مختار آل محمد
گروہ بندی تاریخ شیعہ
مصنف مولانا نجم الحسن کراروی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


مختار آل محمد علهيم السلام

مصنف: مولانا نجم الحسن کراروی


پہلا باب

ناصر آل محمد

بجتا رہے گا بربط کردار تابہ حشر

خاموش ہوبھی جائے اگر ساز زندگی

حضرت مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی نے اپنی زندگی میں جو ایمان افروز کارنامے کیے ہیں وہ تاریخی اہمیت کے لحاظ سے اپنی مثال نہیں رکھتے۔ان کا رناموں کا دو لفظوں میں خلاصہ یہ ہے کہ آپ کمال عقیدت کے ساتھ محبت آل محمد کا جذبہ کامل سے کر اٹھے ۔واقعہ کربلا کے شرکا ء کثیر تعداد قتل کی اور خود سر سے گزر گئے ۔آپ کا عمل آپ کے کردار قرآن وحدیث کی روشنی میں رونما ہو کر سطح تاریخ پر ابھر ا اور اس نے ایسے گہرے نقوش چھوڑے جو شام ابد تک مٹانے سے نہ مٹیں گے۔دنیا میں ان کے سوا ایسی کوئی ہستی نہیں ۔جس نے شریکتہ الحسین حضرت زینب وام کلثوم علیہماالسلام کے دلوں سے رنج وغم کے ان نہ ہٹنے والے بادلوں کو کچھ نہ کچھ چھانٹ دیا ہو ۔جو واقعہ کربلا کو بچشم خود دیکھنے اور قید شام کی مصیبتوں کے جھیلنے اور بے پردگی کی تکلیف برداشت کرنے سے چھا گئے تھے ۔یہی وہ ہستی ہے جس نے سر ابن زیاد و ابن سعد وغیرہما بھیج کر حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی پیشانی مبارک سجدہ شکر میں جھکادی ۔

ان کا دل اس طرح ٹھنڈا کیا کہ انہوں نے فرط مسرت سے ان مخدارت عصمت وطہارت کو جو محرم ۶۱ ھ سے ربیع الاول ۶۷ ھ تک غم کے لباس میں تھیں سر میں تیل ڈالنے آنکھوں میں سرمہ لگانے اور مناسب کپڑے بدلنے کا حکم دے کر ۹ ربیع الاوّل کو یومِ عید قرار دیا تاریخ شاہد ہے کہ حضرت محمد مصطفےٰصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آپ کو ممدوح نگاہ سے دیکھا

حضرت علی علیہ السلام نے اپنی آغوش میں کھلایا ۔

حضرت امام حسن علیہ السلام نے آپ کی مواسات قبول کی ۔

حضرت امام حسینعليه‌السلام نے یوم عاشور آپ کو یاد فرمایا ۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے آپ کی مدح کی اور آپکے ہدایا قبول کئے۔

حضرت امام باقرعليه‌السلام نے آپ کے کارنامے کو سراہا ۔

حضرت امام جعفر صادقعليه‌السلام نے آپ کو دعائیں دیں ۔

کون نہیں جانتا کہ ہر حیرت انگیز کارنامے میں قدرت کا ہاتھ ہوتا ہے مختار کی اس نے مدد کی جو واقعہ یحییٰ بن زکریا کے سلسلہ میں مدد کرتا رہا ۔

مختار کی اس نے مدد کی جو اپنے وجود ظاہری سے قبل انبیاء کی مدد کرتا رہا(حدیث قدسی)

مختار کی اس نے مدد کی ۔جس نے سلمان کو شیر سے بچایا ۔مختار کی اس نے مدد کی ۔جس نے حضرت رسول کریم کو کفار کے فتنہ پر دازیوں کے تاثر سے محفوظ ومصون رکھا ۔ قدرت چاہتی تھی کہ واقعہ کربلا کا (فی الجملہ )دنیا میں بدلالے (تاریخ ابو الفداء جلد ۲ ص ۱۴۹)

جس کی حیثیت عذاب کی ہو (مجالس المومنین )لہذا ا س نے اسباب فراہم کیے ۔مختار کے دل میں اہل بیت رسول کی زبردست محبت جاگزین کی ۔اور وہ صرف جذبہ انتقام لے کر میدان میں بصورت عذاب الہیٰ آئے ۔اور کامیابی حاصل کرنے کے فوراً بعد جاں بحق تسلیم ہو گئے اور انہیں حصول مقصد کے بعد زیادہ دن حکومت کرنا نصیب نہیں ہوا۔ ابو مخنف بن لوط ابن یحییٰ خزاعی کا بیان ہے ۔کہ حضرت مختار کو جس قدر کا میابی نصیب ہوئی وہ توفیق الہیٰ سے ہوئی (کنز الانساب وبحر المصائب ص ۱۴ طبع بمبئی ۱۳۰۲ ء)

اور ان کا یہ کام نہایت نیک تھا جس کے نتیجہ میں وہ شہید ہوئے ۔(تاریخ ابو الفداء جلد ۲ ص ۱۴۹) ۔

اسے نہ بھولناچاہیئے کہ حضرت امام حسینعليه‌السلام کے خون کا بدلہ عام انسانی ہاتھوں سے ناممکن ہے کیونکہ امام حسینعليه‌السلام کے خون کی قیمت عقلا ً چند نجس انسانوں کے قتل سے ادا نہیں ہو سکتی خصوصاً ایسی صورت میں جبکہ یزید جیسا ظالم قتل نہ کیا جاسکا ہو اس کے لیے تو ضرورت ہے کہ اصل شرکا ء قتل کے ساتھ ساتھ ان کے فعل پر راضی رہنے والے بھی جو قیامت تک پیدا ہوں گے سب کے سب قتل کیے جائیں اور جہنم میں داخل ہوں ۔من قتل مومنا متعمدافجزاء جهنم خالد فیها یوں کہ یہ مسلمات سے ہے کہالعامل بالظلم والمعین علیه والراضی به شرکا ئظلم کرنے والے ظلم کی مدد کرنے والے اور اس کے فعل پر راضی ہو نے والے سب برابر کے شریک ہیں (نوالابصار امام اہلنست علامہ شبلنجی ص ۱۴۸ طبع مصر)

اسی لیے زیارت امام حسین نے فرمایا گیا ہے کہ لعن اللہ من قتلک وشارک فی دمک واعان علیک ولعن اللہ من بلغہ ذلک فرضی بہ خدا اس پر لعنت کر جس سے تجھے قتل کیا اور اس پر لعنت کرے جو تیرے خون میں شریک ہوا اور اس پر لعنت کرے جس نے تیرے خلاف دشمن کی مدد کی اور اس پر لعنت جسے تیرے قتل کی خبر ہو اور اس پر راضی رہے ۔(تحفہ الزائر علامہ مجلسی طبع ایران ۱۲۶۱ ء )

یہ ظاہرہے کہ یزید سرشت دنیا کے ہر عہد میں رہے اور اب بھی ہیں اور قیامت تک رہیں گے ۔ یک حسینے نیست تاگر دد شہید ورنہ بسیار اندر در عالم یزید میں کہتا ہوں کہ دریں صورت جبکہ حسینی خون بہا اور انتقام انسانی دسترس سے باہر ہے ایک سوال پیدا ہو تاہے اور وہ یہ ہے کہ :۔ حضرت مختار کے قتل کرنے اور ان کے کارناموں کو کیا کہا جائے گا ؟ اسکا جواب میرے نزدیک یہ ہے کہ حضرت مختار نے واقعہ کربلا کے ان شرکاء کو جو دستیاب ہو سکے ۔ان کے فعل وعمل اور کردار کا عملی بدلا دیا ہے نہ یہ کہ خون حسین کا بدلا لیا ہے ۔ حضرت امام حسن عسکریعليه‌السلام بحوالہ حضرت رسول کریم وحضرت علی علیہ ا لسلام بطور پیشگوئی ارشاد فرماتے ہیں کہیسلطه الله علیهم للانتقام بما کانوا یفسقون اللہ تعالی انکے فسق وفجور کا انتقام لینے کے لیے حضرت مختار کو ان پر مسلط کرے گا (آثار حیدری ترجمہ تفسیر امام حسن عسکری ص ۴۸۱ طبع لاہور)

اسی بناء پر مختار نے فرمایا ہے کہ اگر میں ایک لاکھ آدمیوں کو بھی امام حسین کے ایک قطرہ خون کے عوض قتل کرنا چاہوں تب بھی اس کا بدلا نہیں ہو سکتا ۔(تاریخ طبری جلد ۴ ص ۶۵۷)

مختار کا مقصد یہ تھا کہ ان لوگوں نے جو کچھ کیا ہے اس کا مزہ وقت موعود سے پہلے دنیا میں میرے ہاتھوں سے چکھ لیں انہیں یہ پتہ چل جائے کہ کسی کو جو تکلیف پہنچائی جاتی ہے اس کا اثر ستم رسیدہ پر کیونکر پہنچتا ہے اور کیسے صدمہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ جس نے کربلا میں جو کچھ کیا تھا اس کواسی طرح کابدلا دیا ہے جس نے تیرمارا تھا اسے تیر مارا جس نے تلوار لگائی تھی اسے تلوار لگائی ۔جس نے لاش کو پامال کیا تھا اس کی لاش پامال کی ۔مطلب یہ ہے کہ شہدا کربلا کے خون کا بدلا بدستور باقی ہے جو قیامت میں حضرت حجت علیہ السلام کے ہاتھوں لیا جائے گا جس کے نتیجہ میں اصل ونسل کو قتل کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں بھیج دیا جائے گا ۔(مجمع البحرین ص ۲۷۶ اسرار الشہادت ص ۵۸۱)

کارنامہ مختار کے سلسلہ میں اجازت امام کا تذکرہ بھی آتا ہے ۔

میرے نزدیک حضرت مختار نے جس نیت وارادہ اور جس جذبہ وعقیدت سے قاتلان حسین کو قتل کیا ہے وہ اجازت کا محتاج نہیں کیونکہ اس کا تعلق حس روحی احساس دماغی اور جذبہ قلبی سے ہے ۔جو فطرةًاجازت کا پابند نہیں ہوا کرتا ۔نالہ پابند نے نہیں ہوتا ۔ تاہم یہ مسلم ہے کہ حضرت مختار نے کھلی ہوئی اجازت کی سعی کی تھی جو نصیب نہیں ہو سکی (مروج الذہب مسعودی برحاشیہ کامل جلد ۶ ص ۱۵۵)

لیکن پھر بھی انہوں نے جو کچھ کیا وہ غیر ممدوح نہیں ہے (تاریخ ابو الفداء جلد ۲ ص ۱۴۹ )

کیونکہ علما کا اتفاق ہے کہ حضرت مختار اطاعت گذار بادشاہ کی طرح اٹھے اور انہوں نے دشمنان خدا کی طرف لمبے ہاتھ بڑھائے اور ان کی ان ہڈیوں کو جو فسق وفجو رسے بنی تھیں ۔بھوسہ بھوسہ کر دیا اور ان کے ان اعضاء جوارح کو جس کی نشوونما شراب سے ہوئی تھی ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔

وحازالی فضلیة لم یرق الی شعات نزفیها عربی ولا عجمی واحمذ منقبة لم یسبقه الیهاهاشمی ۔

مختار نے وہ فضلیت حاصل کر لی جس کی عظیم بلندی کو نہ کوئی عربی پہنچ سکاؤ کوئی غیر عربی اور وہ سبقت حاصل کرلی جس کی طرف کسی ہاشمی سے بھی سبقت نہیں ہو سکی (ذوب النفنارص ۴۰۱ ء)

یہی وجہ ہے کہ ان سے رسول خدا فاطمہ زہرا اور آئمہ ھدی خوش ہیں۔ (ساکبہ ص ۴۱۱)

اس کے متعلق میرا کہنا ہے کہ صریحی اجازت ثابت ہو یا نہ ہو لیکن امام معصوم کی عدم رضا ہر گز ہر گز ثابت نہیں ہے ۔کما ینطق کتا بنا هذا بالحق ۔


دوسرا باب

حضرت مختار کے مختصر خاندانی حالات

حضرت مختاربنی ہوازن کے قبیلہ ثقیف کے چشم وچراغ تھے ۔یہ قبیلہ جرات و ہمت شجاعت اور بہادری میں مشہور زمانہ تھا ۔آپ کے اجداد میں ثقیف نامی ایک عظیم شخصیت گزری ہے جس کی طرف قبیلہ ثقیف منسوب ہے جس کا تعلق نبی ہوازن سے ہے ۔ (صراح ص ۶۶ جلد ۲ مجمع البحرین ص ۳۷۰)

حضرت مختارکے دادا مسعود ثقفی تھے۔ یہ نہایت بزرگ شخص تھے اور ابوالحسن محدث مصنف فیض الباری کے ارشاد کے مطابق انہیں اصحاب میں بڑا درجہ حاصل تھا۔ (خیرالمال فی اسماء الرجال طبع لاہور ۱۳۱۸ ء ان کے والد عمر یا عمیر ثقفی تھے۔ (ناسخ التواریخ جلد ۲ ص ۶۶۶)

علامہ ابن نما لکھتے ہیں کہ عمیر ثقفی کے والد عقدہ اور ان کے والد غنرہ تھے ۔(ذوب الغفار ص ۴۰۱ ضمیمہ بحار ج ۱۰)

حضرت مختار کے والد جناب ابوعبید ہ ثقفی تھے میرے نزدیک انہیں بھی صحابی رسول ہونے کاشرف حاصل تھا علامہ شبلی نے الفاروق میں انہیں صحابی تسلیم نہیں کیا۔ یہ نہایت ہی شجاع اور بہادر تھے ان کی جرات و ہمت اور میدان قتال میں ان کی نبروآزمائی اہل کمال کی نگاہوں میں بڑی ممتاز حیثیت رکھتی تھی انہوں نے اکثر اسلامی جہادوں میں سپہ سالاری کی ہے اور شاندار کامیابی سے اسلام کو فروغ بخشا ہے میدان جنگ میں شب و روز گزارنے میں انہیں بڑی خوشی محسوس ہوتی تھی یہ اسلام کی امداد میں سر سے گزرنے کیلئے بے چین رہتے تھے مورخ ہروی کا بیان ہے کہ خلیفہ دوم حضرت عمر نے انہیں فتح عراق کے لیے سپہ سالار بنا کر بھیجا ۔ انہوں نے وہاں پہنچ کر دشمن کے دانت کھٹے کردئیے اور اپنی روایتی بہادری سے عظیم کارنامے کیے بالاآخر ہاتھیوں کے ایک بہت بڑے غول پر حملہ کرتے ہوئے ایک ہاتھی کے پیر سے کچل کرجان بحق تسلیم ہوگئے ۔ (رو ضۃ الصفاج ۳ ص ۷۴ مجالس المومنین ص ۳۵۶ رو ضۃ المجاہدین ص ۵ الفاروق ص ۴۴)

حضرت مختار کے چچا جناب مسعود کے بیٹے سعد تھے ۔جناب سعد بن مسعود ثقفی ،یہ بھی اپنی خاندانی روایات کے مطابق بڑے شجاع بہادر اور جرات و ہمت سے بھر پور تھے ۔انہوں نے بھی اکثر اسلامی جنگوں میں نبردآزمائی کی ہے اور بڑے کار نمایاں کیے ہیں اور انہوں نے اکثر گورنری کے فرائض بھی انجام دئیے ہیں فتح مدائن کے بعد خلیفہ ثانی حضرت عمر نے انہیں وہاں کا گورنر بنایا تھا۔یہ عہد ثالث میں بھی وہاں کے بدستور گورنر ہے اور عہد امیر المومنین میں بھی اسی عہد پر بحال رہے ۔(روضہ الصفا جلد ۳ ص ۷۴)

پھر جب معاویہ کا اقتدار قائم ہو گیا تو اس نے انہیں مدائن سے ہٹا کر موصل کا گورنر بنا دیا تھا ۔ نورالابصارص ۹ طبع لکھنو)جناب سعد دوستداران اہلبیت میں سے تھے اور آل محمد سے بڑی عقیدت رکھتے تھے ۔(مجالس المومنین ص ۳۵۷)

حضرت رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زبان اقدس پر ولادت مختار کی بشارت

علما کرام کا بیان ہے کہ حضرت علیعليه‌السلام نے ارشاد فرمایا ہے کہ حضرت رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرمایا کرتے تھے کہ جس طرح بنی اسرائیل میں اچھے اور برے ،فرمانبردار اور نافرمان دونوں طرح لوگ تھے ۔اسی طرح میری امت میں بھی ہیں ۔بعض اچھے بعض برے بعض فرمانبردار بعض نافرمان ہیں اور جس طرح بنی اسرائیل کے لوگوں کو دنیا میں ان کے کردار کا بدلا دیا گیا تھا ۔اسی طرح میری امت میں بھی عمل اور کردار کا بدلا دیا جائے گا ۔آپ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں جو اطاعت گزار تھا اس کو اس کی جزا اور جو نافرمان تھا اس کی اس کو سزا دنیا میں دی گئی تھی ۔اور اس کا انداز یہ تھا کہ فرمانبرداروں کا درجہ بلند کر دیا گیا تھا اور نافرمانوں کو عذاب میں مبتلا کر دیا تھا ہماری امت میں بعض وہ ہیں جو عزت کے قابل ہیں اور بعض وہ ہیں جو سزا کے لائق ہیں ۔بعض نافرمان ہیں جو اطاعت گزار اور تابع فرمان ہیں ۔ان کی عزت خدا اور رسول کی نگاہ میں بہت زیادہ ہے اور جو عاصی و گنہگار ہیں وہ عتاب و عذاب کے مستحق ہیں اور دنیا میں بھی اس سے ضرور دو چار ہوں گے۔یہ سن کر اصحاب نے دست بستہ عرض کی ۔مولا ہم میں وہ لوگ ہیں جن کا شمار عاصیوں اور گنہگاروں میں ہے۔

فرمودند آنہائکہ بتعظیم مااہلبیت ورعایت حقوق مامامورشد ند پس مخالفت وانکار واستحفاف بآل ورزند واولاد رسول رابکشند

آپ نے فرمایا کہ وہ ایسے لوگ ہیں جن پر خداوند عالم نے ہم اہلیت کی تعظیم و تکریم واجب قرار دی ہے اور ہمارے حقوق کا لحاظ کرنا ان پر فرض فرمایا ہے لیکن وہ ان تما م فرائض واجبات سے بحب دنیا غفلت کرتے ہیں اور ہماری عزت کے بجائے ہماری توہین کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں ۔

اور وہ دن دور نہیں کہ اولاد رسو ل کو قتل کریں گے ۔یہ سن کر لوگوں نے نہایت تعجب سے پوچھا کہ مولا کیا واقعی ایسا ہو گا ۔آپ نے ارشاد فرمایا کہ بے شک ہو گا اور ضرور ہو گا۔ اور سنو یہ میرے نور نظر اور روشنی بصر حسن و حسین جو تمہاری نگاہوں کے سامنے ہیں امت ناہنجار کے ہاتھوں قتل کیے جائیں گے ۔اور اے میرے اصحاب تمہیں بھی معلوم ہو کہ اس بے دردی سے قتل ہو ں گے کہ جس کا جواب نہ ہوگا پھر خداوند عالم جو عادل حقیقی ہے ان پر دنیا میں اسی طرح عذاب نازل کرے گا جس طرح اس نے قتل یحییٰ بن زکریا کی وجہ سے بنی اسرائیل پر نازل تھا۔اصحاب نے پوچھا ،مولا ان پر نزول عذاب کا کیا اندازہ ہو گا فرمایا کہ خدا ایک شخص کو پیدا کرے گا جو اپنی شمشیرآبدا ر سے انہیں کیفر کردار تک پہنچا کر دم لے گا ۔اور انہیں اچھی طرح عذاب میں مبتلا کردے گا اصحاب نے پھر پوچھا مولا وہ پیدا ہونے والا کون ہو گا ؟کس قبیلہ کا ہو گا اور اس کا نام کیاہو گا ۔آپ نے فرمایا کہ وہ بنی ثقتیف کا چشم و چراغ ہو گااور اس کا نام مختار ہو گا ۔ (نو ر الابصار ص ۱۴ جلاء العیون ص ۲۲۷ بجار الانورص ۳۹۸ جلد ۱)

حضرت شہید ثالث سید نور اللہ شو شتری بحوالہ قاضی میبندی شارح دیوان مرتضوی وتفسیر حضرت امام حسن عسکری رقمطراز ہیں ۔سیقتل ولدی الحسین وسیخرج غلامه وسیخرج غلامه من ثقیف ویقتل من اللذین ظلمو اثلاث مائة وثلاثة ثمانین الف رجل ،

گفتندمن هو گفتهو مختار بن ابی عبیده ثققی ۔حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب میرا فرزند حسین قتل کر دیا جائے گا ۔اس کے بعد بنی ثقیف کا ایک شخص خروج کرے گااور ان لوگوں میں سے جنہوں نے قتل حسین میں حصہ لیا ہو گا اسی ہزار تین سو تین افراد قتل کرے گا۔

لوگوں نے دریافت کیا مولا اس کا نام کیا ہو گا فرمایا مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی ۔ (مجالس المومنین ص ۳۵۹) حضرت مختار کے متعلق حضرت رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بشارت اور پیشگوئی حضرات علما ء اہلسنت بھی تسلیم کرتے ہیں اور انہوں نے بھی اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے لیکن ان کے بیان میں کمال درجہ کا تعصب موجود ہے ۔اور شاید یہ انداز بیان ہے حکومت بنی امیہ کے دباؤ اور تاثر کا نتیجہ ہو ۔مختار کے متعلق رسول کریم کی پیشگوئی کے لیے ملاحظہ ہو منہاج السنۃ امام ابن تیمیہ حسین ویزید ص ۳۴ طبع و خیر المآل فی اسما ء الرجال السمی بہ ترجمہ الا کمال طبع لاہور ۱۳۱۸ ء ومشکوة شریف ص ۵۴۳ طبع لکھنو۔

ان کتابوں کے بعض مصنفین نے حضرت مختار پر یہ الزام بھی لگایاہے کہ وہ نزول وحی کے مدعی تھے ۔اس کی متعلق مورخ اسلام علامہ محمد خاوند پاشار قمطراز ہیں کہ مختار جو کچھ کہتے تھے وہی ہوتا تھا ۔جس سے جہلا نے یہ رائے قائم کر لی کہ ان پر وحی کا نزول ہوتا تھا اور اسی نزول کا انتساب ان کی طرف کر دیا ۔حالانکہ ایسا نہ تھا۔ان کا کہنا اس لیے درست ہوتا تھا کہ وہ ذہانت اور فراست کے درجہ کمال پر فائز تھے ۔(روضہ الصفا جلد ۳ ص ۸۴ طبع نو لکشور)

بشارت محمدیہ کے مطابق حضرت مختار کی ولادت حضرت امام زین العابدینعليه‌السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ بعداندک مدت از بشارت دادن جناب امیر علیہ السلام مختار متولد شد حضرت علی علیہ السلام کے بشارت محمد یہ بیان کرنے کے تھوڑے ہی دنوں بعد مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی پیدا ہوئے تھے ۔ (جلا ء العیون ص ۳۴۷ ونورالابصار ص ۱۴ طبع لکھنو)

حضرت مختار کی ولادت باسعادت

تاریخ شاید ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھوں کارہائے نمایاں ظہور پذیر ہوئے یا جو مقرب بارگاہ بندے گزرے ہیں ۔ان کے کو ائف و حالات ابتدائے نشو ونما بلکہ اس سے بھی قبل سے عام انسانی حالات وصفات سے جداگانہ رہے ہیں ۔مثال کے لیے حضرت علی علیہ السلام اور ان کے فرزند حضرت عباس علمدار کے حالات دیکھے جاسکتے ہیں ۔(مناقب ابن شہر آشوب جلد ۱ ص ۲۲ وذکر العباس طبع لاہور )

حضرت علی کے متعلق خلیفہ دوم کا اعتراف تاریخوں میں موجود ہے وہ کہتے ہیں۔

عجزت النساء ان تلدن مثل علی بن ابی طالب

دنیا کی عورتیں علی ابن ابی طالب کی مثال پیدا کرنے سے عاجز ہیں (مناقب خوارزمی ص ۴۸ ینا بیع المودة ص ۶۲)

حضرت مختار کے ہاتھوں کارنمایاں عالم ظہور میں آنے والا تھا ۔اسی لیے ان کے بطن مادر میں مستقر ہو نے سے پہلے اور اس کے بعد عجیب و غریب حالات واقعات ظاہر ہوئے ہیں ۔حضرت علامہ شیخ جعفر بن محمد بن نما علیہ الرحمة تحریر فرماتے ہیں ۔

کان ابو عبیده والده تینوق فی طلب النساء تذکرله نساء قومه فابی ان یتزوج منهن فاتاه آت فی منامه فقال تزوج دومة الحسناء ۔

حضرت مختار کے والد ابو عبیدہ ایک نیک سیرت ،خوش سلیقہ عورت کی تلاش میں سرگرداں تھے ۔وہ چاہتے تھے کہ ایک خاندانی عورت دستیاب ہو جائے ۔لوگوں نے انہیں کی قوم کی بہت سی عورتوں کی نشاندہی کی لیکن انہوں نے ان سے ایک پر بھی رضا ظاہر نہ کی اور کسی ایک کو بھی پسند نہ کیا ۔ابو عبیدہ اپنے بستر پر اندرون خانہ سو رہے تھے کہ خواب میں ایک آنے والے نے ان سے کہا کہ اے ابو عبیدہ تم دومۃ الحسناء سے نکاح کرلو۔وہ تمہارے لیے ویسا ہی فرزند جنے گی جیسا تم چاہتے ہو کہ وہ ایسی عورت ہے جس کی تم کبھی کوئی برائی نہ دیکھو گے اور نہ سنو گے ۔خواب سے بیدار ہو کر ابو عبیدہ نے اس واقعہ کو اپنے اہل قبیلہ سے بیان کیا کہ ان لوگوں نے ان کے اس خواب کاستقبال کیا اور سب نے اس رشتہ کے لیے رائے قائم کر دی اور وہب بن عمر بن معتب کے پاس ان کی لڑکی دومۃ الحسناء کے لیے پیغام بھیج دیا گیا اور انہوں نے اس رشتہ کو نجوشی منظور کرکے ابو عبیدہ کے ساتھ اپنی لڑکی دومہ کی شادی کر دی ۔ دومۃالحسناء ابو عبیدہ کے ساتھ نہایت خوشی اور مسرت کے ایام گذار رہی تھیں کہ استقرار حمل ہو گیا اور مادر رحم میں اس بچے کا نقطہ وجود اور نطفہ شہود ونمود قائم ہو ا۔جس کے ہاتھوں کاتب تقدیر نے واقعہ کربلا کا بدلا لینا لکھا ہو اتھا اور جسے نصرت محمد وآل محمد کا شرف عظیم نصیب ہونے والا تھا ۔

دومۃ کا بیان ہے کہرایت فی النوم قائلایقول کہ میں نے قیام نطفہ کے فوراً بعد خواب دیکھا کہ ایک شخص آیا ہے اور کہتا ہے ۔ابشری بالولد اشبهه شی بالاسد اے دومۃتجھے بشارت ہو کہ تیرے بطن سے وہ بچہ پیدا ہونے والا ہے جو شیر کی مانند ہو گا۔ وہ بڑا بہادر اور زبردست نبردآزما ہو گا ۔وہ کہتی ہیں ۔فلما وضعت کہ جب حمل حمل ہوا اور بچہ پیدا ہو چکا تو وہی آنے والا جو بشارت دے گیا تھا پھر خواب میں آیا اور کہنے لگا ۔کہ اے دومہ یہ فرزند بڑا نہایت بہادر ہوگا ۔نبر دآزمائی میں اس کے قدم پیچھے نہ ہٹیں گے ۔اور دشمن کے مقابلہ میں یہ کامیاب ہو گا ۔اورمیدان جنگ میں بڑی دلیری سے کامیابی اور کامکاری حاصل کرے گا۔ (ذوب النضار فی شرح الثار ص ۴۰۱ ضمیمہ بحاالانوار طبع ایران ۱۸۲۷ ءء نورالابصار ص ۲۱)

بعض معاصرین لکھتے ہیں کہ ہاتف غیبی نے مختار کی ماں سے یہ کہا تھا کہ یہ بچہ اہل بیت پیغمبر کا دوست ہے اور آل محمد کے دشمنوں کو باامداد الہٰی قتل کرے گا۔

تاریخ ولادت

حضرت مختار کی تاریخِ ولادت کسی کتاب میں میری نظر سے نہیں گذری البتہ یہ مسلّم ہے کہ آپ سن ۱ ہجری میں پیدا ہوئے ہیں جیسا کہ ناسخ التواریخ جلد ۲ المآل فی اسماء الرجال محدث ابوالحسن طبع لاہور ۱۳۸۱ ء ذوب النصار شرح الثار ابن نماص ۴۰۱ طبع ایران ۱۲۸۷ ء ونور الابصار ص ۲۱ تاریخِ اسلام مسٹر ذاکر حسین جلد ۵ ص ۱۲۰ میں ہے بعض معاصرین کا کہنا ہے کہ مختار کی ماں کا نام حلیہ تھا۔ نیز یہ کہ مختار کا باپ مختار کے پیدا ہوتے ہی فوت ہو گیا تھا اور یہ کہ اس روز پیدا ہوئے تھے جس روز رسولِ خدا جنگ تبوک ۱ میں تشریف لے گئے تھے میرے نزدیک یہ سب امور غلط ہیں۔ مختار اور ان کے بھائی بہن کے اسماء علامہ ابن نما اورعلامہ محمد ابراہیم رقمطراز ہیں کہ مختار کی ولادت کے بعد ان کے والد ابو عبیدہ ثقفی نے ان کا نام مختار رکھا (ذوب النضار ۴۰۱ ونورالابصار ص ۲۱)

میرے نزدیک یہ نام قدرتی طور اس لیے قرار پایا کہ یہی خدا و رسول و ائمہ کی نگاہ میں واقعہ کربلا کا بدلہ لینے کے لیے چنے ہو ئے تھے ۔کیونکہ لفظ مختار کے معنی چنے ہوئے کہ ہیں علما نے کہا ہے کہ مختار کے چار اور سگے بھائی تھے جن کے نام یہ ہیں ۔ ۱ ۔جبیر ، ۲۔ابو جبیر، ۳۔ ابو الحکم ابوجبیر امیہ اور ایک بہن تھی جس کا نام صفیہ تھا جو عبد اللہ ابن عمر سے منسوب تھی (نور الابصار ص ۲۱) تواریخ میں ہے کہ آپ کی ایک بہن عمر سعد کے پاس تھی ۔

حضرت مختار کی کنیت

کتاب ذوب النضار فی شرح الثار علامہ جعفر بن نما ص ۴۰۱ و کتاب رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۷۸ میں ہے کنیتہ ابو اسحاق حضرت مختار کی کنیت ابو اسحاق تھی ۔حضرت مختار نے اس کنیت کا جوان ہونے کے بعد اکثر مواقع کا رکردگی میں ذکر کیا ہے اور علامہ خاوند شاہ ہروی اپنی کتاب رو ضۃ الصفا میں لکھتے ہیں کہ آغاز واقعہ انتقام کے موقع پر جب لوگ توثیق مختار کے لیے محمد بن حنیفہ کے پاس مدینہ جاکر واپس ہو ئے تھے تو مختار نے کمال مسرت کے ساتھ کہا تھا۔ اللّٰہ اکبر من ابو اسحاق ام کہ بہ تیغ آبدار من ظالمان خاکسار بادیہ پیما آتش دوزخ خواہند رفت۔ میں ابو اسحاق ہو ں میری تیغ آبدار سے عنقریب دشمنان آل محمد جہنم رسید ہوں گے ۔

حضرت مختار کا لقب

کتاب مجمع البحرین ص ۳۷۵ وجلا العیون ص ۲۴۷ میں ہے کہ حضرت مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی کا لقب کیسان تھا۔صراح جلد ۲ ص ۲۴۲ میں ہے ۔کیسان بمعنی زیر کی است ،کیسان کے معنی عقل مندی اور ہوش مندی کے ہیں ۔المنجد ص ۷۵۱ طبع بیروت میں ہے کہ کیسان کیس سے مشتق ہے جس کے معنی عاقل اور ذہین کے ہیں اور اسی ذیل میں صاحب فہم اور صاحب ادب کے معنی بھی ہیں علامہ مجلسی علیہ الرحمہ کا ارشاد ہے کہ یہ لقب حضرت علی علیہ السلام کا عنایت کردہ ہے (جلا ء العیون ص ۲۴۷ طبع ایران )

علامہ ابن نما ارشاد فرماتے ہیں کہ اسی لقب کی وجہ سے شیعوں کا فرقہ کیسا نیہ مختار کی طرف منسوب ہے (ذوب النضار ص ۴۰۲ وبحاالانورص ۴۰۰) ۔

علامہ ابو القاسم لاہوری تحریرفرماتے ہیں کہ مختار کی طرف شیعوں کا جو فرقہ منسوب تھا اسے مختاریہ کہتے تھے ۔وہ فرقہ علامہ شہر ستانی اسی کی تحریر کے مطابق محمد بن حنیفہ کو امام مانتا تھا لیکن صحیح یہ ہے کہ مختار اور ان کے ماننے والے حضرت امام زین العابدین کو امام زمانہ مانتے تھے اسی حالت میں مختار ہمیشہ رہے اور اسی اعتقا د پر ان کی شہادت واقع ہوئی ۔اعلیٰ اللہ مقامہ (معارف الملة الناجیہ والناریہ ص ۵۲ طبع لاہور ۱۲۹۶ ءء)

علامہ مجلسی کا فیصلہ یہ ہے کہ الکیسانیہ ہم المختاریہ کیسانیہ اور مختار یہ فرقہ ایک ہی ہے جو حضرت مختار کی طرف منسوب ہے (بحاالانوار جلد ۱۰ ص ۴۰۰)

میرے نزدیک کیسانیہ یا مختاریہ کوئی فرقہ نہ تھا ۔بلکہ مختار کے اس گروہ اور پارٹی کیسانیہ اور مختاریہ کہتے تھے جو واقعہ کربلا کا بدلہ لینی میں حضرت مختار کے ساتھ تھا۔


تیسرا باب

حضرت مختار کے بچپن کے حالات

مثل مشہور ہے کہ ہو نہار بردے کے چکنے چکنے پات ،جس کا مستقبل روشن ہو تا ہے جس سے کارہائے نمایاں کا ظہور ہونے والا ہوتا ہے ا سکے بشرہ سے آیندہ کے آثار عالم طفلی میں ہی ظاہر ہونے لگتے ہیں عام لوگ چاہے اس خصوصیت کا ادراک نہ کرسکیں لیکن وہ نگاہیں جو بمفاد قرآن مجید، اعراف پر خطہ پیشانی پڑھ کر د خول جنت اور دخول جہنم کا حکم لگا سکیں گی ۔وہ یقینا دل کی گہرائیوں میں اپنی چھپی ہو ئی محبت کا مطالعہ کرکے اس کے اثرات کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

جناب مختار حضرت امیر المومنینعليه‌السلام کے زانوئے مبارک پر

علامہ ابو عمر محمد بن عمر ابن عبد العزیز الکشی اور علامہ محمد باقر مجلسی اور علامہ شیخ ابن نما ،اضبغ ابن نباة صحابی حضرت امیرا لمومنین علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ ان کا بیان ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ حضرت مختار کمال کمسنی کی حالت میں حضرت کے زانو پر بیٹھے ہو ئے ہیں اور وہ کمال محبت ورحمت سے ان کے سر پر ہاتھ پھیر رہے ہیں اور فرماتے جاتے ہیں اے عقل مند اور اے بہاد ر ہوشیار (رجال کشی ص ۸۴ بجارالانوار ص ۴۰۰ جلد ۱ ذوب النضار ص ۲۰۲)

اس واقعہ کی تفصیل حافظ عطا الدین حسام الواعظ بحوالہ شیخ ابو جعفر ابن بابویہ القمی یوں تحریر فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب مدینہ کی ایک ایسی گلی سے گذررہے تھے جس میں چھوٹے چھوٹے بچے کھیل رہے تھے ۔انہیں کھیلنے والوں میں مختار بھی تھے ۔مختار کے کندھوں پر گیسو لہرا رہے تھے ۔حضرت علی کی جو نہی نگاہ مختار پر پڑی آپ ٹھہر گئے اور آپ نے پوچھا یہ بچہ کس کا ہے ۔کہا گیا کہ ابو عبیدہ صحابی رسول کا ہے ۔یہ سن کر حضرت علی آگے بڑھے اور بڑھ کر مختار کو آغوش میں اٹھا لیا پھر اپنے زانو پر بیٹھا کر دست مبارک ان کے سر پر پھرنے لگا ۔اس کے بعد فرمایا اے پسرمن کے باشند کہ تو خون مارا ازا عادی ما باز خواہی۔اے میرے فرزند وہ زمانہ کب آئے گا کہ ہمارے دشمنوں سے بدلا لے گا ۔(رو ضۃ المجاہدین ص ۳ طبع ایران )

عہد طفلی اور کسب کمالات میں شوق وانہماک

حضرت مختار کو بڑے ہو کہ چونکہ ایک بہت بڑے کام کو پروان چڑھانا تھا ۔لہذا قدرتی طور پر انہیں کسب کمالات میں دلچسپی لابدی اور لازمی و ضروری تھی یہی وجہ ہے کہ وہ بچپن سے ایسے کمالات حاصل کرنے میں منہمک رہے جو آگے چل کر ان کے قدرتی منصوبہ میں ممد اور معاون ثابت ہو ئے ۔علامہ محمد احمدنجفی بحوالہ زیدابن قدامہ لکھتے ہیں کہ مختار نے چار سال کی عمر سے لکھنا پڑھنا شروع کرکے علم وقرآن وحدیث اور دینیات حاصل کرنے کے بعد فن شہسواری ،تیر اندازی ،نیزہ بازی اور پیراکی میں تیرہ سال کی عمر سے پہلے پہلے کمال حاصل کر لیا اور ان کمالات کے مظاہرے کو واقعہ قیس الناطف میں بروئے کار لا کر اپنے والد ابو عبید اور چچا سعد کو خوش کیا۔ (مختار نامہ ص ۲۶۳)

فاضل معاصر مولا نا سید ظفر حسن صاحب قبلہ تحریر فرماتے ہیں کہ مختار کو فن سپاہ گری میں کمال حاصل تھا تیر اندازی میں اپنا مثل نہ رکھتے تھے ۔(ملاحظہ ہو مختصر مختار نامہ ص ۳۰)

۱۳ سال کی عمر میں جذبہ نبرد آزمائی

علامہ شیخ جعفر بن محمد بن نما تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی کی عمر جب تیرہ سال کی ہوئی تو آپ میں جذبہ اظہار شجاعت کمال کو پہنچ گیا ۔اتفاقاً اسی دوران میں واقعہ قیس الناطف ظہور ٍپذیر ہوا حضرت مختار اس معرکہ میں اپنے والد اور چچا کے ہمراہ موجود تھےوکان ینقلت للقتال جب معرکہ تیز ہوا تو مختار بے تحاشا میدان کا رزار کی طرف دوڑے اور جنگ کی آگ میں کو د پرنے کے لیے بے چین ہو گئے ۔ فیمنعہ سعد بن مسعودعمہ یہ دیکھ کر مختار کے چچا سعد بن مسعو د نے بڑھ کر اس شیر ہیجا کو قابو میں کیا اور جنگ کرنے سے روکا ۔(ذوب النضار فی شرح الثار ص ۴۰۱) یہ واقعہ فتح ایران کے سلسلے ہیں ۱۳ ھئمیں وقوع پذیر ہوا ہے ۔اس جنگ کو جنگ ِقیس ناطف یا واقعہ جسر کہتے ہیں (تاریخ اسلام جلد ۲ ص ۷۲)

حضرت مختارکے سر سے باپ کا سایہ اُٹھ گیا

(جنگ عراق میں ابو عبیدہ کی موت ) علامہ شبلی نعمانی لکھتے ہیں کہ فارس کی حکومت کا چوتھا دور جو ساسانی کہلاتا ہے نو شیرواں عادل کی وجہ سے بہت نام آور تھا ۔آنحضرت کے زمانہ میں اسی کا پوتا پرویز تخت نشین تھا ۔اس مغرور بادشاہ کے زما نے تک سلطنت نہایت قوی اور زور آور رہی لیکن اس نے مرنے کے ساتھ دفعة ایسی ابتری پیدا ہو گئی کہ ایوان حکومت مدت تک متزلزل رہا ۔شیرویہ اس کے بیٹے نے کل آٹھ مہینے حکومت کی اور اپنے بھائیوں کو جو کم و بیش ۱۵ تھے قتل کرا دیا ،اس کے بعد اس کا بیٹا اردشیر ۷ سات برس کی عمر میں تخت پر بیٹھا ۔لیکن ڈیڑھ برس کے بعد دربار کے ایک افسرنے اس کو قتل کر دیا ،اور آپ بادشاہ بن بیٹھا سن ہجری کا بارہواں سال تھا ۔چند روز کے بعد درباریوں نے اس قتل کرکے جواں شیر کو تخت نشین کیا وہ ایک برس کے بعد قضا کر گیا ۔اب چونکہ خاندان میں یزدجرد کے سوا جو نہایت صغیر السن تھا۔اولاد ذکور باقی نہیں رہی تھی ۔پوران وخت کو اس شرط پر تخت نشین کیا گیا کہ یز دجرد سن شعور کو پہنچ جائے گا تو وہی تاج وتحت کا مالک ہو گا ۔

پرویز کے بعد جو انقلاب حکومت ہوتے رہے اس کی وجہ سے ملک میں جا بجابے امنی پھیل گئی ۔

چنانچہ پوران کے زمانے میں یہ مشہور ہو گیا کہ فارس میں کوئی وارث تاج وتحت نہیں۔برائے نام ایک شخض کو ایوان شاہی میں بیٹھا رکھا ہے ۔اس خبر کی شہرت کے ساتھ عراق میں قبیلہ وائل کے دوسرداروں مثنی شیبانی اور سوید عجلی نے تھوڑی تھوڑی جمعیت بہم پہنچا کر عراق کی سرحد حیرہ وابلہ کی طرف غارت گری شروع کی (اخبار الطوال ابو حنیفہ دنیوری) یہ حضرت ابو بکرکی خلافت کا زمانہ تھا اور خالد یمامہ اور دیگر قبائل عرب کی مہمات سے فارع ہو چکا تھا ۔مثنی نے حضرت ابو بکر کی خدمت میں حاضر ہو کر عراق پر حملہ کرنے کی اجازت حاصل کی مثنی خود اگرچہ اسلام لا چکے تھے لیکن اس وقت تک ان تمام کا قبیلہ عیسائی یا بت پرست تھا ۔حضرت ابو بکر کی خدمت سے واپس آکر انہوں نے اپنے قبیلہ کو اسلام کی ترغیب دی ۔اور قبیلہ کا قبیلہ مسلمان ہو گیا (فتوح البلدان بلاذری ص ۲۴۱)

ان نو مسلموں کا بڑا گروہ لے کر عراق کا رخ کیا ادھر حضرت ابو بکر نے خالد کو مدد کے لیے بھیجا خالد نے عراق کے تمام سرحدی مقامات فتح کر لیے اور حیرہ پر علم فتح نصب کیا ۔یہ مقام کوفہ سے تین میل کے فاصلے پر ہے اور چونکہ نعمان بن منذر نے خورنق میں ایک مشہور محل بنایا تھا ۔وہ ایک یاد گار مقام خیال کیا جاتا تھا ۔

حضرت ابو بکر نے ربیع الثانی ۳۱ ھء ۶۳۴ ء میں (بلاذری ص ۲۵۰)

خالد کو حکم بھیجا کو فوراً شام کو روانہ ہوں اور مثنی کو اپنا جانشین کرتے جائیں اور خالد ادھر روانہ ہو ئے اور عراق کی فتوحات دفعة رک گئیں ۔حضرت عمر مسند خلافت پر بیٹھے سب سے پہلے عراق کی مہم پر توجہ کی ۔بیعت خلافت کے لیے تمام اطراف دیار سے بے شمار آدمی آئے تھے اور تین دن تک ان کا تانتا بندھا رہا تھا۔حضرت عمر نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور مجمع عام میں جہاد کا وعظ کیا لیکن چونکہ لوگوں کا خیال تھا کہ عراق حکومت فارس کا پایہ تخت ہے اور وہ خالد کے بغیر فتح نہیں ہو سکتا ۔اس لیے سب خاموش رہے ۔عمر نے کئی دن تک وعظ کیا لیکن کچھ اثر نہ ہو ا۔آخر چوتھے روز اس جوش سے تقریر کی کہ حاضرین کے دل ہل گئے ۔مثنی شیبانی نے اٹھ کر کہا۔مسلمانو میں نے مجوسیوں کو آزمالیا ہے ۔وہ مرد میدان نہیں ہیں ۔عراق کے بڑے بڑے اضلاع کو ہم نے فتح کر لیا ہے اور عجم ہمارا لوہا مان گئے ہیں ۔ حاضرین میں ابو عبیدہ ثقفی بھی تھے جو قبیلہ ثقیف کے سردار تھے اور وہ جو جوش میں آکر اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ انا لہذا یعنی اس کا م کے لیے میں ہوں ۔ابو عبیدہ کی ہمت نے تمام حاضرین کو گرما دیا ۔

ہر طرف سے غلغلہ اٹھا کہ ہم بھی حاضر ہیں ۔حضرت عمر نے مدینہ منورہ اور مضافات سے ہزارہا آدمی انتخاب کیے اور ابو عبیدہ کو سپہ سالا ر مقررکیا ۔(بلاذری ) حضرت ابو بکر کے عہد میں عراق پر جو حملہ ہو ااس نے ایرانیوں کو چونکا دیا تھا ۔پوران دخت نے رستم کو جو فرخ زاد گورنر خراسان کا بیٹا اور نہایت شجاع اور صاحب تدبیر تھا۔دربار میں طلب کیا اوروزیر حرب مقرر کرکے کہا کہ تو سیاہ سفید کا مالک ہے یہ کہہ کر اس کے سر تاج رکھا ۔اور درباریوں کو جن میں تمام امرا اور اعیان سلطنت شامل تھے ۔

تاکید کی کہ رستم کی اطاعت سے کبھی انحراف نہ کریں ۔چونکہ اہل فارس اپنی نا اتفاقیوں کا نتیجہ دیکھ چکے تھے ۔انہوں نے دل سے ان احکام کی اطاعت کی۔اس کا اثر یہ ہو ا۔کہ چند روز میں تمام بد انتطامیاں مٹ گئیں ۔اور سلطنت نے پھر وہی زور و قوت پیدا کر لی ۔جو ہر مز وپرویز کے زمانے میں اس کو حاصل تھی ۔

رستم نے پٍہلی تدبیر یہ کی کہ اضلاع عراق میں ہر طرف ہر کارے اور نقیب دوڑائے جنہوں نے مذہبی حمیت کا جوش دلا کر تمام ملک میں مسلمانوں کے بر خلاف بغاوت پھیلادی چنانچہ ابو عبیدہ کے پہنچنے سے پہلے فرات کے تمام اضلاع میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔

اور جو مقامات مسلمانوں کے قبضہ میں آچکے تھے ۔ان کے ہاتھ سے نکل گئے۔پوران دخت نے رستم کی اعانت کے لیے ایک اور فوج گراں تیار کی۔نرسی و جاپان کو سپہ سالار مقرر کیا ۔جاپان عراق کا ایک مشہور رئیس تھا ۔اور عرب سے اس کو خاص عداوت تھی ۔نرسی کسری کا خالہ زاد بھائی تھا اور عراق کے بعض اضلاع قدیم سے اس کی جا گیر تھی۔یہ دونوں افسر مختلف راستوں سے عراق کی طرف بڑھے ادھر ابو عبیدہ اور مثنی حیرہ تک پہنچ چکے تھے کہ دشمن کی تیاریوں کا حال معلوم ہوا مصلحت دیکھ کر خفافان کو ہٹ آئے ۔جاپان نمارق پہنچ کر خیمہ زن ہوا ۔ ابو عبیدہ نے اس اثنا میں فوج کو سازوسامان سے آراستہ کر لیا اور پیش قدمی کرکے خود حملے کے لیے بڑھے۔نمارق پر دونوں فوجیں صف آرا ہوئیں۔جاپان کے میمنہ اور میسرہ پر جوش شاہ اور مردان شاہ د و مشہور افسر تھے ۔جو بڑی ثابت قدمی سے لڑے لیکن بالاخر شکست کھائی اور عین معرکہ میں گرفتار ہو گئے۔مردان شاہ بد قسمتی سے اسی وقت قتل کر دیا گیا ۔جاپان اس حیلے سے بچ گیا کہ جس شخص نے اس کو گرفتار کر لیا تھا وہ ا س کو پہنچانتا نہ تھا ۔

جاپان اس بڑھاپے میں میں تمہارے کس کام کا ہوں مجھ کوچھوڑ دو۔اور معاوضے میں مجھ سے دو غلام لے لو ۔اس نے منظور کر لیا۔ بعد میں لوگوں نے جاپان کو پہچاناتو غل مچا یا کہ ہم ایسے دشمن کو چھوڑنا نہیں چاہتے ۔لیکن ابو عبیدہ نے کہا کہ اسلام میں بد عہدی جائز نہیں۔ ابو عبیدہ نے اس معرکہ کے بعد کسکر کا رخ کیا ۔

جہاں نرسی فوج لیے ٹھہرا تھا ۔سقاطیہ میں دونوں فوجیں مقابل ہوئیں ۔نرسی کے ساتھ بہت بڑا لشکر تھا ۔اور خودکسریٰ کے دو ماموں زاد بھائی بندویہ وتیر ویہ میمنہ اور میسرہ پر تھے ۔تاہم نرسی اس وجہ سے لڑائی میں دیر کر رہا تھا کہ پایہ تخت سے امدادی فوجیں روانہ ہو چکی تھیں۔ابو عبیدہ کو بھی یہ خبر ٍپہنچ چکی تھی ۔انہوں نے بڑھ کر جنگ شروع کر دی بہت بڑے معرکے کے بعد نرسی کو شکست فاش ہوئی اور ابو عبیدہ نے خود سقاطیہ میں مقام کیا اور تھوڑی سی فوجیں ہر طرف بھیج دیں ۔کہ ایرانیوں نے جہاں جہاں پناہ لی ہے ان کو وہاں سے نکال دیں ۔ فرخ اور فراونداد جو بادوسما اور زوابی کے رئیس تھے مطیع ہو گئے چنانچہ اظہار خلوص کے لئے ایک دن ابو عبیدہ کو نہایت عمدہ عمدہ کھانے پکوا کر بھیجے ابو عبیدہ نے دریافت کیا کہ یہ سامان کل فوج کے لیے ہے یا صرف میرے لئے ؟فرخ نے کہا کہ اس جلدی میں ساری فوج کا اہتمام نہیں ہو سکتا تھا ۔

ابو عبیدہ نے دعوت کے قبو ل کرنے سے انکار کر دیا ۔

اور کہا کہ مسلمانوں میں ایک کو دوسرے پر کچھ ترجیح نہیں ۔اس شکست کی خبر سن کر رستم نے مردان شاہ کو جو عرب سے دلی عداوت رکھتاتھا اور جس کو نوشیرواں نے تقدس کے لحاظ سے بہمن کا خطاب دیا تھا ۔چار ہزار فوج کے ساتھ اس سامان سے روانہ کیا کہ درفش کا دیانی جو کئی ہزار برس سے کیانی خاندان کی یاد گار چلا آتا تھا اور فتح و ظفر کا دیباچہ سمجھا جاتا تھا ۔اس کے سر پر سایہ کرتاجاتا تھا ۔مشرقی فرات کے کنارے ایک مقام پر جس کا نام مروحہ تھا ۔دونوں حریف صف آرا ہوئے چونکہ بیچ میں دریا حائل تھا۔بہمن نے کہلا بھیجا کہ یا تم اس پار اتر کر آؤ یا ہم آئیں ۔ابو عبیدہ کے تمام سرداروں نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم کو اسی طرف رہنا چاہیئے لیکن ابو عبیدہ جو شجاعت کے نشہ میں سرشاد تھے سمجھے کہ یہ نامردی کی دلیل ہے سرداروں نے کہا یہ نہیں ہو سکتا کہ جانبازی کے میدان میں مجوسی ہم سے آگے بڑھ جائیں۔ مروان شاہ جو پیغام لے کر آیا تھا ۔اس نے کہا کہ ہماری فوج میں عام خیال ہے کہ عرب مرد میدان نہیں ہیں۔

اس جملہ نے اور بھی اشتعال دلایا اور ابو عبیدہ نے اسی فوج کو کمر بندی کا حکم دے دیا کشتیوں کا پل باندھا گیا اور تمام فوج پار اتر کر غنیم سے معرکہ آرا ہوئی ۔پار کا میدان تنگ اور ناہموار تھا اس لیے مسلمانوں کو موقع نہیں مل سکتا تھا کہ فوج کو ترتیب سے آراستہ کر سکتے ۔ ایرانی فوج کا نظارہ نہایت مہیب تھا ۔بہت سے کوہ پیکر ہاتھی جن پر گھنٹے لٹکتے تھے ۔اور بڑے بڑے زور سے بجتے چلے جاتے تھے ۔گھوڑوں نے یہ مہیب نظارہ بھی نہیں دیکھا تھا ۔بدک کر پیچھے ہٹے ابو عبیدہ نے دیکھا کہ ہاتھیوں کے سامنے کچھ زور نہیں چلتا ۔گھوڑے سے کود پڑے اور ساتھیوں کا للکارا!کہ جانبازو ہاتھیوں کو بیچ میں لے لو اور ہودوں کو سواروں سمیت الٹ دو ۔

اس آواز کے ساتھ سب گھوڑوں سے کود پڑے اور ہودوں کی رسیاں کاٹ کر فیل نشینوں کو خاک پر گرا دیا۔لیکن ہاتھی جس طرف جھکتے تھے ۔صف کی صف پس جاتی تھی ۔ابو عبیدہ یہ دیکھ کر پیل سفید پر جو سب کا سردار تھا حملہ آور ہوئے اور سونڈ پر تلوار ماری کہ مستک سے الگ ہو گئی ۔ہاتھی نے بڑھ کر ان کو زمین پر گرا دیا اور سینے پر پاؤں رکھ دئیے ے کہ ہڈیاں تک چور چور ہو گئیں ۔ابو عبیدہ کے مرنے پر ان کے بھائی حکم نے علم ہاتھ میں لیا اور ہاتھی پر حملہ آور ہوئے ۔اس نے ابو عبیدہ کی طرح ان کو بھی پاؤں میں لپیٹ کر مسل دیا ۔

اسی طرح سات آدمیوں نے جو سب کی سب ابو عبیدہ کے ہم نسب اور خاندان ثقیف سے تھے ۔باری باری علم ہاتھ میں لیے اور مارے گئے ۔آخر میں مثنی نے علم ہاتھ میں لیا ۔

لیکن اس وقت لڑائی کا نقشہ بدل چکا تھا اور فوج میں بھاگڑ پڑ چکی تھی ۔یہ واقعہ حسب بیان بلاذری ہفتہ کے دن رمضان ۱۳ ھء میں واقع ہوا۔(الفاروق ص ۴۴ تا ۴۹ طبع دہلی ۱۸۹۸ ءء)

مورخ اعظم اسلام مسٹر ذاکر حسین لکھتے ہیں کہ اس لڑائی میں مسلمانوں کے ۹ ہزار آدمی تھے ۔چار ہزار لڑنے اور ڈوبنے میں ضائع ہوئے د وہزار بھاگ گئے ۔اور تین ہزار باقی رہ گئے تھے ۔لشکر فارس کے چھ ہزار آدمی کام آئے ۔یہ واقعہ ماہ شعبان ۱۳ ھء (تاریخ اسلام جلد ص ۷۳ طبع دہلی ۱۹۱۳ ء )

علامہ خاوند شاہ لکھتے ہیں کہ جس دن ابو عبیدہ قتل ہو ئے ہیں اس شب میں ابو عبیدہ کی بیوی نے خواب میں دیکھاکہ آسمان سے ایک شخص جام خوشگوار لیے ہوئے اترا ہے ۔

ا ور اس نے وہ جام ابو عبیدہ کو دیا ۔انہوں نے خود نوش کیا اور اپنے کئی ساتھیوں کو پلایا۔

ابو عبیدہ نے جب یہ خواب سنا تو کہا کہ میں اور میری بہت سے ساتھی اس جنگ میں شربت شہادت نوش کریں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔(رو ضۃ الصفاء جلد ۲ ص ۲۴۴ طبع نو لکشور)

حضرت مختار کے والد کی وفات کے بعد واقعہ جسر یعنی قیس الناطف میں اظہار شجاعت اور والد کے انتقال و وفات کے بعد حضرت مختار اپنے چچا سعد بن مسعود کے ہمراہ کو فہ میں قیام پذیر ہو گئے اور وہیں ایام حیات گزار رہے تھے تا اینکہ حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت واقع ہوئی ۔(رو ضۃ المجاہدین ص ۵)

فتح مدائن کے بعد گورنری کا مسئلہ اور حضرت مختار حضرت مختار اپنے والد ابو عبیدہ کی موت کے بعد کوفہ میں تھے کہ صفر ۱۶ ھء میں مدائن فتح کر لیا گیا ۔(تاریخ ابو الفداء )

فتح مدائن کے بعد وہاں کی گورنری کا مسئلہ زیر بحث لایا گیا ۔بالاخر فیصلہ ہو اکہ حضرت مختار کو ان کی والد کی خدمات کے لحاظ سے وہاں کی گورنری تفویض کی جائے۔

چون مدائن رابکشاوندا میری مدائن رابمختار دادندچنانچہ وہاں کی گورنری ان کے حوالہ کر دی گئی ۔(رو ضۃ المجاہدین حافظ عطا الدین حسام الواعظ ص ۵ طبع ایران )

لیکن چونکہ ان سے زیادہ کا رآزمودہ ابو عبیدہ کے بھائی اور حضرت مختار کے چچا سعد ابن مسعود تھے ۔لہذا انہیں اس منصب پر بمشورہ مختار فائز کر دیا گیا ۔علامہ خاوند شاہ ہروی لکھتے ہیں۔ چوں مدائن درتحت تسخیر اسلام آمد عمر امارت آل دیار رابسعد بن مسعود کہ عم مختار بودار زانی داشتکہ جب مدائن اہل اسلام کے قبضہ میں آگیا تو خلیفہ دوم نے وہاں کی گورنری مختار کے چچا سعد کے سپرد کر دی ۔سعد ۱۶ ھء میں وہاں کے گورنر مقر ر ہوئے ۔اور حضرت عثمان اور حضرت امیر المومنین کے عہد میں بھی بد ستوار اسی عہد ٍپر مدائن میں کام کرتے رہے ۔(رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۷۴ رو ضۃ المجاہدین ص ۳)

ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں تحریر فرماتا ہے کہ حضرت امام حسنعليه‌السلام نے بھی انہیں مدائن کی گورنری کے عہدے پر فائز رکھا ۔( دمعۃساکبہ ص ۲۳۹)

علامہ محمد ابراہیم مجہتد بحوالہ کتاب نقض الفضائح علامہ رازی قزوینی تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت مختار کے چچا جناب سعد عہد معاویہ میں موصل کے گورنر مقر ر کر دئیے گئے ۔(نور الابصار ص ۹ طبع لکھنو ء)


چوتھا باب

حضرت مختار کی شرافت ذاتی

تاریخ الفخری ص ۸۹ طبع مصر ۱۹۴۷ ءء میں ہے۔ کان رجلا ً شریفاً فی نفسہ عالی الھمة کریما کہ حضرت مختار فی نفسہ شریف بلند ہمت اور کریم الطبع تھے ۔رو ضۃ جلد ۳ ص ۸۴ طبع لکھنو ء میں ہے کہ حضرت مختار بے انتہا ذہانت کے مالک اور فراست کے درجہ کمال پر فائز تھے ۔ان کا یہ حال تھا کہ ہونے والے واقعات کو قبل وقوع بیان کر دیا کرتے تھے ۔اسی وجہ سے لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ان کے پاس جبرائیل آتے اور وحی لاتے تھے ۔حالانکہ ایسا نہ تھا (تاریخ طبری جلد ۴ ص ۶۴۹ ) میں ہے کہ مختار مردد لاور بود حضرت مختار نہایت ہی بہادر اور اشجاع تھے۔ اصدق الاخبار فی الاخذبالثار ص ۳۶ میں ہے کہ مختار فصاحت وبلاغت میں اپنی نظر آپ تھے ۔وہ مسجع اورمقفیٰ کلام اور عبارت پر پوری قدرت رکھتے تھے اور مافی الضمیرکی ادائیگی میں درجہ کمال پر فائز تھے ۔ کتاب ذوب النضار فی شرح الثار ص ۴۰۱ ضمیمہ بحار میں ہے کہ حضرت مختار نہایت زبردست بہادر تھے وہ حملہ آوروں میں کسی چیز کی پروانہ کرتے تھے اور بڑے بڑے مہالک میں کود پڑنے میں ہچکچاتے نہ تھے ۔وہ زبر دست عقل و فہم کے مالک تھے ۔ اور بے مثل حاضر جواب تھے ۔

اور سخاوت میں یکتا ئے زمانہ تھے۔ اور فراست میں اپنی نظیر نہ رکھتے تھے ۔وہ ستاروں سے زیادہ ہمت میں بلند تھے اور سوجھ بوجھ میں اپنی مثال آپ تھے اور تدبر و تفکر میں ٹھیک منزل پر پہنچنے والے تھے میدانِ جنگ میں نہایت ہو شیار اور دشمنوں کے حملوں سے بے انتہا با خبر رہتے تھے ۔ہر قسم کے تجربہ میں کمال رکھتے تھے ۔اور بڑے بڑے مہلکوں میں کود کر ان پر قابو پا لیتے تھے ۔ کتاب رو ضۃ المجاہدین ص ۳ میں ہے کہ حضرت مختار زبر دست مرد میدان اور دلیری میں یکتا زمانہ تھے۔امداد خداوندی اور توجہ محمدی و مرتضوی آپ کے شامل حال تھی ص ۴ آپ دوستداران اہلیت میں سے تھے ۔اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی بیعت کے لیے مردانہ وار تبلیع کیا کرتے تھے ۔کتاب نور الابصار فی اخذ الثار ص ۲۲ میں ہے کہ حضرت مختار شجاعت وجسارت ،عقل و فہم ،ہمت و سخاوت ، حاضر خوابی و بدیہہ گوئی میں یگانہ اور امثال و اقران میں فخر زمانہ تھے ۔

وہ بڑ ے بڑے امور میں جا پڑنے میں دلیر اور بہادر تھے ۔انہیں خداوند عالم نے ذہن و ذکا میں ممتاز قرار دیا تھا وہ فصاحت بیان اور طاقت زبان میں یکتائے روز گار اور دلیری و دانائی اور تدبیر واصابت رائے میں عجوبہ اعصا رتھے یعنی ان امور میں ان کے نظیر مادر گیتی کی آغوش میں نہ تھی ۔انہوں نے کسب علوم و فنون حضرت محمد حنیفہ سے کیا تھا اور علم و فضل میں درجہ کمال پر فائز تھے ۔ کتاب حدیقة الشیعہ علامہ اردبیلی میں ہے کہ حضرت مختار کے حسن عقیدہ میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں علامہ حلی نے انہیں مقبولین میں تسلیم کیا ہے ۔مختار اور ان کے جیسے لوگوں کے لیے یہ مسلم ہے ۔کہمن اهل الدرجات الرفیعة والمراتب العالیة ان کا شمار بلند درجہ کے لوگوں اور بلند مرتبہ حضرات میں ہے ۔ کتاب دمعۃ ساکبہ ص ۴۰۴ میں ہے زبان میں ایسی برکت تھی کہ انکے منہ سے جو کچھ نکلتا تھا صحیح ہوتا تھا ان کے کلام میں لغزش نہیں ہوتی تھی ۔وہ سبحع میں کلام کرتے تھے ۔ان کا بیان بہت بلند ہوتا تھا دل کے اتنے مضبوط تھے ۔جس کی کوئی انتہا نہ تھی ۔وہ شجاعت میں بہت ہی بلند درجہ رکھتے تھے ۔بہادروں پر پل پڑنا ان کے لئے بالکل معمولی سی بات تھی ان کے فہم وفراست کا تیر ٹھیک نشانہ پر لگتا تھا ۔وہ سوجھ بوجھ میں کامل تھے ۔انہیں کسی اقدام میں شرمندگی نہیں ہوتی تھی ۔یہ بلندیوں پر ہمیشہ فائز رہے ۔

علامہ محمد ابراہیم تحریر فرماتے ہیں کہ جو شخص بھی مختار کے حالات احادیث و سیر میں بغور ملاحظہ کرے گا ۔اسے معلوم ہو گا کہ وہ از سا بقین مجاہدین بود ان سابقین مجاہدین میں سے تھے ۔جن کا ذکر خداوند عالم نے قرآن مجید میں فرمایا ہے ۔اور دعائے حضرت سجاد سے یہ واضح ہے کہ اواز برگزید گاں و نیکو کاراں است کہ حضرت مختار بر گزیدہ کر د گار اور نیک شعار تھے۔ (نورالا بصار ص ۱۳)

مورخ اسمعٰیل ابو الفدا لکھتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے حضرت امام حسینعليه‌السلام کا انتقام مختار کے ہاتھ سے لیا ۔یہ کارنیک بظاہر اس سے ظہور میں آیا ۔یہ حالت محاصرہ میں بھی لڑے یہاں تک مقتول ہو ئے ۔انہیں شہادت کا درجہ نصیب ہو ا ۔(ترجمہ تاریخ ابو الفدا جلد ۲ ص ۱۴۹ )

مورخ ابن جریر کا بیان ہے کہ حضرت مختار جو کچھ کہتے تھے بقدرت خدائے عزوجل وہی ہوتا تھا (تاریخ طبری ج ۴ ص ۶۵۹)

حضرت مختار کا ولی اللہ ہونا

مثل مشہور ہے کہ ولی راولی میشناسد ولی کو ولی پہنچانتا ہے ۔حضرت مختار کو حضرت رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سراہنا، امیر المومنین علیہ السلام کا اپنی آغوش میں کھلانا ۔امام حسنعليه‌السلام کا آپ سے امداد حاصل کرنا امام حسینعليه‌السلام کا کربلا میں باربار یاد کرناامام زین العابدینعليه‌السلام کا آپ کو دعا دینا ،امام محمد باقرعليه‌السلام کا آپ کو کلمات خیر سے یاد کرنا۔امام جعفر صادقعليه‌السلام کا خدمات کوسراہنا یہ بتاتا ہے کہ حضرت مختار ولی اللہ تھے اوریہ حضرات ان کے مراتب جلیلہ سے واقف اور باخبر تھے ۔اس کے علاوہ روایات میں ان کو لفظ ولی اللہ سے یاد کیا گیا ہے۔

حضرت شیخ مفید علیہ الرحمة نے اپنی کتاب مزار میں ان کی جو زیارت تحریر فرمائی ہے ۔اس میں ایک جملہ یہ بھی ہے۔ السلام علیک ایھا الولی الناصح۔سلام ہو تم پر اے ولی ناصح (نور الابصار ص ۱۹)

اسی طرح وہ مکتوب جو رسول خدا نے حضرت مختار کے نام بذریعہ امیر المومنین ارسال فرمایا ہے اور جسے ایک شخص غیبی نے حضرت مختار تک پہنچایا ۔اس سلسلہ میں بھی تواریخ میں یہ مرقوم ہے کہ اس آنے والے نے حضرت مختار کو جن لفظوں اور جملوں سے مخاطب کیا وہ یہ ہے ۔السلام علیک یا ولی الله اے اللہ کے ولی آپ پر میرا سلام ہو۔ (رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۷۵)

ان کے علاوہ ایک بات یہ بھی ہے کہ حضرت مختار جو کچھ منہ سے کہہ دیتے تھے وہی ہوتا تھا۔ اب یہ ہونا دو حال سے خالی نہیں ۔یا یہ کہ انہیں علم غیب تھا اور وہ جانتے تھے کہ یہ کچھ ہونے والا ہے یا یہ کہ ان میں اثرات ولایت تھے جو ان کے منہ سے نکل جاتا تھا وہی ہوتا تھا ۔بہر دو صورت ان کی ولایت سے استدلال ہوتا ہے علامہ ہروی فرماتے ہیں کہ مختار میں یہ بات ضرور تھی کہ جو کچھ کہتے تھے ہوتا تھا انہوں نے محاربہ موصل کے موقع پر یہ کہا تھا کہ عنقریب ابراہیم ابن مالک اشتر فتح حاصل کرکے ابن زیاد اور حصین بن نمیر کا سر میرے پاس بھیجیں گے ۔چنانچہ تھوڑی ہی دیر میں یہ امر ظہور پذیر ہوگیا کہ جس کی وجہ سے لوگ کہنے لگے کہ مختار پر وحی نازل ہوئی ہے ۔نزول وحی کا قائل ہونا جہلا کی خوش فہمی ہے ۔

ان پر وحی نازل نہیں ہوتی تھی بلکہ ان میں قدرتی طور پر ایسی فراست موجود تھی کہ جس سے وہ آئندہ کے حالات جانتے تھے اور وہ بمفاد قول رسول کریم فراسة المومن لا تخطی مومن کی فراست خطا نہیں کرتی ۔جو کچھ کہتے تھے ٹھیک ہوتا تھا۔ (رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۸۴)

میرے نزدیک قول کا خطا نہ ہونا یہ بھی ولایت اور علم غیب کی دلیل ہے ۔مثال کے لیے ولی خدا حضرت امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام کا ایک واقعہ ملاحظہ ہو کتاب چودہ ستارے ص ۳۱۵ میں بحوالہ امام شبلنجی مرقوم ہے کہ جس زمانہ میں آپ ہارون رشید کی قید کی سختیاں جھیل رہے تھے ۔امام ابو حنیفہ کے شاگرد رشید ابو یوسف اور محمد بن حسن ایک شب قید خانہ میں اس لیے گئے کہ آپ کے بحر علم کی انتہا معلوم کریں اور دیکھیں کہ آپ علم کے کتنے پانی میں ہیں وہاں پہنچ کر ان لوگوں نے سلام کیا ۔امامعليه‌السلام نے جواب سلام عنایت فرمایا ۔ابھی یہ حضرات کچھ پوچھنے نہ پائے تھے کہ ایک ملازم ڈیوٹی ختم کرکے گھر جاتے ہوئے آپ کی خدمت میں عرض پرداز ہوا کہ کل واپس آؤں گا ۔اگر کچھ منگوانا ہو تو مجھ سے فرمادیجئے ،میں لیتا آؤں گا۔ آپ نے ارشاد فرمایا مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں جب وہ چلا گیا تو آپ نے ابو یوسف وغیرہ سے فرمایا کہ یہ بیچارہ مجھ سے کہتا ہے کہ میں اس سے اپنی حاجت بیان کروں۔ تاکہ یہ کل اس کی تکمیل و تعمیل کر دے لیکن اسے خبر نہیں ہے کہ یہ آج کی رات کو وفات پا جائے گا ۔ان حضرات نے جو یہ سنا تو سوال وجواب کے بغیر ہی واپس چلے آئے اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم ان سے حلال وحرام و اجب و سنت کے متعلق سوالات کرنا چاہتے تھے۔فاخذ یتکلم معنا علم الغیب مگر یہ تو ہم سے علم غیب کی باتیں کر رہے ہیں ۔ان کے بعد دونوں حضرات نے اس ملازم کے حالات کا پتہ لگایا تو معلوم ہوا کہ وہ ناگہانی طور پر رات ہی میں وفات پا گیا ۔یہ معلوم کرکے یہ حضرات سخت متعجب ہوئے۔(نورالابصارشبلنجی )

بعض روایات سے مستفادہ ہوتا ہے کہ حضرت مختار جس زمانہ میں قید خانہ ابن زیاد میں تھے اسی زمانہ میں ان ( ۴۵۰۰) مومنین کے ساتھ جو بجرم محبت آل محمد قید کیے گئے تھے حضرت میثم تمار بھی تھے ۔حضرت میثم نے مختار سے کہا تھا کہ تم عنقریب رہا ہو جاؤ گے اور رہا ہو کر قاتلان حسین سے بدلا لو گے اور حضرت مختا رنے کہاتھا کہ تم رہا ہو جاؤ گے لیکن محبت آل محمد میں تمہارے اعضا ء و جوارج زبان سمیت قطع کیے جائیں گے ۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ابن زیاد نے آپ کے ہاتھ پاؤں اور زبان قطع کرکے شہید کر دیا ۔(لواعج الاحزان جلد ۲ ص ۱۴۷)

اسی طرح حضرت مختار نے قید خانہ میں عمر بن عامر ہمدانی معلم کو فہ سے فرمایا تھا کہ تم آج ہی قید سے رہا ہو جاؤ گے ۔چنانچہ وہ اسی وقت رہا ہو گئے ۔(قرة العین و اخذا لثار ابی مخنف )

حضرت مختار کی شادی خانہ آبادی

۱۳ ھء میں جناب ابو عبیدہ ثقفی کی وفات کے بعد سے حضرت مختار اپنے چچا سعد بن مسعود ثقفی کے ہمراہ رہنے لگے ۔جب آپ کی عمر ۲۵ سال کی ہوئی تو جناب سعد نے آپ کی شادی ام ثابت بنت سمرة ابن جندب الفراری سے کر دی ۔پھر کچھ عرصہ کے بعد آپ کی دوسری شادی عمرة بنت نعمان بن بشیر الانصاری سے ہوئی ۔یہ بیویاں حضرت مختار کی زندگی بھر موجود رہیں ۔اور ان سے اولادیں ہوئیں ۔حضرت مختار کی شہادت کے بعد ۶۷ ھء میں اول الذکربیوی تو محفوظ رہی اور آخر الذکر بیوی مصعب ابن زبیر کے لشکر کے ہاتھوں قتل کردی گئی۔ (نور المشرقین حصہ اول باب ۶ ص ۱۰۹ طبع کراچی ۱۹۵۲ ءء)

حضرت مختار کا ذکر کتب آسمانی میں

علما کا بیان ہے کہ حضرت مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی اور ان کے کا رنامے کا ذکر کتب آسمانی میں ہے علامہ محمد ابراہیم مجتہد کتب سلف کا ذکر کرتے ہوئے ۔بحوالہ معید ابن خالد جدلی رقمطراز ہیں کہ کتب سابقہ میں مرقوم ہے کہ

شخصے از ثقیف پیدا خواھد شد و ظالمان راخواہد کشت وبداد مظلومان خواہد رسید وانتقام ضعفا خواہد کشید

کہ بنی ثقیف سے ایک زمانہ میں ایک شخص پیدا ہوگا ۔

وہ ظالموں کو قتل کرے گا ۔اور مظلوموں کی دادرسی اور دلجوئی کا سبب بنے گا ۔اورضعیف و کمزور لوگوں پر جو مظالم ہوئے ہیں ان کا بدلہ لے گا۔ (نورالابصار ص ۲۲)

علامہ محمد باقر علیہ الرحمہ رقمطراز ہیں کہ قرآن مجید میں جو یہ آیت ہے ۔لتفسدن فی الارض مرتین ولتعلن علواکبیرا۔تم لوگ روئے زمین پر ضرور دو مرتبہ فساد پھیلاؤ گے اور بڑی سرکشی کرو گے (پ۱۵رکوع) اس میں حضرت مختار کا ذکر ہے ۔اس آیت کی تفسیر کے دو پہلو میں ایک ظاہر ی اور دوسر ا باطنی ۔ظاہر طورپر اس کی تفسیر یہ ہے کہ پہلی دفعہ ارمیا پیغمبر کا حکم نہ ماننا اور اشعیا پیغمبر کا قتل کرنا ۔دوسری دفعہ حضرت زکریاعليه‌السلام و یحییٰعليه‌السلام کو شہیدکرنا اور حضرت عیسیٰعليه‌السلام کے قتل کا ارادہ کرنا ہے اور باطنی تفسیر اس کی یہ ہے۔ حضرت امام جعفر صادقعليه‌السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ دوبار فساد پھیلانے کے متعلق جو خداوندعالم نے فرمایا ہے اس میں ایک تو حضرت علیعليه‌السلام کا قتل کرنا اور حضرت امام حسن پر طعنہ زنی ہے اور دوسرے امام حسینعليه‌السلام کا قتل ہے ظہور قائم آل محمد سے قبل ان کا بدلہ لیا جائیگا اور بدلا لینے والا ایسا ہوگا کہ کسی دشمن آل رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نظر اندازنہ کرے گا ۔ علامہ موصوف لکھتے ہیں کہ بدلہ لینے والا وہی بہادر ہے جس کا نام ہے مختار اور آیت کی باطنی تفسیر میں مختار ہی صرف اس لیے آتے ہیں کہ ظہور قائم آل محمد سے قبل محمد وآل محمد پر جو مظالم ہوئے ہیں دنیا میں ان کا بدلہ مختار کے سوا کسی نے نہیں لیا۔

(دمعۃ ساکبہ ص ۴۱۲ وتفسیر صافی ص ۲۵۸)

حضرت آقا ئے دربندی تحریر فرماتے ہیں کہ جس طرح واقعہ کربلا اور شہادت امام حسینعليه‌السلام کا ذکر کتب سماوی میں ہے ۔ فلذ الک انتقام المختار من الکفار ۔ اس طرح حضرت مختار کے انتقام لینے کا ذکر بھی کتب سماویہ میں ہے ۔ (اسرارشہادت ص ۵۷۱ )

علامہ حسام ابواعظ ، عطا الدین تحریر فرماتے ہیں کہ واقعہ مختار کے سلسلہ میں نہروان کی جنگ کے موقع پر ایک راہب نے بھی اس کا اقرار کیا ہے کہ حضرت مختار کا ذکر توریت اور انجیل میں ہے۔ (رو ضۃالمجاہدین)

جناب مختار حضرت رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نظر میں

یہ ظاہر ہے کہ جناب مختار نے جو کارنامہ انظار عالم کے سامنے پیش کیا ہے ۔ وہ مختار کے دست و بازو کی تنہا کارکردگی نہیں تھی بلکہ ان کے ساتھ تائیدات شامل حال تھیں ۔ تواریخ و سیراور تفاسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ مختار کے ساتھ خداوندعالم ، رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور شیر خدا کی خصوصی تائید تھی رب العزت کا قرآن مجید میں ذکر فرمانا ۔ رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ولادت مختار سے قبل بشارت دینا حضرت علیعليه‌السلام کا آغوش میں لے کر مختار کے سر پر ہاتھ پھیرنا اور ایسے الفاظ زبان مبارک پر جاری کرنا جو ہمت افزا ہوں یہ بتاتا ہے کہ ان حضرات کی تائید شامل حال تھی اور ان لوگوں کی نگاہ میں مختار کو بلند مقام حاصل تھا۔ پھر رسول خدا (ص)کا وہ خط جو مختار کو بوقت خروج دیا گیا وہ سونے پر سہاگہ ہے اور چونکہ ان حضرات کی نظر میں مختار کو بلند مقام حاصل تھا اور ان کی تائیدات غیبی شامل حال تھیں ۔ اسی وجہ سے مختار قہر خدا بن کر دشمنان آل محمد کیلئے ابھرے اور انہیں ان کے کردار کا وہ مزہ چکھایا جس کی تلخی ان کی نسلوں کے حلقوں سے شام ابد تک نہ جائے گی۔ علامہ راشد الخیری لکھتے ہیں ، مختار کا دَور حقیقةً خدائی قہر تھا جس نے دشمنان اہل بیتعليه‌السلام کو ان کے اعمال کا مزا چکھا دیا ۔ ورنہ مختار کو حکومت یا سلطنت سے واسطہ نہ تھا۔ (سیدہ کا لال ص ۲۲۴ طبع نہم محبوب المطابع دہلی ۱۹۴۳ء)

عبداللہ ابن سبا اور مختار ثقفی

آنحضرت کے بعد حضرت عثمان غنی کے ابتدائی نصف عہد خلافت تک بظاہر ملت اسلامیہ میں امن وسکون تھا ۔اور ۳۰ ء ہجری تک مسلمانوں نے دنیا کا اتنا بڑا رقبہ اہم فتح کرکے اپنی حکومت وسیاست میں شامل کر لیا تھا کہ باقی بچا ہوا تاریک رقبہ اس منوررقبہ کے مقابلہ میں کوئی قدر قیمت اور اہمیت نہیں رکھتا تھا اور اسلام دنیوی طاقتوں کے مجموعہ کو بآسانی کچل سکتی تھی ۔لیکن راس المنافقین عبد اللہ بن ابی کے بروز ثانی عبد اللہ بن سبا صنعانی یہودی نے اسلامی جامہ پہن کر اور دوسرے منافقوں سے تقویت پاکر اور بہت سے نو مسلموں کو فریب دے کر وہ سب سے پہلا فتنہ امت کے مسلمہ میں برپا کیا جس نے اسلام کو مٹائے ہوئے خاندانی امتیاز اور نسلی عصیبت کو تعلیمات اسلامیہ اور مقاصد ایمانیہ کے مقابلہ میں پھر زندہ اور بیدار کرکے مسلمانوں کو مبتلائے مصائب اور خانہ جنگی میں مصروف کر دیا ۔اور مسلمانوں نے نہ صرف یہ کہ خانہ کعبہ کی بے حرمتی کا انتقامی جذبہ کے مقابلہ میں گوار اکیا ۔بلکہ عبد اللہ ابن سبا کے بروز ثانی مختار ابن ابی عبیدہ بن مسعود ثقفی کی مشرکانہ تعلیم اور کفریہ دعاوی کو بھی جزوایمان سمجھ لیا سلیمان بن صردخزاعی ہاشمیوں اور شیعیان علی کو فراہم کرکے جنگ عین الوردہ میں ہزار ہا مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کراچکا تھا کہ مختار مذکور نے محمد بن حنفیہعليه‌السلام برادرامام حسینعليه‌السلام اور عبداللہ ابن عمر کو دھوکا دے کر کوفہ میں اپنی مقبولیت و رسوخ کیلئے راہ نکالی اور حضرت امام حسینعليه‌السلام کی شہادت اور حادثہ کربلا کے دل گداز واقعات و حسرتناک تذکرہ کو آلہ کار بنا کر عبداللہ ابن سباوالے فتنہ خفتہ کوبیدار کرکے خاندانی امتیازات اور قبائلی عصبیتوں میں جان ڈال دی پھر اس کے بعد قوت ، شوکت اور کوفہ کی حکومت حاصل کرچکا تو بجائے اس کے کہ ابتدائی دعادی و اعلانات کے موافق علویوں کو حکومت دلاتا ، مسلمانوں کو مشرک و کافر بنا نا شروع کیا۔ اس نے نہایت چالاکی سے کوفہ والوں کو اپنی کرامتوں اور خوارق عادات طاقتوں کا یقین دلایا کوفیوں کی مدد سے حاکم کوفہ کے خلاف علم بغاوت بلند کرکے خود حاکم کوفہ بن گیا

بہرحال کو فہ والوں نے جو مختار مذکور کے فریب میں آگئے اس کا سبب سوائے اس کے اور کچھ نہ تھا کہ ان کی غالب تعداد حقائق قرانی سے غافل اور تعلیمات اسلامیہ میں ادھوری تھی ۔ الخ ص ۹۔ اس کے متعلق عرض ہے کہ مضمون نگار نے مذکورہ عبارت میں اپنے ان جذبات کو پیش کیا ہے جو بعض للہی کے طور پر اس کے دل میں پیدا تھے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ بنی امیہ کی پرستاری کا یہی جذبہ شاہکار ہوتا ہے انہیں حقیقت سے بحث نہیں ہوتی یہ وہ سب کچھ کہنا چاہتے ہیں جو ان کے دل میں محبت بنی امیہ کے جذبہ کے ماتحت پیدا ہو۔ اس مضمون میں انتشار اسلام کی تمام تر ذمہ دار عبداللہ ابن سبا اور حضرت مختار پر عائد کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ حضرت عثمان کی خلافت کے نصف عہد تک ملت اسلامیہ میں امن و سکون ابن سبا نے اس سکون کو برباد کیا اور اسی کی پیروی مختار ثقفی نے کی۔ میں کہتا ہوں کہ مضمون نگار نے مذکورہ بیان میں اپنی تاریخ سے مکمل ناواقفیت کا ثبوت دیا ہے اس میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا جواب ہماری کتاب مختار آل محمد کے صفحات سے حاصل ہوگا ہم اس مقام پر صرف دو باتیں بتانا چاہتے ہیں ۔

(۱) حضرت عثمان کے نصف عہد خلافت سے فتنہ کی ابتداء ناقابل تسلیم ہے۔ اسلام میں فتنہ کی بنیاد اسی وقت پڑگئی تھی جس وقت حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قلم و دوات دینے سے انکار کردیا گیا تھا ور نص خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف خلافت کی بنیاد رکھ دی گئی تھی جیسا کہ علامہ شہرستانی نے کتاب ملل و نحل میں تحریر فرمایاہے ۔

(۲) حضرت مختارکو جس کا بروزثانی قرار دیا گیا ہے اس کا وجود ہی نہیں ہے یعنی عبداللہ ابن سباء کے وجود سے تاریخ ورجال کا استناد قاصر ہے یہ بالکل اسی طرح کا ایک افسانوی ہیرو ہے جس طرح آج بھی ناولوں میں بنائے جاتے ہیں۔

یزید کی موت چار ہزار پانچ سو محبان علی کی قید سے رہائی

یزید کی موت چار ہزار پانچ سو محبان علی کی قید سے رہائی شام میں مروان کی حکومت اورحضرت مختار کی مکہ سے کوفہ کو روانگی رسیدگی و گرفتاری اور سلیمان ابن صرد وغیرہ کی انتقامی مہم و شہادت حصرت مختار ابھی مکہ ہی میں اور بروایت مدینہ میں تھے کہ یزید لعین کا انتقال ہوگیا انتقال یزید کے متعلق مورخ طبری کا یبان ہے کہ یزید شام کے ایک دیہات میں فوت ہوا جس کا نام حوارین تھا اس کی عمر ۳۹ سال تھی۔ اس کی وفات بروز بدھ ۱۰ ربیع الاول ۶۳ ، ۶۴ ھ ئکو ہوئی ہے مدت حکومت تین سال آٹھ مہینے تھی۔ (تاریخ طبری جلد ۴ ص ۶۴۴) علماء کا بیان ہے کہ واقعہ کر بلا کی وجہ سے یز ید ایسی بیماری میں مبتلا ہوگیا۔ جس کی تشخیص ناممکن تھی ۔تمام اطبا نے بالاتفاق کہہ دیا۔ کہ اسے کوئی خاص بیماری معلوم نہیں ہوتی۔

سوا اس کے کہ قتل فرزند رسول کا تاثرا سے ستارہا ہے اور اس کا علاج سیرو تفریح اور شکار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اسی بنا پر یزید اکثر شکار کو جایا کرتا تھا ۔ ایک دن وہ دس ہزار سواروں کو ہمراہ لے کر شکار کے لیے نکلا۔ اور دمشق سے دوشبانہ روز کی دوری تک چلا گیا ناگاہ اس کو ایک خوبصورت ہرن نظر پڑا اس نے اس کے پیچھے گھوڑا ڈال دیااور اپنے لشکریوں کو حکم دیا کہ کوئی میرے ہمراہ نہ آئے وہ لوگ تو اپنے اپنے مقام پر ٹھہرگئے اور یہ اس کے پیچھے بڑھتا چلا گیا۔ ہرن جوتیزی سے ایک کے بعد دوسرے جنگل کو طے کررہا تھا وہ ایک ایسی اوجاڑ اور خوفناک وادی میں پہنچا جو دل ہلادینے والی تھی۔ جب یہ دونوں اس وادی کے درمیان میں پہنچے اور یزید نے چاہا کہ جھپٹ کر اس پر حملہ کر دے تو ناگاہ وہ نظروں سے غائب ہوگیا۔ یہ دیکھ کر یزید سخت حیران ہوا اور چونکہ اس پر پیاس کا شدید حملہ ہوچکا تھا اس لیے وہ پانی کی تلاش میں سرگرداں ہورہا تھا کہ ایک شخص مشکیزہ لیے ہوئے نظر پڑا یہ تیزی سے اس کی طرف بڑھ کر بولا خدا را مجھے ذرا سا پانی پلا دو اس نے پوچھا تو کون ہے یزید نے جواب دیا میں امیر یزید ہوں شام کا بادشاہ اس نے کہا تجھے شرم نہیں آتی ۔ فرزند رسول حضرت امام حسینعليه‌السلام کو پیاسا قتل کرکے ہم سے پانی مانگتا ہے ۔ اے ملعون ہم تجھے پانی نہیں دے سکتے اور اب ہم تجھ پر حملہ کرتے ہیں تو اس کو رد کرنے کی سعی کر۔ یہ کہہ کر اس شخص نے جودراصل ملک تھا ایک زبردست حملہ کیا ۔ یزید نے شمشیر نکالنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔ اس کے حملہ کرتے ہی اس کا گھوڑا بھڑکا اور یہ زمین کی طرف مائل ہوا ، ناگاہ ایک آگ کا گرز اس کے چہرے پر پڑا اور اس کے ٹکڑے اڑگئے اور حکم خدا سے ایک عظیم طائر نے اسے نگل لیا اور وہ طائر قیامت تک اسے اگل کر نگلتا رہے گا اور خداوندعالم اسے زندہ کرکے طائر کی پارید گی کے ذریعہ سے اسے تاقیامت عذاب الہٰی کا مزہ چکھاتا رہے گا ۔ ایک روایت کی بنا پر جب یزید کا گھوڑا بھڑکا تھا اس کی رکاب میں اس ملعون کا ایک پیررہ گیا تھا ۔ علامہ حسام الواعظ کا بیان ہے کہ یزید کتے کی شکل میں مسخ ہوگیا تھا۔ یزید کے لشکر میں دس افراد ہم نوالہ وہم پیالہ بھی تھے جب یزید کی واپسی میں غیر معمولی تاخیر ہوئی تو یہ لوگ اس کے تفحص اور تجسس میں آگے بڑھے ایک روایت کی بنا پر وہ بھی وہاں پہنچ کر جس کا نام بروایت قرة العین وادی جہنم تھا واصل جہنم ہو گئے اور دوسری روایت کی بنا پر جب وہ لوگ وادی کی طرف بڑھ رہے تھے انہیں یزید کا گھوڑا نظر آیا انہوں نے دیکھا کہ اس کا رکاب میں یزید کا ایک پیرلٹکا ہوا ہے یہ دیکھ کر فریاد و فغاں کرتے ہوئے دمشق کی طرف واپس چلے گئے۔

ایک روایت میں ہے کہ جیسے ہی ان لوگوں کی نگاہ رکاب فرس پر پڑی ایک خوفناک فضای آواز نے ان کے دل ہلا دئیے ے یہ آواز ایسی تھی جس کے صدمہ سے بعض دم دے بیٹھے اور بعض بھاگ کر نیم جاں دمشق جاپہنچے ۔ ایک روایت میں ہے کہ اس آواز نے جو زبانیہ جہنم کی تھی سب کو نیست و نابود کردیا ۔ اخذ الثار و انتصار المختار لابی مخنف ضمیمہ بحار جلد ۱۰ ص ۴۸۵وقرة العین ص ۱۳۳ و نور الابصار ص ۵۵)

وفات یزید سے ملک میں انتشار اور شیعیان علی کی قید سے رہائی یزید کی گم گشتگی اور اس کے دس خصوصی دوستوں کی عدم واپسی اور ناپیدگی کی وجہ سے لشکر یزید سخت حیران و پریشان چکر کھاتا رہا۔ بالاخر اسے یقین ہوگیا کہ یہ لوگ کسی عذاب میں مبتلا ہوکر جان عزیز دے بیٹھے ہیں اس تیقن کے بعد یہ لشکر سرگرداں وارد دمشق ہوا ۔

اس کے دمشق میں پہنچتے ہی انتشار عظیم پیدا ہوگیا۔ ممالک محروسہ میں طوائف الملوکی کا دور دورہ ہوگیا جو یہاں یزید کی طرف سے حکومت کرتا تھا۔ وہ خود مختار حاکم بن گیا دمشق میں دو قسم کے خیالات رونما ہوگئے بعض خیالات یزید کی ہمدردی سے متاثر تھے اور بعض اس کی موت سے فرحناک تھے۔

واستنبه المومنون فتبادرواالی واره وذبحو ا اولاده و حریمه واخذواجمیع ماله ۔

یزید کے مرنے کی جونہی اطلاع شیعیان علی بن ابی طالب کو ہوئی وہ والئی کوفہ کی طرف دوڑ پڑے اور انہوں نے مکان کو گھیرے میں لے کر اس کے بعد اولاد اور حریم کو قتل کردیا اور مال و دولت لوٹ لیا۔ (قرة العین ص ۱۳۴ )

مومنین ان لوگوں کے قتل و غارت میں مشغول ہی تھے کہ بنی امیہ کا ایک عظیم فوجی دستہ آگیا دونوں میں باہمدگرتادیر جنگ ہوئی بالآخر لوٹا ہوا مال واپس ہوگیا۔ (نورالابصار ص ۵۶) علماء ومورخین کا بیان ہے کہ یزید کے مرنے کی جونہی خبر کوفہ میں پہنچی شیعیان علی بن ابی طالبعليه‌السلام جو اپنے کو شیعہ ظاہر نہ کرسکتے تھے رونما ہوگئے اور سب نے یکجا ہوکر ابن زیاد کے مکان پر حملہ کیا ان کے ہاتھ میں ایک جھنڈا تھا یہ لوگ ۔ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ علی ولی اللہ کے مسلسل نعرے لگارہے تھے ان لوگوں نے اس کے مکان کو گھیر لیا اور اسے اچھی طرح لوٹا انہیں جو مِلا اسے تلوار کے گھاٹ اتار دیا۔ یہاں سے فراغت کے بعد یہ لوگ اس قید خانہ کی طرف چلے جس میں چار ہزار پانچ سوشیعیان علی بن ابی طالب گرفتار تھے یہ وہی قید خانہ تھا جس میں اس سے قبل حضرت مختار بھی گرفتار تھے اس قید خانہ کی حالت نہایت ناگفتہ بہ تھی اس کے قیدی عموما ً بھوکے پڑے رہتے تھے اور اکثر زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے ۔ حصرت مسلم بن عقیل جب کوفہ تشریف لائے تھے تو ان کے منصوبہ میں ان لوگوں کی رہائی بھی تھی یہ قیدی کوفہ اور اطراف کو فہ کے باشندے تھے انہیں اس درجہ مجبور رکھا گیا تھا کہ یہ زندگی کی سانس لینے سے بھی عاجز تھے ان کی اسی قید نے انہیں مسلم بن عقیل اور حضرت امام حسینعليه‌السلام کی امداد سے روک رکھا تھا ۔ عالم اہل سنت امام عبداللہ ابن محمد لکھتے ہیں۔

کان یزید مولی ابن زیاد علی الکوفه والبصرة فکان یقیم فی کلاهما ستة اشهر وکان فی ذالک الوقت فی البصرة وکان فی جسه الذی بالکوفة اربعة الاف و خمساة فارض وهم الذین کانوا مع المختار مقیدون مظلومون لم یتمکنوامن ذالک علی نصرة الحسین فلما جاالخبربهلاک یزید فادل مافعلوااهل الکوفة نهبرادار ابن زیاد و قتلوا اصحابه وادلاد وهتکم احریمه واخذ واخیل رجاله وکرواجبه وارخرجوامن فیه فکان فیهم سلیمان من صردالخزاعی وسعید بن صفوان ویحیی من عوف ومثلهم من الابطال واشجعان فلما خرجواتقا سمو الخیل والمال وهلکو الباقین من اهل ابن زیاد ولم یبق منهم الانفرقدهرب وسار الی البصرهواعمله بما حصل

