افسانہ عقد ام کلثوم
گروہ بندی متفرق کتب
مصنف عبد الکریم مشتاق
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


افسانہ

عقد ام کلثوم

مصنف

عبد الکریم مشتاق

ای بک کمپوزنگ: حافظی

نیٹ ورک:شبکہ الامامین حسنین علیھماالسلام


بسم اللہ الرحمان الرحیم

تقدیم

لائق حمد ہے وہ ذات باری تعالی جس نے نبی آدم کو عطیہ عقل عنایت فرما کرآدمی سے انسان بنایا ۔عقل کو تمام خوبیوں کا سرچشمہ تجربات کا محافظ ۔عزت کا موجب ،علم کی جڑ اور فضیلت کا باعث مقرر فرمایا ۔ عقل سے بڑھ کر کوئی چیز نفع بخش نہیں اور عقل سے زیادہ کوئی بے نیازی نہیں ، عقل یقینی دوست ہے اس کی مدد سے تمام امور کی اصلاح کی جاسکتی ہے عقلمند کبھی دھوکا نہیں کھا سکتا ہے عقل ایک ایسی کسوٹی ہے جس پر ہر بات پرکھی جاسکتی ہے ۔

لاریب وہ خوش بخت ہستیاں مستحق درود وسلام ہیں جن کی عقل درجہ کمال پر فائز ہے ۔ان معزز ومحترم ارواح سراپا عقل پر یہ خلاق عالمین کا انعام خاص ہے کہ انھیں عقل کا عطا کرکے تمام ظاہری وباطنی نجاستوں ،برائیوں ،بد نامیوں اور خامیوں سے اس طرح محفوظ رکھا جس طرح محفوظ رکھنے کا حق ہے ۔

اللہ کی رحمت کے خصوصی حقدار وہ نفوس ہیں جن سے خدانے بھلائی کی اور انھیں صحیح عقل سلیم کے ساتھ اعمال مستقیم بجا لانے کی توفیق عطا کی ۔


عقل کو نہ ہی دین سے جدا کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی علم اور عقل میں جدائی ممکن ہے علم، دین اور عقل تینوں ایک ہی رسی میں جکڑے ہوئے ہیں ۔ ان کو علیحدہ نہیں کیا جا سکتا ۔مذہب شیعہ امامیہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا مدار قیاس کی بجائے عقل پر ہے چنانچہ ہماری کتابوں کا آغاز بھی کتاب العقل ہی سے ہوتا ہے ۔ہمارے ہاں عقل کو حاکم کی حیثییت حاصل ہے ہم عقل کو ہر معاملہ میں رہنمائی کا چراغ مانتے ہیں ۔احکام شریعت ونصوص کو سمجھنے کے لئے عقل سے بڑا کوئی ذریعہ ہمارے نزدیک معتبر نہیں ہے بلکہ ہمارے آئمہ کا فرمان ہے کہ اگر کوئی حدیث بھی خلاف عقل ہو تو اسے موضوع سمجھ کر قبول نہ کرو۔ ہر وہ چیز جو علم و ادراک کی گرفت میں آسکتی ہے یا تو اسے نصوص (قرآن وسنت) کی روشنی میں سمجھا جاسکتا ہے یا عقل سلیم کے ذریعہ سے ۔یا پھر دونوں سے جس کو صرف عقل ک وساطت سے حیطہ علم میں لانا مطلوب ہوگا ۔اس سے وہ تمام امور مراد ہیں جن میں عقل ہی رہنما ہوسکتی ہے اور شریعت کا علم اس پر بظاہر موقوف ہو لیکن شریعت محمدیہ ہی کا دوسرا نام عقل خالص بھی ہے ۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ جب کسی امر میں خرابی معلوم ہو تو کسی عقلمند کی رائے کا اتباع کرو ۔ حکمت کے گہرے راز عقل سے معلوم ہوتے ہیں ۔عقل تمام کاموں کی دوستی کا باعث ہے عقل غور فکر کو درست کرتی ہے ۔چنانچہ آئیے ہم "عقد امّ کلثوم" کو بھی عقل کی روشنی میں دیکھیں اگر یہ قصّہ عقلا قابل اعتبار قرار پایا جائے تو اس کی صحت مان لیں ورنہ اس کو دھرا کر فضول وقت ضایع نہ کیا کریں اور بے عقلی کا ثبوت نہ دیں ۔

پہلے ایک فرضی کہانی سنئے اس کے بعد افسانہ پڑھیےاور پھر حقیقت سماعت فرمائیے تب عقلی فیصلہ کیجئے ۔کہانی یہ کہ


کہانی:-

ایک تھا بادشاہ ۔ہمارا تمھارا اللہ بادشاہ ۔ بادشاہ بہت مشہورتھا ۔اس کے چرچے گھر گھر تھے ۔ نوشیروان کا عدل حاتم کی سخاوت ۔رستم کی شجاعت ،سکندر کی فتوحات ،لقمان کی حکمت افلاطون کا فلسفہ ،غرض دنیا کے تمام گذرے ہوئے مشاہیر لوگوں کے صفات اس بادشاہ کی رعایا نے اپنے ظل سچائی کے لئے میراث تجویز کر رکھے تھے ۔عوام کی محبت اس سے عقیدت بن چکی تھی لوگوں میں مشہور تھا کہ اگر نبوت کا دروازہ بند نہ ہوتا تو یہ سلطان ضرور نبی ہوجاتا ۔ رعیت کا ہر دلعزیز یہ فرمانروا جملہ صفات حسنہ سے متصف سمجھا جا تا تھا جب یہ بادشاہ اپنی عمر کے اٹھا ون سال پورے کرچکا تو اسے بیٹھے بٹھا ئے یہ خیال سوجھا کہ اپنے محسن و رہبر داماد کی صغیر سن نواسی جس کی عمر چار یا پانچ بر س کے لگ بھگ ہوگی بیاہ رچائے تاکہ محسن مذکورہ سے اس کار شتہ دوہرا ہوجائے ۔سبب پکا ہوجائے چنانچہ بادشاہ اب تدبیریں سوچنے لگا کہ کس طرح وہ اپنے اس ارادہ کی تکمیل کرسکتا ہے ۔اس کہ یہ بھی خوف تھا کہ میرے نکاح میں تین بیویاں پہلے سے ہی موجود ہیں ۔ اولاد بھی جوان ہیں ۔ سن وسال بھی شادی رچانے والے نہیں ۔کروں تو کیاکروں ؟ نام ناموس کا بھی خیال تھا اور شریعت کی پابندی بھی ملحوظ تھی ۔ کچھ درباریوں ،حواریوں سے بادشاہ نے اپنی اس خواہش کا تذکرہ کیا ۔ چند خوشامدیوں نے بڑھاپے کے جوان عزائم کی تعریفوں کے پل باندھے ۔بوڑھی گھوڑی کی لال لگام میں گوٹہ کناری کی لڑیاں لٹکا ئیں اور بادشاہ حضور کو ایسا مکہ لگایا کہ ان کی رال ٹپکنی شروع ہوئی جی ہی جی میں پھولا نہ سمایا ۔داڑھی پر گھنا خضاب کیا ۔نئی پوشاک زیب تن کی ۔کنگھی پٹی ڈھالی اور بن سنور کر شاہانہ شان کے ساتھ اپنے داماد کے داماد کے پاس اس کی نابالغ بچی کا رشتہ مانگنے چلا ۔بڑھاپے میں


بیاہ کے چاؤ نے اس قدر حواس باختہ کر رکھا تھا کہ سلام نہ دعا نہ خیر نہ خیریت جاتے ہی شاہی فرمان جاری کیا کہ اپنی بیٹی کا رشتہ ہم کو دو۔ لوگ ہکے بکے منہ تک رہے ہیں کہ بادشاہ کی عقل بڑھاپے میں سٹھیا گئی ہے کہ اس گئی گذری عمر میں اپنی نواسی کا رشتہ مانگنے آگیا ہے ۔اور بڑی لڑکی چھوڑ کر نابالغ بچی سے نکاح کرنے کی خواہش کر رہا ہے ۔لڑکی کا باپ اپنی جگہ پر انگلی منہ میں لئے حالت سکتہ میں ہے کہ یہ کیسا بادشاہ ہے ۔حاکم تو رعایا کا محافظ ہوتا ہے ۔عوام کی بہو بیٹیوں کا باپ ہوتا ہے اس کا ذہنی توازن بھی بحال ہے کہ نہیں ؟بلکل رسم ورواج کے خلاف ۔تہذیب وتمدن کے برعکس ،ادب وتمیز کے غیر موافق یہ شخص کیسی بیہودہ فرمائش کر رہا ہے مگر اقتدار کی نشیلی آنکھوں میں جھلکتا ہوا غیض وغضب ،متکبرچہرہ پر نشاۃ جلالت سلطلنت کا رعب ودعب پیشانی پر غصیلی شکنیں مرعوب کررہی ہیں ۔ناراضگی کی صورت میں انجام عبرتناک اس شخص کی نگاہوں میں گھوم رہا ہے اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ میں مجبور و محکوم ہوں اور یہ حاکم جابر ومغرور ہے ۔اگر سفید انکا ر کروں گا تو عتاب کا مورد ٹھہروں گا ۔اذیت بھی اٹھاؤں گا ۔اور زک بھی ۔کیوں کہ جب محافظ ہی لٹیرے بن جائیں تو محافظت محال ہوتی ہے ۔رعایا کا یہ مظلوم شخص دبی زبان میں بادشاہ کے حضور التماس کرتا ہے کہ وہ اس منظور نظر بچی کا رشتہ پہلے ہی اپنے بھائی کے بیٹے سے منسوب کرچکا ہے اور پھر یہ کہ لڑکی ابھی شادی کے قابل نہیں ہے ۔بالکل بچی ہے ۔

بادشاہ پر یہ عذر کوئی اثر نہیں کرتا ہے ۔سنی ن سنی کر کے تحکمانہ انداز میں کہتا ہے کہ میں وہ سب کچھ جانتا ہوں جو تمھارے دل میں ہے ۔تم جھوٹ بولتے ہو ۔دیکھو میں گھی کو ٹیڑھی انگلیوں سے نکالنا بھی جانتا ہوں ۔میری قوت وسطوت سے ٹکرانا تمھاری حماقت ہوگی ۔بہتری اسی میں ہے کہ تم میری


بات مان لو ۔یہ بے یارو مددگار شخص اپنی قسمت پر روتا ہوا مجبورا اس شقی القلب بادشاہ کو یقین دلانے کے لئے وعدہ کرتا ہے کہ آپ اپنے محل میں تشریف لے جائیں میں بچی کو آپ کے حرم میں روانہ کردونگا آپ خود ملاحظہ فرما لیجئے کہ یہ بچی ابھی صغیر سن ہے ۔ہرگز قابل شادی نہیں تا ہم اگر عالی جاہ کا ارادہ ایسا ہی ہے تو بندہ نا چیز کی کیا مجال کہ حضور کے آگے دم مارسکوں "۔

بادشاہ اس بات پر آمادہ ہوجاتا ہے اور اپنے محل میں واپس جاتا ہے اور انتظار کی گھڑیاں گن گن کر گزارتا ہے ۔وہ بے تاب ہے اور مطلوبہ ساعت کو جلد از جلد قریب کرنے کا متمنی ہے ۔

بچی کے گھر کے دوسرے افراد بھی اس رشتہ سے ناراض ہیں مگر حکومت کے تشدد کا مقابلہ کیسے کیا جا ‏ئے ۔ مجبورا بچی کو بنا سنوار کر اس بڈھے بھیڑئیے کی نشاط گاہ میں روانہ کیا جاتا ہے ۔ اس امید پر کہ شاید اس معصوم لڑکی کی صغیر سنی اسے مذموم ارادہ سے باز رکھے ۔مگر جب ضمیر مردہ ہوجائے غیرت مرجائے ۔حمیت سوجائے تو رحم کی توقعات محض فریب خوردہ خیالات ہوتے ہیں ۔ کرسی اقتدار کا نشہ ،ہوس وحرص کاغلبہ اور نفس امارہ کا تسلط انسان کو اندھا کردیتا ہے ۔جب وہ بچی بادشاہ کے عشرت کدہ میں پہنچتی ہے تو اس کو یہی معلوم ہے کہ وہ اپنے پر نانا حضور کے پاس سلام کرنے جارہی ہے جیسے ہی یہ بچی اس شیطان بادشاہ کے محل میں داخل ہوتی ہے وہ اسے نانا جی کہتی ہے ۔بڈھا شیطان کھسیانہ ہو کر منھ پھیر لیتا ہے اور للچائی ہوئی بد نگاہوں سے بچی کو سرتا پا دیکھتا ہے ۔مگر اس کی معصومیت رتی بھر بھی اس درندہ صفت بادشاہ کے دل میں رحم پیدا نہیں کرتی ۔اٹھتا ہے ۔اپنے ہاتھوں کو اس بچی کی طرف بڑھاتا


ہے اس طرح جیسے ایک قصاب ہاتھ میں چھری لئے بکری کے بچے کو ذبح کرنے کے ارادہ سے بکری کی طرف بڑھتا ہے ۔بچی اس کے یہ ظالمانہ تیور دیکھ کر اپنا دفاع کرنا چاہتی ہے ۔مگر کہاں ساٹھ سالہ گرگ اور کہاں چار پانچ سال کی لڑکی ! یہ بے حیا بادشاہ اس پاکیزہ ونازک بچی سے پہلے بوس کنار کرتا ہے آغوش میں بٹھاتا ہے سینے سے چمٹا تا ہے اور پھر پنڈلی وغیرہ کھولنے کی جسارت کرتا ہے ۔وہ ننگ شرافت درندہ قطعا یہ بھول چکا ہے کہ نہ ہی اس نابالغہ سے ابھی اس کا نکاح ہوا ہے اور نہ ہی وہ ابھی ایسی حرکات کے قابل ہے مگر جو بھی اسے اپنی ہوس کی پیاس بجھانے کا منا سب ذریعہ نظر آتا ہے اس کو کئے جارہا ہے ۔بچی حیران ہے اور سخت غیض وغضب میں پکار رہی ہے کہ کیا بے ہودہ باتیں کرتے ہیں ۔اگر تم بادشاہ نہ ہوتے تو میں تمھاری ناک پھوڑدیتی ۔آنکھیں نکال لیتی ۔مگر یہ بھیڑیا ٹس سے مس نہیں ہوتا ہے ۔ اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

آخر محل سے باہر درباریوں سے آکر کہتا ہے کہ مجھے مبارک باد دو ۔وہ پوچھتے ہیں کس بات پر‏؟ کہتاہے کہ میں نے اپنی نابالغہ پر نواسی سے خفیہ شادی رچائی ہے ۔مجھے بتاؤ کہ اس سے ہم بستری کیسے کروں ؟ وہ تو ابھی بچی ہے ۔درباری اس کی اس خلاف فطرت بات پر دل سے ناراض ہیں مگر زبان سے کچھ کہہ نہیں سکتے کیو نکہ ان کو یہ خوف ہے کہ اس ظالم حاکم کے سامنے کھولی گئی زبان گدی سے کھینچ لی جائے گی ۔ اس کا درّہ غضب ہماری زندگیاں اجیرن بنا دےگا ۔بہرحال سارے ملک میں بادشاہ کی اس مذموم وحقیر شادی کے چرچے ہونے لگتے ہیں ۔ حزب اختلاف اس کو خوب اچھالتے ہیں اور جی بھر کر اس کی رنگیلی کہانیاں چار باتیں بڑھا کر پھیلا تے ہیں ۔ بادشاہ کے حواری وخوشامدی تو اس حرکت کو بادشاہ کی خوبی قرار دیتے ہیں مگر غیرجانبدار


لوگ بادشاہ کی بد چلنی ۔شقی القلبی ،بد کرداری اور ستم ظریفی پر اس کی دل کھول کر مذمت کرتے ہیں ۔

کچھ ہی عرصے بعد بادشاہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے اور اس نویلی دلہن کے ہاتھوں مہندی بھی میلی نہیں ہوتی کہ بیوہ ہوجاتی ہے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کے اس شیطانی فعل کی ہرطرف سےمذمت ہوتی ہے اور جو بھی یہ کہانی سنتا ہے بادشاہ پر لاکھ لعنت کہے بغیر نہیں رہتا ۔آئندہ نسلیں ایسی بیہودہ کہانی سننے پر بھی تیار نہیں ہوتی ہیں۔اب آپ بھی اس بادشاہ کے بارے میں رائے قائم فرمائیں کہ وہ نیک دل وبلند کردار تھا یا فاسق وفاجر حکمران تھا؟

بے شک یہ کہانی مطلقا فرضی اور جھوٹی ہے مگر بد قسمتی سے اس سے بلکل ملتا جلتا جھوٹا قصّہ اسلام کی اس بزرگ ہستی سے منسوب کیا جاتا ہے جسے بہت ہی معظم و محترم ہو نا چاہئیے ۔یہ وہ ذات ہے جس کے لئے مشہور ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث ہے "شیطان وہ راستہ چھوڑدیتا ہے جس راہ پر عمر جارہا ہو" ان ہی حضرت عمر فاروق اعظم اہلسنت کی سیرت پر حملہ کرنے کے لئے ان کے نادان دوستوں نے یہ قصّہ واہی مشہور کررکھا ہے ۔

یہ افسانہ اس قدر تہذیب سے گرا ہوا ہے کہ ہمارے نزدیک اگر عام مسلمان بھی ایسی شنیع حرکت کرے تو اس کی کم سے کم سزا سنگساری ہونا چاہئے اور میرے ذاتی خیال کے مطابق ایسے بد چلن شخص کو مسلمان ہی نہیں کہنا چاہیئے ۔تاریخ اسلام کے سلاطین میں یزید بن معاویہ ملعون بہت ظالم ،فاسق و فاجر اور بے دین حاکم گزا ہے ۔ مگر ایسا گھنونا کردار اس بدبخت کا بھی ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے ۔مگر افسوس


ہے ہمارے سادھے مسلمان بھائی حضرت عمربن خطاب جیسی بڑی شخصیت کی ذات سے یہ شرمناک کہانی منسوب کرکے ان کی رسوائی کے اسباب پیدا کرتے ہیں بلکہ بعض جہلا کو تو اس پر اصرار ہے کہ یہ قصّہ واہی سچا سمجھا جائے ۔

شیعہ وسنی اختلاف تو رہے ایک طرف محض اندرونی کشمکش کے باعث ہمیں اسلام اور بزرگان اسلام کی توہین دیگر اقوام سے کروانا زیب نہیں دیتا ہے محض شیعہ دشمنی کے باعث اتنا بڑا نقصان برداشت کرنا دانشمندی نہیں ہے ۔لہذا ہرکلمہ گو مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اپنے مقدس دین کی عزت وتوقیر کی حفاظت ملحوظ رکھے اور صرف ضد کی خاطر دین کا بیڑا غرق کرنے کی حماقت نہ کرے ۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہم شیعیان اہلبیت کے مذہبی عقائد میں حضرت عمر کا کوئی مقام نہیں ہے ۔ہمارے مذہب کے مطابق ان پر تنقید اور نکتہ چینی پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ہم حضرت عمر کو بحیثیت انسان ،سیاستدان خسر رسول (ص) اور حاکم المسلمین ایک محتاط ومدبر شخص سمجھتے ہیں ۔ ہم ان کی ذات پر ایسے رکیک حملے کرنا کبھی پسند نہیں کرتے ہیں اور ہمارے مذہبی وسیاسی اختلافات اپنی جگہ پر قائم ہیں اور ہمارے مسلمات اپنے مقام پر اٹل ہیں مگر جناب عمر بن خطاب کی شان ایسی مکروہ ومجنونانہ حرکات سے بلاشبہ بلند تھی ۔ہمیں مرنا ہے ۔خدا کے حضور جواب دہ ہونا ہے ۔ اپنے اعمال کا حساب خود دینا ہے ۔لہذا ہم ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ حضرت عمر پر لگائی گئی اس نازیبا تہمت سے ہمارا کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں ہے بلکہ ہم مسلسل ان کی صفائی دیتے چلے آرہے ہیں یہ سفید جھوٹ ہے جو ان سے منسوب ہوگیا ہے ۔


اس قصّہ کو ہم نے پہلے فرضی کہانی میں پیش کیا تا کہ ناظرین کو موضوع سخن میں اشارات وتشریحات کی احتیاج وضاحت نہ رہے ۔اور ذہن ابتدا نتائج مرتب کرنے پر تیار رہے ۔اب ہم افسانہ لکھیں گے طرز نگارش خالصتا افسانوی تو نہیں مگر نیم افسانوی اختیار کیا گیا ہے چونکہ فطرۃ مذہبی تحریروں کی عادت ہے ۔لہذا اس افسانہ کو معنوی لحاظ سے تو افسانہ سمجھ لیا جائے مگر ادبی میزان پر اس کا وزن معلوم نہ کیا جائے ۔ عبارت مضمون کی بجائے نفس مضمون پر توجہ مبذول کرانا مد نظر ہے لہذا مطالب ومفہوم کو حسن تحریر و انداز نگارش کی خامیوں پر فوقیت دینے کی التماس کی جاتی ہے ۔

اس افسانے کے کردار فرضی ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔معترض کی حیثیت سے ایک اینگلو انڈین طالبہ ایلزبتھ نامی کا کردار وضع کیا گیا ہے اور چند ابتدائی مکالموں میں ایسی گفتگو کو اینگلو اردو زبان میں لکھا گیا ہے ۔مگر بعد میں اس طریقہ کو ترک کردیا گیا ہے ۔اور عام فہم اردو زبان استعمال کی گئی ہے کیونکہ بعض وجوہات کے باعث ایسا کرنا مفید سمجھا گیا ہے ۔

اصلی عبارات کے تراجم پر اکتفا کیا گیا ہے مگر حوالہ جات مکمل نشان کروائے گئے تاکہ محققین کو دشواری پیش نہ آئے ۔افسانے کے بعد اس قصّہ کی حقیقت تاریخی اعتبار سے پیش خدمت کی گئی ہے ۔اور عقلا ، نقلا، روایتا، درایتا، رواجا، رسما، تہذیبا ،معاشرۃ،مذہبا اور تاریخا ہر جہت سے اس قصّہ واہی کا قصّہ پاک کردیا گیا ہے ۔


لہذا تمام اہل اسلام سے گزارش ہے وہ ان مندرجات پر خلوص نیت او رمنصف مزاجی سے غور فرمائیں اور تحفظ ناموس اسلام و اکابرین اسلام کی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے ایسے واہیات ،غیر معقول اور رسوا کن قصوں کو" الف لیلی کی داستان " سمجھ کر ٹھکرادیں اور پاک وپاکیزہ دین سے ان کا انسلاک کرکے اپنے ہی آرے سے اپنے شجر کو نہ کاٹیں ان قصوں کا نہ ہی تعلیمات اسلامیہ سے کوئی تعلق ہے اور نہ ان سے کسی افادیت کا پہلو نکلتا ہے ۔بلکہ سوائے بدنامی اور روسیاہی کے ان کے پلے اور کچھ نہیں ہے ۔

امید واثق ہے کہ یہ مختصر سی گفتگو مؤثر ثابت ہوگی اور تمام اہل اسلام اپنے سچے دین کی حقانیت ،رفعت شان اور سربلندی کے لئے اسلام کی بنیادی تعلیمات کی روشنی کو دنیا کے کونہ کونہ میں پھیلانے کے عزائم بلند رکھیں اور ایسے من گھڑت ،بے سروپا اور جھوٹے افسانوں کی تشہیر میں مقت ودولت کو ضائع نہ کریں گے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ہر مسلمان کے دل میں دین اسلام کی سچی محبت پیدا کرے اور کرہ ارض کے ہرگوشہ میں خدا کے دین حقہ کی حکمرانی ہو

والسلام

عبدالکریم مشتاق

٭٭٭٭٭


افسانہ

سرمنڈھاتے ہی اولے

افسانہ:-

مطلع ابر آلود ہے آج رات وکٹوریہ گرلز کالج کے ہوسٹل میں خلاف معمول سناٹا چھایا ہوا ہے خنک ہوا کے باعث ہوسٹل کی عمارت برف سے بھی یخ محسوس ہوتی ہے فضا میں دور دور تک بادلوں کے غٹ کے غٹ پھیلے ہوئے ہیں ۔ جنوری کا مہینہ بیت جانے کو ہے لیکن ابر رحمت کا ایک قطرہ بھی نہیں ٹپکا ہے ۔شاید آج قدرت کو باران رحمت برسانا منظور ہے ممکن ہے اسی وجہ سے فضا کی نچلی سطح پر سیاہ گہرے بادل امڈ رہے رہے ہیں اور اوپر کی سطح سیاہی مائل اور ہلکی سرمئی رنگت کی دکھائی دیتی ہے ۔تاریکی تیزی سے پھیل رہی ہے اور ریلیوں کی روشنیاں مدھم پڑتی جارہی ہے ۔

ہوسٹل میں طاری سکوت اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ طالبات سردی کی شدت سے محفوظ رہنے کی خاطر آج اپنی اپنی قیام گاہوں سے باہر آنا پسند نہیں کررہی ہیں ۔ اسی لئے کمرہ طعام ،گراؤنڈ اور کینٹین وغیرہ سب اجڑے اجڑے سے معلوم ہوتے ہیں کمروں کے دروازے اور کھڑکیاں بند ہیں ۔اوپر والی منزل کے کمرہ نمبر چار میں روشنی ٹیوب کی کرنیں باہر آرہی ہیں ۔ یکایک ایک مغربی وضع میں ملبوس لڑکی تیزی سے ہوسٹل کا صدر دروازہ کھولتی ہے اور جلدی جلدی اوپر آکر کمرہ نمبر ۴ پر دستک دیتی ہے کہ ادھر موسلادھار بارش شروع ہوجاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے جل تھا ہوجاتا ہے ۔

ایلزبتھ آج خلاف عادت سنجیدہ ہے اس نے ہیٹر کو اپنے قریب کرلیا اور اپنے بستر پر تکیہ کی ٹیک لگا کر گہری سوچ میں ڈوب گئی ہے ۔ دھندلی روشنی اور ہیٹر کی سرخی اس کے چہرے پر تردد اور فکر مندی کے آثار نمایاں کرتی ہیں ۔عالیہ


نے کافی کی تین پیالیاں تیار کر لی اور ایک پیالی عائشہ کو دیکر دوسری پیالی ایلزبتھ کو پیش کرتی ہے ۔

"نو بھئی آج ہمارا موڈ آف ہے "ایلزبتھ نے کہا ۔

عائشہ:- کیا ہوا آج تمھارے موڈ کو یہ سردی میں آئی ہو ۔پی لو مزاج ٹھیک ہوجائے گا ۔

ایلزبتھ کافی کا کپ لیتی ہے اور فلسفی طرز ادا سے چسکیاں لے لے کر پیتی ہے ۔باہر بادل گرج رہے ہیں اور بجلی چمک رہی ہے ۔اندر ایلزبتھ گرجدار آواز میں عائشہ پر برستی ہے جبکہ اس کا چہرہ غیض وغضب سے چمک رہا ہے ۔

"تم کیا ہر روز مجھ کو اپنے مذہب کی پریچ کرتی ہو اور اپنے دین کو ہمارے دین سے فائن بناتی ہو ۔ہم کو سب معلوم ہوگیا ہے تمھارا اسلام کیا ہے ۔ تم کس طرح کے نظام کو لانے چاہتے ہو ۔بس اب تم ہم سے ریلیجیس ٹاک مت کیا کرو"۔

عائشہ :- اوہ میم صاحب ! کیا ہو گیا جو آج س قدر لال پیلی ہورہی ہو کیا پتہ چل گیا آج تم کو ۔کچھ ہمیں بھی تو پتہ چلے ۔

ایلزبتھ:- بس ہم نے بولا نا کہ اب مذہبی ٹاک نہیں ہوگا اسی میں بہتری ہے ورنہ ہمارا فرینڈ شپ لوز ہوگا ۔کیا فائدہ ملے گا ۔جاؤ اب آرام کرو اور مجھے بھی سونے دو ۔

