یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
صلح حدیبیہ
مصنف: علامہ صادق حسن
صلح حدیبیہ کے بارے میں علامہ صادق حسن صاحب کی اثر انگیز تقریر
صلح حدییبہ حصہ اول
بسم الله الرحمن الرحیم
الحمد لله الملک الحق المبین وهورب العالمین الصلوٰة والسلام علی سید المرسلین وآله وعترته واهل بیت الطیبین ولعنت الله اعدائهم اجمعین
امابعد فقدقال سبحانه وتعالیٰ فی محکم الکتاب العظیم
بسم الله الرحمن الرحیم
( لقد صدق الله رسوله الرویا بالحق لتدخلن المسجد الحرام آمنین ان شاء الله آمنین محلقین روسکم مقصرین )
سیرت پیغمبر اسلام ساتواں سال اس سال کی تقریر بھی ساتویں ہے مجموعی اعتبار سے تقریر۱۰۴ اور اب سیرت پیغمبر اسلام کا ایک انتہائی اہم واقعہ شروع ہونے جا رہا ہے ایک ایسا واقعہ جس میں موجودہ حالات اور موجودہ دَور کو دیکھ کر ہمارے لیے ہدایت اور نصیحت کے بے شمار پہلو اور گوشے ہیں۔
اگرچہ سیرت رسول کا ہر ہر واقعہ اسوہ حسنہ اور بہترین راہِ ہدایت ہے ۔لیکن آج کل کا زمانہ خصوصیت کیساتھ صلح حدیبیہ کے واقعہ کو سمجھنے کا تقاضا کر رہا ہے کہ جہاں مخالف اور دشمن کی کوشش ہم لوگوں کو غلط طریقے سے جوش دلا کر ایک جال میں پھنسا لینے کی ہوتی ہے اور ہر وہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کہ صاحبانِ ایمان اور مسلمان ایسے جوش اور جذبے میں آجائیں کہ ہوش وحواس کھو بیٹھیں پہل کا الزام ان پر لگ جائے ،دشمن کو اپنے مقاصد اور مفادات حاصل کرنے کا موقع مل جائے۔
جس کی بہترین مثال حال ہی میں ختم ہونے والا واقعہ یعنی خلیج کی جنگ کا واقعہ ہے کہ اُکسانا ، جوش دلانا، پہل پہ آمادہ کرنا اور اس کے بعد پھر موقع سے فائدہ اٹھا کر تہمت اور الزام دھر کے اپنے تمام تر مقاصد کو حاصل کر لینا ۔تو جوش اور جذبے کی موجودہ فضا میں صلح حدیبیہ کا واقعہ بار بار پڑھنے، باربار سننے اور بار بار غور کرنے کے قابل ہے ۔
تو خیر بات یہ ہو رہی تھی کہ خندق کی لڑائی کے بعد کفارِمکہ مکمل طور پر پسپا ہو چکے تھے، اور دوسری جانب خندق کی لڑائی کے بعد یکے بعد دیگرے کچھ ایسے حالات پیش آتے چلے گئے کہ یہودیت بھی ایک طرح سے پیچھے ہٹتے ہٹتے ساری کی ساری خیبر کے قلعے میں جا کے بند ہو چکی اس سے پہلے یہودی سارے عرب میں اور خصوصاً اطرافِ مدینہ میں پھیلے ہوئے تھے ۔
لیکن خود بخود واقعات کچھ اس طرح سے پیش آنے لگے کہ انہیں پیچھے ہٹنا پڑا، مدینہ چھوڑنا پڑا، مدینہ چھوڑ کے مدینے سے باہر نکلے پھر مدینے کے باہر سے بھی رفتہ رفتہ ہجرت کر کر سب ایک ہی مقام پر جا کے جمع ہو رہے ہیں خیبراور صلح حدیبیہ کا واقعہ کچھ اس اعتبار سے بھی انتہائی اہم ہے کہ اسی صلح کے بعد پیغمبراسلام نے خیبر پہ حملہ کر کے کم از کم اُس دَور اور اُس زمانے کیلئے یعنی اپنی رسالت کے ، اپنی زندگی کی آخری سانس تک کیلئے یہودیت کے فتنے اور سازش کا خاتمہ کر دیا تھا۔
تو یہودیت ایک مرکز پر جمع ہو چکی ہے جس کا نام خیبر ہے اس کے بارے میں مَیں بعد میں تفصیل بتاؤں گا، بعض اوقات کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر بڑی پُرکشش اور عقل کے مطابق نظر آتی ہیں لیکن تاریخ پڑھنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ ہر وہ بات جو مطابقِ عقل ہو وہ انسان کیلئے فائدہ مند ہی ہو، خصوصیت کے ساتھ آج کل بعض اوقات ایک جملہ بار بار کہا جاتا ہے اور وہ یہ ہے بہت ہی زیادہ مرکزیت کا ایک مرکز ایک نقطہ اجتماع ایک ہی مقام پر سب لوگوں کو آجانا چاہیئے، کبھی یہ تحریکوں کے حوالے سے ہوتا ہے کبھی یہ اجتہاد وتقلید کے حوالے سے ہوتا ہے کبھی یہ مجتہدین کے نام کے حوالے سے ہوتا ہے یعنی ایک مرکز ایک شخصیت ایک تحریک ایک اجتماع اس سے زیادہ مفید کوئی چیز نہیں اور عقلی طور پر ثابت بھی کیا جاتا ہے اتحادکے فائدے ایک ساتھ رہنے کے فائدہ ایک اور ایک مل کر گیارہ ہونے کے فائدے لیکن تاریخ بتا رہی ہے کہ بہرحال اس کے نقصانات بھی اپنی جگہ بہت زیادہ ہیں جن میں سے ایک نقصان خود خیبر میں یہودی ایک مرکز بنا کے بیٹھے، مرکز جب ہار گیا ناکام ہو گیا شکست کھا گیا پسپا ہو گیا یہودیت مکمل طور پر کم ازکم اس زمانے سے فنا ہو گئی تفصیل انشاء اللہ بعد میں آئے گی مجھے خود ایسا لگ رہا ہے کہ مَیں دوسرے موضوعات پہ جانے لگا ہوں۔
تو یہودیت پسا ہوتے ہوتے، پیچھے ہٹتے ہٹتے کرتے کرتے خیبر کی دیواروں تک پہنچ چکی ہے اور ایک اعتبار سے مسلمانوں کیلئے بہترین موقع بن گیاکہ اس کا خاتمہ کرو صرف خیبر کا یہودیت کا تو گویا کمال یہودیت کاخاتمہ ہو گیامگر مدینہ چھوڑ کے خیبر کی جانب جانایہ ایک بڑی حماقت اور غلطی کہلائی اگر کفارِ مکہ کے خطرے کا سدباب نہیں کیایہ کوئی عقلمندی نہیں ہو گی کہ ایک دشمن کا خاتمہ کرنے جائیں اور خود اپنے عقب اور اپنے شہر کو کھلا چھوڑ جائیں تو دوسرا دشمن آکے وہاں حملہ کرے۔ تو صلح حدیبیہ عین اُس ماحول اور اس موقعہ پہ پیش آ رہی ہے ۔تو کفارِمکہ کو کم ازکم اتنے عرصے کیلئے خاموش کر دیا جائے کہ جب مسلمان پلٹ کر خیبرکا رُخ کریں تو یہ خطرہ نہ ہو کہ اِدھر ہم گئے اور پیچھے سے ہم پر حملہ ہو گیا ۔
تو خندق کی لڑائی اختتام کو پہنچی خیبر میں یہودیت نے اپنے مرکز کو طاقتور سے طاقتور بنا رہے ہیں ، اللہ کے رسول کو اب ایک مرتبہ مکہ سے اطمینان حاصل کرنا تھا اور اس کا پہلا مرحلہ وہی جو تین ہفتے پہلے مسلسل بیان ہوا ۔
تو چھوٹے چھوٹے قبائل، ہر وہ قبیلہ کہ جس کے بارے میں یہ معلوم تھا یا اندازہ تھا کہ یہ کسی دشمن کا آلہ کار بن کے مسلمانوں کو چھوٹاموٹا نقصان پہنچا سکتا ہے اُن سارے قبیلوں پر حملے کیے گئے تفصیلات آپ تین ہفتوں سے سُن رہے ہیں اُس میں سے ایک صرف ایک چیز کو پھر یاد دلا دیا جائے یہ چھوٹے چھوٹے قبائل جن کی جانب اس سال اتنے لشکر بھیجے گئے کہ تاریخِ اسلام میں یا کم ازکم پیغمبر کی سیرت میں پوری زندگی میں اس سال کی طرح کے لشکر کہیں بھی نہیں بھیجے گئے، یہ سارے لشکر جن قبیلوں کی جانب جا رہے ہیں وہ قبیلے اتنے طاقتور نہیں ہیں کہ مسلمانوں کا مقابلہ کریں تو ایسا نہ ہو کہ کسی کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہو جائے کہ شاید مسلمان اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کر نے لگے جب تک پریشانی کے عالم میں تھے تو چپ تھے تو جب طاقت ملی تو چھوٹے چھوٹے قبیلوں پر حملے شروع کر دئیے ۔
جس کے لیے پھر یاد دلانا ہے کہ پیغمبر نے عبدالرحمن ابن عوف کو ماہ شعبان سن چھ ہجری جب دومةالجندل کی جانب بھیجا تو ساتھ میں ایک تحریر ساتھ میں ایک خطبہ ایک ہدایت نامہ بھی ان کے حوالے کیا جو یہ بتا رہا ہے کہ ایسے قبیلوں کے خلاف بھی جو مسلمانوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے انتہائی کمزورہیں، کفارِمکہ اتنی بڑی طاقت ہونے کے باوجود کچھ نہ بگاڑ سکے تو یہ سوسو دودوسو تین تین سو کے قبیلے یہ کیا نقصان پہنچائیں گے؟ اُس کے باوجود احتیاط اتنی کہ عبدالرحمن ابن عوف کو بھیجا جا رہا ہے دومة الجندل کے علاقے میں، یہ وہ علاقہ ہے جو مدینہ اور شام کے درمیان ہے اور اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ پیغمبر کو چھوٹے چھوٹے لشکر یہاں بھجوانا پڑے، اب اس وقت جس لشکر کو بھجوایا جا رہا ہے وہ اس لیے کہ وہاں پر عیسائیوں کا ایک قبیلہ رہتا ہے ۔ پیغمبر اس مرتبہ جو تحریر دے رہے ہیں اُس کے اندر پہلا جملہ یہی کہ
اللہ کے نام سے بسم اللہ وبسم رسول ۔ کہ غزوے میں حصّہ لو ، جہاد کرواللہ اور رسول کے نام سے اورخبردار کوئی دھوکا نہیں کرنا، امانت میں خیانت نہیں کرنااور کسی سے وعدہ کر کے وعدہ شکنی نہ کرنا اور کسی بھی نابالغ بچے کو قتل نہ کرنا یہ چار جملے پیغمبراسلام نے صرف ایک جملے میں
اسلام کے اُس جہاد کا طریقہ بھی بتا دیا جو ایسے قبیلوں کے مقابلے میں ہوتا ہے جوبظاہر ہم کو بہت ہی کمزور نظر آئیں، ان کی طرف بھیجا جارہا ہے اُس پر بھی اتنی پابندی کہ خبردار وعدہ خلافی نہ ہونے پائے،خبردارکسی کو دھوکا دے کر اُس سے جنگ نہ کرنا، خبردار کسی کمزور اور نابالغ پر ہاتھ نہ اُٹھانا ، یہ پوری تحریر لکھ کے بھیجی ۔سریہ عبدالرحمن ابن عوف تاریخ میں انہیں دوباتوں کی وجہ سے مشہور ہے ایک بات یہی کہ اللہ کا رسول پورادستورِجنگ ،پوراطریقہِ جہاد اسلام کا فلسفہ جہاد اس ایک جملے میں پنہاں کر کے عبدالرحمن ابن عوف کے حوالے کیا اور پھر اس کے اندر ایک ضمنی واقعہ بھی آجاتا ہے کہا کہ جا تو رہے ہو لیکن جاتے ہیں جنگ کا آغاز نہ کر دینا پہلے انہیں دعوتِ اسلام دینا ،اگر وہ دعوتِ اسلام قبول کر لیں تو ان سے انتہائی محبت کا سلوک کرنا اور دیکھو مَیں تمہیں خوشخبری سُناتا ہوں کہ تمہاری شادی سردارِقبیلہ کی بیٹی سے ہو گی ۔
عبدالرحمن ابن عوف پیغمبر کا دیا ہو ا ہدایت نامہ لے کے چلے ،دومة الجندل کے علاقے میں پہنچے، سردارِقبیلہ جو ایک عیسائی تھااُس کے سامنے دعوتِ اسلام پیش کی ، اُس نے اسلام کی تھوڑی سی معلومات حاصل کی اور بڑی خوشی کیساتھ نہ صرف یہ کہ اِس دین کو قبول کیا بلکہ مسلمانوں سے محبت کا رشتہ مستحکم کرنے کی خاطر یہ پیش کش بھی کی کہ سردارِ قبیلہ کی بیٹی سردارِ لشکرِاسلامی کے حوالے کی جا رہی ہے۔ وہ خاتون جن کا نام ثمامہ تاریخ میں لکھا عبدالرحمن ابن عوف سے شادی ہوتی ہے اور اسی شادی کے نتیجے میں ابوسلمہ پیدا ہوتے ہیں کہ چوتھے امامعليهالسلام کے زمانے میں مدینے میں سات بڑے بڑے فقہاء تھے جن کا نام بھی ہے الفقہاء السبعہ سبع عربی میں سات کو کہتے ہیں ان میں سے یہی عبدالرحمن ابن عوف کے وہ بیٹے ہیں جو دومة الجندل کے قبیلے کے سردار کی بیٹی سے شادی کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔
بہرحال وہ توایک ضمنی واقعہ آگیا اصل چیز ایسے قبیلوں کے خلاف بھی مسلمانوں کی جنگ جو قطعاً کوئی مسلمانوں کے سامنے آنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے لیکن اس کے باوجود پورے پورے ان کے حقوق کا خیال کر کے ظلم نہ ہونے پائے ، زیادتی نہ ہونے پائے، مسلمان حد سے تجاوز نہ کرنے پائیں، صرف اُتنی اُن کو سزا دی جائے جو ان کی پرانی سازش کا تقاضا ہے۔
پس اس انداز سے پیغمبر نے منطقی طور پہ واقعات کو آگے بڑھا دیاپہلے سارے قبیلوں کو یہ پیغام بھجوا دیا گیا جو ہم سے محبت کرنا چاہتا ہے ہم اس محبت کا جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔
پچھلی تقریر کا آخری واقعہ یاد کیجئے، ایک قبیلہ خود سے ڈر کے مارے آیا پیغمبر نے ہدیے تحفے اور کھجوروں کے ذریعے اُن کے ڈر اور خوف کونکالااور جو آئندہ کسی سازش میں حصہ لینے کی تیاری کر رہا ہے یا پہلے کسی سازش میں حصہ لے چکا ہے اُسے اُس کا سبق دے دیا۔ اب یہ تمام چھوٹے قبیلے خاموش ہو گئے، اب صرف دو ہی بڑی طاقتیں ہیں ایک کفارِ مکہ وہ بھی اتنی ہمت نہیں رکھتے کہ مدینہ آجائیں مگر اتنا ضرور ان کی جانب سے خطرہ ہے کہ مسلمان اگر مدینہ چھوڑ کے خیبر جائیں تو وہ پیچھے سے حملہ کر سکتے ہیں تو پہلے ایک مرتبہ جا کر کفارِمکہ کے سلسلے کو بھی ہمیشہ کیلئے ختم کیا جائے اور پھر خیبر کا قلعہ باقی بچے گا ۔
یہ واقعات کی ترتیب ہے اطراف کی تمام سازشوں ،بغاوتوں اور شورشوں پر پیغمبراسلام نے قابو پایا اور پھر شوال کا مہینہ ا ٓگیا، سن چھ ہجری کا شوال تاریخِ اسلام کا اہم ترین سال باایں معنی کہ بعض علماء نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اسی سال حج کے وجوب کا حکم آیالیکن انشاء اللہ اس پر تو ہم بعد میں بات کریں گے ۔
ایک دن پیغمبراسلام صبح کے وقت مسجد میں داخل ہوئے تو مسلمانوں کو جمع کر کے کہا کہ کل رات میں نے ایک خواب دیکھا ہے وہ خواب جس کا تذکرہ سورہ فتح قرآن کریم کا اڑتالیسواں سورہ جو واقعہ حدیبیہ کے فوراً بعد نازل ہوا اُس میں بھی اس خواب کا تذکرہ ہے کہ
( لقد صدق الله الرسوله الرویه بالحق )
باتحقیق اوربے شک اللہ نے اپنے رسول کے حق والے خواب کو سچا کر دکھایا ہے
( لتدخلن المسجد الحرام )
کہ یقینا ضرور بالضرور تم مسجدالحرام میں داخل ہو گے
( انشاء الله آمنین )
اور امن وامان کیساتھ جاؤ گے
( محلقین روسکم )
تم جا کے اپنے سروں کو منڈواؤ گے
( ومقصرین )
یا تھوڑے سے بال کٹواؤ گے
یہ خواب اس کا تذکرہ سورہ فتح کے اندر اس خواب کا ذکر اللہ کا رسول سن چھ ہجری میں شوال کے مہینے میں کر رہا ہے ۔
جب اطرافِ مدینہ میں اب کوئی مسلمانوں کیخلاف بغاوت کرنے والانہ رہا، ایک خواب مَیں نے دیکھا مسلمان گھبرا کے پوچھتے ہیں اللہ کا رسول کون سا خواب؟
تو کہا کہ مَیں نے خواب دیکھا کہ مَیں مکہ میں جا رہا ہوں اپنے ساتھیوں اور صحابیوں کیساتھ اور مسجدِ حرام میں احرام پہن کر داخل ہو رہا ہوں، اورمَیں نے یہ دیکھا کہ اس کے بعد ہم لوگ اپنے سروں کو منڈوا رہے ہیں جوحضرات حج اور عمرے کے اعمال اور مسائل سے واقف ہیں ان کیلئے تو بات بالکل واضح ہیں لیکن ایک عام مومن کی معلومات کیلئے عمرہ جو حج کے علاوہ ایک عبادت ہے جس میں پہلے ہی انسان اپنے جسم سے عام کپڑے اُتار کر ایک خاص سفید رنگ کا لباس پہنتا ہے جس کا نام ہے لباسِ احرام اور اِس لباس کو پہن کر مکہ میں داخل ہوا جاتا ہے جب مخصوص اعمال انجام دیتے ہیں اور آخر میں اپنے سر کو منڈوانا پڑتا ہے یا بعض صورتوں میں تھوڑے سے بال بھی کاٹ لیے جائیں تو عمل مکمل ہو جاتا ہے ۔ احرام عمرے کا آغاز ہے سرمنڈوانا عمرے کا اختتام ہے اور ان کے درمیان چار پانچ دیگر واجبات ہیں ۔
تو پیغمبراسلام یہ فرما رہے ہیں کہ مَیں نے رات کو یہ خواب دیکھا ہے کہ جیسے احرام پہن کر مَیں اپنے ساتھیوں اور صحابیوں کے ساتھ مسجدالحرام میں داخل ہو رہا ہوں اور پھر مَیں نے اپنے اور اپنے اپنے ساتھیوں کوتقصیر اور سرمنڈوانے کے عمل یعنی حلق عربی میں اس کے لفظ ہے حلق ۔تقصیر اورحلق کے عمل میں مصروف پایا ہے یہ خواب پیغمبراسلام بتا رہے ہیں اور بعد میں یہ بیان کر رہے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ایک پیغام ہے ہم سب کیلئے اب جو لوگ مکہ کے قدیم باشندے ہیں چھ سال پہلے اپنا وطن چھوڑ کر آئے مگر وطن کی یاد تو ان کے دل میں موجود ہے اور وطن بھی کونسا وطن جہاں خانہ کعبہ تھا جہاں صفاومروہ کی پہاڑیاں تھیں جہاں ہروقت طواف اور عبادتوں کا موقع ملتا تھا ایسے وطن سے نکالا گیا مہاجرت کے عالم میں ، ویسے ہی ان کے دل میں وطن کی یاد تھی اور خانہ کعبہ کی تصویر کسی بھی ایسے مومن سے پوچھ لیجئے ، کسی بھی ایسی مومنہ سے دریافت کر لیا جائے جو حج اور زیارات کو انجام دے کے آگئے ایک مرتبہ گئے لیکن جیسا کہ وہ حاتم طائی کے واقعہ میں ہے وہعليهاالسلام بہرحال کسی اور چیز کے بارے میں ہو یا نہ اس ایک عبادت کیلئے ضرور ہے کہ ایک بار دیکھا ہے اور بار بار دیکھنے کی تمنا ہے ، انسان کبھی رات کو بستر پر لیٹتا ہے تو آنکھوں کے سامنے تصویر آجاتی ہے خانہ کعبہ طواف زیارت کا منظرمعصوم کی ضریح، تو یہ مکہ والے قدیم باشندے مکی، ان اپنا شہر تھا کہاں صبح سے شام چوبیس گھنٹے میں سینکڑوں مرتبہ خانہ کعبہ کو دیکھتے تھے اور کہاں چھ سال سے مکمل تعلق منقطع ہے مکہ سے ، پیغمبر کا خواب سنا اور ایک مرتبہ وطن کی یاد اور بڑھ گئی عبادتوں کی یاد، خانہ کعبہ کی تصویر ،طواف کا منظر صفاومروہ کی سعی کا مرحلہ ، خودبخود وہ ساری تصویریں ذہنوں میں آنے لگیں، مسلمانوں میں جوش اور جذبہ پیدا ہوا، خصوصاً جب پیغمبر نے یہ بھی بتا دیا تو اب یہ تو گویا حکمِ خُدا ہو گیا کہ ہمیں مکہ میں جانا ہے اپنے شہر میں عبادتوں والے شہر میں سب گئے جلدازجلد ہمیں یہاں سے بڑھنا ہے ایک مرتبہ سارے مسلمان تیار ہو رہے ہیں یہاں پہ رُک کے مَیں ضمنی طور پر ایک بات کو عرض کر دوں صلح حدیبیہ یہاں پہ آپ دیکھیں گے قدم قدم پہ نئے نئے پیغامات ہمارے سامنے آ رہے ہیں یہی صلح حدیبیہ یہ بتائے گی کہ قرآن نے اسلام کی تمام لڑائیوں کو چھوڑ کے اس صلح کے بعد اِنّا فتحنا لک فتحا مبینا کا لفظ استعمال کیا ہے نہ بدر کی لڑائی کے بعد کہا کہ فتح مبین ملی نہ اُحد کے بعد کہا کہ فتح مبین ملی نہ خندق کے بعد کہا کہ فتح مبین ملی نہ خیبر کے بعد کہا کہ فتح مبین ملی نہ غزوہ حنین کے بعد کہا کہ فتح مبین ملی جب کہ ان میں سے ہر ہر لڑائی اتنی اہم تھی کہ وہ حق رکھتی تھی کہ اُسے فتح مبین کہا جائے اور کہا تو اُس لڑائی کو کہا کہ جس میں تلوار استعمال ہی نہیں ہوئی اس کا بھی ایک مقصد ہے انشاء اللہ اپنے موقع پہ یہ بات آئے گی۔
صلح حدیبیہ یہ بھی بتارہی ہے اسلام میں جمہوریت اور ووٹنگ کی کوئی اہمیت نہیں کیونکہ صلح حدیبیہ تو ایک ایسا متفقہ واقعہ کہ کوئی مسلمان مورخ ایسا نہیں جس نے یہاں پہ اختلاف کیا ہو کہ لشکراسلام ننانوے فیصدی ایک طرف تھا اور اکیلا اللہ کا رسول ایک علیعليهالسلام کو لے کر دوسری جانب تھا، اگر ووٹنگ کے معیار کو دیکھا جائے اور شوریٰ کے مشورے کے مسئلے کو دیکھا جائے تو سارے مسلمانوں کااتفاق ہے ایک مسئلے پرفقط رسول اور علیعليهالسلام ایک جانب ، ہم نے دیکھا کہ نہ ووٹنگ چلی، نہ شوریٰ چلی، نہ مشورہ چلا، نہ جمہوریت چلی، نہ Public Opinion چلی، نہ رائے عامہ چلی، حکم وہ چلا صرف جو رسول نے چاہا اور علیعليهالسلام نے قلمبند کیا ، صلح حدیبیہ ایک یہ پہلو بھی بتاتی ہے۔
تواسی صلح حدیبیہ میں آپ دیکھیں گے کہ الفاظ کی اہمیت کتنی زیادہ ہے کسی بھی معاملے میں جب الفاظ لکھے جاتے ہیں، ہمارے یہاں مسائل فقہ کو تحقیر آمیز انداز سے دیکھنے اور ان پر کوئی توجہ نہ دینے والوں کی ایک فکر یہ بھی ہے یہ مجتہدین اور مولوی لوگ لفظوں کو پکڑ پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں حلال وحرام سود حرام ہے تو چھوڑ دو ہر سود یہ کیا بحث ہے کہ کونسا سود صحیح اور کونسا غلط ہے اگر حرام ہے ایک چیز مثلاً رشوت تو چھوڑ دو یہ کیا کہ اس پر مجتہد چمٹ جاتا ہے کہ رشوت کہتے کسے ہیں اس کے معنی کیا ہیں عربی زبان کے اعتبار سے ڈکشنری کیا کہہ رہی ہے؟
آپ نے دیکھا ہو گا کہ دیندار لوگ جیسا ان کی سمجھ میں آئے عمل کرناچاہتے ہیں الفاظ کو کوئی اہمیت نہیں دینا چاہتے ہیں صلح حدیبیہ یہ بھی بتائے گی بات کو مختصر ابھی کہہ دوں کیونکہ اس کا اصل واقعہ تو بعد میں انشاء اللہ آنے والا ہے، صلح حدیبیہ کی شرط نمبر دو یہ تھی کہ اگر کوئی مسلمان مدینہ آئے گا تو اُسے نکال دیا جائے گا واپس کر دیا جائے گا اِدھر اس agreement پہ سائن ہوئے اُدھر ایک مسلمان آیا پیغمبر نے اسی وجہ سے اُسے واپس کر دیا مگر ابھی وہ مسلمان واپس گیا ایک مسلمان عورت آگئی مکہ میں بعض مسلمان عورتیں بھی تھیں بلکہ سورہ فتح کی ایک آیت آئی کہ اللہ نے اس لیے بھی صلح کرائی کہ اُن مسلمان عورتوں اور بچوں کو بچانا تھا وہ اپنے موقع پر آئے گی بات مگر ضمنی طور پر بعض لوگ مجتہدینِ کرام کو اس طریقے سے بہت الجھاتے ہیں کہ بھئی وہ سیدھا سیدھا ایک مسئلہ دے رہا ہے یہ گھما پھرا کر کیوں بات کرتے ہیں یہ چیز یوں ہے تو نجس اگر ووں ہے تو پاک ، یوں ہے تو حلال اس طریقے سے ہے تو حرام ، نیت یہ ہو گئی تو جائز وہ ہو گئی تو ناجائزان کے لیے بھی ایک پیغام ہے، تفصیل بعد میں آئے گی لیکن بات نکلی ہے تو واضح کر دوں مسلمان آیا پیغمبر نے واپس کر دیا ہم نے ابھی ابھی agreement کیا ہے اور اس کی شرط نمبر دو کے مطابق کوئی مسلمان ہم قبول نہیں کر سکتے، اور موقع دیکھ کر ایک عورت بھی آ گئی عقبہ ابن معید کی بیٹی، وہ بھی آگئی اور آنے کے بعد کہا اللہ کے رسول کافر کے ساتھ شادی ہوئی چونکہ مَیں مکہ میں تھی اور موقع ہی نہ تھا میرے پاس بچنے کا لیکن اب جب پتا چلا کہ لشکرِ اسلام یہاں آیا تو اب مَیں بڑی مشکل سے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کے پہنچی ہوں مجھے پناہ دی جائے اور اُدھر اُس کا شوہر آ گیا اور کہا کہ نہیں یہ میری بیوی ہے گھر سے نکل بھاگی ہے اِس کو واپس کیاجائے اور دیکھئے ابھی وہ سب لوگ جنہوں نے اگریمنٹ پہ سائن کیے ہیں کافروں کی جانب سے پیغمبراسلام نے مسلمانوں سے کہا کہ اسے اپنی پناہ میں لے لو اسے واپس نہیں کیاجائے گا ۔
وہی جو اگریمنٹ پہ سائن کر چکا ہے مکہ والوں کی جانب سے کہا کہ ابھی ابھی معاہدہ ہوا ہے آپ خلاف ورزی کر رہے ہیں، کہا نہیں اگر مَیں خلاف ورزی کر رہا ہوتا تو اُس مرد کو واپس نہ کرتا جو اس سے زیادہ پریشان حال میرے پاس آیا تھا واپس کیا گیا، کہا پھر اس کو کیوں آپ پناہ دے رہے ہیں ؟ کہا کہ اگریمنٹ پہ یہ تھا کہ مومن آئے گا تو اُسے واپس کیا جائے گا مومنہ کے بارے میں کوئی لفظ نہیں تھا۔ ہمارا معاہدہ مومن کے بارے میں ہے مومنات کے بارے میں نہیں، مومنین کی واپسی ہم واجب ہے مومنات کی نہیں عین اسی موقع پر سورہ ممتحٰنة نازل ہوا قرآن کریم کا اہم ترین سورہ کہا یا( ایها الذین آمنوا ) یعنی بعض مسلمان بھی ذرا چونکے یہ کچھ بات ہمیں کچھ اچھی نہیں لگتی اگریمنٹ پہ جب آ گیا تو مرد ہے یا عورت سب کے بارے میں یہی حکم ہونا چاہیئے سورہ ممتحٰنة اسی موقع پہ نازل ہوا( یاایهاالذین آمنوا اذاجائکم مومنٰت مهاجرات ) اے صاحبانِ ایمان جب تمہارے پاس مومنات آئیں جو ہجرت کر کے آ رہی ہیں پھر آیت نے آگے چل کر فلا ترجعوھن الی الکفارخبردار انہیں کافروں کی جانب واپس نہ کرنا خبردار یہ یاد رکھو نہ یہ عورتیں کافر مردوں کیلئے حلال ہیں اور نہ کافر مرد ان عورتوں کیلئے حلال ہیں ۔
اب اسی موقع پہ آیتِ قرآنی میں آ گیا مزید اس چیز کی تصدیق کر دی کہ پیغمبراسلام معاہدہ کے لفظ سے استراح لے کے دلیل بنا رہے ہیں لیکن کچھ مسلمان بھی Confuse ہو گئے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ یہ الفاظ سے کھیلا جا رہا ہے مرد ہے یا عورت فرق کیا آیت قرآنی نے کہا کہ نہیں عملِ رسول بالکل صحیح ہے جب معاہدہ میں لفظِ مومن آیا تو مومنہ اس کے اندر شامل نہیں ہے۔
اس کے بارے میں یہ مانا جائے گا کہ یہ ایگریمنٹ یہ معاہدہ یہ بالکل خاموش ہے یہ بالکل خاموش ہے ہم اپنی بہن کو پناہ دیں گے ۔
ہاں یہ دوسری بات کہ پھر پیغمبر نے عورت سے ایک سوال کر لیا یہ دوسری بات ہے کہ ایک سوال کیا یہ واقعہ مجھے خود افسوس ہے کہ وقت سے پہلے ہی کیوں آ گیا وقت پہ یہ آتا اب آ گیا ہے تو نامکمل چھوڑنا خطرناک ہے پیغمبر نے یہ سوال کیا کہ اب تم یہ بتاؤ کہ اپنے شوہر کو چھوڑ کے جو تم مسلمانوں کے پاس آئی تو اللہ کی خوشی کیلئے آئی ہو یا فقط تمہیں شوہر بدلنا ہے ؟اس لیے آئی ہو یا فقط تمہیں شہر بدلنا ہے ؟ اس لیے آئی ہو فقط تمہیں پیسے اور مدد لینا ہے اس لیے آئی ہو؟چار چیزیں پوچھیں اللہ کے لیے آئی ہو؟ یا یہ کہ شوہر بدلنا تھا یہ کہا کہ موقع بڑا اچھا ہے جیسے آجکل بعض لوگوں کے ہاتھ ایک مسئلہ لگ گیا کہ یہ مجتہد کا وکیل بھی طلاق دے سکتا ہے یہ دیکھے بغیر شرائط کیا ہے ذمہ داریاں کیا ہیں، وہ صیغہ جاری کردے پھر بھی اگر ہمیں پتا ہے اُس صیغے کے جاری کرنے میں وہ بیچارہ بے قصور ہے جیسا اُسے کہا گیا ویسا اُس نے عمل کیا لیکن اگر ہم کو پتا ہے کہ معلومات غلط دی گئیں تو وہ بالکل باطل ہے تو آقائے خوئی منہاج الصالحین کی جلد اول کی تقلید کی بحث میں لکھ رہے ہیں کہ وکیل تو وکیل اگر مجتہد اور مرجع بھی کوئی حکم جاری کرے کہ انفارمیشن یا اطلاعات یا مقدمات میں کہیں غلطی ہے اُس حکم کی کوئی اہمیت نہیں وہ حکم ٹوٹ گیا وہ حکم باطل ہے اُس کی پابندی ہم پر واجب نہیں ۔
