تاريخ اسلام ميں عايشه کاکردار-دوران پيغمبر تا خلفا ثلاثه- جلد 1
گروہ بندی متن تاریخ
مصنف سيد مرتضى عسكرى
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


تاريخ اسلام ميں عايشه کاکردار جلد اول

دوران پيغمبر تا خلفا ثلاثه

مولف : سيد مرتضى عسكرى

مترجم : علامہ سيد على اختر رضوى گوپالپوري طاب ثراہ


مولف كتاب پر ايك اجمالى نظر.

مولف كتاب علامہ سيد مرتضى عسكرى جمادى الثانى ۱۳۳۳ھ (مطابق ۱۹۱۴ ئ) ميں شہر سامرا عراق ميں پيدا ہوئے ، اپ كے والد سيد محمد اسماعيل جو عالم دين اور اية اللہ مرزا محمد شريف تہرانى عسكرى كے داماد تھے ايران كے شہر ساوہ سے ہجرت كر كے سامرا ميں مقيم ہو گئے تھے _

بچپن ہى ميں علامہ سيدمرتضى عسكرى كے سر سے باپ كا سايہ اٹھ گيا تھا _ اپ نے دس سال كى عمر ميں دروس حوزہى كا اغاز كيا ، ۱۳۵۰ھ ميں قم تشريف لائے اور يہاں درس كا سلسلہ شروع كيا اور اپنے كچھ ساتھيوں سے صلاح و مشورہ كے بعد تفسير و علوم قران احاديث غير فقہى اور كلامى كتابوں كے تدريس كى تحريك چلائي مگر اس ميں ناكامى كى وجہ سے دل برداشتہ ہو كر ۱۳۵۳ھ ميں دوبارہ سامرا واپس چلے گئے _

جب اية اللہ بروجردى كى مرجعيت كا اغاز ہوا تو اپنى ديرينہ خواہش كو عملى جامہ پہنانے كے لئے دوبارہ قم تشريف لائے _ مگر اس وقت كے سياسى حالات نے پھر عراق جانے پر مجبور كيا مگر اس بار اپ نے شہر بغدادكا انتخاب كيا اور چونكہ اية اللہ حكيم كى پورى پشت پناہى حاصل تھى لہذا عراق كے مختلف شہروں ميں شيعوں كے لئے ہاسپٹل ، لون دينے كے ادارے اور كتب خانے بنوائے ، بغداد ميں بہت بڑا ہاسپٹل اور اصول دين كالج قائم كئے _

علمى اور رفاہى فعالتيوں كے ساتھ ساتھ اپ كى سياسى فعاليت بھى بہت زيادہ تھى چنانچہ حكومت وقت كا مقابلہ كرنے كى خاطر علماء كى كميٹى بنام '' جماعة علماء بغداد الكاظميہ '' كى راہنمائي كرتے تھے _

اسى وجہ سے ۱۹۶۸ ھ ميں بعثى حكومت نے گرفتار كرنا چاہا مگر اپ مخفى طور سے بيروت چلے گئے ، اپ كے اساتيذ ميں اية اللہ اقا ميرزا حبيب اللہ اشتہاردى اور امام حمينى قابل ذكر ہيں _ اپ كے علمى فيوض كا سلسلہ اب بھى جارى ہے خدا اپ كو طول عمر عنايت فرمائے_امين


تاليفات

۱_ احاديث ام المومنين عائشه ۴ج

۲_ خمسون ومئة صحابى مختلق ۳ج

۳_ عبد اللہ بن سبار اساطير اخرى ۲ج

۴_ معالم المستدرستين ۳ج

۵_ القران الكريم و روايات المدرستين ۳ج

۶_ عقائد الاسلام من القران الكريم ۳ج

۷_ قيام الائمة باحياء الدين ۱۴ج

۸_ دور الائمہ فى احياء السنة

۹_ مقدمہ '' مرا ةالعقول فى شرح اخبار ال الرسول ۲ج

۱۰_ مع ابى الفتوح التليدى فى كتابہ '' الانوار الباھرة ''

۱۱_ مع الدكتور الوردى فى كتابہ '' وعاظ السلاطين ''

۱۲_ اراء و اصداء حول عبد اللہ بن سبا و روايات يسف بن عمر

۱۳_ طب الرضا و طب الصادق

۱۴_ مصطلحات اسلاميہ

۱۵_ على مائدة الكتاب و السنة _ يہ كتاب درج ذيل ۱۹ رسالوں كا مجموعہ ہے _ السجدة على التربتہ ، البكاء على الميت ( اس كا اردو ترجمہ مولانا سيد على اختر صاحب طاب ثراہ نے كيا تھا جو شائع ہو چكا ہے )زيارة قبور الانبياء و الائمه و الصلحاء ، التوسل با لنبى و التبرك باثار ه، الصلاة على محمد و اله ، يكون لهذه الامة اثنا عشر قيماً، عدالة الصحابة، عصمة الانبياء ،البناء على قبور الانبياء و الاولياء ، الشفاعة ، البداء ، الجبر و التفويض و القضا ء و القدر ، صلاة ابى بكر ، المتعة او الزواج المو قت، حديث الكساء من طرق الفريقين ، تعليم الصلاة ، المصحف فى روايات الفريقين ، صفات الله جل ّجلاله فى روايات الفريقين ، اية التطهير فى مصادر الفريقين ، ان ميں كے اكثر رسالوں كے مو لف نے فارسى كا بھى ملبوس ديا ہے _ فارسى ميں اديان اسمانى و مسئلہ تحريف اور نقش ائمہ در احياء دين تحرير كى ہيں _


كتاب حاضر

زير نظر كتاب '' احاديث ام المومنين عائشه '' كا ترجمہ ہے _ يہ كتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے شروع كى تين جلديں حضرت عائشه كے حيات و كارنامے سے متعلق ہيں اور چوتھى جلد ان سے مروى احاديث سے متعلق ہے جس كا اردو ترجمہ مولانا سيد محمد باقر صاحب مرحوم سابق مدير اصلاح كھجوا بہار نے كيا تھا اور وہ اسى ادارے سے شائع ہوئي تھى _

علامى مرتضى عسكرى نے اس كتاب ميں اس بات كى وضاحت كى ہے كہ بہت سارى احاديث پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميں تناقض ہے اور ان ميں كى بعض حديثيں قرانى مفاہيم سے مطابقت نہيں ركھتى ہيں بلكہ ايسى بھى حديثيں ہيں جو عقل و منطق سے بہت دور ہيں كہ انہى سے دشمنان اسلام سوء استفادہ كرتے ہيں _

مو لف نے اس بات كى نشاندہى كى ہے كہ دور يزيد تك كى صحيح تاريخ اسلام كو سمجھنے كے لئے ضرورى ہے كہ حضرت عائشه كى روايتوں اور حديثوں كى پورى چھان بين كى جائے كيونكہ صدر اسلام ميں رونما ہونے والے حوادث ميں انہوں نے كليدى رول ادا كيا ہے ، اسى وجہ سے ان كى حديثوں پر تحقيق كرنے سے پہلے مو لف نے ان كے حالات تحرير كئے ہيں تاكہ اس روشنى ميں ان كى حديثوں پر ايك نظر كى جائے كيونكہ ان كى سيرت عام ازواج سے مختلف نہيں ہے _

نيز مو لف نے بڑے ٹھوس دلائل سے ثابت كيا ہے كہ حضرت عثمان كے قاتل حضرت عائشه ہيں كيونكہ خليفہ اول و دوم كى طرح حضرت عثمان كى بھى انہوں نے تائيد كى مگر بعض وجوہات كى بناء پر ان سے روٹھ گئيں اور لوگوں كو ان كے خلاف ورغلانے لگيں يہاں تك كہ ان كے قتل كا حكم دے ديا _

حضرت عثمان كے قتل كے بعد وہ حضرت علىعليه‌السلام كى مخالفت پر اتر ائيں اور اس سلسلے ميں كسى چيز سے دريغ نہيں كيا يہاں تك كہ نوبت جنگ جمل تك پہونچى اور اپ بہ نفس نفيس اس ميں شريك ہوئيں ، حضرت علىعليه‌السلام سے ان كا بغض اس حد تك پہونچ گيا تھا كہ جب شہادت حضرت علىعليه‌السلام كى خبر ان تك پہونچى تو وہ بوليں '' اج عائشه كى ديرينہ خواہش پورى ہو گئي''

حقيقت يہ ہے كہ حضرت عائشه كى حيات اور كارناموں سے متعلق اس سے جامع كتاب ديكھنے ميں نہيں ائي ، اسى وجہ سے مولانا سيد على اختر صاحب قبلہ گوپالپورى مترجم '' الغدير '' نے اس كا ترجمہ شروع كيا مگر ابھى تيسرى جلد كے ابتدائي چند صفحوں سے اگے ان كا ترجمہ نہيں پہونچا تھا كہ اجل نے مہلت نہيں دى اور چند دنوں كى علالت كے بعد اس دارفانى سے كوچ كر گئے خدا مرحوم كو جوار معصومينعليه‌السلام ميں جگہ عنايت فرمائے _ مرحوم كے بعد اس كتاب كا ترجمے كى تكميل كى ذمہ دارى پھر ميرے سر ائي ميں نے اس ارادے سے كہ ترجمہ ناقص نہ رہ جائے ٹوٹے پھوٹے الفاظ ميں كتاب كو اردو كاملبوس دے ديا ہے خدا اس كو قبول فرمائے _

والسلام

سيد كرار حسين رضوى گوپالپوري


پيشگفتار

درد اور درمان مرض

مسلمانوں كى لا چارى ، اپس كا تفرقہ و اختلاف اور اسلامى معاشرے كى الٹے پاو ں واپسى كا سب سے بڑا سبب تعصب شديد اور اندھى تقليد ہے اصطلاحى حيثيت سے جن لوگوں كو صلحائے قوم كہا جاتا ہے ان كا حد سے زيادہ احترام كيا جاتا ہے ان كى اخلاقى زندگى اور نفسياتى حالت كو تاريخ كے اوراق سے تلاش كرنے كى جرا ت نہيں جنكا مظاہرہ تمام جہات عصر ہى ميں ہوا _

تاريخ اسلام كى چودہ صدياں بيت گيئں ليكن مختلف سياسى عوامل كى وجہ سے حساس واقعات اور اہم حادثے جو اسلام كے اس تاريخى رفتار كے اصل محرك ہيں ; تمام مسلمانوں كے كانوں تك نہيں پہونچے جبكہ انكا ربط انھيں سے ہے_

اج كسى سے پوشيدہ نہيں كہ ہر معاشرے ميں اور ہر قوم كے درميان دين كے راستے سے غرضمند انہ كاروائي و نفوذ ;شخصى مفادات كى پيش رفت بہت اسان اور قطعى نتيجے سے قريب ہے _ اسى بنياد پر مطالب اور مفاہيم ميں تحريف كى جاتى رہى جھوٹى داستانيں گڑھ كے نشر كى گيئں _ حقيقت سے عارى مسائل بنا سنوار كر پھيلا يا جاتا رہا حقائق فہمى ميں الٹى چكى چلائي گئي _ خلاف واقع، واقعات گڑھے گئے_ ايسے ہى اور بہت سے طريقے تھے جو شخصى مفادا ت كى ترقى اور سياسى اھداف كى پيش رفت كے لئے ہر عہد اور ہر مملكت ميں برتے گئے_

ان وسيلوں سے مسلمانوں كے درميان جہاں تك ممكن ہوا اختلاف و تفرقہ كے ستو ن زيادہ سے زيادہ مستحكم كئے گئے اور ارباب اقتدار نے اپنے سياسى مقاصد كو چمكانے كيلئے پھوٹ ڈالنے كا ہر جتن كر ڈالا اور اختلاف كو مزيد جاندار بنانے ميں كوئي كسر نہيں اٹھا ركھي_

گذرتى صديوں كے ساتھ وہ مضا مين اور داستانيں; گڑھے ہوئے تحريف شدہ مسائل كو ذہنوں ميں راسخ كيا گيا ان كو نظريات و عقائد كى شكل ذہنوں ميں اتارا گيا سينہ بہ سينہ ، نسل در نسل منتقل كيا گيا _اخر كار اوضاع


و احوال ايسے سامنے ائے كہ صديوں سے قوميں جسكى شاہد اور ناظر ہيں _

ايسى تاريخ وجود ميں ائي كہ صحت مند فكر يں سر بہ گريباں ہيں اور حقائق كى يا زيابى كيلئے حيران و پريشان ہيں_

علاج

يہ انحراف حقيقت محض تاريخ اسلام ہى سے مخصوص نہيں ہر مذہب وملت ميں تاريخ كا يہى حال ہے _ ليكن يہ بات طئے شدہ ہے كہ حقائق كو يكسرختم نہيں كيا جا سكتا ، انحرافى وسائل جسقدر بھى قومى ہوں انھيں پورے طور سے مليا ميٹ نہيں كيا جا سكتاليكن اس درميان جو چيز عام حالات سے زيادہ اھميت ركھتى ہے وہ يہ ہے كہ ان حقائق كو واپس لانے كى ہمت كى جائے ہزاروں باطل ميں سے حق كو پا ليا جائے_ قطعى دليلوں كے ساتھ جسے دنيا پسند كرے اسكا اعلان كيا جاے ا ور اسى كا پر چار كيا جائے _

عظيم دانشور جناب سيد مرتضى عسكرى نے اپنى مشھور كتاب احاديث ام المومنين عائشه كى تاليف كے ذريعے عظيم كام انجام ديا ہے_ اپ نے وادى حق و حقيقت كے پياسوں كو نئي راہ سجھائي ہے_ مولف نے تاريخ وحديث كى ڈھير سارى ايسى كتابوں سے جنكى صحت پر تمام دنيا كے مسلمانوں كو اتفا ق ہے ايسى قطعى دليلوں سے جسميں ذرا بھى شك اور ترديد كى گنجائشے نہيں صدر اسلام كے تاريخى حقائق پر مشتمل موجودہ كتاب تاليف كى ہے تاكہ عام لوگ اسكو پڑھكرخود ہى فيصلہ كريں_

ميں نے زير نظر كتاب كو (نقش عائشه در تاريخ اسلام )كے نام سے اس وقت جب بغداد ميں اپنى ذمہ داريوں پر مامور تھا_ مولف كے اشارے پر لكھا ليكن كئي سال تك اسكى اشاعت ملتوى رہى جيسے اس التواہى ميں بھلائي تھى كيونكہ اس عرصے ميں موجود ہ كتاب كئي حيثيتوں سے اصل عربى سے ممتاز ہو گئي _

ميرى خواہش سے اتفاق كرتے ہوئے مندرجہ ذيل باتيں شامل كر ديں _

۱_استاد حفنى دائودنے تقريظ كے عنوان سے جو تشريح كى اس كا ترجمہ كر كے گفتار مترجم كے بعد شامل كيا گيا _

۲_تعدد ازواج رسول كى حكمت پر مولف كے قلم نے اضافہ كيا

۳_زيادہ تر اشخاص پر اختصار كے ساتھ حواشى لكھے گئے تھے انكى بھر پور تفصيل و تشريح كى گئي_ ۴_ بعض نماياں افراد كا تعارف چونكہ تاريخ اسلام كى روش ميں نماياں كردار نبھا تا ہے اس لئے ان كوشرح كے ساتھ حاشيے كے بجائے متن ميں جگہ دى گئي ہے_ ۵_ سورئہ تحريم كامل طريقے سے شامل كيا گيا ہے اسكى شان نزول اور ماريہ كا واقعہ اختصار سے بڑھايا گيا ہے _


اس كتاب كا ترجمہ بھى مولف محترم كى پسنديدہ روش كى پيروى ميں ہر قسم كے تعصب اور جذبات كى مداخلت سے عارى ہو كر انجام ديا گيا ہے اور تاريخى حقائق كو دخل وتصرف يا محبت ونفرت سے بھرى رائے ظاہر كئے بغير پيش كيا گيا ہے_ہوسكتا ہے كہ يہ نا چيز خدمت جو بڑى حد تك حقائق اور علل تاريخ اسلام كى رفتار سے اشنا كرانے والى ہے بار گاہ حضرت احديت اور ارباب علم وتحقيق كى نظر ميں شرف قبوليت حاصل كر لے_

اب جبكہ اس كتاب كى پہلى جلد عام قارئين كے فيصلے كيلئے ان كے ہاتھوں ميں پہونچ رہى ہے _اميد قوى ہے كہ صاحبان بصيرت وكمال اور ارباب نظر فرقہ بندى كى متعصبانہ اور جانبدارانہ رائے سے الگ ہو كر صحيح علمى بنياد سے سر شار اپنى استدلاتى تنقيد سے ناشر كو ضرور مطلع فرمائيں گے جو انشا ء اللہ بعض جلدوں ميں شائع كى جائيگي_

عطا محمد سردار نيا

تہران ۱۳۶۶ھ ش


حقائق

ابن مسعود كا طريقہ نصيحت

صحيح ترين قول كتاب خدا ہے اور نجات كى راہ وہى ہے جسكى نشاندھى ہمارے سردار محمد مصطفےصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے كى ہے اور بد ترين عمل بدعت اپنانا ہے اور ہر بدعت گمراہى ہے گمراہى كا نتيجہ اتش جہنم ہے_

عبداللہ بن مسعود اپنے عہد كے صحابہ اور شاگرد و تابعين كے سامنے انھيں باتوں سے اپنى گفتگو شروع كرتے اور دين كى علامتى باتيں سمجھاتے جس وقت وہ عالمانہ بات كرتے تو انكى نيت كا ہدف بہت بلند ہوتا تھا_

كيونكہ علماء دين طالبان حقيقت صرف حقائق سے سروكار ركھتے اور گمراہى اور غلط باتوں سے علحدگى اختيار كرتے ہيں--- وہ فرماتے ،حق پانے اور مقدس اسلام كا راستہ معلوم كرنے كا بنيادى طريقہ دو ہى طرح سے ممكن ہے_

كتاب خدا اور ا حا ديث رسول اس ميں پہلى چيز بلند اور مقدس ترين حقيقت ہے جس سے بہتر تو ماضى ميں حاصل كيا جا سكا نہ حال ميں ،نہ ايندہ ممكن ہے اسكا اعتبار نہ تو كچلا جا سكتا ہے نہ پامال كيا جا سكتا _اور نہ ايندہ پامال كيا جا سكے گا _

اور ايسا كيوں نہ ہو ؟جبكہ خدائے تعالے كى طرف سے نازل ہوئي ہے اسكى فصاحت و بلاغت اور تابناك حقائق كا جواب پيش كرنے سے تمام انسانوں نے عاجزى كا اقرار كيا_يہ قران حضرت محمد مصطفےصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رسالت كى نا قابل ترديد دليل بھى ہے _

دوسرى بنيادى چيز رسول خدا كى حديث ہے جنہوں نے كسى كے سامنے زانوء ے تلمذ تہ نہيں كيا انھيں كى زبان مبارك سے دنيا والوں نے اسمانى كتاب سنى اپ نے اپنى طرف سے كوئي بات نہيں كہى ،نہ كوئي حكم ديا ، اپ نے جو كچھ فرمايا ، جو بھى حكم ديا وہ وحى الہى كے سرچشمے سے شاداب تھا_

اپ كا ارشاد گرامى دلوں ميں اتر جاتا ،اور يہ صرف اسلئے تھا كہ خدائے پاك اپ كے قلب ميں سروش اسمانى القا كرتا تھا ،خدا وند عالم نے اپكى ستائشے كرتے ہوئے سيرت پر مہر كى ہے _

انك لعلى خلق عظيم ،_______اپ بلند ترين ا خلاق كے مرتبے پر فائز ہيں _

اس بنا ء پر جو كچھ ان دو معتبر سر چشموں سے حاصل كيا جائے وہ حقيقى اور واقعى ہے بہت وا ضح ہے اسميں كسى قسم كے شك وشبہ كى گنجائشے نہيں ،اور جو كچھ ان دوسرچشموں كے علاوہ كہيں سے حاصل كيا جاے وہ غير معتبر ہے اسے تنقيدى معيار


پر پركھنا ضرورى ہے ،اسے جرح و تعديل كے مرحلے سے گذار كر اچھا برا الگ كرنا چاہيے _

شايد صاحب نظر قارئين نے اس جليل القدر صحابى كے حكيمانہ ارشاد كو نقل كرنے سے ہمارا مقصد سمجھ ليا ہو گا ،وہ مقدس اسلام كے معالم دين اور تشريح قوانين كے ذريعے سننے والوں كى توجہ كو براہ راست قران اور سنت رسول كى طرف مركوز كر كے انھيں دونوں چيزوں كى پيروى پر ابھارتے تھے كتاب خدا ، جسكے الفاظ ،عبارات وترتيب اور اسكى ظاہرى صورت پر سبھى متفق ہيں كسى قسم كا اختلاف نہيں، اور سنت وسيرت جو پاك نفس اور صالح افرادكے توسط سے متواتر طريقے پر رسول خدا سے حاصل كى گئي ہو ، ايسے معتبر لوگوں سے جن كے بارے ميں رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر دروغ بافى اور غلط بيانى كا شبہ نہ كيا جا سكے _

ہم حق اور اس كے طرفداروں كو پہچانيں

دوسرا مطلب جو اس حكيمانہ و صادقانہ گفتار سے ہميں ہاتھ لگتا ہے وہ يہ ہے كہ دونوں سر چشمے اسى كيفيت كے ساتھ ہر چون و چرا سے محفوظ قرار دئے گئے ہيں _ان دونوں پر تنقيد اور جرح وتعديل كى راہيں بند كر دى گئي ہيں حالانكہ بغير اسكے قدر وقيمت متعين كرنا، عقل وفرد كى مدد اور رہنمائي كے بغير اس كے بارے ميں كوئي فيصلہ صادر كرنا خوش فہمى كے سوا كچھ نہيں ،ہميں بحث و انتقاد اور چھان پٹك كرنا چاہيئے تاكہ غلط سے صحيح اور ٹھكرے سے موتى كو الگ كيا جاسكے اور جھوٹ كى تہوں سے حقيقت كى شناخت كى جا سكے ، اسكے مصادر اور راويوں كے بارے ميں كسى قسم كا خوف ظاہر كئے بغير رائے دينى چاہيے، چاہے وہ اسلامى معاشرے ميں كيسے ميں مرتبہ و مقام پر فائز ہو لوگوں كى نظر ہى كتنى ہى شان و شوكت والا ہو_

چاہے وہ صحابى رسول ہى ہو ، كيونكہ ہمارا مقصد اور ہدف صرف اور صرف حق اور حقيقت كا پتہ لگانا ہے_

بات يہ ہے كہ اصحاب رسول عدالت اور ياد داشت كے لحاظ سے يا رسول خدا كے الفاظ و عبارات كى حفا ظت و نگہدارى كے سلسلے ميں سب كے سب ايك ہى سطح كے نہيں تھے چونكہ تمام انسان بھول چوك يا غلطى و لغزش سے دو چار ہو جاتے ہيں اسلئے اكثر صحابہ سنت وقول وبيان كرنے ميں غلطى ولغزش كا شكار ہوئے ہيںبعض كا حافظہ قوى تھا ليكن ان سے چوك ہو گئي اكثر با ايمان اور مستحكم عقيدے والے تھے اور ايك گروہ سست عقيدہ اور پرا كندہ خيال تھا كچھ


رسول خدا كے مخلص اور خدائي تھے اور دوسرے كچھ ان كے مقابل منافق اور دوسرے كردار والے تھے _

قران بھى اس نكتے كى تائيد كرتا ہے اسكا فرمان ہے

بعض ديہاتى بدو جو تمہارے ارد گرد ہيں، يہ منافق ہيں اور بعض اہل مدينہ بھى نفاق ميں ڈوبے ہوئے ہيں، تم ان كو نہيں پہچانتے ،ہم انھيں پہچانتے ہيں، انھيںہم دوہرا عذاب ديں گے پھر وہ درد ناك عذاب ميں كھينچے جائيں گے(سورہ توبہ ۱۰۱)

جب صدر اسلام كى يہ صورتحال ہے تو ہم تمام اصحاب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو ايك نظر سے نہيں ديكھ سكتے اور صدر اسلام كے علمبر دار وں كے بارے ميں پاك صاف ہونے كا عقيدہ نہيں ركھ سكتے_

كيونكہ انسان نے جب سے روئے زمين پر نمودار ہو كر معاشرہ تشكيل ديا ،اس نے اعلى درجے كى پاك دامنى اور عدل گسترى كا مظاہرہ كيا اور اس كے ساتھ ادنى درجے كے نفاق اور دوغلاپن سے بھى خالى نہيں رہا ،تاريخى قرائن اور مختلف معاشرتى تجزيے جو ہاتھ لگے ہيں ان سے معلوم ہوتا كہ پيدائشی ادم سے اجتك اسى نظر يئے كى تايئد ہوتى ہے ،ليكن اتنا ضرور ہے كہ راہ حق كے لئے انداز تبليغ كى گونا گون نيك نامى حضرت محمد مصطفيصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان كے اصحاب ميں درجہ كمال تك پہونچى ہوئي تھى كيونكہ رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے زيادہ وسيع اور استوار قانون كسى نے پيش نہيں كيا ،اور اپ سے زيادہ كسى پيغمبر كو دين كے سلسلے ميں پھر ارشاد ہوا اپ ياد دہانى فرمايئے ان لوگوں كو ،كيونكہ اپ كا دم ہى لوگوں كو ياد دہانى كراتا ہے (اعلى ۹)

اس قسم كى دسيوں ايات ہيں جن سے معلوم ہوتا ہے كہ يہ بشريت كا عظيم مصلح تمام لوگوں كى ہدايت ورہنمائي كے سلسلے ميں شديد ارزو مند تھا ،انحضرت اپنى شفقت ورحمت سے گمراہى ميں سر گرداں تمام لوگوں كى عمومى ہدايت كے خواہاں تھے ليكن سبھى كو راہ حق نہ مل سكى اور كچھ لوگ رہروان طريق حق سے الگ رہ گئے_

تكيہ گاہ اسلام

اس تقسيم كے تمام مراتب ہمارى نظر ميں واضح نقشہ پيش كرتے ہيں كہ اسلام كى عظمت وجلالت اسكى تعليمات وقوانين پر استوار ہے اپنے ماننے والوں پر نہيں ،اور يہ شان و عظمت لوگوں كى پيروى و تايئد سے نہيں پيدا ہوئي ہے كہ جب


موقع پائيں اسلام كو نقصان پہونچاديں اور معاشرے سے اسلام كو اكھاڑ پھينكنے كا اقدام كريں _

خود ميرا عقيدہ ہے كہ اگر تمام دنيا والے اسلام سے جنگ وجدال پر امادہ ہو جائيں اور اسے مليا ميٹ كرنے كيلئے اپنى كمرچست كر ليں اور ايك اواز ہو جائيں تب بھى اسلام كو ذرہ برابر نقصان نہيں پہونچا سكتے اور نہ اسلام كى معنوى عظمت وجلالت كو ذرا بھى كم كر سكتے ہيں ثبات قدم دكھانے والے اتنى بڑى تعداد ميںاصحاب حاصل نہيں ہوئے_

ليكن يہ افتخار كہ انحضرت كے ساتھ تنہا مصاحبت اورہمدمى بہرحال اپكے اصحاب كے شامل حال ہے اور اسى وسيلے سے انہوںنے با عظمت مقام حاصل كيا يہ اس بات ميں ركاوٹ نہيں بنتا كہ انھيںاصحاب ميں ايسے لوگ بھى موجود ہوں جو انحضرت كے قوانين ميں خلل ڈاليں ،اور اپ كى شريعت كى پا بندى نہ كريں اسى بناء پر اسكى كوئي دليل نہيں كہ بزرگان اسلام يا جو لوگ پہلے گذر چكے انھيں صرف اسلئے نقد و تحقيق كے قانون كلى سے مستثنى قرار ديديا جائے كہ وہ رسول كے صحابى تھے ،كيونكہ تمام صحابى عدالت كے اعتبار سے مساوى درجہ نہيں ركھتے تھے ،اسى طرح رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ارزو ں كے بر خلاف اور انكى سخت كوششوں كے با وجود كہ تمام لوگ شاہراہ ہدايت و كمال پر گامزن ہو جائيں _

ان ميں ايسے لوگ بھى پائے جاتے تھے جن كے دلوں ميں اسلام كى ہوا بھى پہونچنے نہيں پائي تھي، خاص طور سے ايسے افراد بھى تھے جنھوں نے كفر و نفاق كو اسلام كى اڑ ميں چھپا ركھا تھا _

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كى اس بلند فكر اور سچى شديد وابستگى كا رد عمل قران نے مختلف مواقع پر بيان كيا ہے_ ايك جگہ ارشاد ہوا اپ نصيحت كئے جايئے كيونكہ اپ كا كام صرف نصيحت كرنا ہے اپ لوگوں پر مسلط نہيں ہيں (غاشيہ ۲۱)

دوسرى جگہ ارشاد ہوا ،اپ جسے پسند كريں اسے ہدايت نہيں كر سكتے بلكہ خدا ہى جسے چاہتا ہے ہدايت فرماتا ہے(قصص ۱۵۶) اسى طرح اگر تمام دنيا والے اسلام كى عظمت بڑھانے پر ايك رائے ہو جائےں، تو بھى ذرہ برابر عظمت ميں اضافہ نہ ہوگا كيونكہ رمز اسلام خود اسلام كے بلند اصولوں ميں ،اور اصولوں كا راز خود اسلام ميں پوشيدہ ہے اسلام ماننے والوں كى صورت و شكل ميں نہيں ہے اور يہ ايسا نكتہ ہے جسے صرف حقيقى علماء اور دانشور ہى سمجھ سكتے ہيں اسلئے ، اگر سلف كے بزرگوں اور اصحاب رسول كے بارے ميں بحث و تنقيد كى جائے، محققين انكى زندگى اور رفتار و گفتار كا تجزيہ كريں تاكہ اچھے برے كو عالم اسلام سے متعارف كرائيں تو كسى حيثيت سے بھى اسلام اور اسكى حقيقت معنوى كو نقصان نہيں پہونچے گا، بلكہ اسلام تو اسكو جائز سمجھتا ہے كيونكہ وہ خود احكام ميں عدالت كا نقيب ،اور تمام افراد بشر كو قانونى اعتبار سے يكساں سمجھتا ہے خاص طور سے حقيقت كى تلاش اور لوگوں كى رہبرى كے سلسلے ميں اس


قسم كى بحث و تحقيق اور تنقيد كا اصرار كے ساتھ حكم ديتا ہے _

ہم دور كيوں جائيں ، عالم انسانيت كے عظيم مصلح حضرت محمد مصطفىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنى حكيمانہ ہدايت كے ضمن ميں براہ راست اور بالواسطہ ہميں تشويق فرماتے ہيں كہ ہم نفس حقيقت كے در پئے رہيں ، صرف اس حيثيت سے كہ حق ہے اسے مانيں اور اسكى حمايت كريں اس بارے ميں افراد كو نظر انداز كر ديں چاہے وہ كم مايہ اورپست ہو _

اور باطل كے خلاف ہوں ،اسكو مليا ميٹ كرنے كيلئے قيام كريں چاہے وہ شريف اور معزز شخص كى زبان سے جارى ہو حدود الہى كے نفاذ ميں شريف اور رذيل كے درميان فرق نہ كريں_

محمد مصطفى اور نفاذ عدالت

احاديث صحيحہ ميں ايا ہے كہ اسامہ بن زيد يہ دونوں ہى باپ بيٹے رسول خدا كى نظر ميں بلند مرتبہ تھے انھوں نے انحضرت سے قريش كے ايك شريف ،عورت كے بارے ميں رسول اكرم سے سفارش كى جس نے چورى كى تھى اسامہ نے انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى بارگاہ ميں عرض كى كہ حد شرعى نافذ نہ كيا جائے ليكن مصلح بزرگ رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس عورت پر حد شرعى جارى نہ ہونے كى سفارش مسترد كر دى اپ نے اس سلسلے ميں مشھور فقرہ فرمايا :

اے لوگو تمہارے گذرے لوگوں نے اپنى تمام باتوں كو نظر انداز كيا ان لوگوں كا اگر شريف اور عزت دار چورى كرتا تھا تو چھوڑ ديئے اور كمزور ،گمنام شخص كو سخت سزا ديتے تھے خدا كى قسم اگر محمد كى بيٹى نے بھى چورى كى تو ميں اسكے ہاتھ كاٹوں گا _

ان لا جواب بيانات كے ساتھ عدالت و مساوات كے بانى رسول خدا نے اس شريف مخزومى خاتون كے بارے قوانين الہى كے حدود معطل كرنے سے انكار كر ديا باوجود اسكے كہ وہ اپنى قوم و قبيلے ميں بلند نسب اور معزز تھى _

ا س طر ح سے رسول خدا نے اشتراكى فلسفيوں كے طبقاتى اختلافات ختم كرنے كى جد وجہد كے سيكڑوں سال پہلے اسے ختم كر ديا _انحضرت نے جس وقت عدل ومساوات كے قانون كا اعلان فرمايا ، سب كو قانون كى نظر ميں يكساں بتايا ،خود اپ نے توانا اور مقتدر ظالموں كے خلاف دبے كچلے بے پناہ تقوى شعاروں كى مدد كى _

يہ قانون بہت واضح طريقے سے قران و احاديث ميں بيان كيا گيا ہے_قران فرماتا ہے_

اے لوگو ہم نے تمہيں ايك مرد اور ايك عورت سے پيدا كيا ہے اور پھر تمہارى قوميں اور برادرياں بنا ديں


تاكہ تم ايك دوسرے كو پہچان سكو در حقيقت اللہ كے نزديك تم ميں سب سے زيادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زيادہ پرہيز گار ہے (حجرات ۴۹ايت ۱۳)

اور حديث قدسى ميں ہے

جو شخص بھى ميرے احكام پر عمل كرے اسكا ٹھكانا بہشت ہے چاہے وہ حبشى غلام ہى ہو، اور جو شخص نا فرمانى كرے اسكا ٹھكانا اتش دوزخ ہے ، چاہے وہ قريش كا با عزت ہى ہو _

رسول خدا كى زيادہ تر احاديث ميں اس كمال انسانيت و عدالت كے شاندار نمونے موجود ہيں _

محمد مصطفى كے قريب و بعيد ساتھي

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جہاں ايندہ كے بارے ميں پيش گوئي فرمائي ہے اور مستقبل كے چہرے سے پردہ اٹھايا ہے تو اپنے بعد كے اصحاب كى اسطرح تو صيف فرمائي ہے _

بہت سے لوگ پسنديدہ طريقے سے راہ حق پر گامزن رہيں گے اور اكثر منحرف ہو جائيں گے ، كچھ حق كے خلاف قيام كريں گے اور ايك گروہ ظلم و سركشى كا طريقہ اپنائے گا _

عمار ياسر كو مخاطب كر كے فرمايا ،اے عمار تمہيں ظالم اور باغى گروہ قتل كرے گا _

حضرت علىعليه‌السلام سے فرمايا اے عليعليه‌السلام كيا تم اولين و اخرين كے سب سے بد بخت انسان كو پہچانتے ہو ؟

حضرت علىعليه‌السلام نے جواب ديا خدا و رسول بہتر جانتے ہيں

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا اولين ميں شقى ترين وہ شخص تھا جس نے قوم ثمود كا ناقہ پئے كيا اور اخرين شقى ترين وہ ہو گا جو تمہيں قتل كرے گا(۱)

ان تمام باتوں سے واضح ہوتا ہے كہ بغير شك اور ترديد كے انحضرت كے اصحاب مرتبہ و مقام كے اعتبار سے عام لوگوں كى طرح فرق مراتب ركھتے ہيں كچھ انسانيت كے اعلى مرتبہء كمال و تقوى پر فائز ہوئے اور كچھ پستى اور تباہى كے گڑھے ميں رہ گئے، تمام اصحاب رسول كو انحضرت كى صحبت كا شرف پانے سے يكساں افتخار حاصل نہ ہو سكا وہ حقيقت و كمال كى راہ پانے ميں ايك دوسرے كے برابر نہيں ہيں _


جب يہ صورتحال ہے تو كيا يہ قانون كہ اصحاب اور تمام لوگ دين اسلام كى نظر ميں برابر ہيں ،اور فضيلت و بزرگى انہيںلوگوں كو حاصل ہے جو پرہيز گار ہيں اور قوانين اسلام پر عمل كرتے ہيں ،كيا يہ ان لوگوں كيلئے بھر پور ترين دليل نہيں ہے جن سے ابھى احتياط كا طريقہ نہيں چھوٹا ہے كہ اصحا ب رسول كى شخصيا ت كے بارے ميں بحث و تنقيد كى جائے ؟

صحابى نے جب تك راہ حق نہيں چھوڑا اور مقدس قانون اسلام سے انحراف نہيں كيا ہے صرف اسلئے كہ وہ صحا بى رسول ہے ،اسے كسى طرح بھى مفيد نہيں ،جسطرح اج كے لوگ جو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے كافى زمانى فاصلہ ركھتے ہيں ،اگر وہ اسلام كے مقدس قانون پر عمل كريں اوراسلام ان كے رگ وپئے ميں رچ وبس گيا ہے تو ان كا صحابى رسول نہ ہونا كسى طرح بھى نقصان رساں نہيں ،واقعيت يہ ہے كہ بہت سے ايسے افراد ہيں جو بظاہر نزديك ہيں ليكن معنوى حيثيت سے دور ہيںاور بہت سے افراد ہيں جو بظاہر دور ہيں ليكن بباطن نزديك ہيں ،ميرا تو عقيدہ يہ ہے كہ ہم اور اصحاب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دعوت حق اور تبليغ دين وشريعت كے معاملے ميں يكساں اور برابر ہيں ،ہاں اصحاب رسول نے سب سے بڑا امتياز جو انحضرت كى صحبت سے حا صل كيا وہ ہے رسول خدا كے ديدار كا فايدہ ،اور مستقيم قانون كو صاحب شريعت سے حاصل كرنا _

يہ بات پيش نظر رہنى چاہيے كہ يہ امتياز دو صورتوں سے خالى نہيں ،ايك تو عظيم نعمت يہ كہ انہوں نے صحبت كا فيض اٹھايا ،اور مستقيم قانون بے واسطہ طريقے سے رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے حاصل كيا اور دوسرے يہ كہ اس صحابى كے لئے يہ چيز لا جواب دليل و حجت ہے _

چنا نچہ اگر صرف رسول اكرم كى صحبت بروز قيامت سرمايہ حصول شفاعت ،يا صحابى كو بحث و تنقيد سے بچا كر مسلمانوں كو ان كے موافق يا مخالف فيصلہ كرنے سے روكنے والى ہوتى رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہر گز اپنى پارئہ جگر كے بارے ميں وہ تاريخى اور ابد اثار خطاب نہ فرماتے كہ اے فاطمہ اے دختر رسول ،تو جو كچھ چاہتى ہے مجھ سے سوال نہ كر كيو نكہ عدل الہى كى بارگاہ ميں رسول كى بيٹى ہوناكچھ بھى مفيد نہيں(۱)

انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے يہ تاريخى بيان اپنى بيٹى سے اس دن فرمايا ،جب ايہوانذ ر عشيرتك الاقربين (اے رسول ،اپنے قريبى رشتہ دار وں كو ڈرايئے ) نازل ہوئي تھي


جى ہاں ،رسول خدا نے عدل و مساوات كا جو بلند اصول لوگوں كيلئے پيش كيا تھا وہ احكام و حدود كے نفاذ ميں سب كو ايك نظر سے ديكھتا ہے_

حفنى دائود كى نظر ميں مولف كتاب

كچھ دن پہلے مرد فاضل و محقق جناب مرتضى عسكرى نے اپنى كتاب ( احاديث ام المومينين عائشه كو علماء و حق اگاہ محققين كے سامنے پيش كيا تھا ، انھو ں نے خاص طور سے اپنى كتاب كو دو جلد وں ميں ايسے قارئين كے سامنے پيش كيا جن كا سراپا وجود حقيقت كا متلاشى اور سچے دل سے فلسفہء تاريخ اسلام اور اس كے علل اور تاريخ تشريع كے ساتھ اس كے اصول سمجھنے كے خواہشمند ہيں

بات اجاگر كے درميان ايسا مشاہدہ كيا كہ جناب ام المومنين عائشه كے گردا گردنا قابل ترديد مدار ك و ماخذ ہيں ،كہ اگر صرف انھيں مدارك پر توجہ كى جائے تو حق وحقيقت كے بارے ميں اپنے افكار و عقائد كے سلسلے ميں ازادانہ رائے قائم كى جا سكتى ہے _

اگر چہ يہى حق گوئي حقيقت طلبى بجائے خود كوتاہ فكروں كى نظر ميں نا قابل معافى جرم ہے اگر اصحاب ميں سے كسى كے خلاف جو انھوں نے ان كا مقام متعين كرديا ہے اس كا تحليل و تجزيہ كيا جاے تو كبھى معاف نہيں كر سكتے _

اقائے عسكرى نے اس كتاب ميں بھر پور طريقے سے محققين اور تجزيہ نگار وں كى روش اپناتے ہوئے تنظيم و ترتيب ميں عرق ريزى كى ہے اور اس كے مقدمہ ميںان تمام مشكلات اور ركاوٹوں كى تشريح كى ہے جو حقائق و اشگاف كرنے ميں حق كے متلاشى كى راہ ميں پيش اتى ہيں _

منجملہ يہ كہ ممكن ہے كوئي محقق اپنے احساسات و جذبات كا پابند ہو ، اور ايك گروہ كو دوسرے گروہ پر ايك شخصيت كو دوسرى شخصيت پر متعصبانہ طريقے سے برترى ديدے ، حالانكہ حقيقت اس كے بر خلاف ہو ،اس كے ساتھ وہ خاص مقصد كو پيش نظر ركھتا ہو ،اور حق كو يہ طريقہ بعض اہل قلم نے اپنايا ہے جو چاہتے ہيں كہ دو مخالف راويوں كے درميان مطابقت پيدا كريں ،ممكن ہے يہ مطابقت بظاہر خوش ايندہو ، ليكن يہ بات طئے شدہ ہے كہ حق دو متخالف اور متناقض ارا كے درميان جمع نہيں ہو سكتا ہے ،،


اقاى عسكرى نے ہر ممكن كوشش كى ہے كہ اپنے سلسلئہ مباحث ميں اس قسم كے عيوب سے جو ہر محقق كى تحقيق ميںسامنے اتى ہے دور رہيں ان كا مقصد متعين ہے ،اور وہ اسى كے تعاقب مين موضوع سے باہر نہيں نكلتے ہيں انھوں نے اپنے دائرئہ كار كو اشخاص اور مقامات كا پابند نہيں بنايا ہے بلكہ ان كا مقصد اصلى صرف حق اور حقيقت معلوم كرنا ہے اور اسى كے ا رد گرد رہے ہيں_

اس كے علاوہ انھوں نے اپنے ذاتى احساسات و جذبات سے الگ رہنے كى ہر ممكن كوشش كى ہے انھوں نے صرف عقل كو جج بنايا ہے،،

انھوں نے ايك گروہ كو دوسرے گروہ پر فضيلت دينے كا ذرا بھى پتہ نشان نہيں ،ذرا بھى مبالغہ نہيں ،، اگر كہا جائے كہ اقاى عسكرى بحث و تحقيق كى ڈگر ميں، اس كتاب جو چيزمحققين كو اپنى طرف مائل اور تعريف و تحسين پر امادہ كرنے والى ہے وہ يہ كہ انھوں نے كوشش كى ہے كہ اس علمى بحث ميں قانون كلى كى رعايت كريں ،اور احاديث ام المو منين مكمل حزم و احتياط كے ساتھ تحليل و تجزيہ كر كے حقيقت كو اشكار كيا ہے _

قتل على اور شكر عائشه،،

تاريخى قرائن ہميں مجبور كرتے ہيں كہ ام المومنين كى احاديث پر شك اور ترديد كريں جسے وہ احاديث جن ميں خلافت شيخين كا تذكرہ ہے اور حضرت عليعليه‌السلام كا نام نہيں ليا گيا ہے اسى طرح وہ احاديث جن ميں فضائل شيخين و عثمان اور حضرت عليعليه‌السلام روشن مذكور ہے ان ميں بلا شك وشبہ جذبات اور جانبدارى برتى گئي ہے ،، كيو نكہ ابو بكر اور ان كى نسبت باپ اور بيٹى كى ہے اسى طرح انھوں نے عمر كى باتيں كہى ہيں اور عليعليه‌السلام كا تذكرہ كيا ہے جو ابوبكر وعمر كے رقيب تھے ،ان ميں بد ترين فرق ہے _

پھر عثمان كے خلاف ان كى جد جہد لوگوں كو قتل عثمان پر ابھارنا اور پھر انھيں كے قتل كا انتقام لينے كے لئے قيام كرنا بھى مضبوط دليل ہے جو ہميں اس بات پر مجبور كرتى ہے كہ ان كى تمام احاديث كو شك اور ترديد كى نگاہ سے ديكھيں،اسى طرح وہ اقدامات جو انھوں نے حضرت على كے خلاف كيں علىعليه‌السلام كے دشمنوں كى كمك ،طلحہ و زبير كہ جنھوں نے عليعليه‌السلام كى بيعت توڑ دى تھى ،ايك پليٹ فارم پر لانا،جنگ جمل كى اگ بھڑ كانا _ يہ تمام باتيں بجائے خود اس بات كا واضح ثبوت ہيں كہ انھيں على جيسے پرہيز گار سے ديرينہ عداوت تھى اور اسى وجہ سے مسلمانوں كے گروہ ميں تفرقہ و اختلاف پيدا ہو ا ان كے دل ميں على كى ايسى نفرت تھى جو كبھى چين سے بيٹھنے نہيں ديتى تھى ،يہا ں تك كہ قتل على كى خبر سن كر سجدئہ شكر ادا كيا اور يہ شعر بطور تمثيل پڑھا،،


فالقت عصاها و استقر نها النوي كما قر عينا بالاباب المسافر

اس نے دوڑ دھوپ ختم كر دى اور چين پاليا جسطرح مسافر كى اپنے ٹھكانے پر پہونچكر انكھيں ٹھنڈى ہوتى ہيں _

انكى تمام احاديث اسى قسم كے اہم ترين تاريخى وقائع سے وابستہ ہيں جن پر بڑى حزم و احتياط برتنى چاہيئے انكى شخصيت اور ان كے ميلانات سے قطع نظر كركے حقائق دريافت كرنے كى كوشش كرنى چاہيئے _

حجابيت كے رخ سے بھى دوسروں كى طرح صحيح يہ ہے كہ وہ فتوى و اجتہاد ميں لغزش و خطا سے دوچارہوئي ہوں كيو نكہ ادمى چاہے وہ كوئي بھى ہو جب تك اپنى رائے اور سليقے پر عمل كر رہا ہے ممكن ہے كہ خطا و صواب كا نشانہ بنے ليكن محقق يہ حق نہيں ركھتا كہ عقل و درايت كو كنارے ركھ كر بزرگوں كى شخصيت كے مقابلے ميں اپنے كو چھوٹا بنا لے اور حقائق چھپا ئے_

اس بات كى اجازت نہيں ہے كہ نظريات و اجتہاد كے خطا وصواب كو اہميت ديكر سب كو يكساں شمار كرے بلكہ ضرورى ہے كہ تمام مفہوم حقيقت كو بيان كرے

اسى طرح جب تك ہم حق ديںہر مجتہد ميں امكان ہے كہ وہ لغزش و خطا سے دوچارہو جائے اور عدل الہى كى بارگاہ ميں باز پرس كى جائے ،ام المومنين بھى اس قاعدے سے مستثنى نہيں ہيں ان پر ظلم نہيں ہے ،بلكہ علمى و تحقيقى نقطئہ نظر سے ستم يہ ہو گا كہ عليصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور عائشه كے بارے ميں ہم جانبدارانہ فيصلہ كريں اور دونوں كو عدالت ميں يكساں سمجھ ليں ،اور حضرت عليصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جو اجتہاد ميں صحيح و صواب راستہ اختيار كيا(۱) ان دوسرے لوگوں كے مقابل جنہوں نے اجتہاد ميں غلطى كى جيسے عائشه و معاويہ اور دوسرے اصحاب جنہوں نے حضرت عليصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جنگ كى اور مخالف كا راستہ اپنايايكساں سمجھ ليا جائے_

حضرت علىعليه‌السلام خدا كو حاضر و ناظر جانتے تھے

حضرت على اس جہت سے كہ اپ باب مدينتہ العلم اور وصى محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہيں اسى طرح سے نہ اس حيثيت سے كہ بھر پور قدرت بيان اور واضح لہجے ميں حق بات كہتے تھے اور اس پر وہ جم بھى جاتے تھے اور يہ دين انھيں سے توانا ہوا اور حيثيت تشكيل پائي ،_نہيں_ ان تمام باتوں سے قطع نظر وہ ہر حيثيت سے تمام صفات كمال كے جامع تھے_

جس چيز نے على كو ان تمام امور سے بالا تر قرار ديا يہ تھا كہ وہ برابر اپنے كردار و گفتار ميں خدا كو حاضر و ناظر جانتے تھے ،


اور مسلمانوں كى مصلحتوں كے مقابل اپنى ذات ميں شدت پسند تھے ،وہ مسلمان معاشرے كے عام دنياوى فائدوں كو اپنے دنياوى فائدے پر ترجيح ديتے تھے_

اپ كے دوران خلافت ميں بلند ترين مراتب انسانيت ايك ذات ميں سمٹے ہوئے نظر اتے ہيں _

وہ اپنے اس دور ميںخاص طور سے لباس اور خوراك، احكام ميں عدالت، فريبى دنيا كے مظاھرات سے كنارہ كشى كا كامل نمونہ تھے_

دوسروں نے عہد ئہ خلافت حاصل كرنے كى كوششيں كر ڈاليں ،جبكہ خلافت خود حضرت علىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى طرف دوڑى ائي ،دوسروں نے اپنے اور رشتہ داروں كے فائدوں كو مصالح عامہ پرترجيح دى ، جبكہ اپ نے عام لوگوں كے فائدوںكو اپنے اور رشتہ داروں پر ترجيح دى _

عليصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جس وقت كوفے ميں تھے ،عقيل بن ابى طالبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے بھائي كى خدمت ميں ائے حضرت علىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے كہا :

اے بھائي بڑے اچھے ائے ،كس لئے كوفہ ائے ہو؟

جو مشاہرہ مجھے ملتا ہے وہ ميرى معيشت كےلئے نا كافى ہے ، زيادہ خرچ كا بو جھ ہے جسكى وجہ سے بہت زيادہ قرض لد گيا ہے ميں اس لئے ايا ہوں كہ ميرى مدد كيجئے _

خدا كى قسم اپنے مشاہرہ كے علاوہ ميرے پاس كچھ نہيں ،صبر كيجئے مال غنيمت تقسيم كرنے كا وقت ايئگا تو ميں اپ كو دوں گا _

ميں حجاز سے يہاں تك صرف اسى اميد پر ايا ہوں كہ كچھ نقد حاصل كر لوں گا اپ كا مشاہرہ ميرے درد كى دوا كيا كر سكے گا ، اور ميرا كون سابوجھ ہلكا كرے گا ،امام نے بھائي كو جواب ديا ،

كيا اپ اس كے علاوہ بھى ميرے گھر ميں مال دنيا سے كوئي چيز ديكھ رہے ہيں ،؟ يا اپ اس اميد پر بيٹھے ہيں كہ ميں مسلمانوں كا مال اپ كو دے دوں گا اور ميرا خدا اس صلئہ رحم كے بدلے اتش جہنم ميں جلائے گا _

كسى ترديد كے بغير ،علىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جسے پرہيز گار كے عدل و انصاف كو برداشت كرنے كى عقيل ميں طاقت نہيں تھى ،وہ معاويہ كى خدمت ميں پہونچ گئے جس كے يہاں حلال و حرام كا فرق نہيں تھا ،وہ مسلمانوں كے بيت المال كو ذاتى ملكيت سمجھتا تھا _

يہ واقعہ خود ہى ھمارى رہنمائي كر تا ہے كہ حضرت عليصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى شخصيت كيا تھى وہ كس قدر پر ہيز گار تھے ،اور عمومى منافع كو خود اور اپنے سے وابستہ افراد كے مصالح پر ترجيح دينے ميں ان كا پا يہ كس قدر بلند تھا، بے باكانہ قسم كھائي جا سكتى


ہے كہ حضرت علىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے علاوہ اصحاب ميں سے كوئي بھى اس بلند مرتبہ انسانيت و كمال تك نہيں پہونچا تھا ،

كيونكہ خود انھوں نے دل كى گہرائيوں سے ،اور جاوداں فقرہ ارشاد فرمايا تھا ،يا دنيا غرّى غيري

اے دنيا ميرے سوا دوسرے كو دھوكہ دينا

على اور مسند خلافت

ميں نہيں سمجھتا كہ كوئي صحابى ايسا ہو گا جس كے فتوى و اجتہاد ميںجائے تامل اور اعتراض كى گنجائشے نہ ہو ،سوائے علىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ،كيو نكہ ان كے اجتہاد ميں ذرا بھى شك وشبہ اور اعتراض نہيں كيا جا سكتا ،اس بات كو ميںپورى بےباكى سے كہہ رہا ہوں ، اور تمام دقيق سياسى معا ملات جو پيش ائے وہ اس دعوى كا ثبوت ہيں _

عمر نے معاملہ خلافت ميں مداخلت كيانتيجے ميںابوبكر مسند خلافت پر بيٹھ گئے ،انہوں نے اپنے فتوى ميں اس دليل پر زور ديا كہ فتنہ و اشوب ديكھ كر اس پر لگام چڑھائي گئي ہے ،ابوبكر كے بعد انھوں نے خود اس ذمہ دارى كاسنگين بوجھ اٹھا ليا اوربارہا اس بات كا اعتراف كيا كہ ابوبكر كے زمانے ميں غلطياں ہوئيں ،جس وقت بعض اصحاب نے ان كے فرزندعبداللہ كى بيعت كے بارے ميں ان سے بات كى تو انھوں نے جواب ديا ،خاندان عمر كے لئے يہى كافى ہے كہ ان كا ايك فرد اس كا ذمہ دار ہو ،اور عدل الہى كى بارگاہ ميں امت محمد كے بارے اس سے جواب طلب كيا جائے_

ليكن حضرت عليصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے شيخين كے مقابلے ميں معاملہء خلافت كے سلسلے ميںيہ دليل دى كہ اس اھم كام كى مشغوليت تھى وہ جسد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے دفن و كفن ميں مشغول تھے(۱)

يہ سب سے بڑ ا اعتراض ابو بكر و عمر پر تھا ،اور حضرت عليصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان دونوں كے مقابل حقدار نظر ائے ہيں _

عمر كے بعد على و عثمان كے درميان خليفہ كے انتخاب ميں عبدالرحمن بن عوف بھى جوان چھ افراد ميں تھے جنھيں عمر نے خليفہ منتخب كرنے كيلئے مجلس شورى بنائي تھى ،انھوں نے اپنى راے دى اور خليفہ كى ذمہ دارى كو اپنے فتوى سے متعين كيا ،اپنے اسى متعين فتوى كو ان دونوں كے سامنے پيش كيا حالانكہ وہ جانتے تھے كہ حضرت على ان كے اجتہاد

____________________

۱_ اس وجہ سے حضرت عليصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سقيفہ بنى ساعدہ ميں مو جود نہيں تھے ، اور ابو بكر و عمر نے انكى غير موجودگى ميں جلدى سے خليفہ چن ليا اگر انھوں نے اتنا صبر كيا ہوتا كہ رسول كو سپرد لحد كر ديا جائے اور علىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھى وہاں سب كے ساتھ اجايئں تو شايد يہ واقعات پيش نہ ائے اور تاريخ اسلام كا دوسرا ہى نقشہ ہوتا_


كے پابند نہيں ہو سكتے ، خلافت قبول كرنے كيلئے پہلے حضرت على كے سامنے شرط پيش كي_

حضرت علىعليه‌السلام كے سامنے فرزند عوف نے جو شرطيں پيش كى تھيں ان ميں رضائے خدا و رسول اور مسلمانوں كے مفاد ات كى حد تك تو حريص تھے منصب خلافت حاصل ہوتا اور حكمرانى كرنا انكى نظر ميں ہيچ تھا ،جبكہ عثمان كى زيادہ توجہ منصب خلافت حاصل كرنے كى تھى وہ دل سے يہى چاہتے تھے ،دوسرے امور كى ان كى نظر ميں اہميت نہيں تھى ،اور خدا اس بات كو بہتر جانتا ہے كہ شروع ہى سے وہ جس بات پر، ہوئے تھے اسميں انھيں پورى سوجھ بوجھ كہاں تك تھى ، يا خلافت حاصل كرنے كے بعد ان ميں پيدا ہوئي ،كيو نكہ يہ باتيں نفسانيت كے امور سے تعلق ركھتى ہيں ،اورہم اس بارے ميں كوئي فيصلہ بھى نہيں كر سكتے ، كيو نكہ ھمارا استدلال صرف ظاہرى حالات كى روشنى ميں ہے_

''عائشه كا تاريخى فتوى ''

عائشه نے حضرت عثمان كى خلافت كے ابتدائي ايام ميں تو موافقت اور انكى تائيد كى ،پھر ان سے منحرف ہو كر ان كے خلاف فتوى دےديا ،اس وجہ سے ان كا اجتہاد قابل اطمينان نہيں ہے _

خلافت كے سلسلے مين انكے رقيب ہوتے ہوئے بھى دليل و بر ہان كے با وجود حضرت عائشه كى طرف عثمان سے جنگ اور مخالفت نہيں كى ،جب عثمان قتل ہو گئے تو حضرت علىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے طلحہ و زبير اور ديگر تمام لوگوں كى بيعت قبول نہيں كى جس وقت تمام لوگوں نے اپ كو خلافت قبول كرنے پر مجبور كيا تو اپ نے مسجد ميں كھڑے ہو كر يہ فرمايا ، ميں تمہارى خلافت سے بيزار تھا ،ليكن تم ہو كہ ميرے سوا كسى كى حكومت پر راضى نہيں ہو ،اس بات كو سمجھ لو كہ ميں كوئي بھى كام بغير تمہارى صوابديدہ اور صلاح كے انجام نہيں دوں گا ،تمہارے بيت المال كى كنجى ميرے پاس ہے ليكن ايك درھم بھى بغير تمہارى مرضى كے نہيں چھوئوں گا _

پھر پوچھا ،كيا تم اس بات پر راضى ہو ؟

تمام لوگوں نے چلّاكر كہا ہاں

اسوقت اپ نے فرمايا :

بار الہا ان لوگوں پر تو گواہ رہنا

اس كے بعد اپ نے خلافت قبول فرمائي


حضرت علىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رائے صائب تھى اپ نے اس طرح لوگوں كيلئے كسى بہانے كى گنجائشے نہيں چھوڑى كيو نكہ ان لوگوں نے اپ كو خلافت قبول كرنے پر مجبور كيا تھا نہ يہ كہ اپ نے خود خلافت كى خواہش كى ، لہذا جس نے بھى اس ذمہ دارى سے ہاتھ كھينچا اور علىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى مخالفت كى وہ خود دغاباز اور مجرم ہے ،اور جو شخص اپ كا وفادار رہا وہ مومن اور سچا ہے _

عائشه نے دوسرى بار اجتہاد كا پرچم لہرايا يہ اس وقت كى بات ہے جب قاتلان عثمان سے انتقام لينے كيلئے انھيں اور طلحہ و زبير جنہوں نے علىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پيمان توڑا اور اپنى بيعت كچل ڈالى با قاعدہ ساتھ دينے پر امادہ ہوئے يہ مفاد پرستانہ اقدام بتاتا ہے كہ حضرت عائشه كى نيت انديشہ مفاد سے خالى نہيں تھى ،تمام لوگ كہنے لگے كہ يہ عثمان كا بدلہ لينے كيلئے نہيں اٹھى ہيں بلكہ مقصد صرف يہ ہے كہ مسلمانوں كے درميان تفرقہ و اختلاف پيدا كيا جائے اور جو لوگ حضرت علىعليه‌السلام سے وابستہ ہيں ان ميں انتشار پيدا كيا جائے يہاں تك كہ اگر حضرت علىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے سوا كوئي اور ہوتا تو كبھى ايسا اقدام نہ كرتيں _

ام سلمہ كا تاريخى خط عائشه كے نام

حضرت علىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے خلاف معاملہ خلافت كے سلسلے مين عمر كے اقدام كے بعد عائشه كا اقدام دوسرا رخنہ تھا جو بنياد اسلام ميں پڑا ،ميںيہ بات اپنى طرف سے نہيں كہ رہا ہوں اور اس سے ميرى كوئي خاص غرض بھى نہيں ہے بلكہ يہ حقائق نا قابل انكار ہيںجن پر بزرگان قوم اور مشھور مورخين متفق ہيں _

عائشه كى كار وائي صحابہ كے زمانے سے اج تك تمام لوگ ان لوگون كے لئے نفرت كا سبب بنى جو حق اور حقيقت كے طرفدار ہيں ،اس دعوى كى گواہى حضرت ام سلمہ ہين جو دوسرى زوجہء رسول ہيں ، انھوں نے پند ونصيحت بھرا خط عائشه كو لكھا اور اس اقدام سے باز رہنے كى خواہش ظاہر كى ،خاص طور سے انھيں مسلمانوں كے درميان تفرقہ و اختلاف سے روكا _ خط


زوجہء رسول ام سلمہ كى طرف سے ام المومنين كو

ميں خدا كى حمد و ثنا ء كرتى ہوں اور اس كى وحدانيت كا اقرار كرتى ہوں

امابعد تم نے اس اقدام سے اپنے احترام كا پردہ چاك كيا جو رسول خدا اور ان كى امت كے درميان تھا ،اور ان كے

حرم كا حجاب پارہ پارہ كيا قران نے تمہارا دامن جمع كيا ہے ،اسے خود سرا خاك ميں نہ ملاو ،تمھارا مقام مرتبہ محفوظ ہے ،اسے بلاوجہ ضائع نہ كرو ،اس خدا ئے واحد سے ڈرو و جو اس امت كا نگہبان ہے _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عورتوں كى جہاد كا طريقہ متعين كيا ہے ،بلا شبہ اس سلسلے مين حكم صادر كيا ہے كيا تم نہيں جانتى ہو كہ انہوں نے تمہيں جنگ سے منع كيا ہے ؟ كيو نكہ اگر دين كے ستون ميں ٹيڑھا ہو جائے تو عورتوں كى طاقت سے كبھى سيدھا نہيںہو سكتا ،اور اسكى خرابى عورتوں سے اصلاح پزير ہرگز نہيں ہو سكتى ، عورتوں كا جہاد اپنے كو لئے ديئے ركھنا ،پاك دامنى اور قناعت ہے _

اگر تم اس طرح بيابانوں مين اپنے اونٹ كو اس گھاٹ اور اس گھاٹ ہاكتى رہو اور رسول خدا تمھين ديكھ ليں تو تو انھيں كيا جواب دو گى حا لا نكہ تمہيں جلد يا دير ان كے سامنے حاضر ہونا ہے _

ميںبے باكانہ قسم كھاتى ہون كہ اگر ميں اس حال ميں رسول سے ملاقات كروں كہ ان كى حرمت ضائع كى ہو اور مجھ سے كہاجائے كہ اے ام سلمہ جنت ميں اجاو تو ميں شرم سے پانى پانى ہو جاو ں گى _

اس لئے اپنے پروردگار كى حفاظت كرو اور گھر ميں بيٹھى رہو اگر تم اس امت سے سروركار نہ ركھو تو يہ بجائے خود ان كے حق ميں بہترين خدمت ہے ،اور ميںجانتى ہوں كہ رسول خدا سے جو باتيںميںنے سنى ہيںاگر اس سے تمہيں خبردار كروں تو تم سانپ كاٹے شخص كى طرح تڑپنے لگو گي، والسلام

خود يہ خط دوسرى دليل ہے كہ عائشه كا اجتہاد غلط تھا

اس خط ميں اس بات كى تائيد ہوتى ہے كہ انھيں مسلمانوں كى جماعت ميں ھم اھنگى كى فكر نہيں تھى ، نيز يہ بات بھى معلوم ہوتى ہے كہ ازواج رسول ميں سے دوسرى كوئي بھى عائشه كے اس اقدام كے ساتھ نہيں تھيں اور نہ انھوں نے عائشه كى مدد كى ،


اس كتاب كے مولف كا مقصد

اقائے عسكرى ، خداوند عالم انہيں حقيقت بيانى كى جزا دے ميں نے اپنے دقيق علمى بحث ميں ھرگز اس بات كا قصد نہيں كيا ہے كہ لوگوں كو عائشه نے اپنے اجتہاد دو فتوى ميں جو اشتباہات كئے ہيں ان كے خلاف لوگوں كو بھڑكائيں ،اور مسلمانوں كے احساسات ابھاريں بلكہ انھوں نے اپنے بيان كے درميان صرف خشنودى خدا كيلئے اس بات كى فكر كى ہے كہ تاريخى حالات كے مفاہيم جو زيادہ تر لوگوں كے ذہن اصحاب رسول ہونے كى وجہ سے پہچان نہيں پائے ہيں اور

تاريخ صحيح كى تفہيم نہ ہونے كى وجہ سے عظمت شريعت اسلام كى تفہيم سے محروم ہيں ان كى اصلاح و تصحيح كريں، كہ اوضاع تاريخى كے مفہوم سے عام لوگ جو محروم ہيں اور اصحاب رسول كو پہچان نہيں سكتے ہيں اور ان كى باتوں ميں تميز نہيں كر سكے ہيں ،اور نتيجے ميں صحيح تاريخ سمجھنے اور ان كى شريعت اسلام ميں حيثيت كو پہچان نہيں سكے ہيں ان كى اصلاح و تصحيح كريں ، انھوں نے اس راہ ميں جو سعى كى ہے اس كا مقصد صرف يہ ہے كہ لوگ احاديث رسول خدا كو بغير اپنے احساسات و جذبات كى مداخلت جزوى فوائد و تعصب كے راويان حديث كے بارے ميں علم و دانش كى روشنى ميں ادراك كر سكيں _

كيونكہ اگر لوگ تمام يا كچھ حصئہ حديث رسول كو سمجھ ليں تو بڑى اسانى سے اسلامى فرقوں اور مذاہب كے درميان كا اختلاف كا سرا سمجھ ميں اجائے گا ،اور انہيں معلوم ہو جائے گا كہ كس حد تك يہ اختلاف مصنوعى اور حكمرانوں كا خاص غرض سے پيدا كيا ہو ا ہے انھوں ہى نے ايك گروہ كو دوسرے گروہ پر ترجيح دى ہے حكومت چلانے اور اپنى پار ٹى مضبوط كرنے كيلئے جن حديث كو ضرورى سمجھا بنا ليا يا اكثر صحابہ كى بيان كردہ حديث كو من كے مطابق بدل ليا ، صحيح بات يہ ہے كہ انھوں نے حكومت كے استحكام كيلئے صحابہ پر دروغ بافى كى اور اپنى غرض كے لئے من پسند باتيں گڑھ ليں _


اس سے پہلے كہ اپنى علمى بحث كو ختم كروں جسے صرف خشنودى خدا كيلئے معرض تحرير ميں لائي گئي ہے ، مناسب سمجھتا ہوں كہ دانشور محقق اقائے عسكرى كے كان ميں اہستہ سے ڈال دوں كہ وہ اپنے ان علمى مطالب كو جس كا بلند مقصد مذاہب اسلامى كو ايك دوسرے كے قريب لانا ہے اسے جارى ركھيں ،اپنے متين اور محكم اساس پر استوار اسلوب كو اس طرح قرار ديں كہ ارباب علم و دانش او ر اسكالروں كيلئے پسنديدہ ہوتاكہ اس طرح مسلمانوں ميںباہمى اتحاد و ہم اہنگى پيدا ہو ،اور كيا ہى اچھا ہوتا كہ تمام وجود جو بحث و تحقيق ميں مستغرق ہے ميرى اس پيش كش كو عملى شكل ديدے_

كيونكہ بنيادى طور سے اختلاف اور ذاتى دھڑا بندى ايك شيعہ اور سنى كے درميان سمجھ ميں انے والى بات نہيں ہے اور اسميں شك نہيں كہ يہ دونوں فرقے جب تك مقاصد اور وجوہات دونوں كے خالص ہيں تو ايك دوسرے كے نقائص دور كرنے اور درستگى لانے ميں دل وجان سے كوشش كريں _

ڈاكٹر حامد حفنى دائود

۱۷ شوال ۱۳۸۱

۲۳ مارچ ۱۹۹۲


كتاب كا مقصد تاليف

زيادہ تر ارباب تحقيق رسول خدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ا كى احاديث كى طرف دير سے متوجہ ہوئے ہيں كہ احاديث كا ايك دوسرے سے ربط يا ان احاديث اور ايات قران كے درميان گھناونا اختلاف موجود ہے ،يہ امر اس بات كا سبب بنا كہ سلف كے دانشوروں نے رسول خدا پر اعتراضات اپ كى احاديث كى توجيہ و تاويل پر مشتمل كتابيں لكھيں ،ان ميں تاويل مختلف الاحاديث اور بيان مشكل الحديث اور بيان مشكل الاثار وغيرہ كتابيں لكھيں_

اس طرح نقادوںاور عيب جوئي كر نے والے ملحدوں اور عيسائي مبلغوں كے ساتھ كچھ مستشرقين كو بھى اس بات پر ابھارا كہ دشمنى وعناد كى راہ سے اس قسم كى احاديث كے استناد ميں اختلاف و تضاد دكھا كر پيغمر اسلام اور ان كے دين پر اعتراض كيا اور مذاق اڑايا،حالانكہ يہ دونوں گروہ اس بات سے غافل تھے كہ ان احاديث كے مجموعے كا بہت بڑاسرمايہ، خاص طور سے جن ميں باہم اختلاف ہے يہ سبھى ايك ہى روش اور ايك ہى سياق سے مربوط نہيں ہيں كہ انھيں اطمينان كے ساتھ سبھى كو رسول خدا كى واقعى حديث سمجھ كر يكجا بحث و تحليل كى جائے بلكہ يہ تمام احاديث خود ہى چند مختلف احاديث كا مجموعہ ہيں جنھيں مختلف راويوں اور بيان كرنے والوں كے طريقے سے ھم تك پہونچا ہے_

ارباب تحقيق كو سب سے پہلے يہ چاہيئے كہ راويان حديث كى دستہ بندى كريں مثلاوہ احاديث جو ام المومنين عائشه سے منسوب ہيں ياانس سے ابو ھريرہ يا عبداللہ بن عمر سے ان تمام كو الگ الگ جمع كر كے دوسرے ايسے راويان حديث جنہوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بہت زيادہ احاديث روايت كى ہيں ( ان كے حالات زندگى ،انكا انداز فكر اوران كا عقيدہ ) ان پر الگ الگ بحث و تحقيق كى جائے تاكہ حقيقت امر واضح ہو سكے _

مجھے يہ بات اس وقت معلوم ہوئي ،جب ميں صدر اسلام كے تاريخى حوادث كے ذيل ميں احاديث كے بحث و تحقيق ميں مشغول تھا ،خاص طور سے ان احاديث پر جو ام المومنين عائشه سے نقل كى گئي ہيں ،اس موقعہ پر ميرى نگاہ جذب ہو كر رہ گئي اور مجھے يقين حاصل ہو گيا كہ تاريخ اسلام ابتدائے بعثت سے بعثت يزيد كے زمانے تك كو اچھى طرح نہيں سمجھا گيا ہے _


يہ اسى وقت ممكن ہے كہ پہلے احاديث ام المومنين كو جو بجائے خود اكيلا تاريخ صدر اسلام كا اھم ترين سر چشمہ ہے حقيقت فہمى كيلئے اس كا غير جانبدارانہ مطالعہ كيا جائے

اس طرح مجھے يقين ہے كہ بعض ايات قرانى كو سمجھنا نيز وہ اسلامى فقہ جو اكيلى احاديث ام المومنين كى سند سے مروى ہيں ان كو بھى اسى اساس پر مطالعہ كرنا چاہيے _

جب ميں اسلام كے پہلے دور كى تاريخى تنظيم كا تجزيہ كر رہا تھا ،ميرے لئے نا گزير ہو گيا كہ اسى تقسيم يعنى حديث كى قدر وقيمت كے بارے ميں بحث كو تمام مبا حث كو مقدم قرار ديكر اسى كا تحليل و تجزيہ كروں _

اس قسم كے واردات كى اس حيثيت سے كہ صدر اسلام كے سر كردہ افراد ميں بڑى مشكل بات ہے اس وادى ميں قدم ركھنا كسى مسلمان محقق كيلئے كوئي اسان بات نہيں ہے ( غير جانبدارانہ تحقيق كريں )

پہلى زحمت دشوارى جو مشرق كے مسلمان اديبو ں كو پيش اتى ہے وہ خود ان كے عقائد ہيں جنكى انھوں نے عادت ڈال لى ہے اور ان كى زندگى ميں نشو و نما پاتا رہا اور ان كى نفسيات اور رگوں ميں رچ بس گيا ہے اور يہى عقائد اسلامى معاشرے ميں بھى رائج ہيں _

يہ لوگ صدر اسلام كے مسلمانوں كو عام ادميوں سے بر تر خيال كرتے ہيں اس عہد كو اور اس زمانے كے افراد كو مقدس سمجھتے ہيں اور جو كچھ ان كے اور اس زمانے كے بارے ميں سمجھ بيٹھے ہيں ،وہ دوسرے عہد كے مسلمانوں كے بارے ميں باور نہيں كرتے_

چنانچہ اس طرح كے اديب ،قلمكار متذكرہ الجھن كوبحث و تحقيق ميں نظر انداز نہيں كرتے ، تلاش حق و حقيقت كے بجائے ان كى باتيں اپنے معتقدات كے دفاع ميں لگ جاتى ہيں _

جب ميں نے يہ حقيقت سمجھ لى تو پكا ارادہ كر ليا كہ اس موضوع پر اپنے جذبات كو جو ام المومنين عائشه كى زوجہ ء رسول كى حيثيت سے قائل ہوں ،انھيں اڑے نہ انے دوں ، اور اسلام كى محترم شخصيات كو جو نظر انداز كر ديا جاتاہے انھيں دوسرے عام لوگوں كے مقابل فرق نہ قرار دوں اور انہيں اس نقطہء نظر سے پہچانوں كہ وہ بھى عام لوگوں كى طرح گونا گوں احساسات و جذبات ركھتے تھے ،اس طرح ميں حيات ام المومنين كے ادوار ميں جو حوادث پيش ائے حقيقت معلوم كرنے كيلئے صرف اسى كو موضوع بحث و تنقيد قرار دوں _


اگر چہ دعوى نہيں كرتا كہ ميں اپنے اس ارادے ميں پورى طرح كامياب ہو گيا ہوں ، ليكن اس سلسلے ميں اپنى بھر پور تلاش و كو شش كر ڈالى ہے اس كا جو كچھ فيصلہ ہے وہ دوسروں كو كر نا ہے ، ليكن خدا كو گواہ كر كے كہتا ہوں كہ صرف صدر اسلام كى تاريخ ،قران اور اس كے احكام كى تحقيق كرنے والوں كو فائدہ پہونچانے كيلئے ميںنے يہ سارے پاپڑ بيلے ہيں ،_