عالیہ خالی پیالیاں اٹھالے جاتی ہے اور اپنے بستر میں لحاف اوڑھ کر کسی کتاب کی ورق گردانی میں مصروف ہوجاتی ہے ۔

عائشہ کو ایلزبتھ کا یہ رویہ مایوس کن معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ مسلسل چھ ماہ سے ایلزبتھ کو دین اسلام کی تبلیغ کر رہی تھی اور اس محنت میں


کچھ کا میابیاں بھی حاصل ہوئی تھیں ۔مگر آج بارش کے دن تو اس کی محنت پر بھی پانی پھرتا نظر آرہا تھا بھلا اسے کیسے چین آسکتا تھا جب تک کہ وہ ایلزبتھ سے پوچھ نہ لے کہ اچانک ہوا کارخ کیسے تبدیل ہوگیا ۔ عائشہ ایلزبتھ کے پلنگ کے پاس پڑے ہوئے ہیٹر کے قریب اپنی کرسی لاتی ہے اور ایلزبتھ کا بازو پکڑ کر کہتی ہے ۔

"آخر ایسی بھی کیا ہے بے رخی یار ۔کچھ بتاؤ تو سہی آج کیا ایسی نئی بات تمھیں معلوم ہوگئی جو اس قدر برہم ہورہی ہو۔ میں تمھیں یقین دلاتی ہوں کہ میں برا نہیں مانوں گی ۔ڈونٹ وری ۔یہ ریسرچ ہے ،اگر تمھارا آب جکشن درست ہوگا تو ہم اسے مان لیں گے ۔ اور اگر تمھیں کوئی غلط فہمی ہوگئی ہو گی تو اس کو دور کرنے کی کوشش کریں گے " ہاں شاباش بتاؤ۔تمھیں ہماری قسم"۔

ایلزبتھ :- اچھا اگر تم مجبور کرتی ہو تو سنو ۔تم اپنے دین کو ہمارے سامنے بہت پاک پاکیزہ بتلاتی ہو اور ہم عیسائیوں پر عیش ونشاط کا الزام دہرتی ہو ۔مگر ہم نےمطالعہ کیا ہے کہ ہمارا جیس گرائسٹ عین عالم شباب میں یعنی بتیس سال کی عمر میں صلیب دیا گیا لیکن اس نے شادی تک نہ کی ہماری تننر اور پریسٹننر مجرد زندگی کرنا روحانیت کے لئے ضروری سمجھتے ہیں ۔ ٹھیک ہے ہمارا عام لوگ عیاش وشرابی ہے مگر ہمارے مذہبی فادرز تو بلند اخلاق کا نمونہ ہیں ۔

لیکن ہماری حیرت کا انتہا نہیں رہا ہے کہ تم مسلمان کا سردار عمر دی گریٹ اپنی نابالغ پرنواسی سے شادی رچا تا ہے اور اگر میں وہ سارا واقعہ کہوں تو آفریڈ ہوں کہ تم سخت فیل کروگی ۔جب تم لوگ کے پاپا کا کیریکٹر ایسا ہے تو پھر پبلک کیسا ہوگا ؟۔


عائشہ :- ہوں ، ں ۔ سمجھی تو تمھارا مطلب حضرت عمر فاروق اور حضرت ام کلثوم بنت علی کے نکاح سے ہے ناں ؟۔

ایلزبتھ :- او یس ۔ تھنک اٹ کہ حضرت عمر کی بیٹی حضرت حفصہ رسول اسلام کے حرم میں تھیں لہذا حضرت ام کلثوم حضرت حفصہ کی نواسی ہوئیں ۔تب حضرت عمر کا اپنی سوتیلی پر نواسی کو اولڈ ایج میں وائف بنانا ایسا ورسٹ واقعہ ہے جو کسی نوبل فیملی میں آج تک نہیں سنا گیا ہے ۔

عائشہ :- مائی ڈیئر ! یہ بات بظاہر درست ہے اور اس سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ۔کی انتہائی سبکی اور بے عزتی پائی جاتی ہے ۔یقینا جس وقت یہ نکاح ہو ا حضرت عمر فاروق عمر رسیدہ تھے ، اولاد کی نعمت بھی حاصل تھی اور بیویاں بھی موجود تھیں ظاہر ی اعتبار سے انھیں اس عقد کی چنداں ضرورت نہ تھی ۔مگر رسول اللہ صلعم سے انھیں کچھ ایسی وابستگی تھی اور کچھ ایسا والہانہ رابطہ تھا کہ وہ خاندان نبوت سے تعلق بڑھانے کے انتہائی متمنی تھے ۔ اس ارشاد پیغمبر نے ان کے ارادے اور ان کی طلب کو اور بھی قوت دے رکھی تھی ۔ خود (عمر) فرماتے ہیں ۔

"میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ (وآلہ)وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے دن کل نسبتی ،سببی ،اور صہری رشتے ٹوٹ جائیں گے ۔سوائے میرے نسب وسبب اور صہر کے ۔مجھے حضور سے نسب (قریشیت ) اور سبب (حفصہ کے نکاح کا تعلق)تو حاصل تھا ۔میں نے چاہا کہ یہ تعلق صہر بھی مجھے حاصل ہوئے ۔(استیعاب جلد ۳ ص۷۷۳ ذکر ام کلثوم)

حضرت امام زین العابدین(علیہ السلام) بیان کرتے ہیں کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہ سے ام کلثوم رضی اللہ عنھا کا رشتہ مانگا تو حضرت علی مرتضی نے کہا میں نے اپنے بھتیجے عبدا اللہ بن جعفر کے لئے رکھا ہو ا کہے ۔حضرت عمر


فاروق مہاجرین کے پاس (اور ایک دوسری روایت کے مطابق مہاجر اور انصار کے پاس)آئے اور کہا کہ مجھے مبارکباد کیوں نہیں دیتے ۔ انھوں نے پوچھا کس بات کی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ،نے فرمایا ۔ام کلثوم بنت علی جو حضرت فاطمہ کی بیٹی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ (وآلہ) وسلم کو یہ فرما تے سنا ہے کہ قیامت کے دن ہر نسب اور سبب منقطع ہو جائے گا مگر میرا نسب اور سبب ۔پس میں نے کہا کہ مجھے آنحضرت کے ساتھ نسب اور سبب دونوں حاصل ہوجائیں "۔

(یہاں سبب سے مراد سبب کامل ہے جو ایک طرف سے حضرت حفصہ کے ذریعہ اور دوسری طرف سے حضرت ام کلثوم کے ذریعہ صہری تعلق سے تکمیل پذیر ہو)

(مستدرک امام حاکم جلد ۳ ص ۱۴۲)

ہمارے امام بہیقی نس اکابر اہلبیت رسول کی سند سے حضرت عمر فاروق سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں کہ انھوں نے حضورکو فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے دن ہر تعلق صہر کا ہو ،یا سبب کا ، یا نسبت کا ہر ایک سلسلہ ٹوٹ جائے گا سوائے میرے صہری سببی اور نسبی تعلق کے مجھے آنحضرت سے نسبی ربط تو حاصل تھا میں نے چاہا کہ اس کے ساتھ مجھے حضور سےیہ سببی تعلق بھی حاصل ہوجائے "

(سنن کبری جلد ۷ ص ۱۱۴ مطبوعہ دکن ۔طبقات ابن سعد جلد ۸)

پس یہی وہ ایک وجہ تھی جس کے تحت حضرت عمر نے یہ نکاح کیا ۔ اس سے نہ ہی کوئی عیاشی مقصود تھی اور نہ ہی دنیوی غرض بلکہ استحکام تعلق سببی کی خاطر یا آنحضرت صلعم کے امتثال کی خواہش پر آپ نے یہ نکاح کیا ۔جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرق عمر کے باوجود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا ۔

ایلزبتھ :- یہ تو کوئی وجہ معقول نہیں ہے کیونکہ ابھی کچھ ہی روز قبل تم نے کہا تھا کہ اسلام میں رشتہ داری معیار فضیلت نہیں ہے بلکہ پرہیز گاری


بنیاد پر مراتب کے درجات بنتے ہیں ۔ مجھے یاد ہے کہ تم نے کہا تھا کہ رسول کے والدین بھی بوجہ غیر مسلم ہونے کے جہنمی ہیں اور آپ کے چچا جو مربی و سرپرست بھی تھے وہ بھی رسول کی رشتہ داری سے کوئی فائدہ نہ اٹھائیں گے اور ابو لہب کو بھی رسول کا چچا ہونا مفید نہ ہوگا ۔تو پھر اب یہاں وہ با ت اپلائی ( APPLY ) نہیں ہوتی ہے ۔ تم نے خود ہی کہا ہے کہ حضرت حفصہ حضرت عمر کی بیٹی رسول کے نکاح میں تھیں ۔کیا یہ سبب کافی نہ تھا ؟ تب کیا ضروری تھا کہ پیرانہ سالی میں تین بیویوں کی موجودگی میں اپنی سوتیلی پر نواسی سے شادی رچائی ۔یہ ایسا مکروہ واقعہ ہے جو کسی شریف خاندان میں کبھی سنا نہیں گیا ہے ۔معاف کرنا ۔اس بے جوڑ رشتہ کو دیکھر کوئی مہذب آدمی ایسا نہ ہوگا ۔جو حضرت عمر کو نفرت کی نگاہ سے نہ دیکھے ۔تم خود کوئی ایسی ایک ہی مثال ساری دنیا میں ڈھونڈ کردو کہ از آدم تا ہنوز کیا کوئی ایسا بے حیا اور بے غیرت شخص گزرا ہے ۔جس نے تین ازواج کی موجودگی میں اپنی بیٹی کی نواسی سے بیاہ رچا یا ہو ۔اور ایسی خلاف فطرت خواہش ظاہر کی ہوجو ننگ شرافت ہے ۔تو سل رسول والا خیال بھی مہمل نظر آتا ہے کہ یہ توسل آپ کے اولاد کے لئے سوچنے جو اس وقت جوان تھے ۔بڑھاپے میں کمسن بچی سے خود شادی کرلینا بڑی بے شرمی سی بات معلوم ہوتی ہے ۔

اور ہاں ابھی جو تم نے حوالہ دیا تو اس سے یہ بات سامنے آئی کہ بڑے میاں سو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ "یک نشد دو شد " ہم تو حضرت عمرکی حرکت نا زیبا پر متعجب تھے تم نے اپنے دوسرے بزرگ کو اس سے بھی زیادہ گرا ہوا بیان کیا کہ حضرت علی جس کو تم لوگ شیر خدا کہتے ہو اپنی بات کا اتنا کچا اور اپنے قول کا اتنا کمزور ہے کہ اپنے بھتیجے کو دیا ہوا رشتہ بلاوجہ توڑ کراپنی کمسن


بچی کی جوانی خراب کرنے کے لئے ایک بڈھے کھوسٹ کو دے دیتا ہے ۔ تاکہ بیچاری ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ضیعیف دولھا کی عمر کے دن گنتی ری ۔اگر تم لوگ کا اسلام ایسا ہی ہے اور اس کے بزرگ اس قسم کے کردار والے ہیں تو ایسے اسلام کو میرا دور ہی سے سلام ہے ۔

عالیہ جو اپنی مسہری پر لیٹی ان دونوں کی گفتگو غور سے سن رہی تھی اس کلام پر چونک اٹھی اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس کے کلیجے میں کسی شقی القلب نے زہر آلود خنجر گھونپ دیا ہے بے اختیار ہوکر اٹھی اور بے قابو ہو کر چلائی ۔

عالیہ :-( O .YOU SHUT UP ) یہ نہیں ہوسکتا کہ تم میرے پیشوا کی شان میں کوئی لفظ بے ادبی کا استعمال کرو ۔ اور میں اس کو خاموشی سے سن لوں یہ قصہ واہی ہے ۔نہ ہی حضرت عمر ایسے گرے ہوے انسان تھے اور نہ ہی حضرت علی علیہ السلام کا ایسا کردار تھا جیسا عائشہ نے بیان کیا ہے ۔ہمارا دین تہذیب اور اخلاق کا سرچشمہ ہے ۔اس کے قوانین فطری ہیں ۔مسئلہ ازدواج یہ کہ خدانے اپنی کتاب میں ان عورتوں کا بیان کیا ہے جس سے نکاح حرام ہے ۔بے جوڑا اور غیر ہم پلہ رشتہ داریوں سے اشارۃ منع کیا ہے اور یہ ممانعت حکم عدل میں مضمر ہے ۔ظاہر ہے کہ ایک ساٹھ سالہ بزرگ تین ازواج کی موجودگی میں صغیر سن بیوی سے عدل کرہی نہیں سکے گا ۔پس حضرت عمر قرآن کے اس حکم سے اگر واقف تھے تو پھروہ ایسی غلطی کیسے کرسکتے تھے ۔ توبہ توبہ مس عائشہ نے تو اوپر یہ بھی بیان کر دیا کہ حضرت عمر یہ شادی رچا کر لوگوں کے مجمع میں آگئے اور زبر دستی مبارکباد یاں قبول کرنے کی خواہش فرمائی ۔حالانکی کوئی بھی شریف النفس انسان اس طرح کی حرکت کرتا نظر نہیں آئے گا چہ جائیکہ حضرت عمر پر ایسے دیوانہ پن کا


الزام لگایا جائے صاحب عقل اور آشنا ئے تہذیب وتمیڑ اس شخص کو صحیح الداماغ سمجھے گا جو ساٹھ سال کی عمر میں اپنی صغیر سن پر نواسی سے شادی رچا کر بازاروں میں لوگوں سے مطالبہ کرتا پھرے کہ اس شادی پر اسے مبارک باد پیش کرو ۔کیا یہ اپنے جرم کی رسوائی نہ ہوگی ؟ یہ تمام قصہ واہیات ہے اور اس کا حقیقت ہے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔

عائشہ :- نہیں مس عالیہ یہ محض تمھارا قیاس ہے اور محض ذاتی نظرئیے سے روایات کا ابطال نہیں ہوسکتا ہے جبکہ ایسی روایات تم شیعوں کی کتابوں میں بھی ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ یہ نکاح ہوا ۔

عالیہ :- دیکھئے بہن ۔ہم شیعہ تو ایسے اتہام کو گالی گلوج میں شمار کرتے ہیں ۔ہمارے نزدیک جناب ام کلثوم بنت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نہ ہی حضرت میں آئیں اور نہ ہی آسکتی تھیں ۔کوئی بھی صاحب عقل سلیم اس بات کو قبول نیں کرتا کہ حضرت عمر جیسا زیرک شخص ایسا خود رفتہ ہو کہ سن و سال اور فطرت سب کا خیال برطرف کرکے ایسے بے جوڑ ازدواج کی طرف متوجہ ہوا ۔

آپ لوگوں کو ہم پرشکوہ ہے کہ ہم حضرت عمر کو اچھا نہیں سمجھتے لیکن آپ لوگ خود اس بات کو فرض کرکے حضرت عمر کی سیرت پرایسا دھبہ لگاتے ہیں کہ اگر ہم اس کو اپنی زبان پر لائیں تو آپ برا مان جائیں ۔بہتر یہ ہے کہ اس قصّہ کو ترک کردیجئے ۔ورنہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اپنی معروضات پیش کروں ۔

عائشہ :- تم بڑے شوق سے اپنے خیالات کا اظہار کرو ۔مگربلا نفسانیت اور طعن وتشنیع۔

عالیہ:- میں پوری کوشش کروں گی کہ رواداری سے بعد اختیار نہ ہو اور تمھارے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہ لگے ۔تاہم اگر دوران گفتگو کوئی کلام ناگوار


گزرے تو افہام وتفہیم کی خاطر درگزر کرلینا ۔بڑی مہربانی ہوگی ۔جان من! یہ قصّہ ایسا بے ہودہ اور ناگفتہ بہ ہے کہ اگر معاذاللہ تمھارے کہے سے صحیح مان لیا جائے تو اسلام کے دوبڑے ارکان کی سیرت داغدار ہوجاتی ہے اور ان کی ایسی توہین وتذلیل ہوتی ہے کہ جو شخص سنے گا وہ ان کے کردار بلکہ نام سے بھی نفرت کرے گا ۔جس کی ایک زندہ مثال مس ایلزبتھ تمھارے سامنے بیٹھی ہے ۔اگر تم واقعی اس قصّہ واہی پر زور دینا چاہتی ہو تو پھر تمھیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ حضرت عمر ایک بڑے بے حیا ،بے غیرت اور حرصی ہوس پرست آدمی تھے انھوں نے اپنی آخری عمر میں ایسے غیر معقول کا م کی خواہش کی جس کا تصور کرنا بھی ذلالت ہے ۔اب اگر پہاڑ کو کھودنا ہی چاہتی ہو تو اس سے بر آمد ہونے والا چوہا بھی نرالا ہوگا ۔غیر مسلمانوں کے لئے تو یہ بحث ناٹک ہوگا ۔ یعنی سنی المذہب لوگ جو حضرت عمر کا بڑا عالی وقار ،بلند خیال اور پاکیزہ کردار اعتقاد کرتے ہیں جب اس بات کو ثابت کریں گے تو یہ کوشش حضرت عمر کو بد ترین بے حیا اور انتہائی بے غیرت ثابت کرنے کی ہوگی کہ ایسے سفیہ النفس تھے کہ جس لڑکی کو ان کی بیٹی نواسی کہتی تھی اس سے ساٹھ سا ل کی عمر میں شادی کی خواہش تھی جبکہ شیعہ جن پر دشمن عمر ہونے کا الزام ہے وہ اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کریں کہ حضرت عمر ایسے برے آدمی نہ تھے ۔تم خود غور کرو ۔اگر آج کوئی نیچ سے نیچ قوم کا بڈھا بھی اپنی بیٹی کی نواسی سے بیاہ کرنے کی خواہش کا اظہار کردے تو لوگ اس کو کیا کہیں گے ؟

اگرنعوذ با للہ یہ قصّہ سچ ہے تو حضرت حفصہ پر بھی افسوس ہے کہ انھوں نے اپنے پدر بزرگوار کو یہ نہ سمجھایا کہ ابا جان آپ کی مت کیا ہوئی کہ میری نواسی سے شادی کرتے ہوئے کچھ بھی حیا نہیں آتی۔ایسی بے ہودگی نہ صرف ہند وپاکستان


میں قابل مذمت ہے بلکہ اہل عرب میں بھی یہ بات سخت مذموم ہے اور پھر جب ہم ان روایات کو دیکھتے ہیں تو اور بھی رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں اور حضرت عمر کے خلاف نفرت کے جذبات مین تیزی سے اضافہ ہوتا ہے ۔


میں کیا کروں رام مجھے بڈھا مل گیا

عائشہ:-ایسی روایات کونسی ہیں؟۔

عالیہ :- وہ ایسی توہین آمیز روایات ہیں کہ جن کو بیان کرنا بھی مانع شرم وحیا ہے لیکن اس بے ہودگی کی وضاحت اور ان موضوع روایات کی حقیقت روایت ودرایت کے انکشاف کے لئے میں تمھیں چند منقولہ حوالہ جات اپنی ڈائری سے پڑھوادیتی ہوں ۔ انھیں پڑھ کر خود فیصلہ کرنا کہ اس نکاح کے قائل سنی حضرات کتنی زبردست گستاخی شان عمر میں کرتے ہیں ۔

عالیہ اٹھتی ہے اور اپنے صندوق سے ایک ڈائری نکال کر لاتی ہے اور مطلوبہ صفحہ نکال کر عائشہ کی طرف بڑھا کر دعوت مطالعہ دیتی ہے اور کہتی ہے اس کا مطالعہ آرام سے کرو ۔باقی گفتگو کل ہوگی ۔ڈائری میں مرقوم ہے کہ

بے ہودہ روایات:-

ا:- حضرت عمر نے حضرت علی سے ان کی دختر ام کلثوم کا رشتہ طلب کیا ۔حضرت علی نے فرمایا ابھی وہ کمسن ہے پس عمر نے کہا نہیں خدا کی قسم ایسا نہیں ہے بلکہ آپ مجھ کو رشتہ نہیں دینا چاہتے اگر وہ کمسن ہے تو اس کو میرے پاس بھیجدو ۔پس حضرت علی نے ام کلثوم کو بلا کر ایک پوشاک دی اور کہا یہ عمر کے پے لے جاؤ اور ان سے کہہ دو میرے والد کہتے ہیں کہ یہ پوشاک کیسی ہے ؟ پس وہ پوشاک لے کر عمر کے پاس آئیں اور پیغام دیا تو عمر نے ام کلثوم کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ۔ام کلثوم نے کہا میرا بازو چھوڑ دو ۔پس انھوں نے چھوڑ دیا اور کہا بڑی اچھی پاکدامن لڑکی ہے جاکر باپ سے کہدے کہ کتنی حسین اور کتنی خوبصورت ہے ایسی نہیں ہے جیسا کہ تم نے کہا تھا ۔ پس پھر علی نے ام کلثوم کی عمر سے شادی کردی (ذخائر العقبی ص ۱۶۸)۔


۲:- عمر نے ام کلثوم کارشتہ کیا تو انھوں نے کہا وہ ابھی چھوٹی بچی ہیں ۔عمر نے کہا کہ میری اس سے شادی کردیں ۔ میں اس کی فضیلت طلب کرنا چاہتا ہوں جس کو کوئی بھی طلب کرنے والا نہیں ۔حضرت علی نے کہا میں ام کلثوم کو تمھارے پاس بھیجتا ہوں اگر تم اس کو پسند کرلو تو میں نے اس کی شادی تم سے کردی ۔پس حضرت علی نے اس کو ایک چادر دے کر بھیجا اور کہا اس سے کہدینا کہ یہی و ہ چادر ہے جو میں نے تم سے کہی تھی ۔ام کلثوم نے جا کر عمر سے یہ بات کہی تو عمر نے کہا ،اللہ تم سے راضی ہو میں نے پسند کر لی ۔پس عمر نے ام کلثوم کی پنڈلی کی طرف ہاتھ بڑھا یا اور اس کو کھول دیا ۔ ام کلثوم نے کہا تم ایسا کرتے ہو اگر تم امیر المومنین نہ ہوتے تو میں تمھاری ناک توڑ دیتی پھر ام کلثوم واپس گئیں اور حضرت علی سے واقعہ بیان کیا اور کہا آپ نے مجھے بد کار بڈھے کی طرف بھیج دیا ۔حضرت علی نے فرمایا ۔اے بیٹی وہ تمھارا شوہر ہے ۔پھر مہاجرین کی محفل میں آئے اور کہا مجھے مبارک کہو ۔انھوں نے کہا کس لئے ؟ کہا میں نے ام کلثوم بنت علی سے شادی کرلی ۔(استیعاب جلد ۴ ص ۴۶۷)

عا ئشہ جوں جوں راویات پڑھ رہی ہے فرط ندامت سے پانی پانی ہورہی ہے دل ہی دل میں کڑھتی ہے اس کا ضمیر ضمیر بار بار اسے جھنجھوڑ رہا ہے کہ اگر واقعی یہ بزرگ اس کردار کے تھے تو ان کو ہرگز ہرگز مذہبی پیشوا تسلیم نہیں کرنا چاہئیے ۔بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک باپ ایسا بے غیرت ہو کہ اپنی صغیر سن بیٹی کو خود ہی ایک بڈھے امیدوار کے گھر بھیجدے کہ وہ امتحان کرے ۔ توبہ توبہ یہ گھٹیا حرکت تو کوئی رذیل سے رذیل بھی کرنے پر موت کو ترجیح دینا گوارہ کریگا چہ جائیکہ اسلام کے مہروماہ بزرگ کے بارے میں ایسا اتہام تجویز کیا جائے اور پھر وہ شخص جو ضعیف العمری میں نابالغ لڑکی سے بیاہ کرنے پر ضد ہے کسقدر درندہ صفت اور کمینہ ہے کہ معصوم بچی سے نازیبا حرکت کر رہا ہے جبکہ ابھی تک وہ اس کے حبالہ عقد میں بھی نہیں ۔الامان ۔ایسا کردار ہمارے پیشواؤں کا ہرگز نہیں ہوسکتاہے ۔

اسی خیالی کشمکش میں عائشہ ورق گردانی کر رہی ہے اور اب وہ تیسری روایت دیکھ رہی ہے ۔اس کو یہ بھی خدشہ ہے کہ اگر کہیں ایلزبتھ یہ کار وائی پڑھ لے گی تو ہاتھ آیا شکار لمحہ بھر میں نکل جائے گا ۔ساری محنت اکارت ہوگی تاہم وہ ذہنی خلفشار میں گرفتار مطالعہ میں مصروف ہے ۔

۳:- عمر بن خطاب نے حضرت علی سے ام کلثوم کا رشتہ مانگا تو انھوں نے کہا کہ وہ صغیرہ ہے ۔حضرت عمر سے کہا گیا کہ حضرت علی نے آپ کو رشتہ دینے سے جواب دے دیا ہے پس انھوں نے پھر طلب کیا تو حضرت علی نے کہا میں ام کلثوم کو تمھاری طرف بھیجوں گا اگر تم کو پسند آگئی تو وہ تمھاری بیوں ہے پس علی نے ام کلثوم کو بھیجدیا اور عمر نے ان کی پنڈلی کھولی ۔ام کلثوم نے کہا ہٹ جا اگر امیر المومنین نہ ہوتا تو میں تیری آنکھوں پر تھپڑ ماردیتی (اصابہ جلد ۲ ص ۴۶۲)

اس روایت کے پڑھنے پر عائشہ کو ان ظالم حکمرانوں کا خیال آتا ہے جو


رعایا کی بہو بیٹیوں کو اپنی خواب گاہوں کی زینت بنا نے کے لئے بزور شمشیر اغوا کرلیتے تھے اور اسی طرح کا کردار اسے اپنے خلیفہ دوم فاروق اعظم کا نظر آتا ہے کہ لڑکی کا باپ بوجہ صغیر سنی رشتہ دینے سے گریز کر رہا ہے اور وہ مجبور کررہے ہیں ۔لاچار باپ درندہ صفت حاکم کے محل میں اپنی بیٹی روانہ کرتا ہے اور وہ ننگ شرافت اس بچی کی پنڈلی کھول کر جبر کرنے کا ارادہ کرتا ہے کہ بچی کراہیت شدید کر کے مزاحمت کرتی ہے اور اعتراف کرتی ہے کہ اگر تو بادشاہ نہ ہوتا تو تجھے تھپڑ رسید کردیتی ۔ کیا اسلامی تعلیمات یہی ہیں جو اسلام کے دو رہنماؤں کے کردار وں سے اس روایت کے مطابق ظاہر ہوتی ہے اگر یہی اسلام ہے تو پھر کفر اس سے لاکھ درجے اچھا ہے ،یقینا یہ حکایات موضوع اور بے ہودہ ہیں ۔

ایسے ہی ذہنی چڑھاؤ میں مبتلا عائشہ اگلی روایت کا مطالعہ کرتی ہے ۔

۴:-عمر بن خطاب نے حضرت علی سے ان کی بیٹی ام کلثوم کا رشتہ طلب کیا تو انھوں نے کہا اے امیر المومنین ابھی وہ بچی ہے عمر نے کہا کہ خدا کی قسم ایسی بات نہیں مگر مجھے علم ہے کہ آپ کے دل میں کیا ہے ؟پس علی نے حکم دیا او ربچی کو سجا یا سنورا گیا اور ایک چادر اس کو اوڑھائی گئی اور آپ نس کہا خلیفہ سے جاکر میرا سلام کہہ دے اور کہہ دے اگر یہ چادر پسند آئے تو رکھ لو ۔ ورنہ واپس کردو جب وہ بچی آئی تو عمر نے کہا اللہ تجھ میں اور تمھارے باپ میں برکت لائے ہمیں پسند ہے ۔پس وہ باپ کے پا س واپس گئی اورکہا اس نے چادر نہیں کھولی بلکہ مجھے دیکھا پس آپ نے اس کی شادی کردی ۔اور اس سے ایک لڑکا زید پیدا ہوا ۔(طبقات ابن سعد جلد ۸ ص ۴۶۴)

