تاريخ اسلام(حضرت فاطمہ(س) اور ائمہ معصومين (ع) كى حيات طيبہ)- جلد 4
گروہ بندی متن تاریخ
مصنف مرکزتحقیقات علوم اسلامی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام كتاب: تاريخ اسلام ۴ (حضرت فاطمہ(س) اور ائمہ معصومينعليه‌السلام كى حيات طيبہ)

مؤلف: مركز تحقيقات اسلامي

مترجم: معارف اسلام پبلشرز

ناشر: نور مطاف

جلد: چوتھي

اشاعت: دوسری

تاريخ اشاعت: رجب المرجب ۱۴۲۸ ھ_ق

تعداد: ۳۰۰۰

Web : www.maaref-foundation.com

E-mail: info@maaref-foundation.com

جملہ حقوق طبع بحق معارف اسلام پبلشرز محفوظ ہيں _


عرض ناشر:

ادارہ معارف اسلام پبلشرز اپنى اصلى ذمہ دارى كو انجام ديتے ہوئے مختلف اسلامى علوم و معارف جيسے تفسير، فقہ، عقائد، اخلاق اور سيرت معصومين(عليہم السلام) كے بارے ميں جانے پہچانے محققين كى قيمتى اور اہم تاليفات كے ترجمے اور طباعت كے كام كو انجام دے رہاہے_

يہ كتاب تاريخ اسلام ۴ (حضرت زہرا (س) اور ائمہ معصومينعليه‌السلام كى حيات طيبہ )جو قارئين كے سامنے ہے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے اہل بيت اطہارعليه‌السلام كى سيرت اور تاريخ پر لكھى جانے والى كتابوں كے سلسلے كى ايك كڑى ہے جسے گذشتہ سالوں ميں ترجمہ كرواكر طبع كيا گيا تھا_ اس ترجمہ كے دستياب نہ ہونے اور معزز قارئين كے مسلسل اصرار كے باوجود اس پر نظر ثانى اور اسے دوبارہ چھپوانے كا موقع نہ مل سكا_

اب خداوند متعال كے لطف و كرم سے اس نفيس سلسلے كى چوتھى اور آخرى جلد كو نظر ثانى اور تصحيح كے بعد زيور طبع سے آراستہ كركے اردو زبان قارئين كى خدمت ميں پيش كيا جارہاہے_

آخر ميں تمام مترجمين اور تصحيح كرنے والے حضرات كے شكر گزار ہيں اور دعاگو ہيں كہ پروردگار عالم ہم سب كو سيرت معصومين (عليہم السلام) پر عمل پيرا ہونے كى توفيق عنايت فرمائے_

ان شاء اللہ تعالى

معارف اسلام پبلشرز


پہلا سبق:

حضرت علىعليه‌السلام كى زندگى كے حالات (پہلا حصہ)


ائمہ طاہرين اور ان كى تعداد

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت كے بعد ، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے جانشينوں اور لوگوں كے دين و دنيا كے پيشواؤں كى تعداد بارہ ہے اور اس سلسلہ ميں عامہ اور خاصہ دونوں ہى نے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بہت سى روايتيں نقل كى ہيں يہاں تك كہ ان ميں سے بہت سى روايتوں ميں ائمہ معصومينعليه‌السلام كے ناموں كى صراحت بھى موجود ہے(۱) _

ان حضرات كى تعداد اور ناموں پر رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى نص كے علاوہ ہر امامعليه‌السلام نے خدا كے حكم سے اپنے بعد والے امامعليه‌السلام كا تعارف بھى كراياہے_ جيسا كہ پہلے امام حضرت امير المؤمنين نے شہادت كے وقت اپنے بيٹے امام حسنعليه‌السلام كے نام كى تصريح فرمادى تھى اور امام حسنعليه‌السلام نے بھى اپنى وفات كے وقت اپنے بھائي امام حسينعليه‌السلام كے عہدہ امامت كا اعلان كرديا تھا نيزيہى عمل تمام ائمہ معصومينعليه‌السلام نے انجام ديا_

ائمہ معصومين كے نام:

۱ _ حضرت امير المؤمنين على بن ابيطالبعليه‌السلام

۲ _ حضرت امام حسن مجتبىعليه‌السلام

۳ _ حضرت امام حسينعليه‌السلام

۴ _ حضرت امام سجادعليه‌السلام


۵ _ حضرت امام محمد باقرعليه‌السلام

۶ _ حضرت امام جعفر صادقعليه‌السلام

۷ _ حضرت امام موسى كاظمعليه‌السلام

۸ _ حضرت اما م رضاعليه‌السلام

۹_ حضرت امام محمد تقىعليه‌السلام

۱۰_ حضرت امام على النقىعليه‌السلام

۱۱ _ حضرت امام حسن العسكرىعليه‌السلام

۱۲ _ حضرت امام مہدى (حجة بن الحسن)عليه‌السلام

ائمہ معصومين كى سيرت

ہمارے بارہ امام پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اكرم كى تعليم و تربيت كا كامل نمونہ تھے، ان حضرات كى سيرت ، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كى سيرت تھى _

البتہ دو سو پچاس سال كى مدت (يعنى ۱۱ ھ ق سے ليكر ۲۶۰ ھ ق ) تك جب يہ معصومينعليه‌السلام حضرات لوگوں كے درميان موجود تھے اس زمانہ ميں مختلف حالات پيش آتے رہے كہ جن ميں ائمہ معصومينعليه‌السلام كى زندگى مختلف شكلوں ميں جلوہ گر ہوتى رہى ليكن پھر بھى انہوں نے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اكرم كے اصلى مقصد يعنى اسلام كى نشر و اشاعت اور اصول و فروع كو تغيير و تبديلى اور تحريف سے محفوظ ركھنے نيز ممكنہ حد تك لوگوں كى تعليم و تربيت تا سلسلہ ميں كسى قسم كا دريغ نہيں كيا_

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے ۲۳ سالہ تبليغى دور ميں زندگى كے تين مرحلوں سے گزرے ہيں ، چنانچہ بعثت كے شروع كے تين سال آپ نے پوشيدہ طور پرتبليغ كرنے ميں گزارے، اس كے بعد دس سال تك مسلسل مكہ ميں على الاعلان لوگوں كو دعوت اسلام ديتے رہے جس ميں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے


پيروكار دونوں ہى دشمنان اسلام كى طرف سے ڈھائے جانے والے سخت مظالم اور آزار كا شكار رہے ، اس دور ميں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كودين اسلام كى تبليغ كے لئے كسى طرح كى آزادى حاصل نہيں تھى _ پھر آخر كے دس سال اس حالت ميں گزرے كہ حكومت اسلامى كى بنياد ركھى گئي اور اسلام نے اپنى فاتحانہ ترقى اور پيش قدمى كو جارى ركھا اور ہر لحظہ مسلمانوں پر كمال و دانش كے دروازے كھلتے رہے_

ائمہ معصومين گوناگوں حالات سے دوچار تھے_ ان كے زمانے كى صورت حال، پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہجرت كے پہلے والے زمانہ كے ساتھ بہت زيادہ مشابہت ركھتى تھى كبھى توبعثت كے پہلے تين سالوں كى طرح ، كسى صورت سے بھى اظہار حق ممكن نہ تھا اسى وجہ سے يہ حضرات بھى نہايت احتياط كے ساتھ اپنے فرائض پر عمل كرتے رہے ہيں جيسا كہ چوتھے امام حضرت زين العابدينعليه‌السلام نے يہى كيا_

اور كبھى ہجرت سے دس سال پہلے كى طرح صرف نشر احكام اور معارف دين كى تعليم ديتے اور افراد كى تربيت كرتے تھے ادھر حكاّم بھى ايذا رسانى سے باز نہيں آتے تھے اور ہر روز ايك نئي مشكل پيدا كرديتے تھے_

پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ہجرت كے بعد كے حالات سے كسى حد تك حضرت امام علىعليه‌السلام كے پانچ سالہ دور حكومت كے حالات اور حضرت امام حسنعليه‌السلام كى زندگى كے تھوڑے دنوں كے حالات كے مشابہ تھے_ نيز اسى طرح كى صورت حال حضرت امام حسينعليه‌السلام كى زندگى ميں بھى پيش آئي،جس ميں حق مكمل طور پر جلوہ گر ہوا اور اس نے شفاف آئينہ كى طرح پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے زمانہ كے عمومى حالات كو پيش كيا_

اس زمانہ كے علاوہ كہ جس كى طرف اشارہ كيا گيا ہے اور كسى بھى زمانہ ميں ائمہ معصومين نے آشكارہ طور پروقت كے حكمرانوں كى مخالفت نہيں كى اور نہ ہى ان سے كھلم كھلا برسر پيكار ہوسكے اسى وجہ سے ان كے لئے قول و عمل ميں تقيہ ناگزير تھا _ اس كے باوجود بھى ان كے دشمن، ان كى شمع حيات كو گل كرنے اور ان كے آثار كو مٹانے كى كوششوں ميں لگے رہے_


اختلاف كى اصل وجہ

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بعد اسلامى معاشرہ ميں مختلف حكومتيں بنيں اور انہوں نے اپنے آپ كو حكومت اسلامى كا نام ديا_ بنيادى طور پر يہ تمام حكومتيں اہل بيت كى مخالف تھيں _

نيز يہ مخالفت اور دشمنى ناقابل آشتى ،بنيادى اور اعتقادى تھي_ يہ صحيح ہے كہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنى احاديث ميں اپنے اہل بيتعليه‌السلام كے فضائل و مناقب بيان فرمائے ہيں كہ جن ميں سے ايك اہم ترين سمجھى جانے والى بات يہ ہے كہ اہل بيتعليه‌السلام ،احكام دين ،معارف قرآن اور خدا كى حلال و حرام كردہ چيزوں سے مكمل طور پر آگاہ تھے اور وہ انھيں لوگوں كے لئے بيان فرماتے تھے نتيجہ ميں ان كى تعظيم اور احترام تمام امت پرلازم تھا، ليكن امت نے پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى اس وصيت كاحق ادا نہيں كيا_

مختلف مقامات خصوصاً غدير خم ميں پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علىعليه‌السلام كو اپنا جانشين معين فرماديا تھا، ليكن اس كے برخلاف كچھ مسلمانوں نے پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت كے بعد دوسروں كو پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا جانشين چن ليا اوراہل بيتعليه‌السلام كوان كے مسلّم حق سے محروم كرديا_ نتيجہ ميں حكومت وقت ،اہل بيت كوہميشہ اپناخطرناك رقيب شمار كرتى رہى اور مختلف طريقوں سے انہيں ختم كردينے يا گوشہ نشين بنادينے كى كوشش ميں لگى رہى _ائمہ معصومين پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اعظم كى سيرت كوامت اسلامى كے سامنے پيش كرتے تھے، حكومت اسلامى كے فرائض كى رعايت اور اسلام كے تمام احكام كے اجراء كو ضرورى سمجھتے تھے_ ليكن پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بعد تشكيل پانے والى حكومت ، احكام اسلامى كى مكمل رعايت اور سيرت پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى متابعت كى پابندى نہيں كرتى تھى بلكہ ہميشہ اپنى نفسانى اور سياسى خواہشوں كے مطابق احكام اور قوانين كى تفسير كرتى رہى ، اميرالمؤمنين _ان كے بارے ميں فرماتے ہيں كہ :

'' بيشك يہ دين اشرار كے ہاتھوں ميں اسير، نيز ہوا وہوس اور دنيا طلبى كا ذريعہ ہوگياہے''(۲)

ابن ابى الحديد شرح نہج البلاغہ ميں حضرت علىعليه‌السلام كى خصوصيات كوبيان كرنے ہوئے فرماتے


ہيں :

''حضرت على _شريعت كے پابند تھے اور جو كچھ دين كے خلاف تھا اس كو يكسر نظر انداز كر ديتے تھے اور اس پر عمل نہيں كرتے تھے_''

اسى طرح حضرت علىعليه‌السلام خود فرماتے ہيں كہ :

'' اگر دين و تقوى مانع نہ ہوتا توميں عرب كا زيرك ترين شخص ہوتا_''

ليكن دوسرے خلفاء نے جو خود بہتر سمجھا اور جوان كى رائے كے مطابق تھا اسى پر عمل كيا، چاہے وہ شرع كے مطابق ہو يا نہ ہو _(۳)

خداوند عالم نے چند آيات ميں امت اسلامى كوحتى كہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو احكام اسلامى ميں تبديلى كرنے سے منع كيا ہے_ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام نے بھى ان ناقابل تغيير احكام اور قوانين كى روشنى ميں لوگوں كے درميان ايسى روش اختيار كى كہ جس سے قوانين الہى كے اجراء ميں زمان ، مكان اوراشخاص كے اعتبار سے كوئي فرق نہ رہ جاتا_

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى سيرت طيبہ كا مقصد صرف يہ تھا كہ احكام آسمانى ،لوگوں كے درميان عادلانہ اور مساوى طور پر جارى ہوسكيں اوراسلام كے قوانين ميں كوئي تبديلى اور تحريف واقع نہ ہو اسى روش كے ذريعہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے لوگوں كے درميان ہر طرح كے امتياز كو ختم كرديا حتى كہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،خدا كے حكم سے واجب الاطاعت حاكم اور فرمانروا قرار پائے _پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے لئے ان كى زندگى ميں بجز اس امتياز كے كہ جو دستور خداوندى كے وجہ سے تھا ذرہ برابر بھى لوگوں كى بہ نسبت كوئي امتياز نہ تھا _

ليكن ائمہ معصومين كے زمانہ ميں برسر اقتدار حكومتوں نے ظاہرى لحاظ سے بھى اپنى سيرت كو پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى سيرت سے منطبق نہيں كيا اور اپنى راہ و روش كو يكسر بدل ڈالا_

۱_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كى رحلت كے بعد اسلامى معاشرہ ميں شديدترين اختلافات رونما ہوئے اور امت اسلامي، طاقتور اور كمزور دو دستوں ميں تقسيم ہوگئي _(۴) اور ايك گروہ كى عزت و آبرو اور جان ومال دوسرے گروہ كى ہوا وہوس كا بازيچہ بن گئي _


۲_ نام نہاد اسلامى حكومتيں تدريجاً قوانين اسلامى كو بدلنے لگيں اوركبھى اسلامى معاشرہ كى مصلحت كو بالائے طاق ركھتے ہوئے اپنى حكومت اور اقتدار كے تحفظ كى خاطر احكام الہى پر عمل كرنے سے كتراتى تھيں اور اسلامى دستور و قوانين كى مخالفت كرتى تھيں _

يہ روش روز بروز وسعت پاتى گئي اورنوبت يہاں تك پہونچى كہ زمامداران حكومت اور كام كرنے والوں ميں ذرّہ برابر احكام اسلامى اور دينى حدود كى پابندى كا پاس و لحاظ نہ رہا_

ليكن ائمہ معصومين ، قرآن كے حكم كے مطابق احكام اسلام اور سيرت پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے اجراء كو ہميشہ اور تمام لوگوں كے لئے لازم جانتے تھے، اسى اختلاف اور تضاد كى بناپر اس وقت كى حكومتيں اپنى طاقت كا فائدہ اٹھاتے ہوئے ائمہ معصومين كى حيثيت كوكمزور بنانے اور ان كومعاشرے اور لوگوں سے دور كرنے كى كوششيں كرتى رہيں اور ہر ممكن طريقہ سے ان كے نور كوگل كرنے ميں لگى رہيں _(۵)

اہل بيت شديد مشكلات سے دوچاررہے اور سخت ترين كينہ توز دشمنوں ميں رہنے كے باوجود بھى حقائق دين كى تبليغ كرتے رہے اور صالح افراد كى تربيت سے دست بردار نہ ہوئے_

ان كى مسلسل تعليم و تربيت ہى كا اثر تھا كہ حق كے پيرو كاروں كى تعداد، رحلت پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے وقت مختصر ہونے كے باوجود اواخر عصر ائمہعليه‌السلام ميں كثير ہوگئي_

على ابن ابيطالب _

مذكورہ بالا مقدمہ ميں ہم نے ائمہ معصومينعليه‌السلام كى عمومى سيرت اورانكى معاصرحكومتوں كا اجمالى ذكر كيا ہے نيز ان كے درميان اختلاف كے اسباب كى تحقيق پيش كر دى ہے ،اور اب ہم ائمہ معصومينعليه‌السلام كى سوانح عمرى كے بارے ميں بقدر گنجائشے دروس بيان كريں گے يہ توواضح ہے كہ تمام معصوم پيشواؤں كى مكمل علمى ، سياسى اور اجتماعى زندگى كو چند گھنٹوں ميں بيان نہيں كيا جاسكتا_ لہذا


مختصر وقت كے پيش نظر، رہبران الہى كى زندگى كا سرسرى جائزہ ہى پيش كيا جارہا ہے_

ابتدا پہلے امام حضرت اميرالمؤمنينعليه‌السلام كى زندگى سے كى جارہى ہے_ آپعليه‌السلام كى زندگى كو پانچ حصوں ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے_

الف_ ولادت سے بعثت پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تك

ب_ بعثت سے ہجرت پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تك

ج_ ہجرت سے رحلت پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تك

د_ رحلت پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے خلافت تك

ہ_ خلافت سے شہادت تك

اب ہم ان پانچوں حصوں ميں سے ہر حصہ كے بارے ميں بحث كا نچوڑ پيش كريں گے_

ولادت سے بعثت پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تك

حضرت على بن ابى طالب _جمعہ كے دن ۱۳ رجب ۳۰ ھ ق عام الفيل (بعثت سے دس سال پہلے) خانہ خدا ميں پيدا ہوئے_(۶) ان كے پدر عاليقدر '' عمران''(۷) ابن عبدالمطلب ابن ہاشم ابن عبد مناف تھے اور ان كى والدہ ماجدہ فاطمہ بنت اسد ابن ہاشم ابن عبد مناف تھيں _

حضرت على _نے چھ سال كى عمر تك اپنے والدين كے پاس زندگى گزارى اس كے بعد حضرت محمد ابن عبداللہ كى درخواست پر اُن كے پاس چلے آئے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے دامن تربيت ميں رہے_(۸)

حضرت علىعليه‌السلام اپنے اس زمانہ كے بارے ميں يوں فرماتے ہيں :

وَضَعنى فى حجْره وَ اَنا وَلَدٌ يَضُمُنى الى صَدْره وَ يَكْنُفنُى فى فَراشه وَ يُمسُّنّى جَسَدَه وَ يُشمَنّى عَرْفَهُ


و كانَ يَمْضَغْ الشيء ثمَّ يُلقمنيه ...وَ لَقَد كُنتُ أتَّبعُهُ أتَّبعُهُ إتّباع الفَضيل أثر اُمّه، يَرفَعُ لى فى كُلّ يوم: من اخلاقه علماً و يا مُرنى بالاقتداء به، وَ لَقَدْ كان يُجاور فى كل سُنَة: بحراء فاراه و لا يراه غيري (۹)

'' بچپن ميں پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مجھے اپنى آغوش ميں ليتے اپنے سينہ سے لگاتے اور اپنى مخصوص آرامگاہ پر جگہ ديتے اپنا جسم اقدس ميرے جسم سے مس كرتے اور اپنى خوشبو سے ميرے مشام جاں كو معطر فرماتے غذا چبا كر ميرے منہ ميں ركھتے _''

ميں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كى اس طرح پيروى كرتا تھا كہ جيسے ( اونٹ كا ) شير خوار بچہ اپنى ماں كے پيچھے پيچھے چلتا ہے_ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہر روز ميرے لئے اپنے اخلاق كا عَلَم بلند كرتے تھے اورمجھے حكم ديتے تھے كہ ميں ان كے كردار كى پيروى كروں _ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہر سال ''غارحرا'' ميں تشريف لے جاتے تھے اور اس وقت ميرے علاوہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو،كوئي ديكھ نہيں پاتا تھا_''

خورشيد رسالت كا اعلى كردار، حسن رفتار ، عدالت پسندى ، انسان دوستى اور خدا پرستى حضرت عليعليه‌السلام كى انفرادى اور اجتماعى زندگى كے خطوط معين كرنے كے لئے بہترين نمونہ اور سرمشق عمل ہے_

بعثت سے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ہجرت تك

حضرت على _ ابھى نوجوان تھے اور آپعليه‌السلام كا سن دس سال سے زيادہ نہيں ہوا تھا ليكن پھر بھى آپعليه‌السلام كى فكراور آگاہى اتنى تھى كہ جب حضرت محمد مصطفى صلى اللہ على و آلہ و سلم نے اپنى پيغمبرى كا اعلان فرمايا تو آپعليه‌السلام نے سب سے پہلے ايمان كا اعلان فرمايا(۱۰) اس سلسلہ ميں آپعليه‌السلام فرماتے ہيں :

لم يجمع بيتٌ واحدٌ يومئذ: فى الاسلام غير رسول و خديجه و انا ثالثهما ارى نور الوحى و الرسالة و اشمّ


ريح النبوة _''(۱۱)

اس زمانہ ميں جب اسلام كسى گھر ميں نہيں پہونچا تھا _ فقط پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان كى بيوى خديجہ مسلمان تھيں اور تيسرا ميں مسلمان تھا_ ميں نور وحى كو ديكھتا اور نبوت كى خوشبو سونگھتا تھا_''

جب آيہ( و انذر عشيرتك الاقربين ) (۱۲) نازل ہوئي تو حضرت عليعليه‌السلام نے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے فرمان كے مطابق اپنے رشتہ داروں ميں سے چاليس افراد كو منجملہ اپنے چچا ابولہب ، عباس اور حمزہ و غيرہ كو مہمان بلايا_ رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے كھانے پينے كے بعد فرمايا:

'' اے فرزندان عبدالمطلب ميں جو چيز تمہارے لئے لايا ہوں مجھے نہيں معلوم كہ عرب كے جوانوں ميں سے كوئي بھى اس سے بہتر چيز تمہارے لئے لايا ہو_ ميں تمہارے لئے دنيا و آخرت كى بھلائي نيز خير و سعادت كا تحفہ لايا ہوں _ خدا نے حكم ديا ہے كہ ميں تم كو اس كى طرف بلاؤں تم ميں سے كون ہے جو اس راستہ ميں ميرى مدد كرے تا كہ وہى ميرا بھائي ،ميرا وصى اور ميرا جانشين قرار پائے؟''

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تين بار يہ بات دہرائي اور ہر بار تنہا حضرت علىعليه‌السلام ہى كھڑے ہوئے اور انہوں نے اسى امر ميں اپنى آمادگى كا اعلان فرمايا_

پھر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا:

'' يہ (علىعليه‌السلام ) ہى ميرے بھائي ، ميرے وصى اور ميرے جانشين ہيں ان كى باتوں كو سنو اور ان كى اطاعت كرو_(۱۳) ''

حضرت عليہ _نے مكہ كى پورى تيرہ سالہ زندگى رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں گزارى اور وحى الہى كو مكتوب فرماتے رہے_

علىعليه‌السلام ، بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر

اظہار اسلام كى بناپر قريش كے سر برآوردہ افراد نے اپنى تسلّط طلب خواہشوں كى راہ ميں


وجود پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو خطرناك تصور كيا_ اسى وجہ سے '' دارالندوہ'' ميں جمع ہوئے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا سے برسر پيكارہونے كے لئے آپس ميں مشورہ كرنے لگے_ آخر ميں يہ طے پايا كہ ہر قبيلہ سے ايك ايك آدمى چنا جائے تا كہ رات كو پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے گھر پر حملہ كيا جائے اور سب مل كر ان كو قتل كرديں _ پيغمبراكرم ،صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وحى الہى كے ذريعہ كى ان سازشوں سے آگاہ ہوگئے اور يہ حكم ملا كہ راتوں رات مكہ كى طرف ہجرت كرجائيں _(۱۴) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علىعليه‌السلام سے فرمايا: كہ '' آپعليه‌السلام ميرے بستر پر اس طرح سوجاؤ كہ كسى كو يہ معلوم نہ ہونے پائے كہ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جگہ كون سورہا ہے_''

حضرت علىعليه‌السلام كى يہ فدا كارى اتنى اہميت اور قدر و منزلت كى حامل تھى كہ مختلف روايات(۱۵) كى بناپر خدا نے يہاں پر يہ آيت نازل كى :

( و من الناس من يشرى نفسه ابتغاء مرضات الله و الله رؤف بالعباد ) (۱۶)

لوگوں ميں سے كچھ ايسے ہيں جو رضائے خدا كى راہ ميں اپنا نفس بيچ ديتے ہيں اور خدا، اپنے بندوں پر مہربان ہے_

ہجرت سے رحلت پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تك

الف_ علىعليه‌السلام ، پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے امين

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو جب ہجرت كا حكم ملا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے خاندان كے افراد اور قبيلہ كے درميان حضرت علىعليه‌السلام سے زيادہ كسى كو امانت دار نہيں پايا_ اسى وجہ سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كو اپنا جانشين بناياتا كہ وہ لوگوں كى امانتيں ان تك پہنچاديں ، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا قرض ادا كريں اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى دختر حضرت فاطمہ زہراءعليه‌السلام اور دوسرى عورتوں كو مدينہ پہنچاديں _

حضرت على _، پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم پر عمل كرنے كے بعد، اپنى والدہ گرامى جناب فاطمہ بنت


اسد ، بنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ عليہا ،زبير كى بيٹى فاطمہ اور كچھ دوسرے لوگوں كے ساتھ مدينہ روانہ ہوئے اور مقام '' قبا''(۱۷) ميں پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اكرم سے جاملے_(۱۸)

ب_ علىعليه‌السلام اور راہ خدا ميں جہاد

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كے مدينہ ہجرت كرنے كے بعد راہ حق ميں اپنى جان كى بازى لگانے والوں اور جان كى پروا، نہ كرنے والوں ميں پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے اصحاب كے درميان حضرت علىعليه‌السلام بے نظير تھے _ آپعليه‌السلام غزوہ تبوك كے علاوہ _ كہ جس ميں آپعليه‌السلام ، پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم سے مدينہ ميں رك گئے تھے_ تمام غزوات ميں موجود رہے_ اور زيادہ تر آپعليه‌السلام كى فداكارى وايثار كے سبب ،لشكر اسلام نے لشكر كفر و شرك پر غلبہ حاصل كيا_ آپعليه‌السلام نے ہميشہ اپنے دشمن و مد مقابل كو شكست دى اور كبھى بھى دشمن كو پيٹھ نہيں دكھائي اور فرمايا كہ اگر تمام عرب ايك كے پيچھے ايك مجھ سے لڑيں تو ميں اس جنگ ميں پيٹھ پھير نے والا نہيں ہوں _(۱۹)

بلاخوف و ترديد يہ بات كہى جاسكتى ہے كہ اگر اس جانباز اسلام كى جانبازياں اور فداكارياں نہ ہوتيں تو بعيد نہيں تھا كہ بدر ،احد ، خندق اورخيبر يا كسى بھى جنگ ميں كفار و مشركين، چراغ رسالت كوبا آسانى گل كر كے پرچم حق كو سرنگوں كرديتے_

اس مقام پرمولا علىعليه‌السلام كى جنگ خندق و خيبر كے دو ميدانوں كى فداكاريوں كو بيان كرتے ہوئے اب ہم آگے بڑھيں گے_

۱_ اسلام دشمن مختلف گروہوں نے ايك دوسرے سے ہاتھ ملاليا تا كہ يك بيك مدينہ پر حملہ كركے اسلام كوختم كرديں پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام نے جناب سلمان فارسى كى پيشكش پر حكم ديا كہ مدينہ كى ان اطراف ميں خندق كھود دى جائے كہ جہاں سے دشمن كے داخل ہونے كا خطرہ ہے_

خندق كے دونوں طرف دونوں لشكر ٹھہرے ہوئے تھے ، كہ عرب كا نامى گرامى جنگجو '' عمروبن عبدود'' دشمن كے لشكر سے خندق كو پاركر كے رجز پڑھتااور مبارزہ طلبى كرتا ہوا آيا_حضرت عليعليه‌السلام نے


قدم آگے بڑھائے دونوں ميں گفتگو كے بعد ''عمرو'' گھوڑے سے اتر پڑا اور اس نے گھوڑے كو پے كرديا ، تلوار لے كر حضرت علىعليه‌السلام پر حملہ آور ہواتو امامعليه‌السلام نے دشمن كے وار كو اپنى ڈھال پر روكا اور اس كے بعد آپعليه‌السلام نے ايك ضرب سے اس كو زمين پرگراديا پھر قتل كرڈالا_ ''عمرو'' كے ساتھيوں نے جب يہ منظر ديكھا تو وہ ميدان سے بھاگ كھڑے ہوئے اور جورہ گئے وہ امام كى تلوار ذوالفقار كے لقمہ بن گئے(۲۰) _ جب امام _فاتحانہ واپس آئے تو پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے فرمايا: '' اگر تمہارى آج كى جنگ كو امت اسلام كے تمام پسنديدہ اعمال سے تو لاجائے تو تمہارا يہ عمل سب سے برتر ہے _(۲۱) ''

۲_ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اكرم نے يہوديوں كے مركز، خيبر كا محاصرہ كيا اس غزوہ ميں آنكھوں كے درد كے سبب حضرت عليعليه‌السلام جنگ ميں شامل نہ تھے_ رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دو مسلمانوں كو پرچم ديا اور وہ دونوں ہى كاميابى حاصل كرنے سے پہلے ہى واپس آگئے ، پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا: '' پرچم ان كاحق نہيں تھا علىعليه‌السلام كو بلاؤ '' لوگوں نے عرض كياكہ '' ان كى آنكھوں ميں درد ہے'' آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا: '' ان كو بلا لاؤ وہ، وہ ہيں جن كو خدا اور اس كا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دوست ركھتا ہے اور وہ بھى خدا اور اس كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو دوست ركھتے ہيں

جب حضرت على _تشريف لائے تو پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا: '' عليعليه‌السلام كيا تكليف ہے؟'' تو حضرت علىعليه‌السلام نے كہا: '' آنكھوں ميں تكليف ہے_''

اس وقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے ان كے لئے دعا فرمائي اور ان كى آنكھوں پر اپنا لعاب دہن لگايا_ كہ جس سے حضرت علىعليه‌السلام كى آنكھوں كا درد ختم ہوگيا،جب حضرت عليعليه‌السلام نے سفيد پرچم لہرايا_تو پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے فرمايا: '' جبرئيل تمہارے ساتھ ہيں اوركاميابى تمہارے آگے آگے ہے ، خدا نے ان لوگوں كے دلوں ميں خوف وہراس ڈال ديا ہے ...''

حضرت علىعليه‌السلام ميدان ميں گئے توسب سے پہلے مرحب سے سامنا ہوا كچھ باتيں ہوئيں اور آخر كار اس كوزمين پرگراديا _يہودى قلعہ كے اندر چھپ گئے اور دروازہ بند كرليا_ امام _دروازہ


كے پيچھے آئے اور جس دروازہ كو بيس آدمى بند كرتے تھے اس كو اكيلے كھولا اور اس كو اپنى جگہ سے اكھاڑ اور يہوديوں كى خندق پرڈال ديا يہاں تك كہ مسلمان اس كے اوپر سے گزر كر كامياب ہوئے_(۲۲)

ج_ عليعليه‌السلام اور پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جانشيني

پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے بعد ،مسلمانوں كے امور كى سرپرستى اور ولايت كے مسئلہ ميں صرف اپنى پوشيدہ دعوت اور اعلان پرہى اكتفا نہيں كياتھا بلكہ جس طرح كہ ہم ذكر كرچكے ہيں كہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دعوت اورتبليغ كے پہلے ہى دن سے مسئلہ ولايت كو توحيد و نبوت كے ساتھ صريحاً بيان فرمادياتھا_ اور پھر خصوصيات و فضائل كے مجموعہ حضرت على _كے لئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس، خدا كا يہ فرمان موجود تھا كہ دين و دنيا كے امور ميں عليعليه‌السلام كى ولايت و سرپرستى اور اپنے بعد ان كى جانشينى كا اعلان فرماديں _

رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس كام كو مختلف مواقع پر منجملہ ''غديرخم'' ميں انجام ديا_ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ۱۰ھ فريضہ حج كى انجام دہى كے لئے مكہ كا قصد فرمايا، مورخين نے اس سفر ميں پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھيوں كى تعداد ايك لاكھ چو بيس ہزار لكھى ہے _(۲۳) حج سے واپسى پر ۱۸ذى الحجہ كو صحراء جحفہ كى ''غدير خم '' نامى جگہ پر پہنچے_ منادى نے پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم كے مطابق اعلان كيا '' الصلوة جامعة'' سب لوگ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كے گرد جمع ہوگئے_ اونٹوں كے پالانوں سے ايك بلند جگہ منبربنايا گيا اور پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس پر تشريف لے گئے، حمد خدا اور مفصل خطبہ كے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا: اے لوگو مؤمنين پر ولايت و سرپرستى كا زيادہ حق كون ركھتا ہے؟ تو لوگوں نے كہا: خدا اوراس كا پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم زيادہ بہتر جانتے ہيں تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا :ميرا ولى خدا ہے اور ميں مومنين پر خود ان كے نفسوں سے زيادہ حق ركھتا ہوں اور پھر فرمايا''من كنت مولاه فهذا عليٌ مولا'' (۲۴) جس كا ميں سرپرست و ولى ہوں يہ عليعليه‌السلام بھى اس كے سرپرست وولى ہيں خدايا ان كے دوستوں كو دوست ركھ اور ان كے


دشمنوں كودشمن قرار دے_ ابھى لوگ پراكندہ نہيں ہوئے تھے كہ يہ آيت نازل ہوئي :

( اليوم اكملت لكم دينكم و اتممت عليكم نعمتى و رضيت لكم الاسلام دينا ) (۲۵)

'' آج تمہارے دين كوميں نے كامل كرديا اور اپنى نعمتيں تم پر تمام كرديں ، اور تمہارے لئے دين اسلام كو پسند كرليا_


سوالات

۱_ ائمہ معصومينعليه‌السلام كى عمومى سيرت كياتھى اور كيا ائمہ معصومينعليه‌السلام اور پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى سيرت ميں كوئي فرق تھا ؟ اور اگرتھا تو وہ كيسا فرق تھا؟

۲_ ائمہ معصومينعليه‌السلام اور ان كى معاصر حكومتوں كے درميان ،اختلاف كى اصل وجہ كياتھي؟

۳_ اميرالمؤمنين كا بچپن كيسے گزرا اورخود آپعليه‌السلام نے اس بارے ميں كيا فرماياہے؟

۴_ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جب پہلى بار اپنے بعد اميرالمؤمنين كى جانشينى كے مسئلہ كى تصريح كى تو وہ كون سا وقت اور كونسا موقع تھا؟

۵_ جنگوں ميں اميرالمؤمنين كى فداكارى كا ايك نمونہ بيان فرمائيں ؟


حوالہ جات

۱ تفصيل كے لئے '' كتاب كفاية الاشرفى فى النص على الائمة الاثنى عشر'' اور كتاب '' الفقيہ للنعماني'' ص ۵۷ ، ص ۱۱۰_ '' بحار الانوار '' جلد ۳۶، ص ۲۲۶، ص ۳۷۲، '' غيبت شيخ'' ص ۹۹ ، ۸۷ _ اور '' غيبت مفيد '' كا مطالعہ فرمائيں اور كے علاوہ ولايت اور اس كى شرائط كے موضوع پر قرآن مجيد كا مطالعہ ہم كو بارہ اماموں پر انحصار كرنے كى ہدايت كرتا ہے_

۲''فانّ هذا الدين قد كان اسيراً فى ايدى الاشرار يعمل فيه بالهوى و تطلب به الدنيا'' (نہج البلاغہ فيض الاسلام خط ۵۳ ص ۱۰۱۰ مالك اشتر كے نام خط )

۳ شرح نہج البلاغہ جلد ۱ ص ۲۸_

۴ مزيد معلومات كے لئے'' تاريخ اسلام امامت حضرت كے زمانہ ميں '' سبق ۴ كى طرف رجوع فرمائيں _

۵ جو بيان اس مقدمہ ميں كلى طور پر آيا ہے اور جس بات كا دعوى كياگيا ہے آيندہ دروس ميں ائمہ معصومين كے بارے ميں خلفاء كے موقف اورمعصوم رہبروں كے اقدامات كے نمونوں كے ساتھ پيش كيا جائے گا_

۶ ارشاد مفيد /۹ مطبوعہ بيروت _ بحار جلد ۳۵/۵ منقول از تہذيب، كشف الغمہ مطبوعہ تبريز جلد ۱/۵۹ خانہ كعبہ ميں آپعليه‌السلام كى ولادت كے موضوع كو اہل سنّت كے بہت سے مورخين و محدثين نے لكھا ہے _ مزيد تفصيل كے لئے مروج الذہب جلد ۲/۲۴۹_ شرح الشفا جلد ۱/۱۵۱_ مستدرك حاكم جلد ۳/۲۸۳ شرح قصيدہ عبدالباقى آفندى از آلوسى /۵ ملاحظہ ہو_

۷ عمران كے چار بيٹے، طالب، عقيل ، جعفر اور علىعليه‌السلام تھے _ آپ ابوطالب كى كنيت سے مشہور تھے_ ليكن ابن ابى الحديد نے جلد ۱ ص ۱۱ پر حضرت عليعليه‌السلام كے والد كا نام عبدمناف لكھا ہے_

۸ سيرة ابن ہشام جلد ۱/۲۶۲، كامل ابن اثير جلد ۲/۵۸ ، كشف الغمہ جلد ۷۹، تاريخ طبرى ۲/۳۱۲_

۹ نہج البلاغہ خطبہ قاصعہ سے چند جملے از صبحى صالح حديث ۱۹۲ ص ۳۰۰ اور دو سطريں ص ۸۱۲ سے _

۱۰ تاريخ طبرى جلد ۲ ص ۳۱۰ كامل ابن اثير جلد ۲ ص ۵۰_ ابن ہشام جلد ۱ ص ۲۶۲، كشف الغمہ جلد ۱ ص ۸۶

۱۱ نہج البلاغہ فيض الاسلام خطبہ ۲۳ ص ۸۱۱ ، ص ۸۱۲ _

۱۲ سورہ شعراء آيت۲۱۴_

۱۳ تاريخ طبرى جلد ۲/۳۲۰_ مجمع البيان جلد ۷_۸/۲۰۶ _ الغدير جلد ۲/ ۳۷۹_ كامل ابن اثير جلد ۲/۶۲_ ۶۳


إن هذا أخى و وصى و خليفتى فيكم فاسمعوا له و اطعوا'' _

۱۴ سيرة ابن ہشام جلد ۲/۱۲۴_ كامل ابن اثير جلد ۲/۱۰۱ _ ۱۰۳_ الصحيح من سيرة النبى جلد ۲/۲۳۸_

۱۵ تفسير الميزان جلد ۲/۹۹_ (دس جلدوالي) تفسير برہان جلد ۱/۲۰۶ ملاحظہ ہو_

۱۶ سورہ بقرہ /۲۰۷_

۱۷ مدينہ سے دو فرسخ دور قبا قبيلہ بنى عمروبن عوف كے سكونت كى جگہ تھي_ معجم البلدان جلد ۴/۳۰۱_

۱۸ مناقب ابن شہر آشوب جلد ۲/۵۸، الصحيح من سيرة النبى جلد ۲/۲۹۵_

۱۹''والله لو تَظَاهَرت الرحب على قتالى لما ولّيت عنها'' شرح نہج البلاغہ فيض الاسلام ص ، ۹۷۱_

۲۰ ارشاد مفيد /۵۲،۵۳_

۲۱ بحار جلد ۲/۲۰۵ ''لو وزن اليوم عملك بعمل امة محمد لرجع عملك بعملہم ...''_

۲۲ ارشاد مفيد /۶۵،۶۷_

۲۳ الغدير جلد ۱/۹_

۲۴ سورہ مائدہ /۳_

۲۵- الغدير جلد ۱/۹_۱۱_


دوسراسبق:

حضرت علىعليه‌السلام كى سوانح عمري (دوسرا حصّہ )


پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت سے خلافت تك

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اكرم كى وفات كے فوراًبعد ، بعض مسلمانوں نے سقيفہ بنى ساعدہ ميں جمع ہوكر جانشين پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم معين كرنے كے بارے ميں ايك مٹينگ كى ، باوجوداس كے كہ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنى زندگى ہى ميں حضرت علىعليه‌السلام كو حكم پروردگار كے مطابق اپنا جانشين مقرر فرماديا تھا_ ليكن اس كے برخلاف لوگوں نے حكومت ، حضرت ابوبكر كے حوالہ كردى _ حضرت ابوبكر ۱۳ھ ق ميں ۶۳ سال كى عمر ميں اس دنيا سے چلے گئے _ان كى مدت خلافت دو سال تين ماہ تھي_(۱)

ان كے بعد حضرت عمر بن خطاب نے حضرت ابوبكر كى وصيت كے مطابق خلافت كى زمام سنبھالى اور آخر ذى الحجہ ۲۳ھق كو ابولو لو ''فيروز'' كے ہاتھوں قتل كرديئے گئے _اور ان كى خلافت كى مدت دس سال چھ ماہ اور چار دن تھى _(۲)

حضرت عمر نے اپنا خليفہ معين كرنے كے لئے ايك كميٹى تشكيل دى جس كا نتيجہ و ثمرہ حضرت عثمان ابن عفان كے حق ميں ظاہر ہوا_ انہوں نے حضرت عمر كے بعد محرم كے اواخر ميں ۲۴ھ ق كو خلافت كى باگ ڈور سنبھالى اور ذى الحج ۳۵ھ ق كو نا انصافى اور بيت المال ميں خرد برد كے الزامات كى وجہ سے مسلمانوں كى ايك شورش ميں ايك كثير جمعيت كے ہاتھوں قتل كرديئے گئے اور ان كى خلافت بارہ سال سے كچھ كم مدت تك رہى _(۳)

مذكورہ تينوں خلفاء ، پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بعد ، يكے ديگرے تقريباً ۲۵ سال تك لوگوں پر حكومت كرتے رہے_ اس طويل مدت ميں اسلام اور جانشينى پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حوالے سے سب سے زيادہ مستحق


و سزاوار شخصيت اميرالمؤمنين على بن ابى طالب _كى تھى كہ جنھوں نے صبر و شكيبائي سے كام ليا اور گھر ميں بيٹھے رہے_

حضرت علىعليه‌السلام جوخلافت كو اپنا مسلم حق سمجھتے تھے ، ان لوگوں كے مقابل اٹھے جنہوں نے ان كے حق كو پامال كيا تھا، آپعليه‌السلام نے اعتراض كيا اور جہاں تك اسلام كى بلند مصلحتوں نے اجازت دى اس حد تك آپ نے اپنے احتجاج و استحقاق كو ان پر، روشن فرمايا_

اسلام كى عظيم خاتون حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ عليہا نے بھى اس احتجاج ميں آپ كا مكمل ساتھ ديا اور تاحيات ہر موڑ پر آپعليه‌السلام كى مدد كرتى رہيں اور انہوں نے عملى طور پرثابت كرديا كہ دوسروں كى حكومت غير قانونى ہے_

ليكن چونكہ اسلام ابھى نيا نيا تھا اس لئے حضرت عليعليه‌السلام نے تلوار اٹھانے اور جنگ كى آگ بھڑكانے سے گريز كيا_ كيونكہ طبيعى طور پر اس فعل سے اسلام كو نقصان پہنچتا_ اور ممكن تھا كہ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى زحمتوں پر پانى پھر جاتا يہاں تك كہ آپعليه‌السلام نے اسلام كى آبرو بچانے كے لئے ضرورى مقامات پرتينوں خلفاء كى دينى امور اور بہت سے سياسى مشكلات ميں رہنمائي اور ان كى ہدايت سے دريغ نہيں فرمايا جيسا كہ يہ لوگ بھى مجبوراً، گاہے بہ گاہے آپعليه‌السلام كى علمى بزرگى اور قابل قدر خدمات كا اعتراف كرتے رہے چنانچہ خليفہ دوم اكثر كہا كرتے تھے: '' لو لا عليٌ لہلك عمر''(۴) يعنى اگر على نہ ہوتے تو عمر ہلاك ہوگئے ہوتے _

خلافت سے شہادت تك

حضرت عثمان كے قتل كے بعد اكثريت كے اصرار اور خواہش پر تقريباً مہاجرين و انصار كے اتفاق سے حضرت على _خلافت كے لئے منتخب كئے گئے_ امامعليه‌السلام نے پہلے اس عہدہ كو قبول كرنے سے انكار كيا_ واضح رہے كہ يہ انكار اس لئے نہيں تھا كہ آپعليه‌السلام اپنے اندر زمامدارى كى توانائي اور


مصائب برداشت كرنے كى طاقت نہيں پاتے تھے، يا يہ كہ ان سے زيادہ مناسب، اصحاب كے درميان كوئي اور شخص بھى موجود تھا _ بلكہ يہ انكار اس لئے تھا كہ حضرتعليه‌السلام جانتے تھے كہ اسلامى معاشرہ گذشتہ خلفاء كى غلط سياست كى بناپر خصوصاً عثمان كے زمانہ خلافت ميں طبقاتى اختلاف اور اجتماعى و اقتصادى تفريق كا شكار ہوچكا تھا_ آپعليه‌السلام ديكھ رہے تھے كہ اصلى اسلام كے اصول و مفاہيم كہ جن پر پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنى زندگى كے طويل عرصہ ميں عمل كرتے رہے ہيں وہ فراموشى كى نذر ہوكر ختم ہوچكے ہيں _ ان تمام چيزوں كو اپنى جگہ پر لانے ميں مشكليں اور سختياں ہونگى _اور ان تمام باتوں كے پيش نظرحضرت عليعليه‌السلام نے چاہا كہ لوگوں كو آزما كر ديكھا جائے كہ وہ انقلاب اسلامى كى روش كو عملى طور پر اختيار كرنے پر كس حد تك آمادہ ہيں ، تا كہ بعد ميں ايسا نہ سمجھ بيٹھيں كہ عليعليه‌السلام نے ان كو غافل بنا كر، ان كى انقلابى تحريك اور شورش سے فائدہ اٹھاليا_

ان تمام باتوں اور دوسرى باتوں كو مد نظر ركھتے ہوئے امامعليه‌السلام نے اصحاب اور جمہور كے بہت اصرار كے باوجود فورى طور پر حكمرانى قبول كرنے سے انكار كرديا اور لوگوں كے جواب ميں فرمايا:

'' مجھے چھوڑ دو اور كسى دوسرے كو تلاش كرلو_ كيونكہ جو كام سامنے ہے اس ميں طرح طرح كى ايسى مشكلات ہيں كہ دلوں ميں ان كے تحمل كى طاقت اور عقلوں ميں ان كے قبول كرنے كے توانائي ا نہيں ہے _ عالم اسلام كے افق كو ظلم و بدعت كے سياہ بادلوں نے گھير ركھا ہے اور اسلام كا روشن راستہ متغير ہوچكا ہے تم يقين جانو كہ اگر ميں نے خلافت كو قبول كيا تو جو كچھ ميں جانتا ہوں اس كے مطابق تمہارے ساتھ سلوك كرونگا اور كسى بھى بولنے والے كى بات يا ملامت كرنے والے كى ملامت پر كان نہيں دھروں گا '' _(۵)

مجمع عام ميں تقرير اور اتمام حجت كے بعد جب لوگوں نے بہت زيادہ اصرار كيا تو آپعليه‌السلام نے جمعہ كے دن ۲۵ ذى الحجہ ۲۵ھ ق(۶) كو مجبوراً خلافت قبول كرلى اور لوگوں نے آپعليه‌السلام كى بيعت كي_


حضرت على _منصب فرماں روائي پر

حضرت علىعليه‌السلام نے ايسے حالات ميں حكومت كى باگ ڈور سنبھالى كہ جب اسلامى معاشرہ شگاف اور اجتماعى و اقتصادى اختلاف كى بناپر تباہى وہلاكت كے دہانے پر پہنچ چكا تھا اور ہر طرح كى دشوارياں اور پيچيدہ مشكلات آپ كے انتظار ميں تھيں _

جن مقاصد كے لئے حضرت علىعليه‌السلام نے حكومت قبول كى تھى ان كو بروئے كار لانے كے لئے آپعليه‌السلام نے اپنى انقلابى سياست كوچند مرحلوں ميں رائج كيا_

اس سياست كے تين مرحلے تھے:

۱_ حقوق كا مرحلہ ۲_ مال كا مرحلہ ۳_ انتظام كا مرحلہ

اب ہم اختصار كے ساتھ مندرجہ بالا ،مراحل كا تجزيہ پيش كرتے ہيں _

الف_ حقوق كا مرحلہ

حقوق كے سلسلہ ميں امامعليه‌السلام كى اصلاحات ، تمام لوگوں كو مساوى حقوق دينے اور بيت المال سے بخشش و عطا كے سلسلہ ميں امتياز اور برترى كولغو قرار دينے پر مبنى تھے_ آپعليه‌السلام نے فرمايا: '' ذليل اور ستم ديدہ ميرے نزديك طاقتور ہيں يہاں تك كہ ميں ان كا حق انھيں واپس دلادوں اورطاقتور ميرے نزديك ناتواں ہے يہاں تك كہ ميں مظلوم كا حق اس سے واپس لے لوں _''(۷)

ب_ مالى مرحلہ

اس سلسلہ ميں امامعليه‌السلام نے جو پہلا اقدام كيا وہ اس دولت و ثروت كو واپس لينا تھا كہ جو عثمان كى خلافت كے زمانہ ميں ديدى گئي تھي_ اميرالمؤمنينعليه‌السلام نے اموال، ملكيت، پانى اور زمين(يعنى تيول) كو(۸) كہ جنہيں حضرت عثمان نے اپنے رشتہ داروں اور كارندوں كو بخش دياتھا ، بيت المال ميں واپس لے ليا_(۹)


اس كے بعد اموال كى تقسيم ميں لوگوں كو اپنى سياست سے آگاہ كيا اورفرمايا:

'' اے لوگو ميں بھى تم ميں سے ايك فرد ہوں اور سود و زياں ميں تمہارے ساتھ شريك ہوں ميں پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى روش كى طرف تمہارى راہنمائي كرونگا اور ان كے قوانين كو تمہارے درميان جارى كروں گا _ آگاہ ہوجاؤ كہ ہر قطعہ زمين اور يتول (يعنى ملك، آب اور زمين) جو عثمان نے دوسروں كودے ديئے ہيں اورہر وہ مال ، كہ جومال خدا سے ديا گيا ہے ان سب كو بيت المال ميں واپس لوٹ جانا چاہئے_ بيشك كوئي بھى چيز حق كو ختم نہيں كرسكتي_ خدا كى قسم اگر ميں ديكھوں گا كہ يہ مال كسى عورت كو جہيز ميں ديا گيا ہے يا اس سے كوئي كنيز خريدى گئي ہے تو ميں سب كو واپس پلٹادوں گا _ بيشك عدالت ميں وسعت ہے اور اگر كسى پر عدالت سخت اور دشوار ہے تو ظلم و ستم اس پر اور بھى زيادہ دشوار ہوگا''(۱۰)

ج _ انتظامى مرحلہ

حضرت على _نے انتظامى سياست كو دو مرحلوں ميں عملى جامہ پہنايا:

۱_ غير صالح حكمرانوں كومعزول كرنا اور ہٹانا اس سلسلہ ميں آپعليه‌السلام فرماتے ہيں :

'' مجھے اس بات سے بہت دكھ ہے كہ اس امت كے بيوقوف اوربدكار لوگ ،امور كى باگ ڈور اپنے ہاتھوں ميں لئے ہوئے ہيں اس كے نتيجہ ميں مال خدا كو اپنے درميان ايك ہاتھ سے دوسرے ہاتھ ميں الٹ پھير كرتے ہيں اور خدا كے بندوں كو اپنى غلامى كى طرف كھينچے جا رہے ہيں يہ لوگ نيكو كاروں سے لڑتے ہيں اور فاسقوں كو اپنا ساتھى بناتے ہيں اس گروہ ميں كچھ لوگ ايسے بھى ہيں جو شراب پى چكے ہيں اور ان پر حد بھى جارى ہوچكى ہے اور ان ميں سے بعض نے اسلام كو قبول ہى نہيں كيا جب تك كہ ا ن كے لئے كوئي عطيہ معين نہيں ہوا(۱۱) ''

۲_ صالح اور لائق حكمرانوں كى تعيين اور ان كومختلف شہروں ميں بھيجنا_ عثمان بن حنيف كو بصرہ كا حاكم سہل بن حنيف كو شام كا حاكم اور قيس بن زياد كومصر كا حاكم بنايا اور ابوموسى اشعرى كو مالك


اشتر كے اصرار كى بناپر ان كے عہدہ پر كوفہ ميں باقى ركھا _( ۱۲)

حضرت علىعليه‌السلام كے اقدامات پرمخالفين كا رد عمل

حضرت عليعليه‌السلام كے اصلاح طلب اقدامات جس طرح غريب اور ستم رسيدہ طبقہ كے لئے مسرت كا باعث تھے اسى طرح قريش كے غرور، خودبينى اور فوقيّت كے جذبہ پر كارى ضرب تھے، اس وجہ سے جب ثروت مندوں كے چيدہ افراد اور بڑے طبقہ نے اپنى ذاتى منفعت اور اپنى اجتماعى حيثيت كو خطرے ميں ديكھا تو حضرت علىعليه‌السلام كے ساتھ مذاكرہ اورمالى و حقوقى مسائل ميں آپعليه‌السلام كى سياست ميں تبديلى سے مايوس ہونے كے بعد ،علم مخالفت بلند كرديا اور لوگوں كو بيعت توڑدينے پر بھڑ كانے، مختلف بہانوں سے امامعليه‌السلام كى حيثيت كو كمزور كرنے اور داخلى جنگ و اختلاف كو ہوا دينے لگے_

حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے بعض ارشادات ميں اپنے مخالفين كو تين گروہوں ميں تقسيم كيا ہے اور فرمايا ہے كہ :

''ميں جب امر خلافت كے لئے اٹھا تو ايك گروہ نے بيعت توڑدى اور كچھ لوگ دين سے باہر نكل گئے اورايك گروہ نے شروع سے ہى طغيان و سركشى كي''_(۱۳)

اب اميرالمؤمنينعليه‌السلام كى اسلامى حكومت كے بالمقابل ان تينوں گروہوں كے موقف كو مختصراً بيان كيا جائے گا :

الف_ ناكثين (عہد توڑدينے والے)

پيسے كے پرستار ، لالچى اور تفرقہ پرداز افراد، امامعليه‌السلام كى سياست كے مقابلہ ميں آرام سے نہيں بيٹھے_ انہوں نے پہلا فتنہ بصرہ ميں كھڑاكيا_ اس فتنہ كے بيچ بونے والے افراد طلحہ و زبير تھے ، يہ دونوں بصرہ اور كوفہ كى گورنرى كا مطالبہ كر رہے تھے(۱۴) اور امامعليه‌السلام كے سامنے انہوں نے صريحا


اظہار كرديا كہ ہم نے اس لئے آپعليه‌السلام كى بيعت كى ہے كہ خلافت كے كام ميں آپعليه‌السلام كے ساتھ شريك رہيں _(۱۵)

ليكن حضرت علىعليه‌السلام نے ان كى خواہش كى موافقت نہيں كى اوردونوں آخر ميں عمرہ كے بہانہ سے مكہ چھوڑ كر مدينہ چلے گئے اور وہاں جناب عائشےہ كى مدد اور جناب عثمان كے زمانہ كے بر طرف شدہ حكمران مكہ كے توسط سے طلحہ و زبير نے ايك سازش تيار كى ، ان كى اس ساز باز سے '' ناكثين'' كا مركزى ڈھانچہ تشكيل پاگيا_

ان لوگوں نے امويوں كى دولت سے استفادہ كرتے ہوئے خون عثمان كے انتقام كى آڑ ميں جناب عائشےہ كى رہبرى ميں ايك لشكر تيار كرليا اور بصرہ كى طرف چل پڑے اور بصرہ كا دفاع كرنيوالوں پر حملہ كرديا ، طرفين ميں شديد ٹكراؤ ہوا بہت سے لوگ قتل اور مجروح ہوئے اور حاكم بصرہ عثمان بن حنيف كے گرفتار ہوجانے كے بعد شہر بصرہ ان كے قبضہ ميں آگيا_

حضرت على _'' شام'' سے جنگ كرنے كے وسائل مہيا كرنے ميں لگے ہوئے تھے (اسلئے كہ معاويہ نے قانونى طور پر خلافت سے سركشى كا اعلان كركے امامعليه‌السلام كى بيعت كو رد كرديا تھا) جب عائشےہ ، طلحہ اور زبير كى شورش كى خبر آپعليه‌السلام تك پہونچى تو آپعليه‌السلام امت كے تفرقہ سے ڈرے اور آپعليه‌السلام نے يہ سمجھا كہ ان لوگوں كا خطرہ معاويہ كى سركشى سے زيادہ اہم ہے_ اگر فورى طور پر اس فتنہ كى آگ كو خاموش نہ كيا گيا تو ممكن ہے كہ خلافت حق كى بنياد متزلزل ہوجائے_

اس وجہ سے آپعليه‌السلام ، ان لوگوں سے جنگ پر آمادہ ہوگئے اور آپعليه‌السلام كا لشكر جلد ہى مدينہ سے باہر آگيا، مقام ''رَبذہ''(۱۶) سے آپعليه‌السلام نے كوفہ والوں كے لئے خطوط اور نمائندے بھيجے اور ان كو اپنى مدد كيلئے بلايا_

چنانچہ حضرت علىعليه‌السلام كے نمائندہ امام حسنعليه‌السلام اور عمار ياسر كى كوششوں كى بناپر كوفہ كے ہزاروں افراد،حضرت علىعليه‌السلام كى مدد كے لئے كوفہ چھوڑ كر مقام '' ذى قار''(۱۷) ميں حضرت عليعليه‌السلام سے ملحق ہوگئے_


حضرت علىعليه‌السلام نے ان پيمان شكنوں سے ٹكراؤ سے پہلے مختلف ذرائع سے صلح كى كوشش كى اور اپنى طرف سے خون ريزى سے بچنے كے ليئے انتہائي كوشش كى ليكن كاميابى حاصل نہ ہوسكى اس لئے كہ شورش كرنيوالے جنگ كا پختہ ارادہ كرچكے تھے_

حضرت علىعليه‌السلام كو مجبوراً ان سے جنگ كرنا پڑى اور شديد جنگ كے بعد ،يہ فتنہ حضرت علىعليه‌السلام كى فتحيابى اور '' ناكثين'' كى شكست فاش پر ختم ہوا_ بہت سے لوگ قتل ہوئے اور بقيہ شام كى طرف بھاگ گئے يہ جنگ تاريخ ميں جنگ '' جمل'' كے نام سے مشہور ہے_

ب_ قاسطين

جب حضرت علىعليه‌السلام نے اسلامى معاشرہ كى فرماں روائي كى ذمہ دارى قبول كى تھى تو اسى وقت سے يہ ارادہ كرليا تھا كہ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى سيرت كو ،جو مدت سے بھلائي جاچكى تھى زندہ كرديں گے، قانون الہى سے ہر طرح كى سركشى اور تمرد كى كوشش كو ختم كرديں گے اور بنى اميہ كى روش كو كہ جس كے سربراہ اور اس قانون شكنى كو جارى ركھنے والے معاويہ كو اسلامى معاشرے سے ہٹا ديں گے_

لہذا آپعليه‌السلام نے اپنى حكومت كے پہلے ہى دن سے يہ طے كرليا تھا كہ معاويہ كو شام كى گورنرى سے معزول كرديں گے، اس سلسلہ ميں كسى كى بات يا سفارش حتى ابن عباس كى بات بھى آپعليه‌السلام كے مؤقف كو بدلنے ميں مؤثر نہ ہوسكي_ كيونكہ آپعليه‌السلام كسى بھى صورت ميں معاويہ كے وجود كو اسلامى حكومت ميں برداشت نہيں كرسكتے تھے_

اولاً :اسلامى حكومت ميں معاويہ جيسے گور نروں كا وجود ، حضرت عثمان كى حكومت كے خلاف مسلمانوں كى شورش كا اہم ترين سبب تھا_ مسلمانوں نے بار باران لوگوں كو برطرف اور معزول كرنے كا مطالبہ كيا تھا _ اب اگر حضرت علىعليه‌السلام ان كو( اگرچہ تھوڑى اور محدود مدت كے لئے بھى ) باقى ركھتے تو لوگ نئي حكومت كے بارے ميں كيا فيصلہ كرتے؟

ثانياً :شام ميں معاويہ اور اس كى حكومت نے جو مقام و حيثيت پيدا كرلى تھى اس سے حضرت


علىعليه‌السلام نے بخوبى يہ اندازہ لگاليا تھا كہ معاويہ كسى طرح بھى شام كى حكومت سے دست بردار نہيں ہوگا_ اب اگرحضرت علىعليه‌السلام كى طرف سے بھى تائيد ہوجاتى تو ہوسكتا تھا كہ كل اسى تائيد كو معاويہ اپنى حقّانيت كى سند سمجھ ليتا اور اس كو امامعليه‌السلام كى حكومت كے خلاف استعمال كرتا_

امامعليه‌السلام بخوبى جانتے تھے كہ معاويہ اپنى زندگى ميں شام ميں مركزى حكومت كے نمائندہ اور مامور كى حيثيت سے عمل نہيں كر رہا ہے _ بلكہ وہ شام كو اپنى حكومت سمجھتا ہے اور اس سرزمين پر اس كے سارے پروگرام اور كام حكومت كے اس سربراہ جيسے تھے جس نے خود حكومت كى بنياد ركھى ہو اور مختلف ذرائع سے اپنا اقتدار قائم كيا ہو _ وہ معروف اور صاحب نفوذ شخصيتوں كو خريد ليتا تھا اور قيمت كے ذريعہ دوسروں كومحروم كر كے اور لوگوں كے امن و امان كو چھين كر ايك گروہ كو مال و ثروت فراہم كرتا تھا _ وہ كسانوں ، تاجروں اورتمام ماليات ادا كرنے والوں كو شديد ظلم كا نشانہ بناتا اور ان سے مطلوبہ مال لے كر عربى قبائل كے ان رؤسا كو ديتا كہ ، جواس كى فوج كى مدد سے آزادى پسند ہر طرح كى تحريك كو كچلنے كے لئے آمادہ ہوتے تھے_ اس طرح انہوں نے اپنے آپ كو بہت دنوں تك اپنے منصب پر باقى ركھنے كے لئے آمادہ كر ركھا تھا _

معاويہ اور حضرت عثمان كا كرتا

معاويہ، حضرت علىعليه‌السلام كو اچھى طرح جانتا تھا وہ اس بات سے بے خبر نہيں تھا كہ علىعليه‌السلام بہت جلد اسے تمنّاؤں كى كرسى سے نيچے كھينچ ليں گے اور اس كى مادى خواہشوں ،آرام طلبيوں اور ہوس اقتدار كے درميان ايك مضبوط بند باندھ ديں گے _ اس لئے معاويہ نے اپنى جھوٹى حكومت كى بنياد كومضبوط كرنے اور اپنے مقاصد تك پہونچنے كے لئے انقلابى مسلمانوں كے ہاتھوں حضرت عثمان كے قتل كو بہترين موقع اور ذريعہ سمجھا _ اسى وجہ سے اس نے قتل عثمان كو بہت بڑا بنا كر پيش كيا اور شديد پروپيگنڈہ كے ذريعہ اس كو ايسا حادثہ و فاجعہ بناديا كہ شام والوں كے دل لرزگئے _


معاويہ نے حكم ديا كہ جناب عثمان كے خون آلود كرتے كو انكى بيوى '' نائلہ'' كى كٹى ہوئي انگلى كے ساتھ_جس كو نعمان بن بشير لايا تھا(۱۸) _ دمشق كى جامع مسجد كے منبر كى بلندى پر لٹكايا جائے اوراس نے شام كے كچھ بوڑھوں كو اس كُرتے كے ارد گرد نوحہ سرائي اور عزادارى كے لئے آمادہ كيا _(۱۹) اس طرح انہوں نے شام كے لوگوں كے جذبات كو مركزى حكومت كے خلاف بھڑكاديا اور ان كو اتنا غصہ دلايا كہ وہ معاويہ سے بھى زيادہ غيظ و غضب ميں آگئے اور معاويہ سے زيادہ جنگ اور انتقام كے لئے آمادہ نظر آنے لگے_

طلحہ و زبير اور عائشےہ كى شورش نے بھى ، جو حضرت عثمان كى حمايت كے نام پر وجود ميں آئي تھي،معاويہ كے كام كواور آسان بناديا_ اب معاويہ ان چيزوں كى مدد سے شام والوں كو برانگيختہ كرسكتا تھا اور ان كو جس طرف چاہتا لے جاسكتا تھا _

آغاز جنگ

معاويہ كے اردگرد جب دنيا پرست اور بے ايمان لوگ جمع ہوگئے تو معاويہ جنگ كيلئے تيا ر ہوگيا تا كہ حق و عدل والى ،شرعى حكومت سے ٹكرا جائيں ، معاويہ كا لشكر صفين ميں پہنچا اور فرات كے كنار ے خيمہ زن ہوگيا اس كے ساتھيوں نے اصحاب اميرالمؤمنينعليه‌السلام پر پانى بند كرديا_

حضرت علىعليه‌السلام كوفہ ميں تھے جب آپعليه‌السلام كو خبر ملى كہ معاويہ ايك كثير لشكر كے ساتھ صفين ميں پہنچ چكا ہے تو آپعليه‌السلام اس سے مقابلہ كے لئے آمادہ ہوئے ، حضرت علىعليه‌السلام كے سپاہيوں كى فوج سيلاب كى طرح اٹھى اور فرات كے كنارے پہنچ كر(۲۰) معاويہ كے لشكر كے سامنے آگئي ليكن حضرت علىعليه‌السلام كے سپاہيوں نے ديكھا كہ فرات تك پہنچنے كا راستہ نہيں ہے_

حضرت علىعليه‌السلام نے خون ريزى نہ ہونے كى بڑى كوشش كى ليكن كامياب نہ ہوئے جنگ ناگزير تھي،حضرت علىعليه‌السلام كے سپاہيوں نے جنگ كے شروع ہى ميں شاميوں كوفرات كے كنارے سے


بھگاديا اور شام كے لشكر كو بھارى نقصان پہنچايا_ جب عراق كے لشكر نے فرات كو اپنے ہاتھوں ميں لے ليا تو حضرت علىعليه‌السلام نے بڑے پن كا ثبوت ديا اور فرمايا: '' چھوڑ دوان كو پانى لينے دو ...''

اس كے بعد دونوں لشكروں كے درميان چھوٹے چھوٹے حملے ہوتے رہے_حضرت علىعليه‌السلام نہيں چاہتے تھے كہ اجتماعى حملہ شروع ہو _ اس لئے كہ آپعليه‌السلام كو يہ اميد تھى كہ دشمن، حق كے سامنے اپنى گردن جھكا دےں گے اور جنگ سے ہاتھ روك لےں گے ليكن دشمن اسى طرح آمادہ پيكار رہے _ طرفين اس كشيدگى كے جارى رہنے سے تھك گئے اس اعتبار سے ان كے درميان، صلح و موافقت كى كوئي اميد باقى نہ رہى _

جب حضرت علىعليه‌السلام نے حالات كا يہ رخ ديكھا تو اپنے اصحاب كو ايك بڑى جنگ كے لئے آمادہ كرليا _ معاويہ بھى جنگ كے لئے تيار ہوگيا نتيجہ ميں دونوں گروہوں كى آپس ميں مڈ بھيڑ ہوئي ''ليلة الہرير''(۲۱) ميں سخت ترين جنگ ہوئي _ ايسى جنگ كہ جس ميں سپاہى نماز كے وقت كو سمجھ نہيں پار ہے تھے اور بغير آرام كئے ہوئے مسلسل جنگ كر رہے تھے _(۲۲)

حضرت علىعليه‌السلام كے سپہ سالار، مالك اشتر نہايت مردانگى سے ميدان ميں حملہ كررہے تھے اور اپنے دلير اور نامورلشكر كو دشمن كى طرف بڑھاتے جاتے تھے ، پھر معاويہ كو ايسى شكست ہوئي كہ اس كے سپاہيوں كى تمام صفيں ٹوٹ گئيں اور ايسا لگتا تھا كہ حضرت علىعليه‌السلام كا لشكر ،فتحياب ہوجائے گا _ ليكن معاويہ، عمرو عاص كى مدد سے مكر و فريب كى فكر كرنے لگا اوردھوكہ سے قرآن كونيزہ پر بلند كرديا جس كى بناپر حضرت علىعليه‌السلام كے سپاہيوں ميں اختلاف اور شورش بر پاہوگئي _

آخر كار اپنے ساتھيوں كى طرف سے نہايت اصرار پر مجبور ہوكرحضرت علىعليه‌السلام نے ابوموسى اشعرى اورعمرو عاص كى حكميت پر چھوڑ ديا كہ وہ لوگ اسلام اور مسلمانوں كى مصلحتوں كا مطالعہ كريں اور اپنے نظريہ كا اعلان كريں _

مسئلہ حكميت كو قبول كرنے كے سلسلہ ميں حضرت علىعليه‌السلام اس منزل تك پہونچ گئے تھے كہ اگر اس كو قبول نہ كرتے تو شايد اپنے ہى كچھ سپاہيوں كے ہاتھوں قتل كرديئےاتے اور مسلمان شديد


بحران ميں مبتلا ہوجاتے _

جب حكمين كے فيصلہ سنانے كا وقت آگيا تو دونوں نے اپنے نظريہ كو ظاہر كيا، عمرو عاص نے ابوموسى اشعرى كو دھوكہ ديا اور اس نے حكومت معاويہ كو برقرار ركھا، اس بات نے معاويہ كى حيلہ گرى كو آشكار كرديا_

ج_ مارقين

حكمين كے واقعہ كے بعد ،كچھ مسلمان جو حضرت علىعليه‌السلام كے ساتھ تھے انہوں نے علىعليه‌السلام كے خلاف خروج كيا اور اس حكميت كو قبول كرلينے كى بناء پر على كو تنقيد كا نشانہ بنانے لگے كہ جس كے قبول كر لينے كا يہى لوگ اصرار كر رہے تھے _

ان لوگوں كو چند دنوں كے بعد اپنى غلطى كا پتہ چل گيا اور وہ نادم ہوئے، انہوں نے اس بات كى كوشش كى كہ حضرت علىعليه‌السلام عہد و پيمان توڑديں(۲۳) ليكن علىعليه‌السلام پيمان توڑنے والوں ميں سے نہ تھے_

خوارج نے حضرت علىعليه‌السلام كے مقابلہ ميں صف آرائي كرلي، انہوں نے فتنہ و فساد برپا كيا _ كوفہ سے باہر نكل پڑے اور '' نہروان(۲۴) '' ميں خيمہ زن ہوگئے يہ لوگ بے گناہ افراد سے متعرض ہوئے اور قتل و غارت گرى كر كے لوگوں ميں خوف و دہشت طارى كررہے تھے_

حضرت علىعليه‌السلام كوشش كرنے لگے كہ لوگوں كو دوبارہ معاويہ سے جنگ پر آمادہ كيا جائے اور لوگوں نے دوسرى بار بھى آپ كى دعوت كو قبول كيا_

جب آپعليه‌السلام نے خوارج كى قتل و غارتگرى اور فساد كو ديكھا تو خوارج كے خطرہ كو معاويہ كے خطرہ سے بڑا محسوس كيا_ چونكہ وہ لوگ مركز خلافت كے قريب تھے_ اگر علىعليه‌السلام كے سپاہى معاويہ سے لڑنے كے لئے جانا چاہتے تو انہيں خوارج كے حملہ كا سامنا كرنا پڑتا اس لئے كہ خوارج اپنے علاوہ مسلمانوں كے تمام فرقوں كو كافر سمجھتے اور ان كے مال اور خون كوحلال جانتے تھے_(۲۵)


اس وجہ سے حضرت علىعليه‌السلام كے سپاہيوں نے نہروان كى جانب كوچ كيا_ دونوں لشكروں ميں جنگ چھڑجانے سے پہلے علىعليه‌السلام نے اس بات كى كہ كوشش كى منطق كے ذريعہ ان لوگوں كے شبہات كو ان كے سامنے بيان كر كے ان كى ہدايت كى جائے اور خونريزى كا سد باب كيا جائے _ ليكن افسوس كہ وہ نادان ،خرد سے عاري، ہٹ دھرم، استدلال اور حقيقت ميں سے كچھ بھى سمجھنے پر آمادہ نہ تھے _

جب حضرت علىعليه‌السلام ان كى ہدايت سے مايوس ہوگئے اور يہ يقين ہوگيا كہ وہ لوگ راہ حق كى طرف ہرگز نہيں لوٹيں گے ، تب آپعليه‌السلام نے ان كے ساتھ جنگ كى _ امامعليه‌السلام كے لشكر نے دائيں اور بائيں طرف سے دشمن پر يلغار كردى اور خوارج كو درميان ركھ كر نيزہ و شمشير كے ساتھ ان پر ٹوٹ پڑے_ ابھى تھوڑى دير بھى نہ گذرى تھى كہ نو افراد كے علاوہ سب كو قتل كرڈالا_

حضرت علىعليه‌السلام كى شہادت

آخر كار حضرت علىعليه‌السلام نے تقريباً پانچ سال تك حكومت كرنے كے بعد ۱۹رمضان المبارك كى شب ۴۰ ھ ق كو نماز صبح كى ادائيگى كى حالت ميں مسجد كوفہ ميں ، پليدترين انسان ابن ملجم كى زہر آلود تلوار سے جو خوارج ميں سے تھا محراب حق ميں ضربت كھائي اور آپعليه‌السلام كا چہرہ آپعليه‌السلام كے خون سے گل رنگ ہوگيا _

اور دو روز بعد رمضان المبارك كى ۲۱ ويں شب كو جام شہادت نوش كيا _ شہادت كے بعد ان كے جسد اطہر كونجف كى مقدس سرزمين ميں سپرد خاك كيا گيا_


سوالات

۱_ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت كے بعد سقيفہ كے واقعہ كے سلسلہ ميں حضرت علىعليه‌السلام كا رد عمل كيا تھا اور آپ نے احقاق حق كے لئے تلوار كيوں نہ اٹھائي؟

۲ _ قتل عثمان كے بعد، حضرت علىعليه‌السلام نے فوراً خلافت كيوں نہ قبول كرلي؟

۳_ مالي، حقوقى اور انتظامى مرحلوں ميں ، حكمرانى قبول كرنے كے بعد حضرت علىعليه‌السلام كے اقدامات كومختصر اًبيان فرمايئے

۴_ حضرت علىعليه‌السلام كى حكومت كے مخالفين كون لوگ تھے اور انہوں نے كون سى جنگيں چھيڑديں ؟

۵_ معاويہ كو محدود وقت تك اس كے عہدہ پر باقى ركھنے كے بارے ميں حضرت علىعليه‌السلام نے لوگوں كى منجملہ'' ابن عباس ''كى سفارش كيوں قبول نہيں كى ؟


حوالہ جات

۱ مروج الذہب ، جلد۲/۲۹۸_

۲ مروج الذہب، جلد۲/۳۰۴_

۳ مروج الذہب جلد ۲/۳۳۳_

۴ بحار جلد ۴/۱۴۹، الغدير جلد ۴/۶۴_۶۶و جلد ۶ صفحات ۸۱، ۹۳، ۱۰۶، ۱۱۳ و جلد ۱۷ صفحہ ۱۵۱ و جلد ۸/۱۸۶ و شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد معتزلى جلد ۱ ص ۵۸_

۵ نہج البلاغہ ۹۲ '' صبحى صالحي''_

۶ كامل ابن اثير جلد ۳/۱۹۳ _

۷ نہج البلاغہ صبحى صالح'' الذليل عندى عزيز حتى اخذ الحق له و القوى عندى ضعيف حتى اخذ الحق منه'' _

۸ '' تيول'' سے مراد وہ ملك ، پانى اور زمين ہے جو حكومت كى طرف سے كسى كو واگذار كى جائے تا كہ وہ اس كى آمدنى سے استفادہ كرے ( فرہنگ عميد، جلد ۲، ص ۶۵۴)_

۹ مسعودى نے مروج الذہب ج ۲ ، ص ۳۵۳ پر اور ابن ابى الحديد نے شرح نہج البلاغہ جلد ۱، ص ۲۷ پر اس بات كى تصريح كى ہے زيادہ معلومات كے لئے مذكورہ بالا منابع كى طرف اور اسى طرح شرح نہج البلاغہ خوئي جلد ۳، ص ۲۱۵ اور فى ظلال نہج البلاغہ جلد ۱، ص ۱۳۰، شرح بحرانى جلد ۱ ، ص ۲۹۶ اور كتاب سيرة الائمہ مصنفہ علامہ سيد محمد امين جلد ،۱ ، جزء دوم ص ۱۱ ملاحظہ ہوں _

۱۰ ثورة الحسين مہدى شمن الدين ، ص ۷۵، نہج البلاغہ /۱۵، شرح ابن ابى الحديد جلد ۱، ص ۲۶۹_

۱۱ نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۶۲_

۱۲ تاريخ يعقوبى جلد ۲/۱۷۹، كامل ابن اثير جلد ۳/۲۰۱_

۱۳ ''فلما نہضت بالأمر نكثت طائفة و مرتت أخرى و قسط آخرون''_ خطبہ شقشقيہ_

۱۴ كامل ابن اثير جلد ، ۲_ ص ۱۹۶_

۱۵ تاريخ يعقوبى جلد ۲، ص۱۸۰، شرح ابن ابى الحديد جلد ، ۱، ص ۲۳۰_

۱۶ ''ابوزر'' مدينہ كا ايك ديہات ہے جو مدينہ سے تين ميل كے فاصلہ پر واقع ہے اور مشہور صحابى ''جناب


ابوذ''ر وہيں مدفون ہيں _ معجم البلدان جلد ۳/۲۷_

۱۷ ذى قار، بكر بن وائل سے متعلق كوفہ اور واسط كے درميان ايك ايسا حصہ تھا جہاں پانى موجود تھا_ معجم البلدان جلد ۴/۲۹۳_

۱۸ كامل ابن اثير جلد ۳/۱۹۲_

۱۹ وقعہ صفين ص ۱۲۷_

۲۰ طرفين كے لشكر كى تعداد ميں اختلاف ہے _ مسعودى نے مروج الذہب ميں حضرت علىعليه‌السلام كے لشكر كى تعداد نوے ہزار اورمعاويہ كے لشكر كى تعداد پچاسى ہزار لكھى ہے _ مروج الذہب مسعودى جلد ۲ ص ۳۷۵_

۲۱ لغت ميں ''ہرير'' سر دى كى وجہ سے كتے كى نكلنے والى آواز كے معنى ميں ہے_ چونكہ اس رات شدت جنگ اور دونوں طرف سے سواروں كى يلغار كى بناپر دونوں چلّار ہے تھے _ اسى لئے اس رات كو ليلة الہرير كہتے ہيں _ معجم البلدان جلد ۵/ ۴۳ مجمع البحرين جلد ۳/ ۵۱۸ مادہ ہَرَرَ _

۲۲ وقعہ صفين /۴۷۵_

۲۳ يعني: وہ عہد و پيمان جو جنگ بندى كے بعد حضرت علىعليه‌السلام اورمعاويہ كے درميان منعقدہوا تھا__

۲۴ نہروان، واسط اور بغداد كے درميان ايك وسيع جگہ ہے جہاں اسكان و صافيہ جيسے شہر اس علاقہ ميں واقع تھے_ معجم البلدان جلد ۵/۳۲۴_

۲۵ ملل ونحل شہرستانى جلد ۲/۱۱۸_۱۲۲_


تيسراسبق :

حضرت فاطمہ زہراء سلام الله علیها كى زندگي


ولادت اور بچپن كا زمانہ

۲۰ جمادى الثانى بروز جمعہ، بعثت پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پانچويں سال خانہ وحى ميں رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى دختر گرامى حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ عليہانے ولادت پائي _(۱) آپ كى والدہ ماجدہ جناب خديجہ بنت خويلد تھيں _

جناب خديجہ قريش كے ايك شريف و نجيب خاندان ميں پيدا اور زيور تربيت سے آراستہ ہوئيں _ان كے خاندان كے تمام افراد حليم و انديشمند اور خانہ كعبہ كے محافظ تھے _ جب يمن كے بادشاہ'' تبّع'' نے حجراسود كو مسجد الحرام سے نكال كر يمن لے جانے كا ارادہ كيا توجناب خديجہ كے والد خويلد دفاع كے لئے اٹھ كھڑے ہوئے آپ كى جنگ اور فداكاريوں كے نتيجہ ميں '' تبّع'' اپنے ارادہ كوعملى جامہ نہ پہنا سكا_(۲)

جناب خديجہ كے چچا '' ورقہ'' بھى مكہ كے ايك دانش مند اور علم دوست شخص تھے_ تاريخ كے مطابق جناب خديجہ پر انكا بڑا اثر تھا _

والد كے ساتھ

حضرت فاطمہ صلوة اللہ و سلامہ عليہا كى ولادت سے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وخديجہ كا گھر اور بھى زيادہ مہر ومحبت كا مركز بن گيا جس زمانہ ميں پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اكرم مكہ ميں بڑے رنج و الم ميں مبتلا تھے ، اس زمانہ ميں پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى بيٹى ،نسيم آرام بخش كى طرح ماں باپ كى تھكان كو صبح و شام اپنى محبت سے دور كرتى تھيں


اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اكرم كى پر مشقت زندگى كے رنج و غم كے دنوں ميں تسكين بخش تھيں _

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا كا بچپن، صدر اسلام كے بحرانى اوربہت ہى خطرناك حالات ميں گذرا جبكہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا سخت مشكلات اور خطرناك حوادث سے دورچار تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تن تنہا كفر و بت پرستى سے مقابلہ كرنا چاہتے تھے _ چند سال تك آپ پوشيدہ طور پر تبليغ كرتے رہے جب خدا كے حكم سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے كھلم كھلا دعوت اسلام كا آغاز كيا تودشمنوں كى اذيّت اورايذا رسانى نے بھى شدت اختيار كرلي_

جب كفار نے يہ ديكھا كہ اذيت و آزار سے اسلام كى بڑھتى ہوئي ترقى كو نہيں روكا جاسكتا توانہوں نے ايك رائے ہوكر پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو قتل كرڈالنے كا منصوبہ بنايا _

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كى جان كے تحفظ كے لئے جناب ابوطالب نے بنى ہاشم كے ايك گروہ كے ساتھ ''شعب ابى طالب'' نامى درّہ ميں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو منتقل كرديا_ مسلمانوں نے تين سال تك اس تپتے ہوئے درّہ ميں نہايت تنگى ، تكليف اوربھوك كے عالم ميں زندگى گذارى اور اسى مختصر غذا پر گذارہ كرتے رہے جو پوشيدہ طور پروہاں بھيجى جاتى تھى _

حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ عليہا تقريباً دوسال تك كفار قريش كے اقتصادى بائيكاٹ ميں اپنے پدر عاليقدر كے ساتھ رہيں اور تين سال تك ماں باپ اور دوسرے مسلمانوں كے ساتھ بھوك اور سخت ترين حالات سے گذريں _

۱۰ بعثت ميں '' شعب'' سے نجات كے تھوڑے دنوں بعد آپ اس ماں كى شفقتوں سے محروم ہوگئيں جنھيں دس سال كى مجاہدت كے رنج و غم خصوصاً اقتصادى نا كہ بدى كى دشواريوں نے رنجور كرديا تھا_(۳)

ماں كا اٹھ جانا ہر چند كہ جناب فاطمہ زہراء كے لئے رنج آور اور مصيبت كا باعث تھا اور آپ كى حساس روح كو اس مصيبت نے افسردہ كرديا تھا ليكن اس كے بعد آپ كو پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے دامن تربيت ميں رہنے كازيادہ موقع ملا_


۱۰ بعثت ميں جناب ابوطالب اورجناب خديجہ كى وفات نے روح پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ايسا اثر كيا كہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سال كا نام ''عام الحزن ''(۴) ( غم واندوہ كا سال) ركھا_ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ان دونوں بڑے حاميوں كے اٹھ جانے سے دشمن كى اذيت اور آزار رسانى ميں شدت پيدا ہوگئي ، كبھى لوگ پتھر مارتے كبھى آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے روئے مبارك پر مٹى ڈال ديتے ، كبھى ناسزا كلمات كہتے اكثر اوقات آپ نہايت خستگى كے عالم ميں گھر كے اندر داخل ہوتے _

ليكن يہ فاطمہعليه‌السلام تھيں جو اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے سر اور چہرہ اقدس سے گرد جھاڑتيں ،نہايت ہى پيار و محبت سے پيش آتيں اور پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے لئے آرام اور حوصلہ كا باعث بنتيں ، جناب فاطمہعليه‌السلام لوگوں كے غصہ اور بے مہرى كى جگہ اپنے باپ سے مہر و محبت سے اس طرح پيش آتى تھيں كہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے والدگرامى نے آپ كو '' أُم أَبيہا'' كا لقب ديا_

ہجرت كے كچھ دنوں بعد آٹھ سال كى عمر ميں حضرت علىعليه‌السلام كے ساتھ مكہ سے مدينہ تشريف لائيں وہاں بھى باپ كے ساتھ رہيں _ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى زندگى كے مشكلات ميں حضرت فاطمہعليه‌السلام برابر شريك رہيں ، جنگ احد ميں جنگ كے خاتمہ كے بعد جناب فاطمہعليه‌السلام مدينہ سے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے خيمہ گاہ كى طرف دوڑتى ہوئي پہنچيں اور باپ كے خون آلود چہرہ كو دھويا اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے زخموں كا مداوا كرنے لگيں _(۵)

جناب فاطمہ سلام اللہ عليہا ، اسلام اور قرآن كے ساتھ ساتھ پروان چڑھيں _ آپ نے وحى ونبوت كى فضا ميں پرورش پائي_ آپ كى زندگى پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى زندگى سے جدا نہيں ہوئي يہاں تك كہ شادى كے بعد بچوں كے ساتھ بھى آپ كا گھر پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے گھر سے متصل تھا اور پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كى ہر جگہ سے زيادہ فاطمہعليه‌السلام كے گھررفت و آمد تھي_ ہر صبح مسجد جانے سے پہلے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فاطمہعليه‌السلام كے ديدار كوتشريف لے جاتے تھے _(۶)

پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے خدمتگار '' ثومان'' بيان كرتے ہيں كہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اكرم سفر پر جانا چاہتے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سب سے آخر ميں فاطمہعليه‌السلام سے وداع ہوتے تھے اور جب سفر سے واپس آتے تھے تو سب سے


پہلے فاطمہعليه‌السلام كے پاس جاتے تھے _(۷)

آخر كار پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى زندگى كے آخرى لمحات ميں بھى فاطمہعليه‌السلام ان كى بالين پر موجود گريہ فرمارہى تھيں ، پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان كو يہ كہہ كردلا سہ دے رہے تھے كہ وہ ہر ايك سے پہلے اپنے باپ سے ملاقات كريں گي_(۸)

حضرت فاطمہعليه‌السلام كى شادي

۳ ھ ميں پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اميرالمؤمنين '' علىعليه‌السلام '' سے فاطمہعليه‌السلام كى شادى كردي_(۹) حقيقت تو يہ ہے كہ يہ خوشگوار رشتہ انہيں كے لائق تھا_ اس لئے كہ معصومينعليه‌السلام كى تصريح كے مطابق حضرت علىعليه‌السلام كے علاوہ كوئي بھى فاطمہعليه‌السلام كا كفو اور ہمسر نہيں ہوسكتاتھا_

اس شادى كى خصوصيتوں ميں سے يہ بات بھى ہے جو ان دونوں بزرگ ہستيوں كى بلند منزلت كا ثبوت ہے كہ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قريش كے صاحب نام افراد، بڑى شخصيتوں اور ثروت مندوں كى خواستگارى كوقبول نہيں كيا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے تھے كہ فاطمہعليه‌السلام كى شادى كا مسئلہ حكم خدا سے متعلق ہے _(۱۰)

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے فاطمہ زہراء كو علىعليه‌السلام كے لئے روكے ركھا تھا اورآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كى طرف سے مامور تھے كہ نور كونور سے ملا ديں _(۱۱)

اسى وجہ سے جب حضرت علىعليه‌السلام نے رشتہ مانگا توپيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قبول فرمايا اور كہا: '' تمہارے آنے سے پہلے فرشتہ الہى نے مجھے حكم خد اپہنچايا ہے كہ فاطمہعليه‌السلام كى شادى علىعليه‌السلام سے كردو''(۱۲)

رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جناب فاطمہعليه‌السلام كى رضايت لينے كے بعدحضرت علىعليه‌السلام سے پوچھا كہ شادى كرنے كے لئے تمہارے پاس كيا ہے ؟ آپعليه‌السلام نے عرض كيا : '' ايك ذرّہ ، ايك شمشير اور پانى لانے كے لئے ايك شتر كے علاوہ ميرے پاس اور كچھ نہيں ہے _ '' علىعليه‌السلام نے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم كے مطابق ذرہ بيچ


دى اور اس كى قيمت سے ، جو تقريباً پانچ سودرہم تھي، جہيز كا معمولى سامان خريدا گيا ، ضيافت بھى ہوئي اور مسلمانوں كوكھانا بھى كھلايا گيا _ مسرت و شادمانى اور دعائے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ فاطمہ كو علىعليه‌السلام كے گھر لے جايا گيا _(۱۳)

فاطمہعليه‌السلام علىعليه‌السلام كے گھر ميں

حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ عليہا باپ كے گ۵ھر سے شوہر كے گھر اور مركز نبوّت سے مركز ولايت ميں منتقل ہوگئيں _اور اس نئے مركز ميں فاطمہ كے كاندھوں پر فرائض كا گراں بار آگيا_

آپ چاہتى تھيں كہ اس مركز ميں ايسى زندگى گذاريں كہ جو ايك مسلمان عورت كے لئے مكمل نمونہ بن جائے تا كہ آئندہ زمانہ ميں سارى دنيا كى عورتيں آپعليه‌السلام كے وجود اور آپعليه‌السلام كى روش ميں حقيقت ونورانيت اسلام ديكھ ليں _

گھر كے محاذ ميں جناب فاطمہ كے كردار كے تمام پہلوؤں كو پيش كرنے كے لئے ايك مفصل كتاب كى ضرورت ہے ليكن اختصار كے پيش نظر يہاں چند چيزوں كى طرف اشارہ كيا جاتا ہے:

الف_ گھر كا انتظام

حضرت فاطمہ زہراء اگر چہ بڑے باپ اور عظيم پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى نور چشم تھيں اوركائنات ميں ان سے بڑى شريف زادى كا وجود نہيں تھا ليكن ان باتوں كے باوجود آپ گھر ميں كام كرتى تھيں اور گھر كے دشوار كاموں سے بھى انكار نہيں كرتى تھيں _

گھر كے اندر آپ اتنى زحمت اٹھاتى تھيں كہ علىعليه‌السلام بھى ان سے ہمدردى كا اظہار كرتے اور ان كى تعريف كرتے ہوئے نظر آتے ہيں _ اس سلسلہ ميں حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے ايك صحابى سے


فرمايا:كہ تم چاہتے ہو كہ ميں اپنى اور فاطمہعليه‌السلام كى حالت تم كو بتاؤں ؟

... آپ گھر كے لئے اتنا پانى بھر كر لاتى تھيں كہ آپ كے جسم پر مشك كا نشان پڑجاتا تھا اور اسى قدر چكياں چلاتى تھيں كہ ہاتھ ميں چھالے پڑجاتے تھے گھر كو صاف ستھرا ركھنے ، روٹى اور كھانا پكانے ميں اتنى زحمت برداشت كرتى تھيں كہ آپ كا لباس گرد آلود ہوجاتا تھا _(۱۴)

جناب سيدہعليه‌السلام نے گھر كو ، حضرت عليعليه‌السلام اور اپنے بچوں كے لئے مركز آسائشے بنادياتھا اس حد تك كہ جب حضرت علىعليه‌السلام پر رنج و غم ، دشواريوں اور بے سروسامانيوں كا حملہ ہوتا تھا تو آپعليه‌السلام گھر آجاتے اور تھوڑى دير تك جناب فاطمہعليه‌السلام سے گفتگو كرتے تو آپعليه‌السلام كے دل كو اطمينان محسوس ہونے لگتا _

امام جعفر صادق _فرماتے ہيں كہ علىعليه‌السلام گھر كى ضرورت كے لئے لكڑى اور پانى مہيا كرتے گھر ميں جھاڑو ديتے اور فاطمہ چكى پيستيں اور آٹاگوندھ كر روٹى پكاتى تھيں _(۱۵)

ب_ شوہر كى خدمت

جناب فاطمہ وہ بى بى ہيں جنہوں نے غريب ليكن انتہائي با فضيلت انسان كے ساتھ عقد فرمايا_ انہوں نے ابتدا ہى سے اسلام اور اپنے شوہر كے حساس حالات كو محسوس كرليا تھا _ وہ جانتى تھيں كہ اگر علىعليه‌السلام كى تلوار نہ ہوتى تو اسلام كو اتنى پيش قدمى حاصل نہ ہوتى او ريہ بھى جانتى تھيں كہ اسلام كا بہادر سپہ سالار اس صورت ميں ميدان جنگ ميں كامياب ہوسكتا ہے جب گھر كے داخلى حالات كے اعتبار سے اس كى فكر آزاد اور وہ بيوى كى مہر و محبت اور تشويق سے مالامال ہو _ جب علىعليه‌السلام ميدان جنگ سے تھك كر واپس آتے تھے تو ان كو مكمل طور پر بيوى كى مہربانياں اور محبتيں ملتى تھيں _ حضرت فاطمہ انكے جسم كے زخموں كى مرحم پٹى كرتيں ، اور ان كے خون آلود لباس كو دھوتى تھيں _چنانچہ جب حضرت علىعليه‌السلام جنگ احد سے واپس لوٹے تو انہوں نے اپنى تلوار فاطمہعليه‌السلام كودى اور فرمايا اس كا خون دھوڈالو_(۱۶)

آپ زندگى كى مشقتوں ميں حضرت علىعليه‌السلام كى ہم فكر اور ان كى شانہ بشانہ تھيں _ آپ ان كے


كاموں ميں ان كى مدد كرتيں ، ان كى تعريف اور تشويق فرماتيں ، ان كى فداكارى اور شجاعت كى ستائشے كرتيں اور ان كى كوششوں اور زحمتوں كے سلسلہ ميں بڑى فرض شناس تھيں _ پورى زندگى ميں كوئي موقعہ بھى ايسا نہيں آياكہ جس ميں آپ نے اپنے شوہر سے دل توڑنے والى كوئي بات كہى ہو يا ان كے دل كورنج پہنچايا ہو _ بلكہ ہميشہ آپ اپنى بے لاگ محبت و عنايت سے ان كى دكھى روح اور تھكے ماندہ جسم كو تسكين ديتى رہى ہيں _حضرت علىعليه‌السلام اس سلسلہ ميں فرماتے ہيں :

'' جب ميں گھر آتا تھا اورميرى نظر فاطمہ زہرا پر پڑتى تو ميرا تمام غم و غصہ ختم ہوجاتا تھا_''(۱۷)

جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علىعليه‌السلام سے سوال كيا تھا كہ آپ نے'' فاطمہ كو كيسا پايا؟ '' تو آپعليه‌السلام نے جواب ميں فرمايا تھا كہ '' فاطمہ اطاعت خداوند عالم ميں ميرى بہترين مددگار ہيں _(۱۸)

ج _ تربيت اولاد

جناب فاطمہ كے فرائض ميں سے ايك اہم فريضہ ،بچوں كى پرورش اور ان كى تربيت تھى _ آپ كو خداوند عالم نے پانچ اولاديں عطا كى تھيں ، حسنعليه‌السلام ، حسينعليه‌السلام ، زينبعليه‌السلام ، ام كلثومعليه‌السلام اور محسنعليه‌السلام _ پانچويں فرزند جن كا نام محسن تھا، وہ سقط ہوگئے تھے_ آپ كے تمام بچے پاكباز ، با اخلاص اورخدا كے مطيع تھے_ جناب فاطمہ نے ايسى اولاد كى پرورش كى كہ جو سب كے سب اسلام كے محافظ اور دين كى اعلى اقدار كے نگہبان تھے _ كہ جنھوں نے اس راستہ ميں اپنى جان دينے كى حد تك مقاومت كا مظاہرہ كيا _ ايك نے صلح كے ذريعہ اور دوسرے نے اپنے خونين انقلاب سے نہال اسلام كى آبيارى كى اور دين اسلام كو بچاليا_(۱۹)

ان كى بيٹيوں نے بھى خاص كر واقعہ كربلا ميں اپنے بھائيوں كى آواز اور امام حسينعليه‌السلام كے پيغام كو كوفہ ، شام اور تمام راستوں ميں دوسروں تك پہنچايا_


جناب فاطمہ كى معنوى شخصيت

تمام عورتوں كى سردار، حضرت فاطمہ كى معنوى شخصيت ہمارے ادراك اور ہمارى توصيف سے بالاتر ہےں _ يہ عظيم خاتون كہ جو معصومينعليه‌السلام كے زمرہ ميں آتى ہيں ان كى اور ان كے خاندان كى محبت و ولايت دينى فريضہ ہے _ اور ان كاغصہ اور ناراضگى خدا كا غضب اور اسكى ناراضگى شمار ہوتى ہے(۲۰) ان كى معنوى شخصيت كے گوشے ہم خاكيوں كى گفتار و تحرير ميں كيونكر جلوہ گر ہوسكتے ہيں ؟

اس بناء پر ، فاطمہ كى شخصيت كومعصوم رہبروں كى زبان سے پہچاننا چاہئے _ اور اب ہم آپ كى خدمت ميں جناب فاطمہ كے بارے ميں ائمہ معصومينعليه‌السلام كے چند ارشادات پيش كرتے ہيں :

۱_ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا : جبرئيل نازل ہوئے اورانہوں نے بشارت دى كہ '' حسنعليه‌السلام و حسينعليه‌السلام جوانان جنّت كے سردار ہيں اور فاطمہعليه‌السلام جنّت كى عورتوں كى سردار ہيں _(۲۱)

۲_ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا: دنيا كى سب سے برتر چار عورتيں ہيں : مريم بنت عمران، خديجہ بنت خويلد ، فاطمہ دختر محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آسيہ دختر مزاحم ( فرعون كى بيوي)(۲۲)

۳_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے يہ بھى فرمايا: '' خدا ، فاطمہ كى ناراضگى سے ناراض اور ان كى خوشى سے خوشنود ہوتا ہے'' _(۲۳)

۴_ امام جعفر صادقعليه‌السلام نے فرمايا: '' اگر خدا ،اميرالمؤمنين كوخلق نہ كرتا تو روئے زمين پر آپ كا كوئي كفو نہ ہوتا '' _(۲۴)