اسلام يا ايمان و عقيدہ

دوسرى بات يہ كہ جيسے ہى كوئي قلمكار پكا ارادہ كر كے اس مشكل كو اپنى بحث و تحقيق سے اٹھاليتاہے تودوسرى مشكل گلے پڑ جاتى ہے كہ اس قسم كے مطالب كى نشر و اشاعت مسلمانوں كى ھم اہنگى كو متاثر كرتى ہے يہ سوال كھڑا ہو جاتا كہ اج جبكہ بہت سے مجاہدين اور مصلحين كى مسلسل مساعى سے خدا وند عالم نے مختلف گروہ ميں بٹے ہوئے مسلمانوں كى ارزو ں اور ميلا نات كو ايك دوسرے سے قريب كر ديا ہے ،ان ميں برادرى كے اسباب فراہم كر دئے ہيں كيا ايسى حالت ميں مناسب ہے كہ اسقدر طويل زمانے كے بيتے دور كے بارے ميں لكھا جائے كہ صرف يہى نہيں كہ باہمى ترديد و اعتراض كى ہو ا بن جائے بلكہ سوئے ہوئے جذبات بھڑك اٹھيں اور اپس ميں نفرت و عناد پيدا ہو جائے؟

ليكن اسى سوال كے مقابل ميں مسئلہ بھى سامنے اجاتا ہے كہ جسے اسانى سے نظر انداز نہيں كيا جاسكتا _

اگر خير انديش اصلاح پسندوں كى كوشش بيكار كرنے كا نام ديكر ايسى بحث و تحقيق پسنديدہ نہ سمجھى جائے تو اس صورت ميں تمام لو گوں پر علمى تحقيقات كے دروازے بند ہو جائيں گے اور يہ دانش و معرفت پر ايسا ظلم ہو گا جو معاف كرنے كے قابل نہيں ،كيونكہ اس نتيجے مين اسلامى حقائق پر گذرتے عہدوں اور زمانوں پر جمود فكر ى اور تعصب كى جمى دھول سے مختلف فرقوں ميں اختلاف و تفرقہ زيادہ پيدا ہو گا ،اور يہ مسلم ہے كہ كوئي بھى اصلاح پسند اورہم اہنگى كار سيا اس كى تائيد و تصديق نہ كرے گا _

اس سبب سے ہم پورے دلى خلوص كے ساتھ مسلمان بھائيوں كے درميان سے اصلاح پسند وں كى اواز كا جواب ديتے ہوئے خدا سے دعا كرتے ہيں كہ تفرقہ و اختلاف جڑ سے ختم كرنے كى توفيق عطا ہو _

ہم دانش و معرفت كے مرتبہ كى نسبت سے احترام خاص كے قائل ہيں اس كا معا ملہ دوسرے معا ملوں سے الگ سمجھتے ہيں _


كيونكہ جن لوگوں نے مسلمانوں ميں اتحاد و يكجہتى كى مسلسل كوشش كى بنياد ركھى ہے مقدس اسلام كے پر چم تلے يكجہتى كى اواز بلند كر رہے ہيں حالانكہ خود اسلام بين الاقوامى سياست كا انگيزہ نہيں ہے بلكہ وہ ايمان و عقيد ہ سے عبارت ہے بلكہ وہ واقعات كا ايسا تسلسل ہے جو بحث و تحقيق اور بھر پور علمى تنقيد سے پيدا ہونے والى چيز ہے ،ان حقائق كو مختلف بہانوں اور عنوانوں سے چھپانے سے ايمان و عقيدہ پر استوار وحدت وجود پزير نہيں ہو سكتى ،اور اسلام كى صحيح و مستقيم راہ گمراھى و ضلالت كے كنويں سے برا مد نہيں ہو سكتى _

خدا وند عالم سے دعا كرتا ہوں كہ متوا زن اور سيدھى راہ پر گامزن ہونے كى توفيق كرامت فرمائے كہ وہى سب كو سيدھى راہ دكھانے والا ہے _

عميق اسلامى يكجہتي،

تيسرى مشكل دل كى گہرائيوں سے نكلى ہوئي اواز ہے جسكا اصلى محرك ايمان ہے ،اس بات كا ايمان كہ اسلامى معاشرے ميں صرف اسلام كى حكومت ہونى چاہئے اور اسى بنياد پر ھمارى يكجہتى واستوار ہونا چاہيے اس بنا پرہم سب لوگوں كى تمام تر كوششيں اس بات كيلئے ہونى چاہئے كہ اسلام زندہ ہو اور اسى ذھن ميں رہنا چايئے ،اسى راہ سے اپنے كو مصروف ركھنا چاہيئے ،

اے راہ حق كے مجاہدو خدا اپ حضرات كو توفيق عطا كرے كيا اپ مسلمانوں كو اسلام كى طرف واپسى و خود سپردگى اور اسلامى قوانين كے نفاذ كى دعوت نہيں دے رہے ہيں ؟ كيا اس كى تاريخ كا تجزيہ و تحليل اور حقيقى احاديث رسول اور حديث بيان كرنے والوں كے حال و مال كے تجزيے و مطالع كے سوا بھى كوئي راستہ ہے ؟ تاكہ اسى كے واسطے سے اايات قران كى شان نزول معلوم كريں اور اسى روشنى ميں احكام اسلام حاصل كر كے اسكى پيروى كريں اور دوسروں كو بھى عمل كرنے كى دعوت ديں اور چونكہ اسلامى احكام پر عمل ناگزير ہے اس لئے لا محالہ اس كا علم حاصل كرنا ھمارے لئے لازم ہے اور يہ بات مسلّم ہے كہ بغير علم حاصل كئے عمل انجام پذير نہيں ہو سكتا_ پورے وثوق كے ساتھ كہا جا سكتا ہے كہ اسلامى يك جہتى اور معاشرے كو اسلام كى طرف واپس لانے كيلئے مستقل سعى ميں اور تاريخ كى بحث و تحقيق نيز احاديث رسول كى چھان پٹك كے درميان كوئي تضاد نہيں ہے بلكہ يہ اسلامى يك جہتى كيلئے اسكى حيثيت بنياد كى ہے ايك دوسرے كى متمم ہے كونكہ مسلمانوںكو اسلام كى طرف واپس لانا اسى وقت ممكن ہے جب باھم فكرى يك جہتى پيدا ہو ايات قرانى اور احاديث رسول و تاريخ اسلام كو اچھى طرح سمجھا جائے _


اسى طرح جب تك اسلامى معاشرے ميں ايمان واپس نہيں لايا جائيگا اس وقت تك مسلمانوں كے درميان دوستى و برادرى قائم نہيں ہو گى ،كيونكہ اگر اس كے سوا كچھ ہے تو مسلمان كى ھم اہنگى كى بنياد كا پرچم ہے ؟

اور كون سى چيز ہے جو انہيں ايك دل اور ايك جہت عطا كرے گى ، اس طرح بھائي چارگى اسى و قت قائم ہو سكتى ہے

جبكہ مسلمانوں كو ايك دوسرے كى حقيقت حاصل كرنے اور حقيقت كى پيروى كرنے كيلئے مسلمانوں كو ايك دوسرے كى رائيں سجھنے اور صحيح تنقيد عطا كى جائے ،تاكہ خدا كے ارشاد قرانى (ميرے بندے وہ ہيں جو ميرى بات سنتے ہيں اور سب سے بہتر كى پيروى كرتے ہيں(۲) صادق اسكے_ يہى ہمارى اواز ہے_

خداوندعالم كى بارگاہ ميں دعاہے كہ ھميں اور تمام مسلمان بھائيوں كو اسى عظيم ارشاد كى پيروى كى توفيق عنايت كرے_

يہاں تك جتنے اعتراضات گنائے گئے يہ مسلمانوں سے مخصوص تھے _

بزرگوں كى پرستش

تمام قوموں اور ملتوں كى تاريخ كى طرح ان متذكر ہ باتوں كے انداز پر تاريخ اسلام ميں بھى تين بڑى ركاوٹ اور مشكل برابر موجود رہى ،جو اكثر حقائق كے متلاشى اور تاريخ نگارشوں كے سد راہ رہى اور لوگوں كو علم و حقيقت كى پيروى سے روكتى رہي،

انكى اولين اور اھم ترين ركاوٹ پاك بزرگوں كے احترام كى عادت اس حد تك كہ جسے پرستش كہا جاسكتاہے ، كسى بھى بشر كى ابتدائے تاريخ سے عادت رہى كہ اپنے اسلاف كى حد سے زيادہ تعظيم كرتے ، بت پرستى يہيں سے پيدا ہوئي ہے ، چنانچہ _نسر، يغوث،يعوق، ود، سواع(۳) ماضى ميں نيك اور صالح تھے ان كے زمانے كے لوگ ان كا احترام كرتے تھے ،مرنے كے بعد ان كا احترام اتنا بڑھا كہ ان كى پوجا كى جانے لگي_

مزہ يہ ہے كہ ھم اپنے صالح اسلاف كو ان كى زندگى كے زمانے ميں ديكھتے ہيں كہ ان پر اس قدر تنقيد و ترديد كى جاتى ہے كہ ايك دوسرے كو قتل كا فتوى تك ديديتے ہيں ، ان كو ان كے عزيزوں اور ماننے والوں كا خون بہانا بھى جائز جانتے ہيں ، ليكن ان كے مرنے كے چند سال بعد اج كى نسل ميںان كى تعظيم و تكريم اتنى بڑھ گئي ہے كہ اب ان كى رفتار و گفتار پر تنقيد و تجزيہ بھى جائز نہيں سمجھتے نہ اجازت ديتے اور اس رہگذر پر دانش و نظر ميں اپنے اور دوسروں كو سناٹا كر ديا ہے _

____________________

۲_سورہ زمر ۱۸

۳_يہ پانچ بت قريش كے تھے جن كا ذكر قران ميں ہے تفسير در منثور سورئہ نوح اية ۲۴ اور تمام تفاسير ديكھى جاسكتى ہے _


اندھا تعصب

دوسرى تعصب كى ركاوٹ ہے يہ ايسى ركاوٹ ہے كہ اس پر برتى ہے اور خود يہ ركاوٹ ايسى ہے كہ ادمى كو جہالت و بے خبرى و نادانى كے اندھيرے ميں ڈال ديتى ہے ،يہ ايسى قربانگاہ ہے كہ طول تاريخ بشريت ميں ہر ملك اور ہر عہد ميں جہاں ديكھئے بے شمار قربانياں بكھرى پڑى ہيں _

رے كا شھر ساتويں صدى ھجرى كے اوائل ميں تعصب مذہبى كى وجہ سے دو بار ويرانے ميں بدلا،(۴) پہلے تو حنفيوں اور شافعيوں نے شيعوں كے خلاف ھنگامہ ارائي كى ، ان كا بے رحمانہ قتل عام كيا ، پہر شافعيوں نے حنفيوں پر دھاوا بولا اور انہيں تلوار كى باڑھ پر ركھ ليا ، نتيجے ميں گھر ويران ہوئے ، شھر ويرانے ميں بدل گيا ، يہ قربانگاہ بے جا تعصب كے اثر كى معمولى سى جھلكى ہے ، حالا نكہ ايسى ھزاروں قربانياں تاريخ ميں بھرى پڑى ہيں جو مذموم تعصب كى وجہ سے واقع ہوئيں ،ان مضحكہ خيز قربانيوں كى نشاندہى كى جا سكتى ہے_

عوام فريب لوگ

تيسرى ركاوٹ تو سب سے زيادہ نفرت انگيز ہے، وہ راسخ اعمال ہيں جو ارباب اقتدار و طاقت نے مختلف عہد تاريخ ميں اس كى نمائشےكى ہے

يہ لوگ تھے جو بندوق كى نوك اور اپنے اثر سے جو چاہتے كر ڈالتے تھے ، جيسا كہ مقتدر شخصيات نے عوام فريبى كا جال بچھاتے ہوئے بحث و تحقيق كى باگ روك لى اور سن۶۵۵ھ ميں با قاعدہ طريقے سے اجتہاد كا دروازہ قوم كے فقہاپر بند كر ديا(۵)

نہ معلوم اب جبكہ اٹھ صدى بعد باب اجتہاد كھلنے كے مقدمات فراہم ہوئے ہيں اس راہ ميں كس حد تك انہوں نے ترقى كى ہے ، كيا اب بھى وقت نہيں ايا ہے كہ مسلمانوں كو بحث و تحقيق كى اجازت دى جائے ؟ اب تو پھانسى كى سزا صرف تقليد سلف ميں منحصر ہو كر رہ گئي ، كسى دوسرے معاملے ميں گردن نہيں مارى جاتي_

____________________

۴_ياقوت،لغت (ري) ۴_۵۵ ۳

۵_بيپرس بند قدادى نے ۶۶۵ھ ميں با قاعدہ مصر كے اندر باب اجتہاد بند كيا خطط مقريزى ص۱۶۱ ديكھى جا سكتى ہے كسقدر ہے كہ خود مصر ميں صديوں بند ركھنے كے بعد خود ہى كھولا ہے_


نہيں____ ايسا ھرگز نہيں ہو گا ، كيونكہ اصلاح پسندوں كى مسلسل كوششوں سے عكس دانش سے چہرئہ حقيقت اسقدر صاف نظر انے لگا ہے كہ جس كا انكار نہيں كيا جاسكتا ، بہت جلد ايسا وقت ارہا ہے كہ اس وقت كے لوگ بحث و تحقيق كى اجازت نہ ہونے سے جو زحمت اٹھانى پڑ رہى ہے اس پر ہنسيں گے ، جس طرح اج ھم تعصب بے جا كے مظاھرے كى وجہ سے شہر رے پر ہنس رہے ہيں _

ان متذكرہ ركاوٹوں كو جانے ديجئے ہم نے اصولى طور سے عادت بنالى ہے كہ جب بھى كسى كى تعريف و ستائشے سنتے ہيں اس كے عيوب سننے كے روا دار نہيں ہوئے نہ تنقيد برداشت كرتے ہيں ،اور اگر اس كى عيب گيرى پر امادہ ہوتے ہيں تو پھر تعريف نہيں سنتے_

ليكن ميں نے ام المومنين عائشه كے بارے ميں جو كچھ احاديث و تاريخ سے حاصل كيا ہے ،انھيں پيش كر رہا ہوں چاہے يہ تعارف ان كے حق ميں عيب جوئي تعارف كے بطور يا تنقيد ہو يا تعريف و ستائشے ہو _

اگر كوئي شخص اس پر مطمئن نہ ہو اور متذكرہ مشكلات پر قابو نہ پا سكتا ہو ،كيونكہ يہ ركاوٹيں قلمكار اور قارى كے درميان مشترك ہيں ، تو كتاب كو اس كے حوالے كر دے جو ان ركاوٹوں پر قابو پا سكتا ہو جى ہاں _ جو شخص ام المومنين عائشه كو تاريخ و حديث كے درميان سے پہچاننے كا خواہشمند ہے اسے احاديث مين تحقيق كا ميدان ممكن بن گيا ہے وہ تحليل و تجزيہ كر سكتا ہے ، صدر اسلام كى خاتون كے ادوار اس كے سامنے ہيں اور حقيقت كى پيروى كرنا نا شائستہ تر ہے ، اور سيدھى راہ چلنے والوں پر صلوات_

سيد مرتضى عسكرى ، بغداد، دانشكدئہ اصول الدين


(فصل اول)

ازواج رسول (ص)

زينب بنت جحش

رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ازدواج كے يہاں تك جتنے واقعات بيان كئے گئے ان ميں زيادہ تر كى حكمت واضح ہے ليكن زينب سے ازدواج كى حكمت دوسرى ہى ہے اس حكمت كو بيان كرنے كے لئے ايك مقدمے كى ضرورت ہے ، وہ يہ كہ جہاں تك ميرى واقفيت ہے دنيا كے اصلاح پسند اپنے معاشرتى اصلاح كے منصوبے نافذ كرنے كے لئے دوسروں سے پہلے خود ہى اس پر عمل كرتے ہيں _

اپنا اصلاحى اقدام خود اور اپنے خاندان والوں سے شروع كرتے ہيں اس سلسلے ميں ہر طرح كى فدا كارى جو مقصد كيلئے ضرورى ہے ، اٹھا ئيں ركھتے ، اس كے بعد وہ اپنے قريبى لوگوں ، رشتہ داروں اور بعد ميں دوسرے افراد بشر كو اس پر عمل كرنے كى دعوت ديتے ہيں _

پيغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم يكتا مصلح عالم بشريت تھے ، وہ بھى اس قانون سے مستثنى نہيں تھے ، انھوں نے معاشرے كى اصلاح اور جاہليت كے نا پسند يدہ عادات و رسوم كو ختم كرنے كيلئے ، بحكم خدا پہلے اپنوں ہى سے تبليغ شروع كى ، اسى بنياد پر انہوں نے حجةالوداع كے موقع پر فرمايا تھا ، سب سے پہلا سود جسے ميں كالعدم قرار ديتا ہوں ،وہ ميرے چچا عباس كا سود ہے _(۶)

ہر خون جو جاہليت كے زمانے ميں بہايا گيا وہ باطل ہے اور سب سے پہلا خون جسے ميں باطل كر رہا ہوں وہ ربيعہ كے فرزند كا ہے اور يہ خاندان عبد المطلب كى فرد ہے _(۷)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى سيرت ميں اس مفہوم كے تاريخى شواہد بہت زيادہ ہيں زينب بنت جحش كے ازدواج كا واقعہ اسى قسم كا ايك نمونہ ہے ، جسے رسول خدا نے جہالت و نادانى كى بنياد پر استوار اس رسم جاہليت كو ختم كرنے كيلئے انجام ديا ، اس ازدواج سے رسول خدا كے دو بنيادى مقاصد تھے _

____________________

۶_رسول خدا كے چچا عباس زمانہء جاہليت ميں مشھور سود خوار تھے

۷_ خاندان عبد المطلب كى فرد ربيعہ كا شير خوار فرزند قبيلہ بنى ليث ميں تھا جسے قبيلہ ھذيل كے افراد نے غلطى سے قتل كر ديا تھا ، بنى ہاشم اس تاريخ تك جبكہ رسول نے يہ اعلان فرمايا اس شير خوار كے اس قبيلے كے لوگوں سے قصاص كے خواہاں تھے


۱_ طبقاتى نا برابرى ختم كرنا

۲_ منھ بولے بيٹے كے بارے ميں احكام توڑنا(۸)

زيد بن حارثہ رسول خدا كے منھ بولے بيٹے تھے ، بچپن ميں كچھ عربوں كے ہجوم ميں پھنس كر اغوا كر لئے گئے ، پھر وہ مكہ ميں بيچنے كيلئے لائے گئے جس وقت زيد بيچے جا رہے تھے وہاں رسول خدا موجود تھے ، اپ نے انھيں پسند كر كے اپنى زوجہ خديجہ كے لئے خريد ليا ، زيد كو خديجہ نے رسول خدا ہى كو بخش ديا _

زيدكے ماں باپ اپنے جگر گوشے كے غائب ہونے سے سخت غم و اندوہ ميں مبتلا ہوئے ، ان لوگوں كو زيد كى كچھ خبر نہيں تھى ، ايك دن اچانك ٹكرائو ہو گيا اور زيد كے افراد قبيلہ كى نظر زيد پر پڑ گئي ، دونوں نے ايك دوسرے كو پہچان ليا ، زيد نے ان لوگوں كے ذريعہ كچھ اشعار لكھ كر اپنے ماں باپ كے پاس يہ پيغام بھيجا _

اپ لوگ ميرے بارے ميں رنجيدہ نہ ہوں ميں عرب كے سب سے شريف قبيلے ميں زندگى بسر كر رہا ہوں ، يہاں مجھے تمام قسم كى اسائشے ميّسرہے _

زيد كے باپ اور چچا كو جب زيد كے حال و مقام كى اطلاع ہوئي تو بھارى رقم ليكر مكے كى طرف چلے ، اس اميد پر كہ زيد كو خريد ليں گے ، جب يہ لوگ رسول خدا كى خدمت ميں ائے تو اپنے انے كا مقصد بيان كيا _

انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا : اگر زيد مجھ سے جدا ہونا چاہيں تو مجھے كوئي اعتراض نہيں پھر اپ نے زيد كو بلايا ، جب زيد ائے تو اپنے باپ اور چچا كو پہچان ليا اور تصديق كى كہ يہى ميرے باپ اور چچا ہيں ، اس وقت رسول خدا نے زيد سے ان كے باپ اور چچا كے انے كا مقصد بيان كيا اور فرمايا كہ تم ازاد ہو چاہے ميرے ساتھ رہو يا اپنے باپ كے ساتھ جائو ، زيد نے جواب ديا ميں ہرگز كسى شخص كو بھى اپ كے اوپر ترجيح نہيں دوں گا _

____________________

۸_ رسم جاہليت تھى كہ كوئي شخص اگر كسى كو اپنا بيٹا كہہ ديتا اور وہ لڑكا بھى اس پر راضى ہوتا تو اسے تمام لوگ اسى كا بيٹا كہتے اور صلبى فرزند كے تمام احكام اسكے لئے ثابت رہتے


زيد كے باپ نے زيد كا جواب سن كر كہا :

بيٹا تم باپ كے سامنے غلامى كو ازادى پر ترجيح دے رہے ہو _

زيد نے جواب ديا ، جى ہاں ، اس عظيم شخصيت كے مقابلے ميں اور رسول خدا كى طرف اشارہ كيا ، اس وقت رسول خدا نے زيد كا ہا تھ تھاما اور حجر اسماعيل كے پاس اكر بلند اواز سے فرمايا :

اے موجود لوگو گواہ رہو ، زيد ميرا بيٹا ہے ، وہ ميرا وارث ہوگا ميں اسكا وارث ہوں گا (يا من حضراشهد واان زيدا ابنى يرثنى وارثه )

يہ ديكھ كر زيد كے باپ اور چچا خوشى سے پھولے نہيں سمائے ، اور وہ واپس ہو گئے ، اس تاريخ سے زيد جو ازاد كردئہ رسول خدا تھے تمام لوگ انھيں زيد بن محمد كہنے لگے _

زينب بنت جحش رسول خدا كى پھوپھى زاد بہن تھى انحضرت ہى انكى كفالت فرماتے تھے ، ان سے شادى كے بہت سے لوگوں نے پيغامات دئے تھے انھوں نے يہ معاملہ رسول خدا كے حوالے كر ديا تھا ، ا نحضرت نے ان سے فرمايا كہ تم زيد سے شادى كرو _

زينب نے يہ سنا تو بھڑك اٹھيں ، كہنے لگيں ، ميں اپ كى پھوپھى زاد بہن ہوں ، اور اپ مجھے اپنے ازاد كردہ شخص كے حوالے كر رہے ہيں ؟زينب كے بھائي بہن بھى طبقاتى اختلاف كى وجہ سے اس بات پر راضى نہيں تھے ، اسى وقت خدا كى طرف سے يہ حكم نازل ہوا _

كسى مومن مرد يا عورت كو يہ اختيار نہيں كہ جب خدا ورسول كسى امر كے بارے ميں فيصلہ كر ديں تو وہ بھى اپنے امركے بارے ميں صاحب اختيار ہو جائے اور جو بھى خدا و رسول كى نافرمانى كرے گا وہ بڑى كھلى ہوئي گمراہى ميں مبتلا ہو گا

اس آيت نے تينوں كے بارے ميں اعلان كر ديا كہ وہ خاموشى سے رسول كے فيصلے كو مان ليں ، زينب نے زيد سے اپنى شادى كى امادگى ظاہر كر دى ، رسول خدا نے اپنے اسى مقصد كے ماتحت جسميں طبقاتى نا برابرى اور اشراف گيرى كا زعم ختم كرنا تھا زينب كى زيد سے شادى كر دى


زيد كے گھر زينب چلى گئيں ، وہيں ايك دوسرى عورت ام ايمن جو ازاد كردئہ رسول خدا تھيں اور ان كے فرزند كے ساتھ رہنے لگيں ، مانى بات ہے كہ يہ طرز زندگى زينب كو رنجيدہ كرنے والى تھى ، اسى وجہ سے زيد كے ساتھ بد سلوكى ہونے لگى _

بات يہاں تك بڑھى كہ زيد نے رسول خدا سے شكايت كى اور اجازت مانگى كہ زينب كو طلاق ديديں ، ليكن رسول خدا نے فرمايا :

امسك عليك زوجك و اتق اللہ ، خدا سے ڈرو ، اور اپنى زوجہ كو طلاق مت دو ، ليكن زينب كى بد سلوكى نے زيد كو اسقدر پريشان كيا كہ انكے اصرار كى وجہ سے رسول خدا بھى زينب كو طلاق دينے پر رضا مند ہو گئے اور زيد نے زينب كو طلاق ديدى _

جب زينب كے عدہء طلاق كى مدت ختم ہوئي تو رسول خدا كو حكم خدا وندى ہوا كہ ايك دوسرى رسم جاہليت ختم كرنے كيلئے ، زينب سے شادى كر ليں تاكہ لوگ عملى حيثيت سے ديكھ ليں كہ منھ بولے بيٹے كيلئے و صلبى فرزند كے احكا م ثابت نہيں ہيں ،اگر كسى كا منھ بولا بيٹا طلاق ديدے تو وہ اس سے شادى كر لے ، اس معاملے كو نافذ كرنا رسول خدا كيلئے بڑا مشكل تھا ، وہ لوگوں كى ياوہ گوئيوں كو ديكھ رہے تھے ، يہاں تك يہ آيت نازل ہوئي جس سے انحضرت كى روحانى حالت اور شديد بے چينى ظاہر ہوتى ہے _

تم لوگوں سے ڈرتے ہو ؟حالا نكہ خدا اسكا زيادہ سزاوار ہے كہ اس سے ڈراجائے ؟جب زيد نے اپنى حاجت پورى كر لى تو ہم نے اس عورت كا عقد تم سے كر ديا تاكہ مومنين كے لئے منھ بولے بيٹوں كى بيويوں سے عقد كرنے ميں كوئي ہرج نہ رہے(۱)

اس واضح آيت كے بعد رسول خدا نے زينب سے شادى كر لي ان تمام باتوں سے معلوم ہو گيا كہ رسول خدا كى زيادہ تر شاديوں كى حكمت و مصلحت يہ تھى كہ معاشرے ميں احكام الہى كا نفاذ ہو اور جاہليت كے زمانے سے چلى رہى ناپسنديدہ رسموں كو ختم كيا جائے اسميں اپ كى خواہش نفس اور جنسى شھوت ذرا بھى دخل نہ تھا _

وہ خواتين جنھوں نے بے مھر اپنے كو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كيلئے پيش كيا

كچھ دوسرى عورتيں بھى تھيں جنھوں نے بغير مھر اپنے كو رسول خدا كى خدمت ميں پيش كيا ، اس پيشكش كو قران نے لفظ (وھبت)سے تعبير كيا ہے اسكى غرض يہ تھى كچھ عورتوں نے خود ہى اپنے كو بغير مہر كے پيش كيا تھا كہ اپ انھيں اپنے حيالہء عقد ميں لے ليں ، سيرت و تاريخ كى كتابوں ميں ان چند عورتوں كا نام ملتا ہے ، ان ميں ايك خولہ بنت حكيم بھى تھيں _

____________________

۱_ حيلہ ابو نعيم جلد ۲/۵۳ حالات زينب و تفسير ايہ كيلئے مجمع البيان ملاحظہ ہو


خولہ بنت حكيم ہلاليہ

خولہ ان خواتين ميں تھيں جنھوں نے اپنے كو پيغمبر كے لئے ہبہ كيا ، رسول خدا نے جواب ميں ٹال مٹول دكھائي ، وہ پيغمبر كے گھر ميں خدمت كرتى تھيں ، يہاں تك اپ نے ان كا نكاح عثمان بن مظنون سے كر ديا وہ عثمان كى وفات تك انھيں كے گھر رہيں(۱) _

دوسرى خواتين

سہل ساعدى كى روايت ہے كہ ايك عورت خدمت رسول ميں ائي اور اپنے كو اپ كے حوالے كرتے ہوئے پيش كيا ، رسول نے جواب ميں سكوت فرمايا ، وہاں ايك مسلمان موجود تھا ، اس نے عرض كى ، يا رسول اللہ ، اگر اپ كو اس عورت كى حاجت نہيں ہے تو اسكى شادى ميرے ساتھ كر ديجئے ، انحضرت نے فرمايا اس عورت كو كيا مہر دو گے ؟

اس نے عرض كى ، يہى لباس جو ميرے بدن پر ہے

انحضرت نے فرمايا : اگر يہ لباس جو پہنے ہوئے ہو اسے ديدوگے تو تم خود برہنہ ہو جائو گے ، كوئي دوسرى چيز دواس نے عرض كى ،اسكے سوا تو ميرے پاس كچھ بھى نہيں

انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا :چاہے ايك لوہے كى انگوٹھى ہى ہو

اس نے عرض كى ، ميرے پاس وہ بھى نہيں

انحضرت نے فرمايا : كيا تمھيں كچھ قران كے سورے ياد ہيں _

اس نے كہا : جى ہاں ،مجھے فلاں فلاں سورے ياد ہيں اس نے كئي سوروں كا نام ليا _

انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا: ميں اس عورت كى شادى تم سے انھيں قرانى سوروں كے بدلے كرتا ہوں جو تمھيں ياد ہيں _

سيرت كى كتابوں ميں دوسرى چند خواتين كے نام بھى ملتے ہيں جنھوں نے اپنے كو رسول كيلئے ہبہ كيا ان ميں ام شريك اور ام ليلى كا نام ہے يہ خواتين خدمت رسول ميں جسطرح پہونچيں ان كى دل خراش داستان كتابوں ميں ملتى ہے ليكن رسول خدا نے ان ميں كسى سے بھى شادى نہيں كى _


رسول كے لئے حكم خصوصي

گذشتہ صفحات ميں ان با ايمان خواتين كے كچھ حالات بيان كئے گئے جو اس وقت مدينے ميں تھيں ، ہم نے يہ بھى ديكھا كہ كسطرح اسلام كى بلند مصلحتوں كے پيش نظر رسول خدا نے مختلف سركش قبايل سے اپنائيت اور ازدواج كا سلوك اپنايا ، اسى كے ساتھ يہ بھى قابل توجہ ہے كہ ہر مسلمان كو چار شادياں كرنے كى اجازت ہے ،ليكن ہم ديكھتے ہيں كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس حكم سے مستثنى ہيں ، يہ استثناء سورہء احزاب كى آيت ۵۰_۵۲ميں اسطرح ہے _

اے پيغمبر ہم نے اپ كے لئے اپ كى بيويوں كو جن كا مہر ديديا ہے اور كنيزوں كو جنھيں خدا نے جنگ كے بغير عطا كر ديا ہے اور اپ كے چچا كى بيٹيوں كو اور اپ كى پھوپھى كى بيٹيوں كو اور اپ كے ماموں كى بيٹيوں كو اور اپ كے خالہ كى بيٹيوں كو جنھوں نے اپ كے ساتھ ہجرت كى ہے اور اس مومنہ كو جو اپنا نفس نبى كو بخش دے ،اگر نبى اس سے نكاح كرنا چاہے تو حلال كر ديا ہے ، يہ صرف اپ كے لئے ہے باقى دوسرے مومنين كے لئے نہيں ہے ، ہميں معلوم ہے كہ ہم نے ان لوگوں پر ان كى بيويوں اور كنيزوں كے بارے ميں كيا فريضہ قرار ديا ہے تاكہ اپ كے لئے كوئي زحمت اور مشقت نہ ہو _

ان ميں سے جسكو اپ چاہيں كر ليں اور جس كو چاہيں اپنى پناہ ميں ركھيں اور جن كو الگ كر ديا ہے ان ميں سے بھى كسى كو چاہيں تو كوئي ہرج نہيں ہے ، يہ سب اسلئے ہے تاكہ ان كى انكھيں ٹھنڈى رہيں اور يہ رنجيدہ نہ ہوں ، اور جو كچھ اپ نے ديديا ہے اس سے خوش رہيں اور اللہ تمھارے دلوں كا حال خوب جانتا ہے ، اور وہ ہر شئے كا جاننے والا اور صاحب حكمت ہے ، اس كے بعد اپ كے لئے دوسرى عورتيں حلال نہيں ہيں اور نہ يہ جائز ہے كہ ان بيويوں كو بدل ليں چاہے دوسرى عورتوں كا حسن كتنا ہى اچھا كيوں نہ لگے ، علاوہ ان عورتوں كے جو اپ كے ہاتھوں كى ملكيت ہيں اور خدا ہر شئے كى نگرانى كرنے والا ہے_

خود يہى حكم خدا تھا جسكى ايات ميں وضاحت كى گئي ، اور نتيجے ميں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے لئے راہيں كھول دى گئيں كہ وہ خود ہى جس بات كى صلاح ديكھيں اقدام فرمائيں،پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھى جيسى مصلحت ديكھى ، اقدام فرمايا يہاں تك اپ كى وفات كے وقت اپ كى ازدواج كى تعداد نو تك پہنچ گئي ، ليكن يہ اس وجہ سے نہيں ہے كہ رسول خدا كے لئے نو عورتوں كى اجازت ہے اور دوسرے تمام مسلمانوں كو چار كى اجازت ہے _


گذشتہ ايات ميں پيغمبر كى حدود ازادى بيان كى گئي اسميں حسن و زيبائي كو الگ كر كے خواتين معين كرنے كا حكم ديا گيا ، يہ مصلحت انديشى كے سوا كوئي دوسرا پہلو نہيں ہے ، شايد اسى دليل سے موجو د خواتين كو چھوڑ كر دوسرى اختيار كرنے كى اجازت نہيں دى گئي ، جبكہ مرد مسلمان كيلئے يہ بات جائز ہے كہ چار عورتوں كو چھوڑ كر دوسرى چار عورتوں سے عقد كرنے كيلئے طلاق كى اجازت ہے _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے اس اختيار سے انسانى ضرورتوں كے انتظام كے لئے اسلام كے بلند مصالح اور معنوى سياسى ہدايت كے لئے عزت دار عورتوں سے استفادہ فرمايا ، ليكن جب فتح مكہ كے بعد اسائشے فراہم ہو گئي تو اسكے بعد رسول خدانے كسى بھى خاتون سے ازدواج نہيں فرمايا ، كيونكہ اس حكم خاص سے استفادہے كى كوئي ضرورت باقى نہيں تھى _

نتيجہ تحقيق

رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حالات ازدواج سے يہ بات روشن ہو جاتى ہے كہ انحضرت نے اپنى پچاس سال كى عمر تك جو انسان كى طبيعى توانائي كا حد كمال ہے صرف ايك خاتون سے شادى كى جو اپ سے پندرہ سال بڑى تھيں اور انھوں نے پينسٹھ سال كى عمر ُ،پائي تھى ، اپ اسى طرح مكہ ميں رہے يہاں تك كہ مدينے ميں ہجرت فرمائي اور بے سہارا مسلمان معاشرے كے انتظامى امور كى سنگين ذمہ دارى اپڑى _

جس زمانے ميں اوارہ وطن مومنوں كا گروہ اپ كى خدمت ميں اتا تھا كبھى انكى تعداد اسّى ہوتى جو مسجد كے صفّہ پر رہتے تھے ، بعض ان ميں شرمگاہ چھپانے بھر كے لباس سے بھى ٹھيك سے نہيں ركھتے تھے ، اسى زمانے ميں ايسى بے سہارا عورتيں بھى ہو گئيں جنكے شوہر جنگوں ميں مارے گئے ، وہ اپنے باپ كے گھروں ميں بھى واپس نہيں جا سكتى تھيں ، كيونكہ وہ ان كو خدا و رسول كا دشمن اور نجس سمجھتى تھيں ، خود وہاں ايسے حادثے معاشرے ميں گذر رہے تھے كہ اساس حيثيت سے عورتوں كا وجود بھارى بوجھ سمجھا جاتا تھا كيونكہ باپ اپنى بچيوں كو فاقے كے ڈر سے زندہ دفن كر ديتے تھے ، رسول خدا سے جنگ كے زمانے ميں بھى اپ كو شكست دينے كيلئے انكى بيٹيوں كو طلاق كى پيشكش كرتے تھے ، اخر كار نوبت يہاں تك پہونچى تھى كہ اگر بيوہ عورتوں كے باپ ہوتے تو اپنے ساتھيوں سے اصرار كرتے تھے كہ شادى كر ليں جيسے عمر كى بيٹى حفصہ كے ساتھ ايسا ہى ہوا _


كيا اس صورتحال ميں حفصہ سے رسول خدا كى شادى ايك بيوہ كى نفسياتى شكست اور عثمان و ابوبكر سے ازردگى ختم كرنے كيلئے نہيں تھى ؟

اسى زمانے ميں دوسرى خواتين جيسے ام سلمہ جو بڑى عمر كى اور صاحب اولاد تھيں اور ان كے شوھر جنگ احد ميں مارے گئے تھے ،شھر غربت ميںكيا كر سكتى تھيں كيا ان كے لئے ايسا ممكن تھا كہ اسى خانوادے ميں واپس جائيں جنكے تشدد سے تنگ اكر انھوں نے حبشہ كى طرف فرار كيا تھا _

يا وہ دوسرى خاتون زينب بنت خزيمہ جنكى رسول خدا سے پہلے دو مرد وں سے شادياں ہوئي تھيں اور دوسرے شوہر جنگ احد ميں شھيد ہوئے تھے ، وہ اپنى زندگى كے دن كيسے كاٹ سكتى تھيں ؟

اسى طرح ابو سفيان كى بيٹى ام حبيبہ جو اپنے خاندان كى سختيوں سے تنگ اكر اپنے شوہر كے ساتھ حبشہ بھاگ گئي تھيں ، وہاں ان كے شوہر كا انتقال ہوگيا انكى بيچارگى كا درمان سوائے اس كے اور كيا تھا كہ رسول كے زير سايہ اجائيں ام حبيبہ اسى ابو سفيان كى بيٹى ہيں جس نے اسلام كا نام و نشان مٹانے اور رسول خدا كو ذليل كرنے كيلئے كوئي پاپ نہيں چھوڑا _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے خلاف جو بھى سركشى كا پرچم بلند ہوا اسكا بانى مبانى ابو سفيان ، اپ نے اسى ابو سفيان كى ابرو كا اسطرح تحفظ فرمايا كہ جسكا گمان بھى نہيں كيا جاسكتا تھا ، ہاں ، اگر قريش نے ابو سفيان كى سر كشى ميں يہ كوشش كى تھى كہ اپ كى بيٹيوں كو طلاق دلا كر انكے گھر واپس كرديا جائے اج وہى پيغمبر ہيں ، اسى ابو سفيان كى بيٹى كو حبشہ سے نكاح نامے كے ساتھ اپنى زوجہ بنا ليا ، انھيں اعزاز و اكرام كے ساتھ مدينہ بلوايا ، يعنى انھيں عرب كے شريف ترين شخص كى خاتون بنا ليا ، رسول خدا خانوادہ ء عبد المطلب سے جو تھے يہى وہ بات تھى كہ ابو سفيان جھومنے لگا ، اور ايسا جملہ زبان سے نكالا جو ہميشہ كيلئے ضرب المثل بن گياذالك الفحل لا يقدع انفه _

يہ وہ مرد ہے كہ اسكى ناك نہيں رگڑى جا سكتى اسكے دماغ پر ہتھوڑا نہيں لگايا جا سكتا ، ايسى كردار كى عظمت كا رد عمل تمام بنى اميہ كے افراد خاندان ميں كيا تھى جو كچھ گذشتہ صفحات ميں نقل كيا گيا اسكى مثال ميرے علم ميں تو نہيں ہے ليكن اس واقع كى نطير جو مجھے معلوم ہے قبيلہ بنى المصطلق كے سردار كى بيٹى كى شادى كا واقعہ ، تفصيلى انداز ميں نظر اتا ہے


قبيلہ بنى المصطلق خزائمہ كى ايك شاخ تھا ، اور مدينے سے پانچ منزل پر رہتا تھا ، اسكا سردار حارث رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جنگ كرنے كيلئے قبائل عرب كو ملا كر ايك بڑا لشكر تيار كر چكا تھا كہ ناگہان رسول خدا نے اچانك ان پر حملہ كر ديا ،

اس وقت دوسرے قبائل جو اسكى كمك ميں ائے تھے سبھى بھاگ گئے ، رسول خدا نے ان سے اسلام قبول كرنے كو كہا ، انھوں نے قبول نہيں كيا ، جنگ بھڑك اٹھى ، حارث كے قبيلے نے شكست كھا كر ہتھيار ڈال دئے ، قيديوں ميں خود حارث كى بيٹى بھى تھى ، جس انصارى نے اسے اسير كيا تھا رسول خدا نے اسكو خريد كر ازاد كر ديا ، پھر اس سے خود ہى عقد كر ليا ، اور اپنى ازواج ميں شامل كر ليا ، حالانكہ اگر چاہتے تو بطور كنيز اس سے ہم بستر ہوتے ، مسلمانوں نے اس ازدواج كے احترام ميں اپنے تمام قيديوں كو ازاد كر ديا ، اس اعلى ظرفى كى خبر حارث كو ملى تو مدينے ايا اور اسلام قبول كر ليا اسكے بعد تمام قبيلے والے مسلمان ہو گئے ، صلح حديبيہ كے زمانے ميں اسكا قبيلہ اور خزائمہ كا قبيلہ جس طرح قريش ہم پيمان ہوئے تھے يہ بھى ہم پيمان ہوئے _

يہيں سے جنگ زدہ عرب كے قبائل كى حكمت پر نظر جاتى ہے ، وہ لوگ جب چاہتے تھے كہ صلح و اشتى قائم ہو تو ظالم قبيلہ مظلوم قبيلے كو اپنى بيٹى ديديتا تھا ، اور اس طرح شادى بياہ كے ذريعے سياسى رابطہ بر قرار ہو جاتا تھا ، واضح بات ہے كہ رسول خدا كى تمام شادياں اس قاعدے سے مستثنى نہيں تھيں ، مثلاً صفيہ سے اپكا نكاح جو خيبر كے يہودى سردار كى بيٹى تھيں يا ريحانہ جو بنى نظير كے يہوديوں ميں سے تھيں اور اسكا شوہر بنو قريظہ كا يہودى تھا _

اس طرح كى شاديوں سے رسول خدا كا مقصد واضح ہوتا ہے كہ اپ سركش قبائل سے رشتہ قائم كرنا چاہتے تھے ، اس حكمت كى وضاحت اس سے بھى ہوتى ہے كہ اپ نے كوئي ايك رشتہ بھى انصار سے قائم نہيں كيا ، كيونكہ انصار كى بيوہ عورتيں خود اپنے گھر اور ٹھكانے ميں تھيں ، اپنے خاندان ميں تھيں ، ان كو كسى سرپرستى يا معاشى تعاون كى ضرورت نہيں تھى ، بلكہ انصار ہى نے مكہ كے مہاجروں كى مالى مدد كى ، انھيں گھر ، لباس اور كھانا ديا ، ان تمام شاديوں سے رسول خدا كى حكمت عملى روشن ہے صرف دو مواقع ہيں جنكے تجزيے كى ضرورت ہے ، پہلى تو عائشه سے اپ كى شادى ، كيونكہ رسول خدا نے ان سے نو سال پورے ہوتے ہى ازدواج فرمايا ،اور خود ہى يہ رواج موجودہ عادات كے مخالف ہے ،اور جو لوگ شھرى زندگى بسر كرتے ہيں ان كے خصوصيات سے ميل نہيں كھاتا _

اس اعتراض كے جواب ميں اول تو ہم يہ كہيں گے كہ اس عہد كے زمانى و مكانى حالت كو اج كے زمانى و مكانى حالت پر قياس كرنا غلط ہے ، ہم يہ بھى كہيں گے كہ خود رسول ہى نے ايسى كم عمر ميں شادى نہيں كى ، بلكہ اپ نے بھى اپنى پيارى بيٹى كا عقد نو سال ہى كى عمر ميں كيا ،اور يہ بات اسلامى قانونى لحاظ سے صحيح ہے دوسرے يہ كہ انسان كى فطرت ہے كہ گرم شہروں ميں جلد بالغ ہو جاتا ہے اور جلد ہى ٹوٹ پھوٹ بھى جاتا ہے ، يہ چيز اج ہندوستان ميں ديكھى


جا سكتى ہے ، وہاں كى اكثر لڑكياں جلد بالغ اور بچے والى ہو جاتى ہيں اور جلد ہى بوڑھى بھى ہوجاتى ہيں ، اسى كے مقابل تبتى كہساروں معاملہ اس كے الٹا ہے ، جيسا كہ كہا جاتا ہے وہاں مردوں كا سن كبھى كبھى دو سو سال تك پہونچ جاتا ہے اور سو سال ميں وہ جوان نظر اتا ہے _

دوسرا واقعہ زينب بنت جحش كے نكاح كا ہے ، جو رسول كے منھ بولے بيٹے اسامہ كى مطلقہ تھيں ، اس ازدواج كى حكمت ميں نے وہيں بيان كى ہے _

ان تمام تجزيوں سے رسول خدا كى متعدد ازواج كى حكمت واضح ہے پھر ان كے بارے ميں يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ اخر كيا بات ہوتى كہ رسول خدا كے خلاف بد گمانى اور غلط فہمى تعدد ازواج كے بارے ميں پيدا ہو گئي ، اس سوال كا جواب يہ ہے كہ جس وقت ہم نے حديث و سيرت كے تجزيے كئے تو ہم نے ديكھا كہ تمام غلط فہمياں صرف اور صرف ان حديثوں سے رسول خدا كے عورت باز ہونے كى نشان دہى ہوتى ہے ، اور خود يہى اہم ترين مسئلہ اس كتاب كے لكھنے كا سبب بنا ہے _

ايندہ فصلوں ميں ہم بعض روايات پر بحث كريں گے _

عائشه رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے گھر ميں

رشك، و غيرت

ہم نے بتايا كہ عائشه نفسياتى اعتبار سے بلند پرواز جاہ طلب ، تند خو اور شوھر كے لئے دل ميں رشك برتنے والى تھيں ، وہ شوہر كے دل ميں دوسرے كو جاگزيں نہيں ديكھ سكتى تھيں _

ان كے شديد غيرت و حسد كا نمونہ اس وقت نظر اتا ہے جب رسول خدا نے وقتى مصلحت كے تحت دوسرى شادى كى _

عائشه كا حسد اس وقت سامنے اتا ہے جب ام سلمہ زينب اور دوسرى خواتين رسول كے گھر ميں ائيں ، اس دور ميں ان لوگوں كا نام درميان ميں اتا ہے اور بے جھجھك اپنے اندرونى احساسات كو بغير كسى پردہ پوشى كے ظاہر كيا ہے ، اور اپنى شديد غيرت كو لچر اور بے بنياد خيالات ميں بيان كيا ہے _ خاص كر ان راتوں ميں جب رسول خدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ا عبادت كے لئے گھر سے نكلتے ہيں ، رسول خدا اندھيرى راتوں ميں جس وقت كے تمام دينا سكون و اطميان سے سو رہى ہوتى


اپنے خدا سے راز و نياز ميں مصروف ہو جاتے ، كچھ رات گذرتى تو خداسے خلوت و عبادت كرتے ، اس قسم كى عبادت كا اقدام اسطرح ہوتا كہ رسول خدا كى ہر رات كسى زوجہ كيلئے مخصوص ہوتى ، يہى وجہ تھى كہ كچھ رات گذرنے كے بعد گھر سے باہر نكلتے جيسے مسجد ميں يا بقيع كے قبرستان ميں جاتے ، اور وہيں عبادت كرتے ، اسى طرح ايك رات جبكہ عائشه كى بارى تھى ، رسول خدا كو انھيں كے گھر رہنا تھا ، جس وقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے كچھ رات گذرنے كے بعد عبادت كے لئے گھر سے قدم نكالا عائشه كى نسوانى رشك و غيرت بھڑك اٹھى ، انھوں نے رسول خدا كا تعاقب كيا ، ان كے پيچھے پيچھے چليں تاكہ يہ ديكھيں كہ رسول خدا كہاں جا رہے ہيں اور كيا كر رہے ہيں ؟

عائشه نے خود ہى مختلف مواقع اور مختلف راتوں ميں اس تعاقب كے نمونے بيان كئے ہيں ، ايئےم انھيں كى زبانى سنيں _

راتوں كا تعاقب

عائشه كہتى ہيں ، ايك رات ميں نے محسوس كيا كہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اپنے بستر پر نہيں ہيں ، ميرے غم و غصے سے بھرے و سوسے اور خيالات نے اس گمان پر مجبوركيا كہ يقينى طور سے كسى دوسرى عورت كے يہاں گئے ہيں ، يہ سوچكر ميں اپنى جگہ سے اٹھى اور انھيں تلاش كرنے لگى كہ ناگاہ انھيں مسجد ميں پايا ، وہ مسجد ميں پڑے فرما رہے تھے _

ربّ اغفرلى (خدا يا مجھے بخش دے )(۲) _

ايك اور جگہ فرماتى ہيں :

ميں نے ايك رات ديكھا كہ پيغمبر اپنے بستر پر نہيں ہيں ميں نے دل ميں سوچا كہ يقينا كسى دوسرى زوجہ كے يہاں گئے ہيں ، كان كھڑے كر كے ادھر ادھر تلاش كرنے لگى ناگہاں ديكھا كہ بارگاہ خدا وندى ميں ركوع كر رہے ہيں(۳)

ان كا يہ بھى بيان ہے كہ ميں نے ايك رات اپ كو اپنے بستر پر نہيں پايا ، انھيں ڈھونڈھنے كيلئے اپنى جگہ سے اٹھى اور

____________________

۲_ مسند احمد ج۶ /ص ۱۴۷

۳_ مسند احمد ج۶ص ۱۵۱


تاريك رات ميں ہر طرف بے اختيار ہاتھ چلانے لگى اچانك ميرا ہاتھ ان كے تلوے پر پڑ گيا ، وہ مسجد كے اندر بارگاہ خدا وندى ميں سجدہ كى حالت ميں فرما رہے تھے(۴) _

اسى طرح وہ فرماتى ہيں :

ايك رات ميرى بارى تھى كہ رسول خدا ميرے گھر رات بسر كريں ، اپ نے عباء دوش سے اتار كر ايك طرف ڈالا ، جوتے ڈھونڈ ھكر بستر كے نزديك پيروں كے پاس ڈالا اسوقت اپنے چادر منھ پر ڈالى اور ليٹ گئے ، دير تك ايسے ہى رہے اس حد تك كہ اندازہ كر ليا كہ ميں سو گئي ہوں پھر اپ اپنى جگہ سے اٹھے دھيرے سے اپنى عبا اٹھائي اسطرح جوتے پہنے كہ اواز نہ ہو ، پھر اپ نے كواڑكھولى اور گھر سے اسطرح نكلے كہ پيروں كى چاپ بھى نہ سنائي دے ، ميں بغير كچھ سونچے اپنى جگہ سے اٹھى ، اپنے كپڑے پہنے ، اوڑھنى سر پر ڈالى اس پر عبا كھينچ كر تيزى كے ساتھ گھر سے نكلى اور ان كا پيچھا كرنے لگى ،ميں نے انھيں بقيع كے قبرستان ميں پايا ، رسول خدا وہاں بيٹھے اور كافى دير ٹھرے رہے پھر ميں نے ديكھا كہ تين بار ہاتھوں كو اسمان كى طرف بلند كيا ،پھر واپس ہوئے ميں بھى واپس ہوئي ،وہ تيز بڑھنے لگے ،ميں بھى تيز چلنے لگى ،وہ اور تيزى سے قدم بڑھائے ميں نے بھى ايسا ہى كيا ، وہ دوڑنے لگے تو ميں بھى دوڑى ، اخر كار ان سے پہلے گھر ميں اگئي اور بس اتنى دير كہ اپنے كپڑے اتار لے اور ليٹ گئي ، اتنے ميں رسول خدا اگئے ، اس وقت ميرى سانس پھول رہى تھى رسول خدا نے فرمايا ، اس طرح تيز سانسيں كيوں لے رہى ہو؟

كچھ نہيں ، اے خدا كے رسول

تم خود كہو گى يا ميرا واقفكار خدا اس راز سے اگاہ كرے گا ؟

ميرے ماں باپ فدا ہوں ، بات اصل ميں ايسى اور ايسى تھي

اچھا تو وہ سياہى جو ميرے اگے اگے تھى وہ تم تھيں ؟

جى ہاں _اسوقت رسول خدا نے ہتھيلى سے ميرى پشت پر اسقدر زور سے مارا كہ درد ہونے لگا _

تو نے ايسا گمان كيا تھا كہ خدا و رسول تيرے اوپر ظلم كريں گے ؟(۵)

____________________

۴_ مسند احمد ج۶ ص۵۸ و ج۶ ص۲۰۱

۵_ مسند احمد ج۶ ص۲۱ ۲


يہ بھى بيان ہے :

ايك رات رسول خدا ميرے پاس سے نكل كھڑے ہوئے ميرى غيرت اور حسد خويش ميں ايا ، غصے ميں بھر گئي ، جب انحضڑت واپس ائے اور ميرا حال ديكھا تو وجہ پوچھى ، اور فرمايا عائشه تجھے كيا ہوگيا ہے پھر بھى تو حسد اور غصہ كرتى ہے _

اخر ميرے جيسى اپ جيسے كى حسد كيوں نہ كرے _

تو پھر اپنے شيطان كے جال ميں پھنس گئي ہے(۶)

يہ بھى بيان ہے :

جب كچھ رات گذر گئي ، رسول خدا اٹھے اور گھر سے نكل گئے ميں نے گمان كيا كہ كسى زوجہ كے گھر گئے ہوں گے _

پھر ميں اٹھى اور دھيرے دھيرے ان كا پيچھا كرنے لگى ، يہاں تك كہ اپ بقيع كے قبرستان ميں گئے ، وہاں اپ بيٹھ گئے ، اور ان مومنوں سے جو ابدى نيند سوئے ہوئے تھے خطاب فرمايا :

اے گروہ مومنين تم پرصلوات

اچانك اپ مڑے تو مجھے اپنا پيچھا كرتے پايا تو فرمايا :

وائے ہو اس پر ، اگر قابو چلے تو كيا كيا كر گذرے(۷)

عائشه اور ديگر ازواج رسول (ص)

مد بھيڑ _سوتاپا

ام المومنين عائشه سے رنگ و صورت سے رشك و حسد اور نسوانى غيرت ، اور بد خلقى ظاہر ہوئي ہے ، جس كے نمونے دوسرى ازواج رسول كے لئے اپے سے باہر ہونے ، برتن توڑنے اور كھانوں كو پھينكنے ، چال ڈھال كے ڈھنگ اور مد بھيڑوں ميں نظر اتے ہيں ، ميں نے ان دونوں باتوں كى الگ الگ طريقے سے بحث و تحقيق كى ہے ، پہلے عائشه كے رد عمل كو پيش كرونگا كہ دوسرى خواتين نے رسول خدا كے لئے كھانا تيار كر كے خدمت ميں حاضر كيا تو عائشه كا رد عمل كيا ہوا ، اسكے بعد دوسرى ازواج رسول سے انكى مد بھيڑوں كو مورد بحث و تحقيق قرار دوں گا _

____________________

۶_مسند احمد ج۶ ص ۱۱۵

۷_ مسند احمد ,ج۶صفحات ۸۶ و ۱۱۱, بروايت قاسم مسند طيالمى حديث ۱۴۲۹


بد حواسياں

فلما رايت الجاريه اخذتنى رعدة حتى استقلنى افكل ، فضربت القصعة فرميت بها

ميں نے جيسے ہى كھانے لئے ہوئي كنيز كو ديكھا تو ميں تھر تھر كانپنے لگى ، پھر تو ميں نے بد حواسى ميں كھانے كا برتن تھاما اور دور پھينك ديا _

اتفاق ايسا ہوا كہ انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عائشه كے گھر ميں تھے ، ايك دوسرى زوجہ نے اپ كے لئے كھانا تيار كر كے بھيجا اس وقت ام المومنين قابو سے باہر ہو گئيں اور شديد رد عمل ميں ايسا غصہ دكھايا كہ اسكے نمونے يہاں پيش كئے جاتے ہيں

عائشه اور ام سلمہ كى غذا

ايك دن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عائشه كے گھر ميں تھے ام سلمہ نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے لئے كھانا تيار كر كے ايك برتن ميں ركھ كر بھيجا ، عائشه كو پہلے يہ ام سلمہ كى ہى يہ خوش خدمتى معلوم ہو گئي تھى وہ خود كو عبا ميں لپيٹے ہوئي تھيں ، ہاتھ ميں پتھر تھا ،اسى پتھر سے كھانے كے برتن كو ايسا مارا كہ برتن ٹوٹ گيا ،رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عائشه كى يہ حركت ديكھى تو اس برتن كے بدلے دوسرا برتن ام سلمہ كے لئے بھيج ديا(۸)

عائشه اور حفصہ كا كھانا

خود ہى عائشه كا بيان ہے:

ميں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كے لئے كھانا تيار كيا تھا ، اتنے ميں مجھے خبر ملى كہ حفصہ نے بھى ايسا ہى كيا ہے ، ميں نے اپنى كنيز كو حكم ديا كہ تيار رہو اگر ديكھنا كہ حفصہ مجھ سے پہلے كھانا لے ائي ہے تو اس سے چھين كر دور پھينك دينا ، كنيز حكم بجا لائي اور ايسا ہى كيا ، نتيجے ميں حفصہ كے كھانے كا برتن ٹوٹ گيا اور جو كچھ برتن ميں تھا چرمى دستر خوان پر بكھر گيا ،رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے بذات خود گرے ہوئے كھانے كو جمع كر كے مجھ سے فرمايا :

اپنا برتن لائو اور حفصہ كے ٹوٹے برتن كے بدلے اسے بھيج دو(۹)

____________________

۸ _ صحيح مسلم باب الغيرة

۹_ مسند احمد ج۶ /۱۱۱،و كنزالعمال ج۴ ,ص۴۴


عائشه اور صفيہ كا كھانا

صفيہ كا تعارف گذشتہ صفحات ميں كيا گيا ، اب ذرا ام المومنين عائشه كے بارے ميں بھى سنئے ، خود عائشه كى زبانى كھانے كا برتن دور پھينكنا اور صفيہ كا برتن ٹوٹنا ملاحظہ فرمايئے عائشه كہتى ہيں :

ايك دن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ميرے گھر ميں تھے ، صفيہ نے كھانا پكا كر انحضرت كى خدمت ميں بھيجا ، جب ميں نے كھانا لئے ہوئے كنيز كو ديكھا تو ميرے جسم مين لرزہ پڑ گيا يہاں تك كہ ميں نے بد حواسى ميں كھانے كا برتن چھين كر دور پھينك ديا ، ميں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كى انكھيں غصے سے لال ديكھيں ان كے تمام وجود سے غم و غصہ جھلك رہا تھا ، ميں نے فوڑاً كہا :

رسول خدا كے غصے سے حضرت كى پناہ چاہتى ہوں ، مجھے اميد ہے كہ نفرين نہ فرمائيں گے ، تو بہ كرو _

اب ميں اس عمل كى تلافى كيسے كروں ؟

ويسا ہى كھانا بھيجو اور ويسا ہى برتن فراہم كر كے بدلے ميں بھيجو(۱۰) _

مد بھيڑيں

تغار على قلب زوجها ، فلا تريد ان تشاركها فيه انثى غيرها

عائشه اپنے شوہر پر بہت حاسد تھيں يہ حداست تھا كہ اپنے سوا دوسرى عورت كے لئے شوہر كے دل ميں ذرا گنجائشے نہيں ديكھ سكتى تھيں اب موقع ہے كہ ديگر ازواج رسول سے ام المومنين عائشه كى تند مد بھيڑوں اور گرما گرم اقدامات كا مطالبہ كيا جائے_

عائشه و صفيہ

عائشه اور صفيہ ايك گھر يلو مد بھيڑ ميں ايك دوسرے كے ساتھ بد كلامى كرنے لگيں طعنہ زنى كے ساتھ مار پيٹ كرنے لگيں _

جب رسول خدا كو ان دونوں كے جھگڑے اور دعوے كى خبر ہوئي تو صفيہ سے فرمايا جو عائشه كى ملامت اور ڈينگو ں سے سخت رنجيدہ تھيں تم نے يہ كيوں نہ كہا كہ ميرے باپ ہارون تھے اور چچا حضرت موسى تھے ؟(۱۱)

____________________

۱۰_ مسند احمد ج ۶ ص ۲۷۷ ،۱۴۴_ نسائي ج۲ ص ۱۵۹، سيرة حلبيہ ۲۸۳ ،۲۸۴

۱۱_ طبقات ابن سعد ج,۸


خود عائشه كا بيان ہے :

ميں نے رسول خدا سے شكايت كرتے ہوئے كہا كہ صفيہ ايسى اور ويسى ہے ، ميں نے اسكى بڑى مذمت كى رسول خدا نے ميرا جواب ديا :

صفيہ كے بارے ميں تم نے ايسى باتيں كہى ہيں كہ اس سے سمندر بھى گندہ ہو جائے(۱۲)

صفيہ كا بيان ہے :

ميں رسول خدا كى خدمت ميں روتى ہوئي پہونچى ،مجھے روتے ہوئے ديكھا تو فرمايا :

جس كى بيٹى كيو ں رورہى ہو؟

ميں نے سنا ہے كہ عائشه و صفيہ بيٹھ كر ميرى برائياں كرتى ہيں(۱۳)

سودہ كے ساتھ

ام المومنين عائشه كا سودہ كے ساتھ دعوى اور تھپڑ بازى كا قصہ يوںپيش ايا كہ ايك دن عائشه نے سودہ كوشعر گنگنا تے ہوئے سن ليا ،عدى و تيم تبتغى من تحالف_

عدى اور تيم (دونوں كے نام ہيں ) اس بات كے در پے ہيں كہ ايك دوسرے كے ساتھ تعاون كے ہم پيمان ہوں _

سودہ سے يہ شعر سن كر ام المومنين لال بھبھوكا سرخ انگارہ ہوگئيں _

عمر كى بيٹى حفصہ سے كہا :

سودہ اپنے شعر سے ميرى اور تمھارى مذمت كر رہى ہے(۱۴) ميں اس بد تميزى كى سزا دونگى جب تم ديكھنا كہ ميں سودہ كا گلا دبا ديا ہے تو ميرى مدد كو اجانا _

پھر وہ اٹھيں اور سودہ كے پاس پہونچى ان كا گريبان پكڑ ليا ، اور ان كے اوپر گھونسے اور لاتيںبرسانے لگيں ، حفصہ بھى ام المومنين كى پشتيبانى ميں كھڑى تھيں ، ام سلمہ نے يہ منظر ديكھا تو سودہ كى مدد كرنے پہونچ گئيں _

____________________

۱۲_ ترمذى بحوالہ زر كشى اجابہ ص۷۳

۱۳_ مستدرك الصحيحين ج۴ ، ص۲۹

۱۴_ جيسا كہ بيان كيا گيا عائشہ قبيلہء تيم سے تھيں اور حفصہ قبيلہء عدى سے يہ دونوں تيم و عدى قبيلے الگ الگ قريش كے قبيلے تھے


اب تو چار عورتيں غصے اور كينہ توزى كا مظاہرہ كر رہى تھيں ، نتيجے ميں گھوسے بازى سے اواز تيز ہوتى گئي ، لوگوں نے رسول خدا كو خبر دى كہ اپ كے ازواج جان لينے دينے پر امادہ ہيں ، انحضرت تشريف لائے اور ان سے خطاب فرمايا :

تم سب پر افسوس ہے اخر تم لوگوں كو كيا ہو گيا ہے ؟

عائشه نے جواب ديا :

خدا كے رسول اپ نے سنا نہيں كہ سودہ يہ شعر پڑھ رہى ہے عدى و تيم تبتغى من تحالف _

وائے ہو تم پر ، اس شعر مين تمھارے قبيلہ تيم كى طرف نہيں ہے نہ حفصہ كے قبيلہ عدى كى طرف اشارہ ہے ، بلكہ يہ تو بنى تيم كے دو قبيلوں كى طرف اشارہ ہے _

بے مہر يہ عورتوں كے ساتھ

عائشه كا بيان ہے:

ايسى عورتوں پر جو بغير مہر لئے اپنے كو رسول خدا كيلئے پيش كرتيں اور اپ كى زوجہ بننے كى خواہشمند ہوتيں ، ميرا خون

جوش مارنے لگتا ، مارے غصے كے ميں ان سے كہتى ، كيا ازاد اور اہميت والى عورت بھى خود كو دوسروں كے لئے بخشتى ہے ؟

خاص طور سے ايسے وقت جبكہ يہ آيت نازل ہوئي ،اپنى ازواج ميں سے جسے چاہو الگ كردو اور جسے چاہو اپنے لئے ركھو ، تمھارے اوپر كوئي گناہ نہيں (سورہ احزاب آيت ۵۰_ ۵۱)

ميں نے رسول خدا كى طرف رخ كر كے كہا ، ميں ديكھ رہى ہوں كہ خدا بھى اپ كى خواہش كے مطابق آيت اتار ديتا ہے(۱۵)

ابن سعد نے اپنى طبقات ميں تفصيلى طور سے خواتين كے بارے ميں جنھوں نے بغير مہر لئے اپنے كو رسول كے لئے پيش كيا ، اور انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى زوجہ بننے كى خواہش كى ان كے بارے ميں قلم فرسائي كى ہے ، خاص طور سے اس خاتون كے لئے جن كے بارے ميں ابھى اشارہ كيا گيا ، اسكا نام شريك اورغزيہ بتايا ہے(۱۶) اسى بات كو ابن حجر نے بھى كتاب اصابہ ميں تفصيل سے لكھا ہے(۱۷)

____________________

۱۵_ صحيح بخارى تفسير سورہ احزاب ميں ج۳ ص۱۱۸_ صحيح مسلم ج۴ ص ۲۷۴

۱۶_ طبقات بن سعدج ۸ص ۱۵۴_۱۵۶

۱۷_ اصابہ ابن حجر ج۴ ص ۳۶۱و ۱۷۴


ليكن بطور كلى علماء نے ان متذكرہ خاتون كے بارے ميں جسكى طرف قران نے اشارہ كيا ہے ، اختلاف كيا ہے ، اور يہ اختلاف اس صورت سے ہے كہ جس خاتون يا جن خواتين نے اپنے كو بے مہر لئے خدمت رسالت ميں پيش كيا اور ام المومنين عائشه كے غم و غصے كا شكار ہوئيں وہ ايك ہيں يا كئي عورتيں ہيں ، اگر چہ آيت صرف ايك عورت كے بارے ميں نازل ہوئي ہے ، افسوسناك بات تو يہ ہے كہ اس خاتون كے نام كى اج تك نشاندہى نہيں ہو سكى _

ليكن اس دليل سے كہ عائشه نے جن خواتين كيلئے غم و غصہ ظاہر كيا اسے جمع كے لفظ سے بيان كيا ہے (كنت انحا ء على اللائي و هبن )

( ميں ان عورتوں پر جو بے مہر لئے )اس سے ثابت ہوتا ہے كہ وہ كئي خواتين تھيں امام احمد نے اپنى مسند ميں اس بات كو جمع كى ضمير كے ساتھ ام المومنين كى طرف نسبت دى ہے _

وہ (عائشه )ان عورتوں كو ملامت كرنے لگيں جنہوں نے اپنے كو بغير مہر لئے رسول كى خدمت ميں پيش كيا(۱۸)

مسلم نے اپنى صحيح ميں ھشام كى روايت نقل كى ہے كہ خولہ بنت حكيم ان عورتوں ميں تھيں جنھوں نے بغير مہر لئے رسول

سے ازدواج كى خواہش ظاہر كى ، اور اپنے كو رسول كے لئے بخشا ، عائشه اس بات پر بہت غصہ ہوئيں اور كہاكيا يہ عورت كيلئے شرمناك نہيں ہے كہ خود كو كسى مرد كيلئے بخشے اور بغير مہر كے ازدواج كى خواہش كرے(۱۹)

مليكہ كے ساتھ

رسول خدا نے فتح مكہ كے بعد مليكہ بنت كعب سے عقد فرمايا ، مليكہ كے باپ كعب فتح مكہ كے موقع پر خالد كے ہاتھوں قتل ہوئے تھے _

كہتے ہيں كہ مليكہ انتہائي حسين و خوبصورت عورت تھى ، گويا اس وصال سے عائشه كا نفرت و عناد بر انگيختہ ہونا بنيادى بات ہو سكتى ہے كيونكہ عائشه اپنى خاص موقع شناسى اور نسوانى تندى احساس لئے ہوئے مليكہ سے مليں اور كہا ، تمھيں شرم نہيں اتى كہ اپنے باپ كے قاتل كو شوہر بنا ليا ہے ؟

____________________

۱۸_ مسند احمد ج۴ ص ۱۳۴ _ صحيح بخارى ج۴ ص ۱۶۲ - ابن ھشام ج۴ ص ۳۲۵ _

۱۹_ صحيح مسلم ج۳ ص ۱۶۳


مليكہ اسانى سے عائشه كى اس سرزنش كا شكار ہوگئيں اور ايسا دھوكہ كھايا كہ رسول خدا سے الگ ہو گئيں ، رسول خدا نے بھى انھيں طلاق ديدى اس كے رشتہ دار رسول خدا كى خدمت ميں حاضر ہوئے اور كہا كہ :

اے خدا كے رسول وہ ابھى نوجوان ہے ، وہ دھوكہ كھا گئي ہے ، اس سے جو رد عمل ظاہر ہوا ہے اس كى اپنى رائے سے نہيں ہوا ہے اسے معاف كر ديجئے اور واپس بلا ليجئے ، ليكن رسول خدا نے اسے قبو ل نہ فرمايا(۲۰)

اسماء كے ساتھ

اسماء بنت لقمان قبيلہ كندہ كى خاتون تھيں ، وہ خاص طور سے عائشه كے رشك و حسد كا شكار ہوئيں ، رسول خدا نے اسماء سے عقد فرمايا عائشه تو اس قسم كى باتوں ميں سخت حساس ہو ہى جاتى تھيں اسكى مسافر ت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے قبضے ميں كر ليا اور طعنہ ديا كہ ،

( اب دوسرى بار اوارہ وطن ہے اور انھيں بھى ہم سے چھين كر اپنے لئے خاص ، ہم سے لے لى )

قبيلہ كندہ كا ايك وفد جسميں اسماء كا باپ لقمان بھى تھا ، رسول خدا كى خدمت ميں ايا رسول خدا نے ان سے اسماء كى خواستگارى كى جب رسول كى ازواج نے اسماء كو ديكھا تو رشك كرنے لگيں اور رسول كى نظر سے گرانے كے لئے مكارى سے بوليں ،اگر خوش قسمت بننا چاہتى ہو تو جسوقت رسول خدا تمھارے پاس ائيں ان سے كہو ،تم سے خدا كى پناہ چاہتى ہوں اسماء اسانى سے دھوكہ كھا گئي ، جيسے ہى رسول خدا نے كمرے ميں قدم ركھا اور اس كى طرف بڑھے ، اسماء نے كہا :

تم سے خدا كى پناہ چاہتى ہوں

جو بھى خدا كى پناہ طلب كرے ، وہ اسكى امان ميں ہے ، اب تم اپنے گھر واپس جائو ، اپ غصے ميں بھرے كمرے سے باہر نكل ائے اسماء كا واقعہ حمزہ بن ابواسيد ساعدى اپنے باپ سے روايت كرتے ہوئے اسطرح نقل كرتے ہيں ، رسول خدا نے قبيلہ جون و كندہ كى اسماء بنت نعمان سے عقد كيا ، مجھے بھيجا كہ اسے جاكر لے ائوں وہ ائي تو عائشه و حفصہ نے سازش كى كہ اسے ايك خضاب كرے اور دوسرى سر ميں كنگھى كرے اسى درميان دونوں ميں سے كسى نے ايك نے اسماء سے كہا :

____________________

۲۰_ طبقات ابن سعد ج۸ ص ۱۴۸_ تاريخ ذھبى ج۱ ص ۳۳۵ _ تاريخ ابن كثيرہ ج۵ ص ۱۹۹ _ اصابہ ج۴ ص ۳۹۲


رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس عورت سے خوش ہوتے ہيں جو كہتى ہے كہ ميں خدا كى پناہ طلب كرتى ہوں ، تم بھى اگر انكى پيارى بننا چاہتى ہو تو ايسا ہى كہو ،رسول خدا اسماء كے پاس ائے تو جيسا اسے پڑھايا گيا تھا اس نے رسول خدا سے كہا ، اپ سے خدا كى پناہ طلب كرتى ہوں ،يہ سنتے ہى رسول خدا نے استين سے اپنا منھ چھپا كر تين بار فرمايا:

تو نے سب سے بڑى پناہ پكڑى ، پھر اپ كمرے سے باہر اگئے اور مجھ سے فرمايا :

ابو اسيد اسكو اسكے خاندان ميں واپس پہونچا دو اور دو روٹى بھر كے تھيلے بطور تحفہ ديدينا اسماء اس اچانك واقعے سے سناٹے ميں تھى ، جو فريب ديا گيا تھا ،اسكى وجہ سے بہت رنجيدہ تھى عمر بھر اس واقع كو ياد كرتى رہى ، وہ كہتى تھى اب مجھے اسماء نہ كہا كرو بلكہ بد بخت كہا كرو اور اسطرح پكا را كرو ادعونى الشقية (ميرے لئے بد بخت كو بلا دو )(۲۱)

اس واقع سے معلوم ہوتا ہے كہ جن خواتين نےام المومنين كے سكھانے پڑھانے سے خدا كى پناہ طلب كى وہ ايك سے زيادہ تھيں _

____________________

۲۱_ ذيل المذيل طبرى ج۱۲ ص۷۹ و مستدرك حاكم ج۷ ص۳۴ _ استيعاب ج۲ ص ۷۰۳ _ اصابہ ج۳ ص ۵۳۰ ۹۵ ميں ہے كہ اسماء تمام عمر خون تھوكتى رہى اسے دق ہو گئي تھى اور وہ مر گئي _


ماريہ كے ساتھ

اسكندريہ كے حكمراں مقوقس ۷ھ اپنے بوڑھے بھائي مابور كے ساتھ ماريہ اور اسكى بہن شيريں كو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كے ايلچى حاطب(۱) بن بلتعہ كے ساتھ انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں ہديہ بھيجا ، انھيں كے ساتھ ہزار مثقال سونا ، بيس ريشمى كپڑے ، مشھور خچر دلدل اور عفير نام كا گدھا روانہ كيا ، حاطب نے راستے ميں ماريہ اور شيريں كو اسلام قبول كرنے كيلئے كہا ان دونوں نے خوشى سے اسلام قبول كر ليا ، ليكن مابور مدينہ پہونچنے تك اپنے دين پر باقى تھا_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ماريہ كو اپنے لئے مخصوص فرماليا اور انھيں محلہ عاليہ(۲) كے ايك گھر جو اج مشربہ ام ابراہيم كے نام سے مشھور ہے ركھا ازاد عورتوں كى طرح انھيں حجاب ميں ركھا اور ان سے ازدواج فرمايا ،ماريہ كو حمل ٹھرا اور اسى گھر ميں لڑكا پيدا ہوا جس وقت ابراہيم پيدا ہوئے انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى كنيز سلمى(۳) نے دايہ كے فرائض انجام دئے ، سلمى كے شوہر ابو رافع نے جب انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو فرزند ابراہيم كے ولادت كى خوشخبرى سنائي تو اپ نے خوشى ميں انھيں انعام ديا _