توآجکل جس طرح بعض لوگوں کے ہاتھ ایک مسئلہ لگ گیا کہ جی وکیل کے ذریعے طلاق مل جاتی ہے صحیح ہو غلط ہو یہ سوچے سمجھے بغیر اللہ کا رسول اس مومنہ کو پناہ بھی دے رہا ہے ایگریمنٹ کے مطابق ہم تمہیں واپس نہیں کریں گے لیکن ایسا تو نہیں کہ یہ عورت کسی فراڈ یا دھوکے کی نیت سے آکے مسلمانوں کی ہمدردی لے رہی ہے تم بتاؤ تمہارا مقصد اللہ کی خوشنودی ہے، شوہر سے نجات پا کے دوسرا نیا شوہر لینا ہے یا جگہ بدلنا مکہ شہر پسند نہیں آ رہا کسی اور شہر میں جانا یا دنیا چاہیئے جب پتا ہے کہ مظلوم بن کے آئیں گے تو مسلمان دل کھول کر مدد دیں گے یہ سوال اپنی جگہ خود اس مسئلے کو واضح کر رہا ہے اگرچہ اسلام کے اعتبار سے کسی کو یہ حق مل بھی رہا ہے لیکن اگر اُس کی نیت اور وہ شرائط پوری نہیں کر رہا تو رسول بھی اُسے حق دلوا دے گا لیکن وہ اپنی جگہ گنہگار رہے گا ۔
خیر مزید یہ واقعہ دہرایا بھی جائے گا یہ پانچ سات منٹ کی تکرار بعد میں ہو گی لیکن چونکہ بات چھِڑ گئی نامکمل چھوڑنے کا مقصد غلط فہمیاں بڑھانا ہے ۔ بات مَیں یہ عرض کر رہا تھا کہ صلح حدیبیہ میں جہاں یہ پیغام کہ فتح کسے کہتے ہیں ، جہاں یہ پیغام کہ جمہوریت اور شوریٰ اور مشورہ کی کیا اسلام میں کیا اہمیت ہے۔ حکمِ رسول کے آگے کوئی اہمیت نہیں، جہاں صلح حدیبیہ کایہ پیغام کہ الفاظِ شریعت کی اہمیت کتنی ہے لفظِ مومن آئے تو ضروری نہیں ہے کہ مسئلہ مومنہ کے بارے میں بھی ہے ۔ چلیں ایک فقہی مسئلہ بھی مَیں بتا دوں اس سال ہمارا طریقہ کار کچھ بدل گیا مسائل بیان ہوتے ہیں لیکن تقریر کے بیچ میں جہاں جس مسئلے کا موقع ملا اب اسی مسئلے کی وجہ سے ایک بات بتا دی جائے، توضیح المسائل یا فقہ کی کتاب جہاں کہیں لکھا کہ فلاں چیز دو عادلوں کی گواہی سے ثابت ہے یا ایک عادل کی گواہی سے ثابت ہے یاد رکھئے کہ عادل کہتے ہیں مرد کو ہیں۔ عورت کو عادل نہیں کہتے عورت کا نام ہے عادلہ جیسے مومن اور مومنہ مسلمان اور مسلمہ مشرک اور مشرکہ عادل اور عادلہ اگر لکھا ہے کسی مجتہد نے کہ کپڑا پاک ہے یا نجس ایک عادل کی گواہی چلے گی یا دو عادل کی گواہی چلے گی اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں ایک عورت کی گواہی نہیں چل سکتی عورت آکر کہے کہ یہ کپڑا پاک ہے تب بھی نہیں چلے گی گواہی چاہے وہ تقویٰ اور عدالت کے بہترین معیار کے اوپر ہو اس لیے کہ لفظ جو کتاب میں آیا ہے فقہ کے اُسے لفظ کے مطابق عمل ہو گا ۔ ہاں یہ دوسری بات کہ نجاست اور طہارت آغا خوئی نے عادل کی بحث کو نکال کے کہا کہ جو بھی قابلِ بھروسہ ہو اُس کی گواہی چل جائے گی قابلِ بھروسہ میں عورتیں آ جاتی ہیں لیکن جیسا امام خمینی(رح) نے کہا عادل کی گواہی چلے گی اُس میں نجاست وطہارت ، کپڑا نجس ہے یا پاک، برتن نجس ہے یا پاک ، زمین نجس ہے یا پاک گواہی کے اعتبار سے اُس میں عورتوں کی بات مانی ہی نہیں جائے گی ہاں وہ ایک اور طریقہ کہ یقین ہو جائے تو دوسری بات ۔
خیر واپس آئیے الفاظ اُسی کیساتھ صلح حدیبیہ کا ایک اور اہم پیغام وہ کیا اصل میں جہاں سے بات شروع ہوئی تھی اور مَیں دوسری ساری باتوں کو بھی لے لیا کہ صلح حدیبیہ قدم قدم پہ ہمیں ہدایتیں دے رہی ہے بالکل ابتداء میں سب سے پہلی ہدایت ہمارے سامنے کیا آئی پیغمبر فرماتے ہیں کہ مَیں نے ایک خواب دیکھا اور یہ دیکھا کہ مَیں مسجدالحرام میں داخل ہو رہا ہوں اور یہ دیکھا کہ مَیں نے سر کو منڈوایا ، یہ پیغمبرِاسلام کا خواب ہے ۔ اچھا یہ خواب کیا ایسا ہی نکلا جیسا کہ رسول نے دیکھا ، ہمارا آپ کا خواب ہے وہ تو کوئی بات نہیں ، صحیح بھی نکل سکتا ہے غلط بھی نکل سکتا ہے مگر رسول کا خواب جس میں غلطی ہونا نہیں چاہیئے اور ایسا خواب کہ رسول کہہ دیں کہ یہ خدا کا پیغام ہے اور وہ خواب جس نے مکہ سے آنے والے سارے مہاجروں کو اپنا وطن اور خانہ کعبہ یاد دلا دیا یہ تو بڑا اہم خواب بن گیا ایک تو یہی اہمیت کہ رسول کا خواب اور پھر یہ کہنا کہ رسول کا خواب بھی اللہ کی جانب سے ویسے تو رسول کا ہر خواب اللہ کی طرف سے ہے لیکن جب الگ سے کہہ دیا جائے کہ یہ اللہ کیطرف سے ہے تیسرا وہ خواب جس کا تعلق تمام مسلمانوں کے جذبات سے ہے اب اتنا اہم بن گیا یہ خواب مگر جب ہم صلح حدیبیہ کا واقعہ دیکھتے ہیں تو یہ خواب سچا نہیں نکلا نہیں نہیں یہ مَیں نے غلط لفظ کہا یہ خواب پورا نہیں ہوا۔
اچھا تین باتیں رسول کا خواب یہ کہہ کر کہ یہ اللہ کا پیغام ہے اور ایسا خواب کہ جس نے ایک مرتبہ مکہ کے مہاجروں کو وطن یاد دلا دیا اور چوتھی بات قرآن کی آیت آ گئی
( لقد صدق الله الرسول الرویه بالحق )
اللہ نے رسول کے خواب کوسچا کر دیا۔
صدق سچا کر دیا رسول کے خواب کو۔
چار چار باتیں جمع ہو رہی ہیں، تاریخ کہہ رہی ہے کہ یہ خواب اس طرح پورا ہی نہیں ہوا، گئے تو تھے مسلمان مگر حدیبیہ وہیں سے واپس کر دیاگیا مکہ تو چھوڑیں، حدودِ حرم میں بھی داخل نہیں ہوئے ۔ رسول خواب دیکھ رہے ہیں کہ مسجدالحرام میں داخل ہوئے ، مسجدالحرام نہیں مکہ، مکہ بھی نہیں حدودِ حرم میں بھی داخل نہیں ہوئے، حرم کے باہر باہر سے رخصت کر دیا گیا ۔
پیغمبر کہہ رہے ہیں کہ میرا خواب، قرآن کہہ رہا ہے کہ سچا خواب، تاریخ کہہ رہی ہے کہ یہ خواب پورا نہیں ہوا، ہاں پورا ہوا کس طرح پورے ایک سال کے بعد ، پورے ایک سال کے بعد اگلے سال انہیں تاریخوں میں کیونکہ صلح حدیبیہ کی پہلی شرط یہ تھی کہ اس سال چلے جاؤ اگلے سال انہیں تاریخوں میں آؤ اور عمرہ کر لینا، کونسا عمرہ؟ جس کی تیاری جس کا احرام اس سال پہنا اگلے سال آکے کرنا چنانچہ اگلے سال یہ سب مسلمان گئے اُس سال پورا عمرہ کیا، مکہ میں بھی گئے خانہ کعبہ کا طواف بھی کیا سعی بھی کی، اس کا نام ہی تاریخوں میں ہے عمرة القضاء قضا والا عمرہ جو پیغمبر نے قضا والا عمرہ کیا، وہ عمرہ اگلے سال ۔
اب دیکھیں رسول یہ کہہ دیں ہم سے آ پ سے کہہ دیں کہ ہم نے یہ خواب دیکھا ہے ہم جا رہے ہیں اور چلو میرے ساتھ کیا ہر ایک کے ذہن میں یہ بات نہیں آئے گی کہ یہ خواب اسی سال پورا ہونا ہے ہر ایک کے ذہن میں یہ بات آئے گی ، خواب، رسول نے کہا یہ خواب پورا اگلے سال ہو گا کیا اس میں ایک اہم ترین پیغام پوشیدہ ہے جدھر میں آپ کی توجہ کو لے جانا چاہ رہا ہوں بالکل شروع میں خواب دیکھا ہے پورا بھی ہوا ہے لیکن ایک سال کے بعد عام مسلمان وہ گھبرا گئے کہ پیغمبر نے خواب دیکھا پھر ہم واپس کیوں آگئے مکہ سے اُن کو کیا پتا کہ ایک سال کے بعد یہ خواب پورا ہو گاوہ تو پریشان ہو گئے ، قرآن کی آیت اس کے بعد نازل ہوئی کہ مسلمانوں گھبراو نہیں اللہ کا وعدہ ہے کہ اُس کے رسول کا خواب سچا ہے پورا ہو کے رہے گا مگر مسلمان تو پریشان ہے ساری تیاری کر کے مسلمان ہم کو لے گئے یہ خواب پورا کیوں نہ نکلا؟ ایک پیغام اس میں بھی ہے وہ یہ کہ رسول اور امامعليهالسلام کی جوبھی حدیثیں ہوتی ہیں اگر اُس میں کوئی تاریخ نہ ہو تو اپنی مرضی سے اُس حدیث کو کسی زمانے پر Fit نہ کر لیجئے منطبق نہ کر لیجئے جیسے پچھلے سال صدام کے واقعات کے دوران بعض لوگوں کو یہ غلطی کرتے دیکھا گیا کہ ظہورِ امامعليهالسلام کی نشانیاں کتابوں میں ڈھونڈی جانے لگیں، ایک ایک کر کے وہ ساری کتابیں، جتنا اُردو میں وہ لٹریچر ہے تھوڑا بہت، قیامت صغریٰ کو کھولا، چودہ ستارے کے اُس چیپٹر کو کھولا، اور یہ آٹھ دس اور کتابیں علائم الظہور کے نام سے اُن کو کھولا، ساری نشانیاں دیکھی گئیں،خواہ خلیج میں جنگ ہو گی، خواہ بغداد میں تباہی ہو گی ، کوفہ وبصرہ اس طرح نشانہ بنے گا ، خواہ حجاز کے علاقے سے آگ کے گولے بلند ہوں گے، یہ ساری حدیثیں دیکھی گئیں اور اُن ساری حدیثوں میں بالکل بغیر کسی بنیاد کے یعنی صدام کے اور امریکا کے اور کویت کے حالات کو منطبق کیا گیا۔مجھے یا د کہ میں نے اس وقت بھی کہا تھااور ہم یہکہہ چکے ہیں کہ یہ ساری حدیثیں بتا رہی ہیں کہ ایسے ہی واقعات آئیں گے مگر دنیا کا کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ امامعليهالسلام نے اسی سال یعنی انیس سو نوے اور اکیانوے کے بارے میں یہ کہا اور اس وقت مَیں نے یہ بات کہی کہ کبھی ظہور کی کسی نشانی کو اپنی مرضی کے کسی واقع کے اوپر فِٹ نہ کیجئے گا، موزوں نہ کیجئے گا۔ کیا پتا ایک واقعہ کتنی مرتبہ پیش آنا ہو، بغداد کتنی مرتبہ تباہ ہونا ہو، قدس میں کتنی مرتبہ لوگوں کو لُٹنا ہو، خلیج میں کتنی مرتبہ جنگیں ہونا ہو؟
یہ سارے جملے مَیں نے عرض کیے لیکن اُس وقت عام آدمی کثرت کے ساتھ یہ غلطی کر رہے تھے اور عراق کی حکومت پیسہ دے دے کر اس بات کو پھیلا رہی تھی لیکن صلح حدیبیہ بھی دیکھئے اس اس کی ایک نشانی بنی ابھی تو یہ پچھلے سال کے حالات اور کتابوں کی بات تھی لیکن یہ جو مَیں صلح حدیبیہ کی بات کر رہا ہوں وہاں تو رسول خود مسلمانوں کے سامنے ہیں ”مَیں نے دیکھا ہے کہ ہم نے عمرہ کرنا ہے، مکہ میں جانا ہے، حرم میں داخل ہونا ہے“ ہر مسلمان یہ سمجھا ہے کہ رسول نے کہہ دیا اب تو یہ بات پوری ہو کے رہے گی ، بات تو صحیح ہے قیامت آجائے لیکن قولِ رسول غلط نہیں ہو سکتا، لوگوں نے اپنی طرف سے یہ بنا لیا کہ جب رسول نے کہا ہے تو اسی سال یہ واقع پورا ہو گا تو رسول خود بھی ہمارے ساتھ چل رہے ہیں تو مزید برکت ہو جائے گی ۔
ایک اصول آگیا سامنے کہ رسول اور امامعليهالسلام کی حدیث اگر وہ خود کہیں تاریخ بتا دیں تو دوسری بات ورنہ ہمیں حق نہیں کہ ہم کہہ دیں کہ وہ حدیث آجکل کے زمانے پہ فِٹ اُتر رہی ہے بس اندازہ لگا سکتے ہیں مگر یقین کیساتھ نہیں کہہ سکتے جیسا اس واقعہ میں ہوا۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ پیغمبر کو باقی ساری ہدایتیں جبرئیلعليهالسلام کے ذریعے ملتی ہیں ایک یہ صلح حدیبیہ کا واقعہ خواب کے ذریعے آیا ۔ پیغمبر کے حالات دیکھ ڈالیے جتنے بھی اہم واقعات ہیں سیرت رسول کے کہیں خواب نظر نہیں آ رہااس لیے نہیں کہ رسالت کا خواب معاذ اللہ غلط ہے لیکن جو اہم پیغامات تھے وہ فرشتے کے ذریعے بھجوائے جاتے تھے سوائے اس ایک صلح حدیبیہ کے پیغام کے کہ جس میں جبرئیلعليهالسلام کو بیچ میں سے نکالا گیا اور پیغمبر کو خواب دکھایا گیا تاکہ یہ بات اور زیادہ مسلمانوں پر واضح ہو جائے کہ پیغمبر کا کلام برحق ہے خواب میں دیکھا کہ مکہ میں جا رہے ہیں کون سے سال؟ کب کی بات ہے؟ خواب کب پورا ہو گا یہ ساری چیزیں نہیں۔ جبرائیلعليهالسلام آتے تو سارے سوالات ہو سکتے تھے ، خیر مَیں یہ دیکھتے ہوئے کہ سیرت رسول میں واقعات زیادہ آنے چاہئیں ، تبصرہ اتنا نہ ہو جائے کہ واقعات پیچھے رہ جائیں اسی ایک جملے پہ اکتفا کرتے ہوئے کہ غور کیجئے گا کہ شاید یہ بھی ایک مصلحت ہے کہ صلح حدیبیہ خواب کے ذریعے ہوئی باقی بدرہو، اُحد ہو، ہجرت ہو، اعلانِ رسالت ہو، اعلانِ غدیر ہو، خیبر ہو ہر جگہ ظاہر ہے فرشتہ آ کے پیغام دے کے گیا فرق یہی ہے کہ ایک سال کا جو چکر پڑنے والا ہے ۔
خیر واپس آئیے موضوع پر اللہ کے رسول نے ایک اعلانِ عام کیا، کہ مَیں نے رات کو خواب دیکھا کہ ہم سب لوگ احرام پہن کے خانہ کعبہ میں داخل ہو رہے ہیں اور قرآن نے کہا بھی
”( لقد صدق الله الرسول الرویه بالحق، لتدخلن المسجد الحرام انشاء الله ) “
یقینا ضروربالضرور تم اس مسجد میں داخل ہو گے۔ پیغمبراسلام اسی کی اطلاع شروع میں دے رہے ہیں ۔ یہ جو سُنا مسلمان جوش اور جذبے کیساتھ بھر گئے، اب اس وقت مسلمانوں کی دو قسمیں ہیں ایک مکہ کے مسلمان جو اپنے وطن کو یاد کر رہے ہیں اور خانہ کعبہ کی تصویریں اُن کے سامنے آ رہی ہیں اور ایک نئے مسلمان جنہوں نے نہ مکہ دیکھا نہ کعبہ مگر اُس کی عظمت اور اہمیت رسول کی زبانی سُنتے رہے ہیں اُنہیں بھی جوش، مہاجرین کو بھی جوش ، لشکراسلام چلا،یا تیرہ سو یاچودہ سو یا سولہ سو یااٹھارہ سو افراد پر مشتمل تھا۔تیرہ سو سے اٹھارہ سو تک کا عدد تاریخوں میں آیا لیکن زیادہ معتبر علماء نے چودہ سو کا عدد بیان کیا ہے۔
مدینے سے یہ لوگ نکلے، مدینہ سے نکلتے ہی چھ میل کے فاصلے پرذوالحلیفہ ایک علاقہ ہے جسے آج کل دیارعلی اور وہاں پر بنی ہوئی مسجد کو مسجدِشجرہ کہا جاتا ہے ، یہی ذوالحلیفہ مدینے سے چھ میل کے فاصلے پر ہے جو آج کل دیارعلی کے نام سے مشہور ہے اور مسجدشجرہ بھی اس جگہ کو کہتے ہیں اور اس کو اساس سمجھا گیا ہے حج اور عمرے کیلئے یعنی وہ جگہ جہاں اپنا لباس اُتار کر احرام پہننا پڑتا ہے، چھ میل کے فاصلے پر ہے مدینے سے اب تو نہیں اب تو شاید ایک میل دُور ہو لیکن اُس زمانے میں چھ میل دُور وہاں پیغمبر پہنچے اپنے قافلے کو روکا گیا ، سب نے غسل کیا، غسل کرنے کے بعد احرام کی چادریں پہنی گئیں، احرام کی چادروں کے ملبوس ہو جانے کے بعد ایک مرتبہ بآوازِبلند نیت کیساتھ تلبیہ پڑھا گیااور ایک عجیب منظر ذوالحلیفہ کے مقام پرہو رہا ہے ،اُس وقت اپنے ساتھ قربانی کے جانور بھی مسلمان لے کر آئے تھے یاتریسٹھ اونٹ یا ستّر پیغمبر نے سب کو احرام پہنا دئیے۔
اب دیکھئے پھر ایک مسئلہ زبان پر آگیا موضوع سے ہٹ کر آجکل وہ تاریخیں ہیں کہ لوگ کثرت کیساتھ عمرے پہ جا رہے ہیں چنانچہ عمرے پہ جانے والوں کو میرا مشورہ یہی ہوتا ہے کہ آپ کو مکہ بھی جانا ہے اور مدینہ بھی جانا ہے دونوں جگہ جانا ہے ایسا پروگرام بنائیے کہ پہلے مدینے جائیں پھر مکہ آئیں تاکہ مدینے سے مکہ آپ جایں گے تو وہ سنت کا ثواب آپ کو مل جائے گا ، اُس جگہ سے احرام پہنیں جہاں سے رسول نے احرام پہنا ہے اُس راستے پر چلیں جہاں سے رسول چلے ، اُس انداز سے مکہ میں داخل ہوں جس انداز سے رسول داخل ہوئے ورنہ اگر آپ براہِ راست پہلے مکہ گئے عبادتیں توصحیح ہو جائیں گی پھر سے مدینے جائیں گے ، مدینے سے کراچی واپس آ جائیں گے وہ سعادت اور فضیلت ہاتھ سے چھوٹ جائے گی یہ عمرے والوں کیلئے میرا پیغام ہوتاہے اور حج والے چاہے پہلے مکہ جائیں جیسے ہمارا قافلہ مگربہرحال پھر مدینے سے واپس مکہ آکے سنت کو لے لیتے ہیں اس لیے اُس میں تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن عمرے والوں کیلئے میرا خاص ایک نصیحت چونکہ بڑی فضیلت ہو گئی اس واقعہ کے بعد ذوالحلیفہ کی مسجد کی جہاں رسول نے عالمِ اسلام کا پہلا عمرہ مسلمانوں کی پہلی مسجد کہاں ہے ؟ مسلمانوں کی پہلی نماز کہاں ہوئی؟ پہلا روزہ کب رکھا گیا؟ اسی طرح فضیلت عالمِ اسلام میں ، اسلام آنے کے بعد پہلی مرتبہ احرام کہاں سے پہنا گیا ؟مسجدِ شجرہ پیغمبراسلام نے احرام پہن لیا ۔
اب اس سفر کا مقصد جنگ نہیں تھا چنانچہ رسول نے باربار اشارہ کیاچاہے کچھ بھی ہو جائے کفار کچھ بھی کر لیں ہمیں جنگ نہیں کرنا ہے ہم جنگ نہیں کریں گے ۔ پیغمبر کے اس جملے نے بھی مکہ کے کافروں کو بعد میں شیر کر دیا تھا چنانچہ مسلمان لڑ تو سکتے ہی نہیں جتنا ان کو دباؤ سودباؤ تو پیغمبر کا یہ اعلان کہ ہمیں جنگ نہیں کرنا یہیں سے شروع ہو گیا وہ اس طرح کہ اللہ کے رسول نے کہا کہ اے مسلمانو! تم اس انداز سے چلو کہ کہ دُور سے بھی تمہیں کوئی دیکھے تو پہچان لے کہ یہ جنگ کرنے والے نہیں جا رہے یہ عبادت کرنے والے جا رہے ہیں ، کوئی اسلحہ ساتھ میں نہیں رکھنا سوائے تلوار کے وہ بھی نیام کے اندر ہونی چاہیئے، اس لیے کہ تلوار بہرحال عربوں میں اسی طرح ہر ایک مرد کیساتھ ہونا چاہیئے جس طرح پاکستان کے بعض سرحدی علاقوں میں وہ ہتھیار مانا ہی نہیں جاتا وہ مرد کا زیور اور مرد کی زینت مانا جاتا ہے اس کے علاوہ احرام پہن لو اور قربانی کے جانور کو اس طرح سے نمایاں کرو کہ دیکھنے والوں کو پتا چل جائے کہ یہ میدان والے اونٹ نہیں ہیں جنگ والے یہ نہیں ہے کہ یہ ٹینکوں کی طرح سے اونٹ ہیں لے جا رہے ہیں بعد میں اس پہ بیٹھ کے لڑائی کریں گے نہیں شروع سے ہی نشانی لگا دو کہ یہ قربانی کے اونٹ ہیں ۔
اس کے لیے اسلام کا ایک طریقہ ہے شاید آپ لوگوں کو عجیب لگے لیکن مسئلہ ہے کہ ایسا جانور جس کیلئے پہلے سے یہ بتانا ہو کہ یہ قربانی کیلئے ہے کسی اور مقصد کیلئے استعمال نہیں ہو گا اس کے دو طریقے ہیں یا تو اونٹ اگر ہے تو اس کے کوہان کو تھوڑا سا چیرا جائے اور جو خون نکلے وہ خون اس کے اوپر مَل دیا جائے ، دُور سے ہی جب کوئی دیکھے وہ اونٹ جس کے پشت کے اوپر خون مَلا ہوا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قربانی کا جانور ہے جنگ کا جانور نہیں ہے دوسرا یہ کہ پُرانے پھولوں کا ہار بنا کر جانور کے گلے میں ڈالاجائے ، آج بھی یہ فتویٰ ہے آغای خوئی کے مناسکِ حج میں پڑھ لیجئے گا کہ ان دو طریقوں میں سے کسی ایک طریقے سے اپنے جانور کو سجا کر لے جاؤ تاکہ پتا چل جائے کہ یہ حج کیلئے جا رہا ہے ۔ پیغمبر نے دونوں پر عمل کیا بعض اونٹوں کے کوہان کو ذرا سا شگافتہ کیا چِیرا دیا زخم لگایا اور بعض اونٹوں کے گلے میں وہ ہار بنا کے ڈالا گیا ۔
اب یہ قافلہ چلا، مدینے سے یہ قافلہ نکلا ایک عجیب شان کیساتھ چودہ سو مسلمان احرام پہنے ہوئے خالی ہاتھ بغیر کسی ہتھیار کے اپنے ساتھ قربانی کے جانور لے کے جا رہے ہیں جانور اُس حالت اور ہیت میں دُور سے دیکھنے والا پہچان لے کہ یہ میدانِ جنگ میں کام نہیں آئیں گے یہ وہ جانور ہیں جو صرف قربان کیے جاتے ہیںقافلہ بڑھتا چلا جا رہا ہے ۔
مکہ والے بیٹھے ہیں اُن کے پاس اطلاع آ گئی ، پیغمبر نے اتنا نمایاں طور پر اتنے اعلان کیساتھ اتنا کھلم کھلا اور اتنا ٹائم پہلے یہ ساری تیاریاں کیں کہ مکہ والوں تک یہ اطلاع پہنچنا ہی پہنچنا ہے ، پہلے خواب سنایا مدینے میں، چند دن تیاری میں لگا دئیے پھر نکلے تو مسجد شجرہ میں ایک دن رُک گئے وہاں بھی سارے اہتمام کو سب کے سامنے کیا تو بہرحال مکہ والوں تک یہ اطلاع پہنچنا ہی پہنچناتھی اطلاع پہنچی کہ مسلمان چودہ سو کا لشکر لے کے آ رہے ہیں ، بس ایک مرتبہ مکہ کے لوگ گھبر ا گئے اُن کے ذہن میں صرف ایک خیال آیا اور وہ یہ کہ جو کچھ آج سے پہلے ہوا ہم بدر میں ہار کے آئے، ہم اُحد میں ہار کے آئے ، ہم خندق میں ہار کے آئے وہ کوئی ذلت اور رسوائی نہیں تھی لیکن ہمارا شہر جس خانہ کعبہ کے ہم متولی جو ہمارے ہاتھ میں ہے اُس میں اگر مسلمان آ کے عبادت کر کے چلے گئے تو عرب کے سامنے ہماری ناک بھی کٹ جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ ہمیں اس عہدے ہی سے ہٹا دیا جائے اور اپنی عزت کو بچانے کے لئے مسلمانوں کومکہ داخل ہونے سے روکنا ہے مگر ڈر بھی رہے ہیں کہ یہ وہی تو مسلمان ہے کہ بدرواُحد میں ہمیں مزہ چکھا چُکے ہیں تو کوئی ایسا طریقہ اختیار کرو کہ آمنے سامنے آئے بغیر کام چل جائے ۔
خالد ابن ولید اُس وقت تک دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے اُنھیں دوسو سواروں کیساتھ بھیجا گیا کہ حتی الامکان کہ راستے میں کہیں موقع ملے تو مسلمانوں پر Attack کرو اور حملہ کر دواور سب کو مار دو ۔
یہ اطلاع کافروں کو سکون پہنچا رہی ہے کہ مسلمانوں کے پاس میدان میں لڑائی میں کام آنے والا کوئی جانور نہیں کس پہ بیٹھ کے جنگ کرے گا اور ہتھیار کوئی نہیں ہے سوائے تلواروں کے خصوصاً تِیر تِیر نہ ہونابڑا آسان ہے کہ دُور سے حملہ کریں گے مسلمان کیا کر پائیں گے ؟ ڈھال تک نہیں ہے مسلمانوں کے پاس ، نہ ڈھال ہے نہ تیر ہے نہ کمان ہے تو اب بہت آسان ہو گیا ہے دُور سے حملہ کر کے اِن کو نقصان پہنچانا۔
خالدابن ولید کو بھیجا گیا پیغمبراسلام مَیں نے کئی تقریروں میں عرض کیا کہ سیرتِ رسول کو پڑھنے کے بعد یہ پیغام بہت نمایاں ہے پیغمبر نے ہمیشہ سراغ رسانی، جاسوسی اور دشمن کی خبر حاصل کرنے کا System اور نظام ہمیشہ بہت ہی بہترین رکھا ہے وہ جو علمِ غیب ہے رسول کا وہ اپنی جگہ ہے ظاہری اعتبار سے بھی چنانچہ اِدھر خالد ابن ولید دوسو سواروں کو لے کے چلے اُدھرپیغمبراسلام کے پاس اطلاع آ گئی ۔
قبیلہ جونیہ جو اب تک کافر قبیلہ ہے مگر دل سے یہ مسلمانوں کے ہمدرد ہیں ان کے آدمی نے آکر بتایا کہ اللہ کے رسول یہ ہو رہا ہے ۔ خالد ابن ولید اس عرصہ میں کافی آگے آ چکا تھا بہرحال اُسے یہ پتا ہے کہ ہم دو سو ہیں یہ چودہ سو ہیں ، آمنے سامنے مقابلہ ہوگا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ہم جیت جائیں کہ آمنے سامنے ہمیشہ اُلٹا ماجرا ہوا ہے بدر میں یہ تین سو تیرہ تھے ہم ہزار، ہم ہارے اُحد میں یہ سات سو تھے ہم دس ہزار ہم ہارے خندق کے اندر ہماری پوری طاقت تھی ہم ہارے تو برابری چھوڑی اگر ہم زیادہ بھی ہوں تو نہیں ان کو شکست دے سکتے، کجا یہ کہ ساتواں حصّہ دوسواور چودہ سو دُور سے حملہ کرتا ہے لیکن دُور سے بھی کیسے حملہ کرے کہ مسلمان بڑے چوکس اور Alert نظر آ رہے ہیں ، صلح کے لیے جا رہے ہیں لیکن صلح الگ چیز ہے حماقت الگ چیز ہے اپنی حد تک اپنے بچاؤ کی تیاری ظاہری طور پر رکھنا ہے۔
ایک ہی چیز اس کے دِل میں آئی وہ بھی اتفاقاً کہ یہ مسلمانوں کا لشکر جا رہا ہے پیغمبر کی قیادت میں جا رہا ہے ہمارے آپ کے قافلے جب چلتے ہیں یہاں تک کہ اگر نیک کام کیلئے بھی جا رہے ہوں تو سب سے پہلے جو اعلان ہوتا ہے زبانی نہیں عملی اعلان وہ یہ کہ بھائیو اور بہنو آج کل نمازیں معاف ہوگئی ہیں سفر میں کہاں نمازیں پڑھی جاتی ہیں جہاں پہنچ کے اُتریں گے وہاں پڑھیں گے نماز ارے باقاعدہ کراچی میں اور اپنے وطن میں باقاعدگی سے نماز پڑھنے والے بھی سفر میں دیکھا گیا ہے کہ اکثر نماز قضا کرتے ہیں ، سفر بھی کونسا؟ بزنس کا سفر، رشتے داروں کو ملنے جا رہے ہیں وہ سفر، گھومنے پھرنے جا رہے ہیں جی نہیں اُس میں بھی اگر نماز قضا ہو تو کچھ کچھ سمجھ میں آجاتا ہے سفرِزیارت مشہدمقدس جا رہے ہیں امامعليهالسلام کے روضے پہ جا رہے ہیں امامعليهالسلام کو خوش کرنے جا رہے ہیں تحفہ کیا لے کے جا رہے ہیں شریعت بتاتی ہے کہ امامعليهالسلام کے روضے پہ جاتے ہیں تو پہلا تحفہ امامعليهالسلام یہ مانگتے ہیں کہ دو رکعت نماز پڑھو اور ہماری حالت یہ ہے کہ مشہد کے سفر میں نمازیں قضا ہو رہی ہیں چوبیس چوبیس گھنٹوں کی نمازیں قضا ہو جاتی ہیں اُن لوگوں کی جو باقاعدہ نمازی ہیں جبکہ ہونا یہ چاہیے کہ بے نمازی بھی اس سفر میں نمازی بن جائے ۔
خدمتِ امامعليهالسلام میں جا رہے ہیں، خدمتِ رسول میں جا رہے ہیں ، خدمتِ خُدا میں جا رہے ہیں ، فراڈ کرنے والا بھی یہ جانتا ہے کہ بہرحال ایسے موقعے پہ ویسا بن کے پہنچنا ہوتا ہے جیسا وہ چاہتے ہیں وہاں پہنچ کر تو پھر بھی دیکھا ہے کہ بے نمازی نمازی بن جاتے ہیں ، اُتر گئے مسافر خانے میں اب نماز ہو جاتی ہے اُتر گئے مکہ اور مدینے میں اب نماز ہو جاتی ہے ، سفر وہ مصیبت ہے کہ دودو دن کبھی سفر میں گذرتے ہیں اور ساری نمازیں قضا ہو رہی ہیں اس لیے کہ مومنینِ کرام کا لشکر نماز قضا نہ کرے تو کیا کرے؟
وہ لشکرِ اسلامی پیغمبراسلام کی قیادت میں جا رہا ہے جو بھی نماز کا ٹائم آیا، جو بھی وقتِ نماز آیا فوراً لشکر رُکتا ہے اور نما ز پڑھی جاتی ہے ۔
اب یہاں پہ تمام تاریخوں میں ہماری تمام تاریخیں یہاں پر متفق ہیں کہ خالد ابن ولید جو نکل چکے ہیں مکہ سے اور مسلمانوں کے اس قافلہ عمرے کو روکنا چاہتے ہیں راستے میں ، طریقہ سمجھ میں نہیں آ رہا آمنے سامنے تو ناممکن ہے چھپ کے حملہ کرنا ہے لیکن مسلمان بہرحال الرٹ ہے اور اُن کے سراغ رسان اور جاسوس پھیلے ہوئے ہیں ۔ ایک دفعہ اتفاق سے ایسا ہوا کہ مسلمان میدان میں ہیں خالد ابن ولید اپنے دوسو سواروں کو لے کر پہاڑی کے پیچھے ہیں ، نگاہ پڑی کیا دیکھا کہ مسلمان نماز پڑھ رہے ہیں ، نماز کے عالم میں اور آخری رکعت چل رہی ہے فوراً کہا کہ یہ بہترین موقع مجھے ہاتھ لگا ہے
”ارے مَیں نے پہلے کیوں نہیں سوچا“