۵_ امام جعفر صادق _سے سوال ہوا كہ : '' حضرت فاطمہ كا نام'' زہرا'' يعنى درخشندہ كيوں ہے؟ تو آپ نے فرمايا كہ : '' جب آپ محراب ميں عبادت كے لئے كھڑى ہوتى تھيں تو آپ كا نور اہل آسمان كو اسى طرح چمكتا ہوا دكھائي ديتا تھا كہ جس طرح ستاروں كا نور ،زمين والوں كے لئے جگمگاتا ہے _(۲۵)


حضرت فاطمہ سے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى مہر و محبت

جناب فاطمہعليه‌السلام كے ساتھ پيغمبر اعظمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى مہر و محبت اتنى شديد تھى كہ اس كوپيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى زندگى كى تعجب خيز باتوں ميں سمجھنا چاہئے_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تمام امور ميں معيار حق اور ميزان عدل و اعتدال تھے ان كى تمام حديثيں اور ان كے تمام اعمال يہاں تك كہ تقرير پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ( يعني: ہر وہ كام كہ جس كو ديكھ كر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنى خاموشى سے اس كى تصديق كرديتے) بھى شريعت كا حصہ اور حجت ہے ، اور ضرورى ہے كہ يہ چيزيں ، سارى امت كے اعمال كا قيامت تك نمونہ قرار پائيں _ اس نكتہ پر توجہ كر لينے كے بعد ،جناب فاطمہ كى معنوى منزلت اوركرداركى بلندى كو زيادہ بہتر طريقہ سے سمجھا جاسكتا ہے _

پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہاں اور بھى بيٹياں تھيں(۲۶) اور پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے خاندان حتى غيروں كے ساتھ بھى بڑى مہربانى اور نيكى سے پيش آتے تھے ليكن فاطمہ سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو خصوصى محبت تھى اور فرصت كے مختلف لمحات ميں اس محبت كا صريحاً اعلان اور اس كى تاكيد فرماتے تھے _ يہ اس بات كى سند ہے كہ فاطمہ اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے گھرانے كى سرنوشت ،اسلام كے ساتھ ساتھ ہے اور پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت فاطمہ كا تعلق صرف ايك باپ اوربيٹى كا ہى نہيں ہے _ بلكہ پورى كائنات كے لئے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى عملى تبليغ كا شبعہ فاطمہ زہرا كى عملى سيرت سے ہى مكمل ہوتا ہے_

اس مقام پر پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى حضرت فاطمہ سے مہر و محبت كے چند نمونوں كا ذكر كردينا مناسب ہے _ يہ نمونے ان نمونوں كے علاوہ ہوں گے كہ جو پہلے بيان ہوچكے ہيں _

۱_ امام محمد باقرعليه‌السلام اور امام جعفر صادق _فرماتے ہيں كہ _ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہميشہ سونے سے پہلے فاطمہ كے چہرے كا بوسہ ليتے ، اپنے چہرہ كو آپ كے سينہ پر ركھتے اور فاطمہعليه‌السلام كيلئے دعا فرماتے_(۲۷)


۲_ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فاطمہ كا ہاتھ اپنے ہاتھ ميں ليكر فرمايا:

'' جو انھيں پہچانتا ہے وہ تو پہچانتا ہے اور جو نہيں پہچانتا ( وہ پہچان لے كہ ) يہ فاطمہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى بيٹى ہيں ، يہ ميرے جسم كا ٹكر ااور ميرا قلب و روح ہيں _ جو ان كو ستائے گا وہ مجھے ستائے گا اور جو مجھے ستائے گا وہ خدا كو اذيت دے گا _''(۲۸)

۳_ امام جعفر صادق _فرماتے ہيں :

'' رسول خدا،صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فاطمہ كو بوسہ ديتے تھے ، جناب عائشےہ نے اعتراض كيا ،تو پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب ديا ، ميں جب معراج پر گيا اور جنت ميں پہنچا تو ميں نے طوبى كے پھل كھائے اور اس سے نطفہ پيدا ہوا _ اور جب ميں زمين پر پلٹ كر آيا اور خديجہعليه‌السلام سے ہمبستر ہوا تو فاطمہ كا حمل قرار پايا_ اس لئے جب ميں فاطمہ كو بوسہ ليتا ہوں تو مجھے ان سے شجرہ طوبى كى خوشبو محسوس ہوتى ہے_''(۲۹)

ايمان و عبادت فاطمہ

پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آپ كے ايمان كے بارے ميں فرمايا كہ : '' ان كے دل كى گہرائي اور روح ميں ايمان اس طرح نفوذ كئے ہوئے ہے كہ عبادت خدا كيلئے وہ اپنے آپ كو تمام چيزوں سے جدا كر ليتى ہيں(۳۰) ''

امام حسن مجتبى _فرماتے ہيں كہ ميں نے اپنى والدہ ماجدہ، حضرت فاطمہعليه‌السلام زہرا كو ديكھا كہ شب جمعہ محراب ميں سپيدہ سحرى تك عبادت' ركوع و سجود ميں مشغول رہتى تھيں _ ميں نے سنا كہ آپ صاحب ايمان مردوں اور عورتوں كے لئے تودعا كرتى تھيں _ مگر اپنے لئے كوئي دعا نہ مانگتى تھيں _ ميں نے ان سے عرض كيا كہ جس طرح آپ دوسروں كے لئے دعا كرتى ہيں ويسے ہى اپنے لئے دعا كيوں نہيں فرماتيں ؟ فرمانے لگيں ميرے لال، پہلے ہمسايہ پھر اپنا گھر(۳۲) _

حسن بصرى كہا كرتے تھے كہ امت اسلامى ميں فاطمہ سے زيادہ عبادت كرنيوالا ،كوئي اور پيدا نہيں ہوا وہ عبادت حق تعالى ميں اس قدر كھڑى رہتى تھيں كہ ان كے پائے مبارك ورم كر جاتے تھے(۳۳) _


فاطمہعليه‌السلام باپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بعد

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى وفات كے وقت'ان كا سراقدس حضرت عليعليه‌السلام كى گود ميں تھا اور حضرت فاطمہعليه‌السلام اور حسن و حسين آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے چہرہ اقدس كو ديكھ ديكھ كر رو رہے تھے، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى آنكھيں بند اور زبان حق خاموش ہوچكى تھى اور روح عالم ملكوت كو پرواز كر چكى تھي، رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت كے سبب، حضرت فاطمہ زہراءعليه‌السلام پر سارے جہاں كا غم و اندوہ ٹوٹ پڑا، فاطمہعليه‌السلام جنہوں نے اپنى عمر كو مصيبت و آلام ميں گذارا تھا اور تنہا انكى دلى مسرت باپ كا وجود تھا اس تلخ حادثہ كے پيش آنے كے بعد آپكى سب اميديں اور آرزوئيں تمام ہوگئيں _

''سقيفہ بنى ساعدہ'' ميں مسلمانوں كے ايگ گروہ كے اجتماع كى خبر

ابھى رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كا جسم اقدس زمين پرہى تھا كہ حضرت ابوبكر كى خلافت و جانشينى كى تعيين كيلئے لوگوں كے اجتماع سے فاطمہعليه‌السلام كے ذہن كو جھٹكا لگا، اس غم و غصہ كى كيفيت ميں تھكے ہوئے اعصاب كو چوٹ پہنچي_

فاطمہ كہ جنہوں نے توحيد و خداپرستي، مظلوم كے دفاع اور ظلم و ستم سے مقابلہ كرنے كے لئے تمام سختيوں ، دشواريوں ، بھوك اور وطن سے دور ہوجانے كى مصيبت كو برداشت كيا تھا وہ اس انحرافى روش كو برداشت نہ كرسكيں _

حضرت فاطمہعليه‌السلام زہراء كے مبارزات و مجاہدات

فاطمہعليه‌السلام اور علىعليه‌السلام جب پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے كفن و دفن سے فارغ ہوئے اور مسئلہ خلافت كے سلسلہ ميں انجام شدہ عمل سے دوچار ہوئے تو آپ لوگوں نے مدبرانہ اور زبردست مبارزہ كا ارادہ كيا تاكہ اسلام كو ختم ہونے اور مٹ جانے كے خطرہ سے بچاليا جائے_ ان كے مبارزات كے چند مراحل ،ملاحظہ ہوں _


پہلا مرحلہ :

حضرت علىعليه‌السلام نے يہ ارادہ كيا كہ خليفہ وقت كى بيعت نہيں كريں گے اور اس طرح آپعليه‌السلام نے سقيفہ كى انتخابى حكومت كى روش سے اپنى مخالفت كا اظہار كيا_ جناب فاطمہ زہراءعليه‌السلام نے بھى اس نظريہ كى تائيد فرمائي اور اس بات كا مصمم ارادہ كر ليا كہ شوہر پر آنے والے ہر ممكنہ خطرہ اور حادثہ كا واقعى دفاع كريں گي_

انہوں نے اپنى اس روش كے ذريعہ ثابت كرديا كہ تمام جنگيں تير و تلوار سے ہى نہيں ہوتيں ، سب سے پہلے اسلام كا اظہار كرنے والے شخص كے خاندان كے افراد اور قريبى افراد كى بے اعتنائي اور حكومت وقت كى تائيد نہ كرنا اس كے غير قانونى ہونے كى سب سے بڑى اور بہترين دليل ہے_

جناب فاطمہ جانتى تھيں كہ علىعليه‌السلام كے حق كے دفاع ميں اس طرح كى جنگ كا نتيجہ رنج اور تكليف ہے_ ليكن انہوں نے تمام دكھوں اور تكليفوں كو خندہ پيشانى سے قبول كيا اور اس جنگ كو آخرى مرحلہ تك پہنچايا_

دوسرا مرحلہ :

فاطمہ و على عليہما السلام ،جناب امام حسنعليه‌السلام و حسينعليه‌السلام كى انگلى پكڑے ہوئے مدينہ كے بزرگوں اور نماياں افراد كے پاس جاتے اور ان كو اپنى مدد كى دعوت ديتے اور انہيں پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى وصيتوں اور ارشادات كو ياد دلاتے تھے(۳۳) _

جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ عليہا فرماتى تھيں '' اے لوگو كيا ميرے باپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علىعليه‌السلام كو خلافت كے لئے معين نہيں فرمايا تھا؟ كيا تم ان كى قربانيوں كوبھول گئے؟ كيا ميرے باپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے يہ نہيں فرمايا تھاكہ ، ميں تمہارے درميان سے جارہا ہوں مگر دو گرانقدر چيزيں چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم ان سے تمسك كرو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے ايك كتاب خدا ،اور دوسرے ميرے اہل بيتعليه‌السلام ہيں ، اے لوگو كيا يہ مناسب ہے كہ تم ہم كو تنہا چھوڑ دو اور ہمارى مدد سے ہاتھ اٹھالو؟(۳۴) ''


تيسرا مرحلہ:

زمام حكومت سنبھالنے كے بعد حضرت ابوبكر نے جناب فاطمہ زہراء سے ''فدك ''(۳۵) لينے كا ارادہ كيا اور حكم ديا كہ فدك ميں كام كرنے والوں كو نكال باہر كيا جائے اور ان كى بجائے دوسرے كاركنوں كو وہاں مقرر كر ديا(۳۶) _

فدك كو قبضہ ميں كرنے كے وجوہات ميں سے ايك وجہ يہ تھى كہ وہ لوگ اس بات كو بخوبى جانتے تھے كہ حضرت علىعليه‌السلام كے ذاتى فضائل و كمالات ،ان كاعلمى مقام اور ان كى فداكارياں قابل انكار نہيں ہيں ، اوران كے بارے ميں پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى وصيتيں بھى لوگوں كے درميان مشہور ہيں اگر ان كى اقتصادى حالت بھى اچھى ہوگئي اور ان كے پاس پيسے آگئے تو ممكن ہے كہ ايك گروہ ان كے ساتھ ہوجائے اور پھر خلافت كے لئے خطرہ پيدا ہوجائے_ اس نكتہ كو ان باتوں ميں ديكھا جاسكتا ہے جو حضرت ابوبكر كو مخاطب كركے حضرت عمر نے كہى ہيں : '' لوگ دنيا كے بندے ہيں اور سوائے دنيا كے انكا كوئي مقصد نہيں ہے اگر خمس و بيت المال اور فدك كو علىعليه‌السلام سے چھين لو تو پھر لوگ خود بخود ان سے على حدہ ہوجائيں گے(۳۷) _

جب جناب فاطمہعليه‌السلام ، ابوبكر كے اس اقدام سے مطلع ہوئيں تو انہوں نے سوچا كہ اگر اپنے حق كا دفاع نہ كيا تو لوگ يہ سمجھ بيٹھيں گے كہ حق سے چشم پوشى اور ظلم كے بوجھ كے نيچے دب جانا ايك پسنديدہ كام ہے_ يا يہ تصور كريں گے كہ حق ،ابوبكر كے ساتھ ہے_ جيسا كہ اس وقت ان تمام مبارزوں كے باوجود حضرت ابوبكر كے پيروكار، ابوبكر كى اس روش كو حق بنا كر پيش كرتے ہيں _

ان سب باتوں كے پيش نظر ،جناب فاطمہ زہراء س نے ممكنہ حد تك اپنے حق كے دفاع كا ارادہ كيا_

البتہ جس بى بىعليه‌السلام كا باپ تازہ ہى دنيا سے رخصت ہوا ہو اورجس كا بچہ تازہ ہى سقط ہوا ہو نيز جس نے اور بہت سے مصائب برداشت كئے ہوں اس كے لئے يہ سب كام سہل اور آسان نہيں


تھے، ان حادثات ميں سے ايك حادثہ ہى ايك عورت كو ہميشہ كيلئے ستمگروں سے مرعوب كرنے كے لئے كافى تھا_ ليكن فاطمہعليه‌السلام ، كہ جنھيں فداكارى اور شجاعت كى خو ماں اور باپ سے وراثت ميں ملى تھيں _ اور جنھوں نے فداكار افراد كے درميان زندگى گذارى تھي، انھيں يہ چھوٹى چھوٹى دھمكياں خو فزدہ نہيں كر سكتى تھيں _

اس مرحلہ ميں جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ عليہا كے مبارزات كا خلاصہ مندرجہ ذيل ہے_

۱_ بحث و استدلال :

جناب فاطمہ (س) نے حضرت ابوبكر سے گفتگو كے دوران قرآنى آيات كى شہادت وگواہياں پيش كركے برہان و استدلال سے ثابت كيا كہ فدك ان كى ملكيت ہے اورخلفاء كى شيزى كا يہ اقدام غير قانونى ہے_

۲_ مسجد بنويصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميں تقرير:

جناب فاطمہ سلام اللہ عليہا نے دلائل اور براہين كے ذريعہ خلافت كى مذمت اور اپنى حقانيت ثابت كرنے كے بعد يہ ارادہ كيا كہ مسجد ميں جائيں اور لوگوں كے سامنے حقائق كو بيان كريں _

جناب سيدہ سلام اللہ عليہا نے مسجد ميں مہاجرين و انصار كے كثير مجمع كے درميان ايك مفصل خطبہ ديا آپعليه‌السلام نے لوگوں كو خدا كى طرف دعوت دي_ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان كى رسالت كى تعريف كى فلسفہ احكام كے بارے ميں گفتگو فرمائي، ولايت اور رہبر و قائد كى عظمت كى تشريح فرمائي اور دوسرے بہت سے اہم مسائل پر روشنى ڈالنے كے بعد لوگوں سے مخاطب ہوئيں كہ جو كہنے كى باتيں تھيں ميں نے وہ كہديں _

آخر ميں فرمايا:

'' اے لوگو جو كہنا چاہئے تھا وہ ميں كہہ چكي، باوجود اس كے كہ مجھے معلوم ہے كہ تم ميرى مدد نہيں كروگے، تمہارے بنائے ہوئے نقشے مجھ سے پوشيدہ نہيں ہيں ليكن ميں كيا كروں يہ ايك درد


دل تھا جس كو ميں نے شدت غم كى بنا پر بيان كرديا تا كہ تمہارے اوپر حجت تمام ہوجائے_(۳۸)

۳_ ترك كلام:

جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ عليہا نے مبارزہ كو جارى ركھنے كے لئے ترك كلام كو منتخب فرمايا اور حضرت ابوبكر سے كھلے عام كہديا كہ اگر فدك كو واپس نہ كروگے تو ميں جب تك زندہ رہوں گى تم سے كلام نہيں كرونگى ، جہاں بھى ابوبكر سے سامنا ہوتا اپنا رخ ان كى طرف سے پھير ليتيں اور ان سے بات نہ كر تيں(۳۹) _ اس بى بىعليه‌السلام نے جو پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے قول كے مطابق رضائے خدا كے بغير كبھى غضبناك نہيں ہوتى تھيں ، اپنى اس روش كے ذريعہ امت كے جذبات و احساسات كى موج كو خلافت كى مشينرى كے خلاف ابھارا_

۴_ رات ميں تدفين:

نہ صرف يہ كہ شہزادى نے اپنى زندگى كے آخرى لمحات تك مبارزہ كو جارى ركھا بلكہ آپ نے اسے قيامت كى سرحدوں سے ملاديا_ اپنے شوہر حضرت على كو وصيت كرتے ہوئے كہا كہ '' اے علىعليه‌السلام مجھ كو رات ميں غسل دينا، رات ميں كفن پہنانا اور پوشيدہ طور پر سپرد خاك كردينا، ميں اس بات سے راضى نہيں ہوں كہ جن لوگوں نے مجھ پر ستم كيا ہے وہ ميرے جنازہ كى تشييع ميں شريك ہوں _حضرت علىعليه‌السلام نے بھى شہزادى كى وصيت كے مطابق ان كو راتوں رات دفن كرديا اور ان كى قبر كو زمين كے برابر كرديا اور چاليس نئي قبروں كے نشان بناديئےہ كہيں ان كى قبر پہچان نہ لى جائے(۴۰) _

شہادت

پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت كا رنج اور خلافت اميرالمؤمنينعليه‌السلام غضب كرنے والوں كى روش نے بھى


جناب فاطمہعليه‌السلام كے وجود اور ان كے جسم و جان كو سخت تكليف پہنچائي ، آپعليه‌السلام پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بعد، مسلسل گريہ كناں اور غمزدہ رہتيں _كبھى با پ كى قبر كى زيارت كو تشريف لے جاتيں اور كبھى شہداء كے مزار پر جاكر گريہ فرماتيں(۴۱) _ نيز گھر ميں گريہ و عزادارى ميں مصروف رہتى تھيں _

آخر كار ، شہزادى دو عالم جاكر كى طاقت كو كم كردينے والے غم اور ديگر پہنچنے والے صدموں نے آپ كو مضمحل اور صاحب فراش بناديا _ بالاخر انہيں صدمات كے نتيجے ميں آپ ۱۳ جمادى الاولى(۴۲) يا سوم جمادى الثانيہ(۴۳) - ۱۱ ھ ق يعنى رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت كے ۷۵ يا ۹۵ دن بعد، دنيا سے رخصت ہوگئيں اورآپ نے اپنى شہادت سے اپنے پيروكاروں كے دلوں كو ہميشہ كيلئے غم والم ميں مبتلا كرديا _


سوالات

۱_ جناب فاطمہ زہراءعليه‌السلام كى ولادت كس تاريخ كو ہوئي اور مكہ ميں آپ كا بچپن كيسے ماحول اور كن حالات ميں گذرا؟

۲_جناب خديجہ (عليہا سلام) كے انتقال كے بعد جناب فاطمہ زہراعليه‌السلام كا باپ كے ساتھ كيسا سلوك رہا اور ''ام ابيہا'' آپ كا لقب كيوں پڑا؟

۳_حضرت علىعليه‌السلام سے آپ كى شادى كس سن اور كس تاريخ ميں ہوئي اور اس شادى كى خصوصيت كيا تھي؟

۴_ايك بيوى كے عنوان سے علىعليه‌السلام كے ساتھ جناب معصومہعليه‌السلام كا كيا سلوك رہا؟

۵_جناب سيدہ كى عبادت كا ايك نمونہ كا ذكر كيجئے؟

۶_سقيفہ كى كاروائي اور پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جانشينى كے مسئلہ ميں جناب فاطمہعليه‌السلام كا كيا رد عمل تھا؟

۷_خلافت كى مشينرى كے ساتھ آپ كے مبارزہ كى كيا روش تھي؟ اس كے دو نمونے بيان فرمايئے


حوالہ جات

۱ مناقب ابن شہر آشوب جلد ۳/ص ۳۵۷، بحارالانوار جلد ۴۳ ص ۶_ دلائل الامامہ ص ۱۰ _ اصول كافى جلد ۱_

۲ الروضہ الانف جلد ۱ ص ۲۱۳، منقول از بانوى نمونہ اسلام مصنفہ ابراہيم امينى ص ۱۸_

۳ و۴ مناقب ابن شہر آشوب جلد ۱ ص ۱۷۴_

۵ بحارالانوار جلد ۲۰ ص ۸۸، الصحيح من سيرة النبى جلد ۴ ص ۳۲۴_

۶ كشف الغمہ مطبوعہ تبريز جلد ۱ ص ۴۵۷_

۷ كشف الغمہ فى معرفة الائمہ جلد ۱ ص ۴۵۷_

۸ امالى طوسى جلد ۲ ص ۱۴_

۹ جناب معصومہ كى شادى كى تاريخ ميں اختلاف ہے سيد ابن طاؤس نے مرحوم شيخ مفيد كى كتاب حدائق الرياض ميں اقبال كے مطابق ازدواج كى تاريخ ۲۱ محرم ۳ ھ نقل كى ہے _ ليكن مصباح ميں اول ذى الحجہ مانتے ہيں _ امالى ميں آيا ہے: فاطمہ كى شادى عثمان كى بيوى رقيہ كى وفات كے سولہ دن بعد اورجنگ بدر سے واپسى پر ہوئي بحار جلد ۴۳/۹۳_ ۹۷_

۱۰ '' امرہا الى ربہا'' كشف الغمہ جلد ۱ ص ۳۵۳ _ مطبوعہ تبريزبحار جلد ۴۳ص ۱ _

۱۱ دلائل الامامہ ص ۱۹_

۱۲ بحار ۴۳/۱۲۷_

۱۳ كشف الغمہ مطبوعہ تبريز جلد ۱ ص ۳۶۰_ ۳۶۹_ بحار جلد ۴۳ ص ۱۲۷_ ص ۱۳۳_

۱۴ بحار الانوار جلد ۴۳/۸۲_

۱۵ بحار جلد ۴۳/۱۵۱ منقول از كافى ''... كانَ اَميْرُ الْمُؤمنيْنَ عليه‌السلام يَحْتَطبُ وَ يَسْقيْ وَ يَكنُسُ وَ كانَتْ فاطمَةُ عليه‌السلام تَطْحَن و تَعْجنُ و تَخْبزُ''

۱۶ سيرة ابن ہشام جلد ۳ ص ۱۰۶، الصحيح من سيرة النبى جلد ۴ ص ۳۲۴_ بحار جلد ۲ ص ۸۸_

۱۷ مناقب خوارزمى ، ص ۲۵۶_

۱۸ بحار الانوار جلد ۴۳/۱۱۱ '' نعم الصون على طاعة اللہ''_

۱۹ يہ حصہ كتاب '' بانوى نمونہ اسلام '' مصنفہ ابراہيم امينى كا اقتباس ہے_


۲۰ بحار الانوار جلد ۳۴/۱۹_ و۲۶كشف الغمہ جلد ۱مطبوعہ تبريز /۴۵۸، الغدير جلد ۳/۲۰ _

۲۱ امالى مفيد ص ۳، امالى طوسى جلد ۱ ص ۸۳، كشف الغمہ جلد ۱ ص ۴۵۶_

۲۲ بحار جلد ۴۳/۹_ ۲۶ ... ... مناقب ابن شہر آشوب جلد۳ ص ۳۲۲_

۲۳ بحار جلد ۴۳/۹_ كشف الغمہ جلد ۱ ص ۴۶۷ _

۲۴ بحار جلد ۴۳/۱۹_ ۲۶ ، كشف الغمہ مطبوعہ تبريز جلد ص ۴۷۲_

۲۵ بحار جلد ۴۳ ص۱۲، علل اشرائع مطبوعہ مكتبہ الداورى قم ص ۱۸۱ ''قال : سئلت ابا عبدالله عن فاطمه ، لمَ سميّت زهرائ؟ فقال: لانّها كانت اذ اقامت فى محرابها زهر نورها لاهل السماء كما يزهر نور الكواكب لاهل الارض'' _

۲۶ فاطمہ كے علاوہ پيغمبركى ديگر بيٹيوں كا ثبوت اہل سنت كى كتابوں سے ملتا ہے جبكہ اكثر شيعہ علماء نے تفصيلى تحقيق كے بعد يہ سمجھا ہے كہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى صرف ايك ہى بيٹى فاطمہ تھيں _

۲۷ بحار الانوار جلد ۴۳/۴۲ ، مناقب ابن شہر آشوب جلد ۳/۳۳۴ '' كان النّبىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لا ينام حتّى يقبل عرض وَجہ فاطمةعليه‌السلام يَضَعُ وَجَہَہْ بين ثديى فاطمة و يدعولہا ...'' _

۲۸ كشف الغمہ مطبوعہ تبريز جلد ۱ / ۴۶۷، فصول المہمہ /۱۴۶، بحار جلد ۴۳/۵۲، الغدير جلد ۳/۲۰ ''من عرف هذه فقد عرفها و من لم يعرفها فهى فاطمة ينت محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و هى بضعة منّى و هى قلبى الذى بين جنبى فمن آذاها فقد آذانى و من آذانى فقد آذى الله _

۲۹ بحار الانوار جلد ۴۳/۶ منقول از تفسير على بن ابراہيم ، كشف الغمہ جلد ۱ ص ۴۵۹_

۳۰ بحار ج ۳۳/ ۴۶_

۳۱ بحار الانوار جلد ۴۳/ ۸۲، كشف الغمہ مطبوعہ تبريزى جلد ۱ ص ۴۶۸ '' فقالت يا بنى الجار ثم الدار''_

۳۳ بحار الانوار جلد ۴۳/ ۷۶، ۸۴ ''ما كان فى هذه الامة اعبد من فاطمة كانت تقوم حتى تورّم قدماها'' _

۳۳ الامامة و السياسة جلد ۱ ص ۱۹_

۳۴ ''بانوئے نمونہ اسلام'' مصنفہ ابراہيم امينى ص ۱۴۴_

۳۵ ''فدك'' مدينہ سے چند فرسخ كے فاصلہ پر ايك ديہات تھا جو ۷ ھ ميں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اور يہوديوں كے درميان صلح كے معاہدہ ميں بغير كسى خونريزى كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو ملا تھا اور يہ صرف رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا حق تھا چنانچہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے

خدا كے حكم كے مطابق فدك كو اپنى بيٹى فاطمہ (س) كو بخش ديا تھا_

۳۶ تفسير نور الثقلين جلد ۳/ ۱۵۴ مطبوعہ حكمت قم اصول مالكيت جلد ۲_ موضوع فدك و الاحصہ ملاحظہ ہو_

۳۷ ناسخ التواريخ ج زہراء / ۱۲۲_

۳۸ كشف الغمہ مطبوعہ تبريز جلد ۱ ص ۴۹۱ ، احتجاج طبرسى جلد ۱ ص ۱۴۱''ألاقد قلت ما قلت هذا على معرفة منى بالجذلة التى خامرتكم و العذرة التى استشعرتها قلوبكم ولكنّها فيضة النفس و نفثة الغيظ ...'' _

۳۹ شرح ابن ابى الحديد جلد ۶/ ۴۶ ، كشف الغمہ جلد ۱/ ۴۷۷_

۴۰ دلائل الامة طبرى /۴۶، مناقب ابن شہر آشوب جلد ۳/۳۶۳_ يہ حصہ ابراہيم امينى كى كتاب ''بانوى نمونہ اسلام'' كا اقتباس ہے_

۴۱ بحار الانوار جلد ۴۳/۱۹۵_

۴۲ بحار الانوار ج ۴۳ /۱۹۵_

۴۳ كشف الغمہ جلد ۱/۵۰۳ دلائل الامامہ / ۴۵ ، بحار ۴۳/۱۹۶ منقول ا ز اقبال الاعمال_


چوتھاسبق :

امام حسن مجتبىعليه‌السلام كي سوانح عمري


بچپن كا زمانہ

علىعليه‌السلام اور فاطمہعليه‌السلام كے پہلے بيٹے ۱۵ رمضان ۳ھ ق كو شہر مدينہ ميں پيدا ہوئے(۱) _ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اكرم تہنيت كيلئے جناب فاطمہعليه‌السلام كے گھر تشريف لائے اور خدا كى طرف سے اس بچہ كا نام '' حسن'' ركھا(۲)

امام حسن مجتبىعليه‌السلام سات سال تك پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام كے ساتھ رہے(۳) _

رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے نواسہ سے بہت پيار كرتے تھے_ كبھى كا ندھے پر سوار كرتے اور فرماتے:

'' خدايا ميں اس كو دوست ركھتا ہوں تو بھى اس كو دوست ركھ''(۴)

اور پھر فرماتے:

'' جس نے حسنعليه‌السلام و حسينعليه‌السلام كو دوست ركھا اس نے مجھ كو دوست ركھا _ اور جو ان سے دشمنى كرتا ہے وہ ميرا دشمن ہے'' _(۵)

امام حسنعليه‌السلام كى عظمت اور بزرگى كے لئے اتنا ہى كافى ہے كہ كم سنى كے باوجود پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بہت سے عہدناموں ميں آپ كو گواہ بنايا تھا_واقدى نے نقل كيا ہے كہ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قبيلہ '' ثقيف'' كے ساتھ ذمّہ والا معاہدہ كيا، خالد بن سعيد نے عہد نامہ لكھا اور امام حسن و امام حسين عليہما السلام اس كے گواہ قرار پائے(۶)


والد گرامى كے ساتھ

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اكرم كى رحلت كے تھوڑے ہى دنوں بعد آپ كے سرسے چاہنے والى ماں كا سايہ بھى اٹھ گيا _ اس بناپر اب تسلى و تشفى كا صرف ايك سہارا علىعليه‌السلام كى مہر و محبت سے مملو آغوش تھا امام حسن مجتبىعليه‌السلام نے اپنے باپ كى زندگى ميں ان كا ساتھ ديا اور ان سے ہم آہنگ رہے_ ظالموں پر تنقيد اور مظلوموں كى حمايت فرماتے رہے اور ہميشہ سياسى مسائل كو سلجھانے ميں مصروف رہے_

جس وقت حضرت عثمان نے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے عظيم الشان صحابى جناب ابوذر كو شہر بدر كر كے رَبَذہ بھيجنے كا حكم ديا تھا، اس وقت يہ بھى حكم ديا تھا كہ كوئي بھى ان كو رخصت كرنے نہ جائے_ اس كے برخلاف حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے دونوں بيٹوں امام حسن اور امام حسين عليہما السلام اور كچھ دوسرے افراد كے ساتھ اس مرد آزاد كو بڑى شان سے رخصت كيا اور ان كو صبر و ثبات قدم كى وصيت فرمائي_(۷)

۳۶ھ ميں اپنے والد بزرگوار كے ساتھ مدينہ سے بصرہ روانہ ہوئے تا كہ جنگ جمل كى آگ جس كو عائشےہ و طلحہ و زبير نے بھڑكايا تھا ، بجھاديں _

بصرہ كے مقام ذى قار ميں داخل ہونے سے پہلے علىعليه‌السلام كے حكم سے عمار ياسر كے ہمراہ كوفہ تشريف لے گئے تا كہ لوگوں كو جمع كريں _ آپ كى كوششوں اور تقريروں كے نتيجہ ميں تقريباً بارہ ہزار افراد امام كى مدد كے لئے آگئے_(۸) آپ نے جنگ كے زمانہ ميں بہت زيادہ تعاون اور فداكارى كا مظاہرہ كيا يہاں تك كہ اما معليه‌السلام كے لشكر كو فتح نصيب ہوئي_(۹)

جنگ صفين ميں بھى آپ نے اپنے پدربزرگوار كے ساتھ ثبات قدم كا مظاہرہ فرمايا_ اس جنگ ميں معاويہ نے عبداللہ ابن عمر كو امام حسن مجتبىعليه‌السلام كے پاس بھيجا اور كہلوايا كہ آپ اپنے باپ كى حمايت سے دست بردار ہوجائيں توميں خلافت آپ كے لئے چھوڑ دونگا _ اس لئے كہ قريش ماضى ميں اپنے آباء و اجداد كے قتل پر آپ كے والد سے ناراض ہيں ليكن آپ كو وہ لوگ قبول كرليں گے _


ليكن امام حسنعليه‌السلام نے جواب ميں فرمايا: '' نہيں ، خدا كى قسم ايسا نہيں ہوسكتا''_ پھر اس كے بعد ان سے خطاب كركے فرمايا: گويا ميں تمہارے مقتولين كو آج يا كل ميدان جنگ ميں ديكھوں گا، شيطان نے تم كو دھوكہ ديا ہے اور تمہارے كام كو اس نے اس طرح زينت دى ہے كہ تم نے خود كو سنوارا اور معطّر كيا ہے تا كہ شام كى عورتيں تمہيں ديكھيں اور تم پر فريفتہ ہوجائيں ليكن جلد ہى خدا تجھے موت دے گا _(۱۰)

امام حسن _اس جنگ ميں آخر تك اپنے پدربزرگوار كے ساتھ رہے اور جب بھى موقع ملا دشمن پر حملہ كرتے اور نہايت بہادرى كے ساتھ موت كے منہ ميں كود پڑتے تھے_

آپعليه‌السلام نے ايسى شجاعت كا مظاہرہ فرمايا كہ جب حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے بيٹے كى جان، خطرہ ميں ديكھى تو مضطرب ہوئے اور نہايت درد كے ساتھ آواز دى كہ '' اس نوجوان كو روكو تا كہ ( اسكى موت ) مجھے شكستہ حال نہ بنادے_ ميں ان دونوں _ حسن و حسين عليہما السلام _كى موت سے ڈرتا ہوں كہ ان كى موت سے نسل رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا منقطع نہ ہوجائے''(۱۱)

واقعہ حكميت ميں ابوموسى كے ذريعہ حضرت علىعليه‌السلام كے برطرف كرديئےانے كى دردناك خبر عراق كے لوگوں كے درميان پھيل جانے كے بعد فتنہ و فساد كى آگ بھڑك اٹھى _ حضرت علىعليه‌السلام نے ديكھا كہ ايسے افسوسناك موقع پر چاہيے كہ ان كے خاندان كا كوئي ايك شخص تقرير كرے اور ان كو گمراہى سے بچا كر سكون اور ہدايت كى طرف رہنمائي كرے لہذا اپنے بيٹے امام حسنعليه‌السلام سے فرمايا: ميرے لال اٹھو اور ابوموسى و عمروعاص كے بارے ميں كچھ كہو_ امام حسن مجتبىعليه‌السلام نے ايك پرزور تقرير ميں وضاحت كى كہ :

'' ان گوں كو اس لئے منتخب كيا گيا تھا تا كہ كتاب خدا كو اپنى دلى خواہش پر مقدم ركھيں ليكن انہوں نے ہوس كى بناپر قرآن كے خلاف فيصلہ كيا اور ايسے لوگ حَكَم بنائے جانے كے قابل نہيں بلكہ ايسے افراد محكوم ( اور مذمت كے قابل) ہيں _(۱۲)

شہادت سے پہلے حضرت علىعليه‌السلام نے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے فرمان كى بناء پر حضرت حسنعليه‌السلام كو اپنا جانشين معين


فرمايا اور اس امر پر امام حسينعليه‌السلام اور اپنے تمام بيٹوں اور بزرگ شيعوں كو گواہ قرار ديا_(۱۳)

اخلاقى خصوصيات

امام حسنعليه‌السلام ہر جہت سے حسن تھے آپ كے وجود مقدس ميں انسانيت كى اعلى ترين نشانياں جلوہ گر تھيں _ جلال الدين سيوطى اپنى تاريخ كى كتاب ميں لكھتے ہيں كہ '' حسنعليه‌السلام بن علىعليه‌السلام اخلاقى امتيازات اور بے پناہ انسانى فضائل كے حامل تھے ايك بزرگ ، باوقار ، بردبار، متين، سخي، نيز لوگوں كى محبتوں كا مركز تھے_(۱۴)

ان كے درخشاں اور غير معمولى فضائل ميں سے ايك شمہ برابر يہاں پيش كئے جار ہے ہيں :

پرہيزگاري:

آپ خدا كى طرف سے مخصوص توجہ كے حامل تھے اور اس توجہ كے آثار كبھى وضو كے وقت آپ كے چہرہ پر لوگ ديكھتے تھے جب آپ وضو كرتے تو اس وقت آپ كا رنگ متغير ہوجاتا اور آپ كاپنے لگتے تھے_ جب لوگ سبب پوچھتے تو فرماتے تھے كہ جو شخص خدا كے سامنے كھڑا ہو اس كے لئے اس كے علاوہ اور كچھ مناسب نہيں ہے _(۱۵)

امام جعفر صادق _نے فرمايا: امام حسنعليه‌السلام اپنے زمانہ كے عابدترين اور زاہدترين شخص تھے_ جب موت اور قيامت كو ياد فرماتے تو روتے ہوئے بے قابو ہوجاتے تھے _(۱۶)

امام حسنعليه‌السلام ، اپنى زندگى ميں ۲۵ بار پيادہ اور كبھى پابرہنہ زيارت خانہ خدا كوتشريف لے گئے تا كہ خدا كى بارگاہ ميں زيادہ سے زيادہ ادب و خشوع پيش كرسكيں اور زيادہ سے زيادہ اجر ملے_(۱۷)

سخاوت:

امامعليه‌السلام كى سخاوت اور عطا كے سلسلہ ميں اتنا ہى بيان كافى ہے كہ آپ نے اپنى زندگى ميں دوبار


تمام اموال اور اپنى تمام پونجى خدا كے راستہ ميں ديدى اور تين بار اپنے پاس موجود تمام چيزوں كو دو حصوں ميں تقسيم كيا_ آدھا راہ خدا ميں ديديا اور آدھا اپنے پاس ركھا _(۱۸)

ايك دن آپ نے خانہ خدا ميں ايك شخص كو خدا سے گفتگو كرتے ہوئے سنا وہ كہہ رہا تھا خداوندا: مجھے دس ہزار درہم ديدے_ امام _اسى وقت گھر گئے اور وہاں سے اس شخص كو دس ہزار درہم بھيج ديئے_(۱۹)

ايك دن آپ كى ايك كنيز نے ايك خوبصورت گلدستہ آپ كو ہديہ كيا تو آپعليه‌السلام نے اس كے بدلے اس كنيز كو آزاد كرديا_ جب لوگوں نے اس كى وجہ پوچھى تو آپ نے فرمايا كہ خدا نے ہمارى ايسى ہى تربيت كى ہے پھر اس كے بعد آپعليه‌السلام نے آيت پڑھي_و اذاحُيّيتم بتحيّة: فحَيّوا باحسن منها (۲۰) '' جب تم كو كوئي ہديہ دے تو اس سے بہتر اس كا جواب دو_''(۲۱)

بردباري;

ايك شخص شام سے آيا ہوا تھا اور معاويہ كے اكسانے پر اس نے امامعليه‌السلام كو برا بھلا كہا امامعليه‌السلام نے سكوت اختيار كيا ، پھر آپ نے اس كو مسكرا كر نہايت شيرين انداز ميں سلام كيا اور كہا:

'' اے ضعيف انسان ميرا خيال ہے كہ تو مسافر ہے اور ميں گمان كرتا ہوں كہ تو اشتباہ ميں پڑگيا ہے _ اگر تم مجھ سے ميرى رضامندى كے طلبگار ہو يا كوئي چيز چاہيے تو ميں تم كو دونگا اور ضرورت كے وقت تمہارى راہنمائي كروں گا _ اگر تمہارے اوپر قرض ہے تو ميں اس قرض كو ادا كروں گا _ اگر تم بھوكے ہو توميں تم كو سير كردونگا اور اگر ، ميرے پاس آؤگے تو زيادہ آرام محسوس كروگے_

وہ شخص شرمسار ہوا اور رونے لگا اور اس نے عرض كي: '' ميں گواہى ديتا ہوں كہ آپ زمين پر خدا كے خليفہ ہيں _خدا بہتر جانتا ہے كہ و ہ اپنى رسالت كو كہاں قرار دے_ آپ اور آپ كے والد ميرے نزديك مبغوض ترين شخص تھے ليكن اب آپ ميرى نظر ميں سب سے زيادہ محبوب


ہيں ''_(۲۲)

مروان بن حكم _ جو آپ كا سخت دشمن تھا_ آپعليه‌السلام كى رحلت كے بعد اس نے آپ كى تشيع جنازہ ميں شركت كى امام حسين _نے پوچھا_ ميرے بھائي كى حيات ميں تم سے جو ہوسكتا تھا وہ تم نے كيا ليكن اب تم ان كى تشييع جنازہ ميں شريك اور رورہے ہو؟ مروان نے جواب ديا'' ميں نے جو كچھ كيا اس شخص كے ساتھ كيا جس كى بردبارى پہاڑ ( كوہ مدينہ كى طرف اشارہ) سے زيادہ تھي_(۲۳)

خلافت

۲۱/ رمضان المبارك ۴۰ ھ ق كى شام كوحضرت علىعليه‌السلام كى شہادت ہوگئي _اس كے بعدلوگ شہر كى جامع مسجد ميں جمع ہوئے حضرت امام حسن مجتبىعليه‌السلام منبر پر تشريف لے گئے اور اپنے پدربزرگوار كى شہادت كے اعلان اور ان كے تھوڑے سے فضائل بيان كرنے كے بعد اپنا تعارف كرايا_ پھر بيٹھ گئے اور عبداللہ بن عباس كھڑے ہوئے اور كہا لوگو يہ امام حسنعليه‌السلام تمہارے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے فرزند حضرت علىعليه‌السلام كے جانشين اور تمہارے امامعليه‌السلام ہيں ان كى بيعت كرو_

لوگ چھوٹے چھوٹے دستوں ميں آپ كے پاس آتے اور بيعت كرتے رہے_(۲۴) نہايت ہى غير اطمينان نيز مضطرب و پيچيدہ صورت حال ميں كہ جو آپ كو اپنے پدربزرگوار كى زندگى كے آخرى مراحل ميں در پيش تھے آپ نے حكومت كى ذمہ دارى سنبھالي_ آپ نے حكومت كو ايسے لوگوں كے درميان شروع كيا جو مبارزہ اور جہاد كى حكمت عملى اور اس كے اعلى مقاصد پر چنداں ايمان نہيں ركھتے تھے چونكہ ايك طرف آپعليه‌السلام پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و علىعليه‌السلام كى طرف سے اس عہدہ كے لئے منصوب تھے اور دوسرى طرف لوگوں كى بيعت اور ان كى آمادگى نے بظاہر ان پر حجت تمام كردى تھى اس لئے آپ نے زمام حكومت كو ہاتھوں ميں ليا اور تمام گورنروں كو ضرورى احكام


صادر فرمائے اور معاويہ كے فتنہ كو سلادينے كى غرض سے لشكر ا ور سپاہ كو جمع كرنا شروع كيا، معاويہ كے جاسوسوں ميں سے دو افراد كى شناخت اور گرفتارى كے بعد قتل كراديا_ آپعليه‌السلام نے ايك خط بھى معاويہ كو لكھا كہ تم جاسوس بھيجتے ہو؟ گويا تم جنگ كرنا چاہتے ہو جنگ بہت نزديك ہے منتظر رہو انشاء اللہ_(۲۵)

معاويہ كى كارشكني

جس بہانہ سے قريش نے حضرت علىعليه‌السلام سے روگردانى كى اور ان كى كم عمرى كو بہانہ بنايا معاويہ نے بھى اسى بہانہ سے امام حسنعليه‌السلام كى بيعت سے انكار كيا_(۲۶) وہ دل ميں تو يہ سمجھ رہے تھے كہ امام حسنعليه‌السلام تمام لوگوں سے زيادہ مناسب ہيں ليكن ان كى رياست طلبى نے ان كو حقيقت كى پيروى سے باز ركھا _

معاويہ نے نہ صرف يہ كہ بيعت سے انكار كيا بلكہ وہ امامعليه‌السلام كو درميان سے ہٹا دينے كى كوشش كرنے لگا كچھ لوگوں كو اس نے خفيہ طور پر اس بات پر معين كيا كہ امامعليه‌السلام كو قتل كرديں _ اس بناپر امام حسنعليه‌السلام لباس كے نيچے زرہ پہنا كرتے تھے اور بغير زرہ كے نماز كے لئے نہيں جاتے تھے، معاويہ كے ان مزدوروں ميں سے ايك شخص نے ايك دن امام حسنعليه‌السلام كى طرف تير پھينكا ليكن پہلے سے كئے گئے انتظام كى بناپر آپ كو كوئي صدمہ نہيں پہونچا_(۲۷)

معاويہ نے اتحاد كے بہانہ اور اختلاف كو روكنے كے حيلہ سے اپنے عمال كو لكھا كہ '' تم لوگ ميرے پاس لشكر لے كر آو'' پھر اس نے اس لشكر كو جمع كيا اور امام حسنعليه‌السلام سے جنگ لڑنے كے لئے عراق كى طرف بھيجا_(۲۸)

امام حسنعليه‌السلام نے بھى حجر بن عدى كندى كوحكم ديا كہ وہ حكام اور لوگوں كو جنگ كے لئے آمادہ كريں _(۲۹)


امام حسنعليه‌السلام كے حكم كے بعد كوفہ كى گليوں ميں منادى نے '' الصّلوة الجامعة '' كى آواز بلند كى اور لوگ مسجد ميں جمع ہوگئے امام حسنعليه‌السلام منبر پر تشريف لے گئے اور فرمايا كہ : '' معاويہ تمہارى طرف جنگ كرنے كے لئے آرہا ہے تم بھى نُخَيلہ كے لشكر گاہ كى طرف جاؤ ...'' پورے مجمع پر خاموشى طارى رہى _

حاتم طائي كے بيٹے عدى نے جب ايسے حالات ديكھے تو اٹھ كھڑا ہوا اور اس نے كہا سبحان اللہ يہ كيسا موت كا سناٹا ہے جس نے تمہارى جان لے لى ہے؟ تم امامعليه‌السلام اور اپنے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے فرزند كا جواب نہيں ديتے خدا كے غضب سے ڈرو كيا تم كو ننگ و عار سے ڈر نہيں لگتا ...؟ پھر امام حسنعليه‌السلام كى طرف متوجہ ہوا اور كہا'' ميں نے آپ كى باتوں كو سنا اور ان كى بجا آورى كے لئے حاضر ہوں _ پھر اس نے مزيد كہا_ اب ميں لشكرگاہ ميں جارہا ہوں ، جو آمادہ ہو وہ ميرے ساتھ آجائے_ قيس بن سعد، معقل بن قيس اور زياد بن صَعصَعہ نے بھى اپنى پرزور تقريروں ميں لوگوں كو جنگ كى ترغيب دلائي پھر سب لشكر گاہ ميں پہنچ گئے_(۳۰)

امام حسنعليه‌السلام كے پيروكاروں كے علاوہ ان كے سپاہيوں كو مندرجہ ذيل چند دستوں ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے:

۱_ خوارج، جو صرف معاويہ سے دشمنى اور ان سے جنگ كرنے كى خاطر آئے تھے نہ كہ امامعليه‌السلام كى طرف دارى كے لئے_

۲_حريص اور فائدہ كى تلاش ميں رہنے والے افراد جو مادى فائدہ اور جنگى مال غنيمت حاصل كرنے والے تھے_

۳_ شك كرنے اور متزلزل ارادہ كے حامل افراد جن پر ابھى تك امام حسنعليه‌السلام كى حقانيت ثابت نہيں ہوئي تھي، ظاہر ہے كہ طبعى طور پر ايسے افراد ميدان جنگ ميں اپنى جاں نثارى كا ثبوت نہيں دے سكتے تھے_

۴_ وہ لوگ جنہوں نے اپنے قبيلہ كے سرداروں كى پيروى ميں شركت كى تھى ان ميں كوئي


دينى جذبہ نہ تھا_(۳۱)

امام حسنعليه‌السلام نے لشكر كے ايك دستہ كو حَكَم كى سردارى ميں شہر انبار بھيجا، ليكن وہ معاويہ سے جاملا اور اس كى طرف چلاگيا_ حَكَم كى خيانت كے بعد امامعليه‌السلام مدائن كے مقام '' ساباط'' تشريف لے گئے اور وہاں سے بارہ ہزار افراد كو عبيداللہ بن عباس كى سپہ سالارى ميں معاويہ سے جنگ كرنے كے لئے روانہ كيا اور قيس بن سعد كو بھى اس كى مدد كے لئے منتخب فرمايا كہ اگر عبيداللہ بن عباس شہيد ہوجائيں تو وہ سپہ سالارى سنبھال ليں _

معاويہ ابتداء ميں اس كو شش ميں تھا كہ قيس كو دھوكہ ديدے_ اس نے دس لاكھ درہم قيس كے پاس بھيجے تا كہ وہ اس سے مل جائے يا كم از كم امام حسنعليه‌السلام سے الگ ہوجائے، قيس نے اس كے پيسوں كو واپس كرديا اور جواب ميں كہا: '' تم دھوكہ سے ميرے دين كو ميرے ہاتھوں سے نہيں چھين سكتے_''(۳۲)

ليكن عبيداللہ بن عباس صرف اس پيسہ كے وعدہ پر دھوكہ ميں آگيا اور راتوں رات اپنے خاص افراد كے ايك گروہ كے ساتھ معاويہ سے جاملا صبح سويرے لشكر بغير سرپرست كے رہ گيا، قيس نے لوگوں كے ساتھ نماز پڑھى اور اس واقعہ كى رپورٹ امام حسنعليه‌السلام كو بھيج دى _(۳۳)

قيس نے بڑى بہادرى سے جنگ كى چونكہ معاويہ نے قيس كو دھوكہ دينے كے راستہ كو مسدود پايا اس لئے اس نے عراق كے سپاہيوں كے حوصلہ كوپست كردينے كے لئے دوسرا راستہ اختيار كيا_ اس نے امام حسنعليه‌السلام كے لشكر ميں ، چاہے وہ مَسكن(۳۴) ميں رہا ہو يا مدائن ميں ، چند جاسوس بھيجے تا كہ وہ جھوٹى افواہيں پھيلائيں اور سپاہيوں كو وحشت ميں مبتلاكريں _

مقام مَسكن ميں يہ پروپيگنڈہ كرديا گيا كہ امام حسنعليه‌السلام نے معاويہ سے صلح كى پيشكش كى ہے اور معاويہ نے بھى قبول كرلى ہے_(۳۵) اور اس كے مقابل مدائن ميں بھى يہ افواہ پھيلادى كہ قيس بن سعد نے معاويہ سے سازباز كرلى اور ان سے جاملا ہے_(۳۶)

ان افواہوں نے امام حسنعليه‌السلام كے سپاہيوں كے حوصلوں كو توڑ ديا اور يہ پروپيگنڈے امامعليه‌السلام كے


اس لشكر كے كمزور ہونے كا سبب بنے جو لشكر ہر لحاظ سے طاقت ور اور مضبوط تھا _

معاويہ كى سازشوں اور افواہوں سے خوارج اور وہ لوگ جو صلح كے موافق نہ تھے انہوں نے فتنہ و فساد پھيلانا شروع كرديا_ انھيں لوگوں ميں سے كچھ افراد نہايت غصّہ كے عالم ميں امامعليه‌السلام كے خيمہ پر ٹوٹ پڑے اور اسباب لوٹ كرلے گئے يہاں تك كہ امام حسنعليه‌السلام كے پير كے نيچے جو فرش بچھا ہوا تھا اس كو بھى كھينچ لے گئے _(۳۷)

ان كى جہالت اور نادانى يہاں تك پہنچ گئي كہ بعض لوگ فرزند پيغمبر كو ( معاذ اللہ) كافر كہنے لگے_ اور '' جراح بن سَنان'' تو قتل كے ارادہ سے امامعليه‌السلام كى طرف لپكا اور چلّا كربولا، اے حسنعليه‌السلام تم بھى اپنے باپ كى طرح مشرك ہوگئے ( معاذاللہ) اس كے بعد اس نے حضرت كى ران پروار كيا اور آپعليه‌السلام زخم كى تاب نہ لاكر زمين پر گرپڑے ، امام حسنعليه‌السلام كو لوگ فوراً مدائن كے گور نر '' سعدبن مسعود ثقفي'' كے گھر لے گئے اور وہاں كچھ دنوں تك آپ كا علاج ہوتا رہا_(۳۸)

اس دوران امامعليه‌السلام كو خبر ملى كہ قبائل كے سرداروں ميں سے كچھ نے خفيہ طور پر معاويہ كو لكھا ہے كہ اگر عراق كى طرف آجاؤ توہم تم سے يہ معاہدہ كرتے ہيں كہ حسنعليه‌السلام كو تمہارے حوالے كرديں _

معاويہ نے ان كے خطوط كو امام حسنعليه‌السلام كے پاس بھيج ديا اور صلح كى خواہش ظاہر كى اور يہ عہد كيا كہ جو بھى شرائط آپعليه‌السلام پيش كريں گے وہ مجھے قبول ہيں _(۳۹)

ان دردناك واقعات كے بعد امامعليه‌السلام نے سمجھ ليا كہ معاويہ اور اس كے كارندوں كى چالوں كے سامنے ہمارى تمام كوششيں نقش بر آب كے سوا كچھ نہيں ہيں _ ہمارى فوج كے صاحب نام افراد معاويہ سے مل گئے ہيں لشكر اور جانبازوں نے اپنے اتحاد و اتفاق كا دامن چھوڑديا ہے ممكن ہے كہ معاويہ بہت زيادہ تباہى اورفتنے برپا كردے_

مذكورہ بالا باتوں اور دوسرى وجوہ كے پيش نظر امام حسنعليه‌السلام نے جنگ جارى ركھنے ميں اپنے پيروكاروں اور اسلام كا فائدہ نہيں ديكھا_ اگر امامعليه‌السلام اپنے قريبى افراد كے ہمراہ مقابلہ كيلئے اٹھ كھڑے ہوتے اور قتل كرديئے جاتے تو نہ صرف يہ كہ معاويہ كى سلطنت كے پايوں كو متزلزل


كرنے يا لوگوں كے دلوں كو جلب كرنے كے سلسلہ ميں ذرّہ برابر بھى اثر نہ ہوتا، بلكہ معاويہ اسلام كو جڑ سے ختم كردينے اور سچے مسلمانوں كا شيرا زہ منتشر كردينے كے ساتھ ساتھ اپنى مخصوص فريب كارانہ روش كے ساتھ لباس عزا پہن كر انتقام خون امام حسنعليه‌السلام كے لئے نكل پڑتا اور اس طرح فرزند رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے خون كا داغ اپنے دامن سے دھوڈالتا خاص كر ايسى صورت ميں جب صلح كى پيشكش معاويہ كى طرف سے ہوئي تھى اور وہ امامعليه‌السلام كى طرف سے ہر شرط قبول كرلينے پر تيار نظر آتا تھا_ بنابرايں ( بس اتنا) كافى تھا كہ امامعليه‌السلام نہ قبول كرتے اور معاويہ ان كے خلاف اپنے وسيع پروپيگنڈے كے ذريعہ اپنى صلح كى پيشكش كے بعد ان كے انكار كو خلاف حق بناكر آپعليه‌السلام كى مذمت كرتا_ اور كيا بعيد تھا_ جيسا كہ امامعليه‌السلام نے خود پيشين گوئي كردى تھي_ كہ ان كو اور ان كے بھائي كو گرفتار كرليتا اور اس طريقہ سے فتح مكہ كے موقع پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہاتھوں اپنى اور اپنے خاندان كى اسيرى كے واقعہ كا انتقام ليتا_ اس وجہ سے امامعليه‌السلام نے نہايت سخت حالات ميں صلح كى(۴۰) پيشكش قبول كرلي_

معاہدہ صلح

معاہدہ صلح امام حسن _ كا متن، اسلام كے مقدس مقاصد اور اہداف كو بچانے ميں آپ كى كوششوں كا آئينہ دار ہے_ جب كبھى كوئي منصف مزاج اور باريك بين شخص صلح نامہ كى ايك ايك شرط كى تحقيق كرے گا تو بڑى آسانى سے فيصلہ كرسكتا ہے كہ امام حسنعليه‌السلام نے ان خاص حالات ميں اپنى اور اپنے پيروكاروں اور اسلام كے مقدس مقاصد كو بچاليا_

صلح نامہ كے بعض شرائط ملاحظہ ہوں :

۱_ حسنعليه‌السلام زمام حكومت معاويہ كے سپردكر رہے ہيں اس شرط پر كہ معاويہ قرآن وسيرت پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور شائستہ خلفاء كى روش پر عمل كرے_(۴۱)


۲_ بدعت اور علىعليه‌السلام كے لئے ناسزا كلمات ہر حال ميں ممنوع قرار پائيں اور ان كى نيكى كے سوا اور كسى طرح يادنہ كيا جائے _(۴۲)

۳_ كوفہ كے بيت المال ميں پچاس لاكھ درہم موجود ہيں ، وہ امام مجتبىعليه‌السلام كے زير نظر خرچ ہوں(۴۳) گے اور معاويہ '' داراب گرد'' كى آمدنى سے ہر سال دس لاكھ درہم جنگ جمل و صفين كے ان شہداء كے پسماندگان ميں تقسيم كرے گا جو حضرت علىعليه‌السلام كى طرف سے لڑتے ہوئے قتل كرديئے گئے تھے_(۴۴)

۴_ معاويہ اپنے بعد كسى كو خليفہ معين نہ كرے _(۴۵)

۵_ ہر شخص چاہے وہ كسى بھى رنگ و نسل كا ہو اس كو مكمل تحفظ ملے اور كسى كو بھى معاويہ كے خلاف اس كے گذشتہ كاموں كو بناپر سزا نہ دى جائے_(۴۶)

۶_ شيعيان علىعليه‌السلام جہاں كہيں بھى ہوں محفوظ رہيں اور كوئي ان سے معترض نہ ہو _(۴۷)

امامعليه‌السلام نے اور دوسرى شرطوں كے ذريعہ اپنے بھائي امام حسينعليه‌السلام اور اپنے چاہنے والوں كى جان كى حفاظت كى اور اپنے چند اصحاب كے ساتھ جن كى تعداد بہت ہى كم تھى ايك چھوٹا سا اسلامى ليكن با روح معاشرہ تشكيل ديا اور اسلام كو حتمى فنا سے بچاليا_

معاويہ كى پيمان شكني

معاويہ وہ نہيں تھا جو معاہدہ صلح كو ديكھ كر امامعليه‌السلام كے مطلب كو نہ سمجھ سكے_ اسى وجہ سے صلح كى تمام شرطوں پر عمل كرنے كا عہد كرنے كے باوجود صرف جنگ بندى اور مكمل غلبہ كے بعد ان تمام شرطوں كو اس نے اپنے پيروں كے نيچے روند ديا اور مقام نُخَيلہ ميں ايك تقرير ميں صاف صاف كہہ ديا كہ '' ميں نے تم سے اس لئے جنگ نہيں كى كہ تم نماز پڑھو، روزہ ركھو اور حج كے لئے جاؤ بلكہ ميرى جنگ اس لئے تھى كہ ميں تم پر حكومت كروں اور اب ميں حكومت كى كرسى پر پھنچ گيا ہوں اور


اعلان كرتا ہوں كہ صلح كے معاہدہ ميں جن شرطوں كو ميں نے ماننے كيلئے كہا تھا ان كو پاؤں كے نيچے ركھتا ہوں اور ان كو پورا نہيں كروں گا_(۴۸)

لہذا اس نے اپنے تمام لشكر كو اميرالمؤمنينعليه‌السلام كى شان ميں ناسزا كلمات كہنے پر برانگيختہ كيا_ اس لئے كہ وہ جانتا تھا كہ انكى حكومت صرف امام كى اہانت اور ان سے انتقامى رويہ كے سايہ ميں استوار ہوسكتى ہے_ جيسا كہ مروان نے اس كو صاف لفظوں ميں كہہ ديا كہ '' على كو دشنام ديئےغير ہمارى حكومت قائم نہيں رہ سكتى ''(۴۹)

دوسرى طرف اميرالمؤمنينعليه‌السلام كے چاہنے والے جہاں كہيں بھى ملتے ان كو مختلف بہانوں سے قتل كرديتا تھا _ اس زمانہ ميں تمام لوگوں سے زيادہ كوفہ كے رہنے والے سختى اور تنگى سے دوچار تھے_ اس لئے كہ معاويہ نے مغيرہ كے مرنے كے بعد كوفہ كى گورنرى كو زياد كے حوالہ كرديا تھا اور زياد شيعوں كو اچھى طرح پہچانتا تھا، وہ ان كو جہاں بھى پاتا بڑى بے رحمى سے قتل كرديتاتھا_(۵۰)

مدينہ كى طرف واپسي

معاويہ ہر طرف سے طرح طرح كى امام _كو تكليفيں پہنچانے لگا_ آپعليه‌السلام اور آپعليه‌السلام كے اصحاب پر اس كى كڑى نظر تھى ان كو بڑے سخت حالات ميں ركھتا اور عليعليه‌السلام و خاندان علىعليه‌السلام كى توہين كرتا تھا_

يہاں تك كہ كبھى تو امام حسنعليه‌السلام كے سامنے آپ كے پدر بزرگوار كى برائي كرتا اور اگر امامعليه‌السلام اس كا جواب ديتے تو آپعليه‌السلام كو بھى ادب سكھانے كى كوشش كرتا_(۵۱) كوفہ ميں رہنا مشكل ہوگيا تھا اس لئے آپ نے مدينہ لوٹ جانے كا ارادہ كيا_

ليكن مدينہ كى زندگى بھى آپ كے لئے عافيت كا سبب نہيں بنى اس لئے كہ معاويہ كے كارندوں ميں سے ايك پليد ترين شخص مروان مدينہ كا حاكم تھا، مروان وہ ہے جس كے بارے


ميں پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا تھا: '' ہو الوزغ بن الوزغ، الملعون بن الملعون''(۵۲) '' اس نے امامعليه‌السلام اور آپ كے اصحاب كا جينا مشكل كرديا تھا يہاں تك كہ امام حسنعليه‌السلام كے گھر تك جانا مشكل ہوگيا تھا، باوجوديكہ امامعليه‌السلام دس برس تك مدينہ ميں رہے ليكن ان كے اصحاب ، فرزند پيغمبر كے چشمہ علم و دانش سے بہت كم فيض ياب ہوسكے_

مروان اور اس كے علاوہ دس سال كى مدت ميں جو بھى مدينہ كا حاكم بنا اس نے امام حسنعليه‌السلام اور ان كے چاہنے والوں كو تكليف و اذيت پہونچانے ميں كوئي كمى نہيں كي_

شہادت

معاويہ جو امامعليه‌السلام كى كمسنى كے بہانہ سے اس بات كے لئے تيار نہيں تھا كہ آپعليه‌السلام كو خلافت دى جائے وہ اب اس فكر ميں تھا كہ اپنے نالائق جوان بيٹے يزيد كو ولى عہدى كے لئے نامزد كرے تا كہ اس كے بعد مسند سلطنت پر وہ متمكن ہوجائے_

اور ظاہر ہے كہ امام حسنعليه‌السلام اس اقدام كے راستہ ميں بہت بڑى ركاوٹ تھے اس لئے كہ اگر معاويہ كے بعد امام حسنعليه‌السلام مجتبى زندہ رہ گئے تو ممكن ہے كہ وہ لوگ جو معاويہ كے بيٹے سے خوش نہيں ہيں وہ امام حسنعليه‌السلام كے گرد جمع ہوجائيں اور اس كے بيٹے كى سلطنت كو خطرہ ميں ڈالديں لہذا يزيد كى ولى عہدى كے مقدمات كو مضبوط بنانے كے لئے اس نے امام حسنعليه‌السلام كو راستہ سے ہٹادينے كا ارادہ كيا_ آخر كار اس نے دسيسہ كارى كا مظاہرہ كرتے ہوئے امام حسنعليه‌السلام كى بيوى '' جعدہ بنت اشعب'' كے ذريعہ آپعليه‌السلام كو زہر ديد يا اور امام معصومعليه‌السلام سينتاليس سال كى عمر ميں ۲۸/ صفر ۵۰ھ ق كو شہيد ہوگئے اور مدينہ كے قبرستان بقيع ميں دفن ہوئے_(۵۳)


سوالات

۱_ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ امام حسنعليه‌السلام كتنے دن رہے اور اس مدت ميں پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى محبت امام حسنعليه‌السلام سے كس طرح كى تھي؟ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى احاديث ميں سے ايك كازكر فرمايئے

۲_ اپنے پدربزرگوار كے زمانے ميں ، امام حسنعليه‌السلام كا جنگ جمل و صفين ميں كيا عمل رہا؟ مختصراً بيان كيجئے؟

۳_ امامعليه‌السلام كى پرہيزگارى اور سخاوت كے واقعات ميں سے ايك ايك نمونہ بيان فرمايئے

۴_ حكومت كى ذمہ دارى قبول كرنے كے بعد معاويہ كے سلسلہ ميں امامعليه‌السلام كا كيسا موقف رہا؟ مختصراً بيان كيجئے_

۵_ امام كے سپاہيوں ميں كس طرح كے لوگ تھے؟

۶_ صلح كے اسباب و علل كو مختصراً بيان كيجئے_

۷_ صلح كى تين شرائط كو بيان كرتے ہوئے صلح كے نتائج كو امامعليه‌السلام كے نظريہ كے مطابق بيان كيجئے_

۸_ امامعليه‌السلام كس تاريخ كو كيسے اور دشمن كے ذريعہ كن وجوہ كى بناپر شہيد ہوئے؟


حوالہ جات

۱ ارشاد مفيد ص ۱۸۷_ تاريخ الخلفاء سيوطى /۱۸۸_

۲ بحار جلد ۴۳/۲۳۸ _

۳ دلائل الامامہ طبرى /۶۰_

۴ تاريخ الخلفاء /۱۸۸ ، تذكرة الخواص /۱۷۷ '' اللہم انى احبّہ فاحبّہ'' _

۵ بحار جلد ۴۳/ ۲۶۴، كشف الغمہ جلد ۱/۵۵۰ مطبوعہ تبريز سنن ترمذى جلد ۵/۷''من احبّ الحسن و الحسين عليه‌السلام فقد احبّنى و من ابفضها فقد ابغضني_''

۶ طبقات كبير جلد ۱ حصہ ۲/۲۳_

۷ حياة الامام حسن جلد ۱ ص ۲۰، مروج الذہب جلد ۲/۳۴۱، تاريخ يعقوبى جلد ۲ ص ۱۷۲_ شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد جلد ۸/۲۵۲_ ۵۵_

۸ كامل ابن اثير جلد ۳/۲۲۷_ ۲۳۱_

۹ حياة الامام الحسن جلد ۱/۳۹۶_ ۳۹۹_

۱۰ وقعہ صفين /۲۹۷_

۱۱ نہج البلاغہ فيض الاسلام خطبہ ۱۹۸ ص ۱۱۶۶۰ ،املكو عنّى هذا الغلام لا يهدّنى فانّنى انفس بهذين يعنى الحسن و الحسين على الموت لئلا ينقطع بهما نسل رسول الله _

۱۲ الامامہ و السياسة جلد ۱ ص ۱۱۹، حياة الامام الحسن جلد ۱ ص ۴۴۴_

۱۳ اصول كافى جلد ۱/ ص ۲۹۷_

۱۴ تاريخ الخلفاء /۱۸۹_

۱۵ مناقب ابن شہر آشوب جلد ۴/۱۴ '' حقٌ على كل من وقف بين يدى رب العرش ان يصفر لونہ و ترتعد مفاصلہ''_

۱۶ بحار جلد ۴۳/۳۳۱_

۱۷ بحار جلد ۴۳/۳۳۱، تاريخ الخلفاء /۱۹۰، مناقب ابن شہر آشوب ۴/۱۴_ شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد جلد ۱۶/۱۰ ، تذكرة الخواص /۱۷۸_

۱۸ تاريخ يعقوبى جلد ۲/۲۱۵، بحار جلد ۴۳/ ۳۳۲، تاريخ الخلفاء /۱۹۰، مناقب جلد ۴/۱۴ _


۱۹ كشف الغمہ مطبوعہ تبريز جلد ۱/۵۵۸_

۲۰ سورہ نساء /۸۶_

۲۱ بحار جلد ۴۳/۳۴۲_

۲۲ بحار جلد ۴۳ /۳۴۴_

۲۳ تاريخ الخلفاء /۱۹۱ ، شرح ابن ابى الحديد جلد ۱۶ / ۱۳ ، ۵۱ واقعہ كے آخرى حصہ ميں تھوڑے فرق كے ساتھ_

۲۴ ارشاد مفيد /۱۸۸ شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد جلد ۱۶/۳۰ مقاتل الطالبين مطبوعہ بيروت ۵۰ _ ۵۲_

۲۵ ارشاد مفيد ۱۸۹ ، بحارجلد ۴۴/۴۵ ، شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد جلد ۱۶ / ۳۱ مقاتل الطالبين مطبوعہ بيروت / ۵۳ اما بعدفانك دسَّست الرجال للاحتى ال و الاغتيال و ارصدت العيون كانك تحت اللقاء و ما اشك فى ذالك فتوقعه انشاء الله _

۲۶ امام حسينعليه‌السلام كے مقابل معاويہ كى منطق سے واقفيت كے لئے امام حسنعليه‌السلام كے نام معاويہ كا وہ خط پڑھاجائے جس كو ابن ابى الحديد نے اپنى شرح كى ج ۱۶ / ۳۷ پر درج كيا_

۲۷ بحار جلد ۴۴/۲۳_

۲۸ شرح شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج ۱۶/ ۳۷ و ۳۸ مقاتل الطالبين مطبوعہ بيروت /۶۰_

۲۹ ارشاد مفيد /۱۸۹ ،بحار جلد ۴۴ / ۴۶ شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ۱۶ / ۳۸ مقاتل الطالبين / ۶۱_

۳۰ شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد جلد ۱۶ / ۳۷ _ ۴۰ ،بحار جلد ۴۴ / ۵۰_

۳۱ ارشاد مفيد /۱۸۹ ، بحار ۴۴/ ۴۶_

۳۲ تاريخ يعقوبى ج ۲ / ۲۱۴_

۳۳ ارشاد مفيد ۱۹۰_

۳۴ مسكن منزل كے وزن پرہے _ نہر دجيل كے كنارے پر ايك جگہ ہے جہاں قيس كى سپہ سالارى ميں امام حسنعليه‌السلام كا لشكر پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا_

۳۵ تاريخ يعقوبى جلد ۲ / ۲۱۴_

۳۶ تاريخ يعقوبى ج ۲ / ۲۱۴_

۳۷ ارشاد مفيد /۱۹۰ ، تاريخ يعقوبى جلد ۲ / ۲۱۵ ، بحار جلد ۴۴ / ۴۷ ، شرح ابن ابى الحديد جلد ۱۶/ ۴۱ مقاتل الطالبين مطبوعہ بيروت / ۶۳_


۳۸ ارشاد مفيد /۱۹۰ ، تاريخ يعقوبى ج ۲ / ۲۱۵ ، بحار جلد ۴۴ / ۴۷ شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ج ۱۶/ ۴۱ مقاتل الطالبين مطبوعہ بيروت /۶۳_

۳۹ ارشاد مفيد /۱۹۰ _ ۱۹۱ ، تاريخ يعقوبى جلد ۲ / ۲۱۵_

۴۰ بحار جلد ۴۴/ ۱۷ ، شرح ابن ابى الحديد ۱۶ / ۴۱_ ۴۲، مقاتل الطالبين مطبوعہ بيروت /۱۴_

۴۱ بحار جلد ۴۴/ ۶۵_

۴۲ ارشاد مفيد /۱۹۱ ،مقاتل الطالبين ،حياة الامام الحسن بن على جلد ۲ / ۲۳۷ شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد ۱۶ / ۴_

۴۳ تاريخ دول الاسلام جلد ۱/ ۵۳ ،حياة الامام الحسن بن على ج ۲ / ۲۳۸، تذكرة الخواص ابن جوزى /۱۸۰ ، تاريخ طبرى ج ۵ / ۱۶۰_

۴۴ جوہرة الكلام ، حياة الامام الحسن بن على جلد ۲/ ۳۳۷_

۴۵ بحارالانوار جلد ۴۴/۶۵_

۴۶ مقاتل الطالبين / ۴۳_

۴۷ ارشاد مفيد حياة الامام الحسن بن على جلد ۲/۲۳۷ شرح ابن ابى الحديد ۱۶/۴_

۴۸ حياة الامام الحسن بن على جلد ۲/۲۳۷ مقاتل الطالبين / ۴۳ ، ذخائر العقبى ميں اتنا مزيد ہے كہ معاويہ نے شروع ميں ان شرائط كو مطلقاً قبول نہيں كيا اور دس آدميوں كو منجملہ قيس بن سعد كے مستثنى كيا اور لكھا كہ ان كو جہاں بھى ديكھوں گاان كى زبان اور ہاتھ كاٹ دوں گاامام حسنعليه‌السلام نے جواب ميں لكھا كہ : ايسى صورت ميں ، ميں تم سے كبھى بھى صلح نہيں كرونگا، معاويہ نے جب يہ ديكھا تو سادہ كاغذ آپ كے پاس بھيجديا اور لكھا كہ آپ جو چاہيں لكھديں ميں اسكو مان لونگا اور اس پر عمل كرونگا_

۴۹ بحار ۴۴/ ۴۹ ،ابن شرح نہج البلاغہ ابى الحديد ج ۱۶/ ۱۴_ ۱۵ ، ۴۶ مقاتل الطالبين مطبوعہ بيروت /۷۰ ارشاد، مفيد ۹۱_

۵۰ الصواعق المحرقہ / ۳۳ (لا يستقيم لنا الامر الا بذالك اى بسبّ علي )_

۵۱ حياة الامام الحسن ابن على جلد ۲/ ۳۵۶_

۵۲ ارشاد مفيد /۱۹۱ شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد جلد ۱۶/ ۴۷_

۵۳ حياة الامام الحسن بن على جلد ۱/۲۳۹ ، مستدرك حاكم جلد ۴/ ۴۷۹_

۵۴ دلائل الامامہ طبرى /۶۱ ، كشف الغمہ جلد ۱ ص ۵۱۵ ص ۵۱۶ مطبوعہ تبريز، ارشاد مفيد /۱۹۲ ، مرحوم مفيد عليہ الرحمہ نے شہادت كے وقت آپ كى عمر ۴۸ سال بيان كى ہے_


پانچواں سبق :

امام حسينعليه‌السلام كى سوانح عمري (پہلا حصہ )


ولادت

تين شعبان ۴ھ _ق كو علىعليه‌السلام و پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى دختر گرامى كے دوسرے بيٹے كى پيدائشے ہوئي_(۱)

ان كانام ركھنے كى رسم بھى ان كے بھائي حسنعليه‌السلام بن علىعليه‌السلام كى طرح پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ذريعہ انجام پائي، رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خدا كے حكم كے مطابق اس نومولود كا نام حسين ركھا _(۲)

ولادت باسعادت كے ساتويں دن جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ عليہا نے اپنے فرزند كے لئے ايك بھيڑ عقيقہ كے عنوان سے قربان كى اور ان كے سركے بالوں كو تراش كر بالوں كے وزن كے برابر چاندى صدقہ ميں دي_(۳)

پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے دامن ميں

حسينعليه‌السلام بن علىعليه‌السلام نے ا پنے بچپن كے چھ سال اور چند ماہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے دامن ميں پرورش پائي اور منبع فياض رسالتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے علم و معرفت حاصل كيا_

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، امام حسينعليه‌السلام سے جو اظہار محبت و لطف فرماتے تھے وہ شيعوں كے تيسرے رہنما كى عظمت و بلندى كو بيان كرتا ہے_

حضرت سلمان فارسى فرماتے ہيں كہ ميں نے ديكھا كہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے حسينعليه‌السلام كو اپنے زانو پر بيٹھا ركھا ہے اور بوسے دے رہے ہيں اور فرماتے ہيں كہ تو سيد و سردار ہے، بڑے سردار كا بيٹا ہے ، بڑے سرداروں كا باپ ہے، تو امام ، فرزند امام اور ابوالائمہ ہے _ تو حجت خدا فرزند حجت خدا


اور جو نو افراد حجت خدا ہيں انكا باپ ہے انكا خاتم ان كا قائم ہوگا_(۴)

جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پوچھا گيا كہ آپ اپنے اہل بيتعليه‌السلام ميں سے كس كو زيادہ دوست ركھتے ہيں تو فرمايا: حسن و حسين عليہما السلام كو _(۵)

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا بار بار حسنعليه‌السلام و حسينعليه‌السلام كو سينہ سے لگاتے ، ان كى خوشبو سونگھتے، بوسہ ديتے اور فرماتے تھے حسن و حسين( عليہما السلام)جوانان بہشت كے سردار ہيں _(۶)

پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور امام حسينعليه‌السلام كے درميان معنوى اور وراثتى رابطہ كو بيان كرنے كے لئے بلندترين قريب ترين اور واضح ترين جملہ، اس جملہ كو كہا جاسكتا ہے جس ميں پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ حسينعليه‌السلام مجھ سے ہے اور ميں حسين سے ہوں _''(۷)

والد ماجد كے ساتھ

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كى آنكھيں بند ہوجانے كے بعد امام حسينعليه‌السلام نے اپنى عمر مبارك كے تيس سال اپنے پدربزرگوار كے ساتھ گذارے _اس پورى مدت ميں آپ دل و جان سے پدر عاليقدر كى اطاعت كرتے رہے اور باپ كى پانچ سالہ حكومت كے زمانہ ميں امام حسينعليه‌السلام اسلام كے مقاصد كو آگے بڑھانے ميں ايك جاں باز فداكار كى طرح اپنے بڑے بھائي كى مانند كوشش كرتے رہے اور جمل و صفين و نہروان كى جنگوں ميں شريك رہے_(۸)

بھائي كے ساتھ

حضرت علىعليه‌السلام كى شہادت كے بعد، علىعليه‌السلام كے بڑے بيٹے حسن بن على عليہما السلام كى طرف امامت و رہبرى منتقل ہوگئي_ امام حسينعليه‌السلام جو مكتب رسالت و ولايت كے پروردہ تھے، اپنے بھائي كے ساتھ ہم فكر تھے _ جب اسلام اور مسلمانوں كے معاشرہ كے مصالح كے پيش نظر امام حسن _معاويہ كى


صلح كى پيشكش كو قبول كرنے كے لئے مجبور ہوئے تو اس وقت امام حسينعليه‌السلام بھائي كے غموں ميں شريك تھے _ اور چونكہ آپ جانتے تھے كہ يہ صلح، اسلام اور مسلمانوں كى بھلائي كيلئے ہوئي ہے اس لئے آپ نے ہرگز اعتراض نہيں كيا اور ہميشہ امام حسنعليه‌السلام كے موقف كا دفاع كرتے رہے_(۹)

ايك دن معاويہ، امام حسن و امام حسين عليہما السلام كے سامنے امام حسنعليه‌السلام اور ان كے پدر بزرگوار اميرالمومنين كى بدگوئي كيلئے لب كشاہوا_ امام حسينعليه‌السلام اٹھے تا كہ اس كى اہانت كا جواب ديں ليكن آپ كے بھائي نے خاموش رہنے كا اشارہ كيا اور پھر خود ہى انہوں نے معاويہ كو بہت مناسب اور جھنجھوڑنے والے بيان كے ذريعہ خاموش كرديا_(۱۰)

اخلاقى فضائل و مناقب

امام حسينعليه‌السلام كى مكمل حق طلب اور خداپرست ۵۶ سالہ زندگى پر اگر اجمالى نظر ڈالى جائے تو ہم كو پتہ چلے گا كہ آپعليه‌السلام كى زندگى ہميشہ پاك دامني، خدا كى بندگي، محمدىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پيغام كى نشر و اشاعت اور انسانيت كى بلند قدروں كى حفاظت ميں گذرى ہے_

آپ كو پروردگار كى نماز و بندگي، قرآن، دعا اور استغفار سے بڑا شغف تھا_ كبھى كبھى شب و روز ميں سينكڑوں ركعت نماز پڑھتے تھے،(۱۱) حتى كہ اپنى زندگى كى آخرى رات ميں بھى عبادت و دعا سے دست بردار نہيں ہوئے اور اس رات آپعليه‌السلام نے دشمنوں سے مہلت مانگى تا كہ خلوت ميں اپنے خدا سے راز و نياز كرسكيں اور فرمايا: خدا جانتا ہے كہ ميں نماز تلاوت قرآن اور دعا و استغفار كو بہت زيادہ دوست ركھتا ہوں _(۱۲)

ابن اثير نے لكھا ہے كہ حسينعليه‌السلام بہت روزے ركھتے_ نمازيں پڑھتے حج كو جاتے، صدقہ ديتے اور تمام اچھے كاموں كو انجام ديتے تھے_(۱۳)

حضرت اباعبداللہ الحسينعليه‌السلام زيارت خانہ خدا كيلئے بارہا پيدل تشريف لے گئے اور حج كا


فريضہ ادا كيا_(۱۴)

امام حسينعليه‌السلام كى شخصيت ايسى پر شكوہ اور باعظمت تھى كہ جب آپعليه‌السلام اپنے بھائي امام حسن مجتبى _كے ساتھ حج كے لئے پيدل جارہے تھے تو تمام بزرگ اور اسلام كے نماياں افراد آپعليه‌السلام كے احترام ميں مركب اور سوارى سے اتر پڑتے اور آپعليه‌السلام كے ہمراہ پيدل راستہ طے كرتے_(۱۵)

امام حسينعليه‌السلام كا ا حترام اور ان كى قدردانى كا معاشرہ اس لئے قائل تھا كہ آپعليه‌السلام ہميشہ لوگوں كے ساتھ زندگى بسر كرتے اور دوسروں كى طرح ايك معاشرہ كى نعمتوں اور مصيبتوں ميں شامل رہتے تھے اور خداوند عالم پر پُر خلوص اعيان كى بناپر آپ عوام كے غم خوار اور مددگار تھے_

آپ ايك ايسى جگہ سے گذر ے جہاں كچھ فقير اپنى اپنى چارديں بچھائے ہوئے بيٹھے تھے اور سوكھى روٹيوں كے ٹكڑے كھارہے تھے _ امام حسينعليه‌السلام كو ان لوگوں نے دعوت دى تو آپ نے ان كى دعوت قبول كى اور ان كے پہلو ميں بيٹھ گئے اور پھر آپ نے يہ آيت پڑھي:انَّه لا يحب المستكبرين _(۱۶)

اس كے بعد آپعليه‌السلام نے فرمايا كہ : '' ميں نے تمہارى دعوت قبول كى اب تم بھى ميرى دعوت قبول كرو_ وہ لوگ امام حسينعليه‌السلام كے ساتھ ان كے گھر آئے_ امامعليه‌السلام نے حكم ديا كہ جو كچھ گھر ميں ہے وہ مہانوں كے لئے لايا جائے_(۱۷)

اس طرح آپ نے معاشرہ كو تواضع اور انسان دوستى كا د رس ديا_

اس حصّہ كو علائلى كى اس بات كے خلاصہ كے ساتھ ختم كرتا ہوں جو انہوں نے اپنى كتاب ميں ابا عبداللہ الحسينعليه‌السلام كے بارے ميں كہى ہے وہ فرماتے ہيں كہ : '' تاريخ ميں ہم كو ايسے بزرگ افراد نظر آتے ہيں جن ميں ہر ايك نے كسى نہ كسى جہت اور كسى نہ كسى محاذ پر اپنى عظمت و بزرگى كو عالمى حيثيت دى ہے_ ايك شجاعت ميں تو دوسرا زہد ميں تو تيسرا سخاوت ميں

ليكن ا مام حسين كى عظمت و بزرگى كا ہر پہلو فراز تاريخ كى عظمت كو دوبالا كرنے والا ہے_ گويا آپعليه‌السلام ميں تمام خوبياں اور بلندياں جمع ہوگئي تھيں _(۱۸)


امام حسينعليه‌السلام معاويہ كے زمانہ ميں ابوعبداللہ الحسن اپنے پدر بزرگوار كى شہادت كے بعد خدا كے حكم اور اپنے بھائي كى وصيت سے اسلامى معاشرہ كى قيادت اور امامت كے منصب پر فائز ہوئے آپ نے اپنى امامت كے تقريباً دس سال معاويہ كى حكومت كے زمانہ ميں گزارے اس مدت ميں آپ نے امام حسنعليه‌السلام كى روش كو قائم ركھا اور جب تك معاويہ زندہ رہاآپعليه‌السلام نے كوئي مؤثر اقدام نہ كيا_

امام حسين اگر چہ يہ ديكھ رہے تھے كہ معاويہ اسلام ہى كى طاقت سے اسلامى معاشرہ كى بنياد اور قوانين الہى كو بدل ڈالنے كى كوشش كر رہا ہے_ چنانچہ آپ كو قلق بھى تھا _ ليكن جانتے تھے كہ اگر اس كے مقابلہ كے لئے اٹھا جائے تو ہر مفيد اقدام و تحريك ( اور كوئي بھى نتيجہ حاصل ہونے ) سے پہلے آپ كو قتل كرديا جائے گا_

كبھى تو آپعليه‌السلام معاويہ كے حركات و اعمال پر صرف تنقيد كرتے اور لوگوں كو آئندہ كے لئے اميد دلاتے اور اس تمام مدت ميں جب معاويہ ، يزيد كى ولى عہدى كے لئے لوگوں سے بيعت لے رہا تھا امام حسينعليه‌السلام نے شدّت سے مخالفت كى اور يزيد كى بيعت كے لئے ہرگز آمادہ نہيں ہوئے يہاں تك كہ كبھى معاويہ كو سرزنش كرتے اور تنقيدى خط لكھتے تھے_(۱۹)

قيام حسيني

معاويہ كى موت كے بعد خلافت_ جو كہ سلطنت ميں تبديل ہوگئي تھي_ اس كے بيٹے يزيد كى طرف منتقل ہوگئي_ زمام حكومت كو ہاتھوں ميں ليتے ہى يزيد نے اپنے اركان سلطنت كو مضبوط بنانے كيلئے عالم اسلام كى اہم شخصيتوں اور جانے پہچانے لوگوں سے اپنى بيعت لينے كا ارادہ كيا_ اس غرض سے اس نے حاكم مدينہ كے نام خط لكھا اور حكم ديا كہ امام حسينعليه‌السلام سے ميرى بيعت لے اور اگر وہ مخالفت كريں تو ان كو قتل كردو_


مدينہ كے گورنر نے حكم كے مطابق بيعت كا سوال امامعليه‌السلام كے سامنے ركھا، امام حسينعليه‌السلام نے فرمايا: ''انالله و انا اليه راجعون و على الاسلام السلام اذا بليت الامة براع: مثل يزيد (۲۰) '' يعنى جب يزيد جيسے لوگ ( شراب خوار، جواري، بے ايمان اور ناپاك) حكومت اسلامى كى مسند پر بيٹھ جائيں تو اسلام پر فاتحہ پڑھ دينا چاہيے_

امامعليه‌السلام نے بيعت كى پيش كش كو ٹھكرانے كے بعد يہ سمجھ ليا كہ اگر مدينہ ميں رہے تو آپعليه‌السلام كو قتل كرديا جائے گا_ لہذا رات كے وقت پوشيدہ طور پر ۲۸ رجب ۶۰ ھ كو اپنے يار و انصار كے ساتھ مكہ كى طرف روانہ ہوگئے_(۲۱)

آپ كے مكہ ميں پہنچنے اور يزيد كى بيعت سے انكار كرنے كى خبر مكہ اور مدينہ كے لوگوں كے درميان پھيل گئي اور يہ خبر كوفہ بھى پہنچ گئي _ اس طرح لوگوں كو امام حسينعليه‌السلام كى مدد اور ان كى موافقت كے لئے اپنے كوآمادہ كرنے كا موقع نظر آيا كہ شايد اس طرح بنى اميہ كے ظلم سے نجات مل جائے_

كوفيوں نے_ مندرجہ بالا نكات كے پيش نظر _ مكہ پہنچنے كى خبر سنتے ہى بہت سے خطوط كے ذريعہ آپعليه‌السلام كو دعوت دى كہ آپ كوفہ تشريف لايئےور ہمارى رہنمائي كى ذمہ دارى قبول كرليجئے_

حضرت ابو عبداللہ الحسينعليه‌السلام نے جناب مسلم كو روانہ كرنے كے ساتھ ان تمام خطوط كا جواب مختصر جملوں ميں اس طرح لكھا'' اما بعد يہ خط حسين بن على (عليہما السلام) كى طرف سے عراق كے مسلمانوں اور مؤمنوں كى جماعت كى طرف بھيجا جار ہا ہے_ تم يہ جان لو كہ ہانى اور سعيد جو تمہارے بھيجے ہوئے آخرى افراد تمہارے خطوط لے كر آئے_ ان تمام باتوں كى جو تمہارى تحريروں سے عياں تھيں مجھے اطلاع ملي_ خلاصہ يہ كہ تمہارا مطلب يہ تھا كہ '' ہمارے پاس كوئي لائق رہبر اور امام نہيں ہے ہمارے پاس آجايئےايد خدا ہم كو آپ كے ذريعہ ہدايت تك پہنچا دے_ فورى طور پرميں حضرت مسلم كو جو ميرے چچا كے بيٹے اور ميرے معتمد ہيں ، تمہارے پاس بھيج رہا ہوں اگر انہوں نے لكھا كہ تمہارے آخرى نظريات عملى طور پر اسى طرح ہيں جيسا كہ تم نے


خط ميں لكھا ہے تو ميں اسے قبول كر كے تمہارى طرف آؤں گا_ آخر ميں آپعليه‌السلام نے مزيد لكھا _ مجھے اپنى جان كى قسم ، امام و پيشوا صرف وہ ہے جو خود دين كا پابند ہو اورعدل و انصاف كرتا ہو اور خدا كى رضا كے لئے حليم ہو _ ''(۲۲)

حضرت مسلم اس خط كو ليكر كوفہ پہنچے ، ان كے پہنچنے كى خبر بڑى تيزى سے كوفہ ميں پھيل گئي _اہل كوفہ نے پر تپاك طريقہ سے امامعليه‌السلام كے نمائندہ حضرت مسلم بن عقيل كا استقبال كيا _ايسا استقبال پہلے كبھى نہيں ہوا تھا، پھر جناب مسلم بن عقيل كے ہاتھوں بيعت كى اور دن بدن بيعت كرنے والوں كى تعداد ميں اضافہ ہوتا رہا _

كوفہ سے دو خط

امام حسينعليه‌السلام كے حق اور يزيد كى مخالفت ميں انقلابى صورت حال پيدا ہوجانے كے بعد دو خط لكھے گئے_ ايك خط حسينعليه‌السلام بن علىعليه‌السلام كو لكھا گيا اور دوسرا يزيد كو جناب مسلم نے امام حسينعليه‌السلام كو لكھا:'' اب تك بے شمار لوگوں نے ميرى بيعت كى ہے_ اب آپ كوفہ آجايئے'(۲۳)

يزيد كے پيروكاروں نے اس كو لكھا كہ : '' اگر عراق كى حكومت كو بچانا ہے تو كسى لائق گورنر كو بھيجوتا كہ ان فتنوں كو ختم كردے اس لئے كہ نعمان بن بشير( حاكم كوفہ) ايك كمزور آدمى ہے يا اس نے اپنے آپ كو كمزور بناركھا(۲۴) ہے_

ان دو خطوط كے نتيجہ ميں دو اقدام سامنے آئے_ پہلے خط نے امام حسينعليه‌السلام كى كوفہ كى طرف روانگى كے مقدمات فراہم كئے اور دوسرے خط نے پہلے حاكم كو معزول اور اس كى جگہ پر عبيداللہ ابن زياد كو معين كيا_

امام حسينعليه‌السلام ہر چند كہ كوفيوں كو بخوبى پہچانتے تھے اور ان كى بے وفائي، ان كے عقيدہ كا تزلزل اپنے پدر گرامى اور برادر بزرگ كى حكومت كے زمانہ ميں ديكھ چكے تھے ليكن اتمام حجّت


اورخداوند عالم كے اوامر كے اجراء كے لئے آپعليه‌السلام نے كوفہ جانے كا ارادہ كيا_ خصوصاً مكہ ميں چند ماہ قيام كے بعد آپعليه‌السلام نے يہ سمجھ ليا كہ يزيد( لعن) كسى طرح بھى آپ سے دست بردار ہونے كے لئے تيار نہيں ہے اور اگر آپعليه‌السلام بيعت نہيں كرتے تو آپ كا قتل، اور وہ بھى خانہ خدا كے نزديك يقينى ہے_

اس صورت حال ميں امام حسينعليه‌السلام ۸ ذى الحجہ تك _ جس دن تمام حُجّاج منى كى طرف جانے كا ارادہ كر رہے تھے(۲۵) مكہ ميں رہے اور حج تمتع كو عمرہ مفردہ سے بدلنے كے بعد اپنے اہل بيت اور اصحاب كو لے كر مكہ كو ترك كيا اور عراق كى طرف چل پڑے _(۲۶)

امام _كا ايسے زمانہ ميں اور ايسى جگہ سے كوچ كرنا، جہاں لوگ دور دور سے اركان حج بجا لانے كے لئے آتے ہيں ، ايسا بے نظير اقدام تھا كہ جس كى ايك عام مسلمان سے بھى توقع نہيں كى جاسكتى تھى چہ جائيكہ فرزند پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ، اسى وجہ سے تھوڑى ہى مدت ميں سارے شہر مكہ ميں امام كے سفر كى خبر گشت كرنے لگي_

امام حسينعليه‌السلام نے اپنے ناگہانى اور آشكار سفر سے اپنے فريضہ پر بھى عمل كيا اور مسلمانوں كو بھى سمجھا ديا كہ فرزند پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے يزيد كى حكومت كو قانونى نہيں سمجھا اور نہ صرف اس كى بيعت نہيں كى بلكہ اس كے خلاف اٹھ كھڑے ہوئے ہيں _

حضرت مسلم ابن عقيل كى شہادت

حضرت مسلم كے ہاتھ پر اہل كوفہ كى بيعت اور امام حسينعليه‌السلام كى طرف ان كے ميلان كى اطلاع يزيد كو مل چكى تھى _ اس نے ابن زياد كو كوفہ بھيجا ابن زياد نے شيطانى چال كے ذريعہ ايك نيا بھيس بدلا، چہرہ پر نقاب ڈالا اور بنى ہاشم كے كسى شريف اور بڑى شخصيت كے روپ ميں رات كے اندھيرے ميں كوفہ ميں وارد ہوا _ جو لوگ امام حسينعليه‌السلام كے منتظر تھے انہوں نے يہ گمان كيا كہ يہ


حسينعليه‌السلام ہيں _

ابن زياد بغير كسى سے كوئي بات كئے اور نقاب ميں منھ چھپائے ہوئے سيدھا دار الامارہ پہنچا_(۲۷)

عبيداللہ ابن زياد نے دارالامارہ ميں مشورہ كيلئے ايك مٹينگ بلائي اور ابتدائي اقدامات كے بعد، كوفہ والوں كے ايمان كى كمزورى ، دوغلہ پن اور ان كے خوف سے فائدہ اٹھايا اور ان كو ڈرا دھمكا كر حضرت مسلم كے اطراف سے منتشر كرديا يہاں تك كہ جب حضرت مسلم نماز كے لئے آئے تو صرف تيس افراد نے ان كے پيچھے نماز پڑھى اور نماز كے بعد وہ بھى متفرق ہوگئے_ جب آپ مسجد سے باہر نكلے تو آپ كے ساتھ كوئي بھى نہيں تھا

حضرت مسلم نے ابن زياد كے لشكر سے اكيلے جنگ كى اور ايك بہادرانہ جنگ كے بعد شہيد ہوگئے_(۲۸)

ظلم كے خلاف عظيم ترين قيام

عراق كے قصد سے ابو عبداللہ الحسينعليه‌السلام نے حجاز كو چھوڑ ديا ليكن در حقيقت آپ اس مقصد كى طرف جا رہے تھے جو صرف عراق ميں نہيں تھا_ يہ عظيم مقصد اسلام اور مسلمانوں كو استعمار كے چنگل اور خاندان بنى اميہ كے استبدادى پنجہ سے چھڑانا تھا_ اسى وجہ سے آپعليه‌السلام دوستوں كى مقدس مآبانہ باتوں اور نصيحتوں كے برخلاف، جو اس سفر كو ترك كرنے پر مبنى تھيں ، اپنے عزم و ارادہ پر جمے رہے اور اسلام كى نجات كے لئے آخرى تحريك شروع كى جس كو بہر قيمت انجام تك پہنچانا تھا_

امام حسينعليه‌السلام راستہ ميں بہت سے لوگوں كو اپنى مدد كے لئے دعوت ديتے اور جو لوگ ان كے ساتھ تھے ان كو يزيد سے جنگ كے بارے ميں اپنے مصمم ارادہ سے آگاہ كرتے رہے اور اس


جنگ كے نتيجے ميں سب كے قتل ہوجانے سے بھى آگاہ كرتے رہے اور اس بات كا اختيار ديا كہ وہ چاہيں تو ساتھ چھوڑ كر جاسكتے ہيں _ '' صفاح'' نام كى ايك جگہ پر كوفہ سے واپس آنے والے فرزدق سے ملاقات ہوگئي، آپعليه‌السلام نے كوفہ كے حالات كے بارے ميں ان سے سوال كيا، فرزدق نے جواب ديا كہ '' لوگوں كے دل تو آپعليه‌السلام كے ساتھ ہيں مگر ان كى تلواريں بنى اميہ كے ساتھ ہيں _(۲۹)

شہادت

امام حسينعليه‌السلام كا قافلہ كوفہ سے پہلے سرزمين كربلا پر ( تقريباً كوفہ سے ۷۰ كيلوميٹر دور) دشمن كے بہت بڑے لشكر سے روبرو ہوا_ آپ كے ساتھ صرف وہى لوگ تھے جو جان كى بازى لگانے والے تھے اور فرزند پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى نصرت و مدد كے سوا انكا اور كوئي مقصد و مطلوب نہ تھا _

آخر كار يہ لوگ ابن زياد كے تيس ہزار لشكر كے تنگ گھيرے ميں آگئے(۳۰) يہاں تك كہ فرات كا پانى بھى ان پر بند كرديا گيا_

