسرائيل كے بچھڑے كى طرح منحوس و فتنہ انگيز حيوان تھا اس كے بعد آپ نے اس آيت كى تلاوت كى جو حضرت موسىعليه‌السلام نے سامرى سے خطاب كرتے ہوئے پڑھى تھى _

اپنے اس خدا كو ديكھو جس كى تم پرستش كرتے ہو كہ ہم اسے كس طرح جلاتے ہيں اور پھر اس كى راكھ كو دريا ميں بہاديں گے _(۲۵)


اور اس طرح جنگ جمل تمام ہوئي ، حضرت على عليه‌السلام كى حكومت كو ابھى چھ ماہ كا عرصہ بھى نہيں گزر ا تھا كہ يہ جنگ آپ پر مسلط كردى گئي اور ماہ جمادى الاخر سنہ ۳۶ ھ ميں '' ناكثين'' كى مكمل شكست پر اس كا مكمل طور پر خاتمہ ہو گيا اور جانبين كا كثير جانى و مالى نقصان ہوا _

عام معافي

دشمن پر غلبہ حاصل كرنے كے بعد حضرت عليعليه‌السلام نے حكم ديا كہ جنگ سے قبل جو حكم ديا گيا تھا اسے سپاہيوں كے سامنے دوبارہ پڑھا جائے _

اس كے ساتھ ہى اعلان كيا گيا كہ كسى ايسى عورت سے جس كا شوہر جنگ ميں مارا گيا ہے فورا نكاح نہ كيا جائے بلكہ اسے موقع ديا جائے كہ عرصہ عدت كو پورا كرے _(۲۶)

عائشہ كے سلسلہ ميں بالخصوص محمد بن ابى بكر كو حكم ديا گيا كہ وہ اپنى بہن كے پاس جائيں اور ان كى دلجوئي كريں اگر ان كو تير لگا ہو يا جسم پر زخم آيا ہو تو اس كا علاج كر ديا جائے محمد كے جانے كے بعد حضرت علىعليه‌السلام بذات خود عا يشہ كى خدمت ميں تشريف لے گئے اور عصا سے عا يشہ كے كجادہ كى طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا كہ اے حميرا كيا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تمہيں يہى كرنے كا حكم ديا تھا ؟ كيا آنحضرت نے يہ نہيں فرمايا تھا كہ تم اپنے گھر مےں بيٹھنا خدا كى قسم جو تمہيں گھر سے نكال كر باہر لائے ہيں انہوں نے تمہارے ساتھ انصاف نہيں كيا انہوں نے اپنى خواتين كو پس پردہ بٹھا ديا اور تمہيں وہ ميدان جنگ ميں لے آئے _

اس كے بعد آپعليه‌السلام نے ان كے بھائي كو حكم ديا كہ وہ عا يشہ كو حرث بن ابى طلحہ كى بيٹى صفيہّ كے پاس لے جائےں جہاں چند روز آرام كريں جب حالات معمول پر آگئے تو حضرت عليعليه‌السلام نے عبداللہ بن عباس كو اس كام پر مقرر كيا كہ وہ عا يشہ كے پاس جائيں اور انھيں مدينہ واپس چلنے كے لئے آمادہ كريں _

عائشہ نے اگرچہ شروع ميں تو چلنے سے انكار كيا مگر جب ابن عباس نے ان سے بار بار كہا اور


انھيں يہ بتايا كہ حضرت علي عليه‌السلام نے فيصلہ كر ليا ہے كہ آپ كو مدينہ لے جايا جائے تو مجبورا وہ تيار ہو گئيں _

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے عا يشہ كے سفر كى تيارى شروع كى اور انھيں انكے بھائي عبدالرحمن ' تيس سپاہيوں اور قبيلہ القيس و ہمدان كى بيس عورتوں كى نگرانى ميں مدينہ كى جانب روانہ كى ان سب نے عائشہ كى انتہائي خدمت كى اور ان كے ساتھ پورے اعزاز و احترام كا سلوك كيا(۲۷) يہاں يہ بات بھى قابل توجہ و ذكر ہے كہ حضرت عليعليه‌السلام نے عائشہ كى پورى حفاظت اس بنا پر كى كہ كہيں ايسا نہ ہو كہ انھيں كہيں راستے مےں كوئي گزند پہنچے حضرت عليعليه‌السلام كى جانب سے عا يشہ كے تحفظ كا مقصد يہ بھى ہو سكتا ہے كہ زوجہ مطہرہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے مرتبہ كا پاس كر كے ان كا مقصد مقام رسالت كا احترام كيا جائے اس كے علاوہ حضرت علىعليه‌السلام كو يہ خدشہ تھا كہ اگر عائشہ كا قتل ہو گيا تو كہيں ايسا فتنہ بپانہ ہو جائے جو عثمان كے قتل كى وجہ سے رونما ہوا تھا چنانچہ عمر و عاص نے جنگ كے بعد عائشہ سے كہا تھا كہ : اے كاش تم جنگ ميں قتل كر دى گئي ہوتيں عا يشہ نے اس كا مطلب دريافت كيا تو اس نے كہا كہ اگر تم مارى جاتيں تو جنت ميں جاتيں اور ہم اس مسئلے كو حضرت علىعليه‌السلام كے خلاف حملہ كرنے كا اہم ترين بہانہ بناليتے(۲۸) _


سوالات

۱ _ '' ناكثين'' كى شورش كے بارے مےں اطلاع حاصل كرنے سے قبل حضرت علىعليه‌السلام كس شخص سے جنگ كرنے كيلئے تيار تھے اور آپ نے اپنا ارادہ كيوں بدل ديا ؟

۲ _ حضرت عليعليه‌السلام نے كس منزل پر اور كن افراد كو كوفہ كى جانب روانہ كيا وہاں انھيں كيسے كاميبابى حاصل ہوئي؟

۳ _ كشت و خون روكنے كيلئے حضرت علىعليه‌السلام نے كيا اقدامات كئے ؟ انكى تين مثاليں بيان كيجئے _

۴ _ فيصلہ كن جنگ كس طرح شروع ہوئي عا يشہ كے تحفظ و دفاع ميں كون سے قبائل پيش پيش اور سرگرم عمل تھے ؟

۵ _ جنگ كے بعد جو افراد باقى رہ گئے تھے انكے ساتھ حضرت عليعليه‌السلام بالخصوص عا يشہ كے ساتھ كيا سلوك رہا ؟

۶ _ جنگ جمل ميں كس جگہ كو مركزيت حاصل تھى اور حضرت عليعليه‌السلام نے اس كى كس طرح سركوبى كى ؟

۷_ حضرت عليعليه‌السلام نے عا يشہ كى حفاظت كے لئے كيوں اس قدر اہتمام كيا ؟


حوالہ جات

والله لا اكون كالضبع تنام على طول اللّارم حتى يصل اليها طالبها و يختلها راصدها ولكننى اضرب بالمقبل الى الحق المدبر عنه و باالسامع المطيع العاصى المريب ابدا حتى ياتى على يؤمى

۱_ شرح ابن ابى الحديد ج ۲/۲۳۳ ، ارشاد مفيد ۱۳۱_

۲_ الجمل للمفيد /۱۲۹ الامامة السياسة ج ۱/ ۵۳ ميں سہل كى بجائے قسم بن عباس كا ذكر ملتا ہے_

۳_ يہ جگہ ذات عرق كے قريب حجاز ومدينہ كے درميان تين روزہ راہ كى دورى پر واقع ہے (معجم البلدان ج ۳/۲۴ مروج الذہب ج ۲/ ۳۵۹ _ ۳۵۸

۴_ مروج الذہب ج ۲/ ۳۵۹_ ۳۵۸

۵_ كامل ابن اثير ج ۳/ ۲۲۶ ، تاريخ طبرى ج ۴/ ۴۸۰ ،تاريخ يعقوبى ج ۲/ ۱۸۲ ، شرح ابن ابى الحديد ج ۹/ ۳۲۱_

۶_ الجمل للمفيد /۱۳۰ _ شرح ابن ابى الحديد ج ۱۴/ ۹

۷_ تاريخ طبرى ج ۴/ ۴۷۸ ، ۴۷۷ ، كامل ابن اثير ج ۳/ ۲۷۷ ، شرح ابن ابى الحديد ج ۱۴/ ۹

۸_ ملاحظہ ہو مروج الذہب ج ۲/ ۳۵۹ ، والجمل / ۱۳۸، طبرى ج ۴/ ۵۰۰ اور ابن ابى الحديد نے ج ۱۴ /۲۱ پر ابى الطفيل سے نقل كيا ہے كہ اس سے قبل كہ سپاہ كوفہ پہنچے حضرت علىعليه‌السلام نے پيشن گوئي كردى تھى كہ كوفہ سے ايك ہزار ايك سپاہى آئيں گے اور ايسا ہى ہوا _ راوى كا كہنا ہے كہ ميں نے انہيں گنا ان ميں سے نہ كم تھا نہ ايك زيادہ_

۹_ مروج الذہب ج ۲/ ۳۶۱ _ ۳۵۹ كا خلاصہ

۱۰_ مروج الذہب ج ۲/ ۳۶۱''اللهم ان هؤلاء القوم قد خلعوا طاعتى بغوا على ونكثوا بيعتى اللهم احقن دماء المسلمين ''_

۱۱_ الجمل للمفيد / ۱۶۷

۱۲_ مروج الذہب ج ۲/ ۳۶۱ ، الجمل للمفيد /۱۸۱ تاريخ طبرى ج ۴/ ۵۰۹ _۵۱۱


۱۳_ مروج الذہب ج ۲/ ۳۶۲

۱۴_ الجمل للمفيد / ۱۸۲ ، شرح ابن ابى الحديد ج ۹/۱۱ ، تاريخ يعقوبى ج ۲/ ۱۸۲ ، ليكن تاريخ يعقوبى اورشرح ابن ابى الحديد ميں مقتول كو عبداللہ كا بھائي تحرير كيا گيا ہے _

۱۵ _ شرح ابن ابى الحديد ج ۹ /۱۱۱

۱۶_ مروج الذہب ج ۲/ ۲۶۲ _ الجمل للمفيد /۱۸۲

۱۷_ اماانك ستحاربہ و انت ظالم لہ

۱۸_ مروج الذہب ج ۲/ ۳۶۳ زبير كے سلسلے ميں يہ روايت بھى ملتى ہے كہ وہ بھى دوسروں كى طرح حضرت علىعليه‌السلام كے ساتھ آخرى لمحہ تك جنگ كرتے رہے ليكن جب اصحاب جمل كو شكست و ہزيمت ہوئي تو انہوں نے بھى راہ فرار اختيار كى جس وقت وہ فرار كررہے تھے تو اچانك جرموزے نے انہيں غافل پاكر قتل كرديا (سيرة الائمہ اثنى عشر ج ۱/ ۴۵۵)ان اقوال كے علاوہ يہ قول بھى ہے كہ جب زبير نے كنارہ كشى كا فيصلہ كرليا تو ان كے فرزند عبداللہ نے ان پر يہ الزام لگايا كہ وہ جنگ سے خوف زدہ ہوگئے ہيں اور انہيں قسم ياد لائي اور كفارہ دينے كو كہا زبير نے اپنے غلام كو آزاد كركے كفارہ ادا كيا اور بيٹے نے جو الزام لگايا تھا اسے دور كرنے كے لئے انہوں نے تلوار اٹھائي اور اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كى لشكر پر حملہ آور ہوگئے ملاحظہ ہو تاريخ الفداء ج ۱/ ۱۷۴ _ ۱۷۳

۲۰_ مروج الذہب ج ۲/۳۶۴ تاريخ يعقوبى ج ۲/ ۱۸۲ ، انساب الاشراف ج ۲/ ۲۴۸ ، الجمل للمفيد / ۲۰۴ شرح ابن ابى الحديد ج ۹/ ۱۱۳

۲۱_ مروج الذہب ج ۲/ ۳۶۶ ، الجمل للمفيد / ۱۸۳ ، تاريخ طبرى ج ۴/ ۵۱۴ ، سيرة الائمہ اثنى عشر ج ۱/ ۴۵۷ ، شرح ابن ابى الحديد ج ۱/ ۲۵۷

۲۲_ تاريخ ابن اعثم / ۱۷۶ و شرح ابن ابى الحديد _

۲۳_ شرح ابن ابى الحديد ج / ۲۵۸

۲۴ _ اعقروا الجمل فانہ ان عقر تفرقوا (تاريخ طبرى ج۴ / ۵۱۹)_

۲۵ _ تاريخ طبرى ج / ۴/ ۵۱۹ ' اسد الغابہ ۳ / ۳۰۸ ' شرح ابن ابى الحديد ج۱ / ۲۶۵ _


۲۶ _ سورہ طہ آيہ ۹۶ ملاحظہ ہو شرح ابن ابى الحديد ج۱ / ۲۶۶ _

۲۷ _ اس حكم كے جارى كرنے سے حضرت عليعليه‌السلام كا مقصد يہ تھا كہ دشمن كے افراد كے ساتھ وہى سلوك كيا جائے جو مسلمانوں كے ساتھ روا كھا جاتا ہے ان كے ساتھ كفار كا _ سا برتاؤ نہ كيا جائے _

۲۸ _ ملاحظہ ہو كامل ابن اثير ج۳ / ۲۵۸ ' خ ۲۵۵ ' تاريخ طبرى ج ۴ / ۴۴،۵ ۴،۵۳

۹ ۲ _ شرح ابن ابى الحديد ج۶ / ۳۲۲ _


آٹھواں سبق

خلافت ظاہرى سے شہادت تك ۴

حضرت عليعليه‌السلام كى بصرہ ميں آمد

جنگ جمل كے ناخوشگوار نتائج

كوفہ ، دارالحكومت

كوفہ پہنچنے پر عليعليه‌السلام كے اقدامات

قاسطين

معاويہ كى تخريب كاري

امام عليعليه‌السلام كا نمايندہ معاويہ كى جانب

سركشى كے اسباب

مشہور و معروف اشخاص كو اپنانا

سوالات

حوالہ جات


حضرت عليعليه‌السلام كى بصرہ كى آمد

جنگ جمل ختم ہونے كے بعد حضرت عليعليه‌السلام نے تين روز تك معركہ گاہ پر قيام فرمايا متقولين كى نماز جنازہ پڑھائي حكم ديا كہ دشمن كے مقتولين كو جمع كر كے انھيں دفن كيا جائے شہداء كو حضرت علىعليه‌السلام كے فرمان كے مطابق ان كے لباس ميں ہى دفن كيا گيا(۱) جسموں سے جو اعضاء الگ ہو گئے تھے انھيں يك جا ايك بڑى قبر مےں دفن كياگيا _

مال غنيمت كو (سوائے اس اسلحہ كے جس پر مہر خلافت ثبت تھى)سپاہ ميں مساوى تقسيم كيا خود بھى ايك حصہ اس مےں سے ليا باقى مال جو جنگ مےں ہاتھ آيا تھا اور اس كا شمار مال غنيمت مےں نہےں ہوتا تھا مسجد مےں لے جايا گيا تاكہ ان كے مالك يا وارثين كى تحويل ميں دے ديا جائے _(۲)

بصرہ پہنچنے كے بعد حضرت علىعليه‌السلام سيدھے مسجد مےں تشريف لے گئے جہاں آپ نے مفصل تقرير كى اہل بصرہ سے خطاب كرتے ہوئے آپ نے ان كى سرزنش كى اور فرمايا كہ اے كاہل لوگو اے وعدہ خلاف انسانوں تم نے تين مرتبہ اپنوں سے ہى خيانت كى اور چوتھى مرتبہ تم نے خدا پر اتہام لگايا تم نے پيروى بھى كى تو ايك عورت اور بے زبان جانور كى تم نے اس كى ايك آواز پر غوغا و فتنہ بپا كرديا اور جب اس حيوان كے پيروں كى رگيں كاٹ دى گئيں تو تم بھاگ نكلے اخلاقى اعتبار سے تم پست ہو تمہارے اعمال منافقانہ ہيں اور تمہارا دين و آئين باطل اور تفرقہ اندازى ہے_(۳)

اس كے بعد تمام افراد حتى مجروحين نے بھى آپ كے دست مبارك پر بيعت كي_ حضرت علىعليه‌السلام


نے ابن عباس كو بصرہ كى صوبہ دارى اور زياد كو امور مالى وخراج كى وصول يابى كے عہدوں پر مقررومامور فرمايا _ (۴)

اس كے بعد حضرت علىعليه‌السلام خزانہ بيت المال تشريف لے گئے جس وقت آپ كى نظر مبارك سونے اور چاندى پڑى تو آپعليه‌السلام نے فرمايا كہ :يا صفرا ء يا بيضا غريا غيري(اے زرد سونے اور سفيد چاندى كے سكو تم اپنى يہ دلربائي كسى اور كو دكھانا كسى اور كو تم اپنے دام فريب ميں لانا اس كے بعد آپ نے حكم ديا كہ جو مال موجود ہے اس كو پانچ سو اعداد ميں تقسيم كريں جس وقت سكوں كا شمار كيا گيا تو انكى تعداد كم و بيش ساٹھ لاكھہ درہم تھى چنانچہ آپ كے ساتھيوں ميں سے ہرشخص كے حصے ميں پانچ سو سكے آئے _ اسى وقت وہاں ايك شخص آپ كى خدمت ميں حاضر ہوا _ اس نے عرض كيا يا اميرالمومنينعليه‌السلام مجھے بھى كچھ عطا فرمايئے اگر چہ ميں كسى وجہ سے جنگ ميں شركت نہ كرسكا ليكن ميرى نيك خواہشات آپ كے ساتھ تھيں _ حضرت علىعليه‌السلام نے اپنا حصہ اسے ديديا_(۵)

جنگ جمل كے ناخوشگوار نتائج

جنگ جمل كے جو اثرات و نتائج رونما ہوئے وہ نہايت ہى ناخواشگوار تھے ان ميں سے بعض كا ہم يہاں ذكر كرتے ہيں _

۱_ اس جنگ ميں دس ہزار سے زيادہ مسلمان قتل ہوئے _(۶) درحقيقت يہ افراد ''ناكثين'' كے حسد اور ان كے جذبہ جاہ طلبى پر قربان ہوئے _ مورخين نے لكھا ہے كہ دو لشكروں كے اتنے سپاہى زمين پر گرے كہ اگر ان كى لاشوں پر گھوڑے دوڑائے جاتے تو گھوڑوں كے سم ان كى لاشوں كے علاوہ كسى اور چيز نہ پڑتے _ لاشوں كے يہ انبار اس عظےم جنگ كا حاصل و ثمرہ تھا جو جمل كے نام سے مشہور ہوئي اس سے قبل بھى بيان كياجاچكا ہے كہ بيشتر افراد ناكثين كے ہاتھوں ہى مارے گئے_


مقتولين كى اس كثير تعداد نے بہت سى اقتصادى مشكلات نيز جسمانى و نفسياتى دشوارياں مسلمانوں كے لئے پيدا كرديں _

۲_ اس جنگ كے بعد مسلمانوں ميں سے جذبہ اخوت و برادرى قطعى مفقود ہوگيا اور امت مسلمہ پر فتنہ وفساد كے دروازے كھل گئے اور جنگ صفين بھڑك اٹھى در حقيقت يہ دو جنگيں اس مضبوط رسى سے بندھى ہوئي تھيں جس كا پہلا سرا بصرہ ميں تھا اور دوسرا صفين ميں اگرچہ عائشہ كى عثمان سے قرابت دارى نہ تھى ليكن جنگ جمل نے معاويہ كے لئے اس بناپر شورش وسركشى كا راستہ ہموار كرديا كہ وہ خاندان اميہ كے فرد اور عثمان كے رشتہ دار تھے چنانچہ اس جنگ كے باعث معاويہ كے لئے يہ بہانہ پيدا ہوگيا كہ اس نے اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كى حكومت كے خلاف جنگ و جدل كرنے كے علاوہ خلافت كوا پنے خاندان ميں منتقل كرديا درحاليكہ يہ مقتول خليفہ كا ہى خاندان تھا اور يہيں سے خلافت نے موروثى شكل اختيار كرلى _

۳_جنگ جمل كے ضرر رسان نتائج جنگ صفين كے بعد بھى باقى رہے اور جنگ نہروان درحقيقت دو پہلى جنگوں (جنگ جمل و جنگ صفين)كا ہى نتيجہ تھى كيونكہ ان دو جنگوں كے باعث بعض تنگ نظر اور كوتاہ فكر لوگوں كے دلوں ميں بدگمانى كے جذبات ابھرنے لگے _ چنانچہ عملى طور پر وہ تشويش و اضطراب اور حالت تردد كا شكار ہو كر رہ گئے نيز معاشرے كى طرف سے وہ ايسے بدبين و بدظن ہوئے كہ ہر شخص دوسرے كو عداوت و دشمنى كى نگاہ سے ديكھنے لگے_

بعض وہ لوگ جو ''خوارج '' كہلائے اس رائے كے حامى و طرفدار تھے كہ چونكہ ''ناكثين'' كے سرداروں نے اپنے پيشوا يعنى حضرت علىعليه‌السلام كے خلاف شورش و سركشى كى ہے اس لئے ان كا شمار كفار ميں ہے اس كے بعد ان كے دلوں ميں يہ گمان پيدا ہوگيا كہ حضرت علىعليه‌السلام نے چونكہ اپنى حكومت كے استحكام كى خاطر يہ جنگ كى اس لئے وہ بھى آئين دين اسلام سے خارج ہوگئے_

بعض لوگوں كى يہ رائے تھى كہ جنگ جمل ميں اگر چہ حضرت علىعليه‌السلام حق بجانب تھے ليكن آپعليه‌السلام نے چونكہ اہل بصرہ كى تمام دولت كو بطور مال غنيمت جمع نہيں كيا اور ان كى عورتوں كو قيد نہيں كيا اسى


لئے يہ آپ سے غلطى سرزد ہوئي چنانچہ اسى بناپر وہ آپ عليه‌السلام كو ناشايستہ الفاظ سے ياد كرنے لگے_

انہيں ميں سے تيسرا گروہ ايسا بھى تھا جو ان دونوں گروہوں كو كافر سمجھتا تھا اور اس كا يہ عقيدہ تھا كہ يہ لوگ ہميشہ جہنم ميں رہيں گے _(۷)

كوفہ دارالحكومت

جنگ جمل كے مسائل اور بصرہ كى حكومت كے معاملات حل و منظم كرنے كے بعد حضرت علىعليه‌السلام نے مدينہ اور بصرہ كے لوگوں كو خطوط لكھے جن ميں آپعليه‌السلام نے جنگ جمل كے واقعات مختصر طور پر بيان كئے وہ خط جو اہل كوفہ كو لكھا تھا اس ميں آپعليه‌السلام نے مزيد يہ بھى مرقوم فرمايا تھا كہ ميں جلدى ہى كوفہ كى جانب آؤں گا(۸) اس ارادہ كے تحت آپعليه‌السلام جنگ جمل كے ايك يا دو ماہ بعد بصرہ سے كوفہ كى جانب روانہ ہوئے_

بصرہ كے بعض سربرآوردہ لوگ بھى حضرت علىعليه‌السلام كے ہمركاب تھے كوفہ كے لوگ بالخصوص قاريان قرآن حضرت علىعليه‌السلام كے استقبال كے لئے شہر سے باہر نكل آئے او رآپعليه‌السلام كے حق ميں انہوں نے دعائے خير كى _

حضرت علىعليه‌السلام بتاريخ ۱۲ رجب سنہ ۳۶ ھ ميں اس مقام پر فروكش ہوئے جو ''رحبہ(۹) '' كے نام سے مشہور تھا وہاں سے آپ سيدھے جامع مسجد تشريف لے گئے اور وہاں آپ نے دو ركعت نماز ادا كى _(۱۰)

كوفہ كے واقعات بيان كرنے سے قبل يہاں لازم ہے كہ ہم ان اسباب و علل كا جائزہ ليں جن كے باعث كوفہ كو اسلامى حكومت كا مركز قرار ديا _

كوفہ كو اسلامى حكومت كا مركز قرار ديئے جانے كے سلسلے ميں مورخين نے بہت سے اسباب وعلل بيان كئے ہيں _ ان ميں ايك وجہ يہ تھى كہ مالك اشتر او كوفہ كے ديگر سربرآوردہ لوگوں كا يہ اصرار تھا كہ اس شہر كو اسلامى حكومت كا مركز بنايا جائے دوسرى وجہ يہ تھى كہ جنگ جمل كے بعد بعض


لوگ فرار كركے كوفہ كى جانب چلے آئے تھے اور اس بناء پر حضرت على عليه‌السلام نے مجبوراً فيصلہ كيا كہ ان كے فتنے كى سركوبى كے لئے كوفہ كى جانب روانہ ہوں _(۱۱)

ليكن جب ہم ان حوادث اور مسائل كا جائزہ ليتے ہيں جو اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے سامنے اس وقت موجود تھے جب آپعليه‌السلام نے زمام حكومت سنبھالى تو ہم اس نتيجہ پر پہنچتے ہيں كہ وہ ديگر مسائل تھے جو حضرت علىعليه‌السلام كے لئے مركز حكومت منتقل كرنے كے محرك ہوئے_

اس سے پہلے بتايا جا چكا ہے كہ ''فتنہ ناكثين'' سے قبل حضرت علىعليه‌السلام كا خيال تھا كہ ايسى عسكرى طاقت منظم ہوجائے جس كے ذريعے معاويہ كا مقابلہ كياجاسكے مگر ناكثين كى شورش نے اس معاملے ميں تاخير پيدا كردى چنانچہ فطرى طور پر معاويہ نے اس معاملے كو غنيمت جانا اور اس نے حضرت علىعليه‌السلام كى حكومت كے خلاف جنگ كرنے كى غرض سے كافى فوجى طاقت نيز اور ديگر وسائل فراہم كرليئے_ معاويہ نے شام كے لوگوں كو مطيع و فرمانبردار كرنے كے علاوہ اس نے عثمان كے خون كا بدلہ لينے كے بہانے سے لوگوں كے جذبات مشتعل كئے چنانچہ عراق كى جانب جو خطوط بھيجے اور جن صاحب اثر و رسوخ افراد كو روانہ كيا ان كا اصلى سبب يہ تھا كہ سرداران قبائل اور فرمانداران لشكر كو وہ اپنى جانب متوجہ كرلے_

معاويہ جانتا تھا كہ فتوحات اور اسلامى قلمرو كے وسعت پذير ہونے كے باعث شام كوفہ و بصرہ تين اہم مركز بن گئے ہيں اور حجاز فوجى طاقت كے اعتبار سے خاصا دور ہوگياہے_

يمن ميں بھى قابل توجہ و اعتنا عسكرى طاقت موجود نہ تھى چنانچہ جس وقت ''بسر بن ارطاة''نے اس منطقے ميں شورش و سركشى كى تو حضرت علىعليه‌السلام كا كارپرداز اس كے مقابل اپنا دفاع نہ كرسكا اور يا يہ كہ جنگ جمل ميں تقريبا سات سو افراد ہى حضرت علىعليه‌السلام كى مدد كےلئے ربذہ پہنچے اور اسى لئے حضرت علىعليه‌السلام نے ''ذى قار'' ميں توقف فرمايا تاكہ لشكر كوفہ وہاں آجائے_

يہى وہ مسائل تھے جو حضرت علىعليه‌السلام كى تيز بين و دور انديش نظروں سے پنہاں نہ رہ سكے آپعليه‌السلام كو علم تھا معاويہ نے شام ميں اس موقع سے فايدہ اٹھايا ہے _ چنانچہ عسكرى طاقت كے علاوہ اس


نے ديگر وسائل جنگ بھى فراہم كرلئے ہيں اس بنا پر حضرت على عليه‌السلام كے لئے ضرورى تھا كہ وہ بھى عظےم مسلح لشكر تيار كريں تاكہ معاويہ سے نبرد آزمائي كى جاسكے اس كے علاوہ يہ بھى ضرورى تھا كہ دشمن كى نگرانى نزديك سے كى جائے كيونكہ اس سے كسى وقت بھى زور آزمائي ہوسكتى ہے_

ان دو مقاصد كے پيش نظر بصرہ اور كوفہ ميں سے كسى ايك شہر منتخب كيا جاسكتا تھا_ اب بصرہ بھى ايسى جگہ نہيں تھى جہاں زيادہ دن تك قيام كياجاسكے كيونكہ فتنہ جمل كى آگ سرد كرنے كے لئے وہاں بہت زيادہ خون بہايا گيا تھا اور جنگ كے بعد جو لوگ زندہ رہ گئے تھے انكے دلوں ميں حضرت علىعليه‌السلام كى حكومت كيلئے جوش وخروش نہيں تھا_ بلكہ وہ ايك اعتبار سے پست ہمت و كم حوصلہ ہوچكے تھے اسى بناپر وہ حضرت علىعليه‌السلام كے لئے بھى قابل اعتماد نہ تھے _ چنانچہ ان وجوہات كى بناء پر بہترين اور مناسب ترين شہر كوفہ ہوسكتا تھا _

چنانچہ معاويہ كى طرف سے جب تك خطرے كا امكان ہوسكتا تھا اس وقت تك حكومت كى مصلحت كا تقاضا يہى تھا كہ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كوفہ ميں ہى تشريف فرما رہيں _

كوفہ پہنچنے پر علىعليه‌السلام كے اقدامات

كوفہ پہنچنے كے بعد حضرت علىعليه‌السلام سہر كى مسجد ميں تشريف لے گئے جہاں آپ نے لوگوں سے خطاب كيا اس موقع پر آپ نے اہل كوفہ كى قدر كرتے ہوئے ان كى حوصلہ افزائي كى كہ انہوں نے آپعليه‌السلام كى دعوت كو قبول كيا _ اپنے خطبے ميں آپ نے ہوا وہوس نيز لمبى لمبى آرزوں سے گريز كرنے كى ہدايت فرمائي اور ان لوگوں كو تنبيہہ كى جو آپعليه‌السلام كى مدد كرنے سے روگردان ہوگئے تھے_

اس كے بعد آپ نے ''جعدہ بن غيبرہ '' مخزومى كے مكان پر قيام فرمايا _(۱۳) بتاريخ ۱۶ رجب بروز جمعہ آپ مسجد ميں تشريف لے گئے جہاں پہلى مرتبہ آپ نے نماز جمعہ كى امامت فرمائي _(۱۴)


اس كے بعد آپ نے امور حكومت كى جانب توجہ فرمائي ، اپنے اقدامات ميں حاكم آذربائيجان ''اشعث بن قيس'' اور ہمدان كے عامل و كار پرداز ''جرير ابن عبداللہ'' كو انكے مناصب سے برطرف كيا جو كہ عثمان كے مقرر كردہ واليان حكومت تھے ان دونوں كو اپنے پاس(۱۵) بلايا ،ا پنے ديگر كار پردازوں كو مختلف مناطق كى جانب روانہ كيا چنانچہ ''يزيد ابن قيس '' كو حكومت مدائن ، ''مخنف بن سليم'' كو حكومت اصفہان و ہمدان اور مالك اشتر كو موصل كى منصب دارى عطا كى _(۱۶)

قاسطين

ناكثين كا فتنہ دب جانے كے بعد ايسے ناہنجار حالات پيدا ہونے لگے كہ جن ميں خالص نسلى اور قبائلى محركات كارفرماتھے _ اب اس اسلامى فكر كو پيش كرنے كى كوشش كى جانے لگى جس ميں سے روح تو مفقود ہوچكى تھى بس ظاہرى خول باقى رہ گيا تھا _ اب اسلام كى قدرت كو بچانے كيلئے خليفہ مسلمين كى روز افزوں طاقت مسئلہ تھى اس لئے حضرت علىعليه‌السلام كى حكومت كے راستے ميں جو دوسرا خطرہ تھا وہ ''قاسطين'' كا وجودتھا قاسطين كا مجمع در حقيقت ان عاملين اور جماعتوں كى منظم شكل تھى جنہيں حضرت علىعليه‌السلام كى حكومت سے كسى نہ كسى طرح گزند پہنچى تھى اور انہيں يہ خطرہ لاحق تھا كہ اگر حضرت علىعليه‌السلام كى حكومت بر سر اقتدار رہى تو وہ اپنى نفسانى خواہشات كو پورا كرنے ميں كامياب نہ ہوسكيں گے_

ان تمام گروہوں اور جماعتوں كا سربراہ معاويہ تھا _ اس نے اپنے سياسى و اجتماعى موقف كى بناپر اپنے گرد بہت سے پيروكار جمع كرلئے تھے_

معاويہ ابن ابى سفيان نے فتح مكہ كے بعد دين اسلام قبول كيا تھا وہ ان افراد ميں شامل تھا جو جنگ كے دوران مسلمانوں كى حراست ميں آگئے تھے اور جنہيں پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے يہ فرمايا كر آزاد كرديا تھا جاؤ تم سب آزاد ہو _(۱۷) سنہ ۱۲ھ ميں جس وقت ابوبكر نے ''يزيد ابن ابى سفيان'' كى


قيادت و فرماندارى ميں روميوں سے جنگ كرنے كے لئے لشكر روانہ كيا تھا ، تو معاويہ پرچمدار كى حيثيت سے لشكر شام كے ہمراہ تھا جب اس كے بھائي كا انتقال ہوگيا تو خليفہ وقت نے اسے سپاہ كا فرماندار مقرر كرديا_ عثمان كے دور خلافت ميں بہت سے نئے علاقے اسلامى حكومت كى قلمرو ميں شامل ہوئے چنانچہ يہى وجہ تھى كہ معاويہ انيس سال تك خاطر جمعى كے ساتھ شام پر حكومت كرتا رہا_

جس وقت حضرت علىعليه‌السلام نے زمام حكومت سنبھالى تو معاويہ نے آپعليه‌السلام كا فرمان قبول كرنے سے روگردانى كى اور عثمان كے خون كا بدلہ لينے كو بہانہ بناكر حضرت علىعليه‌السلام سے برسر پيكار ہوگيا اورجنگ صفين كيلئے راہ ہموار كى ، آخرى لمحات ميں جب كہ حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر كى فتح و پيروزى يقينى تھى ، اس نے عمرو عاص كى نيرنگى سے قرآن مجيد كو نيزوں كى نوك پر اٹھاليا اور حضرت علىعليه‌السلام كو حكميت قرآن كى جانب آنے كى دعوت دى اور اس طرح اس نے كوفہ كے سادہ لوح سپاہيوں كو تقدس نمائي سے اپنا گرويدہ كرليا _ يہاں تك كہ انہوں نے حضرت علىعليه‌السلام كو مجبور كيا كہ وہ جنگ كرنے سے باز رہيں _

قرآن مجيد كى ''حكميت'' كا فائدہ بھى معاويہ كو ہى ہوا (اس كى تفصيل بعد ميں بيان كى جائے گى)چنانچہ پہلى مرتبہ اس كا نام لوگوں كى زبانوں پر خليفہ كى حيثيت سے آنے لگا اور سنہ ۴۰ ھ ميں جب حضرت علىعليه‌السلام كو شہيد كرديا گيا تو خليفہ بن كر ہى مسند خلافت پر آيا اور اس نے انيس سال سے زيادہ مسلمانوں پر حكومت كى اور بالآخر ماہ رجب ميں اس كا انتقال ہوا_

معاويہ كى تخريب كاري

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كى حكومت كے خلاف معاويہ نے جس قدر مخالفت و تخريب كارى كى اس كى طرح اندازى عمرو عاص كرتا تھا جيسے ہى يہ اطلاع ملى كہ لوگ حضرت علىعليه‌السلام كے دست مبارك پر بيعت كر رہے ہيں تو اس نے درج ذيل مضمون پر مشتمل خط زبير كو لكھا:


''معاويہ كى جانب سے بندہ خدا زبير كى خدمت ميں عرض ہے كہ اے اميرالمومنين ميں نے شام كے لوگوں سے كہا كہ وہ آپ كے لئے ميرے ہاتھ پر بيعت كريں انہوں نے ميرے ہاتھ پر بيعت كرلى ہے وہ سب متفقہ طور پر آپ كے مطيع و فرمانبردار ہيں انہوں نے ہى مجھ پر دباؤ ڈالا كہ آپ كے حق ميں ، ميں ان سے بيعت لوں ، آپ كوفہ و بصرہ كى حفاظت كيجئے كہيں ايسا نہ ہو كہ يہ دو شہر على بن ابى طالبعليه‌السلام كے ہاتھ لگ جائيں كيونكہ ان دو شہروں پر قبضہ ديگر سرزمينوں كو حاصل كرنے كے لئے خاص اہميت كا حامل ہے _ آپ كے بعد ميں نے طلحہ كے حق ميں بھى لوگوں سے بيعت لے لى ہے اب آپ يہ كہہ كر شورش و سركشى كريں كہ عثمان كے خون كا بدلہ لينا ہے اور لوگوں كو بھى اسى عنوان سے دعوت ديجئے اس مقصد كى برآورى كے لئے پورى متانت و سنجيدگى اور سرعت عمل سے كام ليجئے _(۱۸)

معاويہ نے اپنى جدو جہد كا آغاز اسى روش سے كيا اگر چہ كسى بھى تاريخ كى كتاب ميں يہ واقعہ نہيں ملتا كہ انہوں نے شام ميں زبير كى حق ميں بيعت لى ہو _

امام علىعليه‌السلام كا نمايندہ معاويہ كى جانب

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے معاويہ كيساتھ جنگ كرنے سے قبل اتمام حجت كى غرض سے ''جرير ابن عبداللہ'' كو خط ديكر روانہ كيا(۱۹) اور اس سے بيعت كا مطالبہ كرتے ہوئے طلحہ اور زبير كى عہد شكنى كا بھى ذكركيا ، خط كے آخر ميں آپعليه‌السلام نے مزيد تحرير فرمايا كہ اگر تمہارا خودكو بلاؤں ميں گرفتار كرنا مقصد ہے تم سے جنگ كروں گا تم ان آزاد شدہ لوگوں ميں سے ہو جن ميں نہ تو خلافت كى اہليت وشايستگى ہے او رنہ ہى امور خلافت ميں انكو مشير بنايا جاسكتا ہے _(۲۰) جب جرير نے خط معاويہ كو ديا وہ اس خط كو پڑھ كر حيرت زدہ رہ گيا اور جرير سے كہا كہ ميرے جواب كا انتظار كرو اس مسئلہ كا حل تلاش كرنے كى غرض سے عمرو عاص كو اپنے پاس بلايا اور كہا كہ اگر اس مشكل كا حل نكال لو تو مصر كى حكومت ميں تمہارے حوالے كردوں گا _ معاويہ نے ان كى تجويز پر


شام كے سربرآوردہ لوگوں كو مسجد ميں جمع كيا اور ان كے سامنے مفصل تقرير كى اس نے اہل شام كى تحسين و قدر دانى كرتے ہوئے ان كے جذبات كو عثمان كے خون كا بدلہ لينے كيلئے مشتعل كيا اور حاضرين جلسہ كى اس بارے ميں رائے جاننا چاہي، اس بات پر حاضرين اٹھ كھڑے ہوئے اور انہوں نے عثمان كے خون كا بدلہ لينے كے لئے اپنى آمادگى و رضامندى كا اظہار كيا چنانچہ اس غرض كے تحت انہوں نے معاويہ كے ہاتھ پر بيعت كى اور يہ وعدہ كيا كہ جب تك دم ميں دم ہے ، وہ اس عہد پر قائم رہيں گے اور اپنا مال تك اس راہ ميں قربان كرديں گے _

جرير نے جب يہ منظر اپنى آنكھوں سے ديكھا تو وہ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے پاس واپس آگئے اور تمام واقعات آپ كے سامنے بيان كئے اور كہا كہ شام كے لوگوں نے معاويہ كے ساتھ گريہ و زارى بھى كى اور آپ سے جنگ كرنے كيلئے سب متفق الرائے ہيں كيونكہ ان كا گمان ہے كہ حضرت على بن ابى طالبعليه‌السلام نے انہيں قتل كرايا ہے اور ان كے قاتلوں كو پناہ دى ہے_(۲۱)

سركشى كے اسباب

معاويہ نے اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كى حكومت كے خلاف كيوں سركشى كى نيز اس كے پس پشت كيا اسباب و علل اور محركات كار فرماتھے ان كا مختصر طور پر ہى سہى مگر ذكر كردينابہت ضرورى ہے_

۱_ دشمنى اور كينہ

خاندان بنى اميہ كو جس كا سردار معاويہ تھا ، ہاشمى خاندان بالخصوص پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام سے سخت عداوت ودشمنى تھى ، اس دشمنى و كينہ توزى كا آغاز نبى اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے عہد رسالت اور اس كے بعد پيش آنے والے غزوات كے باعث ہوا_ عداوت اور دشمنى اس حدتك پہنچ چكى تھى كہ جہاں كہيں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى عظمت كا ذكر ہوتا معاويہ اپنے دل ميں ملول ہوتا ذيل كى حكايت اس كى شاہد و گواہ ہے ''مطرف ابن مغيرہ '' سے منقول ہے كہ ميرے والد كى معاويہ كے پاس آمد


ورفت تھى وہ جب بھى اس كے پاس سے واپس گھر آتے تو اسكى ذہانت و ذكاوت كى بہت تعريف كرتے ايك رات معاويہ كے پاس سے آئے تو ميں نے انہيں اتنا مضطرب وپراكندہ خاطر پايا كہ انہوں نے كھانا تك نہيں كھايا_ ميں نے اپنے والد سے دريافت كيا كہ وہ اس قدر كيوں مضطرب و پريشان خاطر ہيں ، انہوں نے جواب ديا كہ آج ميں انتہائي كافر اور خبيث ترين شخص كے پاس سے واپس آرہا ہوں _ ميں نے پوچھا آخر ہوا كيا؟ انہوں نے كہا كہ معاويہ كے پاس بيٹھا ہوا تھا جب خلوت ہوئي تو ميں نے كہا اے اميرالمومنين آپ كافى عمر رسيدہ ہوچكے ہيں اور عہد پيرى كى منزل تك پہنچ گئے يہاں اچھا ہوگا كہ آپ اب عدل وانصاف سے كام ليں اور اپنے بھائي بنى ہاشم سے صلہ رحمى كے ساتھ پيش آئيں كيونكہ انكے پاس ايسى كوئي چيز نہيں جس كے باعث آپ كو ان سے خطرہ ہو ، اس كے علاوہ اگر آپ حسن سلوك كريں گے تو لوگ آپ كو ياد ركھيں گے اور اس كا آپ كو اجر بھى ملے گا_

اس پر معاويہ نے كہا كہ ہرگز اپنے كام كى بقا كى خاطر كس اميد پر نيك كام كروں ''يتم'' كے بھائي ابوبكر كو خلافت ملى عدل وانصاف كو اپنا شيوہ بنايا اور جو كچھ كرنا تھا انہوں نے كيا ليكن جب ان كى وفات ہوگئي تو لوگ انہيں بھول گئے بس لوگوں كو اتنا ہى ياد رہ گيا ہے كہ ابوبكر كے بعد عدى كے بھائي عمر نے حكومت كى _ دس سال تك وہ خدمت خلق كرتے رہے مگر مرنے كے بعد انكا نام بھى صفحہ ہستى سے محو ہوگيا صرف چند ہى لوگوں كو يہ نام (عمر)ياد رہ گيا ہے ليكن اس كے برعكس ''ابى كبشہ'' كے فرزند محمد ابن عبداللہ'' كا نام ہر روز پانچ مرتبہ بآواز بلند ليا جاتا ہے اور''اشهد ان محمد رسول الله'' كہا جاتا ہے اس كے بعد ميرى كون سى كاركردگى اور ياد باقى رہ جائے گى خدا كى قسم جيسے ہى ميں خاك كے نيچے جاؤں گا ميرا نام بھى اس كے ساتھ دفن ہوجائے گا_(۲۲)

۲_ حكومت كى آرزو

معاويہ جانتا تھا كہ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام اسے اس كے منصب پر قائم رہنے نہيں دےں گے كيونكہ اسے اس بات كا علم تھا كہ حضرت علىعليه‌السلام نے ظلم واستبداد كى ہميشہ مخالفت كى ہے اور حكومت اسى


لئے قبول كى كہ اسے عدالت وانصاف سے چلائيں گے_

حضرت علىعليه‌السلام كے كردار سے وہ چونكہ بخوبى واقف تھا اس لئے اسے يہ بھى علم تھا كہ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نہ صرف يہ كہ حكومت شام كى جانب سے چشم پوشى نہ كريں گے بلكہ وہاں جو مال انہوں نے عثمان كے دور خلافت ميں جمع كيا تھ اس سے لے كر بيت المال ميں داخل كرديں گے _ اس كے بعد وہ ايك معمولى فرد كى طرح اپنى باقى عمر كسى گوشہ تنہائي ميں گذارلے گا يہ بات اس كے لئے كسى بھى طرح قابل برداشت نہ تھى _

چنانچہ يہى وجہ تھى كہ وہ جب تك شام پر حكم فرما رہا ، اس نے كبھى مركزى حكومت كے كارپردازو و نمايندے كى حيثيت سے عمل نہيں كيا بلكہ وہاں اپنے لئے ايك مستقل سلطنت كى بنياد قائم كردى تھى _ تاكہ اپنى مرضى كے مطابق وہ لوگوں پر حكمرانى كرسكے اور ايسى حكومت كى بنياد ركھ دى جو اس كے خاندان ميں آنے والى نسلوں كى ميراث بن گئي _

۳_ ناكثين كى شورش

ناكثين كى شورش نے عثمان كے خون كا بدلہ لينے كى تحريك كے لئے راستہ ہموار كرديا اگر ايسا نہ ہوتا تو معاويہ كے لئے مشكل تھا كہ اس اتحاد كو جو مسلمانوں كے درميان پيدا ہوگيا تھا اور جس كى سرزمين اسلام كے بيشتر علاقوں پر حكم و فرمانروائي تھى اس كو درہم برہم كرسكے اور مسلمانوں ميں ايك دوسرے كے خلاف مقابلے كى ہمت و جرا ت پيدا ہوسكے ليكن جنگ جمل كے جو ناخوشگوار نتائج رونما ہوئے انہوں نے اس سد عظيم كو گراديا اور معاويہ كے واسطے شورش و سركشى كا ميدان صاف كرديا_

۴_ گزشتہ خلفاء كى دليل ومثال

اس كے علاوہ معاويہ اپنے اس رويے كى يہ توجيہ پيش كرتا اور كہتا كہ گذشتہ خلفاء نے حضرت علىعليه‌السلام پر سبقت حاصل كرلى اور مسلمانوں نے بھى ان كى حكومت كو تسليم كرليا اس لئے ميں بھى انہى كے رويے كى پيروى كر رہا ہوں _


چنانچہ جب اس نے محمد ابن ابى بكر كو خط لكھا تو اس ميں انہوں نے اسى امر كى جانب اشارہ كيا كہ تمہارے والد اورعمرآن اولين افراد ميں سے تھے جنہوں نے خلافت ميں علىعليه‌السلام كى مخالفت كى اور ان كا حق خود لے ليا وہ خود تو مسئلہ خلافت پر متمكن رہے مگر علىعليه‌السلام كو انہوں نے امر خلافت ميں شريك تك نہ كيا اگر وہ راہ راست پر چل رہے ہيں تو تمہارے والد وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے يہ راہ اختيار كى اگر ہم ظلم و ستم كے رستے پر گامزن ہيں تو اس راستے كو بھى تمہارے والد نے سب سے پہلے ہموار كيا تھا اس مقصد ميں ہم ان كے شريك كار اور انہى كى پيروى كر رہے ہيں اگر تمہارے والد اس راہ ميں ہم پر سبقت نہ لے جاتے تو ہم على بن ابى طالبعليه‌السلام كى ہرگز مخالفت نہ كرتے ليكن ہم نے ديكھا كہ تمہارے والد نے يہ كام انجام ديا ہے چنانچہ ہم ان كى راہ و روش پر گامزن ہيں _(۲۳)

۵_ پروپيگنڈہ

عثمان كے قتل كے بعد طلحہ و زبير نے جو شورش و سركشى كى راہ اختيار كى اس كے باعث معاويہ كو يہ موقع مل گيا كہ وہ حضرت علىعليه‌السلام كى حكومت كے خلاف پروپيگنڈہ كرسكے اور اس ميں بھى جو چيز كار فرما تھى وہ عثمان كے خون كا بدلہ تھا_

معاويہ نے اہل شام كے جذبات بر افروختہ كرنے كے لئے عثمان كے خون آلود كرتے اور ان كى اہليہ نائلہ كى قطع شدہ انگلى كو جنہيں ''نعمان بن بشير'' اپنے ساتھ صوبہ شام سے لے آيا تھا ، مسجد كى ديوار پر نصب كرديا اور انہوں نے چند عمر رسيدہ لوگوں سے كہا كہ وہ ان چيزوں كے نزديك بيٹھ كر گريہ وزارى كريں ، اس پروپيگنڈہ نے لوگوں كے دلوں پر ايسا گہرا اثر كيا كہ جيسے ہى معاويہ كى ولولہ انگيز تقرير ختم ہوگئي تو لوگ اپنى جگہ سے اٹھ كھڑے ہوئے اور سب نے ايك آواز ہوكر كہا كہ ہم عثمان كے خون كا بدلہ ليں گے اورمعاويہ كے ہاتھ پر يہ كہہ كر بيعت كى كہ جب تك ہمارے دم ميں دم ہے تمہارا ساتھ ديں گے_


مشہور و معروف اشخاص كواپنانا

معاويہ كا مقصد چونكہ زمام حكومت كو اپنے اختيار ميں لينا تھا سى لئے اسكى مسلسل يہ سعى وكوشش تھى كہ جس طرح بھى ممكن ہوسكے ان لوگوں كى توجہ كو اپنى طرف مائل كريں جو اس كام كے لئے مناسب ہوسكتے ہيں اور ان كے ساتھ يہ عہد وپيمان كريں كہ وہ حضرت علىعليه‌السلام كے خلاف سرگرم عمل رہيں گے اس كام ميں جو لوگ اس كے ہم خيال رہے ان كے نام درج ذيل ہيں :

۱_ عمروعاص : معاويہ نے اس سے كہا كہ تم ميرے ہاتھ پر بيعت كرو اور ميرى مدد كرو اس پر عمرو عاص نے كہا كہ خدا كى قسم دين كى خاطر تو ميں يہ كام نہيں كرسكتا البتہ دنيوى مفاد كى خاطر ميں تيار ہوں معاويہ نے دريافت كيا كہ كيا مانگنا چاہتے ہو اس نے كہا كہ مصر كى حكومت معاويہ نے اس كے اس مطالبے كو منظور كرليا اور لكھ كر دستاويز بھى دى _(۲۴)

۲_ طلحہ و زبير جيسا كہ پہلے ذكر كيا جاچكاہے كہ معاويہ نے زبير كو خط لكھا تو اس ميں زبير كو اميرالمومنين كے لقب سے ياد كيا تھا اور ان كى نيز طلحہ كى توجہ كو اپنى جانب مائل كرنے كى غرض سے ايسا ظاہر كياكہ ميں نے تمہارے حق ميں شام كے لوگوں سے بيعت لى ہے اور طلحہ كو وليعہد مقرر كرديا ہے_

۳_ شرحبيل _ اس كا شمار شام كے بااثر و رسوخ افراد ميں ہوتا تھا معاويہ نے خاص حكمت عملى كے ذريعے اسے اپنى جانب مائل كيا اور وہ بھى اس كا ايسا گرويدہ ہوا كہ معاويہ كا دم بھرنے كے علاوہ عثمان كے خون كا مطالبہ شروع كرديا _ معاويہ نے ضمناً عمرو عاص كا ذكر كرتے ہوئے اسے خط ميں لكھا كہ علىعليه‌السلام كا جرير نامى نمايندہ ميرے پاس آيا ہے اور اس نے بہت اہم تجويز ميرے سامنے ركھى ہے يہ خط ملتے ہيں آپ فوراً ميرے پاس چلے آئيں _ معاويہ نے شرحبيل كے آنے سے قبل بعض ايسے لوگوں كو جو اس كے نزديك قابل اعتماد تھے اور اس كے ساتھ ہى وہ شرجيل كے قرابت دار بھى يہ ہدايت كہ جب شرحبيل مجھ سے ملاقات كرچكے تو وہ اس سے ملاقات كريں اور اسے اطلاع ديں كہ عثمان كا قتل حضرت علىعليه‌السلام كے ايماء پر ہى ہوا ہے _(۲۵)


شرحبيل كو جيسے ہى معاويہ كا خط ملا تو عبدالرحمن ابن غنم اور عياض جيسے خير خواہ دوستوں كى مرضى و منشاء كے خلاف اس نے معاويہ كى دعوت كو قبول كرليا اگرچہ انہوں نے بہت منع كيا مگر اس كے باوجودوہ حمص سے دمشق كى جانب روانہ ہوگيا _(۲۶)

شرحبيل جيسے ہى شہر ميں داخل ہوا تو معاويہ كے ہواخواہ اس كے ساتھ بہت عزت واحترام سے پيش آئے اس كے بعد معاويہ نے جرير كے خط كا ذكر كيا اورمزيد يہ كہا كہ اگر علىعليه‌السلام نے عثمان كو قتل نہ كرايا ہو تا تو وہ بہترين انسان شمار كئے جاتے جب معاويہ كى گفتگو ختم ہوگئي تو شرحبيل نے كہا كہ مجھے اس مسئلے پر سوچنے كا موقع ديجئے تا كہ اس كے بارے ميں غور وفكر كرسكوں _

معاويہ سے رخصت ہوكر جب وہ واپس ہو اتو اس كى كچھ لوگوں سے ملاقات ہوگئي يہ لوگ تو پہلے سے ہى ان سے ملنے كے متمنى و مشتاق تھے _ شرحبيل نے عثمان كے قتل كے بارے ميں ان سے دريافت كيا تو سب نے يہى كہا كہ علىعليه‌السلام ہى عثمان كے قاتل ہيں _

يہ سننے كے بعد شرحبيل غضبناك حالت ميں معاويہ كے پاس واپس آيا اور كہا كہ لوگوں كا يہ خيال واضح ہے كہ عثمان كو علىعليه‌السلام نے قتل كيا ہے _ خدا كى قسم اگر تم نے ان كے ہاتھ پر بيعت كى تو ہم لوگ يا تو تمہيں شام سے باہر نكال ديں گے يا يہيں قتل كرڈاليں گے _ معاويہ نے محسوس كرليا كہ اس كا منصوبہ كارگر ثابت ہوا ہے كہا كہ ميں بھى شام كے افراد ميں سے ايك ہوں ميں نے آج تك تمہارى مخالفت نہيں كى ہے اور آيندہ بھى ايسا نہ كروں گا مگر تم كو يہ جاننا چاہئے كہ يہ كام شام كے عوام كى مرضى كے بغير صورت پذير نہيں ہوسكتا تم كو اس منطقے ميں شہرت و نام آورى حاصل ہے اب تم شام كے مختلف شہروں كا دورہ كرو اور لوگوں كو بتاؤ كہ عثمان كو علىعليه‌السلام نے قتل كياہے اور اب مسلمانوں پر واجب ہے كہ اس خون كا بدلہ لينے كى خاطر شورش وسركشى كريں _ شرحبيل نے ايسا ہى كيا چنانچہ چند زاہد و پارسا و گوشہ نشين افراد كے علاوہ شام كے عام لوگوں نے اس دعوت كو قبول كرليا _(۲۷)


سوالات

۱_ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے بصرہ پہنچنے كے بعد كيا اقدامات كئے ؟

۲_ جنگ جمل كے كيا نتائج واثرات رونما ہوئے ؟مختصر طور پر وضاحت كيجئے_

۳_ جنگ جمل كے بعد كوفہ كو مركز حكومت كيوں قرار ديا ؟

۴_ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كى حكومت كے خلاف معاويہ كا كيا موقف تھا ؟ معاويہ كے عدم تعاون كى ايك مثال پيش كيجئے _

۵_ حضرت علىعليه‌السلام كى حكومت كے خلاف معاويہ نے كيوں شورش و سركشى اختيار كى ؟ مختصر طور پر بيان كيجئے_

۶_ معاويہ نے صاحب اثر ورسوخ اور سياستمدار افراد كى توجہ كو اپنى طرف كيسے مبذول كيا اس كى ايك مثال پيش كيجئے ؟


حوالہ جات

۱_ الجمل ۲۱۱

۲_ كامل ابن اثير ج ۳/ ۲۵۵ ، تاريخ طبرى ج ۴/ ۵۳۸

۳_ مروج الذہب ج ۲ہ ۳۶۸

۴_ تاريخ طبرى ج ۴/ ۵۴۱، كامل ابن اثير ج ۳/ ۲۵۶

۵_ مروج الذہب ج ۲/ ۳۷۱ ، شرح ابن ابى الحديد ج ۱/ ۲۴۹

۶_ جنگ جمل ميں جو جانى نقصان ہوا اس كے بارے ميں مورخين كے درميان اختلاف رائے ہے _ ابن اثير ج ۳/ ۲۵۵_ اور طبرى ج ۴/ ۵۳۹ نے مقتولين كى تعداد دس ہزار افراد لكھى ہے يعنى ہرطرف سے تقريباً پانچ ہزار افرادقتل ہوئے _ مسعودى ج ۲/ ۵۳۹نے مروج الذہب ميں مقتولين كى تعداد بيان كرتے ہوئے لكھا ہے كہ اصحاب جمل كے تيرہ ہزار افراد مارے گئے اور حضرت علىعليه‌السلام كى سپاہ ميں سے پانچ ہزار افراد شہيد ہوئے _ بلاذرى نے انساب الاشراف ج ۲/ ۲۶۵ ميں درج كيا ہے كہ صرف اہل بصرہ ميں سے بيس ہزار افراد قتل ہوئے مگر يعقوبى نے اپنى تاريخ كے ج۲ /۱۸۳ پر جانبين كے مقتولين كى تعداد تيس ہزار افراد سے زيادہ بيان كى ہے _

۷_ ملاحظہ ہو الملل و النحل شہرستانى ج ۱/ ۱۲۱ ، والتبصير ۴۲_

۸_ علامہ مفيد نے حضرت علىعليه‌السلام كے خطوط اپنى تاليف و تاليف الجمل ميں صفحات ۲۱۵ ، ۲۱۱ پر درج كئے ہيں _

۹_ رحبہ كوفہ كے محلوں ميں سے ايك محلے كا نام تھا (معجم البلدان ج ۳/ ۳۳)

۱۰_ وقعہ صفين ۳_

۱۱_ ملاحظہ ہو كامل ابن اثير ج ۳/ ۲۶۰ و تاريخ طبرى ج ۴/ ۵۴۴ ، ۵۴۳_

۱۲_ ''جعدہ'' اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام بھانجے تھے آپ كى والدہ ام بانى دخترابى طالب تھيں (شرح ابن ابى الحديد ج ۱۰ /۷۷)_

۱۳_ وقعہ صفين / ۳_۱۰_

۱۴_ مروج الذہب ج ۲/ ۲۷۲ ، كامل ابن اثير ج ۳/ ۲۷۶_


۱۵_ وقعہ صفين ۱۲_۱۱_

۱۶_اذهبو انتم الطلقاء (اسى وجہ سے معاويہ كا شمار طلقاء ميں ہوتا ہے _

۱۷_ شرح ابن ابى الحديد ج ۱/ ۲۳۱ _ تاريخ التواريخ ج ۱/ ۳۸_

۱۸_ بعض مورخين نے لكھا ہے كہ جرير كو انہى كى درخواست پر روانہ كيا گيا تھا اگر چہ مالك اشتر نے انہيں روانہ كئے جانے كى مخالفت كى تھى اور يہ كہا تھا كہ جرير كا دل سے جھكاؤ معاويہ كى جانب ہے ليكن اس پر حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا تھا كہ ان كا امتحان كئے ليتے ہيں پھر ديكھيں گے كہ وہ ہمارى طرف كيسے آتے ہيں _ ملاحظہ ہو مروج الذہب ج ۲/ ۳۷۲ ، وقعہ صفين ۲۷_

۱۹_ وقعہ صفين /۱۹ ، شرح ابن ابى الحديد ج ۳ ۷۵ ، كامل ابن اثير ج ۳/ ۲۷۶ اور مروج الذہب ج ۲/ ۳۷۲_