ابراہيم كى ولادت ۸ھ ميں ہوئي ، انصار كو اس سے بڑى خوشى ہوئي تھى انھوں نے ماريہ كى ضرورت پورى كرنے ميں ايك دوسرے سے بارى لے جانے كى كوشش كى اور بوجھ بٹانے كى ہر ممكن سعى كى ، كيونكہ وہ ماريہ سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كا والہانہ تعلق ديكھ رہے تھے _

اس لئے دوسرى ازواج كو جب ولادت ابراہيم كى خبر معلوم ہوئي تو ماريہ سے ان كا رشك و حسد بڑھ گيا ، وہ جل بھن گئيں ، انھوں نے اعتراض و شكايت كى زبانيں بھى كھول ديں ، ليكن اس طعن و ميں كوئي بھى عائشه سے اگے نہ بڑھ سكا _(۴)

____________________

۱_ حاطب كا نام عمر بن عمير اور كنيت ابو عبد اللہ تھى _ قبيلہ لخم كے تھے رسول نے انہيں ۶ھ ميں مقوقس كے پاس بھيجا _ مقوقس نے ماريہ اور شيريں و ديگر ہدايا كے ساتھ روانہ كيا _ حاطب كى ۳۱ھ ميں مدينہ ميں وفات ہوئي _ عثمان نے انكى نماز جنازہ پڑھائي _ اسد الغابہ _ اصابہ اور استيعاب ديكھئے

۲_ مدينے كے بالائي حصہ كو عاليہ كہتے _ وہاں قبيلہ بنى نظير رہتا تھا

۳_ زوجہء رسول صفيہ كى كنيز سلمى تھيں_ وہ جنگ خيبر ميں موجود تھيں حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ عليھا كى دايہ كے فرائض بھى انجام دئے تھے _ انہوں نے غسل فاطمہ ميں بھى شركت كى تھى

۴_ طبقات بن سعد ج۱ ص ۱۳۴


خود عائشه كا بيان :

مجھے ماريہ سے زيادہ كسى عورت پر رشك و حسد نہيں ہوا ، ماريہ بہت حسين تھى ، اسكے بال گھونگھريالے تھے ، جو ديكھتا ديكھتا ہى رہ جاتا ، اس پر مزيد يہ كہ رسول خدا اس سے بہت محبت كرتے تھے _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے شروع ميں ماريہ كو حارثہ(۵) بن نعمان كے گھر ميں ركھا اور جب ميں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كى اس سے والہانہ محبت ديكھى تو ماريہ كى مخالفت ميں جٹ گئي ، اس قدر ستايا كہ ماريہ نے مجھ سے تنگ اكر رسول سے شكايت كى ، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے بھى اسے عاليہ كے مكان ميں منتقل كر ديا اور وہيں اسكے پاس جاتے ،يہ تو ميرے اوپر اور بھى گراں گذرا خاص طور سے ميرى اتش رنج اور جلن اتنى بڑھى كہ خدا نے اسے لڑكا بھى ديديا ، حالانكہ خدا نے مجھے اولاد سے محروم ركھا وہ يہ بھى كہتى ہيں _

جب ابراہيم پيدا ہوئے ايك دن رسول خدا بچے كو ميرے پاس لائے اور فرمايا :

_ذرا ديكھوتو مجھ سے كس قدر شباھت ركھتا ہے

_ نہيں ، ہرگز ايسا نہيں ، ميں تو كوئي شباہت نہيں ديكھتي

_ كيا تم اسے ميرى طرح گورا نہيں ديكھ رہى ہو ،بالكل ميرے بدن كى طرح ہے_

_ ارے جسے بھى بكرى كا دودھ پلايا جائے گا سفيد اور موٹا ہوہى جائےگا_

عائشه اور حفصہ كى انہيں حركتوں اور سخت جلن كى وجہ سے خدا نے ماريہ كى برائت ميں سورہ تحريم نازل فرمائي موثق روايات كى بناء پر رسول خدا نے حفصہ كے گھر ميں ماريہ سے ہمبسترى فرمائي _ جب حفصہ كو اس كى خبر ہوئي تو بھڑك اٹھيں _لگيں انحضرت سے چلّا چلا كر گلا شكايتيں كرنے ، اس قدر اسمان سر پر اٹھا يا كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حفصہ كى دلجوئي اور خوشنودى كے لئے ماريہ كو اپنے اوپر حرام كر ليا ، ليكن اسى كے ساتھ حفصہ سے كہا كہ يہ بات كسى سے نہ كہنا ، اور اس راز كو كسى دوسرے سے بيان نہ كرنا حفصہ نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى تمام تاكيدوں كو قطعى نظر انداز كر ديا ، اس راز كو عائشه سے بيان كر ڈالا ، وہ بھى ايك تحريك ميں معاون ہو گئيں پھر تو دونوں كى عيارياں اور كج رفتارياں بڑھتى گئيں ، اخر كار ان دونوں كى سرزنش ميں سورہ تحريم نازل ہوئي اور خدا نے اس راز سے پردہ اٹھا يا _(۶)

____________________

۵_ حارثہ قبيلہ بنى نجار سے تھے _ جنگ بدر اور بعد كى دوسرى جنگوں ميں شريك رہے حارثہ كى خلافت معاويہ كى زمانے ميں وفات ہوئي _ اسد الغابہ ج۱ ص ۳۵۸ _ اصابہ ج۱ ص ۱۵۳۲

۶_ طبقات بن سعد ج۸ ص ۱۳۴


سورہ تحريم

خدا كے نام سے جو بخشنے والا اور مہربان ہے

اے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تم كيوں اس چيز كو حرام كرتے ہو جسے خدا نے تمھارے لئے حلال كى ہے ، تم اپنى بيويوں كى خوشى چاہتے ہو ؟اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے _

اللہ نے تم لوگوں كے لئے اپنى قسموں كى پابندى سے نكلنے كا طريقہ مقرر كر ديا ہے ، اللہ تمھارا مولا ہے اور وہى دانا اور حكيم ہے _

اور جس وقت پيغمبر نے اپنى ايك بيوى (حفصہ ) سے راز كى ايك بات كہى تھى ، پھر جب اس بيوى نے اس راز كو (عائشه )پر راز ظاہر كر ديا ، خدا نے اس افشائے راز كو پيغمبر سے باخبر كر ديا (پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھى ) اس پر كسى حد تك جو عائشه اور حفصہ كے درميان گذرى تھى تذكرے كے انداز ميں حفصہ سے بيان كيا اور بعض سے در گزر كيا ، پھر جب پيغمبر نے اس افشائے راز كى بات بتائي تو حفصہ نے پوچھا اپ كو اس كى كس نے خبر دى ؟ پيغمبر نے حفصہ كے جواب ميں فرمايا ، مجھے اس نے خبر دى ہے جو سب كچھ جانتا ہے اور اچھى طرح با خبر ہے

اگر تم دونوں (عائشه و حفصہ )خدا كى طرف واپس اتى ہو اور توبہ كرتى ہو تو تمہارے دل سيدھى راہ سے ہٹ گئے ہيں ، اور اگر پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے مقابلے ميں تم نے باہم جتھہ بندى كى تو جان ركھو كہ اللہ اس كا مولى ہے اور اس كے بعد جبرئيل اور مومنوں ميں مرد صالح ہے ، اور سب ملائكہ اسكے ساتھى اور مددگار ہيں ،بعيد نہيں كہ اگر پيغمبر تم سب بيويوں كو طلاق ديدے تو اللہ اسے ايسى بيوياں تمہارے بدلے ميں عطا فرما دے جو تم سے بہتر ہوں ، سچى مسلمان ، با ايمان ، اطاعت گذار ، توبہ والى ، عبادت گذار اور روزہ دار ہوں خواہ شوہر ديدہ ہوں يا باكرہ _


اے لوگو جو ايمان لائے ہو بچائو اپنے اپ كو اور اپنے اہل و عيال كو اس اگ سے جسكا ايندھن انسان اور پتھر ہوں گے ، جس پر نہايت تند خو اور سخت گير فرشتے مقرر ہوں گے ، جو كبھى اللہ كے حكم كى نافرمانى نہيں كرتے اور جو حكم بھى انھيں ديا جاتا ہے اسے بجالاتے ہيں _

اے كافرو اج معذرتيں پيش نہ كرو تمھيں تو ويسا ہى بدلہ ديا جا رہا ہے جيسے تم عمل كر رہے تھے _

اے لوگو جو ايمان لائے ہو ، اللہ سے توبہ كرو ، خالص توبہ ، اميد ہے كہ اللہ تمہارى برائياں تم سے دور كر دے اور تمھيں ايسى جنتوں ميں داخل فرمادے جن كے نيچے نہر يں بہہ رہى ہوں گى ، يہ وہ دن ہوگا جب اللہ اپنے پيغمبر كو اور ان لوگوں كو جو اس كے ساتھ ايمان لائے ہيں رسوا نہ كرے گا ان كا نور ان كے اگے اگے اور ان كے دائيں جانب دوڑ رہا ہو گا ، اور وہ كہہ رہے ہوں گے كہ اے ہمارے پروردگار ، ہمارا نور ہمارے لئے مكمل كر دے اور ہم سے درگزر فرما ، تو ہر چيز پر قدرت ركھتا ہے _

اے رسول ، كفار اور منافقين سے جہاد كرو اور ان كے ساتھ سختى سے پيش ائو ، ان كا ٹھكانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھكانا ہے _

اللہ كافروں كے معاملے ميں نوح اور لوط كى بيويوں كو بطور مثال پيش كرتا ہے وہ ہمارے دو صالح بندوں كى زوجيت ميں تھيں ، مگر انھوں نے اپنے شوھروں سے خيانت كى اور اللہ كے مقابلے ميں ان كے كچھ بھى نہ كام اسكے ، دونوں سے كہہ ديا گيا كہ جائو اگ ميں جانے والوں كے ساتھ تم بھى چلى جائو اور اہل ايمان كے مقابلے ميں اللہ فرعون كے بيوى كى مثال پيش كرتا ہے جبكہ اس نے دعا كى ،اے ميرے رب ، ميرے لئے اپنے يہاں جنت ميں ايك گھر بنا دے اور مجھے فرعون اور اس كے عمل سے بچالے اور ظالم قوم سے مجھے نجات دے اور عمران كى بيٹى مريم كى مثال ديتا ہے جس نے اپنى عفت كى حفاظت كى پھر ہم نے اس كے اندر اپنى طرف سے روح پھونك دى اور اس نے اپنے رب كے ارشادات اور اسكى كتابوں كى تصديق كى اور وہ اطاعت گزار لوگوں ميں سے تھى _

سورہ تحريم ام المومنين عائشه بنت ابو بكر اور حفصہ بنت عمر بن خطا ب كے بارے ميں نازل ہوئي ہے ، اس سلسلے ميں سيكڑوں حديثيں ابن عباس كے طريق سے اور خود عمر بن خطاب كے طريق سے وار د ہوئي ہيں جن سے اس حقيقت كا پتہ چلتا ہے_(۷)

اور ميں انشاء اللہ بعد كے صفحات ميں جہاں ام المومنين عائشه كى احاديث پر بحث كروں گا ، وہيں تفصيلى تبصرہ كروں گا _

____________________

۷_صحيح بخارى مطبوعہ مصر سال ۳۶_۳۷ جلد ۳/ ص۱۳۷ ،تفسير سورہء تحريم ، كتاب فضائل القران جلد ۳ / ص۱۳۸ ، اور باب موعظہ الرجل جلد ۳/ ص ۱۴۷ ،كتاب المظالم جلد ۴/ ص۴۷ ، صحيح مسلم الرضاع جلد ۱/ ۵۰۹ صحيح ترمذى ج۲ / ۴۰۹ ، مطبوعہ ہندوستان ، صحيح نسائي ج۱/ ص ۳۰۲ ، اسكے علاوہ تفسير طبرى اور در منثور بھى ديكھى جا سكتى ہے


عائشه اور خديجہ كى ياديں

عائشه كا بيان ہے :

ازواج رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ميں خديجہ سے زيادہ مجھے كسى پر بھى رشك و حسد نہيں ہوا ، وجہ يہ تھى كہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا انھيں بہت يا د كرتے تھے ہر وقت تعريف كرتے رہتے ، خصوصيت يہ تھى كہ خدا وند عالم نے اپنے پيغمبر كو وحى كے ذريعے خبر دى تھى كہ خديجہ كے لئے جنت ميں ايك پر شكوہ اور سجا سجايا محل عطا فرمايا ہے _(۸)

يہ بھى بيان ہے كہ_ حالانكہ ميں نے خديجہ كو نہيں ديكھا تھا ، پھر خديجہ سے زيادہ كسى پر بھى رشك و حسد نہيں ہوا ، كيونكہ اكثر ايسا ہوتا كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خديجہ كى اچھائيوں كو ياد كرتے ، انكى تعريف و ستائشے كرتے ، اكثر اپ ايك گوسفند ان كے نام سے قربانى كرتے ،اسكى بوٹياں كركے تقسيم فرما ديتے(۹)

يہ بھى حكايت كرتى ہيں كہ :

ايك دن خديجہ كى بہن ہالہ بنت خويلد نے رسول خدا سے ملاقات كى اجازت مانگى ، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے جيسے ہى ہالہ كى اواز سنى ، خديجہ كى ياد اگئي اپ كى حالت شدت سے متغير ہوگئي اور بے اختيار فرمايا :

ہائے ميرے خدا ، ہالہ

يہ سنكر ميرى تو خديجہ سے جلن بھڑك اٹھى تھى ، فوراً كہا اپ اس بے دانت كى بڑھيا كو كتنا ياد كرتے رہتے ہيں ؟

زمانہ ہوا كہ وہ مر گئي اور خدا نے اس سے بہتر اپ كو عطا فرما ديا(۱۰)

ايك دوسرى روايت ميں يہى بات يوں بيان كى ہے _

ميرے اس اعتراض پر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كو ميں نے ديكھا كہ چہرہ بھڑك اٹھا ، چہرے كى حالت متغير ہو كر ويسى ہو گئي

____________________

۸_ بخارى ج۲ ص۲۷۷

۹_ بخارى ج۲ ص۲۱۰

۱۰_ حضرت خديجہ كے حالات زندگى ، فداكارياں ، امتيازى اور اہم ترين اخلاقى خصوصيات پر مستقل كتاب كى ضرورت ہے _ اپ كے حالات طبقات بن سعد ، استيعاب ، اسد الغابہ اور اصابہ كے علاوہ وہ بہت سى كتابيں ديكھنے كى ضرورت ہے _


جيسى وحى نازل ہوتے وقت ہوتى ، جب اپ اسمانى حكم كے منتظر ہوتے كہ پيغام رحمت نازل ہوتا ہے يا عذاب(۱۱)

ايك دوسرى روايت ميں ہے _

عائشه كہتى ہيں كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا ، نہيں ہرگز خدا وند عالم نے مجھے اسكے بدلے اس سے اچھى عورت نہيں دى ، كيونكہ جسوقت تمام لوگ ميرا انكار كررہے تھے ، وہ مجھ پر ايمان لائيں ، لوگ جب مجھے جھوٹا سمجھ رہے تھے ، خديجہ نے ميرى تصديق كى ، جب لوگوں نے مجھے مالى پريشانيوں ميں ڈالا تو انھوں نے اپنى بے حساب دولت ميں مجھے شريك كيا ، خدا نے دوسرى عورتوں سے مجھے اولاد نہيں دى ،خديجہ سے مجھے اولاد عطا فرمائي(۱۲)

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ہميشہ اپنى اس پہلى رفيقہ حيات كى اچھائيوں كو ياد كرتے ، انكى يادوں اور ياد گاروں كى تجديد فرماتے ، ان كے رشتہ داروں كے ساتھ حسن سلوك فرماتے ، انھيں دوسروں پر مقدم كرتے انكى ياديں تمام زندگى پر محيط رہيں ، يہى وجہ تھى كہ ام المومنين كا سينہ ان كى نفرت و حسد و جلن سے بھر گيا تھا ، اسى وجہ سے جب بھى خديجہ كا نام اتا ، اپ انھيں ياد كرتے تو يہ اعتراض كى زبان كھول ديتيں سب سے بد تر يہ كہ وہ خديجہ كى تعريف سنكر اندوہ سے پاگل ہو جاتيں اپنے كو سرزنش و مذمت كا سزاوار پاتيں ، انھيں باتو ں كى وجہ سے خديجہ كى بيٹى حضرت فاطمہ اور ان كے بچوں سے روابط خراب تھے ، كيونكہ رسول خدا ان سے والہانہ پيار كرتے _

اسى دشمنى اور اندرونى نفرت كے اثرات كا اندازہ مسند احمد بن حنبل كى روايت سے ہوتا ہے جسے نعمان بن بشير نے بيان كيا ہے _

ايك دن ابو بكر نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملاقات كى اجازت چاہى اسى وقت انھوں نے كمرے سے عائشه كى اواز سنى جو چلا رہى تھيں _

خدا كى قسم ، ميں اچھى طرح جانتى ہوں كہ اپ على كو ميرے باپ سے زيادہ چاہتے ہيں

____________________

۱۱_ مسند احمد ج۶ ص ۱۵۰، ۱۵۴

۱۲_ مسند احمد ج۶ ص۱۱۷ ،وسنن ترمذى ص۲۴۷


حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے بارے ميں نفرت و عناد كا ايك گوشہ ايك تقرير ميں بيان فرمايا ، ليكن وہ ...عائشه ، اس نے عورتوں كے مزاج كے مطابق عقل كو طاق پر ركھ ديا ہے ، كينہ و عناد كے شرارت اپنے دل ميں اسطرح بھڑكا لئے ہيں جيسے لوہاروں كى بھٹى دھونكى جاتى ہے ، اگر اس سے كہا جائے كہ جو سلوك ،ميرے ساتھ كرتى ہے دوسرے كے ساتھ بھى كرے تو ہرگز پسند نہ كر يگى نہ مانے گى اخر امير المومنين نے بات اس پر ختم كى _

اسكے باوجود اسكے سابقہ احترامات محفوظ ہيں ، اسكے كرتوتوں كا بدلہ خدا ديگا ، وہ جسے چاہتا ہے بخش ديتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب ديتا ہے _

ابن ابى الحديد كى عبارت

و كانت تكثر الشكوى من عائشه ، و يغشا ها نساء المدينه فينقلن اليها كلمات عن عائشه _

فاطمہ كا دل عائشه كے طعنوں سے بھر اہوا تھا كيونكہ مدينے كى عورتيں اپ كے پاس اتيں اور طعنوں بھرى باتيں عائشه كى پہونچاتى رہتى تھيں ابن ابى الحديد :

حضرت على بن ابى طالبعليه‌السلام كے بيان كينہ ء عائشه كے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے كہ ابن ابى الحديد معتزلى كے بيان و شرح كو بھى بيان كيا جائے كيونكہ يہ بيان غور طلب ہے ، وہ لكھتے ہيں :

ميں جس وقت علم كلام كى تحصيل ميں مشغول تھا ، ميں نے امام كے اس خطبے كو اپنے استاد شيخ ابو يعقوب يوسف بن اسماعيل لمعانى كے سامنے پڑھا ، اور ان سے خواہش ظاہر كى كہ اس كے راز سے مطلع فرمايئے ، شيخ نے ميرى خواہش قبول كى ، انھوں نے جو اس خطبے كى تشريح فرمائي اسكو بطور خلاصہ يہاں نقل كر رہا ہوں ، كيو نكہ انكى پورى بات اس وقت ميرے حافظے ميں نہيں ، پورى تفصيل كو اختصار كے ساتھ پيش كر رہا ہوں _


شيخ ابو يعقوب نے اس طرح كہا :

فاطمہ كى سوتيلى ماں

پہلى بار عائشه و فاطمہ كے درميان كينہ و دشمنى اسطرح شروع ہوئي كہ رسول خدا نے خديجہ كے انتقال كے بعد عائشه سے عقد فرمايا ، خديجہ كى جگہ عائشه كو ملى حالانكہ فاطمہ حضرت خديجہ كى بيٹى تھيں اور يہ بات ظاہر ہے كہ جس بيٹى كى ماں مر جائے اور اسكا باپ دوسرى شادى كرلے تو اس بيٹى سے باپ كى دوسرى زوجہ سے تعلقات ٹھيك نہيں رہتے ، اور يہ بات فطرى اور مسلم ہے ، كيونكہ ہر عورت اپنے شوہر كى پہلى زوجہ كى اولاد سے دشمنى كا برتائو كرتى ہے ، خاص طور سے ايسى حالت ميں كہ جب شوہر كى پہلى زوجہ سے شديد وابستگى كا مظاہرہ ہو

اسى طرح اگر بيٹى باپ كو دوسرى عورت كى طرف توجہ كرے اسكى سوتيلى ماں ہو تو غمگين اور نگراں رہتى ہے ، باوجود يكہ خديجہ دنيا سے گذر چكى تھيں ليكن بہر حال عائشه حضرت فاطمہ كى سوتيلى ماں تھيں ، اگر خديجہ زندہ ہوتيں اور عائشه كے قدم پيغمبر كے گھر ميں ائے ہوتے تو دشمنى اور لڑائي سخت اور شديد ہوتى ، ليكن جبكہ ماں كا انتقال ہو چكا تھا تو يہ دشمنى وراثت ميں فاطمہ كو ملى تھى _

دوسرى طرف ديكھئے كہ كہا جاتا ہے كہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا عائشه سے بہت محبت فرماتے تھے(۱۳) انكى بہت مراعات فرماتے ، يہ بنيادى چيز كہ رسول جس قدر عائشه سے زيادہ محبت فرماتے اسى قدر حضرت فاطمہ كا رنج و اندوہ بڑھتا جاتا ، احساسات مجروح ہوتے رہتے_

فاطمہعليه‌السلام پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى پياري

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اپنى بيٹى فاطمہ كو لوگوں كى توقع سے زيادہ پيار كرتے اور تعظيم فرماتے ، اور عام ادمى جسقدر اپنى بيٹى سے اظہار محبت كرتا ہے اسى سے كہيں زيادہ محبت فرماتے ، يہ پدرانہ شفقت و محبت حد سے زيادہ اور كہيں زيادہ نظر اتى ہے _

____________________

۱۳_ عائشہ سے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى محبت كے سارے افسانے تنہا عائشہ سے مروى ہيں اور ميں انشاء ا اگلے صفحات ميں ان پر تبصرہ كروں گا _


پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا چاہے وہ عام نشست ہو يا خاص ، مختلف موقعوں پر بارہا فرما چكے تھے ، فاطمہ تمام عالمين كى عورتوں كى سردار ہے ، وہ مريم بنت عمران كى مانند ہے(۱۴)

جب فاطمہ عرصہ محشر سے گذرينگى تو عرش كى جانب سے منادى پكارے گا اپنى انكھيں بند كر لو كہ فاطمہ تمھارے درميان سے گذرنے والى ہيں(۱۵)

اس قسم كى تمام احاديث ميں ذرا بھى شك و شبہ نہيں كيا جا سكتا فاطمہ اور على سے شادى بھى خدا وند عالم نے مقرب فرشتوں كو گواہ بنا كر اسمان پر فرمائي تھى(۱۶)

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے اكثر فرمايا كہ جو چيز فاطمہ كو رنج پہونچاتى ہے وہ مجھے رنج پہونچاتى ہے ، جو كچھ اسے غضبناك كرتى ہے مجھے غضبناك كرتى ہے(۱۷)

وہ ميرى پارہ جگر ہے اسكى نگرانى سے ميں رنجيدہ و ملول ہوتا ہوں(۱۸)

اس قسم كى احاديث سے رسول كى زوجہ عائشه كيلئے اس بات كا سبب بنا كہ وہ فاطمہ سے حسد كريں ، جس قدر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اپنى بيٹى فاطمہ كا احترام فرماتے ان كا كينہ و عناد تيز سے تيز تر ہوتا ، حالانكہ ہم جانتے ہيں كہ اس سے بھى كمتر حسن سلوك بھى سوتيلى ماں كے كينہ و عناد كو بڑھاديتا ہے _

ليكن رسول كے اعزاز و اكرام فاطمہ سے جس قدر عائشه كے دل ميں كينہ و عناد تيز ہوتا ، حضرت على كے دل ميں خوشى بڑھتى اور فاطمہ كا احترام ان كے دل ميں زيادہ ہوتا اكثر ايسا ہوتا ہے كہ عورتيں اپنے شوہروں كے دل ميں عداوت و دشمنى پيدا كر ديتى ہيں كيو نكہ مثل مشہور ہے راتوں كى ہمدم (محدثات الليل )

____________________

۱۴_ كنزل العمال ج۶ ص۲۱۹ حديث شمارہ ۳۸۵۳_۳۸۵۴_۳۸۵۵

۱۵_مستدرك ج۳ ص۱۵۳_۱۵۶

۱۶_ مستدرك ج۳ ص۱۵۸ _۱۵۹ وكنز ج۶ص۲۱۸حديث ۳۸۳۴

۱۷_ مصدر سابق

۱۸_ كنزالعمال _ اسد الغابہ _ استيعاب _ حليہ ابو نعيم و خلاصہ تہذيب الكمال


حضرت فاطمہعليه‌السلام عائشه كى بہت شكايت كرتيں اور مدينے كى ہمسايہ عورتيں كبھى كبھى اپ كے پاس اكر عائشه كى باتيں ان سے بيان كرتيں ، پھر حضرت فاطمہعليه‌السلام كا رد عمل عائشه سے بيان كرتيں جس طرح فاطمہ اپنا درد دل اپنے شوہر علىعليه‌السلام سے كہتى تھيں اسى طرح عائشه اپنے باپ سے اسكى شكايت كرتى تھيں كيو نكہ وہ جانتى تھيں كہ شوہر سے شكايت كرنے سے ان كے شوہر نہيں مانيں گے _

عناد كے كئي رخ

يہ معاملہ بجائے خود ابوبكر كے دل ميں نا پسند يدہ اثرات مرتب كرتا تھا ، وہ اس سے رنجيدہ ہوتے تھے ، اور جب وہ ديكھتے تھے كہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا على كى تعريف و ستائشے كا كوئي موقع فرو گذاشت نہيں كرتے انھيں اپنے سے مخصوص قرار ديا ہے ، مقرب بنا ليا ہے تو ان كے دل ميں كينہ و عناد كى اگ بھڑك اٹھتى ، پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے نزديك على كا مرتبہ و مقام ديكھ كر انھيں رشك اتا ، جبكہ وہ اپنے كو سسر ہونے كى حيثيت سے على سے زيادہ اسكا مستحق سمجھتے _

يہ حسد اور نفسياتى كسك عائشه كے چچيرے بھائي طلحہ كے دل ميں بھى تھى عائشه اپنے باپ ابو بكر اور بھائي طلحہ كے پاس جاكر انكى توقعات كو سنتى تھيں ان كے دلى درد پر توجہ كرتيں ، وہ دونوں بھى اظہار ہمدردى كرتے ، اسطرح على و فاطمہ سے كينہ وعداوت كا تبادلہ ہوتا ، ان لوگوں كے دل ميں جس قدر بھى على سے عداوت سخت تر ہونے كى بات ہو ميں اسكى صفائي نہيں دے سكتا ، ادھر علىعليه‌السلام و عائشه كے درميان حيات پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے زمانے ميں ايسے واقعے پيش ائے ، گفتگو كے


تبادلے ہوئے جو ان كے پوسيدہ احساسات اور فتنے ابھارنے كيلئے كافى تھے _

جيسے كہ روايت ہے ، ايك دن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے على سے راز دار انہ بات كى اور يہ رازدارى كافى طويل ہوئي(۱۹) عائشه اس بات كى فكر ميں لگى ہوئي تھيں اپنے كو اچانك ان دونوں كے درميان پہونچا ديا اور كہا كہ اخر كون سى اہم بات ہے كہ اپ دونوں اتنى دير سے گفتگو كر رہے ہيں ، كافى دير لگا دى ؟

بيان كيا جاتا ہے كہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اس ناگہانى امد سے سخت غضبناك ہوئے اسى كے ساتھ يہ بھى روايت كى جاتى ہے كہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كيلئے كھانا بھيجا گيا تھا انھوں نے اپنے نوكر كو حكم ديا كہ انتظار ميں رہے ، جيسے ہى كھانا ائے اسے پھينك دے اس قسم كے معاملات عام طور سے عورت اور شوہر كے گھر والوں كے درميان پيش اتے ہيں _

فرزندان فاطمہ سے رسول كا والہانہ پيار :

فاطمہ كو كئي لڑكے اور لڑكياں ہوئيں ، حالانكہ عائشه اولاد سے محروم رہيں اور عائشه كے بے اولاد ہونے كا بد ترين اور دردناك ترين پہلو يہ تھا كہ رسول خدا نے فرزندان فاطمہ كو اپنى اولاد كہا ،ہميشہ انھيں اپنا فرزند كہكے خطاب فرماتے مثلافرماتے ، ميرے فرزند كو لائو ...ميرے فرزند كو مت روكو ...اور يا ميرے فرزند كے ساتھ كيا كر رہا ہے؟

ان حالات ميں جب اپنے شوہر كو ايك بے اولاد عورت ديكھتى ہے كہ اپنے بيٹى كے فرزندوں كو اپنا فرزند كہہ رہا ہے اور ان كے ساتھ ايك شفيق اور مہربان باپ كى طرح برتائو كر رہا ہے ، اپنى جان سے زيادہ عزيز ركھتا ہے انكى قدر و منزلت بڑھا رہا ہے تو كيا سوچے گى ؟

كيا وہ ان بچوں اور انكى ماں سے محبت كريگى يا ان سے نفرت كريگى ؟كيا يہ مسلسل سلگنے والى بھٹى مہربانى اور صفائي چاہے گى يا زوال كى ارزو كريگى ، اس سے بھى زيادہ دردناك تر بات يہ تھى كہ رسول نے حكم ديا _

____________________

۱۹_ اس راز و نياز كو مورخوں نے جنگ طائف كے موقع پر بتايا ہے _ كہتے ہيں كہ جب راز و نياز كافى دير ہوا تو لوگوں نے كہنا شروع كيا كہ رسول نے اپنے چچيرے بھائي سے دير تك راز و نياز كيا ايك روايت ہے كہ يہ بات ابو بكر نے كہى تھى _ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب ديا كہ ميں نے راز و نياز نہيں كيا بلكہ يہ خدا كى جانب سے راز و نياز تھا _ صحيح ترمذى ج۲ ص ۲۰۰ _ تاريخ خطيب ج۷ ص ۴۰۲_ كنز العمال _ اسد الغابہ


مسجد كى طرف كھلنے والے تمام دروازے بند كئے جائيں ، اسى وقت حكم ديا كہ ان كے داماد على كا دروازہ مسجد كى طرف كھلا رہے ؟(۲۰)

اور يہ كہ پہلے ابو بكر كو سورہء برائة كى تبليغ كے لئے ديا كہ مكہ جا كر مشركين كو سنائيں پھر انھيں اس عہدے سے بر طرف كر كے اپنے داماد على كو ديديا(۲۱) يہ بات بھى عائشه كيلئے بڑى ناگوار تھى جب خدا نے ماريہ كو ابراہيم جيسا فرزند عطا فرمايا ، على اپنى مسرت روك نہيں سكے ، جس طرح اپ دوسرى ازواج رسول كے ساتھ تعاون فرماتے تھے ، ماريہ كے ساتھ بھى تمام توجہ كے ساتھ كمك اور تعاون فرمايا _

جب ماريہ پر الزام لگايا گيا تو يہ على تھے جنھوں نے دل و جان سے انكى صفائي كى كوشش كى ، اس الزام كو بے بنياد ثابت كرنے كا عملى اقدام فرمايا يا اس سے بہتر لفظوں ميں كہا جائے كہ خدا نے على كے ہاتھوں حق ظاہر كيا اور الزام كا بطلان يوںظاہر كيا كہ انكھوں سے ديكھا جاسكے ، اور اس بارے ميں ذرا بھى چون و چرا كى گنجائشے نہ رہ جائے _

ان تمام باتوں نے عائشه كے دل ميں كينہ و نفرت بھر ديا ، ان كے خلاف تمام كينہ توزيوں كےلئے راسخ كر ديا _

جب ابراہيم كا انتقال ہوا تو ماريہ كے غم و اندوہ ميں طعنوں اور زبان كے زخموں نے بھى سر ابھارے يہ على و فاطمہ كو بھى جھيلنا پڑا كيونكہ يہ دونوں ماريہ كو اہميت ديتے تھے ، اور چاہتے تھے كہ ماريہ كو صاحب اولاد ہونے كى وجہ سے دوسرى ازواج خاص كر عائشه پر برترى حاصل ہو جائے ،ليكن تقدير نہ تو ان لوگوں كى ارزو كے مطابق تھى نہ ماريہ كى خواہش كے مطابق _

على اور مسئلہ خلافت

على كو ذرا بھى شك نہ تھا كہ بعد رسول خلافت انھيں كو ملے گى ، دوسرا كوئي بھى ان كا رقيب نہيں(۲۲) يہى اطمينان قلب تھا كہ جس وقت ان كے چچا عباس نے غسل پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے وقت كہا :

____________________

۲۰_ مسند احمد كنز ج۶ ص ۱۵۲ حديث ۲۴۹۵ و منتخب كنز ج۵ ص ۲۹ _ مستدرك ج۳ ص ۱۲۵ _ صحيح ترمذى ج۱۳ ص ۱۷۶

۲۱_ مسند احمد ج۱ ص ۳۳۱ و مستدرك ج۳ ص ۵۱ _۵۲ _ مسند احمد ج۱ ص ۲ بطريق ابو بكر و على خصائص نسائي

۲۲_ يہ ابن ابى الحديد كے استاد كى بات صحيح نہيں _ كتاب عبد اللہ بن سبا ج۱ ص ۱۰۶ _ فصل خلافت ملاحظہ ہو


ہاتھ بڑھائو تاكہ تمہارى بيعت كر لوں تاكہ لوگ كہيں كہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے چچا نے اپنے بھتيجے كى بيعت كر لى ، يہ تمہارے حق ميں مفيد ہو گا پھر كسى كو تمھارى مخالفت كا يا رانہ نہ ہو گا _

على نے جواب ديا :

اے چچا كيا ميرے علاوہ بھى كوئي ہے جسے خلافت كى طمع ہو ؟

تم جلدہى ديكھ لو گے

مجھے پسند نہيں كہ مسئلہ خلافت پچھلے دروازے سے ظاہر ہو ، بلكہ ميں يہ چاہتا ہوں كہ تمام لوگ اشكار طريقے سے شريك ہوں اور خلافت كے بارے ميں رائے ديں ، يہ كہا اور خاموش ہو گئے _

اور جب رسول كى بيمارى نے شدت پكڑى تو رسول نے جيش اسامہ كو حركت كا حكم ديا(۲۳) اور ابو بكر اور دوسرے اكابر قريش مہاجر و انصار كو حكم ديا كہ جيش اسامہ كے ساتھ اسامہ كى ما تحتى ميں چلے جائيں ، اگر يہ بات مان لى جاتى اور پيغمبر كى وفات ہوئي تو على كى خلافت مسلّم اور قطعى تھي_

خود على كا خيال تھا كہ اگر پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى وفات ہو جائے تو مدينے ميں خلافت كا جھگڑا نہ ہو گا ، اس صورتحال ميں لوگ اسانى سے انكى بيعت كر ليں گے اور اس بيعت كا فسخ يا ان كا حريف ہونا ممكن ہى نہ تھا ، لا محالہ تمام لوگ انكى بيعت كريں گے _

ليكن ابو بكر نے عائشه كے اس پيغام كى بنياد پر كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى وفات كا ہنگام اگيا ہے، لشكر اسامہ سے علحدہ ہو كر مدينے پلٹ ائے _

ليكن جہاں تك لوگوں كو نماز پڑھانے والى ابو بكر كى بات ہے تو ميرى دانست ميں حضرت على نے اس كا ماحول تيار كرنے كيلئے عائشه كو متعارف كرايا ہے _

____________________

۲۳_ طبقات بن سعد ميں ہے كہ تمام مہاجرين و انصار كے سربراوردہ حضرات حكم رسول سے مامور تھے كہ لشكر اسامہ ميں شريك ہوں ان ميں ابو بكر عمر ابو عبيد ہ جراح سعد بن ابى وقاص وغيرہ تھے ، بعض نے اس حكم پر اعتراض كرتے ہوئے كہا كہ بڑے بڑے مہاجرين و انصار پر اس چھوكرے كو سردار بنا ديا ہے ، جب يہ خبر رسول كو ہوئي تو غصے ميں منبر پر گئے اور حمد و ثنائے الہى كے بعد فرمايا ، يہ كيسى باتيں ہيں جو لشكراسامہ كے بارے ميں سن رہا ہوں ، روز شنبہ انحضرت نے اس اعتراض كا جواب ديا اور تيسرے دن دو شنبہ كو انتقال فرمايا ، طبقات بن سعد ، تہذيب بن عساكر ، كنز العمال ملاحظہ فرمايئے


جيسا كہ لوگ كہتے ہيں كہ رسول خدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ا نے فرمايا كہ كوئي جا كر لوگوں كو نماز پڑھا دے اور كسى معين شخص كا نام نہيں ليا ، وہ صبح كى نماز كا وقت تھا ، ليكن يہ حكم دينے كے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ذاتى طور سے اخرى لمحے ميں على اور فضل بن عباس كے كاندھوں كا سہارا لئے ہوئے باہر ائے اور محراب ميں بيٹھ گئے پھر اپ نے خود ہى نماز پڑھائي اور گھر واپس اگئے ، سورج نكل ايا تھا كہ دنيا سے تشريف لے گئے _

عمر نے اسى امادگى اور ابو بكر كا لوگوں كو نماز پڑھانا ان كے استحقاق خلافت كى دليل بنايا ہے ، وہ كہتے ہيں كہ :

تم ميں كون اپنے لئے جائز سمجھتا ہے كہ جسے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے نماز پڑھانے كيلئے مقدم قرار ديا اس سے مقدم سمجھے؟

اور يہ بات كہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا گھر سے باہر ائے اور خود ہى نماز پڑھائي اس پر حمل نہيں كيا ہے كہ اس سے ابوبكر كى امامت روكنا تھا ، بلكہ كہتے ہيں كہ انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس بات پر مائل تھے كہ جہاں تك ممكن ہو خود ہى يہ كام انجام ديں اس واقع اور اس مسئلے كا سہارا ليتے ہوئے لوگوں نے ابوبكر كى بيعت كر لى حالانكہ اس سازش كا الزام على نے عائشه پر لگايا ہے كہ يہ پورا ماحول انھوں ہى نے تيار كيا تھا ، اپ نے بارہا اس بات كو اپنے اصحاب سے جو اپ كے اردگرد تھے فرمايا :

انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عائشه و حفصہ سے اس معاملے ميں فرمايا ، تم دونوں يوسف والى عورتيں ہو ، اپ اس كاروائي سے اپنى نفرت اور ناپسنديدگى فرما رہے تھے _

خاص طور سے اپ نے عائشه سے اپنى برہمى ظاہر فرمائي ، كيو نكہ يہ عائشه اور حفصہ ہى تھيں جنھوں نے حكم رسول سے استفادہ كرتے ہوئے اپنے اپنے باپ كو نماز پڑھانے كى پيش دستى كى اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كو جب اس نيابت كى اگاہى ہوئي تو رنجيدہ ہو كر بذات خود باہر ائے اور ابو بكر كو اس امامت سے روك كر زندگى كے اخرى لمحے ميں عملى طور سے عائشه كے اقدام كو ناكام بنايا _

اس صورتحال ميں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وسيع تر ماحول تيار كئے ہوئے حالات ميں اس سے زيادہ كر بھى نہيں سكتے تھے كيونكہ عمر و ابوبكر نے ماحول پر پورے طور سے قبضہ كر كے لوگوں كو اسكے لئے تيار كر ليا تھا ، اس سلسلے ميں مہاجرين و انصار كے سربراوردہ افراد ان كے شريك تھے ، گردش زمانہ اور تقدير اسمانى نے بھى ان لوگوں كى مدد كى تھى _

يہ حادثے على كے لئے تمام دردوں سے اذيتناك تھے ، عظيم مصيبت اور بڑى افت تھى جو اپ كى روح كو تكليف پہونچاتى تھى ، اسكا ذمہ دار وہ صرف عائشه كو قرار ديتے تھے ، اس بات كو بار ہا اپ نے اصحاب سے كہہ كر خدا سے انصاف كا مطالبہ كيا _


اس سے بڑھكر يہ كہ علىعليه‌السلام نے بيعت ابو بكر سے اس وقت تك ركے رہے جب تك اپ كو مجبور نہيں كيا گيا(۲۴) اپ نے كيا كيا مصائب جھيلے يہ سارى باتيں مشھور ہيں _

جس وقت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انتقال فرمايا ، اور جب تك طويل بيمارى كے بعد فاطمہعليه‌السلام نے انتقال فرمايا ، برابر عائشه كى طرف جناب فاطمہ كو طعنوں بھرى باتوں كا سامنا كرنا پڑا جس سے اپ كى روح لرزاٹھى تھى ، جناب فاطمہ اور حضرت علىعليه‌السلام كے لئے سوائے صبر كے چارہ نہ تھا ، وہ اپنے غم و اندوہ كى شكايت خدا ہى سے كر سكتے تھے _

عائشه اپنے باپ كى حمايت اور خلافت كى چكى پھرانے والوں ميں سر فہرست تھيں مرتبہ و مقام روز بروز بڑھتا رہا ، جبكہ حضرت فاطمہعليه‌السلام اور حضرت علىعليه‌السلام شكست خوردہ كى طرح طاقت و اقتدار سے الگ ركھے گئے ،فدك فاطمہ سے چھين ليا گيا ، اپ نے بارہا اسے واپس لينے كى كوشش كى ليكن تمام كوششوں كا كوئي نتيجہ نہ نكلا _(۲۵)

اس درميان جو اپ كے پاس امد و رفت كرتيں عائشه كى طعنوں سے بھر پور باتيں اپ سے بيان كرتيں ، اس طرح اپ كے دل كو سخت تكليف پہونچتى اور انكى اور انكے شوہر كى باتيں عائشه سے بيان كر كے اتش كينہ و عداوت كو ان دونوں كے درميان بھڑكا تى تھيں _

ليكن ان دونوں گروہوں كے درميان انتہائي بد تر اختلاف موجود تھا ، ايك گروہ كامياب تھا اور دوسرا گروہ شكست خوردہ ، ايك حكمراں تھا دوسرا محكوم ، يہى وہ حالت ہے كہ غالب گروہ كى باتيں شكست خوردہ كو بڑى تكليف پہونچاتى ہيں ، اور يہ بات طئے ہے كہ دشمن كى ملامت سے ادمى كو جو روحانى اذيت ہوتى ہے وہ تمام مصيبتوں سے دردناك ہوتى ہے _

يہاں تك ميرے استاد كى بات پہونچى تھى كہ ميں نے عرض كى كيا اپ بھى كہتے ہيں كہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے كسى معين شخص كو نماز پڑھانے كا حكم نہيں ديا تھا ، يہ صرف عائشه تھيں جنھوں نے خود سرانہ طريقے سے اپنے باپ كو اس كام پر مامور كيا تھا _

____________________

۲۴_ تفصيلات كيلئے كتاب عبد اللہ بن سبا فصل سقيفہ ملاحظہ فرمائيں

۲۵_ طبقات بن سعد ج۲ _ صحيح بخارى _ المغازى باب غزوئہ خيبر ج۳ ص ۳۸ _ صحيح مسلم ج۱ ص ۷۲ _ ج۳ ص ۱۵۳ _ طبرى _ ابن كثير _ مسند احمد بن حنبل ج۱ ص ۴ _ ج ۶ ص۹


استاد نے جواب ديا ، ميں يہ نہيں كہتا ، يہ بات على نے كہى ہے ، اور ظاہر ہے كہ انكى ذمہ دارى الگ ہے اور ميرى ذمہ دارى الگ ہے ، وہ خود جائے واقعہ پر موجود تھے اور تمام باتوں كو اپنى انكھوں سے ديكھا تھا ، ليكن مجھے جو حديثيں ملى ہيں ان سے معلوم ہوتا ہے كہ رسول خدا نے ابوبكر كو نماز پڑھانے پر مامور كيا تھا ، جبكہ على كا مدرك علم و اطلاع ہے ، انھوں نے تمام سرگرميوں كو خود ديكھا تھا ،يا كم سے كم اپ اس پر ظن قوى ركھتے تھے _

اسكے بعد استاد اپنى بات اگے بيان كرنے لگے_

بالاخر فاطمہعليه‌السلام نے انتقال فرمايا ، اپ كے انتقال ميں تما م خواتين نے شركت كى سوائے عائشه كے جنھوں نے نہ صرف يہ كہ سستى دكھائي اور بنت نبى كى ماتم پرسى ميں نہيں گئيں بلكہ اس كے بر عكس اپنى خوشى اور شادمانى كا اظہار كيا جو على تك پہونچائي گئي _

على نے فاطمہ كے انتقال كے بعد ابوبكر كى بيعت كر لى ،اور جيسا كہ كہتے ہيں عائشه نے بيعت على كے بعد چونكہ كوئي انكے باپ كا حريف خلافت نہيں تھا نہ خلافت كا دعويدار تھا بہت زيادہ خوشى كا اظہار كيا ،يہى صورتحال خلافت عثمان كے زمانے تك رہى ، جبكہ پرانے كينے سينوں ميں موجيں مار رہے تھے ، اور خون بھڑك رہے تھے ،زمانہ جيسے جيسے گذرتا على پر مصائب بڑھتے ہى جاتے ، اپ كى روحانى اذيت ميں اضافہ ہى ہوتا ، دل كا درد بڑھتا جاتا يہاں تك كہ عثمان قتل كر دئے گئے ،عثمان كو قتل كرانے ميں عائشه نے خود ہى موثر كردار ادا كيا ، لوگوں كو ان كے خلاف بھڑكا يا ، وہ عثمان كى سب سے بڑى مخالف تھيں ، قتل عثمان كے سلسلے ميں لوگوں سے كہتيں ، خدا عثمان كو قتل كرے _

عائشه نے اسلئے عثمان كو خون بہانے كى بات كہى كہ وہ چاہتى تھيں كہ عثمان خاندان بنى اميہ سے ہيں ، ان سے چھين كر ان كے خاندان تيم ميں پھر واپس اجائے ، اور اس سلسلے ميں انھوں نے اپنے چچيرے بھائي طلحہ كو اگے اگے كر كے خلافت كا اميد وار بھى بنا ديا تھا ،ليكن جب عثمان قتل كر دئے گئے تو لوگوں نے عائشه كى توقع كے خلاف على بن ابى طالب كو خلافت كے لئے چن ليا ،_ انكى بيعت كر لى ، جب يہ خبر عائشه كو ملى تو بے اختيار انہ فرياد كرنے لگيں ،ہائے افسوس عثمان پر ، عثمان مظلوم قتل كئے گئے _

ا س طرح عائشه نے دوسرى بار فرزند ابو طالب سے اپنى پرانى دشمنى ظاہر كى ، اور اس راہ ميں اتنى كوشش كى كہ لوگوں كو علىعليه‌السلام كى خلاف اس قدربھڑكايا كہ جنگ جمل ہوگئي ، اور پھر بعد ميں وہى راہ اپنائي جسے ميں نے شروع ميں بيان كيا ،يہ شيخ ابو يعقوب كے بيان كا خلاصہ تھا جو نہ تو مذہب اہلبيت پر تھے نہ شيعہ كى طرح جانبدارى برتنے والے تھے _

ہم نے خطبہء امير المومنين كا بڑا حصہ پاشالى طريقے سے بيان كيا جسے بن ابى الحديد نے نقل كيا ہے ، اس سے ام


المومنين عائشه كى على سے كينہء ديرينہ كى وضاحت ہوتى ہے ، بن ابى الحديد كے استاد نے اپنے بيان ميں عائشه كى زندگى كے پيچيدہ اور مبہم گوشوں كى اچھى طرح تشريح كى ہے ، اسميں انھوں نے ازدواج كے دوران اہلبيت سے روابط كے حالات ، بعد وفات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اہلبيتعليه‌السلام كے خلاف كا روائيوں كى مكمل تشريح كى ہے ، ہم نے بھى جہاں تك ان كى زندگى كے رخوں كے اشارے كئے ہيں اسى پر اكتفا كرتے ہيں ، كيونكہ اگر انكى زندگى كے ادوار كا اس سے زيادہ تحقيقى تجزيہ كريں جس نے اسلامى معاشرے كو متاثر كيا ...جو بجائے خود ايك مستقل كتاب كى متقاضى ہے ، تو خوف ہے كہ ہم اپنے مقصد اصلى سے ہٹ جائيں گے ، ہمارا تو صرف يہ مقصد ہے كہ ام المومنين كى احاديث كا تجزيہ كريں _

خلاصہ

جو كچھ ہم نے قارئين تك پہونچايا اس كا خلاصہ يہ ہے كہ ، ام المومنين سخت متعصب خاتون تھيں ، طبيعت ميں حسد بھرا ہوا تھا جسے حيات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے زمانے ميں دوسرى ازواج رسول سے ان كے برتائو اور اہلبيت كے ساتھ سلوك كو ديكھ كر معلوم كيا جاسكتا ہے _

اس كے علاوہ جب كہ ہم نے تھوڑا حصہ نقل كيا اور ائندہ تفصيل سے بيان كريں گے ، ام المومنين اپنى گرمئي مزاج خاندان والوں كے مفادات كے تحفظ ، اپنى پارٹى كى مصلحتوں(۲۶) كے بارے بڑى غيرت مند اور متعصب تھيں ، اپنى طبيعى سختى كى صفت ہى كى وجہ سے انھوں نے سخت اور اہم كارستانياں اور سنگين افعال كے لئے اپنى تلخ و تند اور انقلابى باتوں كا جال بچھايا_

____________________

۲۶_ ام المومنين عائشہ نے رسول خدا كے گھر ميں اپنى پارٹى بنا لى تھى ، جيسا كہ خود اس بارے ميں كہتى ہيں ، ازواج رسول دو گروہوں ميں بٹ گئيں ، ايك پارٹى ميں عائشہ حفصہ اور سودہ تھيں اور دوسرى پارٹى ميں ام سلمہ اور دوسرى ازواج تھيں ، بقيہ حديث سے معلوم ہوتا ہے كہ جناب فاطمہ اسى دوسرى پارٹى ميں تھيں جو مخالف عائشہ تھى ، اس سلسلے ميں صحيح بخارى ملاحظہ فرمايئے ليكن رسول خدا كے گھر كے باہر ام المومنين نے اپنے خاندان تحفظ كے مفادات اور اپنى پارٹى كى ترقى كيلئے برابر كام كرتى رہيں _


فصل دوم

شيخين

۱_ ابو بكر كا لقب صديق اور عتيق تھا ، نام عبد اللہ تھا ، ابو قحافہ عثمان كے فرزند تھے قبيلہ تيم كى فرد تھے جو قريش كا قبيلہ تھا ،ان كى ماں كا نام ام الخير تھا ، جو سلمى يا ليلى كے نام سے موسوم تھيں ، عامر كى بيٹى تھيں ، يہ بھى تيم كے قرشى قبيلے كى تھيں _

ابو بكر عام الفيل كے دو يا تين سال بعد مكہ ميں پيدا ہوئے ، يہ ان لوگوں ميں ہيں جنھوں نے خديجہ ، على زيد اور جعفر كے بعد اسلام قبول كرنے ميں سبقت كى _

ابو بكر نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كے ہمراہ مكہ سے مدينہ ہجرت كى ، جنگ بدر اور بعد كى جنگوں ميں شريك ہوئے ، وفات پيغمبر كے بعد اس سے پہلے كہ جنازہ رسول دفن ہو سقيفہ بن ساعدہ ميں اپنے ديرينہ ساتھى عمر كے تعاون سے ايك اسان انقلاب كے سھارے زمام امور اپنے ہاتھ ميں لى _

ابو بكر نے ۲۲ جمادى الثانيہ ۱۳ كو انتقال كيا ، ان كا جنازہ رسول كے پہلو ميں دفن كيا گيا ، عمر ۶۳ سال پائي ، انكى خلافت كا زمانہ دو سال تين مہينے اور چھبيس يا دس دن تك رہا _

۲_ ابو حفص ، فاروق ، عمر بن خطاب ، قريشى قبيلہ عدى كى فرد نفيلى كى نسل سے تھے ، انكى ماں كا نام حنتمہ تھا جو مغيرہ كے فرزند ھشام يا ہاشم كى بيٹى كہى جاتى ہيں _

عمر نے پچاس لوگوں كے بعد اسلام قبول كيا اور مسلمان ہوئے ، كچھ دن بعد مكہ سے مدينے ہجرت كى ، جنگ بدر اور دوسرى جنگوں ميں شريك رہے _

ابو بكر نے بستر مرگ پر انھيں اپنا جانشين بنايا ، ايام خلافت عمر ہى ميں اسلامى فتوحات جزيرة العرب كے باہر شروع ہوئيں ، عمر نے ۵۵ سال يا بقولے ۶۳ سال عمر پائي ، ۲۶ ذى الحجہ ۲۳ ميں مغيرہ كے غلام ابو لولو كے خنجر سے زخمى ہوئے _

پہلى محرم ۲۴ ھ كو جوار ابو بكر ميں دفن كئے گئے ، زمانہء خلافت دس سال چھہ مہينے پانچ روز ہے ، ابو بكر و عمر صدر اسلام ميں ايك دوسرے كے جگرى دوست تھے ، ہميشہ دونوں كا نام ايك ساتھ اتا ہے اسى لئے انھيں شيخين كہا جاتا ہے _


سكھ چين كا زمانہ

صدر اسلام كى اكيلى خاتون مفتي

ام المومنين عائشه كى تمام زندگى سوائے ابو بكر اور ان كے دوست عمر كے زمانہ خلافت كے ، شديد سياسى كشمكش اور ناقابل شكست سر گرميوں ميں گذرى ، تاكہ يہ خلافت جو خاندان تيم سے نكل گئي ہے ، پھر واپس اكر ان كے عزيزوں اور رشتہ داروں كو حكمراں بنا سكے _

ليكن جيسا كہ ہم نے بتايا خلافت شيخين (ابو بكر و عمر )كے زمانے ميں اس خيال سے كہ ان كے گروہ نے دوسرے گروہوں پر بنام مدينہ پيش دستى كر كے زمام حكومت قبضے ميں كر ليا تھا ، بہت خوش تھيں اورذہن ودماغ كو بڑا سكون و اطمينان نصيب ہوا تھا كيونكہ اس زمانے ميں جو شخص خليفہ ہے يا جو اس كے حوالى موالى ہيں انكے نزديك ان كا مرتبہ و مقام سارى دنيا ميں اور دنيائے اسلام ميں بہت بڑھ گيا تھا ، اسكى وجہ سے دنيا بھر كى اور سارے مسلمان كى توجہ انھيں كى طرف مڑ گئي تھى ، تمام ازواج رسول كے مقابلے ميں صرف انھيں كى طرف گردن جھكتى تھى ، رسول خدا كى دوسرى تمام خواتين سے ان كا مرتبہ بلند تر ہو گيا تھا _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے رحلت فرمائي تو اپ كى ازواج قيد حيات ميں تھيں ، ليكن تاريخ ہميں يہ نہيں بتاتى كہ عمر و ابو بكر نے عائشه كے علاوہ كسى بھى زوجہ ء رسول كو خاص مرتبہ و مقام عطا كيا ہو ، كيا معاملات كے تصفيے ميں يا فتوى كے سلسلے ميں ان كے علاوہ كسى كى طرف رجوع كيا جاتا ہو _

ہمارى اس دليل كو طبقات بن سعد ميں ملاحظہ كيا جاسكتا ہے جنھوں نے محمد بن ابى بكر كے فرزند قاسم كا قول نقل كيا ہے ، وہ لكھتے ہيں :

عائشه زمانہ حكومت ابو بكر ، عمر اور عثمان ميں اكيلى وہ خاتون تھيں جو فتوى صادر كرتيں تھيں ، اور يہ صورتحال زندگى كے اخرى لمحے تك رہى(۲۷)

__________________

۲۷_ طبقات بن سعد ج۸ ص۳۷۵


دوسرى جگہ محمود بن لبيد كا قول لكھا ہے :

عائشه زمانہ حكومت ابوبكر و عمر و عثمان ميں فتوى صادر كرتيں اور احكام نافذ كرتى تھيں ، اور اخرى عمر تك يہ سلسلہ جارى رہا _

ابو بكر اور عمر كے علاوہ تمام صحابائے كبار ان سے مراجعہ فرماتے ، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كى سنت اور مختلف مسائل ان سے پوچھتے اور انھيں سے حكم حاصل كرتے _

ان تمام باتوں كو جانے ديجيئے ، عمر نے جس وقت تمام ازواج رسول كا وظيفہ مقرر كيا تو عائشه كو سب پر مقدم ركھا ان كے حقوق دوسروں سے زيادہ قرار دئے

يہ معاملہ طبقات بن سعد ميں مصعب بن سعد كا قول اس طرح نقل كيا ہے _ عمر نے ازواج رسول كا ماہانہ وظيفہ دس ہزار مقرر كيا اور عائشه كو سب پر مقدم كر كے بارہ ہزار مقرر كيا ، عمر كى دليل يہ تھى كہ عائشه رسول خدا كى سب سے زيادہ چہيتى بيوى تھيں(۲۸)

عائشه حج كے لئے گئيں

اس صورتحال كے با وجود خليفہ وقت عمر بن خطاب تمام ازواج رسول پر انھيں مقدم قرار دينے فتوى حاصل كرنے ، سنت رسول معلوم كرنے ، تمام مسلمانوں ميں ان كا مرتبہ و مقام بڑھانے ، دوسروں كے مقابل ان كا زيادہ وظيفہ مقرر كرنے كے با وجود ام المومنين عائشه كو دوسرى ازواج رسول كى طرح مدينے سے باہر جانے كى اجازت نہيں ديتے تھے ، يہاں تك كہ حج و عمرہ كى بھى اجازت نہيں ديتے تھے _

عمر كى سياست يہ تھى كہ بڑے اور مشھور صحابہ مدينے سے باہر نہ جائيں اسى بنياد پر جب زبير نے جنگ ميں شركت كرنے كى اجازت چاہى تو جواب ديا(۲۹) نہيں ، مجھے اتفاق نہيں ہے ،

____________________

۲۸_ طبقات بن سعد ج۸ ص۶۷ ، اجابہ ۷۱ _۷۵،كنز العمال ج۷ ص۱۱۶ منتخب كنز ،اصابہ ج۴ س۲۴۹ ، طبرى ج۴ ص۱۶۱ ، ابن كثير ج۲ ص۲۴۷ _مستدرك ج۴ ص ۸ _ شرح نہج البلاغہ ج۳ ص ۱۵۴ _ بلاذرى ص ۴۵۴ _ ۴۵۵ احكام السلطانيہ ماوردى ص ۲۲۲_ واضح ہو كہ يہ خلافت كا سياسى مقتضا تھا كہ عائشہ كو رسول كى چہيتى بيوى كى حيثيت سے متعارف كرايا جائے ليكن حقيقت ايسى نہيں تھى ، بلكہ خلافت نے اپنے زمانے ميں اس بات كو مشھور كيا

۲۹_ ابن ابى الحديد ج۴ ص۴۵۷ ،تاريخ خطيب بغدادى ج۷ ص۴۵۳


كيونكہ ميں اس بات سے ڈرتا ہوں كہ اصحاب رسول لوگوں كے درميان پھيل جائيں گے تو گمراہى پھيلائيں گے(۳۰)

ليكن عمر نے اپنى عمر كے اخرى سال ازواج رسول كو مدينے سے باہر جانے كى پاليسى بدل دى تھى ، يہ بات طبقات بن سعد ميں اس طرح ہے _

عمر بن خطاب ازواج رسول كو مدينے كے باہر جانے سے روكتے تھے ، يہاں تك كہ حج و عمرے كيلئے بھى جانے سے روكتے ، ليكن ۲۳ ھ ميں جبكہ انھوں نے اخرى حج كيا تمام ازواج نے سوائے زينب اور سودہ كے ان سے اجازت چاہى كہ حج كيلئے مدينے سے باہر جائيں سودہ اور زينب نے حج كيلئے بھى گھر سے قدم باہر نہ نكالا ، وہ كہتى تھيں _

ہم وفات رسول كے بعد ہرگز اونٹ كى پشت پر سوار نہيں ہوئے ، يہ اس بات كا كنايہ تھا كہ انھوں نے كبھى سفر نہيں كيا _(۳۱)

خود سودہ كہتى ہيں ، ميں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كى حيات ميں حج و عمرہ كيا اب حكم رسول كے مطابق گھر ميں بيٹھى ہوں _

بہر حال عمر نے ازواج رسول كى درخواست منظور كى اور حكم ديا كہ ان كے لئے ھودج تيار كئے جائيں ، ان پر سبز رنگ كى محمليں سجائي گئيں تاكہ ازواج رسول لوگوں كى انكھوں سے پوشيدہ رہيں ،

پھر ان كى نگرانى ميں عثمان اور عبد الرحمن بن عوف(۳۲) كو معين كر كے ضرورى احكامات صادر كئے گئے ا ور اسطرح انھوں نے مدينے سے مكہ سفر كيا _

____________________

۳۰_ واقعى عمر كس بات سے ڈرتے تھے اور لوگوں كے گمراہى كا انديشہ كيوں تھا ؟ كيا انھيں اسكا ڈر تھا كہ اصحاب رسول لوگوں كے درميان جا كر حلال و حرام اور قوانين اسلام متغير كر كے گمراہى پھيلائيں گے ؟يا اس سے ڈر تے تھے كہ بعض اكابر صحابہ كے بارے ميں اصحاب رسول كى لوگوں كو جانكارى ہو جائے گى ، اور لوگ خلافت كے افراد سے بد ظن ہو جائيں گے ؟ يا بعض كو مدينے سے اسلئے جا نے نہيں ديتے تھے كہ انكى مخالفت كا انديشہ تھا ؟ بہر حال يہ مسئلہ الگ سے علمى استدلال كے ساتھ مطالع كا مستحق ہے ، عمر جيسے ھوشمند اور زيرك كى بات كو يو نہى نہيں اڑ ايا جا سكتا ، ان كے اقدام كو عوامى رنگ دنيا انصاف سے بعيد ہے انكى دور انديشى اور سياسى بصيرت پر ظلم ہے (سردار نيا )

۳۱_ زينب اور سودہ كے گھر سے نہ نكلنے كى وجہ يہ تھى كہ رسول خدا نے اخرى حج ميں انھيں ازواج سے فرمايا تھا ، اس حج كے بعد تم سب كو گھر ميں بيٹھى رہنا ہے ، يہ بھى فرمايا كہ ميرے بعد تم ميں سے جو بھى تقوى اختيار كرے اور حكم كى مخالفت نہ كرے اور اپنے گھروں ميں نچلى بيٹھى رہے گى ، گھر سے قدم باہر نہ نكالے گى ، وہ قيامت ميں بھى ميرى زوجہ رہے گى طبقات بن سعد ۸/ ۲۰۸

۳۲_ ابو محمد ، عبد الرحمن بن عوف قريش كے بنى زھرہ سے تھے ، انكى ماں شفا بھى اسى قبيلے سے تھيں ، عام الفيل كے دس سال بعد پيدا ہوئے ، جاہلى زمانے ميں عبد عمر يا عبد كعبہ نام تھا ، رسول خدا نے ان كے اسلام قبول كرنے كے بعد عبد الرحمن نام ركھا ، انھوں نے حبشہ اور مدينے مين ہجرت كى ، جنگ بدر ميں اور تمام جنگوں ميںشركت كى ، عمر نے انھيں شورى كى ايك فرد نامزد كيا تھا ، عبد الرحمن نے ۳۱ھ يا يا۳۲ھ مدينے ميں انتقال كيا اور بقيع ميں دفن كئے گئے ، اصابہ ۲/ ۴۰۸ _ ۴۱۰ استيعاب در حاشيہ اصابہ ، اسد الغابہ ۳/ ۳۱۳ _ ۳۱۷ ملاحظہ ہو


عثمان اگے اگے سوارى ہانك رہے تھے ، كبھى كبھى بلند اواز سے اعلان كرتے ، خبر دار ، كسى كو حق نہيں كہ محمل كے قريب ائے اور خواتين رسول كو ديكھے _

پھر وہ خود بھى كسى كو ان سے قريب انے سے روكتے ، چنانچہ راستے ميں ايك شخص محمل كے قريب ايا تو اسے للكارا _

دور رہو ، دور رہو _

عبد الرحمن سوارى كے پيچھے پيچھے تھے ، انھوں نے بھى ہانك لگائي ، الگ رہو _

مسور بن مخرمہ(۳۳) كا بيان ہے:

اتفاق سے اگر كوئي شخص اپنى سوارى ٹھيك كرنے كيلئے راستے ميں ٹھر گيا اور اونٹ بيٹھا ديا تو عثمان جو قافلے كے اگے اگے چل رہے تھے ، اسكے قريب جا كر كنارے كرديتے اور اگر راستہ وسيع ہوتا تو حكم ديتے كہ قافلہ اپنا راستہ بدل كر اس مرد سے كنارے ہو جائے ، اور داہنے يا بائيں راستے سے نكل جائے ، اگر اس كے علاوہ صورتحال ہوتى تو قافلے كو حكم ديتے كہ قافلہ ٹھر جائے تاكہ اس شخص كا كام ختم ہو جائے اور اپنى سوارى پر سوار ہو كر اگے بڑھ جائے ، اسكے بعد عثمان حكم ديتے كہ قافلہ اگے چلے ، ميں خود گواہ ہوں كہ انھوں نے مكے سے چلنے والے لوگوں كو جو مخالف سمت سے سامنے ائے تھے ، حكم ديا كہ راستے كے داہنے يا بائيں جانب اپنے اونٹوں كو بٹھا ئيں تاكہ قافلے پر نگاہ پڑنے كا فاصلہ دور ہو جائے _

عمر راستے ميں جہاں بھى منزل قرار ديتے ازواج رسول وہيں اترتى تھيں ، انھيں اكثر گھاٹى كے اندر ركھا جا تا اور وہ خود گھاٹى كے دہانے پر قيام كرتے ، يا بعض روايات كى بنا پر ان ازواج رسول كو گھاٹى كے انتہائي حصے پر ركھا جاتا جہاں تك پہونچنے كا راستہ نہيں ہوتا ، يہ بھى كہتے ہيں كہ ان كى منزل درختوں كے سائے ميں ركھى جاتى اور كسى حال ميں بھى لوگوں كو اجازت نہيں تھى كہ ان كے پاس سے گذرے_

____________________

۳۳_ ابو عبد الرحمن كنيت تھى ، مسوربن مخرمہ بن نوفل نام تھا ، قبيلہ قريش كے بنى زھرہ كى فرد تھے ، انكى ماں عاتكہ بنت عوف ، عبد الرحمن بن عوف كى بہن تھيں ، مسور ہجرت كے دوسرے سال پيدا ہوئے ، اور جس سال شاميوں نے ابن زبير پر چڑھائي كى اور خانہ كعبہ پر منجنيق سے گولے برسائے ، يہ مسور وماں حجر اسماعيل ميں نماز پڑھ رہے تھے ايك پتھر انھيں لگا اور مر گئے ، انكى موت ربيع الاول ۶۴ ھ ميں ہوئي ، اسد الغابہ ۴/ ۳۶۵ ، طبقات بن سعد ، استيعاب اور اصابہ ديكھى جائے


ام المومنين عائشه نے صرف اسى حج ميں مدينے سے قدم باہر نكالا ، پھر تمام زمانہ خلافت عمر ميں كبھى مدينے سے باہر نہيں گئيں ، وہ بڑے سكھ چين سے احترام كے ساتھ اپنے ہى گھر ميں زندگى گذارتى رہيں ارباب حكومت و اقتدار بعض معاملات ميں انھيں فتوى كے سلسلے ميں رجوع كرتے اور ان كے احكام پر عمل كرتے _

وہ بھى ان كے جواب ميں مناسب حال حديث رسول سناتى تھيں ، وظيفہ كے امتياز كے علاوہ يہى ايك بات كہ ارباب اقتدار صرف انھيں سے فتوى اور احكام حاصل كرتے اس كا ثبوت ہے كہ وہ حكومت كى نظر ميں تعظيم و احترام كى مستحق تھيں ، جس خاتون كى خود خليفہ تعظيم كرے اسكى دوسرے افراد كس قدر تعظيم كرتے ہوں گے يہ ہر شخص سمجھ سكتا ہے _

اب يہ

اس فصل كو ايك واقعے پر ختم كيا جاتا ہے ، جس سے اندازہ ہو تا ہے كہ خليفہ عمران كا كسقدر احترام كرتے تھے _

ازاد كردہء عائشه ذكوان كا بيان ہے كہ مال غنيمت كى ايك ٹوكرى فتح عراق كے بعد خليفہ عمر كى خدمت ميں پيش كى گئي ، اسميں ايك موتى تھا عمر نے اپنے ساتھيوں سے پوچھا ، جانتے ہو اس موتى كى قيمت كيا ہے ؟

سب نے كہا ، جى نہيں ، وہ لوگ يہ بھى نہيں سمجھ پا رہے تھے كہ اسے مسلمانوں ميں كسطرح سے تقسيم كيا جائے _

عمر نے كہا ، كيا تم لوگ اجازت ديتے ہو كہ موتى عائشه كو ديديا جا ئے ، كيونكہ رسول خدا ان كو بہت پيار كرتے تھے ؟

سب نے كہا ، جى ہاں

عمر نے وہ موتى عائشه كے پاس بھيجوا ديا

عائشه نے كہا ،خدا نے عمر كو كتنى عظيم فتح عطا كى ہے ؟(۳۴) _

____________________

۳۴_ سير النبلاء ج۲ ص ۱۳۳ _ مستدرك حاكم و تلخيص ذھبي


احاديث عائشه تقويت خلافت كے بارے ميں

حديث گڑھنے كے مواقع

قريب قريب يقين كے ساتھ يہ بات كہى جا سكتى ہے كہ ام المومنين عائشه كى احاديث ان كے باپ ابوبكر كے زمانے ميں اور اسى طرح عمر كے زمانے ميں بہت كم گڑھى گئيں ، كيونكہ ان ايام ميں لوگوں كى تمام توجہ فتوحات كى طرف تھى بار بار لشكر كشى كى وجہ سے مال غنيمت حاصل ہو رہا تھا _

دوسرے يہ كہ عام طور سے فكرى ہم اہنگى اور عدم اختلاف تھا ، سبھى لوگوں نے پورے طور سے ان لوگوں كى خلافت مان لى تھى ، اور يہ كہ تمام مدينے كے باشندے كم و بيش صحبت رسول سے فيضياب تھے يا اصحاب كے ہم عصر تھے ، اسلئے بطور كلى حديث كى مقدار عددى اعتبار سے بہت كم تھى ، اور اس وقت زيادہ حديثيں گڑھنے كى ضرورت بھى نہيں تھى _

ليكن ان تمام حالات كے باوجود اس زمانے ميں بھى عائشه كى احاديث نقل كى گئيں ہيں ، جو حكومت وقت (ابو بكر و عمر ) كے اثبات ميں ہيں ، كيونكہ عائشه كى شخصيت اپنے باپ اور ان كے جگرى دوست عمر كى حكومت كے سخت ترين طرفداروں ميں سے تھى ، لوگوں كے دل ميں بہتر اور گہرے انداز ميں ثابت و راسخ كرنے كيلئے اس سے بہتر كيا تھا كہ ان كے مرتبہ و مقام كے بارے ميں رسول خدا كے ارشادات بيان كئے جائيں ، انھيں پيغمبر كى نظر ميں بلند مقام اور اہم ترين بتايا جائے _

اب يہاں بطور نمونہ اس قسم كى چند حديثيں نقل كى جاتى ہيں جنھيں حكومت ابو بكر و عمر كے زمانے كى سمجھنا زيادہ مناسب ہے _

يہ حديث مسلم نے اپنى صحيح ميں قول عائشه نقل كيا ہے جو اسى قسم كى ہے توجہ فرمايئے

عائشه كہتى ہيں كہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا جسوقت بستر بيمارى پر تھے ، مجھ سے فرمايا ، اپنے باپ اور بھائي سے كہو كہ ميرے پاس ائيں تاكہ ميں ايك وصيت لكھ دوں ، كيونكہ ميں اس بات سے ڈرتا ہو ں كہ كوئي خام طمع اميد لگائے يا كہے كہ ميں خلافت كا زيادہ حقدار ہوں ، حالانكہ خدا و مومنين سوائے ابوبكر كے كسى دوسرے كو اسكا حقدار نہيں سمجھتے(۳۵)

____________________

۳۵_ صحيح مسلم باب فضائل ابو بكر ج۷ ص۱۱۰ ، مسند احمد ج۶ ص۴۷_۱۴۴،و طبقات بن سعد ، و كنز العمال _ منتخب كنز


بخارى بھى ابو مليكہ سے ايسى ہى روايت نقل كرتے ہيں :

عائشه نے كہا كہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كى بيمارى شدت پكڑگئي تو عبد الرحمن بن ابى بكر سے فرمايا ، شانے كى ہڈى(۳۶) يا كوئي تختى ميرے لئے فراہم كرو كہ ابو بكر كے بارے ميں وصيت ان كے نام كے ساتھ لكھ دوں تاكہ كوئي انكى مخالفت نہ كرے(۳۷)

ليكن جيسے ہى عبد الرحمن اٹھے كہ حكم رسول بجالائيں ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا اے ابو بكر خدا و مومنين ہرگز اجازت نہ ديں گے كہ تمھارے خلاف نزاع بڑھے (اور چونكہ پيغمبر كے ارشاد كے مطابق خدا و مومنين خلافت و حكومت ابوبكر كے بارے ميں اج تك كسى قسم كے اختلاف كى اجا زت نہيں دے رہے ہيں اسلئے وصيت لكھنے كى ضرورت نہيں )

يہ بھى صحيح مسلم ميں ابو مليكہ كا قول مروى ہے، كہ عائشه سے پوچھا گيا ، اگر فرض كيا جائے كہ رسول خدا اپنا جا نشين معين كريں تو كس كا انتخاب فرمائيں گے ؟

عائشه نے جواب ديا ، ابو بكر كو

ابو بكر كے بعد كس كو خلافت كے لئے نامزد كريں گے ؟

عمر كو

ان كے بعد ؟

ابو عبيدہ جراح كو(۳۸)