ايسے حالات ميں فرزند زہراء حضرت امام حسينعليه‌السلام كے سامنے دو ہى راستے تھے يا قتل يا بيعت، حسين ابن على (عليہما السلام)جو مكتب وحى محمدى اور ولايت علوى كے پروردہ تھے انہوں نے بيعت نہيں كى اور ان بہتر(۳۱) افراد كے ساتھ ( جو ان كے بہترين اصحاب، وابستگان اور فرزند تھے_ جن ميں سے ہر ايك اخلاص ،جواں مردي، شجاعت، عزت و شرافت انسانى كى اخلاقى قدروں سے آراستہ اور انسانيت كا مكمل نمونہ تھے دس محرم ۶۰ ھ كو صبح سے عصر تك پسر معاويہ كے كثير اور آراستہ لشكر كے مقابلہ ميں ايك شجاعانہ اور قابل فخر جنگ كى _ اور بالآخر شربت شہادت نوش فرمايا_ اور اس زمين كے سينہ پر جب تك انسانيت موجود رہے گى اس وقت تك كے لئے اپنے نام كو جاودانہ بناديا_


آپعليه‌السلام كى شہادت كے بعد دشمن كا لشكر آپعليه‌السلام كے پسماندگان كے خيمہ ميں گھس آيا، تمام مال و اسباب لوٹ ليا اور آپعليه‌السلام كے اہل بيت كو اسير كركے شہداء كے كٹے ہوئے سروں كے ساتھ كوفہ اور وہاں سے شام لے گيا_


سوالات

۱_ حسينعليه‌السلام ابن علىعليه‌السلام كس تاريخ كو پيدا ہوئے اور پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اكرم كے ساتھ كتنے دنوں تك رہے؟

۲_ صلح كے بارے ميں امام حسينعليه‌السلام كا موقف كيا تھا؟ اس كا ايك نمونہ بيان فرمايئے

۳_ امام حسينعليه‌السلام كى تواضع اور فروتنى كے ايك نمونہ كا ذكر كيجئے_

۴_امام حسينعليه‌السلام كا قيام كس زمانہ ميں اور كس طرح شروع ہوا؟

۵_ امامعليه‌السلام نے مكہ سے كوفہ جانے كا كيوں ارادہ كيا اور كوفہ جانے سے پہلے آپعليه‌السلام نے كون سا اقدام كيا ؟

۶_ دشمن كے لشكر سے امام حسينعليه‌السلام كس جگہ ملے؟ دونوں لشكروں كے حالات اور آپعليه‌السلام كى اور آپعليه‌السلام كے اصحاب كى تاريخ شہادت بيان كيجئے؟


حوالہ جات

۱ اعلام الورى / ۲۱۳، بحار جلد ۴۴/ ۲۰۱_

۲ بحار جلد ۴۳/ ۲۴۱_

۳ فروع كافى جلد ۶/۳۳ بحار جلد ۴۳/ ۲۵۷_

۴ ''انت سيد بن سيد ابوالسادات انت امام ابن امام ابوالائمه ، انت حجة الله بن حجته و ابو حجج تسعة من صلبك و تاسعهم قائمهم'' مقتل خوارزمى جلد ۱ / ۱۴۶، كمال الدين صدوق جلد ۱/ ۲۶۲ بحار جلد ۴۳/ ۲۹۰_

۵ ''سئل رسول الله اى اهل البيت احب اليك ؟ قال : الحسن والحسين ''سنن ترمذى جلد۵/ ۳۲۳ ، بحار جلد ۴۳/ ۲۶۴، ۲۶۵_

۶الحسن والحسين سيد الشباب اهل الجنه ، بحار جلد ۴۳ / ۲۶۴ ، ۲۶۵، سنن ترمذى جلد ۵/ ۳۲۳ بحار جلد ۴۳/۲۹۹_

۷ ''حسين منى و انا من حسين'' سنن ترمذى جلد ۵/ ۳۲۴، بحار جلد ۴۳/ ۲۷۰ _ ۲۷۲ مقتل خوارزمى جلد ۱ / ۱۴۶، انساب الاشراب بلاذرى جلد ۳ / ۱۴۲_

۸ الاصابہ جلد ۱ ص ۳۳۳_

۹ كافى ميں منقول ہے كہ جس نشست ميں امام حسنعليه‌السلام بيٹھے رہتے تھے اس ميں امام حسينعليه‌السلام بھائي كے احترام كى بناپر باتيں نہيں كرتے تھے يہاں تك كہ بخشش و عطا ميں بھى اس بات كا خيال ركھتے تھے كہ امام حسنعليه‌السلام سے ذرا كم ہو_

۱۰ ارشاد مفيد / ۱۷۳ ، شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد جلد ۱۶ / ۴۷_

۱۱ بحار جلد ۴۴/ ۱۹۶ ، منقول از فلاح السائل و عقد الفريد_

۱۲ ارشاد مفيد / ۲۳۰ مطبوعہ مكبة بصيرتي'' فهو يعلم اَنّى قد كنت احبُّ الصلوة و تلاوة كتابه و كثرة الدعا و الاستغار''

۱۳ اسد الغابہ جلد ۲/۲۰_

۱۴ انساب الاشراف بلاذري_


۱۵ سورہ نحل / ۲۳_

۱۶ تفسير سياسى جلد ۲/۲۵۷ ، مناقب جلد ۴/ ۶۶ ، جلاء العيون مرحوم شبر جلد ۲/ ۲۴_

۱۷ سمو المعنى / ۱۰۴_

۱۸ رجال كشى / ۹۴_

۱۹ مقتل خوارزمى جلد ۱ /۱۸۴، لہوف / ۲۰ بحار جلد ۴۴/ ۳۲۶_

۲۰ ارشاد مفيد / ۲۰۱ ، تاريخ طبرى جلد ۳۴۱، بحار جلد ۴۴/ ۳۲۶_

۲۱ مناقب ابن شہر آشوب جلد ۴/۹۰ ،ارشاد مفيد / ۲۰۴ بحار جلد ۴۴/ ۳۳۴ كامل ابن اثير جلد ۴/۲۱

۲۲ ارشاد مفيد / ۲۰۵ ،بحار جلد ۴۴/ ۳۳۶_

۲۳ مناقب ابن شہر آشوب جلد ۴/ ۹۱ ،بحار جلد ۴۴ / ۳۶۶

۲۴ ۸ذى الحجة كو منى جانا ايك مستحب عمل ہے اس زمانہ ميں اس استحبابى حكم پر عمل ہوتا تھا ليكن اس زمانہ ميں حجاج ايك ساتھ عرفات جاتے ہيں _

۲۵ ارشاد مفيد /۲۸۱ ،بحار جلد ۴۴/ ۳۶۳ ،اعلام الوري/ ۲۲۷ ،اعيان الشيعہ ( دس جلد والي) جلد ۱ / ۵۹۳، نہضت الحسين مصنفہ ہية الذين شہرستانى /۱۶۵ مقتل ابى مخنف / ۶۶ ، ليكن بعض صحيح روايات سے استفادہ ہوتاہے كہ امام حسينعليه‌السلام نے حج تمتع كا احرام نہيں باندھا تھا كہ اس كو عمرہ مفردہ سے تبديل كرديں ملاحظہ ہو وسائل الشيعہ جلد ۱۰ باب ۷ از ابواب عمرہ حديث ۲،۳_

۲۶ ارشاد مفيد / ۲۰۶ ،بحارجلد ۴۴/ ۳۴۰ مقاتل الطالبين /۶۳_

۲۷ ارشاد مفيد / ۲۱۲_

۲۸ ارشاد مفيد / ۲۱۳ _۲۱۶_

۲۹ '' قلوبہم معك و سيوف مع بنى اميہ ...'' تاريخ طبرى جلد ۵/۳۸۴ ، كامل ابن اثير جلد ۴/ ۴۰ ارشاد مفيد / ۶۱۸ بحار ،جلد ۴۴/ ۱۹۵_

۳۰ بحار جلد ۴۴/ ۳۸۶_ البتہ لشكر يزيد كى تعداد كے بارے ميں دوسرى روايتيں بھى ہيں جن ميں سب سے كم بارہ ہزار كى روايت ہے _ مناقب جلد ۴/۹۸پر ۳۵ ہزار افراد كى تعداد بھى لكھى گئي ہے_


چھٹاسبق:

امام حسينعليه‌السلام كى سوانح عمري (دوسرا حصّہ )


زندہ جاويد روداد

اسلام كے تيسرے رہبر كى اور ان كى اولاد و اصحاب كى دشت كربلا ميں جاں بازي، فداكارى اور شہادت آپ كى زندگى كا اہم ترين واقعہ ہے_ جس نے عقل و خرد كو جھنجوڑ كر ركھ ديا، تمام واقعات كے اوپر چھاگيا_ اور ہميشہ كے لئے تاريخ كے صفحات پر زندہ جاويد و پائيدار بن گيا_

دنياميں پيش آنے والا ہر واقعہ_ چا ہے وہ كتنا ہى بڑا اور عظيم كيوں نہ ہو _ اس كو تھوڑے ہى دن گذرنے كے بعد زندگى كا مدّ و جزر فراموشى كے سپرد كرديتا ہے اور مرور زمانہ اس كے فروغ ميں كمى كرديتاہے اور اوراق تاريخ پر سوائے اس كے نام كے كچھ باقى نہيں بچتا_

ليكن بہت سے واقعات ايسے ہيں كہ زمانہ گذرجانے كے بعد بھى ان كى عظمت گھٹتى نہيں اللہ والوں كى تاريخ اور وہ انقلابات جو آسمانى پيغمبروں اور الہى عظيم رہبروں كے ذريعہ آئے ہيں ، يہ تمام كے تمام واقعات چونكہ خدا سے متعلق و مربو ط ہيں اس لئے ہرگز بھلائے نہيں جاسكيں گے اور مرور زمانہ كا كوئي اثر قبول نہيں كريں گے_

حضرت حسينعليه‌السلام بن علىعليه‌السلام كى تحريك اور كربلا كا خونين حادثہ و انقلاب ،انسانى معاشرہ كى ايك اہم ترين سرگذشت ہے، اس حقيقت پر تاريخ و تجربہ روشن گواہ ہيں _

عاشور كى خون آلود تاريخ كے تجزيہ ميں دوسرے مطالب سے پہلے چند مطالب توجہ كے قابل اور تاريخى لحاظ سے زبردست تحقيق كے محتاج ہيں جنہيں اختصار سے بيان كيا جارہا ہے:


۱) امام حسينعليه‌السلام كے قيام كے اسباب

۲) امام حسينعليه‌السلام كى تحريك و انقلاب كى ماہيت

۳) امام حسينعليه‌السلام كے انقلاب كے اثرات و نتائج

انقلاب حسينعليه‌السلام ابن علىعليه‌السلام كا اہم اور واضح سبب ايك انحرافى سلسلہ تھا جو اس وقت اسلامى حكومت كى مشينرى ميں رونما ہوچكا تھا _ اور لوگوں ميں اموى گروہ كے تسلط كى بنا پر دين سے انحراف اور اجتماعى ظلم و ستم مكمل طور پر نماياں تھا_ يزيد كے خلاف امام حسينعليه‌السلام كا قيام اس بناپر تھا كہ وہ اموى حكومت كا مظہر تھا، وہ حكومت جو ملت كے عمومى اموال كى عياشي، رشوت خورى ، با اثرا فراد كے قلوب كو اپنى طرف كھينچنے اور آزادى دلانے والى تحريكوں كو ختم كرنے ميں خرچ كرتى تھي، وہ حكومت جس نے غير عرب مسلمانوں كا جينا دشوار كر كے ان كو ختم كردينے كى ٹھان لى تھى اور جس نے عرب مسلمانوں كے شيرازہ اتفاق كو بكھير كر ان كے درميان نفاق اور كينہ كا بيج بوديا تھا _

وہ حكومت جس نے اموى خاندان كے مخالفين كو جہاں پايا وہيں قتل كرديا_ ان كے مال كو لوٹ ليا، وہ حكومت جس نے قبائلى عصبيت كى فكر كو برانگيختہ كرديا مسلمانوں كے اجتماعى وجود كيلئے خطرہ بن گئي تھى _

وہ حكومت جو كہ اسلام كے پيغام كے تحقق، قوانين و حدود اور اجتماعى عدالت كے اجراء كى بجائے ايك ايسے پليد شخص كے ہاتھ كا كھلونہ تھى جو كہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رسالت اور ان پر وحى كے نزول كا انكار كر رہا تھا_ يزيد اپنے دادا ابوسفيان كى طرح تھا ، جس كا كہنا تھا '' اب حكومت بنى اميہ كے قبضہ ميں آگئي ہے خلافت كو گيند كى طرح گھماتے رہو اور ايك دوسرے كى طرف منتقل كرتے رہو ميں قسم كھا كر كہتا ہوں كہ نہ كوئي جنّت ہے نہ جہنّم''(۱) يزيد بھى ان تمام باتوں كو ايك خيال سے زيادہ نہيں سمجھتا تھا_(۲)

امام حسينعليه‌السلام نے ايسے حالات ميں انقلاب كے لئے ماحول كو سازگار پايا آپعليه‌السلام نے خود اس وصيت ميں جو اپنے بھائي محمد حنفيہ كو كى تھي، اپنے قيام كے بارے ميں لكھا كہ '' ميرے قيام كى وجہ


ہوا و ہوس اور بشرى ميلانات نہيں ہيں ، ميرا مقصد ستمگرى اور فتنہ و فساد پھيلانا نہيں ہے _ بلكہ ميرا مقصد تو اپنے جد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كى امت كى خراب حالت كى اصلاح كرنا ہے_ ميرا مقصد امر بالمعروف اور نہى عن المنكر ہے ميں چاہتا ہوں كہ اپنے جد رسول خدا كى سيرت اور اپنے باپعليه‌السلام على كے راستہ پرچلوں ...''(۳)

اسى طرح حر بن يزيد رياحى سے ملاقات كے بعد اپنى ايك تقرير ميں آپعليه‌السلام نے اپنے قيام كى تصريح كى اور فرمايا : '' اے لوگو پيغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا ہے كہ جو كسى ايسے ظالم فرمان روا كو ديكھے جو حرام الہى كو حلال شمار كرتا ہوخدا سے كيے گئے عہد و پيمان كو توڑتا ہو اس كے پيغمبر كى سنت كى مخالفت كرتاہو، خدا كے بندوں پرظلم و ستم كرتا ہو ا ور ان تمام باتوں كے باوجود زبان و عمل سے اپنى مخالفت كا اظہار نہ كرے تو خدا اس كو اسى ظالم فرمان روا كے ساتھ ايك ہى جگہ جہنّم ميں ركھے گا_

اے لوگو انہوں نے ( يزيد اور اس كے ہمنواؤں نے) شيطان كى اطاعت كا طوق اپنى گردن ميں ڈال ليا ہے اور خدائے رحمن كى پيروى ترك كردى ہے فساد پھيلاركھا ہے اور قوانين الہى كو معطل كرركھا ہے، بيت المال كو انہوں نے اپنے لئے مخصوص كرليا_ حلال خدا كو حرام اور حرام الہى كو حلال سمجھ ليا ہے_ ميں اسلامى معاشرہ كى قيادت كے لئے تمام لوگوں سے زيادہ حق دار ہوں اور ان مفاسد سے جنگ اور ان خرابيوں كى اصلاح كے لئے سب سے پيش پيش ہوں ...''(۴)

امام حسينعليه‌السلام نے معاويہ كے زمانہ ميں قيام كيوں نہيں كيا؟

ممكن ہے كہ يہاں يہ سوال پيش آئے كہ معاويہ كے زمانہ ميں متعدد عوامل ايسے پيدا ہوگئے تھے جو قيام و انقلاب كا تقاضا كرتے تھے اور حسينعليه‌السلام ابن علىعليه‌السلام ان تمام عوامل سے آگاہ تھے اور آپ نے ان خطوط ميں جو معاويہ كے جواب ميں لكھے تھے ان اسباب كو بيان بھى كيا ہے_(۵) پھر آپعليه‌السلام نے معاويہ كے زمانہ ميں قيام كرنے سے كيوں گريز كيا؟


جواب: تمام وہ عوامل و مسائل جنہوں نے امام حسنعليه‌السلام كو معاويہ سے صلح كرنے كے لئے مجبور كيا وہى عوامل امام حسينعليه‌السلام كے لئے بھى قيام سے باز رہنے كا سبب بنے_(۶) عراقى معاشرہ پر مسلط حاكم كى حقيقت كو پہچاننے ميں امام حسينعليه‌السلام اپنے بھائي حسنعليه‌السلام سے كم نہ تھے_ وہ بھى اپنے بھائي كى طرح لوگوں كى كاہلى اور اسلامى معاشرہ كى افسوسناك صورت حال ديكھ رہے تھے كو اس وقت آپ نے عراق كے لوگوں قيام كرنے كى ترغيب دلانے كے بجائے عظيم مقصد كے لئے آمادہ اور مستعد كرنے كو ترجيح دي_

عراق كے شيعوں نے ايك خط ميں امام حسينعليه‌السلام سے درخواست كى كہ وہ معاويہ كے خلاف قيام كرنے كے سلسلہ ميں ان كى قيادت كريں _ حسين ابن علىعليه‌السلام نے موافقت نہيں كى اور جواب ميں لكھا:

'' ليكن ميرى رائے يہ ہے كہ انقلاب كا وقت نہيں ہے جب تك معاويہ زندہ ہے، اپنى جگہ بيٹھے رہو_ اپنے گھر كے دروازوں كو اپنے لئے بندركھو اور اتہام كى جگہ سے دور رہو _''(۷)

معاويہ اور يزيد كى سياست ميں فرق

معاويہ كے زمانہ ميں امام حسينعليه‌السلام كا انقلاب برپا كرنے كے لئے نہ اٹھنے اور يزيد كے زمانہ ميں اٹھ كھڑے ہونے كا اصلى سبب ان دونوں كى سياسى روش كے اختلاف ميں ڈھونڈھنا چاہيے_

دين و پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے تضاد ميں معاويہ كى منافقانہ روش بہت واضح اور اعلانيہ تھي_ وہ اپنے كوصحابى اور كاتب وحى كہتا تھا اور خليفہ دوم كى ان پر بے پناہ توجہ اور عنايت تھي، اس كے علاوہ ان اصحاب پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى اكثريت كو جن كى لوگ تعظيم و احترام كرتے تھے ( جيسے ابوہريرہ، عمرعاص، سمرة، مغيرہ بن شعبہ و غيرہ ...) كو حكومت و ولايت او رملك كے تمام حساس كاموں كى انجام دہى كے لئے مقرر


كيا تا كہ لوگوں كے حسن ظن كا رخ اپنى طرف موڑليں ، لوگوں كے درميان صحابہ كے فضائل اور ان كے دين كے محفوظ رہنے كى بہت سى روايتيں اور ايسى روايتيں _ كہ وہ جو بھى كريں معذور ہيں _ گھڑ لى گئيں ، نتيجہ ميں معاويہ جو كام بھى كرتا تھا اگر وہ تصحيح او ر توجيہ كے قابل ہوتا تھا تو كيا كہنا ورنہ بہت زيادہ بخششوں اور عنايتوں كے ذريعہ معترض كے منہ كو بند كرديا جاتا تھا اور جہاں يہ وسائل موثر نہيں ہوتے تھے انہيں خواہش كے پرستاروں كے ذريعہ ان كو ختم كرديا جاتا تھا_ جيسا كہ دسيوں ہزار حضرت علىعليه‌السلام كے بے گناہ چاہنے والوں كے ساتھ يہى رويہ اختيار كيا گيا:

معاويہ تمام كاموں ميں حق كا رخ اپنى طرف موڑ لينا چاہتا تھا اور امام حسنعليه‌السلام اور امام حسينعليه‌السلام كا ظاہرى احترام كرتا تھا وہ بہت زيرك اور دور انديش تھا اسے يہ معلوم تھا كہ حسين ابن علىعليه‌السلام كا انقلاب اور ان كا لوگوں كو قيام كے لئے دعوت دينا ميرى پورى حكومت اور اقتدار كے لئے خطرہ بن سكتا ہے_ اس لئے كہ اسلامى معاشرہ ميں حسينعليه‌السلام كى عظمت او ران كے مرتبہ سے معاويہ بخوبى واقف تھا_

اگر حسينعليه‌السلام ابن علىعليه‌السلام معاويہ كے زمانہ ميں قيام كرتے تو اس بات كا قوى امكان تھا كہ معاويہ آپعليه‌السلام كے انقلاب كو ناكام كرنے كے لئے ايسى روش اختيار كرتا كہ جو اسى جگہ كامياب ہوجاتى اور امامعليه‌السلام كے انقلاب كو عملى شكل دينے سے پہلے ہى زہر كے ذريعہ شہيد كرديا جاتا اور اس طرح معاويہ اپنے كو خطرہ سے بچاليتا جيسا كہ حسنعليه‌السلام ابن علىعليه‌السلام ، سعد ابن وقاص اور مالك اشتر كو قتل كرنے ميں اس نے يہى رويہ اختيار كيا تھا_

ليكن يزيد كى سياسى روش اس كے باپ كى سياسى روش سے كسى طرح بھى مشابہ نہ تھى وہ ايك خود فريب اور بے پروا نوجوان تھا اس كے پاس زور زبردستى كے علاوہ كوئي منطق نہ تھى وہ عمومى افكار كو ذرہ برابر بھى اہميت نہيں ديتا تھا_

وہ اعلانيہ طور پر اسلام كى مقدس باتوں كو اپنے پيروں كے نيچے روند تا تھا اور اپنى خواہشات پورى كرنے كے لئے كسى چيز سے باز نہيں رہتا تھا، يزيد كھلے عام شراب پيتا، راتوں كو نشست اور


بزم ميں بادہ خوارى ميں مشغول رہتا اور گستاخى سے كہتا تھا:

'' اگر دين احمد ميں شراب حرام ہے تو اس كو دين مسيح بن مريم ميں پيو''(۸)

يزيد مسيحيت كى تعليمات كى اساس پر پلا تھا اور وہ دل سے اس كى طرف مائل تھا_(۹)

اور دين اسلام سے اس كا كوئي ربط نہيں تھا جبكہ اسلام كى بنياد پروہ لوگوں پر حكومت كرناچاہتا تھا_ اس طرح سے جو نقصانات اسلام كو معاويہ كے زمانہ ميں پس پردہ پہنچ رہے تھے اب وہ يزيد كے ہاتھوں آشكار طور پرپہنچ رہے تھے_

اپنى حكومت كے پہلے سال اس نے حسين ابن علىعليه‌السلام اور ان كے اصحاب كو شہيد كيا ان كے اہل بيت كو اسير كيا_

حكومت كے دوسرے سال اس نے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے شہر _مدينہ_ كے لوگوں كے مال اور ناموس كو اپنے لشكر والوں پر مباح كرديا اور اس واقعہ ميں چارہزار آدميوں كو اس نے قتل كيا_

تيسرے سال خانہ كعبہ _ مسلمانوں كے قبلہ_ پر اس نے منجنيق سے سنگ بارى كى _

ايسے سياسى اور اجتماعى حالات ميں حسينعليه‌السلام ابن علىعليه‌السلام نے انقلاب كے لئے حالات كو مكمّل آمادہ پايا_ اب بنى اميہ كے مزدور، عمومى افكار كو قيام حسينعليه‌السلام ابن عليعليه‌السلام كے مقاصد كے بارے ميں بدل كر اس كو '' قدرت و تسلط كے خلاف كشمكش'' كے عنوان سے نہيں پيش كرسكتے تھے اس لئے كہ بہت سے لوگ يہ ديكھ رہے تھے كہ حكومت كى رفتار دينى ميزان اور الہى تعليمات كے خلاف ہے_

اور يہ بات خود مجوّز تھى كہ حسينعليه‌السلام ابن علىعليه‌السلام اپنے سچے اصحاب كو جمع كريں اور حكومت كے خلاف قيام كريں ايسا قيام جس كا مقصد اسلام اور سيرت پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو زندہ كرنا تھا نہ كہ خلافت اور قدرت حاصل كرنا_


انقلاب كى ماہيت

امام حسينعليه‌السلام كى تحريك ميں ايك اہم مسئلہ اس كى كيفيت و ماہيت كا تجزيہ ہے_ آيا امام حسينعليه‌السلام كا اقدام ايك انقلاب تھا يا ايك اتفاقى دھماكہ تھا؟ كچھ لوگ جو انسانى مقدس واقعات كو ہميشہ محدود اور مادى ترازو پر تولتے ہيں وہ قيام كربلا كى تفسير و تعبير اپنى نادانى اور جہالت كى بناء پر ايك حادثاتى دھماكے سے كرتے ہيں _(۱۰) اس سلسلہ ميں كہتے ہيں كہ كبھى مادى واقعا ت ميں تدريجى تغيرات اس حد تك پہنچ جاتے ہيں كہ وہ واقعہ ديگر تغيرات كو قبول نہيں كرسكتا، انجام كار جزئي تغيرات ايك نئي چيز كو وجود ميں لاتے ہيں يہ قانون، معاشرہ اور تاريخ ميں حاكم ہے_ معاشرہ ايك حدتك ظالموں كے ظلم كو قبول كرتا ہے جب وہ اس مرحلہ ميں پہنچ جاتا ہے كہ اب اس سے قبوليت كى توانائي ختم ہوجاتى ہے تو نتيجہ ميں حكومت كرنے والے نظام كے خلاف ايك دھماكہ كى شكل ميں انقلاب آجاتا ہے _

اس بنياد پر لوگ كہتے ہيں كہ : '' اميرالمؤمنينعليه‌السلام كى شہادت كے بعد اموى مشينرى كا مسلمان ملت پر دباؤ بڑھ گيا تھا اور معاويہ كے مرنے كے بعد اس كے بيٹے يزيد نے اس دباؤ كو دوگنا كرديا تھا اس فشار كى بناپر حسينعليه‌السلام كے صبر كا پيمانہ لبريز ہوگيا اور ان كا قيام اسى دھماكہ كا پيش خيمہ تھا_

امام حسينعليه‌السلام كى تحريك كے بارے ميں ايسے فيصلے كا سوتا مادى تجزيہ كرنے والوں كے عقيدہ سے پھوٹتا ہے اور اگر وہ قيام امام حسينعليه‌السلام كى تاريخ كے متن كو ملاحظہ كرتے اور حقيقت بين اورحق كے شيدائي ہوتے تو ايسا فيصلہ نہ كرتے_

امام حسنعليه‌السلام كى شہادت كے بعد سے معاويہ كى موت تك كے امام حسينعليه‌السلام كے اقوال اوروہ خط و كتابت جو ان كے اور معاويہ كے درميان ہوئي ہے، جس ميں امامعليه‌السلام كا موقف واضح طور پر معاويہ كے خلاف تھا اور آپ معاويہ كو مورد سوال قرار ديتے اور اس كے خلاف قيام كى دھمكى ديتے تھے_

اسى طرح وہ تقريريں جو مختلف موقعوں پر امام حسينعليه‌السلام نے كى ہيں اگر ان سب كو ديكھا جائے تو


يہ سارى چيزيں ہم كو اس بات كا پتہ ديتى ہيں كہ ابوعبداللہ الحسينعليه‌السلام كى وہ تحريك بہت منظم تھى جس كا نقشہ آزاد منش افراد كے سردار كھينچ رہے تھے اور امت كو اس راستہ پر اس نقشہ كے مطابق عمل كرنے كى دعوت دے رہے تھے اس كے بعد اب قيام سيد الشہداء _كو ايك ناگہانى حادثہ يا دھماكہ كيسے كہا جاسكتا ہے اگر يہ انقلاب ايك انجانا دھماكہ ہوتا تو اسے بہتر آدميوں ميں منحصر نہيں رہنا چاہئے تھا_ بلكہ اس كو معاشرہ كے تمام افراد كو گھير لينا چاہيے تھا امام حسينعليه‌السلام كے آگاہانہ انقلاب كو بتانے والے تاريخى قرائن كا ايك سلسلہ اب پيش كيا جارہا ہے _

يزيد كيلئے بيعت ليتے وقت امامعليه‌السلام كى تقرير

لالچ اور دھمكى كے ذريعہ معاويہ نے يزيد كى ولى عہدى كے لئے اہم شخصيتوں كے ايك گروہ كى موافقت حاصل كرلى تھى جب حسين ابن علىعليه‌السلام كے سامنے بات ركھى گئي تو آپ نے اپنى ايك تقرير ميں فرمايا:

'' تم نے اپنے بيٹے كے كمال اور تجربہ كارى كے سلسلہ ميں جو تعريف كى وہ ہم نے سُني، گويا تم ايسے آدمى كے بارے ميں بات كررہے ہو جس كو ياتو تم نہيں پہچانتے ہو يا اس سلسلہ ميں فقط تم كو علم ہے_جيسا چاہيے تھا يزيد نے ويسا ہى اپنے كو پيش كيا اور اس نے اپنے باطن كو آشكار كرديا_ وہ كتوں سے كھيلنے والا كبوتر باز اور ہوس پرست شخص ہے جس نے اپنى عمر ساز و آواز اور عيش و عشرت ميں گذارى ہے_ كياہى اچھا ہوتا كہ تم اس كام سے صرف نظر كرتے اور اپنے گناہ كے بوجھ كو اور گراں بار نہ بناتے(۱۱) ''

معاويہ كے نام امام حسينعليه‌السلام كا خط

امام حسينعليه‌السلام نے ايك مفصل خط معاويہ كو لكھا اور اس كے بڑے بڑے جرائم كويا دلايا ، جن


ميں سر فہرست پرہيزگار، بزرگ اور صالح اصحاب اور شيعيان على _كا قتل تھا، فرمايا:

'' اے معاويہ تمہارا كہنا ہے كہ ميں اپنى رفتار و دين اور امت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا خيال ركھوں اور اس امت ميں اختلاف و فتنہ پيدا نہ كروں _ ميں نہيں سمجھتا كہ امت كے لئے تمہارى حكومت سے بڑا كوئي اور فتنہ ہوگا_ جب ميں اپنے فريضہ كے بارے ميں سوچتا ہوں اور اپنے دين اور امت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نظر ڈالتاہوں تو اس وقت اپنا عظيم فريضہ يہ سمجھتا ہوں كہ تم سے جنگ كروں ...''

پھر آخر ميں فرمايا:

'' تمہارے جرائم ميں غير قابل معافى ايك جرم يہ ہے كہ تم نے اپنے شراب خوار اور كتوں سے كھيلنے والے بيٹے كے لئے لوگوں سے بيعت لى ہے(۱۲) _''

منى ميں امام حسينعليه‌السلام كى تقرير

معاويہ كى حكومت كے آخرى زمانہ ميں سرزمين منى پر نو سوسے زيادہ افراد كے مجمع ميں ، جس ميں ، بنى ہاشم اور اصحاب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميں سے بزرگ شخصيتيں شامل تھيں _ امام حسينعليه‌السلام نے

ملك پر حكومت كرنے والے نظام كے بارے ميں استدلالى بيان كے ذريعہ بحث كى اور ان سے يہ خواہش كى كہ ان كى باتوں كو دوسروں تك پہنچائيں اور اپنے شہروں ميں واپس پہنچ جانے كے بعد اپنے نظريہ سے امامعليه‌السلام كو مطلع كريں _ امام حسينعليه‌السلام نے معاويہ كو اپنى تنقيد كا نشانہ بناتے ہوئے اپنى تقرير كا آغاز كيا اور ملت اسلاميہ خصوصاً پيروان علىعليه‌السلام كے بارے ميں معاويہ جن جرائم كا مرتكب ہوا تھا كو ياد دلايا(۱۳) _

عراق كى طرف روانگى سے پہلے امام حسينعليه‌السلام كى تقرير

آٹھ ذى الحجہ كو عراق روانگى سے پہلے امام حسينعليه‌السلام نے لوگوں كے ايك مجمع ميں حج نہ كرنے


اور عراق كى طرف جانے كى وضاحت كى اور فرمايا:

'' ايك دلہن كے گلے كے ہار كى طرح موت انسان كى گردن سے بندھى ہوئي ہے ميں اپنے بزرگوں كا اس طرح مشتاق ہوں جس طرح حضرت يعقوبعليه‌السلام حضرت يوسف كے مشتاق تھے_ ميں يہيں سے اس جگہ كا مشاہدہ كر رہا ہوں جہاں ميں شہادت پاؤں گا اور بيابانى بھيڑيے ميرے بدن كے ٹكڑے ٹكڑے كرديں گے'' پھر فرمايا:'' جو لوگ اس راستہ ميں خون دينے اور خدا سے ملاقات كرنے كے لئے آمادہ ہيں وہ ميرے ساتھ آئيں ميں انشاء اللہ صبح سويرے روانہ ہو جاؤں گا(۱۴) _

كيا ان تمام تقريروں ، كربلا ميں شب عاشور اپنے اصحاب كو رخصت كر دينے اور بيعت سے چشم پوشى كرنے كے باوجود يہ كہنا روا ہے كہ امامعليه‌السلام كے قيام كو ايك ناگہانى دھما كہ سمجھ ليا جائے؟ وہ ليڈر جو لوگوں كے غم و غصّہ اور ناراضگى سے فائدہ حاصل كرنا چاہتا ہو كيا وہ ايسى باتيں زبان پر لاسكتا ہے_

انقلاب كے اثرات و نتائج

دوسرا اہم مسئلہ يہ ہے كہ كيا حسينىعليه‌السلام انقلاب اس وقت كے معاشرہ كو كوئي فائدہ پہنچا كر ضرورى كاميابى حاصل كر سكا يا دنيا كے بہت سے شكست خوردہ انقلابات كى طرح ناگہانى طور پر شعلہ ور ہوا اور پھر بجھ كر رہ گيا؟

عاشور كے انقلاب كے اثراب كو سمجھنے كے لئے ہم فورى يقينى كاميابى يا حكومت پر قبضہ اور قدرت حاصل كر لينے كى ( منطق) سے ماوراء ہو كر ديكھيں ، اس لئے كہ وہ دلائل موجود ہيں جو اس بات كا پتہ ديتے ہيں كہ ابو عبداللہ الحسينعليه‌السلام اس سرنوشت سے آگاہ تھے جس كا وہ انتظار كر رہے تھے_ اس بنا پر فورى كاميابى قيام حسينىعليه‌السلام كا مقصد نہيں تھي_ آپ جانتے تھے كہ ان حالات ميں


فورى طور جنگى كاميابى ممكن نہيں ہے_

ان مطالب كے مجموعہ سے يہ پتہ چلتا ہے كہ ہم كو انقلاب حسينىعليه‌السلام سے ايسے نتائج كى توقع نہيں كرنى چاہيے جو عام طور پر سارے انقلابات سے حاصل ہوتے ہيں بلكہ ہم كو آپ كے انقلاب كے اثرات و نتائج كو مندرجہ ذيل باتوں ميں ڈھونڈنا چاہئے:

۱_ امويوں كے جھوٹے دينى نفوذ كو ختم كرنا اور زمانہ جاہليت كى بے دينى و الحاد كى اس روح كو واضح كرنا جو حكومت اموى كے، مخالف اسلام اعمال كى توجيہ كرتى تھي_

۲_ ہر ايك مسلمان كے ضمير ميں گناہ كے احساس كو عام كرنا اور اس كو اپنے اوپر تنقيد كرنے كى حالت ميں تبديل كر دينا تا كہ اس كى روشنى ميں معاشرہ اور زندگى ميں ہر آدمى اپنى حيثيت كو معين كرے_

۳_ اسلامى معاشرہ ميں پھيلنے والى برى باتوں كے خلاف مبارزہ اور جنگ كى روح كو اس غرض سے برانگيختہ كرنا كہ اسلامى قدروں كااعادہ اور اس كا استحكام ہوجائے_

الف _ امويوں كے جھوٹے دينى نفوذ كو ختم كرنا

اموى يہ دكھا نے كے لئے كہ وہ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے جانشين ہيں اور انكى حكومت، خدا كے تعيين كردہ احكام كے مطابق ہے، لوگوں كے دينى عقائد سے فائدہ حاصل كر رہے تھے اور ان كا مقصد تھا كہ ہر طرح كى ممكنہ تحريك كى پہلے ہى سے مذمت كى جائے اور دين كے نام پر اپنے لئے اس حق كے قائل ہوجائيں اور ہر طرح كے تمّرد كو چاہے وہ اپنى سمجھ سے كتنے ہى حقدار كيوں نہ ہوں ، ختم كرديا جائے_

اس غرض سے وہ زبان پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے منسوب جھوٹى حديثوں كے ذريعہ لوگوں كو دھوكہ ديتے _ اس طرح _ لوگوں كا حكومت اموى پر ايسا ايمان ہوگيا تھا كہ وہ اموى حكومت حدود دين سے چاہے جتنى بھى خارج كيوں نہ ہوجائے، لوگ پھر بھى اموى حكومت كے خلاف قيام كو حرام سمجھتے تھے_


امويوں نے اپنے كثيف اعمال پر كس حد تك دين كا پردہ ڈال ركھا تھا اس كو واضح كرنے كے لئے ہم يہاں انقلاب حسينيعليه‌السلام سے دو تاريخى نمونے نقل كر رہے ہيں :

۱_ ابن زياد نے لوگوں كو مسلم كى مدد سے روكنے كے لئے جو خطبہ ديا اس ميں اس نے كہا:

'' واعتصموا بطاعة الله وطاعة ائمتكم '' (۱۵)

خدا اور اپنے پيشوا ( ائمہ) كى اطاعت كرو_

۲_ عَمر وبن حجّاج زُبيدى _ كربلا ميں اموى سپاہ كے كمانڈروں ميں ايك كمانڈر نے جب ديكھا كہ بعض سپاہى حسينعليه‌السلام سے مل كر ان كى ركاب ميں جنگ كر رہے ہيں تو اس نے چلاكر كہا '' اے اہل كوفہ اپنے امير كى اطاعت كرو اور جماعت كے ساتھ رہو اور اس كو قتل كرنے كے سلسلہ ميں اپنے دل ميں كوئي شك نہ آنے دو جو دين سے خارج ہوگيا اور جس نے امام كى مخالفت كي(۱۶)

ايسے ماحول ميں نقلى دينى نفوذ كو ختم كرنے كے لئے سب سے زيادہ اطمينان بخش راستہ يہ تھا كہ كوئي ايسا شخص اس كے خلاف قيام كرے جو تمام افراد ملت كى نظر ميں مسلّم دينى امتيازات كا حامل ہو تا كہ حكومت اموى كے كريہہ چہرہ سے دينى نقاب اتار كر پھينك دے اور اس كى گندى ماہيت كو آشكار كردے_

ايسا مجاہد فى سبيل اللہ سوائے حسينعليه‌السلام بن عليعليه‌السلام كے اور كوئي دوسرانہ تھا اس لئے كہ آپ كا دوسروں كے دلوں ميں نفوذ و محبوبيت اور خاص احترام تھا_ انقلاب حسينعليه‌السلام كے بالمقابل يزيد كے رد عمل نے اسلام اور اموى حكومت كے درميان حد فاصل كھينچ دى اور اموى حكومت كى حق كے خلاف ماہيت كو روشن كرديا_ جو مظالم بنى اميہ نے حسينعليه‌السلام ،ان كے اصحاب اور اہل بيتعليه‌السلام پرڈھا ئے تھے اس كى وجہ سے ان كے وہ سارے دينى اور مذہبى رنگ مكمل طور پر اڑگئے جو انہوں نے اپنے اوپر چڑھا ركھے تھے اور اس كام نے ان كى مخالف دين ماہيت كو آشكار كرديا_

حسين ابن علىعليه‌السلام نے اپنى مخصوص روش سے امويوں كى دينى پايسى كو خطرہ ميں ڈال ديا انہوں نے جنگ شروع كرنے كے لئے اصرار نہيں كيا اور امويوں كو اس بات كى فرصت دى كہ وہ ان كو


اور ان كے اصحاب كو قتل كرنے سے گريز كريں ليكن ان لوگوں كو حسينعليه‌السلام اور ان كے اصحاب كا خون بہانے كے علاوہ اور كچھ منظور نہيں تھا_ اور يہى بات امويوں كى زيادہ سے زيادہ رسوائي كا باعث بني_

انہوں نے حسينعليه‌السلام كے ساتھ سختى سے كام لے كر در حقيقت اسلام سے جنگ كى اور حسينعليه‌السلام ابن علىعليه‌السلام نے بھى اس بات سے مناسب فائدہ اٹھايا اور ہر مناسب موقع پر اس نكتہ پر تكيہ كيا اور اپنے درخشاں موقف كو مسلمانوں كے سامنے پيش كيا_

ب _ احساس گناہ

انقلاب حسينعليه‌السلام كا دوسرا اثر خصوصاً اس كا اختتامى نقطہ تمام افراد ميں احساس گناہ كا پيدا كرنا اور ضمير كى بيدارى تھى جس كے بعد وہ آپ كى مدد كے لئے دوڑ پڑے، ليكن نہيں آئے، گنہگار ہونے كا احساس اور وجدان و عقل كى توبيخ و سرزنش، ان لوگوں كے دلوں ميں جنہوں نے مد د كا وعدہ كر كے مددنہيں كي، اسى كربلا كے عصر عاشور سے ابن زياد كے لشكر كے درميان عامل قوى تھا _ اس احساس گناہ كے دو پہلو ہيں ، ايك طرف يہ احساس، گنہگار كو اپنے جرم و گناہ كے جبران پر ابھارتا ہے اور دوسرى طرف ايسے گناہ كے ارتكاب كا سبب بننے والوں كے لئے لوگوں كے دلوں ميں كينہ اور عداوت پيدا كرتا ہے_

ضمير كى بيدارى اورگناہ كا احساس ہى تھا جس نے انقلاب كے بعد بہت سى اسلامى جمعيتوں كو اپنے گناہ كا جبران كرنے كى غرض سے كوششيں كرنے پر ابھارا اور امويوں كے بارے ميں لوگوں كے دلوں ميں زيادہ سے زيادہ كينہ اور عداوت پيدا كيا_

اس وجہ سے واقعہ كربلا كے بعد امويوں كو متعدد انقلابات سے روبرو ہونا پڑ ا ان سب كا سرچشمہ ان كا اصلى سبب انقلاب حسينعليه‌السلام ، انقلابى افراد كا امويوں كى مدد سے انكار اور ان سے انتقام لينے كا جذبہ تھا_


امام حسينعليه‌السلام كے پس ماندگان كى اسيرى كے زمانہ كى تقريريں بھى اس سلسلہ ميں بہت موثر ثابت ہوئيں _

ج _ روح جہاد كى بيداري

حسينعليه‌السلام ابن علىعليه‌السلام كى شہادت كے بعد جنگ و جہاد كى روح امت اسلامى ميں جاگ اٹھي_ انقلاب سے پہلے انفرادى اور اجتماعى بيماريوں كا ايك سلسلہ، اسلام كے تحفظ كى راہ ميں مسلمانوں كے انقلاب لانے سے مانع تھا_ ليكن امام حسينعليه‌السلام كے انقلاب نے، انقلاب كى تمام انفرادى و اجتماعى ركاوٹوں كو توڑ ديا اور اسلام كے پيكر ميں ايك نئي روح پھونك دي_

حسينعليه‌السلام بن علىعليه‌السلام كے انقلاب كے بعد بہت سى ايسى تحريكيں معرض وجود ميں آئيں جن كو اسلامى معاشرہ كے افراد كى پشت پناہى اور حمايت حاصل تھي_ ذيل ميں ہم ان تحريكوں ميں سے چند كا ذكر كريں گے_

۱_ شہادت حسينىعليه‌السلام كا پہلا براہ راست ردّ عمل پيغمبراكرمعليه‌السلام كے ايك صحابى سليمان بن صرد كى قيادت ميں انقلاب، توّابين كے نام سے شہر كوفہ ميں ظاہر ہوا_ اس تحريك ميں بزرگ شيعوں اور اميرالمؤمنينعليه‌السلام كے اصحاب ميں سے ايك گروہ نے شركت كي_

توّابين كى تحريك ۶۱ ھ سے شروع ہوئي اور يزيد كى زندگى تك پوشيدہ طور پر لوگوں كو خون حسينعليه‌السلام كا بدلہ لينے كے لئے دعوت ديتى رہي_ ان لوگون نے يزيد كے مرنے كے بعد احتى اط اور رازدارى كو ختم كرديا اور اعلانيہ طور پر اسلحہ اور لشكر جمع كركے آمادہ كارزار ہوگئے_ انكا نعرہ '' يالثارات الحسينعليه‌السلام '' تھا ان كے قيام كا جو شيوہ تھا اس سے ان كى پاك بازى اور اخلاص كا پتہ چلتا تھا_(۱۷) ''

۲_ انقلاب توابين كے بعد انقلاب مدينہ شروع ہوا_ حضرت زينب كبرى سلام اللہ عليہا مدينہ واپسى كے بعد انقلاب كى كوشش كرتى رہيں اس طرح كہ مدينہ ميں يزيد كا مقرر كردہ حاكم، مدينہ


كے حالات كے خراب ہونے سے خوف زدہ ہوگيا اور جناب زينبعليه‌السلام كى كاركردگى كى رپورٹ اس نے يزيد كو بھيجي، يزيد نے جواب ميں لكھا كہ '' لوگوں كے ساتھ زينبعليه‌السلام جو رابطہ قائم كر رہى ہيں اس كو منقطع كردو(۱۸) ''

اسى زمانہ ميں اہل مدينہ كى نمائندگى كرتے ہوئے ايك وفد شام پہنچا اور واپس آنے كے بعد اس نے اہل مدينہ كے مجمع ميں تقرير كى اور يزيد پر ان لوگوں نے تنقيد كى ، ان كى حقائق پر مبنى تقريروں كے بعد اہل مدينہ نے قيام كيا، يزيد كے گور نر كوان لوگوں نے مدينہ سے نكال ديا پھر يزيد كے حكم سے شام كى خون كى پياسى فوج نے شہر مدينہ پر حملہ كرديا اور نہايت سختى اور خباثت كے ساتھ اس نے قيام مدينہ كو كچل ڈالا_ اور لشكر كے سپہ سالار نے تين دن تك مدينہ كے مسلمانوں كى جان، مال اور عزت و آبرو كو اپنے سپاہيوں كے لئے مباح قرار ديا_(۱۹)

اس كے بعد ۶۷ ھ ميں ''مختار ابن ابى عبيدہ ثقفى نے عراق ميں انقلاب برپا كيا اور خون حسينعليه‌السلام كا انتقام ليا_

اس طرح مختلف تحريكيں اور انقلابات ايك دوسرے كے بعد رونما ہوتے رہے يہاں تك كہ بنى اميہ كے خاتمہ پر يہ سلسلہ ختم ہوا_


سوالات

۱_ رہبران الہى كى تحريكوں خصوصاً حسينعليه‌السلام بن عليعليه‌السلام كى تحريك ميں كون سى خصوصيت تھى كہ مرور زمانہ اس كے فروغ اور اس كى ابھارنے والى كيفيت پر اثر انداز نہيں ہوسكا اور زمانوں كے گذر جانے سے اس كو فراموش نہيں كيا جاسكا_

۲_ اموى حكومت كے خلاف قيام كى اہم ترين وجوہات مختصراً بيان فرمايئے

۳_ امام حسينعليه‌السلام نے معاويہ كے زمانہ ميں كيوں قيام نہيں كيا؟

۴_ حسينعليه‌السلام ابن على كے انقلاب كى ماہيت كيا ہے، وہ ايك انجانا دھما كہ تھا يا آگاہانہ انقلاب اور كيوں ؟

۵_ حكومت يزيد كے مقابل حسين بن علىعليه‌السلام كے قيام كے اسلامى معاشرہ ميں كيا اثرات و نتائج رہے؟ اختصار سے اسكى وضاحت كيجئے_


حوالہ جات

۱ الاغاتى جلد ۶/ ۳۵۶_

۲ مقاتل الطالبين / ۱۲۰ ،البدايہ والنہايہ / ۱۹۷_

۳ '' انى لم اخرج اشراً و لا بطراً و لا مفسداً و لا ظالماً و انما خرجت لطلب الاصلاح فى امة جدى صلى اللہ عليہ و آلہ و اريد ان آمر بالمعروف و انھى عن المنكر و اسير بسيرة جدى و ابى على بن ابى طالب ...''(بحار ج ۴۴ / ۳۲۹ مناقب جلد ۴/ ۸۹_

۴''ان رسول الله قال من را ى سلطاناً جائراً مستحلاً لحرم الله ناكثاً لعهد الله مخالفاً لسنة رسول الله يعمل فى عبادالله بالاثم و العدوان فلم يغير ما عليه بفعل و لا قول _ كان حقاً على الله ان يدخله مدخله، اَلا وان هؤلاء قد لزموا طاعة الشيطان و تركو طاعة الرحمن و اظهر الفساد و عطلوا الحدود و استاثروا بالفى و احلوا حرام الله و حرموا حلاله، و انا ا حق من غير ...'' تاريخ طبرى ج / ۴۰۳ ، كامل ابن اثير ج ۴ / ۴۸ مقتل مقوم ۲۱۸ مقتل ابى مخنف_

۵ امام حسينعليه‌السلام نے جو خط معاويہ كو لكھا تھا اس كے متن سے آگاہى كے لئے كتاب الامامہ و السياسة ج ۱ص۱۵۵ ص ۱۵۷ ص ۱۶۰ ملاحظہ فرمائيں _

۶ امام حسن كى زندگى كى تاريخ كى تحقيق ميں ہم ان اسباب كى طرف اشارہ كرچكے ہيں _

۷ اخبار الطوال / ۲۲۱ ، ثورة الحسين / ۱۶۱ ، انساب الاشراف بلاذرى ج ۳/۱۷ ، ۱۵۲_

۸ فان حرمت يوماً على دينفخذھا على دين المسيح بن مريم(تتمہ المنتہى / ۴۳)

۹ سمو المعنى عبداللہ علائي / ۵۹_

۱۰ اس تفسير كى بنياد، ديالكتيك (جدليات) كے اصول چہارگانہ پر استوار ہے جو كميت كو اصل نام كے ساتھ كيفيت ميں تبديل كرتاہے_

۱۱ الامامہ و السياسہ ج۱ / ۱۶۰، ۱۶۱_

۱۲ الامامہ والسياسہ ج ۱ ص ۱۵۶، انساب الاشراف ج ۲ ترجمہ معاويہ ابن ابى سفيان ،بحار الانوارجلد ۴۴/۲۱۲_


۱۳ اصل سليم بن قيس /۱۸۳_۱۸۶ مطبوعہ نجف_

۱۴ لہوف/۴۱، بحار جلد ۴۴/۳۶۶_۳۶۷، مناقب ۴/۲۹''خطّ الموت على ولد آدم َفخَظَّ القلادة على جيد الفتاة وَ ما ا ولهَنى الى اَسلافى اشتى اقَ يَعقُوبَ الى يُوسُف، وَ خُيّرَ ليّ مصرع: اَنَا لا قيه، كانّى باَوصالى يَتَقَطَّعُها عَسَلانُ الفَلَوات بَينَ النَّواويس و كَربَلا من كان فينا باذلاً مهجته موصّلناً عَلى لقاء الله نفسه فليرحَل معنا فانّى راحل مصبحاً انشاء الله _

۱۵ تاريخ طبرى ج ۵/۳۶۸ ، بحار ج ۴۴/۳۴۸_

۱۶ تاريخ طبرى ج ۵/۴۳۵، كامل ابن اثير ج ۴/۶۷_

۷ ۱ انقلاب توابين كے واقعہ كى تفصيل طبرى نے اپنى تاريخ كى جلد ۵/ ۵۵۱ _ ۵۶۸ پر لكھا ہے_

۱۸ زينب كبرى تاليف جعفر النقدي/ ۱۲۰، ثورة الحسين تاليف محمد مہدى شمس الدين_

۱۹ طبرى ج ۵/۴۸۲_ كامل ابن اثير ج ۴/۱۱۱_ ۱۱۳ اور يہ واقعہ تاريخ ميں واقعہ حرّہ كے نام سے مشہور ہے_


ساتواں سبق :

امام زين العابدينعليه‌السلام كي سوانح عمري


ولادت

آسمان ولايت كے چوتھے درخشاں ستارے امام على بن الحسين _كى پيدائشے پانچ شعبان ۳۸ ھ كو شہر مدينہ ميں ہوئي_(۱)

سيد الشہداء حضرت امام حسين _آپ كے والد اور ايران كے بادشاہ يزدگرد كى بيٹى آپ كى مادر گرامى ہيں _(۲) آپ كى ولادت اميرالمؤمنينعليه‌السلام كى شہادت سے دو سال پہلے ہوئي نقريباً ۲۳ برس تك اپنے والد بزرگوار كے ساتھ رہے_(۳)

اخلاقى خصوصيتيں

امام زين العابدينعليه‌السلام انسانيت كى خصوصى صفات اور نفس كے كمالات كا مكمل نمونہ تھے_ مكارم اخلاق اور ستم رسيدہ و فقراء كى دستگيرى ميں آپ كے مرتبہ كا كوئي نہ تھا_ اب آپ كے اخلاق و عادات كا تذكرہ كيا جاتا ہے_

۱_ آپعليه‌السلام سے متعلق افراد ميں سے ايك شخص نے لوگوں كے مجمع ميں آپ كى شان ميں ناروا كلمات كہے اور چلاگيا_ امام چند لوگوں كے ساتھ اس كے گھر گئے اور فرمايا تم لوگ ہمارے ساتھ چلو تا كہ ہمارا بھى جواب سن لو_

راستہ ميں آپ مندرجہ ذيل آيت، جس ميں كچھ مؤمنين كے اوصاف عالى كا تذكرہ ہے، پڑھتے جاتے تھے_

''و الكاظمين الغيظ و العافين عن الناس و الله يحب


المحسنين ''(۴)

'' وہ لوگ جو اپنا غصہ پى كر لوگوں سے درگذر كرتے ہيں اور خدا نيكو كاروں كو دوست ركھتا ہے''_

جب اس آدمى كے گھر كے دروازہ پر پہنچے اور امامعليه‌السلام نے اس كو آواز دى تو وہ اس گمان ميں اپنے كو لڑنے كے لئے تيار كركے باہر نكلا كہ امامعليه‌السلام گذشتہ باتوں كا بدلہ لينے آئے ہيں _ حضرت سيد سجادعليه‌السلام نے فرمايا: ميرے بھائي تو تھوڑى دير پہلے ميرے پاس آيا تھا اور تو نے كچھ باتيں كہى تھيں ، جو باتيں تونے كہى ہيں اگر وہ ميرے اندر ہيں تو ميں خدا سے بخشش كا طلبگار ہوں اور اگر نہيں ہيں تو خدا سے ميرى دعا ہے كہ وہ تجھے معاف كردے_

امام زين العابدينعليه‌السلام كى غير متوقع نرمى نے اس شخص كو شرمندہ كرديا وہ قريب آيا اور امامعليه‌السلام كى پيشانى كو بوسہ ديكر كہا :'' ميں نے جو باتيں كہيں وہ آپ ميں نہيں تھيں اور ميں اس بات كا اعتراف كرتا ہوں كہ جو كچھ ميں نے كہا تھا ميں اس كا زيادہ سزاوار ہوں ''_(۵)

۲_ زيد بن اسامہ حالت احتضار ميں بستر پر پڑے ہوئے تھے سيد سجادعليه‌السلام ان كى عيادت كے لئے ان كے سرہانے تشريف لائے ،ديكھا كہ زيد رو رہے ہيں آپ نے پوچھا آپ كيوں رو رہے ہيں ، انہوں نے كہا پندرہ ہزار دينار ميرے اوپر قرض ہے اور ميرا مال ميرے قرض كے برابر نہيں ہے_ امامعليه‌السلام نے فرمايا: '' مت رويئے آپ كے قرض كى ادائيگى ميرے ذمہ ہے''_ پھر جس طرح آپ نے فرمايا تھا اسى طرح ادا بھى كرديا_(۶)

۳_ راتوں كو امام زين العابدينعليه‌السلام مدينہ كے بے سہارا اور ضرورت مندوں ميں اس طرح روٹياں تقسم كرتے تھے كہ پہچانے نہ جائيں اور ان لوگوں كى مالى امداد فرماتے تھے_ جب آپ كا انتقال ہوگيا تب لوگوں كو پتہ چلا كہ وہ نامعلوم شخصيت امام زين العابدينعليه‌السلام كى تھي_ آپ كى وفات كے بعد يہ معلوم ہوا كہ آپ ايك سو خاندانوں كا خرچ برداشت كرتے تھے اور ان لوگوں كو يہ نہيں معلوم تھا كہ ان كے گھر كا خرچ چلانے والے امام زين العابدينعليه‌السلام ہيں _(۷)


۴_ امام محمد باقر _فرماتے ہيں كہ:'' ميرے پدر بزرگوار نماز ميں اس غلام كى طرح كھڑے ہوتے تھے جو اپنے عظيم بادشاہ كے سامنے اپنے پيروں پر كھڑا رہتا ہے_ خدا كے خوف سے لرزتے رہتے اور ان كا رنگ متغير ہوجاتا تھا اور نماز كو اس طرح ادا كرتے تھے كہ جيسے يہ ان كى آخرى نماز ہو(۸)

حضرت سجادعليه‌السلام كى عظمت

آپ كى شخصيت اور عظمت ايسى تھى كہ دوست دشمن سبھى متاثر تھے_

يزيد ابن معاويہ نے واقعہ '' حرّہ''(۹) كے بعد حكم ديا كہ تمام اہل مدينہ غلام كے عنوان سے اس كى بيعت كريں اس حكم سے اگر كوئي مستثنى تھا تو وہ صرف امام على بن الحسين _تھے(۱۰) ہشام بن عبدالملك _ اموى خليفہ _ حج ادا كرنے كے لئے مكہ آيا تھا، طواف كے وقت لوگوں كا ہجوم ايسا تھاوہ حجر اسود كااستلام نہ كرسكا(۱۱) مجبوراً ايك طرف بيٹھ گيا تا كہ بھيڑ كم ہوجائے_ اسى وقت امام زين العابدينعليه‌السلام مسجد الحرام ميں داخل ہوئے_ اور طواف كرنے لگے لوگوں نے امامعليه‌السلام كے لئے راستہ چھوڑ ديا_ آپ نے بڑے آرام سے حجر اسود كو بوسہ ديا _ہشام آپ كے بارے ميں لوگوں كا احترام ديكھ كر بہت ناراض ہوا_ شام كے رہنے والوں ميں سے ايك شخص نے ہشام سے پوچھا كہ يہ كون تھے جن كو لوگ اتنى عظمت دے رہے تھے؟ ہشام نے اس خوف سے كہ كہيں اس كے ساتھ والے امامعليه‌السلام كے گرويدہ نہ ہو جائيں جواب ديا كہ :'' ميں ان كو نہيں پہچانتا''

حريت پسند مشہور شاعر فرزدق بے جھجك كھڑے ہوگئے اور كہا'' ميں ان كو پہچانتا ہوں '' اس كے بعد ايك طويل قصيدہ امام زين العابدينعليه‌السلام كى مدح و عظمت اور تعارف ميں پڑھ ڈالا_ اشعار اتنے مناسب اور ہشام كے لئے ايسا طماچہ تھے كہ اموى خليفہ شدّت ناراضگى كى بنا پر ردّ عمل پر آمادہ ہوگيا_اس نے حكم ديا كہ فرزدق كو قيد خانہ بھيجديا جائے_


امامعليه‌السلام جب اس واقعہ سے مطلع ہوئے تو آپ نے صلہ كے طور پر فرزدق كے پاس كچھ بھيجا فرزدق نے ان درہموں كو واپس كرديا اور كہلوا بھيجا كہ ميں نے يہ اشعار خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خاطر پڑھے تھے_ امامعليه‌السلام نے فرزدق كے خلوص نيت كى تصديق كى اور دوسرى بار پھر وہ درہم فرزدق كو بھيجے اور ان كو قسم دى كہ قبول كرليں _ فرزدق نے ان كو قبول كرليا اور مسرور گيا_ يہاں چند اشعار كا ترجمہ نمونہ كے طور پر پيش كرتے ہيں :_

۱_ '' اے سوال كرنے والے تو نے مجھ سے جود و سخا اور بلندى كے مركز كا پتہ پوچھا ہے، تو اس كا روشن جواب ميرے پاس ہے_''

۲_'' يہ وہ ہے كہ مكہ كى سرزمين جس كے نقش قدم كو پہچانتى ہے، خانہ كعبہ ،حرم خدا اور حرم سے باہر كى زمين پہچانتى ہے_''

۳_ '' يہ اس كے فرزند ہين جو بہترين خلائق ہيں ، يہ پرہيزگار، پاكيزہ، اور بلندحشم ہيں ''

۴_'' يہ وہ ہيں كہ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم گرامى '' احمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم '' جن كے جدہيں ''_

۵_ ''اگر ركن جان جاتا كہ اس كو بوسہ دينے كيلئے كون آرہا ہے تو وہ بےتاب ہوكر اپنے كو زمين پر گرا ديتا تا كہ اس كى خاك پاكو چوم لے''_

۶_'' ان بزرگوار كا نام '' علىعليه‌السلام '' ہے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ان كے جد ہيں _ ان كى روشنى سے امتوں كى راہنمائي ہوتى ہے ...''(۱۲)

امام سجادعليه‌السلام اور پيغام عاشورائ

واقعہ كربلا كے بعد امام حسينعليه‌السلام كے بيٹوں ميں سے صرف آپ ہى زندہ بچے تھے_ اپنے پدر عاليقدر كى شہادت كے بعد دسويں محرم ۶۱ ھ كو آپعليه‌السلام نے امامت و ولايت كا عہدہ سنبھالا اور شہادت كے دن تك يزيد بن معاويہ، معاويہ بن يزيد، مروان بن حكم، عبدالملك بن مروان اور


وليد بن عبدالملك جيسے زمامداران حكومت كا زمانہ آپعليه‌السلام نے ديكھا_

آپعليه‌السلام كى امامت كا دور اور معاشرہ ميں حكومت كرنے والے اس زمانہ كے سياسى حالات تمام ائمہ كى زندگى ميں پيش آنے والے حالات سے زيادہ دشوار اور حساس تھے _ سيرت و روش پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے انحراف، امام زين العابدينعليه‌السلام كے زمانہ ميں اپنے عروج پر تھا_ اور اس كى شكل بالكل صاف نظر آتى تھي_

امام زين العابدينعليه‌السلام كى روش ان كى امامت كے زمانہ ميں دو حصوں ميں تقسيم كى جاسكتى ہے_

الف : اسيرى كا زمانہ ب: اسيرى كے بعد مدينہ كى زندگي

الف:كربلا كے جاں گداز واقعہ ميں امام زين العابدينعليه‌السلام اپنے بزرگوار كے ساتھ تھے_ خدا كے لطف و كرم نے دشمن كے گزند سے محفوظ ركھا ليكن باپ كى شہادت كے بعد اسير ہوگئے اور دوسرے لوگوں كے ساتھ كوفہ اور شام تشريف لے گئے_

اس ميں كوئي شك نہيں كہ اہل بيت امام حسينعليه‌السلام كا اسير ہونا _ آپ كے مقدس انقلاب كو كاميابى تك پہنچانے ميں بڑا مؤثر ثابت ہوا_ چوتھے امامعليه‌السلام نے اسيرى كے زمانہ ميں ہرگز تقيہ نہيں كيا اور كمال بردبارى اور شہامت كے ساتھ تقريروں اور خطبوں ميں واقعہ كربلا كو لوگوں كے سامنے بيان فرمايا اور حق و حقيقت كا اظہار كرتے رہے_ مناسب موقع پر خاندان رسالت كى عظمت كو لوگوں كے كانوں تك پہنچاتے رہے، اپنے پدربزرگوار كى مظلوميت اور بنى اميہ كے ظلم و ستم اور بے رحمى كو لوگوں كے سامنے واضح كرتے رہے_

امام زين العابدينعليه‌السلام با وجود اس كے كہ اپنے باپ كى شہادت كے وقت بيمار تھے، باپ ،بھائيوں اور اصحاب كى شہادت پر دل شكستہ اور رنجيدہ بھى تھے ليكن پھر بھى يہ رنج و آلام آپ كے فرائض كى انجام دہى اور خون آلود انقلاب كربلا كے تحفظ ميں ركاوٹ نہ بن سكے_ آپ نے لوگوں كے افكار كو روشن كرنے كے لئے ہر مناسب موقع سے فائدہ اٹھايا_


كوفہ ميں

اسيروں كا قافلہ كوفہ پہنچا _ جب لوگ جناب زينبعليه‌السلام اور ان كى بہن ام كلثومعليه‌السلام كے خطبوں سے پشيمان ہو كر رونے لگے تو امام زين العابدينعليه‌السلام نے اشارہ كيا كہ مجمع خاموش ہوجائے پھر پروردگار كى حمد و ثنا اور پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود و سلام كے بعد آپعليه‌السلام نے فرمايا:

'' اے لوگو ميں على بن الحسينعليه‌السلام ہوں ، ميں اس كا فرزند ہوں كہ جس كو فرات كے كنارے بغير اس كے كہ انہوں نے كسى كا خون بہايا ہو يا كسى كا حق ان كى گردن پر ہو، ذبح كرديا گيا_ ميں اس كا فرزند ہوں جس كا مال شہادت كے بعد لوٹ ليا گيا اور جس كے خاندان كو اسير بنا كر يہاں لايا گيا_ لوگو كيا تمہيں ياد ہے كہ تم نے ميرے باپ كو خط لكھ كر كوفہ بلايا اور جب وہ تمہارى طرف آئے تو تم نے ان كو قتل كرديا؟ قيامت كے دن پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے سامنے كس منہ سے جاؤگے؟ جب وہ تم سے فرمائيں گے كہ '' كيا تم نے ميرے خاندان كو قتل كرديا اور ميرى حرمت كى رعايت نہيں كى لہذا تم ميرى امت ميں سے نہيں ہو''(۱۳) حضرت امام زين العابدينعليه‌السلام كى تقرير نے طوفان كى طرح لوگوں كو ہلا كر ركھ ديا_ ہر طرف سے گريہ و زارى كى آوازيں آنے لگيں ، لوگ ايك دوسرے كو ملامت كرنے لگے كہ تم ہلاك اور بدبخت ہوگئے اور حالت يہ ہے كہ تم كو خود ہى نہيں معلوم_

امام حسينعليه‌السلام كے اہل حرم كو ابن زياد كے دربار ميں لے جايا گيا اور جب ابن زياداور امام زين العابدينعليه‌السلام كے درميان گفتگو ہوئي تو آپعليه‌السلام نے نہايت يقين اور شجاعت كے ساتھ ہر موقع پر نہايت دنداں شكن جواب ديا جس سے ابن زياد ايسا غضب ناك ہوا كہ اس نے امامعليه‌السلام كے قتل كا حكم ديديا_

اس موقع پر جناب زينب سلام اللہ عليہا نے اعتراض كيا اور فرمايا كہ :'' اگر تم على ابن الحسينعليه‌السلام كو قتل كرنا چاہتے ہو تو ان كے ساتھ مجھے بھى قتل كردو''_ امامعليه‌السلام نے اپنى پھوپھى سے فرمايا:''آپ


كچھ نہ كہيں ميں خود اس كا جواب دے رہا ہوں ''_ اس كے بعد آپعليه‌السلام نے ابن زياد كى طرف رُخ كيا اور فرمايا:'' اے زياد كے بيٹے كيا تم مجھے قتل كرنے كى دھمكى دے رہے ہو كيا تم يہ نہيں جانتے كہ قتل ہوجانا ہمارى عادت اور شہادت ہمارى كرامت ہے؟(۱۴)

شام ميں

ايك ہى رسن ميں اہل بيتعليه‌السلام كے چند دوسرے افراد كے ساتھ امامعليه‌السلام كو بھى باندھا گيا تھا اسى حالت ميں امام كو شام ميں يزيد كے دربار ميں لے جايا گيا_ امامعليه‌السلام نے نہايت شہامت اور دليرى كے ساتھ يزيد سے خطاب فرمايا: اے يزيد اگر پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مجھ كو اس حالت ميں رسن بستہ ديكھ ليں تو، تو ان كے بارے ميں كيا خيال كرتا ہے؟(۱۵) (وہ كيا كہيں گے)_

امام زين العابدينعليه‌السلام كے اس چھوٹے سے جملہ نے حاضرين پر اتنا اثر كيا كہ سب رونے لگے _(۱۶) امامعليه‌السلام نے جب يزيد سے گفتگو كى تو ايك نشست ميں اس نے قتل كى دھمكى دي_ امامعليه‌السلام نے اس كے جواب ميں فرمايا: اسيرى سے آزاد ہونے والے بنى اميہ جيسے كبھى بھى قتل انبياء و اوصياء كا حكم نہيں دے سكتے مگر يہ كہ اسلام سے خارج ہوجائيں اور اگر تم ايسا ارادہ ركھتے ہو تو كسى صاحب اطمينان شخص كو ميرے پاس بھيجو تا كہ ميں اس سے وصيت كردوں اور اہل حرم كو اس كے سپرد كردوں(۱۷) ايك دن شام كى جامع مسجد ميں يزيد نے ايك اہم نشست كا انتظام كيا اور خطيب سے كہا كہ منبر پر جاكر زين العابدينعليه‌السلام كے سامنے اميرالمؤمنينعليه‌السلام اور امام حسين _كو برا بھلا كہے اس كرايہ كے خطيب نے ايسا ہى كيا_

امام سجادعليه‌السلام نے بلند آواز ميں فرمايا: '' وائے ہو تجھ پر اے خطيب تونے خالق كى ناراضگى كے بدلے مخلوق ( يزيد) كى خوشنودى خريدى اور اس طرح تم دوزخ ميں اپنا ٹھكانہ بنا رہے ہو_ پھر


يزيد كى طرف مخاطب ہوئے اور فرمايا ''تو مجھے بھى اسى لكڑى ( منبر) پر جانے دے اور ايسى بات كہنے دے جس سے ميں خدا كو خوش كروں اور وہ حاضرين كے لئے اجر و ثواب كا باعث ہے''_ يزيد نے پہلے تو اجازت نہيں دى ليكن لوگوں كے اصرار كے جواب ميں بولا كہ '' اگر يہ منبر پر جائيں گے تو مجھ كو اور خاندان ابوسفيان كو ذليل كئے بغير منبر سے نيچے نہيں اتريں گے'' لوگوں نے كہا كہ :'' يہ كيا كرسكتے ہيں ؟ يزيد نے كہا كہ '' يہ وہ خاندان ہے جس نے علم ودانش كو بچپنے سے دودھ كے ساتھ پيا ہے''_ لوگوں نے بہت اصرار كيا تو يزيد نے مجبوراً اجازت دے دي، امامعليه‌السلام منبر پر تشريف لے گئے اور پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود و سلام بھيجنے كے بعد فرمايا:

'' اے لوگو خدا نے ہم كو علم، بردباري، سخاوت، فصاحت، دليرى اور مؤمنين كے دلوں ميں ہمارى دوستى عطا كى ہے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہم ميں سے ہيں _ اس امت كے صديق حضرت اميرالمؤمنين عليعليه‌السلام ہم ميں سے ہيں ،جعفر طيّار ہم ميں سے ہيں ، حمزہ سيدالشہداء ہم ميں سے ہيں ، امام حسن اور امام حسين عليھما السلام پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے دونوں نواسے ہم ميں سے ہيں _

ميں فرزند مكہ و منى ، فرزند زمزم و صفا ہوں ، ميں اس كا بيٹا ہوں جس نے حجر اسود كو عبا ميں ركھ كر اٹھايا(۱۸) ميں اس بہترين خلائق شخص كا بيٹا ہوں جس نے احرام باندھا، طواف و سعى كي، حج بجالايا ميں خديجة الكبرى كا بيٹا ہو، ميں فاطمہ زہراءعليه‌السلام كا بيٹا ہو، ميں اس كا بيٹا ہوں جو اپنے خون ميں غوطہ زن ہوا، ميں اس حسينعليه‌السلام كا بيٹا ہوں جس كو كربلا ميں قتل كر ڈالا گيا''_

لوگوں ميں كھلبلى مچ گئي اور امامعليه‌السلام كى طرف ديكھ رہے تھے_ آپعليه‌السلام ہر جملہ كے ساتھ بنى اميہ كى حقيقت سے پردہ اٹھاتے جا رہے تھے اور اموى گروہ كى كثيف ماہيت كو آشكار كرتے اور اپنے خاندان كى عظمت اور شہادت حسين _كى زيادہ سے زيادہ قدر و قيمت لوگوں كے سامنے نماياں كرتے جا رہے تھے، رفتہ رفتہ لوگوں كى آنكھيں آنسووں سے ڈبڈبا گئيں ، گريہ گلو گير ہوگيا_ پھر ہر گوشہ سے بے تابانہ رونے كى آواز بلند ہوئي_ يزيد كو ڈر لگنے لگا اور امامعليه‌السلام كى تقرير كو روكنے كے


لئے اس نے مؤذن كو آذان دينے كا حكم ديا، مؤذن جب '' الشہد انّ محمداً رسول اللہ'' پر پہنچا تو آپ نے عمامہ سر سے اتارليا اور فرمايا:

'' اے مؤذن اسى محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى قسم ذرا ٹھہر جا'' _ پھر يزيد كى طرح رخ كركے فرمايا:'' اے يزيد يہ رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميرے جد ہيں يا تيرے؟ اگر تم كہو كہ تمہارے جد ہيں تو سب جانتے ہيں كہ يہ جھوٹ ہے اور اگر تم يہ كہتے ہو كہ ميرے جد ہيں تو پھر ان كى عترت كو تم نے كيوں قتل كيا ان كے اموال كو كيوں تاراج كيا اور ان كے خاندان كو تم نے كيوں اسير كرليا؟

اے يزيد تو ان تمام افعال كے باوجود محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو پيغمبر خدا جانتا ہے اور قبلہ كى طرف رخ كركے كھڑا ہوتا ہے، نماز پڑھتا ہے، وائے ہو تجھ پر كہ ميرے جد و پدر قيامت ميں تيرا گريبان پكڑيں گے''_

يزيد نے مؤذن كو حكم ديا كہ نماز كے لئے اقامت كہے، ليكن لوگ بہت ناراض تھے يہاں تك كہ كچھ لوگوں نے نماز بھى نہيں پڑھى اور مسجد سے نكل گئے(۱۹) شام ميں امامعليه‌السلام كى تقريريں اس بات كا باعث بنى كہ يزيد قتل امامعليه‌السلام كا قصد ركھنے كے باوجود اس بات پر مجبور ہوا كہ آپعليه‌السلام كو اور تمام اہل بيتعليه‌السلام كو مدينہ واپس كردے_

روح مبارزہ و جہاد كى بيداري

اسيرى كى تمام مدت ميں امام زين العابدينعليه‌السلام بہت سے لوگوں كے تصور كے برخلاف جو كہ آپ كو شكست خوردہ سمجھتے تھے، ہر محفل و مجلس ميں اپنى اور اپنے الد كى كاميابى اور بنى اميہ كے گروہ كى شكست كے بارے ميں تقرير كرتے تھے_

دوسرى طرف آپعليه‌السلام نے اس بات كى كوشش كى كہ اپنے خاندان كى عظمتوں اور خصوصيتوں اور بنى اميہ كے ظلم و جور كے بيان كے ذريعہ مسلمانوں كى انقلابى فكر كو بيدار كريں اور گناہ بنى اميہ سے


نفرت كا احساس اور انجام پا جانے والے گناہوں كے جبران كى ضرورت كو لوگوں كے ضمير و وجدان ميں زندہ كريں _

ابھى زيادہ دن نہيں گذرے تھے كہ اس مثبت رويّہ كى وجہ سے اموى سلطنت كے خلاف عراق و حجاز ميں انقلاب كا پرچم بلند ہوگيا اور ہزاروں افراد خون حسينعليه‌السلام كا انتقام لينے كے لئے اٹھ كھڑے ہوئے(۲۰)

مدينہ واپسى كے بعد

اسيرى كے دن گذرجانے كے بعد امام سجادعليه‌السلام مدينہ واپس آگئے اور معاشرہ پر حكومت كرنے والى سياست كى حالت بھى بدل گئي_ بنى اميہ كى حكومت اور سياسى روش كے مقابل امامعليه‌السلام كا رويہ بھى بدلا_

آپعليه‌السلام كى امامت كا سارا زمانہ اس وقت كے ان ظالم حكمرانوں كے طرح طرح كے اجتماعى بحران و آشوب سے پُر تھا جو مختلف بہانوں سے امامعليه‌السلام پر دباؤ ڈالنے اور ان كى سرگرميوں كو محدود كرنے كى كوشش ميں لگے ہوئے تھے_

زمانہ كے حالات سے واقفيت كے لئے ان ظالموں كے جرائم كے چند گوشے ملاحظہ ہوں :

يزيد كے مرتے ہى(۲۱) عبداللہ بن زبير جو برسوں سے خلافت و حكومت كى لالچ ميں تھا، مكہ ميں اٹھ كھڑا ہوا اور حجاز و يمن، عراق و خراسان كے لوگوں نے بھى ان كى بيعت كر لي، اور شام ميں معاويہ بن يزيد كے ہٹ جانے كے بعد جو بہت تھوڑے دنوں ( يعنى تين مہينہ يا چاليس دن)مسند خلافت پر تمكن رہا اس كے بعد مروان بن حكم نے، سازش كے ذريعہ حكومت تك رسائي حاصل كى اور عبداللہ بن زبير كى مخالفت ميں اٹھ كھڑا ہوا_ شام كے بعد مصر پر اپنا قبضہ مضبوط كيا_ ليكن اس كى حكومت زيادہ دنوں تك باقى نہيں رہى اور تھوڑى ہى مدت ميں مرگيا_ اس كى جگہ


اس كا بيٹا عبدالملك مسند خلافت پر بيٹھا_ عبدالملك نے شام و مصر ميں اپنى پوزيشن مضبوط ہوجانے كے بعد ۶۵ ھ ميں عبداللہ بن زبير كا مكہ ميں محاصرہ كيا اور ان كو قتل كرديا(۲۲) عبدالملك كے بڑے جرائم ميں حجاج بن يوسف كو بصرہ اور كوفہ كا حاكم بنانا ہے_ حجاج ايك خون خوار اور جرائم پيشہ شخص تھا اس نے لوگوں كو اذيتيں پہنچائيں اور كشت و خون كا بازار گرم كيا_ خاص كر شيعيان عليعليه‌السلام كو ختم كرنے كا اس نے بيڑا اٹھايا اور اپنى حكومت كے زمانہ ميں تقريباً ايك لاكھ بيس ہزار افراد كو قتل كرڈالا(۲۳) عبدالملك بڑى سختى سے امام زين العابدين كى نگرانى كرتا تھا اور اس كوشش ميں تھا كہ آپعليه‌السلام كے خلاف كسى بھى طريقہ سے كوئي بہانہ ہاتھ آجائے تو وہ آپعليه‌السلام پر سخت گيرى كرے يا آپ كى توہين كرے_

اس كو جب يہ اطلاع ملى كہ امام زين العابدينعليه‌السلام نے اپنى آزاد كردہ كنيز سے عقد كر ليا ہے تو اس نے ايك خط ميں اس كام پر آپ كى شماتت كي_ اس نے چاہا كہ اس طرح وہ حضرت كو يہ سمجھا دے كہ ہم آپعليه‌السلام كے تمام امور حتى كہ داخلى اور ذاتى امور سے بھى باخبر ہيں _ اور اس نے اپنى قرابت دارى كو بھى ياد دلايا، تو امامعليه‌السلام نے جواب ميں آئين اسلام كو اس سلسلہ ميں ياد دلاتے ہوئے فرمايا: كہ مسلمان ہوجانا اور خدا پر ايمان لانا ہميشہ دوسرے امتيازات كو ختم كرديتا ہے، امامعليه‌السلام نے طنز كے ذريعہ اس كے آبا و اجداد كى گذشتہ جہالت پر ( اور شايد اس كى موجودہ جہالت حالت پر ) سرزنش كى اور فرمايا:

فلا لوم على امرئ: مسلم: انّما اللّومُ لوم الجاهلية'' (۲۴)

۸۶ ھ ميں عبدالملك كے مرنے كے بعد اس كا بيٹا وليد اس كى جگہ پر مسند خلافت بيٹھا_(۲۵) سيوطى كے بيان كے مطابق وہ ايك ستمگر اور لا پرواہ شخص تھا اودوسرے بنى اميہ كے حكمرانوں كى طرح يہ بھى امامعليه‌السلام كى شہرت اور محبوبيت سے خوف زدہ تھا اور آپعليه‌السلام كى علمى و روحانى شخصيت سے اس كو تكليف تھي، اس وجہ سے وہ شيعوں كے چوتھے پيشوا كا وجود مسلمانوں كے معاشرہ ميں برداشت


نہيں كر سكتا تھا، اس نے دھوكہ كے ساتھ آپ كو زہر دے ديا(۲۶) ايك طرف تو امام زين العابدينعليه‌السلام اپنے زمانہ كے ايسے ظالم و جرائم كا ارتكاب كرنے والے بادشاہوں اور ان كى شديد نگرانيوں كو برداشت كر رہے تھے، دوسرى طرف اپنے اطراف ميں ايماندار جاں نثاروں اور مجاہد دوستوں كا فقدان محسوس كرتے تھے_ لہذا آپعليه‌السلام نے مخفى مبارزہ اورجہاد شروع كيا_ اپنے دروازہ كو دوسروں كے لئے بند كرديا، اس طرح آپعليه‌السلام نے اپنى اور اپنے كچھ قابل اعتماد اصحاب كى جان بچالى اور اس محاذ پر صاحب امتياز عناصر كى پرورش، صالح افراد كى تيارى اور مخفى مبارزہ كے ذريعہ شيعى افكار كى تعليم ميں مشغول ہوگئے تا كہ اس راستہ كے سلسلہ كو جو بے شك منزل مقصود سے بہت قريب تھا _ اپنے بعد كے امام كے سپرد كرديں _

امام جعفر صادق _اپنى ايك حديث ميں امامعليه‌السلام چہارم كے حالات اور ان كى كردار ساز خدمات كو اس طرح بيان كرتے ہيں :

'' حسين ابن علىعليه‌السلام كے بعد تمام لوگ راستہ سے پلٹ گئے مگر تين افراد: ابو خالد كابلي، يحيى ابن ام طويل اور جبير بن مطعم، اس كے بعد دوسرے لوگ ان سے آملے اور شيعوں كا مجمع بڑھ گيا_ يحيى بن ام طويل مدينہ ميں مسجد پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميں آئے اور تقرير ميں لوگوں سے كہنے لگے: ہم تمہارے ( راستہ اور آئين كے ) مخالف ہيں اور ہمارے اور تمہارے درميان دشمنى اور كينہ ہے''(۲۷) مكہ كے راستہ ميں ايك شخص نے اعتراض كرتے ہوئے امام سجادعليه‌السلام سے كہا كہ '' آپ نے جہاد اور اس كى سختى كو چھوڑ ديا اور حج جو آسان ہے اس كے لئے جا رہے ہيں ؟ تو آپعليه‌السلام نے فرمايا: اگر باايمان مددگار اور جان نثار اصحاب ہوتے تو جہاد اور مبارزہ حج سے بہتر تھا(۲۸) ابوعمر نہدى كا بيان ہے كہ '' امام زين العابدينعليه‌السلام نے فرمايا: مكہ اور مدينہ ميں ہمارے بيس دوست (حقيقى اور جاں نثار ) نہيں ہيں(۲۹) اس طرح امام زين العابدينعليه‌السلام كا كام بے حد دشوار ہمت شكن اور شجاعت كا كام تھا اور


آپ نہايت محدوديت كے عالم ميں اس بات ميں كامياب ہوگئے كہ ايك سو ستر ايسے نماياں شاگردوں كى تربيت كرديں جن ميں سے ہر ايك اسلامى معاشرہ ميں روشن چراغ تھا_ جن افراد كے نام رجال كى كتابوں ميں موجود ہيں ان ميں سعيد بن مسيب ،سعيد بن جبير، محمد بن جبير، يحيى بن ام طويل، ابوخالد كابلي، ابوحمزہ ثمالى جيسى شخصيتوں كے نام لئے جاسكتے ہيں _

امام زين العابدينعليه‌السلام نے نماياں شاگردوں كى تربيت اور اسلامى معارف كى نشر و اشاعت كے ذريعہ اسلامى معاشرہ اور اموى حكومت كے صاحب حيثيت افراد كے دلوں ميں ايك مخصوص شكوہ و عظمت پيدا كرلى يہاں تك كہ ايك حج كے موقع پر جب آپعليه‌السلام كا سامنا عبدالملك بن مروان سے ہوا تو نہ صرف يہ كہ آپ نے اس كو سلام نہيں كيا بلكہ اس كے چہرہ پر نظر بھى نہيں ڈالى عبدالملك اس بے اعتنائي پر بڑا ناراض ہوا_ اس نے آہستہ سے امامعليه‌السلام كے ہاتھ كو پكڑ اور كہا:'' اے ابومحمد مجھے ديكھئے ميں عبدالملك ہوں نہ كہ آپ كے باپ كا قاتل يزيد'' امامعليه‌السلام نے جواب ديا:'' ميرے باپ كے قاتل نے اپنے اقدام كے ذريعہ اپنى آخرت خراب كر لى اگر تو بھى ميرے باپ كے قاتل كى طرح ہونا چاہتا ہے تو كوئي حرج نہيں ہے''_

عبدالملك نے غصہ ميں كہا:'' ميں ہرگز ايسا ہونا نہيں چاہتا ليكن مجھے اس بات كى اميد ہے كہ آپعليه‌السلام ہمارے وسائل سے بہرہ مند ہوں گے امامعليه‌السلام نے جواب ميں فرمايا:'' مجھ كو تمہارى دنيا كى اور جو كچھ تمہارے پاس ہے اس كى كوئي ضرورت نہيں(۳۰)

دعائيں

امام زين العابدينعليه‌السلام كے مثبت اقدام ميں ايك قدم اور بنيادى كوشش يہ تھى كہ آپعليه‌السلام _ انفرادى اور اجتماعى _ تربيت و عقائد سے متعلق مسائل كى نشر و اشاعت دعا كے پيرايہ ميں كريں _


جو آپ كى يادگار كے طور پر محفوظ رہ گئي ہيں _

صحيفہ سجاديہ كے مضامين اور اس ميں بيان كى گئي باتوں پر غور و فكر نے بہت سے مسائل كو ہمارے لئے روشن كرديا ہے، اسلامى معاشرہ بلكہ انسانى معاشرہ كو اس كتاب نے عالم كى معلومات ،خدا كى معرفت، انسان كى معرفت و غيرہ كے ايك سلسلہ كا تعارف كرايا ہے_

ان حالات ميں جب امام _ كو بيان اور گفتگو كى آزادى ميسر نہ تھي، آپ نے دعا اور مناجات كے ذريعہ اعتقادى اور اخلاقى دستور العمل اور اجتماعى زندگى كے لائحہ عمل كو بيان كيا اور مسلمانوں كے درميان اس كو منتشر كرديا_

صيحفہ سجاديہ كى عظمت كو سمجھنے كے لئے مشہور مصرى مفسر طنطاوى كا قول كافى ہے، وہ كہتے ہيں كہ'' صحيفہ سجاديہ وہ تنہا كتاب ہے جس ميں علوم و معارف اور حكمتيں موجود ہيں اس كے علاوہ كسى كتاب ميں ايسا ذخيرہ نہيں ہے اور يہ مصر كے لوگوں كى بد نصيبى ہے كہ وہ ابھى تك اس كى گراں بہا اور جاودانہ باتوں سے واقف نہيں ، ميں اس ميں جتنا بھى غور كرتا چلا جاتا ہوں اس كو مخلوق كے كلام سے بالاتر اور خالق كے كلام سے نيچے ديكھتا ہوں(۳۱) امام گوشہ نشينى اور محدوديت كے باوجود دعاؤں كے ذريعہ مسلمانوں كو قيام اور تحريك كا درس ديتے ہيں اور اپنے خدا سے راز و نياز كى باتيں كرتے ہوئے فرماتے ہيں '' خدايا مجھ كو ايسى طاقت اور دست رسى عطا كر كہ جو لوگ مجھ پر ظلم كرتے ہيں ميں ان پر كاميابى حاصل كروں اور ايسى زبان عنايت فرما كہ مقام احتجاج ميں غلبہ حاصل كرسكوں ، ايسى فكر اور سمجھ عطا فرما كہ دشمن كے حيلوں كو درہم برہم كردوں اور ظالم كے ہاتھ كو ظلم و تعدى سے روك دوں(۳۲) صحيفہ سجاديہ ميں ايسے بہت سارے نمونے موجود ہيں _


شہادت

امام زين العابدينعليه‌السلام ۵۷ سال تك رنج و مصيبت برداشت كرنے كے بعد وليد بن عبدالملك كے دور حكومت ميں اس كے حكم سے جس نے اپنى خلافت و حكومت كا محور ظلم و جور اور قتل و غارت بنا ركھا تھا، مسموم ہوكر، ۲۵ محرم ۹۵ ھ ق كو شہادت پائي اور قبرستان بقيع ميں امام حسن مجتبىعليه‌السلام كى قبر مطہر كے پہلو ميں سپرد خاك كئے گئے(۳۳)


سوالات

۱_ امام زين العابدينعليه‌السلام كى تاريخ ولادت بيان فرمايئےور ان كى اخلاقى خصوصيات ميں سے دو نمونے بيان كيجئے_

۲_ پيغام عاشوراء كو پہنچا نے اور اس سے حاصل شدہ نتائج كى نگہبانى كرنے ميں آپ نے كيا كردار ادا كيا؟ مختصر طور پر وضاحت كيجئے_

۳_ يزيد نے جو نشست شام كى جامع مسجد ميں منعقد كى تھي، امامعليه‌السلام نے اس سے اپنے لئے كس طرح فائدہ حاصل كيا؟

۴_ مدينہ واپسى كے بعد حكومت بنى اميہ كے مد مقابل امامعليه‌السلام كا موقف كيوں تبديل ہوگيا؟ اختصار كے ساتھ بيان كيجئے_

۵_ مدينہ واپس آنے كے بعد شہادت كے زمانے تك امام زين العابدينعليه‌السلام كے اہم كام كيا تھے؟

۶_ امام سجادعليه‌السلام كس تاريخ كو اور كيسے شہيد ہوئے؟


حوالہ جات

۱ الفصول المہمہ /۲۰۱-

۲ اصول كافى جلد/ ۴۶۶، ارشاد مفيد /۲۵۳، اعيان الشيعہ ( دس جلد والى ) جلد ۱/۶۲۹-

۳ ارشاد مفيد /۲۵۳-

۴ آل عمران /۱۳۴-

۵ ارشاد مفيد /۲۵۷، اعيان الشيعہ جلد ۱/۶۳۲-

۶ ارشاد مفيد/۲۵۹، مناقب جلد ۴/ ۱۶۳ ليكن مناقب ميں زيد بن اسامہ كے بجاے '' محمد بن اسامہ '' لكھا ہے_

۷ تذكرة الخواص ابن جوزى / ۱۸۴، اعيان الشيعہ جلد ۱/۶۳۳، مناقب جلد ۴/۱۵۳-

۸ خصال صدوق مطبوعہ غفارى /۵۱۷، مناقب جلد ۴/۱۵۰-

۹ يہ واقعہ، سانحہ كربلا كے بعد يزيد كى حكومت كے دوسرے سال پيش آيا اس ميں يزيد كے حكم سے سپاہ شام نے مدينہ پر حملہ كيا اور تين دن تك مسلمانوں كى جان، مال،عزت و آبرو كو اپنے اوپر مباح سمجھتے رہے_

۱۰ اعيان الشيعہ ج ۱/ ۶۳۶، بحار ج ۴۶/۱۳۸،كامل ابن اثير ج ۴/۱۱۲-۱۱۳-

۱۱ استلام _ہاتھ سے لمس كرنا، چھونا، بوسہ دينا_

۱۲ امالى سيد مرتضى جلد ۱/۶۶، اعيان الشيعہ ( دس جلد والي) جلد ۱/۶۳۴، تذكرة الخواص، بحار ج ۴۶/۱۲۷-۱۲۵-

۱۳ احتجاج طبرسى جلد ۲/۳۰، اعيان الشيعہ ( دس جلد والي) جلد۱/۶۱۳، بحار جلد ۴۴/۱۱۲-

۱۴ لہوف سيد ابن طاؤوس /۱۴۴، مقتل خوارزمى جلد ۲/۴۳، بحار جلد ۴۴/۱۱۷-۱۱۸-

۱۵ اما ظنّك برسول اللہ لو راناً موثقين فى الحبال-

۱۶ تذكرة الخواص /۱۴۹، اعيان الشيعہ ( دس جلدي) جلد ۱/۶۱۵، بحار جلد ۴۴/۱۳۲-

۱۷ ذريعة النجاة /۲۳۴-

۱۸ عام الفيل كے ۳۵ سال بعد پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہاتھوں حجر اسود نصب كئے جانے والے واقعہ كى طرف اشارہ ہے_

۱۹ كامل بہائي جلد ۲/۳۰۲، بحار جلد ۴۵/۱۳۷_۱۳۹-

۲۰ امام حسين كى زندگى كى تاريخ كى تحقيق كے سلسلہ ميں ہم نے بعض شورشوں اور تحريكوں كى طرف اشارہ كيا ہے_


۲۱ امام حسينعليه‌السلام كى شہادت كے بعد يزيد كى حكومت كے سہ سالہ جرائم كو گذشتہ اسباق ميں بيان كيا گيا ہے اس لئے يہاں پر اس كا تكرار نہيں كيا_

۲۲ كامل ابن اثير جلد ۴/۳۴۸_۳۵۶-

۲۳ كامل ابن اثير جلد ۴/۵۸۷-

۲۴ كافى جلد ۵/۲۴۴، مناقب جلد ۴،۱۶۲_ يعنى مسلمان ميں كوئي پستى اور ذلت نہيں ہے بلكہ صرف جاہليت كى فرمايگى ميں پستى ہے_

۲۵ تاريخ الخلفاء /۲۲۳_

۲۶ مناقب ابن شہر آشوب جلد۴/۱۷۶_

۲۷ بحار جلد ۴۶/۱۴۴، الاختصاص للمفيد /۶۴، رجال كشى /۸۱_

۲۸ احتجاج طبرسى جلد ۲/۴۴،۴۵، اعيان الشيعہ جلد ۱/۶۳۵، مناقب جلد ۴/۱۵۹_

۲۹ بحار جلد ۴۶/۱۴۳، شرح نہج البلاغہ ابن ابى الحديد جلد ۴/۱۰۴_

۳۰ بحار جلد ۴۶/۱۲۰_

۳۱ خاتمہ ترجمہ صحيفہ سجاديہ مطبوعہ آخوندي_

۳۲اللهم صلّ على محمّدو آله و اجعل لى يداً على من ظلمنى و لساناً على من خاصمنى و ظفراً بمَن عاندنى و هب لى مكراً على من كادنى '' صحيفہ سجاديہ دعاء /۲۰''_

۳۳ مصباح كفعمى /۵۰۹، كافى جلد ۱/۴۶۸، بحار جلد ۴۶/۱۵۲_


آٹھواں سبق :

امام محمد باقرعليه‌السلام كى سوانح عمري


ولادت اور بچپن كا زمانہ

ہمارے پانچويں پيشوا امام محمد باقرعليه‌السلام جمعہ كے دن پہلى رجب ۵۷ ھ ق كو شہر مدينہ ميں پيدا ہوئے_(۱) آپ كا نام محمد، كنيت ابوجعفر اور مشہورترين لقب باقر ہے_ روايت ہے كہ حضرت رسول مقبول صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے اس لقب سے ملقب فرمايا تھا_ امام محمد باقرعليه‌السلام _ ماں اور باپ _ دونوں طرف سے فاطمى اور علوى تھے_ اس لئے كہ ان كے والد امام زين العابدين _ امام حسينعليه‌السلام كے فرزند تھے_ اور ان كى والدہ گرامى '' ام عبداللہ'' امام مجتبى _كى بيٹى تھيں _ آپ نے امام زين العابدين _جيسے باپ كى پر مہر آغوش ميں پرورش پائي اور با فضيلت ماں كى چھاتى سے دودھ پيا_ وہ ماں جو عالمہ اور مقدسہ تھيں ، امام جعفر صادق عليہ اسلام سے منقول ہے كہ '' ميرى جدّہ ماجدہ ايسى صديقہ تھيں كہ اولاد امام حسن مجتبى _ميں كوئي عورت انكى فضيلت كے پايہ كو نہ پہونچ سكي(۲) امام محمد باقرعليه‌السلام كى عمر چار سال سے كم تھى كہ جب كربلا كا خونين واقعہ پيش آيا_

آپعليه‌السلام اپنے جد حضرت اباعبداللہ الحسينعليه‌السلام كے پاس موجود تھے_ واقعہ كربلا كے بعد ۳۴ برس آپعليه‌السلام نے اپنے پدر بزرگوار كے ساتھ زندگى گذاري، آپ جوانى ہى كے زمانہ سے علم و دانش، فضيلت و تقوى ميں مشہور تھے اور آئندہ چل كر مسلمانوں كے علمى مشكلات كے حل كا مرجع سمجھے جانے لگے_ جہاں كہيں بھى ہاشميين، علويين اور فاطميين كى بلندى كا ذكر ہوتا، آپعليه‌السلام كو ان تمام مقدسات، شجاعت اور بزرگى كا لوگ تنہا وارث جانتے تھے_


آپعليه‌السلام كى شرافت اور بزرگى كو مندرجہ ذيل حديث ميں پڑھا جاسكتا ہے_ پيغمبر-صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے ايك نيك صحابي، جابر ابن عبداللہ انصارى سے فرمايا:'' اے جابر تم زندہ رہوگے اور ميرے فرزند محمد ابن على ابن الحسينعليه‌السلام سے كہ جن كا نام توريت ميں '' باقر'' ہے ملاقات كروگے_ ملاقات ہونے پر ميرا سلام پہنچا دينا''_ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رحلت فرماگئے_ جابر نے ايك طويل عمر پائي ، ايك دن امام زين العابدينعليه‌السلام كے گھر تشريف لائے اور امام محمد باقرعليه‌السلام كو جو چھوٹے سے تھے ديكھا، ان سے جابر نے كہا: ذرا آگے آيئےامامعليه‌السلام آگے آگئے_ جابر نے كہا: ذرا مڑجايئے امام مڑگئے، جابر نے جسم اور ران كے چلنے كا انداز ديكھا اس كے بعد كہا، كعبہ كے خدا كى قسم، يہ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا ہو بہو آئينہ ہيں _ پھر امام زين العابدينعليه‌السلام سے پوچھا'' يہ بچہ كون ہے؟ آپ نے فرمايا: ميرے بعد امام ميرا بيٹا محمد باقرعليه‌السلام ہے_ جابر اٹھے اور آپ نے امام كے قدموں كا بوسہ ليا اور كہا: اے فرزند پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميں آپ پر نثار، آپ اپنے جد رسول خدا كا سلام و درود قبول فرمائيں انہوں نے آپ كو سلام كہلو ايا ہے_

امام محمد باقرعليه‌السلام كى آنكھيں ڈبڈ باگئيں اور آپعليه‌السلام نے فرمايا: جب تك آسمان اور زمين باقى ہے اس وقت تك ميرا سلام و درود ہو ميرے جد پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا پر اور تم پر بھى سلام ہو اے جابر تم نے ان كا سلام مجھ تك پہنچايا(۳)

امامعليه‌السلام كے اخلاق و اطوار

حضرت امام محمد باقرعليه‌السلام ، متواضع، سخي، مہربان اور صابر تھے اور اخلاق و عادات كے اعتبار سے جيسا كہ جابر نے كہا تھا ہو بہو اسلام كے عظيم الشان پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا آئينہ تھے_