۲۰ _ مروج الذہب ج ۲/ ۳۷۲ ، وقعہ صفين ۳۴ ، ۳۱_

۲۱_ شرح ابن ابى الحديد ج ۵/ ۱۲۹_

۲۲_ وقعہ صفين ۱۲۰_۱۱۹ _ شرح ابن ابى الحديد ج ۳/ ۱۸۹_

۲۳_ تاريخ ابوالفداء ج ۱/ ۱۷۱ كامل ابن اثير ج ۳/ ۱۹۲_ ۲۷۷_

۲۴_ وقعہ صفين ۳۲ شرح ابن ابى الحديد ج ۳/ ۷۸_

۲۵_ مروج الذہب ج ۲/ ۳۵۴ _ وقعہ صفين ۴۰/ ۳۸_

۲۶_ وقعہ صفين ۴۴ يہاں اس بات كا ذكر بھى ضرورى ہے كہ شرحبيل اور جرير كے درميان سخت عداوت تھي_

۲۷_ ان كى قرابت دارى ميں يزيد بن اسد بُسر اور ارطاء اور عمر بن سفيان بھى شامل تھے_

۲۸_ وقعہ صفين ۴۵_

۲۹_ وقعہ صفين ۵۰_ ۴۶ شرح ابن ابى الحديد ج ۲/ ۷۱_


نواں سبق

قاسطين (جنگ صفين)۱

حضرت علىعليه‌السلام كا معاويہ كے ساتھ مراسلت ميں محرك

حجاز كى جانب درازدستي

نمايندے كى روانگي

مہاجرين و انصار كے ساتھ مشورہ

عمومى فوج

كمانڈروں كاتقرر

صفين كى جانب روانگي

شام ميں بحرانى حالات كا اعلان

پہلا مقابلہ

پانى پر بندشي

سوالات

حوالہ جات


حضرت علىعليه‌السلام كا معاويہ كے ساتھ مراسلت ميں محرك

حضرت علىعليه‌السلام جب تك كوفہ ميں قيام پذير رہے اور صفين كى جانب روانہ ہونے سے پہلے تك آپ نے معاويہ كى جانب خطوط بھيجنے اور اپنے نمايندگان كو روانہ كرنے ميں ہميشہ پيشقدمى كى تا كہ اسے اس راہ و روش سے روكا جا سكے جو اس نے اختيار كر ركھى تھى جس كى پہلى وجہ يہ تھى كہ حضرت علىعليه‌السلام دل سے يہ نہيں چاھتے تھے كہ شام كے لوگوں سے جنگ كى جائے كيونكہ وہ بھى مسلمان تھے_

دوسرى وجہ يہ تھى كہ حضرت علىعليه‌السلام چاھتے تھے كہ معاويہ ،شام كے عوام اور ان لوگوں كے لئے جو آئندہ آپ كے ہمركاب رہ كر معاويہ سے جنگ كريں گے اتمام حجت ہوجائے_

تيسرى وجہ يہ تھى كہ اگر امير المومنين حضرت علىعليه‌السلام معاويہ كے خطوط كا جواب نہ ديتے اور اس كے عدم تعاون كے خلاف صريح و قطعى موقف اختيار نہ كرتے تو ممكن تھا كہ عوام اس رائے كے حامى ہوجاتے كہ معاويہ حق بجانب ہے_

ابن ابى الحديد نے ان بعض خطوط كونقل كرتے ہوئے جن كا مبادلہ حضرت علىعليه‌السلام اور معاويہ كے درميان ہوا لكھا ہے كہ اگر چہ زمانے ميں نيرنگياں تو بہت ہيں مگر اس سے زيادہ كيا عجيب بات ہو سكتى ہے كہ حضرت علىعليه‌السلام كے لئے نوبت يہاں تك آن پہنچى كہ ان كا اور معاويہ كا شمار ايك ہى صف كيا جانے لگا اور وہ ايك دوسرے كے ساتھ مراسلت كريں _(۱)

اس كے بعد ابن ابى الحديدنے لكھا ہے كہ اس مراسلت و مكاتبت كے پس پشت كون سا محرك كار فرما تھا وہ لكھتا ہے كہ '' شايد حضرت علىعليه‌السلام كى نظر ميں اس كى وہ مصلحت آشكار و روشن تھى جو ہم پر


پوشيدہ و پنہاں ہے '' اوپر جو وجوہ بيان كے گئے ہيں ان كے علاوہ خطوط لكھنے كى وجہ يہ بھى ہو سكتى ہے كہ :

۱-_ زور آور و تنومند سياسى افراد نے مختلف احاديث جعل كركے معاويہ كو اس بلند مقام پر پہنچا ديا اور اس كے لئے ايسے فضائل اختراع كئے كہ معاويہ امامعليه‌السلام كے مقابلہ ميں آگيا يہى نہيں بلكہ معاويہ خود كو افضل تصور كرتا اور اس پر فخر كرتا تھا يہ تحريك عمر كے عہد خلافت ميں شروع ہوئي(۲) اور بالاخرہ امير المومنين حضرت علىعليه‌السلام كے زمان خلافت ميں شدت اختيار كر گئي_

۲_ معاويہ نے حضرت علىعليه‌السلام كو جو خطوط لكھے ہيں ان ميں اس نے حضرت علىعليه‌السلام سے بہت سى ناروا باتيں منسوب كى ہيں اور اپنى طرف ايسے افتخارات كى نسبت دى ہے جن كى كوئي اساس نہيں ہے اگر حضرت علىعليه‌السلام نے ان حقائق كوآشكار نہ كيا ہوتا اور اس ضمن ميں ضرورى باتيں نہ بتائي ہوتيں تو بہت سے حقيقى واقعات نظروں سے او جھل ہو كر رہ جاتے اور وہ افترا پردازياں جو آپعليه‌السلام كے ساتھ روا ركھى گئيں ان كا جواب نہ ديا گيا ہوتا تو سادہ لوح انسان ان كو حقيقت سمجھ كر قبول كر ليتے_

حضرت علىعليه‌السلام سے جو اتہامات منسوب كئے گئے ان ميں سے ايك يہ بھى تھا كہ آپعليه‌السلام كو اپنے سے پہلے كے خلفاء سے حسد و بغض تھا اور ان كے خلاف شورش كرنا چاہتے تھے اگر اس كا جواب نہ ديا گيا ہوتا تو عين ممكن تھا كہ سپاہ عراق ميں تفرقہ پيدا ہوجاتا چنانچہ يہى جہ تھى كہ حضرت علىعليه‌السلام نے اس سازش كو روكنے كى غرض سے اپنے منطقى و مستدل بيان سے معاويہ كو جواب ديا(۳) _

حجاز كى جانب دراز دستي

حضرت علىعليه‌السلام كى يہى كوشش تھى كہ معاويہ كے ساتھ جو اختلافات ہے وہ مسالمت آميز طريقے سے حل ہوجائيں اور وہ قتل و خون ريزى كے بغير حق و انصاف كے سامنے سر تسليم خم كردے ليكن اس كے بر عكس معاويہ پورى سنجيدگى سے حالات كى برہمى و آشفتگى اور مسلمانوں ميں باہمى اختلاف و گروہ بندى كى كوشش كرتا رہا چنانچہ اس نے اپنے سياسى اقتدار كو تقويت دينے كے لئے


سر برآوردہ افراد اور سرداران قبائل كو خط لكھنے شروع كئے تا كہ اس طريقے سے حجاز اس كى دسترس ميں آجائے_

اس سلسلے ميں اس نے عمروعاص سے مشورہ كيا اور كہا كہ اس اقدام كے ذريعے ہميں دو نتائج ميں سے ايك حاصل ہوگا يا تو ہم اپنے مقصد ميں كامياب ہوجائيں گے اور انھيں اپنا ہم خيال بناليں گے يا تو كم از كم ان كے درميان شك و ترديد تو پيدا كرديں گے تا كہ وہ علىعليه‌السلام كو مدد دينے سے باز رہيں _

ليكن عمروعاص كى رائے ميں يہ اقدام موثر نہ تھا كيونكہ اس كا خيال تھا كہ جن افراد كو خط لكھا جا رہا ہے وہ يا تو حضرت علىعليه‌السلام كے طرفدار ہيں ظاہر صورت ميں انھيں خط لكھنے سے ان كى نظر و بصيرت ميں اضافہ ہوگا اور وہ بيشتر علىعليه‌السلام كى حامى و طرفدار ہوجائيں گے يا پھر وہ لوگ ہى جو عثمان كے جانبدار ہيں انھيں خط لكھنے سے كوئي فائدہ نہيں كيونكہ وہ جو كچھ بھى ہيں خط سے ان پر مزيد كوئي اثر ہونے والا نہيں ،رہے وہ لوگ جو ہر طرف سے لاتعلق ہيں انھيں بھى تم سے زيادہ علىعليه‌السلام پر اعتماد ہے_

ليكن معاويہ اپنے فيصلے پر پورى سنجيدگى سے قائم رہا بالاخر دونوں نے مشتركہ طور پر اہل مدينہ كو لكھا اور اس ميں انہوں نے يہ اتہام لگايا كہ عثمان كے قاتل علىعليه‌السلام ہيں چنانچہ انہوں نے حضرت علىعليه‌السلام سے درخواست كى كہ عثمان كے قاتل ان كے حوالے كئے جائيں اور اس سلسلے ميں اہل مدينہ سے مدد چاہي_(۴)

مذكورہ بالا خط كے علاوہ انہوں نے سعد بن ابى وقاص ،عبداللہ بن عمر اور محمد بن مسلمہ جيسے سر برآوردہ لوگوں كو بھى خطوط لكھے كہ جنہوں نے حضرت علىعليه‌السلام سے كنارہ كشى اختيار كر لى تھي_

اس اقدام سے معاويہ كا مقصد و مدعا يہ تھا كہ وہ حضرت علىعليه‌السلام كى حكومت كو داخلى مشكلات و كشمكش سے دوچار كردے كيونكہ وہ جانتا تھا كہ اگر اپنے مقصد ميں كامياب ہوگيا تو اسے دو جانبہ فتح و كامرانى حاصل ہوگى اول تو يہ كہ وہ سربرآوردہ اشخاص كى حمايت حاصل كرلے گا اور دوسرى طرف اس كے اس اقدام سے مركزى حكومت كو كارى ضرب لگے گي_


ليكن معاويہ كو جيسا كہ عمروعاص نے پيشين گوئي كى تھى كاميابى حاصل نہ ہوئي كيونكہ جن اشخاص كو خطوط لكھے گئے تھے انہوں نے منطقى و مدلل جواب كے ساتھ ان كى درخواست كو رد كرديا_(۵)

نمايندے كى روانگي

اس سے پہلے كہ جنگ و جدال كى نوبت آئے حضرت علىعليه‌السلام ہر اس طريقے كو بروئے كار لائے جس كے ذريعے اہل شام بيدار ہو سكيں اور معاويہ كو شورش و سركشى سے باز ركھا جاسكے اسى مقصد كے تحت انہوں نے ''خفاف بن عبداللہ '' كو معاويہ كے پاس بھيجا كيونكہ خفاف ميں شاعرانہ مزاح جاتا پايا تھا اور فطرتا بولنے والے واقع ہوئے تھے شام پہنچنے كے بعد انہوں نے اپنے چچا زاد بھائي '' حابس بن سعد'' كو جو قبيلہ طيى ّ كے سردار تھے اپنے ساتھ ليا اور دونوں مل كر معاويہ كى طرف روانہ ہوئے اور عثمان كے واقعہ قتل كى پورى تفصيل اس كے سامنے بيان كى اس كے بعد انہوں نے يہ بھى بتايا كہ لوگ حضرت علىعليه‌السلام كے دست مبارك پر بيعت كرنے كے لئے كس طرح متمنى و خواہش مند تھے ساتھ ہى انہوں نے حضرت علىعليه‌السلام كى بصرہ و كوفہ كى جانب روانگى كى مفصل كيفيت بيان كى اور مزيد كہا كہ اس وقت بھى بصرہ ان كى ہاتھ ميں ہے اور كوفہ ميں تمام طبقات كے لوگ جن ميں بچے، سن رسيدہ خواتين ، نئي دلہينں و غيرہ شامل ہيں پورے جوش و خروش سے آپ كا استقبال كرنے كے لئے شاداں و خندان آئے اور ميں جس وقت ان كے پاس روانہ ہوا تھا ان كے سامنے شام كى جانب آنے كے علاوہ كوئي مقصد نہ تھا(۶) _معاويہ نے جب يہ كيفيت سنى تو اس پر خوف طارى ہوگيا اور ان لوگوں كى موجودگى ميں جو ان كے گرد جمع تھے اسے اپنى شكست كا احساس ہوا ناچار اس نے حابس سے كہا كہ لگتا ہے كہ يہ شخص علىعليه‌السلام كا جاسوس ہے اسے اپنے پاس سے آگے چلتا كر كہيں ايسا نہ ہو كہ يہ شام كے لوگوں كو گمراہ كردے _(۷)


مہاجرين و انصار سے مشورہ

جب حضرت علىعليه‌السلام كو يہ يقين ہوگيا كہ اب يہ طوفان دبنے والا نہيں اور معاويہ اپنے ارادے سے بازنہ آئے گا تو ناچار انہوں نے فيصلہ كيا كہ مقابلے كيلئے اقدام كريں چنانچہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے طريق كا ر پر عمل كرتے ہوئے آپعليه‌السلام نے جنگ سے قبل اپنے مہاجرين اور انصار اصحاب سے مشورہ كيا حضرت علىعليه‌السلام كے پيروكاروں نے مختلف افكار و خيالات كا اظہار كيا جن ميں بيشتر افراد كى رائے يہى تھى كہ جس قدر جلد ہوسكے اقدام كيا جائے كچھ لوگوں نے كہا كہ جتنا جلدى ہوسكے اس بارے ميں فيصلہ كر ليا جائے مگر ان ميں ايسے لوگ بھى تھے جو چاھتے تھے كہ پہلے مسالمت آميز طريقہ اختيار كيا جائے اور اگر حريف اپنى عناد پسندى اور سركشى پر قائم رہا تو جنگ شروع كى جانى چاھيئے_(۸)

سب سے آخر ميں سہل بن حنيف اپنى جگہ سے اٹھے اور انہوں نے حاضرين كى نمايندگى كرتے ہوئے كہا كہ '' اے امير المومنين آپ جس كے ساتھ صلح و آشتى چاہيں گے ہم اس كے ساتھ صلح و آشتى كريں گے ہمارى رائے اور مرضى وہى ہے جو آپ كى ہے ہم سب دست راست كى مانند آپ كے مطيع و فرمانبردار ہيں _(۹)

اس كے بعد حضرت علىعليه‌السلام نے عام لوگوں كو آمادہ كرنے كى خاطر خطبہ ديا اور لوگوں ميں جہاد كرنے اور صفين كى جانب روانہ ہونے كيلئے جوش دلايا آپ نے فرمايا : سيرو الى اعداء اللہ سيروا الى اعداء السنن و القران سيروا الى بقية الاحزاب قتلة المہاجرين و الانصار(۱۰) چلو دشمنان خدا كى طرف ،چلو سنت و قرآن كے دشمنوں كى جانب ان لوگوں كى طرف جو باطل كے گروہ ميں سے بچ گئے ہيں جو مہاجرين و انصار كے قاتل ہيں _

اس اثناء '' بنى فزارہ '' قبيلے كا '' اربد'' نامى شخص اٹھا جو بظاہر معاويہ كا ہمنوا اور اس كا جاسوس تھا اس نے كہا كہ كيا آپ يہ چاھتے ہيں كہ ہميں اپنے شامى بھائيوں كے خلاف جنگ كرنے كے ليئے لے جائيں ؟ بالكل اسى طرح جيسے آپ برادران بصرہ كے خلاف ہميں لے گئے تھے خدا كى


قسم ہم ہرگز ايسا كوئي اقدام نہيں كريں گے_

حضرت مالك اشتر نے جب يہ ديكھا كہ يہ شخص مسلمانوں كى صفوں كو درہم برہم كرنا چاہتا ہے تو انہوں نے بلند آواز ميں كہا_ ہے كوئي جو ہميں اس كے شر سے نجات دلائے؟ اربدى فزارى نے جيسے ہى مالك اشتر كى آواز سنى تو خوف كے مارے بھاگ نكلا لوگوں نے اس كا تعاقب كيا اور بالاخر بيچ بازار ميں اسے پكڑليا اور گھونسوں لاتوں ،اور شمشير كى نيام سے اسے اتنا مارا كہ اس كى جان ہى تن سے نكل گئي _(۱۱)

عمومى فوج

جب حضرت علىعليه‌السلام نے سركشوں اور شورش پسندوں كے خلاف جہاد كرنے كے لئے رائے عامہ كو ہموار كر ليا تو آپعليه‌السلام نے مختلف مناطق ميں اپنے كارپردازوں كو فوجى فرمانداروں اور عاملين محصول كو خطوط لكھے جن ميں انھيں ہدايت كى گئي كہ اپنے اپنے علاقوں ميں وہ لوگوں كو اس جہاد مقدس ميں شركت كى دعوت ديں اور جو لوگ متمنى ہيں انھيں مركز كى جانب روانہ كيا جائے_(۱۲)

لوگوں كے دلوں ميں جذبہ خلوص و قربانى كو تقويت دينے كى خاطر منبر مسجد پر تشريف لے گئے اور وہاں خطبہ صادر فرمايا_ خطبہ كے دوران بعض مقامات پر آپ نے يہ بھى فرمايا كہ معاويہ اور اس كے سپاہى باغى و سركش ہوگئے ہيں كيونكہ شيطان نے ان كى زمام اپنے دست اختيار ميں لے لى ہے اور پر فريب و عدوں سے انھيں گمراہ كرديا ہے تم خداوند تعالى كى داناترين مخلوق ہو اور اسنے جن چيزوں كو حلال و حرام قرار ديا ہے ان كے درميان تم خوب تميز كرسكتے ہو چنانچہ جو تم جانتے ہو اس پر اكتفاء كرو اور خدا نے جن چيزوں سے گريز كرنے كے لئے كہا تم ان سے اجتناب كرو_(۱۳)

حضرت علىعليه‌السلام كے خطبے كے بعد آپ كے دونوں فرزند دلبند حضرت امام حسن اور حضرت امام حسين (عليہما السلام) نے بھى اس مسئلے كى اہميت كو واضح و روشن كرنے كے غرض سے بصيرت افروز تقارير كيں _


حضرت امام حسنعليه‌السلام كے بعض ارشادات عاليہ ميں آيا ہے كہ معاويہ اور ان كے سپاہى تيار ہوچكے ہيں خيال رہے تم ہرگز كنارہ كشى نہ كرنا كيونكہ كنارہ كشى اور احساس كمترى دلوں كو ايك دوسرے سے جدا كرديتے ہيں نوك نيزہ كے سامنے سينہ سپر ہونا عزت شجاعت اور پاكدامنى كى علامات ہيں _(۱۴)

امام مجتبىعليه‌السلام نے عام خطبہ صادر كرنے كے علاوہ ان لوگوں سے بھى شخصاً ملاقات كى جن كا ارادہ جنگ سے كنارہ كشى اختيار كرنے كا تھا چنانچہ انھيں سمجھا كر صف مجاہدين ميں لے آئے_(۱۵)

حضرت امام حسينعليه‌السلام نے تقرير كرنے كے علاوہ لوگوں كوراہ خدا ميں جہاد كرنے كى ترغيب دلائي اور انھيں بعض آداب فن حرب و جنگ بھى سكھائے اور سب كو اتحاد و يگانگى كى دعوت دي_(۱۶)

جب حضرت علىعليه‌السلام اور ان كے دونوں فرزند ارجمند كى تقارير اختتام پذير ہوئيں تو اكثر و بيشتر لوگ نبرد آزمائي كيلئے آمادہ ہوچكے تھے ليكن عبداللہ بن مسعود كے ساتھى عليحدہ رہے چنانچہ وہ لوگ حضرت علىعليه‌السلام كے پاس آئے اور كہنے لگے كہ ہم جنگ ميں آپ سے لا تعلق رہيں گے ليكن جب ہميں جداگانہ طور پر جگہ مل جائے گى تو قريب آكر آپ اور شام كے لشكر كو ديكھيں گے اور دونوں ميں سے جو بھى غير مشروع مقصد كى جانب جائے گا يا جس كا ظلم و ستم ہميں نظر آئے گا ہم اس كے خلاف جنگ كريں گے_

حضرت علىعليه‌السلام نے ان كے افكار و خيالات كى ستائشے كى اور فرمايا كہ دين ميں اسى كا نام فہم و فراست ہے اور يہى سنت سے آگاہى و واقفيت ہے_

عبداللہ كے دوسرے ساتھيوں نے جو چار سو افراد پر مشتمل تھے حضرت علىعليه‌السلام سے كہا كہ ہم آپ كى فضيلت و برترى سے بخوبى واقف ہيں اور يہ بھى جانتے ہيں كہ ہم سب كو دشمن سے نبرد آزما ہونے كى آرزو ہے مگر اس كے ساتھ ہى ہميں اس جنگ كے بارے ميں شك و تردد ہے ہمارى


مرضى تو يہ ہے كہ آپ عليه‌السلام ہميں اسلامى مملكت كى سرحدوں پر بھيجديں تا كہ وہاں پہنچ كر ہم اسلام كا دفاع كرسكيں _

حضرت علىعليه‌السلام نے انھيں ربيع بن خيثم كى فرماندارى ميں علاقہ رى كى سرحد پر بھيجديا_(۱۷)

قبيلہ '' باہلہ'' ميں بھى ايسا گروہ موجود تھا جس كا حضرت علىعليه‌السلام كے مكتب فكر كى جانب كوئي خاص ميلان نہ تھا چنانچہ حضرت علىعليه‌السلام كے فرمان كے بموجب وہ جنگ سے كنارہ كش ہوگيا كيونكہ ايسے لوگوں كى جہاد ميں شركت جن كا كوئي مقصد و ارادہ نہ ہو اور عقيدہ بھى ان كا سُست ہو تو وہ نہ صرف محاذ حق كو تقويت نہيں پہنچاتے بلكہ بسا اوقات دوسرے سپاہيوں كا حوصلہ پست كرنے كا سبب ہوتے ہيں اور ايسى صورت ميں كہ وہ قيد كرلئے جائيں تو بہت سے فوجى راز دشمن تك پہنچاديتے ہيں يا خود دشمن ہى انھيں يہ موقع فراہم كرديتا ہے كہ وہ اس كے ليئے اپنے وطن ميں خدمات انجام ديں _

شايد ان دلائل كو ملحوظ خاطر ركھتے ہوئے حضرت علىعليه‌السلام نے انھيں اپنے پاس بلايا اور ان كى جو مزدورى يا تنخواہ ہوسكتى تھى وہ ادا كرنے كے بعد انھيں حكم ديا كہ '' ديلم'' كى جانب مہاجرت كرجائيں _(۱۸)

كمانڈروں كا تقرر

حضرت علىعليه‌السلام نے تمام بنيادى كام انجام دينے كے بعد لشكر كى روانگى كا فيصلہ كيا چنانچہ آپ كى فرمايش كے مطابق '' حارث بن اعور'' نے كوفہ ميں اعلان كيا كہ تمام لشكر'' نُخَيلة''كى جانب روانہ ہوجائے اور شہر سے باہر خيمے بپا كرلے كوفہ كے حاكم شہر '' مالك بن حبيب'' كو اس كام پر مقرر كيا گيا كہ وہ سپاہ عسكر كے درميان ہم آہنگى پيدا كريں اور انھيں لشكرگاہ كى جانب روانہ كرنے ميں مدد كريں عقبہ بن عمرو انصارى حضرت علىعليه‌السلام كے جانشين كى حيثيت سے كوفہ ميں ہى مقيم رہے_

ان اقدامات كى تكميل كے بعد امير المومنين حضرت علىعليه‌السلام اپنے لشكر كے ہمراہ لشكرگاہ كى جانب


روانہ ہوئے_

جب سپاہى جمع ہوگئے تو حضرت علىعليه‌السلام نے انھيں سات دستوں ميں تقسيم كيا اور دستہ كا كمانڈر و سردار مقرر كيا_

۱_ قيس و عبدالقيس كے دستہ كا سد بن مسعود ثقفى كو_

۲_ تميم، ضبہ، قريش، وبات كنانہ اور اَسَد كے دستہ پر معقل بن قيس يربوعى كو_

۳_ ازد بجيلہ خثعم، انصار اور خزاعہ كے دستہ پر مخنف ابن سليم كو_

۴_ كندا، حضرت موت، قضاعہ اور مہرہ كے دستہ پر حجر بن عدى كو_

۵ _ مذحج و اشعرى قبائل كے دستوں پر زياد بن نَضر كو_

۶_ ہمدان اور حمير كے قبائل كے دستے پر سعد بن قيس ہمدانى كو_

۷_ طى كے قبائل دستہ پر عدى ابن حاتم كو(۱۹)

ابن عباس اور ''ابوالاسود دُئلى ''كو بصرہ ميں اپنا جانشين مقرر كيا چنانچہ اس شہر سے پانچ لشكروں پر مشتمل افواج اپنے اپنے فرمانداروں كى نگرانى ميں روانہ ہوئيں اور نُخيلة ميں اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں پہنچ گئيں _(۲۰)

حضرت على (ع نے فرمانداروں كو مقرر اور دستوں كو منظم كرنے كے بعد زياد بن نَضر (دستہ مذحج اور اشعريوں كے فرماندار)اور شريح بن ہانى كو اپنے پاس بلايا اور ضرورى تذكرات و ہدايات كے بعد انھيں بارہ ہزار سپاہيوں كے ساتھ اگلى منزل كى جانب روانہ كيا اور حكم ديا كہ تمام واقعات كى اطلاعات اور خبريں آپعليه‌السلام كو پہنچائي جائيں _(۲۱)

صفين كى جانب روانگي

روانگى كے بعد اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام بھى بدھ كے دن بتاريخ ۵ شوال ۳۶ھ اپنے لشكر عظيم كے ہمراہ جس كى تعداد (قراول لشكر) كے ساتھ نوے ہزار سپاہيوں پر مشتمل تھى(۲۲) نُخيلہ سے


صفين كى جانب روانہ ہوئے_

راستے ميں مختلف حادثات بھى پيش آئے جن ميں سے يہاں صرف دو واقعات كا ذكر كيا جاتا ہے_

۱_ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام جس وقت شہر '' رقہ'' ميں داخل ہوئے تو آپ نے وہاں كے لوگوں سے فرمايا كہ دريا پر پل باندھيں تا كہ سپاہ آرام سے دريا پار كرسكے ليكن وہ لوگ چونكہ آپ كى حكومت كے مخالف تھے اسے لئے انہوں نے اس كام كو انجام دينے سے انكار كيا يہى نہيں بلكہ وہ جہاز جو وہاں اس وقت لنگر انداز تھے وہ انھيں بھى اپنے ساتھ لے گئے تا كہ لشكر اسلام كے ہاتھ نہ لگ جائيں اور ہ انھيں اپنے استعمال ميں لائيں يہ كيفيت ديكھ كر حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے عساكر كو حكم ديا كہ وہ پل مَنبج سے گذريں (جو لشكر گاہ سے نسبتاً دور تھا) اس اقدام كے بعد آپعليه‌السلام نے مالك اشتر كو وہيں قيام كرنے كا حكم ديا اور خود اس جانب روانہ ہوگئے_

حضرت علىعليه‌السلام كے ساتھ اہل رقہ نے جو سلوك كيا اس سے مالك اشتر خوش تو نہ تھے چنانچہ انہوں نے وہاں كے لوگوں سے كہا كہ خدا كى قسم اگر تم نے پل نہ باندھا اور حضرت علىعليه‌السلام كو واپس نہ آنے ديا تو يں تم سب كو تہ و تيغ كردوں گا، تمہارے مال كو ضبط كرلوں گا اور زمين ويران كرڈالوں گا_

يہ سن كر وہ لوگ ايك دوسرے كا منھ تكنے لگے اور آپس ميں كہنے لگے كہ اشتر جو كہتے ہيں وہ كر گذرتے ہيں حضرت علىعليه‌السلام نے انھيں يہاں اسى مقصد كے لئے رہنے كا حكم ديا ہے چنانچہ وہ فورا ہى پل باندھنے كيلئے تيار ہوگئے اور تھوڑے عرصے ميں ہى انہوں نے دريا پر پل باندھ ديا اور لشكر اسلام اس پر سے گذر گيا(۲۳) جب لشكر اسلام فرات كے ساحل پر اتر گيا بض افراد نے يہ تجويز پيش كى كہ اتمام حجت كے طور پر معاويہ كو خط لكھا جائے اور اس كو يہ دعوت دى جائے كہ تم سے جو لغزشيں سرزد ہوئي ہيں وہ ان سے اَب باز رہے حضرت علىعليه‌السلام نے ان كى اس تجويز كو قبول كرليا اور كتنى ہى مرتبہ نصيحت آميز خط لكھئے_


حضرت على (ع)نے مذكورہ خط ميں اس امر كى جانب بھى اشارہ فرمايا كہ (اے معاويہ) مقام خلافت كے لئے وہ شخص سب سے زيادہ سزاوار ہے جو دوسروں كے مقابل رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے سب سے زيادہ نزديك ہو وہ كتاب خدا اور احكام اسلام كو دوسرں كى نسبت زيادہ بہتر سمجھتا ہو دين اسلام قبول كرنے ميں وہ سب پر سبقت لے گيا ہو اور جس نے سب سے زيادہ اور بہتر طريقے پر جہاد كيا ہو ميں تمھيں كتاب خدا و سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جانب آنے اور امت مسلمہ كى خون ريزى سے اجتناب كى دعوت ديتا ہوں _

حضرت علىعليه‌السلام كے خط كى جواب ميں معاويہ نے صرف ايك ہى شعر لكھا اور اس ميں اس نے تہديد آميز رويہ اختيار كيا شعر كا مضمون يہ ہے كہ ميرے اور تمہارے درميان جنگ اور شمشير كے علاوہ كوئي اور چيز فيصلہ نہيں كر سكتي_(۲۴)

شام ميں بحرانى حالات كا اعلان

معاويہ كو جب يہ اطلاع ملى كہ لشكر عراق كى روانگى شام كى جانب ہے تو وہ سمجھ گيا كہ اب كام نامہ و پيام سے گذر كر سنجيدہ صورت اختيار كر گيا ہے چنانچہ اس نے حكم ديا كہ لوگ شہر كى مسجد ميں جمع ہوں تقريبا ستر ہزار لوگ جمع ہوئے عثمان كے خون آلود پيراھن كو ہاتھ ميں ليا معاويہ مسجد كے منبر پر گيا اور كہا: اے شام والو تم نے اس سے پہلے علىعليه‌السلام كے معاملے ميں مجھ پر اعتبار نہيں كيا ليكن اب سب پر يہ بات روشن ہوگئي ہے كہ عثمان كا قتل علىعليه‌السلام كے علاوہ كسى نے نہيں كيا انہوں نے ہى عثمان كے قتل كا حكم صادر كيا اور ان كے قاتلوں كو پناہ دى اور آج انہى افراد پر مشتمل فوج انہوں نے تشكيل دى ہے اور تمہيں نيست و نابود كرنے كے لئے اب ان كا رخ شام كى جانب ہے_(۲۵)

معاويہ كى جب ولولہ انگيز تقرير ختم ہوئي تو لوگ اس كے گرد ہر طرف سے جمع ہوگئے اور اس كے قول و بيان كى تائيد كى اس نے بھى اس موقع سے فائدہ اٹھانے كى غرض سے لوگوں كے گروہ


بنائے اور انھيں صفين كى جانب روانہ كيا اور ساتھ ہى اس نے شام ميں غير معمولى حالات كا اعلان كرديا اور وہاں كے عوام كو حكم ديا كہ محاذ جنگ پر روانہ ہوں _

معاويہ نے اپنى فوج كو حكم ديا كہ جب وہ شہر سے ايك منزل كے فاصلہ پر پہنچ جائے تو وہيں ٹھہر جائے اور اسے سلامى دے يہاں اس نے ميمنہ، ميسرہ اور مقدم لشكر كے فرماندار مقرر كيئے_

اس كے بعد لشكر وہاں سے روانہ ہوا اور اس سے قبل كہ حضرت علىعليه‌السلام كے دستے صفين پہنچيں(۲۶) وہ وہاں پہنچ گيا اور ايسے وسيع ميدان ميں جہاں سے دريائے فرات كا پانى آسانى سے دستياب ہوسكتا تھا اس نے اپنے خيمے لگائے (يہاں ساحل كے نزديك ديگر مقامات بلندى پر واقع ہيں اسى لئے پانى تك رسائي آسانى سے نہيں ہوسكتي) لشكر شام كى سپاہ كى تعداد تقريبا پچاسى ہزار(۸۵) تھى(۲۷) معاويہ نے قراول لشكر كے فرماندار ابوالاعور سلمى كو چاليس ہزار سواروں كے ساتھ گھاٹ پر مقرر كرديا_(۲۸)

پہلا مقابلہ

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے قراول لشكر كو جب يہ معلوم ہوا كہ معاويہ عظيم فوج كى ساتھ صفين كى جانب روانہ ہوگيا ہے تو انہوں نے اس خوف سے كہ كہيں دشمن كے نرغے ميں نہ گھر جائيں انہوں نے ''ہيت''نامى دريا كو پيچھے چھوڑديا اور حضرت علىعليه‌السلام سے جاملے حضرت علىعليه‌السلام كو جب قراول لشكر كے واپس آنے كى اطلاع ملى اور اس كى وجہ معلوم ہوئي تو آپعليه‌السلام نے فرماندار لشكر كى رائے و تدبير كو قدر و منزلت كى نظر(۲۹) سے ديكھا _

اس كے بعد آپ نے اسى لشكر كو دوبارہ پيش پيش چلنے كيلئے روانہ كيا چنانچہ جب ان كا معاويہ كے قراول دستے سے سامنا ہوا تو انہوں نے اس كى اطلاع حضرت علىعليه‌السلام كو دى اور دريافت كيا كہ اب انھيں كيا اقدام كرنا چاہيے؟ حضرت علىعليه‌السلام نے حضرت مالك اشتر كو ايك دستے كے ہمراہ ان كى مدد كے لئے روانہ كيا اور يہ حكم ديا كہ جب غنيم كا لشكر سامنے آئے تو تم ميرى جانب سے سردار لشكر


كے فرائض انجام دينا مگر يہ ياد رہے كہ حملے كا آغاز تمہارى جانب سے نہ ہو جب دشمن بالكل ہى مقابل آجائے تو اتمام حجت كى طور پر تم اس سے گفتگو كرنا اور اس كى بات غور سے سننا تا كہ آغاز جنگ كا موجب كينہ عداوت نہ ہو اپنى سپاہ كے ساتھ زياد كو ميمنہ پر اور شريح كو ميسرہ پر مقرر كرنا تم دشمن كے اس قدر نزديك بھى نہ ہونا كہ وہ خيال كرے كہ تم جنگ كے شعلوں كو بر افروختہ كرنا چاھتے ہو اور اس سے اس قدر دور بھى نہ رہنا كہ وہ يہ سمجھنے لگے كہ تم پر اس كا خوف طارى ہے حضرت علىعليه‌السلام نے زياد اور شريح كو خطوط بھى لكھے جن ميں آپ نے يہ حكم صادر فرمايا تھا كہ وہ مالك اشتر كى اطاعت كريں(۳۰) مالك انتہائي تندى و تيزى كے ساتھ روانہ ہوكر قراول دستے تك پہنچ گئے جب رات كى تاريكى سب طرف پھيل گئي تو معاويہ كے فرماندار لشكر ابوالاعور نے مالك اشتر پر شبخون مارا مگر سپاہ اسلام نے اس كى پورى پايمردى سے مقابلہ كيا اور ناچاراُسے پسپا ہونا پڑا_

اگلے روز '' ہاشم بن عتبہ'' كا ابوالاعور سے مقابلہ ہوگيا پہلے تو دونوں فرمانداروں كے درميان پيغامات كا سلسلہ جارى ہوا دونوں كے درميان رنجش و تكرار بھى ہوئي مگر جيسے ہى دن ختم ہوا يہ پيام رسانى اور باہمى درگيرى بھى ختم ہوگئي اگلے روز حضرت علىعليه‌السلام بھى تشريف لے آئے اور معاويہ كے نزديك ہى آپعليه‌السلام نے قيام فرمايا_(۳۱)

پانى پر بندش

حضرت علىعليه‌السلام نے ہر ممكن كوشش كى كہ كوئي ايسى مناسب جگہ مل جائے جہاں انھيں دريائے فرات تك رسائي ممكن ہوسكے مگر آپعليه‌السلام كو اس مقصد ميں كاميابى نہيں ہوئي وہاں تك پہنچنے كا ايك ہى راستہ تھا جسے ابوالاعور نے چاليس ہزار سپاہى تعينات كركے بند كرديا تھا اور وہ سپاہ اسلام كو اس جانب بڑھنے ہى نہيں ديتا تھا_

سپاہ اسلام نے كچھ عرصہ تك اس كو برداشت كيا مگر جب پياس كى شدت كا ان پر غلبہ ہوا تو انہوں نے حضرت علىعليه‌السلام سے دريافت كيا كہ انھيں كيا كرنا چاہيے حضرت علىعليه‌السلام نے صعصہ بن صوحان كو


معاويہ كے پاس اپنے پيغام كے ساتھ روانہ كيا جس ميں آپ نے فرمايا كہ اب جس راہ پر ميں نے قدم ركھ ديا ہے مجھے ہرگز يہ پسند نہيں كہ باہمى مذاكرہ اور اتمام حجت كے بغير جنگ كروں مگر تمہارے قراول لشكر نے ميرے قراول دستے پر حملہ كركے جنگ كا آغاز كرديا ہے اس نے دريا كے راستے كو بند كركے جنگ و جدال ميں پيشقدمى كى ہے اب تم اپنى سپاہ كو حكم دو كہ وہ دريائے فرات كے راستے سے ايك طرف ہوجائے تا كہ ہم جس مقصد كے لئے يہاں آئے ہيں اس پر گفتگو كى جاسكے مگر اس كے ساتھ ہى اگر تم اس بات كے حامى ہو كہ اصل مقصد كو بر طرف كر كے پانى پر جنگ كرو تا كہ اس تك رسائي ہوجائے تو مجھے اس پر بھى عذر نہيں _

معاويہ كو جب يہ پيغام ملا تو اس نے اس كے بارے ميں اپنے ساتھيوں سے مشورہ كيا ان ميں سے بعض نے كہا كہ جس طرح انہوں نے عثمان پر پانى بند كرديا تھا تم بھى بند كرو تا كہ وہ لوگ بھى پياس سے ہلاك ہوجائيں ليكن عمروعاص نے اس اقدام كو لا حاصل سمجھا اور كہا كہ يہ ہو ہى نہيں سكتا كہ تم تو سير ہو كر پانى پيو اور علىعليه‌السلام پيا سے رہ جائيں تم جانتے ہو كہ علىعليه‌السلام كتنے دلاور اور بہادر انسان ہيں عراق و حجاز كے لوگ بھى انہى كے ساتھ ہيں جس روز ہم (حضرت فاطمہعليه‌السلام كے گھر كى تلاشى لے رہے تھے تو ہم دونوں نے ہى علىعليه‌السلام كى زبان سے يہ سنا تھا كہ اگر ميرے ساتھ چاليس آدمى ہى ہوتے انقلاب برپا كرديتا_(۳۲)

مگر اس كے ساتھ ہى معاويہ نے واضح طور پر حضرت علىعليه‌السلام كے نمائندے كو جواب نہيں ديا بس اتنا كہا كہ ميرا فيصلہ جلدى ہى آپ تك پہنچ جائے گا_

''صعصہ'' اس كے بعد حضرت علىعليه‌السلام كے پاس واپس آگئے اور پورے واقعے كى آپعليه‌السلام كو اطلاع دي_

جب صعصہ واپس چلے گئے تو معاويہ نے اپنى سپاہ مزيد ايك دستہ ابوالاعور كى مدد كے لئے روانہ كيا اور يہ تاكيد كہ كہ علىعليه‌السلام پر حسب سابق پانى بند ركھا جائے جب اس واقعہ كى اطلاع حضرت علىعليه‌السلام كو ہوئي تو آپعليه‌السلام نے جنگ كرنے كے لئے حكم ديا_


اشعث بن قيس نے يہ تجويز پيش كى كہ اس مقصد كى بر آورى كا موقع انہيں ديا جائے جب حضرت علىعليه‌السلام نے اس كى اس تجويز سے اتفاق كيا تو ايك فوجى دستہ فرات كى جانب روانہ كيا گيا دونوں لشكروں كے درميان سخت مقابلہ ہوا دونوں جانب سے فرمانداران لشكر نے تازہ دم سپاہى روانہ كئے اور آتش جنگ ہر لحظہ تيز تر ہوتى چلى گئي حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر كو فتح ہوئي اس نے فرات كو اپنے قبضہ ميں لے ليا_

اس پر بعض فاتح سپاہيوں نے يہ تجويز پيش كى كہ ہم بھى دشمن كے ساتھ وہى سلوك كريں گے جو اس نے ہمارے ساتھ روا ركھا تھا مگر جب حضرت علىعليه‌السلام تك يہ بات پہنچى تو آپعليه‌السلام نے حكم ديا كہ جس قدر تمہيں ضرورت ہے وہاں سے پانى بھرلاؤ اور معاويہ كے سپاھيوں كو بھى پانى بھرنے دو كيونكہ خداوند تعالى نے تمہيں فتح و كامرانى عطا كى ہے اور ان كے ظلم و تجاوز كو تم سے دور كرديا ہے_(۳۳)


سوالات

۱_ حضرت علىعليه‌السلام كى رائے ميں معايہ بے عقل، بے پروا اور جاہ طلب انسان تھا مگر اس كے باوجود آپ نے كيوں خطوط لكھے اور اس كے خطوط كے كيوں جواب ديئے؟

۲_ معاويہ نے شام كے لوگوں كے علاوہ اسلامى حكومت كے كن علاقوں سے لوگوں كو اپنى جانب متوجہ كرنا چاہا اور اس كے لئے اس نے كيا اقدامات كئے؟

۳_حضرت علىعليه‌السلام نے طائفہ باہلہ كے افراد كو اپنے لشكر سے عليحدہ كركے انھيں ديلم كى جانب كيوں روانہ كرديا؟

۴_ جب معاويہ كو علم ہوا كہ حضرت علىعليه‌السلام كا لشكر صفين كى جانب روانہ ہے تو اس نے كيا اقدام كيا؟

۵_ معاويہ جب صفين پہنچ گيا تو اس نے سپاہ علىعليه‌السلام كى شكست كے لئے كيا اقدامات كئے؟ اس كا مختصر حال بيان كيجئے اور اس اقدام پر حضرت علىعليه‌السلام كا كيارد عمل رہا اس كى كيفيت بھى لكھيئے؟


حوالہ جات

۱_ ملاحظہ ہو شرح نہج البلاغہ جلد ۶۱/۱۳۶' اس كے علاوہ خود اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام انہى اقوال ميں فرماتے ہيں اس سے زيادہ ميرے لئے اور كيا باعث تردد ہوگا كہ ميرا موازنہ ان لوگوں سے كيا جارہا ہے در حاليكہ ميں عثمان' طلحہ ' زبير ' سعد اور عبدالرحمن كے ہم پلہ نہيں شرح ابن ابى الحديد ج ۱/۱۸۴الدہر انزلنى حتى قيل معاوية و على (زمانے نے مجھے اس قدر گرا ديا ہے كہ ميرا اور معاويہ كا نام ساتھ ليا جاتا ہے)

۲_ عمر ابن خطاب نے معاويہ كو '' كسرائے عرب'' كا لقب ديا تھا اور شورائے خلافت كو تنبيہ كرتے ہوئے فرمايا تھا كہ خبردار اگر تم ايك دوسرے كے ساتھ اختلاف كروگے تو معاويہ شام سے اٹھے گا اور تمہيں مغلوب كر لے گا_

۳_ بطور مثال حضرت علىعليه‌السلام پر حسد كا اتہام لگايا گيا اس كا جواب ديتے ہوئے اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے لكھا تھا بالفرض اس الزام ميں اگر كوئي صداقت ہے تو ايسا كوئي جرم نہيں جو تم پر بھى عايد ہوا اور ميں اس كے لئے عذر خواہى كروں بقول شاعر اگر چہ ننگ ہے مگر اس كى گرد تمہارے دامن كو نہ پكڑے گى (نہج البلاغہ مكتوب ۲۸) معاويہ كے خطوط اور حضرت علىعليه‌السلام كے جوابات كے لئے بيشتر اطلاع كے لئے ملاحظہ ہو شرح ابن ابين الحديد ج ۱۵/۱۸۴

۴_ وقعہ صفين ۶۳ ، ۶۲' شرح ابن ابى الحديد ۳/۱۰۹

۵_ ان خطوط كے جوابات كا مطالعہ كرنے كے لئے ملاحظہ ہوكتا ب'' وقعة صفين '' صفات ۶۳' ۷۱' ۷۲' ۷۵' اور ۷۶،

۶_ وقعہ صفين /۶۵/۶۴

۷_ وقعہ صفين ۶۸

۸_ وقعہ صفين ۹۲

۹_ وقعہ صفين ۹۳

۰_ وقعہ صفين ۹۴

۱۱_ وقعہ صفين ۹۴' چونكہ اس كے قاتلين كى تشخيص نہ كى جاسكى اسى لئے حضرت علىعليه‌السلام نے اس كا خون بہا بيت المال سے ادا كيا_


۱۲_ ان خطوط كے متون كا مطالعہ كرنے كے لئے كتاب وقعہ صفين كے صفحات ۱۰۸،۱۰۴ملاحظہ ہو_

۱۳_ وقعہ صفين ۱۱۳

۱۴_ وقعہ صفين ۱۱۳

۱۵_ وقعہ صفين ۷_۶

۱۶_ وقعہ صفين ۱۱۶

۱۷_ وقہ صفين ۱۱۵

۱۸_ وقعہ صفين ۱۱۶

۱۹_ وقعہ صفين ۱۲۱

۲۰_ وقعہ صفين ۱۱۷

۲۱_ وقعہ صفين ۱۲۲، ۱۲۱

۲۲_ مروج الذہب ج ۲/۳۷۵ ' سپاہ كى تعداد ايك لاكھ اور ايك لاكھ پچاس ہزار بھى بتائي گئي ہے تفصيل كے لئے ملاحظہ ہو وقعہ صفين ۱۵۶' اور اعيان الشيعہ ج ۱/۴۷۸ (دس جلدي)

۲۳_ رقہ ، فرات كے كنار ے پرواقع جزيرہ كا ايك شہر ہے اس كا حرّان تك فاصلہ تين دن كا ہے (معجم البلدان ج۳)

۲۳_ وقعہ صفين ۱۵۲، ۱۵۱'يعقوبى ج ۲/۱۸۷، كامل ابن اثير ج ۳/۲۸۱

۲۵_ وقعہ صفين ۱۵۱،۱۴۹' ليس بينى و بين قيس عتاب غير طعن الكلى و ضرب الرقاب

۲۶_ وقعہ صفين ۱۲۷

۲۷_ صفين رومى عہد حكومت كے زمانے كا ايك ويران قريہ تھا اس كے اور فرات كے درميان ايك تير كى دورى كا فاصلہ تھا صفين كے سامنے ساحل كے نزديك دو فرسخ كے رقبے ميں بانسوں كا گھنا جنگل تھا جس كے درميان پختہ راستہ ساحل فرات تك بنا ہوا تھا اور اسى كے ذريعے پانى وہاں سے لايا جاتا تھا (اخبار الطوال /۱۶۷)

۲۸و۲۹_ مروج الذہب ج ۱/۳۷۵' جس طرح حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر ميں سپاہ كى تعداد ميں اختلاف تھامعاويہ كے لشكر كے بارے ميں مورخين متفق الرائے نہيں ہيں _


۳۰_ كامل ابن اثير ج/ ۲۸۲ ' وقعہ صفين ۱۵۲

۳۱ _ كامل ابن اثير ج ۳/۲۸۲' وقعہ صفين ۱۵۲

۳۲و۳۳_ وقعہ صفين ۱۵۵_ ۱۵۴

۳۴_ وقعہ صفين ۱۶۳

۳۵_ كامل ابن اثير ۳/۲۸۵_ ۲۸۲' وقعہ صفين /۱۶۷و ۱۶۰' مروج الذہب ج۲/۳۷۵' تاريخ يعقوبى ج۲/۱۸۷


دسواں سبق

قاسطين (جنگ صفين)۲

نمايندگان كى روانگي

دوبارہ وفود كى روانگي

معاويہ كے نمائندے

دغہ بازى كمزور حربہ

فيصلہ كن جنگ

عام جنگ

قرآن كى طرف دعوت

معاويہ كہاں ہے؟

حضرت علىعليه‌السلام ميدان كارزار ميں

دوستوں كى حمايت و مدد

سوالات

حوالہ جات


نمائندگان كى روانگي

جب اس راستے پر قبض ہوگيا جو لب دريا تك جاتا تھا تو حضرت علىعليه‌السلام نے دو روز تك توقف فرمايا اس كے بعد آپعليه‌السلام نے اپنى سپاہ كے سرداروں ميں سے بشير بن عمرو ، سعيد بن قيس اور شبث بن ربعى كو معاويہ كے پاس بھيجا_ اور فرمايا كہ تم ان كے پاس جاؤں اور انہيں اطاعت خدا ، ميرے ہاتھ پر بيعت نيز جماعت كى طرف آنے كى دعوت دو_(۱)

حضرت على (ع كے نمائندے ماہ ذى الحجہ كى پہلى تاريخ كو معاويہ كے پاس پہنچے اور اس كے ساتھ مذاكرات شروع كئے سب سے پہلے بشير نے كہا كہ :اے معاويہ دنيا ختم ہوا چاہتى ہے اور آخرت تم پر آشكار ہونے لگى ہے_ خداوند تعالى تجھے تيرے اعمال كى جزاء دے_ اب تو امت كے درميان تقرفہ اندازى اور خون ريزى سے باز رہو معاويہ نے ان كى گفتگو كو درميان ميں ہى قطع كرديا اور كہا كہ : يہى مشورہ تم نے اپنے آقا كو كيوں نہيں ديا؟ بشير نے جواب ديا كہ وہ تمہارے جيسے نہيں ہيں وہ دين ، فضيلت ، اسلام ميں سابقہ زندگى اور رسولخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ قرابت دارى كے اعتبار سے اور اس امر و قصد كيلئے بہترين اور اہل ترين فرد ہيں _

اس كہ بعد شبث نے گفتگو شروع كى معاويہ نے جب اس كى مدلل گفتگو سنى تو وہ حيران رہ گيا اور جب كوئي جواب بن نہ پڑا تو طيش ميں اس كى زبان سے كچھ ناشايستہ الفاظ نكل گئے _ اس نے حضرت علىعليه‌السلام كے نمائندوں سے كہا كہ يہاں سے اٹھو اور چلے جاؤ_ ميرے اور تمہارے درميان فيصلہ اب تلوار ہى كرے گي_ اس پر شبث نے كہا كہ تم ہميں تلوار سے ڈرا رہے ہو خدا كى قسم ہم جلدى ہى تمہيں گرداب بلا ميں گرفتار ديكھيں گے_ يہ كہہ كر يہ نمائندے وہاں سے اٹھ گئے اور حضرت علىعليه‌السلام كے پاس چلے آئے(۲) _


اس كے بعد حضرت على عليه‌السلام نے اپنى سپاہ كو حكم ديا كہ وہ چند دستوں ميں تقسيم ہوجائے اور با رى بارى اپنے ان حريفوں اور ہم پلہ قبائل كے ساتھ جو معاويہ كى سپاہ ميں ہيں نبرد آزما ہوں اور اس طرح طرفين نے ماہ ذى الحجہ كو جنگ و نبرد ميں گذارا ديا_(۳)

دوبارہ وفود كى روانگي

ماہ محرم كى آمد جنگ و جدال كو روكنے كا ايك عمدہ بہانہ تھا _ اور فريقين ميں اس امر پر معاہدہ ہوگيا كہ ماہ محرم كے آخر تك جنگ نہ كى جائے_ حضرت علىعليه‌السلام نے اس وقت كو صلح پسندانہ اقدامات كے لئے بہترين موقع جانا_ چنانچہ آپعليه‌السلام نے اس مقصد كے تحت ايك وفد جو عدى بن حاتم ، يزيد بن قيس ، شبث بن ربعى اور زياد بن خَصَفَہ پر مشتمل تھا معاويہ كے پاس بھيجا_

ہر نمائندے نے جو لازم سمجھا وہ كہا_ ليكن معاويہ كى منطق ہميشہ كى طرح اب بھى وہى تھى اس نے پہلے كى طرح اب بھى يہى كہا كہ : ميں جنگ سے دست بردار نہيں ہوسكتا ميرے اور علىعليه‌السلام كے درميان صرف تلوار ہى فيصلہ كر سكتى ہے_ اس ضمن ميں اس نے مزيد كہا كہ : تم ہميں كيوں اس جماعت كى اطاعت و فرمانبردارى كى دعوت دے رہے ہو_ خلافت كے اصل حقدار ہم ہيں نہ كہ تمہارا پيشوا كيونكہ تمہارے پيشوا نے ہمارے خليفہ كو قتل كيا ہے_ ہمارى منظم جماعت كو منتشر كرديا ہے_ اس گفتگو كے بعد حضرت علىعليه‌السلام كے نمائندے كوئي نتيجہ حاصل كئے بغير واپس آگئے_(۴)

معاويہ كے نمائندے

معاويہ نے بھى ايك وفد جو حبيب بن مسلمہ ، شرحبيل اور معن بن يزيد پر مشتمل تھا حضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں روانہ كيا _ انہوں نے گفتگو كا آغار عثمان كے قتل سے كيا اور كہا كہ : اگر تم صادق ہو اور تم نے عثمان كو قتل نہيں كيا تو ان كے قاتلوں كو ہمارے حوالے كرو اس كے بعد خلافت سے دست


بردار ہوجاؤ اور مسئلہ خلافت كو رائے عامہ پر چھوڑ دو تا كہ لوگ باہمى مشورے اور اتفاق رائے سے جسے چاہيں اپنا خليفہ منتخب كريں _

حضرت علىعليه‌السلام نے اس سے سخت برتاؤ كے ضمن ميں شائستگى سے مذكورہ مسائل كى ترديد كى اور قتل عثمان، اپنى بيعت اور بنى اميہ خصوصا معاويہ كى پہلى زندگى اور حق سے ان كى عداوت كو بيان فرمايا_ معاويہ كے نمائندوں كے پاس چونكہ امامعليه‌السلام كى باتوں كا كوئي جواب نہيں تھا اسلئے وہ اٹھكر چلے گئے_(۵)

دغہ بازى كمزور كا حربہ

معاويہ كے لشكر كا سپاہ اسلام كے ساتھ پہلا معركہ پانى پر ہوا اور اس كے لشكر كو شكست ہوئي اس شكست اور اس طرز گفتگو سے جو اميرالمومنينعليه‌السلام سے براہ راست نيز آپعليه‌السلام كے نمائندگان كے ذريعے ہوئي اس نے سپاہ اسلام كى قوت ، ان كے جذبہ ايثار اور فوج كے بعض سردار و كمانڈروں كى مددگارى كا اندازہ لگايا اور جان ليا كہ جو لوگ ايمان و عقيدت سے سرشار ہوركر جنگ كرنے كے لئے آئے ہيں اگر بالفرض ان كے ساتھ جنگ ہوئي بھى تو پنجہ كشى كركے سنگين خسارے كے باوجود نصرت و فتح حاصل نہيں كى جاسكتي_ بالخصوص ان حالات ميں جب كہ ان كے چاروں طرف خطرہ ہى خطرہ ہے_ چنانچہ انہوں نے يہ ارادہ كيا كہ حضرت علىعليه‌السلام كى سپاہ كے بعض سرداروں سے ملاقات كى جائے اور انھيں لالچ كے ذريعے شوق و ترغيب ولا كر نيز سپاہ كے درميان شك و شبہ پيدا كر كے ان ميں تفرقہ پيدا كيا جائے تا كہ اس كے باعث عساكر اسلام ميں كمزورى و ناتوانى پيدا ہوجائے اور بالاخرہ شكست و پسپائي سے دوچار ہوں _

اس راہ ميں انہوں نے جو عملى تدابير اختيار كيں ہم ان كے يہاں چند نمونے پيش كريں گے_


لشكر كے سرداروں سے ملاقات

حضرت علىعليه‌السلام كا وفد جب معاويہ سے رخصت ہوكر چلا گيا تو اس نے اس وفد كے ايك ركن زيادبن خَصَفَہ سے دوبارہ ملاقات كرنے كى خواہش ظاہر كي_ چنانچہ حضرت علىعليه‌السلام سے متعلق گفتگو كرتے ہوئے اس نے زياد سے كہا كہ وہ اپنے قبيلے كے ہمراہ اس كام ميں ميرى مدد كرے اور ان سے يہ وعد كيا كہ وہ اپنے مقصد ميں كامياب ہوگيا تو شہر بصرہ يا كوفہ كى حكومت اس كو دے دى جائے گي_

ليكن معاويہ كو اس سے مدد و تعاون ميں مايوسى ہوئي تو اس نے عمروعاص سے كہا كہ ہم علىعليه‌السلام كے لشكر كے سرداروں ميں سے جس كے ساتھ بھى گفتگو كرتے ہيں وہ ہميں اطمينان بخش لگتا ہے وہ سب دل سے باہمى طور پر متحد ہيں(۶) _

۲_ قاريوں ، زاہدوں كى جماعت سے ملاقات

معاويہ جب حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر كے سرداروں اور فرمانداروں كو فريفتہ كرنے ميں نااميد ہوگيا تو اس نے ان قاريوں اور زہد فروشوں كى جانب توجہ كى جن كى ظاہرى زندگى ہى اسلام سے متاثر ہوئي تھي_

شام اور عراق كى سپاہ ميں دونوں لشكروں كے درميان تيس ہزار سے زيادہ قارى قرآن موجود تھے يہ قارى دونوں لشكروں كى صفوں سے نكل كر باہر آگئے اور انہوں نے عليحدہ جگہ پر اپنے خيمے نصب كئے اور يہ فيصلہ كيا كہ فريقين كے درميان ثالث كے فرائض انجام ديں _

اس مقصد كے پيش نظر ان كے نمائندے دونوں سپاہ كے فرمانداروں سے ملاقات كرنے كى غرض سے گئے اور ہر ايك نے اپنے نظريات دوسرے كے سامنے بيان كيئے ان كى طرز گفتگو سے يہ اندازہ ہوتا تھا كہ ان پر معاويہ كى جاد و بيانى كا اثر ہوگيا ہے_

جب يہ جماعت حضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں حاضر ہوئي تو آپعليه‌السلام نے انھيں آگاہ كيا كہ وہ كسى كى پر فريب گفتگو سے متاثر نہ ہوں _ اور فرمايا كہ : اس بات كا خيال رہے كہ معاويہ كہيں دين كے


معاملے ميں تمہارى جانوں كو مفتون و فريفتہ نہ كرلے_(۷)

ليكن ابھى كچھ عرصہ نہ گذرا تھا كہ انہى لوگوں كى كثير تعداد اشعث اور چند ديگر افراد كى سركردگى ميں معاويہ كى جادو وبيانى پر فريفتہ ہوگئے اور جنگ كے معاملے ميں انہوں نے عہد شكنى كى _ اور حضرت علىعليه‌السلام كے خلاف صف بستہ ہوگئے چنانچہ حضرت علىعليه‌السلام نے مجبورا معاويہ كى جانب سے مسلط كردہ شرط جنگ بندى كو قبول كرليا_

۳_ سپاہ كے درميان خلل اندازي

معاويہ نے حضرت علىعليه‌السلام كى سپاہ كے دلوں ميں تذبذب و تزلزل پيدا كرنے اور ذہنوں پر خوف و ہراس طارى كرنے كى غرض سے اس دوران جب كہ فريقين كے درميان جنگ جارى تھى حكم ديا كہ خط لكھا جائے جسے تير پر باندھ كر حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر ميں پھينك ديا گيا_

اس خط كا مضمون يہ تھا كہ : خدا كے ايك خير انديش بندے كى طرف سے لشكر عراق كو پيغام _ آگاہ كيا جاتا ہے كہ معاويہ نے تم پر دريائے فرات كا كنارہ كھول ديا ہے وہ چاہتا ہے كہ تمام لشكر عراق كو اس ميں غرق كردے_ جس قدر ممكن ہوسكے فرار كر جاؤ_

اہل كوفہ ميں سے ايك شخص نے يہ خط اٹھاليا اور پڑھ كر دوسرے كو دے ديا_ اور اسطرح يہ خط دست بدست ايك جگہ سے دوسرى جگہ پہنچ گيا چنانچہ جس شخص نے بھى يہ خط پڑھا لكھنے والے كو خير انديش ہى سمجھا_