عائشہ نے محسوس کیا کہ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑکی کا باپ رشتہ دینے پر دل سے آمادہ نہیں ہے ۔بہر حال اگلی روایت پڑھتی ہے


۵:- حضرت علی نے حکم دیا اور ام کلثوم کو آراستہ کیا گیا اور حضرت عمر کے پاس بھیجا گیا جب عمر نے اس کو دیکھا تو کھڑے ہوگئے اور لڑکی کو اپنی آغوش میں لے لیا اور بوسے دیئے اور دعا کی اور جب وہ اٹھنے لگی تو پنڈلی سے پکڑ لیا اور کہا ۔باپ سے کہدینا میں بلکل راضی ہوں جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس آئی اور ان کو سارا واقعہ سنایا تو علی نے ان کا نکاح عمرسے کردیا ۔(صواعق محرقہ جلد ۱ ص ۱۵۹)

یہ روایت دیکھ کر عائشہ اس عالم میں نظر آرہی ہے اگر زمین جگہ دے تو زندہ دفن ہوجائے ۔فاروق اعظم کی کتنی شرمناک انداز میں توہین کی گئی ہے ایسی رنگ رلی تو محمد شاہ رنگیلے کے باب میں بھی نہیں مل سکتی ہے ۔ امیر المومنین خلیفہ المسلمین ،صحابی رسول ساٹھ سالہ بزرگ ایک غیر محرم نابالغ بچی کو نکاح کرے بغیر گودہی میں کھینچ کر بو س و کنار کرتا ہے پھر پنڈلی کی طرف دست درازی کرتا ہے یہ خلیفہ راشد کا کردار ہے یا کسی اوباش وعیاش فاسق وفاجر بادشاہ کی بد کرداری کا نمونہ ہے ۔

۶:- جب عمر نے علی سے رشتہ مانگا اور کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ مجھے بھی رسول خدا کا نسب وسبب حاصل وہ تو علی نے حسن اور حسین سے کہا تم اپنی بہن کی شادی اپنے چچا عمر سے کردو ۔انھوں نے کہاوہ عورت ہے اپنے لئے خود اختیار کرےگی ۔پس علی غصّہ میں کھڑے ہوگئے اور حسن نے ان کا کپڑا پکڑ لیا اور کہا اے ابا جان آپ کی ناراضگی ناقابل برداشت ہے پس حسن وحسین نے ام کلثوم کی شادی کردی ۔(صواعق محرقہ ص۱۵۵)

عائشہ نے اس روایت کا جھوٹ خود ہی اپنی عقلی مہارت سے تلاش کرلیا کیونکہ نابالغ بچی یا بالغ عاقلہ عورت کے نکاح کااختیار شرعی ولی کو ہے ۔ کوئی عورت اپنے


شرعی ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کرسکتی جیسا کہ امام مالک نے موطاء میں لکھا ہے جب ام کلثوم کے شرعی والی یعنی والد حضرت علی خود موجود تھے تو ان کو حسن وحسین سے شادی کی درخواست کرنے کی کیا ضرورت تھی جبکہ شرعا تزویج حق ان ہی کا تھا ۔ اس دلیل پر عائشہ نے اس روایت کو مردود ٹھہرایا ۔ اور اگلی روایت کا مطالعہ کیا ۔

۷:- عمر نے علی سے ان کی بیٹی ام کلثوم بنت فاطمہ کارشتہ طلب کیا علی نے کہا مجھ پر کچھ امراء ہیں ۔ ان سے اجازت مانگ لوں پس آپ اولاد فاطمہ کے پاس آئے اور ان سے تذکرہ کیا انھوں کہا شادی کردیں ۔آپ نے ام کلثو م کو بلایا جبکہ وہ صبیہ (نابالغ بچی)تھیں ۔ اور کہا جاکر عمر س ے کہدے کہ میں نے تیری مطلوبہ حاجت پوری کردی ۔جب ام کلثوم یہ پیغام لے کر عمر کے پاس گئیں تو انھوں نے ام کلثوم کو پکڑ کر سینہ سے چمٹا لیا اور کہا میں نے اس کے باپ سے رشتہ مانگا تھا تو انھوں نے اس سے میری شادی کردی (ذخائر العقبی ص۱۶۹)۔

عائشہ اس بے سروپا روایت پر سیخ پا نظر آتی ہے ۔ پیچ و تاب کھائی ہوئی غور فکر میں مصروفہے اس نے سوچا کہ کبھی اولاد کو بھی کوئی باپ امراء کہتا ہے حضرت علی کو کیا ہوا جو اولاد فاطمہ کو امراء کہکر خلاف اخلاق بات کررہے ہیں ۔پھر جب شادی پر رضا مندی ہوگئے تو محض رضامندی نکاح کے لئے کافی نہ ہوگی بلکہ صیغہ ایجاب وقبول رکن ہیں ۔ گواہوں کی موجودگی ضروری ہے لیکن یہاں بلا عقد ہی لڑکی روانہ ہوگئی اور دولھا صاحب بغیر نکاح ہی لڑکی کو سینے سے چمٹاکر شادی کا اعلان کررہے ہیں ۔ یہ بالکل بکواس ہے کیونکہ حضرت فاروق شرعی مسائل سے واقف تھے اور ایسا وہ نہیں کرسکتے تھے ۔ یہ قطعا جھوٹ ہے ۔


نتائج

صحاح ستّہ کی خاموشی:-

رات کافی گزر چکی ہے بارش بھی تھم گئی ہے عالیہ اور ایلزبتھ دونوں اپنی اپنی مسہریوں پر گھوڑے بیچ کر سوچکی ہیں ۔

عائشہ بھی اب تھکن محسوس کر رہی ہے اسے صبح کالج بھی جانا ہے ۔ لہذا وہ ڈائری کر سرہانے رکھ دیتی ہے اور کمرہ کی ٹیوب بند کرکے سونے کی تیاری کرتی ہے ۔لیکن آج اس کی نیند اڑی ہوئی لگتی ہے ۔ذہن پر ایک بوجھ محسوس ہوتا ہے سونا چاہتی ہے مگر سونہیں سکتی کروٹ بدلتی ہے مگر کسی کروٹ بھی نیند آنے کا نام نہیں لیتی وہ سوچ وبچار میں غرق ہوجاتی ہے ۔اسے احساس ہوتا ہے کہ ہماری صحاح ستہ میں تو اس نکاح کا کہیں ذکر تک نہیں ملتا ہے حالانکہ حضرت عمر کے فضائل اور مناقب سے یہ چھ کتابیں بھر پور ہیں مگر ایسا واقعہ کسی جگہ نہیں مل جاتا ہے وہ جی میں ہی جی میں ان منقولہ روایات کا سرسری جائزہ لے رہی ہے اور اس کے ذہین میں یہ نتائج پیدا ہوئے ہیں کہ

عمر نے علی کو جھوٹا قراردیا :-

(ا) :- حضرت عمر ساٹھ سال کی عمر میں حضرت علی سے ایک کمسن اور بروائتی صبیہ یعنی دودھ پیتی بچی کا رشتہ طلب کرتے ہیں حضرت مرتضی یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ وہ بچی ابھی چھوٹی ہے شادی کے لائق نہیں ہے مگر خلیفہ باپ کو جھٹلا دیتے ہیں اور خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے بلکہ تمھارے دل میں اس سے واقف ہوں یعنی قسم کھا کر حضرت عمر نے حضرت علی جھوٹا قراردیا ہے جبکہ دونوں بزرگ ایک دوسرے پر کامل بھروسہ رکھتے تھے حسب العقیدہ ۔


انوکھی شادی:-

(ب) :- پھر یہ شادی بھی بڑی انوکھی ہے ۔عقد نکاح کے لئے کوئی محفل مسنون منعقد نہ ہوئی اکابر صحابہ مہاجرین وانصار میں سے کسی کو مدعو نہیں کیا جاتا ہے بلکہ شرفاء کی عادت کے خلاف باپ کہہ رہا ہے کہ میں لڑکی کو تمھارے ہاں روانہ کروں گا ۔اگر تم نے پسند کر لی تو وہ تمھاری بیوی ہوگی ۔استغفر اللہ ایسی بے غیرتی تو ایک گھسیارہ بھی نہیں کرسکتا ہے اور پھر اسلامی تعلیمات کے مطابق تو یہ طریقہ شادی قطعا لغو اور باطل ہے ۔

بلا نکاح دست درازی :-

(ج):- اف اللہ ۔توبہ ،توبہ ۔یہ پہلو کسقدر شرمناک ہے کہ ایک اسلامی خلیفہ ،صحابی رسول ،غیر شرعی طور پر ایک نامحرم ،نابالغ خاندان رسول کی بچی سے دست درازی کررہا ہے ۔بازو کھینچتا ہے ، پنڈلی کھولتا ہے ، سینے سے چمٹا تا ہے ، بو س وکنار کرتا ہے ، وہائی ہے ۔۔۔۔۔۔ اس وقت آسمان کیوں نہ گرگیا ۔ زمین شق کیوں نہ ہوئی ۔جب وہ معصوم بچی غصّہ میں آکر کہتی ہے کہ اگر تم بادشاہ نہ ہوتے تو تمھاری ناک توڑ دیتی ۔یا آنکھ پھوڑ دیتی ۔

مجرمانہ حملہ :-

(د) :- حاکم بدھن اگر یہ ساری روایات صحیح ہیں تو پھر یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ حضرت عمر نے ساٹھ سال کی عمر میں ایک محرم ،کمسن بچی پر مجرمانہ حملہ کیا اور اگر کوئی دوسرا فرد ایسا کرتا تو اس کو عبرت ناک سزا دی جاتی مگر جب حاکم وقت نے یہ وحشیانہ قدم اٹھایا تعزیری کا روائی ساکت رہی ۔ان روایات سے تو صریحا حضرت عمر کا ظالم ۔فاسق وفاجر ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ایسے فحش الزامات ک موجودگی میں تو واقعہ و بیاہ کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے ٹھیک ہے جو عالیہ اس نکاح کی منکر


ہے تو وہ ہرگز غلطی پر نہیں ہے لیکن اب ایلزبتھ کو کیسے مطمئن کیا جائے ۔

عائشہ ان ہی خیالات میں کھوئی رہی کہ رات بیت چکی ۔صبح کی آذان ہوئی عالیہ بھی بیدار ہوئی اور ایلزبتھ بھی جاگ گئی ۔عائشہ وعالیہ نے اپنے اپنے طریقوں سے نماز فجر ادا کی اور کالج جانے کی تیاری کرنے میں مصروف ہوگئیں ۔مگر عائشہ کے چہرے پر بے خوابی پوری طرح جھلک رہی ہے ۔اس میں وہ پہلے سا انہماک نہیں پایا جاتا ہے ۔سکون و آرام کا بہترین ذریعہ تو نیند ہی ہوتا ہے اگر نیند غائب ہوجائے تو قرار باقی نہیں رہتا ہے ۔عالیہ عائشہ کا روگ سمجھتی ہے مگر دونوں کی خواہش یہ ہے کہ ایلزبتھ سے یہ کیفیت پوشیدہ رکھی جائے ۔اترا چہرہ ، آنکھوں کی سوجن ،پیشانی پر شکنیں، اڑی رنگت ۔الجھے بال ،پریشان حال دیکھ کر ایلزبتھ نے عائشہ سے پوچھا ۔

ایلزبتھ :- مس عائشہ کیا بات ہے آج بہت وریڈ دکھائی دیتی ہو ؟

عائشہ :- نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ۔بس یونہی رات کو نیند پوری نہیں ہوئی طبیعت بوجھل سی محسوس ہوتی ہے ۔تم لوگ ایسے سوئے کہ آنکھ جھپک کر بھی نہ دیکھا ۔

ایلزبتھ :- کوئی ہم سے ناراضگی تو نہیں ؟۔

عائشہ :- نہیں نہیں قطعا نہیں تم جیسی سویٹ دوست سے بھلا کس طرح ناراضگی ہوسکتی ہے ۔

عالیہ :- واقعی عائشہ تمھارا چہرہ علیل دکھائی دے رہا ہے ۔ویسے بھی باہر سردی ہے اور آج کالج میں پڑھائی ہونے کا امکان کم ہی نظر آتا ہے تم تو آج آرام ہی کرو ۔چھٹی لے لو ۔

عائشہ :- یہ تم نے دل کی بات کہی ۔میرا بھی ایسا ہی ارادہ تھا ۔ تم میری عرضی دیدینا ۔


عالیہ اور ایلزبتھ اپنی اپنی کتابیں تیار کرتی ہیں اور ناشتہ وغیرہ کرنے کے بعد کالج روانہ ہوجاتی ہیں عائشہ پر اب نیند کا غلبہ ہے ۔وہ کمرے کا دروازہ بند کرکے لحاف اوڑھ کر سوجاتی ہے ۔اور دو تین گھنٹے کی کچی نیند لینے کے بعد بیدار ہوتی ہے اور رات والی ڈائری کا پھر سے مطالعہ شروع کردیتی ہے اب وہ ان روایات کی تحقیق کرنا چاہتی ہے ، اور ان کے راویوں کا اقتدار معلوم کرنے کی خواہشمند ہے ۔

روایوں کا اقتدار :-

اس نے دیکھا کہ روایت نمبر ۱ کو ابن اسحاق نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت کیا ہے ۔

محمد بن اسحاق :-

جس کی روایت ذخائری العقبی میں درج ہے اس کے بارے میں یحیی قطان نے کہا ہے کہ "اسحاق کذاب ہے " ۔مالک نے کہا "ابن اسحاق دجّال ہے "۔ سلیمان تمیمی نے کہا "ابن اسحاق کذاب ہے "۔ دار قظنی نے کہا کہ قابل احتجاج نہیں لے ۔(میزان الاعتدال جلد ۳ ص ۲۱)

روایت نمبر ۲ کو ابو عمرو نے زبیر بن بکار سے روایت کیا ہے ۔

زبیر بن بکار:-

زبیر بن بکار حدیث گھڑتا تھا اس کی حدیث ناقابل قبول ہے (میزان الاعتدال جلد ۱ ص ۳۴۰)

تیسری نمبر ۳ روایت سفیان نے عمرو بن دینار سے روایت کی ہے ۔

عمرو بن دینار:-

امام احمد نے کہا ہے کہ ابن دینار ضعیف ہے ۔امام نسائی اور مّرہ نے بھی ضعیف کہا ہے ۔(میزان الاعتدال جلد نمبر ۲ ص ۲۸۷)

چھوتھی نمبر ۴ روایت ابن سعد نے محمد بن عمر واقدی سے روایت کی ہے ،

محمد بن عمرواقدی:-

امام نسائی نے کہا ہے کہ واقدی کذاب ہے اور بغداد میں اپنی کذب بیانی کی وجہ سے مشہور ہے (تہذیب التہذیب جلد ۹ ص ۳۶۶)


امام بخاری نے کہا ہے کہ واقدی متروک الحدیث ہے ۔مرّہ نے کہا ہے کہ واقدی کوئی شے نہیں ہے یحیی بن معین نے کہا واقدی ضعیف ہے ۔ابن مدائنی کا قول ہے کہ واقدی کی بیس ہزار حدیثیں بے اصل ہیں ۔امام شافعی نے کہاواقدی کی تمام کتب جھوٹ کا انبار ہے اسی واقدی کی کتابوں یورپین حضور کی شان میں گستاخیاں کرنے کا مواد تلاش کیا ہے اور اسکی فضولیات اورلغو باتوں سے اسلام کو نقصان پہنچا ہے ۔(روزنامہ امروز لاہور ص ۱ ۱۹ اپریل سنہ ۱۹۷۸ عیسوی)

پانچویں روایت کی سند معلوم نہیں ہے چھٹی روایت بہیقی کی ہے جس پر جرح کی جاچکی ہے اسی طرح ساتویں روایت پر بھی بحث ہوچکی ہے یہ روایت عموما مجہول الحال رواۃ سے مروی ہیں جن کے احوال بھی کتب رجال میں نہیں ملتے ہیں مثلا ابن سعد نے انس بن عیاض لیثی ۔عمار بن ابی عامر ،۔ابو حصین اور ابو خالد اسماعیل وغیرہ سےروایت کی میزان ا عتدال میں ان تمام روایوں کو مجہول الحال لکھا گیا ہے ۔ملاحظہ کریں میزان الاعتدال جلد ۳ ص ۳۹۵۔

اسی طرح ہشام بن سعد بھی راوی ہے جسے نسائی نے ضعیف کہا ہے (میزان الاعتدال جلد ۳ ص ۲۵۴) ۔اسماعیل بن عبدالرحمان سدی کو یحیی بن معین نے ضعیف لکھا ہے ۔لیث نے کاذب قرار دیا ہے ۔(میزان الاعتدال جلد ۲ ص ۱۱۰) عطا بن مسلم خراسانی کو بخاری نے ضعیف قرار دیا ہے ۔اس کی حدیث سے احتجاج باطل ہے ۔(میزان الاعتدال جلد ۲ ص ۱۱۹) عبید اللہ بن موسی کوامام احمد بن حنبل صاحب تخلیط کہا ہے ۔اس کی حدیث بری ترین ہیں (میزان الاعتدال جلد ۲ ص ۱۷۰) عبدالرحمان بن زید


بن اسلم کو امام نسائی نے ضعیف کہا ہے ۔(میزان الاعتدال جلد ۲ ص ۱۰۵)

اسی طرح ابن شہاب زہری کا ناصبی ہونا اور دشمن علی ہونا مشہور ہے ا لغرض یہ واقعہ ناقابل اعتبار روایوں کی روایات پر انحصار کرتا ہے جن کا علم رجال کی روشنی میں حال بیان کیا گیا ہے ۔یہ احوال پڑھ کر عائشہ دل سے مطمئن ہے کہ یہ بے بنیاد روایات محض صحابہ کی زبر دست توہین اور ہتک اسلام کرنے کے لئے دشمنان دین نے گھڑی ہیں اور ان کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق ثابت نہیں ہوتا ہے ۔اور جب عائشہ نے ڈائری میں یہ بھی پڑھا کہ خود علمائے اہل سنت نے ان مردود روایات کو ٹھکراردیا ہے تو اسے مزید سکون محسوس ہوا ۔ چنانچہ اس نے دیکھا کہ اہل سنۃ کے جلیل القدر شیخ الاسلام امام سبط ابن جوزی نے تذکرۃ خواص الا متہ ص ۳۳۱ پر ان روایات کےبارے میں با ایں الفاظ تبصرہ کیا ہے ۔

سبط ابن جوزی کا تبصرہ :-

میرے نانا نے کتاب المنتظم میں ذکر کیا ہے کہ علی نے ام کلثوم کو عمر کے پاس بھیجا تاکہ وہ اس کو دیکھیں اور عمر نے ان کی پنڈلی کھولدی اور ان کو ہاتھ سے چھوا ۔میں کہتاہوں کہ خدا کی قسم یہ بد ترین بات ہے اگر یہاں کوئی کنیز بھی ہوتی تو عمر اس سے یہ بد سلوکی نہ کرتے کیونکہ با اجماع المسلمین اجنبی عورت کو مس کرنا حرام ہے ۔لہذا یہ بات حضرت عمر کی طرف کیسے منسوب کی جائے "۔


افسانوی نکاح کا شرعی حیثیت سے ابطال :-

علامہ سبط ابن جوزی کے اس تبصرہ کے بعد ڈائری میں مرقوم وہ بحث جس کے مطابق اہل سنت کے مذاہب اربعہ کی فقہ میں روایات مندرجہ بالا کی روشنی میں اس نام نہاد فرضی نکاح کو باطل


ثابت کیا گیا یہے ۔عائشہ بغور پڑھ رہی ہے اس بحث میں حنفی ،شافعی ،جنبلی اور مالکی فقہ کے مطابق ٹھوس دلائل سے ثابت کیا گیا ہے کہ یہ نکاح ہر صورت میں باطل ہے اور شریعت اسلامیہ کی کھلی مخالفت ہے ۔

پہلی دلیل:-

ان روایات سے ثابت ہے کہ عقد مفروضہ میں ایجاب وقبول واقع نہیں ہوا اور نہ ہی اس میں گواہ بیٹھے نظر آتے ہیں ۔مذہب اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایجاب وقبول نکاح کا رکن ہے ۔کسی مسلمان کا نکاح بغیر دو عادل آزاد ،بالغ مسلمان گواہوں کی موجودگی کے منعقد نہیں ہوسکتا پس چونکہ اس افسانوی نکاح میں یہ شرائط مفقود ہیں اس لئے یہ نکاح قطعا باطل اور غیر اسلامی ہے ۔

دوسری دلیل:-

روایات بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ لڑکی کے ولی یعنی حضرت علی نے فرمایا "میں ام کلثوم کو تمھارے پاس بھیجوں گا اگر تم کو پسند آگئی تو اس کی شادی تم سے کردوں گا" (استیعاب جلد ۴ ص ۲۶۷) یا یہ کہا کہ "میں اس کو تمھارے پا س بھیجوں گا اگر تم نے پسند کرلی تو وہ تمھاری بیوی ہے "(استیعاب جلد ۴ ص ۴۶۹)

"اگر"کے لفظ پر منحصر عقد اصطلاح میں "عقد معلق"کہلواتا ہے ۔اور مالکیوں ،شافعیوں ،اور حنفیوں کے نزدیک نکاح معلق باطل ہے بلکہ نکاح کو "منجز "ہونا چاہئے ۔

تیسری دلیل :-

روایات منقولہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ام کلثوم اس وقت کو سن اور نا بالغ تھیں مگر ان روایات میں نکاح کے صیغے جاری ہونے کا کسی جگہ تذکرۃ نہیں ملتا ہے اگر چہ نابالغ بچی کے نکاح میں ایک وکیل اور ایک گواہ کا ہونا کافی ہے تب بھی مذہب حنفی کے مطابق باپ کی موجودگی شرط ہے ۔ اگر باپ غائب ہے تو نکاح ناجائز ہوگا ۔


اگر فرض کیا جائے کہ ام کلثوم کی عمر اس نکاح کے وقت دس گیارہ بر س کی تھی تو یہ مفروضہ اور خطر ناک ہوگا کہ روایات یہ ثابت کرنے سے قاصر ہیں کہ ام کلثوم سے حضرت عمر کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت طلب کی گئی ہو بلکہ واضح طور پر روایات میں مذکور ہے کہ حضرت عمر کی دست درازی کے بعد ان کو بتا یا گیا کہ"اے بیٹی وہ تمھار شوہر ہے "۔(استیعاب جلد ۴ ص ۴۶۷)یعنی اس بد تمیزی سے قبل لڑکی بالکل بے خبر ہے ۔جبکہ اہل سنت کے ہاں امر مسلمہ ہے کہ حرہ بالغہ عاقلہ کا نکاح اس کی مرضی کے خلاف کرنا جائز نہیں ہے ۔ اور نہ ہی ولی کے لئے جائز ہے کہ وہ بالغہ اور نا کتخدا کو کسی سے نکاح کرنے پر مجبور کرے لہذا دونوں صورتوں میں نکاح درست قرار نہیں پاتا ہے تو پھر حضرت عمر کے لئے ایسا ناجائز نکاح تجویز کر کے ان کو توہین وتذلیل کیوں کی جاتی ہے ۔برادران اہل سنت کو اس کا سختی سے لحاظ رکھنا چاہئیے ۔

چوتھی دلیل:-

ان بے ہودہ روائیوں سے پوری طرح واضح ہے کہ اس نکاح کو صحابہ رسول (ص) سے مخفی رکھا گیا ان کو اس عقد کی خبر تک نہ ہوئی جب ام کلثوم ناراض ہو کر واپس گئیں تو حضرت عمر نے لوگوں سے مبارک باد ی کا مطالبہ کیا ۔جب صحابہ نے وجہ دریافت کی تو انھوں نے ام کلثوم سے شادی کی خبر دی ۔ حلبی نے اپنی سیرت میں تو شرافت کے بخئے ادھیڑ کر رکھ دئیے ہیں انھوں نے روایت لکھی ہے کہ " حضرت عمر نے مجلس مہاجرین میں جا کر یہ کہا کہ "مجھے مجامعت کرائیے ۔صحابہ نے کہا کس سے تو عمر نے کہا میں نے ام کلثوم سے شادی کر لی ہے " (کتاب السیرت ص۴۶۳)

(ڈائری کی یہ عبارت پڑھ کر عائشہ نے اپنا منہ گریبان میں چھپا لیا اور" لا حول " پڑھنا شروع کیا ۔) اس کے بعد حلبی نے اظہار معذرت کیا کہ


شاید ایسی بات کرنے کی حرمت صحابہ کو نہیں پہنچتی تھی ۔(بحوالہ کنز المکتوم ص ۴۶)

حالانکہ شریعت کا حکم ہے کہ نکاح کا بر سر عام کرو ۔یہاں تک ہے کہ دف بجاؤ تاکہ حرام وحلال کا فرق معلوم ہوسکے خود حضرت عمر کا قول ہے کہ نکاح کا پہلے اعلان کیا جائے حضرت عمر کے دوسرے سارے نکاح بھی بر سر عام ہوئے اور دیگر کسی بھی صحابی نے چوری چھپے نکاح نہیں کیا ہے ،پس یہ پو شیدہ نکاح خود اپنے آپ کو افسانوی ثابت کرنے کا بین ثبوت ہے ۔

پانچویں دلیل:-

ابن سعد کی طبقات میں اور دیگر کتابوں میں یہ مرقوم ہے کہ ام کلثوم کا حق مہر چالیس ہزار درہم مقرر ہوا ۔یہ رقم حضرت عمر کے اپنے ہی قول کے خلاف بات ہے ۔شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے "ازالتہ الخفا"جلد دوم ص ۱۱۲ میں تحریر کیا ہے ۔حضرت عمر نے فرمایا "حق مہر زیادہ نہ ہو" چونکہ رسول اللہ (ص) نے اپنی بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ نہ مقرر فرمایا "اسی طرح شاہ ولی اللہ کے فرزند شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے تحفہ اثنا عشریہ میں لکھا ہے کہ حق مہر کا بڑھانا خلاف اصول پیغمبر ہے چونکہ صحیح احادیث میں حق مہر بڑھانے کی ممانعت وارد ہے اور حدیث میں ہے حق مہر آسان باندھو ۔(تحفہ اثنا عشری ص ۵۹۱ فارسی)

مولی شبلی نعمانی نے الفاروق ص ۵۷۰ پر اسی رقم مہر یعنی ۴۰ ہزار کا ذکر کیا ہے جو سراسر مخالفت سنت رسول (ص) بلکہ خود حضرت عمر کا اپنے قول و اصول سے انحراف ہے کہ دوسروں کو تو وہ زیادہ مہرباندھنے پر روکتے تھے اور خود ساٹھ سال کی عمر میں کمسن دلھن کا چالیس ہزار مہر دینے پر آمادہ ہوگئے ۔

چھٹی دلیل :-

زیر بحث روایات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ سنہ ۱۷ ہجری میں حضرت عمر کی نویلی دلہن کی عمر چار پانچ برس کی تھی اور بعض مورخین کے


نزدیک صبیہ یعنی دودھ پیتی تھی یا پھر صغیرہ ونابالغہ تھیں اور ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ میں منقول روایت کے تحت وہ بہت چھوٹی تھیں ورنہ ان کے باپ ان کو عمر کے پاس نہ بھیجتے ۔ شہاب الدین دولت آبادی کے نزدیک ان کو عمر پانچ بر س کی تھی ۔

یاسین موصلی نے المہذب ص ۹۸ پر اور عمر رضا کحالہ نے اعلام النساء ص ۲۵۶ پر تحریر کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ذیقعدہ سنہ ۱۸ ھ میں یہ شادی کی شادی کے ایک سال بعد دخول کیا حالانکہ نابالغ بچی سے دخول کرنا فعل حرام ہے خواہ وہ منکوحہ ہی کیوں نہ ہو ۔ اب صاف ظاہر ہے کہ جب بوقت نکاح عمر چار پانچ برس تھی تو ایک سال بعد بالغ ہونا ممکن نہیں ہے پس روائتی لحاظ سے یہ نکاح بالکل من گھڑت افسانہ ہے ۔