یہ مسلمان ہیں اطلاع مل چکی ہے مکہ کے کافروں کو کہ مسلمان اپنی نماز کو نہیں توڑا کرتے ، فقہی اعتبار سے اجازت بھی ہو لیکن یہ عام طریقے سے نماز نہیں توڑتے ، کہا یہ بہترین طریقہ ہے اب جو یہ نماز شروع کریں اب جو یہ نماز پڑھیں دوسری نماز یہ نماز تو آخری رکعت ہے سلام کے قریب پہنچ گئے مسلمان دوسو تیر اندازوں کو تیار کرنے میں ٹائم لگتا ہے یہ تو ہاتھ سے نکل گیا ہے اگلی جو یہ نماز پڑھیں گے بس فوراً اُس وقت حملہ کر دینا اور چونکہ مسلمان اپنی نماز توڑتا نہیں سارے کے سارے مسلمان مار لیے جائیں گے ۔
یہاں پہ ایک بات مَیں اور یاد دلا دوں ا۱۰۴ تقریر ہے آج کس کو شروع کی تقریریں یاد ہوں گی لیکن تاریخِ اسلام تو سب کو یاد ہو گی وہ یہ ہے کہ شروع شروع میں جب مسلمان مکہ میں آئے اُس وقت خاص طور پر پیغمبر حرم میں نماز پڑھا کرتے تھے تو کچھ عرصے کیلئے عربوں کا مشغلہ یہ تھا کہ پیغمبر کی نماز میں رکاوٹ ڈالو ۔
( اَرَ ءَ یْتَ الذی یَنْهَیٰ عَبْداً اِذَا صَلّی )
یہ سورہ اقراء باسم ربک الذی ہے اُس کی آخری آیت پہ سجدہ ہے اس کے درمیان کی آیت ہے ۔
”حبیب دیکھو اُس گنہگار کو کافر کو جو ہمارے بندوں کو نماز پڑھنے سے روک رہا ہے “
وہ یہی تھا کہ رسول نماز پڑھ رہے ہیں غلاظت لا کے ڈال دی ، اونٹ کی اوجڑی لا کے ڈال دی کوئی بھاری وزن رکھنے کی کوشش کی لیکن یہ سارے کافر دیکھ چکے ہیں کہ ہم کچھ بھی کریں رسول اپنی نماز کو توڑتے نہیں ، نماز مکمل کی جائے گی، نماز پوری کی جائے گی وہاں سے ان کو یہ سبق یاد ہے کہ مسلمان نماز نہیں توڑا کرتا ۔
کہا کہ اگلی نماز میں حملہ کریں گے اور بس مسلمان نماز ختم کر کے کھڑے ہوئے یہاں پر ضمنی طور پر ایک بات اور کہہ دوں اگرچہ اس کے اندر بحث کی گنجائش نہیں یہ واقعہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ بہرحال پیغمبراسلام نے اکثراً نمازوں کو ملا کے پڑھا ہے ورنہ ظہر کے بعد اگر عصر کا ٹائم ہی ابھی نہیں آیا تو نماز کونسی؟ وہ تو دوگھنٹے کے بعد ہونا چاہیئے مگر تمام تاریخیں متفق ہیں کہ خالد ابن ولید نے یہ سوچا اور ہوا یہی کہ ایک نماز ختم ہوئی اور پیغمبر نے فوراًدوسری نماز شروع کرا دی دوسری نماز عصر کی نماز وہ جو بعض لوگوں ہمارے لوگوں کے ذہن میں بھی ہے کہ رسول اور امامعليهالسلام کے زمانے میں نمازیں الگ پڑھی جاتی تھیں بعد میں شاید علماء نے یہ مسئلہ بنایا یہ واقعات اگرچہ سفر کا مسئلہ ہے لیکن بہرحال سفر بھی سہی نماز جمع کی گئی ۔
خیر پیغمبر نے دوسری نماز جمع کرنا چاہی عین اُس موقع پہ جبرائیلعليهالسلام آئے ، اب اُدھر سن چھ ہجری کا واقعہ ہے چھ ہجری کا مقصد کیا ہوا تیرہ سال مسلمان مکہ میں رہے چھٹا سال یہ اُنیس سال ہو گئے ہیں اسلام کو اب تک نمازِخوف صرف ایک مرتبہ پڑھی گئی ، صرف ایک مرتبہ اس کے بعد دوبارہ ضرورت نہیں آئی ، نمازِ خوف اگر کبھی دشمن کا خوف ہو پھر حکم یہ ہے کہ مسلمان ایک ساتھ نماز نہ پڑھیں پہلے آدھا لشکر نماز پڑھے اور دوسرا آدھا لشکر حفاظت کرتا رہے ، پھر حفاظت کرنے والے نماز پڑھیں اور نماز پڑھنے والے جا کے پہرہ سنبھالیں ۔
اب پہلی نماز ظہر کی ہوئی سب نے ایک ساتھ پڑھی ، عصر کی نماز پیغمبر نے کہا کہ ابھی ابھی جبرائیلعليهالسلام میرے پاس آئے اورخُدا کا حکم پہنچا گئے کہ وہ جو ایک دفعہ ہم نے نماز خوف پڑھی وہی دوبارہ پڑھنا ہے ۔ سارے مسلمان قریب نہ آئیں آدھے مسلمان چاروں طرف بکھر کے حفاظت کریں اور باقی آدھے مسلمان نماز کو مکمل کریں اورپھر جو یہ لوگ پوری کریں نماز تو وہ لوگ آجائیں ۔
خالدابن ولید نے جب یہ منظر دیکھا ایک مرتبہ محاورةً سر پیٹ لیا کہ پوری کی پوری سکیم اور منصوبہ ناکام ہو گیا ۔ مسلمانوں کو کس نے بتایا عین وہ موقع کہ مَیں تیاری کر کے بیٹھا یہ تو اب سراغ رسانی اور جاسوسی کا مسئلہ بھی نہیں رہا اتنے جلدی کوئی جاسوس نہیں جا سکتا نہ گیا ۔
گھبرا کے اپنے آپ سے پوچھتا ہے کہ کس نے مسلمانوں کو چالاکی کا یہ طریقہ بتایا ہے؟ نماز بھی ہو گئی، نماز توڑنے کی ضرورت بھی نہ ہوئی، اور لشکرِاسلام بچ بھی گیا خیر نماز مکمل ہوئی ، پیغمبراسلام ایک مرتبہ کہتے ہیں :
اے مسلمانو! تمہیں معلوم ہے کہ وہ سراغ رسان، وہ جاسوس اطلاع دے گیا کہ کفارِمکہ ہمارا راستہ روکنا چاہتے ہیں اور مَیں اس وقت جنگ نہیں کرنا چاہتا ، ہم صرف زیارت کیلئے جا رہے ہیں ، چنانچہ آؤ ہم لوگ راستہ بدل لیں۔
اچھا خاصا جو راستہ مدینے سے مکہ آ رہا ہے اُس کے قریب رسول پہنچ چکے ہیں یہ اُس وقت کی بات ہے جب قریب پہنچ گئے ۔
پیغمبر نے راستہ بدل لیا اور بہت ہی دُور گھوم گھوم کے جا رہے ہیں ایسے علاقے میں جس کے لیے مسلمان تیار ہو کے نہیں آئے نہ کھانے کا انتظام اتنا کیا ہے نہ پینے کا انتظام اتنا کیا ہے ۔
اب عجیب منظر ہے پورے واقعات تو آج نہیں آ سکتے بس یہ آخری آخری مرحلے ، ایک مرتبہ جب یہ خبر مل گئی کہ اب تک مسلمان سکون کیساتھ تھے کہ اب تو جا رہے ہیں عمرے کیلئے اب اطلاع ملی کہ دشمن پیچھے لگ گیا اور ایسا دشمن کہ پیغمبر منع کر چکے ہیں کہ اُس سے لڑنا ہی نہیں ہے ۔اب تو خطرہ ہی خطرہ ہے اور اتنا خطرہ کہ رسول راستہ بدل کے جا رہے ہیں۔
اب مسلمان خوفزدہ ہو گئے اب مسلمانوں میں سے بعض کے حوصلے پست ہونے لگے اب بعض مسلمان گھبرا گھبرا کر سوچنے لگے کہ اگر یہ سب کچھ ہونا تھا تو کاش رسول بتا دیتے کہ ہم تیاری کر کے آتے کہ عین وہ وقت آگیا کہ مسلمان راستہ بدل چکے ہیں حدیبیہ کے قریب پہنچ رہے ہیں اُس سے پہلے بڑی اونچی پہاڑی آئی ایسی پہاڑی کہ اُسے دیکھ کے لوگ خوفزدہ ہو گئے اچھا پہاڑی سے مراد کے ۔ٹو یا ماؤنٹ ایورسٹ نہیں ہے ایک اتنا اونچا ٹیلہ کہ یہ پتا نہیں کہ اس کے دوسری طرف کیا ہے؟ ابھی ابھی یہ خطرہ کہ کافر پیچھے لگے ، ہم جنگ نہیں کریں گے اسلحہ بھی نہیں ہے ایسی پہاڑی کہ اس کے اوپر سے ہی جا کے اُترنا ہے ہر ایک کے دل میں خیال کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کے نیچے کفار بیٹھے ہوئے ہوں اب ایک مرتبہ پہاڑی کے اوپر پہنچیں اور انھوں نے ہم پر حملہ کر دیا۔ ہر جگہ پہ یہ اصول ہے کہ پہاڑی کے اوپر والا ہمیشہ طاقتور ہوتا ہے پہاڑی سے نیچے والا کمزور ہوتا ہے لیکن کب؟ جب پہاڑی کے اوپر والے کے پاس تِیر اور نیزے اور برچھے ہوں تلواریں اگر ہوں تو وہ اوپر بھی ہے تو بیکار ہے پہاڑی اس لیے کہ اوپر اگر ہے تلوار چلائے گا تو کس کے لگے گی تلوار، مسلمانوں کے پاس تیر نہیں کمان نہیں نیزے نہیں یا برچھیاں نہیں تلوار ہے ، تلوار اگر ہاتھ میں ہے تو پہاڑی کے اوپرجانابھی بیکار ہے اب ہر ایک کے دل میں خوف کہ اس کے دوسری جانب کیا ہے؟ہم کسی پریشانی میں نہ پھنس جائیں۔
اُس وقت ایک عجیب جملہ پیغمبراسلام نے کہا یہ جملہ وہ ہے کہ اس کی تشریح میں نکل جاؤں ناں تو بیس منٹ موضوع سے مَیں ہٹ جاؤں ۔ پیغمبر نے مسلمانوں کی یہ حالت دیکھی پہاڑی کے خطرے کو دیکھا اور کہا کہ مسلمانو! آگے بڑھو اور اس پہاڑی کے اوپر چڑھتے چلے جاؤ اور یاد رکھو کہ اس پہاڑی پر جانا ایسا جیسے بابِ حِطہ میں داخل ہونا ہے ، حِطہ بنی اسرائیل کا امتحان
اُدخل بعد قرآن کہہ رہا ہے کہ بنی اسرائیل فرعون کے دریا میں ڈوبنے کے بعد خدا کی نافرمانی کی بنا پر چالیس سال تک صحرا کے اندر راستہ بھٹکتے رہے ہیں ، آخر منزلِ مقصود آئی وہ بھی کب جب اپنی غلطیوں کا احساس ہوا کہ ہم نے خدا کی نعمتوں کے مقابلے میں کتنا ناشکرا پن کیا ، خُدا نے توبہ قبول کرنا چاہی وہ بھی جب اعلان ہوا کہ جس شہر میں جا رہے ہو اس کے دروازے سے جب گذرنا تو حِطہ کہتے ہوئے داخل ہونا ، سجدہ کرتے ہوئے ’ ’اُدخلل بعدسجدہ“ سجدے کے عالم میں جانا اور حِطہ کہنااُس کی توبہ کو خدا قبول کرے گا حِطہ جو سریانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں توبہ کے معنی ہیں۔
چالیس سال صحرا میں بھٹک چکے ہیں کھانے اور پانی کے لالے پڑ چکے ہیں یہ وہ ہیں جو من وسلویٰ کو ٹھکرا گئے تھے روزانہ ایک جیسی ڈش ہم سے نہیں کھائی جا رہی ہے نتیجے میں کچھ بھی نہ مِلا۔ اب یہ پیغام آیا اور جیسے ہی وہ دروازہ نظر آیااُس کے اندر بھرا ہوا شہر دیکھا وہی کیفیت جو اکثر آپ نے محاورةً سُنا کہ کھجور کے درخت پہ کوئی صاحب پھنسے اور ایک مرتبہ اُترنا بھول گئے اتنا اونچا درخت نیچے زمین نظر آ رہی ہے گھبرا گئے یہ کیا ہوا خداوندا میری جان بچا لے تو مَیں اونٹ دوں گا لیکن جیسے جیسے نیچے اُترتے جا رہے ہیں زمین قریب آ تی جا رہی ہے اونٹ سے گائے پر آئے گائے سے بکری پر آئے بکری سے مرغی پر آئے مرغی سے انڈے پر آئے اب قریب پہنچ گئے خداوندا تُو قادرِمطلق ہے تجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ۔
جو حالت ہوئی کہ ایک مرتبہ بھرا ہوا شہر نظر آیا اب کیسا حِطہ، کیسی توبہ اور کیسا استغفار؟ قرآن نے کہا سجدہ کرو اور توبہ کرو ایک مرتبہ اکڑ کے چلے اور جو تاریخوں میں ہے کہ چلے بھی اس طرح کہ اُلٹا چلے اور زیادہ نافرمانی کے لیے کہ ہم ذرا بھی جھکنے کو تیار نہیں کہ اگر سیدھے سیدھے جائیں گے ہو سکتا ہے کہ تھوڑی سی گردن کہیں جھک جائے اللہ سجدہ کہہ رہا ہے سجدہ تو چھوڑو ہم ذرا سی گردن بھی نہیں جھکائیں گے، اُلٹا چل کے جاؤ تاکہ ذرا سا جھکنے کا سوال بھی پیدا نہ ہو اُس وقت صرف وہ بچے جنہوں نے حکم کو مانا اور جنھوں نے حکم کو نہیں مانا اکڑ دکھائی سجدہ بھی نہیں کیااور جو لفظ بتایا تھا اُس کو حنطہ میں بدل دیا گندم گندم مذاق شریعت کیساتھ مذاق ۔
پیغمبر نے کہا یاد رکھو اِس وقت حدیبیہ کی پہاڑی پہ چڑھنا ایسا ہے کہ جیسے دروازے میں حطہ کہتے ہوئے داخل ہونا ، یہ واقعہ بس ایک اشارہ کر دیا رسول نے اتنا اہم ایمان کا امتحان بن گیا اتنا جملہ سُنا مدینے کے جو پُرانے باشندے ہیں اوس وخزرج اُن کو جوش آیا ایک مرتبہ نوجوان تکبیر کی آواز بلند کر کے تیزی کیساتھ اُس پہاڑی پر چڑھے اور جب پہاڑی کے اوپر چڑھے تو دیکھا کہ پہاڑی کے نیچے انتہائی سرسبز میدان بھی ہے اور ایک کنواں بھی نظر آ رہا ہے پانی کا مسئلہ پیدا ہو چکا ہے پانی ختم ہو چکا ہے مسلمانوں کے پاس ۔ وہ جس راستے کیلئے تیار ہو کے آئے تھے وہ راستہ ہی بدل گیا ہے جیسے ہی پہاڑی پہ چڑھے وہی چیز خدا امتحان لیتا ہے ایک مرتبہ ارادہ کر لے انسان امتحان دینا ہے آگے پھر آسانی ہی آسانی ہے راحت ہی راحت ہے انہوں نے آواز دی مسلمانوں آجاؤ خدا کی نعمتیں انتظار کر رہی ہیں ہمیں پانی مل گیا ہے، لشکرِ اسلام اُترا ایک عورت اپنے بچے کو کھڑا کر کے پانی پلا رہی ہے لشکراسلام پہ نگاہ پڑی گھبرا کے وہ ماں اپنے بیٹے کو لے کے بھاگی بیٹا بلکہ زیادہ تیزی کیساتھ بھاگا ، دشمن کا لشکر جب آتا ہے اور وہ قرآنِ کریم میں بھی وہ چیونٹیوں کا جملہ ہے کہ جب بادشاہ کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں تو اُسے تباہ کر دیتے ہیں ۔
عورت بھی یہی سمجھی بیٹا تیزی سے بھاگ رہا ہے ماں بھی بھاگ رہی ہے کہ ایک مرتبہ اُس کی نگاہ پڑی پلٹ کے آواز دی کہ بیٹا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے یہ مسلمان آ رہے ہیں اگرچہ کافر ماں ہے اگرچہ کافر بیٹا ہے لیکن کیا کہہ رہی ہے کہ بیٹا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے یہ تو مسلمان آ رہے ہیں یعنی اُس وقت تک عرب کے چپے چپے تک یہ بات پہنچ چکی تھی کہ لشکر اسلام کبھی ظلم نہیں کرتا ہے کبھی زیادتی نہیں کرتا ہے کسی مظلوم پہ ہاتھ نہیں اُٹھاتا ہے کسی عورت اور نابالغ بچے کو چاہے دشمن بھی ہو قتل نہیں کرتا ہے ۔
دیکھئے وہ جو تین تقریریں آپ نے مسلسل سُنیں کہ خندق کے بعد اور حدیبیہ سے پہلے پیغمبر نے اتنے سارے لشکر بھجوائے تو کسی ایسے آدمی کے ذہن میں جو مکمل طور پہ تابع حکمِ رسالت نہیں ہے یہ وسوسہ پیدا ہو سکتا ہے کہ اتنی لڑائیاں پیغمبر نے کیوں کیں؟ وہ لڑائی بھی ایک تبلیغ تھی ۔
دیکھئے وہ جو تین تقریریں آپ نے مسلسل سُنیں کہ خندق کے بعد اور حدیبیہ سے پہلے پیغمبر نے اتنے سارے لشکر بھجوائے تو کسی ایسے آدمی کے ذہن میں جو مکمل طور پہ تابع حکمِ رسالت نہیں ہے یہ وسوسہ پیدا ہو سکتا ہے کہ اتنی لڑائیاں پیغمبر نے کیوں کیں؟ وہ لڑائی بھی ایک تبلیغ تھی جس جس قبیلے میں لشکر گیا اور پھر طاقت ہونے کے باوجود واپس آ گیا اُس قبیلے نے یہ حیرت والا واقعہ کہاں کہاں نہ پہنچایا ہو گا جب مکہ کی سرحد پر کافرہ ماں اپنے کافر بیٹے کی جان بچانے کیلئے پریشان ہے لیکن جیسے ہی دیکھا کہ مسلمان آ گئے اُسے اطمینان ہو گیا کہ یہ دشمن سہی ، ان کا عقیدہ ہمارے عقیدے کے خلاف سہی ، یہ اس وقت مکہ میں جانے کے ارادے سے آئے سہی لیکن کبھی ہم پر اور ہمارے بیٹے پر ہاتھ نہیں اٹھائیں گے ۔
ایک مرتبہ اطمینان دلایا اُس کا بیٹا واپس آیا ، پیغمبراسلام اس دوران پہاری کو طے کر کے کنویں کے قریب پہنچ چکے تھے اور اُس عورت سے کہتے ہیں کہ کنویں سے پانی نکال کے ہمیں پلا دو ۔ اُس نے ایک مرتبہ کہا کہ اے مسلمانو! اس کنویں میں پانی اتنا کم ہے ، اتنا کم ہے کہ بعض اوقات ایک آدمی کی خاطر پا نی لینے کیلئے گھنٹوں کھڑا رہنا پڑتا ہے ، مَیں اپنے بیٹے کو پانی پلانے کے لئے کتنی دی سے کھڑی ہوں ۔
اتنا سُننا تھا کہ رسول آگے بڑھے حدیبیہ کی اس لڑائی میں کھانے اور پینے کے متعلق تین معجزے پیش آئے ، تین معجزے اُن میں سے پہلا معجزہ یہی ہے اللہ کا رسول آگے بڑھا اور آگے بڑھنے کے بعد ایک مرتبہ کنویں جھانک کے دیکھا ، لعابِ دہن کو اس کنویں میں پھینکا پیغمبر نے اور اب نہ صرف یہ کہ پانی ہوا بلکہ اس کثرت کیساتھ کہ پانی کنویں کی طے سے بلند ہوتے ہوتے کنویں کی منڈھیر تک اس طرح آ گیا کہ ڈول کی ضرورت بھی نہ رہی کہ چاہے چلو سے آگے بڑھ کے پانی پی سکتا ہے اور وہ عورت حیرت زدہ ہو کے پانی پی رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ میرے گھرانے کی زندگیاں یہاں پہ گذری ہیں اس کنویں میں اوّل تو پانی تھا نہیں اور جو پانی تھا بھی یہ مزہ تو اس کا تھا ہی نہیں اتنا شیریں اتنا خوشگوار اتنا میٹھا پانی ۔
درود بھیجیں محمد وآلِ محمدعليهالسلام پر
اللهم صلی علی محمد وآل محمد ۔
پیغمبراسلام حدیبیہ کے میدان میں دو مرتبہ کنووں کا مسئلہ ہوا ، ایک یہ راستے میں اور ایک حدیبیہ میں اور ایک مرتبہ کھانے کا مسئلہ لیکن وہ بعد میں ۔
خیر پانی کے مرحلے پہ فارغ ہو کے آگے بڑھے، مسلمانوں کو کچھ نہیں پتا کہ ہمیں کہاں جانا ہے مکہ جانا ہے پیغمبر کسی اور راستے سے لے کے چلے اس وقت ایک مکہ سے مدینے کا راستہ ہے جو مسجدِ عائشہ کے سامنے سے گذرتا ہے اور ایک اُس سے اُلٹ مکہ سے جدہ کا راستہ ہے جو حدیبیہ کے سامنے سے گذرتا ہے تقریباً ۴۵یا ۶۰ڈگری کا اینگل ہے ان دو راستوں کے درمیان، پیغمبر دوسرتے راستے سے جا چکے ہیں ، چلتے چلتے ایک کنواں نظر آیاجس کنویں کا نام تھا حدیبیہ جس کی وجہ سے یہ علاقہ حدیبیہ کا علاقہ کہلاتا ہے ۔
وہ کنواں نظر آیا اُس وقت وہاں کوئی آبادی نہیں تھی اور اُس کنویں کے فوراً بعد حدودِ حرم شروع ہو جاتے ہے وہ بانڈری اب یہ مکہ نہیں ہے مکہ وہاں سے تئیس کلومیٹر ہے لیکن وہ علاقہ شروع ہوتا ہے جہاں کسی جانور حتیٰ کہ کسی پودے یا کسی گھاس کے پتے کو بھی توڑنا حرام اور گناہ ہے ۔
”من دخلہ کانہ آمنا“ جس کے بارے میں قرآن نے کہا وہ سرحد ایک قدم آگے بڑھیں حدودِ حرم جہاں کی ہر چیز کو خدا نے سیکورٹی دی ہے تحفظ دیا ہے اُس سے چند قدم پہلے حدیبیہ کا کنواں ہے ۔جہاں پہ مسلمان پہنچے اسی لیے مَیں تقریر کے بیچ میں ایک جملہ کہا ہے اس سال پیغمبر نے خواب دیکھا لیکن اس سال خانہ کعبہ میں چھوڑیں مسجد الحرام میں چھوڑیں مکہ میں چھوڑیں مکہ سے تئیس کلومیٹر دُور حدودِ حرم اس میں بھی مسلمان قدم نہیں رکھ سکے اُس سے بھی باہر باہر رہے یہاں جا کے لشکرِ اسلام رُکا ۔
مکہ کے کافروں کو اطلاع ملی، لشکر کیسے رُکا ، کیسے رُکا یہ لشکر؟ پیغمبر کی اونٹنی جس کا نام قصویٰ ہے چلتے چلتے گھٹنوں کو موڑ کے گھٹنے سے ٹیک لگا کے بیٹھ گئی ۔ پیغمبر تو خاموش ہیں مسلمان گھبرا گھبرا کے آگے آئے اور کوشش کی کہ اس اونٹنی کو اٹھایا جائے اب یہ پیغمبر کی بہت ہی زیادہ محبوب اونٹنی ہے پیغمبر کی سواری میں رہی ہے وہ اونٹنی اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہو ریہ ہے ۔
پیغمبر نے فرمایا چھوڑ دو یہ وہیں پہ بیٹھی ہے جہاں پہ خدا نے اس کو حکم دیا ہے اور اب وہ منزل آگئی جس سے آگے بڑھنے کی ہم کو اجازت نہیں ہے ، اس کے پیغمبر نے مزید ایک جملہ کہا سرسری طور پہ لیکن بعض اوقات اس میں توہین کا پہلو بھی آجاتا ہے ، پیغمبر نے فرمایا کہ جس طرح ابرہہ جب اپنا لشکر لے کر آیا ہے اُس کے سب سے آگے والے ہاتھی جس کا نام محمود تھا، محمود ہاتھی کا نام ہے اُسے خدا نے کہا تھا کہ اس جگہ سے آگے نہ بڑھنا تو ابرہہ نے اپنے ہاتھی کو اتنا مارا اتنا مارا کہ وہ مر گیا مگر اپنی جگہ سے آگے نہ بڑھا پیغمبر فرماتے ہیں جیسے وہ حکمِ خدا سے معمور تھا ہاتھی محمود ویسے ہی میری اونٹنی قصویٰ یہ بھی حکمِ خدا سے معمور ہے جتنا ہی کرو یہ شہید ہو جائے گی لیکن اپنی جگہ سے آگے نہیں بڑھے گی کیونکہ ہمیں یہیں ٹھہرنا ہے۔
یہ جملہ سُنا سب کے سب ایک مرتبہ اُتر پڑے اور وہاں خیمے لگا دئیے گئے۔ اب پروردگارِ عالم نے بیک وقت دوامتحانوں میں مسلمانوں کو ڈال دیا۔
بس یہ آخری جملے اس کے بعد باقی باتیں ، مکہ والوں کا ری ایکشن وہاں سے قافلوں کا آنا، وہاں سے قاصدوں کا آنااگلے منگل کواب یہاں پہ مسلمان صرف دس دن کے کھانے کا سامان لائے تھے یہ سوچ کر کہ مدینے سے مکہ کا آٹھ دن کا راستہ ہے اور ایک آدھ دن وہاں پھر تو وہاں جب جائیں گے تو بازار سے راستے سے سامان خرید لیں گے ، مگر دس دن سے زیادہ راستے میں لگ گئے ، راستہ بدلنا پڑا پہاڑیوں سے آنا پڑا ، یہاں پہنچے تو کھانے پینے کا سامان ختم ، فاقے کی نوبت آ گئی پانی میں بھی مسئلہ کھانے میں بھی مسئلہ فاقوں کی نوبت آ گئی اور خدا نے بھی ایک عجیب امتحان لے لیا مسلمانوں کا ۔
ہمارے چھٹے امامعليهالسلام صادقِ آلِ محمدعليهالسلام (اللهم صلی علی محمد وآل محمد(ع)) سورہ مائدہ کی آیت کی تشریح فرما رہے ہیں :
( وَلَنَبْلُوَنَّکُمُ اللهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِلاَ تَنَالُهٓ اَیْدِیْکُمْ وَ رِمَاحُکُمْ )
”یادرکھو خدا تمہارا امتحان لیتا ہے کبھی شکار کے ذریعے سے ایسا شکار کہ نہ تم اپنا ہاتھ اُس تک پہنچا سکتے ہو نہ اپنے تیر “
یہ قرآن کی آیت ہے کہ امتحان کا ایک طریقہ شکار بھی ہے ۔ بڑا عجیب جملہ ہے بھئی امتحان کیا ہے فاقہ ، امتحان کیا ہے اولاد کی قربانی، امتحان کیا ہے دولت کی قربانی سورہ مائدہ( لَنَبْلُوَنَّکُمُ ) کہ ضروربالضرور ہم امتحان لیں گے تمہارا یا( لَیَبْلُوَنَّکُمُ ) اللهُ ضروربالضرور اللہ تمہارا امتحان لے گا شکار کے ذریعے سے ۔
معصومعليهالسلام فرما رہے ہیں کیا تمہیں پتا ہے یہ کس امتحان کا تذکرہ ہے ؟
راوی نے کہا نہیں مول(ع)! مَیں تو خود اس سے پہلے پریشان ہوتاتھا۔
کہاسُن یہ حدیبیہ کا تذکرہ ہے جب حدیبیہ کے مقام پر لشکراسلام اُتر گیا اور کھانے پینے کو کچھ نہ رہا فاقے ہونے لگے مکہ قریب ترین شہر ہے وہاں سے پیغام آ گیا کہ ایک مسلمان اگر حدودِ حرم میں قدم رکھے گا اُسے قتل کر دیا جائے گا حتیٰ کہ پیغمبر نے اپنا قاصد بھیجا اُس پر اٹیک ہو گیا اُس کے جانور کی بوٹیاں اُڑا دی گئیں اور اُس کی بھی بوٹیاں اُڑ جاتیں وہ تو کسی نے بچا لیا ۔قاصد جسے ہر جگہ تحفظ دیا جاتا ہے تو خریدوفروخت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
اب امامعليهالسلام کہتے ہیں سُنو! یہ سب لوگ احرام پہنے ہوئے ہیں ، احرام یعنی سفید چادر
بس میرے آخری جملے
یہ سب احرام پہنے ہوئے تھے سفید چادر سے اور آپ کسی بھی حاجی یا عمرہ کرنے والے سے پوچھ لیجئے کہ جب انسان احرام پہن لیتا ہے تو تئیس چوبیس چیزیں حرام ہو جاتی ہیں اُن میں جانوروں کا شکار بھی حرام ہے ۔
امامعليهالسلام فرما رہے ہیں صلح حدیبیہ کے موقع پہ خدا نے مسلمانوں کا بالکل وہ امتحان لیا جو بنی اسرائیل سے ہفتے کے دن مچھلیوں کے بارے میں امتحان لیا گیا۔ بنی اسرائیل ہفتے کے دن شکار حرام ہے ، مچھلیوں کو اطلاع ملی کہ آج کوئی ہمیں نہیں پکڑ سکتا کثرت کیساتھ مچھلیاں نکل کے دریاؤں میں آتی ہیں اور بنی اسرائیل کے لوگوں کے دلوں پہ سانپ لوٹتے تھے کہہ رہے ہیں کہ کیسا بہترین شکار ہمارے سامنے ہے یہ کیسا حکمِ خدا ہے کہ ہاتھ نہ لگاؤ پھر دوواقعات اُس جگہ اور اس کی مخالفت پہ لوگ بندر بنے اس لیے کہ امتِ موسیٰعليهالسلام تھے اور یہ امتِ رسول ہے رحمت بھی نازل ہوئی اور لوگوں نے امتحان دیا اور وہ اس طرح کہ سب احرام پہنے تھے اور احرام کی حالت میں شکار حرام اور گناہ ہے اور اس کا کفارہ بھی ہے۔
ٹھیک ہے حرم میں نہیں گئے حرم کے باہر ہیں۔ یادرکھئے حرم میں اگر کوئی پہنچ جائے تو احرام کے بغیر بھی ہو حرم میں تو سب کے لئے شکار حرام ہے، حرم کے باہر عام لباس میں ہو تو شکار کر سکتے ہو احرام میں نہیں ۔
امامعليهالسلام فرما رہے ہیں کہ اب جنگل کے جانوروں کو خدا نے پیغام دے دیا کہ یہ مسلمان بھوکے ہیں لیکن احرام کی حالت میں ہیں ، کسی جانور کو ٹچ نہیں کریں گے ہاتھ نہیں لگائیں گے ۔
راوی کہتا ہے کہ حدیبیہ کے میدان میں جو لوگ تھے ۔ یہ تو امامعليهالسلام نے کہا خدا نے امتحان لیا۔ راوی کہتا ہے کہ حدیبیہ کے میدان میں جو لوگ تھے انہوں نے اپنی اولادوں کو بتایا ، واقعہ مجھ تک پہنچا لیکن اب اس آیت سے اس کا ربط ملا کہ حدیبیہ کے مسلمان کہتے تھے کہ اب وہ وقت آ گیا کہ جانور اور جنگلی ہرن جو انسان کی شکل دیکھ کے بلکہ آواز سن کے بھاگتا ہے وہ ہمارے خیموں میں آکے بیٹھ جایا کرتے تھے یہاں تک کہ بلکہ ہمارے جسم کے قریب کہ ہاتھ بڑھا کر اُن کو گردن سے پکڑ سکتے ہیں سارے جانور جو حلال جانور اللہ نے دئیے ہیں وہ سب آجاتے ہیں باقاعدہ ٹہلتے ہیں ہمارے خیموں کے بیچ ، خیموں کے اندر آتے ہیں ہمارے بستروں کے قریب پہنچ جاتے ہیں لیکن حالت یہ ہے کہ فاقہ ہے بھوک لگ رہی ہے بڑی شدت کیساتھ ایک آدھ دن کا فاقہ نہیں ہے پتا نہیں کتنے دن گذر گئے ہیں ، شکار آنکھوں کے سامنے ہے وہ گویا خود اپنے آپ کو ہمارے ہاتھوں میں دئیے دے رہا ہے مگر احرام کی حالت میں شکار حرام ہے۔ فاقہ ہے بھوک ہے تکلیف ہے ہاتھ باندھے بیٹھے ہیں ان کو ہاتھ نہیں لگا سکتے ہیں اُتنے دن تک حکم رہا جب تک ہم نے احرام نہیں اُتارا پھر تو وہی جانور ایسی بے مروتی وبے وفائی کی جھلک نظر نہیں آ تی ہے ۔
دیکھئے اس طرح خدا نے امتحان لیا ہے، حدیبیہ کا یہ واقعہ بہت کم مومنین کے علم میں ہے حدیبیہ کے مسلمان خیموں میں گھیرا ڈالنے لگے، خیموں میں جنگلی جانور آنے لگے اور اُس حالت کے اندر کہ جب فاقے کی شدت ہے ۔ شکار ایک ایسی چیز ہے کہ عام حالت میں جب پیٹ بھرا ہو تو انسان برداشت نہیں کر سکتا ہے چاہے شرعاً عام حالت میں فضول شکار حرام ہی کیوں نہ ہو مگر فاقے کی حالت ہے یہی اسلام ہے یہی اسلام ہے کہ واقف ہو کہ حرام چیز کی جانب ہاتھ نہیں بڑھانا ہے بھوکے رہیں گے حرام کی جانب ہاتھ نہیں بڑھائیں گے ۔
جو بینک کی نوکریاں چھوڑیں جاتی ہیں وہ اسی اصول کی بنیاد پر کہ حدیبیہ کے میدان میں حالت یہ ہے کہ شکار اپنے آپ کو دئیے دے رہا ہے ہمارے ہاتھ میں اور ہم اس کو ہاتھ نہیں لگا رہے کہ احرام کی حالت میں حرام ہے ۔
یہ شکار کے ذریعے خدا نے امتحان لیا، ذرا سوچو اتنا بڑا امتحان ہے کہہ دینا بہت آسان ہے مگر جس پر گذر رہی ہو بھوک کی شدت اور سامنے یہ جانور یہ مسلمان کہتے ہیں کہ ہمارا ہی دل جانتا ہے کہ ہم نے کس طرح سے یہ امتحان دیا ہے؟