شام كا ايك شخص مدينہ ميں ٹھہرا ہوا تھا اور امامعليه‌السلام كے پاس بہت آتارہتا تھا اور كہتا تھا كہ تم سے زيادہ روئے زمين پر اور كسى كے بارے ميں ميرے دل ميں بغض و كينہ نہيں ہے، تمہارے اور تمہارے خاندان سے زيادہ ميں كسى كا دشمن نہيں ہوں _ اگر تم يہ ديكھتے ہو كہ ميں تمہارے گھر


آتاجاتا ہوں تو يہ اس لئے ہے كہ تم ايك سخن ور اور خوش بيان اديب ہو

اس كے باوجود امامعليه‌السلام اس كے ساتھ حسن سلوك سے پيش آتے تھے اور اس سے بڑى نرمى سے بات كرتے تھے كچھ دنوں كے بعد وہ شخص بيمار ہوااس نے وصيت كى كہ جب ميں مرجاؤں تو امام محمد باقرعليه‌السلام ميرى نماز جنازہ پڑھائيں _

جب اس كے متعلقين نے اسے مردہ ديكھا تو امامعليه‌السلام كے پاس پہنچ كر عرض كى كہ وہ شامى مرگيا اور اس نے وصيت كى ہے كہ آپ اس كى نماز جنازہ پڑھائيں _

امام نے فرمايا: مرا نہيں ہے جلدى نہ كرو يہاں تك كہ ميں پہونچ جاؤں اس كے بعد آپ اٹھے اور آپ نے دو ركعت نماز پڑھى اور ہاتھوں كو دعا كے لئے بلند كيا اور تھوڑى دير تك سر بسجدہ رہے، پھر شامى كے گھر گئے اور بيمار كے سر ہانے بيٹھ گئے، اس كو اٹھا كر بٹھايا_ اس كى پشت كو ديوار كا سہارا ديا اور شربت منگواكر اس كے منہ ميں ڈالا اور اس كے متعلقين سے فرمايا كہ اس كو ٹھنڈى غذائيں دى جائيں اور خود واپس چلے گئے_ ابھى تھوڑى دير نہ گذرى تھى كہ شامى كو شفا مل گئي وہ امامعليه‌السلام كے پاس آيا اور عرض كرنے لگا:'' ميں گواہى ديتا ہوں كہ آپ، لوگوں پر خدا كى حجت ہيں ...''(۴) اس زمانے كے صوفيوں ميں سے ايك شخص محمد بن مُنكَدر كا بيان ہے كہ ايك دن ميں بہت گرمى ميں مدينہ سے باہر نكلا وہاں ميں نے محمد باقرعليه‌السلام كو ديكھا كہ دو غلاموں پر تكيہ كئے ہوئے ہيں _ ميں نے اپنے دل ميں كہا كہ قريش كے بزرگوں ميں سے ايك بزرگ ايسے وقت ميں دنيا كى ہوس اور لالچ ميں پڑے ہوئے ہيں ، ميں ان كو كچھ نصيحت كروں _ ميں ان كے قريب گيااور سلام كيا_ ان كے سر اور داڑھى سے پسينہ بہہ رہا تھا_ امامعليه‌السلام نے اسى حالت ميں ميرے سلام كا جواب ديا_ ميں نے عرض كي: خدا آپ كو سلامت ركھے آپ كى جيسى شخصيت والا انسان اس وقت اس حالت ميں دنيا حاصل كرنے ميں لگا ہوا ہے اگر اسى حالت ميں موت آجائے تو آپعليه‌السلام كيا كريں گے؟


آپ نے فرمايا خدا كى قسم اگر موت آگئي تو خداوند عالم كى اطاعت كى حالت ميں موت واقع ہوگي_اس لئے كہ ميں اس وسيلہ سے اپنے آپ كو تم سے اور دوسروں كى محتاجى سے بچاتا ہوں _ ميں اس حالت ميں موت سے ڈرتا ہوں كہ ميں ( خدا نخواستہ ) گناہ كے كام ميں لگا رہوں _ ميں نے كہا آپ پر خدا كى رحمت ہو، ميں نے چاہاتھا كہ ميں آپ كو نصيحت كروں ليكن آپ نے مجھ كونصيحت كى اور آگاہ فرمايا(۵)

علم امام محمد باقرعليه‌السلام

آپ كا علم بھى دوسرے تمام ائمہ كى طرح چشمہ وحى سے فيضان حاصل كرتا تھا، جابر بن عبداللہ آپ كے پاس آتے اور آپ كے علم سے بہرہ ور ہو تے اور بار بار عرض كرتے تھے كہ '' اے علوم كو شگافتہ كرنے والے ميں گواہى ديتا ہوں كہ آپ بچپن ہى ميں علم خدا سے مالامال ہيں(۶) اہل سنت كے علماء ميں سے ايك بزرگوار عبداللہ ابن عطاء مكى فرماتے تھے كہ ميں نے امام محمد باقرعليه‌السلام كے سامنے اہل علم كو جس طرح حقير اور چھوٹا پايا ہے ويسا كسى كے سامنے ميں نے نہيں ديكھا ہے _حكم بن عتيبہ لوگوں كے نزديك جن كا علمى مقام بہت بلند تھا_ امام محمد باقرعليه‌السلام كے سامنے ان كى حالت يہ ہوتى تھى كہ جيسے ايك شاگرد استاد كے سامنے''(۷) آپ كا علمى مقام ايسا تھا كہ جابر بن يزيد جعفى ان سے روايت كرتے وقت كہتے تھے '' وصى اوصياء اور وارث علوم انبياء محمد بن على بن الحسين _نے ايسا كہا ہے ...'' ۸

ايك شخص نے عبداللہ بن عمر سے ايك مسئلہ پوچھا وہ جواب نہ دے سكے اور سوال كرنے والے كو امام محمد باقرعليه‌السلام كا پتہ بتاديا اور كہا كہ اس بچے سے پوچھنے كے بعد جو جواب ملے وہ مجھ كو بھى بتادينا_ اس شخص نے امامعليه‌السلام سے پوچھا اور مطمئن كرنے والا جواب سننے كے بعد عبداللہ بن عمر


كو جاكر بتاديا_ عبداللہ نے كہا:'' يہ وہ خاندان ہے جس كا علم خدا داد ہے''(۹) حضرت امام محمد باقرعليه‌السلام نے علوم و دانش كے اتنے رموز و اسرار واضح كئے ہيں كہ سوائے دل كے اندھے كے اور كوئي انكا، انكار نہيں كرسكتا_ اس وجہ سے آپ نے تمام علوم شكافتہ كرنے والے اور علم و دانش كا پرچم لہرانے والے كا لقب پايا(۱۰) انہوں نے مدينہ ميں علم كا ايك بڑا دانشكدہ بتايا تھا جس ميں سينكڑوں درس لينے والے افراد آپ كى خدمت ميں پہونچ كر درس حاصل كيا كرتے تھے_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے اصحاب ميں سے جو لوگ زندہ تھے، جيسے جابر بن عبداللہ انصارى اور تابعين ميں سے كچھ بزرگ افراد جيسے جابر بن جعفي، كيسان سختيانى اور فقہاء ميں سے كچھ لوگ جيسے ابن مبارك زہري، اوزاعى ، ابوحنيفہ ، مالك ، شافعى اور زياد بن منذر اور مصنفين ميں سے كچھ افراد جيسے طبري، بلاذري، سلامى اور خطيب نے اپنى تاريخوں ميں آپ سے روايتيں لكھى ہيں(۱۱)

امام _اور اموى خلفائ

امام محمد باقرعليه‌السلام كى امامت كا زمانہ _ جو تقريباً ۱۹ سال پر محيط تھا _ اموى حكمرانوں جيسے وليد بن عبدالملك، سليمان بن عبدالملك، عمر بن عبدالعزيز، يزيد بن عبدالملك، ہشام بن عبدالملك كا زمانہ تھا_ ان ميں سے سوائے عمر بن عبدالعزيز كے_ جو نسبتاً عدالت پسند تھا _ سب كے سب ستمگري، استبداد اور مطلق العنانى ميں اپنے اسلاف سے كچھ كم نہ تھے اور آگے چل كر انہوں نے امام محمد باقرعليه‌السلام كے لئے مشكليں پيدا كيں _

امام محمد باقرعليه‌السلام كے زمانہ امامت كے سياسى اور كھٹن حالات سے واقفيت كے لئے ہم يہاں ان ميں سے ہر ايك كے بارے ميں اب اجمالى گفتگو كر رہے ہيں _

وليدنے ۸۶ ھ ق ميں حكومت كى باگ ڈور سنبھالى اور ۱۵، جمادى الآخر ۹۶ ھ ق كو مرگيا_


مسعودى كا بيان ہے كہ وليد ايك ہٹ دھرم، جابر اور ظالم بادشاہ تھا _ (!۲) اس كے باپ نے اس كو وصيت كى تھى كہ حجاج بن يوسف كا اكرام كرے اور چيتے كى كھال پہنے _(۱۳) تلوار آمادہ ركھے اور جو اس كى مخالفت كرے اس كو قتل كردے(۱۴) اس نے بھى باپ كى وصيت كو پورا كيا اور حجاج كے ہاتھوں كو اپنے باپ كى طرح مسلمانوں كو ستانے اور ان كو قتل كرنے كے لئے آزاد چھوڑ ديا_

عمر بن عبدالعزيز، وليد كى طرف سے مدينہ كا حاكم تھا، حجاج كے ظلم سے تنگ آكر جو بھى بھاگتا تھا اس كے پاس پناہ ليتا تھا_ عمر نے وليد كو ايك خط لكھااور لوگوں كے ساتھ حجاج كے ظلم كى شكايت كى _ وليد نے حاكم مدينہ كى شكايت سننے كى بجائے، حجاج كى خوشنودى كے لئے عمر بن عبدالعزيز كو مدينہ كى گورنرى سے معزول كرديا اور حجاج كو لكھا'' تم جس كو بھى چاہو حجاز كا حاكم بنادو_ حجاج نے بھى خالد بن عبداللہ قسرى كے لئے سفارش كى جو خود اسى جيسا ايك خونخوار شخص تھا وليد نے يہ سفارش قبول كر لي(۱۵) وليد كا حجاج پر اعتماد كرنا اور اپنے باپ عبدالملك كى تائيد، وليد كے طغيان اور اس كى تباہ كارى پر بہترين دليل ہے_

اپنے بھائي كے بعد سليمان بن عبدالملك نے زمام حكومت اپنے ہاتھوں ميں لى اور جمعہ كے دن ۱۰ ماہ صفر ۹۹ ھ كو مرگيا_ وہ بڑا پرخور اور عورتوں كا دلدادہ تھا_ اس كے دور خلافت ميں عياشى اور دربار ميں عيش و نشاط كى محفل اپنے اوج پر تھي_ متعدد خواجہ سراؤں كو اس نے اپنے دربار ميں ركھ چھوڑا تھا اور اور اپنا زيادہ وقت حرم سراء كى عورتوں كے ساتھ گذارتا تھا_ آہستہ آہستہ برى باتيں ملك كے كارندوں ميں بھى سرايت كر گئيں اور يہ باتيں ملك گير پيمانہ پر پھيل گئيں(۱۶) اس نے دو سال چند مہينے حكومت كى _ شروع ميں اس نے نرمى كا مظاہرہ كيا_ عراق كے قيد خانوں كے دروازے كھول ديئے اور بے گناہوں كو آزاد كرديا جبكہ اس كى زندگى كے لمحات ظلم و ستم سے خالى نہ تھے_ اس نے خالد بن عبداللہ قسرى كو جو ظلم اور جرائم ميں حجاج كا ثانى تھا، اس كے


مقام پر باقى ركھا_

اس كے بعد عمر بن عبدالعزيز مسند حكومت پر متمكن ہوا_ اس كا انتقال ۲۵ رجب ۱۰۱ ھ ق كو ہوا_ يہ كسى حد تك پريشانيوں اور دشواريوں پر قابو پانے ، برائيوں اور تفريق كے ساتھ جنگ كرنے، اس ننگ و عار كے دھبہ كو جو اس وقت كى حكومت كے دامن پر لگا ہوا تھا _ يعنى على _پر سب و شتم كرنا _ دھونے، فدك كو اولاد فاطمہ عليہا السلام كو واپس دے دينے اور امام محمد باقرعليه‌السلام كے حوالے كرنے ميں كامياب ہوئے_

اس كے بعد يزيد بن عبدالملك ان كى جگہ مسند حكومت پر متمكن ہوا_ اور اپنے حكام كو مندرجہ ذيل خط لكھ كر اپنى حكومت كا آغاز كيا:

'' عمر بن عبدالعزيز نے دھو كہ كھايا، تم اور تمہارے اطراف كے لوگوں نے اس كو دھو كہ ديا خط ملتے ہى سابق معاونين اور اپنے دوستوں كو جمع كرو اور لوگوں كو ان كى سابقہ حالت پر پلٹا دو، چاہے وہ ماليات كو ادا كرنے كى طاقت ركھتے ہوں يا نہ ركھتے ہوں ، زندہ رہيں يا مرجائيں ، لازم ہے كہ وہ ٹيكس ادا كريں ''(۱۷) يزيد بن عبدالملك كا اپنے ہم نام يزيد بن معاويہ كى طرح سوائے عياشي، جرائم، مستى اور عورتوں كے ساتھ عشق بازى كے اور كوئي دوسرا كام نہ تھا_ وہ اخلاقى اور دينى اصول كا ہرگز پابند نہ تھا_ اس كى خلافت كا زمانہ بنى اميہ كى حكومت كا ايك سياہ ترين اور تاريك ترين دور شمار كيا جاتا ہے اس كے زمانہ ميں قصائد اوراشعار كى جگہ ساز اور آواز نے لے لى تھى اور اس شعبہ كو اتنى وسعت دے دى تھى كہ مختلف شہروں سے گانے بجانے والے دمشق بلائے جاتے تھے اور اس طرح عياشي، ہوس راني، شطرنج اور تاش نے عربى معاشرہ ميں رواج پايا(۱۸) اس كے بعد ہشام بن عبدالملك نے حكومت كى باگ ڈور سنبھالي_ وہ بخيل، بداخلاق، ستمگر اور بے رحم تھا_ نہ صرف يہ كہ اس نے برائيوں كى اصلاح كيلئے كوئي قدم نہيں اٹھايا بلكہ اس نے بنى اميہ كى خطاؤں كو تقويت بخشي_ اپنے گورنروں كو اس نے لكھا كہ شيعوں كے ساتھ سختى كركے ان پر


عرصہ حيات تنگ كردو _ اس نے حكم ديا كہ ان كے آثار كو مٹا كر ان كا خون بہايا جائے اور ان كو عام حق سے محروم كردو_

اس نے حكم ديا كہ شاعر اہل بيت '' كُمَيت'' كا گھر اجاڑ ديا جائے_ كوفہ كے حاكم كو لكھا كہ ''اولاد پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى مدح كرنے كے جرم ميں كُمَيت كى زبان كاٹ دى جائے''_

يہى تھا جس نے زيد بن على بن الحسين كے انقلاب كو كچل ديا تھا اور ان كے جسم مقدس كو مثلہ كرنے كے بعد كوفہ كے كليسا كے پاس نہايت دردناك حالت ميں دار پر لٹكا ديا_

امام محمد باقرعليه‌السلام كا اپنى خلافت كے زمانہ ميں ايسے ايسے مدعيان خلافت سے مقابلہ تھا_

خلافت كے بالمقابل امامعليه‌السلام كا موقف

ہشام، امام محمد باقر اور ان كے فرزند عزيز حضرت امام جعفر صادق _كى عزت و وقار سے بہت خوف زدہ تھا اس لئے اپنى حاكميت كا رعب جمانے اور خلافت كى مشينرى كے مقابلہ ميں امام_ كى اجتماعى حيثيت و وقار كو مجروح كرنے كے لئے اس نے حاكم مدينہ كو حكم ديا كہ ان دونوں بزرگوں كو شام بھيجدے_

امامعليه‌السلام كے وارد ہونے سے پہلے اس نے اپنے درباريوں اور حاشيہ نشينوں كو امامعليه‌السلام كا سامنا كرنے كے لئے ضرورى احكامات ديئے_ يہ طے پايا كہ پہلے خليفہ اور پھر اس كے بعد حاضرين دربار جو سب كے سب مشہور اور نماياں افراد تھے، امام محمد باقرعليه‌السلام پر تہمت اور شماتت كا سيلاب انڈيل ديں _

اس عمل سے ہشام كے دو مقصد تھے، پہلا مقصد يہ تھا كہ اس سختى اور تہمت سے امامعليه‌السلام كے حوصلہ كو كمزور كركے ہر اُس كام كے لئے جس كى وہ خواہش كرے گا امام كو آمادہ كرلے گا_ دوسرا مقصد يہ تھا كہ اس ملاقات ميں كہ ، جس ميں بڑے بڑے رہبر شريك تھے، آپ كو ذليل كرديا جائے_


امام محمد باقرعليه‌السلام وارد ہوئے اور معمول كے مطابق جو طريقہ تھا كہ ہر آنيوالا '' امير المؤمنين'' كے مخصوص لقب كے ساتھ خليفہ كو سلام كرتا تھا_ اس كے برخلاف آپعليه‌السلام نے تمام حاضرين كى طرف رخ كركے'' سلامٌ عليكم'' كہا، پھر اجازت كا انتظار كئے بغير بيٹھ گئے_ اس روش كى بنا پر ہشام كے دل ميں كينہ اور حسد كى آگ بھڑك اٹھى اور اس نے اپنا پروگرام شروع كرديا_ اس نے كہا'' تم اولاد على ہميشہ مسلمانوں كے اتحاد كو توڑتے ہو اور اپنى طرف دعوت ديكر ان كے درميان رخنہ اور نفاق ڈالتے ہو، نادانى كى بنا پر ( معاذاللہ) اپنے كو پيشوا اور امام سمجھتے ہو'' ہشام تھوڑى دير تك ايسى ياوہ گوئي كر تا رہا پھر چپ ہوگيا_

اس كے بعد اس كے نوكروں ميں سے ہر ايك نے ايك بات كہى اور آپ كو مورد تہمت قرار ديا_

امام محمد باقرعليه‌السلام اس تمام مدت ميں خاموشى اور اطمينان سے بيٹھے رہے_ جب سب چپ ہوگئے تو آپعليه‌السلام اٹھے اور حاضرين كى طرف مخاطب ہوئے، حمد و ثنائے خدا اور پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود كے بعد ان كى گمراہى اور بے راہ روى كو واضح اور اپنى حيثيت نيز اپنے خاندان كے سابقہ افتخار كو بيان كرتے ہوئے فرمايا:

'' اے لوگو تم كہاں جا رہے ہو اور ان لوگوں نے تمہارا كيا انجام سوچ ركھا ہے؟ ہمارا ہى وسيلہ تھا جس كے ذريعہ خدا نے تمہارے اسلاف كى ہدايت كى اور ہمارے ہى ہاتھوں سے تمہارے كام كے اختتام پر مہر لگائي جائے گى اگر تمہارے پاس آج يہ تھوڑے دنوں كى حكومت ہے تو ہمارے پاس دير پا حكومت ہوگي_ ہمارى حكومت كے بعد كسى كى حكومت نہيں ہوگى ہم ہى وہ اہل عاقبت ہيں جن كے بارے ميں خدا نے فرمايا ہے كہ عاقبت صاحبان تقوى كے لئے ہے''_(۱۹)

امام _كى مختصر اور ہلا دينے والى تقرير سے ہشام كو ايسا غصہ آيا كہ سختى كے سوا اور كچھ اس كى سمجھ ميں نہ آيا اس نے امامعليه‌السلام كو قيد كر دينے كا حكم ديا_


امامعليه‌السلام نے زندان ميں بھى حقيقتوں كو آشكار اور واضح كيا_ زندان كى نگرانى كرنے والوں نے ہشام كو خبر دى ، يہ بات اس مشينرى كے لئے قابل تحمل نہ تھى جو دسيوں سال سے شام كو علوى تبليغات كى دست رسى سے دور ركھے ہوئے تھي_ اس نے حكم ديا كہ امام اور ان كے ساتھيوں كو زندان سے نكال كر پہرہ اور سختيوں ميں مدينہ پہنچا يا جائے اور پہلے سے بھى ضرورى احكام بھيجے جاچكے تھے كہ راستہ ميں كسى كو يہ حق حاصل نہيں ہے كہ اس معتوب قافلہ كے ساتھ كوئي معاملہ كرے_ اور ان كے ہاتھوں كسى كو روٹى اور پانى بيچنے كا حق نہيں ہے(۲۰)

اسلامى ثقافت كا احيائ

امام محمد باقرعليه‌السلام ان حالات ميں حاكم كى سخت گيرى اور ضرورت تقيہ كے باوجود _ اس بات ميں كامياب ہوگئے كہ تعليم و تربيت كے ذريعہ بہت ہى گہرى بنيادوں پر مبنى علمى تحريك بنائيں _ انہوں نے آغاز ہى سے تشيع كى بنيادى اور با مقصد دعوت كى اشاعت كيلئے ، وسيع پيمانہ پر كوشش شروع كي_ اس دعوت كى وسعت اتنى تھى كہ شيعوں كے علاقہ جيسے مدينہ اور كوفہ كے علاوہ شيعى فكر كے نفوذ كى قلمرو ميں دوسرے نئے علاقوں كا بھى اضافہ ہوا_ اس سلسلہ ميں تمام جگہوں سے زيادہ خراسان كا نام ليا جاسكتا ہے_

حج كے زمانہ ميں عراق، خراسان اور دوسرے شہروں سے ہزاروں مسلمان آپ سے فتوى معلوم كرتے تھے_ اور معارف اسلام كے ہر باب كے بارے ميں آپ سے سوال كرتے تھے_ ان بزرگ فقہاء كى طرف سے جو علمى اور فكرى مكاتب سے وابستہ تھے، آپ كے سامنے دشوار گذار مسائل ركھے جاتے تھے تا كہ آپ الجھ جائيں اور لوگوں كے سامنے خاموش رہنے پر مجبور ہوجائيں _

امام _نے ان تمام مقامات پر تشيع كے اركان كى تفصيلى توضيح كے ساتھ اس كے اعلى صفات


كو محدود سطح اورگنے چنے افراد سے نكالا اور اسے آفاقى نكال كرمكتب كے مفاہيم كى نشر و اشاعت كے ذريعہ افراد كى پرورش كى اور حقيقى اسلام كو مجسم بنايا_ چنانچہ بہت سے شہروں ميں اس كا رد عمل ظاہر ہوگيا تھا_

ان كاموں كى وجہ سے لوگ ان كے گرويدہ ہوگئے تھے اور آپعليه‌السلام نے قوم ميں بہت زيادہ نفوذ پيدا كر ليا تھا_ جبكہ خلافت بنى اميہ كے زمانہ ميں قبيلہ مضر اور حمير كے درميان نسلى قتل كى آگ بھڑك رہى تھي_ مگر ہم ديكھتے ہيں كہ دونوں قبيلوں كے درميان امامعليه‌السلام كے چاہنے والے تھے جيسا كہ باقاعدہ شيعہ كہے جانے والے شعراء جيسے فرزدق تميمى مضرى اور كميت اسدى حميرى دونوں ہى امام _اور اہل بيتعليه‌السلام كى دوستى ميں متفق تھے_

اسلامى نظام كى تشكيل

امام محمد باقرعليه‌السلام نے ضرورت كى وجہ سے معاشرہ پر مسلط حكومت سے لڑنے اور آمنے سامنے كى جنگ سے اجتناب كيا اور آپ نے زيادہ تر فكرى اور ثقافتى كام كيا_ جو نظرياتى تخم ريزى بھى تھى اور سياسى تقيہ بھى _ ليكن يہ حكيمانہ انداز اس بات كا سبب نہيں بنا كہ امام _ تحريك امامت كى كلى سمت كو قريبى دوستوں اور سچے شيعوں كے لئے جو اُن كے گرويدہ تھے، واضح نہ كريں _ اور عظيم شيعى مقصد كو _ يعنى اسلامى نظام كو ناقابل اجتناب مبارزہ كے ذريعہ _ ان كے دلوں ميں زندہ نہ كريں _ امام محمد باقرعليه‌السلام كے اميد افزا طريقوں ميں سے ايك طريقہ يہ بھى تھا كہ آپ آئندہ كے لئے دل پسند نويد ديتے تھے جو چنداں دور بھى نہيں ہوتى تھي_

راوى كہتا ہے: ہم ابوجعفر _كى خدمت ميں بيٹھے ہوئے تھے ايك بوڑھا آدمى آيا، سلام كيا اور كہا كہ اے فرزند رسول خدا كى قسم ميں آپ كا اور آپ كے چاہنے والوں كا دوست ہوں يہ دوستى دنيا كى لالچ ميں نہيں ہے ميں نے آپ كے امر و نہى كو قبول كر ليا ہے اور ميں اس انتظار


ميں ہوں كہ آپ كى كاميابى كا زمانہ قريب آئے، كيا اب ہمارے لئے كوئي اميد ہے؟ امامعليه‌السلام نے اس بوڑھے آدمى كو اپنے پہلو ميں بٹھايا اور فرمايا اے پيرمرد كسى نے ميرے والد على ابن الحسينعليه‌السلام سے يہى پوچھا تھا، ميرے والد نے اس سے كہا تھا كہ '' اگر اسى انتظار ميں مرجاؤگے تو پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، علىعليه‌السلام ، حسنعليه‌السلام ، حسينعليه‌السلام اور على بن الحسين كى بارگاہ ميں پہنچو گے اور اگر زندہ رہ جاؤگے تو اسى دنيا ميں وہ دن ديكھو گے كہ تمہارى آنكھيں روشن ہوجائيں گى اور اس دنيا ميں ہمارے ساتھ ہمارے پہلو ميں بلند ترين جگہ پاؤگے(۲۱)

اس طرح كے بيانات اس كھٹن ماحول ميں دل انگيز خواب كى طرح نظام اسلامى اور حكومت علوى كى تشكيل كے لئے شيعوں كے ستم رسيدہ دلوں ميں اميد كى كرن اور متحرك كرنے والى لہر پيدا كرتے اور آئندہ كے لئے اس بات كو يقينى اور نہ ٹلنے والى صورت ميں پيش كرتے تھے_

امامعليه‌السلام كى يہ روش اس بات كا نمونہ ہے كہ حضرت كا تعلق اپنے نزديكى اصحاب سے كيسا تھا، اور يہ روش ايك دوسرے سے منظم اور مرتب رابطہ كى نشاندہى بھى كرتى ہے_ يہى وہ حقيقت تھى جو خلافت كى مشينرى كو ردّ عمل ظاہر كرنے پر ابھارتى تھي_

ہشام كى خلافت كى مشينرى جس كو بلاذرى اموى خلفاء ميں مقتدر ترين خليفہ جانتا ہے _ اگر امام محمد باقرعليه‌السلام كے ساتھ سختى سے پيش آتى تھى تو اس كى وجہ يہ تھى كہ آپ كى روش اورعمل ميں ہشام اپنے لئے ايك قسم كى تہديد ديكھ رہا تھا اور آپ كا وجو اس كے لئے ناقابل تحمل تھا_

يہ بات ناقابل ترديد ہے كہ اگر امام محمد باقرعليه‌السلام فقط علمى زندگى ميں سرگرم عمل رہتے اور تنظيم سازى كى فكر نہ كرتے تو خليفہ اپنے لئے اس بات ميں صلاح نہيں سمجھتا كہ وہ سخت گيرى اور شدّت كے ساتھ آپ كو سخت مقابلہ كے لئے بھڑ كائے اور نتيجتاً آپ كے دوستوں اور معتقدين كو _ جن كى تعداد كم بھى نہ تھى _ اپنے اوپر ناراض اور اپنى مشينرى سے ناخوش كر لے_


امام محمد باقرعليه‌السلام كے مكتب فكر كے پروردہ افراد

امام محمد باقرعليه‌السلام كے مكتب فكر ميں مثالى اور ممتاز شاگردوں نے پرورش پائي تھى ان ميں سے كچھ افراد كى طرف اشارہ كيا جارہا ہے_

۱_ابان ابن تَغلب:

ابان ابن تغلب نے تين اماموں كى خدمت ميں حاضرى دى تھے_ چوتھے امامعليه‌السلام ، پانچويں امامعليه‌السلام اور چھٹے امامعليه‌السلام ابان اپنے زمانہ كى علمى شخصيتوں ميں سے ايك تھے، تغيرحديث، فقہ، قرائت اور لغت پر آپ كو تسلط حاصل تھا_ ابان كى فقہى منزلت كى وجہ ہى سے امام محمد باقرعليه‌السلام نے ان سے فرمايا كہ مدينہ كى مسجد ميں بيٹھو اور لوگوں كے لئے فتوى دو تا كہ لوگ ہمارے شيعوں ميں تمہارى طرح كے ميرے پيروكار كو ديكھيں(۲۲) جب امام جعفر صادق _نے ابان كے مرنے كى خبر سنى تو آپ نے فرمايا كہ خدا كى قسم ابان كى موت نے ميرے دل كومغموم كرديا ہے(۲۳)

۲_زرارہ ابن اَعيُن:

شيعہ علمائ، امام محمد باقرعليه‌السلام اور امام جعفر صادق _كے شاگردوں ميں سے چھ افراد كو برتر شمار كرتے ہيں اور زرارہ ان ميں سے ايك ہيں _ امام جعفر صادق _فرماتے ہيں كہ اگر برير ابن معاويہ، ابوبصير، محمد ابن مسلم اور زرارہ نہ ہوتے تو آثار نبوت مٹ جاتے، يہ لوگ حلال و حرام خدا كے امين ہيں _(۲۴) اور پھر فرماتے ہيں : برير، زرارہ ، محمد ابن مسلم اور احول، زندگى اور موت ميں ميرے نزديك سب سے زيادہ محبوب ہيں _

۳_كُمَيت اسدى :

ايك انقلابى اور با مقصد شاعر تھے ان كى زبان گويا آپ كى شاعرى دفاع اہل بيتعليه‌السلام كے سلسلہ ميں لوگوں كو جھنجوڑنے والى اور ( دشمنوں كو) اس طرح ذليل كرنے والى تھى كہ دربار خلافت كى طرف سے مستقل موت كى دھمكى دى جاتي_ كُمَيت امام محمد باقرعليه‌السلام كے شيدائي تھے اور محبت كے اس راستہ ميں انہوں نے اپنے كو فراموش كرديا تھا ايك دن امامعليه‌السلام كے سامنے امام كى مدح ميں كہے جانے والے مناسب اشعار پڑھ رہے تھے كہ امامعليه‌السلام نے كعبہ كى طرف


رخ كيا اور تين بار فرمايا: خدايا كُمَيت پر رحمت نازل فرما_ پھر كُمَيت سے فرمايا اپنے خاندان سے ميں نے ايك لاكھ درہم تمہارے لئے فراہم كئے ہيں _

كُمَيت نے كہا'' ميں سيم و زر كا طالب نہيں ہوں فقط اپنا ايك پيراہن مجھے عطا فرمائيں _ امامعليه‌السلام نے پيراہن ان كو ديديا(۲۵)

۴_محمد بن مسلم فقيہ اہل بيت:

امام محمد باقر اور امام جعفر صادق عليہما السلام كے سچے دوستوں ميں سے تھے آپ كوفہ كے رہنے والے تھے ليكن امام كے علم بيكراں سے استفادہ كرنے كے لئے مدينہ تشريف لائے_

عبداللہ ابن ابى يعفور بيان كرتے ہيں :'' ميں نے امام جعفر صادق _سے عرض كيا كہ كبھى مجھ سے سوالات ہوتے ہيں جن كا جواب ميں نہيں جانتا اور آپ تك بھى نہيں پہنچ سكتا_ آخر ميں كيا كروں ؟ امامعليه‌السلام نے محمد ابن مسلم كا نام بتايا اور فرمايا كہ :'' ان سے كيوں نہيں پوچھتے؟''(۲۶)

كوفہ ميں رات كے وقت ايك عورت محمد ابن مسلم كے گھر آئي اور اس نے كہا، ميرى بہو مرگئي ہے اور اس كے پيٹ ميں زندہ بچہ موجود ہے ہم كيا كريں ؟

محمد ابن مسلم نے كہا:'' امام محمد باقرعليه‌السلام نے جو فرمايا ہے اس كے مطابق تو پيٹ چاك كركے بچہ كو نكال لينا چاہئے اور پھر مردہ كو دفن كردينا چاہئے_

پھر محمد ابن مسلم نے اس عورت سے پوچھا كہ ميرا گھر تم كو كيسے ملا؟ عورت بولي: '' ميں يہ مسئلہ ابو حنيفہ كے پاس لے گئي انہوں نے كہا كہ ميں اس بارے ميں كچھ نہيں جانتا، ليكن تم محمد ابن مسلم كے پاس جاؤ اور اگر وہ فتوى ديديں تو مجھے بھى بتادينا(۲۷)

شہادت كے بعد مبارزہ

امام محمد باقرعليه‌السلام كى رہبرى كا ۱۹ سالہ زمانہ نہايت دشوار حالات اور ناہموار راہوں ميں گذرا_ آخر ميں آپ كى كم مگر پر بركت عمر كے اختتام كا وقت آيا تو اس شعلہ ور مركز كے گرم خاكستر سے


آپ نے اپنى آخرى برق اموى سلطنت كى بنياد پر گرداي_

امام نے اپنے بيٹے امام جعفر صادق _كو حكم ديا كہ ان كے پيسوں ميں سے ايك حصہ ( ۸۰۰ درہم) دس سال كى مدت تك عزادارى اور ان پر گريہ كرنے ميں صرف كريں _ عزادارى كى جگہ ميدان منى اور عزادارى كا زمانہ حج كا زمانہ ہے(۲۸) حج كا زمانہ دور افتادہ اور نا آشنا دوستوں كى وعدہ گاہ ہے_ اگر كوئي پيغام ايسا ہو كہ جسے تمام عالم اسلام تك پہنچانا ہو تو اس سے بہتر موقع اور كوئي نہيں ہے_ حج كے اعمال مسلسل چند دنوں تك متعدد مقامات پر انجام پاتے ہيں اور يہ ظاہر ہے كہ سب سے زيادہ مناسب جگہ منى ہے چونكہ عرفات سے واپسى پر حاجى تين راتوں تك وہاں ٹھہرتے ہيں ، اس لئے آشنائي اور ہمدردى كے لئے سب جگہوں سے زيادہ موقع وہيں ملتا ہے_ اور يہ طبيعى بات ہے كہ اگر ان تين دنوں ميں اس بيابان ميں ہر سال مجلس عزا برپا ہو تو ہر آدمى كى نظر اس پر پڑے گى اور آہستہ آہستہ لوگ اس سے آشنا ہوجائيں گے اور خود ہى سوال كرنا شروع كرديں گے كہ '' كئي برسوں سے مدينہ كے كچھ لوگ _ وہ مدينہ جو مركز اسلام اور مركز صحابہ ہے _ حج كے زمانہ ميں منى ميں مجلس عزا برپا كرتے ہيں وہ بھى عالم اسلام كى بلند شخصيت محمد ابن على ابن الحسين كے لئے تو كيا ان كى موت طبيعى نہ تھي؟ ان كو كس نے قتل كيا يا زہر ديا ہے؟ اور كيوں ؟ آخر انہوں نے كيا كہا اور كيا كيا؟ كيا اس كا كوئي سبب تھا اور ان كى كوئي دعوت تھي؟ كيا ان كا وجود خليفہ كے لئے خطرہ كا باعث تھا؟ دسيوں ابہام اس كے پيچھے دسيوں سوالات اور جستجو والى باتيں اور پھر صاحبان عزا يا اطلاع ركھنے والے ان لوگوں كى طرف سے، جو اس پراگندہ جمعيت ميں شريك تھے، جوابات كا ايك سيلاب_

يہ تھا امام محمد باقرعليه‌السلام كا كامياب نقشہ، شہادت كے بعد جہاد كا نقشہ اور يہ ہے اس پُر بركت زندگى كا وجود جن كى موت اور زندگى خدا كے لئے ہے_


امام _كى شہادت

۷ ذى الحجہ ۱۱۴ ھ ق كو ۵۷ برس كى عمر ميں ظالم اموى بادشاہ ہشام بن عبدالملك كے ہاتھوں سے حضرت امام محمد باقرعليه‌السلام مسموم اورشہيد ہوئے(۲۹) شہادت كى رات آپ نے اپنے فرزند حضرت جعفر ابن محمد _سے فرمايا كہ '' ميں آج كى رات اس دنيا كو چھوڑ دونگا_ ميں نے ابھى اپنے پدر بزرگوار كو ديكھا ہے كہ وہ خوشگوار شربت كا جام ميرے پاس لائے ہيں اور ميں نے اس كو پيا اور انہوں نے مجھے سرائے جاويد اور ديدار حق كى بشارت دي_

امام جعفر صادق _نے اس خدا داد علم كے دريائے بيكراں كے تن پاك كو امام حسن مجتبىعليه‌السلام اور امام زين العابدين كے پہلو ميں قبرستان بقيع ميں سپرد خاك كيا(۳۰)


سوالات:

۱_ امام محمد باقرعليه‌السلام كس تاريخ كو پيدا ہوئے اور آپ نے اپنے جدحسين بن على _اور اپنے پدر گرامى قدر امام زين العابدين _كے ساتھ كتنے دنوں تك زندگى بسر كي؟

۲_ امام محمد باقرعليه‌السلام كے بارے ميں پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى كيا پشين گوئي تھي؟

۳_ اخلاق امام محمد باقرعليه‌السلام ميں سے ايك نمونہ بيان فرمايئے

۴_ كن كن اموى خلفاء كے زمانہ ميں امامعليه‌السلام تھے اور امامعليه‌السلام كے بارے ميں انكى عمومى روش كيا تھي؟

۵_ خلافت ہشام كے بارے ميں امامعليه‌السلام كاموقف بيان كيجئے_

۶_ اسلامى تہذيب و ثقافت كے احياء ميں امام محمد باقرعليه‌السلام كى كيا خدمات تھيں ؟

۷_ اسلامى تہذيب وثقافت كى نشر و اشاعت جو خليفہ كے غيظ و غضب كو بھڑ كانے كا اصلى سبب تھي، اس ميں امام كى اہم ترين فعاليت كيا تھي؟

۸_ امام محمد باقرعليه‌السلام كے مكتب فكر كے تين اصحاب اور شاگردوں كا نام بتايئے

۹_ حضرت امام محمد باقرعليه‌السلام كس تاريخ كو اور كيسے شہيد ہوئے؟


حوالہ جات

۱ مصباح المتھجدشيخ طوسي/ ۵۵۷، بحار الانوار لد ۴۶/ ۲۱۳_

۲ كافى جلد ۱/ ۴۶۹'' كانت صديقہ لم تدرك فى آل الحسن امراة مثلہا''_

۳ امالى شيخ صدوق /۲۱۱، بحار الانوار جلد ۴۶/۲۲۳_

۴ امالى شيخ طوسى /۲۶۱، بحار الانوار جلد ۴۶/ ۲۳۳_ ۲۳۴ اختصار كے ساتھ _

۵ ارشاد مفيد /۲۶۴، بحار جلد ۴۶/۲۸۷، مناقب جلد ۴/۲۰۱_

۶ علل الشرائع جلد ۱/ ۲۲۲، بحار جلد ۴۶/۲۲۵_

۷ ارشاد مفيد/۳۶۳ مطبوعہ بصيرتى قم_

۸ ارشاد مفيد /۲۶۳، بحار جلد ۴۶/۲۸۶،۲۸۹_

۹ مناقب ابن شہر آشوب جلد ۴/۱۹۷، بحار جلد ۴۶/۲۸۹_

۱۰ الصواقع المحرقہ /۱۲۰_

۱۱ مناقب جلد ۴/۱۹۵، بحار جلد ۴۶/۲۹۴_ ۲۹۵_

۱۲ مروج الذہب جلد ۳/۱۵۷_

۱۳ سياست ميں خشونت اور سختى كے لئے كنايہ ہے_

۱۴ مروج الذہب ۳/۱۶۰_۱۶۱_

۱۵ كامل ابن اثير جلد ۴/۵۷۷_

۱۶ تاريخ سياسى اسلام جلد ۱/۳۲۴_

۱۷ العقد الفريد جلد ۵/۱۷۶_

۱۸ تاريخ سياسى اسلام جلد ۱/۳۳۱_

۱۹ ناقب ابن شہر آشوب ج ۴/۱۸۹''ايها الناس اين تذهبون و اين يراد بكم؟بنا هدى الله اولكم و بنا يختم آخركم فان يكن لكم ملك معجل'' فانّ لنا ملكا موجلاً و ليس من بعد ملكنا ملكٌ لانا اهل العاقبه، يقول الله تعالى '' و العاقبة للمتقين'' _

۲۰ مناقب ابن شہر آشوب جلد ۴/۱۹۰، بحار جلد ۴۶/۳۱۲، دلائل الامامہ للطبرى /۱۰۸_


۲۱ بحار الانوار جلد ۴۶/۳۶۱ _ ۳۶۲_

۲۲ جامع الرواة جلد ۱/۹، معجم رجال الحديث جلد ۱/۱۴۷_

۲۳ جامع الرواة جلد ۱/ ۹، معجم الرجال الحديث جلد ۱/۱۴۷_

۲۴ جامع الرواة جلد ۱/۱۷۱_

۲۵ سفينة البحار جلد ۲/۴۹۶، مناقب ابن شہر آشوب جلد ۴/۱۹۷_

۲۶ جامع الرواة ۲/۱۶۴_

۲۷ رجال كشى /۱۶۲ چاپ دانشگاہ مشہد_

۲۸ بحار الانوار جلد ۴۶/۲۱۵، ۲۲۰''عن ابى عبدالله قال : قال لى ابي: يا جعفر اوقف لى من مالى كذا و كذا النوادب تند بنى عشر سنين بمنى ايام مني'' _

۲۹ بحار الانوار جلد ۴۶/۲۱۷_

۳۰ بحار الانوار جلد ۴۶/۲۱۳_ ۲۱۵_


نواں سبق:

امام جعفر صادقعليه‌السلام كي سوانح عمري


ولادت

آسمان ولايت كے چھٹے ستارے حضرت جعفر ابن محمد (عليہما السلام)۱۷ ربيع الاول كو اپنے جدّ بزرگوار، رسول خدا كى ولادت كے دن، ۸۶ ھ كو مدينہ ميں پيدا ہوئے_ آپ كى مشہور ترين كنيت'' ابوعبداللہ'' اور معروف ترين لقب ''صادق'' تھا(۱) پدر بزرگوار امام محمد باقر _اور مادر گرامى فروہ بنت قاسم ابن محمد بن ابى بكر تھيں _ جو امام جعفر صادقعليه‌السلام كے قول كے مطابق پرہيزگار، با ايمان اور نيكو كار خواتين ميں سے تھيں(۲) آپ كى عمر مبارك ۶۵ سال تھى ، ۱۲ سال آپ نے اپنے جد امام زين العابدينعليه‌السلام كى آغوش محبت ميں اور ۹ سال اپنے پدر گرامى امام محمد باقر _كے ساتھ گذارے آپ كى امامت كا زمانہ ۳۴ سال ۱۱۴ ھ ق سے ۱۴۸ ھ تك رہا(۳)

امام _كى پرورش كا ماحول

امام _نے اپنى زندگى كا نصف زمانہ اپنے جد بزرگوار اور پدر عاليقدر كى تربيت ميں گذارا_ يہ قيمتى زمانہ آپ كے لئے ايسے بلند مدرسہ اور خاندان وحى سے علم و دانش اور فضيلت و معرفت الہى كے كسب كا بہترين موقع تھا_

امام _بچپن ہى سے رنج و مصائب كے ساتھ غمزدہ خاندان ميں پل كر بڑے ہوئے_ امام زين العابدينعليه‌السلام كے خاندان جيسا كوئي ہى گھرانہ ملے گا جس نے ايسے مصائب و آلام اورروحانى


درد و الم كو ديكھا ہو_ امام حسينعليه‌السلام اور ان كے اصحاب كى شہادت كى جاں گداز ياد، معصوم بچوں اور اہل بيت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے اشكوں نے امام سجاد _كے خاندان كے تمام افراد كو ماتم اور دائمى رنج و غم ميں مبتلا كر ركھا تھا_ امام جعفر صادقعليه‌السلام نے ايسے گھرانے ميں آنكھيں كھوليں _ اور جيسے جيسے بڑے ہوتے گئے، اپنے زمانہ كے سياسى و اجتماعى حالات سے آشنا ہوتے گئے_ اور آپ كى آنكھوں كے سامنے نئے نئے افق كے دروازے كھلتے گئے_

آپ بہت قريب سے ديكھ رہے تھے كہ آپ كے جد و پدر كے ايك ايك عمل اور آپ كے گھر آنے جانے والے لوگوں كى اموى مشينرى نگرانى كر رہى ہے، اور يہ بھى ديكھ رہے تھے كہ آپ كے اصحاب كتنى زحمت اور دشوارى كے ساتھ آپ سے ملاقات كر پاتے ہيں _

دوسرى طرف، دادا اور پدر بزرگوار كے پاس تشنگان علوم كے، اگرچہ محدود تعداد ميں ، آنے جانے سے، مختلف علوم اسلامى اور علمى و فقہى بحثوں كا آپ نے مشاہدہ كيا تھا، اصول امامت كو مستحكم بنانے، احكام كو بيان كرنے ، اسلام كى اصلى تہذيب كى نشر و اشاعت اور اہل بيت كى روش پر قرآن كى تفسير كى راہ ميں اپنے والد كى كوششوں اور دشواريوں كا آپ نزديك سے مشاہدہ فرما رہے تھے اور خاندان كے بڑے بيٹے كے عنوان سے ان تمام كاموں ميں شريك تھے_

امام _كا اخلاق اور انكى سيرت

امام جعفر صادقعليه‌السلام اسلامى اخلاق اور انسانى فضائل كا مكمل نمونہ تھے_ جيسا كہ آپ نے خود اپنے پيروكاروں سے فرمايا:'' كونوا دعاة الناس بغير السنتكم ''(۴) لوگوں كو بغير زبان كے ( اپنے عمل سے ) دعوت دو زندگى كے تمام پہلوؤں ميں اسلام كى روشنى كا درس پہنچا نے كے لئے آپ كى پورى زندگى وقف تھي_

اب ہم آپ كے اخلاق و سيرت كے چند نمونوں كى طرف اشارہ كريں گے_ اس اميد كے


ساتھ كہ آپ كے راستہ پر چلنے والوں اور آپ كے مكتب كى نگہبانى كرنے والوں كے لئے نمونہ قرار پائيں _

الف_ حلم و بردباري

حفص بن ابى عائشےہ سے روايت ہے كہ امام جعفر صادقعليه‌السلام نے اپنے خدمت گذار كو كسى كام كے لئے بھيجا_ ليكن جب دير ہوگئي تو آپ خود ہى اس كام كے لئے نكل پڑے_ غلام كو آپ نے ديكھا كہ ايك گوشہ ميں سو رہا ہے آپ اس كے سرہانے بيٹھ كر اس كو پنكھا جھلنے لگے_ غلام جب بيدار ہوا تو آپ نے اس سے صرف اتنا كہا كہ '' يہ مناسب نہيں ہے كہ انسان دن ميں بھى سوئے اور رات ميں بھي، رات تمہارے لئے ہے ليكن دن ہمارے لئے ہے''(۵)

ب_ عفو اور درگذر

امام جعفر صادقعليه‌السلام كو كسى نے خبر دى كہ آپ كے فلاں چچازاد بھائي نے لوگوں كے درميان آپ كو بہت برا بھلا كہا ہے_ آپ اٹھے، وضو كيا، دو ركعت نماز پڑھى اور نماز كے بعد آپ نے رقت قلب سے فرمايا:'' خدايا ميں نے اپنا حق ادا كرديا، تيرا جود و كرم سب سے زيادہ ہے تو اس سے درگذر كر اور اس كے اعمال كا مواخذہ نہ كر''(۶)

ج_ حاجت مندوں كى مدد

ابوجعفر خثعمى نقل كرتے ہيں كہ امام جعفر صادقعليه‌السلام نے ايك تھيلى جس ميں پچاس دينار تھے، ايك شخص كو دينے كے لئے مجھے دى اور آپ نے تاكيد كى كہ ميرا نام نہ بتانا جب ميں نے تھيلى اس آدمى كو دى تو اس نے شكريہ ادا كيا اور كہا: يہ كس كى طرف سے امداد آئي ہے_ وہ كون شخص ہے جو چند دنوں كے بعد ايك بار يہ امداد ميرے پاس بھيج ديتا ہے جس سے ايك سال كا ميرا خرچ چل جاتا ہے، ليكن اس كو امام صادقعليه‌السلام سے گلہ تھا كہ آپ قدرت ركھتے ہوئے بھى ہمارى مدد نہيں


كرتے''(۷)

د_ امام _اور زراعت

ابوعمرو شيبانى نقل كرتے ہيں كہ:'' امام جعفر صادقعليه‌السلام كو ميں نے ديكھا كہ موٹا اور كُھردرا لباس پہنے ہوئے ہيں اور حالت يہ ہے كہ پسينہ بہہ رہا ہے، اور بيلچہ لے كر كھيت ميں كام كر رہے ہيں ميں نے عرض كي:'' ميں آپ پر قربان ہوجاؤں ، بيلچہ مجھے ديديں تا كہ آپ كى بجائے ميں كام كروں آپ نے فرمايا'' مجھے يہ پسند ہے كہ انسان حصول معاش كے لئے گرمى كى تكليف برداشت كرے''(۸)

امام _كى شخصيت و عظمت

امام جعفر صادقعليه‌السلام كى عظمت اور شخصيت كو نماياں كرنے كے لئے اتنا كافى ہے كہ آپ كا سخت ترين دشمن، منصور دوانقى جب آپ كى خبر شہادت سے مطلع ہوا تو اس نے گريہ كيا اور كہا'' كيا جعفر ابن محمد كى نظير مل سكتى ہے؟''(۹)

مالك ابن انس _ جو كہ اہل سنت كے چار اماموں ميں سے ايك ہيں _ فرماتے ہيں كہ : جعفر ابن محمد كے جيسا نہ كسى آنكھ نے ديكھا اور نہ كسى كان نے سنا اور نہ كسى انسان كے دل ميں يہ بات آئي كہ علم و عبادت و پرہيزگارى كے اعتبار سے جعفر بن محمد سے برتر بھى كوئي ہوگا(۱۰) ابن ابى العوجاء _ اس زمانہ كے مادہ پرستوں كا امام _ امام كى شخصيت كا اعتراف كرتے ہوئے كہتا ہے'' يہ (امام صادق) بشر سے بالاتر ہيں اگر زمين پر كسى روحانى كا وجود ہوسكتا ہے اور وہ بشر كى صورت ميں جلوہ گر ہو تو وہ جعفر ابن محمد ہيں ''(۱۱)


امام كا علمى مقام

امام جعفر صادقعليه‌السلام كى بلندترين علمى شخصيت اور ان كے علوم كا آوازہ اس زمانے كے معاشرہ ميں اتنا پھيلا كہ علمى محافل اور فضل و دانش كى مجالس ميں نہايت عظمت و احترام كے ساتھ آپ كو ''صادق آل محمد'' كے لقب سے ياد كيا جانے لگا_ دوست اور دشمن ہر ايك نے آپ كے علمى مقام كى برترى كے بارے ميں زبان كھولي_

ابو حنيفہ _ اہل سنت حنفى مسلك كے امام فرماتے ہيں كہ '' ميں نے جعفر ابن محمد سے زيادہ فقيہ كسى كو نہيں ديكھا ايك دن منصور كے حكم كے مطابق ميں نے چاليس فقہى مسائل تيار كئے تا كہ خليفہ كے سامنے كسى جلسہ ميں آپ سے سوال كروں ، سوالات ہوجانے كے بعد امام جعفر صادقعليه‌السلام نے ان ميں سے ايك ايك سوال كے موارد اختلاف كے بارے ميں ايسا كامل جواب ديا كہ سب نے اعتراف كر ليا كہ اختلاف آراء كے بارے ميں آپ سب سے زيادہ علم و آگہى ركھتے ہيں(۱۲) ڈاكٹر عبدالقادر محمود _ مصرى دانشمند اور صاحب قلم، ''الامام الصادق رائد السنة و الشعيہ'' _ نامى كتاب كے مؤلف اپنى كتاب كے مقدمہ ميں رقم طراز ہيں '' امام جعفر صادقعليه‌السلام اہل سنت اور شيعہ دونوں كے مرجع ہيں ، آپعليه‌السلام كى عظمت كے لے يہى كافى ہے كہ آپعليه‌السلام فقہ كے ائمہ ابوحنيفہ اور مالك اور كيميا كے ماہر جابربن حيان كے استاد ہيں ، اور ان كا وجود ايك مكتب اور مذہب سے مخصوص نہيں ہے بلكہ سب سے متعلق ہے_

امام جعفر صادقعليه‌السلام كے ہم عصر زمامداران حكومت

امام جعفر صادقعليه‌السلام نے ۱۱۴ ھ ق ہيں امت كى رہبرى كى ذمہ دارى اپنے ہاتھوں ميں لي_ چند خلفاء بنى اميہ و بنى عباس آپ كے ہم عصر تھے_ خلفاء بنى اميہ ميں سے ہشام بن


عبدالملك وليد بن يزيد، يزيد ابن وليد، ابراہيم ابن وليد اور مروان حمار اور خلفاء بنى عباس ميں سے ابوالعباس سفّاح اور منصور دوانقى آپ كے ہمعصر تھے_

بنى اميہ كے جرائم

۴۰ ھ ق _ اميرالمؤمنين _كى شہادت كے بعد معاويہ كے ہاتھوں ميں زمام حكومت آنے سے لے كر _ ۱۳۲ ھ ق تك _ جو بنى اميہ كى حكومت كے ختم ہونے كا زمانہ ہے _ دنيائے اسلام عملى طور پر بنى اميہ كے قبضہ ميں تھي_

تقريباً ايك صدى تك امويوں كى حكومت تاريخ اسلام كے ادوار ميں سياہ ترين حكومت تھي، اس زمانہ ميں اسلام اور مسلمان بنى اميہ كے ہاتھوں كا كھلو نہ تھے_ مسلمان، خاص كر خاندان نبوت كے پيرو شدت، سختى اور گھٹن ميں زندگى بسر كررہے تھے_ اميرالمؤمنين على _كيلئے ناروا الفاظ استعمال كرنا بنى اميہ كے منصوبوں ميں سر فہرست تھا_ كربلا كا خونين حادثہ اور سيدالشہداء حسينعليه‌السلام ابن علىعليه‌السلام كى شہادت اس گروہ كے جرائم كا اوج شمار كيا جاتا ہے_ كربلا كے قتل عام كے بعد بھى بہت سے بزرگ شيعہ اور علويوں كو اہل بيت كے طرف دار ہونے كے جرم ميں يا تو قتل كرديا گيا يا كئي سال تك تاريك اور خوفناك قيد خانوں ميں نہايت برى حالت ميں ركھا گيا_

وليد ابن عبدالملك نے حكومت حاصل كر لينے كے بعد اپنى پہلى تقرير ميں كہا'' جو بھى ہمارے سامنے سركشى كرے گا ہم اس كو قتل كرديں گے اور جو سكوت اختيار كرے كا_ سكوت كا درد اسے مارڈلے گا(۱۳) بنى اميہ ملحد اور خدا سے غافل تھے انہوں نے ابتداء ہى سے دين اسلام اور پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دشمنى كر ركھى تھى _ بعد كے واقعات اور بدر و احد و غيرہ كى جنگ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، اميرالمؤمنينعليه‌السلام اور آپ كے خاندان كے بارے ميں كينہ ميں شدّت كا باعث بنى اور بعد ميں جب بھى موقع ملا انتقاماً اسلام


اور امت اسلامى كو ختم كرنے ميں كسى بھى فريب و جرم كو فروگذاشت نہيں كيا گيا

بنى اميہ كى حكومت ختم ہونے كے وجوہات

تاريخ ميں خاندان بنى اميہ كے خلاف عراق، ايران، اور شمالى افريقہ كے مسلمانوں كے قيام كے اسباب بہت پھيلے ہوئے ہيں ہم ان وجوہات ميں سے صرف ان تين وجوہات كو جو تمام وجوہات سے زيادہ امويوں كے تخت و تاج كو بربادى كے تيز اور تند طوفانوں تك لے گئيں ، ذكر كر رہے ہيں _

۱_ ائمہعليه‌السلام كا مسلسل جہاد اور انكى پھيلائي ہوئي روشني:

اس ميں كوئي رشك نہيں كہ ائمہ اور ان كے اصحاب كى پھيلائي ہوئي روشنى اور ان كے مبارزہ خصوصاً واقعہ كربلا نے حكومت بنى اميہ كے خلاف نفرت اور شورش پھيلانے ميں بڑا اہم كردار ادا كيا_ نمونہ كے طور پر ملاحظہ ہو: امام جعفر صادقعليه‌السلام نے اپنى پورى زندگى _ منجملہ ان كے ان برسوں ميں جب بنى اميہ حكومت كر رہے تھے _ جہاں تك بنى اميہ كى نگرانيوں اور پابنديوں نے اجازت دى آپ جہاد كرتے رہے اور ظلم و ستم كے خلاف جنگ ميں مصروف رہے_

ہشام كى حكومت كے زمانہ ميں ايك سال جب امام جعفر صادقعليه‌السلام اپنے پدر بزرگوار كے ساتھ حج كوتشريف لے گئے تھے_ حجاج كے عظيم اجتماع ميں آپ نے تقرير كى اور اس تقرير ميں اہل بيتعليه‌السلام كى امامت و رہبرى كے بارے ميں فرمايا:

'' حمد و شكر اس خدا كا جس نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو حق كے ساتھ بھيجا اور ہم كو ان كے ذريعہ كر امت بخشى ہم لوگوں كے درميان خدا كے منتخب بندے ہيں _ نجات وہ پائے گا جو ہمارا پيرو ہے اور بد نصيب و تيرہ بخت وہ ہے جو ہم سے دشمنى كرتا ہے كچھ لوگ زبان سے ہمارى دوستى كا اظہار كرتے ہيں ليكن دل سے ہمارے دشمن كے دوست ہيں ''(۱۴)


اس تقرير كى وجہ سے ہشام نے حاكم مدينہ كو حكم ديا كہ ان دونوں بزرگواروں كو شام بھيج دو _ امام محمد باقرعليه‌السلام اور امام جعفر صادقعليه‌السلام دمشق پہنچے اور اموى خليفہ كا برتاؤ ديكھا(۱۵)

۲_ اقتصادى دباؤ:

پيداوار اور درآمد ميں اضافہ كے امكانات پيدا كرنے كى بجائے حكومت اموى ٹيكس اور خراج و غيرہ وصول كرنے پر زيادہ زور ديتى تھي_ بہرحال وہ خليفہ جس كے ہاتھ ميں اقتدار آتا تھا وہ پہلے كى مقدار كواور بھى بڑھا ديتا تھا_

انہوں نے تمام كسانوں اور كھيتى كرنے والوں كو مجبور كيا كہ _ قانونى ٹيكس دينے كے علاوہ _ ساسانيوں كى طرح '' نوروز كا ہديہ'' كے نام سے كچھ مزيد مال ان سے وصول كريں پہلا شخص جس نے اس كو قانونى شكل دى وہ معاويہ تھا اور صرف كوفہ اور اس كے اطراف كا ايك سال كا ہديہ نوروز ايك كڑور ۳۰ لاكھ درہم سے زيادہ تھا _اسى سے اندازہ لگايا جاسكتا ہے كہ دوسرى جگہوں ، جيسے ہرات، خراسان و غيرہ، كا ہديہ كتنا رہا ہوگا(۱۶) تمام جگہوں كى اقتصادى طور پر برى حالت تھى خاص كر عراق، جو بنى اميہ كے بڑے بڑے مالداروں كے رہنے كى جگہ اور زرخيز اور پر بركت علاقہ تھا جو زيادہ تر خليفہ يا حكومت كے سركردہ افراد كے لئے مخصوص تھا _ زمامداران حكومت اور ان كے ارد گرد رہنے والوں كى لالچى طبيعت نے وسيع و عريض اسلامى ملك كى عجيب حالت بنا ركھى تھي(۱۷) عمر بن عبدالعزيز كے زمانہ ميں كچھ دباؤ كم ہوا اور ماليات كے مشكلات حل ہوئے ليكن عمر ابن عبدالعزيز كے بعد حالات نے پلٹا كھايا اور پھر وہى صورت حال پيدا ہوگئي اور بحرانى حالت بڑھتى ہى رہي_

۳_ غير عرب كو نظر انداز كرنا:

بنى اميہ كى حكومت عربيت كى بنياد پر قائم ہوئي تھى انہوں نے تمام عہدے عربوں كو دے


ركھے تھے اور اسلام كے دوسرے گروہ كو '' موالى ''(۱۸) كے نام سے پكارتے تھے، نہ صرف يہ كہ ان كو حكومت كے عہدوں سے محروم كر ركھا تھا بلكہ ان كو حقارت كى نظر سے ديكھتے تھے_ جو غير عرب تھا اس كو بصرہ سے نكال ديا گيا تھا_ يہ پناہ گزين اپنے مظاہرہ ميں '' وا محمداہ وا احمداہ'' كا نعرہ لگاتے تھے اور وہ نہيں جانتے تھے كہ كہاں جا كر پناہ ليں _(۱۹) كچھ كہتے تھے كہ: تين چيزوں گدھا، كتا اور موالي، سے نماز ٹوٹ جاتى ہے_(۲۰)

ايك دن معاويہ موالى كى بڑھتى ہوئي تعداد سے غصہ ميں آيا اور اس نے ارادہ كيا كہ ان ميں سے آدھے كو تہہ تيغ كردے ليكن '' احنف'' نے اس اقدام سے اسے روكا(۲۱) جب كوئي عرب ناد آدمى سامان خريد كر واپس آتا تھا اور راستہ ميں كسى عجمى كو ديكھ ليتا تو وہ اپنے سامان كو زمين پر ركھ ديتا تھا، اب عجمى كا فريضہ تھا كہ وہ اس كو گھر تك پہنچائے(۲۲) ان وجوہات _ اور دوسرے وجوہات _ كى بنا پر حكومت اموى كے خلاف يكے بعد ديگرے شورشيں اور ہنگامے برپا ہوئے اور ہر ايك پر يہ بات روشن ہوگئي كہ سوائے حكمرانى اور تسلط حاصل كرنے كے امويوں كا اور كوئي دوسرا مقصد نہيں ہے_

اس بغاوت كے دور ميں لوگ اس طرح اٹھ كھڑے ہوئے كہ ملك كا كنٹرول ان كے ہاتھوں سے نكل گيا اور مروان حمار _ آخرى اموى خليفہ _ كے زمانہ ميں ملك كى حالت ايسى خراب ہوگئي تھى كہ اب دھماكہ ہونے ہى والا تھا_

دوسرى طرف لوگوں نے يہ جان ليا تھا كہ خاندان پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے افراد جو اسلامى معاشرہ ميں محبوب ترين لوگ ہيں اور عدالت و تقوى كا نمونہ شمار كئے جاتے تھے _ اور صرف يہى محكم اور قابل اطمينان مركز ہيں كہ جن كو سامنے لائے بغير نجات كا كوئي دوسرا راستہ نہيں ہے_ در حقيقت اہل بيت امت اسلامى كا محور اور مرجع تھے جو سب كے جسم ميں زندگى كى روح پھونك رہے تھے_

اسى وجہ سے تمام تحريكيں اور انقلابات '' رضائے آل محمد'' كے نعرہ كے ذريعہ ايران،عراق اور شمالى افريقہ ميں(۲۳) رشد كى منزل تك پہنچے اور آخر كار نوے ۹۰ سالہ حكومت بنى اميہ كا خاتمہ


كرديا_

امام _اور تحريكوں كا رابطہ

انقلاب كے شروع ميں تمام آنكھيں امام جعفر صادقعليه‌السلام پر لگى ہوئي تھيں اس لئے كہ ان سے زيادہ مناسب كوئي اور نہ تھا جن كو لوگ پہچانتے ہوں ، ليكن امام _چونكہ لوگوں كى نيتوں اور ان كے ضمير سے آگاہ تھے اس لئے آپ نے پہلے ہى دن سے موافقت كا اظہار نہيں كيا ہرچند كہ آپ نے اختلاف بھى نہيں كيا_ امام _جانتے تھے كہ ہر قيام اگرچہ '' رضائے آل محمد'' كے نام پر ہو رہا ہے ليكن اس كا مقصد كچھ اور ہى ہے كاميابى كے بعد انقلاب كے رخ كو موڑ كر وہ لوگ اپنے مقاصد كے لئے انجام كو پہنچائيں گے اور اس حقيقت كو امام _كے ارشادات سے معلوم كيا جاسكتا ہے_

۱_ عبداللہ ابن حسن نے امام جعفر صادقعليه‌السلام سے خواہش ظاہر كى وہ دعوت ميں پيشقدمى كرنے والے سفّاح اور منصور كے ساتھ ہوجائيں آپ نے فرمايا: ان دونوں كى نيت صاف نہيں ہے، تمہارے اور ہمارے نام سے'' رضائے آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم '' كے نعرہ كے سايہ ميں انہوں نے ايك تحريك چلا ركھى ہے ليكن نتيجہ كے موقع پر تم كو اور تمہارے دونوں بيٹوں كو پيچھے دھكيل كر اپنے كو لوگوں كے حكمران كى حيثيت سے پہچنوائيں گے(۲۴)

۲_ سدير صيرفى كى دعوت ميں تعاون كرنے كے جواب ميں بھى امام _نے فرمايا:''ميں ان لوگوں ميں اخلاص نہيں ديكھ رہا ہوں ''_(۲۵)

۳_ ابومسلم خراسانى نے، جس نے عباسيوں كو حكومت تك پہنچايا، ايك خط ميں امام جعفر صادق عليه‌السلام كو لكھا'' ميں لوگوں كو اہل بيت كى دوستى كى طرف دعوت ديتا ہوں كيا آپ اس بات كى طرف مائل ہيں كہ ميں آپ كى بيعت كروں ؟ امام _نے جواب ديا'' نہ تم ہمارے مكتب كے آدمى ہو اور نہ زمانہ ہمارا زمانہ ہے(۲۶)


بنى عباس كا زمانہ

بنى عباس '' عبدالمطلب ابن عباس'' پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے چچا كى اولاد سے تھے انہوں نے شروع ميں سيدالشہداءعليه‌السلام كے خون كے انتقام اور خوشنودى آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور امويوں كے ظلم و ستم سے نمٹنے كے نام پر لوگوں كو اپنے ارد گرد جمع كيا اور ايراني، جو اولاد عليعليه‌السلام سے محبت كرتے تھے ان سے فائدہ اٹھايا اور انہوں نے بنى اميہ سے جنگ كى تا كہ امويوں سے حكومت لے كر جو اس كا حقدار ہے اس كے حوالے كرديں گے اور انجام كار انہوں نے ابومسلم خراسانى اور ايرانيوں كى مدد سے، جو اُن كے اردگرد جمع تھے بنى اميہ كو درميان سے نكال باہر كرديا_ ليكن خلافت كو امام وقت جعفر بن محمد _كے حوالہ كرنے كے بجائے خود ہى اس پر قبضہ كر ليا(۲۷) آغاز ميں بنى عباس نے اسلام كو ظاہر كركے اس عنوان سے كہ '' ہم آل پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہيں '' يہ كوشش كى كہ اپنے كو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كا حقيقى وارث اور خلافت كے لئے نہايت موزوں ظاہر كريں _ اور چونكہ وہ دوسروں كى بہ نسبت يہ بات اچھى طرح جانتے تھے كہ وہ اس منصب كے لائق نہيں ہيں _ اس لئے محض اقتدار كے ہاتھ ميں آتے ہي، سابقہ ظالموں كى طرح انہوں نے بھى اپنى سلطنت كى حفاظت كيلئے امام جعفر صادقعليه‌السلام اور ان كے چاہنے والوں پر سختى اور دباؤ ڈالنا شروع كرديا اور ہر ممكن كوشش كى كہ معاشرہ كو خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دور ہى ركھا جائے تا كہ جس حكومت كو خاندن پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے نام سے اسلام كا اظہار كركے حاصل كيا ہے كہيں وہ ہاتھ سے نكل نہ جائے_

بنى عباس كے پہلے خليفہ سفاح نے چارسال تك اور دوسرے خليفہ منصور نے ۲۲ سال تك يعنى امام جعفر صادقعليه‌السلام كى شہادت كے دس سال بعد تك اقتدار كواپنے ہاتھ ميں ركھا_

امام _نے اس تمام مدت ميں خصوصاً منصور كے دور حكومت ميں بڑى دشوارى اور پريشانى ميں زندگى گذارى اگرچہ آپعليه‌السلام كو حكومت كى سختى اور پابندى كى وجہ سے سچے اسلام كے خدوخال كو دنيا كے سامنے پيش كرنے كا موقع نہيں ملا _ ليكن مناسب حالات ميں حكام وقت پر اعتراض اور


ان كو ٹوكنے سے بھى گريز نہيں كيا_ جب منصور نے ايك خط كے ذريعہ چاہا كہ آپعليه‌السلام اس كو نصيحت كريں تو آپ نے اس كے جواب ميں لكھا'' جو دنيا كو چاہتا ہے وہ تم كو نصيحت نہيں كرسكتا اور جو آخرت كو چاہتا ہے وہ تمہارا ہم نشين نہيں ہوسكتا''(۲۸) ايك دن منصور كے چہرہ پر ايك مكھى بيٹھ گئي ايسا بار بار ہوتا رہا يہاں تك كہ منصور تنگ آگيا اور اس نے غصہ ميں امام _جو وہاں تشريف فرما تھے سے پوچھا كہ '' خدا نے مكھى كو كيوں پيدا كيا ہے؟ امام نے فرمايا:'' تا كہ جو جابر ہيں انہيں ذليل اور رسوا كرے(۲۹) امام جعفر صادقعليه‌السلام نے ہر ممكن صورت ميں اپنے بصيرت افروز بيانات ميں ولى امر اور اسلام كى باگ ڈور سنبھالنے والوں كے شرائط كو بيان فرمايا اور حكومت بنى عباس كے اصلى چہرہ اور اس كى شكل و صورت كو واضح كرديا_

ايك دن آپ كے ايك صحابى نے آپ سے پوچھا كہ آپ كے كچھ پيروكار تنگدستى ميں گذر بسر كر رہے ہيں ان كو يہ پيشكش ہوئي ہے كہ ان ( بنى عباس ) كے لئے گھر بنائيں نہريں كھوديں اور اس طرح اجرت حاصل كريں ، يہ كام آپ كى نظر ميں كيسا ہے؟ آپ نے فرمايا ميں اس بات كو پسند نہيں كرتا كہ ان كے لئے ايك گرہ بھى ڈالوں يا ايك خط بھى كھينچوں چاہے وہ اس كے لئے كتنے ہى پيسے كيوں نہ ديں اس لئے كہ جو لوگ ظالموں كى مدد كرتے ہيں ، قيامت ميں آگ كے شعلے ان كو اپنے گھيرے ميں لئے رہيں گے يہاں تك كہ خدا بندوں كے درميان فيصلہ كرے''(۲۹)

امام جعفر صادقعليه‌السلام كا اصلاحى منصوبہ

بحرانى حالات اور آپس كى رسہ كشى اور مخالفوں سے جنگ، نيز وہ حالات جو امام محمد باقرعليه‌السلام نے پہلے سے سازگار كر ركھے تھے يہ سب مل كر اس بات كا سبب بنے كہ امام جعفر صادقعليه‌السلام وہى سچے مظہر اميد قرار پائيں جن كا انتظار شيعوں نے مدتوں كيا تھا_ اور وہى '' قيام كرنے والا'' ٹھہريں جو


اپنے اسلاف كے طولانى مجاہدات كو نتيجہ تك پہنچائے گا_ يہاں تك كہ كبھى امام محمد باقر _كى صراحت بھى اس آرزو كى پرورش ميں موثر رہى ہے_

جابرابن يزيد نقل كرتے ہيں : كسى نے امام محمد باقرعليه‌السلام سے ان كے بعد قيام كرنے والے كا نام پوچھا تو امام نے ابوعبداللہ ( امام جعفر صادق) كے شانہ پر ہاتھ ركھا اور فرمايا: '' بخدا يہ ہے آل محمد كا قيام كرنے والا''(۳۰) '' قيام '' ائمہ اور شيعوں كے عرف ميں وہى مفہوم ركھتا تھا جو مفہوم اس كلمہ سے آج سمجھا جاتا ہے_ قيام كرنيوالا وہ شخص ہے جو مسلط طاقت كے خلاف اور اسلام كى حاكميت كے لئے اٹھ كھڑا ہو اس مفہوم كا لازمہ جنگى قدرت نمائي نہيں ہے ليكن ہر جہت سے تعرض اور مخالفت كو ضرور ظاہر كرتا ہے_

اس بناء پر امام جعفر صادقعليه‌السلام اپنى ايك اعتراض آميز اصلاحى تحريك شروع كرتے ہيں ليكن يہ ان كا قيام آخرى مرحلہ ( يعنى جنگى اقدام ) تك، اور آخر ميں قدرت حاصل كر لينے تك پہنچے گا يا نہيں ؟ يہ وہ باتيں ہيں جن كا يقين آئندہ كے واقعات اور پيشرفت كى كيفيت پر مبنى ہے_

ان سے پہلے دو امام _ امام زين العابدين اور امام محمد باقر عليہما السلام _ اس دشوار راستہ كے پہلے مرحلہ كو سر كر چكے ہيں _ اب ان كى بارى ہے كہ يہ آخرى قدم اٹھائيں اور اپنے باپ ودادا كى كوشش كو نتيجہ تك پہنچائيں _ اتفاق سے سياسى اور اجتماعى حالات بھى _ جيسا كہ اشارہ كيا جا چكا _ سازگار تھے _ امامعليه‌السلام نے مناسب حالات سے استفادہ كرتے ہوئے بنيادى كام اور اپنى سخت ذمہ دارى كو شروع كرديا تھا_

ہم اس مقام پر آپ كى ۳۳ سالہ امامت كے پر ثمر اور سعى و كوشش سے بھر پور زندگى كے اہم كاموں ميں سے دو نماياں كارناموں كى طرف اشارہ كر رہے ہيں :

۱_ امامت كے مسئلہ كا بيان اور اس كى تبليغ


۲_اسلامى تہذيب وثقافت كا بيان اور اس كى نشر و اشاعت اور جعفرى يونيورسٹى كى داغ بيل ڈالنا_

الف _ مسئلہ امامت كا بيان اور اس كى تبليغ

پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت كے بعد سے ہى ائمہ شيعہ كى تبليغ ميں سر فہرست اہل بيت پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى امامت كا اثبات رہا ہے_ اس موضوع كو امام زادوں كى تحريك ميں بھى مشاہدہ كيا جاسكتا ہے جيسا كہ زيد ابن على ابن الحسينعليه‌السلام اس كى واضح مثال ہيں _

امام جعفر صادقعليه‌السلام كى تبليغ بھى اس روش سے باہر نہ تھي_ آپ نے اس بات كى تبليغ و اشاعت كے وقت اپنے آپ كو ايسے جہاد كے مرحلہ ميں پايا جہاں حكام وقت كى نفى كے باوجود اپنے كو ولايت و امامت كے حقيقى حقدار كے عنوان سے لوگوں كے سامنے پہچنوايا جائے_ حتى كہ آپ نے اس سلسلہ ميں اسى پر بس نہيں كيا بلكہ آپ اپنے نام كے ساتھ ائمہ اور اپنے اسلاف كا نام بھى بتاتے ہيں اور اس بيان كے ساتھ اپنى امامت كو اپنے اسلاف كى امامت پر مرتب ہونے والا لازمى نتيجہ شمار كرتے ہيں اور يہ بتانے كے لئے كہ ہم وہ نہيں ہيں جنكى كوئي اصل نہ ہو، اپنے سلسلہ كو پيغمبر سے متصل كرتے ہيں _

اس تاريخى حقيقت كو ثابت كرنے كيلئے بہت سى روايتيں موجود ہيں _ نمونہ كے طور پر '' عمر ابن ابى المقدام '' كى روايت ، جو شايد اس باب ميں ذكر ہونے والى روايتوں ميں ، بہترين روايت سے اسے پيش كرتے ہيں _

وہ نقل كرتے ہيں كہ : امام جعفر صادقعليه‌السلام كو ہم نے ديكھا كہ ۹ ذى الحجہ ( روز عرفہ ) صحرائے عرفات ميں لوگوں كے درميان كھڑے ہيں اور بلند آواز سے ( اس پيغام كو) آپ نے تين مرتبہ دہرايا:


''ايها الناس انّ رسول الله كان الامام، ثم كان عليّ بن ابى طالب ثم الحسن، ثم الحسين، ثم على بن الحسين، ثم محمد بن علي، ثم هه ...''(۳۱)

يعنى اے لوگو ( مسلمانوں كے ) پيشوا پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تھے ان كے بعد على ابن ابى طالب اور ان كے بعد ( ان كے بيٹے) حسن اور ان كے بعد حسين، حسين كے بعد على ابن الحسين پھر محمد ابن على اور ان كے بعد ميں امام ہوں ، لہذا جو سوال پوچھنا ہو پوچھو_

امام نے چہرہ كو داہنى طرف موڑا اور تين مرتبہ اسى پيغام كو پيش كيا پھر بائيں طرف آپ نے رخ كيا اور تين بار اسى كى تكرار كرتے رہے_ پھر پيچھے مڑے اور پھر اسى آواز كو بلند كيا اور وہى پيغام دہراتے رہے(۳۲) اس طرح آپ نے بارہ مرتبہ اپنى بات بيان كى اور امامت كے پيغام كو بلند آواز سے ميدان عرفات ميں جمع ہونے والے ان تمام لوگوں كے كانوں تك پہنچايا جو مسلم علاقوں سے آئے ہوئے تھے_ تا كہ اس طرح تمام دنيائے اسلام ميں يہ پيغام پھيل جائے_

ب_ اسلامى ثقافت كى نشر و اشاعت

دينى تہذيب اور اسلامى ثقافت كو اس وقت بہت فروغ ملا اور تيزى سے اس كى جڑيں چارو ں طرف پھيل گئيں _ ائمہ كى زندگى ميں اس كى جو شكل تھى اس سے زيادہ واضح، نماياں اور وسيع صورت ميں اس كو ديكھا جاسكتا ہے_ يہاں تك كہ فقہ شيعہ نے '' فقہ جعفري'' كا نام اختيار كيا اور جنہوں نے امام كے سياسى كام كو نظر انداز كيا ہے وہ بھى اس بات پر متفق ہيں كہ آپ كے پاس وسيع ترين علمى اور فكرى وسائل تعليم موجود تھے_

آپ كى علمى تحريك اس قدر پھيلى كہ اس نے تمام اسلامى علاقوں كو اپنے حلقہ ميں لے ليا، لوگ ان كے علم كا چر چاكرنے لگے اور تمام شہروں ميں ان كى شہرت ہوگئي(۳۳) آپ ايك بہت بڑى اسلامى يونيورسٹي_ جسكى داغ بيل آپ كے پدر بزرگوار نے ڈالى تھى _ تشكيل دينے ، اس ميں چار ہزار افراد كو مختلف علوم ميں تربيت كرنے ۳۴ اور ايسى اہم شخصيتوں كو


عالم اسلام كے حوالہ كرنے ميں كامياب ہوگئے جو اپنے زمانہ كے روشن چراغ اور محققين وقت گذرے ہيں _

آپ كے كارنامے محض تفسير، حديث اور فقہ ميں منحصر نہيں تھے بلكہ آپ فلسفہ، كلام، رياضيات اور علم كيميا ميں بھى باب علم كھولنے ميں كامياب رہے، ہشام بن حكم، مفضل بن عمر، مومن طاق، ہشام ابن سالم فلسفہ و كلام ميں آپ كے ممتاز شاگرد تھے _ زرارہ، محمد ابن مسلم، جميل ابن درّاج، حمران ابن اعين، ابوبصير اور عبداللہ ابن سنان فقہ، اصول اور تفسير ميں ماہر تھے، جابر ابن حيان رياضيات اور كيميا ميں ، جابر جو _ بابائے كيميا كہے جاتے ہيں _ وہ پہلے شخص ہيں جنہوں نے امام جعفر صادقعليه‌السلام سے علم كيميا حاصل كيا اور اس سلسلہ ميں كتاب لكھي، ليبارٹرى قائم كى اور قابل قدر تحقيقات چھوڑيں(۳۵) جو بات يہاں بيان كى جانى چاہئے _ جو كہ امام جعفر صادقعليه‌السلام كى زندگى كے بارے ميں جستجو كرنے والے بہت سے لوگوں سے پوشيدہ رہ گئي ہے _ وہ آپ كى سياسى اور اعتراض آميز تحريك ہے_

مقدمہ كے طور پر يہ بات جان لينى چاہئے كہ خلافت اسلامى فقط ايك سياسى مشينرى نہيں ہے بلكہ خلافت ايك سياسى اور مذہبى قيادت كا نام ہے اور اسلام ميں خليفہ سياست كے علاوہ لوگوں كے دينى امور اور مذہبى پيشوائي كا بھى ذمہ دار ہے_

يہ حقيقت اس بات كا سبب بنى كہ خلافت كى پہلى كڑى سے لے كر بعد تك كے حكمرانوں كو چونكہ دينى واقفيت كا بہت كم حصّہ ملا تھا يا كلى طور پر دين سے بے بہرہ تھے اس لئے اس كمى كو اپنے سے وابستہ رہنے والى دينى شخصيتوں كے ذريعہ پورا كرتے رہے اور اپنے حكومت سے كرايہ كے فقہاء ،مفسرين اور محدثين كو ملحق كركے يہ چاہا كہ دين و سياست مركب ہوجائيں اور ضرورت كے موقع پر اپنے منشاء كے مطابق آسانى سے _ ان لوگوں كے ذريعہ _ احكام دين كو مصلحت كے تقاضہ كے مطابق بدل ديں _


اس مقدمہ كے بعد بڑى وضاحت كے ساتھ يہ بات سمجھى جاسكتى ہے كہ '' فقہ جعفري'' خلافت سے وابستہ فقيہوں كے مقابل محض ايك دينى عقيدہ كا معمولى اختلاف نہ تھا_ بلكہ مندرجہ ذيل دو معترضانہ مضامين كا حامل تھا_

۱_ حكومت كى دينى آگہى سے ناواقفيت، اور لوگوں كے فكرى امور كى ذمہ دارى لينے كے بارے ميں كمزورى كا اظہار اور نتيجتاً اس بات كو ثابت كرنا كہ حكومت ميں خلافت كے عہدہ كى ذمہ دارى قبول كرنے كى صلاحيت نہيں ہے_

۲_ احكام فقہى كے بيان ميں مصلحت انديشى كے بنا پر جن مقامات پر تحريف ہوئي ہے ان موارد كى نشان دہى كرنا اور فقيہوں كى حكومت كرنے والى طاقت كى خواہشوں كى پيروى كو طشت از بام كرنا_

امام جعفر صادقعليه‌السلام فقہ، معارف اسلامى اور تفسير قرآن كو حكومت سے وابستہ علماء كے طريقہ كے خلاف ايك الگ طريقہ سے بيان كركے عملى طور پر اس مشينرى كے خلاف جہاد كے لئے اٹھے اور حكومت كى مذہبى نقاب كو پلٹ ديا_

امام _كو ان كى تدريسى اور فقہى كاركردگى پر منصور كى طرف سے دھمكى اور دباؤ كا سامنا كرنا نيز حجاز و عراق كے معروف فقہاء كو حكومت كے دارالحكومت ميں پلٹ آنے پر منصور كا اصرار اسى احساس اور توجہ كا نتيجہ تھا_

امام جعفر صادقعليه‌السلام ضرورى حالات ميں اسى تنقيدى مضمون كو جوان كے فقہ اور تفسير كے درس ميں تھا، لوگوں كے درميان ركھتے تھے ايك حديث ميں آپ سے منقول ہے كہ '' ہم ہى وہ ہيں كہ جن كى فرماں بردارى كو اللہ نے واجب قرار ديا ہے جبكہ تم ان لوگوں كى پيروى كرتے ہو كہ جن كى جہالت كى بنا پر لوگ اللہ كے سامنے كوئي عذر پيش نہيں كرسكتے(۳۶) خلاصہ يہ كہ امامعليه‌السلام نے اپنى علمى تحريك اور اپنى حقيقى خلافت كے ذريعے سے امواج فاسد كى


رائج دين شناسى سے اپنى معترضانہ روش كے ساتھ كہ، جن كو اموى اور عباسى حكومت كے سياسى حالات نے پيدا كر ديا تھا، مذہبى اور قومى كشمكش كو مذكورہ بالا دو حصوں ميں اور بھى شديد كرديا اور مبارزہ كے لئے اٹھ كھڑے ہوئے_

اور غاليوں ، زنديقوں ، مرجئہ، خوارج، صوفيہ اور مختلف گروہوں اور دستوں كے انحرافى راستوں كو، اپنے مباحثہ اور مناظرہ كے ذريعہ امت اسلامى كے لئے طشت از بام كرديا _(۳۷) ان گروہوں نے انحراف پھيلانے كے لئے سازگار حالات بنالئے تھے_

شہادت امام جعفر صادقعليه‌السلام

منصور، بنى عباسى كا ظالم خليفہ با وجود اس كے كہ اس نے امامعليه‌السلام كو اپنى نگرانى اور نہايت محدود ماحول ميں ركھا تھا، آپ پر اپنے جاسوس مقرر كرديئے تھے، پھر بھى آپ كے اس وجود كو معاشرہ ميں برداشت نہ كرسكا جس كى امامت اور رہبرى كا آوازہ دور دراز كے اسلامى علاقوں ميں پھيل چكا تھا_ اس نے آپ كو زہر دينے كا ارادہ كر ليا_

امام جعفر صادقعليه‌السلام ۲۵ شوال ۱۴۸ ھ كو ۶۵ سال كى عمر ميں منصور كے ذريعہ زہر سے شہيد ہوئے آپ كے جسم اقدس كو آپ كے پدر گرامى كے پہلو ميں بقيع ميں سپرد خاك كرديا(۳۸)

جعفرى يونيورسٹى كے تربيت يافتہ افراد

امام جعفر صادقعليه‌السلام كى بڑى درس گاہ ميں بہت سے ايسے شاگردوں نے پرورش پائي جنہوں نے مختلف مضامين ميں علوم و معارف اسلام كو حاصل كركے دوسروں تك منتقل كيا_ہم ان كے بلند مقام اور بزرگى كو ظاہر كرنے كے لئے ان شاگردوں ميں سے جنہوں نے اس درس گاہ ميں


تربيت پائي تھى چند نامور شاگردوں كا اختصار سے تعارف كرائيں گے(۴۰)

حمران بن اَعْيُن

اعين كا خاندان عام طور پر ائمہ كا پيرو تھا، حمران اور ان كے بھائي '' زرارہ'' دونوں شيعوں كى نماياں شخصيتوں ميں سے شمار ہوتے تھے اور اپنے زمانہ كے دانش مند و با فضيلت افراد تھے_ امام محمد باقر اور امام جعفر(عليہماالسلام) صادق كے بزرگ صحابہ ميں شمار كئے جاتے تھے_

حمران كى معنوى بزرگى اور ممتاز مقام كے حامل ہونے كے علاوہ علوم قرآن اور ديگر علوم منجملہ علم نحو، لغت، ادبيات عرب'' ميں بھى صاحب نظر تھے ان كے نظريات سے ان كے بعد آنيوالے دانش مند استناد كرتے رہے_(۴۱)

امام جعفر صادقعليه‌السلام نے ان كے بارے ميں فرمايا'' حمران بن اعين'' ايك ايسے با ايمان شخص ہيں جو ہرگز اپنے دين سے پلٹنے والے نہيں ہيں ، نيز آپ نے فرمايا'' حمران اہل بہشت سے ہيں ''_(۴۲)

ہشام ابن سالم نقل كرتے ہيں كہ ايك دن ايك جماعت كے ساتھ ميں امام جعفر صادقعليه‌السلام كى خدمت ميں حاضر تھا_ اہل شام ميں سے ايك شخص وہاں وارد ہوا امامعليه‌السلام نے اس سے پوچھا كيا چاہتے ہو؟ اس نے كہا ميں آپ سے مناظرہ كے لئے آيا ہوں _ آپ نے فرمايا كس چيز كے بارے ميں مناظرہ كرنا چاہتے ہو؟ اس نے كہا: كہ قرآن كے بارے ميں ، امام نے اس كو '' حمران'' سے رجوع كرنے كے لئے كہا، اس نے كہا كہ ميں آپ سے مناظرہ كرنے آيا ہوں نہ كہ حمران سے آپ نے فرمايا: اگر تم نے حمران كو شكست ديدى تو گويا تم نے مجھ پر كاميابى حاصل كر لي_

وہ شامى حمران كے ساتھ بحث كرنے لگا اس نے جو بھى پوچھا بڑا مستند جواب ملا يہاں تك كہ


وہ تھك گيا ، امامعليه‌السلام نے اس سے پوچھا تم نے حمران كو كيسا پايا؟ اس نے كہا وہ ايك ماہر استاد ہيں ميں نے جو پوچھا انہوں نے اس كا جواب ديا(۴۳)

مفضل ابن عمر

مفضل امام جعفر صادقعليه‌السلام كے ايك بزرگ صحابى تھے اور ايك مشہور فقيہ شمار كئے جاتے تھے جو امامعليه‌السلام كے بعض امور كے ذمہ دار تھے(۴۴) شيعوں كا ايك وفد مدينہ ميں آيا اور اس نے امامعليه‌السلام سے خواہش ظاہر كى كہ كسى ايسے شخص كا ان سے تعارف كرا ديں كہ جس سے _ دينى امور ميں _ ضرورت كے وقت رجوع كيا جاسكے امام نے فرمايا جس كسى كا كوئي سوال ہو وہ آئے اور مجھ سے دريافت كرلے ان لوگوں نے اصرار كيا كہ آپ ضرور كسى كا تعارف كرائيں _ امامعليه‌السلام نے فرمايا مفضل كو ميں نے تمہارے لئے معين كيا وہ جو كہيں قبول كر لو اس لئے كہ وہ حق كے سوا كچھ نہيں كہتے_(۴۵)

امام جعفر صادقعليه‌السلام نے چند نشستوں ميں توحيد كے سلسلہ ميں جناب مفضل كو خاص درس ديئےجن كا مجموعہ كتابى شكل ميں '' توحيد مفضل'' كے نام سے مشہور ہے يہ دروس مفضل پر امام كى مخصوص عنايت اور امامعليه‌السلام كے نزديك ان كے علوّ مرتبت و مقام پر شاہد ہيں _

جابربن يزيد جعفي

جابر كوفہ كے رہنے والے تھے ليكن امامعليه‌السلام سے استفادہ كرنے كى غرض سے مدينہ پہنچے اور آپكے مكتب پر فيض سے استفادہ كرنے كے بعد علمى اور معنوى بلندى پر فائز ہوئے اور آپ كے نماياں اصحاب ميں شامل ہوگئے_

امام جعفر صادقعليه‌السلام سے سوال ہوا كہ آپ كے نزديك جابر كا كيا مقام ہے ؟ امامعليه‌السلام نے فرمايا: جابر ميرے نزديك اسى طرح ہيں جس طرح سلمان پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے نزديك تھے_(۴۶)

آپ عقائد تشيّع كے كھلّم دفاع كى وجہ سے ہميشہ مخالفين كى تنقيد كا شكار رہے اور چونكہ آپ


نے كچھ حقائق كے بيان كے لئے ماحول كو ناسازگار ديكھا تو ان بہت سى حديثوں كو بيان كرنے سے گريز كيا جو آپ نے امام محمد باقر اور امام جعفر صادق (عليہماالسلام) سے سن ركھى تھيں _ آپ فرماتے تھے كہ '' پچاس ہزار حديثيں ميرے سينہ ميں ہيں جن ميں سے ابھى تك ميں نے ايك حديث بھى بيان نہيں كي''(۴۷)


سوالات

۱_ امام جعفر صادقعليه‌السلام كس تاريخ كو پيدا ہوئے اور آپ نے كيسے ماحول ميں پرورش پائي؟

۲_ امام _كے اخلاق و كردار كے دو نمونے پيش كيجئے_

۳_ امام جعفر صادقعليه‌السلام كى علمى عظمت و منزلت كے بارے ميں دو اہم شخصيتوں كے نظريات پيش كيجئے_

۴_ امام جعفر صادقعليه‌السلام بنى اميہ اور بنى عباس كے كون كون سے بادشاہوں كے ہم عصر تھے؟

۵_ اموى حكومت كے زوال كا سبب بيان كيجئے_

۶_ امام _نے شورش كرنے والوں كى موافقت كيوں نہيں كي؟

۷_ اہل بيت اور علويوں كے ساتھ بنى عباس كا سلوك كيسا تھا اور امام جعفر صادقعليه‌السلام نے ان كے مقابلہ ميں كونسا رويہ اختيار كيا؟

۸_ امام جعفر صادقعليه‌السلام نے اپنے اصلاحى منصوبوں ميں كن مسائل كو ترجيح دي؟

۹_ خلافت كى مشينرى كے مقابل امام كى سياسى تنقيد آميز علمى تحريك كے پہلو كو واضح كيجئے_

۱۰_ امام جعفر صادقعليه‌السلام كس تاريخ كو كس شخص كے ذريعہ اور كس طرح شہيد ہوئے؟


حوالہ جات

۱ اعلام الورى /۲۶۶، ارشاد مفيد/۲۷۰، مناقب ابن شہر آشوب جلد ۴/۲۷۹_ ۲۸۰_

۲ اصول كافى جلد ۱/۴۷۲'' و كانت امى ممن آمنت و اتقت و احسنت'' بحار جلد ۴۷/۷_

۳ بحار جلد ۴۷/ ۴و ۶_

۴ اليحاة جلد ۱/۲۹۰، قرب الاسناد /۵۲_

۵ مجلد جلد ۴۷/۵۶،مناقب جلد ۴/۲۷۴، اعيان الشيعہ جلد ۱/۶۶۳_ الوسائل جلد۱۱/۲۱۱_

۶ مشكاة الانوار_

۷ بحار الانوار ج ۴۷/۵۴_ مناقب ج ۴/۲۷۳_

۸انى اُحبّ ان يتاذّى الرجل بجر الشمس فى طلب المعيشه بحار ج ۴۷/۵۷

۹ بحار جلد ۴۷/ ۱۱۳ '' و اين مثل جعفر؟''_

۱۰ الامام الصادق و المذہب الاربعہ جلد ۱/۵۳ منقول از التہذيب جلد ۲/۱۰۴_ مناقب ج ۴/۲۷۵، بحار ۴۷/۲۸_

۱۱ الامام الصادق و المذاہب الاربعہ جلد ۱/۵۴_

۱۲ الامام الصادق و المذاہب الاربعہ جلد ۱/۵۳_

۱۳ تاريخ طبرى ۶/۴۲۳، تاريخ كامل ۴/۵۲۳_

۱۴ دلائل الامامت طبرى /۱۰۴_

۱۵ دلائل الامامت طبري/۱۰۴_

۱۶ تاريخ يعقوبى جلد ۲/۲۱۸_

۱۷ عراق ميں ہشام كا گورنر خالد ابن عبداللہ قسرى پر يہ اتہام تھا كہ اس كى سالانہ آمدنى ايك كڑور تيس لاكھ دينار ہے (البدايہ و النہايہ جلد ۹/۳۳) ہشام كى بيوى كے پاس ايسا لباس تھاجس كے تار سونے كے تھے اور اس پرگراں بہانگينے جڑے ہوئے تھے اور اتنے تھے كہ اس كے بوجھ سے وہ چل نہيں سكتى تھي_ قيمت لگانے والے اس كى قيمت معين نہ كر سكے جب گورنر اور خليفہ كى بيوى كى يہ حالت ہے تو پھر خود خليفہ كى كيا حالت ہوگى ( بين الخفاء و الخلفائ/۲۸)_


۱۸ مولى كى جمع موالى ہے جس كے ايك معنى آزاد شدہ غلام كے ہيں شايد اسى مناسب سے غير عرب كو وہ لوگ موالى كہتے تھے_

۱۹ السيادة العربيہ /۵۶، تاريخ التمدن الاسلامى جلد ۱/۲۷۴، الحياة السياسيہ لامام الرضا/۳۶_

۲۰و ۲۱ العقد الفريد مطبوعہ مصر ۱۹۳۷ جلد ۲/۲۷۰، تاريخ التمدن الاسلامى جلد۱/۳۴۱، الحياة السياسية الامام الرضا/۲۶_

۲۲ ضحى الاسلام جلد ۱/۲۵، الحياة السياسية لامام الرضا /۲۷_

۲۳ جو تحريكيں بنى اميہ كے خلاف اٹھيں ان ميں مكمل طور پر مذہبى رنگ و وجوہات تھے_ مثلا ۱_ اہل مدينہ كى تحريك '' واقعہ حرّہ'' ۲_ قاريان كوفہ و عراق كى تحريك ۸۳ ھ ميں ''ديرجماجم'' كے عنوان سے اور ان سے پہلے مختار اور توابين كا قيام ۶۷ ھ ميں _ ۳_ امر بالمعروف اور نہى عن المنكر كے نام پر ۱۲۶ ھ ميں يزيد بن وليد كامعتزليوں كے ساتھ قيام _ ۴_ عبداللہ ابن زبير كا قيام جو شام كے علاوہ دوسرے علاقوں پر مسلط تھے_ ۵_ وہ شورش جو ہشام كے خلاف افريقہ ميں برپا ہوئي_ ۶_ وہ تحريك جو خوارج نے ''طالب الحق'' نامى شخص كى رہبرى ميں اٹھائي تھي_ ۷_ حارث بن سريع كا ۱۱۶ ھ ميں قيام جو لوگوں كو كتاب خدا اور سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى طرف دعوت دے رہا تھا_ ۸_ زيدبن على ابن الحسين كا ۱۲۰ ھ ميں قيام اور دوسرے قيام_ البتہ كچھ شورشيں حكمرانى كى غرض سے بھى برپا ہوئيں جيسے قيام آل مہلب ( ۱۰۲ ہجري) قيام مطرف بن مغيرہ (الحياة السياسية للام الرضا ص ۲۲)_

۲۴ زندگانى پيشوايان اسلام مصنفہ استاد جعفر سبحانى /۷۴ منقول از اصول كافي_

۲۵ الملل و النحل شہرستانى جلد ۱/۱۵۴، ينابيع المودة /۳۸۱_ الحياة السياسية لامام الرضا/۴۱_

۲۶ تفصيل كيلئے كتاب الحياة السياسية للامام الرضا /۶۳_ ۲۹ ملاحظہ ہو_

۲۷ بحار /۴۷/۱۸۴''من اراد الدنيا لا ينصحك و من اراد الاخر لا يصحبك'' _

۲۸ ''فقال المنصور يا اباعبدالله لم خلق الله الذباب؟ قال ليذلّ به الجبابره'' مناقب جلد۴/۲۱۵ _ الفصول المہمہ /۲۳۶، كشف الغمہ جلد ۲/۱۵۸، بحار جلد ۳۷/۱۶۶_