معاويہ نے اس اقدام كے بعد دو سو آدميوں كو بيلچے اور كداليں دے كر اس پشتے كى جانب روانہ كرديا جو دريائے فرات پر بنا ہوا تھا اور ان سے كہا كہ تم اپنے كام پر لگ جاؤ_

حضرت علىعليه‌السلام كو جب اس خط كے بارے ميں علم ہوا تو آپعليه‌السلام نے اپنے سپاہيوں سے كہا كہ : معاويہ كا يہ اقدام عملى نہيں وہ چاھتا ہے كہ اپنى سازش سے تمہيں پسپائي كيلئے مجبور كرے اور تمہارے درميا ن آشفتگى و سراسيمگى پيدا كردے اس پر سپاہيوں نے جواب ديا كہ ہم كيسے اس بات پر يقين نہ كريں _ہم ديكھ ہى رہے ہيں كہ ان كے مزدور نہر كھودنے ميں لگے ہوئے ہيں _


ہم تو يہاں سے كوچ كرتے ہيں _ يہ آپكى مرضى ہے كہ آپ بھى چليں يا يہيں قيام كريں چنانچہ اس فيصلے كے بعد حضرت على عليه‌السلام كے سپاہى پيچھے ہٹنے لگے اور لشكر سے دور جاكر انہوں نے پڑاؤ كيا_ جس جگہ سے حضرت علىعليه‌السلام كى سپاہ نے كوچ كيا تھا اس پر معاويہ كى سپاہ نے قدم جماديئے)_

فيصلہ كن جنگ

ماہ محرم كے ختم ہوتے ہى مذاكرات كا بھى خاتمہ ہوگيا اور فريقين جنگ كيلئے تيار ہوگئے اميرالمومنين فرماتے ہيں : ميں نے تمہيں مہلت دى كہ شايد تم حق كى طرف واپس آجاؤں كلام اللہ كے ذريعے تمہارے لئے حجت و دليل پيش كى ليكن تم شورش و سركشى سے باز نہ آئے _ تم نے دعودت حق سے روگردانى كي_ اس لئے اب تم جنگ و جدال كے لئے تيار ہوجاؤ كيونكہ خداوند تعالى خيانت كاروں كو پسند نہيں كرتا_

اس كے بعد آپ نے لشكروں كى صفوں كو منظم كيا معاويہ نے بھى اپنى سپاہ كو آرستہ كيا_(۹)

اميرالمومنين نے اپنى سپاہ كو مرتب كرتے ہوئے فرمايا كہ : جب تك دشمن پيشقدمى نہ كرے تم جنگ شروع نہ كرنا كيونكہ تمہارے پاس حجت و دليل موجود ہے ان كا جنگ شروع كرنا تمہارے لئے دوسرى حجت و دليل ہے جب انہيں شكست دے چكو تو فرار كرنے والوں كو قتل نہ كرنا _ زخميوں پر حملہ آور نہ ہونا، برہنہ نہ كرنا مردہ لوگوں كے ناك ،كان نہ كاٹنا جس وقت تم ان پر غالب آجاؤ تو تم ان كے گھروں ميں اس وقت تك داخل نہ ہونا جب تك ميں اجازت نہ دوں اس مال كے علاوہ جو ميدان جنگ ميں رہ گيا ہے تم انكى كسى چيز كو ہاتھ نہ لگانا اگر چہ عورتيں تمہيں ، تمہارے سرداروں اور تمہارے نيك بزرگوں كو ناشائستہ الفاظ سے ياد كر رہى ہيں مگر تم انہيں تكليف نہ پہنچانا كيونكہ وہ جسمانى طور پر كمزور اور عقل كے اعتبار سے ناقص ہيں _(۱۰)

سپاہ كو مرتب كرنے كے بعد آپعليه‌السلام نے مالك اشتر كو كوفہ سے سواروں كا اور سھل بن حنيف كو


بصرہ كے دستہ كا فرماندار مقرر كيا_ كوفہ كى پيادہ فوج كى فرماندارى عمار ياسر كو تفويض كى گئي اور بصرہ كى پيادہ فوج كا فرماندار قيس بن سعد كو مقرر كيا كوفہ و بصرہ كے قاريوں كو آپ عليه‌السلام نے '' مسعر بن فد كى '' كى تحويل ميں ديا اور پرچم ہاشم مرقال ك سپرد كيا_(۱۱)

يكم صفرہ ۳۷ ھ دونوں فوجوں كے درميان جنگ شروع ہوئي كوفہ كى فوج نے مالك كى كمانڈرى اور شام كى فوج نے حبيب بن مسلمہ كى كمانڈرى ميں شديد جنگ كا آغاز كيا يہ معركہ ظہر تك جارى رہا_

اگلے دين ہاشم مرقال ميدان ميں اترے اور شام كے اس لشكر كے ساتھ جو ابوالاعور كى زير فرماندارى ميدان جنگ ميں آيا تھا نبرد آزمائي كى اور شاميوں كے ساتھ سخت جنگ كے بعد وہ واپس اپنى لشكر گاہ ميں آئے_

تيسرے روز عمارياسر مہاجر و انصار بدريوں كے ساتھ ميدان جنگ ميں اترے اور عمرو عاص سے مقابلہ كيا عمار نے اپنى سپاہ سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ : كيا تم ان دشمنوں كو ديكھنا چاہتے ہو جنہوں نے خدا اور اس كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے خلاف جنگ كى اور دشمنوں كو مدد پہنچائي خداوند تعالى كو چونكہ اپنا دين عزيز تھا اسى لئے اس نے اسے كاميابى عطا كى اور بالاخر اس دشمن نے خوف كى وجہ سے اپنا سر اسلام كے سامنے خم كرديا پيغمبر اكر مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے رحلت كے بعد اس دشمن كى مسلمانوں كے خلاف دشمنى و عداوت آشكارا ہوگئي_مسلمانو تم دشمن كے لشكر سے جنگ كرو كيونكہ انكے سردار ان لوگوں ميں سے ہيں جو نور الہى كو خاموش كرنے كا ارادہ كئے ہوئے ہيں _

اس كے بعد انہوں نے پيادہ فوج كے فرماندار زياد بن نَضر كو حكم ديا كہ حملہ كريں اور خود بھى حملہ آور ہوئے اور عمروعاص كو پسپا كرديا_

چوتھے دن حضرت علىعليه‌السلام كے فرزند محمد حنفيہ ميدان جنگ ميں گئے اور عبيداللہ بن عمر سے جنگ كى _ دونوں جانب سے مقابلہ سخت رہا_ بالاخرہ عبيداللہ نے محمد حنفيہ كو جنگى كشتى كى دعوت دى محمد حنفيہ نے پيشقدمى كى مگر حضرت علىعليه‌السلام نے منع كرديا اور خود ان كى جگہ كشتى گيرى كيلئے تشريف لے گئے _مگر


عبيداللہ بن عمر اس كے لئے تيار نہ ہوا_

پانچويں دن عبداللہ بن عباس كا '' وليد بن عقبہ'' سے مقابلہ ہوا سخت نبرد آزمائي كے بعد انہوں نے وليد بن عقبہ كو جنگى كشتى كى دعوت دى مگر اس كے دل پر خوف طارى ہوگيا اور بالاخر لشكر اسلام فتح و كامرانى كے ساتھ واپس آيا_(۱۲)

چھٹے دن قيس بن سعد اور '' ذى الكلاع'' كے درميان سخت معركہ ہوا سخت نبرد آزمائي كے بعد واپس آيا_

ساتويں دن مالك اشتر كا اپنے سابقہ رقيب سے مقابلہ ہوا اورظہر كے وقت لشكر گا واپس آئے_

عام جنگ

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے ديكھا كہ جنگ كو ايك ہفتہ ہوگيا ہے اگرچہ دونوں طرف سے بہت سے سپاہى قتل كئے جاچكے ہيں مگر اس كے باوجود لشكر اسلام كو فتح نصيب نہيں ہو رہى ہے اسى لئے آپ نے عام حملے كا حكم ديا اور فرمايا كہ : ہم كيوں اپنى پورى فوجى طاقت كو حريف كے خلاف جنگ ميں بروئے كار نہ لائيں ؟

اسى لئے آپ نے ۸ صفر شب چہارشنبہ (بدھ كى رات) اپنى سپاہ كے سامنے تقرير كى اور فرمايا كہ : جان لو كہ كل تمہيں دشمن كے روبرو ہونا ہے اس لئے تمام رات عبادت ميں گزارو اور قرآن مجيد كى كثرت سے تلاوت كرو خداوند تعالى سے دعا كرو كہ ہميں صبر و نصرت عطا فرمائے دشمن كے مقابل مكمل پايدارى ، ثابت قدمى سے آنا اور پورى جد و جہد و استوارى سے اس كا مقابلہ كرنا اور ہميشہ راستگو رہنا_

حضرت علىعليه‌السلام كى جيسے ہى تقرير ختم ہوئي آپعليه‌السلام كى سپاہ نے اپنے اسلحہ اور تلوار نيزہ و زوبين و غيرہ كو سنبھالا اور اسے جلا دينى شروع كى _ حضرت علىعليه‌السلام صبح كے وقت تك اپنے لشكر كو آراستہ كرتے


رہے_ آپ كے حكم كے مطابق منادى كے ذريعے دشمن كو اعلان جنگ سنايا اور كہا كہ : اے شاميو كل صبح تم سے ميدان كارزار ميں ملاقات ہوگى _(۱۳)

منادى كى آواز جب دشمن كے كانوں ميں پہنچى تو اس كى صفوں ميں كہرام مچ گيا سب نے بيم و ترس كى حالت ميں معاويہ كى جانب رخ كيا اس نے تمام سرداروں اور فرمانداروں كو بلايا اور حكم ديا كہ اپنى فوجوں كو تيار كريں _

حضرت علىعليه‌السلام نے جب اپنے لشكر كو آراستہ كر ليا تو آپعليه‌السلام اپنى جگہ سے اٹھے اور سپاہ ميں جوش و خروش پيدا كرنے كيلئے ان كے سامنے تقرير كى اور فرمايا كہ : اے لوگو خداوند تعالى نے تمہيں اس تجارت كى جانب آنے كى دعوت دى ہے جس ميں عذاب سے نجات دلائي جائے گى اور خير و فلاح كى جانب بلايا ہے_يہ تجارت خدا اور اس كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى صداقت پر ايمان اور راہ خدا ميں جہاد ہے_ اس كا معاوضہ تمہيں يہ ملے گا كہ تمہارے گناہ بخش دئے جائيں گے اور خُلد بريں ميں تمہيں رہنے كيلئے پاكيزہ مكان مليں گے اور اس كا انتہائي اجر يہ ہے كہ تمہيں خدا كى رضا نصيب ہوگى جو ہر اجر سے كہيں عظيم ہے_ قرآن كا خدا كے محبوب بندوں سے ارشاد ہے كہ : خداوند تعالى ان مجاہدين حق كو دوست و عزيز ركھتا ہے جو محكم ديور كى طرح دشمن كے مقابل آجاتے ہيں اور اس سے جنگ و جدال كرتے ہيں(۱۴) _اپنى صفوں كو سيسہ پلائي ہوئي بنيادوں كى طرح محكم كرلو اور ايك دوسرے كے دوش بدوش رہو_ زرہ پوش سپاہ پيشاپيش رہيں اور جن كے پاس زرہ نہيں انہيں زرہ پوش سپاہ كے عقب ميں ركھا جائے اپنے دانت بھينچے ركھو كيونكہ اس كے باعث شمشير كى ضرب سے كاسہ سر محفوظ رہتا ہے_ اس سے قلب كو تقويت اور دل كو آسودگى حاصل ہوتى ہے_ اپنى آوازوں كو خاموش ركھو اس لئے كہ اس كى وجہ سے سستى و شكست سے نجات ملتى ہے اورچہرہ پر متانت و وقار كى كيفيت پيدا ہوتى ہے اپنے پرچموں كو يكجا ركھو اور انہيں باحميت دلاوروں كے سپرد كرو جو لوگ مصائب و مشكلات ميں صبر كرتے ہيں اور پرچم پر مسلط رہتے ہيں _ وہ اس كى ہر طرف سے حفاظت ميں كوشاں رہتے ہيں _(۱۵)


حضرت على (ع)كا خطبہ ختم ہونے كے بعد آپ كے اصحاب ميں سے بھى ہر شخص نے اپنے قبيلے كے لشكر ميں جوش و خروش پيدا كرنے كى خاطر تقرير كى _ انہى مقررين ميں سعيد بن قيس بھى شامل تھے چنانچہ وہ اپنے ساتھيوں كے درميان سے اٹھے پہلے تو انہوں نے حضرت علىعليه‌السلام اور آپعليه‌السلام كے اصحاب كى قدر و منزلت كا ذكر كيا اس كے بعد انہوں نے معاويہ كا تعارف كرايا_(۱۶) اس كے ساتھ ہى انہوں نے اپنے دوستوں كو جنگ كرنے كيلئے ترغيب دلائي_

فريقين كے لشكر چونكہ جنگ كيلئے آمادہ تھے اس لئے بدھ كے دن سخت معركہ ہوا _ رات كے وقت دونوں لشكر بغير فتح و نصرت واپس اپنے خيموں ميں آگئے(۱۷) _

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے جمعرات كى صبح نماز فجر جلدى پڑھ لى سپاہ سے خطاب كرنے اور جنگ كى ترغيب دلانے كے بعد آپعليه‌السلام نے گھوڑا طلب فرمايا(۱۸) اس پر سوار ہونے كے بعد آپ قبلہ رخ كھڑے ہوگئے انكے دونوں ہاتھ آسمانكى طرف تھے اور خداوند تعالى سے يوں راز و نياز كر رہے تھے: خداوند ا يہ قدم تيرى راہ ميں بڑھ رہے ہيں بدن خستہ و ناتواں ہيں دلوں پر لرزہ و وحشت طارى ہے اور يہ ہاتھ تيرى بارگاہ ميں اٹھے ہوئے ہيں اور آنكھيں تيرى طرف لگى ہوئي ہيں اس كے بعد آپ نے ايك آيت پڑھى جس كا ترجمہ يہ ہے (اے رب ہمارى قوم كے درميان ٹھيك ٹھيك فيصلہ كردے اور تو بہترين فيصلہ كرنے والا ہے_(۱۹)

آخر ميں آپ نے سپاہ سے خطاب كرتے ہوئے فرمايا كہ سيرو على بركة اللہ ((۲۰) آگے بڑھو خدا تمہارى پشت و پناہ ہے)_

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے نبرد آزما ہونے سے قبل شام كے ہر قبيلے كا نام دريافت فرمايا اس كے بعد آپعليه‌السلام نے اپنى سپاہ كے قبائل كو حكم ديا كہ تم ميں سے ہر سپاہى اپنے ہم نام اور ہم پلہ و شان قبيلے كے ہراس شخص سے جنگ كرے جو دشمن كى صفوں ميں شامل ہے(۲۱) _

سپاہ اسلام كى علامت وہ سفيد رنگ كا كپڑا تھا جو انہوں نے اپنے سرو ں اور بازووں پر باندھ ركھتا تھا_ اور ان كا نعرہ ياللہ، يا احد ، يا صمد ، يا رب محمد يا رحمت اور يا رحيم تھا_


اس كے برعكس معاويہ كى سپاہ كا نشان زرد پٹى تھى جسے انہوں نے بھى اپنے سروں اور بازووں پر باندھ ركھا تھا_ اور ان كا نعرہ يہ تھا نحن عبادالله حقا حقا يا لثارات عثمان (۲۲)

قرآن كى طرف دعوت

اس سے قبل كہ حضرت علىعليه‌السلام كے سامنے عمروعاص كا مكر و فريب ظاہر ہو آپعليه‌السلام نے اپنى جمعيت كو بيدار كرنے اور دشمن پر اتمام حجت كى خاطر اس وقت بھى جب كہ آپعليه‌السلام نے اپنى فوج ميں ذرہ برابر زبونى و ناتوانى محسوس نہيں كى ، يہ تجويز پيش كى اور فرمايا كہ : كوئي شخص قرآن شريف اپنے ہاتھ ميں اٹھالے اور دشمن كے نزديك پہنچ كر اسے قرآن كى طرف آنے كى دعوت دے ايك شخص جس كا نام '' سعيد'' تھا اٹھا اور اس نے سپاہ دشمن كى جانب جانے كا اظہار كيا حضرت علىعليه‌السلام نے دوبارہ اپنى اس تجويز كو زبان مبارك سے ادا كيا اسى نوجوان نے آپعليه‌السلام كى اس تجويز پر لبيك كہا كيونكہ اكثر و بيشتر افراد كا خيال تھا جو شخص بھى اس راہ ميں پيشقدمى كرے گا اس كا مارا جانا يقينى ہے_

حضرت '' سعيد'' نے قرآن مجيد ہاتھ ميں ليا اور سپا ہ دشمن سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ : اے لوگو شورش و سركشى سے باز آؤ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام قرآنى حكومت اور عدل الہى كى دعوت دے رہے ہيں سيدھا راستہ اختيار كرو سيدھا راستہ وہى ہے جو مہاجرين و انصار نے اختيار كيا ليكن اہل شام نے اس كو اپنے نيزوں اور تلواروں سے ٹكڑے ٹكڑے كرديا_(۲۳)

معاويہ كہاں ہے؟

فريقين كے لشكر كے درميان جنگ جيسے جيسے شديد تر ہوتى جاتى تھي، مالك اشتر ، عمار اور عبداللہ بديل جيسے اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے يار و مددگار شير كى طرح غراتے اور دشمن پر حملہ آور ہوتے حضرت علىعليه‌السلام بھى ميدان كارزار ميں داخل ہوئے دشمن كى سپاہ نے جيسے ہى آپعليه‌السلام كو ديكھا اس


پر خوف و ہراس طارى ہوگيا بعض قبائل كو تو اپنى جان كے لالے پڑگئے اور يہ فكر ستانے لگى كہ كس طرح نجات پائيں چنانچہ قبيلہ خثعم كے سردار عبداللہ خنش نے خثعم قبيلہ عراق كے سرگروہ كعب سے پيغام كے ذريعے يہ درخواست كى كہ صلہ رحم كى خاطر اور ايك دوسرے كے حقوق كا پاس كرتے ہوئے جنگ سے كنارہ كشى اختيار كر لے ليكن مخالفت سے دوچار ہوا_ (۲۴)

اسى اثناء ميں سپاہ اسلام كے فرماندار ميمنہ عبداللہ بديل جو بہت ہى شجاع و دلير شخص اور دو زرہ پہن كر جنگ كرتے تھے دونوں ہاتھوں ميں تلواريں لئے دشمن كى سپاہ كے ميسرہ كى جانب بڑھے اور اسے چيرتے ہوئے ان لوگوں تك پہنچ گئے جو معاويہ كے فدائي كہلاتے تھے يہ لوگ معاويہ كے ايسے جانثار و با وفا دوست تھے جنہوں نے يہ عہد كيا تھا كہ جب تك ہمارے دم ميں دم ہے اس كى حفاظت كرتے رہيں گے معاويہ نے ان فدائيوں كو حكم ديا كہ عبداللہ كے بمقابل آجائيں اور خفيہ طور پر اسے اپنے ميسرہ كے فرماندار حبيب بن مسلمہ سے كہا كہ وہ ابن بديل كو آگے بڑھنے سے روكے ليكن وہ آگے بڑھتے ہى گئے معاويہ نے ناچار مصلحت اس امر ميں سمجھى كہ اپنى جگہ بدل دے اور وہ پيچھے كى طرف بھاگ گيا ليكن عبداللہ پكار پكار كر كہہ رہے تھے يا لثارات عثمان (عثمان كے خون كا بدلہ)معاويہ كى سپاہ نے جب يہ نعرہ سنا تو اس نے انہيں اپنا ہى سپاہى سمجھ كر انہيں راستہ ديا_

معاويہ كو چونكہ دوسرى مرتبہ اپنى جگہ سے ہٹ كر پيچھے آنا پڑا تھا اس لئے اس نے دوبارہ حبيب بن مسلمہ سے كہا كہ ميرى مدد كرو چنانچہ اس نے بڑا سخت حملہ كيا اور دائيں جانب كے لشكر (جناح راست) كو چيرتا ہوا عبداللہ بن بديل تك پہنچ گيا_ عبداللہ سو قاريوں ميں سے اكيلے رہ گئے تھے (باقى سب پسپا ہو چكے تھے) چنانچہ وہ پورى دليرى سے جنگ كرتے رہے اور زبان سے بھى كہتے رہے كہ : معاويہ كہاں ہے_ معاويہ نے جب عبداللہ كو اپنے نزديك ديكھا تو اس نے پكار كر كہا كہ اگر تلوار سے ان پر حملہ نہيں كر سكتے تو انھيں آگے بھى نہ آنے دو ان پر سنگبارى شروع كردو چنانچہ ہر طرف سے اس جانباز اسلام پر اس قدر پتھر برسائے گئے كہ وہ وہيں شہيد ہوگئے_


معاويہ نے حكم ديا كہ انكے ناك، كان كاٹ لئے جائيں ليكن ان كى عبداللہ بن عامر سے چونكہ سابقہ دوستى تھى اسيلئے وہ مانع ہوئے اور معاويہ نے بھى اس خيال كو ترك كرديا_(۲۶)

حضرت علىعليه‌السلام ميدان كارزار ميں

اميرالمومنين حضرت على كمانڈر انچيف كے فرائض انجام دينے كے علاوہ بہت سے مواقع پر بالخصوص حساس ترين لمحات ميں خود بھى ميدان كارزار ميں پہنچ جاتے اور دشمن كے حملوں كا مقابل كرتے اگرچہ آپ كے اصحاب و فرزند آپعليه‌السلام كے دشمن كے درميان حائل ہوجاتے اور آپكى پورى حفاظت كرتے اور ان كى يہ خبرگيرى آپكے ليئے جنگ كرنے ميں مانع ہوتي_

بطور مثال ايك موقع پر ميان كارزار ميں بنى اميہ كے '' احمر'' نامى غلام جو بڑا جرى و دلاور شخص تھا آگے بڑھا _جس وقت حضرت علىعليه‌السلام كى نگاہ اس پر گئي تو آپ بھى اسكى طرف بڑھے اسى اثناء ميں حضرت علىعليه‌السلام كا غلام جس كا نام '' كيسان'' تھا آگے بڑھ آيا _ دونوں كے درميان كچھ دير تك نبرد آزمائي ہوتى رہى _ بالاخر وہ احمر كے ہاتھوں ماراگيا اب احمر حضرت علىعليه‌السلام كى جانب بڑھا تا كہ آپ كو شہيد كردے_ حضرت علىعليه‌السلام نے اس سے قبل كہ دشمن وار كرے ہاتھ بڑھا كر اس كا گريبان پكڑا اور اسے گھوڑے پر سے كھينچ ليا_ اور اسے سر سے اوپر اٹھا كر زمين پر دے مارا كہ اس كے شانہ و بازو ٹوٹ كر الگ ہوگئے اور ايك طرف كھڑے ہوگئے_ اتنے ميں فرزندان علىعليه‌السلام (حضرت امام حسينعليه‌السلام اور حضرت محمد حنفيہ) وہاں پہنچ گئے اور تلوار كے وارسے اسے ہلاك كرديا_

راوى مزيد بيان كرتا ہے كہ : احمر كے قتل كے بعد شاميوں نے جب حضرت علىعليه‌السلام كو اكيلا ديكھا تو وہ آپعليه‌السلام كى طرف بڑھے اور جان لينے كا ارادہ كيا اگرچہ وہ حضرت علىعليه‌السلام كى جانب بڑھتے رہے مگر آپعليه‌السلام كى رفتار ميں ذرا بھى فرق نہ آيا اور پہلے كى طرح آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے رہے ، حالانكہ اپنے لشكر كى طرف پلٹنے كا ارادہ نہيں تھا_

يہ كيفيت ديكھ كر حضرت امام حسنعليه‌السلام نے اپنے والد محترم سے عرض كى كيا حرج ہے كہ آپعليه‌السلام اپنى


رفتار تيز كرديں اور اپنے ان دوستوں سے آن مليں جو دشمن كے روبرو كھڑے ہيں اس پر حضرت علىعليه‌السلام نے جواب ديا كے اے ميرے فرزند تيرے والد كا اس جہان سے كوچ كرنے كے لئے خاص وقت معين ہے اس ميں ذرا بھى پس و پيش نہيں ہوسكتى _ تيرے والد كو اس بات كا ذرا بھى غم نہيں كہ موت كو اپنى آغوش ميں لے لے يا موت خود ہى آكر گلے لگ جائے_(۲۷)

ايك موقع پر سعيد بن قيس ميدان كارزار ميں موجود تھا اس نے بھى ايك مرتبہ حضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں عرض كيا : يا اميرالمومنين آپ دشمن كى صف كے نزديك حد سے زيادہ آگے آجاتے ہيں كيا آپ كو اس بات كا ذرا بھى خوف نہيں كہ دشمن آپ پر وار كر سكتا ہے اس پر آپعليه‌السلام نے فرمايا تھا كہ خداوند تعالى سے بڑھ كر كوئي كسى كا نگہبان نہيں اگر كوئي كنويں ميں گرجائے يا اس پر ديوار گر رہى ہو يا كوئي اور بلا نازل ہو رہى ہو تو خدا كے علاوہ اس كى كوئي حفاظت كرنے والا نہيں اور جب موت آجاتى ہے تو تمام تدابير بيكار ہوجاتى ہيں _(۲۸)

دوستوں كى حمايت و مدد

حضرت علىعليه‌السلام ميدان جنگ ميں عين اس وقت بھى جب كہ ميدان كارزار ميں پيش قدمى فرما رہے ہوتے تھے اگر ضرورت پيش آجاتى تو اپنى جان كو خطرہ ميں ڈال كر وہ اپنے ساتھيوں كى مدد كيلئے تيزى سے پہنچتے_

غرار بن ادہم شامى لشكر كا مشہور سوار تھا ايك روز اس نے عباس بن ربيعہ(۲۸) كو جنگى كشتى كيلئے للكارا عباس گھوڑے سے اتر كر نيچے آگئے اور غرار سے كشتى ميں نبرد آزما ہوگئے سخت زور آزمائي كے بعد عباس نے شامى كى زرہ كو چاك كرديا اس كے بعد آپ نے تلوار نكال كر اس كے سينے پر وارد كيا يہاں تك كہ وہ زخمى ہوكر مارا گيا يہ منظر ديكھ كر لوگوں نے نعرہ تكبير بلند كيا_

ابوالاغَرّ سے يہ واقعہ منقول ہے كہ ميں نے اچانك سنا كہ ميرے پيچھے كوئي شخص يہ آيت تلاوت كر رہا ہے'' قاتلوہم يعذبہم اللہ بايديكم و يخزہم و ينصركم على ہم و


يشف صدور قوم مومنين'' (انھيں قتل كر ڈالو خدا تمہارے ذريعہ انہيں عذاب ميں مبتلا كرتا ہے اور ذليل كرتا ہے اور تمہارى مدد كرتا ہے مومنوں كے دلوں كو شفا بخشتا ہے اور ان سے كدورت دور كرتا ہے (۲۹)

جب ميں نے پلٹ كرديكھا تو وہاں اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كو پايا_ اس كے بعد آپعليه‌السلام نے مجھ سے فرمايا ہم سے كس شخص نے دشمن سے جنگ كى ؟ ميں نے عرض كيا كہ آپ كے بھتيجے نے_ اس پر آپعليه‌السلام نے فرمايا كيا ميں نے تمہيں اور ابن عباس كو جنگ كرنے سے منع نہيں كيا تھا؟ انہوں نے جواب ديا كہ جى ہاں آپ نے منع فرماياتھا_ مگر دشمن نے خود ہى مجھے للكارا_ اس پر آپ نے كہا كہ اگر تم نے اپنے پيشوا كى اطاعت كى ہوتى تو وہ اس سے كہيں زيادہ بہتر تھا كہ تم دشمن كى للكار كا جواب ديتے _ اس كے بعد آپ نے بارگاہ خداوندى ميں دعا كى كہ وہ عباس كى لغزش كو معاف كرے اور جہاد كى انہيں جزا دے_

غرّار كے قتل ہوجانے كى وجہ سے معاويہ بہت زيادہ مضطرب و آشفتہ خاطر ہوا چنانچہ اس كے حكم كے مطابق اور انعام كے وعدے پر قبيلہ '' لخم'' كے دو افراد نے عباس بن ربيعہ كو پيكار كى غرض سے للكارا_ ليكن حضرت علىعليه‌السلام نے انھيں نبرد آزمائي كى اجازت نہيں دى اور فرمايا كہ معاويہ تو يہ چاہتا ہے كہ بنى ہاشم ميں سے ايك شخص بھى زندہ نہ رہے

اس كے بعد آپعليه‌السلام نے عباس كے لباس اور اسلحہ سے خود كو آراستہ كيا اور انہى كے گھوڑے پر سوار ہو كر ان دونوں افراد كى طرف روانہ ہوئے اور انہيں وہيں ہلاك كرديا_ ميدان كارزار سے واپس آكر آپ نے عباس كا اسلحہ انہيں واپس كيا اور فرمايا كہ جو كوئي تمہيں نبرد آزمائي كے لئے للكارے پہلے تم ميرے پاس آؤ(۳۰)

اس واقعے سے يہ بات واضح ہوجاتى ہے كہ حضرت علىعليه‌السلام كى بنى ہاشم بالخصوص خاندان رسالت كى جانب خاص توجہ و عنايت تھى اور انكى جان كى حفاظت كيلئے آپعليه‌السلام ہر ممكن كوشش فرماتے_ چنانچہ بحران جنگ ميں جب كہ آپعليه‌السلام كى جانب تيروں كى بارش ہو رہى تھى اور آپ كے فرزندوں كو دشمن اپنے تيروں كا نشانہ بنائے ہوئے تھا، اس وقت بھى آپعليه‌السلام كو اپنى جان كى پروانہ تھى چنانچہ خود آگے بڑھ كر جاتے اور اپنے ہاتھ سے تيروں كے رخ كو كبھى ايك طرف اور كبھى دوسرى جانب منتشر كرديتے_(۳۱)


سوالات

۱_ حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے نمائندے معاويہ كے پاس كس مقصد كے تحت روانہ كئے؟

۲_ معاويہ نے اپنے لشكر كى كمزورى كى تلافى كس طرح كرنا چاہى اور لشكر اسلام كو كمزور و ناتوان كرنے كيلئے اس نے كيا اقدامات كئے؟ اس كى دو مثاليں پيش كيجئے؟

۳_ نبرد آزمائي سے قبل حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے سپاہيوں كے لئے كيا احكامات صادر كئے؟

۴_ پہلى اور دوسرى عام جنگوں كا آغاز كن تاريخوں سے ہوا؟ فريقين كے لشكروں كى علامات و نعرے كيا تھے؟

۵_ حضرت علىعليه‌السلام نے جنگ سے قبل اتمام حجت كے طور پر اور مسلمانوں كى خون ريزى كو روكنے كيلئے كيا اقدامات كيئے؟

۶_ جنگى پہلو كو مد نظر ركھتے ہوئے حضرت علىعليه‌السلام كے سپاھيانہ كردار كو مختصر طور پر بيان كريں _


حوالہ جات

۱_ائتوا هذا الرجل و ادعوه الى الله و الى الطاعة و الى الجماعة

۲_ وقعہ صفين ص ۱۸۸_ ۱۸۷، كامل ابن اثير ج ۳ ص ۲۸۵

۳_ كامل ابن اثير ج ۳ ص ۲۸۶، وقعہ صفين ص ۱۹۵

۴_ وقعہ صفين ص ۱۹۸_ ۱۹۷

۵_ كامل ابن اثير ج ۳ ص ۲۹۳ _ ۲۹۱ ،تاريخ طبرى ج ۵ ص ۷ ، وقعہ صفين ص ۲۰۲_ ۲۰۱

۶_ كامل ابن اثير ج ۳ ص ۲۹۰ ، وقعہ صفين ص ۲۰۰ _۱۹۹ ، معاويہ كى اس گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے كہ اس نے حضرت علىعليه‌السلام كے ديگر سرداران سے بھى اس قسم كى بات كى تھي_

۷_ وقعہ صفين ص ۱۹۰_ ۱۸۸

۸ _ وقعہ صفين ۴۹۰_۴۸۹ ، اس واقعہ كى تفصيل بعد ميں آئے گي_

۹_ وقعہ صفين ص ۱۹۰

۱۰_ وقعہ صفين ص ۲۰۴_۲۰۳

۱۱_ كامل ابن اثير ج ۳ ص ۲۹۴ ، تاريخ طبرى ج ۵ ص ۱۱ ، ليكن وقعہ صفين ميں صفحہ ۲۰۵ پر منقول ہے كہ سوار دستے كى كمانڈرى عمار كو اور پيادہ فوج كى عبداللہ بديل كو دى گئي_

۱۲_ كامل ج ۳ ص ۲۹۴ ، ليكن وقعہ صفين ميں درج ہے كہ فريقين كے لشكر فتح و كامرانى كے بغير واپس آئے ملاحظہ ہو وقعہ صفين ص ۲۲۲_

۱۳_ مروج الذہب ج ۲ ص ۳۷۹ ، كامل ج ۳ ص ۲۹۵_ ۲۹۴ ، وقعہ صفين ص ۲۲۳_۲۱۴

۱۴_ سورہ صف آيہ ۴) ان الله يحب الذين يقاتلون فى سبيله صفا كانهم بنيان مرصوص (

۱۵_ نہج البلاغہ كے خطبہ ۱۲۴ كا اقتباس، وقعہ صفين ص ۲۳۵

۱۶_ وقعہ صفين ص ۲۳۶

۱۷ _ كامل ابن اثير ج ۳ ص ۲۹۶

۱۸_ اس سے قبل حضرت علىعليه‌السلام كى سوارى ميں جانور خچر تھا اس روز آپعليه‌السلام نے تنومند و دراز دم گھوڑا لانے كے لئے حكم


ديا_ يہ گھوڑا اس قدر تنومند و طاقتور تھا كہ اسے قابو ميں ركھنے كے لئے دو لگا ميں استعمال كرنى پڑتى تھيں اور وہ اپنى اگلى ٹانگوں سے زمين كھودتا رہتا تھا_

۱۹_ سورہ اعراف آيہ ۸۸) رَبَنا افتَح بيننا و بين قومنا بالحق و انت خير الفاتحين (

۲۰_ وقہ صفين ص ۲۳۰ ، شرح ابن ابى الحديد ج ۵ ص ۱۷۶

۲۱_ وقعہ صفين ص ۲۲۹ ،كامل ابن اثير ج ۳ ص ۲۹۸ ، تاريخ طبرى ج ۵ ص ۱۴، شرح ابن ابى الحديد ج ۵ ص ۱۸۶

۲۲_ وقعہ صفين ص ۳۳۲

۲۳_ وقعہ فين ص ۲۴۴ ، شرح ابن ابى الحديد ج ۵ ص ۱۹۶ ، اس پورے قضيے ميں يہ نكتہ قابل توجہ ہے كہ حضرت علىعليه‌السلام نے خير خواہى كا جو يہ اقدام كيا تھا اس كے پيش نظر معاويہ كے كسى سپاہى نے اپنے فيصلہ جنگ پر ترديد نہيں كى وہ اس نوجوان كو ديكھتے رہے ليكن جب معاويہ كى صفوں ميں شكست كے آثار نمودار ہوئے تو اس كے سپاہيوں نے اس شكست كى تلافى كے لئے قرآن كو نيزے پر چڑھا ليا اور وہ بھى سپاہ عراق كو قرآن كى دعوت دينے لگے حضرت علىعليه‌السلام كى سپاہ ميں سے كچھ لوگوں پر اس كا اثر ہوگيا چنانچہ انہوں نے حضرت علىعليه‌السلام سے كہا كہ حكم صادر كيجئے كہ مالك اشتر واپس آجائيں ورنہ ہم آپعليه‌السلام كو قتل كرديں گے_

۲۵_ حضرت عبداللہ بن بديل كے بھائي كا نام بھى عثمان تھا_ وہ بھى دشمن كے ہاتھوں قتل ہوئے تھے_ يہاں عثمان سے مراد ان كے بھائي ہيں _

۲۶_ وقعہ صفين ص ۲۴۸ _ ۲۴۵، شرح ابن ابى الحديد ج ۵ ص ۱۹۶، اگرچہ تاريخ كى كتابوں ميں ايسے كئي دلير جانبازوں كا ذكر ملتا ہے مگر اس كتاب كے اختصار كو مد نظر ركھتے ہوئے ان كى كيفيات بيان كرنے سے چشم پوشى كى گئي ہے تفصيل كيلئے ملاحظہ ہو شرح ابن ابى الحديد ج ۵ ص ۲۱۴ وقعہ صفين ص ۲۵۸

۲۷_ وقعہ صفين ص ۲۵۰_ ۲۴۹ ، شرح ابن ابى الحديد ج ۵ ص ۱۹۸ ، تاريخ طبرى ج ۵ ص ۱۹، كامل ابن اثير ج ۳ ص ۲۹۹

۲۸ _ وقہ صفين ص ۲۵۰ ، شرح ابن ابى الحديد ج ۵ ص ۱۹۹

۲۹_ عباس بن ربيعہ بن حارث بن عبدالمطلب

۳۰_ سورہ توبہ آيہ ۱۴

۳۱_ شرح ابن ابى الحديد ج ۵ ص ۲۱۹

۳۲_ وقعہ صفين ص ۲۴۹ ، شرح ابن ابى الحديد ج ۵ ص ۱۹۸، تاريخ طبرى ج ۵ ص ۱۹


گيارھواں سبق

قاسطين (جنگ صفين) ۳

استقامت و پايدارى كى نصيحت

فرار كرنے والوں كى تنبيہ و سرزنش

جنگ ميں مالك كا كردار

دو حجر كى جنگ

حريث كا قتل

آخرى تجويز

بدترين طريقے كا سہارا

دشمن كے سرداروں كا اعتراف

پھر دھوكا

جنگ كى شدت

دو لائق سپہ سالاروں كى شہادت

عمار كى شہادت كارد عمل

سوالات

حوالہ جات


استقامت و پايدارى كيلئے نصيحت

لشكر اسلام كا مركزى حصہ پہلے كى طرح اب بھى سپاہ دشمن كے قلب ميں جنگ آزما تھا حبيب بن مسلمہ كے سخت حملے كے باعث بائيں بازو كا پَرہ(جناح راست) پسپا ہوكر فرار كرنے لگا تھا اميرالومنين حضرت علىعليه‌السلام نے جب يہ كيفيت ديكھى تو انہوں نے مالك كو حكم ديا كہ ان فرار كرنے والوں كى طرف جاؤ اور ان سے كہو كہ : موت سے بچ كر كہاں جا رہے ہو كيا اس زندگى كى جانب جو قطعى ناپايدار ہے ؟ مالك فرار كرنے والوں كى جانب لپكے اور كئي مرتبہ پكار كر كہا كہ لوگو ميں مالك ہوں ليكن كسى نے ان كى جانب توجہ نہ كى جس كى وجہ يہ تھى كہ بيشتر لوگ انھيں اشتر كے نام سے جانتے تھے لہذا جس وقت انہوں نے كہا كہ ميں مالك اشتر ہوں تو فرار كرنے والے واپس آنے لگے اور ان كے گرد جمع ہوگئے_

مالك نے اپنے زور بيان سے لوگوں كو دوبارہ جنگ و نبرد كيلئے آمادہ كر ليا اس كے بعد انہوں نے قبيلہ '' مذحج'' كے افراد كو جو اپنے دليرى و جنگجوئي ميں مشہور تھے خاص طور پر نبرد آزمائي كى دعوت دى اور كہا كہ ميدان كارزار ميں اپنى مردانگى كے جوہر ديكھائيں اور دشمن كو پسپائي پر مجبور كرديں ان سب نے ايك زبان ہوكر اپنى آمادگى كا اعلان كرديا اور كہنے لگے كہ ہم آپ كے فرمانبردار ہيں طائفہ ہمدان كے سو افراد اور ان كے علاوہ ديگر چند دانشور جرائتمند اور باوفا لوگ مالك كى جانب واپس آگئے اور اس طرح دوبارہ دائيں جانب كا پرہ مضبوط ہوگيا ان كے جوش و خروش كا يہ عالم تھا كہ جس لشكر پر بھى حملہ آور ہوجاتے اسے نيست و نابود كرديتے(۱) چنانچہ ان كے سخت و شديد حملات كا يہ نتيجہ برآمد ہوا كہ دشمن كو مجبور ا پسپا ہونا پڑا_


فرار كرنے والوں كى تنبيہ و سرزنش

فرار كرنے والے جب واپس آگئے تو اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے اس پيش بندى كے خيال سے كہ يہ اقدام دوبارہ نہ ہو ان سے خطاب كرتے ہوئے فرمايا كہ : ميں نے تمہارى چابكدستى و دلاورى بھى ملاحظہ كى اور ديگر سپاہ كى صفوں سے تمہيں سرتابى كرتے ہوئے بھى ديكھا_ اہل شام تو جفا كار، پست فطرت اور صحرانشين بدو ہيں مگر افسوس انہوں نے تمہيں راہ فرار دكھا دى جب كہ تم شائستہ و لائق ، برگزيدہ اور سر برآوردہ عرب ہو جو رات كى تاريكيوں ميں قرآن پاك كى تلاوت كرتے تھے لوگ گمراہى ميں بھٹك رہے تھے تم حق كى جانب آنے كى دعوت دے رہے تھے اگر تم فرار كرنے كے بعد واپس نہ آگئے ہوتے تو وہ سخت سزا تمہارے گريبان گير ہوتى جو خداوند تعالى نے مفرورين كيلئے مقرر كى ہے_(۲)

... يہ جان لو كہ جو شخص راہ فرار اختيار كرتا ہے وہ خدا كے غضب كو برانگيختہ كرتا ہے اور خود كو ہلاكت كى جانب لے جاتا ہے اور وہ اس پستى و مذلت كى طرف چلا جاتا ہے جو ہميشہ اس كے ساتھ رہتى ہے وہ اس كے ذريعے اپنے لئے ابدى ننگ و رسوائي اور بد بختى كے سامان مہيا كرتا ہے جو شخص فرار كرتا ہے نہ اس كى عمر ميں اضافہ ہوتا ہے اور نہ ہى اسے خداتعالى كى رضاء و خوشنودى حاصل ہوتى ہے اس بناپر ان مذموم صفات كو حاصل كرنے سے موت كہيں زيادہ گوارا ہے_(۳)

جنگ ميں مالك كا كردار

مالك اشتر دراز قامت ، مضبوط جسم اور لاغر بدن انسان تھے مگر بہت زيادہ طاقتور و تنومند ايك مرتبہ قيس كے دو فرزند مُنقذ اور حمير ان كے بارے ميں گفتگو كر رہے تھے _ منقذنے كہا كہ اگر مالك كى نيت ان كے عمل كى طرح ہے تو عربوں ميں ان كاثانى نہيں اس پر حمير نے جواب ديا كہ ان كا عمل ان كے خلوص نيت كا آئينہ دار ہے_(۴)

مالك سرتاپا ايسے مسلح تھے كہ انھيں پہچانا نہيں جاسكتا تھا شمشير يمانى ان كے ہاتھ ميں تھى جس


وقت يہ تلوار ان كے ہاتھ ميں گھوم جاتى تھى تو لگتا تھا كہ يہ تلوار نہيں آب رواں ہے اور جس وقت فضا كو چيرتى ہوئي گذرتى تھى تو اس كى چمك سے ديكھنے والوں كى آنكھيں چكا چوند ہوجاتى تھيں _ (۵)

''ابن جمہان'' نے جب ان كى تلوار سے آگ نكلتى ديكھى اور دشمن پر ان كے شگفت آور حملے كو ديكھا تو ان سے كہا: خداوند آپ كى اس عظيم فداكارى كے بدلے ہيں جزاء خير عطا فرمائے جو آپ مسلمانوں اور اميرالمومنين كے دفاع كيلئے انجام دے ديتے ہيں _

مالك نے ہمدانيوں كے ساتھ ان پانچ صفوں كو اپنے محاصرہ ميں لے ليا تھا كہ جنہوں نے معاويہ سے يہ عہد كيا تھا كہ مرتے دم تك تم پر آنچ نہيں آنے ديں گے ليكن مالك نے چار صفوں كو پسپا كرديا_(۶)

مالك جيسے لائق و اہل فرماندار كى موجودگى جہاد ميں سپاہيوں كى حوصلہ مندى اور دل گرمى كا سبب ہوتى وہ جس لشكر پر بھى حملہ آور ہوتے وہ لشكر فرار كرجاتا اور جب كبھى منتشر و پراگندہ سپاہ كے درميان پہنچ جاتے تو انھيں لشكر كى شكل ميں مرتب و منظم كرديتے جس وقت انہوں نے يہ ديكھا كہ سپاہ اسلام كے لشكر كے فرمانداروں اور پرچمداروں ميں سے دو شخص سخت جنگ و نبرد كے بعد شہيد ہوگئے ہيں تو انہوں نے كہا كہ : خدا كى قسم يہى صبر جميل اور كريمانہ عمل ہے اور مرد وہ ہے جو ميدان كارزار ميں يا تو كسى كو قتل كردے يا خود شہيد ہوجائے اور جو اس كے بغير ميدان جنگ سے واپس آتا ہے تو كيا اس كيلئے باعث ننگ و رسوائي نہيں ہے_(۷)

دو حجر كى جنگ

صفر كى ۷ تاريخ كو جب كہ فريقين كے لشكر ايك دوسرے كے مقابل آگئے تو پہلا شص جو معاويہ كے لشكر سے نكل كر ميدان كارزار ميں آيا اور حريف كو نبرد آزمائي كيلئے للكارا وہ ''حجر شرّ''


كے نام سے مشہور اور اميرالمومنين حضرت على عليه‌السلام كے يار باوفا حضرت حجر بن عدى كا چچازاد بھائي تھا حجر شر كامقابلہ كرنے كے لئے حجربن عدى ميدان جنگ ميں پہنچے اور دو حجر كے درميان سخت نبرد آزمائي ہوئي اسى اثنا ميں '' خزيمہ بن ثابت '' حجر شر كى مدد كے لئے ميدان جنگ ميں آگيا اور حجر بن عدى كو اس نے زخمى كرديا، سپاہ اسلام نے جب يہ منظر ديكھا تو وہ بھى ميدان كارزار كى جانب بڑھے اور خزيمہ بن ثابت كو قتل كرڈالا حجر شر بھى مجاہدان اسلام ميں سے ايك شخص كو قتل كرنے كے بعد اپنے چچازاد بھائي (حجربن عدى)كے ہاتھوں ہلاك ہوا اس كى ہلاكت حضرت علىعليه‌السلام كے لئے باعث مسرت ہوئي اور آپعليه‌السلام بارى تعالى كا شكر بجالائے_(۸)

حريث كا قتل

حريث معاويہ كا غلام تھا تنومند ہونے كى وجہ سے اپنے آقا كا بہت محبوب و پسنديدہ تھا اسے ميدان جنگ ميں اسى وقت بھيجا جاتا تھا جب كہ ميدان كارزار سخت گرم ہوا اور جنگ دشوار و حساس لمحات گذر رہى ہوا اس ميں اور معاويہ ميں شباہت بھى بہت زيادہ تھى چنانچہ كبھى كبھى وہ اپنا مخصوص لباس بھى اس غلام كو پہنا ديتا جس كے باعث لوگ يہ سمجھنے لگتے كہ معاويہ بذات خود ميدان جنگ ميں آگيا ہے_

معاويہ نے اس سے يہ فرمائشے كى كہ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے علاوہ وہ جس سے بھى چاہے نبرد آزما ہوجائے ليكن عمروعاص نے اسے اپنى باتوں سے يہ ترغيب دلائي كہ موقعہ ملے تو حضرت علىعليه‌السلام سے بھى مقابلہ آرا ہوجائے چنانچہ وہ حضرت علىعليه‌السلام كا مقابلہ كرنے كے لئے گيا اور كہنے لگا كہ اگر مجھ سے زور آزمائي كرنا چاہتے ہو تو آجاؤ_ حضرت علىعليه‌السلام نے ايك ہى وار ميں اس كے دو ٹكڑے كرديئے اس كے قتل سے معاويہ كو سخت صدمہ ہوا اور اس نے عمروعاص كى سخت ملامت كي_(۹)


آخرى تجويز

سرزمين صفين پر دونوں لشكروں كا قيام كافى طويل ہوگيا اس عرصے ميں فريقين كا جانى و ، مالى نقصان بھى بہت زيادہ ہوا ايك روز اس وقت جب كہ ميدان كارزار گرم تھا اور حضرت علىعليه‌السلام كے ہاتھوں دشمن كے بہت سے جانباز دلاور مارے جاچكے تھے آپعليه‌السلام نے لشكر حريف كو للكارا اور كہا كہ ہے كوئي جو مجھ سے نبرد آزما ہو مگر دشمن كى صفوں ميں سے كوئي بھى ميدان جنگ ميں نہ آيا اس وقت حضر ت علىعليه‌السلام گھوڑے پر سوار تھے چنانچہ آپعليه‌السلام لشكر شام كے سامنے آئے اور معاويہ كو طلب كيا معاويہ نے كہا كہ ان سے پوچھو كہ كيا كام ہے؟ آپ نے فرمايا كيا اچھا ہوتا كہ معاويہ ميرے سامنے ہوتا اور ميں ان سے بات كرتا يہ سن كر معاويہ عمروعاص كى موافقت كے بعد اپنى صف سے نكل كر سامنے آيا_

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے فرماياكہ : افسوس تيرے حال پر آخر تو نے كيوں لوگوں كو قتل كرنے پر كمر باندھ ركھى ہے؟ كب تك دونوں لشكر اپنى تلواريں كھينچے رہيں گے كيوں نہ ہم باہم نبرد آزما ہوجائيں تا كہ جو بھى غالب آجائے حكومت اسى كو مل جائے اس پر معاويہ نے عمروعاص سے پوچھا كہ تمہارى كيا رائے ہے؟ كيا ميں علىعليه‌السلام سے نبرد آزمائي كروں عمروعاص نے كہا كہ تجويز تو معقول و منصفانہ ہے اگر اس وقت اس تجويز سے روگردانى كى تو تيرا خاندان ابد تك ذلت و خوارى ميں گرفتاررہے گا_

معاويہ نے كہا كہ : بھلا ميں اور تمہارى باتوں ميں آجاؤں ميں على بن ابى طالبعليه‌السلام كو خوب جانتا ہوں خدا كى قسم اس نے جس سے بھى دست و پنجہ نرم كيا اسى كے خون سے زمين كو سيراب كرديا(۱۰) يہ كہہ كر وہ واپس اپنے لشكر كى جانب چلا گيا اور آخرى صف ميں پہنچ كر پناہ لى يہ منظر ديكھ كر حضرت علىعليه‌السلام كو ہنسى آگئي چنانچہ آپ بھى اپنى جگہ واپس آگئے_(۱۱)


بدترين طريقے كا سہارا

حارث بن نضر كا شمار اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے اصحاب ميں ہوتا تھا عمروعاص كو ان سے خاص دشمنى تھى او ر شايد ہى كوئي ايسى مجلس ہو جس ميں حارث كى برائي نہ كرتا ہو حارث نے بھى عمروعاص كے متعلق كچھ شعر كہے اور اس كے پاس بھيجديئے ان اشعار ميں اسے يہ اشتعال دلايا گيا تھا كہ اگر نيك نام اور كار خير كى تمنا ہے تو على بن ابى طالب كے مد مقابل آجاؤ_

ان اشعار كو پڑھ كر عمروعاص نے قسم كھائي كہ علىعليه‌السلام سے ضرور زور آزمائي كروں گا چاہے ہزار مرتبہ موت كا سامنا كرنا پڑے يہ كہہ كر وہ ميدان كارزار ميں آيا حضرت علىعليه‌السلام بھى اس كى جانب بڑھے حضرت علىعليه‌السلام كو ديكھ كر عمروعاص پر ايسا خوف طارى ہوا كہ اس نے خود كو گھوڑے سے زمين پر گرا ديا اور شرمگاہ كھول دى حضرت علىعليه‌السلام نے منھ پھير ليا تو عمروعاص نے راہ فرار اختيار كي_(۱۲)

دشمن كے سرداروں كا اعتراف

عمروعاص ، عُتبہ ،وليد، عبداللہ ابن عامر اور طلحہ كے بيٹے جيسے لشكر شام كے نامور سردار ايك رات معاويہ كے گرد جمع تھے اور گفتگو حضرت علىعليه‌السلام كے بارے ميں ہو رہى تھى عتبہ نے كہا كہ : علىعليه‌السلام كا ہمارے ساتھ رويہ بڑا ہى عجيب و حيرتناك ہے كيونكہ ہم ميں سے كوئي بھى ايسا نہيں بچا جو ان كے ستم كا نشانہ نہ بن چكا ہو ميرے دادا عتبہ اور بھائي حنظلہ كو تو انہوں نے قتل ہى كيا تھا ميرے چچا شيبہ كے قتل ميں بھى وہ شريك تھے وليد تيرے باپ كو بھى علىعليه‌السلام نے ہى قتل كيا ہے اور اے مروان تجھے علىعليه‌السلام سے دو لحاظ سے صدمہ پہنچا ہے_

اس پر معاويہ نے كہا كہ : يہ جو كچھ تم كہہ رہے ہو تو وہ علىعليه‌السلام كى شجاعت كا اعتراف ہے تم نے ان كا كيا بگاڑ ليا؟

مروان نے كہا كہ : آپ كيا چاہتے ہيں ميں ان كا كيا كروں ؟اس نے كہا كہ اپنے نيزے سے ان كى تكہ بوٹى كردو مروان نے كہا كہ : لگتا ہے كہ آپ كو مذاق سوجھاہے اور ہمارے ذريعہ


آسودہ خاطر ہونا چاہتے ہيں _

اس موقع پر وليد نے بھى چند اشعار كہے جن كا مفہوم و مضمون يہ تھا كہ : معاويہ كہتا ہے كہ ہے كوئي جو ابوالحسن پر حملہ آور ہو اور اپنے مقتول بزرگوں كا انعليه‌السلام سے انتقام لے گويا فرزند ہند كو دل لگى سوجھى ہے يا وہ كوئي اجنبى ہے جو على (ع)كو نہ پہچانتا ہو كيا تم ہميں اس سانپ سے ڈسوانا چاہتے ہيں جو صحرا كے بيچ رہتا ہے اگر كاٹ لے تو اس كے ز ہر كا منتر نہ ملے ہم تو علىعليه‌السلام كے مقابل اس بجو كى طرح ہيں جو كسى وسيع دشت ميں ہيبت ناك شير غراں كے سامنے آگيا ہو_ عمروعاص نے حيلے سے تو اپنى جان تو بچالى مگر ڈركے مارے اس كا دل سينے ميں دھڑك رہا تھا_

وليد كے اشعار سن كر عمروعاص كو غصہ آگيا اس نے جواب ديا كہ : وليد نے تو علىعليه‌السلام كے رعب دار و وحشت ناك نعروں كى ياد تازہ كردى _ ميدان جنگ ميں شجاعت و دلاورى كے جوہر ان كى ذات سے نماياں ہوتے ہيں جب قريش ان كا ذكر كرتے ہيں تو ان كے دلوں كے پرندے سينوں كے قفس سے پرواز كرنے لگتے ہيں تم مجھے تو تنبيہہ و توبيخ كر رہے درحاليكہ معاويہ اور وليد تك علىعليه‌السلام سے دہشت كھاتے ہيں _ اور وليد اگر تو سچ كہہ رہا ہے اور كوئي سور ماسوار ہے تو علىعليه‌السلام كا سامنا كر خدا كى قسم اگر علىعليه‌السلام كى آواز بھى سن لى تو دل ہوا ہوجائے گا اور رگيں پھول كر كپہ ہوجائيں گى اور عورتيں تيرا سوگ مناتى رہيں گي_(۱۳)

پھر دھوكا

دليرى و جانبازى ، راہ خدا ميں جہاد مقدس اور شرك كے گدى داروں كى بيخ كنى حضرت علىعليه‌السلام كے ايسے نماياں كار نامے ہيں جن كا شمار آپ كے اہم ترين امتيازات و افتخارات ميں ہوتا ہے ليكن معاويہ رائے عامہ كو بدلنے كى خاطر انہى فضائل كو ايسے نقص سے تعبير كرتا تھا جو اس كے خيال كى روسے امور زمامدارى اور امت كى قيادت ميں مانع ثابت ہوتے ہيں _

ايك روز معاويہ نے عبيداللہ بن عمر كو اس كام پر مقرر كيا كہ وہ حضرت امام حسنعليه‌السلام كے پاس


جائے اور ان سے ملاقات كرے اور ان تك معاويہ كا پيغام پہنچائے جب وہ حضرت امام حسنعليه‌السلام كے پاس پہنچا تو اس نے كہا كہ : آپ كے والد نے اول سے آخر تك قريش كا خون بہايا ہے اور اپنے عمل سے ان كے دلوں ميں جذبہ كينہ و دشمنى كو بر افروختہ كيا ہے كيا آپ ان كا ساتھ ترك نہيں كر سكتے تا كہ زمام خلافت آپ كے اختيار ميں دے دى جائے اس پر حضرت امام حسنعليه‌السلام نے فرمايا كہ : يہ ہرگز ممكن نہيں خدا كى قسم يہ كام كسى بھى صورت ميں عمل پذير نہيں ہوسكتا لگتا ہے كہ تيرا وقت پورا ہوچكا ہے اور تو آج يا كل ميں قتل ہونے والا ہے شيطان نے تجھے فريفتہ كر ليا ہے اسى لئے اس نے تيرے كاروبار كو رونق بخشى ہے خداوند تعالى تجھے نيست و نابود كرے_

عبيداللہ، معاويہ كے پاس واپس آگيا اور تھوڑى دير نہ گذرى تھى كہ چار ہزار سپاہيوں كا لشكر ميدان ميں حملہ آور ہوا اور طائفہ ہمدان كے ايك شخص كے ہاتھوں قتل ہوا امام مجتبىعليه‌السلام نے جوپشين گوئي فرمائي تھى وہ صحيح ثابت ہوئي_

حضرت امام حسنعليه‌السلام نے اس كا خون آلود لاشہ جب زمين پر گرا ہوا ديكھا تو آپ كو مسرت ہوئي اور خداوند تعالى كاشكر ادا كيا_(۱۴)

نويں روز جب كہ پرچم، ہاشم مرقال كے ہاتھ ميں تھا سپاہ اسلام ميں خاندان مذحج اور سپاہ شام سے، عك، لخم اور اشعريوں كے درميان شديد جنگ جارى تھى ، حضرت علىعليه‌السلام كى تلوار سے پانچ سو سے زيادہ عرب كے سربرآورہ اور دلاور قتل ہوئے يہاں تك كہ آپ كى تلوار خميدہ ہوگئي_

راوى كا بيان ہے كہ ہم حضرت علىعليه‌السلام كى خميدہ تلوار ليتے اور اسے سيدھا كرديتے اور واپس دے ديتے جسے لے كر آپ دشمن كى صفوں ميں اتر جاتے خدا كى قسم ہم نے كوئي ايسا شجاع نہيں ديكھا جو دشمن كے لئے علىعليه‌السلام سے زيادہ سخت ہو_(۱۵)

اس روز فريقين كے لشكر ايك دوسرے كى جان لينے پر تلے ہوئے تھے پہلے تو تيروں اور پتھروں سے مقابلہ ہوتا رہا اس كے بعد نيزوں سے جنگ ہوئي جب نيزے بھى ٹوٹ گئے تو تلواروں اور لوہے كے گرزوں سے ايك دوسرے پر حملہ آور ہوئے اس دن ميدان كارزار ايسا


گرم تھا كہ اسلحہ كى چكاچك كے علاوہ كوئي آواز سنائي نہ ديتى تھى _ نعروں كى گونج ، بجلى كى گرج ، پہاڑوں كى چٹانيں ٹكرانے سے كہيں زيادہ ہولناك تھى فضا اس وقت ايسى گرد آلود تھى كہ لگتا تھا كہ سورج غروب ہو رہا ہے اس گردو خاك اور تاريكى كے درميان پرچم و بيرق كہيں نظر نہ آتے تھے مالك اشتر كبھى سپاہ ميمنہ كى طرف جاتے اور كبھى لشكر ميسرہ كى جانب لپكتے چنانچہ وہ جس لشكر يا قبيلے كے پاس پہنچتے جنگ جارى ركھنے كے سلسلے ميں اس كى حوصلہ افزائي كرتے_

