ایک سو پچاس جعلی اصحاب- جلد 3
گروہ بندی متن تاریخ
مصنف علامہ سید مرتضیٰ عسکری
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب : ایک سو پچاس جعلی اصحاب(جلدسوم )

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری

مترجم: سید قلبی حسین رضوی

اصلاح ونظر ثانی: سید احتشام عباس زیدی

پیش کش : معاونت فرہنگی، ادارہ ترجمہ

کمپوزنگ: محمد جواد یعقوبی

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت علیہ السلام

طبع اول: ١٤٢٧ھ ٢٠٠٦ئ

تعداد: ٣٠٠٠

مطبع : لیلیٰ


حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پرنمودار ہوتاہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ ونکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کا فور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں ، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کاسورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمہ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کی تمام الہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھی، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عر صے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمران ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماندپڑگئیں ، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہب عقل و آگہی ہے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔


اگر چہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ گراں بہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام او ر ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کے بے توجہی اورناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کاشکار ہوکراپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمہ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکارو نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگیں تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیاہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن او رمکتب اہل بیت علیہ السلام کی طرف اٹھی او رگڑی ہوئی ہیں ، دشمنان اسلام اس فکر و معنوی قوت و اقتدار کو توڑنے کے لئے اوردوستداران اسلام سے اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامران زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین و بے تاب ہیں ، یہ زمانہ عملی اور فکری مقابلے کازمانہ ہے اورجو مکتب بھی تبلیغ او رنشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھا کر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیاتک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کو نسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایاہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر اندازسے اپنا فریضہ ادا کرے، تا کہ موجود دنیا ئے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف وشفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق وانسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواراں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔


ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققیں ومصنفیں کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفیں و مترجمیں کا ادنی خدمتگار تصور کرتے ہیں ، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل علامہ سید مرتضی عسکری کی گرانقدر کتاب ''ایک سو پچاس جعلی اصحاب'' کو فاضل جلیل مولانا سید قلبی حسین رضوی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیاہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ، اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں او رمعاونیں کا بھی صمیم قلب سے شکر یہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنی جہاد رضائے مولی کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام


عراق کے ایک نامور مصنف استاد جعفر الخلیلی کا مقالہ

استاد جعفر الخلیلی ، ادبیات عرب کے نامور داستان نویسوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ وہ کئی روزناموں ، من جملہ '' الراعی'' اور '' الھاتف'' کے مالک ہیں ۔ انہوں نے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ جن میں نمونہ کے طور پر '' ھکذا عرفتھم'' اور '' فی قری الجن'' قابل ذکر ہیں ۔ جناب جعفر الخلیلی ، مقدس مقامات کی تاریخ اور دیگر علمی و ادبی آثار کے سلسلے میں تسیس کئے گئے '' ُموسوعہ العتبات المقدسہ'' نام کے ایک عظیم کمپلیکس کو بھی چلاتے ہیں ۔

استاد محترم نے اپنے ایک رسالہ میں کتاب '' ایک سو پچاس جعلی اصحاب '' کے بارے میں یوں اظہار نظر کیا:

''١٥٠ جعلی اصحاب'' نامی کتاب، اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے ، جس میں ١٥٠ جعلی اصحاب میں سے ٣٩ ایسے اصحاب کی زندگی کے حالات درج ہیں ، جن کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں تھا ، بلکہ انہیں ایک شخص نے خلق کرکے صحابی کا لباس ان کے زیب تن کیا ہے اور ان میں سے ہر ایک کے بارے میں کسی نہ کسی موضوع پر کوئی حدیث گھڑ کر ان سے نسبت دی ہے۔ اس شخص نے اپنے چند خیالی راویوں کے ذریعہ ان افسانوی اصحاب کو حقیقت کا روپ بخشنے کی کوشش کی ہے

یہ قصہ گو ، نسب شناسوں اور محققوں کی نظر میں زندیقی ، فریب کار اور احادیث میں دخل و تصرف کرنے کا ملزم ٹھہرایا گیا ہے اس کے بارے میں سادہ اور مختصر طور پر یوں کہا گیا ہے:

'' اس کی روایتوں کی کوئی ساکھ نہیں ہے اور وہ ناقابل اعتبار ہیں '' ۔

یہ کتاب عظیم دانشور ، انتھک محقق اور اصول دین کالج بغداد کے پرنسپل سید مرتضی عسکری کی تخلیق اور تلیف ہے جو علمی اور دینی پیشوا کی حیثیت سے کاظمین اور بغداد جیسے دو بڑے شہروں کے اکثر باشندوں میں مقبول عام ہیں ۔


جناب عسکری علمی مقام ومنزلت کے علاوہ ایک ایسی خصوصیت کے مالک ہیں جو دوسرے مصنفین اور محققین میں بہت کم پائی جاتی ہے اور وہ ہے ان کا عجیب اور انوکھے علمی موضوعات کا انتخاب کرنا ، ان پر تسلط اور بحث و تحقیق کا قارئین پر اثر ڈالنا جو انھیں حیرت میں ڈال کر ان کو داد دینے پر مجبور کرتے ہیں ۔

استاد جب اس قسم کے موضوع پر بحث و تحقیقی کرنے بیٹھتے ہیں تو ایسے مسلط اور مسلح نظر آتے ہیں کہ کسی قسم کی کمی محسوس ہی نہیں کرتے جس کیلئے انھیں دوڑ بھاگ کرنے کی ضرورت ہو وہ کبھی بھی خاص علمی وا ستدلالی بحث سے ہٹ کر جذبات اور احساسات سے کام نہیں لیتے۔

یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ تاریخ کے اہم اورتاریک زاویوں کی علمی بحث و تحقیق کے دوران اس کے اختتام تک اپنے جذبات اور نفسانی خواہشات پر قابو پاسکے ۔ کیونکہ اکثر محققین ہوتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ تاریخ کو من پسند صورت میں لکھیں اور تمنّا رکھتے ہیں کہ تاریخی ان دلی خواہشات کے مطابق ہوں !!

ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ حقیقت میں اپنی ذاتی خواہشات اور جذبات کا گلا گھونٹ کر اپنے آپ کو صرف علمی بحث و تحقیقی کیلئے وقف کرنے والے علمااور محققین بہت کم ہوتے ہیں ۔ ایسے علماء اور محققین گنے چنے ہی نظر آتے ہیں جو اپنے قلم کو اپنی نفسانی خواہشات ، ذاتی اور مذہبی جذبات اور کسی خاص گروہ کی طرفداری سے بالا تر رہ کو وقائع کو ثابت کرتے وقت صرف محسوس اور مستند علمی حقیقتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے منطقی ، معقول اور قابل قبول امور کی پیروی کرسکتے ہیں ۔

ایسے حالات میں جب کہ علماء اور محققین ایسے بنیادی موضوعات کی طرف کم توجہ دیتے ہیں ، استاد عسکری نے اس قسم کی بحث و تحقیق کا بیڑا اٹھایا ہے ، جس کے نتیجہ میں حدیث و تاریخ کی بحثوں پر مشتمل اپنی گراں بہا علمی کتاب '' عبد اللہ ابن سب'' تالیف فرماکر ہمارے اختیار میں قرار دی ہے :

استاد محترم نے اس کتاب میں سیف ابن عمر تمیمی کی زندگی کے حالات ، اس کے اور اس کی احادیث کے بارے میں محدثین اور ثقات کے نظریات ، علماء اور محدثین کی نظر میں سیف کی احادیث اور افسانوں کی قدر و قیمت ، سر انجام اس کو زندیقی اور جھوٹی احادیث گھڑنے کا مجرم ٹھہرانے کے سلسلے میں اس کتاب میں مفصل بحث و تحقیق کی ہے۔


اس بارے میں مفصل بحث کے بعد استاد اسی نقل شدہ روایات کے ذریعہ سے '' عبدا للہ ابن سب'' کی شخصیت پر بحث و تحقیق کرتے ہیں اور اس جستجو میں صحیح علمی روش کے مطابق '' عبد اللہ ابن سبا'' کے بارے میں سیف بن عمر سے نقل ہوئی تمام احادیث اور روایتوں کی تحقیق کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں مؤرخین کی تمام تائیدات اور وضاحتوں ، خاص کر ابو جعفر محمدبن جریر طبری نے جو کچھ نصوص اور وضاحتوں کی صورت میں '' عبدا للہ ابن سب'' کے بارے میں جو کچھ کہا ہے ،اس سے ا ستفادہ کرتے ہوئے سیف کے تمام افسانوں کو منعکس کرکے ثابت کردیتا ہے کہ اس شخص ( عبد اللہ بن سب) سے مربوط روایات کا سرچشمہ صرف سیف بن عمر کے افسانے ہیں ، اس کے علاوہ کسی اور مصدر و مآخذ میں ان کا ذکر نہیں ہوا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے بعض علماے متقدمین ، '' عبد اللہ بن سب'' کے خیالی شخصیت ہونے اور سیف بن عمر تمیمی کے ذریعہ اس کی زبانی جھوٹی احادیث جاری کرانے کے بارے میں متوجہ ہوئے تھے۔

متاخرین اور عصر حاضر کے علماء میں سے ، عرب دنیا کے بے مثال ادیب و مصنف ڈاکٹر طہ حسین نے بھی '' عبد اللہ ابن سبا'' کے ایک افسانوی اور خیالی شخصیت ہونے کے بارے میں اشارہ کیا ہے۔ لیکن ہمارے متقدمین اور متاخرین میں سے کوئی بھی اس حالت میں نہیں تھا جو سیف بن عمر جیسے افسانہ ساز اور جھوٹے آدمی کے حالات اور ا س کی شخصیت کے بارے میں تحقیق کرنے کی زحمت اٹھاتا ، حقیقت میں سیف بن عمر ایک ایسا شخص تھا جس نے بڑی آسانی کے ساتھ اسلامی تاریخ میں کئی دلاور اور سورما خلق کئے اور ان کی زبان پر اپنی من پسند احادیث ، اشعار اور رجز خوانیاں جاری کرکے اپنے اغراض و مقاصد کو ان سے نسبت دی ہے ۔ جبکہ وہ خود جھوٹ ، افسانے سازی ، دلاوریاں جعل کرنے اور زندیقی و گمراہی میں معروف تھا۔

جناب عسکری پہلے محقق ہیں جنھوں نے '' ابن سبا'' کی روایت کے سلسلے میں جستجو کرنے کیلئے قدم اٹھایا اور سیف کے ذریعہ سے اس کو خلق کرنے کی کیفیت قارئین کے اختیار میں دی ، اس طرح کسی کیلئے حتی علمی تحقیق سے دور کا بھی واسطہ نہ رکھنے والوں کیلئے بھی چون و چرا کی کوئی گنجائش باقی نہیں رکھی ہے۔


سیف کے افسانوں اور اس کے جھوٹ کی تحقیق کے دوران جناب عسکری کی نظر چند مشکوک احادیث و روایات پر پڑتی ہے ، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس (سیف) نے ان مشکوک روایتوں کو بعض نامور صحابیوں سے نسب دی ہے ۔

یہ مسئلہ اس بات کا سبب بنا کہ استاد نے '' عبد اللہ بن سب'' کی بحث و تحقیق کو ادھورا چھوڑ کر ان مشکوک روایتوں اور ان کے راویوں کے بارے میں تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا۔

استاد نے اس قسم کی احادیث کی روایت کرنے والے اصحاب کو پہچاننے کیلئے تاریخ کے صفحات میں مسلسل پانچ سال تک انتھک جستجو اور تلاش کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ :

١۔ سیف بن عمر کے ١٥٠ ایسے راویوں کا جعلی ہونا آشکار ہوا ، جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں تھا اور سیف نے انھیں حقیقی ، مسلم اور ناقابل انکار اصحاب کی حیثیت سے پیش کرکے ان سے روایتیں بھی نقل کی ہیں ۔

٢۔ سیف کی روایت کی گئی زیادہ تر احادیث بے بنیاد ہیں اور صرف سیف کے تخیل کی پیدائش ہیں اور اسی کی زبان پر جاری ہوئی ہیں ۔

٣۔ اس کی بعض احادیث کسی حد تک حقیقی تھیں لیکن سیف نے خاندانی تعصب اور زندیقی ہونے کے ملزم ٹھہرائے جانے کے پیش نظر ان احادیث کو اپنے من پسند بنانے کیلئے ان میں تحریف اور تصرف کرکے ان کاحلیہ ہی بگاڑ کے رکھدیا ہے اور اس طرح ان احادیث کی اصل کے ساتھ کوئی شباہت ہی باقی نہیں رہی ہے بلکہ بالکل جھوٹی احادیث بن کر سامنے آگئی ہیں ۔

٤۔ بہت سی جگہوں پر مشاہدہ ہوتا ہے کہ سیف اپنی حدیث کو شروع میں ایک نامور اور حقیقی راوی یا محدث سے نقل کرتا ہے لیکن آخر میں راویوں کے سلسلہ کو اپنے کسی جعلی صحابی تک پہنچاتا ہے اس طرح انسان ابتداء میں سوچتاہے کہ یہ روایت صحیح اور بے عیب ہے لہذا تصور کرتا ہے کہ حدیث کے راویوں کی دوسری کڑیاں بھی صحیح ہوں گی جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ اگر کوئی چالاک اور باہوش مؤرخ ایسی احادیث پر دقت سے نظر ڈالے تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ اس قسم کی احادیث کو جھوٹ اور بے بنیاد طور پر ایسے نامور راویوں سے نسبت دے کر انھیں ان کی زبان پر جاری کیا گیا ہے ۔ سیف نے خاص طور پر یہ کام کیا ہے تا کہ یہ دکھائے کہ یہ روایت اس سے نقل کی گئی ہے ، جبکہ نامور راویوں سے منقول اس قسم کے مطالب سیف بن عمر تمیمی کے علاوہ کسی اور کے ہاں نہیں ملتے۔


بہر حال ، مشکلات کے باوجود ، استاد نے اس وسیع علمی اور تحقیقی کام کی انجام دہی کیلئے مصمم عزم و ارادہ کے ساتھ میدان عمل میں قدم رکھا ہے جبکہ اس قسم کی علمی بحث و تحقیق کی راہ میں موجود مشکلات اور رکاوٹوں کے پیش نظر ایسے کام کو انجام دینا ایک گروہ کیلئے مشکل اور ناقابل برداشت ہوتا ہے ، ایک شخص کی بات ہی نہیں ! ہاں ان تمام مشکلات و موانع کے باوجود انہوں نے اس کام کو بہت ہی اچھی طرح انجام دیا ہے ۔

اس گراں بہا کتاب میں انتہائی باریک بینی کا لحاظ رکھنے کے علاوہ دیگر خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں سیف کی ہر خیالی شخصیت کے بارے میں الگ الگ باب میں مفصل بحث کی گئی ہے اس کے خیالی اماکن اور جگہوں کے بارے میں بھی تحقیق کی گئی ہے اس کے علاوہ ہر ایک فصل و بحث کے آخر میں اس سے متعلق مصادر اور مآخذ کو منظم و مرتب کرکے درج کیا گیا ہے تا کہ قارئینکو اس کتاب کے علاوہ کہیں اور مراجعہ کرنے کی ضرورت نہ پڑے اس طرح اس کتاب میں سیف کے جعل کئے گئے اصحاب ، ان سے نسبت دی گئی احادیث اور ان کی زبانی جاری کئے گئے اشعار و دلاوریوں جیسے مطالب کی وجہ سے پیدا شدہ شک و شبہات دور ہوجائیں ۔

مؤلف محترم نے کتاب کے اس حصہ میں سیف بن عمر تمیمی کے بلا واسطہ خلق کئے گئے ١٥٠ جعلی اصحاب میں سے مندرجہ ذیل اصحاب کے حالات پر بحث و تحقیق کی ہے:

١۔ قعقاع بن عمرو بن مالک تمیمی

٢۔ عاصم بن عمرو بن مالک تمیمی

٣۔ اسود بن قطبہ بن مالک تمیمی

٤۔ ابو مفزر تمیمی۔

٥۔ نافع بن اسود بن قطبہ تمیمی ۔

٦۔ عفیف بن منذر تمیمی۔

٧۔ زیاد بن حنظلہ تمیمی۔

٨۔ حرملہ بن مریطہ تمیمی۔

٩۔ حرمہ بن سلمی ، تمیمی۔


١٠۔ ربیع بن مطر بن ثلح تمیمی۔

١١۔ ربعی بن افکل تمیمی۔

١٢۔ اطّ بن ابی اطّ تمیمی۔

١٣۔ سعیر بن خفاف تمیمی۔

١٤۔ عوف بن علاء جشمی تمیمی۔

١٥۔ اوس بن جذیمہ تمیمی۔

١٦۔ سہل بن منجاب تمیمی۔

١٧۔ وکیع بن مالک تمیمی۔

١٨۔ حصین بن نیار حنظلی تمیمی۔

١٩۔ حارث بن ابی ہالہ تمیمی۔

٢٠۔ زبیر بن ابی ہالہ تمیمی۔

٢١۔ طاہر بن ابی ہالہ تمیمی۔

٢٢۔ عبید بن صخر بن لوذان سلمی۔

٢٣۔ عکاشہ بن ثور، غوثی۔

٢٤۔ عبد اللہ بن ثور غوثی۔

٢٥۔ عمرو بن حکم قضاعی۔

٢٦۔ امرؤ القیسں ، کلبی۔

٢٧۔ وبرة بن یحنس ، خزاعی۔

٢٨۔ اقرع بن عبدا للہ حمیری۔

٢٩۔ صلصل بن شرحبیل۔

٣٠۔ عمرو بن محجوب، عامری۔


٣١۔ عمر بن خفاجی ، عامری۔

٣٢ ۔عوف ورکانی۔

٣٣۔ عویف زرقانی۔

٣٤۔ قضاعی بن عمرو۔

٣٥۔ خزیمہ بن ثابت انصاری

٣٦۔ بشیر بن کعب

معزز مصنف نے اس کتاب کے مقدمہ میں ان عوامل پر مفصل روشنی ڈالی ہے ، جن کے سبب قدیم زمانے سے آج تک مصنفین اور مؤرخین نے خلافِ حقیقت اور جھوٹ پر مبنی ان مطالب کو اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔ اس سلسلے میں بنیادی اسباب کے طور پر اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانا اور وقت کے حکام اور طاقتور طبقہ کی مصلحتوں کے موافق عمل کرنا بیان کیا گیا ہے ۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اسلام سے پہلے اور پہلی صدی ہجری میں نیز اس کے بعد بھی مختلف معاشروں پر خاندانی تعصبات کی زبردست حکمرانی تھی ۔ اس کے پیش نظر ہم آسانی کے ساتھ سمجھ سکتے ہیں کہ سیف بن عمر تمیمی نے کیوں اپنے جعلی اصحاب میں سے زیادہ تر گروہوں کو قبیلۂ تمیم سے خلق کیا ہے ؟!

اس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سب سے پہلے حامی و مددگار کو قبیلۂ تمیم سے کیوں خلق کیا ؟ جب کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک ترین رشتہ دار جیسے ابو طالب بنی ہاشم سے دوسرے اعزہ موجود تھے!۔

سیف نے اسلام کے پہلے شہید کو قبیلۂ تمیم سے خلق کیا ہے ۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پروردہ کو تمیمی جعل کیا ہے ۔ حتی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پروردہ صرف ایک تمیمی پروردہ کی تخلیق پر اکتفا نہیں کی ہے بلکہ اس نے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے دو اور منہ بولے بیٹے بھی تمیم سے خلق کئے ہیں ۔ !!


یہ وہ مطالب ہیں جن کے بارے میں مصنف محترم نے اس کتاب میں مفصل بحث و تحقیق کی ہے یہ وہ موضوعات ہیں جو ہمارے علماء و محققین کی طرف سے توجہ ، تحقیق، جستجو، احادیث کی چھان بین اور جانچ پڑتال نہ کرنے کے سبب صدیوں تک دانشوروں سے پوشیدہ رہے ہیں ۔

اہم مسئلہ زندیقی ہے ، جس کا سیف ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔ یہ چیز اسے اس بات کی اجازت دیتی ہے بلکہ مجبور کرتی ہے کہ اپنے عقائد و افکار پر اسلام کا لبادہ ڈال کر اپنے ناپاک عزائم پر عمل کرسکے۔ اس طرح اسلام کی صحیح تاریخ میں شک و شبہہ ایجاد کرکے رخنہ اندازی کرے ۔ چونکہ سیف تخیلات پر ید طولیٰ رکھتا تھا۔ اس لئے وہ اپنے عقائد و افکار کو آسانی کے ساتھ متعدد احادیث اور روایتوں کی صورت میں پیش کرنے میں کامیاب ہوا ہے ۔ ان روایتوں کو اس نے ایک دوسرے پر ناظر کی صورت میں جعل کیا ہے ان روایتوں میں سے بعض کو اس نے خیالی راویوں سے نقل کیا ہے اور بعض کو مشہور و معروف راویوں سے نسبت دی ہے اس طرح اپنے افکار و عقائد پر مبنی مطالبات و خواہشات کو ان کی زبانی بیان کرتا ہے ، اس نے یہ روایتیں ایسے راویوں سے منسوب کی ہیں جو سالہا سال پہلے اس دنیا سے چل بسے ہیں اور زندہ نہیں ہیں جو اپنے بارے میں لگائی گئی تہمتوں کی تردید کرسکیں یا ان سے منسوب کی گئی روایتوں سے انکار کریں ۔

اس کتاب نے علمی تحقیق میں ایک نیا باب کھولا ہے تعصب و جذبات سے بالاتر رہ کر تاریخ نویسی ، تاریخ کے صفحات سے ملاوٹ ، جھوٹ اور توہمات کو پاک کرنے اور حدیث و روایات کو علم کی کسوٹی پر پرکھنے میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی کتا ب ہے جس نے عام طور پر معجزانہ اور حیرت انگیز حد تک اثرات ڈالے ہیں ۔

آخر میں اس محنت کش اور انتھک جستجو کرنے والے مصنف کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنے مقدس مقصد تک پہنچنے کیلئے تن تنہا ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جو حقیقت میں منتخب ماہروں ، دانشوروں اور علم و ادب کے محققوں کی ایک ٹیم کا اجتماعی کام ہے۔

بغداد ، جعفر الخلیلی


پہلا حصہ :

تحریف

*قرآن و سنت ایک دوسرے کے متمم ہیں ۔

*گزشہ ادیان میں تحریف کا مسئلہ۔

*سنت میں تحریف کے سلسلہ میں متقدمین کی تقلید۔

*آسمانی کتابوں میں گزشتہ امتون کی تحریفیں ۔

*توریت میں تحریف کے چند ثبوت

*قرآن مجید ایک لافانی معجزہ

*قرآن مجید میں تحریف کرنے کی ایک ناکام کوشش

*اسلامی مصادر کی تحقیق ضروری ہے۔


قرآن و سنت ایک دوسرے کے متمم ہیں

تمام اصول ، عقائد ، احکام اور دوسرے معارف و اسلامی علوم کا سرچشمہ قرآن مجید ہے۔ ان کی تشریح و تفسیر اور ان پر عمل کرنے کا طریقہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی گفتار و رفتار میں مشخص ہوا ہے ، جسے حدیث و سیرتِ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کہا جاتا ہے ۔ اسی لئے خدائے تعالیٰ نے اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت کو اپنی اطاعت کے مانند قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے :

( اَ طِیعُو الله و َ رَ سُولَهُ ) ١

اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔

اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نافرمانی کو اپنے احکام کی نافرمانی جانتے ہوئے فرماتا ہے :

( وَ مَنْ یَعْصِ الله و َ رَ سُولَهُ فَاِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّم) ٢

اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اس کیلئے جہنم ہے۔

____________________

١۔ انفال ١، آل عمران ١٣٢، نساء ٥٩ انفال ٢٠، ٤٦، نور ٥٤م محمد٣٢. مجادلہ ١٣، تغابن ١٢ ، نور ٥٦، آل عمران ٥٠، شعراء ١٠٨، ١١٠، ١٢٦، ١٣١،١٤٤، ١٥٠، ١٦٣، زخرف١٦٣، مریم ٢ ، نساء ٦٤۔

٢۔ جن ٢٢، نساء ٤٢، ہود٥٩،حاقہ ١٠، شعراء ٢١٦، نوح ٢١، نساء ١٤، احزاب ٣٦ مجادلہ ٨و ٩ ۔


خدا اور اس کے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے وضع کئے گئے احکام و فرامین کے مقابلہ میں مؤمنین کے اختیارات کو سلب کرتے ہوئے فرماتا ہے :

(وَ مَا کَانَ لِمُوْمِنٍ وَ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَی اﷲُ وَ رَسُولُهُ َمْراً اَنْ یَکُونَ لَهُم الْخَیَرَةُ منْ اَمْرِهِمْ وَ مَنْ یَعْصِ اللهَ وَ رَ سُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالاً مُبِیناً) ١

اور کسی مؤمن مرد یا عورت کو اختیار نہیں ہے کہ جب خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کسی امر کے بارے میں فیصلہ کردیں تو وہ بھی اپنے امر کے بارے میں صاحب اختیار بن جائے اور جو بھی خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نافرمانی کرے گا وہ بڑی کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہوگا۔

خدائے تعالی نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس کی گفتار و رفتار میں اپنی حجت قرار دیکر انھیں امت کا پیشوا مقرر فرمایا ہے تاکہ لوگ ان کی پیروی کریں ۔ جیسا کہ فرماتا ہے :

(فَآمِنُوا بِاﷲِ وَ رَسُولِهِ النَّبِیِّ الْاُُمِّیِّ الَّذِی یُوْمِنُ بِاﷲِ وَ کَلِمَاتِهِ وَ تَبِعُوهُ ) ٢

لہذا اللہ اور اس کے پیغمبر پر ایمان لے آؤ جو اﷲ اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے اور اسی کا اتباع کرو...

دوسری جگہ فرماتا ہے:

إ نْ کُنْتمُ تُحِبُّونَ اﷲَ فَاتَّبِعُونِی )

____________________

١۔احزاب ٣٦

٢۔ اعراف ١٥٨ ،اس سلسلہ میں قرآن مجید میں بہت سی آیات موجودہیں ۔


کہ اگر تم لوگ اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو۔ ١

اور دوسرے مقام پر فرماتا ہے :

(لَقَد کَانَ لَکُمْ فِی رَ سُولِ اﷲِ اُسْوَة حَسَنَة)

بے شک پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا تم لوگوں کیلئے بہترین نمونۂ عمل ہیں ۔ ٢

یہ اور اس کے علاوہ بھی اس موضوع کے بارے میں خدا کے ارشادات موجود ہیں ۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی اس سلسلے میں چند فرمائشیں بیان کیہیں ، جن میں سے بعض مکتبِ خلفاء کی حسب ذیل صحیح اور معتبر کتابوں میں درج ہوئی ہیں :

١۔'' سنن'' ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ، ''مسند'' احمد اور اسی طرح سنن ابو داؤد میں ''کتاب السنة کے ''باب لزوم السنة'' میں یوں آیا ہے:

'' مقدام بن معدی کرب ٣ نے روایت کی ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

'' جان لو کہ مجھ پر قرآن نازل ہوا ہے اور اس کے ہمراہ اس کے ہم پایہ سنت بھی ہوشیا ررہو عنقریب ایک شکم سیر مرد تخت سے ٹیک لگائے ہوئے کہے : صرف قرآن

____________________

١۔ آل عمران ٣١

٢۔ احزاب ٢١

٣۔مقدام معدی کرب کندی ، کندہ کے دوسرے نمائندوں کے ہمراہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچا ہے مقدام نے رسول خدا سے ٤٧ احادیث نقل کی ہیں کہ ان سب کو مسلم کے علاوہ تمام صحاح اور سنن میں نقل کیا گیا ہے مقدام نے شام میں ٨٧ ھ میں ٩١ سال کی عمر میں وفات پائی۔''اسد الغابہ ''(٤ ٤١١)، ''جوامع السیرة '' (ص ٢٨٠) ،'' تقریب التہذیب ''(٢ ٢٧٢)


لے لو جو کچھ اس میں حلال پاؤ اسے حلال جانو اور جو کچھ بھی اس میں حرام پاؤ اسے حرام سمجھو''

''سنن'' ،ترمذی میں مذکورہ حدیث میں یوں اضافہ ہوا ہے:

''جبکہ بے شک جس چیز کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے حرام قرار دیا ہے گویا اسے خدا نے حرام قرار دیا ہے''

'' سنن'' ابن ماجہ میں مذکورہ حدیث کے آخرمیں آیا ہے :

'' خدا کی طرف سے حرام قرار دینے کی طرح ہے''

''مسند'' احمد حنبل میں مقدام معدی کرب سے روایت نقل ہوئی ہے کہ :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خیبر کی جنگ میں بعض چیزوں کو حرام قرار دیتے ہوئے فرمایا: وہ وقت دور نہیں جب تم میں سے ایک شخص میری باتوں کی تردید کرنے پر آتر آئے گا اور جب میری حدیث اسے سنائی جائے گی تو وہ آرام سے تکیہ لگائے ہوئے بیٹھا ہوا کہے گا : ہمارے اور تمہارے درمیان خدا کی کتاب موجود ہے جس چیز کو اس میں حلال پاؤ اسے حلال جانو گے اور جس چیز کو حرام پائیں گے اسے حرام جانو ۔

ہوشیاررہو ! جس چیز کو پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حرام قرار دیا ے گویا اسے خدا نے حرام قرار دیا ہے ۔

٢۔ '' سنن'' ترمذی ، ابن ماجہ ، مسند احمد حنبل اور '' سنن '' ابو داؤد میں '' عبیدا ﷲ بن ابی رافع '' ۱

____________________

١۔عبید اللہ ابو رافع ابن ''ابو رافع ''پیغمبر خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا آزا دکیا ہواہے ۔عبیدا للہ کے ذمہ امیر المؤمنین کے دیوان کی کتابت تھی ۔وہ محدثین کے تیسرے طبقہ کے ثقات میں شمار ہوتا ہے اور اس کی حدیثوں کو احادیث کی کتابیں لکھنے والے تمام مؤلفین نے نقل کیاہے '' تقریب التہذیب '' (١ ٥٣٢ ) نمبر ١٤٤١


اپنے باپ سے نقل کرکے کہتا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

ہوشیار رہو ! میں تم میں سے اس شخص کو اپنے مسند پر خوشحال تکیہ لگا کر بیٹھا ہوا نہ دیکھوں کہ جس کے سامنے میرا وہ فرمان سنایا جائے کہجس میں میں نے کسی کا م کے انجام دینے یا اسے ترک کرنے کا حکم دیا ہو ، اور وہ جواب میں کہے: نہیں جانتا! میں جو کچھ خدا کی کتا ب میں پاؤں گا اسی پر عمل کروں گا !!

'' مسند '' احمد میں مذکورہ حدیث کا آخری جملہ یوں آیا ہے :

'' میں نے اسے خدا کی کتاب میں نہیں پایا ہے''

٣۔ '' سنن'' ابو داؤد ، کتاب خراج کے باب تعشیر اہل ذمہ '' میں '' عرباض بن ساریہ '' ١ سے نقل ہوا ہے کہ اس نے کہا :

ہم پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ خیبر میں پہنچے ، اس وقت میں کہ چند اصحاب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ تھے ، خیبر کے باشندوں کا رئیس ، جو ایک بد اخلاق شخض تھا ، آگے بڑھا اور گستاخانہ انداز میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہنے لگا :

اے محمد ! کیایہ صحیح ہے کہ تم ہمارے مویشیوں کو مار ڈالو ، ہمارے میوؤں کو کھاوجاؤ اور ہماری عورتوں کو اذیت پہنچاؤگے ؟!

پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس موضوع سے سخت غصہ میں آئے اور '' عبدا لرحمان عوف '' سے مخاطب ہوکر فرمایا:

____________________

١۔ ابو نجیح ، عرباض بن ساریۂ سلمی نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ٣١ حدیثیں روایت کی ہیں ااور '' بخاری و مسلم کے علاوہ '' صاحبان صحاح نے ان حدیثوں کو نقل کیا ہے۔ عرباض ٧٥ ھ میں یا ابن زبیر کے فتنہ کے وقت میں اس دنیا سے چل بسا ۔ '' اسد الغابة (٣ ٣٩٩) '' جوامع السیرہ '' ص ٢٨١ اور '' تقریب التہذیب ( ٢ ١٧)


گھوڑے پر سوار ہوکر لوگوں کے درمیاں اعلان کرو کہ '' بہشت مؤمنوں کے علاوہ کسی کا حق نہیں ہے اور کہہ دو کہ لوگ نماز کیلئے جمع ہوجائیں ''

عرباض کہتا ہے :

لوگ تمام اطراف سے نماز ادا کرنے اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بیانات سننے کیلئے جمع ہوئے اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ نماز ادا کی ۔ اس کے بعد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا : کیا تم میں سے بعض لوگ آرام سے بیٹھے ہوئے گمان کررہے ہو ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے قرآن مجید میں حرام قرار دی گئی چیزوں کے علاوہ کسی اور چیز کو حرام قرار نہیں دیا ہے؟!

ہوشیار رہو! میں نے تمہیں نصیحت کی ہے اور بعض امور کو انجام دینے اور بعض سے اجتناب کرنے کا حکم دیا ہے یہ سب قرآن مجید کے حکم کے برابر ہیں یا اس سے بھی زیا دہ( یہ حائز اہمیت اور واجب العمل ہیں ) خدائے تعالیٰ نے تمہارے لئے جائز نہیں قرار دیا ہے کہ تم اہل کتاب کے گھروں میں اجازت کے بغیر داخل ہوجاؤ یا ان کی عورتوں کو اذیت پہنچاؤ گے یا ان کے میوے کھا ؤگے جبکہ انہوں نے اپنے ذمہ لیا ہوا کام انجام دیا ہے۔

٤۔ '' مسند ا'' احمد حنبل میں ابو ہریرہ ١ سے نقل کرکے آیا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

____________________

١۔ ابوہریرہ قحطانی دوسی یہ لقب '' ابو ہریرہ ''(بلی باز ) ا س لئے پڑا تھا کہ اس کے پاس ایک پالتو بلی تھی یا یہ ایک بار رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی پالتو بلی آستین میں چھپائے ہوئے تھا ، اس لئے آنحضرت نے اسے '' ابو ہریرہ ' ' خطاب فرمایا ۔ ابو ہریرہ خیبر کی جنگ میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام لایا ہے ۔ اس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ٥٣٧٤ حدیثیں روایت کی ہیں ۔ ان احادیث کو عام اصحاب حدیث نے نقل کیا ہے '' اسد الغابہ '' ( ٣١٥٥ ) ، '' جوامع السیرہ '' ص ٢٧٥ ،'' عبدا للہ بن سبا '' (١٦٠١ طبع آفسٹ ١٣٩٣ ھ )


میں تم میں سے ایک شخص کو نہ دیکھو ں کہ جس کے سامنے بیان کی جائے تو وہ آرام سے اپنی جگہ پر تکیہ لگائے ہوئے کہے : اس سلسلے میں مجھے قرآن مجید سے بتاؤ!!

'' سنن'' دارمی کے مقدمہ میں حسان بن ثابت انصاری ١سے روایت نقل ہوئی ہے کہ اس نے کہا:

جس طرح جبرئیل پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے قرآن لے کر نازل ہوئے تھے ، اسی طرح آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے سنت لے کر بھی نازل ہوتے تھے ۔

کَان جِبرئُیل یَنزِلُ عَلٰی رَسُولِ اﷲِ بالسُّنةِ ، کَمٰا یَنْزِلُ عَلَیهِ بِالقُرآن ۔

یہ قرآن مجید کی آیات اور احادیث نبوی کے چند نمونے ہیں جن میں امت اسلامیہ کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنت کی اطاعت کرنے کا حکم ہوا ہے اور ان کی نافرمانی سے منع کیا ہے ۔ جو لوگ صرف قرآن مجید سے تمسک کرکے سنت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پامال کرتے ہیں اور اس کی اعتنا نہیں کرتے پیغمبر نےصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کی سرزنش و ملامت کی ہے۔

اس کے پیش نظر بنیادی طور پر اسلام کو سنت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف رجوع کئے بغیر صرف قرآن مجید کی آیات سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ چند مثالوں سے اس حقیقت کو واضح اور روشن کیا جاسکتا ہے:

____________________

١۔ ابو عبدا لرحمان یا ابو الولید ،حسان بن ثابت انصاری خزرجی ، یہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کا شاعر اور مسجد میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مناقب پڑھتا تھا۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کے حق میں فرمایا ہے :'' خدائے تعالیٰ حسان کی اس وقت تک روح القدس کے عنوان سے تائید کرے جب تک وہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کرتا ہے '' حسان اپنے زمانے کا ایک ڈرپوک آدمی تھا اسی لئے اس نے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے غزوات میں سے کسی ایک میں بھی شرکت نہیں کی ہے ۔ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ماریہ کی بہن ، شیرین سے اس کا عقد کیا ، اس سے اس کا بیٹا عبدا لرحمان پیدا ہوا ۔ حسان نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے صرف ایک حدیث روایت کی ہے کہ '' ترمذی'' کے علاوہ دیگر لوگو ں نے اسے نقل کیا ہے ۔ حسان ٤٠ یا ٥٠ یا ٥٤ ھ کو ١٢٠ سال کی عمر میں وفات پا ئی ، ''اسد الغابہ'' ( ٢۔ ٥۔٧) ، ''جوامع السیرہ ''(ص ٣٠٨) اور ''تقریب التہذیب ''(١ ١٦١)


قرآن مجید میں نماز پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے ۔ لیکن سنت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف رجوع کئے بغیر معلوم نہیں ہوسکتا کہ یہ عبادت کس طرح اور کن شرائط میں انجام دی جاسکتی ہے ۔ ہم احادیث و سیرت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف رجوع کرکے رکعتوں اور سجدوں کی تعداد ، اذکار ، قوانین اور مبطلات نماز کے احکام سیکھ سکتے ہیں نماز کو ادا کرنے کی کیفیت اور طریقۂ کار معلوم کرسکتے ہیں ۔

حج بھی اسی طرح ہے ، ہم سنت پیغمبر کی طرف رجوع کرکے ، احرام باندھنے کی نیت، میقات کی پہچان اور ان کی تشخیص ، طواف کی کیفیت ، مشعر و منیٰ میں توقف و حرکت ، اپنے مخصوص اور محدود زمان و مکان میں رمی جمرات ، قربانی اور حلق و تقصیر کے علاوہ حج کے واجبات ، مستحبات و مکروہات اور محرمات کے بارے میں مسائل و احکام سیکھتے ہیں ۔

ان ہی دو مثالوں سے واضح طور سے معلوم ہوجاتا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنت کی طرف رجوع کئے بغیر صرف قرآن مجید کی طرف رجوع کرکے مذکورہ دو فریضہ اور واجب شرعی کو انجام دینا ممکن نہیں ہے جبکہ شرع مقدس اسلام کے تمام احکام کی نوعیت بھی یہی ہے۔

اس لئے ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اسلام کو حاصل کرنے اور احکام الٰہی کی پیروی کرنے کیلئے قرآن مجید اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنت کی جانب ایک ساتھ رجوع کریں اور اگر ایک شخص ان دو میں سے صرف ایک کی طرف رجوع کرے اور ان کو ایک دوسرے سے جدا کرے تو بیشک اس نے اپنے آپ کو اسلام کی پابندیوں سے آزاد کرکے اس کے قوانین کی من پسند تفسیر و تعبیر کی ہے کیونکہ کلید فہم و مفسر قرآن یعنی پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حذف کرنے سے انسان آزادی کے ساتھ اپنی رای اور سلیقہ سے تعبیر و سکتاہے ۔


گزشتہ ادیان میں تحریف کا مسئلہ

ہمیں معلوم ہوا کہ صحیح اسلام کو معلوم کرنے اور قرآن مجید کے احکام پر عمل کرنے کیلئے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنت کی طرف رجوع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ جب ہم سنت کی جانب رجوع کرتے ہیں تو انتہائی افسوس کے ساتھ مشاہدہ کرتے ہیں کہ تحریفات ، لفظی تغیرات ، معنی میں تاویل کرکے دوسرو ں کی سنتوں کو پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنت میں شامل کرنے ، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر تہمتیں لگانے ، حق کو چھپانے ، افتراء باندھنے اور اسی طرح انحرافات اور تحریفات کی دوسری قسموں سے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنت بھری پڑی ہے پیغمبر اسلام کی سنت میں داخل ہونے والے تحریفات بالکل ویسے ہیں ہے جیسے کہ گزشتہ امتوں میں واقع ہوئی ہے اور خداوند تعالی نے قرآن مجید میں ان کی خبر دے دی ہے اور ہم یہاں پر بعض کی جانب اشارہ کرتے ہیں :

( وَ اِذْاَخَذَاﷲُ مِیثَاقَ الّذِینَ اُوتُوا الْکِتَابَ لَتُبَیِّنُنَهُ لِلنَّاسِ وَ لٰا تَکْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرٰاء ظُهُورِهِم وَ اْشْتَرَوا بِهِ ثَمَناً قَلِیلاً فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُونَ) ١

اس موقع کو یاد کرو جب خدا نے جن کو کتاب دی ان سے عہد لیا کہ اسے لوگوں کیلئے بیان کریں گے اور چھپائیں گے نہیں ۔ لیکن انہوں نے اس عہد کو پس پشت ڈالدیا اور تھوڑی قیمت پر بیچ دیا ا یا تو یہ بہت برا سودا کیا ہے۔

٢۔(فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِیْثَاقَهُمْ لَعَنَّا هُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوبُهُمْ قَاسِیةً یُحَرِّفُونَ

____________________

١۔ آل عمران ١٨٧


الْکَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ وَ نَسُوا حَظّاًمِمَّا ذُکِّرُوا بِهِ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰی خَائِنَةٍ مِنْهُم ِلَّا قَلِیلاً مِنْهُمْ) (۱)

پھر ان کی عہد شکنی کی بناء پر ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت بنا دیا ۔ وہ ہمارے کلمات کو ان کی جگہ سے ہٹا دیتے ہیں اور انہوں نے ہماری یا ددہانی کا اکثر حصہ فراموش کردیا ہے اور تم ان کی خیانتوں سے ہمیشہ مطلع ہوتے رہو گے علاوہ چندافراد کے۔

٣۔(یَا اَهْلَ الْکِتَابِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَکْتُمُونَ الحَقَّ وَ اَنْتمُ تَعْلَمُونَ ) ٢

اے اہل کتاب ! کیوں حق کو باطل سے مشتبہ کرتے ہو او رجانتے ہوئے حق کی پردہ پوشی کرتے ہو۔

٤۔( یَا اَهْلَ الْکِتَابِ قَدْجَائَکُمْ رُسُولُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیراً مِمَّا کُنْتُم تُخْفُونَ مِنَ الکِتَابِ وَ یَعْفُو عَن کَثِیرٍ) ٣

اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارا رسول آچکا ہے جو ان میں سے بہت سی باتوں کی وضاحت کررہا ہے ، جن کو تم کتاب خدا میں سے چھپا رہے تھے اور بہت سی باتوں سے در گزر بھی کرتا ہے

____________________

١۔ مائدہ ١٣

٢۔آل عمران ٧١

٣۔مائدہ ١٥


٥۔( وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَکْتُموا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ) ١

حق کو باطل سے مخلوط نہ کرو اور جان بوجھ کر حق کی پردہ پوشی نہ کرو۔

٦۔( اَلَّذِینَ آَتَیْنَاهُمْ الْکِتَابَ یَعْرِفُونَهُ کَماَ یَعْرِفُونَ اَبْنَائَهُمْ وَ اِنَّ فَرِیقاً مِنْهُمْ لَیَکْتُمُونَ الْحَقّ وَ هُمْ یَعْلَمُونَ) ٢

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ رسول کو بھی اپنی اولاد ہی کی طرح پہچانتے ہیں بس ان کا ایک گروہ ہے جو حق کو دیدہ و دانستہ چھپا رہا ہے۔

٧۔( اَفَتَطْمَعُونَ اَنْ یُوْمِنُوا لَکمُ وَ قَدْ کَانَ فَرِیق مِنْهُمْ یَسْمَعُونَ کَلَامَ اللهِ ثُمَّ یُحَرِفُونه مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوه وَ هُمْ یَعْلَمُونَ ) ٣

مسلمانو! کیا تمہیں امید ہے کہ یہ یہودی ایمان لائیں گے جبکہ ان کے اسلاف کا ایک گروہ کلام خدا کو سنکرتحریف کریتا تھا حالانکہ وہ سب سمجھتے بھی تھے اور جانتے بھی تھے۔

٨۔(مِنَ الَّذِینَ هَادُوا یُحَرِِّفُونَ الْکَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ وَ یَقُوْلُونَ سَمِعْنَا و عَصَیْنَا ) ٤

یہودیوں میں وہ لوگ بھی ہیں جو کلمات الہیہ کو ان کی جگہ سے ہٹا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے بات سنی اور نافرمانی کی۔

____________________

١۔بقرہ ٤٢

٢۔بقرہ ١٤٦

٣۔ بقرہ ٤٥

٤۔ نساء ٤٦


٩۔( وَ مِنْ الَّذِینَ هَادُوا سَمَّاعُونَ لِلْکَذِبِ سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِینَ لَمْ یَْتُوکَ یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِه یَقُولُونَ اِنْ اُوْتِیتُم هٰذَا فَخُذُوه وَ اِنْ لَمْ تُوْتَوْهُ فَاحذرُوا ) ١

اور یہودیوں میں سے بھی بعض ایسے ہیں جو جھوٹی باتیں سنتے ہیں اور دوسری قوم والے جو آپ کے پاس حاضر نہیں ہوئے انھیں سناتے ہیں ۔ یہ لوگ کلمات کو ان اکی جگہ سے ہٹا دیتے ہیں اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر پیغمبر کی طرف سے یہی دیا جائے تو لے لینا اور اگر یہ نہ دیا جائے تو پرہیز کرنا ۔

١٠۔(اِنَّ الَّذِینَ یَکْتُمُونَ مَا اَنْزَ لَ اﷲُ مِنَ الْکِتَابِ وَ یَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَناً قَلِیلاً اُولٰئِکَ مَا یَْ کُلُونَ فِی بُطُونِهِمْ اِلاَّا لنَّارَ وَ لَا یُکَلِّمُهُمُ اﷲُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَ لَا یُزَکِّیْهِمْ وَ لَهُمْ عَذَاب اَلِیم ) ٢

لو لوگ خدا کی نازل کی ہوئی کتاب کے احکام کو چھپاتے ہیں اور اسے تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں وہ حقیقت میں اپنے پیٹ میں صرف آگ بھر رہے ہیں اور خدا روز قیامت ان سے بات بھی نہ کرے گا اور نہ ہی انھیں پاکیزہ قرار دے گا اور ان کیلئے درد ناک عذاب ہے۔

١١۔( اِنَّ الَّذِینَ یَکْتُمُونَ مَا َنْزَلْنَا مِنَ البَیِّنَاتِ وَ الْهُدیٰ مِنْ بَعْدِ مَا

____________________

١۔ بقرہ ١٧٤

٢۔بقرہ ١٥٩


بَیَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتَابِ اُولٰئِکَ یَلْعَنُهُُمُ اﷲُ و َیلْعَنُهمُ اللاَعِنُونَ )

جو لوگ ہمارے نازل کئے ہوئے واضح بیانات اور ہدایات کو ہمارے بیان کردینے کے بعد بھی چھپاتے ہیں ان پر اللہ بھی لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں ۔

یہ نمونے کے طور پر چند آیتیں تھیں کہ جن میں خدائے تعالیٰ گزشتہ امتوں کے ذریعہ سے حقائق کی تحریف اور حقیقتوں کے چھپانے کی خبر دیتا ہے۔

سنت میں تحریف کی خبر اور اسلاف کی تقلید

ہم ذیل میں چند ایسی احادیث درج کرتے ہیں ، جن میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس بات کی خبر دی ہے کہ کس طرح یہ امت اپنی تمام رفتار و کردار میں گزشتہ امتوں کی تقلید کرے گی اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم واضح فرماتے ہیں کہ امت اسلامیہ گزشتہ امتوں کے کاموں پر قدم بہ قدم عمل کرے گی:

١۔ شیخ صدو ق اعلی اللہ مقامہ نے اپنی کتاب '' اکمال'' میں حضرت امام جعفر صادق اور آپ کے آباو اجداد سے روایت کی ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

''کل ما کان فی الامم السالفة فانه یکون فی هٰذه الا مة مثله ، خذو النعل بالنعل و القذة بالذة''

جو کچھ گزشتہ امتوں میں واقع ہوا ہے اسی کے مانند اس امت میں بھی واقع ہوگا، جوتوں کے جوڑوں اور تیر کے پروں کے مانند۔ ١

____________________

١۔ اس حدیث کے اہل بیت میں سے راویوں کا سلسلہ یوں ہے : امام صادق (ت ١٤٨ ھ ) نے اپنے والد گرامی محمد باقر (ت ١١٤ھ) سے، انہوں نے اپنے والد امام زین العابدین ( ت ٩٥ھ ) سے انہوں نے اپنے والد امام حسین شہید ، نواسہ رسول خدا ( ت ٦١ ھ) سے انہوں نے اپنے والد امام علی بن ابیطالت ( ت ٤٠ ھ) سے اور انہوں نے اپنے چچازاد بھائی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ( صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین ) سے روایت کی ہے۔


ابن رستہ کتاب '' الاعلاق النفسیہ'' ص ٢٣ پر لکھتے ہیں : کرۂ زمین پر جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابیطالب ( رضہم) کے علاوہ کوئی بھی ایسے پانچ افراد نہیں ملتے جنہوں نے سلسلسہ وار حدیث نقل کی ہو۔

شیخ صدوق نے مزید اپنی کتاب '' اکمال'' میں حضرت امام صادق اور آپ کے آباء و اجداد سے روایت کی ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

''والذی بعثنی بالحق نبیا و بشیرا لترکبنّ امتی سنن من کا ن قبلها حذو النعل بالنعل ، حتی لو ان حیة من بنی اسرائیل دخلت فی جحرٍ لدخلت فی هٰذه الامة حیّة مثلها ''

قسم اس ذات کی جس نے مجھے نبی اور بشارت دینے والے کی حیثیت سے بر حق مبعوث فرمایا ہے ، میری امت کسی تفاوت کے بغیر اپنے اسلاف کی راہ کو انتخاب کرے گی ، اس طرح کہ اگر بنی اسرائیل کے زمانے میں ایک سانپ کسی بِل میں داخل ہوا ہوگا تو اس امت میں بھی ایک سانپ اسی بل میں داخل ہوگا ۔

٢۔ابن حجر نے اپنی کتاب '' فتح الباری '' میں پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی فرمائشات کو یوں بیان فرمایا ہے:

شافعی ١ نے اسی صحیح سند کے ساتھ عبد اللہ عمرو ٢سے روایت کی ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

____________________

١۔ابو عبدا للہ ، محمد بن ادریس بن عباس شافعی مطلبّی : ان کی ماں کے ہاشمی ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہے اس لئے بعض نے ان کے بارے میں کہا ہے: ہم نے ہاشم کی اولاد میں سے ہر گز کسی کو نہیں دیکھا کہ ابوبکر ، و عمر کو علی پرترجیح دی ہو ، جیسا کہ '' طبقات شافعیہ '' میں آیا ہے کہ ان کو اس لئے ہاشم سے نسبت دی گئی ہے کہ وہ ہاشم کے بھائی کی اولاد میں سے تھے ۔ شافعی ٢٠٤ ھ میں ٥٤ سال کی عمر میں مصرمیں فوت ہوا '' تقریب التہذیب'' (٢ ١٤٣)

٢۔ عبد اللہ بن عمرو عاص اپنے باپ سے ١٢ سال چھوٹا تھا ۔ باپ سے پہلے اسلام لایا تھا ۔ اسلاف کی کتابیں پڑھ چکا تھا ۔ اس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ٧٠٠ احادیث روایت کی ہیں ۔ عبدا للہ نے اپنے باپ کے ہمراہ صفین کی جنگ میں معاویہ کی حمایت میں شرکت کی لیکن بعد میں نادم ہوکر کہتا تھا : کاش اس سے بیس سال پہلے مرچکا ہوتا۔ اس کی موت کے بارے سال اور مکان میں اختلاف ہے ۔ کیا ٦٣ھ یا ٦٥ ھ میں مصر میں یا ٦٧ ھ میں مکہ میں اور یا ٥٥ ھ میں طائف میں یا ٦٨ ھ میں فوت ہوا ہے ۔ عبدا ﷲ کی زندگی کے حالات '' اسد الغابہ'' ٣ ٢٣٣۔ ٢٣٥) اور '' جوامع السیرہ '' ابن حزم ص ٢٨٦ میں ملاحظہ ہو۔


'' لترکبن سنن من کان قبلکم حلوها و مرّها''

تم لوگ اپنے اسلاف کی تلخ و شیرین ( بری اور بھلی) روش کو اپناؤ گے ۔

٣۔ احمد بن حنبل نے اپنی کتاب '' ُسند '' میں اور مسلم و بخاری نے اپنی '' صحیح '' میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی ابو سعید خدری ١سے روایت کی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا:

''لتتبعن سنن من کان قبلکم شِبراً بشبرٍ و ذراعاً ذراعاً حتی لو دخلوا حجر ضبِّ تبعتموهم '' ۔ ٢

اپنے اسلاف کی رفتار کو تم لوگ قدم بہ قدم اور موبمو اپناؤ گے ، حتی اگر وہ کسی چھپکلی کے بِل میں بھی گئے ہوگے تو تم لوگ بھی ایسا ہی کرو گے۔

ہم نے سوال کیا : اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم : کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مراد یہود و نصاریٰ ہیں ؟

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب دیا : پھر کون ؟!

یہ حدیث ایک اور روایت کے مطابق '' مسند'' احمد میں یوں درج ہوئی ہے :

____________________

١۔ ابو سعید ، سعید بن مالک بن سنان انصاری خندق کی جنگ میں تیرہ سالہ تھا ۔ اس کے باپ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حضور لاکر کہا : یہ نوجوان قوی ہیکل ہے ۔ لیکن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے قبول نہیں کیا اور اجازت نہ دی تا کہ وہ جنگ میں شرکت کرے ۔ ابو سعید خدری نے جنگ بنی المصطلق میں شرکت کی ہے وہ مکثرین حدیث میں شمار ہوتا ہے اس نے تقریباً ١١٧٠ حدیثیں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت کی ہیں صحاح کے مؤلفین نے اس کی تمام احادیث کو نقل کیا ہے ۔ ابو سعید نے ٧٤ ھ میں وفات پائی ہے۔ '' اسد الغابہ'' و ' جوامع السیرہ'' میں اس کی زندگی کے حالات بیان کئے گئے ہیں ۔

ابوسعید خدری کی حدیث میں جسے بخاری نے اس سے ایک اور روایت میں نقل کیا ہے کہ '' لو دخلوا'' کے بجائے'' لو سلکوا جحر ضبِّ لسلکتموہ'' آیا ہے جس کا تقریباً وہی مفہوم ہے۔

٢۔ شِبر =بالشت ، ذراع = کہنی سے درمیانی انگلی کی انتہا تک کا فاصلہ ، باع = دو ہاتھوں کے درمیان کا وہ فاصلہ دونوں ہاتھ اٹھا کر شانوں کے برابر کھینچ لئے جائیں ۔


لتتّبعن سنن بنی اسرائیل ، حتی لو دخل رجل من بنی اسرائیل جحر ضبٍّ لتبعتموه ۔

تم لوگ بنی اسرائیل کی روش اپناؤ گے اس طرح کہ اگر بنی ا سرائیل میں کوئی شخص سوسمار کے بل میں داخل ہوا ہوگا تو تم بھی اس کی پیروی میں جاؤ گے۔

٤۔ ابن ماجہ نے اپنی '' سنن'' میں ، احمد نے اپنی '' مسند '' میں ، متقی نے '' کنزل العمال'' میں اور بخاری نے اپنی صحیح میں ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

لا تقوم الساعة حتّٰی تخذ امتی بخذِ القرون قبلها شبراً بشبرٍ و ذراعاً بذراعٍ ۔

تب تک قیامت برپا نہیں ہوگی ، جب تک کہ میری امت گزشتہ امتوں کی روش پر مو بمو پیروی نح کر لے گی ۔ سوال کیا گیا:

اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! کیا مجوسیوں اور رومیوں کی طرح؟ فرمایا: ان کے علاوہ ، اور کون لوگ ہیں ؟!

اسی مطلب کو '' مسند'' احمد میں یوں بیان کیا گیا ہے :

وَ الّذی نفسی بیده لتتبعنَّ سنن الذین من قبلکم شبراً بشبر و ذراعاً بزراعٍ و باعاً فباعاً حتی لو دخلوا جحر ضبّ لدخلتموه

قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگ اپنے اسلاف کی روش پر مو بمو اور قدم بہ قدم پیروی کرو گے، حتی اگر وہ چھپکلی کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم لوگ بھی اس میں داخل گے۔ پوچھاگیا:

اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! کن کے بارے میں ، کیا اہل کتاب کے بارے میں فرما رہے ہیں ؟


آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب میں فرمایا:

پھر کون لوگ؟!

٥۔ طیالسی اور احمد نے اپنی '' مسندوں '' میں ، متقی ہندی نے '' کنزل العمال ''' میں اور ترمذی نے اپنی '' صحیح'' میں ابو واقدلیثی (۱)سے روایت کی ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

والذی نفسی بیده لترکبن سنة من کان قبلکم

قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ تم لوگ اپنے اسلاف کی روش کی پیروی کروگے۔

یہی حدیث '' مسند'' احمد میں یوں آئی ہے۔

لترکبن سنن من کان قبلکم سنّة سنّة

تم لوگ روش روش پر اپنے اسلاف کی تقلید کرو گے۔

٦۔ حاکم نے پر اپنی '' مستدرک بر صحیحین'' میں اور ''مجمع الزوائد'' میں '' بزاز'' سے نقل کرکے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

لترکبن سنن من کان قبلکم شبراً بشبرٍ و زراعاً بزراع و باعاً بباع حتی لو ان احدهم دخل حجر ضبّ لدخلتم ۔

تم لوگ موبمو اور قدم بہ قدم اپنی اسلاف کی روش پر چلو گے حتی اگر ان میں سے کوئی

____________________

١۔ابو واقد لیثی بنی لیث بن بکر سے ہے ۔ اس کے نام اور اسلام لانے کی تاریخ میں اختلاف ہے کہ کیآیا س نے جنگ بدر میں شرکت کی ہے یا فتح مکہ میں یا ان میں سے کسی ایک میں بھی شرکت نہیں کی ہے اور بعد میں اسلام لایا ہے ابو واقد نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ٢٤ حدیثیں روایت کی ہیں جسے بخاری نے ادب المفرد میں درج کیا ہے۔ ابو واقد نے مکہ میں رہائش اختیار کی اور ٦٨ھ میں ٧٥ یا ٨٥ سال کی عمر میں وہیں پر فوت ہوا اس کی زندگی کے حالات '' اسد الغابہ'' ( ٥ ٣١٩) و '' جوامع السیرہ'' ص ٢٨٢ میں مطالعہ فرمائیں ۔


چھپکلی کے بلِ میں گھس گیا ہوگا تو تم لوگ بھی اس میں گھس جاؤ گے۔

٧۔ ترمذی نے اپنی '' صحیح'' میں اور حاکم نے اپنی '' مستدرک '' میں سیوطی کی تفسیر کے پیش نظر بیان کیا ہے کہ عبدا للہ عمرو نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت کی ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

لیاتین علیٰ امتی ما اَتیٰ علیٰ بنی اسرائیل ، حذو النعل بالنعل ، حتی ان کان فی بنی اسرائیل من اتٰی امه علانیة لکان فی امتی من فعل ذالک

جو کچھ بنی اسرائیل پر گزری ہے بالکل ویسے ہی میری امت پر بھی گزرے گی ، حتی اگر بنی اسرائیل میں کسی نے اپنی ماں سے علانیہ طور پر ہمبستری کی ہوگی تو میری امت میں ایسا شخص پیدا ہوگا جو اس کام کو انجام دے گا!

٨۔ '' مجمع الزوائد'' میں بزاز کی '' مسند'' سے اور متقی نے حاکم کی ''مستدرک '' سے نقل کرکے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

لترکبن سنن من کان قبلکم شبراً بشبر و ذراعاً بذراع و باعاً بباعٍ ، حتی لو ان احدهم دخل حجر ضب لدخلتم حتی لو ان احدهم جامع امه لفعلتم!

تم لوگ موبمو اور قدم بقدم اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلو گے حتی اگر ان میں سے کوئی گوہ کے بلِ میں گھس گیا ہو گاتو تم لوگ بھی ویسا ہی کرو گے بلکہ اگر ان میں سے کسی نے اپنی ماں سے مباشرت کی ہوگی تو تم لوگ بھی ایسا ہی کرو گے۔


٩۔ احمد بن حنبل نے اپنی '' مسند'' میں '' مجمع الزوائد'' کے مصنف نے '' سہل بن سعد انصاری'' ١ سے نقل کرکے لکھا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

والذی نفسی بیده لترکبن سنن من کان قبلکم مثلاً به مثل

قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم لوگ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر موبمو چلو گے!

جیسا کہ '' مجمع الزوائد'' کے مطابق طبرانی نے مذکورہ حدیث کے آخر میں یہ اضافہ کیا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کے ضمن میں فرمایا:

حتی لو دخلوا جحر ضبٍّ لاتبعتموه ۔

ہم نے سوال کیا :

اے رسول خدا ! کیا آپ کی مراد یہود و نصاریٰ ہیں ؟

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب دیا:

ان یہود و نصاریٰ کے علاوہ اور کون ہو سکتے ہیں ؟!

____________________

١۔سہل بن سعد بن مالک انصاری : پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے دن سہل کی عمر پندرہ سال تھی ۔ سہل نے حجاج بن یوسف کے زمانہ کو بھی درک کیا ہے ، حجاج نے سہل کے عثمان کی مدد کرنے کے جرم میں حکم دیا تھا کہ اس کی گردن پر غلامی کی مہر لگادی جائے۔

سہل نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ١٨٨ حدیثیں روایت کی ہیں کہ اصحاب صحاح نے ان سب کو درج کیا ہے سہل نے ٨٨ ھ یا ٩١ ھ میں وفات پائی ہے ۔ کہتے ہیں کہ وہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا آخری صحابی تھا جس نے وفات پائی۔ '' اسد الغابہ'' ( ٢ ٣٦٦) ، '' جوامع السیر'' ٢٧٧ ، '' تقریب التہذیب '' (١ ٣٣٦)


١٠۔ '' مجمع الزوائد'' میں طبرانی سے نقل کرکے لکھا گیا ہے کہ '' عبداللہ مسعود'' ١ نے کہا کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

انتم اشبه الامم بننی اسرائیل ، لترکبن طریقهم حذو القذة با لقذة حتی لا یکون فیهم شیء الا فیکم مثله

تم بنی اسرائیل سے سب سے زیادہ شباہت رکھنے والی امت ہو ۔ تم لوگ ان کے راستہ پر اس طرح چلو گے جیسے تیر کے پیچھے اس کے پر حتی ان میں کوئی ایسی چیز نہیں پائی جائے گی جو تم لوگوں میں موجود نہ ہو!

١١۔ '' مجمع الزوائد '' میں طبرانی کی '' اوسط '' اور '' کنز ل العمال 'سے نقل کرکے '' مستورد بن شداد '' ۲ سے

____________________

١۔ابو عبدا لرحمن ، عبدا للہ بن مسعود بن غا فل ہذلی قبیلۂ قریش میں سے ہیں جو پہلے مسلمانوں میں شمار ہوتے ہیں کہا جاتا ہے کہ جن دنوں مکہ میں اظہار اسلام کرنے پر سختیوں وا ذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا ، ابن مسعود پہلے مسلمان تھے جو مکہ میں بلند آواز میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے۔ ابن مسعود نے پہلے حبشہ پھر مدینہ ہجرت کی اور پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تمام جنگوں میں شرکت کی ہے ، ابن مسعود سے ٨٤٨ حدیثیں روایت ہوئی ہیں تمام حدیث لکھنے والوں نے انھیں نقل کیا ہے ، عمر نے ابن مسعود کو کوفہ میں دینی امورکے معلم اور بیت المال میں حکومت کا امین و کلید دار معین کیا تھا ۔ ابن مسعود حکومت عثمان تک اس عہدہ پر برقرار تھے،کوفہ کا گورنر ولید بن عقبہ ، ابن مسعود کے اسلامی احکام کے نفاذ میں دقت خاص کر بیت المال اور حکومتی خزانہ کے امور میں ان کی دقت سے تنگ آچکا تھا .۔ لہذا اس نے خلیفہ عثمان کے پاس ان کی شکایت کی اور عثمان نے بھی اپنے بھانجے کی خواہش کے مطابق ابن مسعود کو مدینہ بلایا اور حکم دیا کہ ان کی پٹائی کی جائے اور سخت پٹائی کی گئی جس کی وجہ سے ان کی پسلیاں ٹوٹ گئیں اس کے بعد حکم دیا کہ ان کی تنخواہ بند کردی جائے ، ابن مسعود اسی جسمانی اذیت کی وجہ سے بیمار ہوئے اور قریب مرگ پہنچے ۔ اس حالت میں عثمان ان کے سراہنے پر آئے اور حکم دیا کہ دو سال کے بعد دوبارہ انہیں تنخواہ دی جائے لیکن ابن مسعود نے قبول نہیں کیا۔ ابن مسعود نے ٣٢ھ میں وفات پا ئی اور انہوں نے وصیت کی تھی کہ عثمان ان کے جنازہ پر حاضر نہ ہوجائے اور اس کی نماز جنازہ نہ پڑھے اور اس کی وصیت کے مطابق عمل کیا گیا۔ '' اسد الغابہ'' ( ٣ ٢٥٦۔ ٢٥٨)، '' جوامع السیرہ'' ص ٢٧٦ '' تقریب التہذیب '' ( ١ ٤٥٠)، تاریخ اسلام میں عائشہ کا کردار ( ١ ١٦٠ ۔١٦٧)

٢۔مستور دبن شداد بن عمرو قرشی فہری : اس کی ماں دعد بنتِ زین بن جابر بن حسل ہے ۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے وقت نوجوان تھا ۔ مستورد نے سات حدیثیں روایت کی ہیں ۔ اس کی تمام احادیث کو حدیث لکھنے والوں نے نقل کیا ہے ، مستورد نے کوفہ اور مصر میں سکونت کی ہے اور ٤٥ ھ میں وفات پائی ہے '' اسد الغابہ'' ( ٤ ٣٥٤) ، '' مجمع الزوائد'' ص ٢٨٧ اور ' ' تقریب التہذیب '' ( ٢ ٢٤٢)


روایت نقل ہوئی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا ۔

لا تترک هٰذه الامة شیئاً من سنن الاولین حتیٰ تاتیه

گزشتہ قوموں کی کوئی روش باقی نہیں رہے گی مگر یہ کہ یہ امت اسے انجام دے ۔

١٢۔ احمدبن حنبل نے اپنی '' مسند'' میں اور '' مجمع الزوائد'' نے طبرانی سے نقل کرکے شداد بن اوس ١ سے روایت کی ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

لیحملن شرار هذه الامة علی سنن الذین خلوا من قبلهم اهل الکتاب حذو القذة بالقذة ''

اس امت کے بر ے لوگ اپنے سے پہلے اہل کتاب کی روش کی موبمو پیروی کریں گے۔

یہی حدیث شداد بن اوس کے حالات کی تشریح میں ابن اثیر کی کتاب '' اسد الغابہ'' میں '' اپنے سے پہلے '' کی جگہ '' آپ لوگوں سے پہلے'' کی تبدیلی کے ساتھ درج ہوئی ہے۔

____________________

١۔ شداد بن اوس ، حسان بن ثابت انصاری خزرجی کا بھتیجا ہے ۔ اس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ١٥٠ حدیثیں روایت کی ہیں کہ تمام حدیث لکھنے والوں نے انھیں نقل کیا ہے ۔ شدا د نے بیت المقدس میں رہائش اختیار کی اور ٤١ یا ٥٨ یا ٦٤ ھ میں شام میں وفات پائی ۔ '' اسد الغابہ'' ( ٢ ٢٨٧۔ ٢٨٥ ) ، جوامع السیرہ ص ٢٧٩ ، '' تقریب التہذیب '' ( ١ ٣٤٧)


آسمانی کتابوں میں گزشتہ امتوں کی تحریفیں :

گزشتہ بحث میں ہمیں معلوم ہوا کہ گذشتہ امتوں میں واقع ہونے والی تحریفوں کے بارے میں خدائے تعالیٰ نے خبر دیدی ہے اور پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی خبر دی ہے کہ یہ امت گزشتہ امتوں کی تمام روشوں پر موبمو عمل کرکے ان کی پیروی کرے گی۔

اب اگرہم اس امت میں واقع ہوئی تحریفات کا گزشتہ امتوں میں واقع ہوئی تحریفات سے موازنہ کریں تو معلوم ہوگا کہ گزشتہ امتوں نے ان تحریفات کو آسمانی کتابوں میں انجام دیا ہے اور خدائے تعالیٰ نے ان کے اس عمل کو یوں یاد فرمایا ہے:

(قُل مَنْ اَنْزَلَ الْکِتَابَ الَّذِی جَائَ بِهِ مُوسیٰ نُوراً وَ هُدیً لِلنَّاسِ تَجْعَلُونَهُ قَراطِیسَ تُبْدُونَهَا وَ تُخْفُونَ کَثیراً ) ١

ان سے پوچھئے کہ جو کتاب موسٰی لے کر آئے تھے وہ نور اور لوگوں کیلئے ہدایت تھی اسے تم لوگ کچھ ظاہر کرکے اور اکثر چھپا کر ایک کتاب قرار دے رہے ہو ، بتاؤ اسے کس نے نازل کیا ہے

یا فرمایا ہے:

وَ اِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِیقاً یَلُونَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالکِتَابِ لِتَحْسَبُوهُ مِنَ الْکِتَابِ وَ مَا هُوَ مِنَ الْکِتَابِ وَ یَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اﷲِ وَ مَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ

____________________

١۔انعام ٩١


یُقُولُون عَلَی اﷲِ الکَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُونَ ا

انہیں یہودیوں میں سے بعض وہ ہیں جو کتاب پڑھنے میں زبان کو توڑ موڑ دیتے ہیں تا کہ تم لوگ اس تحریف کو بھی اصل کتاب سمجھنے لگو ،حالانکہ وہ اصل کتاب نہیں ہے اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ اللہ کی طرف سے ہر گز نہیں ہے یہ خدا کے خلاف جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ سب جانتے ہیں ۔

یا یوں فرماتا ہے :

(فَوَیل لِلَّذِینَ یَکْتُبُونَ الْکِتَابَ بِاَیْدِیْهِمْ ثُمَّ یَقُولُونَ هٰذا مِنْ عِنْدِ اللهِ لِیَشْتَرُوا بِهِ ثَمَناً قَلِیلاً فَوَیل لَهمُ مِمَّاکَتَبَتْ اَیْدیْهِمْ وَ وَیْل لَهُم مِمَّا یَکْسِبُونَ ) ٢

واے ہو ان لوگوں پر جو اپنے ہاتھ سے کتاب لکھ کر یہ کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے تا کہ اسے تھوڑے دام میں بیچ لیں ان کیلئے اس تحریر پر بھی عذاب ہے اور اس کی کمائی پر بھی ۔

ہم خدا ئے تعالیٰ کی آیات کے مصداق کو ان کی موجودہ رائج کتابوں میں واضح اور روشن طور پر دیکھتے ہیں ، جیسا کہ تورات کے تکوینی سفر کے تیسرے باب میں آدم کی تخلیق کے بارے میں یوں پڑھتے ہیں ۔

خدائے تعالیٰ نے آدم سے جھوٹ بولتے ہوئے کہا: خیر و شر کی معرفت والے درخت

____________________

١۔آل عمران ٧٨

٢۔بقرہ ٧٩


سے کچھ نہ کھانا ، اگر کسی دن اس سے کھایا تو مرجاؤ گے ، سانپ، جو خشکی کے حیوانوں میں مکار ترین حیوان ہے ، نے ''حوا '' سے کہا: اگر آپ لوگ اس درخت سے کھائیں گے تو مرے گیں نہیں ، بلکہ خدا جانتا ہے جس دن اس سے کھائیں گے آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی اور خداکے مانند خیر و شر سے واقف ہو جائیں گے ۔ آدم اور حوا نے اس درخت سے کھایا ' آنکھیں کھل گئیں تو انہوں نے اپنے آپ کو برہنہ پایا اور خدا کی آواز اس وقت سنی جب نسیم صبح کے وقت بہشت میں رہا تھا لہذا انہوں نے اپنے آپ کو اس سے چھپا یا ۔ خدائے تعالیٰ نے بلند آواز میں آدم سے مخاطب ہوکر فرمایا: تم کہاں ہو؟ آدم نے کہا : تیری آواز کو میں نے بہشت میں سنا لیکن چونکہ میں عریاں تھا ، ڈر گیا ، اس لئے خود کو چھپا لیا ۔ خدا نے کہا : کس نے تمہیں اس امر سے آگاہ کیا کہ تم برہنہ ہو؟ کیا تم نے اس درخت سے کھایا جسے میں نے منع کیا تھا ؟! آدم نے اپنی داستان خدا کوسنائی، تو خدا نے کہا اب جبکہ آدم بھی ہماری طرح خیر و شر سے آگاہ ہو گئے ہیں لہذا بعید نہیں کہ اپنے ہاتھ کو بڑھا کر درختِ حیات سے بھی کھالیں اور ہمیشہ کیلئے زندہ رہیں ۔ لہذا انسان کو نکال باہر کیا اوربہشت کے مشرقی حصہ میں کروبیوں کو بسایا.. اور درخت حیات کی نگہبانی کے لئے ایک چمکتی ہوئی تیز دھار تلوار معین فرمائی!!

توریت نے بہشت میں آدم کی داستان کو اس طرح بیان کیا ہے جبکہ قرآن مجید فرماتا ہے کہ یہ شیطان تھا جس نے ان دونوں کو اس ممنوعہ درخت سے کھانے پر اکسایا ۔ قرآن مجید کا بیان یوں ہے۔

(وَ قَاسَمَهُمَا اِنِّی لَکُمَا لَمِنَ النَّاصِحِینَ فَدَلِّا هُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجََرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوَآتُهُما وَ طَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَیهِمَا مِنْ وَرَقِ الجَنَّةِ وَ نَادَاهُمَا رَ بُّهُمَا اَلَمْ اَنْهَکُمَا عَنْ تِلْکُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَکُمَا اِنَّ الشَّیْطَانَ لَکُمَا عَدُوّ مُبِین) (اعراف ٢١' ٢٢)

اور (شیطان نے) دونوں سے قسم کھائی کہ میں تمہیں نصیحت کرنے والوں میں سے ہوں ، پھر انھیں دھوکہ کے ذریعہ درخت کی طرف جھکا دیا اور جیسے ہی ان دونوں نے چکھا ، شرم گاہیں کھل گئیں اور انہوں نے درختوں کے پتے جوڑ کر شرم گاہوں کو چھپانا شروع کردیا تو ان کے رب نے آواز دی کہ کیا ہم نے تم دونوں کو اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور کیا میں نے تمہیں نہیں بتایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے؟


ہم نے توریت میں ذکر ہوئی آدم کی داستان کا قرآن مجید میں ذکر ہوئی اسی داستان سے موازنہ کیا اور دیکھا کہ توریت میں کس طرح حقیقت تحریف ہوکر خرافات میں تبدیل ہوئی ہے ۔

توریت کا مطالعہ جاری رکھتے ہوئے ہم اس کے سفرِ تکوینی کے انیسویں باب میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ لوط بنی کی بیٹیاں رات میں اپنے باپ کو مست کرکے ان کے ساتھ ہمبستری کرتی ہیں اور حاملہ ہوتی ہیں ۔ اس داستان کو توریت میں یوں پڑھتے ہیں :لوط کی بیٹیاں اپنے باپ سے حاملہ ہوگئیں ان کی بڑی بیٹی نے ایک بیٹے کو جنم دیا جس کا نام '' مو آب'' رکھا کہ جس سے قبیلۂ ماآبی کی نسل چلی ہے' چھوٹی بیٹی نے بھی ایک بیٹے کوجنم دیا جس کا نام '' بنی عمی'' رکھا جس سے بنی عمون کی نسل آج تک باقی ہے!!