۲۹ وسائل جلد ۱۲/۱۲۹ما احب انى عقدت لهم عقدة او وكيت لهم و كائر و الا، لى ما بين لابتيها و لامدة بقلم ان عوان الظلمة يوم القيمة فى سرارق من نارحتى يحكم الله بين الصباد _

۳۰ بحار جلد ۴۷/۱۳، كافى جلد۱/۳۰۷، ارشاد مفيد /۲۷۱'' قال مسئل ابوجعفر عن القائم بعدہ


فضرب بيده على ابيعبدالله فقال: هذا و الله قائم آل محمد ...''_

۳۱ راوى بيان كرتا ہے كہ ميں جب منى ميں آيا تو ميں نے اہل لغت اور عربى جاننے والوں سے '' ھَہ'' كے بارے ميں سوال كيا تو لوگوں نے كہا'' ھہ'' فلاں قبيلہ كى زبان ہے اور اس كے معنى اسى طرح سے ہيں ''انا فاسئلوني'' يعنى مجھ سے سوال كرو_

۳۲ بحار ج ۴۷/۵۸ منقول از كافي_

۳۳ الصواعق المحرقہ /۱۲۰_

۳۴ مناقب ابن شہر آشوب جلد ۴/۲۴۷، ارشاد مفيد /۲۷۱، بحار جلد ۴۷/۲۷_

۳۵ ر _ ك _ مطرح الانظار شرح حال جابر اور تاريخ ابن خلكان ترجمہ امام صادقعليه‌السلام _

۳۶ نحن قومٌ فرض اللہ طاعتنا و انتم تاتمّون بمن لا يعذر الناس بجہالتہ كافى ج۱/۱۸۶_

۳۷ امام محمد باقر اور امام صادق عليہما اسلام كى زندگى كى تاريخ كى تنظيم اور تدوين ميں كتاب '' پيشواى صادق'' مصنفہ استاد اور امام شناس محقق، رہبر جمہورى اسلامى حضرت آيت اللہ سيد على خامنہ اى سے دوسرى كتابوں كى بہ نسبت زيادہ استفادہ كيا گيا ہے_

۳۸ كافى جلد ۱/۴۷۲، بحار جلد ۴۷/۱_ اعلام الورى /۲۶۶، مناقب جلد ۴/۲۸۰_ ارشاد مفيد/۲۷۱_

۳۹ امام جعفر صادقعليه‌السلام كى زندگى كے بارے ميں ايك حصہ يہاں ، چونكہ اس حصہ كا حجم دوسرے حصوں سے زيادہ ہوگيا لہذا اسے آخر ميں ركھا گيا ہے_

۴۰ يہ بتا دينا ضرورى ہے كہ '' امام محمد باقر عليہ السلام'' كى زندگى والے حصہ ميں بھى امام جعفر صادق اور امام محمد باقر عليہما السلام كے شاگردوں ميں سے چند افراد كا اجمالى تذكرہ ہوا ہے_

۴۱ قاموس الرجال جلد ۳/۴۱۳_

۴۲ رجال كشي/۱۷۶،۱۸۰_

۴۳ رجال كشي/۲۷۶_

۴۴ جامع الرواة جلد ۲/۲۵۸_

۴۵ رجال كشي/ ۳۲۷، قاموس الرجال جلد ۳/۴۱۶ ''اسمَعوا منہ وَ اقبَلُوا عنہ فانّہ لايقولُ عَليَ اللہ و عَليَّ الا الحق''_

۴۶ قاموس الرجال جلد ۳/۳۳۵_

۴۷ صحيح مسلم جلد ۱/۱۰۲ ليكن رجل كشى ص ۱۹۴ پر جابر كے قول كے مطابق ان احاديث كى تعداد ۷۰ ستر ہزار نقل ہوئي ہے_


دسواں سبق :

امام موسى بن جعفرعليه‌السلام كي سوانح عمري


ولادت

ساتويں امام حضرت موسى بن جعفرعليه‌السلام ۷ صفر ۱۲۸ ھ ق كو مقام ابواء(۱) ميں پيدا ہوئے_(۲) آپ كے والد بزرگوار حضرت امام جعفرعليه‌السلام ابن محمدعليه‌السلام تھے اور مادر گرامى حميدہ بربريہ تھيں ان كا تعلق ايك بافضيلت غير عرب بزرگ خاندان سے تھا_ آپ كى والدہ خاندانى اصل اور فضائل انسانى سے مالامال تھيں امام جعفر صادق _نے ان كے بارے ميں فرمايا : '' حميدہ خالص سونے كى طرح پليدگى سے پاك ہيں ہمارے اور ہمارے بعد والے امامعليه‌السلام پر يہ خدا كا لطف ہے كہ ان كے قدموں كو اس نے ہمارے گھر تك پہنچايا_(۳)

امام جعفر صادقعليه‌السلام كے گھر اور ان كے علوم سے استفادہ كرنے كے بعد وہ اس منزل پر پہنچ گئيں كہ امامعليه‌السلام نے حكم ديا كہ مسلمان عورتيں دينى مسائل حاصل كرنے كے لئے ان كے پاس آئيں(۴)

امام جعفر صادق _نے اپنے بيٹے كى ولادت كى خبر معلوم ہونے كے بعد فرمايا: '' ميرے بعد امامعليه‌السلام اور خداوند كى بہترين مخلوق نے ولادت پائي ...''(۵)

اس نومولود كے لئے جس نام كا انتخاب كيا گيا وہ '' موسى '' تھا اس زمانہ تك خاندان نبوت ميں يہ نام نہيں ركھا گيا تھا_ يہ نام موسى بن عمرانعليه‌السلام كى كوششوں اور بت شكنى كى ياد دلانے والا نام تھا_

آپ كے مشہور القاب ميں كاظم، عبدصالح، باب الحوائج اور آپ كى سب سے مشہور كنيت ابوالحسن اور ابوابراہيم ہے(۶)


باپ كى خدمت ميں

امام موسى كاظم _نے بچپن ہى سے باپ كى نگراني، اور خاص تربيت كے تحت اور مہربان ماں كى نوازشوں كے سايہ ميں مراحل كمال و رشد طئے كئے _ اپنى زندگى كے بيس سال آپ نے اپنے پدر عاليقدر كى با فيض خدمت اور حيات كى تعمير كرنے والے مكتب فكر ميں گذارے اور اس تمام مدت ميں تمام جگہوں پر اپنے والد بزرگوار كے بلند اور بيش قيمت كاموں سے الہام ليتے اور ان كے علم و دانش سے بہرہ ور ہوتے رہے_ بہت كم مدت ميں اس درس گاہ ميں جسكى بنياد آپعليه‌السلام كے والد كے ہاتھوں ركھى گئي تھي، آپعليه‌السلام نے ايسا بلند مقام پاليا كہ اس عظيم جعفرى يونيورسٹى كى توسيع اور تكميل ميں اپنے والد كى مدد كرنے لگے_

اخلاقى فضائل

جناب موسى ابن جعفرعليه‌السلام نے نہ صرف يہ كہ علمى اعتبار سے اپنے زمانہ كے تمام دانش مندوں اور علمى شخصيتوں كو تحت الشعاع قرار دے ديا بلكہ اخلاقى فضائل اور نماياں اور امتيازى صفات كى بنا پر ہر شخص كى زبان پر آپكا نام تھا_ تمام وہ افراد جو آپ كى پر افتخار زندگى سے واقفيت ركھتے ہيں آپ كى اخلاقى عظمت اور ممتاز فضيلت كے سامنے سر تسليم خم كرتے ہيں _

ابن حجر عسقلاني_ اہل سنت كے ايك بہت بڑے دانش مند اور محدث_ لكھتے ہيں كہ موسى كاظمعليه‌السلام اپنے باپ كے علوم كے وارث اور صاحب فضل و كمال تھے آپ نے جب بہت زيادہ بردبارى اور درگذر ( جو سلوك آپ نادان لوگوں كے ساتھ كرتے تھے) كا اظہار كيا تو كاظم كا لقب ملا_ آپ كے زمانہ ميں معارف علمى اور علم و سخاوت ميں كوئي بھى شخص آپ كے پايہ كو نہيں پہنچ سكا_۷


امامت حضرت موسى ابن جعفرعليه‌السلام

امام جعفر صادقعليه‌السلام كے اصحاب ميں سے كچھ لوگ آپ كے بڑے بيٹے اسماعيل كو خاندان كا چشم و چراغ شمار كئے جانے كى بنا پر آئندہ كيلئے اپنا پيشوا اور امام سمجھتے تھے ليكن جوانى ہى ميں اسمعيل كى موت نے انتظار كرنے والوں كو نااميد كرديا چھٹے امام نے بھى انكى موت كى خبر كا اعلان كيا يہاں تك كہ بزرگان قوم كو ان كا جنازہ بھى دكھايا تا كہ (انكى امامت والے) عقيدہ كو اپنے دل سے نكال ديں(۸) امام جعفر صاق _نے اسماعيل كى موت كے بعد عباسى حكومت كے دباؤ كے باوجود مناسب موقع پر مختلف انداز سے اپنے بعد ہونے والے امام، موسى ابن جعفرعليه‌السلام كى طرف اپنے اصحاب كى رہنمائي فرمائي ان كے دو نمونے پيش كئے جارہے ہيں _

۱_ على ابن جعفر نقل كرتے ہيں كہ ميرے والدامام جعفر صادقعليه‌السلام نے اپنے اصحاب كى ايك جماعت سے كہا ''ميرے بيٹے موسى كے بارے ميں ميرى وصيت قبول كرو اس لئے كہ وہ ميرے تمام بيٹوں اور ان لوگوں سے جو ميرے بعد ميرى يادگار رہ جائيں گے، برتر ہيں اور ميرے بعد ميرے جانشين اور خدا كے تمام بندوں پر اس كى حجت ہيں(۹)

۲_ منصور بن حازم نقل كرتے ہيں كہ '' ميں نے امام جعفر صادقعليه‌السلام سے عرض كيا كہ : اگر آپ كو كوئي حادثہ پيش آجائے تو ہمارا امام كون ہوگا؟ امام نے اپنے بيٹے موسى كے داہنے شانہ پر ہاتھ ركھ كر فرمايا: اگر مجھ كو كوئي حادثہ پيش آجائے تو مير ا يہ بيٹا تمہارا امام ہوگا(۱۰)

امامت كا زمانہ

موسى بن جعفرعليه‌السلام نے اپنے والد كى رحلت كے بعد ۱۴۸ ھ ق ميں ۲۰ سال كى عمر ميں اسلامى معاشرہ كى قيادت كى ذمہ دارى سنبھالي_آپ اپنے امامت كے زمانہ ميں جو ۲۵ سال كى


طويل مدت پر محيط ہے _ اپنے عہد كے خلفاء منصور دوانقي، مہدي، ہادى اور ہارون الرشيد كے معاصر رہے_

امام موسى كاظم _كے جہاد كى شكل اورروش، اس روش كے سلسلہ كى اگلى كڑى تھى جو امام جعفر صادق _نے معاشرہ كے حالات سے روبرو ہونے اور مخالفين كى محاذ آرائي پر اختيار كى تھي_

اس زمانہ كے اسلامى معاشرہ پر حكومت كرنے والے حالات كے تجزيہ كى بنياد پر امام موسى كاظم _كے جہاد كے اصلى محور كو مورد تحقيق قرار ديں گے_

الف_امام موسى كاظم _كى علمى تحريك كى تحقيق

اپنے والد بزرگوار كى رحلت كے بعدامام موسى كاظم _نے اس عظيم درسگاہ كى علمى اور فكرى رہبرى كو اپنے ذمہ ليا جس كى بنياد مدينہ ميں پڑچكى تھى اور آپ نے بہت سے محدثين ، مفسرين، فقہاء متكلمين اور تمام اسلامى دانشمندوں كى اپنے تربيتى مكتب فكر ميں پرورش كى اور وسيع فقہ اسلامى كو اپنے جديد خيالات و نظريات سے غنى اور مالامال كرديا_

منصور كى جابرانہ حكومت اور سياسى حالات كے تقاضا كے تحت امامعليه‌السلام نے پہلے مرحلہ ميں اپنے جہاد كو معارف كى نشر و اشاعت اور باطل عقائد كى روك تھام كى صورت ميں نبھايا_ مندرجہ ذيل واقعہ اس كے جبر كے اس گوشہ كو بيان كرتا ہے_

امام جعفر صادقعليه‌السلام كو جب منصور دوانقى نے زہر دے ديا تو اس كے بعد اس نے امكانى مخالفين كو راستہ سے ہٹانے كا يہ مناسب موقع سمجھا_ اس وجہ سے اس نے مدينہ كے حاكم محمد بن سليمان كو لكھا كہ اگر جعفر بن محمد نے كسى كو اپنا جانشين مقرر كيا ہو تو اس كو حاضر كرو اور اسكى گردن اڑادو حاكم مدينہ نے جواباً لكھا '' جعفر ابن محمد نے وصيت نامہ ميں پانچ آدميوں كو اپنا وصى اور


جانشين قرار ديا ہے ان كے نام ہيں : ۱_ منصور دوانقى ۲_محمد ابن سليمان (حاكم مدينہ)۳_ عبداللہ بن جعفر (امام جعفر صادق كے بڑے بيٹے) ۴_ موسى ابن جعفر ۵_ حميدہ امام كى بيوي'' اور خط كے آخر ميں حاكم مدينہ نے خليفہ سے پوچھا كہ ان ميں سے كس كى گردن اڑادوں ؟

منصور كے وہم و گمان ميں بھى يہ بات نہيں تھى كہ ايسے حالات سے دوچار ہونا پڑے گا اس كو بہت غصہ آيا اوركہا: ان ميں سے تو كسى كو بھى قتل كيا نہيں جاسكتا(۱۱) امام جعفر صادق _نے ايسا سياسى وصيت نامہ لكھ كر امام موسى كاظم _كو قتل سے بچاليا_ اس كے علاوہ دوسرى كسى بھى صورت ميں امام موسى كاظمعليه‌السلام كا قتل يقينى تھا_

امام موسى كاظمعليه‌السلام كى علمى اور ثقافتى كوششوں ميں سے دو اہم مندرجہ ذيل ہيں :

۱_ ايسى علمى اور فكرى آمادگى كا ہونا كہ جس سے مختلف فكرى اور اجتماعى مكاتب سے مقابلہ ہوسكے ان مكاتب فكر ميں سب سے زيادہ خطرناك الحادى شعوبيہ(۱۲) مكتب فكر تھا جو اسلام كى بنياد كو چيلنج كر رہا تھا_

ايك مذہبى پيشہ ہونے كے ناطے ان عقيدتى خطرات اور آفتوں كے مقابلہ ميں امامعليه‌السلام كا كردار يہ تھا كہ مضبوط دلائل كے ساتھ اصولى راستوں كى رہنمائي كركے ان افكار كے سامنے ديوار بن كر كھڑے ہوجائيں اور ان كے بے مايہ ہونے كو ثابت كركے اسلامى ماحول كو كفر، زندقہ اور شعوبيوں و غيرہ سے پاك كرديں _

اس جہاد كى مشكلات ميں جو اضافہ كا سبب بنا وہ مسلمانوں كا نظرياتى اختلاف تھا اور اس وقت كى حكومتوں نے بھى لوگوں كے افكار كا رخ موڑنے كے لئے ان اختلافات كو پيدا كيا_

الفاظ قرآن كے قديم ہونے والے نظريہ كى پيدائشے، مكتب معتزلہ اور اشاعرہ كا ظہور اور چار فقہوں كا قانونى شكل اختيار كرنا اس كے بڑے واضح نمونے ہيں _

امام كا يہ اقدام خلافت عباسى كے لئے بڑا گراں تھا_ امام كے مكتب فكر ميں تربيت پانے والے افراد جو اس سلسلہ ميں بڑى مہارت اور فعاليت كے حامل تھے سختى ميں مبتلا كرديئے گئے اور


عقيدہ كے بارے ميں ان كو زبان كھولنے سے روكا گيا_ يہاں تك كہ ہشام ابن حكم كى جان كى حفاظت كے لئے_ جو مختلف جماعتوں اور مكتب فكر كے لوگوں سے بحث و مناظرہ ميں يد طولى ركھتے تھے، خود امامعليه‌السلام نے كسى شخص كو ان كے پاس بھيج كر وقتى طور پر ان كو بحث و مناظرہ سے روك ديا_ ہشام نے بھى مہدى عباسى كى موت تك كوئي بات نہيں كہي(۱۳)

۲_ علم فقہ، حديث، كلام، تفسير اور ديگر علمى شعبوں ميں بزرگ اور بافضيلت شاگردوں كا پرورش پانا: سيد ابن طاؤس نقل كرتے ہيں كہ امامعليه‌السلام كے قريبى اصحاب مجلس درس ميں حاضر ہوتے اور جو كچھ بھى حضرتعليه‌السلام سے سنتے اس كو اس لوح ميں جو آستينوں ميں ركھتے تھے لكھتے جاتے تھے(۱۴)

يہ سب كچھ ان حالات ميں ہورہا تھا جب كہ عباسى حكومت نے امامعليه‌السلام كى علمى سرگرميوں پرپابندى لگادى تھى _ آپ كے شاگردوں پر سختى كى جا رہى تھي_ ظاہر ہے كہ اس صورت ميں وہ كھلم كھلا امامعليه‌السلام كا نام بھى نہيں لے سكتے تھے بلكہ ابوابراہيم، عبدصالح، عالم، صابر اور امين ايسے ناموں سے ياد كرتے تھے_

ان تمام باتوں كے باوجود امامعليه‌السلام علمي، اسلامى اور ثقافتى تحريك كى ارتقا ميں بہت بڑا قدم اٹھانے اور سينكڑوں دانشمند اور علمى شخصيتوں كى تربيت ميں كامياب ہوگئے_(۱۵) محمد ابن ابى عمير، على بن يقطين، ہشام ابن حكم، ہشام ابن سالم، يونس بن عبدالرحمن اور صفوان ابن يحيى كا نام بطور نمونہ ليا جاسكتا ہے_

امامعليه‌السلام كے شاگردوں كى روحانى عظمت اور انكى علمى اور مجاہدانہ شخصيت نے مخالفين، خصوصاً حكومت وقت كى آنكھوں كو خيرہ كرديا ان كو يہ خطرہ لاحق ہوگيا كہ يہ كہيں اپنى اس حيثيت و محبوبيت كى بناء پر جو لوگوں كے درميان ہے انقلاب برپا نہ كرديں _ اس لئے وہ ہميشہ ايسے افراد كو معين كرتے رہتے تھے جو ان كى كاركردگى كى نگرانى كرتے رہيں _ نمونہ كے طور پر پيش ہے_

ابن ابى عمير امام موسى كاظم _كے ممتاز صحابى تھے وہ اس بات ميں كامياب ہوئے كہ مختلف مباحث ميں اپنى پچاس جلد كتا بيں يادگار چھوڑيں _


ہارون جس كو امام موسى كاظمعليه‌السلام كے نزديك محمد ابن ابى عمير كے موقف كى اجمالى اطلاع تھى اس نے محمد ابن ابى عمير كى فعاليت اور كاركردگى پر نظر ركھنے كے لئے جاسوسوں كو معين كرديا_ انہوں نے اطلاع دى كہ عراق كے تمام شيعوں كے نام محمد كے پاس ہيں _ اس خبر كے ملتے ہى ابن ابى عمير ہارون كے حكم سے گرفتار كركے قيد ميں ڈال ديئے گئے اور شيعوں كے نام اور راز كو بتانے كے لئے ان پر سختى كى جانے لگى ليكن وہ راز اگلنے پر تيار نہيں ہوئے(۱۶)

ب_ امامت كا تحفظ اور عمومى انقلاب كيلئے ميدان كى توسيع

امامت كے تحفظ كے لئے موسى ابن جعفرعليه‌السلام كا مجاہدانہ منصوبہ كچھ اس طرح تھا:

۱_ اپنے طرفداروں كى مدد اور ان كى نگرانى كرنا اورحكومت عباسى كے مقابل منفى موقف اختيار كرنے كے لئے ان كو ہم آہنگ بنانا_

۲_ امام اپنے طرفداروں كو حكم ديتے تھے كہ حكومت عباسى سے ہر سطح كا ہر معاملہ اور رابطہ منقطع كرليں _

صفوان بن مہران سے امامعليه‌السلام كى گفتگو امامعليه‌السلام كے اس صريحى نظريہ اور موقف كو بيان كرتى ہے_ جناب موسى بن جعفرعليه‌السلام نے صفوان سے فرمايا: تمہارى ہر بات اچھى سے سوائے ايك بات كے اور وہ يہ كہ تم اپنے اونٹ ہارون كو كرايہ پر ديتے ہو_ صفوان نے عرض كيا ميں ان كو سفر حج كے لئے كرايہ پر ديتا ہوں اور خود ان كے ساتھ نہيں جاتا، آپ نے فرمايا_ كيا كرايہ پر دينے كے بعد_ تمہارى يہ خواہش نہيں رہتى ہے كہ كم از كم مكہ سے لوٹ آنے تك ہارون زندہ رہے، تا كہ تمہارا كرايہ ادا كردے؟ صفوان نے كہا كيوں نہيں _ امامعليه‌السلام نے فرمايا: جو ستمگروں كى بقا كو دوست ركھتا ہو وہ انہيں ميں سے شمار كيا جاتا ہے_ اور جو ان كے ساتھ ہو اس كى جگہ جہنم ہے(۱۷) امام موسى كاظمعليه‌السلام اپنے دوستوں كو ہر اس منصب اور عہدہ كو قبول كرنے سے منع فرماتے تھے جو ظالم حكومت كى تقويت كا باعث ہو_ آپ نے زياد ابن سلمہ سے فرمايا:'' اے زياد اگر ميں كسى


بلندى سے گر كر ٹكڑے ٹكڑے ہوجاؤں تو يہ ميرے لئے اس سے بہتر ہے كہ ميں ظالم حكومت كے كسى منصب كو قبول كروں يا اس كى كسى ايك بساط پر بھى قدم ركھوں(۱۸) موسى بن جعفرعليه‌السلام نے ايسى روش اختيار كركے يہ چاہا كہ خلافت عباسى كى مشينرى كى مشروعيت پر خط نسخ كھينچے كے ساتھ ساتھ ان كو گوشہ گير بناديں اور عوامى مركز بننے سے ان كو محروم كرديں _

ايك استثنى

امام نے عباسى ستمگر حكومت كے تعاون كو حرام كردينے كے باوجود اپنے لائق اور معتمد اصحاب كے اہم عہدوں پر باقى رہنے كى مخالفت نہيں كى اس لئے كہ ايك طرف تو يہ كام حكومت كى مشينرى ميں نفو ذكا باعث بنا دوسرى طرف اس بات كا باعث بنا كہ لوگ خصوصاً امامعليه‌السلام كے چاہنے والے ان كى حمايت كے زير سايہ آجائيں _

على ابن يقطين كا حكومت كى مشينرى ميں قوت حاصل كرلينا اسى منصوبہ كا ايك جزء تھا_

على ابن يقطين جو امام ہفتم كے ممتاز شاگردوں ميں سے تھے ايك پاكيزہ نفس اور امامعليه‌السلام كے لئے مورد اطمينان شخصيت كے مالك تھے، عباسيوں سے انہوں نے رابطہ قائم كيا اور ہارون كى طرف سے وزارت كے لئے چنے گئے اور على ابن يقطين نے امامعليه‌السلام كى حمايت سے اس منصب كو قبول كيا(۱۹) بعد ميں آپ نے كئي بار يہ چاہا كہ استعفى ديديں ليكن امامعليه‌السلام نے ان كو روك ديا(۲۰) ايك دن امام موسى كاظم _نے ان سے فرمايا كہ : ايك كام كا وعدہ كرو تو ميں تمہارے لئے تين چيزوں كى ضمانت ليتا ہوں ۱_ تم قتل نہيں كئے جاؤگے۲_فقر ميں مبتلا نہيں ہوگے۳_ قيدى نہيں كئے جاؤگے_

على ابن يقطين نے كہا كہ جس كام كے مجھے پابند ہونا ہے وہ كيا ہے؟ امامعليه‌السلام نے فرمايا: '' وہ كام


يہ ہے كہ جب ہمارے دوستوں ميں سے كوئي تمہارے پاس آئے تو اس كى ضرورت پورى كرو اور اس كا اكرام كرو_ على ابن يقطين نے قبول كيا(۲۱) آپ جب تك اس عہدہ پر باقى رہے شيعوں كے لئے ايك مضبوط قلعہ اور ايك قابل اطمينان پناہ گاہ شمار كئے جاتے رہے_ اور ان دشوار حالات ميں زندگى كى حفاظت كے لئے ضرورى اعتبار قائم كرنے اور امامعليه‌السلام كے دوستوں كو اقتصادى طور پر آزاد بنانے ميں آپ نے بڑا موثر كردار ادا كيا_

۲_ خلافت كى مشينرى كے مقابل امامعليه‌السلام كا صريحى اور آشكار موقف جو اس بات پر مبنى تھا كہ خلافت انكا حق ہے اور وہ اس مقام كو بچانے ميں تمام لوگوں پر برترى ركھتے تھے_

امام كے اس موقف كو واضح كرنے والا ايك نمونہ

ہارون رشيد حج سے واپسى پر رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى قبر مطہر كے پاس حاضر ہوا_ اور اس نے قريش اور دوسرے قبائل كے بہت سے لوگوں كے سامنے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اس طرح سلام كيا'' السلام عليك يابن عم'' سلام ہو آپ پر اے چچا كے بيٹے( چچيرے بھائي) اور اس نے نبيصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اپنى نسبت پر فخر كا اظہار كيا _ امام موسى كاظم _نے_ جو وہاں موجود تھے _ جب اس كى بات سنى تو ضريح مقدس كے پاس كھڑے ہو كر آپ نے كہا: ''السلام عليك يا ابة ''سلام ہو آپ پر اے پدر_ ہارون اس بات پر سخت ناراض ہوا_ اتنا ناراض كہ اس كے چہرہ كا رنگ بدل گيا_ ليكن ردّ عمل كے طور پر كچھ نہ كرسكا(۲۲) يہاں تك كہ ايك دن اس نے امامعليه‌السلام سے كہا كہ آپ لوگ كيسے يہ دعوى كرتے ہيں كہ فرزند پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہيں جبكہ آپ كے باپ تو علىعليه‌السلام ہيں ؟ امام نے فرمايا اگر پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم زندہ ہوتے اور تمہارى بيٹى كا رشتہ مانگتے تو تم قبول كر ليتے؟ اس نے كہا، سبحان اللہ كيوں نہيں ؟ ايسى صورت ميں ، ميں عرب عجم اور


قريش پر فخركرتا_

حضرت نے فرمايا: كہ اگر رسول خدا زندہ ہوتے تو ہمارى بيٹى كا رشتہ نہ مانگتے اور ميں بھى يہ رشتہ قبول نہ كرتا، ہارون نے پوچھا كيوں ؟ آپ نے فرمايا: اس لئے كہ وہ ہمارے باپ ہيں (ہرچند ماں كى طرف سے) ليكن تمہارے باپ نہيں ہيں(۲۳) امت كے انقلابى وجدان كو بيدار كرنا اور انقلابى تحريكوں كى پشت پناہي: منصور كے زمانہ ميں اور اس كے بعد بہت سے سادات متقى اور حق طلب علوى جن كو آئمہ سے قريبى نسبت تھي، ظلم و ستم كے ختم ہونے، عدالت اور امربالمعروف و نہى عن المنكر كى نشر و اشاعت كے لئے اٹھ كھڑے ہوئے نتيجتاً شہيد ہوگئے_

بہت سے انقلابى پوشيدہ طور پر امامعليه‌السلام سے ملحق تھے اور آپ سے رہنمائي حاصل كرتے رہتے تھے، نمونہ كے طور پر حسين ابن على جو مدينہ كے علويوں(۲۴) ميں سے تھے_ اپنے ہى قول كے مطابق _امام موسى كاظمعليه‌السلام سے مشورہ(۲۵) كے بعد ہادى عباس كے خلاف قيام كيا اور تقريباً تين سو افراد كے ايك گروہ كے ساتھ مدينہ سے مكہ كى طرف چل پڑے، سرزمين '' فخ'' پر خليفہ كے سپاہيوں كا سامنا ہوا_ شديد جنگ كے بعد علوى شكست كھا گئے اور واقعہ كربلا كى طرح عباسيوں نے تمام شہداء كے سر كاٹے اور مدينہ لے آئے اور ايك ہى نشست ميں جس ميں فرزندان اميرالمؤمنين كى ايك جماعت منجملہ ان كے امام موسى كاظم _تشريف فرماتھے ان سروں كو دكھانے كے لئے لے آئے، سوائے موسى ابن جعفرعليه‌السلام كے كسى نے كچھ نہيں كہا_ آپ نے جب حسين ابن علي_ قيام فخ كے رہبر_ كا سر ديكھا تو فرمايا:انّا لله و انا اليه راجعون _ خدا كى قسم وہ اس حالت ميں درجہ شہادت پر فائز ہوئے كہ مسلمان اور صحيح كام كرنے والے تھے، بہت روزے ركھتے تھے، بڑے شب زندہ دار تھے، امربالمعروف اور نہى عن المنكر كرتے تھے_ ان كے خاندان ميں ان جيسا كوئي نہيں تھا_(۲۶)

ہادى عباسى كو جب معلوم ہوا كہ علويين امام ہفتم كے ايما پر عمل كرتے ہيں تو حادثہ ''فخ'' كے


بعد بہت ناراض ہوا_ اور آپ كے قتل كا اس نے ارادہ كرليا_ اس نے كہا : خدا كى قسم حسين نے موسى ابن جعفرعليه‌السلام كے حكم سے ميرے خلاف قيام كيا ہے_ اس لئے كہ اس خاندان كا امام سوائے موسى ابن جعفر كے اور كوئي نہيں ہے_ اگر ميں ان كو زندہ چھوڑ دوں تو خدا مجھے قتل كرے_(۲۷)

امامعليه‌السلام كى جو رپورٹيں خلفاء كے پاس پہنچى تھيں نيز وہ اعترافات جو خلفاء كو تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے كہ حضرت حكومت كى مشينرى كى كمين ميں بڑے شد و مد سے تھے اور اس كى سرنگونى كى فكر كر رہے تھے_

لوگوں نے لكھا ہے كہ مہدى عباسى نے امامعليه‌السلام سے كہا كہ '' كيا آپ ہم كو اپنے خروج سے محفوظ ركھيں گے ...؟(۲۸)

نيز ہارون نے اپنے اس اقدام كى توجيہ ميں جو اس نے امامعليه‌السلام كو گرفتار كرنے كے لئے كيا تھا_ كہا '' ميں ڈرتا ہوں كہ يہ فتنہ برپا كريں گے اور خون بہے گا''_(۲۹)

ج_ خلفاء كے عيش و نشاط كے خلاف جنگ

خلفاء بنى اميہ و بنى عباس اور ان سے وابستہ افراد كى زندگى كى نماياں خصوصيت عيش و نشاط اور تجمل پرستى تھى وہ لوگ جو ٹيكس اور پيسے عوام سے وصول كرتے تھے ان كو اسلامى وسيع و عريض ملك كى آبادكارى اور ترقى ميں استعمال كرنے اور لوگوں كے رفاہ اور آرام كے كاموں ميں خرچ كرنے كے بجائے بزم سلطنت كى تشكيل ،بساط عيش و نشاط بچھانے اور خوشنما محل بنانے ميں خرچ كرتے تھے_

ہارون كى زندگى ميں دوسرے خلفاء كى بہ نسبت يہ خصوصيت زيادہ نظر آتى ہے_ ہارون نے بغداد ميں بڑا خوشنما محل بنوايا_ اپنى عظمت اور ظاہرى شان و شوكت كو واضح كرنے كيلئے موسى ابن جعفرعليه‌السلام كو وہاں لے گيا_ طاقت كے نشے ميں مست تكبر آميزلہجہ ميں اس نے پوچھا، يہ قصر كيسا ہے؟ آپ نے فرمايا: فاسقوں كا گھر ہے وہى لوگ جن كے بارے ميں خدا نے فرمايا : '' جو لوگ روئے


زمين پر ناحق تكبر كرتے ہيں _ ہم جلد ہى اپنى آيات پر ايمان سے ان كو منصرف كرديں گے ( اس طرح كہ ) جب وہ كسى آيت يا نشانى كو ديكھيں گے تو ان پر ايمان نہيں لائيں گے اور اگر ہدايت كے راستہ كو ديكھيں گے تو اپنے راستہ كے عنوان سے اس كا انتخاب نہيں كريں گے ( يہ سب اس لئے ہے كہ ) انہوں نے ہمارى آيات كى تكذيب كى ہے اور اس سے غافل ہوگئے ہيں _(۳۰)

ہارون جو اس جواب سے سخت ناراض تھا اس نے غضبناك ہوكر پوچھا كہ پھر يہ گھر كس كا ہے؟

يہ گھر ايك زمانہ كے بعد ہمارے شيعوں كا ہوگا ليكن ( اس وقت ) فتنہ كى جڑ اور دوسروں كے لئے آزمائشے ہے_

( اگر يہ شيعوں كا ہے ) تو صاحب خانہ اس كو كيوں نہيں لے ليتا؟

آبادى ہونے كے بعد اس كو اس كے مالك سے لے ليا جائيگا اور جب تك آباد نہيں ہوگا واپس نہيں ليا جائے گا_(۳۱)

شہادت

ہارون كے جبر كے مقابلہ ميں امام موسى كاظم _كے رويہ نے اس كو اس بات پر اكسايا كہ وہ امام _كو نظر بند كرے اور لوگوں سے ان كے رابطہ كو منقطع كردے اس وجہ سے اس نے امامعليه‌السلام كو گرفتار كيا اور زندان بھيج ديا_ ليكن مدينہ سے باہر لے جانے كے لئے ہارون نے مجبور ہو كر كہا دو كجاوے بنائے جائيں اور ہر كجاوہ كو مدينہ كے الگ الگ دروازوں سے باہر نكالا جائے اور ہر ايك كے ساتھ كچھ شہ سوارفوجى چليں _(۳۲) صرف امام كے عقيدتمندوں كے خوف سے يہ انتظام نہں گيا گيا تھا بلكہ ہارون كو يہ فكر تھى كہ ان كے پاس كچھ افراد اور كچھ گروہ تيار ہيں جو ايسے موقع پر حملہ كركے امامعليه‌السلام كو اس كے مزدوروں كے چنگل سے چھڑالے جائيں گے_ اس وجہ سے اس نے


ايسى احتياطى تدبير اختيار كى تھيں _

حضرت موسى ابن جعفرعليه‌السلام پہلے بصرہ كے زندان ميں لے جائے گئے اور ايك سال كے بعد ہارون كے حكم سے بغداد منتقل كرديئے گئے اور كسى كو ملاقات كى اجازت ديئے بغير كئي سال تك قيد ميں ركھے گئے_(۳۳)

آخر كار ۴۵ رجب ۱۸۳ ھ ق كو ''سندى بن شاہك'' كے قيد خانے ميں ہارون كے حكم سے زہر ديا گيا، تين دن كے بعد شہيد ہوگئے اور بغداد ميں قريش كے مقبرہ ميں سپرد لحد كئے گئے_(۳۵)

شہادت كے بعد ہارون كے آدميوں نے بہت اصرار كيا كہ لوگ اس بات كو قبول كرليں اور گواہى ديں كہ موسى ابن جعفرعليه‌السلام كو زہر نہيں ديا گيا اور وہ طبيعى موت سے دنيا سے رخصت ہوئے ہيں _ تا كہ اس بہانہ سے اپنے دامن كو ايسے سنگين جرم كے داغ سے بچاليں اور لوگوں كى ممكنہ شورش بھى روك ديں _

اور يہ ايك دوسرا گواہ ہے جو عباسى حكومت سے امام كے ٹكراؤ كى طرف ہمارى رہنمائي كرتا ہے_

آپ كى عملى اور اخلاقى سيرت كے نمونے

الف: عبادت

خدا كى خصوصى معرفت آپ كو مزيد عبادت اور پروردگار سے عاشقانہ راز و نياز كى طرف كھينچتى تھى اس وجہ سے اجتماعى كاموں سے فراغت كے بعد آپ عبادت ميں اپنا وقت گذارتے تھے_

جب ہارون كے حكم سے آپ كو زندان ميں ڈال ديا گيا تو آپ نے خدا كى بارگاہ ميں عرض كيا پروردگارا مدتوں سے ميں يہ چاہتا تھا كہ تو اپنى عبادت كے لئے مجھے فرصت ديدے اب ميرى خواہش پورى ہوگئي لہذا ميں تيرا شكر ادا كرتا ہوں _(۳۵)


جب آپ قيد خانہ ميں تھے اس وقت جب كبھى ہارون كوٹھے سے زندان كى طرف ديكھتا تھا تو يہ ديكھتاتويہى لباس كى طرح كى كوئي چيز زندان كے ايك گوشہ ميں پڑى ہے_ ايك بار اس نے پوچھ ليا كہ يہ كس كا لباس ہے؟ ربيع نے كہا: يہ لباس نہيں ہے، يہ موسى ابن جعفرعليه‌السلام ہيں جو زيادہ تر سجدہ كى حالت ہيں رہتے ہيں _ ہارون نے كہا سچ ہے وہ بنى ہاشم كے بڑے عبادت گزار افراد ميں سے ہيں _ ربيع نے پوچھا، تو پھر ان پر اتنى سختى كيوں كرتا ہے ہارون نے كہا: افسوس اس كے سوا كوئي چارہ نہيں ہے(۳۶) امام _اس دعا كو بہت پڑھتے تھے''اللهم انى اسئلك الراحة عند الموت و العفو عند الحساب ''(۳۷) خدايا ميں تجھ سے موت كے وقت آرام اور حساب كے وقت بخشش كا طلبگار ہوں _

آپ كى عبادت كو بيان كرنے كے لئے وہ جملہ كافى ہے جو ہم آپ كى زيارت ميں پڑھتے ہيں كہ '' درود ہو موسى ابن جعفرعليه‌السلام پر جو پورى رات مسلسل عبادت اور استغفار ميں گذارتے تھے، سجدہ ريز رہتے ، بہت زيادہ مناجات اور نالہ و زارى فرماتے تھے_(۳۸)

ب_ درگذر اور بردباري

امام موسى كاظم _كا درگذر اور ان كى بردبارى بے نظير اور دوسروں كيلئے نمونہ عمل تھي، آپ كے لئے '' كاظم'' كا لقب اسى خصلت كو بيان كرنے والا اور درگذر كى شہرت كى نشان دہى كرنيوالا ہے_

مدينہ ميں ايك شخص تھا وہ ہميشہ امام كو_ دشنام اور توہين_ كے ذريعہ تكليف پہنچا تا رہتا تھا_ امامعليه‌السلام كے كچھ صحابيوں نے يہ پيشكش كى كہ اس كو درميان سے ہٹا ديا جائے_

امامعليه‌السلام نے ان لوگوں كو اس كام سے منع كيا پھر اس كے بعد اس كے گھر كا پتہ پوچھ كر_ جو مدينہ سے باہر ايك كھيت ميں تھا_ تشريف لے گئے آپعليه‌السلام چوپائے پر سوار تھے جب اس كے كھيت ميں


داخل ہوئے، وہ شخص چلانے لگا كہ ہمارے كھيت كو پامال نہ كريں حضرت نے كوئي پروا نہيں كى اور سوارى ہى كى حالت ميں اس كے پاس پہنچے اور سوارى سے اترنے كے بعد اس سے ہنس كر پوچھا: اس زراعت كے لئے كتنے پيسے تم نے خرچ كئے ہيں ؟ اس نے جواب ديا سو دينار_ آپ نے فرمايا : كتنے فائدے كى اميد ہے اس نے جواب ديا ''دوسو دينا'' _ آپ نے اس كو تين سو دينار مرحمت فرمائے اور كہا:'' زراعت بھى تيرى ہے، جس كى تو اميد لگائے ہوئے ہے خدا تجھكو اتنا ہى دے گا_ وہ شخص اٹھا اور اس نے امامعليه‌السلام موسى كاظم _كے سر كو بوسہ ديا اور اس نے اپنے گناہوں سے درگذر كرنے كى خواہش ظاہر كي_ امام مسكرائے اور پلٹ گئے اس كے بعد ايك دن وہ شخص مسجد ميں بيٹھا ہوا تھا كہ حضرت موسى ابن جعفرعليه‌السلام وہاں وارد ہوئے جب امامعليه‌السلام پر اس شخص كى نظر پڑى تو اس نے كہا: خدا بہتر جانتا ہے كہ اپنى رسالت كو كس خاندان ميں قرار دے_(۳۹) اس كے دوستوں نے اس سے تعجب سے پوچھا: كيا بات ہے؟ تم تو اس سے پہلے ان كو بہت برا بھلا كہتے تھے اس نے دوبارہ امام كے لئے دعا كى اور دوستوں سے الجھ پڑا_

امامعليه‌السلام نے اپنے اصحاب سے_ جو پہلے اس كو قتل كرنے كا ارادہ ركھتے تھے_ كہا كيا بہتر ہے، تمہارى نيت يا ہمارا سلوك جو اس كو راہ راست پر لانے كا باعث بنا؟(۴۰)

ج_ كام اور كوشش

امام موسى كاظم _كے پاس زراعت اور كھيتى تھى آپ خود اس كے كام ميں لگے رہتے تھے، حسن ابن علي_ آپ كے صحابى اور شاگرد_ اپنے باپ كا قول نقل كرتے ہيں ميں نے امام موسى ابن جعفرعليه‌السلام سے ان كے كھيت ميں اس حالت ميں ملاقات كى كہ وہ محنت و مشقت كى وجہ سے قدموں تك پسينے سے بھيگے ہوئے تھے_ ميں نے ان سے كہا: ميں آپ پر قربان جاؤں آپ كے آدمى (كام كرنے والے) كہاں ہيں ، آپ خود كيوں مشغول ہيں ؟

آپ نے فرمايا: مجھ سے اور ميرے والد سے بھى زيادہ بزرگ افراد اپنے كھيت ميں كام


كرتے تھے ميں نے عرض كيا وہ كون لوگ ہيں ؟ آپ نے فرمايا: ميرے جد رسول خدا اور اميرالمؤمنينعليه‌السلام اور ہمارے آباء ، اس كے بعد آپ نے فرمايا: كھيتى باڑى پيغمبروں مرسلين اور صالحين كا كام ہے_(۴۱)

د_ سخاوت و كرم

جود و كرم، ساتويں امامعليه‌السلام كى صفتوں ميں سے ايك بڑى نماياں صفت تھي_ آپ نے اپنے مالى امكانات كو_ جو كھيتى باڑى كے ذريعہ آپ نے حاصل كئے تھے_ اس طرح ضرورت مندوں كے حوالہ كر ديتے تھے كہ مدينہ ميں ضرب المثل كے طور پر لوگ آپس ميں كہا كرتے تھے '' اس شخص پر تعجب ہے جس كے پاس موسى ابن جعفرعليه‌السلام كى بخشش و عطا كى تھيلى پہنچ چكى ہو ليكن وہ پھر بھى تنگ دستى كا اظہار كرے_(۴۲)

آپعليه‌السلام كى سخاوت و كرم كے بارے ميں ابن صباغ مالكى تحرير فرماتے ہيں : موسى كاظم _اپنے زمانہ كے لوگوں ميں سب سے زيادہ عابد، دانا اور پاك نفس شخص تھے_ آپعليه‌السلام پيسے اور كھانے پينے كا سامان مدينہ كے ستم رسيدہ افراد تك پہنچاتے اور كسى كو خبر بھى نہيں ہوتى تھى كہ يہ چيزيں كہاں سے آئي ہيں _ مگر آپ كى رحلت كے بعد پتہ چلا_(۴۳)

ايك شخص جس كا نام '' محمد ابن عبداللہ بكري'' تھا اپنے مطالبات كو وصول كرنے كے لئے مدينہ آيا ليكن اس كو كچھ نہيں ملا_ واپسى پر امام _سے ملاقات ہوئي اس نے اپنا ماجرا آپ كو سنايا_ امامعليه‌السلام نے حكم ديا كہ اس كو تين سو دينار سے بھرى تھيلى دى جائے تا كہ وہ خالى ہاتھ اپنے وطن واپس نہ جائے(۴۴)

ھ_ تواضع اور فروتني

امام موسى ابن جعفرعليه‌السلام ايك كالے چہرہ والے كريہہ المنظر شخص كے پاس سے گذرے آپعليه‌السلام نے اس كو سلام كيا اور اس كے پاس بيٹھ گئے اس سے باتيں كيں اور پھر اس كى حاجت پورى


كرنے كے لئے اپنى آمادگى كا اظہار فرمايا آپ سے كہا گيا كہ اے فرزند رسول كيا آپ ايسے شخص كے پاس بيٹھتے ہيں اور اس كى حاجتيں پوچھتے ہيں ؟

آپ نے فرمايا: وہ خدا كے بندوں ميں سے ايك بندہ ہے اور خدا كى كتاب ميں وہ ايك بھائي ہے، اور خدا كے شہروں ميں وہ ہمسايہ ہے، حضرت آدمعليه‌السلام جو بہترين پدر ہيں ، اس كے باپ ہيں اور آئين اسلام جو تمام دينوں ميں برترين دين ہے اس نے ہم كو اور اس كو باہم ربط ديا ہے(۴۵)


سوالات

۱_ امام موسى كاظم _كس تاريخ كو پيدا ہوئے اور آپ نے اپنے والد بزرگوار كے ساتھ كتنے دن زندگى گذارى آپ كے والد و والدہ كا نام اور آپ كى سب سے مشہور كنيت اور لقب بيان كيجئے_

۲_ امام جعفر صادق _كے ارشادات ميں سے ايك قول جو آپ كے فرزند موسى ابن جعفر_ كى امامت كے بارے ميں ہے بيان فرمايئے

۳_ امام موسى كاظم _نے اپنے باپ كى علمى تحريك كو كن حالات ميں جارى ركھا_ اس زمانہ ميں اسلامى معاشرہ پر حكومت كرنے والے حاكم كے رويہ كا ايك نمونہ بيان فرمايئے

۴_ امام موسى كاظمعليه‌السلام كى علمى اور ثقافتى كوششوں كا كيا نتيجہ رہا؟

۵_ امامت كے محاذ كى نگہبانى كے لئے امام موسى كاظم _كے جہاد كا محور كيا چيزيں تھيں _

۶_ امام موسى كاظم _كس تاريخ كو كس طرح اور كہاں شہيد ہوئے؟


حوالہ جات

۱ ابواء مكہ اور مدينہ كے درميان ايك جگہ كا نام ہے_ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام كى والدہ گرامى جناب آمنہ بنت وہب كى قبر اسى جگہ ہے_

۲ بحار الانوار جلد ۴۸/ ۱_مناقب جلد ۴/۳۲۳ _

۳ بحار جلد ۴۸/۶، كافى جلد ۱/۳۹۸_

۴ انوار البھيتہ/۱۶۳_

۵ بحار جلد ۴۸/۳_

۶ بحار جلد ۴۸/۱۱_

۷ الصواعق المحرقہ /۲۰۳_

۸ بحار جلد ۴۸/۲۱_

۹ اعلام الوري/ ۲۹۱، ارشاد مفيد /۲۹۰، بحار جلد ۴۸/۲۰_

۱۰ بحار جلد ۴۸/۱۸_

۱۱ بحار جلد ۴۷/۳، مناقب ابن شہر آشوب جلد ۴/۳۲۰_

۱۲ شعوبيہ غير عرب لوگوں كے ايك گروہ كا نام ہے جو عمر كے زمانہ خلافت ميں نيشنلسٹ مخالف فكر كے ساتھ ظاہر ہوا اور اموى و عباسى دور حكومت ميں اس كو زيادہ رونق ملي_ يہ لوگ مسلمان معاشرہ ميں اختلاف اور شگاف ڈالنے كا اہم سبب بنے ''ك'' حياة الامام موسى ابن جعفرعليه‌السلام ج ۲/ ۱۱۰_ ۱۱۷ اور واہ نامہ اجتماعى و سياسى مضقہ حسين رہجو /۱۱۴۰_

۱۳ رجال كشى /۲۶۶، معجم رجال الحديث جلد ۱۹/۲۷۹_ ۲۷۸_

۱۴ انوار البھيّة/ ۱۷۰_ ۱۶۹_

۱۵ مرحوم شيخ طوسى نے اپنى ( كتاب) رجال ميں موسى ابن جعفرعليه‌السلام كے شاگردوں كى تعداد دو سو بہتر ۲۷۲ لكھى ہے ليكن حياة الامام موسى ابن جعفرعليه‌السلام كے مؤلف محترم نے امام كے تين سو اكيس ۳۲۱ شاگردوں كے تفصيلى حالات درج كئے ہيں حياة الامام موسىعليه‌السلام جلد ۲/۳۷۴_ ۲۲۴_

۱۶ رجال كشى /۵۹۱_


۱۷ من احبّ بقائہم فہو منہم من كان منہم كان وَرَدَ النار رجال كشي/۴۴۱ ، معجم رجال الحديث جلد ۹/۱۲۲_

۱۸يا زياد لان اسقط من شاهق فاتقطّع قطعةً قطعةً احبُّ اليَّ من ان التوّلى منهم عملاً او اطا بساط رجل: منهم '' مكاسب شيخ مرتضى انصارى باب ولايت جائر/ ۴۸ و تنقيح المقال مامقانى ج ۱/۴۵۳_

۱۹ رجال كشى /۴۳۳_

۲۰ بحار ۴۷/۱۳۶_

۲۱ رجال كشى /۴۳۳، بحار جلد ۴۸/۱۳۶_

۲۲ ارشاد مفيد /۲۹۸، تاريخ بغداد جلد ۱۳/۳۱، مناقب جلد ۴/۳۲۰، اعلام الورى /۱۹۷، الصواعق المحرقہ/۲۰۴، تذكرة الخواص/۳۱۴، بحار جلد ۴۸/۱۰۳، احتجاج طبرسى جلد ۲/۱۶۷_

۲۳ عيون اخبار الرضا جلد ۱/۶۸، احتجاج طبرسى جلد ۲/۱۶۳، بحار جلد ۴۸/۱۲۹_ ۱۲۵_

۲۴ يہ حسين ابن على ابن حسن ابن حسين ابن على ابن ابيطالب ہيں چونكہ سرزمين ''فخ'' ميں جو مكہ سے ايك فرسخ كے فاصلہ پر واقع ہے_ عباسى سپاہيوں كے ہاتھوں قتل كرديئے گئے اس لئے '' صاحب فخ'' يا '' شہيد فسخ''كے نام سے مشہور ہوئے_

۲۵ مقاتل الطالبين /۴۵۷ نشر دار المعرفة بيروت تحت عنوان ذكر من خرج مع الحسين _ حسين ابن على اور يحى ابن عبداللہ كى باتوں كا متن ملاحظہ ہو ''ما خرجنا حتى شاورنا اهل بيتنا و شاورنا موسى ابن جعفر فامرنا بالخروج'' _

۲۶ مقاتل الطالبين''مضى و اللہ مسلماً صالحاً صوّاماً قوّاماً آمراً بالمعروف ناہيا عن المنكر ما كان من اہل بيتہ مثلہ ''_

۲۷ بحار جلد ۴۸/۱۵۱ ''و الله ما خرج حسين الا عن امره و لا عن امره و لا اتبع الا محبته لانه صاحب الوصيته فى اهل هذا البيت قتلنى الله ان ابقيتُ عليه'' _

۲۸ وفيات الاعيان جلد ۲/۲۵۶_

۲۹ بحار الانوار جلد ۴۸/۲۱۳،۲۳۲،ارشاد مفيد/۳۰۰، مقاتل الطالبين/۳۳۴_

۳۰ساصرفٌ عن آياتى الذين يتكبرون فى الارض بغيرالحق و ان يروا كل آية: لا يؤمنوا بها و ان يروا سبيل الرشد لا يتخذه سبيلا و ان يروا سبيل الغى يتخذه سبيلا ذلك بانّهم كذّبوا باآياتنا و كانوا عنها غافلون _


۳۱ ''اُخذَت منه آمرةً و لا ياخذهاالا معمورة'' بحار جلد ۴۸/۱۳۸ ،تفسير عياشى جلد ۲/۳۰، تفسير برہان جلد ۲/۳۷ شايد اس آخرى جملہ سے امام كى مراد يہ ہو كہ جب تك گھر كو آبادكرنے كا امكان نہ ہو اس وقت تك اس كو واپس نہيں ليں گے اور اس وقت اس كا وقت نہيں ہے_

۳۲ الفصول المھمة /۲۳۹ ، مناقب جلد ۴/۳۲۷، ارشاد مفيد/۳۰۰، اعلام الورى /۲۹۹، مقاتل الطالبين /۳۳۴_

۳۳ ہارون كے زندان ميں امام كتنے دنوں تك رہے اس ميں اختلاف ہے چارسال، دس سال، بھى مذكور ہے_ تذكرة الخواص/۳۱۴ سيرة الائمة الاثنى عشر جلد ۲/۳۵۱، بحار جلد ۴۸/۲۰۶_ ۲۲۸ ، مہدى عباسى كى قيد ميں جتنے دنوں رہے يہ مدت اس كے علاوہ ہے_

۳۴ الفصول المہمہ /۲۴۱، انوار البھيہ /۱۸۱، تاريخ ابوالفداء جلد ۲/۱۶ يہ بتا دينا ضرورى ہے كہ امام موسى كاظم اور مام جواد عليہما السلام كے مرقد اطہر آج كل كاظمين كے نام سے مشہور ہيں _

۳۵اللهم انّى طالماً كُنتُ اَسئَلُكَ اَن تُفَرّغَنى لعبادتك وَ قَد استَجَبتَ منّى فلك الحمد على ذالك'' مناقب جلد ۴/۳۱۸ ، بحار جلد ۸، ارشاد مفيد /۳۰۰، الفصول المہمہ /۲۴۰_ تھوڑے سے فرق كے ساتھ_ امام كا يہ جملہ زندان جانے سے پہلے آپ كے اجتماعى كام ميں مشغوليت كى شدّت كو بيان كرتا ہے_

۳۶ بحار جلد ۴۸/۱۰۸، حياة الامام موسى بن جعفرعليه‌السلام جلد ۱/۱۴۲_ ۱۴۰_ عيون اخبار الرضا جلد ۱/۷۸_ ۷۷_

۳۷ ارشاد مفيد /۲۹۶، مناقب جلد ۴/۳۱۸، اعلام الورى /۲۹۶_

۳۸الصلوة على موسى بن جعفر عليه‌السلام الذى يحيى الليل بالسهر الى السّحر بمواصلة الاستغفار حليف السجدة و الدموع الغزيرةَ و المناجاتَ الكثيرة الضّراعات و الضراعات المتصلة _ انوار البہيہ مرحوم شيخ عباس قمي/۱۸۸_

۳۹ اللہ اعلم حيث يجعل رسالتہ _

۴۰ ارشاد مفيد/۲۹۷، تاريخ بغداد جلد ۱۳/۲۸، مناقب جلد۴/۳۱۹، دلائل الامامہ /۱۵۱ _ ۱۵۰، بحار ج ۴۸/۱۰۳_۱۰۲، اعلام الورى /۲۹۶، مقاتل الطالبين /۳۳۲_


۴۱''و هو من عمل النبين و المرسلين و الصالحين'' من لا يحضرہ الفقيہ جلد ۳/۹۸ مطبوعہ بيروت ميں /۴۰۱، بحار جلد ۴۸/۵_

۴۲ عمدة الطالب /۱۹۶'' عجباً لمن جائتہ صرة موسى فشكى القلّة''_

۴۳ فصول المہمہ/ ۲۳۷_

۴۴ المجالس السنية جلد ۲/۵۲۷_

۴۵ تحف العقول /۳۵ ''عبدٌ من عباد الله و اخ فى كتاب الله و جارٌ فى بلاد الله يجمعنا و اباه خير الاباء آدم و افضل الاديان الاسلام'' _


گيارہواں سبق:

امام على ابن موسى الرضاعليه‌السلام كى سوانح عمري


ولادت

آسمان ولايت كے آٹھويں ستارہ حضرت على ابن موسى الرضاعليه‌السلام ۱۱ ذى القعدہ ۱۴۸ ھ ق كو اپنے جد بزرگوار امام جعفر صادق _كى شہادت كے سولہ دن بعد پيدا ہوئے_(۱)

آپ كا نام على ركھا گيا مشہور لقب رضا اور كنيت ابوالحسن ہے پدر بزرگوار كا اسم گرامى امام موسى كاظمعليه‌السلام اور مادر گرامى كا نام نجمہ ہے(۲) ، جو خردمندى ايمان اور تقوى ميں ممتازترين عورتوں ميں سے تھيں _(۳)

امامت پر نص

امام على ابن موسى الرضا نے ۱۸۳ ھ ق ميں _ جناب موسى ابن جعفر _كى شہادت كے بعد ۳۵ برس كى عمر ميں منصب امامت سنبھالا_

آپ كى امامت كا تعيّن تمام ائمہ معصومين عليم السلام كى امامت كى طرح رسول خدا كى تعيين و تصريح اور آپ كے پدر گرامى امام موسى كاظم _كے تعارف سے ہوا_

اپنى شہادت سے پہلے موسى ابن جعفر _نے زمين پر آٹھويں حجت خدا اور اپنے بعد كے امام كا تعارف مسلمانوں كے درميان كرايا تاكہ لوگ كجروى اور گمراہى ميں نہ جائيں _

''مخزومي'' نقل كرتے ہيں كہ موسى ابن جعفر _نے مجھ كو اور چند دوسرے افراد كو بلايا اور فرمايا: تم كو معلوم ہے كہ ميں نے تم لوگوں كو كيوں بلايا ہے؟ ہم نے كہا نہيں آپ نے فرمايا ميں


چاہتا ہوں كہ تم لوگ گواہ رہو كہ ميرا يہ بيٹا_ امام رضا كى طرف اشارہ كر كے_ وصى اور ميرا جانشين ہے ''(۴)

يزيد بن سليط نقل كرتے ہيں كہ عمرہ بجالانے كے لئے ميں مكہ جارہا تھا، راستہ ميں امام موسى كاظم _سے ملاقات ہوئي_ ميں نے ان سے عرض كى كہ ميرے ماں باپ آپ پر فدا ہوجائيں آپ بھى اپنے پدر بزرگوار كى طرح مجھكو بتايئے اور اپنے بعد آنے والے امام كا تعارف كرايئےامامعليه‌السلام نے امامت كے بارے ميں تھوڑى وضاحت كرنے اور اس بات كو بيان كرنے كے بعد كہ امامعليه‌السلام خدا اور پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى طرف سے معين ہوتا ہے_ فرمايا'' ميرے بعد ميرے فرزند علىعليه‌السلام (ابن موسيعليه‌السلام ) امام ہوں گے جو علىعليه‌السلام اور عليعليه‌السلام ابن الحسينعليه‌السلام كے ہم نام ہيں _(۵)

اخلاق و سيرت

ائمہ معصومين پسنديدہ اخلاق اور بہترين سيرت ميں دوسروں كے لئے نمونہ عمل تھے اور عملى طور پر لوگوں كو پاكيزہ زندگى اور فضيلت كا درس ديتے تھے، وہ لوگ باوجود اس كے كہ امامت كے بلند مقام پر فائز اور خدا كے برگزيدہ بندہ تھے ليكن پھر بھى انہوں نے اپنے كو لوگوں سے جدا نہيں كيا_

ابراہيم ابن عباس كہتے تھے كہ : ميں نے كبھى يہ نہيں ديكھا كہ امام رضاعليه‌السلام اپنى باتوں سے كسى كو تكليف پہنچاتے ہوں اور كسى كے كلام كو قطع كرتے ہوں اور كسى حاجتمندكو_ امكان كے باوجود_ بھگا ديتے ہوں ، دوسروں كى موجودگى ميں پير پھيلاتے يا ٹيك لگاتے ہوں يا اپنے غلاموں ميں سے كسى كو كوئي ناروا بات كہتے ہوں ، يا لعاب دہن كو دوسروں كے سامنے پھينكتے ہوں اور قہقہہ مار كر ہنستے ہوں ، ان كى ہنسى بس تبسم كى حد تك تھى ، جب دسترخوان بچھايا جاتا تو تمام گھر والوں كو حتى كہ دربان اور خدمت گزار كو بھى اس پر بٹھاتے اور ان لوگوں كے ساتھ كھانا كھاتے، راتوں كو كم


سوتے اور رات كے زيادہ حصہ ميں صبح تك بيدار رہتے اور عبادت كيا كرتے تھے، بہت روزے ركھتے_(۶)

'' محمدبن ابى عباد'' نقل كرتے ہيں كہ : گرمى ميں آپ كا فرش چٹائي اور جاڑوں ميں كمبل ہوتا تھا، گھر ميں كھردرا كپڑا زيب تن فرماتے ليكن جب كبھى لوگوں كے درميان جاتے تو ( معمولاً جو لباس پہننا جاتا ہے وہى پہنتے تھے) اپنے كو سنوار تے_(۷)

ايك شب اپنے مہمانوں كے ساتھ بيٹھے ہوئے باتيں كر رہے تھے كہ ناگاہ چراغ ميں كوئي خرابى پيدا ہوگئي ، مہمان نے ہاتھ بڑھا يا تا كہ چراغ كو روشن كردے حضرت نے منع فرمايا اور خود اس كام كو انجام د يا اور فرمايا'' ہم وہ ہيں كہ جو مہمانوں سے كام نہيں ليتے_(۸)

حمام ميں ايك شخص نے جو آپ كو نہيں پہچانتا تھا، كہا كہ : ذرا كيسہ سے ميرا جسم مل ديں _ امامعليه‌السلام نے قبول كيا _اس نے جب امامعليه‌السلام كو پہچان ليا تو شرمندگى كے ساتھ عذر خواہى كرنے لگا_ امامعليه‌السلام نے كيسہ سے اس كا جسم ملتے ہوئے اس كا دل ركھ ليا كہ نہيں كوئي بات نہيں _(۹)

اہل بلخ كاايك شخص نقل كرتا ہے كہ ميں خراسان كے سفر ميں امام رضاعليه‌السلام كے ساتھ تھا_ ايك دن دسترخوان بچھايا گيا امام رضا _نے تمام خدمت گاروں كو حتى كہ سپاہ ناموں جلد والوں كو بھى دسترخوان پر بٹھايا تا كہ وہ بھى آپ كے ساتھ كھانا كھائيں ، ميں نے عرض كي: ميں آپ پر فدا ہوجاؤں بہتر ہے كہ يہ لوگ دوسرے دسترخوان پر بيٹھ جائيں _آپعليه‌السلام نے فرمايا: ٹھہرو، بيشك خدا ايك ہے، سب كے ماں باپ ايك ہيں اور جزاء عمل كے مطابق ہے(۱۰)

امام رضاعليه‌السلام كے خادم_ ياسر_ نقل كرتے ہيں كہ امامعليه‌السلام نے ہم سے فرمايا كہ '' جب تم كھانا كہا رہے ہو اور ميں تمہارے پاس آكر كھڑا ہوجاؤں تو تم ( ميرے احترام كے لئے) كھڑے نہ ہونا يہاں تك كھانا كھا كر فارغ ہوجاؤ_ اسى وجہ سے اكثر ايسا اتفاق ہوا كہ امامعليه‌السلام نے ہم كو آواز دى اور ان كے جواب ميں كہہ ديا گيا كہ '' كھانا كھانے ميں مشغول ہيں ، امامعليه‌السلام ايسے موقع پر كہہ ديتے تھے كہ '' اچھا رہنے دو يہاں تك كہ كھانا كھا كر فارغ ہوجائيں ''(۱۱)


يعقوب نوبختى نقل فرماتے ہيں كہ ايك سائل نے امام رضا _سے كہا كہ مروت كے بقدر مجھے عطا كيجئے امامعليه‌السلام نے فرمايا كہ ہمارى وسعت ميں يہ بات نہيں ہے_ سائل نے عرض كيا، ميرى مروت كے بقدر عطا كيجئے_ امامعليه‌السلام نے غلام كو حكم ديا كہ اس كو دو سو دينار دے ديئےائيں(۱۲)

امام كا علمى مقام

آٹھويں امام علم و فضل كے اعتبار سے اس منزل پر فائز تھے كہ ہر آدمى آپ كو پہچانتا، آپ كى علمى عظمت كا اعتراف كرتا اور آپ كے سامنے سر تعظيم خم كرديتا تھا_

آپ كا زمانہ وہى زمانہ ہے جس زمانہ ميں مختلف عقائد و افكار سے سابقہ تھا_ علوم منتقل ہو رہے تھے_ معارف يونان و اسكندريہ كے متون كا ترجمہ ہوكر دنيائے اسلام اور عرب ميں آرہا تھا، مختلف قسم كے مكاتب فكر كے نظريات اور ان كے گوناگوں عقائد معاشرہ ميں آرہے تھے اور اس كے نتيجہ ميں تضاد اور مختلف خيالات و عقائد ابھر رہے تھے، ايسے وقت ميں لوگوں كے لئے اعتماد كے قابل صرف امام رضا _كا وجو د پر فيض تھا_

آپ كا پركشش اور پر فيض محضر مبارك شاگردوں اور محققين سے موجيں مار رہا تھا، مختلف فكرى جماعتوں كے رہبروں جيسے ثنويہ، دھريہ، يہود، نصارى ،زردشتي، زنديق كے مناظروں كى مركز خلافت بنى عباس ميں گرما گرم نشستيں تاريخ ميں موجود ہيں جن ميں سے ہر مناظرہ آپ كے علمى اور ارشاد و ہدايت كے بلند مقام كو پايہ ثبوت تك پہنچاتا ہے(۱۳)

ان مناظروں ميں ايك طرف تو امام _انحرافات كا سد باب كرتے اور دوسرى طرف لوگوں كو اسلامى علوم و معارف سكھاتے تھے اور چونكہ خلفاء بنى عباس كے توسط سے ان كتابوں كے ترجمہ كا مقصد سياسى تھا جيسے علم امامعليه‌السلام سے مقابلہ يا لوگوں كے ايمان كو اہل بيتعليه‌السلام سے برگشتہ كردينا اس لئے امامعليه‌السلام نے بھى مخصوص انداز سے ان كے منصوبہ كو خاك ميں ملاديا_


امامعليه‌السلام كى شخصيت

امام رضا _كى عظمت و ممتاز شخصيت كے متعلق تمام مورخين اور محدثين اتفاق نظر ركھتے ہيں يہاں تك كہ مامون جو آپ كا سخت دشمن تھا اس نے بھى بارہا اس كا اعتراف كيا ہے_

اس نے اپنے معين كردہ شخص رجاء بن ابى ضحاك سے جب امامعليه‌السلام كے مدينہ سے مرو سفر كرنے كى خفيہ خبر سنى تو كہا : '' يہ ( امامعليه‌السلام كى طرف اشارہ ) روئے زمين پر بہترين فرد اور انسانوں ميں سب سے بڑے عالم اور عابد ہيں ...''(۱۴)

نيز امامعليه‌السلام كى ولى عہدى كے سلسلہ ميں مامون نے بيس ہزار افراد كو جمع كركے خطاب كيا:'' ميں نے فرزندان عباس اور فرزندان على كے درميان تلاش كيا ليكن ان ميں سے كسى كو اس امر كے لئے على ابن موسى رضاعليه‌السلام سے زيادہ لائق، متدين، پارسا اور بافضيلت نہيں پايا(۱۵)

امامت كا زمانہ

على ابن موسى _نے اپنے پدر بزرگوار كے قيد خانہ ميں شہادت كے بعد، ۳۵ سال كى عمر ميں رہبرى اور امامت كا عہدہ سنبھالا_ آپعليه‌السلام كى امامت كى مدت بيس سال تھي، ہارون الرشيد كے زمانہ كے دس سال، امين كى حكومت كے زمانہ كے پانچ سال اور مامون كى خلافت كے عہد كے پانچ سال_

آپعليه‌السلام كى امامت كے زمانہ ميں آپعليه‌السلام كے مبارزات اور آپعليه‌السلام كے موقف و رويہ عباسى خلافت كى مشينرى كے مد مقابل تھا، واضح كرنے كے لئے ضرورى ہے كہ اس زمانہ كے حالات اور خصوصيات كو ديكھتے ہوئے آپ كے زمانہ امامت كو دو حصوں ميں تقسيم كيا جائے_

۱_ آغاز امامت سے خراسان بھيجے جانے تك ( ۱۸۳ ھ ق تا ۲۰۱ ھ ق)

۲_ خراسان بھيجے جانے كے بعد ( ۲۰۱ ھ ق سے ۲۰۳ ھ ق تك)


الف_ آغاز امامت سے خراسان بھيجے جانے تك

على ابن موسى الرضاعليه‌السلام اپنے زمانہ كے حكام جور كى طاقت سے بے پروا ہوكر ہدايت و رہبرى اور امامت كے فرائض انجام ديتے رہے اس راستہ ميں آپعليه‌السلام نے كسى بھى كوشش سے دريغ نہيں كيا_ حكومت كے مقابل امامعليه‌السلام كا رويہ_ اس استبدادى زمانہ ميں _ ايسا واضح تھا كہ آپعليه‌السلام كے كچھ اصحاب آپعليه‌السلام كى جان كے بارے ميں ڈرنے لگے تھے_

صفوان ابن يحيى نقل كرتے ہيں كہ امام رضاعليه‌السلام نے اپنے والد كى رحلت كے بعد ايسى باتيں كہيں كہ ہم ان كى جان كے بارے ميں ڈرگئے، اور ہم نے ان سے عرض كيا، آپعليه‌السلام نے بہت بڑى بات كو آشكار كرديا ہے_ ہم آپعليه‌السلام كے لئے اسى طاغوت ( ہارون) سے ڈر رہے ہيں آپعليه‌السلام نے فرمايا: جو كوشش چاہے كر لے وہ ميرا كچھ نہيں بگاڑ سكتا(۱۶)

'' محمد ابن سنان'' فرماتے ہيں كہ ہارون كے زمانے ميں ، ميں نے امام رضاعليه‌السلام سے عرض كيا: آپ نے امر امامت كے لئے اپنے كو مشہور كر ليا اور باپ كى جگہ بيٹھے ہيں جبكہ ہارون كى تلوار سے خون ٹپك رہا ہے_

آپعليه‌السلام نے فرمايا كہ : '' اگر ہارون ميرے سر كے بال ميں سے ايك بال بھى كم كردے تو تم گواہ رہنا كہ ميں امام نہيں ہوں(۱۷)

آٹھويں امامعليه‌السلام كى اس زمانہ ميں ہرچند كہ بڑى وسيع كاركردگى تھى ليكن مصلحت اسلام كا تقاضا يہ تھا كہ خلافت سے براہ راست ٹكرانے كى بجائے اپنے فريضہ الہى كو دوسرى طرح انجام ديں تا كہ وہ دشمن امام رضا _كے موقف سے ٹكرانے كے لئے تيار نہ ہوجائيں جو چھٹے امامعليه‌السلام كى عمر كے آخرى زمانہ ميں اس بنيادى نقشہ كى گہرائي اور اہميت سے واقف ہوچكے تھے جو نقشہ امام محمد باقر اور امام جعفر صادق (عليہماالسلام)نے جعفرى يونيورسٹى كے قالب ميں پيش كيا تھا_

آپ نے علويوں كے بہت سے قيام_ جيسے اسلامى ثقافت كى نشر و اشاعت كے لئے زيد ابن


على كے قيام_ كى پشت پناہى اور حمايت كے علاوہ، اسلامى ثقافت كے مختلف پہلوؤں كى مخصوص انداز ميں اپنے زمانہ كے تقاضا كے مطابق حمايت كي_

امامعليه‌السلام كى امامت كا يہ آٹھ سالہ دور ( ابتداء امامت سے خراسان بھيجے جانے تك) جو امين و مامون كى خلافت كا زمانہ تھا ايك رخ سے امام محمد باقر اور امام جعفر صادق عليہما السلام كے زمانہ سے مشابہ تھا_

اس لئے كہ ايك طرف امين و مامون كے درميان خلافت كے مسئلہ پر خونين اختلافات اور كشمكش چھڑى ہوئي تھي_(۱۸) اور نتيجہ ميں ۱۹۸ ھ ق ميں امين قتل كرديا گيا اور مامون تخت خلافت پر بيٹھا_

دوسرى طرف انحرافى ثقافت نئے قالب اور جديد شكل ميں پھيل رہى تھى علم كلام، فقہ اور اخلاق والے مكاتب فكر ہر لحظہ پراگندہ ہو رہے تھے اور انتشار پھيلا رہے تھے_ علماء ملل و اديان ، خدمت، تعاون، ترجمہ، طبابت اور قدرتى ذخائر سے فائدہ اٹھانے كے ساتھ ساتھ تفرقہ اندازى اور ايسے مسائل كو نشر كرنے ميں لگے ہوئے تھے جو اسلام سے دوراور منحرف كرنے كا سبب بنتے تھے_ مامون نے اس زمانہ ميں علم و حكمت سے دوستى كے نام پر اپنے سياسى مقاصد كو حاصل كرنے كے لئے ان كے لئے ميدان خالى كر ركھا تھا، اور اس بات كى كوشش كر رہا تھا كہ حق دار پارٹى كے ثقافتى نفود كو_ جو كہ امام محمد باقر _كے زمانہ سے مائل بہ وسعت تھا_ محدود كر دے اور معاشرہ كے ذہن كو انقلابى اور اہل بيت كى حق پر استوار ثقافت سے ہٹادے_

يہى وہ جگہ ہے جہاں اسلامى معاشرہ كے لئے اس آٹھ سالہ دور ميں امام كى شخصيت ابھر كر سامنے آئي اور شيعوں كو بھى موقع ملا كہ مسلسل آپ سے رابطہ ركھيں اور آپ كى رہنمائي سے بہرہ مند ہوتے رہيں خاص كر اس وقت سے جب آپ نے بصرہ اور كوفہ كا سفر كيا اور عوامى مركز سے براہ راست ارتباط پيدا كيا تو ان دو شہروں كے عوام نے پہلے سے آمادگى كى بنا پر اپنے رہبر كا شاندار استقبال كيا_ امامعليه‌السلام نے اپنے دوستوں اور شيعوں سے ملاقات كے علاوہ مختلف قوموں كے


دانشمندوں اور مختلف جماعتوں كے ليڈروں سے بحث و مناظرہ كى نشستيں تشكيل ديں اور معارف اسلامى كى مختلف انداز سے نشر و اشاعت كي(۱۹)

امامعليه‌السلام اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے موقف كے استحكام اور اسلامى معاشرہ كے مختلف طبقوں كے درميان اپنے نفوذ كو وسعت دينے ميں كامياب ہوئے_

مامون سے ايك گفتگو ميں آپعليه‌السلام لوگوں كے در ميان اپنے نفوذ كے ميزان كى طرف اشارہ فرماتے ہيں كہ:اس امر _ولى عہدى _ نے ہمارے لئے كسى نعمت كا اضافہ نہيں كيا ہے _ ميں جب مدينہ ميں تھا تو ميرى تحرير مشرق و مغرب ميں چلتى تھى(۲۰)

اكثر ايسا ہوتا تھا كہ حكومت كے مسائل كو حل كرنے اور مختلف گروہوں كے غصہ كوٹھنڈا كرنے كے لئے مامون امام رضا _سے رابطہ قائم كرتا تھا اور ان سے يہ خواہش كرتا تھا كہ لوگوں سے باتيں كريں اور ان كو خاموش رہنے اور چپ ہو جانے كى دعوت ديں _(۲۱)

علويوں كا قيام

علويوں نے بھى دربار خلافت كے جھگڑوں اور ان كے آپس ميں الجھ جانے سے فائدہ اٹھا يا اور امام _كى شخصيت اور ان كے موقف پر تكيہ كرتے ہوئے خلافت كى مشينرى كے خلاف قيام اور شورش بر پا كى منجملہ اُن كے :(ابوالسرايا) كا قيام تھا ،(۲۲) انہوں نے محمد ابن ابراہيم طباطباكى بيعت كے نعرہ كے ساتھ ۱۹۹ ھ ق ميں كوفہ ميں خروج كيا اور لوگوں كو خاندان پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى نصرت اور شہيدان آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے خون كا انتقام لينے كى دعوت دى _ابوالسرايا كا لشكران تمام سپاہيوں كو ختم كرديتا تھا جن كو حكومت ان لوگوں سے مقابلہ كے لئے بھيجتى تھى اور يہ لشكر جس شہر ميں بھى جاتا اس كو اپنے قبضہ ميں لے ليتا تھا(۲۳)

وہ دو ماہ سے كم عرصہ ميں مامون كے دو لاكھ كے لشكر كو قتل كرنے ميں كامياب رہے _اس


طرح كوفہ، جس نے حسين ابن على كے ساتھ خيانت كا ثبوت ديا اور زيد ابن على كو تنہا چھوڑدياتھا ، اس بار ابن طباطباكى ہمراہى ميں علوى تحريك اور اس كے اعلى مقاصد كے دفاع كيلئے اٹھ كھڑاہوا_

كوفہ ميں ابوالسراياكے قيام كے علاوہ مختلف علاقوں جيسے بصرہ ، يمن،واسط،مدائن حتى بين النہرين اور شام ميں علويوں اور غير علويوں نے قيام كيا اور حكومت عباسى كے مدمقابل ڈٹ گئے_(۲۴)

يہ تمام چيزيں اس بات كى بيّن دليل ہيں كہ مختلف طبقات كے لوگ غير اسلامى حكومت اور عباسيوں كے ظلم كے خلاف تھے اور اہل بيتعليه‌السلام كے حق طلب اور مكتب عدالت كے گرويدہ ہوتے جارہے تھے _

اسى وجہ سے ہم ديكھتے ہيں اسلامى مملكت كے اندر مامون كى تمام تر كوششوں كے باوجود يہاں تك كہ اپنے بھائي امين كے قتل كردينے كے بعد بھى تمام اسلامى علاقوں پر جيسا چاہتا تھا ويسا تسلط نہ حاصل كرسكا_

اگر چہ اس زمانہ ميں _ ظاہرى قدرت اور ذر و زور كے اعتبار سے _ نگا ہيں حكومت كے پايہ تخت (مرو) پرجمى ہوئي تھيں ،ليكن دينى وراثت ،آوازہ حق اور حق كے اصلى رہبر كے چہر ہ كو ديكھنے كے لئے نگاہيں مدينہ كى طرف متوجہ تھيں يعنى اس شہر كى جانب جہاں فرزندپيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور پيشوائے حق حضرت على ابن موسى رضا _رہتے تھے _

اس عرصہ ميں دوسرے تمام لوگوں سے زيادہ اچھى طرح مامون كو معلوم تھا كہ كون سا حادثہ اس كے انتظار ميں ہے ان تحريكوں كا سرچشمہ كہاں ہے كس كى پشت و پناہى اور موقف پر اعتماد كرتے ہوئے يہ تحريكيں چل رہى ہيں اس وجہ سے اس نے اس بنيادى اور بڑى بات كى اصولى چارہ جوئي كرنے كى تركيب سوچى _


ب_ سفر خراسان كى پيشكش كے آغاز سے شہادت تك

امامعليه‌السلام كى زندگى كا يہ حصہ جو تقريباً ۱۸ مہينوں پر پھيلا ہوا ہے _ كم مدت ہونے كے با وجود اس واقعہ كو اپنے دامن ميں لئے ہے جس نے خلافت عباسى كے مد مقابل امامت كے موقف كو دوسرى سطح ميں قرار ديا _

مشكلات اور دشوارياں جو علويوں كى طرف سے پيدا ہوگئي تھيں جن كا سرچشمہ ان كے راس و رئيس امام رضا _كى گراں قدر شخصيت تھى ، وہ دشوارياں جنہوں نے حكومت كو زوال كے معرض خطر ميں ڈال ركھا تھا _ ان كے چنگل سے نجات حاصل كرنے كے لئے مامون نے وہ نيا طريقہ اپنا يا جس كو آج تك اس نے نہيں اپنا يا تھا _ اور وہ طريقہ يہ تھا كہ وليعھدى كى پيشكش كركے اہم ترين مخالف شخصيت كو اپنے مركز قدرت ميں آنے كى دعوت دے اور ان كو اپنا بالا دست بنادے_

لہذا نہ چاہنے كے با وجود اپنے وزير (فضل ابن سہل ) سے مشورہ كے بعد امامعليه‌السلام كو مدينہ سے مامون نے مرو بلايا اور وليعہدى قبول كرنے كے لئے مجبور كيا_

مامون كے اس خلاف توقع اور نئے اقدام ميں ابتداء ميں اس كى حكومت كے لئے بڑى مشكليں پوشيدہ تھيں جن ميں سب سے بڑى مشكل يہ تھى كہ عباسيوں اور علويوں كى رائے اس اقدام كا استقبال نہيں كررہى تھى _ اس لئے كہ وہ لوگ يہ ديكھ رہے تھے كہ اس نے مسند خلافت تك پہنچنے كے لئے اپنے بھائي كو قتل كرديا اور خود بھى اہل بيتعليه‌السلام كے سخت ترين دشمنوں ميں شمار كياجاتاتھا اس لئے مامون نے كسى بھى ممكنہ صورت سے اپنے صدق و اخلاص كو ثابت كرنے كے لئے مندرجہ ذيل اقدامات كئے :

۱_سياہ لباس كو جو عباسيوں كا شعار تھا، جسم سے اتار پھينكا اور سبز لباس جو علويوں كا شعار تھا پہن ليا_


۲_اس نے حكم ديا كہ امام رضاعليه‌السلام كے نام كے سكّے ڈھالے جائيں اور ہرشہر ميں منجملہ ان كے مدينہ ميں ان كے نام كا خطبہ پڑھا جائے _

۳_اپنى بيٹى ام حبيبہ كو_ با وجود اس كے كہ امامعليه‌السلام سے چاليس سال چھوٹى تھى _امام _كى زوجيت ميں دے ديا_

۴_امام رضاعليه‌السلام اور علويوں كا بظاہر احترام واكرام كرنے لگا_

مامون مطمئن تھا كہ ان اقدامات ميں سے كوئي بھى اقدام يہاں تك كہ امامعليه‌السلام كے لئے بيعت حاصل كرنا بھى اس كے نقصان كا سبب نہيں ہے _ اس سياست كو اپنا نے كا مقصد يہ تھا كہ اس وقت فوراًعلويوں كى شورش كو روك ديا جائے اور ايك طويل مدتى منصوبہ كے تحت امام _كو ميدان سے الگ ہٹاديا جائے _

ولى عہدى كا واقعہ

امام رضا _كى ولى عہدى كے واقعہ كو دو لحاظ سے ديكھنا چاہئے ، ايك تو اس زمانہ كى خلافت كى مشينرى كى سياست كے اعتبار سے اور دوسرے امام كے نظريہ كے مطابق _

الف _خلافت كى سياست كے اعتبار سے

ولى عہدى كے مسئلہ ميں مامون كے چند مقاصد پوشيدہ تھے ان ميں سے اہم ترين مقاصد كى طرف اشارہ كيا جارہا ہے _

۱_ امام رضا _كى شخصيت سے جو خطرہ تھا اس سے اپنے آپ كو بچالينا _

۲_امام رضا _كو اپنے زير نظر ركھنا اور شايد مامون نے اپنى بيٹى سے آپ كى شادى اسى وجہ سے كى تھى كہ ان كى بيرونى سرگرميوں كو زير نظرركھنے كے علاوہ ان كى داخلى زندگى ميں بھى ايك نگہبان معين كردے جو ہمارے لئے بھى قابل اطمينان ہو اور ان كا بھى اعتماد حاصل كرلے _


چنانچہ ہم ديكھتے ہيں كہ امام _كو مرو بلاتے ہى اس نے جاسوسوں كو معين كرد يا منجملہ ان كے ہشام ابن ابراہيم راشدى جو امام _كے نزديك ترين افراد ميں سے تھا اور امام _كے امور اسى كے ہاتھ سے انجام پاتے تھے وہ فضل ابن سہل اور مامون سے رابطہ پيدا كركے اپنى مخصوص حيثيت كو ان كے سامنے بيان كرتاہے اور مامون اس كو (عمومى رابطہ كا ذمہ دار ) امامعليه‌السلام كا نگہبان بنا ديتا ہے اس كے بعد امام _سے وہى ملاقات كرسكتا تھا جس كو ہشام چاہتا _نتيجہ يہ ہوا كہ امام كے دوستوں كى ملاقات كم ہوگئي اور جو كچھ امام كے گھر ميں ہوتا اس كى خبر ہشام مامون كو ديتا _(۲۵) اور وہ اس طرح امام كے شيعوں اور رشتہ داروں كو مكمل طور پر پہچانتا تھا _

۳_معاشرتى زندگى اور عوام كے مراكز سے امام _كا رابطہ منقطع كردينا _ تا كہ اس طرح آپكے چاہنے والے آپ تك نہ پہنچ سكنے كى وجہ سے پراكندگى كا شكار ہو جائيں _

۴_امام كى معنوى حيثيت اور نفوذ سے علويوں كى شورشوں كو ختم كرنے اور عباسيوں كے خلاف لوگوں كے غيظ و غضب اور كينہ كو ختم كرنے ميں فائدہ حاصل كرنا _ اس نے يہ سمجھاتھا كہ آپ كى شخصيت كا جتنا معنوى نفوذ ہے اور جتنى عوامى پشت پناہى آپ كو حاصل ہے آپ سے اپنا سلسلہ جوڑ كراتنى ہى جگہ اس كى حكومت بھى لوگوں كے در ميان پيدا كرلے گى _

۵_اپنى حكومت كو شرعى حيثيت دينا: اس لئے كہ علويوں كے علاوہ _ جو حكومت بنى عباس كى حكومت كى بنياد كو غير شرعى سمجھتے تھے _جو لوگ مامون كے ذريعہ قانونى خليفہ يعنى امين كے قتل كى وجہ سے _ خلافت بنى عباس كو مانتے ہوئے _ بھى وہ مامون كى خلافت كو شك و ترديد كى نظر سے ديكھتے تھے _ اس لئے بہت سے لوگوں نے مامون كى بيعت نہيں كى تھى _(۲۶)

۶_ اہل بيت كى الہى رہبرى كو داغدار كرنا اور امام رضا _كى اجتماعى اور معنوى حيثيت كو چكنا چور كردينا _ اس لئے كہ مامون يہ سمجھتاتھا كہ امامعليه‌السلام كا ولى عہدى كو قبول كر لينا آپ كى معنوى رہبرى كو بہت نقصان پہنچائے گا اور امام پر لوگوں كا اطمينان ختم ہو جائے گا_

خاص طور پر سن كے اس فرق كى وجہ سے جو امامعليه‌السلام اور مامون كے در ميان تھا _ امام _مامون


سے ۲۲سال بڑے تھے (اب ايسى صورت ميں )ولى عہدى قبول كرلينے كو لوگ امام _كى دنيا پرستى پر محمول كرتے _ اس لئے كہ اس مسئلہ كو اہل بيت (عليہم السلام) كے اس نظريہ اور نعرہ كے خلاف پاتے جو وہ بلند كيا كرتے تھے _

آٹھويں امامعليه‌السلام نے مامون كے ساتھ اپنى ايك گفتگو ميں اس نقشہ كى طرف اشارہ كيا ہے :آپعليه‌السلام فرماتے ہيں :تم يہ چاہتے ہو كہ لوگ كہنے لگيں كہ على ابن موسى الرضاعليه‌السلام دنيا سے روگرداں نہيں ہيں ، يہ دنياہى تو ہے جوان تك آئي ہے ، كيا تم لوگ نہيں ديكھتے كہ انہوں نے كس طرح خلافت كى طمع ميں ولى عہدى قبول كرلى(۲۷)

دوسرى طرف مامون كو يہ معلوم تھا كہ امامعليه‌السلام كا حكومت كا مشينرى ميں داخل ہونا_ ان تمام خرابيوں اور عظيم انحرافات كے بعد _ اصلاح كا باعث نہيں بنے گا وہ چاہتا تھا كہ امامعليه‌السلام كو ايسى جگہ پر لايا جائے تا كہ لوگوں كو سمجھايا جا سكے كہ امامعليه‌السلام امر خلافت كے لائق نہيں ہيں _

مامون نے حميد ابن مھران اور دوسرے عباسيوں كے جواب ميں جو امام رضا _كو ولى عہدى سپردكرنے پر سرزنش كررہے تھے ، اپنے بعض مقاصد كو شمار كرتے ہوئے اعتراف كيا ہے كہ ...يہ ہم سے پوشيدہ اور دور تھے اپنى طرف لوگوں كو دعوت ديتے تھے ہم نے چاہا كہ ان كو اپنا ولى عہد قرار ديں تا كہ ان كى دعوت ہمارے لئے ہوجائے اور يہ ہمارى سلطنت و خلافت كا اعتراف كرليں اور ان كے شيدائي يہ سمجھ ليں كہ جس چيز كا وہ دعوى كرتے ہيں ان ميں وہ چيز نہيں ہے _ہم كو يہ خوف تھا كہ اگر ان كو ان كے حال پر چھوڑ ديا جائے تو يہ ہنگامہ بر پا كرديں گے _ ايسا ہنگامہ جس كو ہم لوگ نہيں روك سكتے اور يہ ايسى صورت حال پيدا كريں گے كہ جس كے مقابلہ كى تاب ہم ميں نہيں ہے _(۲۸)

ب:امام _كے نكتہ نظر سے

امامعليه‌السلام كو پہلے مامون كى پيش كش كا سامنا ہوا ليكن امامعليه‌السلام نے بڑى شدت سے اس كو قبول كرنے


سے انكار كيا اور جواب ميں فرمايا : ''اگر خلافت تمہارا حق ہے تو تم كو يہ حق نہيں ہے كہ خدا كے پہنائے ہوئے اس لباس كو اپنے جسم سے اتار كردوسرے كے جسم پر پہنادو اور اگر تمہارا حق نہيں ہے تو اس چيز كو كس طرح تم دے رہے ہو جو تمہارى ملكيت نہيں ہے ''_(۲۹)

مامون نے ولى عہدى كى پيش كش كى اور امام _كو ہر طرح سے اسے قبول كرنے پر مجبور كيا اس نے كہا : ''عمر ابن خطاب نے اپنے بعد خلافت كے منصب كے لئے ايك شورى (كميٹي) بنائي اور انكو حكم ديا كہ جو مخالفت كرے اس كى گردن اڑادينا _ اب جو ميں نے ارادہ كيا ہے اس كو قبول كرلينے كے سوا اور كوئي چارہ نہيں ہے ور نہ ميں آپ كى گردن اڑادوں گا_امامعليه‌السلام نے اس كى پيش كش كو چند بار ٹھكرانے كے بعد بجبرو اكراہ ، مشروط طريقہ پر ولى عہدى كو قبول كرليا(۳۰) _مامون نے ۵رمضان ۲۰۱ھ ق كو امامعليه‌السلام كى ولى عہدى اور بيعت كا جشن منايا _

مسئلہ ولى عہدى كے بارے ميں امامعليه‌السلام كا موقف واضح ہوجانے كيلئے ہم_ مختصر طور پر_ تين موضوعات كى تحقيق كريں گے _

۱_امامعليه‌السلام كى ناراضگى كے دلائل

۲_ولى عہدى قبول كرنے كے دلائل

۳_امامعليه‌السلام كا منفى رويہ

امامعليه‌السلام كى ناراضگى كے دلائل

۱_ريان ابن صلت نقل كرتے ہيں كہ ميں نے امام رضا _كى خدمت ميں عرض كيا :اے فرزند رسول كچھ لوگ كہتے ہيں كہ آپ نے مامون كى ولى عہدى كو قبول كرليا ہے جبكہ آپ دنيا كى نسبت زہد اور بے رغبتى كا اظہار فرما تے ہيں ؟امام _نے فرمايا:''يہ كام ميرى خوشى كا باعث نہ تھا ليكن ميں ولى عہدى قبول كرنے اور قتل كئے جانے كے در ميان قرار ديا گيا مجبورا ميں نے ولى


عہدى كو قبول كيا ...''(۳۱)

۲_ محمد ابن عرفہ نقل كرتے ہيں كہ ميں نے امامعليه‌السلام سے عرض كيا اے فرزند رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپعليه‌السلام نے ولى عہدى كو كيوں قبول كيا ؟آپعليه‌السلام نے فرمايا :اسى دليل سے جس دليل سے ميرے جد علىعليه‌السلام كو شورى ميں شركت كرنے پر آمادہ كيا گيا تھا ''_(۳۲)

۳_امامعليه‌السلام كے خادم ياسر نقل كرتے ہيں كہ : امامعليه‌السلام كے ولى عہدى كو قبول كرلينے كے بعد ميں نے ان كو ديكھا كہ آپ ہاتھوں كو آسمان كى طرف بلند كركے فرماتے تھے : خدايا تو جانتا ہے كہ ميں نے بجبرو اكراہ اسے قبول كيا ہے _لہذا مجھ سے مؤاخذہ نہ كرنا جس طرح تو نے اپنے بندہ يوسف كا_ جب انہوں نے مصر كى حكومت كو قبول كيا _ مؤاخذہ نہيں كيا _(۳۳)

ولى عہدى قبول كرنے كے دلائل :

ولى عہدى كو ان شرطوں كے ساتھ قبول كرنا جو امامعليه‌السلام نے ركھى تھيں ، اس زمانہ كى سياسى اور اجتماعى مصلحت كا تقاضا تھا ور نہ اگر كوئي بھى مصلحت اس كے قبول كرنے ميں نہ ہوتى تو امامعليه‌السلام قبول ہى نہ كرتے چاہے نتيجہ ميں ان كا خون ہى كيوں نہ بہاديا جاتا اس موضوع كو واضح كرنے كے لئے چند نكات پيش كيے جاتے ہيں _

۱_ انكار كى صورت ميں امامعليه‌السلام كو جو قيمت ادا كرنى پڑتى وہ صرف ان كى جان نہ تھى بلكہ آپ كے پيروكار سب كے سب واقعى خطرے ميں پڑجاتے اور اس سے كوئي مطلوبہ نتيجہ بھى ہاتھ نہ آتا _

۲_شيعوں كى امامت كى جگہ اس وقت تك زندانوں اور شہادت گاہوں كے اندر ہى تھى اور شيعہ جو خلافت اسلامى كے اہل تھے _ امير المؤمنين كے زمانہ كے علاوہ_ كبھى بھى قانونى حيثيت (ظاہرى حيثيت) ان كو نہيں ملى تھى كہ وہ تخت خلافت كے دامن ميں ترقى كريں اور راستہ طے كريں _


سلف كے مسلسل جہاد اور ان كے خون پاك كى قيمت تھى كہ يہ حيثيت امام على ابن موسى الرضاعليه‌السلام كى بلند و بالا شخصيت ميں اجا گر ہوئي تھى لہذا اس سے فائدہ اٹھا نا چاہئے تھا تا كہ لوگ يہ نہ سوچ بيٹھيں كہ اہل بيتعليه‌السلام _ جيسا كہ لوگوں نے مشہور كر ركھا ہے _ صرف عالم اور فقيہ ہيں جن كا سياست اور عملى ميدان ميں كوئي حصہ نہيں ہے اور شايد ابن عرفہ كو امامعليه‌السلام كا جواب بھى اس بات كى طرف اشارہ ہو_

۳_امامعليه‌السلام اپنى ولى عہدى كے زمانہ ميں مامون كے اصلى چہرہ كو لوگوں كے در ميان پہچنوانے اور اس كى نيت و مقصد كا پول كھول كر لوگوں كے ذہن و دماغ سے ہر طرح كے شك و شبہ كو ختم كرنے ميں كامياب ہوگئے _

۴_ جو نشستيں مامون نے منعقد كيں ان ميں امام ،علوم اہل بيت كى برترى اور دوسروں كے انحراف كو آشكار كرنے ميں كامياب ہوگئے _

امام كا منفى رويہ

امامعليه‌السلام نے مامون كى بہانہ بازى والى سياست كو پہچان كر شروع ہى سے ، يہاں تك كہ ولى عہدى قبول كرنے سے پہلے ہى مامون كى مشينرى كے مقابل منفى موقف اختيار كيا نمونہ كے طور پران ميں سے كچھ مواقف پيش كئے جارہے ہيں _

۱_مامون كى خواہش يہ تھى كہ آپ اپنے خاندان ميں سے جس كو چاہيں اپنے ہمراہ لائيں ليكن اس كے برخلاف امامعليه‌السلام يہ تبانے كے لئے كہ يہ ايك زبر دستى كا سفر ہے اور مجھ كو وطن سے دور كيا جارہا ہے _ اپنے خاندان ميں سے كسى كو حتى اپنے اكلوتے بيٹے امام جوادعليه‌السلام كو بھى اپنے ساتھ نہيں لائے اور گھرسے نكلتے وقت انہوں نے اپنے خاندان والوں سے اپنے سامنے گر يہ كرنے كى خواہش كي_(۳۴)


۲_ امام _مدينہ سے ''مرو''كے راستہ ميں جب نيشاپور پہنچے تووہاں علماء اور مختلف گروہ كے لوگوں نے استقبال كيا امامعليه‌السلام نے ان كى خواہش پر اس حديث كو بيان فرمايا جو''سلسلة الذہب ''كے نام سے مشہور ہے :

''الله عزوجل يقول :لااله الا الله حصنى فمن قالها دخل حصنى و من دخل حصنى امن من عذابي'' (۳۵)

خداوند عالم فرماتا ہے كہ كلمہ توحيد ميراقلعہ ہے جو اس كلمہ كو پڑھے وہ ميرے قلعہ ميں داخل ہوگيا اور جو ميرے قلعہ ميں داخل ہو گيا وہ ميرے عذاب سے محفوظ ہوگيا_

جب حديث ختم ہوگئي تو امامعليه‌السلام نے اپنى سوارى آگے بڑھادى ليكن چند قدم چلنے كے بعد پھرٹھہرے اور سر كو كجاوہ سے باہر نكال كر فرمايا :''بشروطھا و انا من شروطھا'' كلمہ توحيد كے كچھ شرائط ہيں اور منجملہ ان شرائط كے ميں ہوں _

اس مقام پر امامعليه‌السلام نے ولايت كے مسئلہ كو توحيد كے بنيادى مسئلہ كے ساتھ بيان فرمايا اور جملہ ''انا من شروطھا'' كے ذريعہ آپعليه‌السلام نے بنيادى اور كلى موضوع كى نشاندہى فرمائي، اسى وجہ سے آپعليه‌السلام نے روايت بيان كرنے سے پہلے اس روايت كے سلسلہ كو بھى بيان فرمايا اور لوگوں كے كثير مجمع كو يہ سمجھايا كہ امت كى رہبرى اور ولايت كا تعلق مبدا اعلى اور خدا سے ہے _ اس طرح آپعليه‌السلام نے اپنى امامت كو خدا كى طرف منسوب كركے حكومت مامون كى مشروعيت پر خط بطلان كھينچ ديا_

۳_امامعليه‌السلام نے ولى عہدى كو قبول كرنے كے لئے كچھ شرطيں ركھيں اور فرمايا (وليعہدى ) مجھے قبول ہے ليكن اس كى شرط يہ ہے كہ ميں امر و نہى كر نيو الا اور مفتى و قاضى نہيں رہوں گا كسى كو معزول و منصوب نہيں كروں گا اور كسى چيز كو تبديل نہيں كرونگا_(۳۶)