عائشہ پوری دلچسپی سے یہ ڈائری مطالعہ کر رہی ہے اسے یہ احساس ہےکہ اس نے اپنی سہیلی ایلزبتھ پر اسلام کی تعلیمات کو محض اس دلیل کے بل بوتے پر فوقیت دی ہے کہ اس کے احکام سائنٹفک ہونے کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار کے محافظ بھی ہیں اس نے شارح علیہ السلام کی سیرت طیبہ اور اخلاق محمدیہ کے بیشتر نمونے بطور مثال پیش کرکے ایلزبتھ کے عقیدے میں ڈگمگا ہٹ پیدا کردی ہے ۔ تہذیب اسلام اور اصول دین کی جامعیت پر مدلل مباحثے کر کے اسلام کو ایک عالم گیر ضابطہ حیات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اب وہ خوف زدہ ہے اسے ڈرہے کہ اس واقعہ دل سوزکی روشنی میں اگر ایلزبتھ نے کہہ دیا کہ اسلام کے دانت ہاتھی کے مانند دیکھنے کے اور کھانے کے اور ۔یہ تو ایسا کالا مذہب ہے کہ ایک ستون اسلام بزرگ جو پیغمبر کا خلیفہ ونائب اعتقاد کیا جاتا ہے اور جسے تاریخ میں فاروق اعظم


لکھا جاتا ہے اس نے اٹھاون برس کے سن میں تین بیویوں کے ہوتے ہوئے اپنی بیٹی کی سوتیلی نواسی سے شادی رچائی ۔بلکہ بلا نکاح اس سے ایسی حرکات ناشائستہ کیں جو کوئی بھی شریف شخص نہیں کرسکتا ۔اور دوسرے ستون اسلام نے اپنی بیٹی کو بازاری سودے کی طرح بطور نمونہ اس کے پاس بھیجدیا تو میرے پاس ان معقول اعتراضات کا کیا تسلی بخش جواب ہوگا ؟ اگر خدا نخوستہ یہ روایات سچی ہیں تو بنی آدم کی تاریخ میں ایسی مذموم مثال کسی دوسرے مذہب میں نہیں مل سکتی ہے ۔اے میرے پروردگار ! میں نے تو تیرے دین حقہ کی اشاعت کے لئے خلوص نیت سے دعوت تبلیغ کی کوشش کی تھی اب مجھے اس خلفشار سے بچا ۔ میرے دل کو تویہ اطمینان ہے کہ یہ قصہ بالکل واہیات اور مہمل ہے اور محض اسلام کو بدنام کرنے کے لئے بزرگان اسلام کو بے آبرو بنانے کی خاطر دشمنان دین نے اسے گڑھا ہے ۔تاکہ دین کو محض عیاشی و شہوت پرستی کا ضابطہ بنا کردنیا کے سامنے ذلیل کردیا جائے ۔اور اس مصطفی مذہب کو نفرت آمیز جامہ پہنا دیا جائے یہ روایات تو خلفائے راشدین کی سیرت پر ایسا بد نما داغ لگا تی ہیں جسے صاف کرنا ممکن نظر نہیں آتا ہے ۔اے رب العزت ! میری رہنمائی فرما اور اپنے معزز دین کی عزت و توقیر کو بحال رکھ مجھے اس مشکل سے نکال ۔بے شک یہ قصہ عقلا ونقلا شرعا وشرفا بالکل بے سروپا اور بے بنیاد ہے ۔لیکن ایلزبتھ کو کس طرح مطمئن کیا جاسکتا ہے کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی بچ جائے ۔

عالیہ اور ایلزبتھ کالج سے واپس آگئی ہیں لیکن عائشہ ابھی اس موضوع پر ایلزبتھ سے گفتگو کرنا پسند نہیں کرتی ہے جب کہ وہ خود کو مکمل طور پر اس


قابل نہیں بنالیتی کہ اس واقعہ کے ہر گوشے پر روشنی ڈال سکے ۔عالیہ نے اشارۃ عائشہ سے پو چھا ہے کہ اس کی تحقیق کس نتیجہ پر پہنچی ہے مگر اس نے اشارہ ہی سے اسے منع کردیا ہے کہ ایلزبتھ کے سامنے یہ بات نہ کی جائے ۔ایلزبتھ نے عائشہ سے پوچھا ۔

ایلزبتھ :-کہو عائشی اب تمھاری طبعیت کیسی ہے ؟

عائشہ :- ٹھیک ہے ۔کچھ دیر آرام کیا ہے ۔

عالیہ :- کیوں بھئی چائے چلے گی ؟

ایلزبتھ:- کیوں نہیں ضرور چلے گی ۔

عالیہ چائے تیار کرتی ہے اور تینوں سہیلیاں چائے پیتی ہیں ۔چائے کے بعد ایلزبتھ کسی کام سے شہر چلی جاتی ہے ۔

عالیہ :- کیوں عائشی کس نتیجے پر پہنچ سکی ہو ؟

عائشہ :- بھئی جو کچھ تک معلوم ہوا ہے ۔وہ تویہ ہے کہ یہ واقعہ دوخلفائے راشدین کی انتہا درجہ تو ہین وتذلیل کرتا ہے مگر یہ نکاح نہ صرف سنی کتب سے بیان کیا جاتا ہے بلکہ شیعہ کتب میں بھی اس کی تائید میں روایات ہیں اور مولوی شبلی نعمانی جیسے مورخ نے بھی اس کو الفاروق میں لکھا ہے حالا نکہ انھوں نے روایت ودرایت کا خصوصی لحاظ رکھا ہے لہذا میں یہ چاہتی ہوں کہ اس معاملہ کی جانچ پڑتال اور چھان بین کیلئے اپنے استاد محترم مولوی عبد الرحمان صاحب سے مدد حاصل کروں کیوں کہ ان کو تاریخ پر خصوصی عبور حاصل ہے ۔ان کی جانب سے مفصل جواب موصول ہونے پر کوئی حتمی رائے قائم کرنے کے قابل ہوں گی ۔

عالیہ :- ہاں ٹھیک ہے ۔ان سے ضروری وضاحت دریافت کرو


چنانچہ عائشہ اپنے استاد مولوی عبد الرحمان صاحب کو خط تحریر کرکے صورتحال سے آگاہ کرتی ہے اور استفسارات کا جواب چاہتی ہے ۔ مولوی صاحب واپسی جواب میں اپنی شاگرد عائشہ کو لکھتے ہیں کہ

بسم الله الرحمان الرحیم

نحمده ونصل علی رسوله الکریم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ ۔ بعد ازدعائے نیک بختی وشفقت مخلصی کے تحریر ہے کہ تمھارا استفسار نامہ موصول ہوا ۔واضح ہو کہ یہ بات ازروئے کتب معتبرہ اہل سنت وشیعہ کے پابت ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نکاح ساتھ ام کلثوم کے ہوا ۔جو حضرت فاطمہ و علی کی صاحبزادی تھیں اس نکاح سے چند فائدے ظاہر ہوتے ہیں ۔

ا:- اس نکاح کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ حضرت علی اور حضرت عمر کی باہمی دوستی ثابت ہوتی ہے اگر ان میں رنجش و عداوت ہوتی جیسا کہ روافض کا خیال ہے تو حضرت مرتضی کبھی اپنے دشمن ومخالف اپنے خاندان میں نہ لیتے ۔

ب :- اس عقد سے حضرت فاروق رضی اللہ عنہ کا کافر و منافق و مرتد نہ ہونا بھی ثابت ہوتا ہے ۔ورنہ حیدر کرار اپنی پیاری دختر کا نکاح کبھی نہ کرتے ۔پس یہ نکاح اس بات کا ثبوت ہے حضرت علی کو حضرت عمر کے ایمان و عبادت ،زہد وتقوی پر بھروسہ تھا ۔

ج :- اس عقد سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر نے کبھی کسی قسم کا رنج اور صدمہ حضرت علی یا حضرت فاطمہ کو دیا ہوتا تو یہ نکاح ہرگز نہ ہوتا ۔یہ نکاح اخلاص اور اتحاد اور محبت باہمی پر شاہد ہے ۔ لہذا حضرت عمر پر شیعوں کے


مطاعن کی تردید کے لئے کافی ہے ۔

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ،کا نکاح حضرت ام کلثوم بنت علی کے ساتھ مندرجہ دلائل ازکتب اہل سنتہ سے ثابت ہوتا ہے ۔

۱:- حافظ ذہبی تحریر فرماتے ہیں "حضرت ام کلثوم بنت علی مرتضی جو حضرت فاطمہ کے بطن سے تھیں اپنے نانا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات شریفہ سے پہلے پیدا ہوچکی تھیں ۔ ان سے حضرت عمر نے چالیس ہزار درہم مہر پر نکاح کیا ۔اور ان کے ہاں زید اور رقیہ پیدا ہوئے ۔حضرت عمر کی شہادت کے بعد ام کلثوم نے پھر عون بن جعفر سے نکاح کیا ۔

(تجدید اسماء الصحابہ ص ۲۵۰)

۲:- حضرت امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر ایک دفعہ مدینہ کی عورتوں میں چادریں تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک عمدہ چادر بچ گئی ۔حاضرین مجلس میں کسی نے کہا " یہ چادر آپ حضور اکرم (ص) کی صاحبزادی کو جو آپ کے نکاح میں ہے دیے دیں ۔ اس سے ان کی مراد حضرت علی (علیہ السلام) کی بیٹی ام کلثوم تھی ۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ام سلیط اس چادر کی زیادہ حقدار ہیں وہ جنگ احد کے دن ہمارے لئے پانی کی مشکیں اٹھا اٹھا کر لائی تھیں ۔(صحیح بخاری کتاب الجہاد جلد اول باب حمل النساء القرب ص۴۰۳ کتاب المغازی جلد نمبر ۲ ذکر ام سلیط ص ۵۷۲)۔

۳:- امام نسائی اپنی سنن میں حضرت نافع سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے ایک دفعہ نو اکٹھے جنازے پڑھائے ان ہی میں حضرت ام کلثوم بنت علی المرتضی کا جنازہ بھی تھا ۔یہ سعد بن عاص کی حکومت کا دور تھا ۔


حضرت علی (علیہ السلام )کی بیٹی ام کلثوم جو حضرت عمر کے نکاح میں رہ چکی تھیں ان کا جنازہ اور ان کے بیٹے زید کا جنازہ اکٹھا رکھا گیا ۔ نماز جنازہ میں حضرت ابن عمر ،ابن عباس ،ابو ہریرہ ،ابو سعید اور ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سب حضرات شامل تھے ۔ حضرت ابن عمر نے امامت فرمائی ۔ (سنن نسائی جلد ۱ کتاب الجنائز باب اجتماع جنائز الرجال و النساء صفحہ ۳۱۷ مطبوعہ دہلی )

سید نا امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس نماز جنازہ میں شریک ہونے والوں میں حضرت امام حسن ، امام حسین ،امام محمد بن حنفیہ اور حضرت عبد اللہ بن جعفر کا بھی ذکر کرتے ہیں ۔تاریخ الصغیر الامام بخاری ص ۵۳ مطبوعہ آلہ آباد)

۴:- سنن ابی داؤد میں حضرت عمار مولی حارث بن نوفل سے روایت ہے کہ "وہ بھی حضرت ام کلثوم اور ان کے بیٹے زید کے جنازہ میں حاضر تھے ۔اس میں لڑکے کا جنازہ اس جہت میں رکھا گیا تھا جو امام کی طرف تھی ۔(سنن ابو داؤد جلد نمبر۲ ص ۴۵۵)

۵:- دار قطنی نے تحریر کیا ہے کہ "ام کلثوم بنت علی جو حضرت عمر کی بیوی تھیں ان کا اور ان کے لڑکے زید بن عمر کا جنازہ رکھا گیا اور وہاں ان دنوں امام سعید بن عاص تھے ۔(دار قطنی جلد ۱ ص۱۹۴ مطبوعہ دہلی)

۶:- امام حاکم نے روایت نقل کی ہے کہ امام زین العابدین کہتے ہیں حضرت عمر نے حضرت علی (علیہ السلام) سے ام کلثوم کا رشتہ مانگا ۔ حضرت علی نے کہا میں نے تو اسے اپنے بھتیجے کے لئے رکھا ہوا ہے ۔ حضرت عمر نے کہا آپ ام کلثوم کو میرے نکاح میں دے دیں ۔بخدا مجھ سے زیادہ کوئی اس کا منتظر اعزاز نہیں اس پر حضرت علی (علیہ السلام) نے حضرت عمر کو یہ نکاح دے دیا (مستدرک جلد ۳ ص ۱۴۲مطبوعہ دکن)۔


۷:- ابو بکر بیہقی اپنی سنن میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت علی مرتضی (علیہ السلام) سے کہا مجھے اپنی لڑکی ام کلثوم بنت فاطمہ بنت رسول اللہ (ص) کا رشتہ دے دیں حضرت علی مرتضی(علیہ السلام) نے اس تفصیل کے بعد جو امام حاکم کی اوپر والی روایت میں درج ہے کہا کہ میں نے اس کا رشتہ (آپ کو ) دے دیا ۔

۸:-حافظ ابو عبد اللہ محمد بن سعد زہری نے لکھا ہے کہ ام کلثوم بنت علی جن کی والدہ حضرت فاطمہ تھیں ان سے حضرت عمر نے نکاح کیا اور وہ چھوٹی عمر کی تھیں ان کے ہاں حضرت عمر سے زید اور رقیہ پیدا ہوئے (طبقات ابن سعد جلد ۹ ص ۳۳)

۹:-ابو محمد عبد اللہ بن مسلم بن قتیبہ دینوری تحریر فرماتے ہیں کہ ام کلثوم کبری جو حضرت فاطمہ ک صاحبزادی تھیں حضرت عمر بن خطاب کے نکاح میں تھیں ۔ (کتاب المعارف ص ۷۰ مطبوعہ مصر)

۱۰:- امام طبری اپنی مشہور تاریخ میں لکھتے ہیں کہ "حضرت عمر نے ام کلثوم بنت علی سے نکاح کیا ۔ ان کی والدہ حضرت فاطمہ بنت رسول تھیں ان کا مہر جیسا کہ بیان کیا گیا ہے چالیس ہزار درہم ہم باندھا گیا انکے ہاں ام کلثوم سے زید اور رقیہ دو بچے پیدا ہوئے (تاریخ الامم الملوک جلد ۵ ص ۱۶ مطبوعہ مصر)

مندرجہ بالا حوالہ جات کتب اہل سنت والجماعت سے نقل کئے گئے ہیں کہ اب میں وہ حوالے پیش کرتا ہوں جو صرف مذہب شیعہ کی معتبر کتابوں سے ماخوذ ہیں تاکہ ثابت ہو جائے کہ یہ نکاح بلا امتیاز فرقہ تاریخ سے بالا تفاق مسلمہ ہے ۔


حضرت فاروق اعظم کا نکاح حضرت ام کلثوم سے

بحوالہ کتب معتبر حضرت شیعہ

۱:- ملا محمد بن یعقوب الکلینی فروع کافی میں جو شیعوں کی اول درجہ کی کتاب حدیث ہے میں روایت کرتے ہیں کہ ۔

"حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس عورت کے متعلق جس کا خاوند فوت ہوجائے یہ مسئلہ پو چھا گیا کہ وہ اپنی عدّت کہاں گزارے اپنے گھر میں یا جہاں چاہے ؟ امام علیہ السلام نے فرمایا جب عمر فوت ہوئے تو حضرت علی ام کلثوم کے پاس آئے تھے اور اسے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے تھے ۔(فروع کا فی جلا ۲ ص ۳۱۱)

۲:- ملا ابو جعفر محمد بن حسن طوسی شیعہ محدثین کے نہایت بلند پایہ فاضل فروع کا فی کی اس روایت کو تہذیب الاحکام کتاب الطلاق باب عدۃ النساء جلد ۲ ص ۲۳۸ مطبوعہ ایران اور استبصار فیما اختلف من الاخبار جلد ۳ ص ۳۵۲ مطبو عہ نجف اشرف جلد ۲ ص ۱۸۵ مطبوعہ لکھنو میں بھی دو علیحدہ سندوں سے روایت کرتے ہیں ۔

۳:- فخر المجتہدین شہید ثانی زین الدین بن احمد عائلی " شرائع الاسلام فی مسائل الحلال والحرام " کی شرح میں متن کی اس عبارت یجوز نکاح الحرۃ العبد و العربیۃ العجمی و الھاشمیۃ غیر الھاشمی وبالعکس کے تحت لکھتے ہیں ۔

حضور نے اپنی ایک بیٹی کا نکاح حضرت عثمان سے کیا اور ایک بیٹی کا ابو العاص سے حالانکہ دونوں بنی ہاشم میں سے نہ تھے ۔ اسی طرح حضرت علی نے


اپنی بیٹی ام کلثوم کا نکاح حضرت عمر سے کیا اور حضرت عثمان کے پوتے عبداللہ کا نکاح امام حسین کی بیٹی فاطمہ سے ہوا اور فاطمہ کی بہن سکینہ سے مصعب بن زبیر نے نکاح کیا اور یہ سب مرد بنی ہاشم میں سے نہ تھے ۔

(مسالک الافھام ۔کتاب النکاح جلد ۱)

۴:- شیخ الطائفہ ابو جعفر محمد بن حسن طوسی حضرت امام باقر( علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا ۔

"ام کلثوم بنت علی اور ان کے بیٹے زید بن عمر کی وفات ایک ہی ساعت میں واقع ہوئی یہ پتہ نہ چل سکا کہ پہلے فوت کون ہوا ۔ پس ان میں سے کوئی دوسرے کا وارث نہیں ہوا ۔ اور دونوں پر نماز جنازہ اکٹھی پڑھی گئی ۔

(تہذیب الاحکام جلد ۲ کتاب المیراث ص ۳۸۰)

۵:- شیعہ شہید ثالث قاضی نور اللہ شوستری آنحضرت اور حضرت علی کے امور مشابہت شمار فرماتے ہوئے لکھتے ہیں " اگر نبی دختر بہ عثمان داد ولی دختر بہ عمر فرستاد" یعنی اگر نبی نے بیٹی حضرت عثمان کو دی تو ولی نے بیٹی حضرت عمر کے نکاح میں دے دی ۔(مجالس المومنین جلد ۱ ص ۲۰۴)

۶:- علامہ ابن شہر آشوب مازندرانی لکھتے ہیں ۔حضرت فاطمہ کی اولا د یہ تھی ۔الحسن والحسین و المحسن سقط ،زینب کبری اور ام کلثوم کبری جن سے حضرت عمر نے نکاح کیا تھا (مناقب آل ابی طالب جلد ۳ ص ۱۶۲ علامہ ابن شہر آشوب نے جلد نمبر ۲ ص ۱۴۴ ) علامہ ابن شہر آشوب نے جلد نمبر ۲ ص ۱۴۴ پر بھی اس نکاح کا تذکرہ کیا ہے ۔

۷:- اہل تشیع کے بڑے مجتہد مرتضی علم الہدی تحریر کرتے ہیں " یہ کوئی امر ممنوع نہ تھا کہ حضرت علی اپنی بیٹی حضرت کے نکاح میں دے دیں ۔کیونکہ عمر بظاہر اسلام کے قائل اور شریعت پرعامل تھے ۔(کتاب الشافی ص ۲۱۶)


۸:- شیخ عباس قمی حضرت علی کی اولاد کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ " ام کلثوم کے حضرت عمر کے نکاح میں آنے کی حکایت کتابوں میں مسطور ہے (منتہی الآمال جلد ۱ ص ۱۳۵)

۹:- علامہ محمد ہاشم خراسانی مشہدی تحریر کرتے ہیں کہ "ام کلثوم بنت فاطمہ اس مخدرہ کا اصلی نام رقیہ کبری تھا ۔جیسا کہ عمدۃ المطالب میں مذکور ہے وہ بہت جلالت شان رکھتی تھیں اور حضرت عمر کی بیوی تھیں " (منتخب التواریخ ص ۹۴)

۱۰:- شیعہ کے خاتم المحدثین ملا باقر مجلسی لکھتے ہیں " ایسی احادیث وارد ہونے کے بعد اور جو روایات بالاسناد آگے آرہی ہیں کہ جب عمر فوت ہوئے تو حضرت علی ام کلثوم کے پاس آئے اور انھیں اپنے گھر لے گئے اور اس طرح کی اور روایات جنھیں میں نے بحا رالانوار میں درج کیا ہے اس نکاح کا انکار ایک امر عجیب ہے اور اصل جواب یہی ہے کہ یہ نکاح تقیہ اور حالت اضطرار میں ہوا اور ایسا ہونا کوئی امر مستبعد نہیں (مراۃ العقول فی شرح فروع الکافی جلد ۳ ص ۴۴۹)۔

عائشہ بیٹی میں نے شیعہ وسنی دونوں کتابوں سے اس نکاح کے اثبات درج کردئیے ہیں ہمیں افسوس ہے کہ علمائے شیعہ کا یہ نظریہ کہ حضرت حیدر کرار نے اپنی لخت جگر ام کلثوم بنت فاطمہ بنت رسول اللہ (ص) جبر و اضطرار کی صورت میں حضرت عمر کے نکاح میں دی تھی بہت کمزور اور بلا دلیل ہے ۔یہ بات حضرات اہلبیت کے شایان شان نہیں ۔ کلینی نے فروع کافی میں اس نکاح کا ایک باب باندھا ہے اور اس میں حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام ) سے یہ روایت نقل کی ہے "ان ذلک فرج غصباہ" یہ پہلی عزت ہے جو ہم سے غصب کی گئی " حالانکہ بقول شیعہ اصول کافی کے اس آسمانی وصیت نامہ میں بھی جو ائمہ اہلبیت کے لئے دستور العمل تھا اس نکاح کا ارشاد موجود ہے اس کی روایت امام موسی کاظم


سے ہے ۔اس کی رو سے آنحضرت(ص) نے حضرت علی سے بامر جبرئیل یہ عہد بھی لیا تھا کہ خواہ ان کی عزت لٹ جائے وہ اس ہتک پر بھی صبر کریں گے جس پر علی نے کہا تھا "میں نے اسے قبول کیا اور راضی رہا اگر چہ عزت جاتی رہے ۔خدا اور رسول کے طریقے معطل ہوجائیں کتاب (قرآن)کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جائیں اور کعبہ گرادیا جائے "(اصول کافی ص ۱۷۳)

اب اس اتہاک حرمت اور عزت جاتے رہنے کی تشریح علمائے شیعہ نے یوں کی ہے "اس سے میری بیٹی کا غصب مراد ہے ۔جیسے جبر وظلم سے لے جائیں گے یہ اشارہ ہے حضرت فاطمہ کی بیٹی ام کلثوم کے غصب کی طرف " (الصافی جلد ۳ ص ۲۸۱ ملا خلیل قزوینی)

بعض شیعوں نے اس نکاح کی تکذیب پر کھسیا نے ہوکر یہ قصہ واہی وضع کیا ہے کہ حضرت علی نے ایک جنیہ کو ام کلثوم کی شکل میں منتقل کر کے عمر کے پاس بھیجدیا یہ جنیہ اہل نجران کی یہودیہ تھی جس کا نام سحیقہ بنت جوہریہ تھا ۔بعد وفات عمر حضرت علی نے ام کلثوم کو ظاہر کیا (جرائح الجرائح ص ۱۳۶)

بہر حال ہمارے نزدیک ان رکیک تاویلوں کا کوئی وزن نہیں ہے ہم ہر اس بات کو جو اہل بیت کرام کی شان کے لائق نہ ہو غلط اور افتراء سمجھتے ہیں ۔میرا مقصد ان اقوال کو نقل کرنے سے محض یہ ہے کہ حضرت ام کلثوم بنت علی کا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آنا ایک ایسا امر مسلمہ ہے کہ شدید ترین مخالفت کے باوجود بھی اس سے انکار نہیں ہوسکتا ۔گو اسلامی گروہ ميں سے اس نکاح کے مخالفین نے جبر وغصب ،اکراہ و اضطرار کی تاویلات وضع کی ہیں لیکن باوجودیکہ یہ تاویلات ناقابل قبول ہیں اور حضرت علی (علیہ السلام ) کی شان کے لائق نہیں لیکن ان کے ضمن میں اس نکاح کا ایک ایسا اقرار بھی سامنے آرہا ہے جس کا


انکار کسی صورت میں ممکن نہیں تھا ۔پس یہ نکاح تواتر معنوی سے منقول اور فریقین کی کتابوں میں مسلم وموجود ہے ۔

اب آخر میں تمھارے ان شبھات اور وسواس کا ازالہ کیا جاتا ہے جو تم نے اپنے خط میں ظاہر کئے ۔

پہلا اعتراض:-

تمھارا یہ اعتراض کہ حضرت ام کلثوم کمسن تھیں اور حضرت عمر کافی عمر رسیدہ تھے اس لئے یہ نکاح بے جوڑ ہوا بلکہ امر مستعبد معلوم ہوتا ہے ۔

جواب:-

اس کا جواب یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ (وآلہ) وسلم اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمروں میں کافی فرق تھا ۔حضرت عائشہ صدیقہ حضرت فاطمہ الزہرا (سلام اللہ علیہا ) سے بھی عمر میں چھوٹی تھیں اور بہت صغیر سنی میں آنحضرت کے نکاح میں آئی تھیں اگر اس نکاح میں کوئی قباحت نہیں ہے تو حضرت ام کلثوم کا حضرت عمر فاروق اعظم کے نکاح میں آنا یہ کونسا امر مستبعد ہے ۔عربی تمدن میں خاوند اور بیوی کا قریب العمر ہونا ضروری نہ تھا ۔

دوم یہ کہ میری تحقیق کے مطابق حضرت علی مرتضی کی صاحبزادی جو اس وقت صغیرہ تھیں اور پانچ سال کے قریب تھیں وہ ام کلثوم تھیں جو حضرت فاطمہ کے بطن سے نہ تھیں اور کسی اور بیوی سے تھیں یہ ام کلثوم صغری کہلواتی تھیں ۔ام کلثوم کبری جو سیدہ فاطمہ کی صاحبزادی تھیں وہ ہرگز صغیرہ نہ تھی اور حضرت فاروق اعظم کے نکاح میں وہی تھیں ان پر اگر کہیں صغیرہ سنی کا اطلاق ہے تو فی نفسہ چھوٹا ہو نے کی وجہ سے نہیں محض مقابلتا چھوٹا ہونے کی وجہ سے ہے ۔

سوم یہ کہ حضرت ام کلثوم حضرت فاطمہ کی چھوتھی اولاد تھیں اور حضرت زینب سے چھوٹی تھیں ۔حضرت امام حسین (علیہ السلام ) اور حضرت ام کلثوم کے مابین صرف ایک بیٹی حضرت زینب ہیں شیعہ عالم شیخ طوسی کے بیان کے مطابق حضرت امام حسین (علیہ السلام)


ہجرت کے تیسرے سال ربیع الاول کے آخر میں پیدا ہوئے ۔حضرت سید ہ فاطمہ رضی اللہ عنھا (علیہا السلام) کی اولاد میں فاصلہ کم تھا ۔اما م حسن اور امام حسین (علیھماالسلام) کی عمروں میں فرق ایک سال سے بھی کم تھا ۔قرین قیاس ہے کہ حضرت ام کلثوم پانچ یا چھ ہجری کے قریب پیدا ہوئیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حضرت فاروق اعظم کے نکاح میں یہ کس وقت آئیں ۔حافظ ابن حبان اس واقعہ نکاح کو سنہ ۱۷ ھ میں بیان کرتے ہیں ۔ اس حساب سے حضرت ام کلثوم کا یہ نکاح ۱۲ سال کی عمر میں ہوا اور عربی آب وہوا کے مطابق یہ عمر قابل شادی ہے ۔اہل تشیع نے مقدمہ فدک میں حضرت ام کلثوم کو گواہ کے طور پر بھی پیش کیا ہے ۔