جنگ نصف شب تك جارى رہى اس قت نماز پڑھنے كا بھى موقعہ نہ تھا(۱۵) مالك اشتر مسلسل ميدان جنگ كى جانب بڑھے چلے جارہے تھے يہاں تك كہ كار زار، ان كے پيچھے رہ گيا اور وہ آگے نكل گئے_

اس اثنا ميں حضرت امام مجتبىعليه‌السلام دشمن پر حملہ آور ہونے كے ارادے سے آگے بڑھے ليكن انھيںعليه‌السلام ديكھ كر حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا كہ : ان كو ميدان جنگ ميں جانے سے روكا جائے كيونكہ ان دو فرزندوں (حضرت امام حسنعليه‌السلام و حضرت امام حسين (ع)) كى جانب ميرى خاص توجہ ہے كہيں ايسا نہ ہو كہ نسل پيغمبر روئے زمين سے مفقود و ناپديد ہوجائے_(۱۶)

اميرالمومنينعليه‌السلام قلب لشكر ميں پيش پيش تھے مالك دائيں پرے ميں اور ابن عباس سپاہ كے بائيں پرے ميں موجود تھے انجام كار يہ جنگ نويں روز اس دسويں شب جو ليلة الہرير(۱۷) كے نام مشہور ہے اختتام پذير ہوئي جس ميں فريقين كا بہت زيادہ جانى و مالى نقصان ہوا اور دونوں لشكروں(۱۸) كے سپاہى بھى تھك چكے تھے مگر تھكن كے آثار سپاہ شام ميں نظر آتے تھے اور فتح و ظفر كى علامات سپاہ عراق سے ہويدا تھيں _

دو لائق سپہ سالاروں كى شہادت

نويں روز جو دردناك حادثات رونما ہوئے ان ميں حضرت علىعليه‌السلام كے دو فرمانداروں يعنى عمار ياسر اور ہاشم مرقال كى شہادت تھى اگرچہ عمار كى عمر نوے سال سے تجاوز كر گئي تھى مگر ان ميں اس


قدر چستى و دليرى تھى اور ايسا جوش و خروش پايا جاتا تھا كہ اس سے جوانوں كو تقويت ہوتى تھي_

عمار جس وقت ميدان كارزار كى جانب روانہ ہوئے تھے اس وقت وہ دست بدعا تھے اور خداوند تعالى سے فرياد كر رہے تھے اے پروردگار اے خدايا تو ناظر و شاہد ہے اگر ميں يہ جان لوں كہ تيرى رضا اسى ميں تھے كہ ميں خود كو سمندر ميں گرادوں تو ميں ايسا ہى كرونگا اگر مجھے يہ معلوم ہوجائے كہ تيرى خوشنودى اس ميں ہے كہ ميں اپنے سينہ و دل كو نوك شمشير پر اس طرح ركھ دوں كہ وہ ميرى كمر سے نكل آئے تو يقينا ميں ايسا ہى كروں گا ليكن اس علم كے مطابق جو تو نے مجھے ديا ہے كہ ميں يہ جانتا ہوں كہ تجھے آج كوئي عمل اس سے زيادہ راضى و خوشنود نہيں كر سكتا كہ تباہ كاروں كے خلاف جہاد كروں _(۱۹)

عمار وہ مخلص دلاور اور ايسے جنگجو سپاہى تھے جو ميدان كارزار ميں تھكنا نہيں جانتے وہ عاشق جانبازى كى مانند جنگ كرتے حق كے دشمنوں كے لئے انكى تلوار موت كا پيغام تھى اور جس كے سرپر پڑجاتى اسے واصل جہنم كرتى مگر حاميان حق كے دلوں كو اس سے تقويت ملتى در حقيقت وہ ميزان حق تھے چنانچہ نبى اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہى كى شان ميں تو فرمايا تھا كہ : عمار حق كے ساتھ زندہ ہے اور حق عمار كے ساتھ ہے(۲۰) جو شخص بھى ان كے محاذ پر جنگ كرتا اسے يہ يقين ہوتا كہ وہ حق كى مدافعت كريں گے اور اسى راہ ميں اگر انھيں قتل بھى كرديا گيا تو انھيں بہشت بريں ميں جگہ ملے گي_

مسلمانوں كے درميان يہ بات مشہور تھى كہ عمار ميزان حق ہيں چنانچہ جب كبھى حق و باطل كے درميان تشخيص كرنا مقصود ہوتا تو عمار كے عمل اور موجودگى كو بطور سند پيش كيا جاتا اس كى ايك مثال يہ ہے كہ : ان كے چچازاد بھائي'' ذى الكلاع حميرى '' شامى سپاہ عراق ميں شامل تھا عمار نے اسے بلايااور كہا ميں نے اس لئے بلايا ہے كہ تمہيں وہ حديث سناؤں جو عمروعاص نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل كى ہے اس كى بعد انہوں نے وہ حديث بيان كى جس ميں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا تھا كہ : شام اور عراق كے لشكر ايك دوسرے كے مقابل ہوں گے ان ميں سے ايك حق و ہدايت كا پيشوا ہوگا اور عمار اسى كے ساتھ ہوں گے(۲۱) اس پر ابونوح نے كہا تھا كہ : خدا كى قسم عمار ہمارے ساتھ ہيں


اور ہم سب سے زيادہ انھيں تم سے جنگ كرنے پر اصرار ہے كتنا اچھا ہوتا كہ تم سب ايك تن ہوتے اور ميں اسے ذبح كرتا اور سب سے پہلے تجھ چچازاد بھائي كو ہى قتل كرتا كيونكہ ہم حق پر ہيں اور تم باطل پر ہو_

اس كے بعد ذوالكلاع كى درخواست پر وہ عمروعاص كے پاس گئے تا كہ اس تك بھى يہ اطلاع پہنچائي جاسكے كہ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر ميں عمار بھى موجود ہيں اور شاميوں سے جہاد كرنے كيلئے واقعى وہ سنجيدہ ہيں تا كہ ان كے ضمير كو بيدار كيا جاسكے_

عمروعاص نے بھى گفتگو كے درميان اس حقيقت كا اعتراف كيا كہ : اس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سن ركھا ہے كہ عمار كو جفاكار اور باغى قتل كريں گے اس كے بعد عمروعاص كى تجويز پر اس كے اور عمار كے درميان ملاقات كا پروگرام مرتب كيا گيا گفتگو عمروعاص كى جانب سے شروع ہوئي اس نے عمار كو پند و نصيحت كرتے ہوئے كہا كہ : وہ جنگ و خونريزى سے باز رہيں اس ضمن ميں يہ بھى كہا كہ : ہمارے اور تمہارے درميان خدا كا فيصلہ قرآن اور رسول مشترك ہيں عمار نے كہا كہ : خدا كا شكر جس نے يہ توفيق دى كہ تم نے وہ سب باتيں اپنى زبان سے كہيں جو مجھے اور ميرے دوستوں كو كہنى چاہيے تھيں نہ كہ تمہيں _ اب ميں تمہيں بتاتا ہوں كہ ميں تم سے كيوں جنگ كر رہاہوں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا تھا كہ : ميں ''ناكثين'' سے جنگ كروں چنانچہ ميں نے ايساہى كيا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہى يہ حكم ديا تھا كہ ميں '' قاسطين'' سے جنگ كروں اور تم وہى ہو اسى لئے تم سے بر سر پيكار ہوں(۲۲)

بالاخر گفتگو كسى فيصلہ كن نتيجے تك نہيں پہنچى اور اب عمار دشمن كى اس فوج كے مقابلے ميں گئے جس كى فرماندارى عمروعاص كے ہاتھ ميں تھى جس وقت ان كى نگاہ عمروعاص كے پرچم پر گئي تو انہوں نے كہا كہ : خدا كى قسم اس پرچم كے خلاف تو ميں تين مرتبہ جنگ كرچكا ہوں اس راہ پر چل كر آدمى كہيں نہيں پہنچے گا اور دوسرے راستوں سے يہ كسى طرح بھى بہتر نہيں _(۲۳)

عمار نے اپنے ساتھيوں كے درميان بآواز بلند كہا كہ : كہاں ہيں وہ لوگ جو رضا خدا كے متمنى ہيں اور جنہيں مال و اولاد سے علاقہ نہيں(۲۴) اس كے بعد انہوں نے ان لوگوں سے خطاب


كرتے ہوئے جنہوں نے راہ خدا ميں پيشقدمى كى تھى كہا كہ اے لوگو ہمارے ہمراہ ان لوگوں سے جنگ وجدل كيلئے جلد جلد آگئے آؤ جو اپنى دانست ميں عثمان كے خون كا بدلہ لينا چاہتے ہيں _(۲۵)

عمار جس لشكر ميں شامل تھے اس كے پرچمدار ہاشم مرقال تھے وہ اپنے پرچمدار كى حوصلہ افزائي كرتے رہتے كہ دشمن پر حملہ آور ہوں ہاشم مرقال بھى اپنى بے مثال دلاورى كے باعث جنگجو سپاہى كيلئے راستہ ہموار كرتے رہتے جب كبھى ان كا نيزہ ٹوٹ جاتا تو حضرت عمار انھيں دوسرا نيزہ دے ديتے ان دو جانبازوں كى بے پناہ و دليرانہ نبرد آزمائي نے عمروعاص كو ايسا مرعوب كيا اور اس كے دل پر ايسى وحشت طارى ہوئي كہ اس نے بآواز بلند كہا كہ جس شخص نے يہ سياہ پرچم اپنے ہاتھ ميں سنبھال ركھا ہے اگر اسى طرح آگے بڑھتا رہا تو آج يہ تمام عربوں ك ہلاك كر ڈالے گا_(۲۶)

جب يہ پيشوائے حريت يعنى عمار بہت سے شاميوں كو ہلاك كرچكے تو ان پر معاويہ كى فوج كے دو دلاور حملہ آور ہوئے اور ان ميں سے ايك نے اپنے نيزے سے ايسى كارى ضرب لگائي كہ وہ زمين پر آرہے اور دوسرے نے ان كے سرمبارك كو تن سے جدا كرديا(۲۷) اور اس طرح اس جرى و دلير سپاہى نے اپنے اس سركو جس سے وہ اپنے معبود حقيقى كے سامنے جبين سائي كيا كرتا تھا ميدان جہاد ميں اسى كى خاطر قربان كرديا_

اس جنگ كے دوسرے دلير و جانباز ہاشم بن عتبہ تھے جو دو زرہ پہنے ہوئے تھے اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے جس وقت پرچم ان كے سپرد كيا تو بطور مزاح ان سے كہا كہ : اس كا لے بزدل كا تو ڈر كہيں تمہارے دل ميں نہيں ؟(۲۸) اس پر انہوں نے عرض كيا كہ : يہ تو اميرالمومنينعليه‌السلام كو جلد ہى معلوم ہوجائے گا قسم خدا كى ميں ان كے سروں كو اس طرح اڑاوں گا كہ جس طرح كوئي اس دنيا سے دوسرى دنيا ميں جانے كا قصد ركھتا ہو_ اس كے بعد انہوں نے نيزہ اپنے ہاتھ ميں لے ليا اور اس زور سے اسے جھٹكا ديا كہ وہ ٹوٹ گيا دوسرا نيزہ لايا گيا وہ چونكہ سوكھ چكا تھا اسى لئے انہوں


نے اسے دور پھينك ديا بآلاخر انھيں ايك نرم نيزہ ديا گيا جس پر انہوں نے پرچم كا پھريرا باندھا اور اپنے حملے كو اس خيمے پر مركوز كرديا جس ميں عمروعاص ، معاويہ اور ان كے دوست و احباب جمع تھے اس روز كشت كشتار كا ايسا بازار گرم ہوا كہ كسى نے اس سے پہلے ايسى قتل و غارتگرى نہ ديكھى تھى اور نہ ہى كسى كو موت كى ايسى گرم بازارى ياد تھي_ (۲۹)

آخرى مرتبہ جب سياہ پرچم امير المومنين حضرت علىعليه‌السلام نے ہاشم كو ديا تو چاہا كہ اب يہ جنگ ايك طرف ہو چنانچہ آپ نے فرمايا كہ : ہاشم معلوم نہيں اب تمہارا آب و دانہ كب تك كا باقى ہے؟ اس پر انہوں نے عرض كيا كہ اس مرتبہ راہ جہاد ميں ايسا نكلوں گا كہ پھر كبھى واپس نہ آؤں گا آپ نے فرمايا كہ '' تمہارے مقابل ذى الكلاع ہے اور اس كے گرد موت منڈھلا رہى ، سرخ موت''

ہاشم ميدان كارزار كى طرف روانہ ہوئے جب وہ معاويہ كے نزديك پہنچے تو اس نے پوچھا كہ كون شخص ہے جو آگے بڑھا چلا آرہا ہے اسے بتايا گيا كہ ہاشم مرقال ہيں(۳۰) يہ سن كر اس نے كہا كہ وہى بنى زہرہ كا كانا، خدا اسے غارت كرے(۳۱) ہاشم نے اپنے ان ساتھيوں كے ہمراہ جو قارى قرآن اور خدا كے عاشق تھا كتنى مرتبہ دشمن كى صف كو درہم برہم كيا چنانچہ جس وقت وہ طائفہ '' تنوح'' كے پرچم تك پہنچے تقريبا دشمن كے دس دلاوروں(۳۲) كو ہلاك كرچكے تھے انہوں نے معاويہ كے پرچمدار كو جو طائفہ '' عذرہ'' كا فرد تھا قتل كرديا اس كے بعد ذوالكلاع ان سے جنگ كرنے كيلئے ميدان ميں آيا ان كے درميان ايسى زبردست جنگ ہوئي اور ايسى كارى ضربيں ايك دوسرے كو لگائي كہ دونوں ہى قتل ہوگئے(۳۳) اس كے بعد ان كے فرزند عبداللہ نے فورا ہى اپنے والد كا پرچم اٹھاليا اور جہاد كيلئے آمادہ ہوگئے_(۳۴)

حضرت عمار كى شہادت كارد عمل

عمار ياسر اور ہاشم مرقال كى شہادت نے اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام اور آپعليه‌السلام كے اصحاب كو بہت زيادہ غمگين و رنجيدہ خاطر كيا چنانچہ ان كى جدائي كا ايسا قلق و صدمہ ہوا كہ آپ نے ان كے سوگ


ميں گريہ و زارى كرتے ہوئے چند اشعار بھى كہے جن كا مفہوم يہ ہے كہ : اے موت مجھے تجھ سے رہائي تو نصيب نہ ہوگى اور مجھے بھى اس زندگى سے نجات دے كيونكہ تونے تمام دوستوں كو مجھ سے چھين ليا ہے مجھے ايسا محسوس ہوتا ہے كہ تو ميرے دوستوں كو خوب پہچانتى ہے اور ايسا معلوم ہوتا ہے كہ تو كسى راہنما كى مدد سے ان كى تلاش ميں نكلتى ہے_ (۳۵) ليكن اس كے ساتھ ہى اس شہادت نے باطل كے چہرے كو بے نقاب كرديا اور لشكر شام كے بہت سے سپاہيوں كا رادہ متزلزل ہوگيا چنانچہ ان ميں سے بعض افراد كو جن ميں عبداللہ بن سويد بھى شامل تھے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى وہ حديث ياد آگئي جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عمار كى شان ميں فرمائي تھى اور ان پر يہ ظاہر ہوگيا كہ معاويہ ناحق اور باطل پر ہے اور اس كى يہ جنگ در اصل بغاوت تھى چنانچہ انہوں نے معاويہ كا ساتھ چھوڑ كر امير المومنين حضرت علىعليه‌السلام كى ہمراہى اختيار كرلي_

عمار كى شہادت نے سپاہ دشمن كو بھى اتنا متاثر كيا كہ اس كا حوصلہ بھى متزلزل ہوگيا چنانچہ عمروعاص نے اس كے اثر كو زائل كرنے كے خيا ل سے ايك بہانہ نكل ہى ليا اور يہ اعلان كرديا كہ '' عمار كے قاتل ہم نہيں بلكہ علىعليه‌السلام ہيں كيونك انہوںعليه‌السلام نے انھيں محاذ جنگ پر بھيجا تھا_(۳۶)

معاويہ نے بھى اس جرم كى پاداش ميں كہ عمروعاص نے وہ حديث نقل كى تھى جو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عمار كى شان ميں بيان كى تھى اس كى بہت زيادہ سرزنش كى اور كہا كہ تم نے شام كے لوگوں كو ميرے خلاف شورش پر آمادہ كيا ہے كيا ضرورى تھا كہ تم نے جو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا تھا اسے يہاں بيان كرتے انہوں نے جواب ديا كہ مجھے كيا معلوم تھا كہ وہ وقت بھى آئے گا جب جنگ صفين بپا ہوگى جس روز ميں نے يہ حديث بيان كى تھى اس وقت عمار ہمارے اور تمہارے ہم خيال تھے اس كے علاوہ جو كچھ ميں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سن كر بيان كيا تھا تم نے بھى اسے نقل كيا ہے اور اگر اس بات سے تمہيں انكار ہے تو خود ہى شام كے لوگوں سے دريافت كرلو معاويہ كو پہلے سے بھى زيادہ طيش آيا اور اس نے عمروعاص كو بہت زيادہ سخت و سست كہا_(۳۷)


سوالات

۱_ جب بعض سپاہى محاذ جنگ سے فرار كر گئے تو حضرت علىعليه‌السلام نے كيا اقدام كيا اور انہيںعليه‌السلام كس حد تك اپنے مقصد ميں كاميابى ہوئي؟

۲_ مالك اشتر كا جنگ صفين ميں كيا كردار رہا مختصر طور پر بيان كيجئے؟

۳_ معاويہ كا غلام حريث كس طرح فريفتہ ہوا اور وہ كس كے ہاتھوں ماراگيا؟

۴_ جنگ ختم كرنے كے لئے حضرت علىعليه‌السلام نے معاويہ كے سامنے كونسى تجويز ركھي؟

۵_ معاويہ نے حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر ميں تزلزل پيدا كرنے كيلئے محاذ جنگ پر حضرت امام حسنعليه‌السلام كے سامنے كيا تجويز پيش كى اس پر حضرت حسنعليه‌السلام كا كيا رد عمل ظاہر ہوا؟

۶_ سپاہ اسلام كے فرمانداروں پر عمار كو كيا خصوصيت و برترى حاصل تھي؟

۷_ شام كى سپاہ پر عمار كى شہادت كا كيا اثر ہوا اس كے بارے ميں ايك تاريخى مثال پيش كيجئے؟

۸_ عمار كى شہادت كا اثر زائل كرنے كے لئے عمروعاص نے كيا تركيب نكالي؟


حوالہ جات

۱_ وقعہ صفين ص ۲۵۳و ۲۵۰

۲_ شايد اس آيت كى جانب اشارہ ہے) يا ايها الذى آمنوا اذا لقيتم الذين كفرو ازحفا فلا تولوا هم الادبار و من يولهم يومئذ دبره الا متحرفا لقتال او منحيزا الى فئة فَقَد باء بغضب من الله و ماواه جهنم و بئس المصير ( (الے لوگو جو ايمان لائے ہو، جب تم ايك لشكر كى صورت ميں كفار سے دوچار ہو تو ان كے مقابلے ميں پيٹھ نہ پھيرو جس نے ايسے موقعے پر پيٹھ پھيرى مگر يہ كہ جنگى چال كے طور پر ايسا كرے يا كسى دوسرے فوجى دستہ سے جا ملنے كے لئے تو وہ اللہ كے غضب ميں گھر جائے گا اور اس كا ٹھكانہ جہنم ہوگا اور وہ بہت برا ٹھكانہ ہے سورہ انفال آيہ ۱۴_ ۱۵

۳_ وقعہ صفين ص ۲۵۶، كامل ابن اثير ج ۳ ص ۳۰۴ ، تاريخ طبرى ج ۵ ص ۲۵ ، شرح ابن ابى الحديد ج ۵ ص ۲۰۴

۴ و ۵_ وقعہ صفين ۲۵۵_ ۲۵۴

۶_ وقعہ صفين ۲۵۵_ ۲۵۴

۷_ كامل ابن اثير ج ۳ ص ۳۰۲ ، تاريخ طبرى ج ۵ ص ۲۴

۸_ وقعہ صفين ص ۲۵۴ _ ۲۵۳ '' الا ليستحيى الرجل ان ينصرف لم يقتل و لم يقتل؟

۹_ وقعہ صفين ۲۴۳ ، شرح ابن ابى الحديد ج ۵ ص ۱۹۵(۱۰) وقعہ صفين ص ۲۷۲ ، شرح ابن ابى الحديد ج ۵ ص ۲۱۵

۱۱_و الله ما بارز ابن ابى طالب رجلا قط الا سقى الارض من دمه

۱۲_ وقعہ صفين ص ۲۷۴_ ۲۷۵_۳۱۶ ، شرح ابن ابى الحديد ج ۵ ص ۲۱۸_ ۲۱۷ ، يہاں يہ بات بھى قابل ذكر ہے كہ تاريخ كے اس حصے ميں حضرت علىعليه‌السلام اور معاويہ كا اپنى سپاہ كے ساتھ جو رويہ رہا اسے مورخين نے مختلف طوار سے بيان كيا ہے انہوں نے لكھا ہے حضرت علىعليه‌السلام كتنى ہى مرتبہ محاذ جنگ پر تشريف لے گئے اور آپعليه‌السلام نے اپنے ساتھيوں كى مدد بھى كى مگر اس كے برعكس معاويہ كى يہ پورى توجہ اپنى جان كى حفاظت كى جانب رہى اس واقعے كے ضمن ميں جو اوپر گذرا ہے معاويہ نے عمروعاص سے كہا تھا كہ : كيسى نادانى كى باتيں كرتے ہو قبائل عَكّ اشعريان اور جذام كے ہوتے ہوئے ميں علىعليه‌السلام سے نبرد آزمائي كروں ، وقعہ صفين ۲۷۵

۱۳_ شرح ابن ابى الحديد ج ۶ ص ۳۱۴_۳۱۳ ، وقعہ صفين ۴۲۴_۴۲۳ ، وقعہ صفين ميں نقل ہے كہ حضرت علىعليه‌السلام نے


جب عمروعاص پر ضرب كارى لگائي اور وہ اس كى تاب نہ لاسكا تو اس نے يہ بدترين راہ اختيار كي_

۱۴_ وقعہ صفين ۴۱۸_ ۴۱۷

۱۵_ وقعہ صفين ص ۲۹۷

۱۶_ وقعہ صفين ۴۷۸_۴۷۷

۱۷_ وقعہ صفين ص ۴۷۵ ، ليكن اسى كتاب كے صفحہ ۳۹۲ پر اور شرح ابن ابى الحديد ج ۵ ص ۲۴۹ ميں درج ہے كہ اس وقت اكثر سپاہ نے نماز اشاروں سے پڑھي_

۱۸_ نہج البلاغہ خ ۱۹۸ ، (فيض)

۱۹_ لغت ميں ہرير كے معنى اس آواز كے ہيں جو سردى پڑنے كى وجہ سے كتے سے نكلتى ہے چونكہ اس شب شديد جنگ جارى تھى اور فريقين كے گھڑ سوار ايك دوسرے كے سرپر چيختے تھے اس لئے اس رات كو ليلة الہرير كہتے ہيں (معجم البلدان ج ۵ ص ۴۰۳ ، مجمع البحرين ج ۳ ص ۵۱۸ مادہ ہرر

۲۰_ نصر بن مزاحم نے وقعہ صفين ص ۴۷۵ ميں اس دن اور رات كے دوران قتل ہونے والوں كى تعداد ستر ہزار افراد بيان كى ہے_

۲۱_ وقعہ صفين ص ۳۲۰ ، شرح ابن ابى الحديدج ۵ ص ۲۵۳

۲۲_ حضرت عمار سے متعلق احاديث نبوى كے بارے ميں مزيد معلومات كے لئے ملاحظہ ہوں معجم رجال الحديث ج ۱۲ ص ۲۶۷ ، طبقات ابن سعد ج ۳ ص ۱۸۷، استيعاب ج ۲ ص ۴۳۶ ،اور وقعہ صفين ص ۳۴۳_۳۴۲

۲۳_ ''يلتقى اهل الشام و اهل العراق و فى احد الكتيبيتين الحق و امام لهدى و معه عمار بن ياسر

۲۴_ وقعہ صفين ص ۳۴۰_۳۳۳

۲۵_و الله ان هذه الراية قاتلها ثلاث عركات و ما هذه بار شدهَّن (وقعہ صفين ص ۳۴۰)

۲۶_ اين من يبتغى رضوان ربہ و لا يؤب الى مال و لا ولد

۲۷_ وقعہ صفين ص ۳۲۶

۲۸_ وقعہ صفين ص ۳۲۸


۲۹_ وقعہ صفين ص ۳۴۱_۳۴۰

۳۰_ يہاں حضرت اميرالمومنينعليه‌السلام كا اشارہ حضرت مرقال كى جانب تھا كيونكہ وہ ايك آنكھ سے محروم تھے_

۳۱_ وقعہ صفين ص ۳۲۸

۳۲_ انھيں مرقال اس بنا پر كہا جاتا تھا كہ وہ بہت چست و چالاك اور تيز رفتار تھے چونكہ ان كى آنكھ جاتى رہى تھى اسے لئے انھيں اعور بھى كہا جاتا تھا_

۳۳_ وقعہ صفين ۳۴۷_ ۳۴۶

۳۴_ وقعہ صفين ۳۵۵

۳۵_الا ايها الموت الذى لست تاركى ارحنى فقد افنيت كل خليل

اراك بصيرا بالذين احبهمكانك تنحو محوه بدليل

۳۶_ تاريخ طبرى ج ۵ ص ۴۱

۳۷_ وقعہ صفين ۳۴۵


بارھواں سبق

قاسطين (جنگ صفين)۴

نجات كيلئے كوشش

آخرى فريب

سپاہ عراق كا رد عمل

سپاہ عراق ميں نظرياتى اختلاف

مالك كا واپس آنا

سركشوں كى سرزنش

نفاق و حماقت كے خلاف جد و جہد

حكميت و ثالثى كى دعوت

معاويہ كى جانب

حكمين كا انتخاب

سوالات

حوالہ جات


نجات كے لئے كوشش

سپاہ اسلام كى جانب سے معاويہ اور عمروعاص كو جب پے در پے شكستيں ہوئيں تو وہ اس نتيجے پر پہنچے كہ اميرالمومنين حضرت عليعليه‌السلام كے لشكر كى تاب نہيں لاسكتے اور ان كى شكست فاش ہونے ميں زيادہ دير نہيں _ اسى لئے انہوں نے جنگ سے نجات پانے اور اپنے مقام و حيثيت كے تحفظ كى خاطر كوشش شروع كردي_ سب سے پہلے انہوں نے عراق كے لشكر كے بعض سرداروں كو پيغامات بھيجے اور ان سے جنگ ترك كرنے كى درخواست كى معاويہ نے اپنے بھائي عتبہ كو جو نہايت ہى فصيح بيان اور چرب زبان آدمى تھا حكم ديا كہ وہ علىعليه‌السلام كے سردار لشكر اشعث بن قيس سے ملاقات كرے اور جنگ و جدل ختم كرنے كيلئے اسے آمادہ كرے_

عتبہ نے اشعث سے ملاقات كى اور خوب مدح سرائي كرنے كے بعد كہا كہ : آپ عراق اور يمن كے لوگوں كے سردار ہيں _ آپ كى عثمان سے نہ صرف قرابت دارى تھى بلكہ آپ ان كى فوج كے فرماندار بھى تھے حضرت علىعليه‌السلام كے ديگر اصحاب كے برخلاف آپ طائفہ شام كے لوگوں كى حميت و غيرت اور ان كے جذبہ ناموس كى خاطر جنگ و جدل ميں حصہ لے رہے ہيں _

آخر ميں اس نے اپنى آمد كا مدعا بيان كيا اور كہا: جنگ انتہائي پر خطر صورت اختيار كرچكى ہے ہم آپ سے يہ تونہ كہيں گے كہ آپ حضرت علىعليه‌السلام سے كنارہ كشى اختيار كر ليجئے البتہ اس بات كے متمنى ہيں كہ اس جنگ كا اب كسى طرح خاتمہ ہوجائے تا كہ سپاہ مزيد ہلاك نہ ہو_

اشعث نے عتبہ كى تعريف و ستائشے كا جواب ديتے ہوئے اس كے اس بيان كى تائيد كى كہ اس كى جنگ شام كے لوگوں سے ايمان و عقيدے كى بنياد پر نہيں بلكہ ميں اہل عراق كى حمايت اس بنا


پر كر رہا ہوں كہ ہر شخص كو چاہيئے كہ وہ اپنے گھر كى خود حفاظت كرے اس نے جنگ ختم كرنے كے سلسلے ميں بھى انھيں منفى جواب نہ ديا اور كہا كہ : ميرے نظريئے كا اعلان جلد ہى كرديا جائے گا_ (۱)

اس ملاقات كے ذريعے عتبہ كو اتنى كاميابى تو ہوگئي كہ اس نے اشعث كے ذہن ميں صلح كا ميلان پيدا كرديا اور جو تجاويز و پيشنہادات بعد ميں وقوع پذير ہوں گى ان كے اجراء نيز سپاہ عراق ميں س كى تشہير و ترويج كيلئے ايك موثر عامل كے طور پر اسے آمادہ كرليا گيا ہے_

معاويہ نے يہ بھى حكم ديا كہ عتبہ اور اشعث كے درميان جو ملاقات ہوئي ہے نہ صرف اسے بلكہ جو گفتگو ان دونوں نے كى ہے اسے حرف بحرف سپاہ عراق كے درميان منتشر كرديا جائے_ عمرو سے كہا كہ وہ ابن عباس كو بھى خط لكھے عمروعاص نے خط اس طرح لكھا علي(ع)كے بعد چونكہ آپ ہى اس جماعت كے سرور و سردار ہيں اسى لئے جو گذر گيا اسے فراموش اور آيندہ كے بارے ميں غور و فكر كيجئے_ خدا كى قسم اس جنگ نے ہم پر اور تم پر زندگى حرام اور صبر و تحمل كى تاب تمام كردى ہے يہ جان ليجئے كہ عراق اور شام كو بيك وقت جب ہى قابو ميں لايا جاسكتا ہے جب كہ ان ميں سے ايك نيست و نابود ہوجائے طرفين كيلئے صلاح اس امر ميں ہرگز نہيں كہ حريف مقابل ہلاك ہوجائے ہمارے اور تمہارے درميان ايسے لوگ بھى موجود ہيں جنہيں جنگ و جدل پسند نہيں _ آپ مشير و امين ہيں ليكن اشتر سنگدل انسان ہيں اور يہ مناسب نہيں كہ انھيں مشورے ميں شريك كيا جائے_

ابن عباس نے يہ خط حضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں پيش كرديا جسے ديكھ كر آپعليه‌السلام كو ہنسى آگئي اور فرمايا كہ : اس ''عمر و عاص'' كو خدا غارت كرے معلوم نہيں كہ اسے كس چيز نے اس بات كيلئے مجبور كيا كہ وہ تم سے اس قسم كى توقع ركھے؟ اور اس كا جواب دينے كيلئے حكم ديا ابن عباس نے عمروعاص كو واضح و مدلل جواب ديا اور اس كى اميدوں پر قطعى پانى پھيرديا_(۲)


آخرى فريب

معاويہ كو اتنى كاميابى تو ہو ہى گئي تھى كہ وہ ايسا ميدان ہموار كرلے جس كے ذريعے وہ سپاہ عراق كے درميان اپنے آخرى جنگى حربے كو بروئے كار لاسكے_ اس نے چونكہ سن ليا تھا كہ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے تمام اہل لشكر كے درميان يہ فرمايا ہے كہ: كل جنگ كو يك طرفہ كرديا جائے گا اسى لے اس نے عمروعاص سے كہا كہ بس يہى ايك رات ہے جس ميں ہم كچھ كر سكتے ہيں كل جنگ يك طرفہ ہوجائے گى اس بارے ميں تمہارى كيا رائے ہے؟ اس نے جواب ديا كہ: آپ كے جوانوں ميں نہ تو ان جوانوں كا مقابلہ كرنے كى تاب و طاقت ہے اور نہ ہى آپ علىعليه‌السلام كے مثل و مانند ہيں وہ دين كى خاطر جنگ كر رہے ہيں اور آپ دنيا كے لئے_ آپ زندگى و بقاء كے متمنى ہيں اور وہ شہادت كے خواہشمند_ عراق كے لوگوں كو آپ كے غالب آنے كا خوف و ہراس ہے مگر شام كے عوام حضرت علىعليه‌السلام كى فتح و كامرانى سے خوش و خرم ہيں ليكن ميں ايك مشورہ ديتا ہوں اور وہ يہ كہ ان كے سامنے ايسى تجويز پيش كردى جائے كہ جس كو وہ قبول كرليں يا اسے رد كرديں ان كے درميان اختلاف راہ پاسكے_ انہيں يہ دعوت ديجئے كہ قرآن ہمارے درميان ثالث و حكم ہے_ اور يہى ايسى راہ ہے جس كے ذريعے آپ كامياب ہوسكتے ہيں ميں نے اس حربے كو ہميشہ اس خيال كے پيش نظر التواء ميں ركھا تا كہ اسے بوقت ضرورت بروئے كار لايا جاسكے معاويہ نے اس كے اس نظريے كو پسند كيا_(۳)

اشعث بن قيس نے اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے اس بيان كى پيروى كرتے ہوئے كہ دشمن آخرى چند سانس لے رہا ہے كہا ميں كل ان پر حملہ كروں گا تا كہ بارگاہ خداوندى ميں ان كا محاكمہ كيا جائے(۴) اس نے اپنے طائفہ ''كندا'' كے لوگوں سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ : اے مسلمانو: تم ديكھ رہے ہو كہ تم پر كيا گزر گئي ہے كتنے عرب ہلاك ہوچكے ہيں خدا كى قسم ميں نے اپنى پورى زندگى ميں ايسا منحوس دن نہيں ديكھا جو حاضر ہيں وہ غائب لوگوں كو يہ پيغام پہنچا ديں كہ اگر كل كا دن بھى اسے طرح گذرا تو عربوں كى نسل نيست و نابود ہوجائے گى عورتوں اور بچوں كے


سرپر كوئي وارث نہ رہے گا_

معاويہ كے جاسوسوں نے اشعث كے اس بيان كو اس تك پہنچا ديا معاويہ نے اس كے اس بيان كو اپنى جنگى سازش كى بنياد اور نيرنگى فكر كا محور بنا ليا اس نے اشعث كے بيان كى تائيد كرتے ہوئے حكم ديا كہ آدھى رات كے وقت عراقيوں كے درميان بلند آواز سے كہيں كہ '' اے عراقيو اگر ہم ميں سے ہر ايك دوسرے كو قتل كرے گا تو ہمارى عورتوں اور اولاد كا كون ولى و وارث ہوگا اب جو كچھ باقى رہ گيا ہے كم از كم اس كى حفاظت كى جائے_(۵)

بروز جمعہ (يوم الہرير) مالك اشتر كے حملے دشمس پر مسلسل جارى تھے يہاں تك كہ ان كے سپاہى تھك گئے چنانچہ انہوں نے اپنى سپاہ سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ : ميں تمہارے لئے خدا سے پناہ مانگتا ہوں اس لئے كہ (اگر زندہ بچ گئے) تو باقى دنوں ميں اپنے گلے كا دودھ دوہيا كروگے(۶) اس كے بعد انہوں نے اپنا گھوڑا طلب كيا اور پرچم كو ''حيان بن ہوذہ'' سے لے كر زمين ميں گاڑديا_ اور بآواز بلند يہ كہتے ہوئے سپاہ كے درميان پہنچ گئے كہ : تم ميں سے كون حاضر ہے كہ اپنى جان كا خدا سے معاملہ كرے اور اشتر كے شانہ بشانہ جنگ كرے تا كہ اسے يا تو فتح و نصرت نصيب ہو يا شہادت اس تقرير كے بعد بہت سے سپاہى ان كے گرد جمع ہوگئے اور ان كے ہمراہ دشمن پر حملہ آور ہوئے يہاں تك كہ انہوں نے سپاہ شام كو دھكيل كر ان كى قرار گاہ لشكر تك پہنچا ديا ليكن يہاں پہنچ كر انھيں دشمن كا سخت مقابلہ كنا پڑا چنانچہ اس مقابلے ميں مالك كے پرچمدار شہيدبھى ہوگئے_

حضرت علىعليه‌السلام نے جب يہ ديكھا كہ فتح و كاميابى مالك كے قدم چومنا چاھتى ہے تو آپعليه‌السلام نے ان كى مدد كيلئے سپاہ كى ايك جماعت روانہ كي_(۷)

مالك كى سرشكن ضربات اور دشمن كے ٹھكانہ پر مسلسل يورش سے يہ خوشخبرى مل رہى تھى كہ فتح و نصرت جلد ہى نصيب ہونے والى ہے شام كے ضعيف و عمر رسيدہ لوگوں كے لبوں پر يہ صدا بلند تى اللہ اللہ فى الحرمات من النساء و البنات(۸) (خدا كيلئے اپنے عورتوں اور بيٹيوں كا


توكچھ تو خيال و پاس كرو)

معاويہ نے اپنے لشكر كى جب يہ زبوں حالى ديكھى اور يہ يقين ہوگيا كہ شكست ميں قطعا شك نہيں تو اس نے عمروعاص سے كہا كہ : ہم تو اب فنا ہوا چاھتے ہيں كہاں ہے وہ تمہارا آخرى حربہ(۱۹) يہ سن كر عمروعاص نے بآواز بلند كہا كہ : اے لوگو تم ميں سے جس كے پاس بھى قرآن مجيد ہے اسے نيزے كى نوك پر حمائل كردو_ تقريبا پانچ سو قرآن نيزوں پر آگئے اس كے ساتھ لوگوں كو چيخ و پكار بھى شروع ہوگئي كہ: ہمارے اور تمہارے درميان قرآن حاكم و ثالث ہے اگر ہميں قتل كردو گے تو شام كى سرحدوں كى كون نگرانى و حفاظت كرے گا(۱۰)

سپاہ عراق كا رد عمل

عراق كے بعض سپاہيوں پر دشمن كے حيلہ و نيرنگ اور اس كے پر فريب ،ہيجان انگيز نعروں كا جادو چل گيا (بالخصوص اشعث جيسے سرداروں پر چونكہ ان كے دل معاويہ كى جانب مايل تھے اسى لئے ان كا شمار اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے منافقين ميں ہوتا تھا) چنانچہ انہوں نے لوگوں كو مشتعل كرنا شروع كرديا تا كہ وہ دشمن كے دام فريب ميں آجائيں اور اسى لئے انہوں نے بآواز بلند يہ كہنا شروع كرديا كہ ''تمہارى دعوت كتاب خدا ہم نے قبول كر ليا ہے آؤ ہم اسى طرف چليں ''(۱۱)

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے جب يہ كيفيت ديكھى تو اپنى سپاہ كے افكار روشن كرنے اور دشمن كے حيلہ و نيرنگ سے باخبر كرنے كى خاطر فرمايا كہ '' اے بندگان خدا اسى طرف چلتے رہو دشمن سے جہاد كرتے ہوئے حقيقت و حقانيت كو اپنے ہاتھ سے نہ جانے دو معاويہ، عمروعاص اور ابن ابى معيط كو دين و قرآن سے كوئي سروكار نہيں ميں ان لوگوں كو تم سے بہتر جانتا ہوں ان كے بچپن سے سن رسيدہ ہونے تك ميرا سابقہ رہا ہے يہ اپنے وقت كے بدترين بچے اور بدترين مرد رہے ہيں اگر يہ لوگ قرآن كى عظمت سے واقف ہوتے اور اس كے احكام پر عمل كرتے تو ان كو نيزوں


پر نہ چڑھاتے_ وہ جو كچھ كر رہے ہيں سب نيرنگ و نفاق ہے_(۱۲)

اس سے قبل يہ واقعہ رونما ہوا كہ حضرت علىعليه‌السلام نے اس خط ميں جو معاويہ كو لكھا تھا يہ پيشين گوئي كردى تھى گويا ميں ديكھ رہا ہوں كہ حوصلہ شكن ضربات، بے حد و اندازہ كشت و خون اور يقينى شكست و ريخت كے بعد تم اپنے ساتھيوں كے ہمراہ كتاب اللہ كى جانب آنے كى دعوت دوگے چنانچہ جو لوگ اس دعوت كى دہائي ديں گے وہ كافر ہوں گے يا منافق يا حق سے روگرداں(۱۳) دشمن كى اس سازش كو ناكام كرنے اور سپاہ فريقين كے افكار بيدار كرنے كى خاطر حضرت علىعليه‌السلام نے حضرت سعيد كو قرآن كے ساتھ شاميوں كى جانب روانہ كيا اور انھيں حكومت قرآن كى دعوت دي_

سپاہ عراق ميں نظرياتى اختلاف

حضرت علىعليه‌السلام كى تقارير و تنبيہات كا اثر چند ہى لوگوں پر ہوا ان ميں اكثريت ايسے لوگوں كى تھى جنہوں نے ضد اختيار كر لى تھى اور ان كا اس بات پر اصرار تھا كہ جنگ ترك كردى جائے چنانچہ انہوں نے پكارپكار كر كہنا شروع كيا: اس جنگ نے ہميں نگل ليا اس ميں ہمارے تمام مرد مارے گئے ان كى دعوت كو قبول كر لو ورنہ سب مارے جاؤ گے_

جو لوگ اس حق ميں تھے كہ جنگ جارى رہے ان ميں مالك اشتر پيش پيش تھے_

ان كى دليل يہ تھى كہ معاويہ كے پاس اب اپنى فوجى طاقت كا دم خم نہيں جب كہ ہمارى فوجى طاقت بہت زيادہ ہے اور ہم ميں حوصلہ مندى ہے اگر اس كے پاس تمہارى جيسى فوجى طاقت ہوتى تو وہ ہرگز جنگ سے روگرداں نہ ہوتا(۱۴)

جنگ كو جارى ركھنے كے حاميوں ميں دوسرے شخص'' عدى بن حاتم'' تھے انہوں نے كہا كہ ہرچند ہمارى سپاہ كا كشت و خون ہوا ہے اور ان ميں سے بہت سے مجروح بھى ہوئے ہيں مگر حق كى پاسدارى كر رہے ہيں اس لئے ہم اہل شام زيادہ ثابت قدم وپائيدار ہيں اب وہ لوگ زبوں و ناتواں ہوچكے ہيں ضرورى ہے كہ اس موقع سے فائدہ اٹھايا جائے اور ہم ان سے جنگ


كريں _ (۱۵)

انہى افراد ميں سے ''عمرو بن حمق'' اپنى جگہ سے اٹھے اور كہنے لگے: اے اميرالمومنينعليه‌السلام ہم نے آپ كا ساتھ باطل كى خاطر نہيں ديا ہے بلكہ ہم راہ خدا ميں اور حق قائم كرنے كى غرض سے آپ كے دوش بدوش رہے ہيں اب كام اپنے انجام كو پہنچ چكا ہے اور ہم بھى آپ كے مطيع و فرمانبردار ہيں(۱۶)

اس جماعت كے مقابل اشعث كھڑا تھا اور كہنے لگا اے اميرالمومنينعليه‌السلام ہم آپ كے آج بھى وہى جاں نثار دوست ہيں جو كل تھے ليكن كام كا انجام آغاز سے مختلف ہے مجھ سے بڑھ كر كوئي اہل عراق كا دوست او مجھ سے بدتر كوئي شاميوں كا دشمن نہيں انہوں نے جب كلام اللہ كى دعوت دى ہے تو قبول كر ليجئے كيونكہ اس كيلئے آپ ان سے كہيں زيادہ اہل و لائق ہيں لوگ اپنى زندگى و بقاء كے متمنى ہيں ہلاكت و تباہى انھيں پسند نہيں _

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے اس خيال كے پيش نظر كہ لشكر كے درميان ہم آہنگى برقرار رہے اور ان كے درميان كوئي اختلاف و اشتعال پيدا نہ ہو پہلے تو خود سے ہى كہا كہ اس مسئلہ كے بارے ميں غور كيا جانا چاہيئے(۱۷) ليكن جيسے ہى ہر گوشہ و كنار سے صلح كے بارے ميں دبى دبى آوازيں آنے لگيں تو آپ نے فرمايا كہ : اے بندگان خدا اس ميں كوئي شك نہيں كہ كلام اللہ كى دعوت قبول كرنے كيلئے ميں آپ سے زيادہ لائق و اہل ہوں مگر دين و قرآن كے معاملے ميں معاويہ اور عمروعاص كى بات الگ ہے ان كا قول اگرچہ كلمہ حق ہے مگر اس كے پس پردہ جو ارادہ كار فرما نظر آتا ہے وہ باطل ہے قرآن كو نيزے پر چڑھانا معرفت اور ايفائے عہد كى بنياد پر نہيں بلكہ يہ بھى حيلہ و نيرنگ اور ايك بہانہ ہے تم صرف ايك گھنٹے كے لئے اپنے دست و بازو اور سر ميرے حوالے كردو تو جلد ہى يہ ديكھو گے كہ حق اپنے آشكارہ نتيجے پر پہنچ چكا ہے اور ستمگروں كى بيخ كنى ہونے ميں ذرا بھى دير نہيں _

ليكن اشعث نے جب يہ ديكھا كہ اس كى بات كو نظر انداز كيا جا رہا ہے اور يا اس پر عمل ہونا


مشكل و محال نظر آتا ہے تو يہ بات اس كيلئے ناقابل برداشت ہوگئي چنانچہ و ہ سپاہ كى جانب روانہ ہوا تا كہ اپنے اس نظريے كا ان كے درميان پر چار كر سكے چنانچہ اس نے اس بات پر سب سے زيادہ زور ديا كہ جنگ بند كردى جائے اور يہ بات اس نے ان حساس لمحات ميں كہى جب كہ جنگ كى چكى مالك اشتر كے ہاتھ ميں گھوم رہى تھى اور دشمن گيہوں كے دانوں كى مانند ان كى سرشكن ضربات كے باعث پس رہے تھے وہ ميدان كارزار ميں حق كو روشن اور فتح و نصرت كو آشكار كرنا چاہتے تھے دشمن كے آخرى محاذ كو زير و زبر كرنے ميں بھى اب چند قدم كا ہى فاصلہ رہ گيا تھا_

شاميوں كى زندگى اب معاويہ اور عمروعاص كے باريك تار اميد سے وابستہ تھى وہ سراسيمہ و پريشان معاويہ كے سرپر كھڑے چلا رہے تھے اور كہہ رہے تھے معاويہ ايسا لگتا ہے كہ اہل عراق ہمارى دعوت قبول كرنے كو تيار نہيں اپنى اس تجويز كو ان كے سامنے دوبارہ ركھيے تم نے يہ دعوت دے كر دشمن كو جرات مند و گستاخ كرديا ہے اور لالچ و حرص نے تم كو گھير ليا ہے(۱۸) _

دوسرى طرف اشعث كى كوشش كے باعث تقريبا دو ہزار آہن پوش افراد سلاح بدست اور شمشير بدوش ان قاريان قرآن كى جماعت كے ہمراہ جن كو بعد ميں جزو خوارج كہا گيا'' مسطر بن فدكي'' اور '' زيد بن حصين'' كى قيادت ميں حضرت علىعليه‌السلام پر حملہ آور ہوئے وہ آپ كو بار بار ضدى و خود سر كہے جا رہے تھے_

انہوں نے پہلى مرتبہ حضرت علىعليه‌السلام كو اميرالمومنينعليه‌السلام خطاب كرنے كے بجائے يہ كہ كہا اے على انہوں نے كلام اللہ كى دعوت دى ہے تم اسے قبول كر لو ورنہ ہم تمہيں بھى عثمان كى طرح قتل كروائيں گے اور ہم خدا كو شاہد بنا كر كہتے ہيں كہ ہم يہ كام كر گزريں گے_

حضرت علىعليه‌السلام نے فرماياكہ : افسوس تمہارى حالت پر ميں وہ پہلا شخص ہوں جس نے قرآن كى دعوت دى اور ميں ہى پہلا فرد ہوں جس نے اس كى دعوت كو قبول كيا ميرے لئے يہ كسى طرح بھى شائستہ و سزاوار نہيں كہ حكميت قرآن كى دعوت دى جائے اور ميں اسے قبول نہ كروں ميں ان سے اس لئے جنگ كر رہا ہوں كہ وہ حكم قرآن كے آگے اپنى گرد نيں خم كرديں كيونكہ انہوں نے حكم


خداوندى سے روگردانى كى اور اس كے احكام سے عہد شكنى كر كے اس كى كتاب سے منحرف ہوگئے ہيں ميں بار بار تمہارے سامنے يہ اعلان كر چكا ہوں كہ ان كا ہرگز يہ ارادہ نہيں كہ احكام الہى پر عمل پيرا ہوں بلكہ اپنے اس اقدام سے وہ تمہيں فريب دے رہے ہيں ميں نے جو كچھ كہا اور وہ بات جو تم كہہ رہے ہو اس پر غور كرو اگر ميرى اطاعت مقصود ہے تو جنگ كرو اور اگر ميرے حكم كى خلاف ورزى منظور ہے تو تمہيں اختيار ہے جو چاھو كرو_ (۱۹)

انہوں نے حضرت علىعليه‌السلام كے بيان كى جانب توجہ كئے بغير كہا كہ اشتر كو حكم د يجئے كہ وہ جنگ سے دست بردار ہوكر واپس آجائيں _(۲۰)

مالك كا واپس آنا

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے ناگزير يزيد بن ہانى كے ذريعے مالك كو پيغام بھجوايا كہ واپس آجائيں _ مالك اس وقت دشمن كى استقامت و پايدارى كو كارى ضرب لگا چكے تھے اور فتح و نصرت ان كے قدم چوم لينا چاہتى تھى انہوں نے جواب ديا كہ : يہ وقت مجھے اپنے موقف سے دوركرنے كيلئے مناسب نہيں مجھے خداوند تعالى كى ذات سے اميد ہے كہ فتح و كاميابى حاصل ہوگى ميرے بارے ميں آپ جلدى نہ كيجئے انہوں نے مالك كا پيغام حضرت علىعليه‌السلام كو پہنچا ديا انہى لمحات كے دوران ميدان كار زار ميں گرد و غبار بلند ہوا اور نبرد آزما سپاہ كى پر جوش و خروش صدائيں سنائي ديں اب مالك اشتر كى فتح و نصرت اور شاميوں كى شكست فاش نماياں ہوچكى تھي_

ليكن فتح و نصرت كى ان علامتوں سے كوئي بھى علامت ان سركشوں كو جنہوں نے حضرت علىعليه‌السلام كو اپنے حصار ميں لے ركھا تھا ضد پر سے نہ روك سكى وہ غضبناك ہو كر چيخے اور كہنے لگے كہ يقينا آپ نے مالك كو يہ حكم ديا ہے كہ آتش جنگ كو مزيد بر افروختہ كريں اس پر حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا كہ : افسوس تمہارى حالت پر كيا ميں نے تمہارے سامنے قاصد مالك كى جانب روانہ نہيں كيا جو بات روشن و آشكارا ميں نے كہى تھى كيا وہ تمہارے كانوں تك نہيں پہنچي؟ انہوں نے كہا : دوبارہ يہ


پيغام بھجوائے كہ وہ واپس آجائيں اور اگر آپ نے ايسا نہ كيا تو ہم آپ سے قطع تعلق كرليں گے حضرت على عليه‌السلام نے دوبارہ يہ پيغام بھيجا كہ يہاں فتنہ بپا ہے تم واپس آجاؤ اشتر نے قاصد سے پوچھا كيا يہ شور و غوغا قرآن كو نيزوں پر بلند كرنے كے باعث بپا ہوا ہے؟ قاصد نے جواب ديا ہاں اس كى وجہ يہى ہے اس پر مالك نے كہا كہ خدا كى قسم جس وقت قرآن كو نيزوں پر لايا گيا تھا مجھے اسى وقت يہ گمان گذرا تھا كہ اختلاف و تفرقہ پيدا ہوگا يہ طرح ريزى و نقشہ كشى اس غير معمولى ذہنى كى پيدا وار ہے جس كا نام عمروعاص ہے_

اس كے بعد انہوں نے يزيد بن ہانى سے كہا كہ:كيا تم ديكھ نہيں رہے ہو كہ خداوند تعالى نے ہميں فتح و كاميابى عطا فرمائي ہے كيا اس وقت يہ مناسب ہے كہ اس موقع كو ہاتھ سے جانے دوں اور واپس چلا آجاؤں ؟ يزيد بن ہانى نے كہا كہ : كيا آپ يہ چاھتے ہيں كہ اس محاذ جنگ پر تو آپ كامياب ہوجائيں اور ادھر آپ اميرالمومنينعليه‌السلام كو دشمن كے حوالے كرديں ؟ انہوں نے جواب ديا كہ '' سبحان اللہ آپ نے يہ كيا بات كہى خدا كى قسم ميں ايسا ہرگز چاھوں گيا يہ كہہ كر وہ ميدان كارزار سے واپس آگئے_(۲۱)

سركشوں كى سرزنش

مالك جب ميدان كارزار سے واپس آگئے تو وہ ان لوگوں پر غضبناك ہوے جنہوں نے حضرت علىعليه‌السلام كو گھير ركھا تھا اور كہا: اے مذلت پذير سست عنصر لوگو تمہيں غالب و فاتح ديكھ كر دشمن نے حكميت قرآن كى دعوت دى ہے كيا دعوت دينے كيلے يہى وقت رہ گيا تھا خدا كى قسم انہوں نے احكام الہى و قرآن اور سنت كو پامال كيا ہے اس لئے تم ان كى دعوت قبول نہ كرو مجھے اتنى مہلت دے دو كہ ميں يہاں سے جاؤں اور واپس چلا آؤں ميں فتح و كاميابى كو اپنے سامنے ديكھ رہا ہوں انہوں نے كہا كہ : ايسا نہيں ہوسكتا مالك نے كہا كہ '' كم از كم مجھے اتنا ہى وقت دے ديا جائے جتنى دير گھوڑے كو دوڑنے ميں لگتى ہے انہوں نے جواب ديا كہ ايسے وقت ميں ہم تمہارے ساتھ


شريك گناہ ہيں '' اس پر مالك نے كہا كہ تم اپنى بات كر رہے ہو تم وہ لوگ ہو جنہوں نے اپنے برگزيدہ لوگوں كو قتل كرا ديا اور جو پست فطرت تھے وہ زندہ ہيں ايسى حالت ميں تم خود كو كس طرح حق پر سمجھ سكتے ہو؟ كيا اس وقت جب تم شاميوں كو قتل كر ہے تھے يا اس وقت جب كہ تم كشت و كشتار سے دستبردار ہوگئے ہو؟ دوسرى صورت ميں تمہيں يہ بات تسليم كر لينى چاہيئے كہ تمہارے وہ عزيز جو قتل ہوئے تم سے بہتر و افضل تھے اگرچہ تم ان كى فضيلت سے انكار نہيں كر سكتے مگر اب وہ اپنى آگ ميں خود جل رہے ہيں ''

وہ لوگ جو مالك كى منطق و دليل كا جواب نہ دے سكے انہوں نے كہا'' كہ اب آپ ہم سے حجت و بحث نہ كيجئے كيونكہ ہم نے راہ خدا ميں ہى جنگ كى تھى اور راہ خدا ميں ہى اس جنگ سے دستكش ہو رہے ہيں آپ كى اطاعت ہرگز نہيں كريں گے بہتر ہے كہ آپ اپنى راہ ليں ...''