ہم اور آپ چند گھنٹے کے لیے اس امتحان سے گذرتے ہیں ، رمضان کے روزوں میں تقریباً یہی حالت ہوتی ہے مگر اسی خوف کیساتھ کہ وہ چند گھنٹوں کی بھوک اور پیاس ہوتی ہے اس کے باوجود انسان بعض اوقات بے چین ہو جاتا ہے ۔یہ دنوں کی بھوک اور پیاس ہے ،فرق بھی ہے جس کا درجہ بڑا ہے اس کا امتحان بڑا ہے ۔
حدیبیہ کے مسلمان ایک حد تک کے مسلمان تھے خدا نے ان کا اتنا ہی امتحان لیا ایک آدھ ہفتے کا امتحان ساری زندگی کا نہیں ۔
یہ رتبہ تو فقط فاطمہ زہراءعليهالسلام کے گھرانے کو ملا جہاں کی حالت وکیفیت یہ تھی کہ ساری زندگی امتحان میں گذر گئی خانہ فاطمہعليهالسلام کی شان یہی ہے اور اس پر راضی ہیں اہلبیتِ اطہارعليهالسلام ایک امتحان تو وہ ہے کہ ہم اس لیے برداشت کرتے ہیں کہ خدا لے رہا ہے تو دینا پڑے گا امتحان راضی تو نہیں، خوش تو نہیں مگر خدا کہہ رہا ہے ۔ اور ایک وہ حالت ہے خانہ فاطمہعليهالسلام کی کہ فاقہ ہے اور اختیاری فاقہ ہے ، یہ حدیبیہ والے تو بہت مجبور ہیں اختیاری فاقہ ہے وہ اس طرح کہ گھر میں سامان بھی موجود ہے مگر یتیم ومسکین واسیر آکے سوال کرتا ہے ، اپنے آگے کی وہ روٹیاں اٹھا کے دی جاتی ہیں جس کو شریعت کہہ بھی نہیں رہی ۔
خاص خدا نہیں کہہ رہا حدیبیہ میں خدا نے کہا ہے مجبور ہے وہاں خدا بھی نہیں کہہ رہا ہے مگر جانتے ہیں اہلبیت اطہارعليهالسلام یہی منزلت ہے فاطمہعليهالسلام کے گھرانے کی ، پتا ہے کہ جو خدا کی پسند ہے خدا کہے نہ کہے وہی ہماری زندگی کا طریقہ ہے اور یہی وہ منزل ہے کہ جہاں فِضّہ کا واقعہ بھی مَیں اکثر پڑھا کرتا ہوں ۔
فِضّہ حبشہ کی شہزادی جس کے بارے میں ایک نطریہ یہ بھی ہے کہ بہرحال وہ تھی ہندوستان کی شہزادی وہاں سے حبشہ گئیں اور پھر حبشہ سے مدینے آئیں ۔ کئی گھرانوں میں کنیزی کی زندگی گذار چکی ہیں دیکھتی رہتی ہیں کہ کنیزوں اور غلاموں کیساتھ کی سلوک کیا جاتا ہے، کیسے ان کو دھتکارا جاتا ہے کیسے ان پر ہر ظلم توڑا جاتا ہے مگر عجیب گھرانہ ہے فاطمہعليهالسلام کا کہ جہاں تصور نہیں کہ کسی کی توہین کی جائے بلکہ اتنا احترام کہ جب رسول ایک دن آئے بیٹی کے گھر میں کہ دیکھا بستر پہ پریشانی کے عالم میں بیٹھی ہیں اچھا بستر پہ تو اس لیے بیٹھیں کہ یہ طریقہ ہے کہ فاطمہعليهالسلام اور فضہ کاکہ ایک دن فضہ کام کریں گی تو فاطمہعليهالسلام بستر پر آرام کریں گی اور ایک دن فاطمہعليهالسلام کام کریں گی اور فضہعليهاالسلام بستر پر آرام کریں گی ، فضہعليهاالسلام کے کپڑے بھی فاطمہعليهالسلام دھوئیں گی اور فضہعليهاالسلام کے آگے کھانا بھی فاطمہعليهالسلام لا کے رکھیں گی ۔
خالی ہیں پریشان ہیں کہا اے فضہعليهاالسلام بہت پریشان ہو کیا فاطمہعليهالسلام کے گھر میں تمہیں سکون و آرام نہیں مل رہا ؟ مَیں تمہیں کہیں اور بھی بھیج سکتا ہوں ۔
گھبرا کے کہا اللہ کے رسول یہ آپ نے کیا کہہ دیا پریشان تو اس لیے ہوں کہ خانہ فاطمہعليهالسلام کو دیکھنے کے بعد سوچ رہی ہوں کہ جنّت لے کر بھی کیا کروں گی عجیب گھرانہ ہے صبح کو اُٹھتی ہوں میرا مولا علیعليهالسلام آتا ہے اور کہتا ہے بہن فضہعليهاالسلام میرا سلام لے لو ، میری شہزادی فاطمہعليهالسلام آتی ہیں ۔
ارے دھتکارنا اور دوسرے گھروں کا تصور چھوڑیں فضہعليهاالسلام بہن مَیں سلام کرنے تمہارے پاس آئی ہوں ، ارے میرے شہزادے حسنعليهالسلام وحسینعليهالسلام آتے ہیں امّاں ہمارا سلام قبول کرو ، جو جنّت کے مالک ووارث وہ کوئی ماں کہہ کر کوئی بہن کہہ کر مجھے سلام کرتا ہے ۔
اس چیز نے فضہعليهاالسلام کو ایسا بدلا کہ فضہعليهاالسلام جنہیں سونا بنانے کا علم آتا ہے وہ جو اس وقت کے شاہی گھرانوں کے افراد کو یہ علم سکھایا جاتا ہے اگر کبھی حالات خراب ہو جائیں اور تمہیں فقیر بن کر نکلنا پڑے تو ہونا ہو کہ زندگی گذار دو۔ ایک دن آئیں مولا کے پاس جب میرا مولا مصروفِ عبادت ہے ہاتھ جوڑ کے کہا مولا ایک سونے کا ٹکڑا لے کر آئی ہوں ، پتھر کا ٹکڑا ہے یا لوہے کا ٹکڑا ہے جسے فضہعليهاالسلام نے علمِ کیمیا سے سونے میں بدلا ہے ۔
میرے مولعليهالسلام نے دیکھا مسکرائے کہا فضہعليهاالسلام تمہارا شکریہ مگر جس طرح لائی ہو اُسی طرح لے جاؤ ۔
کہا مولعليهالسلام آپ تو خیر اتنے طاقتور اور شجاع مَیں دیکھ رہی ہوں کہ تین وقت مسلسل اس گھر میں فاقے کے گذر گئے ہیں مَیں تو حسن اور حسین کی حالت کو دیکھ کے پریشان ہوں ، یہ ننھی ننھی بچیاں زینبعليهالسلام و امِ کلثومعليهالسلام تین وقت کا فاقہ چہرے فق ہو چکے ہیں جسم کانپ رہا ہے ، مولعليهالسلام اپنا نہ سہی انہیں کا خیال کریں ان کے کھانے کا انتظام کریں ۔
میرے مولعليهالسلام نے دیکھا فضہعليهاالسلام کو تفصیل بتانا ضروری ہے کہا فضہعليهاالسلام تمہارا کیا خیال ہے کیا یہ فاقہ یہ مصیبت یہ پریشانی مجبوری کی وجہ سے ہم برداشت کر رہے ہیں کہا تمہیں نہیں معلوم یہ ہماری اختیار شدہ زندگی ہے ہم اس پہ راضی ہیں اس لیے کہ اللہ راضی ہے ورنہ ہم چاہیں تو کیا نہیں ہو سکتا ذرا مصلے کو پلٹو۔
مصلہ پلٹا گیا فضہعليهاالسلام نے دیکھا زمین شق ہوئی مَیں تو سونے کا ٹکڑا لے کر سوچ رہی تھی کہ آج مَیں نے بڑی خدمت کر دی وہاں سونے کا دریا مصلے کے نیچے بہہ رہا ہے ۔
کہا فضہعليهاالسلام ٹھوکر ماریں تو ساری زمین سونا بن جائے مگر ہم اسی فقروفاقہ پہ راضی ہیں کیونکہ ہمارا پروردگار اس پہ راضی ہے ، ہمارا پروردگار اس پہ خوش ہے جو فاطمہعليهالسلام اس فاقے سے اس طرح سے راضی ہیں ماں کی حالت دیکھئے ماں خود فاقہ کر لیتے ہے مگر اولاد چھوٹے چھوٹے بچے اور بچیاں اس سے بھی فاطمہعليهالسلام راضی ہیں کیا وہ ایسے مومن اور مومنہ کے دعویٰ غلامی کو قبول کریں گی جو فاقہ تو چھوڑو حرام چیز کو بھی چھوڑنے کو تیا ر نہیں ہے ۔
پتا ہے کہ فلاں کاروبار حرام ہے پتا ہے کہ فلاں نوکری حرام ہے پتا ہے نوکری میں فلاں کو حصّہ دار بنانا حرام ہے مگر حلال تو چھوڑو فاطمہعليهالسلام تو کہہ رہی ہیں کہ ہم حلال میں بھی اپنے آپ کو فاقے میں پسند کرتے ہیں یہ حرام کو ترک کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔
دعویٰ کیا ہے؟ غلامانِ اہلبیت(ع)، کنیزانِ سیّدہعليهالسلام جو فاطمہعليهالسلام کی زندگی ہے وہ آپ کے سامنے ہے بس پتا چلے گا کہ واقعااہلبیتعليهالسلام نے کس طرح سے زندگی گذاری ہے لیکن اتنی سی بات ہے ، اتنی سی بات ہے کہ ساری زندگی ان مصیبتوں اور پریشانیوں میں گذر گئی ہے حدیبیہ کے مسلمان چارپانچ دن کیا پریشانی میں رہے اتنا اہم واقعہ بن گیا کہ اپنی نسلوں کو سنایا واقعہ ۔
دیکھئے نا چھٹے امامعليهالسلام کا صحابی کہتا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے والد کے والد کے والد نے یہ امتحان دیا فاطمہعليهالسلام نے ساری زندگی یہ امتحان دیا ہے نہ کبھی شکوہ نہ کبھی شکایت لیکن پھر سُنیں اب سوچئے جو مصیبتوں کو برداشت کرنے کی اتنی عادی ہیں عام حالت میں آپ دیکھیں دو آدمی ذرا سی پریشانی ہوئی تو گھر سے نکل آئے ذرا سی کوئی مصیبت ہوئی فریاد کرتا ہوا نکل آئے ، اور ایک وہ آپ نے دیکھا بڑا صابر اس کا جوان بیٹا بھی مر گیا اس نے صبر کیا کچھ نہ بولا پہلے آدمی کو کہیں بھی آپ دیکھیں گے پلٹ کے توجہ نہیں کریں گے یہ اس کا تو کام ہی یہی ہے ذرا ذرا سی بات پہ چیخنے لگتا ہے لیکن اگر اس دوسری آدمی کو آپ روتے ہوئے پائیں تو آپ کہیں گے آج قیامت آ گئی ہے یہ تو اپنے جوان بیٹے کی موت پہ کبھی نہیں اتنا رویا اگر وہ کسی مصیبت پہ رو رہا ہے تو یقینا اتنی ہی بڑی مصیبت ہے کہ قیامت آ گئی ہو ۔
بس مجھے اتنا ہی کہنا ہے کہ جو اتنا صبر کرنے والی شہزادی ہیں بچے فاقے سے بچیاں فاقے سے شوہر کی یہ حالت گھر میں غربت کتنی مصیبت کبھی ، کبھی اظہارِپریشانی چھوڑو اس کے چہرے پہ کبھی پریشانی نہیں آئی ہمیشہ خوشی میں ہمیشہ شکر میں وہ اگر کبھی کہہ دے
صُبَّتْ عَلَیَّ مَصَائِبٌ لَوْاَنَّهَا
صُبَّتْ عَلَی الْاَیَامِ صِرْنَ لَیَا لِیَا
ایسی صابرہ وشاکرہ بی بیعليهالسلام اگر اُس کی زبان پر کبھی یہ جملہ آ جائے آپ سوچ سکتے ہیں کیا کچھ مصیبت برداشت نہ کی ہو گی ، جب فاطمہعليهالسلام جیسی صابرہ کو یہ جملہ کہنا پڑا ۔
دیکھئے فاطمہعليهالسلام کا دل اس وقت غم سے کتنا بھرا ہوا ہے عجیب جملہ ہے تاریخ کہتی ہے بس اسی پہ اختتام ۔ پہلی مجلس میں ہمیشہ مَیں یہ جملہ کہا کرتا ہوں شہادت کی تین مجالس کی پہلی مجلس میں یہ جملہ تاریخ کہہ رہی ہے فاطمہعليهالسلام کو اور غموں کے علاوہ جو غم سب سے زیادہ پریشان کر رہا ہے وہ یہ کہ جو مصیبتیں آئیں سو آئیں مجھے اپنے بابا کاماتم بھی نہیں کرنے دیا جا رہا اس لیے کہ شکایت کی گئی ابوالحسن(ع)! فاطمہعليهالسلام کو روکیں یا دن کو رویا کریں یا رات کو رویا کریں ۔
ہائے رسول کی بیٹی(ع) ہائے علیعليهالسلام کی بیوی(ع) ہائے فاطمہعليهالسلام زہر(ع)ء میرے مولعليهالسلام نے پیغام پہنچایا ۔ کہا ابوالحسنعليهالسلام مَیں نے زندگی بھر کوئی خواہش ظاہر نہیں کی اب ایک ہی خواہش ہے میرے لیے مدینے سے باہر ایک مکان بنا دیا جائے جہاں مَیں اپنے بابا کا ماتم تو کر سکوں ۔
اب کیفیت یہ ہے کہ روزانہ فاطمہعليهالسلام صبح کو حجرے سے نکل جاتی ہیں شام کو حجرے میں آتی ہیں رات بھر حجرے میں ماتم ، دن بھر فاطمہعليهالسلام کا ماتم مدینے سے باہر بیت الحزن نامی اُس امام باڑے میں اور جب گھر سے نکلتی ہیں صبح کو تو تاریخ کہتی ہے بڑی شان کیساتھ نکلتی ہیں اس طرح نکلتی ہیں کہ ایک ہاتھ میں عصا ہوتا ہے ایک ہاتھ میں حسینعليهالسلام کا ہاتھ ہوتا ہے حسنعليهالسلام ماں کیساتھ ساتھ چل رہے ہیں ۔بیت الحزن میں فاطمہعليهالسلام پہنچیں زمین پر بیٹھ گئیں بیٹے ماں کے سامنے بیٹھ گئے۔
اربابِ عزاء
آپ نے ہزاروں مجلسیں سُنی ہیں ایسی عجیب مجلس نہ کبھی دیکھی نہ کبھی سُنی ایسی عجیب مجلس کہ ایک معصومہعليهالسلام مجلس پڑھ رہی ہے دو معصوم امامعليهالسلام بیٹھے مجلس سُن رہے ہیں۔ جب فاطمہعليهالسلام مجلس پرھتی ہیں تو کیا پڑھتی ہوں گی مجھے تاریخ میں نہیں ملا مگر میرے دل نے کہا اپنا ہی لکھا ہوا نوحہ پرھتی ہوں گی:
صُبَّتْ عَلَیَّ مَصَائِبٌ لَوْاَنَّهَا
صُبَّتْ عَلَی الْاَیَامِ صِرْنَ لَیَا لِیَا
ماں نے مجلس پڑھی جو معصومہ ماں ہے بیٹوں نے مجلس سُنی جو معصوم سننے والے ہیں مگر ایک اور جملہ مجھے پریشان کر گیا فاطمہعليهالسلام روزانہ گھر سے نکلتی ہیں ایک ہاتھ میں عصا لے کے نکلتی ہیں شام کو آتی ہیں عصا لے کے آتی ہیں ۔
اربابِ عزاء
عصا بڑھاپے کی نشانی ہے عصا ضعیفی کی نشانی ہے عصا ناطاقتی کی نشانی ہے ۔ مَیں نے تاریخ سے پوچھا اے تاریخ! یہ تو بتا دے رسول کی بیٹی ہماری شہزادیعليهالسلام عمر کیا تھی کہ عصا لینا پڑا ؟ عمر کیا تھی کہ عصا لینا پڑا اسّی سال ستّر سال پچہتر سال جی نہیں مورخ نے پلٹ کر کہا سُنواے فاطمہعليهالسلام کے ماننے والو رسول کی بیٹی اٹھارہ سال عالمِ شباب کا آغاز۔
ارے میری شہزادی اٹھارہ سال میں اتنی کمزور کر دی گئی کہ عصا کے سہارے کے بغیر چل نہیں سکتی۔
اجرکم علی الله ولعنة الله علی اعدائهم اجمعین ۔
پروردگارا واسطہ مصائبِ فاطمہ زہراءعليهالسلام کا فاطمہعليهالسلام کے تمام ماننے والوں خصوصاً اس مجلس میں موجود مومنین ومومنات کو بحقِ فاطمہعليهالسلام دنیاوآخرت کی ہر مصیبت وپریشانی سے محفوظ فرما۔
پروردگارا جس اسلام کی خاطر رسول کی بیٹی نے اتنے مصائب برداشت کیے ہم میں سے ہر ایک کو اس اسلام کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما ۔
پروردگارا شہادتِ زہراءعليهالسلام کی ان تاریخوں کا واسطہ ہمارے جملہ مرحومین کی مغفرت فرما ۔
پروردگارا مصائبِ فاطمہ زہراءعليهالسلام کا واسطہ آج کی دنیا میں جو جو ظالم مصروفِ ظلم ہے خصوصاً صدامِ ملعون ان سب کو بحقِ فاطمہعليهالسلام نیست ونابود فرما ۔
پروردگارا فاطمہعليهالسلام کے ماننے والے تمام مومنین ومومنات ، تمام علماء وتمام مجتہدینِ کرام خصوصاً آیت اللہ خوئی ان کے اہل وعیال کی بحقِ فاطمہ زہر(ع)ء نگہبانی فرما ۔
پروردگارا ان مظالم کے اختتام کیلئے فاطمہعليهالسلام ہی کے فرزند آخری امامعليهالسلام حجتعليهالسلام کے ظہور میں تعجیل فرما ۔
ربنا تقبل منا انک انت سمیع العلیم ۔
صلح حدییبہ حصہ دوئم
بِسْمِ اللّٰه الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط
( لَقَدْ صَدَقَ اللهُ رَسُوْلَهُ الرُّئْیَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللهُ ٰامِنِیْنَ مُحَلِّقِیْنَ رُئُوْسَکُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ )
سیرت پیغمبراسلام ایک سو پانچویں تقریرصلح حدیبیہ کے حالات بیان ہو رہے تھے اور جیسا کہ باربار یہ اعلان تو ہوتا ہی رہتا ہے کہ تقریر کا وقت نو بجے نہیں ہے بلکہ نو بج کر پانچ منٹ ہے تاکہ جلدی آجانے والوں کو یہ خیال رہے کہ پانچ منٹ کی تاخیر نہیں ہوئی ہے بلکہ وقت ہی پانچ منٹ سے ہے ۔
صلح حدیبیہ جس کی سب سے نمایاں خصوصیت یہی ہے کہ قرآن کریم نے پیغمبراسلام کے زمانے میں ہونے والی اسّی ( ۸۰) جنگوں اور اسّی ( ۸۰) لڑائیوں میں سے کسی کے ساتھ وہ لفظ استعمال نہیں کیا جو ہمیشہ جنگ کے بعد ہوتا ہے یعنی
”( اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا ) “
لفظ ”فتح“ کامیابی جیت فتح حاصل کر لینا یہ ایسا لفظ کہ جس کو سنتے ہی جنگوں کا تصور ذہن میں آتا ہے لیکن اللہ کے رسول کے زمانے میں تقریباً اسّی لرائیاں ہوئیں ، کچھ غزوے کچھ سریے ۔ عجیب بات ہے کہ ُان میں سے کسی کے لیے یہ لفظ نمایاں طور پر نہیں آیا تو آیا یہ لفظ تو ایسے واقعے کے بارے میں جسے شاید کوئی شخص بھی کامیابی اور جیت نہ سمجھے یعنی صلح اور اُن حالات میں صلح کہ لگ ایسا رہا ہے کہ ہم کو جُھکنا پڑا اور دشمن جو ہے وہ سر پہ چڑھا جا رہا ہے ۔
اب یہی قرآن کریم کا لفظ ، قرآن جو الفاظ کے استعمال میں بہت ہی محتاط ہے ایسا عظیم لفظ استعمال کر دینا
”( فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا ) “
اللہ نے خالی کامیاب ہی نہیں کیا بلکہ فتح مبین عطا کی، کُھلی ہوئی کامیابی خود یہ بتا رہی ہے کہ یہ واقعہ تاریخِ اسلام کا کتنا اہم واقعہ ہو گا اور پھر ہمارے پاس اسی واقعے کے سلسلے میں معتبر ترین احادیث میں سے ایک ہے۔ صادقِ آلِ محمدعليهالسلام امام جعفر صادق علیہ الصلوٰة والسلام (اللھم صلی علی محمد وآلِ محمد(ع)) یہ فرمان بھی آرہا ہے کہ
”ماکان قضیة اعظم برکت منها “
اسلام کی پوری تاریخ میں یا یہ کہ رسول کی پوری زندگی میں ۔
”ماکان قضیة اعظم برکت منها “
کہ کوئی واقعہ برکت میں واقعہ حدیبیہ سے بڑھ کر نہیں ہے ۔
”ماکان قضیة “
کوئی قضیہ اسلام میں پیش نہیں آیا ۔
”اعظم برکت منها “
جس میں برکت زیادہ ہو ، جو عظیم البرکت ہو منھی صلح حدیبیہ کے واقعہ کے ۔
جس واقعہ کو معصومعليهالسلام یہ کہہ دیں کہ سیرت رسول کا عظیم ترین واقعہ، بابرکت ترین واقعہ، برکت کے اعتبار سے اس سے بڑھ کوئی واقعہ نہیں ہے ۔ خود ہی سوچا جا سکتا ہے کہ وہ کتنا اہم واقعہ ہو گا ۔البتہ معصومعليهالسلام نے بعد میں اس برکت کی تھوڑی تشریح کی کہ برکت سے مُراد کیا ہے؟جس کا خلاصہ یہی ہے امام نے کہا کہ یہ وہ واقعہ ہے جس کے بعد اسلام سب سے تیزی سے پھیل سکا ۔
بدرواُحد خندق وحنین کی لڑائیوں میں اسلام کو بچایا لیکن تبلیغِ اسلام کے لئے اہم ترین سبب اور اہم ترین واقعہ یہی صلح حدیبیہ کا واقعہ ثابت ہوا ۔
توقرآن کا اس واقعہ کو فتح مبین کہنا اور امامِ معصومعليهالسلام کا اس واقعہ کو برکت کے اعتبار سے عظیم ترین کہنا ہمارے ذہنوں کو اور زیادہ تیار وآمادہ کر دیتا ہے کہ دیکھیں تو سہی کہ یہ واقعات پیش کیا آئے اور پھر ان واقعات کے نتیجے میں اسلام کو کیا فائدہ ہوا؟
تو واقعات کی ترتیب یہ ہے کہ اللہ کا رسول تیرہ سو سے اٹھارہ سو تک صحابیوں کو لے کر، روایتیں مختلف ہیں لیکن زیادہ معتبر چودہ سو ( ۱۴۰۰) کی روایت ہے ۔ تیرہ سو سے اٹھارہ سو تک کسی بھی تعداد میں لیکن الغرض یہی ہے کہ چودہ سو اصحاب کو لے کر مدینے سے نکلا اور مسلمان اس حالت ہی میں چل رہے ہیں کہ دُور سے بھی اگر کوئی اس لشکر کو دیکھے تو سمجھ جائے کہ نہ یہ جنگ کرنے جا رہے ہیں، نہ حملہ کرنے جا رہے ہیں، نہ کسی پر ظلم کرنے جا رہے ہیں ، سفید احرام پہنے ہوئے ہیں اپنی قربانیوں کو ساتھ لئے ہوئے ہیں ، جن جانوروں کے گلے اور کوہان پر یہ نشانی لگی ہے جسے عرب کا رہنے والا تو دُور سے دیکھ کر پہچان لیتا ہے کہ یہ جانور جنگ میں استعمال نہیں ہو سکتے صرف خانہ کعبہ پر قربان کیے جائیں گے ۔
احرام پوش چودہ سو کی جماعت قربانی کے جانوروں کو لے کر چل رہی ہے اور اسلحہ اور ہتھیار کے نام سے ان کے پاس بجز تلوار کے ان کے پاس کچھ نہیں ہے اور تلوار بھی وہ جو نیام کے اندر رکھی ہے اور نیام والی تلوار عرب میں ہتھیار مانا ہی نہیں جاتا ہے یہ تو ایک طرح سے مرد کا زیور اور ضرورت کی چیز قرار دیا جاتا ہے ، اس کے علاوہ پورا لشکرِ اسلام بالکل خالی ہاتھ ہے نہتا ہے اور جا رہے ہیں اس علاقے میں جہاں اُس وقت تک اسلام کے سب سے بڑے دشمن رہتے ہیں ۔
دشمنی اسلام کایہ نظارہ یہ منظر لشکر کی یہ جھلک یہ بتا رہی کہ دیکھو یہ لوگ صرف اور صرف عبادت اور قربانی کیلئے جا رہے ہیں ۔
چلتے چلتے یہ لشکر مکے سے تئیس ( ۲۳) کلومیٹر کے فاصلے پر ایک کنویں پر پہنچا ، کنویں کا نام حدیبیہ ہے اور اُس کنویں کی وجہ سے اُس پورے علاقے کا نام ہی حدیبیہ کہلانے لگا ۔ اب آجکل اسی جگہ کو سمیسی کہتے ہیں لیکن مزید آجکل یہ سمیسی کا لفظ تو سوسواسو سال تک چلا ، جب اسے آج سے گیارہ سال پہلے بالکل نئی سڑک بن گئی ہے جدے اور مکے کے درمیان ، اب یہ اس راستے سے بالکل نکل گیا ہے ورنہ پہلے جدہ سے مکّہ جانے والا ہر شخص حدیبیہ سے ہو کے گذرتا تھا اور دوسری بات اُسے معلوم نہیں ہوتا تھا کہ مَیں حدیبیہ سے جا رہا ہوں کیونکہ اس علاقہ کا نام تقریباً ڈیڑھ سو سال سے تبدیل شدہ نام اب نئی سڑک ایسی بنی کہ بالکل یہ علاقہ دب کے رہ گیا ، اس کی وجہ پچھلی تقریر میں بیان کی جا چکی ہے ویسے بھی حدیبیہ کا علاقہ عرب کے راستے میں نہیں آتا تھا پیغمبر نے صرف اس لیے کہ خالد ابن ولید کے اُس لشکر سے آمنا سامنا نہ ہو جسے قریشِ مکّہ نے مسلمانوں کو روکنے کیلئے بھیجا ہے جان بوجھ کر اپنے راستے کو بدل کے ایک طویل راستہ اختیار کیا ۔
چناچہ حدیبیہ جو ہر راستے سے ہٹا ہوا تھا وہاں لشکرِاسلام پہنچ گیا ۔ اب واقعات جن کا تعلق اس صلح سے اس سے پہلے دوتین چھوٹی چھوٹی باتوں کی وضاحت :۔
پیغمبراسلام نے جب تک مکّے میں قیام رہا یعنی رسالت کے پہلے تیرہ( ۱۳) سال خابہ کعبہ کی زیارت کی، طواف کیا ، عرفات اور منی کے اعمال انجام دئیے ، جب سے مدینہ مین آئے پانچ ایسے سال گذر گئے شروع والے کہ پیغمبر نہ مسجدالحرام جا سکے، نہ مکّے میں داخل ہو سکے ، نہ خانہ کعبہ کی زیارت کر سکے ۔ پہلے پانچ سال مدینے کے قیام میں پیغمبراسلام کا ظاہری طور پر خانہ کعبہ سے ہر قسم کا رشتہ کٹ گیا پھر چھ ہجری آئی، چھ ہجری پیغمبراسلام مکّے کی جانب چلے مگر جیسا کہ ہر ایک جانتا ہے کہ مکّے میں داخل ہوئے بغیرواپس آگئے یہ سال بھی اسی طرح سے گزر گیا اس کے بعد سات ہجری کا سال وہ آیا اسی صلح کے نتیجے میں مسلمانوں کو مدینے سے مکّے آنے کی اجازت ملی تو سات ہجری یعنی اگلا سال وہ کہ جب پیغمبراسلام ہجرت کے بعد پہلی مرتبہ خانہ کعبہ میں تشریف لے گئے۔
آٹھ ہجری فتح مکّہ ہوئی، رمضان کے مہینے میں لشکرِ اسلام پیغمبر کے ساتھ گیا ۔ نو ہجری پیغمبر خود تشریف نہیں لے گئے ، پہلے حضرت ابوبکر کو اور اس کے بعد امیرالمومنینعليهالسلام کو حاجیوں کو یہ پیغام دے کے بھیجا گیا کہ یہ آخری سال ہے اس کے بعدکوئی مشرک حرم کی زمین میں داخل نہیں ہو سکتا ۔
دس ہجری پھر اللہ کے رسول نے پہلا واجب حج کیااسی کی واپسی پہ غدیرِخُم کے میدان میں خطبہ ایمان دے کے مدینے آئے اور گیارہ ہجری کے بالکل شروع میں انتقال کیا ۔
توچھ ہجری سے لے کے دس ہجری تک یا دوسرے الفاظ میں مدینے آنے کے بعد سے لے کر انتقال تک صرف تین مرتبہ مکّے کی جانب اور خانہ کعبہ کی جانب تشریف لے جا سکے ۔ دومرتبہ عمرہ کیا ایک سات ہجری جو صلح حدیبیہ کے اگلے سال اور ایک فتح مکّہ کے موقع پر اور صرف ایک مرتبہ پیغمبر نے حج کیا ۔ یہ اللہ کے رسول ہجرت کے بعد خانہ کعبہ عرفات اور منا کی زیارتوں کی مختصر تفصیل ۔
ابھی پیغمبراسلام حدیبیہ کے میدان میں پہنچے ہی، یہ چھ ہجری کا سن ہے اور ذیقعدہ کا مہینہ ہے ۔ ذیقعدہ کا مہینہ پھر یاد دلا دیا جائے اگرچہ یہ چیز کئی مرتبہ بیان ہو گئی ہے کہ عربوں نے اسلام کے اعلان سے پہلے ہی ایک قانون بنایا کہ چار مہینے ایسے ہیں کہ جب دو پابندیاں سب کو برداشت کرنا ہیں ۔ نمبر ایک جب پوری سرزمینِ حرم پر کوئی جنگ کوئی لڑائی کسی قسم کا کوئی جھگڑا نہیں ہو گا حتیٰ یہ کہ تمہارا جانی دشمن بھی تمہارے سامنے سے گذرے تو اُسے چھوڑ دینا اور دوسرا یہ کہ اِن چار مہینوں میں جو شخص بھی مکّے میں آنا چاہے اُس پر کوئی پابندی نہیں لگائی جائے گی چارمیں سے تین مہینوں کا تعلق حج سے ہے ذوالحجہ کے مہینے میں حج ہوتا ہے اُس سے ایک مہینہ پہلے سے عرب میں سیز فائر یا جنگ بندی ہو جاتی ہے اور حج سے ایک مہینہ بعد تک امن وامان کی یہ حالت چلتی رہتی ہے چنانچہ تین ماہ تک ذیقعدہ، ذوالحجہ اور محرم یہ تین مہینے ایک ترتیب کیساتھ حاجیوں کے، دُور دُور سے حاجی آ رہے ہیں کوئی تیس دن کا سفر کر رہا، کوئی پینیس دن کا سفر کر رہاتو سب سے دُور سے آنے والا جب اپنے قبیلے سے چلے گا اُس وقت سے جب مکّہ پہنچنا اور مکے سے پھر اتنا ہی سفر طے کر کے اپنے وطن واپس پہنچنا ہے ۔
اس دُوران سب کی جان مال اور عزّتیں محفوظ رہیں اس لیے یہ پابندی لگائی گئی اور ایک رجب کے عمرے کی خاطر ۔ تو یہ قانون جو عرب میں اسلام سے پہلے چلا آ رہا ہے یہ قانون وہ ہے کہ مسلمانوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔
گوکہ اللہ کا رسول جو مکے کی جانب چلا صلح حدیبیہ کے موقع پر تو پیغمبر شعبان میں نہیں گئے ، رمضان میں نہیں گئے، شوال میں نہیں گئے ، صفرمیں نہیں گئے، ذیقعدہ کا مہینہ مختص کیا جس کے بارے میں عربوں کا شروع سے ہی یہ طریقہ کار رہا کہ یہ حرمت کے تین مہینے ہیں اس میں کسی سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا لیکن اس کے باوجود اسلام سے اتنا جلے بیٹھے تھے عرب کہ اپنے بزرگوں کا اور صدیوں پرانا طریقہ کار بدلنے کو بھی تیار ہو گئے کون عرب؟ وہ عرب جنہوں نے اسلام کی ساری دعوت کو صرف یہ کہہ کے رد کیا کہ اگر ہم اسلام کو مان لیں گے تو اپنے بزرگوں کو بُرا کہنا پڑا گا ان کے طریقے کو چھوڑنا پڑے گا ہم اُن کے طریقے کو چھوڑنے کو تیار نہیں، ہمارے بزرگ کبھی تیار نہیں ہو سکتے ۔
دیکھئے وہ کچھ سوچ اور گمراہی کا طریقہ کار یہی ہے اُن کے پاس کوئی دلیل کبھی پرماننٹ نہیں ہوتی ہے جس دن جو چیز اُن کو فائدہ دے رہی ہو اُس دن وہی چیز اُن کی دلیل بن جاتی ہے ، سیرت رسول میں آپ کو یاد ہو گا معراج کے واقعات میں بھی یہ جملہ آیا ہے کہ جب پیغمبر نے کہا کہ مَیں راتوں رات ساتوں آسمانوں کی سیر کر کے آ گیا ہوں تو قریش نے کہا کہ اس سے بڑا جھوٹ اور کیا ہو گا ، انسان راتوں رات اتنا سفر طے ہی نہیں کر سکتا اور پھر جب پیغمبر ہجرت کر کے مدینے تیرہ دن میں پہنچے کہ آج پتا چل گیا کہ رسول سچا رسول نہیں ہے اس لیے کہ اگر سچا رسول ہوتا تو پلک جھپکنے میں اُس کو مکے سے مدینے میں پہنچنا پڑتا اُس نے تیرہ دن کیوں لگا دئیے ۔