پس ثابت ہوا کہ صغیر سنی کا عذر محض اس حد تک ہی معقول ہوگا کہ حضرت عمر کے مقابلے میں ان کی عمر چھوٹی تھی نہ کہ نا قابل شادی تھیں ۔

دوسرا اعتراض :-

جو تم نے کہا کہ حضرت ام کلثوم حضرت عمر کی پر نواسی بھی تھیں تو یہ رشتہ سوتیلا تھا اور اسلامی شریعت میں یہ نکاح جائز ہے ۔اور جن بیہودہ روایات کا ذکر تم نے کیا ہے وہ تمام کی تمام موضوع قرار پاتی ہیں کہ ان میں نابالغ ام کلثوم کا ذکر ہے جبکہ میری تحقیق کے مطابق زوجہ عمر حضرت ام کلثوم بالغہ تھیں پس جب یہ روایات ہی جھوٹی ہیں تو پھر خلفائے راشدین کی شان میں تنقیص کیوں تسلیم کی جائے ۔

علی ھذا القیاس میں نے اجمالی طور پر تمھارے شکوک کو رفع کرنے کی کوشش کی تاکہ جس غلط فہمی کی شکار ہوگئی ہو اس کی اصلاح کر سکو اور تمھارے قلبی شبہات کا ازالہ ہو ۔امید ہے کہ تم مندرجہ بالا معروضات کی روشنی میں حتمی رائے قائم کروگی ۔اور دشمنان دین کے مقابل اپنے مسلک کی حفاظت باحسن کرسکو گی ۔ والسلام

تمھارا خیر اندیش

عبد الرحمان عفی عنہ


دشوار گزار سخت تکلیف دہ راستے طے کرنے کے بعد جب کوئی امن و سکون کی جگہ پاتا ہے تو وہاں دلکشی کے ساتھ ساتھ فتح مندی کے جذبات بھی محسوس ہونے لگ جاتے ہیں ۔مولوی عبد الرحمان صاحب کا یہ مکتوب عائشہ کےلئے ایک سہارا تھا ویسا جس طرح ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہوتا ہے اسے اپنے رہنما مولی عبد الرحمان صاحب کی صلاحیتوں اور قابلیت پر بھروسہ تھا چنانچہ اس خط کا اس نے بڑے اشتیاق اور بے تابی سے مطالعہ کیا اس کو اس ا عتراض کا حل فرقہ واریت سے بالا تر درکار تھا ۔کیونکہ شیعہ و سنی مباحث درپیش حالات میں یکساں طور پر غیر کار آمد تھے ۔ایک عیسائی اور غیر مسلم معترض کی زبان بندی کیلئے شیعہ وسنی کتب کے مندرجات کافی نہ تھے بلکہ یہ اعتراف تو اور بھی اعتراض کو تقویت پہنچا رہا ہے کہ کل ملت اسلامیہ کا اتفاق ثابت کرتا ہے کہ یہ نکاح ضرور ہوا کوئی بھی غیر مذہب والا محض اس خوش اعتقادی کو قبول کرنے پر تیار نہ ہوگا کہ فلاں روایت فلاں بزرگ کی شان کے خلاف ہے جبکہ معترض بجائے خود اس شاندار شخصیت کی شان ہی کا قائل نہیں ہے ۔عائشہ یہ خط عالیہ کو پڑھاتی ہے تاکہ اس کا تبصرہ بھی سن سکے ۔

عائشہ :- عالیہ ہمارے مولانا صاحب نے یہ گرامی نامہ ارسال کیا ہے ۔ اس کو پڑھ کر تم اپنے خیالات کا اظہار کرو ۔کیونکہ زیادہ تر اس میں تمھارے مذہب پر ہی زور صرف ہوا ہے ۔اصل معاملہ ابھی تک لاینحل ہے ۔ ایلزبتھ کی نگاہوں میں شیعہ وسنی سب مسلمان ہیں روایات شیعہ کی ہوں یا سنیوں کی عیسائی کو اس سے کیا واسطہ ؟

عالیہ :- مجھے تمھاری بات سے اتفاق ہے ۔ میں اس خط کا بغور


مطالعہ کرنے کے بعد اپنی رائے پیش کرسکتی ہوں ۔

عالیہ نے پوری توجہ سے مولوی عبد الرحمان صاحب کے ارسال کردہ خط کو پڑھا اور اس کے مندرجہ کا جائزہ پورے جذبہ تحقیق کو بروئے کار لاتے ہوئے لیا ۔عالیہ نے اس خط کی ابتدائی عبارت ہی سے اندازہ قائم کرلیا کہ اس افسانوی نکاح کو مشہور کرنے کا واحد مقصد یہی تھا کہ شیعوں کے عقائد کے خلاف حضرت عمر کو اہل بیت (علیہم السلام ) کاحقیقی دوست ورشتہ دار ثابت کیا جائے یہ افسانہ تراشتے وقت یہ بات قطعا ذہن میں نہ رہی کہ یہ مفروضہ آئندہ نسلوں کے لئے بے چینی پیدا کردےگا ۔اور تعلیمات اسلامیہ پر بد نما داغ بن جائے گا ۔لیکن اس وقت وضاعین کو صرف فضائل عمر یہ کی نشر واشاعت سے سرو کار تھا ۔دین کی پرواہ نہ تھی چنانچہ شیعہ دشمنی اور اصحاب نوازی کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ من گھڑت واقعہ بھی مشہو کردیا گیا ۔حالانکہ صحیح کتب میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔تاہم مولوی صاحب موصوف نے جن روایات اہل سنت کو دلائل قرار دیا ان پر عالیہ کی جرح یوں مرتب ہوئی ۔


دلائل ازکتب اہل سنۃ کی تردید سنی علماء کی زبانی :-

مولوی صاحب نے حافظ ذہبی کے قول پر جو پہلی دلیل پیش کی ہے وہ خلاف واقعہ ہے ۔ اس کی شرعی حیثیت تقرر مہر کی بناء پر مردود قرارپاتی ہے جیسا کہ گذاشتہ بیان میں عرض کیا ہے ۔ پھر زید اور رقیہ کی پیدائش بھی تاریخی اعتبار سے صحیح ثابت نہیں ہوتی ہے ۔

زید ورقیہ پیدائش :-

یہ بات قابل غور ہے کہ مبینہ نکا ح سنہ ۱۸ ھ میں ہوا ۔روایات کی کثیر تعداد سے دلہن ک عمر چھ یا سات بر س سے زائد ثابت نہیں ہوتی ہے ۔حضرت عمر کی وفات سنہ ۲۳ ھ میں ہوتی ہے جبکہ


اس بیوی کی عمر گیارہ سال تک ہوتی ہے اگر بالفرض یہ مان لیا جائے کہ سنہ ۲۳ ھ یعنی دولھا کی موت کے وقت یہ دو بچے ام کلثوم کے سن بلوغ کے دو سال بعد پیدا ہوئے تو یقینا رقیہ بنت عمر بن خطاب کی عمر اپنے باپ کی وفات کے وقت ایک یا ڈیڑھ سال ہوگی لیکن معتبر مورخ اہل سنت ابن قتیبہ اپنی کتاب "المعارف" میں لکھتے ہیں کہ ام کلثوم کے بطن سے عمر کی بیٹی کا نام رقیہ ہے اور یہ وہی ہے جس کی شادی عمر نے ابراہیم بن لغیم النجام سے کرادی تھی اور وہ ان ہی کے پاس فوت ہوگئی "۔(المعارف ص ۸۰ مطبوعہ مصر)

اب بتا ئیے جو بیٹی ابھی ایک سال یا ڈیڑھ سال کی تھی کس طرح اس کے باپ نے کی تھی کس طرح اس کے باپ نے اس کا نکاح ابراہیم ا لنجام سے کردیا ۔ مگر جھوٹ کے پیر کہاں ہوتے ہیں آگے پیچھے دیکھے بغیر افسانہ تراشی میں مہارت دکھادی ۔مزید بات یہ ہے کہ اسی کتاب اور اسی امام کے حوالہ سے مولوی صاحب نے اپنی دلیل نمبر ۹ قائم فرمائی ہے یعنی موصوف کے نزدیک مورخ و کتاب دونوں قابل قبول ہیں ۔

چادروں کی تقسیم والی روایات :-

پوری بخاری میں اس روایت کے علاوہ ام کلثوم کا ذکر موجود نہیں ہے پھر یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ روایت کی کونسی عبارت ہے جو ام کلثوم کو زوجہ عمر ظاہر کرتی ہے ۔مولوی صاحب نے ترجمہ نقل کرتے ہوئے خیانت کردی ہے کہ ام کلثوم کے بعد "بنت علی " کا اضافہ کردیا ہے جبکہ اصل روایات میں صرف ام کلثوم ہے ولدیت بیان نہیں ہوئی یہ مولوی صاحب کا ظنی عبارت ہے جو مذموم ہے ۔زیادہ سے زیادہ اس نکاح کے باراتی لفظ "عندک" سے یہ مفہوم اخذ کرتے ہیں کہ اس سے مراد زوجیت ہوگی ۔ لیکن اگر ہم "عندک "کو لغت کے معنی سے دیکھیں تو صرف "نزدیک" "پاس""قریب" ہونگے ۔قرآن مجید میں بھی یہ لفظ ان ہی معنوں


میں مستعمل ہوا ہے ۔ پس اگر اس روایت کو صحیح سمجھ لیا جائے تو زیادہ سے زیادہ یہ مطلب ہوگا کہ وہ ام کلثوم جو حضرت عمر کے پاس تھیں ان کے لئے چادر کی سفارش کی گئی ۔ اب لفظ پاس یا نزدیک سے زوجیت مراد لینا کہاں تک درست ہے یہ صاحبان علم خود فیصلہ فرما سکتے ہیں ۔اگر عند کے معنی زوجیت کے ہوتے ہیں تو پھر اسی روایت میں موجود اس جملے کا ترجمہ کیا ہوگا ۔"فقال لہ بعض من عندہ " یعنی وہ لوگ جو عمر کے پاس تھے ان میں سے کسی نے کہا تو اگر عند کے معنی زوجیت کے ہیں تو وہ سب حاضرین اس لحاظ سے عمر کی زوجیت میں داخل ہوگئے ۔

روایت میں موجود ہے کہ مدینہ کی عورتوں میں حضرت عمر نے چادر یں تقسیم کیں تویہ عورتیں حضرت عمر کے پاس تھیں کیا محض پاس ہونے کے باعث وہ سب ازواج قرارپائیں گی ۔ہرگز نہیں تو پھر ام کلثوم میں کیا خصوصیت ملی جو زوجہ سمجھ لی گئی اگر کہنے والا مقصد زوجیت کا اظہار ہی کرنا چاہتا تھا تو آخر وہ عرب ہی ہوگا ۔اس عام و مروجہ الفاظ چھوڑ کراس بے محل لفظ کا استعمال کیوں کیا وہ "تحتک ،زوجک، امراتک " وغیرہ وغیرہ کچھ بھی کہہ سکتا تھا ۔"عند" کا لفظ قرآن مجید میں بہت استعمال ہوا ہے مگر کسی بھی جگہ اس کے معنی زوجہ یابیوی نہیں پائے اور نہ ہی کسی تفسیر میں ایسی کوئی مثال ملتی ہے ۔

قابل غور امر یہ ہے کہ اگر ام کلثوم زوجہ عمر تھیں تو ایک شوہر کو خود اپنی بیوی کی ضروریات کا خیال ہوتا ہے ۔ مجمع عام میں ایک نامحرم کو خلیفہ صاحب کی زوجہ کی ضروریات کا احساس کیوں ہوگیا ؟۔

روایت کو رد کرنے کے لئے یہ غور ہی کا فی ہے کہ اس سفارشی کا نام آج تک ظاہر نہ ہوسکا لہذا اس کی ثقایت ہی نا معلوم ٹھہری اس روایت کا راوی ثعلبہ ابن مالک ہے ۔واقعہ مجلس کا ہے لیکن اور کوئی شخص اس روایت کو بیان نہیں کرتا ہے روای ثعلبہ جو یہ کہتا ہے کہ مجمع میں موجود کسی نے سفارش کی پھر خود


ہی کہتا ہے کہ " یعنی ان لوگوں کی مراد اس سے ام کلثوم تھی " یعنی "یریدون ام کلثوم" اب غور کریں کہنے والا اکیلا تھا اب لوگ کہاں سے سفارشی بن گئے ۔واحد یکدم جمع کس طرح بن گئے ۔

بخاری نے اس روایت کو نقل تو کر لیا جس کے اصل راوی کا پتہ معلوم نہیں اور انھوں نے ثعلبہ ہی کے اعتماد پر اس کو درج کرلیا ۔لیکن جب علم رجال میں اس روایت کی پڑتال ہوتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس نام کا کوئی آدمی ہی نہ تھا چنانچہ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں ہر طرح کے روایوں کے حالات لکھے ہیں مگر ثعلبہ کا کہیں نام پتہ نہیں ملتا ہے ۔

پس یہ ایسی روایت ہے جس کے راوی کانام ونشان بھی معلوم نہ وہوسکا ۔اگر اس روایت کو صحیح بھی سمجھ لیا جائے تو بھی اس سے ام کلثوم کا بیوی عمر ہونا ہرگز ثابت نہیں ہوسکتا ہے پس ماننا پڑتا ہے کہ یہ داستان سر تا پا دروغ گوئی پر مبنی ہے اور جھوٹ کا پروپیگنڈہ کر کرے اسلام اور اس کے بزرگوں کی تذلیل و انتہاک کرتے ہیں جبکہ حق بین نگاہیں یہ واقعہ سنکر جھک جاتی ہیں ۔

نماز جنازہ والی روایت :-

سنن نسائی کی جو روایت خط میں نقل کی گئی ہے ۔مولوی عبد الرحمان صاحب نے اس میں معنوی تحریف کرکے ترجمہ لکھ بھیجا ہے ،حالانکہ اس روایت میں یوں ہے کہ " نافع سے سنا وہ زعم کرتے تھے لفظ زعم" اس پوری روایت کو باطل کردیتا ہے کیونکہ روای کو خود اپنے بیان پر شبہ ہے ۔یہ روایت پر مبنی ہے ۔حدیث کے لئے ضروری ہے کہ حتمی ہو ظنی احادیث سے استلال نہیں کیا جاسکتا ہے پھر لغوی اعتبار سے دیکھا جائے تو زعم " کو جھوٹ بولنے کے معنی میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔جیسا کہ لغات کشور ی مطبوعہ لکھنوص ۲۲ میں مرقوم ہے اس معنی کے لحاظ سے یہ ترجمہ بھی کیا جاسکتا


ہے کہ نافع یہ جھوٹ بولتے تھے کہ ابن عمر نے ام کلثوم و زید کی نما ز جنازہ ایک ساتھ پڑھی ۔امام بخاری کا اپنی صحیح میں یہ واقعہ نہ نقل کرنا اس بات کی دلیل ہے وہ اس کو صحیح نہیں سمجھتے تھے لہذا تاریخ صغیر میں اس کا ذکر کرنا کسی اہمیت کا حامل نہیں ہے سنن ابو داؤد سے نقل کردہ روایت میں یہ تصریح موجود نہیں کہ ام کلثوم حضرت علی (علیہ السلام) کی بیٹی تھیں ۔جبکہ حضرت عمر کی اور بیویوں کا نام بھی ام کلثوم تھا (تفصیل آیندہ صفحات پر ملاحظہ کریں) ۔دارقطنی کی روایت ان ہی کی تابع ہے جب اصل کا انحصار "زعم" پر ہے تو نقل مصدق نہیں ہوسکتی ہے ۔

مستدرک حاکم کی روایت سے ثابت ہے کہ ام کلثوم کا رشتہ حضرت علی نے اپنے بھتیجے سے منسوب کررکھا تھا اور حضرت عمر ایک منسوبہ لڑکی کے لئے دباؤ ڈال کر اپنے نکاح میں لینے پر مجبور کررہے تھے ۔ خود مولوی صاحب کے اصول مسلمہ کی روسے یہ ان دونوں حضرات کی شان کے خلاف بات تھی کہ ایک زبان دیکر رشتہ طے کرچکے بعد میں اپنی زبان سے پھر جائے اور دوسرا کسی ہاشمی مرد کے رشتے کو توڑواکر ایک کمسن لڑکی کو اپنی پیران سالی کی بھینٹ چڑھائے پس ناموس صحابہ کا تحفظ یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس روایت کو ٹھکرادیا جائے بیہقی کی روایت کا بھی یہی جواب ہے ۔

طبقات کی وہ روایت جس میں زید اور رقیہ کے جنم لینے کا ذکر ہے ۔وہ ہم تاریخی اعتبار سے کا لعدم قرار دے چکے ہیں ۔ اور ابن قتیبہ دینوری کی روایت پر بھی بحث گزشتہ صفحات میں کی جاچکی ہے اسی طرح طبری کی روایت کا جواب بھی بیان بالا میں دیا جا چکا ہے واضح ہو کہ ابن قتیبہ دینوری نے معارف ہی میں لکھا ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام) کی تمام لڑکیوں کی شادی اولادعقیل و اولاد عباس سے ہوئی تھی سوائے ام الحسن اور فاطمہ کے (صفحہ ۷۰) اس میں ام کلثوم کا نام نہیں ہے ۔


گو کہ ہم سنی کتب سے پیش کردہ دلائل کو صرف یہ کہکر نظر انداز کرسکتے تھے کہ یہ ہماری روایات نہیں ہیں مگر ہم نے شیعہ و سنی افتراق سے قطع نظر کرتے ہوئے متحدہ محاذ پر ایک غیر مسلم اعتراض کو رد کرنے کے لئے یہی مناسب سمجھا کہ مسلک سنیہ سے ان روایات کو باطل ثابت کردیا جائے تاکہ وہ لوگ جو اس نکاح کے قائل ہیں اپنے خیالات کی اصلاح کرلیں اہل سنتہ علماء کی کثیر تعداد نے نکاح کو من گھڑت قراردیا ہے ۔چنانچہ مولوی محمد انشاء اللہ صاحب صدیقی حنفی چشتی بدایوانی اپنی کتاب "السر المختوم فی تحقیق عقد ام کلثوم"میں لکھتے ہیں۔

" نا ظرین یہ سب راوی اول کی فضولیات ہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ابتدا ایک مفتری زبیر بن بکا ء ایسے کذاب اور وضاع حدیث نے حضرت عمر فاروق پر یہ تہمت لگائی ہے اور حضرت علی پر یہ جھوٹ بولا ہے کہ عقد ام کلثوم بنت علی کا واقعہ اپنے دل سے تراش کر بیان کردیا"۔

پس یہی ایک صحیح حل اس اعتراض کا ہے کہ اسلامی شریعت بھی محفوظ رہتی ہے اور صحابہ بلکہ راشد خلیفوں کی عزت بھی برقرار رہتی ہے ۔


شیعہ روایات کا جواب

عدت گزارنے کا مسئلہ:-

فروع کافی ،استفسار ،تہذیب کی جو روایت عدت گزارنے کے مسئلہ میں مولوی عبد الرحمان صاحب نے نشان کروائی ہے اس کے راوی مجروح ومقدوح اور فاسد العقیدہ ہیں ۔

فروع کافی کے راوی حمید بن زیاد اور ابن سماعہ ہیں ان دونوں کا تعلق مذہب واقفی سے ہے جن کو کفر و زندقہ تک مماثلت ہے جیسا کہ "رجال


مامقانی جلد اول ص ۳۷۸ پر امام رضا علیہ السلام کی احادیث سے ثابت ہے کہ اسی راویت کا ایک راوی حسن بن محمد بن سماعہ ہے جو علماء رجال کے نزدیک بالاتفاق واقفی المذہب تھا ۔(رجال کشی ص ۲۹۳)

اسی طرح دوسری روایت کا راوی ہشام بن سالم ہے جو فاسد العقیدہ تھا اور اللہ کی صورت مانتا تھا (رجال کشی ص ۱۸۴)

یہ روایت سلیمان بن خالد سے بھی مروی ہے جو زیدیہ فرقہ سے تھا ۔تنقیح المقال جلد ۵۷ پر ہے ۔نجاشی اور شیخ طوسی نے اسے ثقہ تسلیم نہیں کیا ۔ابن داؤد نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے اور مقیاس الدرایہ ص ۸۴ پر ہے کہ زیدی ،واقفی ،ناصبی ،ایک منزلت پر ہیں ۔

مسالک الافہام کی روایت :-

مسالک الافہام کتب معتبرہ میں شمار نہیں ہوتی اس میں شارح کی اپنی رائے کا ذکر ہے جو حجت قرار نہیں پاسکتا ہے ۔حالانکہ اس کے خلاف کثرت سے شواہد موجود ہیں ۔

زید و ام کلثوم کا بیک وقت فوت ہونا :-

اس روایت کا راوی سعید بن سالم قداح ہے جو مجہول الحال ہے ۔(دیکھئے رجال مامقانی جلد ۱ ص ۶۵)

شہید ثالث کا بیان:

قاضی نوراللہ شوستری نےیہ بیان اس نکاح کی تردید میں دیا ہے اور "اگر" سے مفروضہ قائم کیا ہے کہ بالفرض محال اگر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ یہ نکاح ہوا تو بھی احتمال خطا کی گنجائش نہیں ہے کہ حضرت عمر کلمہ گو تو تھے ۔

علامہ شہر آشوب کی رائے :-

علامہ شہر آشوب نے مناقب میں شیعہ وسنی دونوں طرح کی روایات نقل کی ہیں ۔یہ کتاب ذاتی عقید ے سے بالا تر ہوکر نقل برائے نقل پر مبنی ہے "مجمع الفضائل " کے نام سے اس کا اردو ترجمہ سرکار ادیب سید ظفر حسن صاحب قبلہ نے شائع فرمایا ہے جو


عام دستیاب ہے ۔ اس کتاب کی جلد ۲ ص ۲۷۴ پر یہ ذکر موجود ہے اور اس کے بعد یہ تحریر کیا گیا ہے کہ "علامہ شہر آشوب نے یہ رائے صاحب شافی اور صاحب الانوار کی لکھی ہے ۔نہ کہ اپنا عقیدہ ۔شیعوں نے اس کی ترویج کو کسی وقت بھی تسلیم نہیں کیا اس غلط روایت کی تردید میں متعدد کتابیں لکھی جا چکی ہیں اس کے بعد والی روایت نقل کرنے کے بعد تحریر ہے کہ "یہ سب معاویہ شاہی ٹکسال کے کھوٹے سکے ہیں ۔ایسی روایات نہ عقلا صحیح ہیں نہ نقلا ص ۴۷۴۔

سراکار علم الہدی کی تحریر:-

جناب علامہ مرتضی علم الہدی نے محض اس قسم کے نکاح کی صورت کو جائز قرار دینا فرض کیا ہے نہ کہ حضرت عمر اور حضرت ام کلثوم بنت علی وفاطمہ کے عقد کو صحیح تسلیم کیا ہے ۔

شیخ قمی کا اظہار:-

علامہ شیخ عباس قمی نے صرف اس قصّے کا کتابوں میں لکھا ہونا بیان کیا ہے نہ کہ تائید کا اظہار ۔

منتخب التورایخ :-

یہ کتاب مناظر انہ ہے نہ محققانہ بلکہ ہر طرح کی تاریخی روایات کا مجموعہ ہے لہذا حجت قرار نہیں پاسکتی ۔

علامہ مجلسی کا موقف:-

علامہ مجلسی کی اپنی ذاتی رائے ہے جس کی اساس روایات مذکورہ پر ہے جو کہ صحیح السند ثابت نہیں ہوتی ہیں ایسی ضعیف روایات کی بنیاد پر موافقانہ اختیار کرنا محض خطائے سہودی متصور ہوگا ۔حالانکہ ملت شیعیہ کا اس امر پر اتفاق ہے کہ یہ نکاح محض افسانہ ہے ۔

ہم نے شیعہ وسنی دونوں منقولہ روایات کو علم الرجال کی روشنی میں ناقابل قبول ثابت کردیا ہے ۔ مولوی صاحب کا یہ ارشاد ہمارے نزدیک قطعا مہمل ہے ہم جبر و اضطرار کی صورت میں یہ نکاح تسلیم کرتے ہیں ۔حالانکہ ہماری


تحقیق کے مطابق اس نکاح کا انعقاد ہی ثابت نہیں ہے ۔اور کلینی کی کافی میں مندرجہ روایت کی عبارت "ان ذالک فرج غصباہ" قول اما م نہیں ہوسکتا ۔شان امامت ایسے بے ہودہ کلام سے بالا تر ہے یہ روایت ہشام بن سالم جو الیقی سے بیان ہوئی ہے جس کا عقیدہ توحید بھی درست نہ تھا ،امام رضا علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ "ہشام بن سالم کا عقیدہ اختیار نہ کرو" اس فاسد العقیدہ راوی کے حالات ملاحظہ فرمائیں رجال کشی ص۱۸۳ پر اس روایت کا ایک راوی حماد بن یزید بھی ہے ۔علامہ حلی نے اس کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ عامی یعنی غیر شیعہ تھا ۔ دیکھئے خلاصۃ الاقوال ص ۲۱۹ نیز اس روایت کی سند بعض نے زبیر بن بکار تک پہنچائی ہے جو کٹر ناصبی اور دشمن اہل بیت تھا ۔اب جس روایت کے راوی اس طرح کے افراد ہوں اس کا کیا مقام ہوسکتا ہے ۔

اسی طرح علامہ خلیل قزوینی نے "انصافی" میں تشریح کی ہے اس کا مدار بھی زبیر بن بکار کی روایت پر ہے ۔زبیر بن بکار شیعوں کے نزدیک قظعا ناصبی ہے مگر اہل سنت علماء نے بھی اسے وضاع ،ناقابل اعتبار اور مردود قرار دیا ہے ۔ملاحظہ کریں (میزان الاعتدال جلد ۱ ص ۳۴۰)

مولوی صاحب نے جو قصہ سحیقہ بنت حرہ جنیہ کا تحریر کیا ہے وہ عقلا لغو ہے ۔ہمارے علماء نے اس کی صحت سے انکار کیا ہے ۔ آیت اللہ آقا سید جعفر بحر العلوم نجفی نے کتاب تحفۃ العالم شرح خطبۃ المعالم جلد ۱ ص ۲۴۰ میں اس روایت میں تحریف ٹھہرایا ہے ۔وہ روایت اس طرح ہے

معصوم کا انکار:-

"عمر بن اذینہ نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ لوگ ہم پر حجت کرتے ہیں امیر المومنین نے فلاں کو لڑکی بیاہ


دی ۔امام ٹیک لگائے تشریف فرما تھے ۔جوش غیرت میں اٹھ بیٹھے اور فرمایا جو لوگ ایسا گمان کرتے ہیں وہ راہ راست کی طرف ہدایت پانے والے نہیں ہیں ۔سبحان اللہ ! کیا امیر المومنین اس بات پر قادر نہ تھےوہ اپنی لڑکی کو ان سے چھڑا سکتے ۔اور ان کے اور اس کے درمیان حائل ہوتے ۔انھوں نے محض گمان کرکے جھوٹ باندھا ہے ۔(ناسخ التواریخ جلد ۳ ص ۴۰۸)

الغرض ہمارے مسلک کے مطابق اس نکاح کا وقوع ہی ثابت نہیں ہے اس لئے اس ضمن میں کسی تاویل من گھڑت کو ہم کوئی اہمیت نہیں دیتے ہیں ۔

ابو محمد فضل بن شاذان کی تردید:-

جناب ابو محمد فضل بن شاذان بن خلیل نیشاپوری ہمارے جلیل القدر فقہا و ثقہ متکلمین میں سے ہیں آپ امام رضا ،امام محمد تقی ،امام علی نقی ، اور امام حسن العسکری علیھم السلام کے مقتدر صحابی تھے ۔آپ کو اہل سنت نے بھی معتمد علیہ تسلیم کیا ہے ۔آپ اس افسانوی نکاح کی شدت سے تردید فرماتے ہیں کہ "لوگوں نے غلط طور پر وہم کر لیا ہے کہ عمر نے ام کلثوم الکبری بنت امیر المومنین کارشتہ طلب کیا بلکہ انھوں نے تو ام کلثوم بنت جرولی خزائیہ سے نکا ح کیا "۔ (تاریخ قم حسن بن محمد بن حسن نیشاپوری قمی معاصر شیخ صدوق ص ۱۹۳ مطبوعہ تہران)۔