مالك نے چاہا كہ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام اس جنگ كو جو شاميوں سے ہو رہى تھى سركشوں پر مسلط كرديں _

ليكن انہوں نے چلانا شروع كرديا كہ اميرالمومنينعليه‌السلام نے حكميت كو تسليم كر ليا ہے قرآن كے حكم پر وہ راضى ہيں اس كے علاوہ ان كے لئے كوئي چارہ نہيں اس پر اشتر نے كہا كہ اگر اميرالمومنينعليه‌السلام نے حكميت كو قبول كر ليا ہے تو ميں بھى اس پر راضى اور خوش ہوں ''

حضرت علىعليه‌السلام نے جب يہ ديكھا كہ سركش لوگ آپعليه‌السلام ہى كى موجودگى ميں دروغ گوئي سے كام لے رہے ہيں تو آپعليه‌السلام نے كوئي بات كہے بغير نظريں زمين پر جھكا ليں(۲۲) ليكن جب سب لوگ خاموش ہوگئے تو آپعليه‌السلام اپنى جگہ سے اٹھے اور فرمايا كہ : تم جب تك مجھ سے متفق و ہم خيال تھے جنگ كر تے رہے يہاں تك كہ جنگ نے تمہيں زبوں و ناتواں كرديا خدا كى قسم جنگ كے زبونى و ناتوانى نے تمہيں پكڑ ليا ہے اور تمہيں تمھارے حال پر چھوڑ ديا ہے تمہيں يہ جان لينا چاہيئے كہ كل تك ميں اميرالمومنينعليه‌السلام تھا مگر آج ميں حكم بجالانے كے لئے مامور ہوں كل تك مجھے اختيار تھا اور تمہيں حكم دے سكتا تھا مگر آج ميں اس حكم سے محروم ہوں آج ميرے حكم كو ٹھكرايا جا رہا ہے اس


لئے ميں تمہيں تمہارى مرضى كے خلاف مجبور نہيں كر سكتا''(۲۳)

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام ان سے خطاب كرنے كے بعد تشريف فرما ہوئے قبائل كے سرداروں نے اپنے خيالات كا اظہار كيا ان ميں سے بعض جنگ كى حامى و طرفدار تھے اور بعض صلح كے متمنى و خواہشمند(۲۴)

نفاق و حماقت كے خلاف جدوجہد

اگرچہ سپاہ شام كى طرف سے يہ آوازيں بلند ہو رہى تھيں كہ '' ہم نے قرآن كے سامنے اپنے سر خم كرديئے ہيں اور تم بھى قرآن كى حكومت كو تسليم كر لو'' مگر عمل ميں وہ لوگ در حقيقت قرآن كے حكم سے روگرداں تھے كيا اب تك اميرالمومنين علىعليه‌السلام نے قرآن كے احكام كو تسليم نہيں كيا تھا اور كيا آپعليه‌السلام كا عمل قرآن كے حكم كى بنياد پر نہ تھا يا جيسے ہى سپاہ شام كے سرداروں نے قرآن كو نيزوں پر چڑھايا اور ظاہر دارى سے كام ليا تو قرآن كا حكم بھى بدل گيا اور يہيں سے علىعليه‌السلام كا راستہ قرآن سے عليحدہ ہوگيا؟شاميوں نے در حقيقت اپنے اس عمل سے حق و عدالت كو نفاق كے پيروں تلے روند ڈالا_

انہى لوگوں ميں كچھ تعداد ايسے لوگوں كى بھى تھى جنہوں نے اپنے ہادى و پيشوا كو نہ پہچانا انہوں نے اپنى حماقت و نادانى سے اپنى خواہشات ہى نہيں بلكہ دشمن كى خواہشات كو اميرالمومنينعليه‌السلام پر مسلط كر كے ظلم و نفاق كى بنيادوں كو مضبوط كرديا جب كچھ كوتاہ فكر اور كج انديش لوگ ان سے آكر مل گئے تو نفاق كى گرم بازارى پہلے سے كہيں زيادہ بڑھ گئي_ ان حالات ميں نفاق سے ٹكر لينا گويا اس وقت ايسا اقدام كرنا حماقت و نادانى سے پنجہ نرم كرنا تھا_

اميرالمومنينعليه‌السلام ايسى حساس صورتحال كے روبرو تھے جس ميں ايك طرف منافق و مفاد پرست لوگ قرآن كو نيزوں پر بلند كئے ہوئے تھے اور دوسرى طرف وہ لوگ تھے جو بظاہر محاذ حق پر جنگ و جدال كر رہے تھے مگر اس كے ساتھ ہى اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام پر تلوار كھينچے كھڑے تھے


كہ حكم قرآن كو تسليم كيجئے_ اور وہ اس بات سے قطعى بے خبر تھے كہ اس بارے ميں قرآن كا صريح ارشاد ہے كہ '' ان طائفتان من المومنين اقتتلوا فاصلحوا بينہما فان بغت احداہما على الاخرى فقاتلوا التى تبغى حتى تفى الى امر اللہ''(۲۵) اور اگر اہل ايمان ميں سے دو گروہ آپس ميں لڑ جائيں تو ان كے درميان صلح كر او پھر اگر ان ميں سے ايك گروہ دوسرے گروہ پر زيادتى كرے تو زيادتى كرنے والے سے لڑويہاں تك كہ وہ اللہ كے حكم كيطرف پلٹ آئے_

باغى و سركش جانتے تھے كہ مسلمانوں كے قانونى و شرعى زمامدار اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام ہيں اور معاويہ آپعليه‌السلام سے باغى و برگشتہ_ اسے چاہيئے كہ سركشى سے دستبردار ہوجائے_ حق كے سامنے گردن خم كردے _ اور اگر ايسا نہيں تو حكم قرآن كے مطابق جنگ و جدال كريں _

سركشوں نے حيلہ و نيرنگ پر كاربند رہ كر قرآن كو تو نيزوں پر چڑھاديا مگر ان سے يہ نہيں كيا گيا كہ ہم اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كى حكومت كو تسليم كرنے كے لئے آمادہ ہيں _ بلكہ وہ تو يہ چاہتے تھے كہ انھيں كوئي ايسا موقعہ مل جائے جس كے ذريعے وہ اپنى يورش و سركشى كو جارى ركھ سكيں مگر سپاہ عراق ميں سے كچھ ظاہر بين اور كج انديش افراد انجانے ميں ان كے ہاتھوں كا كھلونا بن كر رہ گئے جس كا يہ نتيجہ ہوا كہ رنج و افسوس كے علاوہ انہيں كچھ نہ ملا_

حكميت و ثالثى كى دعوت

معاويہ نے سپاہ عراق كے درميان اختلاف پيدا كرنے اور مسئلہ حكميت كى پيش كش كے بعد حضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں خط لكھا كہ ہمارا اختلاف كافى طويل ہوگيا ہے اور دونوں طرف سے بہت زيادہ خون بہايا جاچكا ہے اور ڈر ہے كہ كہيں حالت پہلے سے زيادہ بد تر نہ ہوجائے اور اس كى ذمہ دارى ہم دونوں پر ہوگى كيا آپ اس بات سے متفق ہے كہ لوگوں كى كشت و كشتار كو روكا جائے اور دينى اخوت و محبت برقرار ہوجائے_


اس كى راہ يہى ہے كہ آپ اور ميرے ہوا خواہوں سے دو معتبر حكم (ثالث) انتخاب كئے جائيں اور وہ كلام اللہ كى اساس و بنياد پر فيصلہ كريں _ كيونكہ ہمارے ليئے يہى بہتر ہے كہ خوف خدا كو دل ميں ركھيں اور اگر اہل قرآن ہيں تو اس حكم كا پاس كريں _ (۲۶)

معاويہ ايسا نافہم تو نہيں تھا كہ اسے يہ معلوم نہ ہوتا كہ حضرت علىعليه‌السلام اس ظاہر سازى كا فريب نہ كھائيں گے اس نے اتنا يقينا سوچ ہى ركھا تھا كہ اس خط كا مضمون سپاہ عراق كے بعض كج انديش او رمنافق افراد كے كانوں تك ضرور پہونچے گا اور وہ اس سے متاثر بھى ہوں گے_

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے مدلل بيان سے صريح الفاظ ميں واضح و قطعى جواب ديتے ہوئے اسے لكھا كہ معاويہ تم مجھے حكميت قرآن كى دعوت دے رہے ہو جبكہ تم اس سے كہيں دور ہو اور تم اس كتاب مقدس كو اپنا حكم بنانا نہيں چاہتے ہو ہم نے دعوت قرآن كو حكميت كى بنياد پر قبول كيا ہے نہ كہ تمہارى تجويز پر(۲۷)

معاويہ كى جانب روانگي

اشعث جو دستہ مخالفين اور صلح پسندوں كا سردار بنا ہوا تھا معاويہ كے خط كى تشہير كرنے كے بعد حضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں حاضر ہوا اور كہنے لگا كہ ميں ديكھ رہا ہوں كہ لوگ شاميوں كى دعوت حكميت سے خوش و خرم ہيں اگر آپ اجازت ديں تو ميں معاويہ كے پاس جاؤں اور اس سے پوچھوں كہ كيا چاہتے ہو_(۲۸)

كيا اشعث واقعى يہ نہيں جانتا تھا كہ معاويہ كيا چاہتا ہے آخر وہ كون سا مقصد تھا جس كى خاطر وہ معاويہ كے پاس جانے كى كوشش كر رہا تھا اسے ان تمام باتوں كا علم تھا اور وہ يہ بھى جانتا تھا كہ اب فيصلہ كرنے كا اختيار كس كے ہاتھ ميں ہے وہ حضرت علىعليه‌السلام كے ان الفاظ كو نہيں بھولاتھا جو آپعليه‌السلام نے چند لمحہ قبل فرمائے تھے كہ '' ميں كبھى امير تھا مگر اب تابع و مامور ہوں ليكن اس كے باوجود اس نے حضرت علىعليه‌السلام سے اجازت مانگى تا كہ وفد كے اراكين كے درميان اس كى حيثيت مامور كى


رہے_

حضرت علىعليه‌السلام نے اسے بہت بے اعتنائي سے جواب ديا كہ اگر چاھو تو معاويہ كے پاس جاسكتے ہو(۲۹) اشعث تو اس موقع كى تلاش ميں تھا ہى اورخود كو اس نے وفد كا رہبر فرض كر ليا تھا وہ ظاہراً حضرت علىعليه‌السلام كے نمائندے كى حيثيت سے معاويہ كے پاس گيا اور اس كے سامنے چند سوال پيش كئے معاويہ نے اس كے وہى جواب ديے جو وہ خط ميں حضرت علىعليه‌السلام كو لكھ چكا تھا_

اس پر اشعث نے كہا يہ سب مبنى بر حق ہے اس كے بعد وہ حضرت علىعليه‌السلام كے پاس واپس آگيا_

جب يہ خبر پھيل گئي كہ اشعث كو وفد كا سربراہ بنايا گيا ہے تو لوگوں نے بآواز بلند كہنا شروع كيا كہ : ہم اس حكم پر راضى ہيں اور ہميں يہ منظور ہے_

اس كے بعد شام و عراق كے لشكروں كے قارى يكجا جمع ہوئے اور انہوں نے اس بات پر اتفاق كيا كہ حكم قرآن كو بحال كيا جائے_(۳۰)

حكمين (ثالثوں ) كا انتخاب

يہ تو پہلے سے معلوم تھا كہ معاويہ كا حكم عمروعاص ہوگا اور شام كے لوگوں كو بھى اس كے انتخاب كئے جانے پر اتفاق ہوگا چنانچہ معاويہ نے بغير كسى مشورے كے حكم مقرر كرديا اور اپنى سپاہ كو اپنے اس انتخاب كے ذريعہ مطمئن كرديا_

عراق كے لوگ اپنے ہادى اور پيشوا كى حكم عدولى كے باعث اگر چہ تباہى اور ہلاكت كے دہانے تك پہنچ چكے تھے مگر اس كے باوجود انہوں نے حكم كے انتخاب كے حق سے بھى اميرالمومنينعليه‌السلام كو محروم كرديا اشعث نے ان قاريان قرآن كے ہمراہ (جو بعد ميں خوارج شمار كئے گئے) بلند كہنا شروع كيا كہ '' ہم ابو موسى اشعرى كو انتخاب كرتے ہيں اس پر حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا كہ : مجھے اس پر اتفاق نہيں كيونكہ ميں انہيں اس كام كا اہل نہيں سمجھتا اشعث ، زيد بن حصين اور مسعر بن فدكى


نے قاريان قرآن كے ساتھ يك زبان ہوكر كہا كہ ہمارا انہيں پر اتفاق ہے كيونكہ وہيں ہيں جنہوں نے ہميں ا س جنگ كى مصيبت سے محفوظ ركھا اس پر حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا كہ مجھے يہ انتخاب منظور نہيں كيونكہ انہوں نے ميرا ساتھ چھوڑ ديا تھا اور وہ لوگوں كو ميرى مدد كرنے سے منع كر رہے تھے اس كے بعد وہ فرار كر گئے چنانچہ كئي ماہ گذر جانے كے بعد ميں نے انھيں امان و پناہ دي'' ميں اس كام كے لئے عباس كو اہل و شايستہ سمجھتا ہوں _

ليكن وہ لوگ حسب سابق اپنى ضد پر قائم رہے اور كہنے لگے كہ ہمارے لئے آپ كے ہونے يا عباس كے ہونے ميں ذرا فرق نہيں ليكن ہم يہ چاھتے ہيں كہ حكم ايسے شخص كو بنايا جائے جو آپ كى اور معاويہ كى طرف سے بے لاگ ہو اور اس كى نظر ميں دونوں افراد يكساں و برابر ہوں _

حضر ت علىعليه‌السلام نے فرمايا كہ ميں پھر مالك اشتر كو مقرر كرتا ہوں اس پر اشعث نے بلند آواز سے كہا كيا اشتر كے علاوہ كوئي اور شخص تھا جس نے سارى زمين ميں آگ لگائي؟ اگر ہم ان كا نام منظور كر ليتے ہيں تو ہميں ان كا پابند رہنا ہوگا حضرت علىعليه‌السلام نے دريافت فرمايا كہ ان كا حكم كيا ہے سب نے ايك آواز ہو كر كہا يہ كہ شمشير ہاتھ ميں ليكر تمہارا اور اپنا مدعا حاصل كرنے كى خاطر جان تك كى بازى لگاديں _

حضرت علىعليه‌السلام كو انكى ضد اور خود سرى پر طيش آگيا اور فرمايا كہ ابو موسى كے علاوہ كسى اور كو اپنا حكم تسليم نہيں كروگے؟ انہوں نے كہا نہيں اس پر حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا جو چاھو وہ كرو(۳۱)


سوالات

۱_ معاويہ نے جنگ سے فرار كرنے اور اپنى حالت و حيثيت كى حفاظت كے لئے كيا اقدامات كئے؟

۲_ معاويہ اور عمروعاص نے شكست سے نجات پانے كے خاطر كيا سازش كي؟

۳_ جب قرآن مجيد كو نيزوں پر بلند كيا گيا تو سپاہ عراق كا كيا رد عمل ظاہر ہوا؟

۴_ سپاہ عراق ميں كون لوگ جنگ جارى ركھنے كے حق ميں تھے اور كون اس مقصد كے لئے پيش پيش تھے؟

۵_ وہ لوگ كون تھے جنہوں نے فتح و نصرت كے آخرى لمحات ميں حضرت علىعليه‌السلام كو جنگ بندى پر مجبور كيا؟

۶_ حكميت كا مسئلہ پہلى مرتبہ كس كى طرف سے پيش كيا گيا حضر ت علىعليه‌السلام اور سركش سپاہ كا حكم مقرر كرنے كے سلسلے ميں كيا نظريہ تھا؟


حوالہ جات

۱_ وقعہ صفين ۴۰۹_۴۰۸

۲_ وقعہ صفين ۴۱۳_ ۴۰۹

۳_ وقعہ صفين ۴۷۷_ ۴۷۶

۴_ وقعہ صفين ۴۷۶و لم يبق منهم الا آخر نفس انا غار عليهم بالغداة احاكمهم الى الله عزوجل

۵_ وقعہ صفين ۴۸۱_۴۸۰

۶_اعيذكم باالله ان ترضعوا الغنم ساير اليوم يہ اس بات پر كنايہ ہے كہ اگر تمہيں فتح نصيب نہ ہو تو تمہارى حالت عورتوں جيسى ہوجائے گى جو چوپاؤں كا دودھ دوہا كرتى ہيں _

۷_ وقعہ صفين ۴۷۶_۴۷۵ ، كامل ابن اثير ج ۳ ص ۳۱_۳۱۵

۸_ وقعہ صفين ص ۴۷۹، مروج الذہب ج ۲ ص ۳۹۰

۹_ مروج الذہب ج ۲ ص ۳۹۰ ہلم مخباتك يابن عاص فقد ہلكنا

۱۰_ مروج الذہب ج ۲ ص ۳۹۰ ايك قول كے مطابق ليلة الہرير ميں ہى معاويہ كے جاسوسوں نے اشعث كى بات اس تك پہنچادى تھى چنانچہ اس كے بعد ہى معاويہ نے اس بات كا فيصلہ كيا تھا كہ قرآن كو نيزوں پر چڑھا ديا جائے وقعہ صفين ۴۸۱

۱۱_نجيب الى كتابه الله عزوجل نتنيب اليه ، تاريخ طبرى ج ۵ ص ۴۸ ، كامل ابن اثير ج ۳ ص ۳۱۶ ، مروج الذہب ج ۲ ص ۳۹۰

۱۲_تاريخ طبرى ج ۵ ص ۴۸، مروج الذہب ج ۲ ص ۳۹۱ كامل ج ۳ ص ۳۱۶

۱۳_ شرح ابن ابى الحديد ج ۱۶ ص ۱۳۴

۱۴_ وقعہ صفين ۴۸۳_۴۸۲

۱۵_ وقعہ صفين ۴۸۳_۴۸۲

۱۶و۱۷_ وقعہ صفين ۴۸۳_۴۸۲


۱۸_ وقعہ صفين ۴۸۲

۱۹_فان تطعيونى فقاتلوا و ان تعصونى فاصنعوا ما بدالكم

۲۰_ ملاحظہ ہو، كامل ابن اثير ج ۳ ص ۳۱۷_ ۳۱۶ ، تاريخ طبرى ج ۵ ص ۴۹ ، وقعہ صفين ۴۹۰_۴۸۹

۲۱_ وقعہ صفين ۴۹۱ _ ۴۹۰ كامل ج۳ ص ۳۱۷ تاريخ طبرى ج ۵ ص ۴۹

۲۲_ وقعہ صفين ۴۹۱_۹۰ ، كامل ج ۳ ص ۳۱۷، تاريخ طبرى ج ۵ ص ۵۰

۲۳_ وقعہ صفين ۴۸۴

۲۴_ وقعہ صفين ۴۸۵_۴۸۴

۲۵_ سورہ حجرات آيت ۸

۲۶_ وقعہ صفين ۴۹۳

۲۷_ وقعہ صفين ۴۹۳، نہج البلاغہ مكتوب ۴۸

۲۸_ وقعہ صفين ۴۹۹_۴۹۸

۲۹_ وقعہ صفين ۴۹۹

۳۰_ وقعہ صفين ص ۴۹۹

۳۱_ وقعہ صفين ۵۰۰_۴۹۹ ، كامل ابن اثير ۳۱۹_۳۱۸


تيرھواں سبق

قاسطين (جنگ صفين)۵

خوارج كى نامزدگي

حكميت كا معاہدہ

جنگ صفين كے عبرت آموز درس

جنگ كے نتائج

سركشوں كى تشكيل و گروہ بندي

حضرت علىعليه‌السلام خوارج كے درميان

منافقين كى تحريك

سوالات

حوالہ جات


خوارج كى نامزدگي

ان سركشوں اور باغيوں كى حماقتيں اور كوتاہيوں جو بعد ميں (خوارج) كے نام سے مشہور ہوئے ايك دو نہ تھيں _ ان سے جو لغزشيں اور خطائيں سرزد ہوئيں ان ميں سے ايك يہ بھى تھى كہ انہوں نے حاكم كا انتخاب صحيح نہيں كيا_ اگرچہ ان كا دعوى تو يہ تھا كہ انہوں نے غير جانبدار شخص كو منتخب كرنے كى كوشش كى ہے_ مگر جس شخص كو انہوں نے اس كام كے لئے نامزد كيا اس كى عداوت و دشمنى حضرت علىعليه‌السلام كے ساتھ دوسروں كى نسبت كہيں زيادہ تھي_ ليكن اس كے بر عكس معاويہ كو حق انتخاب اس شخص كيلئے ديا گيا كہ جو اس سے كہيں زيادہ مال و جاہ كا حريص اور اس كا فرمانبردار تھا_

ابو موسى وہ شخص تھا جس نے اس وقت جبكہ كوفہ كى فرمانروائي اس كے ہاتھ ميں تھى اپنے پيشوا كے حكم سے سرتابى كى تھى اور جنگ جمل كے موقع پر لوگوں كو حضرت علىعليه‌السلام كى مدد سے منع كيا تھا_

چنانچہ يہى وجہ تھى كہ حضرت علىعليه‌السلام نے انہيں ايك خط ميں لكھا تھا كہ تمہارى طرف سے جو بات مجھ تك پہنچى ہے اس ميں تمہارا نفع بھى ہے اور نقصان بھي_ جيسے ہى ميرا پيغام رساں تمہارے پاس پہنچے تم اپنى كمر كس لينا _ اور اس پر مضبوطى سے پٹكا باندھ لينا_ اور اپنى كمين گاہ سے نكل كر باہر آجانا _ جو افراد تمہارے ساتھ ہيں انہيں بھى باخبر كردينا_ اگر ميرے اس حكم پر عمل كرنا مقصود ہو تو قدم آگے بڑھانا_ اگر خوف غالب ہو اور سستى تمہارے وجود سے عياں ہوتى ہو تو كہيں اور نكل جانا_ خدا كى قسم تمہارى گيلى اور سوكھى ہر لكڑى كو جلا كر خاك كردوں گا_ اور اتنا موقع نہيں دوں گا كہ بيٹھ كر دم لے سكو تمہيں پيٹھ پيچھے جس چيز كا خوف اور ڈر ہے اسے بھى تم اپنے سامنے پاؤں گے_(۱)

ليكن اس سركش كارندے نے نہ صرف كمر ہى نہ كسى اور حضرت علىعليه‌السلام كى دعوت كا مثبت جواب


نہ ديا بلكہ حضرت علىعليه‌السلام كا وہ وفد جو حضرت امام حسنعليه‌السلام كى سركردگى ميں گيا تھا اس كى بھى مخالفت كى _ اور جو لوگ اپنا فرض ادا كرنے كى غرض سے ابوموسى كے پاس آئے تھے تا كہ اپنا فريضہ معلوم كريں تو يہ ان سے كہتا تھا كہ اگر آخرت كى فكر ہے تو اپنے گھروں ميں جاكر بيٹھو_ عثمان كى بيعت ابھى ہمارى گردنوں پر ہے_ اگر جنگ كرنا ہى مقصود ہے تو پہلے عثمان كے قاتلوں سے جنگ كرو_(۲)

اسى وجہ سے جنگ جمل ميں حضرت علىعليه‌السلام كے اقدام كو ايك قسم كا فتنہ بتايا تھا اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے يہ حديث نقل كى تھى كہ جس وقت فتنہ بپا ہو تو بيٹھے رہنے سے بہتر ہے كہ ليٹ جاؤ_ اگر كھڑے ہو تو بہتر ہے كہ بيٹھ جاؤ اور اگر چل رہے ہو تو اس سے اچھا ہے كہ اپنى جگہ كھڑے رہو_ يہ كہہ كر وہ لوگوں كو اس بات كى جانب ترغيب دلا رہا تھا كہ اپنى تلواروں كو ميان ميں ركھدو اور نيزوں كو توڑ ڈالو تا كہ اس فتنے كے شر ان كا دامن كو نہ پكڑ لے_(۳)

آيا ايسا شخص جو اس طرز فكر كا حامل ہو اور جس كا حضرت علىعليه‌السلام كے خلاف اس طرح كا يہ موقف رہا ہو ، كيا وہ اس لائق ہو سكتا تھا كہ اسے حضرت علىعليه‌السلام كے نمائندے كى حيثيت سے منتخب كيا جائے؟

چنانچہ يہى وجہ تھى كہ حضرت علىعليه‌السلام ہميشہ اس فكر ميں رہتے تھے كہ وہ لوگ جو توہمات ميں غرق ہيں ان پر صحيح افكار كو روشن اور حقيقت كو واضح كرديا جائے_ اسى لئے آپعليه‌السلام نے يہ فيصلہ كيا كہ چونكہ ابوموسى كا تعلق خوارج كے گروہ سے ہے حكميت كے واسطے ان كے منتخب كئے جانے كے مسئلے كو مزيد و سيع پيمانے پر پيش كريں _ اور سب كے سامنے وہ دلائل پيش كرديں جن كى بنا پر وہ حكميت كيلئے ان كا نام منظور كرنا نہيں چاہتے ہيں _ چنانچہ انہوں نے اپنے تمام ساتھيوں كو جمع كيا اور فرمايا كہ : يہ جان لو كہ شاميوں نے اس شخص كا انتخاب كيا ہے جو قضيے ميں ان سب سے زيادہ نزديك ہے _ ليكن تم نے اس شخص كو منتخب كيا ہے جو اس قضيے ميں تمہارى نفرت كا سب سے زيادہ حقدار ہے_ كيا تم بھول گئے ہو كہ يہ ابوموسى ہى تھا جو يہ كہا كرتا تھا كہ جنگ جمل محض ايك فتنہ ہے_ اس مقصد كيلئے تم اپنى كمانوں كے چلے نہ چڑھاؤ اور اپنى تلواروں كو ميان ميں ركھ لو _ اگر اس كى اس بات ميں حقيقت تھى تو وہ كيوں بحالت مجبورى جنگ صفين ميں شريك ہوا _ اگر يہ صورتحال نہيں


ہے تو اس پردروغگوئي كا الزام عائد كيا جانا چاہئے عمروعاص كے اندرونى ارادے كو عبداللہ بن عباس كے ذريعے خاك ميں ملا دو _ اس موقعے كو ہاتھ سے جانے نہ دو _ اسلام كے اطراف ميں جو سرحديں ہيں ان كى حفاظت كرو _ كيا تم ديكھتے نہيں ہو كہ تمہارے شہروں پر حملہ كئے جا رہے ہيں ور تمہيں تيروں كا نشانہ بنايا جا رہا ہے_ (۴)

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام چاہتے تھے كہ عباس كو حكم مقرر كر كے جنگ بندى كے ان تلخ و ناگوار اثرات كو كم كرديں جنہوں نے ان لوگوں كے دل و دماغ پر غفلت كا پردہ ڈال ديا تھا_ كيونكہ عمروعاص كى نيرنگيوں اور ديگر كمزوريوں سے دوسروں كے مقابل وہ زيادہ واقف و باخبر تھے_ اس كے علاوہ مذاكرہ ميں بھى وہ ان سے زيادہ محكم و قوى تھے_(۵)

ليكن ايسا معلوم ہوتا تھا كہ حضرت علىعليه‌السلام كى بات كسى كى كان تك نہيں پہنچى اور كسى كے دل و دماغ پر اس كا اثر نہ ہوا _ اشعث تو حضرت علىعليه‌السلام كى بات سن كرہى بر افروختہ ہوگيا بالخصوص اس وقت جب كہ اس نے يہ ديكھا كہ جس شخص كو مذاكرے كيلئے منتخب كيا جا رہا ہے وہ قريش ميں سے ہے _ اور اشعث يہ سمجھتا تھا كہ ان كا حكم مقرر كيا جانا قبيلہ يمن كى مذمت كئے جانے كى واضح و روشن دليل ہے_ اور اسى بنا پر وہ كہہ رہا تھا كہ عبداللہ بن عباس ميں حكم ہونے صلاحيت نہيں ہے_ چنانچہ انہوں نے ناراض ہوكر با آواز بلند كہا كہ : خدا كى قسم قيامت تك قبيلہ مُضر كے افراد بيك وقت حكم نہيں بنائے جاسكتے_(۶) معاويہ نے چونكہ حكم كيلئے قبيلہ مُضر كے شخص كا انتخاب كيا ہے اس لئے آپعليه‌السلام ايسے شخص كا انتخاب كريں جو قبيلہ يمن كے لوگوں ميں سے ہو_ اس پر آپعليه‌السلام نے فرمايا كہ : مجھے ڈر ہے كہ كہيں تمہارا يمنى دھو كہ نہ كھا جائے_ اشعث نے كہا اگر وہ دھو كہ كھا گيا اور وہ بات جو ہمارے لئے پسنديدہ نہيں اس نے اسى كو فيصلے ميں تسليم كر ليا تو اس سے بہتر ہے كہ دونوں ہى افراد قبيلہ مضر سے ہوں تا كہ ہمارى مرضى كے مطابق حكم كے فرائض انجام دے سكيں _

اس طرح اشعث نے اپنے باطنى نفاق كو ظاہر و آشكار كرديا_ وہ اقتدار حاصل كرنے كى غرض سے چاہتا تھا كہ حكم كسى ايسے شخص كو بنايا جائے جو انہى كے قبيلے كا ہو_ ليكن اس نظريے كے پس


پشت ان يمنيوں كا قبائلى تعصب كارفرما تھا جو سپاہ عراق و شام ميں بكثرت شامل تھے_ ايسى صورت ميں اگر دو حكم ميں سے ايك اسى قبيلے كا ہو تو وہ كيوں نہ خلافت پر نظر ركھيں _ ابوموسى كے موقف سے اشعث بخوبى واقف تھا اور يہ جانتا تھا كہ وہ معاويہ كى طرفدارى نہيں كرے گا_ جس كى وجہ يہ تھى كہ ابوموسى اسے بھى فتنہ سمجھتا تھا_ اس كے برعكس دوسرى طرف ان كے ماضى كو مد نظر ميں ركھتے ہوئے كہا جا سكتا تھا كہ وہ حضرت علىعليه‌السلام كا بھى جانبدار نہ ہوگا_ چنانچہ اسى وجہ سے اسے بہترين طاقت سمجھا گيا تھا_

اشعث كتنا اقتدار پسند اور جاہ طلب تھا اس كى شاہد ذيل كى داستان ہے_

طايفہ '' بنى وليعہ'' ان طائفوں ميں سے تھا جوپيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت كے بعد مرتد ہو گئے تھے_ جس وقت زياد ابن لبيد انصارى نے ان سے جنگ كى اور انہيں اپنى تلوار كى دھار كا مزہ چكھايا تو وہ اشعث كى حمايت حاصل كرنے كى غرض سے طائفہ كندہ كے سردار كے پاس گئے اس نے اس موقع كو سلطنت حاصل كرنے كا بہانہ سمجھا اور ان سے كہا كہ اگر تم مجھے اپنا بادشاہ تسليم كر لو تو ميں تمہارى مدد كرنے كيلئے تيار ہوں _ انہوں اس كى اس شرط كو مان ليا _ چنانچہ وہ بھى دائرہ اسلام سے خارج ہوگيا _ اور '' قطحان'' خاندان كے بادشاہوں كى طرح رسم تاج پوشى ادا كى گئي_(۷)

اس كے بعد ان كى قيادت كرتے ہوئے وہ مسلمين كے ساتھ بر سر پيكار ہوا _ ليكن زياد كے لشكر نے جيسے ہى دباؤ ڈالا اور اس قلعے كا جس ميں اس نے پناہ لى تھى محاصرہ كيا تو انہوں نے فيصلہ كيا كہ اپنى زندگى كو خيانت كے ذريعے خريد ليں اور اپنے ساتھيوں سے دور ہو كر اس نے اپنے نيز اپنے دس قرابت داروں كے لئے پناہ مانگى _ اس كے بعد اس نے قلعے كا دروازہ كھول ديا اور باقى لشكر كو موت كے منھ ميں دھكيل ديا_(۸)

ان خيانت كاريوں كى وجہ سے اسے مسلمانوں اور كفار كے درميان ہميشہ لعن طعن اور نفرت كى نظر سے ديكھا جاتا تھا _ بالخصوص كندہ طائفے كى عورتيں اس بزدلى اور خيانت كارى كى وجہ سے جو اس سے سرزد ہوئي تھى اور جس كے باعث اس طائفے كے ايك گروہ كو سخت نقصان پہنچا تھا ، سخت


لعنت و ملامت كيا كرتى تھيں _ اور عام طور پر '' عرف النار '' (آگ لگانے والا جاسوس) كہا كرتى تھيں _ اور اس اصطلاح كا اطلاق اس شخص پر كيا جاتا تھا جس كى سرشت ميں مكر ، فريب اور دغہ باز ى شامل ہو_(۹)

ابوموسى بھى جس كا نام اشعث نے حكميت كيلئے پيش كيا تھا_ كسى طرح بھى اشعث سے كم نہ تھا _ جس وقت جنگ جارى تھى اس نے جانبين كى طرف سے كنارہ كشى اختيار كر كے اور شام ميں اس مقام پر جو '' عرض'' كے نام سے مشہور تھا گوشہ نشينى اختيار كر لى تھى _ ليكن جيسے ہى اس كے غلام نے يہ اطلاع دى كہ لوگ جنگ سے دست كش ہوگئے ہيں اور تمہارا نام حكم كى حيثيت سے ليا جا رہا ہے تو صفين كى جانب روانہ ہوا اور اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر تك پہنچ گيا_

مالك اشتر اور احنف ابن قيس جيسے امير المومنين حضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں حاضر ہوئے_ اور ابوموسى كے اوصاف و افكار بيان كرنے كے بعد عرض كيا كہ انہيں حكم منتخب نہ كيا جائے_ اس ضمن ميں انہوں نے يہ بھى كہا كہ اس كا اعلان كرنے كيلئے وہ خودتيار ہيں _

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے ان كا نظريہ لوگوں كے سامنے بيان كيا_ ليكن اس پر خوارج نے كہا كہ ہم ابوموسى كے علاوہ كسى دوسرے شخص كو منتخب نہ كريں گے_(۱۰)

اس سلسلے ميں انہوں نے مزيد كہا كہ : ابوموسى وہ شخص ہيں جن پر شام و عراق كے لوگوں كو اعتماد ہے_ وہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس يمن كے لوگوں كا نمائندہ بن كر آچكے ہيں اورمال غنيمت كے سلسلہ ميں حضرت ابوبكر كے امين اور حضرت عمر كے كارگزار رہ چكے ہيں _(۱۲)

آخر كار ابوموسى اشعرى سپاہ عراق كى جانب سے حكميت كيلئے مقرر كرديا گيا_

حكميت كا معاہدہ

جب حكمين مقرر كرلئے گئے تو معاہدہ صلح اس طرح لكھا گيا (ہذا ما تقاضى عليہ على بن ابى طالب اميرالمومنين عليہ السلام و معاويہ بن ابى سفيان ...) ليكن اس پر


معاويہ نے اعتراض كيا اور كہا كہ : اگر ميں نے انہيں اميرالمومنين تسليم كرليا ہوتا تو ان سے جنگ نہ كرتا_ عمروعاص نے بھى يہى كہا كہ : ہرچند على عليه‌السلام تمہارے امير ہيں ليكن وہ ہمارے نہيں _ اس لئے صرف ان كا اور ان كے والد كا نام لكھا جائے_(۱۳)

ليكن احنف بن قيس نے كہا كہ : اس لقب كو حذف نہ كيا جائے اس كے لئے خواہ كتنا ہى خون ہوجائے كيونكہ مجھے ڈر ہے كہ اگر يہ لقب ايك دفعہ حدف كرديا گيا تو پھر واپس نہ ديا جائے گا_(۱۴)

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كافى دير تك اس فكر ميں محور ہے كہ يہاں تك كہ اشعث آگيا_ اس كى آنكھوں ميں فاتحانہ چمك تھى اور لہجہ خيانت سے سرشار و شرابور_ اس نے فخريہ انداز ميں كہا كہ: اس نام كو حذف كرديجئے_

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كو ماضى كا وہ واقعہ ياد آگيا جب كہ '' صلح حديبيہ '' كا معاہدہ لكھا جارہا تھا '' (ہذا ما تصالح عليہ محمد رسول اللہ و سہيل )ابن عمرو سہيل كو يہ ضد تھى كہ لقب '' رسول اللہ '' حذف كيا جائے اور رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم انتہائي صبر سے اس كى اس ضد كو برداشت كر رہے تھے_

حضرت علىعليه‌السلام كيلئے لقب رسول اللہ حذف كرنا گواراہ نہ تھا ليكن رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حكم ديا كہ اسے حذف كرديا جائے اور فرمايا كہ اس لقب كے حذف كئے جانے سے مجھے رسالت سے تو محروم نہيں كرديا جائے گا_ اس كے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علىعليه‌السلام كى جانب رخ كر كے فرمايا كہ : ايك دن تمہارے سامنے بھى يہى مسئلہ آئے گا_ اگر چہ تمہيں بہت زيادہ كوفت ہوگى مگر تمہيں بھى يہى كرنا ہوگا _(۱۵)

اب وہ زمان موعود آن پہنچا تھا_ چنانچہ حضرت علىعليه‌السلام نے پورى رضا و رغبت اور مكمل اطمينان كے ساتھ اس كلام كو ملحوظ ركھتے ہوئے جو رسول گرامىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے زبان مبارك سے ادا ہوا تھا فرمايا كہ : '' لا الہ اللہ و اللہ اكبر'' تاريخ خود كو دھرا رہى ہے(۱۶) _


آج ميں ان كى آل و اولاد كيلئے اس طرح لكھ رہا ہوں جيسا رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان كے آباواجداو كيلئے تحرير فرماچكے ہيں _(۱۷)

معاہدے كا متن لقب '' اميرالمومنين'' حذف كر كے طرفين كى اتفاق رائے سے جس طرح تحريرى شكل ميں آيا اس كا اجمالا ذكر ہم ذيل ميں اس كے اہم نكات كے ساتھ كريں گے_

۱_ طرفين قرآن و سنت پيغمبريصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے مطابق حكم خداوندى كو قبول كريں گے_ حكم قرآن او سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے جو خلاف ہے اسے وہ دور كرنے كى كوشش كريں گے_

۲_ حكمين ابوموسى اشعرى اور عمروعاص ہيں _ جب تك حق سے تجاوز نہ كريں ان كے جان و مال اور ناموس كو حفظ و امان ميں ركھا جائے گا_

۳_ حكمين اور تمام مسلمين پر فرض ہے كہ وہ حكم كو قرآن و سنت كے مطابق قبول كريں _ اور اس پر عمل پيراہوں _

۴_ جب تك حكمين كا حكم جنگ بندى برقرار ہے اس وقت تك طرفين ميں سے كسى كو بھى دوسرے پر تجاوز كرنے كا حق نہيں _

۵_ منصفين كو اختيار ہے كہ وہ شام و عراق كے درميان كوئي متوسط نقطہ متعين كرسكتے ہيں _ ان افراد كے علاوہ جن كے بارے ميں اتفاق رائے ہوگا كسى بھى شخص كو مجلس منصفين ميں داخل ہونے كى اجازت نہيں دى جائے گى _ منصفى كى مدت ماہ رمضان كے آخر تك معين ہے_

۶_ اگر منصفين نے مقررہ مدت تك قرآن و سنت كے مطابق حكم صادر نہيں كيا تو طرفين كو حق حاصل ہوگا كہ اپنى پہلى حالت پر واپس آجائيں اور ايك دوسرے سے جنگ كريں _

مذكورہ معاہدے پر حضرت علىعليه‌السلام كے طرفداروں ميں سے عبداللہ بن عباس، مالك اشتر، حضرت امام حسن (ع)، حضرت امام حسين (ع)، سعيد بن قيس نيز اشعث نے اور معاويہ كى طرف سے حبيب بن مسلمہ ، ابوالاعور بُسروغيرہ نے دستخط كئے_(۱۸)

اور اس طرح ايك سودس روزہ جنگ ستر مرتبہ سے زيادہ مقابلوں كے بعد تاريخ ۱۷ صفر


سنہ ۳۷ ہجرى كو اختتام پذير ہوئي_ (۱۹)

مورخين نے اس جنگ كے جانى نقصانات كے مختلف اعداد درج كيئے ہيں _ بعض نے مقتولين كى تعداد ايك لاكھ دس ہزار بتائي ہے_ جن ميں سے نوے ہزار شام كے سپاہى اور بيس ہزار عراقى فوج كے لوگ شامل تھے اور پچيس ہزار عراق كے لوگ_(۲۰)

جنگ صفين كے عبرت آموز سبق

جنگ صفين كا نتيجہ اسلام كى فتح و نصرت كے ساتھ يہ ہونا چاہيئے تھا كہ فتنہ و فساد و نيز درخت نفاق كى بيخ كنى ہو اور اس كے ساتھ ہى فرمانروائے شام كى بيدادگرى كا قلع قمع ہوجائے_ ليكن عراقى فوج كے بعض كمانڈروں كى خود سرى اور اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے حكم سے روگردانى كے باعث جو نتائج برآمد ہوئے وہ انتہائي تلخ و ناگوار ہونے كے ساتھ ، عبرت آموز بھى ثابت ہوئے اس سے قبل كہ جنگ صفين كے نتائج كا اجمالى جائزہ ليا جائے ہم يہاں اس كے بعض درس آموز نكات كى جانب اشارہ كريں گے:

۱_ جنگ صفين نے ثابت كرديا كہ معاويہ كے بارے ميں اميرالمومنينعليه‌السلام نے جو بھى پيشين گوئي كى اور ابتدائے امر سے ہى جتنے بھى موقف اختيار كئے وہ تمام حق پر مبنى تھے اور اس بات كے آئينہ دار تھے كہ حضرت علىعليه‌السلام كو ايسے عناصر كى كتنى گہرى شناخت تھى _

معاويہ كى سياسى سرگرمى كے باعث ناسازگار ماحول پيدا ہوگيا تھا اور وہ افراد جنہوں نے اپنے كرو فر كى خاطر انھيں ان كے مرتبے پر برقرار ركھا تھا اگر اس ہنگامہ آرائي ميں سرگرم عمل نہ ہوتے تو وہ تمام ہلاكتيں تباہياں نہ ہوتيں جو اس جنگ كى وجہ سے رونما ہوئيں اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے اس كى معزولى كا فرمان جارى كر كے اور جنگ و نبرد آزمائي كے ذريعے اس كى سركشى و بالا دستى كا جس طرح قلع و قمع كيا اس سے آپعليه‌السلام نے يہ ثابت كرديا كہ اس جيسے كسى بھى غير پسنديدہ عنصر كو ہرگز برداشت نہيں كيا جاسكتا تھا_


۲_ جنگ كے دوران لشكر شام پر يہ بات ثابت ہوگئي كہ لشكر اسلام كو قوت ايمانى اور دليرانہ حوصلہ مندى كے باعث اس پر نماياں فضيلت و برترى حاصل ہے چنانچہ يہى وجہ تھى كہ معاويہ نے اپنى شكست و نابودى سے نجات پانے كے لئے فريب كارى و نيرنگى كا سہارا ليا_

بلاشك و ترديد كہا جاسكتا ہے كہ اس فضيلت و برترى كا بنيادى عامل خود حضرت علىعليه‌السلام نيز ان كے فرزندوں اور اصحاب كا جذبہ ايثار و قربانى تھا_

۳_ اسلامى افواج جب تك حضرت علىعليه‌السلام كے زير فرمان رہيں انھيں نماياں كاميابى حاصل ہوئي ليكن جيسے ہى افواج كے سرداروں نے خود سرى اختيار كر كے آپ كے احكام سے روگردانى كى تو نہ صرف مسلمانوں بلكہ دين اسلام كو سخت ناگوار نتائج و حادثات سے دوچار ہونا پڑا_

۴_ جنگ صفين نے يہ سبق سكھايا كہ اگر پيروان حق اپنے موقف پر ثابت قدم رہيں تو حق ہى غالب رہتا ہے_ اور اس كا ہى بول بالا ہوتا ہے_ اس كے برعكس اگر وہ اپنے جزئي جانى مالى نقصان كى وجہ سے اپنے موقف سے پھر جائيں اور سازش و ريشہ دوانى كا رويہ اختيار كرليں تو ظاہر ہے كہ باطل كو ہى ان پر برترى و بالا دستى حاصل ہوگئي _

جنگ كے نتائج

صفين كى تباہ كن جنگ كے باعث دونوں ہى لشكروں كا سخت مالى و جانى نقصان ہوا اس كے ساتھ ہى اس جنگ كے جو سودمند و ضرر رساں نتائج برآمد ہوئے ان كى كيفيت مندرجہ ذيل ہے_

۱_ جب لشكر عراق ميدان جنگ سے واپس آيا تو اس كى فوج ميں سخت باہمى اختلاف پيدا ہوگيا_ چنانچہ ان ميں سے بعض كو تو ميدان كارزار ترك كرنے كا اتنا سخت افسوس وملال ہوا تھا كہ ان كے دلوں ميں ان لوگوں كے خلاف دشمنى و عداوت پيدا ہوگئي جو ميدان جنگ ترك كرانے كے اصلى محرك تھے_چنانچہ يہ دشمنى و عداوت اس حد تك پہنچى كہ بھائي بھائي سے اور بيٹا باپ سے


نفرت كرنے لگا _ اور كہيں كہيں تو نوبت يہاں تك آئي كہ انہوں نے ا يك دوسرے كو خوب زد كوب كيا_ (۲۱)

۲_ اگر چہ معاويہ كا نقصان بہت زيادہ ہوا ليكن اس كے باوجود وہ عمرو عاص كى نيرنگى كے باعث اپنى سياسى حيثيت برقرار ركھنے ميں كامياب ہوگيا _ جنگ سے قبل وہ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كى حكومت كا معزول و باغى كارگزار تھا ليكن اس معاہدے كى رو سے جو اس جنگ كے بعد كيا گيا اس كا مرتبہ حضرت علىعليه‌السلام كے ہم پايہ و ہم پلہ تھا_ اور اسے سركارى سطح پر رہبر شام تسليم كرليا گيا تھا_

۳_ اگر چہ لشكر عراق ميں ايسے سپاہيوں كى تعداد كم ہى تھى جنہوں نے اس جنگ سے درس عبرت ليا اور راہ حق پر كاربند رہے ليكن اس ميں ايسے ظاہربين فوجيوں كى تعداد بہت زيادہ تھى جو منافق اور اقتدار پرست افراد كے دام فريب ميں آگئے اور انہوں نے اپنى نيز دين اسلام كى تقدير كو حيلہ گر ، نيرنگ ساز،كج انديش حكمين كے حوالے كرديا اور اپنے لئے مصائب و آلام كو دعوت دے دى _

۴_ اس جنگ كا دوسرااہم نتيجہ فتنہ و آشوب كا بيج بويا جانا تھا اور يہ در حقيقت عراقى فوج كے بعض نادان افراد كى خود سرى و ضد كا ثمرہ تھا_

چنانچہ اشعث اس معاہدے كو لے كردونوں لشكروں كے سپاہيوں كى جانب روانہ ہوا اور اس كى شرائط پڑھ كر انھيں سنائيں _ شاميوں نے سن كر خوشى كا اظہار كيا اور انہيں قبول بھى كرليا ليكن فوج عراق ميں سے بعض نے تو اس پر رضايت ظاہر كي، بعض نے مجبور انھيں پسند كيا مگر چند ايسے بھى تھے جنہوں نے سخت مخالفت كى اور معترض ہوئے_

مخالفت كى پہلى صدا طايفہ '' عَنزہ ''كى جانب سے بلند ہوئي جو چار ہزار سے زيادہ افراد پر مشتمل تھا_ اور ان ميں دو افراد نے بلند كہا لا حكم الا اللہ يعنى خدا كے علاوہ كسى كو حاكميت كا حق نہيں _ اس كے بعد وہ معاويہ كے لشكر پر حملہ آور ہوگئے مگر شہيد ہوئے_(۲۲)


دوسرے مرحلے پر '' بنى تميم'' كا نعرہ سنا گيا بلكہ اس قبيلے كے ايك فرد نے تو اشعث پر حملہ بھى كرديا_ اور كہا كہ امر خداوندى ميں افراد كو حاكم قرار ديا جاسكتا ہے ايسى صورت ميں ہمارے جوانوں كے خون كا كيا انجام ہوگا؟(۲۳)

تھوڑى دير نہ گذرى تھى كہ لا حكم الا للہ كا ہلہلہ و غلغلہ بيشتر سپاہيوں كے گلے سے جوش مارنے لگا_ انہوں نے اپنے گذشتہ عمل كى اس طرح اصلاح كى كہ ''حكميت'' كے لئے راضى ہوجانا در اصل ہمارى اپنى ہى لغزش تھى ليكن اپنے كئے پر ہم اب پشيمان اور توبہ كے طلب گار ہيں چنانچہ انہوں نے علىعليه‌السلام سے كہا كہ جس طرح ہم واپس آگئے ہيں آپعليه‌السلام بھى آجايئےرنہ ہم آپعليه‌السلام سے بيزار ہوجائيں گے_(۲۴)

وہ اس قدر جلد پشيمان ہوئے كہ انہوں نے پورى سنجيدگى سے يہ مطالبہ كرديا كہ معاہدہ جنگ بندى پر كاربند نہ رہا جائے_ ليكن حضرت علىعليه‌السلام نے آيات مباركہ و افوا بعہداللہ اذا عاہدتم و لا نتقضوا الايمان بعد توكيدہا (اللہ كے عہد كو پور كرو جب تم نے ان سے كوئي عہد باندھا ہو اور اپنى قسميں پختہ كرنے كے بعد توڑ نہ ڈالو)(۲۵) اور اوفوا بالعقود (لوگو بندشوں كى پورى پابندى كرو)(۲۶) سناكر انھيں عہد و پيمان شكنى سے باز ركھا( ۲۷)

مگر ان كى سست رائے اور متزلزل ارادے پر اس كا ذرا بھى اثر نہ ہوا جنگ كى كوفت كے آثار بھى ان كے چہرے سے زائل نہ ہوئے تھے كہ دوسرے فتنے كا بيج بوديا گيا_

سركشوں كى تشكيل و گروہ بندي

جب جنگ صفين ختم ہوگئي تو اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كوفہ واپس تشريف لے آئے ليكن جو لوگ سركش و باغى تھے وہ راہ ميں آپعليه‌السلام سے عليحدہ ہوگئے_ يہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اس وقت جب كہ جنگ پورى اوج پر تھى تو حضرت علىعليه‌السلام كو يہ دھمكى دى تھى كہ جنگ بندى كا اعلان كيجئے ورنہ ہم آپعليه‌السلام كو قتل كرڈاليں گے اور حكميت كا تعين ہوجانے كے بعد انہى افراد نے لا حكم الا اللہ كا نعرہ


بلند كيا تھا اور ''حروراوئ''(۲۸) نامى مقام پر تقريبا بارہ ہزار افراد نے قيام كيا اور يہاں خود ايك مستقل گروہ كى شكل اختيار كرلى جہاں انہوں نے '' شبث بن ربعى '' كو اپنا فرماندار اور '' عبداللہ بن كوّاء '' كو اپنا امام جماعت مقرر كيا_(۲۹)

حضرت علىعليه‌السلام كے اصحاب نے جب اس واقعے كے بارے ميں سنا تو اس خيال كے پيش نظر كہ وہ اپنى وفادارى كا حضرت علىعليه‌السلام پر دوبارہ اظہار كريں انہوں نے آپعليه‌السلام كے ساتھ نيا عہد كيا اور وہ يہ تھا كہ دوستان علىعليه‌السلام كے ساتھ دوست اور آپعليه‌السلام كے دشمنوں كے ساتھ دشمن كا سلوك روا ركھيں _ليكن خوارج نے اس وعدہ كو كفر و گناہ سے تعبير كيا اور شيعيان علىعليه‌السلام سے كہا كہ تمہارى اور شاميوں كى مثال ان دو گھوڑوں كى سى ہے جنہيں دوڑ كے مقابلے ميں لگايا گيا ہوچنانچہ اس راہ ميں تم كفر كى جانب بڑھ گئے ہو _

حضرت علىعليه‌السلام خوارج كے درميان

جب خوارج ، حضرت علىعليه‌السلام سے عليحدہ ہوگئے تو آپعليه‌السلام نے يہ سوچ كر كہ ان كے ساتھ زيادہ نزديك سے ملاقات كى جائے اور ان كے ذھنوں ميں جو پيچيدگياں پيدا ہوگئي ہيں ان كا حل تلاش كيا جائے_ سب سے پہلے ابن عباس كو ان كے پاس بھيجا حضرت علىعليه‌السلام چونكہ انكے بارے ميں جانتے تھے كہ وہ حالات و واقعات كا تجزيہ تو نہيں كرسكتے ا لبتہ حريف كو قائل كرنے كى ان ميں غير معمولى مہارت و صلاحيت ہے اسى لئے آپعليه‌السلام نے ابن عباس سے تاكيدا يہ بات كہى كہ ان كے ساتھ گفتگو كرنے ميں عجلت نہ كريں بلكہ اس قدر توقف كريں كہ ميں ان تك پہنچ جاؤں _(۳۰)

ليكن ابن عباس جيسے ہى وہاں پہنچے انہوں نے فورا ہى بحث و گفتگو شروع كردى _ بالآخر انہوں نے بھى مجبورا اپنى زبان كھولى اور اس آيہ مباركہ) و ان خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكما من اهله و حكما من اهلها ( (۳۱)

(اور اگر تم كو كہيں شوہر او ربيوى كے تعلقات بگڑجانے كا انديشہ ہو تو ايك حكم مرد كے رشتہ


داروں ميں سے اورايك عورت كے رشتہ داروں ميں سے مقرر كرو) نيز حكم عقل كے ذريعے ثابت كرديا كہ '' حكميت '' كا تقرر شرعا جائز ہے مگر انہوں نے جواب ميں اس مرتبہ بھى وہى بات كہى جو اس سے پہلے كہتے چلے آرہے تھے_(۳۲)

ابن عباس كے چلے جانے كے بعد حضرت علىعليه‌السلام بھى اس طرف روانہ ہوئے اور چونكہ يزيد بن قيس سے واقفيت تھى اس لئے آپعليه‌السلام اسى كے خيمے ميں پہنچے يہاں دو ركعت نماز ا دا كرنے كے بعد آپعليه‌السلام نے مجمع كى جانب رخ كيا اور دريافت فرمايا كہ تمہارا رہبر كون ہے؟ انہوں نے جواب ديا كہ '' ابن الكوا'' اس كے بعد آپعليه‌السلام نے فرمايا كہ وہ كون سى چيز تھى جس نے تمہيں ہم سے برگشتہ كيا_ انہوں نے كہا كہ آپعليه‌السلام كى جانب سے حكميت كا تعين و تقرر اس پر حضرت علىعليه‌السلام نے جواب ديا كہ حكميت كى پيشكش تمہارى جانب سے كى گئي تھي_ ميں تو اس كا سخت مخالف تھا انہوں نے حضرت علىعليه‌السلام كے مدلل جوابات كى تائيد كرتے ہوئے اپنى اس نئي راہ و روش كى يہ توجيہ پيش كى كہ ہمارے سابقہ اعمال كفر پر مبنى تھى چنانچہ ہم نے ان سے توبہ كرلى ہے_ آپعليه‌السلام بھى تائب ہوجايئےا كہ ہم آپعليه‌السلام كے ہاتھ پر دوبارہ بيعت كرليں _

حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا انى ''استغفر اللہ من كل ذنب ''اس پر خوارج نے سمجھا كہ آپعليه‌السلام نے '' حكميت'' كو منظور كرنے پر توبہ كى ہے_ چنانچہ وہ سب آپعليه‌السلام كے ساتھ كوفہ چلے آئے اور بظاہر اس فتنہ و فساد كا خاتمہ ہوگيا_(۳۳)

منافقين كى تحريكات

وہ منافق و موقع پرست لوگ جو حكومت كے اقتدار اورمملكت ميں امن و امان كى فضا برداشت نہيں كرسكتے تھے جب خوارج كا گروہ واپس گيا تو مختلف قسم كى افواہيں پھيلانے لگے_ اور يہ كہنا شروع كرديا كہ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام حكميت كے معاملے ميں پشيمان ہيں وہ اسے گمراہى تصور كرتے ہيں اور فكر ميں ہيں كہ جنگ كے امكانات پيدا ہوجائيں تا كہ دوبارہ معاويہ كى جانب


روانہ ہوسكيں _ (۳۴)

يہ افواہيں معاويہ كے كانوں تك بھى پہنچيں اس نے ايك شخص كو كوفہ كى جانب روانہ كيا تا كہ اس سلسلے ميں بيشتر اطلاعات فراہم كرسكے_ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كو معاويہ اچھى طرح جانتا تھا يہ بھى معلوم تھا كہ حضرت علىعليه‌السلام قرآن اور اسلام كے راستے سے منحرف نہ ہوں گے اور جو عہد و پيمان انہوں نے كيا ہے اس كى وہ بھى خلاف ورزى نہ كريں گے_ ليكن شايد ظاہر كرنے كے لئے كہ وہ حضرت علىعليه‌السلام كى حركات و سكنات كى نگرانى كر رہا تھا اسى لئے اس نے يہ اقدام كيا_

اس بارے ميں يہ بھى كہا جاسكتا ہے كہ معاويہ كو متحرك كرنے كا اصل عامل اشعث تھا _ اور وہ عہد جنگ بندى كى خلاف ورزى سے متعلق افواہوں كے بارے ميں جانتا چاہتا تھا _ كيونكہ اشعث وہ شخص تھا جو ابن ابى الحديد كے قول كے مطابق معتزلى تھا اور جن كا مقصد حضرت علىعليه‌السلام كو حكومت ميں ہر قسم كى تباہى و بربادى كو فروغ دينا تھا اور مسلمانوں كے لئے ہر طرح كى ا ضطرابى و پريشانى كا عامل بننا مقصود تھا_(۳۵) چنانچہ حضرت علىعليه‌السلام نے بھى اسے منافق اور كافر بچہ كے ساتھ ياد كيا ہے_(۳۶)

اس احتمال كو جو چيز تقويت ديتى ہے وہ يہ ہے كہ جس وقت شام سے حضرت علىعليه‌السلام كے پاس پيغام پہنچا اور آپعليه‌السلام سے معاہدے كى خلاف ورزى سے اجتناب كرنے كو كہا گيا تو اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں وہ حاضر ہوا اور ان بہت سے لوگوں كى موجودگى ميں جوحضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں حاضر تھے كہا كہ يہ سننے ميں آيا ہے كہ آپعليه‌السلام حكميت كو گمراہى قرار ديتے ہيں اور اس پر ثابت قدم رہنا آپ كے نزديك كفر ہے_(۳۷)

افواہوں كو بے بنياد ثابت كرنے اور ان كى حقيقت كو عوام پر واضح و روشن كرنے كے لئے حضرت علىعليه‌السلام نے ضرورى سمجھا كہ مسجد ميں تشريف لے جائيں اور وہاں حاضرين سے خطاب كريں چنانچہ آپعليه‌السلام نے ارشادات عاليہ كے دوران فرمايا كہ : جس شخص كو يہ گمان ہے كہ ميں معاہدہ حكميت پر قائم نہيں ہوں تو اس نے درو غگوئي سے كام ليا ہے ا ور جو بھى مسلمان حكميت كو گمراہى كا سبب سمجھتا


ہے وہ دوسروں كے مقابل خود زيادہ گمراہ ہے _(۳۸)

حضرت علىعليه‌السلام كا خطبہ ابھى ختم نہيں ہوا تھا كہ مسجد كے ايك كونے سے يہ آواز سنائي دى كہ '' اے علي تم نے ان افراد كو خدا كے دين ميں شامل كرليا '' لا حكم الا للہ اس آواز كے بلند ہونے كے ساتھ ہى مسجد كى پورى فضا لا حكم الا للہ كے نعروں سے گونجنے لگى _(۳۹)

منافقين كى تحريكات كا نتيجہ يہ برآمد ہوا كہ خوارج نہ صرف اپنى اصلى حالت پر واپس نہيں آئے بلكہ كينہ و عداوت ان كے دلوں ميں پہلے كے مقابل زيادہ گھر كرنے لگا_ چنانچہ جلسہ ختم ہوا تو لوگ گذشتہ كى نسبت اب زيادہ غم و غصہ اور نفرت كے جذبات سے لبريز شہر كے باہر روانہ ہوئے اور ا پنے خيمہ گاہوں ميں واپس آگئے_


سوالا ت

۱_ اشعث جنگ بندى كے لئے كيوں بہت زيادہ كوشش كر رہا تھا اس كے مرتد ہونے كے بارے ميں آپ كيا جانتے ہيں ؟

۲_ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام ابو موسى كو كن اسباب كى بنا پر منتخب كرنا نہيں چاہتے تھے_ اشعث اور اس كے حواريوں نے ان كے انتخاب پر كيوں اصرار كيا؟

۳_ صلح حديبيہ اور معاہدہ صفين كے درميان كيا باہمى ربط ہے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى اس بارے ميں كيا پيشين گوئي تھي؟

۴_ جنگ صفين سے مسلمانوں نے كيا سبق سيكھا؟

۵_ جنگ صفين كے كيا نتائج پر آمد ہوئے؟ مختصر طور پر لكھيئے

۶_ جب اميرالمومنينعليه‌السلام كوفہ تشريف لے گئے تو وہ كون تھے جو آپ كے ساتھ كوفہ ميں داخل نہ ہوئے ان كى تعداد كتنى تھى ؟ انہوں نے اپنے خيمے كہاں لگائے اور ان كا پيش امام كون شخص تھا؟

۷_ خوارج جب كوفہ واپس آگئے تو انہوں نے كيا افواہيں پھيلائيں اور ان ميں كون لوگ سرگرم عمل تھے اس سلسلے ميں اشعث كياكردار رہا؟ مختصر طور پر لكھيئے؟


حوالہ جات

۱_ نہج البلاغہ مكتوب ۶۳

۲_ الامامہ و السياسہ ج ۱ ص ۶۱

۳_ نہج البلاغہ خطبہ ۲۳۶ سے ماخوذ

۴_ حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے خطبے ميں بھى اس امر كى جانب اشارہ كيا ہے كہ عباس كو منتخب كرنے ميں كيا مصلحت تھى تفصيل كے لئے ملاحظہ ہو وقعہ صفين ص ۵۰۰

۵_ ربيعہ اور مضر كا شمار عرب كے دو بڑے قبيلوں ميں ہوتا تھا يہ دونوں قبيلے نزر ابن معد بن عدنان كے فرزندان، ربيعہ اور مضر كى نسلوں سے تھے قبيلہ ربيعہ كے بيشتر لوگ يمن ميں اور مضر كے اكثر افراد حجاز ميں آباد تھے يہ دونوں قبيلے اپنے قبائلى مسائل كى بناپر ايك دوسرے كى جان كے دشمن تھے

۶_ وقعہ صفين / ۵۰۰

۷_ لا ا نصركم حتى تملكونى فملكوہ و تو جوہ كما يتوج الملك من قحطان _

۸_ شرح ابن ابى الحديد ج ۱ ص ۲۹۵_۲۹۳

۹_ شرح ابن ابى الحديد ج ۱ ص ۲۹۶، تاريخ طبرى ج ۳ ص ۳۳۸

۱۰_ وقعہ صفين ص ۵۰۲_ ۵۰۰ ، تاريخ طبرى ج ۵ ص ۵۲_ ۵۱ _ كامل ابن ايثر جلد۳/ ۳۱۹

۱۱_ الامامہ و السياسہ ج ۱ ص ۱۱۳، وقعہ صفين / ۵۰۲

۱۲_ تاريخ طبرى ج ۵ ص ۵۲، كامل ابن اثير ج ۳ ص ۳۱۹، وقعہ صفين ۵۰۸، الامامہ و السياسہ ج ۱ ص ۱۱۴

۱۳_لا تمسح اسم امرة المومنين عنك و ان قتل الناس بعضهم بعضا فانى اتخوف الا ترجع اليك ابدا

۱۴_ شرح ابن الحديد ج ۲ ص ۲۳۲، وقعہ صفين ۵۰۸، الامامہ و السياسہ ج ۱ ص ۱۱۴

۱۵_ يہ جملہ حضرت علىعليه‌السلام كى فرمايش كے مطابق '' سنة بسنة'' نقل كيا گيا ہے_

۱۶_فاليوم اكتبها الى ابنائهم كما كتبها رسول الله الى ابائهم سنة و مثلا وقعہ صفين ۵۰۸، شرح ابن ابى ا لحديد ج ۲ ص ۲۳۲، تاريخ طبرى ج ۵ ص ۵۲

۱۷_ وقعہ صفين ص ۵۰۵_ ۵۰۴، الاماميہ و السياسہ ج ۱ ص ۱۱۵، كامل ابن اثيرج ۳ ص ۳۲۰


۱۸_ مروج الذہب ج ۲ ص ۳۹۴_ ۳۹۳

۱۹_ ايضاً

۲۰_ وقعہ صفين ۵۱۱

۲۱_ مروج الذہب ج ۲ ص ۳۹۴

۲۲_ وقعہ صفين ۵۱۳_ ۵۱۲

۲۳_ ايضاً

۲۴_ وقعہ صفين ۵۱۶_ / ۵۱۳

۲۵_ سورہ نحل آيت ۹۰

۲۶_ سورہ مائدہ آيت ۱

۲۷_ حروراء ۲۰۰جگہ كوفہ سے تقريبا نصف فرسخ كے فاصلے پر واقع تھى اور چونكہ انہوں نے يہاں قيام كيا تھا اسى لئے وہ '' حروريہ'' كہلائے جانے لگے_ تاريخ يعقوبى ج ۲ ص ۲۹۱