توخیر کفروشرک کی ہمیشہ سے یہ عادت ہے اُن کے پاس کوئی دلیل ہوتی نہیں ہوتی جس پر ہمیشہ جمے رہیں یہی وجہ ہے کہ جب پیغمبر نے دعوتِ اسلام دی تو کہا کہ ہمارے بزرگوں کے خلاف ہے یہ دین آج تک نہ ہمیں کسی نے بتائی اور نہ ہم نے سُنی اور ہم نے اپنے بزرگوں کو اس سے الگ طریقے پر پایا ہے ان کو مان لو تو اُس کو جھٹلانا پڑے گا اور جب صلح حدیبیہ کا موقع آیا اور پیغمبر اُن مہینوں میں مکے کی جانب جا رہے ہیں یہاں پہ یہی قریش اپنے بزرگوں کو ہمیشہ دیکھ چکے ہیں کہ مکے میں آنے والے کو کبھی نہیں روکا گیا چاہے اُن کے باپ کا قاتل ہی کیوں نہ ہو اور حرمت کے مہینوں میں کسی پہ ہاتھ نہیں اُٹھایا گیا ہے مگر آج جب اللہ کا رسول آ رہا ہے اُسی بزرگوں کے طریقہ کار کو بدلہ جا رہا ہے اپنی اُسی دلیل کو توڑا جا رہا ہے اپنی اُسی دلیل کو باطل کیا جا رہا ہے ۔
یہ جملہ میں نے خاص وجہ سے بھی کہا تفصیل میں جانے کا موقع نہیں ہے اور حالات بھی ہمارے مُلک کے ایسے ہیں کہ دشمنانِ اسلام معمولی معمولی باتوں کو وجہ فسادبنا کے مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے دشمنی اور نفرت بھرتے جا رہے ہیں لیکن بہت ہی مختصر جو جمادی اولیٰ کے مہینے کی تاریخ ہے اور جمادی الثانی کے مہینے کا آغاز ہے یہی تو کہا جاتا ہے کہ ایک وجہ شہزادیعليهالسلام کے خطبہ دینے کی یہ بھی ہے کہ کل یہ کہا گیا کہ ہمیں قرآن کے بعد کسی حدیث کی ضرورت نہیں لیکن آج جب شہزادیعليهالسلام نے اپنا حق مانگا تو کہا گیا کہ قرآن میں تو کچھ نہیں لکھا مگر حدیث کہہ رہی ہے کہ یہ چیز آپ کا حق نہیں ہے یعنی موقع محل کے اعتبار سے جہاں جیسا جواب چاہا ویسا دے دیا ۔
خیر صلح حدیبیہ یہ بات بالکل واضح طور پر ہمارے سامنے پیش کر رہی ہے کہ وہی قریش جو تیرہ سال پیغمبر پہ پتھراؤ کرتے رہے ، راستے میں کانٹے بچھاتے رہے، کانوں میں انگلیاں ٹھونستے تھے یا روئی داخل کر لیتے تھے کہ اپنے بزرگوں کے طریقے سے ہٹنا ہمیں منظور نہیں ہے اور آج پیغمبر مکے میں داخل ہو رہے ہیں وہی قانون توڑا جا رہا ہے انہیں بزرگوں کے طریقے کی مخالفت کی جا رہی ہے نہ کسی کو غیرت آ رہی ہے نہ کسی مکے والے کو جوش آ رہا ہے نہ اُن میں سے کوئی کہہ رہا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط ہے بہرحال یہ صرف مشرک کا طریقہ ہے ۔
پیغمبراسلام حدیبیہ کے میدان میں پہنچ گئے اور یہاں پہنچنے کے بعد جو سب سے پہلا مسئلہ مسلمانوں کو پیش آ گیا وہ یہ تھا کہ مدینے سے نکلتے وقت وہ یہ سوچ کے نکلے تھے کہ رسول نے کہا کہ مَیں نے اپنی آنکھوں سے خواب میں یہ دیکھا کہ ہم سب لوگ مکے میں داخل ہو کر مسجدالحرام میں پہنچ کر عمرہ کر رہے ہیں تو قرآن یہ کہہ رہا ہے کہ
”( لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللهُ ) “
دیکھا یہ گیا تھا کہ ہم مسجدالحرام میں داخل ہو رہے ہیں تو پیغمبر نے جو یہ خواب سنایا تو ہر ایک اس یقین کیساتھ چلا کہ ہمیں مکے جانا ہے مسجد میں پہنچنا ہے طواف کرنا ہے چنانچہ کھانے اور پانی کا معمولی سا انتظام کر کے چلے صرف اُتنا انتظام جو ایک شہر سے دوسرے شہر تک راستے کیلئے ضروری ہوتا ہے ۔یہاں پہنچے تو معاملہ بدل گیا پتا چلا حدیبیہ کے میدان میں اتنی دیر بیٹھنا پڑا کہ نہ پانی باقی رہا اور نہ کھانا باقی رہا ۔
فاقوں کی حالت ہو رہی ہے پیاس کی حالت ہو رہی ہے اور پھر اسی دوران خُدا نے بھوک اور پیاس کو بڑھانے کیلئے پیاس کا مسئلہ کہ اگر انسان بھوک کے عالم میں ہو اور کھانے کی چیز اُس کے سامنے آ جائے بھوک اور زیادہ بڑھ جاتی ہے، پیاس کے عالم میں پینے کی چیز اُس کے سامنے رکھی جائے خودبخود پیاس بڑھ جاتی ہے، پروردگار نے ان کے امتحان کو اور زیادہ سخت کر دیا یہ آخری واقعہ تھا گذشتہ تقریر میں جو معصومعليهالسلام کی حدیث
”لَیَبْلُوَنَّکُمُ اللهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ “
”اللہ شکار کے ذریعے تمہارا امتحان لے گا “
تو کہا یہ گیا کہ مجاہدین کا امتحان یہاں سے شروع ہو گیا ، کھانے اور پینے کی چیزوں کی کمی ہے اور عین اِس حالت میں جنگلی جانور جنکا گوشت عرب میں کھایا جاتا ہے وہ سارے کے سارے اِن مسلمانوں کے چاروں طرف پھیل رہے ہیں اتنا قریب ان کے آ گئے ان کے خیموں میں داخل ہو گئے کہ قرآن کو کہنا پڑا ”تَنَالُہ ٓ اَیْدِیْکُمْ“تم اپنے ہاتھوں سے اِن کو پکڑ سکتے ہو اتنے قریب آچکے ہیں وہ جانور لیکن وہ حکمِ اسلامی کہ احرام کی حالت میں شکار کرنا حرام ہے اور پیغمبر مدینے سے سب کو احرام پہنا کے لا رہے ہیں ۔
بھوک ہے فاقہ ہے خیموں کے اندر وہ جانور ٹہل رہے ہیں کہ جن کا گوشت اسلام میں عام حالت میں حلال بھی ہے لیکن اُن کے ہاتھ خبردار گناہ اور حرام نہیں کر سکتے ۔
بس اسی موقعے پر جو پچھلی تقریر کا آخری واقعہ ہے آج کا پہلا واقعہ اور وہ یہ کہ پروردگارِعالم کا ہمیشہ سے ایک وعدہ ہے ”انماالعسریسری“ ہمیشہ خدا زحمت اور پریشانی کے بعد راحت اور خوشی کا انتظام کرتا ، خدا کا کوئی امتحان اتنا طویل نہیں ہوتا کہ انسان ہمیشہ زحمت اور پریشانی میں رہے معصومینعليهالسلام کے امتحان کی بات چھوڑیں وہ امتحان امتحان نہیں ہے اُس کا مقصد تو کچھ اور ہے ہمارے سامنے معصوم کی معرفت کرانا ہے لیکن جوعام مومن کا امتحان ہوتا ہے اُس میں خدا کا وعدہ ہے ”انما العسریسری“ ہر سختی کے بعد ہم تمہارے لیے نرمی کا انتظام کریں گے اور سورہ عنکبوت کی آخری آیت شبِ قدر میں پڑھا جانیوالا سورہ
”( وَ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا ) “
جو ہمارے راستے پہ چلتا ہے ہم پھر اُس کی ہدایت کرتے ہیں ۔
ایک ہاتھ مومن بڑھتا ہے پھر خُدا دس ہاتھ آگے بڑھ کے اُس کا استقبال کرتا ہے ۔
تو صلح حدیبیہ میں بنیادی طور پر یہی پیغام دہرایا گیا ، شروع میں ایک مصیبت ڈالی گئی ایک آزمائش ایک امتحان فاقہ پانی کی کمی شکار سامنے یعنی مجبوری والا امتحان نہیں شکار سامنے ہے مگر دکھانا ہے خُدا کو کہ اگر تم ایک مرتبہ اس زحمت کا سامنا کر لیا تو خُدا کی برکتیں تمہارے ساتھ ہوں گی پھر رسول اور امامعليهالسلام کے معجزے تمہارے ساتھ ہوں گے پھر اُس کے بعد تین چھوٹے چھوٹے واقعات حدیبیہ کے میدان میں پیش آئے اور پہلا یہ کہ ایک تو یہ بھوک اور پیاس کا سلسلہ ساتھ میں چل رہا ہے اسی دوران وہ وقت آ گیا کہ یہ خبر پھیل گئی کہ مکے کے دوران پیغمبر کے دوسرے قاصد کو شہید کر دیا گیا بلکہ یہ کہیے کہ تیسرے قاصد کو حضرت عثمان پیغمبر کے تیسرے قاصد تیسرے ایلچی وہ شہید کر دئیے گئے تو اللہ کے رسول نے تمام مسلمانوں کو جمع کر کے بیعت لینا شروع کر دی ۔
بعد کا واقعہ اس لیے پہلے پڑھ رہا ہوں کہ یہ سارے واقعات ایک جگہ جمع ہو جائیں۔ جب یہ خبر پھیل گئی تو پیغمبر نے مسلمانوں کو بُلایا اور کہا آؤ اور آ کے بیعت کرو کہ جنگ میں حصّہ لو گے اُس وقت بھوک اور پیاس کی وجہ سے مسلمانوں کی حالت تباہ ہو رہی تھی چلنا مشکل ہو رہا تھا اس لیے کہ کئی دن گذر چکے ہیں بھوک اور پیاس کی کیفیت میں ۔ پیغمبر نے یہ حالت دیکھی وہ قرآن کا وعدہ کہ خبردار کبھی مصیبت اور پریشانی سے گھبرا کے حرام کی جانب نہ جانا حرام کی جانب جانے کا مطلب ہے اپنے آپ کو خدا کی رحمت سے محروم کر دینا اپنے آپ کو رسول اور امامعليهالسلام کے معجزوں سے محروم کر دینا اب جن لوگوں نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا بھوک اور پیاس کو برداشت کیا اُن کیلئے بشارت ہے۔
پیغمبر نے بیعت کیلئے بُلایا اُس وقت مسلمانوں کی وہ حالت دیکھی چنانچہ پانی کا ایک برتن منگوایا پانی کا برتن سامنے رکھا گیا ابوتین الراوندی اپنی معجزات کی مشہور ترین کتاب میں یہ واقعہ نقل کر رہے ہیں پانی کا برتن رکھا گیا اور پیغمبراسلام یعنی ایک برتن بھی نہیں بلکہ کہا کہ قافلے میں جتنے برتن ہیں لے کے آجاؤ ۔ پانی کا برتن ہر آدمی کے پاس اگر چودہ سو آدمی تو ہر ایک کے پاس دودو تین تین برتن اسلئے کہ یہ سب لوگ راستے کیلئے بھی پانی جمع کر کے چلے تھے ، سارے برتن آ گئے اب پیغمبراسلام نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو پھیلایا اور راوی کا یہ کہنا ہے کہ پیغمبر کی پانچوں انگلیوں میں پانی کے چشمے اس انداز سے پھوٹتے نکلتے دیکھا کہ ہر ہر برتن بھرا جا رہا ہے اور اس کثرت کیساتھ پانی جاری ہو رہا ہے کہ ہم تو چودہ سو آدمی تھے اگر ایک لاکھ کا لشکر بھی وہاں ہوتا تو آج اس کثرت کیساتھ پیغمبر کی مقدس انگلیوں سے پانی جاری ہو رہا ہے ہر ایک کو یہ پانی مل جاتا تو وہ ذخیرہ کر سکتا تھا ۔
خیر ابھی تو پانی کا مسئلہ پیغمبر نے حل کیا اُس کے بعد اللہ کا رسول دیکھ رہا ہے کہ پیاس بجھانے کے باوجود مسلمانوں کی وہ کمزوری مسلمان کی وہ تھکن مسلمانوں کے جسم کی ناطاقتی کا سلسلہ جاری ہے پیغمبراسلام نے حکم دیا کہ اگر کسی کے پاس کوئی سفرا یا دسترخوان موجود ہے تو اُسے لا کے بچھایا جائے چمڑے کا بنا ہوا دسترخوان سفر کیلئے چمڑے کا دسترخوان عرب لیجاتے تھے وہ مل گیا اُسے لا کے بچھا دیا گیا اللہ کے رسول نے حکم دیا کہ اگر کسی کے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز بھی ہے خواہ کتنی ہی کم کیوں نہ ہو وہ لا کے اس دسترخوان پر رکھ دو مسلمانوں کے پاس کھانے پینے کی چیزیں ختم ہو چکی تھیں لیکن کسی کسی کے پاس مثلاً کسی کے پاس ایک آدھ پھل نکل آیا یا کسی کے پاس آج کی زبان میں ایک آدھ بسکٹ نکل آیا ، پیغمبر نے سب چمڑے کے دسترخوان پہ جمع کیا اور اس کے بعد ایک مرتبہ اپنا ہاتھ ان چیزوں کے اوپر پھیرا دسترخوان بھی اتنا چھوٹا یہ سفر کیلئے دسترخوان اور وہ چیزیں بھی اتنی کم کہ سیکنڈوں میں پیغمبر کا ہاتھ ان چیزوں کیساتھ مَس ہو گیا اور اُس کے بعد اللہ کا رسول اعلان کر رہا ہے کہ آؤ اور اپنی ضروریات کے مطابق آئندہ کی مستقبل کی ضروریات کا خیال کرتے ہوئے اپنی ضروریات کے مطابق کھانے پینے کی چیزوں کو بھر کے لے جاؤ ۔
چنانچہ مسلمان دوڑتے آئے ہر آنیوالے نے دیکھا اتنا سا سامان اور اسی لیے پیغمبر ایک جملہ دہرا رہے ہیں اگر پیغمبر کہتے کہ آؤ اور آکر کھانا کھاؤ تو شاید جتنے بھی مسلمان تھے ایک دوسرے کا خیال کرتے ہوئے کہ اگر ہم نے پیٹ بھر کے یہ کھانا کھا لیا اور اپنے ساتھ اسے اٹھا کر لے گئے تو ہمارے بعد والوں کو کوئی نقصان نہ ہو شاید مسلمان اس چیز کا خیال کرتے ہوئے دو دو چارچار لقمے کھاتے ، یہ ہمارا آپ کا ماحول تو ہے نہیں کہ ہرشخص یہ چاہتا ہے کہ سب کچھ اُسے مل جائے اور باقی کسی کو کچھ بھی نہ ملے اس لشکرِ اسلام میں ایک بڑی تعداد مخلص ومقتدر صاحبانِ ایمان کی ہے چنانچہ پیغمبر کو یہ اعلان کرنا پڑا، الفاظ تو یہ نہیں ہیں مفہوم یہ ہے کہ غذا کی کمی کا خیال نہ کرنا جس وقت شرم اور مروت سے کام نہ لیں جتنا تمہیں چاہیئے اور جتنا تم آئندہ کیلئے جمع کر سکتے ہو پیغمبر نے یہ اعلان کیا۔
چنانچہ ہر ایک پیٹ بھر کے کھا بھی رہا ہے اور اچھے طریقے سے چیزیں اُٹھا کے آئندہ آنے والے دنوں کیلئے جمع کر رہا ہے چودہ سوکا چودہ لشکر یہاں سے سیراب اور شکم سیر ہو کے جاتا ہے اور ایک مرتبہ حیرت کے عالم میں واپس ہوئے کہ جب ہم آئے تھے اتنا کھایا اتنا جمع کیا اتنا اٹھا کے لے گئے مگر جاتے وقت بھی سامان اُتنا ہی نظر آرہا ہے جتنا سامان شروع میں نظر آرہا تھا یہاں تک کہ یہ کیفیت ہو گئی کہ جب پورے چودہ سو فارغ ہو گئے جب اللہ کے رسول نے کہا کہ جنہوں نے سب سے شروع میں آکے سامان جمع کرایا تھا وہ جتنا لے گئے وہ تو لے گئے ہیں اب وہ اپنا شروع والا سامان بھی واپس لے جائیں جو امانت تھی وہ واپس پہنچائی جا رہی ہے ۔
یہ واقعے اگر بہت ہی چھوٹا سا واقعہ ہو مگر اتنے سارے درس اور پیغام پوشیدہ ہیں اسی میں خمس ،صدقہ ، خیرات اور زکوٰة کی فضیلت سامنے آ رہی ہے ، جتنا دوگے شروع میں دیتے ہوئے بڑا بُرا لگتا ہے لیکن اگر حدیبیہ جیسی جگہ پر انسان پھنسا ہوا ہو جب دُور دُور تک کوئی دکان نہیں، خریدو فروخت کا کوئی ذریعہ نہیں کسی قبیلے سے آدمی کچھ خرید نہیں سکتا جو کچھ اپنے لیے چھپا کے بچایا تھا وہ بھی اللہ کا رسول مانگ رہا ہے لیکن پیغام کیا مِلا؟ جو کچھ تم سے مانگاجا رہا ہے وہ سارا کا سارا تم کو واپس کیا جائے گا اور ساتھ جو نفع، ساتھ میں جو پروفٹ ہے وہ تو مل کے رہے گا ۔
بس اتنی کا امتحان دیناپڑتا ہے اتنی دیر کا کہ جتنا حدیبیہ کے میدان میں ہم نے دیکھا کہ جب ایک آدھ بسکٹ یا ایک آدھ سیب لے کے آ رہے ہوں گے تو کتنا پریشان آرہے ہوں گے مگر دیکھتے ہی دیکھتے جو دیا تھا وہ بھی ملا اور اضافے کے ساتھ ملا ۔
پیغمبراسلام نے تمام صاحبانِ اسلام کے کھانے کاانتظام کیااور پھر تاریخوں میں ایک جملہ نہیں لیکن اس کے بعد پھر ایک واقعہ پیش آ رہا ہے اس کی وجہ سے ایک جملہ میں اپنے اندازے سے کہہ رہا ہوں کہ دیکھئے اللہ کے رسول نے پہلے پانی اپنی انگلیوں سے جاری کیا اور اس کے بعد کھانے کا انتظام، کھانے کیلئے خاص طور پر یہ کہا کہ خالی اس قوقت پیٹ نہ بھرو بلکہ آئندہ کیلئے بھی سوچ لو وہ بھی جمع کرو وہ شاید اس لیے کہ پانی پیتے وقت لوگوں سے یہی غلطی ہوئی ہوگی کہ آتے تھے تو اُس وقت تو سب نے پیٹ بھر کے پانی پیا مگر اتنا ہی جتنے کی اُس کو ضرورت تھی اور وہ مستقل پانی کا انتظام نہ ہو سکا اس لیے کھانے کے وقت پیغمبر نے الگ سے یہ اعلان کروایا کہ دیکھو صرف اس وقت کے لئے کھانا نہ کھاؤ بلکہ جتنا جمع کر سکتے ہو وہ بھی جمع کر لو ۔
خیر کھانے اورپانی کا مرحلہ ختم ہوگیا اب کھانے کیلئے تو اتناسامان ہے کہ مدینہ واپسی تک کسی کو مسئلہ پیش نہیں ہو گا، پانی کا مسئلہ پھر پیدا ہو گیا ، چودہ سو آدمی ایک ایسے میدان میں جہاں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ، حدیبیہ کا کنواں ہے مگر وہ چند دنوں کے استعمال میں ہی سوکھ گیا ، چنددنوں کے استعمال میں ہی خشک ہو گیا اب کوئی پانی کا انتظام نہیں تھا ، چنانچہ چنددنوں کے بعد اللہ کے رسول کو پھر اطلاع ملی کہ کھانے کا مسئلہ تو ہمارا حل شدہ ہے ذخیرہ کیا ہوا ہے ہم نے پانی کامسئلہ پھر پیش آ رہا ہے پھر پیاس کی شدت بڑھتی جا رہی ہے ۔
پیغمبراسلام نے شکایت کرنے والوں کو بلایا اور ایک مرتبہ اپنے ترکش میں سے تِیر نکالا، تِیر نکال کے دیا اور کہا جاؤ یہ جو حدیبیہ کا کنواں ہے جب ہم آئے تھے تو اس میں کچھ پانی تھا استعمال میں سوکھ چکا جاؤ اس کی تہہ میں اُترو اور اِس تِیر کو اس کی تہہ میں نصب کرو جب تک یہ تِیر اس کی تہہ میں رہے اُس وقت تک یہ کنواں خالی نہ ہونے پائے گا۔
چنانچہ سارا لشکرِ اسلام گواہ بنا کہ اس کے بعد واقعاً ہم نے اپنے آنکھوں سے یہ معجزہ دیکھا کہ جتنے دِن ہم وہاں رہے پیغمبر کا عطا کیا ہوا تِیر کنویں کی تہہ میں نصب رہا اور خدامعلوم کہاں سے پانی آتا تھا اور ایسا پانی کہ جو وہاں رہنے والے ہیں اب جتنے دن مسلمان وہاں رہے اطراف کے قبیلے آ جاتے تھے وہ کھانے اور پانی کا کوئی انتظام نہیں کرتے تھے اُنہیں معلوم تھا کہ مسلمانوں کو ایک دن واپس جانا ہے ہمیں تو قریش کے ساتھ زندگی بھر وہیں رہنا ہے وہ کچھ سامان لے کے نہیں آ رہے ہیں لیکن خود حیران ہو کے کہہ رہے ہیں کہ ہماری اور ہمارے بزرگوں کی زندگیاں گذر گئیں اس کنویں کو استعمال کرتے ہوئے مگر اتنا ٹھنڈا اتنا میٹھا اتنا لذیذ اور اتنا خوشگوار پانی اس کنویں سے اس سے پہلے ہم نے نہیں دیکھا تھا۔
اور جب لشکر اسلام چلا گیا وہ پیغمبر کا عطا کیا ہوا تِیر واپس نکال کے پیغمبر کو دیا گیا تو پھر یہی حدیبیہ والے کہتے ہیں کہ پانی پُرانے انداز پر آ گیا جتنے دن رسول رہے اُتنے دن ہم نے خوشگوار پانی کونوش کیاہے ۔
تو یہ سارے واقعات ایک پیغام ہم کو دے رہے ہیں کہ اللہ اور اللہ کے رسول کے احکامات پر عمل کرنا بعض اوقات بڑا مشکل لگتا ہے شیطان ویسے ہی بہکاتا رہتا ہے اور باقی احکامات پہ آدمی پھر بھی عمل کرلیتا ہے لیکن جہاں بھوک اور پیاس کا مسئلہ آتا ہے جہاں بھوک اور پیاس کا مسئلہ آتا ہے وہ بڑا مشکل مرحلہ ہوتا ہے آدمی آپ دیکھیں بے شمار متقی لوگ حرام نوکریاں نہیں چھوڑی جاتیں، رشوت کے پیسے کو نہیں ترک کیا جاتا ہے سود والے ادارے کی ملکیت اور نوکری اب آج کل تو کریڈٹ بینک جب سے بننے لگے ہیں ایک اور مسئلہ پیدا ہو گیا ہے ، دس بارہ سال تک اتنی بات تھی کہ بینک میں پیسہ رکھوائیں یا نہ رکھوائیں نوکری کریں یا نہ کریں اب تو ان بینکس کے شیئر مارکیٹ میں آرہے ہیں اور واقعاً یہ اسی سود کے نظام پہ چل رہے ہیں اب اس شیئر کا خریدنا حرام ہے اب ایک مسئلہ اور آ گیا جس طرح ایک سودی ادارے میں نوکری کرنے کی اجازت نہیں اسی طرح ایک سودی ادارے کا مالک بننے کی بھی اجازت نہیں ۔
شیئر خریدنے کا مقصد یہ کہ آپ مالک ، پیسے رکھوانا تو شاید پھربھی کسی طرح جائز ہو جائے وہ جو تفصیل آپ نے سُنی لیکن نوکری کا مسئلہ تو مسلسل ایک ہی چلا آ رہا ہے کہ کافر کے بینک میں پیسے رکھوا سکتے ہو اور جو پیسہ پروفٹ کے نام پہ ملے اُسے مالک کافر سمجھ کے رکھ لیں وہ پورے کا پورا حلال ہے ، مسلمان کے بینک میں پیسہ رکھوا سکتے ہیں اور چونکہ شرط آپ کی طرف سے نہیں وہ جتنا بھی آپ کو دیں بغیر شرط کے وہ آپ کے لیے حلال اور جائز ہے، گورنمنٹ کے بینک میں پیسہ رکھوا سکتے ہیں اور چونکہ گورنمنٹ کی اصلی ملکیت اگر حاکمِ شرع اور مجتہد کے پاس ہو تو وہاں سے جو نفع ملے آدھے کوحلال اور آدھے کو حرام کر کے یعنی حرام کا مقصد آدھا صدقہ کریں آدھا اپنے لیے استعمال کریں کسی نہ کسی طرح پیسے کا مسئلہ حل ہوگیا ۔
مگر اس سے بڑا مسئلہ نوکری کا ہے کہ نوکری تو چاہے گورنمنٹ کی ہو ، چاہے پرائیویٹ بینک کی ہو ، چاہے کافر کے بینک کی ہو ساری نوکریاں حرام اگر اُس کے اندر سود کا عمل دخل ہو ، سود کا عمل دخل کسے کہتے ہیں ؟ کہاکوئی بھی ایسا کام کرناجس کے اندر سود کا لین دین شامل ہو چاہے فقط بینک کی کرسی پہ آپ بیٹھیں اور آپ کو سود کسی کو دینا پڑے یالینا پڑے چاہے کسی ایسے ووچر یا ڈاکومنٹ پر دستخط کرنا پڑیں جس میں سود کا تذکرہ آ گیا چاہے کسی ایسے کمپیوٹر کو آپریٹ کرنا پڑے جس کے اندرسود کی بات شامل ہو یہ سب کے سب سود کے اندر آجائیں ۔
تو پوچھا گیا آغائے خوئی تو پھر تو بینک کا کوئی ایسا ڈیپارٹمنٹ بچا ہی نہیں تو آپ کے فتوےٰ کا کیا مقصد ہوا؟ تو جو سودی ڈیپارٹمنٹ نہیں ہیں تو ان میں نوکری جائز ہے۔
توجواب دیا مثلاً بینک میں جوآدمی جھاڑو دینے پہ ملازم ہے یا جو مثلاً گیلے کپڑے سے میز وغیرہ سے صفائی کرتا ہے یا جو چوکیداری یا پہرے داری کا کام کرتا ہے یہ تین چار نوکریاں ہیں جو جائز ہیں باقی سب کی سب حرام ہیں ۔ توسوال ہوا کہ کیا اس میں گورنمنٹ یاپرائیویٹ یا کافر بینک میں کوئی فرق ؟
تو جواب دیا کہ نفع کے اعتبار سے فرق ہے کہ کافر بینک کا سارا نفع لے سکتے ہیں پرائیویٹ بینک کا سارا نفع لے سکتے ہیں گورنمنٹ کا آدھا نفع حلال آدھا حرام اور لون ( Loan ) کے مسئلے میں فرق کافر بینک سے پورا لون لے سکتے ہیں پرائیویٹ بینک سے قطعاً لون لینا حرام ہے گورنمنٹ بینک سے میرے وکیل سے پوچھو اجازت دیں تو جائز منع کریں تو حرام ۔
لون کے اعتبار سے پیسے رکھ کے نفع لینے میں تو فرق ہے یہ گورنمنٹ ہے یہ پرائیویٹ ہے یہ کافر ہے لیکن نوکری کے اعتبار سے تینوں کے تینوں برابر کہ حرام ہے ہاں صرف تنخواہ میں ایک مسئلہ بن رہا ہے تنخواہ جائز ہو جاتی ہے گورنمنٹ بینک میں لیکن وہ نوکری کا، اب اُس سے بڑا مسئلہ سامنے آ گیا کہ پرائیویٹ بینک کے شیئر لائے جارہے ہیں مارکیٹ میں اور اُس کی خریدوفروخت شروع ہو رہی ہے شیئر کا مقصد ہی یہ ہے کہ آپ اُس کے اندر حصّے دار بن جائیں سودی کام کے اندر حصہ دار بننا یعنی اگر بینک کے اندر پانچ فیصدی بھی سودی تو پچانوے فیصد بھی غیر سودی کام تب بھی اُس کی ملکیت میں حصہ لیناحرام رہے گا البتہ یہ مَیں نہیں جانتا یہ جو پرائیویٹ بینک آ رہے ہیں یہ کس اصول پر کام کر رہے ہیں پرافٹ اینڈ لاس کی بیسز پر معرفت کے اصول پر یا جو وہی پُرانا نظام ہے صرف نام بدلا ہوا ہے یہ جو شیئرز خریدنے والے یا اِس قسم کے شیئرز کی بروکری کرنے والے کی ذمہ داری ہے لیکن جو شیئر خریدنا حرام اپس کا بیچنا بھی حرام اس کا بروکر بننا بھی حرام یہ تو اُن کی ذمہ داری ہے فقہی مسئلہ اپنی حد تک یہی ہے کہ ایسا بینک جس میں نفع اور نقصان حقیقی بنیاد پر نہیں ہوتا نظام وہی سود کا چل رہا ہے اُس کے شیئر خریدنا بھی حرام ۔
انسان باقی قربانیاں تو دے لیتا ہے لیکن جہاں کھانے اور پانی کا مسئلہ آجائے جہاں پیٹ کا مسئلہ آجائے تو پیغمبر کا جملہ
کہ بھوک اور پیاس اتنا بڑا امتحان ہے کہ یہ فاقہ انسان کو کافر بھی بنا سکتا ہے گوبڑا امتحان ہے لیکن اُس امتحان کیساتھ اُس کا انعام کامیاب ہونیوالوں کیلئے برکتیں وہ بھی اتنی ہی attractive اور پُرکشش ہیں حدیبیہ کا چھوٹا سا واقعہ یہ بتا رہا ہے کہ چند دنوں کا امتحان جنہوں نے دیا اُس کے بعد کیا نتیجہ نکلا پیغمبرِاسلام کے دستِ مبارک سے مَس ہوا پانی ، پیغمبراسلام کے معجزے سے پیدا شدہ کھانے وار پیغمبراسلام کی برکتوں سے عام نعمت نہیں اتنی لذیذ بن کر صاحبانِ ایمان کو مل رہی ہیں تو ایک مرتبہ امتحان دینا پڑتا ہے شروع میں بڑی جھجک ہوتی ہے شیطان پیروں سے چمٹ جاتا ہے آگے نہیں بڑھنے دیتا ہے ساتھ میں چمٹ جاتا ہے وہ جو
ہے اُس کو قائم نہیں کرنے دیتا نہ صرف یہ کہ برکتیں ملیں گی بلکہ وہی دنیا کی عام نعمتیں ایسی خوشگوار ایسی رحمت والی ایسی لذیذ بن کے ملیں گی جیسے حدیدبیہ کے کنویں کے باشندے کہہ رہے ہیں کہ جتنے دن پیغمبر رہے ہم نے کبھی اتنا لذیذ اور اتنا میٹھا پانی کنویں سے حاصل نہیں کیا جو ساری زندگی ہماری ملکیت میں رہا ہے ۔
تو حدیبیہ کے باقی پیغامات جو حدیبیہ کے واقعے کو عام طور پر کتابوں میں لکھا ہے اور مجلسوں میں پڑھا جاتا ہے وہ واقعہ تو ابھی آنے والا ہے اُس سے پہلے ہی اتنی ساری ہدایتیں اور ایک آخری بات اور غالباً یہاں پر جزوی پیغام پروردگار نے اور دے دئیے اور وہ یہ کہ وہ پہلے تو دو معجزے سمجھ میں آ رہے ہیں پیغمبر کی انگلیوں سے پانی کے چشمے کا جاری ہو جانا اور پیغمبر کے ہاتھوں سے جو غذا مس ہوئی اُس میں برکت ہوجانا مگر تیسرا معجزہ جو پیغمبر نے اس کنویں کے اندر ہاں جب پیغمبر آرہے تھے حدیبیہ تو راستے کے کنویں میں اپنا لعابِ دہن ڈالا تھا، اِس کنویں میں اپنا لعابِ دہن نہیں ڈالا نہ اپنے ہاتھ اور جسم سے اِس کو مَس کیا ہے اپنے ترکش سے تِیر نکال کے دیا تِیر وہی عام تِیر جو پیغمبر نے مدینے کی مارکیٹ سے خریدا ہے وہ عام تِیر وہ اتنا بابرکت بن رہا ہے تصور یہ اسلام دینا چاہتا ہے کہ پیغمبر کے مقامِ نبوت کو نہ سمجھنے والے اِس کو تو چھوڑو کہ رسول کی انگلیوں میں کتنی برکت ہے ، رسول کے لعابِ دہن میں کتنی برکت ہے عام سی چیزیں جو پیغمبر سے مَس ہو جاتی ہیں اور پیغمبر سے منسوب ہو جاتی ہیں وہ بھی بابرکت ہو جاتی ہیں ۔
پیغمبر کے جسم کے اجزاء کی بات چھوڑئیے اُس کا مقام کتنا بلند ہے ہم کیا سوچیں جو مارکیٹ سے خریدا ہوا عام تِیر چند دن پیغمبر کے ترکش میں رہا اور آج پیغمبر نے خالی اپنے ہاتھ سے نکال کے دیا اِس عام تِیر میں اتنی طاقت آ گئی اس عام تِیر میں جب اتنی برکتیں آگئیں تو پیغمبر کے جسم کے اجزاء میں کتنی برکتیں ہوں گی؟ اب جس کی رگوں میں پیغمبر کا خون گردش کر رہا ہو اب اگر اُس کی خاک خاکِ شفاء بن جائے تو انسان کو حیرت اور تعجب نہیں ہونا چاہیے۔