اس طرح كى روايات جنھيں ام المومنين عائشه سے فضائل شيخين ميںروايت كى گئيں ہيں بہت زيادہ ہيں ، ہم ان روايات كو تحقيق كے باب ميں انكا تجزيہ كريں گے ، يہاں اسے بطور نمونہ پيش كيا گيا _

____________________

۳۶_ اس زمانے ميں كاغذ كى جگہ شانے كى ہڈى استعمال كى جاتى تھى

۳۷_ صحيح مسلم ج۷ ص۱۱۰ ، طبقات بن سعد ،مسند احمد ، مستدرك ، كنزل العمال منتخب _ مستدرك ميں ابو عبيدہ نام ملتا ہے

۳۸_ ابو عبيدہ جراح كا نام عامر بن عبد اللہ قرشى فہرى تھا ، سابقين اسلا م ميں تھے ، دونوں ہجرت ميں شريك ہوئے ، عمر كى طرف سے حاكم شام ہوئے ۱۸ھ ميں وہيں مرض طاعون ميں انتقال كيا ، اور بعد ميں اردن ميں دفن كئے گئے ، استيعاب ، اصابہ اسد الغابہ


ان احاديث كى پيدائشی كا زمانہ

يہ احتمال زيادہ ہے كہ اس قسم كى احاديث كى روايت اور شہرت ابو بكر اور عمر كے زمانہ ء خلافت ميں ہوئي ، كيونكہ ان دونوں خلفاء راشدين كا نام ايك كے بعد دوسرے كا ترتيب سے ليا گيا ہے ، ليكن يہ كہ اگر رسول كسى كو خليفہ بنانا چاہتے تو اسى ترتيب سے خليفہ بنا تے _

ہم اس قسم كى احاديث كو چار حصوں ميں تقسيم كرتے ہيں

پہلى قسم ان احاديث كى ہے جن ميں چاروں خلفاء كے نام اسى ترتيب سے على ابن ابى طالب تك لئے گئے ہيں _

جس ترتيب سے خليفہ بنے ہيں ، ميرے خيال ميں ايسى حديثيں حضرت على بن ابى طالب كے بعد بنائي گئي ہيں ، جبكہ چاروں خلفاء كا زمانہ ختم ہو چكا تھا _

محب طبرى نے رياض النضرہ ميں حديث رسول كو نقل كيا ہے وہ اسى قسم ميں اتى ہيں _

رسول خدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ا نے فرمايا: ميں اور ابو بكر ، عمر ، عثمان اور على حضرت ادم كى خلقت سے ہزار سال پہلے انوار كى شكل ميں عرش كے دا ہنى جانب تھے ، جب ادم خلق ہوئے تو خدا وند عالم نے ہميں انكى پشت ميں قرار ديا اور اسى طرح پاكيزہ اصلاب ميں منتقل ہوتے رہے ، يہاں تك كہ مجھے صلب عبد اللہ ميں ابو بكر كو صلب ابو قحافہ ميں عمر كو صلب خطاب ميں ، عثمان كو صلب عفان اور على كو صلب ابو طالب ميں منتقل كيا _

پھر خدا وند عالم نے ان سب كو ميرے لئے چن ليا ، نتيجے ميں ابو بكر كو صديق اور عمر كو فاروق ، عثمان كو ذوالنورين اور على كو ميرا وصى قرار ديا ،پس جو شخص بھى ميرے اصحاب كى برائي كرے وہ ايسا ہے جيسے اس نے ميرى برائي كى ، اور جو شخص بھى مجھے دشنام دے اس نے خدا كو دشنام ديا ، اور جو شخص خدا كو دشنام ديگا اسے اوندھے منھ جہنم ميں جھونك ديا جائے گا

اس حديث كا وضعى زمانہ خود بخود روشن ہے

۱_ اس قسم كى احاديث كا گڑ ھا جانا اور شائع ہونے كا زمانہ اس وقت كو سمجھنا چاہيئے جب چاروں خلفاء كى خلافت ختم ہو چكى تھى ، بلكہ بہت بعد ميں ہونا چاہيئے كيونكہ ميرى بيان كى ہوئي باتوں كے علاوہ اس حديث ميں دشنام دينا اور برا بھلا كہنے كى بات ہے ، اور ہم جانتے ہيں كہ سب و شتم كى رسم حكومت معاويہ كے زمانے ميں اور اسكے بعد

جارى ہوئي ، اور اسكا حكم اسى نے ديا تھا ، رسول خدا كے زمانے ميں يہ رسم نہيں تھى كہ كوئي كسى صحابى كو دشنام دے اور اس حكم كا خدا و رسول كى جانب سے مستحق قرار پائے _


۲_ اگر چہ اس حديث ميں چاروں خلفاء كا نام ترتيب خلافت كے لحاظ سے ايا ہے ، اس قسم كى احاديث امام كے زمانے ميں نہ گڑھى جا سكتى ہے نہ مشھور كى جا سكتى ہے كيونكہ جس وقت امام نے خلافت قبول فرمائي تو تمام لوگ پورے طور سے دو گروہوں ميں بٹ گئے تھے ، ايك گروہ شدت سے عثمان كو برا بھلا كہہ رہا تھا ، دوسرا گروہ بھى حضرت علىعليه‌السلام ولى كو اچھا نہيں سمجھ رہا تھا ، انھيں اچھائيوں كے ساتھ ياد نہيں كرتا تھا ،، اس صورتحال ميں كون شخص ايسى حديث وضع كر سكتا ہے ؟

۳_ حكو مت معاويہ ميں بھى اگر چہ سب و شتم كا بازار ہر جگہ گرم تھا حديثيں گڑھنے ميں لوگ ايك دوسرے سے بازى ليجانے كى كوشش كر رہے تھے ، ليكن بنيادى حيثيت سے اس كو صرف على اور انكى اولاد اور بنى ہاشم كے خلاف مخصوص ركھا گيا تھا ، اور اموى سياست اس بات كى متقاضى تھى كہ حضرت على كو ديگر خلفاء راشدين سے الگ كر ديا جائے ، ان كا نام اس ستون سے حذف كر ديا جائے ، ان تينوں كو ہر حقيقت سے على پر برترى دى جائے ، اور ہم جانتے ہيں كہ يہى سياست اخرى حكومت بنى اميہ تك جارى رہى _

۴_ ان تمام باتوں كے بعد ہم يہ كہے بغير نہيں رہ سكتے كہ اس حديث كے وضع و انتشار كا زمانہ اس عہد ميں متعين ہوتا ہے جب بنى اميہ كا زوال ہو رہا تھا اور بنى عباس كو اقتدار ملنے كے اثار نماياں تھے _

اسكى دليل يہ ہے كہ خلفاء بنى عباس بھى جنھوں نے اپنے چچا كے فرزندوں علويين كے نام پر اقتدار حاصل كيا تو اپنے سلف بنى اميہ كى طرح معمولى بہانوں سے علويوں كا بے رحمانہ خون بہايا _

ان باتوں كى بنياد پر اس حديث كے وضع و انتشار كا زمانہ يہى متعين ہوتا ہے كہ بنى اميہ كا دور ختم ہو رہا تھا اور اہلبيت كے نام پر لوگوں كو دعوت دى جا رہى تھى ، كيو نكہ يہى موقع تھا جب بنى ہاشم كے دونوں خاندان علوى اور عباسى مل كر اموى اقتدار كو اكھاڑ پھينكنے كى سعى كر رہے تھے اور بنى عباس كى سياست اس موقع پر ايسى تھى كہ اموى سياست كو ذكر دينے كيلئے نام على كو خلفاء ثلثہ كے نام كے ساتھ شائع كيا جائے در انحاليكہ ہم جانتے ہيں كہ خلفاء بنى اميہ ان تينوں خلفاء كو ہٹا كر صرف على ہى پر سب و شتم كرتے تھے ، حضرت علىعليه‌السلام كے نام كو خلفاء راشدين كى فہرست سے حذف كر ديا تھا _

ايسا گمان ہوتا ہے كہ بنى عباس اتنے ہى پر مطمئن نہيں ہوئے انھوں نے قدم اگے بڑھايا اور بنى اميہ كى


سياست اور ان كے دعوے كو باطل كرنے كيلئے خاص طور سے عثمان كا نام خلفاء كى فہرست سے حذف كر ديا ، درج ذيل حديث ميرے اس دعوے كى واضح دليل ہے كہ اسى عہد ميں بنائي گئي ہو گى _

جابر بن عبد اللہ انصارى روايت كرتے ہيں كہ ہم رسول خدا كے ساتھ مدينے كے ايك باغ ميں تھے ، اچانك اپ نے ميرى طرف رخ كر كے فرمايا ، ابھى تمھارے پاس ايك شخص ائے گا جو جنتى ہو گا _

ہم نے گردن اٹھا ئي كہ اس جنتى شخص كو ديكھيں اتنے ميں ابوبكر اگئے ، ہم نے انھيں اس بشارت كى مباركباد دى _

ذرا دير نہ گذرى تھى كہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے دوسرى بار فرمايا :

ايك جنتى شخص ابھى تمھارے پاس ائے گا _

ہم نے سر اٹھايا تو ديكھا كہ عمر پہونچے ، ہم نے انھيں اس بشارت كى تہنيت پيش كى ذرا دير بعد تيسرى بار رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے فرمايا ، ايك جنتى شخص تمہارے پا س ائے گا اور پھر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے درخت خرما كى شاخ كے نيچے اپنے ہاتھ اسمان كى طرف بلند كر كے فرمايا :

خدا وند كيا اچھا ہو كہ تو ارادہ فرمادے كہ وہ شخص على ہو اتنے ميں على پہونچے ، ہم نے اس عظيم موھبت پر انھيں تہنيت پيش كى _

ہم جو اس حديث كے صحيح نہ ہونے كى بات كہہ رہے يہ اس وجہ سے نہيں ہے كہ ہم رسول خدا اور ان ذريت طاہرہ اور تقوى شعار صحابہ كے فضائل كا انكار كر رہے ہيں ، نہيں ، ہر گز ايسا نہيں ، ہم ہرگز ان كے فضائل كے منكر نہيں ، ليكن يقين نہيں اتا كہ خدا نے صرف انھيں گروہ صحابہ كو جو مسند خلافت پر برا جمان ہوئے ، اور جو لوگ اس مرتبے پر فائز نہيں ہوئے ان كے درميان اس حد تك فرق كے قائل ہو جائيں كہ انكى طينت كو نور سے اور انكى طينت كو مٹى سے خلق كيا جائے_

ان باتوں كے علاوہ اور دوسرے دلائل جو ائندہ بيان كئے جائيں گے خود ہى حق ديتے ہيں كہ اس قسم كى احاديث كو صحيح و درست ماننے ميں جو خلفاء راشدين كا انكى خلافت كى ترتيب سے پئے در پئے ايا ہے شك اور ترديد كى نظر ڈاليں _

دوسرے قسم كى احاديث ميں وہ حديثيں اتى ہيں جن ميں تينوں خلفاء كا نام اول سے عثمان تك يكے بعد ديگرى ايا ہے _


ہمارے عقيدے كے مطابق اور پہلے قسم كى احاديث كے بارے ميں جو كچھ عرض كيا گيا اس كى روشنى ميں اس قسم كى احاديث بھى عثمان كى حكومت كے زمانے ميں گڑھى گئي ہيں ان سے پہلے نہيں گڑھى گئي ہيں ، چنانچہ ان ميں سے كچھ احاديث ميں عثمان كے قتل ہونے كا بھى بيان ہے ، اس سے يہى اندازہ لگايا جا سكتا ہے كہ عثمان كے قتل كے بعد يہ

حديثيں گڑھى گئي ہيں ، تاريخ قتل سے پہلے نہيں _

تيسرے قسم كى احاديث وہ ہيں جن ميں فقط شيخين كا نام ہے ، ايك كے بعد دوسرے كانام ايا ہے ، ہمارا تو اس بارے ميں عقيدہ يہ ہے كہ اس قسم كى احاديث عمر كے بر سر اقتدار انے كے بعد گڑھى گئي ہيں ، انكى خلافت سے پہلے نہيں _

چوتھے قسم كى احاديث وہ ہيں جن ميں صرف خلافت ابوبكر كا نام ہے اور چونكہ ان ميں صرف ابوبكر كا نام ہے عمر كا نام درميان ميں نہيں ہے اسلئے گمان قوى ہے كہ عمر كى حكومت سے پہلے ان كو گڑھا گيا ہے ، اس بنا ء پر احتمال يہ پيدا ہوتا ہے كہ ابو بكر كے نام سے وصيت لكھنے كى حديث ان كے خليفہ ہو جانے كے بعد روايت كى گئي ہے كيو نكہ ان ميں عمر كا نام نہيں ہے _

ليكن يہ حديث كہ (اگر يہ بات طئے كى جاتى كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كسى كو اپنا جانشين بنائيں تو پہلے ابو بكر كو معين كر تے ، ان كے بعد عمركو اور ان كے بعد ابو عبيدہ جراح كو )گمان قوى ہے كہ يہ حديث عمر كى حكومت كے زمانے ميں عثمان سے پہلے گڑھى گئي ہے ، كيونكہ عمر خود ابو عبيدہ كے بارے ميں كہتے تھے كہ اگر ابو عبيدہ زندہ ہوتے تو انھيں كو خليفہ بناتا _

ہم نے بعض ان احاديث عائشه كو يہاں بيان كيا جنكى اشاعت خلافت شيخين كے زمانے ميں ہوئي حا لانكہ اس قسم كى ڈھير سارى احاديث موجود ہيں ، جنھيں ہم خلافت شيخين كا زمانہ ختم ہونے كے وقت سمجھنے پر مجبور ہيں انہيں ميں يہ حديث ہے كہ جناتوں نے عمر كى نوحہ سرائي كى اس حديث كى اشاعت قتل عمر كے بعد يا شايد بہت بعد ميں شائع ہوئي ہو گي_

عمر كے لئے جناتوں كا نوحہ

ہم نے اس سے پہلے كى فصل ميں بيان كيا كہ عائشه نے اپنے باپ ابو بكر اور ان كے پرانے ساتھى عمر كى حكو مت كى تائيد اور استحكا م كے لئے احاديث رسول بيان كيں ان ميں بعض كا تجزيہ كر كے كہا ہے كہ ان احاديث كى پيدائشی اور اشاعت كسى طرح بھى ابو بكر و عمر كے زمانے سے ميل نہيں كھاتيں ، بلكہ كئي سال بعد ان دونوں كى حكومتيں ختم ہو نے كے بعد زبانوں پر اتى ہيں ، انھيں ميں ايك حديث ہے جناتوں كى نوحہ خوانى عمر كے سوگ ميں ، جس كے بارے ميں احتمال قوى ہے كہ عمر كے موت كے كافى دنوں بعد يہ گڑھى گئي ہے ، متذكرہ حديث اس طرح ہے _


ام المومنين عائشه سے روايت كى گئي ہے كہ عمر كے قتل ہونے كے تين دن پہلے جناتوںنے مجلس عزا منعقد كى اور نوحہ خوانى كرتے ہوئے يہ اشعار پڑھے _

ابعد قتيل بالمدينہ اظلمت لہ الارض ، تھتز العضاہ يا سوق جزى اللہ خيراً من امام و باركت يد اللہ ، فى ذاك الاديم الممزق فمن يسع او يركب،جناحى نعامة ليد رك ما قدمت بالامس، ليسبق قضيت اموراً ، ثم غادرت بعدھا بوائق فى اكمامھا لم تفتق فما كنت اخشى ان يكون وفاتہ بكفى سبتى ازرق العين مطرق

استيعاب ج۲ص ۲۴۱ _كتاب الاغانى ج۸ص ۱۹۲

كيا اس مقتول كے بعد جو مدينہ ميں اپنے خون ميں نہايا اور دنيا تيرہ و تار ہو گئي ، روئے زمين پر دوبارہ بھى سبزہ اگے گا ؟

خدا وند عالم ہم سب كى طرف سے تمہارے جيسے امام كو جزائے خير دے ، اور تيرے شكم دريدہ كو اپنى رحمت اور كرم كا مورد قرار دے _

كوئي شخص بھى ہو لاكھ فكر كرے كہ تيرى طرح كارنامے انجام دے جو تو كر گيا اسے انجام دے ڈالے ہرگز عہدہ بر انہ ہو سكے گا ، اپنى حكمرانى كے زمانے ميں كاموں كو بڑے اچھے ڈھنگ سے انجام ديا ليكن تيرے بعد كتنے ہى فتنوں نے سر ابھارا ہے _

كبھى خواب و خيال ميں بھى نہ سوچا گيا تھا ، وہ يہ ديكھنے كو ملا كہ ايسے امام كى موت ايسے بد خصلت دشمن نيلى انكھ والے بھڑيئے كے ہاتھوں انجام پائے گى ہمارے خيال ميں يہ اشعار عمر كى موت كے بہت بعد كى پيدا وار ہيں _

كيونكہ

۱_ متذكرہ اشعار ميں اٹھے ہوئے فتنوں كى طرف اشارہ كيا گيا ہے جو عثمان كى خلافت كے نصف اخر ميں پيش ائے ، نہ كہ عمر كے اخرى زمانے ميں يا عثمان كے اوائل حكومت ميں ذرا اس مصر عے پر توجہ فرمايئے ...ليكن تمہارے بعد كيسے كيسے سوئے ہوئے فتنے ظاہر ہوئے_

۲_ اگر ہم مان بھى ليں كہ فتنہ ظاہر ہونا غير واضح كنايہ ہے ، پھر قاتل عمر كا تعارف اسقدر واضح كيسے ، وہ بھى جرم كے تين دن يا كچھ پہلے يہ ايسا معاملہ ہے كہ حادثہ واقع ہو جانے كے بعد ہونا چاہيئے نہ كہ اس سے پہلے _


۳_ ام المومنين عائشه كے قول كى بناء پر جناتوں نے پاپ بھرے واقعے كے تين روز قبل اور وہ بھى نيلى انكھ والا بھيڑيا صفت كے ہاتھوں ، يہ ايسا معاملہ ہے جو قران كے واضح نص كے خلاف ہے كيونكہ كلام خدا كے بموجب ان جناتوں كو داستان سليمان پيغمبر ميں دو قدم بعد كى خبر نہ تھى ، تين روز پہلے كى بات تو دور كى ہے ، وہ سليمان پيغمبر كى موت كو نہ سمجھ سكے يہى جنات پورے ايك سال رنج و عذاب جھيلتے رہے ، حضرت سليمان كى موت ان كے چند قدم كے فاصلے پر ہوئي تھى ليكن وہ بے خبر رہے ، سليمان مرنے كے بعد ايك سال اپنے عصا كے سہارے ٹكے رہے وہ سليمان كو چند قدم كے فاصلے

سے ديكھتے رہے ، رات دن قصر بنانے ميں اپنى جان كھپاتے رہے ، اخر ايك سال بعد جب ديمك نے عصا كھا ليا تو عصا ٹوٹ گيا ، اور سليمان كا جسد بے جان زمين پر گرا ، اسوقت جناتوں كو معلوم ہوا كہ ہم نے ايك سال تك بلا وجہ جا ن كھپائي ، اس حساب سے اپ ہى بتايئےہ اس وحشتناك راز يعنى موت عمر كى تين دن پہلے سے انھيں اطلاع ہو گئي ، اور حصباء كى سر زمين پر ام المومنين كے سامنے انھو ں نے خليفہ كے سوگ ميں مجلس عزا منعقد كى ؟ بہر حال يہ حديث عمر كى وفات كے بعد روايت ہوئي ہو گى اس سے پہلے نہيں ، پھر يہ كہ اسے ام المومنين عائشه كے ابيات سمجھيں تب تو يہ صورتحال بنتى ہے _

جبكہ ہم ديكھتے ہيں كہ ابو الفرج نے اغانى(۳۹) ميں شماخ شاعر كے حالات لكھتے ہوئے بتايا ہے كہ اس كے دو بھائي تھے دونوں ہى شاعر تھے ، ايك كا نام مزرد تھا اور دوسرے كا جزء ، اسى نے عمر كا مرثيہ كہا ہے ،

عليك سلام من امير و باركت ...يد اللہ فى ذاك الاديم الممزق _

اسكے بعد وہ تمام اشعار ہيں جنھيں شروع ميں نقل كيا گيا _

اور اشتقاق ميں كہتا ہے(۴۰) كہ ضرار كے تين فرزند تھے جنھوں نے اسلام كا زمانہ پايا ، ان ميں ايك كا نام جزء تھا ، اسى نے عمر كا مرثيہ كہا _

عليك سلام الله اخر تك تمام اشعار

بہر حال ايسا معلوم ہوتا ہے كہ ان اشعار كو شماخ يا اسكے بھائي جزء سے اسى زمانے ميں منسوب كيا گيا _

____________________

۳۹_ اغانى ج ۸ص ۱۹۴ شماخ اور اسكے بھائيوں نے جاہليت اور اسلام دونوں زمانہ پايا ، ان ميں سب سے مشھور شاعر شماخ ہے ، جسكا شعر ى ديوان بھى مرتب كيا گيا ہے ، اس نے عثمان كے زمانے كى بعض جنگوں ميں شركت كى ہے ، اصابہ ۲/ ۱۵۲ ، اسد الغابہ ۴/ ۳۵۱

۴۰_ اشتقاق ص ۲۸۶ _ اسد الغابہ حالات عمر ، ديوان حماسہ ص ۱۰۹ ديكھى جائے


ايك دوسرى روايت كى بنياد پر ام المومنين نے اپنى بہن ام كلثوم بنت ابى بكر كيلئے جو واقعہ گذرا اسے يوں بيان كيا ہے _ عمر نے جو اخرى حج كيا اسميں ازواج رسول كو اجازت دى كہ وہ بھى حج كريں ، اس سفر ميں عمر نے جب حصباء سے كوچ كيا تو ميں نے ايك شتر سوار كو ديكھا جو اپنا پورا چہرہ چھپائے ہوئے تھا صرف اسكى انكھيں نظر اتى تھيں ، اس نے پوچھا ، كيا وہ (عمر ) يہاں ٹھرے تھے ؟

ايك شخص نے جواب ديا ، ہاں اس جگہ وہ ٹھہرے تھے _

يہ سنكر شتر سوار نے اپنا اونٹ بٹھايا اور بلند اواز سے عمر كے ماتم ميں يہ اشعار پڑھنے لگا ،(ابعد قتيل ...اخر اشعار تك )

ميں نے اپنے ايك ساتھى كو حكم ديا كہ نوحہ پڑھنے والے كو پہچان كر مجھے بتائے ، وہ گيا ليكن نا كام واپس ايا كيونكہ اس نے منھ چھپائے ہوئے شتر سوار كو وہاں نہيں پايا ، حالانكہ وہ ميرے سامنے عمر پر نوحہ پڑھ رہا تھا ، خدا كى قسم ميں سمجھتى ہوں كہ وہ جناتوں ميں سے تھا _

اسكے بعد حديث ميں يہ ہے كہ :

جب عمر قتل كرديئےئے تو لوگوں نے ان اشعار كو فرزند ضرار كى طرف منسوب كر ديا _

اس روايت كو ابو الفرج نے اغانى ميں شماخ كے حالات زندگى بيان كرتے ہوئے لكھا ہے ، ابن عبد البر نے استيعاب ميں حالات عمر كے ذيل ميں لكھا ہے ، ليكن طبقات بن سعد ميں ذرا سى لفظى تبديلى كے ساتھ دونوں روايتيں ہيں ،ليكن تينوں روايتوں كا مفہوم ايك ہى ہے _

ابن حجر نے اصابہ ميں صحت سند پر زور ديتے ہوئے اس روايت كو عائشه كى بہن ام كلثوم كے واسطے سے نقل كيا ہے _

جس حديث كى سند كو ابن حجر صحيح سمجھتے ہيں وہ اس طرح مروى ہے كہ ان شعروں كى شھرت شماخ يا اسكے بھائيوں كى طرف سمجھى جا سكتى ہے _


وجہ يہ ہے كہ اس حديث ميں وضاحت ہے كہ ام المومنين خود ہى عمر كے ساتھ اخرى حج بجالاتے ہوئے مشعر الحرام ميں خود ديكھا كہ جناتوں نے عمر كے سوگ ميں نوحہ خوانى كى ، اسميں ذرا بھى شك اور ترديد كى گنجائشے نہيں ، اور جب ام المومنين عائشه نے ايسا فرمايا ہے تو يقينى طور سے جناتوں نے عمر كے قتل سے تين روز قبل عمر كے سوگ ميں نوحہ خوانى كى ، خليفہ اسى سفر سے واپسى كے بعد مدينے ميں قتل كئے گئے ، اس واقعے كے بعد لوگوں نے اپنى زبانوں پر دہرايا ، اور نا دانستہ طور پر ضرار كے فرزندوں كى طرف منسوب كر ديا _

ام المومنين نے خود ديكھا كہ شتر سوار منھ چھپائے قيام گاہ عمر سے اسى وقت جبكہ انھوں نے كوچ كيا تھا تلاش كرنے لگا ، ايك دوسرے مجھول الحال نے انكى قيام گاہ بتائي پھر نقاب دار شخص نے اپنا اونٹ بيٹھايا اور عمر كى موت كا مرثيہ پڑھنے لگا ، ٹھيك اسى وقت ام المومنين نے اپنے قافلے كے ساتھى كو وہاں بھيجا كہ نقاب پوش كا پتہ لگائے ليكن وہ

ادمى غائب ہو چكا تھا ، اس بنا ء پر ذرا بھى شك نہيں رہ جاتا كہ وہ نقاب پوش جنات تھا ، ورنہ وہ كيسے انكھوں سے پنہاں ہو جاتا ، اور كسى نے اسكو نہيں ديكھا ؟ اسى وجہ سے ام المومنين نے قسم كھائي (فواللہ انى لا حسبہ من الجن )خدا كى قسم ميرا تو يہى گمان ہے كہ وہ جنات تھا ، اب جبكہ ام المومنين نے اپنى انكھوں سے ديكھا اور قسم كے ذريعے بات ميں مزيد تاكيد پيدا كى تو كيا كسى كے لئے شك اور ترديد كى گنجائشے رہ جاتى ہے كہ ان اشعار كو جنات كے سوا كسى نے عمر كے قتل سے تين دن پہلے پڑھا ہو ؟

اس قسم كے بعد جو بھى دعوى كرے كہ يہ اشعار ضرار نے موت عمر كے بعد كہے ہيں اسے نہ مانيئے ، كيونكہ اسكا دعوى باطل ہو جائے گا ، وجہ يہ ہے كہ يقين حاصل ہو جاتا ہے كہ ان اشعار كو جناتوں نے موت عمر سے پہلے پڑھا ہے ، منى ميں پڑھا ہے اور عمر كے مدينہ پہونچنے سے پہلے پڑھا ہے _


اوپر جو كچھ كہا گيا اس كے علاوہ جو چيز مجھے اس حديث كى صحت كے بارے ميں مشكوك بناتى ہے يہ ہے كہ بالفرض اگر ہم مان ليں كہ جنات كو ديكھنا اور نوحہ پڑھنا صرف ام المومنين نے ديكھا تو ہميں ماننا پڑے گا كہ ہزاروں حاجيوں نے جو منى ميں موجود تھے اس جنات كو ديكھنے سے محروم رہے ، وہاں اكيلى ام المومنين ہى تو موجود نہيں تھيں ، بلكہ دوسرى ازواج رسول بھى تھيں ، زينب اور سودہ ہر منزل پر ان كے ساتھ ساتھ رہيں ، جہاں ٹھہرتيں يہ بھى ٹھہر جاتيں ، جہاں سے كوچ كرتيں يہ بھى كوچ كرتيں ، پھر ان ازواج رسول نے واقعہ كا مشاہدہ كيوں نہ كيا كہ سوگ عمر ميں جناتوں كے نوحے كى روايت صرف ام المومنين عائشه نے كى ہے ، اس مرثيے كو ادمى سے منسوب ہونے كى ترديد ميں اور بقول ام المومنين عائشه جناتوں كے ہونے كى تاكيد ميں طبقات بن سعد ميں ہے جو بطريق موسى بن عقبہ روايت كى گئي ہے (عائشه نے پوچھاكہ يہ شعر پڑھنے والا كون ہے ؟)

جزى الله خير ا من امام و باركت

لوگوں نے جواب ديا ضرار كا فرزند

عائشه كا بيان ہے كہ يہ سننے كے بعد ميں نے ضرار كے بيٹے سے ملاقات كى اور يہ بات اس سے پوچھى ، اس نے قسم كھا كر كہا كہ ميں اس موقع پر منى ميں تھا ہى نہيں _

ميرے لئے فرق نہيں كہ اس روايت كى سند گذشتہ حديث ام المومنين كے مانند صحيح ہے يا ابن حجر كے بقول

ضعيف ہے(۴۱) ، يہاں بات صرف اتنى ہے كہ مجھے اس حديث سے يہى سمجھ ميں اتا ہے كہ ان اشعار كے بارے ميں كہ وہ ادمى تھا يا جنات تھا ، اس وقت كے حاضر ين كو بھى شك اور ترديد تھا _

اسى بنياد پر اخرى حديث كا شبہ ختم كرنے كيلئے اسى كے گرد ا گرد دو حديث صحيح سند كے ساتھ ام المومنين سے روايت كى گئي _

____________________

۴۱_ اابہ ج۳ ص ۳۸۵ _ ۳۸۶


احترامات متقابل

ام المومنين خلافت شيخين كے تمام زمانے ميں خلافت كى طرف سے خاص توجہ و احترام كى مستحق سمجھى جاتى تھيں ، وہ بھى اسكے مقابلے ميں خلافت كے خصو صى احترام كو ملحوظ ركھتيں خليفہ كى عظمت نماياں كرتيں ، ان كا مرتبہ لوگوں كى نظر ميں بڑھاتى تھيں ، مرتبہ خلافت كے حضور اپنى فروتنى سے تمام مسلمانوں كى خود سپردگى كا ماحول تيار كرتيں _

خلافت بھى عائشه كى شخصيت كا احترام ، انكى رضا جوئي اور بزرگى دو بالا كرنے اور دوسرى ازواج انھيں ترجيح دينے سے غفلت نہيں برتتى تھيں_

اس متقابل احترامات كى تمام زمانہ خلافت شيخين ميں رعايت كى گئي خاص طور سے عمر كى موت كے وقت تك قائم رہا ، احترام و الفت نيز دونوں طرف سے جھك كر ملنے كا نمونہ عمر اور عائشه كے مكالمہ سے ظاہر ہے_

بخارى نے فضائل اصحاب نبى كے باب ميں ، اور ابن سعد نے طبقات ميں عمر وبن ميمون كے طويل بيان كے ضمن ميں لكھا ہے كہ :

عمر نے اپنے بيٹے عبد اللہ كو حكم ديا كہ ام المومنين عائشه كى خدمت ميں جائو ، اور ميرى طرف سے يہ پيغام پہونچا ئو كہ عمر سلام عرض كرتا ہے اور استدعا كرتا ہے كہ مجھے مرنے كے بعد رسول اور ابو بكر كے پہلو ميں دفن ہونے كى اجازت مرحمت فرمائيں _

عبد اللہ اسى وقت ام المومنين كى خدمت ميں پہونچے تو ديكھا كہ وہ بيٹھى ہوئي رورہى ہيں ، عبد اللہ نے باپ كا پيغام ديا تو عائشه نے جواب ميں كہا ، ميں نے وہ جگہ خود اپنے لئے مخصوص ركھى تھى ، ليكن خليفہ كو اپنے اوپر ترجيح ديتى ہوں _

عبد اللہ اثبات ميں جواب پاكر خدمت خليفہ ميں پہونچے ، عمر نے پوچھا كيا خبر ہے ؟

نتيجہ اپ كى توقع كے مطابق ہے ، ام المومنين نے اجازت ديدى _

خدا كا شكر ، ميں اس مسئلے ميں بہت فكر مند تھا _


عائشه كا گھر دار الشوري

ابن عبد ربہ عقد الفريدميں لكھتے ہيں كہ :

عمر نے اپنى باتوں كے درميان چھ ادميوں كو خلافت كا نمائندہ بناتے ہوئے كہا ، عائشه كى اجازت اور رائے سے ان كے گھر ميں ا نا اور باہم ايك دوسرے سے مشورہ كر كے ايك شخص كو خليفہ مقرر كر لينا _

جب عمر مر گئے تو انھيں دفن كر ديا گيا ، مقداد بن اسود جو اس شورى كميٹى كے ممبر تھے انھوں نے سب كو عائشه كے گھر ميں انكى اجازت ليكر جمع كيا ، اسى وقت عمر و بن عاص اور مغيرہ بن شعبہ ائے اور عائشه كے دروازے پر بيٹھ گئے ،سعد بن وقاص نے ان دونوں كو سنگريزے مار كر وہاں سے بھگا ديا اور كہا :

تم ہم سے يہ كہنا چاہتے ہو كہ ہم بھى خليفہ مقرر كرنے كيلئے شورى كميٹى كے ايك ممبر تھے اور عائشه كے گھر ميں موجود تھے ، اسطرح تم دونوں اپنے كو ہم لوگوں كے ہم پلہ قرار دينا چاہتے ہو ؟

اب جبكہ بات ان چار كى ہوتى ہے ، ان كا تعارف فائدے سے خالى نہيں _

مقداد

مقداد بن اسود كندى _ عمر بن ثعلبہ كے فرزند تھے ، ليكن انھوں نے جاہلى زمانے ميںكسى خاندان كى فرد كو قتل كر ديا تھا اسلئے حضر موت كى طرف بھاگ گئے تھے ، وہيں قبيلہ كندہ كے ہم پيمان بن گئے ، پھر وہاں ابو شمر سے جھگڑا ہو ا ، اسكى پنڈلى كو تلوار سے زخمى كر ديا جسكى وجہ سے مكہ بھاگنا پڑا وہيں اسود بن عبد يغوث كے ہم پيمان ہوگئے ، انھيں كے فرزند كہے جانے لگے اس تاريخ سے انھيں مقداد بن اسود كہا جانے لگا ، جب خدا نے آيت نازل كر كے حكم ديا كہ ادعوھم لابائھم (لوگوں كو ان كے باپ كے نام سے پكارو )تو انھيں مقداد بن عمر و كہكے پكارا جانے لگا ، مقداد كا انتقال ۳۳ھ ميں ہوا _


عمر و عاص

انكى كنيت ابو عبد اللہ يا ابو محمد تھى ، عمر وعاص قريش كے قبيلہ بنى سھم سے تھے ان كى ماں كا نام نابغہ بنت حرملہ تھا ، جو ايك جنگ ميں غنيمت كى شكل ميں بازار عكاظ ميں بكنے ائي ، اسے مغيرہ كے بيٹے وفا نے خريد كر پہلے عبد اللہ بن جد عان اور بعد ميں عاص بن وائل كو ديديا ، اخر نابغہ سے عمرو عاص پيدا ہوئے ،(عمر و عاص كى ماں نابغہ دور جاہليت كى مشھور ترين رنڈى تھى )

قريش نے عمر و عاص كو حبشہ بھيجا تاكہ نجاشى كى رائے جعفربن ابى طالب اور دوسرے ان مسلمانوں كے بارے ميں بدل سكے جنھوں نے حبشہ ہجرت كى تھى ، اور ان سب كو مكہ واپس لا سكے ، نتيجے ميں نجاشى نے عمر و كو اپنى بارگاہ سے دھتكار ديا _

عمر و عاص ۶ھ ميں فتح مكہ سے چھ مہينے قبل اسلام لائے ، اور خليفہ عمر كے زمانے ميں مصر ان كے ہاتھوں فتح ہوا تو عمر كے حكم سے وہاں كے گورنر بن گئے ، خلافت عثمان كے چوتھے سال تك وہ وہاں كے گورنر رہے ، پھر عثمان نے انھيں معزول كر ديا ، اسى وجہ سے عمر و عاص اس گروہ ميں شامل تھے جنھوں نے عثمان كى شديد مخالفت كى ، ان كے خلاف پر چار كر كے لوگوں كو ابھارتے ، يہاں تك كہ عثمان قتل كر دئے گئے _

اسكے بعد عمر وعاص معاويہ سے مل گئے اور انتقام خون عثمان كا نعرہ لگا كر على سے جنگ كي، انھيں كى عيارى سے جنگ صفين ميں قران نيزوں پر بلند كيا گيا ، جنگ اپنے اخرى مرحلے ميں تھى اور معاويہ كا كام تمام ہونا ہى چاہتا تھا كہ جنگ كا نقشہ پلٹ گيا _

جب حضرت علىعليه‌السلام كے سپاہيوں نے اپنى جانب سے ابو موسى اشعرى كو حكم بنايا تو معاويہ نے اپنى طرف سے عمر و عاص كو حكم بنايا ، اخر كا ر عمر و عاص نے ابو موسى كو دھوكا ديا كہ على كو خلافت سے معزول كر ديا جائے ، اور ذرا موقع دئے بغير انھوں نے معاويہ كو خليفہ نامزد كر ديا ، اس حسن خدمت كے بدلے اور پہلے سے طئے شدہ معاہد ے كے مطابق انھيں مصر كى حكومت مل گئي ، محمد بن ابى بكر كے قتل ہونے كے بعد ۴۳ھ تك يا كچھ بعد تك مصر كے حكمراں رہے ، وہيں ان كا انتقال ہوا اور وہيں دفن كئے گئے استيعاب ، اسد الغابہ ، اور طبقات ديكھى جائے _


مغيرہ بن شعبہ

مغيرہ بن شعبہ بن ابو عامر بن مسعود ثقفى ، جنگ خندق كے زمانے ميں اسلام لائے اسكے بعد مدينہ ہجرت كى ، جنگ حديبيہ ميں شريك تھے ، رسول خدا نے ان كو ابو سفيان كے ساتھ بنى ثقيف كے بتوں كو توڑنے كيلئے بھيجا ، مغيرہ كى انكھ جنگ ير موك ميں چلى گئي ، وہ عمر كى طرف سے بصرہ كے گورنر مقرر كئے گئے اور جب ان پر زنا كا الزام لگايا گيا اور لوگوں نے گواہى دى تو انھيں معزول كر ديا ، ليكن كچھ دن بعد كوفے كى گورنرى ديدى ، اخر كار جب وہ معاويہ كى طرف سے كوفے كے گورنر تھے انتقال كيا ، كہتے ہيں كہ انكى تين سو بيوياں تھيں اور بعض روايات ميں ہے كہ ايك ہزار عورتوں سے مسلمان ہونے كے بعد شادى كى(۱)

سعد بن ابى وقاص

ابو اسحق كنيت تھى ، سعد نام تھا جوابى وقاص كے بيٹے تھے ، ابى وقاص كا نام مالك بن اھيب تھا جو قريش كے قبيلہ زھرہ سے تھے _

سبقت اسلامى ميں ان كا ساتواں نمبر ہے ، وہ مسلمانوں ميں پہلے تير انداز تھے جنگ بدر اور تمام غزوات ميں شركت كى ،فتح عراق كے موقع پر وہ سپہ سالار اسلام تھے ، انھوں ہى نے وہاں شھر كھولا اور شہر كوفہ كى بنياد ڈالى ، پھر عمر كى طرف سے وہاں كے گورنر ہوئے ، عمر نے انھيں مجلس شورى كا ايك ركن مقرر كيا تھا سعد نے قتل عثمان كے بعد گوشہ نشينى اختيار كر لى تھى ، اخر كا ر ۵۰ھ ميں اس زھرسے جسے معاويہ نے عيارى سے انھيں كھلا ديا تھا انتقال كيا انھيں بقيع ميں دفن كيا گيا(۲)

____________________

۱_ استيعاب درحاشيہ اصابہ ج۲ ص۱۸ _ ۲۵ ، اصابہ ج۲ ص۳۰ _ ۳۲

۲_ عمر نے بستر مرگ سے چھ بزرگ نامور صحابہ كو خلافت كے لئے نامزد كيا ، اور طئے كيا كہ يہ لوگ تين روز كے اندر كسى ايك كو خليفہ منتخب كر ليں ، اگر ان ميں اكثريت كسى كو منتخب كر لے اور دوسرے مخالفت كريں تو انكى گردن مار دى جائے ، اور اگر تين تين دونوں طرف ہوں تو جدھر عبد الرحمن ہوں اسى كو خليفہ بنايا جائے ، عبد الرحمن نے موت عمر كے بعد خود كو خلافت سے دستبردار كر ليا اس شرط سے كہ جسكى وہ بيعت كريں سب لوگ اسے مان ليں ، عبد الرحمن اچھى طرح حضرت على كو پہچانتے تھے كہ وہ جاہ طلب سيرت شيخين كو ہرگز قبول نہ كريں گے ، چند روز حكومت كيلئے تئيس (۲۳)سالہ رسول كى محنت برباد نہ كريں گے ، بلكہ عمر بھى اس بات كو جانتے تھے ،كيسے معلوم ہوا كہ انھوں نے عبد الرحمن كو اسكا حكم نہيں ديا ہوگا

انھيں باتوں كے پيش نظر عبد الرحمن نے على سے كہا ميں كتاب اللہ و سنت رسول اور سيرت شيخين كى شرط پر اپ كى بيعت كرتا ہوں ليكن على نے دين كے بدلے دنيا نہيں بيچى ، وہ جانتے تھے كہ اگر قبول نہ كيا تو حكومت نہ ملے گى ، اپ نے فرمايا كہ خدا و رسول كى روش پر بيعت قبول كرتا ہوںليكن سيرت شيخين پر عمل قبول نہيں ، ميں خود اپنى سيرت پر چلوں گا ، اگر عبد الرحمن نے يہ شرط على كے علاوہ كسى سے كى ہوتى تو وہ مان ليتا ، ليكن انھوں نے صرف اپنے داماد عثمان كے سامنے پيش كى ، اور عثمان نے بغير كے اسے قبول كر ليا ، واقعى سوچنے كى بات ہے كہ اخر سيرت شيخين كيا تھى كہ جسے عبد الرحمن نے پيش كيا اور على نے اسے مسترد كر ديا


اب ہم پھر اپنے مطلب پر واپس اتے ہوئے خليفہ عمر اور ام المومنين عائشه كے احترامات متقابل كا تجزيہ كرتے ہيں

جس نے قيصر و كسرى كو زير نگين كيا ، انكى حكومت قبضے سے نكال كر اينٹ سے اينٹ بجادى ، جس نے اصحاب رسول پر كوڑے برساكر اپنى مطلق العنانى كا مظاہرہ كيا ، جس شخص كا نام سنتے ہى طاقتور سلا طين اور فرماں روا كانپ جاتے ، ہم ديكھتے ہيں كہ اپنے كو ام المومنين عائشه جيسى خاتون كے سامنے كسقدر حقير سمجھتا ہے ، عاجزى و انكسارى كا مظاہرہ كرتا ہے _

اپنى اخرى ارامگاہ كو انكى اجازت پر منحصر سمجھتا ہے

اسكا گھر شورى كا محل و مقام قرار ديتا ہے تاكہ وہيں عائشه كے گھر ميں مقتدر اسلامى حكومت و خلافت طئے پائے اور مسلمانوں كا حكمراں معين ہو ، اور اس ذريعے سے مسلمانوں كى نظر ميں ان كا مرتبہ و مقام زيادہ سے زيادہ بڑھے انھوں نے اپنے اس اقدام سے تمام دنيائے اسلام كى توجہ ان كے اور انكے گھر كى طرف موڑ دى اور خاص موقع شناسى كے ماتحت ان كا مرتبہ و مقام اسقدر بلند كيا كہ زندگى كى اخرى گھڑيوں ميں كوشش يہى رہى كہ مسلمانوں اور اسلامى معاشرے كى نظر ميں ان كا مرتبہ بلند تر رہے ، اس اقدام اور ان جيسے اقدامات سے عمر نے اپنى خلافت كے زمانے ميں ام المومنين كو اپنے ہمعصروں اور تمام مسلمانوں كے اسقدر ممتاز اور بر تر قرار ديا كہ انكى عظمت كے سامنے اسلامى معاشرہ حقير بن گيا ، اسكى وجہ سے وہ اسقدر طاقتور بن گئيں كہ ان كے بعد دو خلفاء سے انھوں نے شديد اختلاف كيا اور جنگ كرنے كيلئے نكل ائيں _

جى ہاں _ انھوں نے رسول كے دو دامادوںعثمان اور على سے اسقدر شديد اختلاف كيا كہ مسلمانوں كو ان كا خون بہانے كا حكم ديديا ، حالانكہ يہ دونوں اصحاب رسول اور مسلمانوں كے خليفہ تھے ، رسول خدا كے جانشين سمجھے جاتے تھے ، انھوں نے اپنے اثرات اور طاقت سے ايسے حوصلہ مندانہ اقدامات كئے ، اس بار بھى انھوں نے تاريخ اسلام كى رفتارپر اپنى ذہانت كى مدد سے حساس نقوش قائم كئے _


بكھرى نكھرى باتيں يہاں تك كہ جو كچھ بيان كيا گيا اسكا خلاصہ يہ ہے كہ جب حكومت وقت ، خاص طور سے خلافت شيخين كے زمانے ميں ام المومنين عائشه سے فتوى اور احكام حاصل كرتى ، انكى اہميت كو تمام ازواج رسول سے بڑھا چڑھا كر پيش

كرتى ، ان كا نام سب سے اوپر ليا جاتا ، ان كے نام كے درميان كسى دوسرى خاتون كا نام نہيں تھا ، اسكى تہ ميں يہ علت كار فرما تھى كہ خلافت اپنے تمام مرتبہ و مقام كے ساتھ ان كى طرف اپنى عنايات مركوز ركھتى تھى ، اور اسى راستے سے حكومت وقت اپنے مقاصد حاصل كرتى ، انكى ذاتى بلند پروازى كا ماحول تيار كرتى اور اج تك مسلمانوں اور اسلامى معاشرے ميں ان كا اسى وجہ سے رتبہ بلند ہے _

تمام ازواج رسول كے مقابل صرف انھيں كا مدينے سے نكلنا روكا گيا ، ان كے ساتھ دوسرے اصحاب كا ملنا جلنا بند كيا گيا ، اس زمانے ميں احاديث رسول كى روايت كم ہونے كى بنيادى وجہ يہى ہے ، كيونكہ زيادہ تر ان كے ہم عصر ، خاص طور سے مدينے كے باشندوں كو صحبت رسول كا شرف حاصل تھا ، اسى وجہ سے انكى احاديث ، دوسروں كى حديثوں كے مقابل حكومت شيخين كے زمانے ميں تعداد كے لحاظ سے بہت كم اور احتمال قوى ہے كہ سيكڑوں تك بھى نہيں پہونچتى ، يہ بھى احتمال ہے كہ اس مقدار كى حديثيں جو اس دور ميں روايت كى گئيں وہى احاديث ہيں جن سے ان كے باپ ابو بكر اور عمر كى خلافت كى تائيد ہوتى ہے ، ان ميں عثمان كا نام نہيں ہے جبكہ وہ خلافت شيخين كے زبردست حمايتى تھے ، اسى طرح فضائل ابوبكر و عمر كى حديثيں ان كے زمانہ حكومت ميں بطور نص كہى گئيں ، اسى عہد كى ہيں بلكہ ان لوگوں كے مرنے كے بعد انھوں نے تمام عمر ان كے فضائل و مناقب ميں حديثيں بيان كيں _

اور بالاخر ہم نے ديكھا كہ اس عہد كے ختم ہونے كے بعد عمر جو صحابى رسول تھے سلاطين زمان ان كے سامنے جھكتے تھے ، مختلف قوموں نے گردن جھكا دى تھى ، وہى عمر نے عائشه كى اسقدر جلالت قدر ظاہركرتے ہيں كہ انكى اجازت سے اپنى اخرى ارامگاہ قرار ديتے ہيں اور ان كے گھر كو دار الشورى بناديا ، اسى لئے ان كا وظيفہ تمام ازواج رسول سے زيادہ تھا ، مختلف موقعوں پر صرف انھيں سے سنت رسول دريافت كر كے شرعى ذمہ دارى حاصل كى گئي ، اكيلى انھيں كى شخصيت كو عالم اسلام ميں برترى دى گئي اور اپنے بعد عالم اسلام كے حاكم كى حيثيت سے متعارف كرايا گيا _

انھيں اتنى طاقت عطا كر دى گئي كہ ان كے بعد دونوں خليفہ سے مخالفت پر كمر بستہ ہو گئيں اور لوگوں كو ان كے قتل پر ابھارا اور اسطرح انھوں نے تاريخ اسلام كى رفتار متعين كرنے ميںحساس اور اہم ترين رول نبھايا_


فصل سوم

عائشه حكومت عثمان كے زمانے ميں

عثمان كون تھے ؟

ابو عبد اللہ اور ابوعمر و كنيت تھى ، عثمان بن عفان نام تھا ، قريش كے اموى خاندان ميں ابو العاص كى نسل سے تھے _

انكى ماں كا نام اروى تھا جو كريزبن ربيعہ بن عبد شمس كى بيٹى تھيں اروى كى ماں كا نام بيضاء بنت عبد المطلب تھا جو رسول كى پھوپھى تھيں ، عثمان ان لوگوں ميں ہيں جنھوں نے بہت پہلے اسلام قبول كيا _

انكى شادى رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كى بيٹى رقيہ سے ہوئي ، ان كے ساتھ حبشہ ہجرت كى وہاں سے واپسى كے بعد مدينہ ہجرت كى _

عثمان نے اپنى بيوى رقيہ كى عيادت كے بہانے جنگ بدر ميں شركت نہيں كى ،

جب رقيہ مر گئيں تو رسول كى دوسرى بيٹى ام كلثوم سے شادى كى ، ام كلثوم نے بھى باپ كى زندگى ہى ميں انتقال كيا ،

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كى ان دونوں بيٹيوں سے عثمان كى كوئي اولاد نہيں ہوئي ; غلام مغيرہ ابو لولو كے ہاتھوں جب عمر زخمى ہوئے تو انھوں نے شورى كميٹى ميں عثمان كا نام بھى شامل كيا ،

ليكن اخرى مرحلے ميں شورى كميٹى كى ايك فرد عبد الرحمن كے انتخاب پر معاملہ منحصر ہو گيا ، اس ميں عبد الرحمن نے اعلان كيا كہ ميں خود خلافت سے دستبردار ہوتا ہوں اس شرط سے كہ ميں جسكى خلافت مان لوں تم لوگ بھى اسكو تسليم كر لو ،

جب انكى پيشكش مان لى گئي تو انھوں نے اعلان كيا كہ ميں اسى كى بيعت كروں گا جو كتاب اللہ اور

سنت رسول اور سيرت شيخين كى پيروى كرنے كا عہد كرے ،

پہلے يہ پيشكش على كے سامنے ركھى گئي ، على نے اخرى شرط (سيرت شيخين پر عمل ) قبول نہيں كى(۲) نتيجے ميں عبد الرحمن عثمان كے ہاتھ پر بيعت كر لى كيونكہ انھوں نے عبد الرحمن كى تينوں شرطيں مان لى تھيں ، ان كے بعد عثمان كى بيعت بروز شنبہ پہلى محرم ۲۴ھ سب نے كر لى _


عثمان خليفہ ہو گئے ، انھوں نے بارہ سال حكومت كى ، ہم انكى حكومت كا زمانہ دو حصوں ميں تقسيم كرتے ہيں ، ايك تائيد و حمايت كا دوسرا غصہ و بغاوت كا اخر كار وہى غصہ اور بغاوت يا ملك كى لا چاريوں كے خلاف عوامى قيام اور عثمان كے خاندان والوں كے كرتوت تھے ، جس نے عثمان كو تخت حكومت سے تختہ ء تابوت تك پہونچا ديا ، خليفہ بڑى اسانى سے قتل كر دئے گئے _

جيسا كہ ہم نے حالات ام المومنين كے ذيل ميں بيان كيا كہ عثمان كے قتل ميں عائشه نے بڑا اہم رول نبھايا ، عثمان كى تاريخ قتل ميں اختلاف ہے ، بارہ سے اٹھائيس ماہ ذى الحجہ ۳۵ھ تك كے اقوال ہيں اسى طرح انكى عمر بھى ۸۲سے ۹۲ سال تك لكھى گئي ہے _

عثمان كا جنازہ تين روز بعد جنت البقيع كے باہر يہوديوں كے قبر ستان جس كا نام حش كوكب تھا ، اور بقيع اور اسكے درميان ديوار حائل تھى ، دفن كيا گيا ، جب معاويہ خليفہ ہوئے تو حش كوكب كى ديوار منہدم كر كے جنت البقيع ميں شامل كر ديا _

عائشه اور عثمان

تائيد و حمايت كا زمانہ

خلافت عثمان كا ابتدائي زمانہ ابو بكر و عمر كى حكومت كى طرح گذرا ، اور عائشه ايسا سمجھ رہى تھيں كہ پہلے كى طرح خليفہ عثمان بھى ميرا احترام كريں گے ، اور دوسرى ازواج رسول پر ان كا امتياز محفوظ ہے ، ان كا اقتدار جيسا پہلے تھا اج بھى ہے ، يہى وجہ تھى كہ عائشه بھى قريش كے دوسرے سربر اوردہ افراد كى طرح عثمان كى تائيد و حمايت ميں امادہ تھيں ، انھوں نے عثمان كے بارے ميں بے دريغ احاديث بيان كيں ، انكى شخصيت و خلافت كى حمايت كا اعلان كيا _

جو احاديث عثمان كى مدح و ستائشے ميں مروى ہيں ان ميں عثمان كے قتل ہونے كى بات نہيں ہے ، زيادہ احتمال يہ ہے كہ يہ احاديث اسى مختصر زمانے ميں روايت كى گئيں ہيں جس زمانے ميں وہ تائيد و حمايت كرتى تھيں ، اس قسم كى احاديث كے نمونے مسند احمد بن حنبل سے نقل كئے جاتے ہيں _


عائشه كا بيان ہے كہ ميں اور پيغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ايك لحاف ميں ليٹے ہوئے تھے ، اتنے ميں ابو بكر نے اندر انے كى اجازت مانگى ، پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسى حالت ميں كہ وہ ميرى اغوش ميں زير لحاف تھے ، اجازت ديدى كہ اندر اجائيں ، ابو بكر اندر ائے اور اپنى باتيں كہنے كے بعد باہر چلے گئے ، ابو بكر كے بعد عمر نے انے كى اجازت مانگى ، اس بار بھى پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسى حالت ميں بلاليا اور باتيں پورى كر كے روانہ كر ديا ، جب عمر باہر گئے تو عثمان نے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملاقات كى اجازت مانگى ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس بار اٹھكر اپنے كپڑے درست كئے ، پھر اندر انے كى اجازت دى ، عثمان اپنے كام كے بعد واپس گئے ، اس موقع پر ميں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے كہا ، ابوبكر و عمر كو اپ سے ملنا تھا اپ نے اسى حالت ميں ان سے ملاقات كى ، نہ اٹھكر بيٹھے نہ كپڑے ٹھيك ٹھاك كئے ، ليكن جس وقت عثمان ائے تو اپ نے خود كو ا س طرح ٹھيك ٹھاك كيا جيسے اپ ان سے شرم كرتے ہيں ؟

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا: عثمان بہت زيادہ شرميلے اور حيا دار ہيں ، ميں ڈرا كہ اگر اسى حالت ميں ميرے پاس ائے تو شرم و حيا كى وجہ سے اپنے مطالبات نہ بيان كريں گے _

ايك دوسرى روايت كى بناء پر(۳) عائشه كا بيان ہے كہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا بستر پر سوئے ہوئے ميرى چادر تانے ہوئے تھے ، يہاں تك كہ جب عثمان نے ملاقات كيلئے اجازت مانگى تو پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھے حكم ديا ، اپنے كپڑے پہن لو _

عائشه نے كہا ، اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ، ابوبكر و عمر كى امد پر اپ اتنے بے حواس نہيں ہوئے اب اپ عثمان كے انے پر اتنى تيارى كر رہے ہيں كہ اپنے كپڑے پہن رہے ہيں ؟

ايك دوسرى روايت ميں ہے كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا :

اے عائشه ميں ايسا كيوں نہ كروں اور اسكا احترام نہ كروں حالانكہ خدا كى قسم فرشتے بھى عثمان سے شرم وحيا كرتے ہيں(۴)

____________________

۳_ صحيح مسلم ج۷ ص۱۱۷ ، باب فضائل عثمان _ مسند احمد ج ۶ ص۱۵۵

۴_صحيح مسلم ج۷ ص ۱۱۶ ، كنز العمال ج۶ ص۳۷۶ _ تاريخ بن عساكر _ النساب الاشراف بلاذري


ميرے خيال ميں اس حديث كو خلافت عثمان كے زمانے ميں بيان كيا گيا ہے ، كيونكہ جيسا كہ ہم اس حديث ميں ديكھ رہے ہيں ، اس حديث ميں بھى خلفاء ثلثہ كے نام اسى ترتيب سے لئے گئے ہيں جس ترتيب سے وہ ہوئے ہيں ، يہ چيز بجائے خود ہميں سمجھاتى ہے كہ شيخين كے بعد جب عثمان مسند خلافت پر بيٹھے ہيں تو اسے بيان كيا گيا ہے _

نيز يہ بھى واضح ہوتا ہے كہ حديث بالا اس وقت بيان كى گئي ہے جب ابھى عائشه كو عثمان سے اختلاف نہيں ہوا تھا ، نہ رنجش ہوئي تھى ، بلكہ قتل عثمان سے بہت پہلے بيان ہوئي ہے ، بلكہ اس سے بھى بہت پہلے جب عائشه انتقام خون عثمان كيلئے كھڑى ہوئي تھيں ، روايت ہوئي ہے

كيو نكہ اگر اس كے علاوہ بات ہو تو اسميں دوسرى احاديث كے مانند ان كے قتل ہونے كا بھى تذكرہ ہوتا ، ان تمام باتوں كو نظر انداز بھى كر ديا جا ئے تو يہ بات بہت واضح ہے كہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا خود ادب و اخلاق كا سمندر تھے ، اخلاق كے مربى تھے ، بنا بريں يہ حديث رسول كو اپنى زوجہ كے ساتھ لحاف ميں بتا رہى ہے ، بغير كسى شرم و حيا كے ايك كے بعد دوسرے صاحب كمرے ميں اتے ہيں ، اور انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر كوئي اثر نہيں ہوتا ،ليكن عثمان كے اتے ہى كپڑے درست ہوئے ، اپنى زوجہ عائشه كو بھى كپڑے درست كرنے كا حكم ديا ، پھر يہ كہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے ان تينوں صحابہ ميں فرق مراتب كيوں قرار ديا ؟ اور كيا بات ہے كہ صرف عثمان ہى سے فرشتے شرم كرتے ہيں ؟

برہمى و بغاوت كا زمانہ

عثمان كى خلافت كے نصف اول ميں عائشه نے انكى حمايت كى ، خود بھى فرماں بردار تھيں اور ذرا بھى مخالفت و نافرمانى كى ہوا نہيں بنائي _

يہاں تك كہ اس موقع پر بھى كہ جب تمام ازواج رسول نے حج كا ارادہ كيا تو پہلے انھيں سے اجازت مانگى ، عائشه كا اس مرتبہ بيان ہے _

جب عمر مر گئے اور عثمان حكمراں ہوئے تو ميں نے ام سلمہ اور ميمونہ و ام حبيبہ سے ايك شخص كو عثمان كے پاس بھيج كر حج كى اجازت طلب كى _


عثمان نے جواب ديا ، سيرت عمر كا لحاظ كرتے ہوئے ميں بھى انھيں كى طرح حج كيلئے بھيجوں گا ، اسلئے تمام ازواج رسول ميں جو بھى ادائے حج كى خواہشمندہے ، ميں تيار ہوں _

عثمان نے اپنا وعدہ پورا كيا ، اورہمارے ساتھ سب ازواج كو بڑے اہتمام و حجاب كے ساتھ حج كے لئے روانہ كيا ، صرف زينب نہيں تھيںكيونكہ وہ زمانہ ء عمر ہى ميں مر چكى تھيں اور سودہ بنت زمعہ جنھوں نے وفات رسول كے بعد كبھى گھر سے قدم باہر نہيں نكالا(۵)

اس سال عثمان نے ازواج رسول كے ساتھ حج كيا ، اور تحفظ و نگرانى كى تمام ذمہ دارى عبد الرحمن بن عوف اور سعد بن زيد كے حوالے كى _

يہ صفائي اور خلوص زيادہ دير نہ ٹك سكا ، گذرتے زمانے كے ساتھ عائشه اور عثمان كے درميان اختلاف ظاہر ہوگئے ،اخر كا ر عثمان نے عائشه كے وظيفہ كا دو ہزار اضافى حصہ كا ٹ ليا

تاريخ يعقوبى ميں ہے(۶) عائشه و عثمان كے درميان رنجش ہوگئي اور عثمان نے وہ دو ہزار دينار جو عمر نے تمام ازواج كے مقابلے عائشه كو امتياز ى اضافہ كيا تھا كاٹ ليا ، اور دوسرى ازواج كى طرح ان كا بھى وظيفہ معين كيا _

عائشه و عثمان كے درميان اختلاف كى صحيح تاريخ ہميں معلوم نہيں ، بس ہم اتناہى جانتے ہيں كہ ان دونوں كا اختلاف نصف اخر ميں ظاہر ہواہم يہ بھى جانتے ہيں كہ يہ اختلاف كسى ايك واقعہ كے تحت نہيں ہوا بلكہ رفتہ رفتہ سلگتا ہوا شدت پكڑ گيا ، سنگين سے سنگين تر ہوتا گيا ، پھر عائشه اور عثمان كے درميان دراڑ عميق تر ہو گيا _

اسى طرح ہم يہ بھى جانتے ہيں كہ عائشه پہلى شخص ہيں جنھوں نے پرچم بغاوت بلند كيا ، اور ناراض لوگوں كو اپنے گرد جمع كيا ، انكى قيادت كى يہاں تك كہ خليفہ قتل كر ڈالے گئے(۷)

____________________

۵_ طبقات بن سعد ج ۸ ص ۲۰۹

۶_ تاريخ بن اعثم كوفى ص ۱۵۵ _ تاريخ يعقوبى ج۲ ص ۱۳۲

۷_ طبرى ج۵ ص ۱۷۲


اور يہ بھى طئے ہے كہ جس وقت عثمان كے خلاف كشمكش و مخالفت كى اگ اور لوگوں كى شورش بھڑك رہى تھى ، اسوقت مسلمانوں كا كوئي بھى خاندان يا قبيلہ ابو بكر كے خاندان تيم سے زيادہ مخالفت ميں اگے نہ تھا(۸) منجملہ ان امور كے جن سے عائشه اور عثمان كے درميان اختلاف زيادہ سے زيادہ بڑھتا گيا ، انجام كا ر دشمنى و نفاق ان دونوں ميں اشكار تر ہوا ان ميں وليد بن عقبہ كا مسئلہ ، ابن مسعود صحابى كے مسئلے پر عام طور سے لوگوں كو توجہ ہوئي ، ہم يہاں ہر ايك كے بارے ميں الگ الگ تجزيہ كريں گے _

وليد بن عقبہ اور كوفے كى گورنري

ہم نے بتايا كہ عثمان كى فرماں روائي كے ابتدا ئي زمانے ميں ام المومنين عائشه كى زبر دست حمايت حاصل تھى ، وہ چھ سال تك خاتون صدر اسلام كى حمايت سے سرفراز رہے عثمان بھى عائشه كے احترام ميں كمى نہيں كرتے تھے ، ليكن گذرتے زمانے كے ساتھ رفتہ رفتہ ان دونوں كے درميان اختلاف ابھرتا گيا ، گروہ بندى اور محاذ ارائي شروع ہو گئي _

ام المومنين لوگوں ميں اپنے اثرات عثمان كو دكھانے كيلئے ہر حادثے سے بيش از بيش استفادہ كرتى تھيں ، عثمان كے خلاف لوگوں كے جذبات ابھارنے ميں ہر مسئلے سے فائدہ اٹھاتيں ، يہ عناد اور اختلاف اسقدر بڑھ گيا كہ دونوں ايك دوسرے كى جان كے دشمن ہو گئے

عثمان نے اپنے رضاعى بھائي وليد بن عقبہ كو حكومت كوفہ حوالے كر دى جو بد كار ، شرابخوار و كمينہ تھا ، كوفے كے باشندے ايسے حكمراں كى شكايت ليكر مجبور اً ائے ، يہ ام المومنين كو بڑا اچھا بہانہ ہاتھ لگا كہ عثمان كى اينٹ سے اينٹ بجا دى جائے _

اب ميں بھى تاريخ كے دريچے سے اس زمانے ميں وليد كے كرتوتوں پر لوگوں كے رد عمل اور عائشه كے احكامات پر ايك نظر ڈال رہا ہوں _

وليد بن عقبہ ، يہ شخص خاندان ابى معبط بن ابى عمرو كى فرد تھا جسكا نام ذكوان تھا ، ذكوان كو اميہ بن عبد الشمس نے خريد اتھا بعد ميں اپنا بيٹا بنا ليا وليد كى ماں كانام اروى بنت كريز بن ربيعہ تھا ، جو عثمان كى ماں تھى ، اس بناء پر وليد عثمان كامادرى بھائي تھا وليد باپ عقبہ مكے ميں رسول خدا كا پڑوسى تھا ، بعثت كے ابتدائي زمانے ميں انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى مجلس ميں اكثر اتا جاتا رہتا تھا _

____________________

۸_ انساب الاشراف بلاذرى ج۵ ص ۶۸


ايك دن عقبہ كے يہاں كچھ مہمان ائے اور انحضرت سے خواہش كى كہ اس نشست ميں اپ بھى تشريف لائيں ، رسول خدا نے اسكى خواہش قبول فرمائي اسكے مہمان ہو گئے ، ليكن اپ نے اسكا كھانا نہيں كھايا اور شرط لگادى كہ اگر تم خدا كى وحدانيت اور ميرى رسالت پر ايمان لے ائو تو ميں تمھارا كھانا كھائوں گا ، عقبہ نے اپ كى بات مان كر ايمان كا اقرار كر ليا ، اسطرح وہ مسلمان سمجھا جانے لگا ، جب قريش كو يہ بات معلوم ہوئي تو كہنے لگے عقبہ بھى اپنے باپ دادا كے دين سے پھر گيا _

عقبہ كا ايك دوست تھا ، وہ اس واقعے كے وقت مكے ميں نہيں تھا شام كى طرف سفر ميں گيا تھا ، جس رات وہ شام سے واپس ايا تو اپنى بيوى سے بات چيت كے درميان پوچھا _

_محمد اور ان كے ماننے والوں كا كيا حال ہے ؟

_وہ لوگ سخت جد وجہد كى وجہ سے روز بروز ترقى كر رہے ہيں _

_ميرا دوست عقبہ كيا كر رہا ہے ؟

_وہ بھى باپ دادا كے دين سے پھر گيا ہے اور محمد كا دين قبول كر ليا ہے _

_عقبہ كا دوست جسكا نام بعض روايات ميں ابى بن خلف اور بعض ميں اميہ بن خلف ہے يہ ماجرا سنكر سخت پريشان اور بے چين ہوا اس نے رات بے چينى ميں گذارى ، صبح كو جب عقبہ اس سے ملنے ايا اور سلام كيا تو اس نے سر نہيں اٹھايا ، نہ اسكى طرف ديكھا ، اسے كوئي جواب نہيں ديا ، عقبہ نے پوچھا :

_كيا بات ہے كہ ميرے سلام كا جواب بھى نہيں ديتے _

_كيسے سلام كا جواب دوں ، تم تو باپ دادا كے دين سے پھر گئے ہو ؟

_قريش بھى ميرے بارے ميں يہى كہتے ہيں ؟

_ہاں

_ميں كيا كام كروں كہ ان كے دلوں كى صفائي ہو جائے ؟

_بہت اسان ہے ، محمد كى بزم ميں جاكر منھ ميں پانى بھر كے ان كے اوپر كلّى كرو اور جتنى گندى گالى ہو سكتى ہے انھيں دے ڈالو _


عقبہ نے اپنے ساتھى دوست كے حكم پر عمل كيا اور جو بات كسى طرح مناسب نہيں تھى اسے كر ڈالا _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس كى اس ذليل حركت پر كوئي رد عمل ظاہر نہيں كيا صرف اپنا چہرہ صاف كيا پھر عقبہ كى طرف رخ كر كے فرمايا :

اگر مكہ كے باہر ميں نے تجھے پاليا تو تيرى گردن مار دوں گا _

ايك دوسرى روايت ميں ہے ، عقبہ كے دوست نے اسكى سر زنش كرتے ہوئے كہا :

_اے عقبہ، تم اپنے باپ دادا كے دين سے پھر گئے ہو ؟

_نہيں ، ايسا نہيں ہے ، ايك دن محمد ميرے مہمان ہوئے اور قسم كھائي كہ اگر ميں مسلمان نہيں ہو جائو نگا تو كھانا نہيں كھائونگا مجھے بڑى شرمندگى ہوئي انھيں خوش كرنے كے لئے زبان سے كلمہ پڑھ ليا سچ بتاتا ہوں كہ دل سے ايسا نہيں كيا ہے _

_اب ميں كبھى تمھارى صورت نہيں ديكھوں گا ، جب تك تم ان كے اوپر كلّى نہ كرو ، پھر انھيں طمانچے لگائو ، لاتوں اور گھونسوں سے انكى ضيافت كرو ، اسطرح ان سے اپنى بيزارى كا اظہار كرو _

عقبہ نے اپنے دوست كے اس حكم پر اسوقت عمل كيا جب انحضرت دار الندوہ ميں حالت سجدہ ميں تھے _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے فرمايا :

اگر ميں تجھے مكہ سے باہر ديكھوں گا تو سر كاٹ لوں گا _ * * * *

عقبہ اس واقعہ كے بعد رسول خدا كا سخت ترين دشمن ہو گيا ، پھر تو اس نے بكرى كى اوجھڑى لى اور اسكى سارى غلاظت اپ كے دروازے پر پھنيك ايا(۹)

جنگ بدر ہوئي تو عقبہ كے ساتھى مشركوں كے ہمراہ رسول خدا سے جنگ كے لئے نكلے ، عقبہ سے بھى كہا كہ اس جنگ ميں شريك ہو ، ليكن اس نے عذر كرتے ہوئے كہا كہ ، ميں اس شخص سے ڈرتا ہوں ، كيونكہ مجھ سے اس نے ايك دن كہا تھا اگر تجھے مكہ سے باہر ديكھوں گا تو گردن ماردوں گا _

____________________

۹_ طبقات بن سعد ج۱ ص ۸۶ مطبوعہ مصر


دوستوں نے جواب ميں كہا :

تمہارى ران كے نيچے سرخ بالوں والا اونٹ ہے ، اگر ہم لوگ شكست كھا گئے تو اسانى سے ميدان بدر سے بھاگ جائو گے _

عقبہ كو اسكے دوستوں نے اتنا سمجھايا بجھايا كہ وہ راضى ہو گيا ، وہ سب اسے ميدان تك گھسيٹ لائے _

جنگ شروع ہوئي ،اور اسكى بھٹى گرم ہوتى گئي ، اخر كار خداوند عالم نے مسلمانوں كو فتح عطا كى ، اس ہنگامے ميں عقبہ كا شتر بھاگا اور اسے ايك ہموار ميدان ميں پہونچا ديا ، مسلمان اسكے سر پر پہونچ گئے اور ديگر ستر قيديوں كى طرح اسے بھى گرفتار كر ليا _

جب عقبہ كو خدمت پيغمبر ميں لائے تو اپ اسے گھورنے لگے پھر اپ نے اسكے قتل كا حكم ديديا

عقبہ نے قتل كا فرمان سنا تو چلانے اور فرياد كرنے لگا _

ہائے اپ ان تمام قيديوں ميں صرف مجھے ہى كيوں قتل كر رہے ہيں _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا ، تيرا گناہ بہت سنگين ہے ، تجھے اسلئے قتل كيا جارہا ہے كہ تو نے خدا ورسول سے كفر كيا اور ظلم كيا ، پھر اپ نے حضرت على كو حكم ديا كہ اسكا سر بدن سے جدا كر دو _

قران كى يہ آيت اسى واقعے كى طرف اشارہ ہے _

اور جس دن ظالم اپنے ہاتھوں كو اپنے دانتوں سے كاٹتا ہو گا ، كہے گا كاش ميں پيغمبر سے رسم و راہ ركھتا ، كاش ميں فلاں شخص كى بات نہ مانتا اس نے مجھے نصيحت قبول كرنے سے بہكا ديا ، جبكہ وہ ميرے پاس پہونچى تھى ، اور شيطان تو انسان كو بے سہارا چھوڑ نے والا ہے(۱۰)

____________________

۱۰_ سورہ فرقان آيت ۲۷ و۲۹ ، سيرہ بن ھشام ج۱ ص۳۸۵ وج۲ ص۲۵، تفسير طبرى ،قرطبى ، زمخشرى ، ابن كثير ، در منثور نيشاپورى امتاع الاسماع ص۶۱و۹۰


قرآن نے وليد كا تعارف كرايا

وليد اسى عقبہ كا بيٹا ہے جس دن مسلمانوں كے ہاتھوں مكہ فتح ہوا اور پيغمبر اسلام كے قبضے ميں ايا ، مشركوں اور گمراہوں كو بھاگنے كى راہ نہ رہى يہ وليد اسى دن مسلمان ہوا ، كچھ دن بعد رسول خدا نے اسكو قبيلہ بنى المصطلق كى زكواة وصول كر نے كيلئے بھيجا _

وليد تھوڑے ہى دن بعد واپس اگيا اور رپورٹ دى كہ قبيلے كے افراد مرتد ہو گئے ہيں ، زكات دينے سے انكار كر رہے ہيں _

وليد كے اس رپورٹ دينے كى وجہ يہ تھى كہ قبيلہ بنى المصطلق كے كچھ لوگ وليد كے انے كى خبر سنكر اسكے استقبال كيلئے ابادى سے باہر اگے تھے تاكہ فرستادہ ء رسول كو خوش امديد كہيں ، ليكن وليد نے انكى بھيڑ ديكھ كر اپنى دانست ميں يہ سمجھا كہ يہ لوگ برى نيت سے ائے ہيں ، بغير ان سے بات كئے تيزى سے مدينہ واپس لوٹ گيا اور يہ جھوٹى رپورٹ دے ڈالى _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خالد بن وليد كو مامور فرمايا كہ جا كر مذكورہ قبيلے كى حقيقت حال دريافت كرے اور رپورٹ دے ، خاص طور سے خالد كو انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تاكيد فرمائي كہ خالد كسى معاملے ميں جلدى نہ كريں اور گہرائي كے ساتھ مسئلے كا تجزيہ كريں _

خالد نے واپس اكر رپورٹ دى كہ قبيلے كے افراد اسلام سے وابستہ ہيں ، ذرا بھى مرتد نہيں ہوئے ہيں ، ان حالات ميں يہ آيت نازل ہوئي جسميں خالد كو فاسق اور بد كردار كى حيثيت سے متعارف كرايا گيا _

اے وہ لوگو جو ايمان لائے ہو اگر كوئي فاسق اور بد كر دار تمھارے پاس كوئي خبر ليكر ائے تو تحقيق كر ليا كرو كہيں ايسا نہ ہو كہ تم كسى گروہ كو نادانستہ نقصان پہونچا بيٹھو اور پھر اپنے كئے پر پشيمان ہو(۱۱)

___________________

۱۱_ سورہ ء حجرات آيت ۶ ----''ان جاء كم فاسق ...''