۲۸_ كامل ابن اثير ج ۳ ۳۲۶، مروج الذہب ج ۲ ۳۹۵

۲۹_ كامل ابن اثير ج ۳، ۳۲۷

۳۰_ سورہ نساء آيہ ۳۵، ابن عباس كى دليل يہ تھى كہ جب خداوند تعالى نے ايك خاندان كى اصلاح كيلئے ايك منصف ثالث كو لازم قرار ديا ہے تو يہ كيسے ممكن ہے كہ اس كا اطلاق اس عظيم امت پر نہ ہو_

۳۱_ كامل ابن اثير ج ۳ ص ۳۲۷

۳۲_ تاريخ يعقوبى ج ۲ ص ۱۹۱، كامل ابن اثير ج ۳ ص ۳۲۸،عقد الفريد ج ۲ ص ۳۸۸

۳۳_سيرة الائمہ الانثى عشر ج ۱ /۴۸۹

۳۴_كل فساد كان فى خلافة على عليه السلام و كل اضطراب حدث فاصله الاشعث ، شرح نہج البلاغہ ج ۲ ص ۲۷۹

۳۵_ عليك لعنة اللہ و لعنة اللاعنين حائك بن حائك منافق بن كافر نہج البلاغہ ج ۱۹

۳۶_ سيرة الائمہ الاثنى عشر ج ۱ / ۴۹۸، شرح نہج البلاغہ علامہ خوئي ج ۴ ص ۱۲۶

۳۷_ سيرة الائمہ الاثنى عشر ج ۱ ص ۴۸۹

۳۸_ شرح نہج البلاغہ ، علامہ خوئي ج ۱ ص ۱۲۷


چودھواں سبق

مارقين _ حكميت كا نتيجہ و رد عمل

منصفين كا اجتماع

حكميت كا نتيجہ اور اس كا رد عمل

مارقين

خوارج كے مقابل حضرت علىعليه‌السلام كا موقف

منشور

مجموعى نعرہ

بغاوت

معاويہ سے جنگ

خوارج كے ساتھ جنگ كى ضرورت

جنگ كا سد باب كرنے كى كوشش

سوالات

حوالہ جات


منصفين كا اجتماع

معاويہ نے جب يہ ديكھا كہ حكميت كے معاملے ميں عراقى فوج كى كثير تعداد اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام برگشتہ ہوگئي ہے تو اس نے يہ كوشش شروع كردى كہ جس قدر جلد ہوسكے حكميت كا نتيجہ اس كى مرضى كے مطابق برآمد ہوجائے_اس مقصد كے تحت اس نے حضرت علىعليه‌السلام كے خلاف سركشى و شورش كا محاذ قائم كرديا تا كہ وہ اپنے سياسى موقف كو قائم كرسكے_

چنانچہ اس ارادے كے تحت اس نے جونمائندے حضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں بھيجے انھيں ہدايت كردى كہ جس قد رجلد ممكن ہوسكے منصفين اپنا كام شروع كرديں _

بلاخرہ ۳۸ ھ چار سو افراد كے ہمراہ دو نمائندہ وفد '' دومة الجندل(۱) '' نامى مقام پر جمع ہوئے_ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كى جانب سے جو وفد بھيجا گيا تھا اس كى سرپرستى كے فرائض ابن عباس انجام دے رہے تھے_(۲)

جس وقت يہ وفد روانہ ہونے لگا تو اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے بعض اصحاب نے ابوموسى كو كچھ ضرورى ہدايات بھى كيں(۳) جن كا ان پر ذرا بھى اثر نہ ہوا_ جس وقت اُسے مشورے ديئےارہے تھے تو وہ مسلسل اپنے داماد عبداللہ ابن عمر كى جانب ديكھ رہا تھا اور يہ كہہ رہا تھا كہ : خدا كى قسم اگر ميرا بس چل سكا تو عمر كى راہ و رسم كو از سرنو زندہ كروں گا_(۴)

عمر و عاص كى جيسے ہى ابوموسى سے ملاقات ہوئي تو وہ اس كے ساتھ نہايت عزت و احترام كى ساتھ پيش آيا اور اس بات كى كوشش كرنے لگا كہ اسے اپنا ہم خيال بنالے ابتدائي مراحل انجام دينے كے بعد وہ دونوں مشاورت كے لئے بيٹھ گئے اور باقى افراد دو جانب كھڑے اس گفتگو كا انتظار كرنے لگے_


شام كاوفد خاص نظم و ضبط كے ساتھ آيا تھا ملاقاتوں اور گفتگو ميں ا حتياط كا عنصر غالب تھا اسى اثناء ميں معاويہ نے عمروعاص كو خط لكھا جس كے مضمون كى اطلاع اس كے علاوہ كسى كو نہ ہوئي اس كے برعكس عراقى وفد كے اراكين احتياط سے دور شور و غوغا بپا كئے ہوئے تھے اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے بھى ابن عباس كو خط لكھا ابھى قاصد اونٹ سے اترا بھى نہيں تھا كہ لوگ اس كے گرد جمع ہوگئے_ اور پوچھنے لگے كہ خط ميں كيا لكھا گيا ہے يہى كام انہوں نے ابن عباس كے پاس پہنچ كر كيا ليكن جب انہوں نے خط كے مضمون كو ان سے پوشيدہ ركھنا چاہا تو لوگ ان كے بارے ميں بدگمانى كرنے لگے اور ان كے بارے ميں چرچے ہونے لگے يہاں تك كہ ابن عباس كو ان كى حماقت و ضد پر غصہ آگيا انہوں نے سرزنش كرتے ہوئے درشت لہجے ميں كہا كہ : ا فسوس تمہارى حالت پر تمہيں كب عقل آئے گى ديكھتے نہيں ہو كہ معاويہ كا قاصد آتا ہے اور كسى كو يہ تك معلوم نہيں ہوتا كہ كيا پيغام لے كر آيا ہے وہ اپنى بات كو ہوا تك لگنے نہيں ديتے اور ايك تم ہو كہ ميرے بارے ميں ہر وقت بدگمانى كرتے رہتے ہو _(۵)

حكميت كا نتيجہ اوراس كا رد عمل

منصفين كے درميان بحث و گفتگو تقريبا دو ماہ تك جارى رہى مذاكرات كے دوران ابوموسى كى يہ كوشش رہى كہ عمروعاص امور خلافت كو عبداللہ ابن عمر كى تحويل ميں دے دے دوسرى طرف عمروعاص معاويہ كى تعريف كے پل باندھے چلا رہا تھا اور اسے عثمان كا ولى و جانشين كہتے اس كى زبان نہيں تھكتى تھى _ وہ يہ كوشش كر رہا تھا كہ كس طرح ابوموسى كو قائل كر لے اور يہ كہنے پر مجبور كرے كہ خلافت اسى كا حصہ ہے_

بلاخر نتيجہ يہ بر آمد ہوا كہ فريقين نے اس بات پر اتفاق كيا كہ ''حضرت علىعليه‌السلام اور معاويہ دونوں ہى خلافت سے دست بردار ہوجائيں اور امور خلافت كو مشاورت كى صوابديد پر چھوڑديں اس موافقت كے بعد اعلان كيا گيا كہ لوگ حكميت كا نتيجہ سننے كے لئے جمع ہوجائيں _


جب لوگ جمع ہوگئے تو ابوموسى نے عمروعاص كى جانب رخ كيا اور كہا كہ منبر پر چڑھ كر اپنى رائے كا اعلان كردو عمروعاص تو اول دن سے ہى اس بات كا متمنى تھا اور اسى لئے وہ ابوموسى كى تعريف و خوشامد كرتا رہتا تھا مگر اس نے استعجاب كرتے ہوئے كہا كہ : سبحان اللہ حاشا و كلا كہ يہ جسارت كروں اور آپ كى موجودگى ميں منبر پر قدم ركھوں ، خداوند تعالى نے ايمان و ہجرت ميں آپ كو مجھ پر فوقيت عطا كى ہے آپ اہل يمن كى طرف سے نمائندہ بن كر رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں حاضر ہوچكے ہيں اور پھررسول مقبولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جانب سے آپ ہى نمائندہ بناكر يمن كے لوگوں كے پاس بھيجے گئے تھے اس كے علاوہ سن و سال ميں آپ مجھ سے بڑے ہيں اس بناپر آپ ہى گفتگو شروع كريں(۶)

ابوموسى گفتگو شروع ہى كرنا چاہتا تھا كہ ابن عباس نے كہا كہ عمروعاص تمہيں دام فريب ميں لانے كى فكر ميں ہے گفتگو كا آغاز اسے ہى كرنے دو كيونكہ وہ بہت عيار اور نيرنگ ساز آدمى ہے مجھے يقين نہيں كہ جس چيز پر اس نے اپنى رضايت ظاہر كى ہے اس پر وہ عمل بھى كرے_

ليكن ابوموسى نے ابن عباس كى نصيحت پر عمل نہيں كيا اور اس نيك مشورے كے باوجود وہ منبرپر چڑھ گيا اور اعلان كيا كہ ہم نے اس امت كے امور پر غور كيا اور ا س نتيجہ پر پہنچے كہ وحدت نظر سے بڑھ كر ايسى كوئي شي نہيں جو اس در ہم برہم حالت كى اصلاح كرسكے_ چنانچہ ميں نے اور ميرے حريف ساتھى '' عمرو'' نے اس بات پر اتفاق كيا ہے كہ علىعليه‌السلام اور معاويہ دونوں ہى خلافت سے دستبردار ہوجائيں اور اس معاملے كو مسلمانوں كى مجلس مشاورت كى تحويل ميں دے ديا جائے تا كہ جس شخص كو يہ مجلس مشاورت پسند كرے اسے ہى منصب خلافت پر فائز كيا جائے_

اس كے بعد اس نے پر وقار لہجے ميں كہا كہ ميں نے علىعليه‌السلام اور معاويہ كو خلافت سے برطرف كيا_

اس كے بعد عمروعاص منبر پر گيا اور اس نے بآواز بلند كہا كہ لوگو تم نے اس شخص كى باتيں سن ليں ميں بھى علىعليه‌السلام كو ان كے مقام سے برطرف كرتا ہوں ليكن اپنے دوست معاويہ كو اس منصب پر مقرر كرتا ہوں كيونكہ انہوں نے عثمان كے خون كا بدلہ ليا ہے اوراس منصب كے لئے وہ مناسب


ترين شخص ہے يہ كہہ كر وہ منبر سے نيچے اتر آيا_

مجلس ميں ايك دم شور و ہيجان بپا ہوگيا لوگ طيش ميں آكر ابوموسى پر پل پڑے بعض نے عمروعاص پر تازيانہ تك اٹھاليا ابوموسى نے شكست كھائے ہوئے انسان كى طرح اپنے خيانت كار حريف كى اس حركت پر اعتراض كيا تجھے يہ كيا سوجھي؟ خدا تجھے نيك توفيق نہ دے تو نے خيانت كى ہے اور گناہ كا مرتكب ہوا ہے تيرى حالت كتے جيسى ہى ہے اسے چاہے مارا جائے يا چھوڑديا جائے وہ ہر حالت ميں بھونكتا ہى رہتا ہے اس پر عمرو نے جواب ميں كہا كہ تيرى حالت اس گدھے كى سى ہے جس پر كتابيں لدى ہوئي ہيں _(۷)

حكميت كا معاملہ اس تلخ انجام كے ساتھ اختتام پذير ہوا ابوموسى جان كے خوف سے فرار ركر كے مكہ چلا گيا عمروعاص فاتح كى حيثيت سے شام كى جانب روانہ ہوا اور اس نے معاويہ كو خليفہ كى حيثيت سے سلام كيا_

حكميت سے جو نتيجہ بر آمد ہوا اس نے عراق كے لوگوں كى ذہنى كيفيت كو برى طرح متاثر و مجروح كيا كيونكہ ايك طرف تو خوارج كا غم و غصہ پہلے كى نسبت اب كہيں زيادہ بڑھ گيا تھا كہ جس كا سبب يہ تھا كہ انھيں اميد تھى كہ امير المومنين حضرت علىعليه‌السلام معاہدے كے منسوخ كرنے پر راضى ہوجائيں گے اور معاويہ كے خلاف اعلان جنگ كرديا جائے گا دوسرى طرف جب يہ افسوسناك خبر كوفہ و بصرہ كے لوگوں تك پہنچى كہ حضرت علىعليه‌السلام خلافت سے برطرف كرديئے گے وہيں تو مسلمانوں كےدرميان اختلافات بہت زيادہ تير كے آورد ان كى خليج كافى وسيع ہوتى چلى گئي چنانچہ نوبت يہاں تك پہنچى كہ ايك دوسرے كو بر ملا سخت و ست كہنے لگے_

امير المومنين حضرت علىعليه‌السلام نے لوگوں كے درميان رفع اختلاف ، حزن و ملال كے آثار ميں كمى اور مسئلہ حكميت كے بارے ميں رائے عامہ روشن كرنے كى خاطر اپنے فرزند حضرت حسن مجتبيعليه‌السلام كو حكم ديا كہ وہ عوام كے سامنے جا كر تقرير كريں _

حضرت امام حسنعليه‌السلام منبر پر تشريف لے گئے اور فرمايا لوگو حكمين كے بارے ميں تم بہت زيادہ


گفتگو كرچكے ہو ان كا انتخاب اس لئے عمل ميں آيا تھا كہ وہ قرآن كى بنياد پر حكم كريں گے مگر ہوائے نفسانى كى پيروى كرنے كى وجہ سے انہوں نے فيصلہ قرآن كے برخلاف كيا ہے اس بنا پر انھيں حكم نہيں كہا جا سكتا بلكہ وہ محكوم كہلائے جانے كے مستحق ہيں _

ابو موسى جو عبداللہ بن عمر كا نام تجويز كر چكا تھا تين اعتبار سے لغزش و خطا كا مرتكب ہوا_

اس كى پہلى لغزش تو يہى تھى كہ اس نے اس كے خلاف عمل كيا جو عمر نے كہا تھا عمر چونكہ اسے خلافت كا اہل نہيں سمجھتے تھے اسى لئے انہوں نے اس كو مجلس مشاورت كاركن بھى قرار نہيں ديا تھا_

دوسرى لغزش ان كى يہ تھى كہ انہوں نے يہ فيصلہ عبداللہ سے مشورہ كئے بغير كيا اور انھيں يہ معلوم نہيں تھا كہ وہ اس پر رضامند ہوں گے يا نہيں _

تيسرى لغزش يہ تھى كہ عبداللہ اس حيثيت سے ايسا انسان نہيں تھا جس كے بارے ميں مہاجرين و انصار كا اتفاق رائے ہوتا_

اب رہى مسئلہ حكميت كى اصل (تو كوئي نئي بات نہيں كيونكہ پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غزوات كے دوران اس پر عمل كرچكے ہيں ) رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے طائفہ '' بنى قريظہ'' كے بارے ميں سَعد بن معاذ كو حكم قرار ديا تھا اور چونكہ حكميت رضائے خداوندى كے خلاف تھى اس لئے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس پر راضى نہ ہوئے _

حضرت امام حسنعليه‌السلام كے بعد اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے فرمانے پر عبداللہ بن جعفر اپنى جگہ سے اٹھے اور عامہ كو مطلع كرنے كى غرض سے انہوں نے تقرير كي(۸)

ج) مارقين

خوارج كے مقابل حضرت علىعليه‌السلام كا موقف(۹)

حكميت كے معاملے ميں شكست سے دوچار ہو كر اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام معاويہ سے جنگ كرنے كى غرض سے اپنے آپ كو آمادہ كرنا شروع كيا تا كہ مقرر مدّت ختم ہوجانے كے بعد صفين كى جانب واپس چلے جائيں ليكن خوارج نے حضرت علىعليه‌السلام كى اطاعت كرنے كى بجائے شورش و


سركشى سے كام ليا اور پہلے كى طرح اس مرتبہ بھى نعرہ لا حكم الا اللہ كى بنياد پر اميرالمومنين حضرت على عليه‌السلام اور معاويہ كو وہ كافر كہنے لگے_

انھيں جب بھى موقع ملتا وہ شہر كوفہ ميں داخل ہوجاتے اور جس وقت حضرت علىعليه‌السلام مسجد ميں تشريف فرما ہوتے تو وہ اپنا وہى پرانا نعرہ لگانے لگتے اس كے ساتھ ہى انہوں نے اس شہر ميں اپنے افكار و نظريات كا پرچار بھى شروع كرديا_

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے خاموش و پر سكون رہ كر اور كوئي رد عمل ظاہر كئے بغير اپنى تحريك كو جارى ركھا وہ ان كے ساتھ انتہائي نرمى اور تواضع كے ساتھ پيش آئے اگر چہ حضرت علىعليه‌السلام چاہتے تو ان لوگوں سے كسى بھى قسم كا سلوك روا ركھ سكتے تھے مگر آپعليه‌السلام نے ان كى تمام افترا پردازيوں اور سياسى سرگرميوں كے باوجود اپنے محبت آميز رويے ميں ذرہ برابر بھى تبديلى نہ آنے دى آپعليه‌السلام ان سے اكثر فرماتے كہ '' تمہارے تين مسلم حقوق ہمارے پاس محفوظ ہيں :

۱_ شہر كى جامع مسجد ميں نماز پڑھنے اور اجتماعات ميں شركت كرنے سے تمہيں ہرگز منع نہيں كيا جائے گا_

۲_ جب تك تم لوگ ہمارے ساتھ ہو بيت المال سے تمہيں تنخواہيں ملتى رہيں گي_

۳_ جب تك تم ہم پر تلوار اٹھاؤ گے ہم تمہارے ساتھ ہرگز جنگ كے لئے اقدام نہ كريں گے(۱۰)

خوارج اگر چہ نماز ميں حضرت علىعليه‌السلام كى پيروى نہيں كرتے تھے مگر اجتماع نماز كے وقت ضرور پہنچ جاتے وہ لوگ اس جگہ نعرے لگا كر اور دوسرے طريقوں سے آپعليه‌السلام كو پريشان كركے آزار پہنچانے كى كوشش كرتے رہتے ايك دن جس وقت حضرت علىعليه‌السلام نماز ميں قيام كى حالت ميں تھے خوارج ميں سے ايك شخص نے جس كا نام ''كوا'' تھا بآواز بلند يہ آيت پڑھي:

) و لقد اوحى اليك والى الذين من قبلك لئن اشركت ليحبطن عملك و لتكونن من الخاسرين ( (۱۱)


(اس آيت ميں خطاب پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے كيا گيا ہے كہ : اے نبى ان سے كہو' پھر كيا اے جاہلو تم اللہ كے سوا كسى اور كى بندگى كرنے كےلئے مجھ سے كہتے ہو(يہ بات ہميں ان سے صاف كہہ دينى چاہيئے كيونكہ) تمہارى طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے تمام انبياء كى طرف يہ وحى بھيجى جاچكى ہے_ اگر تم نے شرك كيا تو تمہارا عمل ضائع ہوجائے گا اور تم خسارے ميں رہوگے)

'' ابن كوا'' يہ آيت پڑھ كرچاھتا تھا كہ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كو اشارہ و كنايہ ميں يہ بتا دے كہ آپ نے عہد گذشتہ ميں جو اسلام كے لئے خدمات انجام دى ہيں ان سے ہرچند انكار نہيں كيا جاسكتا ليكن آپعليه‌السلام نے كفر كے باعث اپنے تمام گذشتہ اعمال كو تلف و ضائع كرديا ہے_

حضرت علىعليه‌السلام خاموش رہے اور جب يہ آيت پورى پڑھى جا چكى تو آپ نے نماز شروع كى '' ابن كوا'' نے دوسرى مرتبہ يہ آيت پڑھى حضرت علىعليه‌السلام اس مرتبہ بھى خاموش رہے چنانچہ جب وہ يہ آيت كئي بارپڑھ چكا اور چاہتا تھا كہ نماز ميں خلل انداز ہو تو اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے يہ آيت تلاوت فرمائي

فاصبر ان وعد الله حق و لا يستخفنك الذين لا يوقنون (۱۲) (پس اے نبى صبر كرو يقينا اللہ كا وعدہ سچا ہے اور ہرگز ہلكانہ پائيں تم كہ وہ لوگ جو يقين نہيں كرتے) اور آپ نے اس كى جانب توجہ و اعتنا كئے بغير نماز جارى ركھي_(۱۳)

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كا طرز عمل يہ تھا كہ آپ لوگوں كى نعرہ بازى اور نكتہ چينى كا جواب منطقى نيز واضح و روشن دلائل سے ديتے تا كہ وہ اپنى ذھنى لغزش كى جانب متوجہ ہو سكيں اور آپعليه‌السلام كو پريشان كرنے سے باز رہيں اسى لئے آپعليه‌السلام فرماتے كہ اگر خوارج خاموش رہتے ہيں تو ہم انھيں اپنى جماعت كا جزو ركن سمجھتے ہيں اگر وہ اعتراض كيلئے لب كشائي كرتے ہيں تو ہم ان كا مقابلہ منطق و دليل سے كرتے ہيں اور وہ ہمارے ساتھ ضد پر اتر آئيں تو ہم ان سے نبرد آزمائي كرتے ہيں _(۱۴)


منشور

خوارج نے ايك خاص انداز فكر كى بنياد پر اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كى حكومت كے خلاف شورش و سركشى كى ان كے اس دائرہ عمل ميں مندرجہ ذيل نكات شامل تھے_

۱_ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام معاويہ ،اور عثمان، اصحاب جمل اور حكميت سے متفق و ہم خيال اشخاص نيز ان افراد كو كافر تصور نہ كرنے والے لوگ اور مذكورہ بالا افراد سے وابستہ گروہ سب كے سب كافر ہيں _

۲_ امر بالمعروف و نہى از منكر كى بنياد پر ظالم و ستمگر خليفہ وقت (اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كےخلاف بلاقيد و شرط شورش كرنا ضرورى ہے كيونكہ ان كى رائے ميں اس كا اطلاق كسى شرط و پابندى كے بغير ہرجگہ ضرورى و لازمى امر تھا _

۳_ مسئلہ خلافت كا حل مجلس مشاورت كے ذريعے كيا جانا چاہئے اور اس مقام كو حاصل كرنے كيلئے ان كى دانست ميں واحد شرط يہ تھى كہ آدمى صاحب تقوى و ايمان ہو اور اگر خليفہ انتخاب كے بعد اسلامى معاشرے كى مصلحتوں كے برخلاف كوئي اقدام كرے تو اسے اس عہدے سے معزول كرديا جائے اور اگر وہ اپنے منصب سے دست بردار نہ ہو تو اس سے جنگ ونبرد كى جانى چاھيئے_(۱۵)

اس منشور كى بنياد پر وہ ابوبكر اور عمر كى خلافت كو صحيح سمجھتے تھے كيونكہ ان كى رائے ميں يہ حضرات صحيح انتخاب كے ذريعے عہدہ خلافت پر فائز ہوئے تھے اور وہ مسلمانوں كى خير و صلاح كى راہ سے منحرف نہ ہوئے تھے عثمان اور اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے انتخاب كو اگر چہ وہ ہر چند درست ہى سمجھتے تھے مگر اس كے ساتھ وہ يہ بھى كہتے تھے كہ عثمان نے اپنى خلافت كے چھٹے سال سے اپنے رويے كو بدلنا شروع كرديا تھا اسى لئے وہ خلافت سے اگر چہ معزول كرديئے گئے تھے مگر وہ چونكہ اپنے اس منصب پر فائز رہے اسى لئے وہ كافر اور واجب القتل تھے علىعليه‌السلام نے بھى چونكہ حكميت كو تسليم كرليا تھا اور اس اقدام پر پشيمان ہو كرا انہوںعليه‌السلام نے توبہ نہيں كى تھى اسى لئے وہ كافر اور واجب القتل ہيں (معاذ اللہ(۱۶)


مجموعى نعرہ

خوارج كا انتہائي اہم اور پر جوش ترين نعرہ لا حكم الا للہ تھا اگر چہ يہ نعرہ انہوں نے قرآن مجيد سے ہى اخذ كيا تھا(۱۷) مگر عدم واقفيت اور فكرى جمود كے باعث اس كى وہ صحيح تفسير نہ كرسكے_

مذكورہ آيہ مباركہ ميں '' حكم'' سے مراد قانون ہے مگر خوارج نے اپنى كج فہمى كى بنا پر اس كے معنى '' رہبري'' سمجھ لئے جس ميں حكميت بھى شامل ہے وہ اس بات سے بے خبر رہے كہ خود قرآن نے ان كى كج فہمى كو رد كيا ہے جب قرآن نے بيوى و شوہر كے اختلاف اور حالت احرام ميں(۱۸) شكار كرنے تك مسائل كے بارے ميں انسانوں كو حكميت كا حق ديا ہے تو يہ كيسے ممكن تھا كہ مسلمانوں كے دو گروہ كے درميان ايسے حساس معاملات اور عظيم اختلافات كے بارے ميں انسانوں كو حق حكميت نہ ديا جاتا جس سے بعض انسانى زندگيوں كى نجات بھى وابستہ ہو_

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے ان لوگوں كى اطلاع كے لئے جو خوارج كا پروپيگنڈا بالخصوص اس دلكش نعرے سے متاثر ہوگئے تھے موثر تقرير كى اس ميں آپعليه‌السلام نے فرمايا كہ اگر چہ يہ بات مبنى بر حقيقت ہے مگر اس سے جو مقصد و ارادہ اخذ كياگيا ہے وہ محض باطل ہے اس ميں شك نہيں كہ حكم خدا كيلئے ہى مخصوص ہے ليكن ان لوگوں نے حكم كى جو تفسير كى ہے اس سے مراد فرمانروا ہے اور ان كا كہنا ہے كہ خدا كے علاوہ كسى فرمانروا كا وجود نہيں در حاليكہ انسانوں كيلئے خواہ اچھے كام انجام ديتے ہوں يا برے ' فرمانروا كا وجوود امر ناگزير ہے(۱۹)

بغاوت

خوارج ابتدا ميں بہت امن پسند تھے اور صرف لوگوں پر تنقيد و اعتراض ہى كيا كرتے تھے اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے ساتھ ان كا رويہ وہ تھا جو اوپر بيان كيا جا چكا ہے مگر آہستہ آہستہ انہوں نے اپنى راہ و روش بدلى چنانچہ نوبت يہاں تك پہنچى كہ شورش و سركشى پر اتر آئے ايك روز عبداللہ


بن وہب راہبى نے انھيں اپنے گھر پر جمع ہونے كى دعوت دى اور ان كے سامنے نہايت ہى پر جوش و لولہ انگيز تقرير كے ذريعے انہوں نے اپنے ہم مسلك لوگوں كو شورش و سركشى پر آمادہ كيااس ضمن ميں اس نے كہا كہ بھائيو اس جور و ستم كى نگرى سے نكل كر اچھا تو يہى ہے كہ پہاڑوں ميں جاكر آباد ہو رہيں تا كہ وہاں سے ہم ان گمراہ كن بدعتوں كا مقابلہ كركے ان كا قطع قمع كرسكيں _(۲۰)

اس كے بعد ''حر قرص بن زہير'' نے تقرير كى ان دونوں كى تقارير نے خوارج كے دل و دماغ پر بہت گہرا اثر كيا اور ان ميں پہلے كى نسبت اب زيادہ جو ش و خروش پيدا ہونے لگا اگلا جلسہ '' ذفر بن حصين طائي'' كے گھر پر ہوا اس نے مفصل تقرير كے بعد كہا كہ ميں اپنے نظريئےيں دوسروں كى نسبت زيادہ محكم و پايدار ہوں اگر ايك شخص اس سلسلے ميں ميرا ساتھ نہ دے تو ميں اكيلا ہى شورش و سركشى كروں گا _ اے بھائيو تم اپنے چہروں اور پيشانيوں پر شمشير كى ضربيں لگاؤ تا كہ خدا ئے رحمن كى اطاعت ہوسكے(۲۱) اس كے بعد اس نے يہ تجويز پيش كى كہ بصرہ كے خوارج كو خط لكھا جائے تا كہ جس قدر جلد ممكن ہوسكے وہ ''نہروان'' ميں ان سے آن مليں اہل بصرہ نے مثبت جواب ديا اور كوفہ كے گروہ كے ساتھ آكر مل گئے(۲۲)

خوارج نے اپنى تحريك كوفہ كے باہر راہزنى اور ناكہ بندى كے ذريعے شروع كى _ قتل و غارتگرى كو انہوں نے اپنا شعار بنايا اور جو لوگ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے حامى و طرفدار تھے ان كے ساتھ وہ دہشت پسندانہ سلوك كرنے لگے_

اس اثناء ميں انھيں دو شخص نظر آئے ان ميں سے ايك مسلمان تھا ا ور دوسرا عيسائي ، عيسائي كو تو انہوں نے چھوڑ ديا مگر مسلمان كو اس جرم ميں قتل كرديا كہ وہ حضرت علىعليه‌السلام كا طرفدار ہے_(۲۳)

عبداللہ بن خباب سربرآوردہ شخص اور اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے كار پرداز تھے وہ اپنى زوجہ كے ساتھ جار ہے تھے كہ خوارج سامنے سے آگئے ان كو ديكھتے ہى انہوں نے كہنا شروع كيا كہ : '' اسى قرآن نے جو تيرى گردن ميں حمايل ہے تيرے قتل كا حكم صادر كيا ہے '' قتل كرنے سے پہلے


ان سے كہا گيا اپنے والد كے واسطہ سے پيغمبر اكرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى حديث نقل كرو اُنہوں نے كہا ''ميرے باپ كہتے تھے كہ ميں نے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا ہے كہ ميرے بعد كچھ عرصہ نہ گذرے گا كہ فتنہ و فساد كى لہريں ہر طرف پھيل جائيں گى اس وقت بعض لوگوں كے دل حقيقت كو سمجھنے سے قاصر رہيں گے اور وہ اسى طرح مردہ ہوجائيں گے جيسے انسانى جسم ايسے وقت ميں بعض افراد رات كے وقت مومن ہوں گے ليكن دن كے وقت كافر اس وقت تم خدا كے نزديك مقتول بن كر رہ لينا(حق كى پاسبانى كرنا اس كام ميں چاھے تمہارى جان پر بن جائے) مگر قتل و خونريزى سے گريز كرنا(۲۴)

عبداللہ نے حديث بيان كر كے اس وقت مسلمانوں ميں جو معاشرہ كار فرما تھا اس كى تصوير كشى كردى تا كہ خوارج اس سے پند و نصيحت لے سكيں ليكن انہوں نے ان كے ہاتھ پير اس برى طرح جكڑے كہ ديكھنے والے كے دل پر رقت طارى ہوتى تھى اور بہت زيادہ شكنجہ كشى اور آزار رسانى كے بعد انھيں نہر كے كنارے لے گئے جہاں انہوں نے انھيں بھيڑ كى مانند ذبح كيا ان كى حاملہ زوجہ كو قتل كرنے كے بعد ان كا شكم چاك كيا اور نارسيدہ بچے كو بھى انہوں نے ذبح كر ڈالا(۲۵)

عبداللہ كا قتل جس بے رحمى سے كيا گيا تھا اس پر ايك عيسائي شخص معترض ہوا وہ باغبان تھا اس وضع و كيفيت كو ديكھ كر وہ كچھ كھجوريں لے گيا اور قاتلوں كو پيش كيں جنہيں بغير قيمت ادا كئے انہوں نے قبول كرنے سے انكار كرديا اس پرعيسائي نے كہا كہ عجيب بات ہے كہ تم عبداللہ جيسے بے گناہ شخص كو قتل كرسكتے ہو اور بغير قيمت ادا كيے كھجوريں كھانے ميں تمہيں عذر ہے_(۲۶)

معاويہ سے جنگ

حكميت كى مدت اسى وقت ختم ہوئي جب كوفہ و بصرہ ميں خوارج جمع ہو رہے تھے مذكورہ مدت كے ختم ہوجانے كے بعد اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے حَرُوراء ميں معاويہ سے جنگ كرنے كا فيصلہ كيا چنانچہ شہر ميں آمادہ رہنے كا اعلان كرديا گيا اس كے بعد آپ نے لوگوں كو جہاد كى جانب


رغبت دلانے كى خاطر تقرير كى اور فرمايا كہ :

اب تم جہاد كرنے دشمن كى جانب روانہ ہونے كيلئے تيار ہوجاؤ پير كے دن '' نخيلة '' نامى مقام پر عسكر گاہ ميں تمہيں جمع ہونا ہے ہم نے منصفين كا انتخاب اسى لئے كيا تھا كہ وہ قرآن كى بنياد پر حكم كريں گے مگر تم نے ديكھ ليا كہ انہوں نے كلام اللہ اور سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے خلاف اقدام كيا خدا كى قسم ميں ان سے جنگ كروں گا اگر كسى نے بھى ساتھ نہ ديا تو ميں تنہاہى ان سے نبرد آزمائي كروں گا_(۲۷)

اس كے بعد آپعليه‌السلام '' نخيلہ'' كى جانب روانہ ہوئے اور بصرہ كے صوبہ دار كو خط لكھ كر اس سے مدد چاہى جب خوارج كو يہ علم ہوا كہ سپاہ اسلام نخيلہ ميں جمع ہو رہى ہے تو انہوں نے حَرُوراء ميں قيام كرنا تحفظ كے اعتبار سے خلاف مصلحت سمجھا اور اس جگہ كو ترك كرنے كا فيصلہ كرليا_

اس سے قبل كہ وہ اپنى قيام گاہ كو خالى كر كے جائيں اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے اتمام حجت كے طور پر انھيں خط لكھا اور انھيں يہ دعوت دى كہ وہ ديگر سپاہ كے ساتھ آن مليں تا كہ معاويہ كى جانب روانہ ہوا كر اس كے ساتھ جنگ كى جاسكے مگر انہوں نے اس خط كا جواب نفى ميں ديا_(۲۸)

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام جب خوارج كو راہ حق پر لانے ميں مايوس ہوگئے تو آپ نے يہى فيصلہ كيا كہ انھيں انہى كے حال پر چھوڑ كر اصل مقاصد كى جانب روانہ ہوا جائے چنانچہ آپعليه‌السلام نے نخيلہ ميں بھى تقرير كا اہتمام كيا اور افواج كى معاويہ سے جنگ كرنے كے لئے حوصلہ افزائي كى اس ضمن ميں آپعليه‌السلام نے فرمايا: كہ ميں نے بصرہ كے بھائيوں كو بھى خط لكھا ہے اور جيسے ہى وہ يہاں پہنچ جائيں گے ہم دشمن كى جانب روانہ ہوں گے_(۲۹)

بصرہ كى فوج جو تين ہزار دو سو سے زيادہ سپاہيوں پر مشتمل تھى آن پہنچى سپاہ كى مجموعى تعداد تقريبا اڑسٹھ(۶۸) ہزار ہوگئي(۳۰) اس سے پہلے كہ لشكر روانہ ہو بعض سپاہ نے دبى آواز ميں كہنا شروع كيا كہ كيا ہى اچھا ہوتا كہ پہلے خوارج سے جنگ كرلى جاتى اور جب ان كا كام تمام ہوجاتا تو


ہم صفين كى جانب رخ كرتے_

ليكن اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے انھيں اس امر كى جانب متوجہ كيا كى معاويہ كے ساتھ جنگ كى كيا اہميت ہے اور اسے كيوں مقدم سمجھنا چاہيئے اور انھيں سمجھايا كى فى الحال خوارج كے مسئلے كى طرف سے خاموشى اختيار كى جائے اور سردست ان كا نام تك نہ ليا جائے_

سپاہ نے جب اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے يہ اقوال سنے تو اس نے كہا كہ فيصلہ كن اقدام كے لئے ہمارى جانب سے آپ كو كل اختيار ہے اور كہا كہ ہم ايك متحد جماعت اورآپعليه‌السلام كے خير خواہ ہيں جس گروہ كى جانب لے جانے ميں آپ خيرہ و صلاح سمجھيں ادھرہى ہميں لے چليں(۳۱)

خوارج كے ساتھ جنگ كى ضرورت

خوارج كى سرگرميوں كے بارے ميں انتہائي اختصار كے ساتھ اوپر اشارہ كيا جاچكا ہے اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كوجب ان كے ان مجرمانہ افعال كے خبريں مليں تو اس كے بعد آپعليه‌السلام نے ان كى طرف سے چشم پوشى كرنا اور انھيں ان كے حال پر چھوڑ دينا مناسب نہ سمجھا كيونكہ يہاں مسئلہ اظہار خيال و رائے كا نہ تھا بلكہ معاشرے كے امن ميں خلل انداز ہونا اورشرعى حكومت كے خلاف مسلح گروہ كى بغاوت تھى چنانچہ اس بناپر آپعليه‌السلام نے معاويہ سے جنگ كئے جانے كے فيصلے كو بدل ديا_

'' عبداللہ بن خباب'' كا قتل اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كيلئے اس قدر گرانبار ہوا كہ آپ نے ان خوارج كے سامنے جنہوں نے يہ اعتراف كيا كہ ہم ان كے قاتل ہيں فرمايا: اگر خطئہ ارض كے تمام لوگ يہ كہيں كہ ہم ان كے قتل ميں شريك ہيں اور ميں ان كے خون كا بدلہ لے سكوں تو سب كو قتل كر ڈالوں گا_(۳۲)

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے مزيد اطلاعات حاصل كرنے كيلئے '' حارث بن مُرّہ '' كو خوارج


كے پاس روانہ كياخوارج نے انھيں قتل كرديا ان كے اس اقدام نے سپاہ كو پہلے سے كہيں زيادہ متاثر اور غضبناك كرديا چنانچہ اس نے بآواز بلند كہا كہ يا اميرالمومنين كيا آپ انھيں اسى ليئے بے مہار چھوڑ رہے ہيں كہ وہ ہمارے پيچھے ہمارى عزت و ناموس اور مال و اموال كے ساتھ جو چاہيں كريں ؟ پہلے آپ عليه‌السلام ہميں ان كى طرف لے چلئے ان سے فراغت پا لينے كے بعد ہم '' شامي'' دشمن كى جانب روانہ ہوں گے _(۳۳)

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے بھى ان كى بات مان لى چنانچہ سپاہ كو ان كا تعقب كرنے كيلئے '' پل(۳۴) ''كے اس پار جانے كا حكم ديا يہاں سے يہ لشكر '' دير ابوموسي'' كى جانب روانہ ہوا اور دريائے فرات كے كنارے '' نہروان(۳۵) '' نامى جگہ پر پڑا و ڈالا_

راہ ميں حضرت علىعليه‌السلام كو يہ اطلاع دى گئي كہ خوارج پل پار كر كے آگے آچكے ہيں اس موقع پر اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے ساتھيوں كے عقيدہ كو مستحكم كرنے نيز اپنى معنوى عظمت كے بارے ميں بتانے كى خاطر فرمايا: كہ ان كى قتل گاہ نہر كے اس طرف ہى ہے خدا كى قسم اس جنگ و پيكار ميں اگر ان كے دس آدميوں نے نجات حاصل نہ كى تو تم ميں بھى دس افراد قتل نہيں ہوں گے_(۳۶)

جس وقت سپاہ دريائے فرات كے كنارے پہنچى معلوم ہوا كہ خوارج نے دريا پار نہيں كيا ہے حضرت علىعليه‌السلام نے نعرہ تكبير بلند كيا اور فرمايا: ''الله اكبر صدق رسول الله'' (۳۷)

جنگ كا سدّ باب كرنے كى كوشش

دونوں لشكر دريائے نہروان كے كنارے ايك دوسرے كے مقابل آچكے تھے اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے نبرد آزمائي سے قبل ہر ممكن كوشش كى كہ جنگ نہ ہو چنانچہ آپعليه‌السلام نے مندرجہ ذيل شرائط ركھيں

۱_ خوارج سے كہا كہ وہ عبداللہ بن خباب كے قاتلوں نيز شہداء كو ہمارے حوالے كرديں تا كہ


ہم تم سے دستبردار ہو كر شام كى جانب روانہ ہوجائيں انہوں نے جواب ديا كہ ہم سب ہى قاتل ہيں اور مزيد يہ كہا كہ تمہارا اور ان كا خون بہانا ہمارے لئے جائز و مباح ہے (۳۸)

۲_ آپعليه‌السلام نے يہ تجويز ركھى كہ تم ميں سے كون شخص اس كام كيلئے آمادہ ہے كہ قرآن مجيد اٹھائے اور اس جماعت كو كلام اللہ كى جانب آنے كى دعوت دے طائفہ بنى عامر كے ايك نوجوان نے اپنے آمادگى كا اعلان كيا انہوں نے قرآن پاك اپنے ہاتھ ميں ليا اور خوارج كو اس كى جانب آنے كى دعوت دى خوارج نے ان پر بھى تيروں كى بارش كردى اگر چہ ان كے چہرے پر سب سے زيادہ تير لگے تھے مگر اس كے باوجود وہ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے نزديك آگئے اور چند لمحہ بعد ہى شہيد ہوگئے_(۳۹)

۳_ قيس بن سعد اور ايوب انصارى جيسے اصحاب نے بھى اتمام حجت كے طور پر خوارج كے سامنے تقارير كيں ان حضرات كے علاوہ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام بذات خود تشريف لے گئے اور آخرى مرتبہ انھيں مخاطب كرتے ہوئے فرمايا ''ميں تمہيں كل كے لئے آگاہ كيئے ديتا ہوں كہ كہيں ايسا نہ ہو كہ امت اسلاميہ تمہيں لعنت و ملامت سے ياد كرے كيونكہ تمہارے جسم تو اسى نہر كے كنارے زمين پر گريں گے اور تم كوئي محكم دليل يا سنت بطور سند اپنے بارے ميں چھوڑ كر نہيں جاؤگے''

اس كے بعد آپعليه‌السلام نے حكميت كے افسوناك واقع اس معاملے ميں اپنے نيز خوارج كے كردار اور اپنے ہى قول سے ان كى روگردانى و خلاف ورزى كے بارے ميں تقرير كى اس ضمن ميں آپعليه‌السلام نے مزيد فرمايا: كہ اگر چہ حكمين نے كلام اللہ اور سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے منحرف و رو گردان ہو كر اپنے نفسانى ميلان كى بنيادپر حكم جارى كيا مگر ہم اب بھى اپنى اس سابقہ روش پر قائم ہيں اس كے بعد تم كہو كہ كيا كہنا چاھتے ہو اور كہاں سے آگئے ہو؟(۴۰)

۳_ تقرير ختم كرنے كے بعد اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے پرچم امان ابو ايوب انصارى كے حوالے كيا اور انھيں حكم ديا كہ اعلان كريں كہ جو شخص بھى اس پرچم كے نيچے آجائے گا امن و امان


ميں رہے گا اس كے علاوہ جو كوئي شہر ميں داخل ہوگا يا عراق كى جانب واپس چلا جائے گاوہ بھى امان ميں رہے گا ہميں تمہارا خون بہانے كے ضرورت نہيں (۴۱)

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے جيسے ہى پرچم امان لہرايا تو بہت سے لوگوں نے بآواز بلند كہناشروع كيا التوبہ ، التوبہ يا اميرالمومنين چنانچہ اس كے بعد تقريبا آٹھ ہزار افراد مخالفت سے دستبردار ہوكر پرچم امان كے نيچے جمع ہوگئے_(۴۲)


سوالات

۱_ منصفين كس تاريخ كو اور كہاں جمع ہوئے ان ميں سے ہر ايك كى ابتدائي رائے كس كے حق تھى اور انہوں نے كس مسئلے پر اتفاق رائے كيا؟

۲_ حكميت كے نتيجے كا عراق كے لوگوں پر كيا رد عمل ہوا حضرت علىعليه‌السلام نے حكميت كے ناپسنديدہ اثرات دور كرنے اور عامہ پر حقائق كى وضاحت كيلئے كيا اقدامات كيئے؟

۳_ اس سے قبل خوارج كہ دہشت پسندانہ راہ و روش اختيار كريں حضرت علىعليه‌السلام كا ان كے ساتھ كيسا سلوك و رويہ تھا؟ اس سلسلے ميں حضرت علىعليه‌السلام كے اقوال ميں سے ايك قول بطور نمونہ پيش كيجئے_

۴_ خوارج كے فكرى دائرہ عمل كى تشكيل كن چيزوں پر منحصر تھي؟

۵_ حضرت علىعليه‌السلام نے معاويہ سے جنگ كرنے كے بجائے اپنى توجہ كس بناپر خوارج كى جانب كردي؟

۶_ حضرت علىعليه‌السلام نے خونريزى روكنے كيلئے كيا اقدامات كئے؟ اس كے دو نمونے پيش كيجئے


حوالہ جات

۱_ اس كا شمار مدينہ كے قريات ميں ہوتا ہے

۲_ ملاحظہ ہو وقعہ صفين ۵۳۳، مروج الذہب ج ۲ ص ۳۹۰

۳_ ملاحظہ ہو وقعہ صفين ۵۳۶

۴_ وقعہ صفين ۵۳۴، واللہ ان لو استطعت لاحين سنة عمر

۵_ وقعہ صفين ۵۳۴

۶_ ملاحظہ ہو الامامہ و السياسہ ج ۱ ص ۱۱۸، وقعہ صفين ۵۴۴

۷_ وقعہ صفين ۵۴۶-_ ۵۴۵، الامامہ و السياسہ ج ۱ ص ۱۱۸

۸_ الامامہ و السياسہ ج ۱ ص ۱۱۹

۹_ خوارج جمع ہے خارجہ كى اصطلاحا اس كا اطلاق اس فرقے پر ہوتا ہے جنہوں نے حضرت علىعليه‌السلام كے خلاف شورش و سركشى كى اور نہروان نامى مقام پر آپ سے بر سر پيكار ہوئے ابن ملجم كا شمار بھى خوارج ہى ميں ہوتا ہے حضرت علىعليه‌السلام اسى شخص كے ہاتھوں شہيد ہوئے (كتاب ملل و نحل تاليف شہرستانى ج ۱ ص ۱۴۴)

۱۰_ان لكم عندنا ثلاثا لا نمنعكم صلواة فى هذا المسجد و لا نمنعكم نصيبكم من هذا الفي ى ما كانت ايديكم مع ايدينا و لا نقتلكم حتى تقاتلونا (تاريخ طبرى ج ۵ ص ۷۴ كامل ج ۳ ص ۳۳۵، المجموعہ الكاملہ ج ۵ ص ۱۷۱)

۱۱_ سورہ زمر آيت ۶۵

۱۲_ سورہ روم آيت ۶۰

۱۳_ شرح ابن ابى الحديد ج ۲ ص ۳۱۱، تاريخ طبرى ج ۵ ص ۷۳

۱۴_ان سكتوا عمعناهم ان تكلموا حججنا هم و ان خرجوا علينا قاتلنا هم (تاريخ طبرى ج ۲۷۵، كامل بن اثير ج ۳ ص ۳۳۴)

۱۵_ خوارج كے نعرہ '' لاحكم الا للہ'' سے جو مطلب اخذ كيا گيا تھا اسى مفہوم ميں اس كا ذكر حضرت علىعليه‌السلام كے خطبہ نہج البلاغہ ۴۰ ميں بھى ملتا ہے ابتداء ميں ان كى رائے يہ تھى اجتماع كو امام وقت اور حكومت كى ضرورت نہيں اور


لوگوں كو چاہيئے كہ خود براہ راست كلام اللہ پر عمل كريں مگر اس رائے كو ظاہر كرنے كے بعد انہوں نے حضرت عبداللہ بن وہب راسبى سے رجوع كيا اور انہى كے ہاتھ پر بيعت كى (كامل ابن اثير ج ۳ ص ۳۳۵)

۱۶_ جاذبہ و دافعہ علىعليه‌السلام منقول از ضحى الاسلام و ملل و نحل شہرستاني

۱۷_ان الحكم الا لله يقص الحق و هو خير الفاصلين (فيصلہ كا سارا اختيار اللہ كو ہے وہى امر حق بيان كرتا ہے اور وہى بہترين فيصلہ كرنے والا ہے (سورہ الانعام آيت ۵۷)

۱۸_ شوہر اور بيوى كے اختلاف كا ذكر سورہ نساء كى آيت ۳۵ ميں آچكا ہے اور ہم اس كا پہلے ذكر كرچكے ہيں ليكن احرام كى حالت ميں اگر كوئي محرم ديدہ و دانستہ شكار كرے تو اسے چاہيئے كہ كفارہ ادا كرے اور بطور كفارہ وہ جو جانور ذبح كرے اس كى حكميت دو عادل انسان كريں چنانچہ قرآن مجيد فرماتا ہےو من قتله منكم متعمدا فجزاء مثل ما قتل من النعم يحكم به ذوا عدل منكم (احرام كى حالت ميں شكار نہ مارو اور اگر تم ميں سے كوئي جان بوجھ كر ايسا گذرے تو جو جانور اس نے مار اہے اسى كے ہم پلہ ايك اور جانور اسے مويشيوں ميں سے نذر دينا ہوگا جس كا فيصلہ تم ميں سے دو عادل آدمى كريں گے (سورہ مائدہ آيت ۹۴)

۱۹_كلمة حق يراد بها باطل نعم انه لا حكم الا الله و لكن هولاء يقولون لا امرة الا لله انه لا بد للناس من امير من بر او فاجر ...(نہج البلاغہ خ ۴۰)

۲۰_ كامل ابن اثير ج ۳/ ۳۳۵

۲۱_يا اخواننا ضربوا جباههم و وجوههم بالسيف حتى يطاع الرحمن عزوجل

۲۲_ الامامہ و السياسہ ج ۱ ص ۱۳۳، تاريخ طبرى ج ۵ ص ۷۵، كامل ج ۳ ص ۳۳۶

۲۳_شرح نہج البلاغہ خوئي ج ۴/۱۲۷

۲۴_ ستكون بعدى فتنہ يموت فيہا قلب الرجل كما يموت بَدَنُہُ يمسى مومنا و يصبح كافر افَكُن عنداللہ المقتول و لا تكن القاتل(شرح نہج البلاغہ خوئي ج ۴ ص ۱۲۸، تاريخ طبرى ج ۵/۸۱

۲۵_ شرح نہج البلاغہ خوئي ج ۴ ص ۱۲۸، تاريك طبرى ج ۵ ص ۸۱، اعيان الشيعہ ج ۱ص ۵۲۲ (دس جلديں مطبوعہ بيروت)و كامل ابن اثير ج ۳ ص ۳۴۱


۲۶_ شرح نہج البلاغہ علامہ خوئي ج ۴ ص ۱۲۸، اعيان الشيعہ ج ۱/ ۵۲۳

۲۷_ الامامہ و السياسہ ج ۱ ص ۱۲۳

۲۸_ الامامہ و السياسہ ج ۱ ص ۱۲۳

۲۹_ تاريخ طبرى ج ۵ ص ۷۸، كامل ابن اثير ج ۳ ص ۲۳۹

۳۰_ كامل ج ۳ ص ۳۴۰

۳۱_سر بنا يا اميرالمومنين حيث احببت فنحن حزبُكَ و انصارك ، الامامہ و السياسة ج ۱ ص ۱۲۵، تاريخ طبرى ج ۵ ص ۸۰، كامل ج ۳ ص ۳۴۱

۳۲_والله لو اقر اهل الدنيا كلهم بقتله بكذا و انااقدر على قتلهم به لقتلتهم شرح نہج البلاغہ خوئي ج ۴ ص ۱۲۸ و ابن ابى الحديد ج ۲ ص ۲۸۲

۳۳_ الامامہ و السياسہ ج ۱ ص ۱۲۷، تدع ہولاء القوم و ارثنا يخلفوننا فى عيالنا و اموالنا ؟سربنا اليہم فاذا فرغنا نہضنا الى عدونا من اہل الشام

۳۴_ يہ پل دريائے طبرستان پر حلوان اور بغدادكے درميان واقع تھا اور شاہراہ خراسان اسى پل سے گذرتى تھى (مروج الذہب ج ۲ ص ۴۰۵)

۳۵_ اس نام كے تين گاؤں ہيں جو طول ميں ايك دوسرے كے بعد آباد تھے ان كى شناخت نہروان اعلى نہروان اوسط اور نہروان اسفل سے كى جاتى تھى يہ گاوں واسطہ اور بغداد كے درميان آباد تھے

۳۶_مصارعهم دون النطفة واللّه لا يغلت منهم عشرة و لايهلك منكم عشره نہج البلاغہ خ۵۹

۳۷_ مروج الذہب ج ۲ ص ۴۰۵

۳۸_انا كلنا قتلنا هم كلنامُستَحل لدمائ كُم و دمائهم الامامہ و السياسہ ج ۱ ص ۱۲۷

۳۹_ شرح نہج البلاغہ خوئي ج ۴ ص ۱۲۹

۴۰_فما نبوكم و من اين ايتتم ؟ الامامہ و السياسہ ج ۱ ص ۱۲۷، تاريخ طبرى ج ۵ ص ۸۴، كامل ج ۳ ص ۳۴۳

۴۱_ الامامہ و السياسہ ج ۱ ص ۱۲۸ ، كامل ج ۳ ص ۳۴۵، تاريخ طبرى ج ۵ ص ۸۵

۴۲_ شرح نہج البلاغہ خوئي ج ۴ ص ۱۳۵


پندرھواں سبق

مارقين _ جنگ نہروان

دو سپاہ كے درميان جنگ و نبرد

جنگ كے بعد

اصل دشمن كى جانب توجہ

غاليوں كا وجود

جنگ نہروان كا نتيجہ

جہاد كى دعوت

حضرت مالك كا صوبہ دار مصر كى حيثيت سے تقرر

حضرت مالك كى شہادت

مصر پر لشكر كشي

حضرت محمد بن ابى بكر كى شہادت

لوگوں كى تنبيہ و سرزنش

سوالات

حوالہ جات


دو سپاہ كے درميان جنگ و نبرد

حضرت علىعليه‌السلام نے اگر چہ صلح كى ہر ممكن كوشش كى مگر اس كے باوجود ان ميں سے چار ہزار سے زيادہ خوارج باقى رہ ہى گئے_ وہ عبداللہ بن وہب كے زير فرمان اب بھى اپنے پر انے عقيدے پر پورى طرح قائم تھے اور الرواح الرواح الى الجنة(بڑھو جنت كى طرف) كے نعرے لگاتے ہوئے حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر پر حملہ آور ہوگئے(۱)

حضرت علىعليه‌السلام نے بھى اپنى سپاہ كى صفين آراستہ كيں چنانچہ ميمنہ پر حجر بن عدى اور ميسرہ پر شبث بن ربعى كو متعين كيا_ سوار فوج كى فرماندارى ابو ايوب انصارى اور پيادہ لشكر كى ابوقتادہ كے سپرد كى قيس بن سعد كو مدينہ كے لوگوں كا سردار مقرر كيا ان كى تعداد بھى تقريبا آٹھ سوار افراد پر مشتمل تھى قلب لشكر ميں آپ بذات خود موجود رہے(۲)

تيراندازى خوارج كى جانب سے شروع ہوئي چنانچہ جب ايك شخص كو خون آلود حالت ميں آپعليه‌السلام كے سامنے لايا گيا تو آپعليه‌السلام نے فرمايا كہ حملہ كرو كيونكہ اب اس گروہ كا قتل كرنا ہمارے لئے جائز ہے_(۳)

دونوں لشكر ايك دوسرے پر حملے آور ہوئے شروع ميں اگر چہ لشكر اسلام كے سوار فوج، دشمن كے سنگين حملے كے باعث اپنے مقام سے پيچھے ہٹ گئے اور پورى صف لشكر سے الگ ہوگئے خوارج اس پر تير كى تيزى سے حملے آور ہوئے وہ قلب لشكر پر حملہ كرنے كے ارادے سے آگے بڑھے ہى تھے كہ يكايك جنگ كا نقشہ ہى بدل گيا تير اندازوں كے اس دستے كو جو پہلے سے ہى اس مقام كى پشت پر متعين تھا جہاں سوار فوج كى جگہ مقرر كى گئي تھى انہيں اپنے تيروں كانشانہ بنايا اور اپنى طرف سے غافل و بے خبر پا كر ان پرحملہ كرديا يہ حملہ ايسا اچانك اور سخت تھا كہ ان كے لئے


نہ آگے بڑھنا ممكن تھا اور نہ پيچھے ہٹنے كے لئے كوئي چارہ تھا خوارج كا خيال تھا كہ سوراوں كے لشكر نے ان كى طرح سے پشت كرلى ہے ليكن اس نے دائيں اور بائيں بازو كے پرے ساتھ لے كر انھيں اپنے درميان زنبور كى طرف نرغے ميں لے ليا اور دم شمشير و سرنيزے سے ان كى خوب خاطر و تواضع كى _ قلب لشكر اسلام كے درميان محاذ پر متعين دستے كو چونكہ ابھى تك كوئي نقصان نہيں پہنچا تھا وہ بھى ان كى سركوبى كرنے كى غرض سے حملہ آور ہوا سپاہ دشمن كے فرماندار عبداللہ بن وہب كے علاوہ ذوالثديہ ، اخنس طائي ، مالك بن وضَّاح و غيرہ جيسے ديگر فرماندار لشكر، حضرت على عليه‌السلام كى شمشير كے باعث ہلاك ہوئے(۴)

خوارج چونكہ سخت نرغے ميں آگئے تھے اسى لئے وہ اس ميں برى طرح پھنس گئے اور دو گھنٹے بھى نہيں گذر نے پائے تھے كہ وہ زمين پر اس طرح گرنے لگے جيسے خزاں كے دونوں ميں درختوں سے پتے گرتے ہيں گويا يہ بھى كوئي كن فيكون كى طرح تكوينى حكم تھاجس كے تحت ان سے كہا گيا كہ مرجاؤ اور وہ مرگئے چار ہزار افراد ميں سے صرف نوشخص يعنى شہدائے اسلام كى تعداد كے برابر اپنى جان بچا كر بھاگ گئے اور اس طرح امير المومنين حضرت علىعليه‌السلام كى پيشيں گوئي صحيح ثابت ہوئي_

جنگ كے بعد

جنگ ختم ہوجانے كے بعد اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے حكم ديا كہ '' ذوالثديہ''كى تلاش و جستجو كريں (رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جنگ نہروان ميں مقتولين كى جو خصوصيات بتائيں تھيں وہ اس شخص ميں موجود تھيں حضرت علىعليه‌السلام نے اس كى جستجو اس لئے كرائي تھى كہ حق كى روشن دليل اور تائيد اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام واضح ہوجائے)

سپاہى اس كى لاش تلاش كرنے كے لئے نكلے مگر ناكام واپس آگئے اس كے بعد اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام خود اس كى لاش نكالنے كے لئے تشريف لے گئے كچھ دير بعد اس كى لاش ديگر مقتولين


كى لاشوں كے نيچے سے نكل آئي اسے ديكھ كر آپ مسرور ہوئے اور فرمايا اللہ اكبر ميں نے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى كوئي بات كبھى غلط نہ پائي رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا تھا كہ اس كاايك ہاتھ چھوٹا ہوگا جس ميں ہڈى نہ ہوگى اس كے ايك طرف پستان جيساگوشت كا گولہ ابھرا ہوا ہوگا جس پر پانچ ياسات بال اگے ہوئے ہوں گے جس وقت اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے يہ تمام خصوصيات ديكھيں تو آپ فورا سجدے ميں تشريف لے گئے اور خدا كا شكر بجالائے_(۵)

اس كے بعد آپعليه‌السلام گھوڑے پر سوار ہوئے اور مقولين كى لاشوں كے پاس سے گذرے اور فرمايا افسوس تمہارے اور اس كے حال پر جس نے تمہيں مغرور كيااور اس حال كو پہنچا ديا _دريافت كيا گيا كہ كس شخص نے انھيں مغرور كيا؟ آپعليه‌السلام نے فرمايا شيطان اور نفس امارہ انھيں غرور كى جانب لے گيا آرزوں نے انھيں فريب ديئے نا فرمانياں انھيں حسين و جميل نظر آئيں اور فتح و نصرت كے وعدے نے انھيں اپنا فريفتہ كرليا_(۶)

حضرت علىعليه‌السلام نے وہ ہتھيار اور چوپائے جو ميدان جنگ ميں بطور مال غنيمت ہاتھ آئے تھے سپاہ كے درميان تقسيم كرديئے خوارج كے باقى سامان، ان كے كنيز و غلام و غيرہ كو كوفہ واپس آنے كے بعد ان كے وارثوں كے حوالے كرديا_(۷)