(قرة العین ص ۱۳۴ ، طبع بمبئی)

یزید ابن معاویہ نے عبید اللہ ابن زیاد کو کوفہ اور بصرہ کا گورنر بنا رکھا تھا ۔ وہ دونوں مقامات پر چھ چھ ماہ قیام کیا کرتا تھا۔

ہلاک یزید کے وقت وہ بصرہ میں مقیم تھا اس کے اس قید خانہ میں جو کوفہ میں تھا چار ہزار پانچ سو بہادر قید تھے یہ وہی لوگ تھے جو حضرت مختار کے ساتھ گذشتہ دنوں میں وہاں موجود تھے اور مقید تھے اور سخت ظلم کی سختیاں برداشت کررہے تھے یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ حضرت امام حسینعليه‌السلام کی امداد نہ کرسکے تھے جب یہ خبر پہنچی کہ یزید ہلاک ہوگیا ہے تو اہل کوفہ نے سب سے پہلَے ابن زیاد کے مکان کو لوٹا اور اس کے ہر کاروں اور اولاد کو قتل کیا اور اس کے داشتہ یا دیگر عورتوں کی بے حرمتی کی اور اس کے مال مویشی کو لوٹا اور اس کے قید خانہ کو توڑ کر اس میں سے ان سب کو رہا کردیا جو اس میں تھے اسی قید خانہ میں سلیمان بن صرد خزاعی ، سعید ابن صفوان یحییٰ بن عوف اور انہیں کے مثل بڑے بڑے بندتھے ۔ جب یہ لوگ قید خانہ سے نکلے تو انہوں نے گھوڑے اور مال بانٹ لیا اور ابن زیاد کے جو کچھ لوگ باقی رہ گئے تھے سب کو قتل کرڈالا یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص کے علاوہ جو بھاگ کر بصرہ پہنچا اور اس نے اس واقعہ کی خبر دی اور کوئی باقی نہ بچا۔ ابومخنف کا بیان ہے کہ اسی قیدخانہ میں حضرت ابراہیم بن مالک اشتر نخعی اور صعبصعة العبدی بھی تھے۔ (اخذ الثار ص ۴۸۶ طبع ایران نورالابصار ص ۵۶ طبع لکھنو)

قید خانہ سے رہائی کے بعد بالاتفاق یہ فیصلہ ہوا کہ سب کو مجتمعا امام حسین کے خون کا بدلا لینا چاہیے چنانچہ جملہ سرفروشان اسلام جناب سلیمان بن صردخزاعی کے مکان پر جمع ہوگئے یہ بزرگ صحابی رسول ہونے کے علاوہ اور بہت سے صفات سے متصف تھے ۔ استیعاب میں ہے کہ یہ مرد نیک فاضل و عابد اور بڑے مجاہد تھے ، فتح مکہ جمل و صفین میں انہوں نے کارہائے نمایاں کیے تھے ان کا نام عہد جاہلیت میں"یسار "تھا لیکن سرور عالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سلیمان رکھ دیا تھا ۔ ابن زیاد کی قید میں ہونے کی وجہ سے یہ بھی واقعہ کربلا میں شریک نہ ہوسکے تھے وہ حضرات امام حسینعليه‌السلام کی مدد نہ کر سکے ان میں نمایاں حیثیت حضرتسلیمان بن صرد خزاعی ۱ مسیب ابن نخبہ ضراری عبدالہ ابن سعید بن نفیل ازدی عبداللہ ابن والی تمیمی رفاعہ بن شداد کو حاصل تھی ۔ یہ حضرات رسول کریم اور علی حکیم کے اصحاب کبار میں سے تھے۔ جب تمام حضرات جناب سلیمان بن صردخزاعی کے مکان پر جمع ہوگئے تو سلیمان بن صرد نے کھڑے ہوکر ایک درد بھری تقریر کی جس میں آپ نے اس وقت کے موجود حالات پر روشنی ڈالی اور اپنے ساتھیوں سے یہ کہا کہ ہمارے دلوں میں لگی ہوئی صدمہ کی آگ اس طرح بھج سکتی ہے کہ ہم میدان عمل میں نکل آئیں اور دشمنان و قاتلان حسین کو گن گن اور چن چن کر ماردیں آپ کی تقریر کے بعد رفاعہ بن شداد کھڑے ہوگئے۔

اور انہوں نے آپ کی تقریر کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بے شمار دشمنوں سے چونکہ اس سلسلہ میں مقابلہ کرنا پڑے گا ۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم کسی کو اپنا (کمانڈر سردار مقرر کرلیں تاکہ منظم طور پر بدلا لینے میں کامیابی حاصل کرسکیں ۔ اور سنو میری نگاہ میں اس منصب کیلئے سلیمان بن صرد سب سے زیادہ موزوں ہیں۔ رفاعہ کے بعد مسیب بن نخبہ نے کہا کہ میں رفاعہ کی پوری پوری تائید کرتا ہوں ۔ بے شک ہم سب میں ان کو مختلف حیثیتوں سے تفوق حاصل ہے مسیب کی تقریر کے بعد سب نے متفقہ طور پر جناب سلیمان بن صرد کو اپنا رئیس وسردار تسلیم کر لیا اور سب کے سب خون بہا کی خاطر جنگ کے لیے تیار ہوگئے۔ حضرت سلیمان بن صرد نے قوم کے ابھرتے ہوئے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اپنے خصوصی جذبہ انتقام کی رعایت سے پوری پوری توجہ مبذول کردی اور یہ طے کر لیا کہ یا تو قاتلان حسینعليه‌السلام کو قتل کردیا جائے گا ۔

یا ہم لوگ خود سرسے گزرجائیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے دیار و امصار میں خطوط روانہ کرنا شروع کردیے اور اپنی پوری کوشش سے کیثر تعداد میں شیعیان علی بن ابی طالب کو فراہم کرلیا ۔ حضرت سلیمان نے سب سے پہلے جن لوگوں کو خطوط لکھے ان میں سعد بن خذیفہ یمانی اور مثنی بن مخزمة العبدی تھے ۔ یہ لوگ مدائن میں قیام پذیر تھے ۔ انہوں نے حضرت سلیمان کو نہایت امید افزا جواب دیا ۔ (ذوب النضار ص ۴۰۳ ، نورالابصار ص ۶۰)

حضرت سلیمان تکمیل خروج کی تیار ی میں مصروف و مشغول تھے کہ حضرت مختار مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوگئے۔

ابن زیاد کی بصرہ سے روانگی اور سلیمان کی پیش قدمی

ادھر حضرت مختار قید خانہ میں داخل کردیئے گئے ادھرسلیمان بن صرد خزاعی کو اطلاع ملی کہ ابن زیاد بصرہ سے بہ ارادہ شام روانہ ہورہا ہے۔ سلیمان بن صرد نے فیصلہ کیاکہ کوفہ سے روانہ ہوکر شام کے راستے ہی میں ابن زیاد کو قتل کردیا جائے۔ اس فیصلہ کے بعد حضرت سلیمان بن صرد بارادہ قتل ابن زیاد کوفہ سے سمت بصرہ روانہ ہوگئے ایک روایت کی بنا پر آپ کے ہمراہ چار ہزار پانچ سو بہادر تھے آپ نے شام اور بصرہ کے ایک درمیانی شارع پر اپنا پر اجما دیا ۔ خیال تھا کہ ابن زیاد اسی طرف سے گذرے گا ۔ اور ہم اسے پکڑ کر قتل کردیں گے تھوڑے عرصہ انتظار کے بعد بصرہ کی طرف پیش قدمی شروع کردی۔ ابن زیاد جو حاکم بصرہ بھی تھا کو یزید کی موت کی جونہی اطلاع ملی سخت حیران و پریشان ہوا وہ ابھی اسی تردد میں تھا کہ کوفہ کی خبریں اسے وصول ہوگئیں۔ اب تک وہ یہ رائے قائم نہ کرسکا تھا کہ مجھے کیاکرنا چاہیے کہ نگاہ بروایت رو ضۃ المجاہدین نامہ برکبوترنے مروان بن حکم کا ایک خط پہنچایا جس میں لکھا تھا کہ یزید کا انتقال ہوگیا ہے اور ہر طرف طوائف الملوکی نے زور پکڑلیا ہے دمشق پرقبضہ جمانے کے لیے عبداللہ بن عمر پورا زور لگا رہا ہے لہٰذا جس طرح ممکن ہوسکے تو جلد سے جلد دمشق پہنچ جا۔ حالات کو دیکھتے ہوئے ابن زیاد نے فورا منادی کے ذریعہ سے مسجد جامع میں لوگوں کو جمع کیا ۔ جب اجتماع ہوگیا تو وہ منبر پر گیا لوگوں کو اس کی اطلاع نہ تھی کہ یزید ہلاک ہوگیا ہے اور لوگ یہ بھی نہ جانتے تھے کہ کس لیے سب جمع کیے گئے ہیں ابن زیاد نے اہل بصرہ سے کہا کہ یزید کو کوئی ضرورت لاحق ہوگئی ہے اور اس نے مجھے جلد سے جلد دمشق پہنچے کا حکم دیا ہے اس لیے میں یہاں سے جارہا ہوں اور تم پر اپنا قائم مقام اپنے بھائی عثمان بن زیاد کو کیے جاتا ہوں تم لوگ اس کی اطاعت کرنا اور اس کے حکم کو ناقد سمجھنا ۔

اگر مجھے وہاں زیادہ دنوں تک رہنا پڑا ۔ تو میں تمہیں مسلسل خطوط لکھتارہوں گا ورنہ خیال ہے کہ جلد سے جلد تم تک واپس پہنچ جاؤں گا ان لوگوں نے سمعاوطاعة کہہ کر جواب دیا اور وہ منبر سے نیچے اترآیا اس کے بعد کہنے لگا کہ تم میں کون ایسا ہوشیار شخص ہے جو مجھے مناسب راستے سے شام پہنچا دے ، اور سنو جو اس خدمت کو میری مرضی کے مطابق سرانجام دے گا اسے میں اپنے دونے وزن کے برابر سونا دوں گا ۔ یہ سن کر عمر بن جارود جواپنی قوم کا سردار اور بنی امیہ تھا اٹھ کھڑا ہوا کہنے لگا۔ اے امیر یہ فریضہ میں ادا کروں گا اور تجھے اس خوبصورتی وسہولت سے دمشق پہنچا گا کہ توبھی تاقیامت یاد رکھے گا اے امیر میں تجھے اپنے بزاقہ میں سوار کرکے لے چلوں گا اور دمشق پہنچا دوں گا

اور سن میں تیری حفاظت کے لیے اپنے جملہ فرزند اور خادم ہمراہ لے چلوں گا میرے اکیس بیٹے ہیں اور سب بڑے بہادر ہیں میرا ایک بیٹا بیس سواروں کے برابر ہے یہ سن کر ابن زیاد خوش و مسرور ہوگیا اور کہنے لگا کہ اگر تیرے یہ خیالات اور تیرا یہ عزم ہے تو سن میں تجھے دونی کے بجائے چوگنی بخشش دوں گا یعنی اپنے وزن کے چار گنا برابر تجھے سونا دوں گا اور یہی نہیں بلکہ ایسا بھی کروں گا کہ تجھے اپنا مقرب بنالوں گا اور یزید کے بھی خواص میں تجھے داخل کردوں گا بس اب تو یہ کر کہ مجھے اقرب طرق سے جس قدر جلد ممکن ہوسکے دمشق پہنچا دے اور یہ بھی سن لے کہ میں تیرے ساتھ ایک ہووج میں سوار ہوں گا اور جوکچھ تجھے دینا ہے وہ سارے کا سارا دوسرے ناقہ پر لاد کر لے چلوں گا اس کے بعد ابن زیاد نے عمر بن جارود کو حکم دیا کہ اپنے گھروالوں سے رخصت ہوکر ایسے وقت پر یہاں پہنچ جائے کہ روانگی کے بعد ظہر سے قبل بصرہ سے کئی میل دور نکل چلیں اس نے اسے قبول کرلیا اور گھروالوں سے رخصت ہونے کے لیے ابن زیاد کے پاس سے چلا گیا تھوڑی دیر کے بعد تیار ہوکر حاضر ہوا۔ عمر بن جارود کے پہنچتے ہی ابن زیاد نے حکم دیا کہ سفر کے لیے میرا ناقہ لایا جائے اور اس پر عمدہ قسم کا ہووج باندھ دیا جائے ، اس کے بعد خود سامان سفر درست کرنے لگا ابن زیاد کے چار بیٹے تھے جن میں سب سے بڑے کی عمر دس سال تھی سب تیار ہوکر گھر سے باہر نکل آئے اس کے بعد ابن زیاد چار سو غلاموں اور پندرہ مخصوصین سمیت سواریوں پر سوار ہوا اور ابن جارود اپنے لڑکوں سمیت ناقوں پر سوار ہوا اور سوخچروں یا ناقوں پر سامان لادا گیا اور روانگی عمل میں آئی یہ قافلہ بڑھتا چلا جارہا تھا کہ راستے میں چار ہزار پانچ سو اہل کوفہ جو قید سے رہا ہوئے تھے مسلح موجود تھے ابن جارود کے فرزندوں میں ایک ایسا فرزند بھی تھا جو ایک فرسخ سے زائد کی دوری کے آنے والے کو پہچان لیتا تھا کہ یہ کون ہے آنے والا آیا لشکر ہے یا جانور ، سواروں کا گروہ ہے یا پیادوں کا چلتے چلتے اس نے ایک مقام پر محسوس کیا کہ کوئی لشکر کوفہ کی سمیت سے اسی راستے پر آرہا ہے اس نے فوراً اپنے باپ سے کہا کہ کوفہ کی طرف سے ایک عظیم لشکر آتا ہوا نظر آتا ہے مجھے گمان ہے کہ یہ ہمارے لیے آرہا ہے اور اب یقینی طور پر خطرہ ہی خطرہ ہے یقینا ان لوگوں کو یہ معلوم ہوچکا ہے کہ ابن زیاد ہمارے ہمراہ عازم سفر ہے۔ یہ سن کر ابن جارود ابن زیاد کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا کہ مجھے اب صحیح واقعہ بتا اور اپنی روانگی کا سبب واضح کرورنہ ہم سب مارے جائیں گے ابن زیاد نے کہا کہ سن بات یہ ہے کہ یزید بن معاویہ ہلاک ہوگیا ہے اور مجھے اطلاع ملی ہے کہ اہل کوفہ نے میرے دارالامارة پر حملہ کرکے میرا سب کچھ لوٹ لیا ہے مال مویشی سب لے گئے ہیں خزانہ پر قبضہ کرلیا ہے اور اس قید خانہ کو توڑ دیا ہے جس میں چار ہزار پانچ سو شیعیان علی گرفتار تھے مجھے گمان ہے کہ انہیں یہ اطلاع مل گئی ہے کہ میں بصرہ سے دمشق جارہا ہوں مجھے ظن غالب ہے کہ یہ لشکر ہماری ہی تلاش میں آرہا ہے اے ابن جارود اب تو میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور میرے حواس قابو میں نہیں ہیں یقینا یہ لوگ مجھے قتل کریں گے۔ عمر بن جارود نے کہا کہ اے ابن زیاد تو نے جوبات بتائی ہے اس سے تو بالکل واضح ہے کہ جان کا اب بچنا نا ممکن ہے البتہ میں ایک حیلہ تجھ سے بتاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تجھے ایک ناقہ کے شکم میں باندھ دیا جائے اور اس ناقہ پر مشکیزے مسدود کردئیے جائیں اور اس ناقے کو دیگر ناقوں کے درمیان کردیا جائے کیونکہ یہ لشکر ناقوں ہی کا جائزہ لے گا اور خدا کی قسم اگر انہوں نے تجھے دستیاب کرلیا تو ہرگز تیر اایک قطرہ خون بھی نہ چھوڑیں گے۔ ابن زیاد نے کہا کہ بہتر ہے ایسا ہی کرو بہرصورت جان بچانی ضروری ہے اس کے بعد ابن جارود ایک ناقہ لایا اور اس کے پیٹ میں ابن زیاد کولپیٹ کر باندھ دیا اور اس کے داہنے بائیں ہوا سے بھر کر مشکیزے باندھ دئیے اور ان پر ایک جل لٹکا دیا۔ اس کے بعد یہ لوگ آگے کو روانہ ہوگئے۔ ابھی دیرنہ گذری تھی کہ لشکر کوفہ زیر قیادت حضرت سلیمان بن صردخزاعی وہاں جاپہنچا ۔ وہ لشکر یالثارات الحسین ، کے نعرے لگا رہا تھا یہ دیکھ کر ابن جارود گھبرا گیا لیکن حوصلہ پر قابو رکھتے ہوئے بولا۔ اے لوگو! تم کس سے امام حسینعليه‌السلام کے خون کا بدلا چاہتے ہو ۔ ان لوگوں نے کہا کہ عبیداللہ ابن زیاد سے اس نے کہا کہ وہ یہاں کہاں ہے ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہمیں موثق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وہ تیرے ہمراہ بصرہ سے دمشق کے لیے روانہ ہورہا ہے اور یقینا تیرے ہمراہ ہے۔ عمر بن جارود نے کہاکہ اے لوگو! سنو ، نہ اس وقت ہم تاریکی میں ہیں نہ کسی دیوار کی آڑ میں ہیں نہ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی پردہ حائل ہے ہم لوگ اِس بے آب و گیاہ بیابان میں ہیں کھلے ہوئے جنگل میں ہیں ہمارے ناقے تمہارے سامنے ہیں تم اچھی طرح ان کی تلاشی لے لو اگر ابن زیاد برآمد ہوجائے تو جو تمہارا جی چاہے کرنا۔ یہ سن کر ان لوگوں نے ابن زیادکی تلاشی کے لیے نا قوں کی تلاشی لینی شروع کی اور تادیر اچھی طرح تلاشی لی ۔

مگر وہ ملعون برآمد نہ ہو ا ۔ان لوگوں نے یہ گمان کیا کہ شاید وہ کسی اور راستے سے دمشق کے لیے نکل گیا ہے لیکن کوئی اس نتیجہ پر نہ پہنچا کہ وہ بطن نا قہ سے بندھا ہوا ہے حضرت سلیمان بن صرد نے ابن زیاد کی عدم برآمدگی کے بعد کہا کہ خدا کی قسم ہما را مخبربالکل سچاِہے یقنیاََ ابن زیاد بصرہ سے نکل کر دمشق کی طرف جارہاہے۔اب میری رائے یہ ہے کہ ہم لوگ اس کے پہنچنے سے پہلے اسے جس صورت سے ہو سکے۔گر فتا رکریں۔اور قتل کردیں اس کی صورت یہ ہے کہ ہم کمین گاہ میں اس کاانتظار کریں۔ اور جب وہ مل جائے تواسے اوراس کے جملہ ساتھی کوتلوار کے گھاٹ اُ تاردیں اور بنی اُ میہ اور دیگر لوگوں میں سے اسے لوگوں کو ہر گز نظر انداز نہ کر یں جو قتل حسین میں شریک تھے اہل لشکر نے سلیمان علیہ الر حمہ کی تائید کی اور سب کے سب اس مقام سے چل پڑے۔ جب حضرت سلیمان بن صرد کالشکر کافی دُور نکل گیا تو ابن جاردو نے ابن زیاد کو بطن ناقہ سے کھول کر پشت ناقہ پر ہووج میں سوار کیا اور سب تیزی کے ساتھ دمشق کیلئے روانہ ہوگئے بیس یوم راستے میں گزارنے کے بعد ابن زیادملعون دمشق پہنچ گیا وہاں پہنچ کر اس نے ابن جارود کو بیس ہزار اشرفیاں دیں اور اسے رخصت کردیا۔ (نورالابصار فی اخذ الثار ص ۷۶ ، قرة العین ص ۱۳۶ واخذ الثار و انتصار المختار از ابی مخنف ص ۴۸۰ طبع ایران)

آغا سلطان مرزا لکھتے ہیں کہ یزید کے واصل جہنم ہونے کے چھ مہینے کے بعد نصف ماہ رمضان میں مختار ابن ابی عبیدہ کوفہ میں آئے رمضان کے ختم ہونے کے آٹھ دن قبل ابن زبیر کی طرف سے عبداللہ ابن یزید الانصاری کوفہ کے والی مقرر ہوکرآئے۔ ان چھ سات مہینوں میں حکومت کوفہ و بصرہ میں تغیر و تبدل ہوئے وہ یہ تھے ۔ یزید کی موت کی خبر عبیداللہ ابن زیاد والی بصرہ کو اس کے غلام حمران نے پہنچائی ۔ عبیداللہ ابن زیاد نے ایک صلوٰة جامعہ کی منادی کرائی اور لوگوں کو یزید کے مرنے کی خبر دی ان لوگوں نے عبیداللہ ابن زیاد کی بیعت کرلی لیکن باہر نکل کر اپنے ہاتھوں کو دیوار سے رگڑا گویا عبیداللہ ابن زیاد کی بیعت کو ہاتھوں سے چھٹا دیا اور کہا کہ ابن مرجانہ یہ جانتا ے کہ ہم اجتماع وافتراق میں اس کے مطیع رہیں گے ، ادھر عبیداللہ بن زیاد نے اہل کوفہ کو مطلع کیا کہ اہل بصرہ نے میری بیعت خلافت پر کرلی ۔ تم بھی کرلو اس وقت کوفہ کا والی عمروبن حریث تھا ۔ اہل کوفہ نے انکار کیا اور اس انکار کا اثر اہل بصرہ پر بھی پڑا ۔ اور وہ ابن زیاد کی نافرمانی کرنے لگے اتنے میں مسلمہ بن ذویب الحنظلی بصرہ میں آیا اور لوگوں کو عبیداللہ ابن زیاد کی طرف دعوت دی ۔ عبیداللہ ابن زیاد بھاگ گیا اور عبیداللہ ابن حارث بن نوفل ابن عبدالمطلب کو اپنا ولی بنا لیا یہ واقعہ یکم جمادی الآخر ۶۴ھ مطابق ۲۶دسمبر ۶۸۳ ء کا ہے عبداللہ ابن زیاد کچھ دنوں مسعود بن عمر و کی حمایت میں رہا مسعود بن عمرو نے دارالامارہ بصرہ پر قبضہ کرانے کی کوشش کی لیکن یکم شوال ۶۴ ھ مطابق ۲۲ مئی ۶۸۴ ھ کو مارا گیا اور عبیداللہ ابن زیاد شام کی طرف بھاگ گیا ادھر لوگوں نے عبداللہ ابن ہارث ابن نوفل کو حکومت سے معزول کردیا ۔ اور پھر عبداللہ ابن زبیر نے اپنی طرف سے عمروبن عبداللہ ابن معمر کو بصرہ کا والی مقرر کرکے بھیج دیا۔

اس طرح بصرہ ابن زبیر کی سلطنت میں چلاگیا۔ کوفہ کی یہ حالت ہوئی کہ اہل کوفہ نے عبیداللہ ابن زیاد کے نائب عمرو بن حریث کو اس کے عہدہ سے برطرف کردیا اور اپنی طرف سے عامر بن مسعود بن امیہ ابن خلف ابن وہب کو والی مقرر کرکے ابن زبیر کو اس کی اطلاع دی۔ اس وقت تو ابن زبیر نے اس کو منظور کرلیا لیکن پھر اپنی طرف سے عبداللہ ابن یزید والی کوفہ مقرر کردیا۔ یزید کے واصل جہنم ہونے کے تین مہینے کے بعد تک عامر بن مسعود حاکم رہا۔ پھر عبداللہ ابن یزید الانصاری ۲۲ رمضان ۶۴ھ مطابق ۱۴مئی ۶۸۴ ء کو ابن زبیر کی طرف سے آگیا۔ اس کے آنے سے آٹھ دن پہلے مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی کوفہ میں آچکے تھے۔ (نورالمشرقین ص ۸۶طبع کراچی)

ابن زیاد کی دمشق میں رسیدگی اور مروان کی حکومت کا استقرار ابن جارود کی پوری پوری حمایت کے سبب عبیداللہ ابن زیاد دمشق پہنچ گیا، دمشق پہنچنے کے بعد ابن زیاد نے حالات کا جائز ہ لیا اور چونکہ بہت زیادہ انتشار تھا۔

لہٰذا دوڑا ہوا مروان کے پاس پہنچا اور اس سے کہنے لگا کہ تیرے ہوتے ہوئے لوگ متحیر ہیں کہ کس کی بیعت کریں اور کس کے تابع فرمان ہوں تم ایک خاندانی آدمی ہواور دنیا کے نشیب و فراز سے بہت اچھی طرح واقف ہوسنو میں بڑی مشکل سے جان بچا کر بصرہ سے یہاں تک پہنچا ہوں اور مجھے تم سے جو عقیدت ہے اس کا تقاضا ہے کہ میں تم سے اس باب میں گفتگو کروں اور اس کی طرف تمہیں متوجہ کروں۔ اس لیے میں تمہارے پاس آیا ہوں اور تم سے درخواست کرتا ہوں کہ اس اہم مسئلے پر ٹھنڈے دل سے اپنی پہلے فرصت میں غور کرو۔

بصرہ سے کوفہ پہنچنے کے بعد مجھے پتہ چلا ہے کہ لوگ عبداللہ ابن عمر کی طرف مائل ہورہے ہیں۔ اے مروان ! مجھے اندیشہ ہے کہ کسی ایرے غیر ے کی لوگ بیعت کرلیں گے اور سلطنت امیہ خراب ہوجائے گی ۔ مروان نے کہا کہ اس کے بارے میں تمہاری اپنی رائے کیا ہے ۔ ابن زیاد نے جواب دیا کہ میری رائے تو یہ ہے کہ ان لوگوں کو اپنے مقام پر جمع کرو اور اپنے ابن عم یزید بن معاویہ کے خزانے کا دہانہ لشکروں اور فوجیوں کے لیے کھول دو اور ان پر پورا پورا انعام کرو میں تمہارے لیے سب سے پہلے بیعت لوں گا اور تم اپنے ابن عم کے قائم مقام ہوجاؤ گے اور سنو میں تمہارے لیے سواونٹوں میں لادکر سونا اور چاندی بصرہ سے لایا ہوں ۔ انہیں لے لو اور فوجیوں میں تقسیم کردو تاکہ یہ لوگ بآسانی تمہاری بیعت کرلیں اور جب اہل شام تمہاری بیعت کرلیں تو تم عراق کی طرف نکل چلو میں بصرہ اور کوفہ کی مہم خود سنبھال لوں گا اور دونوں مقامات پر تمہارے نام کا خطبہ جاری کرادوں گا اور خراسان واصفہان اور مکہ و مدینہ نیز دیگر شہروں کی طرف نامے لکھ دوں گا کہ لوگ مروان کی بیعت کرچکے ہیں لہٰذا تم لوگ بھی بیعت مروان کرلو۔ مروان نے کہا اے ابن زیاد اگر تم ایسا کرسکو تو پھر کیا کہنا میں تمہیں اپنی جان عزیز کے برابر سمجھوں گا ۔ یہ سن کر ابن زیاد نے حکم دیاکہ فرش بچھا کر اس پر درہم و دینار انڈیل دئیے جائیں چنانچہ فرش پر روپے اور اشرفیوں کے ڈھیر لگ گئے اس نے یزید کے مخصوص لوگوں اور سرداروں اور لشکریوں کو اس رقم سے زیادہ دے دیا جویزید دیا کرتا تھا ۔ اس کے بعد سب نے مروان کی بیعت کرلی اور عہد و پیمان سے انہیں اچھی طرح جکڑدیاپھر یزید کے جملہ خزائن پر قبضہ کر لیا اور مروان کو دارالامارة یزید میں لاکر بٹھا دیا ۔ (نورالابصار ص ۷۸)

مورخ ہروی کا ارشاد ہے کہ ابن زیاد بصرہ سے رات کے وقت چھپ کر نکلا تھا اور اس کے نکلتے ہی لوگوں نے دارالامارة لوٹ لیا۔ اور قید خانہ توڑ کر سب کو نکال دیا۔ (رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۶۹)

مورخ طبری ومورخ ہروی کا بیان ہے کہ جب عبداللہ بن زبیر کی مدینہ ، مکہ ، حجاز اور عراق میں بیعت کرلی گئی تو اہل شام نے ابن زبیر کو لکھا کہ ہم لوگ بھی تمہاری بیعت کرنا چاہتے ہیں لہٰذا تم اپنی پہلی فرصت میں شام آجاؤ عبداللہ ابن زبیر نے انہیں جواب دیا کہ میں شام آنے کے لیے تیار نہیں ہوں جو میری بیعت کرنا چاہتا ہو اسے چاہیے کہ میرے پاس آکر بیعت کرے اہل عراق نے بیعت کرلی عبدالرحمن بن محمد النہری کو مصر بھیج دیا اور ابن زبیر نے اپنے بھائی عبیدہ کو مدینہ بھیج دیا۔ اور وہاں کا گورنر کردیا اور اسے حکم دے دیا کہ مدینہ میں جو اموی شخص ہو اسے وہاں سے نکال باہر کرو اور انہیں شام کے اس طرف کہیں ٹھہرنے نہ دو اس مقام پر بنی امیہ کا سربراہ اور دبیر مملکت مروان بن حکم تھا۔ عبیدہ نے سب کو مدینہ سے نکال دیا اور سب کے سب شام جاپہنچے ۔ یزید کے مرنے کے بعد اس کے وہ گورنر جو ممالک محروسہ میں مقرر تھے پانچ تھے حمص کا امیربشیر بن نغمان بن بشیر الانصاری تھا اور دمشق کا امیرضحاک بن قیس فہری تھا اور قیسرین کا امیر حارث کلابی تھا اور فلسطین کا امیرنائل ابن قیس تھا اور حسان بن مالک کی طرفداری میں خالد تھا حسان نے اسے مقرر کیا تھا کہ تمام اہل شام سے بیعت لے لے ابھی دمشق میں ہل چل مچی ہوئی تھی ۔ کہ حصین بن نمیر مکہ سے شام پہنچ گیا اور اس نے کہا کہ حسان سے بیعت کرلو۔

کیونکہ ابن زبیر نے نہایت سخت جواب اس چیز کا دیا ہے جب میں نے اس سے کہا کہ شام چلو تمہاری بیعت کرلی جائے اس نے کہا مجھے تمہاری بیعت کی ضرورت نہیں ہے۔ ابھی دمشق میں بیعت کی ہلچل مچی ہی ہوئی تھی کہ مروان بن حکم مدینہ سے دمشق پہنچ گیا ۔ اس نے وہاں کے حالت کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا کہ بشیربن نعمان بن بشیر الانصاری کی بیعت کرنی چاہیے کیونکہ یہ سب سے زیادہ کبیر السن ہے حصین جو خالد کی تائید میں تھا مروان نے اس کی یہ کہہ کر مخالفت کی کہ خالد بن یزید بہت کم سن ہے اس سے حکومت کا بارنہ اٹھایا جاسکے گا ۔ مروان کا یہ خیال بھی تھا کہ اگر کسی موزوں شخص پر رائے قائم نہ ہو تو پھر ابن زبیر کی بیعت کرنی چاہیے غرضیکہ یہی الجھن پڑی ہوئی تھی کہ عبیداللہ ابن زیاد بصرہ سے بھاگ کر دمشق پہنچا اور اس نے مروان کو اونچا نیچا سمھجا کر کہا کہ خالد تو کسی صورت سے حکومت کرنے کے قابل نہیں ہے اگر یہ کم سن نہ بھی ہوتا تو بے وفا اور دروغ گوہوتا کیونکہ یہ یزید ہی کا بیٹا ہے یزید نے مجھے پچاس خطوط لکھے تھے کہ امام حسینعليه‌السلام سے جلد بیعت لے لے اور اگر وہ بیعت سے انکار کریں تو ان کا سر کاٹ کر میرے پاس بھیج دے اور جب میں نے اس کے حکم کی تعمیل کردی تو لوگوں سے کہنے لگا کہ میں نے حکم قتل نہیں دیا تھا ۔ (تاریخ کے عیون الفاظ یہ ہیں:۔ عبداللہ گفت راست گفتی کہ خرداست واگر بزرگ باشد بے وفا بودودروغ زن یزید رانز ومن پنجاہ نامہ است کہ حسین بن علی رابگیر واگر بامن بیعت نہ کند سر اورابمن فرست اوبیعت نہ کرد ومن سرش رابد و فرستادم (تاریخ طبری جلد ۴ ص ۶۴۷، رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۶۹)

عبیداللہ ابن زیاد نے مروان سے کہا کہ تو نے یہ درست کہا ہے کہ خالد بن یزید کمسن ہے اور اگر کم سن نہ ہوتا تو بے وفا اور جھوٹا ہوتا کیونکہ اس کا باپ بھی ایسا ہی تھا یزید نے مجھے پچاس خطوط لکھتے تھے کہ امام حسینعليه‌السلام سے میری بیعت لے لے اور اگر وہ بیعت نہ کریں تو ان کا سرکاٹ کر بھیج دے ۔چنانچہ انہوں نے بیعت نہ کی اور میں نے ان کا سرکاٹ کر اس کے پاس بھیج دیا۔ جب لوگوں نے اس کی ملامت شروع کردی تو سب سے کہنے لگا کہ میں نے ابن زیاد کو قتل کا حکم نہیں دیا تھا اس نے از طرف خود قتل کردیا ہے۔ (الخ) یہ سن کر مروان نے کہا کہ آخر پھر کسے خلیفہ بنایا جائے۔ عبیداللہ ابن زیاد نے کہا کہ اے مروان تیرے سوا کوئی اس کا اہل نہیں ہے۔ مروان کے ذہن میں بھی چونکہ خلافت کا خیال نہ تھا لہٰذا اس نے ابن زیاد کی اس رائے کو مذاق سے تعبیر کیا اور کہنے لگا کہ مجھے بوڑھے شخص سے مذاق کررہے ہو ابن زیاد نے کہا خدا کی قسم مذاق نہیں کررہا۔ بلکہ صحیح جذبات پیش کررہا ہوں لاؤ ہاتھ نکالو میں بیعت کروں ، چنانچہ مروان نے ہاتھ نکال دیا اور ابن زیاد نے بیعت مروان کی بنیاد ڈال دی۔

ابن زیاد کے بیعت کرلینے کے بعد مروان پر طمع ولالچ چھاگئی اور وہ کہنے لگا کہ پھر اب لوگوں کو اس پر آمادہ کرو چنانچہ ابن زیاد نے سعی شروع کردی اور سارے دمشق کو مروان کے زیرنگین کردیا ضحاک بن قیس جو ابن زبیر کا حمایتی تھا اس نے مروان کی مخالفت کی اور اسی مخالفت کے سلسلہ میں اس نے بیرون دمشق خلق کثیر جمع کرکے مروان سے خلع خلافت کا پروگرام بنایا مروان کو جب اس کی اطلاع ملی تو اس نے ایک گراں لشکر بھیج کر اس کو قتل کرادیا اس کے بعد جو بھی اس کے راہ میں آیا اسے فنا کر ڈالا ضحاک کے قتل ہونے کے بعد زفرابن حارث جو اس کا طرفدار تھا۔

مفرور ہوگیا بالاخراس نے مقام قرسسیا میں حکومت قائم کرکے وہاں کے قلعہ میں سکونت اخیتار کرلی اور مروان کی دسترس سے باہر ہوگیا۔ مروان کو ابن زیاد نے رائے دی کہ یزید کی بیوی یعنی خالد کی ماں سے عقد کرلے تاکہ کسی قسم کا خطرہ نہ رہے چنانچہ مروان نے اس سے عقد کرلیا اور اس کی حکومت ہر طرف سے مضبوط ہوگئی۔ (رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۷۰ تاریخ طبری جلد ص ۶۴۸ ) ۔ شیخ محمد الخضری کا بیان ہے کہ مروان کی بیعت ۳ ذی قعدہ ۶۴ کو ہوئی ہے۔ (تاریخ خضری جلد ۲ ص ۲۰۹ طبع مصر)

ابن زیاد کی شام سے کوفہ کیلئے اور حضرت سلیمان کی کوفہ سے شام کیلئے روانگی

عبیداللہ ابن زیاد جب مروان کی حکومت مستحکم کر چکا تو مروان سے کہنے لگا کہ اب میں چاہتا ہوں کہ ایک عظیم لشکر سمیت کوفہ اور عراق کا عزم کروں ۔اور ان پرتیرا قبضہ جمادوں اور جو شیعیانِ علیعليه‌السلام نے سر اُٹھایا ہے انہیں نیست ونابود کر ڈالوں مروان نے اجازت دے دی اور ابن زیاد نے بروایت قرة العین ایک لاکھ کا لشکر بروایت ابو مخنف تین لاکھ افراد پر لشکر مرتب کرکے بارادہ کوفہ روانہ کر دیا ۔اپنی روانگی سے قبل اس نے ایک لشکر کے ذریعہ کھانے پینے کا سامان روانہ کیا جب شام سے دو دن کے راستے تک چل کر ایک قریہ میں لشکرنے قیام کیا تو ابن زیا د نے وہاں پہنچ کر ایک لاکھ کا لشکر آگے کو روانہ کر دیا ۔اور کمانڈر سے کہا کہ تم چلو ہم تمہارے پیچھے آتے ہیں اس نے حکم بھی اسے دے دیا کہ اس سلسلہ میں جو بھی ملے قتل کرنا اور دیکھو چار ہزار پانچ سو وہ لوگ جنہیں میں نے مختار والے قید خانہ میں قید کر دیا تھا۔ وہ یزید کی موت کے بعد قید خانہ سے نکل آئے ہیں۔

انہیں ضرور قتل کرنا ہے یہ وہی لوگ ہیں جو امام حسینعليه‌السلام کے خون کا بدلہ لینے کے لیے سرسے کفن باندھ کر نکلے ہیں ۔ ادھر ابن زیاد عازم کوفہ ہوا ادھر حضرت سلیمان بن صرد نے اپنی پوری توجہ کے ساتھ شام کی تیاری شروع کردی چاروں طرف سے ہمدردوں کو فراہم کیا اور کمال جوش و خروش سے عزم شام کرلیا جہاں جہاں سے بہادروں کی فراہمی کا امکان تھا بذریعہ خطوط لوگوں کو بلا بھیجا اور مصارف جنگ کیلئے عبداللہ تمیمی کو فراہمی زکواة پر مامور کیا۔ غرضیکہ بروایت علامہ ہروی یکم محرم الحرام ۶۵ھ کو حضرت سلیمان بن صرد نے کوفہ سے باہر مقام نخیلہ میں چھاؤنی قرار دی اور سب کو اسی مقام پر طلب کرلیا علامہ ابن نما لکھتے ہیں کہ سلیمان نے بمقام نخیلہ یہ محسوس کیا کہ ان کا لشکر کم ہے تو انہوں نے حکیم ابن منتذالکندی اور ولید بن عضین الکنانی کو حکم دیا کہ کوفہ میں جاکر لوگوں کو دعوت حمایت دیں وہ کوفہ گئے اور انہوں نے یالثارات الحسین کا نعرہ لگا کر لوگوں کو نخیلہ پہنچنے کی دعوت دی ان کی اس آواز پر بہت سے جانبار نخیلہ پہنچ گئے ۔ تاریخ میں سے کہ عبداللہ ابن ہازم کے کانوں میں جو یہ آواز پہنچی تو وہ اسلحہ جنگ سے آرستہ ہوکر نخیلہ کی طرف بھاگنے لگے بیوی نے کہا کیا پاگل ہوگئے ہو انہوں نے جواب دیا نہیں امام حسینعليه‌السلام کے نام پر جان دینے جارہا ہوں اس نے کہا مجھے اور اپنی لڑکی کو کس پر چھوڑے جاتے ہو ، کہا خدا پر یہ کہہ کر انہوں نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔ اللھم انی استود عک ولدی واھلی ۔ خدا یا اپنی بچوں اور بیوی کو تیرے سپرد کرتا ہوں تو ان کی حفاظت فرما (ذوب النضار۔ ص ۴۰۵)

پھر بروایت شہید ثالث دس ہزار اور بروایت ابومخنف چار ہزار پانچ سو سواروں کا اجتماع بمقام نخیلہ ہوگیا حضرت سلیمان بن صرد نے کمال نیک نیتی کے ساتھ انہتائی جذبہ خلوص کے ساتھ بروایت ابن نما بتاریخ ۵ ربیع الاخر ۶۵ھ بوقت سہ پہر یوم جمعہ شام کی طرف کوچ کا حکم دیا روانگی سے قبل انہوں نے ایک شاندار خطبہ پڑھا جس میں خون حسین کے بدلا لینے کی تحریص تھی ابھی یہ لوگ روانہ ہونے ہی والے تھے کہ و الی کوفہ کا بروایت رو ضۃ الصفا پیغام پہنچا کہ شام جانا درست نہیں ہے کیونکہ وہاں لشکر بہت زیادہ ہے تم لوگ نقصان اٹھاؤ گے بہتر یہ ہے کہ کوفہ واپس آجا وہم ابن زبیر سے تمہارے لیے لشکر منگوادیں گے ۔پھر تم قا تلان حسین سے بدلہ لینا۔ اس خط کے پہنچنے پر حضرت سلیمان نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا۔

بالاخر طے یہ ہوا کہ ہمیں اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیئے اور اپنی پیش قدمی کو نہیں روکنا چاہیئے ۔ کیونکہ والی کوفہ ہمیں دھوکا دے رہا ہے۔

اس کے بعد نخیلہ سے روانگی عمل میں آئی طے مراحل وقطع منازل کرتے جارہے تھے کہ بروایت ابن نمادیر آعور میں جاپہنچے وہاں رات گزاری پھر روانہ ہوکر سرائے بنی مالک میں قیام کیا جو فرات کے کنارے واقع ہے پھر صبح کو وہاں سے روانہ ہوگئے۔ یہاں تک کہ حسب فیصلہ وارد کربلا ہوئے کربلا پہنچ کر حضرت امام حسینعليه‌السلام کی زیارت کی مورخین کا بیان ہے کہ جو نہی ان لوگوں کے سامنے تربت حسینی آئی ۔ یہ لوگ اپنے اپنے گھوڑوں سے فوراً اتر پڑے اور دوڑے ہوئے قبر مطہر کے پاس پہنچے۔ جس وقت یہ لوگ اپنے اپنے گھوڑوں سے اترے ان کی آنکھوں سے لگاتار آنسو جاری تھے اور یہ سب چیخ مار کررورہے تھے انہیں سب سے بڑا جو صدمہ تھا وہ یہ تھا کہ قید میں ہونے کی وجہ سے یہ لوگ امام حسینعليه‌السلام کی مدد نہ کرسکتے تھے۔ (قرة العین ونور الابصار)

علما کا کہنا ہے کہ وہ لوگ اس بے قراری سے رو رہے تھے اور اس اضطراب سے چیخ رہے تھے کہ ایسا رونا کسی عہد میں نہیں ملتا یہ لوگ وہاں ایک شبانہ روز محو گریہ رہے ۔ حضرت امام حسینعليه‌السلام کی قبر مبارک سے رخصت ہوکر یہ مجاہد آگے بڑھے نہایت تیزی کے ساتھ قطع منازل و طے مراحل کرتے جارہے تھے۔ یہاں تک کہ مقام قرسیسا میں جاپہنچے۔ طبری کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان بن صرد نے قرسیسا کے والی زفربن حارث کے پاس جناب مسیب کو بھیجا اور کہہ دیا کہ ہمیں شام جانے کا راستہ دے دے ، زفر نے جونہی یہ پیغام سنا حکم دیا کہ قعلہ کا دروازہ بند کردیا جائے چنانچہ دروازہ بند کردیا گیا ۔ جناب مسیب نے تقاضہ کیا کہ دروازہ کھول دیا جائے اور بتایا کہ ہم تم سے لڑنے نہیں آئے بلکہ ہمارے آنے کی غرض صرف راستہ حاصل کرنا ہے ہم ابن زیاد سے مقابلہ کیلئے شام جانا چاہتے ہیں۔ زفر نے اپنے لڑکے کو بھیج کر صحیح حالات معلوم کیے اس کے بعد دروازہ کھولنے کا حکم دیا اور یہ بھی حکم دیا کہ بازار ان لوگوں کیلئے عام کر دیا جائے اور جو خرچہ اور صرفہ ان لوگوں کا ہو اس کو میں ادا کروں گا یعنی اشیا کی قیمت میرے ذمہ ہوگی۔ ایک شبانہ روز قیام کے بعد جب لشکر سلیمان فرسیسا سے جانے لگا تو زفر بن حارث نے سلیمان سے کہلا بھیجا کہ تم سے ملنے کیلئے آرہا ہوں چنانچہ اس نے ملاقات کی اور کہا کہ میری چند باتیں یاد رکھنا اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنا پہلی بات تو یہ ہے کہ شام کا لشکر بے پناہ ہے تم اسی مقام پر قیام کرو تاکہ میں بھی تمہاری مدد کرسکوں ، سلیمان نے کہا کہ ہمیں صرف خدا کی پشت پناہی درگار ہے تم اس پر پورا پورا بھروسہ رکھتے ہیں ۔ پھر اس نے کہا کہ دوسری بات یہ ہے کہ یہاں سے روانہ ہوکر عین الورد میں قیام کرنا وہاں سے آگے نہ بڑھنا کیونکہ وہ وسیع جگہ ہے اور وہاں گھاس چارہ فراواں ہے ۔ بروایت رو ضۃ الصفا اس نے ایک بات یہ بھی کہی کہ میدان میں جنگ کی کوشش نہ کرنا بلکہ فلاں طرف جو آبادی ہے اسے آڑبنا کر لڑنا اور ایک بار گی جنگ نہ کرنا بلکہ فوج کے ٹکڑے کرکے لڑنا۔ جب فوج کا ایک دستہ تھک جائے تو دوسرا دستہ بھیجنا۔ اس کے بعد حضرت سلیمان زفربن حارث سے رخصت ہوکر بمقام عین الورد جاپہنچے وہاں پہنچ کر حضرت سلیمان نے پانچ یوم ابن زیاد کے لشکر کا انتظار کیا بالآخر پانچویں دن یہ پتہ چلا کہ ابن زیاد کا لشکر آرہا ہے یہ معلوم کرکے حضرت سلیمان نے ایک شاندار لیکچر دیا۔ آپ نے اپنی تقریر میں اپنے اور اپنے لشکر کے فرائض اور بلند ہمتی پر روشنی ڈالی اور اس سے کہا کہ ہم جس مقصد کیلئے نکلے ہیں۔ وہ حضرت امام حسینعليه‌السلام کا خون بہا لینا اور ان کی بارگاہ میں اپنی قربانی پیش کرنا ہے اگر دشمن زائد ہوں تو اس زیادتی سے ہمیں مرعوب نہ ہونا چاہیے اور یہ خیال رکھنا چاہیے کہ ہمارا مقصد پاکیزہ ہے اور ہم خوشنودی خدا حاصل کرنے کیلئے نکلے اور خدا کی سب سے بڑی خوشنودی راہ میں شہید ہونا ہے ہماری اُخروی زندگی کا راز شہادت میں مضمر ہے۔ تقریر کے بعد آپ نے فرمایا کہ اے میرے بہادرو۔ کان دھرکے سن لو کہ شہادت ہمارا مطمع نظر ہے اور ہم اس کیلئے یہ اصول معین کرتے ہیں کہ جب لشکر مخالف سے مقابلہ ہوگیا تو سب سے پہلے علم جنگ میرے ہاتھ میں ہوگا اور جب میں شہید ہوجاؤں گا تو امیر لشکر تمہارے دلیر اور بہادر جرنیل مسیب ہوں گے اور جب یہ شہید ہوجائیں گے تو تمہارے امیر عبدللہ ابن سعید ہوں گے اور جب انہیں درجہ شہادت نصیب ہوجائے گا تو عبداللہ ابن دال امیر ہوں گے پھر ان کے بعد رفاعہ ابن شداد امیر لشکر ہوں گے ۔

بروایت قرة العین حضرت سلیمان نے حکم دیا کہ بنی امیہ سے جو بھی یہاں کے دوران قیام میں دستیاب ہوتا جائے اسے قتل کرتے جاؤ ۔

چنانچہ جو ملتا گیا اسے تیغ کی نذر کیا جاتا رہا۔ اس کے بعد سلیمان نے مسیب سے فرمایا کہ تم چار سو سواروں کولے کر آگے بڑھ جاؤ اور جو ملے اسے آب تیغ سے سیراب کرو اور اگر ضرورت سمجھو تو بلا تامل شبخون مارو ۔ مسیب مختصر سالشکر لے کر روانہ ہوگئے ، چلتے چلتے صبح کے قریب ایک شخص کو اشعار پڑھتے سنا ، آپ نے اسے طلب فرمایا اور اس سے پوچھا کہ یہ بتا کہ تیرا نام کیا ہے اس نے کہا کہ مجھے حمید کہتے ہیں آپ نے فرمایا کہ ہماری عاقبت انشاء اللہ محمود ہوگی پھر پوچھا کہ تو کس قبیلہ سے ہے اس نے کہا کہ قبیلہ بنی تغلب سے آپ نے فرمایا کہ ہم انشاء اللہ غالب آئیں گے پھر پوچھا کہ شام کے لشکر کی تجھے کچھ خبر ہے ۔ اس نے کہا کہ تم سے مقابلہ کیلئے بہت بڑا لشکر آرہا ہے اس لشکر کے پانچ سردار ہیں اور سب سے جو قریب ہے وہ شر جلیل بن ذوالکلاع ہے وہ تم سے صرف ایک میل کے فاصلہ پر ہے اس کے بعد مسیب نے اس اعرابی سے فرمایا کہ تو اپنی راہ لگ وہ چلا گیا ، آپ نے اپنے لشکر کو چار حصوں میں تقسیم کیا اورشرجلیل کے لشکر کو بوقت صبح گھیرا اور مقابلہ شروع ہوگیا۔ جناب مسیب کے لشکر نے ایسی جرات و ہمت سے کام لیا کہ دم زدن میں دشمن کے ٹکڑے اڑا دئیے ۔ اور بڑی تیزی سے انہیں فنا کرکے ان کا سب کچھ لوٹ لیا ان کی کثیر تعداد فنا کے گھاٹ اترگئی اور ان کے بہت سے سپاہی کام آگئے آخر کار یہ لوگ اپنی جانیں بچا کر جو بچ رہے تھے۔ ابن زیاد کی جانب بھاگے اور حضرت مسیب بڑے اطمینان سے حضرت سلیمان کے پاس آپہنچے ۔ اور انہوں نے سارا واقعہ بیان کیا۔ (رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۷۳ و تاریخ طبری جلد ۴ ص ۶۵۱)

پھر اس کے بعد بروایت قرة العین ص ۱۳۸ ایک عظیم لشکر ابن زیاد نے روانہ کیا اس لشکر کو دیکھ کرسلیمان بن صرد خزاعی اور ان کے لشکر نے اپنے کو گھوڑوں کی پشتوں پر پہنچا دیا اور تکبیر و تہلیل کی آواز بلند کرتے اور یالثارات الحسین کا نعرہ لگاتے ہوئے آگے بڑھے دیکھا کہ بے شمار لشکر بڑھا چلاآرہا ہے اور اس کے جھنڈے پر مروان کا نام لکھا ہوا ہے یہ لوگ سمجھ گئے کہ شاید ابن زیاد نے مروان کو حاکم بنالیا ہے اور اسی کی مدد سے ہمارا مقابلہ کررہا ہے یہ دیکھ کر کہ لشکر کافی ہے اور ابن زیاد کی پشت پر مروان کی حکومت کام کررہی ہے جناب سلیمان نے اپنے لشکریوں کو آواز دی اے بہادرو! دشمن سے خوف نہ کھانا۔

خدا تمہاری مدد کرے گا ۔ یہ سن کر نیزے تن گئے اور تلواریں چل پڑیں پھر کیا تھا۔ تکبیر کہتے ہوئے یالثارات الحسینعليه‌السلام کے نعرے لگاتے ہوئے لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا وظیفہ کرتے ہوئے بہادر آگے بڑھے ۔ اور دونوں میں مقابلہ ہوگیا اور اتنا سخت مقاتلہ ہوا کہ فضاء عالم تھرا اٹھی اور یہ سلسلہ تاشام جاری رہا۔ یہاں تک کہ رات آگئی اور جنگ رُک گئی۔ جنگ کے رُک جانے کے بعد حضرت سلیمان نے اپنے مقتولین کا شمار کیا تو وہ ایک ہزار پانچ سو تھے اور جب دشمن کے مقتولین کا شمار کیا گیا تو ان کی تعداد پانچ ہزار تھی دشمنوں کا حال یہ تھا کہ ان کے زخمی سوار بدحواس تھے اور کثرت جراحت سے بے قابو تھے۔ رات گزری صبح کا تڑکا ہوا جناب سلیمان کے لشکر میں اذان دی گئی آپ نے نماز صبح پڑھائی نماز کے فوراً بعد جنگ کے لئے حسینیعليه‌السلام بہادر پھر نکل پڑے اور دل ہلا دینے والے حملوں سے دشمنوں کو عاجز اور پریشان کردیا اور کمال بے جگری سے سارا دن جنگ میں گزار دیا ۔ یہاں تک پھر رات آگئی اور جنگ روک دی گی اس روز کی جنگ میں ابن زیاد کے دس ہزار آدمی کٹ گئے اور سلیمان کے لشکر والے مطلقاً محفوظ رہے اس جنگ کے بعد دشمن بھاگ کھڑے ہوئے۔ اور اپنا مستقر چھوڑ کر ابن زیاد کی طرف بھاگے جناب سلیمان کے لشکر والوں نے ان کے قیام گاہ پر قبضہ کرلیا اور ان کا سب کچھ لوٹ لیا ۔ ابن زیاد کے سوار اس مقام پر جاپہنچے ۔ جس مقام پر ابن زیاد ٹھہرا ہوا تھا اس کی قیام گاہ مقام جنگ یعنی عین الورد سے دو دن کی راہ پر تھی۔

بروایت ابی مخنف ان دو تین حملوں اور مقابلوں میں ابن زیاد کے چالیس ہزار افراد قتل ہوگئے اور باقی ماندہ اس کے پاس بھاگ کر جاپہنچے ابن زیاد نے جب اپنے شکست خوردہ لشکر کو دیکھا تو سخت ناراض ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے ایک لاکھ کا لشکر چند ہزار کے مقابلہ کے لیے بھیجا تھا افسوس تم ان سے شکست کھا گئے اور تمہارے چالیس ہزار ساتھی قتل ہوکر جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ۔ اس کے بعد ابن زیاد نے حکم دیا کہ ۶۰ ہزار پلٹے ہوئے سوار اور دو لاکھ تازہ دم سوار عین الورد کو روانہ ہوں اور وہاں پہنچ کر سلیمان اور ان کے سارے لشکر کا کام تمام کریں ابن زیاد کا حکم پاتے ہی دو لاکھ ساٹھ ہزار کا لشکر عین الورد کیلئے روانہ ہوگیا ،اور ابن زیاد بھی ہمراہ چل پڑا یہاں تک کہ عین الورد پر وارد ہوگیا۔ حضرت سلیمان کے پاس اب صرف تین ہزار بہادر رہ گئے سلیمان نے جب اتنا بڑا لشکر دیکھا فوراً اپنے بہادروں کو مخاطب کرکے ایک تقریر کی اور کہا کہ ہمارا مقصد خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ میرے بہادرو لشکر کی کثرت سے خوف زدہ نہ ہونا موت ہماری زندگی کا سرمایہ ہے، شہید ہونا ہماری زندگی کا پیغام ہے ، بہادر و خدا کا نام لے کر آگے بڑھو اور ایسی دلیرانہ جنگ کرو کہ دشمنوں کے دل دہل جائیں ابھی یہ تقریر کرہی رہے تھے کہ ٹڈی دل فوج نے حملہ کردیا، یہ حسینیعليه‌السلام بہادر بھی محو کارزار ہوگئے اور گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی اور اس جنگ نے اتنا طول پکڑا کہ رات آگئی اور معرکہ قتال تھم گیا لوگ اپنے اپنے خیام کی طرف چلے گئے ۔

شمار سے معلوم ہوا کہ جناب سلیمان اپنے بہادروں میں بظلمت لیل بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کے سواروں نے کہا کہ اے امیر تجھے معلوم ہے کہ ہماری تعداد کیا تھی اور اب کیا ہے ابن زیاد کے پاس اب بھی دو لاکھ چالیس ہزار سوار ہیں اور ہم سب کے سب صرف ایک ہزار رہ گے ہیں اب یہ طے ہے کہ اگر صبح کو ہم لوگ پردہ شب میں پل کے ذریعہ سے فرات کو پار کرکے کوفہ کو نکل چلیں اور لشکر فراہم کرنے کے بعد پھر واپس آئیں اور دشمن سے جنگ آزما ہوں۔ یہ سن کر جناب سلیمان بن صرد نے فرمایا کہ سنو جو موت سے ڈرتا ہو اور زندگی کو چاہتا ہو اس کا جدھر جی چاہے چلا جائے ۔ ہماری غرض نہ تو زندگی ہے نہ دنیا واہل دنیا کی محبت ، ہماری بس ایک ہی غرض اور ایک ہی خواہش ہے اور وہ امام حسینعليه‌السلام کی ملاقات ہے۔ یہ سننا تھا کہ سلیمان کے بہادروں نے بڑی دلیری سے کہا کہ اے سلیمان سچ کہتے ہیں سنو ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ ہماری غرض اور خواہش دنیا نہیں ہے ۔ ہم زندگانی دنیا کی پرواہ نہیں کرتے ہم خداورسول اور اہل بیتعليه‌السلام کی خوشنودی کے طلب گار ہیں۔

اے سلیمان نحن بین یدیک۔یہ لو ہم تمہارے سامنے حاضر ہیں پھر ان بہادروں نے اس حالت میں رات گزاری کہ شوق شہادت میں بے چین تھے۔ جب صبح ہوئی تو حسینی بہادر اپنے گھوڑوں کی پشتوں پر جم گئے اور پے درپے حملے کرنے لگے۔ یہاں تک کہ جنگ کو سات دن پورے ہوگئے اور بہادروں کی ہمتیں پوری جوانی کے ساتھ کام کرتی رہیں ۔ (اخذ الثار و انتصار المختار لابی مخنف ص ۴۸۸)

حجۃ الاسلام محمد ابراہیم لکھتے ہیں کہ سات دن کے بعد آٹہواں دن بھی کمال مردانگی کے ساتھ جنگ میں گذرا ۔ جب نویں کی صبح ہوئی تو سلیمان کے لشکر میں صرف ۷۵ افراد باقی رہ گئے اور ان کی حالت بھی بڑی ناگفتہ بہ ہوگئی زخموں سے چورتلوار اور تیر کے زخموں سے اس حالت کو پہنچ گئے کہ سانس لینے کی تاب نہ تھی یہ وہی لوگ باقی رہ گئے تھے جن کا شمار روسا اور سرداروں میں تھا یہ بہادر فرات سے عبور کرکے اپنے گھوڑوں سے اُترے ۔ اب ان کی حالت ایسی ہوچکی تھی کہ شدت جراحت سے تاب کلام نہ تھی اور ان کے گھوڑے شدت اعطش سے بے تاب اور قریب بہ ہلاکت ہوگئے تھے ان بہادروں کا ایسی حالت میں صرف یہ شغل تھا کہ قران مجید کی تلاوت کرتے تھے پیغمبر اسلام پر درود بھیجتے تھے اور زبان پر بار بار کلمہ شہادت جاری کر رہے تھے اور بڑے حوصلے کے ساتھ دعا کررہے تھے کہ خدایا ہمیں حضرت امام حسینعليه‌السلام کی خدمت میں جلد پہنچا دے۔ اس کے بعد حضرت سلیمان بن صرد سے کہنے لگے کہ اے امیر تم جانتے ہو کہ ہم کتنے تھے اور اب کتنے رہ گئے ہیں اگر اجازت ہو تو اب یہاں سے جاکر لشکر کی فراہمی کی کوشش کریں ۔ حضرت سلیمان نے کامل جرأت و ہمت کا ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ اے میرے بہادرو! میری یہی درخواست ہے کہ اب ہمت نہ ہارو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم دشمنانِ آل محمد سے ہاتھ اُٹھالیں ۔ سنواب تو صرف اسی کا موقع ہے کہ ہم میدان میں جان دے کر خداورسول کی بارگاہ میں جاپہنچیں ۔ اصحاب سلیمان بن صرد نے جب اپنے امیر سے یہ کلمات سنے خاموش ہورہے یہاں تک کہ آخری شب حیات آگئی۔ (نورالابصار ص ۸۱)

حضرت مختار ،ابن مطیع کے مقابلہ میں

سردارانِ لشکر نے ہر چند حضرت مختار کو روکامگر آپ نہ رُکے۔ آپ نے کہا کہ ہمارے لئے بڑے شرم کی بات ہے کہ حریف آواز دے رہا ہے۔ اور ہم مقابلہ کے لئے نہ نکلیں۔ بالآخر آپ تیار ہو کر میدان میں جا پہنچے۔ اور ابن مطیع کے مقابل میں آ گئے۔ آپ نے میدان میں پہنچ کر ابن مطیع سے پوچھا کہ مجھے کیوں طلب کیا ہے۔ اور مجھ سے کیا چاہتا ہے۔ ابھی وہ جواب نہ دینے پایا تھا کہ آپ نے اس کے سینے پر ایک نیزہ کا وار کیا۔ یہ دیکھ کر عبداللہ ابن مطیع نے کہا کہ اے مختار وہ دوستی کہاں گئی جو ہمارے اور تمہارے درمیان تھی۔ اور وہ دن تم کیوں بھول گئے جس دن میں نے تمہیں عبداللہ بن زبیر کے ہاتھوں سے آزاد کرایا تھا۔ اے مختار مجھے اس کی امید نہ تھی۔ کہ تم میرے مقابلہ کے لئے آؤ گے۔ حضرت مختار نے فرمایا کہ میں دشمنانِ محمد و آل محمد سے دوستی نہیں کرتا۔ تو مجھے دوست نہ سمجھ اور اور سن میں اس وقت مناظرہ کے لئے نہیں آیا۔ مجھے تو نے جنگ کے لئے بلایا ہے۔ اب اگر حوصلہ ہے تو آ۔ دو دو ہاتھ ہو جائیں یہ سن کر ابن مطیع کو غصہ آ گیا۔ اور آپس میں جنگ شروع ہو گئی۔ کافی دیر ردو بدل ہوتی رہی ناگاہ حضرت مختار لشکر کی طرف پلٹ آئے لوگوں نے پوچھا کہ اے امیر کیا بات ہے۔ حضرت مختار نے کوئی جواب نہ دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت ابراہیم نے آ کر سوال کیا۔ تو فرمایا کہ میں جنگ میں مشغول تھا کہ ایک پتھر میرے سینے پر اس زور سے لگا۔ کہ میں سمجھا کہ میں اس سے ہلاک ہو جاؤں گا۔ اس کے بعد آپ نے فرّہ ابن عبداللہ کو طلب فرما کر حکم دیا کہ جنگاہ میں جا کر عبداللہ ابن مطیع سے جنگ کریں۔ چنانچہ وہ میدان میں تشریف لے گئے۔ ابن مطیع نے پوچھا کہ مختار مجھ سے بھاگ گئے۔ فرّہ نے کہا اے سگ دُنیا وہ تم جیسے کتوں سے بھاگ نہیں سکتے۔ لیکن چونکہ تم نے مکر کیا تھا اس لئے وہ چلے گئے۔ اب آ اور مجھ سے مقابلہ کر۔ ابن مطیع نے پوچھا کہ تمہارا مذہب کیا ہے۔ جناب قرہ نے فرمایا کہ میں خدا کو واحد جانتا ہوں۔ اور اسے علیم و قدیر سمجھتا ہوں۔

یہ سُن کر ابن مطیع نے حملہ کیا اور کافی دیر تک دونوں میں نیزے اور تلوار کی ردوبدل ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ جناب قرہ کا ایک ہاتھ سخت زخمی ہو گیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابراہیم آ پہنچے، ابن مطیع نے جونہی ابراہیم کو دیکھا خوف سے کانپنے لگا۔ بالآخر مقابلہ مقابلہ ہو اور ایسی گھمسان کی جنگ ہوئی کہ ابن مطیع کو بھاگے بغیر کوئی چارہ نہ آیا۔ جیسے ہی ابن مطیع بھاگا ویسے ہی حضرت ابراہیم نے اس کا پیچھا کیا۔ اور اپنے لشکر کو حکم دیا کہ یکبارگی سب مِل کر حملہ کر دیں۔ چنانچہ ابراہیم کے ساتھ ہی حضرت یزید بن انس اُن کے پیچھے حارث ان کے پیچھے حضرت مختار حملہ آور ہوئے۔ اور سب نے مل کر لشکر ابن مطیع کو پسپا کر دیا۔ اور بے شمار دشمنوں کو تہ تیغ کر ڈالا۔ اب لشکر ابن مطیع کے لئے زمین کوفتہ تنگ ہو گئی۔ اب مطیع نے چاہا کہ بھاگ کر کوفہ سے باہر چلا جائے مگر چونکہ حضرت ابراہیم نے تمام کوفہ کے دروازوں پر قبضہ کر رکھا تھا۔ لہٰذا وہ کوفہ سے باہر نہ جا سکا۔ بالآخر اس نے دارالامارہ میں گھس کر دروازہ بند کر کے اپنی جان بچائی۔ بعض مورخین کا بیان ہے کہ جب حضرت مختار اور حضرت ابراہیم ایاز ابن مضارب کو قتل کر میدان سے نکل آئے اور اس کی اطلاع عبداللہ بن حر کو ہوئی تو اُن کے حوصلے بھی بلند ہو گئے۔ وہ چونکہ جری اور بہادر تھے۔ لہٰذا انہوں نے بھی میدان میں آنے کا فیصلہ کیا اور وہ بھی اپنے اعزاو اقربا سمیت ان کے ساتھ آ لئے۔ اس کے بعد آپس میں طے ہونے لگا کہ حملے کی ابتداء کہاں سے کی جائے۔ بالآخر طے پایا کہ اس مقام چل کر سب سے پہلے حملہ کرنا چاہیئے جس جگہ دشمنوں کی بڑی جمعیت ہے۔ چنانچہ یہ لوگ اسی مقام کی طرف بڑھے۔ اب رات ہو چکی تھی اور مقابلہ بھی شروع ہو گیا تھا۔جنگ کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔ بالآخر دشمنوں کا یہ گروہ جو مقابل میں تھا شکست کھا کر بھاگا۔ اس لشکر کے فرار کرتے ہی سوید ابن عبدالرحمن ایک لشکر لئے ہوئے آ مقابل ہوا۔ حضرت ابراہیم نے آگے بڑھ کر اس سے کہا کہ تم مقابلہ نہ کرو۔

اور واپس جاؤ مگر وہ جنگ پر مصر رہا۔حضرت ابراہیم نے حضرت مختار سے کہا کہ آپ اس کے مقابلہ کے لئے نہ جائیں اور اس کے معاملہ کو مجھ پر چھوڑ دیں۔ حضرت مختار نے اُن کی بات مان لی، حضرت ابراہیم نے اپنے عزیزوں کو ہمراہ لے کر سوید بن عبدالرحمن اور اس کے لشکر پر زبردست حملہ کیا۔ سوید کا لشکر شکست کھا کر کناسہ میں پناہ گیر ہوا۔ حضرت ابراہیم سوید کو شکست دے کر حضرت مختار کے پاس چلے گئے۔ اس کے بعد شیث بن ربعی اور حجار ابن حر نے ایک لشکر لئے ہوئے حضرت مختار کے لشکر پر حملہ کیا، ابراہیم نے فوراً تکبیر کہی اور اپنے لشکر سمیت اُن کا شاندار مقابلہ کیا اور اپنے عظیم حملوں سے انہیں پسپا کر دیا۔

وہ لوگ جان بچا کر محلوں میں جا چھپے۔ اس کے فوراً بعد عبداللہ ابن مطیع کی ایک اور فوج آ پہنچی۔ حمایت مختار میں ابو عثمان ہندی کا حملہ شیث بن ربعی کے شکست کھانے کے بعد اُبو عثمان ہندی نے میدان میں نکل کر ہوا خواہانِ حسین کو آواز دی۔ اور پکار کر کہا کہ اہلبیتعليه‌السلام کے مددگارو! جلدی پہنچو۔ ان کی آواز کا بلند ہونا تھا کہ شیعیان علی بن ابی طالب جوق در جوق ان کے علم کے نیچے آ پہنچے، عبداللہ ابن مطیع کی فوج جو آ پہنچی اب عثمان ہندی نے اس پر کمال بے جگری سے حملہ کر دیا۔ دونوں لشکروں میں شدید ترین جنگ ہوئی۔ یہ جنگ ساری رات جاری رہی ۔صبح کو ابو عثمان نے اختتام جنگ پر بمقام "دیرہند" جو کوفہ کے باہر ہے قیام کیا اس کے بعد کوفہ کے محلوں میں جنگ شروع ہو گئی محلہ زجر ابن قیس میں جونہی ابراہیم کا لشکر پہنچا۔ اُس نے سو سواروں سمیت ابراہیم اور ان کے لشکر پر حملہ کیا اور دونوں لشکروں میں تا دیر جنگ جاری رہی۔ یہاں تک کہ زجر کا لشکر شکست کھا کر بھاگا۔ ابراہیم نے اپنے لشکر والوں کو آواز دی کہ ہزیمت خوردہ لوگوں کا پیچھا نہ کرے۔ کیونکہ رات کا وقت ہے۔ تعاقب مناسب نہیں۔ سلسلہ محاربہ جاری ہی تھا کہ حضرت ابراہیم کے لشکر والوں نے کہا کہ اگر اجازت ہو تو ہم لوگ چل کر دارلامارہ پر حملہ کر دیں۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا سب سے پہلے ہمیں چل کر یہ دیکھنا چاہیئے کہ مختار کس حال میں ہیں۔ عبداللہ ابن مطیع نے بیس ہزار کا جو لشکر مختار کے مقابلہ کے لئے بھیجا تھا وہ محو پیکار تھا ابراہیم نے جب یہ حال دیکھا تو اس لشکر پر عقب سے حملہ کر دیا۔ اور اس بے جگری سے لڑے کہ دشمنوں کی ہمتیں پست ہو گئیں۔ اور وہ اپنی جان بچا کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ رات کے بعد جب صبح ہوئی تو حضرت مختار نے نماز جماعت پڑھائی نماز کی رکعت اولیٰ میں والنازعات اور رکعت ثانیہ میں سورہ عبّس پڑھا۔ مورخ ہری کا بیان ہے کہ مختار نے جس شان سے قرأت کی تھی۔ ویسی قرأت سنی نہیں۔ اس کے بعد بروایت طبری حضرت مختار نے اپنے لشکر کا جائزہ لیا تو آپ کے کل لشکریوں کی تعداد صرف ایک ہزار چھ سو نکلی، حضرت ابراہیم نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ بیعت کنندگان کی تعداد سے یہ تعداد بہت کم ہے۔ حضرت مختار نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں لشکر کی یہ تعداد میری نگاہ میں پسندیدہ ہے، اور سنو! ایسا لشکر جس میں پست ہمت زیادہ ہوں بے سود ہے۔ ہمیں تو ایسے لوگ چاہئیں۔ جو اچھے لڑنے والے ہوں۔ گھبراؤ مت ، خدا ہمارے ساتھ ہے۔

حضرت مختار دارالامارہ میں

ابن مطیع کے بھاگ جانے کے دوسرے دن اس کے ساتھیوں نے حضرت مختار سے امان مانگی۔ آپ نے انہیں امان دے دی۔ ان لوگوں نے آپ کی بیعت کر لی۔ اور وہ سب کے سب دارالامارہ سے باہر نکل آئے۔ حضرت مختار نے دارالامارہ میں نزول اجلال فرمایا سکنة المختار اور وہاں سکونت اختیار کر لی۔

نظامِ حکومت کا انصرام اور گورنروں کا تقرر

اس کے بعد حضرت مختار نے ممالک محروسہ کے لئے گورنروں کا تقرر فرمایا۔ آپ نے عبدالرحمن بن قیس ہمدانی کو موصل کے لئے سعید ابن حذیفہ بن یمان کو مدائن کے لئے، سعید ابن حذیفہ یمان کو حلوان کے لئے۔ عمر بن سائب کو رے اور ہمدان کے لئے گورنر مقرر کر دیا۔ اور نظام کوفہ کے لئے عبداللہ ابن کامل کو کوتوا ل اور ابو عمرہ کیسائی کو نگا ہ بیانان مملکت کا حاکم بنا دیا۔ اُن کے علاوہ جن لوگوں کو جس مقام کے لئے اہل سمجھا۔ ان لوگوں کو وہ مقامات سپرد کردئیے۔ پہاڑوں اور جنگلوں پر بھی والی مقرر کردیا۔ شہید ثالث کا بیان ہے کہ تمام ملک میں آپ کے نام کا خطبہ پڑھا جانے لگا۔ حضرت مختار نے جوڈیشنل کیس کے لئے قاضی شریح کو عہدہ قضا عطا کر دیا۔ لیکن اس تقرر کے فوراً بعد انہیں معلوم ہوا کہ علی علیہ السلام اپنے عہدہ خلافت میں اسے معزول کر چکے تھے۔ انہوں نے یہ گوارا نہ کیا کہ جس کو حضرت علی نے معزول کیا ہو اُسے اسی منصب پر فائز کر دیں انہوں نے اس کی معزولی کا خیال ظاہر فرمایا اس خیال کی اطلاع قاضی شریح کو ہو گئی اور اس نے اپنی بیماری کے حوالہ سے استعفیٰ پیش کر دیا۔ قاضی شریح کے بعد آپ نے اس منصب پر عبداللہ ابن عتبہ بن مسعود کو فائز فرما دیا۔ لیکن اس کے بیمار ہو جانے کی وجہ سے اس کی جگہ پر عبداللہ ابن مالک الطانی کو مقرر کو مقرر فرمادیا۔ مورخین کا بیان ہے۔ کہ حضرت مختار کے مقرر کردہ کارکنوں نے نہایت داری، ایمانداری اور تندہی سے کام شروع کر دیا۔ اور کارکنوں نے باہر جا کر اس تیزی سے پروپیگینڈا کیا کہ ان کے ممالک محروسہ نے بہت سے ممالک کو گھیر لیا۔


پانچواں باب

جناب مختار کا جذبہ عقیدت

جناب مختار کا جذبہ عقیدت اور ان کے متعلق حضرات آئمہ طاہرینعليه‌السلام کے خیالات و تصورات کتب سیرو تواریخ اور احادیث واقوال آئمہ دیکھنے سے روز روشن کی طرح یہ امرواضح ہوجاتا ہے کہ حضرت مختار حضرات آلِ محمد سے پوری پوری محبت و الفت رکھتے تھے اور اہل بیتعليه‌السلام سے ان کا جذبہ عقیدت درجہ کمال پر فائز تھا وہ ان حضرات شراب محبت و مودت سے ہمہ وقت سرشار رہا کرتے تھے اور ان کے منہ سے جو الفاظ نکلتے تھے ان میں محبت کی بواور ان سے جو افعال سرزد ہوتے ان میں ان کی تاسی کی خو ہوتی تھی ۔ ولادت سے لے کر جوانی اور جوانی سے عہد شہادت تک کے واقعات پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے ۔ کہ انہوں نے کسی وقت بھی آل محمد کے خلاف کبھی کوئی نظریہ قائم نہیں کیا اور یہ عقیدہ اور مذہب کے لحاظ سے شیعہ کا مل تھے یہی وجہ ہے کہ کسی شیعہ عالم کو ان کی شیعیت میں کوئی شبہ نہیں ہوا تواریخ میں ہے کہ حضرت مختار حضرات آل محمد سے کمال محبت کی وجہ سے واقعہ کربلا کا بدلہ لینے کیلئے سر سے کفن باندھ کر اٹھے اور بفضلہ تعالیٰ اس میں پورے طور پر کامیاب ہوئے۔

علامہ محمد ابراہیم لکھنوی لکھتے ہیں کہ حضرت مختار کمال جذبہ عقیدت کے ساتھ اٹھے اور ایک بادشاہ پرشکوہ کی شان سے دشمنوں کے قلع و قمع کرنے کی طرف متوجہ ہوکر اس درجہ پر فائز ہوگئے جس پر عرب و عجم میں سے کوئی فائز نہیں ہوا ۔ مختار کے جذبہ عقیدت اور حسن عقیدہ پر ایک عظیم شاہد بھی ہے اور وہ حضرت ابراہیم ابن مالک اشتر کی ذات ستودہ صفات کی کار مختار میں شرکت ہے جس کی آل محمد سے عقیدت اور مذہب شیعہ میں پختگی مہر نیمر وز سے بھی زیادہ روشن ہے (نورالابصار ص ۱۲)

اور چونکہ مختار نے کمال جذبہ کے ساتھ نہایت بے جگری سے واقعہ کربلا کا بدلہ لیا تھا ۔

اسی لیے اہل کوفہ پریشان حال لوگوں کے لیے ضرب المثل کے طور پر کہتے تھے کہ ان کے گھر میں مختار داخل ہوگئے ہیں (مجالس المومنین ص ۳۵۶) اور چونکہ حضرت مختار نے دشمنان آل محمد کا قتل ابوعمرہ کیسان ، غلام حضرت امیرالمومنینعليه‌السلام کے ہاتھوں کرایا تھا اسی لیے جب کسی پر کوئی تباہی آتی تھی ۔ ضرب المثل کے طور پر اہل کوفہ کہا کرتے تھے دخل ابوعمرہ بیتہ اس کے گھر میں ابوعمرہ داخل ہوگیا ہے ۔ (دمعۃ ساکبہ ص ۴۰۱)

غرضیکہ حضرت مختار کا جذبہ عقیدت ایسا ہے جس پر حرف نہیں رکھا جاسکتا ۔علامہ حافظ عطا ء الدین حسام الواعظ رقمطراز ہیں بد انکہ مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی ازجملہ مخلصان اہل بیت بودمعلوم ہونا چاہیئے ۔کہ حضرت مختار پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیتعليه‌السلام اطہار کے مخلصوں میں سے ایک اہم مخلص تھے ۔(رو ضۃ المجاہدین ص۳)

اس خلوص کا اندازہ اس واقعہ سے بھی ہوتا ہے جسے تاریخ میں واقعہ موصل سے یاد کیا جاتا ہے علامہ مجلسی رقمطراز ہیں کہ جب حضرت مختار نے حضرت ابرہیم ابن مالک اشتر کو قتل ابن زیاد کے لیے موصل کی طرف روانہ کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ روانہ ہوئے تو حضرت مختار ان کو رخصت کرنے کے لیے پیدل ان کے ساتھ ہوئے اور کافی دور تک گئے ۔حضرت ابراہیم نے راستہ میں حضرت مختار سے کہا ۔سوار شو خدا ترا رحمت کند مختار گفت مینحوا ہم ،ثواب من زیادہ با شد در مشایعت تو ومی خواہم کہ قد مہائے من گرد آلود شد در نصرت ویاری آلِ محمد کہ آپ پا پیادہ پیدل چل رہے ہیں بہتر ہے کہ آپ سوار ہو جائیں۔مختار نے جواب میں کہا کہ میں آپ کے ساتھ پیدل اس لیے چل رہا ہوں ۔تاکہ مجھے زیادہ ثواب مل سکے ۔اور میں یہ چاہتا ہوں کہ میری قدم نصرت آل محمد کے سلسلہ میں گرد آلود ہوں ۔(جلاء العیون ص۲۴۴وبحارالانوار جلد ۱۰ص۳۹۶)

چونکہ ان کا جذبہ محبت کامل تھا اسی لیے محمد وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوان پر پور ا پورا اعتماد تھا اور ان حضرات کے نظریات و تو جہات اور خیالات و تصورات ان کے بارے میں نہایت پاک اور پاکیزہ تھے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت رسول کریم (ص)نے ان کی ولادت کی بشارت دی (نورالابصارص۱۴)

حضرت علیعليه‌السلام نے انہیں اپنی آغوش میں کھلایا (رجال کشی ص ۸۴)

حضرت امام حسنعليه‌السلام نے شہاد ت حضرت علیعليه‌السلام کے موقعہ پر ان کی مواسات قبول فرمائی ۔حضرت اما م حسینعليه‌السلام نے جنگ کربلا میں ان کا حوالہ دیا ۔(اسرار الشہادت ص۵۷۱)حضرت امام زین العابدینعليه‌السلام نے ان کو دعائیں دیں ۔(رجال کشی ص ۵۸)

حضرت امام محمد باقرعليه‌السلام نے ان کی برائی کرنے سے روکا ۔حضرت امام جعفر صادقعليه‌السلام نے آپ پر نزول رحمت کی دعا فرمائی ۔(مجالس المومنین ص۳۵۶)ان اشارات کی مختصر لفظوں میں تفصیل ملاحظہ ہو ۔ حضرت رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مختار کے متعلق بشارت تحریر کی جاچکی ہے کہ حضرت علیعليه‌السلام کا مختار کو گود میں لے کر پیار کرنا اور ان کے سر پر ہاتھ پھیر کر حوصلہ افزا کلمات اپنی زبان پر جاری فرمانا مرقوم ہو چکا۔حضرت امام حسنعليه‌السلام عليه‌السلام کے ساتھ جناب مختار نے جو مواسات کی اسے تاریخ کی روشنی میں ملاحظہ کیجئے۔کتاب چودہ ستارے سے ص۲۰۱میں ہے کہ صفین کے سازشی فیصلہ حکمین کے بعد حضرت علیعليه‌السلام اس نتیجہ پر پہنچے کہ اب ایک فیصلہ کن حملہ کرنا چاہیئے ۔چنانچہ آپ نے تیار ی شروع فرمادی اور صفین ونہروان کے بعد ہی سے آپ اس کی طرف متوجہ ہو گئے ۔یہاں تک کہ حملہ کی تیاریاں مکمل ہو گئیں۔دس ہزار افسر امام حسینعليه‌السلام کو اور دس ہزار فوج کا سردار قیس ابن سعد کو اور دس ہزارکا ابو ایوب انصاری کو مقرر کیا۔ ابن خلدون کا بیان ہے کہ فوج کی جو مکمل فہرست تیار ہوئی اس میں چالیس ہزار آزمودہ کار سترہ ہزار رنگروٹ اور آٹھ ہزار مزودر پیشہ شامل تھے لیکن کوچ کا دن آنے سے پہلے ابن ملجم نے کام تمام کردیا ۔ مقدمہ نہج البلاغہ عبدالرزاق جلد ۲ ص ۷۰۴ میں ہے کہ فیصلہ تو ڈھونگ ہی تھا مگر صفین کی جنگ ختم ہوگئی اور معاویہ حتمی تبا ہی سے بچ گیا۔ اب امیرالمومنین نے کوفہ کا رخ کیا اور معاویہ پر آخری ضرب لگانے کی تیاریاں کرنے لگے ، ساٹھ ہزار فوج آراستہ ہوچکی تھی اور یلغار شروع ہی ہونے والی تھی کہ ایک خارجی عبدالرحمن بن ملجم نے دغا بازی سے حملہ کردیا ۔ حضرت امیرالمومنین شہید ہوگئے۔ ابن ملجم کی تلوار نے حضرت علیعليه‌السلام کا کام تمام نہیں کیا بلکہ پوری امت مسلمہ کو قتل کرڈالا تاریخ کا دھار ہی بدل ڈالا ابن ملجم کی تلوار نہ ہوتی تو خلافت منہاج نبوت پر استوار رہتی بہرحال امیرالمومنین ۲۱ رمضان ۴۰ ھ کو مسجد کوفہ میں شہید ہوگئے۔ حضرت امام حسینعليه‌السلام وغیرہ نے فرائض غسل و کفن سے سبکدوش حاصل کی ۔ حضرت مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی کا بیان ہے کہ دفن و کفن سے فراغت کے بعد حضرت امام حسنعليه‌السلام غریب خانہ پر تشریف لائے میں نے ان کے قدموں کو بوسہ دیا اور ان کی پوری خدمت کی اس کے بعد سے ان کی تاحیات خدمت کرتا رہا اور ان کے بعد سے حضرت امام حسین کی خدمت گزاری کو فریضہ جانتا رہا۔ حضرت امام زین العابدینعليه‌السلام ، حضرت امام محمد باقرعليه‌السلام ، حضرت امام جعفر صادقعليه‌السلام کے وہ ارشادات جوجناب مختار سے متعلق ہیں۔

انہیں علامہ ابوعمر و محمد بن عبدالعزیز الکشی کی کتاب الرجال میں ملاحظہ فرمائیے حضرت امام زین العابدینعليه‌السلام کی خدمت میں جناب مختار نے سرابن زیاد اور عمر سعد بھیجا تو آپ نے سجدہ شکر ادا کیا اور کہا خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمارے دشمنوں سے بدلا لیا۔وجزی الله المختار خیرا ً ۔

خداوندعالم اس عمل کی مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی کو جزائے خیر دے ۔ (ص ۸۵) حضرت امام محمد باقرعليه‌السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ کسی زن ہاشمیہ نے اپنے بالوں میں کنگھی نہیں کی اور نہ خضاب لگایا ہے جب تک مختار نے امام حسین کے قاتلوں کے سر نہیں بھیجے ۔ (۸۴) علامہ سید نوراللہ شوشتری تحریر فرماتے ہیں کہ (لوگوں کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر ) بعض لوگ حضرت مختار کی مذمت کرنے لگے تو چونکہ وہ زمانہ حضرت امام محمد باقرعليه‌السلام کا تھا اور آپ کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو آپ نے اس ارتکاب سے منع فرمایا اور کہا کہ ایسا مت کرو کیونکہ کہ مختار نے ہمارے قاتلوں کو قتل کیا ہمارے شیعوں کی بیواؤں کی تزویج کرائی اور بیت المال سے جوان کے دست تصرف میں تھا ۔ کافی مال بھیج کہ امداد کی منقول است کہ حضرت امام جعفر صادق برادر رحمت فرستاد ،مروی ہے کہ حضرت امام جعفر صادقعليه‌السلام نے مختار کے کارناموں سے تاثر کی وجہ سے ان کے لیے رحمت کی دعا کی ہے۔ (مجالس المومنین ص ۳۵۶) حضرت آقائے دربندی تحریر فرماتے ہیں کہ مرزبانی نے حضرت امام جعفر صادقعليه‌السلام سے روایت کی ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد سے پانچ حج ایسے گزر گئے تھے کہ بنی ہاشم کے گھروں میں دہواں نہیں اٹھا تھا اور نہ کسی عورت نے غم کے کپڑے اتارے تھے جب مختار نے عمر سعد اور ابن زیاد کا سر بھیجا تب گھر میں آگ بھی جلائی گئی اور غم کے کپڑے بھی اتارے گئے فاطمہ بنت علی کا بیان ہے کہ جب تک مختار نے زیاد اور ابن سعد کا سر ہمارے پاس نہیں بھیجا ۔ ہم نے سرمہ نہیں لگایا اور سر میں تیل نہیں ڈالا ۔ (اسرارالشہادت ص ۵۶۸طبع ایران ۱۲۸۶ھ)

واضح ہوکہ رجال کشی اور بعض دیگر کتب میں بعض ایسی روایات بھی مندرج ہوگئی ہیں جن سے حضرت مختار کی مخالفت ظاہر ہوتی ہے یہ روایات ضعیف ہیں علامہ دربندی ارشاد فرماتے ہیں کہ ایسی روایات یا توتقیہ پر محمول ہیں یا ضعیف راویوں کی وجہ سے ناقابل قبول ہیں اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایسی چیزیں عامہ کے پروپیگنڈے سے بالکل اختراع کے طور پر آگئی ہیں یہ ہرگز قابل تسلیم نہیں ہیں (اسرار الشہادت ص ۵۶۸)

حجۃ الاسلام علامہ محمد ابراہیم مجتہد لکھنوی تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت مختار کے بارے میں ایسی جملہ عبارات و تحریرات اور روایات دشمنان آل محمد کی وجہ سے شہرت پاگئی ہیں ۔ مختار کا زمانہ بنی امیہ کے بادشاہوں کا عہد حکومت تھا جو محمد وآل محمد کے شیعوں کیلئے انتہائی خطرناک تھا مختار نے چونکہ بے شمار بنی امیہ اور ان کے حواریوں کو قتل کیا تھا اس لیے بنی امیہ کے ہواخواہوں نے ان کے خلاف ایسی چیزیں مشہور کردیں جو ان کے وثاقت اور ان کے وقار کو پامال کردیں اور ان سے یہ چیزیں بعید نہ تھیں کیوں کہ ان لوگوں نے ایسی حرکتیں امیرالمومنین جیسی شخصیت کے خلاف بھی کی ہیں ۔ (اور امام حسنعليه‌السلام کو بدنام کرنے کی ناکام سعی کی ہے) اور وہ روایات جو امام تک صحیح راستوں سے منتہی ہوتی ہیں وہ قطعی طور تقیہ پر محمول ہیں کیونکہ بنی امیہ سے ان حضرات کے خطرات ظاہر ہیں ایک روایت جو اس قسم کی ہے کہ حضرت امام زین العابدینعليه‌السلام نے ۲۰ ہزار کا مرسلہ ہدیہ قبول فرمالیا۔پھر جب ایک لاکھ کا ہدیہ ارسال کیا تو آپ نے اسے پسند نہ فرمایا بلکہ مختار کے رسل و رسائل سے بھی اجتناب کیا یہ واضح کرتی ہے کہ امامعليه‌السلام نے حالات کی روشنی میں ایسا کیا تھا۔ (نورالابصار ص ۷)

میں کہتا ہوں کہ اگر ان کی نگاہ میں عمل مختار صحیح نہ ہوتا تو وہ پہلے ہی واپس فرما دیتے ، انہوں نے پہلے تسلیم کرلیا اور اس سے غربا کے پرورش کی ان کے مکانات کی مرمت کرائی اور اسے بیواؤں پر صرف کیا ، جیسا کہ حضرت امام محمد باقرعليه‌السلام کے ارشاد سے واضح ہے لیکن جب انہیں خطرہ محسوس ہوا تو وہ اس کے استعمال سے مجتنب ہوگئے۔ (رجال کشی ص ۸۳)

علامہ مذکور تحریر فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مختار کے دشمنوں نے ایسے ناپسندیدہ مطاعن اور مثالب سے انہیں مطعون کیا جو نظر مومنین سے انہیں گرادیں اور یہ بالکل ویسے کیا جیسے حضرت امیرالمومنین کے ساتھ کرچکے تھے ۔

جس کے نتیجہ میں بہت سے لوگ راہ راست سے بھٹک گئے اور انہوں نے اپنے کو ورطہ تباہی میں ڈال دیا ۔ (نورالابصار ص ۱۳)

علامہ شیخ جعفر بن محمد بن نما علیہ الرحمة تحریر فرماتے ہیں کہ معلوم ہونا چاہیے کہ بہت سے علما کو الفاظ کے سمجھنے کی توفیق نہیں ہوئی نہ وہ روایات کو نقل کرتے ہوئے غفلت کی نیند سے بیدار ہوئے ہیں لیکن اگر وہ مدح مختار میں اقوال آئمہ علیہم السلام پر غور کرتے تو انہیں یہ معلوم ہوجاتا کہ یہ ان سبقت کرنے والے مجاہدین میں داخل ہیں جن کی مدح خداوندعالم نے کتاب مبین میں کی ہے اور مختار کیلئے امام زین العابدینعليه‌السلام کی دعا دلیل ظاہر و روشن ہے کہ وہ حضرت کے نزدیک منتخب و نیکو کا ر افراد میں داخل تھے

اگر مختار درست وصحیح راستے پر نہ ہوتے اور امام کے علم میں ہوتا کہ وہ اعتقادات میں حضرت کے مخالف میں تو ہرگز ایسی دعا نہ کرتے جوباب اجابت سے ٹکرائے نہ ایسی بات کہتے جو اچھی نہ سمجھی جائے اور حضرت کی دعاعبث و بیکار ہوجاتی حالانکہ یہ محقق ہے کہ امام کا دامن عبث کام سے پاکیزہ و پاک ہے ہم نے اس کتاب کے اثنا میں متعدد مقامات پر ایسے اقوال لکھے ہیں جن سے ان کی مدح ہوتی ہے اور برابھلا کہنے کی ممانعت پائی جاتی ہے وہ مدح و ثنا اور ممانعت ارباب علم و بصیرت کیلئے کافی و وافی ہے حقیقت تو یہ ہے کہ اعداء جناب مختار نے اس طرح کی حدیثیں صرف اس لیے گڑھی ہیں تاکہ شیعوں کے دل اس سے متنفرہوجائیں ۔

یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ حضرت امیرالمومنین کے دشمنوں نے بہت سی برائیاں حضرت کی جانب منسوب کی ہیں جن کے سبب سے بہت سے لوگ ہلاکت کے گڑھے میں گر گئے ۔اور ان کی محبت و الفت سے کنارہ کش ہوگئے لیکن جو لوگ حضرت کے سچے دوست تھے ان کی حالت وہمی چیزوں نے نہیں بدلی نہ وہ ان خواب پریشان سے گمراہ ہوئے جناب مختار کے ساتھ بھی دشمنوں نے وہی برتاؤ کیا جو برتاؤ ابوالائمہ حضرت امیرالمومنینعليه‌السلام سے کیا تھا ۔ (ذوب النضار شرح الثار ص ۴۱۵ و دمعۃ ساکبہ ص ۴۰۳ )

ابن نما علیہ رحمة نے جو کچھ فرمایا ہے نہایت مضبوط اور درست ہے اس لیے کہ جس شخص نے کوفہ میں دشمنان اہل بیت کو چن چن کر قتل کیا ہو ۔قاتلان امام حسینعليه‌السلام کو تہ تیغ کیا ہو ۔ان کے گھر کھدوادے ہوں ان کی لیے دسعت زمین کو تنگ کیا ۔بنی امیہ اور عبداللہ ابن زبیر کی حکومت کے ارکان متزلزل کر دئیے ہوں۔ ظاہر ہے کہ ایسے شخص کے بدنام کرنے کی انہوں نے ہر امکانی سعی و کوشش کی ہو گی ۔اس لیے احادیث مذمت کسی طرح قابل اعتماد و وثوق نہیں ہو سکتے ۔ہمارے فرقے کے محققین و علما ء نے زبردست الفاظ میں ان کے مدح و ثنا کی ہے ۔جس سے ان کی عظمت وجلالت پر اچھی طرح روشنی پڑتی ہے ہم یہاں پر ان میں بعض اقوال کو نقل کرتے ہیں ۔ علامہ کبیر حضرت محقق اردبیلی حدیقہ الشیعہ میں فرماتے ہیں کہ جناب مختار کے حسن عقیدہ میں کلام کی گنجائش نہیں ہے ۔جناب علامہ حلی علیہ الرحمہ نے ان کو مقبول لوگوں میں شمار کیا ہے ۔امام محمد باقرعليه‌السلام نے ان کے لیے دعائے خیر کی ہے ۔