جب ہم اس مطالعہ کے دوران اس کے تکوینی سفر کے تینتیسویں باب پر پہنچتے ہیں تو پڑھتے ہیں یعقوب پیغمبر ابتدائے شب سے صبح تک ایک قوی پہلوان سے کشتی لڑتے رہے سر انجام ان کا حریف انہیں اسرائیل کا لقب دیتا ہے یہ داستان توریت میں یوں آئی ہے:

یعقوب کا حریف جب دیکھتا ہے کہ وہ یعقوب کو مغلوب نہیں کرسکتا تو یعقوب کی ران پر ہاتھ مار کر زور سے دباتا ہے اور کہتا ہے : مجھے چھوڑدو ، پوپھٹنے کو ہے؟! یعقوب جواب میں کہتے ہیں :

جب تک مجھے مبارکباد نہ دو گے تمہیں نہیں چھوڑوں گا وہ پوچھتا ہے : تمہارانام کیا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں : یعقوب


حریف کہتا ہے:

آج کے بعد تمہارا نام یعقوب نہیں بلکہ اسرائیل ہے کیونکہ تم نے خدا اور انسان سے جنگ کی ہے اور انھیں مغلوب کیا ہے۔

یعقوب نے اس جگہ کا نام '' فینیسیئل'' رکھا اور کہتے تھے: میں نے یہاں خدا کو آمنے سامنے دیکھا ہے اور میری روح نے نجات پائی ہے!

ہم توریت کا مطالعہ جاری رکھتے ہوئے اس کے سفر خروج کے بتیسویں باب میں یوں پڑھتے ہیں :

جب قوم نے دیکھا کہ موسیٰ نے اس پہاڑ سے نیچے اترنے میں تخیر کی تو ہارون کے ہاں جمع ہوئے اور ان سے کہاکہ اٹھو اور ہمارے لئے ایک ایسا خدا بناؤ جو ہمارے سامنے راہ چلے ۔ کیونکہ وہ موسیٰ ، جو ہمیں سرزمین مصر سے باہر لائے نہیں معلوم ان پر کیا گزری ہے ۔ ہارون نے ان سے کہا: سونے کے گوشوارے جو تمہاری عورتوں ، بیٹوں او ر بیٹیوں کے کانوں میں ہیں ، انہیں نکال کر میرے پاس لاؤ۔ لہذا امت کار ہرفرد کانوں سے گوشوارے اتار کر ہارون کے پاس لے آیا ۔ ہارون نے ان گوشواروں سے لے کر ایک گوسالہ کا مجسمہ بنادیا۔ اس کے بعد لوگوں نے کہا: اے بنی اسرائیل یہ تمہارے خدا ہیں جنہوں نے تمہیں سرزمین مصر سے باہرنکالا۔ ہارون نے جب یہ دیکھا تو ان کے سامنے ایک ذبح خانہ تعمیر کیا اور بلند آواز میں کہا : کل خدا کی عید ہے ۔

لیکن قرآن مجید گوسالہ بنانے' قوم کو گمراہ کرنے کی نسبت سامری کی طرف دے کر کہتا ہے کہ ہارون نے انھیں ایسے کام کے انجام دینے سے منع کیا تھا لیکن انہوں نے ان کی بات نہ مانی ۔ اس سلسلے میں ہم کلام اللہ میں یوں پڑھتے ہیں :

(فَکَذٰلِکَ اَلْقَی السَّامِرِیُّ فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجلاً جَسَداً لَهُ خُوَار فَقَالُوا هٰذَا اِلٰهُکُمْ وَ اِلٰهُ مُوسٰی وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَارُونُ مِنْ قَبْلُ یَا قَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهِ وَ اِنَّ رَ بَّکُمْ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُونِی وَ اَطِیعُوا اَمْرِیْ قَالُوا لَنْ نَبْرَحَ عَلَیهِ عَاکِفِینَ حَتّٰی یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوسیٰ ) ١

پھر سامری نے ان کیلئے ایک گائے کے بچے کا مجسمہ بنایا جس میں آواز بھی تھی تو لوگوں نے کہا : یہی تمہارا اور موسیٰ کا خدا ہے

ہارون نے توان لوگوں سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اے قوم اس کے ذریعہ تمہارا امتحان لیا گیا

ہے اور بیشک تمہارا رب رحمان ہی ہے لہذ امیرا اتباع اور میرے امرکی اطاعت کرو ۔ ان لوگوں نے کہا کہ ہم اس کے گرد جمع رہیں گے یہاں تک کہ موسیٰ ہمارے درمیان واپس آجائیں ۔

____________________

١۔ طہ ٨٧ ۔٩١


توریت میں تحریف کے چند ثبوت:

گزشتہ مطالب میں ہم نے توریت میں دو قسم کی تحریفوں کے نمونے بیان کئے ۔ ایک میں خدائے تعالیٰ سے ایک ایسی چیز کی نسبت دی گئی ہے جس سے وہ منزّہ و پاک ہے ۔ اور دوسری تحریف میں خدا کے پیغمبروں ایسی نسبتیں دی گئی ہیں جن سے وہ منزہ و پاک ہیں ۔توریت اور انجیل میں تحریف کے سلسلے میں بہت زیادہ شواہد و ثبوت موجود ہیں ارباب نظر و تحقیق نے انہیں جمع کرکے ان پر بحث ، تحقیق اور تنقید کی ہے۔ من جملہ محترم دانشور حجة الاسلام بلاغی ہیں جنہوں نے اپنی بحث و تحقیق کے نتیجہ کو اپنی دو کتابوں '' الرحلة المدرسیة'' اور ''الھدیٰ الی دین المصطفی'' میں منعکس کیا ہے۔انہوں نے اور دیگر محققین نے توریت و انجیل میں تحریف کے موارد کو اپنی دقیق، مفصل اور تاریخی تحقیق اور جانچ پڑتال کے ذریعہ ثابت کیا ہے ۔ امریکہ کے ڈاکٹر '' ہانس'' نے اپنی کتاب مقدس کی قاموس میں لفظ '' انجیل ' میں ان کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس سلسلے میں قابل اعتراض موارد کو برطرف کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔اس بحث کے خاتمہ پر ہم ذیل میں سفر تثنیہ کے تینتیسویں باب کے تحریف کے تین نمونے پیش کرتے ہیں :

١۔ ذیل میں دیا گیا نمونہ اس نسخہ کی تصویر ہے جسے '' جناب پادری رابنسن'' نے عبرانی زبان سے فارسی میں ترجمہ کیا ہے اور یہ نسخہ لندن کے رچرڈ واٹسن پریس میں ١٨٣٩ ء میں چھپ چکا ہے ۔

٢۔ذیل میں اسی باب کی ایک اور تصویر ہے جو ١٨٣١ ء میں لندن کے رچررڈ واٹسن پریس میں مشرقی روم کے یہودیوں کی عبادت گاہوں کیلئے ١٦٧١ ء میں طبع شدہ ایک نسخہ سے نقل کرکے اس کی اشاعت کی گئی ہے:

٣۔ ذیل میں اسی باب کے ایک اور نسخہ کی تصویر ہے جو ١٩٠٧ ء میں بیروت کے ایک امریکی پریس میں طبع ہواہے : ١

اب ہم دیکھیں گے کہ اس کتاب توریت کے صرف اس ایک باب میں تین بار چھپائی کے دوران کیا چیزیں تحریف ہوئی ہیں ۔

اس باب کے نمبر ١ سے ٤ تک یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی وفات سے پہلے تین جگہوں کا نام لیا ہے کہ جہاں خدائے تعالیٰ نے اپنا امر ظاہر کرکے اپنی شریعت نازل کی ہے ۔ یہ تیں جگہیں حسب ذیل ہیں :

____________________

١۔ توریت کے اس باب کے تیسرے حصہ میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کی بات کی گئی ہے ، بعید نہیں کہ یہ مطلب اس آیۂ شریفہ کا مصداق ہوں :(مُحَمَّد رَسُولُ اﷲِ وَ الَّذِینَ مَعَهُ اَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَارِ رُحَمَائُ بَیْنَهُم تَرَاهُمْ رُکَّعاً سُجَّداً یَبْتَغُونَ فَضلاً مِنَ اﷲِ وَ رِضْوَاناً سِیمَاهُمْ فِی وُجُوهِهِمْ مِنْ اَثِرِ السُّجُودِ ذٰلِکَ مَثَلُهُمْ فِی التَّورَاتِ ) ( فتح ٢٩)

محمد اﷲ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کیلئے سخت ترین اور آپس میں انتہائی رحم دل ہیں ۔ تم انھیں دیکھو گے کہ بارہ گاہ احدیت میں سر خم کے ہوئے سجدہ ریز ہیں اور اپنے پروردگار سے فضل و کرم اور اس کی خوشنودی کے طلب گار ہیں ۔ کثرت سجدہ کی بناء پر ان کے چہروں پر سجدے کے نشانات پائے جاتے ہیں یہی ان کی مثال توریت میں ہے ۔


١۔ سیناء : یہ وہ جگہ ہے جہاں پر خدائے تعالیٰ نے حضرت موسیٰ پر توریت کی شریعت نازل فرمائی جسے چوتھے حصے میں اچھی طرح بیان کیا ہے اور تاکید فرمائی ہے وہ شریعت یعقوب کی میراث ہے جو بنی اسرائیل کے نام سے معروف ہیں ۔ اس لحاظ سے یہ شریعت قوم بنی اسرائیل سے مخصوص ہے۔

٢۔ سعیر یا ساعیر : لفظ '' سعیر'' کے بارے میں کتاب قاموس مقدس میں اور لفظ ''ساعیر'' کے بارے میں حموی کے معجم البلدان میں کی گئی تشریح کے پیش نظر یہ ان سرزمینون کا نام ہے جس کے پہاڑوں کے بیچ میں '' قدس'' واقع ہے۔

اس توصیف کے پیش نظر یہ وہی جگہ ہے جہاں '' حضرت عیسی بن مریم '' پر انجیل کی شریعت نازل ہوئی ہے اور حضرت موسیٰ کے بیانات میں اس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

٣۔ کوہ فاران : جیسا کہ توریت کے سفر تکوینی کے اکیسویں باب میں آیا ہے کہ فاران ایک ایسی جگہ کا نام ہے جہاں حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی سارہ کی خواہش پر اپنی دوسری بیوی ہاجر اور اکلوتے بیٹے اسماعیل کو چھوڑا تھا۔ اس موضوع کی نمبر ٢١ میں یوں وضاحت ہوئی ہے:

اسماعیل نے صحرائے '' فاران'' میں رہائش اختیار کی اور ان کی ماں نے ان کیلئے سرزمین مصر سے ایک شریک حیات کا انتخاب کیا۔

تمام مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ جناب اسماعیل اپنی ماں کے ساتھ مرتے دم تک وہیں رہے اور وہیں دفن ہوئے آپ کی قبر حجر اسماعیل کے نام سے معروف ہے۔

اس لحاظ سے کوہ فاران مکہ کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہونا چائیے ۔ جیسا کہ یاقوت حموی نے اپنی کتاب '' معجم البلدان '' میں ، ابن منظور نے ''لسان العرب '' میں ، فیروز آبادی نے '' قاموس'' میں اور زبیدی نے '' تاج العروس'' میں لفظ '' فاران '' میں اس کی وضاحت کی ہے ۔

کوہ فاران پر نازل ہونے والے قوانین و شریعت کی تشریح اور اس جگہ پر حکم خدا کے ظہور کی کیفیت کے بارے میں ''پادری رابنسن ''کے ترجمہ کے نمبر ١ میں یوں بیان ہواہے ۔

... اور کوہ فاران سے نور افشاں ہوا اور دس ہزار مقربین کے ساتھ وارد ہوا، اس کے دائیں ہاتھ سے ایک آتشین شریعت ان لوگوں کے لئے پہنچی، بلکہ وہ تمام قبیلوں سے محبت کرتا تھا' تمام مقدسات تمہارے اختیار میں ہیں ، مقربان بھی تمہاری خدمت میں ہوں گے ، تمہارے حکم کی تعمیل کریں گے ۔


یہی مطلب روم میں چھپے ہوئے نسخہ میں اس طرح ہے: ...فاران کی پہاڑی سے ہزاروں پاکیزہ لوگوں کے ساتھ ظاہر ہوا' اپنے دائیں ہاتھ میں شریعت لئے ہوئے تمام قوموں سے محبت کرتا ہے اور بھی پاکیزہ لوگ اس کے اختیار میں ہیں جو بھی اس سے نزدیک ہوتے ہیں اس کے حکم کو قبول کرتے ہیں ۔

کوہِ فاران سے ظہور ، مکہ میں موجود کوہِ فاران کے غار حرا میں خاتم الانبیاءصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نزولِ قرآن مجید پر دلالت کرتا ہے اور یہی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں جو دس ہزار افراد لے کر مکہ -- سرزمین فاران-- میں داخل ہوتے ہیں اور اسے فتح کرتے ہیں ۔ یہ وہی ہیں جو پرچمِ شریعت یا ایک آتشین سنت --جہاد و پیکار کی شریعت-- کے حامل ہیں ۔ اور بالآخر یہ وہی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں جو قبائل اور لوگوں کو دوست رکھنے و الے ہیں ، قرآن مجید اس سلسلے میں فرماتا ہے :

(وَ مَا اَرْسَلْنَا کَ اِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِینَ ) ١

اور ہم نے آپ کو عالمین کیلئے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

یا یوں فرماتا ہے :

( وَ مَا اَرْسَلْنَاکَ الَّا کَافَةً لِلنَّاسِ بَشِیراً و َ نَذِیراً ) ٢

اور اے پیغمبر ! ہم نے آپ کو تمام لوگوں کیلئے صرف بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔

یہ اشراق اور ظہور صرف حضرت خاتم الانبیاءصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر دلالت کرتا ہے اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے علاوہ کسی اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر صدق نہیں آتا ہے ۔ کیونکہ:

موسیٰ صرف اپنے بھائی ہارون اور عیسیٰ چند حواریوں کے ہمراہ تشریف لائے تھے۔ اس لئے یہ جملہ '' اور دس ہزار مقربان کے ساتھ واردہوا'' ان میں سے کسی ایک پر صدق نہیں کرتا ہے۔

اسی طرح یہ جملہ : '' اور دائیں ہاتھ سے انہیں آتشین شریعت پہنچی '' ہر گز حضرت عیسیٰ پر صادق نہیں آتاہے۔

اسی طرح یہ جملہ کہ '' قبائل اور لوگوں کو دوست رکھنے والے تھے '' حضرت موسیٰ کیلئے مناسب نہیں لگتا کیونکہ ان کی شریعت قوم بنی اسرائیل کیلئے مخصوص تھی ۔

لہذا ان ہی اسباب کی بناء پر تورات کے مختلف نسخے تحریف کی زد میں آگئے ہیں ۔ ہم نے

____________________

١۔انبیاء ١٠٧

٢۔سبا ٢٨


درج ذیل خاکہ میں تحریف کے ہر ایک مورد کو الگ الگ دکھایا ہے ١

طبع

پہلا جملہ

دوسرا جملہ

تیسرا جملہ

رابینسن

اور دس ہزار مقربان کے ہمراہ تشریف لائے۔

اور اس کے دائیں ہاتھ پر اسے آتشین شریعت پہنچی۔

بلکہ قبائل کو دوست رکھتا تھا۔

رومی

او ر ان کے ساتھ ہزاروں پاک لوگ ہیں ۔

اور اس کے د ائیں ہاتھ پر آگ کی شریعت

لوگوں کو دوست رکھنے وال

امریکی

قدس کی بلندی سے آئے۔

اور دائیں ہاتھ سے ان کیلئے ایک شریعت کی آگ

لہذا لوگوں کو دوست رکھتاہے۔

____________________

١۔قابل توجہ بات ہے کہ پہلا جملہ '' اور دس ہزار مقربان کے ہمراہ تشریف لائے '' دوسرے جملہ '' اور ان کے ساتھ ہزاروں پاک لوگ ہیں '' میں تحریف ہوئی ہے ۔ آخر میں یہ جملہ حذف ہو کر اس جملہ میں تحریف ہوا ہے کہ '' قدس کی بلندی سے آئے '' تا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم کے ظہور پر دلالت کرے!!دوسرے جملہ ''آتشین شریعت''' میں تحریف کرکے '' آگ کی شریعت'' اور پھر اسے '' شریعت کی آگ'' میں تحریف کیا گیا ہے تا کہ اسلام کے جہاد و پیکار والی شریعت پر دلالت نہ کرے اور اس طرح حضرت خاتم الانبیاءصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شریعت کا مصداق نہ بن جائے۔تیسرے جملہ میں '' بلکہ قبائل کو دوست رکھتا ہے '' بصورت جمع ہے اسے جملۂ '' لوگوں میں '' اور پھر '' لوگوں کو دوست رکھتا ہے '' میں تحریف کی گئی ہے تا کہ پیغمبر اسلام پر دلالت نہ کرے بلکہ دوسروں پر صادق آئے۔


قرآن مجید ایک لافانی معجزہ :

ہم نے توریت کے ایک حصہ میں ١٨٣١ ء میں واقع ہوئی تحریف کے طرز و طریقہ کو نمونہ کے طور پر بیان کیا۔

لیکن قرآن مجید کے بارے میں خدائے تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ہر قسم کے دخل و تصرف اور تحریف سے خدا کی پناہ میں ہوگا ۔ اس سلسلے میں فرماتا ہے:

(وَ اِنَّه لَکِتَاب عَزِیز لَا یَاتِیهِ البَاطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِیل مِنْ حَکِیمٍ حَمِیدٍ ) ١

اور یہ ایک عالی مرتبہ کتاب ہے ، جس کے قریب ، سامنے یا پیچھے کسی طرف سے باطل آبھی نہیں سکتا ہے کہ یہ خدائے حکیم و حمید کی نازل کی ہوئی کتا ب ہے ۔

اور خدائے تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ خود اس کا محافظ اور بچانے والا ہوگا ، جیسے کہ فرماتا ہے :

(اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ) ٢

ہم نے ہی اس قرآن کونازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔

حتی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی اپنی بات کو خدا کے کلام کے برابر قرار نہیں دے سکتے ، جیسا کہ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے:

____________________

١۔ فصلت ٤١ ۔ ٤٢۔

٢۔حجر ٩۔


( تَنْزِیل مِنْ ربِّ العَالَمِینَ وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیلِ لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِینِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الوَتِینَ فَمَا مِنْکُمْ مِنْ اَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِینَ ) ١

یہ ( قرآن ) رب العالمین کا نازل کردہ ہے' اگر یہ پیغمبر ہماری طرف سے کوئی بات گڑھ لیتا تو ہم اس کے ہاتھ کو پکڑلیتے اور پھر اس کی گردن اڑا دیتے پھر تم میں سے کوئی مجھے روکنے والا نہ ہوتا ۔

یا یہ کہ اگر خدائے تعالیٰ قرآن مجید کو اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے چھین لیتا ، تو رسولِ خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کچھ نہیں کرسکتے :

(وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِی اَوَْحَیْنَا اِلَیکَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لک بِهِ عَلَیْنَا وَکِیلاً ) ٢

اور اگر ہم چاہیں تو جو کچھ آپ کو وحی کے ذر یعہ دیا گیا ہے اسے اٹھالیں اور اس کے بعد ہمارے مقابلہ میں کوئی سازگار اور ذمہ دار نہ ملے۔

اس کے علاوہ خدائے تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اگر جن و انسان باہم متفق ہو کر قرآن کے مانند کسی کتاب کو فراہم کرنے کی کوشش کریں گے تو بھی وہہر گز اس میں کامیاب نہیں ہوں گے :

(قُلْ لَئِنْ اجْتَمَعَتِ الاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰی اَنْ یَْتُوا بِمِثْلِ هٰذَا القُرآنِ لَا یَْتُونَ بِمِثْلِه وَ لَو کانَ بَعْضُهُم لِبَعْضِ ظَهِیراً )

آپ کہہ دیجئے کہ اگر انسان اورجنّات سب اس بات پر متفق ہوجائیں کہ اس قرآن کا مثل لے آئیں تو بھی نہیں لاسکتے ، چاہے سب ایک دوسرے کے مددگار اور پشت پناہ ہی کیوں نہ ہوجائیں ۔

____________________

١۔ الحاقہ ٤٣ ۔ ٤٧

٢۔ اسراء ٨٦

٣۔ الاسراء ٨٨


قرآن مجید کے مثل کسی کتاب کو لانے کے بارے میں انسان و جنات کی مجموعی قدرت اور توانائی سے نفی کرتے ہوئے فرماتا ہے:

(وَ اِنْ کُنْتُمْ فِی رَیْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثلِهِ وَ ادْعُوْا شُهَدائَکُمْ مِنْ دُونِ اﷲِ اِنْ کُنْتُم صَادِقِینَ فَاِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَ لَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُو النَّارَ الَّتِی وَ قُودُهَا النَّاسُ وَ الحِجَارَةُ اُعِدَّت لِلْکَافِرِینَ ) ١

اگر تمہیں اس میں کوئی شک ہے، جسے ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اس کے جیسا ایک ہی سورہ لے آؤ اور اﷲ کے علاوہ جتنے تمہارے مددگار ہیں سب کو بلا لو۔ اگر تم اپنے دعوے اور خیال میں سچے ہو۔ اور اگر تم ایسا نہ کرسکے اور یقینا نہ کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو، جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں اور جسے کافروں کیلئے مہیا کیا گیا ہے۔

اور دوسرے مقام پر فرماتا ہے

(اَمْ یَقُولُون افْتَرَاهُ قُلْ فَْتُوا بِعَشْرِ سُورٍ مِثْلِه مُفتَرَیَاتٍ وَ ادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اﷲِ اِنْ کنتُمْ صَادِقِینَ فَاِلَّمْ یَسْتَجِیبُوا لَکُمْ فَاعْلَمُوا اَنَّمَا اُنْزِلَ بِعِلْمِ اﷲ ...) ٢

____________________

١۔بقرہ ٢٣۔ ٢٤

٢۔ہود ١٣۔١٤


کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ قرآن بندے نے گڑھ لیا ہے تو کہہ دیجئے کہ اس کے جیسے دس سورے گڑھ کر تم بھی لے آؤ اور اﷲ کے علاوہ جس کو چاہو اپنی مدد کیلئے بلا لو اگر تم لوگ اپنی بات میں سچے ہو۔ پھر اگر یہ آپ کی بات قبول نہ کریں توسمجھ لو کہ جو کچھ نازل کیا گیا ہے سب خدا کے علم سے ہے...

اور مزید فرماتا ہے:

(وَمَا کَانَ هٰذَا الْقُرآنْ اَنْ یُفْتَریٰ مِنْ دُوْنِِ اﷲِ وَ لٰکِنْ تَصْدِیقَ الَّذِی بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفصِیلَ الْکِتَابِ لاَ رَیْبَ فِیهِ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِینَ ، اَمْ یَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَْتُوا بِسُورَةٍ مِثْلِهِ وَادْعُو مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اﷲِ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ )

اور یہ قرآن کسی غیر خدا کی طرف سے افتراء نہیں بے بلکہ اپنے ما سبق کی کتابوں کی تصدیق اور تفصیل ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اسے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے گڑھ لیا ہے تو کہہ دیجئے کہ تم اس کے جیسا ایک ہی سورہ لے آؤ اور خدا کے علاوہ جسے چاہو اپنی مدد کیلئے بلا لو، اگر تم لوگ سچے ہو۔

____________________

١۔یونس ٣٧- ٣٨


قرآن مجید میں تحریف کی ایک ناکام کوشش

جو کچھ ہم نے یہاں تک بیان کیا وہ قرآن مجید کی شان میں خدا کا کلام تھا جو دقیق علمی بحث و تمحیص کے ذریعہ مذکورہ تمام مطلب کی تائید و تصدیق کرتا ہے ، اس کے تکرار کی گنجائش نہیں ہے ١

لیکن حیرت کی بات ہے کہ بعض روایات اس کے بر خلاف کہتی ہیں ذیل میں ان کے چند نمونے پیش کئے جاتے ہیں :

١۔ بخاری اور مسلم کی '' صحیح'' ، ابو داؤدکی ترمذی اور ابن ماجہ کی '' سنن'' اور مالک کی '' مؤطائ'' میں یہ روایت نقل ہوئی ہے جسے ہم ذیل میں '' صحیح بخاری'' سے بعینہ نقل کرتے ہیں :

خلیفہ دوم عمر بن خطاب سے روایت ہے :کہ

خدائے تعالیٰ نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مبعوث فرمایا اور قرآن کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نازل فرمایا۔ جس کی آیات میں آیۂ '' رجم'' بھی موجود تھی کہ ہم نے اس آیت کو پڑھا اور سمجھا و درک کیا ہے۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ہم نے اسی آیت سے استدلال کرکے ''رجم'' یعنی '' سنگسار'' انجام دیا ہے ۔ اب مجھے اس بارے میں ڈر ہے کہ زمانہ گزرنے پر کوئی یہ کہے کہ : خد کی قسم میں نے آیۂ '' رجم'' کو کتابِ خدا میں نہیں دیکھا ہے ! اور لوگ اس واجب الٰہی کو ترک کرکے گمراہ ہوجائیں جبکہ قرآن مجید کی رو سے زنائے محصنہ میں رجم کی سزا واجب ہے ٢

____________________

١۔ مقدمۂ تفسیر الاء الرحمن اور مقدمۂ تفسیر البیان''۔

٢۔عن الخلیفة عمر بن الخطاب قال : اِنَّ الله بعث محمداً ( ص) و اَنزل علیه الکتاب فکان مما انزل اﷲ آیة الرجم فقرناها و وعینا ها ، و رجم رسول اﷲ ( ص) و رجمنا بعده فاخشیٰ ن طال بالناس زمان ان یقول قائل : و اﷲ ما نجد آیة الرجم فی کتاب اﷲ فیضلوا بترک فریضة انزلها اﷲ و الرجم فی کتاب اﷲ حق علی من زنی اذا حصن ...

اس روایت کے آخر میں عمر کی خیالی آیۂ '' رجم'' کے سلسلے میں ابن ماجہ نے اس طرح لکھا ہے: ہم آیۂ رجم کو یوں پڑھتے تھے۔

الشیخ و الشیخة اذا زنیا فارجموهما البتة

جب ایک مرد اور عورت زنا کے مرتکب ہوجائیں تو انہیں سنگسار کرو۔


یہی مطلب مالک کی ''موطا'' میں یوں آیا ہے: ہم اس آیت کو اس طرح پڑھتے تھے:

الشیخُ وَ الشیخَةُ فَارْجِمُو هُمَا اَلْبَتّة ١

پھر اسی حدیث میں '' صحیح'' بخاری اور '' مسند '' احمد میں خلیفہ دوم سے منقول ہے کہ : ہم اس آیت کو کتاب خدا میں پڑھتے تھے:

الَّا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِکُمْ فَاِنَّه کفر بِکُمْ اَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِکُمْ

اپنے باپ سے منہ نہ موڑنا اگر ایسا کرو گے تو کفر کے مرتکب ہوگے۔

٢۔ مسلم کی'' صحیح''، ابو داؤد ، نسائی اور دارمی کی '' سنن'' اور مالک کی ''موطا'' میں ام المؤمنین عائشہ سے ایک روایت نقل کی گئی ہے ' ہم یہاں پر '' صحیح مسلم'' میں نقل ہوئی اس حدیث کی عین عبارت نقل کرتے ہیں :

ام المؤمنین عائشہ سے منقول ہے کہ:

قرآن میں نازل ہونے والی آیتوں کے ضمن میں '' با علم دس مرتبہ دودھ پلانے کی آیت ' بھی

____________________

١۔ ابی بن کعب سے نقل کرکے تقریباً اسی مضمون کی حدیث '' مسند '' احمد ( ٥ ١٣٢) اور زید بن ثابت انصاری سے '' مسند'' احمد ( ٥ ١٨٣) میں آئی ہے۔


نازل ہوئی تھی اور پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں اس آیت کو قرآن مجید میں پڑھا جاتا تھا ۔

'' سنن'' ابی ماجہ میں حدیث عائشہ یوں نقل ہوئی ہے:

عائشہ نے کہا کہ آیۂ '' رجم '' اور '' بالغون کو دس مرتبہ دودھ پلانے '' کی آیت __ محرم بنانے کیلئے __ کاغذ کے ایک ٹکڑے پر لکھی ہوئی تھی اور میں نے اسے اپنے سونے کے تخت کے نیچے چھپا رکھا تھا ۔ جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے رحلت فرمائی ، ہم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تجہیز و تکفین میں لگ گئے اور دیگر امور سے غفلت کی ، ایک مرغی کمرے میں داخل ہوئی اور اس کاغذ کو کھا گئی !! ١

٣۔ '' صحیح'' مسلم میں آیا ہے کہ ابو موسیٰ اشعری نے بصرہ کے قاریوں کیلئے جن کی تعداد تین سو تھی ایک پیغام بھیجا کہ ہم قرآن مجید میں ایک سورہ پڑھتے تھے جسے بلندی اور پائیداری کے لحاظ سے سورۂ برائت کے شبیہ جانتے تھے اور میں نے اسے فراموش کر دیا۔ اس میں سے صرف یہ حصہ یاد ہے کہ ارشاد ہوتاہے :

اگر فرزند آدم کے پاس دو بیابانوں کے برابر مال و دولت ہوجائے تو وہ تیسرے بیاباں کی بھی آرزو کرے گا ۔ فرزند آدم کا پیٹ مٹی کے علاوہ کسی اور چیز سے نہیں بھر سکتا ٢

ابو موسی اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے :

____________________

١ نزلت آیة الرجم و رضاعة الکبیر عشراًلقد کان فی صحیفة تحت سریری ، فلما مات رسول اﷲ تشاغلنا بموته فدخل داجن فاکلها !!

٢لو کان لابن آدم وادیان من مالِ لا بتغیٰ وادیا ثالثا و لا یملاء جو ف ابن ادٔم الا التراب !


قرآن مجید میں ایک ایسا سورہ بھی تھا جو تسبیحات کی شبیہ تھا میں نے اسے بھی فراموش کر ڈالا۔ صرف اس کا یہ حصہ یاد ہے کہ ارشاد ہوتا ہے:

اے ایمان لانے والو ! تم جس چیز کو انجام نہیں دیتے اسے زبان پر کیوں لاتے ہو؟ تاکہ تمہاری گردن پر گواہی لکھ جائے اور قیامت کے دن تم سے پوچھ تاچھ کی جائے ؟!

ایسی بناوٹی اور جھوٹی احادیث ١ اگر کسی مطلب پر دلالت کر سکتی ہیں تو وہ مطلب یہ ہوگا کہ حدیث نبوی کے مطابق اس امت میں بھی ایسے افراد ہیں جو گزشتہ امتوں کے مانند آسمانی کتاب میں تحریف کرنے پر اتر آئیں گے ۔ اس سلسلے میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں :

تم لوگ اپنے اسلاف کی روش پر تیر کے پروں اور جوتوں کے جوڑے کے مانند چلو گے۔ اس حد تک کہ اگر وہ کسی چھپکلی کے بِل میں گھس گئے ہوں گے تو تم لوگ بھی اس میں گھس جاؤ گے۔

لیکن قرآن مجید میں تحریف کے بارے میں ان خود غرضوں کی تمام کوششیں ناکامی اور رسوائی سے دوچار ہوئیں ۔ جیساکہ خداوند فرماتا ہے :'' قرآن کے قریب ، سامنے یا پیچھے کی طرف سے باطل آبھی نہیں سکتا ہے '' اور خدائے تعالیٰ اپنی کتاب کو ایسے بیہودہ مطالب کی آلودگیوں سے بچالے گا جن سے عربوں کا ذوق سلیم بھی نفرت کا اظہار کرتاہے ۔ جیسا کہ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے : '' ہم

____________________

١۔ معتبر اور گراں قدر کتابوں کے ایک حصہ میں ان ہی روایات کا وجود ہمیں اپنے معین کردہ ارادہ میں مصمم تر کرتا ہے کہ حقائق تک پہچنے اور بیہودہ مطالب اور جھوٹ کو محکم و متین مضامین سے جدا کرنے کیلئے اپنی بحث و تحقیق کو جاری رکھیں ۔)


نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ''۔

ارادۂ الٰہی کے تحت ، قرآن مجید لاکھوں مسلمانوں کے ذریعہ دست بدست پھرانے اور عصر رسالتمآبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے آج تک نسل بہ نسل منتقل ہونے کے باوجود ہر قسم کی تحریف اور آلودگیوں سے پاک اور محفوظ رہ کر اسی حالت میں موجود ہے جس حالت میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے تبلیغ فرمایا تھا اور انشاء اللہ اسی صورت میں آئندہ بھی محفوظ رہے گا۔

اسلامی مصادر کی تحقیق ضروری ہے :

اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ اس قسم کے بیہودہ اور توہمات پر مشتمل مطالب اگر چہ قرآن مجید میں نفوذ نہیں کرسکے ہیں لیکن بہر صورت روایات و احادیث اور گراں قدر کتابوں میں سرایت کرچکے ہیں جنہوں نے ذہنوں کو مشغول کر رکھا ہے۔

اگر چہ قرآن مجید تحریف سے محفوظ رہا ہے لیکن سنّت کسی صورت میں تحریف اور دخل و تصرف سے محفوظ نہیں رہی ہے ۔ اس سلسلے میں دشمنان اسلام ، من جملہ یہود، نصاریٰ ، زندیقی اور دیگر منافقین' اسلام کالبادہ اوڑھ کے مسلمانوں کے اندرگھس کر مختلف صورتوں میں اور وسیع پیمانے پر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی احادیث، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت ، اصحاب کی سیرت ، تاریخ اسلام ، احادیث اور تفسیر قرآن میں ہر قسم کی تحریف اور دخل و تصرف کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں !! یہاں تک کہ شاید ہمیں گزشتہ امتوں میں کوئی ایسی امت نہیں مل سکے گی جس نے اپنے پیغمبر کیلئے ایک سو پچاس اصحاب جعل کئے ہوں اور انھیں حقیقی و مسلم صحابیوں کے عنوان سے اپنے ہم عقیدوں کے سامنے پیش کیا ہو ! جس چیز کو اس کتاب میں مد نظر رکھا گیا ہے ، وہ یہ ہے کہ اسلامی مصادر کی حتی الامکان تحقیق و جستجو کرکے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے جعل کئے گئے اس قسم کے اصحاب کو پہچنوایا جائے ۔ انشاء اللہ اس کا م کو انجام دیا جائے گا۔


لیکن مسلمانوں کی بڑی اکثریت یہ اعتقاد رکھتی ہے کہ جو کچھ انھیں اپنے اسلاف سے ملا ہے وہ سب کا سب صحیح ہے اور اسے ہر قسم کی آلودگی اور دخل و تصرف سے پاک و منزہ جانتے ہیں ۔ چنانچہ بحث و تحقیق کے ضمن میں اگرتاریخ طبری میں کسی صحابی کی خبر یا سیرۂ ابن ہشام میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مربوط کسی خبر یا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مربوط کسی بھی حدیث کو اپنی مورد اعتما د و احترام کتابوں میں یا اس قسم کے دوسرے مصادر میں پاتے ہیں تو چوں و چرا کے بغیر اطمینان کامل کے ساتھ اس مطلب کو آنکھیں بند کر کے قبول کرلیتے ہیں ۔ اور اس کے صحیح یا غلط ہونے کے بارے میں بحث و تحقیق کرنے کی ہر گز اپنے آپ کو تکلیف نہیں دیتے ۔ بلکہ اس کے برعکس ان کے علماء اور دانشور بھی ، مذکورہ مصادر کے مؤلفین نے جو کچھ اپنے فہم ، ذوق اور سلیقہ کے مطابق لکھا ہے ، اسے آنکھیں بند کرکے قبول کرتے ہیں ۔

ہم کتاب '' عبد اللہ بن سبا'' کے مختلف حصوں کی تحقیق و جستجو کے دوران پیروان مکتبِ خلفاء کے مطمئن ترین منبع یعنی '' تاریخ طبری'' میں چند بڑی تحریفات سے دوچار ہوئے جو اصحاب سے مخصوص ہیں ۔ یہ تحریفات ، تاریخی حقائق کو الٹ پلٹ کردینے کا سبب بنی ہیں اور انھیں اپنے اصلی راستے سے منحرف کرکے رکھدیا ہے ۔

اگر ایک محقق، انکے نزدیک سیرت میں مطمئن ترین کتاب '' سیرہ ابن ہشام '' یا انکی انتہائی مورد اعتماد حدیث کی کسی بھی کتاب کی تحقیق کرے تو ا ن میں حیرت انگیز حد تک جھوٹ اور تحریف کا سامنا کرے گا۔

گزشتہ بحث کے پیش نظرہم اس قسم کی سیرت ، حدیث و تاریخ کی کتابوں کے بارے میں درج ذیل تین راہوں میں سے کسی ایک کو انتخاب کرنے پر ناگزیر ہیں :

١۔ صرف قرآن مجید پر اکتفا کریں اور اپنے اسلام کو اسی میں تلاش کریں لیکن جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے کہ اس قسم کے اقدام کا نتیجہ ترکِ اسلام ہے جو قرآن کو ترک کرنے کے برابر ہے۔


٢۔ انہیں کتابوں کو ، کہ جن پر اکثر مسلمانوں کو اطمینان ہے اور ان میں درج مطالب کے صحیح ہونے پر ایمان رکھتے ہیں 'تسلیم کرلیں اور جو کچھ ان میں درج ہے اسے بلا چوں و چرا قبول کرلیں اور کسی بحث و تحقیقکے بغیر ان کی روایتوں کے مضامین ، راویوں کے سلسلہ ، ان کا تاریخ و سیرت کی دوسری کتابوں میں موجود مطالب سے موازنہ وغیرہ سے چشم پوشی کرکے سب کچھ قبول کرلیں ۔

ہماری اس بحث و تحقیق کے پیش نظر نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہم صحیح کے بجائے تحریف اور حق کے بجائے باطل کو قبول کر لیں اور اس طرح وہی پہلا نتیجہ حاصل ہوگا۔

٣۔ یہ کہ حدیث ، سیرت اور تاریخ کی تمام کتابوں کا مطالعہ کرکے ان پر بحث ، تحقیق، تنقید اور جانچ پڑتال کرکے ان سند ، متن اور مضمون کے لحاظ سے موازنہ کریں اور علمی بنیادوں پر حاصل شدہ تحقیق کے نتیجہ کو قبول کریں ۔

قرآن مجید کے علاوہ تمام اسلامی مصادر کے بارے میں ہم مجبور ہیں کہ مذکورہ تین راہوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں ۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ پہلے دو راستے اسلام اور قرآن سے منہہ موڑنے کے مترادف ہیں ، پس جب صحیح اسلام اور اس کے سچے قوانین کی پیروی کے خواہاں ہیں تو ہم ناگزیر ہیں کہ اسی تیسرے طریقے یعنی بحث و تحقیق اور تنقید جو صحیح اور علمی ہے اس کا انتخاب کرنے کو ہی قبول کریں ۔

اس انتخاب میں ضروری ہے کہ اصحاب کی سیرت پر بحث و تحقیق کو دوسرے امور پر مقدم قرار دیں ،ہم نے بھی اسی بحث کو دوسری بحثوں پر مقدم قرار دیا ہے ۔

کیونکہ صحابہ ہمارے اور حدیث کے درمیان رابطے کی کڑی ہیں ۔ ہم نے اس سلسلے میں دیکھا کہ سیرت سے مربوط بعض روایات بعض ایسے اصحاب سے روایت کی گئی ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے ابھی انھیں پیدا ہی نہیں کیا ہے !

اس طرح ہمیں چاہئے کہ اس بحث و تحقیق میں تنقید، تحقیق اور چانچ پڑتال کرتے وقت انتہائی اہم کتابوں کو اہم پر اہم کو غیر اہم کتابوں پر مقدم قرار دیں ۔ یا سادہ الفاظ میں امکان کی حد تک اپنی بحث و تحقیق میں انتہائی مشہور کتابوں کو دوسرے درجہ کی مشہور کتابوں اور دوسرے درجے کی کتابوں کو غیر مشہور کتابوں پر مقدم قراردیں ۔


اب میں نے انتہائی انکساری کے ساتھ فیصلہ کیا ہے کہ اس بحث و تحقیق کے سلسلہ کو اسی پروگرام کے تحت جاری رکھوں اور اگر خدائے تعالیٰ نے اس پروگرام میں میری مدد فرمائی تو اس کا شکر گزار رہوں کا ورنہ اسلام کے علماء اور محققین کی ذمہ داری ہے کہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنت کو آلودگیوں اور تحریفات سے پاک کرنے کیلئے قدم اٹھائیں ۔

خلاصہ

چونکہ تمام اسلام قرآن و سنت میں ہے ، لہذ اصحیح اسلام کو درک کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ان دونوں کی طرف رجوع کیا جائے کوئی شخص قرآن کو سنت سے جدا نہیں کرتا مگر وہ شخص کہ جو اپنی خواہش و مرضی کے مطابق عمل کرنا چاہتا ہے اور قرآن مجید کی اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق تویل و تفسیر کرنا چاہتا ہے۔ خدائے تعالی اور پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حکم دیا ہے کہ قرآن و سنت کی طرف ایک ساتھ رجوع کیا جائے۔ لیکن جب ہم اسلام کو حاصل کرنے کیلئے سنّت کی طرف رجوع کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یہ سنت مختلف صورتوں میں تحریف کا شکار ہوئی ہے ۔ اس تحریف اور دخل و تصرف میں امت اسلامیہ مو بمو گزشتہ امتوں کے نقش قدم پر چلی ہے۔

خدائے تعالی نے گزشتہ امتوں کی تحریف کے بارے میں اور پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس امت کے گزشتہ امتوں کے تمام امور میں پیروی کرنے کی خبر دی ہے ۔یہی امر دسیوں ہزار بناوٹی اور تحریف شدہ روایتوں ، سیرت ، تاریخ اسلام ، عقائد اسلامی ، تفسیر قرآن میں اور ایسے ہی دوسرے امور میں شامل ہوکر صحیح اسلام کے نظروں سے اوجھل ہوجانے اور حقیقت تک رسائی کے بہت مشکل ہوجانے کا سبب بنا ہے ۔ اس کے علاوہ یہی تحریفات اور دخل و تصرف مسلمانوں کی یکجہتی ، اتحاد و اتفاق کو پارہ پارہ کرکے انھیں مختلف ٹولیوں اور گروہوں میں تقسیم کرنے کا سبب بنے ہیں ۔

اس لحاظ سے اگر ہم صحیح اسلام کو سمجھنا چاہیں تو ہمیں اس قسم کی بحث و تحقیق کی سخت ضرورت ہے اور اس ضرورت کا اسلام کے احکام پر عمل کرتے وقت شدت سے احساس کرتے ہیں ۔


اس کے علاوہ اگر مسلمانوں کے امور اور ان کا اتحاد ہمارے پیش نظر ہے تو ہم اس قسم کی بحث و تحقیق کے سخت محتاج ہوں گے، کیونکہ آج کل مسلمانوں کے درمیان اختلاف و افتراق کا سرچشمہ اسلام کے تمام امور میں ہزاروں کی تعداد میں ضد و نقیض احادیث کے وجود کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ اسی طرح اس قسم کی تحقیقات و بحث و مباحثہ کے بغیر پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لائے ہوئے اصلیاسلام کو سمجھنا' اس کے احکام پر عمل کرنا اور مسلمانوں کا اتحاد و اتفاقبھی ممکن نہیں ہے۔

لہذا گزشتہ بحث کے تناظر میں لازم بن جاتا ہے کہ ہم اس بحث و تحقیق کے کام کو جاری رکھیں تا کہ صحیح کو غلط سے جدا کرکے پہچان سکیں ، اس مشکل ، سنجیدہ اور زبردست کام کیلئے دانشوروں کی ایک جماعت کو قدم اٹھانا چاہئے ۔ پھر یہ امت اسلامیہ کا فرض بنتا ہے کہ ان کی بحث و تحقیق کے نتیجہ پر راضی ہو کر اسے خد اکی راہ میں اور اس کی خوشنودی کیلئے قبول کریں ۔

لیکن یہ کہنا کہ '' چپ رہو'' __اس خدا کی قسم جس نے زمین و آسمان کو خلق کیا ہے اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حق پر مبعوث فرمایا ہے __ علم و دانش کے خلاف ناپاک ترین جملہ ہے اور دین کیلئے سب سے بڑا نقصان ہے ۔ یہ بات جس کے منہ سے بھی نکلے شیطان کا کلام اور اس کا وسوسہ ہے ۔ میں اس قسم کے بیہودہ گو افراد کے بارے میں اس کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتا :

(رَبّ اَهْدِ قَوْمِی اِنَّهُمْ لَا یَعلَمُونَ)

وہ جو چاہیں کہیں ، لیکن میں خدا کو شاہد و گواہ قرار دیکر کہتا ہوں کہ میں نے صرف اسلام اور اس کی پہچان کیلئے ان مباحث و تحقیقات کے سلسلہ کی اشاعت کا قدم اٹھایا ہے اور خاص کر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ان اصحاب کو پہچنوانے کیلئے جنھیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مصاحبت اور ادراک کا شرف حاصلہوا ہے اور انہی حقیقی اصحاب کو جعلی اصحاب سے جدا کرنے کیلئے میں نے '' ١٥٠ جعلی اصحاب'' نامی اپنی کتاب شائع کی ہے۔

اب ہم کتاب کے اس حصہ میں سیف کے پچیس دیگر جعلی '' اصحاب ، حدیث کے راوی، جنگی سپہ سالار،شعراء ، اور رجز خوانوں '' کے بارے میں بحث و تحقیق شروع کرتے ہیں اور خدائے تعالیٰ سے اس کام میں کامیابی کی دعا کرتے ہیں ۔


پہلے حصہ کے مصادر و مآخذ

حسان بن ثابت انصاری کی حدیث :

١۔ کتاب '' سنن'' دارمی ( ١٤٥١) باب '' السنة قاضیہ علی کتاب اﷲ'' کا مقدمہ۔

مقدام کی حدیث :

١۔ '' سنن'' ابو داؤد ( ٢ ٢٥٥)

٢۔ '' سنن'' ترمذی باب '' ما نھی عنہ ان یقال عند حدیث النبی '' (١٣٢١٠)

٣۔ '' سنن'' ابن ماجہ باب '' تعظیم حدیث رسول اﷲ'' (٦١)

٤۔ '' سنن'' دارمی ، باب '' السنة قاضیہ علی کتاب اﷲ'' کا مقدمہ (٤٠١)

٥۔ '' مسند'' احمد بن حنبل ( ٤ ١٣٠۔١٣١و ١٣٢)

عبید اللہ بن ابی رافع کی حدیث :

١۔ '' سنن'' ابو داؤد ، کتاب '' السنة '' ، '' لزوم السنة'' ( ٢ ٢٥٦)

٢۔ '' سنن'' ترمذی ( ١٣٣١٠)

٣۔ '' سنن'' ابن ماجہ ( ٦١)

٤۔ ''مسند'' احمد بن حنبل ( ٨٦)


عرباض بن ساریہ کی حدیث :

١۔ '' سنن'' ابو داؤد ( ٦٤٢) باب '' تعشیر اھل الذمہ'' کتاب '' خراج '' سے ۔

ابو ہریرہ کی حدیث :

١۔ ''مسند'' احمد بن حنبل ۔ ( ٢ ٣٦٧)

اس امت کے اپنے اسلاف کی تقلید کرنے کا موضوع

حضرت امام صادق کی اپنے جد بزگورار سے حدیث :

١۔ '' اکمال الدین '' شیخ صدوق ، ص ٥٧٦' طبع حیدری تہران ١٣٩٠ ھ

٢۔ '' بحار الانوار 'مجلسی ، شیخ صدوق سے نقل کرکے ، طبع کمپانی (٢٨)

٣۔ '' مجمع البیان '' مرحوم طبرسی ، ' جلاء الاذہان '' گازر ، تفسیر آیۂ شریفہ :

(لَتَرْکَبُنَّ طَبْقاً عَنْ طَبْقٍ )

شافعیوں کے پیشوا اما م شافعی کی حدیث:

١۔'' فتح الباری '' ابن حجر ( ٦٤١٧)

ابو سعید خدری کی حدیث :

١۔ ''مسند'' طیالسی ، حدیث نمبر ٢١٧٨۔

٢۔ '' مسند '' احمد ، ( ٩٤٣) و ٨٤٣)

٣۔ '' صحیح مسلم '' نووی کی شرح ،کتاب العلم ( ١٦ ٢١٩)

٤۔ '' صحیح '' بخاری، کتاب '' الانبیاء '' باب '' ما ذکر عن بنی اسرائیل '' (٢ ١٧١)


اس کے علاوہ کتاب بخاری ، شرح فتح الباری '' کتاب الاعتصام بالکتاب و السنة ' پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی فرمائش :

لتتبعن سنن من کان قبلکم '' (١٧ ٦٣ ۔ ٦٤)

٥۔ کنز ل العمال '' ( ١٢٣١١)

حدیث ابو ہریرہ :

١۔ '' فتح الباری '' در شرح صحیح بخاری ( ٦٣١٧)

٢۔ '' سنن '' ابن ماجہ ، حدیث نمبر : ٣٩٩٤۔

٣۔ '' مسند '' احمد بن حنبل (٢ ٣٢٧ ، ٣٦٧، ٤٥٠، ٥١١، ٥٢٧)

٤۔ کنز العمال (١١ ١٢٣)

ابو واقد لیثی کی حدیث:

١۔'' سنن'' ترمذی ( ٩ ٢٧ ۔٢٨)

٢۔ '' مسند '' طیالسی ، حدیث نمبر ١٣٤٦۔

٣۔ '' مسند '' احمد ( ٥ ٢١٨)

٤۔ '' کنز ل العمال '' ( ١٢٣١١) باب ( الاقوال من کتاب الفتن)

عبدا للہ بن عمرو کی حدیث :

١۔ '' سنن'' ترمذی ( ١٠ ١٠٩) ابواب الایمان۔

٢۔ '' در المنثور '' سیوطی ( ٤ ٦٢) تفسیر آیۂ ' ' وَلَا تَکُونوا کَالَّذِین تَفَرَّقُوا '' آل عمران مستدرک حاکم کے مطابق ۔


ابن عباس کی حدیث :

١۔ '' مجمع الزوائد'' ( ٧ ٢٦١) بزاز اور حاکم سے روایت کی ہے۔

٢۔ '' کنزل العمال '' ( ١١ ١٢٣) مستدرک حاکم سے نقل کیا ہے۔

سہل بن سعد کی حدیث :

١۔ '' مسند'' احمد بن حنبل ( ٥ ٢٤٠)

٢۔ '' مجمع الزوائد'' (٧ ٢٦١) طبرانی سے نقل کرکے۔

عبد اللہ مسعود کی حدیث :

١۔ '' مجمع الزوائد'' ( ٢٦١٧) طبرانی سے نقل کرکے۔

مستورد کی حدیث :

١۔ '' مجمع الزوائد'' ( ٧ ٢٦١)

٢۔ کنز ل العمال ( ١١ ١٢٣) طبرانی کی '' اوسط '' سے نقل کرکے ۔

شداد بن اوس کی حدیث:

١۔ '' مسند '' احمد ( ٤ ١٢٥)

٢۔ '' مجمع الزوائد '' ( ٧ ٢٦١)

٣۔ قاموس الکتاب المقدس '' تالیف: مسٹر ماکس ، امریکی ، طبع امریکی مطبع، بیروت١٩٢٨ ئ

٤۔ '' توریت'' ، طبع ، امریکی مطبع، بیروت ، ١٩٠٧ ء


آیۂ رجم کے بارے میں عمر کی روایت :

١۔ '' صحیح '' بخاری ( ٤ ١٢٠) کتاب حدود۔

٢۔ '' صحیح'' مسلم ( ٥ ١١٦)

٣۔ '' سنن '' ابی داؤد ( ٢ ٢٢٩) باب رجم ، کتاب حدود۔

٤۔ '' صحیح '' ترمذی ( ٢٠٤٦)باب '' ما جاء فی تحقیق الرجم '' کتاب حدود

٥۔'' سنن '' ابن ماجہ ، باب رجم ، کتاب حدود، نمبر: ٢٥٥٣

٦۔ '' سنن'' دارمی( ٢ ١٧٩) باب حد زنائے محصنہ ، کتاب حدود۔

٧۔ ''موطاء مالک'' ( ٣ ٤٢) کتاب حدود۔

٨۔ '' مسند'' احمد ( ١ ٤٠) : ٢٧٦،نمبر ( ١ ٤٧) ٣٣١ ، نمبر : (٥٥١)٣٩١' نمبر

بناوٹی آیت لا تَرغبُو عَنْ آبَائِکُمْ کی روایت:

١۔ '' مسند'' احمد ( ١ ٤٧) نمبر: ٣٣١

٢۔ ''مسند '' احمد (٥٥١) نمبر ٣٩١

'' دس مرتبہ دودھ پلانے '' کے بارے میں عائشہ کی روایت :

١۔'' صحیح'' مسلم (٤ ١٦٧) باب '' التحریم بخمس رضعات '' کتاب رضاع

٢۔ '' سنن'' ابی داؤد ١ ٢٧٩ ) باب '' ھل یحرم ما دون خمس رضعات؟'' کتاب نکاح

٣۔ '' سنن '' نسائی ( ٢ ٨٢) باب '' القدر الذی یحرم من الرضاعة '' کتاب نکاح سے ۔

٤۔ سنن ابن ماجہ ( ١ ٦٢٦ ) باب '' رضاع الکبیر '' کتاب نکاح ، نمبر ١٩٤٤۔

٥۔ سنن دارمی ( ١ ١٥٧) باب '' کم رضعة ترحم '' کتاب نکاح

٦۔ '' موطأ '' مالک ( ٢ ١١٨) باب '' جامع ما جاء فی الرضاعة '' کتاب نکاح

دو خیالی سورتوں کے بارے میں ابو موسیٰ کی روایت

١۔'' صحیح '' مسلم ( ٣ ١٠٠) باب '' لو ان لابن آدم '' کتاب زکات۔

٣۔ '' حلیہ'' ابو نعیم ، '' ابو موسی'' کے حالات کی تشریح میں ۔


دوسرا حصہ

سیف بن عمر تمیمی کا تحفہ

*سیف کے جعلی اصحاب کا ایک اور گروہ۔

*رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچنے والے نمائندے

*رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ابو بکر کے گماشتے اور کارندے

*پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چند ایلچی

*ہم نام اصحاب

*گروہ انصار سے چند اصحاب


سیف کے جعلی اصحاب کا ایک اور گروہ

ہم نے اس کتاب کی پہلی اور دوسری جلد کو سیف کے قبیلۂ تمیم سے جعل کئے گئے اصحاب اور ان کے بارے میں خیالی عظمت و افتخارات کیلئے مخصوص کیا ، اور اس کے افسانوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیف کی نظر میں پوری دنیا قبیلۂ تمیم میں خلاصہ ہوتی ہے ۔ کیونکہ سیف کی باتوں سے ایسا لگتا ہے کہ صرف اسی خاندان کے افراد تھے جنہوں نے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گرد جمع ہو کر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مصاحبت اور اطاعت کا شرف حاصل کیا ہے۔ حد یہ ہے کہ سیف کے خیال میں رسول اﷲصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پروردہ ، گماشتے اور کارندے ، نمائندے اور ایلچی بھی قبیلۂ تمیم سے تعلق رکھتے تھے !

پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد بھی اسی قبیلہ کی معروف شخصیتیں تھیں جنہوں نے سقیفۂ بنی ساعدہ کی میٹینگ میں شریک ہوکر ، ابو بکر کی بیعت کی اور اس سلسلے میں اپنے نظریات پیش کئے !!

ارتداد کی جنگوں میں بھی ، تمیمیوں کی ایک جماعت دین سے منحرف ہوکر مرتد ہو گئی تھی۔ اورانہوں نے اپنے عقائدکے دفاع میں سخت جنگ کرکے اپنی پائیداری کا ثبوت دیا ہے ۔

اور اس خاندان کے ان لوگوں نے بھی اپنے ایمان و عقیدہ کے دفاع میں مجاہدانہ طور پر تلوار کھینچ کر شجاعت کے جوہر دکھائے ہیں ، جو اسلام پر باقی اور پائندہ رہے تھے۔

اسی قبیلۂ تمیم کے افراد تھے ، جنہوں نے جنگوں اور لشکر کشیوں میں سپہ سالاری کے عہدے سنبھال کر میدان کارزار میں شجاعت ، بہادری اور دلاوریوں کے جوہر دکھائے ہیں اور کافی رجز خوانیاں کی ہیں ۔

خلاصہ کے طور پر یہ تمیمی ہی تھے جنہوں نے رزم و بزم کے تمام میدانوں میں دوسروں پر سبقت حاصل کرکے پہلا مقام حاصل کیا ہے :

٭پہلا شخص جس نے راہ خدا میں مکہ میں شہادت پائی تمیمی تھا۔

٭پہلا شہسوار جس نے جنگ اور کشور گشائی کیلئے ایران کی سرزمین پر قدم رکھا اسی قبیلہ سے تھا ۔

٭پہلا شخص اور دلاور جس نے دمشق کے قلعہ کی سر بفلک دیوار پر کمند ڈالکر اوپر چڑھنے کے بعد اسے فتح کیا ، ایک تمیمی سردار تھا۔

٭پہلا شخص جس نے سرزمیں '' رہا '' پر قدم رکھا انہی میں سے تھا۔

٭پہلا بہادر جس نے گھوڑے پر سوار ہوکر دریائے دجلہ کو عبور کرکے اسلامی فوج کے حوصلے بلند کئے تا کہ اس کی اطاعت کریں ، تمیمی تھا ۔


٭پہلا سورما جو فاتح کی حیثیت سے مدائن میں داخل ہوا انہی میں سے تھا ۔

٭پہلا بہادر جو کسی خوف و وحشت کے بغیر جلولا کی جنگ میں دشمن کے مورچوں پر حملہ کرکے انھیں شکست دینے میں کامیاب ہوا، تمیمی تھا۔

''ارماث ، اغواث و عماس '' کے خونین دنوں کو خلق کرنے والے یہی ہیں ۔ یہی ہیں جنہوں نے اس وقت کے دنیا کے پادشاہوں ، جیسے کسریٰ ، ہرمز ، قباد ، فیروز، ہراکلیوس ، چین کے خاقان ، ہندوستان کے پادشاہ داہر ، بہرام ، سیاوش ،نعمان اور دیگر عرب پادشاہوں کے جنگی ساز و سامان کو غنیمت کے طور پر حاصل کیا ہے ۔

انہوں نے ہی علاقوں اور شہروں پر حکومت اور فوجی کیمپوں اور چھاؤنیوں کی کمانڈ سنبھالی ہے

عمر کے قاتل کو موت کی سزا دینے والے بھی یہی ہیں ۔

خلافتِ عثمان کے دوران کوفیوں کی بغاوت کو کچلنے والے بھی یہی ہیں ۔

یہی تھے جو عثمان کی مدد کیلئے دوڑپڑے۔

انہوں نے ہی جنگِ جمل میں امیر المؤمنین علی اور عائشہ ، طلحہ و زیبر کے درمیان صلح کرنے کی کوشش کی ۔

جنگِ جمل میں عام معافی کا اعلان کرکے جنگ کے شعلوں کو خاموش کرنے والا بھی انہی میں سے تھا ۔

جنگلی جانوروں نے جس سے فصیح زبان میں گفتگو کی ہے وہ ان ہی میں سے تھا ۔

جس کی زبان پر فرشتوں نے فارسی کے کلمات جاری کئے اور وہ ایک بڑی فتح کا سبب بنا ، ان ہی میں سے تھا۔

جی ہاں ! یہی خیالی خصوصیات سبب بنی ہیں کہ فرشتے اور جنات یک زبان ہوکر قبیلۂ تمیم کے فضائل اور افتخارات کے نغموں کو سیف کے خیالی راویوں کے کانوں تک پہنچائیں تا کہ وہ بھی اپنی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے ان افسانوں کو سیف کے کان میں گنگنائیں ۔

جو کچھ ہم نے یہاں تک بیان کیاہے اسے بلکہ اور بھی بہت سی چیزیں ہم نے سیف کے تئیس (٢٣) جعلی اصحاب کی زندگی کے حالات کا مطالعہ کرنے کے دوران حاصل کی ہیں ۔

اب ہم اس جلد میں بھی خاندان تمیم سے متعلق سیف کے چھ جعلی اصحاب کے علاوہ دیگر عرب قبائل سے خلق کئے گئے سیف کے انیس جعلی اصحاب کے سلسلہ میں حسب ذیل مطالعہ اور بحث وتحقیق کریں گے :


تیسرا حصہ: رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچنے والے نمائندے :

٢٤ ۔ عبدة بن قرط تمیمی عنبری ۔

٢٥۔ عبدا ﷲ بن حکیم ضبی

٢٦۔ حارث بن حکیم ضبی

٢٧۔ حلیس بن زید ضبی

٢٨۔ حر ، یا حارث بن حکیم خضرامہ ضبی

٢٩۔ کبیس بن ہوذہ ، سدوسی ۔

چوتھا حصہ : رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ابو بکر کے گماشتے اور کارندے

٣٠۔ عبید بن صخر بن لوذان ، انصاری۔

٣١۔ صخر بن لوذان انصاری۔

٣٢ عکاشہ بن ثور ، الغوثی۔

٣٣۔ عبدا ﷲ بن ثور، الغوثی۔

٣٤۔ عبید اللہ بن ثور الغوثی

پانچواں حصہ : رسول خدا کے ایلچی اور کارندے

٣٥۔ وبرة بن یحنس خزاعی

٣٦۔ اقرع بن عبد اللہ ، حمیری۔

٣٧۔ جریر بن عبدا للہ حمیری ۔

٣٨۔ صلصل بن شرحبیل

٣٩۔ عمرو بن محجوب عامری

٤٠۔ عمرو بن خفاجی عامری


٤١۔ عمر بن خفاجی عامری

٤٢۔ عوف ورکانی

٤٣۔ عویف ، زرقانی۔

٤٤۔ قحیف بن سلیک ،ہالکی۔

٤٥۔ عمر وبن حکیم ، قضاعی ، قینی۔

٤٦۔ امرؤ القیس ، از بنی عبدا للہ۔

چھٹا حصہ : ہم نام اصحاب

٤٧۔ خزیمة بن ثابت انصاری ( غیو از ذی شہادتین )

٤٨۔ سماک بن خرشہ ، انصاری ( غیر از ابی دجانہ )

ساتواں حصہ : گروہ انصار سے چند اصحاب

٤٩۔ ابو بصیرہ

٥٠۔ حاجب بن زید۔

٥١۔ سہل بن مالک

٥٢۔ سہل بن یربوع

٥٣۔ ام زُمل ، سلمیٰ بنت حضیفہ


تیسرا حصہ :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچنے والے مختلف قبائل کے منتخب نمائندے

*٢٤ ۔ عبدة بن قرط تمیمی عنبری

*٢٥۔ عبدا ﷲ بن حکیم ضبی

*٢٦۔ حارث بن حکیم ضبی

*٢٧۔ حلیس بن زید ضبی

*٢٨۔حر، یا حارث بن خضرامہ ضبی

*٢٩۔کبیس بن ہوذہ ، سدوسی۔


چوبیسواں جعلی صحابی عبدة بن قرط تمیمی

اس نام کا ابن حجر کی '' الاصابہ'' میں یوں تعارف ہوا ہے :

عبدة بن قرط، خباب بن حرث تمیمی عنبری کا پوتا ہے ۔ ابن شاہین نے سیف بن عمر سے نقل کرکے ، قیس بن سلیمان بن عبدہ عنبری سے اس نے اپنے باپ اور جد سے ، انہوں نے عبدة بن قرط سے ۔۔ جو بنی عنبر کے نمائندوں کے ساتھ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچا ہے ۔۔ روایت کی ہے :

'' وردان '' اور '' حیدہ '' ، محزم بن مخرمہ بن قرط کے بیٹے نمائندہ کی حیثیت سے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچے اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے حق میں دعائے خیر فرمائی ہے ۔

میں ۔۔ ابن حجر ۔۔ نے '' حیدہ '' کے حالات کی تشریح میں اس موضوع کی طرف اشارہ کیا ہے ۔

ابن حجر نے اس سے قبل '' حیدہ '' کے حالات کی تشریح میں یوں لکھا ہے :

انشاء اللہ اس کے حالات کی تشریح حرف '' ع'' میں '' عبدہ '' کی تشریح کے دوران آئے گی ۔ یہ بھی کہدوں کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کے حق میں دعا کی ہے ۔

عبدہ کا خاندان اور اس کی داستان کا آغاز

سیف نے عبدہ کو ' عمرو بن تمیم '' کے خاندان ِبنی عنبر سے خلق کیا ہے ۔ اس کی داستان کے آغاز کو یوں جعل کیاہے کہ بنی عنبر کے نمائندوں کا ایک گروہ ، جس میں ' ' حیدہ'' اور '' وردان '' کے علاوہ عبدة بن قرط بھی تھا ، پیغمبر خدا کی خدمت میں پہنچے اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے '' حیدہ '' اور '' وردان '' کے لئے مخصوص دعائے خیر کی ۔


داستان کے مآخذ کی تحقیق

سیف کہتا ہے کہ مذکورہ داستان عبدة بن قرط نے اپنے بیٹے عبدہ سے اور اس نے اپنے بیٹے سلیمان سے اور سلیمان نے بھی اپنے بیٹے قیس سے بیان کی ہے ۔ جبکہ جس عبدة بن قرط کو ۔۔ سیف نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی خدمت میں قبیلے کے سفیر کے عنوان سے پہنچوایا ہے اس کا حقیقت میں کوئی وجود تھا اور نہ اس کے ان بیٹوں کا جن کی فہرست سیف نے مرتب کی ہے۔

بلکہ عبدة بن قرط نامی سیف کا صحابی۔ جسے اس نے نمایندہ کی حیثیت سے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس پہنچایاہے ۔ اور اس کے بیٹے '' عبدہ ، سلیمان ، اور قیس'' سب کے سب سیف کی تخلیق ہیں ۔

روایت کی تحقیق

ہم نے اس کتاب کی دوسری جلد میں ،جہاں '' اسود بن ربیعہ '' کے بارے میں گفتگو کی ہے ، تمیم کے نمائندوں کے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے تاریخی حقائق بیان کئے ہیں اور واضح کیا ہے کہ سیف نے مذکورہ روایت میں کیوں اور کس طرح تحریف کی ہے !! یہاں پر اس کی تکرار ضروری نہیں سمجھتے ۔

یہ بھی ہم بتادیں کہ تمیم کے نمائندوں کے بارے میں سیف کے علاوہ دوسروں کی روایتوں میں نہ تو عبدة بن قرط کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا ہے اور نہ ہی اس کی روایت کے راویوں کے سلسلہ کا سراغ ملتا ہے ، کیونکہ یہ صرف سیف بن عمر ہے جس نے یہ داستان خلق کی ہے اور ابن حجرنے بھی اس پر اعتماد کرکے عبدة بن قرط کے نام کو حرف '' ع'' میں اپنی کتاب '' الاصابة '' میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پہلے درجے کے اصحاب میں درج کیا ہے ۔

مصادر و مآخذ

'' عبدة بن قرط '' کے حالات :

١۔الاصابتہ' ابن حجر' (٤٢٧٢) نمبر ٥٢٨٦ کے نیچے


حیدہ کے حالات

١۔ الاصابة '' ابن حجر ، ( ٢ ٣٦٤)

بنی عنبر کا شجرۂ نسب :

١۔ '' جمہرۂ انساب '' ابن حزم ( ٢٠٨ ۔ ٢٠٩)

اقرع بن حابس اور قعقاع بن معبدکے حالات :

١۔ '' الاصابة'' ابن حجر اور اس کے علاوہ دیگر منابع میں بھی آئے ہیں ۔


پچیسواں جعلی صحابی عبد اللہ بن حکیم ضبی

ابن اثیر نے اپنی کتاب '' اسد الغابہ'' میں اس صحابی کا یوں تعارف کرایا ہے :

سیف بن عمر نے صعب بن عطیہ بن بلال بن ہلال سے ، اس نے اپنے باپ سے اس نے '' عبد الحارث بن حکیم '' سے روایت کی ہے کہ وہ ۔۔ عبد الحارث بن حکیم ۔۔ جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچا تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے پوچھا :

تمہارا نام کیا ہے ؟

اس نے جواب دیا: عبدا لحارث بن حکیم

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: آج کے بعد تمہارا نام عبد اللہ ہوگا۔

اس کے بعد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے اپنے قبیلہ '' بنی ضبہ''کے صدقات جمع کرنے کے لئے ممور فرمایا:

ابو موسیٰ نے اس صحابی کو ابن مندہ سمجھ لیا ہے

ابن حجر نے بھی اپنی کتاب '' الاصابة'' میں یوں بیان کیا ہے :

دار قطنی نے سیف کی کتاب '' فتوح '' سے نقل کرکے صعب ابن عطیہ سے روایت کی ہے ...اور اسی مذکورہ داستان کونقل کیا ہے

اس صحابی کی زندگی کے حالات کی تشریح کرتے ہوئے کتاب '' التجرید'' میں اس طرح درج کئے گئے ہیں :

سیف بن عمر کے ذریعہ نقل ہوا ہے کہ وہ ۔۔ عبد الحارث بن حکیم ۔۔ نمائندہ کی حیثیت سے رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچا ہے۔

چھبیسواں جعلی صحابی حارث بن حکیم ضبی

ابن اثیر نے کتاب '' اسد الغابہ '' میں اس صحابی کا تعارف یوں کرایا ہے :

ابو موسیٰ کی کتاب میں آیا ہے ( اس کے بعد عبد الحارث کی وہی داستان اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں نمائندہ کے طور پر پہنچنے کا موضوع بیان کیا ہے !)


کتاب ' ' الاصابة'' میں یوں آیا ہے :

ابن شاہین اور ابو موسیٰ دونوں نے سیف سے نقل کیا ہے ( یہاں پر عبدا لحارث کی وہی مذکورہ داستان بیان ہوئی ہے )

ذہبی بھی اپنی '' التجرید'' میں لکھتا ہے :

ناقابل اطمینان طریقے سے روایت کی گئی ہے کہ اس کا نام عبد الحارث تھا اور پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کا نام بدل کر عبد اللہ رکھا ۔

ہم نے سیف کی گزشتہ روایت میں دیکھا کہ اس نے ایک نمائندہ کے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچنے کی خبر دی ہے اور پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کا نام عبد الحارث بن حکیم سے بدل کر '' عبداللہ بن حکیم '' رکھا ہے۔

لیکن دانشوروں نے سیف کے تخلیق کردہ اسی ایک آدمی کو دو آدمیوں میں تبدیل کرکے صحابی رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے عنوان سے زندگی کے حالات پر الگ الگ روشنی ڈالی ہے۔

لیکن '' اسد الغابہ '' کے مطابق سیف نے دوسری روایت میں ان کی اس داستان کو '' عبدا للہ بن زید بن صفوان '' سے ٍمنسوب کیا ہے ۔ ابن اثیر لکھتا ہے :

دارقطنی نے سیف بن عمر سے اس نے صعب بن عطیہ سے ، اس نے بلال بن ابی بلال ضبی سے اس نے اپنے باپ سے روایت کی ہے کہ عبد الحارث بن زید ضبی نمائندہ کی حیثیت سے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں اس نے اپنا تعارف کرایا، اور پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کے حق میں دعا کی ۔

یہ صحابی نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچے کے بعد اسلام لایا اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے فرمایا:کہ

اس کے بعد تمہارا نام '' عبدا للہ '' ہوگا نہ عبد الحارث۔ اس نے جواب میں کہا :

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حق پر ہیں اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کیا اچھا فرمایا ہے ۔ کیونکہ کسی بھی قسم کی پرہیز گاری اور تقویٰ تائید الٰہی کے بغیر میسر نہیں ہوتی اور کوئی بھی کام توفیق الٰہی کے بغیر ممکن نہیں ہے ، شائستہ ترین کام وہ ہے جس کی انجام دہی میں ثواب ہو اور جس چیز سے دوری اختیار کرنا چاہئے وہ ایسا کام ہے جس کے پیچھے عذاب الٰہی ہوتا ہے۔

اللہ جیسے خدا کو رکھتے ہوئے ہم خوش ہیں ، ہم اس کے حکم کی اطاعت کرتے ہیں تاکہ اس کے اچھے اور خیر خواہانہ وعدوں سے استفادہ کرسکیں اور اس کے غضب اور عذاب سے امان میں رہیں !