يہ ہيں مسلمانوں كے خليفہ عثمان جو اپنے كو رسول خدا كا جانشين سمجھتے ہيں ، ايسے فاسق مشھور بد كردار كو صرف رشتہ دارى كى وجہ سے كوفے كى گورنرى سپرد كرتے ہيں ،اور سعد بن وقاص كو وہاں سے ہٹا ديتے ہيں جو كوفہ كے مطلق العنان حكمراں اور پيش روخليفہ حضرت عمر كے زمانے سے گورنر چلے ارہے تھے ، حالانكہ سعد نے حكومت عمر كے زمانے ميں ان كے حكم سے كوفہ كى بنياد ركھى تھى جو دلالوں كى سر حد تھى ، اور وہ فوجى جو ايران كى جنگ ميں شامل تھے ، وہيں سكونت پذير ہو گئے تھے ، كوفہ والے سعد كا بہت احترام كرتے تھے _

بد كردار كو حكمراں كا عہدہ

جب وليد كوفے پہونچا اور سعد كو اسكى ماموريت كى خبر ہوئي تو وليد كى طرف رخ كر كے تعجب سے پوچھا _

ہم لوگ ايك دوسرے سے دور تھے ، ہم نہيں جانتے تھے كہ تمھارى پچھلى مكارى و حماقت ميرے بعد ہو شيارى و سمجھدارى ميںبدل گئي نتيجہ ميں تم نے لياقت بہم پہونچالى _

يا حقيقت ميں يہ ہم ہيں كہ احمق و نادان ہو گئے ہيں ؟ وليد نے جواب ديا اے سعد خفا نہ ہو ، يہ حكومت و سلطنت ہے جو گيند كى طرح ايك ہاتھ سے دوسرے ہاتھ ميں پہونچتى رہتى ہے ، سعد نے اطمينان سے جواب ديا ہاں ، ميں ديكھ رہا ہوں كہ تم لوگ بہت جلد اسے ملوكيت ميں بدل دو گے(۱۲) كوفے كے باشندوں نے بھى اس تبديلى اور حكومت كے تغير پر اپنى خفگى ظاہر كرتے ہو كہا :

عثمان نے سعد بن وقاص كے بہت برے جانشين كو مقرر كيا ہے ، حكومت وليد بن عقبہ كے مسئلے پر ابو الفرج نے اغانى ميں خالد بن سعيد اموى سے يوں روايت كى ہے _

عباس بن عبد المطلب ، ابو سفيان ، حكم بن ابى العاص ، وليد بن عقبہ ہى وہ مخصوص افراد تھے جو مسند حكومت پر عثمان كے پہلو ميں بيٹھتے تھے_

ايك دن عادت كے مطابق وليد خليفہ كے پاس بيٹھا تھا اتنے ميں عثمان كا چچا حكم اگيا ، عثمان احترام حكم ميں اپنى جگہ سے اٹھكر الگ بيٹھ گئے اور حكم كو اپنى جگہ پر بيٹھا يا

____________________

۱۲_ حالات وليد ، استيعاب ، طبقات ، اسد الغابہ ، اصابہ ، اور كنز العمال اور آيت زير بحث سے متعلق تمام تفاسير ديكھى جا سكتي


حكم كيلئے عثمان كے اس برتائو سے وليد بہت خفا ہوا ، ليكن سامنے كچھ نہ بولا ،ليكن جب حكم چلا گيا تو عثمان سے كہنے لگا _

اے امير المومنين جس وقت اپ نے ميرے اوپر حكم كو ترجيح دى تو ميرے دل ميں يہ دو شعر گونجے _

عثمان نے كہا ، اخر حكم قريش كا بزرگ ہے ، اسكا احترام ميرے اوپر واجب ہے ،ليكن وہ دو شعر كيا ہيں ؟ وليد نے يہ دو شعر پڑھے _

ميں نے ديكھا كہ اپنے چچا كى بھائي سے زيادہ قدر كرتا ہے ، حالانكہ يہ نئي بات ہے ، قديم زمانے سے ايسا نہ تھا _

جب ميں نے ايسا ديكھا تو ميں نے ارزو كى كہ (عمر و خالد ) عثمان كے دونوں فرزند بڑے ہو جائيں اور قيامت كے دن مجھے چچا پكاريں

عثمان كا دل ان دو شعروں سے بھن گيا ، كيونكہ وہ مادرى بھائي تھا مزيد دل نہ دكھے اسلئے مملكت اسلام كا ايك گوشہ حوالے كرتے ہوئے كہا ''ميں نے تمھيں حكومت عراق عطا كى ''

اور اسطرح ايك گمنام اور قران كى زبان ميں فاسق ناموس اسلام كا مطلق العنان فرماں روا بنا ديا گيا _

خليفہ كے چچا حكم

اب نامناسب نہيں ہو گا كہ حكم كا بھى تعارف كر ا ديا جا ئے كہ وہ كون ہے اور اسكے كيا كرتوت ہيں كہ جسكا اتنا احترام عثمان جيسا خليفہ كر رہا ہے_

حكم بن ابى العاص عثمان كا چچا ہے اوراميہ بن عبد الشمس كے خاندان سے ہے ، بلاذرى جلد پنجم ص ۲۷ پر لكھتا ہے :

رايت لعم المرء زلفى قرابة

دوين اخيه حادثا لم يكن قدما

فاء ملت عمراً ان يشب و خالدا

لكى يدعوانى يوم مزحمة عما


حكم جاہلى زمانے ميں رسول خدا كا ہمسايہ تھا ، بعثت كے بعد وہ تمام پڑوسيوں سے زيادہ انحضرت كى اذيت ميں كوشاں تھا ، حكم فتح مكہ كے بعد اسلام لايا اور مدينے ميں سكونت اختيار كر لى ، ليكن مسلمانوں كى قربت كے باوجود اپنى دينى سستى اور بد اعتقادى ميں مشھور تھا ، كيونكہ حكم اگر چہ اسلام لے ايا تھا ليكن رسول خدا كے پيچھے پيچھے چلتا اور اپ كى نقل كرتا تھا ، ہاتھ اور منھ سے اپ كو چڑھا تا تھا ، نماز كے وقت مسخرہ پن ميں انگليوں كو ٹيڑى اور سيدھى كرتا، اصطلاحى حيثيت سے وہ گويا جو كربن جاتا _

ايك دن وہ رسول خدا كے پيٹھ پيچھے جو كروں كى حركتيں كر رہا تھا كہ انحضرت نے ديكھ ليا ، اپ نے غصہ ميں حكم ديا _

ايسا ہى ہو جا _

انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى نفرين كا يہ اثر ہوا كہ وہ تمام عمر اسى حالت ميں رہا ، سر اور منھ ہميشہ كپكپاتا رہتا تھا ، عمر بھر كى تھر تھرى لگ گئي _

مسلمانوں كو حق تھا كہ حكم كے اسلام كے بارے ميں مشكوك رہيں ، كيونكہ وہ اپنے مسخرہ پن كے تا عمر عذاب كے باوجود رسول خدا كى اذيت سے باز نہيں اتا ، ايك دن انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنى ايك بيوى كے ساتھ حجرے ميں تھے كہ وہ سوراخ سے جھانكنے لگا ، انحضرت ڈنڈا ليكر باہر نكلے اور فرمايا كون مجھے اس كمينے چھپكلى بچے سے نجات دے گا(۱۳)

پھر اپ نے فرمايا ، يہ اور اس كے بيٹوں كو حق نہيں كہ ميرے ساتھ ايك شھر ميں رہيں ، اپ نے ان كو طائف ميں جلا وطن كر ديا _

رسول خدا كى وفات كے بعد عثمان نے ابو بكر سے سفارش كى كہ حكم اور اسكے بيٹوں كو مدينے واپس بلا ليا جائے ، ابو بكر نے بات نہ مانى اور كہا :

ميرى يہ جراء ت نہيں كہ جسے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے دھتكار ديا ہے اسے مدينہ واپس انے كى اجازت دوں _

____________________

۱۳_ من غديرى من ھذا الوزغ اللعين


جب عمر خليفہ ہوئے تو عثمان نے اپنے مطالبے كى تجديد كى ليكن عمر سے بھى جواب سنا ، ليكن جب خود خليفہ ہوئے تو حكم اور اسكے بيٹوں كو مدينہ واپس بلا ليا اور كہا :

ميں نے رسول خدا كى خدمت ميں حكم كى سفارش كى تھى كہ حكم كو مدينہ بلا ليا جائے ، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے بھى اسے قبو ل فرما ليا تھا ، ليكن وفات رسول كى وجہ سے ايسا نہ ہو سكا _

مسلمان اس راندہ رسول كى مدينہ واپسى سے خو ش نہ تھے ، بلا ذرى ص۲۲۵ پر لكھتا ہے حكم اسرار پيغمبر كو فاش كرتا ، انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس پر نفرين كى اور اسكے ساتھ بيٹوں كو بھى طائف جلا وطن كر ديا ، اور فرمايا وہ ميرے ساتھ ايك شہر ميں نہيں رہے گا _

حكم نے خلافت عثمان كے زمانے تك اپنے بيٹوں كے ساتھ طائف ميں گذر بسر كى ، يہاں تك كہ عثمان نے اسے مدينہ واپس بلا ليا ، صفحہ ۲۸ پر ہے كہ عثمان كى اس حركت سے تمام مسلمان خاص طور سے انتہائي غم و غصہ ميں بھر گئے كہ انھوں نے حكم كو مدينہ واپس بلا ليا ، اور يمن كے قبيلہ ء خزاعہ كى ، وصولئي زكوة پر مامور كيا ، پھر تمام حاصل شدہ رقم جو تين لاكھ تھى اسى كو بخش دى ، ص ۲۷ پر لكھا ہے كہ:

حكم خليفہ عثمان كے زمانے ميں مرا ، خود عثمان نے اس كى نما ز جنازہ پڑھى ، پھر اسكے احترام ميں حكم ديا كہ قبر پر خيمہ لگا يا جائے_

جى ہاں ، حكم جسے عثمان اپنى جگہ پر بٹھا تے ، خود اسكے ما تحت بيٹھتے ايسى اہم اور معروف شخصيت كے بارے ميں قارئين كيا فيصلہ كريں گے ؟

حكم كے حالات كيلئے استيعاب ، اسد الغابہ اور اصابہ ديكھى جائے _


ابن مسعود پر كيا بيتي

ابو عبد الرحمن كنيت تھى ، عبد اللہ بن مسعود ھذلى نام تھا ، ان كے باپ مسعود قبيلہ زھرہ كے ہم پيمان تھے ، ابن مسعود سابقين اسلام ميں سے تھے ، اور اس وقت كہ جب كسى ميں ہمت نہ تھى كہ مكہ ميں بلند اواز سے قران پڑھ سكے انہوں نے اس بارے ميں پہل كى اور بلند اواز سے ايات الہى كو ان مشركين كے كانوں تك پہونچايا جو اس سے نا اشنا اور غافل تھے ، قريش نے فرزند مسعود كو سزا دئے بغير نہيں چھوڑا ، اپ كو اسقدر مارا كہ زخمى كر كے خون ميں لت پت ايك كونے ميں ڈال ديا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم انھيں اپنے پاس ركھتے ، وہ بھى رسول خدا كى دل و جان سے خدمت كرتے

يہاں تك كہ رسول خدا نے ان سے فرمايا ، جہاں تك ميرى اواز سن سكو تمھيں اجازت ہے _

ابن مسعود ہميشہ خدمت ميں رہے ، اپ سے كبھى جدا نہ ہوئے ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جوتياں اپنے پا س ركھتے اور پنھاتے ، اپ كے ساتھ ساتھ چلتے كبھى اپ كے اگے بھى چلتے تاكہ اپ كے محافظ رہيں ، جب رسول خدا نہاتے تو اپ پردہ كرتے تاكہ كوئي انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا بدن نہ ديكھ سكے ، جب اپ سوتے تو اپكى حفاظت كرتے ، اپ ہى انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو خواب سے جگاتے ابن مسعود نے حبشہ اور مدينہ دونوں ہجرت كى جنگ_ بدر اور دوسرى جنگوں ميں شريك رہے ، وفات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بعد اپ كى زندگى كے بارے ميں يہ ملتا ہے كہ(۱۴)

عمر نے انھيں عمار ياسر كے ساتھ كوفہ بھيجا وہاں كے باشندوں كو خط لكھا كہ ميں عمار ياسر كو حكمراں بنا كر اور عبد اللہ بن مسعود كو انكا مشاور اور امور دين كا معلم بنا كر بھيج رہا ہوں ، يہ دونوں رسول خدا كے مخصوص اصحاب اور جنگ بدر ميں شريك رہے ہيں ، انكى پيروى كرتے ہوئے انكى باتيں دل و جان سے سنو ، ان كے فرماں بردار رہو ، اور اس بات كو سمجھ لو كہ ميں ابن مسعود كو بھيجكر تم لوگوں كو اپنے اوپر ترجيح دے رہا ہوں(۱۵)

ابن مسعود كوفے والوں كو قران كى تعليم ديتے ، انھيں دينى مسائل بتاتے اسى كے ساتھ ساتھ وہ بيت المال كے خزانچى بھى تھے _

____________________

۱۴_ مسند احمد بن حنبل ج ۵ص۳۸۹ ، مستدرك ج۳ص ۳۱۵ و ۳۲۰ ، حليہ ابو نعيم ج۱ص ۱۲۶ و ۱۲۷ كنزالعمال ج ۷ص ۵۵ ، بخارى كى بعض روايات خود اپ ہى سے مروى ہيں

۱۵_ اسد الغابہ ۳/ ۲۵۸


خليفہ عثمان نے اپنے رضائي بھائي وليد كو كوفے كا گورنر بنا ديا ، وليد كوفہ ايا اور حكمرانى كرنے لگا ، ليكن ابن مسعود كے ہاتھ ميں تمام ماليات كے امور رہے _

پہلے سے رسم چلى ارہى تھى كہ ہر گورنر جب چاہتا بيت المال سے قرض لے ليتا پھر معين مدت ميں واپس كر ديتا ، وليد نے بھى ايسا ہى كيا قرض كى معينہ مدت ختم ہونے كے بعد ابن مسعود نے اس سے تقاضا كيا ، پھر ٹال مٹول ہوا تو اپ نے اصرار كيا ، ابن مسعود كى يہ گستاخى وليد كيلئے ناقابل برداشت تھى ، ايك خط عثمان كو لكھ كر اس مزاحمت سے چھٹكارے كے سلسلے ميں مدد كى درخواست كى ، عثمان نے ابن مسعود كو فوراً خط لكھا (تمہارى حيثيت ميرى جانب سے صرف خزانچى كى ہے ، جو روپيہ بھى وليد خزانے سے لے تمھيں اسكے مطالبے كا حق نہيں )

جب يہ خط ابن مسعود كو ملا وہ سمجھ گئے كہ اس اہم ذمہ دارى كو وہ بخوبى نبھا نہ سكيں گے ، انھوں نے خزانے كى چابى وليد كے سامنے ڈالتے ہوئے كہا :

ميں اج تك سمجھتا تھا كہ مسلمانوں كے مال كا محافظ ہوں ، ليكن يہ نہيں معلوم تھا كہ تمھارا خزانچى ہوں ، مجھے اسكى ضرورت نہيں ، ميں اس عہدے سے استعفا ديتا ہوں_(۱۶)

ابن مسعود خزانچى كے عہدے سے مستعفى ہونے كے بعد بھى كوفے ہى ميں رہے اس واقعے كے بارے ميں عقد الفريد ميں ہے كہ :

ابن مسعود نے مسجد كوفہ ميں مسلمانوں سے خطاب كيا ، اے كوفہ والو تمھيں معلوم ہونا چايئے كہ اج رات تمہارے بيت المال سے ايك لاكھ كم ہو گيا ہے ، بغير اسكے كہ امير المومنين حكم ديں ،يا ميرى ذمہ دارى ختم كريں وہ نكال ليا گيا ہے _

وليد نے سارى كہانى اور ابن مسعود كى باتيں عثمان كو لكھ ديں عثمان نے بھى ابن مسعود كو اس عہدے سے برطرف كر ديا(۱۷)

بلاذرى انساب الاشراف ميں لكھتے ہيں كہ :

____________________

۱۶_ انساب الاشراف بلاذرى ج۵ص ۳۶

۱۷_عقد الفريد ج۲ ص۲۷۲


جس وقت ابن مسعود نے وليد كے سامنے چابى پھينكى تو غصے سے كہا ، جو شخص احكام خدا كو اپنى خواہش كے مطابق پھرائے تو خدا وند عالم اسكى عاقبت خراب كردے گا ، اور جو شخص اپنى خواہش كے مطابق اسے بدل دے تو خدا اس پر غضبناك ہوتا ہے ، ميں عثمان كو ايسا ہى پا رہا ہوں ، كيا يہ جائز ہے كہ سعداور وقاص جيسى شخصيت كو ہٹا كر كوفے كى گورنرى وليد كو ديدى جائے ؟

ابن مسعود اكثر فرماتے ، سب سے اچھى بات قران ميں خدا كى بات ہے ، اور سب سے پسنديدہ راستہ وہى ہے جسے پيغمبر خدا نے دكھايا ، اور بد ترين كام بدعت ہے ، اور ہر بدعت گمراہى ہے ، اور گمراہى كا نتيجہ اتش دوزخ ہے(۱۸) وليد نے يہ سارى باتيں اور ابن مسعود كى طنزيہ تقرير يں عثمان كو لكھ ماريں اخر ميں لكھا كہ ابن مسعود تمہارى برائياں كرتے ہيں ، تمھيں گالياں ديتے ہيں ، عثمان نے ان كو مدينے بلا بھيجا _

جس وقت كوفہ والوں كو مدينے ميں ابن مسعود كے حاضر ہونے كى خبر ملى اپ كے گرد جمع ہو گئے ، ان سے كہا كہ اپ نہ جايئے _

يہيں ہم لوگوں كے پاس رہيئے ہم لوگ اپ پر اذيت نہ ہونے ديں گے ابن مسعود نے ان لوگوں كو جواب ديا _

انہوں نے ميرے اوپر اطاعت كا حق ڈالا ہے ، جہاں تك ميرى بات ہے ميں نہيں چاہتا كہ ان كے اوپر فتنے كا دروازہ كھولنے والا پہلا شخص بنوں اور ان كے حكم كى نافرمانى كروں(۱۹)

استيعاب ميں ہے كہ ابن مسعود نے كوفے والوں كو يہ جواب ديا ، يہ اوضاع و احوال اپنے پيچھے فتنے لئے ہوئے ہيں ، مجھے پسند نہيں كہ فتنہ ميرے ہاتھوں شروع ہو _

كوفے كے باشندے ابن مسعود كو رخصت كرنے دور تك گئے ، انھوں نے تمام لوگوں كو تقوى اور احكام خداوندى پر عمل كرنے كى نصيحت كى پھر ان لوگوں سے كہا كہ اپنے گھروں كو واپس جائيں ، اور خود مدينے كى طرف چل پڑے _

كوفے والوں نے بھى ابن مسعود كى ستايش كى ، جس وقت وہ مدينے كى طرف روانہ ہوئے تو انكى زحمتوں اور حقوق كا شكريہ ادا كرتے ہوئے كہنے لگے ، خدا وند عالم اپ كو جزائے خير دے ، اپ نے ہمارے ناواقفوں كو دين سے اشنا كيا ، اور واقفكاروں كو دين كا ثبات عطا كيا ، ہميں قران سكھايا ، دين و ائين سے اشنا كر كے بينا كيا ، واقعى اپ اچھے مسلمان ، اچھے خير خواہ اور مہربان بھائي كى طرح رہے ، پھر الوداع كہكے سبھى لوٹ گئے(۲۰)

____________________

۱۸_ ا نساب الاشراف ج۵ص۳۶

۱۹_ ا نساب الاشراف بلاذرى ج ۵ص۳۶

۲۰_ استيعاب ميں حالات بن مسعود ديكھئے


ابن مسعود مدينہ پہونچكر سيدھے مسجد ميں گئے ، اس وقت عثمان منبر پر تقرير كر رہے تھے ، ابن مسعود كو ديكھا تو گفتگو كا رخ بدل كے بولے _

يہ ديكھو چوپايہ پست خصلت اور پھكڑ تمہارے درميان اگيا ، مانند اسكے كہ جب روٹيوں كى طرف ہاتھ بڑھايا جائے تو جو كھايا ہے قئے كر دے _

ابن مسعود نے عثمان كے زخم زبان كا جواب ديا :

نہيں ، عثمان ميں ايسا نہيں ہوں ، بلكہ ميں وہ صحابى رسول ہوں جسے جنگ بدر اور بيعت رضوان ميں شريك ہونے كا فخر حاصل ہے(۲۱)

عائشه بھى حجرے سے چيخ پڑيں ، ارے عثمان تم رسول كے ہمدم اور صحابى كے لئے ايسى بات كہہ رہے ہو؟

عثمان نے عائشه كے جواب ميں چلا كر كہا ، خاموش رہو ، اور پھر حكم ديا كہ ابن مسعود كو مسجد سے نكال باہر كر ديا جائے _

خليفہ كے حكم سے ابن مسعود كو بڑے توہين اميز انداز ميں مسجد سے نكالا گيا ، عبداللہ زمعہ نے انكو زمين پر پٹك ديا ، يہ بھى كہتے ہيں كہ عثمان كے غلام يحوم نے انھيں دونوں ٹانگيں پكڑ كر اٹھا يا اور اتنى زور سے زمين پر پٹكا كہ پسلياں ٹوٹ گئيں_

حضرت عليصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جو اس سارے منظر كو ديكھ رہے تھے _فرمايا اے عثمان صرف وليد بن عقبہ كى رپورٹ پر صحابى رسول خدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ا كے ساتھ يہ سلوك كر رہے ہو؟ عثمان نے جواب ديا نہيں ،صرف وليد كى رپورٹ ہى نہيں ،ميں نے زبيد بن صلت كندى كو بھى تحقيقات كے لئے كوفہ بھيجا تھا ، ابن مسعود درد كى شدت سے تڑپ رہے تھے ،چلانے لگے ، خون عثمان حلال ہے حضرت على نے عثمان كو جواب ديا _

تم نے زبيد جيسے غير معتبر پر اعتماد كيا ہے ، يہ فرمايا اور ابن مسعود كو علاج كرانے كيلئے اپنے گھر ليكر چلے گئے _

ا بن مسعود اس حادثے كے بعد مدينے ہى ميں رہے ،عثمان نے انھيں مدينے سے باہر جانے كى اجازت نہيں دى ، يہاں تك كہ جب وہ اچھے ہو گئے تو روميوں سے جہاد كيلئے انھوں نے اجازت مانگى ليكن عثمان نے اجازت نہيں دي_

____________________

۲۱_ ابن مسعودنے اس جواب سے عثمان پر طنز كيا ، كيونكہ عثمان نہ تو جنگ بدر مين شريك تھے نہ بيعت رضوان ميں


اس خاص موقع پر روايت ہے كہ جب ابوذر ان سے اجازت مانگ رہے تھے ، اور عثمان ابھى اجازت دينے نہ دينے كى كشمكش ميں تھے كہ مروان بول پڑا _

اس شخص نے عراق كو تمہارے خلاف بھڑ كايا ، عراقيوں كو تم سے بد گمان كيا ، اب شام كى بارى ہے ،يہ چاہتا ہے كہ وہاں كے لوگوں كو تمہارے خلاف بغاوت پر ابھارے اس طرح ابن مسعود زندگى بھر مدينے سے باہر نہ جاسكے، حقيقت ميں وہ نظر بند تھے ،يہاں تك كے قتل عثمان كے دو سال قبل انھوں نے انتقال فرمايا، اس درميان ابن مسعود مدينے ميں تين سال رہے بن مسعود اور عثمان كے درميان اخرى بات چيت بہت زيادہ لائق توجہ ہے _

جس وقت وہ بستر بيمارى پر پڑے زندگى كے اخرى لمحے گن رہے تھے ، عثمان انكى عيادت كے لئے سرھانے پہونچے اور كہا ، كيا تكليف ہے

اپنے گناہوں كا بوجھ

كيا خواہش ہے ؟

خداوند عالم كى بخشش و رحمت

كيا علاج كيلئے ڈاكٹر بلائوں؟

ڈاكٹر نے خود ہى مجھے بيمار كيا ہے

كيا تمہارا وظيفہ دينے كا حكم ديدوں

( دو سال سے بن مسعود كا وظيفہ بند تھا(۲۲)

جب مجھے اسكى ضرورت تھى تم نے نہيں ديا، اب جبكہ ضرورت نہيں ہے ، تم مجھے دينا چاہتے ہو،

تمہارے بيٹوں كيلئے باقى رہے گا_

انكى روزى خدا ديتا ہے،

_________________

۲۲_ تاريخ بن كثير ج۷ ص۱۶۳ ، يعقوبى ج۲ ص۱۹۷ ، مستدرك ج۳ ص۱۳


خدا سے دعا كرو كہ ( جو كچھ ميں نے تم پر ظلم ڈھايا ہے ) معاف كر دے

خدا سے دعا كرتا ہوں كہ تم سے ميرا حق لے،

ابن مسعود نے وصيت كى تھى انكى نماز جنازہ عمار ياسر پڑھائيں ، عثمان ميرے جنازے ميں شريك نہ ہوں ، ان كى وصيت كے مطابق عمل كيا گيا اور عثمان كو خبر كئے بغير جنت البقيع ميں دفن كر ديا گيا(۲۳)

جب عثمان كوا بن مسعود كے مرنے كى خبر ملى تو سخت غصہ ہوئے اور كہنے لگے ، مجھے خبر ديئے بغير تم لوگوں نے ايسا كرديا؟

عمار ياسر نے جواب ديا ،انھوں نے خود وصيت كى تھى كہ تم ان كى نماز جنازہ نہ پڑھائو، عبداللہ بن زبير نے اسى كے مناسب حال شعر كہا ہے ، ميں جانتا ہوں كہ ميرے مرنے كے بعد نوحہ وزارى كرو گے حالانكہ تم نے ميرى روٹى روزى بند كردى تھى(۲۴)

ابن مسعود كے يہ مختصر حالات تھے، ليكن وليد بن عقبہ كى حكومت كوفہ كى صرف يہى ايك داستان نہيں بلكہ اسكى حكمرانى كے زمانے ميں انتہائي بلا خيز اور فتنہ انگيز واقعات سرزد ہوئے ، چنانچہ مسيحى شاعر ابوزبيد اور شعبدہ باز يہودى كے ساتھ اس كے سلوك مشہور ہيں_

اگ سے كھلواڑ

ابو الفرج كتاب اغانى ميں ابن اعرابى كا بيان يوں روايت كرتا ہے جس وقت وليد اپنے مادرى بھائي عثمان كى طرف سے كوفہ كا گورنر بنا تو شرابى اور عيسائي شاعر ابو زبيد سے اسكى گاڑھى چھننے لگى ، وليد نے اسكو عقيل كى ملكيت والے گھر ميں ٹھہرايا ، پھر اسے بخش ديا ، يہ گھر زبيد جيسے شرابى شاعر كو دينے سے پہلى بار كوفے كے باشندے وليد كى برايئاں بيان كرنے لگے ، كيونكہ ابو زبيد عيسائي تھا ،جب وہ وليد كے پاس جاتا ، تو اسكا راستہ مسجد كوفہ ميں ہونے كى وجہ سے وہيں سے وليد كے پاس جاتاوہ رات بھر شراب كے جام چھلكاتا، پھر صبح كو شدت مستى سے بيخود ہو كر لڑ كھڑاتا ہوا مسجد ہى عبور كر كے اپنے گھر پہونچتا _

____________________

۲۳_ابن مسعود كى وفات ۳۲ھ ميں ہوئي زبير نے انھيں راتوں رات عثمان كو خبر كئے بغير دفن كر ديا ، وفات كے وقت انكى عمر ساٹھ سال سے زيادہ تھى ،

۲۴_لاعرفتك بعد الموت تندبني و فى حياتى ما زودتنى زادي


وليد كى يہ روش دين سے لاپرواہى ،اور مسلمانوں كے احساسات و معتقدات سے بے اعتنائي كا پتہ ديتى ہے كوفے والے تو يہ چاہتے تھے كہ وليد شراب پينا چھوڑ دے _

خلاف شرع كام كرنا بند كرے ، ابو زبيد جيسے شرابى مصاحب سے اپنا ناتہ توڑے ، اس كے بر عكس اس نے دو وسيع زميندارى شام دحيرہ ميں محل كے ساتھ اسكو بخش دى ، اور صرف اسى كے چوپايوں كى چراگاہ كو مخصوص كر كے ، دوسروں كو اس كے استفادے سے محروم كر ديا ، ابو زبيد نے بھى اسكى خصوصى مہربانى كے بدلے مدحيہ اشعار كہے اور اسكا شكر يہ ادا كيا ،(۲۵)

بلاذرى لكھتا ہے _ وليد نے اپنے عيسائي شاعر و مصا حب ابو زبيد كے لئے مسلمانوں كے بيت المال سے شراب اور سور كاگوشت مقرر كيا تھا ، اسكے مقربين نے مشورہ ديا كہ اس سے عوامى احساسات بھڑك اٹھيں گے ،لوگ اپ كے خلاف ہو جائيں گے _

نتيجے ميں وليد نے شراب اور سور كا گوشت تو روك ديا ليكن حكم ديا كہ اسكى جتنى قيمت متعين ہوتى ہے

اسے ماہانہ دى جائے پھر اس پر اضافہ بھى كيا ، يہ كوفے كا گورنر عيسائي ابو زبيد كو مسلمانون كى مسجد سے گذرنے كى اجازت دئے ہوا تھا(۲۶)

ايك دوسرى نا مناسب حركت وليد جسكى وجہ سے لوگ اسكے مربى عثمان سے بہت زيادہ بد ظن ہوئے يہ تھى كہ وليد نے حكم ديا تھا كہ ايك يہودى جو كر اپنى جادوگرى كى دوكان مسجد ميں لگا كر اپنے شعبدے دكھائے اور گورنر صاحب كى تفريح كا سامان فراہم كرے _

لوگوں نے وليد كو بتايا كہ زرارہ نام كا ايك يہودى كرتب ميں مشہور ہے وہ شعبدہ ، جادو اور سحر كى تمام قسموں ميں مہارت ركھتا ہے ، يہيں بابل كے پل كے پاس ديہات كا باشندہ ہے ، وليد نے حكم ديا ،اسے كوفہ لايا جائے تاكہ وہ اپنے ہاتھوں كے كرتب اورميٹھے شعبدوں كا تماشہ دكھائے ، وليد كے پيادوں نے اسكے حكم كى تعميل ميں سامنے لاكر حاضر كر ديا ، اس نے بھى حكم ديا كہ مرد يہودى مسجد كوفہ كے صحن ميں اپنے جادو كے كرتب كى دوكان لگادے ، اپنے ہنر كے تماشے اعلى حكام اور مسلمان پڑوسيوں كو دكھائے_

____________________

۲۵_ اغانى ج۳ ص ۱۸۲_ ۸۳

۲۶_ انساب الاشراف بلاذرى ج ۵ ص ۲۹_ ۳۰


اسكى نمائشے كا ايك تماشہ يہ تھا كہ اندھيرى رات ميں بڑا سا ہاتھى گھو ڑے پر سوار تماشائيوں كو دكھا ديتا تھا_

ايك دوسرا كرتب يہ تھا كہ وہى شعبدہ باز اپنے كو اونٹ كى شكل ميں ہو كر رسى پر چلتا ہوا لوگوں كى نگاہوں كو دكھاتا تھا پھر وہ خود ہى ايك خچر كى شكل ميں ہو جاتا تھا جو اس اونٹ كے منھ ميں داخل ہو كر اسكے مخرج سے نكل جاتا تھا_

سب سے اخر ميں تماشہ دكھاتے ہوئے ايك تماشائي كو مجمع سے گھسيٹ لاتا تھا ،پھر بے دھڑك اسے تلوار سے قتل كر كے ،سر وبدن الگ الگ كر ديتا تھا ، پھر سارے تماشائي حيرت كے مارے پھٹى پھٹى انكھوں سے ديكھتے كہ وہ اس مقتول كے جسم پر تلوار پھير رہا ہے اور مقتول زندہ ہو كر اٹھ كھڑا ہو تا ہے _

جندب بن كعب ازدى اسى تماشائيوں كى جماعت ميں ،موجود تھے ، انھوں نے شعبدہ باز يہودى كے سارے تماشے اپنى انكھوں سے ديكھے جو شيطان اور گمراہى كى مسلسل كاروائيوںسے خدا كى پناہ طلب كر تے رہے ، جس سے انسان خدا كى ياد سے غافل ہو رہا تھا ،انھيں يقين تھا كہ يہ سب كچھ نظر بندى اور شعبدہ بازى ہے جسے اسلام نے سختى كے ساتھ منع كيا ہے ،بس پھر كيا تھا ،انھوں نے دير كرنا جائز نہيں سمجھا اور تلوار سونت لى ، ايك ہى وار ميں اس

يہودى كا سر تن سے جدا كر كے چلائے

جاء الحق و زهق الباطل ان الباطل كان ذهوقا

حق اگيا اور باطل نيست ونابود ہو گيا باطل كو تو نيست و نابود ہونا ہى تھا _

يہ بھى كہتے ہيں كہ يہ سارا واقعہ دن كا ہے ،رات كا نہيں ، جندب كے پاس تلوار نہيں تھى ، وہ بازار گئے اور تلوار بنانے والے سے تلوار خريدى اور واپس اكر اس شعبدہ باز يہودى كى گردن مارى ، پھر وہ چلائے _

اگر تو سچا ہے تو اپنے كو زندہ كر لے _


جو بھى صورت ہو ، يہ وليد تھا جس نے مسجد كو شعبدہ باز يہودى كے تماشے كا مركز بنا ليا تھا جبكہ وہ عبادت كى جگہ ہے اور يہ جندب تھے كہ اس شعبدہ باز كو قتل كر كے عثمان كے بد كار حاكم كى تفريح كر كرى كركے اسكے عيش وعشرت ميں اندھيرا كر ديا _

اس مرتبہ تو وليد غصے ميں بھڑك اٹھا ،اس نے جندب كى گستاخى ديكھ كر حكم ديا كہ يہودى زرارہ كے انتقام خون ميں جندب كو قتل كرديا جائے ،ليكن ان كے رشتہ دار جو قبيلہ ازدسے تھے جندب كى حمايت ميں كھڑے ہو گئے انھوں نے قتل ہو نے سے بچا ليا ، نا چار وليدنے حيلہ شروع كيا اور قتل كو نظر انداز كركے بظاہر اسكے قتل سے در گذر كيا اور حكم ديا كہ جندب كو قيد كر ليا جائے _

جندب كو جيل ميں ڈال ديا گيا ، اور جيلر جس كا نام دينار تھا اسكے حوالے كر ديا گيا ، دينار كو جب قيد ہونے كى وجہ معلوم ہوئي ، جندب كى زھد و پار سائي اس نے خود انكھوں سے ديكھى ،يہ ديكھا كہ وہ تمام رات صبح تك عبادت ميں مصروف رہتا ہے ، اس نے جائز نہيں سمجھا كہ ايسے زاہد اور با ايمان شخص كے خون سے اپنا دامن الودہ كر ے جيلرنے ان سے كہا :

ميں دروازہ كھول رہا ہوں ، تم بھاگ جائو ، سلامتى سے اپنى جان بچالے جائو _

اگر ميں ايسا كروں تو تمہيں نہيں چھوڑا جائے گا تمہيں قتل كرديا جائے گا _

ميرا خون رضائے خدا كے لئے بہے گا ولى خدا كى نجات ميں بہے گا ، ميرى جان اتنى قيمتى كہاں ؟

اخر كار دينار جيلر كے اصرار سے جندب نے قدم باہر نكالا اور جيل سے فرار كر گئے _

صبح سويرے وليد نے جندب كے حمايتيوں سے دور تہيہ كئے ہو ا تھا كہ جندب كو قتل كرے اس نے حكم ديا كہ جندب كو خدمت ميں حاضر كيا جائے ، وليد كے پيادے جيل سے خالى ہاتھ واپس ائے ،انھوں نے خبر دى كہ جندب جيل سے فرار كر گئے ، خود سر اور بد كار حاكم كوفہ وليد كو دينار جيلر كى سہل انگارى پر بڑا غصہ ايا ،لال بھبھوكا سرخ انگارہ ہو گيا ، حكم ديا

كہ اس تساہليء پر دينار كو قتل كرديا جائے ،(۲۷) اور اسكا بدن مزبلہء كوفہ ميں دار پر لٹكا ديا جائے(۲۸)

ادھر جندب قيد خانے سے بھاگ كر مدينہ پہونچے، وہيں سكونت اختيار كر لى جب عثمان كو معلوم ہوا تو انھوں نے ان كو سخت و سست كہا اس وقت حضرت على نے انكى سفارش كى عثمان نے امام كى سفارش مان لى ، وليد كو خط لكھا كہ جندب سے كوئي مزاحمت نہ كى جائے ،اس طرح جندب پھر كوفہ واپس چلے گئے _

__________________

۲۷_ مروج الذھب مسعودى ج ۱ ص۳۷_۴۳___اغانى ج۴_ ۱۸۶

۲۸_مولف محترم نے واقعہ جندب اور يہودى جادوگر كے مختلف روايات كو مختلف منابع سے يكجا كيا ہے موجودہ حوالہ سب سے زيادہ كامل تر ہے اس لئے صرف اسى پر اكتفا كيا گيا،(سردارنيا)


انقلاب كى پہلى چنگاري

جب حاكم كوفہ وليد كى بدكارياں اور خلاف شرع حركتيں بہت زيادہ ہو گيئں تو رد عمل بھى ہوئے ،عثمان كے ناروا سلوك كى وجہ سے لوگوں كا غم و غصہ حد سے زيادہ بڑھ گيا ، باتيں ايك منھ سے دوسرے منھ رينگنے لگيں ايسے ميں عمر وبن زرارہ بن قيس نخعى اور كميل بن زياد نخعى يہ دونوں ہى كوفے كے سربر اوردہ لوگوں ميں تھے ، يہ پہلے افراد تھے جنھوں نے عثمان كى بيعت كا قلادہ گردن سے اتار پھينكا اور على كى بيعت كا اعلان كر ديا، لوگوں كو اپنے پاس جمع كر كے يہ تقرير كى _

اے لوگو عثمان حالانكہ حق و باطل كے درميان تميز ركھتے ہيںليكن جان بوجھ كر پس پشت ڈالتے اورنظرانداز كرتے ہيں پست اور كمينے لوگوں كو نيك اور تقوى شعاروں پر مسلط كر ديا ہے انھيں اقتدار و حكومت ديديا _

اس اجتماع ميں خالد بن عرفطہ بھى تھا ، فورا جا كر اس نے وليد كو خبر دى عمر وبن زرارہ كا واقعہ اور اسكى بھڑكانے والى تقرير سب بيان كر ڈالى _

وليد غصے ميں بھر گيا ،اس نے چاہا كہ خود سوار ہو كر جائے اور تمام لوگوں كو منتشر كردے ليكن اسكے مصاحبين اڑے اگئے_

اور سمجھا يا كہ وہ جتنا سمجھ رہا ہے يہ معاملہ اس سے بھى زيادہ خطرناك ہے ، كيو نكہ تمام لوگ بھڑ كے ہوئے ہيں ،ھنگامے پر امادہ ہيں اپنے حال پر رحم كرو اور فتنے كى اگ كو زيادہ ہوا نہ دو اسى درميان مالك بن حارث نے پيشكش كى كہ اگر وليد چاہے تو ان تمام لوگوں كا جوش ٹھنڈا كردوں وليد نے اثبات ميں جواب ديا

وہ اس اجتماع ميں پہونچا اور ان سے گفت و شنيد كرنے لگا انھيں فتنہ و اشوب سے ڈرا كر ،سب كو ٹھنڈا كر ديا _

وليد بھى نچلا نہيں بيٹھا، ا س نے شور ش اور عمرو بن زرارہ كى تقرير كا كچا چٹھا عثمان كو لكھ مارا ، پھر مدد كى درخواست كر كے اس صورتحال ميں خليفہ سے پوچھا كہ مجھے كيا كرنا چايئے؟

عثمان نے جواب ميں خط لكھا_


ابن زرارہ عرب بدو ہے ،بد معاش ہے اسے شام جلا وطن كر دو وليد نے خليفہ كے حكم سے ابن زرارہ كوشام جلا وطن كرديا(۲۹)

جس وقت ابن زرارہ حق گوئي كے جرم ميں لا چار ہو كر كوفہ چھوڑ رہے تھے ، مالك اشتر،اسودبن يزيد ،علقمہ بن قيس اور قيس بن فہدان انھيں الوداع كہتے ہوئے دور تك گئے ،اس موقع پر قيس نے يہ دو شعر پڑھے _

خدا كى قسم ، رب كعبہ كى قسم خدا كى خشنودى كا پوشيدہ و علانيہ طلبگار ہوں _

ضرور بالضرور ہم وليد اور اسكے اقا عثمان كو جو گمراہى كى جائے پناہ ہے ،حكومت و خلافت سے كھرچے پھينكيں گے()

كوفے ميں عثمان كى باز پرس

جب كوفے كے مختلف لوگوں كى طرف سے بے شمار شكايتيں وليد كے خلاف عثمان كے پاس پہونچيں تو مجبور ہو كر سوچا كہ ظاہرى طور سے اور لوگوں كو دكھانے كيلئے اس كا سخت نوٹس ليا جائے اور اس سلسلے ميں اپنے ازاد كردہ غلام حمران كو انكوائرى كے لئے بھيجا تاكہ صورتحال سے جائزہ لے اور لوگوں كے ساتھ وليد كے سلوك كى رپوٹ دے ليكن وليد نے اس بلند مرتبہ حكومت كى انكوائرى كو دولت سے خريد ليا ،اس كے ہاتھ رشوت سے بھر كر خالى ہاتھ مدينہ واپس كرديا ، اور عثمان كى تمنا كے مطابق وليد كى شان ميں قصيدے پڑھ ڈالے ، عثمان نے راحت كى سانس لى اور خود كو اس روح فرسا غم سے فارغ كر ليا _

اقسم بالله رب البيت مجتهدا

ارجوالثواب له سر او اعلانا

لاخلعن اباوهب و صاحبه

كهف الضلالة عثمان بن عفانا

كچھ دن بعد مروان(۳۰) نے حمران سے ملاقات كركے وليد كے بارے ميں صحيح صورتحال جاننے كيلئے اس سے پوچھا :

____________________

۲۹_ عمر بن زرارہ كے حالات كيلئے ديكھئے اسد الغابہ ج۲ ص ۲۰۱_۲۰۲ج۴ص۱۰۴

۳۰__ محترم قارئين ،مروان حكم كو ائيندہ صفحات ميں اچھى طرح معلوم كرليں گے ،اسكى نفسياتى و اخلاقى حالت نيز اسكے معتقدات كا انداز ہو جائے گا، ليكن يہاں ايك بات كى طرف دھيان دلا نا ضرورى ہے كہ مروان اس خوان سے بہت بڑے حصے كا قائل تھا وہ جانتا تھا كہ عثمان نے جس اموى خاندان كى حكمرانى مستحكم كى ہے اسكا ثبات اسى حالت ميں ممكن ہے كہ حكمرانوں كى سستى و غفلت كو ختم كيا جائے ، عثمان كے نور چشم وليد جيسوں كى حركتوں سے اسكى مشام ميں بوئے انقلاب پہونچنے لگى تھى ، وہ چاہتا تھا كہ انقلاب كى جڑ ختم كر دى جائے اس لئے اس نے خليفہ كے سامنے صحيح صورتحال ركھ دى ، ورنہ اس نے رسول اكرم كى زحمتوں اور دين اسلام كے تحفظ كے لئے ايسا نہيں كيا تھا ، نہ اسے اسلامى درد تھا


حمران نے جواب ديا ، وہاں كے حالات سخت بحرانى ہيں مروان نے بھى جو كچھ بيتى تھى خليفہ كے گوش گذار كر ديا ،

عثمان نے اس خيانت كے جرم ميں حمران كى جھوٹى رپورٹ كا سخت نوٹس ليتے ہوئے اسے بصرہ جلا وطن كرديا ، پھر اسے وہيں بصرہ ميں ايك اچھا سا گھر بھى عطا فرمايا(۳۱)

مسلمانوں كا حكمراں اورشرابخواري

كوفے پر وليد كى حكومت پانچ سال تك رہى ، اس طويل مدت كے درميان اس نے اذربائيجان كے علاقوں ميں مشركوں سے جنگ كى ، ليكن جيسى اسكى سيرت تھى اور ايمان خام تھا اس حساس موقع پر بھى اس سے ايسى لغزش ہو گئي كہ حد جارى كى جاتى ،قوم كے بزرگ جمع ہوئے كہ اس پر حد جارى كريں ،اسى درميان حذيفہ نے قانون الہى كے نفاذ كى مخالفت كر دى ،ان كى دليل يہ تھى كہ يہ شخص اسلاميء فوج كا سپہ سالار اس وقت محاذ جنگ پر ہے ، نتيجے ميں اس پر حد جارى نہيں ہوئي(۳۲)

ميں نہيں جانتا كہ وليد حد كا مستوجب كيوں تھا ؟ شراب پينے كى وجہ سے يا كسى دوسرے ارتكاب حرام كى وجہ سے ، ليكن ايك بات مسلم ہے كہ وہ شراب كا رسيا تھا ، اور يہ برى لت اسميں اتنى تھى كہ عام مورخين كے مطابق وہ حد جارى ہونے كا مستوجب قرار پايا _

ابوالفرج اغانى ميں لكھتے ہيں ،وليد بن عقبہ زناكار اور شرابى شخص تھا ، ايك دن صبح سويرے مستى كى حالت

ميں نماز پڑھانے ايا ،اس نے دو ركعت كے بجائے چار ركعت پڑھا دى _

حالت نماز ميں اس نے گنگنانا شروع كر ديا _

دل شباب و سنگيت كا رسيا ہے ،درانحاليكہ كہ جوان سے دونوں كا اثر ختم ہو گيا ہے(۳۳)

جب اپنى دانست ميں اس نے نماز ختم كى تو مامومين كى طرف رخ كر كے بولا ،اگر كہو تو نماز كى چند ركعتيں اور بڑھا دوں ،اسى حالت ميں جو كچھ پيٹ ميں تھا قئے كردي(۳۴)

____________________

۳۱_ انساب الاشراف بلاذرى ج۵ ص ۳۱

۳۲_ بلاذرى ج۵ ص۳۵

۳۳_ علق القلب ربابا بعد ما شابت و شابا

۳۴_ اغانى ج۴ ص۱۷۸


اس بارے ميں مسعودى لكھتا ہے كہ:

وليد اپنے مصاحبوں ، گويوں اور سازندوں كے ساتھ تمام رات بادہ گسارى كر تا تھا ، ايك دن جب موذن نے صبح كى اذان دى تو وليد نے شب خوابى كے لباس ہى ميں بحالت مستى نماز پڑھانے پہونچ گيا ، محراب ميں لوگوں كو نماز پڑھانے كھڑا ہوا _

اس نے دو ركعت كے بجائے چار ركعت پڑھا دى ، اپنا سجدہ طويل كر ديا ، بجائے تسبيح كے مسلسل كہتا رہا _

پيو اور مجھے پلائو ،جام چھلكائو

اور جب اپنے خيال ميں نماز سے فارغ ہوا ،لوگوں كى طرف رخ كر كے بولا اگر تم لوگ كہو تو چار ركعت سے زيادہ پڑھا دوں _

عتاب ثقفى پہلى صف ميں تھے ، بالكل وليد كے پيچھے نماز پڑھ رہے تھے ، چلانے لگے_

خدا تيرا ناس مارے ، تجھے كيا ہوا ہے ، خدا كى قسم ، مجھے خليفہ كے سوا كسى پر حيرت نہيں ہوتى كہ تيرے جيسے شخص كو ہم پر حكمراں بنا ديا ہے _

دوسرے لوگ بھى وليد كو كنكرياں مارنے لگے ، جب عثمان كے مادرى بھائي اور كوفے كے حكمراں نے اپنا قافيہ تنگ ديكھا تو ڈگمگاتے ہوئے اہستہ اہستہ چل كر اپنے كو دار الامارہ ميں پہونچايا ، حالا نكہ وہ يہ اشعار گنگنا رہا تھا_

ميں ہرگز شراب اور حسين دوشيزہ سے منھ نہ موڑوں گا، اپنے كو اس بھلائي اور لذت سے محروم نہيں ركھوں گا ، بلكہ اتنى شراب پيوں گا كہ سارا بھيجا سيراب ہو جائے پھر لوگوں كے درميان سے دامن بچا كر نكل جائوں گا_


قصہ گواہوں كا

كوفے كے عوام اخر كار وليد كى بدترين حركتوں سے تنگ اگئے اور جب انہوں نے اپنى متعدد شكايتيں اسكے بارے ميں بے اثر ديكھيں تو سب نے يہ رائے قائم كى كہ وليد كى شرابخوارى اور مستى كى پكى دليل اور دين و دنيا سے لا پرواہى كے نا قابل ترديد ثبوت خليفہ كے سامنے پيش كئے جائيں ، ہو سكتا ہے كہ خليفہ ہمارى دليل و ثبوت مان جائے اور ان كے درد دل اور مصائب دور كرنے كى طرف توجہ كرے ، اس رائے پر عمل كرنے كے سلسلے ميں بزرگان قوم نے مناسب سمجھا كہ وليد كى وہ انگوٹھى جس پر اسكا نام نقش ہے ، اور اسى سے وہ خطوں پر مہر كرتا ہے ، عثمان اسے خوب پہچانتے ہيں ،وليد كى مستى كے وقت اتار ليا جائے اور اسى كو خليفہ كے سامنے قطعى ثبوت كے طور پر پيش كيا جائے _

اس سلسلے ميں بلاذرى لكھتا ہے كہ :

جس دن وليد نشے كى حالت ميں نماز پڑھا رہا تھا ابوزينب نے اپنے دوست زھير بن عوف ازدى سے مدد چاہى كہ انگوٹھى نكالنے ميں اسكى مدد كرے ، زھير نے مدد كرنے پر امادگى ظاھر كى دونوں خاص طور سے اس فكر ميں تھے ،اتفاق سے اس دن وليد نماز عصر پڑھانے بھى نہيں ايا ، ابو زينب نے در بان كے ہاتھ ميں كچھ رشوت تھما دى ، دربان نے رشوت ديكھى تو الگ ہٹ گيا اور راستہ ديديا ابو زينب اور زھير گھر ميں داخل ہو گئے

وہ عجيب اور نفرت انگيز منظر تھا ، وليد نشے ميں دھت ہے ، اسے اپنے سر اور پير كا ہوش نہيں ، ان دونوں نے اٹھا كر اسے بستر پر لٹا ديا اس نے بستر پر ہى قئے كر دى ، ابو زينب نے اس سے زيادہ دير مناسب نہيں سمجھى دونوں نے انگوٹھى اتار لى اور باہر نكل گئے _

عثمان كے حضور

ابو زينب اپنے تين اور معزز ساتھيوں كے ساتھ كوفے سے بصرے كے راستے مدينہ كى طرف چل پڑے ،

اخر كار حاكم كوفہ وليد كى شكايت ليكر خليفہ عثمان كى خدمت ميں حاضر ہوئے


پہلے انہوں نے اپنى عرض خليفہ كے سامنے پيش كى اگر چہ ہميں اميد نہيں كہ اپ ہمارى شكايات پر توجہ ديں گے ،ليكن ہم اپنى ذمہ دارى سمجھتے ہيں كہ اپنى شكايات اپ كے گوش گذار كر ديں _

عثمان نے پوچھا ، مطلب كيا ہے ؟

ان لوگوں نے وليد كى سارى باتيں بيان كيں پيش امدہ تمام تفصيلات كى تشريح كر كے كوفے كى لا چارى كا نقشہ پيش كيا _

عبدالرحمن بن عوف اس بزم ميں موجود تھے ، شكايت كرنے والوں سے پوچھا ، مطلب كيا ہے ؟كيا كہہ رہے ہو وليد كو كيا ہو گيا ہے ؟ كيا وہ ديوانہ ہو گيا ہے ؟

شكايت كرنے والوں نے كہا :

نہيں بلكہ وہ شراب كے نشے ميں مست و بے خود ہو گيا تھا_

اس وقت عثمان نے ابو زينب سے پوچھا؟

تم نے خود ميرے بھائي كو شراب پيتے ديكھا_

جندب نے جواب ديا

نہيں ،ميں نے كبھى نہيں ديكھا ، ليكن ميں گواہى ديتا ہوں كہ ميں نے اسے نشے كى حالت ميں ديكھا ہے وہ قئے كر رہا تھا ،اور سارى قئے اسكے بدن پر ارہى تھى ، ميں نے اسكى مستى و بے خبرى كى حالت ميں انگوٹھى اتار لي_

عثمان نے پوچھا:

تم نے كيسے سمجھا كہ وليد نے شراب پى ہے؟

انہوں نے جواب ديا

ہم لوگ كيسے نہيں سمجھيں گے كہ وليد نے شراب پى ،جبكہ ہم نے خود زمانئہ جاہليت ميں شراب پى ہے ، انھوں نے وليد كى انگوٹھى دكھائي ، اور اسے قطعى ثبوت كے طور پر پيش كيا _

عثمان سخت بد حواس ہو رہے تھے ، لگے گواہوں كو ڈرانے دھمكانے ، سخت سے سخت سزا دينے كى بات كہہ كے گواہوں اور شكايت كرنے والوں كے سينے پر ہاتھ مار كے بھگا ديا _


گواہوں پر خليفہ كا عتاب

ابو زينب ہزاروں اميد و ارزو ليكر مدينے ائے تھے ،عثمان كى خدمت ميں پيش ہوئے تھے سارى تفصيل بيان كى تھى ، قطعى ثبوت بھى پيش كيا تھا_

عثمان نے صرف يہى نہيں كى كہ وليد كى شرابخوارى اور اسى حالت ميں نماز پڑھانے كى شكايت پر توجہ نہيں دى بلكہ سب كو ڈنڈا دكھايا ، گالياں ديں اور برا بھلا كہا_

يہ تمام شكايت كنندگان ڈنڈے اور تازيانے كھا كر حضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں ائے ، ان سے مسئلہ حل كرنے كى گذارش كى _

حضرت علىعليه‌السلام نے عثمان سے ملاقات كي، بات چيت كے درميان اعتراض كيا كہ حدود الہى كو معطل كر رہے ہو ، اپنے بھائي كے خلاف گواہوں پر ڈنڈے بر سا رہے ہو ، تم قانون خدا متغير كر رہے ہو(۳۵)

شكايت كنندگان نے عائشه سے بھى ملاقات كى تھى انھو ں نے عثمان سے چلا كر كہا :

شرعى حدود جارى نہيں كر رہے ہو ، گواہوں كى بے عزتى كر رہے ہو(۳۶)

شكايت كرنے والوں نے گواہى دى تھى كہ وليد بن عقبہ حاكم كوفہ نے شراب پى ہے وہى شراب جو جاہليت ميں ميں پى جاتى ہے _(۳۷)

انہوں نے گواہى دى تھى ،وليد نشے ميں دھت تھا ، اس نے دو ركعت كے بجائے چار ركعت نماز پڑھا دى پھر نمازيوں كى طرف رخ كر كے كہا :

اج بہت زيادہ موج ميں ہوں اگر چاہو تو اس سے زيادہ پڑھا دوں ، اسى وقت اس نے محراب مين قئے كردى(۳۸)

انہوں نے گواہى دى كہ الفاظ نماز كے بجائے گيت وسنگيت گنگنا رہا تھا ، اسكى انگلى سے انگوٹھى بھى نكال لى تھى ، يہ زبردست ثبوت تھا ان تمام باتوں كے با وجود ان كاكوئي مداوانہ ہوا، انھيں تكليف جھيلنى پڑى ، توہين ہوئي گالياں سنيں ، ڈنڈے سے تواضع ہوئي، اخر انھيں جان سے مارنے كى دھمكى دى گئي_

____________________

۳۵_ مروج الذھب مسعودى ج۲ ص۳۳۶

۳۶_ بلاذرى ج۵ ص۳۳

۳۷_ مروج الذھب مسعودى ج۲ ص۳۳۶

۳۸_ مروج الذھب مسعودى ج۲ ص۳۳۶


عائشه عثمان كے خلاف

ابوالفرج اغانى ميں لكھا ہے ، عثمان نے ان لوگوں كے اعتراض كے جواب ميں كہا ، مگر بات يہ ہے كہ ہر شخص اپنے امير و حكمراں پر كڑھتا ہے ، اس پر تہمت لگاتا ہے ، اس صورتحال مين صحيح حكم صادر كروں گا كہ تم لوگوں كى اچھى طرح خبر لى جائے اور سر زنش كى جائے _

يہ گروہ عثمان كى سزا كے ڈر سے عائشه كے گھر مين پناہ گزيں ہو گيا ، جب عثمان نے صبح سويرے عائشه كے گھر سے تلخ و تند باتيں سنيں تو بے اختيار چلائے _

كيا عراقى سركشوں اور بد كاروں كو عائشه كے گھر كے سوا دوسرى كوئي پناہ گاہ نہ ملى _

عائشه نے جب يہ توہين اميز اور نا قابل معافى دشنام عثمان كا اپنے بارے ميں سنا تو رسول خدا كى جو تياں ہاتھ ميں ليں اور اپنے سر پر ركھكر بلند اواز سے چلا ئيں _

كتنى جلدى تم نے اس صاحب كفش رسول كى سنت سے منھ موڑليا_

عائشه كى يہ بات بجلى كى طرح ايك منھ سے دوسرے منھ تك پہونچتى گئي ، پھر سارے مدينے والوں كے كانوں تك پہونچ گئي مسجد كے پاس لوگوں كا ہجوم ہوگيا، لوگوں كى زبان پر صرف عائشه اور عثمان كى بات تھى ، لوگوں كى باتيں ا س قدر ہيجان انگيز تھيں كہ اخر كار لوگوں ميں اختلاف پيدا ہو گيا ، اسى وقت دو شدت پسند پارٹياں بن گئيں_

بعض لوگوں نے عائشه كے اس اقدم پر تعريف و تحسين شروع كى اور كچھ منھ بنا كر سرزنش كرنے لگے _

عورتوں كو ان باتوں سے كيا مطلب؟

دونوں پارٹيوں كے مظاہرے موافقت و مخالفت ميں بڑھتے گئے نوبت يہاں تك پہونچى كہ ايك دوسرے كى جان كو اگئے ، اپس ميں سنگريزے ، جوتياں اور ڈنڈے برسانے لگے _


اس موقع پر بلاذرى نے اضافہ كرتے ہوئے لكھا ہے _

ام المومنين كے اعتراض كے مقابل عثمان چپ نہيں بيٹھے ، بڑے تلخ و تند انداز ميں چلائے تجھے معاملا ت ميں دخل دينے كا كيا حق ہے ، تجھے تو حكم ديا گيا ہے كہ اپنے گھر ميں چين سے بيٹھ _ اس اعتراض اور سر زنش كى وجہ سے لوگ دو گروہ ميں بٹ گئے ، كچھ لوگوں نے عثمان كو حق بجانب ٹھہرايا ، انكى تائيد و تصديق كى ، اور كچھ لوگ عائشه كى حمايت ميں چلانے لگے _

معاملات ميں دخل دينے كا ان سے زيادہ سزا وار كون ہے؟ دونوں پارٹيوں كى باتيں بڑھتى گئيں ، نوبت يہ اگئي كہ

ايك دوسرے كے سروں پر جوتے برسانے لگے اور جو رم پيزار رونما ہوئي تھى _ اس واقعے كو يعقوبى نے اپنى تاريخ ميں ،ابن عبدالبر نے استيعاب ميں لگ بھگ اسى طرح لكھ كر ام المومنين عائشه كے تاثير اقدام كى نشاندہى كى ہے_ اس واقعے كے بعد طلحہ و زبير عثمان كے پاس گئے اور سخت سرزنش كرتے ہوئے بولے

ہم ابتدا ہى ميں تم سے كہا تھا كہ وليد كو مسلمان كے كسى معاملے ميں مامور نہ كرو ، مگر تم نے ہمارى باتوں كو اھميت نہيں دى نہ مانا ، اب بھى دير نہيں ہوئي ہے جبكہ ايك گروہ نے اسكى شرابخوارى و مستى كى گواہى دى ہے ،تمہارى بھلائي اسى ميں ہے كہ كام كاج سے الگ كردو _

حضرت علىعليه‌السلام نے بھى فرمايا :

وليد كو عہدے سے سبكدوش كردو ، جيسا كہ گواہوں نے چشم ديد گواہى دى ہے اس كے اوپر حد شرعى بھى جارى كرو _


وليد كى حكومت سے معزولي

اور مسجد كوفہ كے منبر كى تطہير

عثمان مجبور ہو گئے كہ وليد كو حكومت كوفہ سے معزول كريں مدينہ بلائيں ،اور نيا گورنر كوفہ كيلئے معين كريں _

انھوں نے سعيد بن العاص(۳۹) كو حكومت كوفہ پر مامور كيا اور حكم ديا كہ وليد كو مدينہ روانہ كر ديں(۴۰)

سعيد جب كوفہ پہونچا تو وليد كو پيغام ديا كہ تمھيں اميرالمومنين نے مدينہ حاضر ہونے كا حكم ديا ہے _

ليكن وليد نے كچھ دن حكم ميں ٹال مٹول كيا ، گويا سنا ہى نہيں ، ناچار سعيد نے كہا كہ ،اپنے بھائي كے پاس جلدى جائو كيونكہ انھوں نے مجھے حكم ديا ہے كہ تمھيں ان كے پاس بھيجوں ، پھر فرمان صادر كيا كہ دارالامارہ خالى كر كے ميرے حوالے كرو _

وليد نے مجبور ہو كر اطاعت كرتے ہوئے حكومت اس كے حوالے كى اور خود عمارہ بن عقبہ كے مكان ميں ٹھر گيا _

اس وقت سعيد نے حكم ديا كہ مسجد كوفہ كے منبر كو پاك كيا جائے ، وہ كسى حال ميں بھى اس حكم پر عمل كو روكنے كيلئے امادہ نہيں تھا كہ كہيں بات نہ بڑھ جائے _

كچھ بنى اميہ كے اہم افراد جو سعيد كے حمايتى اور اسى كے ساتھ كوفہ ائے تھے انھوں نے خواہش كا اظہار كيا كہ منبر پاك كرنے كا كام نہ كيا جائے ، خاص طور سے انھوں نے ياد دلا يا كہ اگر تمھارے سوا كوئي اور يہ كام كرتا تو تمہيں روكنا چايئےھا، كيونكہ اس عمل سے وليد پر ہميشہ كيلئے كلنك كا ٹيكہ لگ جائے گا (كيو نكہ يہ دونون ہى بنى اميہ كے خاندان سے تھے )

ليكن سعيد نے كسى كى بات نہ مانى ، اخر كار اس نے طئے كرديا كہ بہرحال منبر كو دھويا جائے اور دار الامارہ كى تطہير كى جائے(۴۱)

____________________

۳۹_سعيد بن عاص بن اميہ ، اسكى ماں كا نام ام كلثوم بنت عمر عامرى تھا ، ہجرت كے پہلے يا دوسرے سال پيدا ہوا ، اسكا باپ عاص جنگ بدر ميں على كے ہاتھ سے قتل ہو ا تھا ، عمر بيان كرتے ہيں كہ ميں خود جنگ بدر ميں اپنى انكھو ں سے ديكھ رہا تھا كہ عاص شير كى طرح ميدان ميں چنگھاڑتا ہوا ايا اور على نے ايك ہى ضربت ميں خاك چٹا دى ، سعيد ان نامى گرامى جوانوں اور خطيبوں ميں تھا جس نے عثمان كے حكم سے قران لكھا ، عثمان نے وليد كے بعد اس كو گورنر كوفہ بنايا اس نے اپنے ايام حكومت ميں طبرستان اور دوسرے ايرانى ملكوں كو فتح كيا ، جب عثمان قتل ہوئے تو سعيد گوشہ نشين ہو گيا ، جمل وصفين ميں شريك نہيں ہوا تو اس نے سعيد كو بلايا اور على كے خلاف ،اسكى مدد نہ كرنے پر سرزنش كى ، اس نے عذر معذرت كى ، پھر معاويہ نے مدينہ كا گورنر بناديا معاويہ جب بھى سعيد كو معزول كرتا مروان كو مدينہ كا گورنر بناتا اور مروان كو معزول كرتا تو سعيد كو بناتا سعيد كى موت۵۹ء ميں ہوئي ، اصايہ ، استيعاب اور اسدالغايہ ديكھئے

۴۰_بلاذرى ۵_۳۵

۴۱_ اغانى ج۴ ص ۱۱۸۱_


اغانى ميں ہے كہ عثمان نے وليد كو فرمان صادر كيا كہ مدينہ ائے اس نے جب مدينہ چلنے كيلئے كوفہ چھوڑا تو ايك گروہ جسميں عدى بن حاتم بھى تھے ، اس كے ساتھ ہوگيا كوفے سے نكلا تاكہ خليفہ كے پاس جاكر وليد كے كرتوتوں كا عذر تراشيں ، اس سفر كے درميان ايك دن وليد نے رسم عرب كے مطابق اونٹوں كيلئے يہ حدى پڑھنے لگا(۴۲)

لا تحسنا قد نسينا الايجاف

والنشوات من عقيق اوصاف

وعرف قينات علينا عراف (۴۳)

يہ سنتے ہى عدى اس پر برس پڑے ،ذرا دھيرج رہو تاكہ ديكھوں كہ اتنا سب كچھ ہونے كے بعد اب تم ہم لوگوں كو كہاں گھسيٹتے ہو_

جب وليد مدينے ميں عثمان كے پاس پہونچا اور گواہوں نے اسكے روبرو گواہى دى تو عثمان اس پر حدّ جارى كرنے كيلئے مجبور ہو گئے ، اسكے اوپر برديمانى كا جبہ اوڑھايا گيا تاكہ تازيانوں كى ضربيں اثر انداز نہ ہوں ، پھر حد جارى كرنے كيلئے كمرے ميں لے گئے_

____________________

۴۲_ قديم زمانے سے عرب ميں رسم تھى كہ سفر كے درميان خاص طور سے لمبے سفر ميں اونٹوں كو تيز ھنكانے كيلئے ترنم كے ساتھ موزون شعر پڑھتے تھے اسطرح اونٹ وجد ميں اكر اپنى تھكن بھول جائے ، مسافروں كو لطف بھى اتا تھا ، اس انداز شعر كو حدى كہتے ہيں ،واضح بات ہے كہ حدى ميں ايسے ہى اشعار پڑھے جايئں گے جو اسكى شخصيت كى عكاسى كرتے ہوں يا مسافر كے ھدف كا اظہار ہو(سردارنيا)

۴۳_ اس شعر كا مطلب يہ ہے ، يہ گمان بھى نہ كرنا كہ شترا ن راہوار كے سواروں كو ہم نے فراموش كر ديا ہے اور شراب كينہ كى ياديں بھلا دى ہيں اور دوشيزائوں كى بھڑكيلى اوازيں اور نغمے ميںبھول گيا ہوں


نفاذ عدالت بدست عليعليه‌السلام

قريش كا جو شخص بھى وليد پر حد جارى كرنے كيلئے اگے بڑھتا وليد اس سے كہتا ،ذرا اپنے كو ديكھو، مجھ سے قطع رحم نہ كرو ، ميرے اوپر حد جارى كر كے اميرالمومنين كو غضبناك نہ كرو _

جب وہ يہ بات سنتا تو حد جارى كرنے سے باز اجاتا ، اسطرح كسى كو بھى وليد پر حد جارى كرنے كى ہمت نہ ہوئي _

يہ ديكھ كر على بن ابى طالب نے خود تازيانہ ليا اور اپنے فرزند حسن كے ساتھ وليد كے پاس پہونچے _

وليد نے حضرت على كو بھى بہكانے كيلئے وہى سب بات كہى _

امام حسنعليه‌السلام نے بھى وليد كى تائيد كرتے ہوئے باپ كو خبر دار كيا حضرت عليعليه‌السلام نے اپنے فرزند كے جواب ميں فرمايا :

اگر ميں بھى ايسا كروں تو خدا پر ايمان نہيں لايا _

يہ روايت ہے كہ ، وليد بن عقبہ نے حضرت علىعليه‌السلام كو خدا كى قسم دى اور رشتہ دارى كى دہائي دى ،(بنى ہاشم اور بنى اميہ چچيرے بھائي تھے )حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا :

اے وليد خاموش ہو جا ، كيو نكہ بنى اسرائيل كى ہلاكت كا سبب يہ تھا كہ حدود خدا كو معطل كرتے تھے

اپ نے يہ بھى كہا ، جانے بھى دے ،قريش مجھے اپنا جلاد كہيں گے _

وليد نے عبا اپنے دوش پر ڈالى پھر اسے تمام جسم پر اسطرح لپيٹ ليا كہ حضرت علىعليه‌السلام نے كافى كشمكش كے بعد اسكى دوش سے اتارى حالانكہ اس نے اپنے جبّے كو بدن سے نہيں ہٹايا تھا ، اپ نے دو شاخہ تازيانے سے اس پر چاليس ضربيں لگا ئيں_

مسعودى لكھتا ہے ، جب حضرت علىعليه‌السلام حد جارى كرنے كيلئے وليد كے پاس پہونچے ، وليد نے اپ كو گالى دى ،اپ

كو مدّمكھى والا كہا :

عقيل بن ابى طالب وہيں موجود تھے ، چلّا كر وليد سے كہا :


ابے او معيط كے ہٹے كتنى حيرت كى بات ہے كہ تو اپنى اوقات بھول گيا ہے ، كيا تجھے معلوم نہيں كہ تو اہل صفوريہ كا غلام زادہ ہے(۱) وليد نے يہ ديكھا تو لو مڑى كى طرح حضرت على كے پائوں پر گر پڑا ، ادھر ادھر بھاگنے لگا ، زمين كھودنے لگا ليكن حد شرعى كے اجراء ميں تازيانہ اس پر تابر توڑ پڑتا ہى رہا عثمان نے جب اپنے بھائي كى اتنى خفّت ديكھى تو علىعليه‌السلام پر اعتراض كيا _

تمہيں اسكے ساتھ ايسا سلوك كرنے كا حق نہيں ، حضرت علىعليه‌السلام نے جواب ديا _

مجھے حق ہے ، جس شخص نے ايسى بد كارى كى ہے اسكے ساتھ اس سے بھى بد تر سلوك كرنا چاہيئےجبكہ وہ عدالت الہى كے نفاذ ميں بھاگے _

وليد نے حد شرعى بھگتنے كے بعد يہ اشعار پڑھے _

باعد الله ما بينى و بينكم

بنى امية من قربى و من نسب

ان يكثر المال لايذحم فعالكم

وان يعيش عائلا مولاكم يخب(۲)

روايت ہے كہ جب وليد پر حد جارى ہو چكى تو لوگوں نے كہا كہ رسم كے مطابق اس كا سر بھى مونڈا جائے ، ليكن عثمان نے يہ بات نہيں مانى اور كہا ، عمر ايسا كرتے تھے ليكن اپنى حكومت كے اخرى زمانے ميں يہ رسم ترك كر دى تھى ، وليد بن عقبہ كى شرابخوارى كى وجہ سے حكومت كوفہ سے معزول كرنے اور حد شرعى جارى كرنے كے بعد بھى عثمان نے اپنے ہاتھ كوتاہ نہيں كئے ، ابكى انھوں نے قبيلہ كلب و بلقين كى زكوة وصول كرنے كيلئے مامور كرديا ، اس طرح شرابى گورنر ماليا ت كا افسر بن گيا _

____________________

۱_ صفدريہ اردن ميں ايك ديہات ہے ، عقيل كا اشارہ سمجھنے كے لئے وليد كے بارے ميں گذشتہ باتيں پڑھيئے تو اسكا نسب سمجھ ميں ائے گا

۲_اس شعر كا مطلب يہ ہے، اے بنى اميہ خداوند عالم ميرے اور تمھارے درميان جدائي ڈال دے كيونكہ جو تم ميں مال دار ہوتا ہے ، تو اس سے اچھا سلوك كرتے ہو اور اگر فقير ہو جاتا ہے تو تم سے قطعى نا اميد ہے


ہم نے وليد بن عقبہ كى زندگى كے يہ چند اوراق پيش كئے ، اسے عجيب شخص اور اسكے يار دوستوں كو اس سے بھى عجيب تر پايا _

وليد كو ايسا شخص پہچانا كہ زنا اور شرابخوارى كى حيثيت سے لوگوں ميں مشہور ہے ، قران نے بد كار اور فاسق كى حيثيت سے شناخت كرائي ، اور يہى نام معاشرے ميں اسكى انفرادى پہچان بنا ہوا ہے ، وہ اپنے كمزور دل و دماغ كے بھائي عثمان پر جو تمام مملكت اسلامى كا فرماں روا ہے ، اسطرح مسلط ہے كہ جس پہلو چاہتا ہے لٹا ديتا ہے ، جيسا كہ ہم نے ديكھا كہ ان پر كس برى طرح چھايا ہوا ہے كہ مسلمانوں كى جان و مال پر دست درازى كر كے حكومت ہتھيالي_

خليفہ كے بھائي ہونے كا فائدہ اسطرح اٹھايا كہ اپنى ہوس رانى ميں ترقى كرتا رہا ، اور اس تحفظ كے سائے ميں مرتبہ خلافت كى بركت اسكے شامل حال ہوئي كہ اپنى خواہشات كے گھوڑے جدہر چاہتا جولان كرتا ، ايسى جولانى دكھاتا كہ جسكا تصّور بھى نہيں كيا جاسكتا _

اپنے ہم پيالہ عيسائي شاعر كو لمبى چوڑى زميندارى بخش دى اور اسكے لئے سور كا گوشت اور شراب كا مسلمانوں كے بيت المال سے حصئہ ماہانہ مقرر كيا ، اسے مستى ميں عبادت گاہ سے گذرنے كى اجازت دى _

جادوگر يہودى كو مسجد ميں گھسا لايا ، تاكہ وہ وہاں مسجد كے اندر ، عبادت كى جگہ پر بد كار حاكم كى تفريح كيلئے جادو اور شعبدے كى بساط لگائے اور اپنے كرتب سے جناب وليد كو خوش و مسرور كرے _

وہ خود سر خوش ، نشے ميں چور لڑكھڑاتا ہوا اپنے انہيں كپڑوں كے ساتھ جو محفل عيش ميں پہنے ہوا تھا مسجد كے اندر اتا ہے اور امام جماعت كى حيثيت سے نماز پڑھاتا ہے پھر صبح كى دو ركعت كے بجائے نشے ميں چار ركعت نماز پڑھا ديتا ہے سجدے كى حالت ميں بجائے تسبيح شراب وشباب كے نغمے گنگناتا ہے اور پھر قئے كر كے تمام محراب كا ناس مارتا ہے اس پہ لاابالى فاسق كى حالت يہ ہے كہ جب مدينہ حاضر ہونے كا حكم ديا گيا اور اشراف كوفہ اسكے گھناونے جرا ئم كى عذر تراشى كے لئے خليفہ كے پاس ساتھ جاتے ہيں تو اس وقت بھى شراب ، بو الہوسى اور مطرب و ساز كى باتيں كرتا ہے جبكہ انھيں غلط حركتوں پر اسے مدينہ حاضر ہونے كا حكم ديا گيا ہے حد شرعى اسكے انتظار ميں ہيں _