جناب مختار کے موثق و معتبر ہونے کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ جب حضرت سید الشہداء کی شان یہ ہے کہ لوگ صرف آپ کے غم میں گریہ وزاری کے سبب سے داخل جنت ہوں گے اور جہنم سے آزاد ہوں گے ۔اسی طرح وہ بھی جنتی ہوگا جو یہ تمنا کرے کہ کاش میں حضرت اور حضرت کے اصحاب کے ساتھ روز عاشور اہوتا اور شرف شہادت حاصل کرتا تو یہ کیونکر جائز ہو سکتا ہے کہ مختار کے مانند انسان جہنم میں داخل ہو جنت ان پرحرام ہو ۔حالانکہ انہوں نے عمر سعد ،شمر بن ذی الجوشن، خولی اصبحی ،قیس ابن اشعث (ابن زیاد)اور ان کے مثل اعداء سید الشہداءعليه‌السلام کو قتل کیا ہے اس کے بعد علامہ ارد بیلی ختم و جزم ویقین کے ساتھ فرماتے ہیں کہ جناب مختار اور ان کے امثال پیش پرودگار درجات رفیعہ اور مراتب عالیہ کے مالک ہیں ۔علامہ احمد اردبیلی نے اپنی تحریر میں جو واقعہ کربلا میں شریک ہونے کی تمنا کرنے سے نجات پانے کی طرف ارشاد فرمایا ہے اس کے ذیل میں ایک اہم واقعہ ہے اور وہ یہ ہے کہ : ایک روز بادشاہ عمر بن لیث اپنے لشکر کا جائزہ لے رہا تھا اور اس نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ جس افسر کی فوج میں ایک ہزار چیدہ جوان ہو ں گے اس کو ایک سونے کا گرز عطا کروں گا ۔جب وہ جائزہ سے فارغ ہوا اور حساب کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس نے ایک سو بیس طلائی گرز عطا کیے ہیں جب اس نے ایک سو بیس گرز کا لفظ سنا جس سے ایک لاکھ بیس ہزار فوج کے جوان ہوتے تھے ۔تو خود ازاسپ بزیر انداخت و سر بسجدہ نہاد اپنے کو گھوڑے سے گرا دیا اور سر کو سجدہ میں رکھ کر رونا شروع کیا اور اپنے منہ پر خاک ملنے لگا ۔اور اسی عالم میں اتنی دیر تک روتا رہا کہ بیہوش ہو گیا۔بالآخر جب ہوش آیا تو اس کے ایک مصاحب نے پوچھا جان پناہ میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں۔حضور یہ تو خوشی کا موقعہ تھا اس وقت گریہ وزاری کیسی ؟بادشاہ نے کہا کہ جب میں نے یہ سنا کہ میری فوج میں ایک لاکھ بیس ہزار جوان ہیں ۔

واقعہ کربلا بخاطر رسید مجھے واقعہ کربلا یاد آگیا اور اس کا نقشہ آنکھوں میں پھر گیا اور یہ حسرت پیدا ہوئی کہ کاش میں بھی اس روز لشکر سمیت کربلا میں موجود ہوتا اور یا تو کفار مسلمین کو تہس نہس کر دیتا اور اپنے آقا ومولا امام حسین پر قربان ہو جاتا۔جب بادشاہ کا انتقال ہو ا تو لوگوں نے اسے ایسی حالت میں خواب میں دیکھا۔کہ اس کے سر پر تاج مرصع ہے اور بر میں لباس فاخرہ اور حورو غلمان اس کے آگے پیچھے چکر لگا رہے ہیں کسی نے کہا اے بادشاہ مرنے کے بعدتجھ پر کیا گزری اس نے عالم خواب ہی میں جواب دیا کہ خداوند عالم نے میری اس تمنا کے عوض جو میں جائزہ لشکر کے دن کی تھی میرے سارے گناہان صغیرہ وکبیرہ بخش دیئے وہرگاہ بمجرد نیتی کہ بجہت نصرت امام شہید درد دل شخصے گذرد ونجات حاصل گردد نصرت سید الشہدا کی وجہ سے نجات ہو سکتی ہے تو مختار اور انہی کے مثل لوگوں کے نجات کیونکر نہ ہوگی یقین ہے کہ ایسے لوگوں کو بلند درجے اور عظیم مراتب حاصل ہوں گے ۔ (نورالابصار ص۱۱طبع لکھنوء)

غرضیکہ حضرت مختار کی جلالت قدر کسی قسم کا شبہ نہیں وہ خدا اور رسول اور آئمہ طاہرین کی نظر میں ممدوح تھے۔یہی وجہ ہے کہ علما اہل تشیع میں سے ان کی کسی نے مخالفت نہیں کہ بلکہ تقریبا ً تمام کے تمام علماء ان کو اچھی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔حضرت علامہ مجلسی کا بیان ہے کہ یہ علما ء کی نگاہ میں مشکورین میں سے تھے۔(بحارالانوارص۳۹۸ج۱)

آقائے دربندی کا بیان ہے کہ اکثر اصحابنا علی انہ مشکور روزائرہ ماجور۔کہ اکثر اصحاب کے نزدیک یہ مسلم ہے کہ حضرت مختار قابل تشکر ہیں اور ان کی زیارت کرنے والا ، اجر وثواب پائے گا آپ کا یہ بھی بیان ہے کہان المختار ابن ابی عبیده لا الثقفی مشکور عنه الله وعزوجل وعند حججه المعصومین عليه‌السلام ممدوح کہ حضرت مختار خدا وند عالم اور آئمہ معصومینعليه‌السلام کے نزدیک مشکور و ممدوح ہیں (اسرار الشہادت ص۵۲۷)

مختصر یہ کہ حضرت مختار کے خلاف جو بھی مشہور ہے وہ بنی امیہ کے پروپینگنڈے کا نتیجہ ہے (تنقیح المقال علامہ مامقانی )اور یہ عجیب بات ہے کہ جو پروپیگنڈا بنی امیہ نے کیا تھا ۔ان کے ماننے والے اسے اب بھی جلا دے رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اموی پر ستاروں میں سے کسی ایک نے بھی حضرت مختار کی مدح نہیں کی اور اب یا اس عہد سے پہلے جتنے علما گذرے ہیں انہوں نے حضرت مختار کے خلاف ہی لکھا ہے۔ مثال کے لیے ملاحظہ ہو مولانا محمد ابو الحسن محدث مصنف فیض الباری شرح صحیح بخاری اپنی کتاب خیر المآل فی السما ء الرجال المسمیٰ بہ ترجمة الاکمال میں لکھتے ہیں کہ ۱مختار بڑا ہی جھوٹا اتھا ، ۲اس کے دل میں ہوس حکومت تھی ۔لیکن وہ امام حسین کے خون بہا کا ڈھونگ رچاتا تھا ،۳اس سے بہت سے مخالف دین باتیں ظاہر ہوئیں ۔ محدث دہلوی شیخ عبد الحق لکھتے ہیں کہ مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی کذاب تھا ۔(مشکوٰة شریف ص۵۴۳طبع دہلی ۱۲۷۳ءء)

شیخ اسلام امام بن تیمیہ لکھتے ہیں کہ مختار شیعی کذاب تھا ۔یزید بہت سے دوسرے حکمرانوں سے اچھا تھا وہ عراق کے امیر مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی سے کہیں اچھا تھا ۔

جس نے حضرت حسینعليه‌السلام کی حمایت کا علم بلند کیا اور ان کے قاتلوں سے انتقام لیا مگر ساتھ ہی ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا کہ جبریل اس کے پاس آتے ہیں ۔(ترجمہ منہاج السنۃ حسین ویزید ص۳۴طبع ہند پریس کلکۃ)

مولوی عبد الشکور لکھنوی لکھتے ہیں ابن سبا کے بعد مختار نے بھی مشرکانہ تعلیم کے رواج دینے میں اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں بہت کام کیا اس نے پہلے نبوت کا پھر خدائی کا دعوے ٰ کیا۔ خاندانی تفرقہ کا فتنہ پیدا کرکے ہزاروں مسلمانوں کو قتل کرایا ۔اس نے واقعہ کربلا کو آلہ کار بنایا تھا ۔ (فتنہ ابن سبا ص۶۷طبع ملتان)

مولوی اکبر شادی نجیب آبادی زیر عنوان ملت اسلامیہ میں فتنوں کی ابتدا لکھتے ہیں کہ عبد اللہ ابن سبا کے بروز ثانی مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی کی مشرکا نہ تعلیم اور کفر یہ دعاوی کو بھی جزو ایمان سمجھ لیاسلیمان بن صرد خزاعی ہاشمیوں اور شیعیان علی کو فراہم کرکے جنگ عین الورد میں ہزار ہامسلمانوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کر ا چکا تھا کہ مختار مذکور نے محمد بن حنیفہ برادر امام حسین اور عبد اللہ ابن عمر کو دھوکا دے کر کوفہ میں اپنی قبولیت اور رسوخ کے لیے راہ نکال لی ۔اور حضرت امام حسینعليه‌السلام کی شہادت اور حادثہ کربلا کے دلگداز واقعات وحسرت ناک تذکرہ کو آلہ کا ر بنا کر عبد اللہ بن سبا والے فتنہ خفة کو بیدار کرکے خاندانی امیتازات اور قبائلی عصبیتوں میں جان ڈال دی۔(رسالہ تجدید عہد ربوبیت نمبر ص۹لاہور اپریل ۱۹۵۵ءء)

علامہ شیخ محمد الخضری نے حضرت مختار کو فتنہ کبریٰ تحریر کیا ہے ۔(تاریخ الامم الاسلامیہ جلد ۲ص۲۱۳طبع مصر )علامہ جلال الدین سیوطی نے حضرت مختار کو المختار الکذاب اب لعنة اللہ تحریر کیا ہے (تاریخ الخلفاء ص۱۴۹) علامہ سپھر کا شانی ا س کی تصدیق میں لکھتے ہیں کہ اہلسنت حضرت مختار کے کارنامہ عظیم کا طلب حکومت کا ذریعہ قرار دیتے ہیں (ناسخ التوریخ جلد ۲ص۶۶۶)

گر قلم درست غدار ے بود لا جرم منصور بردارے بود اس مشتے نمونہ ازخردار ے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اموی بادشاہوں اور ان کے پرستاروں نے حضرت مختار کو بد نام کیا ہے ۔

ورنہ جیسا کہ ہم نے اوپر تحریر کیا حضرت مختار خدااور رسول اور آئمہ طاہرین کے منظور نظر اور ان کی نگاہ میں مشکور د ممدوح تھے ۔

یہ بالکل درست اور قطعی طور پر اٹل ہے مجھے افسوس ہے کہ ہمارے بعض علما بھی اس پروپیگنڈا سے متاثر ہو گئے ہیں۔

میرے نزدیک ان لوگوں کے اقوال نظر انداز کر دیئے کہ قابل ہیں اور انہیں بقول علامہ ابن نما معذور سمجھنا چاہیئے ۔


چھٹا باب

حضرت مختارعلما ء کرام کی نگاہ میں

حضرت مختار کے متعلق خداوندعالم ، حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرات معصومینعليه‌السلام کے نظریات کو پیش کرنے میں حضرات علماء کرام کے نظریات بھی ایک گونہ واضح ہوگئے ہیں لیکن ہم زیر عنوان بالا اس کی مزید وضاحت کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کے ممدوح ہونے میں کسی قسم کا شبہ باقی نہ رہ جائے۔ واضح ہوکہ ہمارے وہ علماء جن پر ہمارے مذہب حقہ اثنا عشریہ کی بنیادیں استوار ہوئی تھیں۔یعنی جن کا وجود بنیادی نقطہ نگاہ سے ہمارے مذہب میں عظیم سمجھا جاتا ہے ان میں سے تقریباً کل کے کل کی نظروں میں حضرت مختار کو اونچا مقام نصیب ہوا ہے میری نظر سے ہمارے کسی بڑے عالم کی ایک تحریر بھی ایسی نہیں گزری جس میں انہوں نے اپنا نظریہ مختار کے خلاف پیش کیا ہو یہ اور بات ہے کہ انہوں نے نقل قول یا نقل روایات اپنی کتابوں میں کی ہو یعنی ایسا تو ضرور ہے کہ روایات مدح وذم دونوں نقل کردی گئی ہیں لیکن اپنا ذاتی نظریہ کسی نے بھی مخالفت مختار میں نہیں پیش کیا بلکہ اکثر نے ایسا کیا ہے کہ مخالفت کی روایات کی تاویلات کی ہیں البتہ بعض علماء روایت حب شخین سے نجات کلی میں متوقف ہوگئے ہیں لیکن انہوں نے کارنامہ مختار میں ان کے نیک نیتی پر کسی قسم کا شبہ نہیں کیا میرے نزدیک روایت حب شخین تاویل شدہ ہے اور ان کے حسن عقیدہ میں گنجائش کلام نہیں ہے۔

علامہ شہید ثالث رحمة اللہ علیہ رقمطراز ہیں درحسن عقیدہ اودر شیعہ راسخنی نیست حضرت مختار کے حسن عقیدہ میں کسی شیعہ کو کلام و اعتراض کی گنجائش نہیں علامہ کا بیان ہے کہ حضرت علامہ حلی کے نزدیک حصرت مختار مقبول اصحاب میں تھے۔ (مجالس المومنین ص ۳۵۶)

علامہ مجلسی کتاب خلاصة المقال فی علم الرجال کے ص ۳۲ پر تحریر فرماتے ہیں کہ مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی ثقہ تھے ،

علامہ معاصر مولانا سعادت حسین مجتہد رقمطراز ہیں کہ علامہ مامقانی تنقیح القال کی جلد ۳ میں حضرت مختار کے متعلق طویل بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس کے بارے میں تحقیق اس کی مقتضی ہے کہ ہم دو حیثیتوں سے بحث کریں پہلی یہ کہ جناب مختار کا عقیدہ اور مذہب کیا تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ مسلمان بلکہ شیعہ امامی تھے اس پر شیعہ ، سنی دونوں کا اتفاق ہے میرے نزدیک امرحق یہ ہے کہ جانب مختار امامت حضرت زین العابدینعليه‌السلام کے قائل تھے اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے حضرت امیرالمومنینعليه‌السلام سے یہ سنا تھا کہ اتنے ہزار اعوان و انصار بنی امیہ کو موت کے گھاٹ اتاردیں گے یہ کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ کوئی سنی امیرالومنینعليه‌السلام کے لیے یہ عقیدہ نہیں رکھتا کہ آپ عواقب و انجام کو خداوندعالم کے اذن سے جانتے تھے یہ مخصوص عقیدہ مذہب شیعہ کا ہے اس لیے جناب مختار کا حتم و جزم ویقین سے یہ خبر دینا کہ میں کوفہ کا حاکم بنوں گا۔عبیداللہ ابن زیاد مجھے قتل نہیں کر سکتا ۔جب تک میں بنی امیہ کی مدد گار وں میں اتنی آدمیوں کو قتل نہ کردوں ۔اگر یہ مجھے قتل بھی کر دے گا تو خدا وند مجھے زندہ کر لے گا، یہ عقیدہ اہل سنت کے مذہب کے موافق نہیں ہے اور فرقہ حقہ مذہب امامیہ کے لیے مخصوص ہے اس لیے کہ آئمہ کے لیے قائل ہیں کہ وہ عواقب و انجام سے باخبر ہیں۔ جیسا کہ آئمہ کے حا لات کو دیکھنے کے بعد وجدان صحیح اس کو معلوم کر سکتا ہے۔ بلکہ حالات کے دیکھنے سے یہ بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ آئمہ نے اپنے مخصوص اصحاب کو بھی بعض امور کے اسرار و رموز وانجام کو بتلا دیا تھا اور مطلع کر دیا تھا کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے ۔

جیسا کہ حبیب ابن مظاہر کو یہ مطلع کر دیا تھا کہ کر بلا میں کیا ہونے والا ہے۔ اور مثیم تمار کو یہ بتا دیا تھا کہ امیر المومنین پر کیا واقعات گزرنے والے ہیں ،بلکہ خود جناب مختار کو جناب مثیم تمار نے بتا دیا تھا کہ تم قید سے رہا ہو جاؤ گے اور امام حسین کے خون کا عوض لو گے ۔ بلکہ ان کے علاوہ بہت سی باتیں اصحاب آئمہ کو معلوم تھیں جو متواتر احادیث سے ثابت ہیں اور کتب و تواریخ ان سے بھری پڑی ہیں۔ جناب کے اس یقین سے کہ وہ بنی امیہ کے حمایت کرنے والوں میں سے اتنے ہزار افراد کو قتل کریں گے پتہ چلتا ہے کہ وہ اعتقاد رکھتے تھے کہ اگر قتل بھی کر دیئے گئے تو خداوند عالم ان کو زندہ کرے گا ۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جناب مختار،مسلم ،موحد اور شیعہ امامی تھے ۔ بلکہ اقوی و اظہر یہ کہ وہ امامت امام زین العابدین وغیرہعليه‌السلام کے قائل تھے ۔ علامہ ما مقانی فرماتے ہیں ۔کہ مختار کے حالات پر بحث کا دوسرا عنوان یہ ہے کہ آیا ان کی حکومت باطل تھی یا امام کی اجازت سے قائم ہوئی تھی ۔ ظاہر یہ ہے ، کہ انہوں نے امام کی رضامندی حاصل کرنے کے بعد حکومت قائم کی تھی ۔ جیسا کہ علامہ ابن نما علیہ الرحمتہ نے اس طرح کی ایک روایت تحریر کی ہے علاوہ بریں آئمہ علیہم السلام ان کے افعال سے راضی تھے ۔ انہوں نے بنی امیہ اور ان کے مدد گاروں کو قتل کیا ،گرفتار کیا ، ان کے اموال لوٹے ۔ جیسا کہ اس کے طرف ان روایات میں اشارہ ہو چکا ہے ۔ جو ان کی مدح و ثنا ، ان کے افعال پر اظہار تشکر و امتنان ، جزاے خیر دئیے جانے کی دعا اور دعائے نزول رحمت پر دلالت پر کرتی ہیں۔ علامہ مامقانی نے ان تمام رویات کو نقل کیا ہے ۔اور آخر میں فرماتے ہیں کہ یہ تمام باتیں جو ہم نے ذکر کیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ جناب مختار شیعہ امامی تھے ۔ان کی سلطنت امام کی اجازت سے قائم ہوئی تھی ۔بہر حال علامہ حلی نے جناب مختار کی روایت پر اعتماد کیا ہے ۔اسی سبب سے ان کو قسم اول کے راویوں میں شمار کیا ہے ۔ یہ بھی ان کے شیعہ ہونے کی دلیل ہے ۔اس لیے کہ جو شخص علامہ کے خلاصہ کا مطالعہ کرے۔اسے واضح ہو جائے گا ۔کہ قسم اول میں انہوں نے صرف شیعوں کو تحریر فرمایا ہے ۔ جناب علامہ ابن طاؤس علیہ الرحمہ نے بھی نص کر دی ہے کہ جناب مختار کی روایات پر عمل کیا جائے گا۔علامہ حائری اور علامہ ابن نما تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت مختار امام زین العابدین کے قائل تھے ۔نیز محمدحنفیہعليه‌السلام امام زین العابدینعليه‌السلام کی امامت پر ایمان رکھتے تھے ۔(معارف الملة الناجیہ والناریہ ص۵۲وذوب النضار ضمیمہ بحار جلد ص ۴۰۱طبع ایران )

حضرت مختار کے کردار پر غلط نگاہ

جیساکہ میں نے حضرات معصومین اور علماء کرام کے اقوال سے واضح و ثابت کر دیا کہ حضرت مختار کا کردار نہایت مستحسن اور قابل ستائش تھا ۔ان کی زندگی کے لمحات عقیدے کی خوشگواری میں گزرے پھر کھلے لفظوں میں کہتا ہوں کہ حضرت مختار نیک عقیدہ ،خوش کردار ،نیک نیت ،نیک چلن، بلند ہمت اور جملہ صفات حسنہ کے مالک تھے ۔نہایت افسوس ہے کہ بنی امیہ کے پرستاروں نے اس پاک باز اور نیک سرشت شخصیت کو بدنام کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا یا ہے۔ اس وقت میرے پیش نگاہ ایک رسالہ ہے جس کا نام ہے تجدید عہد ،جو زیرادارت غلام نبی انصاری ماہنامہ کی صورت میں لاہور سے نکلتا ہے ۔یہ پرچہ ربوبیت نمبر ہے ۔اس کی تاریخ اشاعت اپریل ۱۹۹۵ ء ہے ۔اس میں حضرت مختار کے خلاف پوری زہر چکانی کی گئی ہے ۔اور ان کی مخالفت میں آئیں بائیں شائیں جو کچھ سمجھ میں آیا ہے لکھ مارا ہے ۔میں اس میں سے صرف چند جملے نقل کرتا ہوں۔

مولف مختار آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دعویٰ

مجھے مسرت ہے کہ دنیائے اسلام میں ابن سباء کے وجود سے سب سے پہلے میں نے اپنی مورخانہ سوجھ بوجھ اور تحقیق کے ذریعہ سے انکار کیا تھا ۔ اب اس کے بعد بڑے بڑے علماء یہی کچھ کہہ رہے ہیں ۱۹۳۷ ء میں میں نے عبداللہ ابن سبا کی حقیقت کے زیر عنوان الواعظ لکھنو میں ایک مسلسل مضمون لکھا تھا جس کی آخری قسط میں تحریرکیا تھا کہ ابن سبا ایک فرضی نام ہے اور واقعہ جمل و صفین پر پردہ ڈالنے کیلئے سطح دہرپر نمایاں کیا گیا ہے ۔

الخ اس بیان کا حوالہ میرے مضمون سعد و نحس مطبوعہ اخبار شیعہ مورخہ ۸ نومبر ۱۹۴۵ ء میں موجود ہے۔ عالم اہل سنت علامہ ڈاکٹر طہ حسین جو مصر کے اساطین علم میں سے ہیں تحریر فرماتے ہیں کہ ابن سبا بالکل فرضی اور من گھڑت چیز ہے اور جب فرقہ شیعہ اور دیگر اسلامی فرقوں میں جھگڑے چل رہے تھے تو اس وقت اسے جنم دیا گیا شیعوں کے دشمنوں کا مقصد یہ تھا کہ شیعوں کے اصول مذہب میں یہودی عنصر داخل کردیا جائے۔ یہ سب کچھ بڑی چالبازی اور مکروفریب کی صورتیں تھیں ۔

محض شیعوں کو زچ کرنے کیلئے امویوں اور عباسیوں کے دور حکومت میں شیعوں کے دشمنوں نے عبداللہ ابن سباء کے معاملہ میں بہت مبالغہ آمیزی سے کام لیا اس کے حالات بہت بڑھا چڑھا کر بیان کیے اس سے ایک فائدہ تو یہ تھا کہ حضرت عثمان اور آن کے عمال حکومت کی طرف سے جن خرابیوں کی نسبت دی جاتی ہے اور ناپسندیدہ باتیں جو ان کے متعلق مشہور ہیں کو سن کر لوگ شک و شبہ میں پڑجائیں دوسرا فائدہ یہ کہ علیعليه‌السلام اور ان کے شیعہ لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل و خوار ہوں نہ معلوم شیعوں کے دشمنوں نے شیعوں پر کتنے الزاما ت لگائے اور نہ جانے شیعوں نے کتنی غلط باتیں اپنے دشمنوں کی طرف عثمان وغیرہ کے معاملہ میں منسوب کیں۔ (الفتنۃ الکبری جلد ۱ ص ۱۳۲ طبع مصر)

اس ضمن میں ایک مشہور قصہ کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے جسے بعد میں آنے والے راویوں نے بہت اہمیت دی ہے اور خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا ہے یہاں تک کہ بہت سے قدیم وجدید مورخین نے اس قصہ کو حضرت عثمان کے خلاف رونما ہونے والی بغادت کا سرچشمہ قرار دے لیا ہے جو مسلمانوں میں ایک ایسے افتراق کا باعث ہوئی کہ تاحال مٹ نہیں سکا۔ یہ قصہ عبداللہ ابن سباء ہے جو عربی دنیا میں ابن السودا کے نام سے مشہور ہے۔ میرا خیال ہے کہ جو لوگ ابن سبا کے معاملہ کو اس حد تک اہمیت دیتے ہیں وہ نہ صرف اپنے آپ پر بلکہ تاریخ پر بھی شدید ظلم کرتے ہیں اس سلسلہ میں سب سے پہلی غور طلب چیز یہ ہے کہ ان تمام اہم ماخذمیں جو حضرت عثمان کے خلاف رونما ہونے والی شورش پر روشنی ڈالتے ہیں ہمیں ا بن سبا کا ذکر ہی نہیں ملتا مثلاً ابن سعد نے جہاں خلافت عثمان اور ان کے خلاف بغاوت کا حال رقم کیا ہے وہاں ابن سبا کا کوئی تذکرہ نہیں کیا

اسی طرح بلاذری نے بھی انساب الاشراف میں اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ابن سبا کی یہ داستان طبری نے سیف بن عمر کی روایت سے بیان کی ہے اور معلوم یہی ہوتا ہے کہ مابعد کے جملہ مورخین نے اس روایت کو طبری ہی سے لیا ہے ۔ (الفتنۃ الکبری ص ۲۸۲ ، ۲۸۵ طبع لاہور) عالم اہل تشیع ، ملت جعفریہ کے عظیم محقق حضرت حجۃ الاسلام علامہ شیخ محمد حسنین آل کاشف العظاء (نجف اشرف) تحریر فرماتے ہیں۔ اس سلسلہ میں بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ عبداللہ ا بن سبا ء مجنوں عامری اور ابوہلال وغیرہ داستان سراوں کے خیالی ہیرو ہیں اموی اور عباسی سلطنتوں کے وسطی دور میں عیش وعشرت اور لہو و لعب کو اتنا فروغ حاصل ہوگیا تھا کہ فسانہ گوئی ، محل نشینوں اور آرام طلبوں کا جزو زندگی بن گئی چنانچہ اس قسم کی کہانیاں بھی ڈھل گئیں۔ (اصل الشیعہ واصولہا ص ۲۵)

مختصر یہ کہ ابن سبا کا افسانہ مورخ طبری نے سب سے پہلے سیف بن عمر کے حوالے سے نقل کیا ہے اور سیف بن عمرراوی کے متعلق علماء علم رجال کا اتفاق ہے کہ یہ گمنام اور مجہول الحال لوگوں سے روایت کرتا ہے ۔ یہ ضعیف روایات بیان کرتا ہے ۔ متروکہ احادیث گڑھا کرتا ہے۔ ساقط الروایت ہے،۔ من گڑھت حدیثیں معتبر لوگوں کی طرف منسوب کرکے بیان کرتا ہے ۔ اس کی اکثر روایات ناقابل قبول ، وضعی اور پراز کفر و زندقہ ہوتی ہیں (فہرست ابن ندیم ص ۱۳۷ میزان الاعتدال ج ۱ص ۴۳۸ تہذیب الترہیب جلد ۴ ص ۹۵ ) وغیرہ ، بنا برین اس کے بیان اور اس کی روایت کی اہمیت نہیں دی جاسکتی۔ میں کہتا ہوں کہ صاحب تجدید عہد نے حضرت مختار کے کردار کی عمارت جس بنیاد پر قائم کی تھی اس کا وجود ہی نہ تھا لہٰذا ان کی قرضی تعمیر منہدم ہوکے رہ گئی۔


ساتواں باب

جنگِ صفین کے سلسلہ میں حضرت علیعليه‌السلام کا کربلا میں ورود اور سعد بن مسعود سے کارنامہ مختار کا تذکرہ

صفین نام ہے اس مقام کا جو فرات کے غربی جانب رقہ اور بالس کے درمیان واقع ہے۔(معجم البلدان ص ۳۷باب ص طبع مصر ۱۹۰۶ء)

یہیں اسلام کی وہ قیامت خیز جنگ عالم وقوع میں آئی ہے ۔جو جنگ صفین کے نام سے مشہور ہے ۔اس جنگ کے اسباب میں معاویہ کی چیرہ دستیوں اور اس کے تمرد اور اس کی سرکشی کو پوراپور ا دخل ہے ۔ معاویہ عہد عمری سے شام کا گورنر تھا ۔وفات عثمان کے بعد جب امیر المومنین خلیفہ ظاہری تسلیم کیے گئے اور عنان حکومت آپ کے دست میں آئی تو آپ نے معاویہ سے کہلا بھیجا کہ مجھ پر جو قتل عثمان کی سازش کا الزام لگا کر شامیوں کو برافروز کر رہے ہو ۔

اور اپنے کو رسول خدا کا منصوص خلیفہ ظاہر کر رہے ہو ۔(سیر الائمہ ص۴۵)

یہ تمہاری حرکت افسوسناک ہے اس سے باز آؤ۔ معاویہ نے اس کا الٹا سیدھا جواب دیا۔

حضرت علی نے باربار فہمائش کی ۔مگر معاویہ کے کان پر جوں تک نہ رینگی ۔یہاں تک کہ آپ کو یقین کامل ہو گیا کہ یہ میری بات کسی طرح نہ مانے گا ۔پھر اس کے علاوہ آپ کو اس امر کا علم قطعی ہو گیا کہ وہ مجھ سے برسرپیکار ہونے کی پوری پوری تیاری کر رہا ہے تو آپ نے برسرمنبر فرمایا ۔میں نے حاکم وقت ہونے کی حیثیت سے معاویہ کو معزول کر دیا ہے اور اب اسے حاکم شام تسلیم نہ کیا جائے ۔(اکسیر التواریخ ص(۷۵ معاویہ جو خود حضرت علی کو منصب خلافت کے حدود میں دیکھنا پسند نہیں کررہا تھا اسے جب اس معزولی کی خبر ملی تو اس نے آپ سے مقابلہ کی ٹھا ن لی ۔

چنانچہ جنگ جمل اسی کا ایک شاخسانہ تھا ۔جو حضرت عائشہ کی زیرسر کردگی ظاہر ہوا ۔جنگ جمل کے بعد آپ نے اس کو سمجھانے میں بڑے مبالغہ سے کام لیا ۔مگر کتے کی دم سیدھی نہ ہو سکی ۔اور وہ مرغ کی ایک ہی ٹانگ پر قائم رہا ۔معاویہ کھل کر میدان میں آنے کے لیے بے چین تھا۔ بنا یریں ایک لاکھ بیس ہزار کا لشکرلے کر حضرت علی پر حملہ کرنے کے لیے چل کھڑا ہوا اور مقام صفین پر آ پہنچا ۔علامہ دمیری لکھتے ہیں اجمعو علی قتالہ قاتلھم اللہ خدا معاویہ اور اس کے ساتھیوں کو غارت کرے کہ ان لوگوں نے حضرت امیر المومنینعليه‌السلام سے جنگ پر ایکا کر لیا ۔(حیوٰة الحیون جلد ۱ص۵۶)

جب حضرت امیر علیہ السلام کو پتہ چلا کر معاویہ ایک لاکھ بیس ہزار بروایت ایک لاکھ ساٹھ ہزار کا لشکر لے کر مقام صفین تک آ پہنچا ہے ۔تو آپ نے بھی ۹۰ہزار کی فوج سمیت حرکت فرمائی۔(تاریخ اسلام ص۲۰) آپ بارادہ صفین تشریف لے جارہے تھے کہ راستہ میں مقام کربلا آگیا ۔آپ نے پوچھا اس زمین کو کیا کہتے ہیں ۔کہا گیا کربلا یہ سن کر آپ اتنا روئے کہ زمین آنسو سے تر ہو گئی۔ اصحاب نے رونے کا سبب پوچھا تو فرمایا ۔ میں ایک دفعہ رسول کریم کی خدمت میں ایسی حالت میں پہنچا کہ وہ رو رہے تھے میں نے پوچھا رونے کا سبب ؟ آپ نے جواب دیا کہ ابھی ابھی جبرئیل آئے تھے

وہ کہہ رہے تھے کہ تمہارے حسین کربلا میں شہید کر دیا جائے گا ۔یہ کہہ کر انہوں نے مجھے تھوڑی سی مٹی دی ۔اور کہا کہ اسے سونگھو ،میں نے جو نہی اسے سونگھا میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ (صواعق محرقہ ص۱۱۰منار الہدیٰ ص۱۹۲،روائح القرآن ص ۴۹۸)

امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اسی سر زمین پر آل محمد کا ایک برگزیدہ گروہ قتل کیا جائے گا جس کے غم میں زمین وآسمان روئیں گے۔(مسند جلد ۱ ص۸۵سرالشہادتین ص۱۱۷اخبار ص۱۰۷حیواة الحیوان ص۵۱۱۲۰)

علامہ مجلسی تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت علی جب نینوا کے قریب پہنچے تو آپ کے لشکر کا پانی ختم ہو گیا ہر چند سعی آب کی مگر پانی دستیاب نہ ہوا ۔

ناگاہ ایک دیر راہب پر نظر پڑا وہاں پہنچ کر طلب آب کیا راہب نے کہا یہاں پانی نہیں ہے آپ آگے بڑھیں ۔

دو فرسخ چل کر آپ نے جانب قبلہ ایک مقام کھدوایا تو ٹھنڈے پانی کا چشمہ برآمد ہوا ۔لیکن اس کے دہانے پر بڑ ا پتھر تھا آپ نے اسے بر طرف کیاچشمہ جاری ہوا ۔راہب نے اسلام قبول کیا ۔اس کے بعد آپ کربلا پہنچ کر وہاں بہت روئے ۔(کشف الانوار ص۱۱۲حبیب اسیر جلد ۱ص۵۶جامع التواریخ ص۲۳۸) مجاہد کوفہ جنابسلیمان بن صرد خزاعی کا بیان ہے کہ میں جنگ صفین کے سلسلہ میں حضرت علیعليه‌السلام کے ہمرکاب تھا ۔جب آپ کی سواری کربلا پہنچی تو آپ بے ساختہ رونے لگے ۔میں نے پوچھا مولا کیوں رو رہے ہو۔ آپ نے فرمایا کہ کیوں نہ روؤں اس مقام پر میرے فرزند میں سے بہت سے افراد اس مقام پر اتریں گے ،قیام کریں گے اور قتل کر دئیے جائیں گے ۔دشمنوں اور ظالموں کا گروہ ان پر پانی بند کر دے گا ۔اور اسی زمین پر ان کا خون بے دریغ بہایا جائے گا ۔

یہ فرما کہ آپ نے امام حسینعليه‌السلام کی طرف رخ کیا اور فرمایا اے میرے بیٹے حسین یہ واقعہ ہائلہ تیرے ساتھ ہوگا ۔

اور ایسا سنگین ہو گا کہ آسمان اس کے صدمے سے سرخ ہو جائے گا اور شفق کی صورت میں افق پر سرخی ظاہر ہو گی ۔ جو قیامت تک رہے گی ۔ ایں سرخی شفق کہ بریں چرخ بے وفاست ہر شام عکس خون شہید ان کربلا ست حضرت کامل کراروی بزہان اردو کہتے ہیں اگر سمجھے تو ماتم زا فضائے آسمانی ہے شفق کہتے ہیں کہ جس کو خون بیکس کی نشانی ہے الغرض حضرت علیعليه‌السلام کے ارشاد کے جواب میں حضرت امام حسینعليه‌السلام نے عرض کیا ۔بابا جان آپ رنجیدہ نہ ہوں۔ہماری زندگی کا زیور ،رضائے پٍرودگار عالم ہے یہ سن کر حضرت علیعليه‌السلام جناب سعد بن مسعود ثقفی کی طرف متوجہ ہوئے ۔جو حضرت مختار علیہ الرحمہ کے چچا تھے ۔اور ان سے فرمایا کہ برادرزادہ ات مختار کشند گان فرزندان مرابکشد ،تمہارا بھتیجا مختار میرے فرزند کے قاتلون کو قتل کرے گا ۔دیکھو اس کی حفاطت سے غفلت نہ کرنا تاکہ وہ اس کارنامے کا مظاہر ہ کرسکے۔ ( رو ضۃ المجاہدین حضرت علیعليه‌السلام کے وردِ کربلا کا واقعہ ماہ ذی الحجہ ۳۶ ھء تاریخ ابو الفداء)

حضرت امام حسنعليه‌السلام پر فوجیوں کی یورش اور حضرت مختار کی مواسات کا ایک روشن پہلو

حضرات محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وآل محمدعليه‌السلام سے جو عقیدت و محبت اور الفت حضرت مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی کو تھی اسے وہ اپنی زندگی کے ہر دور میں بروئے کار لا کر ہمیشہ اس کا مظاہر ہ کرتے رہے ۔ان کی کوشش ہوتی تھی کہ کوئی ایسا موقع نظر انداز نہ ہو جائے جس میں عقیدت کیشی کو برسرکار لانا ضروری ہو ۔حضرت امام حسنعليه‌السلام پر جب مصائب کی یورش ہوئی تو مختار اپنے فطری جذبہ سے مجبور ہو کر مظاہر ہ عقیدت کیشی کے لیے سامنے آگئے ۔

کتاب چودہ ستارے ص۱۱۹میں ہے کہ مورخین کا بیان ہے کہ حضرت امام حسینعليه‌السلام کے والد بزرگوار حضرت علیعليه‌السلام کے سر مبارک پر بمقام مسجدکوفہ ۱۹رمضان ۴۰ھء بوقت امیر معاویہ کی سازش سے عبد الرحمن ابن ملجم مرادی نے زہر میں بجھی ہوئی تلوار لگائی جس کے صدمہ سے آپ نے ۲۱رمضان المبارک ۴۰ ء بوقت صبح شہادت پائی ۔ اس وقت امام حسن کی عمر ۳۷ سال ۶ ماہ کی تھی۔ حضرت علیعليه‌السلام کی تکفین و تدفین کے بعد عبداللہ ابن عباس کی تحریک سے بقول ابن اثیر ، قیس ابن سعد ابن عبادہ انصاری نے امام حسن کی بیعت کی اور ان کے بعد تمام حاضرین نے بیعت کرلی جن کی تعداد چالیس ہزار تھی ۔ یہ واقعہ ۲۱ رمضان ۴۰ھء یوم جمعہ کا ہے کفایۃ الاثرعلامہ مجلسی میں ہے کہ اس وقت اپ نے ایک فصیح وبلیغ خطبہ پڑھا ۔ جس میں آپ نے حمد و ثنا کے بعد بارہ امام کی خلافت کا ذکر فرمایا

اور اس کی وضاحت کی کہ آنحضرت نے فرمایا ہے کہ ہم میں کاہر ایک یا تلوار کے گھاٹ اترے گا یا زہردغا سے شہید ہوگا ۔ اس کے بعد آپ نے عراق ایران ، خراسان ، حجاز اور یمن و بصرہ کے عمال کے تقرر کی طرف توجہ کی اور عبد اللہ ابن عباس کو بصرہ کا حاکم مقرر فرمایا ۔ معاویہ کو جو نہی یہ خبر پہنچی کہ بصرہ کے حاکم ابن عباس مقرر کردیئے گئے ہیں تو اس نے دو جاسوس روانہ کیے ایک قبیلہ حمیر کا کوفہ کی طرف اور دوسرا قبیلہ قین کا بصرہ کی طرف اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ امام حسن سے منحرف ہوکر میری طرف آجائیں لیکن وہ دونوں جاسوس گرفتار کرلیے گئے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب عنان حکومت امام حسنعليه‌السلام کے ہاتھوں میں آئی تو زمانہ بڑا پرآشوب تھا حضرت علی جن کی شجاعت کی دھاک سارے عرب میں بیٹھی ہوئی تھی دنیا سے کوچ کرچکے تھے ان کی دفعتہ شہادت نے سوئے ہوئے فتنوں کو بیدار کردیا تھا اور ساری مملکت میں سازشوں کی کھچڑی پک رہی تھی خود کوفہ میں اشعث ابن قیس ، عمر بن حریث ، شیث ابن ربعی وغیرہ کھلم کھلا برسرعناد اور آمادہ فساد نظر آتے تھے معاویہ نے جابجا جاسوس مقرر کردیئے تھے جو مسلمانوں میں پھوٹ ڈلواتے تھے اور حضرت کے لشکر میں اختلاف وتشتت کا بیج بوتے تھے ۔ اس نے کوفہ کے بڑے بڑے سرداروں سے اس سلسلہ میں نامہ و پیام شروع کیا اور انہیں بڑی بڑی رشوتیں دے کر توڑ لیا تھا۔ بحارالانوار میں علل الشرائع کے حوالہ سے منقول ہے کہ معاویہ نے عمر بن اشعث ابن قیس حجرابن حجر شیث ابن ربعی کے پاس علیحدہ علیحدہ یہ پیام بھیجا کہ جس طرح ہوسکے حسن بن علی کو قتل کرا دو جو منچلا یہ کام کرگزرے گا ۔ اسے دو لاکھ درہم نقد انعام دوں گا اور اپنی فوج کی سرداری عطا کروں گا نیزاپنی کسی لڑکی سے اس کی شادی کردوں گا اس انعام کے حاصل کرنے کیلئے لوگ شب وروز موقعہ کی تاک میں رہنے لگے حصرت کو اطلاع ملی تو آپ نے کپڑوں کے نیچے زرہ پہننی شروع کردی یہاں تک کہ نماز جماعت پڑھانے کیلئے بھی جب باہر نکلتے تو زرہ پہن کرنکلتے تھے۔ معاویہ نے ایک طرف تو خفیہ توڑ جوڑ کیے دوسری طرف ایک بڑا لشکر عراق پر حملہ کرنے کیلئے بھیج دیا جب حملہ آورلشکر حدود عراق میں دور تک آگے بڑھ آیا تو حضرت نے اپنے لشکر کو حرکت کرنے کا حکم دیا ۔ حجر بن عدی کو تھوڑی سی فوج کے ساتھ آگے بڑھنے کیلئے فرمایا۔

آپ کے لشکر میں بھیڑ بھاڑ تو کافی نظر آنے لگی ۔ مگر سردار جو سپاہیوں کو لڑاتے ہیں کچھ تو معاویہ کے ہاتھوں بک چکے تھے کچھ عافیت کوشی میں مصروف تھے ۔ حضرت علیعليه‌السلام کی شہادت نے دوستوں کے حوصلے پست کردئیے تھے اور دشمنوں کو جرات وہمت دلادی تھی۔

مورخین کا بیان ہے کہ معاویہ ۶۰ ہزار کی فوج لے کر مقام مسکن میں جااترا جوبغداد سے دس فرسخ تکریت کی جانب اوانا کے قریب واقع ہے امام حسنعليه‌السلام کو جب معاویہ کی پیش قدمی کا علم ہوا تو آپ نے بھی ایک بڑے لشکر کے ساتھ کوچ کردیا اور آپ کوفہ سے ساباط میں چاپہنچے اور ۱۲ ہزار کی فوج قیس ابن سعد کی ماتحتی میں معاویہ کی پیش قدمی روکنے کیلئے روانہ کردی پھر ساباط سے روانہ ہوتے وقت آپ نے ایک خطبہ پڑھا جس میں فرمایا۔ "لوگو تم نے مجھ سے اس شرط پر بیعت کی ہے کہ صلح اور جنگ دونوں حالتوں میں میرا ساتھ دوگے میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے کسی شخص سے بغض وعداوت نہیں میرے دل میں کسی کو ستانے کا خیال نہیں میں صلح کو جنگ سے اور محبت کو عداوت سے کہیں بہتر سمجھتا ہوں" لوگوں نے حضرت کے اس خطاب کا مطلب یہ سمجھا کہ حضرت امام حسنعليه‌السلام ، امیرمعاویہ سے صلح کرنے کی طرف مائل ہیں اور خلافت و حکومت سے دستبرداری کا ارادہ دل میں رکھتے ہیں ، اسی دوران میں معاویہ نے امام حسنعليه‌السلام کے لشکر کی کثرت سے متاثر ہو کر بمشورہ عمروبن عاص ، کچھ لوگوں کو امام حسنعليه‌السلام کے لشکر میں اور کچھ کوقیس ابن سعد کے لشکر میں بھیج کر ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈا کرادیا ۔

امام حسنعليه‌السلام کے لشکر والے سازشیوں نے قیس کے متعلق یہ شہرت دی کہ اس نے معاویہ سے صلح کرلی ہے اور قیس ابن سعد کے لشکر میں جوسازشی گھسے ہوئے تھے ، انہوں نے تمام لشکریوں میں یہ چرچا کردیا کہ امام حسنعليه‌السلام نے معاویہ سے صلح کرلی امام حسن کے دونوں لشکروں میں اس غلط افواہ کے پھیل جانے سے بغاوت اور بدگمانی کے جذبات ابھر نکلے امام حسنعليه‌السلام کے لشکر کا وہ عنصر جسے پہلے ہی سے شبہ تھا کہ یہ مائل بہ صلح ہیں کہنے لگا کہ امام حسنعليه‌السلام بھی اپنے باپ حضرت علیعليه‌السلام کی طرح کافر ہوگئے ہیں ۔ بالاخر فوجی آپ کے بالکل خلاف ہوکر آپ کے خیمہ پر ٹوٹ پڑے ۔ آ

پ کا کل اسباب لوٹ لیا ۔ آپ کے نیچے سے مصلی تک گھسیٹ لیا دوش مبارک پر سے رداتک اتارلی اور بعض نمایاں قسم کے افراد نے آپ کو معاویہ کے حوالہ کردینے کا پلان تیار کیا ۔ آخر کار آپ ان بدبختوں سے مایوس ہوکر مدائن کے گورنر سعد کی طرف روانہ ہوگئے جو حضرت مختار کے حقیقی چچا تھے اور جنہیں حضرت علیعليه‌السلام نے گورنر مدائن بنایا تھا جو عہد امام حسنعليه‌السلام میں بھی اسی عہدہ پر فائز تھے (تنزیہہ الانبیاء سید مرتضیٰ علم الہدی )راستے میں ایک خارجی جراح ابن قبیضہ اسدی نے آپ کور ان مبارک پر کمینگاہ سے ایسا خنجر لگایا جس نے ہڈی تک کو شدید مجروح کردیا ۔ (تاریخ کامل جلد ۳ ص ۱۶۱ و تاریخ ائمہ ص ۳۳۳ فتح الباری شرح صحیح بخاری و تاریخ طبری طبع مصرا) شرح ابن ابی الحدید میں ہے کہ جب حضرت امام حسنعليه‌السلام گھوڑے پر سوار ہوکر روانہ ہورہے تھے تو جراح ابن سنان نے لگام پکڑ کر کہا کہ اپنے باپ کی طرح تم بھی کافر ہوگئے ہو یہ کہہ کر پوری طاقت سے آپ کی ران پر خنجر مارا جس کے صدمہ سے آپ زمین پر گر پڑے پھر ہمدان اور ربیعہ کے لوگوں نے آپ کو اٹھا کرقصرا بیض میں پہنچایا ۔ (دمعۃ ساکبہ ص ۲۳۹)

آپ نے گورنر مدائن کے پاس پہنچ کر قصر ابیض میں قیام فرمایا۔ (رو ضۃ الصفا جلد ۳)

تاریخ اسلام مسٹر ذاکر حسین جلد ۱ ص ۲۷ میں ہے کہ امام حسن کی فوج میں بغاوت پھیل گئی فوجی آپ کے کیمپ پر ٹوٹ پر ٹوٹ پڑے ۔ آپ کا سب مال و متاع لوٹ لیا ، آپ کے نیچے سے مصلیٰ تک گھسیٹ لیا۔ ردابھی دوش پر سے اتارلی مگر یہ ربیعہ اور ہمدان کے بعض بہادروں نے آپ کے بچا لیا اور بعض گمراہوں نے معاویہ سے سازش کرکے اورر شوتیں لے کر ارادہ کرلیا کہ آپ کو گرفتار کرکے معاویہ کے حوالے کر دیں اور ان کے بعض رئیسوں نے خفیہ خط و کتابت کرکے معاویہ کی اطاعت قبول کر لی اور اسے لکھا کہ بہت جلد عراق چلے آئیے ۔ ہم ذمہ لیتے ہیں کہ امام حسن کو پکڑ کر آپ کے حوالے کریں گے ۔ الخ (حبیب السیروابن اثیر)

بہرحال ان حالات میں جب حضرت امام حسنعليه‌السلام حضرت مختار کے چچا سعد بن مسعود ثقفی کے پاس جا کرٹھہرے تو جیسا کہ علماء اور موثق مورخین کے بیان سے مستفاد ہوتا ہے محب آل محمد حضرت مختار کو انتہائی تردد پیدا ہوگیا وہ یہ سوچنے لگے کہ ایسے حلات میں جب کہ امام حسنعليه‌السلام کے بڑے بڑے افسران نے یہ سازش کر رکھی تھی کہ انہیں گرفتار کرکے معاویہ کے سپرد کردیں ۔ اور نتیجہ میں حضرت کا یہ حال ہوگیا کہ جان بچانی دو بھر ہوگئی اگر ہمدان اور ربیعہ کے چند بہادروں نے امداد نہ کی ہوتی تو آپ لازما قتل ہوجاتے اور اگر قتل سے بچ جاتے تو معاویہ کے قید و بند میں ہوتے جس کا انجام آخری بھی قتل ہی ہوتا اب جب کہ یہ ہمارے چچا کے پاس آگئے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی سازش یہاں بھی روبکا رہوجائے اور میرے مولا کو کوئی صدمہ پہنچ جائے۔حضرت مختار اسی اضطراب اور پپریشانی میں گھبرائے پھر رہے تھے کہ یک بہ یک یہ خیال آیا کہ چلو ، شریک اعور حارثی سے اس کے متعلق گفتگو کریں اور کوئی راستہ ان کے تحفظ کا بروئے کارلامیں شریک چونکہ شیعہ تھے اور ان کا عقلا روز گار میں شمار تھا ۔ حضرت مختار مشورہ طلبی کیلئے ان کے پاس گئے اور ان سے سارا واقعہ اور ماجرا بیان کیا ۔ شریک چونکہ خود اپنے مقام پر حالات کی روشنی میں امام حسنعليه‌السلام کے متعلق کسی کی طرف سے مطمئن نہ تھے ان کو بجائے خود اسی قسم کا خدشہ اور اندیشہ تھا لہٰذا حضرت مختار کے تردد سے اور زیادہ متاثر ہوگئے ۔

بالاخر انہوں نے سوچ بچار کے بعد حضرت مختار کو رائے دی کہ تم تنہائی میں حالات کا جائزہ لینے اور تصورات کا اندازہ لگانے کیلئے اپنے چچا سے ملو اور ان سے کہو کہ اس وقت معاویہ کی چل رہی ہے ۔ ہوا کے رخ کا تقاضہ ہے کہ حضرت امام حسنعليه‌السلام کو (جو تمہارے قبضہ میں ہیں بے دست وپایعنی بلایا رو مددگار ہونے کی وجہ سے یہاں سے نکل کر جا نہیں سکتے) معاویہ کے حوالے کردیں اس سے آپ کو بے انتہا فائدہ پہنچ جائے گا اگر سعد کے خلافت امام حسنعليه‌السلام کی طرف سے اچھے اور پاکیزہ ہوں گے تو وہ تمہیں ڈانٹ دیں گے اور اگر ان کے خیالات و تصورات میں گندگی ہوگی تو تمہاری رائے پر غور کرنے لگیں گے اور مناسب سمجھیں گے تو تمہاری رائے کی تائید میں اظہار خیال کردیں گے ۔ شریک نے کہا کہ تم ان سے گفتگو کے بعد اپنی پہلی فرصت میں مجھ سے ملنا تاکہ ان کے خیالات کے مطابق اطمینان حاصل کیاجائے یار د عمل سوچا جائے ۔ شریک اعور کے مشورے کے مطابق حضرت مختار اپنے چچاسعد بن مسعود گورنر مدائن کی خدمت میں حاضر ہوئے ا ور سے تنہائی میں عرض پرداز ہوئے اور کہا کہ چچا موقع اچھا ہے اگر آپ مناسب سمجھیں تو حضرت امام حسنعليه‌السلام کو معاویہ کے سپرد کردیں یا انہیں قتل کرکے معاویہ کو آگاہ فرمادیں اس سے یہ ہوگا کہ معاویہ آپ کی گورنری میں وسعت دے گا اور اس کی نظر میں آپ کی عزت بڑھ جائے گی۔ مختار کی زبان سے یہ کچھ سن کر سعد بن مسعود برہم ہوگئے اور کہنے لگے کہ تجھ جیسے عقیدت مند سے ایسے خیالات تعجب خیز اور افسوسناک ہیں بھلا یہ کیونکر ہوسکتا ہے کے ہم فرزند رسول کو دشمن کے سپرد کردیں۔ یہ سن کر حضرت مختار مطمئن ہوگئے اور انہوں نے شریک اعور سے واقعہ بیان کردیا جس کی وجہ سے انہیں بھی اطمینان ہوگیا۔ (نورالابصار ص ۹ طبع لکھئنو)

اس مقام پر مورخ محمد خداوند شاہ ہروی لکھتے ہیں کہ مختار نے اپنے چچا سعد بن مسعود سے پوری بدنیتی کے ساتھ کہا کہ امام حسنعليه‌السلام کو گرفتار کرکے معاویہ کے سپرد کردینا چاہیے الخ (رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۷۴ طبع لکھنئو)

یہی کچھ تنزیہ الانبیاء اور علل الشرائع میں بھی ہے۔ (دمعۃ ساکبہ ص ۲۳۹ ) اس کا جواب محقق اجل علامہ عبدالجلیل رازی نے اپنی کتاب نقض الفضائح میں یہ دیا ہے کہ مختار کی ذات وہ تھی جس کی طرف عہد طفولیت میں ہی حصرت امیرالمومنین کی خصوصی نگاہ تھی آپ نے ان کو دعائیں دیں ہیں اور ان کی مدح و ثنا فرمائی ہے اور ان کی امداد کا وعدہ فرمایا ہے ۔ مختار نے امیرالمومنین کے اس ارشاد کی تصدیق کی ہے کہ یہ ہزاروں دشمنان آل محمد کو قتل کرے گا اور اس خدمت کے صلہ میں وہ جنت کے مستحق بن گئے ہیں۔ پھر کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ایسی ذات حضرات آئمہ طاہرینعليه‌السلام کی عظیم فرد حضرت امام حسنعليه‌السلام کے متعلق ایسی رائے قائم کرے جس پر عمل یقینا موجب جہنم ہو ۔ اصل بات یہ ہے کہ جب امام حسنعليه‌السلام سعد بن مسعود کے پاس قیام پذیر ہوئے تو مختار ازصفائے عقیدہ و نور مودت برحضرت امام حسنعليه‌السلام بترسید کہ مباداعم جہت خاطر معاویہ آسیبی باو رسانداپنے صفائے باطن اور عقیدہ نیک اور اس نور کی وجہ سے جوان کے دل میں ال محمد کی طرف سے تھا یہ خوف پیدا ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے چچا معاویہ کی خاطر سے حضرت امام حسنعليه‌السلام کو کوئی صدمہ پہنچادیں اسی بنا پردہ شریک اعور کے پاس گریاں و غمناک روتے پیٹتے پہنچے جو شیعہ اور فہیم زمانہ تھے ان سے مختار نے اندیشہ ظاہر کیا۔

شریک نے رائے دی کہ تم مخالف بن کر ان سے گفتگو کرو تاکہ ان کے دل کا راز معلوم ہوجائے ۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور ان کو محب ال رسول پاکر اطمینان حاصل کرلیا ، مختار نے جو یہ ترکیب کی اس سے ان کی مذمت نہیں نکلتی بلکہ ان کی مدح کا پہلو روشن ہوتا ہے اور ان کے مواسات حسنی کی بے نظیر مثال قائم ہوتی ہے ۔ (مجالس المومنین شہید ثالث ص ۳۵۷) میرے خیال میں مختار کا یہ اندیشہ بے معنی نہ تھا کیونکہ معاویہ کی ایسی حرکتیں بہت شہرت پاچکی تھیں اور وہ ایسے سازشی کا موں میں طاق تھے۔ ان ہی نے حضرت مالک اشتر کو اسی طرح شہید کرایا تھا ۔ حضرت علیعليه‌السلام کو درجہ شہادت پر پہنچایا تھا اور بالاخر اسی ترکیب سے امام حسن کو ۵۰ء میں شہیدکرادیا۔ (ملاحظہ ہوکتاب ذکر العباس ، مروج الذہب مسعودی ص ۳۰۳ جلد ۲ مقاتل الطالبین ص ۵۱ ابوالفداء جلد ۱ ص ۱۸۳ ، رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۷ ، حبیب السیر جلد ۲ ، ۸۱ ، تاریخ طبری ص ۶۰۴ فارسی استیعاب جلد ۱ ص ۱۴۴)


آٹھوں باب

واقعہ کربلا اور حضرت امام حسینعليه‌السلام کی زبان مبارک پر یوم عاشور ا خروج مختار کا حوالہ

یہ مسلم ہے کہ واقعہ کربلا صرف تاریخ اسلام ہی نہیں بلکہ تاریخ عالم کا نادراور عجیب و غریب واقعہ ہے ، دنیا میں یہی ایک واقعہ ایسا ہے جس سے عالم کی تمام چیزیں متاثر ہوئیں ۔ آسمان متاثر ہوا ، زمین متاثر ہوئی شمس و قمر متاثر ہوئے حتی کہ خود خداوندعالم متاثر ہوا اس کا تاثر شفق کی سرخی ہے جو واقعہ کربلا کے بعد سے افق آسمانی پر ظاہر ہونے لگی ۔ (صواعق محرقہ) یہ وہ غم انگیز اور الم آفرین واقعہ ہے جس نے جاندار اور بے جان کو خون کے آنسو رلایا ہے اس واقعہ کا پس منظر رسول اور اولاد رسول کی دشمنی ہے ۔ بدر و احد ، خندق و خیبر میں قتل ہونے والے کفار کی اولاد نے ظاہری طور پر اسلام قبول کرکے اپنے آباد واجداد کا بدلہ حضرت رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت امیرالمومنینعليه‌السلام کی اولاد سے بدلہ لینے کے جذبات اسلامی کافروں کے دلوں میں عہد رسول ہی سے کروٹیں لے رہے تھے۔لیکن عدم اقتدار کی وجہ سے کچھ بن نہ آتی تھی۔ رسول کے انتقال کے بعد جب ۳۸ ہجری میں امیرالمومنین برسراقتدار ائے تو ان لوگوں کو مقابلہ کا موقع ملا جو عنان حکومت کودانتوں سے تھام کر جگہ پکڑچکے تھے ، بالاخر وہ وقت آیا کہ یز ید ابن معاویہ خلیفہ بن گیا۔ حضرت علیعليه‌السلام اور حضرت امام حسنعليه‌السلام شہید کیے جاچکے تھے ۔

عہد یزید میں امام حسینعليه‌السلام سے بدلہ لینے کا موقع تھا ۔ یزید نے خلافت منصوبہ پر قبضہ مخالفانہ کرنے کے بعد امام حسینعليه‌السلام کے قتل کا منصوبہ تیار کیا اور ایسے حالات پیدا کردئیے کہ حضرت امام حسینعليه‌السلام کربلا میں آپہنچے یزید نے بروایت اسی ہزار فوج بھیجوا کر امام حسینعليه‌السلام کو اٹھارہ بنی ہاشم اور بہتر اصحاب سمیت چند گھنٹوں میں موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ حضرت امام حسینعليه‌السلام ۲۸ رجب ۶۰ کو مدینہ سے روانہ ہوکر ۱۰ محرم الحرام ۶۱ ھ کو رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے ۔ ظالموں نے ۷ محرم الحرام سے پانی بند کردیا اور دسویں محرم کو نہایت بیدردی سے تمام لوگوں کو قتل کرڈالا۔ کتاب چودہ ستارے ص ۱۷۶ میں ہے کہ اصحاب باوفا اور انصار ان باصفا کی شہادت کے بعد آپ کے اعزہ و اقربا یکے بعد دیگرے میدان کا رزار میں آکر شہید ہوئے ۔ بروایت سماوی بنی ہاشم میں سب سے پہلے جس نے شرف شہادت حاصل کیا وہ عبد اللہ ابن مسلم بن عقیل تھے۔ آپ حضرت علیعليه‌السلام کی بیٹی رقیہ بنت صہباء بنت عبادبن ربیعہ بن یحییٰعليه‌السلام بن عبداللہ ابن علقمہ ثعلبیہ کے فرزند تھے آپ میدان میں تشریف لائے اور ایسا شیرانہ حملہ کیا کہ روباہوں کی ہمتیں پست ہوگئیں ۔ آپ نے تین حملے فرمائے اور ۹۰ دشمنوں کو فی النار کیا ۔

دوران جنگ میں عمر بن صبیح صیداوی نے آپ کی پیشانی پر تیر مارا آپ نے فطرت کے تقاضے پر تیر پہنچنے سے پہلے اپنا ہاتھ پیشانی مبارک پر رکھ لیا۔ آپ کا ہاتھ پیشانی سے اس طرح پیوست ہوگیا کہ پھر جدانہ ہوا اس کے بعد اس نے دوسرا تیر مارا جو آپ کے دل پر لگا اور آپ زمین پر تشریف لائے۔ (نورالعین ترجمہ ابصارالعین)

آپ کو خاک و خون میں غلطان دیکھ کر آپ کے بھائی محمد بن مسلم آگے بڑھے اور انہوں نے بھی زبردست جنگ کی ۔ بالاخر ابوجرہم ازدی اور لقیط و ابن ایاس جہمی نے اپ کو شہید کردیا ۔ (بحار الانوار ص ۳۰۲ جلد ۱) ان کے بعد جعفر بن عقیل ابن ابی طالب میدان میں تشریف لائے آپ نے پندرہ دشمنوں کو فنا کے گھاٹ اتارا ، اخر میں بشر بن خوط نے آپ کو شہید کردیا ۔ (کشف الغمہ ص ۸۲)

ان کے بعد جناب عبدالرحمان ابن عقیل میدان میں تشریف لائے ، آپ نے نہایت بے جگری سے جنگ کی۔ آخرکار دشمنوں نے گھیر لیا اور آپ عثمان بن خالد ملعون کی ضرب شدید سے راہی جنت ہوئے ان کے بعد عبداللہ اکبر بن عقیل میدان میں آئے اور زبردست مقاتلہ کے بعد عثمان بن خالد کے ہاتھوں شہید ہوئے۔

ابومخنف کے کہنے کے مطابق عبداللہ اکبر کے بعد موسیٰ بن عقیل نے میدان لیا اور ۷۰ آدمیوں کو قتل کرکے شہید ہوئے ان کے بعد عون بن عقیل اور علی بن عقیل درجہ شہادت پر فائز ہوئے ان کے بعد محمد بن سعید بن عقیل اور جعفر بن محمد بن عقیل یکے بعد دیگرے میدان میں تشریف لائے اور کار ہائے نمایاں کر کے درجہ شہادت حاصل کیا ان کے بعد محمد بن عبداللہ بن جعفر میدان میں آئے اور دس دشمنوں کو قتل کر کے بدست عامر بن نہشل شہید ہوئے ان کے بعد عون بن عبداللہ بن جعفر میدان میں آئے اور ۳۰ سو ار ۸ پیادوں کو قتل کرنے کے بعد عبداللہ ابن بطہ کے ہاتھوں شہید ہوئے آپ کے بعد جناب حسن مثنیٰ میدان میں تشریف لائے ۔ آپ نے زبردست جنگ کی اور اس درجہ زخمی ہوگے کہ جانبر ہونے کا کوئی امکان نہ تھا ۔

بالاخر مقتولین میں ڈال دئیے گئے نیتجہ پر ان کا ایک رشتہ کا ماموں اسما بن خارجہ المکنی بہ ابی الحسان انہیں اٹھا کر لے گیا ۔

اس کے بعد ناب قاسم بن الحسن میدان میں تشریف لائے اگرچہ آپ کی عمر ابھی نابالغی کی حد سے متجاوز نہ ہوئی تھی لیکن آپ نے ایسی جنگ کی کہ دشمنوں کی ہمتیں پست ہوگئیں۔ آپ کے مقابلہ میں ازرق شامی آیا آپ نے اسے پچھاڑ دیا اس کے بعد چاروں طرف سے حملے شروع ہوگئے آپ نے اس عظیم کا رزار میں ۷۰ دشمنوں کو قتل کیا ۔

آخر کار عمر بن معد بن عروہ ابن نفیل ازدی کی تیغ سے شہید ہوئے ۔ مورخین کا بیان ہے کہ آپ کا جسم مبارک زندگی ہی میں پامال سم اسپاں ہوگیا ۔ ان کے بعد عبداللہ ابن حسن میدان میں تشریف لائے اور زبردست جنگ کی آپ نے ۱۴ دشمنوں کو تہ تیغ کیا ۔ آپ کو ہانی بن شبیث خضرمی نے شہید کیا ان کے بعد ابوبکر ابن حسن میدان میں آئے ۔ آپ نے میمنہ اور میسرہ کو تباہ کردیا۔ آپ ۸۰ دشمنوں کو قتل کرکے شہید ہوگئے ۔ آپ کو بقول علامہ سماوی عبداللہ بن عقبہ غنوی نے شہید کیا ۔ ان کے بعد احمد بن حسن میدان میں آئے۔ اگرچہ آپ کی عمر ۱۸ سال سے کم تھی لیکن آپ نے یاد گار جنگ کی اور ۶۰ سواروں کو قتل کرکے آپ نے درجہ شہادت حاصل کیا ۔

ان کے بعد عبداللہ اصغر میدان میں آئے ۔ آپ حضرت علیعليه‌السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ لیلیٰ بنت مسعود تمیمی تھیں۔ آپ نے زبردست جنگ کی ۔ اور درجہ شہادت حاصل کیا ۔آپ نے زبردست جنگ کی اور درجہ شہادت حاصل کیا ۔ آپ ۲۱ دشمنوں کو قتل کرکے بدست عبداللہ ابن عقبہ غنوی شہید ہوئے۔ بعض اقوال کی بنا پر ان کے بعد عمر بن علی میدان میں آئے اور شہید ہوئے ۔ طبری کا بیان ہے کہ یہ کربلا میں شہید ہوئے۔ اکثر مورخین کا کہنا ہے کہ عبداللہ اصغر کے بعد عبداللہ ابن علی میدان میں تشریف لائے۔ یہ حضرت عباسعليه‌السلام کے حقیقی بھائی تھے ۔ ان کی عمربوقت شہادت ۲۵ سال تھی۔آپ کو ہانی بن ثبیت خضرمی نے شہید کیا۔ ان کے بعد حضرت عباس کے دوسرے حقیقی بھائی عثما ن بن علی میدان میں آئے ۔

آپنے رجز پڑھی اور زبردست جنگ کی دوران قتال میں خولی بن یزید اصبحی نے پیشانی مبارک پر ایک تیر مارا جس کی وجہ سے آپ زمین پر آرہے ۔ پھر ایک شخص نے جو قبیلہ ابان بن وارم کا تھا آپ کا سرکاٹ لیا۔ شہادت کے وقت آپ کی عمر ۲۳ سال تھی ۔ ان کے بعد حصرت عباس کے تیسرے حقیقی بھائی میدان میں تشریف لائے اور بقول ابوالفرج بدست خولی ابن یزید اور بروایت ابی مخنف بضرب ہانی بن ثبیت خضرمی شہید ہوئے شہادت کے وقت آپ کی عمر ۲۱ سال تھی۔ ان کے بعد فضل بن عباس بن علی میدان میں تشریف لائے اور مشغول کار زار ہوئے آپ نے ۲۵۰ دشمنوں کو قتل کیا بالاخر چاروں طرف سے حملہ کرکے آپ کو شہید کردیا گیا ۔ان کے بعد حضرت عباسعليه‌السلام کے دوسرے بیٹے قاسم بن عباس میدان میں تشریف لائے آپ کی عمر بقول امام اسفر ائنی ۱۹ سال کی تھی ۔ آپ نے ۸۰۰ دشمنوں کو فنا کے گھاٹ اتار دیا ، اس کے بعد امام حسینعليه‌السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر پانی مانگا پانی نہ ملنے پر آپ پھرواپس گئے اور ۲۰ سواروں کو قتل کرکے شہید ہوگئے ان کے بعد حضرت عباس علمدارنے درجہ شہادت حاصل کیا ۔(تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ذکرالعباس مولفہ حقیر)

پھر حضرت علی اکبرعليه‌السلام نے درجہ شہادت حاصل کیاآخر میں حضرت علی اصغر امام حسینعليه‌السلام کے ہاتھوں پر شہیدہوئے۔ جملہ اصحاب واعزاواقربا ء کی شہادت کے بعد حضرت امام حسینعليه‌السلام نے اپنی قربانی راہ اسلام میں پیش فرما دی ، آپ کی شہادت کے بعد آپ کے اہل حرم کے خیموں میں آگ لگا دی گئی پھر وہ گرفتار کرکے دربار کوفہ میں پہنچائے گئے وہاں سے شام بھیج دئیے گئے ۔ ایک سال قید شام میں گزارنے کے بعد مدینہ منورہ واپس ہوئے ۔ اسی واقعہ کو واقعہ کربلا کہتے ہیں جس کے تفصیلات ملاحظہ کرنے سے انسان کا دل گریہ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ یہ واقعہ ۱۰ محرم الحرام ۶۱ھ وقوع پذیر ہوا، اسی ۱۰ محرم ۶۱ھ کی صبح کو حضرت امام حسینعليه‌السلام نے بروایت میدان میں نکل کر دشمنوں سے کہا کہ مجھے چھوڑ دو میں یہاں سے ہند یا کسی اور طرف چلا جاؤں ۔ مگر انہوں نے ایک نہ سنی ، پھر آپ نے فرمایامجھے یابتاؤ کہ مجھے کس جرم کی بنا پر قتل کرنا چاہتے ہو۔ انہوں نے جواب دیا ۔ نقتلک بغضالابیک۔ ہم تمہیں تمہارے باپ کی دشمنی میں قتل کرنا چاہتے ہیں۔ (ینا بیع المودة ص ۲۴۶ )

پھر آپ نے قرآن مجید کو حکم قرار دیا لیکن انہوں نے ایک نہ مانی ۔

(ناسخ التواریخ جلد ۶ ص ۲۵۰)

علامہ کنتوری تحریر فرماتے ہیں کہ پھر حضرت امام حسینعليه‌السلام نے ایک نہایت فصیح وبلیغ خطبہ پڑھا جس کے چند فقرات یہ ہیں۔ الاثم لاتلبسون بعدھا الاکریث مایرکب الفراس۔ اے گروہ کوفہ و شام آگاہ ہوجاؤ کہ تم ان بدعتوں کے بعد جو مجھ پر کر رہے ہو دنیا میں بس اتنی ہی دیر رہو گے جتنی دیرانسان گھوڑے پر سوار رہتا ہے یعنی بہت جلد تباہ ہوجاؤ گے ۔ وہ دن دور نہیں کہ تمہارے سروں کو آسمان کی گردش اسی طرح پیس دے گی جس طرح چکی میں دانہ پستا ہے ۔ (دیکھو میرا یہ کہنا وہ ہے جو میرے باپ دادانے مجھ سے بتایا ہے ۔ اب میں تم سے کہتا ہوں کہ تم اپنی ساری قوت و طاقت بہم پہنچا لو ۔اور جس قدر ظلم کرنا چاہتے ہو کر ڈالو ۔ میں نے خدا پر بھروسہ کیا ہے۔ جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے ۔ اسی کے دست قدرت میں تمام جانداروں کی پیشانیاں ہیں۔ میرا پروردگار صراط مستقیم پر ہے ، دیکہواب میں تمہارے کردار سے مایوس ہوکر بارگاہ خداوندی میں عرض کرتا ہوں۔ اللّٰھُمَّ احبس عنھم قطر السما ء وابعث علیھم منین کسنی یوسف۔خدایا ان سے باران رحمت روک دے اور ان پر سات سال اسی طرح قحط ڈال دے ۔ جس طرح عہد یوسف میں مصر میں پڑا تھا ۔ حضر ت کی مراد یہ تھی کہ آدمی کو آدمی کھاجائے اور سب ہلاک ہوجائیں۔ وسلط علیھم غلام ثقیف یسقیھم کاماً۔ مبصرہ اور ان اشقیا پر اس شخص کو مسلط کر دے جو دلیر اور جوان ہے اور مختار ثقفی کے نام سے مشہور ہے ۔ وہی ان کو کاسہائے مرگ تلخ اور ناگوار پلائے۔

ولاید ع فیهم احدا الاقتلة بقتلة وضربة بضربة ۔

اور اس مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی کو ان پر ایسا مسلط کردے کہ وہ ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑے جس نے کسی کو قتل کیا ہے ۔ اس کو وہ قتل کرے اور جس شقی نے ان میں سے کسی کو چوٹ کاآزاردیا ہے یعنی تازیانہ یاطمانچہ لگایا ہے۔ اس کو اسی طریقے کی سزا دے ۔ ینتقم لی ولاولیائی واھلبیتی واشیا عی منھم یہ سب باتیں مختار اس غرض سے کرے کہ میرا اور میرے دوستوں کا اور میرے اہل بیتعليه‌السلام ا ور میرے پیرو مومنین پر جو ظلم ان اشقیانے کیے ہیں۔ اس کا انتقام لےفانهم غرونا وکذبونا وخذلونا وانت ربنا علیک توکلنا والیک ابنتا والیک المصیر ۔

خدایا ان مکاروں نے ہم کو فریب دیا اور یہ ہم سے جھوٹ بولے ہماری تکذیب کی ، ہم کو چھوڑ دیا۔ ہماری نصرت سے کنارہ کشی اختیار کی ہمارے حقوق کا انکار کیا ۔ خدایا اب یہ تیرے عذاب کے مستحق ہیں۔ خدایا ہم تجھ پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ تیری طرف ہمارا رجوع قلب ہے اور تیری ہی جانب ہماری بازگشت ہے۔ پھر فرمایا عمر بن سعد کدھر ہے اسے بلاؤ وہ بلایا گیا مگر آنے سے وہ کترا رہا تھا۔ جب وہ آیا تو آپ نے فرمایااے عمر بن سعد تو مجھے قتل کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ مجھے قتل کرکے یزید ملعون سے جائز ہ اور ملک رے وجرجان کی حکومت حاصل کرے گا۔ اے عمر خدا کی قسم تیری حسرت دل میں ہی رہے گی اور تیرا یہ خوابِ حکومت ہرگز شرمندہ تعبیر نہ ہو گا اچھا اب تو ہمارے ساتھ جو کچھ کرنا چاہے کر لے یاد رکھ کہ مجھے قتل کرکے تو دنیا و آخرت میں خوش نہ ہوسکے گا ، تو میری یہ بات کان دھرکر سن لے کہ میں گویا دیکھ رہا ہوں کہ تیرا سرکوفہ میں ایک نیزہ پر بلند ہے ، اور بچے اس پر پتھر ماررہے ہیں اور اس پر نشانہ لگا رہے ہیں ۔ یہ سن کر عمر بن سعد سخت غیظ وغضب میں آگیا۔ ثم انضرف بوجھہ عنہ ، پھر آپ کی طرف سے منہ پھیر کر چل دیا۔

وناوی باصحابہ ماتنظرون بہ اور اس نے اپنوں کو للکار کر کہا کیا دیکھتے ہو سب مل کر ان پر حملہ کردو، یہ لوگ تمہارے ایک لقمہ سے زیادہ نہیں ہیں۔ (مائتین فی مقتل الحسین من کتب الفریقین جلد ۱ ص ۳۴۴ ۔ باب ۴۳ طبع لکھنو و جلاء العیون علامہ مجلسی ص ۲۰۳ طبع ایران )

علامہ سید محسن الامین العاملی تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسینعليه‌السلام نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اے عمر سعد خدا تم لوگوں پر غلام ثقیف ، مختار ابن ابی عبیدہ کو مسلط کرے اور خدا تم لوگوں کی نسل منقطع فرمائے اور تم پر ایسے شخص (مختار) کو مسلط کرے جو خصوصیت کے ساتھ تجھے گھر میں بستر پر قتل کردے ۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اے خدا انہیں گن گن کر موت کے گھاٹ اتار ، اور انہیں اس طرح قتل فرما کہ یہ چھٹکارہ نہ پاسکیں ۔

اور کسی ایک کو بھی فنا کیے بغیر نہ چھوڑ ۔ (اصدق الاخبار فی الاخذ مالثار ص ۳ طبع دمشق ۳۵۴ ھ)

حضرت آقائے دربندی رقمطراز ہیں کہ حضرت امام حسینعليه‌السلام نے کربلا میں کئی مرتبہ غلام ثقفی کے تسلط کا ذکر فرمایا ہے۔ اور خداوندعالم سے دعا فرمائی ہے کہ ان پر غلام ثقفی مختار ابن ابی عبیدہ کو مسلط فرما۔ یہاں تک لکھنے کے بعد آپ تحریر فرماتے ہیں کہ مختار کے تسلط کی دعا صرف حضرت امام حسینعليه‌السلام ہی نے نہیں کی ۔ بل ھذا الدعاقدصدرعن جمیع اصحاب الکساء صلوات اللہ علیھم اجمعین فی مواضع کثیر ہ ۔ بلکہ یہ دعا پنجتن پاک نے مختلف مواقع پر فرمائی ہے اور اصحاب کساء کے تمام افراد نے موقع موقع سے حضرت مختار کے خروج اور ان کے بدلہ لینے کا ذکر فرمایا ہے ۔ (اسرار الشہادت ص ۵۷ طبع ایران ۱۲۸۴ ھ)

میں کہتا ہوں کہ امام حسینعليه‌السلام بلکہ پنج تن پاک کی دعا مختار کے حق میں رائیگاں جانہیں سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مختار عذاب الہٰی بن کر ابھرے اور انہوں نے بڑے بڑے سرکشوں کا بھٹہ بٹھادیا اور اس طرح واقعہ کربلا کا بدلہ لیا کہ دنیا آج تک حیران ہے کیا خوب محترم سید شبیہ الحسنین صاحب امروہوی نے کہا ہے۔ نام سے اس کے لرزتے تھے جفا کے پیکر خولی و شمر وانس ابن نمیر خود سر ابن مرجانہ کی سطوت پہ لگائی ٹھوکر پسر سعد تھا اور خاک مذلت سر پر نام کو قاتل شبیر نہ چھوڑا اس نے کون سا تھا بت سرکش کہ نہ توڑا اس نے کربلا میں کیے شبیر پہ جو جو روستم اس کی پاداش بھگتنے لگا اک اک ظلم نگ لاکر رہی مظلومی سلطان امم سرپہ ہر ایک کے مختار کی تھی تیغ ودوم قہر قہار نے گھیرا تھا ستمگاروں کو لاشوں سے پاٹ دیا کوفہ کے بازاروں کو


نواں باب

حضرت مسلمعليه‌السلام کی کوفہ میں رسیدگی و شہادت اور حضرت مختار کی مواسات و ہمدردی اور گرفتاری

علماء کا بیان ہے کہ حضرت امام حسینعليه‌السلام ۲۸ رجب ۶۰ھ کو منگل کے دن مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ کیلئے روانہ ہوئے۔ ابن حجر کا کہنا ہے کہ فقرجملة خوفا علی تقبہ۔ امام حسینعليه‌السلام خوف جان سے مکہ کو تشریف لے گئے۔ (صواعق محرقہ ص ۱۱۷) آپ کے ہمراہ مخدرات عصمت و طہارت اور چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے ۔ البتہ آپ کی ایک صاجزادی کا نام فاطمہ صغریٰ تھا اور جن کی عمر اس وقت سات سال تھی بوجہ علالت شدید ہمراہ نہ جاسکیں ۔ امام حسین نے آپ کی تیمارداری کیلئے حضرت عباس کی والدہ جناب امام البنین کو مدینہ میں ہی چھوڑ دیا تھا اور کچھ فریضہ خدمت ام المومنین جناب ام سلمہ کے سپرد کردیا تھا ۔ مدینہ سے روانہ ہوکر آپ ۳ شعبان ۶۰ ھ کو جمعہ کے دن مکہ معظمہ پہنچے ۔ آپ کے پہنچتے ہی والی مکہ سعید ابن عاص مکہ سے بھاگ کر مدینہ چلاگیا اور وہاں سے یزید کو مکہ کے تمام حالات سے باخبر کیا اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی لکھ دیا کہ امام حسینعليه‌السلام کی طرف لوگوں کا رحجان بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے والی مکہ کا خط پاتے ہی یزید نے عین مکہ میں قتل حسینعليه‌السلام کا منصوبہ تیار کیا۔ امام حسینعليه‌السلام مکہ معظمہ میں چار ماہ شعبان ، رمضان ، شوال ، ذی قعدہ مقیم رہے یزید جو ہر صورت امام حسینعليه‌السلام کو قتل کرنا چاہتا تھا اس نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ حسینعليه‌السلام اگر مدینہ سے بچ کر نکل آئے ہیں تو مکہ میں قتل ہوجائیں اور اگر مکہ سے بچ نکلیں تو کوفہ پہنچ کر شہادت پاجائیں یہ انتظام کیاکہ کوفہ سے بارہ ہزار خطوط دوران قیام مکہ میں بھیجوانے کیونکہ دشمنوں کو یہ یقین تھا۔ کہ حسینعليه‌السلام کوفہ میں آسانی کے ساتھ قتل کیے جا سکیں گے۔ نہ یہاں کے باشندوں میں عقیدہ کا سوال ہے اور نہ عقیدت کا یہ فوجی لوگ ہیں ان کی عقلیں بھی موٹی ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ شہادت حسینعليه‌السلام سے قبل جتنے افسر بھیجے گئے وہ محض اس غرض سے بھیجے جاتے رہے کہ حسینعليه‌السلام کو گرفتار کرکے کوفے لے جائیں۔ (کشف الغمہ ص ۶۸)

اور ایک عظیم لشکر مکہ میں شہید کیے جانے کیلئے روانہ کیا اور تیس خارجیوں کو حاجیوں کے لباس میں خاص طور سے بھجوایا جس کا قائد عمر بن سعد تھا (ناسخ التواریخ جل ۶ ص ۲۱۰ منتخب طریحی ، خلاصة المصائب ص ۱۵۰ ، ذکر العباس ص ۲۲ )

عبدالمجید خان ایڈیٹر مولوی دہلی لکھتے ہیں کہ اس کے علاوہ ایک سازش یہ بھی کی گئی کہ ایام حج میں تین سو شامیوں کو بھیج دیا گیا کہ وہ گروہ حجاج میں شامل ہوجائیں اور جہاں جس حال میں بھی حضرت امام حسینعليه‌السلام کو پائیں قتل کر ڈالیں ۔ (شہید اعظم ص ۷۱) خطوط جو کوفے سے آئے تھے ۔ انہیں شرعی رنگ دیا گیا تھا اور ایسے لوگوں کے نام سے بھیجے گئے تھے جن سے امام حسینعليه‌السلام متعارف تھے۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کا کہنا ہے کہ یہ خطوط من کل طائفة وجماعة ۔ ہر طائفہ اور جماعت کی طرف سے بھجوائے گئے تھے (سرالشہادتیں ص ۲۷) علامہ ابن حجر کا کہنا ہے کہ خطوط بھیجنے والے عام اہل کوفہ تھے ۔ (صواعق محرقہ ص ۱۱۷)

ابن جریر کا بیان ہے کہ اس زمانہ میں کوفہ میں ایک دو کے علاوہ کوئی شیعہ نہ تھا۔ (تاریخ طبری ص ۲۴۵)

حضرت امام حسینعليه‌السلام نے اپنی شرعی ذمہ داری سے عہدہ برآمدہونے کیلئے تفحص حالات کی خاطر جناب مسلم ابن عقیل کو کوفہ روانہ کردیا۔ حضرت مسلم بن عقیل حکم امامعليه‌السلام پاتے ہی رو براہ سفر ہوگئے ۔ شہر سے باہر نکلتے ہی آپ نے دیکھا کہ ایک صیاد نے ایک آہوشکار کیا اور اسے چھری سے ذبح کیا ، دل میں خیال پیدا ہوا کہ اس واقعہ کو امام حسینعليه‌السلام سے بیان کردوں تو بہتر ہوگا ۔ امام حسین کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ بتایا ۔ آپ نے دعائے کامیابی دی اور روانگی میں عجلت کی طرف اشارہ کیا ، جناب مسلم حضرت امام حسینعليه‌السلام کے ہاتھوں اور پیروں کا بوسہ دے کر باچشم گریاں مکہ سے روانہ ہوگئے۔ مسلم ابن عقیل کے دو بیٹے تھے محمد اور ابراہیم ایک کی عمر ۷ سال اور دوسرے کی عمر ۸ سال تھی۔ یہ دونوں بیٹے بروایت مدینہ منورہ میں تھے۔ حضرت مسلم مکہ سے روانہ ہوکر مدینہ پہنچے ۔ وہاں پہنچ کر روضہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں نماز ادا کی اور زیارت وغیرہ سے فراغت حاصل کرکے اپنے گھر وارد ہوئے ۔ رات گزری صبح کے وقت بچوں کو لے کر دو راہبر سمیت جنگل کے راستے سے کوفہ کیلئے روانہ ہوئے ۔ راستے میں شدت عطش کی وجہ سے دونوں راہبر انتقال کرگئے ۔ آپ بہزار وقت کوفہ پہنچے اور وہاں جناب مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی کے مکان پر قیام پذیر ہوئے۔ مختار نے انہیں اپنے مکان میں بڑی خوشی کے ساتھ ٹھہرایا اور ان کی پوری خدمت کی ۔ (رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۷۴ واعثم کوفی ص ۳۵۶ وابصارالعین ص ۶۲)

اور جب بیعت کا سوال ہوا تو آپ نے حضرت مسلم کی سب سے پہلے بیعت کی اور کہا اے مسلم خداکی قسم اگر امام حسینعليه‌السلام کی خدمت کا موقع مل جائے تو ان کی حمایت میں اس درجہ لڑنے کا حوصلہ رکھتا ہوں کہ تلوار کے گھاٹ اتر جاؤں۔ (رو ضۃ المجاہدین ص ۵ ذوب النضار ص ۴۰۶)

مختار کی بیعت کے بعد ۱۸ ہزار کوفیوں نے آپ کی بیعت کرلی ۔ پھر بیعت کنندگان کی تعداد ۳۰ ہزار تک ہوگئی ۔ اسی دوران میں یزید نے ابن زیاد کو بصرہ ایک خط لکھا جس میں تحریر کیا کہ کوفہ میں امام حسینعليه‌السلام کا ایک بھائی مسلم نامی پہنچ گیا ہے تو جلد از جلد وہاں پہنچ کر نعمان بن بشیر سے حکومت کو فہ کا چارج لے لے ۔اور مسلم بن عقیل کا سرکاٹ کر میرے پاس بھیج دے ۔ حکم یزید پاتے ہی ابن زیاد اپنی پہلی فرصت میں کوفہ پہنچ گیا ۔ حضرت مسلم بن عقیل کو جب ابن زیاد کی رسیدگی کوفہ کی اطلاع ملی تو آپ خانہ مختار سے منتقل ہوکر ہانی بن عروہ کے مکان میں چلے گئے ۔ ابن زیادہ نے معقل نامی ایک غلام کے ذریعہ سے حضرت مسلم کی صحیح فرودگاہ کا پتہ لگا لیا۔ اسے جب یہ معلوم ہوا کہ مسلم بن عقیل ہانی کے مکان میں ہیں تو حضرت ہانی کو بلوایا بھیجا اور پوچھا کہ تم نے مسلم بن عقیل کی حمایت کا بیڑا اٹھایا اور وہ تمہارے گھر میں قیام پذیر ہیں۔ حضرت ہانی نے پہلے تو انکار کیا لیکن جب معقل جاسوس سامنے لایا گیا تو آپ نے فرمایا اے امیر بات دراصل یہ ہے کہ ہم مسلم کو اپنے گھر بلا کر نہیں لائے ۔ بلکہ وہ خود آگئے ہیں ابن زیاد نے کہا کہ خیر جو صورت بھی ہو تم مسلم کو ہمارے حوالے کردو جناب ہانی نے جواب دیا کہ یہ بالکل ناممکن ہے ہم اپنے مہمان عزیز کو ہرگز کسی کے حوالے نہیں کرسکتے۔ یہ سن کر ابن زیاد نے حکم دیا کہ ہانی کو قید کردیا جائے۔

چنانچہ حضرت ہانی بن عروہ قید کردئیے گئے ۔ پھر ان سے کہا گیا کہ مسلم بن عقیل کو حاضر کردو۔ ورنہ تم قتل کردئیے ے جاؤ گے چنانچہ ہانی نے فرمایا کہ میں ہر مصیبت برداشت کروں گا لیکن مہمان تمہارے سپرد ہرگز نہ کروں گا۔ مختصر یہ کہ جناب ہانی جن کی عمر نوے سال کی تھی ، کو کھمبے میں بندہوا کرپانچ سو کوڑے مارنے کا حکم دیا گیا۔ اس صدمہ عظیم سے جناب ہانی بے ہوش ہوگئے ۔ اس کے بعد ان کا سر مبارک کاٹ کردار پر لٹکا دیا گیا۔ مورخ اعثم کوفی تحریر فرماتے ہیں کہ کوفہ والوں نے سنا کہ امیرالمومنین حسینعليه‌السلام مکہ میں تشریف لائے ہیں۔ تو ان کے دوستوں میں سے کچھ لوگوں نیسلیمان بن صرد خزاعی ۱ کے گھر میں بیٹھ کر جلسہ کیا سلیمان نے کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا بیان کرکے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درودبھیجا ۔ پھر حضرت علیعليه‌السلام کے کچھ مناقب بیان کیے اور دعائے خیر کے بعد کہا ۔ اے لوگو تم نے معاویہ کے مرنے کی خبر سن لی اور جان لیا ہے کہ اس کی جگہ یزید نے لے لی ہے اور جاہل لوگوں نے اس کی بیعت اختیار کی ہے۔ امام حسینعليه‌السلام نے اس کی بیعت سے انکار کیاہے انہوں نے آل ابی سفیان کی فرمانبرداری منظور نہیں فرمائی۔ اب مکہ میں تشریف لائے ہیں۔تم ان کے ہوا خواہ ہو اور اب سے پہلے ان کے باپ کے دوستدارتھے ۔ آج امام حسینعليه‌السلام کو تمہاری امداد کی ضرورت ہے۔

اگر تم مددگارہو اور ساتھ دو اور کچھ پس وپیش نہ ہو۔ تو ان کے نام خطوط روانہ کرکے اپنے ارادوں سے آگاہی دو۔ اور اگر ثم جانتے ہو کہ تم کو کاہلی اور سستی اور دل برداشتگی پیدا ہوگی۔ اپنے اقراروں کو پورا نہ کرسکو گے تو خاموش ہو رہو۔ کیونکہ ابھی اس مہم کاآغاز ہی ہے ۔ آنحضرت کو اپنے وعدوں اور امداد کا بھروسہ نہ دلاؤ ان سب لوگوں نے برضاورغبت جوابدیا کہ ہم نے تمہارا کہنا سنا اور منظور کرلیا ، ہاں ہم آنحضرت کی مدد کریں گے ان کی رضا مندی میں اگر ہماری جانیں بھی جاتی رہیں گی تو کچھ پر واہ کی بات نہیں سلیمان نے ان سے اس معاملہ کی نسبت مستحکم اقرار اور وعدے لیے اور حجت قائم کی کہ بے وفائی نہ کرنا اپنے قول سے نہ پھرنا جواب دیا کہ ہم بالکل ثابت قدم رہیں گے، امام حسینعليه‌السلام کی خوشنودی کیلئے اپنی جانیں تک دیں گے۔

اب سلیمان نے ان سے کہا کہ تم سب لوگ امام حسینعليه‌السلام کے نام ایک ایک خط بھیج کر اپنے دلی ارادے اور اعتقاد سے مطلع کرو اور درخواست کرو کہ آپ یہاں آجائیں ۔ انہوں نے کہا کہ تمہارا ہی کہنا کافی ہے ۔ اپنی طرف سے ایک خط لکھ کر ہم سب کے ارادوں سے انہیں مطلع کردو۔ سلیمانعليه‌السلام نے کہا کہ بہتر ہے کہ تم سب علیحدہ علیحدہ ایک ایک خط لکھ کر روانہ کرو غرضیکہ سب نے اس مضمون کا ایک ایک خط لکھا۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ خط حسین بن علی امیرالمومنین کے نام سلیمان بن صرد، مسیب بن نخبہ ، حبیب ابن مظاہر ، رفاعہ بن شداد ، عبد اللہ ابن وال اور باقی اور تمام ہمدردان اور اسلام کی خیر اہوں کی طرف سے لکھا جاتا ہے ۔کہ ہم سب ٹھیک ہیں اور آپعليه‌السلام کے باپ کے مکار دشمن کی موت سے خوش ہیں ۔اور شکر الہٰی بجالاتے ہیں کہ اس کو ہلاک کر دیا۔جن حیلوں ،فریبوں اور مکاریوں سے اس نے خلافت پر قبضہ کیا تھا۔

ان بُری خصلتوں اور مذموم حالات کی تشریح نہیں ہو سکتی وہ مسلمانوں کی رضا مندی کے بغیر ان کے سروں پر حکومت کرتا تھا ۔اُمت کے اچھے اچھے لوگوں کوقتل کراتا ا ور بدترین اشخاص کو زندہ رکھتا تھا ۔انجام کار اللہ جل شانہ نے ظالموں میں تفرقہ ڈال دیا ۔خدا کا شکر ہے کہ وہ دنیا سے اٹھ گیا ۔اب سنا جاتا ہے کہ اس کا لعین بیٹا اس کی جگہ پر بیٹھ گیا ہے ہم ا سکی خلافت اور امارت سے رضا مند نہیں اور نہ کبھی پسند کریں گے ۔ہم پہلے آپعليه‌السلام کے باپ کو ہوا خواہ اور دوست تھے ۔اب آپ کے مددگار اور معاون ہیں۔ان خطوط کے مضمون سے مطلع ہوتے ہی حضورسعادت و برکت کے ساتھ تشریف لائیں ۔ہمارے پاس خوشی اور خرمی کے ساتھ آئیں۔ ہمارے سردار بنیں ،آپ ہمارے حاکم اور خلیفہ ہوں گے آج ہمارا نہ کوئی امیر ہے نہ پیشوا ۔جس کے پیچھے ہم نماز جمعہ اور دوسری نمازیں ادا کریں نعمان بن بشیر یزید کی طرف سے یہاں پر موجود ہے مگر اسے کوئی عزت یا درجہ یہاں پر حاصل نہیں ہے۔دن رات محل امارت میں پڑا رہتا ہے ۔نہ اسے کوئی خراج دیتا ہے ۔

نہ اس کے پاس جاتا ہے اگر وہ کسی کو طلب کرتا ہے تو کوئی اس کا کہنا نہیں مانتا ،بلکہ بالکل بے وقعت امیر ہے اگر آپ ہماری درخواست قبول فرما کر تشریف لے آئیں گے ۔تو ہم اسے یہاں سے نکال دیں گے ۔بخیر وعافیت آپ کے تشریف لاتے ہی لشکر فراہم کر دیں گے ۔اچھی خاصی قوت بہم پہنچ جائے گی ۔ پھر شام جا کر بدخواہ دشمن کو دور کریں گے ۔انشااللہ ء تعالیٰ خدا ہماری کاموں کو آپ کے وسیلہ سے درست کر دے گا۔