درُود بھیجئے محمد وآلِ محمدعليهالسلام پر
اللّٰهُمَّ صل علٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
اور مَیں پورے اطمینان کیساتھ کہہ سکتا ہوں کہ حدیبیہ کے واقعہ کا یہ حصّہ عام طور پر مومنین کے دل میں نہیں ہوتا اُن واقعات کے علاوہ جن کا تعلق معاہدے سے ہے یہ سارے واقعات بھی جو ہماری معتبر ترین کتابوں میں لکھے ہیں ، شیخِ مفید(رح) نے ارشاد میں کچھ واقعات کی جانب اشارہ کیا ہے ، شیخِ تبرکی(رح) نے اعلام الوریٰ میں تفصیل درج کی ہے اور جیسا کہ ابھی مَیں نے حوالہ دیا سید قطب الدین الراوندی (رح)نے غنوزالمعجزات میں ساری Detail اور علامہ مجلسی(رح) تو حیات القلوب میں نقل کر ہی رہے ہیں ۔
خیر یہ سارے واقعات جو پیش آ رہے ہیں یہ بتانے کیلئے کہ حدیبیہ کے میدان میں موجود مسلمان ایک امتحان دے رہے ہیں اور پروردگار اُس امتحان کے بدلے اُن کی کتنی برکتیں عطا کر رہا ہے۔ ضمنی طور پر اس حصہ میں کیونکہ موضوع ہے تو بڑا اہم حالات اور زمانے کا تقاضا ہے کہ اس پر کھل کر بات نہ کی جائے صرف ایک جملہ تو یہاں پریہ پتہ چلا کہ اللہ امتحان میں کامیاب ہونے والوں کو کتنی برکتیں دیتا ہے وہاں یہ بھی پتہ چلاکہ حدیبیہ کا مقام وہ ہے جہاں اتنے معجزات پیش آئیں یہی وہ مقام ہے جہاں سب سے زیادہ رسول سے اختلاف کیا گیا ہے اور معجزات کے بعد اس طرح کیا گیا ہے۔دیکھیں پہلے جن لوگوں نے اختلاف کیا معجزے دیکھ لینے کے بعد خاموش ہو جاتے۔یہاں تو بالکل اُلٹی ترتیب ہے بھوک کا امتحان شروع میں تھا۔یہ آخری معجزے آپ نے سنے او ر پھر وہ دن جس دن پیغمبر نے بیعت لی اُس دن کوئی واقعہ پیش نہیں آیاتو جھگڑے والے واقعات مسلمان اتفاق نہیں کر رہے رسول سے مسلمان احتجاج کر رہے ہیں پیغمبر کی حفاظت کو تیار لیکن پریشانی اور بے چینی کی لہر دوڑ رہی ہے یہ سارے واقعات معجزات پیش آنے کے بعد پیش آگئے اِس کو شریعت کی زبان میں حجت کہا جاتا ہے۔وہ لوگ جو پہلے مدینہ میں ہیں پیغمبر کے معجزات دیکھے ہوئے ہیں اُن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے بارہ پندرہ دن ہو گئے ہیں شاید یہ چیزیں ذہن سے نکل گئی ہوں وہ غصے کے عالم میں احتجاج کر رہے ہوں نہیں اس میدان میں بھی پیغمبر کے سارے معجزات دکھائے گئے ایسے معجزے جن کے بعد بھوک بھی نہ تھی پیاس بھی نہ تھی جانیں بھی محفوظ اِس کے باوجود اِتنا اختلاف ہے تو یقینا ان معجزات میں خداکی مصلحت کی ایک لہر بھی ہو گی خیر واقعات کی ترتیب یہ ہوئی کہ پیغمبر صلح حدیبیہ کے مقام میں پہنچ چکے ہیں پیغمبر اسلام کی اونٹنی جس کا اپنا نام قصویٰ ہے وہ ایک دفعہ اس سرحد پر بیٹھی آگے بڑھنے کو تیا ر نہیں ہے سرحد کا مقام ہے جس کے ایک طرف حرم شروع ہوتا ہے اور ایک طرف حل ہے حل جہاں انسان پر کوئی پابندی نہیں ہیحرم جہاں سے عام آدمی نہ شکار کر سکتا ہے نہ گھاس کے پتے توڑ سکتا ہے۔ لشکر اسلام رُک گیا اس دوران قریش جو پہلے سے اطلاع پا چکے ہیں کہ مسلمان آرہے ہیں تبھی تو خالد ابن ولید کو راستہ روکنے کو بھیج دیا۔ خالد بن ولید رستہ روکنے کیلئے پہنچ چکے ہیں کہ مسلمان کہیں مجھے ایسا موقع نہ ملا کہ میں ان پر حملہ کرتا اور یہ راستہ بدل کر پتہ نہیں کہاں چلے گئے۔ پندرہ سولہ میل کے فاصلہ پر حدیبیہ ہے دقریش کو اطلع تو مل گئی کہ لشکر اسلامی پہنچ چکا ہے۔ اسی دوران بنی خزاعہ کا ایک قبیلہ ہے ؛یہ قبیلہ بہت پہلے جب اسلام بھی نہیں آیا تھا جب پیغمبر کی ولادت بھی نہیں ہوئی تھی۔ پیغمبر کے دادا اور پردادا کے زمانہ میں جناب عبدالمطلب جناب ہاشم ان سے دوستی کے تعلقات تھے۔
ایک طریقہ تھا عرب میں مکہ میں چودہ قبیلے رہتے ہیں۔ مکہ سے باہر جتنے قبیلے ہیں وہ سب اُن میں سے کسی ایک قبیلے ؛سے دوستی کرتے تھے۔ تاکہ جب مکہ سے آئیں عمرہ کیلئے یا حج کیلئے یا زیارت کیلئے تاکہ وہاں پر ہمارا کوئی جاننے والا ہو جس کے ہاں جا کر قیام کریں۔ تو بنی خزاعہ بہت پہلے سے ہی بنو ہاشم کا عزیز ہے۔ پیغمبر کے دادا اور پردادا کے زمانے سے پرانے تعلقات ہیں اس لئے کفر کے باوجود دوستیاں تعلقات اور بزرگوں کے روابط کا پہچاننا اور بنی ہاشم کے جوانوں کے ساتھ بچپن میں کھیلنا وہ ساری چیزیں ابھی برقرار ہیں۔ یہ بالکل حدیبیہ کے قریب رہتے ہیں۔ ان کا سردار اس وقت مکہ میں تھا جب قریش یہ سوچ رہے تھے کہ اب لشکر اسلامی کا کیا کرنا ہے۔ قریش نے کہا کہ تم اپنے قبیلوں کی جانب تو جا ہی رہے ہو۔ جہاں تمہارے پرانے دوست بھی ٹھہرے ہوئے ہیں۔ ذرا جاؤ دیکھ کر آؤ کہ ان کا ارادہ کیا ہے۔ اور ان کو بتاؤ کہ ہم میں سے ہر مرد، ہر عورت اور ہر بچے نے یہ عہد کیا ہوا ہے کہ جب تک ہم زندہ رہیں گے مکہ کی سرزمین پر ان لوگوں کو قدم نہیں رکھنے دیں گے۔ اسی لئے کہ آج اگر یہ مکہ میں آگئے تو عرب میں یہ بات پھیل جائے گی کہ قریش اتنے کمزور ہوگئے ہیں کہ اپنے جانی دشمنوں کو بھی مکہ میں آنے سے نہ روک سکے اور اس کا نتیجہ یہ رہے گا کہ ہمارے پاس جو منصب ہے خانہ کعبہ قریش کی یہ بڑی فضیلت تھی کہ وہ خانہ کعبہ کے متولی تھے۔ اس کی وجہ سے انہیں جتنے فائدے تھے وہ تاریخوں میں آپ پڑھتے رہتے ہیں۔ فائدوں میں سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ عرب کا ڈاکو ظالم سے ظالم، سرکش سے سرکش، سنگدل سے سنگدل بھی قریش کے کسی قافلہ پر حملہ نہیں کرتا تھا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سارے فائدے تھے۔ یہ خبر پھیل جائے گی یہاں بھی قریش کا بڑا مسئلہ ضد کا مسئلہ ہے۔ خبر پھیل جائے گی کہ قریش اپنے جانی دشمنوں کو نہیں روک سکے۔ یہ تو نکل جائیں گے اور وہ قبیلے لعنت کریں گے۔ ہمارے عہدے پر وہ حملہ کرکے ہم سے یہ منصب چھین بھی سکتے ہیں۔ اب اس کے اندر کچھ حقیقت بھی تھی کچھ بہانہ بھی تھا۔
یہ قمیر کے پاس آتے ہیں۔ جان پہچان تو پہلے سے ہی ہے پیغمبر کو مکہ چھوڑے چند ہی سال ہوئے ہیں اور ہجرت کئے چھٹا سال چل رہا ہے۔ ابھی پورا بھی نہیں ہوا۔ پہلے سے تعلقات ہیں مدین ہمیں بھی اس قبیلہ کے لوگ آتے رہتے ہیںَ اس نے پیغمبر کو سارا پیغام پہنچایا۔ اچھا یہ ساری چیزیں تاریخ میں بہت خشک ہیں۔ مذاکرہ کہاں سے کوئی رخد آیا۔ غدیر آیا اور قریش کا پیغام پہنچایا۔ اب پیغمبر نے کہا جاؤ میں تمہیں ذمہ داری سپرد کرتا ہوں کہ پہلے تم قریش کے قاصد بن کر آئے اب میرے تم پہلے قاصد بن کر جاؤ۔ قریش جا کر بتا دو دیکھو ہم لڑنے نہیں آئے جنگ کرنے نہیں آئے صرف خانہ کعبہ کا طواف کرنے کیلئے آئے ہیں۔ میں خود قریش میں سے ہوں کیوں تم غلطی کر رہے ہو۔ یہ سنتے ہی عزیز واپس چلا گیا۔ واپس جا کر قریش کو یہ پیغام دیا۔ دیکھو وہ آنے والا یہ جملے کہہ رہا ہے۔ یہ جملہ جو سردار لشکر جو بھی تک ابوسفیان تھا سب نے کہا ہم یہ بات برداشت نہیں کر سکتے کہ عزیز تم ہمارے قاصد بن کر گئے۔ اُس نے تم پر جادو تو نہیں کر دیا۔ ہم اس کیلئے تیار اور راضٰ نہیں۔ تم چلے جاؤ اس مسئلہ کو چھوڑ دو۔ ڈھکے چھپے الفاظ میں قریش نے یہ کہہ دیا کہ تم ہمارے کام کے آدمی نہیں ہو۔ تمہیں اس لئے بھیجا تھا کہ تم انہیں ڈرا دھمکا کر واپس بھیج دو۔ تمہارے تعلقات ہیں جو تمہاری بات مان جائیں گے۔ تم ان کی حمایت کر رہے ہو۔ خدا حافظ یہ کہہ کر اسے بھگا دیا۔ یہ جملہ تاریخوں میں نہیں کہ ہمارے قاصد بن کر گئے ان کی حمایت کیوں کر رہے ہو۔ ہم نے تو اپنا پیغام بھجوایا تھا۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قریش نے ان کو نکال دیا۔ پھر قریش نے سوچا کہ یہ معاملہ ہوگیا ہے ذرا گڑبڑ۔ ہم مکہ سے اپنے کسی کو بھیجتے ہیں ہم تودہ تو پارٹی ہیں۔ اور کسی قبیلے کو ڈھونڈیں جو پہلے سے مسلمانوں کو جانتا ہو کو جا کر سمجھائے اسی دوران قریش نے عرب کے کچھ بہادر قبیلوں کو لینے ملایا تھا۔ جو حبشہ کے رہنے والے نہیں تھے۔ مگر حبشی کہلاتے تھے۔ اُس نے ان کے ساتھ معاہدہ کیا یہ مکہ کے اتنے پرانے باشندے نہیں قریش نے اس گمنام قبیلے کو اپنے ساتھ ملایا۔ بدر سے خندق تک قریش کے لشکر میں ایک کمی ہمیشہ سے رہی۔
۱ ۔ یہ اس کی وجہ سے آجکل دنیا میں میزائل بنائے گئے ہیں۔ وہ یہ کہ جب قریش مسلمانوں سے آمنے سامنے مقابلہ کرتے تھے تو علی کی تلوار کا جواب قریش کے پاس نہیں تھا۔ اب انہوں نے نئی جنگی حکمت عملی یہ بنائی جب تک لشکر اسلام میں علی ہیں یہ والی جنگ تو ہو ہی نہیں سکتی کہ میدان میں جا کر لڑو۔ اب ہمیں تیر انداز چاہیں۔ دور بیٹھ کر وہ تیر پھینکیں۔ میدان میں ہی نہ جائیں تاکہ ہمارا مقصد حاصل ہو۔ ہم جیت بھی جائیں اور علی ہمارے جوانوں کو قتل بھی نہ کر سکے۔ آج مولیٰ کی تلوار کی وجہ سے قریش نے نئی پالیسی بنائی ہے کہ آمنے سامنے جا کر لڑنا ہی نہیں۔ قریش کے پاس تیراندازی کا ماہر کوئی نہیں۔ عرب میں ویسے ہی تیزاندازی ذرا برا فن سمجھا جاتا تھا۔ عرب بہادر اس کو سمجھتے تھے کہ آمنے سامنے جا کر مقابلہ کریں۔ چھپ کر دشمن کا تیر مار دیا یہ عرب میں غیرت کے تصور کے خلاف تھا۔ لیکن اب مجبور ہوگئے وہ تلوار کی جنگ تو اب لڑنے کی نہیں۔ اب دنیا میں یہی ہے کہ اپنے ملک سے میزائل چلایا جاتا ہے تاکہ دوسرا ملک تباہ ہو جائے۔ اب تیزانداز قریش کے پاس نہیں ہیں۔ اب ان کے نوجوانوں کو تیز تھما دیے۔ خندق کے بعد سے لیکر اب تک کوئی لڑائی نہیں لڑی لیکن تیاری پوری پوری تھی۔ اب ان کے ساتھ معاہدہ کیا۔ اب جن کا اسلام کے ساتھ پہلے تعلق نہ ہو اس سے معاہدہ یہ کیا کہ خانہ کعبہ کی عزت و احترام خطرے میں ہے تاکہ کعبہ پر کوئی دشمن حملہ کرے تو تم اسے روکو۔
بات اتنی جذباتی تھی کہ سردار لینے ساتھیوں کی تعداد بڑھانے کیلئے طرح طرح کے جذباتی نعرے لگاتا تھا۔ تاکہ لوگ بغیر دیکھے ہمارے ساتھ آجائیں۔ کعبہ خطرے میں ہے جیسے ہمارے ہاں ایک زمانے میں اسلام خطرے میں ہے کا نعرہ بہت چلتا تھا۔ اب یہ قریش کا ساتھ دینے لگے۔ قریش نے ان کے سردار کو جو بالکل نیا آدمی ہے۔ بھیجنے کا فیصلہ کیا جو سکھا پڑھا کے بھیجو گے وہاں جا کر کہہ کر آجائے گا۔ اور ایسا ہوگا ہی نہیں کہ پیغمبر کے پاس جا کر بیٹھے اورع پرانے تعلقات اثرانداز ہو جائیں۔
ادھر سردار گیا حبشی سردار لیکن یہ افریقہ والے نہیں تیراندازوں کا سردار بالکل نیا آدمی ادھر اللہ کے رسول نے دیکھا کہ سردار آرہا ہے۔ اللہ کے رسول تو بحرحال جانتے ہیں وہ آدمی جس کو ہمیں واپس بھیجنے کی ضرورت بھی نہیں ہے بالکل نیا آدمی ہے۔ نہ ہم سے دشمنی نہ دوستی اس کا مسئلہ خانہ کعبہ سے ہے۔ خانہ کعبہ سے اتنی دور بیٹھے ہیں اس کو اگر یہ پیغام دے دیا جائے کہ ہم لوگ خانہ کعبہ پر حملہ کرنے نہیں آئے۔ خانہ کعبہ کا طواف کرنے آئے ہیں یہ گروہ کہ جسے دھوکہ دے کر ملایا گیا ہے کہ کعبہ خطرے میں ہے۔ اس پر اثر ہو جائے گا مگر اس وقت پیغمبر اس سے بات چیت کرنا مناسب نہیں سمجھ رہے ۔ پیغمبر نے اپنے ساتھوں سے کہا سب احرام پہنے ہوئے ہو اپنے خیموں سے نکل کر باہر آجائیں۔ ان کی قربانی کے جانوروں کو اپنے آگے چھوڑ دو اگر دور سے کوئی دیکھے تو سب سے پہلے اس کی نگاہ قربانی کے جانوروں پر پڑے۔ جن پر قربانی کا نشان اور ہار ڈالا ہو اہے۔ دور سے آنے والے کو پتہ چل جائے گا کہ کوئی لشکر ہے لگے عبادت کرنے والوں کا کوئی قافلہ اور کوئی ان سے بات نہ کرے پہلی دفعہ وہ مسلمانوں کو دیکھ رہا ہے قریب آیا۔ گھوڑے سے اُترا یہ منظر ہے اس کے سامنے ۱۴۰۰ احرام پوش اور عبادت کی حالت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ تسبیح و تہلیل بھی کر رہے ہیںَ ساتھ ساتھ قربانی کے جانور بھی جانور بھی کمزور قربانی کیلئے ہوتا ہے۔ بہتر سے بہتر جانور ہو مگر یہاں جانور کمزور تھے۔ اس کی دو وجوہات ہیں پہلی وجہ اصل میں یہ کمزور نہیں کسی حدیبیہ میں جو فاقہ گذرا اس کی وجہ سے آدمیوں کے ساتھ جانوروں میں بھی فرق پڑا ہے۔
تاکہ آنے والا شک میں نہ پڑے کہ یہ جنگ کیلئے آئے ہیں۔ دھوکہ دینے کیلئے قربانی کی نشانی لگائی ہے وہ سمجھ جائے گا کہ یہ جانور میدان جنگ میں تو کام آنہیں سکتے۔ پیغمبر کا مقصد یہ ہے کہ آنے والے کو یہ تاثر دیا جائے کہ مسلمانوں کا مقصد کا پتہ چل جائے۔ بات چیت کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ جذبات ابھرنے ہی نہ پائیں۔ اور پیغمبر کسی بہترین طریقہ سے مسلمانوں کا مقصد واضح کر دیا ہے۔ آج کے دور میں یہی طریقہ ٹیلی فون کے ذریعے ہے کہ وہ تعلیم بچوں کے ذہن تک چلی جاتی ہے۔
اب آنے والے دشمن نہیں کوئی غلط خیال لیکر نہیں آیا۔ جیسے ہی اس نے دیکھا گھبرا گیا احرام پہنے ہوئے مجاہد ہو مصروفِ عبادت اور جانور اتنے کمزور ہیں کہ ایک دوسرے کے بال کھا
رہے ہیںَ بھوک کی سجہ سے وہ سیدھا قریش واپس آیا۔ سردارانِ مکہ حیران ہوگئے کہ تم بھی گئے بھی نہیں اور واپس آگئے۔ کیا ہوا۔ اس کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ مسلمانوں نے اسے ذلیل سمجھ کر نکال دیا ہو اب اس سے ہمارا آدھا مسئلہ حل ہوگیا ہے۔ سردار گھوڑے سے اتر کر احرام میں داخل ہوا اور کہنے لگا تم نے مجھے کن کے پاس بھیجا دیا ہے۔ اتنے نیک اور مقدس لوگ میں دیکھ کر آیا ہوں ان کے ساتھ جو جانور ہیں وہ اتنے بھوکے ہیں کہ چل مشکل سے رہے ہیں۔ میں یقین کر ہی نہیں سکتا کہ وہ مکہ پر حملہ کرنے آئے ہیں۔ یہ دشمنوں کا لشکر نہیں یہ حملہ کرنے والوں کا لشکر نہیں ہے۔
سردار قریش سوچ کر بیٹھا ہے نتیجہ کچھ آگیا فوراً جلال میں آگیا کہنے لگا ہاں ہاں تو عرب کے پست قبیلہ سے تعلق رکھتے ہو قریش ہوتے تو کبھی یہ بات نہ کرتے۔ اے ذلیل و پست قبیلہ سے تعلق رکھنے والے ان سے چھوکہ کھا کر آگئے۔ اب اس حبشی سردار کو غصہ آگیا کہنے لگا تم نے کیا سمجھ کر یہ بات کی ہے۔ ہم تمہارے نوکر نہیں تمہارے غلام نہیں ہم نے صرف وعدے پر تمہارے ساتھ معاہدہ کیا ہے کہ جب کعبہ خطرے میں ہوگا تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے۔ لہٰذا ہمارا فریضہ نہیں کہ جو کعبہ کا طواف اور زیارت کرنے آئے ہم اس کی دشمنی کریں۔ خبردار پھر یہ بات کی ورنہ ہم ان کے ساتھ ملکر تم پر تیر برسائیں گے۔ ہم کعبہ کے زائر پر حملہ نہیں کرنا چاہتے۔ ہم کعبہ کے دشمنوں پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت مکہ کا ماحول ہی بدل گیا۔ کسے ملکر آئے کس نیت کے ساتھ اسے استعمال کریں گے۔ میدان میں مسلمانوں کو شکست دیں گے۔ آج وہی مسلمانوں کی طرفداری کر رہے ہیں۔
اب ان کی پریشانی میں اضافہ ہوا۔ خالی اُکسانے پر نہیں کہا۔ ہم معاہدہ توڑ کر چلے جائیں گے۔ بلکہ تم پر حملہ کریں گے۔ ابوسفیان جلدی سے گھڑا ہوا۔ صلح صفائی سے بات ہوئی اس کے غصلہ کو ٹھنڈا کرکے بٹھا دیا گیا۔ لیکن اب قریش پریشان کہ دو آدمی ہم نے بھیجے اب دونوں ایسے کہ ہمارے ہی ان سے اختلافات ہوگئے۔ اب کیا کیا جائے۔
عروہ بن مسعود ثقفی وہاں موجود تھے۔ قریش نے ان سے کہا کہ بس آپ جب ہی شخص آگے بڑھ سکتا ہے جن کا تذکرہ اگلی گفتگو میں تفصیل کیساتھ آئے گا۔
صلح حدیبیہ صلح حدیبیہ حصہ سوئم
اعوذ باللّٰه من الشیطن الرجیم
بسم اللّٰه الرحمن الرحیم
الحمدللّٰه الملک الحق المبین والصلٰوة والسلام علی سیدالمرسلین وآله والسلام سید المرسلین وآله وعترته واهلبیة الطیبین الطاهرین ولعنة اللّٰه علی اعدائم اجمعین
اما بعد فقد قال سبحانه وتعالی فی محکم کتاب المبین
بسم اللّٰه الرحمن الرحیم
( عسی ان تحب شاء فهوکرهالکم وعسی ان تکره شیاء وهو خیرالکم وهواعلم بما لا تعلمون )
سیرت پیغمبر اسلام کی نویں اور مجموعی اعتبار سے ۱۰۶ تقریر ،صلح حدیبیہ کے حالات بیان کر رہے ہیں
اور کوشش یہ کی جائے گی کہ آج یہ ذکر مکمل ہو جائے کیونکہ آئندہ منگل کو ایک ہفتے کیلئے وقفہ آ جائے گ
کوشش یہی ہے کہ کم از کم واقعات تک کے حالات مکمل ہو جائے
قرآن کریم کی جس آیت کی تلاوت کی گئی وہ اگرچہ کہ عمومی آیت ہے یعنی خاص صلح حدیبیہ سے اس آیت کا تعلق نہیں ہے ایک عام اصول قرآن بتا رہا ہے کہ انسانی زندگی میں بار بار یاد رکھنے کے قابل ہے لیکن خصوصیت کے ساتھ صلح حدیبیہ میں قرآن کا یہ اصول بہت نمایاں طور پر ہمارے سامنے آیا اور وہ یہ عسی ان تحب شیا ء فھو کرھا لکم بسا اوقات ایسا ہوتا ہے قرآن کہہ رہا ہے
عسی کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ تمہیں ایک چیز بہت پسند آ رہی ہے لیکن وہ چیز تمہارے حق میں نقصان دہ ہے وعسی ان تکرھا شیا فھو خیر لکم اور کبھی یہ ہو گا کہ تم کسی چیز کونا پسند کر رہے ہو تمہارا دل اسے قبول کرنے کو تیار نہیں مگر اسی میں تمہارے لئے خیر ہوتی ہے
( والله اعلم بما لا تعلمون )
اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے تمہارے بارے میں تم بھی اپنے بارے میں اتنا علم نہیں رکھتے
والله اعلم
اللہ زیادہ جاننے والا ہے کہ ایک انسان اپنی عام زندگی کے حالات و واقعات بھی مرضی پروردگار پر چھوڑ دے یہی مناسب ہے
اس اعتبار سے کہ ہو سکتا ہے کہ جس چیز کیلئے ہم کڑھتے جا رہے ہیں مستقبل میں اسی میں ہمارے لئے برائی ہو اور ہو سکتا ہے کہ ابھی جن حالات سے ہم گھبرا رہے ہیں بعد میں یہی ہمارے لئے بہتر قرار پا رہے ہیں
یہ انسانی زندگی کا اہم ترین اصول ہے جسے آدمی یہ سمجھ لے تو گویا وہ مومن کامل ہو گیا اس لئے کہ پیغمبر کی تعلیم ہی تھی اول العلم معرفة الجبار آخر العلم تفویض الامور الیہ علم کا آغاز ہوتا ہے کہ خدا کو پہچانیں اور علم کا اختتام اور انجام ہے کہ اپنے تمام کاموں کو اس کے سپرد کر دیں
خدا جس پر ہمیں رکھے ہم اسی پر راضی ہیں
یعنی مرضی مولیٰ از ہم اولیٰ جو ہمارے مولیٰ کی مرضی ہے وہ سب سے اولیٰ ہے جو ہمارے مولیٰ اور آقا کی مرضی ہے وہ سب سے بہتر ہے ہماری خواہشات ہماری تمنائیں دیکھیں دعا کی ممانعت نہیں اگر دعا کا نتیجہ نہ نکلے تو اس وقت سامنے آتا ہے کہ انسان مطمئن رہے کہ ہمارے پروردگار نے میری مصلحت کو دیکھ کر دعا کو قبول نہیں کی
سارا لشکر اسلام جن کی تعداد اس وقت ڈیڑھ ہزار کے قریب تھی ایک مسئلہ پر متفق نظر آ رہا ہے کہ حدیبیہ کے مقام پر جو حالات و واقعات پیش آئے اور جس انداز سے مسلمانوں کو طاقت اور غلبہ رکھنے کے باوجود جس طرح د ب کرصلح کرنا پڑی تو شاید دو یا تین افراد کے سوفیصدی مطمئن نظر نہ آئے
مسلمانوں کو اس میں توہین محسوس ہو رہی تھی احساس ذلت ہو رہا اور یہ خیال ان کے دلوں میں آ رہا ہے کہ ہماری یہ صلح ہمارے مسلمان بھائیوں کیلئے ظلم نہ بن جائے وہ مسلمان کہ جو مکہ کے اندر ہیں مگر وہی چیز جو عالم اسلام کو سب سے ناگوار واقعہ محسوس ہو رہا ہے اس کے بارے میں خدا کہہ رہا کہ انا فتحنا لک فتحا مبین
یہ کھلی ہوئی کامیابی ہے جو ہم نے آج تمہیں عطا کی اور اسی کے بارے میں کہ تمام مسلمانوں کو سب سے تکلیف دہ عمل محسوس ہو رہا ہے صادق آل محمد حضرت امام حضرت صادقعليهالسلام کا ارشاد ہے یہ فرمان میں نے پچھلی مرتبہ بھی دہرای
ما کان قضیة اعظم برکة منھا
اسلام میں صلح حدیبیہ سے بڑا عظمت و برکت والا کوئی واقعہ پیغمبر کی زندگی میں کوئی نہ تھا ما کان فضیة اعظم برکة منھا برکت کے اعتبار سے نہیں اور یہی سبب کہ پھر قرآن سورہ فتح کہ یہ پورا سورہ ایسا ہے کہ ایک ایک آیت کو ذرا تفصیل کے ساتھ پڑھا جائے تو پتہ چل جاتا ہے کہ اس وقت مسلمان کتنے بددل نظر آ رہے تھے جیسے معصوم اسلام کا مبارک ترین واقعہ قرار دے جیسے قرآن اسی لڑائیوں میں سے جو پیغمبر کی زندگی میں ہوئیں سب سے بڑی کامیابی قرار دے لیکن اگر سورہ فتح پڑھ لیا جائے اسی سے اندازہ ہو رہا ہے کہ مسلمان بد دل کتنے ہیں ناراض کتنے ہیں اختلاف کتنا زیادہ کر رہے ہیں
سورہ فتح آیتوں پر آیتیں ہیں موقع ملا تو اختتام میں اس کا تذکرہ ہو گا لیکن سبھی مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے سبھی مسلمانوں کو امید دلائی جا رہی ہے اس سورہ فتح میں جہاں صلح حدیبیہ کا واقعہ ہے یہ تذکرہ ہو رہا ہے گھبراؤ نہیں عنقریب ہم تمہیں بہت بڑی کامیابی اور دینے والے ہیں جس میں کثرت کے ساتھ مال غنیمت تمہارے ہاتھ لگے گا
یعنی غزوہ خیبر اسی سورہ فتح کے اندر وہ آیت لقد صدق اللہ رسولہ الرویا بالحق خدا نے اپنے رسول کا خواب سچ کر دکھایا لتدخلن المسجد الحرام ان شاء اللہ یقیناخدا تمہیں مسجد الحرام میں داخل کرے گ
آمنین امن ساتھ محلقین روسکم سروں کو منڈوا کر او مقصرین یا تھوڑے سے بال کاٹ کر لاتخافون اس حالت میں کہ تم پر کوئی خوف نہیں ہو گ
فعلم مالم تعلموا بس اتنا ہے کہ اللہ وہ جانتا ہے کہ جو تم نہیں جانتے غزوہ خیبر کا تذکرہ کبھی مال غنیمت کی امید کبھی آئندہ سال مسجد الحرام میں خیروعافیت کے ساتھ آنے کا تذکرہ
اب اسی سورہ کے اندر وہ آیت بھی جس میں خدا نے صلح حدیبیہ کی ضمنی وجہ بتائی کہ لو لا رجال مومنون اگراس مکہ کے اندر ایسے مرد اور عورتیں نہ ہوتے جو مسلمان ہو چکے تھے تو شاید تمہیں لڑائی کی اجازت مل جاتی لیکن اگر تم جنگ کرو گے تو سب سے بڑا نقصان اس سورہ فتح کے اندر قرآن کہہ رہا ہے سب سے بڑا نقصان ان مردوں اور عورتوں کا ہو گا جو بیچارے اسلام لا کر مکہ میں پھسے ہوئے ہیں نکل نہیں سکتے تمہاری جنگ کے نتیجہ میں تمہیں نقصان ہو یا نہ ہو وہ بے چارے سب کے سب مارے جائیں گے اسی لئے قرآن نے کہا لو تزیلو لعزبنا الذین کفروا منھم عذابا الیما اگر یہ مرد اور عورتیں مسلمان کسی طرح سے مکہ سے نکل آئیں تو پھر تم دیکھنا ہم خود ان کافروں پر کتنا سخت عذاب نازل کرتے ہیں غرض یہ کہ مختلف انداز اور طریقے ہیں قرآن کو اتنا زیادہ مسلمانوں کے سامنے صفائی پیش کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی
اس لئے مسلمان دل سے صلح حدیبیہ پر راضی نہیں اور اس سے پہلے اور بعد میں بڑے بڑے واقعات ہو گئے اور جس میں بہت سے مسلمانوں نے اختلاف کیا رسول سے مگر اتنا لمبا صفائی کا بیان قرآن نے کہیں پیش نہیں کیا جیسے صلح حدیبیہ میں نظر آ رہا ہے اور خصوصاً یہ آخری آیت جو میں نے ابھی پڑھی ہے تو یاد رکھو اس لئے ہم جنگ سے روکنا چاہ رہے ہیں کہ کسی طرح ان مسلمانوں کو نکالا جائے اور اگر وہ نکل آئیں تو تمہارے لڑنے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ خدا خود اپنا عذاب نازل کر سکتا ہے یہاں پر ایک اور ضمنی مسئلہ حل ہو رہا ہے
کبھی کبھار جہاد اور قتال لازم ہو جانے کے باوجود صرف یہ خیال کرنا پڑ جاتا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری وجہ سے بے گناہ ایسے مسلمان کو نقصان پہنچ جائے جو بغیر اپنی خوشی کے مجبوری کی وجہ سے کافروں کے درمیان پھنسا ہو
یہ آیت سورة فتح کی آیت ہے اور بہت ہی اہم اس اعتبار سے کہ آج یہ پتہ چلا کہ صلح حدیبیہ میں پروردگار نے مصالحت کا حکم کیوں دیا جہاں یہ حقیقت بھی ہمارے سامنے آ گئی کہ مسلمانوں نے مذاق اڑانے کی کوشش کی یہ جو جملہ ہے کہ معصوم جو تلوار چلاتا ہے یہ دیکھ کر تلوار چلاتا ہے کہ جسے قتل کیا جا رہا ہے کہ اس کے صلب میں ایسا تو نہیں ہے کہ کوئی مومن ہو قیامت تک اگر کوئی مومن پیدا ہونے والا ہے کئی روایتوں کے اندر اس کی تشریح آتی ہے صفین کی لڑائی کا یہ جملہ نہیں ہے کئی مقامات پر بھی معصوم نے یہ جملہ دہرایا کہ ہماری تلوار جب کسی پر چلتی ہے فقط اس کو نہیں دیکھتی کہ یہ خطاکار ہے یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ان کی نسل میں کسی مومن کا وجود تو نہیں پایا جا رہا اس کی وجہ سے کبھی کبھار اس کو چھوڑ دیا جاتا ہے