عام طور سے تمام مسلمانوں حكومت وقت كى روش پر نا راضگى ظاہر كرتے ہيں علانيہ اعتراض كرتے ہيں _

يہ اور اس جيسے بہت سے حالا ت عام لوگوں كے افكار ميں ہيجان پيدا كرتے ہيں ،رات دن لوگوں ميں اس پر بحث ہوتى ہے ، حكومت كے بدكار گورنروں كى حركتوں پر چرچے ہوتے ہيں اور حكومت وقت ان باتوں سے قطعى بے خبر ہے _

يہى چرچے اور اعتراضات اہستہ اہستہ انقلاب كى دستك ديتے ہيں كہ جلدہى عوام حكومت كے خلاف اٹھ كھڑے ہوں گے _

يہ چنگارى كبھى ابن مسعود كى پر خاش ، كبھى عمار كے اعتراض اوركبھى ابوذر اور جندب جيسے بزرگ اصحاب رسول كى شكل

ميں نظر اتى ہے _

ليكن اسى درميان دو اہم شخصيتيں تمام لوگوں سے زيادہ عام مسلمانوں كى توجہ كا مركز بن جاتى ہيں _

ان ميں اولين حضرت على بن ابى طالب كى معروف شخصيت ہے جو لوگوں كى زبان پر چڑھى ہوئي ہے تمام صحابہ كے بزرگ افراد اور عام مسلمانوں ميں اپ ہى كا چرچا ہے _

اپ يہ كى وہ اكيلى شخصيت تھى جس نے خليفہ كے بھائي پر شرعى حد جارى كى ، جبكہ خليفہ كا ميلان نہيں تھا _

اپ نے عثمان كے غصے اور نفرت كى ذرا بھى خيال نہ كيا ، نہ بنى اميہ كے انتقام خاندانى كا ہر اس دل ميں لائے حد شرعى جارى كرنے ميں ذرا بھى انجام كى پروا نہيں كى _

بڑے مزے كى بات يہ ہے كہ امام نے اس كے باپ كو بھى رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم سے جنگ بدر ميں قتل كيا تھا اور اج اس بد كار خبيث كو حدود شرعى كى رعايت نہ كرنے اور علانيہ شراب پينے كے جرم ميں كوڑے لگا رہے ہيں ، اسلئے حضرت علىعليه‌السلام كو حق تھا كہ وہ فرماتے ، چھوڑو بھى ، قريش مجھے اپنا جلّاد كہتے رہيں_

حضرت علىعليه‌السلام نے اس قسم كے اقدامات سے قريش كے دلوں ميں كينے جمع كردئے تھے ، يہ دشمن كى اگ اپ كى خلافت كے زمانے ميں لو ديتى ہوئي اطراف و جوانب ميں پھيل گئي ، اسكى مرگ بار چنگارياں بڑھتى ہى گيئں ، اخر كار انھيں چنگاريوں نے اپكے پورے خاندان كو اپنا لقمہ بنا ليا _


عثمان كے خلاف عائشه كى اشتعال انگيزياں

دوسرى اہم شخصيت ام المومنين عائشه كى تھى ، جو اس وقت عثمان پر بپھرى ہوئي تھيں، اور مخالفين كى صف ميں داخل ہو كر انكى قيادت كر رہى تھيں انھوں نے عثمان كے خلاف عوام كے احساسات بھڑكانے ميں ايسے مسلسل اور متواتر اقدامات كئے جو بجائے خود بے نظير تھے ، يہاں تك كہ ان كے بعد بھى كسى نے ايسى كرتب بازى نہيں كى ، انھوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جوتيوں كو ايسى حالت ميں نا قابل ترديد ثبوت كے طور پر پيش كر كے عثمان كے خلاف سنت رسول كى دہائي دى جبكہ لوگ پورى طرح رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ياد گار كے شيفتہ تھے انكى صحبت دلوں سے فراموش نہيں ہوئي تھى ، اپ كا سراپا ، حركات يہاں تك كہ لباس و پوشاك كے بارے ميں لوگ باہم چرچے كرتے رہتے تھے ، اس وسيلے سے عائشه نے عوام كو عثمان كے خلاف شديد طور پر مشتعل كرديا ، پھر وہ عوام كو منقلب كرنے اور بھڑكانے كيلئے خود ہى ميدان ميں كود پڑيں _

انھوں نے اپنى دقيق سياست سے مناسب وقت اور جگہ پر ايسا كارنامہ انجام ديا كہ جس سے ايك بہت بڑا گروہ خلافت عثمان سے بد ظن ہو گيا ، اور جيسا انھوں نے چاہا خليفہ كے حلقہ بگوشوں كو تتر بتر كرديا ، انكى يہ سياست ايسى شاندار تھى كہ خليفہ كے ہوا خواہ اور مخالفين ايك دوسرے كے امنے سامنے اگئے ، بات يہاں تك بڑھى كہ توتو ميں ميں ہوئي ، جو تم پيزا ر ہوئي اور بعد رسول پہلى لڑائي مسجد رسول ميں ہو ہى گئي جسكى وجہ سے مستبد اور مقتدر خليفہ اپنى حكومت و طاقت كے باوجود عوام كے سامنے گھٹنے ٹيكنے پر مجبور ہو گيا ، عوام كى خواہشات كے اگے گردن جھكاتے ہوئے اپنے شرابى اور بد كار بھائي كو معزول كرديا ، اور عدالتى چارہ جوئي كے لئے دارالسلطنت پر بلايا ، حالانكہ اگر ام المومنين كى ذہانت و صلاحيت لوگوں كو مشتعل كرنے ميں مداخلت نہ كرتى ، وہ خود اسكى قيادت نہ كرتيں تو ايسا اتفاق ہرگز پيش نہ اتا_


ادھر ديكھئے كہ ہم جانتے ہيں رسول خدا كىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صرف وہى ايك زوجہ زندہ نہيں تھيں ، حفصہ ،ام سلمہ اور ام حبيبہ بھى زندہ تھيں ، ہر ايك كا سياست ميں كچھ نہ كچھ اثر تھا ، ليكن كوئي بھى اس مقابلے ميں(عوامى احساسات كو اپنى پسند كے مطابق مشتعل كرنا) ام المومنين عائشه كا ہم پلہ نہيں ہوسكتا تھا _

ضمنا يہ بھى واضح ہوتا ہے كہ عثمان اپنے دونوں پيش رو خلفاء كى سنت كے بر خلاف چل رہے تھے ،اسى مخالفت كى مسند بچھا لى تھى جس پر رسول كا سب سے بڑا مخالف اور مشركين كا ليڈر ابو سفيان اور اسى طرح شرابى اور منحوس بھائي ، اور حكم جيسا راندئہ رسول اس مسند پر بيٹھتا تھا ;

اپنے چچا حكم بن العاص جسے رسول خدا نے جلا وطن كر كے اس پر لعنت كى تھى ، مسلمانوں كى رائے كے خلاف دوسروں سے زيادہ اقتدار خلافت كا مقرب بنا ليا تھا اسكا اسقدر احترام كرتے تھے كہ جب وہ اتا تو تعظيم ميں كھڑے ہو جاتے ، اپنى جگہ پر بٹھاتے تھے اور خود اسكے سامنے دو زانو ہو كر بيٹھتے_

ہم نے يہ بھى ديكھا كہ مملكت كے مشرقى حصے كا نصف اكيلے اپنے منحوس ديوانے بھائي كى خوشامد اور دلجوئي ميں شاھى جاگير كے طور پر اعطا كردى اور پھر ايسے بد معاش اور بے شرم ادمى كو بيت المال ميں تصرف كى اجازت بھى ديدى ، اور ابن مسعود جيسے جليل القدر صحابى كو جنكا ماضى شاندر تھا اسى منحوس اور بد كار بھائي پر اعتراض كے جرم ميں سخت سزادى ، ان سے سخت كلامى اور گاليوں سے نوازا ، حكم ديا كہ انھيں ذلت كے ساتھ مسجد ميں نكال باہر كيا جائے ، جسكے نتيجے ميں انكى پسلياں چور ہو گئيں ، مزيد حكم ديا كہ انكا بيت المال كا وظيفہ بند كر ديا جائے انھيں شركت جہاد كى بھى اجازت نہيں دى ، زندگى كى اخرى سانسوں تك انھيں مدينے سے نكلنے كى اجازت نہيں دى ، يہ سارى كاروائي صرف اپنے بد كار


بھائي وليد بن عقبہ كى حمايت ميں ہوئي _

ہم نے يہ بھى ديكھا كہ اپنے بھائي كے خلاف گواہوں كو مسترد كر ديا ، پھر ہم نے ديكھا كہ اس نے كمبل اوڑھ ليا تاكہ تازيا نوں كى مار كا اثر كم ہو جائے ، حد جارى ہونے كے بعد سر مونڈنے كى بھى اجازت نہيں دى ، ان تمام باتوں كے بعد دوبارہ اسے ايك اہم علاقے كى وصولى زكوة پر مامور كرديا ;

عثمان كے مادرى بھائي وليد بن عقبہ كا مسئلہ اور اسكى كوفے پر پانچ سال حكومت ان كشاكشوں ميں ايك اہم ترين مسئلہ تھا جسميں ام المومنين عائشه نے بھر پور مداخلت كى ، با قاعدہ طور پر عثمان كى مخالفت ميں سامنے اگيئں ، خلا فت كے اقتدار سے لڑنے بھڑنے پر امادہ ہو گيئں _

ہم نے ديكھا كہ معركے ميں ام المومنين كس طرح كامياب نكليں اور مركزى اقتدار كو بات ماننے پر مجبور كر كے اپنى حشمت كا لوہا منوايا_

عمار ياسر

دوسرا مسئلہ جسميں ام المومنين نے شخصى طور سے مداخلت كى اور عوام كو خليفہ كے خلاف بھڑكايا ، عثمان اور عمارياسر كا قصہ ہے ;

پہلے عمار كو پہچانئے پھر اصل قصہ سنئے

ابو يقظان كنيت تھى ، عمار نام تھا ياسر كے فرزند تھے ان كے باپ ياسر قحطانى عرب كے قبيلہ مذجح سے تھے جنھوں نے يمن سے مكہ اكر ابو حذيفہ مخزومى سے پيمان دوستى باندھا ، انھوں نے ايك كنيز سے جنكا نام سميہ تھا شادى كرلى اور عمار ياسر پيدا ہوئے ، ابو حذيفہ نے عمار كو ازاد كرديا اسى وجہ سے عمار كو بنى مخزوم كے موا ليوں ميں شمار كيا جاتا ہے _

عمار ياسر ، ان كے بھائي عبداللہ اور ان كے ماں باپ سابقين اسلام سے تھے ، جنھوں نے بغير خوف خطر اپنے اسلام كا اظہار كيا ، اسكى پاداش ميں مشركين كى طرف سے شكنجہ و عذاب كے سوا كيا مل سكتا تھا _


ان لوگوں كو ا ہنى زرہ پنھادى جاتى تپتے سلگتے پتھروں پر عين دوپہر كى سورج كے سامنے لٹا ديا جاتا ، پھر اس پر سے بھارى پتھر سينے اور پيٹ پر ركھ ديا جاتا ، تاكہ جس دين كو قبول كيا ہے اس سے باز ايئں ليكن يہ اذيتيں ان كے

ايمان راسخ ميں ذرہ برابر بھى خلل نہ ڈال سكيں ، مشركين مكہ كى اسلام سے بيزارى كى پيشكش بھر پور بہادرى كے ساتھ ٹھكرا ديتے تھے _

ٹھيك اسى وقت كہ جب كفار مكہ كا عذاب جھيل رہے ہوتے ، ادھر سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا گذرتے ، انكى رونگٹے كھڑے كردينے والى حالت ملاحظہ فرماتے كہ دوپہر كى دھوپ ميں تپتے پتھروں پر يوں تڑپ رہے ہيں جيسے سانپ كا كاٹا تڑپتا ہے اور انسانى جذبات سے دور مشركين مكہ اپ كے كمزور جسم پر اذيتوں كى بھر مار كررہے ہيں _

اپ بڑے اطمينان بخش لہجے ميںان سے فرماتے ;اے ال ياسر صبر كرو ، جنّت تمہارے انتظار ميں ہے ، عمار ياسر كى والدہ حضرت سميہ ، ابو جہل كے ہتھيار كى مار سے مرگيئں ، اپ اسلام كى راہ ميں پہلى شھيد ہيں _

سميہ كے شوہر ياسر نے بھى مشركين مكہ كى مسلسل اذيتوں سے جان ديدي_

ليكن عمار نے اپنى دلى حالت كے بر خلاف مجبور ہو كر مشركوں كى ظلم و زيادتى سے چھٹكارا پانے كيلئے مشركين كى بات كہہ دى اور رسول كو برا بھلا كہا ، نتيجے ميں كفار نے انھيں چھوڑ ديا رسول خدا كو بتايا گيا كہ عمار كافر ہو گئے ، حق كے راستے سے منحرف ہو گئے _

انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا ، عمار كے وجود سے ايمان ہرگز ختم نہيں ہوا وہ سر سے پير تك ايمان ميں ڈوبے ہوئے ہيں ، انكى رگرگ ميں ايمان بھرا ہوا ہے _

اسى حالت ميں روتے پيٹتے ، انسو بہاتے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں ائے ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كى انكھوں سے انسو پونچھتے ہوئے فرمايا :

اگر پھر تم سے وہ لوگ مزاحم ہوں تو تم نے جو كچھ كہا ہے پھر كہكے اپنے كو بچا لينا _

يہ آيت اسى موقع پر عمار ياسر كے حق ميں نازل ہوئي ،من كفر بالله بعد ايمانه الا من اكره و قلبه مطمئن بالايمان _


اولين مسجد كى تعمير اور عمار ياسر

عمار نے مدينہ ہجرت كى اور جنگ بدر كے ساتھ دوسرى تمام غزوات ميں شركت كى ، جب رسول خدا نے

مدينے ہجرت كى تو عمار مسجد قبا كى تعمير ميں شريك تھے ، وہ اسلام كى پہلى مسجد بنانے والوں ميں شمار كئے جاتے ہيں(۱) عمار ياسر اس مسجد كى تعمير ميں مستقل شريك رہے ، اس سلسلے ميں انھوں نے دوسرے اصحاب سے زيادہ سر كردگى دكھائي ، اينٹ پتھر لانے ميں بہت تيزى دكھاتے تھے _

اسى درميان ايك صحابى عثمان بن عفان بہت كم محنت كر رہے تھے كيو نكہ وہ قيمتى لباس پہنے ہوئے تھے ، جب دوسرے اصحاب اينٹ اور پتھر لاتے اور اسكا گرد و غبار ان كے بدن پر پڑتا تو وہ جھاڑنے لگتے ،على بن ابى طالب نے يہ منظر ديكھا تو كار كردگى اور فعاليت كے سلسلے ميں يہ رجز پڑھنے لگے ،

لا يستوى من يعمر المساجد

يدا ب فيها قائما وقاعدا

و من يرى عن الغبار حائدا (۳)

عمار سادہ دل شخص تھے ، وہ اس رجز كا اشاريہ نہيں جانتے تھے وہ بھى سادگى ميں يہى رجز پڑھنے لگے ، عثمان نے حضرت علىعليه‌السلام كا اشاريہ سمجھ ليا تھا ، اسلئے گمان كيا كہ عمار جان بوجھ كر ان پر طنز كر رہے ہيں كہنے لگے ،اے فرزند سميہ ميں سمجھ رہا ہوں كہ تم كيا كہہ رہے ہو خدا كى قسم ،اس ڈنڈے سے تمہارى انكھ پھوڑ دوں گا _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سارا واقعہ ملاحظہ فرما رہے تھے ، عثمان كى دھمكى پر غصے ميں فرمايا ، عمار سے لوگ كيا چاہتے ہيں وہ انھيں بہشت كى طرف بلا رہا ہے اور وہ لوگ ہيں كہ اسے جہنم كى طرف بلا رہے ہيں

___________________

۳_ اس رجز كا مطلب يہ ہے ، جو لوگ كہ مسجد بنانے ميں كوشاں ہيں اور اس كام ميں برابر دوڑ دھوپ كر رہے ہيں ، اسكے برابر وہ لوگ نہيں ہو سكتے جو اسكے گرد و غبار سے پرہيز كر رہے ہيں اور الگ تھلگ ہيں


عمار كى منزلت ميرے نزديك ميرے اس كھال كى طرح ہے جو انكھ اور ناك كے درميان ہوتى ہے ، جس شخصيت كا يہ مرتبہ ہو اسے اذيت پہوچانے سے پرہيز كرو(۴)

اور ايك روايت ميں ہے يہ قصد اس طرح ہے ، صحابہ نے جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كو غضبناك ديكھا تو عمار سے كہا كہ تم ہى كوئي ايسا طريقہ اپنائو كہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كا غصہ كم ہو _

تو عمار ياسر اپنے سر پر اينٹوں كا بوجھ اٹھاے ہوئے تھے اسى حالت ميں ہنستے ہوئے رسول خدا سے عرض كى _

اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ،اپ كے اصحاب نے تو مجھے مار ڈالا ، كيونكہ جتنا وہ خود اٹھا نہيں سكتے اس سے زيادہ مجھ پر لاد ديتے ہيں ،يہ سن كر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے اپنے دست مبارك سے عمار كے چہرے كا غبار صاف كرتے ہوئے فرمايا :

اہ ،اے سميہ كے فرزند ، يہ تمہيں قتل نہيں كريں گے تمہيں تو ايك باغى گروہ قتل كرے گا(۵)

رسول خدا نے اكثر موقعوں پر عمار ياسر كى تعريف و ستائشے كى ہے منجملہ وہ موقع كہ خالد بن وليد نے عمار ياسر پر غصہ دكھايا بڑے تلخ و تند انداز ميں ان سے باتيں كيں اسوقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے فرمايا :

جو شخص عمار ياسر سے دشمنى ركھے گا ،خدا بھى اسكا دشمن ہو گا _

عمار ياسر نے جمل و صفين ميں حضرت علىعليه‌السلام كى ركاب ميں جنگ كى اپ اخرى حملوں كے وقت جب بھى اپ حركت فرماتے اپ كے ساتھ اصحاب رسول كا گروہ ان كے پيچھے پيچھے چلتا تھا ، ايسا معلوم ہوتا ہے كہ ان سب كے كانوں ميں صدائے رسول گونج رہى تھى _

تم بيشك باغى اور سر كش گروہ كے ہاتھوں قتل ہو گے (تقتلك الفئة الباغيه )

عمار اگے اگے چلتے تھے اور اصحاب رسول پيچھے پيچھے ، اپ جنگ صفين ميں يہ رجز پڑھ رہے تھے _

اج كا دن وہ ہے كہ ميں اپنے دوستوں ، محمد اور اصحاب رسول سے ملاقات كروں گا(۶)

__________________

۴_سيرة بن ھشام ج۲ص ۱۱۴ _شرح سيرة بن ھشام بقلم ابوذر خشنى متوفى ۶۰۴ ھ حديث كى عربى عبارت ہے مالھم لعمار يد عوھم الى الجنة و يدعونہ الى النار ان عمارا جلدة مابين عينى وانفى فاذا بلغ ذلك من الرجل فلم يستبق فاجتنبوہ

۵_ حديث ہے : ويح ابن سميہ ليسوا بالذى يقتلونك انما تقتلك الفئة الباغيہ

۶_ اليوم القى الاحبة ۲_ عمار ياسر پنجشنبہ كے دن عصر كے وقت و صفر ۳۵ھ ميں ۹۳ سال كى عمر ميں شہيد ہوئے اپ كے حالات استيعاب ، اسد الغابہ ، اصابہ ، بخارى كتاب جھاد ميں ديكھئے


اخر كار عمار اسى جنگ ميں معاويہ كے سپاہيوں كے ہاتھوں قتل كئے گئے ، ان كے قتل پر دوسپاہيوں ميں برائے افتخار جھگڑا ہو گيا ، عمر و عاص نے كہا :

بخدا ،يہ دونوں جہنم ميں جانے كيلئے ايك دوسرے سے جھگڑا كر رہے ہيں ، خدا كى قسم ميرى ارزو ہے كہ اج سے بيس سال پہلے مر گيا ہوتا(۷)

عثمان اور عمار

اب عمار ياسر كو پہچاننے كے بعد برا نہيں ہے كہ ہم يہ بھى سمجھ ليں كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عمار كے حق ميں جو احاديث فرمائي ہيں ان كا عثمان نے كتنا پاس و لحاظ كيا ، اور ام المومنين نے اپنا رد عمل كس طرح ظاہر كيا ، انھوں نے عثمان كى ناك رگڑ نے كے لئے عمار كے وجود سے كتنا استفادہ كيا _

بلا ذرى لكھتا ہے :

جس دن لوگوں نے عثمان كو خبر دى كہ ربذہ ميں ابوذر كا انتقال ہو گيا عثمان نے كہا ، خدا ابو ذر پر رحمت نازل كرے(۸)

عمار ياسر وہيں موجود تھے ، بڑے اثر انگيز انداز ميں كہا ہاں ، ميں دل كى گہرائيوں سے كہتا ہوں كہ خدا ان پر رحمت نازل كرے عثمان كيلئے يہ سرزنش قطعى غير متوقع تھى ، وہ چيخ پڑے ( يلعاض ايرابيہ )() جلا وطنى كى ندامت سے ٹسوے بہار ہے ہو ؟ تم خود جاكر انكى جگہ لے لو ، پھر حكم ديا كہ اسے گدّى ميں ہاتھ ديكر نكال باہر كردو _

عمار ياسر تيار ہو گئے كہ ربذہ چلے جائيں كيونكہ خليفہ كا فرمان تھا ، قبيلہ بنى مخزوم كے بہت سے لوگ جو عمار كے ہم پيمان تھے حضرت على كے پاس ائے اور ان سے گذارش كى كہ عمار ياسر كے بارے ميں عثمان سے گفتگو كركے اس حكم سے روكيں_

____________________

۷_ابوذر غفارى ، رسول خدا كے خاص صحابى انكا روحانى مرتبہ بہت بلند اور عوام كے زبان زد تھا ، انھوں نے عثمان پر پئے در پئے اعتراضات كئے اسلئے عثمان كے حكم سے ربذہ جلا وطن كر دئے گئے ؟ وہيں انتقال فرمايا ، اس سلسلے ميں كتاب عبد اللہ بن سبا ديكھى جائے

۸_ يا عاض ايرابيہ ، يہ بڑى گندى گالى ہے ايسا غير مہذب فقرہ ہے كہ اسكے ترجمے سے بھى شرم اتى ہے اس لئے ميں نے اصل لفظوں ہى كو لكھ ديا ہے تاكہ اس حصے كى اخرى حديث عثمان كى حيا كا نمونہ بن جائے ، كہاں تو فرشتے بھى عثمان سے شرم كرتے ہيں (سردار نيا )


حضرت علىعليه‌السلام عثمان كے پاس گئے اور كہا كہ :

اے عثمان خدا سے ڈرو ، تم نے ايك مقدس مسلمان كو اسطرح جلا وطن كيا كہ وہيں انكى موت ہو گئي ، اب تم عمار كے پيچھے پڑے ہو كہ انھيں بھى وہيں جلا وطن كر دو _

نتيجے ميں حضرت علىعليه‌السلام اور عثمان كے درميان تلخ كلامى ہوئي ، يہاں تك كہ عثمان نے حضرت علىعليه‌السلام سے سخت لہجے ميں كہا :

تم ان سے زيادہ جلا وطن كے مستحق ہو _

حضر ت على نے جواب ديا :

اگر چاہتے ہو تو حكم ديدو _

مہاجر ين نے جمع ہو كر خليفہ سے كہا كہ ، ايسا نہيں ہو سكتا ، جو بھى تم سے گفتگو كرتا ہے تم اسے جلا وطنى كا حكم دے ڈالتے ہو عثمان نے مجبورا عمار كے بارے ميں اپنا فيصلہ واپس لے ليا(۹)

ايك دن اصحاب رسول خدا كے بہت سے افراد جن ميں مقداد بن عمرو عمار ياسر ، طلحہ و زبير شامل تھے ، اپس ميں مشورہ كر كے ايك خط عثمان كو لكھا جسميں ان كى تمام غلط حركتوں كو ايك ايك كر كے گنا يا گيا تھا كہ اگر تم نے اپنى يہ روش نہيں چھوڑى تو تمھارے خلاف شورش برپا كردى جائے گى اور بغاوت ہو جائے گى(۱۰)

عمار نے يہ خط ليا اور خود ہى خليفہ كے سامنے پيش كيا انھيں كے سامنے لوگوں كو خط كا بعض حصہ پڑھكر سنا ديا _

عثمان نے ايك تو عمار كى گستاخى اور دوسرے خط كا مضمون ان دونوں باتوں سے سخت برھم ہوئے ، لال بھبھوكا سرخ انگارہ ہو گئے چلّا كے بولے _

اس جماعت ميں ايك تم ہى يہ كام كرنے كيلئے تھے كہ خط ليكر ائے ہو؟ عمار نے جواب ديا_

كيونكہ ميں دوسروںسے زيادہ تمہارا خيرخواہ ہوں_

عثمان نے كہا ، سميہ كے فرزند ،تم جھوٹے ہو_

____________________

۹_ بلاذرى ج۵ ص۴۹ ، تاريخ يعقوبى ج۲ ص۱۵۰

۱۰_ بلاذرى ج۵ ص۴۹ عقد الفريد ج۲ ص۲۷۲ اس خط كى تفصيل ابن قتيبہ نے الامامة والسياسة ميں لكھى ہے


عمار نے جواب ديا:

(تم مجھے سميہ كا بيٹا كہكے پكار رہے ہو ؟) ہاں خدا كى قسم ميں سميہ اور ياسر كا فرزند ہوں

عثمان غصے ميں بد حواس ہو گئے تھے ، اپنے غلاموں كو حكم ديا _

عمار كے ہاتھ اور پائوں كو پكڑ كر ہر ايك اپنى طرف گھسيٹے ، غلاموں نے حكم كى تعميل ميں چہار ميخ (شكنجہ كى اذيت ناك قسم ) كى شكل بنا دى ، خود عثمان نے عمار ياسرپر لات اور گھونسے برسانا شروع كردئے ، اتنى لاتيں ماريں كہ اس بوڑھے كمزور كو عارضئہ فتق لاحق ہو گيا ، وہ بے ہوش ہو گئے _

بيت المال نجى ملكيت

دوسرے وہ مواقع جہاںعثمان نے عمار ياسر سے پر خاش دكھائي ايك موتى كا قصہ ہے جسے عثمان نے بيت المال سے لے ليا تھا _

بلاذرى نے يہ قصہ اس طرح لكھا ہے :

مدينے كے بيت المال ميں ايك موتيوں كا ہار تھا جسميں قيمتى جواہرات جڑے ہوئے تھے ، عثمان نے وہ اپنى ايك بيوى كے لئے ركھ ليا ، جب يہ خبر لوگوں كے كانوں ميں پہونچى تو لگے عيب جوئي كرنے اور مذمت كى بھر مار كردى ، ان كے منھ پر بھى تنقيد ہونے لگى _

عوام كے اعتراض ميں اسقدر شدت تھى كہ عثمان بھڑك اٹھے ، اسى غصے كى حالت ميں منبر پر ائے اور تقرير كرتے ہوئے كہا :

ہم ان اندھوں كو جنھيں دكھائي نہيں ديتا كہنا چاہتے ہيں كہ ھم اس مال ميں سے جتنا چاہيں گے لے ليں گے اور _

حضرت علىعليه‌السلام نے انھيں ٹوكتے ہوئے كہا :

تمہيں روك ديا جائے گا ، ايسے نہيں چھوڑ ديا جائے گا كہ اسميں من مانا تصرف كرو _

عمار ياسر نے بھى چلا كر كہا :

ميں خدا كو گواہ كر كے كہتا ہوں كہ ميں وہ پہلا انسان ہوں جس كو ايسى حركت بہت برى لگى ہے عثمان نے غصے ميں چلّا كر كہا :

( يابن المتكائ(۱۱) ) تيرى اتنى ھمت ہو گئي كہ مجھ سے سخت كلامى كرے اسكے بعد حكم ديا كہ اسے پكڑلو _

____________________

۱۱_ يہ بہت گندى گالى ہے جو اولين اسلام حضرت سميہ كو دى گئي ، يہ عثمان كے شرم و حيا كا دوسرا ثبوت ہے ( سردار نيا )


عمار كو گرفتار كر كے خليفہ كے گھر لے جايا گيا ، جب خليفہ ائے تو فرمان صادر كيا كہ عمار كو حاضر كر كے ميرے سامنے كھڑا كيا جائے پھر انھيں اتنا مارا كہ بيہوش ہو كر زمين پر ڈھير ہو گئے ، پھر اسى بيہوشى كى حالت ميں عثمان كے گھر سے باہر نكال ديا گيا ، دوسرے لوگوں نے انھيں اٹھا كر زوجہ رسول ام سلمہ كے گھر پہونچا ديا _

ظہر عصر اور مغرب كى نماز كا وقت نكل گيا ليكن عمار بيہوش تھے جب ہوش ميں ا ئے تو وضو كر كے نماز پڑھى ، اس وقت كہا :

الحمد للہ ، يہ پہلا دن نہيں ہے كہ خشنودى خدا كى راہ ميں مجھے شكنجہ و عذاب ديا گيا _

ہم يہ جانتے ہيں كہ عمار ياسر قبيلہ بنى مخزوم كے ہم پيمان تھے جب ھشام بن وليد مخزومى كو عمار ياسر پر ڈھا ئے گئے مصائب كى خبر ملى تو انھوں نے عثمان پر اعتراض كيا _

تم على اور بنى ہاشم كو تو ٹالتے ہو ، انھيں چھيڑتے بھى نہيں ليكن ہمارے اوپر زيادتى كرتے ہو ، ميرے بھائي كو مارتے مارتے ادھ موا كرديا ہے خداكى قسم اگر عمار مرگئے تو اس گندے پيٹ والے ( عثمان ) كو قتل كر دوں گا _

عثمان نے غصے ميں انھيں گالى ديتے ہوئے كہا :

اے قسريہ كے بيٹے(۱۲) تيرى اتنى ہمت بڑھ گئي ہے؟

ھشام نے جواب ديا _

اچھا تو سمجھ لو كہ ميں دو مائوں سے قسريہ تك پہونچتا ہوں _

عثمان نے حكم ديا كہ ھشام كو گھر سے نكال ديا جائے ، ھشام خليفہ كے گھر سے سيد ھے ام سلمہ كے گھر گئے ، انھيں معلوم ہوا كہ ام سلمہ بھى عمار پر ڈھائے گئے ظلم و ستم سے سخت برہم ہيں _

____________________

۱۲_قسريہ عرب كا ايك قبيلہ تھا جسے قريش سے نہيں سمجھا جاتا ،اسى لئے عثمان نے انھيں ماں كى طرف سے سرزنش كى ، ليكن ھشام كے باپ قريش سے سادات بنى مخزوم كى فرد تھے ، جواب ميں كہنا چاہتے تھے كہ قسريہ كى طرف نسبت باعث ننگ نہيں، ميرى ماں اور نانا دونوں قسريہ ہيں اسى لئے كہا كہ ميں دو مائوں سے قسريہ ہوں


عمار كى مدد ميں عائشه

جب عائشه كو عمار كے واقعہ كى خبر ملى تو سخت برھم ہوئيں اور عثمان كى روش پر اعتراض كرتے ہوئے رسول خدا كا بال ، لباس اور جوتياں نكاليں ، ہاتھ ميں ليكر چلّانے لگيں _

كتنى جلدى تم لوگوں نے اس بال ، لباس اور جوتيوں والے رسول كى سنت نظر انداز كردى ،حالانكہ رسول خدا كے يہ اثار ابھى پرانے بھى نہيں ہوئے ليكن تم لوگوں نے انكى سنت ترك كردي_

مسجد ميںعوام كا موجيں مارتا سمندر امنڈ پڑا ،اور سبحان اللہ كى صدائيں بلندكرنے لگا _

عمرو عاص ، جنھيں عثمان حكومت مصر سے معزول كركے عبداللہ بن ابى سرح كو حكومت ديدى تھى اسوجہ سے وہ سخت برہم تھے ، دوسروں سے زيادہ سبحان اللہ كى صدائيں بلند كررہے تھے ،تعجب اور حيرت كے عجيب عجيب كرتب دكھا رہے تھے اسى درميان عثمان غصے ميں اسقدر بد حواس ہو گئے كہ سمجھ ميں نہيں اتا تھا وہ كيا كہيں(۱۳)

ابن مسعود اور مقداد كى تدفين

عبداللہ بن مسعود كى تدفين كا واقعہ بھى عمار سے برہمى كا سبب بنا بن مسعود نے مرتے وقت وصيت كى تھى كہ عمار ان كى نماز جنازہ پڑھائيں اور عثمان كو خبر نہ كى جائے كہ وہ نماز جنازہ ميں حاضر ہو جائيں ، عمار نے وصيت پر عمل كيا جب عثمان كو اس واقعے كى خبر ملى تو عمار پر بہت غصہ ہوئے _

ليكن دير نہيں گذرى كہ مقداد نے بھى انتقال كيا ، انھوں نے بھى ابن مسعود كى طرح وصيت كى تھى كہ عثمان ميرى نماز جنازہ نہ پڑھائيں عمار نے مقداد كى نماز جنازہ پڑھائي اور دفن كر ديا ، عثمان كو خبر نہيں كى ،اب تو عثمان اور بھى زيادہ عمار سے غصہ ہوئے ، حالت يہ ہوئي كہ چلّانے لگے ، مجھ پر افسوس جو اس كنيز زادے سے جھيلا ، ميں نے اسكو خوب اچھى طرح پہچان ليا(۱۴)

____________________

۱۳_ بلاذرى ج۵ ص ۴۸

۱۴_ بلاذرى ج۵ ص ۴۹ _ تاريخ يعقوبى ج۲ ص ۱۴۷


ان تمام واقعات ميں جو بات سب سے زيادہ اپنى طرف متوجہ كرتى ہے وہ يہ كہ عثمان نے عمار ياسر كو گالياں ديں ، يابن المتكاء يا عاض ايرابيہ ، كتب صحاح و مسانيد ميں ام المومنين عائشه كى حديث نقل كى گئي ہے كہ عثمان بہت شرميلے ، با حيا اور مہذب ہيں ، يہ بھى حديث ہے كہ خدا كى قسم ، عثمان كے سامنے فرشتے بھى شرم و حيا كا لحاظ كرتے ہيں اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى قسم ، عثمان كے شرم وحيا كى وجہ سے ان سے بہت حيا فرماتے اسطرح كى اور بھى باتيں جو ان كے شرم و حيا كا ڈھنڈورا پيٹتى ہيں _

ضمنى طور سے ہم نے ام المومنين عائشه كو ديكھا كہ عقلمند حكمراں كى طرح مشتعل عوام كو عثمان كے خلاف بھڑكاتى ہيں وہ اچھى طرح سمجھ رہى ہيں كہ كن باتوں سے عوام كے احساسات و جذبات بھڑكيں گے _

انھوں نے پہلى بار عثمان كے خلاف عوامى جذبات بھڑكاتے ہوئے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جوتياں دكھا كر انھيں چونكايا ، پھر جيسا وہ چاہتى تھيں لوگوں كے جذبات كو اپنے كنٹرول ميں كيا وہ اچھى طرح جانتى تھيں كہ وہ سادہ انداز دوسرى بار لوگوں كے جذبات بھڑكانے ميں اتنا كار گر نہيں ہو گا _

ليكن اس بار انھوں نے اس سے اگے بڑھكر لباس ، بال اور انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جوتياں بھى نكال ليں ،يہ رسول كى تين سادہ يادگار يں لوگوں كے جذبات كو مشتعل كرنے اور عثمان كى اينٹ سے اينٹ بجانے كيلئے كافى تھيں _

يہ دوسادے انداز بڑے اہم ثابت ہوئے ، ام المومنين عائشه نے اپنى مہارت و زيركى سے عثمان كا تيّا پانچہ كرديا جبكہ وہ اہم ترين اسلامى شخصيت تھے ، مسلمانوں كى نگاہ ميں رسول كے جانشين كى حيثيت سے محترم تھے _

عائشه نے بڑا اچھا ذريعہ اپنايا جسميں دليل و برہان كى ضرورت نہيں تھى ،انھوں نے خليفہ كى شخصيت كو ايك جانب اور سنت رسول اور انكى ياد گاروں نيز ازواج رسول كو دوسرى جانب كر كے بالكل محاذ پر كھڑا كر ديا ، اس طرح انھوں نے معاشرے كى نظر سے خليفہ كو اس قدر گراديا كہ عوام كو ان كے خلاف بغاوت كرنے ميں ذرا دقت نہيں ہوئي _

خليفہ كا ذليل ہونا يا محترم ہونا خود خليفہ كى ذاتى چيز نہيں تھى ، بلكہ وہ خلافت كے حدود سے تجاوز كر بيٹھے تھے ، ان زيادتيوں كى وجہ سے ان كا احترام ختم ہوگيا ، وہ بہت كمتر اور ذليل سمجھے جانے لگے اسى وجہ سے لوگوں كى جسارت اور زيادتى عثمان كے بعد خلفاء سے زيادہ تر ديكھى گئي _


اسى طرح ان حوادث سے واضح ہوتا ہے كہ دن بدن ام المومنين عائشه اور عثمان كے تعلقات خراب تر ہوتے جاتے رہے تھے _

وہ ايك دن عثمان كى شديد حمايتى سمجھى جاتى تھيں ، اور اج مضبوط ترين دشمنوں كى صف ميں نظر اتى ہيں ، جيسے جيسے وقت گذرتا گيا ، حالات بد سے بدتر ہوتے گئے ، دشمنى كى اگ دونوں كے دامن كو زيادہ بھڑكاتى گئي _

شايد يہ كہا جاسكتا ہے كہ ان دونوں كا لفظى جھگڑا اسى وقت شروع ہو گيا تھا جب عثمان نے ان كے وظيفے ميں كٹوتى كى تھى _

بعد ميں جيسے جيسے حالات اور حوادث پيدا ہوتے گئے ، اعتراضات عائشه اور عثمان كے جوابى الزام كا لہجہ بھى تلخ و تند ہوتا گيا ، اخر كار وہى ام المومنين جو عثمان كى دوسروں سے زيادہ دفاع كرتى تھيں انھيں اپنے كينہ و عناد كى زد پر ركھ ليا ،ان كو خليفہ كے زبردست دشمنوں ميں شمار كيا جانے لگا _

اس بار ام المومنين عائشه كا عثمان سے پيكار و مخالفت كا مسئلہ صرف اپنے يہ مفادات و مصالح كے لئے نہ تھا ، بلكہ ان كى عظمت اور شخصيت زيادہ سے زيادہ ہمارى نظر كو موہ ليتى ہے_


فصل چھارم

عائشه نے انقلاب كى قيادت كي

يہاں تك جو كچھ بيان كيا گيا وہ اہم ترين عوامل تھے جنھيں ام ا لمومنين عائشه نے عثمان كى مخالفت اور لوگوں كو ان كے خلاف شورش بر پا كرنے كيلئے ہتھيار كے طور پر استعمال كيا ورنہ عثمان اور ان كے حاشيہ نشينو ں كے خدا سے غافل غير شرعى حركات اور نا پسنديدہ اعمال ان سے كہيں زيادہ ہيں جنھيں بيان كيا گيا ، ان ميں سے ہر ايك روش بجائے خود اقتدار و خلافت اور شخصيت عثمان كے خلاف انقلاب اور شورش بر پا كرنے كيلئے لوگوں كے دلوں ميں جمى ہوئي تھى واضح بات ہے كہ يہ تمام عوامل لوگوں كو شورش سے ابھارنے اور اصحاب كو ان سے بد ظن كرنے كيلئے بہت موثر تھے _

ليكن وہى عوام (شايد انھيں كى ساختہ پر داختہ احاديث كى وجہ سے )خود اپنے اندر اتنى جرات نہيں ركھتے تھے كہ خود كو ايسى شخصيت كے خلاف جسے جانشين رسول اور خليفہ كيلئے پكارتے ہيں ،اعتراض كريں ، تلوار اٹھانے كى بات تو بہت دور كى ہے _

ليكن يہ جسارت و جرات ابن مسعود ، عمار ياسر ، ابوذر غفارى اور جندب جيسے عظيم اصحاب رسول كى شديد مخالفت اور شجاعانہ اقدامات نے پيدا كى ، بنابر يں عوامى انقلاب كيلئے با رودكا ڈھير بس ايك چنگارى كا منتظر تھا يہ اگ ام المومنين كے تاريخى فتوے نے بھڑكا دى اور اخر كار عثمان اپنے تمام اقتدار و عظمت كے ساتھ زميں بوس ہو گئے ، خاك و خون ميں غلطاں ہوگئے _

عائشه كے پاس بڑى ذہانت و فراست تھى انھوں نے اپنى صلاحيتوں سے عثمان كے خلاف عوامى شورش برپا كركے سب كچھ اپنے مفاد ميں كرنے كيلئے بھر پور استفادہ كيا ، كيونكہ انھوں نے ديكھا كہ لوگ عثمان كى ناكام حكومت سے تنگ اگئے ، ان كے مطلق العنان حاشيہ نشينوں كا ظلم عوام كى ہڈيوں ميں سرايت كر گيا تھا ، يہى وہ بات تھى جس پر توجہ كرتے ہوئے انھوں نے اپنى سيادت كا تحفظ كرتے ہوئے تمام لوگوں كو ہيجان ميں لانے اور عثمان كے خلاف بغاوت پر امادہ كرنے كى قيادت خود انھوں نے سنبھال لى ،اور وہ بھى اسطرح كہ جيسا وہ خود چاہيں ويسا ہى نتيجہ نكلے _

عوام عثمان كے ظلم و ستم كى وجہ سے انقلاب كے پياسے تھے ام المومنين عائشه كى تقريروںاور كاروائيوں نے نشاط تازہ بخشى _ انہيں كاميابى كى اميدوں سے نہال كيا عثمان كے كرتوتوں كے خلاف ام المومنين عائشه كا نام اور تقرير


يں نہ صرف مدينہ اور اسكے مضافات ميں ، بلكہ حجاز كے باشندوں اور پھر تمام مملكت اسلامى كے عوام كى زبان پر تھا خاص طور سے اس لئے كہ ان كا خاندان تيم بھى ان كى حمايت ميں تھا اور يہ انقلاب حساس ترين كردار نبھا رہا تھا _

بلاذرى جو خود مكيت خلفاء كا وقيع عالم ہے ، اپنى كتاب انساب الاشراف ميں لكھتا ہے _

خاندان تيم كے افراد محمد بن ابى بكر اور ان كے چچيرے بھائي طلحہ كى حمايت ميں عثمان كے خلاف اٹھ كھڑے ہوئے _

عائشه كے بھائي محمد بن ابى بكر نے تيميوں كى استقامت كے لئے مصر سے بغاوت كا اغاز كيا اور يہ اس وجہ سے ہوا كہ محمد بن ابى بكر اور محمد بن ابى حذيفہ نے گورنر مصر عبداللہ بنابى سرح كى چند غير شرعى باتوں كى وجہ سے بغاوت كى اخر مصر يوں نے وہاں اپنا قبضہ جما ليا اب يہاں مناسب معلوم ہوتا ہے كہ ان تينوں تاريخى چہروں كا تعارف كرايا جائے جو اس عہد كے سيا سى حالات كے حساس كردار ہيں _

تين چہرے

۱_ عبد اللہ بن سعد بن ابى سرح

عبداللہ بن سعد قريش كے قبيلہ عامر كے اس خانوادے سے تعلق ركھتا تھا جو ابى سرح كاتھا اسكى ماں نے عثمان كودودھ پلايا تھا اس بناء پر عثمان اور عبداللہ رضاعى بھائي تھے _

عبداللہ فتح مكہ سے پہلے اسلام لايا ،اور مدينہ ہجرت كى اسے رسول كے كاتبوں ميں شمار كيا جاتا ہے ،ليكن كچھ دن بعد مرتد ہو كر مكہ واپس چلا گيا ،اس نے وہاں سرداران قريش سے كہا _ محمد ميرى خواہشات اور ارادوں كے پابند تھے ميں جو كچھ كہتا وہ عمل كرتے مثلا وہ كہتے لكھو عزيز حكيم ميں ان سے پوچھتا ، كيا لكھ دوں عليم حكيم ،وہ جواب ديتے _

كوئي ہرج نہيں ، دونون ٹھيك ہے _


خدا وند عالم نے عبداللہ بن ابى سرح كے بارے ميں يہ آيت نازل كى _

ومن اظلم ممن افترى على الله كذبا سورة انعام آيت ۹۳

اور اس شخص سے بڑا ظالم اور كون ہو گا جو اللہ پر جھوٹا بہتان گڑے ،يا كہے كہ مجھ پر وحى ائي ہے حالانكہ اس پر كوئي وحى نازل نہيں كى گئي ہو ،يا جو اللہ كى نازل كردہ چيز كے مقابلے ميں كہے كہ ميں بھى ايسى چيز نازل كركے دكھا دوں گا _

كاش تم ظالموں كو اس حالت ميں ديكھ سكو جبكہ وہ سكرات موت ميں ڈبكياں كھا ر ہے ہوتے ہيںاور فرشتے ہاتھ

بڑھا بڑھا كر كہہ رہے ہوتے ہيں لائو نكالو اپنى جان ، اج تمہيں ان باتوں كى پاداش ميں ذلت كا عذاب ديا جائے گا _

جو تم اللہ پر تہمت ركھ كر نا حق بكاكرتے تھے ،اور اسكى ايات كے مقابلے مين سركشى دكھاتے تھے _ جب مكہ مسلمانو ںكے ہاتھوں فتح ہوا تو رسول خدا نے عبداللہ بن ابى سرح كے قتل كا فرمان صادر كيا ،اور حكم ديا چاہے وہ لباس كعبہ ہى سے چپكا ہوا ہو اسے قتل كردو _ عبداللہ اپنى موت سے ڈرا اور عثمان كى پناہ پكڑى ،عثمان نے اسے چھپا ديا ، پھر اسے خدمت رسول ميں لائے اور اسكے لئے امان طلب كى _ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تھوڑى دير تك خاموش رہے ، اپ نے اپنا سر بلند نہيں كيا اخر اپ نے عثمان كى تائيد كردى جب عثمان چلے گئے تو انحضرت نے لوگوں كى طرف رخ كر كے فرمايا :

ميں اس لئے خاموش تھا كہ تم ميں سے كوئي اٹھكر اسكا سر تن سے جدا كر ديتا _ جواب ديا گيا ، اپ نے ہميں ذرا بھى اشارہ كيا ہوتا ،رسول خدا نے فرمايا ،پيغمبر كيلئے انكھ كا اشارہ مناسب نہيں _ جب عثمان خليفہ ہوئے تو ايسا پاپى شخص برادرى كے حوالے سے ۲۵ھ ميں وہاں كے گورنر عمر وعاص كو معزول كر كے مصر كى حكومت ديدى گئي _ عبداللہ نے افريقہ كے بعض علاقے فتح كئے ، عثمان نے اسكے انعام ميں افريقہ كى غنيمت كا تما م خمس اسى كو بخش ديا _ وہ ۳۴ھ تك حكومت مصر پر باقى تھا ، محمد بن ابى بكر اور ابن ابى حذيفہ كى شورش سے عسقلان بھاگ گيا ، وہ وہيں تھا كہ عثمان قتل كردئے گئے ، عبداللہ كى موت ۵۷ھ ميں ہوئي(۱۵)

____________________

۱۵_ استيعاب ، اسد الغابہ ، اصابہ ، ا نساب الاشراف ، مستدرك ،تفسير قرطبى وديگر تفاسير ، ابن ابى الحديد


۲_ محمد بن ابى بكر

محمد خليفہ اول ابو بكر كے فرزند تھے ، انكى ماں اسماء بنت عميس قبيلہ خثعم سے تھيں ،ان كے پہلے شوہر جعفربن ابى طالب تھے انكى شھادت كے بعد ابوبكر كے عقد ميں ائيں ، ان سے محمد كى پيدائشی مكّے كے راستے ميں حجة الوداع كے موقع پر ہوئي _

جب ابوبكر نے انتقال كيا حضرت علىعليه‌السلام نے اسماء سے شادى كى اسطرح محمد كى نشو ونما حضرت علىعليه‌السلام كے گھر پر ہوئي ،حضرت علىعليه‌السلام ہى نے انكى تربيت فرمائي ، نتيجے ميں وہ حضرت علىعليه‌السلام كے جاں باز اور ثابت قدم صحابى تھے ، محمد نے حضرت عليعليه‌السلام كے ركاب ميں جنگ جمل ميں اپنى بہن عائشه كے خلاف جنگ كى ، پھر امام نے حكومت مصر كيلئے ان كا انتخاب فرمايا _

محمدپندرہ رمضان ۳۵ھ ميں وارد مصر ہوئے اور وہاں كے انتظامى امور سنبھالے ليكن ۳۸ھ ميں معاويہ نے عمر وعاص كى سر كر دگى ميں ايك بڑى فوج بھيجى ، عمرو نے محمد پر غلبہ پايا اور مصر فتح كر ليا ، اور معاويہ بن خديج نے انھيں قتل كيا پھر عمروعاص كے حكم سے گدھے كى كھال ميںانكى لاش ركھ كر جلا دى گئي(۱۶)

۳_ محمد بن ابى حذيفہ

ابو القاسم كنيت تھى ، محمد نام تھا ، ابو حذيفہ بن عتبہ كے فرزند تھے ، قريش كے قبيلہ عبد الشمس سے تھے ، انكى ماں سھلہ بنت سھيل بن عمر قبيلہ عامر سے تھيں ، محمد كے ماں اور باپ دونوں ہى حبشہ كے مہاجر تھے ، محمد وہيں حبشہ ميں پيدا ہوئے ، ابوحذيفہ جنگ يمامہ ميں مسيلمہ كذاب كے ہاتھوں شھيد ہوئے اور عثمان نے محمد كو اپنى فرزندى ميں لے كر انكى تربيت كى ، وہ عثمان ہى كے سايئہ عاطفت ميں پلے اور بڑھے _

____________________

۱۶_ حالات محمد بن ابى بكر كيلئے استيعاب ج۳ ص۳۲۸ ، اصابہ ج۳ ص۴۵۱ اور ديگر تاريخيں ديكھى جا سكتى ہيں


جب عثمان خليفہ ہوئے تو محمد نے عثمان سے اجازت مانگى كہ كفار سے جھاد كيلئے مصر جائيں ، عثمان نے ان كا مطالبہ مان ليا محمد مصر چلے گئے ، جس زمانے ميں مسلمانوں نے عثمان كے خلاف شورش بر پا كى تو وہ بھى لوگوں كو حساس ترين لہجے ميں عثمان كے خلاف بھڑكانے لگے ،اخر كا رايك حملے ميں عبداللہ بن سرح پر قابو پا ليا اور اسے مصر سے بھگا ديا اور وہاں كے حكمراں بن گئے _ مصريوں نے محمد كى حكومت كو جان و دل سے مان ليا ، انكى بيعت كى اسطرح مصر كى زمام امور ان كے ہاتھ اگئي _ جب حضرت علىعليه‌السلام خلافت كى مسند پر بيٹھے تو انھيں مصر پر باقى ركھا وہ حضرت على كى طرف سے بھى مصر كے انتظامى كام كاج ديكھتے رہے جب معاويہ حضرت علىعليه‌السلام سے جنگ كيلئے صفين كى طرف چلا تو ان كا سامنا ہوا ،محمد معاويہ سے مقابلے كيلئے نكلے ، اور اسے شام كى طرف سے مصر كے پہلے شھر فسطاط ہى ميں روكا ، ليكن انھوں نے معاويہ سے مقابلے كى تاب نہيں ديكھى اسلئے اس سے صلح كر لى _ صلح كى شرائط ميں ايك شرط يہ بھى تھى كہ محمد اور ان كے ساتھى مصر سے نكل جائيں اور يہ لوگ امان ميں رہيں گے ، ليكن جب محمد اپنے تيس ساتھيوں كے ساتھ مصر سے نكلے تو معاويہ نے بزدلانہ طريقے سے اپنے معاہد ے كے خلاف انھيں قيد كر ليا اور دمشق كے زندان ميں بھيج ديا اخر كار معاويہ كے غلام رشديں نے انھيں قتل كرديا _ محمد نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى صحبت بھى پائي تھى(۱۷)

____________________

۱۷_ تاريخ طبرى ج۵ ص ۱۰۸


اب اس سے پہلے كہ ہم فرزند ابو بكر اور محمد بن حذيفہ كى شورش كا تذكرہ كريں يہ ياد دہانى كرانا ضرورى ہے كہ عمر وعاص جو خود فاتح مصر اور عمر كے زمانے سے وہاں كے گورنر تھے وہاں انكى ذمہ داريوں ميں امور ماليات اور امام جماعت دونوں باتيں شامل تھيں ، ليكن اسطرح انكى حكمرانى دير تك باقى نہيں رہى ، عثمان نے ماليات كے امور ميں ان كے ہاتھ كوتاہ كر ديئے اور يہ عہد ہ عبداللہ بن ابى سرح كو ديديا ، اور عمر وعاص كو حكم ديا كہ صرف لوگوں كو نماز پڑھائيں ليكن دير نہيں گذرى كہ يہ بھى ان سے چھين ليا ، اور يہ عہدہ بھى عبداللہ كو ديكر دونوں عہدے اپنے رضاعى بھائي كو ديديئے ، اسطرح ايك بار انھوں نے عمروعاص كے ہاتھ سے مصر كا اقتدار چھين ليا(۱۸)

مصريوں كى شورش

بلاذرى لكھتا ہے :

اسكے بعد كہ تمام مملكت اسلاميہ اور اس پاس كے علاقے عثمان كے خلاف ايك رائے ہو گئے ،چاروں طرف سے اعتراض كى اواز يں بلند ہونے لگيں ،اسى زمانے ميں جبكہ عبداللہ سرح عثمان كى طرف سے مصر كا حكمراں تھا ،محمد بن ابى حذيفہ اور محمد بن ابى بكر مصر ميں وارد ہوئے اور محمد بن طلحہ كے ساتھ اپنے منصوبے ميں ايك رائے ہوگئے ،ان كے مصر ميں انے كى پہلى صبح تھى كہ محمد بن ابى حذيفہ نماز جماعت ميں تاخير سے انے كى وجہ سے مجبور ہو كر اس نے بلند اواز سے كہا ، عبداللہ سرح وہاں موجود تھا ، جب اس نے فرزند ابو حذيفہ كى اواز نماز سنى ، فرمان صادر كيا كہ جس وقت يہ نما ز پڑھ لے ميرے پاس حاضر كيا جائے _

جب محمد كو عبداللہ كے سامنے بٹھا يا گيا تو اس نے فرزند ابو حذيفہ سے پو چھا ،يہاں كيوں ائے ہو ؟

_ كفار سے جنگ ميں شركت كى غرض سے تمہارے ساتھ كون كون ہے ؟

_محمد بن ابى بكر

____________________

۱۸_ استيعاب ج۳ ص۳۲۱ ، اسد الغابہ ج۴ ص ۳۱۵ ، اصابہ ج۳ ص۵۴ اور تاريخ طبرى ابن اثير در ذكر حوادث سال ۳۰ تا۳۶ھ


ميں قسم كھاتا ہوں كہ ايسا نہيںہے ، بلكہ تم لوگ بلوہ اور فساد كرانے ائے ہو ، پھر حكم ديا كہ دونوں كو قيد خانے ميں ڈال ديا جائے _ مجبور ہو كر ان دونوں نے محمد بن طلحہ كا ذريعہ پكڑ ا اور اس سے تقاضہ كيا كہ حاكم كے پاس سفارش كرے كہ ہميں كفار كے خلاف جنگ سے نہ رو كے _ اس تركيب سے عبداللہ نے ان دونوں كو ازاد كر ديا _ اور خود جنگ كيلئے روانہ ہو گيا ، ليكن چونكہ يہ دونوں مشكوك تھے اسلئے حكم ديا كہ ان كے لئے الگ كشتى تيار كى جائے ، اور اسلئے بھى كہ لوگوں سے ان كا ميل جول نہ بڑھے اس سے بھى روكنا تھا _ ليكن فرزند ابو بكر بيمار پڑ گئے ،اور وہ اس موقع پر حاكم مصر كے ساتھ نہيں جاسكے ،مجبورا محمد بن حذيفہ بھى انكى عيادت ميں رك گئے ، جب محمد بن ابى بكر شفاياب ہو گئے تو يہ دونوں مسلمانوں كے ايك گروہ كے ساتھ جھاد كيلئے نكلے _

اس مدت ميں سپاہيوں سے مسلسل ميل جول كى وجہ سے ان سے بات چيت ہوئي ،سپاھيوں نے انھيں ضرورى اطلاعات فراہم كرديں ،اسطرح يہ لوگ خارجى دشمنوں سے جنگ كرنے كے بعد واپس ہوں تو لوگوں كے دلوں ميں عثمان كے خلاف نفرت پيدا كريں ان كے كر توت بيان كر كے غم و غصہ بھر ديں(۱۹)

بلاذرى دوسرى جگہ لكھتا ہے :

جس وقت حاكم مصر نے محمد بن ابى حذيفہ اور محمد بن ابى بكر كو حراست ميں ليا تھا ، محمد بن حذيفہ نے لوگوں كو مخاطب كر كے تقرير كى مصر والوں كو جان لينا چايئے كہ ہم نے جہاد فى سبيل اللہ يعنى عثمان كے خلاف جنگ كو ملتوى كر ديا ہے _

تاريخ طبرى ميں ہے _

اسى سال كہ جب عبداللہ كفار سے جنگ كيلئے نكلا ، محمد بن حذيفہ اور محمد بن ابى بكر بھى اسكے ساتھ جنگ كرنے نكلے ،راستے ميں انھوں نے عثمان كى خلاف شرع حركتوں اور برے اعمال كے لوگوں سے تذكرے كرتے رہے _

كہ كس طرح انھوں نے سنت ابو بكر و عمر كو بھى پس بدل ڈالا ہے اب يہى ديكھئے كہ عبداللہ جيسا شخص جسكا خون رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مباح قرار ديا تھا ، قران نے اسكے كفر كى گواہى دى ہے ، ايسے شخص كو عثمان نے مسلمانوں كے جان و مال كا حكمراں بنا ديا ہے ، پھر يہ كہ طريد رسول كو اپنى پناہ ميں لے ليا ہے (جسے رسول نے دھتكار ديا تھا اسے انھوں نے پناہ ديدى ہے )رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے جسے جلا وطن كيا تھا اپنے پاس بلايا ہے ، انھيں بنيادوں پر عثمان كا خون حلال ہے ، اور اسى طرح كى باتيں اسلامى

____________________

۱۹_ ا نساب الاشراف بلاذرى ج۵ ص ۵۰ و تاريخ طبرى در بيان غزوہ ذات الصوارى سال ۳۱


سپاہيوں سے كہہ ڈاليں تاكہ ان كے دل سے حكومت كى ہمدردى ختم ہو جائے _

نيز يہ بھى لكھا ہے كہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے لوگوں سے كہا :

خدا كى قسم ،ہم نے حقيقى جھاد چھوڑ ديا ہے ، پوچھا گيا ، كس جھاد كو كہہ رہے ہو ؟ جواب ديا ، عثمان سے جنگ اور جہاد پھر ان سے بيان كيا كہ عثمان كى كارستانياں كيا كيا ہيں ، يہاں تك كے ان كے دل خلافت سے اسقدر منحرف كر ديئےہ جب جہاد سے واپس اكر اپنے شہر و دربار ميں گئے تو تمام لوگ عثمان كے كرتوتوں كى ايسى ايسى برائياں بيان كرنے لگے كہ اس سے پہلے كبھى نہيں كى تھى(۲۰)

محمد بن ابى حذيفہ اور محمد بن ابى بكر كے پر چار ميںاسقدر تاثير تھى كہ لوگ عبداللہ سرح كى حكومت اور اسكے كرتوتوں كے سخت مخالف ہو گئے جو انھيں مصريوں پر حكومت كر رہا تھا ، اس نے كوئي ظلم باقى ، نہيں ركھا تھا ، يہاں تك كہ عبداللہ نے مصر كے بعض ايسے معزز حضرات جنھوں نے عبداللہ سرح كى شكايت عثمان سے كى تھى انھيں اسقدر مارا تھا كہ ہلاك ہو گئے تھے _

مصريوں نے عثمان سے عبداللہ سرح كى جو داد فرياد كى تھى طبرى اور ديگر تاريخ نگاروں نے اسكى تما م تفصيل لكھى ہے منجملہ ان كے مصر والوں نے اپنى شكايت ميں عثمان كے سامنے ابن عديس كو بات كرنے كيلئے اگے كيا _

اس نے بھى عثمان كے سامنے عبداللہ كے خلاف بيان ديا ، اور ياد دلايا كہ كسطرح مسلمانوں اور ديگر اقليتوں كے ساتھ يہ شخص مظالم ڈھاتا ہے ، مال غنيمت كى تقسيم ميں انصاف نہيں كرتا ، خود اپنے پاس ركھ ليتا ہے ، جب اسكى نا انصافيوں پر اعتراض كيا جاتا ہے تو امير المومنين كا خط دكھاتا ہے كہ خليفہ نے ايسا ہى حكم ديا ہے(۲۱)

اتش فتنہ بجھانے كيلئے امام كى مساعي

ابن اعثم اپنى تاريخ ص۴۶ ميں لكھتا ہے :

مصر كے كچھ معزز افراد عبداللہ بن سعد بن سرح كى شكايت ليكر مدينہ ميں ائے اور مسجد رسول خدا ميں اترے

____________________

۲۰_ تاريخ طبرى ج۵ ص ۷۰_ ۷۱

۲۱_ تاريخ طبرى ج۵ ص ۱۱۸ و ابن اثير ج۳ ص ۷۰


وہاں انھوں نے مہاجر ين و انصار كے گروہ سے ملاقات كى ، اصحاب نے جب ان كے مدينے انے كى وجہ پوچھيں تو انھوں نے كہا :

اپنے گورنر كى شكايت ليكر ائے ہيں _

حضرت علىعليه‌السلام نے كہا :

اپنے كاموں اور انصاف طلب كرنے ميں جلدى نہ كرو اپنى شكايت خليفہ كے سامنے پيش كرو ، سارا واقعہ ان سے بيان كرو كيونكہ ممكن ہے كہ مصر كے حكمراں نے خليفہ كے حكم كے بغير يہ سارے كام كئے ہوں ،تم لوگ خليفہ كے پاس جائو ، اور اپنے مصائب ان كے سامنے دہرائو تو عثمان اسكى سختى سے باز پرس كريں گے اسے معزول كرديں گے ، اسطرح تمہارا مقصد حاصل ہو جاے گا ، اگر عثمان نے ايسا نہ كيا اور عبداللہ كے كر توتوں كى تائيد كى تو تم خود سمجھ جائو گے _

مصر والوں نے ان كا شكريہ ادا كيا اور دعائے خير كے بعد كہا صحيح يہى ہے جسے اپ نے بيان كيا ، ليكن ہمارى استدعا ہے كہ اپ خود ہم لوگوں كے ہمراہ وہا ں چليں _ حضرت على نے جواب ديا ، وہاں ميرى موجودگى كى ضرورت نہيں ، تم لوگ خود جائو اور سارا واقعہ ان سے بيان كرو يہى كافى ہے مصر والوں نے كہا :

اگر چہ يہى ہے ليكن ہمارى خواہش ہے كہ اپ بھى ہمراہ چليں اور جو كچھ پيش ائے اسكے گواہ رہيں _

حضرت علىعليه‌السلام نے انھيں جواب ديا :

جو ذات ہم سب سے قوى تر ہے تمام خلاق پر مسلط ہے اور بند و ں پر سب سے زيادہ مہربان ہے وہ تم سب كا گواہ اور نگراں ہو گا _

اشراف مصر عثمان كے گھر گئے اور اندر انے كى اجازت طلب كى ،جب يہ عثمان كے سامنے پہونچے تو عثمان نے ان كا بڑا احترام كيا ،انھيںاپنے پہلو ميں بٹھايا ، پھر پوچھا _

كس لئے ائے ہو ؟ كون سى مصيبت اپڑى كہ تم بغير ميرے گورنر يا ميرى اجازت كے مصر سے نكل پڑے _

ہم اسلئے ائے ہيں كہ ا پ كے كاموں كى شكايت كريں اور اپ كا گورنر جو ہمارے اوپر ظلم ڈھارہا ہے اسكا مداوا چاہيں _

اسكے بعد ابن اعثم نے اس گروہ كے دلائل جو عبداللہ كے خلاف عثمان كے سامنے پيش كئے اور جو كچھ عثمان اور ان كے درميان واقعہ پيش ايا سارى تفصيل لكھى ہے _


عثمان كے خلاف مدينے والوں كى شورش

عثمان اور ان كے كارمندوں اور حاشيہ نشينوں كى غلط حركات بڑھتى ہى گئيں ،لوگوں كى شكايات اور اعتراض كى كوئي شنوائي نہيں تھى مخالفت و اعتراض كا سيلاب تمام اسلامى مملكت ميں پھيل گيا اخر اس سيلاب نے مدينے كو بھى اپنى لپيٹ ميں لے ليا _

بلاذرى ان حوادث كى اسطرح تشريح كرتا ہے_

جب عثمان مسند خلافت پر بيٹھے تو اكثر اصحاب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ان سے خوش نہيں تھے ، كيو نكہ عثمان ميں اقربا پرورى بہت زيادہ تھى ، اپنى بارہ سالہ مدت خلافت ميں اپنے خاندان كے اكثر ايسے لوگوں كو ولايت و حكومت ديدى تھى ، جنھوں نے رسول كى صحبت بھى نہيں پائي تھى ، ان سے خلاف توقع كام سرزد ہوئے ، اسلئے اصحاب رسول خفا ہوتے اور اعتراض كرتے ، ليكن عثمان ان تمام باتوں كو نظرانداز كرتے ، كسى كا رندے كى سر زنش نہيں كرتے نہ انھيں معزول كرتے تھے ،خليفہ نے اپنے اخر چھہ سالہ دور حكومت ميں اپنے چچيرے بھائي كو تمام مسلمانوں پر برترى ديدى تھى ، انھيں حكومت ديكر لوگوں كى گردنوں پر مسلط كر ديا تھا _

منجملہ ان كے عبداللہ بن ابى سرح كو مصر كى حكومت ديدى تھى اس نے كئي سال مصر پر حكومت كى وہاں كے باشندوں نے بار بار اسكے ظلم و ستم كى شكايت كر كے داد چاہى ،يہاں تك كہ عثمان نے مجبور ہو كر عبداللہ كو خط لكھا اور ڈرايا دھمكايا ، ليكن عبداللہ نے نہ صرف يہ كہ اپنى گھنائو نى حركتيں نہيں چھوڑيں بلكہ ايك شكايت كرنے والے كو اسقدر مارا كہ وہ ہلاك ہو گيا(۲۲)

جب مصائب حد سے زيادہ بڑھ گئے كہ مسلمانوں كو عثمان اور اسكے كارندوں كى غلط حركات برداشت سے باہر ہو گيا تو مدينے كے اصحاب رسول نے تمام شہروں كے مسلمان بھائيوں كو خطوط لكھے اور انھيں عثمان كے خلاف جھاد كرنے پر ابھارا _

طبرى نے اس خط كا متن يوں درج كيا ہے _

تم لوگ جھاد فى سبيل اللہ اور تبليغ دين كے لئے مدينے سے باہر ہو حالانكہ جو شخص تم پر حكومت كررہا ہے وہى دين محمد كو تباہ كر رہا ہے _

____________________

۲۲_ انساب الاشراف بلاذرى ج ۵ ص ۲۵ _ ۲۶


ابن اثير كى روايت ميں خط كا فقرہ يہ ہے ،تمھارا خليفہ دين محمد كو تباہ كر چكاہے _

شرح بن ابى الحديد ميں ہے كہ خط كے اخر ميں لكھا گيا تھا ، اسكو خلافت سے خلع كردو (اسكى خلافت كا جوا اتار پھينكو )اسكے بعد تو چاروں طرف سے ناراض لوگوں كا ہجوم پہونچ گيا اور اخر كار انھيں قتل كر ڈالا(۲۳) بلاذرى لكھتا ہے : ۳۴ھ ميں كچھ اصحاب رسول نے اپنے تمام صحابہ دوستوں كو خط لكھ كر عثمان كى روش بيان كى يہ كہ انھوں نے قوانين اور سنت رسول كو بدل ڈالا ہے اس كے كارندوں نے جو مظالم ڈھائے ہيں انكى چاروں طرف سے شكايتيں ارہى ہيں اگر تم راہ خدا ميں جہاد كے خواہاں ہو توجلد مدينے پہونچو _ اس سال اصحاب رسول ميں ايك شخص بھى عثمان كى طرف سے صفائي دينے والا اور جانبدارى كرنے والا نہيں تھا ،سوائے زيد بن ثابت(۲۴) ابو اسيد انصارى اور حسان بن ثابت(۲۵) اور كعب بن مالك كے_

____________________

۲۳_ طبرى ج۵ ص۵۱ ،ابن اثير ج۵ ص۷۰ ، شرح بن ابى الحديد ج۱ ص۱۶۵

۲۴_زيد بن ثابت بن ضحاك انصارى ، انكى ماں كا نام نوار بنت مالك تھا ، يہ پہلے كاتب رسول تھے ، پھر يہى خدمت عمرو ابوبكر كى بھى كى ، جب عمر و عثمان مدينے سے مكہ جاتے تو انھيں كو جانشين بناتے زيد عثمان كے زمانے ميں بيت المال كے خزانچى تھے ، ايك دن عثمان زيد سے ملنے گئے تو زيد كا غلام وھيب گيت گارہا تھا ، عثمان كو اواز پسند ائي اسكا ہزار درہم سالانہ وظيفہ مقرر كر ديا ، زيد عثمان كے شديد حمايتى تھے ، انكى موت كى تاريخ ميں اختلاف ہے ۴۲،سے ۵۵ تك لكھا گيا ہے ، مروان نے انكى نماز جنازہ پڑھائي ، ابو اسيد ساعدى اور كعب بن مالك بھى ان اصحاب ميں ہيں جنھوں نے بدر اولى اور ديگر غزوات ميں شركت كى ، صرف تبوك اور بدر ميں شركت نہيں كى ، ابو اسيد قتل عثمان سے پہلے اندھے ہو گئے تھے ، انكى تاريخ انتقال كے بارے ميں اختلاف ہے

۲۵ _ حسان بن ثابت انصارى كى كنيت ابو عبدالرحمن تھى ، مشھور شاعر قبيلہ خزرج سے تھے ، ان كى ماں كا نام فريعہ بنت خالد انصارى تھا ، حسان كے بارے ميں رسول خدا نے فرمايا تھا ، خدا حسان كى اسوقت تك تائيد كرے جب تك وہ رسول كى مدح كرتا رہے ، حسان نے خوبصورت اسلوب ميں اشعار كہے رسول كى تعريف كى ، اور كفار كى ہجو كى ، حسان بہت بزدل تھے ، جنگ خندق كے موقع پر رسول خدا نے حسان كو بچو ں اور عورتوں كا نگراں بنايا تھا تاكہ دشمنوں كى نظر سے پوشيدہ رہيں ، عورتوں ميں صفيہ بھى تھيں ، اسى درميان ايك يہودى قلعہ كى ديوار سے جاسوسى كرنے لگا ، صفيہ نے حسان سے كہا اسے موقع نہ دو كہ ہمارى خبر ہو ، رسول خدا ھم سے مطمئن ہو كر جھاد كر رہے ہيں جاكر اس يہودى كو قتل كر دو ، حسان نے جواب ديا ، اے دختر عبدالمطلب ، تم خوب جانتى ہو كہ ميں اس ميدان كا انسان نہيں ہوں ، ميرے پاس حوصلہ نہيں ، صفيہ نے يہ سنكر خيمے كا ستون ليا اور قلعہ سے نكل كر يہودى كے سر پر مارا اور فاتحانہ قلعے ميں داخل ہوئيں ، حسان سے كہا ، اب جاكر اسكے كپڑے اتار لو ، حسان كو جيسے ڈر لگ رہا تھا كہ يہودى مقتول كے ساتھى ہجوم كركے اجائيں ، انھو ں نے جواب ديا ، اے دختر عبدالمطلب مجھے ان كپڑوں كى ضرورت نہيں حسان اسى بزدلى كى وجہ سے كسى جنگ ميں شريك نہيں ہوئے اور اس سعادت سے محروم رہے رسول خدا نے ماريہ كى بہن شيريں حسان كو بخش دى تھى جس سے عبدالرحمن تولد ہوئے ،يہ عبدالرحمن رسول خدا كے فرزند ابراہيم كے خالہ زاد بھائي تھے ، حسان نے اپنے باپ دادا كى طرح طويل عمر پائي ۴۰ يا ۵۰ يا۵۴ ،ميں ايكسوبيس سال كى عمر ميں مرے ، اسد الغابہ استيعاب اصابہ ديكھئے كعب بن مالك انصارى قبيلہ خزرج سے تھے ، كنيت ابو عبداللہ يا ابو عبد الرحمن تھى ، ماں كا نام ليلى بنت زيد بن ثعلبيہ خزرجى تھا ، كعب نے عقبہ كى رات مكّے ميں (بيعت عقبہ ) كے موقع پر بيعت كرتے ہوئے رسول خدا كا ہاتھ دبايا تھا كعب نے تما م غزوات ميں شركت كى سوائے بدر و تبوك كے ، يہ ان تين افراد ہى تھے جنھوں نے تبوك نہ جانے ميں پشيمانى جھيلى اور توبہ كى اور قبوليت توبہ كى آيت اترى ، كعب شاعروں كى بڑى عزت كرتے ، بيت المال سے بخشش زيادہ كرتے بلا سبب مسلمانوں كا مال دے ڈالتے ، اسى لئے يہ دونوں عثمان كے زبردست حمايتى تھے


تما م مہاجرين اور دوسرے لوگ حضرت علىعليه‌السلام كے گرد جمع ہوئے اور ان سے مطالبہ كيا كہ عثمان سے گفتگوكريں اور وعظ و نصيحت كر كے انھيں راہ راست پر لائيں _

حضرت علىعليه‌السلام عثمان كے پاس گئے اور انھيں نصيحت كى _

لوگ ميرے پاس اكر تمھارے بارے ميں باتيں كرتے ہيں ، خدا كى قسم ميں نہيں جانتا كہ تم سے كيا كہوں، كوئي بات تم سے ڈھكى چھپى نہيں ، جسے ميں بتائوں ، تمھيں راستہ سو جھانے كى ضرورت نہيں جو كچھ ميں جانتا ہوں تم بھى جانتے ہو تم سے زيادہ نہيں جانتا كہ تمھيں اگاہ كروں _