والسلام علیک ورحمة الله وبرکاته ،ولا حول ولا قوة الا بالله العلی العظیم ۔

پھر خط لپیٹ کر اور مہر لگا کر دوشخصوں عبد اللہ ابن سلیع اور عبد اللہ ابن سمع سکری کے حوالے کر دئیے کہ امیر المومنین حسینعليه‌السلام کی خدمت میں پہنچا دیں، انہوں نے مکہ پہنچ کر وہ خط حوالے ۱ کر دئیے۔امام حسینعليه‌السلام انہیں پڑھ کر اور حال دریافت کرکے خاموش ہو رہے ۔قاصدوں سے کچھ نہ فرمایا نہ خطوط کا جواب لکھا صرف ان کو خوش کرکے واپس بھیج دیا۔ انہوں نے کوفہ پہنچ کر تمام حال عرض کیا ۔اب کوفہ کے بڑے بڑے سردار قیس بن مہتر صدوا نی و عبداللہ ابن عبد ،الرحمن رجی وعامزبن وال تمیمی وغیرہ ڈیڑھ سو سے زیادہ مشہور و معروف اشخاص بجانب مکہ روانہ ہوئے اور امیر المومنین حسینعليه‌السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر ہر ایک نے کئی کئی خط ریئسان کوفہ کی طرف سے پیش کیے جن میں آپ کے بلانے کی درخواستیں شامل تھیں اور زبانی بھی کہا کہ آپ تشریف لے جائیں بلکہ ہمارے ہمراہ چلیں ۔امام حسینعليه‌السلام نے کوفہ جانے میں تامل فرمایا اور انہیں بھی کچھ جواب نہ دیا ۔اب دو قاصد اور آئے اور کوفیوں کے خط لائے یہ ٓاخری خط تھے جن میں امام کو بلایا تھا اور بانی بن ہانی ، سعد بن عبداللہ جعفی نے اس مضمون کے خطوط لکھے کہ امیرالمومنین علیعليه‌السلام کے دوستوں کی طرف سے امیرالمومنین حسینعليه‌السلام کو معلوم ہو کہ تمام کوفہ والے آپ کی تشریف آوری کے منتظر ہیں ۔ سب کے سب آپ کی خلافت اور امارت پر متفق ہیں۔ اب ذرا بھی تامل نہ کرنا چاہیے بہت جلدی تشریف لائے یہاں پہنچے کا یہی وقت ہے صحرا سرسبز ہیں میوے پک رہے ہیں ۔ دیہات میں چارہ بکثرت ہے۔ فی الفور آنا چاہیے کسی قسم کا پس و پیش نہ ہونا چاہیے جس وقت آپ کوفہ میں داخل ہوجائیں گے ۔ وہ تمام فوجیں جو آپ کے لیے فراہم کی گئی ہیں آپ کے پاس حاضر ہو جائیں گی اور خدمت گزاریاور جان نثاری کیلئے کمر بستہ ہوں گی۔

والسلام

امام حسینعليه‌السلام نے ہانی اور سعید سے پوچھا کہ یہ خط کن شخصوں نے لکھے ہیں انہوں نے کہا: "اے رسول اللہ (ص)" کے فرزند شبث بن ربعی ، محاربن حجر ، یزید ابن حارث ، یزید بن برم ، عروہ بن قیس عمر بن حجاج ، عمر بن عمیرہ نے متفق ہوکر یہ خطوط لکھے ہیں۔ اب امام نے اٹھ کر وضو کیا اور رکن و مقام کے نیچے نماز ادا کی پھر نماز سے فارغ ہوکر دعا مانگی اور اس معاملہ کے خاتمہ کیلئے اللہ تعالیٰ سے مدد چاہی ۔ اس کے بعد کوفیوں کے خطوط کا جواب لکھا۔

بسم الله الرحمن الرحیم

حسین بن علیعليه‌السلام کی طرف مومنین کی جماعت کو واضح ہوکہ ہانی بن ہانی اور سعید بن عبداللہ نے حاضر ہوکر تمہارے خط پیش کیے احوال مندرجہ معلوم ہوئے ، تمہارے مطلب اور مدعا میں ذرا کمی نہ کی جائے گی اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل بن ابی طالبعليه‌السلام کو تمہارے پاس بھیجتا ہوں کہ تمام حالات اور تمہارے بیانات کی سچائی کا اندازہ کرکے مجھے اطلاع دیں ۔ جب وہ تمہارے پاس پہنچیں۔ اپنے حالات سے انہیں باخبر کرو ۔ اگر تم اسی اقرار اور عہد پر قائم ہو جس کا ذکر خطوط میں درج ہے تو ان کی بیعت کرلو ۔ ہر طرح سے ان کی مدد کرو، ان کے ساتھ سے علیحدہ نہ ہو ۔ وہ امام جو اللہ تعالیٰ کی کتاب پر عمل کرتا ہے اور صاحب علم و انصاف ہے اس امام سے جو ظالم اور فاسق ہے ، بہتر ہے اللہ تمہیں اور ہمیں راہ راست اور پرہیز گاری کی توفیق عطا کرے۔ وانہ سمیع الد عاوالقادر علی مایشاء والسلام علیکم۔ پھر خط کو تمام کرکے بند کردیا ۔ پھر مہر لگا کر مسلم بن عقیل کے حوالہ فرمایا اور کہا کہ میں تمہیں کوفہ بھیتجا ہوں وہاں جاکر دریافت کرنا کہ ان لوگوں کی زبانیں اپنی ان تحریروں کے مطابق ہیں یا نہیں وہاں پہنچنے کے بعد ایسے شخص کے گھر اترنا جو سب سے زیادہ اعتماد کے قابل اور ہماری دوستی میں پورا ثابت قدم معلوم ہو ۔ وہاں کے باشندوں کو میری بیعت اور فرمانبرداری کی ہدایت کرنا ان کے دلوں کو آل ابوسفیان کی طرف سے پھیر دینا ۔ اگر یہ بات معلوم ہوکہ ان کے اقرار سچے ہیں ، اور جو کچھ کہتے اورلکھتے ہیں اس کو پورا کریں گے تو مجھے لکھ بھیجنا اور جو امور مشاہدے سے گذریں ۔

انہیں مفصل درج کر دینا ، میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تمہیں اور مجھے شہادت کا درجہ عطا فرمائے گا ۔ اس کے بعد آپس میں بغل گیر ہوکر ملے اور روتے ہوئے ایک نے دوسرے کو رخصت کردیا مسلم نے کوفہ کا راستہ لیا پوشیدہ سفر کیا کہ بنی امیہ میں سے کسی کو اس حال کی خبر نہ ہوجائے۔ مبادایزید کو خط لکھ کر تمام حالات سے مطلع کردے جس وقت مسلم مدینہ میں داخل ہوئے تو مسجد رسول میں آکر انہوں نے دورکعت نماز پڑھی۔آدھی رات کے وقت اپنے عزیزوں اور دوستوں سے رخصت ہو کر سفر کوفہ اختیار کیا اور قیس بن غیلان کے قبیلہ کے دو رہبر ساتھ لیے کہ غیر معروف راستے سے کوفہ میں پہنچا دیں۔ کچھ دور چل کر دونوں راہبر راستہ بھول گئے ۔اور غلطی سے ایسے میدان میں جا پہنچے جہاں پانی کا نام و نشان نہ تھا ۔ انجام کار دونوں راہبر پیاس کی شدت سے مر گئے ۔ اب مسلم بہت ہراساں ہو کر ادھر ادھر ٍپانی کی تلاش میں دوڑے مگر کسی جگہ پانی نہ پایا ۔ آخر کار ایک گاؤں مضیق نام میں پہنچ کر پانی پیا۔ ساتھیوں اور مویشیوں اور گھوڑوں کو بھی پانی دیا ، پھر کچھ دیر آرام کرکے امام حسینعليه‌السلام کے نام خط لکھا اور تمام کیفیت درج کرکے یہ بھی تحریر کیا کہ مجھے یہ سفر مبارک نہیں ہوا فال بدمعلوم ہوتی ہے آپ مجھے اس سفر سے معاف رکھیں تو بہتر ہے۔والسلام

جس وقت مسلم کا یہ خط امام حسینعليه‌السلام کے پاس پہنچا آپ نے احوال سے واقفیت کے بعد یہ جواب تحریر فرمایا ۔

بسم الله الرحمن الرحیم

حسین بن علی امیرالمومنین کی طرف سے مسلم بن عقیل کو معلوم ہوکہ تمہارا خط آیا مضمون معلوم ہوا یہ لکھنا کہ مجھے اس سفر سے معاف رکھو ، بڑے تعجب کی بات ہے معلوم ہوتا ہے کہ سستی اور شکستہ دلی کی وجہ سے یہ خط لکھا گیا ہے ۔ تم اپنے دل کو مضبوط رکھو کسی امر کا خوف نہ کرو اور جس کام کا حکم ہے اسے انجام دو۔

والسلام علیک ورحمة الله وبرکاته

مسلم نے امام حسینعليه‌السلام کا یہ خط پڑھ کر کہا کہ امیرالمومنین نے تجھ پر یہ الزام قائم کیا ہے جس کا تجھے خیال تک نہیں مجھے کاہل اور شکستہ دل قرار دیا ہے۔ سبحان اللہ مجھے کس وقت اور کس جگہ ایسا پایا پھر وہاں سے سمت کوفہ روانہ ہوئے اثنا ء راہ میں ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے ایک ہرن کا شکار کیا ہے اور اسے گرا کر ذبح کرتا ہے مسلم نے اس مشاہدہ سے اچھی فال لی کہ انشاء اللہ ہم بھی اپنے دشمنوں کو قتل کریں گے پھر داخل کوفہ ہوکر مسلم بن مسیب کے گھر میں قیام کیا ۔ یہ مکان مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی کا بنایا ہوا تھا امیرالمومنین علیعليه‌السلام کے دوست مطلع ہوکر آپ کے پاس حاضر ہوئے ۔ مسلم نے امام حسینعليه‌السلام کا خط پڑھ کر سنایا۔ جب انہوں نے امام حسینعليه‌السلام کا خط اور علی کا نام سنا خوب زور سے روئے اور واشوقاہ کے الفاظ اپنے زبان سے ادا کیے پھر ایک ہمدانی شخص عابد بن ابی سلیب نے مسلم کے پاس آکر کہا کہ میں اور لوگوں کے دلوں اور بھروسہ سے بے خبر ہوں۔ جو کچھ مجھے کہنا ہے اپنی طرف سے کہتا ہوں کہ میرا دل اور میری جان فرزند رسول کی دوستی کیلئے وقف ہیں ۔ خدا کی قسم یہی بات ہے میں تمہارے آگے کھڑے ہوکر شمشیر زنی کروں گا اور تمہارے دشمنوں کو ماردوں گا یہاں تک کہ میری تلوار کے ٹکٹرے ٹکٹرے ہوجائیں اور صرف قبضہ ہی قبضہ ہاتھ میں رہ جائے اور اس خدمت گزاری اور دوستی سے صرف خوشنودی خدائے تعالیٰ مطلوب ہوگی پھر حبیب بن مظاہر اسدی نے اٹھ کر کہا کہ خدا کی قسم میں بھی تمہاری دوستی میں ایسا ہی نکلوں گا جیسا عابس نے بیان کیا ہے اب لوگوں کی ٹولیاں آنی شروع ہوگئی۔ اور سب اسی قسم کی گفتگو کرتے تھے اپنی اطاعت اور فرمانبرداری کی نسبت بڑے بڑے دعوے رکھتے تھے ۔

مسلم کیلئے ہر شخص طرح طرح کے تحفے پیش کرتا تھا مگر آپ نے کسی کا تحفہ قبول نہ کیااس وقت یزید کی طرف سے نعمان بن بشیر کوفہ کا حاکم تھا۔ اس نے مسلم کے آنے کی خبر سن کر اور جامع مسجد میں آکر لوگوں کو طلب کیا جب سب موجود ہوگئے تو اس نے منبر پر بیٹھ کر تقریر شروع کی اور کہا کہ اے کوفہ والو تم کب تک فتنہ و فساد برپا رکھو گے کب تک نفاق کا دم بھروگے ، تم خدا سے نہیں ڈرتے اور نہیں جانتے کہ فساد کرنے سے محض بربادی اور ابتری و خونریزی کے سوا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا فتنہ انگیزی سے جان اور مال دونوں برباد ہوجاتے ہیں خدا سے ڈرو اور اپنے حال پر رحم کرو فساد سے بچو اور یہ بھی یاد رکھو کہ میں اس شخص سے بجنگ پیش آؤں گا جو مجھ سے لڑنا چاہے گا ۔ ہاں میں سوتے ہوئے کو جگاتا نہیں اور نہ جاگتے ہوئے کو ڈراتا ہوں۔ نہ کسی شخص کو محض خیال ا ور تہمت کی بنا پر گرفتار کرتا ہوں مگر تم اپنی کرتوت مجھ پرظاہر کرتے اور عیب و نقصان کی راہ چلتے ہو یزید کی بیعت اور اطاعت سے نکلتے ہو اگر تم اس فساد سے باز آگئے اور فرمانبرداری سے رہے تو تم کو معاف کردوں گا ورنہ خدائے واحد کی قسم تلوار سے کام لوں گا اس قدر کشت و خون کروں گا کہ تلوار پرزے پرزے ہوجائے گی اگر میں تن تنہا بھی رہ جاؤں گا ۔ تب بھی اس معرکہ اور کوشش سے باز نہ رہوں گا۔ مسلم بن عبداللہ ابن سعید حصی نے کہا امیرکا بیان کمزور شخصوں کا سا ہے اور اس میں ذرا بھی زور نہیں پایا جاتا تو جو کچھ کہہ رہا ہے اسے عمل میں نہ لاسکے گا۔ نعمان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں میرا کمزور ہونا اس سے بہتر ہے کہ گنہگاروں کے ساتھ گمراہوں میں شریک ہوجاؤں گا پھر یہ بات کہہ کرتا کید وتنبیہ کی اور منبر سے اتر کردارالامارة میں چلا آیا ۔

عبداللہ ابن مسلم نے جو یزید کا دوست تھا فوراً یزید کے نام اس مضمون کا خط روانہ کیا کہ میرے کوفی دوستوں اور خاص میرے طرف سے میرے امیریزید کو معلوم ہو کہ مسلم بن عقیل نے واروکوفہ ہو کر علی بن ابی طالب کے بہت سے دوستوں سے حسین بن علیعليه‌السلام کیلئے بیعت لی ہے اگرتجھے کوفہ کو اپنے قبضہ میں رکھنا ہے اور کسی دوسرے کے قبضہ میں دیناگوارا نہیں تو کسی سخت گیر شخص کو یہاں بھیج کہ تیرے احکام و فرامین کو حسب ایما جاری کرے اور دشمنوں کو تیری منشا کے مطابق نیست و نابود کردے کیونکہ نعمان بن بشیر کمزور آدمی ہے اگر کمزور بھی نہیں تو وہ لوگوں پر اپنے کو حقیر ظاہر کرتا ہے۔

والسلام

عمار بن ولید بن عقبہ اور عمر بن سعید نے بھی اسی مضمون کے خط روانہ کیے ۔ یزید ان خطوں کو پڑھ کر نہایت برافروختہ ہوا اپنے باپ کے ایک غلام سرجون نامی کو بلا کر کہا کہ مجھے ایک مہم پیش آگئی ہے کیا تدبیر کی جائے اس نے پوچھا وہ کیا ہے؟ یزید نے کہا کہ مسلم بن عقیل نے داخل کو فہ ہوکر علی کے دوستوں کی ایک جمعیت فراہم کرلی ہے اور ان سے حسین بن علی کے واسطے بیعت لی ہے اب کیا بندوبست کرنا چاہیے اور تیری کیا رائے ہے سرجون نے کہا کہ اگر میری بات مانو تو کچھ کہوں یزید نے کہا کہو اس نے جواب دیا کہ تو نے عبید اللہ ابن زیاد کو حاکم بصرہ مقرر کیا ہے کوفہ بھی اسی کے حوالے کردے پھر اس طرف سے اطمینان ہوجائے گا ۔ وہ یقینا تیرے دشمنوں کو منتشر کردے گا۔ یزید کو اس کی رائے بہت پسند آئی ۔ فوراً عبیداللہ ابن زیاد کے نام خط لکھا کہ : مجھے میرے بعض دوستوں نے کوفہ سے اطلاع دی ہے کہ مسلم بن عقیل نے کوفہ میں آکر بہت سے آدمیوں کو جمع کیا ہے اور وہ ان سے امام حسینعليه‌السلام کی بیعت لے رہے ہیں تو اس خط کے مضمون سے واقف ہوتے ہی فوراً کوفہ کو چلا جا اور اس فسادکی آگ کو بجھا کر اس مہم کو سرکر میں نے قبل ازیں تجھے بصرہ کی حکومت عطا کی تھی۔ اب کوفہ کی امارت بھی تجھے دیتا ہوں ۔

مسلم بن عقیل کو اس طرح تلاش کر جس طرح بخیل آدمی زمین پر گرے ہوئے پیسے کو تلاش کرتا ہے جس وقت اسے گرفتار کرلے تو قتل کرکے فورا ًاس کا سر میرے پاس بھیج دے خوب یاد رکھ کہ میں اس معاملہ کی نسبت تیرے کسی عذراور حیلہ کو نہ سنوں گا اس حکم کی تعمیل میں جلدی کر۔ والسلام پھر یہ خط مسلم بن عمر باہلی کو دے کر کہا کہ بہت جلد یہ لے کر بصرہ پہنچ اور عبداللہ بن زیاد کے حوالے کردے اور راستہ میں کسی جگہ قیام نہ کرنا بھاگم بھاگ چلاجا۔ اس حال سے پہلے حضرت حسینعليه‌السلام بصرہ کے نامور اشخاص احنف بن قیس مالک ابن مستمع منذررابن جارود ، قیس ابن محطم مسعود بن عمر اور عمر بن عبداللہ کے نام خط بھیج کر اپنی حمایت و اطاعت کی ہدایت کی تھی

اور انہوں نے آپ کے خطوط کو ظاہر نہ ہونے دیا تھا۔مگر منذربن جارود کی لڑکی عبیداللہ ابن زیاد کے نکاح میں تھی منذر اس سے بہت ڈرتا تھا اپنے نام کا خط جو امام حسینعليه‌السلام کا بھیجا ہوا تھا۔ عبیداللہ ابن زیاد کو دے دیا وہ خط دیکھ کر بہت غضبناک ہوا اور ڈھنڈو راپٹوا دیا۔ پھر مندز سے پوچھا یہ خط کون لایا ہے اس نے جواب دیا حسین بن علیعليه‌السلام کا ایک ہوا خواہ سلیمان نامی لایا ہے عبیداللہ نے کہا جاکر اسے بلالا۔

اس وقت سلیمان ایک شیعہ علی کے گھر میں پوشیدہ تھا ۔ مندزاسے بلالایا۔ عبداللہ نے اس سے کچھ نہ پوچھا اور اسے فوراً قتل کرادیا۔ اور سولی پر لٹکا دیا جب سلیمان قتل ہوگیا تو خود منبر پر بیٹھ کر خدا کی حمدوثنا کے بعد کہا اے بصرے والو آج یزید کا ایک فرمان آیا ہے اس نے ولایت کوفہ بھی مجھے عطا کردی ہے میں کل کوفہ کو جاؤں گا اپنے بھائی عثمان کو تمہارا امیر مقرر کرتا ہوں لازم ہے کہ تم سب اس کی پوری اطاعت کرنا اور اس کی عزت و توقیر میں کمی نہ کرنا خدائے واحدکی قسم اگر میں نے سنا کہ تم میں سے کسی نے خلاف ورزی کی۔ اور فرمانبرداری سے منہ پھیرا تو اسے معہ اس شخص کے جو اس کا شریک حال ہوگا قتل کرڈالوں گا اور جب تک انتظام ٹھیک نہ ہوگا دشمن کو دوست کے عوض گرفتار کروں گا اب میں نے سمجھا دیا ہے ہرگز ہرگز مخالفت کے قریب نہ جانا ورنہ تم مجھے جانتے ہی ہو کہ زیاد کا بیٹا ہوں میرے چچا اور ماموں بھی میری مخالفت سے پہلو بچاتے ہیں۔ اس کے بعد منبر سے اتر کر دوسرے دن سمت کوفہ روانہ ہوا اور بصرہ کے ناموراشخاص مسلم بن عمر باہلی، منذر ابن جارود عبدی اور شریک بن عبداللہ اعورہمدانی کو اپنے ہمراہ لے لیا کوفہ کے قریب پہنچ کر ایک جگہ ٹھہرگیا اور اتنی دیر انتظار کیاکہ آفتاب غروب ہوگیااور دو گھنٹے رات گذر گئی اس کے بعد سر پر سیاہ عمامہ باندھا ، تلوار کمر میں لگا کر کمان کندھے پر لٹکائی ، ترکش لگا کر گرزہاتھ میں لیا اور خنگ گھوڑے پر سوار ہوکر معہ خدم و حشم بیابان کی راہ سے داخل کوفہ ہونے کیلئے کوچ کیا اب چاند پوری روشنی ڈال رہا تھا۔

لوگوں کو خیال تھا کہ امام حسینعليه‌السلام تشریف لائیں گے عبیداللہ کے تزک و احتشام کو دیکھ کر خیال کیا کہ امام حسینعليه‌السلام تشریف لائے ہیں گروہ درگروہ لوگ آنے شروع ہوگئے اور عبیداللہ کو سلام کرتے اور کہتے تھے اے فرزند رسول مبارک ہو مبارک ہو عبیدہ اللہ ان کے سلام کا جواب دیتا تھا ۔ آخر کار مسلم بن عمر باہلی نے ایک شخص سے کہا کہ عبیداللہ ابن زیاد ہے حسین بن علیعليه‌السلام نہیں ہیں ، تم کو محض دھوکا ہوا ہے کوفہ والے اس حال سے مطلع ہوکر بھاگے اور منتسر ہوگئے عبیداللہ نے وارالامارة میں قیام کیا وہ زخمی سور کی طرح جھلاتا اور سانپ کی طرح پیچ و تاب کھاتا تھا اس شب کو تو کچھ نہ بولا ، نہ کسی شخص کو بلایا ۔ مگر دوسرے دن ڈھندوراپٹو ایا کہ سب لوگ جامع مسجد میں حاضر ہوں جب سب آگئے اور بے شمار خلقت کا ہجوم ہوگیا تو عبیداللہ بھی داخل مسجد ہوا شمشیر لٹکائے ہوئے تھا۔ سیاہ عمامہ سرپر باندھے ہوئے تھا منبر پر چڑھ کر حمد و ثنا کے بعد کہا کہ اے اہل کوفہ تمہارے امیر یزید نے مجھے حاکم کوفہ مقر کیا ہے اور حکم دیا ہے کہ عدل وانصاف سے پیش آؤں مظلوم کی فریاد سنوں ظالموں سے بدلالوں ۔ درویشوں سے اچھا سلوک کروں دوستوں اور فرما نبردارں پر مہربانی اور بخشش کرتا رہوں ،میں نے امیر کے حکم کی تعمیل کی اور بصرہ ے یہاں آیاکہ اس کا فرمان بجالاؤں ۔

اب میں تمام ممانعتوں اور احکام کو جاری کروں گا یہ کہہ کر منبر سے اترا اور دارالامارہ میں پہنچا ۔ دوسرے دن وہاں سے نکل کر منبر پر چڑھا۔ آج پہلے دن والے لباس اور وضع قطع میں نہ تھا حمد خدا کے بعد کہا کہ حکومت کیلئے سختی بھی ضروری امر ہے میری عادت ہے کہ گناہگاروں کے سبب سے بے گناہوں کو پکڑلیتا ہوں اور غائب ہوجانے والوں کے واسطے موجودہ اشخاص کو تکلیف دیتا ہوں ۔ دوست کے بدلے دوست سے باز پرس کرتا ہوں اسد بن عبداللہ نے اٹھ کر کہا اے امیرخدا فرماتا ہے ۔ لاتزر وزارة وزرا اخری۔ کہ کوئی کسی کا بارنہ اٹھائے گا ، امیر مرو کو وقت پر آزماتے ہیں تلوار کو ہنر کے ساتھ اور گھوڑے کو دوڑانے سے ہمارا یہ کام ہے کہ جو کچھ تو کہے گا اسے بجالائیں گے امیر کا احکام کو بسروچشم پورا کریں گے میری رائے ہے کہ شروع میں احسانات کے سوا برار طریقہ جاری نہ کر عبیداللہ ان باتوں کو سن کر خاموش ہورہا منبر سے اتر کر دار الامارة میں چلا آیا ۔

حضرت مسلم بن عقیل عبیداللہ ابن زیاد کے آنے کی خبر سن کر گھبرائے ۔

آدھی رات کو اپنے قیامگاہ کی جگہ سے ہانی بن عروہ مدحجی کے گھر تشریف لائے ہانی انہیں دیکھ کر کھڑے ہوگئے پوچھا کہ اپ کی یہ کیا حالت ہے اور ایسا کون سا معاملہ پیش آیا کہ آپ آدھی رات کو یہاں تشریف لائے ہیں۔ مسلم نے عبیداللہ کے آنے کا حوالہ دیا ہانی نے کہا تشریف رکھئے عبیداللہ نے آدمی مقرر کیے کہ مسلم کو ڈھونڈلائیں مگر کسی شخص نے آپ کا کچھ پتہ نہ بتلایا ، لوگ پوشیدہ طور پر مسلم کے پاس حاضر ہوتے اور ازسرنو بیعت کرتے تھے ۔ مسلم ان پر حجت قائم کرتے تھے کہ تم اپنی اقراروں پر ثابت قدم رہنا ۔ بے وفائی نہ کرنا وہ قسمیں کھاتے تھے اور عہد و پیمان کرتے تھے یہاں تک کہ بیس ہزار سے زیادہ آدمی حلقہ بیعت میں آگئے ۔ اب مسلم نے ارادہ کیا کہ ان لوگوں کو لے کر نکلیں اور وارالا مارة پر حملہ کرکے عبیداللہ کو پکڑ لیں ۔ ہانی نے مناسب نہ سمجھا اور کہا کہ آپ جلدی نہ کریں کیونکہ جلد بازی شیطان کا کام ہے۔

ادھر عبیداللہ نے اپنے خیرخواہوں میں سے ایک شخص کو جس کا نام "معقل " تھا۔ ایک ہزار درہم دے کر کہا کہ جا کر شہر میں مسلم کو تلاش کرے۔ علیعليه‌السلام کے گروہ کے آدمیوں سے کہنا کہ میں علیعليه‌السلام اور ان کے خاندان کا خیر خواہ ہوں ۔ جب تجھے مسلم کے سامنے لے جائیں تو ان کی خیر خواہی جتا کر کہنا کہ میں ایک ہزار درہم لایا ہوں آپ وہ روپیہ اپنے کاموں میں صرف کریں وہ روپیہ پاکر تجھے اپنا ہوا خواہ سمجھنے لگیں گے ۔

اپنا دوست جان کر تجھ پر بھروسہ کریں گے پھر تو میرے پاس اکر جو کچھ حالات دیکھے اورسنے مجھ سے بیان کردینا معقل عبیداللہ کی ہدایت کے مطابق روپیہ لے کر کوفہ کی جامع مسجد میں آیا۔ حسب اتفاق امیرالمومنینعليه‌السلام کے گروہ کے ایک شخص مسلم بن عوسجہ اسدی کو دیکھا ان کے پاس بیٹھ کر کہنے لگا کہ میں شام کا باشندہ ہوں ۔ ایک ہزار درہم میرے پاس ہیں سنا ہے کہ خاندان نبوت میں سے کوئی شخص یہاں آیا ہوا ہے ۔ فرزند رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے واسطے لوگوں سے بیعت لے رہا ہے اگر تو مہربانی کرکے مجھے اس کے پاس پہنچادے اور میں اس کی زیارت سے مشرف ہوجاؤں تو انہیں یہ مال دے دوں کہ وہ اپنے خرچ میں لائیں اور میں تیرا بہت ہی احسان مند ہوں گا ۔ اگرتو چاہے تو میں اس شخص کے پاس جانے سے پہلے تجھ سے بیعت کرلوں۔ مسلم ابن عوسجہ نے جانا کہ وہ سچ بولتا ہے سخت قول و قسم لے کر اور مضبوط عہد و پیمان لے کر کہا تو اب چلا جا کل میرے پاس آنا ، میں تجھے ان کے پاس پہنچادوں گا۔ معقل وہاں سے چلا آیا اور عبیداللہ سے سب حال کہہ سنایا اس نے کہا کہ دیکھ مردوں کی طرح اس کام کو انجام دینا ، پھر لوگوں سے شریک ابن عبدالاعور ہمدانی کا حال پوچھا جو بصرہ سے اس کے ساتھ آیا تھا اور کوفہ پہنچ کر سخت بیمار ہوگیا تھا گھر ے باہر نہ آسکتا تھا انہوں نے کہا وہ بہت ہی ناتواں ہوگیا ہے عبیداللہ نے کہا ہم کل اس کی عیادت کیلئے جائیں گے ۔

شریک کو مسلم کا حال معلوم تھا ۔ اس نے کہا اے مسلم کل عبیداللہ میری عیادت کیلئے آئے گا ۔ اسے میں باتوں میں مشغول کرلوں گا اور تم اندر سے نکل کر اسے بضرب شمشیر ہلاک کردینا پھر شہر کوفہ آپ کے قبضے میں آجائے گا اگر میں جیتا رہا تو بصرہ کو بھی تیرے تصرف میں لاؤں گا۔ دوسرے دن عبیداللہ سوار ہوکر ہانی کے دروازہ پر آیا اور شریک کی عیادت کیلئے گھوڑے سے اتر کر اس کے پاس جابیٹھا شریک اس سے گفتگو کرنے لگا اور جس امر کو وہ پوچھتا اور بتاتا رہا اور چاہا کہ مسلم نکل کر اس کا کام تمام کردیں ادھر مسلم نے تلوار میان سے باہر نکال کر چاہا کہ اندر سے نکل کر عبیداللہ کا کام تمام کردیں ، ہانی نے کہا کہ خدا کے واسطے ایسا کام نہ کریں گھر میں بہت سے بچے اور عورتیں ہیں ، قتل کے واقعہ سے بہت خوف کھائیں گے ۔ مسلم بن عقیل نے ناراض ہوکر تلوار ہاتھ سے ڈال دی ۔ شریک اب بھی عبیداللہ کو باتوں میں مشغول رکھنے کی کوشش کرتا رہا اور کچھ کچھ باتیں دریافت کرتا رہا کہ اب بھی مسلم بن عقیل آکر اسے قتل کر دیں آخر عبیداللہ کو بھی کچھ شبہ سا ہوگیا۔

دل میں ڈرا اور وہاں سے اٹھ کر چلا آیا ۔ عبیداللہ ابن زیاد کے جانے کے بعد مسلم اور ہانی باہر آئے ۔ شریک نے کہا کہ تم نے اچھا موقع کھودیا ،

آخر کیوں باہر آکر اسے ہلاک نہ کردیا ۔مسلم نے کہا کہ مجھے ہانی نے اس امر سے روک دیا کہ میری عورتیں اور بچے اس قتل سے خوف کھائیں گے ۔ شریک نے دونوں کو ملامت کی اور کہا کہ اس بداعتقاد فاسق کو آسانی سے پکڑسکتے تھے۔تم نے بڑی غلطی کی،پھر ایسا موقع ہاتھ نہ آئے گا۔ شریک تین دن اور زندہ رہا۔ پھر رحمت حق کے شامل حال ہو گیا۔ یہ شخص بصرہ کے بزرگوں اور اراکین میں سے تھا۔ امیر المومنین علی علیہ السلام کا مداح شاعر تھا ، اپنے کلام کو پوشیدہ رکھتا، معتمد اشخاس کے سوا کسی غیر کو نہ سناتا تھا۔عبیداللہ ابن زیاد نے دارالامارہ سے نکل کر اس کے جنازے کی نماز پڑھی پھر اپنے گھر پر چلا گیا۔ دوسرے دن ً معقل ًنے مسلم بن عوسجہ کے پاس آکر کہا کہ تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ مکہ سے آئے ہوئے شخص کے پاس لے چلوں گا ۔ تاکہ میں زیارت کر لوں اور یہ مال دے دوں ۔ تو شایدتو اپنے وعدہ سے پھر گیا ہے ، برائے مہربانی اپنے اقرار کو پورا کر ۔مسلم بن عوسجہ نے کہا۔میں اپنا اقرار پورا کروں گا۔ شریک کی وفات کے سبب فرصت نہ ہوئی تھی کیوں کہ وہ بڑا نیک اور امیرالمومنین علی علیہ السلام کے خیر خواہ شخصوں میں سے تھا ، معقل نے کہا کیا وہ شخص جو مکہ سے آیا ہوا ہے ۔ہانی کے گھر میں موجود ہے ۔ مسلم نے کہا ًہاں پھر اسے اپنے ہمراہ مسلم بن عقیل کی خدمت میں حاضر کیا۔مسلم نے کہا "مرحبا " اور اپنے قریب بیٹھا کر اس سے بیعت لی ۔ معقل نے روپیہ پیش کیا جسے مسلم نے قبول کر لیا،

معقل تمام دن آپ کے پاس رہا اور طرح طرح کی باتیں اور دوستی کے وعدے کر تا رہا ۔ جب رات ہو گئی وہاں سے رخصت ہو کر عبید اللہ ابن زیاد کے پاس آیا اور مسلم کا تمام حال کہہ سنایا ۔ اس نے کہا کہ مسلم بن عقیل کے پاس برابر آتا جاتا اور خدمت گزاری میں سعی کرتا رہا۔کیوں کہ اگر تو اس کے پاس سے ہٹ جائے گا اور نہ جائے گا تو تیری طرف سے شک پیدا ہو جائے گا، اور مسلم اس گھر سے نکل کر کسی دوسرے گھر میں جا رہے گا۔ اس کے بعد عبیداللہ نے آدمی بھیج کر محمد بن اشعث ،اسماء ابن خارجہ فرماری اور عمر و بن حجاج زیدی کو بلایا اور کہا ، ہانی ایک مرتبہ میرے پاس نہیں آیا نہ میرا حال دریافت کیا ۔کیا تمہیں اس کا کچھ حال معلوم ہے ؟ کہ وہ کس سبب سے نہیں آیا اس نے کہا کہ وہ بہت ناتواں اور کمزور ہو رہا ہے ۔ اس لیے امیر کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکتا اس نے کہا ہاں پہلے تو علیل تھا اور اب تندرست ہے ، کسی قسم کی شکایت باقی نہیں رہی پھر کیوں خانہ نشین ہے اور میرے پاس نہیں آتا ۔ کل تم اس کے پاس جاؤ اور اس کو علیحدہ رہنے پر ملامت کر و مجھ سے ملنے کے لیے آئے ، جو خدمت و اطاعت اس پر واجب ہے بجا لائے میں ہمیشہ اس پر مہربان رہا ہوں ۔ اور اب زیادہ اچھا سلوک کروں گا۔ انہوں نے کہا ۔ "بسرو چشم " ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ عبیداللہ کا ایک خدمت گار مالک بن یربوع ترمیمی آیا اور کہا اللہ تعالیٰ امیر کو محفوظ رکھے ۔

ایک اور خوفناک حادثہ کی خبر ہے ۔ اس نے کہا بیان کر مالک نے کہا کہ میں سیر کے ارادے سے شہر کے باہر گیا ہوا تھا۔اور اس کے گرد پھر رہا تھا کہ ایک شخص کو دیکھا کہ کوگہ سے نکل کر نہایت تیزرفتاریسے مدینہ کی طرف جا رہا ہے ۔ میں نے اس کے پیچھے گھوڑا ڈالا۔

اور اسے جا لیا، پوچھا تو کون شخص ہے اور کہا ں جاتا ہے ۔اس نے کہا کہ میں مدینہ کا رہنے والا ہوں ، میں نے پھر گھوڑے سے اتر کر دریافت کیا کہ تیرے پاس کوئی خط ہے اس نے اقرار نہ کیا تو میں نے اس کپڑوں کی تلاشی لی، تو ایک سر بند خط پایا ، وہ خط یہ ہے ۔ اور اس شخص کو امیر کے دروازے پر پہرے کے اندر دے دیا ۔ عبیداللہ نے خط لے کر کھولا ، مضمون یہ تھا:۔ مسلم بن عقیل کی طرف سے حسین بن علی بن ابی طالب کو معلوم ہو کہ میں کوفہ میں پہنچا ۔ تمام لوگوں سے ملا ، ان سے آپ کے لیے بیعت لی ۔ بیس ہزار شخصوں نے دلی رضاو رغبت سے آپ کی بیعت اختیار کر لی ہے ، میں نے ان کے نام لکھ لیے ہیں ۔ آپ اس خط کے مضمون سے مطلع ہوتے ہی فوراً چلے آئیں۔ کسی وجہ سے دیر نہ کر یں ۔ کیونکہ کوفہ والے دل سے آپ کے خیر خواہ اور دوست ہیں ، اور یزید سے متنفر ۔

والسلام۔

عبید اللہ نے کہا کہ جس شخص کے پاس سے یہ خط ملا ہے ۔ اسے میرے سامنے لاؤ ۔ مالک جا کر لے آیا ۔عبید اللہ نے پوچھا تو کون ہے اس نے جواب دیا کہ میں بنی ہاشم کا خیر خواہ ہوں پھر پوچھا تیرا نام کیا ہے ۔ اس نے کہا عبداللہ یقطین، پھر پوچھا یہ خط تجھے کس نے دیا تھا کہ حسین کے پاس لے جا ئے تو اس نے جواب دیا کہ ایک بوڑھی عورت نے دیا تھا۔ کہا تو اس کہ نام جانتاہے اس نے کہا : میں نام سے واقف نہیں ہوں ۔ عبیداللہ نے کہا تو دوباتوں میں سے ایک بات اختیار کر یا تو اس کا نام بتا دے جس نے تجھے یہ خط دیا تھا کہ تو میرے ہاتھ سے بچ جائے ورنہ میں تجھے قتل کروا دوں گا ۔ اس نے کہا میں ہر گز نام نہ بتلاؤں گا۔ اگر میری جان جاتی رہی تو کچھ پرواہ نہیں۔ عبیداللہ نے حکم دے کر اسے قتل کروا دیا ۔ پھر محمد بن اشعث ،عمر بن حجاج، اسماء بن خارجہ کی طرف متوجہ ہو کر کہا کہ جاؤ ہانی سے کہو کہ میرے پاس آتاہے ، وہ وہاں سے اٹھ کر ہانی کے گھر آئے اور دیکھا کہ ہانے گھر میں موجود ہیں ۔ انہیں سلام کیا اور پوچھا کہ تم امیر کے پاس کس لیے نہیں جاتے ، اس نے تمہیں کئی مرتبہ یاد کیا ہے ، وہ تمہارے حاضر نہ ہونے سے آزردہ خاطر ہے ۔ انہوں نے جواب دیا کہ بیماری کی وجہ سے نہیں جا سکا ۔ پھر نے چلنے کی طاقت ابھی تک نہیں آئی ، انہوں نے کہا کہ ہم نے تمہاری طرف سے یہی عذر پیش کیا تھا لیکن اس نے قبول نہ کیا اور کہا کہ میں سنتا ہوں کہ وہ تندرست ہو گئے ہیں، باہر نکلتے اور اپنے گھر کے دروازے پر بیٹھتے ہیں۔ اور آدمی ان کے پاس جمع ہوجاتے ہیں ۔ اب مناسب ہے کہ تم ان کے پاس جاؤ کیونکہ وہ صاحب قوت ہے ، ایسے شخص سے ملنا جلنا اچھا ہے ۔ مبادا وہ کسی سختی اور ظلم کا خیال کرے خاص کر نا مور اشخاص کی طرف سے ، اور تم آج اپنے قبیلے کے سردار ہو ۔ ہم تمہیں قسم دلاتے ہیں کہ تم اپنے حال پر رحم کرو۔ اور ہمارے ساتھ امیر کے پاس چلو۔ ہانی نے کہا بہت اچھا میں چلوں گا اس کے بعد اپنے پوشاک منگوا کر پہنی اور گھوڑے پر سوار ہو کر ان لوگوں کے ہمراہ دار الا مارة میں پہنچے ۔ اب ان کا دل گھبرایا اور بدی و شرارت کا برتاؤ کرنے کا خیال گزرا۔

اسماء بن خارجہ کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ اے بھائی! مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرے ساتھ بد سلوکی وقوع میں آئے گی ۔

اسماء نے کہا ، سبحان اللہ ! یہ کیا بات ہے اے چچا ، تمہارے یہ خیالات بالکل غلط ہیں اپنے دل سے یہ تشویش دور کر دو اور ہر طرح سے مطمئن رہو۔ بھلائی کے سوا اور کوئی امر ظاہر نہ ہو گا۔ غرض عبیداللہ ابن زیاد کے پاس آئے ۔ اس وقت قاضی شریح سے مخاطب ہوکر کہا۔ اریدحیاتہ ویرید قتلی ۔ ہانی یہ بیت سن کر گھبرائے اور کہا اے امیر یا کیا مثل مشہور ہے جو تو نے زبان سے نکالی اس نے کہا خدا کی قسم اے ہانی تو نے مسلم بن عقیل کو اپنے گھر میں لاکر رکھ چھوڑا ہے۔ کہ میں ان باتوں سے بے خبر ہوں یقین کر کہ تیری کرتوت مجھے معلوم ہے ہانی نے کہا کہ مجھے ان امور کی کچھ خبر نہیں ۔ عبیداللہ نے کہا کہ میرا کہنا بالکل سچ ہی پھر معقل کو بلا کر ہانی سے کہا تو اسے جانتا ہے ؟ اب ہانی سمجھ گئے کہ یہ کیا بات ہے اور معقل عبیداللہ کا جاسوس تھا۔ فرزند رسول کا دوست نہ تھا۔ عبید اللہ کو اس سے سب حالات معلوم ہوگئے ہیں ۔ اب ہانی نے اقرارکرلیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ امیر کو محفوظ رکھے، مجھے اس بات سے شرم آئی کہ اسے پناہ نہ دوں اور تنہا چھوڑ دوں ۔اس لیے اس کو پناہ دی اب تجھے اس کا حال معلوم ہوگیا ہے اب اجازت دے کر واپس جاکر اس سے عذر کروں کہ کہیں اور چلا جائے اور میں عہد کرتا ہوں کہ جب اس شخص کو اپنے گھر سے روانہ کردوں گا تو تیرے پاس حاضر ہوجاؤں گا۔ اس نے کہا کہ جب تک تو اسے یہاں حاضر نہ کرے گا میرے پاس سے نہ جاسکے گا ۔ ہانی نے کہا کہ میں کبھی ایسی بات نہ کروں گا ۔ کیونکہ ازروئے شرع و مروت جائز نہیں کہ پناہ دئیے ہوئے شخص کو دشمن کے حوالے کردوں اہل عرب کی عادت اور خصلت ایسی نہیں ہے تو مجھے ایسے فعل کیلئے تکلیف نہ دے میں ہرگز اسے تیرے سامنے نہ لاؤں گا اور اپنے واسطے اس عیب دعارکو گوارانہ کروں گا ۔

مسلم بن عمر باہلی نے کہا کہ اے امیر ذرا سی دیر کی مہلت دے کہ میں ہانی سے دو دو باتیں کرلوں ، عبیداللہ ابن زیاد نے کہا کہ اسی مکان میں جو کہنا ہوکہہ لے۔ مسلم بن عمر نے ہانی کا ہاتھ پکڑا اور ایک کونے میں لے جا کر سمجھایا کہ تو اپنی زندگی سے کیوں بیزار ہوا ہے اپنے بچوں اور کنبے والوں کے حال پر رحم کر مسلم بن عقیل کے واسطے اپنے آپ کو ہلاک نہ کر ۔ اگر ہم جنسوں میں سے کوئی برابر والا طلب کرتا اور تودے دنیا توعیب کی بات تھی مگر جب ایک زبردست شخص جس کے پنجے میں تو گرفتار ہے مانگتا ہے تو حوالہ کردینا کوئی عیب اور شرم کی بات نہیں ہانی نے کہ اخدا کی قسم ہزارعیب سے بڑھ کر یہ بات ہے میں اس شرم کو کبھی گوارانہ کروں گا اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بیٹے کے قاصد اور اپنے مہمان اوراپناہ دیئے ہوئے کو ہرگز دشمن کے سامنے پیش نہیں کروں گا جب تک زندہ رہوں اور میرے ہاتھ پاؤں چلتے اور دوست وآشنا ، عزیز و اقرباء میرے ہمراہ ہیں ایسا ہونا ممکن نہیں بلکہ خدا کی قسم اگر میں تنہا بھی رہ جاؤں گا اور میرا کوئی مدد گار اور یاروغم خوار بھی نہ رہے گا ۔ تب بھی یہ عارنہ اٹھاؤں گا مسلم بن عمر اسے عبیداللہ ابن زیاد کے پاس واپس لے آیا اور کہا اسے کوئی نصیحت کارگرنہ ہوگی اور وہ مسلم بن عقیل کو ہمارے حوالے نہ کرے گا عبیداللہ زیادہ غضب ناک ہوکر بولا۔ خدا کی قسم اگر تو اسے میرے پاس نہ لائے گا تو تیرا سراڑا دوں گا ۔

ہانی نے کہا کس کی مجال ہے جو میرے ساتھ اس طرح پیش آسکے اگر تو ایسا خیال بھی دل میں لاسکے تو جماعت کثیر میرے خون کے بدلے کے واسطے اٹھ کر تیرے گھر کو گھیرلے گی۔

عبیداللہ نے کہا کہ تو مجھے دشمنوں اور اپنے عزیزوں سے ڈراتا ہے یہ کہہ کر ایک آہنی لکڑی جو سامنے رکھے ہوئی تھی ،

اٹھائی اور ہانی کے منہ پر ماری جس سے ایک بھنوں اور ناک پھٹ کر خون بہ نکلا قریب ہی عبیداللہ کا ایک سپاہی تلوار ہاتھ میں لیے کھڑا تھا ۔ ہانی نے اس کے قبضے پر ہاتھ ڈال کر چاہا کہ تلوار سونت لیں مگر ایک اور سپاہی نے ہاتھ پکڑ لیا اور عبیداللہ ابن زیاد ملعون نے چیخ کر کہا کہ اسے گرفتار کرکے اسی مکان کی ایک کوٹھڑی میں بند کردو اسامہ بن خارجہ نے کھڑے ہو کر کہا اے امیر تو نے ہم سے کہا تھا اور ہم تیرے پا س آے لائے تھے اس کے آنے سے پہلے تو نے اس کے واسطے اچھے اچھے وعدے کیے تھے اب وہ آیا تو غیظ وغضب سے پیش آیا ، اور ناک توڑ دی اور اس کے چہرے اور ڈاڑھی کو خون سے رنگین کردیا پھر اسے قید خانے میں ڈال دیا ۔ تیری رحم دلی سے یہ بات بہت ہی بعید ہے اور ان سب باتوں ے بڑھ کر تو اسے قتل کرنا چاہتا ہے تجھے کوئی اچھا برتاؤ کرنا چاہیے تھا۔ عبیداللہ نے اسی غصے کی حالت میں حکم دیا کہ اسے اس قدر مارو کہ مردہ ہوجائے جب اس کے زندہ رہنے کی امید نہ رہی تو اسامہ نے کہا(انا لله وانا الیه راجعون)

اے ہانی ہم تجھے موت کا پیغام سنا تے ہیں اور اب یہ معاملہ ہاتھ سے نکل چکا ہے ، ہانی کے رشتہ دار بنی ندحج والے سوار ہوکر وارالامارة پر آئے اور ہجوم کرکے بلندآوازوں سے بولتے تھے۔

عبیداللہ نے پوچھا یہ کیسا شوروغل ہے لوگوں نے کہاہانی کے عزیزوں کو خبر لگ گئی ہے کہ امیر نے اسے ہلاک کردیا ہے

اس لیے وہ مجتمع ہوکر دروازے پر آپہنچے ہیں عبیداللہ نے قاضی شریح سے کہا اٹھ کر ذرا ہانی کو دیکھ ،

پھر مکان سے نکل کر اس کے رشتہ داروں کو سمجھا دے کہ ہانی صحیح سلامت ہے کس لیے تم فریاد کرتے اور فتنہ اٹھاتے ہو جس کسی نے تم سے ایسا کہا ہے کہ امیر نے ہانی کو مروا دیا ہے وہ جھوٹا ہے شریح نے مکان سے نکل کر اس کے عزیزوں کو یہی بات سنا دی وہ سب واپس چلے گئے۔ عبیداللہ پھر محل سے نکل کر جامع مسجد میں آیا اور منبر پر چڑھ کر حمدوثنا کے بعد دائیں بائیں جانب دیکھا کہ اس کے سپاہی ہر طرف شمشیریں اور گرز کاندھے پر رکھے کھڑے ہیں کہا اے کوفہ والو اللہ جل شانہ کی عبادت اختیار کرو محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنت پر چلو اور خلفاکی روش سے نہ ہٹو صاحب حکومت کی اطاعت اور فرمانبرداری سے سرنہ پھیرو ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے فتنہ وفساد سے بچو نہیں تو پچھتاؤ گے اور میں تم پر حجت تمام کیے دیتا ہوں اور یزید کی طرف سے خوف دلاتا ہوں اسی اثنا میں اس نے شور و غل سنا اور پوچھا کہ یہ کیسا غل ہے ، لوگوں نے کہا اے امیر بچ بچ کیونکہ مسلم بن عقیل نے جماعت کثیر کے ساتھ جنہوں نے حسینعليه‌السلام بن علیعليه‌السلام کی بیعت اختیار کرلی ہے ، چڑھائی کردی ہے اور وہ تیرے مارنے کے ارادے سے آتا ہے عبیداللہ فورا منبر سے اتر کر دارالامارة میں چلا گیا اور اس نے دروازے بند کرالیے۔ مسلم بن عقیل کے پاس بہت خاصہ مسلح اور آراستہ لشکر جمع ہوگیا لوگ جھنڈے لے کر آپ کے پاس آتے تھے یہاں تک کہ ۱۸ ہزارآدمی آپ کے ہمراہ تھے اب دارالامارہ کے دروازے پر پہنچے ۔ عبیداللہ اور اس کے باپ کو سخت گالیاں دیتے تھے ادھر سے عبیداللہ کا لشکر بھی فراہم ہوگیا اور مسلم کی فوج کے مقابلہ پر آکر جنگ کرنے لگا ۔

بڑی سخت جنگ ہوئی ، عبیداللہ اور اس کے اراکین اور سرداران کوفہ چھتوں پر سے یہ حال دیکھ رہے تھے

اور عبیداللہ کا ایک دوست کثیر بن شہاب کوٹھے پر کھڑے ہوا کہہ رہاتھا اے لوگو اور اے حسینعليه‌السلام کے دوستو اور اے مسلم بن عقیل اپنی جانوں پر رحم کرو اور اپنے اہل و عیال کے دشمن نہ بنو کیونکہ شامی فوجیں داخل ہونا چاہتی ہیں اور امیر عبیداللہ نے قسم کھائی ہے کہ اگر تم شام تک اسی طرح جنگ کرتے رہے اور مقابلہ سے باز نہ آئے تو تمہاری جاگیریں ضبط کرلی جائیں گی اور تمام جنگ کرنے والوں کو اس شہر سے نکال کر دربدر کردوں گا اور مجرموں کے عوض بے گناہوں کو قتل کروں گا۔ اور بھاگ جانے والوں کے موجودہ اشخا ص کوسزا دوں گا۔ یہ سن کر جن لوگوں نے مسلم سے بیعت کی تھی ، خوف زدہ ہوگئے ۔ دس دس بیس بیس تیس تیس کا گروہ ۱ ہوکر کھسکنے لگے اور کہتے تھے کہ ہم اس فساد میں کس لیے شریک ہوں ۔

اپنے گھر چل کرکیوں نہ بیٹھیں اور دیکھیں کہ کیا انجام ہوتا ہے ابھی آفتاب غروب نہ ہونے پایا تھا کہ وہ اٹھارہ ہزار مسلح آدمی جو مسلم بن عقیل کے ساتھ تھے سب کے سب چلے گئے۔ مسلم نے اپنے آپ کو بالکل تنہا اور بے یارومدد گار پاکر کہالاحول ولاقوة الا بالله سب کے سب کیا ہوئے اور کہاں چلے گئے ۔ پھر گھوڑے پر سوار ہوکر کوفہ کے گلی کوچوں کا رخ کیا ایک محلہ سے دوسرے محلہ میں جاتے تھے ۔ یہاں تک کہ ایک بوڑھی عورت طوعہ کے دروازے پر پہنچے ۔ یہ عورت اشعث بن قیس کندی کی زوجہ تھی جس نے اس شوہر کے بعد حضر موت کے ایک جوان سے نکاح پڑھا لیا تھا اور اس کے ایک بیٹا تھا اس وقت یہ عورت اپنے دروازہ پر موجود تھی مسلم نے سلام کیا اس نے جواب سلام کے بعد پوچھا تیرا کیا مطلب ہے مسلم نے کہا مجھے پینے کیلئے پانی دو میں بہت ہی پیاسا ہوں ۔ عورت گھر میں سے پانی کا آبخورہ بھرلائی مسلم نے گھوڑے سے اتر کر اور اس کے دروازے پر بیٹھ کر پانی پیا پھر اس عورت نے پوچھا اب تو کہاں جائے گا اور تیرا کیا حال ہے مسلم نے کہا اس شہر میں میرا کوئی گھر نہیں جہاں امن سے بیٹھ رہوں میں مسافر ہوں اور میرے جس قدر دوست اور ہماری ہمراہی تھے سب علیحدہ ہوگے اور مجھے تنہا چھوڑ دیا میں ایک بہت بزرگ خاندان کا شخص ہوں ۔

اگر تو مجھ سے اچھا سلوک کرے گی اور اپنے گھر میں پناہ دے گی تو اس کی جزا دونوں جہان میں خداورسول سے پائے گی ۔ اس نے پوچھا تو کون شخص ہے مسلم نے کہا اے عورت یہ نہ پوچھ اس نے جواب دیا تو مجھ سے اپنا حال نہ چھپا اور جب تک مجھے نہ معلوم ہوجائے گا کہ تو کون ہے اس وقت تک میں تجھے اپنے گھر میں جگہ نہ دوں گی ، کیونکہ شہر میں فساد عظیم پھیلا ہوا ہے اور عبیداللہ ابن زیاد بصرہ سے یہاں آیا ہے مسلم نے کہا اے عورت تو مجھے پہچان لے گی تو یقین ہے کہ بڑی مہربانی سے پیش آئے گی اور مجھے اپنے گھر میں پنا ہ دے گی۔ میں مسلم بن عقیل بن ابی طالب ہوں۔ میرے ساتھیوں نے آج مجھے تنہا چھوڑ دیااور سب منتشر ہوگئے میں تن تنہا رہ گیا تو یہاں آیا اس عورت نے کہا مرحبا مرحبا آئیے ، میرے گھر میں تشریف لے چلیے مسلم اس کے گھر میں تشریف لے گئے اور اس نے آپ کو کوٹھڑی میں بٹھا کر چرآغ روشن کردیا

اور کھا ناسامنے لا رکھا۔ مسلم نے کچھ نہ کھایا ، اسی وقت اس کا بیٹا آیا اور ماں کو دیکھا کہ روتی ہوئی کبھی اندر جاتی ہے اور کبھی باہر آتی ہے پوچھا یہ تیرا کیا حال ہے ، اس نے جواب دیا بیٹا ابھی مسلم بن عقیل نے ہمارے گھر میں آکر پناہ لی ہے وہ گھر میں موجود ہیں اور میں ان کی خدمت گزاری میں مصروف ہوں کہ اللہ تعالیٰ ثواب عطا کرے اس کا بیٹا سن کر خاموش ہورہا پھر کچھ دیر بعد بولا کل عبیداللہ نے منادی کرا کر تمام لوگوں کی جامع مسجد میں جمع کیاور خود منبر پر بیٹھ کر حمد و ثنا کے بعد کہا تھا کہ مسلم نے اس شہر میں آکر فتنہ و فساد برپا کیا اور جب کوئی مطلب حاصل نہ کرسکا تو بھاگ گیا چنانچہ تم سب اچھی طرح واقف ہواور مجھے بھی یقین ہے کہ وہ شہر سے باہر نہیں گیا کسی کے گھر میں پوشیدہ ہے اس لیے آگاہ رہو کہ جس گھر میں مسلم پایا جائے گا اس گھر والوں کو قتل کردیا جائے گا اور تمام مال و اسباب کو برباد کردیا جائے گا اور جو شخص مسلم کو میرے پا س پکڑ کر لائے گا یا اس کی خبر لائے گا۔میں اس کے ساتھ بے شمار انعام واکرام سے پیش آؤں گا اے کوفہ والو، خدا سے ڈرواور مخالفت کے پاس نہ جاؤ اس کے بعد پھر کہا کہ جو شخص مسلم کو میرے پاس لائے گا اسے دس ہزار درہم دوں گا اور یزید اس کی بڑی قدر و منزلت کرے گا اور میں بھی اس کی خواہشوں کو پوری کروں گا ۔ اس کے بعد عبیداللہ نے حصین بن نمیر کو بلا یا اور کہا کہ جاتمام مکانوں کی تلاشی لے کر مسلم کو پکڑلاحصین بن نمیر نے کہا بہت اچھا،اس وقت محمد بن اشعث بھی عبید اللہ کے پاس آ گیا۔

عبیداللہ نے کہا خوب آیا ،تجھ سے ایک صلاح لینی تھی ۔ اس نے کہا ، اے امیر فرمائیے وہ کیا مشورہ ہے ۔ جو کچھ میرا خیال ہو گا عرض کر دوں گا۔ عبیداللہ نے کہا کہ مسلم اسی شہر میں ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ باہر نہیں گیا۔ اب اسے کس حیلہ سے پکڑ سکتے ہیں ۔ محمد بن اشعث عبید اللہ کے پاس بیٹھ کر اس معاملہ کی باتیں کرنے لگا ۔ اتنے میں اس عورت کے بیٹے نے جس کے گھر میں مسلم چھپے ہوئے تھے ۔ عبدالرحمن بن محمد بن اشعث کو اس حال کی خبر کی ،اور عبدالرحمن نے اپنے باپ محمد کے کان میں آپھونکی ۔ عبیداللہ نے کہا کہ تیرے بیٹے نے تجھے کان میں کیاکہا، محمد نے کہا کہ اللہ تعالیٰ امیر کو عظمت بخشے بڑی خوشخبری کی بات ہے ۔عبیداللہ نے کہا، میں ہمیشہ تیری زبان سے خوشخبری کی باتیں سنتا رہتا ہوں ۔ اس نے کہا میرا بیٹا کہتا ہے کہ مسلم ایک عورت ً طوعہ ً کے گھر میں پوشیدہ ہے ،

عبیداللہ بہت خوش ہوا اور کہا کہ تجھے بہت بڑا انعام اور خلعت دیا جائے گا ۔ جا اسے پکڑ لا۔ عمر بن حریص مخزومی کو جو اس کا نائب تھا ۔

حکم دیا کہ تین سونامور بہادر فوج میں سے چھانٹ کر محمد بن اشعث کے حوالے کر دے اور انہیں ہمراہ لے جائے اور مسلم کو گرفتار کر کے لائے ۔ محمد تین سو سواروں کو ہمراہ لے کر اس گھر کے قریب پہنچا ۔ مسلم نے گھوڑوں کے ٹاپوں کی آواز سن کر جان لیا کہ میری گرفتاری کے لئے آئے ہیں۔ اٹھ کر اپنی زرہ پہنی اب وہ لوگ بھی دروازہ پر آ پہنچے تھے اور انہوں نے گھر میں آگ لگا دی تھی ۔ مسلم نے یہ حال دیکھ کر تبسم کیا اور کہااے نفس ،مرنے کے لیے مستعد ہو جا ۔ آدمعليه‌السلام کی اولاد کا انجام یہی ہے پھر طوعہ سے کہا ۔ خدا تجھ کو بخشے اور ثواب عظیم عطا فرمائے ۔ تیرا بیٹا اس ظالم اور ناخدا ترس قوم کو مجھ پر چڑھا لایا ہے۔ گھر کا دروازہ کھول دے اس عورت نے دروازہ کھولا اور مسلم غضب ناک شیر کی طرح جھپٹ کر گھر سے باہر نکلے اور ایک ہی حملہ میں کئی شخصوں کو مار گرایا۔ لوگوں نے عبیداللہ سے جا کر کہا کہ مسلم مقابلہ سے پیش آیا اور کئی شخص مار ڈالے ۔ اس نے محمد سے کہلا بھیجا کہ مجھے صرف ایک شخص کی گرفتاری کے لیے تین سو جرارسوار کر دئیے تھے کہ اسے میرے پاس پکڑ لائے تو نے کیوں اسے جنگ کرنے اور کئی شخصوں کے ہلاک کرنے کا موقع دیا ،

یہ کیسی کمزوری اور عاجزی کی بات ہے ۔ مسلم اگرچہ بہادر شخص ہے مگر ایک آدمی سے تو زیادہ نہیں ۔محمد نے جواب کہلا بھیجا کہ کیا تو خیال کرتا ہے کہ مجھے کسی بنئے کے مقابلہ پر بھیجا ہے خدا کی قسم وہ ایک ہزار بہادر نوجوانوں کے ہم پلہ ہیں۔ اور اگر ایسے شخص کا کوئی ساتھ دینے اور مدد کرنے والا ہوتا تو دنیا کو ہماری نگاہوں میں تاریک کر دیتا ۔ مسلم آسانی سے گرفتار نہیں ہو سکتا کوئی اور تدبیر کرنی چاہئیے ۔ عبیداللہ نے کہلا بھیجا کہ اسے پنا ہ دی تاکہ آسانی سے قبضے میں آجائے کیوں کہ پناہ دیئے بغیر وہ گرفتار نہیں ہو سکتا۔ محمد نے آواز دے کر کہا۔ اے مسلم اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈال تجھے پناہ دیتا ہوں ۔ اب ہاتھ سے تلوار ڈال دے اور میرے پاس چلا آ۔ مسلم نے کہا اے فاسق وفاجر گروہ تجھ پر اور تیری پناہ پر لعنت ہو ۔

اس نے کہایہ بات نہ کر اوراپنی جان پر ظلم نہ کر ، میری بات پر بھروسہ کر کے امن وامان سے میرے پاس چلا آ ۔ مسلم نے کہا خدا کی قسم ہرگز ایسا نہ ہو گا تمہارا قول و قرار کوئی چیز نہیں ۔ تم میں نہ وفا ہے نہ دین نہ آئین ۔ اگرایسا ہوتا تو تم مجھ پر اس طرح پتھر کیوں پھینکتے جس طرح کافروں پر پھینکتے ہیں۔ کیا تم واقف نہیں کہ میں اہلبیت رسالت اور محمدکے خاندان میں سے ہوں ۔ اگر تم میں ذرا سی بھی مسلمانوں کی بو ہوتی تو میرے ساتھ اس طرح پیش نہ آتے ۔ غرض مسلم نے زخموں کی کثرت کے سبب تاتواں ہو کر پھر حملہ کیا اور کئی شخصوں کو مار کر پلٹ آئے اور دروازے سے کمر لگا لے ۔ محمد نے کہا ذرا لڑائی کو بند رکھو میں مسلم سے چند باتیں کر لوں ۔ پھر قریب آ کر کہا اے مسلم افسوس ہے تو اپنے آپ کو ہلاک نہ کر، تجھے امان دے دی گئی ہے میں اقرار کرتا ہوں کہ تجھے تکلیف نہ پہنچے گی اور میں اپنے حفاظت میں رکھوں گا ۔ مسلم بن عقیل نے کہا: اے اشعث کے بیٹے کیا تو یہ جانتا ہے کہ جب تک میں سانس لے سکتا ہوں اپنا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں دے دوں گا ۔

خدا کی قسم ہرگز ایسا نہ ہو گا ۔ پھر اس پا حملہ کیا محمد پیچھے ہٹ گیا اور آپ بھی واپس آ کر اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے اور کہتے تھے اے کوفہ والو میں پیاس سے بے جان ہوا جاتا ہوں مجھے ایک پیالہ پانی پلادو ۔ ایک شخص کو بھی آپ پر رحم نہ آتا تھا کہ ایک جام آب پلاتا۔ اب محمد نے اپنے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا ، بڑے شرم کی بات ہے کہ ہم اس قدر جماعت کیثر ہو کر ایک تن تنہا شخص کو گرفتار نہ کر سکیں ۔ سب مل کر ایک دفع ہی اس پر ٹوٹ پڑو،اور پکڑلو ۔ غرض اب نے متفق ہو کر حملہ کیا قور مسلم نے سب کو نیزہ مار مار کر ہٹا دیا ۔ انجام کا ر ایک کوفی بکر بن حمران نے آگے بڑھ کر تلوار ماری جو مسلم کے نیچے کے لب پر لگی اور مسلم نے بھی اس کے جواب میں ایک ایسا ہاتھ مرا کہ تلوار پیٹ کو چاک کرتی ہوئی کمر کی طرف نکل آئی ۔ بکر بن حمران فوراً زمین پر گر کر دوزخ میں پہنچ گیا۔ اب ایک اور آدمی نے پیٹھ کے پیچھے سے آکر نیزہ مارا جس کے صدمہ سی مسلم منہ کے بل گر پڑے اور لوگوں نے دوڑ کر آپ کو پکڑ لیا ، آپ کے اسلحے اور گھوڑے چھین لیے گئے اور بنی سلم کے ایک آدمی عبداللہ ابن عباس نے آپ کا عمامہ اتار لیا ۔ مسلم بن عقیل ایک گھونٹ پانی مانگتے تھے ۔

مسلم بن باہلی نے کہا تو پانی کے بدلے موت کا مزہ چکھے گا مسلم نے کہا تجھ پر تف ہے یہ کیسی نازیبابات کہی اور تو بڑاہی سنگدل شخص ہے ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اگر تجھے قریشی کہیں تو بڑی غلطی ہے تو کسی قریشی باپ کی اولاد نہ سمجھا جائے گا۔ مسلم بن عمر باہلی نے کہا ۔ مجھے بتا تو کون ہے مسلم بن عقیل نے کہا کہ میں وہ شخص ہوں جس نے اس وقت خدا کو مانا جب کہ تو منکر تھا اور میں نے اس وقت اپنے امام کی پیروی کی جب کہ تو گناہگار ہوا۔میں مسلم بن عقیل بن ابی طالب ہو ں ۔ اب تو بتلا کہ تو کون ہے ؟ اور تیرا کیا نام ہے ؟ اس نے کہا کہ میں مسلم بن عمر باہلی ہوں

مسلم بن عقیل نے کہا کہ اے باہلہ کے بیٹے تو آتش دوزخ اور جہنم کے گرم پانی کا زیادہ مستحق ہے ۔ پھر کہا اے کوفہ والو ! مجھے کچھ پانی پلاؤ ۔ عمر بن حریث مخزومی آگے بڑھ کر پانی کا کوزہ لایا اور ایک آبخورہ بھر حاضر کیا ۔ مسلم جو نہی وہ پیالہ منہ کے قریب لے گئے اس میں آپ کے دو دانٹ ٹوٹ کر گر پڑے اور وہ پیالہ خون سے لبریز ہو گیا ، آپ وہ پانی نہ پی سکے اور باز رہے ۔ پھر آپ کو عبیداللہ ابن زیاد کے سامنے حاضر کیا۔ کسی نے کہا امیر کو سلام کر مسلم نے کہا پناہ بخدا وہ امیر کہاں سے آیا ہے میں اسے سلام نہیں کر سکتا ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت کا سلام مجھے کیا فائدہ دے سکتا ہے ۔ اگر وہ مجھے چھوڑ دے گا تو میں سلام کر لوں گا ۔ عبیداللہ نے یہ گفتگو سن کر کہا اس کا سلام کرنا آسان بات ہے اگر سلام نہ کرے گا تو مارا جائے گا ۔

مسلم نے جواب دیا کہ مجھے قتل کرے گا تو کیا ہو گا ۔ پیشتر ازیں تجھ سے بھی بدتر شخصوں نے مجھ سے بہتر اشخاص کو قتل کر دیا ہے عبیداللہ نے کہا اے شخص تو نے امام وقت پر خروج کیا امامت اور مسلمانوں کی اجتماع میں اختلاف ڑالا اور فتنہ بر پا کیا۔ مسلم نے کہا کہ تو جھوٹ بولتا ہے ای پسر زیاد ۔ معاویہ امت کے اجماع سے مسلمانوں کا خلیفہ نہیں ہوا ۔ بلکہ دغا بازی اور تغلب سے وصی پیغمبر کے خلاف ہو کر خلافت چھین لی اور یزید کی بھی یہی کیفیت تھی اور فتنہ تو نے برپا کیا اور تجھ سے پہلے تیرے باپ نے فساد کیا تھا ۔ امید ہے کہ مجھے اللہ بدترین شخص کے ہاتھ سے شہادت عطا کرے گا۔ خدا کی قسم میں راہ راست پر ہوں۔ میری نیت اور اعتقاد میں ذرا بھی تبدیلی اور تغیر نہیں آیا ۔ میں حسینعليه‌السلام بن علیعليه‌السلام کی فرمانبرداری میں جوامیرالمومنینعليه‌السلام اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا خلیفہ اور جانشین اور مسلمانوں کا امام اور پیشوا ہے ۔ ثابت قدم ہوں یزید اور معاویہ کو فاسق اور فاجر جانتا ہوں ، عبیداللہ نے کہا تو معاویہ کو فاسق کہتا ہے حالانکہ تو خود مدینہ میں شراب پیتا تھا۔

مسلم نے کہا اے کذاب بن کذاب شراب تو اس شخص نے پی ہے جو ناحق مسلمانوں کا خون بہاتا ہے اور اسے گناہ نہیں سمجھتا اور خونریزی سے اپنا دل خوش کرتا ہے گویا کچھ گناہ ہی نہیں ہے عبیداللہ نے کہا اے فاسق تو نے یہ سمجھ کر مہم اختیار کی تھی کہ کام بن جائے گا مگر تو اس عہدہ کے لائق نہ تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے تجھے کامیاب نہ ہونے دیا اور اس شخص کو نصیب کیا جسے اس کے لائق پایا مسلم نے کہا کہ الحمد للہ ہمارا تمہارا فیصلہ قیامت کے دن خداتعالیٰ کے سامنے ہوگا۔ عبیداللہ نے پوچھا کیاتو سمجھتا تھا کہ حسینعليه‌السلام کو خلافت مل جائے گی مسلم نے کہا جو کچھ میں سمجھے ہوئے تھا

وہ محض خیال ہی نہ تھا بلکہ یقینی امر تھا عبیداللہ نے کہا اگر میں تجھے قتل نہ کروں تو خدا مجھے مار ڈالے

مسلم نے جواب دیا تجھ جیسے خبیث چلن اور شریر طینت والے شخص کے ہاتھ سے ناحق خونریزی کا ہونا کچھ مشکل بات نہیں ہے خدا کی قسم اگر میرے ساتھ کچھ آدمی ہوتے اور ذرا سا پانی مل جاتا تو تجھے اس قصر میں مزا چکھا دیتا ۔ فی الحقیقت جس شخص نے اس مکان کی بنیاد ڈالی ہے وہ ملعون تھا اگر تو مجھے مصمم مار ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہے تو قریش میں سے کسی شخص کو میرے پاس بھیج کر اس سے کچھ وصیتیں کروں۔ عبیداللہ نے عمر بن سعد بن وقاص کو آپ کے پاس بھیجا کہ جو کچھ وصیت کرنی ہے اس سے کہہ دی جائے عمر سعد نے مسلم کے پاس آکر کہا جو وصیت کرنی ہے مجھ سے کر میں اسے بجا لاؤں گا مسلم نے کہا تو میری اور اپنی قرابت کو جانتا ہے آج مجھے تیری ضرورت ہے اور وصیت کرنا چاہتاہوں واجب ہے کہ میری باتوں کو غور سے سنے اور میری خواہش کو بجالائے ۔

عمر سعد نے کہا کہ توسچ کہتا ہے اور مجھ پر فرض ہوگیا کہ تیری وصیت کو پوری کروں تو نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے مگر تو تو میرے چچا کا بیٹا ہے جو کچھ کہتا ہے بیان کر مسلم نے کہا میں اس شہر میں آ کر سات سو درہم کا قرض دار ہوں میرے مارے جانے کے بعد میرے گھوڑے اور زرہ اور اسلحہ کو بیچ کر قرضہ ادا کردینا پھر حسینعليه‌السلام بن علیعليه‌السلام کو خط بھیج کر میرے حال سے مطلع کردینا اور میری طرف سے لکھ دینا کہ ہرگز ہرگز عراق کی طرف تشریف نہ لانا ورنہ جو میرا حال ہوا ہے وہی تمھارے ساتھ سلوک ہوگا۔ عمر سعد نے عبیداللہ سے وصیت کا ذکر کیا۔ اس نے کہا کہ گھوڑے اور اسلحہ سے قرضہ کی ادائیگی کو ہم سے کچھ تعلق نہیں۔ نہ کوئی ممانعت کرسکتا ہے ۔ مگر مسلم کی لاش پر بعد قتل بھی ہمارا ہی اختیار رہے گا جو کچھ ہم چاہیں گے کریں گے اور حسینعليه‌السلام بن علیعليه‌السلام کی نسبت یہ بات ہے کہ اگر وہ ہم پر حملہ نہ کرے گا تو ہم بھی اس پر حملہ آور نہ ہوں گے اور اگر ہمیں ایذا دے گا اور خلافت حاصل کرنے کے واسطے ہم سے لڑے گا تو ہم بھی خاموش نہ رہیں گے اے مسلم بن عقیل تو اس شہر میں کس لیے آیا تھا حالانکہ اس کی حالت اور حاکم سب عمدہ حالت میں تھے تو نے آکر پریشانی ڈالی مسلم نے کہا میں اس شہر کے لوگوں کو متفرق اور پریشان کرنے کی غرض سے نہ آیا تھا مگر چونکہ تم نے بڑے بڑے قاعدے جاری کر دیئے ہیں مصرو روم کے بادشاہوں اور ایران کے حاکموں جیسے قوانین کا برتاؤ کررکھا ہے خلق خدا کے خلاف عملدر آمد ہوتا ہے اور امربالمعروف بالکل جاتا رہا کوئی شخص بدی سے نہیں روکتا اس لیے امیرالمومنین حسینعليه‌السلام نے مجھے اس جگہ بھیجا کہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے طریق کو جاری کروں خلق خدا کو اللہ تعالیٰ کے احکام اور محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنت پر چلاؤں کیونکہ امیرالمومنین علیعليه‌السلام کی وفات کے بعد خلافت ہمارا حق تھا اور تم بھی اس بات سے خوب واقف ہو خواہ اسے مانو یا نہ مانو امیرالمومنین علی بن ابی طالب پر جو امام برحق اور خلیفہ مطلق تھے سب سے پہلے تم نے خروج کیا اور ہماری تمہاری وہی کیفیت ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ۔

عبیداللہ ابن زیاد نے یہ کلام سن کر بے حیائی کی زبان دراز کی ،

اور خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ذرا پاس نہ کیا اور حضرت علیعليه‌السلام و امام حسین و مسلم بن عقیل کی نسبت نالائق الفاظ منہ سے نکالے۔ مسلم نے کہا تیرے اور تیرے باپ کے اور اس شخص کے منہ میں خاک ہو جس نے تجھے امیر بنایا ،

اے دشمن خدا ان کلمات کے تم خود سزاوار ہو تیرے باپ زیاد کا کوئی باپ ہی معلوم نہ تھا ہم اہل بیت نبوت میں سے ہیں ہمیشہ ہم پر مصائب نازل رہے ہیں ہم راضی برضا ہیں۔الخبیثاث للخبیثین کا مضمون تمہاری طرف ہی صادق آتا ہے اب تو جو چاہے کہہ اور کر۔ عبیداللہ نے کہا ، اسے مکان کی چھت پر لے جا کر قتل کرو مسلم نے کہا اگر تو قریشی ہوتا اور ہم سے تیری رشتہ داری ہوتی تو تو مجھے اس طرح قتل نہ کرتا اور اگر تو اپنے باپ کا بیٹا ہوتا تو خاندان نبوت کے ساتھ ایسی عداوت سے پیش نہ آتا ۔ عبیداللہ نے ان باتوں سے زیادہ غضب ناک ہوکر ایک زخمی شامی کو جس کے سر پر اثناء جنگ میں مسلم نے تلوار ماری تھی بلا کر کہا کہ مسلم کو چھت پر لے جاکر اپنے ہاتھ سے قتل کرکے اپنا بدلالے۔

وہ شخص مسلم کا ہاتھ پکڑ کر کوٹھے پر لے گیا۔ اثناء راہ میں مسلم تسبیح اور استغفار میں مشغول تھے کہتے جاتے تھے ۔ اللھم احکم بیننا وبین قومنا خذلونا۔ غرض شامی نے بٹھا کر جسم مبارک سے سراطہر الگ کردیا۔ مسلم پر خدا کی رحمت ہو پھر وہ شخص دیوانہ وار کوٹھے سے اتر کر عبیداللہ کے پا س آیا اس نے اسے پریشان حال دیکھ کر پوچھا تجھے کیا ہوا مسلم کو قتل کیا یا نہیں اس نے جواب دیا ہاں مسلم کو تو قتل کیا مگر مجھے عجیب معاملہ پیش آیا اس کا سر کاٹنے کے بعد ایک سیاہ فام بدصورت شخص نظر آیا وہ دانتوں سے ہونٹ چباتا ہوا نہایت غصے سے میری طرف دیکھتا اور انگلی سے میری طرف اشارہ کرتا تھا میں اس قدر ڈرا کہ عمر بھر کسی شے سے ایسا نہ ڈرا تھا عبیداللہ نے سن کر کہا کہ تو نے پہلے کبھی ایسا کام نہ کیا تھا اس سبب سے تیری طبیعت درہم برہم ہوگی کوئی بات نہیں اندیشہ نہ کر ، پھر حکم دیا کہ ہانی کو قید خانہ سے نکال کر مسلم کے پاس پہنچا دے محمد بن اشعث نے کہا اللہ تعالیٰ امیر کو تندرست رکھے۔

ہانی بہت بڑا نامور اور بزرگ شخص ہے بصرہ میں تو بھی اس کے عالی مرتبہ اور بلند درجہ سے آگاہ تھا اس کے عزیزوں اور رشتہ داروں کا جتھا بہت زیادہ ہے اس کی تمام قوم کو معلوم ہے کہ میں اور ابن خارجہ اسے تیرے پاس لے گئے ہیں اس لیے یہ امر ہمیں سخت ناگوار ہے تجھے قسم دیتا ہوں کہ اس کی خطا بخش دے اس کی قوم کے سامنے مجھے شرمندہ نہ کر۔ عبیداللہ نے ایک ڈانت پلائی اور کہا چپ رہ کب تک ایسی بیہودہ گوئی کرتا رہے گا ۔غرض اس کے حکم سے لوگوں نے ہانی کو قید خانہ سے نکالا بازار میں سے گزار کر قصابوں کے محلہ میں لے گئے جہاں بکریاں فروخت ہوتی ہیں ہانی سمجھ گیاکہ مجھے قتل کریں گے غل و شور مچایا۔

اے مدحج و الو اور میرے رشتہ دار و دوڑو اب عبیداللہ کے ملازموں نے اس کے ہاتھ کھول دئیے تھے پھر چیخا اور کہا ارے مجھے کوئی ہتھیار ہی دے دو کہ میں اس بلا کے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچالوں۔ یہ سنتے ہی جلادوں نے پھر ہاتھ باندھ دیئے اور کہا گردن اونچی کر ، ہانی نے کہا سبحان اللہ کیا اچھی بات کہتے ہو میں اپنے قتل کے واسطے خود کوشش نہ کروں گا۔ اتنے میں ابن زیاد کے ایک غلام رشید ملعون نے اس کی گردن پر تلوار ماری مگر وار پورانہ بیٹھا اور ہانی نے کہا ۔

الی الله النقلب والمعاد اللهم الی رحمتک ورضوانک اجعل هذا الیوم کفارة لذنوبی ۔

اب دوسرے وار میں ہانی کی گردن قطع کردی اور بحکم ابن زیاد ، ہانی اور مسلم کی لاشیں سولی پر الٹی لٹکا دیں اور دونوں کے سر ایک خط کے ساتھ یزید کے پاس بھیج دئیے ۔ مضمون خط یہ تھا۔

بسم الله الرحمن الرحیم

عبیداللہ ابن زیادہ کی طرف سے ، یزید بن معاویہ کو خدا کی حمد وثنا کے بعد واضح ہوکہ اللہ تعالیٰ نے امیرکا بدلا دشمنوں سے لے لیااور ان کی طرف سے مطمئن کر دیا ۔

اطلاع دیتا ہوں کہ مسلم نے کوفہ میں آکر ہانی کے گھر میں پناہ لی تھی اورحسینعليه‌السلام کے واسطے خلقت سے بیعت لیتا تھا۔

میں نے جاسوس مقرر کر کے بڑی تدبیر وں سے پتہ نکالا۔ جنگ و جدل کے بعد دونوں کو گرفتار کیا اب قتل کر کے ان کے سر ہمراہ نامہ روانہ کرتا ہوں ۔

ہانی بن جردارعی اور زبیربن ارحواح یہ دونوں قاصد امیر کے فرمانبردار اور خدمت گزار ہیں ۔ ان سے اچھا سلوک کیا جائے۔ والسلام اب ان دونوں شخصوں نے شہیدوں کے سر اور خط یزید کے حوالے کیے تو اس نے خط کا مطالعہ کر کے حکم دیا کہ یہ سرد مشق کے دروازے پر لٹکا دیئے جائیں اور خود جواب میں لکھا : تیرا خط آیا مسلم اور ہانی کے سر پہنچے ، میں بہت خوش ہوا۔ تو مجھے بہت عزیز ہے ۔

جیسا میں چاہتا تھا تو ویسا ہی نکلا۔ میں تجھ سے اس امر کی باز پرس نہیں کرتا جو کچھ تو نے کیا خوب کیا۔

قاصدوں کی نسبت جو لکھا تھا ۔ ہر ایک کو دس دس ہزار درہم عطا کر کے شاداں و فرحاں واپس بھیجتا ہوں ۔

والسلام

ہاں یہ بھی سنتا ہوں کہ حسین بن علی مکہ سے نکل کر عراق کا ارادہ رکھتے ہیں ۔

تجھے بہت ہی احتیاط رکھنی لازم ہے ۔ خبر داری کے ساتھ راستوں کو اپنی نگرانی اور حفاظت میں لے لینا چاہیے اورجس شخص کو فسادی سمجھے خواہ قتل کر یا قید میں ڈال ۔تجھے اختیار ہے کہ حسین کی جو خبریں تجھے معلوم ہوتی رہیں ۔ وقتاً فوقتاً مجھے اس سے مفصل اطلاع دیتا رہ (ترجمہ فتوحات محمد بن علی بن اعثم کوفی ۲۰۴ھہ صہ۳۵۴تاصہ۳۶۴طبع دہلی )

واضح ہو کہ اعثم کوفی نے بعض واقعات ایسے لکھ دیے ہیں جو ہمارے مسلمات کے خلاف ہیں اور واقعات میں الٹ پھیر بھی کیا ہے لیکن چونکہ ان کا بیان کثیر معلومات پر مشتمل ہے اس لئے ہم نے نقل کر دیا ہے۔ حضرت مختار حوالی کو فہ میں حضرت ہانی کا جس وقت واقعہ درپیش ہوا ۔ حضرت مختار کوفہ میں موجود نہ تھے ۔ مورخین کا بیان ہے کہ حضرت مسلم جب حضرت ہانیء کے مکان میں منتقل ہو گئے تھے ۔تو حضر ت مختار اپنی طاقت کو مضبوط کرنے کے لیے کوفے کے دیہاتوں کی طرف چلے گئے تھی ۔ ان کو یقین تھا کہ حکومت کے مقابلہ کے لیے اہل کوفہ کی امداد کافی نہ ہو گی ۔ حضرت مختار کا خیال تھا کہ ہم اپنے ہو خواہوں کو کثیر تعداد میں جمع کر کے ابن زیاد کی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔ (روضۃ الصفاء جلد ۳صہ۷۴ذوب النصارابن نما صہ۴۰۲۔ روضۃ المجاہدین صہ ۶، مجالس المومنین ص۳۵۶)

غر ضیکہ حضرت مختار کے شہر سے باہر جانے کے بعد حضرت ہانی بن عروہ شہید کر دئیے گئے ۔ حضرت ہانی کے اہل قبیلہ بھی تھے ۔ بالآخر رات ہو گئی ۔ جناب محمددکثیر نے حضرت مسلم کو اپنے مکان میں رات گزارنے کے لیے ٹھہرالیا۔ جب صبح ہوئی تو ابن زیاد نے محمد دکثیر کو دربار میں طلب کیا اور انہیں ناسزا الفاظ سے یاد کیا چونکہ ان کے ہواخواہ وہاں موجود تھے ۔ لہذا اچھی خاصی جنگ ہو گئی۔ بالآخر دونوں باپ بیٹے درجہ شہادت پر فائز ہو گئے ۔ حضرت مسلم نے جب محمد دکثیر کے دربار میں شہید کیے جانے کی خبر سنی تو بالکل بے آس ہو گئے ، اسی مایوسی کی حالت میں ایک گلی سے گزرتے ہوئے پیاس کی حالت میں آپ نگاہ ایک ضعیفہ پر پڑی ۔ آپ اس کے قریب تشریف لائے ۔ اور آپ نے پانی مانگا ۔ اس نے پانی دے کر ان سے درخواست کی کہ اپنی راہ لگے ۔ کیوں کہ یہاں کی فضا بہت مکدر ہے آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ تیرا نام کیا ہے ؟ اس نے عرض کی مجھے ً طوعہ ً کہتے ہیں ۔ آپ نے ارشاد فرمایااے طوعہ جس کے کوئی گھر نہ ہو وہ کہاں جائے اور کیا کرے اس نے پوچھا آپ کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا میں محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور علی مرتضیٰ کا بھتیجا اور حضرت امام حسین علیہ کا چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل ہوں طوعہ نے دروازہ خانہ کھولا، اپنے گھر میں جگہ دی آپ نے رات تو بسر کی لیکن صبح ہوتے ہی دشمن کا لشکر آپہنچا۔ کیونکہ پسر طوعہ نے ماں سے پوشیدہ ابن زیادسے چغل خوری کر دی تھی لشکر کا سردار محمدبن اشعث تھا جو امام حسن علیہ السلام کی قاتلہ جعدہ بنت اشعث کا حقیقی بھائی تھا ۔

حضرت مسلم نے جب تین ہزار گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز سنی تو تلوار لے کر گھر باہر نکل پڑے اور سینکڑوں دشمنوں کو تہ تیغ کر دیا ۔ بالآخر ابن اشعث نے اور فوج مانگی ۔ ابن زیاد نے کہلا بھیجا کہ ایک شخص کے لیے تین ہزار کی فوج کیسے نا کافی ہے اس نے جواب دیا کہ شاید تو نے یہ سمجھا ہے کہ مجھے کسی بنیاوبقال سے لڑنے پر مامور کیا ہے ارے یہ محمدکا برادر زادہ اور علی جیسے شجاع کا بھتیجا ہے ۔ غرضیکہ جب مسلم پر کسی طرح قابو نہ پایا جا سکا تو ایک خس پوش گڑھے میں آپ کو گرا دیا گیا ، پھر گرفتار کر کے ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا ۔ حضرت مسلم دربار میں خاموش داخل ہو گئے اور آپ نے ابن زیاد کو سلام نہیں کیا ۔

کہا گیا کہ مسلم تم نے امیر کو سلام کیوں نہیں کیا ۔ آپ نے فرمایا۔مالی امیر سوی الحسین فرزند رسول حضرت امام حسینعليه‌السلام کے علاوہ دنیا میں ہمارا کوئی امیر نہیں ہے ، ابن زیاد جو آگ کھاے بیٹھا تھا اس نے حکم دیا کہ مسلم کو کو ٹھے پر سے گرا کر قتل کر دیا جائے اور ان کا سر کاٹ کر دمشق بھیج دیا جائے اور بدن بر سر عام لٹکا دیا جائے ۔ آپ کوٹھے پر لے جائے گئے آپ نے چند وصیتیں کیں اور کوٹھے سے گرتے ہوئے السلام علیک یا اباعبداللہ زبان پر جاری کیا اور آپ نیچے تشریف لائے ۔ آپ کا سر مبارک کا ٹ لیا گیا ۔ یہ واقعہ۹ ذی الحجہ ۶۰ ھ کا ہے۔ علماء کا بیان ہے کہ ہانی بن عروہ کا سر کاٹ کر یزید کے پاس بھیج دیا گیا اور بدن مبارک بازار قصابان میں دار پر لٹکا دیا گیا۔ایک روایت میں ہے کہ دونوں کے پیروں میں رسی باندھ کر لاشوں کو بازاروں میں گھسیٹا جا رہا تھا کہ قبیلہ مد حج کو جو ش آ گیا نوجوان میدان میں نکل آئے اور انہوں نے حکومت کی فوج سے دانت کھٹا کر دینے والا مقابلہ کیا۔ بالآخر لاشوں کو چھین لیا اور انہیں احترام کے ساتھ سپر د خاک کر دیا ۔ (روضۃ الشہد اء ص۲۶۰ وکشف الغمہ ص۶۸ ،خلاصتہ المصائب ص۴۶ و کتاب چودہ ستارے ص ۱۶۰طبع لاہور)

حضرت مختار کی حمایت مسلم کے لیے دیہات سے لشکر سمیت واپسی

تاریخ شاہد ہے کہ حضرت ہانی، حضرت محمدوکثیر کی شہادت کے بعد حضرت مسلم نے میدان کا ر زار میں آ کر نہایت دلیری اور بہادری سے اپنی جان روح اسلام اور فرمان امام پر قربان کردی ، حضرت مختار جو جمع لشکر کے لیے کوفہ کے دیہات میں گئے ہوئے تھے ، انہیں جب یہ معلوم ہوا کہ حضرت مسلم میدان میں نکل آئے ہیں ۔اور دشمنوں سے نبرد آزما ہیں تو اپنے دل میں کہنے لگے کہ جس صورت سے ہو سکے ، اب مجھے شہر کوفہ پہنچ کر حضرت مسلم کی امداد کرنی ہے ۔ اور ان کے قدموں میں جان دینی ہے اسی تصور کے ماتحت آپ نے اپنے لوگوں کو حکم دیا کہ سلاح جنگ سے آراستہ ہو جائیں۔ آپ کے حسب الحکم تمام لوگ مسلح ہو گئے ۔ آپ نے بھی سلاح جنگ سے اپنے کو سنوار لیا پھر دروازے سے باہر آ کر میدان میں جمع ہونے کا حکم دیا ۔ جب تمام لوگ مجتمع ہو گئے آپ نے تر تیب قائم کی ۔ اور کوفہ کی طرف روانگی کاحکم دے دیا ۔

حضرت مختار نہایت تیزی کے ساتھ کوفہ کی طرف جارہے تھے ۔ راستے میں ایک شخص کو راستہ کے کنارے بیٹھا ہو ا دیکھ کر اس سے پوچھا کہ کہاں سے آرہا ہے ، اور تجھے حضرت مسلم بن عقیل کے حالات کی کچھ خبر ہے یا نہیں ؟ اس شخص نے حضرت مختار کو کوئی جواب نہ دیا ۔ مختار وہاں سے روانہ ہو کر کچھ دور چلے تھے کہ آپ کو اس کا جواب نہ دینا بہت زیادہ محسوس ہوا آپ پھرواپس آئے ۔ اور آپ نے اس سے فرمایا کہ اے شخص تو کس قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے اور تو نے میرے سوال کا کوئی جواب کیوں نہیں دیا؟اس نے کہا کہ میں کوفہ سے آرہا ہوں اور میں امیر ابن زیاد کا غلام ہوں ، آپ نے پوچھا کہ ادھر آنے والے لشکرابن زیاد کو کس مقام پر دیکھا ہے اس نے کہا کہ میں نے کسی شخص کو بھی نہیں دیکھا۔

حضرت مختار وہاں سے روانہ ہو کر آگے بڑھے ۔ آپ پوری سرعت کے ساتھ قطع مراحل کر رہے تھے کہ راستہ میں ایک دوسرا شخص نظر پڑا جو اندھا اور لنگڑا تھا حضرت مختار نے اس سے پوچھا کہ کہاں سے آ رہا ہے اور کس قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس نے کہا کہ میں کوفہ سے آرہا ہوں آپ نے پوخھا کہ ً از مسلم چہ خبرداری ً حضرت مسلم کے متعلق تجھے کیا اطلاع ہے اور وہ کوفہ میں کس حال میں ہیں ۔ نا بینا نے کہا کہ میں نے تو کچھ نہیں دیکھا کیونکہ نابینا ہوں لیکن وہاں لوگ کہتے ہیں کہ مسلم اور ابن زیاد میں سخت جنگ ہورہی ہے۔ حضرت مختار نے جب اس نابینا سے یہ سنا کہ جنگ جاری ہے تو آپ نے اپنے لوگوں سے کہا بھائیو نہایت تیزی سے چلو تاکہ ہم کوفہ پہنچ کر حضرت مسلم کی مدد کر کے بار گاہ رسول کریم میں سرخرو ہو سکیں یہ کہہ کر آپ نے اپنے ساتھیوں سمیت نہایت سرعت سے ساتھ مسافت قطع کرنا شروع کر دیا ۔اور جلد سے جلد کوفہ پہنچنے کے لئے آپ بے چین ہو گئے ۔ حضرت مختار نہایت تیزی کے ساتھ جا رہے تھے کہ راستہ میں ایک بڑے لشکر سے مڈبھیڑہو گئی ۔

وہ لشکر مختار کو نہیں پہچانتا تھا اور حضرت مختار بھی ان سے ناواقف تھے ان لوگوں نے حضرت مختار سے پوچھا کہ تم کون لوگ ہو اور یہ لشکر کہاں لیے جارہے ہو ۔ اور مسلم وابن زیاد میں سے کس کے طرف دار ہو حضرت مختار نے فرمایا کہ میں مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی ہوں ۔ اور حضرت مسلم بن عقیل کے حمایت کے لیے جا رہا ہوں ۔

میں نے تہیہ کیا ہے کہ حضرت مسلم کے دشمنوں کو فضائے کوفہ میں سانس نہ لینے دوں گا ۔ اور زمین کوفہ کو مسلم کے دشمنوں سے پاک کر دوں گا ۔ یہ سننا تھا کہ اس لشکر نے حضرت مختار کے لشکر پر حملہ کر دیا ، حضرت مختار جوشجاعت اور فن سپہ گری میں اپنے مثال نہ رکھتے تھے جھپٹ کر لشکر مخالف کے سردار ( قدامہ) پر حملہ آور ہوئے اور اس کے سر پر آپ نے ایسے ضرب لگائی کہ سینہ تک شگافتہ ہو گیا ۔ اس کے مرنے سے لشکریوں کے ہمت پست ہو گئی اور سب میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ پھر حضرت مختار آگے بڑھے ،ابھی تھوڑا ہی راستہ طے کیا تھا کہ حضرت مختار کے غلام نے راستہ کے ایک کنارے پر پانچ آدمیوں کو بیٹھا دیکھ کر امیر مختار کو ان کی طرف متوجہ کیا۔ حضرت مختار نے سنا کہ وہ اشعار پڑھ رہے ہیں، ان لوگوں نے جب مختار کو اپنے طرف آتے دیکھا اشعار پڑھنا بند کر دیا،