عبد الحارث جو '' عبدا للہ '' بن چکا تھا اپنے قبیلے کی طرف لوٹا اور اس نے ہجرت نہیں کی۔


اس مطلب کو ابو موسیٰ نے بھی ذکر کیا ہے

ابن حجر کی '' الاصابة'' میں بھی آیا ہے :

دار قطنی نے سیف بن عمر سے اس نے بلال بن ابی بلال سے اس نے اپنے باپ سے روایت کی ہے کہ ( یہاں پر مذکورہ داستان کو نقل کرتا ہے )

مذکورہ روایت ابن کلبی کی '' جمہرہ '' میں یوں آئی ہے :

عبد الحارث بن زید... ( اس کا نسب بیان کرنے کے بعد لکھتا ہے :)

وہ نمائندہ کی حیثیت سے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچا اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کے نام کو بدل کر '' عبداللہ '' رکھا۔

ابن حزم نے بھی اپنی کتاب '' جمہرہ''' میں ان ہی مطالب کو بیان کیا ہے ۔

مذکورہ داستان کو ابن عبدا لبر نے '' استیعاب '' میں ، ابن اثیر نے '' اسدا لغابہ'' میں اور ابن حجر نے ''الاصابہ'' میں ابن کلبی ، محمد بن حبیب اور ابن ماکولا جیسے دانشوروں سے نقل کیا ہے۔

اس بناء پر اس روایت کی سند ابن کلبی پر ختم ہوتی ہے ۔ کیونکہ ابن حبیب ابن حزم اور ابن ماکولا سب کے سب ابن کلبی سے روایت کرنے والے تھے۔ اور چونکہ اس دانشور نے ٢٠٤ ھ میں وفات پائی ہے اور سیف کی کتاب '' فتوح'' بھی اس تاریخ سے آدھی صدی سے زیادہ پہلے لکھی جا چکی ہے ۔ لہذا یہ اطلاعات ہمیں یہ حق دیتے ہیں کہ ہم یہ کہیں کہ : ابن کلبی نے مذکورہ خبر کو سیف سے نقل کرکے اسے خلاصہ کیا ہے ۔

بہر حال ہم زید بن صفوان کو سیف کی تخلیق شمار نہیں کرتے ہیں ، کیونکہ ہمیں ابن کلبی کی کتاب '' جمہرہ'' نہیں ملی جس کے ذریعہ ہم اس کی خبر کی یقینی طور پر تائید کرتے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہی ایک شخص ۔۔۔ زید بن صفوان ۔۔ رجال کی تشریح میں لکھی گئی کتابوں میں حسب ذیل تین روپوں میں درج ہوا ہے :


١۔ عبدا للہ بن حارث بن زید بن صفوان '' جو '' اسد الغابہ'' ، '' تجرید'' ، '' الاصابہ'' اور ابو موسی کے ذیل میں اسی نام سے آیا ہے۔

٢۔ '' عبد اللہ بن حارث بن زید بن صفوان '' جو '' استیعاب '' ، '' اسد الغابہ'' ، '' تجرید'' اور ابو موسیٰ ذیل میں اسی نام سے ذکر ہوا ہے۔

٣۔ ابن حجر کی '' الاصابہ'' میں عبدا للہ بن حارث کا دو شخصیتوں کے عنوان سے دوجگہ پر تعارف کیا گیا ہے ۔

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچے ہوئے نمائندہ '' عبدا للہ بن حارث'' کے نام میں تعدّد کا سر چشمہ شاید پہلی بار '' استیعاب '' میں واقع ہونے والی تحریف جس کے نتیجہ میں ابو موسیٰ ہے نے بھی غلطی کی ہے اور اپنی کتاب ذیل میں ایک بار '' عبد اللہ بن حارث بن زید '' دوسری بار '' عبد اللہ بن زید '' کی زندگی کے حالات لکھے ہیں اور اس کے بعد دانشوروں نے اس کی پیروی کی ہے۔

ابن حجر اس غلطی کے علاوہ ایک دوسری غلطی کا بھی مرتکب ہوا ہے اور '' عبد اللہ بن حارث بن زید''کی زندگی کے حالات پر دوبار' دو جگہوں پر اپنی کتاب میں روشنی ڈالی ہے۔ اس طرح ایک جعلی شخص تین روپوں میں نمودار ہوا ہے۔

ستائیسواں جعلی صحابی حلیس بن زید بن صفوان

اس صحابی کا ' ' اسد الغابہ '' میں یوں تعارف کیا گیا ہے :

ابو موسیٰ نے ابن شاہین سے نقل کرکے ذکر کیا ہے کہ سیف بن عمر نے روایت کی ہے کہ وہ حلیس بن زید بن صفوان اپنے بھائی ' ' حارث'' کی وفات کے بعد نمائندہ کی حیثیت سے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچا اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کے سر پر دست شفقت پھیرنے کے بعدا س کے حق میں د عا فرمائی ہے ۔

حلیس نے اس ملاقات میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہا :

اگر مجھ پر کسی قسم کا ظلم ہوتو اس کی تلافی کیلئے اٹھتا ہوں تا کہ اپنا حق حاصل کرسکوں ۔

پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب میں فرمایا:


شائستہ ترین کا م جسے انجام دیا جا سکتا ہے ، عفو و بخشش ہے ۔

حلیس نے کہا:

اگر کوئی حسد کرے گا تو اس سے زبردست مقابلہ کرکے تلافی کروں گا۔

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

کون ہے جو کرم کرنے والوں کے لطف و کرم کا برا جواب دے ؟! جو بھی لوگوں سے حسدکرتا ہے اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا اور اس کا دل آرام نہیں پاتا۔یہ مطالب ابو موسی نے بیان کئے ہیں ( ابن اثیر کی بات کا خاتمہ )

کتاب '' اصابہ'' میں ہم یوں پڑھتے ہیں :

ابن شاہین نے اس کا نام لیا ہے اور سیف بن عمر سے نقل کرکے روایت کی ہے کہ ( یہاں پر مندرجہ بالا داستان نقل کی گئی ہے )

لیکن کتاب '' تجرید'' میں اس صحابی '' حلیس بن زید '' ۔۔ کے تعارف اور زندگی کے حالات کے بارے میں حسب ذیل مطالب پر اکتفا کی گئی ہے :

غیر مطمئن طریقہ سے روایت ہوئی ہے کہ وہ ۔۔ حلیس ۔۔ نمائندہ کی حیثیت سے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچا ہے۔

اٹھائیسواں جعلی صحابی حر، یا حارث بن خضرامہ ، ضبی

'' اسدا لغابہ'' میں یوں ذکر ہوا ہے:

حارث بن خصرامہ ضبی ہلالی کے بارے میں '' حارث بن حکیم '' کے سلسلے میں بیان کئے گئے مآخذ کے مطابق آیا ہے کہ سیف بن عمر نے صعب بن ہلال ضبی اور اس نے اپنے باپ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا:

حر، پیغمبر خدا کی خدمت میں پہنچا ( تا آخر )


حر بن خضرامہ ضبی یا ہلالی :

ابن حجر کی کتاب '' اصابہ'' میں حر کی داستان یوں درج ہوئی ہے :

ابن شاہین نے سیف سے نقل کرکے صعب بن ہلال ضبی سے اور اس نے اپنے باپ سے یوں روات کی ہے :

حر بن خضرامہ بنی عباس کا ہم پیمان تھا ۔ گوسفندوں کے ایک ریوڈ اور چند غلاموں کے ہمراہ مدینہ میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچا۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے ایک کفن اور قدرے حنوط عنایت فرمایا ! اس کے بعد زیادہ وقت نہ گزرا کہ حر مدینہ میں فوت ہوگیا ۔ اس کے پسماندگان مدینہ آگئے ۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے گوسفندوں کو انھیں لوٹا دیا اور حکم دیا کہ غلاموں کو مدینہ میں بیچ کر انکی قیمت انہیں دی جائے۔ابو موسی مدائنی نے دار قطنی سے ابن شاہین کے راوی سے روایت کی ہے کہ اس نے اس صحابی کے بارے میں کہا ہے : حارث بن خضرامہ ، ! اور خدا زیادہ جاننے والا ہے !

ضبّہ کا شجرۂ نسب

ضبی ، یہ ایک نسبتی لفظ ہے اور یہ نسبت تمیم کے چچا ''صنبتہ بن ادبن طابختہ بن الیاس بن مضر '' تک پہنچتیہے ۔

داستان کے مآخذ کی تحقیق:

علماء نے سیف کے اسنادحلیس کی داستان میں ذکر نہیں کئے ہیں ۔ لیکن باقی حدیث کو سیف کے ذریعہ ، صعب سے، بلال بن ابی بلال اور اس کے باپ سے نقل کیا ہے۔

یعنی حقیقت میں ایک بناوٹی راوی نے دوسرے جعلی اور خیالی راوی سے اور اس نے بھی ایک جعلی شخص سے نقلِ قول اور روایت کی ہے۔

ساتھ ہی سیف نے اپنے افسانوں میں سے ایک افسانہ کو اسی ماخذ کے ذریعہ اپنے جعلی صحابی تک ربط دیکر نقل کیا ہے ۔ ہم نے اس موضوع کے بارے میں ا پنی کتاب '' رواة مخلتقون'' میں اشارہ کیا ہے ۔


سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ

سیف تنہا شخص ہے جس نے مذکورہ داستانوں کی روایت کی ہے ۔ جبکہ جن افراد نے انتہائی دقت اور احتیاط کے ساتھ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی خدمت میں پہنچے وفود اورنمائندوں کے بارے میں تفصیلات لکھے ہیں ،ان میں سیف کے مذکورہ مطالب کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابن سعد جیسے عالم نے اپنی کتاب ''طبقات'' میں سیف کی روایتوں پر کوئی توجہ نہیں کی ہے اور ان پر اعتماد بھی نہیں کیا ہے۔

بلاذری نے بھی ۔۔ اپنی کتاب ' ' انساب '' کے پہلے حصہ میں ، جو پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت سے مخصوص ہے ۔۔ سیف کی روایتوں پر کوئی اعتماد نہیں کیا ہے اور اسی طرح یعقوبی نے بھی اپنی تاریخ میں سیف کی روایتوں پر بھروسہ نہیں کیا ہے۔

جیسا کہ ہم نے کہا کہ '' عبدا للہ بن زید صفوان '' کے بارے میں نمائندگی کی روایت کو ہم نے ابن کلبی کے ہاں پایا ۔ مگر خود ابن کلبی نے اس روایت کو کہاں سے حاصل کیا ہے ، ہمیں اب تک اس کے مآخذ کا پتہ نہ مل سکا۔

خلاصہ :

سیف نے قبیلہ بنی ضبّہ کے چند افراد کے نمائندہ کے طور پر پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچنے کی داستان کو چار روایتوں میں بیان کیا ہے ۔علماء نے بھی دیگر صحابیوں کے ضمن میں ان کی زندگی کے حالات پر حسب ذیل روشنی ڈالی ہے :

١۔ سیف کی روایت کے پیش نظر '' عبد الحارث بن حکیم ضبی'' کی نمایندگی ، رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا اس کا نام بدل کر '' عبدا للہ '' رکھنے اور اسے اپنے قبیلہ کے صدقات جمع کرنے کی ماموریت دینے کے مسئلہ کو علماء نے دو صحابیوں کے حق میں الگ الگ بیان کیا ہے :

الف : حارث بن حکیم ضبی

ب: عبد اللہ بن حکیم ضبی

اور اسی ترتیب سے مذکورہ دو صحابی پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کی فہرست میں ثبت ہوئے ہیں ۔


٢۔ سیف' عبد الحارث بن زید بن صفوان کے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں بعنوان نمایندہ پہنچنے کی روایت نقل کرکے مدعی ہوا ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کا نام بدل کر '' عبد اللہ بن زید '' رکھا ہے ، اور نام بدلنے کے بعد یہ نیا عبد اللہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تعلیم و نصیحت کرنے پر اتر کر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہتا ہے:

کوئی پرہیز گاری و تقویٰ خدا کی توفیق حفاظت کے بغیر ممکن نہیں ہے اور کوئی بھی کام توفیق الٰہی کے بغیر انجام نہیں پاسکتا ۔ بہترین اور شائشتہ ترین کام جسے انجام دیا جاسکتا ہے وہ ہے جس میں ثواب ہو اور جس کام سے پرہیز کرنا چاہئے وہ ایسا کام ہے جس پر پروردگار غصہ اور غضب کرے

اس طرح یہ عبدا للہ بن زید صفوان ہے جو خود رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تعلیم اور درس دیتا ہیچہ جائے کہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسے درس دیں !!!

اس کے علاوہ اس صحابی کی نمائندگی کی خبر ' اس کی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نصیحت اور تعلیم کے ذکر کے بغیر ہمیں ابن کلبی اور اس کی حدیث کے راویوں کے ہاں ملی ہے۔ چونکہ سیف زمانہ ابن کلبی سے پہلے ہے لہذا ہمیں یہ کہنے کا حق ہے کہ ابن کلبی نے بھی اس خبر کو سیف سے نقل کیا ہوگا!

ہم نے مشاہدہ کیا کہ یہی ایک شخص، اصحابِ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حالات لکھنے والوں کے ہاں تین روپوں میں ظاہر ہوا ہے !!!

٣۔ سیف بن عمر نے حلیس بن زید کی نمائندگی کا ذکر اس کے بھائی '' حارث بن زید '' کی وفات کے بعد کیا ہے اور اس امر کی تاکید کی ہے کہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کے سر پر دستِ شفقت پھیر کہ اس کیلئے دعا کی پھر نصیحت کی ہے۔

علماء نے اسی روایت کے پیش نظر اور اسی پر اعتماد کرکے حلیس کی زندگی کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دوسرے اور حقیقی صحابیوں کی فہرست میں قرار دیا ہے ۔

٤۔ سیف نے حر یا حارث بن خضرامہ کی گوسفندوں کے ریوڑ اور چند غلاموں کے ہمراہ پیغمبر خدا کی خدمت میں نمائندگی کو بیان کیا ہے لیکن اتنی طاقت نہیں رکھتا تھا کہ اپنے اس نئے خلق کئے ہوئے صحابی کو صحیح و سالم اپنے وطن اور اہل و عیال کے پاس لوٹا دے ، بلکہ اس کے بر عکس رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اس کیلئے کفن اور قدرے حنوط لے لیتا ہے اور اس مفلس کو وہیں پر مسافرت میں مار ڈالتا ہے اور وہیں پر اسے دفن کرتا ہے ! پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی ایسی شخصیت کے مرنے کے بعد حکم دیتے ہیں کہ اس کے غلاموں کے بیچنے کے بعد ان کی قیمت اور گوسفندوں کے ریوڑ کو مرحوم کے پسماندگان کے حوالے کردیں ۔ اس طرح اسے اصحاب کی فہرست میں قرار دیکر اس کی زندگی کے حالات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔


سیف کی داستان کے نتائج

١۔ ایسے چار اصحاب کی تخلیق کرنا جو نمائندہ ہونے کا افتخار بھی رکھتے تھے!!

٢۔ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے ایک ایسا صحابی خلق کرنا جوآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا گماشتہ اور کارندہ بھی ہے!

٣۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی احادیث کے چار راوی خلق کرنا۔

٤۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے تین روایتیں جعل کرنا۔

مختصر یہ کہ یہ سب سیف جھوٹ کے پوٹ ہیں جس پر زندیقی ہونے کا بھی الزام تھا!!

احادیث سیف کے مآخذ

عطیہ بن بلال نے اپنے باپ ( بلال بن ہلال) سے اس نے اپنے باپ (ہلال) سے کہ جنہیں سیف نے خلق کیا ہے۔اور ایک روایت کو اس کے جعل کئے گئے ایک صحابی سے نقل کیا ہے!!

سیف کی روایت کے راوی :

١۔ دار قطنی ( وفات ٣٨٥ھ ) نے ''مؤتلف '' میں '' اسد الغابہ '' اور '' اصابہ'' کے مؤلفین کے کہنے کے مطابق ، انہوں نے '' عبد اللہ بن زید، و عبدا للہ بن حکیم و حارث بن خضرامہ '' کے حالات کو اس سے نقل کیا ہے۔

٢۔ ابن شاہین ( وفات ٣٨٥ھ ) ابن اثیر او ر ابن حجر نے '' حلیس بن زید ، عبد اللہ بن حکیم ، حارث بن حکیم اور حر بن خضرامہ '' کی زندگی کے حالات کے بارے اس سے نقل کیا ہے۔

٤۔ ابن اثیر ( وفات ٦٣٠ھ) نے '' حارث بن حکیم ، حلیس بن زید اور حارث بن خضرامہ'' کے حالات کو اپنی کتاب '' اسد الغابہ'' میں درج کیا ہے۔

٥۔ ذہبی ( وفات ٧٤٨ ھ) نے اپنی کتاب '' تجرید'' میں '' حارث بن حکیم اور حلیس'' کے حالات کو درج کیا ہے۔

٦۔ ابن حجر ( وفات ٨٥٢ ھ ) نے '' اصابہ '' میں '' حارث بن حکیم ، حلیس بن زید اور حر بن خضرامہ '' کی زندگی کے حالات درج کئے ہیں ۔


مصادر و مآخذ

عبد اللہ حکیم ضبّی کے حالات

١۔ ابن اثیر کی '' اسد الغابہ '' ( ٣ ١٤٥)

٢۔ ابن حجر کی '' اصابہ '' ( ٢ ٢٩٠) نمبر ٦٣٣ کے زیل میں ' ق/١

٣۔ ذہبی کی '' تجرید'' ( ١ ٣٢٨) نمبر: ٣١٤٦

حارث بن حکیم ضبیّ کے حالات :

١۔ ابن اثیر کی '' اسد الغابہ'' (١ ٣٢٥)

٢۔ ابن حجر کی '' اصابہ'' (٣٨٥١) نمبر : ٢٠٣٤ ق٤

٣۔ ذہبی کی '' تجرید'' ( ١ ١٠٥) نمبر ٩٢٥

عبد الحارث بن زید کے حالات اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ اس کی گفتگو:

١۔ ابن اثیر کی '' اسد الغابہ'' ( ٣ ١٦٧)

٢۔ ابن حجر کی '' اصابہ'' ( ٢ ٣٠٤) نمبر : ٤٦٨٧ ق ١

٣۔ ابن کلبی کی '' تلخیص جمہرہ '' ( ص ٨١) قلمی نسخہ، جو قم میں آیت اللہ مرعشی نجفی کی لائبرئری میں موجود ہے۔

٤۔ ابن حزم کی ''جمہرۂ انساب '' ( ص ٢٠٦)

عبد اللہ بن حارث کے حالات

١۔ ابن عبد البر کی '' استیعاب '' ( ١ ٣٤٤) نمبر: ١٤٧٩

٢۔ ابن اثیر کی '' اسد الغابہ'' ( ٣ ١٣٨)

٣۔ ابن حجر کی '' اصابہ'' (٣ ١٣٠) نمبر : ٦٥٨٨


عبد اللہ بن زید بن صفوان کے حالات :

١۔ ابن اثیر کی '' اسد الغابہ'' ( ٣ ١٦٧)

٢۔ ابن حجر کی '' اصابہ'' ( ٢ ٣٠٤) نمبر: ٤٦٨٧۔

عبدا للہ بن حرث کے حالات:

١۔ ابن حجر کی '' اصابہ'' (٣ ١٣٠) نمبر: ٦٥٨٨و ٦٥٨٩

حلیس بن زید کے حالات:

١۔ ابن اثیر کی '' اسد الغابہ'' (٢ ٤٤)

٢۔ ابن حجر کی '' اصابہ'' (١ ٣٥٠) نمبر: ١٨١٠

٣۔ ذہبی کی '' تجرید'' ( ١ ١٤٧) نمبر: ١٣٢١

حارث بن خضرامہ کے حالات :

١۔ ابن اثیر کی '' اسد الغابہ'' (١ ٣٢٧)

حربن خضرامہ کے حالات اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ اس کی داستان

١۔ ابن حجر کی '' اصابہ'' (٣٢٢١) نمبر: ١٦٩١


انتیسواں جعلی صحابی کبیس بن ہوذہ سدوسی

اس صحابی کا نام و نسب:

'' استیعاب'' ، '' اصابہ'' اور '' تجرید'' میں اس صحابی کا نام '' کبیس بن ھوذہ '' لکھا گیا ہے۔

ابن حجر اپنی کتاب '' اصابہ'' میں اسی نام کو درج کرتے ہوئے لکھتا ہے:

'' ابن شاہین'' کے ایک قدیمی نسخہ میں یہ نام '' کنیس'' ثبت ہوا ہے۔

ابن مندہ کی کتاب '' اسماء الصحابہ'' کے قلمی نسخہ میں یہ نام '' کبیش بن ہودہ '' درج ہوا ہے اور ابن اثیر نے بھی اپنی کتاب '' اسد الغابہ '' میں اسی نام کو قبول کرکے '' ابن مندہ کی پیروی کی ہے۔

اس صحابی کا نسب: '' اسماء الصحابہ'' ، '' اسد الغابہ '' اور '' اصابہ '' میں لکھا گیا ہے کہ سیف بن عمر نے اس صحابی کا تعارف ' ' خاندان ِ بنی بکر و ائل عدنانی '' کے قبیلۂ بنی حارث بن سدوس '' سے کرایا ہے۔

ابن حزم نے اپنی کتاب '' جمہرہ'' میں بنی حارث کے ایک گروہ کے حالات کی تشریح کی ہے ، لیکن ان میں '' کبیس'' یا '' کنیس''یا '' کبیش'' نام کا کوئی صحابی اور '' ھوذہ '' یا '' ھودہ'' نام کا کوئی باپ ۔

'' سمعانی'' نے بنی حارث بن سدوس کے ایک گروہ کا نام لفظ السدوسی '' میں لیا ہے لیکن ان باپ بیٹوں کا کہیں نام بھی نہیں لیا ہے۔


کبیس بن ہوذہ کی داستان :

ابن عبدا لبر اپنی کتاب '' استیعاب '' میں اس صحابی کے بارے میں صرف اتنا لکھتا ہے کہ:

'' ایاد بن لقیط نے اس سے روایت کی ہے ''

اس کے بعد کسی چیز کا اضافہ نہیں کیا ہے اور اس کی سند بھی ذکر نہیں کی ہے ۔

ابن مندہ اپنی کتاب '' اسماء الصحابہ '' میں اپنے ہی اسناد سے لکھتا ہے:

سیف بن عمر نے عبد اللہ بن شبرمہ سے اس نے ایاد بن لقیط سدوسی سے اس نے بنی حارث بن سدوس کے ایک شخص کبیش بن ہوذہ سے روایت کی ہے کہ وہ بیش پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچا ، آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیعت کی اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی اس کیلئے کچھ فرمان مرقوم فرمائے ہیں ۔

اس داستان کے آخرمیں ابن مندہ اظہار نظر کرتے ہوئے لکھتا ہے:

'' ابن شبرمہ کی یہ حدیث حیرت انگیز دکھائی دیتی ہے''

ابن اثیر اپنی کتاب '' اسد الغابہ '' میں مذکورہ داستان کو درج کیا ہے اور اس کے آخر میں یوں اضافہ کرتا ہے :

اس مطلب کو تین مصادر ( ب ۔ ع ۔ د ) ١

____________________

١۔ ''ب''کتاب ''استیعاب'' کے مصنف ابن عبدالبر ''ع'' : ابو نعیم ، کتاب '' معرفة الصحابہ '' کے مصنف ، ابو نعیم ، حافظ احمد بن عبد اﷲ بن احمد اصفہانی ( ٣٦٠ ۔ ٤٣٠ھ)

''د'' : ابن مندہ ، حافظ ابو عبد اللہ بن مندہ ،محمد بن اسحاق اصفہانی ، جس نے احادیث کی جستجو میں دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کیا ہے ۔ اس کی تالیفات میں سے '' اسماء الصحابہ '' ہے جو خاص طور سے ابن اثیر کی توجہ کا مرکز تھی۔


نے ذکر کیا ہے۔

ذہبی نے بھی اپنی کتاب '' تجرید '' میں لکھا ہے :

سیف نے '' ایاد بن لقیط '' سے نقل کیا ہے کہ '' کبیس'' اپنے قبیلہ کے نمائندہ کی حیثیت سے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچا ہے ۔( ب ۔ ع۔ د)ابن حجر نے بھی اپنی کتاب '' اصابہ '' میں لکھا ہے :

ابن شاہین ١ اور ابن مندہ نے سیف بن عمر سے اس نے عبدا اﷲبن شبرمہ سے اس نے ایاد بن لقیط سے اس نے کبیس بن ہوذہ سے روایت کی ہے کہ ( یہاں پر وہی مذکورہ داستان نقل کی ہے )

اس کے بعد ابن حجر اضافہ کرکے لکھتا ہے :

یہ داستان صرف اسی طریقہ سے پہنچی ہے اور ابن مندہ نے بھی کہا ہے کہ : ابن شبرمہ کی یہ داستان تعجب خیزہے !!!

خلاصہ :

سیف نے اس حدیث میں کبیس بن ہوذہ کو بنی حارث بن سدوس کے ان صحابیوں میں سے خلق کیا ہے جن کے ہمراہ اس نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچ کر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیعت کی تھی اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی اس کیلئے ایک فرمان مرقوم فرمایا تھا۔ یہیں سے اس قسم کا نام پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں کی

____________________

١۔ ابن شاہین ، حافظ ابو حفص بن شاہین ، عمر بن احمد بن عثمان بغدادی ( ٢٩٧ ۔ ٣٨٥) ہے ۔ اس کی تالیفات و تصنیفات کی تعداد چھتیس بتائی گئی ہے ، من جملہ کتاب '' معجم الشیوخ '' ہے جس میں سرکردہ روات حدیث شامل ہیں ۔ ابن حجر نے اپنی کتاب ' ' اصابہ '' میں اس کتاب سے نقل کیا ہے۔


فہرست اور ''معجم الشیوخ '' کے سرکردہ راویوں میں قرار پاتا ہے اور اس کے نام رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ایک خیالی خط ایک حقیقی اورمسلم سند کے طور پر کتاب '' مجموعة الوثائق السیاسیة '' میں درج کیا جاتا ہے !!

ہم نے اس نمائندہ صحابی کو پہچاننے کیلئے سیرت اور تاریخ کی کتابوں جیسے ، ابن سعد کی ''طبقات '' ابن ہشام کی '' سیرة'' بلاذری کی '' انساب الاشراف'' اور مقریزی کی '' امتاع الاسماع '' کے علاوہ دوسری کتابوں کا بھی مطالعہ کیا لیکن پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچنے والے مختلف وفود اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میں کہیں بھی '' کبیس'' کا نام نہیں دیکھا اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فرامین میں کبیس کے نام پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کسی فرمان یا خط کا مشاہدہ نہیں کیا ! بلکہ ہم نے سیف کے اس خلق کردہ صحابی کو صرف سیف کی احادیث میں اور اس کے راویوں کے ہاں پایا۔

افسانۂ کبیس کے اسناد کی پڑتال

ہم نے کہا کہ کتاب '' استیعاب '' کے مصنف ابن عبد البر نے اس صحابی کے حالات کی تشریح میں اس کی سند کا ذکر نہیں کیا ہے۔

ابن مندہ نے کبیس کی داستان کو سیف سے نقل کرکے اور ابن اثیر نے اسے تین مآخذ '' ب ۔ ع، د'' کی علامت کے ساتھ درج کیا ہے ۔

ذہبی نے اپنی کتاب '' تجرید ''میں کبیس کی نمائندگی کو سیف کی روایت کے مطابق ایاد بن لقیط سے نقل کیا ہے اور آخر میں ابن اثیر کے مآخذ کی اختصاری علامت '' ب ، ع، د'' کی قید لگادی ہے۔

ابن حجر نے اپنی کتاب '' اصابہ'' میں داستان کبیس کو ابن مندہ اور ابن شاہین کے قول کے مطابق نقل کیا ہے۔


دوسری طرف ہم نے دیکھا کہ ابن مندہ، ابن شبرمہ کی اس حدیث پر تعجب کا اظہار کرتا ہے اور ابن حجر نے بھی اعتراف کیا ہے کہ یہ داستان صرف اس سند کے علاوہ کسی اور راوی سے نہیں ملی ہے ، یعنی ابن شبرمہ تنہا شخص ہے جس نے یہ داستان بیان کی ہے۔ اس روایت کی تنہا سند '' ایاد بن لقیط '' ہے اور اس کا مرکزی کردار ''کبیس بن ہوذہ '' ہے !! یہی مسئلہ اس امر کا سبب بنتا ہے کہ مذکورہ دو دانشور ابن شبرمہ کی حدیث پر تعجب کا اظہار کریں جبکہ وہ اس امر سے غافل تھے کہ بیچارہ ابن شبرمہ کا کوئی قصور ہی نہیں ہے بلکہ اصلی مجرم اور قصوروار سیف بن عمر ہے جس نے جھوٹ گڑھ کر ابن شبرمہ کے سر تھوپا ہے !

کتاب '' تجرید'' میں ذہبی کی بات بھی ہمارے دعوے کو ثابت کرتی ہے جب وہ داستان کبیس بیان کرتے وقت کنایہ کے طور پر لکھتا ہے :

'' سیف کی روایت کی بناء پر ''

اس بنا پر سیف کی اس حدیث کے مآخذ حسب ذیل ہیں :

١۔ عبد اللہ بن شبرمۂ ضبی کوفی ( ٧٢ ۔ ١٤٤ ھ )جو ان علماء کے نزدیک ثقہ اور ایک قابل اعتماد شخص تھا۔

٢۔ ایاد بن لقیط سدوسی : اسے تابعین کے چوتھے در جے میں قرار دیا گیا ہے اور ان کی نظر میں ثقہ ہے۔

٣۔ بنی حرث بن سدوس سے خود کبیس بن ہوزہ ، چونکہ ہم نے اس کی داستان اور نام سیف اور اس کے راویوں کے علاوہ کہیں نہیں دیکھا لہذا اس کو سیف کے جعلی اصحاب اور راویوں میں شمار کرتے ہیں ۔

داستان کبیس کا نتیجہ

١۔ ایک نمائندہ صحابی ، جس کے حالات پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حقیقی صحابیوں کی فہرست میں قرار دئیے گئے ہیں ۔

٢۔ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حدیث شریف کا ایسا راوی جس کے حالات '' معجم الشیوخ'' کی روایتوں میں ملتے ہیں ۔

٣۔ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ایک خط، جس کا ذکر بعض متاخرین کے ذریعہ کتاب '' مجموعة الوثائق السیاسیہ'' میں کیا گیا ہے

ان سب کو سیف نے تن تنہا خلق کیا ہے اور اپنے اس جعلی صحابی اور دو نامور راویوں ۔۔ کہ ہم جن کی گردن پر ابن مندہ و ابن حجر کے برخلاف سیف کے جھوٹ کا گناہ ڈالنا نہیں چاہتے ۔۔ کی زبانی روایت نقل کی ہے ۔


افسانۂ کبیس کی اشاعت کے ذرائع:

١۔ ابن شاہیں ( وفات ٣٨٥ ھ ) نے کتاب '' معجم الشیوخ'' میں ۔

٢۔ ابن مندہ ( وفات ٣٩٥ ھ ) نے کتاب '' اسماء الصحابہ میں ۔

٣۔ ابو نعیم ( وفات ٤٣٠ ھ ) نے کتاب '' معرفة الصحابہ '' میں ۔

٤۔ ابن عبد البر ( وفات ٤٦٣ ھ )نے کتاب '' الاستیعاب فی معرفة الصحابہ '' میں ۔

٥۔ ابن اثیر ( وفات ٦٣٠ ھ)نے کتاب '' اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ '' میں ۔

٦۔ ذہبی ( وفات ٧٤٨ ھ ) نے کتاب '' تجرید اسماء الصحابہ '' میں ۔

٧۔ ابن حجر ( وفات ٨٥٢ ھ)نے کتاب '' الاصابة فی تمییز الصحابہ'' میں ابن شاہین سے نقل کرکے۔

٨۔ اور حال ہی میں محمد حمید اللہ نے کتاب '' مجموعة الوثائق السیاسیة '' میں ابن کثیر سے نقل کرکے اس نے لکھا ہے کہ: اس خط کا متن نقل نہیں ہوا ہے۔

مصادر و مآخذ

کبیس کا نسب ، اس کے حالات اور داستان :

١۔ ابن عبد البر کی '' استیعاب '' ( ١ ٢٢٧) نمبر : ٩٧٠

٢۔ ابن مندہ کی '' اسماء الصحابہ '' مدینۂ منورہ میں شیخ الاسلام لائبریری میں موجود قلمی نسخہ۔

٣۔ ابن اثیر کی '' اسد الغابہ '' ( ٤ ٢٣١)

٤۔ ذہبی کی '' تجرید '' ( ٢ ٢٩ )

٥۔ '' اصابہ'' (٣ ٢٧٠) نمبر : ٧٣٧٦

٦۔ سمعانی کی '' انساب '' لفظ '' السدوسی '' نمبر : ٢٩٤

٧۔ ابن حزم کی ''جمہرہ '' ( ص ٢٩٨۔ ٢٩٩)


ابن شاہین کے حالات

١۔ ' ' تاریخ بغداد '' ( ١١ ٢٦٥ ) نمبر: ٦٠٢٨

٢۔ '' کشف الظنون '' ( ٢ ١٧٣٥)

٣۔ ''ھدیة العارفین '' (٢ ٧٨١)

٤۔ '' شذرات '' ( ٣ ١١٧)

٥۔ اعلام زرگلی ( ٥ ١٩٦)

٦۔ ''معجم المؤلفین '' ( ٧ ٢٧٣)

ابن مندہ کے حالات :

١۔ '' عبر ذہبی '' ( ٣ ٥٩)

٢۔ ''کشف الظنون'' (١ ٨٩)

٣۔ '' ھدیة العارفین'' ( ٢ ٥٧)

ابو نعیم کے حالات:

١۔ '' عبر ذہبی '' (٣ ١٧٠)

٢۔ ' ' کشف الظنون '' (٢ ١٧٣٩)

عبد اللہ شبرمہ کے حالات

١۔ تاریخ بخاری ٣ ق ( ١ ١١٧)

٢۔ '' جرح و تعدیل'' رازی ٢ ق ( ٢ ٨٢) اسی طرح تہذیب میں ۔


ایاد بن لقیط کے حالات :

١۔ تاریخ بخاری ١ ق ( ٢ ٦٩)

٢۔ ابن عساکر کی '' تہذیب '' ( ١ ٣٨٦)

٣۔ '' الجمع بین رجال الصحیحین'' ( ١ ٥٢)

٤۔ '' تقریب'' (١ ٨٦)

ڈاکٹر محمد حمید اللہ کا نظریہ :

١۔ مجموعہ وثائق سیاسی ص ٩٩ نمبر : ٢٣٤ طبع قاہرہ ، انجمن تالیف و ترجمہ و نشر کتاب ١٩٤١ ئ

اسناد

١۔ معجم قبائل العرب '' رضا کحالہ ج٢ طبع ہاشمیۂ دمشق ١٩٤٩ ئ

٢۔ ابن درید کی '' اشتقاق ''

٣۔ نویری کی '' نہایة الارب ''

٤۔ ابن اثیر کی '' لباب الانساب''


چوتھا حصہ

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ابو بکر کے گماشتے اور کارگزار

*٣٠۔ عبید بن صخر بن لوذان انصاری ، سلمی

*٣١۔ صخر بن لوذان

*٣٢۔ عکاشہ بن ثور

*٣٣۔ عبد اللہ بن ثور

*٣٤۔ عبید اللہ بن ثور


تیسواں جعلی صحابی عبید بن صخر

اس صحابی کے تعارف کے سلسلہ میں ہم کتاب '' استیعاب''میں یوں پڑھتے ہیں :

عبید بن صخر بن لوذان انصاری ان افراد میں سے ہے جسے پیغمبرخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے گماشتے اور گارگزار کی حیثیت سے یمن میں ممور فرمایا تھا۔

کتاب '' اسد الغابہ'' اور '' تجرید'' میں آیا ہے:

عبید ان افراد میں سے ہے جسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے معاذ بن جبل ١کے ہمراہ یمن بھیجا ہے وہ

کتاب '' اصابہ'' میں بھی یوں لکھا ہے:

بغوی اور دوسروں نے اس ۔۔ عبید بن صخر ۔۔ کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میں شمار کیا ہے۔ ابن سکن کہتا ہے : کہا گیا ہے کہ اس نے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مصاحبت کا شرف حاصل کیا ہے۔ لیکن اس حدیث کے اسناد صحیح اور قابل اعتبار نہیں ہیں ۔

____________________

١۔ معاذ بن جبل انصاری ٢١ سالہ تھے جب انہوں نے جنگِ بدر میں شرکت کی تھی ۔ عمر ، دوسرے خلیفہ نے معاذ کی تعریف میں کہا ہے : '' عورتیں معاذ جیسے مرد کو جنم دینے میں بے بس ہیں '' معاذ نے ١٧ یا ١٨ ھ میں طاعون میں مبتلا ہونے کی وجہ سے وفات پائی ۔ '' اسد الغابہ (٣ ٤٠٦)


اس صحابی کا نسب

طبری نے اپنی تاریخ میں سیف کی روایت سے استناد کرکے عبید کے نسب کو یوں بیان کیا ہے:

'' عبید بن صخر بن لوذان سلمی''

البتہ اس شجرۂ نسب کو سیف نے گھڑ لیا ہے اور طبری نے اسے اپنی کتاب میں درج کیا ہے۔جبکہ نہ مادۂ '' سلمی'' میں انصار کے زمرہ میں عبید بن صخر کا کہیں نام آیا ہے اور نہ بنی لوذان۔ یہ بات بھی کہہ دیں : جیسا کہ انساب کی کتابوں میں آیا ہے کہ '' لوذان'' اور '' سلمی'' ایک قبیلہ میں قابل جمع نہیں ہیں ، کیونکہ سلمی بنی تزید بن جشم بن خزرج کے سلسلۂ سلمة بن سعد'' کی طرف نسبت ہے ١

اب اگر لوذان '' اوسی'' ہو تو اس قبیلہ سے ہوگا : '' لوذان بن عمرو بن عوف ابن مالک بن اوس'' اس صورت میں واضح ہے کہ یہ قبیلہ سلمی خزرجی کے نسب سے وابستہ نہیں ہوسکتا ہے۔

لیکن اگر ''لوذان ''خزرجی ہو تو درج ذیل تین قبیلوں میں سے ایک میں قرار پائے گا:

١۔ لوذان بن سالم ، بنی عوف بن خزرج سے۔

٢۔ لوذان بن عامر ، بنی حارث بن خزرج سے ۔

____________________

١۔ کتاب لباب الانساب میں یہ نسب اس طرح آیا ہے ، ضمناً نحویوں نے '' سلمی '' کے ''لام'' کو مفتوح (زَبَر) اور محدثین نے مکسور ( زیر) پڑھا ہے۔


٣۔ لوذان بن حارثہ ، بنی مالک بن زید مناة سے ، غضب بن جشم بن خزرج کے پوتوں میں سے۔

یہ سب ۔۔ لوذان١۔۔ عوف بن خزرج ، حارث بن خزرج اور غضب بن خزرج کے بیٹے ہیں جبکہ سلمیٰ کی اولاد بنی تزید بن جشم بن خزرج کے فرزند ہیں ۔

عبید بن صخر کی داستان

عبید کی یمن میں ماموریت : عبید کی داستان درج ذیل سات روایتوں کے ذریعہ معتبر مصادر میں ثبت ہوئی ہے:

١۔ '' تاریخ طبری'' میں سیف بن عمر سے روایت ہوئی ہے کہ اس نے کہا:

سہل بن یوسف نے اپنے باپ سے اس نے عبید بن صخر لوذان انصاری سلمی سے حکایت کی ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ١٠ ھ میں حجة الوداع کے مناسک انجام دینے کے بعد اپنے چند دیگر گماشتوں اور کارندوں کے ہمراہ عبید کو مموریت دی (یہاں تک کہ کہتا ہے) :

معاذ بن جبل کو بھی احکام اور قوانین اسلام کے معلم کے عنوان سے علاقہ حضرموت کی طرف روانہ فرمایا ۔

ابن حجر نے بھی اپنی کتاب '' اصابہ'' میں عبید کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے اسی روایت کی طرف اشارہ کیا ہے۔

____________________

١۔'' لوذان'' کے بارے میں ابن حزم کی کتاب ''جمہرہ'' کی طرف رجوع فرمائیں ۔


٢۔ طبری پھر اسی مذکورہ سند سے استناد کرکے لکھتا ہے : عبید بن صخر سے روایت ہوئی ہے کہ اس نے کہا:

جب ہم '' جَنَد'' ١ میں تھے اور وہاں کے باشندوں پر شائستہ صورت میں حکومت کرتے تھے ۔ ہمارے درمیان خطوط اور قراردادوں کا تبادلہ ہوتا تھا، اسی اثناء میں اسود کی طرف سے مندرجہ ذیل مضمون کا ایک خط ہمارے پاس آیا:

ہمارے اورپر مسلط ہوئے تم لوگوں کو میں خبردار کرتا ہوں کہ جو کچھ ہماری سرزمنیوں سے لے چکے ہو ، انہیں ہمارے لئے ایک جگہ جمع کردو کہ ہم ان چیزوں پر تم سے تصرف کا تم سے زیادہ حق رکھتے ہیں ....( یہاں تک کہ عبید کہتا ہے ) ہمیں اطلاع ملی ہے کہ ۔۔۔ اسود ۔۔ نے '' باذام'' ٢ کو قتل کرکے ایرانیوں کو وہاں سے بھگا دیا ہے اور صنعا پر قبضہ کرلیا ہے ۔ معاذ بن جبل نے بھی فرار کرکے ابو موسیٰ اشعری ٣ کے ہمراہ حضرموت میں پناہ لے لی ہے ۔ دوسرے گورنر اور علاقہ کے

____________________

١۔حموی کی '' معجم البلدان'' میں لفظ ''جَنَد'' کے بارے میں یوں آیا ہے : اسلام کے دور میں حکومتی لحاظ سے یمن تین علاقوں میں تقسیم ہوتا تھا۔ ان میں سے سب سے بڑا '' جَنَد'' نام کا علاقہ تھا ۔ یہ صنعا سے ٥٨ فرسخ کی دوری پر واقع ہے

٢۔ باذام یا باذان ایک ایران ی تھا جو جو گزشتہ زمانے میں ایران کے بادشاہ کی طرف سے یمن پر حکومت کرتا تھا ۔ ایران کے بادشاہ کے مرنے کے بعد باذام اسلام لایا اور مرتے دم تک یا مدعی پیغمبری '' اسود'' کے ہاتھوں قتل ہونے تک اسی حالت میں یمن میں زندگی بسر کرتا رہا '' اصابہ'' ابن حجر ( ١ ١٧١) '' فتح البلدان'' بلاذری ( ١٢٦)

٣۔ ابو موسیٰ اشعری ، اس کا نام عبد اللہ بن قیس ہے جو قبائل قحطان کے بنی اشعر سے ہے ابو موسیٰ مکہ آیا اور سعید بن عاص اموی سے عہد و پیمان کر کے پھر اسلام لایا۔ عمر نے اپنی خلافت کے زمانے میں اسے بصرہ کا گورنر منصوب کیا ۔ لیکن عثمان کے خلافت پر بیٹھنے کے بعد اسے معزول کیا گیا اور ایک بار پھر لوگوں کے مطالبے پر اسے کوفہ کا گورنر مقرر کیا اور امیر المؤمنین کی خلافت تک اسی عہدے پر فائز تھا ۔ امیر المؤمنین نے ابو موسیٰ کو کوفہ کی گورنر سے معزول کیا ۔ جب صفین کی جگں میں مسئلہ حکمیت پیش آیا تو عراق کے لوگوں نے امیر المؤمنین کی مرضی کے خلاف ابو موسی کو حَکَم کے عنوان سے انتخاب کیا ۔ ابو موسیٰ نے یہاں پر عمرو عاص سے دھوکہ کھایا او شرمندگی کی حالت میں مکہ چلا گیا اور وہیں پر ٤٢ یا ٤٤ یا ٥٢ میں وفات پائی ، '' استیعاب '' ، '' اسد الغابہ '' اور '' اصابہ '' میں اس کے حالات درج ہیں ۔


گماشتے طاہر ابو ہالہ کے گرد جمع ہوئے ہیں ۔

ابن حجر بھی عبید کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنی کتاب '' اصابہ'' میں اس داستان کا آغاز کرتا ہے:

اور سیف نے اپنی کتاب '' فتوح'' میں ذکر کیا ہے ( مذکورہ داستان کو نقل کرتا ہے )

٣۔ طبری ایک دوسری جگہ پر اپنی کتاب میں اسی گزشتہ سند کے مطابق لکھتا ہے :

عبید بن صخر سے روایت ہوئی ہے کہ اس نے کہا: اسودعنسی کے کام میں آغاز سے انجام تک تین مہینے لگ گئے۔

طبری کے ہاں عبید کی یہی روایتیں تھی جو ہم نے بیان کیں ۔ لیکن دوسروں کے ہاں درجِ ذیل مطالب دیکھنے میں آتے ہیں :

٤۔ ابن مندہ نے اپنی کتاب '' اسماء الصحابہ ''میں اور ابن اثیر نے '' اسد الغابہ'' میں سیف بن عمر سے اس نے سہل بن یوسف بن سہل انصاری سے اس نے اپنے باپ سے اس نے عبید بن صخر بن لوذان انصاری سے نقل کرکے لکھا ہے:

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یمن میں موجود اپنے تمام گماشتوں اور کارندوں کو یہ حکم دیا کہ : قرآن زیادہ پڑھیں ، ایک دوسرے کی مسلسل پند و نصیحت کریں ، کیونکہ مموریت کے علاقہ

میں گماشتوں اور کارندوں کیلئے وہ سب سے زیادہ طاقتور پشت پناہ ہے جو خدا کی


مرضی کے مطابق عمل کرے۔دوسروں کی ملامت اور سرزنش سے خوفزدہ نہ ہونا اور جس خدا کی طرف پلٹنا ہے اسے مد نظر رکھنا۔

ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ'' میں اسی مطلب کو ابن سکن، بغوی اور طبری سے نقل کرکے درج کیا ہے جبکہ ہم نے تاریخ طبری کے نسخوں میں اس قسم کی حدیث کو نہیں پایا ۔

٥۔ ابن عبدا لبر '' استیعاب'' میں لکھتا ہے :

سیف نے سہل بن یوسف بن سہل سے اس نے اپنے باپ سے اور اس نے عبید بن صخر لوذان ١ انصاری سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا:

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حکم دیا تھا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتے اور کارندے یمن میں ہر تیس گائے میں سے ایک سالہ گائے کا ایک بچھڑا اور ہر چالیس گائے میں سے ایک گائے کو صدقات کے طور پر وصول کریں اور ان دو حد نصاب کے درمیان ادا کرنے والے پر کوئی اور چیز بعنوان زکات نہیں ہے۔

ابن اثیر اسی حدیث کو '' اسد الغابہ '' میں نقل کرتے ہوئے اضافہ کرتا ہے اس حدیث کو دیگر تین مصادر نے بھی نقل کیا ہے۔

ابن اثیر کی مراد یہ ہے کہ سیف کی اس حدیث کو ابن عبد البر نے'' استیعاب'' میں ابن مندہ نے '' اسماء الصحابہ'' میں اور ابو نعیم نے ''معجم الصحابہ'' میں نقل کیا ہے۔

٦۔ چند دانشوروں جیسے : بغوی نے اپنی کتاب '' معجم الصحابہ '' میں ،معاذبن جبل کے حالات

____________________

١۔ لوذان '' ک سلسلے میں ابن حزم کی ''جمہرۂ انساب '' مطالعہ کی جائے۔


میں ابن قانع نے اپنی کتاب''معجم الصحابہ'' میں اور ابن مندہ نے اپنی کتاب '' اسماء الصحابہ'' میں عبید بن صخر کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے :

سیف بن عمر نے سہل بن یوسف بن سہل سے ، اس نے اپنے باپ سے اس نے عبید بن صخر بن لوذان سے ۔۔ جو خود ان افراد میں سے تھا جسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے دیگر گماشتوں کے ہمراہ مموریت پر یمن بھیجا تھا۔۔۔ روایت کی ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے معاذ بن جبل کو یمن کی طرف بعنوان معلم روانہ کرتے وقت فرمایا :

میں دین میں تمہارے مقام و منزلت اور یہ کہ تم نے کس حدتک دین سے استفادہ کیا ہے ، جانتا ہوں ، میں نے '' تحفہ و تحائف '' تم پر حلال کردئے پس اگر تم نے تحفہ کے عنوان سے کوئی چیز دی جائے تو اسے قبول کرنا ! معاذ بن جبل جب یمن سے مدینہ واپس آرہے تھے ، تو تیس جانوروں کو اپنے ہمراہ لے آرہے تھے جو انہیں ہدیہ کے طور پر دئے گئے تھے!!

ابن حجر نے بھی اس حدیث کو عبید کے حالات کی تشریح میں ابن سکن اور طبری سے نقل کر کے اور معاذ کے حالات کی تشریح میں براہ راست سیف کی کتاب '' فتوح '' سے نقل کرکے اپنی کتاب '' اصابہ'' میں درج کیا ہے جب کہ ہم نے مذکورہ حدیث کو تاریخ طبری کے موجودہ نسخوں میں نہیں پایا۔

٧۔ ذہبی اپنی کتاب '' سیر اعلام النبلاء '' میں معاذ بن جبل کے حالات میں لکھتا ہے :

سیف بن عمر نے سہل بن یوسف بن سہل سے اس نے اپنے باپ سے اس نے عبید بن صخر سے روایت کی ہے کہ جب معاذ بن جبل رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے مموریت پر صوب کی طرف روانہ ہورہے تھے تو رخصت کے وقت آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے فرمایا:

خدا تجھے ہر حادثہ کے مقابلے میں محفوظ رکھے اور تجھے جن و انسان کے شر سے بچائے ۔ جب معاذ چلے گئے تو رسول خدا نےصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم امکی ستائش میں فرمایا : وہ ایسی حالت میں دنیا سے اٹھے گا کہ اس کا مقام علماء و محققین سے بہت بلند ہوگا!!


بغوی نے بھی اس حدیث کو چند الفاظ کے اختلاف کے ساتھ معاذ کی تشریح میں درج کیا ہے۔

جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ جن دانشوروں نے عبید بن صخر کے حالات کی تشریح میں اس کو اصحاب کے زمرہ میں شمار کیا ہے انہوں نے سیف کی ان ہی سات احادیث پر اعتماد کیا ہے۔

ابن قدامہ نے بھی سیف کی پانچویں حدیث پر اعتماد کرکے اپنی کتاب '' انصاری اصحاب کا نسب 'میں عبید کے حالات کی تشریح کرتے ہوئے دو جگہوں پر یوں بیان کیا ہے ۔

١۔ کتاب کے آخر میں چند معروف و مشہور اصحاب کا تعارف کراتے ہوئے عبید کے حالات کی تشریح میں لکھتا ہے :

عبید بن صخر بن لوذان انصاری کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے گماشتے کے طور پر مموریت دی ہے ۔ یوسف بن سہل نے اس سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا : پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حکم فرمایا تھا کہ آپ کے گماشتے ہر تیس گائے کے مقابلہ میں ایک سالہ گائے کا ایک پچھڑا اور ہر چالیس گائے کے مقابلے میں ایک گائے کو صدقات کے طور پر وصول کریں اور ان دو حدِ نصاب کے درمیان کسی چیز کا تعین نہیں ہوا ہے۔

٢۔ ''بنو مالک بن زید مناة'' کے باب میں بھی اس کے حالات کی تشریح کی گئی ہے ۔ ابن قدامہ نے عبید کے حالات کی وضاحت معروف و مشہور اصحاب کے باب میں کی ہے ، کیونکہ عبید کی روایت کا ماخذ صرف سیف تھا اور سیف نے بھی عبید ، اس کے باپ اور جد کے نام کے علاوہ کسی اور کا نام نہیں لیا ہے۔چونکہ '' ابن قدامہ '' کو سیف کے اس جعلی صحابی کے شجرۂ نسب کا کوئی پتا نہ ملا لہذا مجبور ہوکر اسے ان صحابیوں کے باب میں قرار دیا ہے جو اپنے نام سے پہچانے گئے ہیں ۔

'' ابن قدامہ '' نے عبید کے نام کو دوبارہ ' ' بنو مالک بن زید مناة'' کے باب میں ذکر کیا ہے ، کیونکہ اس نے یہ تصور کیا ہے کہ جس لوذان کو سیف نے عبید کے جد کے طورپر پہچنوایا ہے وہ وہی بنی مالک بن زید مناة کا لوذان بن حارثہ ہے لیکن وہ اس امر سے غافل رہا ہے کہ بنی مالک بن زید مناة ، بنی غضب بن جشم خزرج میں سے ہے اور وہ قبیلہ سلمی کے علاوہ ہیں کہ جس قبیلہ سے سیف نے اپنے عبید کو خلق کیا ہے۔


کیونکہ جیسا کہ بیان کیا گیا کہ انصاریوں کے سلمی بنی سلمہ بن سعد، بنی تزید بن جشم بن خزرج سے ہیں کسی اور قبیلہ سے نہیں ۔

ساتویں صدی ہجری کا نامور نسب شناس ابن قدامہ عبید بن صخر اور اس کی داستان کو مندرجہ ذیل مشہور و معروف کتابوں میں دیکھ کر متثر ہوا ہے ِ:

١۔ سیف ابن عمر کی کتاب ' ' فتوح'' ( ١٢٠ ھ تک با حیات تھا)

٢۔۔ امام المؤرخین طبری کی تاریخ ( وفات ٣١٠ ھ

٣۔ بغوی کی '' معجم الصحابہ'' ( وفات ٣١٧ ھ )

٤۔ ابن قانع کی '' معجم الصحابہ'' (وفات ٣٥١ ھ)

٥۔ اسحاق بن مندہ کی '' اسماء الصحابہ'' ( وفات ٣٩٥ھ)

٦۔ ابو نعیم ( وفات ٤٣٠ ھ) کی '' معرفة الصحابہ'' ابن اثیر کی روایت کے مطابق '' اسد الغابہ' ' میں ۔

٧۔ ابن عبدا لبر ( وفات ٤٦٣ ھ کی '' استیعاب'' میں

٨۔ ابن مندہ ( وفات ٤٧٠ ھ) کی '' التاریخ المستخرج من الحدیث''

٩۔آخر میں ابن قدامہ ( وفات ٦٢٠ ھ ) کی '' نسب الصحابہ من الانصار '' ۔ابن قدامہ نے مذکورہ کتابوں کے علاوہ ان جیسی دیگر کتابوں میں عبید کا نام دیکھا ہے اور یہ تصور کیا ہے کہ عبید رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کا صحابی تھا۔اسی لئے اس کے نام کو اپنی کتاب میں درج کیا ہے۔

لیکن اس نے اور مذکورہ دوسرے دانشوروں نے اس مطلب کی طرف توجہ نہیں کی ہے کہ ان تمام روایتوں کا ماخذ صرف سیف بن عمر ہے جو کہ دروغ سازی اور زندیقی ہونے کا ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔

عبید بن صخر کو اصحاب کے حالات پر روشنی ڈالنے والے تمام علماء نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کے زمرے میں قرار دیا ہے ۔لیکن ان حجر کے بقول ابن سکن ( وفات ٣٥٣ ھ) کا کہنا ہے: کہ


لوگ کہتے ہیں : وہ ۔۔ عبید۔۔ اصحاب میں سے ہے ۔ لیکن اس کی حدیث کے اسناد صحیح اور قابل اعتماد نہیں ہیں ۔

اس سے پتا چلتا ہے کہ ابن سکن اس صحابی اور اس کی حدیث کے بارے میں مشکوک تھا لیکن اس نے اپنے شک و شبہہ کے سبب کا اظہار نہیں کیا ہے ۔

ایسا لگتا ہے کہ ابن حجر بھی اس صحابی کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہوا ہے شاید اسی لئے اس نے اپنی بات کے اختتام پر اس کے بارے میں '' ز'' کی علامت لگائی ہے ۔ اور ہم جانتے ہیں کہ ابن حجر اس رمز سے اس وقت کام لیتا جب اس صحابی کے بارے میں دوسرے تذکرہ نویسوں جیسے ، ابن اثیر کی '' اسد الغابہ'' میں اور ذہبی کی '' تجرید '' میں لکھے گئے مطالب پر کچھ اضافہ کرتا یا ممکن ہے یہ غلطی عبارت نقل کرنے والے کی ہو۔

خلاصہ

ہم نے عبید بن صخر کو جس طرح اسے سیف نے خلق کیا ہے اس کی مذکورہ سات روایتوں میں پایا اور سیف نے اپنی اس تخلیق کو اس طرح پہنچوایا ہے:

١۔ عبید وہ شخص تھا جسے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ١٠ ھ میں حجة الوداع کے بعد اپنے گماشتے کی حیثیت سے یمن بھیجا تھا ۔

٢۔ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس دن اپنے کارندوں اور گماشتوں کو یمن کیلئے ممور فرماتے ہوئے تاکید فرمائی ہے کہ اپنے امور میں زیادہ تر قرآن مجید کی طرف رجوع کریں اور

٣۔ تیس گائے کیلئے حد نصاب گائے کے ایک سالہ ایک بچھڑے کو تعیین فرمایا ہے و...

٤۔ اور معاذ بن جبل کو اس کے ہمراہ اہالی یمن اور حضرموت کیلئے معلم معین فرماکر فرمایا: میں نے تحفہ و تحائف تمہارے لئے حلال کردیے ہیں ۔ اور معاذ تیس جانوروں کو لئے مدینہ لوٹا ، جو اسے تحفہ کے طور پر ملے تھے۔

٥۔ یہاں پر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے معاذ کے حق میں دعا کرتے ہوئے فرمایا: وہ قیامت کے دن اس حالت میں اٹھے گا کہ اس کا مقام تمام علماء اور محققین سے بلند ہوگا۔

٦۔ جھوٹی پیغمبری کا دعویٰ کرنے والے '' اسود'' نے پیغمبر خد اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتوں کو لکھا کہ ہماری جن سرزمینوں پر قابض ہوئے ہو ، انھیں واپس کردو، اس نے ایرانیوں سے جنگ کرکے انھیں شکست دی اور نتیجہ کے طور پر پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دو گماشتے اور گورنر معاذ اور ابو موسی جو یمانی قحطانی تھے ، حضرموت بھاگ گئے اور باقی افراد نے یمانی گورنر طاہر ابو ہالہ کے گرد جمع ہوکر وہاں پناہ لی۔


داستان عبید کے ماخذ کی پڑتال

سیف بن عمر نے مذکورہ سات احادیث کو سہل بن یوسف بن سہل سلمی سے اس نے اپنے باپ سے اور اس عبید بن صخر سے کہ سہل ، یوسف اور عبید تینوں سیف کے خیالات کی ہیں ، نقل کرکے بیان کیا ہے

اس بحث و تحقیق کا نتیجہ

سیف نے روایت کی ہے کہ عبید بن صخر یمن میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا کارندہ و گماشتہ تھا ، لیکن ہم نے اس کا نام رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتوں اور کارندوں کی فہرست میں سیف کے علاوہ اور وہ بھی افسانۂ طاہر میں ، کہیں اور نہیں دیکھا ۔ سیف نے عبید کی زبانی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایک حدیث نقل کی ہے جو کہ گائے کی زکات کا نصاب مقرر کرنے ، آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتوں اور کارندوں کی راہنمائی معاذ کیلئے تحفہ لینے کو حلال قرار دینے سے مربوط ہے اس کے علاوہ اس کی زبان سے مدعی پیغمبر '' اسود'' کی بغاوت ، پیغمبر کے گماشتوں اور کارندوں کے ابو ہالہ مضری کے ہاں پناہ لینے اورارتداد کے دیگر واقعات کے بارے میں بھی ایک روایت نقل کی ہے ہمیں اس قسم کے مطالب رجال اور روات کی تشریح سے مربوط کتابوں میں کہیں بھی نہیں ملے۔

جو کچھ ہم نے سیف کے ہاں عبید بن صخر کے بارے پایا یہی تھا جس کا ہم نے ذکر کیا سیف نے ان روایتوں میں عبید کی شجاعتوں اور دلاوریوں کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے اور قصیدوں ، رزمی اشعار اور میدان کارزار میں خودستائیو کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ سیف شجاعتوں ' پہلوانیوں ، جنگی کارناموں اور رجزخوانیوں کو پہلے مرحلہ میں صرف خاندان تمیم کیلئے اور دوسرے درجے میں مضر اور ان کے ہم پیمانوں کیلئے خلق کرتا ہے اس کے بعد کے درجے کے کردار ان کے حامیوں اور طرفداروں کیلئے مخصوص کرتا ہے تاکہ وہ سیف کے اصلی سورماؤں کیلئے مداحی اور قصیدہ خوانی کریں ، اور گرفتاری و مشکلات میں ان کے ہاں پناہ لیں اور ان کے سائے میں اطمینان اور آرام کا سانس لیں ۔ اور یہ وہی دوسرا کردار ہے جسے سیف نے اس افسانہ میں عیبد بن صخر انصاری سبائی یمانی کیلئے بیان کیا ہے ۔


یہاں پر بیجا نہیں ہوگا اگر ہم یہ کہیں کہ سیف نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نسبت دی گئی جھوٹی حدیث کے مطابق اور اس کے دعوے کے مطابق رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم معاذ بن جبل سے فرماتے ہیں '' تحفہ و تحائف کو میں نے تم پر حلال کردیا ہے ' ' یہاں تک کہ کہتا ہے : '' معاذ اپنی ماموریت کی جگہ سے تیس حیوانوں کولے کر مدینہ لوٹے ، جو انہیں تحفہ کے طور پر ملے تھے'' یہ سب اسلئے ہے کہ سیف خاندان '' بنی امیہ '' کے حکام کا دفاع کرے اور حکمرانی کے دوران ان کے نامناسب اقدام اور جبری طور پر لوگوں سے مال لینے اور رشوت ستانیوں کی معاذ کے اس افسانہ کے ذریعہ توجیہ کرے

بنی امیہ کے سرداروں کے اجبار، زبردستی اور رشوت ستانی کی توجیہ کرنے کی سیف کی کوشش اس لئے ہے کہ وہ اس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جن کے مقام و منزلت کا تحفظ اور ان کے افتخارات کا دفاع در حقیقت سیف کا اپنا مشن ہے ۔


اکتیسواں جعلی صحابی صخر بن لوذان انصاری

یہاں تک جو کچھ ہم نے بیان کیا وہ سیف بن عمر کے صرف ایک جعلی اور خیالی صحابی عبید بن صخر کے بارے میں اس کے جھوٹ پر مبنی روایتیں تھیں ۔ لیکن بعض علماء اس سلسلے میں غلط فہمی کا شکار ہوئے ہیں اور اسی سیف کے ایک جعلی صحابی کو دو شخص تصور کر بیٹھے ہیں اور ہر ایک کے حالات پر الگ الگ تشریحیں لکھی ہیں ، ملاحظہ فرمائیے:

ابو القاسم ، عبد الرحمان بن محمد بن اسحاق بن مندہ ( وفات ٤٧٠ ھ) ١ اپنی کتاب ''التاریخ المستخرج من کتب الناس فی الحدیث'' کے باب ''صاد'' میں یوں لکھتا ہے :

صخر بن لوذان ، حجاز کا رہنے والا اور عبید کا باپ ہے ۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے عمار کے ہمراہ مموریت پربھیجا ہے ۔ درج ذیل حدیث اس کے بیٹے عبید نے اس سے روایت کی ہے:

تعاهدو الناس بالتذکرة و الموعظة

اس کے بعد باب '' عین'' میں لکھتا ہے:

عبید بن صخر بن لوذان حجاز کا باشندہ ہے اور یوسف بن سہل انصاری نے اس سے حدیث قرآن اور

____________________

١۔ جیسا کہ کتاب ا'' العبر'' (٣ ٢٧٤) میں آیا ہے کہ ابو القاسم در اصل اصفہانی تھا ، وہ حافظِ حدیث اور بہت سی کتابوں کا مصنف تھا ، اس کے بہت سے مرید تھے اہل سنت ، مکتف خلفاء کی پیروی کرنے میں سخت متعصب انسان تھا اور خدا کے لئے جسم کا قائل تھا ، ابو القاسم نے ٨٩ سال زندگی کی ہے)


کتاب کی روایت کی ہے ۔

اس طرح ابن مندہ کا پوتا ابو القاسم غلط فہمی کا شکار ہوا ہے اور سیف کے ایک جعلی صحابی کو دو شخص سمجھ کر اس کی ایک من گڑھت حدیث کو دو حدیث تصور کیا ہے اور انہیں اپنی کتاب میں درج کیا ہے !

یہ اس حالت میں ہے کہ سیف کا جعلی صحابی وہی عبید بن صخر لوذان ہے جس کے لئے سیف نے حدیث گڑھی ہے جو ابن اثیر کی '' اسد الغابہ'' اور ابن حجر کی '' اصابہ'' میں درج ہوئی ہے ، حسبِ ذیل ہے:

سیف بن عمر نے سہل بن یوسف بن سہل سے اس نے اپنے باپ سے اور اس نے عبید بن صخر بن لوذان سے روایت کی ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے گماشتوں اور کارندوں کو یمن میں متعین کرکے فرمایا :

تعاهدوا القرآن بالمذاکرة و اتبعوا الموعظة

لیکن اس جعلی حدیث کا متن ابن مندہ کی کتاب '' اسماء الصحابہ '' میں تحریف ہو کر یوں ذکر ہوا ہے:

تعاهدوا الناس بالمذاکرة و اتبعوا الموعظة

اور یہی امر ابو القاسم کے غلط فہمی سے دوچار ہونے کا سبب بنا ہے اوروہ اس ایک حدیث کو دو تصور کر بیٹھا ہے ان میں سے ایک '' تعاھدوا الناس بالمذاکرہ'' کو اس کے خیال میں عبید نے اپنے باپ صخر سے نقل کیا ہے اور دوسری '' تعاھدوا القرآن بالمذاکرہ...'' جسے اس کے زعم میں یوسف بن سہل نے عبید سے قرآن و کتاب کے بارے میں نقل کیا ہے۔

یہاں پر ہم تقریباً یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ان دو دانشوروں کے سیف کی ایک خیالی حدیث کو دو جاننے کا سبب یہی تھا ۔ لیکن ہم یہ سمجھنے سے قا صر ہیں کہ کس طرح عبید کے باپ ، صخر کے بارے میں غلطی فہمی کا شکار ہو اہے اور تصور کیا ہے کہ سیف نے اس سے اس کے بیٹے عبید کے ذریعہ یہ حدیث روایت کی ہے ؟ جبکہ ہم نے گزشتہ تمام مصادر میں کہیں ایسی چیز نہیں دیکھی ۔

ہم یہ بھی کہہ دیں کہ یہدانشور اسی سلسلہ میں چند دیگر غلط فہمیوں کا بھی شکار ہوا ہے جیسے لکھتا ہے : رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے صخر کو عمار کے ہمراہ یمن بھیجا ، جبکہ اس قسم کا کوئی مطلب سیف کی احادیث میں نہیں آیا ہے۔

بہر حال سیف کی حدیث کو غلط پڑھنا اس امر کا سبب بنا ہے کہ سیف کے جعلی اصحاب کی فہرست میں '' صخر بن لوذان'' نامی ایک اور صحابی کا اضافہ ہوجائے اور اس کے جعلی صحابیوں کی تعداد بڑھ جائے۔


سیف کی احادیث کا نتیجہ

١۔ انصار میں سے دو صحابیوں کی تخلیق جن کے حالات کی تشریح اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مربوط کتابوں میں آئی ہے ۔ ان میں سے ایک کو پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتہ اور کارندہ بننے کی سعادت بھی حاصل ہوئی

٢۔ آداب و احکام کے سلسلے میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ایک حدیث۔

٣۔ ارتداد کی جنگوں کے بارے میں ایک خبر۔

یہ سب چیزیں اس سیف کی احادیث کے وجود کی برکت سے حاصل ہوئی ہیں جو وہ زندیقی ہونے کا ملزم بھی ہے۔

٤۔ حجاز کے باشندوں میں سے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے چند راویوں کی تخلیق ، جن کے حالات پر علم رجال کی کتابوں میں روشنی ڈالی گئی ہے۔

سیف نے کن سے روایت کی؟

گزشتہ روایات کو سیف نے چند خیالی راویوں سے نقل کیا ہے۔

١۔ سہل بن یوسف بن سہل سلمی اور ایسا ظاہر کیا ہے کہ اس سہل نے اپنے باپ یوسف سے روایت کی ہے۔

٢۔ یوسف بن سہل سلمی' کہ اس یوسف نے خود داستان کے کردار عبید سے روایت کی ہے۔

٣۔ عبید بن صخر بن لوذان سلمی' کہ یہ تینوں راوی سیف کے خیالات کی تخلیق ہیں ۔


اس جھوٹ کو پھیلانے کے منابع:

ہم نے اس بحث کے دوران عبید کی روایت کو سیف سے نقل کرنے و الے آٹھ منابع کا ذکر کیا ہے ۔ باقی مصادر حسبِ ذیل ہیں :

٩۔ ابن سکن ( وفات ٣٥٣ ھ) ابن حجر کی روایت کے مطابق اس نے اپنی کتاب '' حروف الصحابہ'' میں ذکر کیا ہے ۔

١٠۔ ابن اثیر (وفات ٦٣٠ ھ ) نے '' اسد الغابہ '' میں ۔

١١۔ ذہبی ( وفات ٧٤٨ھ) نے اپنی ان کتابوں میں :

الف) '' تجرید اسماء الصحابہ''

ب) '' سیر اعلام النبلائ''

١٢۔ ابن حجر ( وفات ٨٥٢ھ) نے '' اصابہ '' میں ۔

مصادر و مآخذ

عبید بن صخر کے حالات

١۔ ابن عبد البر کی استیعاب ( ٢ ٤٠٨)

٢۔ ابن اثیر کی '' اسد الغابہ'' (٣ ٣٥١)

٣۔ ذہبی کی '' تجرید '' ( ١ ١٨٥٢)

٤۔ تاریخ طبری '' ( ١ ١٨٥٢)

٥۔ ابن قانع کی '' معجم الصحابہ'' اس کا قلمی نسخہ کتاب خانہ حضرت امیر المؤمنین نجف اشرف میں موجود ہے ۔ ورقۂ ١٠٧ ب

٦۔ ابن مندہ کی '' تاریخ مستخرج '' ( ص ١٥٢)

٧۔ ''نسب الصحابہ من الانصار'' از ابن قدامہ (١٨٢ اور ٣٥٠)


بنی سلمہ کا نسب

١۔ ابن حزم کی'' جمہرة انساب'' ( ٣٥٨۔ ٣٦١)

٢۔ '' اللباب '' لفظ '' سلمی'' ( ١ ٥٥٤)

قبیلۂ اوس میں بنی لوذان کا نسب

١۔ ابن حزم کی '' جمہرہ'' صفحات ( ٣٣٢ ، ٣٣٧، ٧٤٠) اور( ٣٥٣، ٣٦٢، ٣٦٣، ٣٥٦)

اسود عنسی کی داستان اور عبید بن صخر کی بات

١۔ '' تاریخ طبری'' ( ١ ١٨٥٣، و ١٨٦٨)

٢۔ ابن مندہ کی '' اسماء الصحابہ'' عبید کے حالات کے ضمن میں ۔

اس کا قلمی نسخہ کتاب خانہ '' عارف افندی ' مدینۂ منورہ میں موجود ہے۔

معاذ بن جبل کے حالات

١۔ بغوی کی ''معجم الصحابہ'' ( ٢١ ١٠٦ ) اس کتاب کا ایک نسخہ کتاب خانۂ آیت اللہ مرعشی نجفی ، قم میں موجود ہے۔

٢۔ ابن حجر کی '' اصابہ'' ( ٣ ٤٠٦)

٣۔ ذہبی کی '' سیر اعلام النبلائ'' ( ١ ٣١٨ ۔ ٣٢٥)

صخر بن لوذان کے حالات :

١۔ تاریخ المستخرج '' تالیف ابو القاسم عبد الرحمان بن اسحاق بن مندہ، ورقہ ١٤٠۔


بتیسواں جعلی صحابی عکاشہ بن ثور الغوثی

عکاشہ ، یمن میں ایک کارگزار کی حیثیت سے :

طبری ، مدعی پیغمبری '' اسود '' کی داستان اور ١١ھ کے واقعات کے ضمن میں سیف بن عمرسے نقل کرکے لکھتا ہے :

١٠ ھ میں جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فریضہ حج ( وہی حجة الوداع' انجام دیا ، تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتہ ''باذام '' نے یمن میں وفات پائی ۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کی مموریت کے علاقہ کو حسبِ ذیل چند اصحاب میں تقسیم فرمایا:

اس کے بعد طبری، پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے یمن کیلئے مموریت پر بھیجے گئے اشخاص میں طاہر ابو ہالہ جسے سیف نے حضرت خدیجہ کا بیٹا اور رسول اللہ کاپروردہ بتایا ہے کا نام لے کر کہتا ہے:

اور زیاد بن لبید بیاضی کوحضرموت پر اور عکاشہ بن ثور بن اصغرغوثی کو سکاسک و سکون اور بنی معاویہ بن کندہ پر ممور فرمایا.... ( تا آخر)طبری نے ، اس روایت کے بعد ایک دوسری روایت میں لکھا ہے :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، مناسک حج انجام دینے کے بعد مدینہ لوٹے اور یمن کی حکومت کو چند سر کردہ اصحاب کے درمیان تقسیم فرمایا اور ان میں سے ہر ایک کی مموریت کے حدود کو معین فرمایا۔

(یہاں تک کہ لکھتا ہے :)

عک اور اشعریین پر طاہر ابو ہالہ کو معین فرمایا اور حضرموت کے اطراف جیسے ، سکاسک و سکون پر عکاشہ بن ثور کو ممور فرمایا اور بنی معاویہ بن کندہ پر عبد اللہ ١ یا مہاجر کونامزد فرمایا۔ لیکن مہاجر بیمار ہوگیا اور مموریت کی جگہ پر نہ جا سکا مگر، صحت یاب ہونے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی رحلت کے بعد ابوبکر نے اسے مموریت پر بھیجا۔ عکاشہ ٢ اور دیگر لوگ اپنی مموریت کی طرف روانہ ہوئے۔

حضرموت پر زیا بن لبید کو ممور فرمایا گیا اور وہ مہاجر کی عدم موجودگی میں اس کی مسئولیت کو بھی نبھاتا رہا۔

یہ لوگ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت تک یمن اور حضرموت میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتے اور کارگزار تھے۔ طبری نے ایک اور روایت میں عبید بن صخر۔ سیف کے افسانہ کے مطابق جو خود بھی یمن میں رسول

___________________

١۔ یہاں پر عبد اللہ سے سیف کی مراد عبد اللہ بن ثور ہے جو اس کا اپنا خلق کردہ ہے ، تعجب کی بات ہے کہ سیف اپنے جھوٹ کو پیش کرنے میں اس طرح احتیاط و تقدس کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے: مجھے نہیں معلوم یہ عبد اللہ تھا یا مہاجر !! تا کہ اس کا جھوٹ حق کی جگہ لے لے اور دلوں کو آرام ملے۔

٢۔اصل میں '' محصن '' لکھا گیا ہے جو غلط ہے ، کیونکہ عکاشہ بن محصن مدینہ میں تھا اور اس نے خالد کی فوج میں ہر اول دستے کے طور پر طلیحہ سے جنگ میں شرکت کی ہے اور اس کے ہاتھوں قتل ہوا ہے اس مطلب کو سیف اور دوسروں نے ذکر کیا ہے لیکن جو کچھ یمن میں رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتوں اور کارگزاروں کے بارے اور حضرموت میں ارتداد کی جنگوں کے بارے میں سیف کی روایتوں میں آیا ہے وہ '' عکاشہ بن ثور'' سے مربوط ہے۔


خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا کارگزارتھا۔ سے نقل کرکے لکھا ہے :

جب ہم اس علاقہ ۔۔ مموریت کی جگہ۔۔ کو شائستہ طریقے پر چلا رہے تھے ، ہمیں پیغمبری کا دعویٰ کرنے والے اسود کا ایک خط ملا، اس میں لکھا تھا۔

اے لوگو! جو ناخواستہ ہم پر مسلط ہوئے ہو ! اورہماری ملکیت میں داخل ہوئے ہو جو کچھ ہماری سرزمین سے لوٹ چکے ہو' اسے ایک جگہ ہمارے لئے جمع کردو، ہم تمہاری نسبت اس پر تصرف کرنے کے زیادہ سزاوار ہیں ( یہاں تک لج کہتا ہے:)

ہمیں خبر ملی کہ اسود نے صنعا پر قبضہ کیاکر لیا ہے اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تمام کارگزار وہاں سے بھاگ گئے ہیں اور باقی امراء اور حاکم طاہر ابو ہالہ کے ہاں جا کر پناہ لے چکے ہیں ۔

طبری حضرموت کے باشندوں کے مرتد ہونے کے بارے میں ١١ ھ کے حوادث کے ضمن میں لکھتا ہے :

پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے وقت حضرموت اور دیگر شہروں میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتے اور کارگزار حسبِ ذیل تھے:

زیاد بن لبید بیاضی، حضرموت پر ، عکاشہ بن ثور سکاسک و سکون پر اور مہاجر کندہ پر ، مہاجر اسی طرح مدینہ میں رہا اور جائے مموریت پر نہ گیا یہاں تک کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے رحلت فرمائی۔ اس کے بعد ابو بکر نے اسے باغیوں سے نمٹنے کیلئے یمن بھیجا اور حکم دیا کہ بغاوت کو کچلنے کے بعد اپنی مموریت کی جگہ پر جائے۔

اس روایت کو نقل کرنے کے بعد طبری ایک دوسری روایت میں لکھتا ہے:

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مہاجربن ابی امیہ کو کندہ کیلئے ممور فرمایا لیکن مہاجر بیمار ہو گیا اور مموریت کی جگہ پر نہ جا سکا ، لہذا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے زیاد کے نام ایک خط لکھا تا کہ مہاجر کے فرائض نبھائے ۔

مہاجر کے صحت یاب ہونے کے بعد ، ابو بکر نے اس کی مموریت کی تائید کی اور حکم دیا کہ پہلے نجران کے باغیوں سے نپٹنے کیلئے یمن کے دور دراز علاقوں تک جائے ۔ یہی وجہ تھی کہ زیاد بن ولید اور عکاشہ نے کندہ کی لڑائی میں مہاجر کے آنے تک تاخیر کی۔


تینتیسواں جعلی صحابی عبد اللہ بن ثور الغوثی

عبد اﷲ ثور ، ابوبکر کا کارگزار

طبری نے سیف بن عمر سے نقل کرکے طاہر ابو ہالہ کی داستان میں لکھا ہے :

اس سے پہلے ابو بکر نے '' عبد اللہ بن ثور بن اصغر '' کو فرمان جاری کیا تھا کہ اعراب اور تہامہ کے لوگوں میں سے جوبھی چاہے اس کی فوج میں شامل ہوسکتا ہے ، اور عبداﷲ کو تاکید کی تھی کہ ابو بکر کے حکم کے پہنچنے تک وہیں پر رکا رہے ..