ہاں اس پر بھی بعض مسلمانوں نے مذاق اڑانے کی کوشش کی اور فقہی مسئلے جن کا تعلق ہم سے ہے امام پر لگانے کی کوشش کی کہ جی اگر وہ واجب القتل ہے تو اس کے باپ کو نہیں دیکھنا ہے اگر یہ صلح حدیبیہ کیا آیت جس میں قرآن یہی آواز دے رہا ہے اگرچہ کفار مکہ مستحق عذاب ہیں لعذبنا الذین منھم عذابا الیمااے مسلمانو تم اپنی بات چھوڑو ہم ان پر خود عذاب کر دیں ہمیں تو ان مومن مردوں اور عورتوں کی وجہ سے چھوڑنا پڑ رہا ہے جو ان کے درمیان پائے جا رہے ہیں تو خیر یہ ایک ضمنی مسئلہ حل ہو رہا تھا اس لئے میں نے اس کا ذکر کر دی
آئیے اس تمہید کے بعد جس کی ضرورت ابھی تو نہیں لیکن جب یہ واقعات مکمل ہوں گے تو پھر ایک بار جائزہ لینا پڑے گ
اب واقعات کچھ اس طرح سے بیان ہو رہے ہیں
ذیقعدہ سن چھ ہجری کی تاریخوں میں حدیبیہ کی سرزمین پر موجود ہیں جو مکہ سے تقریباً ۱۶ میل کے فاصلہ پر ہے
پیغمبر کا وہاں پر قیام ہے مکہ والوں کو یہ اطلاع بہت پہلے مل چکی تھی کہ پیغمبر کس انداز سے مدینہ سے نکلے ہیں اور حدیبیہ پہنچنے کے بعد کچھ اور ایسے حالات و واقعات سامنے آئے ہیں کہ مکہ والوں کو یہ یقین ہو چکا ہے کہ اللہ کا رسول اس سال مکہ پر حملہ نہیں کرنا چاہا رہا کہ کم ظرف اور چھچھورے انسان کی پہچان ہوتی ہے کہ اگر اسے پتہ چل جائے کہ اس بار یہ حملہ نہیں کریں گے تو وہ اور زیادہ بڑھتا چلا جاتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ یہ آدمی دب رہا ہے تو اور زیادہ سے دباتے چلو قریش کا انداز و طریقہ بالکل وہی چھچھوراپن کم ظرفی کی نشانی ہے وہ کس طرح ان حالات کی تصویر بیان کرتا ہے کہ اللہ کے رسول نے کہہ دیا کہ ہمیں جنگ تو نہیں کرنا اس دوران سفیروں کی آمدورفت ہونے لگی
قریش مکہ کے تین سفیر پچھلی تقریر تک ان کا بیان ہو گیا پہلا تو اس قبیلے کا آدمی جو اسلام سے پہلے بنی ہاشم کا دوست قبیلہ تھا قبیلہ بنی خزاع کا سردار اس کے بعد پھر قریش حبشی جس کی تشریح ہو چکی ہے کہ اس سے مراد افریقہ والے نہیں مکہ میں بھی ایک پہاڑ کا نام حبشی ہے اس کے پیچھے ان لوگوں کو جگہ دی گئی جنہیں خاص مکہ والے انہیں مدد کیلئے لے کر آئے ان کے سردار اویس کو بھیجا گی
پیغمبر نے اس سے کوئی بات ہی نہیں کہی بلکہ اس کے سامنے ہدیہ پیش کر دیا اونٹوں کا اور پھر آخر عروہ بن مسعود ثقفی جناب ام لیلیٰ کے دادا وہ کسی اور مسئلہ کو سلجھانے کیلئے مکہ میں آئے ہوئے تھے جس کی تفصیل آپ سن چکے ہیں ان کو تیسرا سفیر بنا کر بھیجا اور جب پیغمبر سے ان کی بات چیت مکمل ہوئی اور وہ واپس جانے لگے تو پیغمبر نے اپنی صحابیوں کوحکم دیااور کہا آؤ ہم سب وضو کر کے نماز پڑھیں اور مورخین کہتے ہیں کہ یہ وضو کر کے نماز ساتھ اس لئے ادا کی گئی کہ عروہ کو جواب تک آنے والے سفیروں سے سب سے بڑا سب سے اہم اور عزت والا سفیر تھا جس کا مقام و مرتبہ قریش مکہ سرداران عرب ابوسفیان وغیرہ سے کم نہیں تھا اگر یہ مکہ کے سردارتھے تو عروہ طائف کا بے تاج بادشاہ تھ
جس کا ذکر ہو چکا پیغمبر زبانی گفتگو کے بعد عملی تصویر بھی پیش کرنا چاہتے تھے اور وہ وہی جس کا جلدی جلدی بیان گزشتہ تقریر میں آیا مگر یہ جملے رہ گئے تھے پیغمبر نے عمداً یہ کہا مسلمانو آؤ ہم اس کے سامنے وضو کر کے نماز پڑھیں فقہ کا ایک مسئلہ اس سال ہمارا طریقہ یہ رہا مسائل الگ بیان نہیں ہوتے دوران تقریر جہاں مناسب مواقع آیا بیان کر دی
اب دو مسئلے آ گئے ریا اسلام میں حرام ہے کم از کم عبادت کی حد تک تو مبطل عبادت ہے یعنی کوئی بھی عمل اگر دنیا دکھاوے کیلئے کیا جائے وہ عمل باطل ہو جاتا ہے چاہے وضو ہو چاہے غسل ہو چاہے تیمم ہو چاہے نماز ہو چاہے روزہ ہو چاہے خمس ہو چاہے حج ہو عبادتوں میں جتنی عبادتیں ہیں ریا حرام ہے اور اس ریا کو ختم کرنے کیلئے نماز اور اس جیسی عبادتوں میں قربة الی اللہ کہا جاتا ے
قربة الی اللہ رٹا ہوا جملہ تو ہر ایک کو ہے مطلب کیا حکم خدا کی خاطر یعنی کیلئے لوگوں کو دکھانے کیلئے یا اپنے کسی نفع و فائدے کیلئے فلاں عبادت انجام نہیں دے رہا بلکہ قربة الی اللہ صرف اور صرف حکم خدا کیلئے دیکھئے مذہب میں اہم ترین چیز یہ ٹکڑا ہے وہ لمبی چوڑی چیز میں وضو کرتا ہوں
واسطے دور ہونے حدث کے مباح ہونے نماز کے واجب قربة الی اللہ اس کا اہم ٹکڑا صرف آخری ہے قربة الی اللہہے یہی وجہ کہ جب امام خمینی اور آقا ئے خوئی کی توضیح المسائل میں وضو کے تمام مسائل اٹھا کر پڑھ ڈالئے یہ والی نیت ہی نہیں لکھی جو ہم کو بچپن سے رٹائی جاتی ہے صرف ایک مسئلہ آیا ہے کہ شرائط وضو میں ساتھ ہی شرط یہ ہے کہ وضو قربة کی نیت سے انجام دیا جائے یعنی حکم خدا کی خاطر پھر اب اس کے بعد علماء کہتے ہیں یہ بات طے ہو گئی مجتہدین کا فتویٰ ہے کہ عبادت صرف اللہ کے لئے ہونا چاہئے تو دو تین مقامات ایسے آئے ہیں کہ جہاں اللہ کے لئے ہی عبادت کی جائے مگر لوگوں کو دکھا کر جنہیں سے ایک ہے مقام ترغیب و تشویق ایسی عبادت کر رہے ہیں کہ ہمیں ضرورت نہیں ہے لوگوں کے سامنے عبادت کی مگر صرف اس لئے کہ شاید اس سے ایسے لوگوں کو شوق و رغبت پیدا ہو جائے جو عام حالت میں تیار نہیں ہوتے یعنی امر بالمعروف نیکی کا حکم دودوسرا مقام رفع تہمت کیلئے اگر کسی پر الزام لگ جائے کسی عبادت کے بارے تہمت میں کہ یہ آدمی تارک عبادت ہے نماز نہیں پڑھتا خمس نہیں دیتا کنجوس بہت ہے کسی بھی گناہ کا الزام لگ جائے اب اسے اجازت کہ خالی یہ الزام ہٹانے کے لئے لوگوں کے سامنے کوئی کام کرے پھر ایک دو چیزیں بہت مشہور ہیں اس کے علاوہ بھی کسی مصلحت کے ساتھ عبادت کی اجازت مل سکتی ہے جب جو بات میں کہنے جا رہا ہوں کھل کر کہنا بھی نہیں چاہتا اگر اعتراض ہے تو سیرت رسول کا اصل مقصد حال واقعات سنانا نہیں یہ واقعات آج کل جو ہماری زندگی ہے اس سے کس طرح مطابقت کریں کسی نے یہ کہا کہ کیا ضرورت ہے
اچھی بھلی عبادت سالوں سے ہو رہی ہے اس کے بیچ میں کبھی یہ رفع تہمت کے دائرہ میں ہوا کرتا ہے کہ اگر کسی فرد پر یہ تہمت لگ جائے کہ یہ نمازی نہیں تو اس پر یہ حکم ہے کہ سب کے سامنے نماز پڑھو اور کبھی کسی گروہ کے بارے میں بھی یہ مسئلہ آ سکتا ہے کہ اگر کسی گروہ پر تہمت لگ جائے کہ یہ نمازی نہیں تو وہ سب کے سامنے نماز پڑھے اس کے علاوہ یہ تیسرے میں بھی آ سکتا ہے کہ پیغمبر حکم دے رہے ہیں کہ اے مسلمانو جلدی جلدی وضو کر کے نماز کیلئے کھڑے ہو جاؤ اس سے پہلے کہ عروہ یہاں سے چلا جائے یہ نماز عروہ کو دکھانا یہ وضو عروہ بن مسعودثقفی کو دکھانا ہے جیسے وضو و نماز اللہ کے لئے ہے مگر خاص اس موقع پر اس کو بھی دکھانا ہے چنانچہ پیغمبر عروہ سے زبانی بات چیت ختم کرنے کے بعد فی الفور وضو کا اہتمام کیا اور وضو کر کے نماز شروع کر دی عروہ اسے اس وقت نہ وضو سے کوئی دلچسپی ہے نہ نماز سے
بعد میں تو اسلام لا چکے اور بڑے بلند مقام پر پہنچے اس وقت کوئی دلچسپی نہیں مگر جاتے جاتے یہ منظر دیکھ رہے ہیں اور اس منظر نے اس پر وہی اثر کیا جس کی خاطر رسول نے مجمع عام میں اس عبادت کو انجام دیا اب مکہ پہنچ کر جو وہ رپورٹ دے رہا ہے پیغمبر سے اس کے جو مذاکرات ہوئے وہ بیان کئے اس کے بعد آخر میں اپنی طرف سے جو جملے شامل کر دیئے مگر اسے قریش مکہ میرا مشورہ یہی ہے کبھی محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں سے جنگ کی حماقت نہ کرنا اس لئے کہ ابھی ابھی میں دیکھ کر آیا ہوں اسے ایسے جانثار ساتھی ملے ہیں میں نے روم کے بادشاہ کو بھی دیکھا میں نے ایران کے بادشاہ کو دیکھا میں مصر کے حکمران کے دربار میں گیا میں نجاشی کے دربار میں حاضر ہوا مگر ایسے اطاعت گزار اور ایسے فرمانبردار مجھے کہیں نظر نہ آئے میری آنکھوں کے سامنے ان کے سردار نے وضو کیا اور اس کے وضو کے پانی کا ایک قطرہ زمین پر نہیں گرا اس لئے کہ بے چین و بے تاب ہو کر اس کے صحابی دوڑ پڑتے تھے اور اس کے وضو کے پانی کا ایک ایک قطرہ ان کیلئے باعث رحمت و برکت ہوتا تھا اور باعث ثواب اور پھر دو تین جملے اور جو پچھلی تقریر میں آ گئے تو پیغمبر نے جو عمداً جلدی جلدی وضو کروایا اور یہ منظر بھی اس کے ذہن میں نقش کرنا تھا اور یہ تاثر بھی اس کے ذہن میں بٹھانا تھا تاکہ وہ مکہ والوں کو رپورٹ دے سکے تو کبھی کبھار کسی پر ہیبت طاری کرنے کیلئے کبھی کبھار کسی کو حقیقت حال آگاہ کرنے کیلئے کوئی عمل جو گھر میں بھی چھپ کر سکتا ہے سے علی الاعلان انجام دیا جا سکتا ہے اس سے زیادہ کی وضاحت اصل موضوع کو نامکمل چھوڑ دے گ
عروہ تو گیا اس کی رپورٹ بھی پچھلی تقریر میں بیان ہو گئی چونکہ وقت کم تھا اور جملے رہ گئے تھے کہ پیغمبر نے عمداً اس کے سامنے وضو و نماز کا اہتمام کیا اس کی رپورٹ ایسی کہ اب قریش مکہ کو کوئی اور قاصد بھیجنے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی اور یہ بھی آپ کو یاد ہو گا وہ جب آ رہا تھا تو قریش کا نمائندہ تھ
اور یہ بیان کر کے آیا تھا کہ میرا بھی وہ حشر نہ کرنا جو مجھ سے پہلے دو قاصدوں کا کیا تھا اس وجہ سے اور قریش پریشان تھے کہ کیا کیا جائے ادھر اللہ کے رسول نے دیکھا کہ وقت گزرا جا رہا ہے ایک طرف سے قریش کی جانب سے خاموشی چھا گئی تو پیغمبر اسلام کہ جیسے آج کل کی ڈپلومیسی کی زبان میں کہا جاتا ہے ڈیڈ لاک کو توڑنے کیلئے وہ جو ایک تعطل آ گیا اسے ختم کرنے کیلئے اب اپنا قاصد بھجوایا یہ پیغمبر اسلام کا دوسرا قاصد تھا سب سے پہلا قاصد رسول کا کون تھا وہی جو قریش کا نمائندہ بن کر آیا تھ
رسول نے اسی کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیج دی
پھر اس کے بعد قریش کے دو اور نمائندے آ گئے اب پیغمبر اپنا نمائندہ بھیجتے ہیں
خراج ابن امیہ بنی خزاعہ وہ قبیلہ جو حدیبیہ کا اصلی قبیلہ تھا ان کی زمین میں حدیبیہ کا کنواں آتا تھ
اس کو پیغمبر نے اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا جا کہ یہ معلوم تو کرو کہ قریش میں اتنی خاموشی کیوں چھا گئی ہے اللہ کا رسول ہر چیز جانتا ہے صرف واقعات کو آگے بڑھانے کیلئے اور پھر پیغمبر فقط اس لئے یہ آدمی میرا نمائندہ مان لیا جائے اپنی خاص سواری کا جانور اپنے خاص اونٹوں میں سے اونٹ پر بیٹھ کر تم جاؤ جس کا نام کتابوں میں درج ہے
تاکہ یہ پتہ چل جائے کہ واقعی یہ نمائندہ رسول ہے
اب وہ چلا جس وقت وہ حرم کے قریب پہنچا قریش شروع سے جوش میں آئے ہوئے تھے پچھلی دفعہ یہ بیان ہو گیا ان کے مردوں ان کے بچوں عورتوں نے یہ تہیہ کر لیا تھا کہ ہم نے مسلمانوں کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دینا وجہ یہ آ گئی تھی کہ ان کا امیج متاثر ہو جاتا تھ
خانہ کعبہ ان کے ہاتھ سے نکل جاتا تھا ایک مرتبہ جب خراج بن امیہ اونٹ پر بیٹھ کر آی
بیچارہ اس سے پہلے کہ اپنی زبان کھولے اور اپنی بات چیت شروع کرے قریش نے پہچان لیا کہ یہ کس اونٹ پر آ رہا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کس کا نمائندہ ہے اچھا بہت سی چیزیں ہمارے آپ کیلئے سمجھنا مشکل ہے لیکن یاد رکھیئے اسلام سے پہلے عربوں کی جو چند خصوصیتیں بتائی گئی تھیں
حافظہ بڑا طاقتور ہوتا تھا جانوروں کی پہچان بہت زیادہ ہوتی تھی یعنی اپنے بچوں کو اس طرح نہیں پہچانتے تھے اپنے خاندان کو اس طرح نہیں پہچانتے تھے جس طرح ایک گھوڑے کا شجرہ نسب ان کو یاد ہو جاتا تھا اور اس کی نسل کو وہ دیکھ کر پہچان لیتے تھے اونٹ اور اونٹ کی نسل اگر کسی کو یہ تعجب ہو کہ اونٹ دیکھ کر کیسے پتہ چلا کہ یہ رسول کا اونٹ ہے اس لئے تعجب ہو گا کہ آج کے ماحول میں بیٹھ کر ۱۴۰۰ پہلے کے واقعات کو سمجھ رہے ہیں
قریش کے ہاں عربوں کے ہاں باقاعدہ اپنی نسل سے زیادہ جانوروں کی نسل کا خیال رکھا جاتا تھ
تو خیر پہچان لیا کہ یہ کون آیا ہے
اس سے پہلے کہ وہ قاصد رسول بے چارہ کوئی زبان کھولے اور کوئی بات چیت کرے قریش کے نوجوانوں کا ایک گروہ ٹوٹ پڑا پہلے اسے اونٹ سے اتارا اور اونٹ کی جانب متوجہ ہوئے کیونکہ اونٹ کے بارے میں تو پتہ ہے کہ یہ رسول کا اپنا اونٹ ہے اسی مقام پر اس کو نحر کر دیا ذبح کر دیا اونٹ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے اس وقت یہ جوش و جذبہ کے عالم میں پھر اس کے بعد اس خراج کی جانب متوجہ ہوئے
پھر حبشی قبیلہ کے لوگ آگے بڑھ آئے جن کے بارے میں پچھلی دفعہ تفصیل آ چکی ہے ان کا ایک جملہ یہ تھا ہم تمہارا ساتھ صرف ان کے بارے میں دیں گے جو مکہ پر حملہ کریں لیکن جو سفارت کیلئے آ رہا ہے اس وقت ہمارا تمہارا معاہدہ ٹوٹ جائے گ
اس کاسردار ویسے بھی جلا بھنا بیٹھا یہ توہین آمیز انداز میں اسے رد کیا تھا پچھلی تقریر میں تو اب وہ آگے بڑھا اپنے سارے تیر اندازوں کو لے کر کہ اس نوجوان کو کوئی ہاتھ نہ لگائے یہ قاصد ہے ایلچی ہے اس کی جان کی حفاظت واجب ہے ہم حملہ آور کے خلاف تمہارے ساتھی ہیں اور جو مظلوم ہو گا اس کا ساتھ دیں گے اور اس کو بڑی مشکل سے بچا کے لے گئے
اللہ کے رسول کو یہ اطلاع پہنچ گئی کیونکہ یہ آدمی واپس پہنچ گیا رہتا تو اسی علاقہ میں ہے جہاں قافلہ اسلامی ٹھہرا ہوا ہے اب اطلاع مل گئی کہ یہ عالم ہے اب کیا کریں
پیغمبر اسلام تاریخ کا ایسا حساس حصہ آ رہا ہے
واقعات واقعات ہیں اور ساری اسلامی کتابوں میں درج ہیں لیکن ہمارے ملک کے حالات بھی ایسے ہیں کہ یہاں لوگ ہوش سے زیادہ جوش اور عقل سے زیادہ جذبات سے کام لیتے ہیں خصوصاً موجودہ حالات میں تو بہت سرسری مجھے آگے بڑھ جانا پڑے گا دوسرا قاصد جان بچا کے واپس آی
اب اللہ کے رسول کو تلاش ہے کسی ایسے آدمی کو بھیجا جائے کہ جس سے قریش سے حالات بھی ٹھیک ہوں اور یہ جملہ ہے جو میں بیان نہیں کرنا چاہتا لیکن پیغمبر کا مقصد اور ایسا آدمی جس کے ہاتھ سے آج تک قریش کا کوئی آدمی نہ مارا گیا ہو قاتل اور خون کا بدلہ اور دشمنی نہ پھیل جائے
پیغمبر اسلام کو اب ایسا قاصد تیار کرنا ہے مگر اس دوران وہ مکہ کے نوجوان جو پیغمبر کے قاصد پر حملہ کر چکے تھے تو ایک طرح سے ان کو کامیابی ہوئی اونٹ بھی انہوں نے نحر کر دیا اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے پیغمبر کا قاصد ایک طرح سے جان بچا کے بھاگا جوش بڑھ گئے چھوٹی سی کامیابی آ جائے انہوں نے آپس میں ایک منصوبہ بنایا ہم لوگ رات اور صبح کا جو قریب ٹائم ہوتا ہے وہ سب سے زیادہ گہری نیند کا وقت ہوتا ہے اس وقت اچانک حملہ کریں گے اور یہ قدم وہ اس طرح اٹھانا چاہتے تھے کہ ان کے بڑوں اور بزرگوں کو بھی پتہ نہ چلے چنانچہ ۵۰ یا ۸۰ یا۴۰ یا ۳۰ نوجوان تھے یہ چار روایتیں ہیں زیادہ معتبر ۵۰ کا عدد
علما نے سمجھا ہے وہ راتوں رات اپنے گھروں سے نکل تنعیم پہاڑی پر چڑھ گئے اور یہ سارے واقعات ایسے ہیں آج بھی مکہ میں یہ نشانیاں ہیں مگر وہاں جانے والے نہ اتنی باتیں یاد کر کے جاتے ہیں اور نہ اتنی معلومات رکھ کر جاتے ہیں
تنعیم وہ مقام جو آج حضرت عائشہ کے نام پر ایک چھوٹی سی مسجد بنی ہے ہر وہ آدمی جومکہ میں ایک دفعہ پہنچ جائے پھر اگر وہ مزید عمرے کرنا چاہے تو اسے کہیں دور دراز نہیں جانا پڑتا احرام پہننے کیلئے وہ خانہ کعبہ سے چھ میل دورتنعیم ایک جگہ ہے جسے مسجد شجرہ بھی کہتے ہیں مسجد عائشہ بھی کہتے ہیں میقات بھی کہتے ہیں وہاں کے ٹیکسی ڈرائیور یہ وہ جگہ ہے جہاں پر یہ تیر انداز چھپ کر بیٹھے تھے یعنی وہ جگہ عمرے کیلئے کیوں مشہور ہے اس لئے کہ مکہ سے باہر ہے
اب ان نوجوانوں نے راتوں رات مکہ چھوڑ دیا اپنے بزرگوں کو بھی نہیں بتای
اب نوجوانوں نے راتوں رات مکہ چھوڑ دیا اور اپنے والدین کو بھی نہیں بتایااور وہاں جا کے چھپ کر بیٹھ گئے اب صبح کا جو وقت آ رہا تھا ایک دم سے حدیبیہ کی طرف چلے ۵۰ تیر انداز مگر جیسے ہی وہاں پہنچے وہ اندازہ کرنے میں غلطی کر گئے شاید ان کا خیال یہ تھا یہ وہ وقت ہوتا ہے جب لوگ بالکل غافل سو رہے ہوتے ہیں مگر پیغمبر کا زمانہ وہ عین نماز شب کا افضل ترین وقت اور نماز صبح کی تیاری کا وقت ہے وہ تو سب سے زیادہ مسلمان کی بیداری کا وقت تھا کافر کی غفلت کا وقت ہے وہ دوسری بات ہے یا آجکل کے مومن کی غفلت کا وقت ہو وہ دوسری بات ہے
لیکن پیغمبر کے زمانہ میں اس وقت ہر مسلمان جاگ رہا ہوتا تھا وہ اندازہ کر کے آئے ہوں گے اپنے ماحول کا کہ ہمارے ہاں صبح چار بجے تو سب سے گہری نیند آتی ہے اس وقت کوئی نہیں اٹھتا اور مسلمان اسی وقت اٹھتا ہے کیونکہ وہ رحمتوں کا نزول ہے برکتوں کا نزول ہے رزق کا نزول ہے اللہ کی نعمتوں اور اللہ کی نشانیوں کے ظہورکا نزول ہے سب مسلمان اس وقت عبادت کیلئے تیار ہو رہے تھے
چنانچہ یہ ۵۰ تیر انداز جیسے ہی اتر کر آئے فوراً ہی پکڑے گئے اور خیموں تک ان کو پہنچا دیا گیا یہ تو ہوا واقعات کا ایک پہلو
علامہ مجلسی نے جابر بن عبداللہ انصاری کے حوالہ سے یہ لکھا بہرحال وہ تیرانداز تھے تلوار چلانے والے تو تھے نہیں کہ تلوار چلانے والوں کا مسئلہ یہ ہو گا جب تک وہ قریب نہ آ جائیں حملہ نہیں کر سکتے یہ تو دور سے بھی مسلمانوں کو اگر جاگتا دیکھ لیں تیر تو چلائے جا سکتے ہیں جابر نے کہا اس وقت پیغمبر نماز شب میں مصروف تھے اور جو پیغمبر کی عمومی دعا تھی کہ خدا کفر کا خاتمہ کرے کافروں کا خاتمہ کرے اسلام کو عزت دے
اعزا الاسلام واھلہ وہ دعا پیغمبر مانگ رہے تھے اس کی وجہ سے یہ تیر انداز اندھے ہو گئے ہم یہ دیکھ رہیں حملہ آو رہے ہیں مگر اس طرح کہ کوئی اندھا آدمی آ رہا ہو سامنے دشمن ہیں یعنی ہم لوگ ہم پر حملہ کرنے آ رہے ہیں مگر ایسا لگ رہا ہے کہ ہم ان کو نظر ہی نہیں آ رہے چنانچہ بہت آسانی کے ساتھ ان کو پکڑ لیا گیا اور ہو سکتا ہے واقعتاً ایسا ہی واقعہ ہوا ہو کیونکہ حدیبیہ میں معجزات بہت کثرت کے ساتھ ملتے ہیں اور معجزات کی وجہ بھی پچھلی تقریر میں آ گئی کہ مسلمانوں کا ایمان مضبوط سے مضبوط ہوتا جائے تاکہ بعد میں کوئی شک نہ کرے تو خیر وہ سب کے سب پکڑے گئے سورہ مبارکہ فتح میں یہ واقعہ موجود ہے کہ یاد کرو وہ وقت جب حملہ کیا تھا مکہ شاید پورے قرآن میں لفظ مکہ ایک ہی جگہ آیا ببطن مکہ جب مکہ کی گھاٹی پر کافروں نے حملہ کیا اور ہم نے تمہیں بچایا یہی ۵۰ تیر انداز ہیں بہرحال اللہ کا رسول جنگ نہیں چاہتا چنانچہ ایسے دشمن جن کو قتل کرنا یا سزا دینا بالکل ممکن تھا یا کم از کم ان کو پکڑ کر جیل میں ڈالا جا سکتا ہے تاکہ جب مذاکرات ہوں تو ان کو استعمال کیا جائے مگر اللہ کے رسول نے کہا ان کو رہا کر دو آزاد کرو ہم جنگ کرنے نہیں آئے ہیں اب اتنی بڑی نشانی اور آ گئی کہ پچاس نوجوان جو پکڑ لئے گئے اور بغیر کسی قسم کے تاوان اور معاوضہ کے پیغمبر نے انہیں چھوڑ دیا پھر بھی قریش مکہ وہی بات کہ کم ظرف اور چھچھورا انسان یہ دیکھتا ہے کہ فلاں آدمی میرے سامنے جھک رہا ہے تو جھکائے چلے جاؤ ادھر اللہ کے رسول نے دیکھا میرے دو قاصد گئے پھر یہ ۵۰ نوجوان بھیجے ہیں مگر قریش ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں نہ حملہ کر رہے ہیں
اتنی ہمت نہیں نہ ہی مذاکرات کو آگے بڑھا رہے ہیں اب پیغمبر اپنے سارے قافلے کو دیکھنے کے بعد حضرت عمر کا انتخاب کیا کہ تم میرے قاصد بن کر جاؤ انہوں نے معذرت کر لی اے اللہ کے رسول میرا خاندان مکہ میں نہیں ہے وہاں اگر کوئی وقت آ گیا تو کون مجھے سہارا دے گ
بہتر ہے کہ آپ عثمان کو بھیج دیں ان کا خاندان یعنی بنو امیہ ہے وہ ہیں مکہ کے اندر چنانچہ ان کیلئے کوئی خطرہ نہ ہونے پائے پیغمبر اسلام نے یہ تجویز منظور کر لی اور حضرت عثمان غنیعليهاالسلام وجوہات کی بنا پر کہ ان کا خاندان نے بائیکاٹ نہیں کیا نکالا نہیں وہ مکہ میں موجود ہے ان کو کہا کہ تم جاؤ یہ چلے مکہ کی سرحد پر ابان بن سعید نامی مکہ کا ایک سردار مل گیا یہ وہ سردار ہے جو سب سے پہلے مسلمانوں کو دیکھ کر گیا ہے
قاصد بن کر نہیں آیا ویسے ہی وہاں سے گزر رہا تھا اس نے حضرت عثمان کو دیکھا پوچھا کہاں جا رہے ہو جواب دیا کہ مکہ جا رہا ہوں اس لئے کہ رسول معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ مکہ کے حالات کیا ہیں لیکن اکیلا ہوں تنہا ہوں اس نے انہیں اپنا رقیب بنا لیا یعنی گھوڑے پر سوار کے پیچھے بیٹھنے والا کہا میرے ساتھ بیٹھ جاؤ اور تم میری پناہ میں ہو
عثمان کو لیکر مکہ پہنچا حرم میں جا کر اعلان کیا رسول کا قاصد میری پناہ کے اندر اگر کوئی اس پر ہاتھ اٹھائے گا گویا اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا اور حضرت عثمان مکہ کے اندر ٹھہر گئے اب ان کو یہاں پر صرف حالات دیکھنا ہیں اور معلوم کرنا ہے کہ قریش چاہتے کیا ہیں
پیغمبر اسلام بار بار اعلان کر چکے ہیں کہ میں ہر صورت میں مصالحت چاہتا ہوں
تینوں قاصدوں کو جواب دے چکے ہیں اب بھیجا گیا حضرت عثمان کو کہ وہ اس چیز کو آگے بڑھائیں یہاں پر حضرت عثمان کے آنے سے اب پہلی مرتبہ قریش کوئی مصالحت کی بات سوچنے لگے اس لئے کہ اب تک جو قاصدوں نے جو رپورٹ دی اور تیر اندازوں نے جو اطلاعات دیں وہ بھی ایسی ہی تھیں اور اسی وجہ سے پہلے ہم کوئی جنگ جیت تو نہیں سکے اب پہلی دفعہ مصالحت کی کچھ باتیں ہونے لگیں لیکن پیغمبر کے اندازے سے یا یہ کہیے مسلمانوں کے اندازے سے حضرت عثمان کو صبح جا کے شام کو واپس آ جانا تھا تین دن گزر گئے واپس نہیں آئے اور یہ خبر پھیل گئی کہ شاید قریش مکہ نے بطور انتقام ان کو قتل کر دیا ہے بس اس وقت پیغمبر اسلام نے ایک درخت کے نیچے تمام لشکر اسلامی کو جمع کر کے بیعت لی ہمارے علماء اسلام نے لکھا ہے بیعت صرف ایک جملے پر لی گئی یہ پورا واقعہ تاریخ اسلام کا بڑا اہم واقعہ ہے ملک کے حالات،کراچی کے حالات اور دشمنان اسلام کی سازشیں روک رہی ہیں کہ میں ان حالات میں نہ جاؤں صرف ایک جملہ پر بیعت ہوئی اگر جہاد کا کوئی وقت آ گیا تو تم میں سے موت کو دیکھ کر کوئی بھاگے گا نہیں یہ جملہ ہی غیرت مند انسانوں کیلئے بہت زیادہ ننگ و عار کا سبب بن سکتا ہے لیکن حکم تھا اللہ کے رسول نے جملے پر بیعت لے لی اور اس وقت قرآن کی آیت نازل ہوئی
( لقد رضی الله عن المومنین اذ یبایعونک تحت الشجره )
اللہ ان لوگوں سے راضی ہوا جو درخت کے نیچے تمہارے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے صاحبان ایمان سے اللہ راضی ہوا یہ آیت نازل ہو گئی پورا یہ واقعہ بیعت رضوان کے نام سے مشہور ہے
مکتبہ تعمیر ادب نے ایک کتاب شائع کی ہے اور بہترین کتاب ہے بیعت رضوان اس نے پورے تمام ان پہلوؤں کو لیا ہے جو عالم اسلام میں اختلافات کا سبب بنتے ہیں یہ بیعت رضوان جو ہے اس سے بہت سے مسائل حل ہوئے ہیں
اب وقت ایسا نہیں ہے کہ میں اس تفصیل میں جاؤں جن لوگوں کو معلومات حاصل کرنا ہے واقعی اتنی اچھی کتاب ہے واپس آتے ہیں اپنے عنوان پر کہ بیعت لی گئی اور ان میں سے جو صاحبان ایمان تھے اللہ نے اپنی رضامندی کا اعلان کر دیا اور بیعت صرف ایک بات پر ہوئی کہ موت کو دیکھ کر تم موت کو دیکھ کربھاگو گے نہیں بیعت مکمل ہوئی
مسلمانوں کا جوش و خروش جاری کہ اتنے میں مکہ کی جانب سے حضرت عثمان آتے نظر آئے انہوں نے آ کر پیغمبر اسلام کو رپورٹ دی کہ اللہ کے رسول قریش مکہ اب مصالحت کیلئے تیار ہیں مگر ان کے صرف دو مسئلے ہیں پہلا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے یہ قسم کھائی ہوئی ہے کہ مسلمانوں کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے اب یہ قسم ان کے راستہ میں رکاوٹ بن رہی ہے اور دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ان کا یہ کہنا ہے کہ اگر ہم نے آپ کو آنے دیا تو قریش سارے عرب میں ذلیل ہو کر رہ جائیں گے ان کی ناک کٹ جائے گی کہ تمہارا دشمن تمہارے شہر میں آیا بھی عبادت بھی کی چلا بھی گیا ہمارایہ احترام عزت و وقار ختم ہو کر رہ جائے گ