حضرت مختار نے ان سے پوچھا کہ تم کیا شعر پڑھ رہے تھے۔ان لوگوں نے چند اشعار کا حوالہ دیا ۔ پوچھا یہ اشعار کس کے ہیں ؟ کہا عبداللہ صالح کے آپ نے پوچھا کہ ان اشعار کا مطلب کیا تھا جنہیں تم پڑھ رہے تھے ان لوگوں نے کہا کہ ان اشعار کا خلاصہ یہ ہے کہ بکشتند کسے را کہ صالح بود ، وبادی غدر کروند کہ اس شخص کو قتل کردیا جو نیک اور صالح تھا اور اس کے ساتھ پوری غداری کی یہ سننا تھا کہ حضرت مختار روپڑے اور کہنے لگے کہ میرا دل ڈر رہا ہے ، مجھے اندیشہ ہے کہ حضرت مسلم قتل نہ ہوگئے ہوں اس کے بعد حضرت مختار پھر آگے بڑھے ابھی چند ہی قدم چلے تھے کہ ایک شخص کو آتے دیکھا جو قبیلہ بنی اسد کا تھا اس نے حضرت مختار کو پہچان کر باواز بلند پکار اسیدی بکجا می روی اے میرے سردار مختار آپ کہاں جارہے ہیں حضرت مختار نے کہا حضرت مسلم بن عقیل کی امداد کیلئے کوفہ جارہا ہوں۔

حضرت مختار کی امیدوں پر پانی پھر گیا

اس نے باچشم گریاں کہا خدا آپ کو صبر دے حضرت مسلم کو زیادیوں نے شہید کر ڈالا ہے اور ان کا سرکاٹ کر دمشق بھیج دیا ہے اور ان کے تن اطہر کو بازار قصاباں میں دار پر لٹکا دیا ہے یہ سننا تھا کہ حضرت مختار نے اپنے کو گھوڑے سے گرادیا اپنا گریبان پھاڑ ڈالا اور چیخ مار کر رونا شروع کردیا حضرت مختار کمال بیقراری کی وجہ سے بے ہوش ہوگئے ۔

چوں ہوش آمد درخاک مغلطید جب ہوش آئے تو خاک میں لوٹنے لگے۔ یہ حال دیکھ کر مرداسدی نے حضرت مختار سے صبر کی درخواست کی اور کہا کہ اے میرے آقا اب مصلحت یہی ہے کہ حضور والا اپنے کو ابن زیاد کے شر سے بچانے کی طرف توجہ فرمائیں۔

حضرت مختار کی حکمت عملی

حضرت مختار نے موجودہ صورت حال پر غور کرنے کے بعد اپنے آدمیوں کو اپنی ہمراہی سے رخصت کردیا اور کہا کہ خداوندعالم حضرت مسلم کے بارے میں تمہیں بھی صبر عطا کرے ہم تمہارے شکرگزار ہیں کہ تم ہماری خواہش پر امداد مسلم کے لیے آگئے تھے اب جب کہ وہ ہی نہ رہے تمہارا کوفہ جانا بالکل بے سود ہے تم واپس جاؤ اور دشمن کی نگاہوں سے اپنے کو محفوظ رکھو۔ حضرت مختار نے اپنے مددگاروں کو رخصت کرنے کے بعد اپنے سلاح جنگ کو اپنے سے دور کردیا اور تن تنہا کوفہ میں داخل ہوئے ۔ کوفہ میں ایک مقام پر آپ نے دیکھا کہ سیاہ علم نصب ہے اور خیمے لگے ہوئے ہیں اور ایک خیمہ میں ابن الحارث بیٹھا ہوا ہے اور منادی پے در پے مذاکر رہا ہے کہ۔ہرکہ درزہرعلم حاضر شوداور از ینہا راست و جان و مال او ایمن است۔جو شخص اس علم زیادی کے سایہ میں آجائے گا اس کا جان و مال محفوظ ہوجائے گا اور جو اس سے کترائے گا قتل کردیا جائے گا حضرت مختار نے جو نہی یہ منادی سنی فورا آپ جھنڈے تلے آگئے مخبر نے عمر بن الحارث کو اطلاع دی کہ بنی ثقیف کا ایک بزرگ شخص ملنے کیلئے آیا ہے ۔

عمر بن حارث نے اجازت دی ۔ حضرت مختار اس کے پاس پہنچے ، ابن حارث نے مختار کو دیکھ کر پہچان لیا کیونکہ وہ ایک مرد بزرگ اور مشہور تھے ۔ حضرت مختار نے ابن حارث سے کہا کہ اے ابوحفص مسلم کی شہادت مومن کیلئے ایک مصیبت ہے لیکن میں شکر کرتا ہوں کہ تمہارے پاس اگیا ہوں اب اس سے یہ ہوگا کہ دشمنوں کی زبان بندی ہوجائے گی اور لوگ میرے خلاف ابن زیاد کو ورغلائیں گے نہیں ابن حارث نے کہا اے مختار تم نے ٹھیک رائے قائم کی ہے اور بہت اچھا ہوگیا کہ تم میرے پاس آکر زیر علم ہوگئے

اور اے مختار تم نے یہ بہت اچھا کیا کہ مسلم کی مدد کیلئے نہیں نکلے اگر تم ان کی مدد کیلئے آجاتے تو یقینا قتل ہوتے کیونکہ فیصلہ یہ تھا کہ مسلم کی مدد کیلئے جو بھی آئے اسے قتل کردیا جائے چاہے وہ حکومت کا خاص ترین آدمی ہی کیوں نہ ہو اب ایسا ہوگیا ہے کہ کوئی شخص تمہارے خلاف زبان نہیں کھول سکتا ۔

مختار تم مطمئن رہو اب جس قدر بھی تمہاری امداد ممکن ہوگی میں کروں گا۔ مختار کو اطمینان دلانے کے بعد عمر بن حارث ابن زیاد سے ملنے کیلئے گیا اور باتوں باتوں میں اس سے کہنے لگا کہ اے امیر تو مختار سے بہت بدظن تھا حالانکہ وہ ہمارے ساتھ ہے اول کسے کہ درزیر علم آمد مختار بود میں نے جب منادی امن کرائی تھی تو سب سے پہلے جھنڈے کے تلے مختار ہی آئے تھے اور وہ اب تک ہمارے پاس موجود ہیں ابن زیاد نے کہا کہ اچھا مختار کو میرے پاس لاؤ ، ابن الحارث نے مختار کو اطلاع دی اور وہ دربار ابن زیاد میں تشریف لائے۔

مختار کے دربار میں پہنچتے ہی دربان نعمان نے ابن زیاد سے چپکے سے کہہ دیا کہ مختار بہت خطرناک شخص ہے اس سے آپ ہوشیار رہیں اور اس کے معاملہ میں غفلت نہ برتیں۔ حضرت مختار دربار ابن زیاد میں حضرت مختار اور عمر بن الحارث وابن زیاد کی طلب پر داخل دربار ہوئے دربار میں داخل ہوکر مختار نے سلام کیا ابن زیاد نے جواب نہ دیا

حضرت مختار کو ابن زیاد کی اس حرکت سے بڑی شرمندگی محسوس ہوئی۔ آپ خاموش ایک طرف بیٹھ گئے ابن زیاد نے آپ کو برا بھلا کہنا شروع کیا اور کہا کہ اے مختار کیا تم سے میں غافل ہوسکتا ہوں تم ہی وہ ہو جس نے مسلم کی سب سے پہلے بیعت کی اور اب جب کہ ان کا چراغ حیات گل ہوگیا ہے تو میرے علم کے نیچے آگئے ہو میں تمہارے مکروفریب کو جانتا ہوں تم نے دربار میں داخل ہوکر اپنے تکبر کی وجہ سے بلا اجازت بیٹھنے کا جرم کیا ہے ۔ نعمان یا (ابن حارث) نے جب دیکھا کہ ابن زیاد مختار کے خلاف ہی بولتا جارہا ہے تو دربار میں اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ اے امیرمختار کو برا بھلا نہ کہیے یہی وہ ہیں جو سب سے پہلے تیرے زیر علم آئے ہیں۔ اور تیرے بہت زیادہ طرفدار ہیں یہ سن کر ابن زیاد مختار سے مطمئن ہوگیا اور حکم دیاکہ انہیں اچھی جگہ بٹھایا جائے اور ان کو خلعت شاہی دی جائے ۔ ابھی مختار کا معاملہ دربار میں زیر بحث ہی تھا کہ دربار کے ایک گوشہ سے رونے پیٹنے کی آواز آنے لگی ابن زیاد نے کہا کہ دیکھو کون رو رہا ہے اور کیوں رو رہا ہے لوگوں نے معلوم کرکے کہا کہ رونے والے نوفل کی بیوی اور اس کا فرزند ہیں وہ کہتے ہیں کہ مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی نے قدامہ کو بیس آدمیوں سمیت قتل کردیا ہے۔

یہ سننا تھا کہ ابن زیاد آگ بگولا ہوگیااور اس نے فورا نعمان کو طلب کرکے کہا کہ اب بتاؤ تمہیں کیا سزا دی جائے ۔ تم نے دشمن کی سفارش کی ہے اس کے بعد ابن زیاد حضرت مختار کی طرف متوجہ ہوکر کہنے لگا بعض ہوااداران مراکشی و دعوائی دوستداری میکنیہ اے مختار تمہارا مکر یہیں ظاہر ہوگیا تم نے ہمارے بعض ہمدردان کو قتل کیا ہے اور ہماری دوستی کا دم بھرتے ہو حضرت مختار نے کہا اے ابن زیاد اس کے قتل ہونے میں میری کوئی خطا نہیں ہے

اس معاملہ میں وہی خطا پر تھا سن قدامہ اور اس کے ساتھیوں نے مجھ پر زیادتی کی تھی اور مجھے کوفہ میں داخل ہونے سے روکا تھا میں نے راستہ بنانے کیلئے ان کو قتل کیا ہے ورنہ باہمدگردشمنی نہ تھی۔ حضرت مختار اور ابن زیاد میں باہمدگرسخت کلامی ابن زیاد نے کہا کہ اے ملعون تو نے بیس ادمیوں کو مار دیا اگر مارنا تھا تو ایک کو مارا ہوتا جس نے مزاحمت کی تھی حضرت مختار نے جو نہی ابن زیاد کی زبان سے اپنے کو ملعون سناطیش میں آگئے اور انہوں نے ابن زیاد کے جواب میں کہا ، اے ملعون کتے تو نے مجھے ملعون کیوں کہا یہ سن کر ابن زیاد سخت غیظ و غضب میں آگیا اور قابو سے باہر ہوکر اس نے وہ دوات اٹھا کر مختار کو مارا جو قلمدان حکومت میں رکھی ہوئی تھی ۔ دوات لگنے سے مختار کو چوٹ آگئی۔

حضرت مختار اس کے رد عمل میں ایک شخص سے تلوار چھین کر ابن زیاد پر حملہ کرنے کیلئے بڑھے ابن زیاد ملعون تلوار کے خوف سے اٹھ کر بھاگا یہ دیکھ کر عامر بن طفیل اور دیگر درباریوں نے دوڑ کر مختار کو پکڑ لیا۔ حضرت مختار کو ابن زیاد نے جودوات پھینک کر مضروب کیا تھا (یا بروایت چہرے پر چھری ماری بروایت مورخ ہردی ابن زیاد جو عبداللہ بن عفیف کو اس سے قبل جمعہ کے دن مسجد میں ابن زیاد کے امام حسینعليه‌السلام کے خلاف بولنے پر ٹوکنے کی وجہ سے قتل کراچکا تھا ، حضرت مختار سے کہنے لگا کہ خداکا شکر ہے کہ اس نے یزید اور اس کے لشکر کو کامیابی عطا کی اور حسینعليه‌السلام اور ان کے لوگوں کو قتل کی وجہ سے ذلیل وخوار کیا ، اس پر مختار بولے۔

کذبت یاعدوالله اے دشمن خدا تو جھوٹا ہے خدا کا شکر ہے کہ اس نے حضرت امام حسینعليه‌السلام اور ان کے ساتھیوں کو جنت و مغفرت کی وجہ سے عزت بخشی اور تجھے اور تیرے یزید ملعون کو جہنمی ہونے کی وجہ سے ذلیل و خوار ملعون و رسوا کیا ، یہ سن کر ابن زیاد نے لوہے کی وہ چھڑی جو اس کے ہاتھ میں تھی حضرت مختار کو گھسیٹ ماری جس سے حضرت مختار کی پیشانی زخمی ہوگئی اور اس سے خون جاری ہوگیا، ابن زیاد نے چاہا کہ ان کو قتل کرادے درباریوں نے قتل سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔ (رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۷۲ واصدق الاخبار ۲۲۳)

حضرت مختار قید خانہ ابن زیاد میں اس کے بعد ابن زیاد ملعون نے حکم دیا کہ مختار قید خانہ میں مقید کردیا جائے چنانچہ آپ گرفتار ہوکر قید خانہ میں پہنچ گئے اور وہاں کی بے پناہ سختیاں جھیلنے لگے۔ ادھر حضرت مختار قید خانہ کوفہ میں پہنچائے گئے اور ادھر حضرت امام حسینعليه‌السلام مکہ سے بار ادہ کوفہ روانہ ہوگئے امام حسینعليه‌السلام کواس وقت تک نہ حضرت مسلم کی شہادت کی خبر تھی اور نہ حضرت مختار کی گرفتاری اور قید کی اطلاع تھی۔

حضرت امام حسینعليه‌السلام کیلئے جناب مختار کی تمنا

حضرت مختار کو یہ تو معلوم ہی تھا کہ حضرت امام حسینعليه‌السلام مکہ میں تشریف لائے ہوئے ہیں اور عنقریب کوفہ کیلئے روانہ ہوں گے آپ یہ تمنا کررہے تھے کہ کاش کوئی ایسا شخص پیدا ہو جائے کہ حضرت امام حسینعليه‌السلام کو کوفہ پہنچا دے اور وہ یہاں پہنچ کر ابن زیاد کو قتل کردیں تاکہ قید و بند سے آزاد ہوجاؤں اور یزید کو اس کی جبروتیت کا مزہ چکھادوں۔ حضرت مختار تو حضرت امام حسینعليه‌السلام کے حالات سے بے خبر تھے لیکن ابن زیاد کو ان کی ہر نقل و حرکت کی اطلاع تھی ۔

ابن زیاد نے یہ معلوم کرنے کے بعد کہ حضرت امام حسینعليه‌السلام روانہ ہوچکے ہیں۔ حر کی سرکردگی میں ایک ہزار کا لشکر بھیج کر عمر سعد کو جنگ حسینی کا کمانڈر انچیف بنادیا اور اسے حکم دیا کہ امام حسینعليه‌السلام کو کوفہ پہنچنے سے پہلے ہی قتل کردے ۔ چنانچہ وہ اسی ہزار کی فوج سے ان کا کام تمام کرنے پر تل گیا حضرت مختار کو اس کی اطلاع نہ تھی کہ عمر سعد کی سرکردگی میں حضرت امام حسینعليه‌السلام سے مقابلہ کیلئے فوجیں بھیجی جارہی ہیں کچھ دنوں کے بعد انہیں اس انتظام کا پتہ چلا تو آپ سخت حیران و پریشان بارگاہ احدیت میں دعا کرنے لگے ۔ خدایا امام حسینعليه‌السلام کی خیر کرنا آپ کا حال یہ تھا کہ کبھی روتے اور کبھی سینہ وسرپیٹتے تھے اور کبھی انتہائی مایوس انداز میں کہتے تھے افسوس میں دشمنوں میں مقید ہوں اور اپنے مولا کی مدد کیلئے نہیں پہنچ سکتا زاید قدامہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت مختار کو بار بار یہ کہتے سنا ہے کہ کاش میں اس وقت مقید نہ ہوتا اور امام کی خدمت میں حاضر ہوکر ان پر دولت صرف کرتا اور ان کی حمایت سے سعادت ابدی حاصل کرنے میں سرتن کی بازی لگا دیتا ۔ (رو ضۃ المجاہدین علامہ عطاء الدین ص ۱۰ طبع جدید تہران وروضہ الصفا جلد ۳ ص ۷۴ ذوب النضار ص ۴۰۲ و مجالس المومنین ص ۳۵۶ ، نور الابصار ص ۲۴)

کربلا میں خیام اہل بیتعليه‌السلام کی تاراجی

حضرت زینب(س) کا خولی کو بددعا دینا اور حضرت مختار کے ہاتھوں اس کی تعمیل ادھر تو حضرت مختار قید خانہ کوفہ میں قید کی سختیاں جھیل رہے ہیں ادھر واقعہ کربلا عالم وقوع میں آگیا اور حضرت امام حسینعليه‌السلام اپنے اصحاب ، اعزا ، اقربا اور فرزند ان سمیت شہید کردئیے گئے۔ شہادت امام حسینعليه‌السلام کے بعد دشمنان اسلام اور قاتلان امام حسینعليه‌السلام نے مخدرات عصمت و طہارت کے خیام کی طرف رخ کیا اور اس سلسلہ میں اس بہمیت کا ثبوت دیا جس کی مثال تاریخ عالم میں نظر نہیں آتی۔ علامہ محمدباقر نجفی تحریر فرماتے ہیں کہ قتل حسین کے بعد دشمنان خیام اہلبیت پر ٹوٹ پڑے اور انہیں لوٹنا شروع کر دیا ۔سب سے پہلے ان کی چادریں سروں سے اتار لیں ۔

یہ ہنگامہ دیکھ کر عمر سعد کے گروہ کی ایک عورت تلوار لے کر اپنوں پر حملہ آور ہوئی اور اس نے چلا کر کہا کہ ہائے غضب رسول کی بیٹیاں بے پردہ کی جارہی ہیں یہ دیکھ کر اس کے شوہر نے اسے پکڑ لیا اور اپنے خیمہ کی طرف لے گیا ۔حضرت فاطمہ بنت الحسین کا بیان ہے کہ ایک شخص نے ہمارے پاؤں سے چھاگل اتارنا شروع کی مگر وہ رو رہا تھا میں نے کہا کہ ظلم بھی کرتا ہے اور روتا بھی ہے اس نے جواب دیا کہ روتا تو اس لیے ہوں کہ بنت رسول کے پاؤں سے زیور اتار رہا ہوں اور اتارتا اس لیے ہوں کہ یہ اندھا دھند لوٹ ہے میں نہ لوں گا تو کوئی اور لے لے گا ۔ ایک روایت میں ہے کہ شمر کی معیت میں ساری قوم خیموں پر ٹوٹ پڑی اور سب کچھ لوٹ لیااور خیموں میں آگ لگا دی ۔اور حضرت ام کلثوم کے کانوں میں دو بندے تھے انہیں اس طرح گھسیٹ لیا کہ لویں پھٹ گئیں اور خون جاری ہو گیا ۔

حمید بن مسلم کا بیان ہے کہ گروہ جفاکار نے عورتوں کی چادریں اتا لیے اور امام زین العابدینعليه‌السلام کی طرف بڑھنے کا ارادہ کیا اورچاہا کہ انہیں قتل کر دیں ۔میں نے بڑھ کر کہا کہ اتنے شدید مریض کو ہرگز قتل مت کرو۔ ایک روایت میں ہے کہ جو نہی امام زین العابدینعليه‌السلام کو قتل کرنا چاہا۔ حضرت زینب وام کلثوم ان سے لپٹ گئیں اور انہوں نے کہا ہمیں قتل کر دے پھر انہیں قتل کرو کتاب منتخب طریحی میں ہے کہ حضرت فاطمہ صغریٰ فرماتی ہیں کہ ہم درخیمہ پر کھڑے ہوئے دیکھ رہے تھے کہ ہمارے بابا جان اور انکے دیگر مدد گاروں کے سرکاٹے جارہے ہیں ۔پھر دیکھا کہ ان کی لاشوں پر گھوڑے دوڑائے جارہے ہیں ۔میں دل میں سوچ رہی تھی کہ اب دیکھیں ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے ۔اتنے میں خیمے لٹنے لگے ۔

ایک شخص نیزہ لیے ہوئے آگے بڑھا اور اس نے اپنے گھوڑے پر سواری کی حالت میں اپنے نیزے سے ہم لوگوں کی طرف حملہ کر دیا تھا اور ہم سب ایک دوسرے کے پیچھے چھپنے اور جان بچانے کی کوشش کرتے تھے اور حضرت محمد مصطفےٰ ، علی مرتضیٰعليه‌السلام امام حسین غرضیکہ سب کو پکار کر چلاتے اور روتے تھے ۔اور کوئی مددگار نظر نہ آتا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ اسی ہنگامے میں حضرت فاطمہ بنت الحسین کی طرف ایک شخص نیزہ لیے ہوئے بڑھا اور اس نے چاہا کہ حضرت فاطمہ پر حملہ کر دے۔ یہ مخدرہ ایک طرف کو بھاگی ۔اس نے ان کی پشت میں نیزہ چبھودیا ۔وہ گر کر بیہوش ہو گئیں ۔جب لوٹ مار کی آگ تھی توحضرت ام کلثوم ان کی تلاش کے لیے نکلیں ۔دیکھا کہ زمین پر بے ہوش پڑی ہیں ۔حضرت ام کلثوم انہیں نہ جانے کس طرح ہوش میں لائیں ہوش میں آتے ہی انہوں نے چادر مانگی ۔حضرت ام کلثوم نے فرمایا ۔بیٹی ہم سب کی چادریں چھین لی گئی ہیں ۔راوی کا بیان ہے کہ اس ظالم نے پشت میں نیزہ کی انی چبھو کر ان کے کان سے درچھین لیے تھے اور کان کی لویں شگافتہ ہو گئی تھیں ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت سکینہ دوڑ کر اپنے پدربزرگوار کی لاش سے لپٹ گئیں اور بیہوش ہو گئیں ۔ان کا بیان ہے کہ میں نے بے ہوش کی حالت میں سنا ۔

شیعتی ما ان شربتم ماء عذب فاذکرونی اوسمعتم بغریب اوشهید فاندبونی لیتکم فی یوم عاشوراء جمیعاً تنظر ونی کیف استسقی لطفلی فابواان یرحمونی

( ۱) اے میرے شیعو جب ٹھنڈا پانی پینا تو میری پیاس کو یا د کر لینا ،اور جب کسی غریب اور بے کس شہید کے مرنے کو سنتا تو دو آنسو بہالینا۔

( ۲) میں رسول خدا کا نواسہ ہوں ۔مجھے دشمنوں نے بلا جرم وخطا قتل کر ڈالا اور قتل کے بعد مجھے گھوڑوں کے ٹاپوں سے پامال کر دیا ۔

( ۳) کاش تم عاشورا کے دن کربلا میں موجود ہوتے کہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے کہ میں کس طرح اپنے بچے کے لیے پانی مانگتا تھا اور وہ کس دلیری سے پانی دینے کے منکر تھے۔

( ۴) انہوں نے پانی کے عوض تیرسہ شعبہ سے میرے بچے کو نشانہ بنا دیا اور انہوں نے کوئی پرواہ نہیں کی اور مصیبت پر مصیبت ڈالتے چلے گئے۔

( ۵) ویل اور پھٹکار ہو ان لوگوں پر کہ انہوں نے مجھے ستا کر رسول کریم کے قلب کو مجروح کر دیا۔ شیعو ان پر جتنا تم سے ہو سکے لعنت کرو ۔ الغرض شہادت امام حسین کے بعد اہل حرم سخت ترین مصائب میں مبتلا ہو گئے اور انہیں ہنگامی حالات میں بروایت ابو مخنف عمر سعد نے آواز دی کہ اے لوگو کیا دیکھتے ہو ۔خیموں میں آگ لگا دو اور انہیں جلا ڈالو یہ سن کر انہیں میں سے ایک شخص بولا کہ اے ابن سعد : اما کفاک قتل الحسین و اہلبیتہ و انصارہ کیا امام حسینعليه‌السلام اور ان کے اہل بیت اور انصار کا قتل کرنا تیرے نزدیک کافی نہیں ہے کہ اب ان کے بچوں کو جلا رہا ہے ۔ ارے اب یہ چاہتا ہے کہ ہم لوگوں کے لئے زمین دھنس اور ہم سب ہلاک ہو جائیں۔اس کے بعد تمام لوگ خیموں کو لوٹنے لگے اورہنگامہ عظیم برپا کر دیا انہوں نے حضرت زینب وام کلثوم(س)کے سروں سے نہایت بے دردی کے ساتھ چادریں چھین لیں ۔حضرت زینب(س) ارشاد فرماتی ہیں کہ میں خیمہ میں کھڑی تھی ناگاہ ایک کبود چشم شخص خیمہ میں داخل ہو گیا ۔

اور جو کچھ خیمہ میں تھا سب کچھ لوٹ لیا۔پھر امام زین العابدینعليه‌السلام کی طرف بڑھا جو سخت علیل تھے ان کے نیچے سے وہ چمڑا گھسیٹ لیا۔جس پر وہ لیٹے ہوئے تھے ۔اور انہیں زمیں پر ڈال دیا ۔پھر وہ میری طرف بڑھا اور اس نے میرے سر سے چادر چھین لی۔پھر میرے گوشواروں کو اتارنے لگا ۔اور ساتھ روتا بھی تھا۔جب گوشوار اتار چکا تو میں نے کہا ظلم بھی کرتا ہے اور روتا بھی ہے ۔اس نے کہا کہ میں تمہاری بے بسی پر روتا ہوں ۔

قلت له قطع الله یدیک ورجلیک واحرقک الله بنارالد نیا قبل نارالاخر ة

میں نے کہا خداوند عالم تیرے ہاتھ اور پاؤں قطع کرے اور تجھے آخرت کی آگ سے پہلے دنیا کی آگ میں جلائے ۔

یہ ظاہر ہے کہ حضرت زنیب کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ رائگان نہیں جاسکتے تھے ۔بالآخر وہ وقت آگیا کہ اس کے ہاتھ پاؤں بھی کاٹے گئے اور وہ آگ میں بھی جلایا گیا ۔مورخ ابو مخنف لکھتے ہیں کہ حضرت زینب کے اس فرماتے کو ابھی چند ہی یوم گزرے تھے کہ حضرت مختار ابی عبیدہ ثقفی نے کوفہ میں خروج کیا اور دیگر ملعونوں کی طرح یہ شخص بھی جس کا نام خولی ابن یزید اصبحی تھا ۔حضرت مختار کے ہاتھ آ گیا ۔آپ نے اس سے پوچھا کہ ما صنعت یوم کربلا تو نے کربلا میں کون کونسی حرکتیں کی ہیں اس نے کہا میں نے امام زین العابدینعليه‌السلام کے نیچے سے کھال کا بستر کھنچا تھا اور حضرت زینب کی چادر اتاری تھی ۔اور انکے کانوں سے گوشوارے لیے تھے ۔فبکی المختار یہ سن کر حضرت مختار زارو قطار رونے لگے ۔جب گریہ کم ہوا تو فرمایا کہ اچھایہ بتا کہ انہوں نے اس وقت کیا فرمایاتھا اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ خدا تیرے ہاتھ پاؤں قطع کرے اور تجھے آخرت سے پہلے دنیا میں نذرآتش کرے ۔ یہ سن کر حضرت مختار نے فرمایا ۔خداکی قسم حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی دہن مبارک کے نکلے ہوئے الفاظ کی میں تعمیل وتکمیل کروں گا ۔اس کے بعد آپ نے اس کے ہاتھ پاؤں کٹوا دئیے اور اسے آگ میں جلوادیا۔(دمعۃ ساکبہ ص۳۴۸،ص۳۵۰

اہلبیت رسول کا دربار ابن زیاد میں داخلہ اورحضرت مختار کی پیشی

۔لیکن اس واقعہ کے بعد جو رات آئی جسے آج کل( شام غریباں ) سے یاد کیا جاتا ہے ۔وہ بھی کچھ کم تکلیف دہ نہ تھی ۔تمام اعزا کا شہید ہو جانا دشمنوں کا زبر دست گھیرا کسی وارث مرد کا موجود نہ ہونا ۔

جنگل کا واسطہ خیام تک کا نہ ہونا مخدرات عصمت کے لیے ناقابل اندازہ مصیبت کا پتہ دیتا ہے ۔خدا خدا کر رات گزری ،صبح کا ہنگام آیا ، شمر ملعون حضرت امام زین العابدین کے پاس آپہنچا اور کہنے لگا کہ حکم امیر ہے کہ تم پھو پھیوں ، اپنی عورتوں اور اپنے بچوں سمیت شتران بے کجاوہ پر بیٹھا کر دربار ابن زیاد میں چلو حالات ایسے پیدا ہو چکے تھے ۔کہ ان کا کوئی محل ہی نہ تھا تاہم حضرت زینب کو غیظ آگیا اور فرمانے لگیں یہ کبھی نہیں ہو سکتا مگر معاً حضر ت امام حسین کا ارشاد سامنے آگیا بہن اسلام کے لیے مصیبت کا خندہ پیشانی سے استقبال کرنا ۔حضرت زینب تیار ہو گئیں ۔شتران بے کجادہ اور بے مجمل پر بیٹھ کر بہزار دقت و دشواری اور بہزار تکلیف و مصیبت جا بجا تقریریں فرماتی ہوئیں اور خطبہ کہتی ہوئیں ابن زیاد کے دربار میں داخل ہو ئیں چھوٹے چھوٹے بچے بیمار بھیجتا اور دیگر بنات رسول خدا ساتھ ہیں ۔

مورخین کا بیان ہے کہ جس وقت سرہائے شہداء اور بنات رسول خدا داخل دربار ہوئے تو ابن زیاد بساط شطرنج پر تھا اور وہ محونا شتہ وشراب تھا سروں کے دربار میں پہنچے کے بعد ابن زیاد نے سر امام حسین علیہ السلام کو طشت طلا میں پیش کرکے زیر تخت رکہوا دیا تھا ۔اہلبیت رسول رسن بستہ دربار کے ایک گوشہ میں کھڑے ہوئے تھے کہ ابن زیاد نے حکم دیا کہ قید خانہ سے مختار کو ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں حاضر دربار کیا جائے لوگوں نے حکم ابن زیاد کے مطابق حضرت مختار علیہ الرحمہ کوزنجیروں میں جکڑا ہوا دربار لاحاضر کیا ۔علما لکھتے ہیں کہ ابن زیاد نے مختار سے کہا اے مختار تم ابن ابو تراب حسین کا بڑا دم بھرتے تھے ۔لو یہ دیکھو کہ ان کا سر یہاں آیا ہوا ہے ۔حضرت مختار کی نگاہ جونہی سر امام حسین پر پڑی بے اختیار ہو گئے آپ نے کہا کہ اے ابن زیاد تو نے جو کچھ کیا سب برا کیا اگر خدا نے چاہا توبہت جلد اس کا نتیجہ دیکھ لے گا ۔

اس کے علاوہ آپ نے کچھ منہ سے نہ کہا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت مختار نے جونہی سر حسین پر نگاہ کی جوش میں آکر زنجیروں میں بند ھے ہوئے ہونے کی حالت میں ہی ابن زیاد پر حملہ کر دیا اور ایک روایت کی بنا پر انہوں نے اپنے ہاتھوں کی زنجیر توڑ ڈالی اور جھپٹ کر حملہ کرنا چاہا لیکن لوگوں نے پکڑ لیا ۔ اس کے بعد فرمانے لگے ایک ہزار مرتبہ موت آنے سے زیادہ مجھے اس وقت سرحسین دیکھ کر تکلیف پہنچی ہے ۔حضرت مختار ابھی دربار ہی میں تھے کہ اہل بیت رسول خدا کے رونے کی صد ا بلند ہوئی واجداہ واحسینا ہ اے نانا رسول اور اے حسین غریب ،حضرت مختار یہ منظر دیکھ کر خون کی آنسو رونے لگے ۔ ابن زیاد نے حکم دیا کہ مختار کی زنجیریں اور کس دی جائیں اور انہیں قید خانہ میں لے جاکر ڈال دیا جائے ۔ چنانچہ لوگوں نے زنجیریں اور کس دیں اور انہیں لے جا کر قید خانہ ڈال دیا۔ (رو ضۃ المجاہدین علامہ عطا الدین حسام الواعظ ص۱۰طبع ایران ۔و۔ ریاض القد س جلد ص۱۳۶طبع ایران)

اہل حرم کی شام کی طرف روانگی

اہل حرم کی شام کی طرف روانگی اور دمشق کارنامہ مختار کے جرنیل ابراہیم ابن مالک اشتر کی بہن کا نعرہ انتقام حضرت مختار کو قید میں ڈالو دیا گیا اور انہیں سات سال کی مزید سزا کا حکم دے دیا گیا ۔اور اہل حرم کو یزید کے سامنے پیش کیے جانے کے لیے شام کی طرف روانہ کر دیا گیا اس خبر سے اہل بیت حسین دمشق میں پہنچ رہے ہیں سارے شہر میں جشن عام کا اعلان ہو گیا ۔خواجہ حسن نظامی دہلوی لکھتے ہیں کہ دمشق میں دھوم دھام تھی کربلا میں حضرت امام حسینعليه‌السلام اور ان کے لڑکے اور خاندان نبوت کے طرف داروں کے یہاں قیامت آگئی ۔وہ زبان سے اف نہ کر سکتے تھے مگر اس خبر نے ان کے کلیجے پاش پاش کر دئیے ے تھے اور وہ گھروں کے اندر زاروقطار رو رہے تھے اس دن انہوں نے اور ان کے بچوں نے کھانا کھایا نہ پانی پیا۔ ہر ایک ایک دوسرے کو دیکھتا تھا اور آنسو بہاتا تھا ۔یزید اور بنی امیہ کے خوف سے کسی کی ہمت نہ تھی کہ آواز نکالتا یا ماتم کی صدا بلند کرتا خاوند بیوی کو دیکھ کر کلیجہ تھام لیتا اور آنکھوں سے آنسوؤں کا منہ برساتا اور بیوی خاوند کو دیکھتی اور سر پکڑ کر بیٹھ جاتی اور پھوٹ پھوٹ کر روتی ۔بچے اپنے ماں باپ کو دیکھ کر سہمے ہوئے کھڑے تھے اور انہیں جانتے تھے کہ کیوں وہ اس قدر بے چین ہیں ۔

ایک بچے نے اپنی ماں سے کہا کہ اماں ہمیں بھوک لگی ہے اس کی ماں نے رو کر جواب دیا ۔بیٹا تمہیں خبر بھی ہے

کہ جن کا کلمہ ہم سب پڑھتے ہیں ان کے نواسے بھوکے پیاسے ذبح کر ڈالے گئے اور اب ان کے بچے رسیوں سے بندھے ہو ئے دمشق میں آنے والے ہیں جن کو خبر نہیں کھانا پانی میسر ہو گا یا نہیں۔تم کس منہ سے روٹی مانگتے ہو ۔آج کا دن روٹی کھانے کا نہیں ہے ۔وہ بچہ یہ سن کر چپ ہو گیا اور کچھ دیر کے بعد وہ پھر رونے لگا ۔

دوسری طرف بنی امیہ کی عورتوں نے عید کی طرح بناؤ سنگار کیا ۔اور بالاخانوں پر سیر دیکھنے بیٹھیں۔ عذرہ،دروہ،خضرا،فرحہ وریحانہ کے پاس آئیں کہ ان کو تماشہ کے لیے لے چلیں مگر انہوں نے دیکھا کہ رو رہی ہیں اور روتے روتے ان کا عجب حال ہو گیا ہے ۔ خضرا نے کہا ہائیں فاطمہ آج کا دن خوشی کا ہے خدانے بنی امیہ کے سب سے بڑے دشمن کا کٹا ہوا سر دکھایا۔تم روتی کیوں ہو؟فرحہ نے کہا کہ میرے شوہر کے مرنے کی خبر آئی ہے مجھے تو اس کا غم ہے کہ ہائے میں اب کہاں جاؤں کون میری خبر لے گا ۔عذرہ اور دروہ نے کہا افسوس ہے ہم کو تمہارے صدمہ سے دلی ہمدردی ہے ۔مگر تقدیر پر کچھ علاج نہیں ۔خضرا نے کہا دیکھو کہ تم لوگوں کا خدا کیسا ظالم ہے اس نے بیچاری عورتوں پر ذرا رحم نہ کیا اور ان کے وارث کو مار ڈالا۔ فرحہ بولی خضراء میرا دل نہ دکھاؤ خدا ظالم نہیں ہے ۔وہ ملک الموت کو بھی ایک دن موت دے گا ۔

اور میں دعویٰ کرتی ہوں کہ میرے ہاتھ سے دے گا ۔عذراء نے کہا کہ بے چاری فاطمہ کا دل غم سے قابومیں نہیں ہے بھلا موت کے فرشتے کو بھی آئی آدمی ہلاک کر سکتا ہے ۔ریحانہ عرف امینہ نے کہا ہاں ہم اس کوہلاک کر سکتے ہیں اور کریں گے ۔عذرا ودروہ وغیرہ اس فقرے پر مسکرانے لگیں اور انہوں نے کہا کہ اچھا تم موت کو ضرور سزا دینا چلو اب تو ہمارے ساتھ چلو اور قیدیوں کو سیر دیکھو فرحہ نے کہا بس بیویومجھے معاف کرو میں اپنے حال میں مبتلا ہوں مجھے تماشہ کی ضرورت نہیں ۔ یہ سن کر سب لڑکیاں فرحہ کے پاس چلی آئیں اور اس گھر میں پھر وہی شور ماتم بپا ہو گیا جب قیدی بازار میں سے گذر رہے تھے ۔فرحہ نے اپنے جھروکے سے دیکھا کہ امام زین العابدین اونٹ پر بیٹھے ہیں ۔چہرہ زرد ہے ۔

رسی سے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔قیدیوں کا نیلا کرتا گلے میں ہے اونٹ جھروکہ کے پاس آیا تو فرحہ نے کہا:السلام علیکم یابن رسول اللہ ۔ امام نے جواب دیا علیک السلام یا امة اللہفرحہ نے آہستہ سے رو کر کہا۔ میں مالک بن اشتر کی بیٹی ہوں ۔اور آپ کا انتقام لوں گی۔ امام کا اونٹ ذرا آگے بڑھ گیا تھا مگر انہوں نے یہ فقرہ سنا اور مڑکر فرحہ کو دیکھا اور بے اختیار رونے لگے فرحہ بھی روتے روتے بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ (طمانچہ بر رخسار یزید ۹۳باب۱۷طبع دہلی۱۹۴۰ءء)


دسواں باب

اہلِ حرم کا دربارِ یزید میں داخلہ حضرت زینبعليه‌السلام کا خطبہ قید خانہ شام سے رہائی مدینہ میں رسیدگی

اہلِ حرم کا دربارِ یزید میں داخلہ حضرت زینبعليه‌السلام کا خطبہ قید خانہ شام سے رہائی مدینہ میں رسیدگی اور حضرت مختار کے خروج تک حضرت محمد حنفیہعليه‌السلام کی روپوشی علماء کا بیان ہے کہ کوفہ سے ایک ہفتہ قید کے بعد حضرات آلِ محمد کو شام کی طرف روانہ کر دیا گیا۔ یزید کے حکم سے وہاں دربار سجایا جا رہا تھا۔ آئینہ بندی ہو رہی تھی کہ اہلِ حرم کا لُٹا ہوا قافلہ بے شمار فوج کی حراست میں شام (دمشق) پہنچا۔ دربار کے سجنے میں چونکہ تاخیر تھی۔ اس لیے اہلِ حرم کا قافلہ "باب الساعات" پر تین گھنٹے بروایت تین دن تک ٹھہرا رہا۔ ذکر العباس ص ۱۹۱ میں ہے کہ چند دن قید خانہ کوفہ میں رکھنے کے بعد مخدراتِ عصمت وطہارت اور سرہائے شہداء کو امام زین العابدینعليه‌السلام کے ساتھ شام کے لئے روانہ کر دیا گیا۔

یہ تباہ حال قافلہ حسینیعليه‌السلام اس طرح روانہ کیا گیا کہ آگے آگے سرہائے شہداء ،اُن کے پیچھے مخدراتِ عصمت تھیں۔

علّامہ قائنی فرماتے ہیں کہ سروں میں حضرت عباسعليه‌السلام کا سر آگے اور امام حسینعليه‌السلام کا سر سب سے پیچھے تھا۔

(کبریت احمر ص ۱۲۰)

علّامہ سپھر کاشانی کی تحریر سے مستفاد ہوتا ہے کہ ان حضرات کی روانگی کا انداز یہ تھا

کہ راستے میں جا بجا جناب زینتعليه‌السلام خطبہ فرماتی تھیں۔ جناب اُم کلثوم مرثیہ پڑھتی تھیں۔ جناب سکینہ "نحن سبایا آل محمد" "ہم قیدی اہل بیت رسول ہیں"۔ امام حسینعليه‌السلام کا سر مبارک تلاوت سورہ کہف کرتا تھا۔ (ناسخ التواریخ جلد ۶ ص ۳۵۰)

ابو مخنف کہتے ہیں کہ اس قافلہ کا شام میں داخلہ باب خیزران سے ہوا پھر دربار میں داخلہ ہوا۔ ایک شامی نے جناب سکینہعليه‌السلام کو اپنی کنیزی میں لینے کی خواہش کی۔ (لہوف ص ۱۶۷)

امام حسینعليه‌السلام کے لب ودندان سے ادبی کی گئی۔ (صواعق محرقہ)

یزید نے حضرت زینبعليه‌السلام سے کلام کرنا چاہا۔ (رو ضۃ الشہداء)

اور سرِدربار حضرت زینبعليه‌السلام کو پکار کر کہا کہ اب زینبعليه‌السلام ! خدا نے تم کو کیسا ذلیل کیا اور کس طرح تمہارے بھائی کو قتل کرا دیا۔ یہ سُننا تھا کہ حضرت زینبعليه‌السلام کھڑی ہو گئیں اور بہ لہجہ امیرالمومنینعليه‌السلام فرمانے لگیں۔ جس کا خلاصہ یہ ہے:۔ "تمام حمد اس خدائے کائنات کے لئے سزاوار ہے جس نے عالمین کے لیے رزق کا ذمہ لے رکھا ہے اور اس کی رحمتیں جناب رسالت ماب اور ان کی آلِ اطہار کے لیے موزوں ہیں۔ اے شامیو! خداوند عالم نے قرآن مجید میں تم جیسے لوگوں کی طرف سچا خطاب فرمایا ہے کہ: جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو ٹھٹھہ بنا کر جھٹلانے کے باعث فسق وفجور کے سمندر میں غوطہ لگایا ہے ان کی عاقبت اور ان کا نتیجہ نہایت مہلک اور قبیح ہو گا۔ اے یزید! خدا تجھ پر لعنت کرے، تُو نے ہمارے اوپر اطرافِ عالم کو تنگ کر دینے اور مصائب وآلائم نازل کر کے اسیر بنانے کے باعث یہ ظن قائم کر رکھا ہے کہ تُو اللہ کے نزدیک مقرب اور ہم ذلیل وخوار ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ تیرے اس بے محل خوشی منانے کا باعث فقط تیرا تکبر اور تیری حماقت ہے اور لوگوں کا تیری طرف رغبت کرنا۔ اے ملعون! اس خوشی اور فخریہ اشعار (جسے تُو نے ابھی ابھی پڑھا ہے)

یکسوئی اختیار کر کے کیا تُو نے خداوند عالم کے اس ارشاد باصواب کو نہیں سُنا کہ کفار کو جو مہلت دی گئی ہے، یہ ان کی بہتری اور بہبودی کے لیے نہیں ہے بلکہ اس لیے ہے کہ وہ سرکش اور معصیت کی طغیانی میں کماحقہ غرق ہو لیں۔ "یاابن الطلقا"اے گندی نسل کی بنیاد !کیا تُو نے یہ عدل برتا ہے کہ اپنی بیویوں اور کنیزوں کو تو پردہ میں محفوظ رکھا ہے اور دخترانِ رسول کو بے مقنع وچادر شہربہ شہر پھریا جا رہا ہے۔ اور ہر خاص وعام بطور تماشبین ان کے گِرد محیط ہے، اے ملعون! کیا تجھے شرم نہیں آتی کہ دخترانِ رسول کو اس منظرِ عام میں لا کر خوشی مناتا ہے۔ افسوس کہ ہمارے ساتھ کوئی مددگار نہیں جو ہماری اعانت وحمایت کرے۔ پھر آپ کمال مایوسی کی حالت میں فرماتی ہیں:۔

ایسے خبیث الاصل سے رقت قلب اور رحم کی کیا اُمید ہو سکتی ہے جو ابتداء سے ہی ازکیاء کے جگر چبانے کے عادی ہیں اور جن کا گوشت خونِ شہداء بہانے کے ساتھ پیدا ہوا ہے اور ہماری طرف بغض وکینہ کی نگاہ سے دیکھنے والا ہماری عداوت میں کیوں کر کوتاہی کر سکتا ہے پھر تُو اے خبیث ربیع بدری کے اشعار پڑھ کر یہ مطلب بیان کرتا ہے کہ اگر میرے گذشتہ آباؤ اجداد موجود ہوتے تو میرے اس فعل پر مرحبا کے نعرے بلند کرتے ہوئے دعا دیتے کہ اے یزید تیرے دونوں ہاتھ کبھی شل نہ ہوں حالانکہ اے خبیث تُو اس مقام پر چھڑی مار رہا ہے جہاں رسول بوسے دیتے ہوئے تھکتے نہ تھے۔

اے ملعون تُو کس طرح یہ نہ کہے حالانکہ تُو ایسا ظالم ہے کہ جس نے درد رسیدہ زخموں کو دوبارہ تراش دیا ہے اور آلِ محمد جو نجوم ارض تھے اُن کے خون بہانے کے باعث تُو نے قبر میں لے جانے والے زخم ڈال دئیے ہیں۔ اے ملعون تپو نے اپنے آباؤ اجداد کو خوشی کے باعث پکارا ہے، یقینا تُو بھی اُن کی طرح جہنم میں جاگزیں ہو گا۔ اس وقت تُو یہ خواہش کرے گا کہ دُنیا میں میرے ہاتھ پاؤں شل ہوتے کہ کسی پر ظلم نہ کر سکتا اور گونگا ہی ہوتا کہ کسی کو لسانی تکلیف نہ دیتا اور جو کچھ دنیا میں کِیا ہے نہ کِیا ہوتا۔ پھر فرماتی ہیں: اللّٰھُم خذبحقنا وانتقم من ظالمنا خدایا ہمارے شہداء کا انتقام اور ہمارے حق کا بدلہ تیرے ذمّہ ہے۔

(پھر فرماتی ہیں) اے ملعون! یاد رکھ یہ تُو نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اپنے چمڑے اور گوشت کو ٹکڑے ٹکڑے کیا ہے۔ کیونکہ عنقریب تجھے اس کے بدلہ سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اور تُو لازمی طور پر رسول اللہ کے سامنے ان جرموں کا حامل ہو کر پیش ہو گا۔ اور ہمارے جن اشخاص کو تُو نے قتل کرایا ہے انہیں مردہ مت گمان کر کیونکہ شہید ہمیشہ زندہ ہوتے ہیں اور تجھ سے اس دن انتقام لیا جائے گا جس دن خدا کے سوا کسی کی حکومت نہ ہو گی اور رسول اللہ تیرے خصم اور مدمقابل ہوں گے۔ اور جبریل ان کے مددگار اور ناصر ہوں گے۔ اور تیرے مددگاروں کو بھی معلوم ہو جائے گا کہ ظالمین کی عافیت کیسی ہوتی ہے اور کون سی جماعت نے فتح پائی۔ اور کس جماعت کو شکست نصیب ہوئی اور اے ملعون تیرے ساتھ ہمکلامی کے سبب چاہے جتنے مصائب نازل کر دئیے جائیں۔ میں تیری ذلت طبع اور گمراہی کے اظہار سے باز نہ آؤں گی اور تیرے سامنے حق ضرور بیان کروں گی۔ ہاں البتہ اتنا ضرور ہے کہ کثرت غم کے باعث آنسوؤں سے آنکھیں ڈبڈبا رہی ہیں اور جگر پاش پاش ہوتا جا رہا ہے۔

فالعجب القتل حزب الله النجباء بحزب الشیطان الطلقاء عجیب بات ہے کہ گروہ خداوندی کو گروہ شیطان نے بظاہر قتل کر دیا ہے (لیکن حقیقتاً ان کی موت) زندگی کا پیغام ہے

اب عالم یہ ہے کہ ان خبیثوں کے ہاتھوں سے خون کے قطرات ٹپک رہے ہیں۔ اور شہداء کی نعشیں بے گوروکفن تپتے ہوئے ریگستانوں میں وحشی جانوروں کے سامنے پڑی ہیں۔ اے ملعون! آج تُو نے ہمارے مردوں کو قتل کرنا اور ہمارے اموال کو لوٹنا اگرچہ غنیمت سمجھ رکھا ہے لیکن عنقریب تجھے اس کے عوض عذاب کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ ہمارا اللہ پر بھروسہ ہے۔ ہمارا ذکر، ذکرِ خیر آخر تک رہے گا۔ اور تیرے عمل قبیح کی وجہ سے تجھ پر ہمیشہ لعنت ہوتی رہے گی۔ تیرا یہ لشکر اور تیری حکومت عنقریب ختم ہو جائے گی۔

الخ

حضرت زینبعليه‌السلام تقریر فرما رہی تھیں لیکن آپ کے دل پر بے پردگی کا غم بادل چھایا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا آسمان دُور زمین سخت کِدھر جاؤں میں بیبیوعليه‌السلام مِل کے دعا مانگو کہ مَر جاؤں میں حضرت زینبعليه‌السلام کا خطبہ جاری ہی تھا کہ ایک مرتبہ یزید کی پشت کی جانب سے ایک در کا پردہ اُٹھا اور ہندہ زوجہ یزید سروپا برہنہ باہر نکل پڑی۔ یزید نے فوراً تخت سے اُتر کر اُس کے سر پر عبا ڈالی اور کہا کہ تُو نے میری بڑی توہین کی کہ بے پردہ نکل آئی۔

اُس نے کہا اے یزید وائے ہو تجھ پر کہ تجھے اپنی عزّت کا اتنا خیال اور آلِ رسول کی عزّت کا مطلق خیال نہیں ہے۔ (کشف الغمہ) دربار کی تمام مصیبتوں کو جھیلنے کے بعد مخدرات عصمت وطہارت داخل قید خانہ شام ہو گئیں قید خانہ ایسا جس پر کوئی چھت نہ تھی۔ جو ان عورات خاندانِ رسول کو گرمی وسردی کے شدائد سے محفوظ رکھ سکتی۔ علّامہ ابن طاؤس لکھتے ہیں کہ ان کے چہرے متغیر ہو گئے تھے (لہوف )ایک سال قید کی سختیاں جھیلنے کے بعد ان حضرات کی رہائی کا فیصلہ ہندہ کے ایک خواب کی وجہ سے ہوا سیّد سجادعليه‌السلام نے حضرت زینبعليه‌السلام کے فرمانے کی بنا پر یزید سے ایک مکان خالی میں گریہ وماتم کے لیے کہا۔ مکان خالی کرا دیا گیا، آلِ رسول سات شبانہ روز اپنے اعزاء اقرباء کا ماتم کرتے رہے۔

یہ پہلی مجلس ماتم ہے جس کی بنیاد سر زمینِ دمشق میں ہوئی۔ پھر نعمان بن بشیر بن جرلم کے ہمراہ ان کی روانگی براہِ کربلا مدینہ کے لیے عمل میں آئی امام حسینعليه‌السلام کا یہ لُٹا ہوا قافلہ ۲۰ صفر ۶۲ ھء (یومِ چہلم) واردِ کربلا ہوا۔ جابر بن عبداللہ انصاری جو امام حسینعليه‌السلام کے پہلے زائر ہیں۔ کربلا پہنچ چکے تھے، وہاں پہنچ کر مخدرات عصمت وطہارت نے تین شبانہ روز نوحہ و ماتم کیا پھر وہاں سے مدینہ کے لیے روانہ ہو گئے ایک روایت میں ہے کہ حضرت زینبعليه‌السلام قبرِ امام حسینعليه‌السلام چھوڑنے پر آمادہ نہ تھیں لیکن امام زمانہ حضرت امام زین العابدینعليه‌السلام کے حکم سے آپ کو ہمراہ جانا پڑا۔ کربلا سے روانگی کے بعد مدینہ سے پہلے ایک مقام پر حضرت زین العابدینعليه‌السلام نے قافلہ رکوایا او نعمان بن بشیر سے فرمایا کہ اندرون مدینہ ہمارے یہاں پہنچنے کی اطلاع دے دے، مدینہ میں اطلاع کا پہنچنا تھا کہ تمام اہل مدینہ سروپا برہنہ حضرت زینبعليه‌السلام کی خدمت میں پہنچ گئے۔

اس مقام پر ایسا کہرام بپا ہوا جس نے زمین و آسمان کو رُلایا۔ مورخین کا بیان ہے کہ حضرت اُم المومنین ام سلمہ اس عالم میں حضرت زینب کے قریب پہنچیں۔ کہ اُن کے ایک ہاتھ میں جناب فاطمہ صغریعليه‌السلام ٰ کا ہاتھ اور دوسرے ہاتھ میں وہ شیشی تھی۔ جس میں رسول کی دی ہوئی خاکِ کربلا خون ہو گئی تھی۔ امام ابواسحاق اسفرائنی لکھتے ہیں کہ جناب ام سلمہ نے مخدرات عصمت وطہارت سے ملنے کے بعد اس خون کو اپنے مُنہ پر مَل لیا اور فلک شگاف نالوں سے دل ارض وسما ہلانے لگیں۔

حضرت محمد حنفیہعليه‌السلام ۱ کو جب اطلاع ملی دوڑ کر امام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے سیّد سجادعليه‌السلام کو گلے لگا کر کہا "یابن اخی، این اخی، بن اخی" اے میرے بھتیجے میرے بھائی کہاں ہیں میرے بھائی کہاں ہیں؟ محمد حنفیہعليه‌السلام نے جب حضرت امام زین العابدین کے پس گردن پر ہاتھ رکھا تو آپ نے فرمایا چچا جان ہاتھ ہٹا لیجئے ۔پوچھابیٹا کیوں؟ فرمایا چچا جان طوق گراں بار نے گردن زخمی کر دی ہے۔ پھر امام زین العابدینعليه‌السلام نے واقعات کربلا پر مختصر سی روشنی ڈالی۔

حضرت محمد حنفیہعليه‌السلام نے جب یہ سُنا کہ میرا بھائی تمام اعزاء اقرباء کی شہادت کے بعد میدان میں یک وتنہا مددگاروں کو پکار رہا تھا اور کوئی مددگار تِیر وتلوار کے سوا نہ پہنچا تھا تو آپ بدحواس ہو کر زمین پر گِر پڑے اور بے ہوش ہو گئے۔

"فلما افاق من غثوته" جب آپ کو غش سے افاقہ ہوا آپ انتہائی رنج وغم کی حالت میں اُٹھ کھڑے ہوئے آپ نے زرّہ راست کی، تلوار لگائی اور اپنے بال بچوں میں جانے کے بجائے ایک طرف کو جا کر اس وقت تک روپوش ہو گئے جب تک حضرت مختار علیہ الرحمہ نے خروج نہیں کیا،

روایت کے عیون الفاظ یہ ہیں۔وما طهرالا فی وقت ظهر المختار جب تک حضرت مختار نے خروج وظہور نہیں کیا آپ ظاہر نہیں ہوئے۔ (مآئتیں جلد ۱ ص ۷۸۲ ۔ ۸۰۲ رو ضۃ الشہداء۔ ابولفدا نورالعین ص ۱۰۸ ۔ ناسخ التواریخ جلد ۶ ص ۳۷۴ ۔ ریاض القدس جلد ۱ ص ۱۵۸)

ذکر العباس ص ۲۹۶ میں ہے کہ مدینہ منورہ میں مخدرات عصمت کی رسیدگی کے بعد مجلس غم کا سلسلہ شروع ہوا سب سے پہلی مجلس جناب ام البنینعليه‌السلام اور حضرت عباسعليه‌السلام کے گھر منعقد کی گئی پھر دوسری مجلس امام حسنعليه‌السلام کے گھر منعقد کی گئی۔ پھر حضرت محمد حنفیہعليه‌السلام کے گھر مجلس منعقد ہوئی۔ پھر روضہ رسول پر منعقد کی گئی جو نوحہ پڑھا گیا اس کا پہلا شعر یہ ہے

اَلا یَارَسُوْلَ اللّٰهِ خَیْرَ مُرْسَلِ حُسَیْنُکَ مَقْتُولْ وَنَسْلَکَ ضَائِعْ

(ترجمہ) اے پیغمبر اسلام، اے اللہ کے رسول اے بہترین مرسل۔ آپ کے فرزند حسینعليه‌السلام کربلا میں قتل کر دئیے گئے اور آپ کی نسل ضائع وبرباد کی گئی۔

پیغمبر اسلام کے روضہ پر نوحہ وماتم کرنے کے بعد سارا مجمع حضرت فاطمہعليه‌السلام اور امام حسنعليه‌السلام کے روضہ انوار پر آیا۔ اور تادیر نوحہ وماتم کرتا رہا۔ ابن متوج کہتے ہیں کہ اس وقت جو نوحہ پڑھا گیا اس کے پہلے شعر کا ترجمہ یہ ہے: اے لوگو! نوحہ کرو اور روو اس قتیل عطش پر جو کربلا میں تین دن کا بھوکا پیاسا (مع اعزا وقربا) شہید کر دیا گیا۔ (ریاض القدس جلد ۱ ص ۲۴۶)

علّامہ محمد مہدی بہاری لکھتے ہیں کہ راوی کہتا ہے کہ محمد بن حنفیہعليه‌السلام اپنے گھر میں بیمار پڑے ہوئے تھے۔ ان کو اس سانحہ کی کوئی خبر نہ تھی۔ جب یہ رونے پیٹنے کی آواز سُنی بہت گھبرائے کہنے لگے۔ یہ کیا ماجرا ہے ایسا تلاطم تو جب ہی ہوا تھا جس روز رسول خدا نے انتقال کیا تھا کسی نے کچھ جواب نہ دیا۔ اس خیال سے کہ بیماری کی وجہ سے نہایت لاغر وضیعف و کمزور و نحیف ہو گئے ہیں ایسی خبر جان گذا سُن کر کہیں انتقال نہ کر جائیں۔

جب انہوں نے اصرار کیا تو ان کے غلام نے بڑھ کر کہا کہ فِدا ہوں آپ پر یابن امیرالمومنینعليه‌السلام واقعہ یہ ہے کہ آپ کے بھائی حسینعليه‌السلام کو اہل کوفہ نے بُلایا تھا۔ مگر ان لوگوں نے بے وفائی کی اور مکر سے ان کے بھائی مسلم بن عقیل کو قتل کر دیا۔ ناچار وہ حضرت اپنے اہل وعیال اصحاب وانصار کے ساتھ یہاں صحیح وسالم واپس آئے ہوئے ہیں۔ محمد بن حنفیہعليه‌السلام نے غلام سے فرمایا پھر بھائی حسینعليه‌السلام ہم کو دیکھنے کیوں نہیں آئے؟ اس نے کہا ان کو آپ کا انتظار ہے کہ آپ ہی وہاں جائیے یہ سُنتے ہی اُٹھ کھڑے ہوئے چلے بھائی کی ملاقات کو۔ ضعف سے کبھی کھڑے ہوتے تھے کبھی گِر پڑتے تھے۔ جب باہر آئے سامان دگرگوں دیکھا، دل دھڑکنے لگا۔ فرمایا: این اخی این اخی ثمرة فوادی این الحسین لوگو! برائے خدا جلد بتاؤ، میرے بھائی میرے میوہ دل میرے حسین کہاں ہیں؟

لوگوں نے کہا، اے آقا! بھائی آپ کے فلاں مقام پر ہیں، آخر لوگون نے ان کو گھوڑے پر بٹھا دیا۔ لباس درست کر دئیے سب غلام اُن کے ساتھ ساتھ تھے یہاں تک کہ مدینہ کے باہر پہنچے تو کچھ سیاہ عَلَم دکھائی دئیے کہنے لگے کہ میرے بھائی کا عَلم تو سبز تھا یہ سیاہ عَلم کیسے ہیں واللّٰہ قتل الحسین بنوامیہ خدا کی قسم بنی اُمیہ نے حسین قتل کر ڈالا۔یہ کہہ کر ایک چیخ ماری اور گھوڑے سے زمین پر گِر پڑے اور بے ہوش ہو گئے۔ خادم دوڑتا ہوا امام زین العابدینعليه‌السلام کے پاس گیا اور کہا "یا مولای ادرک عمک قبل ان یقارت روحہ الدنیا" اے آقاجلد اپنے چچا کی خبر لیجئے قبل اس کے کہ ان کی روح دنیا سے انتقال کر جائے۔ یہ سُنتے ہی بیمارِ کربلا چلے، روتے جاتے تھے۔ دست مبارک میں سیاہ رومال تھا۔ اس سے آنسو پونچھتے جاتے تھے۔ جب پہنچے اپنے چچا کے سر کو گود میں رکھ لیا۔ جب ہوش میں آئے بھتیجے کو دیکھ کر پوچھا، بیٹا یہ تو بتاؤ کہ میرے بھائی میرے نوربصر ، تمہارے باپ ، میرے والد کے جانشین کہاں ہیں؟ فرمایا چچا کیا پوچھتے ہو حال اپنے بھائی کا ظالموں نے اُن کو قتل کیا۔ سب کے سب مارے گئے ہمارے ساتھ فقط عورتیں بے والی و وارث، بے حامی ومددگار روتی پیٹتی آئی ہیں، اے چچا! کیا حال ہوتا آپ کا اگر دیکھتے کہ وہ جناب ایک ایک سے پناہ مانگتے تھے مگر کوئی پناہ نہ دیتا تھا ایک ایک سے پانی مانگتے تھے۔

مگر کوئی پانی نہ دیتا تھا۔ حالانکہ جانور تک پیتے تھے۔ مگر حسینعليه‌السلام کو بھوکا پیاسا قتل کیا سُنتے ہی محمد حنفیہعليه‌السلام نے چیخ ماری اور پھر بے ہوش ہو گئے جب ہوش میں آئے کہا بیٹا، کچھ اور بیان کرو کہ کیا کیا مصیبتیں تم لوگوں پر گزریں۔ سیّد سجاد بیان کرتے جاتے تھے اور دونون آنکھوں سے مثل پرنالے کے آنسو جاری تھے۔ دست مبارک میں رومال تھا اس سے آنسو پونچھتے جاتے تھے۔ کہاں تک مصیبتوں کو بیان کرتے۔ کہتے کہتے تھک گئے اتنے میں مدینہ کی عورتیں بھی پہنچ گئیں۔ جب زنانِ اہل بیتعليه‌السلام سے ملیں تو کہرام مچا ہوا تھا ۔ماتم کرتی تھیں۔ مُنہ پر طمانچے مارتی تھیں کہ اگر پتھر ہوتا تو وہ بھی غم سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔ (الواعج الاحوال جلد ۲ ص ۳۶۲ طبع دہلی)

علامہ کنتوری لکھتے ہیں کہ مدینہ میں نوحہ وماتم کا سلسلہ پندرہ شبانہ روز تک مسلسل جاری رہا۔ (مائتین ص ۷۹۹ ۔ مقتل ابی مخنف ص ۴۸۰)

ایک روایت میں ہے کہ اس دوران میں کسی کے گھر میں آگ نہیں سلگائی گئی۔ علماء کا اتفاق ہے کہ رسول کریم کی مخدرات عصمت وطہارت نے غم کے لباس اس وقت تک تبدیل نہیں کیے جب تک حضرت مختار کے ہاتھوں قتل ہو کر ابن زیاد اور عمر سعد کا سر حضرت امام زین العابدین کی خدمت میں نہیں پہنچ گیا۔ یعنی عورات بنی ہاشم نے ۶۲ ھء سے ۶۷ ھء تک لباس غم نہیں اُتارا۔ اور اپنے سروں میں تیل نہیں ڈالا اپنی آنکھوں میں سُرمہ نہیں لگایا۔ جب ۹ ربیع الاوّل ۶۷ ھء کو یہ سر مدینہ پہنچے ہیں۔ تو بحکم امامعليه‌السلام مخدرات عصمت وطہارت نے غم کے لباس اُتارے۔ اور فی الجملہ خوشی منائی۔ (مجالس المومنین ص ۳۵۶ ۔ اصدق الاخبار ص ۹ ۔ ذوب النضار ابن نما ۴۱۵ ۔ اخذالثار ابومخنف ص ۴۹۶ ۔ رجال کشی ص ۸۵) ۔


گیارہواں باب

زندانِ کوفہ میں حضرت مختار کی حالتِ زار حضرت میثم تمّار سے ملاقات

زندانِ کوفہ میں حضرت مختار کی حالتِ زار حضرت میثم تمّار سے ملاقات اور مُعلّم کوفہ عمیر بن عامر ہمدانی کا واقعہ اور حضرت مختار کی رہائی حضرت مختار محبت آلِ محمد کے جرم میں قیدخانہ کوفہ کی سختیاں نہایت دلیری کے ساتھ جھیل رہے ہیں۔ مختار کو اس دن کے بعد سے جس دن اہلِ حرم دربار کوفہ میں تھے اور مختار کو بلایا گیا تھا پھر مختار کو روشنی دیکھنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ انہیں ایسے قید خانہ میں محبوس کیا گیا تھا جو خاص شیعیانِ علیعليه‌السلام ابن ابی طالبعليه‌السلام کے لیے خصوصیت کے ساتھ تعمیر ہوا تھا ۔وہ ایسا قید خانہ تھا جس میں نہ دھوپ کی روشنی پہنچتی تھی اور نہ ٹھیک طریقے پر اس میں ہوا کا گذر ہو سکتا تھا۔ وہ قید خانہ جس میں لوہے کے در لگے ہوئے تھے۔ اور جس کے قُفل پر ابن زیاد کی مہر لگی ہوئی تھی۔ اور اس کی تاریکی اور گہرائی کے لیے مورخین لکھتے ہیں کہ سطح زمین سے ایک روایت کی بنا پر پچاس ہاتھ نیچے اور ایک روایت کی بنا پر پچیس ہاتھ نیچے تھا۔ اس میں داخلہ کے وقت پچاس یا بیس سیڑھیاں طے کرنا پڑتی تھیں۔ اس قید خانہ میں کوئی ایک دوسرے کو پہچان نہ سکتا تھا اس قید خانہ میں عرصہ درازسے چار ہزار پانچ سو محبان امیرالمومنینعليه‌السلام مقید تھے۔ جن میں حضرت میثم تمّار بھی تھے۔ حضرت مسلم نے دورانِ قیامِ کوفہ میں بھی طے کیا تھا کہ ایک ذرا غلبہ نصیب ہوتے ہی سب سے پہلے ان لوگوں کو رہا کرانا ہے۔ (نورالابصار ص ۵۶)

حضرت مختار اسی شدید ترین قیدخانہ میں محبوس کیے گئے تھے۔ اور اُن کے ساتھ ایک خاص ظلم یہ تھا کہ ان کے ہاتھ پشت کی جانب سے بندھے ہونے تھے اور سارا جسم زنجیروں سے جکڑا ہوا تھا گلے میں طوق گرا نبار اور پیروں میں سخت قسم کی بیڑیاں تھیں ۔ حضرت مختار کی حالت یہ تھی کہ انہیں گردن پھرانے کا بھی امکان نہ تھا ۔مزید برآں یہ کہ ان کو قید خانے کے آخری کونے میں ڈالا گیا تھا۔ (اخذ الثار وانتصار المختار ابی مخنف ص ۴۸۰ضمیمہ بحار طبع ایران)

حضرت مختار کے ہمراہ عبداللہ ابن حارث بن عبدالمطلب بھی تھے۔قید خانے میں پہنچ کر بہت دنوں تک حضرت مختار کے قید خانہ میں ہو نے سے اہلِ قید خانہ بے خبرتھے۔ ایک دن نہ جانے کس طرح حضر ت میثم تمار نے محسوس کر لیا کہ مختا ر ابن ابی عبیدہ ثقفی بھی اسی قید خانہ میں ہیں۔ بالا خر دونوں میں ملا قات ہوگئی اور ایک ہی جر م کے مجرم میثم تمار ومختارآپس میں ہمکلام ہوے۔ گفتگوہوتے ہوتے یہ بات بھی ہوئی کہ اب آئندہ کیا ہونا ہے ۔عبد اللہ ابن حارث نے کہاکہ میں تو انپے جسم کے بال صاف کر نا چاہتا ہوں۔ کیونکہ عنقریب مجھے پھانسی دی جائے گی ۔ حضرت مختار نے کہا کہ تم اس کا خیال بھی نہ کرو ابن زیاد نہ مجھے پھانسی دے سکتا ہے اور نہ تمہیں سپرد دار کرسکتا ہے عنقریب تم رہا ہوکر بصرہ کے حاکم بنوگے یہ سن کر حضرت میثم تمار نے فرمایا اے مختار ! تم واقعاً قتل نہ ہوگے اور ضرور رہا کیے جاؤ گے کیونکہ حضرت امیرالمومنین نے فرمایا تمہیں نے واقعہ کربلا کا بدلا لینا ہے تم قید سے ضرور چھوٹو گے اور بے شمار دشمنان آل محمد کو قتل کروگے۔( دمعۃ ساکبہ ص ۴۰۵)

حجۃ الاسلام علامہ محمد ابراہیم تحریر فرماتے ہیں کہ مختار کی غذا قطر ان قرار دی گئی جو سیاہ رنگ کی چیز ہوتی ہے خارشتی ناقہ کے پشت پر ملی جاتی ہے جس کی شدید حرارت سے جگر شق ہوتا ہے اور آنکھوں سے پانی جاری رہتا ہے ۔ (نورالابصار ص ۲۷)

بہرحال حضرت مختار قید خانہ کی سختیاں جھیل ہی رہے تھے کہ دفعة ایک دن عمر بن عامر ہمدانی کا قید خانہ میں داخلہ ہوا انہیں چونکہ اسی قید خانہ میں مختار کے مقید ہونے کی خبر تھی لہٰذا انہوں نے داخل قید خانہ ہوکر حضرت مختار کو تلاش کیا اور ان کے قریب جاکر انہیں سلام کیا حضرت مختار نے سراٹھا کر عمر بن عامر کو دیکھنے کی سعی کی مگر گردن نہ اٹھ سکی پوچھا تم کون ہو کہا میں عامر بن ہمدانی ہوں پوچھا کس جرم میں یہاں لائے گئے ہو ۔عرض کی محبت آل محمد کے جرم میں اس کے بعد انہوں نے اپنے اوپر گزرے ہوئے واقعہ کو تفصیل سے بیان کیا۔

معلم کوفہ عمیر بن عامر ہمدانی کی سرگذشت

معلم کوفہ عمیر بن عامر ہمدانی کی سرگذشت حضرت امام عبداللہ ابن محمد اپنی کتاب قرة العین فی اخذ ثار الحسین ص ۱۲۰ طبع بمبئی ۱۲۹۲ء میں اور علامہ عطاالدین حسام الواعظ اپنی کتاب ،رو ضۃ المجاہد ین ص۶۳ میں اور مورخ اعظم ابو مخنف لو ط بن یحییٰ ازدی ، اپنی کتاب اخذالثار وانتصاالمختار علی الطغاة الفجار ضمیمہ بحار جلد ۱۰ ص ۴۸۰ طبع ایران میں لکھتے ہیں کہ حضرت امام حسینعليه‌السلام جب درجہ شہادت پر فائز ہوچکے اور بنی امیہ کا اقتدار بلند ہوچکا اور شیعیان علی بن ابی طالب ابن زیاد کے ظلم و جورکی فراوانی کی وجہ سے شرق و غرب عالم میں منتشر ہو چکے تو ابن زیاد بدنہاد نے کوفہ و بصرہ میں اعلان عام کرادیا کہ جو علی بن ابی طالب اور ان کی اولاد کو خیر کے ساتھ یاد کرے گا۔ اسے قتل کردیا جائے گا۔ اسی دوران میں یہ واقعہ ہوا کہ کوفہ کے ایک معلم عمر بن عامر ہمدانی جو آل محمد کے شیعوں میں سے تھے۔ اور مخفی طور پر اپنے ایمان کو چھپائے زندگی کے دن گزار رہے تھے اور اپنے دل میں دعائیں کرتے تھے ۔ خدایا مجھے ایسے شخص کی امداد کا موقع عنایت فرما جو قاتلان حسینعليه‌السلام کو قتل کرنے والا ہو شب دروز یہی دعائیں کرتے تھے اور قید خانہ میں مختا رپر جو گزر رہی تھی ۔

اس سے بڑے دل تنگ تھے لیکن کچھ نہ کرسکتے تھے یہ معلم نہایت متقی اور پرہیز گار شخص تھے۔ اور بے انتہازیرک اور ہوش مند اتفاقاً ایسے وقت میں جب کہ آپ مشغول تدریس تھے اور کوفہ کے تمام بڑے بڑے لوگوں کے لڑکے زیر درس تھے ایک شخص سے پانی طلب کیا اس نے ٹھنڈے پانی کا جام حاضر عمر بن عامر کیا آپ نے جو نہی اسے نوش کیا ۔ واقعہ کربلا کا نقشہ نگاہوں میں پھر گیا اور بے ساختہ منہ سے یہ نکل گیا کہ خدایا امام حسینعليه‌السلام کے قاتلوں اور ان پر پانی بند کرنے والوں پر لعنت کر اس کے بعد کوزہ واپس کردیا اور ایک درہم پانی پلانے والے کو بھی دیا وہ تو چلا گیا لیکن معلم سے ضبط گریہ نہ ہوسکا ۔ وہ بآواز بلند رونے لگا۔ معلم کے پاس جو بچے زیر تعلیم تھے اور اس وقت حاضر تھے ان میں سنان بن انس نخعی کا فرزند بھی تھا اس نے جب معلم سے قاتلان حسین پر لعنت کرتے سنا تو اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ تو مجھے اور میرے والد کو نہیں جانتا کہ ہم لوگ کون ہیں تو نے اتنی بڑی جسارت کی کہ ہمارے سامنے حسین کے قاتلوں پر لعنت کردی کیا تجھے نہیں معلوم کہ حسینعليه‌السلام کا قاتل ابن زیاد اس وقت حاکم کوفہ ہے جس نے عمر سعد کی کمان میں امام حسینعليه‌السلام کو بحکم یزید قتل کرایا ہے

اور قتل کے بعد میرے باپ سنان ابن انس نے ان کاسرنیزے پر بلند کیا تھا اب تیری اتنی مجال ہوگئی کہ تو ہمارے سامنے ان لوگوں پر لعنت کرے ۔

اور انہیں گالیاں دے سن میں اسے کسی صورت میں برداشت نہیں کرسکتا یہ سننا تھا کہ معلم عمر بن عامر کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی اس کے ہاتھ سے طوطے اُڑ گئے ہکا بکا ، حیران کھڑا فرزند سنان بن انس کا منہ تکنے لگا۔ تھوڑ ی دیر کے بعد حواس بجا ہوئے تو اس سے کہا کہ بیٹے میں نے جوکچھ ہے اور تو سمجھا کچھ ہے ، تیرا جو خیال ہے وہ میرا منشا نہیں ہے۔ میں نے تو کسی پر لعنت نہیں کی نہ جانے میں نے کیا کہا اور تو نے کیا سنا۔ غرضیکہ معلم نے ابن سنان بن انس کو نہایت نرمی اور شفقت سے سمجھا بجھا دیااور اس سے خواہش کی کہ ان باتوں کا کسی سے تذکرہ نہ کرنا۔ اس لڑکے نے فی الحال معلم کے کہنے سے خاموشی اختیار کرلی مگر چونکہ نسل میں کھوٹ تھا اس لیے وہ اسے بالکلیہ فراموش نہ کرسکا اسے جب یقین ہوگیا کہ معلم کے ذہن سے اب واقعہ محو ہوگیا ہوگا تو ایک عرصہ کے بعد ایک خرابہ (کھنڈر) میں گیا جو مکتب کے قریب ہی تھا۔ اس میں پہنچ کر اس نے یہ حرکت کی کہ سب سے پہلے اپنے کپڑے پھار ڈالے اور صافہ کے شملہ میں ایک پتھر باندھ لیا ۔

پھر اس پتھر سے اپنے سراور جسم کو اس درجہ زخمی کیا کہ لہولہان ہوگیا جب جسم کے مختلف اطراف سے خون بہنے لگا تو روتا پیٹتا دارالامارہ میں گیا جہاں اس کا باپ کرسی اقتدار پر بیٹھا تھا ۔ باپ نے اسے دیکھا گھبرا کر پوچھا خیر تو ہے اس نے کہا خیر کیا ہے ،

واقعہ یہ ہوا کہ معلم عمیر بن عامر ہمدانی نے پانی پی کر قاتلان حسینعليه‌السلام پر لعنت کی اور ان لوگوں پر بھی لعنت کی جن لوگوں نے ان پر پانی بند کیا تھا اور جنہوں نے ان کا حق غصب کیا ہے یہ سن کر میں نے اس سے کہا کہ تو جو کچھ کہہ رہا ہے اسے سمجھ کرکہتا ہے یا یونہی بول رہاہے اس نے جواب دیا میں بہت سمجھ کر کہہ رہا ہوں اور اب سن لے ، خدا لعنت کرے ۔ یزید ابن زید ، سنان پر اور تجھ پر ، میں نے کہا کہ اے شیخ کیا یزید سے زیادہ حسین مستحق خلافت ہے جو تو ایسی باتیں کرتا ہے۔ اس نے مجھے اس کے جواب میں گردن سے پکڑلیا اور مجھے گھیسٹ کر ایک تاریک کمرہ میں لے گیا اور مجھے رسی سے بہت مستحکم طریقہ پر باندھ دیا اس کے بعد مجھے مارنا شروع کیا اور اس درجہ مارا کہ میں مرنے کے قریب پہنچ گیا ۔ دفعة رسی ٹوٹ گئی اور میں جان بچا کر بھاگ نکلا۔ مجھے یقین ہے کہ اگر رسی نہ ٹوٹتی تو میں آج قتل کردیا جاتا یہ سننا تھا کہ سنان بن انس آگ بگولا ہوگیا اور حضرت علیعليه‌السلام اور ان کے شیعوں کے حق میں اول فول بکنے لگا ۔

پھر نہایت غصہ کے عالم میں ابن زیاد کے پاس پہنچا اور اپنے لڑکے کو ہمراہ لے جاکر اس کے سامنے اس کی پیٹھ کھولی اور سارے زخم اسے دکھلائے اور اس نے کہا کہ اے امیر عمیر ابن عامر نے میرے لڑکے پر بڑا ظلم کیا ہے ۔ اس نے پوچھا کیا ہوا اس نے کہا کہ عمیر بن عامر نے پانی پی کر قاتلان حسین پر لعنت بھیجی اور اس کے اس فعل پر میرے لڑکے نے ٹوکا تو اس نے اس کا یہ حال بنا دیا ۔ یہ سننا تھا کہ ابن زیاد کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور اس نے دربان سے کہا کہ عمیر کو اس کے گھر سے پکڑ کر میرے پاس حاضر کر اور اگر اس کے لانے میں کوئی مزاحمت کرے تو اسے قتل کردے اور اس کا گھر پھونک دے۔ حکم ابن زیاد پاتے ہی دربان ،عمیر بن عامر کی تلاش میں نکل پڑا اور اس کے گھر جا کر اس کو وہ جس حال میں تھا گرفتار کرلیا اس کے گلے میں عمامہ کا پٹہ ڈال کر گھسیٹتے ہوئے ابن زیاد کی خدمت میں حاضر کیا، تو ابن زیاد نے کہا کہ اے عمیر خدا تجھے غارت کرے تو نے ہی قاتلان حسینعليه‌السلام پر لعنت کی ہے اور تو ہی حسین کا مداح ہے یہ کہہ کر ابن زیاد نے غلاموں کو حکم دیا کہ اسے مارو، چنانچہ سب نے مل کر اس کاحلیہ بگاڑ دیا ۔ اس کے منہ کے سارے دانت توڑ دئیے۔

جب کافی مار پڑگی تو عمیر نے اپنی خطادریافت کی کہا گیا کہ خطا کیا پوچھتا ہے تو نے قاتلان حسین پر لعنت کی ہے اس کی تجھے سزا مل رہی ہے۔ عمیر بن عامر نے جب اپنی خطا سنی تو کہا خدا کی قسم میں نے کچھ نہیں کہا اور اس لڑکے کے ساتھ کچھ نہیں کیا۔ خدا کی قسم اس نے مجھ پر افترا کیا اور بہتان باندھا ہے ۔ حضور میرے امر میں جلدی نہ کریں اور کسی کے قول کو باور نہ فرمائیں ۔ میں نے کچھ نہیں کہا۔ سنئے اگر ایک شخص بھی اس امر کی گواہی دے دے کہ میں نے کچھ کہا یا کچھ کیا ہے تو میری جان اور میرا مال تیرے لئے حلال ہے یہ سن کر ابن زیاد کا غصہ قدرے فرد ہوگیا لیکن حکم دے دیا کہ اسے قید کردیا جائے۔

حکم ابن زیاد پاتے ہی کارندوں نے اسے اسی قید خانہ میں پہنچا دیا جو شیعیان علی بن ابی طالب کیلئے بنایا گیا تھا ۔ معلم عمیر بن عامر ہمدانی کا بیان ہے کہ حکم ابن زیاد پانے کے بعد مجھے ایسے قید خانے میں لے گئے جو زمین کے اندر تھا اور اس پر قُفْل لگے ہوئے تھے اور نگہبان مقررومعین تھے وہ قید خانہ اتنا تاریک تھا کہ رات اور دن میں کوئی فرق نہ تھا میں ایسا سمجھ رہا تھا کہ جیسے مجھے تحت الثری میں پہنچا دیا ہے ۔ اس قید خانے میں سطح زمین سے نیچے کیطرف پچاس زینے تھے ۔ جب میں آخری زینے پر پہنچا تو مجھے بالکل ہی کچھ بھی دکھائی نہ دیا اور سوا لوگوں کی آوازوں کے جو چیخ و پکار اور فریاد کررہے تھے اور کچھ سنائی نہ دیتا تھا میں سخت حیرانی کی حالت میں اس میں دن گزارنے لگا۔

ایک دن میں نے محسوس کیا کہ قید خانہ کے آخری گوشہ سے آواز آرہی ہے اور زنجیریں ہل رہی ہیں میں نے قریب جاکر ایک ایسے شخص کا ادر اک کیا جس کے دونوں پیروں میں بڑی بڑی بیڑیاں پڑی ہیں اور اس کے دونوں ہاتھ پس گردن سے بندھے ہیں اور زنجیروں میں اس طرح جکڑا ہوا ہے کہ دائیں بائیں ہل نہیں سکتا اور نہ زمین پر آسانی سے لیٹ سکتا ہے ۔

اس شخص کے چہرہ پر ایک زخم ہے جس سے مواد جاری ہے ، میں نے اس سے زیادہ سختی میں کسی ایک کا بھی ادراک نہیں کیا۔ میں نے اسے اس حال میں دیکھ کر اس پر سلام کیا اس نے جواب سلام دیا اور سراٹھا کر میری طرف دیکھا اس کے بعد آہ سرد کھینچ کر میری طرف متوجہ ہوا ۔

میں نے نہایت قریب سے دیکھا کہ اس کے سر کے بال آنکھوں کو بندکیے ہوئے ہیں ۔ اس کی حالت دیکھ کر میری آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے۔ میں نے پوچھا کہ اے شخص تو نے کون سی خطا کی ہے جس کی تجھے اتنی سخت سزادی گئی ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تجھ سے زیادہ سختی میں کوئی اور قیدی نہیں ہے ۔ اس نے جواب دیا خدا کی قسم محبت آل محمد کے سوا میرا کوئی گناہ نہیں ہے میں نے پوچھا تمہارا کیا نام ہے اس نے کہا مجھے مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی کہتے ہیں۔

یہ سننا تھا کہ میں ان کے قدموں پر گر پڑا اور ان کے پیروں کا بوسہ دینے لگا ۔ یہ دیکھ کر مختار نے مجھے دعائیں دیں اور مجھ سے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے میں نے کہا عمیر بن عامر ہمدانی معلم اطفال کوفہ۔ حضرت مختار نے کہا کہ سبحان اللہ ! یہ کیا بات ہے کہ تم تو ان کے بچوں کو تعلیم دیتے ہوں پھر ایسے سخت قید خانے میں کیسے آگئے۔ یہ ایسے لوگوں کی جگہ ہے جو آل محمد کے دوست دار ہوں اور بنی امیہ کو ان سے خدشہ ہوکہ کہیں ان کی حکومت کا تختہ نہ پلٹ دیں۔ اور خون حسینعليه‌السلام کا بدلہ لینے پر آمادہ نہ ہوجائیں۔ معلم کوفہ کا بیان ہے کہ میں کئی روزتک ان کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا اور بات چیت کرتا رہا یہاں تک کہ ایک دن انہوں نے فرمایا کہ اے عمیر ہمدانی تم عنقریب قید سے رہا ہوجاؤ گے ابومخنف کا بیان ہے کہ حضرت مختار کا یہ فرمانا بالکل درست ثابت ہوا کیونکہ اس ارشاد کے چند ہی دنوں کے بعد معلم رہا ہوگیا اس کی رہائی کے متعلق مرقوم ہے کہ معلم کی گرفتاری کے بعد اس کے وہ بھتیجی جو کہ ابن زیاد کی لڑکی کی دا یہ تھی جس کا نام "بستان" تھا ۔ اسے جب اطلاع ملی کہ میرا چچا گرفتار ہوگیا ہے تو اس نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور بال بکھیرلیے اور اسی حالت میں ابن زاد کی لڑکی کے پاس گئی ابن زیاد اس لڑکی کو دل و جان سے چاہتا تھا ۔

اس نے جب اپنی دایہ کو اس حال میں دیکھا تو کہا خیر تو ہے تو نے یہ کیا حالت بنائی ہے اس نے جواب دیا اے میری مالکہ میرے چچا عمیر بن عامر ہمدانی پر کسی بچے نے بہتان لگا کر امیر سے شکایت کردی ہے اور امیر نے اسے گرفتار کرادیا ہے۔ حالانکہ وہ معلم ہونے کی حیثیت سے ہر ایک کا خادم ہے اور اس کا سب پر حق ہے اسے میری مالکہ اس کو جس طرح قید میں رکھا ہے اگر اسی طرح وہ مقید رہا تو بہت جلد مرجائے گا میں آپ کے پاس اس لیے آئی ہوں کہ آپ میری خدمت کا لحاظ کرکے اپنے والد سے سفارش کردیجئے ۔ اور میرے چچا کو رہا کرادیجئے۔ ابن زیاد کی لڑکی نے کہا کہ گھبراؤ مت میں بڑی خوشی سے سفارش کروں گی اور اسے رہا کرا چھوڑوں گی ۔ یہ کہہ کر وہ اسی وقت اٹھی اور اپنے باپ کے پاس گئی اور اس سے کہنے لگی۔ بابا جان میری دایہ کا چچا عمیر بن عامر ہمدانی ایک مرد ضعیف اور کبیر السن ہے جو معلم کو فہ ہے جس کے پاس کوفہ کے تمام بچے پڑھتے رہے ہیں ،

اس کے خلاف کسی بچے نے افتراپردازی کرکے اسے گرفتار کرادیا ہے اور آپ نے اس پر عاید کردہ الزام کو درست تسلیم کرلیا ہے بابا اس کے تمام اہل کوفہ پر بڑے حقوق ہیں ۔ اگر اسے قید میں مزید رکھا گیا تو وہ اپنی کمزوری اور بڑھاپے کی وجہ سے ہلاک ہوجائے گا۔ بابا جان میں چاہتی ہوں کہ آپ اسے میرے حوالے کردیجئے اور اس کو مجھے بخش دیجئے اور جلد سے جلد اسے رہا کردیجئے۔ ابن زیاد نے اپنی لڑکی کی گفتگو سن کر کہہ دیا کہ جا۔ میں نے اُسے رہا کردیا ، لڑکی اٹھ کر چلی گئی اور اس نے داروغہ محبس کو بلوا کر حکم دے دیا کہ عمیر بن عامر ہمدانی کو رہا کردو، چنانچہ اس نے زندان بان کو حکم دے دیا اور وہ قید خانہ میں جاکر قفل کھولنے لگا قفل کھلنے کی جیسے آواز آئی۔ حضرت مختار نے عمیر سے کہا کہ درزنداں تیری رہائی کیلئے کھل رہا ہے ۔

یہ سن کر معلم اٹھ کھڑا ہوا اور فوراًدوڑ کر حضرت مختار کے گلے لگ گیا اور کہنے لگا اے میرے مولا! خدا ایسے گھر میں پھر کبھی نہ لائے لیکن آپ کی جدائی مجھے بہت شاق ہے ۔ دل یہی چاہتا ہے کہ آپ کا ساتھ نہ چھوٹے ۔ حضرت مختار نے فرمایا اے عمیر خدا تم کو جزائے خیر دے سنو! مجھے تم سے ایک حاجت ہے اگر تم اسے پوری کردوگے تو میں تم کو اس کے جزادوں گا اور اگر مجھ سے جزا دینا ممکن نہ ہوسکا تو خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جزائے خیردیں گے ۔ معلم عمیر بن عامر ہمدانی نے دست بستہ عرض کی مولا ،فرمائے ، زہے نصیب کہ مجھے آپ کے ارشاد کی تعمیل کا موقع مل سکے ۔ میں ضرور آپ کے ارشاد کی تعمیل کروں گا۔ حضرت مختار نے فرمایا کہ اے عمیر اگر تم بخیریت اپنی جگہ پہنچ جانا تو میرے لیے کسی صورت سے ایک تھوڑا سا کاغذ، ایک قلم اور دوات فراہم کرکے میرے پاس بھیجنے کی سعی کرنا ، معلم نے کہا ۔

حضور بسروچشم اس کی سعی بلیغ کروں گا۔ابھی ان دونوں میں بات چیت ہورہی تھی کہ قید خانہ کا دروازہ کھل گیا اور دربان نے آکر آواز دی کہ اے معلم عمیر بن عامر ہمدانی ، امیر ابن زیاد تم سے راضی ہوگیاہے اور اس نے تمہاری رہائی کا حکم دے دیا ہے ۔ معلم یہ سن کر اٹھ کھڑا ہو ااور دوڑ کر حضرت مختار کے گلے لگ کر نہایت بدحواسی سے رونے لگا۔ اس کے بعد ان سے رخصت ہوکر زندان بان کے ہمراہ روانہ ہوگیا قید خانہ سے نکل کر معلم، امیرابن زیاد کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ابن زیاد کی نظر جو نہی معلم پر پڑی کہنے لگا کہ اے معلم !میں نے اپنی لڑکی کے کہنے سے تیرا گناہ معاف کردیا ہے۔ دیکھ اب آئندہ ایسا جرم عظیم (لعنت برقاتلان حسینعليه‌السلام ) نہ کرنا۔ معلم نے کہا کہ حضور میں بارگاہ خداوندی میں توبہ کرتا ہوں کہ اب کبھی بچوں کو تعلیم نہ دوں گا۔ اور اب کسی مکتب اور مدرسہ میں برائے تدریس نہ بیٹھوں گا ۔

ابن زیاد نے کہا اچھا جاؤ میں نے تم کو رہا کر دیا ہے معلم ابن زیاد کو سلام کرکے وہاں سے روانہ ہوگیا۔

قید خانہ میں حضرت مختار کو قلم و دوات پہنچانے کی سعی

معلم عمیر بن عامرہمدانی قید خانہ سے چھوٹنے کے بعد اپنے گھر پہنچے انہوں نے محض اس خیال سے کہیں راز فاش نہ ہوجائے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ۔ بروایت اس نے کہا کہ اگر تم چاہو طلاق لے لو اور چاہو تو میرے ساتھ رہو لیکن میرے راز کی حفاظت کرو بروایت ابواسحاق اسفرائنی معلم نے اپنی بیوی کو طلاق دے کر اس کا مہر ادا کردیا۔ اور اس کو اس کے باپ کے گھر بھیج دیا ۔ اور خود ارشاد مختار کی تعمیل کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوگئے ایک روایت میں ہے کہ بیوی نے طلاق لینی پسند نہیں کی اور وہ عمیر کے پاس ہی رہی اس کے بعد عمیر نے پانچ سواشرفی ایک رومال میں باندھی اور اسی رومال کے دوسرے گوشہ میں ایک ہزار درہم باندھا اور ایک موٹا گوسفند بھنوایا اور بہت سی روٹیاں پکوائیں اور بہت سی مٹھائی منگوائی اور بہت کافی فروٹ منگوایا اور جب رات کی تاریکی چھا گئی تو اسے اپنے سر پر اٹھا کر خودلے جاکر زندان بان کے مکان پر پہنچے ۔ عمیر اگرچہ بہت مالدار اور کوفہ کے نمایاں افراد میں سے تھے ، لیکن اپنی پوزیشن کا خیال کیے بغیر سب کچھ اپنے سر پر اس لیے لادکر لے گئے کہ کسی کو راز معلوم نہ ہوسکے۔

زنداں بان کے دروازے کو کھٹکھٹایا تو اس کی بیوی نے کہا کہ وہ کہیں باہر گیا ہوا ہے عمیر نے سارا سامان اس کی بیوی کے حوالے کردیا اور اس سے کہہ دیا کہ جب آئے تو بعد سلام میری طرف سے کہنا کہ معلم نے نذر مانی تھی آج اس نے اسے ادا کیا ہے اس لیے یہ سامان تم کو دیا گیا ہے یہ کہہ کروہ اپنے گھر واپس آیا۔ جب صبح ہوئی زنداں بان اپنی ڈیوٹی سے واپس آیا ، آکر سارا سامان دیکھ کر پوچھنے لگا کہ یہ کس نے دیا ہے ۔ زوجہ نے عمیر معلم کی ساری گفتگو دہرادی۔ زنداں بان نے کہا خدا کی قسم کوئی نذرنہ تھی لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کے ذیل میں کسی حاجت کی تکمیل چاہتا ہے ۔ زندان بان حضرت امام حسینعليه‌السلام کے دوست داران میں سے تھا اور امام حسینعليه‌السلام کے مصائب سے بے حد متاثر تھا اس کے محب آل محمد ہونے کی اطلاع عمیر کو نہ تھی۔ دوسری رات عمیر نے پھر پہلے قسم کے تحائف زنداں بان کے گھر پہنچا دئیے اور وہی پہلی بات جو نذر سے متعلق تھی۔ اسے زوجہ کے ذریعے سے کہلادیا جب صبح ہوئی اور وہ گھر پلٹ کر آیا تو زوجہ نے سب ، ماجرا اس سے بیان کیا اس نے پھر کہا کہ خدا کی قسم اس کی کوئی نذر نہیں ہے وہ ضرور کوئی حاجت رکھتا ہے ۔

زندان بان عمیر معلم کے اس ترکیب سے بہت خوش ہوا اور کہنے لگا کہ وہ مجھے اتنی عزت دے رہا ہے کہ اگر خدا کی قسم اس کی کوئی بھی حاجت ہوئی تو میں ضرور اسے پوری کروں گا چاہے اس کی تکمیل میں ہلاک ہی کیوں نہ ہونا پڑے ۔ زنداں بان نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ حضرت مختار کی رہائی کی بھی خواہش رکھتا ہوگا تو میں یہ بھی کروں گا چاہے مجھ پر کچھ ہی کیوں نہ گزر جائے۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ آج کی شب بھی آئے گا اور سب کچھ مثل سابق لائے گا آج میں چھٹی لے کر گھر میں اس کا انتظار کروں گا ۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ جب رات ہوئی اور معلم اپنے ہدایا سمیت آیا تو اس نے اٹھ کر خود دروازہ کھولا اور اس کو بڑی تعظیم کے ساتھ اچھی جگہ پر بٹھایا اور اس سے کہنے لگا کہ خدا و رسول (ص)اور علیعليه‌السلام ابن ابی طالبعليه‌السلام کی قسم اگر تو مجھ سے کوئی حاجت رکھتا ہو تو بیان کر میں بقسم کہتا ہوں کہ اگر تیری حاجت روائی میں میری جان، میرا مال، میری اولاد بھی قربان ہو جائے گی تب بھی میں اس کی تکمیل و تعمیل کروں گا۔ اور اے معلم ! سن اگر تو مختار جیسے قیدی کی بھی رہائی کا خواہش مند ہوگا تو میں وہ بھی کروں گا۔ یہ سن کر معلم کے حوصلے بلند ہو گئے اور اس کے دل کو اطمینان حاصل ہوگیا۔