اصل دشمن كى جانب توجہ

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے خوارج كى سركوبى كے بعد جد وجہد كے اصل محاذ اور اسلام كے دفاع كى جانب رخ كيا اس جد و جہد كى خصوصيت و اہميت بتانے، معاويہ كے خلاف جہاد مقدس كى لشكر اسلام كو ترغيب دلانے اور عوام كو معاويہ كى حكومت كے عواقب و انجام سے باخبر كرنے كى غرض سے آپعليه‌السلام نے تقرير كى اور فرمايا كہ اے لوگو جب فتنہ و فساد كى لہريں ہر طرف پھيل چكى تھيں اور اس كابحران اپنے انتہائي درجہ كو پہنچ چكا تھا اس وقت كسى ميں اتنى جرات و ہمت نہ تھى كہ ميدان كار زار ميں داخل ہو اس وقت ميں ہى ايسا شخص تھا جس نے اس فتنے كو خاموش كرديا


ياد ركھو فتنوں ميں سب سے زيادہ بھيانك خطرہ بنى اميہ كے فتنے كا ہے يہ فتنہ سياہى اور اندھيرے كا فتنہ ہے اور جب اس كا سايہ پھيل جائے گا تو اس كى بلا خاص طور پر نيك لوگوں پر نازل ہوگي ان كے اذيت ناك مظالم تم پر سالہا سال تك جارى رہيں گے ان پر تمہارافاتح ہونا اتنا ہى اہم ہے جتنا غلاموں كا اپنے مالك پر غالب آنا يا پيروكاروں كا اپنے پيشوا پر غلبہ حاصل كر لينا اس وقت قريش يہ چاہيں گے ان كے پاس جو كچھ اس دنيا ميں ہے اسے خرچ كركے بس ايك بار اسے ديكھ ليں اگر چہ وقت چند ہے لمحات پر منحصر ہے بس اتنا ہے جتنا ايك اونٹ كو نحر كرنے ميں صرف ہوتا ہے آج وہ چيز جس كا صرف ايك حصہ ميں ان سے مانگ رہاہوں اور وہ نہ دينے پر بضد ہيں كل اسے مجھے دينے كے لئے اصرار كريں گے اور يہ چاہيں گے كہ ميں اسے قبول كرلوں _

غاليوں كاوجود(۸)

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے اپنى حقانيت ثابت كرنے، خواب غفلت ميں سوئے ہوئے لوگوں بالخصوص خوارج كو جگانے اور چند ديگر مصلحتوں كى بنا پر بہت سے غيبى مسائل كى پشين گوئي كرنا شروع كردى ليكن كچھ كم ظرف لوگوں نے آپ كے بارے ميں مبالغے سے كام ليا وہ خوارج كے عين مقابل آگئے اور چونكہ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كى غير معمولى عقل و نظر اور دانش و بينش سے وہ حيرت زدہ و مرغوب تھے اسى لئے وہ آپعليه‌السلام كو حد انسانيت اور مخلوقيت سے بالاتر سمجھنے لگے اور آپعليه‌السلام كى الوہيت كے قائل ہوگئے_

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے نظريے كے مطابق دونوں ہى گروہ ہلاك و بدبختى سے دوچار ہوئے چنانچہ اس سلسلے ميں آپعليه‌السلام خود فرماتے ہيں كہ ميرے معاملے ميں دو شخص ہلاك ہوئے ايك وہ جس نے مبالغہ كيا اور دوسرا ميرا بدخواہ دشمن(۹)

ايك روز اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام تقرير فرمارہے تھے سا معين ميں سے ايك شخص جو آپعليه‌السلام كا والہ و شيدائي تھا اپنى جگہ سے اٹھا ا ور كنہے لگا انت ، انت آپ (ع)نے فرمايا


افسوس تيرے حال پر ميں كيا ہوں ؟ اس نے كہا انت اللہ يہ سن كر اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے حكم ديا كہ اس كے ہم عقيدہ ساتھيوں كو گرفتار كرليا جائے(۱۰)

غلات جو غيب كى باتيں اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام سے سنتے تھے انھيں لوگوں ميں مشہور كرديتے اور كہتے كہ ايسے كاموں كا كرنا خدا كے علاوہ كسى كے بس كى بات نہيں اسى بنا پر علىعليه‌السلام يا تو خدا ہيں يا كوئي ايسى شخصيت ہے جس كے وجود ميں ذات خداوندى حلول كرگئي ہے(۱۱)

جنگ نہروان كے نتائج و عواقب

جنگ نہروان كا خاتمہ اگرچہ خوارج كى سركوبى پر ہوا ليكن اس كے جو نتائج پر آمد ہوئے وہ نہايت مضر اور اندوہناك ثابت ہوئے جن ميں سے بعض كا ذكر ذيل ميں كيا جاتا ہے_

۱_ اس جنگ ميں مقتولين كى تعداد چونكہ بہت زيادہ تھى اس لئے سپاہ عراق كے دلوں پر بہت زيادہ خوف و ہراس غالب آگيا اور باہمى اختلاف كى بنا پر وہ دو گروہ ميں تقسيم ہوگئے اس كے علاوہ وہ لوگ جن كے عزيز و اقربا اس جنگ ميں مارے گئے تھے وہ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام سے سخت بدگمان ہوگئے_

۲_ لشكر اسلام ميں سركشى اور نافرمانى كاجذبہ بہت زيادہ بڑھ گيا چنانچہ نوبت يہاں تك پہنچى كہ سپاہ يہ بہانہ بنا كر كہ جنگ كى كوفت دور كر رہے ہيں حضرت علىعليه‌السلام كے فرمان بجالانے ميں سستى اور كاہلى سے كام لينے لگے بالخصوص اس وقت جب كہ وہ جنگ سے واپس آكر اپنے خاندان كى گرم آغوش ميں پہنچے اور اہل خاندان كے چہروں پر غم و اندوہ كے آثار ديكھے يہ عامل نيز اس كے ساتھ ہى ديگر عوامل اس امر كا باعث ہوئے كہ انہوں نے ہميشہ كيلئے جنگ كا ارادہ ترك كرديا اور معاويہ كے ساتھ آشتى كرنے كو ان كے ساتھ جنگ كرنے پر ترجيح دينے لگے_

مورخين نے لكھا ہے كہ جب جنگ نہروان ختم ہوگئي تو اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام اپنى سپاہ كے سامنے كھڑے ہوئے اور فرمايا: كہ خداوندتعالى نے تمہيں آزمايا اور تم اس كے امتحان ميں پورے


اترے اسى لئے اس نے تمہارى مدد كى اب تم جلدى سے معاويہ اور اس كے ظالم و ستمگر ساتھيوں سے جنگ كرنے كے لئے روانہ ہوجاؤ انہوں نے كلام اللہ كو پس پشت ڈال ديا ہے اور نہايت معمولى قيمت پر دشمن سے ساز باز كرلى ہے يہ سن كر ساتھيوں نے كہا كہ اميرالمومنين عليه‌السلام ہمارى طاقت اب جواب دے چكى ہے ہمارے زرہ بكتر پارہ پارہ ہوچكے ہيں تلواريں ٹو ٹ چكى ہيں اور نيزوں كى نوكوں ميں خم آگئے ہيں ہميں وطن جانے كى اجازت ديجئے تا كہ وہاں ہم اپنا اسلحہ تيار كر سكيں وہاں رہ كر كچھ وقت خوشى و خرمى ميں بسر كريں اور اپنے ساتھيوں كى تعداد ميں اضافہ كريں ايسى صورت ميں ہم دشمن كا بہتر طور پر مقابلہ كرسكيں گے(۱۲)

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام جانتے تھے كہ واپس جانے كا كيا انجام ہوگا ليكن جب آپعليه‌السلام نے اكثريت كو اس نفاق انگيز نظريے كى جانب مائل ديكھا تو مجبورا ًان كے سات اتفاق كيا اور نخيلہ كى جانب واپس آگئے يہاں آپعليه‌السلام نے(سپاہ كو تاكيد كردى كہ وہ اپنى لشكر گاہ(چھاؤني) كو چھوڑ كرنہ جائيں اہل و عيال كى جانب كم توجہ ديں اللہ كے جہاد كيلئے تيارى كرتے رہيں سپاہ ميں سے چند ہى لوگ ايسے تھے جنہوں نے حضرت علىعليه‌السلام كى ہدايات پر عمل كيا چنانچہ چند روز تك يہاں قيام كرنے كے بعد آہستہ آہستہ اپنے اپنے گھروں كى جانب واپس جانے لگے جہاں انہوں نے آرام كى زندگى بسر كرنا شروع كردي_(۱۳)

جہادكى دعوت

جب حضرت علىعليه‌السلام كوفہ واپس تشريف لے آئے تو آپعليه‌السلام كوشش كرنے لگے كہ ہر ممكن طريقے سے لوگوں كو معاويہ سے جہاد كرنے كى ترغيب دلائيں ايك موقعے پر تقرير كرتے ہوئے آپعليه‌السلام نے فرمايا كہ اے لوگو اس دشمن كى جانب روانہ ہونے كيلئے تيار ہوجاؤ جس كے ساتھ جنگ كرنا خداوند تعالى كى قربت كا سبب ہے وہ لوگ جو امر حق سے روگرداں ہوچكے ہيں كلام اللہ سے دور ہيں اور دين كے كاموں ميں پيچھے رہ گئے ہيں درحقيقت اندھيرے اور گمراہى ميں ڈوبے


ہوئے ہيں ان كے خلاف تم جتنے سپاہى اور گھوڑے فراہم كرسكتے ہو مہيا كر لو اور خداوند تعالى پر بھروسہ كرو_

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كى تقرير كا لوگوں پر ذرا بھى اثر نہ ہوا اور جنگ پر جانے كے لئے انہوں نے كوئي آمادگى ظاہر نہيں كى حضرت علىعليه‌السلام نے انھيں چند دنوں كے لئے ان كے حال پر چھوڑديا اس عر صے ميں آپعليه‌السلام نے سرداران قوم كو دعوت دى اور ان كا نظريہ جاننا چاہا بعض نے عذر و بہانہ بنايا(۱۴) كچھ نے رضايت كا اظہار كيا مگر چند لوگ ايسے بھى تھے جنہوں نے اس دعوت كو قبول كيا_

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام دوبارہ عوام كے اجتماع ميں كھڑے ہوئے اور فرمايا كہ اے اللہ كے بندو ميں جب بھى حكم ديتاہوں آخر تم كيوں زمين سے چپك پر بيٹھ جاتے ہو كيا آخرت كى زندگى كے مقابلے اس چند روزہ دنيا كى خوشيوں پر فريفتہ ہو گئے ہو؟ عزت كى بجائے تم نے ذلت و خوارى كو اختيار كر ليا ہے آخر كيا وجہ ہے كہ ميں تمہيں جب بھى جہاد كى دعوت ديتاہوں تم آنكھيں پھيرنے لگتے ہو؟ ايسا معلوم ہوتا ہے كہ تم موت كے كنارے آپہنچے ہو يا تمہارے دل سراسيمہ و پريشان ہيں جو سمجھ نہيں سكتے آنكھيں بند ہيں جو ديكھ نہيں سكتيں شاباش تم پر اور تمہارى دليرى پر فرصت كے لمحات ميں تم گويا جنگل كے شير ہو اور جب تمہيں جنگ كيلئے دعوت دى جائے تو لومڑيوں كى طرح فرار كرنے لگتے ہو اب مجھے تم پر اعتماد نہيں رہا(۱۵)

حضرت مالك كا صوبہ دا مصر كى حيثيت سے تقرر

مالك اشتر ايك بااثر و رسوخ سردار اور اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے محكم و طاقتور فرماندار نيز آپعليه‌السلام كے سچے حامى و طرفدار تھے عثمان كے قتل كے بعد وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے دست مبارك پر بيعت كي'' بيعت كرتے وقت بہت ہى پريشانى كے عالم ميں كہا تھا كہ ''كيا ان تين افراد كے بعد بھى آپعليه‌السلام زمام حكومت سنبھالنے كيلئے تيار


نہيں(۶۱)

اس كے اگلے دن مسجد ميں لوگوں كے درميان جو حضرت علىعليه‌السلام كے دست مبارك پر بيعت كرنے آئے تھے انہوں نے كہا تھا كہ يہ پيغمبروںصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے وصى اور علم انبياء كے وارث اور وہ بزرگ ہستى ہيں جو سخت آزمايشوں سے گذرے ہيں كلام اللہ اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آپ كے رضوان بہشت ہونے كى شہادت دى ہے آپ وہ شخص ہيں جو فضائل كے اعتبار سے كمال كى منزلت پر پہنچ چكے ہيں آپ كى نيك طينتى اور دانشمندى كے بارے ميں ان لوگوں كو بھى شك نہ تھا جو اس دنيا سے گذر چكے ہيں اور جو آئندہ آئيں گے وہ بھى اس پر يقين كريں گے آپ لوگ اٹھيے اورآپ كے دست مبارك پر بيعت كيجئے(۱۷)

اس كے بعد وہ ہرجگہ اور ہر مرحلے پر اپنى لاثانى اور بے نظير بہادرى كے باعث ہميشہ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے دوش بدوش رہے ان كے اثر و رسوخ اور سياسى تدبر كااندازہ اس فرمان سے لگايا جاسكتا ہے جو اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے ان كے نام حكومت مصر تفويض كرتے وقت جارى كيا تھا اس كے علاوہ وہ خطوط جو اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے ان كے نام تحرير فرمائے تھے نيز وہ مراكز جن كى فرمانروائي انہوں نے قبول كى تھى ان كے حسن تدبر و معاملہ فہمى كے آئينہ دار ہيں(۱۸)

جنگ صفين اور واقعہ حكميت كے بعد سپاہ عراق ميں بتدريج كمزورى اور پراگندگى كے باعث لوگوں كے درميان بالخصوص دارالخلافت سے دور و دراز كے علاقوں ميں استقامت و پايدارى كاوہ جذبہ جس سے خوشى و نشاط ہوتى ہے نيز معاويہ سے جنگ كرنے كاجوش و خروش آہستہ آہستہ سرد ہونے لگا_

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كو اطلاع ملى كہ معاويہ كاحامى و طرف دار معاويہ بن خديج نامى ايك شخص مصر ميں عثمان كے خون كابدلہ لينے كے لئے اٹھ كھڑا ہوا ہے اس نے وہاں كے امن و امان كو درہم برہم ، صوبہ دار محمد بن ابى بكر كى حيثيت و منزلت كو متزلزل اور وہاں كے لوگوں كا زندہ رہنا


سخت دشوار كر ركھا ہے اميرالمومنين حضرت على عليه‌السلام نے فيصلہ كيا كہ صوبہ دار كا تبادلہ كرديا جائے مالك اشتر چونكہ نصبين(۱۹) ميں مامور تھے اس لئے جنگ صفين كے بعد وہ واپس وہيں چلے گئے تھے حضرت علىعليه‌السلام نے انھيں بلايا اور مصر سے متعلق مسائل كے بارے ميں انھيں سمجھا كر محمد بن ابى بكر كا جانشين مقرر كرديا(۲۰) اس ضمن ميں فرمايا كہ تمہارے علاوہ اس جگہ كيلئے كوئي اور اہل و شايستہ نہيں اس لئے اس طرف روانہ ہوجاؤ(۲۱) اس كے ساتھ ہى آپعليه‌السلام نے وہاں كے لوگوں كے لئے مراسلہ روانہ كيا جس ميں آپعليه‌السلام نے مرقوم فرمايا كہ بندہ خدا على اميرالمومنينعليه‌السلام كى جانب سے مسلمانان مصر كو معلوم ہو كہ جب لوگوں نے خطہ ارض پر حكم خدا سے روگردانى كى تو انہوں نے اس كے غضب كو دعوت دى ميں ايك ايسے بندہ خدا كو تمہارى طرف روانہ كر رہا ہوں جو خوف و ہراس كے دنوں ميں چين كى نيند نہيں سوتا سخت و بحرانى وقت ميں وہ دشمن سے خوفزدہ نہيں ہوتا اور وہ بد كار لوگوں كے لئے آگ سے زيادہ سوزناك ہے اس كا نام مالك بن حارث ہے_

حضرت مالك كى شہادت

مالك مصر جانے كيلئے تيار ہوگئے كوفہ ميں مقيم معاويہ كے جاسوسوں نے اس واقعے كى اطلاع اسے دے دى معاويہ جانتا تھا كہ اگر مالك مصر پہنچ گئے تو وہ اس پر قبضہ كرنے ميں ہرگز كامياب نہ ہوسكے گا چنانچہ اس نے خفيہ طور پر علاقہ ''قلزم''(۲۲) كے تحصيلداركے نام فرمان جارى كيا كہ جس طرح بھى ممكن ہوسكے مالك كو مصر پہنچنے سے قبل ہى قتل كردے اور اس سے يہ وعدہ كيا كہ اگر وہ اس مقصد ميں كامياب ہوگيا تو تا دم حيات اس علاقے كى مالگذارى اسے عطا كرے گا_

اس پر فريب فرمان كے جارى كرنے كے بعد اس نے دعاگوئي كے لئے ايك جلسہ طلب كيا تا كہ حاضرين جلسہ مالك كى تباہى كے لئے دعا كريں كہ اگر كہيں اس كا يہ حربہ كامياب ہو گا تو وہ لوگوں كو يہ كہہ كر خوش فہمى ميں مبتلا كر سكے كہ ان كى موت تمہارى دعاؤں كے اثر سے واقع ہوئي ہے_


حضرت مالك جب قلزم پہنچے وہ ايك شخص (۲۳) جو ان كى ہلاكت كے لئے مامور كيا گيا تھا ان كے پاس آيا اورانھيں اپنے گھر آنے كى دعوت دى حضرت مالك نے اس كى دعوت قبول كرلى ميزبان نے اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام اور آپعليه‌السلام كى حكومت كى تعريف كے ايسے پل باندھے كہ مالك كو اس پر اعتماد ہوگيا اس نے دسترخوان بچھايا اور شہد كا شربت جس ميں مہلك زہر يلا ہوا تھا سامنے لاكر ركھ ديا مالك نے اسے پيا اورتھوڑى دير بعد ہى وہيں شہيد ہوگئے(۲۴) اس شہادت كے باعث اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كو سخت رنج ہوا اور معاويہ بہت خوش و خرم دونوں حضرات نے جو باتيں ان كے بارے ميں كہيں ان سے اندازہ ہوتا ہے كہ يہ ايك عظيم سانحہ تھا_

قبيلہ ''نخع'' كے چند سردار پرسہ دينے كے لئے حضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں حاضر ہوئے انہوں نے آپعليه‌السلام كى كيفيت كو ان الفاظ ميں بيان كياہے'' آپعليه‌السلام مالك كى شہادت سے سخت مضطرب خاطر تھے اس موقعے پر آپ نے فرمايا كہ اس شہادت كااجر خدا ہى دے _مالك كى كيا تعريف كروں خدا كى قسم اگر اسے پہاڑ سے بھى تراشا گيا ہوتا تو وہ يكتا و ممتاز زمانہ ہوتا اگر وہ پتھر كا بھى انسان ہوتا تو ايسا ہى محكم اور ارادے كا مضبوط ہوتاكوئي سوارى اس كے كہسار وجود سے بالاتر نہ ہو سكتى كوئي پرندہ اس كى عظمت كے اوج بلندى سے نہيں گذرسكتا(۲۵)

معاويہ تو حضرت مالك كا جانى دشمن تھا جب اس نے يہ خبر سنى كہ وہ شہيد ہوگئے ہيں تو اس نے كہا كہ علىعليه‌السلام كے دو ہاتھ تھے ان ميں سے ايك تو جنگ صفين ميں قطع ہوگيا وہ تھا عمار اور دوسرا ہاتھ مالك اشتر تھا جو آج شہيد ہوگيا(۲۶)

مصر پر لشكر كشي

معاويہ كو جب يہ معلوم ہوا كہ عراق كى سپاہ نے اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے حكم سے روگردانى كى ہے اور آرام طلبى و تن پرورى كو اس نے اپنا شعار بناليا ہے تو اس نے عمر و عاص ، ضحاك بن


قيس ، بسر بن ارطاة اور ابوالاعور سلمى جيسے مشاورين كو اپنے پاس بلايا اور ان كے ساتھ مشورہ كيا اتفاق اس بات پر ہوا كہ وہ علاقے جو حضرت علىعليه‌السلام كى قلمرو حكومت ميں شامل ہيں حملہ كركے ان پر قبضہ كرليا جائے_

اس وقت مصر چونكہ خاص اہميت كا حامل تھا(جس كى وجہ يہ تھى كہ يہ منطقہ عراق كے مقابلے شام سے نزديك تر ہے اور وہاں كے اكثر و بيشتر لوگ عثمان كے مخالف تھے اس لئے بھى معاويہ كو اس منطقہ كى طرف سے تشويق لا حق رہتى تھى اس كے علاوہ مصر پر قبضہ ہوجانے كے بعد محصول كى آمدنى ميں اضافہ ہوسكتا تھا اور وہاں كى انسانى طاقت كو حضرت علىعليه‌السلام كے خلاف استعمال كياجاسكتاتھا) اسى لئے اس نے يہ خاكہ تيار كياكہ عثمان كے طرفداران عناصر كو جو مصر ميں ہيں بروئے كار لائيں اور لشكر كشى كا آغاز وہاں سے كياجائے اس سے قبل كہ وہ اس طرف اپنے فوجى طاقت روانہ كريں انہوں نے ''معاويہ بن خديج'' اور '' مسلمہ بن مخلد'' جيسے اپنے ہوا خواہوں كو خط لكھا اور اس ميں اس بات كا تذكرہ كيا كہ كثير تعداد ميں ميرى سپاہ جلد ہى تمہارى مدد كے لئے پہنچ جائے گي(۲۷)

اس كے بعداس نے تقريبا چھ ہزار سپاہى عمر و عاص كى زير فرماندارى روانہ كئے اس كى چونكہ ديرينہ آرزو تھى كہ اس منطقہ پر حكمرانى كرے اسى لئے اس طرف روانہ ہوگيا عثمان كے طرفدار بھى بصرہ سے چل كر اس كے ہمراہ ہوگئے_

اس سے قبل كہ شہر ميں داخل ہوں عمر وعاص نے محمد بن ابى بكر كو خط لكھا جس ميں انہيں يہ تنبيہ كى كہ اس سے پہلے كہ شام كى سپاہ تمہارا سر تن سے جدا كردے تم خودہى اپنے عہدے سے برطرف ہوجاؤ اور بصرہ سے نكل كر كسى بھى طرف چلے جاؤ_

محمد بن ابى بكر نے اپنے خط كے ساتھ عمر و عاص كامراسلہ اور معاويہ كا عريضہ حضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں روانہ كرديا اور آپ سے مدد كے طالب و خواستگار ہوئے_

حضرت علىعليه‌السلام نے محمد بن ابى بكر كو جو خط لكھا اس ميں آپعليه‌السلام نے انہيں ہدايت كى تھى كہ


استقامت اور پايدارى سے كام ليں اور شہر كى حفاظت كے پورے انتظامات كئے جائيں اس كے ساتھ ہى آپ عليه‌السلام نے حكم دياكہ كنانہ بن بشر كو چونكہ آزمودہ ، با تجربہ اور جنگجو سردار سپاہ ہيں حملہ آوروں كى جانب روانہ كياجائے اور مصر ميں بھى اپنے لوگوں كو جو بھى سوارى ميسر آسكے اس كے ہمراہ تمہارى طرف روانہ كر رہاہوں(۲۸)

اس كے بعد حضرت علىعليه‌السلام منبر پر تشريف لے گئے اور فرمايا كہ : نابغہ زادہ(۲۹) كثير سپاہ لے كر مصر پر حملہ كرنے كى غرض سے روانہ ہوا ہے محمد بن ابى بكر اور ديگرى مصرى بھائيوں كو تمہارى مدد كى ضرورت ہے جس قدر جلد ممكن ہوسكے ان كى داد و فرياد كو پہونچو كہيں ايسا نہ ہو كہ مصر تمہارے ہاتھ سے نكل جائے اگر يہ ملك تمہارے ہاتھ ميں رہے تو باعث عزت و شرف ہے اور تمہارے دشمنوں كى كمزورى اور ناتوانى كا سبب كل كے لئے يہ ہمارى وعدہ گاہ ہے اور جرعہ كى فوجى چھاوني(۳۰)

حضرت علىعليه‌السلام دوسروں سے پہلے ہى سپاہ كى لشكر گاہ(چھاؤني) ميں تشريف لے گئے وہاں آپعليه‌السلام نے ظہر كے وقت تك انتظار كيا جو لوگ وہاں پہونچے ان كى تعداد سو سے بھى كم تھى مجبورا كوفہ كى جانب روانہ ہوگئے جب رات ہوئي تو آپعليه‌السلام نے قبائل كے سرداروں كو بلايا اور فرمايا كہ : حمد و تعريف خدا كى قضاء و قدر نے ميرے باعث تمہيں آزمائشے ميں مبتلا كيا لوگو ميں نے جب بھى تمہيں حكم ديا تم نے اس كى اطاعت نہيں كى اور جب بھى ميں نے تمہيں اپنى طرف آنے كى دعوت دى تم نے اسے قبول نہ كيا اپنى مدد اور راہ حق ميں جہاد كرنے كے لئے تم كس چيز كے منتظر ہو؟ موت چاھتے ہو يا ذلت و خواري كيا تمہارے پاس وہ دين و ايمان نہ رہا جو تمہيں متحد كر سكے كيا اب تم ميں وہ غيرت و حميت باقى نہيں رہى جو تمہيں جہاد كى جانب جانے كے لئے ترغيب دلا سكے كيا يہ بات باعث حيرت نہيں كہ معاويہ پست فطرت ، ظالم و جفا كار لوگوں كو جمع كرنے كے لئے كہے اور وہ اس كے گرد جمع ہوجائيں اور صلہ و انعام كى تمنا كئے بغير اس كى اطاعت و پيروى كريں ليكن اس كے برعكس جب ميں تم كو جو اسلام اور ہمت و مردانگى كى يادگار رہ گئے ہو اپنى طرف آنے كى دعوت ديتا ہوں تو ميرى مخالفت كرتے ہو تم مجھے اكيلا نہ چھوڑو اور


انتشار و پراكندگى سے گريز كرو (۳۱)

حضرت علىعليه‌السلام كى تقرير نے مالك بن كعب كى غيرت كو للكاراوہ مجمع كے درميان سے اٹھ كھڑے ہوئے كہ جہاد پر جانے كيلئے تيار ہيں حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے خدمتگذار سعد سے كہاكہ لوگوں ميں جاكر منادى كريں اور مالك كے ہمراہ مصر كى جانب روانہ ہوں چنانچہ ايك ماہ گذرجانے كے بعد مالك كے گرد دوہزار افراد جمع ہوگئے تو مصر كى جانب انہوں نے كوچ كياپانچ روز تك سفر كرنے كے بعد حضرت علىعليه‌السلام كے نمائندے نے يہ اطلاع پہنچائي كہ محمد بن ابى بكر شہيد ہوگئے يہ خبر سن كر مالك حضرت علىعليه‌السلام كے حكم بموجب واپس كوفہ آگئے(۳۲)

محمد بن ابى بكر كى شہادت

محمد بن ابى بكر كو جب حضرت علىعليه‌السلام كا خط ملا تو انہوں نے معاويہ اور عمر و عاص كو تند لہجے ميں قطعى جواب ديااس كے ساتھ ہى انہوں نے اپنى سپاہ كو دعوت دى كہ حملہ آوروں سے جنگ و پيكاركريں جن لشكروں نے نبرد آزمائي كا اعلان كياان كى تعداد تقريبا دو ہزار افراد ہوگئي چنانچہ انھيں كنانہ بن بشر كى زير قيادت و فرماندارى دشمن كى جانب روانہ كيا اور خود بھى دو ہزار افراد كو ساتھ ليكر ان كے پيچھے كوچ كيا پہلے قصبے ميں شام كے پيشگام سپاہ نے پے در پے حملوں كے باعث مصر كى مختصر دفاعى قوت كا قطع قمع كرديا عمر و عاص نے معاويہ بن خديج كو پيغام بھيجا اور اس سے مدد طلب كى تھوڑى ديرنہ گذرى تھى كہ معاويہ بن خديج نے ميدان كارزار كو لشكريوں سے بھرديا_

مصريوں كے مخالف اپنى پورى طاقت كے ساتھ كنانہ كے مقابل جمع ہوگئے انہوں نے جب يہ ديكھا كہ دشمن كے ہر طرف سے سخت دباؤ كے باعث وہ اپنے گھوڑے كو حركت نہيں دے سكتے تو وہ چھلانگ لگا كر زمين پر گركئے ان كے ساتھى بھى انہيں ديكھ كرگھوڑوں سے اتر گئے كنانہ جس وقت دشمن كے سپاہيوں كو برى طرح كچل رہے تھے يہ آيت ان كے زبان پر تھي_


) و ما كان لنفس ان تموت الا باذن الله كتبا موجلا ( (۳۳)

چنانچہ آپ اس قدر دشمن سے بر سر پيكار رہے كہ شہيد ہوگئے_

كنانہ بن بشر كى شہادت كے بعد محمد بن ابى بكر كے اطراف سے فرماندارى كا سلسلہ چونكہ ٹوٹ چكا تھا اس لئے جو سپاہ باقى رہ گئي تھى وہ منتشر اور پراگندہ ہوگئي ناچار انہوں نے بھى ايك ويرانے ميں پناہ لى _مصر كے شورش پسندوں كے رہبر ابن خديج نے انكى تلاش شروع كى اور انہيں اس ويرانے ميں چھپا ہوا پايا اور گرفتار كيا پہلے شمشير سے سر كو تن سے جدا كيا اسكے بعد جسم كو مرے ہوئے گدھے كى كھال ميں بھر كر آگ لگادى(۳۴)

جب محمد بن ابى بكر كے قتل كى خبر معاويہ اور عمر عاص كے پاس ملك شام ميں پہونچى تو انہوں نے انتہائي مسرت اور شادمانى كااظہار كياعبداللہ ابن مسيب كا كہنا ہے كہ جس وقت محمدبن ابى بكر كے قتل كئے جانے كى خبر ملك شام ميں پہنچى تو اس موقع پر جسقدر خوشى اور مسرت كا اظہار كياگيا ايسى خوشى و مسرت و شادمانى ميں نے كبھى نہيں ديكھى تھي(۳۵)

ليكن ان كى شہادت كى خبر جب امير المومنين حضرت علىعليه‌السلام كو ملى تو آپ نے فرمايا كہ : ان كے قتل كئے جانے كا غم و اندوہ اتناہ ہى ہے جتنا معاويہ كو اس كا سرور _جب سے ميں نے ميدان كارزار ميں قدم ركھا مجھے كسى كے قتل كئے جانے كا اتنا صدمہ نہيں ہوا جتنا اس كى وجہ سے ہوا ہے وہ ميرے اپنے گھر ميں پل كر جو ان ہوا اور ميں نے اسے اپنى اولاد كى طرح سمجھا وہ ميرا حقيقى خيرخواہ تھا ايسے شخص كى وفات پر جس قدر رنج و غم كياجائے بجا ہے خدا سے دعا ہے كہ وہى اس كى جزا دے(۳۶)

لوگوں كى تنبيہ و سرزنش

محمد بن ابى بكر كى رقت انگيز شہادت اور لوگوں كى پے در پے تباہ كاريوں كے باعث اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام بہت زيادہ آزردہ خاطر ہوئے چنانچہ جب يہ اطلاع ملى كہ عمر و عاص نے


مصر پر قبضہ كر ليا تو آپعليه‌السلام نے واضح طور پر لوگوں كو سخت سست كہنا شروع كرديا اور فرمايا كہ تم وہ لوگ ہو جوكسى كے خون كا بدلہ لينے ميں ميرى مدد نہيں كر سكتے اگر كوئي گتھى الجھ جائے تم اسے سلجھا نہيں سكتے پچاس دن سے زيادہ ميں تمہارے سامنے داد و فرياد كرتا رہا كہ بھائيو آؤ اور ميرى مدد كرو مگر تم اس اونٹ كى طرح كلبلاتے رہے جو درد شكم كے مارے تڑپ رہا ہو تمہارى حالت اس شخص كى سى ہے جو راہ جہاد ميں تو نكلے مگريہ سوج كر كہ اس كام سے مجھے حاصل كيا ہوگا زمين پكڑے بيٹھے رہے يہاں تك كہ تم ہى ميں سے ايك مختصر سپاہ كى جماعت تھى جنہيں ديكھ كر لگتا تھا كہ خود كو جان بوجھ كر موت كے منہ ميں دھكيل رہے ہيں افسوس تمہارى حالت زار پر(۳۷)

حضرت علىعليه‌السلام كے رنج و اندوہ كايہ عالم تھا كہ زندگى سے بيزارى اور يہ آرزو كرنے لگے كہ جس قدر جلد ہو سكے موت آجائے تا كہ ان لوگوں كى ہمنشينى كے سخت و سنگين بار سے نجات ملے_

حضرت علىعليه‌السلام نے حضرت ابن عباس كوجو خط مرقوم فرمايا تھا اس ميں آپعليه‌السلام نے اس احساس كرب كا اظہار اس طرح كيا تھا: مصر كو دشمن نے فتح كر ليا محمد بن ابى بكر شہادت سے ہمكنار ہوئے ميں نے لوگوں كو بار بار ان سے ہمدوش ہونے اور ان كى مدد كرنے كى ترغيب دلائي اور كہا اس سے پہلے كہ پانى سرسے گذر جائے تم ان كى داد و فريادكو پہنچو چند لوگ تيار بھى ہوئے مگر بد دلى كے ساتھ كچھ عذر و بہانہ كر كے عليحدہ ہوگئے اور بعض نے تو ان كى مدد كرنے سے قطعى ہاتھ اٹھايا اورگھروں ميں گھس گئے ميں تو خدا سے يہى دعا كر رہا ہوں كہ مجھے ان لوگوں كے چنگل سے نجات دلائے اور ان سے رہائي كى كوئي سبيل نكل آئے_

خدا كى قسم دشمن كے ساتھ جنگ و پيكار كرتے وقت شہادت كى آرزو نہ ہوتى اور ميں نے راہ خدا ميں خود كو مرنے كيلئے آمادہ نہ كر ليا ہوتا تو ميں اس بات كو ترجيح ديتا كہ ايسے لوگوں كا ايك دن بھى منھ نہ ديكھوں اور ان كے پاس سے بھى نہ گذروں(۳۸)


سوالات

۱_ جنگ نہروان كس كى طرف سے شروع ہوئي اس ميں كون فاتح رہا؟

۲_ ذوالثديہ كس شخص كا نام تھارسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس كے بارے ميں كيا فرمايا تھا؟

۳_ غلات كون تھے او ر ان كے وجود ميں آنے كى كيا اسباب تھے؟

۴_ جنگ نہروان كے كيا نتائج برآمد ہوئے؟

۵_ صوبہ دار مصر كو تبديل كرنے كى كيا وجہ تھي؟

۶_ مالك اشتر كى كہاں اور كيسے شہادت ہوئي؟

۷_ كن محركات كى بنا پر معاويہ نے اسلامى حكومت كے قلمرو پر حملہ كرنامصر سے شروع كيا؟

۸_ محمد بن ابى بكر كى شہادت كس شخص كے ہاتھوں اور كس طرح ہوئي؟


حوالہ جات

۱_ الامامة و السياسة ج ۱ ص ۱۲۸ ، كامل بن اثير ج ۳ ص ۳۴۶ ، تاريخ طبرى ج ۵ص ۸۶

۲_ الامامة و السياسة ج ۱ ص ۱۲۸_

۳_ الان حل قتالہم احملوا على القوم مروج الذہب ج ۲ ص ۴۰۵_

۴_ شرح نہج البلاغہ علامہ خوئي ج ۴ ص ۱۳۶ ، منقول از كشف الغمہ

۵_ مروج الذہب ج ۲ ص ۴۰۶

۶_ نہج البلاغہ كلمات قصار ۳۲۳

۷_مروج الذہب ج ۲ ص ۴۰۷ و الامامة والسياسة ج ۱ /۱۲۸

۸_ نہج البلاغہ خطبہ ۹۳

۹_ غلات اور غاليہ علىعليه‌السلام كے عقيدت مندوں كا وہ گروہ تھا جس نے آپعليه‌السلام كے بارے ميں اس قدر مبالغے سے كام ليا كہ دائرہ مخلوق سے نكال كر الوہيت كے سراپردے تك لے آيا ملل و نحل شہرستانى ج ۱ ص ۲۳۷

۱۰_ ہلك فيّ رجلان محب غال و مبغض قال، نہج البلاغہ كلمات قصار ۱۱۷

۱۱_ شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج ۵ ص ۵_

۱۲_ شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج ۵ ص ۷

۱۳_ الامامة و السياسة ج ۱ ۱۲۸ ، تاريخ طبرى ج ۸۹۵، كامل ابن اثير ج ۳ ص ۳۴۹ ، طبرى لكھتے ہے كہ حضرت علىعليه‌السلام سے يہ گفتگو اشعث نے كى تھي_

۱۴_ الامامة و السياسة ج ۱ ص ۱۲۹

۱۵_ ان ميں سے كچھ نے بيمارى كا بہانہ بنايا اور خود كو بيمار ظاہر كيا حالانكہ وہ بيمار نہ تھے بلكہ وہ جنگ سے فرار چاہتے تھے_

۱۶_ كامل ابن اثير ج ۳۴۹۳ ، تاريخ طبرى ج ۵ ص ۹۰ ، الامامة و السياسة ، ج ۱ ، ص ۱۲۹، غارات ج ۱ ص ۳۵_

۱۷_ الامامة و السياسة ج ۱ ص ۴۷

۱۸_ تاريخ يعقوبى ج ۲ ص ۱۷۹


۱۹_ مصر كى فرمان دارى پر مامور ہونے سے قبل حضرت مالك اشتر موصل ،نصيبين، داراسنجار ، آمد، ہيت اور عانات كے والى رہ چكے تھے شرح نہج البلاغہ ناصر مكارم ج ۳ ص ۴۵۵

۲۰_ نصيبين آباد جزيرہ كاشہر اوور شام ميں موصل كے مقام پرہے معجم البلدان ۵ ج /۲۸۸

۲۱_ اس بارے ميں اختلاف ہے كہ حضرت مالك اشتر كو محمد بن ابى بكر كى شہادت سے قبل صوبہ دار مقرر كيا گيا يا اس واقعے كے بعد مورخين كے نزديك يہى قول مشہور و معتبر ہے اس كے علاوہ نہج البلاغہ كا مكتوب ۳۴ جو محمد بن ابى بكركو لكھا گيا تھے اور اس بتايا تھا كہ ان كا تبادلہ كس وجہ سے عمل ميں آيا ہے اس امر كى تائيد كرتا ہے ليكن علامہ مفيد (مرحوم) نے اپنى كتاب امالى ميں دوسرے قول كو قابل قبول قرار ديا ہے ملاحظہ ہو الغارات ج ۱ ص ۲۵۷ حاشيہ

۲۲_ الغارات ج ۱ ۲۵۸ شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج ۶ /۷۴

۲۳_ يہ مصر كے راستے ميں ايك بستى تھى يہاں سے مصر كا فاصلہ تين دن كا تھا معجم البلدان ج ۴ ص ۳۸۸

۲۴_ الغارات نامى كتاب كے مصنف نے اس كا نام '' خراخر'' لكھا ہے ملاحظہ ہو الغارات ج ۱ ص ۲۵۹

۲۵_ الغارات ج ۱ ص ۲۶۴_ ۲۵۹

۲۶_مالك و ما مالك و الله لو كان جبلا لو كان فندا ولو كان حجرا لكان صلدا لايرتقيه الحافر و لايوقى عليه الطائر (نہج البلاغہ _ كلمات قصار ۴۴۳، الغارات ج ۱ ص ۲۶۵)الغارات كے مصنف نے يہ واقعہ قدرے مختلف طور پر بيان كيا ہے_

۲۷_ كانت لعلى بن ابى طالب يدان يمينان فقطعت احداهما يوم صفين يعنى عمار و قطعت الاخرى اليوم و هو مالك اشتر الغارت ج ۱ ص ۲۶۴، كامل ابن اثيرج۳ ص ۳۵۳

۲۸_ شرح نہج ا لبلاغہ ابن ابى الحديد ج ۶ ص ۸۱

۲۹_ الغارات ج ۱ ص ۲۸۰ ۲۷۶، شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج ۵ ص ۸۵_۸۲، كامل ابن اثير ج ۳ ص ۳۵۶

۳۰_ عمروعاص كى ماں كا نام تھا

۳۱_ يہ جگہ كوفہ كے باہر خيرہ و كوفہ كے درميان وقع ہے_

۳۲_ نہج البلاغہ ج ۱۸۰، شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج ۶ ص ۹۰، و لغارات ج ۱ ص ۲۹۰


۳۳_ الغارات ج ۱ ص ۲۹۴_ ۲۹۲و ۷ شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج ۶ /۹۱

۳۴_ كوئي ذى روح اللہ كے اذن كے بغير نہيں مرسكتا موت كا وقت تو لكھا ہوا ہے(آل عمران آيہ ۱۴۵)

۳۵_ الغارات ج ۱ ص ۲۸۲، شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج ۶/ ۸۶، كامل ابن اثير ج ۳ ص ۳۵۷

۳۶_ الغارات ج ۱ ص ۲۸۲، شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج ۲ ص ۸۶، كامل ابن اثير ج ۳ ص ۳۵۷

۳۷_ مروج الذہب ج ۲/ ۴۰۹

۳۸_ الغارات ج ۱ ص ۲۹۷

۳۹_ نہج البلاغہ مكتوب ۳۵ ، الغارات ج ۱/ ۲۹۸


سولھواں سبق

نہروان كے بعد

دہشت پسند اور غارتگر گروہ

۱_ نعمان بن بشير

۲_ سفيان بن عوف

۳_ عبداللہ بن مسعدہ

۴_ ضحاك بن قيس

۵_ بسربن ارطاہ

حضرت علىعليه‌السلام كارد عمل

معاويہ كے تجاوز كارانہ اقدام كا نتيجہ

دو متضاد سياسى روشيں

فتنہ خرّيت

آخرى سعى و كوشش

حضرت علىعليه‌السلام كے خلاف دہشت پسندانہ سازش

شہادت كا انتظار

شہادت

سوالات

حوالہ جات


دہشت پسند اور غارتگر گروہ

معاويہ كو اس اقتدار كے باوجود جو اس نے حاصل كيا تھا اور اس اثر و رسوخ كے بعد بھى جو س كا شام كے لوگوں پر ہوگيا تھا نيزہ سپاہ عراق ميں ہر طرح سے انتشار و پراگندگى پيدا كر كے بھى يہ اطمينان نہ تھا كہ اگر اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے مركز حكومت پر حملہ كرے گا تو وہ كامياب ہوجائے گا اس نے جنگ صفين كے دوران جو ہولناك مناظر اپنى آنكھوں سے ديكھے تھے اور حضرت علىعليه‌السلام كى تلوار كے جن واروں كو اس نے سہاتھا وہ اس امر كے متقاضى نہ تھے كہ ايسا كوئي اقدام كرے_ اسے اب تك جو كاميابى نصيب ہوئي تھى وہ سب حيلہ و نيرنگ كا نتيجہ تھى چنانچہ اس كے ساتھيوں نے جب بھى يہ تجوير پيش كى كہ كوفہ پر حملہ كيا جائے تو اس نے اس كا جواب نفى ہى ميں ديا اس ضمن ميں اس نے كہا كہ عراق كے لوگوں كو شكست دينے اور پراگندہ فوجى دستے عراق كے مختلف علاقوں ميں سركشى و غارت گرى كرتے رہيں كيونكہ يہى ايسا طريقہ ہے جس كے ذريعے ہمارے حامى و طرفدار بتدريج طاقت ور ہوتے چلے جائيں گے اور عراق كا محاذ شكست و ريخت اور خوف و خطر ميں مبتلا رہے گا جب عراق كے اشراف و سربرآوردہ لوگ يہ كيفيت ديكھيں گے تو وہ خود ہى علىعليه‌السلام كا ساتھ چھوڑ كر ہماى طرف آنے لگيں گے_

اس فيصلے كے بعد اس نے نعمان بن بشير، سفيان بن عوف، عبداللہ بن مَسعَدہ اور ضحاك بن قيس جيسے فرمانداروں كى زير قيادت سپاہ كے دستے منظم كئے اور انھيں عراق كے مختلف علاقوں ميں روانہ كيا تا كہ اس فرمان كو جس ميں مسلمانوں كے لئے تباہى و بربادى اور خوف و دہشت كے عناصر شامل تھے جارى و سارى كرسكے_

يہاں ہم ان ہلاكت بار تجاوزات كى درد انگيز داستان بيان كرنے كے ساتھ ہى ان افراد كا


مختصر تعارف كرائيں گے جو ان دستوں كے سرغنہ و سردار تھے_

۱_ نعمان بن بشير

وہ انصار اور طائفہ خزرج ميں سے تھا عثمان كے زمانے ميں جو شورشيں ہوئيں ان ميں اس نے خليفہ وقت كا ساتھ ديا_

عثمان كے قتل كے بعد ان كا خون آلودہ كرتا وہ ملك شام لے كرگيا اور معاويہ كو پيش كيا اور يہيں سے وہ معاويہ كا حامى و طرفدار ہوا معاويہ كى طرف سے كچھ عرصہ حاكم كوفہ بھى رہا اور اس كے بعد اسے '' حمص'' كا حاكم مقرر كيا گيا _

معاويہ نے اسے ۳۹ ھ ميں دوہزار افراد كے ساتھ '' عين التمر''(۱) كى جانب روانہ كيا اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے فوجى محافظ دستے پر جو تقريبا سو افراد پر مشتمل تھا اس نے حملہ كيا ليكن دلاور مدافعين نے اپنى تلواروں كى نيا ميں توڑ كر پورى پا مردى و جانبازى سے دفاعى مقابلہ كيا اس عرصے ميں تقريبا پچاس افراد ان كى مدد كے لئے وہاں آن پہنچے نعمان كے سپاہيوں كو يہ گمان گذرا كہ مدافعين كے پاس مدد كے لئے جو لشكر پہنچا ہے اس كى تعداد بہت زيادہ ہے چنانچہ راتوں رات وہ اس جگہ سے بھاگ نكلے اور شام كى جانب رخ كيا_

۲_ سفيان بن عوف

اسے معاويہ كى طرف سے اس مقصد كے تحت مقرر كيا گيا تھا كہ عراق كے بعض مقامات پر حملہ كريں معاويہ نے رخصت كرتے وقت اسے يہ تاكيد كى تھى كہ :

تمہارے سامنے كوئي بھى ايسا شخص آئے جو تم سے متفق و ہم خيال نہ ہوا سے بے دريغ قتل كردينا تمہارے راستے ميں جو بھى بستياں آئيں انھيں ويران كرتے چلے جانا لوگوں كے مال و متاع كو لوٹ لينا كيونكہ لوٹ مار بھى قتل كرنے كے برابر ہى ہے بلكہ بعض اوقات غارتگرى قتل سے زيادہ جانگداز و مہلك ثابت ہوتى ہے_

چلتے وقت اسے يہ ہدايت بھى كى كہ پہلے شہر '' ہيت''(۲) پر حملہ كرنا اس كے بعدانبار اور


مدائن كے شہروں پر قبضہ كرنا سفيان بن عوف چھ ہزار سپاہيوں كو ساتھ لے كر روانہ ہوا جب شہر ہيت ميں اسے كوئي نظر نہ آيا تو اس نے شہر انبار پريورش كى محافظين شہر كو كثير تعداد ميں قتل كرنے كے بعد اس نے شہر ميں كشت و كشتار اور غارتگرى كا بازار گرم كيا اور بہت ساماں جمع كر كے وہ شام كى طرف واپس آگيا_(۳)

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كو جب اس واقعے كى اطلاع ملى تو آپعليه‌السلام نے جہاد كى فضيلت كے بارے ميں مفصل تقرير كى اور بتايا كہ جو لوگ اس اسلامى فرض سے روگردانى كرتے ہيں وہ كيسے ناگوار نتائج سے دوچار ہوتے ہيں اس ضمن ميں آپعليه‌السلام نے فرماياكہ : ميں شب و روز پنہاں و آشكارا تمہيں اس گروہ سے بر سر پيكار ہونے كى دعوت ديتا رہا ميں نے تمہيں يہ ہدايت كى كہ اس سے پہلے وہ تمہارے ساتھ نبرد آزما ہوں تم ہى ان پر وار كردو ليكن تم نے سستى سے كام لياور فرض جہاد كو ايك دوسرے پر ٹالتے رہے چنانچہ نوبت يہاں تك آن پہنچى كہ تم پر ہر طرف سے پے در پے حملے كئے جانے لگے تمہيں غارتگرى كا نشانہ بنايا جانے لگا اور اب تمہارى زمين و جائيداد كے مالك دوسرے لوگ ہوئے ہيں يہ شخص جس نے اپنى سپاہ كو ساتھ لے كر شہر انبار پر حملہ كيا '' غامد'' قبيلے كا ہے اس نے فرماندار شہر حسان بن حسان بكرى كو قتل كيا اور تمہارى سپاہ كو اس نے ان كى عسكر گاہوں سے باہر نكل ديا ہے_

مجھے يہ اطلاع ملى ہے كہ ان ميں سے ايك شخص ايك مسلم خاتون اور اس اہل كتاب عورت كے گھر ميں جو مسلمانوں كى زير حمايت زندگى بسر كرتى تھى داخل ہوا اور ان كے زيورات ان كے جسموں پر سے اس نے اتار لئے اس كے بعد بہت سال غنيمت جمع كر كے وہ اور اس كے ساتھى واپس چلے گئے _ ديكھنے كى بات يہ ہے كہ ان غارتگروں ميں سے نہ تو كوئي زخمى ہوا اور نہ ہى كسى كے خون كا قطرہ زمين پر گرا ا س واقعے كے بعد اگر ايك سچا مسلمان غم و افسوس كے باعث مرجائے يا ڈوب مرے تو بجا ہوگا اور وہ قابل سرزنش بھى قرار نہ ديا جائيگا_(۴)


۳_ عبداللہ بن مسعدہ

ابتدا ميں وہ حضرت علىعليه‌السلام كے حامى و طرفداروں ميں سے تھا ليكن دنيا پرستى كے باعث كچھ عرصہ بعد معاويہ كے ساتھ جاملا اور اس كا شمار حضرت علىعليه‌السلام كے سخت ترين دشمنوں ميں كيا جانے لگا_

معاويہ نے اسے سترہ سو افراد كے ساتھ '' تيمائ''(۵) كى جانب روانہ كيا اور يہ حكم ديا كہ جس بستى ميں سے بھى گذرنا اس سے زكات كا مطالبہ كرنا اور جو شخص ادا كرنے سے منع كرے اسے قتل كرڈالنا _عبداللہ مكہ اور مدينہ كے شہروں سے گذرا جب حضرت علىعليه‌السلام كو اس كى روانگى كى اطلاع ملى تو آپعليه‌السلام نے مسيب بن نجبہ فزارى كو دو ہزار افراد كے ساتھ ان كا مقابلہ كرنے كے لئے روانہ كيا تيماء ميں دونوں حريف لشكر ايك دوسرے كے مقابل آگئے دونوں كے درميان سخت معركہ ہوا جس كے باعث شامى لشكر كا فرماندار زخمى ہوا اور مسعدہ راتوں رات شام كى جانب بھاگ گيا(۶)

۴_ ضحاك بن قيس

وہ معاويہ كى فوج كا فرماندار تھا وہ كچھ عرصہ تك محافظين شہر دمشق كا صدر امين رہا اور بعد ميں كوفہ كى حكومت بھى اسے تفويض كى گئي اس نے معاويہ كے حكم پر تين ہزار سپاہيوں كو ساتھ ليكر سرزمين '' نعلبيہ''(۷) كى جانب رخ كيا اس كے گرد و نواح كے ان تمام قبائل كو اس نے اپنى غارتگرى كا نشانہ بنايا جو حضرت علىعليه‌السلام كے مطيع و فرمانبردار تھے اس كے بعد وہ كوفہ كى جانب روانہ ہوا راستے ميں اسے قطقطانہ(۸) نامى علاقے ميں عمربن عميس سے سامنا ہوا وہ زيارت حج بيت اللہ كيلئے تشريف لے جارہے تھے ضحاك بن قيس نے انھيں اور ان كے قافلے كو لوٹ ليا اور انھيں اپنے مقصد كى طرف جانے سے روكا( ۹)

حضرت علىعليه‌السلام نے ان كا مقابلہ كرنے كے لئے حجربن عدى كو چار ہزار سپاہيوں كے ہمراہ ان كے راستے پر روانہ كيا حجر كا ضحاك سے ''تدمر''(۱۰) نامى مقام پر مقابلہ ہوا جس ميں سپاہ كے اُنيس سپاہى مارے گئے اس كے بعد ان كى سپاہ فرار كر كے شام كى جانب چلى گئي_(۱۲)


۵_ بسر بن ارطاہ

قبيلہ قريش ميں سے تھا عراق و حجاز كى جانب معاويہ نے جو فرماندار روانہ كيئے تھے ان ميں اس كا شمار خونخوارترين فرماندار كى حيثيت سے ہوتا ہے رخصت كرتے وقت معاويہ نے اس سے كہا تھا كہ مدينہ پہنچنے كيلئے روانہ ہوجاؤ راستے ميں لوگوں كو منتشر و پراگندہ كرتے رہنا سامنے جو بھى آئے اسے خوفزدہ ضرور كرنا جو لوگ تمہارى اطلاعت سے انكار كريں ان كے مال و متاع كو تباہ و غارت كردينا بسربن ارطاة تين ہزار افراد كو ساتھ لے كر مدينہ كى طرف روانہ ہوا وہ جس بستى سے بھى گزر جاتا وہاں كے مويشيوں پر قبضہ كرليتا اور انھيں اپنے لشكريوں كے حوالے كرديتا مدينہ پہنچ كر اس نے تقرير كى جس ميں دل كھول كر مسلمانوں پر سخت نكتہ چينى كى اور جو نہ كہنا تھا وہ تك كہا اس كے ساتھ ہى انھيں مجبور كيا كہ اس كے ہاتھ پر بيعت كريں بہت سے گھروں كو نذر آتش كرنے كے بعد ابوہريرہ كو اپنا جانشين مقرر كيا اور خود مكہ كى جانب روانہ ہوگيا راستے ميں قبيلہ خزاعہ كے بہت سے لوگوں نيز چند ديگر افراد كو قتل كيا اور ان كے مال كو لوٹ كر قبضے ميں كرليا_ مكہ پہنچ كر اس نے ابولہب كى اولاد ميں سے بہت سے لوگوں كو تہ تيغ كر ڈالا اور يہاں سے '' سراة '' كى جانب روانہ ہوا جہاں اس نے حضرت علىعليه‌السلام كے حامى و طرفداروں كو قتل كر ڈالا '' نجران'' اور يمن ميں اس نے كشت و كشتار كا خوب بازار گرم كيا يہى نہيں بلكہ فرماندار يمن عبيداللہ بن عباس كے دوكم سن بچوں كے سر تك اس نے اپنے ہاتھ سے قلم كئے قتل و غارتگرى اور كشت و كشتار كا بازار گرم كرنے اور تقريبا تيس ہزار كوتہ و تيغ كرنے كے بعد وہ واپس ملك شام پہنچ گيا(۱۲)

حضرت علىعليه‌السلام كار و عمل

حضرت علىعليه‌السلام كو جب بسر بن ارطاة كے بزدلانہ حملوں كا علم ہوا تو آپعليه‌السلام نے لوگوں كواس مقابلہ كرنے كى دعوت دى اور فرمايا: كہ مجھے اطلاع ملى ہے كہ بسر نے يمن پر قبضہ كرليا ہے خدا شاہد ہے كہ مجھے اس بات كا علم تھا كہ يہ لوگ جلد ہى تم پر غالب آجائيں گے جس كى وجہ يہ ہے كہ


وہ باطل پر تو ہيں مگر يكجا ہيں اس كے برعكس تم حق پر ہو مگر منتشر و پراگندہ_ تمہارے رہبر و پيشوا نے تمہيں راہ حق پر چلنے كے لئے كہا مگر تم نے نافرمانى كى وہ آج باطل پر ہيں مگر اپنے سردار كے مطيع و فرمانبردار ہيں _

وہ اپنے رہبر كے ساتھ امانت دارى سے كام ليتے ہيں اور تم خيانت كرتے ہو وہ اپنے شہروں ميں اصلاح كے كام كر رہے ہيں اور تم فساد بپا كئے ہوئے ہو ميں تمہارے پاس اگر قدح (پيالہ)بھى بطور امانت ركھوں تو اس بات كا احتمال ہے كہ اس كے گرد كوئي ڈورى بندھى ہوئي ہو تو وہ بھى چرالى جائے گي_(۱۳)

اہل كوفہ نے پہلے كى طرح اب بھى حضرت علىعليه‌السلام كے فرمان پر اپنى سرد مہرى دكھائي كچھ عرصہ گزرجانے كے بعد آپ نے ايك ہزار افراد پر مشتمل لشكر جاريہ بن قدّامہ كى زير فرماندارى ترتيب ديا جسے ساتھ لے كر جاريہ بصرہ كى طرف روانہ ہوئے حجاز كے راستے سے وہ يمن پہنچے بسر كو يہ اطلاع مل چكى تھى كہ جاريہ كا لشكر حركت ميں ہے چنانچہ اس نے يمامہ كى سمت كو ترك كر كے اپنا رخ دوسرى طرف موڑليا جاريہ منزلگاہ پر اترے بڑى تيزى كے ساتھ ان كا تعاقب كرنے كے لئے روانہ ہوگئے بسر ان كے خوف سے كبھى ايك طرف فرار كرجاتا اور كبھى دوسرى جانب يہاں تك كہ وہ حضرت علىعليه‌السلام كى قلمرو و حكومت سے باہر چلاگيا لوگوں نے جب اسطرح فرار ہوتے ہوئے انہيں ديكھا تو اچانك ان پر حملہ كرديا جاريہ كے خوف نے اس كو ايسا سراسيمہ و وحشت زدہ كيا كہ اس كو نہ تو تحفظ و دفاع كا ہوش رہا اور نہ ہى اس مال كو وہ اپنے ساتھ لے سكا جسے اس نے قتل و غارتگرى سے جمع كيا تھا بسر كا مقابلہ كئے بغير جاريہ واپس كوفہ تشريف لے آئے_(۱۴)

معاويہ كے تجاوزكارانہ اقدام كا نتيجہ

شام كے جن سرپسندوں نے فتنہ و فساد كے بيچ بوئے تھے ان كى اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كى زير حكومت قلمروپر پے در پے حملے سخت نقصان دہ نتائج كا باعث ہوئے ان ميں سے چند كا ذكر


ذيل ميں كيا جاتا ہے _

۱_ وہ اسلامى معاشرہ جس ميں اب امن و سكون مجال ہونے لگا تھا دوبارہ بد امنى اور بحرانى كيفيات كا شكار ہونے لگا خوارج كا فتنہ ابھى دبا ہى تھا بصرہ و كوفہ ميں بھى معاويہ كى تحريك كے شرپسند حملہ آوروں نے مدينہ، مكہ، يمن ا ور ديگر شہروں ميں فتنہ و فساد بپا كرنا شروع كرديا_

۲_ وہ بزدل اور سست عقيدہ لوگ اس خوف و خطرہ كے باعث جو اس وقت ماحول پر مسلط تھا يہ سوچنے لگے كہ حكومت اس قابل نہيں كہ امن بحال كرسكے اور معاويہ كے حملے آور ہرجگہ پر اپنا قبضہ كرليں گے اس لئے وہ معاويہ كى جانب چلے گئے_

۳_ ديگر عوامل كے ساتھ غارتگر دستوں كے حملے اس امر كے باعث ہوئے كہ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام جنگ نہروان كے بعد اپنى منتشر و متفرق فوجى طاقت كو تيزى كے ساتھ يكجا جمع نہ كرسكے نيز ايسے محكم و مضبوط فوجي، سياسى اور اقتصادى تشكيلات بھى وجود ميں نہ آسكيں جن كے باعث معاويہ كا مقابلہ كيا جاسكتا_