تم نے رسول كى صحبت پائي ہے ، ان سے باتيں سن كر اور ديكھ كر ميرى طرح بہرہ حاصل كيا ہے ، ابو قحافہ اور خطاب كے بيٹے تم سے زيادہ نيك اور شائستہ تر نہيں تھے ، كيو نكہ تم رسول سے دامادى اور رشتہ دارى كى قربت ركھتے ہو ، تم رسول كے داماد ہو اسلئے اپنے اپ ميں ائو اور اپنى جان سے ڈرو تم اسطرح اندھے ہو كر چل رہے ہو كہ تمھيں بينا كرنا بہت مشكل ہے ، اور اسطرح جہالت و نادانى كے كنو يں ميں گر چكے ہو كہ تمھيں باہر نكالنا مشكل ہے _

عثمان نے جواب ديا _

خدا كى قسم ، اگر تم ميرى جگہ پر ہوتے تو اپنے رشتہ داروں كو نوازنے اور صلہ رحم كرنے كى بنا پر ميں تمھيں سر زنش نہيں كرتا ، اگر تم اپنے پريشان حالوں كو پناہ ديتے اور جنھيں عمر نے كاموں پر لگايا تھا انھيں ہٹا كر انھيں مقرر كرتے تو ميں تمھارى ملامت نہ كرتا _

تمھيں خدا كى قسم ہے ، اخر تمھيں بتائو كيا مغيرہ بن شعبہ كو جو كسى طرح بھى لائق نہ تھا ، عمر نے حكومت نہيں دى تھى _

كيوں صحيح ہے

تب اخر كيو ں اب جبكہ ميں نے اپنے رشتہ دارفرزند عامر كو گورنر ى ديدى ہے تو مجھے ملامت كررہے ہو ؟


تمھيں يہ بتا نا ضرورى ہے كہ جب عمر كسى كو حكومت ديتے تھے تو پورے طور سے اس پر حاوى رہتے تھے ، پہلے اسے اپنے پائوں تلے روند ليتے تھے ، جب اسكے خلاف شكايت ملتى تو اس پر سختى كرتے ، اسے حاضر ہونے كا نوٹس ديتے، اور اس بار ے ميں سخت كاروائي كا مظاہرہ كرتے تھے ، ليكن تم نے يہ سب كچھ نہيں كيا ، بلكہ اپنے رشتہ داروں كے سامنے ضعف نفس اور نرمى كا مظاہرہ كر رہے ہو _

كيا يہ لوگ ميرے رشتہ دا ر تمھارے بھى رشتہ دار اور اپنے نہيں ہيں (بيان كيا جا چكا ہے كہ بنى اميہ اور بنى ہاشم چچيرے بھائي ہيں )

ہاں ، اپنى جان كى قسم ، يہ ميرے قريبى رشتہ دار ہيں ليكن ان كے پاس فضيلت و تقوى نام كى چيز نہيں _

ان كے مقابل دوسر و ں كو ميرے نزديك امتياز حاصل ہے _

كيا عمر نے معاويہ كو حكومت نہيں دى تھى ؟

معاويہ اپنے سارے وجود سے عمر سے لرزتا تھا ، ان كا مطيع و فرمان بر دار تھا ، وہ عمر كے غلام ير فا سے اتنا ڈرتا تھا جتنا عمر سے نہيں ڈرتا تھا ليكن وہ بھى اج كل من مانى كررہا ہے ، كاموں ميں بے اعتنائي برت رہا ہے جدھر چاہتا ہے خواہشات كے گھوڑے دوڑاتا ہے اور تمھارى اطلاع كے بغير جو چاہتا ہے كر ڈالتا ہے اور لوگوں سے كہتا ہے كہ يہى عثمان كا حكم ہے اس كسمپرسى كى عوام شكايت كرتے ہيں تو تم ميں ذرا بھى جنبش نہيں ہو تى ، اور نہ كوئي اقدام كرتے ہو(۲۶)

____________________

۲۶_قارئين كى توجہ ان دونوں سابقين اسلام كى باتوں كى طرف موڑنا چاہتا ہوں ، خاص طور سے عثمان كے دلائل كى طرف جو مسلمانوں كے خليفہ ہيں اورحضرت على كے اعتراضات كے جواب ميں كہتے ہيں كہ مغيرہ بن شعبہ نا لائق تھا ليكن اسے عمر نے حكومت دى ، فرزند عامر كو خود عثمان اور دوسرے تمام لوگ نالائق سمجھ رہے ہيں ، ليكن اسے حكومت ديدى ، معذرت ميں صلہء رحم كا حوالہ دے رہے ہيں ، معاويہ كو حكومت ديدى جبكہ پورے طور سے جانتے ہيں كہ مسلمان كے بيت المال كو لوٹ رہا ہے ، مسلمانوں پر ظلم و تعدى كر رہا ہے (سردار نيا )


حضرت علىعليه‌السلام نے يہ فرمايا اور عثمان كے پاس سے اٹھكر چلے گئے ،حضرت على كے جانے كے بعد عثمان منبر پر گئے اور تقرير كے درميان كہا ، ہر چيز كے لئے افت ہے اور ہر كام كے لئے نقصان ہے ، اس امّت كى افت اور نقصان ہے پارٹى بندى اور عيب جوئي كرنے والے لوگ جو ظاہر دارى ميں وہ كام كرتے ہيں جو تم پسند كرتے ہو اور چھپے چورى ايسى حركتيں كرتے ہيں جسے تم پسند نہيں كرتے ، شتر مرغ كى طرح ہر اواز پر دور پڑتے ہيں اور بہت دور كے گھاٹ كو پسند كرتے ہيں _

خدا كى قسم تم لوگ ايسے ہو كہ انھيں چيزوں كوعمر كے زمانے ميں مان ليتے تھے ميرے زمانے ميں تنقيد كرتے ہو ، اور حكم سے سر تابى كرتے ہو ، حالا نكہ عمر تمھيں پيروں سے روند تے تھے ، اپنے ہاتھو ں سے تمھارے سر كو ٹتے تھے ، اپنى زبان كى تيزى سے تمھارى جڑ اكھا ڑ پھينكتے تھے تم لوگ بھى جان كے خوف سے ان كے فرماںبردار رہتے _

ليكن ميں ہوں كہ تمھارے ساتھ نرمى اور ملائمت كا برتائو كرتا ہوں ، اپنى زبان اور ہاتھ كوتاہ كر لئے ہيں ، تو ميرے اوپر سختى كررہے ہو ميرى نا فرمانى كررہے ہو_

اس موقع پر مروان نے بھى كچھ كہنا چاہا ليكن عثمان نے كہا ، چپ رہو(۲۷)

مروان حكم

چونكہ ان تفصيلات ميں مروان كا نام كئي جگہوں پر ايا ہے اسلئے مناسب ہے كہ اس مشھور شخصيت كا تعارف كر ديا جائے كيو نكہ اسكے بعد بنى اميہ كى سلطنت اسى كو ملى _

يہ مروان اس حكم بن ابى العاص كا بيٹا ہے جسكا ہم نے ( وليد كى گورنرى ) كے ذيل ميں تعارف كرايا ہے ، مروان كى كنيت ابو عبدالملك تھى ، جب اسكے باپ حكم كو فرمان رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے مطابق طائف جلا وطن كيا گيا يہ بچہ ہى تھا ، يہ اپنے باپ اور بھائيوں كے ساتھ عثمان كى خلافت كے زمانے تك جلا وطنى كى زندگى گذارتا رہا ، ليكن جب عثمان خليفہ ہوئے تو ان سب كو مدينہ بلا ليا ، مروان كو اپنے سے قريب كر ليا اور كتابت ديوان (سكر يٹرى ) كا عہدہ بھى ديديا مروان كا خليفہ كے يہاں رسوخ ہى اصل وجہ ہے عثمان كى بد بختى اور لوگوں كى رنجش كى ، بالا خر لوگوں نے بغاوت كر دى _

____________________

۲۷_ بلاذرى ج۵ ص۶۰ ، تاريخ طبرى ج۵ ص۹۶ ، ابن اثير ج۳ ص۶۳ ، ابن ابى الحديد ج۱ ص۳۰۳ ، ابن كثير ج۷ ص۱۶۸


جس زمانے ميں بلوائيوں نے عثمان كا محاصرہ كر ركھا تھا ، مروان باغيوں سے نرمى كے بجائے پيكار پر امادہ ہو گيا ، اس جھڑپ ميں اسكى گردن پر شديد چوٹ ائي اور گردن كى ايك رگ ٹوٹ گئي وہ اخر عمر تك اس چوٹ كى وجہ سے گردن كى كجى جھيلتا رہا ، لوگ تمسخر كے طور پر خيط باطل كہتے تھے _

اسكے بھائي نے مروان كى بيوى كيلئے يہ اشعار كہے ہيں :

فوالله ما ادرى وافى لسائل

حليلة مضروب القفا كيف تصنع

لجا الله قوما امر و اخيط باطل

على الناس يعطى ما يشاء و يمنع

ايك دن حضرت علىعليه‌السلام نے مروان كو ديكھ كر فرمايا :

( تجھ پر افسوس ہے ، او ر امت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جو كچھ تيرے بچوں سے جھيلے گى اس پر افسوس ہے )

مروان جنگ جمل ميں ، حضرت علىعليه‌السلام كے خلاف لشكر عائشه ميں شامل تھا جب معاويہ كو حكومت ملى تو اسے مدينہ مكّہ اور طائف كا گورنر بنا ديا ، ليكن ۴۸ھ ميں اس كو ہٹا كر سعد بن ابى العاص كو گورنر بنا ديا _

جس وقت معاويہ بن يزيد بن معاويہ كا شام ميں انتقال ہو گيا اور اس نے كسى كو اپنا جانشين نہيں بنايا تو شام والوں نے مروان كى بيعت كر لي، ليكن ضحاك بن قيس فہرى اور اسكے دوستوں نے عبداللہ بن زبير كى بيعت كرلى ، نتيجے ميں مروان اور ضحاك كے درميان ( مرج راھط دمشق)ميں گھمسان كى جنگ ہوئي ضحاك قتل كيا گيا اور شام و مصر مروان كے زير نگين اگئے ، اسكے بعد تمام مملكت اسلامى پر قبضہ كرنے كيلئے اس نے يزيد كى زوجہ سے شادى كر لي


ايك دن مروان نے يزيد كے بيٹے خالد كو غصہ ميں ( يا ابن رطبتہ الاست(۲۸) )كہكے پكارا ، خالد نے جواب ديا تو امانت ركھنے والوں كے لئے خائن ہے ، پھر جا كر اپنى ماں سے شكايت كر كے سارا مسئلہ بيان كيا خالد كى ماں نے اسكو خود اپنى توہين سمجھ كر بيٹے سے كہا:

يہ بات اپنے ہى تك ركھو ، خاص طور سے مروان نہ سمجھے كہ تم نے مجھ سے كہا ہے اس نے گالى كے بدلے ميں اپنى كنيز وں سے تنہائي ميں منصوبہ بيان كر كے ان سے مدد چاہى اور انتظار كرنے لگى ، جيسے مروان كمرے كے دروازے پر ايا اس نے زمين پر پٹك ديا ، خالد كى ماں نے خود كمبل اسكے منھ پر ڈال ديااور بيٹھ گئي ، اتنى دير بيٹھى رہى كہ مروان مر گيا _

مورخوں نے لكھا ہے كہ مروان ان چند لوگوں ميں ہے جو بيوى كے ہاتھوں مارا گيا(۲۹) اسكے اخلاق ، معتقد ات اور طرز تفكر كى سارى باتيں اگلے صفحات ميں ائينگي_

___________________

۲۸_ انتہائي غير مہذب اور گندى گالى ہے

۲۹_ حالات مروان كے لئے اسد الغابہ ج۴ ص۳۸۴ اور اسيتعاب و اصابہ ديكھئے


داد خواہوں نے مدينے كا رخ كيا

بلاذرى لكھتا ہے : قتل عثمان كے ايك سال پہلے بہت سے باشندگان كوفہ و بصرہ و مصر مسجدالحرام ميں ايك اجتماع كر كے باہم مشورہ كيا _

كوفيوں كى سردارى كعب بن عبدة النھدى كو ، بصرہ والوں كى مثنى بن مخرمہ عبدى كو اور مصر والوں كى رياست بشر بن عتاب كو دى گئي _

يہ لوگ عثمان كى غلط حركات كا پر چار كريں كہ انھوں نے تغير و تبدل كو جس طرح جائز قرار ديا ہے ، خدا سے عہد و پيمان كر كے جس طرح پائوں سے روندا ہے ان تمام باتوں كو بيان كريں ، اخر ميں ان لوگوں نے پكا عہد كيا كہ عثمان كى غلط حركتوں پر خاموش نہ بيٹھيں گے ، پھر يہ طئے پايا كہ ہر ايك اپنے اپنے شہر و ديار ميں واپس جاكر پيغام بر كے

انداز ميں اس اجتماع كے مذاكرات كا خلاصہ لوگوں سے بيان كرے ، پھر سال ايندہ عثمان كے گھر پر اكر انكى كارستانيوں پر ملامت و سرزنش كريں _

اگر ا س طرح عثمان متنبّہ ہوں اور اپنى غلط حركتوں سے بازا جائيں تو ان لوگوں كا مقصد حاصل ہو جائيگا اور اگر باز نہ ائيں تو ان كے بارے ميں كوئي اخرى اور فيصلہ كن اقدام كيا جائے ، ان تمام لوگوں نے اپنے اس منصوبے پر عمل كيا(۳۰)

چونكہ مصر كے باشندے دوسرے شھروں كے مقابل زيادہ ہى جوش وخروش كا مظاہرہ كر رہے تھے ، اسلئے عثمان نے اس شورش كى گرمى اور انقلاب كى چنگارى بجھانے كيلئے تيس ہزار درھم اور لباس و كپڑوں سے بھرا ايك اونٹ محمدبن ابو حذيفہ كے پاس بھيجا تاكہ مصريوں كا رہبر انقلاب انھيں ٹھنڈا كرے _

محمد بن ابوحذيفہ نے طئے كيا كہ ان تمام چيزوں كو مسجد ميں ركھا جائے تاكہ لوگ اسكا تماشہ ديكھيں ، پھر مسلمانوں كو مخاطب كر كے كہا :

____________________

۳۰_ انساب الاشراف بلاذرى ج۵ ص ۵۹


اے مسلمانوكيا تم نہيں ديكھ رہے ہو كہ عثمان كس طرح مجھے دھوكہ دينا چاہتے ہيں ، وہ چاہتے ہيں كہ يہ رشوت ليكر ميں اپنا دين برباد كر دوں _

عثمان كى اس حركت اور فرزند ابوحذيفہ كے رد عمل نے مصريوں كا عناد اور بھى بڑھا ديا ، وہ عثمان كى اور زيادہ عيب جوئي كرنے لگے ، اس حركت كى وجہ سے مصر كے باشندوں ميں محمد بن ابو حذيفہ كى قيادت كا سكّہ اور بھى جم گيا وہ والہانہ انداز ميں انكى بات ماننے لگے(۳۱)

عثمان نے جور قم اس كام كيلئے دى تھى ، وہ مدينے ميں واپس نہيں منگواسكے ، جو وعدے كے مطابق مسجد الحرام ميں لوگوں كو دى جاتى ، بلكہ متعينہ وعدہ اس طرح پورا كيا گيا كہ محمدبن ابى بكر كے ہمراہ مصر سے مدينہ لے جائي گئي_

محمدبن ابى بكر بہت سے مصريوں كے ساتھ مدينہ كى طرف چلے اور محمدبن ابوحذيفہ مصر ہى ميں رہ گئے ، ادھر عبدالرحمن بن عويس بلوى(۳۲) پانچ سو ادميوں كے ہمراہ ماہ رجب ميں مدينے كے ارادے سے نكلے ، انھوں نے مشہور يہ كيا كہ عمرہ ادا كرنے جارہے ہيں _

گورنر مصر عبداللہ بن سعد بن ابى سرح كو جب ان تمام واقعات كى خبر ہوئي تو اس نے ايك تيز رفتار سوارى مدينے روانہ كى اور خليفہ كو رپورٹ دى كہ فرزند عويس بلوى اور اسكے ساتھى اپ سے ملنے كى غرض سے مدينے جارہے ہيں ، فرزند ابو حذيفہ نے اسكو عجرود تك رخصت كيا ، اس نے مشھور كيا ہے كہ عمرہ كى غرض سے مكّہ جارہے ہيں ليكن يہاں اپنے ساتھيوں ميں اعلان كيا ہے كہ ہم عثمان كا سامنا كرنے جارہے ہيں تاكہ اسے معزول كر ديں يا زندگى كا خاتمہ كرديں _

عبداللہ كے قاصد نے مصر سے مدينہ تك كا سفر گيارہ راتوں ميں طئے كر كے حاكم كا پيغام پہونچا ديا ، ادھر مصر والے بغير كسى ٹھہرائو كے مدينے كى طرف بڑھ رہے تھے تاكہ اپنے كو مدينے كے قريب مقام ذو خشب تك پہونچا ديں اور وہيں قيام كريں _

___________________

۳۱_ تاريخ طبرى ج۵ ص۱۱۵ ، بلاذرى ج۵ ص۵۱

۳۲_ عبدالرحمن بن عويس بلوى ان لوگوں ميں ہيں جنھوں نے حديبيہ كے موقع پر بيعت رضوان ميں شركت كى ، وہ فتح مصر كے وقت موجود تھے ، وہيں سے انھوںنے مصريوں كے ساتھ عثمان كے خلاف شورش ميں حصہ ليا ، معاويہ نے انھيں فلسطين ميں قيد كر ديا جب وہ قيد خانے سے بھاگے تو۳۶ھ ميں قتل كا فرمان ديا ، اصابہ ۴_ ۱۷۱ ديكھى جائے


دوسرى روايت ہے كہ :

عبداللہ مصريوں كى اس سياسى سر گرمى كے بارے ميں عثمان سے تبادلہ خيال كى غرض سے اپنے صدر مقام سے چلا ، ابھى وہ ايلہ ہى پہونچا تھا كہ اسے اطلاع دى گئي كہ مصر يوں نے عثمان كے گھر كا محاصرہ كر ليا ہے ، اور محمد بن ابو حذيفہ نے عبداللہ كى غير موجودگى ميں مصر كے اندر بغاوت كردى ہے ، اس صورتحال ميں عبداللہ نے مصلحت يہى سمجھى كہ واپس مصر چلا جائے تاكہ كسى طرح سے اپنى حكومت بچا سكے _

ادھر جب محمد بن ابو حذيفہ نے مصريوں كى مدينے ميں پيش رفت ديكھى كہ عثمان كے گھر كا محاصرہ كر ليا ہے تو عبداللہ كى غير موجودگى سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ساتھيوں كى مدد سے بغاوت كردى اور بڑى اسانى سے مصر اپنے قبضے ميں كرليا ، مصر كے باشندوں نے بھى انكى اطاعت كركے دل و جان سے اسكى حكومت مان لى _

انھيں حالات كے درميان جب عبداللہ مصر پہونچا تو محمد بن ابو حذيفہ كے مصر ميں داخل ہونے سے روكا ، اس نے صورتحال كو اپنے مخالف ديكھ كر چشم پوشى اختيار كى اور بگٹٹ فلسطين كى طرف چلا گيا _

وہ وہاں عثمان كے قتل ہونے تك رہا _

طبرى نے زبير كا قول اس طرح لكھا ہے(۳۳)

مصر والوں نے مقام سقيا يا ذو خشب سے عثمان كو خط لكھ كر اپنے ايك ادمى كے ذريعے خليفہ كے پاس پہونچا ، ليكن عثمان نے اس خط كا كوئي جواب نہيں ديا ، حكم ديا كہ خط لانے والے كو ذلت كے ساتھ گھر سے نكال ديا جائے ،عثمان كے پاس ائے ہوئے مصرى لگ بھگ چھ سو ادمى تھے ، وہ چار حصوں ميں بٹے ہوئے تھے ، ہر ايك كا ايك سردار عمر و بن بديل تھے ، صحابى رسول ہونے كى وجہ سے عبداللہ بن عديس نے انھيں كو سب كا سردار بنايا تھا _

____________________

۳۳_ تاريخ طبرى ج ۵ ص ۱۱۱ _ ۱۱۲ _ بلاذرى ج ۵ ص ۶۴_۶۵ ، ابن اثير ج۳ ص ۶۸ ، شرح نہج البلاغہ ج۱ ص ۱۶۲ تا ۱۶۴


مصر والوں كے خط كا متن يہ تھا

بسم اللہ الرحمن الرحيم

اما بعد اس بات كو سمجھ لو كہ;انّ اللہ لا يغير ما بقوم حتى يغير وا ما بانفسھم (خدا وند عالم اس وقت تك كسى قوم كى حالت نہيں بدلتا جب تك وہ خود اپنے اندر تبديلى نہ پيدا كر ے ) اسلئے ہم خدا كو تمھارا نگراں قرار ديتے ہيں اور اسكے غيظ و غضب سے ڈراتے ہيں ، خداوند نے تمہيں دنيا كى اسانياں فراہم كيں اسلئے اخرت كو مت چھوڑو ، كيونكہ اپنا اخرت كا فائدہ نظر انداز نہيں كرنا چاہئے ، اخرت كسى حال ميں فراموش نہيں كرنى چاہيئے _

اس بات كو سمجھ لو كہ ہم لوگ صرف خدا كيلئے غضبناك ہوئے ہيں اور اسى كے لئے راضى ہيں ، اور اب جبكہ ہم نے خدا كى راہ ميں قيام كيا ہے ، اپنى اپى ہوئي تلوار اس وقت تك نيام ميں نہيں ركھيں گے اور چين نہيں ليں گے جب تك تم سب كے سامنے اپنے گذشتہ كرتوتوں سے توبہ نہ كرلو ، اور اپنى حالت كو سامنے واضح كرو ، ہم لوگ اس وسيلے سے اپنى باتيں تمھارے كان تك ڈال رہے ہيں اور تمھارے مقابل ہم لوگوں كا ناصر و مدد گار خدا ہى ہے والسلام

عثمان نے باغيوں سے عہد وپيمان كيا

بلاذرى لكھتاہے :

مغيرہ بن شعبہ نے عثمان سے اجازت طلب كى تاكہ مصريوں سے بات چيت كر كے ان كے مطالبات معلوم كرے ، خليفہ نے انھيں اجازت دي، مغيرہ جب ان كے پڑائو پر پہونچے تو وہ سب كے سب چلّانے لگے_

اے كانے واپس جا ، اے بے حيا واپس جا ، اے منحوس واپس جا ، مجبوراََمغيرہ واپس چلے گئے ، عثمان نے عمرو

عاص كو بلا كر كہا :

تم اس گروہ سے ملاقات كرو ، اور انھيں قران كا حوالہ دو ميں ان كے تمام مطالبات پورے كروں گا _


جب عمرو مصر يوں كے پاس گئے ، تو انھيں سلام كيا ، ليكن سلام كے جواب ميں كہا :

خدا تجھے سلامت نہ ركھے ، اے دشمن خدا واپس جا ، اے نابغہ كے جنے واپس جا ، تو ہمارے نزديك امين نہيں ، نہ تيرى ضمانت پر بھروسہ كيا جا سكتا ہے _

عبداللہ بن عمر اور تمام حاضرين نے عثمان كو مشورہ دياكہ اب صرف حضرت علىعليه‌السلام ہى اس مہم كو سر كر سكتے ہيں _

جب حضرت علىعليه‌السلام تشريف لائے توعثمان نے ان سے كہا -;اے ابو الحسن اس سے ملاقات كر كے انھيں كتاب خدا اور سنت رسول كى دعوت ديجئے _

حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا :

ميں يہ كام اس شرط پر انجام دے سكتا ہوں كہ مجھ سے عہد وپيمان كرو اور خدا كو اس پر گواہ قرار دو كہ جو كچھ ميں ان لوگوں سے وعدہ كروں گا تم اسے پورا كروگے _

عثمان نے كہا : مجھے قبول ہے _

حضرت علىعليه‌السلام نے عہد وپيمان كو قسم اورخدا كى گواہى سے استوار كر كے جس سے قوى تر ممكن نہيں تھى ، عثمان كے پاس سے چلے ، اور اس گروہ كے سامنے پہونچے تو سب نے چلا كر كہا ، واپس جايئے ، حضرت علىعليه‌السلام نے جواب ديا_

نہيں ، ميں تمھارے پاس ائوں گا ، اور كتاب خدا پر عمل كى دعوت دوں گا ، تمھارے مطالبات كے بارے ميں وعدہ كروں گا _

اسكے بعد اپ نے ان لوگوں سے وہ سارى باتيں بيان كر ڈاليں جو عثمان اور اپ كے درميان پيش ائي تھيں ، اور انھيں بشارت دى كہ عثمان نے اپنا عہد پورا كرنے كا وعدہ كيا ہے

مصر والوں نے كہا ، كيا اپ اسكى ضمانت ليتے ہيں ؟

اپعليه‌السلام نے كہا _ہاں

انہوں نے كہا _ اگر ايسا ہے تو ہم بھى موافقت كرتے ہيں


ا س وقت كچھ مشاہير و بزرگان مصر حضرت علىعليه‌السلام كے ہمراہ مدينہ وارد ہوئے اور عثمان كے گھر گئے ، انھوں نے اپنى باتوں ميں خليفہ كے كردار پر سرزنش كى عثمان نے كسى بھى اعتراض كو رد نہيں كيا ، سب كى تصديق كى اور وعدہ كيا كہ ان تمام

خرابيوں كو دور كروں گا مصر كے نمايندوں نے كہا _ ان باتوں كو لكھ كر ہميں ديدو تاكہ ہميں زيادہ اطمينان ہو_ عثمان نے انكى بات مان لى اور اپنے ہاتھوں مندرجہ ذيل تحرير لكھى :

بسم اللہ الرحمن الرحيم

يہ عہد ہے بندئہ خدا عثمان ا مير المومنين كا ان مومنوں اور مسلمانوں كے لئے جو ان سے رنجيدہ ہيں ، عثمان تحريراََ يہ عہد كرتا ہے كہ _

_اج كے كے بعد كتاب خدا اور سنت رسول كے مطابق عمل كروں گا

_جن كے حقوق لئے ہيں انھيں دوبارہ جارى كروں گا

_جو لوگ ميرے غضب سے ڈرے ہوئے ہيں انہيں امان ديكر انكى ازادى كيلئے كاروائي كروں گا

_جلاوطن لوگوں كو ان كے وطن واپس كروں گا

_سپاہيوں اور فوجيوں كو زيادہ عرصے تك محاذ پر نہيں ركھوں گا

_جنگى غنائم كو بغير كسى رعايت و استثناء كے سپاہيوں كے درميان تقسيم كروں گا

عثمان كى طرف سے حضرت على بن ابى طالب بھى مومنوں اور مسلمانوں كے ساتھ اس عہد وپيمان كے نفاذ كى ضمانت ليتے ہيں _

مندرجہ ذيل اشخاص نے اس عہد كى صحت پر گواہى دى _

زبير بن عوام ، طلحہ بن عبداللہ ، سعد بن مالك بن ابى وقاص ، عبداللہ بن عمر ، زيد بن ثابت ، سھيل بن حنيف ، ابو ايوب خالد بن زيد _

پھر اسكے بعد ہر گروہ نے اس عہدنامہ كى ايك كاپى لى اور واپس چلے گئے _


فرزند ابو بكر اور مصر كى گورنري

بلاذرى اوردوسرے مورخين كے مطابق عثمان نے اس عہد نامے كے علاوہ ايك دوسرا عہد نامہ مصر والوں كو ديا ، اسميں عبداللہ بن ابى سرح كو بر طرف كر كے محمد بن ابى بكر كو وہاں كا گورنر بنايا _

بلاذرى لكھتا ہے: عائشه كے چچيرے بھائي طلحہ نے اٹھكر عثمان سے تلخ كلامى كى ، عائشه نے بھى پيغام بھيجا

كہ عبداللہ كو معزول كر كے مصريوں كا حق دو ، اس موقع پر حضرت على تشريف لائے اور مصريوں كى طرف سے كہا ، يہ لوگ تم سے مطالبہ كرتے ہيں كہ عبداللہ كو حكومت سے بر طرف كر كے كسى دوسرے شخص كو وہاں كا گورنر بنائو ، اسى طرح سب لوگ اس پر الزام لگاتے ہيں كہ اسكى گردن پر بہت سے بے گناہوں كا خون ہے ، اسے كار كردگى سے بر طرف كرو اور ان كے درميان فيصلہ كرو ،اگر يہ الزام صحيح ثابت ہو كہ عبداللہ نے ان كو قتل كيا ہے اس كے بارے ميں قانون خدا وندى جارى كر كے ان كے حقوق دو _

عثمان نے مصريوں سے خطاب كيا ، تم خود ہى كسى كا انتخاب كردو تاكہ اسكے حق ميں فرمان جارى كردوں ، سبھى مصريوں نے محمد بن ابى بكر كا نام اپس كے مشورہ سے ليا اور كہا ، محمد كو حكومت دينے كا فرمان جارى كر ديجئے(۱) عثمان نے مصريوں كى بات مان لى ، اور حكومت مصر كا فرمان محمد كے نام لكھ ديا ،اور مہاجرين و انصار كے ايك گروہ كو اسكے نفاذكا نگراں بناديا تاكہ يہى لوگ عبدللہ كے الزام كى بھى داد خواہى كريں ،اور تحقيقاتى رپورٹ عثمان كے حوالے كريں _

اس طرح بھر پور صلح و اشتى كے ساتھ طرفين ايك دوسرے سے جدا ہوئے مصر والے خوش خوش مدينے سے مصر كى طرف جانے لگے _

____________________

۱_ گمان قوى ہے كہ اس انتخاب ميں فرزند ابو بكر كا مصر كى گورنرى كيلئے عائشہ اور طلحہ اور ديگر مشاھير بنى تميم كے اثرات كے ما تحت نام ليا گيا ہو گا


حضرت على خليفہ عثمان كى حمايت سے كنارہ كش ہوئے

عثمان كى سياسى توبہ

حضرت علىعليه‌السلام كى استقامت سے عثمان اور مصريوں كے درميان صلح صفائي ہو گئي عثمان نے تحرير بھى حوالے كر دى كہ ان كے مطالبات پورے كئے جائيں گے ، وہ سبھى لوگ خوش خوش عثمان كے گھر سے چلے گئے تو حضرت علىعليه‌السلام نے عثمان سے فرمايا ، اٹھو اور لوگوں كے سامنے تقرير كركے اپنے نظريہ و عقيدے كا اظہار كرو ، خدا كى بارگاہ ميں اپنى دلى توبہ كو گواہ بنائو كيو نكہ اكثر شہروں كے اوضاع و احوال ميں بے چينى ہے ہر جگہ تمھارے كرتوتوں كا چرچا ہے ، اسلئے اس بار انديشہ ہے كہ كوفے والے تم پر چڑھ دوڑيں ، پھر تم مجھ سے كہو گے _

اے على جاكر ان سے بات كرو ; اس صورت ميں مجھے ان سے بات كرنے كا يارانہ رہے گا ،وہ لوگ بھى ميرا كوئي بہانہ يا عذر نہيں سنيں گے _

يہ بھى ہو سكتا ہے كہ بصرہ والے تمہارے خلاف اٹھ كھڑے ہوں ،پھر تم مجھے فرمان صادر كرو كہ على جائو ان سے بات چيت كرو اور جب ميں تمھارے فرمان كو نظر انداز كروں تو تم مجھے اپنا قاطع رحم سمجھو ادائے حق ميں كوتاہى كا الزام دو _

عثمان اٹھكر مسجد ميں ائے اور تقرير كى ، اپنے گذرى باتوں پر ندامت كا اظہار كر كے توبہ كى ، تقرير كے درميان كہا :

اے لوگو خدا كى قسم تم لوگوں نے جو كچھ ميرے اوپر تنقيد كى ميں ان سب كو جانتا ہوں ، جو كچھ ميں نے ماضى ميں كيا ہے سبھى ميرى علم و واقفيت ميں تھا ، لاعلمى ميں نہيں كيا ہے ليكن اس درميان ميرى خواہش نفس نے مجھے سخت دھوكہ ديا _

حقائق كو الٹا ميرے سامنے پيش كيا ، اخر كار اس خواہش نفس نے مجھے گمراہ كر ديا ، مجھے جادہء حق و حقيقت سے منحرف كرديا _

ميں نے خود رسول خدا سے سنا ہے كہ فرماتے تھے _

جو شخص غلطى كا مرتكب ہو جائے تو اسے توبہ كرنا چاہيئے_

اور جو شخص گناہ كا مرتكب ہو تو اسے توبہ كرنى چاہيئے_

اور اس سے زيادہ اپنے كو گمراہى ميں نہ الجھائے ركھے _


اگر ظلم و ستم پر اصرار كرتا رہے گا تو وہ اس گروہ ميں شمار كيا جائے گا جو حق كے راستے سے پورى طرح منحرف ہيں ميں خود پہلا شخص ہوں جس نے اس فرمان سے نصيحت حاصل كى ، اب ميں ان تمام گذشتہ باتوں سے خدا كى بارگاہ ميں استغفار كرتا ہوں ، ميں انكى تلافى كروں گا ، اور ميرے جيسے كيلئے يہى مناسب ہے كہ گناہ سے استغفار اور توبہ كرے _

اب ميں جيسے ہى منبر سے اتروں تو معزز اور اشراف حضرات ميرے پاس اكر اپنے اپنے مطالبات پيش كريں _

قسم خدا كى ، اگر خدا يہى چاہتا ہو كہ ميں بندئہ زر خريد رہوں تو اچھى طرح وہى روش اپنائوں گا ، اور جب لوگوں سے ذليل و خوار ہو جائوں گا تو فروخت شدہ غلام كى طرح صبر و شكيبائي كا رويہ اپنا لوں گا ، جب بيچا گيا تو صا بر ہے اور اناد ہوا تو شاكر ہے ، اور كوئي كام خدا ہى كى طرف منتہى ہوتا ہے ، اور تمام امور كى بازگشت اسى كى طرف ہے _

تم ميں جو لوگ شائستہ كردار ہيں ، مجھ سے منھ نہ موڑيں اور سمجھ ليں كہ مثال كے طور پر اگر ميرا داہنا ہاتھ ان پر فرمان كى طرح نہيں ہے تو ميرا باياں ہاتھ ان پر فرماں بردار كى طرح ہے

لوگوں كو عثمان كى اس تقرير سے رقّت طارى ہو گئي ، يہاں تك كہ بہت سے لوگ رونے لگے ، ان كى بيچارگى دور ماندگى اور توبہ و استغفار سے بہت زيادہ متاثر ہوئے ، اسى حالت ميں سعيد بن زيد نے عثمان سے كہا :

اے اميرالمومنين كوئي شخص بھى اپكا اتنا دلسوز نہيں ہے جتنے خود اپ اپنے دلسوز ہيں ، اب اپ خود اپنا

محاسبہ كيجئے اور جو وعدہ كيا ہے اس پر عمل كيجئے _

مروان كى وعدہ خلافي

جب عثمان منبر سے نيچے ائے تو سيدھے اپنے گھر گئے ، وہاں انھوں نے مروان ،سعيد اور ديگر بنى اميہ كو موجود پايا يہ سبھى عثمان كى تقرير كے وقت مسجد ميں موجود نہيں تھے ، جيسے ہى عثمان بيٹھے ، مروان نے ان سے كہا :

امير المومنين اجازت ہے كہ ميں كچھ كہوں :

عثمان كى زوجہ نائلہ اس سے پہلے بول پڑيں _


نہيں ، بہتر يہى ہے كہ تم كچھ نہ بولو ، خاموش رہو ، اسكے بعد وہ كہنے لگيں _

خدا كى قسم ، حالات كى كشاكش اتنى بڑھ گئي ہے كہ لوگ بلا شبہ ان سے بغاوت كر بيٹھيں گے اور قتل ہى كر ڈاليں گے ، ان كے بچوں كو يتيم كر ديں گے ، انھوں نے اس شورش كے دن ايسى بات كہى كہ كسى طرح بھى مناسب نہيں تھى اب انھيں اس سے باز انا چاہيئے

مروان اس بے جامزاحمت سے بہت غصہ ہوا ، وہ اپے سے باہر ہو كر نائلہ سے سخت لہجے ميں بولا تمھيں ان باتوں سے كيا سروكار باپ مرتے مر گيا اور يہ بھى نہ جان سكا كہ صحيح و ضو كيسے كيا جاتا ہے _

نائلہ نے غصہ و نفرت كے ساتھ جواب ديا

مروان ، خاموش ہو جا ، تم ميرے مرے باپ كا نام درميان ميں لا رہے ہو ، ان پر جھوٹا الزام لگا رہے ہو ؟حالانكہ تمہارا باپ ايسا ہے كہ كسى كو اسكى جانبدارى كا يارا نہيں _

خدا كى قسم ، اگر تيرا باپ عثمان كا چچا نہ ہوتا ، اور فطرى بات ہے كہ برا چچا بھتيجے سے وابستہ ہوتا ہے ، تو تيرے باپ كيلئے بھى ايسى بات كہتى كہ تو انكا ر نہيں كر سكتا _

مروان نے مجبور ہو كر نائلہ سے منھ پھير ليا _

دوبارہ عثمان كى طرف متوجہ ہو كر پہلى بات كى تكرار كى _

عثمان نے اسے بات كرنے كى اجازت دى تو مروان نے كہا ، ميرے ماں باپ اپ پر قربان ، كيا اچھا ہوا

كہ اپ نے يہ باتيں اس وقت كہى ہيں جب اپ كے پاس طاقت و اقتدار ہے، اپ اس طرح ذليل نہ ہوتے ، اس حالت ميں ،ميںپہلا شخص ہوتا جو اپ سے خوش ہوتا ، اپ كى تائيد كرتا ، يہاں تك كہ ظاہر بظاہر اسكى كمك كرتا ، ليكن افسوس كى بات يہ ہے كہ اپ نے يہ باتيں اس وقت كہى ہيں جب پانى چكّى ميں گھس چكا ہے ، اور اپ كے اقتدار كا اتنا ہى حصہ باقى رہ گيا ہے جتنا خاشاك اور جھاگ كا حصہ زمين پر باقى رہتا ہے _


اپ نے نہايت ذلت و خوارى كے ساتھ عوام كے سامنے اپنى ضرورت كا ہاتھ پھيلاديا اور انتہائي خاكسارى و بے چارگى كے ساتھ ان كے سامنے سپر انداز ہوگئے _

خدا كى قسم اگر اپ بار بار گناہ كر كے صرف خدا كى بارگاہ ميں استغفار كرتے تو اس سے كہيں زيادہ مناسب تھا كہ اپ نے عوام كے سامنے عاجز ى اور توبہ كا مظاہرہ كيا اگر اپ چاہتے تھے كہ اپنى توبہ سے لوگوں كے دل جيت ليں تو ان كے سامنے اپنى غلطيوں اور گناہوں كا اقرار كرنا صحيح نہيں تھا ، اسى عاجزى اور غلطيوں كے اقرار كى وجہ سے لوگ اسطرح اپ كے دروازے پر امنڈ پڑے ہيں _

عثمان نے مروان سے كہا :

تم خود باہر جاكر ان لوگوں سے بات كرو كيونكہ مجھے اب ان سے بات كرتے شرم اتى ہے _

مروان گھر سے نكلا ، عثمان كے وعدے كى وجہ سے لوگوں كا ہجوم دروازے پر اگيا تھا ، شانے سے شانہ چھل رہا تھا _

ٹھيك اسى وقت مروان ان كے سامنے پہونچ گيا اور ان كى طرف رخ كر كے چلّانے لگا _

كيا بات ہے لوٹ پاٹ كرنے ائے ہو ، تمہارا منھ كالا ، ہر شخص كو ديكھ رہا ہوں كہ دوسرے كو روك كر خود اگيا ہے ، جسے ميں ديكھنا چاہتا ہوں وہ لوگ نہيں ہيں

كيا معاملہ ہے ، كيا ہمارى حكومت پر دانت تيز كئے ہوئے ہو اسطرح ہجوم كر كے ہمارى حكومت چھيننے ائے ہو ؟

نكل جائو ، دفعان ہو جائو ، خدا كى قسم ، اگر ہمارى طرف رخ كيا تو ايسى مار پڑے گى جسے تم سوچ بھى نہيں سكتے تمہيں بڑا مہنگا پڑے گا _

تم لوگ بھى كيا گدھے ہو ، اپنے گھروں كو واپس جائو ، تم لوگ دھوكے ميں ہو ، ہم ہرگز تم سے پيچھے نہيں ہٹيں گے نہ اپنا اقتدار تمہارے حوالے كريں گے _


عثمان كى دور انديش زوجہ

لوگوں نے ابھى تھوڑى دير پہلے عثمان سے جو كچھ ديكھا سنا تھا اور اب جو كچھ ديكھ رہے تھے ،سخت حيرت و استعجاب ميں تھے ، وہ كيا تھا ، اب يہ كيا ہے ، اسكا جواب بہت مشكل تھا ، سب كے سب حضرت على كى بارگاہ ميں گئے اور تمام واقعات كى اطلاع دى

حضرت علىعليه‌السلام غصّے ميں بھرے عثمان كے پاس ائے اور سخت لہجے ميں بولے ابھى تم نے مروان كو نہيں چھوڑا نہ وہ تمھيں چھوڑ رہا ہے وہ تمھارا دين اور تمہارى عقل دونوں بر باد كر دے گا ؟تمھيں ذليل اونٹ كى طرح جہاں چاہتا ہے گھسيٹتا پھرتا ہے ،تم سر جھكائے چلتے چلے جارہے ہو _

خدا كى قسم ، مروان نہ تو مكمل ايمان ركھتا ہے نہ سالم فكر ، حق كى قسم ، ميں ديكھ رہا ہوں كہ وہ تمھيں ہلاكت ميں ڈال ديگا پھر وہ تمھيں نجات نہيں دے سكے گا ، تم نے اپنى حيثيت اور اپنا شرف پامال كر ديا ، اب اپنے كرتوتوں كى سر نوشت ميں گرفتار ہو ، ميں اب اس كے بعد يہاں نہيں ائوں گا نہ تم سے كوئي سروكار ركھوں گا ، نہ تمھارے كر توت پر سرزنش كروں گا _

جب حضرت علىعليه‌السلام اس حالت ميں گھر سے باہر چلے گئے توعثما ن كى زوجہ نائلہ ائيں اور اجازت طلب كر كے بوليں ،ميں نے على كى بات سنى ، اب وہ دوبارہ تمھارے پاس نہيں ايئں گے ، تم نے اپنے كو پورے طور سے مروان كے قبضے ميں ديديا ہے ، وہ جہاں چاہتا ہے تمھيں لئے پھرتا ہے ، عثمان نے جواب ديا _

بتائو بھى اب ميں كيا كروں ؟


نائلہ نے جواب ديا

خدائے واحد سے ڈرو ، ابوبكر و عمر كا طريقہ اپنائو اگر تم نے مروان كى بات مانى تو تمھيں قتل كرا ديگا _

لوگوں كى نظر ميں مروان كى كوئي قدر و منزلت نہيں ، وہ لوگ مروان ہى كى وجہ سے تم سے روگرداں ہيں ، كسى كو على كے پاس بھيجو اور انھيں اشتى سے بلائو ، كيونكہ وہ تمھارے رشتہ دار ہيں ، اور لوگوں نے ان سے كوئي ظلم بھى نہيں ديكھا ہے _

عثمان نے كسى كو بھيجا كہ حضرت علىعليه‌السلام كو بلالائے ، مگر حضرت علىعليه‌السلام نے انكار كرتے ہوئے فرمايا: ميں ان سے كہہ

چكا ہوں كہ اب نہيں ائوں گا_

ادھر جب نائلہ كى بات مروان كو معلوم ہوئي تو عثمان كے پاس پہونچا اور ان كے سامنے بيٹھ كر بات كرنے كى اجازت چاہى _

عثمان نے اجازت دى تو مروان نے كہا :

يہ نائلہ ، فرافصہ كى بيٹى عثمان نے اسكى بات كاٹتے ہوئے كہا اسكے بارے ميں كوئي بات نہ كہو ، خدا كى قسم وہ تم سے زيادہ ميرى رعايت كرتى ہے اور تم سے زيادہ ميرى ھمدرد ہے _

مروان مجبوراََچپ ہوگيا

طبرى اپنى تاريخ ميں لكھتا ہے(۲)

عبدالرحمن اسود نے مروان كے بارے ميں كہا :

خدا مروان كا منھ كالا كرے ، عثمان لوگوں كے سامنے ائے اور ان كے راضى ہونے كى باتيں كہيں _

يہ قربت اور صفائي ان پر ايسى محيط تھى كہ بے اختيار منبر پر رونے لگے ، لوگ بھى رونے لگے ، ميں نے خود ديكھا كہ عثمان كى داڑھى انسوئوں سے تر تھى ، وہ اسى حالت ميں كہہ رہے تھے خدا يا تجھ سے بخشائشے كا طلبگارہوں ، خدا يا تجھ سے بخشايش كا طلبگار ہوں _ خدايا تجھ سے بخشايش كا طلبگار ہوں _ بخدا اگر ايسا ہو كہ ميں زر خريد غلام ہو جائوں تو ميں گردن جھكا دوں ، اور راضى رہوں گا ، جب ميں گھر پہنچوں تو تم لوگ ميرے پاس ائو ، خدا كى قسم ، اب كبھى تم سے پنہاں نہيں رہوں گا ، دروازے پر دربان نہيں ركھوں گا ،تمھارا حق دوں گا اور زيادہ ہى دوں گا ، اور تم لوگوں كى خوشنودى كا سامان زيادہ سے زيادہ فراہم كروں گا ،ميں تم لوگوں كو زبان ديتا ہوں كہ مروان اور اسكے رشتہ داروں كو اپنے پاس سے دھتكاروں گا _

___________________

۲_ تاريخ طبرى ج۵ ص ۱۱۲، ابن اثير ج۳ ص ۹۶


جب عثمان اپنے گھر پہونچے تو حكم ديا كہ گھر كا دروازہ كھول ديا جائے اور اس پر دربان نہيں ركھا جائے _

ليكن مروان ان كے ساتھ گھر كے اندر گيا ، دير نہيں گذرى كہ خليفہ كى رائے تبديل كردى ، انھيں فريب ديا ، اور اسقدر مكّارى و حيلہ كام ميں لايا كہ لوگوں كے ساتھ صلح و صفائي كے ارادہ سے منھ موڑ ديا ، نتيجہ يہ ہوا كہ

عثمان شرم سے تين دن تك گھر سے باہر نہيں نكلے(۳)

اس دن مروان خود عثمان كے گھر سے باہر نكلا اور چلّانے لگا چند لوگوں كو چھوڑ كے جنھيں ميں چاہتا ہوں ، بقيہ تم سب كا منھ كالا ہو ، اپنے گھروں كو واپس جائو ، اگر اميرالمومنين كو تم ميں كسى سے كوئي كام ہو گا تو ادمى بھيج كے بلواليں گے ورنہ اسے گھر سے نكلنے كا حق نہيں ہے _

اس موقع پر ميں حضرت على كو تلاش كرنے نكلا ، جب مسجد ميں پہونچا تو انھيں ديكھا كہ قبر رسول اور منبر كے درميان بيٹھے ہوئے ہيں اپكے پہلو ميں محمد بن ابى بكر اور عمار ياسر بيٹھے ہوئے لوگوں كے ساتھ مروان كے سلوك بيان كر رہے ہيں ،حضرت على نے مجھے ديكھا تو فرمايا ،جس وقت عثمان تقرير كررہے تھے تم وہاں تھے ؟ميں نے جواب ديا ، جى ہاں

حضرت علىعليه‌السلام نے پوچھا ، مروان نے جو كچھ لوگوں سے كہا اسے بھى تم نے سنا ؟

ميں نے جواب ديا ، جى ہاں ،اس وقت حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا :

خدا مسلمانوں كى فرياد كو پہونچے ، اگر ميں گھر ميں بيٹھ رہتا ہوں اور اس سے سروكار نہيں ركھتا تو عثمان كہتے ہيں ،اپ نے نہ ميرا خيال كيا نہ ميرے حق كا خيال كيا نہ رشتہ دارى كا خيال كيا ، اور اگر بيكار نہيں بيٹھتا اور لوگوں سے بات كرتا ہوں تو مروان ٹپك پڑتا ہے اوربا وجود اس كے كہ وہ مسن ہيں ، صحابى رسول ہيں عثمان كے ساتھ كھلواڑ كرنے لگتا ہے ، جہاں چاہتا ہے گھسيٹتا پھرتا ہے ،يہى باتيں ہو رہى تھيں كہ عثمان كا پيادہ ايا اور حضرت على سے بولا ، عثمان اپ كو بلا رہے ہيں _

____________________

۳_ خليفہ كے فرائض ميں نماز جماعت پڑھانا بھى تھا ، وہ تين دن تك نماز نہيں پڑھا سكے ( سردار نيا )


حضرت علىعليه‌السلام نے غصّے ميں بلند اواز سے فرمايا :

ان سے كہہ دو كہ اب ميں نہيں ائوں گا اور نہ تمھارے اور مسلمانوں كے درميان واسطہ بنوں گا _

عثمان كا پيادہ حضرت علىعليه‌السلام كا جواب پہونچا نے چلاگيا،اگے عبدالرحمن بن اسود اپنى بات يوں بيان كرتے ہيں كہ اس واقعے كے دو رات بعد ميں نے عثمان كو ديكھا كہ اپنے گھر سے چلے ارہے ہيں ميں نے عثمان كے غلام نائل سے پوچھا _

اميرالمومنين كہاں جارہے ہيں ؟

حضرت على كے گھر اس كے دوسرے دن ميں حضرت علىعليه‌السلام كى خدمت ميں پہونچا تو انھوں نے خود فرمايا :

گذشتہ شب عثمان ميرے پاس اكر كہنے لگے ، اب ميں دوبارہ اپنى گذشتہ غلط حركتيں نہيں دہرائوں گا ، ميں نے جو كچھ وعدہ كيا ہے اسے پورا كروں گا ميں نے ان كے جواب ميں كہا كيا اس كے بعد كہ تم نے منبر رسول پر لوگوں كے سامنے تقرير كى انھيں ہر طرح تعاون كرنے كى زبان دى ، انھيں مطمئن كر كے تم اپنے گھر پلٹے ، اسكے بعد مروان تمھارے گھر سے نكلا اور ان لوگوں سے جو تعاون كے اميدوار تھے گالياں دينے لگا انھيں برا بھلا كہا ، سبھى كو دكھ پہونچايا _

عثمان رنجيدہ ہو كر گھر سے جاتے ہوئے كہہ رہے تھے ، ميرى رشتہ دارى كا تم نے كچھ بھى خيال نہ كيا ، مجھے ذليل كيا اور لوگوں كو ميرے اوپر گستاخ بنا ديا ، ميں نے جواب ديا خدا كى قسم ميں اج سے پہلے تمہارا سب سے بڑا مددگار اور ساتھى تھا ، لوگوں كى اذيت سے تمھيں بچاتا تھا ، ليكن جب بھى ميں نے تمھار ى خوشنودى كى خاطر اپنے كو گرا يا ، مروان ٹپك پڑا اور تم نے اسكى بات مان لى ، اور ميرى سارى كوششوں پر پانى پھيرديا حضرت علىعليه‌السلام نے اخر ميں فرمايا ، عثمان نكلے اور اپنے گھر چلے گئے _

عبداللہ الرحمن كا بيان ہے كہ ، ميں نے اس تاريخ سے حضرت علىعليه‌السلام كو خليفہ كے معاملے ميں دخل ديتے نہيں ديكھا ، نہ پہلے كى طرح ان كا دفاع كرتے ديكھا(۴) _

____________________

۴_ تاريخ گواہى ديتى ہے كہ حضرت على نے عثمان كا سب سے زيادہ دفاع كيا يہاںتك كہ عثمان كے رشتہ دار بنى اميہ سے بھى زيادہ دفاع كيا ، ان كا دفاع مفيد بھى تھا ، مولف محترم نے تاريخى احاطہ بندى نہيں كى ہے ، صرف چند نمونے پيش كئے ہيں (سردار نيا )


محاصرئہ عثمان

ہم نے ديكھا كہ حضرت علىعليه‌السلام نے عثمان كى جان بچانے كيلئے كئي بار سچے دل سے اقدامات كئے ، اور جن لوگوں پر انھوں نے اور ان كے كارندوں نے ستم ڈھائے تھے ان كے درميان ايلچى بھى بنے تاكہ شعلہء انقلاب ٹھنڈا ہو جائے ، خليفہ كى جان بچ جائے ، ليكن ان تمام تدبيروں اور كوششوں ميں ہر بار عثمان قسم كھاتے ، عہد كرتے كہ لوگوں كى گردن سے عمّال بنى اميہ كے ہاتھ كوتاہ كروں گا ، ليكن احمق حاشيہ نشينوں كے بہكانے خاص طور سے بنى اميہ كى فرد مروان كى وجہ سے ہر وعدہ پيروں تلے روند ڈالتے نتيجے ميں ايك دوسرا فتنہ كھڑا ہو جاتا ، مجبور ہو كر وہ دوبارہ حضرت على سے چارہ جوئي كى درخواست كرتے ،خليفہ كى سستى اور رذالت اس حد كو پہونچ گئي كہ امام نے ناگريز طور پر اس ذمہ دارى سے ہاتھ كھينچ ليا ، اور عثمان كو ان كے حال پر چھوڑ ديا تاكہ وہ اور ان كا مشير مروان اور دوسرے سرداران بنى اميہ ان لوگوں سے جو اپنا حق لينے اور انصاف چاہنے كيلئے عثمان كا محاصرہ كئے ہوئے ہيں ، اپس ميں سمجھ ليں _

عكرمہ نے عثمان كے محاصرے كى تفصيلات كو ابن عباس سے نقل كيا ہے ،عثمان كا دوسرى بار محاصرہ كيا گيا ، پہلى بار عثمان بارہ روز تك مصريوں كے محاصرے ميں تھے ، اخر ميں على نے مقام ذى خشب پر ان سے ملاقات كر كے واپس كيا ، خدا كى قسم على نے بھر پور خلوص نيت سے عثمان كو چھٹكارا دلانے كا ايثار كيا ، اور كوئي اقدام اٹھا نہيں ركھا ، يہاں تك كہ عثمان سے انھيں دلتنگ كرديا گيا وجہ يہ تھى كہ مروان و سعيد كے علاوہ دوسرے رشتہ دار عثمان كو على كے خلاف بھڑكاتے رہتے تھے ، اور عثمان بھى على كے بارے ميں جو باتيں كہى جاتيں انھيں مان ليتے تھے اور تصديق كرتے تھے ،وہ سب عثمان سے كہتے كہ اگر على چاہيں تو كسى كى ھمت نہيں كہ اپكے قريب اكر كچھ بول سكے ادھر اپ عثمان كو نصيحت كرتے ، انھيں ہدايت ديتے مروان اور اسكے رشتہ داروں كے حق ميں ان سے سخت باتيں كہتے ، وہ سب بھى حضرت على كے اس سلوك سے خفا ہو كر عثمان سے كہتے اپ تو ان كے امام اور پيشوا ہيں ،ان سے برتر ہيں ، ان كے رشہ دار ہيں ،چچيرے بھائي ہيں ، اپ كے سامنے وہ ايسے ہيں اور اپ كے پيٹھ پيچھے اپكو كيا كہتے ہيں ؟اس طرح كى باتيں اتنى بار عثمان سے كہى گيئں كہ على نے عثمان كے تعاون سے اپنا دامن كھينچ ليا ابن عباس كا بيان ہے _


جس دن ميں مدينے سے مكّہ جارہا تھا ، اس دن ميں على كے پاس گيا ،اور ان سے كہا ، عثمان نے مجھے حكم ديا ہے كہ ميں مكّہ چلاجائوں حضرت علىعليه‌السلام نے كہا :

عثمان حقيقت پسند نہيں رہ گئے كہ كوئي انھيں نصيحت و رہنمائي كرے ، انھوں نے اپنے گرد مٹھى بھر ذليل اور پست فطرت افراد كو جمع كرليا ہے جنھوں نے زميندارياں ہضم كرلى ہيں اور ماليات و خراج كو اپنے سے مخصوص كرليا ہے ، لوگوں كى گاڑھى كمائي مال غنيمت كى طرح كھا رہے ہيں _

ميں نے انھيں جواب ديا

وہ ہم لوگوں سے رشتہ دارى كى وجہ سے حق ركھتے ہيں كہ اپ انكى حمايت كريں ، اس بارے ميں اپكا كوئي عذر قابل قبول نہيں ، ابن عباس اخر ميں بولے _

خدا جانتا ہے كہ ميں نے چہرے پر عثمان سے نرمى اور شفقت كو واضح طور سے ديكھا ، ليكن دوسرى طرف ميں نے ديكھا كہ ان حالات پر وہ بہت بر ہم ہيں _

اسى طرح عكرمہ كہتا ہے(۵)

عثمان جمعہ كے دن منبر پر گئے ، حمد خدا بجالائے ، ٹھيك اسى موقع پر ايك شخص كھڑا ہوا اور عثمان سے بولا اگر صحيح كہہ رہے ہو تو قران كو اپنا رہنما بنائو اسكے احكام پر عمل كرو _

عثمان نے اس سے كہا ، بيٹھ جائو ، وہ شخص بيٹھ گيا ليكن پھر دوبارہ اٹھكر اعتراض كرنے لگا ، عثمان نے تين بار اسے بيٹھنے كا حكم ديا ، اس درميان لوگوں ميں اختلاف بڑھ گيا ايك دوسرے پر كنكرياں مارنے لگے ، سنگبارى اتنى شديد تھى كہ اسمان نظر نہيں ارہا تھا ، سنگريزوں كى مار سے عثمان كى حالت يہ ہوئي كہ وہ منبر سے بيہوش ہو كر گر پڑے ، اسى حالت ميں لوگوں نے انھيں گھر پہونچا يا ، ٹھيك اسى وقت عثمان كا ايك نوكر ہاتھ ميں قران ليكر گھر سے باہر نكلا اور بلند اواز سے يہ آيت پڑھنے لگا _

____________________

۵_ تاريخ طبرى ج۵ ص ۱۱۳


انّ الذين فرقو ا دينهم انعام آيت ۱۵۹

جن لوگوں نے اپنے دين كو ٹكڑے ٹكڑے كر ديا اور گروہ گروہ بن گئے ، يقيناان سے تمھارا كوئي واسطہ نہيں انكا معاملہ تو اللہ كے سپرد ہے(۶)

علىعليه‌السلام نے اپنے كو عثمان كے گھر پر پہونچايا ، وہ بيہوش تھے اور ان كے گرد بنى اميہ بيٹھے ہوئے تھے ،حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا :

اميرامومنين كو كيا ہو گيا ہے ؟

تمام بنى اميہ ايك اواز ہو كر چلّانے لگے _

عليتم نے ہميں مار ڈالا ، امير المومنين كو يہ دن دكھايا ، بخدا اگر تم اپنى ارزو پاگئے تو ہم بھى تمھارے اوپر زندگى تلخ كرديں گے _

حضرت علىعليه‌السلام نے انكا يہ جواب سنا تو غصّے ميں بھرے ہوئے خليفہ كے گھر سے نكل ائے عكرمہ كا يہ بھى بيان ہے كہ :

مدينہ كے باشندوں نے عثمان كو خط لكھا جسميں انكى غلط باتوں كو گنا يا گيا تھا ، اور اصرار كيا گيا تھا كہ وہ توبہ كريں ، تحرير ميں قسم كھا كر كہا گيا تھا كہ ہر گز نہيں بخشيں گے جب تك حكم خدا كے مطابق عمل نہ كرو گے ، ان كا حق نہ ديدوگے ، ورنہ قتل كرديا جائے گا

عثمان موت كى دھمكى سے بہت زيادہ ڈرے ہوئے تھے بنى اميہ كے اپنے طرفداروں ، اپنى بيوى اوربچوں سے بچائو كے بارے ميں مشورہ كرتے ہوئے كہا :

تم سب لوگ ديكھ رہے ہو كہ چاروں طرف سے دبائو پڑرہا ہے لوگوں كى بغاوت كا شعلہ مجھے اپنى لپيٹ ميں لے چكا ہے اب كيا تدبير كى جائے ؟

____________________

۶_ سورہ انعام آيت ۱۵۹لست منهم فى شئي


سب نے رائے دى كہ كسى كو بھيجكر على كو بلايئےور كہيئے كہ وہ لوگوں سے بات كريں ، ان كے مطالبات پورے ہونے كا وعدہ كريں تاكہ اس درميان امدادى كمك پہونچ جائے ;

عثمان نے كہا :

اب عوام دھوكہ نہيں كھايئں گے ، كوئي عذر يا بہانہ ہرگزنہيں مانيں گے ، ميں نے پہلى دفعہ ان سے عہد و قرار كيا ليكن اس پر عمل نہيں كيا ، اس بار يقينى طور پر مجھ سے عہد خدا وندى كا مطالبہ كر كے ضامن بھى چاہيں گے ، جب ميں ايسا كروں گا تو وہ پورا كرنے كى مانگ كريں گے ، مروان نے كہا :

اے اميرامومنين ، جب تك اپ كو طاقت نہ پہونچ جائے اس وقت تك ان سے قريب رہيئے انھيں كسى طرح بہلاتے رہيئے ،ان سے مجادلہ كرتے رہيئے ، جو كچھ اپ سے مطالبہ كررہے ہيں ، اپ وعدہ كرتے رہيئے ، جتنا بھى ہو سكے ان سے نرم گفتگو كيجئے اور جب كہ وہ لوگ اپ سے بغاوت كررہے ہيں تو اس عہد و پيمان كى كوئي وقعت بھى نہيں نہ اعتبار رہے گا _

عثمان نے يہ بات مان لى اور كسى كو حضرت علىعليه‌السلام كے پاس بلانے كيلئے بھيجا ، جب اپ تشريف لائے تو ان سے كہا :

اپ ان لوگوں كا سلوك ديكھ رہے ہيں ، اپ نے ديكھا كہ انھوں نے كيا كيا ،اور ميں نے كيسا مظاہرہ كيا ، ميرى حيثيت كو اپ اچھى طرح جانتے ہيں ، ميں اس گروہ سے اپنى جان كے بارے ميں بے خوف نہيں ہوں ، اپ جس طرح سے ہو سكے ان كے شر كو مجھ سے دور كيجئے ، خدائے تعالى ضامن ہوگا ، يہ لوگ جو كچھ چاہتے ہيںميں خود اپنى ذات سے اور اپنے رشتہ داروں سے انھيں ديدوں گا ، اگر چہ اس راہ ميں ميرا خون بھى بہا ديا جائے _


حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا :

يہ لوگ اپ كے خون سے زيادہ اپكے انصاف كے ضرورتمند ہيں ، اپ كو معلوم ہونا چاہيئے كہ ميں نے اس دروازے كى اڑ ميں اپ كى مخالفت ميں ايسے لوگوں كو ديكھا ہے كہ جب تك وہ اپنا حق نہيں لے ليں گے كسى طرح بھى اپ سے نرمى كا برتائو نہ كريں گے ، اپ نے پہلى مرتبہ ان سے خدا كو گواہ كركے عہد و پيمان كيا كہ ان گورنروں اور كارمندوں كو برطرف كردوں گا جنكى وجہ سے يہ عوام اپ سے غصہ ہيں ،اور ميں نے بھى اسى عہد و پيمان كى بنياد پر ان لوگوں كو اپ كے پاس سے پراگندہ كيا _

ليكن اپ نے كسى ايك وعدے كو بھى پورا نہيں كيا نہ اس پر عمل كيا ، اب دوسرى بار مجھے دھوكہ مت ديجئے ، اور بيہودہ باتوں سے مجھے نہ بہلايئے ، كيونكہ اگر اس بار ان سے ملاقات كروں گا تو حق و عدالت كى روشنى ميں ان كا حق ديدوں گا _

_مجھے منطور ہے ، اپ ان سے وعدہ كرليجئے ، خدا كى قسم ان باتوں كو پورا كرنے كيلئے ميں اقدام كروں گا _

حضرت علىعليه‌السلام عثمان كے گھر سے نكلے اور لوگوں سے كہا :

تم لوگ اپنے حق كا مطالبہ كررہے ہو ، وہ تمھيں مل جائے گا ، عثمان نے تمھارى بات مان لى ہے ، انھوں نے اپنے اوپر لازم كر ليا ہے كہ تمھارے بارے ميں حق و عدالت وہ خود اور دوسروں كى طرف سے مراعات كريں گے

_ہميں منظور ہے ، ليكن ہميں اطمينان دلايئےيو نكہ ہم ان كے قول پر عمل نہ كرنے كى وجہ سے اعتماد نہيں كرتے _

حضرت علىعليه‌السلام نے جواب ديا :

_حق تم لوگوں كے ساتھ ہے پھر اپ عثمان كے پاس واپس گئے اور انھيں صورتحال كى خبر دى _

عثمان نے كہا :ہميں مہلت ديجئے ، تاكہ اس مہلت كے سائے ميں ان كے مطالبات كو عملى جامہ پنھاسكوں ، كيونكہ يہ ميرے بس ميں نہيں ہے كہ ان كے تمام مطالبات كو ايك دن ميں پورا كرسكوں _


حضرت علىعليه‌السلام نے فرمايا :

جو امور مدينے سے متعلق ہيں ان ميں مہلت كى ضرورت نہيں ، ليكن ديگر تمام شہروں ميں جتنے دن كے اندر كام ہو سكے اتنے دن كى وہ لوگ مہلت ديدينگے _

عثمان نے جواب ديا :

_ٹھيك ہے ، ليكن اسكے باوصف مدينے سے متعلق معاملات كيلئے بھى تين دن كا موقع ما ن گئے _

_بہت ٹھيك ہے ، اس وقت حضرت باہر ائے اور تمام لوگوں سے سارى روئداد بيان كي، پھر اپ نے عثمان اور ان لوگوں كے درميان عہد نامہ لكھا كہ تين روز كے اندر عثمان مظلوموں كى داد كو پہونچيں اور وہ تمام كارستانياں جن سے قوم بيزار ہے اب ان سے باز ايئں اور اس عہد نامہ ميں خدا كا محكم ترين واسطہ جو اسكے بند ے سے ہو سكتا ہے قرار ديں ، عثمان كے اس وفائے عہد پر تمام مہاجرين و انصار كے سر براوردہ حضرات نے گواہياں ثبت كيں ، نتيجے ميں مسلمانوں نے عثمان سے ہاتھ اٹھاليا اور اس اميد ميں كہ عثمان اپنا عہد پورا كريں گے سب لوگ واپس چلے گئے _

ليكن لوگوں كے واپس ہونے كے بعد عثمان بيكار نہيں بيٹھے ، بجائے اسكے كہ عوامى مطالبات پورے كرنے كى سبيل كريں وہ جنگى تياريوں ميں لگ گئے ، اسلحے فراہم كرنے لگے تاكہ لوگوں سے مقابلہ كر سكيں ، حكومت كے قيديوں كو اچھى توانائياں سميٹنے لگے _

جب تين دن كى مہلت گذرگئي ،اور عہد پورا كرنے كا عثمان كا وعدہ دور دور تك نظر نہيں ايا لوگوں كى چارہ جوئي نہيں كى گئي كسى كارندے كو برطرف نہيں كيا گيا تو عوام نے دوبارہ ان كے اوپر چڑھائي كردى ،صحابى رسول عمرو بن حزم انصارى نے ذى خشب ميں جمع مصريوں كو جاكر خبر دى كہ عثمان نے كوئي وعدہ پورا نہيں كيا اسلئے دوبارہ انقلاب كيلئے امادہ ہو جائو ، وہ لوگ بھى عمرو كے ساتھ مدينے ائے ، پھر اپنى طرف سے نمائندوں كو عثمان كے پاس بھيجا ، نمائندوں نے ان سے جاكر كہا :

_كيا تم نے اپنے گذشتہ كرتوتوں پر توبہ نہيں كى تھى اور زبان نہيں دى تھى خدا كو گواہ نہيں بنايا تھا كہ جن باتوں سے عوام ناراض ہيں اب ان سے ہاتھ اٹھالوں گا ؟


_ہاں ، ميں اب بھى اس عہد پر باقى ہوں

_اگر ايسا ہى ہے تو يہ خط كيسا ہے ، جسے تم نے اپنے گورنر مصر عبداللہ كو لكھا ہے ، ہم نے اسے تمھارے قاصد سے حاصل كيا ہے ؟

_ميں نے ايسا كوئي كام نہيں كيا ہے ، مجھے اسكى كوئي اطلاع نہيں _تمہارا قاصد تمھارے خاص اونٹ پر سوار تھا ، تمھارا خط تمھارے ہى سكريٹرى نے لكھا تھا ، تمھارى ہى مہر ہے ، خلافت كى مہر _جہاں تك اونٹ كى بات ہے تو ممكن ہے كہ چرا ليا گيا ہو ، ادھر يہ ہے كہ دو خط ممكن ہے يكساں شباہت ركھتے ہوں ، ميرى مہر بھى ہو سكتا ہے كہ جعلى ہو _ ہم تمھارے معاملے ميں جلدى نہيں كريں گے ،اگر چہ ہم لوگوں كے نزديك تمھارى غلطى ثابت ہے ، اسكے باوجود اپنے بد كا رگورنروں كو ہمارے سروں سے ہٹائو اور كسى ايسے كو حكومت دو جسكا ہاتھ ہمارے جان مال سے رنگا ہوا نہ ہو ، ہمارے ساتھ انصاف

كرو ، ہمارا حق واپس كرو اگر ايسا گورنر جسے ميں نے معين كيا ہے تم اس سے خوش نہيں ہو اور ميں اسے ہٹادوں اور تمہارى خواہش كے مطابق گورنر بنا دوں تو اخر ميں كس كام كا ہوں ؟اسوقت تو ميرى نہيں تمھارى حكومت ہوگى ، ميرى كوئي حقيقت نہيں رہ جائے گي _قسم خدا كى ، يا تو يہ كام كرو يا خلافت سے دستبردار ہو جائو اگر تم نے مقابلہ كيا توہم تمہيں قتل كر ديں گے ، اچھى طرح سوچ كر اپنى زندگى كے بارے ميں فيصلہ كرو يہ خيال اپنے دماغ سے نكال دو كہ ميں خلافت سے دستبردار ہو جائونگا ،ميں ہر گز اس لباس كو نہيں اتار سكتا جسے خداوند عالم نے مجھے پنھايا ہے _


حيرتناك خط !!