معلم مطمئن ہونے کے بعد اس سے کہنے لگا کہ بات یہ ہے کہ میں نے زمانہ قید میں حضرت مختار کو ایسی حالت میں دیکھا ہے کہ میرا دل پارہ پارہ ہے جب میں قید سے چھوٹ کر چلنے لگا تھا تو انہوں نے مجھ سے یہ خواہش کی تھی کہ کسی صورت سے قلم و دوات اور کاغذ میں ان تک پہنچادوں ۔ میں تم سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ تم کسی صورت سے میری یہ حاجت پوری کردو اور یہ چیزیں جو مختار کے مطلوبہ ہیں پہنچادو۔ زندان بان نے کہا کہ اگرچہ یہ نہایت سخت معاملہ ہے لیکن میں ضرور کوشش کروں گا۔ بات یہ ہے کہ قید خانہ پر چالیس افراد معین ہیں اور تیس تو ایسے ہیں جو ہر وقت میرے ساتھ لگے رہتے ہیں اور بات بات کی خبر ابن زیاد تک پہنچاتے ہیں ۔ میں ایک ترکیب بتلا تا ہوں اس پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔ شاید خدا کامیابی عنایت فرمائے اور وہ یہ ہے کہ جب صبح ہو تو سکباج تیار کراؤ جو سرکہ زعفران اور گوشٹ سے بنتا ہے ۔ (مجمع البحرین) اور بہت سی روٹیاں خریدو۔

روٹیاں ایسی ہوں جن کے کنارے شکستہ ہوں اور بہت سا کھیرا جوزاور خرمہ جمع کرلو ، ایک کھیرے میں چھوٹا سا قلم اور بادام میں تھوڑی سی روشنائی رکھ کر ٹھیک سے بند کردو۔ اور ایک کھیرے میں کاغذ رکھ دو ۔ یہ سب سامان رکھ کر ایک مزدور پر لدوا کردرزنداں پر لے آؤ۔ جب تم میرے پاس پہنچوگے تو میں تم سے مقصد دریافت کرنے کے بعد تم کو بھی ماروں گا اور مزدور کو بھی زدوکوب کروں گا ۔ تمہارے کپڑے پھاڑوں گا اور تمہیں بُرا بھلا کہوں گا اور اتنا شور کروں گا کہ تمام لوگ جمع ہوجائیں گے اور تمہارے ساتھ ہمدردی کریں گے اور مجھ سے کہیں گے کہ کیوں غریب بوڑھے کو مارتے ہوا اور برا بھلا کہتے ہو جب ان کی ہمدردی تمہارے ساتھ بہت ہوجائے گی

اور لوگ انصاف کی خواہش کریں گے اور فیصلہ کرنے پر آمادہ ہوجایں تو تم سب سے کہنا کہ یہ دربان نے جانے کیسا آدمی ہے اس کو حیا ء نہیں آتی کہ اس نے بلاجرم و خطا مجھے مارا ہے اور گالیاں دیتا ہے۔

جب لوگ واقعہ پوچھیں تو تم کہنا کہ میں جس زمانہ میں قیدتھامیں نے اس قیدخانہ میں ایک شخص کو بری طرح مقید دیکھا تھا ، میں نے اس سے اپنی رہائی کے وقت یہ دریافت کیا تھا کہ اگر کوئی حاجت باہر کے متعلق ہو تو بیان کرو۔ اس نے مجھ سے کہا کہ میر اجی چاہتا ہے کہ میں مرنے سے پہلے سکباج کھیرا اور بادام جی بھر کر کھا ؤں اگر تم سے ہوسکے تو یہ چیزیں مجھے پہنچا دینا میں نے اس سے خدا کو گواہ کرکے وعدہ کیا تھا کہ اگر ممکن ہوسکا تو ضرور پہنچاؤں گا ابھی میری رہائی کا فیصلہ نہ ہونے پایا تھا اور میں اس سے بات چیت کرہی رہا تھا کہ زندان کا دروازہ کھلا اور میں رہا کردیا گیا۔ اب جب کہ میں رہا ہوکر آگیا ہوں تو چاہتا ہوں کہ خدا کو حاضر ناظرجان کر جو نذر کی ہے اور جو وعدہ کیا ہے اس سے سبکدوش ہوجاؤں۔ اور خدا سے اپنا عہد وفا کروں میں بوڑھا ہوں میری تمنا ہے کہ یہ بارلے کردنیا سے نہ جاؤں اسی لیے یہ سب چیزیں لایا ہوں اور کچھ تم لوگوں کے واسطے بھی لے آیا ہوں ۔ جب لوگ تمہاری یہ باتیں سنیں گے تو مجھ سے خواہش کریں گے کہ میں تم سے نرمی کروں تو میں ان سے اس کے جواب میں کہوں گا کہ میں اس بوڑھے پر نرمی ضرور کرتا مگر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم لوگ مجھ پر کوئی بلانہ نازل کردو مجھے اگر تمہاری طرف سے اطمینان ہو تو میں اسے اجازت دے سکتا ہوں کہ یہ چیزیں مختار تک پہنچا دے وہ لوگ مجھے جواب دیں گے کہ ہم میں کوئی چغل خوری کرنے والا نہیں ہے بے شک تم اجازت دے سکتے ہو تمہارا راز کوئی افشا نہ کرے گا۔

یہ سن کر میں تم سے کہوں گا کہ جو کچھ پہنچانا چاہتے ہو مختار کے پاس پہنچا دو پھر تم سب چیزیں ان کے پاس لے جانا وہ بہت ہوشیار شخص ہیں وہ جو چیزیں خفیہ لکھیں گے اسے میں دوسرے دن ان سے حاصل کرکے تمہارے پاس پہنچادوں گا۔ زنداں بان کی یہ بات سن کر معلم عمیر اس کے پیروں پر گرپڑا اور اس کے پاؤں کا بوسہ دینے لگا پھر وہاں سے نکل کر نہایت خوشی کے عالم میں گھرآیا اور اسی وقت سارا سامان مہیا کرکے اس کی تیاری شروع کردی ساری رات تیاری میں گزری صبح ہوتے ہی سارا سامان مزدور کے سر پر رکھ کر دروازہ قید خانہ پر پہنچا۔

زندان بان نے پوچھا کیا لائے ہو معلم نے کہا خدا تجھ پر رحم کرے بات یہ ہے کہ جب میں ایک لڑکے کے بہتان کی وجہ سے جیل میں آیا تھا تو میں نے ایک شخص کو ایسے عذاب میں دیکھا تھا جس میں کوئی دوسرا مبتلا نہ تھا میری اور اس کی محبت سی ہوگئی تھی ۔ اس نے چلتے وقت مجھے سے خواہش کی تھی کہ میں یہ سکباج وغیرہ سے پہنچانے کی کوشش کروں اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں چاہتا ہوں کہ اس نذر سے سبکدوشی حاصل کرلوں وغیرہ وغیرہ یہ سننا تھا کہ زندان بان اپنے مقام سے اٹھا اور اس کے قریب آکر اس کا سارا سامان پلٹ کر دیا اور زدوکوب کرنے کے بعد اس کا پیرا ہن پھاڑ ڈالااور اس کے عمامہ میں اس کی گردن پھنسا کر گھیسٹنے لگا ۔ وہ کہنے لگا کہ میں تم کو اسی وقت ابن زیاد کے پاس لے چلوں گا تو نے یہ سامان غلط فراہم کیا ہے میں ہرگز اسے مختار تک نہ پہنچنے دوں گا ابن زیاد جس کو چاہتا ہے سختی میں رکھتا ہے تم اس کے پاس عمدہ عمدہ چیزیں پہنچانا چاہتے ہو یہ کبھی نہ ہوگا۔ یہ حالت دیکھ کر سب زنداں بانوں نے بیک زبان کہا کہ دیکھ یہ بڑا شریف آدمی ہے اس کے سب پر حقوق ہیں کوفہ کا کوئی امیر و غریب ایسا نہیں ہے جس کے بچوں نے اس سے تعلیم حاصل نہ کی ہو یہ تو کیا کررہا ہے اس غریب پر اتنی سختی روا نہیں ہے خدا را اس سے نرمی کر یا اس کی خواہش پوری کردے یا اسے نرمی سے واپس کردے سختی کا تجھے کوئی حق نہیں ہے۔ زندان بان نے کہا کہ میں اس کی خواہش پوری کردیتا مگر میں تم سے ڈرتا ہوں کہ اگر تم نے رپورٹ کردی تو میری زندگی خراب ہوجائے گی ۔

ان لوگوں نے کہا ہم یزید بن معاویہ کی بیعت کی قسم کھاتے ہیں کہ ہم ہرگز اوپر رپورٹ نہ کریں گے۔ جب زندان بان مطمئن ہوگیا تو معلم عمیر بن عامر ہمدانی سے کہنے لگا کہ اچھا لاکیالایا ہے میں اسے مختار کے پاس پہنچادوں۔ چنانچہ وہ سب سامان لے کر مختار کے پاس پہنچادیا اور انہیں بتا دیا کہ اسی سامان میں قلم و دوات وغیرہ ہے۔ یہ دیکھ کر مختار نہایت مسرور ہوئے اور شکر خدا کرنے لگے ابومخنف کا بیان ہے کہ مختار کے پاس قلم و دوات پہنچاہی تھا کہ ابن زیاد سے چغلی کردی گئی اور چغلی کرنے والا خود زندان بان کا لڑکا تھا اس کا واقعہ یہ ہے کہ زندان بان نے ایک پڑا ہوالڑکا پایا تھا اس کی اس نے پرورش کی تھی وہ جوان ہوچکا تھا جس وقت معلم اور زندان بان میں مختار کو قلم و دوات دینے کی گفتگو ہورہی تھی وہ سن رہا تھا جس صبح کو زنداں بان نے قلم و دوات مختار تک پہنچایا اسی صبح کو زندان بان کے لڑکے نے ابن زیاد کے پاس جاکر چغلی کردی اور سارا واقعہ اس سے بیان کردیا حسام الواعظ لکھتے ہیں کہ لڑکے کا نام بشارت تھا۔ زندان بان نے ابھی سامان مختار تک پہنچایا ہی تھا کہ ابن زیاد بیس فوجیوں کو ہمراہ لے کر درزندان پر پہنچ گیا ۔ ابن زیاد جس وقت درزندان پر پہنچا اس کے بدن پر دیباج کی چادراور سر پر عدن کی چادر تھی جس کے بندکھلے ہوئے تھے ۔ زندان باناں ، خادماں اور خبر دہندگان نے جس وقت ابن زیاد کو اس ہیت سے دیکھا ، ہیبت کے مارے تھراکر اٹھ کھڑے ہوئے۔

ابن زیاد زندان بان کی طرف متوجہ ہوا اور اس کو اس زور سے تازیانہ مارا کہ اس کی پشت زخمی ہوگئی اور حکم دے دیا کہ زنداں بان کو قتل کردیا جائے اور قتل سے پہلے اسے خوب مارا جائے ۔ چنانچہ لوگوں نے اسے مارنا شروع کیا اور اس درجہ کہ وہ لہولہان ہوگیا۔ اس کے بعد معلم کو بلوایا اور اسے بھی خوب پٹوایا پھر دونوں کوقتل کردینے کا حکم دے کر جانے لگا تو زندان بان آگے بڑھا اور عرض پرواز ہوا کہ حضور میرا قصور بتادیا جائے ابن زیاد نے کہا کہ تو یہ سمجھتا ہے کہ میں تیری حرکتوں سے غافل ہوں تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ میں تیری تمام حرکتوں سے واقف ہوں زندان بان نے کہا کہ حضور میں خطا ہی جاننا چاہتا ہوں ۔

ابن زیاد نے کہا کہ تیری خطا یہ ہے کہ تو مختار کے پاس قلم دوات پہنچانے میں معلم کا مدد گار ہے تو چاہتا ہے کہ میری سلطنت کا تخت پلٹ جائے زندان بان نے کہا کہ حضور نہ گھوڑا دور نہ میدان میں بھی حاضر ہوں ۔ معلم بھی موجود ہے مختار قید میں پڑا ہے اور یہ معلم اس وقت سے پہلے کبھی میرے پاس آیا بھی نہیں ۔ اسی وقت آیا ہے ،آپ مختار کی تلاشی کرالیجئے اگر اس کے پاس قلم دوات وغیرہ نکل آئے تو بے شک آپ ہم سب کو قتل کرادیجئے ابن زیاد نے اس کی بات مان لی اور حکم دیا کہ مختار کی تلاشی لی جائے چنانچہ لوگ شمع لے کر قید خانہ میں داخل ہوئے اور مختار کی باقاعدہ تلاشی لی مگر کوئی چیز بر آمد نہ ہوئی، رپورٹ ملنے پر ابن زیاد سخت متحیر اور پریشان و پشیمان ہوا تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد بولا کہ اس لڑکے کو میرے پاس حاضر کیا جائے جس نے یہ دروغ بیانی کی ہے ۔ چنانچہ لوگوں نے اسے فوراً حاضر کیا ابن زیاد نے کہا اے ملعون ! تو نے دروغ بیانی کی ہے اب تیری سزا یہ ہے کہ تو قتل کردیا جائے اس کے بعد اس کے قتل کا حکم دیا ۔ یہ دیکھ کر زندان بان آگے بڑھا اور اس نے ابن زیاد سے کہا کہ حضور بات یہ ہے کہ یہ لڑکا جو سامنے کھڑا ہے میرا پروردہ ہے میں نے اسے سڑک پر پڑاپایا تھا ۔

میں نے اس کی پرورش کی یہاں تک کہ یہ جوان ہوا جوان ہوتے ہی یہ میری بیوی کی طرف سے بدنظر ہوگیا ۔ میں نے اس چیز پر کنٹرول کرلیا چونکہ یہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوا لہٰذا اس نے اس دشمنی میں یہ سب کچھ کیا ہے ۔ ابن زیاد نے یہ سن کر معلم اور زندان بان کو چھوڑ دیا اور حکم دیا کہ مختار کی سختی کم کردی جائے اور معلم و زندان بان کو خلعت عطا کی جائے اور لڑکے کو قتل کردیا جائے۔ علماء کا بیان ہے کہ مختار نے قلم اور دوات و کاغذ اس خوبصورتی سے چھپا دیا تھا کہ تجسس کرنے والے برآمد نہ کرسکے تھے اسی وجہ سے ابن زیاد کو پشیمان ہونا پڑا۔ ابومخنف کا بیان ہے کہ اس واقعہ کے دوسرے دن زنداں بان حضرت مختار کے پاس حاضر ہوا مختار نے اس کا غذا کے دو ٹکٹرے کرکے دو خط تحریر کیے تھے ایک اپنے بہنوئی ، عبداللہ بن عمر کے نام اور دوسرا اپنی بہن عاتکہ یا صفیہ کے نام ۔ مختار نے وہ دونوں خطوط زندان بان کے حوالے کردئیے۔

زندان بان نے انہیں معلم عمیر بن عامر ہمدانی کے پا س پہنچادیا۔ معلم نے امانت کی وجہ سے ان خطوط کو پڑھا نہیں خطوط پاتے ہی معلم حمام گیا اور غسل کیا بال ترشوائے احرم باندھا اور قصر ابن زیاد کے پاس پہنچا وہاں پہنچ کر اس نے تلبیہ کیا اس وقت ابن زیاد دربار میں بیٹھا ہوا تھا ۔ معلم کے تلبیہ کی آواز سن کر اس نے کہا کہ یہ تلبیہ کہنے والا کون ہے ، لوگوں نے کہا کہ یہ وہی معلم ہے جسے تو نے قید کیا تھا اور اس نے منت مانی تھی کہ جب قید سے رہا ہوں گا تو حج کروں گا ابن زیاد نے حکم دیا کہ اسے میرے سامنے حاضر کرو۔ جب وہ آیا تو اس نے پوچھا کہ پہلے مدینہ جاؤگے یا مکہ ۱ اس نے کہا کہ حج کامل کروں گا ۔ یعنی دونوں جگہ جاؤں گا ۔ ابن زیاد نے حکم دیا کہ اسے ایک ہزار درہم دے دئیے جائیں۔ بروایت ایک ہزار درہم اور ایک ہزار دینار دے دئیے جائیں معلم نے رقم حاصل کی گھرآکر اسے فقراء و مساکین پر تقسیم کردیا۔

اور اپنی رقم سے سفر کی تیاری کی ۔ راحلہ کرایہ پر لیا اور مدینہ کے لیے روانہ ہوگیا۔ معلم عمیر ابن عامر ہمدانی نہایت عجلت کے ساتھ قطع منا زل طے مراحل کرتا ہوا واردِ مدینہ ہوا۔ یہ اسی وقت مدینہ پہنچ کر ابن عمر کے گھر پہنچا ۔ جس وقت وہاں عمدہ عمدہ کھانوں سے دسترخوان مرصع تھا بن عمر اپنی بیوی کو کھانے کیلئے دسترخوان پر بلا رہا تھا اور وہ دسترخوان پر آنے سے یہ کہہ کر انکار کر رہی تھیں۔ کہ واللّٰہ لااکلت لذیذ الطعام الاان اخبرت بخبراخی ۔ خدا کی قسم میں اچھے کھانے اس وقت تک نہ کھاؤں گی جب تک مجھے یہ نہ معلوم ہوجائے کہ میرے بھائی مختار کس حال میں ہیں اور کہاں ہیں اتنے میں عمیر بن عامر نے دق الباب کیا یعنی دستک دی عبداللہ بن عمر نے فورا، لونڈی بھیج کر معلوم کیا کہ دروازہ پر کون ہے اس نے کہا میرا نام عمیرہمدانی ہے میں کوفہ سے آیا ہوں ۔ اور ایک اہم حاجت لایا ہوں۔ یہ سننا تھا کہ صفیہ اشتیاق مختار میں زمین پر گرکر بیہوش ہوگئی۔ جب ہوش آیا تو کہا کہ اے عبداللہ ! تم خود دروازے پر جاؤ ۔ شاید آنے والا میرے بھائی مختار کی خبر لایا ہو ۔

عبداللہ ابن عمر اپنے مقام سے اٹھے اور دروازے کے قریب پہنچے۔ دیکھا کہ ایک بوڑھا شخص روشن روخوش لباس کھڑا ہے ۔ عبداللہ نے سلام کیا ۔ عمیر نے جواب دیا اس کے بعد اسے بیٹھک میں لے آئے اور بڑی عزت و توقیر کے ساتھ اس کا خیر مقدم کیا۔ کھانا چنا ہوا تھا ۔ عبداللہ اور عمیر نے کھانا کھایا اس کے بعد عبداللہ نے عمیر ہمدانی سے آنے کا سبب پوچھا اس نے حضرت مختار کے دونوں خطوط نکال کردیئے۔ عبداللہ نے جیسے ہی خط پڑھا رونا شروع کردیا پھر اٹھ کر اپنی زوجہ صفیہ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ تمہارے بھائی حضرت مختار کے زندان کوفہ سے دو خط ارسال کیے ہیں وہ قید میں ہیں انہوں نے مجھے لکھا ہے کہ میں ان کی رہائی کیلئے یزید کو خط لکھوں صفیہ جن کے گریہ گلوگیر تھا اپنے شوہر سے کہنے لگیں کہ مجھے اجازت دوکہ میں اس مسافر کو اپنی آنکھوں سے دیکھوں جس نے میرے بھائی سے ملاقات کی ہے اور اس سے سارے واقعات دریافت کروں ، عبداللہ نے اجازت دی وہ چادر اوڑھ کر عمیر کے پاس گئی اور کہنے لگی اے شخص تجھے خدا کی قسم ہے مجھے اس محب حسین ، مختار کے صحیح حالات وواقعات بتادے۔

میرا دل اس کی جدائی میں کباب ہوگیا میں اس کے فراق میں اپنے آپے سے باہر ہوں ۔ اے شخص تجھے امام حسینعليه‌السلام کی قسم ہے مجھ سے کچھ پوشیدہ نہ کرنا یہ سن کر عمیر ہمدانی نے قید خانے کے سارے واقعات صفیہ کے سامنے بیان کردئیے جو نہی صفیہ نے یہ سنا کہ مختار زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں اور ان کے جسم سے خون جاری ہے برداشت نہ کرسکی اور اس درجہ روئی کہ جس کی کوئی حد نہیں۔ پھر اس کے پاس سے اٹھ گئی اور گھر کے اندر جا کر اپنے سر کے سارے بال نوچ ڈالے ماں کو دیکھ کر لڑکیوں نے بھی بال نوچ ڈالے اور ان بالوں کو سامنے رکھ کر گریہ و ماتم کرنے لگی۔

عبداللہ نے شورگریہ سنا تودوڑے ہوئے گھر کے اندر آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ سرکے بال نوچ کر صفیہ اور لڑکیوں نے سامنے رکھا ہوا ہے سب محو گریہ ہیں کہنے لگے ارے تم نے یہ کیا کیا۔ صفیہ بولی اے عبداللہ اب میں تمہارے گھر میں چین سے نہیں بیٹھ سکتی ہائے میرا بھائی سخت ترین قید میں مقید ہے ، اے عبداللہ تمہاری غیرت و حمیت پدرانہ کو کیا ہوگیا ہے ۔

ارے کیا یزید تم سے بہتر ہے خدا کیلئے جلدی میرے بھائی کورہا کراؤ۔ ورنہ میں جان دے دوں گی۔ عبداللہ ابن عمر نے یہ سن کر کہا اے صفیہ خدا کی قسم اگر مجھے جلد سے جلد خط پہنچانے والا کوئی بھی مل گیا تو میں اسے جلد سے جلد رہا کرالوں گا پس تاخیر اتنی ہوگی کہ میرا خط یزید کے پاس پہنچے اور اس کا خط ابن زیاد کے پاس پہنچے یقین کرو کہ میری بات وہ کسی صورت سے ٹال نہیں سکتا۔ یہ سننا تھا کہ معلم عمیر ہمدانی بول اٹھا۔ اے ابن عمر میں یزید کے پاس اور اس کے بعد ابن زیاد کے پاس خود خط لے کر نہایت سرعت کے ساتھ جاؤں گا ۔ چاہے وہ دنیا کے کسی گوشے میں ہی کیوں نہ ہو میں خط انہیں پہنچاؤں گا ابن عمر نے کہا کہ تم میرا خط یزید کے پاس لے جاؤ گے اور اس کا جواب لاؤ گے ۔

معلم نے کہا بے شک میں ایسا کروں گا میں نے تو مختار کی رہائی کی کوشش کیلئے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا بھی فیصلہ کیا تھا میں اس خدمت سے بہتر دنیا میں کوئی خدمت نہیں سمجھتا۔ عبداللہ ابن عمر نے یہ سن کر نہایت مسرت کا اظہار کیا اور قلم ودوات و کاغذ منگوا کر یزید کو ایک خط لکھا جس میں پندونصیحت اور خوف خدا کا حوالہ دے کر لکھا کہ تم ابن زیاد حاکم کوفہ کو جلد سے جلد حکم دے کر مختار بن ابی عبیدہ ثقفی کو قید خانہ سے رہا کراؤ ۔ اس خط کا عنوان یہ تھا۔ عبداللہ ابن عمر بن خطاب کی طرف سے یزید ابن معاویہ ابن ابی سفیان کے نام پھر دیباج سپاہ کا ایک ٹکٹرا منگوایا اس میں اس مکتوب کو لپٹیا اور اسی میں اپنی بیوی اور لڑکیوں کے سر کے بال بھی رکھ دئیے اور اسے باندھ کر معلم عمیر ہمدانی کے حوالہ کیا اور اسے تیز رونا قہ اور زادراہ دے کر روانہ کردیا ۔ عمیر ہمدانی ابن عمر کا خط لیے ہوئے نہایت سرعت کے ساتھ چل کر دمشق پہنچے۔ وہاں پہنچ کر داخل دربار یزید ہونا چاہا لوگوں نے داخلہ سے روک دیا وہ حیران و پریشان اس مقام سے واپس ہوکر مسجد کے قریب ایک کمرہ کرایہ پر لیا اور اسی میں قیام پذیر ہوگیا اور پابندی کے ساتھ مسجد میں جاکر نماز پڑھنے لگا اور ہر نماز کے بعد لوگوں سے اس دعا کی درخواست کرتا تھا کہ خدا ان لوگوں پر رحم کرے جو میری حاجت برآری کریں لوگ اس کی حاجت برآری کے لیے برابر دعا کرتے تھے یہ روزانہ مسجد میں دعا کر اکر دربار یزید میں داخلہ کے لئے جاتا اور وہاں سے محروم واپس آتا اسی طرح کئی روز گزر گئے۔

ایک دن امام مسجد نے اپنے مقتدیوں سے کہا کہ لوگ یہ غلط کہتے ہیں کہ اہل کوفہ بے وفا ہوتے ہیں میں دیکھ رہا ہوں کہ ایک کوفی روزانہ لوگوں کیلئے دعا کرتا ہے اور وہ اپنی ایک حاجت کا حوالہ بھی دیتا ہے لیکن ہم نے کبھی اس سے یہ نہ پوچھا کہ اس کی حاجت کیا ہے اس سے دریافت حال کرنا چاہیے لوگوں نے کہا کہ اس کے لیے آپ سے زیادہ موزوں اور کون شخص ہے ۔ آپ اس سے دریافت فرمائیں کہ اس کی کیا حاجت ہے ایک دن اپنی حسب عادت جب عمیر ہمدانی نے دعا کرائی تو لوگوں نے امام جماعت سے کہا کہ آپ اپنے لڑکوں کو لے کر اس کے قیام گاہ پر جائیں اور اس سے حاجت دریافت فرمائیں ۔ اس نے کہا بہتر ہے۔ جب نماز کے بعد لوگ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے تو امام جماعت مسجد سے نکل کر عمیر ہمدانی کی قیام گاہ پر گیا ۔ عمیر نے اس کی بڑی عزت کی بالاخر اس سے حاجت دریافت کی اور کہا کہ بھائی اگر تم قرضدار ہو تو ہم قرضہ ادا کریں اگر احسان کا خواہش مند ہے تو ہم احسان کریں اگر کسی سے خوفزدہ ہو تو ہم تیری حفاظت کریں ۔

اگر مال دنیا کا خواہش مند ہو تو ہم تیری اس خواہش کو پوری کریں اور اگر کوئی اور حاجت ہو تو اسے بیان کرتا کہ ہم تدارک کی سعی کریں۔ عمیر ہمدانی نے کہا کہ میں ان میں سے کوئی حاجت نہیں رکھتا اور کچھ کہہ بھی نہیں سکتا۔

ان لوگوں نے اسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم علی مرتضیٰعليه‌السلام اور حسینعليه‌السلام کی قسم دی کہ اپنی حاجت بتادے عمیر ہمدانی جب ان کی گفتگو سے مطمئن ہوا تو کہنے لگا کہ میں یزید کے نام عبداللہ بن عمر کا ایک خط لایا ہوں اور اس تک پہنچانا چاہتا ہوں بروایت اس نے ساری داستان حضرت مختار سے متعلق بیان کردی

امام جماعت جو بروایت آقائے دربندی شیعہ اور محب آل محمد تھا ۔ عمیر ہمدانی سے کہنے لگا کہ مجھے تم سے پوری پوری ہمدردی ہے تم اگر یزید سے ملنا چاہتے ہو تو اس کی صورت یہ ہے کہ تم اپنی ہئیت اور شباہت بدل دو ۔ اور جس طرح میں کہوں اس طرح کا لباس پہنو معلم نے کہا نہایت بہتر ہے جیسا آپ فرمائیں گے میں کروں گا امام مسجد نے کہا تم سفید دیباج کی قمیض پہنو اور سفید دیباج ہی کا پائجامہ پہنو اور دیباج سفید کی چادر سر پر ڈالو اور سفید جوتیاں پہنو اس کے بعد قصر یزید میں جاؤ جب تم وہاں پہنچو گے تو تم کو ایک ہزار سے زیادہ مسلح لوگ پہلی ڈیوڑھی میں ایسے ملیں گے جو شمشیر برہنہ لئے کھڑے ہوں گے تم نہ ان کی طرف دیکھو اور نہ ان کو سلام کرو۔ اور وہاں سے اور آگے بڑھ جاؤ پھر دوسری ڈیوڑھی میں تمہیں پہلی ڈیوڑھی سے زیادہ لوگ مسلح نظر آئیں گے تم ان کی طرف بھی متوجہ نہ ہو اور سلام کیے بغیر آگے بڑھ جاؤ پھر تیسری ڈیوڑھی میں داخل ہو وہاں تمہیں دوسری سے بھی زیادہ مسلح لوگ نظر پڑیں گے تم ان کی طرف مثل سابق التفات نہ کرو ۔اور بلاسلام کیے ہوئے آگے بڑھ جاؤ پھر چوتھی ڈیوڑھی میں داخل ہوجاؤ وہاں تم کو پانچ سوار نظر آئیں گے جو دیوان خانے کے عمال ہوں گے تم ان کی طرف بالکل توجہ نہ کرو اور سلام کیے بغیر آگے بڑھ جاؤپھر پانچویں ڈیوڑھی میں داخل ہو وہاں تم کو پہلے سے زیادہ سوار نظر آئیں گے ان کی طرف مطلقاً متوجہ نہ ہو اور بالکل بے خوف آگے بڑھ جاؤاور چھٹی ڈیوڑھی میں داخل ہوجاؤ۔ وہاں پہنچ کر تم بے شمار سوار وں کودیکھو گے کہ دو بڑے چوڑے چبوترے بنے ہوئے ہیں اور ان پر مروارید کے ایسے فرش بچھے ہوں گے جو مطلا ہوں گے اور ہر ایک پر تین تین افراد بیٹھے ہوں گے جو شراب سے مخمور لہو و لعب میں مشغول ہوں گے ۔

یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے امام حسینعليه‌السلام کا سرطشت طلا میں رکھ کر یزید کے سامنے پیش کیا تھا اور یزید نے خوش ہوکر انہیں بلند مقام عطا کیا ہے ۔ ان لوگوں کو طشتیہ کہتے ہیں تم جب ان کے قریب پہنچو تو بلاتوجہ والتفات بلاسلام کیے ہوئے ان کے پاس سے گذر جاؤ اور بالکل خوف و ہر اس نہ کرو اور آگے بڑھ جاؤ ، جب آٹھویں ڈیوڑھی میں پہنچو تو دو چبوترے پہلے سے بھی زیادہ چوڑے تم کو نظر آئیں گے اور ان پر جوفرش ہوں گے وہ پہلے سے زیادہ قیمتی اور مرصع ہوں گے مگران فرشوں پر کوئی بیٹھا ہوا نہ ہوگا جب وہ چبوترے اور فرش تمہیں خالی نظر آئیں تو تم اپنی نظر بچا کر بے توجہی کے ساتھ وہاں سے گزر جاؤ اور ہرگز ان چبوتروں کی طرف حیرت سے نظر نہ کرو ورنہ خادمان یزید تم کو اجنبی سمجھیں گے

اس کے بعد جب دسویں ڈیوڑھی میں داخل ہوتو تم کو ایک نہایت حسین اور خوبصورت جوان نظر آے گا ۔ وہ سیاہ لباس پہنے ہوگاوہ محب امام حسینعليه‌السلام ہوگا اس کا واقعہ یہ ہے کہ جس دن امام حسینعليه‌السلام شہید ہوئے ہیں اسی دن سے اس نے سیاہ لباس پہن لیا ہے اور ہمیشہ لباس غم میں رہتا ہے ، اکثر رویا کرتا ہے اے عمیر جس وقت تم اس کے سامنے پہنچو گے تمہارا مقصد پورا ہوجائے گا ۔ وہ ایسا ہے کہ آزاربند بن کر اپنی روزی پیدا کرتا ہے ۔ یزید سے مطلقاً کچھ نہیں لیتا۔ یہ باتیں سن کر عمیر بن عامر ہمدانی خوش و مسرور ہوگئے اور امام مسجد کو دعائیں دینے لگے امام مسجد یزید سے ملنے کی ترکیب بتا کر عمیر ہمدانی سے رخصت ہوگیا۔ رات گذری صبح ہوئی ، عمیر ہمدانی نے اپنا بکس منگوایا اور اس میں سے دو دیباج کے جامے نکالے ۔ اور ایک رومی جامہ نکالا اور اسے پہنا پھر اس کے اوپر خزکاجامہ پہنا اور خزکوفی کا عمامہ باندھا اور دو چمڑے کے موزے پہنے اور اپنے کو مختلف قسم کی خوشبو سے معطر کیا اور عبداللہ بن عمر کا وہ خط جس میں اس کی بیوی اور لڑکیوں کے سر کے بال بھی تھے ہمراہ لیا اور نکل کھڑے ہوئے بالاخر یزید کے محل سرا میں جاپہنچے۔

معلم عمیر ہمدانی کہتے ہیں کہ میں نے وہی کچھ دیکھا جو امام مسجد نے بتایا تھا میں ایک کے بعد دوسری ڈیوڑھی کواسی طرح طے کر تاہوا جس طرح امام مسجد نے بتایا تھا دسویں ڈیوڑھی پر جاپہنچا جب اس میں داخل ہو تو جوان خوشرو سے ملاقات ہوئی میں نے اسے سلام کیا اس نے جواب میں سلام کے بعد کہا ۔لا اله الا الله والله اکبر ۔ ارے تو اٹھارہ دن تک کہاں تھا اے عمیر میں ۱۸ دن سے تمہارا انتظار کررہا ہوں میں نے کہا اے میرے سردار میں تو بار بار آتا رہا لیکن دربان داخل نہیں ہونے دیتے تھے۔ پھر امام مسجد نے مجھے ایک ترکیب بتائی جس کے بعد میں تم تک پہنچامعلم کا بیان ہے کہ اس کے بعد میں نے جوان خوشرو کو قسم دے کر پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ جب کہ میں پہلے پہل یہاں پہنچا ہوں تم نے میرا نام کیسے جانا ۔ اس نے کہا کہ جس دن تم دمشق میں پہنچے ہواسی دن حضرت امام حسین علیہ السلام نے مجھے خواب میں حکم دیا ہے کہ تمہارے پاس عمیر ہمدانی ایک خاص حاجت لے کر آرہے ہیں تم ان کی مقصد برآری جلد سے جلد کردو۔ حجۃ الاسلام علامہ محمد ابراہیم لکھتے ہیں کہ یہ وہی شخص ہے جس نے ایک لاکھ اشرفیوں کا سر امام حسینعليه‌السلام خرید کر کربلا میں جسم کے ساتھ دفن کرنے کیلئے بھیجا تھا۔

عمیر ہمدانی کہتے ہیں کہ ملاقات کے بعد اس جوان خوشرو نے مجھے بڑی عزت سے اپنے پہلو میں بٹھایا ،

میں اس کے پہلو میں بیٹھا ہی تھا کہ دیکھا کہ ۱۰۰ آدمی ہاتھوں میں گلاب پاش اور مجمرطلائی لیے ہوئے میرے سامنے سے گزرے میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں اس نے کہا کہ یزید کے حمام کو معطر کرنے والے ہیں جب یزید حمام جاتا ہے تو یہ لوگ اس کے حمام میں داخل ہونے سے پہلے حمام کو معطر کرتے ہیں ۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد دیکھا کہ پانچ سو خوبصورت لونڈے جن کی عمر دس سال اور سات سال کی ہوگی وہ گزرے ، میں نے پوچھا یہ کون ہیں اس نے کہا کہ یہ یزید کے گرد جمع رہنے والے لوگ ہیں۔ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ یزید آرہا ہے وہ دیباج کا لباس پہنے ہے اس کے سر پر ایک چادر ہے جو سونے سے مزین ہے اس کے پاؤں میں سونے کی جوتی ہے جس کا تسمہ مروارید اور چاندی کا بنا ہوا ہے اور اس کے بغل میں ریشم کا بند ہے ۔ وہ ہاتھ میں ایک عصا لئے ہوئے ہے جس پرلااله الا الله محمد رسول الله ۔ یزید امیرالمومنین لکھا ہوا ہے ۔

خداوندعالم نے دنیا ہی میں اس کا منہ سیاہ کیا ہوا ہے ۔ اس کی ناک پر کسی چوٹ کا نشان نمایاں ہے اس کیلئے محل سرا سے حمام تک زریں کرسیاں بچھی ہوئی ہیں۔ عمیر بن عامر ہمدانی کا بیان ہے کہ جب میں نے اس کی شان و شوکت دیکھی آنکھوں میں کربلا کا نقشہ پھر گیا اور میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ۔ یزید کو دیکھ کر جوان خوشرو نے میرے ہاتھ سے عبداللہ ابن عمر کا لفافہ لے لیا اور حمام میں داخل ہونے سے پہلے وہ لفافہ یزید کے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ تو نے اپنے باپ کے حق کی قسم کھا کر مجھ سے کہا ہوا ہے کہ تو میرے ہر حاجت پوری کرے گا تجھے معلوم ہے کہ میں نے آج تک تجھ سے کوئی خواہش نہیں کی ،

یزید نے کہا کہ کیا کوئی حاجت اس وقت رکھتا ہے ، اس نے کہا کہ ہاں! میری خواہش یہ ہے کہ اس نامہ کو پڑھ کر اسی وقت اس کی تعمیل کردے۔ یہ سن کر یزید نے نامہ ابن عمر ہاتھ میں لیا اور اس کو کھول کر پڑھا پھر پوچھا کہ جو شخص یہ نامہ لایا ہے وہ کہاں ہے جوان نے کہا وہ یہ حاضر ہے ۔ عمیر ہمدانی کہتا ہے کہ جب میں یزید کے سامنے پیش ہوا تو اس نے کہا کہ عبداللہ ابن عمر کی یہ خواہش ہے کہ میں ابن زیاد حاکم کوفہ کو یہ لکھ دوں کہ وہ مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی کو رہا کردے ۔ عمیر نے کہا جی ہاں یزید نے کہا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ تم امام حسینعليه‌السلام کے شیعوں میں سے ہو۔ میں نے کہا حضور میں تو ایک کرایہ کا آدمی ہوں مجھے ابن عمر نے یہ خط دے کر اجرت پر آپ کے پاس بھیجا ہے۔

یزید نے خط پڑھا ، اس کا رنگ اڑگیا ۔ چہرہ زرد ہوگیا ، کہنے لگا ابن عمر نے نہایت اہم مسئلہ کے متعلق لکھا ہے لیکن کیا کروں کہ میں اس کی بات رد نہیں کرسکتا جوان خوشرونے کہا اے خلیفہ وقت تیرا کیا نقصان ہے تو تو ابن عمر کی خواہش پوری کرے گا اگر اس کی درخواست مان لے گا اس سے کیا بحث کہ خط لانے والا شیعہ حسین ہے یا کون ہے یہ سن کر ابن معاویہ نے ابن زیاد کو خط لکھا جس میں تحریر کیا کہ میرا خط پاتے ہی مختار کو رہا کر دے اور نہایت عزت و احترام کے ساتھ اسے ابن عمر کے پاس مدینہ بھیج دے اور اسے اور اس معلم عمیر ہمدانی کو انعام واکرام دے اور ان لوگوں کو ہرگز کوئی تکلیف نہ ہونے پائے۔ اس کے بعد اس جوان خوشرد کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے تمہاری خواہش پوری کردی اور سنو اگر تم دو لاکھ روپے مانگتے تو مجھے اتنا نہ کھلتا جتنا اس خط کی تعمیل مجھے کھلی ہے لیکن دو وجہوں سے میں نے اس کے مضمون کی تعمیل کردی ہے ایک یہ کہ عبداللہ بن عمر کے مجھ پر حقوق ہیں دوسرے تم سفارش کرنے والے ہو۔

عمیر ہمدانی کہتے ہیں کہ یہ کہنے کے بعد یزید نے حکم دیا کہ میرے لیے ایک عمدہ قسم کی سواری مہیا کی جائے اور مجھے پانصددرہم دئیے جائیں اور خلعت عطا کی جائے حکم کو ابھی دیر نہ ہوئی تھی کہ سب کچھ حاضر کردیا گیا۔ میں بے انتہا خوش ہوا اور قصر یزید سے باہر نکلا اور اسی ناقہ پر سوار ہوکر جو یزید نے دیاتھا کوفہ کی طرف روانہ ہوگیا

اور نہایت تیزی سے چل کر کوفہ پہنچ گیا وہاں پہنچ کر ایک چادر سر میں اس طرح لپٹ کر کہ آنکھوں کے سوا کچھ نظر نہ آئے دارالامارة پروارد ہوا ابن زیاد کے دربان سے اجازت داخلہ مانگی ۔ انہوں نے پوچھا تم ہوکون میں نے کہا کہ میں یزید کافر ستادہ ہوں یہ سن کردربانوں نے اجازت دی میں ابن زیاد کے پاس حاضر ہوا اور منہ کھول کر اس کے سامنے یزید کا خط پیش کیا یزید کے خط کو پڑھ کر ابن زیاد نہایت غیظ و غضب کی حالت میں کچھ دیر خاموش رہ کرہنس پڑا اور کہنے لگا کہ کم بخت عمیر تو نے یہ کیا کیا میں نے کہا کہ ہاں میں نے کیا ہے اور یہ کچھ کرنا دل سے چاہتا تھا ابن زیاد کی عادت یہ تھی کہ وہ یزید کا خط پاتے ہی اپنے ماتھے پر اسے رکھتا تھا اور اسے بوسہ دیتا تھا چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا تھا عرضیکہ خط پڑھنے کے بعد اس نے کہا کہ حکم یزید سرآنکھوں پر۔

اس کے فوراً بعد حکم دیا کہ مختار کو عزت و توقیر کے ساتھ میرے سامنے پیش کیا جائے ، پھر تھوڑی ہی دیر کے بعد مختار ابن زیاد کے سامنے پیش کردئیے گئے ابن زیاد نے جو نہی مختار کو دیکھا سروقد تعظیم کیلئے کھڑا ہوگیا اور فورا ًایک طبیب کو بلوا کر ان کے اس زخم کا علاج کرایا جو اسی کی ضرب سے ہوگیا تھا۔ پھر حکم دیا کہ مختار کو حمام میں لے جایا جائے اور انکے بال اور ناخن کاٹے جائیں اور خلعت فاخرہ انہیں پہنایا جائے۔ جب مختار حمام وغیرہ سے فارغ ہوئے تو حکم دیا کہ انہیں نہایت عمدہ سواری کے ذریعہ سے مدینہ منورہ پہنچا دیا جائے اور یہ حکم دیا کہ ایک ناقہ پر زاد راہ اور عطا یا رکھے جائیں اور ایک ناقہ پانی کا ساتھ کیا جائے اور دس ہزار دینا ر نقد دئیے جائیں ۔ الغرض حکم ابن زیاد کے مطابق مختار کو تمام چیزیں دے دی گئیں اور بروایت رو ضۃ الصفا ان کو حکم دے دیا گیا کہ تین دن میں کوفہ چھوڑ دیں۔ ایک روایت کی بنا پر عمیر ہمدانی کو بھی بہت کچھ دیا گیا ۔ اس کے بعد یہ دونوں دارالامارة ابن زیاد سے برآمد ہوکر روانہ ہوئے ۔ عمیر ہمدانی کا بیان ہے کہ میں حصرت مختار کے ہمراہ وہاں سے نکل کر اپنے مکان پر پہنچا اور نہایت عمدہ کھانا تیار کرا کر حصرت مختار کہ خدمت میں پیش کیا حصرت مختار نے فرمایا ۔

اے عمیر اب میں لذید کھانا کیا کھاؤں گا سنو ! خدا کی قسم اب میں اس وقت تک نہ لذیذ کھانا کھاؤں گا نہ عورت کے پاس جاؤں گا

اور نہ دنیا میں خوشی کا کوئی کام کروں گا جب تک بنی امیہ سے حضرت امام حسینعليه‌السلام کے واقعہ کربلا کا بدلہ نہ لے لوں جب میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاؤں گا سب کچھ کروں گا میری خواہش ہے کہ میں دل بھر کر بنی امیہ کو قتل کروں انہیں پامال کروں ۔ ان کے سروں پر بیٹھوں ان کی لاشوں پر بساط فرح و سرور بچھا کر سکوں کی سانس لوں اس کے بعد لذیذ کھانا کھاؤں۔ عمیر ہمدانی کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے معمولی کھانا کھایا اس کے بعد حضرت مختار کی خدمت میں میں نے سواری حاضر کی اس کے بعد ہم دونوں ناقوں پر سوار ہوکر کوفہ سے باہر نکلے حضرت مختار نے شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا اب عمیر خداحافظ اب میں جاتا ہوں تم واپس جاؤ میں نے کہا میرے مولا آپ نے یہ کیا کہا ارے اب میں بھلا آپ سے جدا ہوسکتا ہوں ۔

میں تو اب آپ کے قدموں سے تاحیات لپٹا رہوں گا مختار نے فرمایا بہتر ہے اس کے بعد انہوں نے مجھے اپنے ہودج میں بٹھا لیا اور ہم دونوں مدینہ کیلئے روانہ ہوگئے۔ قطع منازل وطے مراحل کرتے ہوئے جلد سے جلد مدینہ منورہ پہنچے وہاں پہنچ کر عبداللہ ابن عمر کے مکان کی جانب روانہ ہوئے ہم لوگ جس وقت ابن عمر کے مکان پر پہنچے ، انہوں نے ہریسہ پکوایا ہوا تھا اور وہ دسترخوان پر رکھا ہوا تھا ۔ وہ اپنی بیوی کو جنہیں بہت چاہتے تھے پکار رہے تھے کہ آؤ کھانا کھالو وہ کہہ رہی تھیں کہ میں ا س وقت تک گوشت کا استعمال نہ کروں گی جب تک اپنے بھائی مختار کی شکل نہ دیکھ لوں ابھی یہ باتیں زن وشوہر میں ہورہی تھیں کہ حضرت مختار نے دق الباب کیا ۔ ہمشیرہ مختار ، صفیہ نے پوچھا کون ہے ۔ حضرت مختار نے کہا "میں مختار ہوں" یہ سننا تھا کہ صفیہ اپنے مقام سے اٹھی اور بے تحاشا دروازے کی طرف دوڑی اور دروازہ کھول کر مختار کو گلے سے لگا لیا ۔ بھائی بہن گلے لگ کر فرط مسرت سے دونوں رونے لگے۔یہاں تک دونوں بیہوش ہو گئے اور قریب تھاکہ دونوں ہلاک ہو جاہیں۔اکثر روایت کی بنا پر حضرت مختار کو ہوش آگیا لیکن صفیہ کو ہوش نہ آیا جب انہیں ہوش میں لانے کی کوشش کی گئی تو معلوم ہوا کہ ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی ہے۔ یہ حال دیکھ کر حضرت مختار اور ابن عمر بہت غمگین اور رنجیدہ ہوئے

اور سخت افسوس اور غم کی حالت میں ان کی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا حضرت مختار مدینہ میں اس وقت تک مقیم رہے جب تک حکم خدا وندی واقعہ کربلا کے بدلا لینے کا نہیں ہوا (نورالابصار فی اخذ الثار ص ۲۶ تا ص ۵۴ طبع لکھنو ، اصدق الاخبار فی الاخذ بالثار ص ۳۴ طبع دمشق ، رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۷۴ ، ذوب النضار فی شرح الثار ابن نما ص ۴۰۱ ، ضیمہ بحار جلد ۱۰ طبع ایران)

علامہ محمد باقر تحریر فرماتے ہیں کہ مختار کے ساتھ عبداللہ ابن حارث بھی رہا ہوگئے تھے کیونکہ ان کی سفارش ہندبنت ابی سفیان نے کی تھی جوان کی خالہ تھی اس کے بعد لکھتے ہیں کہ حضرت مختار کو ابن زیاد نے رہا کرنے کے بعد کہہ دیا تھا کہ اگر تم تین یوم میں کوفہ چھوڑ نہ دو گے تو قتل دئیے جاؤ گے حضرت مختار اسی وجہ سے مدینہ کی طرف تیزی سے جارہے کہ مقام واقصہ میں قصعب بن زہیر ازدی ملے انہوں نے پوچھا کہ تمہاری آنکھ کو کیا ہوگیا ہے ۔ حضرت مختار نے فرمایا کہ ابن زیاد نے ا س پر ضرب لگائی ہے اور اس نے مجھے سخت ترین قید میں ایک عرصہ سے رکھ چھوڑا تھا اب میں رہا ہوکر اپنی بہن صفیہ زوجہ عبداللہ ابن عمر کے پاس مدینہ جارہا ہوں اے قصعب سنو میں عنقریب انشاء اللہ ابن زیاد کو قتل کردوں گا۔

قتلنی الله ان لم اقتله اگر میں اسے قتل نہ کروں تو خدا مجھے قتل کرا دے میں اس کے اعضا وجوارح ٹکڑے ٹکڑے کروں گا حضرت امام حسین کے واقعہ کا اس طرح بدلا لوں گا کہ دنیا انگشت بدنداں ہوگی میں نے تہیہ کرلیا ہے کہ حضرت یحییٰ بن زکریا کے قتل پر جس طرح ستر ہزار قتل کیے تھے میں بھی کم از کم ستر ہزار ہی و شمنان آل محمد کو قتل کروں گا فرمایا۔

والذی انزل القران وبین الفرقان و نذع الادیان و کره العصیان لاقتلن القضاة من ازدوعمان و ملوحج و همدان ونهد و خولان وبکر وهران ونقل ویتهان وعیس وزبیان و قبائل قیس وغیلان غضبا لابن بنی الرحمن ۔

اس ذات کی قسم جس نے قرآن مجید نازل کیا اور فرقان حمید کو ظاہر کیا اور دین کی راہ کھولی اور گناہوں کو بڑی نگاہ سے دیکھا میں ضرور ضرور ان گناہگاروں جنہوں نے امام حسینعليه‌السلام کے خون سے ہاتھ کو رنگین کیاہے قتل کروں گا ، چاہے وہ قبیلہ ازوکے ہوں یا عمان کے مدحج کے ہوں یا ہمدان کے نہد کے ہوں یا خولان کے بکر کے ہوں یا ہران کے نقل کے ہوں یا تیہان کے عبس کے ہوں یا غیلان کے (یعنی کسی دشمن کو بھی نظر انداز نہ کروں گا۔ (دمعۃ ساکبہ ص ۴۰۵ طبع ایران)

واضح ہوکہ اس واقعہ کے سلسلہ میں بعض حضرات نے معلم عمیر بن عامر ہمدانی کا نام کثیر بن عامر لکھا ہے جو میرے نزدیک صحیح نہیں ہے۔


بارہواں باب

حضرت مختار کی کوفہ سے مکہ کو روانگی اور ابن زبیر سے ملاقات

حجۃ الاسلام مولانا محمد ابراہیم لکھتے ہیں کہ حضرت مختارکوفہ سے روانہ ہوکر مکہ پہنچے اور سیدھے ابن زبیر کے پاس گئے ان سے ملے ابن زبیر نے ان کی بڑی تعظیم و تکریم کی اور پوچھا کہ تم کوفہ سے آرہے ہو یہ بتاؤ کہ کوفہ کے لوگوں کا کیا حال ہے اور ان کے جذبات کن حدود تک قابل اعتماد ہیں حضرت مختار نے فرمایا کہ تم کوفہ کے لوگوں کے بارے میں کیا پوچھتے ہو۔ وہ دل میں دشمنی اور ظاہر میں دوستی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور میرے خیال میں وہ ہرگز قابل اعتماد نہیں ہیں۔ عبداللہ ابن زبیر نے اہل کوفہ کی مذمت شروع کی اور بہت زیادہ ان کی تذلیل کے الفاظ استعمال کیے حضرت مختار نے فرمایا کہ سنو ہمارے دل میں جو کچھ ہے وہی تمہارے تزدیک بھی ہے ہم بھی واقعہ کربلا کا بدلہ لینا چاہتے ہیں

اور تم بھی یہی کچھ کہتے ہو اس سے بہتر کچھ نہیں ہوسکتا اور ہم اور تم مل کر اس مہم کو سرکریں اور اس کی بہترین ترکیب یہ ہے کہ تم اپنا ہاتھ بڑھاؤ میں تمہاری بیعت کرلوں تم میری نگاہ میں یقینا یزید جیسے ملعون سے بہتر ہو تم فہیم اور عقل مند ہو ، تم ہوشیار اور صاحب فراست ہو وہ ملعون بدکردار اور احمق ہے۔

ابن زبیر سنو! میں تمہارے ساتھ رہ کر تمہاری حکومت کی بنیادوں کو پورے طور پر مستحکم کرسکتا ہوں اور عراق و عرب اور دیار شام کو تمہارے زیرنگین کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہوں ابن زبیر نے کہا تمہارا کہنا درست ہے لیکن میرے خیال میں تامل سے کام لینا چاہیے ۔ اورعجلت نہ کرنی چاہیے ۔ یہ سن کر مختار نے محسوس کیا کہ ابن زبیر اپنے راز کو پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں اور مجھے بھی بتانا پسند نہیں کرتے اس احساس کی وجہ سے مختار کو سخت رنج ہو اور وہ انتہائی غصہ میں عبداللہ ابن زبیر کے پاس سے اٹھ کر روانہ ہوگئے۔

حضرت مختار کی مکہ سے طائف کو روانگی

ابن زبیر کے پاس سے اٹھ کر حضرت مختاررنجیدگی کے عالم میں مکہ سے طائف کی طرف روانہ ہوگئے اور وہاں پہنچ کر انہوں نے اپنے عزیزوں کے ساتھ ایک سال قیام کیا۔ مختار کے چلے جانے کے بعد ابن زبیر کو محسوس ہوا اور وہ ان کی تلاش کرنے لگے ایک سال تک ابن زبیر حضرت مختار کو ڈھونڈھتے رہے لیکن ان کا نشانہ نہ ملا ایک سال کے بعد حضرت مختار حج کرنے کے ارادے سے پھر مکہ واپس آئے ایک دن وہ مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ابن زبیر کی ان پر نظر پڑگئی یہ دیکھ کر ابن زبیر نے اپنے ہمدردوں سے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ مختار میری بیعت کرلیں جہاں تک میں خیال کرتا ہوں وہ بیعت نہ کریں گے۔

حضرت مختار مکہ میں اور ابن زبیر کی بیعت

یہ سن کر عباس بن سہل انصاری نے کہا کہ مجھے اجازت دیں تو میں راہ ہموار کروں۔ابن زبیر نے انہیں اجازت دی اور وہ حضرت مختار کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے کہنے لگے کہ ابن زبیر کی بیعت بڑے بڑے لوگوں نے کرلی ہے تعجب ہے کہ آپ نے اب تک ان کی بیعت نہیں کی حضرت مختار نے فرمایا کہ میں ایک سال قبل ان کے پاس اسی بیعت کے لیے گیا تھا لیکن انہوں نے میری طرف کوئی خاص توجہ نہیں کی میں یہ بھی چاہتا تھا کہ ان کے دشمنوں کو تہ تیغ کرکے ان کی حکومت کو مستحکم کروں مگر جب کہ انہوں نے توجہ نہ کی اور اپنے معاملات کو ہم سے پوشیدہ رکھا تو ہم نے بھی کنارہ کشی اختیار کرلی پھر اس کے بعد سے میں ان کے پاس نہیں گیا اور اب میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ انہیں میری ضرورت ہے یا مجھے ان کی ضرورت ہے۔ عباس بن سہل انصاری نے کہا کہ آپ ٹھیک کہتے ہیں لیکن بات یہ ہے کہ جس وقت آپ نے ان سے بیعت کے لیے کہا تھا کچھ لوگ ایسے اس وقت بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے سامنے وہ کچھ کہنا نہیں چاہتے تھے ۔

اے ابواسحاق بس یہی وجہ تھی ورنہ وہ آپ کے بہت زیادہ خواہش مند ہیں اور آپ کی امداد کے طالب ہیں میری رائے یہ ہے کہ آپ میرے ہمراہ رات کے وقت ان کے پاس چلیں اور ان سے ملاقات کریں اور ایک دوسرے کے مافی الضمیر سے آگاہی حاصل کریں مختار نے کہا بہت بہتر ہے

چنانچہ رات کے وقت حضرت مختار ، عبداللہ ا بن زبیر کے پاس عباس انصاری کے ساتھ گئے ابن زبیر نے جو نہی حضرت مختار کو دیکھا اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ان کی بڑی تعظیم و تکریم کی اور بہت زیادہ عذر خواہی کی اور کہا کہ اس سے قبل جب آپ نے بیعت کا سوال کیا تھا تو میں نے اس لیے خاموشی اختیار کی تھی کہ کچھ نامناسب قسم کے لوگ اس وقت میرے پاس بیٹھے تھے میں نہیں چاہتا تھا کہ ان کے سامنے اس قسم کی بات ہو اب میں چاہتا ہوں کہ آپ جو کچھ کہنا چاہتے ہوں کہیں میں ہر طرح آپ کے ارشاد کا احترام کروں گا، بے شک آپ میرے ہمدرد اور میرے مشفق و مہربان ہیں۔

حضرت مختار نے کہا کہ لمبی چوڑی گفتگو سے کوئی فائدہ نہیں بس مختصریہ ہے کہ میں آپ کی اس شرط سے بیعت کرتا ہوں کہ مجھے آپ کی حکومت میں اتنا دخل ہوکہ آپ جو کچھ کریں مجھے اپنے مشورے میں ضرور شامل رکھیں ۔ خصوصا ً ایسے موقع کے بعد جب آپ کو یزید ملعون پر غلبہ حاصل ہوجائے اور میں یہ اس لیے چاہتا ہوں کہ یزید اور اس کے حامیوں سے واقعہ کربلا کا بدلہ لینے میں مجھے کامیابی نصیب ہوسکے۔

ابن زبیر نے کہا کہ "اے ابوسحاق ! میں تمہاری بیعت کتاب خدا اور سنت رسول کے حوالہ سے چاہتا ہوں" حضرت مختار نے فرمایا کہ ایسی بیعت تو میں ایک غلام کی بھی کرنے کو تیار ہوں آپ تو میرے سردار اور آقا ہیں۔ شرط کے بموجب ابن زبیر بیعت لینے پر راضی نہ تھے لیکن عباس بن سہل انصاری کے درمیان پڑنے سے معاملہ روبراہ ہوگیا اور حضرت مختار نے محض اس خیال سے کہ واقعہ کربلا کا بدلا لینے میں کامیابی نصیب ہوسکے ابن زبیر کی بیعت کرلی۔اسی دوران میں عمر بن زبیر جو عبداللہ بن زبیر کے بھائی تھے ان پر حملہ آور ہوئے حضرت مختار نے پوری کوشش کی اور اس سے پوری نبروآزمای کے بعد اس پر قابو پا لیا اور ایسے حالات پیدا کردئیے کہ وہ گرفتار ہوگیا۔اسی طرح جب ابن زبیر پر حکم یزید سے حصین بن نمیر نے حملہ کیا اور خانہ کعبہ کا محاصرہ کرکے عبداللہ ابن زبیر کو قتل کرنا چاہا تو حضرت مختار نے اپنی پوری سعی سے اسے ناکام بنا دیا۔اس کے بعد حضرت مختار مدینہ منورہ تشریف لے گئے (نور الابصار ص ۸۳ طبع لکھنو ، و رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۷۵ طبع نو لشکور لکھنو، مجالس المومنین ۳۵۱ ، تاریخ طبری جلد ۴ ص ۶۴۸)


تیرہواں باب

حضرت مختار کا مدینہ میں قیام حضرت رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا خط

حضرت مختار کا مدینہ میں قیام حضرت رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا خط ،عزم مختار کی توانائی اور حضرت مختار کی حضرت امام زین العابدینعليه‌السلام سے اجازت طلبی کیلئے مکہ کو روانگی علماء مورخین کا بیان ہے کہ حضرت مختار عبداللہ ابن زبیر کی بیعت کرکے مکہ سے مدینہ منورہ واپس آگئے۔ اور وہیں اس وقت تک قیام پذیر رہے ۔

جب تک خداوندعالم کا حکم انتقام نافذ نہیں ہوگیا، امام اہل سنت علامہ عبداللہ بن محمد رقمطراز ہیں۔ثم ان المختار اقام فی المدینة الی ان احب الله ان ینتقم من ظالمی ال محمد صلوت الله علیهم اجمعین ۔ الخ

پھر حضرت مختار مدینہ میں اس وقت تک مقیم رہے جب تک خداوندعالم نے یہ نہیں چاہا کہ آل محمد پر ظلم کرنے والوں سے بدلہ لیا جائے اور انہوں نے ان کے جو حقوق غصب کیے ہیں اس کی سزادی جائے۔ (قرة العین ضمیمہ نور العین ص ۱۳۳ )

حضرت مختار مدینہ میں شب و روز اپنے منصوبے میں کامیابی کے اسباب پر غور و فکر کرتے رہتے تھے اورلوگوں سے مل کر اپنی کامیابی کے متعلق تبادلہ خیا لا ت کرتے رہتے تھے ۔

ان کاکوئی لمحہ ایسا گزرتا تھاجس میں وہ اپنے مقصد سے غافل رہتے رہے ہوں ۔آل محمد کے صفات واوصاف بیان کرنے اور ان کی نشرواشاعت رطب اللسان رہناان کی زندگی کاجزبن گیاتھا۔

حضرت مختا ر کو جو چیز متر ددکر تی تھی ۔وہ اہل کوفہ کی بیوفائی تھی اور انہیں اس کا بھی بڑا خیال تھا۔ کہ ساری دنیا مخالف ہے اور جس مقام پرمیں بد لہ لینے کاعزم کر چکا ہوں وہ کوفہ ہے اور کوفے کے تمام حسینی دلیر جن کی تعد اد تقر یبا ً پانچ ہزار ہے۔ سب جیلوں میں پڑے ہیں اور جیل بھی کوفے کی جس کامزہ مجھے معلوم ہے وہ اس پربھی بڑے تدبر سے غور کر رہے تھے کہ جبکہ کوفہ کی بڑی آبادی خون حسینی سے ہاتھ رنگین کیے ہوئے ہے اورہمیں انہیں کوقتل کرناہے۔ اور انہیں سے بدلہ لیناہے اور ہمارے مددگاروں کی تعداد بہت کم ہے پھر کیو ں کر کامیابی ہوگی۔

حضرت رسول کریم کا خط حضرت مختار کے نام

حضرت مختار یہی کچھ سوچ رہے تھے کہ ایک دن ایک شخض نے آکر آپ کی خدمت میں ایک خط پیش کیا۔ جب حضر ت مختا ر نے اُ سے کھو لا تو وہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفےصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حظ تھا ۔

مورخ ہروی علامہ محمد خاوند شاہ لکھتے ہیں:

سبب جزم مختار با نتقام وتصمیم عزیمت اوبر محاربہ و قتل اہل ظلام وصول کتاب امیرالمومنین علی بود و مفصل ان مجمل انکہ شعبی ۱ روایت میکند کہ روزے در مجلس مختار ناصر اہل بیت رسول اللہ نشة بودم ناگاہ شخصے برہیت مسافران درآمد ہ گفتالسلام علیک یا ولی الله ان گاہ مکتوبے سربمہر بیروں آور دوبدست مختار وادومعروض گردانید کہ این امانتی ست کہ امیرالمومنین علی بمن سپرد و فرمود بمختار رساں مختار گفت ترابخدای کہ جزاوخدائی نیست سوگندمی دہم کہ آنچہ گفتی مطابق واقعہ درست است آں شخص برصدق قول خود سوگندخوردہ مختار مہراز کاغذ برداشت و درآنجابود کہبسم الله الرحمن الرحیم السلام علیک امابعد بداں اے مختار خدائے تعالیٰ محبت اہل بیت رادردل توافگندوخون مارا ازاہل بغی وطغیان وارباب تمردو عصیان طلب خواہی داشت باید کہ خاطر جمع داری وہیچ گونہ پریشانی بہ ضمیر خود راہ نہ دہی ومختار بعداز اطلاع بر مضمون ایں مکتوب مستظہر و قوی دل شدہ در قتل دشمنان خاندان رسالت ، مساعی جمیلہ مبذول داشت )رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص (۷۵ ونور الابصار ص ۸۳ و مجالس المومنین ص ۳۵۷

کہ انتقام خون حسین پر حضرت مختار کی جرات اور اس پر عزم بالجزم کی وجہ یہ ہے کہ حضرت امیرالمومنین کا مرسلہ وہ مکتوب جو حضرت رسول نے رسال فرمایا تھا وہ مختار کو مل گیا اس اجمال کی تفصیل یہ ہے شعبی بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دن حضرت مختار کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ناگاہ ایک شخص بصورت مسافر داخل مجلس ہوا اس نے آکر السلام علیک یاولی اللہ کہا اور سربمہر ایک مکتوب حضرت مختار کے ہاتھ میں دے کربولا کہ یہ حضرت امیرالمومنین کی امانت ہے وہ مجھے دے گئے تھے کہ میں آپ کی خدمت میں پہنچاؤں حضرت مختار نے اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا کہ تم قسم کھاؤ کہ یہ جو بیان کررہے ہو بالکل درست ہے چنانچہ اس آنے والے نے قسم صداقت کھائی اس کے بعد حضرت مختار نے اس خط کی مہر توڑی اس میں لکھا تھا کہ خداوندعالم نے ہمارے اہل بیت کی محبت تمہارے دل میں ڈال دی ہے تم ہمارے اہل بیت کے دشمن سے عنقریب بدلہ لوگے دیکھو اس سلسلہ میں تم حیران و پریشان نہ ہونا اور دل جمعی کے ساتھ اپنا کام کرنا اس خط کو پانے کے بعد حضرت مختار نہایت قوی دل ہوگئے اور قتل دشمن میں دلیر ہو کر سامنے آنکلے اور پوری سعی سے واقعہ کربلا کا بدلہ لیا۔

اس خط کو پاتے ہی حضرت مختار کا جذبہ انتقام جوش مارنے لگا ان کی ہمت بلند اور ان کا حوصلہ جو ان ہوگیا لیکن چونکہ وہ سمجھتے تھے کہ انتقام لینا بغیر امام وقت کی اجازت کے صحیح نہ ہوگا اس لیے انہوں نے ضروری سمجھا کہ امام زمانہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے اجازت حاصل کریں اس مقصد کے لیے وہ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوگئے کیونکہ امام علیہ السلام اس زمانہ میں مکہ ہی میں قیام پذیر تھے۔ (لواعج الاحزان)

حضرت مختار مدینہ سے روانہ ہوکر مکہ جارہے تھے کہ راستہ میں ابن عرق سے ملاقات ہوئی وہ کہتے ہیں کہ رایت المختار اشترالعین الخ میں نے مختار کو دیکھا کہ ان کی آنکھ پر چوٹ ہے تو ان سے پوچھا کہ یہ زخم کیسا ہے جو اچھا ہونے کو نہیں آتا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ وہی چوٹ ہے جوابن زیاد کی مار سے پیدا ہوگئی تھی اور اب اس نے ایسی شکل اختیار کرلی ہے کہ کسی صورت سے اچھی نہیں ہوتی ۔

اے ابن عرق میں تمہیں بتائے دیتا ہوں کہ فتنہ ابھر گیا ہے اور فساد کی آگ تیار ہوگئی ہے اور دیکھو عنقریب وہ بھڑک اٹھے گی اور میں ابن زیاد کو اس کے کیفر کردار تک پہنچادوں گا ۔ (دمعۃ ساکبہ ص ۴۰۸ ، طبع ایران )

اس کے بعد حضرت مختار آگے بڑھے اور چلتے چلتے داخل مکہ ہوئے اور اس روایت کی بنا پر جس میں ظہور وخروج مختار تک کے لیے حضرت محمد حنفیہعليه‌السلام روپوش ہوگئے تھے حضرت مختار نے ان کو تلاش کرنا شروع کیا بالاخر ان سے ملاقات ہوئی ۔ مختار نے ان سے اپنے عزم وارادہ کو بیان کیا ۔ حضرت محمد حنفیہعليه‌السلام بے انتہا خوش ہوئے اور وہ یہ سمجھتے ہوئے کہ انتقام واقعہ کربلا بلا اجازت امام زمانہ درست نہیں ہے اور امام زمانہ اس وقت تک حضرت امام زین العابدینعليه‌السلام ہیں جن کو میں بھی قطعی طور پر امام زمانہ تسلیم کرتا ہوں (زوب النضار ابن نما ضمیمہ بحار جلد ۱۰ ص ۴۰۱)

ان سے دریافت کرنا چاہیے حضرت محمد حنفیہعليه‌السلام نے حضرت مختار سے کہا کہ جہاں تک میرا تعلق ہے میں واقعہ کربلا کے خون بہا کو واجب سمجھتا ہوں (تاریخ طبری جلد ۴ ص ۶۵۳ قرة العین ۱۴۳) اس کے بعد میرے تاریخی استنباط کے مطابق حضرت محمد حنفیہعليه‌السلام حضرت مختار کو لے کر حضرت امام زین العابدینعليه‌السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے تمام حالات بیان کیے اور حضرت رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خط کا حوالہ دیا ۔ حضرت مختار جو کہ خود بھی امام زین العابدین کی امامت کے قائل تھے۔ (معارف الملة الناجیة والناریہ ص ۵۶ )

حضرت امام زین العابدینعليه‌السلام سے اجازت کے طالب ہوئے اور امام علیہ السلام نے انہیں اجازت دے دی لیکن چونکہ بنی امیہ کا دور تھا اور حضرت امام ہر لمحہ خطرہ محسوس کررہے تھے لہٰذا انہوں نے اس مسئلہ میں اپنے کو سامنے لانا مناسب نہیں سمجھا (نورالابصار ص ۷)

اسی بنا پر حضرت محمد حنفیہعليه‌السلام کو اس واقعہ انتقام کا ولی امر بنادیا جیسا کہ اس واقعہ سے ظاہر ہے جب کہ مختار نے کوفہ میں علم انتقام بلند کیا اور پچاس افراد محمد حنفیہعليه‌السلام کے پاس تصدیق حال کے لیے آئے اور انہوں نے حضرت امام زین العابدینعليه‌السلام کے پاس لے جاکر پیش کیا تھا اور امامعليه‌السلام نے فرمایا قد ولیتک ھذا لامرفاصنع ماشتمیں نے آپ کو اس واقعہ انتقام میں ولی امر اور مختار بنا دیا ہے ۔

آپ جوچاہیں کریں (ذوب النضار فی شرح الثار ابن نما ص ۴۰۱)

چنانچہ وہ لوگ وہاں سے پلٹے اور انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کوفہ پہنچ کرکہا کہ ہمیں امام زین العابدین اور محمد حنفیہعليه‌السلام نے اجازت انتقام دے دی ہے روایت کے عیون الفاظ یہ ہیں۔

قال لهم قوموابناالی امامی و امامکم علی بن الحسین علیهماالسلام دخل ودخلواعلیه اخبره خیرهم الذی جاوا الیه ولاجله قال یا عم لوان عبدا زبخیا تعصب لنا اهل البیت لوجب علی الناس موازرته ولقد ولیتک هذا لامر فاصنع فاصنع ماشت فخر جواوقد سمعوا کلامه وهم یقولون اَذِنَ لنازین العابدین علیه السلام وَ محمد بن الحنفیه عليه‌السلام (الخ دمعۃ ساکبہ ۴۰۸ وذوب النضار ص ۴۰۷ ) و محمد بن الحنفیة۔

(ترجمہ) "جب وہ لوگ حضرت محمد حنفیہعليه‌السلام کے پاس پہنچے تو انہوں نے لوگوں سے فرمایا کہ اٹھو اور ہمارے ساتھ حضرت امام زین العابدین کے پاس چلو جو ہمارے اور تمہارے امام ہیں۔ چنانچہ وہ لوگ ان کی خدمت میں پہنچے اور ان سے سارا واقعہ بیان کیا۔ حضرت امام زین العابدینعليه‌السلام نے فرمایا کہ اے میرے چچا جہاں تک انتقام کا تعلق ہے میں یہ کہتا ہوں کہ اگر غلام زنگی بھی ہم اہلبیت کے بارے میں زیادتی کرے تو ہر مسلمان پر اس کا مواخذہ واجب ہے (اور اے چچا سنو !) میں نے اس کے بارے میں تم کو والی امر بنا دیا ہے اب تمہارا جوجی چاہے کرو یہ سن کر وہ لوگ وہاں سے روانہ ہوگئے اور انہوں نے کوفہ پہنچ کر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہمیں انتقام لینے کی اجازت حضرت امام زین العابدین اور حضرت محمد حنفیہعليه‌السلام نے دے دی ہے۔

" الغرض حضرت محمد حنفیہعليه‌السلام حضرت امام زین العابدینعليه‌السلام سے ولایت امر حاصل کرنے کے بعد اپنے دولت کدہ پرواپس آئے اور انہوں نے حضرت مختار کو چالیس اعیان واشراف کوفہ کے نام خطوط حمایت لکھ کردئیے جن میں ایک خط حضرت ابراہیم ابن مالک اشتر کے نام کا بھی تھا یہ وہی خطوط ہیں جنہیں مختار نے کوفہ پہنچ کر لوگوں کے سامنے پیش کیا ۔ (رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۷۸)

حجۃ الاسلام مولانا محمد ابراہیم مجتہد کی تحریر سے مستفاد ہوتا ہے کہ حضرت مختار حضرت امام زین العابدینعليه‌السلام کی خدمت میں پیش ہوئے اور چونکہ خاندان رسالت کی نمایاں حمایت کیے بغیر کام نہیں چل سکتا تھا۔ اس لیے حضرت محمد حنفیہعليه‌السلام کو پیش پیش رکھا۔ (نورالابصار ص ۶)

عالم اہل سنت علامہ عبداللہ ابن محمد لکھتے ہیں کہ حضرت محمد حنفیہعليه‌السلام نے اپنا دستخطی فرمان دے کر حضرت مختار کو کوفہ کی طرف روانہ کردیا ۔ اور اس میں یہ بھی لکھا کہ مختار میری طرف سے مازون اور ولی امر ہیں ان کی حمایت واطاعت کرو۔ (قرة العین ص ۱۴۶)

غرضیکہ حضرت امام زین العابدینعليه‌السلام نے حضرت مختار کو بالواسطہ اجازت دی اور وہ انتقامی مہم کے لیے کوفہ کو روانہ ہوگئے ۔ حضرت امام زین العابدین اپنے اصحاب سے اکثر اس کا ذکر فرمایا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ بہت جلد مختار کامیاب ہوکر ابن زیاد اور عمر سعد وغیرہ ہما کا سرمیرے پاس بھیجیں گے ۔ (جلاء العیون علامہ مجلسی ص ۲۴۸)

یہ امر بھولنا نہیں چاہیے کہ حضرت مختار ابھی مکہ ہی میں تھے کہ یزید بن معاویہ کا انتقال ہوگیا اور ابن زبیر کی حکومت نے جڑ پکڑ لی اور اس کی حکومت حجاز ، بصرہ اور کوفہ میں مستقر و قائم ہوگئی۔ خبر انتقال یزید کے بعد حضرت مختار اپنی روانگی سے پہلے عبداللہ ابن زبیر کے پاس گئے۔ ان کے جانے کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مل کر اس کا رخ دیکھیں اور اندازہ لگائیں کہ اس کے خیالات کیا ہیں ، حضرت مختار جب عبداللہ ابن زبیر سے ملے تو اسے بالکل بدلا ہوا پایا ۔ حکومت کے وسیع ہوجانے سے ابن زبیر اپنے وعدہ سے بھی پھر گیا اور انتقام خون حسینعليه‌السلام کا جو نعرہ لگاتا تھا اسے بھی بھلا بیٹھا ۔ حضرت مختار کو اس کا یہ رویہ سخت ناگوار ہوا اور آپ نے دل میں ٹھان لی کہ میں اس کے خلاف بھی خروج کروں گا۔ (نورالابصار ص ۸۵)

علامہ معاصر مولانا سید ظفر حسن لکھتے ہیں کہ یزید اور ابن زبیر کی کشمکش میں ۶۳ ھ ئتمام ہوا اور ۶۴ء کا آغاز ہونے لگا اس مدت میں ابن زبیر کی حکومت مکہ و مدینہ سے بڑھ کر یمن اور حضرموت تک جاپہنچی تھی ۔ کوفہ میں بھی اس کے اثرات کی برقی رودوڑنی لگی تھی ۔ یزید گھبرا اٹھا ابن زبیر بڑے توڑ جوڑ کے آدمی تھے ۔ انہوں نے بنی امیہ کے تمام حکمرانوں کو جویزید کے معین کیے ہوئے تھے ۔ مکہ اور مدینہ دونوں سے نکال باہر کیا اور خود ملکی انتظام کی باگ اپنے ہاتھ میں تھام لی اب تو یزید کے غیظ و غضب کی کوئی انتہا نہ رہی اس نے مسلم بن عقبہ اور حصین بن نمیر کی ماتحتی میں د س ہزار فوج مکہ و مدینہ کی طرف روانہ کی اور یہ تاکید کردی کہ پہلے حتی الامکان تین روز مدینے کو خوب لوٹا جائے ۔

پھر مکہ پر چڑھانی کی جائے یہ جرار لشکر منزلیں مارتا مدینہ میں داخل ہوگیا مسلم بن عقبہ نے بیعت کی بہت کوشش کی مگر کامیابی نہ ہوئی ادھر ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ یزید نے ابن زیاد کو مکہ کی مہم پر بھیجنا چاہا وہ راضی نہ ہوا اور صاف صاف کہہ دیا کہ میرے لیے قتل حسینعليه‌السلام کا گناہ کافی ہے اس پر اہل مکہ کے قتل کا گناہ اضافہ کرنا نہیں چاہتا اس انکار سے یزید کا خطرہ اور بڑھ گیا اس نے مسلم بن عقبہ کو ایک خط اور بھیج کر یہ تاکید کی کہ مدینہ پہنچے تو امام زین العابدینعليه‌السلام سے کوئی تعرض نہ کرے ۔ بلکہ ان کی تعظیم و تکریم کا پورا لحاظ رکھے کیونکہ اس فساد میں ان کا ہاتھ نہیں۔ مسلم بن عقبہ تو اپنا ایمان جاہ و منصب کی قرباں گاہ پر پہلے ہی بھینٹ چڑھا چکاتھا اس کو مدینہ کی غارت گری میں کیا تامل ہوسکتا تھا وہ آندھی کی طرح حجاز میں آیا اور جنگ کا آغاز کرکے مدینہ رسول کے امن وا مان کو اپنے عسکری گرد و غبار میں لپیٹ لیا ۔ یہ لڑائی واقعہ حرہ کے نام سے مشہور ہے ۔

۲۸ ذی الحجہ ۶۴ ھ سے اس کا آغاز ہوا تھا پہلے تو اہل مدینہ نے بڑی دلیری سے فوج شام کا مقابلہ کیا لیکن جب ان کا سردار عبداللہ بن مطیع بھاگ کھڑا ہوا تو سب کے قدم بھی میدان سے اکھڑگئے ابن عقبہ مدینہ میں داخل ہوا اور حکم یزید کے مطابق تین دن متواتر قتل عام کرتا رہا نوبت یہ پہنچی کہ تمام اصحاب رسول گھروں سے نکل کر پہاڑوں اور جنگلوں میں جاچھپے تاہم سات سوبزرگان قریش جن میں قاریان قران کی ایک بڑی تعداد شامل تھی قتل کیے گئے اور عام طور پر مدینہ کی عورتوں کے ساتھ زنا کیا گیا جن کے بطن سے نوسوزنا زاد ے پیدا ہوئے دس ہزار غلام تلوار کے گھاٹ اتارے گئے جو لوگ بچ رہے تھے مسلم بن عقبہ نے ان سے یہ کہہ کر بیعت لی کہ ہم یزید کے غلام ہیں جس نے یہ کہنا پسند نہ کیا قتل کر ڈالا گیا مدینہ کی مہم سرکرتے ہی مسلم بن عقبہ بیمار ہوگیا اور اس کا مرض روز بروز بڑھنے لگا یزید کے حکم کے مطابق اس نے مکہ کی مہم ابن نمیر کے سپرد کردی اور یہ تاکید کردی کہ خانہ کعبہ کی حرمت کا کوئی خیال نہ کیا جائے اور جس طرح بنے وہاں کے لوگوں پرقبضہ کیا جائے امیروقت کی اطاعت خانہ کعبہ کی حرمت سے کہیں زیادہ ہے۔ (العیاذ باللہ) مسلم بن عقبہ مرگیا اور ابن نمیر نے پوری تیاری کے ساتھ مکہ پر دھاوا کیا ۔

ابن زبیر مقابلہ کیلئے نکلے ۔ بازار کا ر زار گرم ہوا منذر ابن زبیر مارا گیا اور فوج شام نے غلبہ پاکر اہل مکہ کو شکست دی ابن زبیر روپوش ہوگئے ۔ ابن نمیر نے فوج کو حکم دیا کہ منجنیقوں سے کعبہ پر پتھر برساؤ چنانچہ پتھروں کی بارش سے بہت سے شہر ی زخمی ہوئے سارا شہر محاصرہ میں تھا جس کا سلسلہ ماہ صفر سے آخر ربیع الاول تک قائم رہا۔

جب اہل شام پتھر برساتے برساتے تھک گئے تو انہوں نے منجنیقوں سے گندھک اور روئی میں آگ لگا کر پھینکنی شروع کی جس سے خانہ کعبہ کے پردے جل اٹھے ان کے علاوہ اور بھی بہت سی چیزیں نذآتش ہوئیں۔ ابھی محاصرہ اٹھنے نہ پایا تھا کہ دمشق میں یزید لعین واصل جہنم ہوا مکہ میں خبر پہنچی تو ابن نمیر کے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی اب اسے ٹھہرنا دشوار ہوگیا چلتے وقت ابن زبیر کو کعبہ میں بلا کر کہا یزید تو مرگیا میں اپنے تمام لشکر کے ساتھ اس شرط پر تمہاری بیعت کرسکتا ہوں کہ ہمارے ساتھ دمشق چلے چلو وہاں ہم تمہیں تخت پر بیٹھا دیں گے۔اس نے کہا جب تک مکہ اور مدینہ والوں کے خون کا کل اہل شام سے بدلہ نہ لے لوں گا کوئی کام نہ کروں گا ابن نمیر ابن زبیر کی کج فہمی کو سمجھ گیا کہنے لگا کہ جو شخص تجھ کو صاحب عقل و ہوش سمجھے وہ خود بیوقوف ہے میں تجھے نیک صلاح دیتا ہوں اور تو مجھے دھمکاتا ہے۔ یزید کے مرنے سے ابن زبیر کے سرپرآئی بلاٹل گئی اس نے شکست خوردہ فوج کو پھر جمع کیا اور وہ شہر مکہ پر پھر بدستور قابض ہوگیا ۔ مدینہ والوں نے ابن عقبہ کے معین کیے ہوئے حاکم کو شہر سے نکال باہر کیا۔ ابن زبیر نے یہاں بھی قبضہ کرلیا ۔

اب بھلا ایسی صورت میں جب کہ ابن زبیر کا عروج بڑھ رہا تھا وہ حضرت مختار کی کیا پروا کرتا ۔

بالآخر انہوں نے حضرت مختار کی طرف سے بے رخی کی حضرت مختار اس کی روش سے سخت بددل ہوگئے مختار کو یہ بات سخت ناگوار تھی کہ ابن زبیر نے حکومت حاصل کرنے کے بعد خون حسین کے بدلہ لینے کا خیال مطلقاً ترک کردیا۔ مورخ ہروی کا بیان ہے کہ حضرت مختار نے ابن زبیر سے عہد وپیمان کرلیا تھا اور ان کا پورا ساتھ دے رہے تھے ۔ جب اس پر مصیبت آئی یہ اس کی مدد کرتے تھے چنانچہ جب عمر بن زبیر جو عبداللہ ابن زبیر کا بھائی تھا اپنے بھائی سے لڑنے کیلئے مکہ پر حملہ آور ہوا تو مختار کمر جدواجتہاد بستہ درجنگ سعی بسیار نمووتاعمر گرفتار گشت مختار نے کمال سعی و کوشش سے اس کا مقابلہ کیا اور اس درجہ اس سے جنگ کی کہ عمر گرفتار ہوگیا اسی طرح جب حصین ابن نمیر نے حکم یزید سے مکہ کا محاصرہ کیا تو مختار نے دفع لشکر شام میں کمال جرأت سے دادِ مردانگی دی اور جب یزید فوت ہوگیا اور ابن زبیر کی حکومت حجاز کوفہ بصرہ تک پہنچ گئی تو اس نے ان سے بے التفاتی شروع کی اور اپنے تمام وعدوں سے وہ پھر گیا اس کے طرز عمل سے مختار سخت بددل ہو گئے اور ابن زبیر کے خلاف بھی خروج کا تہیہ کرکے مکہ سے نکل کھڑے ہوئے۔ (رو ضۃ الصفا ج ۳ ص ۷۵)


چودہواں باب

حضرت مختار کی مکہ سے روانگی ، کوفہ میں رسیدگی اور گرفتاری

حضرت مختار ، عبداللہ ابن زبیر سے پوری طور پر بددل ہوہی چکے تھے ۔ وہ مکہ میں قیام کرنا بیکار خیال کرتے ہوئے بھی موقع کے انتطار میں وہاں ٹھہرے رہے جب انہیں معلوم ہوا کہ یزید کے بعد وہ تمام شیعیان علی جو ابن زیاد کی قید میں تھے برآمد ہوگئے ہیں اور انہوں نے کوفہ میں انتقامی مہم کی کافی چہل پہل پیدا کردی ہے تو وہ اپنی پہلی فرصت میں مکہ سے روانہ ہوگئے نہایت تیزی کے ساتھ طے منازل اور قطع مراحل کرتے ہوئے کوفہ کو جارہے تھے کہ راستے میں ہانی بن حیہ و داعی سے ملاقات ہوئی ۔ آپ نے پوچھا کہ کوفہ اور اہل کوفہ کس حال میں ہیں ہانی نے کہا کہ اس وقت اہل کوفہ کی حالت پر اگندہ بھیڑوں جیسی ہے اگر کوئی ان کا گلہ بان ہوجائے تو انہیں یک جاکر نا چاہیے تو بڑی آسانی اور نہایت خوبصورتی سے یہ یکجا ہوجائیں گے ۔

حضرت مختار نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں انہیں ضرور یکجا کروں گا اور دشمنان آل محمد خصوصا قاتلان امام حسینعليه‌السلام کو چن چن کر قتل کروں گا ۔ پھر حضرت مختار نے پوچھا کہ سلیمان بن صرد کا کیا ارادہ ہے اور وہ کیا کررہے ہیں ہانی نے کہا کہ وہ خروج کیلئے بالکل تیار ہیں لیکن اب تک برآمد نہیں ہوئے اسی قسم کی گفتگو سلمہ بن کرب سے بھی ہوئی یہ سن کر حضرت مختار آگے بڑھے یہاں تک کہ آپ کا ورودجمعہ کے دن نہر حیرہ پر ہوا۔

آپ نے غسل کیا لباس بدلا تلوار حمال کی اور آپ گھوڑے پر سوار ہوکر بارادہ کوفہ روانہ ہوئے۔ چلتے چلتے جب آپ کا وردوبمقام قادسیہ ہوا تو آپ نے اپنا راستہ بدل دیا اور آپ کربلا کی طرف مڑگئے کربلا پہنچ کر بروایت رو ضۃ الصفا ومناقب اخطب خوارزمی و مجالس المومنین آپ نے حضرت امام حسینعليه‌السلام کو سلام کیا اور ان کی قبر مبارک سے لپٹ کر بے پناہ گریہ کیا اور اسے بوسے دئیے اور ان کی بارگاہ میں بدل و جان قسم کھائی جس کے عیون الفاظ یہ ہیں:۔

یا سیدی البیت بجدک المصطفىٰ و ابیک المرتضیٰ وامک الزهراء واخیک الحسن المجتبیٰ ومن قتل معک من اهل بیتک وشیعتک فی کربلا لااکلت طیب الطعام ولاشربت لذید اشراب ولانمت علی ولی المهادولاخلعت هذه والابرار حتی انتقم محن قتل اواقتل کما قتلت قبح الله العبس بعدک (مناقب اخطب رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۷۶ مجالس لمومنین ص ۳۵۸

اے سیدوسردار ! میں نے آپ کے جدا مجد حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپ کے والد ماجد حضرت علی مرتضیٰعليه‌السلام اور آپ کی والد ہ محترمہ حضرت فاطمہ زھراءعليه‌السلام اور آپ کے برادر مجتبیٰ حضرت حسنعليه‌السلام اور آپ کے ان اہلبیت اور شیعوں کی قسم کھائی ہے جو آپ کے ساتھ کربلا میں شہید ہوئے ہیں کہ میں جب تک آپ کا انتقام نہ لے لوں گا ۔ اس وقت تک نہ اچھے کھانے کھاؤں گا نہ آب خوشگوارپیئوں گا نہ نرم بستر پر سوؤں گا ۔ نہ یہ چادریں جواوڑھے ہوئے ہوں اتاروں گا اے مولا آپ کے بعد زندگی بہت بری زندگی ہے اب یا تو انتقام لوں گا ۔یا اسی طرح قتل ہوجاؤں گا جس طرح آپ شہید ہوگئے ہیں۔ اس کے بعد آپ باچشم گریاں قبرامام حسینعليه‌السلام سے رخصت ہوکر کوفہ کی طرف روانہ ہوئے پھر قطع مراحل کرتے ہوئے آپ ماہ رمضان ۶۴ھء کو دن کے وقت داخل کوفہ ہوگے۔ (مجالس المومنین ص ۲۵۵)

حضرت مختار جس کی طرف سے گزرتے تھے وہی آپ کا استقبال کرتا تھا اور آپ کے آنے کی مبارکباد پیش کرتا تھا آپ لوگوں سے کہتے جاتے تھے کہ گھبراؤ نہیں میں انشاء اللہ ظالموں کا عنقریب قلمع وقمع کروں ا اور واقعہ کربلا کا ایسا بدلہ لوں گا کہ دنیا انگشت بدنداں ہوگی اس کے بعد آپ جامع مسجد میں تشریف لے گئے اور آپ نے نماز ادا کی ، پھر وہاں سے روانہ ہوکر اپنے گھر پہنچے جو خانہ سالم بن مسیب کے نام سے مشہور تھا۔ حضرت مختار نے اپنے گھر میں قیام کرنے کے بعد اعیان شیعہ سے ملنا شروع کیا اور ان پریہ وضاحت کی کہ وہ محمد بن حنفیہعليه‌السلام کا اجازت نامہ لائے ہیں کوفہ کی فضا چونکہ عبداللہ ابن زبیر کے اثرات سے متاثر تھی اس لیے شیعیان علی بن ابی طالب خاموشی کے ساتھ ہوشیاری سے اپنے منصوبہ کو کامیاب بنانے کی طرف متوجہ تھے۔ حضرت مختار کے کوفہ پہنچتے ہی دشمنان آل محمد میں ہل چل مچ گئی لوگوں پر مختار کی ہیت طاری تھی ۔

لہٰذا ان لوگوں نے جمع ہوکر ان کے معاملہ پر غور کرنے کی ضرورت محسوس کی تبادلہ خیال کے بعد عمر بن سعد اور شیث ابن ربعی اور ابراہیم بن محمد اور عبداللہ بن یزید نے فیصلہ کیا کہ مختار کو گرفتار کرلینا چاہے کیونکہ یہ سلیمان بن صرد سے زیادہ نقصان رساں اور خطرناک ہیں سلیمان کا مقابلہ عام لوگوں سے ہے اور مختار صرف قاتلان حسینعليه‌السلام کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جن میں تمام اعیان کوفہ و شام شامل ہیں ، رائے قائم کرنے کے بعد ہزاروں افراد کو مختار کی گرفتاری کیلئے بھیج دیا گیا۔ ان لوگوں نے پہنچ کر حضرت مختار کے گھر کا محاصرہ کرلیا اور انہیں گرفتار کرکے ایک خچر پر سوار کیا اور قید خانہ بھیج دیا ۔ حضرت مختار جب قید خانہ بھیجے جارہے تھے اس وقت ابراہیم ابن محمد نے عبداللہ ابن یزید والی کوفہ سے کہا ان کے جسم کو زنجیروں سے جکڑوادے اس نے جواب دیا ۔

کہ مختار نے کوئی خطا نہیں کی ہم ان کے ساتھ سختی نہیں کرسکتے ۔ یحیٰ بن عیسیٰ کا بیان ہے کہ میں حمید بن مسلم کے ہمراہ ایک دن مختار سے ملا تو انہوں نے ایک عظیم مقفی عبارت میں کہا کہ میں عنقریب دشمنان آل رسول کے خون کا بدلالوں گا ۔ اورتمام سرکشاں کوفہ و شام کو خون آشام تلوار کا مزہ چکھاؤں گا ۔ (نورالابصار ص ۶۲، ذوب النضار ص ۴۰۵دمعۃ ساکبہ ۴۰۶)

مورخ طبری کا بیان ہے کہ حضرت مختار کوفہ پہنچے کے ساتویں دن گرفتار کرلیے گئے اور یہ واقعہ ۶۴ھ کا ہے (تاریخ طبری جلد ۴ ص ۶۵۰ طبع لکھنو) مورخ ہروی کا بیان ہے کہ مختار کی گرفتاری کے بعد شیعیان کوفہ کے چند نمایاں افراد ضمانت پر رہا کرانے کیلئے والی کوفہ کے پاس گئے اس نے صاف انکار کردیا یہ لوگ سخت رنجیدہ واپس چلے آئے۔ (رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۷۶)

حضرت سلیمان بن صرد کا خواب

اور حضرت سلیمان بن صرد محو خواب ہوگئے سونے کے حالات میں انہوں نے خواب دیکھا کہ میں ایک سبزگلستان پر بہار میں ہوں ، اس میں نہر یں جاری ہیں ۔ عمدہ عمدہ درختو ں میں پھل لگے ہو ئے ہیں اس باغ کے درمیان میں ایک قبہ طلائی بنا ہو اہے اور اس پر پردہ پڑ اہواہے میں باغ میں سیر کرتا ہو ا اس قبہ طلا ئی کے پاس گیا میں نے دیکھاکہ اس میں سے ایک حسین وجمیل مخدرہ برآمد ہو ئیں۔ ان کے چہرہ مبارک پر سندس سبنرکا مقنع پڑا ہواہے جو نہی میں نے انہیں دیکھنے سے بدن میں تھر تھر ی پڑگی قر یب تھا کہ میرادل شگا فتہ ہو ا جائے جو نہی ا نہوں نے میری یہ حالت دیکھی بے ساختہ وہ ہنس پڑیں اور کہنے لگیں کہ اے سلیمان خدا تمہاری سعی کومشکور قرار دے اے سلیمان تم اور تمہارے ساتھی اور تمام وہ لوگ جو ہماری محبت میں شہید ہوں گے ہمارے ساتھ جنت میں ہوں گے۔