سیف کہتا ہے:

جب مہاجر ابو بکر سے رخصت لے کر مموریت پر روانہ ہوا تو عبدا للہ ثور تمام سپاہیوں سمیت اس سے ملحق ہوا ( اس کے بعد کہتا ہے :)

مہاجر نجران سے '' لحجیہ'' کی طرف روانہ ہوا ۔ وہاں پر اسود کے بھاگے مرتد سپاہیوں نے اس سے پناہ کی درخواست کی ۔ لیکن مہاجر نے ان کی یہ درخواست منظور نہیں کی ۔

طبری اس مطلب کے ضمن میں لکھتا ہے :

مہاجر کے سوار فوجیوں کی کمانڈ عبدا ﷲ بن ثور غوثی کے ہاتھ میں تھی اخابث کے راستہ پر عبدا للہ کی ان فراریوں سے مڈ بھیڑ ہوئی ۔ اس نے ان سب کا قتل عام کیا ۔

طبری نے ان تمام روایتوں کو صراحت کے ساتھ سیف بن عمر سے نقل کیا ہے اس کے بعد طبری صدقات کے امور میں ابو بکر کے کارگزاروں کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے :

کہتے ہیں اس کے علاوہ عبد اللہ بن ثور نے ۔۔۔ قبیلۂ غوث کے افراد میں سے ایک شخص ۔۔ کو علاقہ '' جرش'' پر مامور کیا۔

طبری نے اس حدیث کی سند کا ذکر نہیں کیا ہے لیکن ابن حجر عبد اﷲ کے حالات کی تشریح میں صراحت سے کہتا ہے کہ یہ حدیث سیف بن عمر سے نقل ہوئی ہے۔


عکاشہ اور عبد اللہ کی داستان کے مآخذ کی تحقیق

ہم نے جو روایتیں سیف سے نقل کیں ہیں ، ان میں درج ذیل جعلی راویوں کے نام دکھائی دیتے ہیں :

١۔ سہل بن یوسف، چار روایتوں میں ۔

٢۔ یوسف بن سہل ، دو روایتوں میں ۔

٣۔ اور درج ذیل سیف کے جعلی راوی میں سے ہر ایک نے ایک روایت نقل کی ہے :

٣۔ عبید بن صخر

٤۔ مستنیر بن یزید

٥۔ عرو ہ بن غزیہ

سیف کی روایتوں کا موازنہ

مذکورہ روایت ، داستانِ اخابث ( ناپاک ) اور داستان عبید بن صخر میں طاہر ابو ہالہ کی روایت کی متمم ہے اور ہم نے ان دو صحابیوں کی بحث کے دوران ثابت کیا ہے کہ خود یہ اور ان کی داستانیں جعلی اور سیف بن عمر تمیمی کے خیالات کی تخلیق ہیں اور حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔

ان میں سے بعض روایات پیغمبری کے مدعی ، اسود عنسی کی داستان سے مربوط ہیں ' ہم نے کتاب '' عبد اللہ بن سبا '' کی دوسری جلد میں اس پر مفصل روشنی ڈالی ہے اور وہاں پر ہم نے بتایا ہے کہ سیف نے کس طرح حقائق کو بدل کر رکھدیا ہے اور کن چیزوں میں تحریف اور تبدیلی کی ہے ۔ یہاں پر اس کی تکرار کی مجال اور گنجائش نہیں ہے ۔

ہاں ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ابو بکر کی طرف سے ان کی نمائندگی اور کارندوں کی حیثیت سے مموریت کے بارے میں سیف کی روایت کو ہم نے تحقیق کے دوران خلیفہ بن خیاط اور ذہبی جیسے دانشوروں کے ہاں نہیں پایا اور نہ ہی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ابو بکر کے کارگزاروں کے حالات کی تشریح لکھنے والوں کے ہاں ۔ یہ دو جعلی اصحاب کہیں دکھائی دیئے۔


روایت کا نتیجہ

سیف نے عکاشہ بن ثور غوثی اور اس کے بھائی عبد اللہ بن ثور غوثی کی روایت اپنی کتاب ''فتوح '' میں درج کرکے طبری جیسے دانشور کو ١٠ ۔ ١٢ ھ کے حوادث کے ضمن میں ان ہی مطالب کو نقل کرکے اپنی کتاب میں درج کرنے پر مجبور کیا ہے۔

ابن اثیر ، ابن کثیر ، ابن خلدون اور میر خواند نے بھی ان ہی مطالب کو طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخوں میں درج کیا ہے ۔

ابن عبد البر نے سیف کی تحریر پر اعتماد کرکے حسبِ ذیل مطالب کو اپنی کتاب '' استیعاب'' میں نقل کیا ہے :

عکاشہ بن ثور بن اصغر قرشی ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے سکاسک ، سکون او ر بنی معاویۂ کندہ پر بعنوان گماشتہ اور کارندہ ممور تھا ۔ ان مطالب کو سیف نے اپنی کتاب میں درج کیا ہے ، اور میں ۔۔ ابن عبد البر ۔۔ اس کے بارے میں اتنا ہی جانتا ہوں ۔

ابن اثیر نے ابن عبد البر کی کتاب '' استیعاب '' سے عین عبارت کو نقل کیا ہے اور ذہبی نے انہی مطالب کو خلاصہ کے طور پر اپنی کتاب '' تجرید '' میں نقل کیا ہے۔

ابن حجر نے اپنی کتاب '' اصابہ '' میں یوں لکھا ہے :

عکاشہ بن ثور بن اصغر کا نام سیف نے داستان ارتداد کی ابتدا ء میں سہل بن یوسف سے اس نے اپنے باپ سے اس نے عبدی بن صخر بن لوذان سے نقل کرکے لکھا ہے کہ وہ سکاسک و سکون پر پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا گماشتہ اور کارندہ تھا ۔ ابو عمر ۔۔ ابن عبد البر ۔۔نے ان مطالب کو نقل کیا ہے۔

اس طرح ان دانشوروں نے سیف کی روایت پر اعتماد کرکے عکاشہ کے حالات سند کے ذکر کے ساتھ اپنی کتابوں میں پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کے حالات کی فہرست میں درج کیا کئے ہیں ۔

روایات سیف پر اس اعتماد کی بنا پر ، اس کے خیالی بھائی کے حالات کو بھی دیگر اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی فہرست میں قرار دیا گیا ہے ۔ توجہ فرمائیے کہ ابن حجر اس سلسلے میں کہتا ہے :


عبدا ﷲ بن ثور ، قبیلۂ بنی غوث کا ایک فرد ہے۔ اس کا نام سیف نے اپنی کتاب ''فتوح '' میں چندجگہوں پر ذکر کیا ہے ۔ وہ ارتداد کی جنگوں میں سپاہ اسلام کا ایک سپہ سالار تھا ۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد ابو بکر نے اس کے حق میں ایک فرمان جاری کیا کہ اعراب اور تہامہ کے باشندے اس کی اطاعت کریں اور اسی ۔۔ عبد اللہ ۔۔ کے پرچم تلے جمع ہوجائیں ۔ اور عبد اللہ وہیں پر رکا رہے جب تک اس کیلئے حکم نہ پہنچے ۔ سیف نے یہ بھی روایت کی ہے کہ وہ مہاجر بن ابی امیہ کے ہمراہ '' جرش '' کی گورنری کا عہدہ سنبھالنے کیلئے وہاں گیا اور وہاں سے صوب کی طرف کوچ کیا۔ اور ہم نے ۔۔ ابن حجر ۔۔ چند بار کہا ہے کہ ان دنوں رسم یہ تھی علاقائی حکومت یا فوجی کمانڈ کیلئے صرف رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی کو ہی منصوب کرتے تھے (ز)

ابن حجر نے جو تشریح عبد اﷲ کے بارے میں لکھی ہے اس میں یہ مطالب ظاہر ہوتے ہیں :

١۔ سیف نے اپنی کتاب '' فتوح'' میں چند جگہوں پر عبد اللہ ابن ثور کا نام ذکر کیا ہے ۔

٢۔ عبد اللہ ارتداد کی جنگوں میں سپہ سالار تھا۔

٣۔ ابو بکر نے اس کیلئے فرمان جاری کیا ہے کہ اعراب اور تہامہ میں اس کے حامی اس کے گرد جمع ہوکر حکم پہچنے تک منتظر رہیں ۔

٤۔ عبد اللہ جب '' جرش'' کے گورنر کے طور پر منصوب ہوا تو وہ مہاجر کے ہمراہ روانہ ہوا تھا۔

تمام مطالب کو طبری نے سیف کی سند کے ذکر کے ساتھ اپنی تاریخ میں درج کیا ہے ۔

صرف عبداللہ کی گورنری' جس کی سند طبری نے ذکر نہیں کی ہے ۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ابن حجر نے اس حصہ کی سند بھی سیف کے نام کی صراحت کے ساتھ ذکر کی ہے۔


چونتیسواں جعلی صحابی عبید اللہ بن ثور غوثی

ایسا لگتا ہے کہ ابن حجر جیسا جلیل القدر عالم سیف کی کتاب '' فتوح '' میں عبد اللہ بن ثور کا نام پڑھتے وقت سخت غلطی کا شکا رہوا ہے اور اسے '' عبید اﷲبن ثور '' پڑھا ہے یا یہ کہ اس کے پاس موجود نسخہ میں اس نام میں یہ تبدیلی کتابت کی غلطی کی وجہ سے انجام پائی ہو۔

بہر حال خواہ یہ غلطی کتابت کی ہو یا محترم دانشور نے اسے غلط پڑھا ہو ، اصل میں جو چیز ہے وہ یہ ہے کہ ابن حجر نے عبید اللہ بن ثور کے حالات پر اپنی کتاب '' اصابہ'' میں الگ سے روشنی ڈالی ہے اور لکھا ہے :

عکاشہ کے بھائی ، عبید اللہ بن ثور بن اصغر عرنی کے بارے میں سیف نے کہا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عکاشہ کو سکاسک اور سکون کیلئے اپنا گماشتہ مقرر فرمایا اور پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ابو بکر نے اس کے بھائی عبید اللہ کو یمن کی حکمرانی پر منصوب کیا ۔

ہم نے اس سے پہلے بھی کہا ہے کہ ان دنوں رسم یہ تھیکہ صرف صحابی کو حکومت اور سپہ سالاری پر منصوب کیا جاتا تھا ۔(ز)

ابن حجر کی اس بات '' اس سے پہلے بھی ہم نے کہا ہے کہ اس زمانے میں یہ رسم....'' پر انشاء اللہ ہم اگلی بحثوں میں وضاحت کریں گے ۔

جو کچھ ہم نے یہاں تک کہا وہ ثور کے تین بیٹوں کی داستان تھی جسے ہم نے تاریخ کی عام کتابوں اور رجال اور اصحاب کے حالات پر لکھی گئی کتابوں سے حاصل کیا ہے ۔

لیکن جس چیز کو آپ ذیل میں مشاہدہ کررہے ہیں وہ سیف کے ان تین جعلی اصحاب کے بارے میں انساب کی کتابو ں میں درج ذیل مطالب ہیں :


مذکورہ تین اصحاب کا نسب

تاریخ طبری میں ، سیف کی روایتوں کے مطابق ان تین '' غوثی '' صحابیوں کا شجرۂ نسب درج ہوا ہے ۔ لیکن '' استیعاب '' میں غلطی سے '' قرشی '' ، ' اسد الغابہ'' اور '' تجرید ' میں '' غرثی '' اور ابن حجر کی ''اصابہ '' میں ''' عرنی '' ثبت ہوا ہے ۔

یہ اس حالت میں ہے کہ ہم نے ان نسب شناس علماء کے ہاں '' عکاشہ '' اور '' عبید اللہ '' کا نام نہیں پایا، جنہوں نے بنی غوث بن طے کے بارے میں تفصیلات لکھی ہیں ۔ جیسے ابن حزم نے اپنی کتاب'' جمہرہ '' میں اور ابن درید نے '' اشتقاق '' میں اور اس طرح کی دوسری کتابوں کا بھی ہم نے مطالعہ کیا لیکن ان میں سے کسی ایک میں بھی اس سلسلے میں درج ذیل مطالب کے علاوہ کچھ نہیں پایا:

ابن ماکو لا اپنی کتاب '' اکمال '' میں لفظ ' غوثی'' کے بارے میں لکھتا ہے :

عکاشہ بن ثور بن غوثی کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سکاسک ، سکون اور معاویہ بن کندہ کیلئے ممور فرمایا تھا اور ابو بکر صدیق نے اس کے بھائی عبد اللہ بن ثور اصغر کو یمن کا حاکم منصوب کیا تھا۔

سمعانی نے بھی لفظ '' غوثی'' کے بارے میں اپنی کتاب انساب میں لکھا ہے :

'' غوثی '' در حقیقت غوث کی طرف نسبت ہے ۔ اس قبیلہ کے سرکردہ صحابیوں میں عکاشہ بن ثور بن اصغر غوثی ہے جسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سکاسک ،سکون اور معاویہ بن کندہ کا حاکم مقرر فرمایا تھا۔

ابن اثیر نے سمعانی سے نقل کرکے اس کی عبارت کو من عن اپنی کتاب '' لباب الانساب ''۔۔ جو سمعانی کی کتاب '' انساب '' کا خلاصہ ہے ۔۔ میں ثبت کیا ہے اور اس میں کسی اور چیز کا اضافہ نہیں کیا ہے۔

ا بن حجر بھی اپنی دوسری کتاب '' تحر یر المشتبہ '' میں لکھتا ہے :

عکاشہ بن ثور غوثی اصحاب میں سے تھا


فیروزآبادی نے اپنی کتاب '' قاموس '' میں لفظ '' عکش '' میں یوں لکھا ہے:

عکاشہ الغوثی ، ابن ثور اور ابن محصن تینوں اصحاب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تھے ۔

زبیدی بھی اپنی کتاب شرح '' تاج العروس '' میں لکھتا ہے :

جیسا کہ کہا گیا ہے عکاشہ بن ثوربن اصغر غوثی ، سکاسک میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا گماشتہ اور کارگزار تھا۔

مختلف عرب قبائل کے نسب شناس علماء میں سے کسی ایک نے اب تک کسی کو غوثی کے طور پر متعارف نہیں کیا ہے ۔ کیونکہ بنی غث کے سرکردہ افراد بنی غث بن طی '' طائی'' کے نام سے مشہور ہیں نہ غوثی ۔ جیسے حاتم طائی اور اس کا بیٹا عدی طائی ۔ اسی لئے سمعانی لکھتا ہے ١

____________________

١۔عکاشہ بن ثور ، سمعانی کے زمانے میں '' غوثی'' کے نام سے مشہور تھا کیونکہ اس سے پہلے عکاشہ کا نام اسی انتساب سے سیف کی کتاب '' فتوح'' میں آیا ہے اور سیف کی کتاب '' فتوح '' کے بعد رجال و اصحاب کی تشریح میں لکھی گئی کتابوں اور تاریخ کی کتابوں میں ، جنہوں نے اس کے حالات سیف سے نقل کئے ہیں ، غوثی کا نام آیا ہے ، جیسا کہ '' تاریخ طبری '' ، ابن عبد البر کی '' استیعاب '' اور ابن ماکولا کی ''اکمال' ' میں درج ہوا ہے ۔


'' غوثی '' عکاشہ اس انتساب سے مشہور ہے ۔

ابن اثیر کو اس مطلب کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ملی اس لئے اسی کو خلاصہ کے طور پر اپنی کتاب '' لباب '' میں لکھا ہے ۔

''جو کچھ ذہبی کی '' تحریر المشتبہ '' میں آیا ہے حسب ذیل ہے :

' ' الغوثی ۔ ابو الھیثم ، احمد بن محمد بن غوث ، حافظ ابو نعیم کا مرشد اور استاد تھا''

اور معلوم ہے کہ یہ غوث انساب عرب میں سے ہمارا مورد بحث نسب نہیں ہے۔

خلاصہ :

سیف نے عکاشہ بن ثور بن اصغر غوثی کو بنی غوث سے خلق کیا ہے اور لفظ '' غوثی'' سے '' قرشی'' ، '' غرثی'' ، '' عرنی '' لکھا گیا ہے اور تاریخ طبری کے بعض نسخوں میں ' بنی غوث ' تغیر کرکے '' بنی یغوث'' درج ہوا ہے ۔

سیف ، عکاشہ کے بارے میں کہتا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ١٠ ھ حجة الوداع سے واپسی پر اسے سکاسک اور سکون کی مموریت عطا فرمائی تھی اور ابوبکر کی خلافت تک عکاشہ وہیں پر تھا۔

سیف نے عکاشہ کیلئے ایک بھائی خلق کرکے اس کا نام عبدا للہ بن ثور رکھا ہے ۔ اور کہا ہے کہ ارتداد کی جنگوں میں ابو بکر نے اس کے نام ایک فرمان جاری کیا کہ افراد کو اپنی مدد کیلئے آمادہ کرکے حکم کا انتظار کرے۔

جب مہاجربن ابی امیہ ، مرتدوں سے لڑنے کیلئے روانہ ہوتا ہے ، تو اسود کے قتل ہونے کے بعد عبدا للہ ، مہاجر کی فوج کے سواروں کا کمانڈر مقرر ہوتا ہے اور اسود کے تتر بتر ہوئے مرتد فراری فوجیوں سے اس کی مڈ بھیڑ ہوتی ہے ، اس جنگ میں وہ ان سب کا قتل عام کر تا ہے اس کے بعد ابو بکر ایک فرمان کے ذریعہ '' جرش'' کا حاکم مقر ہوتا ہے ۔

ابن حجر اس عبدا للہ کے نام کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہوتا ہے اور اپنی کتاب میں دو شرحیں لکھتا ہے ، ایک اسی عبدا للہ کیلئے اور دوسری '' عبید اللہ '' کے نام سے۔


سیف نے ان تین یا دو بھائیوں کو سبائی یمانیوں سے خلق کیا ہے تا کہ دوسرے درجے کا رول یعنی قبیلہ مضر کے سرداروں کی اطاعت اور فرمانبرداری انھیں سونپے ۔

توجہ فرمائیے!

یہ عبد اللہ بن ثور ہے جو قریش کے ایک معروف شخص '' مہاجربن ابی امیہ'' کے پیچھے پڑتا ہے، اسی طرح اس کا بھائی عکاشہ بھی ، پروردۂ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور خاندان تمیم کے ایک نامور شخص یعنی طاہر ابو ہالہ ، کے ہاں پناہ لیتا ہے۔

سیف ، مضر کے سرداروں اور شجاعوں کیلئے حامی اور طرفدار خلق کرنے پر مجبور ہوتا ہے ۔ لیکن اس کیلئے ہرگز یہ چیز اہمیت نہیں رکھتی کہ یہ لوگ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مصاحبت کی سعادت حاصل کرکے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتے اور کارندے کے طور پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے ممور ہوں یا نہ! بلکہ سیف کی نظر میں سرفرازی اور افتخار اس میں ہے کہ ان کے ہاتھوں دنیا کو تباہ و برباد کرکے زندگیوں کا خاتمہ اور بستیوں کو آگ لگوادے اور ان سب گستاخیوں کے بعد اپنے آتشین قصیدوں میں فخر و مباہات کے نغمے گائے اور دنیا کو جوش و خروش سے بھر دے تا کہ اس طرح اس کے خلق کئے ہوئے یہ مجد و افتخارات تاریخ میں ثبت ہوجائیں اور رہتی دنیا تک باقی رہیں ۔

سیف کی کوشش یہ ہے کہ خاندان مضر کیلئے بیہودہ اور بے بنیاد معجزے اور کرامتیں خلق کرے تا کہ مناقب لکھنے والے قصہ گو و جد میں آئیں اور اسلام کے دشمن مسلمانوں کا مذاق اڑائیں ۔

سیف بن عمر نے جو ذمہ داری عبید بن صخر بن لوذان قحطانی یمانی عکاشہ بن ثور یمانی پر ڈالی ہے یہی چیزیں تھیں ۔ سیف نے ان کیلئے قبیلہ مضر کے سرداروں کی اطاعت اور خدمت گزاری معین کرکے مذکورہ قبیلہ کیلئے بہادریاں اور کرامتیں خلق کی ہیں ۔

اصحابِ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حالات لکھنے والے علماء نے عکاشہ ، عبدا للہ اور عبید اللہ کا نام سیف کی روایتوں سے لیا ہے اور ان کے نسب اور داستانین بھی اس کی روایتوں سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کی ہیں ۔


انہی روایتوں سے استناد کرکے ابن حجر نے عبد اللہ اور عبید اللہ کے صحابی ہونے اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ ان کی مصاحبت پر استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے :

ہم نے بارہا کہا ہے کہ اس زمانے میں رسم یہ تھی کہ صحابی کے علاوہ کسی اور کو حاکم و سپہ سالار معین نہیں کیا جاتا تھا۔

وہ سیف کی روایتوں سے اس مطلب کو بھی حاصل کرکے لکھتا ہے :

ابو بکر نے ان دونوں کو مرتدوں جنگ میں سپہ سالاری کا عہدہ سونپا اور '' جرش'' کی حکومت اسے دی۔

اس طرح یہ روایات سیف کے ذریعہ اسلامی مصادر میں داخل ہوئی ہیں ۔

فرزندان ثور کے افسانہ کے راوی

سیف اپنے جعل کئے ہوئے ثور کے بیٹوں کے افسانوں کو مندرجہ ذیل اپنے ہی جعلی راویوں کی زبانی نقل کیا ہے۔

١۔ سہل بن یوسف نے

٢۔ یوسف بن سہل سے ، اس نے

٣۔ عبید بن صخر سے

٤۔ مستنیر بن یزید

٥۔ عروة بن غزیہ

ان افسانوں کی اشاعت کرنے والے ذرائع

١۔ طبری نے اپنی تاریخ کبیر میں ، اور درج ذیل علماء نے اس سے نقل کیا ہے

٢۔ ابن اثیر نے اپنی تاریخ میں ۔

٣۔ ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں

٤۔ ابن خلدون نے اپنی تاریخ میں


٥۔ میر خواند نے اپنی کتاب '' روضة الصفا '' میں

٦۔ سمعانی نے '' انساب'' میں ۔

٧۔ ابن اثیر نے سمعانی سے نقل کرکے ''لباب'' میں

٨۔ ابن عبد البر نے '' استیعاب '' میں ۔

٩۔ ابن اثیر نے ا'' اسد الغابہ '' میں استیعاب سے نقل کرکے ۔

١٠۔ ذہبی نے '' تجرید'' میں ، '' اسد الغابہ '' سے نقل کرکے۔

١١۔ ابن حجر نے سیف کی '' فتوح'' سے اور '' استیعاب '' سے نقل کرے '' اصابہ '' میں ۔ لیکن '' تصبیر '' میں سند کا ذکر نہیں کیا ہے ۔

١٢۔ ابن ماکولا نے سیف سے نقل کرکے '' اکمال'' میں ۔

١٣۔ ١٤۔ اور ان سے فیروز آبادی اور زبیدی نے بالترتیب ' ' قاموس '' اور اس کی شرح '' تاج العروس'' میں نقل کیا ہے ۔ اس کے علاوہ میر خواند نے کتاب '' روضة الصفا '' طبع ، تہران ، خیام (٢ ٦٠) میں ۔

مصادر و مآخذ

عکاشہ کے حالات اور اس کی حدیث

١۔ '' تاریخ طبری '' ( ١ ١٨٥٢ ، ١٨٥٣، ١٨٥٤، اور ٢٠٠)

٢۔ '' تاریخ ابن اثیر'' ( ٢ ٢٥٥)

٣۔ تاریخ ابن کثیر ( ٦ ٣٠٧)

٤۔ '' ابن خلدون'' ( ٢ ٢٦٣، ٢٧٥۔ ٢٧٧)

٥۔ '' استیعاب '' ابن عبد البر ( ٢ ٥٠٩) نمبر : ٢١٥٠ طبع حیدر آباد

٦۔ '' اسد الغابہ '' ابن اثیر (٤ ٢)

٧۔ '' تجرید ذہبی'' ( ١ ٣١٨)


٨۔ '' انساب سمعانی '' لفظ '' غوثی '' ( ٤١٣)

٩۔ '' اکمال '' ( ص٩٦)

عبد اللہ بن ثور کے حالات :

١۔ '' تاریخ طبری'' ( ١ ١٩٩٧، ١٩٩٨، ٢١٣٦)

٢۔ '' اصابہ'' ابن حجر ( ٢ ٢٧٧) نمبر :٦٥٩٧

چھوٹا خط رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتوں اورگورنروں کے نام:

١۔ خلیفہ بن خیاط ( ١ ٦٣)

٢۔ '' تاریخ اسلام '' ذہبی ( ٢ ٢)

٣۔ لفظ '' غوثی'' '' تحریر المشتبہ '' ذہبی ( ١ ٤٨٩)

٤۔ '' تبصیر المشتبہ '' ابن حجر ( ٣ ١٠٣٤)


پانچواں حصہ

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ایلچی

*٣٥۔ وبرة بن یحنس،خزاعی۔

*٣٦۔ اقرع بن عبد اللہ ، حمیری

*٣٧۔ جریر بن عبد اللہ حمیری

*٣٨۔صلصل بن شرحبیل

*٣٩۔ عمرو بن محجوب عامری

*٤٠۔ عمر وبن خفاجی ، عامری

*٤١۔ عمرو بن خفاجی عامری

*٤٢۔ عوف ورکانی۔

*٤٣۔ عویف زرقانی

*٤٤۔ قحیف بن سلیک ھالکی

*٤٥۔ عمرو بن حکم قضاعی

*٤٦۔ امرؤ القیس ( بنی عبد اللہ سے )


رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ایلچی اور گورنر

طبری نے سیف سے نقل کرکے لکھا ہے کہ پہلا شخص جس نے طلیحة بن خویلد کی بغاوت کی خبر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پہنچائی، وہ بنی مالک میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا گماشتہ اور کارندہ'' سنان بن ابی سنان'' تھا۔

وہ ایک دوسری روایت میں لکھتا ہے :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس خبر کے سننے کے بعد ، اپنی طرف سے ایک ایلچی کو یمن میں مقیم چند سرکردہ ایرانیوں کے پاس بھیجا اور انھیں لکھا کہ طلیحہ کا مقابلہ کرنے کے لئے اٹھیں اور تمیم و بنی قیس کے لوگوں پر مشتمل ایک فوج کو منظم کرکے ان کی حوصلہ افزائی کریں تا کہ وہ طلیحہ سے جنگ کرنے کیلئے اٹھیں انہوں نے اس حکم کی اطاعت کی اور اس طرح مرتدوں کیلئے ہر طرف سے راستہ بند کیا گیا۔

پیغمبری کا مدعی، '' اسود'' پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیات میں ہی مارا گیا اور طلیحہ و مسیلمہ بھی پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ایلچیوں کے محاصرہ میں پھنس گئے ۔

بیماری کی وجہ سے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو جو درد و تکلیف ہورہی تھی، وہ بھی آپ کیلئے فرمان الٰہی کی اطاعت اور دین کی حمایت کرنے میں رکاوٹ نہ بنی اور آنحضرت نے اسی حالت میں مندرجہ ذیل افراد کو پیغام رسانی کا فریضہ انجام دینے کیلئے اپنے ایلچیوں کے طور پر روانہ فرمایا:

١۔ وبرة بن یحنس کو '' فیروز ، جشیش دیلمی اور دازویہ استخری '' کے پاس بھیجا۔

٢۔ جریر بن عبد اللہ کو ایلچی کے طور پر '' ذی الکلاع اور ذی ظلیم '' کے ہاں روانہ فرمایا۔

٣۔ اقرع بن عبد اللہ حمیری نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا پیغام '' ذی رود '' اور '' ذی مران '' کو پہنچایا۔

٤۔ فرات بن حیان عجلی کو ایلچی کے طور پر '' ثمامۂ آثال '' بھیجا۔

٥۔ زیاد بن خنظلہ تمیمی عمری کو '' قیس بن عاصم'' اور '' زبر قان بن بدر '' سے ملاقات کرنے کی مموریت عطا فرمائی۔

٦۔ صلصل بن شرجیل کو سبرة بن عنبری ، وکیع دارمی، عمرو بن محجوب عامری عمرو بن محجوب عامری اور بنی عمرو کے عمرو بن خفاجی کے پاس بھیجا۔


٧۔ ضرار بن ازور اسدی کو بنی صیدا کے عوف زرقانی ، سنان اسدی غنمی اور قضاعی دئلی کے ہاں جانے پرممورکیا۔

٨۔نعیم بن مسعود اشجعی کو ذی اللحیہ اور ابنمسیمصہجبیری سے ملاقات کرنے کی ذمہ داری سونپی۔

ابن حجر کی اصابہ میں '' صفوان بن صفوان '' کے حالات کی تشریح کے ضمن میں سیف کی روایت یوں ذکر ہوئی ہے:

صلصل بن شرحبیل کو ۔۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ۔۔ اپنے ایلچی کے طور پر اسے صفوان بن صفوان تمیمی اور وکیع بن عدس دارمی وغیرہ کے پاس بھیجا اور انھیں مرتدوں سے جنگ کرنے کی دعوت اور ترغیب دی۔

تاریخی حقائق پر ایک نظر

تاریخ نویسوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ان تمام ایلچیوں اور پیغام رسانوں کا نام درج کیا ہے جنھیں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مختلف بادشاہوں ، قبیلہ کے سرداروں اور دیگر لوگوں کے پاس بھیجا تھا۔لیکن ان کے ہاں کسی صورت میں مذکورہ افراد کا نام اور ان کے پیغام رسانی کے موضوع کا ذکر نہیں ہوا ہے۔

'' ابن خیاط'' نے اپنی تاریخ میں ، پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ایلچیوں کے بارے میں بحث کے دوران لکھا ہے :

١۔ عثمان بن عفان کو حدیبیہ کے سال مکہ کے باشندوں کے پاس۔

٢۔ عمرو بن امیہ صمری کو ایک تحفہ کے ساتھ مکہ ، ابو سفیان بن حرب کے پاس۔

٣۔ عروة بن مسعود ثقفی کو طائف ، اپنے خاندان کے پاس۔

٤۔ جریر بن عبد اللہ کو یمن ، ذی کلاع اور ذی رعین کے پاس۔

٥۔ وبر بن یحنس کو یمن میں ایرانی سرداروں کے پاس۔

٦۔ خبیب بن زید بن عاصم ۔۔ کو مسیلمہ کذاب کے پاس جو مسیلمہ کے ہاتھوں قتل ہوا ۔۔

٧۔ سلیط بن سلیط کو یمامہ کے باشندوں کے پاس۔

٨۔ عبد اللہ بن خدافہ سہمی کو بادشاہ ایران کسریٰ کے پاس۔

٩۔ دحیة بن خلیفہ کلبی کو قیصر ، روم کے بادشاہ کے پاس۔


١٠۔ شجاع بن ابی وہب اسدی کو، حارث بن ابی شمّر غسانی یا جبلة بن ایہم کے پاس

١١۔ حاطب بن ابی بلتعہ کو مقوقس ، اسکندریہ کے حکمران کے پاس

١٢۔ عمروبن امیہ ضمری کو نجاشی حبشہ کے پاس۔

اس طرح خلیفہ بن خیاط ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ان ایلچیوں اور پیغام رسانوں کا نام اپنی کتاب میں لیتا ہے جنہیں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مختلف علاقوں اور شخصیتوں کے پاس بھیجا ہے ۔ لیکن ان میں سیف کے خلق کردہ ایلچیوں کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا۔

سیف کی حدیث میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آٹھ ایلچیوں کے نام لئے گئے ہیں جنہوں نے مختلف بیس شخصیتوں سے ملاقات کی ہے ۔ ان پیغام رسانوں اور پیغام حاصل کرنے والوں کے مجموعہ میں سیف کے دس جعلی صحابی بھی نظر آتے ہیں جن کے بارے میں ہم الگ الگ بحث کریں گے۔

پینتیسواں جعلی صحابی وبرة بن یحنس

سیف کی روایتوں کے مطابق تاریخ طبری میں آیا ہے کہ وہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آٹھ ایلچیوں میں سے ایک ہے ۔ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی حیات کے آخری ایام میں بیماری کے دوران ١١ ھ میں یمن میں مقیم ایرانی سرداروں سے ملاقات کرنے کیلئے اسے ممور کیاہے۔

وبرہ ان سرداروں کیلئے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ایک خط ساتھ لے گیا ، جس میں پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انھیں امر فرمایا تھا کہ '' اسود'' کے خلاف جنگ کرکے اسے قتل کر ڈالیں اور تاکید فرمائی تھی کہ اسود کو قتل کیا جائے ، چاہے مکر و فریب اور جنگ وخونریزی کے ذریعہ ہی سہی۔

وبرہ ، یمن میں '' دا زویۂ فارسی '' کے پاس پہنچتا ہے ، سر انجام '' فیروز'' اور ''جشیش دیلمان'' کی ساتھ ایک نشست تشکیل دیتے ہیں اور '' قیس بن عبد یغوث '' ۔۔ جوبقول سیف اسود کی سپاہ کا سپہ سالار اعظم تھا۔۔ سے سازش کرکے '' اسود '' کو قتل کرنے میں اس کی موافقت حاصل کرتے ہیں ۔


یہ لوگ رات کے اندھیرے میں '' اسود'' کے گھر میں جمع ہوکر اسے قتل کر ڈالتے ہیں ۔ طلوع فجر ہوتے ہی ''جشیش'' یا '' وبرہ '' نماز کیلئے اذان دیتا ہے اور '' وبرة '' کی امامت میں فجر کی نماز پڑھی جاتی ہے۔

اپنی مموریت کو انجام دینے کے بعد ''وبرہ'' ابو بکر کے پاس مدینہ پلٹتا ہے۔

کتاب '' استیعاب '' اور '' اصابہ'' میں یہ داستان سیف سے نقل ہوئی ہے اور اس نے ضحاک بن یربوع سے اس نے ماہان سے اور اس نے ابن عباس سے روایت کی ہے۔

مذکورہ دو کتابوں میں '' وبرة بن یحنس'' کے بارے میں طبری سے نقل کرکے سیف کی روایتیں اس مختصر سند اور اس تفاوت کے ساتھ درج ہوئی ہیں کہ تاریخ طبری میں '' وبرہ'' '' ازدی '' ہے جبکہ مذکورہ دو کتابوں میں '' خزاعی '' ذکر ہوا ہے۔

سیف کی احادیث میں وبرہ کی داستان یہی تھی جو اوپر ذکر ہوئی ۔ ہاں جو پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حقیقی صحابی تھا ، اس کا نام '' وبر بن یحنس کلبی '' تھا ، اس کے بارے میں یوں بیان ہوا ہے :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ١٠ ھ میں '' وبر '' کو مموریت دے کر ایرانی سرداروں کے پاس یمن بھیجا۔ '' وبر '' وہاں پر '' نعمان بن بزرج'' سے ملا اور کچھ لوگوں نے اس کے ہاتھوں پر اسلام قبول کیا۔ ''نعمان بن بزرج'' نے '' وبر '' سے روایت کی ہے: کہ

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے وبر سے فرمایا تھا کہ صنعا میں داخل ہونے کے بعد '' ضبیل '' کے اطراف صنعا میں واقع پہاڑ میں واقع مسجد میں نماز پڑھنا۔

نقل کیا گیا ہے کہ اس کا بیٹا '' عطاء '' پہلا شخص تھا جس نے یمن میں قرآن مجید کو اکٹھا کرنے کا کام شروع کیاتھا۔

ابن حجر نے اپنی کتاب ''' اصابہ '' میں '' وبر بن یحنس'' کی زندگی کے حالات نمبر ٩١٠٥ کے تحت اور سیف کی تخلیق '' وبرة بن یحنس '' کے حالات بھی نمبر ١٩٠٩ کے تحت درج کئے ہیں ۔

یہاں پر ابن اثیر غلط فہمی کا شکار ہوا ہے ۔ اس نے اس خیال سے کہ یہ دونوں ایک ہی شخص ہیہیں ، دو خبروں کو یکجااپنی کتاب '' اسد الغابہ '' میں لکھا ہے :


''وبر'' اور کہا گیا ہے '' وبرة بن یحنس'' خزاعی ، آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حضور آپ کی فرمائشات سن رہا تھا ۔ نعمان بن بزرج نے اس سے روایت کی ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے فرمایا ہے : جب ''ضبیل'' کے اطراف میں واقع صنعاء کی مسجد میں پہنچنا تو وہاں پر نماز پڑھنا۔

ان مطالب کو تین مصادر نے ذکر کیا ہے ۔ ابو عمر کہتا ہے کہ یہ وہ شخص ہے جسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ''داذویہ '' ، فیروز دیلمی'' اور '' جشیش دیلمی '' کے پاس اپنے ایلچی کے طور پر بھیجا تھا تا کہ پیغمبری کے مدعی ''اسود عنسی'' کو قتل کر ڈالیں ( ابن اثیر کی بات کا خاتمہ )

ابن اثیر نے غلطی کی ہے کیونکہ نعمان نے مسجد صنعاء میں جس شخص کے نماز پڑھنے کے بارے میں روایت کی ہے وہ '' کلبی ''ہے۔

اور جسے سیف نے خلق کرکے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ایلچی کے طور پر اسود کو قتل کرنے کیلئے یمن بھیجا ہے وہ ''خزاعی'' یا '' ازدی'' ہے۔

بعید نہیں کہ ابن اثیر کی غلط فہمی کا سرچشمہ یہ ہو کہ اس نے سیف کی اس حدیث کو ابن عبد البر کی کتا ب استیعاب سے مختصر علامت '' ب'' سے نقل کیا ہے لیکن '' وبر کلبی '' کی داستان کو ابن مندہ کی کتاب '' اسماء الصحابہ '' سے مختصر علامت '' د'' سے اور ابو نعیم کی کتاب '' معرفة الصحابہ ' سے مختصر علامت ''ع'' سے نقل کیا ہو۔

اسی لئیابن اثیر نے دو داستانوں کو آپس میں ملا کر اسے ایک شخص کے بارے میں درج کیا ہے۔

اس افسانہ میں سیف کے مآخذکی تحقیق

'' وبرة بن یحنس'' کی داستان کے بارے میں سیف کے راوی اور مآخذ جو تاریخ طبری میں درج ہوئے ہیں حسب ذیل ہیں :

١۔ مستنیز بن یزید نے عروة بن غزیہ دثینی سے ۔ یعنی سیف کے ایک جعلی کردہ راوی نے سیف ہی کی تخلیق دوسرے راوی سے روایت کی ہے ، ہم نے اس مطلب کی وضاحت کتاب '' عبدا للہ بن سبا'' کی دوسری جلد میں کی ہے ۔

٢۔ سہل ، سیف کا ایک اور راوی ہے کہ جس کا تعارف انصار میں سے یوسف سلمی کے بیٹے کے طور پر کیا گیا ہے ۔ ہم نے اپنی کتاب '' رواةمختلقون '' میں اس کے حالات پر روشنی ڈالی ہے ۔


ابن عبد البر کی کتاب '' استیعاب '' اور ابن حجر کی کتاب '' اصابہ '' میں '' وبرہ'' کے بارے میں سیف کی روایت کی سند حسب ذیل ہے ۔

'' ضحاک بن یرع''کہ ہم نے اسی کتاب میں ابو بصیرہ کے حالات کی تشریح میں کہا ہے کہ ہمیں شک ہے کہ وہ بھی سیف کا جعل کردہ اور اس کا خیالی راوی ہے۔

داستان کی حقیقت

سیف کے علاوہ دیگر روایتوں میں آیا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے '' قیس بن ھبیرہ'' کو '' اسود'' کے ساتھ جنگ کرنے کی مموریت عطافرمائی اور حکم دیا کہ یمن میں مقیم ایرانیوں سے رابطہ قائم کرکے اس کام میں ان سے مدد حاصل کرے ۔

قیس پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم کو نافذ کرنے کیلئے راہی صنعاء ہوا اور وہاں پر اپنے آپ کو اسود کا حامی اور مرید جتلایا ۔ نتیجہ کے طور پر اسود اس کے صنعاء میں داخل ہونے میں رکاوٹ نہیں بنا اس طرح وہ قبائل مذحج ، ہمدان اور دیگر قبائل کی ایک جماعت لے کر صنعاء میں داخل ہوا۔

قیس نے صنعا میں داخل ہونے کے بعد مخفیانہ طور پر فیروزنامی ایرانی سردار سے رابطہ قائم کیا ، جس نے پہلے ہی اسلام قبول کیا تھا۔ اس کے بعد اس کے ہمرا ہ'' داذویہ '' سے ملاقات کی اور اس کی تبلیغ کی وجہ سے سر انجام دازویہ نے بھی اسلام قبول کیا ۔ اس کے بعد داذویہ نے اپنے مبلغین کو ایرانیوں کے درمیان یمن بھیجا اور انھیں اسلام کی دعوت دی، انہوں نے بھی اسلام قبول کیا اور اسود کو قتل کرنے میں ان کی مدد کی۔

کچھ مدت کے بعد قیس اور اس کی دو ایرانی بااثر شخصیتوں نے اسود کی بیوی کو اپنے پروگرام سے آگاہ کیا اور اس سلسلے میں اسکی موافقت حاصل کی تا کہ اسود کا کام تمام کرسکیں ۔

اس پروگرام کے تحت ایک دن وہ لوگ پو پھٹتے ہی نگہبانوں سے بچ کر اچانک اسود کے گھر میں داخل ہوئے اور اس پر حملہ کیا، فیروز نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا ، قیس نے اس کے سرکو تن سے جدا کرکے شہر کے دروازہ پر لٹکا دیا اور نماز کیلئے اذان دی اور اذاں کے آخر میں بلند آواز میں کہا کہ '' اسود جھوٹا اور خدا کا دشمن ہے '' ۔

اس طرح صنعاء کے باشندے اسود کے قتل کئے جانے کی خبر سے آگاہ ہوئے ۔


داستان کی حقیقت اور افسانہ کا موازنہ

سیف کی روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی طرف سے چند ایلچیوں کو یمن میں مقیم ایرانی سرداروں اور بزرگوں اور اسی طرح اسود کی فوج کے سپہ سالار '' قیس بن عبد یغوث'' کے پاس روانہ کیا، اور حکم دیا کہ یہ لوگ اسود کو قتل کرکے اس کا خاتمہ کردیں ۔

یہ لوگ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حکم بجالاتے ہیں ۔ اسود کو قتل کرنے کے بعد '' جشیش'' یا '' وبرہ'' اذان دیتا ہے اور '' وبرہ'' کی امامت میں نماز جماعت پڑھی جاتی ہے ۔

جبکہ سیف کے علاوہ دیگر روایتوں میں آیا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے '' قیس بن ھبیرہ'' کو '' اسود '' کو قتل کرنے کی مموریت عطا فرمائی ہے اور اس نے یمن میں مقیم ایرانی سرداروں کی مدد سے '' اسود '' کو قتل کیا ہے ۔ قیس نے '' اسود'' کے سر کو شہر کے دروازے پر لٹکانے کے بعد خود نما زکیلئے اذان دی ہے۔

جیسا کہ معلوم ہے سیف نے حقائق کو بدل کر داستان کے مرکزی کردار یعنی قیس کے باپ کا نام '' ھبیرہ'' سے تغیر دیکر ''عبد یغوث '' بتایا ہے ۔

اسی طرح اپنے جعلی صحابی کو '' وبر بن یحنس کلبی'' کا ہم نام یعنی '' وبرة بن یحنس'' ازدی خلق کیا ہے اور سیف کا یہ کام نیا نہیں ہے کیونکہ وہ حقیقی صحابیوں کے ہم نام صحابی جعل کرنے میں ید طولیٰ رکھتا ہے جس طرح اس نے اپنے خزیمہ کو '' خزیمة بن ثابت انصاری ذی شہادتین '' کے ہم نام اور اپنے ' سماک بن خُرشۂ انصاری کو '' سماک بن خُرشۂ انصاری '' معروف بہ ابی دجانہ کا ہم نام خلق کیا ہے ۔


افسانۂ وبرہ کے مآخذ

سیف نے '' وبرہ '' کے افسانہ کے راویوں کا حسبِ ذیل صورت میں نام لیا ہے :

١۔ مستنیر بن یزید نے

٢۔ عروة بن غزیہ سے ۔ یہ دونوں سیف کے خلق کردہ ہیں اور حقیقت میں وجود نہیں رکھتے ۔

٣۔ ' ' ضحاک بن یربوع'' ہم نے کہا کہ اس کے بارے میں ہم مشکوک ہیں کہ اسے سیف نے جعل کیا ہے یا نہیں ۔

'' وبرہ '' کے افسانہ کو نقل کرنے والے علما:

١۔ طبری نے اپنی تاریخ میں ۔ بلا واسطہ سیف سے نقل کرکے ۔

٢۔ ابن اثیر نے اپنی تاریخ میں ، طبری سے نقل کرکے۔

٣۔ ابن عبد البر نے '' استیعاب '' میں سیف سے بلاواسطہ نقل کرکے ۔

٤۔ ابن حجر نے '' اصابہ'' میں براہ راست سیف سے نقل کرکے ۔

مصادر و مآخذ

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ایلچیوں کی روایت

١۔ '' تاریخ طبری'' ( ١٧٩٩١١)

٢۔ '' اصابہ'' ( ٢ ١٨٢) صفوان کے حالات کے ضمن میں ۔

٣۔ '' تاریخ ابن خیاط'' ( ١۔ ٦٢ ۔٦٣) رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ایلچیوں کے نام میں نئی سطر سے ''وبرة بن یحنس'' کے بارے میں سیف کی روایات:

١۔'' تاریخ طبری'' ( ١٧٩٨١، ١٨٥٦، ١٨٥٧، ١٨٦٢، ١٨٦٤ ، ١٨٦٧، اور ١٩٨٤ )

٢۔'' استیعاب ''طبع حیدر آبار دکن ( ٢ ٦٠٦)

٣۔ '' اصابہ '' ( ٣ ٥٩٤)


'' وبر بن یحنس '' کلبی کی داستان :

١۔ '' تاریخ طبری '' (١ ١٧٦٣)

٢۔ '' اصابہ '' ابن حجر ( ٣ ٥٩٣)

٣۔ '' اسد الغابہ '' ابن اثیر ( ٥ ٨٣)

اسود عنسی کی داستان

١۔ '' فتوح البلدان '' بلاذری ( ١ ١٢٥۔ ١٢٦)

٢۔ '' عبدا للہ بن سبا'' دوسری جلد۔


چھتیس اور سینتیس ویں جعلی اصحاب اقرع بن عبدا للہ حمیری اور جریر بن عبد اللہ حمیری

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حمیری ایلچی :

سیف نے '' اقرع'' اور '' جریر'' عبدا للہ حمیری کے دوبیٹے خلق کئے ہیں تاریخ طبری میں سیف سے نقل کرکے دو روایتوں کے مطابق ان دو بھائیوں کی داستان یوں آئی ہے :

١۔ طبری نے ١١ ھ کے حوادت کے ضمن میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سفراء کے بارے میں بیان ہوئی روایت۔۔ جس کا ذکر اس حصہ کے شروع میں ہوا۔۔ میں یوں کہا ہے :

اس کے علاوہ جریر بن عبدا للہ کو ایلچی کے طور پر'' ذی کلاع'' اور ''ذی ظلیم '' کے پاس بھیجا اور اقرع بن عبد اللہ حمیری کو '' ذی رود '' اور '' ذی مران '' سے ملاقات کرنے کی مموریت دی۔

اس کے علاوہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد یمانیوں کے ارتداد کے بارے میں لکھتا ہے :

پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعض ایلچی گراں قیمت خبروں کے ساتھ ۔۔ خلافت ابو بکر کے دوران ۔۔ مدینہ پلٹے ، ان میں عبد اللہ حمیری کے بیٹے جریر اور اقرع اور وبرة بن یحنس بھی تھے۔ ابو بکر بھی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرح مرتدوں اور دین سے منحرف ہوئے لوگوں سے لڑتے رہے یہاں تک کہ اسامہ بن زید شام کی جنگ سے واپس آیا جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ ، یہ دو خبریں من جملہ ان خبروں میں سے ہیں جسے سیف نے دونوں بھائیوں کے بارے میں ایک ساتھ لکھا ہے اور طبری نے انھیں ١١ ھ کے ضمن میں درج کیا ہے ۔

٢۔ طبری نے '' فتح نہاوند '' کی خبر کو ٢١ ھ کے حوادث و روداد کے ضمن میں لکھا ہے :

جب مسلمان نہاوند پہنچے تو سپہ سالار اعظم نعمان بن مقرن نے حکم دیا کہ ساز و سامان کے ساتھ وہیں پڑاؤ ڈالیں ۔

نعمان کھڑے ہوکر کام کی نگرانی کررہا تھا اور فوجی خیمے لگانے میں مصروف تھے کہ کوفہ کے سرداروں اور اشراف نے نعمان کی خدمت کرنے کیلئے آگے بڑھ کر اس کیلئے ایک خیمہ نصب کیا ۔ سپہ سالار اعظم کیلئے خیمہ نصب کرنے کا کام کوفہ کے چودہ سردار اشراف نے انجام دیا ان میں یہ افراد تھے : جریر بن عبد اﷲ حمیری ، اقرع بن عبد اللہ حمیری اور جریر بن عبد اللہ بجلی اور آج تک خیمہ نصب کرنے والے ایسے لوگ دکھائی نہیں دئے ہیں


صرف ان دو خبروں میں طبری نے سیف بن عمر سے نقل کرکے دو جعلی حمیری بھائیوں کا نام ایک ساتھ لیا ہے ۔

لیکن تاریخ طبری میں سیف کی دوسری روایتوں میں ایک ایسی خبر موجود ہے جس میں تنہا جریر کا نام لیا گیا ہے اور اس کے بھائی اقرع کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ ذیل میں ملاحظہ ہو :

جریر بن عبد اللہ حمیری

صلح ناموں کا معتبر گواہ :

حیرہ کے بعد والے حوادث اور رودادوں کے ضمن میں سیف سے نقل کرکے طبری لکھتا ہے :

'' حیرہ کے باشندوں کے ساتھ خالدبن ولید کی صلح کے بعد '' قس الناطف '' ١ کاسردار اور حاکم '' صلوبا بن نسطونا'' خالد کی خدمت میں حاضر ہوا ور '' بانقیا '' اور '' بسما'' کے بعض حصے اور ان دو جگہوں سے مربوط دریائے فرات کے کنارے پر واقع کھیتی کی زمینوں کے سلسلے جو آپ فرات سے سیراب ہوئے تھے اور دس ہزار دینار یعنی فی نفر چار درہم ۔۔ بادشاہ ایران کو ادا کرنے والی رقم سے زیادہ ۔۔ ٹیکس ادا کرکے صلح کی ۔ سر انجام اس کے اور سپہ سالار اعظم کے درمیان صلح نامہ لکھا گیا اور جریر بن عبد اللہ حمیری نے اس کی تائید کرکے گواہی دی۔

اس صلح نامہ کے آخر میں جو تاریخ لکھی گئی ہے وہ '' ماہ صفر ١٢ ھ '' ہے اس روایت کے بعد طبری ایک دوسری روایت میں لکھتا ہے :

____________________

١۔'' قس الناطف '' کوفہ کے نزدیک دریائے فرات کے مشرق میں واقع ہے اور بانقیا اور بسما بھی کوفہ کے اطراف میں تھے ۔معجم البلدان


'' صلوبا بن بصبہری '' اور '' نسطونا '' نے '' خالد '' کے ساتھ '' فلالیج '' سے'' ہر مزگرد '' ١ کے درمیان شہروں اور زمینون کے بارے میں ، صلح نامہ کی رقم کے علاوہ بیس لاکھ کی رقم پر صلح نامہ پر دستخط کئے اس صلح نامہ کا گواہ جریر بن عبد اللہ حمیری تھا ۔

سیف کہتا ہے کہ اس کے بعد خالد بن ولید نے اپنے کارگزار معین کردئے اور فتح شدہ علاقوں میں مسلح فوج کو معین کردیا ۔ اس کے گماشتوں اور گزار میں ایک '' جرید بن عبد اللہ حمیری '' تھا جو خالد کی طرف سے نمائندہ کی حیثیت سے '' بانقیا '' اور '' بسما'' کا ممور قرار پایا۔

طبری ، سیف سے نقل کر کے ایک اور روایت میں لکھتا ہے :

خالد کے کارگزار خراج ادا کرنے والوں کو درج ذیل صورت میں رسید دیتے تھے :

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

یہ ورقہ بعنوان رسید ہے ان افراد کیلئے جنہوں نے یہ رقم یا یہ مقدا رجزیہ ، جسے خالد نے صلح کی بنیاد قرار دیاتھا ، ادا کیا ہے ۔ خالد اور تمام مسلمان اس شخص کا سختی سے مقابلہ کریں گے جو صلح نامہ میں مقرر شدہ جزیہ کی رقم ادا کرنے میں کسی قسم کی تبدیلی لائے گا ۔ اس بنا پر جو امان تمہیں دی گئی ہے اور جو صلح تمہارے ساتھ ہوئی ہے ، پوری طاقت کے ساتھ برقرار ہے اور ہم بھی ا س کے اصولوں پر پابند رہیں گے۔

اس رسید کے آخر میں جن چند اصحاب سے خالد نے دستخط لئے تھے جوحسب ذیل تھے :

____________________

١۔ ہر مزگرد عراق میں ایک شہر تھا جو عمر کی خلافت کے زمانے میں مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوا ہے ۔


ہشام ، جابر بن طارق ، جریر بن عبد اللہ اور

طبری ، سیف سے نقل کرکے ایک اور روایت میں لکھتا ہے :

'' فلالیج'' اور اسکے دور ترین شہروں اور علاقوں کے تمام لوگوں کو خالد نے مسلمان بنانے اور وہاں کے لوگوں کو اپنی اطاعت میں لانے کے بعد علاقۂ حیرہ کی حکومت '' جریر بن عبد اللہ حمیری '' کو سونپی ۔

جریر ، مصیخ کی جنگ میں :

مصیخ کی داستان کے ضمن میں طبری نے لکھتا ہے :

اس اچانک حملہ میں ، حتی عبد العزی بن ابی رہم نمری بھی جرید بن عبد اللہ کے ہاتھوں مارا گیا ۔ '' عبد العزی ، اوس بن مناة'' کا بھائی تھا ۔ وہ دشمن کی سپاہ میں تھا، لیکن اسلام لایا تھا ، اسلام لانے کے سلسلے میں ابو بکر کی طرف سے ایک تائید نامہ بھی اپنے پاس رکھتاتھا لیکن وہ اس برق آسا حملہ میں جرید بن عبداللہ کے ہاتھوں مارا گیا جبکہ اس شب وہ اس طرح پڑھ رہا تھا :

جس وقت اچانک حملہ ہوا ، میں نے کہا اے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خدا !تو پاک و منزہ ہے ۔

میرا اللہ جس کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے جو تمام زمینوں اور انسانو ں کا پیدا کرنے والا اور ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے ۔ ١

اسی طرح طبری ، سیف سے نقل کرکے حدیث جسر ۔۔ جسر ابو عبید ۔۔ میں ١٣ ھ کے حوادت

____________________

١۔ اسی کتاب کی پہلی جلد ( فارسی ) ( ١ ١٥٦ ۔ ١٥٧) ملاحظہ ہو۔


کے ضمن میں کہتا ہے :

یرموک کی جنگ اور جسر کی داستان کے درمیان چالیس دن رات کا فاصلہ تھا ۔ جس شخص نے خلیفہ عمر ۔۔ کو یرموک کی فتح کی نوید دی وہ جریر بن عبد اللہ حمیری تھا۔

یہاں اور آنے والی بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ سیف نے اپنے صحابی '' جریر '' کو ایسا خلق کیا ہے کہ خالد بن ولید '' حیرہ '' کی فتح کے بعد اسے اپنے ساتھ شام لے جاتا ہے ۔

جریر ، ہرمزان کا ہم پلہ

طبری نے '' رامہرمز ، شوش اور شوشتر '' کی فتح کے موضوع کے بارے میں ١٧ ھ کے واقعات کے ضمن میں سیف سے نقل کرکے یوں ذکرکیا ہے :

خلیفۂ عمر نے ''سعد وقاص'' کو لکھا کہ فوری طور پر ایک عظیم فوج کو ''نعمان بن مقرن'' کی کمانڈ میں اہواز بھیجدے اور جریر بن عبدا ﷲ حمیری و جریر بن عبد اللہ بجلی اور کوہرمزان سے مقابلہ کرنے کیلئے ممور کرے تا کہ اس کا کام تمام کردیں ۔

طبری'سیف سے نقل کرکے '' حیرہ کی روداد اور خالد بن ولید اور '' قس الناطف '' کے سردار کے درمیان صلح نامہ کے موضوع کے ضمن میں لکھتا ہے :

اس صلح نامہ کے آخر میں لکھی گئی تاریخ '' ٢٠'' ماہ صفر ١٢ھ ہے ۔

طبری سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے لکھتا ہے :

خطوط کے آخر میں تاریخ لکھنے والے پہلے شخص عمر تھے اور وہ بھی ١٦ ھ میں ان کی خلافت کے ڈھائی سال گزرنے کے بعد ، تاریخ کی یہ قید امیر المؤمنین علی بن ابیطالب کی مشورت اور راہنمائی سے انجام پائی ہے ۔

اس کے بعد طبری اسی موضوع کی وضاحت میں لکھتا ہے :

عمر نے لوگوں کو جمع کرکے ان سے پوچھا : کس دن کو تاریخ کا آغاز قرار دیں ؟ امیر المؤمنین علی نے فرمایا: اس دن کو جب رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہجرت فرمائی اور دیار شرک کو ترک فرمایا ۔


عمر نے اسی نظریہ کو منظور کرکے اسی پر عمل کیا ۔

طبری سے جو مطالب ہم نے نقل کئے ان سے معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ کا موضوع اور اس کے خطوط و عہد ناموں کے آخر میں درج کرنے کا رواج ١٦ ھ تک نہیں تھا اور اس وقت تک خطوط اور عہد ناموں کے آخر میں تاریخ نہیں لکھی جاتی تھی لہذا ١٦ ھ سے پہلے والے جتنے بھی خطوط اور عہد ناموں پر تاریخ لکھی گئی ہوگی ، وہ جعلی ہیں جیسے سیف کا وہ عہد نامہ جسے اس نے ١٢ ھ کے ماہ صفر میں لکھنے کی نسبت خالد بن ولید سے دی ہے ۔

'' اقرع'' اور ''جریر'' کے افسانوں کی تحقیق

سیف نے اقرع و جریر کے بارے میں اپنے افسانہ کے راویوں کا یوں تعارف کیا ہے:

١۔'' محمد'' اس نام کی پانچ بار تکرار کی ہے اور اسے محمد بن عبد اللہ بن سواد کہا ہے ۔

٢۔ '' مہلب '' اس کا نام دوبار ذکر کیا ہے اور اسے مہلب بن عقبہ اسدی کہا ہے۔

اس کے علاوہ درج ذیل ناموں میں سے ہر نام ایک بار ذکر ہوا ہے ۔

٣۔ غصن بن قاسم

٤۔ ابن ابی مکنف

٥۔ زیاد بن سرجس احمری

٦۔ سہل بن یوسف سلمی انصاری


ہم نے بارہا کہا ہے کہ یہ سب سیف کے ذہن کی تخلیق ہیں اور حقیقت میں وجود نہیں رکھتے ۔

مذکورہ راویوں کے علاوہ سیف نے اشارہ اور ابہام کی صورت میں چند دیگر راویوں کا نام بھی لیا ہے کہ جنہیں پہچاننا ممکن نہیں ہے ، جیسے کہ کہتا ہے :

بنی کنانہ کے ایک شخص سے ! ، یہ شخص کون ہے ؟!

یا یہ کہتا ہے :

عمرو سے کون سا عمرو؟ اسی کے مانند

تاریخی حقائق اور سیف کا افسانہ

یہ حقیقت ہے کہ اصحاب کے درمیان '' جریر بن عبد اللہ بجلی '' نام کا ایک صحابی موجود تھا (۱) نقل کیا گیا ہے کہ خلیفہ عمر نے حکم دیا کہ اس کا قبیلہ نقل و حرکت کرے اور جریرنے ان (عمر ) کے سپہ سالار کی حیثیت سے عراق کی جنگوں میں شرکت کی ہے ۔

____________________

١۔ہم نے اس جریر کو ، مؤرخین کی روش کے مطابق کہ ''جس کسی نے اسلام لاکر پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دیکھا ہے ، اسے صحابی کہتے ہیں '' ، صحابی کہا ہے


سر انجام جریر نے کوفہ میں سکونت اختیار کی اور ٥٠ ھ کے بعد وفات پائی ۔

ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ سیف اپنے خلق کردہ صحابی '' جریر بن عبد اللہ حمیری'' کو '' جریر بن عبد اللہ بجلی '' کا ہم نام بتاتا ہے ۔ اس نے اسی شیوہ سے اپنے جعلی اصحاب کو ''خزیمہ بن ثابت ذو الشہادتین '' اور '' سماک بن خرشہ انصاری''' ابودجانہ دو حقیقی اصحاب کے ہم نام کیا ہے ۔ اس کے بعد جریر بجلی کی بعض سرگرمیوں کو اپنے جعلی صحابی جریر حمیری سے نسبت دیتا ہے ۔

اس سلسلے میں ہم بلاذری کی کتاب '' فتوح البلدان '' کی طرف رجوع کرتے ہیں وہ لکھتا ہے :

'' جریر بجلی'' وہی شخص ہے جس نے بانقیا کے باشندوں کے نما ئندہ '' بصبہری'' سے ایک ہزار درہم اور طیلسانی ١ وصول کرنے کی بنیاد پر صلح کرکے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا ہے ۔

جیسا کہ کہتا ہے :

خالد نے اس بنا پر ان کے ساتھ معاہدہ کیا اور جنگ نخیلہ کے بعد جریر بجلی وہاں گیا اور ان سے معاہدہ کی مقررہ رقم وصول کی انھیں اس کی رسید دی۔

اسی طرح بلاذری کہتا ہے :

'' بانقیاد '' سے واپس آنے کے بعد ، خالد بن ولید '' فلالیج'' کی طرف روانہ ہوا چونکہ ایرانیوں کا ایک گروہ وہاں پر جمع ہو کرجنگ کا نقشہ کھینچ رہا تھا خالد کے فلالیج میں داخل ہونے کے بعد ایرانی فوری طور پر متفرق ہوئے اور ان کے منصوبے نقش بر آب ہوگئے۔

____________________

١۔ایک قسم کے سبز رنگ کا اورکوٹ ہے جسے خاص طور سے ایران کی بزرگ شخصیتیں اور علماء پہنتے تھے۔


بلاذری ایک اور جگہ پر لکھتا ہے :

خلافت عمر کے زمانے میں جریر بن عبد اﷲ بجلی نے ''' انبار'' کے باشندوں کے ساتھ ان کی سرزمینوں کی حدود کے بارے میں سالانہ چار لاکھ درہم اور ایک ہزار '' قطوانیہ''١ عبا ؤں کے مقابلے میں معاہدہ کیا ہے۔

بلاذری جیسے دانشور کے لکھنے کے مطابق ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سیف بن عمر نے '' جریر بن عبد اللہ ''جیسے صحابی کے بانقیا کی صلح ، جزیہ کا وصول کرناور رسید دینے کے جیسے کارناموں کو اپنے جعلی صحابی '' جریر بن عبد اللہ حمیری '' سے نسبت دی ہے ۔

اس کے علاوہ سیف تنہا شخص ہے جس نے '' مصیخ بنی البرشاء '' کی جنگ کے افسانہ کو اس آب و تاب کے ساتھ خلق کیا ہے اور اسے اپنی کتاب ''' فتوح '' میں درج کیا ہے جسے طبری اور طبری کی پیروی کرنے والوں نے سیف سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیاہے اور ہم نے اس کی تفصیلات اسی کتاب کی پہلی جلد میں سیف کے بے مثال سورما ''قعقاع بن عمر و تمیمی'' کی زندگی کے حالات میں بیان کی ہیں ۔

اسی طرح سیف تنہا شخص ہے جس نے ان دو بھائیوں کے رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے ایلچی مقرر ہونے کی بات کی ہے۔

اور یہی دوسری صدی ہجری کا تنہا افسانہ ساز ہے جس نے خیمے نصب کرنے اور سپہ سالار اعظم

''نعمان بن مقرن '' کیلئے خصوصی خیمہ نصب کرنے کی داستانیں گڑھی ہیں ۔

____________________

١۔ قطوانیہ قطوان سے منسوب اسی علاقہ میں ایک جگہ تھی جو ایسا لگتا ہے کہ شہر کوفہ کی بنیاد پڑنے کے بعد وجود میں آئی ہے ، معجم البلدان میں کوفہ کے ملحقات میں شمار کیا گیا ہے ۔


اس افسانہ کا نتیجہ

سیف نے ، اقرع بن عبد اللہ اور اس کے بھائی جریر بن عبد اللہ حمیری کو خلق کرکے بعض کارنامے اور تاریخی داستانیں ان سے منسوب کی ہیں ۔

امام المؤرخین طبری نے مذکورہ داستانوں کو سیف سے نقل کرکے ١٢ ھ سے ٢١ ھ تک کے حوادث کے ضمن میں حقیقی اور ناقابل انکار مآخذ کے طور پر اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے۔

دوسرے علماء جیسے ، ابن عبد البر ، کتاب '' استیعاب '' کا مصنف ، سیف کی تالیفات پر اعتماد کرکے مذکورہ افسانوں کو صحیح سمجھتے ہوئے اقرع بن عبد اللہ حمیری کے حالات کی تشریح میں لکھتا ہے :

اقرع کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے ایلچی کے طور پر '' ذی مران '' اور یمن کے سرداروں کے ایک گروہ کے پاس بھیجا تھا ۔

معروف عالم اور کتاب '' اسد الغابہ '' کے مصنف ابن اثیراور کتاب '' اصابہ '' کے مؤلف ابن حجر نے اسی خبر کو اس سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

لیکن ابن حجر مذکورہ خبر کو '' استیعاب '' سے نقل کرنے کے بعد لکھتا ہے :

اس خبر کو سیف بن عمر نے اپنی کتاب ' ' فتوح '' میں ضحاک بن یربوع سے اس نے اپنے باپ یربوع سے اس نے ماہان سے اور اس نے ابن عباس سے نقل کیا ہے ۔

اس طرح ابن حجر ، ابن عبد البر کے اپنی کتاب '' استیعاب'' میں لائے گئیمآخذ سے پرہیز کرکے وضاحب سے کہتا ہے کہ وہی سیف کی کتاب '' فتوح '' ہے


یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذکورہ روایت ۔۔ اقرع کی یمن میں مموریت کے بارے میں ابن عبد البر کی روایتسے الگ ہے جسے ہم نے طبری سے نقل کرکے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ایلچیوں کی مموریت کے بارے میں اس حصہ کہ ابتدا ء میں ذکر کیا ہے ۔

سیف نے اس روایت کو گڑھ کر ، اپنی پہلی روایت کی تائید کی ہے ۔ یہ اس کی عادت ہے کہ اپنی جعل کردہ چیزوں کو متعدد روایتوں میں منعکس کرتا ہے ۔ تا کہ اس طرح اس کی روایتیں ایک دوسرے کی مؤید ہوں اور اس کا جھوٹ سچ دکھائی دے ۔

اس کے بعد ابن حجر طبری کی روایت کو سیف سے نقل کرکے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ایلچیوں کی خلافت ابوبکر میں اپنی ممور یتوں سے واپس مدینہ آنے کے واقعات کو' جنہیں ہم نے گزشتہ صفحات میں درج کیا ہے ۔۔ کو اپنی کتاب '' اصابہ '' میں درج کیا ہے ۔

مذکورہ علماء نے '' اقرع بن عبد اللہ حمیری'' کے بارے میں حالات لکھ کر اورسیف کی باتوں اور روایتوں پر اس قدر اعتماد کرکے اپنی گراں قدر کتابوں کو اس قسم کے افسانوں سے آلودہ کیا ہے ۔

یہ امر اقرع کے خیالی بھائی '' جریر بن عبد اﷲحمیری'' کے بارے میں لکھے گئے حالات پر بھی صادق آتا ہے ۔ کیونکہ ابن اثیر '' جریر '' کے حالت کی تشریح میں لکھتا ہے :

وہ ۔۔ جریر بن عبد اللہ حمیری۔۔ یمن میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ایلچی تھا ۔ جریر نے عراق اور شام کی جنگوں میں خالد بن ولید کی ہمراہی میں سرگرم حصہ لیا ہے ۔ اس نے یرموک کی جنگ میں فتح کی نوید خلفیہ عمر ابن خطاب کو پہنچائی ہے (یہ سیف کا کہنا ہے ) ان مطالب کو '' ابو القاسم ابن عساکر '' نے بھی جریر کے بارے میں درج کیا ہے ۔

ابن حجر بھی '' جریر بن عبد اللہ '' کے حالات کے بارے میں اپنی کتاب '' اصابہ '' میں لکھتا ہے :

ابن عساکر کہتا ہے کہ وہ ۔۔ جریر ۔۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میں سے تھا ۔ اور سیف کی کتاب '' فتوح '' کے مطابق کہ اس نے '' محمد '' سے اور اس نے ''' عثمان '' سے نقل کرکے ذکر کیا ہے کہ جب خالد بن ولید نے یمامہ سے عراق کی طرف جنگ کا عزم کیا ، اپنی فوج کو از سر نو منظم کیا ۔ اس سلسلے میں پہلے اصحاب پر نظر ڈالی اور ان میں سے جنگجو اور شجاع افراد کا انتخاب کیا ان جنگجوؤں کی کمانڈ '' جریر بن عبد اللہ حمیری'' کو سونپی ، جو اقرع بن عبد اللہ کا بھائی اور یمن میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ایلچی تھا ( تاآخر )

اس کے علاوہ سیف نے نقل کیا ہے کہ اسی جریر بن عبدا للہ نے یرموک کی جنگ میں فتح کی نوید مدینہ خلیفہ عمر کو پہنچائی ہے ۔

سیف نے مختلف جگہوں پر اس '' جریر'' کا نام لیا ہے اور ابن فتحون نے جریر کے حالات کو دوسرے مآخذ سے درک کیا ہے اور


ابن عساکر کی نظر میں افسانۂ جریر کا راوی '' محمد بن عبد اللہ بن سواد نویرہ '' ہے جس کا حقیقت میں وجود ہی نہیں ہے بلکہ یہ سیف کا جعلی راوی ہے ۔

اس طرح ان علماء نے سیف کی روایتوں پر اعتماد کرکے ان دو حمیری اور سیف کے خیالی بھائیوں کو پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دوسرے صحابیوں کی فہرست میں قرار دیکران کے حالاتلکھے ہیں ۔

خلاصہ

سیف نے اقرع اور جریر کو عبد اللہ کے بیٹوں کے عنوان سے خلق کیا ہے اور ان دونوں کو رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے ایلچی کے طور پر یمن بھیجا ہے تاکہ کافروں اور اسلام سے منحرف لوگوں کے خلاف جنگ کا انتظام کریں ۔ اور ان دونوں کو ان افراد میں شمار کیا ہے جو مدینہ واپس آئے ہیں اور یمانی مرتدوں کی خبر خلیفہ ابو بکرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پہنچائی ہے ۔

سیف کہتا ہے کہ جب خالد بن ولید یمامہ سے عراق کی جنگ کیلئے روانہ ہوا ، تو اس نے اپنی فوج کو از سر نو منظم کیا اور اس سلسلے میں پہلے اصحاب کو مدنظر رکھا ، ان میں سے مجاہدوں اور شجاعوں کا انتخاب کیا جن میں جرید بن عبد اللہ حمیری بھی تھا خالد نے، قضاعہ دستہ کے فوجیوں اور جنگجوؤں کی کمانڈ اسے سونپی ہے ۔

جریر عراق میں خالد کی جنگوں اور فتوحات میں سر گرم عمل رہا ہے اور ''' بانقیا '' ، '' بسما'' '' فلالیج'' سے ''ہر مزگرد ''تک کے صلح ناموں میں عینی گواہ کے طور پر رہا ہے ۔ خالد نے اسے بانقیا و بسما کی حکمرانی سونپی ہے ۔

جریران اصحاب میں سے تھا جو خراج و جزیہ کی رقومات عراق کے علاقوں کے لوگوں سے وصول کرتا تھا جو تسخیر ہونے کے بعد ان پر مقرر کیا گیا تھا ۔ یہ رقومات وصول کرنے کے بعد انھیں رسید دیا کرتا تھا ۔

خالد کے ''مصیخ بنی البرشا'' پر بجلی جیسے حملہ میں جریر اس کے ہمراہ تھا اور اس نے کفار کے درمیان ایک مسلمان کو بھی قتل کر ڈالا ۔

وہ کہتا ہے کہ جریر نے خالد کے ہمراہ شام کی جنگ میں شرکت کی ہے اور خالد کی طرف سے قاصد کے طور پر مدینہ جاکر خلیفہ عمر کو یرموک کی فتح کی نوید پہنچائی ہے۔


جریر وہ بہادر ہے جسے '' سعد بن وقاص '' نے خلیفہ عمر کے صریح حکم کے مطابق '' جریر بن عبد اللہ بجلی '' کے ہمراہ ایرانی فوج کے کمانڈر ہرمزان سے مقابلہ کیلئے بھیجا ہے ۔

سیف نے مزید کہا ہے کہ جریر نے ٢١ ھ کی جنگِ نہاوند میں شرکت کی ہے اور اپنے بھائی اقرع اور جریر بن عبدا للہ بجلی اور دیگر اشرافِ کوفہ سپہ سالار اعظم '' نعمان بن مقرن '' کا خیمہ نصب کرنے میں ہاتھ بٹایا ہے ۔

یہ سیف بن عمر تمیمی کی روایتوں کا خلاصہ تھا جو اس نے اپنے خلق کئے گئے دو جعلی اصحاب کے بارے میں گڑھ لی ہیں ۔

سیف نے اپنے خیالی افسانوی پہلوان '' جریر بن عبد اللہ حمیری '' کو '' جریر بن عبد اللہ بجلی '' کے ہم نام خلق کرکے اس کی بعض فتوحات اور جنگی کارناموں کو اپنے اس خیالی بہادر سے منسوب کیا ہے ۔

نہیں معلوم ، شاید جریر کے بھائی ''' اقرع '' کو اس نے '' اقرع بن حابس تمیمی '' یا '' اقرع عکی '' اور یا کسی اور اقرع کے ہم نام خلق کیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ نام ۔۔ ''اقرع بن عبد اللہ حمیری '' یوں ہی اچانک اس کے ذہن میں آیا ہو اور اس نے اپنے افسانوں میں اس کیلئے اہم اور حساس رول رکھے ہوں ۔