شیخ مفید کا تبصرہ :-

سرکار علامہ شیخ مفید کا علمی تبحر زہد وتقوی علمائے اہل سنت نے بھی تسلیم کیا ہے آپ نے بھی اس فرضی نکاح کی شدید تردید فرمائی ہے اور تحریر کیا ہے کہ ۔

"یہ روایت جو وارد ہوئی ہے کہ جناب امیر المومنین نے اپنی لڑکی کی شادی حضرت عمر سے کردی ۔بالکل ثابت نہیں ہے ۔چونکہ اس کا راوی زبیر بن بکار ہے ۔


جس کا طریقہ مشہور ہے کہ یہ شخص نقل روایت میں ناقابل اعتماد ہے اور متہم ہے ۔ چونکہ یہ حضرت علی علیہ السلام کا دشمن تھا اور بنو ہاشم پر اپنے دعوؤں میں بالکل ناقابل اعتماد ہے ۔درحقیقت یہ روایت اس لئے نشر ہوگئی کہ ابو محمد یحیی بن حسن صاحب نے اپنی کتاب میں اس کو لکھ دیا ۔ لوگوں نے علوی سمجھ کر اس روایت کو صحیح سمجھ لیا ۔ حالانکہ اس نے یہ روایت زبیر بن بکار سے لی ہے اور یہ روایت بھی بذات خود مختلف طور پر نقل کی گئی ہے یہ زبیر بن بکار کبھی یہ نقل کرتا ہے کہ امیر المومنین نے اپنی بیٹی کا نکاح کیا ۔کبھی روایت کرتا ہے کہ عباس کو اس عقد کا متولی بنایا کہیں روایت کرتا ہے کہ یہ عقد حضرت عمر کی دھمکیوں پر واقع ہوا ۔کبھی کہتا ہے کہ اختیار و ایثار پر یہ نکاح ہوا ۔ پھر بعض نے یہ کہا کہ عمر کا ایک لڑکا بھی پیدا ہوا جس کا نام زید ہے ۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ زید بن عمر کی اولاد بھی ہے ۔بعض نے کہا وہ بے اولاد تھا ۔ کئی کہتے ہیں یہ اور اس کی ماں دونوں قتل کردئیے گئے ۔کسی نے کہا ہے کہ ماں بعد میں بھی زندہ رہی کوئی کہتا ہے کہ عمر نے چالیس ہزار مہر مقرر کیا ۔ کوئی کہتا ہے کہ چار ہزار درہم مہر دیا کسی نے کہا پانچسو درہم دیا اور اس قول کی ابتدا اور اس واقعہ میں اختلاف کی کثرت اصل روایت کے باطل ہونے کی دلیل ہے جس کی کوئی تاثیر نہیں ہوسکتی ۔(المسائل السرویہ ص ۱۶۱ المسئلہ العاشرہ مطبوعہ نجف)

اسی طرح علمائے اہل تشیع کی طرف سے لاتعداد کتب اس نکاح کی تردید میں موجود ہیں پس ایسی پر تضاد روایات اور مبنی بر دروغ حکایات کی روشنی میں اس نکاح کودرجہ تواتر معنوی بخشاح اور فریقین کا مسلمہ قرار دینا قطعا معقول و مقبول نہیں ہوسکتا ہے ۔

مولوی صاحب نے حضرت عائشہ کی مثال اس نکاح میں پیش تو کردی ہے لیکن انھوں نے صرف کم عمری کا رخ سامنے رکھا ہے جبکہ روایات کے مطابق عائشہ


کی عمر ۹ سال بیان ہوتی ہے اور ام کلثوم کی چار یا پانچ برس ۔پھر مولوی موصوف نے پر نواسی والےرشتے کو سوتیلا ٹھہراکر قابل غور نہیں سمجھا ہے حالانکہ معاشرتی اخلاقی ضابطے اس عذر کو تسلی بخش قرار نہیں دیتے ہیں ۔حضرت عائشہ کی رخصتی مناسب وقت پر ہوتی ہے جبکہ روایت کے مطابق مبینہ ام کلثوم کی شادی قبل ازنکاح ہی دولھا کے گھر مین بڑے میاں کی دست درازی کا شکار ہوجاتی ہے ۔ پر نواسی چاہے سوتیلی ہی سہی ثقافت میں یہ رشتہ ضرور ملحوظ خاطر رکھا جائیگا اور عام تمدن کی مروجہ عادات ورواسم کے بر عکس سمجھا جائے گا ۔

مولوی عبد الرحمان صاحب نے خط میں ام کلثوم بنت علی وفاطمہ کی عمر کو بارہ سال بیان کیا ہے جو تقریبا صحیح ہے مگر بحث بارہ سالہ ام کلثوم بنت علی و فاطمہ کی نہیں ہے ۔بلکہ صغیرہ ،نابالغہ ،کمسن ،صبیہ ام کلثوم کی ہے جس کی عمر تمام تر روایات میں چار پانچ بر س سے زائد بیان نہیں ہوئی ہے ۔ پس ازروئے روایات اور بمطابق اقرار مولوی صاحب ام کلثوم زوجہ عمر بن خطاب کی مبینہ عمر یعنی چار پانچ سال اور ام کلثوم بنت علی کا سن یعنی بارہ سال ازخود اس قصے کو پاک کردیتے ہیں ۔کہ وہ زوجہ جو صبیہ نابالغہ اور صغیرہ تھی وہ بنت علی ہرگز نہ تھی بلکہ کوئی اور تھی کیونکہ اگر اس دلہن کی عمر بارہ سال ہوتی تو کم سے کم ایک آدھ روایت تو اس ذیل میں ملتی جو اسے بالغہ ثابت کرتی ۔پس ام کلثوم بنت علی کی عمر گیارہ بارہ سال ہونا اس افسانوی نکاح سے ہرگز مربوط نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ جس لڑکی کا رشتہ سنہ ۱۷ ھ میں عمر کے ساتھ طے ہوا تھا وہ حد نابالغی میں محصور رہتی ہے ۔مندرجہ ذیل تمام کتب اہل سنت اس کا واضح ثبوت دیتی ہیں کہ اس نویلی دلہن کاسن ناقابل شادی تھی ۔۔

(۱):-استیعاب جلد ۲ ص ۷۷۲۔(۲):- ذخائر العقبی ص ۱۱۷۔(۳):- سیرۃ عمر ابن جوزی ص ۲۰۵۔ (۴):- السمط الثمین ص ۲۵۷۔
(۵):- طبقات ابن سعد جلد ۸ ص ۴۶۳۔ (۶):- نسب قریش زبیری ص ۳۴۹۔ (۷):- اعلام النساء جلد ۴ ص ۲۵۶۔ (۸):-ابن عساکر جلد ۷ ص ۲۵۔ (۹):- اصابہ جلد ۲ ص ۲۶۹۔ (۱۰):- المہذب موصلی ص ۱۴۲۔ (۱۱) تذکرۃ خواص الامۃ ص ۳۳۱۔ (۱۲):- ہدایۃ السعداء ص ۲۵۹ ۔ (۱۳):- صوعق محرقہ ص ۵۵ ۔(۱۴):- براہین قاطعہ ص ۱۵۹ وغیرہ وغیرہ ۔

پس حضرت عمر کو توہین سے بچانے اور ناموس صحابہ کے تحفظ کے لئے واحد ترکیب یہی ہے کہ اس افسانوی نکاح کے انعقاد سے انکار کیا جائے ورنہ بلاوجہ اس عقد نامحمود پر اصرار ایک طرف اسلام کے دو راشد خلیفوں کی تعظیم کو ختم کرےگا تو دوسری طرف اسلام کی تعلیمات کو مکروہ بناتا رہے گا ۔ کیونکہ یہ زمانہ محض عقیدت کے پھولوں سے نہیں مہکتا ہے بلکہ اب حقائق کو فطرت عقل و شعور اور ماحول کے ترازو میں تول کر تسلیم کیاجاتا ہے لہذا اندرونی فرقہ وارانہ تعصب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غیر مسلم زبان کو بند کرنے کی خاطر ضروری ہ ےکہ اس بیہودہ حکایت اور بے حیا روایات کو ٹھکرادیا جائے ۔ جیسا کہ مخلص دانشور ان اسلام نے بلا لحاظ سنی وشیعہ اس افسانوی نکاح کو افتراء قرار دیا ہے ۔

آشی! مجھے احساس ہے کہ میرے معروضات طویل ہوگئے شاید تم اکتا ہٹ محسوس کرنے لگی ہو مگر یہ درگزر تمھاری پریشانی کا سد باب کرنے کے لئے معاون ثابت ہوگا ۔ میری حقیر رائے یہ ہے کہ تم ایلزبتھ کو شیعہ اور سنی دونوں علماء کا تردیدی بیان مطالعہ کرادو ۔اور اس پر واضح کودو کہ یہ نکاح محض تراشیدہ قصہ ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔نہ ہی حضرت عمر ایسے چال چلن والے تھے اور نہ ہی حضرت علی کا کردار اس طرح کا تھا یہ تو محض سیاسی سازش کے تحت افسانہ اختراع کیا گیا جسے کوئی بھی صاحب عقل سلیم مسلمان صحیح نہیں سمجھتا ۔پس ایک مصنوعی تاریخ۔۔


ہوسکتی اور محض افتراء پرادازی اور بہتان تراشی بزرگان اسلام کی پاک سیرتوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتیں نیز ایلزبتھ پر یہ بات بھی واضح کرو کہ کسی دیندار کا عمل بد ہرگز دین خراب ہونے کی دلیل نہیں ہوتا ورنہ پھر حواری حضرت عیسی یہودہ عسکریوتی جس نے مسیح کو گرفتار کروایا اس کی بد کرداری کی دلیل پر مذہب عیسائیت کی تردید کی جاسکے گی ۔اگر مسئلہ میں تمھیں کوئی مزید اعتراض ہو تو وہ مجھ سے علیحدہ ڈسکس کرلینا ۔فی الحال ایلزبتھ سے جان چھڑاؤ ۔شکریہ عالیہ ۔

عائشہ جس کے نزدیک یہ مسئلہ آزمائشی و امتحان بن چکا تھا بیتاب ہے کہ اسے ایسا معقول حل مل جائے کہ ایلزبتھ کالوٹا ہو ا رجحان پھر پلٹ آئے وہ جیسے ہی فرصت وفراغت کے لمحات پاتی ہے اسی تحقیق وجستجو میں رہتی ہے ۔ایلزبتھ کا رویہ عائشہ کے ساتھ گو برا نہیں لیکن کم سے کم پہلے سے بدلا ضرور محسوس ہوتا ہے وہ نہ ہی کوئی مذہبی گفتگو کرنے میں دلچسپی کا اظہار کرتی ہے اور نہ ہوی اسلامی لٹریچر کا مطالعہ اس ذوق وشوق سے کرتی ہے جو کچھ عرصہ قبل تھا ۔ایلزبتھ کا خیال ہے کہ مسلمانوں کے پاس اس اعتراض کا کوئی عقلی جواب نہیں ہے ۔وہ مطمئن ہے کہ عائشہ اس داغ بد نما کو صاف کرنے میں کسی طرح کامیاب نہ ہوگی کیونکہ وہ اس نکاح کی تائید کرچکی ہے اور عالیہ جس نے اس نکاح ڈھونک قرار دیا ہے اس وقت تک معتبر نہ قرار پائے گی جب تک دونوں مسلمان لڑکیوں میں اتفاق نہ ہوجائے پس ان کا باہمی جھگڑا اور نا اتفاقی اس الجھن کو سلجھانے میں سنگ راہ رہے گی ۔

ایلزبتھ کو عائشہ کی سنائی ہوئی وہ بات بھی یاد ہے کہ اس نے مشکواۃ شریف سے ایک روایت بیان کی تھی کہ جب حضرت عمر نے حضرت فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کا رشتہ پیغمبر اسلام سے طلب کیا تھا تو رسول (ص) نے جواب دیا تھا کہ یہ ابھی بچی


ہے صغیرہ ہے ۔اب کس قدر حیرت کا مقام ہے کہ ایک شخص پندرہ سولہ برس بعد اس بچی کارشتہ مانگتا ہے جس کی ماں کا رشتہ اسے عذر صغیر سنی کی بنا پر دینے سے انکار کیا گیا اور یہ انکار رسول (ص) نے کیا ۔ اگر یہ شخص حکم رسول کا پابند یا لحاظ در نبی ہے تو اس کو یہ خواہش زیب نہ یتی تھی ۔ بلکہ ازروئے شریعت اسلامیہ یہ گناہ تھا کیونکہ جس بات سے رسول روکیں اس سے رکنا واجب ہے ۔

ایلزبتھ مطمئن ہے کہ اگر عائشہ نس اس مسئلہ پر گفتگو کی اور اس نکاح کو مستحسن ٹھہرایا تو اسی کی سنائی ہوئی روایت سے وہ اس کی تکذیب کر سکے گی اور یہ بھی ثابت کردےگی کہ یہ عمل خلاف سنت رسول(ص) تھا ۔

عائشہ کو عالیہ نے اپنا تبصرہ دے دیا ہے وہ اس کا مطالعہ کررہی ہے اور مندرجات اس کے دل میں اترتے ۔جی کو لگتے اور عقل ونقل پر پورے پڑتے محسوس ہورہے ہیں اس کو عالیہ کا دیا ہوا یہ مشورہ بالکل معقول لگا ہے کہ اس توہین آمیز نکاح کا انکار کردینا ہی ہماری شرم سے جھکی ہوئی نگاہوں کو اٹھانے کا واحد حل ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اسے یہ بھی کھٹکا ہے کہ میں پہلے اس نکاح کی حمایت میں بیان دے چکی ہوں اب خود ہی اپنی بات سے کس طرح پھر سکتی ہوں ۔اور پھر یہ کہ عالیہ کا تعلق مذہب شیعہ سے ہے اس نے اپنے نظریات کے مطابق اس نکاح کو افسانوی ثابت کیا ہے ۔ مگر وہ پھر سوچتی ہے کہ عالیہ کا تبصرہ دونوں مذاہب کی روشنی میں ترتیب دیا گیا ہے اور شیعہ وسنی دونوں مذاہب کے علماء کی شہادتوں سے یہ قصّہ من گھڑت ثابت کیا گیا ہے پس میں کوئی ایسی ہستی تو ہوں نہیں جو غلطی کرنے سے محفوظ ہوں میں کیوں نہ اپنی نظر یاتی اصلاح کرلوں ۔اور ایلزبتھ کے سامنے سر اٹھا کر اعلان کردوں کہ یہ نکاح ہرگز نہیں ہوا ہے ۔یہ ہمارے علماء کی


تحقیق وتصدیق ہے ۔

پس عائشہ نے ارادہ کرلیا کہ آج وہ ایلزبتھ کی پیدا شدہ غلط فہمی کو دور کردے گی ۔وہ برملا کہہ دے گی کہ ایسی خلاف عقل اور دشمن شرافت باتوں سے اسلام کو دور کابھی لگاؤ نہیں ہے ۔وہ بلا جھجھک اعلان کردے گی ۔کہ سابق زمانے کے شریر سیاستدانوں کی دماغی ایجاد یں ہیں جن کے بل بوتے پر انھوں نے سادہ لوح لوگوں کو گمراہ کیا ۔ہم ایسے حیا سوز واقعات بلکہ تہمات کی سختی سے تردید کرتے ہیں ۔ہم ایسے حیا سوز واقعات بلکہ تہمات کی سختی سے تردید کرتے ہیں اور ان سے بیزاری و لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں اس نام نہاد نکاح کا تعلق نہ ہی ہمارے عقائد و ارکان سے ہے اور نہ ہی اصول وفروع سے ان کا کوئی واسطہ ہے یہ عقل کے بھی خلاف ہے اور نقل کے بھی ۔ لہذا اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دینا چاہیئے کسی مذہب کی تحقیقات کے لئے ہمیشہ اسے کے بنیادی اصول وقواعد کو جانچا پرکھا جاتا ہے اگر اس کے اصول فطری ہم آہنگی کے حامل ہوں اور اس کے فروع بمطابق عقل وشعور ٹھہریں تو اس مذہب کی حقانیت کے لئے کافی ہوتے ہیں ۔کتا بیں خواہ کیسی ہی پایہ کی ہوں ۔علماء چاہے کتنی ہی شان رکھتے ہوں بہرحال ان کی ایسی تحریریں جو حضرت عمر یا کسی اور برگزیریدہ ہستی پر بے شرمی و بے غیرتی کا الزام عائد کریں وہ ہرگز قابل قبول نہیں ہوسکتی ہیں کیونکہ اسلام اوراس کے اکابر بزرگوں کی عزت وجلالت پر دھبہ لگانے سے بہتر یہی ہے ایسی روایات کو پانی سے دھو ڈالیں اور ایسے علماء کی باتوں کو بالائے طاق رکھ دیں ۔(مولوی شبلی نعمانی نے واقعہ قرطاس کا انکار اسی عذر پر کیا ہے (الفاروق )) ۔

عائشہ کوآج قلبی سکون اور ذہنی قرار محسوس ہورہا ہے ۔وہ خوش ہے کہ اسے ایک الجھن سے نجات مل گئی ۔اسے سکھ کی سانس نصیب ہوئی عائشہ خدا کے حضور نماز شکرادا کرتی ہے جب عائشہ نماز سے فارغ ہوتی ہے ۔


تو ایلزبتھ کو کمرے میں موجود پاتی ہے ۔

ایلزبتھ :- مس آشی کیا بات ہے آج بڑی تم fresh اور سمارٹ دکھائی دے رہی ہو ۔ چہرہ بارونق اور کھلا ہوا ہے ۔

عائشہ :- ہوں ۔ بنانا بھی کوئی تم سے سیکھے ۔کوئی خاص بات تو نہیں ہے ۔

ایلزبتھ :- اس میں بنانے کی کیابات ہے واقعہ گزشتہ دنوں کی نسبت آج تم تر وتازہ اور ہشاش بشاش نظر آرہی ہو۔

عائشہ :- اچھا بھئی ۔ ایسا ہی ہوگا ویسے مجھے تو آج تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہو ۔

اس رسمی گفتگو کے بعد عائشہ اصل مقصد کی طرف آتی ہے اور ایلزبتھ کو کہتی ہے کہ

عائشہ :- ایلزبتھ تم نے جو اس دن حضرت عمر کے نکاح پر اعتراض کیا تھا میں نے اس کی ریسرچ کی ہے اور اطلاعا عرض ہے کہ حضرت ام کلثوم سے حضرت عمر کی شادی کرنا عادتا ،شرافت ،ادب ،تہذیب ،رسم ورواج اور انسانی حیاء وعزت کرے اعتبار سے ناممکن تھا اور ہم مسلمانوں کے نزدیک ایسی تمام روایات جھوٹی ہیں ۔یہ صرف اسلام کوبدنام کرنے کے لئے دشمنوں نے گھڑی ہیں ۔ یہ نکاح نہ ہی عقل سے صحیح ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی نقل سے کچھ سادہ لوح لوگوں نے اس افسانہ کی تائید ضرور کی ہے مگر اسلامی شریعت کے لحاظ سے نہ ہی یہ نکاح فقہ کے مطابق صحیح ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی تاریخ سے اس کے انعقاد کی تصدیق وتوثیق ہوتی ہے ۔روایتا اور درایتا اس نکاح کی نفی ثابت ہے

عائشہ ایلزبتھ کو علماء کے بیانات پڑھوا دیتی ہے اور اس کی غلط فہمی دور کردیتی ہے ۔


حقیقت

افسانہ تمام ہوا ۔اب حقائق کا رخ ملاحظہ فرمائیے ۔روائتی ودرائتی اعتبار سے عقد ام کلثوم ایک مفروضہ بد نہاد کاروائی قرار پایا ۔اب تاریخی اجمال سے اس نام نہاد نکاح کی حیثیت سماعت فرمائیں ۔

تاریخی خامیاں :-

(۱):- یہ عقد ذیقعد سنہ ۱۷ ھ میں منعقد ہونا بیان کیا گیا ہے ۔اسی سال حضرت زینب بنت علی علیھما السلام کی شادی خانہ آبادی جناب عبد اللہ بن جعفر سے ہوئی ۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بڑی بیٹی کی موجودگی میں چھوٹی دختر کا نکاح پہلے کیوں کردیا گیا ؟

(۲):- تاریخ میں تصریحا مرقوم ہے ۔ام کلثوم اور ان کے صاحبزادے زید جنکی عمر بیس بر س تھی کا انتقال ایک ہی وقت پر ہوا ۔امام حن نے عبداللہ بن عمر کو نماز جنازہ پڑھنے کو کہا جبکہ ام کلثوم سنہ ۶۱ ھ میں واقعہ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ تھیں اور اسیران کربلا میں تھیں ۔عبداللہ بن عمر کا یزیدی حکومت پر بہت اثر ورسوخ تھا حتی مختار کو ان ہی عبداللہ کی سفارش پر رہا کردیاگیا تھا حالانکہ وہ اعلانیہ بنی امیہ کے جانی دشمن تھے ۔ مگر ان عبداللہ بن عمر کی سوتیلی ماں ہوتیں تو وہ ضرور غیرت کھاتے اور اپنے باپ کی عزت کو بازاروں میں در بدر نہ ہونے دیتے ۔

(۳):- مورخین نے لکھا ہے کہ بعد از وفات عمر حضرت ام کلثوم کا نکاح عون بن جعفر سے ہوا حالانکہ شیعہ روایات میں سنہ ۱۷ ھ میں بی بی زینب و ام کلثوم


دونوں کا عقد ایک ہی وقت میں ایک ہی وقت میں عبد اللہ اور عون سے ہوا ۔بعد از وفات عمر حضرت عون سے بی بی ام کلثوم کا نکاح اس لئے نا قابل تسلیم ہے کہ جناب عون بن جعفر زمانہ عمر ہی میں جنگ فارس میں کام آگئے یعنی عون حضرت عمر کی زندگی ہی میں انتقال کرگئے ۔پس بعد از موت عمر کیا عون کی روح سے شادی ہوئی ؟ ۔سنہ ۲۰ ھ میں ام کلثوم کا دوسرا عقد جناب محمد بن جعفر طیار سے ہوا جو جنگ صفین میں شہید ہوگئے اس کے بعد ام کلثوم کی نسبت سے ان کی کنیت ام کلثوم ہوگئی جبکہ اصل نام زینب صغری تھا ۔

(نوٹ :- بعض علماء اور عہد حاضر کے محققین کا خیال ہے کہ حضرت ام کلثوم کا عقد صرف عون بن جعفر ہی سے ہوا جو واقعہ کربلا میں جہاد کے میدان میں شہید ہوئے ۔)

(۴):- کسی بھی روایت سے یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ وقت نکاح یعنی سنہ ۱۷ ھ میں منکوحہ ام کلثوم بالغہ تھیں بلکہ صغیرہ اور صبیہ کے الفاظ کمسنی پر زور دیاگیا ہے ۔جبکہ حضرت ام کلثوم بنت علی و فاطمہ سنہ ۱۷ ھ میں قابل شادی تھیں ۔ام کلثوم کا نابالغی اور کمسنی پر تمام مورخین کا اتفاق ہے اور ابن حجر مکی نے اس سلسلہ میں ایک وضاحتی بیان لکھا ہے جو آپ آئندہ ملاحظہ کریں گے ۔

(۵):- اہل بیت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے افراد نے اکثر اس نام نہاد نکاح کا انکار کیا ہے چنانچہ علامہ ابن حجر مکی لکھتے ہیں ۔

"اہل بیت کی جماعت جہلا اس نکاح سے کرتی ہے جس سے ہمیں تعجب ہوتا ہے " ابن حجر مزید لکھتے ہیں "جب حضرت علی نے


ام کلثوم کو حضرت عمر کے پاس بھیج دیا تو وہ ان کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے ۔ان کو اپنی گود میں بٹھا لیا ۔ ان کے بوسے لئے ان کے حق میں دعا ئے خیر کی اور حضرت عمر نے ام کلثوم کو اپنی گود میں بٹھایا اور اپنے سینے سے چمٹایا ان کے ساتھ یہ برتاؤ ان کی عزت کے خیال سے کیا کیونکہ ام کلثوم اپنی کم سنی کی وجہ سے اس عمر کو نہ پہنچی تھیں کہ ان پر شہوت ہوسکتی جس کی وجہ سے حضرت عمر پر یہ باتیں حرام ہوتیں ۔اگر وہ بہت چھوٹی بچی نہ ہوتیں تو ان کے والد ان کو حضرت عمر کے پاس بھیجتے ہی نہ تھے "۔(صواعق محرقہ مطبوعہ مصر ۹۴)۔

اب ہم علامہ ابن حجر مکی سے پوچھتے ہیں کہ اگر یہ ام کلثوم واقعی بنت علی و فاطمہ تھیں (معاذاللہ ) تو سنہ ۱۷ ھ میں و ہ گیارہ بارہ برس کی ہوچکی تھیں اتنی چھوٹی کس طرح ہوگئیں کہ مؤرخین نے صبیہ تک تعبیر کردیا حالانکہ مورخین نے ام کلثوم کا سن پیدائش سنہ ۵ ص یا سنہ ۶ بیان کیاہے پھر کس طرح حضرت علی علیہ السلام کا ان کو حضرت عمر کے پاس بھیجنا درست ہوگیا اور حضرت عمر کا بوس کنار ،سینے سے لپٹنا اور گود میں لینا جائز ٹھہرا ۔جبکہ عرب کی آب ہوا کے مطابق قریشی عورتوں کی حالت یہ تھی کہ بی بی عائشہ صرف نو برس کی عمر میں ہم بستری کے قابل ہوگئیں تھیں چنانچہ محترمہ خود فرماتی ہیں کہ اتنی عمر میں رسول نے میرے ساتھ جماع کیا ۔پس عقل ونقل دونوں طرح سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ام کلثوم بنت علی و فاطمہ سنہ ۱۷ ص میں بالغہ تھیں اور ام کلثوم زوجہ عمر اس وقت بلک ننھی ،نادان ،گود میں بٹھانے بلکہ بوسے کے قابل اور تمام بد دیکھے جانے کے لائق بچی تھیں ۔یہ وہی ام کلثوم تھیں جو سنہ ۴۹ ھ میں فوت


ہوگئیں اور اس کے بعد دنیا میں ان کاوجود نہ تھا ۔سنہ ۵۰ کے بعد جو ام کلثوم دنیا میں تھی وہ زوجہ عمر ہرگز نہ تھیں کیونکہ ایک ہی عورت کا سنہ ۴۹ ھ دونوں کے خلاف ہے اور جو شخص ان دونوں کو ایک ہی کہے یا دونوں کے حالات ایک ہی عورت کے قرار دے یا دونوں کے تعلقات ایک ہی بی بی سے منسوب کرے ۔اس کے دماغ کا علاج کرنا ضروری ہوگا ۔ ایک بچہ بھی یہ سجھ سکتا ہے کہ سنہ ۵۰ سے قبل مری ہوئی ام کلثوم اور تھی اور کربلا والی ام کلثوم اور