اسی طرح وہ لوگ ہمارے ساتھ جنت میں ہوں گے جن کی آنکھیں ہمارے غم میں پر اشک ہوں گی۔میں نے یہ سن کر ان کی خدمت میں عرض کی۔بی بی آپ کو ن ہیں ارشار فرمایا کہ میں تمہارے نبی کی رفیقہ حیات خدیجہعليه‌السلام ہوں اور یہ جو میرے پاس موجود ہیں ۔تمہارے نبی کی بیٹی فاطمہعليه‌السلام الزہرا ہیں ۔اس کے بعد میں نے جو باغ کے اطراف میں نظر کی تو دیکھا کہ سارا باغ پر انوار ہے اتنے میں حضرت خدیجہعليه‌السلام نے فرمایا کہ میری بیٹی فاطمہعليه‌السلام الزہرا تم کوسلام کہتی ہیں اورمیرے دونوں بیٹے حسنعليه‌السلام و حسینعليه‌السلام ارشاد کرتے ہیں کہ اے سلیمان !تمہیں بشارت ہو کہ تم کل بوقت زوال ہمارے پاس ہو گے ۔اس کے بعد انہوں نے پانی کا ایک جام عنایت فرمایا اور حکم دیا کہ اس کا پانی اپنے زخمی جسم پر چھڑ کو سلیمان کا بیان ہے کہ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی ۔تو میں نے دیکھا کہ میرے سرہانے پانی کا ایک کوزہ غائب رکھا ہو ا ہے ۔

میں نے فوراً اس سے غسل کیا ۔اس کے بعد اس کوز ے کو ایک طرف رکھ دیا ۔کوزہ غائب ہوگیا۔یہ دیکھ کر میں سخت متعجب ہوا اور میرے منہ سے بے ساختہ لااللہ الا اللہ محمد رسول اللہ علی ولی اللہ نکل گیا ۔جو نہی میرے منہ سے کلمہ کے الفاظ نکلے میرے لشکر والے جاگ اٹھے اور مجھ سے پوچھنے لگے کہ کیا واقعہ گزرا میں نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔(نور الابصار ص ۸۲)

بروایت سلیمان نے یہ بھی بتایا کہ جب میں نے اس پانی سے غسل کیا تو جراحت کی تکلیف مجھ سے دور ہو گئی (قرة العین ص۱۴۲)

اس کے بعد حضرت سلیمان اور ان کے ساتھی رکوع اور سجود میں مشغول ہی تھے کہ صبح ہو گئی ۔صبح ہوتے ہی اذان ہو گئی اور حضرت سلیمان نے نماز جماعت پڑھائی ،نماز کے بعد حضرت سلیمان نے اپنے زخمی بہادروں کو حکم دیا کہ سلاخ جنگ سے آراستہ ہو کر نہر کو پار کرکے ابن زیا د کے لشکر پر حملہ آ ور ہوں ،چنانچہ یہ بہادر حملہ میں مشغول ہو گئے۔ (اخذ الثار و انتصار المختار ابی مخنف ص۴۸۲)۔

علامہ ابن نما کا بیا ن ہے کہ حسینی بہادر اپنی پوری طاقت کے ساتھ نبردآزما تھے۔اور ادھر سے بھی مکمل شدت کا حملہ ہو رہا تھا۔مگر بہادروں پر قابو نہیں پایا جا رہا تھا کہ حصین بن نمیر نے حکم دیا کہ تیروں کی بارش کر دی جائے،چنانچہ تیر برسنے لگے۔ فانت السھام کا لشرار النطائرة اور تیروں کی چنگاریاں اڑنے لگیں ۔

حضرت سلیمان بن صردکی شہادت

تیروں کی بارش ہو ر ہی تھی کہ دو پہر کا وقت آ گیا چا رو ں طر ف سے تیر بر سنے لگے فقتل سلیمان بن صرد اور حضرت سلمان بن صرددر جہ شہادت پر فائز ہو گئے۔ حضر ت سلما ن کی شہادت کے بعد علم اسلام مسیب ابن نخبہ نے لے لیا مسیب نہایت بہا در اور بے مثل جنگجو تھے ۔ انہوں نے علم سنبھا لتے ہی حملہ آور ی میں پوری شدت پید اکر دی ۔ (ذوب النضار ص ۴۰۶ و رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۷۳)

حضرت مسیب بن نخبہ کی شہادت آپ پوری ہمت و جرات کے ساتھ جنگ کر رہے تھے آپ کے حملوں سے دشمن اس طرح بھاگ رہے تھے۔ جس طرح شیر کے حملہ سے دور بھاگتے ہیں۔ حملہ کے ساتھ ساتھ آپ رجز بھی پڑھتے تھے آپ کے حملوں میں تین حملے یاد گار ہوئے ہیں۔ مورخین کا بیان ہے کہ حضرت مسیب عظیم الشان حملوں میں مشغول ہی تھے کہ سارا لشکر سمٹ کر یکجا ہوگیا اور سب دشمنوں نے مل کر یکجا حملہ کردیا جس کی وجہ سے حضرت مسیب شہید ہوگئے۔ (ص ۴۰۶)

حضرت عبداللہ ابن سعد بن ثقیل کی شہادت مسیب کی شہادت کے بعد عبداللہ ابن سعد نے علم جنگ سنبھالا اور آپ نے رجز پڑھتے ہوئے کمال جرأت و ہمت سے حملہ کیا ۔ کافی دیر لڑنے کے بعد آپ نے بھی شہادت پائی۔ آپ کی شہادت کے بعد آپ کے بھائی خالد ابن سعد نے علم جنگ سنبھال لیا۔ خالد نے نہایت زبردست جنگ کی اور حیران کردینے والے حملوں سے لشکر شام کو تہ وبالا کردیا ۔ بالآخر درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔ (ص ۴۰۶)

حضرت عبداللہ ابن وال کی شہادت

خالد کی شہادت کے بعد حضرت عبداللہ بن وال نے علم جنگ سنبھال لیا۔ آپ نے کمال جرأت وبہادری سے اپنے حملوں کو فروغ دیا اور فلک ہلادینے والے حملوں سے دشمنوں کے دانت کھٹے کردئیے ۔ آپ مشغول جنگ ہی تھے ، کہ آپ کا بایاں ہاتھ کٹ گیا آپ نے اپنے ساتھیوں کو آواز دی اور ایسی ہی حالت میں کہ کٹے ہوئے ہاتھ سے خون جاری تھا ایک زبردست حملہ کیا آپ اپنی پوری طاقت سے حملہ کررہے تھے کہ ناگاہ بقیادت مثنی ابن محرمہ عبدی بصرہ سے اور کثیر بن عمر الخنفی مدائن سے مختصر سی کمک پہنچ گئی ۔

اب کیا تھا سلیمانیوں کی ہمت بلند ہوگئی اور حسینی بہادر اور بے جگری سے لڑنے لگے ۔ بالآخر حضرت عبداللہ نے شہادت پائی۔ (ص ۴۰۶) ان کی شہادت کے بعد علم جنگ رفاعہ ابن شداد نے سنبھالا ، اور یہ لوگ بڑی بے جگری سے جنگ میں مصروف ہوگئے اور بہت کافی دیر تک مشعول جنگ رہے یہاں تک کہ رات آگئی اب ان اسلامی بہادروں کی حالت یہ ہوگئی تھی کہ ان کا سانس تک لینا دشوار ہوگیا کوئی اپنے عالم میں نہ تھا ہوش و ہواس بجانہ تھے ۔ زخموں سے چور ہوچکے تھے۔ تعداد بھی اختتام پذیر تھی۔ (ذوب النضار ص ۴۰۶)

مورخ ہروی لکھتے ہیں کہ رفاعہ ابن شداد علم جنگ لینے کے بعد چند قدم پیچھے کو سرکے یہ وہ وقت تھا آفتاب غروب ہورہا تھا۔ آپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اب ہم صرف چند افراد رہ گئے ہیں۔ اگر اس مقام پر رہتے اور جنگ جاری رکھتے ہیں تو اس کے سوا اور کچھ نہ ہوگا کہ این مذہب ازجہاں برافتدیہ مذہب دنیا سے ناپید ہوجائے۔ اور ہماری ملت کا نام و نشا ن بھی باقی نہ رہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اب ہم چند نفرجورہ گئے ہیں کوفہ کو واپس چلے جائیں اس رائے کو تقریباً سب زخمیوں نے پسند کیا۔ عبداللہ ابن عوف نے کہا کہ اگر تم اسی وقت یہاں سے روانہ ہوگئے تو دشمن تمہارا پیچھا کرکے تم سب کو قتل کردیں گے ۔ مناسب یہ ہے کہ قدرے صبر کرو کہ رات بالکل تاریک ہوجائے۔ اور پردہ شب میں خاموشی کے ساتھ یہاں سے روانہ ہو، رفاعہ نے ابن عوف کے صوابدید کے مطابق جنگ سے ہاتھ اٹھا کر اپنے لشکر گاہ میں حسب دستور سابق واپس آئے اور اہل شام اپنے لشکر گاہ میں رات گزارنے کیلئے چلے گئے۔

جب عالم پرپردہ تاریک شب چھاگئی تو رفاعہ اپنے بچے ہوئے زخمیوں کو لیے ہوئے وہاں سے روانہ ہوگئے ۔ یہ لوگ جس پل سے نہرفرات پار ہوئے تھے ۔ اسے شکستہ کر دیا تاکہ دشمن اگر تعاقب کریں تو جلدی سے پار نہ ہوسکیں۔ یہ لوگ راتوں رات کافی دُور نکل گئے ، جب صبح ہوئی تو حصین ابن نمیر نے ان کا پیجھا کیا لیکن یہ لوگ دستیاب نہ ہوئے ۔(رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۷۳ )

علامہ ابن نما لکھتے ہیں کہ یہ بہادر لڑتے لڑتے خشکی کے ذریعہ سے قرسیسا تک پہنچ کر پردہ شب میں منتشر ہوگئے۔ (ذوب النضار ص ۴۰۷) مورخ طبری کا بیان ہے کہ جب یہ لوگ قرسیسا پہنچے تو زفربن حارث نے انہیں تین یوم مہمان رکھا۔ اس کے بعد کوفہ کو روانہ کردیا یہ لوگ بوقت شب داخل کوفہ ہوئے ۔ (تاریخ طبری جلد ۴ ص ۶۵۱)

مورخ کامل لکھتے ہیں کہ جب عبداللہ ابن وال بھی قتل ہوگئے تو رفاعہ بن شداد البجلی نے علم اُٹھالیا اور خوب لڑے۔ اہل شام کا ارادہ تھا کہ ان کو رات ہونے سے پہلے ہی ہلاک کردیں لیکن اہل حق کی شدت مقابلہ کی وجہ سے وہ کامیاب نہ ہوسکے ۔ عبداللہ ابن عزیز الکنانی آگے بڑھ کر اہل شام سے لڑنے لگے۔ ان کا صغیر سن بچہ مسمّی محمد ان کے ہمراہ تھا انہوں نے اہل شام میں بنوکنانہ کو آواز دی اور اپنے بیٹے کو ان کے سپرد کردیا ۔ اہل شام نے ان کو امان دینی چاہی لیکن انہوں نے انکار کردیا اور وہ لڑتے لڑتے شہید ہوگئے ۔ شام کے وقت کرب ابن یزید الحمیری ایک صدآدمی نے کراہل شام پر حملہ آور ہوئے اہل شام نے ان کو اور ان کے اصحاب کو امان پیش کی ، انہوں نے جواب دیا کہ دنیا میں تو ہم امان ہی میں ہیں اب تو ہم صرف آخرت کی امان کی تلاش میں ہیں۔ غرضیکہ وہ سب اہل شام سے لڑتے لڑتے شہید ہوگئے اس کے بعد صخربن ہلال المزنی اپنے تیس آدمی لے کر آگے بڑھے اور شامیوں سے لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔ جب رات ہوگئی تو اہل شام اپنی چھاؤنی کی طرف چلے گئے اورفاعہ ابن شداد اپنے باقی ماندہ آدمیوں کو لے کر اسی رات وہاں سے روانہ ہوگئے۔

صبح کو حصین بن نمیر ان کے مقابلہ کو نکلا لیکن میدان خالی دیکھ کر وا پس ہوگیا۔ اہل کوفہ قرسیسا آئے زفر نے ان کو تین دن مہمان ٹھہرایا اور انہیں زادِراہ بھی دیا۔ پھر وہ لوگ کوفہ کو روانہ ہوگئے۔ سعد بن حذیہ یمان اپنے سو سواروں کے ساتھ اور مثنیٰ اہل بصرہ کے ساتھ آئے لیکن یہاں پر آکر ان کو اہل کوفہ کی شکست کی خبر معلوم ہوئی۔ رفاعہ کے آنے تک وہیں ٹھہرے رہے جب وہ آئے تو ان کا استقبال کیا۔ ایک دن ایک رات وہاں رہے اور پھر اپنے اپنے مقام کو چلے۔ یہ بھی جنگ عین الورد جو ۲۶ جمادی الاولیٰ سے شروع ہوکر آخر مہینہ تک رہی ۔ سلیمان بن صرد اور ان کے اصحاب کی سیاسی دانش مندی اور خلوص نیت کا ثبوت ان کے اس انکار سے ملتا ہے جو انہوں نے عبداللہ بن یزید والی کوفہ اور زفربن الحارث والی قرسیسا کو ان دونوں کو درخواست امداد پر دیا ۔ یہ دونوں عبداللہ ابن زبیر کے آدمی تھے اور سلیمان بن صرد سے مل کر اپنا مطلب نکالنا جاہتے تھے ان کو مطقاً سلیمان کے مقصد سے کام نہ تھا اور نہ یہ خون حسینعليه‌السلام کی طلب میں اٹھے تھے۔

یہ تو عبیداللہ ابن زیاد کو واحد دشمن خیال کرکے سلیمان سے ملنا چاہتے تھے ۔ اگر فتح ہوتی تو عبداللہ ابن زبیر کی ہوتی اگر شکست ہوتی تو یہ عبیداللہ ابن زبیر کے پاس چلے جاتے اور وہاں سے کمک لاتے اور پھر لڑتے لیکن اتنے عرصہ میں شیعیان کوفہ مع مختار ابن ابی عبیدہ کے مارے جاتے نزلہ برعضو ضعیف می ریزد۔ ان ہی سے دل کھول کر بدلہ لیا جاتا اور پھر مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی کی بھی تحریک مرجاتی ۔ عبداللہ ابن زبیر دشمن علی تھا۔ سلیمان بن صرد ایک دشمن علیعليه‌السلام کو کیوں مدد پہنچاتے علاوہ اس کے ان سے ملنے سے یہ خالص مذہبی جنگ نہ رہتی بلکہ سیاسی جنگ ہوجاتی اور پھر خلوص نہ رہتا ۔ سلیمان اور ان کے اصحاب کا جومدعا تھا وہ فوت ہوجاتا۔ دونوں جگہوں کی مدد کو قبول نہ کرنا ان کی سیاسی ذکاوت اور مذہبی خلوص کا ثبوت ہے ۔ (تاریخ کامل جلد ۱ ص۲۹۶ ، نورالمشرقین ص ۹۱) شہدائے عین الورد کے سرکاٹ لیے گئے مقام عین الورد میں قیام خیر جنگ کے سلسلہ میں حسینی خون بہالینے والے جتنے بہادر شہید ہوئے تھے ان کے سرکاٹ لیے گئے اور ان سروں کو مروان بن حکم کے پاس عبیداللہ ابن زیاد نے نیزوں پر بلند کرکے بھیج دیا ۔ (قرة العین ص ۱۴۲)

اس کے بعد عبیداللہ ابن زیاد بقیہ لشکر سمیت واردشام ہوا۔ (تاریخ طبری جلد ۴ ص ۶۵۱) اس وقت شام میں عبدالملک بن مروان کی حکومت قائم ہوچکی تھی اور مروان بن حکم صرف ۹ ماہ حکومت کرکے اپنی بیوی یعنی خالد بن یزید کی ماں کے ہاتھوں مر چکا تھا اس نے اسے تکیے سے دبا کر قتل کردیا تھا۔ (رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۷۳) شہادت سلیمان بن صرد پر شام میں مسرت حضرت سلیمان بن صرد اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کی جب اطلاع شام میں پہنچی تو شامیوں نے خوشی کا اظہار کیا اور عبدالملک ابن مروان نے مسجد جامع میں ایک عظیم اجتماع طلب کر کے ایک تقریر کی جس میں کہا کہ خداوندعالم نے بہت بڑے فتنے کے سرداروں کو قتل کردیا ہے۔ سلیمان بن صرد مسیب بن نخبہ ،عبداللہ ابن سعد ، عبداللہ ا بن وال وغیر ہم یہ عظیم فتنے تھے ۔ شکر ہے کہ خدا نے انہیں تباہ و برباد کردیا ۔ (تاریخ خضری جلد ۲ ص ۲۱۳ طبع مصر)


پندرہواں باب

حضرت مختار کی قید سے رہائی

حضرت مختار کی قید سے رہائی عبدالملک ابن مروان کی حکومت اور قتل مختار ثقفی سے حجاج ثقفی کی عاجزی مورخین کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان بن صردخزاعی اور ان کے ساتھیوں کا حشر انگیر قتل اور ان کی شاندار قربانی اختتام پذیر ہوگئی اور سب کے سب کمال جرأت و ہمت اور عظیم بہادری کے ساتھ حضرت امام حسینعليه‌السلام پر نثار ہوگئے اور حضرت مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی بدستور جیل خانہ کی شدت سے دوچار رہے ۔(تاریخ طبری جلد ۴ ص ۶۵۱)

حضرت مختار کی یہ دلی خواہش تھی کہ ہم سلیمان بن صرد کے ساتھ مل جل کر میدان مقاتلہ میں کام کریں اور واقعہ کربلا کا اس طرح بدلا لیں کہ دنیا انگشت بدنداں ہوجائے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں کوفہ پہنچنے کے بعد حضرت سلیمان سے ملاقات بھی کی تھی لیکن پہلی ملاقات میں باہمی سمجھوتہ نہیں ہوسکاتھا کیونکہ سلیمان اپنے خروج کی تاریخ مقرر کرچکے تھے ۔ وہ اس کا انتظار کررہے تھے اور تیاری میں مشغول تھے اور حضرت مختار کا یہ کہنا تھا کہ تاریخ کا انتظار نہ کیجئے بلکہ موقع کا لحاظ کیجئے ، اس وقت یزید کی موت سے ملک میں انتشار ہے ۔ خروج کا بہترین موقع ہے ابھی اسی قسم کی گفتگو جاری تھی اور یہ لوگ آخری فیصلہ پر نہیں پہنچے تھے کہ حضرت مختار گرفتار کرلیے گئے ان کی گرفتاری کے بعد زعماء شیعہ نے بڑی کوشش کی کہ ان کی ضمانت پر رہائی ہوجائے۔ لیکن اس کا امکان نہ پیدا ہوسکا ۔ بالاخر ابن زیاد کی حکومت شام کی طرف سے پیش قدمی کے سبب سلیمان کو اپنی معینہ تاریخ سے قبل ہی خروج کرنا پڑا جس کے نتیجہ میں یہ سب کے سب قتل کردئیے گئے یقین ہے کہ اگر مختار قید نہ ہوتے اور دونوں مل جل کر ایک ساتھ میدان میں آجاتے تو سلیمان وغیرہ کی شہادت جلدی عمل میں نہ آسکتی۔

شہادت حضرت سلیمان کا اثر

حضرت مختار قید کی سختیاں جھیل رہے تھے کہ انہیں حضرت سلیمان اور ان کے جملہ ساتھیوں کے قتل و شہید ہونے کی اطلاع ملی وہ قید خانے میں بے چین ہوگئے اور انہیں اس واقعہ عظیم سے نہایت ہی صدمہ پہنچا۔ انہوں نے اپنے کمال تاثر کی وجہ سے حضرت سلیمان بن صرد کے باقی ماندہ لوگوں کو قید خانہ سے ایک خط لکھا۔ (دمعۃ ساکبہ ص ۴۰۷)

حضرت مختار کا خط اہل کوفہ کے نام

علماء کا بیان ہے کہ حضرت مختار نے قید خانہ سے حضرت سلیمان کے باقی ماندہ لوگوں کے نام ایک خط تحریر کیا اس خط میں لکھا کہ خداوندعالم تمہیں اس مصیبت عظمیٰ پر صبر عطا کرے اور اجر عظیم عنایت فرمائے اور اپنے نامحدود رحمت و برکت سے محضور کرے اور تم نے جو تکالیف برداشت کی ہیں اور ظالموں سے جو صدمات اٹھائے ہیں اس کے عوض میں تم پر اپنی کرامت انگیز نظر فرمائے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ راہ خدا میں تم نے جتنے قدم اٹھائے ہیں ۔ خداوندعالم ان کے عوض حسنات بے شمار عطا فرمائے گا ۔ میرے دوستو ! میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ جس وقت میں قید سے رہا ہوکر باہر نکلوں گا حکم خدا سے تمام دشمنان محمد وآل محمدعليه‌السلام سے ایسا بدلا لوں گا کہ دنیا حیران رہے گی میں ان کے چھوٹے بڑے ایک کو بھی تہ تیغ کیے بغیر نہ چھوڑوں گا۔ یاد رہے !کہ خدا کی جس کو ہدایت ہوگی وہ میرے عمل و کردار اور میری سعی و کوشش سے بہرہ مند ہوگا اور جو انکار کرے گا وہ لعنت ابدی میں گرفتار ہوگا تم گھبراؤ نہیں وقت رہائی قریب ہے۔

فقط والسلام علی اهل الهُدیٰ

حضرت مختار کے اس خط کے پہنچتے ہی کوفہ کے اہل ایمان خوش ہوگئے اور انہوں نے حضرت مختار کو جواباً لکھا کہ ہم نے تمہارا خط بڑے غور سے پڑھا ۔ ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ ہم سب تمہارے ساتھ ہیں اور تمہاری مدد کے اوقات کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں اگر آپ ہمیں کہیں تو ہم اکر آپ کو قید خانہ سے رہا کرانے کی کوشش کریں۔ حضرت مختار کو جونہی روسائے کوفہ کا خط ملا بے حد مسرور ہوئے اور وہ اس امر سے مطمئن ہوگئے کہ شیعیان کوفہ میرے ساتھ ہیں انہوں نے قید خانہ سے کہا بھیجا کہ میری رہائی کی سعی تم لوگ نہ کرو ، میں نے اس کے راستے نکال لئے ہیں اور عنقریب میں رہا ہوجاؤں گا اور رہائی کے بعد اپنے مقصد کے انصرام و انتظام میں پوری پوری سعی کروں گا۔ (نورالابصار ص ۷۸)

حضرت مختار کی قید خانہ میں بیعت مورخ طبری کا بیان ہے کہ حضرت مختار نے قید خانہ سے یہ بھی لکھا تھا کہ میں انشاء اللہ رہا ہونے کے بعد شرکائے کربلا کو اس انداز سے قتل کروں گا کہ لوگوں کو بخت نصر کا قتل یاد آجائے گا یعنی جس طرح بخت نصر نے قتل یحییٰ بن زکریا کی وجہ سے بے شمار قتل کیا اسی طرح میں قتل حسینعليه‌السلام کی وجہ سے لاتعداد قتل کروں گا یہ معلوم کر کے روسائے کوفہ بہت خوش ہوئے اور آپس میں کہنے لگے کہ شکر ہے ابھی ہمارا ایک مدد گار باقی ہے ، اس کے بعد رفاعہ چارنمایاں افراد کو ہمراہ لے کر قید خانہ میں گئے اور مختار سے مل کر ان کی بیعت کرلی اور انہیں بالمواجہ اپنی حمایت کا یقین دلایا اور یہ بھی کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو ہم کافی افراد سمیت قید خانہ پر دھاوابول کر آپ کو رہا کرالیں ، حضرت مختار نے فرمایا کہ ایسا مت کرو میں نے رہائی کی سبیل خود پیدا کرلی ہے۔ (تاریخ طبری جلد ۴ ص ۶۵۳)

حضرت مختار کا خط عبداللہ بن عمر کے نام

علماء مورخین کا بیان ہے کہ حضرت مختار نے عبداللہ بن عمر کو جوان کے بہنوئی تھے اور پہلے بھی انہیں قید ابن زیاد سے رہا کراچکے تھے قید خانہ سے ایک خط لکھا جس کے عیون الفاظ یہ ہیں۔ امابعد فی حبست مظلوماً وظن بی الولاہ ظنونا کاذبة فاکتب فی رحمک اللہ الی ھذین الظالمین وھما عبداللہ بن یزید وابراھیم ابن محمد کتاباعیسیٰ اللّٰہ ان یخلصنی من ایدیھما الطفک ومنک والسلام علیک۔(ذوب النضار ابن نماص ۴۰۷ طبع ایران) (ترجمہ)حمد و صلوٰة کے بعد اے عبداللہ ابن عمر آپ کو معلوم ہو کہ میں بے جرم و خطا محض ظلم کی وجہ سے قید کرلیا گیا ہوں میری قید کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کے والیوں کو میرے متعلق کچھ شبہ ہوگیا ہے آپ برائے مہربانی میری شفارش میں ان دونوں ظالموں کے پاس جن کے نام عبداللہ ابن یزید اور ابراہیم بن محمد ہیں ایک خط لکھ بھیجئے شاید خداوندعالم آپ کی مہربانی سے مجھے رہائی عطا کردے۔

یہ خط لکھنے کے بعد حضرت مختار نے اسے اپنے غلام خیر نامی کے ذریعہ سے جو بروایت یہ خبر لے کر مختار کے پاس گیا تھا۔ کہ والی کوفہ نے تمہارا سارا مال واسباب لٹوالیا ہے مدینہ بھجوادیا ، عبداللہ ابن عمر بن خطاب کو جو نہی یہ خط ملا ، وہ سخت پریشان ہوئے اور انہوں نے فوراً ایک خط عبداللہ بن یزید اور ابراہیم بن محمد کے نام اس مضمون کا ارسال کیا کہ تمہیں معلوم ہے کہ مختار میرا سالا ہے اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ میں تم لوگوں کو کس قدر عزیز رکھتا ہوں ۔ میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ جونہی میرا یہ خط تم لوگوں کو ملے فوراً مختار کو رہا کردو۔ ورنہ مجھے سخت رنج ہوگا۔

والسلام

(دمعۃ ساکبہ ص ۴۰۷)

مورخین کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمر کا جونہی یہ خط ان دونوں کو ملا ۔ انہوں نے حضرت مختار کو رہا کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ لیکن وہ اس تردد میں رہے کہ اگر رہائی کے بعد مختار نے ہمارے ہی خلاف خروج کیا پھر کیا بنے گا۔ بالآخر وہ لوگ اس نتیجے پر پہنچے کہ مختار سے اس امر کی ضمانت لینی چاہیے کہ وہ ہم پر خروج نہ کریں ۔ اس کے لیے انہوں نے مختار سے گفتگو کی اور ان کی صوابدید کے مطابق کوفہ کو ضمانت کیلئے طلب کیا اور ان سے یہ خواہش کی کہ وہ ان کے عدم خروج کی ضمانت دیں۔ (دمعۃ ساکبہ ص ۴۰۷)

حضرت مختار کی رہائی

حضرت مختار کی ضمانت کا سوال پیدا ہونا تھا کہ تمام روسائے کوفہ اس کے لیے تیار ہو گئے بالاخر دس معززین ضمانت کیلئے حکومت کی طرف سے منظور کیے گئے جب دس معززین دربار میں داخل ہوئے۔ تو حضرت مختار قید خانے سے دربار میں لائے گئے اور ان سے کہا گیا کہ تم اس بات کی قسم کھاؤ کہ رہائی کے بعد خروج نہ کرو گے اور اگر تم نے ایسا کیا تو ایک ہزار اونٹ یا گائے خانہ کعبہ میں قربانی دو گے اور تمہارے پاس جتنے غلام ہوں گے ۔ سب راہ خدا میں آزاد ہوجائیں گے۔ حضرت مختار نے وعدہ کیا اور دس معززین نے بطور ضمانت اس کی تصدیق کی ، آخر کار حضرت مختار رہا کردئیے ے گئے اور وہاں سے روانہ ہوکر اپنے ماننے والوں کے جھرمٹ میں اپنے گھر پہنچے حمید بن مسلم کہتے ہیں کہ رہائی کے بعد حضرت مختار نے کہا کہ یہ لوگ کتنے احمق ہیں جو مجھ سے ہدی اور بدنہ کی قربانی اور آزادی غلام کی قسم لیتے ہیں۔

بھلا خانہ کعبہ میں قربانی میرے لیے کیا مشکل ہے ۔ اب رہ گیا آزادی غلام کاسوال تو میں حضرت امام حسینعليه‌السلام کے خون بہا کے بعد خود ہی سب کو آزاد کردوں گا۔ میرا مقصد قاتلان حسینعليه‌السلام کو ان کے کیے کا بدلا دینا ہے اور بس اس کے بعد تو میں اپنی زندگی کا بھی خواہش مند نہیں ہوں۔ (نورالابصار ص ۸۸ ، ذوب النضار ابن نما ص ۴۰۷، ضمیمہ بحار جلد ۱۰ ، دمعۃ ساکبہ ص ۴۰۷)

مورخ طبری کا بیان ہے کہ والی کوفہ نے اس کی بھی قسم دے دی تھی کہ تم اپنے گھر سے باہر نہ نکلنا چنانچہ حضرت مختار اپنے گھر میں مقیم رہ کر اپنے مقصد کی تکمیل و تعمیل میں سرگرم رہے ۔ (تاریخ طبری جلد ۴ ص ۶۵۳) حضرت مختار قاتلان امام حسینعليه‌السلام کے قتل کا منصوبہ بنائے ہوئے اس کے اسباب کی فراہمی میں لگے ہوئے تھے۔ لیکن وہ لوگ جو اس منصوبہ سے متفق نہ تھے ان کی سعی پیہم یہ تھی کہ مختار اپنے ارادے سے باز آئیں۔ اس سلسلہ میں لوگوں نے حتی المقدور کا میابی کی سعی کی حجاج بن یوسف جو عبدالملک بن مروان کا منہ چڑھا جرنیل تھا۔ اسے یہ ہر وقت فکر تھی کہ کسی طرح مختار کے وجود سے زمین خالی کردی جائے۔ قتل حضرت مختار کیلئے حجاج بن یوسف ثقفی کی سعی بلیغ مورخین کا بیان ہے کہ مروان بن حکم ۳ رمضان المبارک ۶۵ھ میں فوت ہوا اور اس کی جگہ پر اسی تاریخ عبدالملک بن مروان خلیفہ وقت بنایا گیا ۔ اس کی حکومت شام اور مصر میں قائم ہوئی۔ (تاریخ ابوالفدا جلد ۲ ص ۱۴۸)

یہ کوفہ پر حکومت کرنے کیلئے بے چین تھا۔ اس نے جس وقت خلافت سنبھالی ہے۔ اس وقت ممالک اسلامیہ میں بڑا انتشار تھا، عبداللہ ابن زبیر حجاز پر حکومت کرتا تھا۔ عراق میں بھی اس کی بیعت کرلی گئی تھی ۔

لیکن اس میں اس کو پورا اقتدار حاصل نہیں ہواتھا ایک گروہ شیعوں کا آل محمد کیلئے پرچار کرتا تھا۔ مروان نے زیر قیادت عبیداللہ ابن زیاد ایک لشکر زفربن حارث سے مقابلہ کیلئے بھیج دیا تھا جس کے سپرد سلیمان بن صرد سے مقابلہ بھی تھا ۔ عبدالملک نے عنان خلافت سنبھالنے کے بعد ابن زیاد کو لکھ دیا تھا کہ تو بدستور کام کرتا رہے۔ (تاریخ الخضری جلد ۲ ص ۲۱۳ طبع مصر)

چنانچہ حضرت سلیمان بن صرد کی مہم کے بعد جب ابن زیاد شام واپس پہنچا تو مروان مرچکا تھا اور عبدالملک ابن مروان تخت نشین خلافت تھا۔ (تاریخ طبری جلد ۴، ص ۶۵۲)

عبدالملک ابن مروان نہایت سفاک اور خونریز بادشاہ گزرا ہے۔ اس کے پاس چند ایسے جرنیل تھے جو خونریزی میں اپنے بادشاہ کی مثال تھے جن میں حجاج بن یوسف ثقفی کو بڑا مقام حاصل تھا ، اس نے اپنے عہد حیات میں اس کثرت سے مسلمانوں کو قتل کیا ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ۔ مورخین لکھتے ہیں کہ جب عبدالملک ابن مروان بادشاہ ہوا تو اس نے قرآن کریم کو جو اس کی گود میں تھا بند کرکے کہا۔ ھذاخیرالعھدبک۔یہ تجھ سے آخری ملاقات ہے یا بقول ندوی ، اب تجھ میں اور مجھ میں جدائی پڑگئی۔ (تہذیب وتمدن اسلامی ص ۶۳ ، ۶۵)

یہ پہلا شخص ہے جس نے اسلام میں غدر کیا۔ خلفاء کے سامنے لوگوں کو بات کرنے سے روکا، نیکیوں کا حکم دینے سے باز رہا۔

اللہ کی کتاب سے کھیلا۔ اسی کے حکم سے حجاج مدینہ گیا اور باقی ماندہ اصحابِ رسول کو ذلیل کیا اور نشان ذلت کے طور پر حضرت انس بن مالک ، جابر بن عبداللہ انصاری اور سھل بن سعد ساعدی جیسے عظیم الشان اصحاب کی گردنوں اور ان کے ہاتھوں پر نشان لگائے ۔(تاریخ الخلفاء ص ۱۴۶` ۱۴۸)۔

اسی نے عبداللہ ابن زبیر کی سرکوبی کے لیے حجاج کو مکہ بھیجا جہاں بہت سے حاجی حج کیلئے جمع تھے اور چونکہ یہ خود فتنہ و فساد کا خوگر تھا اسی لیے بروایت طبری جب کہ مکہ جاکر کوئی بھی خونریزی کیلئے تیار نہ تھا ۔ حجاج تیار ہوکر رہ گیااس نے مکہ کا محاصرہ کیا ، آٹھ ماہ جنگ کرتا رہا۔ ہر روز کعبہ پر منجنیق سے پتھر پھنیکتا رہا ، لوگ حج سے بھی محروم رہے خوراک نہ پانے کی وجہ سے بہت سے لوگ ابن زبیر سے پھر کر اس کی پناہ میں چلے گئے اور یہ حالت ہوگئی کہ ابن زبیر کے پاس دو آدمیوں کے سوا کوئی باقی نہ رہا۔ (طبری تاریخ جلد ۴ ، ص ۶۶۶)

اور حد ہوگئی کہ خود اس کے بیٹے حمزہ اور حبیب حجاج کی پناہ میں جاپہنچے ۔ آخر کار ابن زبیر اپنی ماں اسما بنت ابی بکر کے مشورے سے تنہا باہر نکل آئے اور قتل ہوگئے اور حجاج نے اس کا سر کاٹ کر مدینہ بھجوادیا اور جسم کو دار پر لٹکوادیا پھر حجاج نے تعریضا ابن زبیر کی ماں کے ساتھ نکاح کا پیغام بھیجا۔ (تاریخ طبری جلد ۴ ص ۶۶۶ )

حجاج بن یوسف ،عبداللہ ابن زبیر کا کام تمام کرنے کے بعد مدینہ پہنچا اور اس نے وہاں ان اصحاب کو ستانا شروع کیا جو بلند حیثیت کے مالک تھے اس نے ان پر الزام یہ لگایا کہ وہ سب قتل عثمان میں شریک تھے۔ (تاریخ اسلام ص ۳۰۷)

ایک دفعہ انس بن مالک صحابی رسول سے کہا کہ بوڑھے تو نے گمراہیوں میں عمر کاٹی ۔ کبھی تو نے ابوتراب کی پیروی کی کبھی ابن زبیر کے ساتھ لگا۔ انس نے عبدالملک کو سارا واقعہ لکھا تو اس نے حجاج کو تہدیدی خط لکھا جس کے بعد اس نے ان سے معافی مانگ لی۔ (رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۹۸)

ایک دن اس نے گیارہ ہزار مسلمانوں کو قتل کرادیا اسی نے کمیل ابن زیاد کو قتل کرایا۔ بطام اور ان کے چار ہزار ساتھی تہ تیغ ہوئے۔ (تاریخ الخلفا ء ص ۱۵۰)

کوفہ کے دوران قیام حجاج کا لشکر لوگوں کے گھروں میں رہتا تھا بصرہ میں اس نے جاکر کشت و خون کیا ، جب بصرہ کے لوگ اسے مبارکباد دے کر باہر آئے تو حضرت خواجہ حسن بصری نے لوگوں سے کہا کہ آج میں نے ایسے سب سے بڑے فاسق و فاجر کو دیکھا ہے جسے اہل آسمان دشمن رکھتے ہیں ۔ حجاج کو جب اس کی خبر ملی تو اس نے خواجہ کو قتل کرانے کیلئے جلاد کو اپنے پاس بلا کر خواجہ صاحب کو بلا بھیجا۔ جب وہ آئے تو ان کی ظاہری تعظیم کی اور ان سے پوجھا کہ آپ عثمان اور علیعليه‌السلام کے حق میں کیا کہتے ہیں حسن بصری نے کہا کہ میں وہی کہتا ہوں جومجھ سے اور تجھ سے بہتر شخصیت کہتی تھی اس کے بعد جب آپ باہر برآمد ہوئے تو دربان نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ حضرت علیعليه‌السلام کو دشمن سمجھتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ حضرت علیعليه‌السلام ایک تیر تھے جو اللہ کی کمان سے دشمنان اسلام کی طرف چلتا تھا وہ رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا کے بھائی اور اس امت میں سب سے زیادہ بزرگ تھے۔ انہوں نے نہ خدائی عبادت میں کمی کی اور نہ اس کے مال میں تصرف بیجا کیا ،

تواریخ شاہد ہیں کہ حجاج کو سادات سے خصوصی دشمنی تھی ۔ ایک زمانہ میں محمد بن الحنفیہعليه‌السلام کے تدبر کی وجہ سے اس نے ذرا سکوت اختیار کر لیا تھا۔ (تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۴۱ )

ابن خلکان کہتا ہے کہ عبدالملک بن مروان بڑا ظالم اور سفاک تھا اور ایسے ہی اس کے گورنر حجاج عراق میں ، مہلب خراسان میں ، حسام بن اسمعیل حجاز اور مغربی عرب میں اور اس کا بیٹا عبداللہ مصر میں حسان بن نعمان مغرب میں حجاج کا بھائی محمد بن یوسف یمن میں ، محمد بن مروان جزیرہ میں ، یہ سب کے سب بڑے ظالم اور جبار تھے ۔

مسعودی لکھتا ہے کہ بے پروائی سے خون بہانے میں عبدالملک کے عامل اس کے نقش قدم پر چلتے تھے۔ مورخ ذاکر حسینعليه‌السلام لکھتے ہیں کہ حجاج نے اپنی گورنر ی کے زمانہ میں مدینہ کے لوگوں میں جن میں اصحاب رسول بھی تھے ۔ بڑے بڑے ظلم کیے عراق میں اپنی بیس برس کی طوفانی گورنری کے دوران میں اس نے تقریبا ڈیڑھ لاکھ بندگان خدا کا خون بہا یا جن میں سے بہتوں پر جھوٹے الزام اور بہتان لگائے گئے اس کی وفات کے وقت پچاس ہزار مردوزن زنداں میں پڑے ہوئے اس کی جان کو رو رہے تھے مہمل اور بے سقف قید خانہ اسی کی ایجاد ہے ۔ (تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۴۱)

ان ڈیڑھ لاکھ مرنے والوں میں ایک لاکھ بیس ہزار صرف وہ تھے جو کسی لڑائی کے بغیر مارے گئے تھے۔ (مشکوة شریف ص ۵۴۳) علامہ جلال الدین سیوطی بحوالہ ذہبی لکھتے ہیں کہ ماہ صفر ۶۴ھ میں یزید کی طرف سے جولشکر واقعہ حرہ میں مدینہ کو تباہ کرچکا تھا۔ وہی مکہ میں جاپہنچا اور اس نے ابن زبیر کا محاصرہ کرکے منجنیق سے خانہ کعبہ پر گولہ باری کی ۔ ربیع الاول ۶۴ھ میں یزید کا انتقال ہوگیا اور ابن زبیر حجاز کا خلیفہ بن گیااور شام کا بادشاہ مروان قرار پایا۔ ۶۵ھ میں مروان کے بعد عبدالملک ابن مروان بادشاہ ہوا۔ (تاریخ الخلفا ص ۱۴۶ ، ۱۴۸ )

عبدالملک شام اور مصر کا بادشاہ تھا ہی کہ اس نے ابن زبیر کو بیدخل کرکے ۶۵ھ ہی میں عراق پر بھی قبضہ کرلیا۔ اخذہ من ابن الزبیر اور عراق کو ابن زبیر سے چھین لیا۔ (تاریخ الخلفاء ص ۱۵۰ و تاریخ خضری جلد ۲ ص ۲۱۳ طبع مصر)

علما کا بیان ہے کہ اسی ۶۵ھ میں جب حجاج بن یوسف ثقفی کو بحوالہ حضرت امام زین العابدینعليه‌السلام یہ خبر پہنچی کہ حضرت امیرالمومنینعليه‌السلام نے یہ روایت فرمائی ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ امام حسن و امام حسین شہید کردئیے جائیں گے ۔ اور ان کے ساتھ جو واقعہ گزرے گا اس کے عوض خداوندعالم بدست مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی دنیا میں عذاب نازل کرے گا اور وہ ظالموں کو قتل کریں گے تو کہنے لگا کہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تو کہا ہی نہیں اور ابن ابی طالبعليه‌السلام نے جو خبریں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے بیان کی ہیں۔ مجھے ان میں شک ہے اور علیعليه‌السلام بن الحسینعليه‌السلام ایک مغرور لڑکا ہے وہ جھوٹی باتیں بنایا کرتا ہے ۔ اور اس کے پیروان باتوں پر فریفة ہوجاتے ہیں۔ تم جاکر مختا رکو میرے پاس لاؤ۔ جب وہ حسب الطلب گرفتار ہوکر سامنے آیا تو حکم دیا کہ اس کو فرش چرمی (نطع) پر لے جاکر قتل کرڈالو آخر کار اس ملعون کے حکم سے فرش قتل بچھا کر مختار کو اس پر بٹھایا گیا ۔ مگر غلام ادھر ادھر پھرتے تھے اور تلوار نہیں لاتے تھے ، حجاج نے پوچھا کہ تاخیر کیوں ہورہی ہے جواب دیا کہ کنجی گم ہوگئی ہے ۔ بالاخر حضرت مختار کو حجاج قتل نہ کرسکا ۔

اس واقعہ کو تفصیل کے ساتھ علامہ مجلسی نے جلا ء العیون کے ۲۴۷پراور بحارالانوار جلد ۱ کے ص ۳۹۸ پر اور آقائے دربندی نے اسرار الشہادة ص ۵۲۹ پر حجۃ الاسلام محمد ابراہیم نے نورالابصار کے ص ۱۴،۱۷ پر اور علامہ محمد باقر نے دمعۃ ساکبہ کے ص ۴۰۳ پر حضرت امام حسن عسکریعليه‌السلام کی تفسیر کے حوالہ سے تحریر فرمایا ہے میں ان حضرات کی عبارات کے ترجمے سے قطع نظر کرکے خود اصل تفسیر کے ترجمے سے اس کی تفصیل تحریر کرتا ہوں۔ حضرت امام حسن عسکریعليه‌السلام (المتوفی ۲۳۲ ) بذیل آیہفانزلنا علی الذین ظلموا رجزا من السماء بما کانوایفسقون (بقرہ ) ہم نے ان لوگوں پر جنہوں نے ظلم کیا تھا ان کی حرکتوں کی وجہ سے عذاب نازل کردیا ۔

نزول عذاب کی وجہ سے ایک لاکھ بیس ہزار افراد ہلاک ہوگئے پھر دوبارہ ان کو اس عذاب طاعون نے آگھیرا تو پھر ایک لاکھ بیس ہزار افراد ہلاک ہوئے انہوں نے یہ خلاف ورزی کی تھی کہ جب وہ شہر کے دروازے پر پہنچے تو دیکھا کہ دروازہ بہت بلند ہے تب وہ کہنے لگے کہ ہم کو اس میں داخل ہوتے وقت رکوع کی ضرورت نہیں ہے یعنی ہم سے جو یہ کہا گیاتھا کہ جب دروازے کے اندر سے داخل ہوتو کہو(حطة ) ہم تو یہ سمجھے تھے کہ دروازہ بہت چھوٹا ہوگا ۔ اس لیے ہم کو وہاں رکوع کرنا ضروری ہوگا یہ دروازہ تو بہت بلند ہے اور حضرت موسیٰ اوریوشع بن نون کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ لوگ ہم سے کب تک مسخراپن کرتے رہیں گے اور مہمل باتوں پر ہم سے سجدہ کراتے رہیں گے ۔ یہ کہہ کر اپنی پیٹھ سب نے دروازہ کی طرف کرلی اور حطة کہنے کی بجائے جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا۔ حطا سمقانا کہا جس کے معنی گندم سرخ کے ہیں۔

امیرالمومنینعليه‌السلام نے فرمایا ہے کہ ان بنی اسرائیل کیلئے باب حطہ نصب کیا گیا تھا اے امت محمدی تمہارا باب حطہ اہلبیت محمد ہیں اور تم کو حکم دیا گیا ہے کہ ان کی ہدایت کی متابعت کرو اور ان کے طریق کو اپنے اوپر لازم کرلو ۔ تاکہ اس عمل سے تمہاری خطائیں اور گناہ معاف کیے جائیں اور نیکوں کی نیکی میں زیادتی ہواور تمہارا باب حطہ بنی اسرائیل کے باب حطہ سے افضل ہے کیونکہ وہ لکڑی کا دروازہ تھا اور ہم ناطق اور صادق اور قائم ہونے والے اور ہدایت کرنے والے اور صاحبان فضیلت ہیں چنانچہ رسول خدا نے ارشا دفرمایا ہے کہ آسمان کے ستارے غرق ہونے سے نجات پانے کا ذریعہ ہیں اور میرے اہلبیتعليه‌السلام میری امت کیلئے دین کی گمراہ ہونے سے بچنے کا باعث ہیں وہ زمین میں کبھی ہلاک نہ ہوں گے ۔

جب تک ان کے درمیان میرے اہل بیت میں سے کوئی شخص موجود رہے گا ۔ جس کی ہدایت اور طریقوں کی وہ لوگ پیروی کریں گے اور سنو ، آنحضرت نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص چاہے کہ اس کی زندگی میری دنیاوی زندگی کی مانند ہو اور اس کی موت مثل میری موت کے ہوا اور جنت میں ساکن ہو جس کا پروردگار نے وعدہ فرمایا ہے اس درخت سے فائدہ اٹھائے جس کو حق تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے لگایا ہے اور لفظ کن سے اسے پیدا کیا ہے اس کو چاہیے کہ علی بن ابی طالبعليه‌السلام کی ولایت کو اختیار کرے اور اس کی امامت کا اقرار کرے اور اس کے دوست کو دوست رکھے اور اس کے دشمن کو دشمن رکھے۔ اور اس کے بعد اس کے فرزندوں (ذرّیت) کی جو صاحبان فضیلت اور مطیعان پردردگار ہیں۔

ولایت کو اختیار کرے کیوں کہ وہ میری طینت سے پیداہوئے ہیں۔ اور خدا نے میرا علم و فہم ان کو عطا کیا ہے۔ وائے ہو میری امت کے ان لوگوں پر جوان کی فضیلت کی تکذیب کریں اور میرے پیوند کو ان سے قطع کریں اور ان کی نافرمانی کریں ۔ خدا میری شفاعت ان کو نصیب نہ کرے۔ اور جناب امیرعلیہ السلام نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جس طرح بعض بنی اسرائیل اطاعت کرنے کے سبب سے معزز و مکرم ہوئے اور بعض نافرمانی کرنے کی وجہ سے عذاب میں گرفتار ہوئے ۔اسی طرح تمہارا حال بھی ہو گا ۔اصحاب نے عرض کی کہ یا امیر المومنین علیہ السلام نافرما نبردار کون لوگ ہیں ۔آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم اہلبیتعليه‌السلام کی تعظیم کرنے اور ہمارے حقو ق کو بزرگ جاننے کا حکم ہو ا۔اور انہوں نے اس کے خلاف کیا ۔اور نافرمانی کی اور ہمارے حق کا انکار کیا اور اس کو خفیف او ر سبک سمجھا ۔اور اولاد رسول کی جن کی تعظیم کرنے اور ان سے محبت کرنے کا حکم دیا گیا تھا قتل کیا ہو گا صحابہ نے عرض کیا یا امیرالمومنین ! کیا ایسا بھی عالم و قوع میں آئے گا ؟فرمایاہاں یہ خبر بالکل سچ اور صحیح ہے ۔عنقریب یہ لوگ میرے فرزندوں حسن اور حسین کو قتل کریں گے ۔

بعد ازاں فرمایا کہ ان ظالموں میں سے اکثروں کو بہت جلد دنیا ہی میں اس شخص کی تلواروں کا عذاب لاحق ہو گا ۔جس کو اللہ تعالیٰ ان کے فسق و فجور کا انتقام لینے کے لئے ان پر مسلط کرے گا ۔جیسا کہ بنی اسرائیل پر دنیا میں عذاب نازل ہوا تھا ۔اصحاب نے عرض کی کہ مولا ! وہ کون شخص ہوگا ۔آپ نے ارشاد فرمایا کہ وہ بنی ثقیف کا چشم و چراغ (مختار ابن ابی عبیدہ )ہو گا ۔

حضرت اما م زین العابدین علیہ السلام کا ارشا د ہے کہ یہ واقعہ جناب امیر کی خبر دینے کے کچھ عرصہ کے بعد وقوع میں آیا ۔کسی شخص نے جناب امام زین العابدین علیہ السلام کی زبانی حجاج بن یوسف ثقفی کو یہ خبر پہنچائی تو وہ بولا کہ رسول خدا نے تو یہ کہا ہی نہیں اور علی ابن ابی طالب نے جو خبریں رسول کی طرف سے بیان کی ہیں۔ مجھے ان میں شک ہے اور علی بن الحسین ایک مغرور لڑکا ہے وہ جھوٹی باتیں بنایا کرتا ہے ۔

اور اس کے پیروان باتوں پر فریفة ہو جاتے ہیں ۔یہ کہہ کر انہوں نے سپاہوں کو حکم دیا کہ تم جا کر مختار کو میرے پاس پکڑ کر لاؤ۔ (میں ابھی اسے قتل کیے دیتا ہوں اور اس کے قتل ہو جانے سے علیعليه‌السلام کے بیان کی حقیقت وا ضح ہو جائے گی جب حضرت مختار حسب الطلب گرفتار کرکے سامنے پیش کیے گئے تو حجاج نے حکم دیا کہ انہیں (نطع )فرش چرمی پر بیٹھا کر قتل کر دو ، اس کے حکم کے مطابق جلاد اور غلام نے حضرت مختارکو اس چمڑے پر کردیا جس پر بٹھا کر لوگ قتل کیے جاتے تھے ۔بٹھانے کے بعد جلاد ادھر ادھر گھومنے لگے اور کوئی تلوار لے کر نہ آیا ۔حجاج نے ان سے کہا کہ تم کو کیا ہوگیا ہے قتل کیوں نہیں کرتے ۔وہ بولے خزانہ کی کنجی گم ہو گئی ہے ۔اور تلوار خزانہ میں رکھی ہے ۔مختار نے آواز دی ۔

اے حجاج تو مجھے قتل نہیں کر سکتا اور رسول خدا کا قول ہر گزجھوٹا نہ ہوگا اور سن اگر تو مجھے قتل بھی کر دے گا تو خداوند عالم مجھے پھر زندہ کرے گا تاکہ میں تم سے تین لاکھ تراسی ہزار آدمیوں کو قتل کروں تب حجاج نے اپنے ایک دربان کو حکم دیا کہ اپنی تلوار جلاد کو دے دے ۔تاکہ وہ اس سے مختار کو قتل کرے۔ الغرض جلاد اس دربان کی تلوار لے کر مختار کو قتل کرنے کے ارادے سے آگے بڑھا ۔حجاج اس دوران میں باربار پکار کہ کہہ رہا تھا تا خیرمت کر فوراً قتل کردے ۔وہ مختار کو قتل کرنا ہی چاہتا تھااور اس کے قریب پہنچا ہی تھا کہ خدا نے اس پر نیند مسلط کر دی اور اونگھ کر زمین پر گر پڑا اور اس کی تلوار اس کے اپنے شکم میں در آئی ۔ خود آپ اپنے دام میں صیاد آگیا تلوار کے لگتے ہی وہ ہلاک ہو گیا ۔

اس کے بعد حجاج نے ایک دوسرے جلاد کو بلایا اور اسے حکم دیا کہ بلاتا خیر مختار کو قتل کر دے وہ حکم سے تلوار لیے ہوئے آگے بڑھا اور تلوار علم کرکے چاہا کہ مختار کی زندگی کا فیصلہ کر دے۔ابھی تلوار کا وار سر نہ ہونے پایا تھا کہ ایک بچھو نے اسے ڈنگ مار دیا وہ زمین پر گر کر لوٹنے لگا اور چند منٹوں میں ہلاک ہو گیا ۔حضرت مختار نے پھر پکار کر کہا کہ اے حجاج تو مجھے قتل نہیں کر سکتا ارے تیرے پیش نظر کیا نزاربن سعد بن عدنان کا قول نہیں ہے اور تو اس سے عبرت حاصل کرنا نہیں چاہتا ۔جو اس نے اس وقت جبکہ شاہ پور ذوالاکتاف عرب کو قتل کرتا تھا اور ان کی بیخ کنی کرتا تھا تجھے یا د ہو گا کہ نزار نے جب عرب کی حد سے زیادہ خونریزی دیکھی تو اس سے برداشت نہ ہو سکا ۔اور اس نے اپنے لوگوں سے کہا کہ مجھے ایک زنبیل میں ڈال کر شاہ پور کے راستے میں رکھ دو ۔چنانچہ لوگوں نے اسے اٹھا کر اس راستے میں رکھ دیا ۔جس سے شاہ پور بادشاہ گزرنے والا تھا ۔جب شاہ پور ادھر سے گزرا اور اس کی نظر نزاربن سعد پر پڑی تو پوچھا کہ تو کون ہے اور یہاں کیوں آیا ہے تو نزارنے نے جواب دیا کہ میں ایک مرد عرب ہوں تجھ سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ تو عرب کو بے قصور کیوں قتل کر رہا ہے ۔

جو لوگ سرکش تھے اور تیری سلطنت میں فساد برپا کرتے تھے ان کو تو تو پہلے ہی قتل کر چکا ہے ۔اب اس ناحق خونریزی کا کیا باعث ہے ۔شاہ پور نے جواب دیا کہ میں گزشتہ کتابوں میں پڑھا ہے کہ عرب میں ایک شخص محمد نامی پیدا ہو گا جو نبوت کا دعویٰ کرے گا اور سلاطین عجم کی سلطنت اس کے ہاتھوں تباہ و برباد ہو گی اس لئے میں ان کو قتل کرتا ہوں تاکہ وہ شخص پیدا ہی نہ ہونے پائے۔ نزار نے کہا کہ اگر یہ بات تو نے جھوٹوں کی کتاب میں پڑھی ہے اور اس میں لکھی ہوئی دیکھی ہے تو جھوٹے لوگوں کے کہنے اور لکھنے سے بے خطا لوگوں کو کیوں قتل کرتا ہے اور اگر یہ سچی لوگوں کا قول ہے تو اللہ تعالیٰ ضروراس اصل کی حفاظت کرے گا جس سے وہ شخص پیدا ہوگا ۔اور تو ہرگز اس کے باطل ہونے پر قادر نہیں ہو سکے گا اور اس کا حکم ضرو ر جاری ہوگا ۔اور وہی ہو کر رہے گا اگرچہ عرب میں ایک شخص باقی رہ جائے نزار کی یہ لاجواب تقریر سن کر شاہ پور نے کہا کہ اے نزار (بمعنی لاغر )تو نے سچ کہا ۔اس کے بعد اس نے اپنے لشکر والوں سے کہا کہ عرب کے قتل سے ہاتھ اٹھالو ۔جو ہونے والا ہے ہوکے رہے گا ۔ہماری کوشش سے کچھ نہیں ہوتا ۔

یہ سن کر عرب کے قتل سے شاہ پور باز رہا ۔ اس کے بعد حضرت مختار نے کہاکہ اے حجاج اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے کہ میں تم میں سے تین لاکھ تراسی ہزار آدمی قتل کروں۔اب تیر ا جی چاہے میری قتل کا ارادہ کراور چاہے نہ کر ۔میں کہتا ہوں کہ یا تو اللہ تعالیٰ تجھے میرے قتل سے باز رکھے گا ۔ یا مجھے قتل کے بعد پھر زندہ کرے گا۔کیونکہ رسول خدا کا قول سچا ہے ،اس میں کسی طرح کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔ یہ سننے کے بعد حجاج کو اور زیادہ غصہ آگیا ۔اور جھنجلا کر کہنے لگا کہ میں تجھے اسی وقت قتل کروں گا اور زندہ نہ چھوڑوں گا۔چاہے کچھ ہو جائے ۔یہ کہہ کر اس نے پھر جلاد کو حکم دیا کہ مختار کو فوراً قتل کر دے ۔

مختار نے پکار کر کہا کہ اے حجاج ہوش کی کر میں پھر تجھ سے کہتا ہوں کہ تو مجھے ہر گز قتل نہ کر سکے گا ۔اے حجاج بہتر یہ ہو گا کہ تو جلاد کو حکم دینے کی بجائے خود مجھے قتل کرتا کہ خداوند عالم جس طرح تیرے ایک جلاد پر بچھو مسلط کر چکا ہے تجھ پر سانپ مسلط کرے اور وہ تجھے ڈس لے حجاج کو غصہ اور تیز ہوگیا ۔اس نے جلاد کو ڈانٹ کر کہا کہ کیا دیکھتا ہے فوراً مختار کا کام تمام کر دے اور اب میں ایک منٹ بھی اس کا زندہ رکھنا نہیں چاہتا ۔یہ سن کر جلاد نے تلوار اٹھائی اور چاہتا ہی تھا کہ گردن پر لگائے کہ اتنے میں عبد الملک بن مروان کا ایک خاص نامہ بر داخل دربار ہو کر جلاد کو چیخ کر پکارا ۔

ٹھہرنا مختار کی گردن پر تلوار نہ لگنے پائے ۔یہ کہہ کر اس نے حجاج کے ہاتھ میں ایک خصوصی خط دیا جو عبد الملک بن مروان کا لکھا ہوا تھا اس میں مرقو م تھا ۔

بسم الله الرحمن الرحیم

اما بعد اے حجاج بن یوسف میرے پاس ایک نامہ برپرندہ ایک چٹھی لایا ہے اس میں لکھا ہے تو نے مختار کو گرفتار کیا ہے اور اس خیال سے تو اس کو قتل کرنا چاہتا ہے کہ تو نے سنا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا ہے وہ بنی امیہ کے اعوان و انصار میں تین لاکھ تراسی ہزار آدمیوں کو قتل کرے گا ۔جب میری چٹھی تیرے پاس پہنچے اسی وقت اس کو چھوڑ دے اور نیکی کے سوا اس سے کسی قسم کا تعرض نہ کر کیونکہ وہ میرے بیٹے ولید کی دایہ کا شوہر ہے اور جو روایت کہ تو نے سنی ہے اگرچہ وہ جھوٹی ہے تو جھوٹی خبر سے ایک مسلمان کا قتل کرنا کیا معنی اور اگر سچ ہے تو رسول خدا کا قول کو ہر گز نہ جھٹلا سکے گا ۔

والسلام

اس خط کو پاتے ہی حجاج کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا اور سر بگر یباں ہو کر سوچنے لگا ۔کہ اب میں کیا کروں اور کس طرح مختار کو تلوار کے گھاٹ اتاروں ۔بالآخر حجاج نے حضرت مختار کو چھوڑ دیا اور ان کے قتل سے باز آیا ۔

حضرت مختار جب وہاں سے باہر نکلے تو کہنے لگے کہ حجاج میرے قتل کو غلط ارادہ کرتا تھا میں تو ابھی اس وقت تک زندہ رہوں گا ۔جب تک بنی امیہ کا خاتمہ نہ کروں۔میرے خروج کا زمانہ قریب ہے اور انشاء اللہ خروج کرتے ہی بنی امیہ کے لیے زمین خدا تنگ کردوں گا ۔اور ان کے خون سے چہرہ ارضی کو لالہ زار بنا دوں گا۔ جب حجاج کو حضرت مختار کے ارشاد کی خبر پہنچی تو اس نے پھر انہیں گرفتار کر الیا اور اپنے دربار میں بلا کر کہا کہ تم اپنے دعویٰ سے باز آجاؤ ۔ورنہ میں تمہیں ضرور قتل کردوں گا ۔

حضرت مختار نے فرمایا کہ اے حجاج میں پہلے بھی تجھ سے کہہ چکا ہوں اور اب پھر کہتا ہوں کہ تو میرے قتل کا حوصلہ نہ کر تو مجھے ہر گز قتل نہیں کر سکتا ۔دیکھ خداوندعالم کے حکم میں مداخلت نہ کر اس کی مشیت میں گذر چکا ہے ۔کہ میں قاتلان حسین کو ضرور قتل کروں گا۔ خدا کے منشاء میں فرق نہیں آسکتا ۔تو اس کی ترد یدمت کر یہ سن کر حجاج کو پھر غصہ آگیا ۔اور اس نے حضرت مختار کے قتل کا سامان فراہم کیا۔ ابھی حضرت مختار کو جلاد قتل کے لیے نہ لے جا سکے تھے کہ ناگاہ ایک نامہ بر ۱ کبوتر نے عبد الملک ابن مروان کا خط حجاج تک پہنچایا ،اس میں مثل سابق لکھا تھا :۔

بسم الله الرحمن الرحیم

اما بعد اے حجاج مختار سے کچھ تعرض نہ کر کیونکہ و ہ میر ے بیٹے ولید کی انّا کا شوہر ہے اور اگر وہ سچا ہے تو اس کے قتل کرنے سے روکا جائے گا ۔جیسے دانیال کو بخت نصر کے قتل سے روکا گیا جس کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے قتل کرنے کے مقرر کیا تھا۔والسلام الغرض حجاج نے بادل نخواستہ حضرت مختار کو چھوڑ دیا ۔اور چھوڑتے وقت ان کو بہت ڈرایا دھمکایا اور ہدایت کی کہ اب میں کبھی تمہاری زبان سے ایسی بات نہ سنو ں ۔حضرت مختار اس کے پاس سے نکل کر اسی قسم کی باتیں پھر کرنے لگے ۔اور ان کی گفتگو نے کافی شہرت حاصل کرلی حجاج کو جب اس کی پھر اطلاع ملی تو اس نے سپاہی بھیج کر حضرت مختار کو گرفتار کرانا چاہا مگر حضرت مختار اس مرتبہ دستیاب نہ ہو سکے ۔ایک مدت تک سپاہی محو تلاش رہے ۔

بالآخر ایک دن وہ گرفتار ہو ہی گئے ۔اب کی مرتبہ حجاج نے عزم با بحزم کر لیا تھا اور طے کر چکا تھا کہ اس دفعہ ضرور قتل کروں گا حضرت مختار کی گرفتاری کے فوراً بعد اس نے جلاد کو حکم دیا کہ انہیں جلد از جلد قتل کر دے جلاد حضرت مختار کو قتل کرنے کے لئے جا رہاتھا کہ ناگاہ مثل سابق پھر عبد الملک بن مروان کی چٹھی پہنچی۔تب اس نے مختار کو قید کر دیا اور عبدا لملک کو ایک عرضی لکھی جس کا مضمون یہ تھا کہ تو ایسے کھلم کھلا دشمن کو کیونکر اپنا سمجھتا ہے جو یہ خیال رکھتا ہے کہ میں بنی امیہ کے اعوان و انصار میں سے اس قدر آدمیوں کو قتل کروں گا جس کی کوئی انتہا نہ ہو گی ۔ عبد الملک بن مروان نے اس جواب میں کہلا بھیجا کہ اے حجاج تو کیسا جاہل ہے اگریہ خبر جھوٹی ہے تو ہم اس کی زوجہ کے حق کو نظر انداز نہیں کر سکتے ۔جس نے ہماری بڑی خدمت کی ہے۔ اس کی رعایت ضروری ہے اور اگریہ بات سچ ہے تو ہم عنقریب دیکھیں گے کہ وہ ہم پر مسلط ہو گا۔ جس طرح فرعون نے موسیٰ کی پرورش کی اور وہی اس پر مسلط ہوا ۔

اس پیغام کے سننے کے بعد حجاج نے مختار کو قتل تو نہ کیا لیکن انہیں عبد الملک ابن مروان کے پاس بھیج دیا عبدالملک نے انہیں آزاد کر دیا ۔اور مختار خدا کے منشا کے مطابق وقت مقررہ پر میدان میں آکر اپنے منصوبہ میں کامیاب ہوئے ۔ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کی ۔اے مولا ! حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے مختار کے معاملہ کا ذکر تو فرمایا کہ یہ واقعہ کب ظہور میں آئے گا ۔اور مختار کس کس کو قتل کریں گے ۔حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا کہ حضرت امیر المومنین نے سچ فرمایا ہے اور کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں اس واقعہ کے وقت وقوع سے مطلع کروں ۔اصحاب نے عرض کی مولا ضرور ارشاد فرمائیے ۔

آپ نے فرمایا کہ یہ واقعہ تیسرے سال ہوگا ۔اور اس کے اختتام تک عبید اللہ ابن زیاد وغیرہ کے سر ہمارے پاس پہنچیں گے اور جس وقت یہ سر پہنچیں گے ہم ناشتہ کرتے ہوں گے اور ان کے سروں کو خوشی کے ساتھ دیکھیں گے ........اس کے بعد حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے قول کی طرف رجوع کی کہ آپ نے فرمایا کہ جو عذاب کا فروں اور فاسقوں کے لیے مہیا کیا گیا ہے وہ بہت بڑا اور زیادہ دیر پا ہے ۔اس کے بعد جناب امیر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ ہم اپنے فرمانبرداروں کے لئے خدا سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور وہ ان کی نیکیوں کو زیادہ کرتا ہے ۔اصحاب نے عرض کی کہ یا امیر المومنین علیہ السلام آپ کے مطیع اور فرمانبردا ر کون لوگ ہیں ،فرمایا کہ وہ لوگ جو اپنے پروردگار کو واحد جانتے ہیں اور ان صفات سے اس کو موصوف کرتے ہیں ۔جو اس کے لائق ہیں اور اس کے پیغمبر حضرت محمد مصطفے ٰصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کے فرائض کے ادا کرنے اور محرمات کے ترک میں خدا کی اطاعت کرتے ہیں ۔اور اپنے وقتوں کو ذکر خدا کرنے اور محمد وآل محمد پر درود میں صرف کرتے ہیں اورا پنے نفسوں سے حرص و بخل کو دور رکھتے ہیں اور زکوٰة جو ان پر فرض کی گئی ہے۔ اسے ادا کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ (آثار حیدری ترجمہ تفسیر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام ص۴۸۰تا۴۸۶طبع لاہور)


سولہ واں باب

حضرت مختار کا نعرہ انتقام

حضرت مختار کا نعرہ انتقام امیر مختار کے لیے پچاس معززین کوفہ کی تصدیق حضرت محمد حنفیہعليه‌السلام کے پاس جانا اور جناب محمد حنفیہعليه‌السلام کی حاضری خدمت حضرت امام زین العابدینعليه‌السلام میں حضرت مختار ،عبد الملک ابن مروان کے خوانحوار جرنیل حجاج بن یوسف ثقفی کے دست تعدی سے بچ کر عراق سے کوفہ پہنچے ،یہاں پہنچ کر آپ نے اپنا نعرہ انتقام بلند فرمایا ۔اہل کوفہ چونکہ مکمل طور پر آپ کی تائید میں تھے۔ لہٰذا انہوں نے آپ کی تحریک کو کامیاب کرنے میں پور ا ساتھ دیا ۔ہر طرف سے تائیدات کی صدائیں بلند تھیں ۔ہر شخض آپ کی حمایت کے لیے بے چین تھا ۔کوفہ کی گلی کو چے میں آپ کا پروپیگنڈا جاری تھا ۔اور لوگ جوق در جوق بیعت کے لیے پھٹے پڑتے تھے ۔

آپ جس عہد کے مطابق بیعت لے رہے تھے ۔وہ یہ تھا کہ قرآن مجید اور رسول پر عمل کرنا ہوگا ۔امام حسینعليه‌السلام اور اہل بیت رسول کے خون بہا لینے میں مدد کرنی ہو گی ۔ اور ضعیف و کمزور شیعوں کی تکالیف کا مداویٰ کرنا ہوگا ۔(نور الابصار ص۸۲)

صاحب رو ضۃ الصفا کا بیا ن ہے کہ جس شخص کے دل میں محبت اہل بیت رسول ذرا سی بھی تھی اس نے مختار کی بیعت میں تاخیر نہیں کی ۔علامہ محسن الا مین کا بیان ہے کہ حضرت مختار کی آواز پر جن لوگوں نے سب سے پہلے لبیک کہا وہ اہل ہمدان تھے ۔اور اہل عجم کے وہ لوگ تھے ۔جو کوفہ میں آباد تھے جن کی تعداد بیس ہزار کے لگ بھگ تھی ۔(اصدق الاخبار ص ۳۸)

حضرت مختار اپنی پوری توجہ کے ساتھ فراہمی اسباب میں منہمک تھے اور لوگوں کو اپنی طرف برابر دعوت دے رہے تھے اور اسی دوران میں عبد اللہ بن زبیر نے اپنے دونوں والی عبد اللہ ابن یزید اور ابراہیم محمد بن طلحہ کو معزول کر دیا اور ان کی جگہ پر عبد اللہ ابن مطیع کو ریاست کوفہ کے لئے اور حارث بن عبد اللہ بن ابی ربیعہ کو حکومت بصرہ کے لیے بھیج دیا عبد اللہ ابن مطیع نے کوفہ میں داخل ہوتے ہی اپنا کام شروع کر دیا ۔کہ جامع مسجد میں تمام لوگ جمع ہوں جب لوگوں سے مسجد چھلکنے لگی تو اس نے منبر پر جا کر خطبہ دیا جس میں اس نے کہا مجھے حاکم وقت عبد اللہ ابن زبیر نے کوفہ کو گورنر بنا کر بھیجا ہے ۔

اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں شہر کو قابو میں رکھوں اور اخذاموال کا فریضہ ادا کروں لیکن میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تم پر بالکل اسی طرح حکومت کروں گا جس طرح عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان نے کی ہے اب تم تقویٰ اورپرہیز گاری اختیار کرو اور خاموشی سے زندگی بسر کرنے کی فکر کرو ۔شر اور فساد شورشرابا کا خیال بالکل ذہن سے نکال دو ۔اور تم میں جو احمق قسم کے لوگ ہیں ۔

انہیں اختلافات اور حکومت کی مخالفت سے باز رکھوں اور انہیں سمجھاؤ کہ اعمال صالحہ کریں ورنہ گرداب عمل میں گرفتار ہوں گے ۔ عبد اللہ بن مطیع ابھی منبر سے اترنے نہ پایا تھا کہ ایک دلیر شخص نے جس کا نام صائب بن مالک اشعری تھا مجمع میں کھڑا ہو گیا اور ابن مطیع کو مخاطب کرکے بولا اے امیر تو نے اپنی تقریر میں حضرت عمر اور حضرت عثمان کی سیرت پر عمل کرنے کا حوالہ دیا ہے اور تو چاہتا ہے کہ کوفہ میں ان دونوں کی سیرت کی روشنی میں حکومت کرے۔ ہم تجھ سے پوچھتے ہیں کہ تو نے حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب کی سیرت عمل کا حوالہ کیوں نہیں دیا ۔اور اپنے خطبہ میں ان کا ذکر کیوں نہیں کیا۔ ابن مطیع نہ ہم حضرت عمر کی سیرت چاہتے ہیں نہ حضرت عثمان کی سیرت کے خواہاں ہیں ۔

ہمیں تو صرف سیرت امیر المومنین علیہ السلام چاہیئے ۔اگر تو کوفہ میں رہ کر ان کی سیرت پر عمل کرے گا تو ہم تیری رعایا اور تو ہمارا حاکم ۔

اور اگر تو نے ان کی سیرت نظر انداز کر دی تو یاد رکھ کہ ہمارے درمیان ایک پل بھی حکومت نہ کر سکے گا ۔ صائب ابن مالک کا یہ کہنا تھا کہ مجمع سے صدائے تحسین و آفرین بلند ہو گئی ۔اور سب کے سب صائب کی تائید میں بول اٹھے۔مسجد میں ایک ہنگامہ برپا ہوگیا اور ہر طرف سے صائب کے لیے تائیدی آوازیں بلند ہونے لگیں ۔

عبدا للہ ابن مطیع نے پکار کر خاموش رہنے کی ہدایت کی اور کہا کہ تم لوگ گھبراؤ مت میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تمہارے درمیان اسی طرح حکومت کروں گا۔ جس طرح تم لوگ خود چاہو گے ۔ اس ہنگامہ خیزی کے بعد عبد اللہ ابن مطیع مسجد سے برآمد ہوا اور سیدھا اپنے دار الا مارہ میں جادا خل ہوا ۔

اور مسجد کے لوگ بھی اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے مسجد میں جو واقعہ گزرا ،اس سے ارکان دولت میں کھلبلی مچ گئی۔ اور سب نتائج پر غور کرنے لگے ۔بالآخر کو توال کوفہ ایاس بن مضارب عجلی ، عبد اللہ بن مطیع کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے امیر تجھے معلوم ہے کہ جس شخص نے دوران خطبہ میں اعتراض کیا تھا وہ کون ہے ۔عبد اللہ نے کہا کہ مجھے علم نہیں ۔ایاس نے جواب دیا کہ یہ مختار کے لوگوں کے سر براہوں میں سے ہے اے امیر کوفہ کے حالت روز بروز خراب ہوتے جا رہے ہیں ۔(رو ضۃ الصفا جلد ۳ص۷۷)

حضرت مختار کی گرفتاری کا مشورہ

کوتوال کوفہ ایاس بن مضارب نے عبدا للہ ابن مطیع کے سامنے حالات حاضرہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کوفہ میں اچھا خاصاانتشار پیدا ہے اور اس انتشار کی تما م تر ذمہ داری کی مختار پر ہے اے امیر مجھے پتہ چلا ہے کہ مختار کی بیعت بڑی تیزی سے کی جارہی ہے ۔لوگ جوق در جوق بیعت کے لئے شب وروز چلے آتے ہیں ۔پتہ چلا ہے کہ ہزاروں افراد ان کے دائرہ بیعت میں داخل ہو چکے ہیں ۔اور میں نے یہ بھی سنا ہے کہ مختار عنقریب خروج کرنے والے ہیں ۔اے امیر یاد رکھ کہ اگر مختار میدان میں کھلم کھلا نکل آئے تو پھران کا سنبھالنا نہایت دشوار ہو گا ۔

عبد اللہ ابن مطیع نے کہا کہ تمہارے نزدیک اس کا انسداد کیونکر مناسب اور ممکن ہے ایاس بن مضارب نے کہا کہ اس کی صرف ایک ہی صورت ہے اوروہ یہ مختار کو جلد سے جلد گرفتار کر لیا جائے اور اس وقت تک نہ چھوڑ ا جائے جب تک تیری حکومت مستحکم نہ ہو جائے ۔ عبد اللہ ابن مطیع نے کوتوال کوفہ کی رائے پر غور کرنے کے بعد حکم دیا کہ مختار کو بلا یا جائے۔چنانچہ اس کام کے لئے زائد ہ بن قدامہ اور حسین بن عبد اللہ صمدانی کو طلب کیا گیااو ر ان سے جملہ حالات بتا کر انہیں ہدایت کر دی گئی کہ مختار میں مدد دینے کے لئے ان کو دربار میں لانے کے ارادے سے ردا نہ ہو ئے اور مختار تک جا پہنچے۔

ان دونوں نے حضرت مختار سے ملاقات کرنے کے بعد ان سے کہا کہ عبدا للہ ابن مطیع آپ کو ایک امر میں مشورہ کے لیے بلا رہا ہے۔ آپ تشریف لے چلئے ۔

حضرت مختار نے فرمایا کہ ابھی ابھی چلتا ہوں یہ کہہ کر فوراًلباس بدلا اور روانگی کے لئے تیار ہو کر وہ کھڑے ہو گئے ابھی باہر نہ نکلے تھے کہ زائدہ بن قدامہ میں جوان کو لے جانے والوں میں ایک تھا ۔یہ آیت پڑھی ۔ اذیمکر بک الذین کفر والیثبتوک ویخرجوک او یقتلوک۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار تمہارے ساتھ مکر کر رہے ہیں یا تمہیں یہاں سے نکال دیں گے ۔یا قتل کردیں گے ۔حضرت مختار نے جو نہی ا س آیت کو سنا وہ فوراً سمجھ گئے کہ میرا جانا خطرے سے خالی نہیں ۔

اگر میں گیا تو یقینا گرفتار کر لیا جاؤں گا ۔ یہ خیال کرتے ہی آپ نے اپنے غلام سے کہا کہ دیکھو اس وقت جبکہ میں یہاں سے روانہ ہو رہا ہوں مجھے سردی لگنے لگی ہے ۔اور دفعتہ بخار آگیا ہے ۔طبیعت بہت بے قابو ہے تو ہماری گلیم لا دے ۔غلام نے ضروری کپڑے اور سامان حاضر کر دیا ۔حضرت مختار نے اسے اور ڑھ لیا اور عبد اللہ ابن مطیع کے دونوں آدمیوں سے کہا کہ میری حالت تم دیکھ رہے ہو، مجھے دفعتاً بخار آگیا ہے۔ اس لئے اب میں تمہارے ساتھ اس وقت نہیں چل سکتا ۔تم جا کر عبد اللہ ابن مطیع سے وہ سارا واقعہ بیان کر جو تم نے دیکھا ہے ۔ یہ سن کر ابن قدامہ نے کہا کہ میرا تنہا کہنا کافی نہ ہوگا ۔میں تو اپنی طرف سے عرض احوالی میں بالکل کو تاہی نہ کروں گا ۔لیکن ضرورت ہے کہ حسین بن عبد اللہ بھی ہم خیال وہم زبان ہوں حضرت مختار نے حسین کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ اے حسینعليه‌السلام سن جو میں کہتا ہوں ۔

اسے کان دھر کے سن اور اس پر عمل کر ،یہ عمل تجھے ایک دن فائدہ پہنچائے گا ۔میرا کہنا یہ ہے کہ امیر کو میری جانب سے مطمئن کر دو ۔اور اسے یقین دلا دو ۔کہ میں مجبور اً اس وقت اس کی طلب پر اس کے پاس نہیں پہنچ سکا ۔ اس کے بعد حضرت مختار سے دونوں سفیر حکومت رخصت ہو کر واپس چلے گئے باہر نکلنے کے بعد حسین بن عبد اللہ ہمدانی نے اپنے ساتھی زائدہ ابن قدامہ سے کہا کہ میں سب کچھ سمجھتا ہوں کہ مختار آتے آتے کیسے رک گئے اور ان کے تمارض یعنی بیمار بننے کا سبب کیا ہے لیکن میں امیر کے سامنے اس کی وضاحت نہ کروں گا۔ کیوں کہ مجھے محسوس ہو رہا ہے ۔کہ مستقبل میں کوفہ مختار کے ہاتھ ہو گا ۔میں اس وقت راز کے چھپانے میں آئندہ کا فائدہ دیکھ رہا ہوں ۔الغرض عبد اللہ ابن مطیع کے دونوں فرستادے واپس آکر اس سے ملے۔زائد بن قدامہ نے بتایا کہ وہ آرہے تھے ۔دفعتہ بیمار ہو گئے ۔اس لئے حاضر نہ ہو سکے۔ حسین بن عبد اللہ نے زائدہ کی تائید کر دی اورابن مطیع خاموش ہو گیا ۔(رو ضۃ الصفا ء جلد۳ص۷۸ و تاریخ طبری جلد ۴ص۶۵۳)

حضرت مختار نے سعی خروج تیز کردی

عبد اللہ ابن مطیع کے دونوں سفیر تو واپس چلے گئے لیکن حضرت مختار کو یہ خیال پیدا ہو گیا کہ وہ اب ہماری گرفتاری میں کوشاں ہے لہٰذا انہوں نے سعی خروج تیز کردی مورخ ہروی کا بیا ن ہے کہ حضرت مختار نے یہ یقین کرنے کے بعد کہ ابن مطیع مجھے گرفتار کرے گا ۔اپنے اہل بیت کو جمع فرمایا اور ان سے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ میں خروج کروں ۔لہٰذا تم لوگ تیار ہو جاؤ اورمیدان کے لائق اسلحے وغیرہ فراہم کر لو ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ آپ کے حکم پر مر مٹنے کے لئے تیار ہیں ۔جب حکم ہو میدان میں نکل آئیں گے ۔ اور بروایت سعید ابن الجعفی لوگوں نے کہاکہ ہم اسباب خروج کی تیاری میں ہیں ہمیں اور چند دن کی مہلت ملنی چاہیے تاکہ مکمل تیاری کرلیں۔ (رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۷۸)

جناب مختار کی تقریر چند یوم مہلت دینے کے بعد حضرت امیرمختار نے ایک جلسہ طلب کیا جب کثیر اصحاب جمع ہوگئے تو آپ نے ایک زبردست تقریر فرمائی جس میں آپ نے اپنے منصوبہ انتقام پر روشنی ڈالی اور کہا کہ واقعہ کربلا کا بدلہ لینے کیلئے اب ہمیں خروج کرنا ضروی ہے آپ کی تقریر کے بعد بہت سے لوگوں نے آپ سے کہا کہ ہمیں پتہ چلا ہے کہ کوفہ کے کافی افراد عبداللہ ابن مطیع سے ملے ہوئے ہیں اور وہ سب آپ سے مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ بہتر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم جناب ابراہیم ابن مالک اشتر کو بھی ہمنوابنالیں۔

حئی جاء معنا ابراهیم ابن ال اشتر خرجنا باذن اللّٰه تعالیٰ القوة علی عدونا فله ا لعشیرة الخ ۔

اگر ہمارے ساتھ مالک اشتر کے چشم و چراغ حضرت ابراہیم بھی ہوجائیں تو بڑی قوت پیدا ہوجائے گی اور ہم دشمنوں پر آسانی سے قابو حاصل کرسکیں گے کیونکہ وہ اپنی قوم کے سردار ہیں اور ان کے ساتھ بہت بڑا گروہ ہے حضرت مختار نے فرمایا کہ اچھا انہیں ہمنوابنانے کی سعی کرو اور اب ان تک میری آواز پہنچاؤ ۔ انہیں بتادوکہ ہم ذمہ داران اسلام سے اجازت نامہ لے کر آئے ہیں اور واقعہ کربلا کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ اگر وہ تمہارے کہنے سے ساتھ دینے پر آمادہ ہوگئے۔ تو فھو المراد اور اگر انہوں نے کچھ بھی تردد کیا تو میں خود ان کے مکان پر جاکر ان سے مدد کی درخواست کروں گا۔ حضرت مختار کے کہنے کے مطابق کچھ لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ فلم یجب فانصرفوا۔ اور ان لوگوں نے حضرت مختار کا پیغام ان تک پہنچایا ۔

ابراہیم بن مالک اشتر نے اس کا کوئی جواب نہ دیا اور یہ لوگ واپس پلٹ آئے۔ (دمعۃ ساکبہ ص ۴۰۸ )

حضرت مختار جناب ابراہیم کے مکان پر

مورخ ہروی رقم طراز ہیں کہ حضرت مختا رکی خواہش کے مطابق عقلا کا ایک گروہ جن میں ابوعثمان المہندی اور عامر الشعبی بھی تھے۔ حضرت ابراہیم کی خدمت میں حاضرہوا۔ ابراہیم نے ان لوگوں کی بڑی عزت و توقیر کی اور فرمایا کہ اپنے آنے کا سبب بیان کرو ۔ تاکہ میں ان کی تعمیل وتکمیل پر غور کرسکوں۔ ان لوگوں میں سے یزید ابن انس نخعی جو فصاحت و بلاغت میں ممتاز تھے اور تیز زبان کے مالک تھے بولے کہ اے ابونعمان اہم اس مقصد کے لیے آئے ہیں کہ آپ کی خدمت میں ایک خاص بات اور ایک اہم امر کی د رخواست کریں ابراہیم نے فرمایا کہ مقصد بتاؤ تاکہ میں غور کرسکوں یزید ابن انس نے کہا کہ ہم لوگ کتاب خدا اور سنت رسول کی اتباع اور طلب خون حسینعليه‌السلام کے لیے کھڑے ہوئے ہیں اور لوگوں کو اسی امر کی دعوت دے رہے ہیں ۔

خدا کا شکر ہے کہ کوفہ کا بہت بڑا گروہ ہمارے ساتھ ہوگیا ہے اسی قسم کی بات احمد بن شمیط بجلی نے بھی کہی حضرت ابراہیم نے ان کے کہنے پر غور و فکر کیا اور سرداری کا حوالہ دیا ان لوگوں نے حضرت مختار کی بیعت کرلینے کا تذکرہ کرکے ان سے حمایت کی درخواست کی حضرت ابراہیم خاموش ہوگئے اور یہ لوگ وہاں سے واپس چلے آئے۔ ان لوگوں میں حضرت مختار کی خدمت میں سارا واقعہ بیان کیا حضرت مختار نے تین دن خاموش رہنے کے بعد اپنے معتمد لوگوں کو طلب کیا اور انہیں ہمراہ لے کر حضرت ابراہیم کے مکان پر پہنچنا ضروری سمجھا۔ معززین کوفہ کاگروہ حضرت مختار کے ہمراہ حضرت ابراہیم کے مکان پر جاپہنچا ان لوگوں نے دربانوں سے اجازت دخول حاصل کی ۔ اور یہ لوگ اندر داخل ہوگے ۔

حضرت ابراہیم نے حضرت مختار کا بڑا احترام کیا ، اور تشریف آوری کا سبب پوچھا ۔ حضرت مختار نے فرمایا کہ میں نے واقعہ کربلا کے بدلا لینے کا فیصلہ کیا ہے اور شاید آپ کو علم ہوگا کہ میں اس سلسلہ میں کسی کے مکان پر آپ کے مکان کے سوا نہیں گیا آپ سید و سردار ہیں مجھے آپ کی امداد کی اس سلسلے میں شدید ضرورت ہے میں آپ کیلئے حضرت محمد حنیفہ کا ایک خط بھی لایا ہوں اس کے رو سے آپ کی امداد کا خواہش مند ہوں، حضرت ابراہیم نے خط طلب کیا حضرت مختار نے حضرت محمد حنفیہعليه‌السلام کا خط ان کے حوالہ کیا انہوں نے جب اس خط کو کھولا تو اس میں یہ لکھا دیکھا کہ میں نے مختار کو واقعہ کربلا کا بدلہ لینے کیلئے اپنا مختار اور ولی منتخب و مقرر کیا ہے، آپ ان کی مدد کریں اور ان کی اطاعت قبول کرلیں ۔

میں اس امر کا وعدہ کرتا ہوں کہ کوفہ سے اقصاء شام تک جتنے علاقے اس مہم کے سلسلہ میں زیر نگیں ہوں گے ان کی حکومت آپ کے حوالے کی جائے گی میں تمہاری اس عنایت کا شکر گزاررہوں گا اور دیکھو اگر تم نے اس امر میں کوتاہی کی تویاد رکھو کہ دنیا و آخر ت میں تمہیں گھاٹا ہوگا۔ حضرت ابراہیم نے خط پڑھنے کے بعد فرمایا کہ اے ابو اسحاق حضرت محمد حنیفہ کے خط کا جو انداز ہوتا تھا وہ اس خط میں نہیں ہے میں کیوں کر یقین کرلوں کہ یہ خط انہیں کا ہے حضرت مختار نے فرمایا کہ وہ زمانہ اور تھا اور یہ زمانہ اور ہے ۔ اصل خط انہیں کا ہے انداز چاہیے جو ہو اگر آپ اس امر کی تصدیق کے لیے گواہ چاہتے ہوں کہ یہ خط انہیں کا ہے تو میں گواہ پیش کرسکتا ہوں۔ (رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۷۹)

مورخ طبری کا بیان ہے کہ اس خط میں صاف صاف لکھا تھا کہ مختار رابکوفہ فرستادم باادبیعت کیند و پدرت اوراز شیعیان مابودوتونیز ہمچناں باش میں نے مختار کو کوفہ بھیجا ہے ۔ تم ان کی بیعت کرو تمہارے والد مالک اشتر ہمارے مخلص اور شیعہ تھے تم ان کی پیروی کرو ۔ (تاریخ طبری جلد ۴ ص ۶۵۴)

حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ وہ کون لوگ ہیں۔ جو اس کی شہادت دیتے ہیں کہ یہ خط حضرت محمد حنفیہعليه‌السلام ہی کا ہے یہ سن کردہ پندرہ آدمی جو حضرت مختار کے ہمراہ تھے جن میں یزید بن انس احمر بن سعید اور عبداللہ ابن کامل تھے گواہی دی اور کہا ۔ نحن نعلم و نشھدانہ کتاب محمد الیک ۔ کہ ہم جانتے ہیں اور اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ خط حضرت محمد بن الخیفہ ہی کا ہے ۔ یہ سن کر حضرت ابراہیم اپنے مقام سے اٹھے اور انہوں نے حضرت مختار کی بیعت کی اور انہیں اپنے مقام پر بٹھایا اور خود نیچے اترکر بیٹھ گئے۔ (تاریخ طبری جلد ۴ ص ۴۵۶ و ذوب النضار ص ۱۰۸ اخذ الثار ابی مخنف ص ۴۸۸ ، دمعۃ ساکبہ ص ۴۰۸)

معززین کوفہ کے پچاس افراد محمد حنیفہعليه‌السلام کی خدمت میں

حضرت مختار کی واپسی کے بعد بقول امام اہلسنت علامہ عبداللہ ابن محمد حضرت ابراہیم نے یہ ضروری سمجھا کہ مزید اطمینان کے واسطے آپس میں تبادلہ خیالات کرلیا جائے چنانچہ انہوں نے دوسرے دن نماز صبح کے بعد اپنے اعزہ و اقربا سے واقعہ مختار پر تبصرہ کیا اور ان لوگوں سے بیعت کی خواہش کی ان لوگوں نے جواب دیاکہ معاملہ بہت اہم ہے۔ اس لیے ہمارے واسطے یہ امر ضروری ہے کہ ہم مختار کے متعلق حضرت محمد حنیفہ سے مزید اطمینان حاصل کریں اور اس کی صورت یہ ہے کہ ہمارے پچاس آدمی تصدیق امر مختار کے لیے حضرت محمد حنیفہ کی خدمت میں جائیں اور تصدیق کرکے واپس آئیں اگر انہوں نے تصدیق کردی تو ہم دل و جان سے لڑیں گے اور اپنی جائیں دیں گے اور اپنے جسم کا آخری قطرہ خون بہادیں گے اور اگر انہوں نے تصدیق نہ کی تو ہم خاموش ہوکر اپنے گھروں میں بیٹھ رہیں گے ۔ (قرة العین فی اخذالثارالحسین ص ۱۴۳ طبع بمئبی )

علامہ ہروی کا بیان ہے کہ حضرت محمد بن حنیفہ کے پاس پچاس افراد کے جانے کا فیصلہ سراے عبدالرحمن بن شریح ہمدانی میں ہوا تھا اس فیصلہ کے بعد پچاس افراد حضرت محمد بن حنیفہ سے تصدیق امر مختار کے لیے روانہ ہوگئے۔ منزلیں طے کرنے کے بعد جب ان کی خدمت میں پہنچے اور آستان بوس ہوئے اور ان کی خدمت میں پیش ہوئے تو انہوں نے پوچھا کہ آج کل تو حج کا زمانہ بھی نہیں ہے ۔ آخر تم لوگ کس لیے یہاں آئے ہو عبداللہ ابن شریح ہمدانی نے کہا کہ خداوندعالم نے آپ کو خاندانی عزت و بزرگی سے سرفراز فرمایا ہے۔ جو شخص آپ کی اطاعت نہ کرے وہ دنیا و آخرت میں نقصان اٹھائے گا۔ اس زمانہ میں خاندان رسالت بلکہ تمام اہل عرفان و معرفت غم امام حسینعليه‌السلام سے رنجیدہ ہیں حضرت مختار ہمارے وطن کوفہ میں آئے ہوئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ہم حضرت محمد حنیفہ کی طرف سے یہاں آئے ہیں اور ان کے خطوط کے حوالہ سے تم لوگوں سے بیعت چاہتے ہیں اور ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم حضرت امام حسینعليه‌السلام کے خون کا بدلہ لیں حضور ہم لوگوں نے کافی تعداد میں اس بنا پر ان کی بیعت کرلی ہے کہ وہ آپ کے خطوط دکھلا رہے ہیں تو عرض یہ ہے کہ اگر وہ آپ کی طرف مامور ہوں تو ہم تکمیل بیعت کریں اور ان کی پوری پوری امداد سے سرخرد ہوں ورنہ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ جائیں۔

حضرت محمد حنیفہ نے فرمایا کہ جہاں تک ہماری عزت و حرمت کا تعلق ہے یہ خدا کا عطیہ ہے اور وہ جسے چاہتا ہے عزت عنایت فرماتا ہے اور حضرت امام حسینعليه‌السلام کا قتل دلدوز اور دلسوز ہے مختار کے بدلہ لینے کے متعلق یہ ہے کہبالله الذی لااله الا هو کہ من دوست می دارم کہ حضرت ذوالجلال بسعی ہر کس از بندگان کہ خواہدمارا بدشمنان ظفر و نصرت وہدتابانتقام ظلمی کہ برقبیلہ وعشیرت مارفتہ ازایشان کشیدہ شود ۔ (رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص۷۸ )

اس خدا کی قسم کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ اس چیز کو دوست رکھتا ہوں کہ وہ جس کسی کو بھی اپنے بندوں میں سے طاقت دے دے اوردشمنوں پر فتح نصیب کردے۔ کہ وہ اس واقعہ کا بدلہ لے جو ہم پر گزرا ہے تو یہی ہمارا عین مقصود ہے۔ مورخ طبری کا بیان ہے کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ خون حسینعليه‌السلام برہمہ واجب است ۔ امام حسین کے خون کا بدلہ لینا تمام اہل عرفان پر واجب ہے۔

(تاریخ طبری جلد ۴ ص ۶۵۴)

مورخ ابن ایثر جزری کا بیان ہے کہ حضرت محمد بن حنیفہ نے خدائے تعالیٰ کی حمدوثنا کے بعد کہا کہ تم لوگ جس شخص کا ذکر کرتے ہو وہ تم کو ہم لوگوں کے خونوں کا بدلا لینے کے یے دعوت دیتا ہے اس کے متعلق میں یہ کہتا ہوں کہ میں خود یہ چاہتا ہوں کہ اگر خدا کو منظور ہو تو وہ اپنی مخلوق میں جس شخص کے ذریعہ چاہے ہم کو ہمارے عدو کے خلاف مدد دے اور اگر میں نہ چاہتا تو کہہ دیتا کہ ایسا نہ کرو۔ (ترجمہ تاریخ کامل جلد ۱ ص ۳۶۰)

اس کے بعد آپ نے فرمایا۔ قوموابنا الی امامی وامامکم علی بن الحسینی۔ کہ اٹھو ہم لوگ اپنے اور تمہارے امام زمانہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے پاس چلیں۔ جب یہ لوگ روانہ ہوکر ان کی خدمت بابرکت میں پہنچے اور ان کی خدمت میں عرضداشت پیش کی تو انہوں نے فرمایا:۔یاعم لوان عبدازنجیا تعصب لنااهل اهلبیت لوجب علی الناس موازرقه ولقد ولیتک هذا الامرفاصنع ما شِئت (ذوب النضار فی شرح الثار ص ۴۰۱ ، ودمعۃ ساکبہ ص ۴۰۸ ، نورالابصار ص ۹۲ و اصدق الاخبار ص ۳۹)