یہ بھی ہم بتا دیں کہ ہمارے اس افسانہ گو سیف بن عمر نے ان دو حمیری بھائیوں کی داستان تقریباً اس کے دو نامدار عظیم الجثہ تمیمی پہلوان عمر و تمیمی کے بیٹے '' قعقاع'' اور '' عاصم '' کے افسانہ کے مشابہ خلق کی ہے ۔

سرانجام یہ افسانہ اور اس کے مانند سیکڑوں افسانے جن سے اسلام کی تاریخ بھری پڑی ہے اور جو دانشوروں اور اکثر مسلمانوں کیلئے اس حد تک افتخار و سر بلندی کا سبب بنے ہیں کہ وہ کسی قیمت ان سے دستبردار ہونے کیلئے آمادہ نظر نہیں آتے

یہ افسانے درج ذیل معتبر اسلامی مصادر و مآخذ میں قطعی اور حقیقی سند کے عنوان سے در ج ہوئے ہیں ۔


دو حمیری بھائیوں کے افسانہ کے راوی :

سیف نے مذکورہ دو بھائیوں کے افسانہ کو درج ذیل راویوں کی زبانی نقل کیا ہے :

١۔ محمد بن عبد اللہ بن سواد نویرہ

٢۔ مھلب بن عطیہ اسدی

٣۔ غصن بن قاسم۔

٤۔ ابن ابی مکنف

٥۔ زیاد بن سرجس احمری

٦۔ سہل بن ییوسفسلمی۔

مذکورہ سبھی راوی سیف کے جعل کردہ ہیں اور حقیقت میں وجود نہیں رکھتے ۔

ان دو بھائیوں کا افسانہ نقل کرنے والے علما:

١۔ امام المؤرخین طبری نے اپنی تاریخ میں ۔

٢۔ ابو عمر بن عبد البر نے اپنی کتاب '' استیعاب '' میں ۔

٣۔ ابن عساکر نے '' تاریخ دمشق'' میں ۔

٤۔ ابن فتحون نے کتاب' ' استیعاب ''کے حاشیہ پر ۔

٥۔ ابن اثیر نے '' اسد الغابہ '' میں

٦۔ ذہبی نے کتاب '' تجرید میں ''

٧۔ ابن حجر نے کتاب '' اصابہ '' میں

٨۔ محمد حمید اللہ نے کتاب '' وثائق الساسبہ '' میں ۔


مصادر و مآخذ

دو حمیری بھائیوں '' اقرع '' و جریر '' کے بارے میں سیف کی روایات :

١۔ تاریخ طبری ( ١ ١٧٩٨، ١٩٨٨، ١٩٩٨، ٢٠٤٩، ٢٠٥٢، ٢٠٥٥، ٢٠٧٠، ٢١٧٦، ٢٥٥٢، اور ٢٦١٩)

اقرع کے حالات

١۔ کتاب '' استیعاب ''' طبع حیدر آباد دکن (١ ٦٤ ) نمبر : ١٠٠

٢۔ اسد الغابہ ( ١ ١١٠)

٣۔ ذہبی کی '' تجرید'' (١ ٢٦)

٤۔ ابن حجر کی '' اصابہ '' (١ ٧٣) نمبر : ٢٣٣

جریر حمیری کے حالات :

١۔ ابن اثیرکی '' اسد الغابہ '' (١ ٢٧٩)

٢۔ ابن حجر کی '' اصابہ'' (١ ٢٣٤)نمبر: ١١٣٧

تاریخ لکھنے کے سلسلہ میں عمر بن خطاب کا صلاح و مشورہ

١۔ '' تاریخ طبری '' (١ ٢٤٨٠)

جریر بن عبد اللہ بجلی کے بارے میں روایت اور اس کے حالات :

'' استیعاب '' ، اسد الغابہ ، اصابہ ، اور بلاذری کی '' فتوح البلدان '' ( ص ٢٩٩، ٣٠٠، ٣٠١ ) ، قبیلہ ٔ بجیلہ پر جریر بن عبدا للہ بجلی کی حکمرانی:

١۔ تاریخ طبری (١ ٣٢٠٠ ۔ ٣٢٠٢)


اڑتیسواں جعلی صحابی صلصل بن شرحبیل

صلصل ، ایک گمنام سفیر :

سیف کی اس روایت میں جس میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سفیروں کے نام آئے ہیں ، صلصل کے بارے میں یوں ذکر ہوا ہے :

صلصل بن شرحبیل کو '' سبرۂ عنبری ، وکیع دارمی ، عمرو بن محجوب عامری ، اوربنی عمرو کے عمروبن الخفاجی '' کے پاس اپنی طرف سے سفیر بنا کر بھیجا ۔ ابن حجر نے ''صفوان بن صفوان اسید '' کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے :

اسی طرح سیف نے ارتداد کی جنگوں کے ضمن میں ابن عباس سے نقل کرکے ذکر کیا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے صلصل بن شرحبیل کو اپنے ایلچی کے طور پر صفوان بن صفوان تمیمی ، وکیع بن عدس دارمی اور دیگر لوگوں کے پاس بھیجا تا کہ وہ انہیں مرتدوں سے جنگ کرنے کی ترغیب دے ۔

ہم نے سیف کی ان دو روایتوں کے علاوہ ۔۔ جوخود اس صحابی کے نام کو خلق کرنے والا ہے ۔۔ صلصل کا نام کہیں اور نہیں پایا۔

کتاب ' استیعاب '' کے مصنف ابو عمر ، ابن عبد البر نے صلصل کے حالات کی تشریح میں لکھاہے:


صلصل بن شرحبیل : میں نہیں جانتا کہ کس خاندان سے ہے۔ وہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں میں سے تھا ، لیکن مجھے اس کی کسی روایت کا سراغ نہ ملا ۔ اس کی خبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے چند ایلچیوں کو روانہ کرنے کے ضمن میں آئی ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے اپنے سفیر کے طور پر '' صفوان بن صفوان ١ ، سبرہ عنبری ، وکیع دارمی ، عمرو بن محجوب عامری اور بنی عامر کے عمرو بن الخفاجی '' کے پاس بھیجا تھا ، وہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ایک سفیر تھا ۔

ابن اثیر نے ، ابن عبد البر کی عین عبارت کو اپنی کتاب '' اسد الغابہ '' میں اور ذہبی نے '' تجرید '' میں صلصل بن شرحبیل کے حالات کی تشریح میں نقل کیا ہے اور ابن حجر نے اسے خلاصہ کرکے اپنی کتاب '' اصابہ '' میں درج کرکے یوں لکھا ہے :

اس کا ۔۔ صلصل بن شرحبیل۔۔ نام صفوان بن صفوان کے حالات کی تشریح میں گزرا ، ابو عمر ۔۔ استیعاب کامصنف ۔۔ کہتا ہے کہ میں اس کے خاندان کو نہیں جانتا اور مجھے اس کی روایت کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے ۔( ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

ان نامور علماء نے ، سیف کے خلق کردہ صلصل بن شرحبیل کے حالات کے بارے میں سیف کی روایت سے اسی پر اکتفاء کیا ہے ۔ چونکہ سیف نے بھی اس کے علاوہ کچھ نہیں لکھاہے لہذا وہ بھی نہ اس کے نسب کے بارے میں اور نہ ہی اس کی روایتوں کے بارے میں اطلاع رکھتے ہیں ۔

____________________

١۔ صفوان کے باپ کا نام ابن عبدالبر کی کتاب '' استیعاب '' میں '' امیہ '' آیا ہے جو غلط ہے ۔ کیونکہ صفوان بن امیہ اسلام لانے کے بعد مکہ سے باہر نہیں نکلا ہے ۔ اس خبر کا مآخذ بھی سیف کی روایت ہے جس میں '' صفوان بن صفوان '' بتایا گیا ہے ۔


انتالیسواں جعلی صحابی عمرو بن محجوب عامری

جعلی روایتوں کا ایک سلسلہ

مکتبِ خلفاء کے پیرو علماء نے سیف کی مذکورہ دو روایتوں پر مکمل اعتماد کرکے سیف کی ایک اور مخلوق '' عمرو بن محجوب عامری '' کو ایک مسلم حقیقت کے عنوان سے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے واقعی صحابی کے طور پر درج کیا ہے ۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ سیف نے اپنے خلق کردہ صحابی کیلئے جو نسب گڑھا ہے وہ عامری ہے ۔ اور یہ '' عامر '' کی طرف نسبت ہے جو قبائل '' ُمعد اور قحطانی '' کے خاندانوں سے متعلق ہے ۔

لیکن ہمیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ سیف نے اس صحابی کو ان قبیلوں میں سے کس قبیلہ سے خلق کیا ہے ۔

عمرو بن محجوب کی داستان :

ہم نے دیکھا کہ طبری نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سفیروں کے ضمن میں سیف سے روایت کرکے صلصل کا نام لیا ہے اور اس کی ممور یتوں کے بارے میں یوں بیان کیا ہے کہ وہ پیغمبرا خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے ممور تھا کہ '' بنی عامر عمرو بن محجوب اور عمرو بن خفاجی '' سے ملاقات کرے۔

ابن حجر نے '' اصابہ '' میں اس عمرو بن محجوب کے حالات کی تشریح میں لکھا ہے :

عمروبن محجوب عامری وہ صحابی ہے جسے ابن فتحون نے دریافت کیا ہے اور سیف بن عمر نے اپنی کتاب '' فتوح '' میں ابن عباس سے دو سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ عمروبن محجوب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتوں اور کارندوں میں سے تھا ، اور زیاد بن حنظلہ کے ذریعہ اسے فرمان دیا گیا ہے کہ پوری طاقت کے ساتھ مرتدوں سے جنگ کرنے کیلئے اٹھ کھڑا ہو ۔ ہم نے اس عمرو کا نام '' صفوان بن صفوان '' کے حالات پر روشنی ڈالنے کے ضمن میں ہے ۔( ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

اس لحاظ سے عمرو بن محجوب کا نام سیف کی ایک روایت کے مطابق تاریخ طبری میں اور دو روایتوں کے مطابق سیف کی کتاب فتوح میں آیا ہے ،اور ابن حجر نے ان کو خلاصہ کے طور پر اپنی کتاب ''اصابہ '' میں نقل کیا ہے ۔

چوتھی روایت وہاں ہے جہاں ابن حجر نے صفوان کے حالات کی تشریح میں اس کا نام لیا ہے کہ ہم نے اسے صلصل بن شرحبیل کے حالات کی تشریح میں نقل کیا ہے ۔


یہ امر قابل توجہ و دقت ہے کہ ان روایتوں میں سے ہر ایک دوسری پر ناظر اور اس کی مؤید شمار ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر یہ عمرو بن محجوب عامری پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ان گماشتوں اور کارندوں میں سے ہے کہ جس کی مموریت کے دوران اسے دو خط ملے ہیں ایک صلصل کے ذریعہ اور دوسرا زیاد بن حنظلہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی کے ذریعہ ، ان دو خطوط میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے شرک و ارتداد کے خلاف ثابت قدم رہنے کاحکم دیا ہے ۔

انہی روایتوں پر ، ابن فتحون اور ابن حجر جیسے علماء نے پوراا عتماد کر کے پہلے (ابن فتحون) ابن فتحون نے سیف کے اس جعلی صحابی کے حالات '' استیعاب ''کے حاشیہ میں درج کئے اور دوسرے (ابن حجر) نے اپنی معتبر کتاب اصابہ میں اس کیلئے مخصوص جگہ وقف کی ہے

چالیسواں جعلی صحابی عمرو بن خفاجی عامری

مسیلمہ سے جنگ کی مموریت

مکتبِ خلفاء کے پیرو علماء نے سیف کی انہی گزشتہ روایتوں پر اعتماد کرکے ، عمرو بن خفاجی عامری کو پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میں شمار کیا ہے اور اس کے حالات پر روشنی ڈالی ہے ۔

ابن حجر نے اپنی کتاب میں پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں کے پہلے گروہ کے لئے ایک فصل مخصوص کی ہے اور اس فصل میں نمبر : ٥٨٢٧ حرف '' ع'' کے تحت لکھا ہے :

عمرو بن خفاجی عامری ، اس کا نام صلصل بن شرحبیل کے حالات میں آیا ہے ۔ '' رشاطی'' ١نے لکھا ہے کہ وہ ۔۔ عمرو بن خفاجی ۔۔ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مصاحبت سے شرف یاب ہوا ہے اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میں شمار ہوتا ہے۔

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایک خط کے ذریعہ اسے اور عمرو بن محجوب کو حکم دیا کہ وہ مرتدوں سے جنگ کرنے کیلئے آمادہ ہوجائیں ۔ انہی مطالب کو طبری نے بھی نقل کیا ہے ۔

____________________

١۔ رشاطی ، ابو محمد عبدا للہ بن علی بن عبد اللہ بن خلف لخمی اندلسی ایک عالم ، محدث، فقیہ ،مؤرخ ، نسب شناس ، ادیب اور لغت شناس تھا، رشاطی ماہ جمادی الاول یا جمادی الثانی سال(٤٦٦ ھ ۔ ١٠٧٤ء )میں ''ادریولہ '' مرسیہ میں پیدا ہوا ۔ اور جمادی الاول یا جمادی الثانی سال ٥٤٢ ھ = ١١٤٧ئ) میں رومیوں کے حملے میں اپنے وطن میں ہی قتل ہوا ۔ اس کی تصنیفات میں '' اقتباس الانوار و التماس الازہار'' یہ کتاب انساب صحابہ اور روات اخبار کے بارے میں ہے اور دوسری کتاب '' المؤتلف '' قابل ذکر ہیں ، معلوم کہ ان دو کتابوں میں سے کس میں اس نے '' عمرو'' کے حالات لکھے ہیں !!۔


سیف بن عمر نے روایت کی ہے کہ جو صحابی مرتدوں سے جنگ کرنے کے بارے میں پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا خط عمروبن خفاجی کے نام لایا تھا۔ وہ زیاد بن حنظلہ تھا (ز)

ہم جانتے ہیں کہ ابن حجر کے حرف (ز) لکھنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس صحابی کے حالات دوسروں کے مقابلہ میں اس نے دریافت کئے ہیں ۔


اکتالیسواں جعلی صحابی عمرو بن خفاجی عامری

ابن حجر کی غلط فہمی سے وجود میں آیا ہوا صحابی

ابن حجر نے اپنی کتاب '' اصابہ '' کے تیسرے حصہ کو ان اصحاب سے مخصوص رکھا ہے جو پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں زندہ تھے لیکن آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مصاحبت اور دیدار سے شرفیاب نہیں ہوئے تھے وہ حرف '' ع'' کے تحت لکھتا ہے :

عمرو بن خفاجی عامری : سیف بن عمر نے لکھا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے ۔۔ عمرو بن خفاجی ۔۔ اور عمرو بن محجوب عامری کو پیغام بھیجا اور انھیں ممور فرمایا وہ کہ مسیلمۂ کذاب سے جنگ کرنے کیلئے آمادہ ہوجائیں ۔ طبری نے اپنی تاریخ میں اس کا ذکر کیا ہے اور ابن فتحون نے اس کے نام کو دوسرے مصادر سے دریافت کیا ہے (ز)۔

اس طرح ابن حجر جیسے مشہور علامّہ نے بھی غلط فہمی کا شکار ہوکر '' عمرو بن خفاجی '' کے حالات اپنی کتاب میں دو جگہوں پر لکھے ہیں ۔

جبکہ خودسیف جو اس شخص کا افسانہ گڑھنے کرنے والا ہے ، نے اسے صرف ایک شخص جعل کیا ہے۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ تاریخ طبری میں عمرو بن خفاجی کا نسب '' بنی عمرو '' لکھا گیا ہے ۔ جبکہ ابن عبد البر کی کتاب '' استیعاب '' میں صلصل کے حالات کی تشریح میں یہ نسب (بنی عامر ) ذکر ہوا ہے ۔

اس داستان کا خلاصہ اور نتیجہ

سیف بن عمر نے اپنے ایک ہی مقصد کو اپنی دو بناوٹی روایتوں میں بیان کیا ہے نتیجہ یہ ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے صلصل نام کے ایک شخص کو قاصد و ایلچی کے طور پر اپنے گماشتوں اور کارندوں کے پاس بھیجا اور اسے علاقہ کے مرتدوں سے جنگ کرنے کی ترغیب دی ہے ۔ سیف کی اسی ایک جھوٹی داستان کے نتیجہ میں علماء نے اس کے افسانوی صحابیوں کو پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حقیقی اصحاب کی فہرست میں شمار کیا ہے اور درج ذیل جعلی اصحاب کی زندگی کے حالات لکھے ہیں :

١۔ صلصل بن شرحبیل

٢۔ عمروبن محجوب عامری

٣۔ عمروبن خفاجی عامری

٤۔ عمرو بن خفاجی عامری


صفوان بن صفوان

ہمیں اس صفوان بن صفوان کے سیف کے جعلی صحابی ہونے پر شک ہے ، اگر ایسے شخص کو سیف نے خلق بھی نہ کیا ہوپھر بھی اس کا صحابی ہونا سیف بن عمر کے خلق کرنے سے کچھ کم نہیں ہے ۔

جو کچھ بیان ہوا اس کے علاوہ سیف نے اپنی جعلی روایتوں میں پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ میں ہی مسلمانوں کے اسلام سے منہ موڑنے کی بات کی ہے ۔ اس نے ان جھوٹے اور بے بنیاد مطالب کو آپس میں جوڑ کر اسلام کے دشمنوں کے ہاتھ میں بہانہ فراہم کیاہے کہ وہ یہ دعویٰ کریں کہ اسلام نے دلوں میں جگہ نہیں پائی تھی اور اس زمانے کے قبائل کے لوگوں کے وجود کی گہرائیوں میں اسلام نے اثر نہیں ڈالا تھا ، اسی لئے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں ہی اسلام کے مقابلے میں آکر تلوار کھینچیلی ہے!

پھر یہی سیف کی روایتیں اور جھوٹ کے پلندے اور ارتداد کی جنگوں کی منظر کشی ، قارئین کے ذہن کو یہ قبول کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ اسلام نے ایک بار پھر ابو بکر کی خلافت کے زمانے میں تلوار کی نوک پر اور بے رحمانہ قتل عام کے نتیجہ میں استحکام حاصل کیا ہے ۔ ہم نے اس موضوع پر اپنی کتاب '' عبد اللہ ابن سبا ''میں مفصل بحث و تحقیق کی ہے ۔

سر انجام ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے متعلق انہی جھوٹ اور افسانوں کو مکتب خلفاء کے پیرؤ علماء نے حسبذیل معتبر مآخذ میں درج کیا ہے :

١۔ امام المؤرخین ابن جریر طبری نے اپنی تاریخ میں ۔

٢۔ ابو عمر ، ابن عبد البر نے '' استیعاب '' میں

٣۔ ابن اثیر نے اپنی تاریخ میں

٤۔ ابن فتحون نے ، استیعاب کے ذیل میں ۔

٥۔ ابن اثیر نے اسد الغابہ میں ۔

٦۔ رشاطی نے '' انساب الصحابہ'' میں ۔

٧۔ ذہبی نے ''تجرید'' میں ۔

٨۔ ابن حجر نے '' الاصابہ'' میں ۔


مصادر و مآخذ

صلصل کے حالات :

١۔ '' استیعاب '' طبع حیدر آباد دکن ( ١ ٣٢٥) نمبر : ١٤١٨

٢۔ '' اسد الغابہ '' ابن اثیر ( ٣ ٢٩)

٣۔ ذہبی کی '' تجرید' '(١ ٢٨٢)

٤۔ ابن حجر کی '' اصابہ'' (٢ ١٨٧) نمبر : ٤٠٩٩

٥۔ تاریخ طبری (١ ١٧٩٨) ١١ھ کے حوادث کے ضمن میں ۔

صفوان بن صفوان کے حالات

١۔ ابن حجرکی '' اصابہ ''(٢ ١٨٣) نمبر : ٤٠٧٦

عمر و بن محجوب عامری کے حالات

١۔ابن حجر کی اصابہ (١٥٣) نمبر ١٩٥٦

٢۔ تاریخ طبری (١ ١٧٩٨)

عمرو بن خفاجی عامری کے حالات

١۔ ابن حجر کی '' اصابہ'' (٢ ٥٢٨) نمبر : ٥٨٢٧

عمرو بن خفاجی عامری کے حالات

١۔ ابن حجر کی '' اصابہ'' (٣ ١١٤) نمبر: ٦٤٨٤


بیالیسواں اور تینتالیسواں جعلی صحابی عوف ورکانی اور عویف زرقانی

سیف کی ایک مخلوق تین روپوں میں

طبری نے اپنی تاریخ میں سیف سے نقل کرکے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ایلچیوں کے بارے میں یوں لکھا ہے :

...اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے '' ضرار بن ازور اسدی'' کو اپنے ایلچی کے طور پر قبیلۂ بنی صیدا کے '' عوف زرقانی'' اور اور قضاعی دئلی کے پاس بھیجا۔

عوف کا نسب

سیف بن عمر نے اپنے صحابی عوف کو بنی صیداء سے جعلی کیا ہے جس قبیلہ کے سردار کا نام ''عمرو بن قعین بن حرث بن ثعلبہ بن دودان بن خزیمہ '' ہے ۔ پیغمبری کا دعویٰ کرنے والا طلیحہ بھی اسدی ہے جو بنی صیدا کا ایک قبیلہ ہے۔

عوف ورکانی کی داستان

ابن حجر کی '' اصابہ'' میں دو صحابیوں کے حالات کی تشریح یکے بعد دیگر آئی ہے ۔ ان میں سے ایک نمبر ٦١٠٨ کے تحت یوں درج ہے:

عوف ورکانی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کارندوں میں سے تھا۔ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ضرار بن ازور کو اپنے ایلچی کے طور پر اس کے پاس بھیجا اور اسے مرتدوں کے ساتھ نبرد آزما ہونے کا حکم دیا ہے ۔

اس کی داستان کو سیف بن عمر نے ذکر کیا ہے ہم نے اس کے مآخذ کا صلصل کی داستان کے ضمن میں اشارہ کیا ہے ۔

عویف ورقانی

اس کے بعد ابن حجر نمبر ٦١١٣ کے تحت عویف ورقانی کے حالات اس طرح لکھتا ہے:

سیف ارتدار کی خبروں میں اس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتا ہے:کہ جب پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پیغمبری کے مدعی طلیحہ کی بغاوت اور قیام کی خبر ملی تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عویف ورقانی کو اس سے جنگ کرنے اور اس سے دفاع کرنے پر مامور فرمایا۔


عوف ورقانی

ذہبی نے اپنی کتاب '' تجرید '' میں عوف ورقانی نامی ایک صحابی کے بارے میں یوں لکھا ہے :

جب پیغمبری کے مدعی طلیحہ کا مسئلہ زور پکڑنے لگا تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے '' عوف ورقانی '' کی قیادت میں ایک فوج کو اس مسئلہ کو ختم کرنے کیلئے روانہ فرمایا۔

ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ مکتب خلفاء کے پیرو جن علماء نے تین افراد کے حالات لکھے ہیں ، وہ سب کے سب سیف کی ایک روایت پر مبنی ہیں ، اس طرح کہ '' عوف '' کا نام بعض نسخوں میں '' عویف '' لکھا گیا ہے اور اس کی شہرت '' زرقانی '' سے ''ورقانی '' اور پھر '' ورکانی '' لکھی گئی ہے ۔ اس طرح سیف کا خلق کردہ ایک صحابی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تین صحابیوں کے روپ میں مجسم ہوا ہے۔

جی ہاں ، یہ سب سیف کی روایتوں کے وجود کی برکت کا نتیجہ ہیں جو مکتب خلفا کے علماء کے قلموں کے ذریعہ کر ان کی کتابوں میں درج ہوئے ہیں !!

قضاعی بن عمرو سے متعلق ایک داستان

تاریخ طبری میں ذکر ہوئی سیف کی روایت میں آیا ہے کہ قضاعی بن عمرو کا تعارف دئلی کے طور پر کیا گیا ہے اور یہ شہرت '' دئلی'' عرب کے مختلف قبیلوں سے تعلق رکھتی ہے اور ہمیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ اس '' دئلی'' سے سیف کا مقصود کون سا عرب قبیلہ ہے ۔

ابن حجر کی '' اصابہ'' میں ' ' قضاعی بن عمرو'' کا نام یوں آیا ہے:

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حجة الوداع سے واپسی پر '' سنان بن ابی سنان '' اور ''قضاعی بن عمرو'' کو قبیلہ بنی اسد کی طرف مموریت پر بھیجا۔

قضائی کی مموریت کی جگہ کے بارے میں '' تاریخ طبری'' اور ابن حجر کی ''اصابہ '' میں یوں آیا ہے:

قضائی بن عمرو ، بنی حرث میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا کارندہ تھا۔

ایسا لگتا ہے کہ بنی حرث سے سیف کا مقصود دو دان بن اسد کا پوتا بنی حارث ہے ۔

تاریخ طبری میں سیف بن عمر سے منقول ہے کہ :


رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی میں طلیحہ مرتد ہوا اور اس نے پیغمبری کا دعویٰ کیا ۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ضرار بن ازور کو ایلچی کے طور پر '' سنان بن ابی سنان '' اور '' قضاعی بن عمرو'' ۔۔ جو بنی اسد میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتے تھے ۔۔ کے پاس بھیجا اور انھیں طلیحہ سے جنگ کرنے کا حکم دیا یہاں تک کہ لکھتا ہے :

ضرار ، قضاعی ، سنان اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بنی اسد میں دیگر کا رندے جن میں سے ہر ایک کسی نہ کسی مسئولیت کا عہدہ دار تھا ، سب کے سب طلیحہ کے ڈر سے بھاگ کر مدینہ ابو بکر کے پاس پہنچ گئے اور روداد ابو بکر سے بیان کی ان کے دیگر حامی اور دوست وا حباب بھی طلیحہ سے ڈر کر مختلف اطراف میں بھاگ گئے۔

طبری نے اپنی کتاب میں دوسری جگہ پر سیف سے نقل کرکے ١٦ ھ میں جلولا کی جنگ کی روداد کے ضمن میں لکھا ہے :

اور سعد بن ابی وقاص نے جنگی غنائم کے پانچویں حصہ کو قضاعی کے ہاتھ مدینہ میں خلیفۂ عمر کے پاس بھیجدیا۔

سیف کی روایتوں میں قضاعی بن عمرو کی داستان یہی تھی کہ جسے ہم نے بیان کیا ۔

افسانۂ قضاعی کے مآخذ اور راویوں کی پڑتال

سیف نے قضاعی کی داستان میں درج ذیل نام بعنوان راوی بیان کئے ہیں :

١۔ سعید بن عبید۔

٢۔ حریث بن معلی۔

٣۔ حبیب بن ربیعۂ اسدی۔

٤۔ عمارة بن فلان اسدی۔

٥۔ اور چند دوسرے مجہول الہویہ راوی کہ سب سیف کی خیالی تخلیق ہیں اور ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

جی ہاں علماء نے اس اعتماد کے پیش نظر جو وہ سیف کی روایتوں پر رکھتے تھے، قضاعی بن عمرو کو صحابی کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صحابیسمجھا اور اس کے حالات پر روشنی ڈالی ہے ۔


ابن اثیر نے اپنی کتاب '' اسد الغابہ '' میں یوں لکھا ہے :

قضاعی بن عمر : سیف بن عمر نے نقل کیا ہے کہ وہ خاندان بنی اسد میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کارندوں میں سے تھا ۔ابن دباغ نے اس کا نام لیا ہے اور اس کے عبد البر کی کتاب ''استیعاب '' میں موجود ہونے کا تصور کیا ہے، اورخدا بہتر جانتا ہے ( ابن اثیر کی بات کا خاتمہ)

بہر حال ہم نے اس قضاعی کے نام کو جعلیصحابیوں کی فہرست سے حذف کر دیا ہے ، کیونکہ ابن سعد نے اپنی کتاب '' طبقات'' میں اس کے ہم نام کا ذکر کرکے اس کے نسب کو ' بنی عذر ہ '' بتایا ہے۔ ابن سعد نے اس کے بارے میں اپنی بات کا آغاز یوں کیا ہے

... الحدیث

لیکن مذکورہ حدیث ذکر نہیں کی ہے اور نہ اس کا کوئی مآخذ بیان کیا ہے ۔


چوالیسواں جعلی صحابی قحیف بن سلیک ہالکی

قحیف ، طلیحہ سے جنگ میں

گزشتہ داستانوں کے ضمن میں ابن حجر نے اپنی کتاب '' اصابہ '' میں یوں لکھا ہے :

قحیف بن سلیک ہالکی ، بنی اسد کے ایک قبیلہ '' بنی ہالک '' ''ہ'' کے ساتھ بنی اسد کے خاندان سے ہے ۔

قحیف نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ میں اسلام قبول کیا ہے ۔ اس کے بعد اس نے ضرار بن ازور ، قضاعی بن عمرو اور سنان بن ابی سنان کے ہمراہ طلیحہ اسدی سے جنگ میں شرکت کی ہے اور پیکار کے دوران اس نے طلیحہ پر ایک مہلک اور کاری ضرب لگائی جس کے نتیجہ میں وہ زمین پر ڈھیر ہوکر بیہوش ہوگیا اسی اثناء میں طلیحہ کے حامی آ پہنچے اورقحیف کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔

کچھ دیر کے بعد طلیحہ ہوش میں آگیا اور اپنا معالجہ کیا ، صحت یاب ہونے کے بعد یہ افواہ پھیلادی کہ اس پر کوئی اسلحہ اثر نہیں کرسکتا۔ اس طرح اس نے لوگوں کو تعجب میں ڈالدیا ۔

ابن حجر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے لکھتا ہے :

البتہ ان مطالب کو سیف بن عمر نے قحیف بن سلیک کے بارے میں اپنی کتاب ''فتوح '' میں بدر بن حرث' اس نے عثمان بن قطبہ سے اور اس نے بنی اسد کے ذریعہ نقل کیا ہے ان کا باپ بھی ان میں سے تھا !!(ز)

اس داستان کے راویوں کے بارے میں ایک بحث

سیف نے روایت کے راوی کے طور پر '' بدر بن حارث '' کا تعارف کرایا ہے ۔ بدر کے باپ حارث کا نام غلط ہے ، اور صحیح '' بدر بن خلیل'' ہے جو سیف کے جعلی روایوں میں سے ایک تھا ، سیف نے اپنے اکثر افسانے اور جھوٹ اسی سے نقل کئے ہیں ۔

اور اگر غلطی سرزد نہ ہوئی ہو اور وہی '' بدر بن حارث '' ہو تو اس نام کو سیف کے دوسرے جعلی راویوں کی فہرست میں قرار دینا چاہئے۔


قحیف کی داستان کی تحقیق

سیف بن عمر کے زمانہ میں یمن میں قحیف نامی ایک نامور شاعر تھا ، ابن اثیر نے اپنی تاریخ کی کتاب '' کامل '' میں ١٢٤ ھ کے حوادث کے ضمن میں اس کا نام لیا ہے ۔ ہمیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ کیا سیف نے اپنے جعلی قحیف کو شاعر قحیف کا ہم نام خلق کیا ہے ، یعنی وہی کام کیا ہے جو اس نے ''خزیمہ بن ثابت '' سماک بن خرشہ اور جریر بن عبد اللہ کے بارے میں انجام دیا ہے یایوں ہی اچانک یہ نام اس کے ذہن میں آیا اور اس نے اپنے خلق کردہ صحابی کا نام یہی رکھا ہے اور اسی پر افسانہ گڑھ لیا ہے ۔

موضوع جو بھی ہو کوئی فرق نہیں ، ہم نے خاص طور سے اس موضوع کے بارے میں اس لئے اشارہ کیا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ کوئی ابن اثیر کی تاریخ کی طرف رجوع کرکے یہ خیال کرے کہ سیف جعل کردہ شخصحقیقت میں تاریخ میں موجود ہے ۔

لیکن سیف نے ضرار بن ازور کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے ایلچی کے طور پر عوف ورکانی اور قضاعی بن عمرو کے پاس بھیجنے کا جوذکر کیا ہے اور ان دونوں نمائندوں کو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسود کے ساتھ جنگ کرنے کی مموریت دی کہ اسے قتل کر ڈالیں ،یہ سب کا سب جعل اور جھوٹ ہے اور ہم نے اس سلسلے میں اپنی کتاب '' عبد اللہ بن سبا '' کی دوسری جلد میں مکمل تفصیل لکھی ہے ۔

مصادر و مآخذ

قضاعی بن عمرو کی داستان :

١۔ تاریخ طبری ( ١ ١٧٩٨ ، (١٧٩٩، ١٨٩٣ اور ٢٤٦٥)

٢۔ ابن اثیر کی '' اسد الغابہ '' ( ٤ ٢٠٥)

٣۔ ابن حجر کی '' اصابہ'' ( ٣ ٢٢٧)

٤۔ ابن سعد کی ''طبقات'' (١ ٢٣٢)


قضاعی بن عامر کی داستان

١۔ ابن اثیر کی '' اسد الغابہ '' (٤ ٢٠٥)

٢۔ ابن حجر کی '' اصابہ '' (٣ ٢٧٧) نمبر : ٧١١٧

قحیف بن سلیک کی داستان

١۔ ابن حجر کی اصابہ ( ٣ ٢٥٦ )نمبر : ٧٢٨١

ہالک بن عمرو کا نسب

١۔ اللباب (٣ ٢٨٣)

٢۔ ابن حزم کی جمہرہ ( ص١٩٠ ۔ ١٩٢)

شاعر قحیف کی داستان

١۔ ابن اثیر کی '' تاریخ کامل'' طبع دار صادء (٥ ٣٠٠)


پینتالیسواں جعلی صحابی عمرو بن حکم قضاعی

عمرو کا نسب

ابن اثیر کی کتاب '' اللباب فی تھذیب الانساب'' میں یوں آیا ہے:

قضاعہ ایک بڑی قوم ہے جو متعدد قبائل پر مشتمل ہے اس میں شامل قبیلوں میں '' قبیلۂ کلب ، قبیلہ بلی اور قبیلۂ و جہینہ وغیرہ قابل ذکر ہیں '' قینی '' بھی '' قین '' کی طرف نسبت ہے جو خود قضاعہ کا ایک قبیلہ ہے ، یہ نعمان بن جسر کا پوتا اور قضاعہ کی اولاد میں سے ہے جو '' قین '' کے نام سے معروف تھا۔

عمرو بن حکم کی داستان کا سرچشمہ

طبری اور ابن عساکر کی '' تاریخوں '' میں ہم پڑھتے ہیں :

سیف بن عمر نے ابو عمرو سے اور اس نے زید بن اسلم سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا:

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے وقت قضاعہ کے مختلف قبائل میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کارندے اور گماشتے حسب ذیل تھے :

١۔ خاندان بنی عبدا للہ سے امرؤ القیس ، قبیلۂ کلب میں ۔

٢۔ عمرو بن حکم ، قبیلۂ قین میں ۔

٣۔ معاویہ بن فلان وائلی قبیلہ '' سعدھذیم '' میں ۔

قبیلہ کلب سے ودیعۂ کلبی اپنے ہمفکروں اور دوست و احباب کی ایک جماعت کے ساتھ مرتد ہوکر دین اسلام سے منحرف ہوگیا تھا ۔لیکن '' امرؤ القیس'' بدستور اسلام کا وفادار رہ کر اسلام پر باقی رہا۔

زمیل بن قطبہ قینی بھی قبیلۂ ''بنی قین ''سے اپنے دوستوں کے گروہ کے ساتھ مرتد ہوا لیکن رسول خدا کا کارندہ عمرو بن حکم بدستور مسلمان رہا۔


معاویہ بن فلان وائلی بھی قبیلۂ ''سعد ھذیم '' کے اپنے چند ہمفکروں کے ساتھ دین اسلام سے منہ موڑ کر مرتد ہو۔

مذکورہ لوگوں کے مرتد ہونے کے بعد ابوبکرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امام حسین کی بیٹی سیکنہ کے نانا '' امرؤ القیس'' کو خط لکھا اور اسے حکم دیا کہ ودیعہ اور اس کے دوستوں کا مقابلہ کرکے ان کی بغاوت کو کچل ڈالے۔

ایک دوسرے خط کے ذریعہ عمرو بن حکم قضاعی اور معاویۂ عذری کو حکم دیا کہ ایک دوسرے کی مدد سے '' زمیل'' اور اس کے ساتھیوں کی شورش کو سرکوب کریں ۔

جب اسامہ بن زید ، خلیفہ کے حکم پر شام کی جنگ سے واپسی پر قبائل قضاعہ کے مرکز میں پہنچا تو اس نے اپنی فوج کے مختلف دستوں کو مختلف قبائل میں متفرق کرکے انھیں حکم دیا کہ اسلام پر پابند لوگوں کو منظم کرکے قبیلۂ کے مرتدوں کے خلاف جنگ میں ان کی مدد کریں ۔

اسامہ کے اس اقدام پر قضاعہ کے مختلف قبیلوں کے مرتدوں نے اپنے خاندان سے فرار کرکے '' دومة الجندل '' میں اجتماع کیا اور '' ودعیۂ کلبی'' کی حمایت پر اتر آئے اور اس طرح اس کی ہمت افزائی ہوئی ۔

اسامہ کے سوار اپنی ڈیوٹی انجام دے کر واپس پلٹے تو اسامہ نے ان کے ہمراہ بے خبر اور اچانک مرتدوں کے جمع ہونے کی جگہ (حمقتین ) پر حملہ کیا اور قضاعہ کے مختلف قبائل جیسے قبیلۂ ''جذام ''' کے بنی ضعیف'' قبیلۂ '' بنی لخم'' کے '' خلیل'' اور ان کے دیگر حامیوں پر ٹوٹ پڑے اور انھیں بڑی بے رحمی کے ساتھ تہ تیغ کیا اور مرتدوں کے گروہ کا '' آبل'' تک پیچھا کیا ۔ اس علاقہ کو ان کے ناپاک و جود سے پاک کیا اور کافی مقدار میں جنگی غنائم لے کر فاتح کی صورت میں واپس لوٹا۔

سیف کی اسی ایک روایت سے استفادہ کرتے ہوئے مکتب خلفاء کے پیرو علماء نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دو صحابی اور کارندوں کا انکشاف کیا ہے.ان علماء میں سے ابو عمر ، ابن عبد البر اپنی کتاب ''استیعاب'' میں لکھتا ہے :

عمرو بن حکم قضاعی قینی ، ایک ایسا صحابی ہے جسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے گماشتہ اور کارندے کے طور پر قبیلۂ '' قین '' میں منصوب فرمایا ہے ۔۔ میں ابن عبد البر ۔۔ اس سے زیادہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا ۔

جب قبائل قضاعہ میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعض کارندے مرتد ہوئے ، تو عمرو بن حکم اور امرؤ القیس بن اصبغ ان کارندوں میں سے تھے جو اسلام پر ثابت قدم رہے اور مرتد نہیں ہوئے ( ابن عبد البر کی بات کا خاتمہ)


ابن اثیر نے بھی استیعاب کی مذکورہ روایت کوعین عبارت کے ساتھ اپنی کتاب '' اسد الغابہ'' میں نقل کیا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذکورہ دو علما۔۔ ابن عبدا لبر اور ابن اثیر ۔۔ نے مذکورہ خبر کے مآخذ کو اپنی کتابوں میں درج نہیں کیا ہے ۔ لیکن ابن حجر اپنی کتاب '' اصابہ '' میں زیر بحث روایت کے مآخذ کے بارے میں یوں رقمطراز ہے :

عمروبن حکم قضاعی '' قینی'' : سیف بن عمر نے اپنی کتاب '' فتوح '' میں حفص بن میسرہ کے قول کو یزید بن اسلم سے نقل کرکے لکھا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عمروبن حکم کو اپنے عامل و کارگزار کے طور پر قبیلۂ قین میں منصوب فرمایا ' لیکن جس وقت قبائل قضاعہ کے بعض افراد مرتد ہوگئے ، تو عمرو بن حکم اور امرؤ القیس بن اصبغ ، ان کارندوں میں سے تھے جو بدستور ( داستان کی آخر تک)

ان روایتوں کے علاوہ ، ابن حجر نے ایک اور روایت سیف سے نقل کرکے اپنی کتاب میں درج کی ہے اور اس میں اسی خبر کی تکرار ہوئی ہے ، لیکن طبری اسے اپنی تاریخ میں نہیں لایا ہے ۔ اور سیف کا یہ کام ہمارے لئے نیا نہیں ہے ، کیونکہ اس کی روش ایسی ہے کہ ایک خبر کو متعدد اور مختلف روایتوں میں اس طرح بیان کرتا ہے کہ یہ ایک دوسرے کی مؤید ہوں تا کہ روایتوں کی زیادہ تعدادکے ذریعہ اس کے جعلی ہونے کی پردہ پوشی ہوجائے۔


چھیالیسواں جعلی صحابی '' بنی عبداللہ '' سے امرؤ القیس

علماء کے ذریعہ امرؤ القیس کا تعارف

مکتب خلفاء کے پیرو علماء نے سیف کی اسی روایت سے استفادہ کرکے بنی عبد اللہ سے ''امرؤ القیس بن اصبغ '' نامی ایک صحابی ، عامل اور کارندے کے وجود پر یقین کرکے اس کے حالات پر روشنی ڈالی ہے ۔

ابو عمر ، ابن عبد البر نے اپنی کتاب '' استیعاب '' میں '' امرؤ القیس '' کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے یوں لکھا ہے :

امرؤ القیس بن اصبغ ، بنی عبد اللہ بن کلب بن وبرہ وہ صحابی ہے جسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قبائل قضاعہ کے قبیلۂ '' کلب'' میں اپنے عامل و کارندے کے عنوان سے منصوب فرمایا ہے ۔ قبائل قضاعہ کے بعض افراد کے اسلام سے منہ موڑ کر مرتد ہونے کے بعد امرؤ القیس بدستور اسلام پر پابند رہا ہے ۔

میرے خیال میں ۔۔ البتہ خدا بہتر جانتا ہے ۔۔ یہ امرؤ القیس ابو سلمہ بن عبد الرحمان بن عوف کا ماموں ہوگا ، کیونکہ ابو سلمہ کی والدہ ، جس کا نام '' تماضر '' تھا '' اصبغ بن ثعلبہ بن ضمضم کلبی کی بیٹی تھی ۔ اور خود اصبغ اپنے قبیلہ کا سردار تھا ( ابن عبد البر کی بات کا خاتمہ)

مذکورہ روایت کو کتاب '' الجمع بین الاستیعاب و معرفة الصحابہ'' کے مصنف نے کسی کمی بیشی کے بغیر امرؤ القیس کے حالات پر روشنی ڈالتے وقت اپنی کتاب میں بیان کیا ہے ۔

ابن اثیر نے بھی اپنی کتاب '' اسد الغابہ '' میں اسی خبر کو بعینہ نقل کیا ہے اور '' بنی عبد الدار '' کا نسب بھی اس میں اضافہ کیاہے ۔ ابن اثیر کہتا ہے :

امرؤ القیس بن اصبغ کلبی بنی عبد اللہ بن کنانہ بن بکر بن عوف بن عذرہ بن زید اللات بن رفیدة بن ثور بن وبرہ ایک صحابی ہے جسے رسول خدا نے بعنوان ( عبد البر کی کتاب '' استیعاب '' میں ذکر ہوئی داستان کے آخر تک ) پھر وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے :

البتہ ان مطالب کو ابو عمر ابن عبدا لبر نے بیان کیا ہے اور وہ تنہا شخص ہے جس نے ایسے مطالب ذکر کئے ہیں ۔

ذہبی نے بھی اپنی کتاب '' تجرید'' میں امرؤ القیس کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے :

کہتے ہیں کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے قبیلۂ کلب پر ممور فرمایا تھا۔ صرف ابن عبد البر نے اس کے سلسلہ میں یہ بات کہی ہے ۔


اس طرح ان تین علما۔۔ ابن عبد البر ، ابن اثیر اور ذہبی ۔۔ نے امرؤ القیس کے حالات پر اپنی کتابوں میں روشنی ڈالیہے ۔ لیکن اپنی روایت کے مآخذ کا ذکر نہیں کیا ہے۔

لیکن ابن حجر اپنی کتاب '' اصابہ' میں ابن عبد البر کی روایت کو صراحت کے ساتھ اس کا نام لے کر لیکن خلاصہ کے طور پر نقل کرکے آخر میں لکھتا ہے :

سیف بن عمر نے اپنی کتاب '' فتوح'' میں لکھا ہے کہ امرؤ القیس بن اصبغ کلبی ، بنی عبد اللہ میں سے تھا ۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے وقت آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتہ و کارندہ کی حیثیت سے قبائل بنی قضاعہ کے قبیلہ ٔ کلب میں ممور تھا اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد مرتد نہیں ہوا ۔ سیف نے اپنی کتاب میں دوسری جگہوں پر بھی امرو القیس کا نام لیا ہے ( ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

عمرو اور امرؤ القیس کے بارے میں ا یک بحث

اس روایت میں دو جگہوں پر ایک محقق کیلئے مطلب پیچیدہ اور مبہم ہے پہلے یہ کہ ابو عمر ، ابن عبد البر نے ، عمرو بن حکم قضاعی کے حالات پر روشنی ڈالتے وقت ، سیف بن عمر کی بات کو اس کے بارے میں مختصر ذکر کرکے فقط اس پر اکتفا کی ہے کہ:

وہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا کارندہ تھا ، ارتداد کے مسئلہ میں اسلام پر باقی رہا ہے ۔ ( آخر میں تاکید کرتے ہوئے کہتا ہے ): میں اس سے زیادہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا ہوں ۔

ابن اثیر نے بھی کتا ب'' اسد الغابہ '' میں ابن عبد البر کی پیروی کرتے ہوئے اس میں کسی چیز کا اضافہ نہیں کیا ہے ۔ لیکن ابن حجر نے ان دوعلماء کی روایت کے مآخذ سے پردہ اٹھا کر انہیں بیان کیا ہے ۔جس نے محققین کے کام کو آسان بنادیا ہے ۔

اور اس کی پیچیدگی کا سبب نہیں بنا ہے لیکن امرؤ القیس کے حالات کی تشریح کے بارے میں یہ مسئلہ بر عکس ہوا ہے ، کیونکہ اس صحابی کے حالات کی تشریح میں اس سے بیشتر بیان کیا گیا ہے جوکچھ سیف بن عمر نے اس کے بارے میں کہا ہے ۔

ملاحظہ فرمائیے :

سیف کی روایت میں امرؤ القیس کا یوں تعارف کیا گیا ہے :

امرؤ القیس بن اصبغ ، بنی عبد اللہ سے ہے۔


لیکن یہی سادہ تعارف ابن عبد البر کی کتاب '' استیعاب '' میں اس طرح آیا ہے :

امرؤ القیس بن اصبغ کلبی ، بنی عبد اللہ بن وبرہ سے ہے!

آخر میں ابن اثیر اس نسبی تعارف میں اضافہ کرکے کہتا ہے :

امرؤ القیس بن اصبغ کلبی ، بنی عبد اللہ بن کنانة بن بکر تا ابن کلب بن وبرہ !!!

یہی امر سبب بنتا ہے کہ انسان یہ گمان کرے کہ کیا ابن اثیر امرؤ القیس کے نسب کو کلب بن وبرہ تک جانتا تھا اور اسے مکمل طور پر پہچانتا تھا جو اس طرح یقین اور قطعی صورت میں اس کا سب بیان کررہا ہے ؟ لیکن جب ابن اثیر اپنی بات کے خاتمہ تک پہنچتا ہے تو اس طرح کہتا ہے :

البتہ یہ ابو عمر ، ابن عبد البر کا کہنا اور وہ تنہا شخص ہے جس نے امرؤ القیس کے بارے میں اس طرح کی بات کہی ہے ۔

اس طرح حقیقت سامنے آجاتی ہے اور معلوم ہو جاتا ہے کہ ابن اثیر نے بنی عبد اللہ کے سلسلہ نسب کو ''کلب بن وبرہ''تک پہنچا یا ہے نہ کہ سیف کے خیالات کی تخلیق '' امرؤ القیس '' کے نسب ۔

امرؤ القیس عدی کی جگہ امرؤ القیس اصبغ کی جانشینی

دوسری جگہ یہ کہ سیف نے اپنی مخلوق امرؤ القیس کو '' اصبغ '' کے بیٹے کے طور پر پیش کیا ہے اور یہ اصبغ '' اصبغ کلبی '' کا ہم نام ہے جو '' دومة الجندل '' میں رئیس قبیلہ تھا اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عبد الرحمان عوف کو اسلام کے سپاہیوں کے ایک گروہ کے ہمراہ اس کے پاس بھیجا تھا۔

اس ملاقات کے دوران عبد الرحمان نے '' اصبغ'' کی بیٹی '' تماضر'' سے عقد کرکے اسے اپنی بیوی بنالیا اور اس نے ایک بیٹے ''' ابو سلمہ '' کو جنم دیا ہے ۔


ابن عبد البر اصبغ کے نام میں اس ہم نامی کی وجہ سے غلط فہمی کا شکار ہوا ہے اور تصور کیا ہے کہ جس اصبغ کا سیف نے نام لیا ہے وہ وہی اصبغ ہونا چاہئے جو دومة الجندل میں قبیلۂ کلب کا سردار تھا اور اس نے یہیں سے یہ خیال کیا ہے کہ سیف کا امرؤ القیس '' تماضر'' کا بھائی اور ابو سلمہ بن عبد الرحمان عوف کا ماموں ہے ۔ جبکہ کسی نے بھی یہ نہیں کہا ہے کہ '' تماضر '' کے باپ کے '' امرؤ القیس'' نامی کوئی بیٹا تھا۔

اس طرح ابن عبد البر اس امر سے بھی غافل تھا کہ سیف بن عمر نے اپنی داستان کے ہیرو ''امرو القیس '' کو امام حسین کی بیٹی سکینہ کے جد کے طور پر خلق کیا ہے ۔ جبکہ سکینہ بنت امام حسین کا جدِ مادری امرؤ القیس بن عدی ہے نہ اصبغ !! اور یہ امرؤ القیس بن عدی بھی خلافت عمر کے زمانے میں اسلام لایا ہے ، نہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیات میں اور یہ کسی صورت میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا گماشتہ اورکارندہ نہیں تھا ١ اس بنا پر جس امرؤ القیس کو سیف نے خلق کیا ہے وہ اس اصبغ کا بیٹا نہیں تھا ، جو دومة الجندل میں سردار قبیلہ تھا اور نہ سکینہ کا نانا تھا اور نہ ہی ابو سلمہ بن عبد الرحمان عوف کا ماموں تھا بلکہ یہ صرف ایک نام تھا ان ناموں کی فہرست میں جنھیں سیف نے اپنے افکار کے نفاذ کیلئے خلق کیا ہے اور اپنے افسانوں میں اس کیلئے کردار معین کیا ہے تا کہ آسانی کے ساتھ تاریخ اسلام کو ذلیل و خوار کرے اور محققین کو حیرت اور پریشانی سے دوچار کرے ۔

بے شک سیف اس قسم کے دو ہمنام دلاوروں کو خلق کرکے اور انھیں تاریخ کے حقیقی چہرے کے طور پر دکھا کر علماء کو حیرت اور پریشانی سے دوچار کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوا ہے اسی طرح اپنے افسانوں کو خلق کرنے میں ، '' ابو دجانہ ، سماک بن خرشہ ، جریر بن عبد اللہ اور سبائیان '' جیسے اسلام کے واقعی چہروں کا نام لیا ہے اور تاریخ میں دخل و تصرف کرکے حقیقتوں کو تحریف کرنے کے بعد علماء و اور محقیقین کیلئے پیچیدگیاں اور مشکلات پیدا کی ہیں ۔

یہاں پر یہ سؤال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حقیقت میں سیف کے زندیقی ہونے کی نسبت صحیح نہ ہوتی تو کون سی چیز اس کیلئے اسلام کے ساتھ اتنی دشمنی کرنے کا سبب بنتی اور وہ تاریخ اسلام کو ذلیل کرنے پر اتر آتا ؟!!

____________________

١ امرؤ القیس بن عدی کے اسلام قبول کرنے کے طریقہ کے بارے میں '' اسلام کی جنگوں کے سپہ سالار '' کی فصل میں ذکر ہوگا''


تاریخ کی مسلم حقیقتیں

موضوع کی حقیقت کی تحقیق کرنے کیلئے گزشتہ بحث پر ایک مختصر نظر ڈالنا بے فائدہ نہ ہوگا۔

سیف نے اپنی خلق کی گئی روایتوں اور افسانوں میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے چند ایسے کارندے اور گماشتے جعل کئے ہیں جن کو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قضاعہ کیلئے ممور فرمایا تھا ۔ اس سلسلے میں کہا ہے کہ ان کارندوں میں سے بعض رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد اسلام سے منہ موڑ کر مرتد ہوگئے اور اس واقعہ کی وجہ سے خلیفہ ابو بکر نے مجبور ہو کر ان لوگوں میں دین اسلام پر ثابت قدم رہنے والے افراد کو حکم دیا ہے کہ وہ مرتدوں سے جنگ کریں اور انھیں پھیلنے سے روکیں ۔ جب اس دوران اسامہ موتہ کی جنگ سے واپس آتا ہے ۔ جیسا کہ سیف نے اس مطلب کو ایک دوسری روایت میں بیان کیا ہے ۔۔ تو ابو بکر اسے قضاعہ کے مرتدوں کی سرکوبی کیلئے ممور فرماتے ہیں ۔ اسامہ نے بھی مرتدوں کا '' حمقتین '' سیف نے ایک دوسری روایت میں اس جگہ کو شام کی سرحدوں کے عنوان سے پیش کیا ہے تک پیچھا کرتا ہے ان میں سے بہت سے گروہوں کا قتل عام کرکے کافی مقدار میں غنائم حاصل کرکے واپس لوٹتا ہے ۔

سیف نے اس روایت میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے قضاعہ کے مختلف قبائل میں چند گماشتے اور کارندے خلق کئے ہیں ۔ جس کی تفصیل ہم نے اس کتاب کی دوسری جلد میں '' رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تمیمی کارندے اور حاکم'' کے عنوان سے بیان کرکے اس کے آخر میں سیرت لکھنے والوں کے امام و پیشوا ابو اسحق کا یہ قول نقل کیا ہے :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسلام کی قلمرو میں موجود سرزمینوں میں اپنے گورنر اور گماشتے حسب ذیل منصوب فرمائے

ہم نے ابو اسحق کا مذکورہ بیان اس لئے نقل کیا ہے تا کہ تاریخ کے مسلم حقائق کے مقابلے میں سیف کی روایتوں کا افسانہ ہونا اور ان کی قدر و منزلت واضح ہوجائے ۔

یہاں پر بھی ہم ایک دوسرے دانشور اور تاریخ نویس '' خلیفہ بن خیاط '' کے بیانات نقل کرتے ہیں جنھیں انہوں نے اپنی تاریخ میں '' رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتوں اور کارندوں کے نام '' کے عنوان سے ایک الگ فصل میں درج کیا ہے ، تا کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتوں اور کارندوں سے مربوط بحث مکمل ہوجائے۔


رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حقیقی کارگزار

ابن خیاط لکھتا ہے :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے '' ابن ام مکتوم '' کو مختلف غزوات اور دیگر مواقع پر مدینہ منورہ میں تیرہ بار ١اپنا جانشین مقرر فرمایا ہے:

١۔٣ ،' ابواء '' ، '' بواط'' اور ذی العشیرہ '' کے غزوات میں ۔

٤۔ '' کُرزَبن جابر '' نامی ایک باغی سے نبرد آزما ہونے کیلئے '' جہینہ '' پر حملہ کے دوران ۔

٥۔ جب جنگ بدر کے سلسلے میں باہر تشریف لے جارہے تھے ۔ کچھ دنوں کے بعد'' ابن

____________________

١۔ ابن خیاط کی روایت ابن مکتوم کی ١٣ بار جانشینی کی حاکی ہے جبکہ اس دانشور نے صرف ١٢ موارد ذکر کئے ہیں


ام مکتوم'' کو اس عہدہ سے برطرف کرکے ان کی جگہ '' ابو لبابہ ''کو منصوب فرمایا:

٦۔١٢ ۔ '' سویق'' ، '' غطفان '' ا، '' احد '' ، '' حمراء الاسد'' ، بحران '' '' ذات الرقاع '' اور آخر میں حجة الوداع میں ۔

درج ذیل اصحاب کو بھی دوسرے غزوات میں مدینہ منورہ میں اپنی جگہ جانشین مقرر فرمایا ہے :

____________________

١۔ '' ابو رہم غفاری '' اور کلثوم بن حصین '' کو اس وقت جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ''مکہ '' ''حنین'' اور ''طائف'' عزیمت فرمائی۔


۔ محمد بن مسلمہ '' کو غزوۂ '' قرقرة الکدر '' میں ۔

۔ '' نمیلة بن عبد اللہ اللیثی '' کو غزوۂ '' بنی المصطلق ''میں ۔

۔ بنی دئل سے '' عویف بن الاضبط '' کو غزوۂ حدیبیہ میں ۔

۔ دوبارہ '' ابورہم غفاری '' کوغزوۂ '' خیبر '' اور '' عمرة القضاء میں ''

۔ '' سباع بن عرفطۂ غفاری '' کو غزوۂ '' تبوک '' میں ۔

۔ '' غالب بن عبدا للہ اللیثی '' کو ایک دوسرے غزوہ میں ۔

۔ مندجہ ذیل اصحاب کو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حسب ذیل علاقوں کی حکومت اور ولایت سونپی ہے :

۔ عتاب بن اسید ' کو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مکہ سے اپنی واپسی کے وقت مکہ میں اپنے جانشین و حاکم کے عنوان سے منصوب فرمایا ۔ ابو بکر کی وفات تک ' عتاب ' اس عہدہ پر برقرار تھا ۔

۔ ' عثمان بن ابو العاص ثقفی '' کو طائف پر ۔

۔ '' سالم بن معتب '' کو ثقیف کے ہم پیمانوں پر۔

۔ ایک اور صحابی کو '' بنی مالک '' پر۔

۔ عمروبن سعید '' کو '' خیبر''،' 'وادی القری ، '' تیما'' اور '' تبوک '' کے عرب نشین قصبوں پر ۔

۔ اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیات تک '' عمرو '' وہاں پر حکومت کرتا رہا۔

۔ '' حکم بن سعید بن عاص '' کو مدینہ کے بازار کے امور میں اپنا مؤکل منصوب فرمایا ۔

یمن کے علاقہ کو مختلف حصوں میں تقسیم فرماکر ہر ایک حصہ پر اپنے درج ذیل اصحاب میں سے کسی ایک کو منصوب فرمایا:

۔ '' خالد بن سعید بن عاص کو ''یمن کے صنعا ''پر ۔

۔ '' مہاجربن امیہ '' کو '' کندہ '' او ر'' صدف '' پر ۔

۔ '' زیاد بن لبید انصاری بیاضی '' کو حضرموت پر ۔

۔ معاذ بن جبل '' کو''جند'' پر ، اس کے علاوہ معاذ کے فرائض میں علاقہ کے دعاوی ( جھگڑوں ) کا فیصلہ کرنا: قوانین اسلام کی تربیت اور لوگوں کو قرآن مجید سکھانا بھی شامل تھا۔


۔ ابو موسی اشعری کو '' زبید '' ، ''رمع ''''عدن'' او ر''ساحل ''(بندر) پر ممور فرمایا اور حکم دیا کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کارندوں اور گماشتوں کے ذریعہ حاصل شدہ صدقات وغیرہ کو معاذ بن جبل ان سے وصول کرے گا۔

'' عمرو بن حزم'' کو '' بلحارث بن کعب'' کے قبائل پر ۔

''ابو سفیان بن حرب '' کو نجران پر ۔

۔'' علی بن ابیطالب '' کو حکم دیا کہ علاقہ نجران کے صدقات کو جمع کرے ں ۔

امام نے بھی جمع کی گئیں رقومات کو حجة الوداع کے موقع پر مکہ مکرمہ میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا ۔

۔ سعید بن قشب ازدی ''بنی امیہ کے ہم پیمان کو '' جرش'' اور اس کے سمندری علاقوں پر ۔

۔ '' علاء بن حضرمی'' کو بحرین میں اس کے بعد اسے وہاں سے معزول کرکے اس کی جگہ ''ابان بن سعید '' کو منصوب فرمایا ۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیات کے آخری تک '' ابان '' بحرین اور اسکے سمندوری علاقوں پر حکومت کرتا رہا۔

۔ عمروبن عاص '' کو سرزمین عمان کیلئے منتخب فرمایا اور وہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی کے آخر تک وہاں حکومت کرتا تھا ۔ اس کے علاوہ کہتے ہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے '' ابو زید انصاری '' کو عمان کی حکومت پر منصوب فرمایا تھا

بنی عامر بن لوئی سے ایک فرد''سلیط بن سلیط '' کو یمامہ پر منصوب فرمایا یمامہ کے باشندوں نے جب اسلام قبول کیا تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے مال و منال میں ہاتھ نہیں لگایا اور اسے بدستور ان کے ہی اختیار میں رکھا ( ابن خیاط کی بات کا خاتمہ )

جیسا کہ ملاحظہ فرمایا کہ اس نامور عالم نے ان تمام افراد کانام لیا ہے جنہوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پوری حیات میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کارندوں ، گماشتوں یا علاقوں کے حاکم کے طور پر ذمہ داری سنبھالی تھی ۔ اور اس سلسلے میں ایک فرد کو بھی لکھے بغیرنہیں چھوڑا ہے حتی اس نے '' ابوزید انصاری'' کی عمان پر حکومت کی ضعیف روایت سے بھی چشم پوشی نہیں کی ہے ۔ اور اس علاقہ پر اس کی حکومت کے بارے میں '' کہتے ہیں ...''' کی عبار ت لائی ہے ۔ لیکن اس لمبی چوڑی فہرست میں کہیں بھی سیف کے جعل کردہ افراد میں سے کسی ایک کا نام نہیں ملتا ۔


اس افسانہ سے سیف کے نتائج

سیف نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بہت سے کارندوں کا نام لیا ہے کہ نہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انھیں دیکھا ہے اور نہ ہی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حقیقی اصحاب نے ۔

سیف نے اپنے ان خلق کئے گئے بعض چہروں کو پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتوں اور کارندوں کے عنوان سے پیش کیا ہے کہ ہم نے اس کتاب کی دوسری جلد میں ان میں سے چھ افراد کو حسب ذیل پیش کیا ہے۔

١۔ سعیر بن خفاف تمیمی

٢۔ عوف بن علاء بن خالد بن جشمی

٣۔ اوس بن جذیمہ، ہجیمی

٤۔ سہل بن منجاب ، تمیمی

٥۔ وکیع بن مالک ، تمیمی

٦۔ حصین بن نیار ، حنظلی

مذکورہ افراد کے بارے میں ہم نے ہر ایک کی تفصیل سے وضاحت کی ہے ۔

یہاں بھی ہم سیف کے خلق کئے گئے درج ذیل ایسے کارندوں اور گماشتوں سے روبرو ہوتے ہیں ، جنہیں سیف کے بقول پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قضاعہ میں ممور فرمایا تھا :

٧۔ عمرو بن حکم ، قضاعی

٨ ۔امرؤ القیس بن اصبغ

ہم نے دیکھا کہ ابن اسحاق نے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ان تمام گماشتوں اور کارندوں کا نام لیا ہے جو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے سال تک، مموریت پر تھے اور اسی طرح خلیفہ بن خیاط نے ان تمام افراد کا نام لیا ہے جو پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پوری زندگی میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے مدینہ منورہ میں کسی نہ کسی قسم کی مموریت انجام دی چکے ہیں ۔ لیکن ان مذکورہ لمبی چوڑی فہرستوں میں سیف کے خلق کئے گئے گماشتوں اور کارندوں کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا ۔ کیونکہ یہ صرف سیف بن عمر ہے جس نے ان کارندوں اور قبائل قضاعہ کے مرتد ہونے کا افسانہ گڑھ لیا ہے ۔


یہ سیف بن عمر ہے جو کہتا ہے کہ خلیفہ ابو بکر نے ابتدا میں مرتدوں سے سیاسی طور پر برتاؤ کیا تا کہ ان کی سرکشی کو مسالمت آمیزطریقے سے خاتمہ بخشے لیکن جب ا س طرح کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلا تو مجبور ہو کر ان کی بغاوت اور سرکشی کو کچلنے کیلئے اسامہ اور اس کے لشکر کو روانہ کیا اور حکم دیا کہ ان کے ساتھ کسی قسم کی رعایت کے بغیر ان کی خوب گوشمالی کرے ۔ نتیجہ کے طور پر اسامہ نے تابڑتوڑ حملوں کے ذریعہ قضاعہ کے مرتدوں کا '' حمقتین '' تک پیچھا کیا اور انہیں بھگا کر علاقہ کو ان کے وجود سے پاک کردیا!

آخر میں یہی مکتب خلفاء کے پیرو علماء ہیں جنہوں نے سیف کی روایات اور افسانوں سے استفادہ کرکے اس کے خیالی کرداروں کو حقیقت کا لبادہ پہنایا ہے اور ان کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں اپنی معتبر کتابوں میں درج کیا ہے ۔ اس کے علاوہ سیف کے جعل کردہ مقامات جیسے '' حمقتین '' کی بھی تشریح کرکے انھیں اپنی جغرافیہ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

سیف کی انہی روایتوں سے یہ افواہ پھیلی ہے کہ اسلام تلوار اور خون کی ہولی کھیل کر پھیلا ہے نہ کہ فطری طور پر اور اپنی خصوصیت کی وجہ سے !! ہم نے اس موضو ع کو اپنی کتاب '' عبدا للہ بن سبا '' کی دوسری جلد میں ثابت کیا ہے ۔

سر انجام سیف کے تمام جھوٹ سے زیادہ تکلیف دہ وہ جھوٹ ہے جسے اس نے آخر میں خلق کرکے یہ کہا ہے کہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعض گماشتے اور کارندے اسلام سے منہ موڑ کر مرتد ہوگئے اور باقی بچے ثابت قدم لوگوں نے ان سے جنگ کی ہے !

اس بات سے پتا چلتا ہے کہ اسلام نے اس کے پیرؤں کے دلوں پر ہی نہیں بلکہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کارندوں اور خصوصی گماشتوں کے دلوں پر بھی اثر نہیں کیا تھا جبھی انہوں نے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد دین سے منحرف ہوکر ارتداد کا راستہ اختیار کیاکر لیا تھا، اس طرح سیف نے ثابت کیا ہے کہ اسلام تلوار کی ضرب سے پھیلا ہے نہ کہ کسی اور طریقے سے۔


اس افسانہ کی اشاعت کرنے والے علما

ان تمام افسانوں کو سیف بن عمر نے اکیلے ہی خلق کیا ہے اور درج ذیل علماء نے اپنی معتبر اور گراں قدر کتابوں میں ان کی اشاعت کی ہے :

١۔ امام المؤرخین '' محمد بن جریر طبری'' نے اپنی تاریخ کبیر میں ، مآخذ کے ذکر کے ساتھ

٢۔ ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں ،سند کے ساتھ۔

٣۔ ابو عمر ابن عبد البر نے استیعاب میں سند کے بغیر ۔

٤۔ یاقوت حموی نے ''شرح بر حمقتین'' کے عنوان سے کتاب ''معجم البلدان ''میں سند کے ساتھ۔

٥۔ ابن اثیر نے اپنی کتاب '' کامل '' میں طبری سے نقل کرکے ۔

٦۔ ابن اثیر نے اپنی کتاب ''اسد الغابہ ''میں عبدا لبر کی استیعاب سے ۔

٧۔ کتاب ''الجمع بین الاستیعاب ''و ''معرفة الصحابہ ''کے مصنف نے عبد البر کی استیعاب سے۔

٨۔ ذہبی نے کتاب '' تجرید '' میں ابن اثیر کی اسد الغابہ سے نقل کرکے ۔

٩۔ ابن حجر نے اپنی کتاب '' اصابہ '' میں کتاب فتوح سے نقل کرکے۔

یہ سب سیف بن عمر تمیمی کی جھوٹی اور جعلی روایتوں کی برکت سے ہے جو زندیقی ہونے کا ملزم بھی ٹھہرایا گیا ہے ۔

مصادر و مآخذ

قضاعہ کے نسب کے بارے میں مادۂ '' القضاعی '' و القینی '' کتاب اللباب (٢ ٢٦٥) اور (٣ ١٨ ) ملاحظہ ہو۔

عمرو بن حکم قضائی کی داستان :

١۔ تاریخ طبری (١ ١٨٧٢)

٢۔ تاریخ ابن عساکر (١ ٤٣٢)

٣۔ ابن عبد البر کی استیعاب طبع حیدر آباد دکن ( ٢ ٤٤٣) نمبر : ١٩٣٣


٤۔ الجمع بن الاستیعاب و معرفة الصحابہ قلمی نسخہ ، کتابخانہ ظاہریہ ص ١٩ نئے سطرے سکینہ بنت امام حسین کے جد کی داستان

١۔ ''اغانی ''اصفہانی ( ١٤ ١٥٧)

٢۔کتاب '' شذرات الذہب '' ( ١ ١٥٤)

رسول خدا کے گماشتوں اور کارندوں کے نام اور ان کا تعارف

١۔ خلیفہ بن خیاط کی تاریخ ( ١ ٦١ ۔ ٦٢)

سیف کے خیالی اماکن حموی کی '' معجم البلدان '' میں لفظ '' حمقتین ''اور آبل کے تحت ۔


چھٹا حصہ

ہم نام اصحاب

* خزیمہ بن ثابت انصاری ( ذو الشہادتین کے علاوہ )

*سماک بن خرشہ انصاری ( ابو دجانہ کے علاوہ )


سینتالیسواں جعلی صحابی

خزیمہ بن ثابت ، غیر ذی شہادتین

اپنے افسانوں میں کلیدی رول ادا کرنے والوں کو خلق کرنے میں سیف کا ایک خاص طریقہ یہ ہے کہ اپنے خلق کردہ بعض اصحاب کو ایسے صحابیوں کے ہم نام خلق کرتا ہے جو حقیقت میں وجود رکھتے تھے اور صاحب شہرت بھی تھے اس کے بعد وہ اپنے خلق کئے ہوئے ایسے اصحاب کیلئے افسانے اور کارنامے گڑھ لیتا ہے اور تاریخ اسلام میں ان کے کاندھے پر ایسی ذمہ داریاں ڈالتا ہے ، جس سے مؤرخین و محققین اور پریشانیوں سے دوچار ہوتے ہیں ۔

یہاں ایک حقیقی تاریخی شخصیت جو سیف کا مورد توجہ قرار پایا ہے اور جس کا اس نے ہم نام خلق کیا ہے ، '' خزیمہ بن ثابت انصاری '' ہے۔

پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میں انصار میں سے قبیلۂ '' اوس '' میں '' خزیمہ بن ثابت '' نام کا ایک شخص تھا جس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ جنگ بدر اور اس کے بعد کی جنگوں میں یا جنگ احد اور اس کے بعد کی جنگوں میں شرکت کی ہے اور خدا کی راہ میں جہاد کیا ہے ۔

خزیمہ کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے '' ذی الشہادتین '' کا لقب ملا تھا اور وہ اسی نام سے مشہور ہوئے تھا۔ اس افتخار کو پانے کی داستان ، جسے تمام تاریخ نویسوں نے درج کیاہے حسب ذیل ہے :

ذو الشہادتین ، ایک قابل افتخار لقب

ایک دن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سواء بن قیس محاربی نام کے ایک بدو عرب سے ایک گھوڑا خریدا ۔ چونکہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس زیادہ پیسے نہیں تھے ، اس لئے اعرابی سے فرمایا کہ پیسے وصول کرنے کیلئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ ساتھ آئے ۔ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تیزی سے قدم بڑھارہے تھے ، اسلئے اعرابی پیچھے رہ گیا، اسی اثناء میں چندا فراد جو اس اعرابی کے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ کئے گئے معاملہ سے آگاہ نہ تھے اعرابی کے پاس پہنچ کر گھوڑے کی قیمت کے بارے میں مول تول کرنے لگے ۔ آخر ان میں سے ایک شخص نے زیادہ پیسے دینے کی تجویز دی ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس اعرابی سے کچھ آگے بڑھ چکے تھے ۔ اسی لئے اس ماجرا سے بے خبر تھے ۔ اس کے بعد اعرابی نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مخاطب ہوکر فریاد بلند کی :


اگر اس گھوڑے کو خریدنا چاہتے ہو تو خرید لو ، ورنہ میں اسے پیچ دوں گا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رکے اور فرمایا : کیا میں نے اسے تجھ سے نہیں خریدا ہے ؟

سواء نے جواب دیا : نہیں ، خدا کی قسم میں نے اسے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو فروخت نہیں کیا ہے !

پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب میں فرمایا : میں نے اسے تجھ سے خریدلیا ہے اور معاملہ طے پاچکا ہے

لوگ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور اس بدو عرب کے ارد گرد جمع ہوئے اور ان کی باتوں کو سن رہے تھے۔

اسی اثناء سواء نے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مخاطب ہوکر کہا : گواہ لائیں کہ میں نے اس گھوڑے کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہاتھ بیچا ہے !

جو بھی مسلمان وہاں سے گزرہا تھا اور اس موضوع سے آگاہ ہوتا تھا ، اس اعرابی سے کہتا تھا کہ لعنت ہو تم پر! پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔

اسی اثناء میں ' ' خزیمہ بن ثابت '' وہاں پہنچے اور اعرابی کے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ اختلاف سے آگاہ ہوئے ، اور اس نے سناکہ سواء پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے گواہ طلب کررہا ہے اور کہتا ہے :

گواہ لائیں کہ میں نے اس گھوڑے کو آپ کے ہاتھ بیچا ہے :

خزیمہ نے فوراً کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے اس گھوڑے کو بیچ دیا ہے !

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خزیمہ سے مخاطب ہوکر فرمایا : جس معاملے میں حاضر نہ تھے اس کی گواہی کیوں دی؟

خزیمہ نے جواب دیا : جس دین کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لائے ہیں میں نے اسے قبول کرکے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سچ بولنے والا جانا ہے اور جانتا ہوں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سچ کے بغیر کوئی بات نہیں کرتے !

ایک اور روایت میں خزیمہ کا جواب یوں بیان ہوا ہے: میں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات آسمانوں کے بارے میں جو تمام بشریت کی دست رس سے دور ہے سنی اور اسے قبول کیا ہے، تو کیا اس موضوع کے بارے میں آاپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تصدیق نہ کروں اور اس کے صحیح اور سچ ہونے کی گواہی نہ دوں ؟


رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' آج کے بعد ہر مسئلہ میں خزیمہ کی گواہ دو گواہی کے برابر ہے '' یہی امر سبب بنا کہ اس تاریخ کے بعد خزیمہ '' ذی الشہادتین'' کے نام سے معروف و مشہور ہوئے اور وہ تنہا شخض تھے جن کی گواہی دو مردوں کے برابر شمار ہوتی تھی۔

یہ سلسلہ تب تک جاری رہا کہ خلیفہ عمر نے قرآن مجید کو اکٹھا کرنے کا کام شروع کیا ، جو تب تک پراکندہ اوراق ، تختیوں اور کھجور کے درختوں کی چھال پر لکھا ہوا تھا ، اور حکم دیا کہ اصحاب میں سے جس کسی نے بھی جتنی مقدار میں قرآن مجید کو پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سن کر حفظ کیا ہو اسے لے آئے اور اس سلسلے میں احتیاط کی جاتی تھی اور خلیفہ کسی آیت کو تب تک قبول نہیں کرتے تھے جب تک دومرد اس کے صحیح ہونے کی شہادت نہ دیتے اس موقع پر خزیمہ بن ثابت آیۂ

(وَمِن َ الُموْ مِنِینَ رِجَال صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اﷲعَلَیهِْ ....)