امامعليه‌السلام نے يہ منفى موقف اختيار كركے مامون كے بعض مقاصد پر خط بطلان كھينچ ديا اس لئے كہ اس روش كو اختيار كرنا مندرجہ ذيل باتوں كى دليل ہے :


الف _لوگوں كے ذہنوں ميں بہت زيادہ شبہ اور ابہام كا پيدا كرنا اور نتيجہ ميں مامون كو متہم كردينا _

ب_مامون حكومت كى شرعى حيثيت كو ختم كرنا_

ج_اپنى پارسائي اور زہدكااثبات

۴_نماز عيد اور امام كا موقف_

مامون نے امامعليه‌السلام سے چاہا كہ نماز عيد پڑھاديں آپعليه‌السلام نے جواب ديا كہ ميرے اور تمہارے درميان جو شرطيں ہيں ان كى بنا پر تم مجھ كو معذور سمجھو_ مامون نے كہا ''اس سے ہمارا مقصديہ ہے كہ لوگ مطمئن ہو جائيں اور آپ كى فضيلت كو پہچان ليں _

امامعليه‌السلام نے جب مامون كا اصرار ديكھا تو فرمايا كہ اگر مجبوراً مجھے اس كام كے لئے جانا ہى پڑا تو ميں نماز ادا كرنے كے لئے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت اميرالمؤمنينعليه‌السلام كى طرح نكلوں گا_

مامون نے قبول كيا اور حكم ديا كہ حكام ،دربارى اور عام افراد عيد كى صبح كو امام رضاعليه‌السلام كے گھر كے پاس حاضر ہوں _

عيد كى صبح ہوئي ، امامعليه‌السلام نے غسل فرمايا اور سفيد عمامہ مخصوص انداز سے اپنے سر پر ركھا اپنے آپ كو خوشبو سے معطر كيا ، ہاتھ ميں عصاليا اور ننگے پير اس حالت ميں كہ اپنے لباس كے دامن كو آدھى پنڈلى تك اوپر اٹھاركھا تھا نكلے اور اپنے گھر كے افراد كو بھى آپعليه‌السلام نے حكم ديا كہ اسى انداز سے باہر نكليں اس كے بعد سر كو آسمان كى طرف بلند كركے آپعليه‌السلام نے تكبير كہى ، آپعليه‌السلام كے ساتھ چلنے والوں نے بھى آپعليه‌السلام كى آواز سن كر تكبير كہى _ لشكر كے كمانڈر ، مملكت كے اعلى عہدوں پر فائز افراد اور عوام گھر سے با ہر نہايت سج دھج كے ساتھ منتظر كھڑے تھے جب امامعليه‌السلام كو ايسى حالت ميں ديكھا تو سواريوں سے اتر پڑے اور پيروں سے جوتے نكال ڈالے _ امامعليه‌السلام تكبيروں كو بار بار دہرا تے رہے اور جم غفير،ان كے ساتھ تكبير كہتارہا _ما حول ميں ايسى عظمت برس رہى تھى اور ايسا شور ہورہا تھا جيسے آسمان وزمين، در و ديوار شہر مرو، ان كے ساتھ تكبير كہہ رہے ہوں لوگوں ميں ايسى كيفيت


تھى كہ بے اختيار نالہ و گريہ كى آواز بلند ہونے لگى _امامعليه‌السلام راستہ ميں چلتے رہے ليكن ہر دس قدم كے بعد كھڑے ہوجاتے اور چار بار تكبير كہتے _(۳۷)

فضل بن سہل نے اس كى رپورٹ مامون كو دى اور اتنا اضافہ كيا كہ '' اگر رضاعليه‌السلام اسى طرح بڑھتے رہے تو فتنہ و آشوب بر پا ہو جائے گا اور ہمارے پاس جان بچانے كا كوئي ذريعہ نہيں ہے آپ ان تك يہ پيغام بھيج ديں كہ لوٹ جائيں ''_

مامون نے امامعليه‌السلام سے كہلو ا بھيجا كہ '' ہم نے آپ كو زحمت دى آپ لوٹ جائيں جو پہلے نماز پڑھاتا تھا وہى نماز پڑھائے گا ''_

امامعليه‌السلام وہيں سے پلٹ گئے(۳۸) او وہ لوگ جو آشفتہ اور پراگندہ تھے انہوں نے مامون كے نفاق اور عوام فريبى كو سمجھ ليا اور يہ جان ليا كہ مامون امامعليه‌السلام كے لئے جو كچھ كررہا ہے وہ فقط دكھا واہے اس كا ہدف صرف اپنے سياسى مقاصد تك پہنچنا ہے _

شہادت امامعليه‌السلام

مامون امامعليه‌السلام كى روز افزوں عزت ووقعت كو ديكھ كر ہميشہ خوف زدہ رہتا تھا _ جب اس نے يہ سمجھ ليا كہ امامعليه‌السلام كو اپنے سياسى اغراض و مقاصد كے لئے كسى طرح بھى استعمال نہيں كر سكتا تو اس نے امامعليه‌السلام كے قتل كا ارادہ كر ليا ، اس لئے كہ وہ جانتا تھا كہ جتنا زمانہ گذر تا جائے گا اتنى ہى زيادہ امامعليه‌السلام كى عظمت اور حقانيت نماياں ہوتى جائے گى اور اس كا فريب و نفاق واضح ہوتا جائے گا _

دوسرى طرف امامعليه‌السلام كو وليعہدى كے لئے معين كرنے سے بنى عباس خليفہ كے بارے ميں برانگيختہ ہو گئے _ اتنا بر ہم ہوئے كہ مخالفت ظاہر كرنے كے لئے انہوں نے '' ابراہيم ابن مہدى عباسى '' كى بيعت كر لى _(۳۹)

لہذا مخصوص منصوبہ كے تحت ماہ صفر كے آخر ميں ۲۰۳ ھ ق ميں جب آپعليه‌السلام كى عمر پچپن سال


كى تھى آپعليه‌السلام كو زہر دے ديا _(۴۰)

اور اپنے جرم پر پردہ ڈالنے كے لئے شہادت كى خبر پھيلنے كے بعد گريبان چاك ، سر پيٹتے آنكھوں سے آنسو بہاتے ہوئے امامعليه‌السلام كے گھر كى طرف دوڑا_

لوگ امامعليه‌السلام كى شہادت كى خبر سنتے ہى آپعليه‌السلام كے گھر كے اردگرد جمع ہو گئے _گريہ و نالہ كى آواز بلند تھى ، مامون كو آپ كے قاتل كى حيثيت سے لوگ ياد كررہے تھے اور بلند آواز سے فرياد كررہے تھے كہ'' فرزند رسول خدا قتل كرديئے گئے ''(۴۱) اور اپنے كو حضرتعليه‌السلام كے جسد مطہر كى تشييع كے لئے آمادہ كررہے تھے_

مامون نے محسوس كيا كہ اگر آپ كے جسد مطہر كى آشكارا تشييع كى گئي تو ممكن ہے كہ كوئي حادثہ پيش آجائے لہذا اس نے حكم ديا كہ اعلان كرديا جائے كہ آج تشييع نہيں ہو گي_ جب لوگ متفرق ہو گئے تو راتوں رات امامعليه‌السلام كو غسل ديا گيا اور ہارون كى قبر كے پاس جو باغ'' حميد ابن قحطبہ '' ميں واقع ہے سپرد خاك كرديا گيا_(۴۲)


سوالات

۱ _ آٹھويں امامعليه‌السلام كس تاريخ كو پيدا ہوئے اور كس تاريخ اور سن ميں آپ نے امامت كا منصب سنبھالا ، آپ كى امامت كى مدت كتنى تھى اور اس مدت ميں كتنے خلفائے بنى عباس كا زمانہ رہا ؟

۲_ ہارون كى حكومت كے مد مقابل امامعليه‌السلام كا موقف كيا تھا اور آپعليه‌السلام كے بعض اصحاب آپ كى جان كے سلسلہ ميں كيوں خوف ركھتے تھے؟

۳_ امين اور مامون كے درميان كشمكش اور جھگڑے نے امامعليه‌السلام رضا كو كيا حيثيت اور موقع فراہم كيا _

۴_ امامعليه‌السلام كى زندگى كے ۱۸ مہينے ميں كيا اہم اتفاقات رونما ہوئے اور يہ مسئلہ كس كى طرف سے اور كيوں اٹھا؟

۵_ ولى عہدى كى پيش كش كے مقابل امامعليه‌السلام كا كيا موقف تھا؟ آپ كے دو اقوال ذكر فرمايئے

۶_ آخر كار امامعليه‌السلام نے ولى عہدى كيوں قبول كى ؟

۷_ نيشاپور او رنماز عيد كے واقعہ كى مختصر توضيح كيجئے ؟

۸_ امامعليه‌السلام كس عمر اور تاريخ ميں كس طرح شہيد ہوئے ، شہادت كے بعد مامون كا كيا رد عمل رہا_؟


حوالہ جات

۱ كافى ج ۱ /۴۰۶ ،اعلام الورى ۲۱۳، ارشاد مفيد /۳۰۴ ، بحار جلد ۴۹/ ۲،۳ فصول المہمہ / ۲۴۴ _

۲ اس خاتون كا دوسرا نام تكتُّم تھا_

۳ اعلام الورى / ۳۱۳_

۴ اعلام الوري/ ۳۱۶ كافى ج ۱ / ۲۴۹ ، ارشاد مفيد /۳۰۶ ،الفصول المہمہ ۲۴۴_

۵ '' والامر الى ابنى على سمى على و علي''،/ اعلام الورى ۳۱۸_۳۱۷ ،كافى ج ۱/۲۵۲ _ ۲۵۱ ،ارشاد مفيد ۳۰۷ _ ۳۰۶_

۶ اعلام الوري/ ۳۲۷ ، بحار جلد ۴۹ /۹۱_۹۰ ،مناقب جلد ۴/ ۳۶۰ ،عيون اخبار الرضا ج۲ / ۱۸۳_۱۸۲_

۷ اعلام الوري/ ۲۲۸، بحار جلد ۴۹ /۸۹ ،عيون اخبار الرضا ج۲ / ۱۷۶،مناقب جلد ۴/ ۳۶۰ _

۸ ''انا قومٌ لا نستخدم اضيافنا'' كافى جلد ۶/۲۸۴، بحار جلد ۴۹/۱۰۲_

۹ مناقب جلد ۴/ ۳۶۲ بحار جلد ۴۹/ ۹۹_

۱۰ مہ ان الرب واحدٌ و الاب واحدٌ والجزاء بالاعمال ، بحار جلد ۴۹/ ۱۰۱ ،كافى جلد ۸/۲۳۰_

۱۱ كافى جلد ۶ / ۲۹۸، بحار جلد ۴۹/ ۱۰۲

۱۲ مناقب جلد ۴/ ۳۶۰

۱۳ ان مناظروں كے بارے ميں معلومات حاصل كرنے كے لئے كتاب بحار جلد ۴۹ / ۱۹۸ كے بعد كے صفحات اور عيون اخبار الرضا جلد ۱/۱۶۵_۹۵ ملاحظہ ہوں _

۱۴ ''ہذا خير اہل الارض واعلمہم و اعبدہم ...'' عيون اخبار الرضا جلد ۲/ ۱۸۲ ، بحار ج ۴۹ / ۹۵_

۵ دائرة المعارف فريدو جدى جلد ۴/ ۲۵۰ ''مادہ رضا'' مروج الذہب ۳/ ۴۴۱، كامل ابن اثير ج۶ / ۳۲۶، طبرى جلد ۸/ ۵۵۴_

۱۶ ارشاد مفيد / ۳۱۸ ،بحار جلد ۴۹ / ۱۱۳،۱۱۵، مناقب جلد ۴/۳۴۰، اعلام الورى / ۳۲۵، الفصول المہمہ / ۳۴۵_

۱۷ '' ان اخذہا رون من را سى شعرة فاشہدوا انى لست بامام ''كافى جلد ۸/۲۵۸ _ ۲۵۷ مناقب جلد ۴ / ۳۲۹،آخر كار وہى ہوا جو كہ امام نے فرمايا تھا ہارون كو امام پرہاتھ ڈالنے كى فرصت پانے كى


بجائے اپنے سپاہيوں كے ساتھ مشرقى ايران ميں پيدا ہونے والى شورش دبانے كے لئے خراسان كى طرف سے گذرا راستہ ميں بيمار ہوا اور انجام كار ۱۹۳ ھ ميں طوس ميں انتقال كرگيا تاريخ ابى الفداء جلد ۱ جزء دوم / ۱۸''_

۱۸ اس اختلاف كا سبب يہ تھا كہ ہارون نے امين كو اپنے بعد خلافت كے لئے مقرر كيا تھا ليكن اس كى شرط يہ تھى كہ وہ مامون كو اپنا وليعہد بنائے اور خراسان كے صوبہ كى حكومت اس كے حوالہ كردے ليكن امين نے ہارون كى موت كے بعد مامون كو ولى عہدى سے معزول كرديا اور اپنے بيٹے موسى كو اس عہدہ كے لئے نامزد كرديا _يہى بات ان دونوں كے درميان كشمكش اور خوں چكان جنگ كا باعث بنى ، كامل جلد ۶/۲۲۷_

۱۹ امام كے بصرہ اور كوفہ كے سفر اور آپ كى خدمت ميں پہونچ كر شيعوں كے استفادہ اور اسى طرح آپ كے مناظرہ كے بارے ميں بحار جلد ۴۹/ ۸۱ _۷۹ ملاحظہ ہوں _

۲۰ولقد كنت بالمدينه و كتابى ينفذ فى المشرق والمغرب بحار جلد ۴۹/۱۵۵_۱۴۴،كافى ج ۸/۱۵۱ _

۲۱ عيون اخبار الرضا جلد ۲/۱۶۲،۱۶۱_الحياة السياسية لامام الرضا/۱۴۶،مناقب ج ۴/۳۴۷،اعلام الورى /۳۳۸_

۲۲ يہ امام حسن مجتبىعليه‌السلام كى نسل سے تھے ،ابوالفرج نے جابر جعفى سے روايت كى ہے كہ حضرت امام محمد باقر _نے ان كى خروج كى خبر دى اور فرمايا ۱۹۹ھ ميں ہم اہل بيتعليه‌السلام ميں سے ايك شخص منبر كوفہ پر خطبہ پڑھے گا خدا اس كے وجود كى بنا پر ملائكہ پر مباحات كرے گا تتمةالمنتہى /۲۶۴،مقاتل الطالبين /۳۴۸_

۲۳ ضحى الاسلام ج ۳ /۲۹۴،تاريخ طبرى جلد ۸/۳۵۰،الحياة السياسية لامام الرضا/۱۸۳_

۲۴ الحياة السياسية لامام الرضا /۱۸۳منقول از مقاتل الطالبين ،البدايہ والنہايہ _

۲۵ الحياة السياسية لامام الرضاعليه‌السلام ۲۱۴_۲۱۳،بحار جلد ۴۹/۱۳۹،مسند امام رضا ۱/۷۸،۷۷،عيون اخبار الرضا ج ۲ /۱۵۲_

۲۶ الحياة السياسية لامام الرضا/۱۸۹_۱۸۸_

۲۷ مناقب جلد ۴/۳۶۳_عيون اخبارالرضا جلد ۲/۱۳۹،بحارجلد ۴۹/۱۲۹_

۲۸ انوار البھيّہ /۲۰۷،مناقب ج ۴ /۳۶۷،اعلام الورى /۳۴۳_

۲۹ مناقب ج ۴/۳۶۳،بحار ج ۴۹/۱۲۹،عيون اخبار الرضا جلد ۲/۱۳۹_۱۳۸_


۳۰ اس سلسلہ ميں ملاحظہ ہو مناقب جلد ۴/۳۶۳_۳۶۲،بحار جلد ۴۹/۱۳۰_۱۲۹،ارشاد مفيد /۳۱۰،عيون اخبار الرضا جلد ۲/۱۳۹_۱۳۸اعلام الورى /۳۳۳_۳۳۴_عنقريب ان شرائط كى طرف اشارہ كيا جائے گا امام جن شرطوں كے قائل تھے _

۳۱ عيون اخبار الرضا جلد ۲/۱۳۶،بحار جلد ۴۹/۱۳۰_

۳۲ عيون اخبار الرضا جلد ۲/۱۳۹،مناقب جلد ۴/۳۶۴،بحار جلد ۴۹/۱۴۰_ شايد امام كا نظريہ يہ رہا ہو كہ لوگ اہل بيت كو سياست كے ميدان ميں ديكھ ليں اور ان كو بھول نہ جائيں _ شايد اصل كى تشبيہ خفيہ مصالح پر مشتمل رہى ہو _

۳۳ مناقب جلد ۴/۳۶۴،بحار جلد ۴۹ /۱۳۰_

۳۴ بحار جلد ۴۹/۱۱۷،مناقب جلد ۴/۳۴۰،عيون اخبار الرضا جلد ۲/۲۱۹_

۳۵ بحار جلد ۴۹/ ۱۲۳_ مسند امام رضا جلد ۱/۵۹ ''مقدمہ ''و ۴۳ ،عيون اخبار الرضا جلد ۲/ ۱۳۲_۱۳۴،الفصول المہمہ/۲۵۴_

۳۶ مناقب جلد ۴/۳۶۳،ارشاد مفيد /۳۱۰،اعلام الورى /۳۳۴''اجيبك الى ما تريد من ولاية العهد على اننى لا امر و لاانهى و لا افتى و لا اقصى و لا اوى و لا اعزل و لا اغيرّ شيئاً مما هو قائمٌ'' _

۳۷ تكبير كى صورت اس طرح تھى :الله اكبر ،الله اكبر على ما هدانا ،الله اكبر على ما رزقنا من بهيمة الانعام و الحمدالله على ما ابلانا _

۳۸ ارشاد مفيد /۳۱۳_۳۱۲_الحياة السياسة الامام الرضا /۳۵۵_۳۵۳،عيون اخبار الرضا جلد ۲/۱۴۹ _۱۴۸ _ بحار جلد ۴۹/۱۳۵_۱۳۴_اعلام الورى /۳۳۶_۳۳۷الفصول المہمة/۲۶۱_۲۶۰_

۳۹ عيون اخبار الرضا جلد ۲/۱۶۳،كامل ابن اثير جلد ۶/۳۲۷_۳۴۱_

۴۰ بحار جلد ۴۹/۲،ارشادمفيد /۳۰۴،مسند امام الرضا جلد۱/۱۰،كافى جلد ۱/۴۰۶،فصول المہمہ/۲۶۴_

۴۱ قتل ابن رسول اللہ _

۴۲ عيون اخبار الرضاجلد ۲/۲۴۴،مسند الامام الرضا جلد ۱/۱۳۱_۱۳۰_


بارہواں سبق :

امام محمد تقىعليه‌السلام كى سوانح عمري


ولادت

امام رضا _كى عمر ۴۵ سال سے زيادہ ہو چكى تھى ليكن ابھى تك آپ كے ہاں كوئي اولاد نہيں تھيں _

يہ بات شيعوں كے لئے جو كہ _ پيغمبر -صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہعليه‌السلام كى روايتوں كى بنا پر _ اس بات كے معتقد تھے كہ نويں امام كو آٹھويں امام كا بيٹا ہونا چاہيئے اسى وجہ سے كبھى امام كى خدمت ميں پہنچ كر شيعہ اپنى تشويش كا اظہار كرتے اور امامعليه‌السلام جواب ميں ان كا دل ركھتے ہوئے فرماتے تھے كہ '' خدا ہم كو بيٹا دے گا _(۱)

آخر كار انتظار كى گھڑياں ختم ہوئيں اور دسويں ماہ رجب ۱۹۵ ھ ق كو آسمان ولايت كا نواں ستارہ طلوع ہوا(۲) _ آپ كا نام ''محمد '' كنيت ''ابوجعفر '' اور سب سے مشہور القاب '' جواد'' اور ''تقي'' ہيں _ آپ كى والدہ گرامى كا نام ''سبيكہ '' تھا امام رضاعليه‌السلام نے ان كا نام '' خيزران'' ركھا _ آپ رسول خداعليه‌السلام كى زوجہ جناب ماريہ قبطيہ كے خاندان سے تھيں _

اس خاتون كى عظمت و بزرگى كے لئے اتنا ہى كافى ہے كہ امام موسى ابن جعفرعليه‌السلام نے آپ كے گھرامام رضا _كے آنے سے برسوں پہلے آپ كى بعض خصوصيات كو بيان فرمايا اور _ اپنے ايك صحابي_ ابن سليط سے كہا كہ اگر ان سے ملاقات ممكن ہو تو ان تك ميرا سلام پہنچانا _(۳)

ابو يحيى صنعانى نقل كرتے ہيں كہ ميں امامعليه‌السلام رضا _كى خدمت ميں حاضر تھا كہ لوگ امام جوادعليه‌السلام كو _ جو اس وقت كم سن تھے_ لے آئے حضرتعليه‌السلام نے فرمايا '' يہ بچہ وہ مبارك بچہ ہے كہ ہمارے


شيعوں كے لئے اس سے زيادہ مبارك بچہ پيدا نہيں ہوا ہے _(۴)

شايد امام كے قول كى دليل وہى ہو جس كى طرف اس سے پہلے اشارہ ہو چكا ہے اس لئے كہ امام جوادعليه‌السلام كى پيدائشے نے شيعوں كى يہ تشويش ختم كردى كہ امام رضا _كا كوئي جانشين نہيں ہے چنانچہ آپ كى ولادت ايمان و اعتقاد كى استوارى كا سبب بنى _(۵)

تعيين امامت

ہر چند كہ نويں امامعليه‌السلام كى امامت محتاج بحث نہيں ہے اس لئے كہ رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور سابق ائمہعليه‌السلام كے تصريحى بيانات كے علاوہ يہ بات بھى ہے كہ آپعليه‌السلام آٹھويں امامعليه‌السلام كے ايك ہى بيٹے تھے اور آپ كے علاوہ خاندان علوى ميں كوئي بھى اس الہى منصب كے لائق نہ تھا ليكن نمونہ كے طور پر آپعليه‌السلام كى امامت كے سلسلہ ميں امام رضا _كے چند صريحى بيانات پيش كئے جارہے ہيں _

۱_ '' محمد ابن ابى عباد '' نقل كرتے ہيں كہ ميں نے امام رضا _سے سنا آپ فرما رہے تھے كہ ميرے بعد ابوجعفر ميرے خاندان كے درميان ميرے وصى اور جانشين ہوں گے(۶) _

۲_ '' عبداللہ ابن جعفر '' نقل كرتے ہيں كہ ميں صفوان ابن يحيى كے ساتھ امام رضاعليه‌السلام كى خدمت ميں پہنچا ، امام جواد _بھى جو ابھى تين سال كے تھے وہاں موجود تھے ميں نے امامعليه‌السلام سے پوچھا كہ اگر كوئي حادثہ پيش آجائے تو آپ كا جانشين كون ہوگا؟ امامعليه‌السلام نے ابوجعفرعليه‌السلام كى طرف اشارہ كيا اور فرمايا: '' ميرا بيٹا'' ميں نے عرض كيا كہ '' اس سن و سال ميں ؟'' آپعليه‌السلام نے فرمايا '' ہاں اسى سن و سال ميں ، خداوند عالم نے حضرت عيسى ابن مريمعليه‌السلام كو اپنى حجت قرار ديا جبكہ آپ دوسالہ بچے تھے_''(۷)

۳_ '' خيراني'' اپنے باپ سے نقل كرتے ہيں كہ انہوں نے كہا كہ ميں خراسان ميں امام رضا_كے پاس تھا كسى نے آپ سے دريافت كيا ، اگر آپ كے ساتھ كوئي حادثہ پيش آجائے تو


كس كى طرف رجوع كيا جائے ؟

آپ نے فرمايا:'' ميرے بيٹے ابوجعفر _كى طرف''گويا سوال كرنے والے نے حضرت امام جوادعليه‌السلام كى عمر كو كافى نہيں سمجھا _ اسى لئے امامعليه‌السلام نے اضافہ فرمايا كہ خداوند عالم نے حضرت عيسى بن مريمعليه‌السلام كو نبوت و رسالت كے لئے معين فرمايا جبكہ ان كى عمر ، ابوجعفر كى اس وقت كى عمرسے بھى كم تھى _(۸)

والد كے ساتھ

امام جواد _نے اپنى عمر كے تقريباً چھ سال(۹) اپنے والد بزرگوار امام رضاعليه‌السلام كے ساتھ گذارے ، جس سال حضرت رضاعليه‌السلام كو خراسان بھيجا گيا آپ اپنے والد كے ساتھ مكہ تشريف لے گئے _ حالت طواف ميں آپ نے نہايت غور اور دقت نظر سے اپنے پدر بزرگوار كے اعمال اور ايك ايك بات كا جائزہ ليا اور يہ محسوس كيا كہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس شخص كى طرح خانہ خدا كو وداع كررہے ہيں جسے اب پھر دوسرى بار لوٹ كر نہيں آنا ہے اس وجہ سے آپ _ جبكہ آپ كے چہرہ پر غم و اندوہ كے آثار تھے_ حجر اسماعيل كے اندر بيٹھے تھے اور امام رضا _كے خادم سے جس نے آپ كو وہاں سے اٹھانا چاہا فرمايا : ميں يہيں رہوں گا اور اپنى جگہ سے حركت نہيں كروں گا جب تك خدا كا حكم نہ ہو _

خادم نے يہ ماجرا امام رضا _سے بيان كيا امامعليه‌السلام بہ نفس نفيس اپنے بيٹے كے پاس پہنچے اور آپعليه‌السلام نے فرمايا ميرے لال اٹھو چليں ، آپ نے عرض كيا '' بابا جان ،ہم كيسے چليں جبكہ ہم يہ ديكھ رہے ہيں كہ آپعليه‌السلام كعبہ كو اس طرح وداع كررہے ہيں جيسے دوسرى بار پلٹ كر نہيں آناہے(۱۰) ''

ايك معصوم بچے كى چھ سال كى عمر ميں اس درجہ كمال اور ذاتى نبوغ كا اظہار ہو رہا ہے _


آپعليه‌السلام كى امامت

نبوت كى طرح امامت بھى ايك الہى عطيہ ہے جسے خداوند عالم اپنے منتخب اور لائق بندوں كو عطا كرتا ہے او اس بخشش و عطا ميں سن و سال كا كوئي دخل نہيں ہے _ نويں اما م آٹھ يا نو سال كى عمر ميں امت كى امامت اور رہبرى كے منصب پر فائز ہوئے _

''معلّى بن محمد '' نقل كرتے ہيں كہ امام رضاعليه‌السلام كى رحلت كے بعد ميں امام جواد _سے ملا اور ان كے قد و قامت كو بغور ديكھا تا كہ شيعوں كے سامنے ان كى توصيف كر سكوں اسى اثنا ء ميں آپعليه‌السلام بيٹھ گئے اور فرمايا : '' اے معلّى ، خدا نے امامت ميں بھى نبوت كى طرح احتجاج كيا ہے اور فرمايا ہے:

'' و اتنيناہ الحكم صبيّا''(۱۱)

ہم نے يحيى كو بچپن ميں نبوت دي_(۱۲)

مكارم اخلاق و فضائل

ائمہ معصومين كى خصوصيتوں ميں سے ايك حقيقتوں كى شناخت اور اس كا ادراك عام لوگوں كى قوت ادراك سے زيادہ تھا _ اس ذاتى نبوغ اور عقلى فروغ كے ظہور كے لئے بچپن بھى مانع نہيں تھا ، اسى وجہ سے ان حضرات كى زندگى اور ان كى عادتيں پيدائشے ہى سے دوسروں كے لئے اسوہ اور نمونہ قرار پاتى ہيں _ ان حضرات كى علمى برترى اور مراتب كمال كا علماء اور بزرگوں كا اعتراف ، اس حقيقت كى مؤيد ہے _ امام محمد تقىعليه‌السلام كے اخلاقى فضائل كا گوشہ بيان كرنے سے پہلے اہل سنت كے علماء كاان كے بارے ميں نظريہ بيان كرنا ضرورى ہے _

سبط ابن جوزى فرماتے ہيں : ''محمد جوادعليه‌السلام علم ، تقوى ، پرہيزگارى اور سخاوت ميں اپنے والد بزرگوار كے راستہ پر تھے _(۱۳)


'' ابن تيميہ'' كا بيان ہے كہ محمد ابن على _جن كا لقب جواد تھا بنى ہاشم كے بزرگوں اور ممتاز شخصيتوں ميں سے تھے وہ سخاوت اور بزرگى ميں مكمل شہرت ركھتے تھے _ اسى وجہ سے جواد نام پڑا_(۱۴)

الف _ جود وسخاوت

امام جواد _، بخشش و عطا اور كرامت كا مكمل مصداق تھے لوگ ان كے عطيوں او عنايتوں سے بہرہ ورہوتے تھے _ اس حقيقت كى نشان دہى '' جوادعليه‌السلام '' كے لقب سے ہوتى ہے '' على بن ابراہيم '' اپنے والد سے نقل كرتے ہيں كہ ميں امام جوادعليه‌السلام كى خدمت ميں تھا كہ '' صالح ابن محمد'' _ قم كے اوقاف كے متولى(۱۵) _ وہاں آئے اور عرض كيا : ميرے آقا وقف كى آمدنى ميں سے دس ہزار درہم حلال كر ديجئے ، اس لئے كہ ہم نے اس كو اپنے خاندان كے نفقہ ميں خرچ كرديا ہے _

امام نے خندہ پيشانى سے فرمايا : ميں نے حلال كيا _(۱۶)

ب_ دوسروں كى مشكل كو حل كرنا

بست سجستانى(۱۷) سے قبيلہ بنى حنيفہ كا ايك شخص نقل كرتا ہے كہ ميں معتصم كى خلافت كے ابتدائي زمانہ ميں مكہ كے سفر ميں امامعليه‌السلام كے ساتھ تھا_ حكومت كى كچھ ذمہ دار افراد بھى دستر خوان پر حاضر تھے _ ميں نے امامعليه‌السلام سے عرض كيا كہ آپ پر فدا ہوجاؤں ، ميرے علاقہ كا حاكم آپ كے خاندان كے دوستداروں ميں سے ہے اور خراج كے سلسلہ ميں ، ميں اس كے محكمہ كا قرضدار ہوں ليكن مجھ ميں ادا كرنے كى طاقت نہيں ہے _ اگر آپ مصلحت سمجھيں تو اس كو ايك خط لكھ ديں تا كہ وہ اس سلسلہ ميں ہمارے حق ميں محبت كا ثبوت دے _

امامعليه‌السلام نے فرمايا: كہ ميں اس كو نہيں پہچانتا ميں نے عرض كيا كہ:'' جيسا كہ ميں نے كہا كہ وہ آپ كا عقيدت مند ہے اس لئے يقينى طور پر آپ كا خط ميرے لئے مفيد ہو گا _ امامعليه‌السلام نے كا غذ قلم اٹھا يا اور لكھا حامل رقعہ نے تمہارے عقيدہ كى تعريف كى ، جان لو كہ اگر تم احسان اور نيك كام


كروگے وہ تمہارے لئے فائدہ مند ہو گا _ اس بنا پر اپنے برادران دينى كے ساتھ حسن سلوك اور نيكى كرو اور يہ جان لو كہ خداوند عالم ايك ذرہ برابر شے كے بارے ميں بھى تم سے سوال كريگا(۱۸) ميں نے خط ليا اور چل پڑا جب خط كى اور ميرے پہنچنے كى خبر سجستان كے انچارج كے پاس پہنچى تو وہ شہر سے دو فرسخ دور تك ميرے استقبال كے لئے آيا اس نے خط ليا اس كو چوما اور اپنى آنكھوں سے لگايا اور پوچھا تمہارى كيا حاجت ہے؟ ميں نے اس سے اپنى پريشانى بيان كى اس نے حكم ديا كہ ميرا نام قرض والے رجسٹر سے نكال ديا جائے _ اور جب تك وہ انچارج كام پررہا ميرا ٹيكس معاف رہا _ اس كے علاوہ اس نے ميرى اچھى خاصى مدد كى اور جب تك وہ زندہ رہا اس خط كى بركت سے اس نے ميرے حق ميں نيكى اور حسن سلوك ميں كوئي كمى نہيں كى(۱۹)

۳_ '' محمد ابن سہل قمى '' نقل كرتے ہيں كہ ميں مدينہ گيا اور امام جوادعليه‌السلام كے پاس پہنچا اور ميں نے چاہا كہ ان سے ايك لباس مانگ لوں ليكن ميں مانگ نہ سكا ، ميں نے اپنے دل ميں كہا كہ اپنى خواہش لكھ كردوں پھر ميں نے لكھ ديا ليكن ميرے دل ميں يہ بات گذرى كہ خط كو نہ بھيجوں ، ميں نے خط پھاڑ ڈالا اور مكہ كى طرف چل پڑا _ اسى حال ميں ايك شخص كو ميں نے ديكھا كہ اس كے ہاتھ ميں ايك رومال ہے اور وہ قافلہ ميں مجھ كو ڈھونڈھ رہا ہے_ وہ مجھ تك پہنچا اور اس نے كہا: ميرے آقا نے تيرے لئے يہ لباس بھيجا ہے _(۲۰)

امام جوادعليه‌السلام كى شخصيت

امام جوادعليه‌السلام نے امامت كے انوار مقدس كے پر تو اور خدا كى عبادت و بندگى ميں ايسى اجتماعى شخصيت اور حيثيت حاصل كى كہ جس كا اعتراف دوست و دشمن دونوں ہى كرتے ہيں _

آپعليه‌السلام كے سخت ترين دشمن مامون نے آپ سے اپنى بيٹى كى شادى كے سلسلہ ميں عباسيوں كے اعتراض كے جواب ميں كہا : ميں نے ان كا انتخاب اس لئے كيا ہے كہ ميں نے كمسنى كے


باوجود علم و فضل ميں ان كو سب سے ممتاز پايا_(۲۱)

آپعليه‌السلام كى شخصيت اپنے پدر بزرگوار كے نزديك ايسى تھى كہ '' محمد ابن ابى عباد'' _ كاتب امام رضاعليه‌السلام بيان كرتے ہيں كہ امام رضا _اپنے بيٹے محمد كو ہميشہ كنيت كے ساتھ ياد كرتے تھے(۲۲) _ ( اور جب امام جوادعليه‌السلام كا خط پہنچتا تھا) تو فرماتے تھے كہ '' ابوجعفر نے مجھے لكھا ہے''(۲۳)

'' محمد بن حسن ابن عمار'' نقل كرتے ہيں :

'' دو سال تك ميں مدينہ ميں على بن جعفر كى خدمت ميں جاتا رہا انہوں نے جو روايت اپنے بھائي موسى ابن جعفر سے سنى تھى مجھ سے بيان كيا كرتے تھے اور ميں لكھتا رہتا تھا _

ايك دن ميں مسجد نبوى ميں ان كے پاس بيٹھا تھا كہ امام جوادعليه‌السلام تشريف لائے _ على ابن جعفر بغير جوتے اور ردا كے اپنى جگہ سے اٹھے ، آپ كے ہاتھوں كو بوسہ ديا آپ كى تعظيم كى ، امامعليه‌السلام نے ان سے فرمايا اے چچا آپ بيٹھئے خدا آپ پر رحمت نازل كرے _

انہوں نے كہا : اے ميرے سردار : ميں كيسے بيٹھ سكتا ہوں جبكہ آپ كھڑے ہيں ، جب على ابن جعفر اپنى جگہ پلٹ آئے تو ان كے دوستوں اور ساتھيوں نے ان كى سرزنش كى اور كہا كہ آپ ان كے باپ كے چچا ہيں اور اس طرح ان كا احترام كرتے ہيں

على ابن جعفر نے فرمايا : چپ رہو خدا نے اس سفيد داڑھى كو _ اپنى داڑھى كى طرف اشارہ كرتے ہوئے _ امامت كے لائق نہيں سمجھا اور اس جوان كو اس كے لائق پايا اور امام قرارد يا ( كيا تم چاہتے ہو كہ) ان كى فضليت كا انكار كردوں ؟ تم جو كہتے ہو ميں اس سے خدا كى پناہ مانگتا ہوں ، ميں اس كا بندہ ہوں _(۲۴)

خلافت كے مقابلہ ميں امامعليه‌السلام كا موقف

آپعليه‌السلام كے سات سالہ زمانہ امامت ميں آپعليه‌السلام كے ہم عصر ،مامون اور معتصم نامى دو خلفا ء تھے


ان كى حكومت كے زمانہ ميں آپ كا موقف امام على ابن موسى الرضاعليه‌السلام كے موقف كو جارى ركھنا تھا ، اور اس كى وجہ يہ تھى كہ خلافت كى مشينرى كے موقف ميں اتحاد پايا جاتا تھاجيسا كہ اس سے پہلے بيان ہو چكا ہے كہ امام رضا _كى وليعہدى سے امامت كا موقف بنى عباس كى طاقت كے مركز تك پہنچ گيا تھا _ اور چونكہ حكومت نے اپنے موقف كو تبديل نہيں كيا اس بنا پر بيٹھ رہنا درست نہ تھا_

خلافت كى مشينرى نے بھى اس مسئلہ كو بخوبى درك كرليا تھا اور امام رضاعليه‌السلام كو نماز عيد سے روك دينا بھى اسى حقيقت كى بنا پر تھا _ مامون اس سے ڈرتا تھا كہ ايك نماز پڑھا كر خلافت پر تصرف كرنے كے لئے امامعليه‌السلام كہيں زمينہ ہموار نہ كرليں _

شادى كى سازش

مامون نے بہت كوشش كى كہ امام رضاعليه‌السلام كو زہر ديا جانيوالا واقعہ بہت خفيہ اور پوشيدہ طور پر انجام پاجائے ليكن تمام پردہ پوشيوں اور ريا كاريوں كے باوجود آخر كار علويوں پر يہ بات آشكار ہو گئي كہ امامعليه‌السلام كا قاتل اس كے علاوہ اور كوئي نہيں تھا لہذا مامون بہت ناراض ہوا اور انتقام پر ا ترآيا_

انقلابيوں كى چارہ جوئي كرنے اور ان كى رضامندى حاصل كرنے كے لئے مامون نے آٹھويں امام كے فرزند كے لئے مہربانى اور دوستى كا اظہار كيا اور زيادہ فائدہ حاصل كرنے كے لئے اس نے يہ ارادہ كيا كہ اپنى بيٹى '' ام الفضل'' كى شادى امام جوادعليه‌السلام سے كردے _ اور اس نے كوشش كى كہ امام رضاعليه‌السلام پر ولى عہدى تھوپ كر اس نے جو فائدہ حاصل كرنے كى كوشش كى تھى اس رشتہ كو قائم كر كے وہى فائدہ حاصل كرلے _

بنى عباس كو مامون كے اس ارادہ سے خوف محسوس ہوا اور صورت حال كو قبل از وقت روكنے كے لئے جو امام رضاعليه‌السلام كے زمانہ ميں پيدا ہو گئي تھى ، جمع ہو كر ايك وفد كى صورت ميں مامون كے


پاس پہنچے اور كہنے لگے گذشتہ زمانہ ميں ہمارے اور علويوں كے درميان جو كچھ ہوا آپ اس سے اچھى طرح واقف ہيں اور آپ يہ بھى جانتے ہيں كہ گذشتہ خلفاء نے ان كو شہر بدر كيا اور ان كى توہين كى ہے _ ہم اس سے پہلے امام رضاعليه‌السلام كى ولى عہدى سے فكرمند تھے ليكن خدا نے وہ مشكل حل كردى _

اب ہم آپ كو خدا كا واسطہ ديتے ہيں كہ آپ ہم كو دوبارہ غمگين نہ كريں اور اس شادى سے صرف نظر كريں اور اپنى بيٹى كو بنى عباس كے كسى ايسے فرد سے بياہ ديں جو اس رشتہ كے لائق ہو ، '' مامون نے ان كے جواب ميں علويوں كى بزرگى ، خلفاء سابقين كى خطا اور ولى عہدى كے مسئلہ كى تائيد كرتے ہوئے امام جوادعليه‌السلام كى تعريف كى اور بزرگى بيان كى او ر كہا كہ ميں اس جوان كو تم سے زيادہ جانتا ہوں يہ ايسے خاندان سے ہيں جن كا علم خداداد ہے ، ان كے آباء و اجداد ہميشہ علم دين و ادب ميں لوگوں سے بے نياز تھے_(۲۵)

يہ دوستى كا مظاہرہ اور مكارانہ رياكاريوں كے ذريعہ اس شادى سے سياسى مقصد حاصل كرنے كے علاوہ مامون كا اور كوئي مقصد نہ تھا ، جو مقاصد وہ حاصل كرنا چاہتا تھا ان ميں سے چند كى طرف اشارہ كيا جاتا ہے :

۱_ اس كا ارادہ تھا كہ اس رشتہ سے دامن پر لگے ہوئے قتل امام رضاعليه‌السلام كے داغ كو صاف كردے اور اپنے خلاف علويوں كے اعتراضات اور قيام كو روك دے اور اہل بيتعليه‌السلام كے دوستدار و طرفدار كے عنوان سے اپنا تعارف كرائے _

۲_ اپنى بيٹى كو امامعليه‌السلام كے گھر بھيج كر ہميشہ كے لئے حضرت كے كاموں كى نگرانى كرنا _

۳_ مامون كا خيال خام يہ تھا كہ اس ازدواج كے ذريعہ امامعليه‌السلام كو عيش و عشرت كے دربار سے وابستہ كرديگا اور ان كو لہو ولعب اور عيش و عشرت والى زندگى گذار نے پر آمادہ كردے گا _ تا كہ اس راستہ سے امامعليه‌السلام كى عظمت اور تقدس كو ٹھيس پہنچائے اور آپعليه‌السلام كو عصمت و امامت كے بلند مقام سے گرا كر لوگوں كى نظروں ميں حقير كردے _


'' محمد ابن ريان'' نقل كرتے ہيں كہ مامون نے بہت كوشش كى كہ امام كو لہو و لعب كے لئے آمادہ كرے ليكن كامياب نہيں ہو ا _ اس كى بيٹى كى شادى كے جشن ميں سو ايسى خوبصورت كنيزيں جو جواہرات سے بھرے ہوئے جام اپنے ہاتھوں ميں لئے تھيں ، مامون نے ان سے كہا كہ امامعليه‌السلام كے آنے كے بعد ان كے استقبال كو بڑھيں ، وہ كنيزيں استقبال كو بڑھيں ليكن امام جوادعليه‌السلام بغير كوئي توجہ ديئےہاں وارد ہوئے اور آپعليه‌السلام نے عملى طور پر يہ بتاديا كہ ہم ان كاموں سے بيزار ہيں _(۲۶)

مامون ان مقاصد اور دوسرے مقاصد تك پہنچنے كے لئے _ امام رضاعليه‌السلام كى شہادت كے ايك سال بعد ۲۰۴ھ ق ميں امام جوادعليه‌السلام كو مدينہ سے بغداد لے آيا اور اس نے اپنى بيٹى كى ان سے شادى كردى اور اس بات پر اصرار كيا كہ امام بغداد ہى ميں اس كے مزيّن محلوں ميں زندگى گذاريں _

ليكن امامعليه‌السلام نے مدينہ واپس جانے پر اصرار كيا ، تا كہ مامون كے بنائے ہوئے نقشہ كو نقش بر آب كرديں اس وجہ سے آپعليه‌السلام اپنى بيوى كے ساتھ مدينہ پلٹ گئے اور ۲۲۰ ھ ق تك مدينہ ميں مقيم رہے _

علمى اور ثقافتى كوششيں

امام جواد _نے بادل نخواستہ مختلف صورتوں ميں خلافت كى مشينرى كے زير نگرانى زندگى گذارى مگر اس درميان امكانى حد تك سماجى اور ثقافتى محاذوں پر كوششيں كرتے رہے _

ان محاذوں ميں سے '' بحث و مناظرہ'' كا ايك محاذ ہے _ امامعليه‌السلام نے اس موقف ميں اپنے پدر بزرگوار كى روش كو برقرار ركھا اور آپعليه‌السلام نے ان جلسوں ميں شركت كى جو مامون نے امامعليه‌السلام كى علمى اور ثقافتى حيثيت كو شكست دينے كے لئے منعقد كئے تھے اور حقائق و معارف اسلامى كے بيان كے


ساتھ ساتھ آپعليه‌السلام نے دربار خلافت سے وابستہ فقاہت اور دربارى قاضى القضاة كے چہرہ كو بے نقاب كيا _

مامون نے امام نہم كى امامت كے آغاز ميں دوبار مجلس مناظرہ منعقد كى ايك مجلس ميں جس ميں بنى عباس كے بہت سے افراد ، نماياں اور ممتاز دربارى شخصيتيں موجود تھيں ، مامون نے _ اس زمانہ كے قاضى القضاة _ '' يحيى بن اكثم'' كو امامعليه‌السلام سے سوال كرنے كے كئے كہا _

اس نے پہلا سوال اس طرح كيا:

آپ اس شخص كے بارے ميں كيا فرماتے ہيں جس نے حالت احرام ميں شكار كيا ہو ؟ امامعليه‌السلام نے فرمايا ( مسئلہ كى مختلف صورتيں ہيں ) حرم كے اندر تھا يا باہر ، اس كو اس كا م كى حرمت كى خبر تھى يا نہيں ، عمداً اس نے شكار كيا يا سہواً ، غلام تھا يا آزاد ، شكار چھوٹا تھا يا بڑا ، اس نے پہلى بار ايسا كيا ہے يا دوسرى بار ، شكار پرندہ كا تھا يا غير پرندہ ،چھوٹا تھا يا بڑا ، شكار كے بعد اپنے فعل پروہ پشيمان تھا يا پھر كرنے كا ارادہ ركھتا تھا ، شكار رات ميں كيا تھا يا دن ميں ،اس كا احرام عمرہ كا احرام تھا يا حج كا؟

امامعليه‌السلام نے جب مسئلہ كى اس طرح عالمانہ شقيں بيان كيں اور اس كى يوں تشريح كردى تو يحى بن اكثم انگشت بدندان رہ گيا ، اس كے چہرہ پر شكست كے آثار نماياں ہوگئے ، اس كى ز بان لكنت كرنے لگى اس طرح كہ وہ مذكورہ بالا صورتوں ميں سے كسى صورت كا يقين نہ كر سكا _ حاضرين نے امامعليه‌السلام كى علمى صلاحيت و قدرت اور قاضى القضاة كى شكست كا اندازہ كر ليا_(۲۷)

امام جواد _مامون كے منعقدكئے ہوئے جلسوں كے علاوہ ضرورى موقع پر اسلامى ثقافت كى توسيع اور شبہات و اشكالات كو دور كرنے كے لئے مختلف گوشہ و كنارسے مدينہ آئے ہوئے علماء اور دانشمندوں كے ساتھ بحث و گفتگو كرنے كيلئے بيٹھتے تھے ، نمونہ كے طور پر ايك مورد پيش كيا جاتا ہے : بغداد اور دوسرے شہروں كے اسّى افراد حج كے بعد مدينہ كو چلے تا كہ امامعليه‌السلام جواد سے ملاقات كريں ، وہ لوگ پہلے عبداللہ ابن موسى ( امام كے چچا) سے ملے ليكن وہ ان كے مسائل كے جواب سے عاجز رہے اتنے ميں امام جواد _ تشريف لائے اور آپ نے ان كے ايك ايك مسئلہ اور


مشكلات كا جواب عنايت فرمايا ، علماء نہايت مسرت كے عالم ميں اس مجلس سے نكلے اور امامعليه‌السلام كے لئے دعا كى _(۲۸)

امامعليه‌السلام كے بچپن كو ديكھتے ہوئے ان جلسوں اور باتوں كے ضمن ميں جو مسئلہ مناظرہ كے دونوں فريق كے درميان مورد توجہ تھا وہ آپعليه‌السلام كى امامت كا مسئلہ تھا_

ايك طرف امامعليه‌السلام نے علمى مشكلات سے پردہ اٹھا يا اور امامت كے موقف كى تشريح اور حقائق كو بيان كرتے ہوئے ان لوگوں كو _ جو آپعليه‌السلام كى كمسنى كى وجہ سے _ آپعليه‌السلام كى امامت كے بارے ميں شك اور تردد ميں مبتلا تھے، حقيقت سے آشنا كيا اور ہر طرح كے شبہ اور ترددسے ان كے ذہنوں سے صاف كيا _ اور دوسرى طرف عبداللہ ابن موسى ، امام كے چچا و غيرہ جيسے افراد كو جو بغير لياقت اور صلاحيت كے اپنے كو امامت كى جگہ پر لارہے تھے ، عملى طور پر ميدان سے دور ہٹا ديا اور ان كو گوشہ گير بناديا_

نماياں افراد كى تربيت

امام جواد _كے علمى اور ثقافتى كاموں ميں سے ايك كام ايسے ممتاز افراد كى تربيت تھى جن ميں سے ہر ايك ثقافت و معارف اسلامى كا ايك منارہ كہا جاتا تھا _

مرحوم شيخ طوسى نے امام جوادعليه‌السلام كے شاگردوں ، راويوں اور اصحاب كى تعداد تقريباً ايك سو دس افراد بتائي ہے(۲۹) _ اس سے پتہ چلتا ہے كہ اس زمانہ ميں لوگوں كا حضرت سے ملنا كتنا محدود اور مشكل تھا_ ليكن اس كے با وجود انہيں محدود افراد ميں كچھ روشن چہرے موجود ہيں منجملہ انكے :

۱_ ابوجعفر ، محمد ابن سنان زہري

۲_ احمد ابن ابى نصر بزنطي

۳_ ابو تمام حبيب ابن اوس طائي


۴_ ابوالحسن ، على ابن مہزيار اہوازي

۵_ فضل بن شاذان نيشاپوري

۶_ زكريا ابن آدم و غيرہ ہيں

امامعليه‌السلام كے مكتب كے پروردہ افراد ميں سے ہر ايك كسى نہ كسى انداز سے پريشانى اور سختى ميں مبتلا تھا _ عبداللہ ابن طاہر _ حاكم نيشاپور نے _ فضل بن شاذان كو نيشاپور سے باہر نكال ديا _ پھراس كے بعد ان كى كتابوں كى تفتيش كى جب ان كتابوں كے مندرجات سے لوگوں نے اس كو آگاہ كيا_ تب اس كو اطمينان حاصل ہوا اور اس نے كہا كہ ميں ان كے سياسى عقيدہ كو بھى جانتا ہوں _(۳۰)

ابو تمام بھى اس دشمنى سے نہ بچ سكے ، اس زمانہ كے امراء جو خود بھى اہل شعر و ادب تھے ، وہ بھى ان كے شعر كو سننے كے لئے تيار نہ تھے جبكہ آپ اس زمانہ كے بہترين شاعر تھے اور اگر كسى نے پہلے سے بتائے بغير ان كا شعر پڑھ ديا اور اميروں كو پسند آگيا تو يہ سمجھ لينے كے بعد كہ يہ ابوتمام كا شعر ہے فوراً اصلى نوشتہ كو پھاڑڈالنے كا حكم ديتے تھے_(۳۱)

معتصم كے دور حكومت ميں

مامون كى موت كے بعد ۲۱۸ ھ ميں اس كا بھائي اس كى جگہ پر خلافت كے منصب بيٹھا اور امام جوادعليه‌السلام كے سلسلہ ميں اس نے مامون والى ہى سياست اختيار كى ، جب مدينہ ميں امام كى فعاليت سے خوفزدہ ہوا تو وہ ۲۲۰ ھ ميں امامعليه‌السلام كو زبر دستى مدينہ سے بغداد لے آيا تا كہ نزديك سے ان كى نگرانى كر سكے اسكى حكومت ميں ايك شخص نے چورى كا اقرار كيا اور اس نے خليفہ سے يہ خواہش ظاہر كى كہ الہى حدود جارى كر كے اس كو پاك كرديا جائے ، معتصم نے تمام فقيہوں كو جلسہ ميں جمع كيا اور امام جواد _كو بھى بلايا _


پہلے اس نے '' ابن ابى داؤد''(۳۲) سے سوال كيا كہ چور كا ہاتھ كہاں سے كاٹنا چاہيے ؟

ابن ابى داؤد نے كہا كہ '' كلائي سے'' اور اپنى دليل ميں قرآن كى آيت '' فاغسلوا وجوہكم و ايديكم '' پڑھي_

فقہا كا ايك گروہ ان كى موافقت ميں تھا ليكن دوسرے گروہ نے ان كے نظريہ كى مخالفت كى اور كہا كہ كہنيوں سے ہاتھ كاٹنا چاہيے اور انہوں نے اپنے نظريہ كہ تائيد ميں آيہ '' فاغسلوا وجوہكم و ايديكم الى المرافق ''(۳۳) كو دليل بنايا _

معتصم نے امام جوادعليه‌السلام كى طرف رخ كيا اور پوچھا '' اس مسئلہ ميں آپكا نظريہ كيا ہے ؟ امامعليه‌السلام نے فرمايا يہ لوگ اپنا نظريہ پيش كر چكے اب مجھے معاف ركھ_

معتصم نے اصرار كيا اور امامعليه‌السلام كو قسم دے كر كہا : آپ اپنا نظريہ بيان كريں _

امامعليه‌السلام نے فرمايا: چونكہ تم نے قسم دلائي ہے اس لئے ميں اپنا نظريہ بيان كرتا ہوں دونوں فريقوں نے غلط فيصلہ كيا ہے _ كيونكہ چور كى فقط انگلياں كاٹى جائيں گى _

آپعليه‌السلام نے فرمايا : اس لئے كہ رسول خدا نے فرمايا ہے كہ سجدہ سات اعضاء پر واجب ہے _ چہرہ ، پيشانى ،دونوں ہاتھوں كى ہتھيلياں ،دونوں گھٹنے اور دونوں پيروں كے انگھوٹھے لہذا چور كا ہاتھ اگر كہنيوں سے كا ٹا جائے تو اس كا ہاتھ نہيں بچے گا كہ وہ سجدہ بجالائے اور دوسرے يہ كہ خدا فرماتا ہے كہ''انّ المساجد لله فلا تدعوا مع الله احداً'' (۳۴) سجدوں كى جگہيں خدا كے لئے ہيں پس خدا كے ساتھ كسى كو نہ پكارو'' لہذا جو خداكيلئے ہے اس كو قطع نہيں كيا جائے گا _

معتصم كو امامعليه‌السلام كا نظريہ پسند آيا اور اس نے حكم ديا كہ چور كى انگلياں كاٹى جائيں _

''ابن ابى داود ''_ جو خود اس واقعہ كے ناقل ہيں _ فرماتے ہيں كہ اس مجلس ميں ميں نے (شرم و حيا سے ) موت كى تمنّا كى _

وہ تين دن كے بعد معتصم كے پاس گيا او ركہا كہ چند دن پہلے والى نشست تمہارى حكومت كے لئے اچھى نہيں تھي، اس لئے كہ تمام علماء اور مملكت كے بزرگ افراد كے سامنے تم نے ابوجعفرعليه‌السلام كے


فتوى كو_ جن كو آدھے مسلمان اپنا پيشوا مانتے ہيں اور امر خلافت كے لئے تم سے زيادہ مناسب سمجھتے ہيں _ دوسروں كے نظريہ پر ترجيح دى _ يہ خبر لوگوں كے در ميان پھيل گئي اور خود ان كے شيعوں كے لئے برہان بن گئي ہے _

معتصم جو پہلے ہى سے ہر طرح كى دشمنى اپنے دل ميں ركھتا تھا اور امامعليه‌السلام كو راستہ سے ہٹانے كے لئے موقع كى تلاش ميں رہتا تھا ، اس كو ابن ابى داود كى باتوں سے سخت جھٹكالگا اور امامعليه‌السلام كو قتل كرنے كے بارے ميں سوچنے لگا_(۳۵)

آخر كار اس نے اپنے منحوس منصوبہ كو عملى جامہ پہناديا اور امام جواد _كو جن كى عمر شريف ۲۵ سال سے زيادہ نہ تھى آخر ذى القعدہ ۲۲۰ ھ ق ميں آپعليه‌السلام كو بغداد بلايا اور زہر سے شہيد كرديا_(۳۶)

آپعليه‌السلام كے جسد اطہر كو آپعليه‌السلام كے جد گرامى قدر حضرت امام موسى ابن جعفرعليه‌السلام كے پہلو ميں سپرد لحد كيا گيا آج بھى ان دونوں اماموں كا مزار مقدس كاظمين كے نام سے مشہور ہے _


سوالات

۱_حضرت امام محمد تقىعليه‌السلام كس تاريخ كو پيدا ہوئے اور ان كى پيدائيش سے پہلے شيعہ كيوں تشويش ميں مبتلا تھے؟

۲_امام جواد _نے اپنى عمر كے كتنے دن اپنے والد كے ساتھ گذار ئے كيا اس زمانہ كا كوئي واقعہ آپ كو ياد ہے ؟

۳_امام جوادعليه‌السلام كس عمر ميں منصب امامت پر فائز ہوئے ، كيا آپعليه‌السلام كى عمر عہدہ امامت كى ذمہ دارى قبول كرنے كى متقاضى تھى ، اس سلسلہ ميں امامعليه‌السلام كے ايك بيان كو ذكر كيجئے؟

۴_امام كى امامت كے ابتدائي زمانہ ميں مامون نے كون سا اقدام كيا اور اس سے اس كا كيا مقصد تھا؟

۵_ مامون كى خلافت كے مقابل امامعليه‌السلام كا كيا رو يہ تھا؟

۶_اسلامى علوم و ثقافت كى نشر و اشاعت ميں امامعليه‌السلام كا كيا كردار رہا ؟

۷_معتصم نے امامعليه‌السلام كو كيوں بغداد بلايا اور پھر آپعليه‌السلام كے قتل كادر پے كيوں ہوا؟

۸_ امام جواد _كس تاريخ كو اوركيسے شہيد ہوئے ؟


حوالہ جات

۱ انوار الہيہ/۲۲۷،بحارج ۵/۱۵منقول ازعيون المعجزات_

۲ بحار جلد ۵۰/۷،۱۱،۱۳،۱۴_ايك قول كى بنا پر اسى سنہ ميں رمضان كے مہينہ ميں آپ كى ولادت ہوئي تھي_

۳ بحار جلد ۵۰/۱۱،انوار البہيہ /۲۲۵_

۴ كافى ج ۱/۲۵۲''فى باب النص على ابى الحسن الرضا''انوارالبھيّہ /۲۲۶_۲۲۵_

۵ اور يہ بھى احتمال ہے كہ مذكورہ بالا قول سے امام كا مقصديہ ہو كہ بچپن ميں حضرت امام جوادعليه‌السلام كى امامت سے شيعوں كيلئے يہ بات روشن ہوگئي كہ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى طرح يہاں بھى عمر كا سوال نہيں ہے اور ان كا علم خدا كى طرف سے ہوتا ہے _

۶ عيون اخبار الرضاج۲/۲۴۲_

۷ بحار ج ۵۰/۳۵_

۸ ارشادمفيد /۱۳۹،كافى ج۱ /۲۵۹_۲۵۸،۳۱۵_

۹ امام رضاعليه‌السلام كى عمر كے آخرى دو سال ۲۰۱ سے ۲۰۳ تك مراد نہيں ہيں جب آپ كو خراسان لے جايا گيا_

۱۰ '' ...كيف اقوم و قد ودّعت البيت و داعاًلارجوع بعدہ ''،كشف الغمہ ج ۳/۱۵۳_۱۵۲،سيرة الائمہ الاثنا عشر ج۲ /۴۴۳،انوار البہيّہ /۲۰۲_

۱۱ سورہ مريم /۱۱_

۱۲ ارشاد مفيد /۳۲۵،مناقب جلد ۴/۳۸۹_

۱۳ ''و كان على منها ج ابيه فى العلم و التقى و الزهد و الجود ''تذكرة الخواص ۳۲۱_

۱۴''محمد بن على الجواد كان من اعيان بنى هاشم و هو معروف بالسخاء و السود ولهذا سمتى الجواد'' منھاج السنة ج ۲/۱۳۷_

۱۵ جو وقف حضرت كے نام سے تھا آپ اس وقف كے متولى تھے_

۱۶ بحار جلد ۵۰/۱۰۵منقول از كافى و غيبت شيخ _

۱۷ بست افغان كا ايك قديم شہر ہے جو بلوچستان او رھند كے راستہ ميں واقع ہے اس كا مركز سجستان تھا جس كا اطلاق وسيع علاقہ پر ہوتا تھا _ ہرات سے ۸۰ فرسخ ہے _ر_ك ،معجم البلدان و المنجد باب اعلام ،كلمہ بست و


سجستان _

۱۸اما بعد فان موصل كتابى هذا ذكر عنك مذهباًجميلاً و ان مالك من عملك ما احسنت فيه فاحسن الى اخوانك و اعلم ان الله عزوجل سائلك عن مثاقيل الذر و الخردل _

۱۹ بحار جلد ۵۰ / ۸۷_۸۶،انوار البھيية/۲۳۸_۲۳۷_

۲۰ بحار جلد ۵۰/۴۴ منقول از خرائج راوندى _

۲۱''اخترته لتبريزه على كافة اهل الفضل فى العلم و الفضل مع صغر سنّه'' _ بحار ج ۵۰/۷۵_

۲۲ عرب احتراماًكسى كو اس كى كنيت سے پكارتے ہيں _

۲۳ عيون اخبار الرضاجلد ۲/۲۴۲_

۲۴''نعوذ بالله مما تقولون ، بل انا له عبد ''كافى ج ۱/۲۵۸_انوار البھييہ /۲۲۸_۲۲۷_

۲۵ ''انى اعرف بھذاالفتى منكم و انّ اھل ھذالبيت علمھم من اللہ و موادہ و الھامہ ،لم تزل آبائہ اغنياء فى علم الدين و الادب عن الرعايا الناقصہ عن حد الكمال ''_بحار ۵۰/۷۵_۷۴،ارشاد /۳۲۰_۳۱۹،كشف الغمہ جلد ۳/۱۴۴/ ۱۴۳ _مناقب جلد ۴/۳۸۱_۳۸۰_اعلام الورى /۱۵۱_ اسى جلسہ ميں مامون نے ايك مناظرہ كا انعقاد كيا تھا اس واقعہ كو ''علمى اور ثقافتى كوششيں ''كے عنوان كے ذيل ميں بيان كيا گيا ہے _

۲۶ بحار جلد ۵۰/۶۳_۶۱_مناقب جلد ۴/۳۹۶،كافى جلد ۱/۴۱۴_۴۱۳_

۲۷ ارشاد مفيد /۳۲۱_۳۲۰،مناقب جلد ۴/۳۸۱،اعلام الورى /۳۵۲_۳۵۱_بحار جلد ۵۰/۷۶ _۷۵ ، كشف الغمہ جلد ۳/۱۴۵_۱۴۴،فصول المھمہ/۲۶۸_البتہ اس نشست ميں دوسرے مباحث بھى آئے منجملہ ان كے امام كا يحيى بن اكثم سے سوال اور يحيى كا امام كے جواب ميں عاجز رہ جانا اور مذكورہ بالامسئلہ كے شقوں سے متعلق امام كے جواب كو_اختصار كو مد نظر ركھتے ہوئے پيش نہيں كيا گيا ہے _

۲۸ بحار ج ۵۰ /۱۰۰_

۲۹ رجال شيخ طوسى /۴۰۹_۳۹۷_

۳۰ رجال كشى /۵۳۹_۵۳۸_


۳۱ مروج الذہب جلد ۳/۴۸۵_۴۸۳_

۳۲ مامون،معتصم،واثق اور متوكل كے زمانہ كے بغداد كے بڑے قاضى القضا ميں سے ايك تھے _

۳۳ سورہ مائدہ /۶_

۳۴ سورہ جن/۲۸_

۳۵ بحار جلد ۵۰/۷_۵،منقول ازتفسير عياشى ج ۱/۳۲۰_۳۱۹،انوار البھية/۲۴۳_۲۴۱

۳۶ بحار جلد ۵۰/ ۱ بعض روايتوں ميں يہ آيا ہے كہ معتصم نے مامون كى بيٹى ام الفضل كے ذريعہ امام كو زہر دے ديا بحار جلد ۵۰/۱۰و اعيان الشيعة ج ۲/۳۶_


تيرہواں سبق:

امام على النقىعليه‌السلام كي سوانح عمري


ولادت

شيعوں كے دسويں امام ۱۵ ذى الحجہ ۲۱۲ھ ق كومدينہ كے''صريا''(۱) نامى قريہ ميں پيدا ہوئے_(۲) آپعليه‌السلام كا اسم گرامى ''علي''اورسب سے مشہور القاب ''نقي''اور ''ہادي'' ہيں اور آپعليه‌السلام كى كنيت ''ابوالحسن'' ہے _ آپعليه‌السلام ابوالحسن ثالث كے نام سے مشہور ہوئے _(۳)

نويں امام كے والد گرامى امام جواد _تھے اور آپ كى والدہ ''سمانہ''ايك بافضيلت و با تقوى خاتون تھيں آپ مقام ولايت سے آشنائي ركھنے والى اور خلافت الہى كى زبر دست دفاع كرنے والى خاتون تھيں _ خود امام ھاديعليه‌السلام اپنى والدہ گرامى كے بارے ميں فرماتے ہيں كہ ميرى والدہ ميرے حق سے آشنا اور اہل بہشت ميں سے ہيں _

شيطان سركش ان سے نزديك نہيں ہوتا اور دشمن جبار كا مكر ان تك نہيں پہنچتا ، خدا ان كا محافظ اور نگہبان ہے _ وہ ہرگز صديقين و صالحين ماؤں كے صفوں سے باہر نہيں ہيں(۴)

امامعليه‌السلام كى پرورش كا ما حول

امام ہادى _نے اپنى عمر كے سات سال اور كچھ دن اپنے والد كے ساتھ ان كى تربيت اور خاص نگرانى ميں گذار ے _

آپعليه‌السلام جس ما حول ميں پروان چڑھے وہ ما حول ، دانش كے فروغ تقوى و اخلاق ،وسعت علم اور زندگى كے تمام شعبوں ميں فكر كى بلندى سے سرشار ما حول تھا _دوسرى صدى ہجرى ميں علماء كى


فكرى تحريكيں اور مامون كى خلافت كى مشينرى كى طرف سے ان كے استقبال كى وجہ سے دينى حقائق كو واضح كرنے اور اس زمانہ كے روشن فكر اور سوجھ بوجھ ركھنے والى نسل تك پيغام اسلام كے پہونچانے كے مواقع اس زمانہ كے ائمہ معصومينعليه‌السلام كو حاصل تھے _

اسلام كے ترقى پذير عناصر كے گہوارہ پرورش اور زيادہ تر ائمہ كى جائے پيدائشے _مدينہ_ ميں ماں باپ كى توجہ سے اور تدبير سے امام _كے جسم و روح نے پارسائي اور دور انديشى كى منزل كمال كو سر كيا _ وہ جن كى پاكيزہ سرشت ميں دور انديشى اور ہوشمندى پوشيدہ تھى ، جو الہام الہى كے فيوض و بركات سے تمام شعبوں ميں كمالات اور امتيازات كے حامل تھے _ وہ خلافت عباسى كے ظلم و ستم سے جہاد كرنے والوں كے پيشرو اور اسلامى معاشرہ كى مشعل ہدايت قرار پائے _

امامت پر نص

سوائے على _اور موسي(جو كہ موسى مبرقع كہ نام سے مشہور تھے ) نويں امام كى اور كوئي اولاد نہ تھى ، چونكہ حضرت ہادىعليه‌السلام ،علم و معرفت ، تقوى و عبادت ميں اپنے زمانہ كے سارے لوگوں سے بلند تھے ان سے كسى كا حتى كہ ان كے بھائي كا بھى موازنہ نہيں كيا جا سكتا _ اس لئے ان كے والد كے بعد امامت اور رہبرى كا بلند مقام ان كو تفويض كيا گيا_

اسى لياقت كى بنياد نيز دوسرى باتوں كى بنا پر ان كے پدر بزرگوار نے بارہا اپنے بعد كے لئے ان كى امامت كو صراحت سے بيان فرمايا ہے _

''اميہ ابن على قيسي''نقل كرتے ہيں كہ ميں نے ابو جعفر _سے عرض كيا كہ آپعليه‌السلام كا كون جانشيں ہوگا_ تو آپعليه‌السلام نے فرمايا : ميرے فرزند علىعليه‌السلام _(۵)

''صقر ابن دلف'' كہتے ہيں كہ ميں نے ابو جعفر امام جواد _سے سناآپ فرما رہے تھے كہ ميرے بعد پيشوا ميرا بيٹا على ہے ،ان كا فرمان ميرا فرمان ، انكى گفتار ميرى گفتار اور ان كى پيروى


ميرى پيروى ہے اور ان كے بعد ان كے بيٹے حسنعليه‌السلام ،امام ہيں _(۶)

امامعليه‌السلام كا اخلاق اور ان كى سيرت

امام ہادى _اپنے اسلاف كى طرح اخلاق اور فضائل انسانى كا مجسمہ اور كمالات نفس كا مظہر تھے _

ابن صباغ مالكى اپنى كتا ب ميں آپعليه‌السلام كى اخلاقى خصوصيات اور فضائل كا مرقع كھينچتے ہوئے فرماتے ہيں _

ابوالحسن ،على ابن محمد _كى فضيلت اور برترى كى شہرت تمام عالم ميں پھيلى ہوئي ہے_ (ان كى فضيلت ہر جگہ سايہ فگن ہے اور اس سے دوسروں كى چمك دمك ماند پڑگئي ہے ) اور ان كے بلنديوں كى طرف بڑھنے والے سلسلے آسمان كے ستاروں پر حكمرانى كررہے ہيں _ كوئي چيز منقبت نہيں شمار كى جا سكتى مگر يہ كہ اس كا لب لباب آپعليه‌السلام كے وجود ميں جلوہ گر ہے اور كوئي فضيلت و كرامت بيان نہيں ہوتى مگر يہ كہ اس كا برتر ين حصہ آپعليه‌السلام ہى كى ملكيت ہے _ ہر قابل تعريف خصلت جب بيان كى منزل ميں آتى ہے تو اس كا بلندترين اور مكمل ترين حصہ آپعليه‌السلام ہى سے متعلق ہوتا ہے _ آپعليه‌السلام كا وجود ہر نيك و ارجمند خصلت كى ايسى تجلى گاہ ہے جو آپعليه‌السلام كى عظمت كى تعريف كرتى ہے ان تمام كمالات كے استحقاق كا سرچشمہ وہ بزرگى اور كرامت ہے جو آپعليه‌السلام كے جوہر زندگى كے ساتھ ملى ہوئي ہے _ وہ عظمت و بزرگى ہے جو آپعليه‌السلام كى سرشت ميں پوشيدہ ہے _آپ كا وجود آب زلال معرفت كے علاوہ كسى اور پانى كے پينے سے منع كرتا ہے _ اس لئے آپعليه‌السلام كى جان ، پاك ہے ، آپعليه‌السلام كا اخلاق شيرين ہے، آپكى سيرت،عادلانہ اور آپ كے تمام صفات نيك ہيں آپ وقار ،سكون،صبر،عفت،طہارت،زيركى اور دانائي ميں طريقہ نبوى اور سرشت علوى پر گامزن تھے _ ايسے تزكيہ شدہ نفس كے اور ايسى بلند ہمت كے مالك تھے كہ كوئي آپعليه‌السلام كے پايہ كو پہنچ


نہيں سكتا _آپعليه‌السلام كى نيك روش ميں آپعليه‌السلام كا كوئي ثانى نہيں اور كسى نے ان چيزوں كى طمع نہيں كي(۷)

عبادت و بندگي

متوكل كے معين كيے ہوئے افراد چھان بين كے لئے متعدد بار آپعليه‌السلام كے گھر ميں اچانك گھس آئے تو آپ كو كھر در الباس پہنے ہوئے ايك چٹائي پر نماز كے لئے ايستادہ لكھتے_

يحيى ابن ہرثمہ نقل كرتے ہيں كہ امام ہادى ہميشہ مسجد ميں رہتے تھے اوردنيا سے كوئي رابطہ نہيں ركھتے تھے_(۸)

حائرى اپنى كتاب ميں لكھتے ہيں كہ عبادت پروردگار سے شديد محبت كى بنا پر آپ راتوں كو آرام نہيں كرتے تھے اور تھوڑى دير كے علاوہ آپ سوتے نہيں تھے _ آدھى رات كو كنكروں اور ريگزاروں پربيٹھتے اور عبادت و استغفار اور تلاوت ميں رات بسركرتے تھے _(۹)

جودو بخشش

امام _كے دوستوں ميں سے چند افراد جيسے ابو عمر و عثمان ابن سعيد ،احمد ابن اسحاق اشعرى اور على ابن جعفر ہمدانى ،آپعليه‌السلام كى خدمت ميں پہنچے _احمد ابن اسحاق نے اپنے بھارى قرض كى امامعليه‌السلام سے شكايت كى ، امام ہادىعليه‌السلام نے اپنے وكيل ''ابوعمرو''سے فرمايا تيس ہزار دينار ،احمد ابن اسحاق كو اور تيس ہزار دينا ر على ابن جعفر كو ديدو اور اپنے لئے بھى تيس ہزار اٹھالو(۱۰)

ابو ہاشم جعفرى نقل كرتے ہيں كہ ميں بہت زيادہ محتاج ہو گيا _ ميں امام ہادى _كى خدمت ميں پہنچا جب ميں بيٹھ گيا تو آپ نے فرمايا : اے ابوہاشمخدا نے جو نعمتيں تم كو دى ہيں ان ميں سے كسى ايك نعمت كا شكر بجالا سكتے ہو؟ ميں چپ رہا اور يہ نہ سمجھ سكا كہ كيا كہوں _


امامعليه‌السلام نے فرمايا :خدا نے تم كو ايمان ديا ہے اور اس كے ذريعہ اس نے تمہارے جسم كو دوزخ كى آگ سے بچايا ہے ، خدا نے تم كو صحت و عافيت عطا كى ہے اور اس نے اپنى عبادت كے لئے تمہارى مدد كى ،خدا نے تم كو قناعت دى ہے اور اس كے ذريعہ اس نے تمہارى آبرو بچائي ہے ، اے ابوہاشمميں نے يہ باتيں اس لئے شروع كيں كہ ميں نے گمان كيا كہ تم اس كے بارے ميں مجھ سے شكايت كرنا چاہتے ہوجس نے يہ تمام نعمتيں تم كو دى ہيں _ ميں نے حكم ديد يا ہے كہ سو(۱۰۰)دينار تم كو ديئے جائيں تم ان كو لے لو_(۱۱)

عقدہ كشائي

'' محمد ابن طلحہ '' نقل كرتے ہيں كہ ايك دن امام ہادىعليه‌السلام سامرا سے ايك اہم كام كے لئے ايك ديہات كى طرف روانہ ہوئے _ اس در ميان ايك آدمى آپعليه‌السلام كے گھر آيا جب اس نے امامعليه‌السلام كو دہاں نہ پايا تو وہ بھى اس ديہات كى طرف روانہ ہوا جب امام كى خدمت ميں پہنچا تو اس نے عرض كيا كہ ميں كوفہ كارہنے والا ہوں آپعليه‌السلام كے خاندان كے چاہنے والوں ميں سے ہوں ليكن بہت زيادہ قرضدار ہوگيا ہوں ، اتنا قرض ہے كہ ميں اسے ادا نہيں كر سكتا اور آپعليه‌السلام كے علاوہ مجھے اور كوئي نظر نہيں آتا جو ميرى ضرورت پورى كردے _امامعليه‌السلام نے پوچھا تمہارا قرض كتنا ہے ؟اس نے كہا تقريباًدس ہزار درہم_

امامعليه‌السلام نے اس كى دلجوئي كى اور فرمايا : تم پريشان نہ ہونا اور ميں جو حكم دوں اس پر عمل كرنے ميں كوتاہى نہ كرنا پھر آپعليه‌السلام نے اپنے ہاتھ سے ايك رقعہ لكھا اور اس سے فرمايا: اس خط كو اپنے پاس ركھو اور جب ميں سامرا پہنچوں تو جتنا پيسہ اس ميں لكھا ہے اس كا ہم سے مطالبہ كرنا ،چاہے تم كو لوگوں كے سامنے ہى ايسا كرنا پڑے ،خبردار اس ميں كوتاہى نہ كرنا _

امام _كے سامراء لوٹنے پر جب خليفہ كے حلقہ بگوش افراد آپعليه‌السلام كے پاس بيٹھے ہوئے تھے


وہ مرد عرب وہاں پہنچا اور اس دستخط كو دكھا كر اصرار كے ساتھ اس نے پيسے كا مطالبہ كيا، امامعليه‌السلام نے نہايت نرمى اور ملائمت سے تاخير كى معذرت كرتے ہوئے اس سے مہلت مانگى تا كہ كسى مناسب وقت پر آپعليه‌السلام وہ پيسے ادا كرديں _ ليكن وہ شخص اسى طرح اصرار كرتا رہا اور اس نے مہلت نہيں دي_

يہ بات متوكل تك پہنچى تو اس نے تيس ہزار دينا رامامعليه‌السلام كے لئے بھيجنے كا حكم ديا_

جب پيسے امامعليه‌السلام كے ہاتھوں تك پہنچے تو آپعليه‌السلام نے اس مرد عرب كو بلايا اور تمام پيسے اس كو دے ديئے _ اس نے بتايا كہ اس پيسے كے ايك تہائي سے كم ميں ميرى ضرورت پورى ہو جائے گى ليكن امام _نے تمام تيس ہزار دينار اس كو مرحمت فرما ديئے(۱۲)

امامعليه‌السلام كى معنوى ہيبت و عظمت

''محمد ابن حسن اشترعلوى ''نقل كرتے ہيں كہ '' ميں اپنے والد كے ساتھ متوكل كے گھرتھا اور آل ابوطالب و آل عباس و آل جعفر كى بھى ايك جماعت وہاں موجود تھى كہ امام ہادىعليه‌السلام تشريف لائے _ وہ تمام لوگ جو وہاں كھڑے تھے امام _كے احترام ميں سواريوں سے اتر پڑے امامعليه‌السلام گھر ميں داخل ہوئے _ حاضرين ميں سے كچھ لوگوں نے ايك دوسرے سے كہا : ہم ان كيلئے كيوں اپنى سوارى سے اتريں ،وہ نہ تو ہم سے زيادہ صاحب شرف ہيں اور نہ ہم سے عمر ميں بڑے ہيں خدا كے قسم ہم ان كے لئے سوارى سے نہيں اتريں گے _

ابوہاشم جعفرى نے _ جو وہاں موجودتھے _كہا خدا كى قسم تم لوگ جب انكو ديكھو گے تو نہايت حقير بن كر سوارى سے اتر پڑوگے _

ابھى تھوڑى دير نہ گذرى تھى كہ امام ہادىعليه‌السلام واپس پلٹے ،جب حاضرين كى نظر آپعليه‌السلام پرپڑى تو بے اختيار سواريوں سے اترپڑے ،ابوہاشم نے كہا :''كيا تم نے نہيں كہا تھا كہ ہم نہيں اتريں گے؟


''لوگوں نے كہا:'' خداكى قسم ہم اپنے كو نہيں روك سكے اور بے اختيار اترپڑے _(۱۳)

امام _كا علمى مقام

خدا نے اپنى لامتناہى قدرت اور اپنے وسيع علم سے خاندان رسالتعليه‌السلام كو علم كے خزانے عطا كئے اور ان كو زيور علم سے آراستہ كيا_ ايسا علم كہ ان سے زيادہ علم دوسرى جگہوں پر نہيں پايا جا سكتا_

شيعوں كے ائمہ علم الہى كے پرچم دار ،خزينہ دار اور اسرار توحيد كے محافظ ہيں _ امام ہادى _اسى شجرہ طيبہ كى ايك شاخ ہيں جو وسيع اور جامع علم سے مالامال تھے _ آپعليه‌السلام كى علمى عظمت و منزلت نے عقلوں كو حيرت و استعجاب ميں ڈال دياتھا_

صفات خداوند عالم ،تنزيہ و تقديس پروردگار كے بارے ميں آپعليه‌السلام كى حديثيں ،مذہب ،جبرو تفويض،اور جبر و تفويض كے در ميانى امر كے اثبات پر مفصل خط ،زيارت ائمہ كے كلمات جو''زيارت جامعہ''كے نام سے مشہور ہے ،آپعليه‌السلام كى يادگاريں ہيں _مخالفين كے ساتھ مختلف موضوعات پر احتجاجات(۱۴) و غيرہ ...علماء كے لئے مورد توجہ ہيں جو كہ آپعليه‌السلام كے علمى پہلووں كى گہرائي اوروسعت كا پتہ ديتے ہيں _

امامت كا زمانہ

امام ہادى _ ۲۲۰ھ ق ميں _ اپنے والد بزرگوار كى شہادت كے بعد _آٹھ سال كى عمر ميں امامت كے عہدہ پر فائز ہوئے ، آپعليه‌السلام كى امامت كى مدت ۳۳ سال اور كچھ دن تھى اس مدت ميں بنى عباس كے چھ خلفاء آپعليه‌السلام كے ہم عصر رہے _ ان كے نام معتصم ،واثق ،متوكل ،منتصر،مستعين ا ور معتزہيں _


دوران امامت كى خصوصيتيں

دسويں امامعليه‌السلام كى امامت كا زمانہ پريشانى ،تشويش اور انقلاب كا زمانہ تھا _ اس زمانہ ميں خاندان على _اور ان كے پيروكاروں كے ساتھ حكومت كا سخت اور براسلوك اپنے عروج پرپہنچا ہواتھا _ اور اس شدت پسند روش كى بنا پر وسيع و عريض اسلامى مملكت كے گوشہ و كنار ميں علويوں كى شورشيں بہت پھيلى ہوئي تھيں _

يہاں پر اب ہم خلافت كے اس زمانہ كى بعض خصوصيات كى طرف اشارہ كرتے ہيں تا كہ دسويں امام كے سياسى حالات كو اچھى طرح سمجھاجا سكے _

الف :دربار خلافت كى ہيبت و عظمت كا زوال اور موالى كا تسلط

اس زمانہ ميں ترك ،قبطى اور موالى كا سرنوشت مملكت اسلامى پر تسلط اور مملكت كے امور سے خليفہ كى كنارہ كشى نے دربار خلافت كى عظمت و ہيبت كو ختم كرديا ،خلافت مذكورہ لوگوں كے ہاتھوں ميں ايك گيند كى طرح تھى جسے جدھر چاہتے تھے پھينك ديتے تھے(۱۵)

يہاں تك كہ ''معتمد''نے اس تلخ حقيقت كا اعتراف كيا اور چنداشعار ميں اس نے كہا: كيا يہ تعجب خيز نہيں ہے كہ ميرے جيسا شخص نہايت چھوٹى چيز سے روك ديا جائے _ اس كے نام پر پورى دنيا حاصل كى جائے حالانكہ اس ميں سے كوئي چيز اس كے ہاتھ ميں نہيں ہے _ فراوان مال و دولت اس كى طرف منتقل ہو ليكن ان ميں سے ذرا سى چيز بھى اس كو نہ دى جائے _

خلافت كى مشينرى ميں ان لوگوں كا دخل و رسوخ اور اہل بغداد كے لئے حدسے زيادہ مزاحمت و پريشانى اس بات كا سبب بنى كہ معتصم ان لوگوں كو_جن كى فوج اور انتظامى فورس ميں كثرت تھي_ لوگوں كى دسترس سے باہر كسى دوسرى جگہ منتقل كردے _ چنانچہ شہر سامرہ كو اس كام كيلئے چناگيا اور اسى كو دارالخلافہ قرار ديا گيا اور لشكركو بھى اسى شہر ميں منتقل كرديا گيا_

ان عناصر كے راس و رئيس ''موسى ابن بغا'' ان كے بھائي ''محمد ابن بغائ''_''بغا شرابى كوچك


''اور ''وصيف''تھے مؤخرالذكر دونوں افراد مستعين پر ايسے مسلط تھے كہ ان كے بارے ميں كہا جاتا تھا كہ ''خليفہ وصيف اور بغاء كے در ميان قفس ميں قيد ہے وہ لوگ جو بھى كہتے ہيں يہ طوطے كى طرح وہى بولتا ہے_(۱۶)

ب: علويوں كى تحريك كى وسعت

اس زمانہ ميں ''رضا ئے آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم '' اور حكومت كے ظلم و جور كے خلاف اور اعتراض كے عنوان سے بہت سى تحريكيں اٹھيں _ تحريك كے ليڈر يہ ديكھ رہے تھے كہ ان كے امام فوجى اڈہ كے اندر سامرا ميں قيد ہيں اور خلافت كى مشينرى ان كى نگرانى كررہى ہے اور كسى مخصوص آدمى كے نام پرلوگوں كو اكٹھا كرنا اس كے قتل كا باعث ہوتا ہے _ اس لئے وہ لوگوں كو كلى طور پر رضائے آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى طرف دعوت ديتے تھے _

مورخين نے اٹھارہ تحريكوں كے نام بيان كئے ہيں _ ہم ان ميں سے اختصار كے ساتھ چند تحريكوں كا نام ذكركر رہے ہيں :

۱_محمد ابن قاسم علوى كى تحريك :يہ ايك عالم ،زاہد اور متقى آدمى تھے _انہوں نے معتصم كے زمانہ ميں طالقان ميں قيام كيا _ اور عبداللہ ابن طاہر كے ساتھ ايك جھڑپ كے بعد ۲۱۹ھ ق ميں عبداللہ كے ہاتھوں گرفتار ہو كر معتصم كے پاس لائے گئے _(۱۷)

۲_يحيى ابن عمر علوى كى تحريك :يحيى ايك زاہد متقى اور باعلم و عمل آدمى تھے _ انہوں نے ۲۵۰ھ ميں كوفہ ميں قيام كيا اور بہت سے لوگوں كو اپنے اردگرد جمع كرليا اور بيت المال پرحملہ كركے بيت المال اپنے قبضہ ميں كرليا ،زندانوں كے دروازے كھول كر قيديوں كو آزاد كرديا اور شہر كے حكام كوشہر سے باہر نكال ديا ليكن آخر ميں شكست كھا كر ''حسين ابن اسماعيل '' كے ہاتھوں قتل ہوئے _ ان كى لاش كو دار پر لٹكايا گيا _(۱۸)

۳_حسين ابن زيد كى تحريك : انہوں نے ۲۵۰ھ ق ميں طبرستان ميں قيام كيا ''اس سرزمين


اور (شہر)گرگان پر قبضہ كرليا اور ۲۷۰ھ ق ميں انتقال فرما گئے ان كے بھائي ''محمد''ان كے جانشين ہوئے(۱۹)

۴_محمد ابن جعفر علوى كى تحريك :آپ نے ۲۵۰ھ ق ميں خراسان ميں قيام كيا ليكن عبداللہ ابن طاہر كے ہاتھوں گرفتار ہو كر قيد كرديئے گئے اور وہيں انتقال فرمايا_(۲۰)

امامعليه‌السلام كے ساتھ متوكل كا سلوك

امام ہادىعليه‌السلام اگر چہ خلفائے بنى عباس ميں سے چھ خلفاء كے ہمعصر رہے ليكن متوكل اور معتز سے آپعليه‌السلام نے دوسرے خلفاء كى بہ نسبت زيادہ دكھ سہے _ ان دونوں خلفاء كى سياست مخالفين ،خصوصاً علويوں كا قلع قمع كرڈالو كى سياست تھى _

متوكل حكومت بنى عباس ميں سب سے بڑا ظالم اور بد سرشت بادشاہ تھا اس كى حكومت كى مدت چودہ ۱۴)سال كچھ دن تھى (۲۳۲ھ ق_۲۴۷ھ ق)اور يہ زمانہ د سويں امامعليه‌السلام اور ان كے تابعين كے لئے سخت ترين زمانہ شمار كيا جاتا ہے _

متوكل جس كا دل اميرالمؤمنين ،ان كے خاندان اور ان كے شيعوں كے لئے كينہ سے بھرا ہواتھا _ وہ اس بات كى كوشش كرتاتھا كہ اس خاندان كے نماياں افراد كو نہايت بے دردى سے ختم كردے _ اسى لئے اس نے علويوں كے ايك گروہ كو قتل كيا اور دوسرے گروہ كو بھى نيست و نابود كرڈالا_

وہ ائمہ كى جانب بڑھتے ہوئے عمومى افكار كو روكنے اور ائمہعليه‌السلام كو گوشہ نشين بنانے كے لئے جھوٹے خواب نقل كركے لوگوں كو محمد ابن ادريس شافعى كى _جو گذر چكے تھے _ پيروى كرنے كا شوق دلاتاتھا_(۲۲) اور ۲۳۶ھ ق كو اس نے حكم ديا كہ سيدالشہداء حضرت امام حسين عليہ السلام كے مرقد مطہر كو ويران كرديا جائے اور اس زمين پر زراعت كى جائے تا كہ لوگ اس مرقد مطہر كى


زيارت كونہ جائيں جو شيعوں كا مركز اور دربار خلافت كے ظلم و استبداد كے خلاف شيعوں كى تحريكوں كے لئے الھام بخش ہے _(۲۳)

ليكن نہ صرف يہ كہ شيعہ كسى بھى طرح اس تربت پاك كى زيارت سے باز نہيں آئے بلكہ يہ جرم ان كے مبارزات كى شدت كو بڑھانے كا سبب بنا اور انہوں نے اپنے نفرت و غصہ كو نعروں اور اشعار كى شكل ميں بغداد كے شہر اور مسجد كى ديواروں پر لكھ كر ظاہر كيا _ ايك شعر كا مضمون ملاحظہ ہو :'' خدا كى قسم اگر بنى اميہ نے ظلم و ستم كے ساتھ فرزند پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو قتل كرديا تو اب بنى عباس _ جو فرزندان عبدالمطلب اور ان كى نسل سے ہيں _ انہوں نے بھى بنى اميہ كے جرائم كى طرح جرم كا ارتكاب كيا،يہ قبر حسينعليه‌السلام ہے جو ويران ہو گئي ہے _ اور يہ كہ بنى عباس كو اس بات كا افسوس ہے كہ انہوں نے قتل امام حسينعليه‌السلام ميں شركت نہيں كى اور اب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى تربت پر ظلم اور ان كى قبر كو ويران كركے وہ بنى اميہ كے جرائم كى پيروى كررہے ہيں _(۲۴)

ائمہ اہل بيت كى دوستى اور ان كى پيروى كے جرم ميں متوكل لوگوں پر سختى كرتا اور ان كو سزائيں ديتا تھا_

ابن سكيت ايك شيعہ اديب اور شاعر متوكل كے بيٹوں _ معتز اور مؤيد _ كے معلم تھے ايك دن خليفہ نے دونوں بيٹوں كى طرف اشارہ كركے ابن سكيت سے پوچھا كہ ''تيرے نزديك يہ دونوں زيادہ محبوب ہيں يا امام حسن و امام حسين(عليہما السلام) ؟ابن سكيت نے بے جھجك جواب ديا كہ امير المؤمنين كے غلام قنبر تيرے دونوں بيٹوں سے بہتر ہيں _(۲۵)

متوكل كو ہرگز ايسے جواب كى اميد نہ تھى چنانچہ وہ بڑا غضب ناك ہوا اس نے ان كى زبان گدّى سے كھنچ لئے جانے كا حكم ديا اور اس دردناك طريقہ سے ان كو شہيد كرديا_(۲۶)

امير المؤمنينعليه‌السلام سے كينہ اور عداوت نے متوكل كوايسى پستى اور رذلت ميں پہنچا ديا تھا كہ وہ ناصبيوں اور دشمنان اہل بيتعليه‌السلام كو اپنے قريب كرتاتھا اور كينہ سے لبريز دل كى تسكين كے لئے حكم ديتا تھا كہ ايك مسخرہ اپنى شرم آور حركات سے امير المؤمنين كا مذاق اڑائے اور ايسے ميں متوكل


شراب پيتا اور يہ مناظر ديكھ كر قہقہہ لگا تا _(۲۷)

سامرا ميں امام _كى جلا وطني

۲۳۲ھ ق ميں جب متوكل نے اقتداراپنے ہاتھ ميں ليا تو اس نے مختلف طبقہ كے لوگوں ميں امام ہادىعليه‌السلام كے نفوذ اور ان سے لوگوں كى محبت كو ديكھا تو بہت خوفزدہ ہوا اس وجہ سے اس نے چاہا كہ امامعليه‌السلام كو مدينہ سے سامرا بلائے اور آٹھويں امامعليه‌السلام كے سلسلہ ميں مامون كے رويہ كى پيروى كرے تا كہ آپ كو ان كے چاہنے والوں سے دور كرنے كے ساتھ ساتھ فعاليت سے بھى روك دے اور قريب سے نگرانى كرتا رہے _

حرمين كے امام جماعت اور والى مدينہ نے امام _كے بارے ميں متوكل سے جو چغلى لگائي تھى اس نے خليفہ كو اس ارادہ كو عملى جامہ پہنانے پر اكسايا اس وجہ سے اس نے ۲۳۴ھ ق۱۰۴

ميں امام كے لئے ايك خط لكھا اور اس كو يحيى ابن ہر ثمہ كے ذريعہ بھيجا اور حكم ديا كہ سامرا لاياجائے _(۲۸)

امامعليه‌السلام اگر چہ متوكل كى برى نيت سے واقف تھے پھر بھى آپعليه‌السلام نے اپنے آباء كرام كى پيروى كرتے ہوئے اس بات ميں بھلائي نہيں محسوس كى كہ متوكل كى مخالفت كى جائے اس لئے كہ اس كى مخالفت چغلى لگانے والوں كے لئے سند بن جاتى اور خليفہ كو اور زيادہ بھڑ كاديتى اسى وجہ سے آپعليه‌السلام اس جبرى سفر پر آمادہ ہوگئے _(۲۹)

اور اپنے بيٹے امام حسن عسكرىعليه‌السلام كولے كر خليفہ كے بھيجے ہوئے آدميوں كے ساتھ سامرا ء كے سفر پر چل پڑے _

متوكل نے آپ كى شخصيت كو نقصان پہنچانے اور اپنى طاقت كے مظاہرہ كے لئے حكم ديا كہ امامعليه‌السلام كو ايك نامناسب جگہ جس كا نام ''خان الصعاليك'' تھا ،جو گدا گروں كى جگہ تھى ،وہاں


اتاراجائے اور ايك دن وہاں ٹھہرانے كے بعد محلہ عسكر(۳۰) ميں امامعليه‌السلام كے لئے ايك گھر ليا گيا اور آپعليه‌السلام كو اس ميں منتقل كيا گيا(۳۱) آخر عمر تك آپعليه‌السلام اسى جگہ مقيم رہے اور متوكل اور اس كے بعد كے خلفا ء كى طرف سے ہميشہ نظر بند رہے _ سامرا ميں بيس سالہ قيام كے دوران آپعليه‌السلام نے بڑے دكھ سہے ،خاص كر متوكل كى طرف سے ہميشہ تہديد اور آزار كا شكار رہے _ بغير كسى اطلاع كے پيسہ اور اسلحہ كى تلاشى كے بہانہ بارہا آپعليه‌السلام كے گھر كى تلاشى ہوتى رہى اور بہت سے مواقع پر خود آپعليه‌السلام كو خليفہ كے پاس لے جايا گيا_

معتز ،متوكل كا بيٹا بھى اپنے باپ سے كم نہ تھا _ علويوں كے ساتھ اس كا سلوك بہت ناروا تھا _ اس كى حكومت كے زمانہ ميں بہت سے علويوں كو يا تو زہر ديا گيا يا قتل كرڈالاگيا _ امام ہادىعليه‌السلام اسى كے زمانہ ميں شہيد ہوئے _

امامعليه‌السلام كى فعاليت اور آپعليه‌السلام كا موقف

امام ہاد ى _كى علمى اور سماجى فعاليت اور خلافت كى مشينرى كے مقابل آپ كے موقف سے آگاہى كے لئے ضرورى ہے كہ ہم مسئلہ كى دوحصوں ميں تشريح كريں _

۱_مدينہ ميں آپعليه‌السلام كى فعاليت اور آپعليه‌السلام كا موقف

۲_ سامرا ميں حضرتعليه‌السلام كى كار كردگى اور آپ كا موقف

الف :مدينہ ميں آپ كى فعاليت اور موقف

اپنے والد بزرگوار كى شہادت كے بعد اپنى امامت كے زمانہ ميں امام ہادىعليه‌السلام نے تقريباً تيرہ سال نہايت دشوار گذار اور كھٹن ما حول ميں مدينہ ميں زندگى بسر كى اور آپعليه‌السلام نے مختلف گروہوں كو آگاہى بخشنے ،طاقتوں كو جذب كرنے اور عوامى مركز تشكيل دينے ميں اپنى تمام تركوششيں صرف كيں _


يہ كوششيں اتنى موثر اور دربار خلافت كے لئے ايسى خطرناك تھيں كہ حرمين كے امام جماعت ''بريحہ'' نے متوكل كولكھا اگر تم كو مكہ اور مدينہ كى ضرورت ہے تو على ابن محمد ہاديعليه‌السلام كو اس ديار سے نكال دو اس لئے كہ وہ ،لوگوں كو اپنى طرف بلاتے ہيں چنانچہ بہت سے افراد بھى ان كے گرويدہ ہيں _(۳۲)

اسى بات كو حكومت بنى عباس كے طرفداروں نے ،منجملہ ان كے والى مدينہ نے بھى متوكل كو لكھا اور يہى فعّاليت اور لوگوں كى چغلى ، اس بات كا باعث ہوئي كہ متوكل امامعليه‌السلام كو سامرا منتقل كرنے كے نگرانى ميں ركھے _

سامرا لے جاتے وقت مدينہ كے عوام كاردّ عمل ،امام كى سياسى اور سماجى كوششوں اور معاشرہ ميں ان كى حيثيت پر دوسرى بولتى ہوئي دليل ہے _

يحيى بن ہرثمہ نقل كرتا ہے كہ جب مدينہ والوں كو معلوم ہوا كہ ہم امام ہادىعليه‌السلام كو مدينہ سے لے جانے كے لئے آئے ہيں تو ان كے نالہ و فرياد كى ايسى آواز يں بلند ہوئيں كہ ميں نے اس سے پہلے ايسى آوازيں نہيں سنى تھيں ، جب ميں نے قسم كھا كر يہ بات كہى كہ امامعليه‌السلام كے ساتھ كوئي برا سلوك نہيں كروں گا تب لوگ چپ ہوئے _(۳۳)

مدينہ والوں كے نالہ و شيون او ران كى فرياد سے دو حقيقتوں كا پتہ چلتا ہے _ پہلى بات تو يہ ہے كہ اس سے امام كے سلسلہ ميں ان كى محبت اور الفت كا اندازہ ہوتا ہے _ اور دوسرى بات ہے كہ امامعليه‌السلام كے بارے ميں حكومت كے معاندانہ رويہ سے لوگ آگاہ ہوگئے _

لوگوں كا غم و غصہ اور ان كى تشويش دو باتوں كى بنا پر تھى :