(ترجمہ)اے چچا جان اگر غلام حبشی ہم اہل بیتعليه‌السلام کی مدد گاری اور جانبداری کیلئے کھڑا ہوجائے تو اس کی سنو رفاقت اور اس کی شراکت ہر مسلمان پر واجب ہے میں نے اس امر میں آپ کو اپنا وکیل بنا دیا ہے اب آپ جو مناسب سمجھیں کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد وہ لوگ نہایت خوش و مسرور حضرت محمد حنیفہ سمیت حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے پاس سے واپس آئے اور حضرت محمد بن الحنیفہ سے درخواست کی کہ ہمیں اپنا نوشتہ دے دیجئے چنانچہ انہوں نے خط لکھ دئیے اور یہ لوگ ان سے رخصت ہوکر روانہ کوفہ ہوگئے ۔ (نورالابصار ص ۹۱)

وہاں سے نکلنے کے بعد جب یہ لوگ اپنوں سے ملے تو انہوں نے کہا کہ ہمیں حضرت امام زین العابدینعليه‌السلام اور حضرت محمد بن الحنیفہ نے اجازت دے دی ہے ۔ (دمعۃ ساکبہ ص ۴۰۸ ، و ذوب النضار ابن نما ص ۴۰۷)

حجۃ الاسلام علامہ محمد ابراہیم لکھتے ہیں کہ حضرت مختار کو ان لوگوں کے جانے کی خبر نہ تھی جب انہیں معلوم ہواکہ پچاس آدمی حضرت محمد حنیفہ کے پاس گئے تھے اور وہ واپس آکر قادسیہ میں مقیم ہیں تو اپنے غلام سیطح کو طلب فرمایا اور اس سے کہا کہ تو قادسیہ جاکر حالات معلوم کراور سن اگر تو یہ خبر لایا کہ ان لوگوں کو میری بیعت کی اجازت لی گئی ہے تو میں تجھے آزاد کردوں گا۔ غلام دوڑا ہوا قادسیہ پہنچا اور اس نے وہاں دیکھا کہ لوگ حضرت مختار کے نام کی بیعت لے رہے ہیں ۔ وہ یہ دیکھ کر بھاگا ہوا حضرت مختار کے پا س پہنچا اور اس نے انہیں خبر مسرت سنائی ۔ حضرت مختار نے حسب گفتہ خود اپنے غلام کو آزاد کردیا۔ (نورالابصار ص ۹۱ و اخذالثار ابی مخنف ص ۴۸۹)

مورخ ہروی کا بیان ہے کہ اہل کوفہ جب وہاں سے لوٹ کر کوفہ پہنچے اور ان لوگوں کی حضرت مختار سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا کہ تم لوگ کیا جواب لائے ۔ لوگوں نے کہا کہ حضرت نے آپ کی بیعت اور آپ کی امداد کا حکم دے دیا ہے حضرت مختار نے کمال مسرت کی حالت میں فرمایاکہ میں انشاء اللہ دشمنوں کو تہ تیغ کردوں گا ۔ چوں خبردر کوفہ شائع شد ہر کس کہ محبت اہل بیتعليه‌السلام نصیبے داشت بخدمت مختار مبادرت نمودہ بااوبیعت کردند، جب یہ خبراجازت کوفہ میں مشہور ہو گئی تو وہ تمام لوگ جنہیں خدا کی طرف سے محبت اہل بیتعليه‌السلام کا کچھ حصہ بھی نصیب ہوا تھا بیعت مختار کیلئے دوڑ پڑے۔ اورسب نے بیعت کرلی ۔ (رو ضۃ الصفا جلد ۳ ص ۷۸)

حضرت مختار کی بیعت بصرہ میں

مورخ طبری کا بیان ہے کہ جب حضرت مختار کی بیعت کوفہ میں عام طور سے ہونے لگی ۔ تو اسی دوران میں بنی مثنیٰ نامی ایک شخص بصرہ سے کوفہ آیا اوراس نے بھی حضرت مختار کی بیعت کی حضرت مختار نے مثنیٰ سے فرمایا کہ تم ابھی بصرہ میں مقیم ہو اور پوشیدہ طریقے سے میری بیعت لیتے رہو ۔اور اس وقت تک یہ سلسلہ جاری رکھو۔ جب تک میں خروج نہ کروں جب میں کوفہ میں خروج کروں ۔تو تم بصرہ میں ہنگامہ برپا کر دو۔اگر خد ا نے چاہا اور اس نے میری مدد کی اور میں کامیاب ہو گیا تو بصرہ کی حکومت تمہارے سپرد کردوں گا ۔مثنیٰ نے کہا کہ بہت خوب آپ کا جو حکم ہو میں اس کی تعمیل کروں گا ۔چنانچہ مثنیٰ بصرہ واپس آگئے اور انہوں نے سرائے ازارقہ میں قیام کرکے کام شروع کر دیا ۔یہ سرائے بہت سے دیہاتوں کا مجوعہ تھی اور اب بھی محلول کی صورت میں موجود ہے اس سرائے کا ایک بہت بڑا دروازہ آہنی تھا۔ جب رات ہوتی تھی تو اس کا دروازہ بند کر دیا جاتا تھا مثنیٰ نے اسی سرائے میں پوشیدہ کا م جاری رکھا ۔ یہاں تک کہ حضرت مختا ر نے کوفہ میں خروج کر دیا ۔خروج کرنے کے بعد حضرت مختار نے مثنیٰ کو بصرہ میں ایک خط لکھا جس میں تحریر کیا کہ تم بصرہ سے کوفہ آجاؤ ۔مثنیٰ نے بصرہ سے روانگی کی تیاری شروع کر دی ۔ابھی روانہ نہ ہونے پائے کہ والی بصرہ قعقاع کو ان کے ارادے کی خبر ہو گئی۔

اس نے فوراً کوتوال شہر کو حکم دیا کہ مثنیٰ کو گرفتار کر لاؤ ۔کوتوال پولیس کا ایک دستہ لے کر اس کے مقام پر پہنچ گیا اور اس نے سارے محلہ کو گھیرے میں لے لیا ۔اس ہنگامی حالت کے رونما ہونے کے بعد اہل محلہ میں جوش وخروش پیدا ہوگیا اور پولیس و اہل محلہ میں سخت جھڑپ ہو گئی ۔چالیس افراد اہل محلہ کی قتل ہوگئے ۔مگر ان لوگوں نے اتنی دلیری کی کہ پولیس کہ محلہ کے اندر گھسنے نہیں دیا ۔اسی دوران میں مثنیٰ کو پیغام پہنچا کہ کوفہ کے لیے روانہ ہو جاؤ ۔چنانچہ مثنیٰ اپنے ہمدردوں کو لے کر کوفہ کے لئے روانہ ہو گئے ۔اور وہاں پہنچ کر حضرت مختار کے ساتھ ہو گئے ۔(تاریخ طبری جلد ۴ص۶۵۴طبع لکھنوء )

حضرت محمد حنفیہعليه‌السلام کا خط اہل کوفہ کے نام اور حمایت مختار کے لئے اعلان عام ابو مخنف کا بیان ہے کہ اہل کوفہ کی واپسی کے تین دن بعد مشائخ کوفہ حضرت مختار کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور انہوں نے حضرت محمد بن حنفیہعليه‌السلام کا خط جو اہل کوفہ کے نام تھا ۔حضرت مختار کو دیا ۔اس کے بعد ایک منادی کے ذریعہ سے اعلان عام کرادیا گیا ۔کہ سب لوگ حضرت مختار کی بیعت کرنے میں عجلت سے کام لیں اور کوئی ایسا شخص باقی نہ رہے جو بیعت نہ کرے ۔

اس اعلان کے بعد تقریباً تما م اہل معرفت نے حضرت مختار کی بیعت کر لی اور ان کی نصرت و حمایت پر کمر عزم و استقلال باندھ لیا ۔

(اخذ الثار د انتصار المختار علی الطغا ة الفجار ص۴۸۹،نور الابصار ص۹۲طبع لکھنوء )

مورخ ابو الفداء لکھتا ہے کہ حضرت مختار نے تمام لوگوں سے کتاب خدا سنت رسول اور طلب انتقام خون اہلیتعليه‌السلام پر بیعت لی۔مختار کی جنگ صرف قاتلان حسینیعليه‌السلام سے تھی ، اس جنگ میں مختار نے پوری پوری کا میابی حاصل کی اور تقریباً سب ہی کو قتل کر ڈالا ۔(تاریخ الفدا ء جلد ۲ص ۱۴۸)

ابو مخنف کا بیان ہے کہ واقعہ کربلا میں چار اشخاص نمایاں حیثیت رکھتے تھے ۔

(۱)ابن زیاد (۲)عمرسعد (۳)سنان بن انس (۴)شیث ابن ربعی ۔

یہ لوگ گمراہوں کے لشکر کے سربراہ تھے ۔ (کنز الانساب ص۱۴طبع بمبئی )


سترہواں باب

حضرت مختار کا خروج

فانتقمنا من الذین اجر موا وکان حقاً علینا نصر المومنین (پ ۲۲ ع ۸)

ناصر اہل بیتعليه‌السلام حضرت مختار کا خروج حضرت ابراہیم بن مالک کا عظیم الشان حمایتی کردار اور حصولِ مقصد میں شاندار کامیابی کارنامہ مختار کا آغاز صفِ جنگاہ میں مردان خدا کی تکبیر جوش کردار سے بنتی ہے خدا کی آواز (اقبال) حضرت مختار متعد دقید و بند کی سختیاں برداشت کرنے اور حجاج بن یوسف جیسے خونخوار سے محفوظ رہنے کے بعد عزم وخروج کو فروغ دینے پر آمادہ ہو گئے ۔حضرت مختار سے پہلے اگرچہ جناب علقمہ سلیمان اور مسیب وغیرہ نے جوش انتقام کا مظاہر ہ کیا لیکن انہیں درجہ شہادت پر فائز ہو نے کے علاوہ کوئی نمایا ں کامیابی نہ ہوئی۔(کنزالانساب ابو مخنف ص۱۴)

حضرت مختار نے کمال عزم و استقلال کے ساتھ خروج کا فیصلہ فرمایا اور اس سلسلہ میں انہوں نے اپنے جرنیل حضرت ابراہیم ابن مالک اشتر سے مشورہ کرکے تاریخ خروج مقرر کر دی ، حضرت مختار اور تاجدار شجاعت حضرت ابراہیم اور ان کی جمعیت نے فیصلہ کیا کہ ہمیں ۱۴ربیع الثانی ۶۶ھء یوم پنج شنبہ کو خروج کر دینا چاہیئے ۔(دمعۃ ساکبہ ص ۴۰۸و تاریخ طبری ص۶۵۴جلد ۴)

حضرت مختار نے تاریخ خروج کے فیصلہ کے بعد جناب ابراہیم کو علمدار اور کمانڈو انچیف مقرر کرد یا ۔و عقد رایة دفعھا الی ابراہیم اور ایک جھنڈا یعنی علم لشکر مرتب کرکے جناب ابراہیم کے سپرد فرما دیا ۔(قرة العین ص۱۴۴)

مورخین کا بیان ہے کہ بیعت کرنے اور کمانڈر انچیف مقرر ہو نے کے بعد حضرت ابراہیم حضرت مختار کے مکان پر برابر آتے جاتے تھے اور فتح و کامرانی کے حصول پر تبادلہ خیالات فرماتے تھے ۔حضرت ابراہیم جب بھی حضرت مختار کے مکان پر جاتے تھے ۔آپ کے ہمراہ آپ کے ہوا خواہان اور افراد قبیلہ ہوا کرتے تھے۔عموماً آپ کا آنا جانا شب کے وقت ہوا کرتا تھا

کوتوال کوقہ ایاس بن مضارب کی گھبراہٹ

حضرت ابراہیم کی نقل و حرکت سے کوفہ کے ایوان حکومت میں شدید قسم کی ہلچل مچ گئی۔ اور تمام ارکان دولت میں اضطراب پیدا ہو گیا ۔حالات کی روشنی میں ایاس بن مضارب عجلی جو کہ عبدا للہ بن مطیع والی کوفہ کی طرف سے کوتوال شہر مقرر تھا ۔عبدا للہ کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ میں آج کل کوفہ میں جس فضاء کا میں اندازہ لگا رہا ہوں ۔اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ عنقریب کوفہ میں فتنہ عظیم برپا ہو گا ۔اس نے کہا کہ میں برابر دیکھ رہا ہوں ۔کہ ابراہیم بن مالک اشتر ایک جمعیت کثیر سمیت رات کے وقت مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی کے پاس جاتے ہیں اور بڑی رات تک ان سے گفتگو کیا کرتے ہیں ۔اندیشہ ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ یہ لوگ عنقریب کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے ۔اس نے کہا کہ میں حالات حاضرہ سے امیر کو مطلع کرکے درخواست کرتا ہوں ۔کہ اس کی طرف خصوصی توجہ مبذول فرمائیں ۔عبدا للہ ابن مطیع نے ایاس کی باتوں کو کان دھر کے سنا اور حفظ ما تقدم کے لئے اس نے یہ بندوبست کرنا ضروری سمجھا کہ کوفہ کی ناکہ بندی کردے چنانچہ ابن مطیع نے بمشورہ ایاس بروایت طبری کوفہ کے ساتوں محلوں پر پانچ سو سواروں کے دستوں کے ساتھ ایک ایک افسر مقرر کر دیا اور ان لوگوں کو حکم دیا کہ تم لوگ اپنے اپنے محلوں پر پورا پورا قابو رکھو اور جن کو دیکھو کہ وہ بارادہ فتنہ برآمد ہو اہے اس کا سر تن سے بے دریغ جدا کر دو۔

اور ایاس بن مضارب کو حکم دیا کہ تو اپنے محلہ کی حفاظت کے علاوہ سو سواروں کو ہمراہ لے کر کوفہ کے شہر اور اس جملہ بازاروں اور گلیوں کا رات میں چکر لگایا کر چنانچہ اس نے ایسا ہی کرنا شروع کر دیا ۔ حضرت ابراہیم جو برابر حضرت مختار کے پاس جایا کرتے تھے ۔جب حسب اصول ایک رات کو سوسواروں سمیت نکلے تو راستے میں ایاس ابن مضارب جو کئی سو سواروں سمیت اس مقام پر موجود مل گیا ۔اس نے ابراہیم بن اشتر کو روکتے ہوئے کہا کہ تم کون لوگ ہو اور کس کے پاس رات کو مسلح ہو کر جا رہے ہو ۔حضرت ابراہیم نے کہا کہ میں نے ابن مالک اشتر ہیں اور میری ہمراہ جو لوگ ہیں یہ میرے قوم و قبیلہ والے ہیں ہم لوگ ایک اہم مہم کے سلسلہ میں نکلے ہیں ۔اور اپنی راہ جا رہے ہیں ایاس نے کہا کہ وہ مہم کیا ہے جس کے لیے تم لوگ آدھی رات کو مسلح ہو کرنکلے ہو۔ ابراہیم نے کہا ہے جو مہم بھی ہم سر کرنا چاہتے ہیں ۔اس کے متعلق تو گفت و شنید نہ کر ہمیں اپنے راستے پر جانے دے اور تو خود اپنے راستے پر لگ جا ۔

ایاس اور ابراہیم میں مڈبھیڑ

ایاس نے کہا کہ میں کوتوال شہر ہوں اور میں اب تمہیں حرکت کرنے نہ دوں گا ۔اور تم سے کہتا ہوں کہ تم لوگ چپکے سے میرے ہمراہ والی کوفہ عبدا للہ ابن مطیع کے پاس چلے چلو ۔

ابراہیم نے کہا کہ میں تجھ سے پھر کہتا ہوں کہ ہم لوگوں کو نہ چھیڑ اور اپنی راہ لگ اس نے کہا کہ یہ ناممکن ہے اب تو دو ہی صورتیں ہیں یا یہ کہ تم میرے ہمراہ چلو یا دو دوہاتھ مجھ سے کر لو ۔میں جب تک زندہ ہوں تمہیں چھوڑ نہیں سکتا ۔حضرت ابراہیم نے کہا کہ خدا تجھے سمجھے کیا کر رہا ہے ۔میں تجھ سے پھر کہتا ہوں کہ مجھ سے مزاحمت نہ کر اور جدھر جانا ہے چلا جا ۔ایاس نے کہا کہ خدا کی قسم میں تم لوگوں کو عبداللہ بن مطیع کے پاس پہنچا ہی کے دم لوں گا ۔حضرت ابراہیم کے باربار سمجھانے کے باوجود وہ راہ راست پر نہ آیا تو ابراہیم نے ایک شخص ابو قطن ہمدانی کے ہاتھ سے نیزہ لے کر ایاس کے سینے پر مارا۔

وہ زمین پر گر پڑا آپ نے حکم دیا کہ اس کا سرکاٹ لیا جائے ۔ایاس کے گرتے ہی اس کے سارے ساتھی بھاگ گئے ۔حضرت ابراہیم ایاس کا سر لئے ہوئے حضرت مختار کے پاس پہنچے اور ان کے قدموں میں ایاس کا سر ڈال کرکہا کہ جس تاریخ کو خروج کا فیصلہ ہو اتھا۔اس سے قبل ہی یہ واقعہ پیش آگیا ۔حضرت مختار نے بڑی مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ قتل ایاس ہمارے لئے فال نیک ہے ۔انشاء اللہ ہم اپنے مقصد میں پورے طور پر کامیاب ہوں گے ۔اس کے بعد حضرت مختار نے اپنے سردار ان لشکر مثل رفاعہ بن شداد وقدامہ ابن مالک و سعید بن منقد سے کہا کہ اب پوری طاقت سے میدان میں آجانے کی ضرورت ہے۔ تم لوگ کوفہ کے محلوں میں جا کر نعرہ انتقام بلند کرو۔

اورلوگوں کو دعوت دو کہ فوراً یہاں آجائیں ان لوگوں نے کوفہ کے بازاروں اور گلیوں میں یاالثارات الحسین کی آواز دی ۔اس آواز کا اثر یہ ہوا کہ لوگ اپنے اپنے گھروں سے نکل کر خانہ مختار پر جا پہنچے ۔جب کافی جمعیت ہو گئی تو حضرت مختار نے سلاح جنگ پہنا اور آلات حرب سے اپنے کو آراستہ کیا اور اپنے جرنیل جناب ابراہیم سے کہا کہ بس اب نکل چلنا چاہیئے ۔چنانچہ یہ حضرات لشکر سمیت برآمد ہو گئے ۔ علامہ حسام الواعظ رقمطراز ہیں کہ جب ایاس ابن مضاب قتل کر دیا گیا اور اس کی اطلاع عبداللہ ابن مطیع کو پہنچی اور اسی دوران میں اس نے حضرت مختار کی طبل خروج کو سنا تو لرزا اٹھا اور اس نے فورا ً راشد ابن ایاس کو بلا کر کہا کہ ابراہیم ابن مالک اشتر نے تمہارے باپ کو قتل کر دیا ہے اور اس کا سر مختار کے پاس بھیج دیا ہے ۔یہ سن کر ابن ایاس نے اپنے سر سے پگڑی پھینک دی اور اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور سرد پا برہنہ ہو کر سخت گریہ کرنے لگا ۔یہ دیکھ کر ابن مطیع نے اس سے کہا کہ تو عورتوں کی طرح روتا ہے ۔یہ رونا پیٹنا احمقوں کا کام ہے اب تو تیار ہو جا اور ابراہیم سے اپنے باپ کو بدلہ لے ۔اور انہیں قتل کرکے ان کا سر میرے پاس لا حاضر کر ابن ایاس چونکہ بڑا بہادر تھا ۔ لہٰذا وہ ابراہیم سے مقابلہ کے لیے تیار ہو گیا ۔ اب یہ اپنے باپ کی طرح قاتلان امام حسینعليه‌السلام سے بھی تھا۔ابن مطیع کی بات سن کر ابن ایاس ۲۲آدمیوں کو لے کر جن میں سوار وپیادے تھے بازار میں آیا۔ ادھر حضرت مختار نے کوٹھوں پر آگ روشن کر دی تھی اور طبل خروج بجوا دیا تھا تاکہ لوگوں کو خروج کی اطلاع مل جائے لیکن اس کے باوجود لوگ حضرت مختار کے پاس جمع نہ ہو ئے ۔

یعنی وہ اٹھارہ ہزار افراد جو بیعت کر چکے تھے وہ مختار کے پاس نہ پہنچے۔اگرچہ کوفیوں کی بے وفائی مشہور ہے ۔لیکن اس موقع پر ان کے نہ پہنچنے کی وجہ یہ تھی کہ حضرت مختار نے شب پنجشنبہ کی تاریخ مقرر کر دی تھی اور یہ ساتھ ساتھ کہہ دیا تھا ۔کہ اس سے قبل پنجشنبہ آگ وغیرہ دیکھی تو یہ سمجھے کہ یہ سب کچھ ابن مطیع کی حرکت ہے ۔

اسی بناپر کوئی نہ آیا اور سب کے سب اپنے اپنے گھروں کے کوٹھوں پر چلے گئے اور وہاں سے حالات کا تفحص کرتے رہے ۔اورا سکی وجہ یہ ہوئی کہ حضرت ابراہیم سے دفعتہ جنگ چھڑجانے کی وجہ سے پنجشنبہ کے بجائے چہار شنبہ ہی کو خروج کر دیا گیا ۔ حضرت مختار نے حالات کی روشنی میں حضرت ابراہیم سے کہا کہ شاید کوفی ہمارے ساتھ وہی کچھ کر رہے ہیں جو وہ حضرت مسلم بن عقیل کے ساتھ کر چکے ہیں ۔حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ اے امیر ایسا نہیں ہے ۔بات یہ ہے کہ اولا ً سارے راستے بند ہیں ثانیا ً ہم لوگوں نے سب کو اچھی طرح سمجھادیا ہے کہ پنجشنبہ سے قبل کے کسی اعلان کو باور نہ کرنا ۔اب مناسب یہ ہے کہ آپ اپنی جگہ پر مقیم رہئے ہیں جاتا ہوں اورسب کو باخبر کرتا ہوں حضرت مختار نے حضرت ابراہیم کو دعا دی اور وہ سو سوار لے کر مسجد فاطمی کے در وازے پر جا پہنچے اور وہاں سے چل کر مسجد بازار کے کوچہ میں داخل ہو ئے جہاں بیعت کرنے والوں کے چار سو افراد رہتے تھے حضرت ابراہیم جو نہی اس کو چہ میں پہنچے ۔

آپ نے دیکھا کہ سوا فراد دشمنوں کے وہاں موجود ہیں ۔حضرت ابراہیم نے کہا کہ میں ابراہیم بن مالک اشتر ہوں ،اس نے جواب دیا کہ میں عمر بن عفیف ہوں اور تمہیں اور حسین کو قتل کرنے والا ہوں ۔یہ سن کر حضرت ابراہیم نے ایک زبردست نعرہ لگایا جس کی وجہ سے وہ کانپ گیا اور اپنے ساتھیوں سمیت وہاں سے بھاگ نکلا ۔

یہ دیکھ کر ابراہیم کے ساتھی ان کی پیچھے دوڑے اور انہیں جا گھیرا بالآخران کے چالیس افراد قتل کر دئیے اور سینکڑوں کو مجروح کر دیا ۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم نے مومنوں کو اپنے خروج کی اطلاع دی پھر وہاں سے چل کر مجلہ بنی کندہ میں پہنچے وہاں پہنچ کر دیکھا کہ ایک شخص ایک سرائے کے دروازے پر بیٹھا ہوا ہے آپ نے اس سے پوچھا کہ اس محلہ کا محافظ کون ہے اس نے کہا کہ زبیر ہشمی ،ابراہیم نے فرمایا کہ خداوند عالم اس پر بے شمار لعنت کرے کہ وہ امیر المومنین کے ساتھ جنگ صفین میں لڑا ۔پھرامام حسینعليه‌السلام کے قتل میں کربلا میں شریک ہوا۔خدا مجھے تو فیق و تسلط عطا کرے کہ میں اس کا سر تن سے جد ا کروں اس کے بعد اس محلہ کے گرد چکر لگاکہ اہل ایمان کو خروج مختارسے باخبر کرنے لگے ۔اسی دوران میں حضرت ابراہیم کے ساتھیوں نے ایک شخص کو مسلح دیکھ کر پوچھا۔ کہ تو کون ہے اس نے کہا کہ میں سنان بن انس کا آدمی ہوں ۔بازار کی نگرانی میرے سپرد ہے ۔لوگوں نے اسے گرفتار کر کے حضرت ابراہیم کے سامنے پیش کیا ۔حضرت ابراہیم نے حکم دیا کہ اس کی گردن مار دی جائے چنانچہ وہ قتل کر دیا گیا ۔

حضرت مختار کے مکان پر حملہ کرنے کے لئے شیث ابن ربعی کی روانگی

حضرت ابراہیم ادھر چکر لگا رہے تھے ادھر عبداللہ ابن مطیع نے شیث ابن ربعی کو بلا کر کہا کہ صبح ہونے سے پہلے پہلے مختار کے مکان کو گھیر کو انہیں تباہ کر دے۔ شیث نے کہا کہ اے امیر یہ رات کا وقت ہے۔ اس وقت کیونکہ حملہ کرنا مناسب ہو گا۔ ابن مطیع نے کہا کہ بہانے نہ کر اور چل پڑ۔

یہ سُن کر شیث ایک ہزار سوار لے کر نکل پڑا۔ اس کے ساتھ مشعلیں تھیں۔ اور سیاہ عَلم تھا۔ وہ اپنے مقام سے چل کر جونہی محلہ بنی سالم سے گزرا اِس نے دیکھا کہ ایک وہ آ رہا ہے۔ وہ گروہ تھا حجاز ابن جر کا اسی محلہ کا محافظ تھا۔ یہ گر وہ باہم یہ فیصلہ کر کے اپنے تھا کہ چل کردارالامارہ کو دیکھیں کہیں ایسا نہ ہو کہ مختار نے اس پر حملہ کر دیا ہو۔ یہ لشکر جا ہی رہا تھا کہ اس کی نگاہ شیث کے لشکر پر پڑی، وہ یہ سمجھا کہ مختار کا لشکر آ رہا ہے اور حجاز کا لشکر بھی یہی سمجھا۔ کہ مختار کا لشکر آ رہا ہے۔ غرضیکہ دونوں لشکروں نے ایک دوسرے کو مختار کا لشکر سمجھا اور یہی سمجھ کر دونوں گتھ گئے اور دونوں میں باہمی قتال ہونے لگا۔ بالآخر حجاز کا لشکر جو کہ پانچ سو پر مشتمل تھا۔

شیث کے لشکر پر جو کہ ایک ہزار پر مشتمل تھا غالب آیا۔ شیث ابن ربعی کا لشکر ہزیمت کھا کر بھاگا۔ اور شیث کے لشکر کے تین سو ساٹھ سوار مارے گئے اور تقریباً کُل کے کُل زخمی ہو گئے۔ ہمیشہ باد عداوت میان گبرد یہود زہر طرف کہ شودکشتہ سود اسلام است شیث ابن ربعی بھاگا ہوا عبداللہ ابن مطیع کے پاس پہنچا۔ اب اسے معلوم ہو چکا تھا کہ کشت و خون آپس ہی میں ہوا ہے۔ اس نے کہا کہ میں نہ کہتا تھا کہ شب کے وقت حملہ کرنا قرین مصلحت نہیں ہے۔ تو نہ مانا آخر نتیجہ یہ نکلا۔ کہ اپنے ہی بہت سے سوار مارے گئے۔ ابن مطیع نے کہا کہ تو مختار سے ڈر گیا۔

حضرت مختار کو جب شیث اور حجاز کے باہمی قتال کی خبر ہوئی تو وہ سجدہ شکر میں گِر پڑے۔ اس کے بعد انہوں نے حضرت ابراہیم سے کہا کہ بھائی دشمن کو یہ معلوم ہے کہ ہمارے پاس لشکر بہت ہے اگر اُسے یہ پتہ چل گیا کہ ہمارے معاون فی الحال بہت کم ہیں وہ حملہ کر دیں گے اور ہمیں سخت نقصان پہنچ جائے گا۔ ابراہیم نے کہا کہ چاروں طرف راستے بند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی آمد کم ہے۔ بمقام "شاکریہ" شیعیان علی بن ابی طالب علیہ السلام کافی تعداد میں موجود ہے ۔

اگر انہیں خروج کی صحیح اطلاع مل جائے تو یقینا وہ لوگ ہم تک پہنچ جائیں گے اور اب اس کی صورت صرف یہی ہے کہ کسی کو اس مقام پر بھیج دیا جائے۔ یہ سن کر بشیر ابن قان جو اسی مقام پر بیٹھا ہوا تھا۔ بولا کہ یہ فریضہ میں ادا کروں گا۔

اور اے امیر میں اس امر میں کامیاب بھی ہو جاؤں گا کیونکہ میں باہر کارہنے والا ہوں۔ یہاں کے لوگ مجھے پہچانتے نہیں ہیں ۔ میں یہ بہانہ کر کے جاؤں گا کہ شاکر یہ میں میرا ایک دوست ہے، مجھے اس سے ملنا ہے۔ حضرت مختار نے فرمایا کہ یہ سب سچ ہے لیکن اگر کہیں کعب ابن ابی کعب مل گیا تو ہو سکتا ہے کہ تمہیں قتل کر ڈالے۔ تب کیا بنے گا۔

اس نے کہا کہ "زہے سعادت" اگر میں راہِ حسینعليه‌السلام میں قتل ہو گیا تو اس سے بہتر اور کیا ہے؟ یہ سُن کر مختار نے اُس کو دُعا دی اور اجازت مرحمت فرمائی۔ بشیر حضرت مختار سے رخصت ہو کر بلباس کہنہ و بدست عصا شاکریہ کے دروازہ پر پہنچا۔ وہاں پہنچ کر اس نے دیکھا کہ اہل شاکریہ دروازہ بند کیے بیٹھے ہیں۔ جب اس نے دروازہ کے شگاف و دراز سے نگا ہ کی تو دیکھا کہ وہ شمعیں روشن کیے سلاح جنگ سے آراستہ بیٹھے ہیں۔

بشیر نے آواز دی کہ "معشر المسلمین" میرے قریب آؤ کہ میں ایک ضروری بات کہنی چاہتا ہوں۔ یہ سن کر ایک شخص مسلح اپنے مقام سے اُٹھا اور پھاٹک کے قریب آیا۔ اور آ کر کہنے لگا کہ تو کون ہے۔ کہاں سے آیا ہے اور کہاں جا رہا ہے۔ بشیر نے کہا کہ میں حضرت مختار کے پاس سے آیا ہوں مجھے حکم دیا گیا ہے۔ کہ میں آپ کو حضرت مختار کے خروج کی اطلاع دے دوں اور یہ بتا دوں کہ حضرت مختار کے مکان پر جو آگ روشن کی گئی ہے۔ وہ اعلان خروج کیلئے ہے اور دھوکہ نہیں ہے۔ اور جو نقارہ بجایا جا رہا ہے۔ درست ہے۔ سنو! میں تمہیں خاص طور سے اطلاع دینے کے لئے رات کے وقت آیا ہوں۔ یہ سُننا تھا کہ ایک ہزار چار سو سوار بیک وقت دروازہ کھول کر باہر نکل آئے۔

اہل شاکریہ کی سیاست

باہر نکلنے کے بعد ان لوگوں نے باہمی مشورہ کیا کہ ہمیں اب کدھر چلنا چاہئے۔ بالآخر فیصلہ یہ ہوا کہ ہم لوگوں کو سیدھے حضرت مختار کے پاس نہیں جانا چاہئے۔ کیونکہ اگر ہم براہ راست چلے گئے تو کعب ہمارے مکانات کھدوا ڈالے گا۔ ہمارے بچوں کو قتل اور اسیر کرے گا اور ہماری املاک کو تباہ کر دے گا۔ بہتر یہ ہے۔کہ ہم سب ابن مطیع کے طرف دار بن کر کعب کے پاس چلیں اور اسے یہ یقین دلائیں کہ ہم اس کے مددگار ہیں جب وہ مطمئن ہو جائے تو تو پھر موقع سے حضرت مختار کے پاس پہنچ جائیں۔ چنانچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا، پھر جب موقع نصیب ہوا تو باہر نکل کر آواز لگانے لگے۔

"یالثارات الحسین "

اس آواز کا بلند ہو نا تھا کہ لشکر کعب یہ سمجھا کہ مختار آ گئے اور اس تصور کے قائم ہوتے ہی سب کے سب بھاگ نکلے اور یہ ایک ہزار چار سو افراد حضرت مختار کی خدمت میں جا پہنچے۔

مجاہدوں کی فراہمی کے لئے حضرت ابراہیم کی روانگی

اس کے بعد حضرت مختار نے حضرت ابراہیم سے فرمایا کہ اب کوئی ایسی صورت ہونی چاہیئے کہ تمام مومنین یہاں پہنچ جائیں۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ آپ اپنے مقام پہ رہئے۔ میں خود جا کر لوگوں کو فراہم کرتا ہوں۔ چنانچہ ایک سو سوار لے کر باہر نکل پڑے۔ اور وہاں سے روانہ ہو کر بازار میں پہنچے۔ وہاں پہنچ کر ایک لشکر کو دیکھا کہ بڑھتا چلا آ رہا ہے حضرت ابراہیم نے آگے بڑھ کر اس کا راستہ روک لیا اور فرمایا کہ یہ بتاؤ کہ تم کو ن لوگ ہو اور کہاں سے آئے ہو۔

اور تمہارا نشان کیا ہے۔ ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہمارا نشان "المنصورا المنتقم یا لثارات الحسین" ہے یہ سن کر حضرت ابراہیم شاد ہو گئے اور عبداللہ ابن عروہ اس لشکر سے برآمد ہو کر حضرت ابراہیم سے بولے کہ اے امیر وعدہ خروج توکل پنج شنبہ کی رات کے لئے تھا آج ہی خروج کی کیا وجہ ہو گئی۔ حضرت ابراہیم نے واقعہ بتایا اور انہیں حضرت مختار کے پاس بھیج دیا۔ حضرت ابراہیم وہاں سے دوسری طرف روانہ ہو گئے۔ یہ رات تاریکی میں ایک طرف کو جا رہے تھے کہ ناگاہ ان کی نظر اپنے لشکر کے ایک دستہ پر پڑی، دیکھا کہ وہ ایک شخص کو پکڑے ہوئے لا رہا ہے۔

جب وہ لوگ اسے حضرت ابراہیم کے پاس لائے تو حضرت ابراہیم نے اس پوچھا کہ تو کون ہے ؟ کہاں سے آتا ہے۔ اس نے سوا اس کے کسی سوال کا جواب نہ دیا۔ کہ حذ رکن ہر دو قوم حرب می کنند "حضرت ابراہیم نے اُسے حضرت مختار کے پاس بھیج دیا، پھر آپ اور آگے بڑھے دیکھا کہ ایک لشکر جرار چلا آتا ہے حضرت ابراہیم نے آگے بڑھ کر پوچھا تم کون ہو اور کہاں سے آتے ہو اور تمہارا نشان کیا ہے؟ انہوں نے سب باتوں کا جواب یہ دیا۔

کہ ہمارا نشان "المنصور المنتقم یا لثارات الحسین " ہے اس کے بعد ایک شخص جارث بن اثاث ہمدانی اپنے لشکر سے آگے بڑھا جونہی حضرت ابراہیم کی نگاہ اس کی پیشانی پر پڑی۔ پوچھا برادرم! تمہاری پیشانی کیوں زخمی ہے۔ اس نے کہا کہ جب خانہ امیر مختار پر آگ روشن ہو ئی اور نقارہ بجایا گیا تو ہم لوگوں نے سمجھا کہ ابن مطیع نے مکروفریب کیا ہے لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد ایک مرد پیر نے مجھ سے کہا کہ حضرت مختار نے خروج کر دیا ہے۔ اور شاکریہ کے ایک ہزار چار سو بہاردر حضرت مختار کے پاس پہنچ گئے ہیں۔

یہ سننا تھا کہ تابِ تاخیر باقی نہ رہی۔ ہم لوگ آپ کی خدمت میں پہنچنے کے لئے بے چین ہو گئے۔ اتنے میں ہم نے دیکھا کہ ایک گروہ سامنے سے چلا آتا ہے۔ یہ دیکھ کر میں آگے بڑھا اور میں نے اس سے پوچھا کہ تم لوگ کون ہو۔ اور کس سے تعلق رکھتے ہو۔ ان لوگوں نے کہا کہ ہم شمر بن ذی الجوشن کے آدمی ہیں۔ اور وہ خود ہمارے لشکر میں بحیثیت امیر موجود ہے۔میں نے یہ سُن کر ان لوگوں پر حملہ کر دیا۔ اور جنگ ہونے لگی۔ یہاں تک کہ خود شمر میرے مقابلے میں آ گیا۔

میں نے اس پر ایک زبردست حملہ کیا ۔ اور اسے زخمی کر دیا اُس نے اُس کے جواب میں مجھ پر حملہ کیا اور میری پیشانی مجروح ہو گئی لیکن خدا کا فضل ہے کہ میں نے اُس گروہ کو شکست دے دی اور وہ سب مفرور ہو گئے معلوم نہیں اب وہ سب کدھر نکل گئے ہیں۔ حضرت ابراہیم نے ان لوگوں کو دعا اور حضرت مختار کے پاس انہیں بھیج دیا۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم ایک دوسری جانب کو چل پڑے۔ راستے میں دیکھا کہ ایک گروہ آ رہا ہے۔ آپ نے اسے روک کر پوچھا کہ تم کون لوگ ہو۔ اس نے جواب دیا کہ ہم المنصور المنتقم یا لثارات الحسین ہیں۔

حضرت ابراہیم خوش ہو گئے۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ تمہارا سردار کون ہے انہوں نے قاسم ابن قیس کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہ ہے قاسم ایک نوجوان شخص تھا جس کی عمر ۲۰ سال تھی۔

لیکن یہ شجاعت میں اپنا جواب نہ رکھتا تھا۔ اسی کے والد قیس حضرت امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ تھے۔ حضرت نے انہیں اپنا خط دے کر کوفہ بھیجا تھا۔ جب ابن زیاد کے سپاہیوں نے انہیں دیکھا گرفتار کر لیا۔ اور ابن زیاد کے سامنے انہیں پیش کیا۔ ابن زیاد نے کہا کہ اے قیس حسین کے ایلچی ہو تمہیں قتل ضرور کیا جائے گا۔ لیکن اگر تم چاہتے ہو کہ قتل سے بچ جاؤ تو اس کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ تم دارالامارہ کے کوٹھے پر جا کر میری اور یزید کی تعریف کرو اور علی و حسین کو مذمت میں ناسزا الفاظ کہو۔ قیس نے کہا بہتر ہے مجھے کوٹھے پر بھیج دے۔

جب وہ کوٹھے پر پہنچے تو بآوازِ بلند بولے۔ اے لوگو! میں حضرت امام حسین علیہ السلام کا قاصد ہوں۔ انہوں نے مجھے تم لوگوں کے پاس بھیجا ہے کہ میں تمہیں بتا دوں کہ وہ حسین جو فرزند پیغمبر ہیں کربلا میں آ چکے ہیں اور دشمن انہیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے وہ تم سے مدد کے خواہاں ہیں۔ خوشانصیب ان لوگوں کا جو اپنی دولت اور اپنے مال و منال کی پرواہ کیے بغیر ان کی خدمت میں پہنچ سعادت ابدی حاصل کریں گے۔ سُنو !ان کی امداد ! تم پر فرض ہے یہ کہہ کر انہوں نے یزید، معاویہ اور ابن زیاد پر لعنت شروع کی۔ اور ان لوگوں کی سخت مذمت کی۔

ابن زیاد کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی ابن زیاد نے حکم دیا کہ قیس کو کوٹھے سے زمین پر گرا کر قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ وہ درجہ شہادت پر فائز ہو گئے، غرضیکہ حضرت ابراہیم قاسم بن قیس کو ہمراہ لئے ہوئے حضرت مختار کی خدمت میں جا پہنچے۔ حضرت ابراہیم کی کدوکاوش اور محنت مشقت سے خانہ مختار پر مجاہدوں کا کافی اجتماع ہو گیا اس اجتماع کی جب ابن مطیع کو اطلاع ملی، تو وہ گھبرا گیا۔ اور وہ یہ فکر کرنے لگا۔ کہ مختار کی جمعیت کو کسی نہ کسی صورت سے منتشر کرے۔ اس کی تمامتر کوشش یہ تھی کہ مختار کو تباہ و برباد کر ڈالے۔

ابن مطیع کا لشکر حضرت مختار کے مکان پر

چنانچہ اس نے اپنے چچازاد بھائی عبداللہ ابن حرب کو طلب کیا اور اُسے حکم دیا کہ تو ایک ہزار کا لشکر لے کر مختار کے مکان پر جا۔ اور اُن کی ساری جمعیت کو تہس نہس کر دے۔ عبداللہ اپنے زعم شجاعت میں لشکر لئے ہوئے۔ نکلا اور حضرت مختار کے مکان کے قریب جا پہنچا۔ حضرت ابراہیم کو جونہی اطلاع ملی۔ انہوں نے حضرت مختار سے فرمایا کہ آپ اپنی جگہ پر قیام کریں۔ میں ان دشمنوں کو ابھی دم کے دم تہ تیغ کر دیتا ہوں حضرت ابراہیم ابھی پیش قدمی نہ کرنے پائے تھے کہ ایک بہت بڑا گروہ آ گیا اور اس نے ایسا نعرہ لگایا کہ تمام شیعوں کے دل ہل گئے اور سب گھبرا اُٹھے ان لوگوں نے سمجھا کہ یہ لشکر بھی ابن مطیع کے لشکر کی مدد میں آ گیا ہے حضرت مختار نے حضرت ابراہیم سے فرمایا کہ آپ اس آنے والے لشکر کا مقابلہ کریں اور میں ابن مطیع کے آئے ہوئے لشکر کا مقابلہ کے لئے نکلتا ہوں۔

چنانچہ حضرت ابراہیم آگے بڑھے۔ جونہی اس بعد والے لشکر نے حضرت ابراہیم کو دیکھا نعرہ یا لثارات الحسین لگایا۔ حضرت ابراہیم خوش ہو گئے اور انہوں نے فرمایا کہ لشکر کا سردار کون ہے یہ سُن کر ورقاء بن غارب سامنے آئے، حضرت ابراہیم نے ان سے ملاقات کی۔ اور واپس آ کر حضرت مختار کو خوشخبری دی۔ کہ وہ لشکر جس نے نعرہ بلند لگایا تھا وہ ورقاء کا لشکر ہے۔ آپ کی مدد کے لئے آیا ہے۔ یہ سن کر حضرت مختار اور ان کے سب ساتھی خوش و مسرور ہو گئے اس کے بعد حضرت ابراہیم نے ابن مطیع کے لشکر پر حملہ کیا اور زبردست جنگ کے بعد ان کو شکست دی۔ اس کے بیس سوار قتل ہوئے اور وہ سب کے سب مفرور ہو گئے لیکن اس جنگ میں قاسم ابن قیس شہید ہو گئے ان کی شہادت سے حضرت مختار اور حضرت ابراہیم سخت غمگین ہو ئے اور ان دونوں نے تادیر گریہ کیا۔

حضرت مختار کاایک جاسوس جامع مسجد میں

رات گذرنے کے بعد صبح ہوئی تو حضرت مختار نے ایک شخص مسمی سعید کو حکم دیا کہ پرانا کپڑا پہن کر مسجد جامع میں جاؤ اور ابن مطیع کے پیچھے نماز ادا کرو اور دیکھو کہ وہاں کیا کیا امور رونما ہوتے ہیں، اور سنو! کہ لوگ نماز کے بعد ہمارے متعلق کیا گفتگو کرتے ہیں۔ سعید حسب الحکم نماز میں شریک ہوا۔ اور اس نے وہاں کے تمام حالات کا معائنہ کیا اس نے واپس آ کر حضرت مختار سے بیان کیا کہ ابن مطیع جب نماز کے لئے کھڑا ہوا تو اس کے پیچھے پچاس مسلح مرد کھڑے ہوگئے اور اس نے ان کی حفاظت میں نماز ادا کی۔ اور دروازہ مسجد پر بارہ ہزار افراد تدبیر جنگ کے متعلق بات چیت کر رہے تھے۔

حضرت مختار نے پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ ابن مطیع نے رکعت اول میں بعد سورہ حمد کون سا سورہ پڑھا تھا۔ سعید نے کہا کہ اس نے رکعت اوّل میں سورہ عبس کی تلاوت کی تھی۔ حضرت مختار نے بطور تفاؤل کہا تھا کہ انشاء اللہ اس کا چہرہ ترش ہی رہے گا پھر پوچھا کہ اس نے رکعت دوم میں کون سا سورہ پڑھا تھا۔ اس نے کہا کہ رکعت دوم میں اذازلزلة الارض حضرت مختار نے فرمایا ۔ کہ اس نے وہی سورہ پڑھا ہے جس کا نتیجہ میرے ہاتھوں سے برآمد ہو گا ان شاء اللہ میں ان کے بدنوں میں زلزلہ ڈال دوں گا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اے سعید میں نے آج کی نماز کی رکعت اوّل میں سورہ نازعات اور رکعت دوم میں اذجاء نصراللہ کی تلاوت کی ہے۔ میں ان شاء اللہ نصرت خدا سے کامیاب ہو کے رہوں گا۔

قتل کا منصوبہ اور جاسوس مختار کی خبر رسانی

مسجد سے نکلے کے بعد ابن مطیع نے حکم دیا کہ جتنے افراد محلوں میں تعینات میں انہیں دارالامارہ میں بُلایا جائے۔ ابن ایاس نے کہا کہ ان لوگوں کا بلانا مناسب نہیں کیوں کہ وہ لوگ ناکہ بندی کیے ہوئے ہیں۔ اگر انہیں بلا لیا گیا تو مختار کے آدمیوں کو مختار تک پہنچنے کا راستہ مل جائے گا۔ اب ہونا یہ چاہیئے کہ مختار پر دو طرف سے حملہ کیا جائے۔ ایک طرف سے میں حملہ کروں اور دوسری طرف سے آپ حملہ کریں۔

اور بہتر یہ ہے کہ کچھ اور لوگوں کو بھی ہمراہ بھیج دیں تاکہ میں مختار اور ابراہیم کا سرکاٹ کر لاؤں۔ ابن مطیع نے ابن ایاس کی رائے پسند کی۔ اور کہا کہ بس اُٹھ کھڑے ہو۔

اس کے بعد شیث ابن ربعی کو دو ہزار سوار دے کر کہا کہ تو مختار پر داہنی جانب سے حملہ کر۔ اور ابن ایاس سے کہا تو بائیں جانب سے حملہ کر ابن ایاس کے ہمراہ بھی دو ہزار کا لشکر کر دیا۔ اس کے بعد حکم دیا۔ کہ تم لوگوں کا فرض ہے کہ مختار کو گھیر کر میرے پاس لے آؤ اور اگر گرفتار کرنا ممکن نہ ہو تو ان کا سر کاٹ کر لے آؤ۔ ادھر ابن مطیع نے ان لوگوں کو حکم دیا ادھر حضرت کے جاسوس نے حضرت مختار کو فوراً اس مشورے اور تیاری کی خبر کر دی۔ حضرت مختار نے حضرت ابراہیم کو داہنی جانب اور جناب یزید ابن انس کو بائیں جانب حملہ کی ہدایت کی۔

اور فرمایا کہ پوری طاقت سے حملہ کرنا چاہیئے حضرت مختار کی ہدایت کے مطابق حضرت ابراہیم اور یزید بن انس لشکر لیے تیار کھڑے تھے۔ جونہی شیث ابن ربعی وہاں پہنچا۔ حضرت ابراہیم نے پوری طاقت سے حملہ کیا اور بہت دیر تک شدید جنگ جاری رہی حضرت ابراہیم کا لشکر چونکہ کم سواروں پر مشتمل تھا اس لئے حالات ایسے پیدا ہوئے کہ قریب تھا کہ ان کے لشکر کو شکست ہو جائے۔ حضرت مختار کو جب اس کی طلاع ملی۔ کہ ابراہیم کا لشکر قریب بہ ہزیمت ہے تو انہوں نے پانچ سو سوار ان کی امدا د کے لئے بھیج دئیے۔ امدادی لشکر کا پہنچنا تھا۔ کہ حضرت ابراہیم کے حملوں میں جان پڑ گئی اور انہوں نے ایک ایسا زبردست حملہ کیا۔ کہ دشمن کے پاؤں اُکھڑ گئے۔

جب دشمن محو فرار ہوئے تو ابراہیم کے لشکر نے اُن کا پیچھا کیا اور انہیں ابن مطیع تک جا پہنچایا۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم مظفر و منصور حضرت مختار کی خدمت میں آ موجود ہوئے۔

حضرت مختار نے اس کامیابی پر خدا کا شکر کیا۔ اب صبح ہو چکی تھی۔بائیں جانب حملہ کیلئے یزید ابن انس جب پہنچے تو دیکھا کہ راشد ابن ایاس میمنہ اور میسرہ درست کر رہا ہے آپ نے فرمایا اے ملعون لشکر کیوں ترتیب دے رہا ہے، موت تو تیرے سر پر منڈلا رہی ہے۔ میں یزید ابن انس ہوں، اور تجھے واصل جہنم کرنے کے لئے آیا ہوں۔ راشد کو چونکہ اپنی شجاعت پر غرور تھا، لہٰذا اس نے کہا کہ اے یزید! تم اپنے کو سمجھتے ہو کہ مرد ہو۔ اور مجھے عورت جانتے ہو۔

تمہیں اگر مقابلہ کا حوصلہ ہے تو آ جاؤ۔ یہ سُن کر جناب یزید ابن انس اُٹھ کھڑے ہوئے اور مقابلہ کیلئے آگے بڑھے۔ یہ دیکھ کر ابراہیم ان کی مدد کے لئے ہمراہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور راشد کے مقابل جا کر بولے کہ اے راشد میں نے تیرے باپ ایاس کو واصل جہنم کیا ہے اب اگر خدا نے چاہا تو میں تجھے بھی تیرے باپ کے پاس بھیج دوں گا۔

یہ کہہ کر حضرت ابراہیم نے گھوڑے کو مہمیز کیا اور راشد پر نیزے کا وار فرمایا۔ راشد نے ان کے وار کو رد کر کے ان کے ان کے سر پر تلوار کا وار چلایا، مگر وہ خالی گیا۔ حضرت ابراہیم نے خدا کو یاد کیا۔ رسول پر صلوٰة بھیجی اور حضرت مشکل کشاء سے مدد مانگی اور دانتوں کو چابھ کر اس کے سر پر ایسی تلوار لگائی کہ دو نیم ہو کر گھوڑے کی زین سے سطح زمین پر آ گیا۔ اس کے گرتے ہی فوج میں ہل چل مچ گئی۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم اور جناب یزید ابن انس نے مل کر دشمنوں پر حملے شروع کر دیئے اور اس بے جگری سے لڑے کہ دشمنوں کے دانت کھٹے ہو گئے اور وہ سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے۔ یہ دونوں میدان شجاعت کے شہسوار مظفر و منصور حضرت مختار کی خدمت میں واپس آئے۔ حضرت مختار نے انہیں دعا دی اور خدا کا شکر ادا کیا۔ اُدھر ہزیمت خوردہ لشکر ابن مطیع کے پاس پہنچا۔

ابن مطیع نے محلوں کے محافظوں کو بلا کر حملہ کا حکم دے دیا

ابن مطیع نے حکم دیا کہ وہ تمام سوار جو محلوں کی حفاظت کر رہے ہیں حاضر دارلامارہ کیے جائیں۔ چنانچہ سب اپنے محلوں کو چھوڑ کر اُس کے پاس حاضر ہوئے، ادھر وہ لوگ محلوں سے نکلے اُدھر مجاہدوں نے راستہ پا کر اپنے کو حضرت مختار کی خدمت میں پہنچا دیا۔ انہیں دیکھ کر حضرت مختار بہت خوش ہوئے اور اُن سے پوچھا کہ تم لوگ اب تک کہاں تھے۔ ان لوگوں نے جواب دیا کہ حضور ہمارے راستے مسدود تھے اس لئے ہم نکل نہ سکتے تھے اب موقع ملا ہے تو حاضر ہوئے۔ اب دن چڑھ چکا تھا ابن مطیع نے محلوں کے محافظوں کو جمع کر کے مکمل حملے کا بندوبست کیا۔

حضرت مختار کا عظیم الشان خطبہ

عمرو بن احمد کوفی کا بیان ہے کہ جب چاروں طرف سے حضرت مختار کے پاس مجاہدوں کا اجتماع ہو گیا تو حضرت مختار نے حکم دیا کہ جملہ سرداروں کو میرے پاس لایا جائے۔

چنانچہ ورقہ ابن غارب، شعر بن ابی شعر ، عبداللہ بن صخر مذحجی، ربان ابن ہمدانی، قرہ ابن قدامہ ثقفی، زبیر ابن عبداللہ کوفی، احمد نخعی، عبداللہ کامل ساعد بن مالک اور ابراہیم ابن مالک نخعی نیز دیگر بزرگان کو حاضر کر دیا گیا۔ جب یہ لوگ جمع ہو گئے تو حضرت مختار نے ایک عظیم الشان نہایت فصیح و بلیغ خطبہ دیا اور فرمایا کہ : اے بہادرو! اپنے کاموں میں خدا پر بھروسہ کرو اور دشمنان آل محمد سے جنگ آزمائی کے لئے پوری ہمت کے ساتھ تیار ہو جاؤ۔ میرے عزیزو! یہ جان لو کہ خدا کی رحمت تم پر نثار ہے اور اس کی مدد تمہارے سروں پر ہے۔

سنو! اگر تم دشمنوں کو قتل کرو گے۔ مجاہد قرار پاؤ گے۔ اور اگر شہید ہو جاؤ گے۔ خدا کے نزدیک بڑے عظیم درجات کے مالک ہو گے۔ کیونکہ تم صحیح ارادے اور پاک نیت سے کھڑے ہوئے ہو اور تمہارا مقصد صرف خونِ امام حسینعليه‌السلام کا بدلہ لینا ہے۔ یقین رکھو کہ قیامت کے دن حضرت رسول کریم ، حضرت علیعليه‌السلام حضرت فاطمہ زہراعليه‌السلام حضرت خدیجة الکبریٰعليه‌السلام تمہاری شفاعت کریں گے۔ اور تمہارا حشر حضرات شہداء کربلا کے ساتھ ہو گا۔ "یہ سُن کر بہادر مجاہدوں نے کہا اے امیر ہم تمہارے دل وجان سے فرمانبردار ہیں اور ہم اس وقت تک دشمنوں سے لڑنے میں کوتاہی نہ کریں گے۔

جب تک جان میں جان رہے گی۔ اے امیر! ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم لوگ راہ خدا میں قتل ہونے کا دل سے تہیہ کر چکے ہیں۔ ہم غسل کر چکے ہیں، کفن پہن چکے ہیں، اہل و عیال کو رخصت کر آئے ہیں ، دُنیا و مافیہا سے منہ موڑ چکے ہیں۔ ہم بالکل آپ کے ساتھ ہیں اور تابمرگ آپ کا ساتھ نہ چھوڑیں گے اور ان شاء اللہ تکمیل مقصد میں آپ کی پوری پوری مدد کریں گے یہاں تک کہ راہِ خدا درجہ شہادت حاصل کر لیں۔ اس کے بعد حضرت مختار نے اپنے سرداروں کو سفید علم حوالے کر دیا۔

ابن مطیع کے لشکر کی تیاری

ادھر عبداللہ ابن مطیع نے اپنے لوگوں کو جمع کر کے حضرت مختار سے جنگ کے لئے آمادہ کیا اور ہدایت کی کہ پوری طاقت سے حملہ کرنا اور کسی قسم کی کوتاہی نہ کرنا۔ ابن مطیع نے اپنے لشکر کا شمار کیا تو اٹھارہ ہزار پایا۔ یہ وہ لوگ تھے جن میں اکثر ایسے تھے جو واقعہ کربلا میں شریک تھے۔ حضرت مختار اور ابن مطیع کے لشکروں میں زبردست مڈبھیڑ خدائی مجاہدوں کا گروہ اور شیطان ابن زیادہ کا وہ گروہ جس کا سربراہ عبداللہ ابن مطیع حاکم کوفہ تھا اپنے اپنے مقام پر تیار ہو کر ایک مقام پر جمع ہو گیا۔ حضرت مختار کے گروہ نے طبل جنگ بجایا اور دونوں لشکر مقابل ہوگئے اس آواز طبل سے کوفہ کے تمام کوٹھوں پر عورتیں اور بچے پہنچ گئے مجاہدوں نے یا امیر المومنین یا لثارات الحسین کی آواز بلند کی اور یزیدیوں نے "الامام یزید بن معاویہ" کی صدا دی۔

اب سب انتظار میں تھے کہ دیکھیں آغازِ جنگ کدھر سے ہوتی ہے، اور اس عظیم لڑائی میں کیا بنتا ہے۔ اتنے میں عبدالرحمن ، سعد قیس، حاکم کوفہ عبداللہ ابن مطیع کے پاس آیا اور آ کر اجازت جنگ طلب کرنے لگا۔ اس نے ایک ہزار سپاہ کے ساتھ اسے جنگ کی اجازت دی۔

وہ میدان میں آ کر مبازر طلبی کرنے لگا۔ یہ سن کر احمد بن شمیط نے حضرت مختار کی خدمت میں حاضر ہو کر مقابلہ کیلئے برآمد ہونے کی اجازت چاہی۔حضرت مختار نے اجازت دی۔

اور وہ عمدہ قسم کے لباسِ جنگ سے آراستہ ہو کر میدان میں آئے۔ میدان میں پہنچ کر جناب احمد بن شمیط نے عبدالرحمن سے کہا کہ تجھے کیا ہو گیا کہ تو اپنے باپ کے جادہ سے ہٹ کر ادھر آ گیا ہے کیا تجھے معلوم نہیں کہ تیرا باپ حضرت علیعليه‌السلام کے اصحاب خاص میں سے تھا۔ اور تیرا یہ حال ہے کہ تو ان کے فرزند کے دشمنوں کی طرف سے لڑنے کے لئے نکلا ہے۔ یہ سن کر اس نے ناسزا الفاظ میں ان کا جواب دیا جناب احمد بن شمیط نے غصہ میں آ کر گھوڑے کو ایڑ دی اور آگے بڑھ کر اس پر شیرانہ حملہ کیا اور اسے پہلے ہی حملہ میں مجروح کر دیا۔

احمد کی تلوار اس کے کندھے پر پڑی۔ اور اس نے شانہ کاٹ کر اُسے سخت زخمی کیا۔ اس کے ایک آہ نکلی اور وہ درک اسفل میں پہنچ گیا۔ یہ دیکھ کر اس کا ایک ہزارہا کا لشکر بھاگ نکلا۔ ابن مطیع نے فوراً عبدالصمد صخرہ کو حکم جنگ دیا۔ یہ ملعون حضرت امام حسنعليه‌السلام کے فرزند جناب عبداللہ کا قاتل تھا اس کے برآمد ہوتے ہی جناب ورقاء بن عازب، حضرت مختار کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے درخواست کی کہ اس سے مقابلہ کے لئے مجھے اجازت دی جائے حضرت مختار نے انہیں دعا دی اور میدان میں جانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ جناب ورقاء سلاحِ جنگ سے آراستہ ہو کر میدان میں تشریف لائے۔ اور اس ملعون کے مقابل میں پہنچ کر حملہ آور ہوئے آپ نے ایک ایسا نیزہ اس کے سینے پر مارا۔ کہ وہ ایک بالشت پشت سے باہر جا نکلا۔ وہ ملعون اس کے صدمہ سے زمین پر آ گرا۔ جناب ورقاء نے اس کا سر کاٹ لیا اور وہاں سے واپس آ کر آپ نے اسے حضرت مختار کے قدموں میں ڈال دیا۔ حضرت مختار نے جناب ورقاء کو دعا دی۔

اور فرمایا کہ خدا تمہیں اس کے صلہ میں اپنی رحمت سے نوازے۔ تم نے میرا اور میرے مولا حضرت امام حسین علیہ السلام کا دل خوش کر دیا ہے۔ اس کے بعد جناب یزید ابن انس جو کہ بزرگان شیعہ کوفہ میں سے تھے۔ پچاسی سواروں سمیت حضرت مختار کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض پرداز ہوئے کہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں میدان میں جا کر نبرد آزمائی کروں۔ حضرت مختار نے اجازت مرحمت فرمائی اور آپ میدانِ کارزار میں پہنچے۔ ابن مطیع نے یزید کو میدان میں دیکھ کر حکم دیا کہ ان کے مقابلہ کے لئے حجاج بن حُر باہر نکلے۔ چنانچہ وہ سو سواروں کو ہمراہ لے کر میدان میں آیا۔ حجاج نے میدان میں پہنچ کر جناب یزید ابن انس سے کہا کہ میں تیرا سر کاٹنے کے لئے آیا ہوں اور تجھے ہر گز زندہ نہ چھوڑوں گا۔

اس کے بعد اس نے اپنے سواروں سے کہا کہ جب میں یزید پر حملہ کروں تو تم لوگ بھی یکبارگی میرے ہمراہ ان پر حملہ کر دینا۔ چنانچہ اس نے حملہ کر دیا اور اس کے ہمراہ سارے لشکر نے حملہ کیا۔ یزید بن انس اس خیال میں تھے۔ کہ اس کے علم کو سر نگوں کروں کیونکہ وہ علم کو ہلا کر "الامام یزید بن معاویہ" کا نعرہ لگا رہا تھا۔ اب تیزی سے تلوار چلنے لگی۔ اتنے میں جناب یزید بن انس نے دیگر لوگوں پر حملہ شروع کیا۔ اور اس بے جگری سے اُن پر حملہ کیا کہ چالیس سواروں کو تنہا قتل کر ڈالا۔ جس کے نتیجے میں آپ کو شاندار کامیابی نصیب ہوئی اور لشکر مخالف بھاگ کر ابن مطیع کے پاس جا پہنچا۔

ابن مطیع کی گھبراہٹ اور اُس کا خود میدان میں آنا ابن مطیع نے اس ہزیمت خوردہ گروہ سے کہا کہ تم لوگ کیا کرتے ہو جو جاتا ہے شکست کھاتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر لشکر مختار یکبارگی حملہ کر دے تو تم میں سے ایک بھی میرا ساتھ دینے والا نہ رہے گا۔ یہ کہہ کر نہایت غصہ کی حالت میں اس نے اپنے کو لوہے سے آراستہ کیا اور ایک گرانمایہ گھوڑے پرسوار ہو کر میدان میں نکل آیا۔ اور آ کر کہنے لگا جو مجھے پہچانتا ہے وہ تو پہچانتا ہی ہے اور جو نہیں جانتا وہ جان لے میں عبداللہ ابن مطیع حاکم کوفہ ہوں۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ اے حسینیو! کہا ں ہے تمہارا مختار میرے مقابلے کے لئے بھیجو۔ یہ سننا تھا کہ حضرت مختار بے چین ہو گئے اور حکم دیا کہ میری سواری کا جانور لایا جائے۔ میں خود اس کے مقابلہ کے لئے جاؤں گا۔

حضرت مختار کا یہ کہنا تھا کہ آپ کے لشکر کے سرداروں نے کہا اے امیر یہ ناممکن ہے کہ ہماری موجودگی میں آپ سرِمیدان جائیں۔

عبداللہ ابن مطیع کا پوری تیار ی کے ساتھ حضرت مختار پر حملہ

حضرت مختار اور ابراہیم نے فیصلہ کیا کہ شہر سے باہرچل کر کچھ دیر سکون حاصل کرنا چاہئے۔ چنانچہ بروایت طبری یہ لوگ شہر سے باہر چلے گئے۔ عبداللہ بن مطیع والی کوفہ کو جب معلوم ہوا کہ مختار شہر سے باہر مقیم ہیں تو اس نے اُن کے مقابلہ کے لئے بروایت مورخ ہر وی شیث بن ربعی کو چار ہزار اور راشد ابن ایاس بن مضارب کو تین ہزار اور حجاز ابن حر کو تین ہزار اور غضاب بن قعشری کو تین ہزار اور شمر بن ذی الجوشن کو تین ہزار اور عکرمہ ابن ربعی کو تین ہزار فوج سمیت بھیج دیا۔

یہ انیس ہزار کا لشکر جب حضرت مختار سے مقابلہ کرنے کے لئے روانہ ہوا۔

تو ایک شخص بنی حلیفہ مختار کی خدمت میں عرض پرداز ہوا کہ عظیم لشکر آپ سے مقابلہ کرنے سے مقابلہ کرنے آ رہا ہے اس لشکر والوں نے مرنے پر کمر باندھ لی ہے یہ لوگ آپ سے سخت ترین جنگ کریں گے

حضرت مختار نے فرمایا کہ اے بھائی غم نہ کرو اور فکر مند مت ہو ان شاء اللہ ان کا جاہ و حشم خاک میں مل جائے گا۔ وہ لشکر عبداللہ بن مطیع نے حضرت مختار سے مقابلہ کے لئے روانہ کیا تھا۔ جونہی سامنے آیا۔ جنگ شروع ہو گئی اور گھمسان کی جنگ ہونے لگی۔ اس جنگ میں حضر ت مختار، حضرت ابراہیم اور جناب عبداللہ ابن حُر نے اس بے جگری سے جنگ کی دشمن کے دل دہل گئے، یہ جنگ تا بہ ہنگام چاشت جاری رہی بالآخر عبداللہ ابن مطیع کا لشکر جان بچا کر بھاگا ، یہ ہزیمت نصیب لوگ شہر کوفہ کی طرف جب بھاگنے لگے تو مختار یوں نے اُن کا پیچھا کیا اور اس دوران میں جو ہاتھ آتا گیا اُسے قتل کرتے گئے یہاں تک کہ یہ لوگ شہر میں داخل ہو کر محلوں میں چلے گئے اور وہاں پہنچ کر ان لوگوں نے قدرے سستانے کے بعد پھر حملے کا ارادہ کیا اور ان لوگوں پر حملہ کر دیا۔

حضرت ابراہیم کے بھائی سائب بن مالک اشتر نے جب یہ رنگ دیکھا تو اپنے لشکر والوں سے پکار کر کہا کہ تم لوگ گھوڑوں سے اُتر پڑو اور پا پیادہ مشغول بہ جنگ ہو جاؤ۔ چنانچہ وہ لوگ گھوڑوں سے اُتر کر مصروف بہ جنگ ہو گئے اور اس کثرت سے دشمنوں کو قتل کیا کہ کشتوں کے پشتے لگ گئے اور اتنی لاشیں کوچہ و بازار میں جمع ہو گئیں کہ راستہ چلنا نا ممکن ہو گیا۔ قہر قہار نے گھیرا تھا ستمگاروں کو لاشوں سے پاٹ دیا کوفہ کے بازاروں کو اسی دوران میں کوٹھوں پر سے بوڑھے مردوں اور عورتوں کے فریاد کی آوازیں بلند ہوئیں وہ کہہ رہے تھے کہ اے ابو اسحاق خدارا رحم کرو۔ حضرت مختار نے اُن سے فرمایا کہ کوٹھوں سے اُتر کر ہمارے پاس آ جاؤ تاکہ تمہاری جانیں محفوظ کر دی جائیں ورنہ میں ایک کو بھی زندہ نہ چھوڑوں گا۔ آپ نے کہا کہ خداوند عالم نے مجھے دشمنانِ آل محمد کو قتل کرنے کے لئے بھیجا ہے اور میں اس میں کوتاہی نہ کروں گا۔

حضرت ابراہیم کی حوصلہ افزا پکار

جنگ جاری ہی تھی کہ دشمنوں کے غول پر غول پھر آنے شروع ہو گئے۔ حضرت ابراہیم نے اپنے مجاہدوں کو آواز دی کہ اے بہادر و دشمنوں کی کثرت سے خوفزدہ نہ ہونا۔ اور دامن صبر اپنے ہاتھ سے نہ جانے دینا، دیکھو، صبر و استقلال، خلیف فتح و ظفر ہو گا۔ تم گھبراؤ نہیں اور ہمت نہ ہارو۔ خداوند عالم ہمیں ضرور فتح نصیب کرے گا۔ اس کے بعد جنگ نے پوری شدت حاصل کر لی۔ اور گھمسان کی جنگ ہونے لگی۔

اس جنگ میں چونکہ حضرت مختار اور حضرت ابراہیم دونوں مل جُل کر برسرِ بیکار تھے۔ لہٰذا کشتوں کے بِشتے لگ گئے۔ ابن مطیع دارالامارة میں اور یہ عالم رونما ہو گیا کہ دشمن جو قتل سے بچے، سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے ابن مطیع نے جب یہ دیکھا کہ اس کے سرداران قتل ہو گئے تو اس نے بھی اپنا تحفظ ضروری سمجھا اور اس مقصد کے لئے ابن مطیع نے رؤساء کوفہ، ارکانِ دولت اور علماء کو جمع کیا اور جلد سے جلد دارالامارہ میں جا کر اس کے دروازے بند کرا دئیے۔

حضرت مختار نے دارالامارہ کا محاصرہ کر لیا

حضرت مختار نے جب یہ دیکھا کہ ابن مطیع نے دارالامارہ میں پناہ لے لی ہے تو فوراً اپنے لشکر کو حکم دیا کہ دارالامارہ کا محاصرہ کر لو۔ چنانچہ ہمارے لشکر نے اس کا محاصرہ کر لیا۔ اس محاصرہ سے آمد ورفت بھی بند ہو گئی اور طعام و خوراک کا سلسلہ بھی منقطع ہو گیا۔ محاصرہ سے مختار کے لشکر میں اضافہ ہونے لگا۔ اور اس اضافہ کی تعداد بارہ ہزار تک پہنچ گئی۔

یہ محاصرہ تین شبانہ روز جاری رہا بالآخر جب دارالامارہ میں محصور لوگوں پر بھوک اور پیاس کا غلبہ ہوا ہوا تو سب نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہئے۔ طے پایا کہ ہمیں مختار سے امان مانگ لینی چاہئے۔ اس فیصلہ سے چونکہ ابن مطیع کو اختلاف تھا۔ لہٰذا اس نے بروایت طبری فرار اختیار کیا اور بروایت مورخ ہروی اُسے کوٹھے سے نیچے پھینک دیا گیا

اور روایت کی بنا پر وہ عورت کے لباس میں دارالامارہ سے نکل کر ابوموسیٰ اشعری کے مکان میں پناہ گیر ہوا۔ علامہ محمد باقر صاحب دمعۃ ساکبہ کی تحریر سے مستفاد ہوتا ہے کہ اس جنگ میں حضرت ابراہیم کے ہمراہ ۹ سو سوار اور ۶ سو پیادہ اور نعیم ابن ہبیرہ کے ہمراہ ۳ سو سوار اور ۶ سو پیادہ تھے۔ اور حضرت مختار نے یزید بن انس کے ہمراہ ۹ سو سواروں کو بھیج دیا تھا جو مقام "مسجد شیث" میں نبرد آزما تھے۔ وقاتلوھم حتی ادخلو ھم البیوت و قتل من الفریقین جمع کثیر حضرت مختار کے سواروں اور پیادوں نے اتنی شدید جنگ کی کہ دشمن بھاگنے پر مجبور ہو گئے اور عالم یہ ہو گیا کہ ان بہادروں نے انہیں گھروں میں گھسیڑ دیا۔ اس جنگ میں فریقین کے کثیر جنگجو کام آ گئے اسی دھما چوکڑی میں حضرت مختار کے ایک جرنیل نعیم ابن ہبیرہ بھی شہید ہو ئے وہ لکھتے ہیں کہ اس جنگ میں ابن مطیع کے کثیر جرنیل قتل ہو گئے۔

اسی شدت قتال میں خزیمہ بن نصر عیسیٰ نے راشد بن نصر عیسیٰ نے راشد ابن ایاس کو قتل کر دیا۔ اور قتل کے بعد انہوں نے آواز دی کہ خدا کی قسم میں راشد کو واصل جہنم کر دیا ہے۔ اس آواز کے بلند ہوتے ہی دشمن پاؤں اُکھڑ گئے اور وہ اپنی جانیں بچا کر گلیوں اور کوچوں میں چھپنے لگے۔ ابن مطیع نے جب یہ حال دیکھا تو وہ بھی بھاگ کردار الامارہ میں پناہ گزیں ہو گیا۔ حضرت مختار نے دارالامارہ کا محاصرہ کر لیا تین روز کے بعد ابن مطیع عورت کا لباس پہن کردار الامارہ سے نکل بھاگا اور اس نے ابوموسیٰ اشعری کے مکان میں پناہ لی۔

دارالامارہ سے ابن مطیع کا خط حضرت مختار کے نام

علامہ حسام الواعظ رقمطراز ہیں کہ جب ابن مطیع دارالامارہ میں محصور ہو گیا اور چار دن اس نے اس میں بدقت دو شواری گزارے تو پانچویں روز اس نے ایک خط لکھ کر حضرت مختار کے نام دارالامارہ کے کوٹھے سے لشکر میں پھینکا۔ اس خط میں حضرت مختار کے لئے لکھا تھا: بسم اللہ الرحمن الرحیم "اے براد رعزیز مختار! آگاہ ہو کہ کوئی شخص بھی دنیا میں ایسا نہیں ہے جو اپنی بُرائی چاہتا ہو۔ لیکن جب قضا آجاتی ہے۔ تو آنکھیں بند ہو جاتی ہیں۔

تم کو معلوم ہونا چاہیئے کہ میں بہت زیادہ دل شکستہ ہو چکا ہوں۔ تم کو معلوم ہے کہ میرا تم پر حق ہے۔ وہ وقت تمہیں یاد ہو گا جب کہ مکہ میں ابن زبیر تمہیں قتل کرنا چاہتا تھا اور میں تمہیں مکروحیلہ سے اس کے چنگل سے نکالا تھا۔ اے مختار کیا اس کا بدلہ یہی ہے جو تم کر رہے ہو۔ پہلے تو تم نے میری حکومت تباہ کی اور اب تم مجھے قتل کرنا چاہتے ہو۔ مختصر یہ کہ میں تم سے مہلت چاہتا ہوں اور تم سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے یہاں سے نکل چلے جانے کا موقع دو۔

" حضرت مختار نے جونہی اس کا خط پڑھا۔ اُسے اپنے لشکر سے چھپا کر جواب لکھا کہ میں نے تمہیں مہلت دے دی ہے اور تم کو اجازت دیتا ہوں کہ رات کے وقت فلاں دروازہ سے خفیہ طور پر نکل کر جہاں چاہو چلے جاؤ تمہیں کوئی گزند نہ پہنچا ئے گا۔ پھر جب رات آئی تو حضرت مختار اس دروازے پر خُود پہنچ گئے۔ جس کا خط میں حوالہ دیا تھا۔

ابن مطیع نے جونہی حضرت مختار کو دیکھا ان کے پیروں میں گِر پڑا اور بہت زیادہ رویا اور معذرت و معافی کے بعد اس جگہ سے روانہ ہو گیا۔ ابن مطیع کے چلے جانے کے بعد جب شیعیان علی بن ابی طالعليه‌السلام ب کو معلوم ہوا کہ حضرت مختار نے ابن مطیع کو امن وامان کے ساتھ دارالامارہ سے رخصت کر دیا ہے تو رنجیدہ ہوئے اور انہوں نے آ کر حضرت مختار سے کہا کہ اے امیر آپ نے اتنے خطرناک دشمن کو آزاد کر دیا۔ ایسا نہیں چاہیئے تھا۔ یہ بڑا کمینہ ہے یہاں نکلنے کے بعد پھر کسی موقع سے فتنہ برپا کرے گا حضرت مختار نے فرمایا کہ اس نے ایک موقع پر میرے ساتھ بھلائی کی تھی۔ اس لئے میں نے بھی اُس کے ساتھ نیکی کی ہے۔ اب اگر کبھی مقابلہ میں آئے گا اس کو ویسا بدلا دوں گا۔ سوئے شیر آمد روبہ دلیر میشود اوکشتہ درچنگال شیر

مسجد جامعہ میں آپ کا پہلا خطبہ

دارالامارہ میں سکونت اور حصول امارت کے بعد سب سے پہلے حضرت مختار نے منادی کرا دی کہ سب لوگ جامع مسجد میں جمع ہو جائیں اور حکم دیا کہ گلدستہ اذان سے الصلوٰة الجامعة کا اعلان کر دیا جائے۔ چنانچہ مکمل اعلان ہو گیا۔ حضرت مختار کی طرف سے حکم اجتماع پاتے ہی خلق کثیر مسجد جامع میں مجتمع ہو گئی۔ اس کے بعد آپ منبر پر تشریف لے گئے اور آپ نے ایک فصیح و بلیغ اور مجمع و مقفٰی خطبہ پڑھا۔ جس کے عیون الفاظ یہ ہیں۔

الحمدللّٰه الذی وعدولیه النصر وعدوه الخسرو عداً ایتاً وامراً مفعولاً وقدخاب من انتری ایهاالناس مدت لناغایة و رفعت لنارایت نقیل فی الرایة ارفعوها ولاتضعوها و فی الغایة خذوها ولاتدعوها، فسمعنا دعوة الداعی و قبلنا قول الراعی فکم من باغ و باغیة و قتلی فی الراعیة الافبعداً لمن طغی و بغی و حجد ولغی کذب وتولی الافهلموا عبادالله الی بیعة الهدیٰ و مجاهدة الاعداء والاذب عن الضعفاء من ال محمد مصطفىٰ و انا المسلط علی المخلین الطالب بدم ابن بنت نبی رب العالمین اماوسنشی السحارب الشدید العقاب لا بنش قبر ابن شهاب المفتری الکذاب، المجرم المرتاب ولانفین الاحزاب الی بلاد الاعراب، ثم ورب العالمین لاقتلن اعوان الظالمین و بقایا القاسطین ثم قعد علی المنبر و تٰب قائما و قال اما و الذی جعلنی بصیرا و نور قلبی تنویر الاحرض بالمصر دوراً ولابنش بها قبورا ولاشفین بها صدوراً و لاقتلن بها جباراً کفوراً، ملعونا غدوراً و عن قلیل و رب الحرم المحرم و حق النون والقلم لیرفعن لی علم من الکوفة الی اضم الی اکتاف ذی سلم من العرب والعجم ثم لا تخذن من بنی تمیم اکثرالخدم

(ترجمہ)تمام تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جس نے اپنے اولیاء کو مدد دینے اور ان کی حمایت کرنے کا وعدہ کیا ہے اپنے دشمنوں کو ذلت و رسوائی سے ڈرایا دھمکایا ہے خدا کا وعدہ لازماً پورا ہونے والا اور اس کا حکم حتماً نافذ ہونے والا ہے

یاد رکھو جو افتریٰ کرے گا بے بہرہ بے نصیب ہے اے لوگو! اچھی طرح جان لو۔ میرے (کاموں کے لئے) زمانے میں وسعت ہے

اور میرے لئے رایت کی سربلندی مقرر اور مقدر ہے مجھے حکم ملا ہے کہ میں بغایت و نہایت اس وقت اور اس زمانہ کو حاصل کروں۔ اور نشان (فتح و ظفر) کو بلند کروں اور اُسے اپنے ہاتھ سے نہ جانے دوں (غور سے سنو) کہ میں نے خدائی دعوت دینے والے کی بات کو کان دھر کے سن لیا ہے۔ اور خصوصی توجہ کرنے والے کے قول کو مان لیا ہے۔ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ہر صنف میں بہت سے گمراہ قتل کیے جائیں گے یا د رکھو کہ سرکش باغی منکر جھوٹے لوگوں کا کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔ یہ سب رحمت الہٰی سے دور ہیں ۔ اے خدا کے بندو! ہوش میں آؤ اور راہ راست اختیار کرو۔ ہدایت کے راستے پر چلو اور دشمنان محمد و آل محمد سے جہاد کے لئے تیار ہو جاؤ اور اس امر کا پورا پورا عزم کر لو کہ اب آل محمد کے کمزور لوگوں سے دشمنوں کو دور کرو گے اور اور ان کی مدد کرو گے اے لوگو! تم کان دھر کے سن لو کہ میں مقہور اور سرکشوں پر مسلط کیا گیا ہوں ۔ میں اس لئے میدان میں آیا ہوں کہ فاطمہ بن رسول کے فرزند امام حسینعليه‌السلام کے خون کا بدلہ لوں لوگو! اس خدا کی قسم جو دوش ہوا پر ابر کو پیدا کرتا ہے اور جو گنہگاروں اور سرکشوں کو سخت سزا دینے والا ہے کہ وہ دن قریب ہے کہ جس میں "ابن شہاب" جیسے مفتری، کذاب، مجرم اور مرتاب کی قبر کھود کر پھینک دوں گااور منافقوں کے گروہوں کے شہر سے باہر نکال دوں گا، اور ضرور ضرور ظالموں کے مددگاروں اور قاسطین کے باقی لوگوں کو قتل کروں گا۔

(اس کے بعد آپ ایک لحظہ کے لئے منبر پر بیٹھے پھر کھڑے ہو کر بولے) قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے بصیرت عطا کی ہے۔

اور میرے دل میں پورا نُور بھرا ہے۔ میں لوگوں کے گھروں کو مصر میں جلا ڈالوں گا اور قبروں سے مردوں کو اکھاڑ پھینکوں گا۔

اور مومنوں کے دلوں کو خوش وخرم کر دوں گا۔ اور جہاد و کفار کو تہ تیغ کروں گا پھر فرمایا اے مسلمانو! یہ بھی سُن لو کہ میں خانہ کعبہ اور نون و قلم کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے علم کامرانی اور کوفہ سے زخم اور اطراف ذی سلم حتیٰ کہ عرب و عجم تک پہنچا دوں گا۔ اور بنی تمیم کے اکثر لوگوں کو غلام بناؤں گا۔ اس خطبے کے بعد آپ منبر سے اُتر کر دارالامارہ میں تشریف لائے۔ یہاں پہنچنے کے بعد لوگ بیعت کے لئے ٹوٹ پڑے۔

اور یہ عالم ہو گیا کہ خلق کثیر حلقہ بیعت میں آ گئی جس میں عالم عرب لوگوں کے علاوہ سادات و سردار بھی تھے۔ بیت المال کا جائزہ حضرت مختار نے سر یر حکومت پر قبضہ مجاہدانہ کرنے کے بعد اس کے بیت المال کا جائزہ لیا۔ اس میں بروایت طبری ۹ ہزار اور بروایت مورخ ہروی ۱۲ ہزار اور برایت علامہ جعفر ابن نما ۹ لاکھ درہم تھے۔ آپ نے اس میں سے تین ہزار آٹھ سو افراد کو جو کہ محاصرہ قصر پہلے سے ہمراہ تھے، پانچ پانچ سو درہم اور چھ ہزار افراد کو محاصرہ قصر کے بعد ساتھ ہوئے تھے۔ دو دو سو درہم دے دئیے۔

حضرت مختار اور ابن مطیع کی مالی امداد

حضرت مختار نے جائزہ بیت المال کے بعد اس امر کا تفحص کیا کہ عبداللہ ابن مطیع کہاں ہے تو معلوم ہوا کہ وہ ابو موسیٰ اشعری کے مکان میں روپوش ہے۔ اور یہ بھی پتہ چلا کہ جب وہ دارالامارہ سے نکل کر پناہ تلاش کر رہا تھا تو اسے کوئی پناہ دینے پر آمادہ نہ تھا۔ حضرت مختار نے اسے کہلا بھیجا کہ مجھے تمہاری روپوشی کا پورا علم ہے، چونکہ لوگ تمہارے دشمن ہیں اس لئے میں تمہیں مشورہ دیتا ہوں کہ تم کوفہ سے کہیں اور چلے جاؤ۔

ورنہ یہ لوگ اگر تمہارے وجود سے آگاہ ہو گئے تو تمہیں قتل کر دیں گے۔

عبداللہ ابن مطیع نے کہلا بھیجا کہ میں زادِ راہ کا بندوبست کر رہا ہوں۔ مجھے تین دن کی مہلت دی جائے۔

زادِ راہ کے انصرام و انتظام کے فوراً بعد یہاں سے روانہ ہو جاؤں گا حضرت مختار کو جب یہ معلوم ہوا۔ کہ عبداللہ ابن مطیع زادِ راہ اور آزوقہ سفر کی کشمکش میں مبتلا ہے تو آپ نے ہمدردی کے طور پر اس خیال سے بھی کہ وہ کوفہ کے واقعہ سے قبل بروایت طبری ان کا دوست تھا۔ عبداللہ ابن کامل الشاکری کے ذریعہ سے مبلغ ایک لاکھ درہم بھیج کر کہلا بھیجا کہ تم اسے لے لو اور اپنے کام میں لاؤ۔ عبداللہ ابن مطیع نے ان درہموں کو لے لیا۔

اور وہ کوفہ سے روانہ ہو کر بصرہ چلا گیا۔ یہاں سے جانے وہ عبداللہ ابن زبیر کے پاس حیا و شرم کی وجہ سے نہیں گیا۔ ایک روایت کی بنا پر وہ کوفہ سے روانہ ہو کر مکہ پہنچا اور وہاں ابن زبیر سے ملا۔ ابن زبیر نے اُسے سخت بُرا بھلا کہا۔ وہ وہاں سے رنجیدہ اور غمگین روانہ ہو کر بصرہ میں مقیم ہو گیا۔

حضرت مختار کا تجدیدِ بیعت کیلئے فرمان واجب الاذعان

سریر حکومت پر تمکن کے بعد حضرت مختار نے بیعت کنندگان کے جمع ہونے کا حکم دیا۔ اور جب سب جمع ہو گئے تو آپ نے حکم دیا کہ سب کے سب اس امر پر تجدید بیعت کریں کہ وہ کتابِ خدا کے احکام اور سنتِ رسول کریم پر عمل کریں گے۔ اور خونِ حسینعليه‌السلام کے عوض میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کریں گے۔ چنانچہ سب نے تجدید بیعت کر لی۔

حضرت مختار کا عہد عدالت مہدی

علماء اور مورخین فریقین کا اتفاق ہے کہ حضرت مختار نے کمال انصاف اور عدالت کے ساتھ خود کام کرنا شروع کر دیا۔ مورخ طبری کا بیان ہے کہ حضرت مختار کوفہ میں ہر روز صبح سے نماز ظہر کے وقت تک دارالعدل میں بیٹھتے اور نہایت انصاف کے ساتھ فیصلے کرتے تھے۔ مورخ ہروی یعنی صاحب رو ضۃ الصفا لکھتے ہیں کہ "مختار نیز وارد کوفہ بتاسیس قواعد عدل و داد پر داختہ رسوم ظلم و بیداد براند اخت" (مختار نے کوفہ میں قواعد عدل کی بنیاد ڈال دی اور ظلم و بیداد کے رسوم پارینہ کو فنا کر دیا) وہ ہر روز ایوان میں خود بیٹھتے تھے اور فیصلے فرماتے تھے اور جو ظلم کرتا تھا۔ اس کی مکمل گوشمالی فرماتے اور اُسے پوری سزا دیتے تھے۔ نجذاہ اللہ خیرا۔ خدا ان کی کو اس کی بہترین جزا دے۔

علّامہ مجلسی کا ارشاد ہے کہ حضرت مختار محرم ۹۷ ھ ئتک کوفہ میں حکومت کرتے رہے۔

اس کے بعد انہوں نے قاتلانِ حسین کو قتل کرنے کی طرف قدم بڑھایا اور ۷ محرم ۶۷ ھء کو ہفتہ کے دن حضرت ابراہیم ابن مالک اشتر کو ارض جزیرہ کی طرف ابن زیاد کے قتل کی خاطر بھیج دیا۔ جہاں وہ قیام پذیر تھا۔


فہرست

پہلا باب ۴

ناصر آل محمد ۴

کارنامہ مختار کے سلسلہ میں اجازت امام کا تذکرہ بھی آتا ہے ۔ ۶

دوسرا باب ۸

حضرت مختار کے مختصر خاندانی حالات ۸

حضرت رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زبان اقدس پر ولادت مختار کی بشارت ۹

حضرت مختار کی ولادت باسعادت ۱۰

تاریخ ولادت ۱۲

حضرت مختار کی کنیت ۱۲

حضرت مختار کا لقب ۱۳

تیسرا باب ۱۴

حضرت مختار کے بچپن کے حالات ۱۴

جناب مختار حضرت امیر المومنین عليه‌السلام کے زانوئے مبارک پر ۱۴

عہد طفلی اور کسب کمالات میں شوق وانہماک ۱۵

۱۳ سال کی عمر میں جذبہ نبرد آزمائی ۱۵

حضرت مختارکے سر سے باپ کا سایہ اُٹھ گیا ۱۵

چوتھا باب ۲۱

حضرت مختار کی شرافت ذاتی ۲۱

حضرت مختار کا ولی اللہ ہونا ۲۲


حضرت مختار کی شادی خانہ آبادی ۲۴

حضرت مختار کا ذکر کتب آسمانی میں ۲۴

جناب مختار حضرت رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نظر میں ۲۵

عبداللہ ابن سبا اور مختار ثقفی ۲۶

یزید کی موت چار ہزار پانچ سو محبان علی کی قید سے رہائی ۲۷

ابن زیاد کی بصرہ سے روانگی اور سلیمان کی پیش قدمی ۳۱

ابن زیاد کی شام سے کوفہ کیلئے اور حضرت سلیمان کی کوفہ سے شام کیلئے روانگی ۳۷

حضرت مختار ،ابن مطیع کے مقابلہ میں ۴۲

حضرت مختار دارالامارہ میں ۴۴

نظامِ حکومت کا انصرام اور گورنروں کا تقرر ۴۴

پانچواں باب ۴۶

جناب مختار کا جذبہ عقیدت ۴۶

چھٹا باب ۵۴

حضرت مختارعلما ء کرام کی نگاہ میں ۵۴

حضرت مختار کے کردار پر غلط نگاہ ۵۶

مولف مختار آل محمد صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دعویٰ ۵۶

ساتواں باب ۵۸

جنگِ صفین کے سلسلہ میں حضرت علی عليه‌السلام کا کربلا میں ورود اور سعد بن مسعود سے کارنامہ مختار کا تذکرہ ۵۸

حضرت امام حسن عليه‌السلام پر فوجیوں کی یورش اور حضرت مختار کی مواسات کا ایک روشن پہلو ۶۰

آٹھوں باب ۶۵


واقعہ کربلا اور حضرت امام حسین عليه‌السلام کی زبان مبارک پر یوم عاشور ا خروج مختار کا حوالہ ۶۵

نواں باب ۷۰

حضرت مسلم عليه‌السلام کی کوفہ میں رسیدگی و شہادت اور حضرت مختار کی مواسات و ہمدردی اور گرفتاری ۷۰

حضرت مختار کی حمایت مسلم کے لیے دیہات سے لشکر سمیت واپسی ۹۲

حضرت مختار کی امیدوں پر پانی پھر گیا ۹۴

حضرت مختار کی حکمت عملی ۹۴

حضرت امام حسین عليه‌السلام کیلئے جناب مختار کی تمنا ۹۷

کربلا میں خیام اہل بیت عليه‌السلام کی تاراجی ۹۸

اہلبیت رسول کا دربار ابن زیاد میں داخلہ اورحضرت مختار کی پیشی ۱۰۰

اہل حرم کی شام کی طرف روانگی ۱۰۱

دسواں باب ۱۰۳

اہلِ حرم کا دربارِ یزید میں داخلہ حضرت زینب عليه‌السلام کا خطبہ قید خانہ شام سے رہائی مدینہ میں رسیدگی ۱۰۳

گیارہواں باب ۱۰۹

زندانِ کوفہ میں حضرت مختار کی حالتِ زار حضرت میثم تمّار سے ملاقات ۱۰۹

معلم کوفہ عمیر بن عامر ہمدانی کی سرگذشت ۱۱۰

قید خانہ میں حضرت مختار کو قلم و دوات پہنچانے کی سعی ۱۱۵

بارہواں باب ۱۲۷

حضرت مختار کی کوفہ سے مکہ کو روانگی اور ابن زبیر سے ملاقات ۱۲۷

حضرت مختار کی مکہ سے طائف کو روانگی ۱۲۷

حضرت مختار مکہ میں اور ابن زبیر کی بیعت ۱۲۸


تیرہواں باب ۱۳۰

حضرت مختار کا مدینہ میں قیام حضرت رسول کریم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا خط ۱۳۰

حضرت رسول کریم کا خط حضرت مختار کے نام ۱۳۰

چودہواں باب ۱۳۷

حضرت مختار کی مکہ سے روانگی ، کوفہ میں رسیدگی اور گرفتاری ۱۳۷

حضرت سلیمان بن صرد کا خواب ۱۳۹

حضرت سلیمان بن صردکی شہادت ۱۴۰

حضرت عبداللہ ابن وال کی شہادت ۱۴۰

پندرہواں باب ۱۴۴

حضرت مختار کی قید سے رہائی ۱۴۴

شہادت حضرت سلیمان کا اثر ۱۴۴

حضرت مختار کا خط اہل کوفہ کے نام ۱۴۵

حضرت مختار کا خط عبداللہ بن عمر کے نام ۱۴۶

حضرت مختار کی رہائی ۱۴۶

سولہ واں باب ۱۵۶

حضرت مختار کا نعرہ انتقام ۱۵۶

حضرت مختار کی گرفتاری کا مشورہ ۱۵۷

حضرت مختار نے سعی خروج تیز کردی ۱۵۹

حضرت مختار جناب ابراہیم کے مکان پر ۱۶۰

معززین کوفہ کے پچاس افراد محمد حنیفہ عليه‌السلام کی خدمت میں ۱۶۱


حضرت مختار کی بیعت بصرہ میں ۱۶۳

سترہواں باب ۱۶۶

حضرت مختار کا خروج ۱۶۶

کوتوال کوقہ ایاس بن مضارب کی گھبراہٹ ۱۶۶

ایاس اور ابراہیم میں مڈبھیڑ ۱۶۷

حضرت مختار کے مکان پر حملہ کرنے کے لئے شیث ابن ربعی کی روانگی ۱۶۹

اہل شاکریہ کی سیاست ۱۷۱

مجاہدوں کی فراہمی کے لئے حضرت ابراہیم کی روانگی ۱۷۱

ابن مطیع کا لشکر حضرت مختار کے مکان پر ۱۷۳

حضرت مختار کاایک جاسوس جامع مسجد میں ۱۷۴

قتل کا منصوبہ اور جاسوس مختار کی خبر رسانی ۱۷۴

ابن مطیع نے محلوں کے محافظوں کو بلا کر حملہ کا حکم دے دیا ۱۷۶

حضرت مختار کا عظیم الشان خطبہ ۱۷۶

ابن مطیع کے لشکر کی تیاری ۱۷۷

عبداللہ ابن مطیع کا پوری تیار ی کے ساتھ حضرت مختار پر حملہ ۱۷۹

حضرت ابراہیم کی حوصلہ افزا پکار ۱۸۰

حضرت مختار نے دارالامارہ کا محاصرہ کر لیا ۱۸۰

دارالامارہ سے ابن مطیع کا خط حضرت مختار کے نام ۱۸۱

مسجد جامعہ میں آپ کا پہلا خطبہ ۱۸۲

حضرت مختار اور ابن مطیع کی مالی امداد ۱۸۳


حضرت مختار کا تجدیدِ بیعت کیلئے فرمان واجب الاذعان ۱۸۴

حضرت مختار کا عہد عدالت مہدی ۱۸۴