لے کر آئے، اور خلیفہ نے اس کی گواہی پر اکتفا کرکے کہا: تیرے علاوہ کسی اور کی گواہی نہیں چاہتا ہوں ۔

خزیمہ کی '' ذو الشہادتین '' کے نام سے شہرت قبیلہ '' اوس'' کیلئے فخر و مباہات کا سبب بنی، حتی جب قبیلۂ '' اوس'' و '' خزرج '' اپنے اپنے افتخارات گننے پر آتے تھے تو '' اوس'' سر بلندی سے ادعا کرتے تھے کہ ''... اور خزیمہ ہم میں سے ہے جس کی گواہی کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کی دو مردوں کی گواہی کے برابر قرار دیا ہے ''

خزیمۂ '' ذو الشہادتین'' نے ٣٧ ھ میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے پرچم تلے صفین کی جنگ میں شرکت کی اور اسی جنگ میں شہید ہوئے ۔ تاریخ نویسوں نے ان کی شہادت کے بارے میں یون بیان کیا ہے:

خزیمہ نے علی کے ہمراہ جمل اور صفین کی جنگوں میں مسلح ہوکر شرکت کی اور صفین کی جنگ میں کہتے تھے : میں عمار کے قتل ہونے تک نہیں لڑوں گا۔ میں منتظر دیکھ رہا ہوں کہ عمار کو کون قتل کرتا ہے ، کیونکہ میں نے خود رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا ہے کہ فرماتے تھے : عمار کو باغی اور سرکشوں کا ایک گروہ قتل کر ڈالے گا۔

اور جب عمار اسی جنگِ صفین میں معاویہ کے سپاہیوں کے ہاتھوں قتل ہوئے تو خزیمہ نے کہا: میں نے گمراہوں کو مکمل طور سے پہچان لیا ۔اس کے بعد میدان جنگ میں قدم رکھ کر تب تک امام کی صف میں لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔


خزیمۂ '' غیر ذی الشہادتین'' کو خلق کرنے میں سیف کا مقصد

'' خزیمہ بن ثابت ذی الشہادتین '' کے معاویہ کا سپاہیوں کے ہاتھوں قتل ہونا خاندان بنی امیہ کیلئے دو جہت سے بری اور معنوی شکست تھی ۔ ایک تو یہ کہ انہیں اس حالت میں قتل کیا گیا کہ وہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے '' ذو الشہادتین ''' کا لقب پاچکے تھے اور یہ ان کے لئے ایک بڑا افتخار تھا اور وہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مشہور اصحاب میں سے تھے اور قبیلۂ اوس کیلئے فخر و مباہات کا سبب تھے، دوسری جانب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ گواہی کہ عمار ایک دین سے منحرف اور سرکش گروہ کے ہاتھوں قتل کئے جائیں گے ، خود خزیمہ کی طرف سے ایک اور گواہی تھی کہ معاویہ اور اس کے حامی دین اسلام سے منحرف ہوکر سرکش و گمراہ ہوئے تھے اور حق امیر المؤمنین علیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ تھا۔

سیف جو کہ خاندان بنی امیہ کی طرفداری میں عمار جیسوں کو رسوا و بدنام کرنے کی سر توڑ کوشش کرتا ہے' ان کے خلاف جھوٹ کے پلندے گڑھتاہے ، تو کیا وہ عمار کی اس فضیلت و منقبت کے مقابلے میں آرام سے بیٹھ سکتا ہے ؟

وہ کیسے اس دوہری معنوی شکست رسوائی کے مقابلے میں خاموش بیٹھ سکتا ہے؟

جو معاویہ کے سپاہیوں کے ہاتھوں عمار یاسر کے قتل ہونے اور خزیمہ بن ثابت کی گواہی کی وجہ سے خاندان بنی امیہ کو اٹھانی پڑی ہے جبکہ اس نے ہر قیمت پر بنی امیہ کا دفاع کرنے کا مصمم ارادہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں کسی قسم کی کاروائی انجام دینے سے گریز نہیں کرتا ؟!

سیف ، جس نے بنی امیہ کی قصیدہ خوانی اور مداحی کیلئے اپنے آپ کو وقف کر دیا ہے ، ہر گز خاندان بنی امیہ کیلئے ایسے نازک اور رسوا کن موقع پر خاموش نہیں بیٹھ سکتا ہے ۔ لہذا وہ مجبور ہوکر اس مسئلہ کے معالجہ کیلئے قدم اٹھاتا ہے اور تاریخ میں دخل و تصرف کرکے ایک اور صحابی خلق کرتا ہے ، اور موضوع کی اصل حقیقت کو بدل دیتا ہے اس طرح اپنے خیال میں بنی امیہ کے دامن میں لگے ننگ و رسوائی کے داغ کو پاک کرتا ہے ۔


وہ اس سلسلے میں ایک صحابی کو خلق کرکے اس کا نام خزیمہ بن ثابت رکھتا ہے تا کہ اسے اصلی خزیمۂ ذو الشہادتین کی جگہ پر قرار دے اور اسے صفین کی جنگ کے دوران بنی امیہ کے سپاہیوں کے ہاتھوں قتل ہوتے دکھا کراصلی خزیمۂ کی شہادت اور معاویہ اور اس کے حامیوں کی سر کشی کے بارے میں کوئی گواہ باقی نہ رکھے۔

اس بناوٹی خزیمہ کی داستان کو امام المؤرخیں طبری نے سیف بن عمر سے ، اس نے محمد سے اور اس نے طلحہ سے نقل کرکے یوں درج کیا ہے :

١۔ امیر المؤمنین علی نے جب اپنے بارے میں مدینہ کے باشندوں کے عدم میلان کا احساس کیا توآپ نے ان کے سرداروں اور معروف شخصیتوں کو بلایا اور ایک تقریر کے دوران ان سے مددکرنے کو کہا۔

سیف کہتا ہے : حضاّر میں سے دو معروف شخصیتیں '' ابو الھیثم بن تیہان '' بدری جنگ بدر میں شرکت کرنے والا صحابی اور '' خزیمہ بن ثابت '' اپنی جگہ سے اور امام کی حمایت اور مدد کا اعلان کیا ۔

سیف بیان کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے :

یہ خزیمہ ، '' خزیمہ ذو الشہادتین '' کے علاوہ ہے کیونکہ '' ذو الشہادتین '' عثمان کی خلافت کے زمانہ میں فوت ہوچکا تھا !!

٢۔ اس کے بعد طبری نے ایک دوسری روایت میں سیف سے ، اس نے محمد سے نقل کیا ہے کہ ۔۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا لقب '' عرزمی '' تھا اس نے عبیدا ﷲ سے اس نے حکم بن عتیبہ سے نقل کرکے یوں لکھا ہے :

حکم بن عتیبہ سے پوچھا گیا : کیا خزیمہ ذو الشہادتین نے جمل کی جنگ میں شرکت کی ہے؟

حکم نے جواب دیا: نہیں ، جس نے جنگِ جمل میں شرکت کی ہے وہ ذو الشہادتین نہیں تھا بلکہ انصار میں سے ایک اور خزیمہ تھا چونکہ ذو الشہادتین عثمان کی خلافت کے دوران فوت ہوچکا تھا !!

سیف ان دو روایتوں کو '' شعبی'' کی دو دوسری جعلی روایتوں سے تقویت بخشتا ہے تا کہ بہر صورت اپنی اس بات کو ثابت کرے کہ خزیمہ ذو الشہادتین خلافت عثمان کے زمانہ میں فوت ہوچکے تھے ۔ توجہ فرمائیے:


٣۔ سیف بن عمر نے مجالد کے اس قول سے لکھا کو کہ شعبی نے کہا:

قسم اس خدا کی جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ، جمل کی جنگ میں صرف چھ یا سات افراد ایسے تھے جنہوں نے جنگ بدر میں شرکت کی تھی۔

٤۔ سیف ، دوسری روایت میں عمرو بن محمد سے نقل کرکے کہتا ہے کہ شعبی نے کہا ہے کہ :

قسم اس خدا کی جس کے سوا کوئی خد ا نہیں ہے ، جنگِ جمل میں اصحاب بدر میں سے صرف چھ افراد نے شرکت کی ہے۔

میں سیف بن عمرنے عمرو سے کہا : جمل کی جنگ میں اصحاب بدر کی شرکت کرنے والوں کی تعداد کے بارے میں تمہاری اور ''مجادلہ '' کی بات میں اختلاف ہے ؟ عمرو نے جواب میں کہا:نہیں ، ایسا نہیں ہے ، ہمارا آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہے ، مگر یہ کہ خود شعبی اس امر شک کرتا تھا کہ ابو ایوب انصاری نے اس جنگ میں شرکت کی ہے یا نہیں اس نے شک کیاہے کہ کیا جب ام سلمہ نے اسے جنگ صفین کے بعد امام کی خدمت میں بھیجا ، تو ابو ایوب انصاری امام کی خدمت میں پہنچا ہے یا نہیں ، کیونکہ جب ابو ایوب انصاری امام کی خدمت میں پہنچا تو اس وقت امام نے نہروان میں قدم رکھا تھا ۔

آخر میں سیف پانچویں روایت کے مطابق ،معاویہ سے جنگ کرنے میں لوگوں کے میلان کے سلسلے میں اپنے جعلی صحابی زیاد بن حنظلہ کے افسانے میں اپنی گزشتہ بات کی تاکید کرتے ہوئے کہتا ہے :

٥۔ جب زیاد نے معاویہ سے جنگ کے بارے میں لوگوں کے عدم میلان کا مشاہد کیا تو امام کو بے یار و یاور دیکھ کر ، آپ کی خدمت میں پہنچ کر کہا:

اگر لوگ آپ کی مدد کرنے کامیلان نہیں رکھتے ، ہم خوشیکے ساتھ آپ کی مدد کریں گے اور آپ کے سامنے دشمنوں سے جنگ کریں گے ۔


افسانہ کے مآخذ اور راوی

سیف نے اپنی پہلی روایت کو محمد اور طلحہ سے نقل کیا ہے ۔ سیف کے ان دونوں راویوں محمد و طلحہنے کیسے اور کہاں پر ایک ساتھ بیٹھ کر بات کی ہے ،یہ خود ایک الگ موضوع ہے جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے کہا ہے کہ سیف نے اس محمد کو '' محمد بن عبد اللہ بن سواد نویرہ '' خلق کیا ہے جبکہ طلحہ ، طلحہ بن اعلم حنفی ہے او روہ ایک حقیقی شخصیت ہے ، جو ''رے ''کے '' حبان '' نامی گاؤں کا رہنے والاتھا اور ایک مشہور و معروف راوی تھا ۔ سیف عراق کے شہر کوفہ میں زندگی بسرکرتا تھا ، معلوم نہیں اس نے ''حبان '' میں رہنے والے طلحہ سے کیسے ملاقات کی یا پھر اسے دیکھے بغیر اپنی روایت اس کی زبانی گڑھ لی ہے؟!

دوسری روایت کو سیف نے محمد بن عبید اﷲ بن ابی سلیمان ، معروف بہ عرزمی سے ، اس نے اپنے باپ سے اس نے حکم بن عتیبہ سینقل کیا ۔

عرزمی کو علم حدیث کے علماء اور دانشوروں نے ضعیف جانا ہے اور اس کی روایتوں کو قبول نہیں کرتے۔ کیا معلوم شاید اسے ضعیف جاننے اور اس پر اعتماد نہ کرنے کا سبب یہ ہو کہ سیف نے اپنے جھوٹ اس سے نقل کئے ہیں !

لیکن حکم ، علما، حکم نام کے دو اشخاص کو جانتے ہیں ۔ ان میں سے ایک کوفہ کا قاضی تھا اور دوسرا مشہور و معروف راوی تھا ۔ لیکن بات یہ ہے کہ کیا سیف نے انھیں دیکھا ہے۔ ان کی روایتیں سنی ہیں اور پھر ان کی زبانی جھوٹ کہلوایا ہے ، یا یہ کہ بن دیکھے 'سنے ان کی زبان سے جھوٹ جاری کیا ہے ؟!

بہر صورت ، سیف نے انھیں دیکھا ہو یا نہیں ، ان کی باتیں سنی ہوں یا نہیں ، موضوع کی ماہیت پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، کیونکہ ہم ہرگز سیف کے جھوٹ کے گناہوں کو ایسے راویوں کی گردن پر نہیں ڈالتے ، جبکہ سیف تنہا شخص ہے جس نے ایسی روایتیں ایسے اشخاص سے نقل کی ہیں ۔

سیف نے اپنی پانچویں روایت کو عبد اللہ بن سعید بن ثابت سے نقل کرکے '' ایک شخص'' کے بقول بیان کیاہے جبکہ عبد اللہ بن سعید بن ثابت سیف کے مخلوق راویوں میں سے ہے اور ہم نے اس موضوع کی وضاحت گزشتہ بحثوں میں کی ہے ۔ لیکن وہ گمنام '' مرد'' کون ہے جس سے عبد اللہ نے روایت سنی ہے اور سیف نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے ؟ تا کہ ہم اس کو پہچانتے ؟!


سیف کے افسانے اور تاریخی حقائق

سیف نے مذکورہ پنجگانہ روایتوں میں یہ ثابت کرنے کی سر توڑ کوشش کی ہے کہ مدینہ کے باشندوں ، خاص کر مہاجر و انصار نے امام کی سپاہ میں شامل ہونے سے انکار اور جمل و صفین کی جنگوں میں امام کے پرچم تلے لڑنے سے بے دلی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں اپنے جھوٹ پر تکیہ کرکے قسم کھاتا ہے کہ بدر کے مجاہدوں میں سے چھ یا سات افراد سے زیادہ صفین و جمل کی جنگوں میں امامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت میں شامل نہیں ہوئے ہیں ۔

تعجب کی بات ہے کہ سیف ریا کاری اور مکروفریب سے اپنے جھوٹ کو چھپانے کیلئے امام علی کی جنگوں میں بدر کے مجاہدوں کی شرکت کو چھ یا سات افراد میں محدود کر دیتا ہے اور اپنی چوتھی جعلی روایت میں ابو ایوب انصاری کی داستان کو گڑھ کر اس اختلاف کی توجیہ کرتا ہے !

یہاں پر ہم حقائق کا انکشاف کرنے کیلئے سیف کی روایتوں اور اس کی داستانوں کو دوسروں کے بیان کردہ تاریخی وقائع اور جنگِ جمل و صفین میں ا میر المؤمنین امام علی کے ساتھ رسول خدا کے صحابیوں کے حالات پر حسب ذیل بحث و تحقیق کرنے پر مجبور ہیں :

١۔ بیعت کے موقع پر امامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں خزیمہ اور دیگر اصحاب کا نظریہ

اس سلسلے میں '' یعقوبی '' اپنی تاریخ میں یوں لکھتا ہے :

جب علی کی بیعت کی گئی ، انصار میں سے چند افراد نے اٹھ کر تقریر یں کیں اس کے بعد خزیمہ بن ثابت انصاری ذو الشہادتین اٹھے اوریوں بولے :

اے امیر المؤمنین ! آپ کے علاوہ کوئی ہم پر حکومت کی شائستگی نہیں رکھتا اور ہم آپ کے علاوہ کسی کی اطاعت نہیں کریں گے اگر ہمارے ضمیر آپ کے بارے میں انصاف پر مبنی فیصلہ سنادیں تو آپ سب سے پہلے ایمان لائے ہیں اور سب سے زیادہ خدا کا عرفان رکھنے والے ہیں اور تمام مؤمنین میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نزدیک تر ہیں ، جو کچھ سب لوگوں کے پاس ہے آپ اکیلے اس کے مالک ہیں اور جو کچھ آپ کے پاس ہے اس سے دوسرے محروم ہیں


٢۔ جمل کی جنگ میں خزیمہ اورمدینہ کے باشندوں کا نظریہ :

'' ابن اعثم '' اپنی کتاب '' فتوح '' میں لکھتا ہے :

جب امام علی علیہ السلام عائشہ کے مکہ سے بصرہ کی طرف روانگی سے آگاہ ہوئے تو آپ نے اپنے دوست و احباب کو جمع کرکے ان سے یوں خطاب کیا :

اے لوگو! خدائے تبارک و تعالی نے تمہارے درمیان ایک قرآن ناطق بھیجا ہے جو بھی قرآن مجید سے منہ موڑے اور اسے چھوڑ دے گا وہ ہلاک ہوجائے گا ۔ بدعت اور مشتبہ چیزیں نابودی اور ہلاکت کے اسباب ہیں اور اس سے کوئی بچ نہیں سکتا مگر خدائے تعالیٰ اسے لغزشوں سے بچاے حکومت الہی کا دامن پکڑلو اور اس کے ماتحت رہو وہ تمہاری نجات و سربلندی کا سبب ہے اس لئے پر اس خدائی حکومت کی اطاعت کرو ۔ اپنے آپ کو اس گروہ سے لڑنے کیلئے آمادہ کرلو جو تمہاری یکجہتی و اتحاد پر نظر جمائے ہے اور تم لوگوں میں اختلاف و افتراق ڈالنا چاہتا ہے اپنے آپ کو آمادہ کرلوتا کہ خدئے تعالی ٰ تمہارے ہاتھوں ان گمراہوں کی اصلاح فرمائے ۔ اور یہ جان لوکہ طلحہ و زیبر نے ایک دوسرے کی مدد کرکے ارادہ کیا ہے کہ میرے رشتہ داروں کو میرے خلاف اکسائیں اور لوگوں کو میری مخالفت پرمجبور کریں ۔ میں ان کی طرف روانہ ہورہا ہوں تا کہ ان سے جنگ کروں یہاں تک کہ خدائے تعالی ہمارے درمیان فیصلہ کردے ۔

والسلام

لوگوں نے بھی اپنی آمادگی کا اعلان کیا

٣۔ خزیمہ جمل کی جنگ میں

''مسعودی '' نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ امیر المؤمنین نے جنگ ِ جمل میں پر چم اپنے بیٹے محمد کے ہاتھ میں دیا اور احکم دیا کہ حملہ کرتے ہوئے آگے بڑے ۔

محمد نے اپنے حملوں میں متوقع جرت و شجاعت نہیں دکھائی ، اس لئے امام ان کے نزدیک تشریف لے گئے اور پرچم کو ان سے لے کر خود دشمن کے قلب پر حملہ کیا ۔


اس کے بعد اضافہ کرتے ہوئے مسعودی لکھتا ہے :

خزیمہ بن ثابت انصاری ذوالشہادتین امام کی خدمت میں حاضر ہو کر بولے اے امیر المؤمنین ! محمد کی شرمندگی کا سبب نہ بنئے ، پرچم کو اسے سونپئے ۔ امام نے محمد کو بلا کر دوبارہ جنگ کا پرچم ان کے ہاتھ میں دیا۔

٤۔ جنگ جمل میں بدر کے مجاہدوں اور دوسرے اصحاب کی موجودگی:

'' ذہبی '' نے '' سعید بن جبیر '' سے نقل کرکے لکھا ہے جنگ جمل میں آٹھ سو افراد انصار میں سے اور سات سو ایسے اصحاب امام کی خدمت میں سرگرمعمل تھے جنہوں نے بیعت رضوان کو درک کیا تھا۔

اور '' سدی '' سے نقل کرکے مزید لکھتا ہے :

جنگ جمل میں امیر المؤمنین کے ہمراہ ایک سو تیس بدریوں نے شرکت کی ہے ۔

٥۔ صفین کی جنگ کے بارے میں اصحاب کا نظریہ :

'' نصر بن مزاحم '' نے اپنی کتاب '' صفین '' میں لکھا ہے:

جب علی علیہ السلام شام کی طرف عازم ہوئے تا کہ وہاں کے لوگوں سے نبرد آزما ہوں ، اپنے حامی مہاجر و انصار کو بلایا ۔ جب وہ حاضر ہوئے تو آپ نے کھڑے ہوکر خدا کی حمد و ثنا بجالانے کے بعدفرمایا:

آپ لوگ عقلمند ، متواضع ،سنجیدہ ، حق گو اور صحیح کردار کے مالک ہیں اب جبکہ ہم اپنے مشترک دشمن پر حملہ کرنے کی تیاری کررہے ہیں ، ہمیں اپنی آراء اور نظریات سے آگاہ کرئے ۔

امام کی تقریر کے بعد ابو وقاص کا پوتا '' ہاشم بن عتبہ '' اپنی جگہ سے اٹھا اور بہترین صورت میں حمد و ثنا الٰہی بجا لا کر بولا:


اما بعد ، اے امیر المؤمنین ! میں ان لوگوں کو اچھی طرح سے جانتا ہوں یہ آپ کے اور آپ کے حامیوں کے سخت دشمن ہیں اور مال و دنیا پرست ہیں وہ آپ سے جنگ کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے یہ ایسے دنیا پرست ہیں جو کسی بھی قیمت حاصل کی گئی چیزوں سے چشم پوشی نہیں کرتے اور اس کے علاوہ کوئی اور چیز ہاتھ میں نہیں رکھتے ۔ یہ لوگ نادانوں کو عثمان بن عفان کی خونخواہی کے عنوان سے فریب دیتے ہیں ۔ یہ جھوٹ بولتے ہیں ان کے خون کا انتقام لینا نہیں چاہتے بلکہ اس بہانے سے طاقت و دولت پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں ۔

ہمارے ساتھ ان پر حملہ کیجئے ۔ اگر حق کو قبول کیا تو اس صورت میں گمراہی سے نجات پائیں گے اور اگر اختلاف و افتراق کے علاوہ کسی اور راستہ کو اختیار نہ کیا کہ گمان ہے ایسا ہی کریں گے ۔اور خدا کی قسم میں یہ تصور نہیں کرتا کہ وہ آپ کی بیعت کریں گے کیونکہ ان پر ایک ایسا شخص حکومت کرتا ہے جس کے ہر حکم کی وہ اطاعت کرتے ہیں اور ان کیلئے اس کی نافرمانی کرنا محال ہے !

ہاشم بن عتبہ کے بعد '' عمار یاسر '' اپنی جگہ سے اٹھ کرخدائے تعالیٰ کی حمدو ثنا بجالانے کے بعد بولے :

اے امیر المؤمنین ! اگر ہو سکے تو ایک دن بھی نہ ٹھہرئے اور اس کام کو انجام دیجئے ۔ اس سے پہلے کہ ان بد کرداروں کے فتنہ کی آگ کے شعلے بھڑک اٹھیں اور وہ راستوں ، گزرگاہوں کو بند کرکے تفرقہ و اختلاف ڈالنے میں کامیاب ہوجائیں ۔ ان پر حملہ کیجئے اور انھیں راہ حق کی طرف ہدایت فرمائیے اگر انہوں نے قبول کیاتو خوشبخت ہوجائیں گے اور اگر ہمارے ساتھ جنگ کرنے کے علاوہ کسی اور راستہ کو اختیار نہ کیاتو ایسی صورت میں ، خدا کی قسم ان کا خون بہانا اور ان سے جنگ کرنا خدائے تعالیٰ کی خوشنودی اور تقرب حاصل کرنے کا سبب ہوگا جو پروردگار کا ہم پر لطف و کرم ہوگا۔

جب عمار یاسر اپنی جگہ پر بیٹھ گئے تو پھر ''قیس بن سعد بن عبادہ'' اپنی جگہ سے اٹھے اور خدا کی حمد و ثنا بجالانے کے بعد بولے :

اے امیر المؤمنین ! آمادہ ہوجائے اور ہمارے ساتھ مشترک دشمن پر حملہ کرنے کیلئے باہر آنے میں کوتاہی اور تاخیر نہ فرمائیے خد اکی قسم میں ان سے جنگ کرنے میں اس سے زیادہ مائل ہوں کہ راہ کی خدا میں ترکوں اور رومیوں سے جہاد کروں کیونکہ دین الہٰی کی نسبت ان کی گستاخی حد سے گزر چکی ہے اور انہوں نے خدا کے نیک بندوں اور مہاجر ، انصار اور صالح تابعین میں محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ناصر و یاور کو ذلیل و خوار کرکے رکھدیا ہے ۔


یہ جب کسی کو غصہ کرکے اسے پکڑ لیتے ہیں تو اسے جیل میں ڈال دیتے ہیں یا اسے کوڑے مارتے ہیں اور اس کا بائیکاٹ کرتے ہیں یا شہر و وطن سے جلا وطن کر دیتے ہیں ہمارے مال ومنال کو اپنے لئے حلال جانتے ہیں اور ہمارے ساتھ اپنے غلاموں جیسا سلوک کرتے ہیں ۔

اس کے بعد '' نصر '' لکھتا ہے :

جب '' قیس'' اپنی جگہ پر بیٹھ گئے تو انصار کے بزرگوں میں سے خزیمہ بن ثابت و ابو ایوب انصاری '' اور دیگر لوگوں نے قیس کی ملامت کرتے ہوئے کہا:

تم نے کیوں انصار کے بڑے بوڑھوں کا احترام نہیں کیا اور ان سے پہلے بول اٹھے ؟

قیس نے جواب دیا ؛ مجھے آپ لوگوں کی برتری اور بزرگی کا اعتراف ہے لیکن میرے سینہ میں بھی وہی غصہ و نفرت موجزن ہے جو '' احزاب '' کی یاد کرکے آپ لوگوں کے سینہ میں موجزن ہوتی ہے اس لئے میں صبر نہ کرسکا ۔

یہاں پر انصار کے بزرگوں نے آپس میں طے کیا کہ ایک شخص اٹھے اور انصار کی جماعت کی طرف سے امیر المؤمنین کے جواب کے طور پر کچھ بولے۔ لہذا '' سہل بن حنیف '' کو انتخاب کیا گیا اور ان سے کہا گیا؛ اے سہل ! کھڑے ہوجاؤ اور ہماری طرف سے بات کرو ! سہل اٹھے اور خدائے تعالیٰ کی بارگاہ میں حمد و ثنا بجالانے کے بعد بولے:

اے امیر المؤمنین آپ جس کے ساتھ مہربانی کریں گے ، ہم بھی مہربانی کریں گے اور جس سے جنگ کریں گے ، ہم بھی اس سے لڑیں گے ۔ آپ جو فکر کریں گے ہماری فکر بھی وہی ہے کیوں کہ ہم آپ کے دائیں بازو کے مانند آپ کے اختیار میں ہیں ۔

لیکن ہماری تجویز یہ ہے کہ کوفہ کے باشندوں کے سرداروں کو اس موضوع سے مطلع فرمائیے کیونکہ وہ اس دیار کے باشندے ہیں ۔ انھیں حکم دیجئے تا کہ وہ بھی دشمن کی طرف روانہ ہوں ۔ ان کو فضل ورحمت خدا سے جو اِنہیں عنایت ہوئی ہے ، آگاہ فرمائیے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں اگر آپ کے حکم کی تعمیل کریں گے تو آپ اپنے مقصد مقصد میں کامیاب ہوں گے ورنہ ہم لوگ تو آپ کے بارے میں کسی قسم کا اختلاف نہیں رکھتے ، جب بھی ہمیں بلائیں گے جان ہتھیلی پر لے کر حاضر ہیں اور جو بھی حکم دیں گے سر آنکھوں پر لیں گے یعقوبی نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ صفین کی جنگ میں امیر المؤمنین کے ہمراہ ستر افراد بدری ، شجرہ میں بیعت کرنے والوں میں سے سات سو افراد کے علاوہ چار سو دوسرے مہاجر و انصار بھی موجودتھے ۔


مسعودی نے بھی لکھا ہے کہ :

صفین کی جنگ میں عراق کے باشندوں میں سے پچیس ہزار افراد قتل ہوئے جن میں پچیس بدری بھی دکھائی دیتے تھے۔

جو کچھ ہم نے یہاں تک بیان کیا وہ امیر المؤمنین کی جنگوں کے بارے میں اصحاب کے نظریات اور پالیسی کا ایک نمونہ تھا ۔ اب ہم '' خزیمہ بن ثابت انصاری ذو الشہادتین '' کے صفین کی جنگ میں قتل ہونے کی روداد بیان کرتے ہیں ۔

'' ابن سعد '' اپنی کتاب ''طبقات '' میں '' ذو الشہادتین '' کی زندگی کے حالات کی تشریح میں لکھتا ہے :

جس وقت عمار یاسر صفین کی جنگ میں قتل ہوئے ، خزیمہ بن ثابت اپنے خیمہ میں چلے گئے ، غسل کیا اور جنگی لباس زیب تن کیا، اس پر پانی چھڑکنے کے بعد باہر آئے او رمیدان جنگ میں جاکر اس قدر جنگ کی کہ آخر شہید ہوگئے ۔

'' خطیب بغدادی'' ١ نے بھی اپنی کتاب '' موضح '' میں '' عبد الرحمان بن ابی لیلی '' سے نقل کرکے یوں لکھا ہے :

میں جنگ صفین میں حاضر تھا ۔ میدان کارزار میں میری ایک ایسے شخص کے ساتھ مڈ بھیڑ ہوئی جو اپنا چہرہ چھپائے ہوئے تھا ، اس کی داڑھی کے بال چہرے پر لگائے نقاب سے نیچے کی طرف باہر آئے تھے۔ وہ پوری طاقت کے ساتھ لڑرہا تھا اور

____________________

١- حافظ حدیث ، ابو بکر احمد بن علی ملقب بہ خطیب بغدادی ( وفات ٤٦٣ھ ) اس کی تالیفات میں سے ایک '' موضح اوھام الجمع و التفریق' ہے کہ ہم نے اس کتاب کی جلد' ٤' صفحہ: ٢٧٧ طبع حیدر آباد دکن ١٣٨٧ھ کی طرف رجوع کیا ہے۔


دائیں بائیں تلوار چلارہا تھا اور حملہ کررہا تھا ۔ میں نے اپنے آپ کو اس کے نزدیک پہنچا کر کہا :

اے بوڑھے آدمی ! تم جوانوں کے ساتھ اس طرح بلاخوف لڑرہے ہو اور دائیں بائیں تلوار چلا رہے ہو ؟

اس نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹا کر کہا ؛ میں '' خزیمہ بن ثابت انصاری'' ہوں ، میں نے خود رسول خدا سے سنا ے کہ وہ فرماتے تھے : علی کے ہمراہ لڑنا اور اس کے دشمنون سے جنگ کرنا۔

' 'نصر بن مزاحم'' اپنی کتاب '' صفین '' میں اس جنگ کی رجز خوانیوں کے ضمن میں لکھتا ہے :

'' خزیمہ بن ثابت '' صفین کی جنگ میں معاویہ کی سپاہ پر حملہ کرتے ہوئے یہ رجز پڑھ رہے تھے :

جنگ شروع ہوئے دو دن گزر گئے ، یہ تیسرا دن ہے ، پیاس کی شدت سے جنگجووں کی زبانیں منہ سے باہر نکل آئی ہیں ۔

آج وہی دن ہے کہ جس دن تلاش وکوشش کرنے والے کو بخوبی معلوم ہوگا کہ امام کے ساتھ عہد و پیمان توڑنے والے کس قدر زندہ رہنے کی امید رکھتے ہیں ؟!

جبکہ یہ لوگ اپنے اسلاف کی میراث لینے والے اور آئندہ کیلئے وراثت چھوڑنے والے ہیں ، یہ علی ہیں جو بھی ان کی اطاعت نہ کرے ، '' ناکثین '' میں سے ہے اور پروردگار کے ہاں گناہگار ہے ۔

اس کے علاوہ جمعرات کے دن کی دلاوریوں اور رجز خوانیوں کے عنوان سے لکھتا ہے : اسی دن ''خزیمہ بن ثابت ذو الشہادتین'' قتل ہوئے ، اور خزیمہ کی بیٹی '' ضبیعہ '' اپنے باپ کی لاش پر یوں نوحہ خوانی کررہی تھی:

اے میری آنکھوں ! '' احزاب ''کے ہاتھوں مقتول اور فرات کے کنارے خاک پر پڑی ہوئی خزیمہ کی لاش ' پر آنسوؤں کے دریا بہاؤ:

انہوں نے ذو الشہادتین کو بے گناہ اور مظلوم قتل کیا ہے' خدا ان سے اس کا انتقام لے ۔

اسے جوانمردوں کے ایک گروہ کے ساتھ مارا گیا ، جو حق کی آواز پر لبیک کہہ کر آگے بڑھے تھے اور ہرگز آرام سے نہیں بیٹھے تھے۔

یہ لوگ اپنے کامیاب و فریاد رس مولا امام علی کی مدد میں اٹھے تھے اور موت کے لمحہ تک اپنے مولا کی مدد سے دست بردار نہیں ہوئے ۔


خدائے تعالیٰ '' خزیمہ'' کے قاتلوں پر لعنت فرمائے اور دنیا و آخرت میں ذلیل و خوار کرے ۔

نصر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے :

امام علی نے صفین کی جنگ سے واپسی پر اپنے ایک خطبہ میں کوفیوں کی معاویہ سے جنگ میں شرکت پر تجلیل کرتے ہوئے بے انتہا حزن و ملال کے ساتھ خزیمہ ذو الشہادتین کو یاد کرتے ہوئے فرمایا:

میرے بھائی ، جن کا خون صفین کے میدان میں زمین پر جاری ہوا ، چونکہ آج وہ زندہ نہیں ہیں جو غم و اندوہ کے عالم کا مشاہدہ کرتے ! ان کو کیا نقصان پہنچا ؟ خدا کی قسم انہوں نے اس خدا کا دیدار کیا جس نے انہیں جزا دی ہے اور انھیں تمام خوف و ہراس سے آزاد کرکے امن کی جگہ پر قرار دیا ہے ۔

کہاں ہیں میرے وہ بھائی جنہوں نے حق کی راہ میں قدم رکھا اور حق کے راستے کا انتخاب کیا؟

کہاں ہے عمار ، کہاں ہے ابن تیہان ١ اور کہاں ہے ذو الشہادتین ؟!

جو کچھ ہم نے یہاں تک بیان کیا وہ امام علی کی جنگوں کے بارے میں مہاجریں و انصار خاص کر خزیمتہ بن ثابت ذو الشہادتین نقطہ نظر کا اظہار تھا ٢

ان حقائق کے باوجود سیف آخر میں تحریف کرتا ہے او وقائع میں دخل و تصرف کے ذریعہ افسانوی کردار خلق کرتا ہے اور اس طرح تاریخ اسلام کو مشکوک کرکے اس کے اعتبار' استحکام اور قدر و منزلت کو گرادیتا ہے ۔

خزیمہ کے افسانہ پر ایک بحث

گزشتہ پانچوں روایتوں میں سیف نے تاریخی حقائق میں تحریف کرکے علماء اور محققین کو

____________________

١۔ ابن تیہان ، ابو الہیثم ، مالک بن تیہان انصاری قبیلۂ اوس میں سے ہیں ۔ ابن تیہان نے بیعت عقبہ کو درک کیا ہے اور جنگِ بدر کے علاوہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دوسری جنگوں میں بھی شرکت کی ہے ۔ ابن تیہان صفین کی جنگ میں امام علی کی حمایت میں لڑے اور اس میں شہید ہوئے۔ (اسد الغابہ ج ٥ ٣١٨) ، خطبہ نمبر ١٨٣ ، نوف بکالی کی روایت کے مطابق اور ' ' شرح نہج البلاغہ '' ابن ابی الحدید معتزلی (١٠.٩٩) ۔

٢۔ کوئی یہ گمان نہ کرے کہ فضائل و مناقب امام علی بیان کرنے میں ہماری دلچسپی کا مقصد یہ ہے کہ ہم انصار کے نظریات اور امام کے بارے میں ان کی پالیسی کو بیان کرکے بحث کو طولانی بنارہے ہیں ۔حقیقت میں ہم مجبور تھے تا کہ سیف کی شیطنتوں ، فضائل امام کو پوشیدہ رکھنے ، امام کے ساتھ اس کی دشمنی کی بنا پر وقائع میں تحریف کرنے اور بنی امیہ کے ساتھ اس کی ہمدردیوں سے پردہ اٹھائیں ۔ اسی طرح ہم نے بعد میں ذکر ہونے والے صحابی کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک مشہور صحابی جیسے '' ابو دجانہ '' کے امام کی جنگوں میں شرکت کرنے کے مسئلہ کو جس کا سیف مدعی ہے قبول نہیں کیا ہے اور اسے رد کیا ہے۔


گمراہی اور پریشانی سے دوچار کیا ہے ۔ اس نے تاریخ میں تصرف کرکے ' خزیمہ بن ثابت '' ذو الشہادتین '' کے علاوہ افسانہ کا اس میں اضافہ کیا ہے اور اس طرح آئندہ نسلوں کے تاریخی حقائق سے منحرف ہونے کے اسباب مہیا کئے ہیں ۔

سیف بن عمر تمیمی کے بعد اسلام کے علماء و محققین کی باری آتی ہے ۔ اس سلسلہ میں مکتبِ خلفاء کے پیرو علماء نے کمر ہمت باندھ کر سیف کی افسانوی داستانوں جھوٹ کے پلندوں اور تخلیقات کو مسلم اور ناقابل انکار حقائق کے عنوان سے حدیث، تاریخ ، ادب اور صحابہ کی تشریح میں لکھی گئی اپنی معتبر اور گراں قدر کتابوں میں نقل کیا ہے اور اپنے اس عمل سے سیف کے افسانوں کو حقیقت کا لبادہ اوڑھا کر معتبر مصادر و مآخذمیں داخل کیا ہے اس سلسلے میں خطیب بغدادی جیسے دانشور کی بات قابل غور ہے ۔

خطیب بغدادی اپنی کتاب '' موضح '' میں '' خزیمہ بن ثابت انصاری '' ''غیر ذو الشہادتین '' کے بارے میں لکھتا ہے :

علماء نے اس خزیمہ کا نام سیف کی احادیث سے استفادہ کرکے لکھا ہے منجملہ یہ کہ

یہاں پر سیف کی پہلی اور دوسری روایت کو نقل کرنے کے بعد اپنا نقطۂ نظر بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے :

بے شک اس سلسلے میں سیف کی روایت غلط اور بے موقع ہے کیونکہ '' خزیمہ بن ثابت ذو الشہادتین '' نے امام علی کے ساتھ صفین کی جنگ میں شرکت کی ہے اس مطلب کو سیرت لکھنے والے تمام محققین نے ذکر کیا ہے اور اس پر اتفاقِ نظر رکھتے ہیں جب سیف کی بات سبھی علماء کے نقطۂ نظر اور ان کے بیان کے خلاف ہے تو یہ حجت اور اعتبار سے بھی خالی ہے !

مذکورہ مطالب کو لکھنے کے بعد خطیب نے چند ایسی روایات نقل کی ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ ''خزیمہ ٔ ذو الشہادتین '' نے صفین کی جنگ میں امام علیہ السلام کی ہمراہی میں شرکت کی ہے اور اسی جنگ میں شہید ہوئے ہیں ' اس کے بعد لکھتا ہے :

اصحاب میں اس '' ذو الشہادتین '' کے علاوہ کوئی اور نہ تھا جس کا نام ''خزیمہ '' ہو اور اس کے باپ کا نام ''ثابت '' ہو اور خدا بہتر جانتا ہے ۔


ابن حجر جیسے عالم نے '' خزیمہ بن ثابت '' کے سلسلے میں د و شرحیں لکھی ہیں ان میں سے ایک ''خزیمہ بن ثابت ذو الشہادتین '' کے عنوان سے جو ایک مشہور و معروف صحابی تھے ۔ اور دوسری سیف کے جعلی خزیمہ کے عنوان سے ۔ابن حجر سیف کے اس جعلی خزیمہ کے بارے میں لکھتا ہے :

اور دوسرا خزیمہ بن ثابت انصاری ہے ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں '' حکم بن عتیبہ '' سے نقل کرکے لکھاہے .....( دوسری روایت کے آخر تک )

اس کے بعد ابن حجر اضافہ کرکے لکھتا ہے :

اس روایت کو سیف بن عمر نے اپنی کتاب '' فتوح'' میں لکھا ہے لیکن خطیب بغدادی نے اسے مردود جانا ہے اور کہتا ہے

اور خطیب بغدادی کے بیانات خلاصہ بیان کرنے کے بعد اپنے نقطۂ نظر کو یوں بیان کرتا ہے :

میں ابن حجر کہتا ہوں کہ سیف کا کوئی گناہ نہیں ہے ، بلکہ یہ غلط بیانی اور آفت اس کے راوی '' عزرمی '' کی ہے جس نے اس قسم کی جھوٹی اور ناحق روایت بیان کی ہے ! جی ہاں سیف نے ''جمل '' کی داستان میں لکھا ہے کہ علی نے مدینہ میں تقریر کی اور کہا..... ( گزشتہ پہلی روایت کے آخر تک)

ابن ابی الحدید معتزلی نے اسی سلسلہ میں جو کچھ بیان کیا ہے ہم یہاں پر اسے نقل کرتے ہیں ، وہ لکھتا ہے :

''ابو حیان توحیدی '' ١ نے اپنی کتاب '' بصائر '' میں لکھا ہے کہ خزیمہ بن ثابت جس نے امام علی علیہ السلام کے ہمراہ صفین کی جنگ میں شرکت تھی اور اسی جنگ میں شہید ہو ا تھا ، حقیقت میں خزیمہ بن ثابت ذو الشہادتین نہیں تھا بلکہ انصار میں سے کوئی اور تھا ، جس کا نام بھی خزیمہ بن ثابت تھا ' جبکہ یہ دعویٰ مکمل طورپر غلط اور خطا ہے ، کیونکہ حدیث و انساب کی تمام کتابوں میں لکھا گیا ہے کہ اصحاب ، انصار، اور غیر انصار میں '' ذو الشہادتین '' کے علاوہ کسی اور کا نام '' خزیمہ بن ثابت '' نہیں تھا ۔ در حقیقت ہوا و ہوس کی بیماری کا کوئی علاج نہیں ہے ! یہ بھی قابل ذکر بات ہے کہ تاریخ کبیر کے مصنف طبری نے ابو حیان سے پہلے یہی مطالب لکھے ہیں اور ابو حیان نے اپنی غلط بات کو طبری کی کتاب سے نقل کیا ہے ! جبکہ وہ تمام کتابیں جو اصحاب کے ناموں کے بارے میں لکھی گئی طبری اور ابو حیان کی باتوں کے خلاف ثابت کرتی ہیں

____________________

v ١۔ ابو حیان توحیدی ، اس کا نام علی بن محمد توحیدی ہے جس نے چوتھی صدی ہجری کے اواخر میں وفات پائی ہے۔ اس کی تالیفات میں سے ایک کتاب '' بصائر القدماء و بشائر الحکما'' ہے ۔


اس کے علاوہ کیاضرورت ہے کہ '' خزیمہ ، ابن تیہان عمار ...' جیسوں کے ہوتے ہوئے ۔ امیرالمؤمنین کے حامیوں کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کریں ، کیونکہ اگر لوگ امام کے سلسلہ میں انصاف سے کام لیں اور تعصب کی عینک کو اپنی آنکھوں سے اتار کر صحیح معنوں میں امام کے بارے میں تو انہیں معلوم ہوگا کہ اگر پوری دنیا بھی آپ کی مخالفت کرکے دشمنی پر اتر آئے اور آپ کے خلاف تلوار کھینچ لے اور امام تن تنہا ہوں ، تو بھی حق علی کے ساتھ ہوگا اور یہ سب لوگ باطل اور ظالم ہوں گے ( ابن ابی الحدید کی بات کا خاتمہ)

ابن ابی الحدید اس امر میں حق پر ہے ۔ وہ ''' خزیمہ ٔ غیر ذو الشہادتین '' کو خلق کرنے کے سبب کے بارے میں کہتا ہے :

'' ہواوہوس کی بیماری کا کوئی علاج نہیں ہے ''

لیکن جو وہ ایک بار ابو حیان کو اور دوسری بار '' طبری '' کو ملزم ٹھہراتا ہے تو ہم اس سے اتفاق نہیں کرتے۔

اسی طرح ہم ابن حجر کی اس بات سے بھی اتفاق نظر نہیں رکھتے ہیں جو وہ کہتا ہے کہ یہ تمام مشکلات اور آفتیں '' عرزمی '' سے پیدا ہوئی ہیں ۔ جبکہ '' عرزمی'' کا کوئی قصور و گناہ نہیں ہے اور ان تمام آفتوں کا سرچشمہ سیف بن عمر تمیمی ہے یہ وہی ہے جس نے '' خزیمہ غیر ذو الشہادتین '' کے بارے میں دو روایتیں گڑھی ہیں اور انھیں '' حکم '' '' عرزمی '' ، ''محمد '' اور '' طلحہ'' سے نسبت دی ہے !


سیف تنہا شخص ہے جس نے خزیمہ '' غیر ذوالشہادتین '' کے چہرے کا خا کہ کھینچا ہے اور اسے ایک رول سونپا ہے ۔

سیف تنہا شخص ہے جس نے خزیمہ کا افسانہ اور دیگر افسانے خلق کئے ہیں اور بڑی مہارت سے انھیں تاریخ اسلام کے صفحات میں درج کرایا ہے اور اس طرح علماء اور محققوں کو حیرت اور پریشانی سے دوچار کیا ہے ورنہ سیف کے جھوٹ سے بے خبر بے چارے مشہور راویوں کا کیا قصور اور گناہ ہے ؟!

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ہم نے سیف کی اس جعلی مخلوق کو آسانی سے دریافت نہیں کیا بلکہ اس سلسلے میں بحث و تحقیق میں کافی وقت لگا ہے اور اس پر ہماری ایک عمر صرف ہوئی ہے اور انتھک اور بے وقفہ تلاش اور کوشش کا نتیجہ ہے کیونکہ اس کی اس قسم کی تخلیق ایسی نہیں ہے کہ مثال کے طور پر سیف نے ایک نام کا انتخاب کیا اور اس نام کیلئے ایک افسانہ گڑھ کر اسے اپنے دوسرے افسانوں کی طرح تاریخ اسلام میں درج کرایا ہواور اس طرح اس کے افسانوں سے حقائق کو آسانی کے ساتھ سمجھنا ممکن ہو ۔ بلکہ اس کے بر عکس سیف نے اس قسم کی اپنی تخلیقات اور اپنے افسانوں میں کردار اور رول ادا کرنے والوں کو ایسے چہروں کے ہم نام خلق کیا ہے جو تاریخ میں حقیقتاً موجود تھے اور اتفاق سے مقام و منزلت اور عمومی احترام کے بھی مالک تھے اور یہی امر سبب بنا کہ بعض اوقات ہم دوراہے پر کھڑے ہو کر حیرت اور پریشانی سے دوچار ہوتے رہے ہیں ایسی صورت میں ہم موضوع کی حقیقت تک پہنچنے کیلئے مجبور ہوتے تھے کہ اپنی تمام توانائیوں کو بروئے کار لائیں ا ور مقصد حاصل ہونے تک آرام سے نہیں بیٹھتے تھے ۔


بحث کا نتیجہ

سیف نے خزیمہ بن ثابت انصاری غیر ذو الشہادتین کو خلق کرکے اس کا نام دو روایتوں میں لیا ہے اور ان دونوں روایتوں میں سے ہر ایک کیلئے بعض راوی بھی پیش کئے ہیں جس کسی نے بھی ، جیسے طبری ، ابن عساکر اور ابن حجر خزیمۂ غیر ذو الشہادتین کی داستان نقل کی ہے یا اس کے حالات پر روشنی ڈالی ہے روایت کوسیف بن عمر سے نقل کیاہے نہ کہ کسی اور سے اور اس کے بعد دوسرے علماء جیسے '' توحیدی ، ابن اثیر ، ان کثیر اورابن خلدون وغیرہ '' نے خزیمہ غیر ذو الشہادتین کا نام لیتے وقت بلا واسطہ یا با واسطہ روایت کو طبری سے نقل کیا ہے لہذا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب آفتیں صرف و صرف سیف کی وجہ سے ہیں !! ' '

سیف نے اپنی تمام افسانوی شخصیتوں کو دوسری صدی ہجری میں اپنے خاندانی تعصبات ، قدرت اور دولتمندوں کی حمایت ، خاندان بنی امیہ و مضر ( اس کے اپنے خاندان ) کی نوکری اور مداحی و ستائش کی بنیاد پر خلق کیا ہے تا کہ اس طرح اپنے رقیب اور دیرینہ دشمن قبائل جیسے یمانی اور قحطانیوں پر کیچڑ اچھال کر اپنے دل کی بھڑاس نکال سکے ۔ ابھی یہ سکہ کا ایک ہی رخ ہے !

سیف کا پیغمبر خدا کے اصحاب کے نام پر اپنے ہیرؤں کی تخلیق اور ایسے افسانے گڑھنے میں اس کا مذہبی تعصب یعنی زندیقی ہونا بھی کارفرما تھا تاکہ اسلام سے عناد و دشمنی جیساکہ بعض نے اسے اس کا ملزم ٹھہرایا ہے کی بناء پر اسلامی عقائد میں شک و شبہ ایجاد کرے اور علماء کو حقائق سے منحرف کرے ، ان کی تحقیق کی راہ میں رکاوٹیں ڈالے اور اس طرح اسلام کا چہرہ مکمل طور پر مسخ کرکے دنیا والوں کے سامنے پیش کرے۔


سیف نے اس سلسلہ میں اپنے افسانوں کو ایسی مہارت اور چابکدستی سے اسلام کی تاریخ میں داخل کیا ہے اور انھیں حقیقی روپ بخشا ہے کہ انسان ابتدا میں تصورکرتا ہے کہ حقیقت میں یہ تاریخ کے واقعی چہرے تھے اور ان میں سے ہر ایک اہم رول ادا کرتا تھا !! یہی امر سبب بنا ہے کہ جعلی سورماؤں کے نام قابل احترام کتابوں اور رجال اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں کے حالات پر مشتمل کتابوں میں حقیقی وجود کے طور پر پیغمبر خدا کے دوسرے اصحاب کی فہرست میں قرار پاگئے !! لیکن آج جب کہ علم و تحقیق کی روشنی چاروں طرف پھیلی ہے ، ان افسانوں کے تاریخ اسلام میں داخل ہونے کے بارہ صدیوں کے بعد جب ہم نے چاہا کہ ان تمام فریب کاریوں اور جھوٹ سے پردہ اٹھائیں اور تاریخ اسلام کے حقائق کو واقعی صورت میں اپنے مسلمان بھائیوں کی خدمت میں پیش کریں تو ہمارے بعض عزیزوں نے ہم سے منہ موڑ کر ہم پر ناک بھوں چڑھانا شروع کیا، بعض بزرگوں نے ہماری نسبت غصہ و نفرت کا اظہا رکیا، حتی یہی رد عمل سبب بنا کہ اس کتاب کا ایک حصہ شائع کرنے پر پابندی لگادی گئی خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم اس حصہ کو شائع کرنے میں کب کامیاب ہوجاں گے ١

____________________

١۔اس سلسلہ میں مجلۂ '' الازہر '' قاہرہ جلد ٣٢ ( شمارہ ،١٠،صفحہ نمبر ١١٥٠ ، اور جلد ٣٣ شمارہ ٦ (صفحات ٧٦٠ ۔ ٧٦١ ) ملاحظہ کرسکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ مجلہ راہنمائے کتاب طبع تہران سال چہارم شمارہ ٧ ص ٦٩٦ و شمارہ ٨ ، ص ٨٠٠ و شمارہ ٩ ص ٨٩٤ ملاحظہ کرسکتے ہیں ۔)


مصادر و مآخذ

خزیمۂ ذو الشہادتین کا نسب:

١۔ ابن حزم کی '' جمہرہ '' ص ٣٢٤۔

٢۔ ابن درید کی '' اشتقاق'' ص ٤٤٧۔

٣۔ طبری کی '' ذیل المذیل '' ( ٣ ٢٤٠٠۔

٤۔ ''معرفة الصحابہ '' مستدرک حاکم تیسری جلد۔

گھوڑا خریدنے اور خزیمہ کو ذو الشہادتین کا لقب ملنے کی داستان

١۔ '' مسند'' احمد بن حنبل (٥ ٢١٥)

٢۔ ابن سعد کی '' طبقات '' (٤ ٣٧٨ ۔ ٣٧٩)

٣۔ '' اسد الغابہ '' ابن اثیر ، خزیمہ کے حالات ( ٢ ١١٤) سواء یا سواد کے حالات ( ٢ ٣٧٣ ۔ ٣٧٤)

٤۔ ابن عساکر کی '' تہذیب '' خزیمہ کے حالات ( ٥ ١٣٣)

خلیفہ عمر کا قرآن مجید کو جمع کرنا اور قبیلۂ اوس کا خزیمہ پر افتخار کرنا۔

١۔ '' تاریخ ابن عساکر '' اور اس کی '' تہذیب '' ( ٥ ١٣٣)

٢۔ احمد بن حنبل کی ''مسند '' ( ٥ ١٨٩)

٣۔ ابن حجر کی '' اصابہ'' ( ١ ٤٢٥)

٤۔ صحیح بخاری باب جمع القرآن ( ٣ ١٥٠ و ١١٧٣) تفسیر سورۂ احزاب

٥۔ خطیب بغدادی کی '' موضح '' ( ١ ٢٧٦)


امام کی جنگوں میں خزیمہ کی شرکت

١۔ ابن سعد کی '' طبقات '' عمار کے حالات ( ٣ ٣٥٩)

٢۔ بلاذری کی '' انساب الاشراف '' ( ١ ١٧٠)

٣۔ ابن عبدا لربر کی '' استیعاب '' ( ١ ١٥٧)

٤۔ ابن اثیر کی '' اسد الغابہ '' میں خزیمہ کے حالات ( ٢ ١١٤)اسی طرح ابن عساکر کی تاریخ

٥۔ احمد بن حنبل کی '' مسند'' ( ٥ ٢١٤)

٦۔ طبری کی '' ذیل المذیل '' عمار یاسر کے حالات ( ٣ ٣١٦)

٧۔ خطیب بغدادی کی ''موضح '' ( ١ ٢٧٧)

عمار یاسر کے بارے میں سیف کے جھوٹ:

١۔ خلیفہ عمر کی طرف سے عمار یاسر کے کوفہ میں گورنر کی حیثیت سے منصوب کئے جانے کے سلسلے میں واقدی کی روایت اور تاریخ طبری ( ١ ٢٦٤٥) میں سیف کے ذریعہ عمار یاسر کے معزول کئے جانے سے متعلق روایت کا موازنہ کیجئے۔

٢۔ تاریخ طبری ( ١ ٢٦٧٢ ۔ ٢٦٧٨)

زیاد بن حنظلہ ،امام علی علیہ السلام اور سیف کی پانچ روایتیں

١۔ تاریخ طبری ( ١ ٣٠٩٥ ۔ ٣٠٩٦) میں پانچوں روایتیں یکے بعد دیگرے درج ہوئی ہیں ۔

٢۔ خطیب بغدادی کی ''موضح '' ( ١ ٢٧٥۔ ٢٧٦) اس نے پہلی دو روایتوں کو درج کیا ہیں ۔

٣۔ ابن عساکرنے اپنی '' تاریخ '' جس کا قلمی نسخہ دمشق کی '' ظاہریہ لائبریری میں موجود ہے ۔ نمبر : ٣٣٧٠ جلد ٥ ص ٣٠٢ و ٣٠٣ اس نے دوسری روایت کو سیف سے نقل کرکے ذکر کیا ہے ۔


سیف کی روایتوں کی پڑتال

١۔ تاریخ طبری ( ١ ٢٢٠٨ و ٢١١١)

٢۔ '' الجرح و التعدیل '' ٢ ق ( ١ ٤٨٢)

٣۔ ابن عساکر کی '' تہذیب '' ( ٩ ٣٢٢)

٤۔ ''میزان الاعتدال '' ( ١ ٥٧٧)

امام کے بارے میں خزیمہ اور دوسرے اصحاب کا نقطہ نظر

١۔ تاریخ یعقوبی ( ٢ ١٧٨ ۔ ١٧٩)

٢۔ اعثم کی '' فتوح '' ( ٢ ٢٨٩)

٣۔ مسعودی کی '' مروج الذہب '' ( ٢ ٣٦٦ ۔ ٣٦٧)

امام کی جنگوں میں مجاہدین بدر اور دوسرے اصحاب کی موجودگی

١۔ذہبی کی '' تاریخ اسلام '' ( ٢ ١٧١)

٢۔ خلیفہ بن خیاط کی '' تاریخ '' ( ١ ١٦٤)

٣۔ نصر بن مزاحم کی کتاب '' صفین ' ( ٩٢ ۔ ٩٤)

٤۔ تاریخ یعقوبی ( ٢ ١٨٨)

٥۔ مسعودی کی '' مروج الذہب '' ( ٢ ٣٩٤)


خزیمہ ذو الشہادتین کا قتل ہونا :

١۔ ابن سعد کی ''طبقات '' عمار یاسر کے حالات

٢۔ خطیب بغدادی کی موضح ( ١ ٢٧٧)

٣۔ نصر بن مزاحم کی کتاب '' صفیں '' ص ٣٥٨ ، ٣٦٣- ٣٦٦

خزیمہ کے افسانہ پر ایک بحث

١۔ خطیب بغدادی کی '' موضح '' ( ١ ٢٧٥۔ ٢٧٨)

٢۔ ابن حجر کی '' اصابہ '' ١ ٤٢٥ ) ذو الشہادتین کے حالات نمبر : ٢٢٥١ اور'' خزیمہ غیر ذو الشہادتین '' نمبر ٢٢٥٢۔

٣۔ شرح نہج البلاغہ ، تحقیق ابو الفضل ( ١٠ ١٠٩ ۔ ١١٠)

٤۔ ابن اثر کی '' تاریخ کامل'' ( ٣ ٨٤)

٥۔ تاریخ ابن کثیر ( ٧ ٢٣٣)

٦۔ ' ' تاریخ ابن خلدون '' ٢ ٤٠٧ ۔ ٤١٣) اور اسی صفحہ پر تعلیق امیر شکیب ارسلان

٧۔ '' عبد اللہ ابن سبا '' طبع آفسٹ تہران ۔ ١٣٩٣ھ سیف بن عمر کے حالات


سماک بن خرشہ انصاری ابودجانہ

کتاب کے اس حصہ میں ہم ان تین چہروں کے بارے میں بحث کریں گے جن میں سے ہر ایک کا نام ''سماک بن خرشہ '' تھا۔

ابودجانہ اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تلوار

ابودجانہ ، سماک بن خرشۂ انصاری یا ''سماک بن اوس بن خرشہ ، ابودجانۂ انصاری ساعدی '' ایک شجاع ، دلیر اور ایک مشہور جنگجو شخص تھا ۔

ابو دجانہ نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ بدر کی جنگ میں سرگرم طور پر شرکت کی ہے اور شرک و نفاق کے خلاف اسلام کی دوسری جنگوں میں بھی اس نے تلوار چلائی ہے۔

مؤرخین نے لکھا ہے کہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے احد کی جنگ میں ایک تلوار ہاتھ میں لے کر مجاہدین اسلام سے مخاطب ہوکر فرمایا:

کون ہے جو اس تلوار کا حق ادا کرے ؟

زبیرنے کہا کہ ؛ میں اپنی جگہ سے اٹھ کر بولا، اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم : میں ہوں ۔ لیکن پیغمبر خدا نے میری بات پر توجہ نہ فرمائی ١ اور بدستور اپنی پہلی بات کو دہراتے رہے ۔

'' کون ہے جو اس تلوار کا حق ادا کرے ؟ ''

اب کی بار '' ابودجانہ سماک بن خرشہ '' اپنی جگہ سے اٹھ کر بولے :

میں اس کا حق ادا کروں گا ، اس کا حق کیا ہے ؟


رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

اس کا حق یہ ہے کہ اس سے کسی مسلمان کو قتل نہ کرو گے اور کفار سے جنگ میں پیچھے نہ ہٹو گے ۔

زبیر کہتا ہے :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تلوار کو ابو دجانہ کے ہاتھ میں دیا۔

طبری نے اسی داستان کو '' ابن اسحاق '' سے نقل کرکے یوں لکھا ہے :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم احد کی جنگ میں ایک تلوار ہاتھ میں لئے ہوئے اپنے اصحاب کے درمیان پھراتے ہوئے فرما رہے تھے:

کون ہے جو اس تلوار کا حق ادا کرے ؟

کچھ لوگ اپنی جگہ سے اٹھے اور اس کا حق اداکرنے کی آمادگی کا اعلان کیا ، لیکن پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کی طرف اعتنا نہ کیا جب ابودجانہ نے اپنی جگہ سے اٹھ کر پوچھا :

اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! تلوار کا حق کیا ہے ؟

____________________

١۔ گویا زبیر کی تجویز کے بارے میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بے اعتنائی کا سرچشمہ یہ تھا کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جانتے تھے کہ وہ اپنی شرط پر وفا نہیں کرے گا اور جمل کی جنگ میں بصرہ میں '' سبابجہ'' کے بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کرے گا۔'' نقش عائشہ در تاریخ اسلام '' جلد ٢ کی طرف رجوع کیا جائے ۔


آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب میں فرمایا:

اسا حق یہ ہے کہ اس سے دشمنون پر اتنا وار کیا جائے کہ یہ ٹیڑھی ہوجائے ١

ابو دجانہ نے کہا :

میں اس تلوار کا حق ادا کرتا ہوں

اس وقت پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تلوار کو ابودجانہ کے ہاتھ میں دیا۔

ابودجانہ ایک دلیر ، شجاع اور تجربہ کار جنگجور شخص تھے ۔ میدان کارزار میں خودنمائی اور خود ستائی کرتے تھے ۔ سرخ رنگ کا عمامہ سر پر باندھتے تھے ، یہ عمامہ ان کی پہچان تھا ۔ جب بھی ابودجانہ یہ عمامہ سر پر رکھے ہوتے تو لوگ سمجھتے تھے کہ ابودجانہ جنگ کررہے ہیں اور جنگ کا حق ادا رکررہے ہیں ۔

ابو دجانہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے تلوار حاصل کرنے کے بعد، دو فوجوں کے درمیان خود ستائی اور خود نمائی کرنے لگے اور اپنے اوپر ناز کرنے لگے ، متکبرانہ قدم اٹھا رہے تھے ۔ جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابودجانہ کی یہ حالت دیکھی تو فرمایا:

خدائے تعالیٰ اس طرح راہ چلنے پر نفرت کرتا ہے ، سوائے اس مقام کے۔

زبیر کہتا ہے :

اس جنگ میں کوئی پہلوان ابودجانہ کے مقابلے میں آنے کی جرت نہیں کرتا تھا ، جو بھی آگے بڑھتا تھا ابودجانہ کے وار سے ڈھیر ہوجاتا تھا وہ دشمن کی صفوں کو تہس نہس

____________________

١۔ ایسا لگتا ہے کہ جس صحابی کے ہاتھ میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تلوار نہیں دی ہے ، اس کا نام احترام میں نہیں لیاگیا ہے اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی کسی مسلمان کو اس سے قتل نہ کرنے کی شرط میں تحریف کرکے اس کی جگہ یہ کہا ہے کہ دشمنوں پر اتنا وار کیا جائے کہ یہ ٹیڑھی ہوجائے سیرۂ ابن ھشام ، خصوصاً اس کے مقدمہ کی طرف رجوع کیا جائے تا کہ حقیقت مکمل طور پر واضح ہوجائے ۔


کرتے تھے اور آگے بڑھتے ہوئے راستے کی ہر رکاوٹ کو تلوار کی ضرب سے دور کرتے تھے حتی ایک پہاڑ کے دامن قریش کی چند خواتین سے اس کی مڈبھیڑ ہوئی جو دف بجاتے ہوئے قریش کے جنگجوؤں کیلئے یوں گارہی تھیں ۔

ہم زہرہ ، یعنی صبح کے تارے کی بیٹیاں ہیں ، اگر میدان کارزار میں پیشروی کرو گے تو ہم تمہارے ساتھ ہم آغوش ہوجائیں گے۔

ہم تمہارے لئے نرم بستر بچھائیں گے و...

ابو دجانہ نے ان پر حملہ کیا اور تلوار کھینچی تا کہ ان پر ضرب لگائیں اچانک ہاتھ کو روک کروہاں سے واپس لوٹے ۔ زبیر نے اس کی اس حرکت کے بارے میں ان سے سوال کیا ۔ ابودجانہ نے جواب میں کہا:۔

میں رسول خدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تلوار کو اس سے بلند تر سمجھتا ہوں کہ اس سے ایک عورت کو قتل کروں ۔

ایک زمانہ گزرنے کے بعد یمامہ کی جنگ پیش آئی ۔ اسلامی فوج کے دباؤ کی وجہ سے مسیلمہ اور اس کے حامی مجبور ہوکر ایک باغ میں داخل ہوئے اور وہاں پناہ لے کر اور وہیں سے مسلمانوں کی فوج سے لڑتے تھے ۔

مسلمان، مسیلمہ کے سپاہیوں کے دفاعی حملوں کے سبب باغ میں داخل نہیں ہوسکتے تھے ۔ یہاں تک کہ ابودجانہ تن تنہا آگے بڑھے اور دروازے سے باغ کے اندر داخل ہونے لگے جس کے نتیجہ میں ان کا پاؤں ٹوٹ گیا ۔ لیکن اسی حالت میں باغ کے دروازہ پر استقامت کے ساتھ لڑتے رہے اور کفار کو قتل کرتے رہے جب اسلامی فوج پہنچ گئی تو انہوں نے باغ کے اندر حملہ کر کے مسیلمہ اور اس کے جھوٹے دعوؤں کا خاتمہ کیا لیکن ابودجانہ اس گیرودار میں شہید ہوگئے ۔

ابو عمرو ، ابن عبدالبر اور اس کی پیروی کرنے والے دیگر علماء یہاں پر غلط فہمی کا شکار ہوئے ہیں لکھتے ہیں :

کہا جاتا ہے کہ ابودجانہ اس جنگ میں قتل نہیں ہوئے بلکہ زندہ بچ نکلے اور صفین کی جنگ میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے ہمراہ معاویہ سے جنگ میں شرکت کی ہے !

جب کہ صفین کی جنگ میں علی علیہ السلام کے ہمراہ شرکت کرنے والے ابودجانہ سماک بن خرشہ انصاری نہیں تھے بلکہ اس کا ہم نام ایک دوسرا صحابی تھا ۔

اب ہم اس کی تفصیلات بیان کرتے ہیں ۔


سماک بن خرشۂ جعفی تابعی

نصر بن مزاحم اپنی کتاب '' صفین '' میں لکھتا ہے :

سماک بن خرشہ جو صفین کی جنگ میں علی علیہ السلام کے ایک سوار فوجی کے عنوان سے لڑرہا تھا، حسب ذیل رجز خوانی کرتا ہے: ۔

غسانی فیصلہ کرتے وقت اچھی طرح جانتے تھے کہ ہم میدان کارزار میں اور دشمنوں سے لڑتے وقت آگ کے بھڑکتے شعلوں کے مانند ہیں ۔

اور جواں مردی و عفو و بخشش کے وقت سب میں نمایاں 'بہادروں اور جنگجوؤں کے سردار ہیں ۔

اس بنا پر معلوم ہوتا ہے کہ '' سماک بن خرشۂ جعفی '' انصار میں سے نہیں تھا ۔ کیونکہ انصار دو قبیلہ ''اوس '' و '' خزرج'' زید بن کہلان بن سبا کی نسل سے ہیں ۔ ان لوگوں نے رسول خد اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مکہ سے مدینہ ہجرت سے برسوں پہلے مدینہ منورہ میں آکر وہاں پر سکونت اختیار کی تھی ۔

اس لحاظ سے ، جس سماک بن خرشہ نے صفین کی جنگ میں امام علی علیہ السلام کے ہمراہ شرکت کی ہے جعفی جو '' عریب بن زید کہلان '' کی نسل سے '' سعد العشیرہ '' کا بیٹا ہے اس کے اجداد یمن کی ایک آبادی کے رہنے والے تھے اور وہاں پر معروف تھے اس آبادی سے صنعا تقریباً بیالیس فرسخ دور ہے ۔

اس قبیلہ کایمن میں اسی قدر رہنا اس امر کا سبب بنا ہے کہ '' ابن قدامہ '' ( وفات ٦٢٠ھ) نے ان کا شجرۂ نسب کتاب '' استبصار'' میں درج نہیں کہا ہے ۔ استبصار انصار کے شجرۂ نسب سے مربوط مخصوص کتاب ہے ۔


اڑتالیسواں جعلی صحابی سماک بن خرشۂ انصاری ( غیر از ابودجانہ )

بیوہقحطانی عورتوں کا مقدر

طبری نے قادسیہ ١ کی جنگ کے بعد رونما ہونے والے حوادث اور واقعات کے ضمن میں سیف بن عمر تمیمی سے نقل کرکے کچھ مطالب لکھے ہیں ۔ جن کا ایک حصہ خلاصہ کے طور پر حسب ذیل ہے :

قادسیہ کی جنگ کے نتائج میں سے ایک یہ تھا کہ اس میں قبیلۂ '' نخع'' کے سات سو جنگجو اور قبیلۂ ''' بجلیہ '' قحطانی یمانی کے ایک ہزار سپاہی کام آئے اور ان کی بیویاں بیوہ ہوگئیں ۔

عرب کے مردوں کی غیرت اس بات کی اجازت نہیں د یتی تھی کہ یہ ایک ہزرار سات سو یمانی عورتیں بیوہ اور بے سرپرست رہیں اور ان کا مستقبل تاریک و مبہم رہے ۔ لہذا جواں مردی کا مظاہرہ کرتیہوئے اٹھے اور انہیں اپنی شرعی اور قانونی بیویاں بنا کر اپنے گھر لے گئے ۔ ان میں سے صرف

____________________

١۔ قادسیہ کوفہ سے پانچ فرسخ کی دوری پر واقع ہے ۔خلافتِ عمر کے زمانے میں ایرانی فوج رستم فرخزاد کی کمانڈ میں اور اعراب ، سعد وقاص کی کمانڈ میں ، اس جگہ پر نبرد آزما ہوئے ۔ یہ خونین جنگ مسلمانوں کی فتح پر ختم ہوئی ۔


ایک عورت '' اروی'' بنت عامر نخعی رہ گئی !!

'' اروی '' کا مسئلہ اس لئے پیش آیا کہ عرب کے تین معروف سردار ، '' سماک بن خرشہ انصاری '' ( مشہور ابودجانہ کے علاوہ ) ، '' عتبہ بن فرقد لیثی '' اور ' بکیر بن عبدا ﷲ '' نے ایک ساتھ خواستگاری کی تھی ۔ اور '' اروی '' ان نامور عربوں جن میں ہر ایک خاص کمالات و فضائل کا مالک تھا میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے میں حیران رہ گئی تھی ۔ بالآخر مجبور ہوکر اپنی بہن ' ' ہنیدہ'' کے ذریعہ اس کے شوہر عرب کے معروف پہلوان اور صحابی بزرگوار '' قعقاع بن عمرتمیمی'' سے اس سلسلے میں مشورہ چاہتی ہے کہ وہ اپنا نظریہ پیش کرے ۔ قعقاع نے بھی فراخدلی سے ایک رباعی کے ذریعہ اپنا نقطۂ نظر اپنی بیوی کی بہن سے مندرجہ ذیل مضمون میں بیان کیا :

اگر مال و منال اور دینار و درہم چاہتی ہو تو سماک انصاری یا فرقد لیثی کا انتخاب کرنا

اگر ایک شجاع مرد ، نیزہ باز ، شہسوار اور ایک بے باک دلاور چاہتی ہو تو بکیر کا انتخاب کرنا ۔

یہ ان کی حالت ہے ۔ اب تم خودسمجھو ! ١

سماک بن خرشہ سپہ سالار کے عہدے پر :

طبری ، سیف سے نقل کرکے ہمدان اور آذر بائیجان کے بارے میں لکھتا ہے :

ہمدان کو ١٨ھ میں نعیم بن مقرن نے فتح کیا ۔ '' دستبی '' کی فوجی چھاؤنیوں کی

____________________

١۔ اسی کتاب کی ج ١ ص ١٩٥ ۔ ١٩٦ ) فارسی ملاحظہ ہو۔


کمانڈ کوفہ کے بعض معروف سرداروں منجملہ '' سماک بن عبید عبسی '' ، '' سماک بن مخرمہ اسدی '' اور ''سماک بن خرشہ انصاری ''کو سونپی ، دستبی فوجی چھاؤنیاں ایک وسیع علاقے میں پھیلی تھیں اس میں بہت سے گاؤں اور قصبات شامل تھے اور یہ علاقہ ہمدان تاری کے درمیان واقع تھا ۔

یہ پہلے سردار تھے جنہوں نے دستبی کی فتح کے بعد وہاں کی فوجی چھاونیوں کی کمانڈ سنبھالی اور اس کے بعد دیلمیان سے نبرد آزما ہوئے ۔

طبری اس مطلب کے ضمن لکھتا ہے :

دیلمیان ، رے اور آذربائیجان کے باشندے ایک دوسرے سے رابطہ برقرار کرکے مسلمانوں سے نبرد آزما ہونے کیلئے متحد ہوئے اور اعراب سے لڑنے کیلئے ایک بڑی فوج تشکیل دی۔

نعیم نے ایرانی سپاہیوں پر ایک بے رحمانہ حملہ کیا اور ان پر تلوار کھینچی اور ان کے کشتوں کے ایسے پشتے لگادئے کہ اس جنگ میں مرنے والوں کی تعداد گنتی کی حد سے گزر گئی ۔ نعیم نے اس کامیابی کے بعد فتح کی نوید ایک خط کے ذریعہ خلیفہ عمر کو دی۔ اس خط کو '' عروہ '' کے ہاتھ خلیفہ کے پاس بھیجا ۔ عروہ ، فوراً مدینہ پہنچ کر خلیفہ کے دربار میں حاضر ہوا ۔

خلیفہ کی نظر جب عروہ پرپڑی تو اس سے پوچھا :

کیا تم بشیر ١ ہو

____________________

١۔ بشیر یعنی خوشخبری دینے والا۔


عروہ نے تصور کیا کہ شاید خلیفہ عمر نے غلطی سے اس کے نام کو عروہ کے بجائے بشیر خیال کیا ہے ، اس لئے فوراً بولا۔

نہیں ، میرا نام ''عروہ'' ہے !

عمر نے دوبارہ تکرار کی :

کیا تم بشیر ہو؟

چونکہ اس دفعہ عروہ عمر کے مقصد کو سمجھ گیا تھا ، لہذااطمینان کا سانس لے کر بولا :

جی ہاں ، جی ہاں ، بشیر ہوں ۔

عمر نے پوچھا :

کیا نعیم کی طرف سے آئے ہو؟

عروہ نے جواب دیا :

جی ہاں ، میں نعیم کا ایلچی ہوں ، اس کے بعد فتح کی نوید پر مشتمل خط عمر کے ہاتھ میں دیدیا اور اسے روداد سے آگاہ کیا ۔

سیف کہتا ہے :

اسی وقت کوفہ کے لوگوں کے نمائندے جو غنائم جنگی کا پانچواں حصہ اپنے ساتھ لائے تھے' انہوں نے وہ سب عمر کے حضور پیش کیا ۔ عمر نے ان میں سے ہر ایک کا نام پوچھا ، انہوں نے خلیفہ کی خدمت میں عرض کیا : '' سماک اور سماک اور سماک '' ، عمر نے ایک تبسم کے بعد فرمایا ؛ خدا تمہاری تعداد بڑھادے ! کتنے سماک ہیں ! خداوندا ! ان کے ذریعہ اسلام کا سر بلند فرما!

اور انھیں بھی اسلام کی تائید فرما!