۱_آپ كى رہبرى اور آپ كے فيوض و بركات سے محرومى اور جدائي _

۲_اس بات كا احتمال كہ پايہ تخت منتقل كرنے كہ بعد امامعليه‌السلام كو شھيد كرديا جائيگا اور اس احتمال كو خليفہ كے بھيجے ہوئے آدميوں نے لوگوں كے شك آلود چہرہ اور ان كے نالہ و فرياد سے بخوبى محسوس كرليا تھا _ اسى وجہ سے يحيى بن ہرثمہ نے قسم كھائي كہ كہيں كوئي حادثہ نہ پيش آجائے _


ب: سامرا ميں امامعليه‌السلام كى فعاليت اور موقف

امام ہادىعليه‌السلام نے جو بيس سال سامرا ميں زندگى گذارى اس كھٹن ما حول ميں اپنے دوستوں اور خود اپنى نگرانى كے ، با وجود امكان كى حدتك پيغام الہى كو ہميشہ كى طرح پہنچانے ميں كامياب رہے_

آپعليه‌السلام كى كاركردگى كا خلاصہ دو حصوں ميں بيان كيا جا سكتا ہے :

۱_اپنے برحق موقف كو بيان كرنا اور اسے مضبوط بنانا اور باطل كے موقف پر تنقيد كرنا _

۲_ عوامى مركز كى پشت پناہى اور لوگوں كو دربار خلافت ميں داخل ہونے اور اس كى مدد كرنے سے روكنا _

۱_پہلا موقف

اس موقف كو بيان كرنے كے لئے چند نمونوں كا بيان كردينا ضرورى ہے _

۱_ خليفہ پر كھلم كھلا امام كى تنقيد اور واضح بيانات _

اس كا واضح ترين نمونہ وہ اشعار ہيں جو امام _نے خليفہ كى بزم ميں پڑھے اور متوكل نے گريہ كيا _

متوكل نے ايك بزم منعقد كى اور اس نے حكم ديا كہ امام ہادى _كو بھى لا يا جائے ، جب امامعليه‌السلام وہاں پہنچے تو_ متوكل جو شراب خورى ميں مشغول تھا _ اس نے امامعليه‌السلام كو اپنے پہلو ميں بٹھايا اور امامعليه‌السلام سے اس نے اس كا م كى بھى خواہش كى (معاذاللہ) امامعليه‌السلام نے فرمايا ''ميرا گوشت اور ميرا خون ہرگز شراب سے آلودہ نہيں ہوا ہے''_

متوكل آپ كو شراب پلانے سے مايوس ہوگيا اور اس نے اشعار پڑھنے كى پيشكش كى ، امام_نے فرمايا كہ ميں بہت كم شعر پڑھتا ہوں متوكل نے كہا شعر پڑھنے كے سوا اور كوئي چارہ ہى نہيں ہے _


امام _نے اشعار پڑھے جس سے خليفہ بہت متاثر ہوا اتنا متاثر ہوا كہ خود خليفہ اور حاضرين مجلس نے گريہ كيا _پھر اس نے بساط شراب كو سميٹ دينے كا حكم ديا اور امام ہادى _كو چار ہزار دينار دے كر احترام سے واپس بھيجديا_(۳۴)

لوگوں كے در ميان انفرادى يا اجتماعى طور پر اپنى حقانيت اور امامت كا اثبات كے مرحلہ ميں آپ كا موقف كچھ اس طرح تھا كہ جو دربار خلافت سے آپ كے كلى منفى رويہ كے خلاف نہ تھا _

تاريخ ميں اس سلسلہ ميں بہت سے نمونے درج ہيں كہ امامعليه‌السلام نے اپنى پيش گوئي اور معجزات كے ذريعہ لوگوں كو اپنى حقانيت كى طرف متوجہ كرنے اور انہيں خواب غفلت سے بيدار كرنے كى بہت كوشش كى _

اس ميں سے ايك نمونہ حضرت كا ''سعيد ابن سھل '' بصرى سے سلوك ہے _ سعيد خود نقل كرتے ہيں كہ ميں واقفى(۳۵) مذہب كا تھا _ ايك دن امام ہادىعليه‌السلام سے ملا آپ نے مجھ كو مخاطب كرتے ہوئے فرمايا ،كب تك سوتے رہوگے ؟كيا تم نہيں چاہتے كہ اس غفلت سے بيدار ہوجاؤ؟امام _كى باتوں نے مجھ پر ايسا اثر كيا كہ ميں نے اپنا عقيدہ چھوڑ كر حق كو قبول كرليا(۳۶)

كسى خليفہ كے بيٹے كے وليمہ كے سلسلہ ميں امام ہادىعليه‌السلام كى بھى دعوت تھى جب آپ تشريف لے گئے تو حاضرين آپ كے احترام ميں ساكت ہوگئے ليكن ايك جوان اسى طرح باتيں كرتا اور ہنستارہا وہ چاہتا تھا كہ امام _كو لوگوں كے در ميان سبك كردے امامعليه‌السلام نے اس نوجوان كى طرف رخ كيا اور فرمايا يہ كيسى ہنسى ہے جس نے تجھے ياد خدا سے غافل بنا ديا ہے ؟در آن حاليكہ تم تين دن كے بعد مرجاؤ گے _

وہ جوان يہ باتيں سن كر چپ ہوگيا ،تمام حاضرين امام _كى پيشين گوئي كى صداقت كو پركھنے كے لئے دن گنتے رہے يہاں تك كہ تيسر ا دن آيا اور وہ نوجوان مرگيا(۳۷)


۲_علمى كاركردگي

لوگوں كو آگاہ كرنے ،امامت كے موقف كى وضاحت اور اس كى تفسير بيان كرنے كے لئے امام _كى فعاليت كے محورمند مندرجہ ذيل ہيں :

۱_ مختلف اقوال يا تحريريں جو حق كو ثابت كرنے والے اور لوگوں كے ذہن ميں ابھر نے والے شبہات كو ختم كرنے كے لئے ضرورى مقامات پر سامنے آئيں _

۲_ مناظرہ كے جلسوں ميں شركت كرنا اور خليفہ يا ان لوگوں كے سوالات كے جواب دينا جن كو خليفہ سوال كرنے پراكساتا تھا _ پھر ان كو عملى اعتبار سے عاجز كردينا_

متوكل نے ايك دن ابن سكيت(۳۸) كو اكسايا كہ امام سے مشكل مسائل پوچھے ،انہوں نے ايك نشست ميں امام سے وہ مسائل پوچھے جو ان كى نظر ميں مشكل تھے امام نے ان تمام سوالوں كے جواب ديئے _

اس كے بعد ابن سكيت ،يحيى ابن اكثم كو ميدان مقابلہ ميں لايا ليكن يحيى نے بھى منہ كى كھائي اور مغلوب ہوا_ اس نے متوكل سے كہا كہ ايسے جلسے منعقد كرنا حكومت كى بھلائي كے لئے مفيد نہيں ہيں ، اس لئے كہ امام _كى برترى اور كاميابى كى آواز شيعوں كے كانوں تك پہنچ چكى ہے يہ جلسے ان كے استحكام اور فخر كا باعث بنيں گے_(۳۹)

۳_شاگردوں كى تربيت

دربار خلافت كى طرف سے محدوديت كا شكار ہونے اور آپ كے گھر آنے جانے والوں كى نگرانى ہوتے رہنے كے با وجود امام ، قدر آور شخصيتوں اور بافضيلت لوگوں كى تربيت كرنے ميں كامياب ہوگئے ،شيخ طوسى نے ان لوگوں كى تعداد جو حضرت سے روايت كرتے تھے ايك سوپچاسي(۱۸۵)لكھى ہے جن كے در ميان بڑے نماياں افراد بھى نظر آتے ہيں منجملہ ان كے :

۱_ حضرت عبدالعظيم حسنى ہيں جن كا سلسلہ چار واسطوں سے امام حسن مجتبيعليه‌السلام سے مل جاتا ہے


آپ محدثين اور بزرگ علماء ميں شمار ہوتے تھے اور زہد و تقوى ميں بڑا مقام ركھتے تھے _

۲_ حسين ابن سعيد اہوازى ہيں جنہوں نے فقہ و ادب و اخلاق كے موضوع پر تقريباً تيس كتابيں لكھى ہيں ، آپ علمى مقام و منزلت كے حامل ہونے كے علاوہ لوگوں كى ارشاد و ہدايت بھى فرماتے تھے(۴۰)

۳_على ابن جعفر ميناوى جن كو متوكل نے قيد خانہ ميں ڈال ديا تھا _

۴_ مشہور اديب ابن سكيت جو متوكل كے ہاتھوں شہيد ہوئے

۴_ زيارت جامعہ

امام ہادى _كى باقى رہ جانيو الى يادگار ميں سے ايك چيز ''زيارت جامعہ'' ہے ''موسى ابن عبداللہ نخعى '' نامى ايك شيعہ كى درخواست پر آپ نے ان كو يہ زيارت تعليم فرمائي تھى _ ولايت اور معرفت امام كے سلسلہ ميں شيعوں كے حيات بخش معارف ميں سے ايك دريا اس ميں موجز لايئےور مرحوم شيخ صدوق عليہ الرحمةجيسے بزرگ عالم نے ''من لا يحضرہ الفقيہ '' اور عيون اخبار الرضا ميں ، مرحوم شيخ طوسى ''قدس سرہ'' نے تہذيب الاحكام ميں اس زيارت كو نقل كيا ہے اور اب تك اس كى مختلف شرحيں لكھى جاچكى ہيں _

۲_ دوسرا موقف

اس موقف كى وضاحت كے لئے بھى ہم چند موارد كو بطور نمونہ ذكر كريں گے _

۱_ شيعوں كى حمايت اور پشت پناہي

اس سلسلہ ميں امامعليه‌السلام كى كوشش يہ تھى كہ اپنے دوستوں كى معنوى اور اقتصادى مشكلات كى حمايت و مدد كريں ، چنانچہ مختلف علاقوں سے جو پيسے خمس ،زكوة اور خراج كے پہنچا كرتے تھے امامعليه‌السلام ان لوگوں كو دے ديتے تھے تا كہ وہ لوگ اسے عمومى مصالح اور لازمى ضرورتوں ميں صرف كريں _


اصحاب ميں سے تين افراد كے در ميان نوّے ہزار دينار ديئےانے كا واقعہ ہم گذشتہ صفحات ميں بيان كرچكے ہيں جو اس حقيقت پر واضح دليل ہے _

مذكورہ رقم كا ديا جانا ايسا حيرت انگيز ہے كہ ابن شہر آشوب اس واقعہ كو نقل كرتے كے بعد لكھتے ہيں كہ اتنى بڑى رقم كا خرچ كرنا صرف بادشاہوں كے بس كا كام ہے اور اب تك سنا نہيں گيا كہ كسى نے ايسے بخشش كى ہو_

جو قرآئن اس روايت ميں نظر آتے ہيں وہ اس احتمال كى نفى كرتے ہيں كہ امام نے يہ سارے پيسے اپنے اصحاب كو ذاتى مصارف كے لئے ديئےوں _

رقم كى زيادتى ان ميں سے دو افراد كو بغير در خواست اور بغير كسى ضرورت كے اتنى بڑى رقم ديا جانا _ يہ ہمارے دعوى كے گواہ بن سكتے ہيں _

۲_اصحاب كو حكومت كے شيطانى پھندے ميں پھنسنے سے روكنا اور ان كى ہدايت كرنا _

اپنے بھائي كو متوكل كى بزم شراب سے امامعليه‌السلام كا روكنا امامعليه‌السلام كے اس موقف كا بڑا واضح نمونہ ہے_(۴۱)

۳_اپنے پيرووں سے مسلسل تحريرى رابطہ ركھنا اور ان كو ضرورى ہدايات ديتے رہنا _نمونہ ملاحظہ فرمائيں :

محمد ابن فرج رخجى كو آنے والے ايك خطرہ سے آگاہ كرتے ہوئے تحرير فرماتے ہيں كہ :''يا محمد اجمع امرك و خذ حذرك '' اپنے كاموں كو سميٹ لو اور ہوشيار ہو _ محمد فرماتے ہيں كہ ميں نے امام_كا مطلب نہيں سمجھا يہاں تك كہ خليفہ كے معين كردہ آدمى آگئے اور انہوں نے گرفتار كرنے اور بہت زيادہ مارنے پٹينے كے بعد مجھ كو قيد ميں ڈال ديا اور ميں آٹھ سال تك قيد ميں رہا_(۴۲)

اگر محمد ابن فرج امامعليه‌السلام كا مطلب سمجھ گئے ہوتے تو شايد اس خطرہ سے نكل جاتے _


شہادت امامعليه‌السلام

تمام پريشانيوں اور محدوديتوں كے با وجود امام _بنى عباس كے ظالموں سے معمولى سمجھوتہ پر بھى راضى نہيں تھے اور يہ بات طبيعى ہے كہ امامعليه‌السلام كى الہى شخصيت ان كى اجتماعى حيثيت اور خلفاء كے ساتھ ان كا منفى رويہ ان لوگوں كے لئے خوف و ہراس پيدا كرنے والا اور ناگوار تھا _ اس وجہ سے آپ كے حق ميں تمام مظالم كرنے يہاں تك كہ زندان ميں ڈال دينے كے بعد بھى خوف و ہراس سے محفوظ نہ تھے ،اور ان كے پاس كوئي راہ چارہ نہ تھى كہ وہ نور خدا كو خاموش كرديں اور آپ كو قتل كرديں _

چنانچہ تيسرى رجب ۲۵۴ھ ق ميں ۴۲سال كى عمر ميں معتز كى خلافت كے زمانہ ميں آپ كو زہر ديا گيا اور سامرا ميں آپ اپنے ہى گھر ميں سپر و لحد كئے گئے_(۴۳)


سوالات

۱_ امام ہادىعليه‌السلام كس مقام پر كس تاريخ كو پيداہوئے ،آپ كے والداور والدہ كا نام لكھيے ؟

۲_ دسويں امامعليه‌السلام نے كس تاريخ اور كس سن ميں امامت كے عہدہ كى ذمہ دارى سنبھالى آپ كى امامت كى مدت كتنى ہے ؟آپ كے معاصر خلفاء كا نام بتايئے

۳_ دسويں امامعليه‌السلام كى امامت كے زمانہ كى خصوصيت كو مختصر طور پر بيان كيجئے ؟

۴_ متوكل كا امام ہادىعليه‌السلام كے ساتھ كيسا سلوك تھا _ اس نے امامعليه‌السلام كو كس وجہ سے سامرابلوايا؟

۵_ كيا مدينہ ميں امام _كى سياسى اجتماعى فعاليت پر دليليں موجود ہيں ؟

۶_سامرا ميں امام ہادىعليه‌السلام كى فعاليت اور ان كے موقف كو اختصار سے بيان فرمايئے

۷_امامعليه‌السلام كى شہادت كس تاريخ كو اور كيسے ہوئي؟

۸_شہادت كے وقت دسويں امامعليه‌السلام كى كيا عمر تھى ؟


حوالہ جات

۱. ''صريا '' مدينہ سے تين ميل كے فاصلہ پر ايك قريہ ہے جس كو موسى ابن جعفرعليه‌السلام نے آباد كيا تھا ،مناقب جلد ۴/۳۸۲،بحار جلد ۵۰/۱۱۵''صربا''بھى لكھا گيا ہے _

۲. بحار جلد ۵۰/۱۱۴،۱۱۵،مناقب ج ۴ /۴۰۱،اعلام الورى /۳۵۵،ارشاد /۳۲۷،انوار البھية ۲۴۴_

۳. اصطلاح راويان شيعہ ميں ابوالحسن اول امام ہفتم اور ابوالحسن ثانى امام ہشتم ہيں _

۴.''امى عارفه بحقى و هى من اهل الجنة لا يقربها شيطان ما رد و لا ينالها كيد جبار عنيد و هى مكلوئَة بعين الله التى لا تنام و لا تخلف عن امهات الصديقين و الصالحين '' سفينة البحار ۲/۲۴۰،انوار البہية /۲۴۵_

۵. اثباة الہداة جلد ۶/۲۰۹_

۵. بحار جلد ۵۰/۱۱۸_

۶. الفصول المہمہ/۲۸۳_۲۸۲_

۷. المقنا جلد ۲/۲۱۸ نوشتہ '' دخيل '' منقول از اصول كافى ، تذكرة الخواص /۳۲۲_

۸. نور الابصار /۲۷۷ ، ائمتنا نوشتہ ،''دخيل'' جلد ۲۱۸_

۹. مناقب جلد ۴/۴۰۹_

۱۰. بجار جلد ۵۰/۱۲۹، انوار البہيہ/۲۴۷_

۱۱. بحار جلد ۵۰/۱۷۵، كشف الغمہ جلد ۳/ ۱۶۵ _ ۱۶۴ _ نور الابصار شنبلنجى /۱۸۲_ ۱۸۱ _ الفصول المہمہ /۲۷۹ _ ۲۷۸ ، الصواعق المحرقہ /۲۰۷ _ ۲۰۶، انوار البہيہ / ۲۵۶_۲۵۵_

۱۲. اعلام الورى /۳۶۱_ ۳۶۰_ مناقب جلد ۴/۴۰۷، بحار جلد۵۰/۱۳۷_ انوار البہيہ /۲۴۷_

۱۳. مزيد معلومات كے لئے جبر و تفويض كے مسئلہ ميں امام كا خط اور اسى طرح آ پ كے احتجاجات جو كتاب تحف العقول ميں صفحہ ۲۵۶_۳۳۸ پر موجود ہيں ملاحظہ فرمائيں _

۱۴. اور شايد اس دور ميں بنى عباس كے چھ خليفہ تك ہاتھوں ہاتھ خلافت پہنچنے كى علتوں ميں سے ايك بڑى وجہ يہى مسئلہ تھا_ اور خلافت كے عہدہ پرنسبتاً زيادہ دنوں تك متوكل كے قابض رہنے كى وجہ يہ تھى كہ وہ ايك حد تك قدرت كو اپنے ہاتھوں ميں لئے رہنے اور ان لوگوں كى اسيرى سے اپنے آپكو نجات دينے ميں كامياب ہو گيا_


۱۵.اليس من العجائب ان مثلى ---يرى ما قل ممتنعاً عليه

و تو خذباسمه الدنيا جميعا ---و ما من ذاك شيئي فى يديه

اليه يحمل الاموال طرًا ---و يمنع بعض ما يجبى اليه

۱۶. '' خليفة فى قفس بين و صيف: و بغاء ، يقول ما قالالہ كما يقول البغائ''_مروج الذہب جلد ۴/۶۱_

۱۷. مقاتل الطالبين / ۳۸۴_ ۳۸۲_

۱۸. مقاتل الطالبين /۴۲۴_۴۲۰ كامل ابن اثير جلد ۷/۱۳۰_۱۲۶_

۱۹. مقاتل الطالبين /۴۰۶ ، كامل ابن اثير جلد ۷/۱۳۰،۲۴۸،۴۰۷_ مروج الذہب ج ۴/۶۸_

۲۰. مقاتل الطابين /۴۰۶، مروج الذہب جلد ۴/۶۹_

۲۱. تاريخ الخلفاء /۲۵۱_۳۵۰_

۲۲. تاريخ الخلفائ/۳۴۷، تاريخ ابوالفداء /جزء دوم /۳۸_

۲۳.بالله ان كانت اميّه قد اتت ---قتل بن بنت نبيّها مظلوما ً

فلقد اتاه بنو ابيه بمثله ---هذا لعمرى قبره مهدوماً

اسفو على ان لا يكونوا شاركوا ---فى قتله فتتّبعوه رميماً

۲۴. الفداء نے اپنى تاريخ ميں ابن سكيب كا بيان اس طرح لكھا ہے كہ '' قنبر تجھ سے اور تيرے دونوں بيٹوں سے زيادہ مجھ كو محبوب ہيں _

۲۵. تاريخ الخلفاء / ۳۴۸، تاريخ ابى الفداء جلد۱/جزء دوم /۴۱(۴۰)

۲۶. المختصر فى اخبار البشر (معروف تاريخ ابى الفدائ) جلد ۱ / جزء دوم /۳۸

۲۷. امام كے سامرا جانے كى تاريخ ميں اختلاف ہے ، مرحوم مفيد نے ارشاد ميں امام كو متوكل كے خط لكھنے كى تاريخ جمادى الآخر ۲۴۳ھ ق( ارشاد /۳۳۳ ) بتائي ہے ليكن جو مناقب جلد ۴/۴۰۱ اور ديگر كتابوں ميں سامرا ميں امام كى قيام كى مدت بيس سال لكھى ہے جس سے معلوم ہوتا ہے كہ آپ كے سامرا جانے كى تاريخ وہى ۲۳۴ ھ قہے ، اس لئے يہ بات بعيد معلوم ہوتى ہے كہ متوكل امام كى فعاليت سے گيارہ سال غافل رہا ہو اور اس نے كوئي فكر نہ كى ہو _

۲۸. بحار جلد ۵۰/۲۰۱_ ۲۰۰ ، ارشاد مفيد / ۳۳۲ ، تذكرة الخواص / ۳۲۲


۲۹. آپكا سفر زبردستى كا سفر تھا اس كى دليل خود آپ كا قول ہے آپ نے فرمايا: مجھ كو مدينہ سے زبردستى سامرا لايا گيا بحار ۵۰/۱۲۹

۳۰. چونكہ وہ گھر جہاں امام ہادى _اور ان كے بعد امام حسن عسكرى _ نظر بندكئے گئے تھے عباسى لشكرگاہ كے پاس تھا اور اس محلہ كو محلہ عسكر كہتے تھے اس لئے يہ دونوں امام عسكريين كے نام سے مشہور ہوئے بحار ۵۰/ ۳۶۲_

۳۱. فصول المہمہ /۲۸۱_۲۸۰،ارشاد مفيد /۳۳۴_۳۳۳،تذكرہ الخواص ۳۶۲،انوار البہيّة /۲۵۹،بحار ج۵۰ /۲۰۰_

۳۲. ''ان كان لك فى الحرمين حاجة فاخرج على بن محمد منھا فانّہ قد دعا الناس الى

نفسہ و اتبعہ خلق كثير''بحار جلد ۵۰/۲۰۹،سيرة الائمہ الاثنى عشر جلد ۲/۴۸۵_

۳۳. مروج الذہب جلد ۴/۸۴،بحار جلد ۵۰/۲۱۷،تذكرة الخواص /۳۳۲_

۳۴. تذكرة الخواص /۳۲۳،مروج الذہب جلد ۴/۱۲_۱۰،تو ر الابصار شبلخى /۱۸۲،بحار جلد ۵۰/۲۱۱،امام نے جو اشعار پڑھے ان ميں سے كچھ اشعار ملاحظہ ہوں :

با تو على قلل الاجبال تحرسهم ---غلب الرجال فما اغنتهم القلل

و استنزلوا بعد عزمن معاقلهم ---و اسكنوا حضراً يا بئس ما نزلوا

ناداهم صارخٌ من بعد دفنهم ---اين الاساور و التيجان و العلل

اين الوجوه التى كانت منعمه ---من دونها تضرب الاستار و الكلل

فافصح القبر عنهم حين سائلهم ---تلك الوجوه عليها الدّود تنتقل

قد طال ما اكلوا دهراً و ما شربوا ---فاصبحوا بعد طول الا كل قد اكلوا

انہوں نے پہاڑ كى چوٹيوں كو اپنے رہنے كى جگہ قرار دى اور مسلح افراد ان كى حفاظت كررہے تھے ليكن ان ميں سے كوئي چيز بھى موت كو نہ روك سكى _

انجام كار عزت كى بلند چوٹيوں سے قبر كے گڑھے ميں گر پڑے انہوں نے كتنى برى جگہ كو اپنے رہنے كى جگہ قرار ديا ايسى صورت ميں آواز آئي كہ وہ تاج و زينت و جلال و شكوہ سب كہاں چلے گئے _

كہاں گئے وہ نعمتوں ميں غرق چہرے جو مختلف پردوں كے پيچھے زندگى گذارتے تھے (جہاں بارگاہ تھى پردے اور دربان تھے ) ايسے موقع پر قبر نے آواز دى اور كہا : نازوں كے پروردہ چہروں كو كيڑے مكوڑے


كھارہے ہيں _

۳۵. واقفى وہ لوگ ہيں جنہوں نے موسى ابن جعفرعليه‌السلام كى امامت پر توقف كيا ان كے بعد آپ كى امامت كو انہوں نے قبول نہيں كيا ، ان كا عقيدہ ہے كہ موسى بن جعفر كا انتقال نہيں ہوا ہے بلكہ وہ نظروں سے پنہاں ہوگئے اور ايك دن ظہور فرمائيں گے _

۳۶. مناقب جلد ۴/۴۰۷، بحار جلد ۵۰/۱۷۲_

۳۷. مناقب جلد ۴/۴۱۵ _۴۱۴_

۳۸. مناقب جلد ۴/۴۰۵ _۴۰۳،بحار جلد ۵۰/۱۷۲_۱۶۴_

۳۹. ابن سكيت ہر چند كہ دل سے شيعہ اور دوستدار اہل بيت تھے ليكن چونكہ وہ متوكل كے بيٹوں كے معلم بھى تھے اور شايد وہ اپنے عقيدہ كو چھپا تے تھے اس وجہ سے انہوں نے يحيى بن اكثم كو اس بات كے لئے آمادہ كيا كہ وہ امام سے سوال كرے _

۴۰. تنقيح المقال جلد ۱/۳۲۹_

۴۱. اس واقعہ كا خلاصہ يہ ہے كہ :جب متوكل امام ہادى پر دسترسى حاصل نہ كر سكا اور آنحضرت كو مجلس لہو لعب اور عيش و عشرت ميں نہ كھينچ سكا تو كچھ لوگوں كى پيشكش پر اس نے آپ كے بھائي موسى كو اپنى محفل ميں دعوت دينے كا ارادہ كيا _ اور يہ دكھا كر كہ ابن رضا اس كے دستر خوان پر بيٹھے ہيں امام ہادىعليه‌السلام كى شخصيت اور حيثيت كو داغدار بنا نا چاہا _ موسى اس كى دعوت پر سامراء پہونچے اور تمام چيزيں پہلے سے فراہم تھيں جو لوگ پہلے سے تيار بيٹھے تھے وہ ان كے استقبال كو پہنچے امامعليه‌السلام بھى ان كے ساتھ وہاں گئے اور پہلى ملاقات ميں انہوں نے اپنے بھائي كو متوكل كے خيانت آميز نقشہ ميں پھنستے ہوئے ديكھ كر ان كو اس كے جلسہ ميں شركت كرنے سے روكا ليكن موسى نے امام كے نصيحتوں كا اثر نہيں ليا امام نے جب يہ محسوس كرليا تو آپ نے نہايت يقينى لہجہ ميں كہا :تم كو متوكل كى بزم ميں شركت كرنے كا موقع ہى نہيں ملے گا _ آخر كار وہى ہوا جسكى پيشين گوئي امامعليه‌السلام نے كى تھى _ ارشاد مفيد /۳۳۲_۳۲۱_مناقب جلد ۴/۴۱۰_۴۱۹بحار ۵۰/۱۵۸_

۴۲. اعلام الورى /۳۵۸،مناقب جلد ۴/۴۱۴،بحار ج ۵۰ /۱۴۰_

۴۳. اعلام الورى /۳۵۵،ارشاد مفيد /۳۳۴،مناقب جلد ۴/۴۰۱،بحار جلد ۵۰/۱۱۴_۱۱۷_


چودہواں سبق:

امام حسن عسكرىعليه‌السلام كي سوانح عمري


ولادت

شيعوں كے گيا رہويں امام ۱۰ ربيع الثانى ۲۳۲ ھ ق كو مدينہ ميں پيدا ہوئے(۱) آپ كا نام حسن ، كنيت ابومحمد اور سب سے زيادہ مشہور لقب عسكرى تھا _ آپ كے والد بزرگوار امام ہادى _اور مادر گرامى ''حديث '' تھيں(۲)

امامت كى تعيين

بار ہويں امامعليه‌السلام تك تمام ائمہ كا عام روايتيں تعارف كراتى ہيں ان كے علاوہ امام ہادى _نے ہر طرح كے ابہام كو دور كرنے اور تاكيد كے لئے اپنے فرزند ارجمند امام حسنعليه‌السلام كا تعارف اپنے شيعوں كے درميان امام اور پيشوا كى حيثيت سے كرايا _ ان ميں سے كچھ تصريحات كى طرف يہاں اشارہ كيا جارہا ہے_

۱_ ''ابوہاشم جعفرى '' امام ہادى _سے نقل كرتے ہيں كہ آپ نے فرمايا : ميرے جانشين ميرے بيٹے حسنعليه‌السلام ہيں ، ميرے جانشين كے ساتھ كس طرح رہوگے ؟ميں نے عرض كيا كہ كيسے رہنا چاہيے ،ميں آپ پرنثار ہوجاؤں ؟

آپ نے فرمايا : جب كوئي شخص ان كو نہ ديكھے تو اس كے لئے درست نہيں ہے كہ انكے نام كا ذكر كرے _

ميں نے پوچھا:پھر ان كو ہم لوگ كيسے پكاريں گے ؟آپ نے فرمايا :تم كہنا''الحجة من


آل محمد'' (۳)

۲_ ''صقر بن دلف '' كہتے ہيں كہ ميں نے امام ہادى _كو فرماتے ہوئے سنا كہ: بيشك ميرے بعد ميرا بيٹا ''حسنعليه‌السلام '' امام ہے اور ان كے بعد ان كے بيٹے ''قائم'' ہوں گے يہ وہ ہيں جو زمين كو ظلم جور سے پر ہونے كے بعد عدل و انصاف سے بھر ديں گے _(۴)

۳_ ''يحيى بن يسار قنبري'' نقل كرتے ہيں كہ امام ہادى _نے اپنى رحلت سے چار مہينہ پہلے اپنے بيٹے امام حسنعليه‌السلام سے وصيت كى اور ان كى امامت و خلافت كى طرف اشارہ فرمايا مجھ كو اور كچھ دوستوں كو اس پر گواہ قرار ديا_(۵)

والد بزرگوار كے ساتھ

امام حسن عسكرىعليه‌السلام نے اپنى عمر كے ۲۲ سال اپنے پدربزرگوار كے دامن تربيت ميں گذارے_ دو سال كى عمر ميں اپنے پدر عاليقدر كے ساتھ سامرا تشريف لے گئے اور بيس سال كى اس تمام مدت ميں آپ امام ہادى _كى خدمت ميں تھے ، خلفاء بنى عباس نے آپ كے كردار اور روابط كى نگرانى كى ، بنى عباس كے حكمرانوں خصوصاً متوكل كى خاندان علىعليه‌السلام اور خاص كر آپ كے والد امام ہادى _كے ساتھ برتے جانے والے مظالم اور كينہ توزى كو امام حسن عسكرىعليه‌السلام نے بہت قريب سے مشاہدہ فرمايا _

امام حسن عسكرىعليه‌السلام اس طويل مدت ميں اپنے والد كے مددگار ان كے موقف كے پشت پناہ رہے _ ليكن'' عسكريين'' عليہما السلام كو خلفاء بنى عباس نے چونكہ حدسے زيادہ محدود كرديا تھا اس لئے ان دونوں بزرگوار وں كى سياسى اورمبارزاتى زندگى كے متعلق ابہام پايا جاتاہے اسى وجہ سے ہم ديكھتے ہيں كہ تاريخ ،امام حسن عسكرىعليه‌السلام كى كوششوں اور ان كے موقف كے بارے ميں خاموش ہے _


اخلاقى خصوصيات و عظمت

امام حسن عسكرىعليه‌السلام معنوى فضل و كمالات ميں پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم اور اپنے تمام اسلاف كے مكمل آئينہ دار تھے چنانچہ ہر دوست و دشمن آپ كى اخلاقى عظمت و خصوصيات كا معترف تھا_

حسن ابن محمد اشعرى ، محمد بن يحيى اور كچھ دوسرے لوگوں نے نقل كيا ہے كہ ايك دن احمد ابن عبداللہ خاقان(۶) _ قم كى زمينوں اور خراج كا نگران _ كى نشست ميں علويوں اور ان كے عقائد كا تذكرہ چل رہاتھا _ احمد ابن عبداللہ نے _ جو اہل بيت كے سخت ترين دشمنوں اور ناصبيوں ميں سے تھا _ كہا ''كردار، وقار، عفت، نجابت، فضيلت اور عظمت ميں ،ميں نے اپنے خاندان اور بنى ہاشم ميں حسن بن على _جيسا كسى كو نہيں ديكھا ،ان كا خاندان ان كو سن رسيدہ اورمحترم شخصيتوں پر مقدم ركھتا تھا اور لشكر كے صاحب حيثيت افراد، وزراء اور ديگر افراد كے نزديك بھى ان كا يہى مقام تھا _

اس كے بعد وہ اپنے باپ سے امام حسن عسكرى كى ملاقات كا واقعہ_ جو اس كے باپ كے نزديك آپ كى عظمت و بزرگى كا حاكى ہے _ بيان كرتے ہوئے كہتا ہے :

ميرے باپ نے امام حسن عسكرىعليه‌السلام كے بارے ميں مجھ سے كہا: ''اگر خلافت بنى عباس كے ہاتھ سے نكل جائے تو مقام خلافت كو بچانے كے لئے بنى ہاشم ميں سے ان سے زيادہ كوئي مناسب نہيں ہے اور يہ بات ان كى فضيلت ،عفت،زھد،عبادت اور نيك اخلاق كى بناپر ہے _ اگر تم نے ان كے والد كو ديكھا ہوتا تو تم كو ايك بزرگ اور بافضيلت انسان كى زيارت كا شرف حاصل ہوتا''_(۷)


امام حسن عسكرىعليه‌السلام كا زھد

''مفوّضہ''(۸) ميں سے كچھ لوگوں نے ''كامل بن ابراہيم مدنى '' كو چند مسائل پوچھنے كے لئے امامعليه‌السلام كى خدمت ميں بھيجا ان كا بيان ہے كہ ''جب ميں آپ كى خدمت ميں پہنچا تو ميں نے ديكھا كہ سفيد اور لطيف لباس آپ كے جسم پرہے ميں نے اپنے دل ميں كہا كہ ولى اور حجت خدا نرم اور لطيف لباس پہنتے ہيں اور ہم كو دوسرے بھائيوں كے ساتھ ہمدردى كا حكم ديتے ہيں اور ايسے لباس پہننے سے روكتے ہيں _

امامعليه‌السلام مسكرائے پھر اپنى آستين چڑھائي ،ميں نے ديكھا كہ كھر درا اور كالالباس (اس لباس كے نيچے )پہنے ہوئے ہيں _ پھر آپ نے فرمايا :''هذا للله و هذالكم'' يہ _ كھر درالباس _ خدا كے لئے اور يہ نرم و سفيد لباس جو ميں نے اس كے اوپر پہن ركھا ہے _ تمہارے لئے ہے _(۹)

عبادت اور بندگي

اپنے والد بزرگوار كى طرح امام حسن عسكرىعليه‌السلام بھى خداكى عبادت اور بندگى كا بہترين نمونہ تھے _

''محمد شاكرى '' نقل كرتے ہيں كہ امامعليه‌السلام كا طريقہ يہ تھا كہ محراب عبادت ميں بيٹھ جاتے اور سجدہ ميں چلتے جاتے ،ميں سوجاتا تھا اور پھر جب بيدار ہوتا تھا تو ديكھتا كہ امام اسى طرح سجدہ كى حالت ميں ہيں _(۱۰)

جب امامعليه‌السلام قيد خانہ ميں تھے اس زمانہ ميں بعض عباسيوں نے ''صالح بن وصيف'' _داروغہ زندان _كو سمجھايا كہ ان كے ساتھ سختى كرو _ اس نے اپنے آدميوں ميں سے دو نہايت شرير افراد كو اس كام كے لئے معين كيا ليكن وہ دونوں حضرت كے ساتھ رہ كر بدل گئے اور عبادت و نماز ميں بلند مقام پر پہنچ گئے _ داروغہ زندان نے ان كو بلايا اور كہا تم پروائے ہو تم اس شخص كے لئے ايسے


بن گئے ؟

انہوں نے كہا'' ہم اس شخص كے بارے ميں كيا كہيں جو دن كو روزہ ركھتا ہے ، پورى رات عبادت كے لئے كھڑا رہتا ہے كسى سے بات نہيں كرتا ،سوائے عبادت كے اس كا دوسرا كوئي كام نہيں ہے _ جب وہ ہم كو ديكھتا ہے تو ہمارا جسم لرزنے لگتا ہے اور اہم اپنا توازن كھوبيٹھتے ہيں(۱۱)

جودو كرم

''على ابن ابراہيم ابن موسى ابن جعفر'' فرماتے ہيں كہ ايك زمانہ ميں ،ميں تہى دست ہوگيا تھا ميں نے اپنے بيٹے ''محمد'' سے كہا اس شخص كے پاس (امام حسن عسكرىعليه‌السلام ) چلاجائے جو، جود و كرم ميں مشہور ہے _

اور جب ميں امام _كى خدمت ميں پہنچا تو انہوں نے مجھ كو آٹھ سو درہم عطا فرمائے(۱۲)

''ابوہاشم جعفرى '' نقل كرتے ہيں كہ ميں بہت تنگ دستى ميں مبتلا تھا _ميں نے امام حسن عسكرىعليه‌السلام سے مدد طلب كرنے كا ارادہ كيا ليكن مجھے بہت شرم آئي جب ميں گھر لوٹا تو اما معليه‌السلام نے ايك خط كے ساتھ سو دينار ميرے لئے بھجوائے _ خط ميں لكھا تھا _ جب تم كو ضرورت ہو بغيرشرمائے مجھ سے مدد مانگ لينا انشاء اللہ جو مانگو گے ملے گا_(۱۳)

زمانہ امامت

اپنے والد گرامى كے بعد امام حسن عسكرىعليه‌السلام نے ۲۵۴ھ ق ميں منصب امامت كو سنبھالا آپ اپنى امامت كے قليل دور _چھ سال _ ميں خلفائے بنى عباس ميں سے تين خلفاء معتز (ايك سال) مھتدى (ايك سال) اورمعتمد(چارسال) كے ہمعصر رہے _


امامعليه‌السلام كے بارے ميں خلفاء كى سياست

آپ كے زمانہ كے تينوں خلفاء كى سياست وہى گندى سياست تھى جو پہلے خلفاء كى آپ كے بزرگوں كے ساتھ تھى _ سياست ،مامون كے زمانہ كے بعد اور بھى زيادہ شديد اور تكليف دہ ہو گئي جيسا كہ ديكھتے ہيں كہ تين اماموں يعنى امام جوادعليه‌السلام ۲۵سال ،امام ہادىعليه‌السلام ۴۱سال ، امام حسن عسكرىعليه‌السلام ۲۸ سال، كى مجموعى زندگى ۹۴ سال سے آگے نہيں بڑھتى _

ان اماموں كے ہم عصر خلفاء كا رويہ اس بات كى حكايت كرتا ہے كہ وہ ائمہ كى كوششوں اور مبارزات سے بے حد خائف تھے اور انہوں نے انسانى معاشرہ كى ان روشن شعلوں كو اسى وجہ سے محدود كردياتھا اور ان كے اوپر كڑى نظر ركھّے ہوئے تھے _

اس در ميان امام حسن عسكريعليه‌السلام دوسرے دونوں ائمہ كى بہ نسبت زيادہ نظربندى اور نگرانى ميں تھے اس كى وجہ يہ تھى كہ :

۱_ امام حسن عسكريعليه‌السلام كے زمانہ ميں اہل بيت كے پيرو ايك عظيم اور قابل توجہ طاقت كى صورت ميں ابھر كر سامنے آئے تھے ، وہ لوگ مسلسل قيام كرنے اور ''رضا ئے آل محمد'' كا نعرہ لگانے كى بناء پر عوام الناس كے خيالات كو خاندان رسالت كى طرف متوجہ كررہے تھے _ اور خاندان رسالت كى ممتاز شخصيت امام حسن عسكرىعليه‌السلام تھے_

معتز كے زمانہ ميں ، علويوں اور خاندان جعفر طيار و عقيل ميں سے سترسے زيادہ ايسے افراد كو قيد كركے سامرا لايا گيا جنہوں نے حجاز ميں قيام كيا تھا _(۱۴)

۲_ متواتر اخبار و روايات كے ذريعہ ان لوگوں كو معلوم تھا كہ مھدى موعودعليه‌السلام جو تمام باطل اور خود ساختہ حكومتوں كى بنياد كو ختم كرديں گے _ وہ نسل امام حسن عسكريعليه‌السلام سے ہوں گے _

خود امام حسن عسكرىعليه‌السلام كے بارے ميں خليفہ نے قتل كا ارادہ كيا اور ''سعيد حاجب ''كو حكم ديا كہ امامعليه‌السلام كو كوفہ لے جائے اور لوگوں كى نظروں سے دور ،راستہ ميں قتل كردے ليكن امامعليه‌السلام نے اپنے ايك


ايسے صحابى كے خط كے جواب ميں جو ايسى خبر سن كر تشويش ميں پڑگئے تھے لكھا كہ ''تين دن كے بعد سب كچھ ٹھيك ہو جائے گا(۱۵)

اور تين دن كے بعد در بار عباسى كے تركوں نے _ جنہوں نے معتز كو اپنے لئے نفع بخش نہيں پايا ، حملہ كركے خلافت سے ہٹاكر ايك تہہ خانہ ميں قيد كرديا اوروہ وہيں مرگيا _(۱۶)

معتز كے بعد ۲۵۵ھ ق ميں مھتدى مسند خلافت پر پہنچا اس كى روش _ جيسا كہ تاريخ بيان كرتى ہے _ خلفائے بنى عباس كے در ميان ايسى تھى كہ خلفاء بنى اميہ كے درميان جيسى روش عمربن عبدالعزيز كى تھى _ اس نے لوگوں كى فرياد رسى كے لئے قبة المظالم'' نام كا خيمہ نصب كيا وہ وہاں بيٹھ جاتا تھا اور لوگوں كے مشكلات كو حل كيا كرتا تھا _ اسى طرح اس نے شراب كو حرام قرار ديا اور گانے بجانے سے گريز كيا(۱۷) ليكن يہ ظاہرى اور منافقانہ باتيں تھيں اور اس ميں محض سياسى غرض پوشيدہ تھى امام حسن عسكرىعليه‌السلام كے ساتھ اس كا سخت رويہ اس بات كى بہترين دليل ہے ،امام _كو مدتوں قيد ميں ركھا يہاں تك كہ اس نے آپ كے قتل كا ارادہ كيا ليكن اس كو اجل نے موقع نہيں ديا اور وہ ہلاك ہوگيا_(۱۸)

مھتدى اگر چہ حق و عدالت كى طرفدارى ظاہر كرتا تھا ليكن جو حق وہ چاہتا تھا وہ اسلامى اصولوں پر منطبق نہيں ہوتا تھا اسى وجہ سے اس كى روش عمومى تنفر اور ملامت كا نشانہ قرار پائي _

امامعليه‌السلام اور ان كے پيرو دونوں ہى اسلام كے نگہبان اور سماجى حق و انصاف قائم كرنے والے تھے _

امام كى نظر ميں معاشرہ كى بنيادى مشكل يہ نہيں تھى كہ مھتدى قابض تھا، بلكہ بنيادى مشكل يہ تھى كہ رہبرى اپنى اصلى روش سے منحرف ہوگئي تھى اور لوگ اسلامى تعليم و تربيت و ثقافت سے دور ہوگئے تھے_

جو دربارى اور دربار خلافت سے وابستہ افراد لہو و لعب اور عياشى سے انس پيدا كرچكے تھے ان كے لئے بھى مھتدى كا رويہ بڑا گراں تھا_


ان دونوں باتوں كى وجہ سے اس كى خلافت گيارہ مہينہ سے زيادہ نہ چل سكى اور آخر كار تركوں كى شورش سے وہ قتل كرديا گيا _اور اس كى جگہ ''معتمد''خليفہ بنا(۱۹)

معتمد كا بھى اپنے اسلاف كى طرح سوائے ستمگرى اور عياشى كے اور كوئي كام نہ تھا وہ اپنا زيادہ تر وقت عياشى ميں گذار تا تھا_ يہاں تك كہ اس كا بھائي ''موفق'' رفتہ رفتہ سارے امور پر مسلط ہوگيا _ اور اس نے سارے امور اپنے ہاتھوں ميں لے لئے _(۲۰)

اس كى حكومت كے زمانہ ميں علويوں كا ايك گروہ نہايت بے دردى سے شہيد كرديا گيا اس كى خلافت كے زمانہ ميں جنگ و فساد بہت تھا_ اتنا خون خرابہ كہ مسلمانوں كے جانى نقصان كى تعداد مورخين نے ۱۵ لاكھ افراد لكھى ہے_(۲۱)

معتمد نے امام حسن عسكرىعليه‌السلام كو قيد خانہ ميں ڈال ديا اور داروغہ زندان سے ہميشہ آپعليه‌السلام كے بارے ميں پوچھا كرتاتھا اور وہ ہميشہ يہى رپورٹ ديتا تھا كہ دن ميں روزہ ركھتے ہيں اورراتوں كو نماز و عبادت ميں گذارتے ہيں _(۲۲)

شورشيں اور انقلابات

علويوں اور غير علويوں كى شورشوں اور انقلابات كا سلسلہ امام حسن عسكرىعليه‌السلام كى امامت كے زمانہ ميں بھى جارى تھا ان ميں سے نمونہ كے طور پر كچھ انقلابات كا ذكر كيا جاتا ہے _

۱_''ابراھيم بن محمد علوى ''كى تحريك جو ''ابن صوفي'' كے نام سے مشہور تھے _ انہوں نے ۲۵۶ھ ق ميں مصر ميں قيام كيا اور شہر ''اسنا'' پر قبضہ كرليا _''احمد ابن طولون'' كے سپاہيوں كو شكست ديدى ليكن دوسرى بار اس كے لشكر سے شكست كھا گئے _ اور بہت نقصان اٹھانے كے بعد بھاگ كر رو پوش ہوگئے _ پھر ۲۵۹ھ ق ميں دوبارہ قيام كيا اور لوگوں كو اپنے گرد جمع كيا _نتيجتاً مكہ پہنچنے كے بعد اس شہر كے حاكم كے ذريعہ گرفتار ہوئے اور ابن طولون كے پاس بھيجے گئے _پھر قيد


كرديئے گئے زندان سے رہائي كے بعد مدينہ لوٹے اور وہيں انتقال كيا _(۲۳)

۲_'' على ابن زيد علوى '' كى تحريك :آپ نے ۲۵۴ھ ق ميں كوفہ ميں قيام كيا اور شہر پر قبضہ كركے حكومت كے نمائندہ كو شہر سے نكال ديا _خليفہ كا لشكر متعدد باران سے لڑا آخر كار ۲۵۷ھ ق ميں آپ قتل كرديئے گئے(۲۴)

۳_''عيسى ابن جعفر علوى '' كى تحريك :انہوں نے ''على ابن زيد'' كے ساتھ كوفہ ميں قيام كيا''معتز''نے ان سے جنگ كے لئے ايك لشكر بھيجا اور ان كو شكست دے دى _مسعودى نے ۲۵۵ھ ق ميں ان كے قيام كا ذكر كيا ہے_(۲۵)

۴_''صاحب زنج'' كى شورش :۲۵۵ھ ق ميں اس نے قيام كيا _ اس كى شورش ميں ہزاروں آدمى مارے گئے _ لوگوں كى عزت و ناموس پر اس كے سپاہيوں نے حملہ كيا _دسيوں شہروں ميں آگ لگادى گئي اس نے اپنے كو ''على ابن محمد''اور علوى بتايا وہ اپنا سلسلہ نسب ''على ابن حسينعليه‌السلام '' تك پہنچا تا تھا جبكہ وہ جھوٹا تھا _بلكہ اس كا سلسلہ نسب''عبد قيس'' تك پہنچتا تھا اور اس كى ماں ''بنى اسد ابن حزيمہ ''سے تھي_(۲۶)

صاحب زنج كا نعرہ غلاموں اور مزدوروں كى حمايت تھااسى وجہ سے اس كو صاحب زنج كہتے تھے _

اس كى شورش پندرہ سال تك چلتى رہى وہ ۲۵۲ھ ق ميں قتل كرديا گيا(۲۷)

۵ _ خوارج كى شورش;۲۵۲ھ ق سے''مساوربن الحميد'' كى رہبرى ميں خوارج كى شورش شروع ہوئي ۲۶۳ھ ق تك اس كے انتقال كے بعد بھى چلتى رہى _مساور نے تھوڑے دنوں ميں عراق كے بہت سے شہروں پر قبضہ كرليااور اس نے خليفہ كو خراج اور ٹيكس بھيجنے سے انكار كرديا اور تمام معركوں ميں اس نے خليفہ كے سپاہيوں پر غلبہ حاصل كيا_(۲۸)

۶_''يعقوب ليث صفارى '' كا قيام: ۲۶۲ھ ق ميں خراسان كے بہت سے لوگوں كے ساتھ انہوں نے قيام كيا اور بہت سى زمينوں پر تسلط حاصل كرليا _(۲۹)


امام حسن عسكرىعليه‌السلام كى كوششيں اور موقف

حوادث كے مقابلہ ميں امام _كے اقدامات اور ان كى روش كو چار حصوں ميں تقسيم كيا جا سكتا ہے _

الف _ سياسى واقعات كے سلسلہ ميں امام _كا موقف

اپنے پدر بزرگوار كى طرح امام حسن عسكرىعليه‌السلام نے بھى اس سلسلہ ميں بڑا محتاط رويہ اختيار كيا حكومت كے مقابلہ ميں امامعليه‌السلام كے منفى رويہ نے ان كے احترام اور قدر و منزلت كا موقع فراہم كيا_

ايسى منزلت جس كو نزديك ترين درباريوں نے بھى سمجھ ليا تھا _ اس طرح كہ ''عبيداللہ ابن خاقان '' سے امامعليه‌السلام كى ملاقات والے واقعہ سے وہ محض اس بات كى جانب متوجہ ہوگيا تھاكہ ''موفق''_ طلحہ ابن متوكل _ يہ چاہتا ہے كہ ان كے پاس آئے تو اس نے امامعليه‌السلام كو سمجھايا اور عرض كيا كہ آپ جب چاہيں تشريف لے جائيں ،چونكہ وہ جانتا تھا كہ موفق سے امام كى ملاقات ميں اس كے لئے بھى خطرہ ہے اور امامعليه‌السلام كے لئے بھى _(۳۰)

بہت سے اہم واقعات جو آپ كى امامت كے زمانہ ميں دربار خلافت كو پيش آئے اور آپ نے ان ميں سكوت اختيار كيا_ ان ميں سے شورش ''صاحب زنج'' كا نام ليا جا سكتا ہے امامعليه‌السلام كے موقف سے واقفيت كے لئے ضرورى ہے كہ اس واقعہ پر تين پہلووں سے غور كيا جائے _

۱_ صاحب زنج كا دعوى كہ اس كا سلسلہ نسب اميرالمومنين _تك پہنچتاہے_

۲_ اسلامى قدروں اور اس كے قوانين كے خلاف اس كا قيام_

۳_ حكومت بنى عباس كے خلاف اس كا قيام_

پہلى بات كے بارے ميں امام _نے نہايت واضح موقف اپنايا_ آپ نے فرمايا :''صاحب الزنج ليس منّا اهل البيت ''(۳۱) صاحب زنج ہمارے خاندان سے نہيں ہے_


دوسرے پہلو كے بارے ميں امامعليه‌السلام كا موقف بڑا واضح ہے _ جن جرائم كا ارتكاب صاحب زنج كررہا تھا آپ قطعى طور پر اس سے متنفر تھے _ كيونكہ اس كے سارے كام عدل اسلامى اور پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى واقعى تعليمات كے خلاف تھے اور يہ بات ہر ايك پر روشن تھى اور اس سلسلہ ميں امامعليه‌السلام كے سكوت كى شايد يہى وجہ تھى كہ سب لوگ جانتے ہى ہيں _

ليكن تيسرى بات كے سلسلہ ميں امامعليه‌السلام نے كوئي خاص موقف اختيار نہيں فرمايااور ايسا راستہ اختيار كيا كہ ان كے اقدام كو حكومت كى ضمنى تائيد نہ شمار كيا جائے _ اگر چہ صاحب زنج كى شورش ميں ضعف اور بہت زيادہ انحراف موجود تھا ليكن سياسى نكتہ نظر سے يہ شورش بنى عباس كى حكومت كو كمزور كرنے اور ان كى طاقت اور نفوذ كو ختم كرنے كے لئے تھى ،اس كے ساتھ ساتھ صاحب زنج سے حكومت وقت كا ٹكراؤ ،امامعليه‌السلام اور ان كے پيرووں كے فائدہ ميں تھا اس لئے كہ خلافت كى مشينرى كا دباؤ كچھ كم ہوگيا تھا

ب:علمى اوروثقافتى تحريك ميں امامعليه‌السلام كا موقف

اگر چہ امامعليه‌السلام نے اپنى زندگى كا زمانہ حكومت كى نظر بندى ميں گذارا ليكن اس كے با وجود علمى اور ثقافتى پہلووں ميں بلند اور بيش قيمت قدم اٹھا نے ميں كامياب رہے كچھ علماء نے اس بارے ميں كہاہے كہ ''آپ سے نقل ہونے والے مختلف علوم و دانش نے كتابوں كے صفحات پر كرديئے(۳۲)

كفر آميز افكار و شبھات كى رد ميں آپ كے استدلالى اور منطقى جوابات ،مناظرے ،علمى بحثيں ، بيانات ،علمى خطوط ،تاليف كتاب(۳۳) اور شاگردوں كى تربيت كے ذريعہ حق كو واضح كرنا ،آپ كى علمى اور ثقافتى كوششوں كى آئينہ دارہے _چونكہ ان تمام موارد كو ذكر كرنا ہمارے (موجودہ)كام كے دائرہ سے خارج ہے اس لئے ہم كچھ موارد كے ذكر پر ہى اكتفا كرتے ہيں _

۱_'' يعقوب ابن اسحاق كندى '' عراق كے مشہور فلسفيوں ميں سے تھا _ اس نے تناقض قرآن


كے موضوع پر كتاب لكھنے ميں اپنا كافى وقت صرف كيا تھا _امام حسن عسكرىعليه‌السلام اس واقعہ سے مطلع ہوئے اور اس فلسفى كے شاگردوں ميں سے ايك كو ايك جملہ بتا كر اس كو اس كے عقيدہ سے منصرف اور اس بات پر آمادہ كيا كہ جو كچھ اس نے لكھا ہے اس كو اس كے عقيدہ سے منصرف اور اس كتاب كو جلاڈ الے _

آپ نے اس كے شاگرد سے فرمايا كہ اس سے جاكر كہو كہ كيا اس بات كا احتمال نہيں ہے ، كہ تم نے جو كچھ سمجھا ہے ، ان كلمات (قرآن) كے كہنے والے نے اس كے علاوہ كسى اور مطلب كا ارادہ كيا ہو(۳۴)

۲_ ''ابوحمزہ نصير''نقل كرتے ہيں كہ ميں نے امام _ كو بارہا روم،فارس اور دوسرے مختلف نسل و زبان كے اپنے غلاموں سے ان كى زبان ميں باتيں كرتے ديكھا مجھے تعجب ہوا اور ميں نے اپنے دل ميں كہا كہ امامعليه‌السلام تو مدينہ ميں پيدا ہوئے اور دوسرے افراد نيزملتوں سے آپكارابطہ نہيں رہا پھر يہ زبانيں آپ نے كہاں سے سيكھيں ؟

امامعليه‌السلام نے اس بات كى كوشش كى كہ اس طريقہ سے امامت كے حالات كو غلاموں كے لئے واضح كرديں اور ان كو يہ سمجھا ديں كہ امامعليه‌السلام كو بھى پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى طرح اپنى طرف رجوع كرنے والوں كى زبان سے واقف ہونا چاہيے ور نہ وہ امامعليه‌السلام نہيں ہے اور اس استدلال كے ساتھ كہ ''خدا نے اپنى حجت ''امام''كو تمام مخلوقات سے جدا بنايا ہے ،علم و معرفت اور ہر چيز اسے عطا كى ہے اس وجہ سے وہ تمام ناد اور حوادث روزگار كو جانتے ہيں اس كے علاوہ دوسرى صورت ميں حجت خدا اور دوسروں كے در ميان كوئي فرق نہيں رہ جائے گا_(۳۵)

وہ اپنى علمى قدرت كو خدا كى دى ہوئي قدرت جان كراس كو اپنى امامت پر دليل جانتے تھے _

ج_عوامى مركز كى نگرانى ،اس كى پشت و پناہى اور تياري

اپنے پيرووں كے چال چلن اور اعمال كى نگرانى كے ساتھ ساتھ امام _ان كو عباسيوں كے


دام ميں پھنسنے سے بچاتے اور ضرورى مقامات پر معنو ى و اقتصادى مسائل ميں ان كى مدد فرماتے تھے _نمونہ كے طور پر ملاحظہ ہو_

۱_معتز كے قتل سے بيس دن پہلے امامعليه‌السلام نے اپنے ايك چاہنے والے كو لكھا:''الزم بيتك حتى يحدث الحادث''(۳۶) اپنے گھر كے اندر بيٹھے رہو اور ہرگز باہر نہ نكلنا يہاں تك كہ كوئي حادثہ پيش آئے _

۲_'' محمد ابن على سمري''آپ كے ايك اصحابى اور آپ كے فرزند كے چوتھے نائب تھے آپ نے ان كو لكھا :''فتنةً تظلّكم فكونوا على اهبه'' (۳۷) ايك فتنہ ہے جو تمہارے اوپر سايہ ڈال رہا ہے اس بناپر ضرورى تيارى كئے رہو_

۳_ ''ابوطاہرابن بلبل '' نے سفر حج ميں على ابن جعفر ھمّانى كو ديكھا كہ بہت زيادہ بخشش و عطا كررہے ہيں واپسى پر ايك خط ميں آپ نے امام حسن عسكرىعليه‌السلام كو لكھا،امامعليه‌السلام نے جواب ميں تحرير فرمايا:''ہم نے خود ان كو (اس كام كے لئے )ايك لاكھ دينار ديئے ہيں اور جب ہم نے چاہا كہ ايك لاكھ دينار اور دے ديں تو انہوں نے قبول نہيں كيا''(۳۸)

روايت يہ بيان كرتى ہے كہ ''على ابن جعفر ''كى بخشش و عطا امام كى زير نگرانى تھى اور آپ كو اس كى خبر تھى ،اور عطا كى جانيوالى خطير رقم (ايك لاكھ دينار ) اس بات كى دليل ہے كہ پيسے عمومى مصالح اور شيعوں كى ضرورتوں ميں خرچ ہورہے تھے _

د:آپ كے فرزند حضرت مھدىعليه‌السلام كى غيبت كے بارے ميں آپ كا موقف:

چونكہ امام حسن عسكريعليه‌السلام جانتے تھے كہ خدا كى مشيت ميں ان كے فرزند كى غيبت ہے _اس لئے آپ غيبت كے مسئلہ كو اپنى حيات ہى ميں حل كردينے كى كوشش كررہے تھے _ اور اپنى امامت پر اعتقاد ركھنے والے معتقدين كے عمومى افكار كو ايسے اہم واقعہ كو قبول كرنے كے لئے آمادہ كررہے تھے جس كى مثال ماضى ميں نہيں تھى _


البتہ وہ متواتر روايتيں جو پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ معصومين سے بارہويں امام كى غيبت كے بارے ميں پہنچى تھيں ان روايتوں نے اس اہم امر كو قبول كرنے كے لئے راہ ہموار كردى تھي_ليكن امام حسن عسكريعليه‌السلام كى ''موعود منتظر'' كے باپ ہونے كى حيثيت سے جو سب سے مشكل ذمہ دارى تھى وہ يہ تھى كہ وہ مسلمانوں كو آگاہ كرديں كہ ان روايتوں اور پيشن گوئيوں كے تحقق كا زمانہ آگيا ہے اور ان كے فرزند ارجمند ،ان روايتوں كے مصداق اوروہى ''قائم آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم '' ہيں _

ايسے افكار كا بيان اور اس كى تبليغ _ عقيدہ كے ايك اہم موضوع كے عنوان سے _لوگوں كے اذہان ميں ، وہ بھى ايسے سنگين حالات ميں بيشك بڑا مشكل اور حساس كام تھا_

اسى وجہ سے امام حسن عسكرىعليه‌السلام نے اپنى تمام كوششوں كو صرف كرديا تا كہ لوگوں كا عقيدہ اور ايمان ڈگمگانے نہ پائے اور عمومى اذہان كو اس بات كے قبول كرنے كے لئے آمادہ كرليں اور اپنے پيرووں كو متوجہ كرديں كہ غيبت پر اعتقاد ركھنا لازمى اور ضرورى ہے _

مذكورہ مقصد كو پورا كرنے كے لئے امام كى فعاليت دوحصوں ميں تقسيم ہوتى ہے _

۱_ اپنے فرزند كو لوگوں كى نظروں سے پوشيدہ ركھنا اور ان كى حفاظت كرنانيز خاص لوگوں كو ان كى نشاندہى كرنا چاہتے تھے اور اس اقدام كے علاوہ آپ نے لوگوں سے رابطہ كو محدود كركے ايك خاص تعداد تك ركھا اور آپ كى روش يہ تھى كہ خط و كتابت يا اپنے معين كئے ہوئے نمائندوں كے توسط سے شيعوں سے رابطہ پيدا كرنا تا كہ وہ اس كے عادى ہوجائيں _

۲_مسئلہ غيبت كا بيان اور اس كى تشريح ''انتظار فرج''كى فكر كومسلمانوں كے ذہنوں ميں بٹھانا،اس موقف كوواضح اور مستحكم كرنے كيلئے مختلف مناسبتوں سے آپ كا بيان اور اعلان ہوتا رہتا تھا_

ان بيانات كے چند پہلو ملاحظہ ہوں :

۱_امام مھدى _كے صفات كے بارے ميں عمومى اور كلى پہلو نيز امام مھدىعليه‌السلام كے ظہور اور قيام كى خصوصيتيں بيان كرناجيسا كہ اپنے اصحاب ميں سے ايك صحابى كے جواب ميں آپ نے


فرمايا:قائمعليه‌السلام جب قيام كريں گے تو اس وقت حضرت داؤدعليه‌السلام كى طرح بغير بينّہ كے اپنے علم كى بنياد پر لوگوں كے درميان فيصلہ كريں گے _(۳۹) يا وہ قول جس ميں آپ فرماتے ہيں جس زمانہ ميں قيام كريں گے اس زمانہ ميں آپ حكم ديں گے كہ مينارے اور مسجدوں ميں مخصوص جگہيں ويران كردى جائيں _(۴۰)

امامعليه‌السلام ان خصوصيتوں كو بيان كركے اس بدعت كے مقابلہ ميں اپنے منفى رويہ كو بيان كررہے،ہيں _

۲_ اس اہم مسئلہ كو قبول كرنے كيلئے شيعوں كے واسطے عمومى اور خصوصى بيانات منجملہ ان كے وہ خط ہے جو آپ نے ''ابن بابويہ'' قمى كو لكھا ہے _ آپ لكھتے ہيں كہ ميں تم كو بردبارى اور انتظار فرج كا حكم ديتا ہوں _پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا :ہمارى امت كا سب سے بہتر عمل انتظار فرج ہے ہمارے شيعہ ہميشہ غم و الم ميں مبتلا رہيں گے يہاں تك كہ ميرا فرزند ظہور كرے گابيشك رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كے ظہور كى بشارت دى ہے ،وہ زمين كو ايسے ہى عدل و انصاف سے بھر ديں گے جس طرح وہ ظلم و جور سے پر ہوگى _

اے مرد بزرگوار تم صابر رہو اور ہمارے تمام شيعوں كو صبر و شكيبائي كى دعوت دو_اس لئے كہ زمين خدا كى ملكيت ہے وہ اپنے بندوں ميں سے جس كو چاہے گا اس كا وارث بنائے گا اور عاقبت (نيك انجام)پرہيزگاروں كے لئے ہے(۴۱)

شہادت امام حسن عسكريعليه‌السلام :

خلفاء بنى عباس _ منجملہ ان كے معتمد _ جانتے تھے كہ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے جانشين بارہ افراد ہيں _ ان ميں سے بارہواں غيبت كے بعدظہور كرے گا اور ظلم و جور كى بساط كو الٹ كر ركھدے گا_

اسى وجہ سے معتمد نہايت شدّت سے امام حسن عسكرىعليه‌السلام كى نگرانى كرتا تھا ،اور طبيب يا معالج يا


خدمتگذار كے عنوان سے اس نے جاسوسوں كو امام حسن عسكرىعليه‌السلام كے گھر ميں ركھ ديا تھا تا كہ وہ امام كى زندگى كو نزديك سے ديكھتے رہيں اور ان كے فرزند كے بارے ميں جستجو كريں _(۴۲)

آخر كار جب معتمد نے ديكھا كہ لوگوں كى توجہ دن بدن امامعليه‌السلام كى طرف بڑھتى جارہى ہے ،نگرانى اور قيدى بنانے كا الٹا اثر ہو رہا ہے تو اس نے آپ كو قتل كردينے كا ارادہ كرليا _اور خفيہ طور پر اس نے زہر دے ديا_امام آٹھ روز كے بعد صاحب فراش ہوگئے اور ۸ ربيع الاول ۲۶۰ھ ق ميں عالم جاودانى كى طرف كوچ كرگئے اور اپنے والد بزرگوار كى قبر كے پاس سامرا ميں سپرد لحد كئے گئے(۴۳) _


سوالات:

۱_ امام حسن عسكرىعليه‌السلام نے كس تاريخ ميں ولادت پائي اور انہوں نے اپنے پدر بزرگوار كے ساتھ اپنى عمر كے كتنے دن گذارے؟

۲ _ امام حسن عسكرىعليه‌السلام كى امامت كا زمانہ كس سن ميں شروع ہوا _ اور كتنے دن تك رہا آپ كتنے خلفا كے معاصر رہے اور ان ميں سے ہر ايك كے ساتھ كتنے سال رہے؟

۳ _ آپ كے زمانہ كے خلفاء كا آپ كے ساتھ كيسا سلوك تھا اور امام حسن عسكرىعليه‌السلام ميں دوسرے ائمہ كى بہ نسبت كيا خصوصيتيں تھيں ؟

۴ _ امام حسن عسكرىعليه‌السلام كے زمانہ ميں خلافت بنى عباس كے خلاف جو انقلاب اور شورشيں برپاہوئيں ان ميں سے چند نمونے بيان كيجئے؟

۵ _ آپ كے فرزند حضرت مہدى (عج) كى غيبت كے بارے ميں آپ كے موقف كى تشريح فرمايئے

۶ _ امام حسن عسكرىعليه‌السلام نے كس تاريخ ميں كس طرح اور كس شخص كے ذريعے شہادت پائي؟


حوالہ جات

۱ بحار جلد ۵۰/۲۳۶،منقول از مصباح كفعمى و اقبال الاعمال ،آپ كى ولادت كى تاريخ كے بارے ميں دوسرے اقوال بھى ہيں منجملہ ان كے۸ ربيع الآخر ۲۳۲ھ ق(مناقب جلد ۴/۴۲۲اعلام الورى /۳۶۷)ربيع الاول ۲۳۰ھ ق و غيرہ_

۲ بحار جلد ۵۰/۲۳۶''حديثہ''بھى لكھا گيا ہے نيز ''سوسن ''كہا گيا ہے _

۳ ارشاد مفيد /۳۳۸،بحار ۵۰/۲۴۰،منقول از كمال الدين صدوق اور غيبت شيخ،اعلام الورى /۲۰۷،كافى جلد ۱/۳۲۸،كشف الغمہ جلد ۲/۴۰۶_

۴ بحار جلد ۵۰/۲۳۹منقول از كمال الدين صدوق _

۵ بحار جلد ۵۰/۱۴۶،اعلام الورى /۳۷۰ ، كافى جلد۱/۳۲۵،ارشاد /۳۳۵،غيبت شيخ /۱۲۰،كشف الغمہ جلد ۲/۴۰۴،فصول المہمة/۳۸۴،ارشاد و غيبت شيخ راوى كا نام يحيى بن يسار عنبرى لكھا ہے _

۶ احمد كا باپ (عبداللہ ابن خاقان )حكومت بنى عباس كے وزيروں اور نماياں لوگوں ميں سے تھا_

۷ ارشاد مفيد ۳۳۹_۳۳۸،اعلام الورى /۳۷۷_۳۷۶،كافى جلد ۱/۵۰۳ ،كشف الغمہ جلد ۳/۱۹۷،بحار جلد ۵۰/۳۲۷_۳۲۵،كمال الدين صدوق جلد ۱/۴۲_۴۰ مطبوعہ جامعہ مدرسين_

۸ مفوضہ ان لوگوں كو كہتے ہيں جو بندوں كے افعال كے بارے ميں ارادہ الہى كو بے اثر مانتے ہيں ان كے مقابل والے فرقہ كو جبريہ كہتے ہيں

۹ بحار جلد ۵۰/۲۵۳منقول از غيبت شيخ ائمتنا جلد ۲/۲۷۱منقول از اثبات الھداة_

۱۰ سفينة البحار ج ۱/۲۶۰_ائمتنا جلد ۲/۲۶۹_

۱۱ بحار جلد ۵۰/۳۰۸،اعيان الشيعہ جلد ۲/۴۱،كافى جلد ۱/۵۱۲،اعلام الورى /۳۷۹،كشف الغمہ جلد ۱۲/۴۱۴،مطبوعہ تبريز _مناقب جلد ۴/۴۲۹،ارشاد /۳۴۴_

۱۲ اعيان الشيعہ جلد ۲/۴۰ كافى جلد ۱/۵۰۶،ارشاد /۳۴۱،بحار جلد ۵۰/۲۷۸،مناقب جلد ۴/۴۳۸_ ۴۳۷، كشف الغمہ جلد ۳/۳۰۰(تين جلدوں والى مطبوعہ بيروت)_

۱۳ اعلام الوري/۳۷۲،مناقب ج ۴/۴۳۹،بحار جلد ۵۰/۲۶۷_

۱۴ مروج الذہب جلد ۴/۹۱


۱۵ ''بعد ثالث : ياتيكم الفرج''بحار ج ۵۰/۲۵۱بہ نقل ا ز غيبت شيخ ۱۳۴، كشف الغمہ ج ۳/۲۰۶_۲۹۵ فصوال المہمہ/۲۸۵_

۱۶ مروج الذہب ج۴/۹۲_

۱۷ ملاحظہ فرمايئےروج الذہب ج۴/۹۶و كامل ابن اثير ج ۷/۳۳۵_۳۳۳_

۱۸ بحار ج ۵۰/۳۱۳''و كان المهتدى قد صحّح العزم على قتل ابى محمد فشغله لله بنفسه حتى قتل''

۱۹ تاريخ الخلفائ/۳۶۳،مروج الذہب جلد ۴/۹۹_

۲۰ مروج الذہب جلد ۴/۳۶۳_۳۶۵_۳۶۷_

۲۱ مروج الذہب جلد۴/۳۶۴_

۲۲ انوار البھيّہ /۲۸۶_

۲۳ كامل ابن ثير جلد ۷/۲۳۸_۲۶۳_۲۶۴_

۲۴ مروج الذہب جلد۴/۹۴_

۲۵ مروج الذہب جلد ۴/۹۴_

۲۶ كامل ابن اثير جلد ۷/۲۰۶_۲۰۵_

۲۷ مروج الذہب جلد ۴/۱۰۸،كامل بن اثير جلد۷/۲۵۵_۲۰۶_

۲۸ كامل ابن اثير جلد۷/۱۷۴_

۲۹ مروج الذہب جلد۴/۱۱۲_

۳۰ اس وزير كے سلسہ ميں جو تاريخ سے استفادہ ہوتا ہے اور جو كچھ خود اس كى باتوں سے آشكارہوتا ہے وہ امامعليه‌السلام كا احترام كرتا تھا اور آپ كى منزلت اور عظمت كا قائل تھا_شايد اسى وجہ سے امامعليه‌السلام اس كے ديدار كيلئے تشريف لے گئے تھے تا كہ اس كى اس كيفيت كو اور قوى بنا ياجا سكے _

۳۱ مناقب جلد ۴ ص ۴۲۹_

۳۲ ''فقد روى عنه من انواع العلم ما ملا بطون الدفاتر ''اعيان الشيعہ جلد ۱/۴۰

۳۳ اس تفسير كى طرف اشارہ ہے جو تفسير حسن عسكريعليه‌السلام كے نام سے مشہور ہے مرحوم علامہ مجلسى بحار الانوار ميں فرماتے ہيں كہ ''امام حسن عسكريعليه‌السلام كى طرف منسوب تفسير مشہور كتابوں ميں سے ہے اور مرحوم صدوق كے لئے


مورد وثوق ہے ہر چند كہ كچھ محدثين نے امامعليه‌السلام كى طرف اس كى نسبت سے انكار كيا ہے ليكن صدوق كا قول _ چونكہ وہ امامعليه‌السلام كے زمانہ سے قريب تھے _ اس لئے معتبر ہے _اعيان الشيعہ ج۲/۴۱(دہ جلدى چاپ بيروت)_

۳۴'' هل يجوزان يكون مراده بما تكلم منه غير المعانى التى ظننتها انّك ذهبت اليها'' بحار جلد ۵۰/۳۱۱،مناقب ۴/۴۲۴_

۳۵''ان الله تبارك وتعالى بيّن حجته من سائر خلقه و اعطاه معرفة كل شى فهو يعرف اللغات و الانساب و الا جال و الحوادث و لولا ذلك لم يكن بين الحجة و الحجوج فرق' 'اعلام الورى /۳۵۶،مناقب ج ۴/۴۲۸،كشف الغمہ ج ۳/۲۰۲،ارشاد /۳۴۳،بحار ج ۵۰/۲۶۸

۳۶ كشف الغمہ جلد ۳/۲۰۰،كافى جلد ۱/۵۰۶،بحار جلد ۵۰/۲۷۷،مناقب ج ۴/۴۳۶،ارشاد/۳۴۰_

۳۷ كشف الغمہ ۳/۲۰۷،تاريخ الغيبة الصغرى تاليف محمدصدر /۱۹۹،بحار جلد ۵۰/۲۹۸،اما م كا يہ جملہ بھى معتز كے قتل كى طرف اشارہ ہے _

۳۸''قد كنا امرنا له بماة الف دينار:، ثم امرنا له بمثلها فابى قبوله ابقاء ً علينا'' بحار جلد ۵۰/۲۰_۳۰۶،اعيان الشيعہ جلد ۲/۴۱،ائمتنا جلد ۲/۲۷۳،مناقب ج ۴/۲۲۴_عبارت ميں تھوڑے اختلاف كے ساتھ _

۳۹''اذا قام يقضى بين الناس بعلمه كقضاء داود عليه‌السلام و لا يسئل البينّة'' بحار جلد ۵۰/۲۶۴،مناقب جلد ۴/۴۳۱، كشف الغمہ ج ۳/۲۰۳،ارشاد ۳۴۳_

۴۰ ''اذا قام القائم امر بهدم المنائر و المقاصير التى فى المساجد '' ...بحار جلد ۵۰/۲۵۰،مناقب جلد ۴/۴۳۷،اعلام الورى /۳۵۵،مناقب اور اعلام الورى ميں ''منائر''كى جگہ ''منابر''لكھا ہوا ہے _

۴۱عليك بالصبر و انتظار الفرج ،قال النبى افضل اعمال امتى انتظار الفرج و لا يزال شيعتنا فى حزن حتى يظهر ولدى الذى بشر به النبى يملا الارض قسطاً و عدلاً كما ملئت جوراً و ظلماً ،فاصبر يا شيخى يا ابالحسن ،على و امر جميع شيعتى بالصبر فانّ الارض لله يورثها من يشاء من عباده و العاقبة للمتقين _مناقب ج۴/۴۲۶_بحار ج۵۰/۳۱۸_

۴۲ كمال الدين صدوق ج۱/۴۳_۴۲،مطبوعہ جامعہ مدرسين_

۴۳ مناقب جلد ۲/۴۲۲،بحار جلد ۵۰/۲۳۶_۲۳۷،كشف الغمہ جلد۳/۱۹۲_اعلام الورى /۳۴۹،ارشاد مفيد /۳۴۵،فصول المہمہ /۲۸۹_


پندرہواں سبق:

امام زمانہ حضرت حجت (عج) كي زندگى كے حالات (پہلا حصہ)


ولادت

شيعوں كے بار ہويں امام اور پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے آخرى وصى روز جمعہ صبح صادق كے وقت ۱۵_شعبان ۲۵۵ھ ق يا ۲۵۶ھ ق كو مقام سامّرا ميں پيدا ہوئے _(۱)

ائمہ نے اپنے شيعوں سے ان كے نام كو بيان كرنے سے منع فرمايا اور اتنا فرمايا كہ وہ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہم نام ہيں ،ان كى كنيت بھى پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہى كى كنيت ہے(۲)

آپ كے مشہور ترين القاب مہدى ،قائم،حجت،اور بقية اللہ ہيں _

آپ كے پدر بزرگوار ،گيا رہويں امام حضرت امام حسن عسكرى _اور مادر گرامى ''نرجس''(۳) بنت ''يوشعا'' ہيں جو قيصر روم كے بيٹے اور جناب عيسىعليه‌السلام كے ايك حوارى ''شمعون كى نسل سے تھيں ان عظيم المرتبت خاتون كى عظمت كے لئے اتنا كافى ہے كہ امام حسن عسكرى _كى پھوپھى جناب ''حكيمہ''نے جو خاندان امامت كى ايك بزرگ خاتون تھيں _ انھيں اپنى اور اپنے خاندان كى سردار كا خطاب ديا ہے اور خود كو ان كى خدمت گذار سمجھتى تھيں _(۴)

جب جناب نرجس روم ميں تھيں تو ايك دن انہوں نے خواب ميں ديكھا كہ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام اور حضرت عيسىعليه‌السلام نے امام حسن عسكرى _سے ان كا عقد كرديا _

آپ خواب كے عالم ميں حضرت فاطمہ زہرا عليہا السلام كى دعوت پر مسلمان ہوئيں ليكن انہوں نے اپنے وابستگان سے اپنا اسلام چھپائے ركھا_

آخر كا ر آپ كو خواب ميں حكم ملاكہ كنيزوں اور قيصر كے خدمت گذاروں كے درميان چھپ كر


اس لشكر كے ساتھ جو مسلمانوں سے جنگ كے لئے سرحد كى طرف جارہاہے ،چلى جائيں _

آپ نے ايسا ہى كيا اور سرحد پر چند دوسرے افراد كے ساتھ لشكر اسلام كى اسيرى ميں آگئيں اور بغداد لے جائي گئيں _

يہ واقعہ احتمال قوى كى بناپر ۲۴۸ھ ق ميں رونما ہوا جو امام ہادى _كے سامرا ميں قيام كا تير ھواں سال تھا اور امام حسن عسكرى _اسوقت سولہ سال كے تھے _امام ہادىعليه‌السلام كے قاصد نے ايك خط بغداد ميں جناب نرجس كو ديا جو رومى زبان ميں لكھا ہواتھا _اور ان كو بردہ فروشوں سے خريد كر وہ قاصد''سامرا''لايا_

جو كچھ جناب نرجس نے خواب ميں ديكھا تھا امام ہادى _نے اسے بيان كرديا _ اور بشارت دى كہ وہ گيا رہويں امامعليه‌السلام كى بيوى اور ايسے بيٹے كى ماں بنيں گى جو سارى دنيا پر تسلط حاصل كركے زمين كو عدل و انصاف سے پر كردے گا_ اس كے بعد آپ نے جناب نرجس كو اپنى بہن''حكيمہ'' كے حوالے كيا تا كہ وہ ان كو آداب و احكام اسلام سكھا ئيں كچھ دنوں كے بعد جناب ''نرجس''امام حسن عسكرى _كى زوجيت ميں آئيں(۵)

''حكيمہ'' جب بھى امام حسن عسكريعليه‌السلام كى خدمت ميں پہنچتيں دعا فرماتيں كہ خداوند عالم ان كو فرزند عطا فرمائے _ وہ نقل كرتى ہيں كہ ايك روز عادت كے مطابق امامعليه‌السلام كے ديدار كے لئے گئيں ميں نے وہى دعا پھر امامعليه‌السلام كے سامنے دہرائي امامعليه‌السلام نے فرمايا جو بيٹا آپ ميرے لئے خدا سے مانگ رہى ہيں وہ آج كى رات پيدا ہونے والاہے_

ميں نے عرض كيا ميرے سردار وہ بچہ كس سے پيدا ہوگا؟آپ نے فرمايا ''نرجس سے''ميں اٹھى اور ميں نے نرجس كو جستجو كى نگاہ سے ديكھا حمل كى كوئي علامت نہيں ہے _امامعليه‌السلام مسكر ائے اور فرمايا:سپيدہ سحرى كے وقت آپ پر آشكار ہوجائے گا_اس لئے كہ وہ مادر موسىعليه‌السلام كى طرح ہيں جن كا حمل ظاہر نہيں ہواتھا اور ولادت كے وقت تك كسى كو ان كے حمل كى خبر نہ تھى اس لئے كہ فرعون ،موسىعليه‌السلام كى تلاش ميں عورتوں كے شكم كو چاك كرديتا تھا اور يہ بچہ_ جو آج كى رات پيدا ہوگا _حضرت


موسىعليه‌السلام كى طرح ہے _

جناب حكيمہ نقل فرماتى ہيں كہ ميں سپيدہ سحر تك نرجس كى نگرانى كرتى رہى اور وہ نہايت آرام كے ساتھ ميرے پاس سوئي ہوئي تھيں يہاں تك كہ طلوع فجر كے وقت وہ گبھراكراٹھ بيٹھيں _ميں نے ان كو اپنى آغوش ميں سنبھالا اور ان كے اوپر اسم خدا پڑھ كردم كيا، امامعليه‌السلام نے _دوسرے كمرے سے آواز دى _ ان كے اوپر سورہ انا انزلنا دم كيجئے_

ميں نے سورہ اناانزلنا پڑھنے كے بعد نرجس كى حالت كو ديكھنا شروع كيا _انہوں نے فرمايا جو آپ كے سردار نے خبر دى تھى وہ بات ظاہر ہوگئي ہے_

ميں اسى طرح سورہ قدر پڑھنے ميں مشغول تھى كہ بچہ شكم مادر ميں ميرا ہم آواز ہوگيا اس نے بھى سورہ قدر كى تلاوت كى اور مجھ كو سلام كيا ،ميں ڈرگئي ،امام حسن عسكريعليه‌السلام نے آواز دى :،امر خدا ميں تعجب نہ كريں _خداوند عالم ہم كو بچپن ميں حكمت سے گويائي عطا كرتا ہے _اور بڑے ہونے كے بعد زمين پر حجت قرار ديتا ہے _

ابھى امامعليه‌السلام كى بات ختم بھى نہيں ہوئي تھى كہ يكايك نرجس سامنے سے غائب ہوگئيں جيسے ہمارے اور ان كے درميان پردہ حائل ہوگيا ہو ،ميں آواز ديتى ہوئي امامعليه‌السلام كى طرف گئي _امامعليه‌السلام نے فرمايا :پھوپھى جان آپ وہيں تشريف لے جائيں ان كو اپنى جگہ پر پائيں گي_

ميں وہاں پلٹ آئي ابھى تھوڑى دير بھى نہ گذرى تھى كہ ميرے اور ان كے درميان پردہ ہٹ گيا_اور ميں نے ''نرجس''كو اس طرح نور ميں غرق ديكھا كہ ميرى آنكھوں ميں ان كو ديكھنے كى طاقت نہ تھي_

اسى عالم ميں ،ميں نے ايك بچہ كو ديكھا جو سجدہ كے عالم ميں تھا اور اپنى انگلى اوپر اٹھائے ہوئے كہہ رہا تھا:''اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له و انّ جدى محمداً رسول الله و انّ ابى امير المومنين ''اس كے بعد آپ نے ايك ايك امام كى امامت كى گواہى دى اور فرمايا خداياميرے وعدہ كو پورا كر اور ميرے كام كو اتمام كو پہنچا ،ميرے قدم كو ثبات و


استوارى عطا كر اور ميرے ذريعہ زمين كو عدل و انصاف سے بھر دے(۶)

پوشيدہ ولادت

امام عسكرىعليه‌السلام كے زمانہعليه‌السلام امامت ميں حكام بنى عباس كے درميان بڑى تشويش اور فكر مندى تھى ،تشويش ان كثير اخبارات و احاديث كى بنا پر تھى جو_ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ سے _ مروى تھيں _ان ميں يہ ذكر آچكاتھا كہ امام حسن عسكري_ كے ہاں ايك بيٹا پيدا ہوگا جو حكومتوں كى بنيادوں كو پلٹ دينے والا اور تاج و تخت كو الٹ دينے والا ہوگا _ وہ دنيا كو عدل و انصاف سے بھر دے گا _(۷) اس لئے امام حسن عسكريعليه‌السلام سخت پريشانى ميں تھے اور خلافت كى مشينرى يہ كوشش كررہى تھى كہ اس نو مولود كو پيدا ہونے سے روك دے _(۸)

يہى وجہ تھى جو حضرت مہدىعليه‌السلام كے حمل اور ولادت كے زمانہ كو لوگوں سے پوشيدہ ركھا گيا اور خدا نے ان كے حمل كو جناب موسى _كى طرح مخفى ركھا_

ولادت كے بعد سوائے خاص اصحاب اور دوستوں كے كسى نے مھديعليه‌السلام كو نہيں ديكھا اور وہ بھى الگ الگ ايك ساتھ اور عام طور پر نہيں _

خواص كيلئے اعلان

امام حسن عسكرى _كى روش يہ تھى كہ اپنے فرزند كو عام لوگوں كى نظروں سے مخفى ركھنے كہ باوجود مناسب موقع پر قابل اطمينان افراد كو حضرت مھدىعليه‌السلام كے وجود سے آگاہ فرماتے رہتے اور ان كو حضرت مھدىعليه‌السلام كے سامنے حاضر ہونے كا فيض پہنچا تے رہتے تھے ،تا كہ اس طرح وہ ان كى پيدائشے اور وجود كا يقين حاصل كرليں اور مشاہدہ فرماليں نيز ضرورى موقع پر دوسرے شيعوں كو اطلاع ديں تا كہ آپ كے بعد لوگ گمراہى ميں نہ پڑجائيں _


اس وجہ سے امام مھدىعليه‌السلام كى ولادت سے لے كر امام حسن عسكرى _كى شہادت تك (۵ سے ۶سال كى مدت تك ) گيا رہويں امامعليه‌السلام كے بہت سے قريبى افراد ،شاگرد اور خصوصى اصحاب نے امام مھدىعليه‌السلام كى زيارت كى _

نمونہ كے طور پر چند واقعات كى طرف اشارہ كيا جارہا ہے :

۱_امام حسن عسكرى _كے قريبى اصحاب اور بزرگ شيعوں ميں سے ايك شخص ''احمدابن اسحاق ''نقل كرتے ہيں كہ ميں امام حسن عسكريعليه‌السلام كى خدمت ميں پہنچااور ميں نے چاہا كہ ان كے جانشين كے بارے ميں ان سے سوال كروں كہ اتفاقاً حضرت نے خود ہى بات شروع كى اور فرمايا:اے احمدبيشك خداوند عالم نے جب سے آدم كو پيدا كيا زمين كو حجت خدا سے خالى نہيں چھوڑا اور كبھى خالى نہيں ركھے گا اور حجت خدا كے واسطے سے اہل زمين سے بلائيں دفع ہوتى ہيں ،بارش ہوتى ہے اور زمين كى بركتيں حاصل ہوتى ہيں _ميں نے عرض كيا :فرزند رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ كے بعد امام اور جانشين كون ہے ،حضرت گھر كے اندر تشريف لے گئے اور اپنے تين سالہ بچے كو جس كا چہرہ چو دھويں رات كے چاند كى طرح چمك رہاتھا،كاندھے پر بٹھا ئے ہوئے با ہر تشريف لائے اور فرمايا :اے احمد ابن اسحاق اگر خدا اور اس كى حجت ائمہ كے نزديك تم مكّرم نہ ہوتے تو ميں اس بچہ كو تمہيں نہ دكھا تا،بيشك يہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كا ہم نام اور ہم كنيت ہے يہ وہ ہے كہ جو ظلم و جور سے بھرى ہوئي زمين كو عدل و انصاف سے پر كردے گا(۹)

۲_''معاويہ ابن حكيم ''محمد ابن ايوب بن نوح اورمحمد ابن عثمان عمرى نے نقل كيا ہے كہ شيعوں ميں ہم چاليس افراد امام حسن عسكرىعليه‌السلام كى خدمت ميں پہنچے آپ نے ہم لوگوں كو اپنے بيٹے كو لاكر دكھا يا اور فرمايا: ميرے بعد يہ تمہارا امام اور ميرا جانشين ہے _ ان كى پيروى كرنا اور (ان كے پاس سے )پراگندہ نہ ہونا و رنہ ہلاك ہوجاؤگے اور تمہارا دين تباہ ہوجائے گا اور يہ بھى جان لوكہ آج كے بعد تم ان كو نہيں ديكھو گے _(۱۰)

۳_''احمد ابن اسحاق قمي''نقل كرتے ہيں كہ جب حضرت مھدىعليه‌السلام پيدا ہوئے تو ميرے جد


كے پاس ايك خط ہمارے آقا امام حسن عسكرىعليه‌السلام كى طرف سے پہنچا جسے حضرت نے اپنے ہاتھ سے لكھا تھا_

اس ميں لكھا تھا كہ''ہمارے يہاں ايك بيٹاپيدا ہوا ہے _ضرورى ہے كہ تم اس كى ولادت كى خبر كو مخفى ركھوہم اپنے قريبى رشتہ داروں اور دوستوں كو رشتہ دارى اور دوستى كى بنا پر آگاہ كررہے ہيں _ اس كے علاوہ ہم كسى كو اس امر سے آگاہ نہيں كريں گے _ ہم نے اس بات كو پسند كيا كہ اس بچے كى ولادت كى خبر تم كو ديں تا كہ خداوند عالم اس كى وجہ سے تم كو مسرور كرے جيسا كہ اس نے ہم كو مسرور كيا والسلام(۱۱)

حضرت مھدى _كے شمائل اور خصوصيات

پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم اور ائمہ اكرم سے جو كثرت سے روايتيں نقل ہوئي ہيں ان كى بنياد پر مورخين و محدثين اسلام نے امام عصرعليه‌السلام كے شمائل اور اوصاف اپنى كتابوں ميں بيان كئے ہيں يہاں ان ميں سے كچھ باتوں كى طرف اشارہ كيا جارہا ہے _(۱۲)

جواں سال ،گندمى رنگ،ہلالى اور كشيدہ ابرو،سياہ اوربڑى بڑى آنكھيں ،چوڑا شانہ ،سفيد براق اور كشادہ دندان مبارك ،ستواں اور خوبصورت ناك ،بلند اورروشن پيشانى _شب زندہ دارى كى بناپر _ سر كے بال دوش پر بكھرے ہوئے _(۱۳) كم گوشت والے گا ذرا ذردى مائل_ داہنے گال پرتل اور شانوں كے درميان علامت نبوت كى سى علامت ہے ...يہ ہے امام زمانہعليه‌السلام كا حليّہ مبارك_

آپ كے خصوصيات ميں سے يہ ہے كہ آپ فرزند پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا كى اولاد ميں سے ہيں _نسل امام حسين _سے نويں پيشوا ،خاتم الاوصياء ،آخرى نجات دھندہ اور عالمى قائد ہيں جو سارى دنيا كو ظلم و جور سے پر ہونے كے بعد عدل و انصاف سے بھر ديں گے _


امام حسن عسكرىعليه‌السلام كى شہادت

امام زمانہ عجل اللہ فرجہ،نے اپنے والد كى شہادت كے بعد ۲۶۰ھ ق ميں امامت كى ذمہ دارى سنبھالى _

امام حسن عسكرى _كى بيمارى كے زمانہ ميں ان كے بيٹے كى تلاش كى كوشش كو جب معتمد نے بے نتيجہ پايا تو ان كى شہادت كے بعد اس نے ''ابوعيسى متوكل''كو معين كيا كہ وہ امام حسن عسكريعليه‌السلام كے جنازہ پر نماز پڑھائے اس نے بھى بنى ہاشم اور بقيہ حاضرين كو امامعليه‌السلام كا چہرہ دكھايا تا كہ لوگوں كے سامنے ظاہر كرسكے كہ امامعليه‌السلام اپنى طبيعى موت سے دنيا سے رخصت ہوئے ہيں پھر اس نے آپ كے جنازہ پر نماز پڑھائي اور حكم ديا كہ جنازہ اٹھايا جائے _(۱۴)

البتہ اس سے پہلے امامعليه‌السلام كے گھر ميں بغير كسى ظاہرى دكھاوے كے ايك اور نماز چند خاص افراد كى شركت ميں پڑھى جاچكى تھى اور اس كا واقعہ يہ ہے كہ جعفر ابن على ،جو اس زمانہ تك سياست كے ميدان ميں ظاہر نہيں ہوئے تھے اور جنہوں نے اپنا حقيقى چہرہ ظاہر نہيں كيا تھا ،صرف يہ ديكھ كر كہ امام حسن عسكرىعليه‌السلام كا كوئي شرعى وارث اور جانشين نہيں ہے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے كو امام كى شہادت كے بعد وارث اور جانشين كے عنوان سے نماياں كرنے كے لئے امامعليه‌السلام كے سلسلہ ميں لوگوں كى تعزيت اور اپنى امامت كى مبارك باد قبول كرنے كے لئے گھر كے دروازہ پر كھڑاہوگيا،نماز كے لئے جنازہ تيار ہوتے ہى جعفر آگے بڑھا تا كہ اپنے بھائي كے جنازہ پر نماز پڑھانے تا كہ وہ نئي حيثيت جو ظاہر كى تھى نماز پڑھانے سے اور مستحكم ہوجائے(۱۵)

اتفاقاًايك بچہ گندمى رنگ،بال پريشان،گشادہ دندان مبارك و الاظاہر ہوا اور اس نے جعفر كى عباكھينچى اور كہا:''چچا جان آپ پيچھے كھڑے ہوں ميں اپنے باپ پر نماز پڑھانے كے لئے زيادہ حقدار ہوں _(۱۶) جعفر بلاچون و چرا پيچھے ہٹ گئے_ ان كے چہرہ كا رنگ اڑاہواتھاامامعليه‌السلام آگے كھڑے ہوگئے اور آپ نے اپنے اپنے والد ماجد كے جنازہ پر نماز پڑھائي(۱۷) اس طرح


آپ نے اپنے چچا كو رسوا كيا اور ان كے بنائے ہوئے نقشہ كو باطل كرديا _آپ نے اپنے باپ كے مقام امامت اور جانشينى كے لئے اپنى وراثت اور لياقت كو حاضرين كے سامنے ثابت كيا _

امامعليه‌السلام عصر اپنے والد كے جنازہ پر نماز پڑھانے اور اپنے حق كو واضح كرنے كے بعد لوگوں كى نظروں سے غائب ہوگئے _

مسئلہ غيبت:

خلافت بنى عباس كى مشينرى جب اس بات كى طرف متوجہ ہوئي كہ حكومت كى تمام كوشش اور پابندى كے باوجود وارث امام پيدا ہوگيا تو اس نے حضرت كو گرفتار كرنے كے لئے پورا زور لگايا _ اس غرض سے حكومت كے مامور كردہ افراد امام حسن عسكرى _كے گھر پر حملہ آور ہوئے ليكن امام _كو گرفتار كرنے ميں كامياب نہ ہوسكے(۱۸)

يہ كوششيں بتارہى ہيں كہ بارہويں امام كى جان كو جو خطرات لاحق تھے وہ واقعى تھے_

كيونكہ ضرورى تھا كہ زمين پر امامت اور حجت خدا كے باقى ماندہ سلسلہ كى نگرانى كے لئے كوئي واقعى اقدام كيا جائے _

امام عصر كى غيبت كے مسئلہ اور اس كى وجوھات كے بارے ميں بہت سى باتيں ہيں _ ان ميں سے جو مسّلم ہيں وہ يہ ہيں كہ آپ كى غيبت حكمت اور مشيت الہى كى بنياد پرہے اور ہم ان حكمتوں كے تمام اسرار سے واقف نہيں ہيں _

ليكن ممكن ہے كہ ظاہرى اور محسوس وجوہات ميں سے مندرجہ ذيل نكتہ ايك طرف بنى عباس كى حكومت كى مشينرى كا امام مھدىعليه‌السلام كى تلاش ميں گھر پر حملہ اور چھان بين كرنا اور دوسرى طرف امامت ''عسكريين'' عليہما السلام كے زمانہ ميں لوگوں كى امامت سے روگردانى اور عدم حمايت نے غيبت كيلئے زمين ہموار كردى تھي_اگر لوگ حكومت الہى كو قبول كرنے كے لئے آمادہ ہوتے اور


اپنے رہبروں اور اماموں كى حمايت كرتے تو كيا تعجب كہ امامعليه‌السلام پردہ غيبت ميں نہ جاتے اور قانون الہى كو جارى كرنے ميں مشغول ہو جاتے جيسا كہ غيبت كے زمانہ كے ختم ہوجانے كے بعد بہت سے لوگ اپنے كو تيار كرليں گے تو پھر امام _ان كے سامنے ظاہر ہوں گے _(۱۹) ''ان الله لا يغير ما بقوم: حتى يُضيّروا ما بانفسهم'' (۲۰)

مرحوم خواجہ نصير الدين طوسى اپنے رسالہ ميں جوانہوں نے امامت كے بارے ميں لكھاہے تحرير فرماتے ہيں :غيبت حضرت مھدىعليه‌السلام كے لئے تو يہ سزاوار ہے كہ وہ خداوند سبحانہ كى طرف سے ہوا ور نہ ہى يہ سزاور ہے كہ امام _كى طرف سے ہو ، بس اس بات ميں غيبت منحصر ہے كہ مكلفين اور لوگوں كى طرف سے ہو_اور غيبت كا سبب خوف غالب اور عدم تمكين ہے _جب غيبت كا سبب زائل ہوجائے گا ظہور ہوگا_(۲۱)

غيبت صغرى :

بارہويں امام _كى غيبت كے دومرحلے ہيں : ايك كم مدت كا مرحلہ (غيبت صغرى )اور دوسرا لمبى مدت كا مرحلہ (غيبت كبري)غيبت صغرى زمانہ كے اعتبار سے بھى محدود تھى اور لوگوں سے رابطہ كے اعتبار بھى محدود_زمانہ كے اعتبار سے ستر(۷۰) سال سے زيادہ يہ غيبت نہيں تھى _ گيا رہويں امامعليه‌السلام كى شہادت كے بعد ۲۶۰ھ ق سے ۳۲۹ھ ق كا زمانہ ہے _(۲۲)

غيبت صغرى كے زمانہ ميں لوگوں سے امامعليه‌السلام كا رابطہ بہت محدود تھا يہ رابطہ بالكل منقطع نہيں ہواتھا كچھ لوگ تھے جن كا آپ سے رابطہ تھا _اور ان كوامامعليه‌السلام كے ''نواب خاص '' كے نام سے جاناجاتا تھا_شيعوں ميں سے ہر ايك ان''نواب ''كے ذريعہ اپنے مسائل اور مشكلات امامعليه‌السلام تك پہنچاتا تھا اور ان ہى كے ذريعہ اپنا جواب حاصل كرسكتا تھا اور كبھى كبھى ان كو امامعليه‌السلام كى زيارت كا بھى شرف حاصل ہوتا _


غيبت كبري:

غيبت صغرى كا زمانہ گذر جانے كے بعد غيبت كبرى كا آغاز ہوا جوا بھى تك جارى ہے يہ غيبت دنيا ميں انسانوں كے امتحان كا ذريعہ اور ايمان و عمل كے لئے ميزان قرار پائي_غيبت كے دونوں زمانوں كے بارے ميں يہ كہا جا سكتا ہے كہ غيبت كبرى كا زمانہ اچانك اور ناگہانى آجاتا تو ممكن ہے كہ افكار كے انحراف كا سبب بن جاتا اور اذہان اس كو قبول كرنے كے لئے آمادہ نہ ہوتے ليكن ''نواب خاص ''كے توسط سے شيعوں كا امامعليه‌السلام سے رابطہ اور ان ميں سے بعض كى ''غيبت صغري''كے زمانہ ميں امام كى بارگاہ ميں شرفيابى نے آپ كى ولادت اور حيات كے مسئلہ كو زيادہ مستحكم اور افكار كو غيبت كبرى كے قبول كرنے كيلئے آمادہ كرديا(۲۳)

غيبت صغرى ميں امام _كے معجزات:

غيبت صغرى كے زمانہ ميں امامعليه‌السلام كى طرف سے ان كے خاص نائبين كے ذريعہ بہت سے كرامات و معجزات ظاہر ہوئے جو آپ كے شيعوں اور پيروؤں كے ايمان كے استحكام كا سبب بنے يہ معجزات كثرت سے ہيں كہ شيخ طوسى كے بقول ان كو شمار نہيں كيا جا سكتا(۲۴)

بطور نمونہ چند معجزات ملاحظہ ہوں

۱_ ''عيسى ابن نصر'' نقل كرتے ہيں كہ '' على ابن زياد صميرى '' نے امامعليه‌السلام كے لئے خط لكھا اور آپ سے كفن كى درخواست كى ، تو جواب آيا تم كو ۸۰ سال ميں ( ۲۸۰ ہجرى ميں يا ۸۰ سال كى عمر ميں ) اس كى ضرورت پڑے گي_ اور انہوں نے اسى سال انتقال فرمايا جس سال كا امامعليه‌السلام نے فرمايا تھا _ ان كے انتقال سے پہلے امامعليه‌السلام نے ان كے لئے كفن بھيجا(۲۵) ۲_ '' محمد بن شاذان'' نقل فرماتے ہيں كہ ۴۸۰ درہم مال امامعليه‌السلام (خمس) ميرے پاس تھا_ اس ميں اپنے مال سے بيس درہم ميں نے اور شامل كرديئےور محمد ابن جعفر ۲۶ كے ذريعے امامعليه‌السلام كى


خدمت ميں ارسال كرديئے_ ليكن بيس درہم كا اضافہ كرنے كے بارے ميں ، ميں نے كچھ نہيں لكھا امامعليه‌السلام كے پاس سے پيسوں كى رسيد ميرے پاس پہنچى اس ميں لكھا تھا_ پانچ سو درہم جس ميں ۲۰ درہم تمہارے مال سے تھے مجھ تك پہنچ گئے(۲۷) ۳_ '' على ابن محمد سمري'' نقل فرماتے ہيں كہ امام كى طرف سے ايك فرمان پہنچا اس ميں آپ نے شيعوں كو كربلا اور كاظمين ميں ائمہ كى قبروں كى زيارت سے منع فرمايا تھا_ ابھى كچھ دن نہيں گذرے تھے كہ خليفہ كے وزير نے '' باقطاني'' كو بلايا اس سے كہا كہ بنى فرات سے _ جو وزير كے وابستگان ميں سے تھے سے كہے كہ اہل بَرَس سے ملاقات كريں اور ان سے كہيں كہ وہ لوگ مقابر قريش كى زيارت نہ كريں اس لئے كہ خليفہ نے حكم ديا ہے كہ مامور افراد ہوشيار رہيں اور جو بھى ائمہعليه‌السلام كى زيارت كے لئے جائے اس كو گرفتار كرليں(۲۸)

امام عصرعليه‌السلام كے نائبين

غيبت صغرى يا كبرى كسى دور ميں بھى امامعليه‌السلام كا لوگوں سے رابطہ بالكل ختم نہيں ہوا تھا بلكہ سفراء اور '' نواب'' كے ذريعہ شيعوں سے آپ كا رابطہ برقرار تھا اور ہے_

جس طرح غيبت امامعليه‌السلام كے دو حصے ہيں اسى طرح آپ كى نيابت كى بھى دو صورتيں ہيں ، غيبت صغرى ميں نيابت خاصہ اور غيبت كبرى ميں نيابت عامہ_

نيابت خاصہ يہ ہے كہ امامعليه‌السلام خاص افراد كو اپنا نائب قرار ديتے ہيں اور ان كے نام و علامت كا تعارف كرديتے ہيں _ اور نيابت عامہ يہ ہے كہ امامعليه‌السلام ايك ايسا كلى ضابطہ ہمارے ہاتھوں ميں دے ديتے ہيں كہ ہم ہر زمانہ ميں ايك يا كئي افراد جن پر ہر جہت سے وہ ضابطہ صادق آتا ہے، نائب امامعليه‌السلام كى حيثيت سے پہنچانے جاتے ہيں _


الف _ نائبين خاص

امامعليه‌السلام عصر كے خاص نائبين چار تھے(۲۹)

۱_ عثمان ابن سعيد

ابوعمرو، عثمان ابن سعيد عمري، حضرت مہدى (عج) كے پہلے خاص نائب اور عسكريين عليہما السلام كے مورد وثوق اصحاب ميں سے تھے اور ان دونوں كے وكيل بھى تھے_ امام ہادىعليه‌السلام اور امام حسن عسكرىعليه‌السلام دونوں ہى كى طرف سے ان كى توثيق و تمجيد ہوچكى ہے_

احمد ابن اسحاق قمى نقل كرتے ہيں كہ ميں نے امام ہادىعليه‌السلام سے عرض كيا كہ ميں كبھى حاضر رہتا ہوں اور كبھى غائب، جب حاضر رہتا ہوں اس وقت بھى ميں ہميشہ آپ كى خدمت ميں نہيں پہنچ سكتا تو ايسى صورت ميں كس كى بات كو قبول كيا جائے اور كس كے حكم كى اطاعت كى جائے آپ نے فرمايا: '' ابوعمرو'' '' عثمان ابن سعيد'' ثقہ اور امين ہيں يہ جو كچھ بيان فرمائيں گے ميرى طرف سے بيان فرمائيں گے اور جو كچھ تم تك پہنچائيں گے، ميرى طرف سے پہنچائيں گے_''

احمد ابن اسحاق فرماتے ہيں : ميں امام ہادىعليه‌السلام كى رحلت كے بعد امام حسن عسكرىعليه‌السلام كے پاس گيا اور ميں نے وہى بات كہى ( جو اس سے پہلے عرض كرچكا ہوں ) آپ نے پھر فرمايا:'' ابوعمرو، ميرے اور ميرے والد كے لئے امين ہيں ميرى زندگى ميں اور ميرے مرنے كے بعد قابل اطمينان ہيں _ يہ جو كہيں گے وہ ميرى طرف سے كہيں گے اور جو پہونچائيں وہ ميرى طرف سے پہنچائيں گے(۳۰) گيارہويں امامعليه‌السلام كى رحلت كے بعد اور مسئلہ غيبت پيش آنے سے پہلے '' عثمان ابن سعيد'' امام مہدى كے طرف سے نيابت كے عہدہ پر فائز ہوئے امام _اور شيعوں كے درميان رابط بنے(۳۱)


۲_ محمد ابن عثمان

۲۶۰ ھ ق ميں اپنے انتقال سے پہلے عثمان بن سعيد نے اپنے بيٹے '' محمد '' كو امامعليه‌السلام زمانہ كے حكم سے اپنے جانشين اور نائب امامعليه‌السلام كى حيثيت سے پہچنوايا(۳۲)

ابوجعفر محمد ابن عثمان بھى اپنے والد كى طرح امام حسن عسكرى اور امام مہدى عليہما السلام كے لئے مورد اطمينان تھے_

'' عبداللہ ابن جعفر حميرى '' نقل فرماتے ہيں كہ جب عثمان ابن سعيد كا انتقال ہوگيا تو امامعليه‌السلام كا خط آيا جس ميں ابوجعفر '' محمد ابن عثمان'' اپنے والد كى جگہ امام كے نائب مقرر كئے گئے تھے(۳۳)

محمد ابن عثمان نے اپنى وفات سے پہلے اپنى موت كى خبر دى ۳۴اور بزرگان شيعہ كے ايك گروہ كى موجودگى ميں انہوں نے حسين ابن روح نوبختى كو امام كے امور كے لئے اپنے جانشين كے عنوان سے تعارف كرايا اور كہا :'' وہ ميرے قائم مقام ہيں تم ان كى طرف رجوع كرو'' _

محمد ابن عثمان ۳۰۵ ھ ق ميں انتقال فرما گئے ۳۵ اور ان كى نيابت كى مدت ۴۵ سال رہي_

۳_ حسين ابن روح

امام كے تيسرے سفير '' ابوالقاسم حسين ابن روح نوبختى '' تھے جو كہ بزرگى اور مخصوص عظمت كے حامل تھے نيز عقل و بينش و تقوى و فضيلت ميں مشہور تھے_

يہ محمد ابن عثمان كے مورد اعتماد اور ان كى جانب سے كچھ امور كے ذمہ دار تھے(۳۶)

'' محمد ابن عثمان'' كے لئے قابل اطمينان افراد ميں سے ايك جعفر ابن احمد قمى '' تھے جو دوسروں سے زيادہ محمد سے متعلق رہے_ اتنے قريب تھے كہ كچھ لوگوں نے يہ سمجھ ركھا تھا كہ '' محمد ابن عثمان '' كے بعد انہيں كو نائب بنايا جائے گا(۳۷)

جب '' محمد ابن عثمان'' كے انتقال كا وقت قريب پہونچا تو ان كے سرہانے '' جعفر ابن احمد''


اور پائنتى '' حسين ابن روح'' بيٹھے ہوئے تھے محمد ابن عثمان نے جعفر ابن احمد كى طرف رخ كيا اور كہا كہ '' مجھے اس بات كا حكم ديا گيا ہے كہ تمام امور كو ابوالقاسم حسين ابن روح كے حوالہ كردوں _

'' جعفر ابن احمد'' اپنى جگہ سے اٹھے انہوں نے حسين ابن روح كے ہاتھوں كو پكڑ كر محمد كے سرہانے بٹھايا اور خود پائنتى بيٹھ گئے(۳۸)

حسين ابن روح نے تقريباً ۲۱ سال نيابت كے منصب كى ذمہ دارى بنھائي اور اپنى وفات سے پہلے انہوں نے امامعليه‌السلام كے حكم سے نيابت كے امور كو '' على ابن محمد سمري'' كے حوالہ كرديا اور ۳۲۶ ھ ق ميں انتقال فرماگئے(۳۹)

۴_ على ابن محمد سمري

امام زمانہ كے چوتھے اور آخرى سفير ابوالحسن على ابن محمد سمرى بزرگ اور جليل القدر تھے كہ صاحب '' تنقيح المقال'' كے قول كے مطابق محتاج توصيف نہيں _''۴۰

انہوں نے بزرگوں كى ايك جماعت سے فرمايا:'' خدا تم كو على ابن بابويہ قمى '' كى مصيبت پر اجر عنايت فرمائے، ان كا انتقال ہو چكا ہے_

ان لوگوں نے اس وقت دن اور مہينہ ياد ركھا اور ۱۷ يا ۱۸ روز بعد خبر پہنچى كہ اسى وقت على ابن بابويہ'' كا انتقال ہوا تھا(۴۱)

'' على ابن محمد'' ۳۲۹ ھ ق ميں انتقال فرماگئے ان كى وفات سے پہلے شيعوں كا ايك گروہ ان كے پاس آيا اور ان كے جانشين كے بارے ميں سوال كيا، آپ نے فرمايا: مجھے اس كے متعلق كوئي وصيت نہيں كى گئي ہے_۴۲ اس كے بعد انہوں نے اس توقيع مبارك كے بارے ميں بتايا جو امامعليه‌السلام كى طرف سے صادر ہوئي تھي_ اس كا مضمون كچھ اس طرح تھا_

'' بسم اللہ الرحمن الرحيم _ اے على ابن محمد سمرى خداتمہارے غم ميں تمہارے بھائيوں كو جزائے


عظيم عطا كرے، تم چھ روز كے بعد مرجاؤگے لہذا اپنے امور سے جلد فارغ ہونے كى كوشش كرو اور كسى كےابارے ميں وصيت نہ كرنا كہ تمہارے بعد وہ تمہارا جانشين ہو، اب غيبت كبرى كا زمانہ آگيا ہے اور اس وقت تك ظہور نہيں ہوگا جب تك خداوند متعال اجازت نہ دے ...''