ام کلثوم کی شخصیت کے تعین میں سنی علما کی گھبراہٹ:-

علمائے اہل سنت نے اپنے خلیفہ دوم پر سیدہ طاہرہ کی ناراضگی کا الزام دور کرنے کے لئے نکاح کلثوم کا افسانہ تو مشہور کردیا مگر اس جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے بہت کچے سہارے ڈھونڈے اور لاکھ کو ششوں کے باوجود بھی یہ فیصلہ نہ کرسکے کہ جس ام کلثوم بنت علی کا عقد سنہ ۱۷ ھ میں فرض کیا گیا وہ جناب امیر علیہ السلام کی کونسی صاحبزادی تھیں وہ کب مری اور کس کس سے عقد کیا ۔ ایک جماعت علمائے اہل سنت نے دعوی کیا کہ ام کلثوم جناب زینب سے بڑی تھیں مثلا ابن سعد ،امام نووی ،حافظ ذہبی ، مسعودی وغیرہ اسی اشتباہ کی وجہ سے اہل سنت میں اختلاف ہے کہ عبداللہ بن جعفر سے ام کلثوم کی شادی کب ہوئی ۔ چنانچہ ابن سعد نے طبقات میں لکھا ہے کہ عبداللہ بن جعفر کا عقد ام کلثوم سے ان کی بہن زینب کے انتقال کے بعد ہوا ۔لیکن ابن انباری نے اس کے


خلاف یہ لکھا ہے کہ عبد اللہ بن جعفر کی شادی پہلے ام کلثوم سے ہوئی ان کے مرنے کے بعد زینب س نکاح کیا حسن عدوی ک بھی یہی رائے ہے ۔

حالانکہ یہ بلکل غیر معقول بات ہے کیونکہ علمائے اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ام کلثوم زوجہ عمر کا انتقال معاویہ بن ابو سفیان کے دور میں ہوا پھر تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ زینب بنت علی کے پہلے شوہر عبد اللہ بن جعفر ہیں اگر ابن انباری اور عدد ی کا قول مان لیا جائے تو لازم آئے گا کہ بی بی زینب کی شادی ۴۹ سال کی عمر میں ہوئی جو قطعا باطل ہے کیونکہ سنہ ۱۷ جناب علی علیہ السلام خود نے حضرت زینب کا عقد عبد اللہ سے کیا ۔

مصری ادیب حسن قاسم اپنی کتاب "السیدہ زینب " میں دعوی کرتے ہیں کہ ام کلثوم کی شادی حضرت عمر سے ہوئی اور عہد معاویہ میں ان کا انتقال ہوا اور مدینہ میں وفات پائی (صفحہ ۲۳) مگر یہی صاحب آگے جا کر پھر لکھتے ہیں کہ ام کلثوم واقعہ کربلا میں موجود تھیں اور شام میں مدفون ہوئیں (صفحہ ۶۴)۔

"دروغ گو حافظہ ندارد" اب بھلا سوچیں معاویہ کے دور میں مرگئی ام کلثوم یزید کے زمانہ حکومت میں اس قیدی بننے کے لئے مدینہ کے قبر ستان سے اٹھ کر شام چلی گئی تھی؟۔

بعض علمائے اہل سنت مثلا ابن جوزی اور لیث وغیرہ نے دعوی کیا ہے کہ ام کلثوم بنت علی جن کا اصل نام رقیہ تھا وہ کم سنی میں وفات پاگئیں ۔

جن لوگوں نے اس افسانوی نکاح کو بیان کیا ہے انھوں نے عمر کی


وفات کے بعد مختلف شوہروں کو مختلف ترتیب سے بیان کیا ہے ۔اور یہ اختلاف ازخود ثابت کرتا ہے کہ کہانی جھوٹی ہے ۔


ام کلثو بنت علی و فاطمہ اورام کلثوم زوجہ عمر کا تقابلی جائزہ

ام کلثوم زوجہ عون بن جعفر

۱:- آپ کی سنہ ولادت سنہ ۵ ھ میں ہوئی لہذا آپ سنہ ۱۷ ھ میں بالغہ ،راشدہ ،اور عاقلہ تھیں (رسالہ زینبیہ سیوطی)

۲:- آپ کی وفات سنہ ۶۲ ھ میں ہوئی آپ واقعہ کربلا میں موجود تھیں ۔

۳:- آپ کا عقد جناب امیر (ع) نے بحکم رسول عون بن جعفر سے کیا (عقد الفرید)۔

۴:- آپ لاولد تھیں (العقد المنظوم)

۵:- آپ کا حق مہر سیدہ فاطمہ (س) کی طرح صرف ۴۸۰ درہم مقرر ہوا جو جناب امیر علیہ السلام نے اپنے مال سے بطور ہبہ عطا فرمایا ۔ (العقد الفرید)

۶:- آپ نے حالت اسیری میں ابن زیاد لعین


کے دربار اوربازار کوفہ میں فلک شگاف انداز میں فصحیح وبلیغ خطبے پڑھے۔

بنت علی ام کلثوم زوجہ عمر بن خطاب

۱:- سنہ ۱۷ ھ میں کمسن ،نابالغ ، بچی تھیں لہذا سن ولادت سنہ ۱۲ ھ ہوا ۔

۲:- سنہ ۵۴ ھ میں عہد معاویہ میں مدینہ میں اپنے بیٹے کے ساتھ فوت ہوئیں ۔

۳:- آپ کا نکاح عمروبن عاص اور مغیرہ بن شعبہ کے مشورہ سے ہوا (طبری ،کامل)

۴:- آپ با اولاد تھیں (معارف)

۵:- آپ کا حق مہر ۴۰ ہزار درہم ٹھہرا جو حضرت عمر نے ادا کیا (الفاروق)

۶:- آپ واقعہ کربلا سے سات سال پہلے فوت ہوچکی تھیں


۷:- آپ کا صرف ایک نکاح حضرت عون بن جعفر سے ہوا۔ ۷:- آپ کے متعدد نکاح مختلف شوہروں سے ہوئے ۔


ایک شبہ کا ازالہ

دور حاظر میں افسانوی نکاح کے باراتی عوام الناس کو دھوکہ دینے کے لئے اس خیال خام کا پر چار کر رہے ہیں کہ جو ام کلثوم امام حسین علیہ السلام کے ساتھ معرکہ کربلا میں موجود تھیں وہ ام کلثوم صغری تھیں یہ علی مرتضی کی کسی اور بیوی کے بطن سے تھیں یہ بات قطعا غیر مستند ہے اور کسی صحیح تاریخ حوالہ سے ثابت نہیں کی جاسکتی ہے ۔چنانچہ اس بات کی تردید ہم نہایت معتبر حوالہ سے کرتے ہیں جناب شاہ عبد العزیز دہلوی مصنف کتاب تحفہ اثنا عشریہ نے ایک نہایت قابل قدر کتاب "سر الشہادتین" تحریر فرمائی ہے اور ان کے معتمد محترم شاگرد جناب شاہ سلامت اللہ دہلوی نے اس کتاب کی فارسی زبان میں شرح لکھی ہے جو "تحریر الشہادتین " کے نام سے مشہور ہے ۔وہ قافلہ سادات کی دربار یزید پلید میں پیشی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ

"یزید نے لوگوں سے پوچھا یہ کون عورت ہے؟لوگوں نے کہا


امام حسین کی بہن اور فاطمہ زہرا کی بیٹی حضرت زینب ہیں ۔اس کے بعد جناب ام کلثوم کھڑی ہوگئیں اور امام حسین کے سرپر اپنے آپ کو گرادیا ۔پھر حضرت کے ہونٹ اور دانتوں پر اپنا منہ اس طرح ملایا کہ بے ہوش ہو کر زمین پر لوٹنے لگیں جب ہوش میں آئیں تو یزید کے حق میں بد دعا کرنے لگیں اور فرمایا اے یزید تو دنیا سے زیادہ نفع نہیں اٹھا سکے گا ۔ اور جس طرح تونے ہم لوگوں کو مصیبت میں ڈالدیا ہے تو بھی دنیا و آخرت میں آرام کا منہ نہیں دیکھے گا ۔ یزید پلید نے پوچھا کیا یہ عورت بھی حسین کی بہن ہی ہے ؟لوگوں نے جواب دیا ہاں یہ ام کلثوم حضرت فاطمہ زہرا کی صاحبزادی ہیں "(تحریر الشہادتین ص ۷۷ مطبوعہ لکھنو)۔

پس دربار یزید میں دی گئی مخالفین کی گواہی اس شبہ کے ازالے کے لئے کافی ہے کہ اسیرہ شام سیدہ ام کلثوم سلام اللہ علیھا دختر علی و فاطمہ علیھام السلام ہی تھیں ۔جبکہ زوجہ عمر ام کلثوم اس واقعہ سے سات سال پہلے اس دنیا سے رخصت ہوچکی تھیں ۔

شیعہ وسنی محدثین ومورخین نے سیدہ ام کلثوم سلام اللہ علیھا سے نوحہ جات نقل کئے ہیں ۔ خصوصا وہ نوحہ جو سیدہ نے اسیری کے بعد مدینہ واپس آکر پڑھا بہت مشہور ہے ۔ اور جید سنی عالم مفتی اعظم سلیمان قندوزی نے اپنی کتاب ینابیع المودہ میں درج کیا ہے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ سیدہ طاہرہ کی دختر تھیں ۔آپ نے نوحہ میں اپنی والدہ معظمہ کو بھی پکارا ہے ۔اور اس کا آغاز ہی "مدینہ جدنا" کے الفاظ سے کیا ہے ۔یعنی ہمارے نانا کے شہر "معلوم ہوا کہ آپ حضور اکرم کی نواسی تھیں نہ کسی اور بی بی کی بیٹی تھیں ۔


ترقی پر تنزلی کا شوق

حضرت عمر کے افسانوی نکاح کی خوشی میں ان کے نادان دوست یہ شادیا نے بڑی دھوم سے بچاتے ہیں کہ ہمارے فاروق کو رسول سے والہانہ عشق تھا وہ اس نکاح پر محض اس لئے مصر تھے کہ رسول سے سببی رشتہ مستحکم ہوجائے میں اس مقام پر حیران ہوں کہ فیصلہ کیا کروں جناب عمر جیسے مدبر سیاست داں اور جہاں دیدہ حکمراں کی عقل کو روؤں یا ان کے خوشامدی بہی خو اہوں کی سادگی کا ماتم کروں ۔کیونکہ عقلی فیصلہ ہے کہ ہرشخص ترقی کرنے ،اونچا ہونے ،عروج پانے اور بڑا بننے کی کوشش کرتا ہے اپنے مقام سے گرنے اور ترقی سے تنزل کی جانب آنے کا رادہ کوئی بھی صاحب ہوش شخص نہیں کرتا ہے ۔

اب غور کریں کہ حضرت عمر تو اس مرتبے پر آچکے تھے کہ انھیں رسول خدا کے والد نسبتی ہونے کا اعزاز حاصل ہوگیا تھا یعنی وہ اللہ کے رسول کے بھی بزرگ بن گۓ تھے اب بعد از رسول ان کو کیا ہوگیا کہ اس عمر میں جبکہ وہ ٹانگیں قبر میں لٹکا ئے تھے بجائے ترقی کے تنزل کی طرف راغب ہوگئے ۔حضرت رسول کریم (ص) کے بزرگ اور والد نسبتی بننے کے بعد اس قدر چھوٹا بننے کی خواہش کیسے ان کے دل میں آگئی ۔ہماری عقل میں تو بات آتی نہیں ہے کہ کوئی خسر اپنے داماد کی نواسی کو ساٹھ سال کی عمر میں دلھن بنانے اور "باپ" ہوتے ہوئے اسی کا "نواسہ"بن جانے کی حماقت کردے ۔کم سے کم حضرت


عمر سے ایسی توقع نہیں کی جاسکتی ہے ۔ یہ محض حضرت عمر پر بہتان ہے ۔تہمت ہے حضرت عمر کی شان کے سراسر خلاف بات ہے کہ اپنی گود کی پالی ہوئی پر نواسی کو اپنی زوجیت میں لینے کا ارادہ کیا ہو۔معمولی اخلاق کا ادمی بھی ایسی نا زیبا حرکت نہیں کرسکتا ہے ۔ اگر حضرت کو بالفرض محال ایسا رشتہ پیدا کرنے کا شوق پیدا ہوا تھا ۔جیسا کہ ان کے بے وقوف دوست خیال کرتے ہیں تو اولا یہ شوق ہی غیرمعقول تھا کہ یہ خواہش تو کئی سال قبل حضرت حفصہ کے نکاح سے پوری ہوچکی تھی اور اس سے کہیں کم تر نہایت شرمناک نیا رشتہ پیدا کرنے کی ضرورت بے محل وبے کار تھی ۔کیونکہ اس عرصہ میں بار ہا حضرت عمر حضرت ام کلثوم کو بچی سمجھتے ہوئے اپنی گود میں کھلا چکے ہوں گے ۔اور ام کلثوم بھی ان کو نانا جان ہی سمجھتی ہوں گی لہذا ایسے حالات میں یہ رشتہ قطعا بے جوڑ تھا ۔ البتہ یہ شوق جناب عمر اپنی اولاد کے لئے کرتے تو پھر بھی بات معقول ہوتی ۔

عقل تو حضرت عمر کے بارے میں ایسی حرکت کو کبھی تسلیم نہیں کرے گی نہ ہی تہذیب اس کی اجازت دیتی ہے کیونکہ جو رشتہ حضرت رسو ل(ص) سے جناب عمر کو پہلے حاصل ہوچکا تھا وہی سبب ورشتہ ان کو اس ارادہ نکاح سے سختی سے روکنے کے لئے کافی تھا ۔ کیونکہ اس نام نہاد فعل کے غیر معقول ہونے کی بڑی دلیل یہ ہے سنہ ۳ ھ میں حضرت عمر رسول (ص) کے خسر بن گئے تھے اور ام کلثوم کے سوتیلے پر نانا ہوگئے تھے اب ایسا خیال نہ صرف خلاف تہذیب وشرافت تھا بلکہ خلاف انسانیت تھا ۔

اگر یہ کہا جائے کہ انھوں نے جناب فاطمہ کا رشتہ بھی طلب کیا تھا تو اس سلسلے میں عرض یہ ہوگی یہ خواستگاری حضرت حفصہ کی


شادی سے قبل ہوئی یعنی سنہ ۲ ھ میں جبکہ حضور اور حضرت حفصہ کا عقد اس واقعہ کے ایک سال بعد ہوا ۔

ایک اور سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ جناب زینب بنت علی سلام اللہ علیھا کی موجودگی میں آخر بڑی کو چھوڑ کر چھوٹی کا رشتہ لینے کی خواہش پیدا ہوئی حالانکہ حضرت زینب بھی اس وقت کنواری تھیں ۔

پس معمولی عقل رکھنے والا شخص اور بنیادی اخلاقی ضوابط سے آگاہ انسان بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ محض خاندان رسول (ص) کی تحقیر اور حضرت عمر کی توہین کرنے کے لئے یہ شرمناک افسانہ وضع کیا گیا اور نہ حضرت عمر ایسے ناعاقبت اندیش ہرگز نہ تھے کہ بڑھاپے میں اپنی پر نواسی سے شادی رچالیتے ۔بقول قرآن مجید ۔

"بڑی ہی سخت بات ہے ۔جو ان کے منہ سے نکلتی ہے ۔یہ سفید جھوٹ بکتے ہیں "(پ ۱ بقرہ)

اس نکاح سے نہ ہی حضرت عمر کی شان ومنزلت میں کوئی اضافہ ہوتا ہے اور نہ ہی اسلام کو فائدہ پہنچتا ہے ۔بلکہ الٹا جناب عمر کا کرداری چہرہ کالا نظر آتا ہے ۔ اور اسلام کی تعلیمات مکروہ دکھائی دیتی ہیں ۔

ام کلثوم زوجہ حضرت عمر کون تھیں ؟

مورخین ومحدثین اور علمائے فریقین کا اس امر پر اتفاق ہے کہ جو ام کلثوم حضرت عمر کے نکاح میں آئیں وہ کم سن تھیں اور روایات میں اس بی بی کا سن چار سال سے سات سال تک کا بیان ہوا ہے ۔علماء یہ بھی تسلیم کرتے ہیں


کہ یہ عقد سنہ ۱۷ ھ میں ہوا ہے ۔ہم نے اوپر ثابت کیا کہ ام کلثوم بنت علی سلام اللہ علیھا کی عمر سنہ ۱۷ ھ میں گیارہ بارہ سال تھی اور یہ سن عرب کی آب وہوا کی مناسبت سے صغیر سنی کا نہ تھا بلکہ اس عمر میں عربی لڑکیاں قابل شادی ہوچکی ہوتی ہیں لہذا زوجہ عمر ام کلثوم وہ نہیں ہوسکتی تھیں جو بنت علی و فاطمہ (علیھما السلام)تھیں۔

تاریخ سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ حضرت عمر کے نکاح میں ام کلثوم نا م کی بیوی متعدد تھیں مثلا

۱:- ام کلثوم جمیلہ بنت عاصم بن ثابت ۔جو عاصم بن عمر کی ماں تھیں ۔(تاریخ الخمیس علامہ دیار بکری جلد ۲ ص ۲۵۱)

۲:-ام کلثوم بنت جرول خزاعیہ ۔ان کا اصل نام ملیکہ تھا ۔یہ زیدبن عمر کی ماں تھیں ۔(تاریخ کامل جلد ۳ ص ۲۲)

۳:- ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط ۔زہری کے مطابق یہ بی بی زمانہ جاہلیت میں عمربن عاص کے پاس بھاگ کر آئی تھیں اور انھوں نے اسلام قبول کیا تھا ۔ان کے رشتہ داروں نے حضور (ص) سے واپسی کا مطالبہ کیا تو آنحضرت نے فرمایا ۔"جو عورت اسلام قبول کرے وہ واپس نہیں جائیگی چونکہ ابن عاص ابھی کافر تھا لہذا واپس نہ کیا گیا اور حضرت عمر نے ان سےنکاح کرلیا (تفسیر کبیر فخرالدین رازی جلد ۸ ۔شرح بخاری قسطلانی ج ۴ ص ۳۴۹)

۴:- ام کلثوم بنت راہب۔ (سنن ابن ماجہ اور سنن ابو داؤد )

۵:- ام کلثوم بنت ابو بکر ۔ دختر اسماء بنت عمیس خواہر محمد بن ابو بکر رضی اللہ عنہ (طبقات الاتقیاء ابن جہاں ۔اعلام النساء جلد ۴ ص ۲۵۰)

استعیاب ،طبری ،کامل وغیرہ سے معلوم ہوتا ہے حضرت ابو بکر کی وفات کے بعد ان کی زوجہ اسماء بنت عمیس کو ایک لڑکی سنہ ۱۲ ھ میں پیدا ہوئی چونکہ اسماء نے حضرت ابو بکر کی وفات کے بعد حضرت علی (علیہ السلام) سے شادی کرلی تھی لہذا اس بچی کو جس کا نام ام کلثوم تھا لیکر وہ حضرت علی کے گھر آگئیں چنانچہ مصنف رحمۃ اللعالمین لکھتے ہیں کہ


"اسماء بنت عمیس (بیوہ ابو بکر) کے بطن سے ایک لڑکی بعد وفات ابو بکر پیدا ہوئی تھی۔ اسی لڑکی سے حضرت عمر کانکاح ہوا (ملاحظہ کریں الفضائل تبلیغ مولوی محمد زکریا ۔کتاب ہدایۃ السعداء علامہ دولت آبادی )

پس چونکہ یہ ام کلثوم ربیبہ حضرت علی علیہ السلام کی تھیں لہذا رواج عرب کے مطابق ان کو بنت علی کہا گیا ۔

حضرت عمر نے اس رشتہ کے حصول کے لئے ام المسلمین حضرت عائشہ کو راضی کیا ان ہی کی کوششوں سے یہ نکاح ہوا ۔چنانچہ علامہ ابن حجر نس اصابہ میں طبری نے اپنی تاریخ میں اور ابن اثیر نے کامل میں لکھا ہے ۔

"حضرت عمر نے ان (ام کلثوم بنت ابو بکر) سے اپنے عقد کے لئے پیغام حضرت عائشہ کے پاس بھیجا اور وہ راضی ہو گئیں "۔

گو کہ حضرت علی علیہ السلام ذاتی طور پر اس رشتہ پر ناخوش تھے مگر اصل وارث خاندان ابو بکر تھا جن کی سرکردہ بی بی عائشہ تھیں لہذا ان کے دباؤ کے تحت آپ بھی بادل نخواستہ آمادہ ہوگئے ۔دشمنان اہلبیت نے اس رشتہ کو انتہائی غلط رنگوں میں پیش کیاجن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ تفصیل میں نے اپنی کتاب "ذکا الاذہان بجواب جلاء الاذہان المعروف "ہزار تمھاری دس ہماری " میں پیش خدمت کردی ہے ۔

حضرت عمر کا بی بی عائشہ کے پاس ام کلثوم بنت ابو بکر کے لئے پیغام عقد بھیجنا اور بی بی صاحبہ کا رضامند ہونا مندرجہ ذیل حوالہ جات سے ثابت ہے ۔

۱:-تاریخ الخمیس علامہ حسین دیار بکری مطبوعہ العامرہ العثمانیہ مصر جلد ۲ ص ۲۶۷

۲:- تاریخ کامل علامہ ابن اثیر مطبوعہ مصر جلد نمبر ۳ ص ۲۱

۳:- استیعاب فی معرفتہ الاصحاب علامہ ابن عبد البر مطبوعہ حیدر آباد دکن جلد ۲ ص ۷۹


بعض حضرات کا خیال ہے کہ حضرت ابو بکر کی وفات کے بعد کوئی بیٹی ان کی پیدا نہ ہوئی جس کا نام ام کلثوم رکھا گیا حالانکہ مندرجہ ذیل شواہد سے یہ خیال غلط ثابت ہوتا ہے ۔

۱:- تاریخ الامم و الملوک ابن جریر طبری مطبعہ الحسینہ قاہرہ مصر الجزء الثانی ص ۵۰

۲:- تاریخ الکامل علامہ ابن الاثیر مطبوعہ مصر الجزء الثانی ص ۱۶۱

۳:- تاریخ الخمیس علامہ دیار بکری مطبوعہ مطبعۃ العامرہ العثمانیہ مصر جلد ۲ ص ۲۷۶

۴:-الاصابہ فی تمیز الصحابہ حافظ ابن حجر عسقلانی مطبوعہ مطبعہ الشرفیہ مصر الجزء الثامن ص ۲۷۶۔الجزء الثالث ص ۲۷ ترجمہ زید بن خارجہ اور الجزء الثالث ص ۲۱۱ ترجمہ الشماخ ۔

کچھ لوگوں کاگمان ہے کہ ام کلثوم بنت ابو بکر حضرت اسماء بنت عمیس کے بطن سے نہ تھیں ۔چنانچہ صاحب بوارق محرقہ نس استیعاب اور کنز العمال کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ام کلثوم کی ماں جناب اسماء بنت عمیس تھیں ۔

پس قرائن ثابت کرتے ہیں کہ سنہ ۱۷ میں چار پانچ سالہ لڑکی ام کلثوم جس کا عقد حضرت عمر سے ہوا وہ حضرت ابو بکر کی صاحبزادی تھیں اور حضرت علی علیہ السلام کی ربیبہ تھیں ۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ ام کلثوم اگر ربیبہ تھیں تو پھر حضرت عمر نے حضرت علی کے سامنے نسب وسبب رسول کا ذکر کیوں کیا تو جواب یہ ہے یہ روایات ثبوت صحت کی محتاج ہیں کیوں کہ یہ سب تو جناب عمر کو پہلے ہی حاصل ہوچکا تھا حالانکہ اسلام میں رشتہ داری کوئی معیار نہیں ہے ۔ اور مناکحت شرط فضیلت نہیں ہے ۔کیونکہ آسیہ کی زوجیت فرعون کےلئے مفید نہیں ہے ۔ اور لوط علیہ السلام اور نوح


علیہ السلام کی بیویوں کے لئے رشتہ ازدواج کسی فائدہ کا سبب نہیں ہے ۔اسی طرح ابو لہب کے فرزند عقبہ وعتبہ جو بقول اہل سنت داماد رسول تھے وہ بھی رشتہ دامادی سے کوئی شرف نہ پاسکے ۔

ہم شمس العلماء مولوی شبلی نعمانی کی ایک عبارت نقل کرتے ہیں ۔

"فلسفہ تاریخی کایہ ایک راز ہے کہ جو واقعات جس قدر زیادہ شہرت پکڑ جاتے ہیں اسی قدر ان کی صحت زیادہ مشتبہ ہوتی ہے ۔ دیوار قہقہہ ،چاہ بابل ، اب حیواں ، مارضحاک، جام جم سے بڑھ کر کس واقعہ نے شہرت عام کی سند حاصل کی ہے ؟ لیکن کیا ان میں ایک بھی اصلیت سے علاقہ رکھتا ہے ؟حقیقت یہ ہے کہ اکثر واقعات کسی خاص وقتی سبب سے شہرت کی منزل پرآجاتے ہیں ۔پھر عام تقلید کے اثر سے جو خاصہ انسانی ہے ۔شہرت عام کی بنا پر لوگ اس پر یقین کرتے چلے جاتے ہیں اور کسی کو تنقید اور تحقیق کا خیال تک نہیں آتا یہاں تک کہ رفتہ رفتہ وہ مسلمات عامہ میں داخل ہوجاتے ہیں "۔ پس مولوی شبلی کی اس عبارت کو مد نظر رکھ کر اس واقعہ عقد ام کلثوم کو دیکھنا چاہئے ۔اور اندھا دھند روایات میں نہیں کھونا چاہئیے ۔کیونکہ روایات میں غلط اور صحیح ہرطرح کی خبریں ہیں سچ اور جھوٹ کی پہچان کے لئے ہم مسلمانوں کے پاس خدا کی کتاب بہترین کسوٹی ہے ۔کتابیں لاکھ صحیح ہوں ، مگر بلاخر وہ الہامی تو نہیں ہیں ۔محدثین و مورخین کتنے ہی جلیل القدر کیوں نہ ہوں بہر حال وہ معصوم او ر محفوظ عن الخطا نہ تھے ان سے غلطی کا صدور جائز تھا ۔

یہی وجہ ہے کہ اہل سنت کے ہاں تو یہ ہے کہ اپنی کتب کے صحیح ہونے کا دعوی ہے یعنی وہ اپنی چھ کتابوں کو صحاح ستہ کہتے ہیں اوران چھ میں دو کو صحیحن سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ ان صحیح کتابون میں لاتعداد غلط


اور غیر معقول باتیں موجود ہیں جن کو بالاتفاق مبنی بر کذب تسلیم کیا گیا ہے ۔مگر شیعوں کا اپنی کتابون کے بارے میں ہرگز ایسا دعوی نہیں ہے ۔ نہ ہی وہ اپنی چار کتابون کو صحاح اربعہ کہتے ہیں بلکہ محض کتب اربعہ کہتے ہیں اور ان کتابوں میں بھی جھوٹی سچی ہرطرح کی روایات موجود ہیں ۔

پس جو بھی روایت خلاف قرآن ہو اس کو ترک کردیجئے خواہ وہ شیعہ کتاب سے ہو سنی صحیح سے ۔چنانچہ جب ہم اس نکاح کےافسانے کو قرآن مجید کی روشنی میں دکھتے ہیں تو یہ تمام روایات بے کار بے ہودہ موضوع اور خلاف قرآن قرار پاتی ہیں ۔پس تمام مسلمان کو چاہئیے کہ ایسی لغو باتوں کو بہتان سمجھکر ٹھکرادیں کیونکہ نہ ہی عقلی طورپر یہ پایہ ثبوت کو پہنچتی ہیں اور نہ ہی نقلی اعتبار سے ۔

ایسی خلاف شان روایات کی اشاعت کے بجائے متفق فضائل اور علمی مسائل کی تبلیغ کی طرف توجہ دینی چاہئیے تاکہ دنیا حقیقی اسلامی تعلیمات سے روشناس ہوسکے ۔