اس کے بعد خلیفہ نے نعیم کے نام ایک خط لکھا اور اسے حکم دیا کہ '' سماک بن خرشہ ٔ انصاری '' (غیراز ابودجانہ ) کو بکیر بن عبدا للہ کی مدد کیلئے ممور کرے ۔ نعیم نے اطاعت کی اور سماک بکیر کی مدد کیلے آذر بائیجان روانہ ہوگیا۔

سیف کہتا ہے :

سماک بن خرشہ ( غیراز ابودجانہ ) اور عتبہ بن فرقد لیثی عربوں میں دولتمند شمار ہوتے تھے ۔


سماک، عراق کا گورنر

طبری نے سیف کے افسانہ کا یہ حصہ اپنی تاریخ میں یوں بیان کیا ہے : بکیر نے اپنے عہدے سے استعفا دیا۔ جس کے نتیجہ میں اس کی حکومت کے علاقہ '' سماک بن خرشہ انصاری '' اور ''عتبہ بن فرقد لیثی '' میں تقسیم ہوا ۔ عتبہ نے آذربائیجان کے باشندوں سے صلح کی اور عہد نامہ لکھا اور ''سماک بن خرشۂ انصاری '' نے اس کی تائید کی ہے اور اس پر دستخط کئے ہیں ۔

آخر میں جہاں سیف خلیفہ عثمان کے گماشتوں اور کارندوں کی تعداد اور نام بیان کرتا ہے وہاں سماک بن خرشہ انصاری اور ایک دوسرے شخص کا عثمان کی وفات کے سال عراق کے شہروں کے حکام کے طور پر نام لیا ہے ۔

سماک انصاری ( غیراز ابودجانہ ) کی داستان جو طبری کی روایتوں میں بیان ہوئی ہے یہی تھی جسے ہم نے نقل کیا۔ ابن اثیر ، ابن کثیر اور ابن خلدون نے بھی اسی کو طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخوں میں درج کیاہے ۔

افسانۂ سماک کے راوی

گزشتہ روایتوں میں سیف ، سماک بن خرشہ انصاری ( غیر ازابودجانہ ) کے بارے میں اپنے راویوں کا یوں تعارف کرتا ہے :

١۔ محمد ، کہ اس کے خیال میں یہ محمد بن عبد اللہ بن سواد نویرہ ہے اور یہ سیف کی اپنی تخلیق ہے ۔

٢۔ مھلب ، اسے مھلب بن عقبۂ اسدی کہتے ہیں یہ بھی سیف کے خیالات کی تخلیق ہے ۔

٣۔ لیکن، ' طلحہ ' ، '' عمرو'' ، ''سعید ''اور ''عطیہ ''چونکہ یہ بے نام و نشان تھے ، ان کے باپ کا نام یا لقب ذکر نہیں کیا گیا ہے جس سے ان کی پہچان کی جاسکے ، مثلاً یہ '' طلحہ '' کون ہے ؟ کیا اس سے مراد ''طلحہ بن عبد الرحمان '' ہے یا طلحہ بن اعلم ؟

پہلا تو اس کے جعلی راویوں میں سے ہے اور دوسرا ایک معروف راوی ہے ، اگر چہ بعض اوقات سیف اس کی زبان جھوٹ نقل کرتا ہے اور ہم بھی سیف کے جھوٹ کے گناہوں کو ایسے راویوں کی گردن پر نہیں ڈالتے ۔

یہ عمرو بھی کیا وہی ہے جو کوفہ و بصرہ کے نحویوں کے ہاتھوں گرفتار ہوتا ہے اور وہ اس کی زید سے پٹائی کراتے ہیں یا کوئی اور ہے ؟

سعید اور عطیہ کون ہیں ؟ ان میں سے کسی کے بارے میں کچھ نہیں معلوم ہے جو ہم ان کے بارے میں تحقیق کرسکیں ۔


تاریخی حقائق اور سیف کے افسانے

سیف بن عمر تنہا شخص ہے جس نے ایک ہزار سات سو '' نخعی اور بجلیہ '' یمانی قحطانی عورتوں کے اچانک بیوہ ہونے کی خبر دی ہے اور اسے ایک اہم مسئلہ کے طو پر پیش کیا ہے اور اس مشکل کے حل کیلئے جزیرہ نمائے عرب کے شمالی علاقوں کے غیر متمدن عرب جوان مردانہ آگے بڑھتے ہیں اور ان بے سرپرست اور بیوہ عورتوں کو جن کے قحطانی مرد ( جنگ میں کام آئے تھے) اپنی حمایت میں لے کر ان سے شادیاں کر لیتے ہیں اور عنایت و بزرگواری دکھاتے ہی !!

وہ تنہا شخص ہے جس نے عامر ہلالیہ کی بیٹیوں '' اروی'' اور '' ہنیدہ'' کا مسئلہ اور اروی کیلئے شوہر کے انتخاب میں ' ' قعقاع'' کے اشعار خلق کئے ہیں ۔

ہمدان اور دستبی کی فتح کیلئے عروہ کی مموریت

اور ، ہمدان ، دستبی ، رے اور آذربائیجان کی فتح کے موضوع کے بارے میں جو کچھ دوسروں نے بیان کیا ہے وہ سب سیف کے قصوں اور افسانوں کے بر عکس ہے ، مثلاً بلاذری اپنی کتاب '' فتوح البلدان ''میں لکھتا ہے :

نہاوند کی جنگ کے دو مہینہ بعد، وقت کے خلیفہ عمربن خطاب نے عمار یاسر کے نام کوفہ ایک خط بھیجا اور ا سمیں حکم دیا کہ ''عروہ بن زید خیل طائی '' کو آٹھ ہزار سپاہیوں کے ہمراہ ''' رے'' اور '' دستبی '' کے شہروں کو تسخیر کرنے کیلئے ممور کرے۔

عروہ نے اطاعت کی اور سپاہیوں کے ہمراہ اپنی مموریت کی طرف روانہ ہوا '' رے '' اور دیلمان '' کے باشندے بھی آپس میں متحد ہو کر عرب سپاہیوں کا مقابلہ کرنے لئے مسلح ہوکر پوری طرح آمادہ ہوئے ، لیکن دونوں فوجوں کے درمیان ایک گھمسان کی جنگ کے بعد سر انجام عروہ نے فتح حاصل کی اور ان میں سے ایک گروہ کو تہہ تیغ کرکے رکھدیا ان کے مال و منال پر قبضہ کر لیا اور پوری طاقت کے ساتھ علاقہ پر مسلط ہو گیا۔


عروہ خلیفہ کی خدمت میں

علاقہ پر مکمل تسلط جمانے کے بعد عروہ اپنے بھائی ''حنظلہ بن زید '' کو اپنا جانشین مقرر کرکے عمار یاسر کی خدمت میں پہنچ گیا ور ان سے اجازت چاہی کہ اس فتح کی نوید لیکر وہ خود خلیفۂ عمر کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتا ہے ۔

عروہ نے ماضی قریب میں جنگ '' جسر '' میں مسلمانوں کی درد ناک اور خفت بارشکست کی خبر خلیفہ کہ خدمت میں پہنچائی تھی لہذا چاہتا تھا کہ ''دیلم ''اور''رے ''کی مستحکم اور قدرتمند فوج پر اپنی فتح و کامیابی کی نوید خلیفۂ عمر کی خدمت میں پہنچاکر اس کی تلافی کرے۔

عمار نے عروہ کی درخواست منظور کی عروہ بڑی تیزی سے مدینہ پہنچا اور خلیفہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔

جوں ہی خلیفہ کی نظر عروہ پر پڑی تو ایک دم گزشتہ تلخ یادیں ، جسر کی جنگ میں شکست ، اس میں نامور عرب پہلوانوں کا قتل ہونا اس کے ذہن میں تازہ ہوگیا اور عروہ کی پہنچنے کو فال بد تصور کرکے بے اختیار بولے :

انا ﷲ و انا الیہ راجعون

عروہ نے مسئلہ کو سجمھ کر فوراً کہا:

نہیں نہیں اب کی بار خدا کا شکر بجالائیے کہ اس نے ہمیں دشمنوں پر فتح و کامیابی عنایت فرمائی اس کے بعد ایک ایک کرکے کامیابیوں کو گننے لگا ۔ جب عمر کو اس طرف سے اطمینان حاصل ہوا تو عروہ سے پوچھا ۔

کیوں خود وہاں نہ رہے ؟ کیوں کسی دوسری کو میرے پاس نہیں بھیجا ؟

عروہ نے جواب دیا :

میں نے اپنے بھائی کو اپنی جگہ پر رکھا ہے اور اس نوید کو خود آپ کی خدمت میں پہنچانا چاہتا تھا۔ عمر خوشحال ہوئے اور اسے '' بشیر '' خطاب کیا ۔


بلاذری اس میں اضافہ کرکے لکھتا ہے :

عروہ کی فتح ، دیلمیان کی قطعی شکست کا سبب بنی ، کیونکہ جب عروہ خلیفہ کی خدمت سے پلٹا تو اس نے ''سلمہ بن عمرو'' اور '' ضرار بن ضبی '' کو سپہ سالار کا عہدہ دیا ۔ ضرار نے '' دستبی '' اور ' رے '' کے باشندوں کے ساتھ صلح کی۔

فتح ہمدان کو خلیفہ بن خیاط نے خلاصہ کے طورپر لیکن بلاذری نے اسے مفصل ذکر کیا ہے ہم اس کے ایک حصہ کو یہاں پر ذکر کرتے ہیں :

بلاذری لکھتا ہے :

٢٣ھ کے اواخر میں '' مغیرہ بن شعبہ'' نے جریر بن عبدا للہ بجلی کو ہمدان کی فتح پر ممور کیا ۔ جریر نے '' صلح نہاوند '' کے مانند ہمدان پر صلح کے ذریعہ قبضہ جمایا اور اس علاقہ کی زمینوں پر زبردستی قبضہ کرلیا۔

طبری نے ابو معشر اور واقدی سے نقل کر کے آذربائیجان کی فتح کے بارے میں یوں لکھا ہے :

آذربائیجان ٢٢ھ میں فتح ہوا ا ور ' مغیرہ بن شعبہ '' وہاں کا حاکم بنا ۔

بلاذری نے بھی اسی مطلب کو اپنی کتاب '' فتوح البلدان '' میں ایک دوسری روایت کے مطابق لکھا ہے :

آذربائیجان کو '' حذیفة بن یمان '' نے اس زمانے میں فتح کیاہے جب کوفہ پر مغیرہ حکومت کرتا تھا۔

یاقوت حموی نے بھی انہی مطالب کو اپنی کتاب '' معجم البلدان '' میں لفظ ''ہمدان'' ، '' رے'' اور ''دستبی'' کے تحت لکھا ہے اور خلیفہ بن خیاط نے بھی انہی مطالب کا انتخاب کیا ہے ۔

بلاذری نے '' رے'' ، '' قزوین '' اور '' دستبی'' کے بارے میں لکھا ہے :

مغیرہ بن شعبہ نے '' کثیربن شہاب '' نامی ایک صحابی کو '' رے'' ، '' قزوین '' اور '' دستبی'' کے علاقوں پر حاکم مقرر کیا اور ہمدان کی مسؤلیت بھی سونپی لیکن اسی دوران ''رے'' کے باشندوں نے اس کی اطاعت کرنے سے انکار کیا ۔ نتیجہ کے طور میں کثیر ان سے نبرد آزما ہوا اور اس قدر جنگ کی کہ وہ مجبور ہوکر دوبارہ اطاعت کرنے پر آمادہ ہوئے۔

جب سعد بن ابی وقاص دوسری بار کوفہ کا حاکم مقرر ہوا تو اس نے بنی عامر بن لوی سے '' علاء بن وہب '' کو ہمدان کا گورنر مقرر کیا اور اس کی حکمرانی کا فرمان جاری کیا ۔ لیکن ہمدان کے لوگوں نے ایک مناسب فرصت میں علاء کے خلاف بغاوت کرکے اسے حکومت سے ہٹادیا علاء نے بھی ان سے جنگ کی اور ان پر اتنا دباؤ ڈالا کہ وہ پھر سر تسلیم خم کرکے اس کی اطاعت کرنے پر مجبور ہوگئے ۔


تحقیق کا نتیجہ

١۔ جیساکہ ہم نے دیکھا کہ سیف بن عمر کے علاوہ دوسرے تاریخ نویسوں نے ان فتوحات کا زمانہ ٢٢ھ سے ٢٤ ھ تک ذکر کیا ہے ۔

٢۔ پہلا عرب سردار جس نے دیلمیوں سے جنگ کی اور انھیں شکست دی ، عروہ بن زید خیل طائی تھا ۔اس نے خود خلیفہ عمر کی خدمت میں پہنچ کر اس جنگ میں اپنی فتحیابی کی نوید انھیں پہنچادی ہے۔

٣۔ جس سردار نے '' رے'' اور '' دستبی '' کے باشندوں سے صلح کی ، وہ ضرار بن ضبی تھا۔

٤۔ کوفہ پر ''مغیرہ بن شعبہ '' کی حکومت کے دوران '' رے'' اور ''ہمدان '' کے شہر دوبارہ فتح کئے گئے اور جریر بن عبدا للہ' ہمدان کو دوبارہ فتح کرنے کیلئے مغیرہ کی طرف سے مقرر ہوا اس نے ہمدان کو فتح کرنے کے بعد اس علاقے کی زمینوں پر زبردستی قبضہ جمالیا۔

٥۔ پھر مغیرہ کی کوفہ پر حکومت کے دوران '' کثیر بن شہاب'' اس کی طرف سے ''رے'' ، ''ہمدان'' اور ''دستبی ''کا گورنر مقرر ہوا اور اس نے ''رے ''کے باشندوں کی بغاوت اپنے بے رحمانہ قتل عام کے ذریعہ کچل کر رکھ دی۔

٦۔ آذربائیجان بھی کوفہ پر مغیرہ کی حکومت کے دوران ''حذیفہ بن یمان '' کے ہاتھوں فتح ہوا ہے ۔

لیکن ان تمام مسلم تاریخی حقائق کے مقابلے میں سیف بن عمر تمیمی ان سارے فتوحات کا واقع ہونا ١٨ھ میں بیان کرتا ہے اور ''رے ، ہمدان اور دستبی '' کی فتح کو '' نعیم بن مقرن '' کے ذریعہ بتاتا ہے ۔

سیف کہتا ہے جو نمائندے نعیم بن مقرن کی طرف سے جنگی غنائم کے پانچویں حصہ کو لے کر خلیفہ عمر کے پاس گئے تھے وہ '' سماک اور سماک اور سماک '' تھے اور اسکے بعد عمر کی ان کے ساتھ گفتگو کو بھی درج کیا ہے ۔

سیف نے '' عروہ بن زید خیل طائی''' کی خبر کو تحریف کیاہے عروہ خود سپہ سالار کی حیثیت سے دیلمیوں کے ساتھ جنگ میں ا پنی فتح کی نوید کو عمر کے پاس لے گیا تھا۔ لیکن سیف اس میں تحریف کرکے اس خبر کو ایک معمولی قاصد کے ذریعہ بھیجتا ہے اور عمر کے ساتھ اس کی گفتگو کو اپنی پسند کے مطابق تغیر دیتا ہے ۔


سیف نے آذربائیجان کی فتح کو بھی ١٨ ھ میں لکھا ہے اور اس مموریت کے سپہ سالار ''بکیر بن عبدا للہ '' کے بعد '' عتبہ بن فرقد لیثی '' کو یہ ذمہ داری سونپی ہے اور اس کے صلح نامہ پر سماک بن خرشہسے گواہ کے طور پر دستخط کرائے ہیں ۔

سیف بن عمر تنہا شخص ہے جس نے اس قسم کی خبروں کی روایت کی ہے یہ وہی ہے جس نے تاریخی واقعات میں تحریف کی ہے اور یہ وہی ہے جس نے اصحاب اور غیر اصحاب میں سے اپنے افسانوی اداکار خلق کرکے علماء کیلئے پریشانی اور تاریخی حقائق سے انحراف کا سبب فراہم کیا ہے ۔

اسلامی مصادر میں سیف کے افسانے

ابن حجر نے سیف کی روایتوں پر اعتماد کیاہے اور ان سے استفادہ کرکے سیف کے خلق کردہ سماک بن خرشہ کیلئے اپنی معتبر کتاب میں خصوصی جگہ معین کرکے اس کی تشریح میں لکھتا ہے :

اور ایک دوسرا سماک بن خرشۂ انصاری ہے جو ابو دجانہ کے علاوہ ہے سیف نے اپنی کتاب فتوح میں لکھا ہے کہ سماک بن مخرمۂ اسدی ، سماک بن عبید عبسی اور سماک بن خرشہ انصاری غیراز ابودجانہ ''پہلے افراد تھے جنہوں نے دستبی کی فوجی چھاونیوں کی کمانڈ سنبھالی تھی جنگی غنائم کے پانچویں حصہ کو لے کر خلیفہ عمر کی خدمت میں مدینہ آنے والے نمائندوں کے ہمراہ یہ تین اشخاص بھی تھے اور انہوں نے خلیفہ کے ہاں پہنچ کر اپنا تعارف کرایا ۔ عمر نے ان کے حق میں دعا کی اور کہا خداوندا! انھیں برکت عطا کر اور اسلام کو ان کے ذریعہ سربلند فرما!

اسی طرح سیف نے لکھا ہے کہ سماک بن خرشہ نے قادسیہ کی جنگ میں شرکت کی ہے

ابن فتحون بھی لکھا ہے : کہ

ابن عبد البر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ابو دجانہ نے صفین کی جنگ میں شرکت کی ہے جبکہ ابودجانہ صفین کی جنگ میں موجود ہی نہیں تھا ممکن ہے ابن عبد البر نے اس کا نام اس سماک کے بجائے غلطی سے لے لیا ہو !!


میں ابن حجرنے اس لئے ان کا نام اپنی کتاب کے اس حصہ میں لکھا ہے اور اس سے پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ وہ فتوح ( وہ جنگیں جو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد انصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کی حیات میں واقع ہوئی ہیں ) میں صحابی کے علاوہ ہرگز کسی کو سپہ سالاری کا عہدہ نہیں سونپتے تھے۔

ابن مسکویہ نے بھی کہا ہے کہ سماک بن خرشہ غیراز ابودجانہ کا نام شہر رے کی فتح میں لیا گیا ہے (ز) ( ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

اسی طرح ابن حجر نے سیف کی انہی روایتوں پر اعتماد کرتے ہوئے سماک بن عبید عبسی کو اصحابِ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں شمار کیا ہے اور اس کے حالات پر الگ سے شرح لکھی ہے وہ اس کے ضمن میں لکھتا ہے :

اس کا نام گزشتہ شرح میں آیا ہے ...ہمدان کی فتح میں بھی اس کا تذکرہ کیا گیا ہے

سماک بن مخرمہ بھی اس فیض و برکت سے محروم نہیں رہا ہے ابن حجر اور دوسروں نے سیف کی روایتوں پر اسی گزشتہ اعتماد کی بناء پر سماک بن مخرمہ کو بھی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میں سے قبول کیا ہے اور اپنی کتابوں میں اس کیلئے الگ سے شرح لکھی ہے ۔

اس طرح ابن حجر نے ان تین افراد کو سیف کے کہنے کے مطابق کہ سپہ سالار تھے اسی وجہ سے ، اپنی کتاب کے پہلے حصہ میں درج کیا ہے اور خصوصی طور پر اس دلیل کی صراحت کی ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے لکھتا ہے :

میں نے اس لئے ان کو اپنی کتاب کے اس حصہ میں درج کیا ہے کہ اس سے پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ وہ '' جنگوں '' میں صحابی کے علاوہ کسی کو کسی صورت میں سپہ سالار کے عہدہ پر مقرر نہیں کرتے تھے ۔

اس لحاظ سے ، ابن حجر کی نظر میں سیف کے ان تین جعلی صحابیوں کے اصحاب ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے ، کیونکہ وہ سپہ سالاری کے عہدہ دار تھے !!١

ابن حجر ، سیف کی مخلوق سماک کے بارے میں اپنی بات کو حرف '' ز'' پر خاتمہ بخشتا ہے تا کہ یہ دکھائے کہ اس نے اس صحابی کے حالات کی تشریح میں دیگر تذکرہ نویسوں کی نسبت اضافہ کیاہے۔


ابن عبد البر نے بھی ایسا ہی کیا ہے اور '' سماک بن مخرمۂ اسدی'' کے حالات کی تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے :

سیف بن عمر نے نقل کیا ہے کہ ' ' سماک بن مخرمۂ اسدی '' ، '' سماک بن عبید عبسی'' اور '' سماک بن خرشہ انصاری''' ( غیر از ابو دجانہ ) وہ پہلے عرب سردار تھے جنہوں نے '' دستبی '' کی فوجی چھاؤنیوں کی کمانڈ سنبھالی ہے ۔

ابن اثیر نے کتاب ' اسد الغابہ '' میں اور ذہبی نے اپنی '' تجرید'' میں ان مطالب کو نقل کرنے میں ابن عبد البر کی تقلید کی ہے ۔

جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ کتاب '' اصابہ '' میں ابن حجر کے کہنے کے مطابق '' ابن مسکویہ '' نے بھی تینوں سماک کے بارے میں یہی مطالب لکھے ہیں ۔

ابن ماکولا اپنی کتاب '' اکمال'' میں لکھتا ہے :

سیف بن عمر نے نقل کیاہے کہ سماک بن خرشہ انصاری غیر از ابودجانہ ، سماک بن مخرمۂ اسدی اور سماک بن عبید عبسی ، عمر کی خدمت میں پہنچے ہیں ۔ یہ وہ پہلے عرب سردار ہیں جنہوں نے دیلمیوں سے جنگ کی ہے ۔

طبری نے بھی مذکورہ روایت کو سیف سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے ، اور ابن اثیر ، ابن کثیر اور ابن خلدون اور دوسرے تاریخ نویسوں نے بھی طبری کی تقلید کرتے ہوئے سیف کے انہیں مطالب کو اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

انہی روایتوں کی وجہ سے ابن فتحون غلط فہمی کا شکار ہوا ہے اور ایسا خیال کیا ہے کہ جس سماک نے امیر المؤمنین علی کے ہمراہ جنگ صفین میں شرکت کی ہے وہ وہی سیف کا جعل کردہ سماک ہے جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ صفین کی جنگ میں شرکت کرنے والا سماک '' جعفی'' جو اور انصار میں سے نہیں تھا۔

تاریخی حوادث کے سالوں میں تبدیلی ، وقائع و رودادوں میں تحریف ، کرداروں کی تخلیق ، قصے اور افسانے گڑھنا اور انہیں تاریخ کی اہم اور فیصلہ کن رودادوں کی جگہ پیش کرناسب کے سب سیف اور اس کی روایات کی خصوصیات ہیں تا کہ مسلمانوں کیلئے تشویش اور پریشانی فراہم کرکے انھیں تاریخی حقائق تک پہنچنیسے روکے ۔ افسوس کا مقام ہے کہ سیف اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوا ہے۔ گزشتہ بارہ صدیوں سے زیادہ زمانہ گزر چکا ہے اور اس پورے زمانے میں اس کے تمام افسانے اور جعل کئے گئے مطالب معتبر اسلامی مصادر و مآخذ میں درج ہوچکے ہیں جس کے نتیجہ میں آج عالم اسلام کے علماء و محققین تشویش اور پریشانی سے دوچار ہیں ۔


سیف کے ہم نام اصحاب کا ایک گروہ

اس بحث میں ہم سیف کے دو جعلی اصحاب کے حالات کی تشریح کریں گے جن کے نام رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حقیقی دو اصحاب کے مشابہ ہیں ۔ سیف نے ان دو ناموں کا انتخاب کرکے ان کیلئے داستان گڑھ کر اسلام کی تاریخ میں درج کرائی ہے ہم ان کے بارے میں حسبِ ذیل وضاحت کرتے ہیں :

١۔ خزیمہ بن ثابت انصاری ( غیر از ذو الشہادتین ) سیف نے '' خزیمہ بن ثابت انصاری ذو الشہادتین '' کے ہم نام جعل کیاہے اور اس کے لئے الگ سے ایک داستان گڑھ لی ہے ۔

٢۔ سماک بن خرشۂ انصاری ( غیراز ابودجانہ کہ سیف نے اسے '' سماک بن خرشۂ انصاری ابودجانہ کے ہم نام جعل کیا ہے ۔ گزشتہ شرح کے مطابق اس کیلئے بھی الگ سے ایک داستان گڑھی ہے۔

سیف نے صرف ان دو اصحاب کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے واقعی اصحاب کے ہم نام خلق کرنے پر اکتفاء نہیں کی ہے بلکہ ہم نے دیکھا اور مزید دیکھیں گے کہ اس نے اصحاب اور معروف شخصیتوں کے ہم نام حسبِ ذیل کردار بھی خلق کئے ہیں :

٣۔ زر بن عبدا للہ بن کلیب فقیمی کو ''زر بن عبد اللہ کلیب فقیمی شاعر '' کے ہم نام خلق کیا ہے کہ جو جاہلیت کے زمانے سے تعلق رکھتا تھا۔

٤۔ جریر بن عبد اللہ حمیری کو '' جریر بن عبد اللہ بجلی '' کے ہم نام خلق کیاہے اور جریر بن عبد اللہ بجلی کے بعض کارناموں کو بھی اس سے نسبت دی ہے ۔

٥۔ وبرة بن یحنس خزاعی کو '' وبر بن یحنس کلبی '' کے ہم نام خلق کیا ہے ۔

٦۔ حارث بن یزید عامری کو بنی لوئی کے '' حارث بن یزید عامری قرشی '' کے ہم نام خلق کیا ہے ۔

٧۔ حارث بن مرۂ جہنی کو '' حارث بن مرۂ عبدی یا فقعسی '' کے ہم نام خلق کیا ہے ۔

٨۔ بشیر بن کعب حمیری کو '' بشیر بن کعب عدوی '' کے ہم نام خلق کیا ہے ۔


جب کہ ہم نے مشاہدہ کیا کہ سیف نے صرف کردار ادا کرنے والے ، انسان اور صحابیوں کے نام پر ہی افراد خلق کرنے پر اکتفا نہیں کیے ہیں بلکہ اس نے ایسے مقامات بھی خلق کی جو کرۂ ارض پر موجود دوسری جگہوں کے ہم نام ہیں ، جیسے '' جعرانہ '' و نعمان '' جو حجاز میں واقع تھے اور سیف نے ان کے ہم نام اپنی جعلی روایتوں اور اخبار کے ذریعہ انھیں عراق میں خلق کیا ہے ۔ یاقوت حموی نے سیف کی باتوں پر اعتماد کرکے ان مقامات کا نام اور ان کی تشریح اپنی کتاب ' ' معجم البلدان '' میں درج کی ہے۔

افسانۂ سماک کو نقل کرنے والے راوی اور علما

سیف نے اپنے سماک بن خرشہ کے افسانہ کو درج ذیل روایوں سے نقل کیا ہے ۔

١۔ ٢ - محمد اور مھلب جو اس کے جعلی راوی ہیں ۔

٣ تا ٦- طلحہ ، عمرو ، سعید و عطیہ کو ذکر کیا ہے جو مجہول ہیں اور ہمیں معلوم نہ ہوسکا یہ کون ہیں تا کہ ان کی پہچان کرتے۔

جن علماء نے اپنی معتبر کتابوں میں اس کے افسانوں کو نقل کرکے '' افسانہ سماک '' کی اشاعت میں مدد کی ہے ، حسب ذیل ہیں :

١۔ امام المؤرخین محمد بن جریر طبری نے اپنی تاریخ میں ۔

٢۔ ابو عمر ابن عبد البر نے اپنی کتاب '' استیعاب '' میں سماک بن مخرمہ کے حالات کی تشریح میں ۔

٣۔ ابن اثیر نے اپنی کتاب ' ' اسدا الغابہ'' میں '' سماک بن مخرمہ '' کے حالات کی تشریح میں ۔

٤۔ ابن عبد البر نے اپنی کتاب '' استیعاب '' میں سماک بن خرشہ کے حالات کی تشریح میں ۔

٥۔ ابن فتحون نے استیعاب کے حاشیہ پر لکھا ہے ۔

٦۔ ابن مسکویہ نے ابن حجر کی '' اصابہ '' کے مطابق ۔

٧۔ اب ماکولا نے اپنی کتاب '' اکمال '' میں

٨۔ ابن اثیر نے اپنی تاریخ میں ۔

٩۔ ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں


١٠۔ ابن خلدون نے اپنی تاریخ میں ۔

١١۔ امیر شکیب نے ابن خلدون کی تاریخ پر لکھی گئی تعلیق میں جسے گزشتہ علماء سے نقل کیا ہے ۔

١٢۔ سید شرف الدین نے اپنی کتاب فصول المہمہ میں شیعوں کے نام کے ذکر میں حرف سین کے ذیل میں لکھا ہے :

'' اور سماک بن خرشہ بظاہریہ ابودجانہ کے علاوہ ہے ۔

مصادر و مآخذ

ابودجانہ انصاری کا شجرۂ نسب :

١۔ ابن حزم کی '' جمہرہ '' ص ٣٦٦۔

٢۔ استبصار ص ١٠١

ابو دجانہ کے حالات میں پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اصلی شرط:

١۔ استیعاب ، طبع حیدر آباد (٢ ٥٦٦ ) نمبر : ٢٤٥١اور (٢ ٦٤٣) نمبر : ١١٠

٢۔ذہبی کی تاریخ اسلام (١ ٣٧١) پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا زبیر کو تلوار دینے میں پرہیز کرنا ان دو مصادر میں آیا ہے ۔

٣۔ تاریخ طبری ( ١ ١٣٩٧) زبیر کی روایت ، ابن اسحاق کی روایت کو اس کے بعد ذکر کیا ہے۔

٤۔ اس کے علاوہ '' سیرۂ ابن ہشام '' ( ٣ ١٢۔١١)

سماک بن خرشہ جعفی

١۔ نصر مزاحم کی '' کتاب صفین '' طبع اول مصر ( ٤٢٦)

٢۔ ابن حزم کی جمہرہ ص ٢٣٢ ۔ ٣٦٦ ، انصار کے نسب کے بارے میں جعفی کا نسب اسی ماخذ ٤٠٩ ، ٤١٠ میں

٣۔ حموی کی '' معجم البلدان '' مادۂ '' جعفی '' میں

٤۔ ابن درید کی '' استقاق '' (ص ٢٠٦ )

٥۔ ابن اثیر کی لسان العرب ( ٩ ٢٧از و اللباب )


سیف کا سماک بن خرشہ غیر از ابودجانہ

١۔ '' تاریخ طبری ''' جنگ قادسیہ کے بعد واقع ہونے والے حوادث ( ١ ٢٣٦٣ ، ٢٣٦٤)

٢۔ تاریخ طبری ، ہمدان اور آذربائیجان کی فتح ( ١ ٢٦٥٠۔ ٦٣ ٢٦)

٣۔ تاریخ طبری ، سماک کی عراق پر حکومت (١ ٣٠٥٨)

٤۔ تاریخ ابن اثیر (٣ ١٠ -١١ و ٧٢)

٥۔ تاریخ ابن کثیر ( ٧ ١٢١۔ ١٢٢)

٦۔ تاریخ ابن خلدون ( ٢ ٣٥٤ ، و ٤٠٢)

٧۔ تاریخ ابن خلدون پر امیر شکیب کی تعلیق ( ٢ ٣٥٤)

٨۔ ابن ماکولا کی کتاب '' اکمال '' ( ٤ ٣٥٠)

٩۔ ابن حجر کی '' اصابہ '' ( ٢ ٧٥) نمبر : ٣٤٦٥ سماک بن خرشہ غیر ازابودجانہ کے حالات کی شرح میں ۔

١٠۔ سید شرف الدین کی فصول المہمہ ١٨٢۔

ہمدان اور آذربائیجان کی فتح کی خبر ، سیف کے علاوہ دوسروں کی روایت میں ۔

١۔ تاریخ خلیفہ بن خیاط (٢ ١٢٤) ٢٢ھ کے حوادث کے ضمن میں ۔

٢۔ تاریخ طبری ٢٢ھ کے حوادث ( ١ ٢٦٤٧)

٣۔ بلاذری کی '' فتوح البلدان '' ص ٤٠٠۔

داستان عروہ ، فتح رے اور اس کے حکام :

١۔ بلاذری کی '' فتوح البلدان '' ص ٣٨٩ -٣٩٣ اور کثیر بن شہاب کی خبر اسی کے ص ٣٧٨ پر


سماک بن عبید کے حالات

١۔ ابن حجر کی '' اصابہ '' ( ٢ ٧٦) نمبر : ٣٤٦٧

٢۔ تاریخ طبری اس کے بارے میں سیف کی روایت ( ١ ٢٦٣١) یاقوت حموی نے اس روایت کی طرف اشارہ کیاہے ۔

٣۔تاریخ طبری ( ١ ٢٦٥٠ ۔ ٢٦٥١ و ٢٦٦٠) سیف کے علاوہ دوسروں کی روایات (٢ ٣٩ ۔ ٤٢ ، ٤٥ و ٥٧)

سماک بن مخرمہ کے حالات

١۔ '' استیعاب '' طبع حیدرآباد ( ٢ ٥٦٧) نمبر : ٢٤٥٣

٢۔ ابن اثیر کی '' اسد الغابہ '' ( ٢ ٣٥٣)

٣۔ ذہبی کی تجرید (١ ٢٤٦) نمبر: ٢٤٠٣۔

٤۔ ''اغانی'' طبع ساسی ١٠ ٨٠ سماک مخرمہ کے اخبار

٥۔ یاقوت حموی کی معجم البلدان لفظ '' مسجد سماک '' میں ۔

٦۔ تاریخ طبری( ١ ٢٦٥٠۔ ٢٦٥١ ، ٢٦٥٣ ، ٢٦٥٦ و ٢٦٥٩ -٢٦٦٠) سماک بن مخرمہ کے بارے میں سیف کی روایات ۔


ساتواں حصہ

گروہ انصار میں سے چند اصحاب

*ابوبصیرہ

*حاجب بن زید

*سہل بن مالک

*اسعد بن یربوع

*ام زمل ، سلمی بنت حذیفہ


انچاسواں جعلی صحابی ابو بصیرۂانصاری

ابن عبد البر اپنی کتاب '' استیعاب '' میں ابو بصیرہ کے تعارف میں لکھتا ہے :

سیف بن عمر نے جنگِ یمامہ مسیلمہ کذاب سے جنگ میں شرکت کرنیو الے انصار کے ایک گروہ کے نام کے ضمن میں ابو بصیرہ کا نام لیا ہے اور کہا ہے خدا سے رحمت نازل کرے اس کے علاوہ اس کے بارے میں ایک داستان بھی نقل کی ہے ۔

دوسرے علماء جیسے ، ابن اثیر نے کتاب اسد الغابہ میں ، ابن حجر نے '' اصابہ'' میں اور ذہبی نے کتاب '' تجرید'' میں ابو بصیرہ کے بارے میں ابن عبد البر کی عین عبارت '' استیعاب '' سے نقل کی ہے اور اس میں کس قسم کا اضافہ نہیں کیاہے ۔

مقدسی نے بھی ابو بصیرہ کے حالات کی تشریح میں صرف یہ کہنے پر اکتفا کی ہے کہ سیف نے اس کا نام یمامہ کی جنگ میں شرکت کرنے والوں میں ذکر کیا ہے ۔

'' ابن ماکولا نے بھی ابو بصیرہ کے حالات کی تشریح میں لکھا ہے کہ سیف بن عمر کہتا ہے کہ اس نے بنی حنیفہ کی جنگ ( وہی جنگ یمامہ ) میں شرکت کی ہے ۔

لیکن جس خبر کی طرف ابن عبد البر نے اشارہ کیا تھا ۔ امام المؤرخین طبری نے اپنی تاریخ میں سیف بن عمر سے اس نے'' ضحاک بن یربوع '' سے اور اس نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے جس کا خلاصہ ہم پیش کرتے ہیں :

سر انجام مسیلمہ کے حامی مقابلہ کی تاب نہ لاکر اسلام کے سپاہیوں کے ہاتھوں شکست کھائی۔ اور مسیلمہ مارا گیا اور اس کے حامی تتر بتر ہوگئے اس طرح ان کے بلوہ اور فتنہ کا خاتمہ ہوا۔

ان میں بنی عامر سے ایک شخص موجود تھا ، جسے '' اغلب '' کہتے تھے ١ '' اغلب '' وقت کا غنڈہ ترین شخص شمار کیا جاتا تھا ۔ ہٹا کٹا دکھائی دیتا تھا۔

جب مسیلمہ کی فوج تہس نہس ہوگئی اور اس کے حامی بھاگ کھڑے ہوئے تو، '' اغلب'' جان بچانے کے مارے اپنے آپ کو مردہ جیسا بناکر لاشوں میں گرادیا ۔ اس فتح کے بعد مسلمان دشمن کی لاشوں کا مشاہدہ کر رہے تھے ، اسی اثناء ان کی نظر ایک موٹے انسان اور غنڈہ '' اغلب '' پر پڑی ۔ لوگوں نے ابو بصیرہ سے مُخاطب ہوکر کہا :

تم مدعی ہو کہ تمہاری تلوار بہت تیز ہے اگر واقعاً ایسا ہے تو یہ '' اغلب '' کا مردہ جو زمین پر پڑا ہے،اس کی گردن کاٹ کر دکھاؤ!

ابو بصیر نے تلوار میان سے کھینچ لی اور آگے بڑھا تا کہ اپنے بازؤں کی قدرت اور تلوار کی

____________________

١۔سیف نے اس '' اغلب '' کو قبیلہ ٔ بکر بن وائل کے بنی عامر بن حنیفہ سے خلق کیا ہے اور اس کے بارے میں دکھایا گیا اس کا تعصب واضح ہے ، کتاب '' قبائل العرب ' ' کی طرف رجوع کیا جائے ۔


تیزی کا مظاہرہ کرے جب '' اغلب '' نے موت کے سائے اپنے سر پر منڈلاتے دیکھے تو اچانک اٹھ کر ابو بصیر پر جھپٹ پڑا اس کے بعد جان چھڑا کر تیزی سے بھاگ نکلا۔

ابو بصیرہ جو ایک لمحہ کیئے چونک گیا تھا ، اغلب کے پیچھے دوڑتے غیر ارادی طور پر فریاد بلند کررہا تھا: '' میں ابو بصیرہ انصاری ہوں '' لیکن اغلب جو کافی آگے بڑھ چکا تھا ، ابو بصیرہ کے جواب میں چیختے ہوئے بولا : اپنے کافر بھائی کے دوڑنے کو کیسا پایا ؟ اور اسی حالت میں نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔

افسانۂ ابو بصیرہ کے مآخذ

سیف بن عمر نے اس افسانہ کے راوی کے طور پر '' ضحاک بن یربوع '' کو اپنے باپ سے نقل کرتے ہوئے پیش کیا ہے ۔

طبری نے سیف کے ذریعہ اسی ضحاک سے چار روایتیں اور ابن حجر نے '' اقرع '' کے حالات کی تشریح میں سیف سے نقل کرکے اس سے صرف ایک روایت نقل کی ہے ۔

ہم نے اس ضحاک کا کسی اسلامی ماخذ یا مصدر میں کوئی نام و نشان نہیں دیکھا صرف '' میزان الاعتدال '' اور '' لسان المیزان '' میں ضحاک کے حالات کی تشریح میں لکھا گیا ہے : کہ '' اس کی حدیث صحیح نہیں ہے ''۔ ازدی کی بات سے ایسا لگتا ہے کہ وہ اس بات سے غافل تھا کہ ان تمام فتنوں کا سرچشمہ سیف بن عمر ہے جس نے اس قسم کی جھوٹی روایت کو بیچارہ '' ضحاک'' کی زبان پر جاری کیا ہے ورنہ '' ضحاک بن یربوع''' نام کے کسی شخص کے بالفرض وجود کی صورت میں بھی وہ قصوروار نہیں ہے۔

چونکہ ہمیں معتبر منابع میں '' ضحاک '' نام کے کسی راوی کا نام نہیں ملا، اسلئے ہم اسے راویوں کی فہرست سے حذف کرتے ہوئے سیف کا خلق کردہ صحابی جانتے ہیں ۔


افسانۂ ابو بصیرہ کا نتیجہ

١۔ انصار میں سے ایک صحابی کی تخلیق جس نے یمامہ کی جنگ میں شرکت کی ہے ۔

٢۔ یمانی قحطانیوں کی رسوائی ، سیف ان کو اتنا بے لیاقت دکھاتا ہے کہ ایک عدنانی شخص جس نے ڈر کے مارے اپنے آپ کو مردہ جیسا بنا دیا تھا اور ان کے چنگل میں ہونے کے باوجود ، ان کی بے لیاقتی کی وجہ سے بھاگنے میں کامیاب ہوتا ہے ۔

٣۔ ابو بصیرہ قحطانی کی ناتوانی دکھلانا جو مکررکہہ رہا تھا ، '' میں ابو بصیرہ انصاری ہوں '' اور وہ عدنانی جواب دیتا تھا '' اپنے کافر بھائی کے دوڑنے کو کیسا پارہے ہو؟!!

٤۔ ضحاک بن یربوع اور یربوع جیسے راوی خلق کرنا۔

مصادر و مآخذ

ابو بصیرہ کے حالات

١۔ ابن عبد البر کی '' استیعاب '' (٢ ٦٣٠) نمبر : ٥٠

٢۔ ابن اثیر کی '' اسد الغابہ'' (٥ ١٥٠)

٣۔ ذہبی کی '' تجرید' '( ٢ ١٦٣)

٤۔ ابن حجر کی '' اصابہ'' ( ٤ ٢٢) نمبر : ١٤٣

٥۔ تاریخ طبری (١ ١٩٥٠)

٦۔ مقدسی کی کتاب '' استبصار'' ( ص ٣٣٨)

٧۔ ابن ماکولا کی کتاب '' اکمال '' ( ١ ٣٢٨)

ضحاک بن یربوع کے حالات

١۔ میزان الاعتدال ( ٢ ٣٢٧)

٢۔ ابن حجر کی '' لسان المیزان '' (٣ ٢٠١)

مراجع :

١۔ رضا کحالہ کی قبائل العرب ( ٢ ٧٠٦)


پچاسواں جعلی صحابی حاجب بن زید یا یزید انصاری اشہلی

ابن عبد البر کی کتاب '' استیعاب '' میں حاجب کا یوں تعارف کیا گیا ہے :

حاجب '' بنی عبد الاشہل '' میں سے تھا ۔ اس کے علاوہ کہا گیا ہے کہ وہ '' بنی زعواراء بن جشم '' کی نسل سے عبدا لاشہل جشم کا بھائی اور '' اوسی'' تھا جو یمامہ کی جنگ میں قتل ہوا ہے ۔

حاجب قبیلۂ '' اَزْد'' کے ''شَنَوْئَ'' کا ہم پیمان تھا ۔ '' خدا اس سے راضی ہو '' ( عبد البر کی بات کا خاتمہ)

بالکل انہی باتوں کو ابن اثیر جیسے عالم نے کتاب '' اسد الغابہ '' میں اور ذہبی نے ''تجرید '' میں کسی کمی و بیشی کے بغیر درج کیا ہے ۔

ابن حجر نے بھی ایسا ہی ظاہر کیا ہے ، لیکن آخر میں حسب ذیل اضافہ کیا ہے:

سیف نے طائفہ '' بنی الاشہل '' کے جنگ یمامہ میں قتل ہوئے افراد کی فہرست میں ''حاجب '' کا نام بھی لیا ہے ۔ یہ افراد ہیں اور حاجب بن زید ۔ اس کے علاوہ اس میں کسی اور چیز کا اضافہ نہیں کیا ہے ۔

ہم نے اس نام کو تلاش کرنے کیلئے موجود تمام تاریخ اور انساب کے معتبر مصادر میں زبردست جستجو و تلاش کی لیکن تاریخ طبری کے علاوہ کہیں اور اس کا سراغ نہ مل سکا۔

لیکن طبری قادسیہ کی جنگ کے اخبار کے ضمن میں سیف سے نقل کرکے لکھتا ہے : قادسیہ کی جنگ میں قتل ہونے والوں میں سے ایک اور شخص حاجب بن زید تھا

ہم یہ نہیں سمجھ سکے کہ قادسیہ کی جنگ میں خاک و خون میں غلطاں ہونے والے اس حاجب بن زید سے سیف کی مراد وہی حاجب ہے جو یمامہ کی جنگ میں مارا گیا ہے ، یا یہ کہ اسے دوشخص شمار کیا ہے۔

دوسرے الفاظ میں ، وہ بھول گیا ہے کہ اس حاجب کو اس نے دس سال پہلے یمامہ کی جنگ میں موت کے گھاٹ اتاردیا ہے ، یا یہ کہ اس نے دو اشخاص کو ہم نام خلق کیا ہے ان میں سے ایک ''حاجب بن زید '' ہے جسے یمامہ کی جنگ میں مروا دیا ہے اور دوسرا ''حاجب بن زید '' وہ ہے سجے قادسیہ کی جنگ میں قتل کروایاہے ؟!!


بہر حال خواہ سیف نے فراموش کیا ہو یا نہ کیا ہو، ہمارے لئے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہم نے اس حاجب بن زید کو سیف بن عمر اور اس کی روایات کی اشاعت کرنے والے علماء کے علاوہ تاریخ ، ادب ، انساب اور حدیث کے کسی منبع اور مصدر میں نہیں پایا ۔ اس لحاظ سے اس کو سیف کے خیالات کی مخلوق سمجھتے ہیں ۔

ضمناً سیف نے جو داستان اس حاجب کے لئے گڑھی ہے اس میں اس کا وہی مقصد ہے یمانی قحطانی ان چیزوں سے موصوف ہوں ، کیونکہ سیف کے نقطہ نظر میں جنگی کمالات' کامیابیاں ، میدان کارزار سے صحیح و سالم نکلنا اور دیگر افتخارات غرض جو بھی برتری و سربلندی کا باعث ہو وہ تمیم ،مضر اور قبیلۂ عدنان کے افراد سے مخصوص ہے کسی دوسرے کو اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ کسی یمانی قحطانی کوکوئی حق نہیں پہنچتا ہے کہ اس قسم کے افتخارات اور کامیابیوں کے مالک ہوں ، مگر یہ کہ خاندان مضر کے سرداروں کے زیر فرمان خاک و خون میں غلطان ہوں اور یہ لیاقت پائیں کہ ان کے رکاب میں شہید ہونے والے شمار ہوجائیں !!!

لیکن،سیف نے اس حاجب کیلئے جو نسب گڑھا ہے وہ ''بنی اشہل'' ہے اور'' بنی اشہل '' و '' جشم'' اوس سے حارث بن خزرج کے بیٹے ہیں ، اور '' ازدشنوئ'' یعنی قبائل ''ازد'' کے وہ افراد جو ''شنوئ'' میں ساکن تھے۔ یہ ازد میں سے ایک قبیلہ ہے سکونت کے لحاظ سے وہ ''شنوء '' کے باشندے تھے (جو یمن کے اطراف میں واقع ہے ۔) یہ لوگ اس جگہ سے منسوب ہوئے ہیں اور تینوں قبیلے یمانی قحطانی ہیں ۔

مصادر و مآخذ

حاجب بن زید کے بارے میں درج ذیل مصادر و مآخذ کی طرف رجوع کیا جائے :

١۔ ابن عبد البر کی '' استیعاب '' ( ١ ١٣٨) نمبر : ٥٧٣

٢۔ ابن اثیر کی '' اسد الغابہ '' ( ١ ٣١٥)

٣۔ ذہبی کی '' تجرید '' ( ١ ١٠١)

٤۔ ابن حجر کی '' اصابہ '' ( ١ ٢٧٢) نمبر :١٣٦٠

٥۔ تاریخ طبری ( ١ ٢٣١٧ ) اور ( ١ ٢٣١٩)

٦۔ تاریخ ابن اثیر ( ٢ ٣٧٠)

٧۔ ابن حزم کی ''جمہرہ انساب العرب '' ( ٣١٩ ۔ ٣٢٠)

٨۔ قبائل العرب ( ١ ١٥٥) اور ٢ ٣٧٤ ) اور (٢ ٧٢٢)


اکاونواں جعلی صحابی سہل بن مالک انصاری

سہل ، کعب بن مالک کا ایک بھائی

اس جعلی صحابی کے حالات کی تشریح میں ابن حجر کی کتاب '' اصابہ'' میں یوں آیا ہے :

'' سہل بن مالک بن ابی کعب ١ بن قین '' انصاری رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے معروف شاعر '' کعب بن مالک ' کا بھائی ہے ۔

ابن حبان نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ سہل کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مصاحبت کا شرف حاصل ہوا ہے اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میں شمار ہوتا ہے ۔

سیف بن عمر نے ابو ہمام' سہل بن یوسف بن سہل ٢ بن مالک سے نقل کیا ہے اور اس نے اپنے باپ سے اور اپنے جد سے روایت کی ہے:

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حجة الوداع سے مدینہ واپس آنے کے بعد منبر پر تشریف لے جا کر فرمایا:

اے لوگو! ابو بکر نے کبھی بھی میرا دل نہیں دکھایا ہے اور

____________________

١۔ ابو کعب کا نام عمرو تھا ۔

٢۔سہل بن مالک کا نام ہمارے پاس موجود اصابہ کے نسخہ میں نہیں آیا ہے لیکن ابن حجر کی '' لسان المیزان '' میں درج کی گئی روایت کی سند میں ذکر ہوا ہے ۔


ابن حجر نے علمِ رجال میں لکھی گئی اپنی کتاب ' ' لسان المیزان '' میں لکھا ہے کعب بن مالک کے بھائی ، سہل بن یوسف بن سہل بن مالک نے اپنے باپ سے اااس نے اپنے جد سے یوں روایت کی ہے۔

جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حجة الوداع سے واپس مدینہ لوٹے تو منبر پر تشریف لے جا کر بارگاہ الٰہی میں حمد و ثناء فرمایا:

اے لوگو! میں ابو بکر عمر اور عثمان سے راضی ہوں اے لوگو ! اپنی زبانیں مسلمان کو برا بھلا کہنے سے روک لو ، جب ان میں سے کوئی اس دنیا سے چلا جائے تو اس کے بارے میں خوبی کے سوا کچھ نہ کہنا ! ابن حجر نے مذکورہ بالا مطالب بیان کرنے کے بعد لکھا ہے :

سیف بن عمر نے اس حدیث کو اسی صورت میں سہل بن یوسف سے نقل کرکے اپنی کتاب '' فتوح'' میں لکھا ہے ۔

سہل اور اس کے نسب پر ایک بحث

سیف نے اس روایت کو ایک ایسے راوی کی زبانی نقل کیا ہے جس کا نام اس نے '' ابوہمام سہل'' رکھا ہے اس نے اپنے باپ یوسف سے اور اس نے اپنے جد سہل بن مالک سے روایت کی ہے اور سہل کا تعارف رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شاعر کعب بن مالک کے بھائی کے عنوان سے کہا ہے ۔ یعنی سیف نے کعب بن مالک انصاری کے نام پر ایک معروف صحابی اور حقیقت میں وجود رکھنے والے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شاعر کیلئے ایک بھائی خلق کیا ہے اور اس نام '' سہل بن مالک '' رکھا ہے اس طرح اس نے بالکل وہی کام انجام دیا ہے جو اس سے پہلے '' طاہر ، حارث اور زبیر '' ابو ہالہ ١ کو خلق کرنے میں انجام دیا تھا اور تینوں کو ابو ہالہ اور ام المؤمنین خدیجہ کے بیٹے ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے منہ بولے بیٹے اور پروردہ کی حیثیت سے خلق کیا تھا یا مشہور ایرانی سردار ہرمزان کیلئے '' قماذبان '' ٢ نام کا ایک بیٹا خلق کیا تھا' وغیرہ وغیرہ

لیکن بات یہ ہے کہ '' کعب بن مالک '' کا حقیقت میں سہل بن مالک انصاری نام کا نہ کوئی بھائی تھا ، نہ '' یوسف'' نام کا اس کا کوئی بھتیجا تھا اور نہ اس کے بھائی کا سہل نام کا کوئی پوتا تھا !


سہل بن یوسف ، سیف کا ایک راوی

جو کچھ ہم نے بیان کیا ، اس کے علاوہ طبری نے سیف سے نقل کرکے سہل بن یوسف کی انتالیس یا چالیس روایتیں اپنی تاریخ کبیر میں درج کی ہیں جن میں سے چار روایتیں سہل کے باپ یعنی '' یوسف '' سے نقل ہوئی ہیں کہ ان میں سے ایک میں سہل کا نسب یوں ذکر ہوا ہے : '' سہل بن یوسف سلمی'' ۔

دوسرے مصنفین اور علماء جنہوں نے اصحاب کے حالات پر روشنی ڈالی ہے ، ''عبید بن صخر ، اور معاذ بن جبل '' کیلئے لکھے گئے حالات کی تشریح میں سیف بن عمر سے نقل کرکے سہل بن یوسف بن سہل کی چھ روایتیں عبید بن صخر سے اپنی کتابوں میں نقل کی ہیں ۔

____________________

١۔ اسی کتاب کی دوسری جلد ملاحظہ ہو۔

٢۔ کتاب عبدا للہ بن سبا جلد ١ ملاحظہ ہو۔


آخر کی روایتوں میں سے ایک روایت میں سہل بن یوسف کا تعارف یوں کیا گیا ہے : '' سہل بن یوسف بن سہل انصاری''

اس تحقیق کا نتیجہ

مجموعی طور پر جو کچھ گزرا اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیف نے سہل کے خاندان کو اپنے خیال میں یوں خلق کیا ہے : '' ابوہمام ، سہل بن یوسف بن سہل بن مالک انصاری سلمی '' اور '' دادا '' سہل کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شاعر صحابی کعب بن مالک انصاری کے بھائی کی حیثیت سے خلق کیا ہے یہی سبب بناہے کہ کتاب '' اصابہ '' کے مصنف ابن حجر نے سہل کو خاندان کعب کے نسب سے منسلک کرکے لکھا ہے : '' سہل بن مالک بن ابی کعب بن قین '' ، ابن حجر نے اس نسبت کو اپنی کتاب میں درج کیا ہے جب کہ سہل کے خالق سیف بن عمر نے ایسا دعویٰ نہیں کیا اور اپنی مخلوق کو '' قین '' سے منسلک نہیں کیا ہے!! ١

قلمی سرقت

سیف نے مذکورہ روایت کو اپنی کتاب '' فتوح '' جو دوسری صدی کی پہلی چوتھائی میں تالیف ہوئی ہے میں بڑی آب و تاب کے ساتھ درج کیا ہے اور اپنے خاندانی تعصب و قبیلہ ٔ مضر خاص طور سے وقت کے حکام و دلتمندوں کے بارے میں منقبت و مداحی کی ایسی روایت درج کرکے ثابت کیا ہے ۔

____________________

١۔ جہاں تک سیف کی رواتیوں سے استفادہ ہوتا ہے ۔


زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ تیسری صدی ھجری کا '' خالد بن عمرو اموی کوفی ''آپہنچا اور ایک ادبی اور قلمی چوری کا مرتکب ہوتا ہے وہ سیف کی عین روایت کو اس کی کتاب سے نقل کرکے اپنی کتاب میں درج کرتا ہے اور اس میں سیف اور اس کی کتاب کا کہیں نام نہیں لیتا گویا اس نے کسی واسطہ کے بغیرخود اس روایت کو سنا ہے ۔

خالد کا یہ کام اس بات کا سبب بناکہ اس کے بعد آنے والے علماء نے اسی روایت کو خالد کی کتاب سے لے کرکے گمان کیاہے کہ خالد تنہا شخص ہے جس نے ایسی روایت اپنی کتاب میں نقل کی ہے اس مطلب کی طرف توجہ نہیں کی ہے کہ خالد سے تقریباً ایک صدی پہلے یہی روایت سیف بن عمر نام کے شخص کے ذہن میں پیدا ہوچکی ہے اور اس نے اسے اپنی کتاب فتوح میں درج کیا ہے ١

سہل کے افسانہ کی اشاعت کرنے والے علما

خالد کا یہ کام اس امر کا سبب بنا کہ مندرجہ ذیل علماء نے یہ گمان کیاہے کہ خالد بن عمرو اس روایت کو نقل کرنے والا وہ تنہا شخص ہے :

١۔ دار قطنی ( وفات ٣٨٥ھ) جو یقین کے ساتھ کہتا ہے کہ اس روایت کو نقل کرنے میں خالد اکیلا ہے ۔

٢۔ ابن مندہ ( وفات ٣٩٩ھ ) نے کتاب '' اسماء الصحابہ '' میں لکھا ہے کہ :

یہ ایک تعجب خیز روایت ہے جسے میں نے اس راوی کے علاوہ کہیں نہیں پایا ہے ۔

____________________

١۔ کتاب '' روات مختلقون '' سلسلۂ روات کی بحث میں '' سہل بن یوسف بن سہل'' کے نام میں ملاحظہ ہو۔


یعنی خالد بن عمرو کے علاوہ کسی دوسرے نے یہ روایت بیان نہیں کی ہے

٣۔ ابن عبدا لبر ( وفات ٤٦٣ھ) نے اپنی کتاب '' استیعاب '' میں لکھا ہے :

اس سہل بن مالک کی روایت کو صرف خالد بن عمرو نے نقل کیا ہے ١

بعضعلماء نے بھی مذکورہ روایت کو خالد کی کتاب سے نقل کیا ہے لیکن یہ نہیں کہا ہے کہ خالد اس روایت کو نقل کرنے والا تنہا شخص ہے ، جیسے :

١۔ ابنوسی '' ( وفات ٥٠٥ھ ) نے اپنی کتاب فوائد میں ٢

ان میں سے بعض کی کتابوں میں کچھ راویوں کے نام لکھنے سے رہ گئے ہیں ، جیسے :

١۔ طبرانی ( وفات ٣٦٠ھ) نے کتاب '' المعجم الکبیر عن الصحابہ الکرام '' میں ۔

بعض نے مذکورہ روایت کو ارسال مرسل کی صورت میں یعنی راویوں اور واسطوں کا نام ذکر کئے بغیر درج کیا ہے ، جیسے:

____________________

١۔ '' ابن شاہین '' ( وفات ٣٨٥ھ )


٢۔ ابو نعیم '' ( وفات ٤٣٠ ھ ) کتاب '' معرفة الصحابہ '' میں ۔

بعض نے اپنے سے پہلے علماء جن کا ذکر اوپر آیا سے نقل کیا ہے ۔ جیسے:

١۔ ضیاء مقدسی ( وفات ٦٤٣ ھ ) نے کتاب المختارہ میں طبرانی کی بات کوقبول کیا ہے اور اس سے متاثر ہوا ہے۔

____________________

١۔سہل بن مالک کے حالات کی تشریح کتاب '' اصابہ'' اور '' کنز العمال '' باب سوم ، کتاب فضائل فصل دوم کے آخر میں ( ١٢ ١٥٥) اور تیسری فصل سوم کے آخر میں ( ١٢ ٢٣٩ ) ملاحظہ ہو۔

٢۔سہل بن مالک ( دادا ) کے حالات کی تشریح میں کتاب '' استیعاب ''ملاحظہ ہو ۔


٢۔ ابن اثیر ( وفات ٦٣٠ ھ ) نے '' ابن مندہ '' ''ابو نعیم '' اور '' ابن عبد البر '' کے مطالب کو خلاصہ کے طور پر اپنی کتاب '' اسد الغابہ '' میں بیان کیا۔

٣۔ ذہبی ( وفات ٧٤٨ ھ ) نے اسد الغابہ سے نقل کرکے اس کا خلاصہ اپنی کتاب '' تجرید''میں درج کیا ہے ۔

٤۔ ابن کثیر ( وفات ٧٧٤ھ) نے اس مطلب کو معجم طبرانی سے نقل کیا ہے لیکن بعض علماء نے اس روایت کے صحیح ہونے میں اور اس کے مآخذ پر شک کیا ہے ، جیسے :

١۔ عقیلی ( وفات ٣٢٢ ھ) نے کتاب '' الضعفاء '' میں ۔

٢۔ ابن عبد البر ( وفات ٤٦٣ھ ) نے اپنی کتاب '' استیعاب '' میں اس روایت کے جھوٹ ہونے اس کے راوی سہل بن یوسف بن سہل بن مالک کے صحیح نہ ہونے اور ایسے راویوں کے موجود نہ ہونے کی تاکید کی ہے ۔

لیکن اس نے گمان کیاہے کہ یہ سب آفتیں '' خالد بن عمرو '' کی وجہ سے واقع ہوئی ہیں اور مکتب خلفاء کے علماء کے اندر خالد کی شہرت کو دلیل کے طورپر پیش کرتے کرتے نتیجہ نکالا ہے کہ یہ روایت جھوٹی اور جعلی ہے ۔

برسوں گزرنے کے بعد نویں صدی ہجری میں ''ابن حجر '' (وفات ٨٥٢ھ) آتا ہے اور سہل بن مالک ( جد ) کے حالات کی تشریح کتاب '' اصابہ '' میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی کی حیثیت سے اورسہل بن یوسف ( پوتا ) کے بارے میں اپنی دوسری کتاب '' لسان المیزان '' میں یوں لکھتا ہے :


اس روایت کی صرف خالد بن عمرو نے روایت نہیں کی ہے بلکہ خالد سے برسوں پہلے ، اسی متن و سند کے ساتھ سیف بن عمر تمیمی نے اپنی کتاب فتوح میں درج کیا ہے ١

لیکن ابن حجر نے اس مطلب کی طرف توجہ نہیں کی ہے کہ درست اور صحیح نہیں جو خالد ایک صدی سیف کے بعد آیاہے اس نے بلاواسطہ کسی سے روایت نقل کی اس سے سیف نے ایک صدی پہلے روایت نقل کی ہے بلکہ ا سے کہناچاہئے تھا کہ: اس مطلب کو متخر شخص نے متقدم سے لیا ہے ۔مگر خالد جو کہ متأخر ہے اس نے متقدم کا نہ نام لیا اور نہ ہی منبع بیان کیا ہے۔

یہ مسئلہ اور اس جیسے سیکڑوں مسائل کے علاوہ سیف کے تعجب خیز تخلیقات آج تک علماء کی نظروں سے اوجھل رہی ہیں اور تاریخ اسلام کے سلسلے میں سیف کی اس قدر جنایتوں سے پردہ نہیں اٹھایا گیا تا کہ ابن حجر کو معلوم ہوجاتا کہ اس روایت اور ایسی سیکڑوں روایتوں اور راویوں کو گڑھنے اور خلق کرنے والا اصلی مجرم سیف بن عمر تمیمی ہے نہ کہ اور کوئی۔

اسی طرح تقریباً یقین کی حد تک کہا جاسکتا ہے کہ ابن حجر ان دو راویوں ( بیٹا اور جد ) '' سہل بن یوسف '' اور ''یوسف بن سہل '' کے دوسری روایتوں میں داخل ہونے کے سلسلے میں متوجہ نہیں ہوا ہے تا کہ کتاب '' اصابہ '' میں سہل بن مالک ( جد ) اور کتاب '' لسان المیزان '' میں '' سہل بن یوسف'' ( پوتہ ) کے حالات پر روشنی ڈالتے وقت ان کے راویوں کے سلسلہ کے بارے میں سنجیدہ

____________________

١۔ اس کے برسوں گزرنے کے بعد '' سیوطی '' مذکورہ روایت کو اپنی کتاب جمع الجوامع میں سیف کی فتوح ، ابن مندہ ، طبرانی ، ابو نعیم ، خطیب بغدادی اور ابن عساکر سے نقل کرتا ہے متقی ہندی نے بھی انہیں مطالب کو سیوطی سے نقل کرکے اپنی کتاب '' کنزل العمال '' میں ثبت کیا ہے ( کنز العمال ١٢/١٠٠ ، اور ج١٢ ٢٣٩)


طور پر بحث و تحقیق کرتا ! یعنی وہ کام انجام دیتا جو ہم نے جعلی راویوں کے سلسلہ میں انجام دیا ہے ۔

مآخذ کی تحقیق

سیف کے جعلی صحابی '' سہل بن مالک انصاری'' کا نام ایک ایسی روایت میں آیا ہے جسے سیف کے جعلی ( بیٹے ) '' سہل بن یوسف '' نے اپنے جعلی اور جھوٹے باپ '' یوسف بن سہل '' سے نقل کیاہے ۔ یعنی خیالی پوتے نے جعلی باپ سے اور اس نے اپنے افسانوی جد سے روایت کی ہے !!

بہر صورت ' ' سہل بن مالک انصاری '' کا نام اس کے خیالی بیٹے اور پوتے کے علاوہ کسی اور ذریعہ سے ذکر نہیں ہوا ہے اس حدیث ساز خاندان کا نام ان معتبر منابع اور مصادر میں نہیں ملتا جنہوں نے سیف سے روایت نقل نہیں کی ہے۔

ہم نے ان راویوں پر مشتمل خاندان اور ان کی روایتوں کے بارے میں اپنی کتاب '' روات مختلقون '' (جعلی راوی) میں مفصل بحث کی ہے ۔ یہاں پر تکرار کی گنجائش نہیں ہے ۔


خلاصہ

سیف بن عمر نے اپنے جعلی صحابی '' سہل بن مالک '' ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مشہور شاعر کعب بن مالک انصاری کے بھائی کو بنی سلمہ خزرجی سے خلق کیا ہے اور اس کا نام ایک حدیث کے ذریعہ '' سہل بن یوسف '' نامی اس کے پوتے کی زبان پر جاری کیا ہے ۔ جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ اس قسم کے اشخاص کا نام دوسرے ایسے مصادر میں کہیں نہیں پایا جاتا جنہوں نے سیف بن عمر سے روایت نقل نہیں کی ہے ۔

مکتبِ خلفاء کے پیرو علماء نے اس '' سہل بن مالک '' کو جعلی پوتے کی حدیث پر اعتماد کرکے اصحابِ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے شمار کیا ہے اور سیف سے نقل کرکے لکھا ہے کہ اس نے مہاجرین کے سرداروں کے فضائل خود رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنے ہیں ، جبکہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یمانی انصار کا ذکر تک نہیں فرمایا ہے !

ہم خود جانتے ہیں کہ یہ روش اور طریقہ سیف کا ہے جو ایک حدیث جعل کرتا ہے اور ایک افسانہ گڑھ کر اپنے ضمیر کی ندا کا مثبت جواب دیتا ہے اور اپنے خاندان مضر کی طرفداری میں انکی تعریف و تمجید میں داد سخن دیتا ہے اور یمانی انصار کے بارے میں طعنہ زنی اور دشنام سے کام لیتا ہے اور ان پر کیچڑ اچھالتا ہے خواہ وہ صحابی ہوں یا تابعی!!

مزید ہم نے کہا ہے کہ چونکہ سیف نے حدیث کے مآخذ میں '' سہل بن مالک'' کو کعب بن مالک کے بھائی کے طور پر پیش کیا ہے اس لئے علماء نے بھی اسی سے استناد کرکے سہل بن مالک کے نسب کو کعب بن مالک کے نسب سے جوڑ دیا ہے جبکہ خود اس کے خالق سیف نے اس قسم کا کوئی دعویٰ نہیں کیا ہے !