۴_ وہ لوگ جو حضرت علىعليه‌السلام كى حكومت كے حامى اور طرفدار تھے كثير تعداد ميں بزدلانہ حملوں ميں قتل ہوئے قبيلہ ہمدان كے سب ہى افراد حضرت علىعليه‌السلام كے پيرو و معتقد تھے وہ بسر كے حملوں كاشكار ہوئے جس ميں سارے مردوں كو قتل كرديا گيا اور عورتوں كو بُسر كى قيد ميں ڈال ديا گيا اور يہ وہ اولين مسلم خواتين تھيں جنہيں بردہ فروشوں كے بازار ميں لايا گيا_

دو متضاد سياسى روشيں

اوپر جو كچھ بيان كيا گيا ہے وہ چند نمونے اس سياسى روش و حكمت عملى كے ہيں جو معاويہ نے مطلق اقتدار حاصل كرنے اور حضرت علىعليه‌السلام كى حكومت كو تباہ و برباد كرنے كے لئے اختيار كى تھى اس كے مقابل ہم اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كى انصاف پسندانہ و عدل گسترانہ سياسى راہ و روش كو ديكھتے ہيں چنانچہ جس وقت جاريہ بن قدامہ كو حضرت علىعليه‌السلام رخصت كرنے لگے تو آپ نے يہ نصيحت كى كہ :


صرف جنگجو لوگوں سے ہى جنگ كرنا تم كو چاھے مجبورا پيدل سفر طے كرنا پڑے مگر عوام كے چوپايوں پر ہرگز نظر مت ركھنا جب تك كنوؤں اور چشموں كے مالك اجازت نہ دے ديں تم راستے ميں كسى كنويں اور چشمے كا پانى استعمال نہ كرنا كسى مسلمان كو فحش بات نہ كہنا جس سے تمہارا عہد و پيمان ہوجائے اس كے ساتھ عہد شكنى كر كے ظلم نہ كرنا اور ذرہ برابر خون نا حق نہ بہانا_ (۱۵)

جب ہم ان دو متضاد روشوں كا باہمى مقابلہ كرتے ہيں تو ديكھتے ہيں كہ ان ميں سے پہلى قتل و غارتگرى پر مبنى ہے اگر چہ يہ حكمت عملى بظاہر لوگوں كے مال و حقوق كا احترام كرتى ہے مگر چونكہ پہلا راستہ جس راہ سے گزر كر منزل مقصود تك پہنچتا ہے وہ اصول و ضوابط كے كسى دائرے ميں نہيں آتا اسى لئے وہ شرعى اور قانونى قواعد كى پابندى بھى نہى كرتا اس كے برعكس قانونى حدود اور انسانى قدريں دوسرے گروہ كى راہ ميں چونكہ مانع و حايل ہوتى ہيں اسى لئے وہ اسے ہرناجائز و ناروا كام كو انجام دينے سے روكتى ہيں _

حق گوئي اور عدل پسندى جيسى خصوصيات كى پابنديوں كے باعث حضرت علىعليه‌السلام كى سپاہ كے دنيا پرست افراد نے جہاد جيسے مقدس فرض كو انجام دينے ميں سستى و سہل انگارى سے كام ليا كيونكہ وہ اپنے سامنے ايسى جنگ ديكھتے تھے جس كا اجر اس دنيا ميں ان كے لئے موت كے سوا كچھ نہ تھا اگر وہ جنگ ميں كامياب ہوتے تو دشمن كے مال پر قبضہ نہيں كرسكتے تھے وہ كسى دشمن كو نہ تو اپنى مرضى سے قتل كرسكتے تھے اور نہ ہى اس كے بيوى بچوں كو اپنى قيد ميں ركھ سكتے تھے جب يہ شرائط و پابندياں عائد ہوں تو جنگ كس لئے كريں ؟ جنگ كے محركات احكام خداوندى كى پابندى اور انسانى فضائل پيش نظر ركھے جاتے تو ان كيلئے جنگ كرنا امر لاحاصل تھا اس كے برعكس اہل شام معاويہ كى ايك آواز پر فورا لبيك كہتے كيونكہ جنگ سے ان كے تمام حيوانى جبلتوں كو آسودگى ملتى جسے بھى وہ چاہتے قتل كرتے، كنيز و غلام بنا ليتے قتل و غارتگرى ہى ان كى آمدنى كا ذريعہ و وسيلہ تھا بالخصوص اہل شام ميں ان لوگوں كے جن كى تربيت اسلامى اصول كے مطابق نہيں ہوئي تھى حضرت علىعليه‌السلام نے كوفہ كے لوگوں سے خطاب كرتے ہوئے اس كى جانب اشارہ كرتے ہوئے فرمايا


تھا كہ جس چيز سے تمہارى اصلاح ہوتى ہے اور جو چيز تمہارى كجى كو درست كرتى ہے ميں اس سے واقف ہوں ليكن تمہارى اس اصلاح كو اپنے ضمير كى آواز كے خلاف ميں اور ناجائز سمجھتا ہوں (۱۶)

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كى ريا كار سياست مندوں كى راہ و ورش اختيار كرنے كے بجائے ہميشہ يہ كوشش رہى كہ عراق كے عوام كى اصلاح كے ذريعے عام لوگوں كے ضمير ميں اپنے جذبے كو بيدار كرتے رہيں نيز اسلامى معاشرے كى كمزورى اور دشمن كى طاقت كے عوامل كى جانب توجہ دلا كر انھيں اصلاح نفس و تہذيب اخلاق كى تعليم ديں تا كہ ان كى كمزوريوں كو دور كر كے انھيں دعوت حق قبول كرنے كى اصلاح دى جاسكے_

حضرت علىعليه‌السلام كے خطبات و ہمدردانہ نصائح ميں وہ تمام انسانى محركات اور مادى و معنوى پہلو موجود ہيں جن ميں عراق كے عوام كى فلاح و بہبود مضمر تھى چانچہ ہر درد و غم اور ہر كمزورى و ناتوانى كاعلاج ان پر كاربند رہ كر ہى كيا جاسكتا تھا اور اسى ميں ان كى فلاح و بہبود پنہاں تھى _

كوئي بھى فرد بشر وہ علم و اقتدار كے اعتبار سے خواہ كسى بھى مقام و منزلت پر ہو حضرت علىعليه‌السلام جيسى بصيرت نظر كے ساتھ اس كيفيت كو بيان نہيں كر سكتا تھا جو اس وقت عراق و شام پر مسلط و حكم فرما تھى اپنے رہبر كے حكم سے روگرداں ہو كر او رجہاد جيسے مقدم فرض سے كنارہ كشى كر كے عراق كے لوگوں كى كيا سرنوشت ہوسكتى تھى اسے حضرت علىعليه‌السلام سے بہتر كوئي دوسرا شخص بيان نہيں كرسكتا تھا اس كے ساتھ ہى آپعليه‌السلام نے بہترين دستور عمل پر كاربند رہنے كى ہدايت فرمائي تھى جس سے ان كى حالت فلاح و بہبود پاسكتى تھي_

ليكن عراق كے عوام آپعليه‌السلام كى نظر ميں ان سے كہيں بدتر تھے جنہيں معاويہ جنگ و پيكار كے لئے بھيجا كرتا تھا كيونكہ وہ دوستى كا لبادہ پہن كر آپعليه‌السلام كے پرچم كے نيچے جمع ہوتے اور ہوا خواہى و طرفدارى كا دم بھرتے ليكن اس كے ساتھ اس جنگ ميں جو اہل شام كى طرف سے شروع كى جاتى وہ دفاعى اقدام نہ كرتے وہ ہر لمحہ و لحظہ كوئي نہ كوئي بہانہ تراشتے رہتے كبھى كہتے كہ


موسم بہت گرم ہے اتنى تو مہلت ديجئے كہ دن كى تمازت ذرا كم ہوجائے اور كبھى يہ كہنے لگتے كہ موسم بہت سرد ہے اس وقت تك كے لئے صبر كيجئے كہ موسم معتدل ہوجائے_ (۱۷)

جب حضرت علىعليه‌السلام انھيں يہ كہہ كر لا جواب كرديتے كہ سردى و گرمى تو تمہارے لئے ايك بہانہ ہے خدا كى قسم تم اس قدر كاہل و بزدل ہوچكے ہو كہ اگر تلوار تمہارے روبرو آجائے تو اسے ديكھ كر فرار كرجاؤ گے اس پر وہ كہتے كہ ہم اس صورت ميں ہى ميدان كار زار كى طرف جاسكتے ہيں كہ جنگ ميں آپ بھى ہمارے ساتھ شريك ہوں _

ان كى يہ شرائط اس وضع ميں تھى جب كہ مركزى حكومت كو حضرت علىعليه‌السلام كى سخت ضرورت تھى ا س پر حضرت علىعليه‌السلام فرماتے كيا ان حالات كے تحت ميرے لئے ميدان جنگ كى جانب روانہ ہونا مناسب ہے تمہارى يہى شرط كافى ہے كہ ميں اپنے ايك دلاور اور قابل اعتماد فرماندار كا انتخاب كروں اور اس كے ہمراہ تمہيں جنگ پر روانہ كروں(۱۸)

حضرت علىعليه‌السلام كے دست مبارك ميں جب تك عنان حكومت رہى آپ كا كوئي بھى وقت ايسانہ گذرا جس ميں آپ نے عوام كى راہنمائي نہ فرمائي ہو وہ اپنے تجربيات اور علوم باطنى كے ذريعے ان پر وہ چيزيں كشف و عياں كرتے جن ميں ان كى فلاح و بہبود مضمر تھى اور انہى سے ان كى حالت بہتر ہوسكتى تھى چنانچہ ايك مرتبہ آپعليه‌السلام نے خود فرمايا تھا: كہ ميں نے تمہارے ساتھ رہ كر تمہارى ہمنشينى و ہمدمى كو زيبائي اور خوبصورتى بخشى اور ميرى ہميشہ يہى كوشش رہى كہ جس قدر ممكن ہوسكے تمہيں ذلت و خوارى كے حلقے اور جور و ستم كى بندشوں سے آزاد كروا دوں _(۱۹)

ليكن افسوس كہ حضرت علىعليه‌السلام نے اصلاح كى جو بھى ہمدردانہ سعى و كوشش كى اس كا اثر ان كے تھكے ہوئے جسموں پر اور خستہ و كوفتہ دل و دماغ پر اس حد تك نہ ہو سكا جس قدر آپعليه‌السلام چاہتے تھے چنانچہ يہى وجہ تھى كہ انہوں نے خود كا غارتگر شاميوں كے حوالے كرديا تا كہ جب بھى چاہيں اور جس طرح بھى چاہيں ان كے جان و مال كو نذر آتش كرديں _


فتنہ خريت

خوارج كے تباہ كن و خطرناك عقائد ان لوگوں كے دلوں ميں جو ذہنى طور پر فرسودہ و ناكارہ ہوچكے تھے اور اس كج رفتارى كيلئے آمادہ تھے بتدريج قوت پانے لگے اور ان كى وجہ سے اسلامى معاشرے كے لئے وہ نئي مشكل پيدا ہوگئي جس كا ذكر ذيل ميں آئے گا_

'' خريت بن راشد''(۲۱) بہت سرسخت خوارج ميں سے تھا جب حكميت كے نتيجے كا اعلان كيا گيا تو وہ اپنے حواريوں كوساتھ لے كر حضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں حاضر ہوا اور كہنے لگا كہ اس كے بعد مجھ سے آپعليه‌السلام كى اطاعت و فرمانبردارى نہ ہوسكے گى ميں آپعليه‌السلام كے پيچھے نماز بھى ادانہ كروں گا اور كل ميں آپ سے عليحدہ ہوجاؤں گا _

اپنے اس فيصلے كا محرك وہ مسئلہ حكميت كو سمجھتا تھا حضرت علىعليه‌السلام نے اس كو جواب دينے ميں نرم رويہ اختيار كيا اور اسے پند و نصيحت كرنے كے بعد فرمايا : كہ وہ حكميت كے بارے ميں چاہيں تو بحث و گفتگو كرسكتے ہيں اس وقت تو اس نے گفتگو كرنا مناسب نہ سمجھاالبتہ اگلے دن كا وعدہ كر كے چلا گيا مگر رات كے وقت وہ اپنے حواريوں كو ساتھ لے كر فرار كرگيا_

اور ديگر خوارج كى طرح دہشت پسندى اور غارتگرى شروع كردى چنانچہ راہ ميں اسے جتنے بھى كينہ پرور و عناد پسند لوگ ملے وہ اس كے ہمراہ ہوگئے وہ مدائن پہنچ گيا_

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام '' زياد بن خصفہ'' كو ان كا تعاقب كرنے كے لئے روانہ كيا اور مختلف شہروں ميں اپنے كار پردازوں كو بھى لكھا تا كہ وہ ان علاقوں ميں جو ان كے زير فرمان ہيں ان كى تلاش و جستجو كے لئے اپنے كارندے مقرر كريں اور اس كے نتائج سے آپ كو مطلع و باخبر كرتے رہيں(۲۲) _

حضرت علىعليه‌السلام كے ''قرظہ بن كعب نامى '' كارپرداز نے اسے اپنى حراست ميں لے ليا اور اس واقعے كى حضرت علىعليه‌السلام كو اطلاع كى حضرت علىعليه‌السلام نے زياد كو اس بارے ميں مطلع كيا اور حكم ديا كہ اسے ميرے پاس روانہ كردو اگر وہ آنے سے انكار كرے تو ان كے ساتھ جنگ كرو كيونكہ اس نے نيز


اس كے حواريوں نے حق كو پس پشت ڈال كر لوگوں كا ناحق خون بہلايا ہے اور راستوں ميں بد امنى پھيلا ركھى ہے_(۲۳)

زياد ا ور خريت ايك دوسرے كے مقابل آئے دونوں كے درميان گفتگو اور سوال و جواب ہوئے خريت اپنے عقيدے ميں پابر جاتھا دونوں كے درميان سخت جنگ ہوئي اور ان كے بيشتر افراد كارى زخموں كے باعث مجروح ہوئے جب رات ہوگئي تو خريت فرار كر كے اہواز كى سمت چلاگيا اور زيادہ واپس بصرہ تشريف لے آئے_

اہواز ميں بہت سے راہزن ، اس كے ہم عقيدہ عرب اور سطحى مسلمان جو اس كى تحريك كو دين پر ضرب لگانے، خراج ادا نہ كرنے اور قانون كى ہر قيد و بند سے خارج ہونے كا ذريعہ و وسيلہ سمجھتے تھے اس كے گرد جمع ہوگئے_

حضرت علىعليه‌السلام كو جب ان واقعات كى اطلاع ملى تو آپعليه‌السلام نے '' معقل بن قيس '' كو ايك ہزار افراد كے ہمراہ جنگ كرنے كے لئے بھيجا آپعليه‌السلام نے صوبہ دار بصرہ حضرت عبداللہ بن عباس كو بھى لكھا كو دو ہزار افراد كے ساتھ كسى دلير و بہادر نيز راستباز شخص كو روانہ كريں تا كہ وہ حضرت معقل كے ساتھ مل كر جنگ كر سكے اس كے ساتھ ہى آپعليه‌السلام نے زياد اور ان كے ہم قبيلہ لوگوں كى تعريف و توصيف كرتے ہوئے انھيں واپس آنے كے لئے حكم صادر كيا(۲۴) _

حضرت ابن عباس نے حضرت خالد بن معدان طائي كو دوہزار افراد كے ہمراہ روانہ كيا خريت كا تعاقب كرنے كے لئے حضرت معقل اہواز پہنچ كر اترے اس وقت خوارج وسيع دشت سے گذر كر كوہ رامہرمز كى بلنديوں كى جانب جانے كى كوشش و فكر ميں تھے تا كہ تعاقب كرنے والى جماعت كى نسبت وہ بہتر اور زيادہ مستحكم جگہ پر قيام كرسكيں ليكن معقل نے انھيں اچانك بے خبر نرغے ميں لے ليا اور ابھى وہ پہاڑ كے دامن سے اوپر نہيں گئے تھے كہ ان پر حملہ كرديا خونريز جنگ ، قبيلہ بنى ناجيہ كے تين سو ستر افراد كے قتل اور ان كے بے دين ساتھى كى كشت و كشتار(جن ميں كچھ عرب، بے دين اور بعض كر دشامل تھے) كے بعد خريت كيلئے فرار كے علاوہ كوئي چارہ باقى نہ رہ گيا


(۲۵) يہاں سے فرار كرنے كے بعد خريت بحرين ميں دور ترين ممكن مقام پر پناہ گزيں ہوا يہاں بھى اس نے اپنے اغراض و مقاصد كا پر چار شروع كرديا اوردوبارہ لوگوں كو اپنے گرد آنے كى دعوت دينے لگے معقل نے حضرت علىعليه‌السلام كے حكم كے مطابق ان كا تعاقب كيا بحرين پہنچنے كے بعد اس نے سب سے پہلے حضرت علىعليه‌السلام كا وہ خط پڑھ كرسنايا جس ميں آپعليه‌السلام نے مسلمانوں ، عيسائيوں ، مرتدين اور بے دين لوگوں سے خطاب كيا تھا اس كے بعد انہوں نے پرچم دين لہرايا اور كہا كہ خريت اور اس كے ان حواريوں كى علاوہ جو كينہ و عداوت كے باعث مسلمانوں سے عليحدہ ہوگئے ہو جو شخص بھى اس پرچم كے زير سايہ آجائے گا وہ امن و امان ميں رہے گا اور ابھى چند لمحے ہى گذر ے تھے كہ خريت كے اطراف ميں اس كے اہل قبيلہ كے علاوہ كوئي شخص نہ رہا اس كے اور معقل كے درميان سخت جنگ ہوى تجاوز كاروں كى استقامت و پايدارى ايك گھنٹہ سے زيادہ قائم نہ رہ سكى ان كا رہبر اپنے ايك سوسترسے زيادہ افراد كے ساتھ قتل ہوا باقى ساتھى ايسے فرار كر گئے جيسے بھيڑوں كے درميان كوئي بھيڑيا آيا ہوليكن وہ بھى گرفتار و قيد ہوا ان ميں سے جو لوگ تائب ہوگئے معقل نے انھيں آزاد كرديا اور باقى افراد كو جو تعداد ميں پانچ سو سے زيادہ تھے كوفہ كى جانب روانہ كرديا_(۲۶)

آخرس سعى و كوشش

۳۹ ۴۰ ہجرى كے دوران معاويہ كى يورش ميں چونكہ بہت اضافہ ہوگيا تھا اسى لئے حضرت علىعليه‌السلام نے اس كے حملوں كو روكنے كے لئے ان فوجى دستوں كو بھيجنے كے علاوہ جن كى حيثيت محفوظ لشكر كى تھى يہ فيصلہ كيا كہ اپنى تمام سعى و كوشش شام كى جانب لازم و ضرورى فوجى طاقت روانہ كرنے كيلئے صرف كرديں تا كہ معاويہ كى تجاوز كارى كا ہميشہ كے لئے سد باب ہوسكے كيونكہ آپ كے لئے اس كے علاوہ كوئي چارہ باقى نہيں رہ گيا تھا كہ مكمل جنگى سطح پر اس كا مقابلہ كيا جائے تا كہ اس شر سے ہميشہ كے لئے نجات حاصل ہو اور وہ بھى اپنى جگہ خاموش ہركر بيٹھے رہے_


اس فيصلے كے بعد آپ نے حضرت معقل بن قيس كو سَواد (۲۷) كوفہ(۲۸) كى جانب روانہ كيا تا كہ لوگوں كو جنگ ميں شريك ہونے كى دعوت دے سكيں _

آپعليه‌السلام نے والى آذربائيجان قيس بن سعد كو بھى خط لكھا جس ميں مرقوم فرمايا كہ وہ لوگوں كو شام كى جانب روانہ ہونے كيلئے آمادہ اور نظرياتى اعتبار سے ان ميں وحدت يكجہتى كرے(۲۹)

اس كے علاوہ حضرت علىعليه‌السلام نے خود بھى كوفہ كے لوگوں كو آمادہ كرنے كے لئے مفصل تقرير كى جس ميں آپعليه‌السلام نے فرمايا كہ اے ا للہ كے بندو گذشتہ اقوام كى تاريخ پر غور و فكر كرنا تمہارے لئے بيش قيمت درس عبرت ہے كہاں ہيں وہ بادشاہوں كے غول اور ان كے وارثين سلطنت كہاں ہيں فراعنہ اور ان كے جانشين ؟ كدھر گئے وہ خاندان رس كے مدنى فرمانروا جن سب نے پيغمبروں كو تہ تيغ، سنت كے روشن چراغوں كو خاموش اور ستمگروں كى راہ و روش كو زندہ كيا تھا كہاں گئے وہ فرمانروا جو عظيم لشكر لے كر روانہ ہوئے اور جنہوں نے ہزاروں بلكہ لاكھوں كى سپاہ كو شكست دى كدھر جاچھپى فاتحين كى وہ فوج كثير تعداد جو يكجا جمع ہوئي اور جس نے نئے شہروں كى بنياد ركھي؟

...خدا كے برگزيدہ و نيك بندے سفر پرجانے كے لئے كمربستہ ہوگئے انہوں نے دنيا كا فانى و بے ثبات چند روزہ چيزوں كا سودا آخرت كى جاودانى زندگى سے كيا سچ تو يہ ہے كہ ہمارے وہ بھائي جنہوں نے جنگ صفين ميں اپنا خون بہايا تھا اگر آج اس دنيا ميں نہيں ہيں تو انہوں نے كون سا خسارہ برداشت كيا؟

كہاں ہيں وہ ميرے بھائي جنہوں نے جہاد كى راہ اختيار كى اور جادہ حق طے كيا كہاں ہيں عماريا كہاں گئے ابن تيہان ذوالشہادتين ؟اور كدھر گئے ان جيسے دوسرے لوگ جنہوں نے موت سے عہد و پيمان كيا اور شرپسندوں كے ہاتھوں اپنے سر قلم كرائے اس كے بعد آپعليه‌السلام نے ريش مبارك پر اپنے ہاتھ ركھے اور كافى دير تك گريہ و زارى كرتے رہے _اس كے بعد فرمايا: كہ افسوس افسوس كہاں گئے وہ ميرے بھائي جنہوں نے قرآن پاك كى تلاوت كى اور زندگى ميں اسے اپنا حاكم بنايا اپنے فرائض كے پابند رہے اور ہميشہ انھيں پورا كيا انہوں نے سنت نبوى كو زندہ


اور بدعتوں كا قلع قمع كيا انہوں نے جہاد كى حكومت كو قبول كيا اور اپنے ہادى اور رہبر پر پورا اعتماد كرتے ہوئے اس كى پيروى كى _

اس كے بعد آپعليه‌السلام نے بآواز بلند فرمايا: (جہاد جہاد) اے خدا كے بندو ميں تمہيں يہ بتادينا چاہتا ہوں كہ آج ميں بھى تمہارے ساتھ عسكر گاہ كى جانب چلوں گا جو شخص بھى خدا كى جانب جلد از جلد آنا چاہتا ہے وہ نكل كر ہمارے ساتھ آئے_(۳۰)

آپعليه‌السلام كى اس سعى و كوشش كا يہ نتيجہ بر آمد ہوا كہ تقريبا چاليس ہزار افراد عسكر گاہ ميں جمع ہوگئے_

بقول '' نوف بكالي'' آپعليه‌السلام نے دس ہزار سپاہ كا پرچم حضرت امام حسينعليه‌السلام كو ديا دس ہزار سپاہى حضرت قيس كے زير نگرانى كئے دس ہزار سپاہ حضرت ابوايوب انصارى كى زير فرماندارى مقرر كئے اور دس ہزار سپاہى ان ديگر فرمانداروں كے حوالے كئے جنہوں نے اس تعداد ميں مزيد اضافہ كيا تھا اور حكم ديا كہ پورى فوج صفين كى جانب روانہ ہوليكن ابھى جمعہ بھى نہ گذر ا تھا كہ آپعليه‌السلام كے سرمبارك پر ابن ملجم نے كارى ضرب لگائي جس كے باعث لشكر بحالت مجبورى واپس كوفہ آگيا_(۳۱)

حضرت علىعليه‌السلام كے خلاف دہشت پسندانہ سازش

تمام مشكلات اور سختيوں كے باوجود حضرت علىعليه‌السلام جس زمانے ميں شام كى جانب روانہ ہوئے اور معاويہ سے جنگ كا تدارك كر رہے تھے اسى عرصہ ميں چند خوارج بظاہر مراسم حج بيت اللہ ادا كرنے كى نيت سے مكہ ميں جمع ہوئے يہاں انہوں نے چند جلسات كى تشكيل كى جس ميں ان مقتولين كو ياد كيا جو جنگ نہروان ميں كام آگئے تھے ان كے خيال ميں وہ لوگ بے قصور مارے گئے تھے اور ان كے قتل كے اصل ذمہ دار حضرت علىعليه‌السلام ، معاويہ اور عمروعاص تھے_

ان كے خيال ميں يہ تينوں ہى حضرات '' ائمہ ضلال (گمراہوں كے امام) تھے_ چنانچہ انہوں نے فيصلہ كيا كہ تينوں كا فيصلہ كرديا جائے تا كہ اس طرح باہمى اختلاف ، كشمكش اور ناانصافى كى بيخ


كنى كرديں _

ان ميں سے تين افراد نے اس مقصد كے لئے اپنى زندگى داؤ پر لگادى _ تا كہ تينوں مذكورہ حضرات كى زندگى كو ختم كرديں حضرت علىعليه‌السلام كو قتل كرنے كا ذمہ عبدالرحمن ابن ملجم نامى نے ليا انہوں نے اس سازش كى تكميل كے لئے باہمى عہد و پيمان كئے اور يہ فيصلہ كيا كہ بتاريخ ۱۹ ماہ رمضان ۴۰ ھ صبح كے وقت وہ اپنى دہشت پسندانہ كاروائي پر عمل در آمد كريں گے اس كے بعد وہ ايك دوسرے سے جداہوگئے_

ابن ملجم كوفہ ميں داخل ہوا اور اپنى چچازاد بہن قَطَام كے گھر پہنچا وہ اس كے ساتھ پہلے بھى چونكہ معاشقہ كرچكا تھا اسى لئے اب اسے اپنى شادى كرنے كا پيغام ديا قَطَام خود خوارج ميں سے تھى اس كے بھائي اور باپ كا قتل جنگ نہروان ميں ہوچكا تھا اسى لئے اس كے دل ميں حضرت علىعليه‌السلام كے خلاف سخت عداوت و دشمنى تھى اس نے كہا كہ ميں اس شرط پرشادى قبول كرسكتى ہوں كہ ايك كنيز و غلام اور تين ہزار درہم نقد دينے كے علاوہ تو علىعليه‌السلام كو قتل كردے اگر تو اس مقصد ميں كامياب ہوگيا تو تو ميرے كليجے كو ٹھنڈا كرے گا اور مجھ سے داد مراد پائے گا اور اگر كہيں تو خود مارا گيا تو تجھے دنيوى نعمتوں سے كہيں زيادہ عظيم اس كااجر و ثواب ملے گا _

ابن ملجم نے جب ديكھا كہ يہ عورت اس كام كے لئے بہت زيادہ اصرار كررہى ہے تو اس نے بتاديا كہ ميں يہى ناپاك ارادہ لے كر كوفہ سے آيا ہوں _(۳۲)

ابن ملجم نے شبيب بن بجرہ نامى دوسرے شخص سے جو خود بھى خوارج ميں سے تھا اس كام ميں مدد لى قطام نے و ردان بن مجالد كو بھى اس كے ساتھ كرديا تا كہ وہ بھى اس كام ميں اس كا مدد گار ہوسكے اس نے '' اشعث بن قيس'' كو بھى اپنا راز دار بناليا اس شخض نے بھى اس كام كو تمام كرنے كے لئے اس كى حوصلہ افزائي كي (۳۳)


شہادت كا انتظار

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے احاديث نبوى اور علم لدنى كى بنياد پر يہ پيشين گوئي كردى تھى كہ آپعليه‌السلام كى شہادت ماہ رمضان المبارك كے آخرى عشرہ ميں واقعہ ہوگى جب ماہ رمضان آگيا تو افطار كے بعد آپعليه‌السلام كبھى امام حسنعليه‌السلام كبھى امام حسينعليه‌السلام اور بعض راتوں ميں حضرت عبداللہ بن عباس كے گھر قيام فرماتے ليكن افطار كے وقت تين لقموں سے زيادہ تناول نہ فرماتے جب اس كى وجہ دريافت كى گئي تو آپعليه‌السلام نے فرمايا كہ ميرى يہ آرزو ہے كہ خداوند تعالى كا ديدار شكم سير ہوئے بغير كروں(۳۴)

ماہ مبارك كى انيسويں شب ميں اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام پر سخت ہيجانى كيفيت طارى تھى آپعليه‌السلام اچانك گھر كے اندر سے نكل كر صحن ميں تشريف لے آتے اور وہاں ٹہلنے لگتے اور آسمان كى طرف ديكھتے_ آپعليه‌السلام نے سب حاضريں كو بتادياتھا كہ آج كون سا عظيم حادثہ رونما ہونے والا ہے آپ يہ فرماچكے تھے كہ '' خدا كى قسم ميں غلط نہيں كہہ رہا رہوں اور مجھے غلط خبر نہيں دى گئي ہے كہ آج كى رات وہى رات ہے جس كا مجھ سے وعدہ كيا جاچكا ہے(۳۵)

اس رات حضرت علىعليه‌السلام تمام وقت بيدار رہے پورى رات تلاوت قرآن مجيد اور عبادت ميں گذرى طلوع فجر سے قبل جب آپ گھر سے مسجد تشريف لے جانے لگے تو راستے ميں مرغابياں آگئيں جنہيں راستے سے دور كرديا گيا اس پر حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا كہ انھيں كچھ مت كہو يہ نوحہ و گريہ كر رہيں ہيں(۳۶)

شہادت

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام مسجد ميں تشريف لائے جو لوگ محو خواب تھے انھيں بيدار كيا كہ خداوند تعالى كى عبادت و مناجات ميں مشغول ہوں آپعليه‌السلام نے ابن ملجم كو بھى بيدار كيا(۳۱) وہ تو اول شب سے ہى آپعليه‌السلام كى آمد كا منتظر تھا ا وراس وقت خود كو سوتا ہوا بناليا تھا اس كے بعد


آپعليه‌السلام نماز ادا كرنے كيلئے كھڑے ہوئے اور قلب و زبان كو ذكر خدا ميں مشغول كرديا_

اس وقت شبيب نے چاہا كہ آپعليه‌السلام پر تلوار سے وار كرے مگر اس كى تلوار محراب مسجد نے ٹكرا كر رہ گئي ابن ملجم تباہ كار جلدى سے آگے آيا اس نے اپنى تلوار اوپر اٹھائي اور باواز بلند كہا ''الحكم للہ لا لك يا على و لا لاصحابك'' يہ كہہ كر اس نے حضرت علىعليه‌السلام كے سر مبارك پر اپنى تلوار اٹھائي جو ٹھيك اسى جگہ لگى جہاں جنگ خندق ميں ''عمرو بن عبدود''(۳۷) كى تلوار آپ كے سرمبارك پر لگ چكى تھى حق و عدل كا وہ پيكر جو صريح و واضح كفر اور الحاد كے ضربات سے زمين پر نہيں گرسكا تھا آج نفاق اور جہل و تعصب آميز ظاہرى تقدس كے ايك ہى وار سے خاك و خون ميں لوٹنے لگا حضرت علىعليه‌السلام نے جيسے ہى ضرب شمشير كو محسوس كيا فرمايا: ''فزت و رب الكعبه'' (۳۸) قسم كعبہ كے خدا كى آج ميں نے كاميابى حاصل كي_

آپعليه‌السلام كے فرزندوں اور اصحاب پر تو گويا غم و اندوہ كا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہر طرف سے گريہ و نالہ اور آہ و بكا كى صدائيں سنائي دينے لگيں لوگ سراسيمگى كى حالت ميں مسجد كى جانب دوڑے_

حضرت علىعليه‌السلام كا سرمبارك حضرت امام حسنعليه‌السلام كى آغوش ميں تھا جس سے مسلسل خون جارى تھا زخم كى شدت اور بہت زيادہ خون بہہ جانے كى وجہ سے آپعليه‌السلام اب تك بے ہوشى كى حالت ميں تھے ابن ملجم بھى پكڑا گيا اور اسے حضرت امام حسنعليه‌السلام كى خدمت ميں پيش كيا گيا حضرت مجتبىعليه‌السلام نے اس سے فرمايا اے ملعون تو نے پيشوائے مسلمين حضرت علىعليه‌السلام كو قتل كرديا كيا نيكى اور خير خواہى كا بدلہ يہى ہے تو وہى شخص ہے جسے خليفہ وقت نے پناہ دى اور اپنا مقرب بنايا؟

اس كے بعد آپعليه‌السلام نے والد محترم كى خدمت ميں عرض كيا بابا جان يہ آپ كا اور خدا كا دشمن بحمداللہ گرفتار كرليا گيا ہے وہ اس وقت آپ كے روبرو حاضر ہے_

حضرت علىعليه‌السلام نے چشم مبارك كو كھولا اور فرمايا كہ تو بہت عظيم سانحہ كا مرتكب ہوا ہے اور تو نے نہايت ہى خطرناك كام كيا ہے كيا ميں تيرے لئے برا امام ثابت ہوا؟ ايسى كون سى مہربانى اور بخشش تھى جو ميں نے تيرے حق ميں روانہ ركھى كيا لطف و مہربانى كا يہى بدلہ وصلہ ہے؟


اس كے بعد آپعليه‌السلام نے حضرت امام حسنعليه‌السلام سے فرمايا كہ اے فرزند عزيز اپنے اس قيدى كے ساتھ خاطر و مدارات كا سلوك كرنا اور اس كے ساتھ مہربانى و نوازش سے پيش آنا_

جو كچھ تم كھاؤ اور پيو وہى تم اسے كھلانا اور پلانا اگر ميں مرجاؤں توميرے خون كے قصاص ميں اسے قتل كردينا مگر اس كے ناك، كان نہ كاٹنا كيونكہ ميں نے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى زبان مبارك سے سنا ہے كہ اس كتے كے بھى ناك كان نہ كاٹو جس نے تمہيں كاٹا ہے اور اگر ميں بچ گيا تو ميں ہى جانتا ہوں كہ اس كے ساتھ كيا سلوك كروں گا اسے معاف كردينے ميں مجھے سب پر فضيلت حاصل ہے كيونكہ ہمارا خاندان وہ خاندان ہے جس نے بڑے بڑے گناہگاروں كو معاف كيا اور ان كے ساتھ ہم بزرگوارى كے ساتھ پيش آتے ہيں(۳۹)

حضرت امام حسنعليه‌السلام اپنے والد بزرگوار كو گھر لے آئے لوگ گريہ و نالہ كرتے اور آپ سے رخصت ہوتے عجب كہرام كا عالم تھا لگتا تھا كہ غمگساروں كى جان كھينچ كرلبوں پر آگئي ہے_

حضرت امام مجتبىعليه‌السلام نے بعض اطبا كو جن ميں اثير بن عمرو سكونى سب سے زيادہ ماہر و حازق طبيب تھے علاج كے لئے بلايا انہوں نے كہا كہ بھيڑ كا تازہ جگر لاؤ اس كى ايك رگ انہوں نے حضرت علىعليه‌السلام كے زخم كے اندر ركھى اور اسے باہر نكال ليا انہوں نے ديكھا كہ مغز كى سفيدى اس رگ پر لگ گئي ہے اور دم شمشير كى ضرب نے دماغ تك اثر كيا ہے يہ ديكھ كر اس طبيب نے كہا '' يا اميرالمومنين اگر كوئي وصيت كرنا چاہيں تو كرديجئے''(۴۰)

اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے فرزندوں كو اخلاق حسنہ كى وصيت فرمائي اپنى زندگى كے قابل قدر و قيمت درس انھيں اور تمام مسلمين كو ديئے _ امور خلافت اپنے فرزند محترم امام حسنعليه‌السلام كو تفويض كيئے اور اس كا گواہ اپنے فرزندوں اور بزرگان خاندان كو بنايا كلام مجيد اور اپنا اسلحہ آپ كى تحويل ميں ديا_

جب حضرت علىعليه‌السلام اپنے فرزندوں كو پند ونصائح كرچكے تو آپعليه‌السلام نے موت كى علامات محسوس كيں اس كے بعد آپ قرآن پاك كى تلاوت ميں مشغول ہوگئے آخرى آيت جوآپ كى


زبان مبارك پر آئي وہ يہ تھي_

) فمن يعمل مثقال ذرة خير ايره و من يعمل مثقال ذرة شر ايره ( (۴۱)

(پھر جس نے ذرہ برابر نيكى كى ہوگى وہ اس كو ديكھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بدى كى ہوگى وہ اس كو ديكھ لے گا)

بتاريخ ۲۱ رمضان ۴۰ ھ اس وقت جب كہ آپ كاسن شريف تريسٹھ برس كا تھا آپ كى روح مقدس و مطہر اس جہان فانى سے پرواز كر كے عالم جاودانى كى جانب عروج كرگئي_

حضرت امام حسنعليه‌السلام نے اپنے ديگر بھائيوں اور حضرت علىعليه‌السلام كے اصحاب كى مدد سے اپنے شہيد والد محترم كى تجہيز كا انتظام كيا غسل و كفن كے بعد جب كچھ رات گذر گئي تو اس پيكر مقدس كو كوفہ سے باہر لے آئے تمام راستہ جنازے كے پيچھے رہ كر طے كيا اور جنازہ اس جگہ لايا گيا جو آج نجف اشرف كے نام سے مشہور و معروف ہے نماز جنازہ ادا كرنے كے بعد انتہايى خاموشى كے ساتھ اس پيكر تقدس كو سپرد خاك كرديا( ۴۲)

سلام عليه يوم ولد و يوم استشهد و يوم يبعث حيا

سلام ہو آپ پر جس دن آپ كى ولادت ہوئي اور جس دن شہيد كئے گئے اور جس دن زندہ اٹھائے جائيں گے_)


سوالات

۱_ معاويہ نے كن محركات كے تحت دہشت پسند دستے ان مناطق ميں بھيجے جہاں حضرت علىعليه‌السلام كى حكومت تھي؟

۲_ بسر بن ارطاہ نے جو قتل و غارتگرى كى اس كى كچھ مثاليں بيان كيجئے ان كے تجاوز كارانہ اقدام كا حضرت علىعليه‌السلام كى جانب سے كيا رو عمل ہوا؟

۳_ سپاہ عراق پر سپاہ شام كى كاميابى كے كيا عوامل تھے؟ نہج البلاغہ ميں بيان كئے گئے حضرت علىعليه‌السلام كے اقوال كى روشنى ميں اس امر كى وضاحت كيجئے؟

۴_ معاويہ كے حملات اور تجاوز كارانہ اقدامات كا سد باب كرنے كيلئے حضرت علىعليه‌السلام كا آخرى فيصلہ كيا تھا؟

۵_ اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كو قتل كرنے كے لئے خوارج نے كيا سازش كى اس اقدام ميں كون سے عوامل كار فرماتھے؟

۶_ حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے قاتل كے بارے ميں كيا ارشاد فرمايا؟ اور حضرت امام حسنعليه‌السلام كو اس سلسلے ميں كيا پند نصائح كيئے

۷_ حضرت علىعليه‌السلام كى شہادت كس تاريخ كو واقع ہوئي شہادت كے وقت آپ كا سن مبارك كتنا تھا؟


حوالہ جات

۱_ يہ كوفہ كے مغرب ميں شہر انباركے نزديك بستى تھى (معجم البلدان ج ۴ پ ۱۷۶)الغارات ج ۲ /۴۴۵ ، طبرى ج ۵ / ۱۳۳ ، كامل ابن اثير ج ۳ / ۴۷۵ ، شرح ابى الحديد ج ۲ / ۳۰۵ _ ۳۰۱

۲_ يہ شہر دريائے فرات كے كنارے بغداد اور انبار كے درميان واقع تھا(معجم البلدان ۵/۴۲۰)

۳_ شرح ابن ابى الحديد ج ۲ ص ۸۵ ، كامل ابن اثير ج ۳/۳۷۶ و الغارات ج ۲ /۴۶۴

۴_ نہج البلاغہ خ ۲۷

۵_ يہ بستى شام كے اطراف ميں شام اور وادى القرى كے درميان اس راستے پر واقع ہے جہاں سے شام و دمشق كے حجاج گذر كر مكہ پہنچتے تھے (معجم البلدان ج ۲ /۶۷)

۶_ تاريخ طبرى ج ۵/۱۳۴ ، كامل ابن اثير ج ۳/۳۷۶ ، تاريخ يعقوبى ج ۲/۱۹۶

۷_ يہ كوفہ كے راستے ميں ايسى بستى تھى جہاں حجاج قيام كرتے تھے يہ خزيمہ سے پہلے اور شقوق كے بعد حجاج كى منزل گاہوں پر واقع تھي_

۸_ يہ جگہ كوفہ كے نزديك خشكى كى سمت واقع تھى سرزمين طف اور زندان نعمان بن منذر اسى جگہ تھى (معجم البلدان ج ۴/۳۷۴)

۹_ تاريخ طبرى ج ۵/۱۳۵ ، ليكن ثقفى نے الغارات كتاب ج ۳/۴۲۲ ميں لكھا ہے كہ ضحاك بن قيس نے عمرو بن عميس نيز اس كے ساتھيوں كو قتل كرديا_

۱۰_ تدمر سرزمين شام كا قديم شہر تھا يہ جگہ شہر حلب سے پانچ دن كے سفر پر وقع تھى (معجم البلدان )_

۱۱_ تاريخ طبرى ج ۵ /۱۳۵ ، الغارات ج ۲/۴۲۵_

۱۲_ ملاحظہ ہو الغارات ج ۲ /۶۰۰، و ديگر بعد كے صفحات ، نيز شرح ابن ابى الحديد ج ۲/۱۷_۷ و الغاتى ۱۶/۲۶۶_

۱۳_ نہح البلاغہ خ ۲۵_

۱۴ شرح ابن ابى الحديد ج ۲ / ۱۶_

۱۵_ تاريخ يعقوبى ج ۲ / ۲۰۰_


۱۶_انى لعالم بما يصلحكم و يقم اودكم و لكنى لا ارى اصلاحكم بافساد نفسى نہج البلاغہ خ ۶۹_

۱۷_ نہج البلاغہ خ ۱۷_

۱۸_ نہج البلاغہ خ ۱۱۹_

۱۹_ نہج البلاغہ خ ۱۵۹_

۲۰_ ان كا ذكر سطور ذيل ميں آئے گا_

۲۱_ يہ حضرت جنگ جمل اور جنگ صفين ميں حضرت علىعليه‌السلام كے ہمراہ تھے جنگ جمل ميں تو انہوں نے قبيلہ نصر كى فرماندارى كے فرائض بھى انجام دئے ليكن مسئلہ حكميت كے بعد حضرت علىعليه‌السلام سے برگشتہ ہوگئے اور آپعليه‌السلام كى مخالفت پر اتر آئے _ الغارات ج ۱/۳۳۳_ ۳۳۲ _

۲۲_ الغارات ج ۱ ۳۳۸_۳۳۲_

۲۳_ الغارات ج ۱ ۳۴۲/۳۴۹_

۲۴_ الغارات ج ۱/۳۴۹_

۲۵_ الغارات جلد ،۱ ۳۵۳_۳۵۲_ كامل ابن اثير ج ۳ / ۳۶۸_۳۶۷_

۲۶_ الغارات ج ۱ /۳۵۹_كامل ابن اثير ۳/۳۶۹_

۲۷_'' سواد كوفہ '' اطراف كوفہ ميں وہ جگہ تھى جہاں كھجور كے درخت اس كثرت سے تھے كہ دور سے وہ جگہ سياہ نظر آتى تھى اسى وجہ سے اسے سواد كہا جاتا تھا يہ جگہ طول ہيں موصل سے آبادان تك اور عرض ميں غريب سے علوان تك پھيلى ہوئي تھى (مجمع البحرين ج ۳/۷۲)_

۲۸_ الغارات ج ۲ /۷۸۲ ، تقيح المقال ما مقانى ج۳/۲۹۷ _

۲۹_ تاريخ يعقوبى ج ۲ /۲۰۳_

۳۰_ ملاحظہ ہو نہج البلاغہ كا خطبہ ۱۸۲_

۳۱_ نہج البلاغہ خ ۱۸۲ ، ومناقب ابن شہر آشوب ج ۳ /۱۹۴_

۳۲_ مروج الذہب ج ۲/۴۱۱ ، بحار ج ۴۲/۲۲۸، مقاتل الطالبين ۱۸تاريخ طبرى ج ۵/۱۴۳_


۳۳ _ حضرت امام جعفر صادقعليه‌السلام سے روايت ہے كہ حضرت علىعليه‌السلام كے قتل ميں اشعث بن قيس شركت تھا اس كى بيٹى نے حضرت امام حسنعليه‌السلام كو زہر ديااس كابيٹا محمد بھى حضرت امام حسينعليه‌السلام كے قتل ميں شريك تھا بحار ج ۴۲/۲۲۶_

۳۴_ بحار ج ۴۲/۲۲۴ ، ارشاد مفيد ۱۴_

۳۵_و الله ما كذبت و لا كذبت انها معى ليلة التى وعدت فيها بحار ج ۴۲/۲۲۶ ، ارشاد ۱۵ _

۳۶_ذروهن فانهن نوائح بحار ج ۴۲ /۲۲۶ ، و ارشاد مفيد/۱۵_

۳۷_ بحار ج ۴۲/۲۲۶ ، ارشاد ص ۱۲_

۳۸_ مناقب ج ۳/۳۱۲ ، بحار ج ۴۲/۲۳۹_

۳۹_ بحار الانوار ج ۴۲ /۲۸۸_۲۸۷_

۴۰_ مقاتل الطالبين ۲۳_

۴۱_ سورہ زلزال آيہ ۶_

۴۲_ بحارالانوار ج ۴۲/۲۹۴_


فہرست

عرض ناشر: ۵

حضرت على _ كى زندگي مختلف ادوار ۶

پہلا سبق ۷

ولادت سے حضرت محمد مصطفي صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے مبعوث بہ رسالت ہونے تك ۷

ولادت ۹

پيغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے زير دامن آپ كى پرورش ۹

بعثت سے آنحضرت صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ہجرت تك ۱۱

بے نظيرقربانى ۱۲

ہجرت سے آنحضرت صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت تك ۱۲

علي عليه‌السلام رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے امين ۱۲

علي عليه‌السلام رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بھائي ۱۳

على عليه‌السلام اور راہ خدا ميں جنگ ۱۴

علي عليه‌السلام جنگ بدر كے بے نظير جانباز ۱۴

حضرت على عليه‌السلام رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے تنہا محافظ ۱۵

مرحلہ فتح و كاميابى : ۱۵

مرحلہ شكست : ۱۶

جنگ خندق ميں على عليه‌السلام كا كردار ۱۷

على عليه‌السلام فاتح خيبر ۱۸

اميرالمومنين عليه‌السلام كى سياسى زندگى ميں جنگجوئي كے اثرات ۱۹


حضرت على عليه‌السلام اور پيغمبر اكرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جانشيني ۲۰

حديث يوم الدار ۲۱

حديث منزلت ۲۲

قرآن مجيد ميں حضرت ہارون كے مقامات ومناصب: ۲۲

حديث غدير ۲۳

سوالات ۲۵

حوالہ جات ۲۶

دوسر ا سبق ۳۰

رسول اكرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت سے خلافت ظاہرى تك ۳۰

رسول اكرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت سے خلافت ظاہرى تك(۱) ۳۱

وفات پيغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو جھٹلانا ۳۱

غير متوقع حادثہ ۳۲

پيغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جانشينى كا مسئلہ شيعوں كى نظر ميں ۳۲

لاتعلقي ۳۴

لوگوں كا دور جاہليت كى جانب واپس چلے جانے كا خطرہ ۳۴

شورى ۳۵

وصى اور جانشين كا تقرر ۳۶

سقيفہ ميں رونما ہونے والے حالات ۳۷

اس خطبے كے اہم نكات ۳۸

انصار كا ردّعمل ۳۹


على عليه‌السلام كى بيعت كے بارے ميں تجويز ۴۰

سقيفہ كے واقعات كے بعد حضرت على عليه‌السلام كا ردعمل ۴۱

على عليه‌السلام نے كيوں عجلت نہيں كي؟ ۴۳

سوالات ۴۵

حوالہ جات ۴۶

تيسرا سبق ۴۸

رسول اكرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت سے خلافت ظاہرى تك ۲ ۴۸

حضرت على عليه‌السلام كے گھر ميں پناہ گزيني ۴۹

انصار سے مدد چاہنا ۵۰

حساس صورتحال ۵۰

قيام نہ كرنے كے دلائل اور وجوہات ۵۱

۱_ معقول فوجى طاقت كى كمي ۵۱

۲_ اسلام اور اسلامى وحدت كا تحفظ ۵۲

۳_ جاہليت كى طرف بازگشت ۵۳

۴_ كينہ تو ز دشمن ۵۴

بيعت كا انجام ۵۵

مسئلہ فدك ۵۵

فدك پر قابض ہونے كے محركات ۵۷

۱_ مخالفين كو اپنے جانب متوجہ كرنا ۵۷

۲_ جمع وخرچ كى مد ميں كمي ۵۸


۳_ على عليه‌السلام كى اقتصادى قوت كے باعث خطرے كا احتمال ۵۸

مخالفين كى سركوبي ۵۹

شورشوں كا دباجانا ۶۱

حضرت فاطمہ عليه‌السلام كى وفات ۶۱

سوالات ۶۴

حوالہ جات ۶۵

چوتھا سبق ۶۸

رسول اكرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت سے خلافت ظاہرى تك ۳ ۶۸

سرزمين شام و عراق كى فتح ۷۰

خليفہ وقت كى قرآن و سنت سے واقفيت ۷۱

حضرت على عليه‌السلام ' اور ابوبكر كى علمى و سياسى مشكلات ۷۱

جانشينى كا تعين ۷۲

قلمرواسلام كى وسعت ۷۳

فتوحات كى خوشخبريوں كے اثرات ۷۴

حضرت على عليه‌السلام كے ساتھ خليفہ ثانى كے سياسى وعلمى مشورے ۷۵

بنى ہاشم كى گوشہ نشيني ۷۶

احاديث نبوى كى حفاظت و كتابت پر پابندي ۷۷

بيت المالك كى تقسيم ميں خليفہ كا رويہ ۷۸

خليفہ دوم كا قتل ۷۹

كونسى شوري؟ ۷۹


مذكورہ شورى كے بارے ميں حضرت على عليه‌السلام كى نظر ۸۰

حضرت على عليه‌السلام كى شركت اور اس كى وجہ ۸۱

عثمان كى خلافت ۸۲

مسلمانوں كا بيت المال ۸۳

حضرت على عليه‌السلام كے پندو نصايح ۸۴

خليفہ سوم كا قتل ۸۶

حضرت على عليه‌السلام كى نظر ميں عثمان كا قتل(۴۶) ۸۷

پچيس سالہ حكومت خلفاء كے دوران على عليه‌السلام كے كارنامے ۸۸

سوالات ۹۰

حوالہ جات ۹۱

پانچواں سبق ۹۵

خلافت ظاہرى سے شہادت تك ۹۵

حضرت علي عليه‌السلام كى بيعت ۹۶

بيعت كے بعد لوگوں ميں سرور و شادماني ۹۸

قريش كى وحشت و پريشاني ۹۹

گوشہ نشين لوگ ۱۰۰

حضرت علي عليه‌السلام كى بيعت كے امتيازات ۱۰۱

سوالات كے جوابات ۱۰۲

حضرت على عليه‌السلام نے كن مقاصد كے تحت حكومت قبول فرمائي_ ۱۰۳

ابتدائي اقدامات ۱۰۴


نيك اور صالح كاركنوں كا تقرر ۱۰۵

مساوى حقوق كى ضمانت ۱۰۷

لوٹے ہوئے مال كى واپسي ۱۰۸

بدعنوانيوں ميں ملوث دولتمندوں كى رخنہ اندازي ۱۱۰

سوالات ۱۱۱

حوالہ جات ۱۱۲

چھٹا سبق ۱۱۵

خلافت ظاہرى سے شہادت تك ۲ ۱۱۵

ناكثين(حكومت على عليه‌السلام كى مخالفت) ۱۱۶

ناكثين ۱۱۷

موقف ميں تبديلي ۱۱۹

مكہ ميں مخالفين كا جمع ہونا ۱۲۱

سپاہ كے اخراجات ۱۲۲

عراق كى جانب روانگي ۱۲۳

سپاہ كى جانب عثمان بن حنيف كے نمايندوں كى روانگي ۱۲۴

پہلا تصادم ۱۲۵

دھوكہ وعہد شكني ۱۲۷

جمل اصغر ۱۲۷

سردارى پر اختلاف ۱۲۸

خبر رساني ۱۲۹


سوالات ۱۳۰

حوالہ جات ۱۳۱

ساتواں سبق ۱۳۵

خلافت ظاہرى سے شہادت تك ۳ ۱۳۵

حضرت على عليه‌السلام كى بصرہ كى جانب روانگي ۱۳۶

ربذہ ميں قيام ۱۳۸

لشكر كا جاہ وجلال ۱۴۰

صلح كى كوشش ۱۴۱

لشكر كے لئے دستورالعمل ۱۴۳

دشمن كو متفرق كرنے كى آخرى كوشش ۱۴۴

فيصلہ كن جنگ ۱۴۵

عام معافي ۱۴۸

سوالات ۱۵۰

حوالہ جات ۱۵۱

آٹھواں سبق ۱۵۴

خلافت ظاہرى سے شہادت تك ۴ ۱۵۴

حضرت علي عليه‌السلام كى بصرہ كى آمد ۱۵۵

جنگ جمل كے ناخوشگوار نتائج ۱۵۶

كوفہ دارالحكومت ۱۵۸

كوفہ پہنچنے پر على عليه‌السلام كے اقدامات ۱۶۰


قاسطين ۱۶۱

معاويہ كى تخريب كاري ۱۶۲

امام على عليه‌السلام كا نمايندہ معاويہ كى جانب ۱۶۳

سركشى كے اسباب ۱۶۴

۱_ دشمنى اور كينہ ۱۶۴

۲_ حكومت كى آرزو ۱۶۵

۳_ ناكثين كى شورش ۱۶۶

۴_ گزشتہ خلفاء كى دليل ومثال ۱۶۶

۵_ پروپيگنڈہ ۱۶۷

مشہور و معروف اشخاص كواپنانا ۱۶۸

سوالات ۱۷۰

حوالہ جات ۱۷۱

نواں سبق ۱۷۳

قاسطين (جنگ صفين)۱ ۱۷۳

حضرت على عليه‌السلام كا معاويہ كے ساتھ مراسلت ميں محرك ۱۷۴

حجاز كى جانب دراز دستي ۱۷۵

نمايندے كى روانگي ۱۷۷

مہاجرين و انصار سے مشورہ ۱۷۸

عمومى فوج ۱۷۹

كمانڈروں كا تقرر ۱۸۱


صفين كى جانب روانگي ۱۸۲

شام ميں بحرانى حالات كا اعلان ۱۸۴

پہلا مقابلہ ۱۸۵

پانى پر بندش ۱۸۶

سوالات ۱۸۹

حوالہ جات ۱۹۰

دسواں سبق ۱۹۳

قاسطين (جنگ صفين)۲ ۱۹۳

نمائندگان كى روانگي ۱۹۴

دوبارہ وفود كى روانگي ۱۹۵

معاويہ كے نمائندے ۱۹۵

دغہ بازى كمزور كا حربہ ۱۹۶

لشكر كے سرداروں سے ملاقات ۱۹۷

۲_ قاريوں ، زاہدوں كى جماعت سے ملاقات ۱۹۷

۳_ سپاہ كے درميان خلل اندازي ۱۹۸

فيصلہ كن جنگ ۱۹۹

عام جنگ ۲۰۱

قرآن كى طرف دعوت ۲۰۴

معاويہ كہاں ہے؟ ۲۰۴

حضرت على عليه‌السلام ميدان كارزار ميں ۲۰۶


دوستوں كى حمايت و مدد ۲۰۷

سوالات ۲۰۹

حوالہ جات ۲۱۰

گيارھواں سبق ۲۱۲

قاسطين (جنگ صفين) ۳ ۲۱۲

استقامت و پايدارى كيلئے نصيحت ۲۱۳

فرار كرنے والوں كى تنبيہ و سرزنش ۲۱۴

جنگ ميں مالك كا كردار ۲۱۴

دو حجر كى جنگ ۲۱۵

حريث كا قتل ۲۱۶

آخرى تجويز ۲۱۷

بدترين طريقے كا سہارا ۲۱۸

دشمن كے سرداروں كا اعتراف ۲۱۸

پھر دھوكا ۲۱۹

دو لائق سپہ سالاروں كى شہادت ۲۲۱

حضرت عمار كى شہادت كارد عمل ۲۲۵

سوالات ۲۲۷

حوالہ جات ۲۲۸

بارھواں سبق ۲۳۱

قاسطين (جنگ صفين)۴ ۲۳۱


نجات كے لئے كوشش ۲۳۲

آخرى فريب ۲۳۴

سپاہ عراق كا رد عمل ۲۳۶

سپاہ عراق ميں نظرياتى اختلاف ۲۳۷

مالك كا واپس آنا ۲۴۰

سركشوں كى سرزنش ۲۴۱

نفاق و حماقت كے خلاف جدوجہد ۲۴۳

حكميت و ثالثى كى دعوت ۲۴۴

معاويہ كى جانب روانگي ۲۴۵

حكمين (ثالثوں ) كا انتخاب ۲۴۶

سوالات ۲۴۸

حوالہ جات ۲۴۹

تيرھواں سبق ۲۵۱

قاسطين (جنگ صفين)۵ ۲۵۱

خوارج كى نامزدگي ۲۵۲

حكميت كا معاہدہ ۲۵۶

جنگ صفين كے عبرت آموز سبق ۲۵۹

جنگ كے نتائج ۲۶۰

سركشوں كى تشكيل و گروہ بندي ۲۶۲

حضرت على عليه‌السلام خوارج كے درميان ۲۶۳


منافقين كى تحريكات ۲۶۴

سوالا ت ۲۶۷

حوالہ جات ۲۶۸

چودھواں سبق ۲۷۰

مارقين _ حكميت كا نتيجہ و رد عمل ۲۷۰

منصفين كا اجتماع ۲۷۱

حكميت كا نتيجہ اوراس كا رد عمل ۲۷۲

ج) مارقين ۲۷۵

خوارج كے مقابل حضرت على عليه‌السلام كا موقف(۹) ۲۷۵

منشور ۲۷۸

مجموعى نعرہ ۲۷۹

بغاوت ۲۷۹

معاويہ سے جنگ ۲۸۱

خوارج كے ساتھ جنگ كى ضرورت ۲۸۳

جنگ كا سدّ باب كرنے كى كوشش ۲۸۴

سوالات ۲۸۷

حوالہ جات ۲۸۸

پندرھواں سبق ۲۹۱

مارقين _ جنگ نہروان ۲۹۱

دو سپاہ كے درميان جنگ و نبرد ۲۹۲


جنگ كے بعد ۲۹۳

اصل دشمن كى جانب توجہ ۲۹۴

غاليوں كاوجود(۸) ۲۹۵

جنگ نہروان كے نتائج و عواقب ۲۹۶

جہادكى دعوت ۲۹۷

حضرت مالك كا صوبہ دا مصر كى حيثيت سے تقرر ۲۹۸

حضرت مالك كى شہادت ۳۰۰

مصر پر لشكر كشي ۳۰۱

محمد بن ابى بكر كى شہادت ۳۰۴

لوگوں كى تنبيہ و سرزنش ۳۰۵

سوالات ۳۰۷

حوالہ جات ۳۰۸

سولھواں سبق ۳۱۱

نہروان كے بعد ۳۱۱

دہشت پسند اور غارتگر گروہ ۳۱۲

۱_ نعمان بن بشير ۳۱۳

۲_ سفيان بن عوف ۳۱۳

۳_ عبداللہ بن مسعدہ ۳۱۵

۴_ ضحاك بن قيس ۳۱۵

۵_ بسر بن ارطاہ ۳۱۶


حضرت على عليه‌السلام كار و عمل ۳۱۶

معاويہ كے تجاوزكارانہ اقدام كا نتيجہ ۳۱۷

دو متضاد سياسى روشيں ۳۱۸

فتنہ خريت ۳۲۲

آخرس سعى و كوشش ۳۲۴

حضرت على عليه‌السلام كے خلاف دہشت پسندانہ سازش ۳۲۶

شہادت كا انتظار ۳۲۸

شہادت ۳۲۸

سوالات ۳۳۲

حوالہ جات ۳۳۳