چھٹے دن جناب سمرى اس دنيا سے رخصت ہوگئے(۴۳)

ب_ عام نائبين

امامعليه‌السلام كے آخرى سفير '' على ابن محمد سمري'' كے انتقال كے بعد غيبت كبرى كا زمانہ شروع ہوا ہرچند كہ امام مہدي(عج) كى طرف سے كوئي خاص نائب معين نہيں تھا_ ليكن آپ كى اور بقيہ ائمہ كى طرف سے ضوابط اور معيار كا ايك سلسلہ موجود ہے تا كہ لوگ اس معيار سے آگاہى حاصل كركے ہرزمانہ ميں اس فرد سے رجوع كركے اپنے مسائل كے جوابات معلوم كريں جس كے اندر شرطيں پائي جاتى ہوں اس لئے كہ ان كى نظر مہارت اور روايات كى بنا پر حجت ہے_

مرحوم شيخ طوسى و صدوق و طبرى نے اسحاق ابن يعقوب سے نقل كيا ہے كہ حضرت مہدي_نے ( غيبت كے زمانہ ميں شيعوں كے فرائض كے بارے ميں ) فرمايا ;

'' اما الحوادث الواقعه فارجعوا فيها الى رواة حديثنا فانّهم حجتى عليكم و انا حجة الله عليهم'' (۴۴)

آنيوالے حوادث و واقعات ميں ہمارى حديثيں بيان كرنے والوں كى طرف رجوع كرو _ اس لئے كہ وہ لوگ تمہارے اوپر ہمارى حجت اور ہم ان كے اوپر خدا كى حجت ہيں _

نيز امام حسن عسكرىعليه‌السلام ، امام جعفر صادقعليه‌السلام سے ايك روايت كے ضمن ميں بيان فرماتے ہيں :

'' اما من كان من الفقهاء صائنا لنفسه حافظاً لدينه مخالفاً لهواه مطيعاً لامر مولاه فللعوام ان يقلّدوه ''(۴۵)

'' فقہاء ميں سے جو اپنے نفس كو بچانيوالا اپنے دين كا نگہبان اپنے ہوا و ہوس كا مخالف اپنے مولا ( ائمہ ) كے فرمان كا مطيع ہو تو لوگوں پر لازم ہے كہ اس كى تقليد كريں _''


اس طرح اسلامى معاشرہ كى رہبرى اور مسلمانوں كے امور كا حل اور ان كا فيصلہ '' غيبت كبرى '' كے زمانہ ميں '' ولى فقيہ'' كے ہاتھوں ميں آيا_ ولى فقيہ امام زمانہ كى نيابت ميں '' ولايت شرعيہ'' كا مالك ہے_ اسلامى معاشرہ كى مشروعيت اور حكومت ذمے قانون كا لازم الاجراء ہونا اس كى تائيد او ر نفاذ سے متعلق ہے اس كے حكم كى مخالفت امامعليه‌السلام كے حكم كو رد كرنا ہے اور امام _ كے حكم كو رد كرنا خدا اور حكم خدا كو رد كرنا ہے(۴۶)

ديدار مہدى _

غيبت صغرى كے زمانہ ميں ان چار مخصوص نائبين كے علاوہ جو امام كى خدمت ميں پہنچتے رہتے تھے كچھ دوسرے افراد بھى تھے جو ان چاروں كے توسط سے آپ كى خدمت ميں زيارت كا شرف پاتے تھے_

شيعہ بزرگ علماء نے اپنى كتابوں ميں ان لوگوں ميں سے بہت سے افراد كا نام بيان فرمايا ہے جنہوں نے غيبت صغرى كے زمانہ ميں امامعليه‌السلام كو ديكھا اور ان كے معجزات كو درك كيا ہے_ علماء نے ان ملاقات كرنے والوں ميں سے ہر ايك كے واقعہ اور قضيہ كو مختلف اسناد كے ساتھ ذكر كيا ہے_

اسى طرح ان بزرگوں ميں سے بعض افراد نے ان لوگوں كى داستان كو اپنى كتابوں ميں بيان كيا ہے جو '' غيبت كبرى '' كے زمانہ ميں آپ كى خدمت ميں پہنچے يا آپ كى كرامات و معجزات كو _ بيدارى يا خواب كے عالم ميں _ مشاہدہ كيا ہے ليكن چونكہ اس وقت اختصار مد نظر ہے اس لئے ان كے ذكر سے چشم پوشى كى جاتى ہے(۴۷)


سوالات:

۱_ بارہويں امامعليه‌السلام كس تاريخ كو اور كہاں پيدا ہوئے؟

۲_ امامعليه‌السلام عصر كى ولادت كو كيوں چھپايا گيا؟

۳_ خواص سے امام حسن عسكرىعليه‌السلام كا اپنے بيٹے كى ولادت كو بتانے كا مقصد كيا تھا؟ ان ميں سے ايك نمونہ بيان كيجئے_

۴_ غيبت صغرى و كبرى كى مدت، دونوں غيبتوں كے درميان تفاوت اور رابطہ كو بيان فرمايئے

۵_ غيبت صغرى كے زمانہ كا امامعليه‌السلام عصر كا ايك معجزہ بيان فرمايئے

۶_ غيبت صغرى كے زمانہ كے امامعليه‌السلام كے نائبين كا نام اور ان كى مدت نيابت بيان فرمايئے

۷_ غيبت كبرى كے زمانہ ميں امامعليه‌السلام عصر كى نيابت كے مسئلہ كى نوعيت بتايئےور توضيح ديجئے_


حوالہ جات

۱ كافى جلد ۱/۴۳۱'ارشاد مفيد/۳۴۶'كمال الدين صدوق جلد۲/۴۳۰'بحار جلد۱ باب ۳ص ۳۱'منتخب الاثر/۳۲۰'الفصول المہمة/۲۹۲'اعلام الوري/۲۹۳'غيبت شيخ/۲۵۸'اعيان الشيعہ جلد۲/۴۴

۲ منتخب الاثر ۱۸۳_۱۸۲'كافى جلد ۱/۲۶۸

۳ آپ كا نام سوسن 'صيقل اور ريحانہ بھى بتا يا گيا ہے _بحار جلد ۵۱/۵_۱۵كمال الدين ۲/۳۲

۴ ''انت سيدتى و سيدة اھلى ''بحار جلد ۵۱/۲''بل اخذمك على بصري''بحار جلد ۵۱/۱۲_منتخب الاثر /۳۲۵'كمال الدين صدوق /۴۲۴/۴۲۷'اعيان الشيعہ جلد ۲/۴۶_

۵ بحار جلد ۵۱/۱۰_۸غيبت شيخ طوسى /۱۲۸_۱۲۴_كمال الدين صدوق جلد ۲/۴۲۳_ ۴۱۷_ دلائل الامامہ طبرى /۲۶۷/۲۶۲_

۶''اللهم انجزلى وعدى واتمم لى امرى و ثبت وطئتى و املا الارض بى عدلا و قسطاً'' بحار جلد ۵۱/۱۴_۱۲_۲۶_۲۵،كمال الدين صدوق جلد ۲/۲۴۷_۴۳۸_

۷ ان احاديث سے واقفيت كے لئے منتخب الاثر فصل دوم باب ۲۵_۳۴ملاحظہ ہو_

۸ امام حسن عسكرىعليه‌السلام نے ايك حديث كے ضمن ميں اہل بيت سے بنى اميہ و بنى عباس كى مخالفت كى ايك وجہ اس مسئلہ كو قرار ديا ہے _

۹''يا احمد ابن اسحاق لو لا كرامتك على الله و على حججه ما عرضت عليك ابنى هذا انّه سمّى رسول الله و كنّيه الذى يملا الارض قسطا و عدلا كما ملئت ظلماًو جوراً'' _بحار جلد ۵۲/۲۴_۲۳_كمال الدين صدوق جلد ۲/۳۸۴،كشف الغمہ مطبوعہ تبريزجلد۲/۵۲۶_

۱۰ بحار جلد ۵۲/۲۶_۲۵كمال الدين جلد ۲/۴۳۵،منتخب الاثر ۳۵۵،كشف الغمہ جلد ۳/۵۲۷

۱۱ منتخب الاثر /۳۴۴_۳۴۳،كمال الدين صدوق جلد ۲/۴۳۴_۴۳۳_

۱۲ خصوصيات حضرت مھدى كے بارے ميں زيادہ معلومات كے لئے ملاحظہ ہو منتخب الاثر از باب چہارم تا باب ۲۵، اعيان الشيعہ جلد ۲/۴۴،غيبت نعمانى باب ۱۳/۳۱۲كشف الغمہ جلد ۳/۴۶۴_۳۷۰_

۱۳ ''يسيل شعرہ على منكبيہ ''اعيان الشيعہ جلد ۲/۴۴،منتخب الاثر /۱۸۵،كشف الغمہ مطبوعہ تبريزجلد۲/۴۶۴_


۱۴ ارشاد مفيد /۳۴۰كمال الدين صدوق جلد۱/۴۳،بحار الانوارجلد ۵۰/۳۲۸_

۱۵ يہ جعفر وہى ہيں جو بعد ميں جعفر كذاب كے نام سے مشہور ہوئے_

۱۶ ''تاخر يا عم فا نا احق بالصلوة على ابي''

۱۷ بحار جلد ۵۰/۳۳۲_۳۳۳_

۱۸ كمال الدين مرحوم صدوق جلد ۱/ ۴۳ مطبوعہ جامعہ مدرسين_

۱۹ بہ ياد دلادينا ضرورى ہے كہ اس كا مطلب يہ نہيں ہے كہ تمام لوگ اس گناہ ميں آلودہ ہيں بلكہ اس سے مراد نصاب كى وہ حدہے جو امامعليه‌السلام كے ظہور كے لئے ضرورى ہے _ ورنہ بہت سے نيك افراد ہميشہ ظہور كے لئے آمادہ رہے ہيں اور آج بھى آمادہ ہيں _

۲۰ سورہ رعد /۱۱_

۲۱''اما سبب غيبته فلا يجوز ان يكون من الله سبحانه و لا منه كما عرفت فيكون من المكلفين و هو الخوف الغالب الغالب و عدم التمكين و الظهور يجب عند زوال السبب'' رسالہ امامت فصل سوم ص ۲۵ منقول از نويد امن و امان ۱۹۰ چونكہ غيبت ولى عصر كے اسرار و علل كى بحث عقيدہ كى بحث ہے اس لئے اس كے اسرار و علل كى تحقيق اس رسالہ كى ذمہ دارى سے الگ ہے يہاں جس كى طرف اشارہ ہوا ہے، وہ اس عہد كے سياسى اور تاريخى حالات تھے_

۲۲ شيخ مفيد اپنى كتاب ارشاد ص ۳۴۶ پرغيبت صغرى كے آغاز كو ولادت كے موقع سے شمار كرتے ہوئے فرماتے ہيں كہ '' غيبت صغرى ولادت مہدىعليه‌السلام كے زمانہ سے سفارت كے زمانہ كے اختتام اور آخرى سفير كى رحلت تك ہے اس حساب سے غيبت صغرى كا زمانہ ۷۵ سال ہوتاہے _

۲۳ بلكہ كہا جاسكتاہے كہ غيبت كبرى كيلئے لوگوں كو آمادہ كرنے كا كام امام ہادىعليه‌السلام بلكہ امام جوادعليه‌السلام كے زمانہ سے شروع ہوچكا تھا اور وہ لوگ زيادہ تر خط و كتابت كے ذريعہ شيعوں سے رابطہ ركھتے تھے اور ان كا ارتباط غيبت صغرى كے زمانہ كے ارتباط كے مشابہ تھا تا كہ لوگ غيبت كبرى كيلئے ضرورى آمادگى پيدا كرليں _

۲۴ غيبت شيخ / ۱۷۰_

۲۵ بحار جلد ۵۱/ ۳۱۲، ارشاد مفيد /۳۵۶، غيبت شيخ /۱۷۲، منتخب الاثر /۳۹۰ كشف الغمہ مطبوعة تبريز جلد ۲/۴۵۶

۲۶ شيخ نے اپنى رجال ميں ايك باب كے عنوان ميں ان كا نام ليا ہے'' رجال طوسى باب لم يروعن الائمہ /۴۹۶ / مجمع الرجال جلد ۵/۱۷۷_


۲۷ بحار جلد ۵۱/۳۲۵، ارشاد مفيد /۳۵۶_۳۵۵ دلائل الائمہ طبرى /۲۸۶، منتخب الاثر /۳۸۲_ غيبت شيخ /۲۵۸، كشف الغمہ مطبوعہ تبريز جلد ۲/۴۵۶_

۲۸ وزير كا نام ابوالفتح فضل بن جعفر فرات تھا اور وہ بنى عباس كے وزراء ميں سے تھا_ ''برس'' حلہ اور كوفہ كے درميان ايك قريہ ہے، مقابر قريش سے مراد '' كاظمين'' ہے بحار جلد۵۱/۳۱۲ غيبت شيخ /۱۷۲، ارشاد مفيد /۳۵۶، كشف الغمہ مطبوعہ تبريز جلد ۲/۴۵۶_

۲۹ البتہ ان چار افراد كے علاوہ دوسرے وكلاء بھى مختلف شہروں ميں تھے جو ان ہى چار افراد كے ذريعہ لوگوں كے مسائل كو امام كى خدمت ميں پہنچاتے تھے اور مرحوم سيد محسن امين كے اقوال كے مطابق ان چار افراد كى سفارت عام اور مطلق تھى ليكن دوسرے افراد بھى جيسے محمد ابن جعفر اسدي، احمد ابن اسحاق اشعري، ابراہيم ابن محمد ہمداني، احمد ابن حمزہ بن اليسع كو خاص موارد ميں نيابت حاصل تھي_ اعيان الشيعہ جلد ۲/۴۸_

۳۰ بحار جلد ۵۱/۳۴۴، غيبت شيخ /۲۱۵، اعيان الشيعہ ج ۲/۴۷ ، منتخب الاثر /۳۹۳، الكنى و الالقاب جلد۳/۲۶۷_۲۶۶، رسائل شيخ انصارى مطبوعہ جامعہ مدرسين /۱۳۹_

۳۱ بحار جلد ۵۱/۳۴۶_

۳۲ بحار جلد ۵۱/۳۴۹، غيبت شيخ /۲۲۰، ۲۱۸_اعيان الشيعہ جلد ۲/۴۷_

۳۳ بحار جلد ۵۱/۳۴۹، غيبت شيخ /۲۲۰، ۲۱۸، اعيان الشيعہ جلد ۲/۴۷_

۳۴ بحار جلد ۵۱/۳۵۲، الكنى و الالقاب جلد ۳/۲۶۸، غيبت شيخ /۲۲۲، اعيان الشيعہ جلد ۲/۴۷_

۳۵ بحار جلد ۵۱/۳۵۲، غيبت شيخ /۲۲۳، اعيان الشيعہ جلد ۲/۴۷، الكنى و الالقاب جلد ۳/۲۶۸_

۳۶ اعيان الشيعہ جلد ۲/۴۸، غيبت شيخ /۲۲۷_

۳۷ بحار ج ۵۱/۳۵۴_ ۳۵۳، غيبت شيخ /۲۲۶، اعيان الشيعہ ج ۲/۴۸_۴۷_

۳۸ بحار جلد ۵۱/۳۵۴_ ۳۵۳، غيبت شيخ /۲۲۶، اعيان الشيعہ ج ۲/۴۸_۴۷ ، اس سلوك سے پتہ چلتا ہے كہ يہ لوگ معرفت، ايمان اور تسليم و رضا ميں ايسے كامل تھے كہ ہميشہ اور تمام امور ميں اپنے امام كے سامنے سر تسليم خم كرديتے تھے_

۳۹ بحار ج ۵۱/۳۵۸، اعيان الشيعہ ج ۲ ص ۴۸_

۴۰ تنقيح المقال جلد ۲/۳۰۵، ''ثقتہ و جلالتہ اشہر من ان يذكر و اظہر من ان يحرّر''_

۴۱ بحار جلد ۵۱/۳۶۱، جلد ۵۲/۱۵۱، غيبت شيخ /۲۴۳، الكنى و الالقاب جلد ۳/۲۶۶، اعيان الشيعہ جلد ۲/۴۸،


منتخب الاثر /۳۹۹، تنقيح المقال جلد ۲/۳۰۵_

۴۲ بحار جلد ۵۱/۳۶۰، منتخب الاثر /۴۰۰_

۴۳ اعيان الشيعہ جلد ۲/۴۷، بحار جلد ۵۱/۳۶۱، كشف الغمہ مطبوعہ تبريز جلد ۲/۵۳۰، منتخب الاثر /۹۹، تنقيح المقال جلد ۲/۳۰۵_

۴۴ كمال الدين جلد ۲/۴۸۴، غيبت شيخ /۱۷۷، احتجاج طبرسى جلد ۲/۴۷۰، مطبوعہ بيروت ،وسائل الشيعہ جلد ۱۸/۱۰۱، كتاب البيع للامام الخمينى جلد ۲/۴۷۴، كشف الغمہ مطبوعہ تبريز جلد ۲/۵۳۱، بحار جلد ۵۳/۱۸۱، رسائل شيخ انصارى مطبوعہ جامعہ مدرسين/۱۳۹_

۴۵ احتجاج طبرسى بيروت جلد ۲/۴۵۸، وسائل الشيعہ جلد ۱۸/۱۹۵، سفينة البحار جلد ۲/۳۸۱، رسائل شيخ انصارى مطبوعہ جامعہ مدرسين /۱۴۱_

۴۶ مقبولہ عمر ابن حنظلہ كے ذيل ميں امام جعفر صادق _فرماتے ہيں كہ :''فاذا حكم بحكمنا فلم يقبل منه فانما استخف بحكم الله و علينا ردّ و الراد علينا الرّاد على الله و هو على حد الشرك بالله'' وسائل جلد ۱۸/۹۹، كافى جلد ۱/۵۴، كتاب فضل العلم باب اختلاف الحديث حديث ۱۰ ، تہذيب جلد ۶/۲۱۸ و ۳۰۱ ، كتاب لبيع للامام الخمينى جلد ۲/۴۷۶، فروع كافى جلد ۷/۴۲ حديث ۵ باب كراھية ''الارتفاع الى قضاة الجور''_

۴۷ تفصيلى معلومات كے لئے ملاحظہ ہو، اعلام الورى /۴۲۵، النجم الثاقب /۲۱۱_۲۰۹، بحار جلد ۵۱ باب اول، جلد ۵۲، باب ۱۸،۱۹،۲۳ و جلد ۵۳/۲۰۰ _ ۳۳۵_ منتخب الاثر فصل چہارم باب اول و فصل پنجم باب دوم و كتاب تبصرة الولى فيمن را ى القائم المہدى تاليف علامہ سيد ہاشم بحراني، كشف الغمہ جلد ۲/۵۳۳، دلائل الامامہ طبري/۳۰۶_۲۹۵_


سولہواں سبق :

مہدىعليه‌السلام موعود كا عقيدہ -دوسرا حصہ;


آخرى زمانہ ميں ايك مصلح الہى كا ظہور، پرانے زمانہ سے لوگوں كا بنيادى عقيدہ رہا ہے_ نہ صرف شيعہ بلكہ اہل تسنّن يہاں تك كہ دوسرے اديان كے ماننے والے '' جيسے يہود و نصارى '' زردشتى اور ہندو بھى ايك بڑے الہى مصلح كے ظہور كا عتقاد ركھتے ہيں اور اس كے انتظار ميں ہيں _

وہ بشارتيں اور پيشين گوئياں جو حضرت مہدىعليه‌السلام اور ان كے ظہور كے بارے ميں مقدس كتابوں اور اسلاف كے دوسرے آثار ميں ہيں اسى طرح اسلامى ماخذ ميں موجود ہيں اور وہ بہت زيادہ ہيں _

اس مقام پر ان بشارتوں ميں سے ہم چند بشارتوں كا ذكر كر رہے ہيں _

الف_ تمام اديان كى نظر ميں

زردشتيوں كى كتابوں ميں آخرى زمانہ اور ظہور مہدىعليه‌السلام موعود كے بارے ميں بہت سى باتيں مذكور ہيں _

منجملہ ان كے كتاب '' جاماسب ''(۲) ميں مرقوم ہے كہ زمين عرب اور خاندان ہاشم سے ايك شخص بڑے جسم اور بڑى پنڈلى والا نكلے گا وہ اپنے جد كے دين پر ہوگا، بہت زيادہ لشكر كے ساتھ وہ ايران كى طرف رخ كرے گا اور اس كو آباد كرے گا_ اور زمين كو انصاف سے بھر دے گا اور اس كى عدالت كى بناء پر بھيڑيا، بھيڑ كے ساتھ پانى پيے گا''(۳)

ہندؤں نے بھى اپنى كتاب مقدس ويد ميں لكھا ہے كہ '' دنيا كى خرابى كے بعد آخرى زمانہ ميں


ايك بادشاہ پيدا ہوگا جو خلائق كا پيشوا ہوگا_ اس كا نام '' منصور '' ہوگا_(۴) وہ سارى دنيا كو اپنے قبضہ ميں كركے اپنے دين پر لے آئے گا_ اور مومن و كافر ميں سے ہر ايك كو پہچانتا ہوگا، وہ جو كچھ خدا سے مانگے گا وہ اس كو ملے گا_

'' توريت''(۵) سفر پيدائشے ميں نسل اسماعيل سے پيدا ہونے والے بارہويں امام كے بارے ميں گفتگو موجود ہے'' اور خاص كر اسماعيل كے بارے ميں ، ميں نے تيرى دعا قبول كى اب اس كو بركت ديكر بار آور كرونگا اور اس كو بہت زيادہ كردونگا اور اسى سے بارہ سردار پيدا ہوں گے اور ايك عظيم امت اس سے پيدا كروں گا_(۶)

'' داؤد'' كى زبور ميں بھى لكھا ہے كہ اور صالحين كى خدا تائيد كرتا ہے صالحين وارث زمين ہوں گے اور اس ميں ابد تك سكونت اختيار كريں گے_(۷)

عيسائيوں كى كتاب مقدس ميں موعود آخر الزمان كے بارے ميں زيادہ واضح بشارتيں موجود ہيں _ منجملہ ان كے پھر تم انسان كے بيٹے كو ديكھو گے كہ جو عظيم قوت اور جلالت كے ساتھ بادلوں پر آرہا ہوگا اس وقت فرشتے چاروں طرف سے زمين كى انتہا اور آسمان كے آخرى سرے سے اپنے كو جمع كريں گے ليكن باپ ( خدا) كے علاوہ اس دن كى كسى كو خبر نہيں ہے_ نہ فرشتوں كو آسمان ميں اور نہ بيٹے كو لہذا ہوشيار اور بيدار ہو كر دعا كرو اس لئے كہ تم كو نہيں معلوم كہ وقت كيسا آنے والا ہے اور كس وقت گھر والا آئے گا_(۸)

ب_ اسلامى مآخذ و مصادرميں

مہدىعليه‌السلام موعود كا عقيدہ اسلام كا ايك بنيادى اور اس كى حيات كا مسئلہ شمار كيا جاتا ہے_

اسلامى مذاہب ميں سے كسى خاص مذہب _ حتى كہ فقط شيعہ مذہب _ ميں ہى نہيں بلكہ مسلمانوں كے تمام فرقوں نے مستند اور معتبر مدارك اور روايتوں سے اس كو نقل كيا ہے_ اس سلسلہ ميں ايك دو روايت نہيں بلكہ بہت سے اقوال اور متواتر روايتيں موجود ہيں(۹)


استاد على محمد على دخيّل نے اپنى كتاب ميں اہل سنت كے بزرگ علماء كى ۲۰۶ كتابوں كا نام لكھا ہے جن ميں سے ۳۰ افراد نے حضرت مہديعليه‌السلام كے بارے ميں مستقل كتاب لكھى ہے اور ۳۲ افراد نے اپنى كتاب كى ايك فصل كو حضرت مہدىعليه‌السلام كے بارے ميں پائي جانے والى روايات اور ان كى شرح احوال كيلئے مخصوص كيا ہے اور بقيہ افرد نے مختلف مناسبت سے امام عصر( عج) سے مربوط احاديث كو نقل كيا ہے اور آپ كے خصائص كے بارے ميں گفتگو كى ہے(۱۰)

شيعہ مذہب ميں بھى پيغمبر اكرم اور ائمہ معصومين _سے بہت سى حديثيں مرقوم ہيں جن ميں بارہا حضرت مہدىعليه‌السلام ان كى غيبت ، ظہور اور قيام سے متعلق گفتگو ہوئي ہے_

شيعوں سے امام زمانہعليه‌السلام كے سلسلے ميں جو روايتيں نقل ہوئي ہيں وہ اس قدر زيادہ ہيں كہ مسائل اسلامى كے كم موضوعات اس پايہ كو پہنچيں گے اور شيعہ علماء ميں سے بہت ہى كم لوگ ايسے مليں گے جنھوں نے آپ كے بارے ميں كتاب نہ لكھى ہويا كوئي بات نہ كہى ہو_

كتاب '' امام مہدىعليه‌السلام '' كے مؤلف تحرير فرماتے ہيں : حضرت مہدى _كے بارے ميں جو روايتيں شيعہ اور سنى طريقوں سے پہنچى ہيں وہ چھ ہزار سے زيادہ ہيں(۱۱)

ان اخبار كى كثرت اور شہرت كى بنا پر آپ كى ولادت سے پہلے ہى كچھ لوگوں نے مہدويت كا جھوٹا دعوى كيا ہے يا ان كى طرف ايسے دعوے كى نسبت دى گئي ہے نمونہ كے طور پر ملاحظہ ہو امام زمانہعليه‌السلام كى ولادت سے دو سو سال پہلے ۱۲ '' كيسانيہ فرقہ'' محمد حنفيہ كو مہدى منتظر تصور كرتا تھا اور اس بات كا مقصد يہ تھا كہ وہ نظروں سے پنہان ہوگئے ہيں اور ايك دن ظہور كريں گے _ وہ لوگ اپنے دعوے كى دليل ميں ان روايتوں سے تمسك كرتے تھے جو غيبت قائم كے بارے ميں منقول ہيں(۱۳)

منصور ، خليفہ عباسى نے اپنے بيٹے كا نام '' مہدي'' ركھا تا كہ لوگوں كے انتظار سے فائدہ حاصل كرے(۱۴)

اسى شہرت كى بنا پر بہت سے شيعہ اور سنى علماء نے غيبت كے زمانہ سے پہلے حتى كہ امام


عصر_كى پيدائشے سے پہلے ان بزرگوار كے بارے ميں كتاب لكھى ہے علماء اہل سنت ميں سے '' عباد ابن يعقوب رواجني'' متوفى ۲۵۰ ھ ق اور مؤلف كتاب '' اخبار المہدي'' كا نام ليا جاسكتا ہے(۱۵)

كتاب مسند احمد، مولفہ احمد ابن حنبل شيساني، متوفى ۲۴۱ ھ اور صحيح بخارى مؤلفہ محمد اسماعيل بخارى متوفى ۲۵۶ھ اہل سنت كى ان معتبر كتابوں ميں سے ہيں جو امامعليه‌السلام زمانہ كى ولادت سے پہلے لكھى گئي ہيں اور ان لوگوں نے آپ سے متعلق احاديث كو نقل كيا ہے(۱۶)

كتاب '' مشيخہ '' تاليف '' حسن ابن محبوب'' بھى منجملہ مؤلفات شيعہ ميں سے ہے جو امام زمانہعليه‌السلام كى غيبت كبرى سے ايك صدى سے زيادہ پہلے لكھى گئي ہے_ اس ميں امامعليه‌السلام سے متعلق اخبار درج ہيں(۱۷)

اسى شہرت اور كثرت روايات كى بنا پر مسلمان صدر اسلام ہى سے قيام مہدى موعود( عج) سے آشنا تھے، خاص كر شيعہ اس حقيقت پر راسخ اعتقاد ركھتے تھے اور مناسب موقع پر اسكو مختلف انداز سے بيان كرتے تھے_

'' كميت'' شيعہ اور انقلابى شاعر متوفى ۱۲۶ ھ نے امام محمد باقرعليه‌السلام كى خدمت ميں امام موعود(عج) كے بارے ميں شعر پڑھا اور آپ كے قيام كے زمانہ كے بارے ميں سوال كيا(۱۸)

'' اسماعيل حميري'' اہل بيتعليه‌السلام كا چاہنے والا ايك شاعر متوفى ۱۷۳ ھ ق نے امام جعفر صادقعليه‌السلام كے حضور ميں ايك طولانى قصيدہ پڑھا اس كے بعض اشعار كا موضوع اس طرح ہے كہ '' ميں پروردگار كو گواہ قرار ديتا ہوں كہ آپ (امام جعفر صادقعليه‌السلام ) كا قول مطيع اور گناہگار سب پر حجت ہے ولى امر اور قائم كہ ميرا دل جس كا مشتاق ہے وہ يقيناً غائب ہوگا_

درود و سلام ہو ايسے غائب پر يہ كچھ دنوں تك پردہ غيبت ميں رہے گا پھر ظہور كرے گا اور دنيا كے مشرق و مغرب كو عدل و انصاف سے پر كردے گا(۱۹)

ايك زبردست انقلابى شاعر دعبل خزاعى ، متوفى ۲۴۶ ھ ق نے ايك قصيدہ كے ضمن ميں


جسے امام رضاء كى خدمت ميں پڑھا تھا، كہا: اگر وہ چيز نہ ہوتى جس كے واقع ہونے كى اميد آج يا كل ہے تو ميرا دل ان پر ( ائمہ_پر ) حسرت و اندوہ كى وجہ سے پارہ پارہ ہوجاتا ( اور وہ اميد ) ايك امامعليه‌السلام كے قيام كى ہے جو بلا ترديد نام خدا اور بركات الہى كے ساتھ قيام كرے گا اور ہمارے درميان حق و باطل كو جدا كردے گا_ اور اجر و سزا دے گا(۲۰)

احاديث كے نمونے

امامعليه‌السلام زمانہ كے بارے ميں اہل سنت اور شيعوں كے طريق سے وارد ہونے والى روايات كے مضامين سے آشنا ہونے كے لئے نمونہ كے طور پر چند احاديث كا ذكر كيا جا رہا ہے_

۱_ پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا: اگر دنيا كى عمر كا ايك ہى دن بچے گا تو بھى خدا ہم ميں سے ايك شخص كو بھيجے گا جو دنيا كو عدل و انصاف سے اسى طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھرى ہوگي۲۱_

۲_ ام سلمہ نقل فرماتى ہيں كہ رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مہدىعليه‌السلام كو ياد كرتے تھے اور فرماتے تھے كہ ہاں وہ حق ہے وہ بنى فاطمہعليه‌السلام ميں سے ہوگا(۲۲)

۳_ اما م رضا _نے فرمايا: خلف صالح، فرزند حسن ابن على ، صاحب الزمان اور وہى مہدى موعود (عج) ہے(۲۳)

۴_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے فرمايا: قائم (عج) ميرى اولاد ميں سے ہيں ان كا نام ميرا نام ہے ان كى كنيت ميرى كنيت ہے، ان كے شمائل ميرے شمائل ہيں ان كى رفتار ميرى رفتار ہے وہ لوگوں كو ميرى شريعت اور دين پر قائم كريں گے اور كتاب خدا كى طرف دعوت ديں گے جس نے ان كى اطاعت كى اس نے ميرى اطاعت كى جس نے ان كى مخالفت كى اس نے ميرى مخالفت كى اور جس نے ان كا انكار كيا اس نے ميرا انكار كيا(۲۴)


۵_ اصبغ بن نباتہ فرماتے ہيں : ميں اميرالمؤمنين كى خدمت ميں پہنچا، ديكھا كہ آپ فكر ميں ڈوبے ہوئے ہيں اور زمين كو كھود رہے ہيں ، ميں نے عرض كيا كہ ميں آپ كو متفكر ديكھ رہا ہوں كيا آپ كو زمين سے كوئي رغبت ہے؟ نہيں خدا كى قسم مجھكو دنيا اور زمين سے كوئي رغبت نہيں ہے ليكن ميں ايك مولود كے بارے ميں سوچ رہا ہوں جو ميرى نسل سے ہے اور ميرے فرزندوں ميں سے گيارہواں فرزند ہوگا وہ مہدىعليه‌السلام ہے وہى جو زمين كو عدل و داد سے پر كردے گا جس طرح وہ ظلم و جو ر سے بھرى ہوگى اس كے لئے غيبت اور حيرت ہے ايك گروہ اس كے بارے ميں گمراہ ہوجائے گا اور ايك گروہ ہدايت پائے گا(۲۵)

۶_ امام جعفر صادقعليه‌السلام نے فرمايا: قائم كے لئے دو غيبتيں ہيں ايك كم مدت كى اور دوسرى زيادہ مدت كى ،غيبت اول ميں خواص شيعہ كے علاوہ كوئي اور ان كى قيام گاہ كو نہيں جان سكے گا اور دوسرى غيبت ميں سوائے ان كے خاص دوستوں كے كوئي ان كى جگہ كى معلومات نہيں ركھتا ہوگا(۲۶)

انتظار فرج

اميد و انتظار اور اس كے مختلف آثار انسان كى فردى اور اجتماعى زندگى ميں ناقابل انكار ہيں كوئي بھى انسان اپنى فطرت كے تقاضے كے مطابق اميد اور انتظار سے خالى اور بے نياز نہيں ہے اس لئے كہ انحراف سے دورى مشكلات كے مقابلہ ميں مقاومت پيدا كرنے اور كمالى كى طرف بڑھنے كيلئے اميد اور انتظار سے بہتر اور كوئي كارساز وسيلہ نہيں ہے_

تمام آسمانى اديان حتى وہ مكاتب فكر جو دست بشر كے ساختہ اور پرداختہ ہيں وہ بھى اس بات كى ضرورت پر اتفاق نظر ركھتے ہيں ہرچند كہ انتظار كى مدت ،كيفيت اور اس كے مورد ميں باہم اختلاف نظر ركھتے ہيں _

تمام اديان و مكاتب اسلام ميں خصوصاً مكتب تشيع ميں مسئلہ انتظار اور اميد كو خاص اہميت دى


گئي ہے_ اور اس كى خاص كيفيت كى عكاسى كى گئي ہے جوانتظار اور ظہور حضرت مہدى _كے موضوع ميں درخشاں ہيں(۲۷)

انتظار فرج مہدىعليه‌السلام اور حق كى باطل پر آخرى كاميابى كى فكر تاريخ ميں ستمگروں اور ظالموں كے مقابل شيعوں كى مقاومت كا راز اور ان كے رشد كا فلسفہ رہا ہے_ امام موسى كاظمعليه‌السلام ايك روايت ميں على ابن يقطين سے فرماتے ہيں : دو صديوں سے شيعہ اميد و آرزو كے سايہ ميں رشد اور پرورش پا رہے ہيں(۲۸)

اس لفظ پر توجہ دينے سے پتہ چلتا ہے كہ '' مسئلہ انتظار فرج'' اسلام ميں امام زمانہ _كے نظروں سے غائب ہونے كے بعد شروع نہيں ہوا بلكہ اس كا سلسلہ صدر اسلام اور بنى كريم كے زمانہ تك پہنچتا ہے وہ روايات جو پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ معصومين سے ظہور قائم اور فضيلت انتظار فرج كے بارے ميں ہم تك پہنچى ہيں وہ بہت ہيں ان ميں سے چند نمونے بيان كئے جا چكے اور اب چند دوسرے نمونے خاص كر '' انتظار فرج'' كے بارے ميں ملاحظہ فرمائيں :

۱_ اميرالمؤمنين نے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل فرمايا ہے: انتظار فرج ( مہدى ) تمام عبادتوں سے افضل ہے(۲۹)

۲_ اميرالمؤمنين نے فرمايا : تم منتظر فرج رہو اوررحمت خدا سے مايوس نہ ہونا بيشك خدا كے نزديك محبوب ترين عمل، انتظار فرج ہے(۳۰)

۳_ امام زين العابدينعليه‌السلام نے فرمايا: امام زمانہعليه‌السلام كا انتظار بزرگ ترين كشائشے ہے(۳۱)

۴_ امام جعفر صادقعليه‌السلام نے فرمايا: ہمارے قائم كے چاہنے والے خوش نصيب ہيں جو ان كى غيبت كے زمانہ ميں ان كے ظہور كے لئے چشم براہ ہيں اور جب وہ ظاہر ہوجائيں گے تو ان كا حكم مانيں گے وہ لوگ خدا كے اولياء ہيں اور كسى قسم كا خوف و ہراس ان كو نہيں ہے(۳۲)

انتظار فرج قائم آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كے پيرؤوں كو اس قدر جستجو و كوشش ميں ڈالا كہ اكثر ايسا بھى ہوا كہ ائمہ اطہار سے ان كے شيعہ پوچھ ليا كرتے تھے كہ كيا قائم آل محمد عج اور مہدى منتظر آپ


ہى ہيں ؟ اور وہ حضرت بھى حالات كى مناسبت سے امام قائم كا تعارف كراتے تھے(۳۳)

وقت ظہور

امام زمانہ كے چوتھے نائب كى وفات كے بعد غيبت كبرى كا زمانہ شروع ہوا اور اب تك غيبت كبرى كا دور چل رہا ہے_ آپ كا ظہور اور قيام اس دور كے اختتام كے بعد خدا كے حكم سے ہوگا_ ان روايتوں كى بنياد پر جو ائمہ معصومين سے وارد ہوئي ہيں حضرت كے ظہور كا وقت صرف خدا كو معلوم ہے اور جو كوئي بھى اس سلسلہ ميں وقت معين كرے وہ جھوٹا ہے_

فضيل نے امام باقرعليه‌السلام سے پوچھا: كيا اس امر كے لئے وقت نہيں معين كيا جاسكتا؟ آپ نے فرمايا: '' كذب الوقاتون'' وقت معين كرنے والے جھوٹے ہيں(۳۴)

اسحاق ابن يعقوب نے محمد ابن عثمان عمرى كے ذريعہ ايك خط امام عصر _ كو بھيجا اور ان سے چند سوالات دريافت كئے_ امامعليه‌السلام نے اس سوال كے جواب ميں جو ظہور سے متعلق پوچھا گيا تھا، فرمايا: ظہور فرج خداوند عالم كے حكم سے وابستہ ہے اور وقت معين كرنے والے جھوٹے ہيں(۳۵)

محمد ابن مسلم نقل كرتے ہيں كہ امام جعفر صادق _نے مجھ كو بتايا: جس نے تمہارے سامنے وقت ظہور كو معين كيا اس كو جھٹلانے ميں دريغ نہ كرنا_ اس لئے كہ ہم ظہور كے لئے وقت معين نہيں كرتے(۳۶)

ان روايات كے مجموعہ سے يہ واضح ہوتا ہے كہ ظہور كے وقت كا تعين اسرار الہى ميں سے ہے ائمہعليه‌السلام ميں سے بھى كسى نے وقت ظہور معين نہيں كيا ہے_ ليكن علامتيں بيان فرمائي ہيں _ ان علامتوں كا واقع ہونا ظہور كى خوشخبرى ديتا ہے_


ظہور سے پہلے كے حالات

جو روايات ظہور سے پہلے كے حالات اور علامتوں كے بارے ميں نقل ہوئي ہيں انكى تعداد بہت زيادہ ہے پھر ان روايتوں كو نقل كرنا اور انكى تحقيق كرنا بھى آسان نہيں ہے_ اس لئے يہاں چند حالات كے ذكر پر اكتفا كى جاتى ہے_

۱_ سارى دنيا ميں ظلم ، گناہ اور بے دينى كا پھيل جانا:

بہت سى روايتيں يہ بتاتى ہيں كہ آپ كا قيام اس وقت ہوگا جب ظلم و جور دنيا كو اپنى لپيٹ ميں لے چكا ہوگا_

بعض روايتوں ميں يہ بھى بيان ہوا ہے كہ حضرت قائم عج كے ظہور سے پہلے حتى كہ اسلامى معاشرہ ميں بھى فسق و فجور ، مختلف قسم كے گناہ اور برائياں _ جيسے منشيات كى خريد و فروخت ، شراب خورى ، سود خوري، زنا ، بدعت، بے حجابي، بے عفتي، مكمل طور پر رائج ہوجائے گي(۳۷)

ہم متمدن دنيا ميں مذكورہ برائيوں كے اوج كو ديكھ رہے ہيں _

اسلامى انقلاب كے عظيم رہبر حضرت امام خمينى كى رہبرى ميں ملت ايران كا اسلامى انقلاب انشاء اللہ امام عصر _كے عالمى انقلاب كا مقدمہ ہوگا_ در حقيقت يہ انقلاب انھيں مظالم كے خلاف تھا_ خدا كا شكر ہے كہ بہت سى برائيوں اور خرابيوں كى جڑ اسلامى ملك ايران ميں قطع ہوگئي_ اور اس بات كى اميد ہے كہ ايك دن سارى زمين عدل و انصاف سے پر ہوجائے گي_

۲_ خروج سفياني

سفيانى _ جو روايتوں كى بنياد پر اموى اور عتبہ ابن ابى سفيان كى نسل سے ہوگا_ اس كا نام '' عثمان ابن عنبسہ '' ہے وہ خاندان رسالت اور شيعوں سے خاصى دشمنى ركھتا ہے_ وہ سرخ چہرہ ٹيڑھى آنكھوں والا چہرہ پر چيچك كے داغ، كريہہ المنظر ، ظالم و خيانت كار ہے_۳۸ شام ميں قيام


كرے گا اور بڑى تيزى سے پانچ شہروں پر قبضہ كرے گا_۳۹ اور ايك بڑے لشكر كے ساتھ كوفہ كى سمت بڑھے گا_ عراق كے شہروں خصوصاً نجف اور كوفہ ميں بڑے جرائم كا مرتكب ہوگا اور مدينہ كى طرف لشكر روانہ كرے گا_ اس كے سپاہى مدينہ ميں قتل و غارت گرى مچائيں گے_ وہاں سے مكہ كى طرف جائيں گے ليكن مدينہ اور مكہ كے درميان بيابان ميں خدا كے حكم سے زمين ميں دھنس جائيں گے_

خود سفيانى بھى _ امامعليه‌السلام كے مكہ سے مدينہ كى طرف اور مدينہ سے كوفہ كى طرف روانہ ہونے كے بعد _ عراق سے دمشق كى طرف فرار كرے گا اور امامعليه‌السلام ايك لشكر اس كے تعاقب ميں روانہ فرمائيں گے_ انجام كار سفيانى بيت المقدس ميں امام _كے سپاہيوں كے ہاتھوں ہلاك ہوگا(۴۰)

۳_ سيد حسنى كا خروج

سيد حسنى _ موجودہ روايات كى بنا پر بزرگان شيعہ ميں سے ہيں _ ايران ميں ديلم و قزوين ۴۱ كے علاقہ ميں قيام كريں گے اور لوگوں كو اسلام اور ائمہ (عليہم السلام)كى روش كى طرف بلائيں گے_ بہت سے لوگ ان كے ساتھ ہوں گے اور بہت بڑے علاقہ كو _ اپنى جگہ سے كوفہ تك _ ظلم و جور سے پاك كرديں گے اور كوفہ ميں خبر ہوجاے گى كہ امام قائمعليه‌السلام نے ظہور كيا ہے اور اپنے اصحاب كے ساتھ كوفہ كى طرف آ رہے ہيں _ وہ سيد حسنى كے استقبال كے لئے جائيں گے _ بجر ان چاليس ہزار آدميوں كے جو امام _كى دعوت كو قبول نہيں كريں گے_ اور امام تين دن تك موعظہ كرتے رہيں گے اور ان لوگوں كے اس موعظہ كو قبول نہ كرنے كے بعد ان كے قتل كا حكم صادر فرمائيں گے_ پھر سيد حسنى اپنے پيروؤں كے ساتھ امام كى بيعت كريں گے(۴۲)

۴_ ندائے آسماني

ظہور كى علامتوں ميں سے ايك ندائے آسمانى ہے جو حضرت علىعليه‌السلام اور ان كے شيعوں كى حقانيت كو ثابت كرنے كے لئے آئے گي(۴۳)


مذكورہ علامتوں كے علاوہ دوسرى علامتيں بھى ذكر ہوئي ہيں جن ميں سے كچھ ظہور سے پہلے اور كچھ ظہور كے ساتھ ظاہر ہوں گي_

ظہور كے بعد كى حالت

ان تمام روايتوں كے مجموعہ سے جو ظہور حضرت مہدىعليه‌السلام كے بعد كے واقعات كے بارے ميں ہم تك پہنچى ہيں يہ ثابت ہوتا ہے كہ امام عصر (عج )اذن پروردگار كے بعد كعبہ ميں ركن و مقام كے مابين ظاہر ہوں گے اس حالت ميں كہ پرچم، شمشير، عمامہ اور پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا پيرہن آپ كے ساتھ ہوگا_

حق كا منادى آپ كے ظہور كى بشارت كو سارى دنيا كے لوگوں كے كانوں تك پہنچائيگا اور اسم و علامت كے ساتھ امام _كا تعارف كرائے گا اور لوگوں سے كہے گا كہ ان كى بيعت كرو_

امامعليه‌السلام كے خاص چاہنے والے جن كى تعداد ۳۱۳ ہے آسمانى آواز پر لبيك كہكر دعوت كے بعد فوراً مكہ ميں آپ كى بيعت كريں گے(۴۴)

اس كے بعد امامعليه‌السلام اپنى عمومى دعوت كو شروع كريں گے اور فرشتوں كے ذريعہ آپ كى مدد كى جائے گى محروم اور ستم رسيدہ افراد ہر طرف سے جمع ہوكر امام _كى بيعت كريں گے_ ان كے مددگار جنگجو، فداكار، دن كے شير اور رات كے راہب ہوں گے ان كے دل لوہے كہ ٹكڑے كى طرح مضبوط ہوں گے اور ان ميں سے ہر آدمى چاليس آدميوں كى طاقت ركھتا ہوگا وہ لوگ امامعليه‌السلام كى اطاعت كرنے ميں انتھك كوشش كرنے والے ہوں گے اور جد ھر جائيں گے، كامياب ہوں گے_

امامعليه‌السلام كچھ دنوں تك مكہ ميں رہيں گے پھر مدينہ كى طرف روانہ ہوں گے اور مدينہ ميں جنگ كے بعد اپنے سپاہيوں كے ساتھ كوفہ آئيں گے اور اس كو اپنى حكومت كا مركز قرار ديں گے_

امام عصر (عج) اللہ كى مشيت سے تھوڑے دنوں ميں عالم كے مشرق و مغرب كو فتح كرليں گے


اسلام كو پورى دنيا ميں پھيلائيں گے اور دين خدا كى تجديد كريں گے_ اسلام كے پيكر كو بدعتوں سے الگ كريں گے اور كتابوں خدا و سنت پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے مطابق حكومت كريں گے_ اميرالمؤمنين كى طرح ان كى غذا سادہ اور ان كا لباس كھردرا ہوگا(۴۵)

حضرت عيسى مسيح آسمان سے تشريف لائيں گے اور نماز ميں آپ كى اقتدا كريں گے(۴۶)

حضرت مہدى كى حكومت ميں زمين كے خزانے اور اس كى بركتيں آشكارہ ہوجائيں گى _ ثروت و نعمت اتنى بڑھ جائے گى كہ فقر ختم ہوجائے گا زكوة و صدقہ دينے كے لئے كوئي فقير نہيں ملے گا_ عدل اور امن و امان ہر جگہ كو گھيرلے گا_ اس طرح كہ اگر كوئي بوڑھى عورت اپنے سر پر سونے اور جواہرات كا طشت ركھ كر ايك جگہ سے دوسرى جگہ جارہى ہوگى تو كوئي آدمى اس كے لئے ركاوٹ نہيں بنے گا _ امام _كے ساتھ تمام ستم رسيدہ افراد كى ويرانياں آباد ہوجائيں گي_ آپ كے اصحاب كى آنكھوں اور انكے كانوں كو خداوند كريم اتنى طاقت عطا كرے گا كہ وہ لوگ آپ كى باتيں سنيں گے اور آپ كو ديكھيں گے جبكہ آپ اپنى جگہ پر ہوں گے_

امام مہدىعليه‌السلام كى حكومت ميں خداوند عالم اپنا دست لطف و مرحمت اپنے بندوں كے سرپر ركھے گا اور ان كى عقل كو استحكام اور ان كے افكار كو ترقى عطا كرے گا_

اس زمانہ ميں ہر شخص اور ہر چيز اپنے مطلوبہ كمال اور زيبائي تك اور انسانيت كى تمام تمنائيں اور آرزوئيں خدا كے ولى اعظم وصى خاتم الانبياء كى حكومت كے زير سايہ پورى ہوں گى اور خدانے جو يہ وعدہ فرمايا ہے كہ''و نريد ان نمن على الذين استضعفوا فى الارض و نجعلهم ائمة و نجعلهم الوارثين'' _(۳۷) ہم وعدہ كرتے ہيں كہ مستضعفين پر ہم احسان كريں گے اور ان كو زمين كا وارث بنائيں گے_ پورا ہوگا(۴۸)

ظہور حضرت مہدى _ اور حكومت موعود (عج )ميں دنيا اور انسان كا كيا حال ہوگا يہ اس كا مختصر بيان تھا_


سوالات:

۱_ امام زمانہعليه‌السلام كے بارے ميں توريت كى پيشن گوئيوں اور بشارتوں ميں سے ايك كا ذكر فرمايئے

۲_ كيا اسلامى مصادرميں امام عصرعليه‌السلام كى ولادت سے پہلے آپعليه‌السلام سے متعلق روايات كسى مدوّن كتاب ميں مذكور ہوئي تھيں اگر جواب مثبت ہو تو كتاب اور مؤلف كا نام لكھيئے_

۳_ انتظار فرج كا مسئلہ اور اس بات ميں وارد روايتيں كب بيان ہوئيں ؟اس سلسلہ كى دو روايتوں كا ذكر فرمايئے

۴_ امام مہدىعليه‌السلام كا ظہور كب ہوگا؟ ائمہ كا اس سلسلہ ميں كيا نظريہ ہے؟

۵_ امام عصر _كے ظہور سے پہلے كے واقعات ميں سے دو واقعات كا ذكر كيجئے_

۶_ وہ روايتيں جو ہم تك پہنچى ہيں _ ان كے پيش نظر حكومت حضرت مہدى (عج )كا جائزہ ليجئے_


حوالہ جات

۱. اس بات كى وضاحت كردينا ضرورى ہے كہ اس درس ميں جو باتيں بيان ہوئي ہيں وہ مختلف نكتہ نظر اور پہلوؤں سے قابل بحث ہيں ليكن يہاں جو ہمارا نظريہ ہے_ وہ ان مسائل كے تاريخى پہلوؤں سے بحث ہے دوسرے گوشوں سے اپنے مقامات پر بحث ہوگي_

۲. زرتشت كے شاگرد اور داماد '' جاماسب'' سے منسوب '' دائرة المعارف فارسى و بشارت عہدين _ حاشيہ /۲۴۳_

۳. بشارت عہدين /۲۵۸، اديان و مہدويت /۱۶_

۴. '' نجم الثاقب '' ص ۴۷ شمارہ ۱۳۵ ميں ذخيرہ اور تذكرہ سے منقول ہے كہ امام عصر(عج)كے ناموں ميں سے ايك نام '' منصور '' ہے كتاب '' ويد'' براہمہ ميں جو ان كے عقيدہ كے مطابق آسمانى كتاب ہے آيا ہے اور امام محمد باقرعليه‌السلام سے آيت''من قتل مظلوماً فقد جعلنا لوليّه سلطاناً' ' كى تفسير ميں ہے كہ اس سے مراد امام حسين ہيں جو مظلوم قتل كئے گئے اور آيہ ''فلا يسرف فى القتل انّہ كانَ منصوراً ''سورہ اسراء / ۳۲ كے ذيل ميں فرمايا كہ خدا نے مہدى كا نام منصور ركھا ہے اس طرح جس طرح پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا نام محمد،صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور محمودصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہے اورجس طرح حضرت عيسى كا لقب مسيح ہے_'' مدارك بالا اور بحار الانوار جلد ۵۱/۳۱_۳۰_

۵. بشارت عہدين /۲۴۵، اديان ومہدويت /۱۶_

۶. كتاب مقدس سفر پيدائشے باب ۱۷ ص ۲۱ بند ۲۰_ ۲۱_

۷. كتاب مقدس ص ۵۵۷_ ۸۵۶ كتاب مزامير خزمور ۳۷_ بند ۱۷ و ۲۹_ قرآن زبور ميں صالحين كے غلبہ كے ذكر سے متعلق بيان كرتا ہے'' ( و لقد كتبنا فى الزبور من بعد الذكر ان الارض يرثها عبادى الصالحون ) سورہ انبيا /۱۰۴'' زبور ميں ذكر '' تورات كے بعد ہم نے لكھا ہے كہ ہمارے صالح بندے زمين كے وارث ہوں گے_

۸. كتاب مقدس انجيل مرقس باب ۱۳ بند ۲۶،۲۷،۳۲،،۳۳،۳۵ ص ۷۹_ ۷۸ يہ بتادينا ضرورى ہے كہ لفظ '' پسر انسان'' كتاب قاموس كتاب مقدس ميں مسڑھا كس كى تحرير كے مطابق كتب عہد جديد ميں ۸۰ بار آيا ہے جس ميں سے صرف ۲۰ موارد ايسے ہيں جن كا مصداق حضرت عيسى ہيں _ قاموس كتاب مقدس مادہ پسر خواہر ۲۱۹'' اور ان ميں سے ۵۰ مورد ايسے ہيں جو ايك نجات دہندہ كے بارے ميں بتاتے ہيں اور ان كے ظہور كا وقت اور دن خدا كے علاوہ كوئي نہيں جانتا اور وہ نجات دينے والا حضرت مہدىعليه‌السلام كے علاوہ اور كوئي


نہيں ہے_

۹. علماء اہل سنت ميں سے جن لوگوں نے حضرت مہدى كے بارے ميں احاديث نبوى كے متواتر ہونے كى تشريح كى ہے ان ميں حافظ ابوعبداللہ گنجى شافعى كتاب '' البيان'' ميں ابن حجر عسقلانى نے '' فتح الباري'' ميں ، قاضى محمد شوكافى نے''التوضيح فى تواتر ماجاء فى المنتظر و الدجال و المسيح'' ميں شيخ عبدالحق نے لمحات ميں شبلخى نے نور الابصار '' ميں ابوالفرمان صبّان نے '' اسعاف الراغبين'' ميں تشريح كى ہے_ ملاحظہ ہو منتخب الاثر /۵ _ ۳ حاشيہ حديث متواتر اصطلاح ميں اس حديث كو كہا جاتا ہے جس ميں متعدد راوى ہوں اس طرح كہ ان كو فى حد نفسہ اور نہ قرائن كے ضميمہ كے ساتھ كذب سے متہم كيا جاسكتا ہو اس طرح حديث متواتر كو حديث قطعى اور حديث ثابت كہا جاسكتا ہے_

۱۰. امام المہدىعليه‌السلام مصنفہ على محمددخيل / ۳۱۸_ ۲۹۸ مطبوعہ نجف_

۱۱. پيشوائے دوازدہم مطبوعہ مؤسسہ در راہ حق / ۷۱ منقول از كتاب امام مہدى (عج)/ ۶۶ _ صرف كتاب منتخب الاثر ميں ۱۵۷ معتبر كتابوں سے امام زمانہعليه‌السلام كے بارے ميں تقريباً ۶۲۰۷، احاديث كى طرف اشارہ ہوا ہے_

۱۲. كيسانيہ شيعہ فرقہ ميں سے ہے يہ لوگ مختار ابن ابى عبيدہ ثقفى ، جن كو يہ لوگ كيسان كہتے تھے، كے دوستوں ميں شمار كئے جاتے ہيں كچھ لوگوں نے يہ بھى كہا ہے كہ اميرالمومنينعليه‌السلام كے غلاموں ميں سے ايك غلام كا نام كيسان تھا اور مختار نے اپنى باتيں ان سے سيكھى تھيں _ الملل و النحل شہرستانى جلد ۱ مطبوعہ بيروت / ۱۴۷ الفرق بين الفرق مطبوعہ بيروت /۳۹_ ۳۸ تاليف عبدالقادر بغدادى ، مذاہب الاسلاميين ج ۲/۷۲ ، ۷۱ مصنفہ ڈاكٹر عبدالرحمان بردى _

۱۳. اعلام الورى مطبوعہ بيروت ۱۳۹۹ ص ۴۱۶، اعيان الشيعہ جلد ۲/۵۷_

۱۴. الحياة السياسيہ لامام الرضا مصنفہ استاد جعفر مرتضى /۶۹ و ۸۲_۸۳ _ مؤلف محترم يہ نكتہ بھى تحرير فرماتے ہيں كہ جن لوگوں نے مہدويت كا دعوى كيا ان ميں سے ايك '' محمد ابن عبداللہ ' ' علوى بھى تھا_ اور امام جعفر صادقعليه‌السلام كے علاوہ لوگوں نے ان كى امامت قبول كر لى تھي_ منصور نے لوگوں كے افكار كو اپنى جانب متوجہ كرنے كے لئے اپنے بيٹے كو مہدى كا لقب ديا اور مجمع ميں كہا كہ جو محمد ابن عبداللہ علوى دعوى كرتا ہے وہ جھوٹ ہے اور مہدى موعود ميرا بيٹا ہے_

۱۵. فہرست شيخ طوسى /۱۷۶_

۱۶. مسند احمد حنبل جلد ۱/۸۴، ۷۹۹، ۴۴۸ و جلد ۲/۴۱۱ و جلد ۳/۲۱،۲۷،۳۷،۵۲ و جلد ۵/۷_ صحيح بخارى جلد ۳


كتاب بدء الخق باب منزول عيسى ابن مريم /۸۷_

۱۷. اعلام الورى ص ۴۱۶، اثبات الہداة ج ۷/۵۳، اعيان الشيعہ ج ۲/۵۸_

۱۸. الغدير جلد ۲/۲۰۳ _ ۲۰۲_

۱۹. اشهد ربّى ان قولك حجة ---على الخلق طرّاً من مطيع و مذنب:

بانّ وليّ الامر و القائم الذى ---تطلّع نفسى نحو بتطرّب:

له غيبة لابدَّ من ان يضيبها ---فصلى عليه الله من متغيب:

فيمكث حينا ثمّ يظهر حينه ---فيملا عدلاً كلّ شرق و مغرب:

ارشاد مفيد /۲۸۴/ اعلام الورى /۲۸۰/ الغدير جلد ۲/۲۴۷ كمال الدين جلد ۱/۳۵ مطبوعہ جامعہ مدرسين يہ ياد دلانا ضرورى ہے كہ سيد حميرى امام جعفر صادقعليه‌السلام كى خدمت ميں پہونچنے سے پہلے اس بات كے معتقد تھے كہ موعود محمد ابن حنيفہ ہيں _ كمال الدين جلد ۱/۳۲ ،ارشاد مفيد /۲۸۴_۲۹۳

۲۰.فلو لا الذى ارجوه فى اليوم اوغد: تقطع نفسى اثرهم حسرات:

خروج امام: لا محالة خارج يقوم على اسم الله بالبركات

يميز فيناكل حق: و باطل: و يجزى على النعماء و النقمات

الغدير جلد ۲/۳۶۰ الفصول المہمّہ /۲۴۹ _كمال الدين جلد ۲ باب ۳۵ جلد ۶/۳۷۲

۲۱. ''لو لم يبق من الدنيا الا يومٌ لبعث الله عزوجل رجلا منا يملاها عدلاً كما ملئت جوراً'' مسند احمد ابن حنبل جلد ۱/۹۹، سنن ابى داؤد جلد ۴/۱۰۷ _كتاب المہدىعليه‌السلام حديث ۸۳،۲۲ تھوڑے اختلاف كے ساتھ _

۲۲.سعيد بن المسيب يقول سمعت امّ سلمةَ تقول سمعت النّبى صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم يذكر المهدى فقال نعم هو حق و هو من بنى فاطمة _ مستدرك حاكم جلد ۴/۵۵۷ كتاب الفتن و الملاحم ، عقدالدرر /۲۲ و فرائد السمطين ج ۲/۳۲۶ حاشيہ _

۲۳. الخلف صالح من ولد ابى محمد الحسن بن على و ہو صاحب الزمان و ہو المہدىعليه‌السلام _منتخب الاثر فصل دوم باب ۲۰ / ۲۲۹ ج ۶ منقول از ينابيع المودة /۴۹۱، غاية المراد كشف الغمہ ج ۳/۲۶۵_

۲۴. ''القائم من ولدى اسمه اسمى كنيته كنيتى و شمائله شمائلى و سنته سنتى يقيم الناس على ملتى و شريعتى و يدعوهم الى كتاب ربى من اطاعه فقد اطاعنى و من عصاه فقد


عصانى و من انكره فى غيبته فقدانكرني ...'' منتخب الاثر /۱۸۳ بہ نقل از كمال الدين صدوق ، اعيان الشيعہ ج ۲/۵۴ دہ جلدى چاپ بيروت _

۲۵.عن الاصبغ بن نباته قال اتيت اميرالمومنين عليه‌السلام فوجدته متفكراً ينكت فى الارض فقلت يا اميرالمؤمنين مالى اراك متفكراً تنكت فى الارض ارغبة منك فيها؟ فقال لا والله ما رغبت فيها و لا فى الدنيا يوماً قطّ و لكنى فكرت فى مولود يكون من ظهري، الحادى عشر من ولدى ، هو المهديّ الذى يملا الارض عدلا و قسطا كما ملئت جوراً و ظلماً ، تكون له غيبه و حيرة يضل فيها اقوامٌ و يهتدى فيها آخرون '' كافى ج ۱ كتاب الحجة باب الغيبہ، ح ۷ص ۳۳، كمال الدين ، ج ۱ باب ۲۷ حديث ۱ ص ۲۸۵، دلائل الامامہ طبرى ص ۲۸۹_

۲۶.''للقائم غيبتان احداهما قصيرة و الاخرى طويلة ، الغيبة الاولى لا يعلم بمكانه فيها الا خاصة شيعته و الاخرى لا يعلم بمكانه فيها الا خاصة مواليه '' _ كافى جلد ۱/ باب الغيبہ، حديث ۱۹ ص ۳۴۰_

۲۷. شہيد مطہرى اپنى كتاب '' قيام و انقلاب مہدي'' ميں فرماتے ہيں كہ انتظار فرج كا نظريہ اسلام كى ايك كلى اصل كے نظريے سے پيدا ہوتا ہے اور وہ نظريہ اللہ كى رحمت سے مايوسى كے حرام ہونے كا نظريہ ہے_ قيام انقلاب مہدىعليه‌السلام انتشارت صدرا ۱۳۶۱ ھ ش ص ۷_ استاد كى مراد شايد وہ آيت ہو جس ميں ارشاد ہوتا ہے: ''لا تيا سوا من روح اللہ انہ لا ييا س من روح اللہ الا القوم الكافرون ''( يوسف /۸۷)_

۲۸.''يا على الشيعة تربّى بالامانى منذ ما تى سنة ''، غيبت نعمانى باب ۱۶ حديث /۱۴ ص ۲۹۵_

۲۹. '' افضل العبادة انتظار الفرج'' منتخب الاثر فصل ۱۰ باب ۲ ص ۴۹۹ ح ۱۶ منقول از ينابيع المودہ و غاية المرام و كمال الدين صدوق باب ۲۵ حديث ۶_

۳۰. ''انتظروا الفرج و لا تيا سوا من روح الله فانّ احبّ الاعمال الى الله عزّو جلّ انتظار الفرج'' _ بحار الانوار جلد۵۲/۱۲۳، منتخب الاثر /۴۹۸_

۳۱. ''انتظار الفرج من اعظم الفرج'' بحار الانوار ج ۵۲ / ۱۲۲، كمال الدين باب ۳۱ ح ۲ ص ۳۲۰_

۳۲.''طوبى لشيعة قائمنا المنتظرين لظهوره فى غيبته و المطيعين له فى ظهوره اولئك اولى اء الله الذين لا خوفٌ عليهم و لا هم يحزنون'' كمال الدين باب ۳۳ حديث / ۵۴_


۳۳. اعلام الورى /۴۰۹_ ۴۰۸_

۳۴. ''عن الفضيل قال سئلت ابا جعفر عليه‌السلام هل لهذا لامر وقت ؟ فقال عليه‌السلام كذب الوقاتون كذب الوقاتون، كذب الوقاتون '' غيبت شيخ /۲۶۲_ ۲۶۱_ بحار الانوار ج ۵۲/۱۳۰ ، منتخب الاثر فصل ۶، باب ۸ ح ۱ ص ۴۶۳_

۳۵. ''و امّا ظهور الفرج فانّه ، الى الله تعالى ذكره و كذب الوقاتون'' كمال الدين ۲/ص۱۶۰ حديث /۴_

۳۶.''من وقّت لك من الناس شيئاً فلاتهاين ان تكذبه فلسنا نوقت لاحد :'' _ بحار الانوار ج ۵۲/۱۰۴ و /۱۱۷_

۳۷. اس روايت كے مضمون سے مزيد آگاہى حاصل كرنے كے لئے بحار الانوار جلد ۵۲/باب ۲۵ احاديث /۲۴_ ۲۶ ، كمال الدين جلد ۲ باب ۴۷/۵۲۵ _ منتخب الاثر جلد ۱ فصل ۶/ باب ۲/ احاديث ۸،۹، ۱۰ ، ۱۵ ، اعيان الشيعہ جلد ۲/۷۸_۷۷_

۳۸. اس سے مراد زمانہ سابق كا شام ہے جو سيريا ، فلسطين اور اردن پر مشتمل تھا_

۳۹. يہ پانچ شہر: دمشق ، حمص ، فلسطين ، اردن _ قنرين ،بحار الانوار جلد ۵۲ /۲۰۶و اثباة الہداة ج ۷/۳۹۸ و ۴۱۷ و اعيان الشيعہ ج ۲/۷۳''_

۴۰. ملاحظہ ہو _ اثبات الھداة جلد ۷/۴۱۷ ، غيبت نعمانى باب علامات ظہور /۲۸۳ و ۲۴۷ غيبت شيخ ص ۲۸۰_ ۲۶۵_ بحار الانوار جلد ۵۲ باب ۲۵ /۲۷۹ _ ۱۸۱ منتخب الاثر فصل ۶/ باب ۶/ و فصل ۷/ باب ۱۰/ اعيان الشيعہ جلد ۲/۷۴ _ ۷۳_

۴۱. كوہستان شمالى قزوين كے ايك حصہ كا نام '' ديلمان'' ہے_

۴۲. بحار الانوار جلد ۵۳/۱۶_۱۵_

۴۳. بحار الانوار ج ۵۲ /۲۰۶ و ۳۰۵، اثباة الہداة ج ۷/۳۹۹_

۴۴. امام جعفر صادقعليه‌السلام سے منقول ايك روايت كا مضمون يہ ہے كہ جب امام زمانہ ظہور فرمائيں گے تو اس وقت شيعہ نوجوان بغير كسى پہلے سے كئے وعدے كے اپنے كو مكہ پہنچاديں گے اور امام عصر عج كے حضور ميں حاضر ہو جائيں گے_ بحار الانوار جلد ۵۲/۳۷۰ و غيبت نعمانى /۳۱۶_

۴۵. ''رسول اكرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مالباس القائم الا الغليظ ما طعامه الا الجشب'' غيبت نعمانى /۲۸۵،


منتخب الاثر فصل ۲ باب ۴۲ ص ۳۰۷ ح ۱ _

۴۶. رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنى بيٹى حضرت فاطمہعليه‌السلام زہراء سے فرمايا تھا: ''و منّا و الله الذى لا اله الا هو مهدى هذه الامة الذى يصلّى خلفه عيسى بن مريم '' اثباة الھداة ج ۷/۱۴ يعنى خدا كى قسم جس كے سوا كوئي معبود نہيں ہے اس امت كا مہدى ہم ميں سے ہے كہ جس كے پيچھے عيسى ابن مريم نماز پڑھيں گے_

۴۷. سورہ قصص آيہ ۴_

۴۸. ان روايات كے مضمون سے واقفيت كے لئے كہ جس ميں سے كچھ مضمون كو ہم نے يہاں بيان كيا ہے ملاحظہ ہو_

بحار الانوار جلد ۵۲ / باب ۲۶ احاديث ۳، ۱۰ ، ۷۳،۷۸،۸۳و باب /۲۷ احاديث ۲۵، ۲۹،۳۱،۷۲،۸۳، ۹۱، ۱۱۲، ۱۱۹، ۱۲۹، ۱۶۴، ۲۱۳ و جلد ۵۳ باب ۲۸ ، كشف الغمہ ج ۳/ ص ۲۵۵ ، ۲۶۲، ۲۶۹، اعلام الورى ص ۴۳۰_ ۴۲۶ ، ارشاد مفيد /۳۶۳، منتخب الاثر فصل ۲ باب ۴۳ و فصل ۶ باب ۱ ، ۱۱ و فصل ۱۷ باب ۱، ۳، ۴، ۵ ، ۷، ۸، ۱۱، ۱۲ و فصل ۸ باب ۲ ،اعيان الشيعہ ج ۲/ ۸۴_ ۸۱_


فہرست

عرض ناشر: ۴

پہلا سبق: ۵

حضرت على عليه‌السلام كى زندگى كے حالات (پہلا حصہ) ۵

ائمہ طاہرين اور ان كى تعداد ۶

ائمہ معصومين كے نام: ۶

ائمہ معصومين كى سيرت ۷

اختلاف كى اصل وجہ ۹

على ابن ابيطالب _ ۱۱

ولادت سے بعثت پيغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تك ۱۲

بعثت سے پيغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ہجرت تك ۱۳

على عليه‌السلام ، بستر رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ۱۴

ہجرت سے رحلت پيغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تك ۱۵

الف_ على عليه‌السلام ، پيغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے امين ۱۵

ب_ على عليه‌السلام اور راہ خدا ميں جہاد ۱۶

ج_ علي عليه‌السلام اور پيغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جانشيني ۱۸

سوالات ۲۰

حوالہ جات ۲۱

دوسراسبق: ۲۳

حضرت على عليه‌السلام كى سوانح عمري (دوسرا حصّہ ) ۲۳


پيغمبراكرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت سے خلافت تك ۲۴

خلافت سے شہادت تك ۲۵

حضرت على _منصب فرماں روائي پر ۲۷

الف_ حقوق كا مرحلہ ۲۷

ب_ مالى مرحلہ ۲۷

ج _ انتظامى مرحلہ ۲۸

حضرت على عليه‌السلام كے اقدامات پرمخالفين كا رد عمل ۲۹

الف_ ناكثين (عہد توڑدينے والے) ۲۹

ب_ قاسطين ۳۱

معاويہ اور حضرت عثمان كا كرتا ۳۲

آغاز جنگ ۳۳

ج_ مارقين ۳۵

حضرت على عليه‌السلام كى شہادت ۳۶

سوالات ۳۷

حوالہ جات ۳۸

تيسراسبق : ۴۰

حضرت فاطمہ زہراء سلام الله علیها كى زندگي ۴۰

ولادت اور بچپن كا زمانہ ۴۱

والد كے ساتھ ۴۱

حضرت فاطمہ عليه‌السلام كى شادي ۴۴


فاطمہ عليه‌السلام على عليه‌السلام كے گھر ميں ۴۵

الف_ گھر كا انتظام ۴۵

ب_ شوہر كى خدمت ۴۶

ج _ تربيت اولاد ۴۷

جناب فاطمہ كى معنوى شخصيت ۴۸

حضرت فاطمہ سے پيغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى مہر و محبت ۴۹

ايمان و عبادت فاطمہ ۵۰

فاطمہ عليه‌السلام باپ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بعد ۵۱

''سقيفہ بنى ساعدہ'' ميں مسلمانوں كے ايگ گروہ كے اجتماع كى خبر ۵۱

حضرت فاطمہ عليه‌السلام زہراء كے مبارزات و مجاہدات ۵۱

پہلا مرحلہ : ۵۲

دوسرا مرحلہ : ۵۲

تيسرا مرحلہ: ۵۳

۱_ بحث و استدلال : ۵۴

۲_ مسجد بنوي صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميں تقرير: ۵۴

۳_ ترك كلام: ۵۵

۴_ رات ميں تدفين: ۵۵

شہادت ۵۵

سوالات ۵۷

حوالہ جات ۵۸


چوتھاسبق : ۶۱

امام حسن مجتبى عليه‌السلام كي سوانح عمري ۶۱

بچپن كا زمانہ ۶۲

والد گرامى كے ساتھ ۶۳

اخلاقى خصوصيات ۶۵

پرہيزگاري: ۶۵

سخاوت: ۶۵

بردباري; ۶۶

خلافت ۶۷

معاويہ كى كارشكني ۶۸

معاہدہ صلح ۷۲

صلح نامہ كے بعض شرائط ملاحظہ ہوں : ۷۲

معاويہ كى پيمان شكني ۷۳

مدينہ كى طرف واپسي ۷۴

شہادت ۷۵

سوالات ۷۶

حوالہ جات ۷۷

پانچواں سبق : ۸۰

امام حسين عليه‌السلام كى سوانح عمري (پہلا حصہ ) ۸۰

ولادت ۸۱


پيغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے دامن ميں ۸۱

والد ماجد كے ساتھ ۸۲

بھائي كے ساتھ ۸۲

اخلاقى فضائل و مناقب ۸۳

قيام حسيني ۸۵

كوفہ سے دو خط ۸۷

حضرت مسلم ابن عقيل كى شہادت ۸۸

ظلم كے خلاف عظيم ترين قيام ۸۹

شہادت ۹۰

سوالات ۹۲

حوالہ جات ۹۳

چھٹاسبق: ۹۵

امام حسين عليه‌السلام كى سوانح عمري (دوسرا حصّہ ) ۹۵

زندہ جاويد روداد ۹۶

امام حسين عليه‌السلام نے معاويہ كے زمانہ ميں قيام كيوں نہيں كيا؟ ۹۸

معاويہ اور يزيد كى سياست ميں فرق ۹۹

انقلاب كى ماہيت ۱۰۲

يزيد كيلئے بيعت ليتے وقت امام عليه‌السلام كى تقرير ۱۰۳

معاويہ كے نام امام حسين عليه‌السلام كا خط ۱۰۳

منى ميں امام حسين عليه‌السلام كى تقرير ۱۰۴


عراق كى طرف روانگى سے پہلے امام حسين عليه‌السلام كى تقرير ۱۰۴

انقلاب كے اثرات و نتائج ۱۰۵

الف _ امويوں كے جھوٹے دينى نفوذ كو ختم كرنا ۱۰۶

ب _ احساس گناہ ۱۰۸

ج _ روح جہاد كى بيداري ۱۰۹

سوالات ۱۱۱

حوالہ جات ۱۱۲

ساتواں سبق : ۱۱۴

امام زين العابدين عليه‌السلام كي سوانح عمري ۱۱۴

ولادت ۱۱۵

اخلاقى خصوصيتيں ۱۱۵

حضرت سجاد عليه‌السلام كى عظمت ۱۱۷

امام سجاد عليه‌السلام اور پيغام عاشورائ ۱۱۸

كوفہ ميں ۱۲۰

شام ميں ۱۲۱

روح مبارزہ و جہاد كى بيداري ۱۲۳

مدينہ واپسى كے بعد ۱۲۴

دعائيں ۱۲۷

شہادت ۱۲۹

سوالات ۱۳۰


حوالہ جات ۱۳۱

آٹھواں سبق : ۱۳۳

امام محمد باقر عليه‌السلام كى سوانح عمري ۱۳۳

ولادت اور بچپن كا زمانہ ۱۳۴

امام عليه‌السلام كے اخلاق و اطوار ۱۳۵

علم امام محمد باقر عليه‌السلام ۱۳۷

امام _اور اموى خلفائ ۱۳۸

خلافت كے بالمقابل امام عليه‌السلام كا موقف ۱۴۱

اسلامى ثقافت كا احيائ ۱۴۳

اسلامى نظام كى تشكيل ۱۴۴

امام محمد باقر عليه‌السلام كے مكتب فكر كے پروردہ افراد ۱۴۶

۱_ابان ابن تَغلب: ۱۴۶

۲_زرارہ ابن اَعيُن: ۱۴۶

۳_كُمَيت اسدى : ۱۴۶

۴_محمد بن مسلم فقيہ اہل بيت: ۱۴۷

شہادت كے بعد مبارزہ ۱۴۷

امام _كى شہادت ۱۴۹

سوالات: ۱۵۰

حوالہ جات ۱۵۱

نواں سبق: ۱۵۳


امام جعفر صادق عليه‌السلام كي سوانح عمري ۱۵۳

ولادت ۱۵۴

امام _كى پرورش كا ماحول ۱۵۴

امام _كا اخلاق اور انكى سيرت ۱۵۵

الف_ حلم و بردباري ۱۵۶

ب_ عفو اور درگذر ۱۵۶

ج_ حاجت مندوں كى مدد ۱۵۶

د_ امام _اور زراعت ۱۵۷

امام _كى شخصيت و عظمت ۱۵۷

امام كا علمى مقام ۱۵۸

امام جعفر صادق عليه‌السلام كے ہم عصر زمامداران حكومت ۱۵۸

بنى اميہ كے جرائم ۱۵۹

بنى اميہ كى حكومت ختم ہونے كے وجوہات ۱۶۰

۱_ ائمہ عليه‌السلام كا مسلسل جہاد اور انكى پھيلائي ہوئي روشني: ۱۶۰

۲_ اقتصادى دباؤ: ۱۶۱

۳_ غير عرب كو نظر انداز كرنا: ۱۶۱

امام _اور تحريكوں كا رابطہ ۱۶۳

بنى عباس كا زمانہ ۱۶۴

امام جعفر صادق عليه‌السلام كا اصلاحى منصوبہ ۱۶۵

الف _ مسئلہ امامت كا بيان اور اس كى تبليغ ۱۶۷


ب_ اسلامى ثقافت كى نشر و اشاعت ۱۶۸

شہادت امام جعفر صادق عليه‌السلام ۱۷۱

جعفرى يونيورسٹى كے تربيت يافتہ افراد ۱۷۱

حمران بن اَعْيُن ۱۷۲

مفضل ابن عمر ۱۷۳

جابربن يزيد جعفي ۱۷۳

سوالات ۱۷۵

حوالہ جات ۱۷۶

دسواں سبق : ۱۷۹

امام موسى بن جعفر عليه‌السلام كي سوانح عمري ۱۷۹

ولادت ۱۸۰

باپ كى خدمت ميں ۱۸۱

اخلاقى فضائل ۱۸۱

امامت حضرت موسى ابن جعفر عليه‌السلام ۱۸۲

امامت كا زمانہ ۱۸۲

الف_امام موسى كاظم _كى علمى تحريك كى تحقيق ۱۸۳

ب_ امامت كا تحفظ اور عمومى انقلاب كيلئے ميدان كى توسيع ۱۸۶

ايك استثنى ۱۸۷

امام كے اس موقف كو واضح كرنے والا ايك نمونہ ۱۸۸

ج_ خلفاء كے عيش و نشاط كے خلاف جنگ ۱۹۰


شہادت ۱۹۱

آپ كى عملى اور اخلاقى سيرت كے نمونے ۱۹۲

الف: عبادت ۱۹۲

ب_ درگذر اور بردباري ۱۹۳

ج_ كام اور كوشش ۱۹۴

د_ سخاوت و كرم ۱۹۵

ھ_ تواضع اور فروتني ۱۹۵

سوالات ۱۹۷

حوالہ جات ۱۹۸

گيارہواں سبق: ۲۰۲

امام على ابن موسى الرضا عليه‌السلام كى سوانح عمري ۲۰۲

ولادت ۲۰۳

امامت پر نص ۲۰۳

اخلاق و سيرت ۲۰۴

امام كا علمى مقام ۲۰۶

امام عليه‌السلام كى شخصيت ۲۰۷

امامت كا زمانہ ۲۰۷

الف_ آغاز امامت سے خراسان بھيجے جانے تك ۲۰۸

علويوں كا قيام ۲۱۰

ب_ سفر خراسان كى پيشكش كے آغاز سے شہادت تك ۲۱۲


ولى عہدى كا واقعہ ۲۱۳

الف _خلافت كى سياست كے اعتبار سے ۲۱۳

ب:امام _كے نكتہ نظر سے ۲۱۵

امام عليه‌السلام كى ناراضگى كے دلائل ۲۱۶

ولى عہدى قبول كرنے كے دلائل : ۲۱۷

امام كا منفى رويہ ۲۱۸

شہادت امام عليه‌السلام ۲۲۱

سوالات ۲۲۳

حوالہ جات ۲۲۴

بارہواں سبق : ۲۲۷

امام محمد تقى عليه‌السلام كى سوانح عمري ۲۲۷

ولادت ۲۲۸

تعيين امامت ۲۲۹

والد كے ساتھ ۲۳۰

آپ عليه‌السلام كى امامت ۲۳۱

مكارم اخلاق و فضائل ۲۳۱

الف _ جود وسخاوت ۲۳۲

ب_ دوسروں كى مشكل كو حل كرنا ۲۳۲

امام جواد عليه‌السلام كى شخصيت ۲۳۳

خلافت كے مقابلہ ميں امام عليه‌السلام كا موقف ۲۳۴


شادى كى سازش ۲۳۵

علمى اور ثقافتى كوششيں ۲۳۷

نماياں افراد كى تربيت ۲۳۹

معتصم كے دور حكومت ميں ۲۴۰

سوالات ۲۴۳

حوالہ جات ۲۴۴

تيرہواں سبق: ۲۴۷

امام على النقى عليه‌السلام كي سوانح عمري ۲۴۷

ولادت ۲۴۸

امام عليه‌السلام كى پرورش كا ما حول ۲۴۸

امامت پر نص ۲۴۹

امام عليه‌السلام كا اخلاق اور ان كى سيرت ۲۵۰

عبادت و بندگي ۲۵۱

جودو بخشش ۲۵۱

عقدہ كشائي ۲۵۲

امام عليه‌السلام كى معنوى ہيبت و عظمت ۲۵۳

امام _كا علمى مقام ۲۵۴

امامت كا زمانہ ۲۵۴

دوران امامت كى خصوصيتيں ۲۵۵

الف :دربار خلافت كى ہيبت و عظمت كا زوال اور موالى كا تسلط ۲۵۵


ب: علويوں كى تحريك كى وسعت ۲۵۶

امام عليه‌السلام كے ساتھ متوكل كا سلوك ۲۵۷

سامرا ميں امام _كى جلا وطني ۲۵۹

امام عليه‌السلام كى فعاليت اور آپ عليه‌السلام كا موقف ۲۶۰

الف :مدينہ ميں آپ كى فعاليت اور موقف ۲۶۰

ب: سامرا ميں امام عليه‌السلام كى فعاليت اور موقف ۲۶۲

۱_پہلا موقف ۲۶۲

۲_علمى كاركردگي ۲۶۴

۳_شاگردوں كى تربيت ۲۶۴

۴_ زيارت جامعہ ۲۶۵

۲_ دوسرا موقف ۲۶۵

شہادت امام عليه‌السلام ۲۶۷

سوالات ۲۶۸

حوالہ جات ۲۶۹

چودہواں سبق: ۲۷۳

امام حسن عسكرى عليه‌السلام كي سوانح عمري ۲۷۳

ولادت ۲۷۴

امامت كى تعيين ۲۷۴

والد بزرگوار كے ساتھ ۲۷۵

اخلاقى خصوصيات و عظمت ۲۷۶


امام حسن عسكرى عليه‌السلام كا زھد ۲۷۷

عبادت اور بندگي ۲۷۷

جودو كرم ۲۷۸

زمانہ امامت ۲۷۸

امام عليه‌السلام كے بارے ميں خلفاء كى سياست ۲۷۹

شورشيں اور انقلابات ۲۸۱

امام حسن عسكرى عليه‌السلام كى كوششيں اور موقف ۲۸۳

الف _ سياسى واقعات كے سلسلہ ميں امام _كا موقف ۲۸۳

ب:علمى اوروثقافتى تحريك ميں امام عليه‌السلام كا موقف ۲۸۴

ج_عوامى مركز كى نگرانى ،اس كى پشت و پناہى اور تياري ۲۸۵

د:آپ كے فرزند حضرت مھدى عليه‌السلام كى غيبت كے بارے ميں آپ كا موقف: ۲۸۶

شہادت امام حسن عسكري عليه‌السلام : ۲۸۸

سوالات: ۲۹۰

حوالہ جات ۲۹۱

پندرہواں سبق: ۲۹۴

امام زمانہ حضرت حجت (عج) كي زندگى كے حالات (پہلا حصہ) ۲۹۴

ولادت ۲۹۵

پوشيدہ ولادت ۲۹۸

خواص كيلئے اعلان ۲۹۸

حضرت مھدى _كے شمائل اور خصوصيات ۳۰۰


امام حسن عسكرى عليه‌السلام كى شہادت ۳۰۱

مسئلہ غيبت: ۳۰۲

غيبت صغرى : ۳۰۳

غيبت كبري: ۳۰۴

غيبت صغرى ميں امام _كے معجزات: ۳۰۴

امام عصر عليه‌السلام كے نائبين ۳۰۵

الف _ نائبين خاص ۳۰۶

۱_ عثمان ابن سعيد ۳۰۶

۲_ محمد ابن عثمان ۳۰۷

۳_ حسين ابن روح ۳۰۷

۴_ على ابن محمد سمري ۳۰۸

ب_ عام نائبين ۳۰۹

ديدار مہدى _ ۳۱۰

سوالات: ۳۱۱

حوالہ جات ۳۱۲

سولہواں سبق : ۳۱۶

مہدى عليه‌السلام موعود كا عقيدہ -دوسرا حصہ; ۳۱۶

الف_ تمام اديان كى نظر ميں ۳۱۷

ب_ اسلامى مآخذ و مصادرميں ۳۱۸

احاديث كے نمونے ۳۲۱


انتظار فرج ۳۲۲

وقت ظہور ۳۲۴

ظہور سے پہلے كے حالات ۳۲۵

۱_ سارى دنيا ميں ظلم ، گناہ اور بے دينى كا پھيل جانا: ۳۲۵

۲_ خروج سفياني ۳۲۵

۳_ سيد حسنى كا خروج ۳۲۶

۴_ ندائے آسماني ۳۲۶

ظہور كے بعد كى حالت ۳۲۷

سوالات: ۳۲۹

حوالہ جات ۳۳۰