سیف نے سہل بن مالک سے مربوط روایت کو دوسری صدی کے آغاز میں اپنی کتاب فتوح میں لکھا ہے اس کے ایک سو سال گزرنے کے بعد خالد بن عمرو اموی ( وفات تیسری صدی ہجری) آتا ہے اور سیف کے مطالب کو اسی سہل کے بارے میں نقل کرتا ہے ۔


خالد بن عمرو اس قلمی سرقت میں سیف اور اس کی کتاب کا نام لئے بغیر روایت کو براہ راست سہل بن یوسف سے نقل کرتا ہے یہی امر سبب بنا کہ بعض علماء نے تصور کیا ہے کہ خالد بن عمرو نے شخصاً اس حدیث کے راوی سہل بن یوسف کو دیکھا ہے اور مذکورہ روایت کو براہ راست اس سے سنا ہے ۔ا سی بناء پر کہا جاتا ہے کہ خالد بن عمرو اس حدیث کا تنہا راوی ہے ۔

اس طرح بعض علماء نے اس حدیث کے صحیح ہونے اور اس نسب کے راویوں ( سہل بن یوسف بن سہل بن مالک) کے وجود پر شک کیا ہے ، کیونکہ قبیلۂ خزرج سے بنی سلمہ اور انصار سے غیر بنی سلمہ حتی غیر انصار میں ان ناموں کا سراغ نہیں ملتا ہے ۔


سر انجام ابن حجر آتا ہے اور اس روایت کے ، خالد سے برسوں پہلے ، سیف کی کتاب میں موجود ہونے کا انکشاف کرتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ ابن ''حبان'' نے بھی اس مطلب کو سیف سے نقل کیا ہے لیکن خود ابن حجر نے اس بات کی طرف توجہ نہیں کی کہ اس روایت کو گڑھنے والا۔ '' سہل بن مالک '' اور اس کے راویوں کو جعل کرنے والا خود سیف بن عمر ہے ، جس نے سیکڑوں اصحاب اور تابعین کو خلق کیا ہے ، قصے اور افسانے گڑھ کر ان سے نسبت دی ہے ان کی زبان سے روایتیں اور احادیث جاری کی ہیں اور ان سب چیزوں کو بڑی مہارت کے ساتھ اسلام کی تاریخ میں داخل کیا ہے اور اس طرح علماء محققین کیلئے حقیقت تک پہچنے میں مشکل کرکے انھیں پریشان کررکھا ہے ۔

اسی طرح ابن حجر نے اس موضوع پر بھی غور نہیں کیا ہے کہ راویوں کے اس سلسلہ کے نام سیف کی دوسری روایتوں میں بھی ذکر ہوئے ہیں جن میں سے بعض کو طبری نے اپنی تاریخ میں اور بعض کو دوسرے علماء نے اصحاب کی زندگی پر روشنی ڈالتے وقت ذکر کیا ہے ان میں ''عبیدبن صخر '' کے حالات پر روشنی ڈالنے والے مصنفوں کا نام لیا جا سکتا ہے ۔ اگر ابن حجر ان راویوں کے سیف کی دوسری روایتوں میں خودارادی کے طور پر وجود سے آگاہ ہوجاتا تو ''سہل بن مالک'' کتاب ''اصابہ'' میں سہل بن مالک (جو)کے حالات پر نیز لسان المیزان میں سہل بن یوسف کی زندگی پر روشنی ڈالتے وقت ان کی طرف اشارہ ضرور کرتا ۔


اس افسانہ کا نتیجہ

سیف نے '' سہل بن مالک انصاری '' جیسے صحابی اور اس کے خاندان کو خلق کرکے درج ذیل مقاصد حاصل کئے ہیں :

١۔ گروہ مہاجرین میں خاندان مضر کے سرداروں کیلئے ایک افتخار کسب کیا ہے اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ان کی تعریف و تمجید کرائی ہے ۔

٢۔ حدیث و اخبار کے تین راویوں کو خلق کرکے انھیں دوسرے حقیقی راویوں کی فہرست میں قرار دیا ہے ۔

٣۔ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شاعر کعب بن مالک انصاری کیلئے ایک بھائی خلق کر کے اس کانام ''سہل بن مالک ''رکھا ہے اور اس کا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی کے طور پر تعارف کرایا ہے ۔

٤۔ مہاجر اصحاب کی منقبت میں ایک تعجب خیز روایت جعل کی ہے تا کہ حدیث حسبِ ذیل کتابوں میں منعکس ہوجائے اور مآخذ کے طور پر سالہا سال ان سے استفادہ کیا جا تار ہے :

١۔ '' ابن حبان '' ( وفات ٣٥٤ھ ) نے اپنی کتاب '' الصحابہ '' میں سیف کی کتابِ '' فتوح '' سے نقل کرکے ۔

٢۔ طبرانی ( وفات ٣٦٠ھ) نے اپنی کتاب '' المعجم الکبیر ، عن الصحابة الکرام '' میں ۔

٣۔ ''دار قطنی ''( وفات ٣٨٥ھ) نے کتاب ''' الافراد ' میں یہ تصور کیا ہے کہ خالد اس روایت کو نقل کرنے والا تنہا شخص ہے ۔

٤۔ ''ابن شاہین''(وفات ٣٨٥ھ) نے مذکورہ حدیث کو بصورت مرسل نقل کیا ہے ۔

٥۔ ''ابن مندہ ''( وفات ٣٩٩ھ) اس بھی گمان کیاہے کہ خالد تنہا شخص ہے جس نے اس روایت کو نقل کیا ہے ۔

٦۔ ''ابو نعیم ''( وفات ٤٣٠ھ) نے کتاب '' معرفة الصحابہ '' میں ۔

٧۔ ''ابن عبد البر ''( وفات ٤٦٣ھ) نے کتاب '' استیعاب '' میں اس نے بھی تصور کیا ہے کہ خالد اس حدیث کا تنہا راوی ہے ۔


٨۔ ''ابنوسی ''( وفات٥٠٥ھ) نے کتاب '' فوائد'' میں ۔ اس نے اسے خالد سے نقل کیا ہے۔

٩۔ ابن اثیر ( وفات ٦٣٠ ھ) نے کتاب '' اسد الغابہ '' میں ۔ ابن مندہ ، ابو نعیم اور ابن عبد البر سے نقل کیاہے ۔

١٠۔ ''ذہبی ''( وفات ٧٤٨ھ ) نے کتاب '' التجرید'' میں جو اسد الغابہ کا خلاصہ ہے ۔

١١١۔ ''مقدسی'' ( وفات ٦٤٣ھ نے '' کتاب المختارہ '' میں ۔ اس نے طبرانی پیروی کی ہے ۔

١٢۔ ''ابن حجر ''( وفات ٨٥٢ھ کتاب '' اصابہ '' میں حدیث کے متن سے پہلے اس کے بارے میں بحث کی ہے ۔

١٣۔ سیوطی ( وفات ٩١١ھ) نے کتاب ''جمع الجوامع'' میں ۔

١٤۔ متقی ( وفات ٩٧٥ھ) نے کتاب '' کنز ل العمال '' اور منتخب کنز العمال میں کتاب '''جمع الجوامع '' سے استفادہ کیا ہے ۔

مصادر و مآخذ

سہل بن مالک کے حالات

١۔ ابن عبد البر کی '' استیعاب ''

٢۔ ذہبی کی ''تجرید''

٣۔ ابن اثیر کی اسد الغابہ

٤۔ ابن حجمہ کی '' اصابہ''

سہل بن یوسف کے حالات

١۔ ابن حجر کی لسان المیزان


خالد بن عمرو کے حالات

١۔ '' رواة مختلقون '' اسی کتاب کے مؤلف کی تالیف

٢۔ ابن عساکر کی معجم الشیوخ

سہل بن مالک کے حالات پر تشریح کے ضمن میں حدیث پر ایک بحث

١۔ ابن حجر کی اصابہ

٢۔ متقی کی ' ' کنزل العمال'' باب سوم ، کتاب فضائل ، فصل دوم کے آخر میں (١٢ ١٥٥) ، اور فصل سوم کے آخر میں ( ١٢ ٢٣٩)

٣۔ متقی کی ''کنز ل العمال'' میں سیوطی سے نقل کرکے مذکورہ دونوں باب میں درج کیا ہے ۔

سیف بن عمر نے اپنی کتاب فتوح میں ، اس کے علاوہ ابن قانع، ابن شاہین ، ابن مندہ ، ابو نعیم ، ابن النجار اور ابن عساکر نے ذکر کیا ہے (گزشتہ حدیث کے آخرتک )


باونواں جعلی صحابی اسعد بن یربوع انصاری خزرجی

ابن عبد البر نے کتاب '' استیعاب '' میں اس صحابی کی تشریح شرح حال لکھتے ہوئے مآخذ کا ذکر کئے بغیر لکھا ہے :

وہ یمامہ کی جنگ میں قتل ہوا ہے ۔

ابن اثیر نے ابن عبدالبر کی روایت کو نقل کرنے کے بعد اپنی کتاب '' اسد الغابہ '' میں رمز (ب) کا اضافہ کرکے لکھا ہے :

البتہ یہ ابن عبد البر کا کہنا ہے ۔ اس نے بھی '' اسید بن یربوع ساعدی ''نام کے صحابی کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ یمامہ کی جنگ میں مارا گیا ہے ۔ یہ دو آدمی یا ایک دوسرے کے بھائی ہیں یا یہ کہ ان دو ناموں میں سے ایک دوسرے کی تصحیف ہے ۔ کیونکہ سیف بن عمر نے اسی صحابی کو اپنی کتاب فتوح میں '' اسعد '' کے عنوان سے پہنچوایا ہے ٢٩١۔

اور خدا بہتر جانتاہے ( ابن اثیر کی بات کا خاتمہ )

اس سے پہلے ہم نے کہا ہے کہ حرف ''ب'' ابن عبد البر کی کتاب '' استیعاب '' کی مختصر علامت ہے جسے ابن اثیر اور دیگر علماء نے اپنے درمیان رمز کے طور پر قرار دیا ہے ۔

ذہبی نے بھی اپنی کتاب '' تجرید'' میں لکھا ہے کہ '' اسعد بن یربوع '' اسید '' نام کے ایک مجہول شخص کا بھائی ہے جو یمامہ کی جنگ میں قتل ہوا ہے ۔

ابن حجر '' استیعاب '' کے مطالب نقل کرکے لکھتا ہے ۔

سیف نے کتاب ' ' فتوح '' میں اس کا نام لیا ہے اور ابو عمر، ابن عبد البر نے بھی روایت کو سیف سے نقل کیا ہے۔

کتاب '' نسب الصحابة '' کے مصنف نے بھی لکھا ہے کہ ' اسعد بن یربوع '' یمامہ کی جنگ میں مارا گیا ہے ۔

کتاب '' درّ السحابہ'' میں بھی آیا ہے کہ '' اسعد بن یربوع '' یمامہ کی جنگ میں قتل ہونے والوں میں سے تھا ۔


خلاصہ یہ کہ علماء میں سے چھ افراد نے اس صحابی کے حالات پر روشنی ڈالی ہے ان میں سے چار اشخاص نے کسی قسم کے مآخذ کا ذکر نہیں کیا ہے ، جو حسب ذیل ہیں :

١۔ '' ابن عبدالبر ''

٢۔ ذہبی

٣۔ کتاب ''نسب الصحابہ ''کے مصنف اور

٤۔ کتاب ''دار السحابہ ''کے مصنف

ذہبی نے بھی تاکید کی ہے کہ '' اسید '' مجہو ل شخص ہے ۔

دو افراد نے صرف سیف کا نام لیا ہے اور اسے اپنے مطالب کے مآخذ کے طور پر پہنچوایا ہے ۔ جو یہ دوافراد ہیں : '' ابن حجر '' اور '' ابن اثیر ''

ہم نے حدیث اور تاریخ کی کتابوں میں ، '' اسعد '' یا '' اسید بن یربوع ساعدی '' نامی انصاری صحابی کے بارے میں جستجو اور تلاش کی لیکن مذکوہ منابع میں سے کسی ایک میں ان کا سراغ نہ ملا اس لئے اسے سیف کی مخلوق میں شمار کیا ہے ۔

جیساکہ ہم نے پہلے کہا ہے کہ صرف دو دانشوروں نے اپنی روایت کے مآخذ کے طور پر سیف کا تعارف کرایا ہے اور دوسرے راویوں کا نام نہیں لیا ہے تا کہ ان کے بارے میں ہم بحث و تحقیق کرتے ۔

اسعد کے افسانہ کے نتائج

١۔ ایک انصاری ساعدی قحطانی صحابی کو خلق کرنا اور اسے یمامہ کی جنگ میں قتل ہوتے دکھانا۔

٢۔ میدان کارزار میں یمانی مقتولین کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کرناتا کہ یہ دکھائے کہ وہ لیاقت اور تجربہ سے عار ی تھے اور اس طرح ان کی تذلیل کی جائے ۔ کیونکہ سیف کے نقطہ نظر کے مطابق لیاقت ، افتخار ، شجاعت اور بہادری کے مالک صرف مضری عدنانی ، خاص کر تمیم بنی سے اسیدہے جو خود سیف بن عمر کے قبیلہ سے ہے ۔


مصادر و مآخذ

اسعد بن یربوع کے بارے میں درج ذیل منابع کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے ؛

١۔ ابن عبد البر کی '' استیعاب '' ( ١ ٤١) نمبر: ٧١

٢۔ ابن اثیر کی '' اسد الغابہ ' '( ١ ٧٣)

٣۔ ذہبی کی '' تجرید '' ( ١ ١٥) نمبر : ١١٢

٤۔ ابن حجر کی '' اصابہ '' ( ١ ٥١) نمبر؛ ١١٦

٥۔ '' نسب الصحابہ من الانصار '' ص ١٠٧

٦۔ در السحابہ فی بیان وفیات الصحابہ

کتاب '' در السحابہ '' کے مصنف ابو العباس رضی الدین ، حسن بن محمد بن حسن صنعانی ( ٥٥٥۔ ٦٥٠ھ ) ہیں ، اس کتاب کا قلمی نسخہ مدینہ منورہ میں شیخ الاسلام لائبریری میں ہے او رمؤلف نے وہیں پر اس سے استفادہ کیا ہے ۔

ترپنواں جعلی صحابی مالک کی بیٹی سلمی

سلمی اور حوب کے کتے

ابن حجر اپنی کتاب '' اصابہ'' میں مالک کی بیٹی سلمی کا تعارف یوں کرتا ہے :

مالک بن حذیفہ بن بدر فزارّیہ کی بیٹی سلمی معروف بہ '' ام قرفۂ صغریٰ'' عیینہ بن حصن '' کی چچیری بہن ہے ۔ اسے مقام اور اثر و رسوخ کی وجہ سے اس کی ماں ، '' ام قرفۂ کبریٰ'' سے تشبیہ دیتے تھے۔

'' زید بن حارثہ '' نے ایک لشکر کشی کے دوران '' ام قرفہ ، کو قتل کر کے اور بنی فزارہ کے کچھ لوگوں کو قیدی بنا لیاتھا ، ان قیدیوں میں ' ام قرفہ '' کی بیٹی سلمی بھی موجود تھی جو مدینہ میں ام المؤمنین عائشہ کی خدمت میں پہنچی اور انہوں نے اسے آزاد کر دیا۔

ایک دن سلمیٰ عائشہ کی خدمت میں تھی اتنے میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دروازے سے داخل ہوئے اور ان سے مخاطب ہوکر فرمایا:

تم میں سے ایک حوب کے کتوں کو بھونکنے پر مجبور کرے گی۔


کہتے ہیں '' ام قرفہ ''کے گھر کی دیوار پر پچاس ایسی تلواریں لٹکائی گئی تھیں یہ جو پچاس ایسے شمشیر باز مردوں سے مربوط تھیں جو اس خاتون کے محرم تھے نہیں معلوم یہاں پر یہی ' ' ام قرفۂ '' ہے یا'' ام قرفۂ کبری '' (ز) ( ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

ابن حجر کا یہ بیان خبر کے لحاظ سے دو حصوں پر مشتمل ہے ایک حصہ میں سلمی کا نسب ہے اور دوسرا حصہ درج ذیل خبروں پر مشتمل ہے ۔

١۔ زید بن حارثہ کی لشکر کشی سے مربوط ہے کہ اس نے '' ام قرفہ '' کی سرکوبی کیلئے ماہ رمضان ٦ھ میں شہر مدینہ سے سات میل کی دوری پر ' 'وادی القریٰ'' کے علاقے پر فوج کشی کی تھی ۔

٢۔ حوب کے کتوں کی داستان

ام قرفہ کی داستان کے چند حقائق

ابن سعد نے اس لشکر کشی کے بارے میں اپنی کتاب '' طبقات'' میں یوں لکھا ہے :

زید بن حارثہ اصحاب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے کچھ اجناس لے کر تجارت کی غرض سے مدینہ سے شام کی طرف روانہ ہوا ' ' وادی القریٰ'' کے نزدیک قبیلہ '' بنی بدر '' سے تعلق رکھنے والے فزارہ کے ایک گروہ سے اس کی مڈ بھیڑ ہوئی انہوں نے جب ان کے ساتھ اس قدر مال و منال دیکھا تو زید پر حملہ کرکے تمام مال و منال لوٹ لے گئے ۔

کچھ مدت کے بعد جب زید کے زخم اچھے ہوئے تو وہ مدینہ واپس لوٹ کر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہو اور تمام ماجرا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں بیان کیا ۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے مجاہدوں کے گروہ کی سرکردگی میں ان کی سرکوبی کیلئے ممور فرمایا۔

زید نے قبیلہ فزارہ کے کنٹرول والے علاقے میں پیش قدمی میں انتہائی احتیاط سے کام لیادن کو مخفی ہوجاتے تھے ااور رات کو پیش قدمی کرتے تھے اس دوران ''' بنو بدر'' کے بعض افراد زید اور اس کی لشکر کی کاروائی سے آگاہ ہوکر '' فزارہ '' کے لوگوں کو اس خبر سے آگاہ کرتے ہیں کہ زید کی سرکردگی میں اسلامی فوج ان کی سرکوبی کیلئے آرہی ہے ۔ ابھی فزارہ کے لوگ پوری طرح مطلع نہیں ہوئے تھے کہ ایک روز صبح سویرے زید اور اس کی فوج نے تکبیر کہتے ہوئے اچانک ان پر حملہ کر دیا ۔ پوری بستی کو محاصرہ میں لے کر ان کے بھاگنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رکھی۔


فزارہ کے باشندوں نے مجبور ہوکر ہتھیار ڈالدئے، لہذا زید نے ان سب کو قیدی بنا لیا ان قیدیوں میں ربعہ بن بدر کی بیٹی '' ام قرفہ فاطمہ '' اور اس کی بیٹی '' جاریہ بنت مالک بن حذیفہ بن بدر '' بھی تھی۔

'' جاریہ '' کو '' سلمة بن اکوع '' نے لے کر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا ۔ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی اسے '' حزن ابن ابی وہب '' کو بخش دیا ۔

ابن سعد اس داستان کے آخر لکھتا ہے کہ زید اور اس کے ساتھیوں نے '' ام قرفہ '' اور فزارہ کے چھ مردوں کو قتل کر ڈالا ۔

یعقوبی نے بھی '' ام قرفہ '' کی داستان کو یوں نقل کیاہے :

'' امر قرفہ نے اپنے محارم میں سے چالیس جنگجو اور شمشیر باز مردوں کو حکم دیا کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے لڑنے کیلئے مدینہ پر حملہ کریں ۔

پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس موضوع سے مطلع ہوئے اور زید بن حارثہ کو چند سواروں کے ہمراہ ان کے حملہ کو روکنے کیلئے بھیجا ۔ دونوں گروہ '' وادی القریٰ''میں ایک دوسرے روبرو ہوئے اور جنگ چھڑگئی۔

لیکن زید کے ساتھ مقابلہ کی تاب نہ لاسکے اور پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئے ۔ زید زخمی حالت میں اپنے آپ کو مشکل سے میدان کا رزار سے باہر لاسکا ۔ اس حالت میں اس نے قسم کھائی کہ اس وقت تک نہ نہائے گا اور نہ بدن پر تیل کی مالش کرے گا جب تک کہ ان سے اپنا اور اپنے ساتھیوں کا انتقام نہ لے لے !

زید نے اس قسم کو پورا کرنے کیلئے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دوبارہ جنگ کی اجازت طلب کی ، پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی اسے فزارہ سے جنگ کرنے کیلئے دوبارہ ممور فرمایا اور ایک گروہ کی سرپرستی اور کمانڈ اسے سونپی (گزشتہ داستان کے آخر تک ١ )

ابن ہشام ، یعقوبی ، طبری اور مقریزی نے لکھا ہے کہ اسی جنگ میں '' سلمة بن عمر واکوع'' نے قرفہ کی بیٹی '' سلمیٰ'' کو قیدی بناکر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی اسے اپنے ماموں '' حزن بن ابی وہب '' کو بخش دیا اور اس سے عبد الرحمان بن حزن پیدا ہوا ۔ پہلی خبر کی حقیقت یہی تھی جو ہم نے نقل کی ۔

١۔ محمد بن حبیب کتا ب '' محبّر'' کے ص ٤٩٠ میں لکھتا ہے ' 'ام قرفہ '' نے اپنے شوہر '' ابن حذیفہ '' سے تیرہ بیٹوں کو جنم دیا ہے جو شمشیر باز ، بلند ہمت اور بلند مقام والے تھے '' ام قرفہ '' بھی ایک بلند ہمت اور بانفوذ خاتون تھی ۔ وہ لوگوں کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف اکساتی تھی اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دشمنی رکھتی تھی کہتے ہیں ایک دن غطفان کے لوگوں میں اختلاف پیدا ہوا '' ام قرفہ '' نے اپنا دوپٹہ ان کے پاس بھیجدیا انہوں نے اسے نیزے پر بلند کیا ۔نتیجہ میں ان کے درمیان صلح و آشتی برقرار ہوگئی ۔


'' ام قرفہ '' کا افسانہ اور حوب کے کتوں کی داستان

لیکن مذکورہ دوسری خبر کا سرچشمہ صرف سیف کے افکار اور ذہنی خیالات ہیں اس کے سوا کچھ نہیں ہے ، ملاحظہ فرمائیے :

طبری ١١ھ کے حوادث کے ضمن میں قبائل '' ہوازن '' ، '' سلیم '' اور '' عامر'' کے ارتداد کے بارے میں سیف بن عمر سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں لکھتا ہے :

''بزاخہ '' کی جنگ سے فرار کرنے والے قبیلۂ '' غطفان '' کے لوگ جو پیغمبری کے مدعی '' طلیحہ'' کی حمایت میں لڑرہے تھے ، شکست کھاکر عقب نشینی کرنے کے بعد ''ظفر '' نامی ایک جگہ پر جمع ہوگئے ۔ یہ وہ علاقہ تھا جہاں '' مالک بن حذیفہ بن بدر فزاریہ ''' کی بیٹی '' ام زمل سلمیٰ '' کا کافی اثرو رسوخ تھا ۔ وہ شوکت ، وجلال اور کلام کے نفوذ میں ا پنی ماں '' ام قرفہ '' کی ہم پلہ تھی ۔

'' ام زمل'' نے مذکورہ فراریوں کی ملامت کی اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ سے فرار کرنے پر ان کی سخت سرزنش کی ۔ اس کے بعد ان کی ہمت افزائی کرکے پھر سے مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کی ترغیب دینے لگی ۔ خود ان کے بیچ میں جاکر ان کے ساتھ بیٹھ کر انھیں خالد کے ساتھ لڑنے کیلئے آمادہ کرتی تھی یہاں تک کہ قبائل '' غطفان '' ، ''ہوازن '' ، ' ' سلیم '' ، ''اسد'' اور '' طی ''' کے بہت سے لوگ اس کے گرد جمع ہوگئے ۔

ام زمل ، سلمی اس منظم گروہ کی مدد سے فزارہ کی گزشتہ شکست ، اس کی ماں کے قتل ہونے اور اپنی اسارت کی تلافی کیلئے خالد سے جنگ پر آمادہ ہوئی ۔

سلمی کا یہ تیز اقدام اس لئے تھا کہ برسوں پہلے ، اس کی ماں '' ام قرفہ'' کے قتل ہونے کے بعد وہ خود اسلام کے سپاہیوں کے ہاتھوں قیدی بن کر عائشہ کے گھر میں پہنچ گئی تھی ۔لیکن عائشہ کی طرف سے ام زمل کو آزاد کئے جانے کے با وجود وہ عائشہ کے گھر میں زندگی کرتی تھی ۔کچھ مدت کے بعد وہ اپنے وطن واپس چلی گئی اور اپنے رشتہ داروں سے جاملی ۔

ایک دن جب ام زمل عائشہ کے گھر میں تھی ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم گھر میں تشریف لائے جب ان دونوں کو دیکھا تو فرمایا:

تم میں سے ایک پر حوب کے کتے حملہ کرکے بھونکیں گے !


اور یہ ام زمل کہ اس کے اسلام سے منہ موڑنے اور مرتد ہونے کے بعد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پیشین گوئی صحیح ثابت ہوئی ! کیونکہ جب ام زمل نے مخالفت پرچم بلند کیا اور فراری فوجیوں کو جمع کرنے کیلئے '' ظفر وحوب '' سے گزری تو حوب کے کتوں نے اس پر حملہ کیا اور بھونکنے لگے !!

بہر حال اس فزاری عورت کے تند اقداما ت اور لشکر کشی کی خبر جب خالدبن ولید کو پہنچی تو وہ فوراً اس کی طرف روانہ ہوا اور دونوں فوجوں کے درمیان گھمسان کی جنگ چھڑگئی ۔ ام زمل نے اپنی ماں کے اونٹ پر سوار ہوکر جنگ کی کمانڈ خود سنبھالی اور بالکل ماں کی طرح اسی قدرت اور طاقت کے ساتھ حکم دیتی رہی اور لوگوں کو استقامت اور ڈت کے مقابلہ کرنے کی ' ' ترغیب '' اور ہمت افزائی کرتی رہی۔

خالد نے جب یہ حالت دیکھی تو اعلان کیاکہ جو بھی اس عورت کے اونٹ کو موت کے گھاٹ اتار ے گا اسے ایک سو اونٹ انعام کے طور پر ملیں گے !!! خالد کے سپاہیوں نے ام زمل کے اونٹ کا محاصرہ کیا اس کے سو سپاہیوں کو قتل کرکے اونٹ کو پے کہا اور بعد ام زمل کو موت کے گھاٹ اتاردیا ۔

اس جنگ میں قبائل '' خاسی ، وہاربہ اور غنم '' کے خاندان نابود ہوگئے اور قبیلہ کاہل کو ناقابل جبران نقصان پہنچا آخر میں خالد بن ولید نے اس فتحیابی کی نوید مدینہ منورہ میں خلیفہ کی خدمت میں پہنچادی ۔

افسانۂ ام زمل کے مآخذکی پڑتال

سیف نے مالک حذیفہ کی بیٹی ام زمل سلمی کے افسانہ کو '' سہل '' کی زبانی جسے وہ سہل بن یوسف بن سہل کہتا ہے بیان کیا ہے اس سے پہلے ہم نے اس کو سیف کے جعل کردہ راویوں کے طورپر پہچنوایا ہے خاص کر اسی فصل میں '' ٥١ویں جعلی صحابی '' کے عنواں کے تحت اس سلسلے میں تفصیل سے بحث کی ہے ۔


ام زمل کے افسانہ کی اشاعت کرنے والے علما

جن علماء نے '' ام زمل '' کے افسانے کو سیف سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے وہ حسب ذیل ہیں :

١۔ ''طبری'' نے براہ راست سیف سے نقل کرکے اس کے مآخذ بھی ذکر کئے ہیں ۔

٢۔ ''حموی '' نے اپنی کتاب '' معجم البلدان '' میں دو جگہ اس پر روشنی ڈالی ہے ۔ اس ترتیب سے کہ ایک جگہ لفظ '' حوب '' کے سلسلے میں حسب ذیل عبارت لکھی ہے :

سیف بن عمر نے اپنی کتاب '' فتوح '' میں لکھا ہے کہ جنگ بزاخہ سے فرار کرنے والے (داستان کے آخری تک )

اور دوسری جگہ لفظ '' ظفر'' کی تشریح میں یوں لکھتا ہے :

''ظفر'' بصرہ و مدینہ کے درمیان ، '' حوب'' کے نزدیک ایک جگہ ہے وہاں پر بزاخہ کے فراری جمع ہوئے تھے۔

پھر بات کو جاری رکھتے ہوئے لکھتا ہے :

لیکن ، '' نصر '' نے لکھا ہے کہ ''ظفر'' مدینہ و شام کے درمیان '' شمیط'' کے کنا رے پر واقع ہے اور یہ جگہ فزارہ کی زمینوں میں شمار ہوتی ہے یہ وہی جگہ ہے جہاں پر '' ربیعہ بن بدر کی بیٹی ، '' ام قرفہ فاطمہ ، لوگوں کو پیغمبر خد اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف اکساتی تھی اور انھیں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جنگ کرنے کی ترغیب دیتی تھی اور وہ وہیں پر قتل ہوئی ہے ۔

ام قرفہ کے بارہ بیٹے تھے جوجنگجو اور دلاور تھے اور بزاخہ کی جنگ میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دشمنی میں کافی سرگرم رہے ہیں ۔

خالد نے '' قرفہ '' اور طلیحہ کے فراری حامی جو مسلمانوں سے لڑنے کیلئے اس کے گرد جمع ہوئے تھے کو سخت شکست دی ۔ ام قرفہ کو قتل کرکے اس کے سر کو تن سے جد اکرکے خلیفہ ابو بکر کے پاس مدینہ بھیجدیا ۔ اور ابو بکر نے بھی حکم دیا کہ اس کے سر کو شہر کے دروازے پر لٹکادیا جائے ۔ کہتے ہیں اس کا سر اسلام میں پہلا سر تھا جسے لٹکایا گیا ہے ١ (حموی کی بات کا خاتمہ )

''حموی کے بیان کے مطابق '' ''نصر'' نے سیف کی دو خبروں کو آپس میں ملادیا ہے : پہلی خبر ام قرفہ کی سرکوبی کیلئے زید بن حارثہ کی لشکر کشی ہے ، سیرت لکھنے والوں نے یک زبان ہوکر کہا ہے کہ وہ لوگوں کو پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف اکساتی تھی ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ زید نے اسے قتل کرنے کے بعد اس کا سر مدینہ بھیجا ہے ۔


دوسری خبر کو سیف نے اس کی بیٹی '' ام زمل سلمی '' کے بارے میں جعل کیا ہے اور اس کا نام '' ام قرفہ صغری '' رکھا ہے اور کہا ہے کہ اس نے بزاخہ کی جنگ میں طلیحہ کے حامی فراری سپاہیوں کو اپنے گرد جمع کیااور انھیں خالد بن ولید کے خلاف جنگ کرنے کی ترغیب دی اور سر انجام خالد کے ہاتھوں ماری گئی ۔

'' نصر '' نے ان دونوں خبروں کو '' خبر ام قرفہ ''' کے عنوان سے آپس میں مخلوط کر دیا ہے اور اس کے بعد ایک تیسری خبر بنائی ہے اور اس کے تحت ' ظفر '' کے موضوع کی تشریح کی ہے جو در اصل سیف کی تخلیق ہے ۔

شاید '' نصر '' نے ان دو خبروں کو ا سلئے آپس میں ملایا ہے کہ سیف نے اپنی خیالی مخلوق پر سلمی کا

____________________

١۔ محمد بن حبیب نے کتاب '' محبر'' میں ابن کلبی اور طبری سے بقول اسحاق لکھا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قریش سے فرماتے تھے کہ اگر ام قرفہ قتل ہوجائے تو کیا ایمان لاؤ گے ؟ اور وہ جواب میں وہی بات کہتے تھے جو وہ ناممکن کام کے بارے میں کہتے تھے ،یعنی ، مگر یہ ممکن ہے ؟ برسوں گزرنے کے بعد اور زید بن حارثہ کے ہاتھوں ام فرقہ کے قتل ہونے کے بعد آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر مدینہ کی گلیوں میں پھیرایا جائے تا کہ لوگ اپنی آنکھوں سے یہ واقعہ دیکھ کر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی صحیح پیشین گوئی پر ایمان لائیں ۔


نام جوڑ کر اس کا '' ام قرفہ صغری'' نام رکھا ہے ۔ لیکن نصر اس مسئلہ سے غافل تھا کہ زید بن حارثہ کے ہاتھوں قتل کی جانے والی ' ام قرفہ '' اور سیف بن عمر کی مخلوق ' ام قرفہ '' کے درمیان زمین و آسمان کا فرق

ہے اس کے باوجود نصر نے ان دونوں کو ایک ہی جان کر ایک ساتھ ذکر کیا ہے ۔

'' ظفر''' کا محل وقوع بھی نصر اور حموی کو مکمل طور پر معلوم نہ ہوسکا ہے کیونکہ ایک کہتا ہے کہ ''ظفر''' شام کی راہ پر واقع ہے اور دوسر مدعی ہے کہ بصرہ کے راستہ پر واقع ہے بالکل دو مخالف جہتوں میں ، ایک شمال کی طرف اور دوسرا جنوب کی طرف۔

اسی طرح حموی اور نصر نے اپنی خبر کا مآخذ مشخص نہیں کیا ہے صرف حموی نے '' حوب '' کے سلسلے میں تشریح کرتے وقت اپنی روایت کے آغاز میں سیف بن عمر کا ذکر کیا ہے ۔

٣۔ ابن حجر نے سیف کی روایت پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی کتاب '' اصابہ '' میں سلمی کے حالات کی تشریح کیلئے خصوصی جگہ معین کرکے '' زنان رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم '' کے عنوان سے اس پر بھی روشنی ڈالی ہے لیکن روایت کے مآخذ کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس کے بارے میں صرف اتنا کہا ہے کہ :

سلمی ، عیینہ بن حصن بن حذیفہ کی چچیری بہن تھی ۔

ابن حجر کے اس تعارف کا سرچشمہ یہ ہے کہ سیف نے اپنی مخلوق سلمی کو عیینہ کے چچا مالک بن حذیفہ کی بیٹی کی حیثیت سے خلق کیا ہے ۔

٤۔ ابن اثیر نے ام زمل کی روایت کو طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے ۔

٥۔ ابن کثیر نے بھی روایت کو براہ راست طبری سے نقل کرکے اپنی کتاب میں درج کیاہے

٦۔ ابن خلدون نے بھی طبری کی روایت نقل کرے '' ام زمل'' کی داستان کو اپنی کتاب میں درج کیاہے ۔

٧۔ میر خواند نے بھی سلمی کی داستاں کو طبری سے لیا ہے ۔

٨۔ حمیری نے بھی لفظ '' ظفر ''میں حموی کی '' معجم البلدان ' سے نقل کرکے ام زمل کی داستاں کو خلاصہ کے طور پر اپنی کتاب میں درج کیا ہے ۔


حدیث و داستان حوب کی حدیث اور داستان کے چند حقائق

سیف نے مالک کی بیتی '' ام زمل سلمیٰ '' معروف بہ '' ام قرفہ صغری'' کی روایت اس لئے گڑ ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اس حدیث میں تحریف کرے جو آنحضرت نے حوب کے علاقہ کے کتوں کے ام المؤمنین عائشہ کے اونٹ پر بھونکنے کے بارے میں فرمائی ہے سیف نے اس طرح تاریخی حقائق اور اس خاتون کے زمانہ میں اسلامی سرداروں اور شخصیتوں کی روش پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

ہم یہاں پر حقائق کو واضح اور وشن کرنے کیلئے حوب کے کتوں کے بھونکنے کی روایت کو اسی طرح بیان کرتے ہیں جیسا کہ واقعہ پیش آیا ہے اور سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں درج ہوا ہے ۔ توجہ فرمائیے :

ایک دن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تمام بیویاں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھیں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے مخاطب ہوکر فرمایا:

تم میں سے کون ہے جو پر پشم اونٹ پر سوار ہوگی اور حوب کے کتے اس پر بھوکیں گے، اسکی راہ میں بہت سے انسان دائیں بائیں خاک و خون میں لت پت ہوجائیں گے اس کے اس دلخواہ حادثہ کے رونماہونے کے بعد اس قتل گاہ سے خود زندہ بچ نکلے گی ؟

عائشہ ہنس پڑیں ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے مخاطب ہوکرفرمایا:

اے حمیرا ہوشیار رہنا کہیں وہ عورت تم نہ ہو ! اس کے بعد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا:

تم علی سے جنگ کروگی جب کہ تم ہی پرظالم ہوگی ۔

سیرت اور تاریخ لکھنے والوں نے اس کے بعد لکھا ہے :

جب عائشہ بصرہ کی طرف جاتے ہوئے حوب کے پانی کے نزدیک پہنچی تو اس علاقہ کے کتوں نے اس پر چھلانگ لگاتے ہوئے بھونکنا شروع کیا ۔ عائشہ نے پوچھا :


یہ کونسا پانی ہے ؟ جواب دیا گیا :

حوب ، عائشہ حوب کا نام سن کر مضطرب ہوگئیں اور آیۂ کریمہ استرجاع پڑھنے لگی (انا ﷲ و انا الیہ راجعون ) گویا برسوں گزرنے کے بعد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی فرمائشات انھیں یاد آگئیں ، اور فوراً کہہ دیا میں وہی عورت ہوں !!

اس لئے واپس لوٹنے کا ارادہ کیا۔ یہ خبر زبیر تک پہنچی تو وہ فوراً عائشہ کے پاس پہنچا اور اعلان بلند آواز سے کہا:

اٹھئے ! چلئے ! اپنے آپ کو لو بچالیجئے ! خداکی قسم علی بن ابیطالب آپ کے نزدیک پہنچ رہے ہیں اس کے بعد زبیر کے کہنے پر قافلہ نے کوچ کیا اور فوراً اس جگہ سے دورہوگئے ۔

ام قرفہ کے بیٹوں کے بارے میں ایک تحقیق

مندرجہ ذیل علماء میں سے ہر ایک نے ام قرفہ کے بیٹوں کی تعداد اور ا ن کی خصوصیات کے بارے میں کچھ مطالب لکھے ہیں ملاحظ ہوں :

١۔ ''ابن کلبی ''نے اپنی کتاب '' جمہرہ '' میں اس کے خلاصہ کے صفحہ ١٢٤ پر ۔

٢۔ ''ابن حبیب ''نے کتاب'' المحبر'' کے صفحہ ٤٦١پر۔

٣۔ ''ابن حزم ''نے کتاب ''جمہرہ '' کے صفحہ ٢٥٧ پر ۔

مذکورۂ تمام علماء نے ام قرفہ کے بیٹوں کے نام ذکر کئے ہیں اور تاکید کی ہے کہ ان کا باپ '' مالک بن حذیفہ '' تھا ۔

اسی طرح ان علماء اور دیگر مصنفوں نے کہا ہے کہ ام قرفہ کی صرف ایک بیٹی تھی اور وہ بیٹی بھی اسیر ہوئی اور سر انجام رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچی تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے اپنے ماموں '' حزن بن وہب '' کو بخش دیا اور عبدا لرحمان بن حزن اسی سے پیدا ہوا ہے ۔

'' ام زمل سلمی '' کا کسی بھی معتبر مآخذ و مصادر میں نام و نشان نہیں ملتا صرف دوسری صدی ہجری کے افسانہ ساز سیف بن عمر تمیمی کے ہاں اس کا سراغ ملتاہے ۔


افسانہ ٔ ام زمل کا نتیجہ

سیف اکیلا شخص ہے جس نے '' ام زمل '' کا نام لیا ہے ، اس کو اور اس کی داستان کو خلق کیاہے ، اسے ام المؤمنین عائشہ کی ملکیت قرار دیا ہے اور اس کے بعد اسی مہربان خاتون کے ذریعہ اسے آزاد کرایا ہے ۔

ام زمل ، ام قرفہ کے اونٹ ، میدان کارزار میں ام زمل کا اس اونٹ پر سوار ہوکر خالد کے ساتھ جنگ میں مرتدوں کی کمانڈ سنبھالنے اور ، حوب کے کتوں کا اس پر بھونکنے کا افسانہ گھڑ کر سیف نے یہ کوشش کی ہے کہ ام المؤمنین عائشہ کے بارے میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے معجزہ وپیشین گوئی ، حوب کے کتوں کے عائشہ پر بھونکنے اور جمل کی جنگ میں معروف اونٹ پر سوار ہوکر سپاہ کی کمانڈ سنبھالنے جیسے واقعات کو تحت الشعاع قرار دیکر حقائق کو من پسند طریقے سے تحریف کرے مگر خوش قسمتی سے وہ اس میں کامیاب نہیں ہوا ہے ۔

سیف نے قبائل ''ہوزان ، سلیم ،طی ، عامر '' اور دیگر قبیلوں کے ارتداد کے موضوع کو ان سے نسبت دی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ بزاخہ کی جنگ کے فراری '' ظفر '' نامی جگہ پر جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہے ام زمل کے گرد جمع ہوئے اور خالد بن ولید سے جنگ کی ہے اور ان میں سے سو آدمی '' ام زمل '' کے اونٹ کے ارد گرد قتل ہوئے ہیں ۔

سیف نے ایک ایسی جنگ میں جو کبھی واقع نہیں ہوئی ہے ، ناجائز اور جھوٹے اخبار کو اسلام کے سپاہیوں سے نسبت دی ہے کہ جس فرضی جنگ میں قتل عام کے نتیجہ میں قبائل '' خاسی '' ، '' ہاربہ '' اور '' غنم '' نابود ہوکر رہ گئے اور قبیلہ ٔ '' کاہل '' کو ناقبل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ۔ اس طرح سیف نے دشمنان اسلام کیلئے صدیوں تک کے لئے اسلام و مسلمانوں کے خلاف تبلیغاتی اسناد و دستاویز فراہم کئے ہیں تا کہ وہ ان سے استتاد کر کے یہ استناد سے دعویٰ کریں کہ اس دین نے جزیرہ نمائے عرب کے لوگوں کے دلوں میں کوئی اثر پیدا نہیں کیا تھا جھی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد ان میں سے اکثر نے اس دین سے منہ موڑ لیا ، جس کے نتیجہ میں اس پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جانشین ایک بار پھر تلوار کی ضرب اور بے رحمانہ قتل و غارت سے مرتدوں کو دوبارہ اسلام کی طرف لے آتے ہیں اور اس دین کو خوف و دہشت پھیلا کر پھرسے مستحکم و پائیدار کرتے ہیں اور اس سے دشمنان اسلام یہ نتیجہ حاصل کرتے ہیں کہ اسلام تلوار کی ضرب اور خون کی ہولی کھیل کر استوار ہوا ہے نہ کہ کسی اور چیز سے ۔ ہم نے اس موضوع پر اپنی کتاب '' عبد اللہ بن سبا'' کی دوسری جلد میں مفصل روشنی ڈالی ہے ۔


یہ مطلب بھی قابل ذکر ہے کہ ہمیں جاننا چاہئے کہ سیف کے زندیقی ہونے کے علاو ہ جس کا علماء نے اسے ملزم ٹھہرایا ہے کونسی چیز محرک ہوسکتی ہے کہ وہ اس قسم کی تحریف اور افسانہ سازی کرے جس کے نتیجہ میں اسلام کے عقائد اور تاریخ میں شک و شبہہ ایجاد کرکے ہمارے مصادر و مآخذ کو بے اعتبار کرکے رکھدے ؟

مصادر و مآخذ

مالک کی بیٹی ام زمل سلمی کے حالات

١۔ ابن حجر کی '' اصابہ '' ( ٤ ٣٢٥) نمبر : ٥٦٧

ام قرفہ سے جنگ کرنے کیلئے زید بن حارثہ کی لشکر کشی :

١۔ ابن سعد کی '' طبقات'' ( ١ ٢ ٦٥)

٢۔ تاریخ یعقوبی ( ٢ ٧١)

٣۔ سیرۂ ابن ہشام ( ٤ ٢٩٠)

٤۔ تاریخ طبری ٠ ١ ١٥٥٧)

٥۔ مقریزی کی '' امتاع الاسماع'' ( ص ٢٦٩۔ ٢٧٠)

سیف کی ام زمل کا افسانہ

١۔ تاریخ طبری ( ١ ١٩٠١ ۔ ١٩٠٢

٢۔حموی کی '' معجم البلدان '' لفظ ''حوب ''،'' ظفر ''

٣۔ تاریخ کامل ابن اثیر ( ٢ ٢٦٦)

٤۔ تاریخ ابن کثیر ( ٦ ٩٣١

٥۔ تاریخ ابن خلدون ( ٢ ٢٨٣)

٦۔ میر خواندکی '' روضة الصفا '' ( ٢ ٦٠٧)

داستان حوب کی حقیقت

١۔ تاریخ طبری ( ٥ ١٧٨)

٢۔ عبد اللہ بن سبا ( ١ ١٠٠ ۔ ١٠٣)


فہرست اعلام

الف :

ابن خیاط ( خلیفہ بن خیاط)

آدم :

ابن دباغ :

ابان بن تغلب

ابن درید :

ابراہیم :

ابن رستہ :

ابن ابی الحدید

ابن سعد

ابن ابی مکنف

ابن سکن

ابن اثیر

ابن شاھین

ابن ام مکتوم

ابن اسحاق

ابن عباس

ابن عبد البر

ابن اعثم

ابن عساکر

ابن حبان


ابن فتحون

ابن حبیب

ابن قانع

ابن حجر

ابن قدامہ

ابن حزم

ابن خلدون

ابن کثیر

ابود جانہ

ابن کلبی

ابوذر غفاری

ابن ماجہ

ابورہ ہم غفاری

ابن ماکولا:

ابو رافع

ابن محصن

ابو زید انصاری

ابن مسکویہ

ابو سعید خدری

ابن مشیمصہ جبیری

ابو سفیان حرب

ابن مندہ


ابو سلمة بن عبد الرحمان

ابن منظور

ابو عبید

ابن نجار:

ابو عمر ( ابن عبد البر)

ابنوسی:

ابو معشر

ابن ہشام

ابو مفزر تمیمی

ابو ایوب انصاری

ابو موسیٰ اشعری

ابو بصیرہ انصاری

ابو نعیم

ابو بکر

ابو واقدلیثی

ابو حیان توحیدی

ابو ہریرہ

ابو داؤد

ابو ہیثم احمد بن محمد

ابو ہشیم مالک بن تیہان

ابی بن کعب

احمد بن حنبل


ام زمل

ارویٰ ، عامر کی بیٹی

ام سلمہ

ازدیٰ

ام قرفہ صغری

اسرائیل

ام قرفہ کبریٰ

اسماعیل

امرؤ القیس بن اصبغ

اسامہ بن زید

امرء القیس عدی

اسعد بن یربوع

امیر شکیب ارسلان

اسود بن ربیعہ

امیر المؤمنین علی

اسود بن قطبہ

اسود عنسی

اوس بن جذیمہ

ایاد بن لقیط

اسید بن یربوع


((ب))

اغلب

باذام

اصبغ بن ثعلبہ

باذان

اقرع بن حابس

بخاری

اط بن ابی اط

بدر بن حرث

افرع بن عبد اللہ

بدر بن خلیل

اقرع مکی

بزار

بشیر بن کعب حمیری

بشیر بن کعب عدوی

جبلہ بن ایہم

بغوی

جریر بن عبدا للہ بجلی

بکیربن عبد اللہ

جریر بن عبدا للہ حمیری

بلاذری

جشیش دیلمی


بلال بن ابی بلال

جعفر بن محمد صادق ( امام )

بہرام

جعفر خلیلی

((ح))

پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

حاجب بن زید' یا ' یزید

((ت))

حاجر

ترمذی

حارث بن ابی شمر

تماضر

حارث بن ابی ہالہ

((ث))

حارث بن حکیم

ثمامہ آثال

حارث بن خزرج


((ج))

حارث بن یزید عامری

جابر بن طارق

حارث بن یزید قرشی

جاریہ (مالک بن بدر بیٹی)

حارث بن مرة جہنی

جبرئیل

حارث بن مرہ عبدی

حاطب بن ابی بلتعہ

حمیری

حاکم

حواء

حبیب بن ربیعہ اسدی

حیدہ بن محزم

حجاج بن یوسف


((خ))

حذیفہ بن یمان

خاقان چین

حریا حارث بن خصرامہ

خالد بن سعید

حرملہ بن سلمیٰ

خالد بن عمرو

حرملہ بن مریطہ

خالد بن ولید

حریث بن معلی

خباب بن حرث

حزن بن ابی وہب

خبیب بن زید

حسان بن ثابت

خدیجہ ( ام المؤمنین)

حسین بن علی

خزیمہ بن ثابت

حکم بن سعید بن عاص

خزیمہ بن ثابت ( ذو الشہادتین)

حکم بن عتبہ

خطیب بغدادی

حصین بن نیاز


خلیفہ بن خیاط

((د))

ربعی بن افکل

دارقطنی

رستم فرخزاد

دارمی

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

دازویہ استخری

رشاطی

داہر

رضاکحالہ

دحیہ بن خلیفہ کلبی

رضی الدین حسن بن محمد صغانی

((ذ))

روح القدس

ذی لحیہ

رچرڈ واٹسن

ذی زود


((ز))

ذی ظلیم

ذی رعین

زبرقان بدر

ذہبی

زبیدی

ذی کلاع

زبیر

ذی مران

زبیر بن ابی ہالہ

((ر ))

زر بن عبدا للہ کلیب

رازی

زر بن عبد اللہ شاعر

رابسن

زرگلی

ربیع بن مطر

زمیل بن قطبہ قینی

زیاد بن حنظلہ


زیاد بن سرجس احمری

سعید بن قشب ازدی

زیاد بن لبید

سعید بن عاص

زید بن حارثہ

زید بن ثابت انصاری

سعیر بن خفاف

زید بن جابر

سکینہ ( بنت امام حسین )

زید بن صفوان

سلمیٰ بنت مالک فزاریہ

زید بن کہلان

سلمة بن اکوع

زین العابدین

سلمة بن عمرو

((س))

سلیط بن سلیط

سارہ

سلیمان بن عبدہ

سالم بن معتب


سماک بن خرشہ ( ابو دجانہ )

سامری

سماک بن خرشہ جعفی

سباع بن عرفطہ

سماک بن خرشہ ( غیر ازابودجانہ)

سبرہ عنبری

سیف

سعد وقاص

سماک بن عبیدعبسی

سعید بن جبیر

سماک بن مخرمہ اسدی

سعید بن عبید

سمعانی

سنان بن ابی سنان

شیرین

سہل بن حنیف

شیطان

سہل بن سعد


((ص ))

سہل بن مالک

سہل بن منجاب

صخر بن لوذان انصاری

سہل بن یربوع

صدوق( شیخ)

سہل بن یوسف

صفوان بن امیہ

سواء بن قیس محاربی

صفوان بن صفوان

سیاوش

صعب بن عطیہ

سیوطی

صعب بن ہلال

سیف بن عمر

صلصل بن شرجیل


((ش))

صلوبابن نسطونا

شافعی

صلوبا بن بصبہری

شجاع بن ابی وہب

((ض))

شرف الدین ( سید)

ضبہ بن ادّ

شداد بن اوس

ضبیعہ بن خزیمہ

شعبی

ضحاک بن یربوع

شیخ صدوق

ضرار بن ازور

ضرار بن ضبی

عبدالرحمان ابولیلی


((ط ))

عبد الرحمان عوف

طہ حسین (ڈاکٹر)

عبد الحارث حکیم

طاہر ابو ہالہ

عبد الحارث زید

طبرانی

عبد اللہ بن ثور

طبرسی

عبد اللہ بن حارث

طبری

عبد اللہ بن حکیم

طلحہ بن اعلم

عبد اللہ بن خذافہ

طلحہ بن عبد الرحمان

عبد اللہ بن سبا

طلحہ بن عبید اللہ

عبدا للہ بن شبرمہ

طلحہ بن خویلد

عبدا للہ بن سعید

طیالسی

عبد اللہ بن عمرو


((ع))

عبد اللہ بن مسعود

عارف آفندی

عبدہ بن قرط

عائشہ ( ام المؤمنین)

عبید بن صخر لوذان

عاصم بن عمرو تمیمی

عبید اللہ ابو رافع

عبد الرحمان حزن

عبید اللہ ثور

عبد العزی بن ابی رہم

علی بن ابیطالب

عتاب بن اسید

عمارہ بن فلان اسدی

عتبہ بن فرقد لیثی

عمار بن یاسر

عثمان بن ابو العاص

عمر بن خطاب(خلیفہ)

عثمان بن عفان(خلیفہ):

عمرو بن امیہ ضمری

عثمان بن قطبہ

عمرو بن حزم


عرباض بن ساریہ:

عمرو بن حکم قضاعی

عروہ بن عزیہ:

عمرو بن خفاجی

عروہ خیل طائی

عمروبن الخفاجی

عرزمی

عمرو بن سعید

عکاشہ بن ثور

عمرو بن عاص

عطا ء بن وبر

عمروبن قعین

عطیہ بن بلال

عمرو بن محجوب

عفیف بن منذر

عمرو بن محمد

عقیلی

عوف بن اعلاء جشمی

علاء حضرھی

عوف ورقانی

علاء بن وہب

عوف ورکانی


عویف بن اضبط

قضاعی بن عامر

عویف زرقانی

قعقاع بن عمرو

عیسیٰ بن مریم

قعقاع بن معبد

عیینہ بن حصن

قماذبان

((غ))

قیس بن سعد عبادہ

غالب بن عبد اللہ

قیس بن سلیمان

غصن بن قاسم

قیس بن عاصم

غضب بن جشم

قیس بن عبدیغوث


((ف))

قیس بن ہبیرہ

فاطمہ بنت ربیعة بن بدر

قیصر

فرات بن حیان

((ک))

فیروز آبادی

کبیس بن ہوذہ

فیروز

کثیر بن شہاب

((ق))

کرز بن جابر

قباد

کعب بن مالک

قحیف بن سلیک

کلب بن وبرہ

قحیف شاعر

کلثوم بن حصین ( ابورہم غفاری)

کنانہ بن بکر

متقی ہندی


((گ ))

مجالد

گازر

محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

((ل))

محمد بن عبدا للہ بن سواد

لوذان بن حارثہ

محمد بن عبید اللہ (عرزمی)

لوذان بن سالم

محمد بن علی امام باقر

لوذان بن عامر

محمد بن مسلمہ

لوذان بن عمرو

محمد حمید اللہ

لوط

محمد حنیفیہ


((م ))

مدائنی

مالک بن انس (مالکی مذہب

کے بانی)

مرعشی نجفی ( آیة اللہ )

مالکی

مریم

مالک بن حذیفہ

مستنیر بن یزید

ماہان

مستورد بن شداد

ماریہ

مسلم

ماکس

مسعودی

مسلمہ بن مخلد


((ن) )

مسلیمۂ کذاب

نافع بن اسود

معاذ بن جبل

نجاشی

معاویہ

نسائی

معاویہ بن فلان

نصر مزاحم

معاویہ عذری

نعمان

مغیرہ بن شعبہ

نعمان بن بزرج

مقدام بن معدی کرب

نعمان بن بشیر

مقدسی ( ضیائ)

نعمان بن مقرن

مقریزی

نعیم بن مقرن

مقوقس

نعیم بن مسعود اشجعی

موآب


نمیلہ بن عبداللہ

موسیٰ

نوف بکالی

مھاجر بن ابی امیہ

نویری

مہلب بن عقبہ

نوح

میرخواند

((و))

واقدی

وبر بن یحنس کلبی

ہود

وبرہ بن یحنس

(ی)

وردان بن مخرم

یاقوت حموی

ودیعہ کلبی

یزید انصاری اشہلی

وکیع دارمی

یعقوب


وکیع بن عدس دارمی

یعقوبی

وکیع بن مالک

یوسف بن سہل

ولید بن عقبہ

یونس

((ہ))

ہارون

ہاشم بن عتبہ

ہالک بن عمرو

ہانس

ہراکلیوس

ہرمز

ہرمزان

ہنیدہ بنت عامر


امتوں ، قوموں ، قبیلوں ، گروہوں اور مختلف ادیان و مکاتب فکر کے پیرؤں کی

فہرست

((الف))

بنو بدر

آل عمران

بنو تزید

ازدازدی

بنو تمیم

اسلام

بنو ثقیف

اسید

بنو جذام

اصحاب، صحابی

بنو حارث

انصار

بنو حرث

اوس

بنو حمیر

ایرانی

بنو خاسی


((ب ))

بنو سعد ہذیم

بکر بن وائل

بنو سلمہ

بنو امیہ

بنو سلیم

بنو اسد

بنو مصطلق

بنواسرائیل

بنو صدف

بنو صیدا

بنو فزارہ

بنو ضبّہ

بنو قحطان

بنو طی

بنو قضاعہ

بنو عامر

بنو قیس

بنو عام لوئی

بنو قین

بنو عبدا لاشہل


بنو کلب

بنو عبدالدار

بنو کاہل

بنو عباس

بنو لخم

بنو عدنان

بنو لوذان

ٍبنو عذرہ

بنو لیث

بنو عمرو تمیم

بنو مالک بن زید

بنو عنبر

بنو معاویہ بن کندہ

بنو عک

بنو ہاریہ

بنو عمون

بنو ہاشم

بنوغسان

بنو ہالک

بنو غنم

بنو ہمدان


بنو غوث

بنو یعقوب

((ت ))

((ک ))

تابعین

کندہ

تمیم

((م))

((خ))

مرتد ، ارتداد

خزرج

مضر

((ر))

مہاجرین

رومیان

((ن))

((ز ))

نخع


زندقہ و زندیقی

((ی ))

((س ))

یمانی

سبائیان

سدوس

((غ))

عظفان

((ق))

قریش


اس کتاب میں مذکور مصنفوں اور مؤلفوں کی

فہرست

((الف))

ابن سعد

ابنوسی

ابن سکن

ابن ابی الحدید

ابن شاہین

ابن اثیر

ابن عبد البر

ابن اسحاق

ابن عساکر

ابن اعثم

ابن فتحون

ابن حبان

ابن قانع

ابن حبیب

ابن قدامہ

ابن حجر

ابن کثیر

ابن حزم

ابن کلبی


ابن خلدون

ابن ماجہ

ابن دباغ

ابن ماکولا

ابن درید

ابن مسکویہ

ابن رستہ

ابن مندہ

ابن منظور

((ح))

ابن نجار

حاکم

ابن ہشام

حمیری

ابو حیان توحیدی

((خ))

ابو داؤد

خطیب بغدادی

ابو نعیم


خلیفہ بن خیاط

احمد بن حنبل

((د))

امیر شکیب ارسلان

دار قطنی

((ب))

دارمی

بخاری

((ذ))

بزار

ذہبی

بغوی

((ر ))

بلاذری

رازی


((ب))

رابنسن

ترمذی

رشاطی

((ج))

رضا کحالہ

جعفر خلیلی

رضی الدین ، حسن بن محمد صغانی

رچرڈ ویٹسن

طیالسی

((ز))

((ع ))

زبید

عارف آفندی

زرکلی

عقیلی


((س ))

((ف))

سمعانی

فیروز آبادی

سیوطی

((گ) )

سیف بن عمر

گازر

((ش))

((م ))

شافعی

مالک بن انس

شرف الدین

متقی ہند

شیخ صدوق

محمد حمید اللہ


((ط))

مدائنی

ٰطہ حسین

مرعشی نجفی (آیت اللہ)

طبرانی

مسلم

طبرسی

مسعودی

طبری

مقدسی ( ضیائ)

مقریزی

میرخواند

((ن) )

نسائی

نصر مزاحم

((و ))

واقدی


((ی))

یاقوت حموی

یعقوبی

جغرافیائی مقامات کی

فہرست

((الف))

بسما

آبل

بصرہ

آذربائیجان

بغداد

آدریولہ

بیت المقدس

انبار

بیروت

اندلس


((ت))

اہواز

تبوک

ایران

تہامہ

((ب) )

تہران

بانقیا

تیما

بحرین

((ج))

بدر

جرش

جزیرة العرب

دستبی

جعرانہ

دکن

جلولا

دمشق

جند


دومة الجندل

((ح))

دیلم

حبان

((ر))

حبشہ

رام ہرمز

حجاز

رمع

حضرموت

روم شرقی

حمقتین

رہائ

حنین

رے

حوب


((ز))

حیدرآباد

زبید

((خ))

((س))

خیبر

سقیفہ بنی ساعدہ

((د ))

سعیر

دجلہ

سکاسک

سکون

عراق

سینائ

عمان


ش

((غ))

(شوش)

غار حرائ

شوشتر

((ف) )

شمیط

فاران

((ص ))

فرات

صنعائ

فلالیج

((ض))

((ق))

ضبیل

قاہرہ


((ط))

قدس

طائف

قزوین

((ظ))

قس الناطف

ظفر

قطوان

((ع))

قم

عتبات مقدسہ

((ک) )

عدن

کاظمین

کوفہ

((و) )

((م ))

وادی القریٰ

مدائن


((ہ))

مدینہ

ہرمزگرد

مرسیہ

ہمدان

مشعر

ھندوستان

مصر

((ی))

مصیخ بنی برشائ

یرموک

مکہ

یمامہ

منیٰ

یمن

((ن))

نجران

نجف

نعمان

نہاوند

نہروان


منابع و مصادر کی فہرست

((الف))

انجیل(کتاب مقدس)

ادب المفرد

انساب الاشراف

استبصار

انساب سمعانی

استیعاب

انساب الصحابہ

اسد الغابہ

اوسط

اسماء الصحابہ

( (ب))

اشتقاق

بحار الانوار

اصابہ

بصائر

اعلاق النفسیہ


((ت))

اغانی

تاج العروس

افراد

تاریخ بن اثیر

اقتباس الانوار

تاریخ ابن خلدون

اکمال ( ابن ماکولا)

تاریخ ابن کثیر

اکمال ( شیخ صدوق)

تاریخ اسلام ، ذہبی

امتاع الاسماع

تاریخ دمشق ( ابن عساکر)

تاریخ خلیفہ بن خیاط

جمع الجوامع

تاریخ طبری

جمہرۂ ابن کلبی

تاریخ مسعودی

جمہرۂ انساب ( ابن حزم)

تاریخ المستخرج

جلاء الاذہان

تاریخ یعقوبی


جوامع السیرہ

تبصیر ( ابن حجر)

((ح))

تجرید

حروف الصحابہ

تحریر المشتبہ

حلیۂ ابو نعیم

تفسیر الاء الرحمن

((د))

تفسیر البیان

در السحابتہ

تفسیر سیوطی

در المنثور ( سیوطی)

تقریب التہذیب

(ذ)

توریت

ذیل المذیل ( طبری)

تہذیب ( ابن عساکر)


((ر))

((ج))

رحلۂ مدرسیہ

جرح و تعدیل

رواة المختلقون

الجمع بین الاستیعاب و معرفة الصحابہ

روضة الصفائ

((س))

سنن ابن ماجہ

((ض))

سنن ابن ہثام

الضعفائ

سنن ابو داؤد

((ط))

سنن ترمذی

طبقات ابن سعد

سنن دارمی

طبقات شافعیہ

سنن نسائی


((ع))

سیر اعلام النبلاء (ذہبی)

عبدا للہ سبائ

((ش))

عبر

شذرة الذہب

((ف))

شرح نہج البلاغہ

فتح الباری

((ص))

فتوح اعثم

الصحابہ

فتوح البلدان

صحیح بخاری

فتوح ، سیف

صحیح ترمذی

فصول المہمہ

صحیح مسلم

فوائد


صفین(نصر مزاحم)

((ق))

قاموس کتاب مقدس

مستد رک الصحیحین

قبائل العرب

قاموس اللغتہ

مسند طیالسی

قرآن کریم

مسند بزار

((ک))

معجم البلدان

کامل ابن اثیر

معجم الشیوخ

کنز ل العمال

معجم الکبیر عن الصحابة الکرام


((ل))

معجم الصحابہ ( بغوی)

لباب الانساب

لسان العرب

معجم الصحابہ ( ابن قانع)

لسان المیزان

معرفة الصحابہ( ابو نعیم)

((م))

مؤتلف

مجمع البیان

منتخب کنز ل العمال

مجمع الزوائد

مؤطائے مالک

مجموعة الوثائق

موضح ( خطیب بغدادی)

المختارہ

میزان الاعتدال

محبر


((ن))

مروج الذہب

نسب الصحابہ من الانصار

مسند احمد بن حنبل

نقش عائشہ در تاریخ اسلام

ہ

الھدیٰ الی دین المصطفیٰ

تاریخی وقائع کی فہرست

((الف))

((ص) )

احزاب

صلح حدیبیہ

((ب))

((ع))

بیعت رضوان (شجرہ)

عمرة القضائ

بیعت عقبہ


((غ))

((ج))

غزوۂ احد

جنگِ جمل

غزوۂ بدر

جنگ جلولا

غزوۂ خندق

جنگ صفین

غزوۂ ذات الرقاع

جنگ قادسیہ

((ف))

جنگ یمامہ

فتح مکہ

جنگ ارتداد

((ح))

حجة الوداع


فہرست

حرف اول ۴

عراق کے ایک نامور مصنف استاد جعفر الخلیلی کا مقالہ ۷

پہلا حصہ : ۱۵

تحریف ۱۵

قرآن و سنت ایک دوسرے کے متمم ہیں ۱۶

گزشتہ ادیان میں تحریف کا مسئلہ ۲۴

سنت میں تحریف کی خبر اور اسلاف کی تقلید ۲۸

آسمانی کتابوں میں گزشتہ امتوں کی تحریفیں : ۳۷

توریت میں تحریف کے چند ثبوت: ۴۲

طبع ۴۵

رابینسن ۴۵

رومی ۴۵

امریکی ۴۵

قرآن مجید ایک لافانی معجزہ : ۴۶

قرآن مجید میں تحریف کی ایک ناکام کوشش ۵۰

اسلامی مصادر کی تحقیق ضروری ہے : ۵۴

خلاصہ ۵۷

پہلے حصہ کے مصادر و مآخذ ۵۹

مقدام کی حدیث : ۵۹


عبید اللہ بن ابی رافع کی حدیث : ۵۹

عرباض بن ساریہ کی حدیث : ۶۰

ابو ہریرہ کی حدیث : ۶۰

اس امت کے اپنے اسلاف کی تقلید کرنے کا موضوع ۶۰

شافعیوں کے پیشوا اما م شافعی کی حدیث: ۶۰

ابو سعید خدری کی حدیث : ۶۰

حدیث ابو ہریرہ : ۶۱

ابو واقد لیثی کی حدیث: ۶۱

عبدا للہ بن عمرو کی حدیث : ۶۱

ابن عباس کی حدیث : ۶۲

سہل بن سعد کی حدیث : ۶۲

عبد اللہ مسعود کی حدیث : ۶۲

مستورد کی حدیث : ۶۲

شداد بن اوس کی حدیث: ۶۲

آیۂ رجم کے بارے میں عمر کی روایت : ۶۳

بناوٹی آیت لا تَرغبُو عَنْ آبَائِکُمْ کی روایت: ۶۳

'' دس مرتبہ دودھ پلانے '' کے بارے میں عائشہ کی روایت : ۶۳

دو خیالی سورتوں کے بارے میں ابو موسیٰ کی روایت ۶۳

دوسرا حصہ ۶۴

سیف بن عمر تمیمی کا تحفہ ۶۴


سیف کے جعلی اصحاب کا ایک اور گروہ ۶۵

تیسرا حصہ: رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچنے والے نمائندے : ۶۷

چوتھا حصہ : رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ابو بکر کے گماشتے اور کارندے ۶۷

پانچواں حصہ : رسول خدا کے ایلچی اور کارندے ۶۷

چھٹا حصہ : ہم نام اصحاب ۶۸

ساتواں حصہ : گروہ انصار سے چند اصحاب ۶۸

تیسرا حصہ : ۶۹

رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچنے والے مختلف قبائل کے منتخب نمائندے ۶۹

چوبیسواں جعلی صحابی عبدة بن قرط تمیمی ۷۰

عبدہ کا خاندان اور اس کی داستان کا آغاز ۷۰

داستان کے مآخذ کی تحقیق ۷۱

روایت کی تحقیق ۷۱

مصادر و مآخذ ۷۱

حیدہ کے حالات ۷۲

بنی عنبر کا شجرۂ نسب : ۷۲

پچیسواں جعلی صحابی عبد اللہ بن حکیم ضبی ۷۳

چھبیسواں جعلی صحابی حارث بن حکیم ضبی ۷۳

ستائیسواں جعلی صحابی حلیس بن زید بن صفوان ۷۶

اٹھائیسواں جعلی صحابی حر، یا حارث بن خضرامہ ، ضبی ۷۷

حر بن خضرامہ ضبی یا ہلالی : ۷۸


ضبّہ کا شجرۂ نسب ۷۸

داستان کے مآخذ کی تحقیق: ۷۸

سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ ۷۹

خلاصہ : ۷۹

سیف کی داستان کے نتائج ۸۱

احادیث سیف کے مآخذ ۸۱

سیف کی روایت کے راوی : ۸۱

مصادر و مآخذ ۸۲

حارث بن حکیم ضبیّ کے حالات : ۸۲

عبد الحارث بن زید کے حالات اور رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ اس کی گفتگو: ۸۲

عبد اللہ بن حارث کے حالات ۸۲

عبد اللہ بن زید بن صفوان کے حالات : ۸۳

عبدا للہ بن حرث کے حالات: ۸۳

حلیس بن زید کے حالات: ۸۳

حارث بن خضرامہ کے حالات : ۸۳

حربن خضرامہ کے حالات اور رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ اس کی داستان ۸۳

انتیسواں جعلی صحابی کبیس بن ہوذہ سدوسی ۸۴

اس صحابی کا نام و نسب: ۸۴

کبیس بن ہوذہ کی داستان : ۸۵

خلاصہ : ۸۶


افسانۂ کبیس کے اسناد کی پڑتال ۸۷

'' سیف کی روایت کی بناء پر '' ۸۸

داستان کبیس کا نتیجہ ۸۸

افسانۂ کبیس کی اشاعت کے ذرائع: ۸۹

مصادر و مآخذ ۸۹

ابن شاہین کے حالات ۹۰

ابن مندہ کے حالات : ۹۰

ابو نعیم کے حالات: ۹۰

عبد اللہ شبرمہ کے حالات ۹۰

ایاد بن لقیط کے حالات : ۹۱

ڈاکٹر محمد حمید اللہ کا نظریہ : ۹۱

اسناد ۹۱

چوتھا حصہ ۹۲

رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ابو بکر کے گماشتے اور کارگزار ۹۲

تیسواں جعلی صحابی عبید بن صخر ۹۳

اس صحابی کا نسب ۹۴

عبید بن صخر کی داستان ۹۵

خلاصہ ۱۰۲

داستان عبید کے ماخذ کی پڑتال ۱۰۳

اس بحث و تحقیق کا نتیجہ ۱۰۳


اکتیسواں جعلی صحابی صخر بن لوذان انصاری ۱۰۵

سیف کی احادیث کا نتیجہ ۱۰۷

سیف نے کن سے روایت کی؟ ۱۰۷

اس جھوٹ کو پھیلانے کے منابع: ۱۰۸

مصادر و مآخذ ۱۰۸

بنی سلمہ کا نسب ۱۰۹

قبیلۂ اوس میں بنی لوذان کا نسب ۱۰۹

معاذ بن جبل کے حالات ۱۰۹

صخر بن لوذان کے حالات : ۱۰۹

بتیسواں جعلی صحابی عکاشہ بن ثور الغوثی ۱۱۰

عکاشہ ، یمن میں ایک کارگزار کی حیثیت سے : ۱۱۰

تینتیسواں جعلی صحابی عبد اللہ بن ثور الغوثی ۱۱۲

عبد اﷲ ثور ، ابوبکر کا کارگزار ۱۱۲

عکاشہ اور عبد اللہ کی داستان کے مآخذ کی تحقیق ۱۱۳

سیف کی روایتوں کا موازنہ ۱۱۳

روایت کا نتیجہ ۱۱۴

چونتیسواں جعلی صحابی عبید اللہ بن ثور غوثی ۱۱۶

مذکورہ تین اصحاب کا نسب ۱۱۷

'' غوثی '' عکاشہ اس انتساب سے مشہور ہے ۔ ۱۱۹

خلاصہ : ۱۱۹


فرزندان ثور کے افسانہ کے راوی ۱۲۱

ان افسانوں کی اشاعت کرنے والے ذرائع ۱۲۱

مصادر و مآخذ ۱۲۲

عبد اللہ بن ثور کے حالات : ۱۲۳

چھوٹا خط رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتوں اورگورنروں کے نام: ۱۲۳

پانچواں حصہ ۱۲۴

رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ایلچی ۱۲۴

رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ایلچی اور گورنر ۱۲۵

تاریخی حقائق پر ایک نظر ۱۲۶

پینتیسواں جعلی صحابی وبرة بن یحنس ۱۲۷

اس افسانہ میں سیف کے مآخذکی تحقیق ۱۲۹

داستان کی حقیقت ۱۳۰

داستان کی حقیقت اور افسانہ کا موازنہ ۱۳۱

افسانۂ وبرہ کے مآخذ ۱۳۲

مصادر و مآخذ ۱۳۲

'' وبر بن یحنس '' کلبی کی داستان : ۱۳۳

اسود عنسی کی داستان ۱۳۳

چھتیس اور سینتیس ویں جعلی اصحاب اقرع بن عبدا للہ حمیری اور جریر بن عبد اللہ حمیری ۱۳۴

رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حمیری ایلچی : ۱۳۴

جریر بن عبد اللہ حمیری ۱۳۵


صلح ناموں کا معتبر گواہ : ۱۳۵

جریر ، مصیخ کی جنگ میں : ۱۳۷

جریر ، ہرمزان کا ہم پلہ ۱۳۸

'' اقرع'' اور ''جریر'' کے افسانوں کی تحقیق ۱۳۹

تاریخی حقائق اور سیف کا افسانہ ۱۴۰

اس افسانہ کا نتیجہ ۱۴۳

خلاصہ ۱۴۵

دو حمیری بھائیوں کے افسانہ کے راوی : ۱۴۷

ان دو بھائیوں کا افسانہ نقل کرنے والے علما: ۱۴۷

مصادر و مآخذ ۱۴۸

جریر حمیری کے حالات : ۱۴۸

تاریخ لکھنے کے سلسلہ میں عمر بن خطاب کا صلاح و مشورہ ۱۴۸

جریر بن عبد اللہ بجلی کے بارے میں روایت اور اس کے حالات : ۱۴۸

اڑتیسواں جعلی صحابی صلصل بن شرحبیل ۱۴۹

صلصل ، ایک گمنام سفیر : ۱۴۹

انتالیسواں جعلی صحابی عمرو بن محجوب عامری ۱۵۱

جعلی روایتوں کا ایک سلسلہ ۱۵۱

عمرو بن محجوب کی داستان : ۱۵۱

چالیسواں جعلی صحابی عمرو بن خفاجی عامری ۱۵۲

مسیلمہ سے جنگ کی مموریت ۱۵۲


اکتالیسواں جعلی صحابی عمرو بن خفاجی عامری ۱۵۴

ابن حجر کی غلط فہمی سے وجود میں آیا ہوا صحابی ۱۵۴

اس داستان کا خلاصہ اور نتیجہ ۱۵۴

صفوان بن صفوان ۱۵۵

مصادر و مآخذ ۱۵۶

صلصل کے حالات : ۱۵۶

صفوان بن صفوان کے حالات ۱۵۶

عمرو بن خفاجی عامری کے حالات ۱۵۶

عمرو بن خفاجی عامری کے حالات ۱۵۶

بیالیسواں اور تینتالیسواں جعلی صحابی عوف ورکانی اور عویف زرقانی ۱۵۷

سیف کی ایک مخلوق تین روپوں میں ۱۵۷

عوف کا نسب ۱۵۷

عوف ورکانی کی داستان ۱۵۷

عویف ورقانی ۱۵۷

عوف ورقانی ۱۵۸

قضاعی بن عمرو سے متعلق ایک داستان ۱۵۸

افسانۂ قضاعی کے مآخذ اور راویوں کی پڑتال ۱۵۹

چوالیسواں جعلی صحابی قحیف بن سلیک ہالکی ۱۶۱

قحیف ، طلیحہ سے جنگ میں ۱۶۱

اس داستان کے راویوں کے بارے میں ایک بحث ۱۶۱


قحیف کی داستان کی تحقیق ۱۶۲

مصادر و مآخذ ۱۶۲

قضاعی بن عمرو کی داستان : ۱۶۲

قضاعی بن عامر کی داستان ۱۶۳

قحیف بن سلیک کی داستان ۱۶۳

ہالک بن عمرو کا نسب ۱۶۳

شاعر قحیف کی داستان ۱۶۳

پینتالیسواں جعلی صحابی عمرو بن حکم قضاعی ۱۶۴

عمرو کا نسب ۱۶۴

عمرو بن حکم کی داستان کا سرچشمہ ۱۶۴

چھیالیسواں جعلی صحابی '' بنی عبداللہ '' سے امرؤ القیس ۱۶۷

علماء کے ذریعہ امرؤ القیس کا تعارف ۱۶۷

عمرو اور امرؤ القیس کے بارے میں ا یک بحث ۱۶۸

امرؤ القیس عدی کی جگہ امرؤ القیس اصبغ کی جانشینی ۱۶۹

تاریخ کی مسلم حقیقتیں ۱۷۱

رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حقیقی کارگزار ۱۷۲

اس افسانہ سے سیف کے نتائج ۱۷۶

اس افسانہ کی اشاعت کرنے والے علما ۱۷۸

مصادر و مآخذ ۱۷۸

رسول خدا کے گماشتوں اور کارندوں کے نام اور ان کا تعارف ۱۷۹


چھٹا حصہ ۱۸۰

ہم نام اصحاب ۱۸۰

سینتالیسواں جعلی صحابی ۱۸۱

خزیمہ بن ثابت ، غیر ذی شہادتین ۱۸۱

ذو الشہادتین ، ایک قابل افتخار لقب ۱۸۱

خزیمۂ '' غیر ذی الشہادتین'' کو خلق کرنے میں سیف کا مقصد ۱۸۴

افسانہ کے مآخذ اور راوی ۱۸۷

سیف کے افسانے اور تاریخی حقائق ۱۸۸

١۔ بیعت کے موقع پر امام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں خزیمہ اور دیگر اصحاب کا نظریہ ۱۸۸

٢۔ جمل کی جنگ میں خزیمہ اورمدینہ کے باشندوں کا نظریہ : ۱۸۹

٣۔ خزیمہ جمل کی جنگ میں ۱۸۹

٤۔ جنگ جمل میں بدر کے مجاہدوں اور دوسرے اصحاب کی موجودگی: ۱۹۰

٥۔ صفین کی جنگ کے بارے میں اصحاب کا نظریہ : ۱۹۰

خزیمہ کے افسانہ پر ایک بحث ۱۹۵

بحث کا نتیجہ ۲۰۰

مصادر و مآخذ ۲۰۲

گھوڑا خریدنے اور خزیمہ کو ذو الشہادتین کا لقب ملنے کی داستان ۲۰۲

خلیفہ عمر کا قرآن مجید کو جمع کرنا اور قبیلۂ اوس کا خزیمہ پر افتخار کرنا۔ ۲۰۲

امام کی جنگوں میں خزیمہ کی شرکت ۲۰۳

عمار یاسر کے بارے میں سیف کے جھوٹ: ۲۰۳


زیاد بن حنظلہ ،امام علی علیہ السلام اور سیف کی پانچ روایتیں ۲۰۳

سیف کی روایتوں کی پڑتال ۲۰۴

امام کے بارے میں خزیمہ اور دوسرے اصحاب کا نقطہ نظر ۲۰۴

امام کی جنگوں میں مجاہدین بدر اور دوسرے اصحاب کی موجودگی ۲۰۴

خزیمہ ذو الشہادتین کا قتل ہونا : ۲۰۵

خزیمہ کے افسانہ پر ایک بحث ۲۰۵

سماک بن خرشہ انصاری ابودجانہ ۲۰۶

ابودجانہ اور رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تلوار ۲۰۶

سماک بن خرشۂ جعفی تابعی ۲۱۰

اڑتالیسواں جعلی صحابی سماک بن خرشۂ انصاری ( غیر از ابودجانہ ) ۲۱۱

بیوہقحطانی عورتوں کا مقدر ۲۱۱

ایک عورت '' اروی'' بنت عامر نخعی رہ گئی !! ۲۱۲

سماک بن خرشہ سپہ سالار کے عہدے پر : ۲۱۲

سماک، عراق کا گورنر ۲۱۵

افسانۂ سماک کے راوی ۲۱۵

تاریخی حقائق اور سیف کے افسانے ۲۱۶

ہمدان اور دستبی کی فتح کیلئے عروہ کی مموریت ۲۱۶

عروہ خلیفہ کی خدمت میں ۲۱۷

تحقیق کا نتیجہ ۲۱۹

اسلامی مصادر میں سیف کے افسانے ۲۲۰


سیف کے ہم نام اصحاب کا ایک گروہ ۲۲۳

افسانۂ سماک کو نقل کرنے والے راوی اور علما ۲۲۴

مصادر و مآخذ ۲۲۵

ابو دجانہ کے حالات میں پیغمبر خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اصلی شرط: ۲۲۵

سماک بن خرشہ جعفی ۲۲۵

سیف کا سماک بن خرشہ غیر از ابودجانہ ۲۲۶

ہمدان اور آذربائیجان کی فتح کی خبر ، سیف کے علاوہ دوسروں کی روایت میں ۔ ۲۲۶

داستان عروہ ، فتح رے اور اس کے حکام : ۲۲۶

سماک بن عبید کے حالات ۲۲۷

سماک بن مخرمہ کے حالات ۲۲۷

ساتواں حصہ ۲۲۸

گروہ انصار میں سے چند اصحاب ۲۲۸

انچاسواں جعلی صحابی ابو بصیرۂانصاری ۲۲۹

افسانۂ ابو بصیرہ کے مآخذ ۲۳۰

افسانۂ ابو بصیرہ کا نتیجہ ۲۳۱

مصادر و مآخذ ۲۳۱

ضحاک بن یربوع کے حالات ۲۳۱

مراجع : ۲۳۱

پچاسواں جعلی صحابی حاجب بن زید یا یزید انصاری اشہلی ۲۳۲

مصادر و مآخذ ۲۳۳


اکاونواں جعلی صحابی سہل بن مالک انصاری ۲۳۴

سہل ، کعب بن مالک کا ایک بھائی ۲۳۴

سہل اور اس کے نسب پر ایک بحث ۲۳۵

سہل بن یوسف ، سیف کا ایک راوی ۲۳۶

اس تحقیق کا نتیجہ ۲۳۷

قلمی سرقت ۲۳۷

سہل کے افسانہ کی اشاعت کرنے والے علما ۲۳۸

مآخذ کی تحقیق ۲۴۳

خلاصہ ۲۴۴

اس افسانہ کا نتیجہ ۲۴۷

مصادر و مآخذ ۲۴۸

سہل بن یوسف کے حالات ۲۴۸

خالد بن عمرو کے حالات ۲۴۹

سہل بن مالک کے حالات پر تشریح کے ضمن میں حدیث پر ایک بحث ۲۴۹

باونواں جعلی صحابی اسعد بن یربوع انصاری خزرجی ۲۵۰

اسعد کے افسانہ کے نتائج ۲۵۱

مصادر و مآخذ ۲۵۲

ترپنواں جعلی صحابی مالک کی بیٹی سلمی ۲۵۲

سلمی اور حوب کے کتے ۲۵۲

ام قرفہ کی داستان کے چند حقائق ۲۵۳


'' ام قرفہ '' کا افسانہ اور حوب کے کتوں کی داستان ۲۵۵

افسانۂ ام زمل کے مآخذکی پڑتال ۲۵۶

ام زمل کے افسانہ کی اشاعت کرنے والے علما ۲۵۷

حدیث و داستان حوب کی حدیث اور داستان کے چند حقائق ۲۶۰

ام قرفہ کے بیٹوں کے بارے میں ایک تحقیق ۲۶۱

افسانہ ٔ ام زمل کا نتیجہ ۲۶۲

مصادر و مآخذ ۲۶۳

ام قرفہ سے جنگ کرنے کیلئے زید بن حارثہ کی لشکر کشی : ۲۶۳

سیف کی ام زمل کا افسانہ ۲۶۳

داستان حوب کی حقیقت ۲۶۳

فہرست اعلام ۲۶۴

امتوں ، قوموں ، قبیلوں ، گروہوں اور مختلف ادیان و مکاتب فکر کے پیرؤں کی ۲۸۸

فہرست ۲۸۸

اس کتاب میں مذکور مصنفوں اور مؤلفوں کی ۲۹۳

فہرست ۲۹۳

منابع و مصادر کی فہرست ۳۰۶