دور حاضر میں زمانہ جن مسائل سے دوچار ہے اور جسے پر خطرات حالات میں گھرا ہوا ہے ان کے پیش نظر ایسے فرضی اور غیر ضروری مباحثے باہمی تلخی پیدا کرکے فضا کو مسموم تو کرسکتے ہیں مگرکسی تعمیری منصوبے کی تکمیل میں مددگار ثابت نہیں ہوسکتے ہیں لہذا ہمارا مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ ان فرسودہ بحثوں کو ختم کرکے اسلام کی عالمگیر حیثیت کو نمایاں کریں اور مخالفین اسلام کے عزائم کو خاک ميں ملا ئیں ۔دشمنوں کے دانت کھٹے کرکے یہ حقیقت ہر خاص وعام سے منوائیں کہ دنیا کے تمام مادی وروحانی مسائل کا واحد حل "دین اسلام "ہی پیش کرتا ہے ۔یہی وہ خدا کا صحیح دین ہے جو تمام الجھنوں سے نجات حاصل کرنے کاراستہ بتا تا ہے ۔کوئی سائنس


ہو یا کوئی فن کوئی ہنر ہو یا حرقت اسلام سے اس کی ہم آہنگی ثابت ہے ۔حقیقی علوم اسلامیہ ہی تمام جدید علوم کا سرچشمہ ہیں جن گتھیوں کو آج مشینی دور میں ان تھک کاوشوں سے کھولا جارہا ہے –چودہ سوسال قبل اسلام نے ان کا واحد حل پیش کیا ہے مگر افسوس کہ مسلمان خواب خرگوش میں محور ہے ۔اور انھوں نے اپنی فلاح وبہبود کے حصول کی پراوہ نہ کی ۔گھر کے جوگی کو جوگڑ ا سمجھ کر نظر انداز کیا اور باہر کے سدھ کے پیچھے بھاگنے لگے ۔نہ ادہر کے رہے نہ ادھر کے ۔

المختصر ہم نے اس حقیقت کو پایہ ثبوت تک پہنچادیا کہ یہ افسانہ با لکل بے بنیاد ہے ۔کچھ دشمنان اسلام نس اشتباہ نام سے فائدہ اٹھا کر اس کی مشہور ی کردی اور بعض نے نادانستہ طور پر مغالطہ کھایا ورنہ حقیقت شناسوں کے لئے صحیح صورت معلوم کرلینا کوئی مشکل بات نہیں ہے ۔

شیخ المحدثین جناب شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے رجال مشکواۃ میں اس قصہ کو ص ۱۱۵ پر تحریر کرکے ان ہی خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ اورعلامہ ابن اثیر نے اپنی تاریخ کامل کی تیسری جلد کے ص ۲۳ پر یہی مضمون درج کیا ہے جناب ملک العلماء دولت آبادی نے اس قصہ کی اصلیت یوں لکھی ہے ۔

"اسماء بنت عمیس اول زن جعفر طیار بود باز در نکاح ابو بکر آمدہ از ابو بکر یک پسر و یک دختر ام کلثوم نام زائید بعد از اں بہ نکاح علی بن ابی طالب آمد ۔ام کلثوم ہمراہ مادر آمدہ عمرابن خطاب بام کلثوم دختر ابو بکر نکاح کرد"۔

یعنی حضرت اسماء بنت عمیس پہلے حضرت جعفر طیار کی زوجہ تھیں ان کےبعد حضرت ابو بکر کے نکاح میں آئیں ان کے ہاں ایک لڑکا اور


ایک بیٹی ام کلثوم پیدا ہوا ہیں ۔ابو بکر کے بعد آپ حضرت علی ابن ابی طالب (علیھما السلام) کی زوجیت میں آئیں ۔ام کلثوم اپنی والدہ کے ہمراہ آئیں اور حضرت عمربن "خطاب نے ان ام کلثوم بنت ابو بکر سے نکاح کیا ۔

علامہ ابن حجر عسقلانی نے اصابہ ص ۳۴۳ پر لکھا ہے کہ ام کلثوم بنت ابو بکر بوقت وفات ابو بکر شکم مادر میں تھیں ۔حضرت ابو بکر کی وفات سنہ ۱۳ھ میں ہوئی ہے پس سنہ ۱۷ میں عمر کے نکاح میں آتے وقت یہی ام کلثوم ۴، ۵ برس کی ہوسکتی ہیں ۔

حضرت عمر کی زوجہ ام کلثوم علامہ دولت آبادی کی تحقیق کے مطابق صغیر سنی میں حضرت عمر ہی کے گھر انتقال کر گئیں اوران کی کوئی اور لاد نہ تھی ہدایت السعداء ص ۲۵۹۔

لیکن ۵۵ سالہ ام کلثوم بنت علی سلام اللہ علیھا کے واقعہ کربلا کے بعد والے خطبے جو انھوں نے عالم اسیری میں فاسقوں کے دربار میں فرماکر مسلمانوں کی خوابیدہ حمیت کو جگایا آج بھی تاریخوں میں محفوظ ہیں ۔

آپ کے پر فصاحت وبلاغت کلام نے شیر خدا علی المرتضی علیہ السلام کی آواز کا اشتباہ پیدا کردیا مسلمانوں کی غیرت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔سیدہ نس اہل کوفہ سے خطاب فرمایا ۔

"اے اہل کوفہ ! تمھارا برا حال ہو کس لئے تم نے حسین علیہ السلام کا ساتھ چھوڑا ۔اوران کو شہید کیا ۔ان کا مال و اسباب لوٹ لیا ۔اس کو اپنا ورثہ قرار دیا ۔اور ان کے اہل بیت کو قیدی بنالیا ۔ہلاک ہوتم ۔اور خدا کی رحمت تم سے دور رہے ۔وائے ہو تم پر ۔کیا جانتے ہو کس بلا میں گرفتار ہوئے اور کیسے کیسے خون تم نے بہائے کس کس کی بیٹیوں کو تم نے بے پردہ کیا کیسے اموال کو لوٹ لیا ۔تم نے ایسے شخص کے خون میں ہاتھ رنگے ہیں جو


پیغمبر کے بعد تمام عالم سے بہترین تھا ۔تمھارے دلوں سے رحم اٹھ گیا ۔بے شک اللہ کے بندے حق پر اور شیطان کے پیروکار نقصان اٹھانے والے ہیں ۔

اس کے بعد بی بی نے کئی اشعار ارشاد فرمائے جن کا ماحصل یہ ہے ۔وائے ہو تم پر کہ تم نے بے جرم خطا میرے بھائی کو موت کے گھاٹ اتاردیا ۔عنقریب تمھاری سزا جہنم کی دہکتی ہوئی آگ ہوگی کہ تم نے ایسے شخص کو بے گنا ہ (قصدا) قتل کیا جس کا خون خدا اور اس کے رسول (ص) نے قرآن میں حرام کیا ہے ۔تم کو دوزخ کی بشارت ہو ۔تم روز قیامت یقینا جہنم کا ایندھن ہوگے ۔اور میں ساری عمر اپنے بھائی پر جو بعد ازرسول تمام مخلوق سے بہتر ہے گریہ وزاری کرتی رہوں گی اور آنسوؤں کے دریا اس غم جاودانی میں بہاتی رہوں گی ۔

روای کا بیان ہے کہ سیدہ کے اس خطاب کےبعد مجمع سامعین پر حزن وملال طاری ہوگیا لوگ آہ وبکاہ و نوحہ گریہ کرنے لگے ،عورتوں نے اپنے بال پر یشان کرلئے ،سر میں خاک ڈالی ،منہ پر طمانچے مارنے لگے ،رخسار چھیلنے لگے ، اور دیکھتے ہی دکھتے نالہ وشیون برپا ہوا فضا میں کہرام برپا ہوگیا ۔ہر طرف دیکھتے ہی دیکھتے نالہ وشیون برپا ہوافضا مین کہرام برپا ہوگیا ۔ہر طرف وایلا ،وامصیبتاہ کا شور اٹھا ،ہر سو ماتم شروع ہوا ۔ اور لوگوں نے یزیدی ظلم کے خلاف علانیہ احتجاج کیا ۔راوی کہتا ہے کہ اس دن سے زیادہ کوئی روز ایسا گریہ وبکا ہمارے دیکھنے میں نیں آیا ۔

جب امام زین العابدین علیہ السلام نےیہ کیفیت ملاحظہ فرمائی تو لوگوں کو چپ ہونے کا اشارہ کیا اور بعد میں حمد خدا اور نعت رسول (ص) کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا ۔


ہمیں اس بات کا پوری احساس ہے کہ موجودہ عالمی حالات کے پیش نظر ایسے فر سودہ موضوعات پر صرف وقت کسی طرح مفید نہیں ہے لیکن سخت مجبوری کے تحت اس شرمناک واقعہ پر قلم اٹھانا ضروری خیال کیا گیا ہے کیونکہ بعض شرپسند عناصر جان بوجھ کر ایسے لاحاصل مسائل کی تشہیر کر کے ایک طرف خاندان رسول سے اپنی دشمنی کا اظہار کررہے ہیں تو دوسری طرف اسلام جیسے مصفی وپاکیزہ دین کو اس قسم کی شرمناکیوں کے ساتھ پیش کرکے دین الہی کی تذلیل پر کمربستہ ہیں ۔ لہذا ناموس اکابرین اسلام اور تحفظ طہارت دین کے لئے اس مضر پروپیگنذے کی نشرو اشاعت کی روک تھام کی جانب یہ قدم اٹھایا گیا ۔ کیونکہ اگر ایسے موضوعات کی تردید نہ کی جائے تو یہ خاموشی اور چشم پو شی مستقبل قریب میں سخت رسوائی کا سبب ٹھہرسکتی ہے ۔

بے باک قلم کاروں ،مفسد مقرروں اور ناعاقبت اندیش عالموں نے اس بات کی قطعا پر واہ نہیں کی کہ ان رکیک موضوعات سے صحابہ کرام کا وقار خاک میں ملت ہے حضور اور اہلبیت اطہار کی توہین ہوتی ہے ۔انھیں صرف اپنے ممدوح کی جھوٹی سچی مدح سے غرض ہے خواہ ان کی یہ اندھی محبت روشن دشمنی ثابت ہو یا ان کی بے جا عقیدت دوسرے مذاہب کی نظر میں اسلام کی تضحیک وتذلیل بن جائے ۔مگر مرغا ایک ٹانگ پر ہی رہے گا ۔

افسانہ عقد ام کلثوم پر ہماری طرف سے لاتعداد کتب پیش کی جاچکی ہیں جو تاہنوز لا جواب ہیں مگر پھر بھی دن بدن بعض ضدی افراد اس جھوٹ کی پٹاری کو بازار میں فروخت کرنے لاتے رہتے ہیں اور یہ بات نہیں سوچتے ہیں کہ یہ خاک اپنے سر میں پڑے گی ۔چاند پر تھوکا واپس اپنے


پر پلٹے گا ۔دنیا نے پہلے "رنگیلا رسول" لکھ کر بدنام کیا تھا اب "عیاش خلیفہ" بھی چھپ سکتا ہے کہ پھر ہمیں منہ چھپانے کا کوئی کونہ بھی نظر نہ آئے گا ۔ گھر کے چراغ سے گھر کو آگ لگے گی ۔

پس دوسرے مذاہب میں اسلام کی حرمت بحال رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ایسے بے ہودہ اختلافات کو ہوا نہ دی جائے کہ اس سے مجموعی طور پر خسارہ ہی خسارہ ہے ۔ایسی حیا سوز ، پست اخلاق اور مضحکہ خیز باتوں سے دوسرے مذاہب والے اسلام پر انگلیاں اٹھاتے ہیں ۔ مسلمانوں کی کرتوتوں پر ہنسی اڑاتے ہیں ۔ منصف مزاجوں کی عقلیں دنگ ہوجاتی ہیں ۔ نگاہیں شرم سے گڑ جاتی ہیں ۔ نظریں پتھر ہوجاتی ہیں ، سرگریبان میں چھپ جاتے ہیں گردنیں شرم کے مارے جھک جاتی ہیں ۔چہرے فق ہوتے دکھائی دیتے ہیں ۔ کلیجے منہ کو آتے ہیں ۔ زبانیں گنگ ہوجاتی ہیں ، سخت ذلت ،شدید رسوائی وبدنامی کا سامنا ہوتا ہے ۔مذہب سے بیزاری کے خیالات ذہن پر تسلط جمالیتے ہیں ۔ہر راہ مسدود نظر آتی ہے کہ جائیں تو کدھر جائیں ۔ روایات کو مانیں یا دین کو بچائیں ۔

فرقہائے اسلامیہ کے اختلافات کو اگر داخلی لحاظ سے دیکھا جائے تو لا تعداد مسائل متنازعہ سامنے آتے ہیں ہر مکتب فکر کی جانب سے اپنے مسلک کی تائید میں متعدد تصانیف موجود ہیں بڑے بڑے مناظرے ہوئے ہیں اور اپنے اپنے حق میں زور صرف کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گئی لیکن یہ مسائل اندرونی و داخلی حیثیت کے ہیں اور ان مباحثوں میں کم سے کم ایسی کوئی بات نہیں ہے جو غیر مذاہب والوں کے لئے ہمارے خلاف ہتھیار مہلک ثابت ہو سکے ۔ٹھیک ہے اندر ونی معاملات ہیں جو آپس میں تفہیم و افہام سے طے ہوسکتے ہیں ۔لیکن چند


امور ایسے بھی ہیں جن کی ہرگز کوئی مستحکم بنیاد نہیں ہے ان کو اس طرح مشہور کردیا گیا ہے کہ اب جھوٹ بھی سچ دکھائی دینے لگا ہے ۔ ان میں عقد ام کلثوم کا افسانہ بھی ہے لیکن یہ اختلاف توایسا ہے کہ مصنف عقل انگشت بد نداں نظر آتی ہے ۔یہ قصہ واہی اسلام کے جسم پر ناسور نظر آتاہے ۔وہ دین جو داعی شرافت وشرم وحیا ہے ۔جو بلند اخلا قی اور پاکیزہ معاشرت کی ضمانت دیتا ہے اسی دین کی مسند پر بیٹھنے والا مدعی خلافت بزرگ عالم پیری میں ایسی شرمناک حرکات کا مرتکب ہوتا ہے کہ اس واقعہ کو نقل کرنے پر بھی راقم و ناظر دونوں پانی پانی ہوئے جاتے ہیں ۔

ایسے ناگفتہ بہ واقعات کا بیان سراسر اسلام کی بدخواہی ،دین کی تحقیر وتقصیر اور بزرگان دین کی تو ہین ہے ۔لہذا تمام مخلص مسلمانوں سے دردمندانہ اپیل کی جاتی ہے کہ وہ محض ضد میں آکر دین اور اکابرین اسلام کی مٹی پلید ہونے سے پہلے ہی حفظ تقدم کی احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ہر بات کو کہنے سے پہلے سوچیں کہ ہم اسلام اور بزرگان اسلام کی عزت افزائی کررہے ہیں یا تعظیم کشی عقل وانصاف کے ترازو پر تول کر قرآن و حدیث کی کسوٹی پر جانچ کر فطرت وعدل کی میزان دیکھکر کسی امر کا پر چار کریں وقتی مصلحت کے تحت جو بات آپ کو مفید نظرآتی ہے وہ دائمی طور پر مضرت رساں ہوسکتی ہے لہذا پہلے تو لو پھر بولو۔

"خبروں میں اگر صرف روایت پر اعتبار کرلیا جائے اور عادت کے اصول اور سیاست کے قواعد اور انسانی سوسائٹی کے اقتضاء کا لحاظ اچھی طرح نہ کیا جائے اور غائب کو حاضر اور حال گزشتہ پر نہ قیاس کیا جائے تو اکثر لغزش ہوگی "۔


یہ عبادت جلیل القدر مورخ ابن خلدون کی ہے ۔اس قتباس کے آئینہ میں افسانہ عقد ام کلثوم کو دیکھئے تو یقینا عقل کا فیصلہ ،ضمیر کی آواز ،انسانیت کی پکار ،شرم وحیا کی تائید ،تہذیب وتمیز کی تصدیق ،اخلاق وتمدن کی توثیق مندرجہ ذیل ہوگی ۔

"یہ قصّہ قطعی غلط بے بنیاد اور بہتان عظیم ہے ۔کیونکہ یہ واقعہ خلاف عقل وقیاس ہے "۔ کسی خبر کا لغو ہونا ازخود اس کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہوتا ہے ۔اور یہ فسانہ سرتا پا لغو ہے ، حماقت ہے ،بے مقصد تضیع وقت ہے ۔


سیدہ ام کلثوم کا مشہور نوحہ

۱:- اے ہمارے نانا کے مدینہ تو ہم کو قبول نہ کر کیونکہ ہم غم وحزن لے کر آئے ہیں ۔

۲:- اے مدینہ ! رسول اللہ کی خدمت میں ہماری طرف سے عرض کر کہ ہم اپنے پدر بزرگوار کی مصیبت میں گرفتار ہوئے ۔

۳:- اے مدینہ ! ہمارے مدر کربلامیں بے سرپڑے ہیں اور ہمارے فرزند ذبح ہوچکے ہیں ۔

۴:- ہمارے نانا کو خبر کر ہم گرفتار کرکے قیدی بنالئے گئے ۔

۵:- اور اے خدا کے رسول ! آپ کا خاندان کربلا میں بے گور و کفن پڑا ہے ان کے کپڑے تک چھین لئے گئے ۔

۶:- حسین کو شہید کیا اور آپ کی رعایت ہمارے واسطے نہ کی ۔

۷:- اے رسول خدا ! کا ش آپ اپنی آنکھوں سے ان قیدیوں کو پالان شتر پر سوار دیکھتے !

۸:- یا رسول اللہ ! پردہ وحجاب کے بعد یہ نوبت آگئی کہ لوگ ہمارا تماشہ


دیکھنے کے لئے آئے ۔

۹:- یا رسول اللہ ! آپ ہماری حفاظت ونگہداشت فرماتے تھے آپ کے بعد دشمنوں نے ہم پر ہجوم کیا ہے ۔

۱۰:- اے فاطمہ ! کا ش آپ اپنی بیٹیوں کو دیکھیں کہ کس طرح قیدی بنا کر شہر شہر پھرائی گئی ہیں ۔

۱۱:- اے فاطمہ ! کا ش ہم سرگشتوں کی جانب آپ دیکھتیں اور کاش زین العابدین کی حالت کو ملاحظہ فرماتیں ۔

۱۲:- اے فاطمہ ! کاش آپ دیکھتیں کہ راتوں کی بیداری نے ہم کو اندھا کردیا ۔

۱۳:- اے فاطمہ ! جو مصائب ہم نے دشمنوں کے ہاتھوں پرداشت کئے ہیں ان مظالم سے کہیں سوا ہیں جو آپ نے اپنے دشمنوں سے اٹھائے تھے

۱۴:- اے فاطمہ ! اگر آپ ہوتیں تو ہماری حالت دیکھ کر قیامت تک روتیں اور نوحہ کرتیں ۔

۱۵:- (اب ذرا) بقیع جا کر حبیب خدا کے فرزند کو پکارو۔

۱۶:- اور کہو کہ اے چچا حسن مجتبی آپ کے بھائی کے عیال و اطفال مارڈالے گئے ۔

۱۷:- اے چچا! آپ کا ماں جایا بہت دور کربلا کی ریت پرپڑا ہے ۔

۱۸:- بغیر سر کے آرام کررہا ہے جس میں پرندے ودرندے نوحہ وبکا کررہے ہیں ۔

۱۹/۲۰:- اے مولا کاش آپ وہ منظر دیکھتے جبکہ بے یارو مددگار اہل حرم کو بے کجادہ اونٹوں پر تشہیر کیا جارہا تھا اس وقت آپ کے اہل عیال سر ننگے نظر آتے تھے ۔


۲۱:- اے ہمارے نانا کے مدینہ ! اب ہم تجھ میں رہنے کے قابل نہیں رہے کیونکہ بڑے رنج وغم کو لے آئے ہیں ۔

۲۲:- جب ہم تجھ سے نکلے تھے تو تمام اہل عیال کے ساتھ نکلے تھے اور اب جو پلٹے ہیں تو نہ مردوں کا سایہ ہمارے سروں پر ہے نہ بچے ہماری گودیوں میں ہیں ۔

۲۳:- مدینہ سےنکلتے وقت ہم سب اکٹھا ہوکر نکلے تھےلیکن جب لوٹے تو سر برہنہ ہوچکے تھے ۔ ہماری چادریں چھینی جاچکی تھیں ۔

۲۴:- مدینہ سے نکلتے وقت ہم اللہ کی امان میں تھے ۔جب واپس آئے ہیں تو خائف وترساں ہیں ۔

۲۵:- جب ہم یہاں سے نکلے تھے تو ہمارا والی و وارث حسین ہمارے سرپرموجود تھا اور اب ان کو کربلا میں دفن کرکے آرہے ہیں ۔

۲۶:- ہم وہ اجڑے ہوئے ہیں جن کا کوئی کفیل نہیں ہے ہم اپنے بھائی کے نوحہ گر ہیں ۔

۲۷:- ہم وہ ہیں جن کو شتران برہنہ پر در بدر پھرایا گیا ۔

۲۸:- ہم یسین و طہ کی دختران ہیں ۔ ہم اپنے باپ کی نوحہ گر ہیں ۔

۲۹:- ہم وہ پاکیزہ مخدرات ہیں جن کی طہارت چھپی ہوئی نہیں ہے ۔

۳۰:- ہم بلاؤں پر صبر کرنے والے ہیں ۔ہم صدق وصفا والے ہیں ۔

۳۱:- اے نا نا ! آپ کی امت نے حسین کو مارڈالا ۔اور آپ کا کوئی خیال نہ کیا ۔

۳۲:- اے نانا ! دشمن اپنی مراد کو پہنچ گئے اور ہمارے بارے میں انھوں نے اپنی شقاوت ک انتہا کردی ۔


۳۳:- انھوں نے عورتوں کی بے حرمتی کی اور ظلم و قہر سے ان کو اونٹوں پر پھرایا ۔

۳۴:- انھوں نے زینب کو خیمہ سے باہر نکالا فاطمہ گریاں ہیں ۔

۳۵:- خیانت سکینہ سوزش غم سے فریاد کناں پروردگار عالم کو مدد کے لئے پکار رہی ہے ۔

۳۶:- خیانت کاروں نے زین العابدین کو ذلت کے ساتھ ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنائی ہیں ان کے قتل کا ارادہ کیا ۔

۳۷:- ان مرنے والوں کے بعد زندگانی دنیا پر خاک ہے کیونکہ اسی دنیا کے سبب ہو کو موت کا جام پلایا گیا ہے ۔

۳۸:- اے سننے والو! یہ ہے میری داستان غم اور شرح حال ہم پر گریہ وبکا کرو ۔

(بحار الانوار حصہ دوم پ ۲ ص ۸۳)

سید ہ ام کلثوم سلام اللہ علیھا کا یہ نوحہ شیعہ وسنی محدثین ومورخین نے اپنی کتب میں درج کیا ہے جب قافلہ سادات اسیری سے رہائی پا کر مدینہ کی طرف پلٹا تو شہزادی نے مدینہ کودیکھتے ہی گریہ وبکا شروع کردیا اور خوب روئیں ۔شہر مدینہ کی جانب توجہ کرکے مندرجہ بالا پر درد نوجہ پڑھا ۔بی بی پاک اسیرہ کربلا کے بعد اس کرہ ارضی پر حیات تھیں اور آپ کا اپنے نانا ،والدہ معظمہ اور برادر محترم کا پکارنا اس بات کی قوی دلیل ہے کہ آپ بطن سیدہ طاہرہ فاطمہ سلام اللہ علیھا سے تھیں نہ کہ حضرت علی علیہ السلام کی کسی دوسری زوجہ سے ۔

پس ثابت ہوا کہ وہ ام کلثوم جو حضرت عمر کے عقد میں آئیں ۔حضرت


علی و فاطمہ (علیھما السلام) کی دختر نہ تھیں ۔کیونکہ زوجہ عمر کا انتقال عہد معاویہ میں ہوگیا جبکہ بنت علی کی وفات سنہ ۶۲ ھ سنہ ۶۵ھ یا سنہ ۷۵ ھ میں با ختلاف روایات بیان ہوئی ہے ۔

لہذا عقل ونقل کی بنیاد پر شیعہ وسنی کی نہایت معتبر ومستند کتب سے روز روشن کی طرح ثابت ہوگیا کہ امیر المومنین سیدنا علی المرتضی اور سیدہ نسا ء العالمین حضرت فاطمہ (علیھما السلام) کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم حضرت عمر کی رشتہ میں پر نواسی تھیں لہذا افسانہ نکاح ام کلثوم ہر لحاظ سے باطل ہے اور اس عقد کو فرض کرنے سے حضرت عمر کی سخت توہین او ر حضرت علی کی بہت بے عزتی ہوتی ہے ۔

ہم قرآن مجید کی اس آیت کو اپنی اس کتاب کا تتمہ بالخیر قرار دے کر التماس دعا کرتے ہیں ۔

( قد بیننا لکم الآیات ان کنتم تعقلون ) ہم نے تمھارے سامنے بد لائل ثابت کردیا اگر عقلمند ہو۔

ولله الحمد ظاهر ا وباطنا

عبد الکریم مشتاق

٭٭٭٭٭


فہرست

تقدیم ۴

کہانی:- ۶

افسانہ ۱۴

سرمنڈھاتے ہی اولے ۱۴

افسانہ:- ۱۴

میں کیا کروں رام مجھے بڈھا مل گیا ۲۴

بے ہودہ روایات:- ۲۴

نتائج ۲۹

صحاح ستّہ کی خاموشی:- ۲۹

عمر نے علی کو جھوٹا قراردیا :- ۲۹

انوکھی شادی:- ۳۰

بلا نکاح دست درازی :- ۳۰

مجرمانہ حملہ :- ۳۰

روایوں کا اقتدار :- ۳۲

محمد بن اسحاق :- ۳۲

زبیر بن بکار:- ۳۲

عمرو بن دینار:- ۳۲

محمد بن عمرواقدی:- ۳۲

سبط ابن جوزی کا تبصرہ :- ۳۴


افسانوی نکاح کا شرعی حیثیت سے ابطال :- ۳۵

پہلی دلیل:- ۳۶

دوسری دلیل:- ۳۶

تیسری دلیل :- ۳۶

چوتھی دلیل:- ۳۷

پانچویں دلیل:- ۳۸

چھٹی دلیل :- ۳۸

حضرت فاروق اعظم کا نکاح حضرت ام کلثوم سے ۴۶

بحوالہ کتب معتبر حضرت شیعہ ۴۶

پہلا اعتراض:- ۵۰

جواب:- ۵۰

دوسرا اعتراض :- ۵۱

دلائل ازکتب اہل سنۃ کی تردید سنی علماء کی زبانی :- ۵۴

زید ورقیہ پیدائش :- ۵۴

چادروں کی تقسیم والی روایات :- ۵۵

نماز جنازہ والی روایت :- ۵۷

شیعہ روایات کا جواب ۶۰

عدت گزارنے کا مسئلہ:- ۶۰

مسالک الافہام کی روایت :- ۶۱

زید و ام کلثوم کا بیک وقت فوت ہونا :- ۶۱


شہید ثالث کا بیان: ۶۱

علامہ شہر آشوب کی رائے :- ۶۱

سراکار علم الہدی کی تحریر:- ۶۲

شیخ قمی کا اظہار:- ۶۲

منتخب التورایخ :- ۶۲

علامہ مجلسی کا موقف:- ۶۲

معصوم کا انکار:- ۶۳

ابو محمد فضل بن شاذان کی تردید:- ۶۴

شیخ مفید کا تبصرہ :- ۶۴

حقیقت ۷۲

تاریخی خامیاں :- ۷۲

ام کلثوم کی شخصیت کے تعین میں سنی علما کی گھبراہٹ:- ۷۵

ام کلثو بنت علی و فاطمہ اورام کلثوم زوجہ عمر کا تقابلی جائزہ ۷۸

ام کلثوم زوجہ عون بن جعفر ۷۸

بنت علی ام کلثوم زوجہ عمر بن خطاب ۷۹

ایک شبہ کا ازالہ ۸۱

ترقی پر تنزلی کا شوق ۸۳

ام کلثوم زوجہ حضرت عمر کون تھیں ؟ ۸۵

سیدہ ام کلثوم کا مشہور نوحہ ۹۸