اب ذرا ہم لوگ اس خط كو بھى ديكھيں جسكى طرف مصر والوں نے اشارہ كيا ہے ، اور اسے خليفہ كى خيانت كا نا قابل ترديد ثبوت بنا كر گھسيٹتے پھر رہے ہيں ، پيش كيا ہے ، وہ خط كيا تھا ، اسے لوگوں نے كس طرح حاصل كيا تھا ؟

ہم بھول نہيں گئے كہ پہلى بار جب عثمان مصريوں كے محاصرے ميں تھے اور حضرت على نے صلح و صفائي كر كے انھيں چھڑايا تھا ، انھوں نے پچھلے كرتوتوں پر توبہ كى تھى تو مصريوں نے بھى انھيں اس شرط پر چھوڑ ديا تھا كہ ان كى داد كو پہونچيں گے اور گورنر مصر عبداللہ بن سعدابن ابى سرح كو معزول كرديں گے _

عثمان نے حكومت مصر كا فرمان محمد بن ابى بكر كے نام لكھ ديا اور كچھ مہاجرين و انصار كو عوام كى شكايت دور كرنے كيلئے ان كے ساتھ بھيجا تھا مصر كے باشندے اصحاب كى زير نگرانى عثمان كے اصلاحى اقدامات نافذ كرنے كيلئے مصر جانے پر تيار ہو گئے ، وہ سبھى مصر كى طرف رواں دواں تھے ، جب وہ ايلہ(۷) يا اسكے ايك منزل كے اس پاس پہونچے تو اپنے پيچھے ايك سوار كو اتے ديكھا جو مصر كى طرف جارہا تھا ، لوگوں نے اسكا پتہ نشان پوچھا ، وہ سوار سياہ صورت تھا ، اپنے كو اميرالمومنين عثمان كا غلام بتايا اس نے كہا كہ اميرالمومنين كا پيغام ليكر عبداللہ بن ابى سرح گورنر مصر كے پاس جارہا ہے _ تمام مصر والوں نے باہم مشورہ كر كے بھلائي اسى ميں ديكھى كہ اس غلام كى تلاشى لى جائے ، ممكن ہے عثمان نے ان لوگوں كے توقع كے خلاف عبداللہ كو كوئي حكم ديا ہو ، ليكن پورى تلاشى كے بعد بھى جب كچھ بر امد نہ ہوا تو

____________________

۷_ انساب الاشراف بلاذرى ج۵ ص ۲۶ ، تاريخ طبرى ج۵ ص۱۹۹ ، رياض النفرہ ج۲ ص۱۲۳ ، عقد الفريد ج۲ ص ۲۶۳


طئے كر ليا كہ اسے چھوڑ ديں اور راستہ نہ روكيں ، اسى درميان كنانہ بن بشير نے كہا :

خدا كى قسم ، جب تك مشك كے اندر كى بھى تلاشى نہ لے لوں گا اسے نہيں چھوڑوں گا ، تم لوگ پورى احتياط نہيں كر رہے ہو سب نے كہا :

سبحان اللہ ، كيا يہ بھى ممكن ہے كہ مشك كے اندر خط ہو _

كنانہ نے كہا ، انسان كى مكارى رنگارنگ ہوتى ہے ، اسكے مكر سے بے خوف نہيں ہونا چاہيئے _

اسكے بعد مشك كا دہانہ كھول كر سارا پانى بہا ديا گيا ،اچانك اسميں ايك سر بمہر شيشى بر امد ہوئي ، اس شيشى ميں ايك نلكى ركھى گئي تھى جب وہ نلكى كھولى گئي تو اسميں سے اس مضمون كا خط بر امد ہوا _

اما بعد ، جب عمرو بن بديل تمہارے پاس ائے تو اسے پكڑ كر گردن مار دو ، اور ابن عديس اور كنانہ اور عروہ كے ہاتھوں كو كاٹ ڈالو ، پھر ان سب كو خون ميں تڑ پتا ہوا چھوڑدو كہ ان كى جان نكل جائے ، جب يہ مر جايئں تو ان سب كى لاش شاخ خرما پر لٹكا دينا _

جب مصر والوں نے خط پڑھا تو بيك اواز چلّائے _

خون عثمان حلال ہے ، پھر سفر روك ديا اور مدينے پلٹ ائے ، حضرت علىعليه‌السلام سے ملاقات كر كے سارا ماجرا بيان كيا پھر اپ كى خدمت ميں وہ خط پيش كيا _

حضرت علىعليه‌السلام اس خط كے بارے ميں عثمان سے پوچھا ،عثمان نے قسم كھا كر كہا كہ وہ خط ان كا نہيں ہے نہ اسكے بارے ميں كچھ جانتے ہيں اور كہا كہ :

_ يہ خط ميرے سكريٹرى كا لكھا ہوا ہے ، اسميں مہر بھى ميرى ہى ہے ، پھر كس كے بارے ميں گمان ہے ؟ اسكا الزام تم كس پر ديتے ہو ، عثمان نے جواب ديا _


_ميں تمھارے اوپر الزام ديتا ہوں ، كيو نكہ يہ سبھى لوگ تمھارے حكم پر عمل كر رہے ہيں اور تم انھيں مجھ سے منتشر نہيں كر رہے ہو ، حضرت على غصّے ميں بھرے ہوئے عثمان كے گھر سے چلے ائے اپ عثمان كى طرف رخ كركے فرمايا :

_نہيں يہ تمھارے حكم سے لكھا گيا ہے

يہ بھى روايت ہے كہ اس وقت بنى اميہ نے حضرت على سے كہا ، اے على ، تم نے ہمارے معاملات كو بر باد كيا ، لوگوں كو ہمارے خلاف بھڑكايا ، حضرت على نے ان كا جواب ديا

_اے بے وقوف نادانو مجھ پر كيسے الزام لگارہے ہو ، جبكہ ميں نے لوگوں كو عثمان سے پراكندہ كيا ، بارہا ان كے حالات سدھارنے كى كوشش كى ، اب اس سے زيادہ كيا كر سكتا تھا _ پھر ان سے منھ موڑ كر باہر نكل ائے ، اپ فرماتے جاتے تھے _

خدا يا ، تو جانتا ہے كہ ميرا دامن ان باتوں سے پاك ہے جسكا يہ بنى اميہ ميرے اوپر الزام لگا رہے ہيں ، اگر اس درميان عثمان كا خون بہے تو

ميں اسكا ذمّہ دار نہيں ہوں

واضح رہے كہ مہر خلافت پہلے حمران كے پاس تھي(۸) جب عثمان نے اسكو بصرہ جلا وطن كيا تو اس سے ليكر خلافت كى مہر مروان كے حوالے كردى تھى _ كہا جاتا ہے كہ مصريوں نے جو خط حاصل كيا تھا ، مروان بن حكم مستقل طور سے مہر اپنے پاس ركھتا تھا ، اس نے عثمان كو خبر كئے بغير خط پر مہر لگا دى تھى _

جب مصريوں نے عثمان كو خط دكھايا تو عثمان نے انكار كرتے ہوئے كہا :

يہ خط جعلى اور بناوٹى ہے ، مصر والوں نے كہا :

_ليكن خط كى رائيٹنگ تو تمھارے سكريٹرى كى نہيں ہے

_ٹھيك ہے ، ليكن اس نے بغير ميرے حكم كے لكھا ہے

_تمھارا غلام اس خط كا قاصد ہے

____________________

۸_ حمران كى جلا وطنى كا حال وليد بن عقبہ كے حالت ميں گذر چكا ہے يہ عثمان كا ازاد كردہ تھا


_صحيح ہے ، ليكن وہ بھى ميرى اجازت كے بغير مدينے سے نكلا

_ليكن وہ تو تمھارے خاص اونٹ پر سوار تھا

_ہوسكتا ہے ، وہ اونٹ مجھ سے پوچھے بغير اور ميرى اجازت كے بغير لے گيا ہو گا

_اب دو ہى صورت ہے ، يا تم صحيح كہہ رہے ہو اور حقيقت بھى يہى ہے ، يا تم جھوٹ بول رہے ہو اور سارى كاروائي تمہارى ہے _

چنانچہ يہ خط تمھارے حكم سے عبداللہ كو لكھا گيا ، اور ہم لوگوں سے تم جھوٹ بول كر خلافت سے دستبردارى كے مستحق ہو گئے ہو كيونكہ تم نے بغير كسى وجہ كے ہمارا خون بہانے كا حكم ديا _

اگر يہ بات ہے كہ تم سچ بول رہے ہو اور خط غلام اور اونٹ كے مسئلے سے بالكل پاك اور بے خبر ہو تو تمھارى نفسياتى كمزورى اور غفلت كى وجہ تمھارے گھنائونے رشتہ دار مسلمانوں كے معاملات ميں دخل دے رہے ہيں ، اسطرح تم خلافت سے ہٹائے جانے كے مستحق ہو ، كيونكہ تم ہرگز خلافت كے لائق نہيں ہو ، كيونكہ دوسرے لوگ تمھارى بے خبرى سے فائدہ اٹھا رہے ہيں ، تمھارى طرف سے ايسے فرمان صادر كر رہے ہيں ، كيا ايسے كو ہم اپنا اميرو پيشوا سمجھيں انھوں نے يہ بھى كہا كہ :

تم نے اپنى خلافت كے زمانے ميں بہت سے اصحاب رسول اور ديگر مسلمانوں كو صرف اس جرم ميں برى طرح مارا پيٹا كہ وہ تمھيں اچھى راہ دكھا رہے تھے ،تمہيں حق و عدالت كى طرف واپس لانا چاہتے تھے ، اب وہ وقت اگيا ہے قصاص كيلئے اپنے كو تيار كرو ، عثمان نے جواب ديا :

پہلى بات تو يہ كہ ہو سكتا ہے كہ امام اور پيشوا اشتباہ كا شكار ہو جائے ، اور ميں كسى حالت ميں بھى قصاص كے لئے اپنے كو تمھارے حوالے نہيں كروں گا ، كيونكہ ميں اكيلے سب كا قصاص بھگتنے كيلئے تيار ہو جائوں تو تباہ ہو جائوں گا(۹)

____________________

۹_رسول خدا نے اپنى زندگى كے اخرى ايام ميں مسجد ميں منبر پر تشريف لے گئے اور خطبہ ميں فرمايا ، جس شخص كو بھى مجھ سے اذيت پہونچى ہو اٹھے اور مجھ سے قصاص لے قيامت كے دن پر اٹھا نہ ركھے ايك صحابى اٹھے اور كہا كہ ايك جنگ كے موقع پر ہم لوگ جارہے تھے اور اپ اونٹ پر سوار تھے اپكا تازيانہ ميرے شكم پر لگ گيا تھا ميں اسكى تلافى چاہتا ہوں ، رسول خدا نے حكم ديا كہ وہى تازيانہ لا كر صحابى كو ديا جائے ، اس شخص نے كہا كہ اس وقت ميرا پيٹ برہنہ تھا رسول خدا نے اپنا پيٹ برہنہ كر ديا اور اپنے كو قصاص كے لئے تيار كرليا ، مسجد ميں سناٹا چھا يا ہوا تھا ، لوگوں كى سانسيں ركى ہوئي تھيں ، رسول خدانے مرض تپ ميں اپنے كو قصاص كے لئے امادہ كيا تھا ، ٹھيك اسى وقت صحابى نے اپنے كو رسول كے شكم مبارك پر ڈال ديا اور بوسے لينے لگا ، اور كہا جسم رسول سے قصاص لينے كى ميرى ہمت ميں خدا كى پناہ طلب كرتا ہوں ، عثمان اسى رسول كے خليفہ تھے


مصر والوں نے كہا :

تم نے ڈھير سارى غلطياں كى ہيں ، تمھارے كرتوت بڑے بھيانك اور سنگين ہيں ، ان ميں سے ہر ايك تمھارى بر طرفى اور خلع خلافت كے لئے كافى ہے ، جب ان باتوں كو تمھارے كان ميں ڈالا گيا تو تم نے توبہ كى ، اظہار ندامت و شرمندگى كيا ليكن توقع كے خلاف انھيں باتوںكو كر كے اپنى توبہ توڑدى جب ہم لوگ تمھارے پاس داد خواہى كيلئے اے تو تم نے توبہ و استغفار سے ہميں موہ ليا _

محمد مسلمہ نے اس موقع پر تمہارے خلاف ہمارے اقدامات پر سخت سر زنش كى ، دوسرى طرف تمھارے وعدوں كى انھوں نے ضمانت لى اور جب اس بار تم نے انھيں ہمارے اور اپنے درميان وساطت كيلئے بلايا تو تم سے منھ پھير ليا ، تم سے علحدگى اختيار كرتے ہوئے كہا :

اب ميں كبھى ان كے معاملے ميں مداخلت نہيں كروں گا _

بہر حال ہم پہلى بار كم تعداد ميں ائے تھے اور واپس چلے گئے تاكہ تمھارے لئے كوئي بہانہ باقى نہ رہے ، اور خدا پر بھروسہ كرتے ہوئے جو تم پر گواہ ہے تمھارا وعدہ پورا ہونے كى اميد ميں بيٹھے رہے ، ليكن ان تمام توبہ و دلجوئي كے باوجود تمھارا حيرتناك خط ہميں حاصل ہو گيا جسے تم نے اپنے گورنر كو لكھا تھا كہ ہميں قتل كردو ، ہاتھ پير كاٹ دو ، پھانسى پر لٹكا دو ، اور اب تم ڈھكو سلہ كر رہے ہو كہ تمھيں اسكى كوئي اطلاع نہيں ، حالانكہ وہ فرمان تمھارے غلام كے ہاتھ ميں تھا جو

تمھارى خاص سوارى پر تھا ، اس خط ميں تمھارے سكريٹرى كى تحرير تھى ، تمھارى خلافت كى مہر تھى _ اور اب تمھارى گذشتہ باتوں كو ديكھتے ہوئے كہ تمھارے كارندے ہم پر ظلم و ستم كررہے ہيں ، تم نے بيت المال كو اپنى ذاتى ملكيت بنا لياہے ، تمھارے رشتہ داروں نے اسے اپنى چيز سمجھ ليا ہے _

ان تمام سنگين معاملات كو تم نے بڑى سادگى سے ليا ، پھر تم نے توبہ و شرمندگى كا اظہار كيا ، اسكے بعد تم نے توبہ توڑ كر ان غلطيوں كو دہرا يا ، يہ سب سوائے تمھارے كوئي بھى ايسى گھنائونى اور خلافت حق باتيں نہيں كر سكتا_


ہم نے پہلى بار تم سے ہاتھ اٹھاليا ، جبكہ يہ مناسب نہيں تھا اسى وقت تمہيں بر طرف كر دينا چاہيئے تھا اور كسى دوسرے ايسے صحابى رسول كو جسكا دامن تمھارى طرح الزامات سے الودہ نہ ہو تمھارى جگہ پر بٹھا دينا چاہيئے تھا _

اب بھى موقع ہے ، خلافت سے كنارہ كش ہو جائو ، كيو نكہ علحدگى ہى سب سے زيادہ صلح پسندى كى راہ ہے ، اسميں ہم دونون كا فائدہ ہے_

عثمان نے جواب ديا :

كچھ اور تو نہيں كہنا چاہتے ہو ، تم نے اپنى سارى باتيں كہہ ڈاليں ؟

مصر والوں نے جواب ديا ،ہاں

پس از حمد خدا ، اما بعد ، تم لوگوں نے اپنى باتوں ميں عدل و انصاف كى رعايت نہيں كى ، جلدى بازى ميں ايسا فيصلہ كيا جو انصاف سے بعيد ہے _

تم كہتے ہو كہ ميں خلافت سے دستبردار ہو جائوں ، تو سمجھ لو كہ ميں ہر گز اس لباس كو نہيں اتاروں گا جسے خدا نے ميرے بدن پر پنھايا ہے ، اور جس اقتدار سے خدا نے مجھے نوازا ہے ، تمام لوگوں ميں مجھے منتخب كيا ہے ، اسے ہرگز نہيں چھوڑوں گا ، ليكن ميں توبہ كرتا ہوں ، اور برائيوں سے باز اتا ہوں اب ہرگز ايسے كام نہيں كروں گا ، جسے مسلمان نا پسند كرتے ہيں ، كيونكہ خدا كى قسم ميں رحمت حق كا طلبگار ہوں ، اسكے غضب سے ترساں ہوں _

مصريوں نے كہا :

اگر يہ پہلى بار ہوتا كہ تم غلطى كرتے پھر توبہ كرتے اور توبہ پر ثابت قدم رہتے اور گذشتہ غلط كاموں كو نہ دہراتے تو ہم پر لازم تھا كہ تمھارى پيشكش قبول كر ليں ، اور تمھيں چھوڑ ديں ، اور جيسا كہ تم جانتے ہو باوجود اسكے كہ تم نے ڈھير سارى غلطياں كى تھيں ہم نے پہلى دفعہ كى توبہ پر تمھيں چھوڑ ديا حالانكہ ذرا بھى ہميں انديشہ نہيں تھا كہ تم اپنے گورنر كو ہمارے خلاف خط لكھ كر ہمارے قتل كا فرمان جارى كرو گے ، اب جبكہ تم نے يہ كام كر ہى ڈالا ہے اور ہميں وہ خط


بھى دستياب ہو گيا ہے تواب دوبارہ تمھارى توبہ پر كيسے اطمينان كر ليں ، تمھارى توبہ كيسے مان ليں ؟

ہم نے تو تمھيں ازما ليا ہے كہ تم توبہ شكن ہو ، تم گناہو ں سے توبہ كر كے پھر اسكا ارتكاب كرتے ہو ، اب تم سمجھ لو كہ ہم كسى قيمت پر واپس نہيں ہوں گا ، تمھارى جگہ پر كسى دوسرے كا انتخاب كريں گے ، اگر تمھارے حمايتى ، رشتہ دار اور ماننے والے ہم سے جنگ پر امادہ ہوں گے تو ہم لوگ بھى جان پر كھيل جايئں گے ، ان سے جنگ كريں گے تاكہ تم پر قابو حاصل كريں اور تمھيں قتل كريں يا خود اس راہ ميں قتل ہو جائيں _

عثمان نے جواب ديا :

_ليكن حكومت سے دستبردا ر ہونا تو قطعى محال ہے

كيونكہ اگر مجھے پھانسى بھى ديدى جائے تو يہ ميرے لئے اس بات سے اسان ہے كہ جس اقتدار خلافت كو خدا نے مجھے عطا كيا ہے ميں اس سے دستبردار ہو جائوں _

_اور تم جو يہ كہتے ہو كہ جو لوگ ميرى حمايت ميں بوليں گے تم ان سے جنگ كرو گے تو ميں كسى كو حكم نہيں دوں گا كہ وہ تم سے جنگ كرے ، اگر اس درميان كوئي شخص بھى تم سے مقابلہ كرے تو وہ ميرے حكم سے نہيں ہو گا ، كيونكہ ميرى جان كى قسم اگر تم سے جنگ كا ارادہ ركھتا تو اسى بارے ميں ميں لكھ كر حكم ديتا اور مدينے كو پيادوں اور سواروں سے بھر ديتا ، يا پھر عراق و مصر پناہ ليتا ، ان باتوں كے ہوتے تم لوگ اپنے بارے ميں سوچو ، اگر ميرى جان پر رحم نہيں كرتے تو خود اپنى جان سے ڈرو ، كيونكہ اگر تم نے ميرا خون بہا ديا تو بڑے خون بہيں گے _

جب مصر كے نمائندے نكل گئے تو عثمان نے محمد بن مسلمہ كو بلايا اور حكم ديا كہ مصر والوں كو واپس كرديں ، محمد نے جواب ديا :

_خدا كى قسم ، ميں ايك سال ميں دوبار جھوٹ نہين بولوں گا


بلاذرى لكھتا ہے(۱۰)

مصر والے مدينے سے تين منزل پر تھے كہ خليفہ كا قاصد ديكھا گيا جو مصر كى طرف تيزى سے جارہا ہے ، جب انھوں نے خليفہ كا خط حاصل كيا تو محمد بن ابى بكر نے تمام مہاجرين و انصار جو ساتھ ميں جارہے تھے انكے سامنے خط كھول كر پڑھا ، خط كا متن يہ تھا _

جب فرزند ابوبكر اور فلاں و فلاں تمھارے پاس ايئں تو جو حيلہ اپنا سكو انھيں قتل كر ڈالو ، اور محمد بن ابى بكر كا فرمان ليكر پھاڑ ڈالنا اور تا حكم ثانى تم اپنے منصب پر باقى رہو ، اور جو بھى تمھارى شكايت ليكر ميرے پاس انا چاہے اسے قيد كر لو _

جب مصريوں كو مضمون خط كى اطلاع ہوئي تو جوش و خروش كے ساتھ تيزى سے مدينے واپس ائے ، فرزند ابو بكر نے اس خط پر پہلے اپنے چند ساتھيوں كى مہر لگوالى ، جب وہ مدينے پہونچے توحضرت علىعليه‌السلام ، طلحہ ، زبير ،سعد اور ديگر تمام اصحاب رسول كو جمع كيا اور غلام كے خط حاصل كرنے كا سارا واقعہ بيان كيا ، پھر انھيں كے سامنے خط كھو ل كر پڑھا _ جلسہ ختم ہونے كے بعد مدينہ كا كوئي بھى شخص ايسا نہ تھا جسے عثمان سے شديد نفرت نہ ہو گئي ہو ، اس مسئلے نے واقعہ ابن مسعود ، عمار ياسر اور ابوذر كے غمناك تاثر ميں مزيد اضافہ كرديا _

تمام اصحاب رسول اپنے گھر چلے گئے ، وہ عثمان كے اس خط سے اپنے دل ميں شديد رنج و افسوس محسوس كررہے تھے _

لوگوں نے عثمان كا محاصرہ كرليا ، اور محمد بن ابى بكر نے طلحہ اور دوسرے بنى تيم كے افراد كى مدد طلب كى ، عائشه نے بھى اپنى زبان سے عثمان كے دل ميں كچو كے لگائے _

البدء والتاريخ ميں ہے كہ(۱۱) محمد بن ابى بكر اور طلحہ و زبير و عائشه عثمان كے زبر دست مخالف تھے ، مہاجرين و انصار نے بھى انھيں ان كے حال پر چھوڑ كر كوئي سروكار نہيں ركھا تھا ، جو حالات پيش ارہے تھے اس پر كوئي توجہ نہيں كر رہے تھے _

____________________

۱۰_ انساب الاشراف بلا ذرى ج۵ ص ۶۷_۶۸

۱۱_ البدء و التاريخ ج۵ ص ۲۰۵


عائشه نے مسجد ميں عثمان پر اعتراض كيا ، اور انكے كرتوتوں كوگنايا ، رسول خدا كے بال ، لباس اور جوتيوں كو باہر نكال كر فرمايا كہ:

كتنى جلدى تم نے رسول كى سنت اور سيرت كو پس پشت ڈال ديا اور فراموش كر ڈالا _

عثمان نے جب يہ باتيں سنيں تو ابوبكر كے خاندان كو برا بھلا كہنے لگے وہ غصے ميں اس قدر اپے سے باہر تھے كہ جومنھ ميں ارہا تھا بك رہے تھے _ عثمان كے زبردست مخالفين ميں قبيلہ تيم كے اہم ترين افراد تين تھے ، ام المومنين عائشه ، ان كے بھائي محمد بن ابى بكر اور ان كے چچيرے بھائي طلحہ ، اور جيسا كہ مورخين لكھتے ہيں كہ عائشه اور

عثمان كے درميان بارہا توتو ميں ميں ہوئي ، چنانچہ تاريخ يعقوبى ميں ہے(۱۲)

عثمان منبر رسول پر تقرير كررہے تھے كہ ناگہاں عائشه نے رسول خدا كا پير اہن اپنے سر پر ركھا اور لہراتے ہوئے چلانے لگيں _

اے مسلمانو يہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا لباس ہے ، ابھى يہ پرانا بھى نہيں ہوا ہے كہ عثمان نے اسقدر جلدسنت رسول كو فراموش كرديا ہے ، بالكل مليا ميٹ كر ديا ہے_

عثمان نے جو يہ خلاف توقع حملہ ديكھا تو قران كا سہارا پكڑنے كے سوا چارہ نہيں ديكھا ، وہ جواب ميں قران كى يہ آيت پڑھنے لگے ;

پروردگار ، عورتوں كى مكارى و عيارى سے مجھے بچا كيو نكہ ان عورتوں كى مكارى بہت عظيم ہوتى ہے(۱۳)

____________________

۱۲_ تاريخ يعقوبى ج۲ ص ۱۷۵

۱۳_ سورہ يوسف آيت ۲۳و الا تصرف عن كيد هن


عائشه كا تاريخى فتوي

عائشه جن كے دل عثمان سے خونم خون تھا ، اور سر ميں اپنے چچيرے بھائي طلحہ كى تمنائے حكومت كروٹيں لے رہى تھى ، لوگوں كى بغاوت اور محاصرے سے بھر پور استفادہ كيا ، انكى موت كا تاريخى فتوى صادر كرديا _

اس بارے ميں ابن اعثم كوفى لكھتاہے(۱۴)

ام المومنين عائشه كو جب معلوم ہو گيا كہ يہ تمام لوگ عثمان كے قتل كا مصمم ارادہ كئے ہوئے ہيں تو چلّا كر بوليں_

اے عثمان تم نے مسلمانوں كے بيت المال كو اپنى ذاتى ملكيت بناليا ہے ، بنى اميہ كے ہاتھوں كو مسلمانوں كے جان ومال پر مسلط كرديا ہے ، انھيں اقتدار سونپ ديا ہے ، اسطرح تم نے سارے مسلمانوں كو مصائب و الام ميں جھونك ديا ہے؟خدا وند عالم زمين و اسمان كى بركت تم سے اٹھا لے ، اگر ايسا نہ ہو تا كہ تمام مسلمانوں كى طرح تم بھى نماز پڑھتے ہو تے تو تمہيں اونٹ كى طرح قتل كر ڈالا جاتا(۱۵)

جب عثمان نے عائشه كى يہ باتيں سنيں تو قران كى يہ آيت پڑھنے لگے _

كافروں كے لحاظ سے اللہ نے مثال پيش كى ہے نوح كى بيوى اور لوط كى بيوى كى جو ہمارے بندوں ميں سے دونيك بندوں كى زوجيت ميں تھيں تو انھوں نے ان سے غدارى كى تو ان دونوں نے ان دونوں كو خدا كے عذاب سے كچھ بھى نہيں بچايا ، اور كہا گيا كہ داخل ہو جائو دونوں اگ ميں داخل ہونے والوں كے ساتھ(۱۶)

جى ہاں يہ حقير كرنے والى آيت پيش كركے عثمان نے عائشه كا جواب ديا عائشه جنكا مزاج سخت متعصب اور تند و سر كش تھا ، وہ ايسى خاتون تھيں كہ غصے كے عالم ميں وہ اپنے اپ ميں نہيں رہتى تھيں _

يہ جواب سنكر اور وہ خط جسے ان كے بھائي محمد نے مصر كے راستے ميں حاصل كيا تھا اور جسميں محمد كے قتل كا فرمان تھا ، ام المومنين اپنے خاندان پر جان ديتى تھيں ، ايسى منقلب اور غضبناك ہوئيں كہ كسى قسم، كى پرواہ كئے بغير واضح لفظوں ميں فتوى صادر كرديا _

___________________

۱۴_تاريخ بنى اعثم ۱_۱۵۵

۱۵_ممكن ہے كہ يہ سرزنش ام المومنين اس سے قبل ہو گى جب ان كے بھائي محمد بن ابى بكر كو مصريوں كے ساتھ قتل كا خط حاصل كيا تھا ، ام المومنين نے پھر اس خط كے بعد عثمان كے نماز كى طرف كوئي توجہ نہيں كى اور قتل عثمان كا فتوى صادر كر ديا

۱۶_ مفسرين كے مطابق اساس سورہ تحريم عائشہ اور ايك دوسرى زوجہ كے اقدامات كا نتيجہ تھا ، انھيں دونوں كے بارے ميں يہ سورہ نازل ہوا ، عثمان نے مقام معارضہ ميں سورہ تحريم كى دسويں آيت پڑھي'' اقتباس امرا ة نوح و امرا ة لوط ''


انھو ں نے چلّا كر كہا ،اس نعثل كو قتل كردو يہ كافر ہو گيا ہے(۱۷)

جيسے ہى يہ فتوى ام المومنين كى زبان سے نكلا تو جيسے خشك خرمن ميں چنگارى بھڑك اٹھے ، تيزى كے ساتھ ايك سے دوسرے منھ تك پہونچى ، جنگل كى اگ كى طرح تمام زبانوں پر پھيل گئي ، مدينہ كا كوئي معزز شخص بھى ايسى بات نہيں كہہ سكتا تھا بلكہ اسكا تصور بھى نہيں كر سكتا تھا _

ايئےب ذرا نعثل كا مطلب بھى سمجھ ليں

نعثل كا مطلب لغت ميں مندرجہ ذيل ہے(۱۸)

۱_تيندوا، لكڑ بگھا

۲_بد حواس بڈھا ، احمق ، نادان ،ناسمجھ

۳_مصر ميں ايك لمبى داڑھى والا اسى نام سے پكارا جاتا تھا

۴_ مدينے ميں ايك يہودى كا يہى نام تھا ، عثمان كو اسى سے تشبيہ دى گئي

ليكن سچى بات تو يہ ہے كہ ام المومنين كى نظر ميں جو اپنى فراست اور ہوشمندى سے سر شار تھيں ، انھوں نے كسى ايك معنى پر اكتفا نہيں كى تھى ، انكى نظر ميں يہ تمام معانى تھے ، انھوں نے اپنى فطرى قدرت بيان اور فصاحت و بلاغت كو بروئے كار لاتے ہوئے ان تمام معانى كو اس مختصر اور حتمى جملے ميں سميٹ ليا تھا ، اور پھر سنساتے تير كى طرح اپنے دشمن عثمان پر چلا ديا ، جو ٹھيك ان كے سينہ ميں پيوست ہو گيا اور ہميشہ كيلئے ان كے دامن پر باقى رہ گيا _

يہى مختصر جملہ ضرب المثل كى طرح عثمان كے دشمنوں كى زبان پر چڑھ گيا ، يہاں تك كہ اس فتوى كى بنياد پر خليفہ اپنے مخالفوں كے ہاتھوں قتل كردئے گئے ، يہ نام اپنے تمام معانى كے ساتھ مدتوں ان كے دشمنوں كى زبان پر جارى رہا ، اور ہميشہ كے لئے تاريخ ميں ثبت ہو گيا ، اعورشنى اپنے شعروں ميں لكھتا ہے _

____________________

۱۷ _ تاريخ طبرى ج۴ ص۴۷۷ ، تاريخ بن اعثم ج۱ ص۱۵۵ ابن اثير ج۳ ص۸۷ ، ابن ابى الحديد ج۲ ص۷۷نھايہ ج۴ ص۱۵۶

۱۸_ لغت ميں نعثل كا مطلب ديكھنے كيلئے نہايہ ابن اثير قاموس ، تاج العروس لسان العرب اور المنجد ديكھئے


برئت الى الرحمن من دين نعثل

ودين ابن صخرايها الرجلان (۱۹)

ميں دين نعثل عثمان سے اور صخر كے بيٹے معاويہ كے دين سے بيزار ہوں _

محمد بن سيرة بن ابى زھير قرشى كا يہ شعر ہے

نحن قتلنا نعثلا بالسيرة

اذ صد عن اعلامنا المنيرة

ہم نے بنام سنت نعثل كو قتل كيا ہے ، جبكہ وہ ہمارے درخشاں پرچم كى پيش رفت ميں ركاوٹ بن گيا _

جب عمر و عاص نے جنگ صفين ميں بعض شعر پڑھتے ہوئے يہ مصرع كہا ،ردوا علينا شيخنا كما كان(۲۰)

ہمارے بزرگ اور ہمارے سردار (عثمان )كو جيسا كہ وہ تھا ہميں واپس كردو _

تو عراقى لشكر سے جواب ملا _

ابت سيوفنا مذ حج و همدان

بان ترد نعثلا كما كان (۲۱)

(قبيلہ مذحج و ہمدان كى تلوار يں انكار كر رہى ہيں كہ نعثل عثمان صحيح و سالم واپس كيا جاسكے)

____________________

۱۹_ انساب الاشراف ج۵ ص ۱۰۵

۲۰_ كتاب صفين ص۴۵۶ _ ۲۵۶_۲۵۷_۴۵۴

۲۱_ كتاب صفين ص ۴۵۶_۲۵۶_۲۵۷_۴۵۴


عمرو عاص نے دوبارہ گہار مچائيردوا علينا شيخنا ثم بجل (۲۲)

ہمارا شيخ و سردار ہميں واپس كردو يہى ہمارے لئے كافى ہے _

عراقيوں نے جواب ميں كہا ،

كيف نرد نعثلا و قد قحل (۲۳)

نعثل كو ہم كيسے واپس كريں ، وہ تو سڑ گل گيا ہے _

عائشه كے تاريخ فتوى كا تجزيہ

اگر چہ عائشه كے فتوى صادر كرنے سے قبل تك لوگوں اور عثمان كے درميان صلح و صفائي كا تھوڑا بہت روشندان كھلا ہوا تھا ، كيونكہ حضرت على اور دوسرے لوگ بيچ بچائو كر رہے تھے ، ليكن ام المومنين كى طرف سے فتوى صادر ہوتے ہى ، وہ روشندان پورے طور سے بند ہوگيا ، عثمان كى موت يقينى ہو گئي ، پھر جو ہونا تھا ہوا _ ام المومنين كو شيخين كے زمانے ميں جو مرتبہ و مقام حاصل ہو گيا تھا اسے اپ نے گذشتہ صفحات ميں ملاحظہ كيا ، انھيں دونوں نے مسلمانوں كى نگاہ ميں ام المومنين كى عظمت بڑھانے كا سامان كيا اور اسقدر احترام كيا كہ انھيں سے فتوے اور احكامات حاصل كرتے تھے _

ادھر عائشه كے فتوے اور احكامات كى تاثير اتنى بڑھائي گئي اور وہ بھى اسقدر موقع شناس تھيں فتوى كا نفاذ فوراََ ہو جاتا ، جيسا كہ _ ليفہ كے بارے ميں ان كا فرمان قتل صادر ہوتے ہى سرداران بنى اميہ جو اقتدار كے مالك تھے وہ ايك طرف ہو گئے اور مسلمانو ں كے سارے طبقے دوسرى طرف ، ان دونوں پارٹيوں ميں شديد اختلاف و كشمكش كا بازار گرم ہو گيا ، فتنہ و اشوب كے شرارے تمام اطراف مملكت ميں راجدھانى سے ليكر دور دراز علاقوں ميں پھيل گئے ، ہم نے ان كى تفصيلات كى طرف گذشتہ صفحات ميں اشارہ كيا اگر چہ زيادہ تر كو اختصار كے پيش نظر بيان نہيں كيا _ ام المومنين كے اس فتوى پر عمل كر نے كيلئے تمام مسلمان امادہ اور كمر بستہ ہو گئے ، چاہے وہ اصحاب رسول ہوں يا دوسرے ، انھوں نے پكا ارادہ كرليا

____________________

۲۲_ كتاب صفين ص۴۵۶ _ ۲۵۶_۲۵۷_۴۵۴

۲۳_ كتاب صفين ص ۴۵۶_۲۵۶_۲۵۷_۴۵۴


كہ يہ فتوى بہر حال عملى جامہ پہنے گا اب دو ہى راستے تھے ، جنگ يا عثمان كى برطرفي خود جنگ كى بھى دوصورت تھى ، يا تو خود خليفہ جوبلوائيوں كے محاصرے ميں ہے اسكى طرف سے جنگ كرے اور انقلابيوں كے خلاف تلوار اٹھائے يا لوگوں كى صف ميں شامل ہو جائے ، اور خلافت كے خلاف شورش و انقلاب برپا كرنے والوں كے ساتھ ہو كر جنگ كرے _ حضرت علىعليه‌السلام اور سعد وقاص جو اصحاب شورى ميں تھے _ يہ دونوں خاموشى اختيار كئے ہوئے تھے ، گوشہ نشين تھے ، ليكن طلحہ و زبير انقلابيوں كے ساتھ تھے ، ان لوگوں نے شورش پسندوں كى قيادت سنبھال ركھى تھى _

عثمان كو نعثل پكارنے والے لوگ

نعثل كا نام لوگوں كى زبان پر چڑھ گيا ، ام المومنين كا فرمان كہ نعثل كو قتل كردو ، ايك دوسرے كى زبان پر چڑھتے چڑھتے عام ہو گيا ، اگرچہ ام المومنين كى پہلى ذات ہے جس نے عثمان كا نام نعثل ركھا ، اور انكى طرف سے عثمان كا يہ نام علم كى شكل اختيار كر گيا ، ليكن عثمان كى حيات ہى ميں بعض اور لوگ بھى تھے جنكا دل عثمان كى زيادتيوں كى وجہ سے خون ہو گيا تھا ، انھوں نے انكے منھ پر يہ نام دہرايا ، ان ميں جبلہ بن عمر و ساعدى(۲۴) بھى ہيں _

طبرى لكھتا ہے كہ :

جبلہ اپنے گھر پر زنجير در پكڑ ے كھڑے تھے اتنے ميں ادھر سے عثمان گذرے تو جبلہ نے كہا :

اے نعثل ، خدا كى قسم ميں تجھے قتل كروں گا پھرتجھے اونٹ پر سوار كر كے جہنم رسيد كردوں گا _

بلاذرى لكھتا ہے :

جبلہ اپنے دروازے كى زنجير تھامے كھڑے تھے ، عثمان گذرے تو كہا ، يہ زنجير ديكھتا ہے ؟يہ زنجير گردن ميں ڈال دونگا ورنہ اپنے حمايتوں سے ہاتھ اٹھا لے ، تو نے بازار مدينہ كو حارث بن حكم كے نام قبالہ لكھ ديا ہے ، اور تو نے يہ يہ كرتوت كئے ہيں _

____________________

۲۴_ ان كے نسب كے بارے ميں اختلاف ہے ليكن سب نے لكھا ہے كہ يہ اصحاب رسول ميں صاحب علم و فضل تھے ، حضرت علىعليه‌السلام كے ہمراہ جنگ صفين ميں شريك ہوئے ، اخر عمر ميں مصر سكونت اختيار كر لى تھى ، اسد الغابہ ج۱ ص۲۶۹ ملاحظہ ہو


جبلہ كا اعتراض اس بات پر تھا كہ عثمان نے بازار مدينہ كا سارا انتظام اپنے چچيرے بھائي حارث بن حكم كے ہاتھ ميں ديديا تھا ، اسكى حالت يہ تھى كہ تمام اجناس اور اہم سامان بظاہر عثمان كے نام خريد كر جس بھائو چاہتا لوگوں كو بيچتا تھا اسطرح وہ اكيلے بازار كا سارا منافع خود كھاتا تھا اور كسى كو اعتراض كى ہمت نہ تھى _

حارث كو جانے ديجئے ، حكم اسكا بھائي خلافت ميں حد سے زيادہ رسوخ ركھتا تھا ، بازار والوں سے ٹيكس ليتا ، خلاف شرع اور انسانيت سے گرى ہوئي حركتيں كرتا تھا _

بازار والوں نے بارہا عثمان سے شكايت كى ، حارث كى عياريوں سے انھيں مطلع كيا ليكن اپنے چچيرے بھائي حارث كى عزت اس قدر زيادہ تھى كہ بازاريوں كى بات پر توجہ ديكر اسے روك نہيں سكتے تھے ، اسے ہٹا كر اس مصيبت كو دفع بھى نہيں كرتے تھے ، نہ حارث كے خلاف كاروائي كرتے ،عثمان كے بہى خواہوں نے اور ان تمام لوگوں نے جو عوام كو خلافت كى تمام باتيں بے چون و چرا ماننے كا مشورہ ديتے ، يہ سبھى عثمان كى مطلق العنانى كو ديكھتے ہو ئے بارہا جبلہ سے اصرار كرتے كہ اپنى مخالفت سے بازائيں ، ليكن انھوں نے سب كى باتيں پورى طاقت سے ٹھكرا ديں ، بار بار كے اصرار اور دبائو پر انھوں نے كہا :

نہيں خدا كى قسم ، ميں ہرگز اس بات پر تيار نہيں ہوں كہ اج تمھارى بات مان كر كل قيامت كے دن عدل خدا وندى كى بارگاہ ميں اوندھے منھ گر كر پريشان حالى سے كہوں _

بار الہا ، ميرا كوئي بس نہيں تھا ، ميرا كوئي اختيار نہيں تھا _

ميں نے بزرگوں اور رئيسوں كا حكم سنا اور فرماں بردارى كى ، انھوں نے ہى ہميں بد بختى اور گمراہى ميں جھونكا _

طبرى ايك دوسرى جگہ لكھتے ہيں ;

ايك دن عثمان كچھ لوگوں كے سامنے سے گذرے ، اور لوگوں كو سلام كيا ، انھوں نے سلام كاجواب ديا ، جبلہ نے ان لوگوں سے كہا ، ايسے شخص كا جواب كيوں ديتے ہو جس نے ايسا اور ايسا كيا ، پھر عثمان كى طرف رخ كر كے كہا :

خدا كى قسم ، ميں اسى لوہے كى زنجير كو تمھارى گردن ميں ڈال دوں گا ، ورنہ اپنے طرفداروں كو اپنے پاس سے دھتكار و _

عثمان نے پوچھا ، كن طرفداروں كے بارے ميں كہہ رہے ہو؟خدا كى قسم ميں نے كسى كو اپنے سے قريب نہيں كيا ہے نہ كسى كو خاص اہميت دى ہے _


تم ايسا دعوى كررہے ہو ،جبكہ تم نے مروان ، معاويہ ،عبداللہ بن عامر بن كريز ، عبداللہ بن سعد جيسوں كو اپنا مقرب بنا ليا ہے ، جن كے بارے ميں قران مذمت كرتا ہے ، رسول خدا ان كا خون مباح قرار دے چكے ہيں _

عثمان كا خالہ زاد بھائي تھا عبداللہ بن عامر ، كيونكہ عثمان كى ماں كا نام اروى بنت كريز تھا ، عبداللہ كو عثمان نے كيسے مصر كى حكومت بخشى خود يہ داستان بڑى دلچسپ ہے _

ايك دن زياد بن ابيہ كا مادرى بھائي شبلى بن خالد عثمان كے پاس ايا ، جبكہ ان كے اردگرد بنى اميہ كے بہت سے سر كردہ افراد بيٹھے ہوئے تھے ، اس نے اتے ہى كہا :

كيا تمھارے درميان ايسا غريب نہيں ہے جسكے دل ميں مالدارى كى تمنا ہو ؟

كيا تمھارے درميان ايسا گمنام شخص نہيں ہے جس كے دل ميں شھرت كى ارزو كروٹيں ليتى ہو ؟

كيا تمھارے درميان كيا تمھارے درميان كيا تمھارے درميان جبكہ عراق كا قبالہ اسطرح ابو موسى اشعرى كے نام لكھ ديا گيا ہے جبكہ وہ نہ تو قريش سے ہے نہ قبيلہ مضرسے ہے بلكہ وہ يمن كے قبيلے كا ہے(۲۵) عثمان پر شبلى كى ان باتوں كا بڑا اثر ہوا ، جھٹ سے اپنے سولہ سالہ خالہ زاد بھائي عبداللہ بن عامر كو بصرے كى حكومت بخش دى اور ابو موسى اشعرى كو برطرف كرديا(۲۶)

طبرى نے حاطب كا بيان نقل كيا ہے(۲۷)

ميں خود اس دن مسجد ميں موجود تھا ، عثمان وہى عصائے رسول لئے ہوئے تھے جسے ابوبكر و عمر تقرير كےوقت لئے رہتے تھے ، وہ عصا كے سھارے تقرير كررہے تھے ، اتنے ميں جھجاہ نے بلند اواز سے چلّا كر كہا ، او نعثل ، اس منبر سے اتر_ ابوحبيبہ كا بيان ہے كہ جھجاہ غفارى كھڑے ہو كر چلّائے اے عثمان ، ميں نے اونٹ ، عبا اور زنجير تمھارے واسطے مہيا كر ركھى ہے ، تم منبر سے اتر و تو عبا سے تمھارى گردن باندھ دوں ، تمھيں زنجير ڈال كر اونٹ پر سوار كردوں اور كوہ اتش فشاں (جبل الدخان )ميں پہونچا دوں _

____________________

۲۵_ جاننا چاہيئےہ شبلى قبيلہ مضر كا تھا اسكو يہ بات سخت ناگوار تھى كہ بصرہ كى گورنرى ايك يمنى شخص كو ديدى گئي ہے

۲۶_ استيعاب و اسد الغابہ و اصابہ ديكھئے

۲۷_ تاريخ طبرى ج۵ ص۱۱۴ ، ابن اثير ج۳ ص۷۰ ، ابن ابى الحديد ج۱ ص ۱۶۵ ، ابن كثير ج۷ ص ۱۵۷ ، اصابہ ج۱ ص۲۵۳ وغيرہ


عثمان نے جھجاہ كا جواب ديا

خدا تيرا ناس مارے ، اور وہ بھى تباہ كرے جسے تو نے مہيا كيا ہے _

راوى كا بيان ہے :

جھجاہ نے يہ بات اكيلے اور تنہائي ميں نہيں كہى ، بلكہ تمام لوگوں كى موجودگى ميں ان كے سامنے كہى اس موقع پر تمام بنى اميہ كے طرفداروں اور عزيزوں نے عثمان كو اپنے حلقے ميں ليكر انھيں گھر تك پہونچا ديا ، يہ اخرى موقع تھا جب ميں نے عثمان كو ديكھا ، كہتے ہيں كہ اس واقعہ كے بعد عثمان ايك يا دوبار سے زيادہ گھر سے نہيں نكلے ، كيو نكہ اسكے بعد وہ بلوائيوں كے محاصرے ميں اگئے اور اخر كار قتل كئے گئے _

عثمان اور عائشه كا امنا سامنا

جب عثمان نے لوگوں كى خواہش ٹھكرا دى اور ام المومنين نے قتل كا فتوى صادر كر ديا تو لوگوں نے انكا محاصرہ كر ليا ، اس درميان دوسرے شھروں كے لوگ بھى عثمان كے كارندوں سے تنگ تنگ تھے ، جس وقت ان لوگوں كے پاس ام المومنين كے فتوى كا خط پہونچا كہ عثمان كے خلاف بغاوت كردو تو وہ بھى عائشه كے اس حكم پر عمل كرنے كيلئے مدينہ پہونچنے لگے(۲۸) عائشه كے چچيرے بھائي طلحہ نے بلوايئوں كى قيادت سنبھال ركھى تھى ، اور ہر وقت واجبى احكام ديتے رہتے تھے(۲۹) خليفہ كيلئے اب كوئي پناہ گاہ نہيں رہ گئي تھى ، خاص طور سے عائشه كے فتوى كے بعد چھٹكارے كى تمام راہيں بند ہو گئي تھيں _

جب عثمان نے حالات سخت ديكھے تو مروان اور عبدالرحمن بن عتاب اموى كو حكم ديا كہ عائشه سے ملاقات كريں جو امادئہ سفر حج ہيں ، تاكہ صلح و صفائي كى راہ نكلے ، يہ دونوں عائشه كى خدمت ميں پہونچے ااور اس طرح عرض كيا _

اگر اپ اپنا سفر روك ديں اور مدينے ہى ميں رہيں تو اميد بند ھتى ہے كہ اپ كے وجود كى بركت سے اس شخص (عثمان)

كى زندگى بچ جائے _

____________________

۲۸_ بلا ذرى ۵_ ۱۸

۲۹_عبد الرحمن بن عتاب اموى نے عائشہ كى طرف سے جنگ جمل ميں شركت كى ، كہتے ہيں كہ اس جنگ ميں ان كا ہاتھ كٹ گيا اور ايك گدھ اٹھا لے گيا ، يمامہ ميں ليجا كر اس ہاتھ كو ڈال ديا ، وہاں كے باشندوں نے اس كى انگوٹھى سے پتہ لگايا اور اسكا ہاتھ پہچانا ، نسب قريش ۱۸۷ تا ۱۹۳


اس پر مروان نے اضافہ كيا

اور خليفہ نے زبان دى ہے كہ سفر كے اخراجا ت كے لئے اپ نے اگر ايك درہم فراہم كيا ہے تو دو درہم اسكے بدلے پيش كيا جائے گا _

عائشه نے جواب ديا :

ميں نے سامان سفر باندھ ليا ہے اور اپنے اوپر حج لازم كر ليا ہے ، خدا كى قسم ميں تمھارى خواہش كے مطابق عمل نہين كرونگى ، عبدالرحمن اور مروان نا اميد ہو كر اپنى جگہ سے اٹھے اس موقع پر مروان نے يہ شعر پڑھا _

و حرق قيس على البلاد فلما اضطر مت احجما

(قيس نے ميرے شھر ميں اگ لگا ئي ، اور جب شعلے اسمان سے باتين كرنے لگے تو مجھے چھوڑ كر چلتا بنا )

عائشه نے مروان سے يہ كنايہ سنكر بڑے درشت لہجے ميں كہا :

اے مروان ، تو نے سمجھ ركھا ہے كہ ميں تيرے اقا (عثمان) كے بارے ميں كسى شك و ترديد ميں مبتلا ہوں ؟بخدا ميرى ارزو ہے كہ اسے اپنے كسى بنڈل ميں ٹھونس كر ، جسكى مجھے طاقت بھى ہے ، اسے سمندر ميں ليجا كر پھينك ائوں _

ام المومنين مدينے سے مكّے كى طرف نكل گيئں ، اس سال عثمان كے حكم سے عبداللہ بن عباس امير الحاج تھے _

ابن عباس سے عائشه كى مقام صلصل ميں ملاقات ہوئي تو ام المومنين نے ان سے كہا ، ابن عباس تمھيں خدا كى قسم ديتى ہوں كہ جيسى تم تيز و طرّار زبان ركھتے ہو ، جو لوگ اس شخص (عثمان ) كے خلاف جو شورش بر پا كئے ہوئے ہيں اسے ٹھنڈا نہ كرو ، لوگوں كو اس خود خوا ہ اور سر كش كے بارے شك و ترديد ميں مبتلا نہ كرو عوام اپنے كام ميں خود ہى صاحب نظر اور اپنى راہ انھوں نے خود طئے كى ہے ، اور دوسرے شہروں سے ان باتوں كے لئے جو گروہ گروہ لوگ ائے ايك پليٹ فارم پر جمع ہو گئے ہيں ، ميں نے خود طلحہ كو ديكھا ہے كہ خزانے كى چابى ان كے ہاتھ ميں ہے ، اگر وہ اپنے ہاتھ ميں زمام حكومت لے ليں تو بلاشبہ اپنے چچيرے بھائي ابوبكر كى روش كے مطابق چليں گے _


ابن عباس نے عائشه كا جواب ديا

ليكن اماں جان ، اگر اس شخص پر مصيبت نازل ہو ا ور قتل كر ديا جائے تو لوگ ہمارے پيشوا على كے سوا كسى دوسرے كے اگے سر نہيں جھكائيںگے _

عائشه نے جھٹ سے كہا :

كافى ہے ، مجھے تم سے تكرار اور توتو ميں ميں كى طاقت نہيں(۳۰)

عثمان ، طلحہ كے محاصرے ميں

ام المو منين عائشه كے چچيرے بھائي طلحہ جو ان كے انتہائي منظور نظر تھے دھيرے دھيرے تمام حالات پر مسلط ہوگئے ، ان كے اختيار ات كا دائرہ وسيع سے وسيع تر ہوتا گيا ، يہاںتك كہ اخر ميں وہ قوم كے خزانے (بيت المال) پر بھى قابض ہو گئے ، اسى وجہ سے ان كا اعتبار و اختيار بڑھتا جارہا تھا _

ادھر عثمان كے محاصرے كا دائرہ جتنا تنگ ہوتا جارہا تھا خليفہ كا اقتدار اور اثر گرتا جارہا تھا ، دن بدن محدود تر ہوتا جارہا تھا _

جب عثمان نے حا لات كو سخت و دشوار ديكھے اور اركان دولت كے پيروں سے زمين كھسكتى ديكھى اپنى جان خطر ے ميں نظر ائي تو خانوادئہ عبدالمطلب كى فرد عبداللہ بن حارث نوفل كے ذريعے يہ شعر لكھ كر حضرت علىعليه‌السلام كے پاس بھيجا _

فان كنت ماكولا فكن انت اكلى

والا فادركنى و لما امزق (۳۱)

(اگر بات اس پر طئے پائے كہ ميں كھايا جائوں تو تم ہى مجھے كھا لو ، واگر ايسا نہيں تو اس سے پہلے كہ مجھے چكھا جائے ميرى فرياد كو پہونچو )

____________________

۳۰_ تاريخ طبرى ج۵ ص ۱۴۰ ، تاريخ بن اعثم ص ۱۵۶ ، ہم نے طبرى اور بلاذرى سے ليا ہے

۳۱_ ا نساب الاشراف بلاذرى ۵_۷۸ ، طبرى ۵_۱۵۴، ابن اثير ج۳ ص ۶۳ ، كنز العمال ج۶ ص ۳۸۹ ، زھرہ الادب ج۱ ص ۷۵ ، وابن اعثم ديكھى جائے


حضرت علىعليه‌السلام اسوقت خيبر ميں تھے ، مدينے ميں موجود نہيں تھے ، عوام طلحہ كے گرد جمع ہو كر ان سے احكامات لے رہے تھے ، جب عثمان كا قاصد پہونچا اور ان كا پيغام پہونچايا تو حضرت على مدينہ واپس ہوئے اور سيدھے عثمان كے پاس پہونچے ، عثمان نے ان سے كہا :

ميرا حق اپ پر كئي حيثيتوں سے ہے ، اسلام ، برادرى ، خاندان ، دامادى رسول ، اس وقت اپ ان تمام باتوںكو نظر انداز كرديں _

اور ہم اپنے كو جاہلى عہد مين فرض كر ليں ، تو يہ خاندان عبد مناف كے لئے بڑے شرم كى بات ہے كہ حكومت و اقتدار كو قبيلہ تيم كا ايك شخص اپنے چنگل ميں دبا لے _

حضرت علىعليه‌السلام نے جواب ديا :

اب تم ديكھو ، يہ فرما كر سيدھے مسجد النبى ميں پہونچے ، وہاں اپنا ہاتھ اسامہ كے شانے پر مارا اور دونوں طلحہ كے گھر پہونچ گئے ، اندر داخل ہوئے تو شور و غوغا سے كان پڑى اواز سنائي نہيں دے رہى تھى ، حضرت على نے اپنے كو طلحہ كے پاس پہونچايا اور كہا ، اے طلحہ ، يہ كيا ھنگامہ ارائي مچا ركھى ہے؟

طلحہ نے جواب ديا :

اے ابوالحسن اپ بہت دير ميں ائے اپ اس وقت ائے جب وقت گذر چكا ہے _

ايك روايت كى بنا ء پر حضرت علىعليه‌السلام نے طلحہ سے كہا :

خدا كى قسم ديتا ہوں كہ لوگوں كو عثمان سے پراكندہ كر دے_

طلحہ نے جواب ديا :

خدا كى قسم ميں ہرگز يہ كام نہيں كروں گا جب تك كہ بنى اميہ لوگوں كے سر نہ جھكا ديں

حضرت علىعليه‌السلام نے طلحہ سے پھر كچھ نہ كہا: اپ باہر نكل ائے اور بيت المال كے پاس پہونچكر فرمايا ، اسے كھولا جائے ، چونكہ چابى نہيں تھى تو اپ نے حكم ديا كہ تالہ توڑ ديا جائے اور جو كچھ بيت المال ميں ہے باہر نكالا جائے ، اپ نے وہ سب بذات خود لوگوں ميں تقسيم كر ديا_


جب كہ طلحہ كے گھر ميں خزانہ تقسيم ہو نے كى خبر پہونچى تو جو عوام طلحہ كے پاس تھے انھوں نے اس فائدہ سے محروم رہنا بہتر نہيں سمجھا ، ايك ايك كر كے طلحہ كى بزم سے چورى چھپے حضرت علىعليه‌السلام كى طرف چلے ائے ، يہاں تك كہ طلحہ اكيلے رہ گئے _

جب حضرت كے اس اقدام كى خبر عثمان كو ہوئي تو وہ بہت زيادہ خوش ہوئے ، اسى حالت ميں طلحہ منھ بسو رے ہوئے عثمان كے پاس پہونچے ، اور عرض كى _

اے امير المومنين ، ميں نے جو كام كيا ہے خدا سے مغفرت طلب كرتا ہوں ، ميرے سر ميں ايك خيال سما گيا تھا ليكن خدا نے نہيں چاہا ، ميرے اور ميرى ارزو كے درميان ركاوٹ پيدا ہو گئي _

عثمان نے جواب ديا :

خدا كى قسم ، تم توبہ كرنے نہيں ائے ہو بلكہ اس لئے ائے ہو كہ اب تم اپنے كو شكست خوردہ اور مغلوب پا رہے ہو _

ميں تمھارے اس عمل كا انتقام خدا كے سپرد كرتا ہوں طلحہ نے عثمان پر پانى بند كيا حضرت علىعليه‌السلام نے پانى پہونچايا

طبرى لكھتا ہے(۳۲) ،عثمان چاليس دن تك محاصرے ميں رہے ، اس مدت ميں طلحہ لوگوں كو نماز پڑھاتے تھے _

اور انساب الاشراف بلاذرى ميں ہے(۳۳)

اصحاب رسول خدا ميں سے كوئي بھى عثمان كى مخالفت ميں طلحہ سے اگے نہ بڑھ سكا ، طلحہ وزبير بلوائيوں كى زمام امور اپنے ہاتھ ميں لئے تھے _

اور طلحہ عثمان كے گھر تك پانى ليجا نے والوں كو روكتے تھے ، وہ پينے والا پانى عثمان تك نہيں پہونچنے ديتے تھے _

حضرت علىعليه‌السلام اپنى زميندارى ميں تھے جو مدينے سے ايك ميل پر تھى اپ نے طلحہ كو پيغام بھيجا كہ اس شخص كو چھوڑ دو كہ خود اپنے كنويں رومہ سے پانى حاصل كرے ، اسے پياسہ كيوں مار رہے ہو _

ليكن طلحہ نے اپ كى بات نہيں مانى اور پانى نہيں جانے ديا _

طبرى لكھتا ہے(۳۴)

____________________

۳۲_ طبرى ج۵ ص ۱۱۷

۳۳_ انساب الاشراف بلاذرى ج۵ ص ۸۱

۳۴_ طبرى ج۵ ص ۱۳


جب محاصرہ كرنے والوں نے اپنى كاروائي تيز كر دى اور عثمان كے گھر تك پانى نہيں جانے ديا تو عثمان نے ايك شخص كو حضرت على كے پاس بھيجا اور ان سے مدد طلب كى تاكہ ان كے گھر پر پانى پہونچ سكے ، حضرت على نے طلحہ سے گفتگو كى ، اور جب اپ نے ديكھا كہ وہ ٹال مٹول سے كام لے رہے ہيں تو سخت غضبناك ہوئے ، اپ كو غضبناك ديكھ كر طلحہ كيلئے على كى بات مان لينے كے سوا كوئي چارہ نہيں رہ گيا ، اخر كار پانى سے لدے ہوئے جانور عثمان كے گھر تك پہونچ سكے _

بلاذرى لكھتاہے (۳۵ )

عوام نے عثمان كا محاصرہ كر ركھا تھا ، اور ان پر پانى بند كرديا تھا مجبور ہو كر خود ہى گھر سے باہر اكر چلّائے _

_كيا تمھارے درميان على ہيں ؟جواب ملا نہيں

_پوچھا ، كيا سعد ہيں ؟جواب ديا گيا نہيں

عثمان كچھ دير خاموش رہے پھر سر اٹھا كر كہا :

كوئي ہے جو على سے كہہ دے كہ ہميں پانى پہونچا ديں ؟

يہ خبر جب حضرت علىعليه‌السلام كو ہوئي تو بھرى ہوئي تين مشكيں عثمان كے گھر تك پہونچواديں ، بنى ہاشم اور بنى اميہ كے غلاموں نے پانى سے بھرى مشكيں اپنے حصار ميں كر ليں تاكہ باغيوں سے محفوظ رہيں ، اسطرح وہ پانى عثمان كے گھر تك پہونچا ، ان ميں سے بعض غلام زخمى بھى ہو گئے _

____________________

۳۵_ انساب الاشراف ج۵ ص ۶۸


قتل عثمان كيلئے طلحہ اگے بڑھے

اس دارو گير ميں مجمع بن جاريہ انصارى طلحہ كى طرف سے گذرے

طلحہ نے ان سے پوچھا :

_اے مجمع ، عثمان كے سلسلے ميں كيا كر رہے ہو ؟

مجمع نے جواب ديا ، خدا كى قسم ميرا خيال ہے كہ اخر كار تم لوگ اسے قتل ہى كر دوگے

طلحہ نے طعنہ ديتے ہوئے جواب ديا :

_اور اگر وہ قتل ہو گئے تو فى المثل دنيا زير وزبر ہو جائے گى

عبداللہ بن عباس بن ربيعہ كا بيان ہے :

(محاصرئہ عثمان كے زمانے ميں )ميں ايك دن ان كے گھر گيا كچھ دير ان سے گفتگو رہى ، ہم بات كر رہے تھے كہ عثمان نے ميرا ہاتھ پكڑا اور اشارہ كيا كہ گھر كے پچھواڑے كى بات سنيں ، ميں نے ايك شخص كو كہتے سنا كہ _كس


بات كا انتظار ہے ؟دوسرے نے كہا :

صبر كرو ، شايد واپس ہو جائے ميں اور عثمان كان لگائے ہى ہوئے تھے كہ طلحہ كى اواز سنى ابن عديس كہاں ہے ؟ ايك شخص نے جواب ديا _ يہاں ہے وہ يہاں ائے ابن عديس سامنے ائے تو طلحہ نے ان كے كان ميں كچھ كہا :

اس وقت ابن عديس واپس چلے گئے اور اپنے ساتھيوں كو حكم ديا اب اسكے بعد مت اجازت دو كہ كوئي بھى عثمان كے پاس امد ورفت كرے ، اس وقت عثمان نے كہا :

خدا وند ا، تو ہى طلحہ كى شرارتيں مجھ سے ٹال ، اس نے لوگوں كو ميرے خلاف بھڑ كا دياہے ،اور انھيں بغاوت پر امادہ كيا ہے بخدا مجھے اميد ہے كہ وہ اس معركے ميں كوئي بھلائي نہيں پائے گا _ اس كا خون بھى بہايا جائے گااس نے ميرا پردئہ احترام تباہ كيا ، جبكہ اسے اسكا حق نہيں تھا _

عبداللہ كا بيان ہے :

جب ميں نے خليفہ كے گھر سے نكلنا چاہا تو فرزند عديس كے حكم كے بموجب لوگوں نے باہر نكلنے سے روكا ، اتنے ميں محمدبن ابى بكر وہاں سے گذرے اور كہا :

ان سے مت بولو ، اس وقت مجھے لوگوں نے چھوڑا _

عثمان كا خاتمہ

جب علىعليه‌السلام سے كہا كہ لوگ عثمان پر كمر بستہ ہيں اور انھوں نے مصمم ارادہ كر ليا ہے تو اپ نے اپنے فرزند وں حسن وحسين كو حكم ديا _

اپنى تلواريں اٹھا لو اور عثمان كے دروازے پر جاكر بيٹھ جائو كسى شخص كو بھى خليفہ پر قابو مت پانے دينا _

فرزند ان على حكم بجالائے ، تعميل حكم ميں عثمان كے دروازے پر پہونچے ، خليفہ كے گھر پر عجيب ھنگامہ برپا تھا ، لوگ عثمان كا كام تمام كرنے كيلئے بار بار بڑھ رہے تھے ، اس موقع پر ہاتھا پائي بھى ہوئي موافقين اورمخالفين نے ايك دوسرے كے خون سے اپنى تلواريں بھى رنگين كر ڈاليں ، اسى موقع پر امام حسن كا رخسارہ بھى خون سے بھر گيا ،حضرت علىعليه‌السلام


كے غلام قنبركا سر پھٹ گيا ، برى طرح مجروح ہو گئے _

محمد بن ابى بكر نے يہ ديكھا تو ڈرے كہ كہيں بنى ہاشم فرزندان على كى يہ حالت ديكھ ھنگامہ نہ كھڑا كر ديں انھوں نے دو بلوائيوں كو پكڑ كر گھسيٹ كر ان سے كہا :

اگر بنى ہاشم يہ صورتحال ،خاص طور سے امام حسن كے رخسار پر خون بہتا ديكھيں گے تو ڈرہے كہ عوام كو اپنى تلواروں سے مار بھگائيں گے ، اور ہمارا سارا پروگرام نقش بر اب ہو جائے گا ، بہتر يہى ہے كہ لوگ ديوار پھاند كر جائيں اور چپكے سے عثمان كا كام تمام كرديں

اسوقت فرزند ابو بكر اور وہ دونوں ادمى ايك انصارى كے مكان ميں گھسے جو عثمان كا پڑوسى تھا ، اسكے كوٹھے پر چڑ ھكر عثمان كے مكان ميں كود گئے ، محمد اور ان كے ساتھيوںكا اقدام عثمان كے طرفداروں سے پوشيدہ تھا ، كيونكہ محاصرے كے درميان گھر ميں صرف عثمان اور انكى زوجہ نائلہ تھيں يہ دونوں كو ٹھے پر چڑھ گئے تھے

جيسے ہى محمد اپنے دونوں ساتھيوں كے ساتھ گھر ميں گھسے محمد نے ان دونوں سے كہا

ميں تم سے پہلے اندر جاتا ہوں ، جب ديكھنا كہ ميں نے عثمان كے دونوں باز و تھام لئے ہيں تو دونون اندر گھس انا پھرخنجر سے مار مار كر اسكا خاتمہ كر دينا _

يہ كہكر كمرے ميں گھس گئے ، عثمان كى داڑھى مضبوطى سے تھام لى ، عثمان نے سر اٹھا كر محمد كو ديكھا تو كڑك كر بولے _

اگر تمھارے باپ موجود ہوتے اور ميرى يہ توہين ديكھتے تو تمھارى حركت كى مذمت كرتے _

يہ بات سنتے ہى محمد كا ہاتھ لرزنے لگا ، وہ ڈھيلے پڑ گئے ، ليكن اسى لمحے وہ دونوں بھى اندر گھس چكے تھے ، ان دونوں نے مل كر كام تمام كرديا(۳۶)

ابن ابى الحديد لكھتا ہے:(۳۷)

جس دن عثمان قتل كئے گئے ، طلحہ اپنا منھ كپڑے سے چھپا ئے ہوئے تھے ، اسطرح انھوں نے اپنے كو لوگوں سے مخفى كر ركھا تھا ، عثمان كے گھر كى طرف تير چلاتے ، جب انھوں نے ديكھا كہ مدافعت كر نے والوں كى وجہ سے گھر ميں گھسنا ممكن نہين ہے تو اپنے ساتھيوںكے ساتھ ايك انصارى كے كوٹھے پر چڑھ گئے ، وہاں سے عثمان كے گھر ميں

____________________

۳۶_ انساب الاشراف بلاذرى ج۵ ص ۶۹ طبرى ج۵ ص ۱۱۸

۳۷_ ابن ابى الحديد ج۵ ص ۴۰۴


گھسے اور انھيں قتل كيا _

طبرى نے(۳۸) اس مرد انصارى كا نام عمر و بن حزم لكھا ہے اسكى زبانى اسطرح واقعہ بيان كرتے ہيں _ وہ لوگ عمرو بن حزم كے گھر ميں گھسے جو عثمان كے پڑوسى تھے ، اور مداخلت كرنے والوں سے تھوڑى دير جھڑپ كى ، خدا كى قسم ميں بھولتا نہيں كہ جس وقت سودان بن حمران وہاں سے باہر اكر چلّايا طلحہ كہاں ہيں ، ميں نے عثمان كو قتل كر ڈالا_

بلاذرى لكھتا ہے :

جب حضرت عليعليه‌السلام قتل عثمان سے اگاہ ہوئے تو اپنے كو عثمان كے گھر پر پہونچايا ،اور ان كے بيٹوں سے كہا :

تم لوگ خليفہ كے گھر ميں موجود تھے ، عثمان كيسے قتل ہو گئے ؟پھر اپ نے ايك كے منھ پر طمانچہ مارا اور دوسرے كے سينے پر گھونسہ مارا اور غصّے ميں بھرے ہوئے گھر سے باہر نكل ائے _

راستے ميں اتفاقا طلحہ سے ملاقات ہو گئي ،وہ پہلے كى طرح اپنى كاروائيوں ميں مصروف تھے ، طلحہ نے على كو ديكھا تو كہا :

اے ابو الحسن تمھيں كيا پڑى ہے كہ اسطرح غصّے ميں بھرے ہيں ؟

حضرت علىعليه‌السلام نے جواب ديا :

تجھ پر لعنت ہے ، كيا تم صحابى رسول كو قتل كررہے ہو ؟طلحہ نے جواب ديا :

اگر اس نے مروان كو اپنے سے دور كر ديا ہوتا تو قتل نہ ہوتا حضرت علىعليه‌السلام نے ان سے منھ پھير ليا اور گھر چلے گئے _

دفن خليفہ كا ماجرا

سبھى اس بات پر اڑے رہے اور تين دن تك عثمان كا جنازہ پڑا رہا يہاں تك كہ حضرت على نے ذاتى طور سے مداخلت كى تب وہ دفن ہوئے(۳۹)

طبرى لكھتا ہے :

عثمان كے طرفداروں نے حضرت على سے دفن خليفہ كے بارے ميں گفتگو كى اور ان سے مطالبہ كيا كہ خليفہ كے خاندان والوں كو اجازت دى جائے كہ عثمان كا جنازہ دفن كريں ، حضرت علىعليه‌السلام نے اس معاملے ميں اقدام كيا اور

____________________

۳۸_ طبرى ج۵ ص ۱۲۲

۳۹_ طبرى ج۵ ص ۴۳ ، ابن اثير ج۳ ص ۷۶ ، ابن اعثم ص ۱۵۹ ، رياض النفر ہ ج۲ ص ۱۳۱


انھيں اجازت دى ، جب لوگوں كو اس بات كى خبر ہوئي تو اپنے دامن ميں پتھر بھر كر جس راستے سے عثمان كا جنازہ جانا تھا بيٹھ گئے _

عثمان كے جنازے ميں انگليوں پر گنے جانے والے لوگ تھے ان كا ارادہ تھا كہ يہوديوں كے قبر ستان حش كوكب ميں عثمان كو دفن كريں ، جب تابوت ان لوگوں كے درميان پہونچا تو لوگوں نے تابوت پر سنگبارى كى ، تابوت گرانے كيلئے ہجوم كر ليا ، جب يہ بات حضرت على كو بتائي گئي تو كچھ لوگوں كو مامور فرمايا كہ لوگوں كى جنازہ عثمان سے مزاحمت ختم كرائيں ،اور جنازے كى حفاظت كريں ان لوگوں نے حضرت علىعليه‌السلام كے حكم كے مطابق جنازے كو اپنے حلقہ ميں لے ليا اور حش كوكب تك پہونچا ديا ، اس طرح عثمان كا جنازہ حش كوكب ميں دفن ہو سكا _

عثمان كو مغرب كے كچھ دير بعد تاريكى ميں دفن كيا گيا ، صرف مروان اور عثمان كى پانچوں لڑكياں اور تين غلاموں كے سوا جنكى مجموعى تعداد پانچ ہوتى ہے ، كوئي دوسرا جنازہ عثمان ميں شريك نہيں تھا ، دفن كے وقت عثمان كى بيٹى نے بلند اواز سے نوحہ و زارى كى تو بلوائيوں نے سنگبارى كركے چلّانا شروع كرديا ، نعثل ، نعثل(۴۰)

جب معاويہ خليفہ ہوئے تو حكم ديا كہ حش كوكب كى ديوار منھدم كر كے جنت البقيع كے قبر ستا ن ميں شامل كرليا جائے ، اور يہ بھى حكم ديا كہ تمام مسلمان اپنى اموات كو قبرستان كے ارد گرد دفن كريں تاكہ اسطرح عثمان كى قبر مسلمانوں سے متصل ہو جائے _

____________________

۴۰_ طبرى ج۵ ص ۱۴۳ ، ابن اثير ج۳ ص ۷۶ ، ابن اعثم ص ۱۵۹ ، رياض النفرہ ج۲ ص ۱۳۱


فہرست

مولف كتاب پر ايك اجمالى نظر ۴

تاليفات ۵

كتاب حاضر ۶

پيشگفتار ۷

درد اور درمان مرض ۷

علاج ۸

حقائق ۱۰

ابن مسعود كا طريقہ نصيحت ۱۰

ہم حق اور اس كے طرفداروں كو پہچانيں ۱۱

تكيہ گاہ اسلام ۱۲

محمد مصطفى اور نفاذ عدالت ۱۴

محمد مصطفى كے قريب و بعيد ساتھي ۱۵

حفنى دائود كى نظر ميں مولف كتاب ۱۷

قتل على اور شكر عائشه،، ۱۸

حضرت على عليه‌السلام خدا كو حاضر و ناظر جانتے تھے ۱۹

على اور مسند خلافت ۲۱

''عائشه كا تاريخى فتوى '' ۲۲

ام سلمہ كا تاريخى خط عائشه كے نام ۲۳

اس كتاب كے مولف كا مقصد ۲۵


كتاب كا مقصد تاليف ۲۷

اسلام يا ايمان و عقيدہ ۲۹

عميق اسلامى يكجہتي، ۳۰

بزرگوں كى پرستش ۳۱

اندھا تعصب ۳۲

عوام فريب لوگ ۳۲

(فصل اول) ۳۴

ازواج رسول (ص) ۳۴

زينب بنت جحش ۳۴

وہ خواتين جنھوں نے بے مھر اپنے كو رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كيلئے پيش كيا ۳۷

خولہ بنت حكيم ہلاليہ ۳۸

دوسرى خواتين ۳۸

رسول كے لئے حكم خصوصي ۳۹

نتيجہ تحقيق ۴۰

عائشه رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے گھر ميں ۴۳

رشك، و غيرت ۴۳

راتوں كا تعاقب ۴۴

عائشه اور ديگر ازواج رسول (ص) ۴۶

مد بھيڑ _سوتاپا ۴۶

بد حواسياں ۴۷


عائشه اور ام سلمہ كى غذا ۴۷

عائشه اور حفصہ كا كھانا ۴۷

عائشه اور صفيہ كا كھانا ۴۸

مد بھيڑيں ۴۸

عائشه و صفيہ ۴۸

سودہ كے ساتھ ۴۹

بے مہر يہ عورتوں كے ساتھ ۵۰

مليكہ كے ساتھ ۵۱

اسماء كے ساتھ ۵۲

ماريہ كے ساتھ ۵۴

خود عائشه كا بيان : ۵۵

سورہ تحريم ۵۶

عائشه اور خديجہ كى ياديں ۵۸

ابن ابى الحديد كى عبارت ۶۰

فاطمہ كى سوتيلى ماں ۶۱

فاطمہ عليه‌السلام پيغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى پياري ۶۱

عناد كے كئي رخ ۶۳

فرزندان فاطمہ سے رسول كا والہانہ پيار : ۶۴

على اور مسئلہ خلافت ۶۵

خلاصہ ۷۰


فصل دوم ۷۱

شيخين ۷۱

سكھ چين كا زمانہ ۷۲

صدر اسلام كى اكيلى خاتون مفتي ۷۲

عائشه حج كے لئے گئيں ۷۳

احاديث عائشه تقويت خلافت كے بارے ميں ۷۷

حديث گڑھنے كے مواقع ۷۷

ان احاديث كى پيدائشی كا زمانہ ۷۹

عمر كے لئے جناتوں كا نوحہ ۸۲

احترامات متقابل ۸۸

عائشه كا گھر دار الشوري ۸۹

مقداد ۸۹

عمر و عاص ۹۰

مغيرہ بن شعبہ ۹۱

سعد بن ابى وقاص ۹۱

فصل سوم ۹۴

عائشه حكومت عثمان كے زمانے ميں ۹۴

عثمان كون تھے ؟ ۹۴

عائشه اور عثمان ۹۵

تائيد و حمايت كا زمانہ ۹۵


برہمى و بغاوت كا زمانہ ۹۷

وليد بن عقبہ اور كوفے كى گورنري ۹۹

قرآن نے وليد كا تعارف كرايا ۱۰۳

بد كردار كو حكمراں كا عہدہ ۱۰۴

خليفہ كے چچا حكم ۱۰۵

ابن مسعود پر كيا بيتي ۱۰۸

اگ سے كھلواڑ ۱۱۳

انقلاب كى پہلى چنگاري ۱۱۷

كوفے ميں عثمان كى باز پرس ۱۱۸

مسلمانوں كا حكمراں اورشرابخواري ۱۱۹

قصہ گواہوں كا ۱۲۱

عثمان كے حضور ۱۲۱

گواہوں پر خليفہ كا عتاب ۱۲۳

عائشه عثمان كے خلاف ۱۲۴

وليد كى حكومت سے معزولي ۱۲۶

اور مسجد كوفہ كے منبر كى تطہير ۱۲۶

نفاذ عدالت بدست علي عليه‌السلام ۱۲۸

عثمان كے خلاف عائشه كى اشتعال انگيزياں ۱۳۲

عمار ياسر ۱۳۴

پہلے عمار كو پہچانئے پھر اصل قصہ سنئے ۱۳۴


اولين مسجد كى تعمير اور عمار ياسر ۱۳۶

عثمان اور عمار ۱۳۸

بيت المال نجى ملكيت ۱۴۰

عمار كى مدد ميں عائشه ۱۴۲

ابن مسعود اور مقداد كى تدفين ۱۴۲

فصل چھارم ۱۴۵

عائشه نے انقلاب كى قيادت كي ۱۴۵

تين چہرے ۱۴۶

۱_ عبد اللہ بن سعد بن ابى سرح ۱۴۶

۲_ محمد بن ابى بكر ۱۴۸

۳_ محمد بن ابى حذيفہ ۱۴۸

مصريوں كى شورش ۱۵۰

اتش فتنہ بجھانے كيلئے امام كى مساعي ۱۵۲

عثمان كے خلاف مدينے والوں كى شورش ۱۵۴

مروان حكم ۱۵۸

داد خواہوں نے مدينے كا رخ كيا ۱۶۱

مصر والوں كے خط كا متن يہ تھا ۱۶۴

عثمان نے باغيوں سے عہد وپيمان كيا ۱۶۴

فرزند ابو بكر اور مصر كى گورنري ۱۶۷

حضرت على خليفہ عثمان كى حمايت سے كنارہ كش ہوئے ۱۶۸


عثمان كى سياسى توبہ ۱۶۸

مروان كى وعدہ خلافي ۱۶۹

عثمان كى دور انديش زوجہ ۱۷۲

محاصرئہ عثمان ۱۷۶

حيرتناك خط !! ۱۸۳

عائشه كا تاريخى فتوي ۱۹۲

عائشه كے تاريخ فتوى كا تجزيہ ۱۹۵

عثمان كو نعثل پكارنے والے لوگ ۱۹۶

عثمان اور عائشه كا امنا سامنا ۱۹۹

عثمان ، طلحہ كے محاصرے ميں ۲۰۱

قتل عثمان كيلئے طلحہ اگے بڑھے ۲۰۵

عثمان كا خاتمہ ۲۰۶

دفن خليفہ كا ماجرا ۲۰۸