یہ ہے بڑا مسئلہ یہ وہ دو چیزیں ہیں کہ قریش تذبذب کے عالم میں ہیں مگر حضرت عثمان کہتے ہیں میں نے بات کی ہے ان کے نمائندے عنقریب اس مسئلہ پر بات چیت کیلئے آ رہے ہیں اور تھوڑی دیر کے بعد وہ نمائندے آ گئے اب یہاں ضمنی طور پر ایک بات اور نکل آئی
اسلام میں فال لینا اسے اچھا نہیں سمجھا گیا فال لینا استخارہ ہوتا ہے وہ تو ٹھیک ہے فال لینا کہ کالی بلی راستہ کاٹ گئی تو کوئی پریشانی آئے گی یا کوا بولنے لگا یا آنکھ پھڑکنے لگی یا ہتھیلی میں کھجلی ہونے لگی اس قسم کی چیزیں اس فال لینے کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور مذمت بھی کی گئی ہے کہ فال لینا بہت برا ہے قرآن میں کافروں کے بارے میں کئی آیتیں ہیں جب وہ کسی رسول کو آتا دیکھتے تو جو اس سے فال نکالتے یہ آدمی معاذ اللہ ہمارے لئے منحوس ہے یا نہیں ہے اسلام میں ان چیزوں کی مذمت کی گئی ہے اور کہا ہے کہ فال کی کوئی حقیقت نہیں ہے انسان جب کسی پریشانی میں پھنس جاتا ہے تو وہ ذرا سی بات پر اس کے دل میں شگونی و بدشگونی ہونے لگتی ہے وہ خود بخود دل میں آنے والے وسوسے جو آدمی کے کنٹرول میں بھی نہیں ہوتے اس لئے کہا گیا ہے بچو فال لینے سے لیکن یہ خودبخود دل میں آ جاتی ہے اچھی چیز ہے یا بری اور یاد رکھئے یہ مسئلہ خالی ہمارا نہیں ہے ان لوگوں کا ہے جو بہت ہی عقلمند، ہوشیار اور وسیع النظر سمجھتے ہیں یورپ و امریکہ میں ہم سے زیادہ مسئلہ ہے گھوڑے کی نال دروازے پر لٹکائی جائے گی کیونکہ اس سے برکت نازل ہوتی ہے
تیرہ نمبر کوئی لینے کو تیار نہیں ہوت
ہوائی جہاز میں ۱۳ نمبر کی کوئی سیٹ نہیں ہوتی بلڈنگ میں ۱۳ نمبر کی کوئی منزل نہیں ہوتی ہم سے زیادہ وہ لوگ اس کے اندر پھنسے ہوئے ہیں بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جہالت اور کم علمی کی وجہ سے ہے یہ شیطانی خیال بھی ہے اور انسانی مزاج بھی ایسا ہے کہ انسان اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنا چاہتا ہے ایک طرف اسلام نے منع بھی کیا ہے دوسری طرف کہا وسوسہ ہے پیدا ہو کر رہے گ
معصوم حدیث ہے اور ایسی حدیث کہ آقائے خوئی نے فتویٰ بھی دیا ہے کچھ تو واجب کفارے ہوتے ہیں روزہ جان بوجھ کر کھول دیا واجب کفارہ منت توڑ دی اس کا کفارہ واجب اسی طرح عورت نے کسی میت پر سر کے بال نوچے اور چہرے سے خون نکالا امام خمینی کے نزدیک کفارہ واجب ہے
احتیاط واجب کی بنا پر اور کچھ کفارے مستحب ہیں سنت ہیں ان میں سے ایک کفارہ آقائے خوئی لکھتے ہیں یہ کہ اگر انسان کسی چیز سے فال لے یعنی جس چیز سے انسان کے دل میں وسوسہ پڑ رہا ہے اسی کام کو کر ڈالو خدا پر توکل کر کے اس بدشگونی کا کفارہ بھی یہی ہے دل میں آ گیا کہ اس سے کوئی نقصان ہے تو اب اس کام کو ضرور کرنا ہے
اس لئے کہ نقصان اور فائدہ اللہ دینے والا ہے یہ بلی اور کوے اور کتے میں نہ نفع ہے نہ نقصان تو وسوسہ جو پیدا ہوا ہے اس کا علاج یہ بتایا گیا ہے اب اگر انسان دس پندرہ مرتبہ یہ سلسلہ شروع کرے تو وہ خود بخود ختم ہو جائے گ
اگر جان بوجھ کر وہی کام کرتا ہے جس سے دل کہتا ہے کہ خدشہ پیدا ہو رہا ہے بدشگونی آ رہی ہے میں آج نوجوانوں کو علاج بتاتا ہوں ان کے مسئلہ کا کہ جو ۱۵ سے ۲۰ سال سب کو سامنا کرنا پڑتا ہے ایک دم سے بہت سے وسوسے پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں بہت دیندار مذہبی گھرانے کا نوجوان دس گیارہ سال کی عمر سے عبادتیں کر رہا مسئلہ مسائل جانتا ہے لیکن سترہ سال کے قریب مسئلہ آتا ہے
خدا ہے بھی یا نہیں امامت قیامت توحید پورے عقائد کے بارے میں نماز پڑھنے کھڑا ہوا دنیابھر کے خیالات اور یہاں ایک غلطی کرتے ہیں لوگ بہت زیادہ دبانے کی کوشش کرتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اور زیادہ ابھر کر یہ چیزیں آ جاتی ہیں
اس کا علاج جو بتایا گیا ہے وہ یہی ہے خیال جو آ رہا ہے وسوسہ کی حد تک تو آنے دیں آنے دیں یہاں تک کہ ایک وقت میں خود ہی آنا بند ہو جائیں گے بالکل اسی طرح کہ روزے کے عالم میں جو لوگ بچتے ہیں تھوک پینے سے بار بار تھوکنے سے اور تھوک پیدا ہو گئی نگل لینے سے مسئلہ ہی ختم ہو جائے گا یہی اسلام نے فال اور بدشگونی کیلئے کفارہ بتایا ہے جس چیز کے بارے میں بدشگونی ہو رہی ہو آپ جان بوجھ کر اس کام کو کر لو اب اللہ گر توکل کر کے یہ خیال دل میں کر کے کہ نفع و نقصان کا مالک خدا ہے اور ساتھ میں امام نے ایک بات اور کہی ہے وہ یہ کہ کبھی بھی کسی چیز سے بری فال لو ہی نہیں ہمیشہ اچھی بات زبان سے نکال جو کہ ہمارے بزرگ سکھاتے تھے
یعنی ہمیشہ الٹا سوچو یہ تو کہا جاتا ہے کہ خواب میں موت نظر آئے تو سمجھو زندہ رہنا ہے
فال میں بھی الٹا نکالو یعنی بری بات سے اچھے نتیجے نکالو اور فال کا الٹا کام ہی کر ڈالو اللہ پر بھروسہ کر کے دوسرا علاج یہ ہے کہ جس چیز سے بھی بدفالی کا امکان ہو اس کا ہمیشہ اچھا خیال نکالو اور اس میں بھی صلح حدیبیہ کو پیش کیا جاتا ہے وہ یہ کہ جس وقت حضرت عثمان سے رپورٹ پیش کی کہ قریش مکہ کے یہ دو مسئلے ہیں اور ان کے نمائندے قریب آنے والے ہیں مذاکرات کیلئے تو ایک مرتبہ سامنے سے سہیل بن عمر آتا ہوا نظر آیاان کا لقب خطیب العرب ہے عرب کا بہترین خطیب بہترین خطابت کا مالک اور مزاج میں بڑا سخت اس کے بارے میں مشہور ہے اس کا مزاج بڑا سخت ہے کسی کے بارے میں جھکتا نہیں ہے اپنی بات پیچھے نہیں ہونے دیتا اپنی آن پر اپنی اولاد کو قربان کر دیتا ہے یہ مشہور ہے اس کے بارے میں اور جس زمانے کا یہ واقعہ ہے کہ اس کا سگا بیٹا اسلام لا چکا ہے اور باپ اپنے بیٹے کو قید کر رہا ہے کوڑے مار رہا ہے ظلم و ستم کر رہا ہے یعنی اتنا سخت ہے یہ مزاج کے اندر اولاد بھائی بہن کسی چیز کا خیال نہیں بس جو ہماری بات ہے وہ سب کو ماننا پڑے گی اتنا سخت آدمی آ رہا ہے اس کو بھیجنے کا مقصد بھی یہ آگے کے واقعات میں ابو جندل کے بیٹے کو منع کیا گیا کہ ہم واپس نہیں جائیں گے
دیکھیں اس آدمی نے مذاکرات توڑ دے اتنا سخت قریش نے اسے بھیجا ہی اس لئے کہ کسی سخت ترین آدمی کو بھیجو مشہور ہے قریش کے پاس کہ محمد جادوگر ہے عام سے آدمی کو بھیجو گے تو وہ محمد کا ہی کلمہ پڑھتا ہوا آ جائے گا سخت ترین آدمی کو چھانٹ کر بھیجو جو برابر سے مقابلہ کرے رسول سے اسی وجہ سے سہیل کو بھیجا گیا اب سوچو کہ کتنا سخت آدمی آ رہا ہے دور سے مسلمانوں نے دیکھا وہ اس کو جانتے ہیں تو وہ سمجھ گئے کہ اگر معاملہ بن بھی رہا ہے تو بگڑ جائے گا ایسا ہی آدمی آیا ہے جو مسلمانوں سے خار کھا کر بیٹھا ہے اچھا یہ بدر میں قید بھی ہو چکا ہے وہ بھی اس کو غم ہو گا اس کا بیٹا مسلمان ہو گیا ہے پہلے ہی کافی دشمن تھا اب سے دو اور چیزیں اکٹھی ہو گئیں اب دیکھنے والوں نے اندازہ لگا لیا کہ اب معاملہ بگڑ جائے گا مگر جب پیغمبر اسلام نے اس کو دیکھا تو کہا سہل امرنا سہیل سے پیغمبر نے فال نکال لیا سہل یعنی سہل یعنی اب ہمارا کام آسان ہو گی
یہ وہی چیز تھی کہ سارے مسلمان پریشان ہو گئے کہہ رہے ہیں کہ معاملہ بگڑ گی
پیغمبر وہ جو ایک اصول بتا رہے ہیں کہ علماء نے اس کو کوڈ کیا ہے اگر کبھی بھی کوئی خرابی سامنے آ رہی ہے ہمیشہ اچھی فال نکالو کام ٹھیک ہو جائے گا اللہ پر بھروسہ کرو
سہیل کو دیکھ کر کہا سہل امرنا آج ہمارا معاملہ حل ہو گی
بہرحال یہ معلوم تھا کہ یہ آدمی اتنا سخت ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس سختی پر پہنچ جائے کہ جو قریش بھی کو منظور نہیں دو آدمی بھیجے بطور مددگار یہ تین آدمی پیغمبر کے پاس آئے اب پیغمبر سے بات چیت شروع ہوئی سارے مذاکرات اور ڈائیلاگ بیان کرنا تو بڑا مشکل ہے اور اس کی ضرورت بھی نہیں کوئی خاص محسوس نہیں کر رہا ہوں خلاصہ اس بات چیت کے بعد جو بات طے پا گئی یہ جو قریش کے دو بڑے مسئلے ہیں ہم قسم کھا چکے ہیں کہ اس سال مسلمانوں کو مکہ میں نہیں آنے دیں گے اور ہماری ناک کٹنے کا مسئلہ ہے اس وقت عزت و آبرو کا مسئلہ ہے اب اس کا حل یہی نکالا گیا چلو تمہاری قسم بھی صحیح رہے تمہاری عزت و آبرو بھی ختم نہ ہو ہم اس سال واپس چلے جاتے ہیں آئندہ سال آ جائیں گے تو تمہاری قسم سے اس کا تعلق نہیں اور کہنے کیلئے بھی ہو جائے گا کہ دیکھا ہم نے مسلمانوں کو نہیں آنے دیا سب سے پہلے تو یہ دو مسئلے تھے قریش کے انہیں پیغمبر نے حل کیا اچھا یہ سارے مذاکرات کسی بند کمرے میں نہیں ہو رہے تھے
یہ مذاکرات ان مسلمانوں کے سامنے ہو رہے ہیں کہ جواب تک کے واقعات کو پیش آ چکے ہیں آخر قریش نے ہم کو سمجھ کیا رکھا ہے ہم طاقت والے ہم تین دفعہ قریش کو مار چکے ہیں آج ہمارا لشکر اتنا بڑا ہے ہم کیوں دب کر چلے جائیں تو پہلے ہی سے مسلمان غصے میں ہیں ان کے سامنے یہ مذاکرات ہو رہے ہیں جس کی ایک پیکچر یہ تھی کہ پیغمبر جھکتے جا رہے ہیں اور سہیل بن عمر سر پر چڑھتا جا رہا ہے
مگریہ جو پیغمبر کا مصالحانہ طریقہ ہے
جذبات ہمیشہ قابو میں رکھنا جوش کے بدلے ہوش سے کام لینا اور حال سے زیادہ مستقبل کی فکر کرنا تو اس وقت ہم جو قدم اٹھا رہے ہیں فی الحال فائدہ بھی ہو جائے تو آگے چل کر اس کا نقصان کیا ہو گا دیکھنا ہے کیونکہ یہی اصول جو ابھی میں نے کہا صلح حدیبیہ پیغام یہ ہے کہ حال سے زیادہ مستقبل کا خیال رکھو یہی اصول فوج کے بارے میں آتا ہے ہمارے سامنے جو ہمارا دسواں امام حضر ت نقی علیہ السلام اپنے مکان میں قبر کو تیار رکھتے اور جب کسی نے پوچھا قبر کس لئے تو کہتے دنیا میں جو کام کرو پہلے اپنے آپ سے پوچھو کہ اس کا فائدہ قبر میں ہے یا اس کا نقصان ہے
یہ نہیں دیکھو دنیا میں اس کا فائدہ ہے یا نقصان قبر اس لئے کہ ہر کام سے پہلے قبر کو چیک کرو اس میں کیا نقصان ہے کیا فائدہ ہے بچے کو سکول میں داخل کرانا ہے بڑا اچھا سکول ہے چار ہزار ماہانہ کا خرچہ تمام سہولیات اب دیکھنا یہ ہے کہ دنیا میں اس کا فائدہ ہے یا نقصان بہترین نوکری مل رہی ہے سہولت ہی سہولت مگر قبر میں فائدہ ہے یا نقصان جو کام بھی کرنا ہے حال کو نہیں دیکھنا مستقبل کو دیکھنا ہے
اپنی مستقبل جو قبر وہی جو فوج کا اصول ہے
صلح حدیبیہ کا اصول یہ نہ دیکھو کہ ابھی تمہیں جھکنا پڑ رہا ہے ایسا نہ ہو کہ ابھی تو تم سینہ تان کے چلو اور بعد میں تمہیں جھکنا پڑے اس سے بہتر یہ ہے کہ ابھی جھک جاؤ بعد میں سب کچھ تمہارے ہاتھ میں آ جائے گا جو جو شرطیں قریش نے رکھوائیں وہ آ کر پوری کرتے گئے وہ آج فریقین بڑے تکبر کے ساتھ گھوم رہے تھے ہم کامیاب ہو گئے
ہر بات ہم نے مان لی لیکن بعد میں انہوں نے مسلمانوں کے آگے ہاتھ جوڑ جوڑ کر بات کر رہے ہیں یہ شرط واپس لے لو اب ہمیں نہیں چاہئے
حال اور مستقبل دونوں میں بہت فرق ہے
آج اللہ کا رسول ایسے مذاکرات کر رہا ہے جس میں تمام مسلمان یہ دیکھ رہے ہیں کہ فی الحال ہمیں نقصان ہے مگر پیغمبر وعدہ کر رہا ہے آج میری بات مانو مستقبل میں تمہیں فائدہ ہو گ
اگر اس اصل کو اپنی پوری زندگی میں لے کر آئیں کہ اللہ ک رسول اور اللہ کی طرف سے مقرر کئے ہوئے امام ان پر اتنا بھروسہ کرو کہ اگر وہ آپ سے کچھ کہیں جس میں ابھی نقصان ہو رہا ہو اتنا بھروسہ کر لو کہ مستقبل میں ضرور فائدہ ہو گ
اور اتنا فائدہ ہو گا کہ آج کا نقصان نقصان ہی نہ رہے گ
بس یہی صلح حدیبیہ کا پیغام صلح حدیبیہ کا پیغام یہ نہیں سوچا کہ مسلمانوں پر ہنسی اڑائیں کچھ مسلمانوں پر شک کریں کچھ مسلمانوں کا مذاق اڑائیں پھر وہی طریقہ خود اختیار کر لیں اگر وہاں شک ہو رہا تھا لوگوں کو تو کیسی صلح ہو رہی تھی کیسے بیٹی کا پردہ کرا لیں شادی کیسے ہو گی کیسے داڑھی رکھ لیں گزارہ کیسے ہو گا کیسے کی نوکری چھوڑ دیں کیسے اپنے بچوں کو اسے سکول میں داخل نہ کرائیں یہ زندگی کیسے گزرے گی اتنا شک نہ سہی تو تھوڑا سا شک تو ہمارے پاس بھی ہے تو پیغام صلح حدیبیہ یہ ہے رسالت و امامت جو حکم دے دے چاہے اس میں کچھ نقصان ہی ہو مان لیں اگر صلح حدیبیہ کی مثال کو سامنے رکھے اور یقین کے ساتھ اس پر عمل کر لو ہمارا آج کا نقصان بعد میں ہمیشہ ہمیشہ کا فائدہ آج تم کو یہ حق حاصل ہے کہ ان کو دیکھنے کا جو پیغمبر پر مطمئن نہیں تھے اور تمہاری اپنی حالت کہ امام کی بات پر اطمینان نہیں آ رہا کہ یہ نقصان ہی نقصان ہے
اور ان پر اعتراض کر رہے ہو تو یہ وہی اعتراض ہے جسے مولیٰ نے کہ
رب قاری القرآن و القران یلعنہ کتنے ہی تلاوت قرآن کرنے والے ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں اور قرآن پلٹ کر انہیں پر لعنت کرتا ہے تو وہ جو کہتے ہیںلعنة الله علی الکاذبین وہ مثال ہماری نہ بن جائے میں اطمینان کے ساتھ یہ کہہ رہا ہوں کہ صلح حدیبیہ کو اس حوالہ سے چاہے آپ نے کم سنا اور کم پڑھا ہمارے بزرگ علماء کرام نے ساری باتیں پہنچائیں ہیں میں تو انہیں کی باتوں سے آپ کے سامنے پیش آنے والا مگر یہ بات ضرور یاد رکھئے گا کہ ہماری قوم بعض بڑی بڑی باتوں کو بھول جاتی ہے
یعنی جو بھول جاتے ہیں جس پر ہم آج اعتراض کر رہے ہیں وہی چیز آج ہم میں بھی پائی جاتی ہے
ابھی شہادت کی راتیں گزری ہیں ساری قوم کوستی رہی کہ وہ لوگ کیسے تھے جنہوں نے رسول کی بیٹی کو ان کا حق نہیں دیا آخر ان کی حالت یہ ہے کہ رسول کی بیٹی کا حق دبا کر بیٹھے ہیں ارے سنا یہ وہ لوگ کیسے تھے
پیغمبر صلح کر رہے ہیں وہ ماننے کو تیار نہیں انہوں نے شاید ایک حکم نہیں مانا اور ہم نے چوبیس گھنٹے میں کوئی بھی حکم نہیں مانا اور ان کو کوس رہے ہیں پہلے اپنے آپ کو بھی دیکھنا ہو گا صلح حدیبیہ کا یہ پیغام ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھئے گ
پیغام کیا ہے رسالت کے حکم کے آگے کیوں نہیں ہے ہر نقصان کو برداشت کر کے بھی سر جھکا دے تو یہ پکا مومن ہے حدیبیہ والا اگر رسالت کے حکم کے سننے کے بعد اگر، مگر لیکن یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے گا بات ٹھیک ہے مگر آج کون عمل کر سکتا ہے اس قسم کے جملوں والا مجرموں کی صف میں کھڑا نظر آئے گ
اب حالت یہ ہو گئی کہ سہیل بن عمر اعتراض پر اعتراض کر رہا ہے اور پیغمبر اس کی بات کو مانتے جا رہے ہیں تو آخر میں پتہ چلا کہ ان چھ شرطوں میں سے تین شرطیں ایسی نظر آئیں کہ دو شرطیں ایسی ہیں جو سراسر مسلمانوں کے نقصان میں ہیں سب سے پہلی شرط کہ اس سال مسلمان واپس چلے جائیں اگلے سال آنے کی اجازت ہے
مگر وہ بھی دو شرطوں کے ساتھ صرف تین دن کیلئے مکہ میں رہیں گے اس سے زیادہ نہیں اور ان تین دن میں کوئی ہتھیار اپنے ساتھ نہیں لائیں گے سوائے ان ہتھیاروں کے جو مسافر کیلئے لازم ہیں اب مسافر نے جانا ہے اب چور بھی ہیں ڈاکو بھی ہیں سفر میں جو ہتھیار ضروری ہیں ان کے علاوہ کچھ نہیں لائیں گے
اور وہ ہتھیار بھی جو سفر کیلئے ضروری ہیں جیسے ہی مکہ کی سرحد میں داخل ہوں گے محلوں میں چھپا دیئے جائیں گے
اس سال واپس جاؤ آئندہ سال آؤ مگر دونوں شرطوں کے ساتھ سامان پر بھی پابندی ہے اور ٹائم پر بھی پابندی لگا رہے ہیں تین دن سے زیادہ اجازت نہیں ہے کوئی ہتھیار نہیں لا سکتے مگر سفر کے
مسلمانوں کو بڑی کھل رہی ہے بہت اذیت ہو رہی ہے
کھلم کھلا یہ شرط بے آبرو اور بے عزتی کا سودا بن رہا ہے
سرحد پر آ گئے ہیں اور واپس چلے جائیں
دوسری شرط جو مانی گئی کہ اگر کوئی مسلمان مدینہ سے مکہ چلا جاتا ہے تو مکہ والے اسے واپس نہیں کریں گے لیکن اگر کوئی مکہ سے مدینہ آ جاتا ہے تو مدینہ والے یعنی رسول کی ذمہ داری ہے کہ اسے واپس کر دے
واپس کر دیں یا اس کو لوٹا دیں یہ دو ایک الگ الفاظ میں ان کی وجہ سے بعد کے واقعات میں تبدیلی آئے گی
شرط یہ رکھی گئی دیکھئے جب معاہدہ ہوتا ہے تو الفاظ کی اہمیت بہت زیادہ ہے کوئی مسلمان مکہ جائے گا تو مکہ والے اسے روک لیں گے لیکن مکہ سے کوئی مدینہ آیا تو واجب ہے رسول پر کہ وہ اسے واپس کر دے
اچھا اس میں دو چیزیں آ گئیں ایک جولفظ آیا واپس کر دیں یہ نہیں آیا کہ واپس پہنچا دیں
اگر آیا مسلم یہ لفظ نہیں آیا مسلمان مسلم مرد کو کہتے ہیں مسلمہ نہیں آیا ان لفظوں کے بعد میں دو بڑے واقعات بن گئے بڑے دلچسپ خیر یہ دو شرطیں اس کے بعد تیسری یہ کہ عرب کے قبیلوں کو اجازت اور اختیار وہ جس کے ساتھ چاہے مل سکتا ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا چوتھی شرط یہی وہ معاہدہ اب دس کیلئے ہے اب دس سال تک آپس میں کوئی جنگ نہیں ہو گی اگر کسی ایک مقام پر ساری شرطیں موجود نہیں الگ الگ کتابوں میں کسی میں دو ہیں کسی میں تین ہیں کسی میں چار ہیں پانچویں شرط یہ اس کے بعد کافروں کا مال بھی قابل احترام ہو جائے گا اور مسلمانوں کا مال بھی چھٹی شرط یہ بڑی اچھی شرط یہ بڑی اہم شرط اس پر بہت کم توجہ دی لوگوں نے لیکن یہ وہ شرط ہے جس کے بہرحال مسلمانوں کو Favour دی
وہ یہ ہے کہ آج کے بعد سے مکہ میں کسی مسلمان کی عبادت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی اپنے اسلام کو ظاہر کر دے اس کے جان و مال کو تحفظ حاصل تھا یہی وہ شرط کہ عام طور پر جسے نہ پڑھا جاتا ہے نہ لکھا جاتا ہے اور جیسا کہ میں نے کہا کچھ کتابوں میں ہے اور کچھ میں ہے بھی نہیں ہمارے علماء کرام چاہے وہ شیخ مفید ہوں چاہے علامہ طبرسی ہوں چاہے علامہ مجلسی ہوں سب نے اس چھٹی شرط کو لکھا ہے یہ معاہدہ مکمل ہوا بس جس وقت یہ معاہدہ مکمل ہوا ابھی اس سے پہلے کہ اس پر دستخط کئے جائیں دو واقعات پیش آ گئے جو صلح حدیبیہ کا مشہور ترین واقعہ ہے یعنی کسی کو اور کچھ معلوم ہو یا نہ ہو یہ معلوم ہے ابو جندل کا واقعہ میرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر واقعہ نہ پڑھوں تو بہرحال ایک سو چھ تقاریر میں کمی آ جائے گی اور اگر پڑھوں تو آپ کا سنا ہوا واقعہ ہے
اس لئے بس یہی ہو سکتا ہے کہ بس جلدی جلدی پڑھ لیا جائے مگر دو واقعہ سے پہلے ایک چھوٹا سا واقعہ ہے یہ معاہدہ زبانی طور پر طے پا گیا چھ شرطوں کے ساتھ اب اسے کاغذ پر لکھنا ہے
کئی مرتبہ میں نے یہ حدیث مختلف مجالس میں پڑھی کہ معصوم بھی کہتے ہیں کہ چھ آدمی ایسے ہیں جن کی دعا خدا قبول نہیں کرتا کون خدا جس کا اپنا وعدہ ہے ادعونی استجب لکم نے وعدہ کیا ہے دعائیں مانگو میں قبول کروں گ
مگر بات یہ ہے کہ ان سے خدا وعدہ ہی پورا نہیں کرتا کیونکہ خدا نے ان سے وعدہ ہی نہیں کیا اور پانچ فعل جو کسی کو قرضہ دے اور بغیر کسی تحریر و گواہی اور بعد میں قرضہ نہ ملے اب یہ کہئے کوئی بات نہیں میں نے معاف کیا دوسری بات ہے لیکن یہ کہ وہ اللہ کا دروازہ پکڑ لے غلطی میں نے کی ہے تو میرا قرضہ واپس دلوا دے اللہ اس کی دعا قبول نہیں کرتا جب میں نے پہلے سے طریقہ کار بتا دیا تو اس کی پابندی کیوں نہیں کی یہ اسلام میں ایک چیز ہے لوگوں پر بھروسہ بہت اچھی چیز ہے لیکن ہر وہ معاملہ جو بعد میں اختلاف کا سبب بن سکتا ہے اسے تحریری صورت دے دو اور گواہوں کے سامنے رکھ دو
دیکھیں آج ہمارا یہ معاشرہ بہت بڑے گناہ میں مبتلا ہے مگر ایسا گناہ کہ کسی طرح سے وہ سلجھ بھی نہیں پا رہ
وہ ہے میراث کا مسئلہ اس نظام سے ہمارے گھروں کا انتظام چلتا ہے کہ خصوصاً باپ کے انتقال کے بعد پتہ بھی نہیں چلتا کہ کس طرح مسئلہ حل کیا جائے بیٹے کماتے ہیں تنخواہیں ایک جگہ دے دیتے ہیں بیٹے دکان پر بیٹھتے ہیں اب اس میں پتہ نہیں کہ بیٹوں کا پیسہ لگتا باپ کا پیسہ لگتا ہے اسے پاٹنر مانیں اسے نوکر مانیں اس پر توجہ نہیں کی جاتی جب باپ کا انتقال ہوتا ہے مسئلہ آ جاتا ہے ایک کہتا ہے میں برابر دکان پر بیٹھا ہوں میرا حق زیادہ ہونا چاہئے
دوسرا کہتا ہے وہ باپ کی دکان تھی ہر چیز برابر تقسیم ہو گی بات یہ نہیں ہے کہ ایک غلط کہہ رہا ہے یا صحیح کہہ رہا ہے بات یہ ہے واقعتاً مسئلہ حل بھی نہیں ہو پاتا ہو سکتا ہے یہ صحیح کہہ رہا ہو ہو سکتا ہے وہ صحیح کہہ رہا ہو یہ سارے ہمارے جو مسئلے ہیں تو باپ اور بیٹے کے درمیان بھی بہترین راستہ یہی ہے وہ بات جو صلح حدیبیہ کہہ رہی ہے باپ کو برا لگے یا بیٹے کو برا لگے مگر مستقبل میں پرابلم نہ ہو باپ اور بیٹے کے درمیان بھی ساری چیزیں طے کر دی ہیں یا پھر انسان اتنا وسیع القلب ہو کہ وہ کہے مجھے کچھ چاہیے ہی نہیں یہ باپ بیٹے کا مسئلہ ہے ٹھیک ہے مجھے میراث نہیں ملی تو مجھے کچھ نہیں چاہئے اگر قرضہ نہیں ملا مجھے کچھ نہیں چاہئے میرا حق کسی نے دبا لیا کوئی بات نہیں مجھے نہیں چاہئے یا اتنا وسیع القلب ہو تو ٹھیک لیکن اگر لینا ہے اور ملتا بھی نہیں تو یہ وہ مسئلہ ہے جہاں خدا بھی مدد نہیں کرت
اسی لئے صلح حدیبیہ کاغذ پر آیا کاغذ پر بھی اس طرح کہ دو دفعہ لکھا گیا فوٹو کاپی مشین تو تھی نہیں کہ دو کاپیاں نکل آئیں دو مرتبہ لکھا گیا دونوں پر ایک طرف رسول کے دستخط ایک طرف سہیل بن عمر کے دستخط ایک کاپی رسول کے پاس دوسری سہیل بن عمر کو دی گئی اس انداز سے کام ہوا پیغمبر اسلام نے جب یہ باتیں شرط کے طور پر طے پا گئیں اب اسے کاغذ پر لا رہے ہیں اس وقت پیغمبر نے علی کو بلایا اور کہا کہ تمہیں یہ تحریر دے رہا ہوں باقی سب مسلمان تو غم و غصے کی اس کیفیت میں ہیں کہ ان کو ہوش ہی نہیں کہ کیا ہو رہا ہے وہ ایک ایک چیز پر رسول سے بحث کر رہے تھے کہ مذاکرات ہو رہے ہیں اور دونوں میں سے ایک پارٹی کے اپنے آدمی اس پر بحث کر رہے ہیں کتنی پوزیشن نازک اور کمزور ہو جاتی ہے
مذاکرات کی جو میز ہوتی ہے اگر سامنے والی پارٹی کو پتہ چل جائے کہ جس سے ہم مذاکرات کر رہے ہیں اس کے اپنے آدمی اس کی بات ماننے کو تیار نہیں ہیں اور مجمع عام میں یہ ساری بحث ہو رہی ہے مگر اللہ کا رسول ان سب کے باوجود شرائط کو نہیں بدل رہا حتیٰ کہ یہ کسی نے کہہ دیا یہ کیا شرط ہے کہ اگر مسلمان مدینہ میں آئے گا تو واپس کر دیا جائے گا اور ہمارا آدمی وہاں جائے گا تو وہ واپس نہیں کریں گے تو پیغمبر اسلام نے اگر اس کا جواب دیا کہ اگر کوئی ہمارے پاس آ گیا مکہ سے ہم اسے واپس کر دیں گے اس لئے کہ ہمارا بھروسہ اللہ پر ہے اس کی حفاظت کرنے والا اللہ ہے یعنی کوئی گارنٹی دے سکتا ہے کہ اگر مدینہ میں آ گیا تو محفوظ ہو گیا وفات آنا ہے تو یہاں بھی آ جائے گی اور اگر ہمارا آدمی مکہ میں چلا گیا ہمیں ضرورت ہی نہیں اس کے پیچھے جانے کی اس نے ہم سے بہتر ان کو سمجھا ہے تو وہاں جانے پر تیار ہو گیا ہے یہ پیغمبر کا جواب بالکل سخت جواب ہے
اب کس کس کو کہا ان کے نام تو میں نہیں لیتا بس اس طرح پیغمبر نے سب کو خاموش کرایا مگر لوگ خاموش نہیں ہو رہے
جنہیں بولنا ہے بے چین ہیں پریشان ہیں اور مطمئن صرف چند ہی نظر آتے ہیں جو صرف کہ رسول کہہ رہے ہیں ہم نے صرف اس کو سننا ہے اور اطاعت کرنا ہے ان میں جو نمایاں خصوصیات نظر آتی ماہرین نفسیات یہ کہتے ہیں ہر آدمی کا ایک مزاج بن جاتا ہے جسے غصہ آ رہے تو وہ ہر جگہ غصہ کرے گا کبھی ایسا موقع آتا ہے کہ ہمیں لڑنے بھڑنے والا آدمی درکار ہوتا ہے ہمیں ضرورت پڑ جاتی ہے حج کے قافلوں پر بس ڈرائیور سے لڑنا اب لڑنا بھی ایک طریقہ کار ہے ایسے تو لڑ بھی نہیں سکتے یہ بھی اسلام ہے کہ قوہ غصہ بالکل صفر بھی نہیں ہونی چاہئے اس کی بھی ضرورت پڑتی ہے اسی طرح جو ٹھنڈے مزاج کے آدمی ہیں ان کا مزاج ہی یہ بن جاتا ہے کہ ہر جگہ پر وہ ٹھنڈے ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ اگر اسلام کا دشمن بھی آ جائے تو انہیں نہی عن المنکر کی ہمت نہیں ہوتی کبھی ان کی سخت ترین ضرورت پڑتی ہے جب مذاکرات کرنا ہوں پیار و محبت سے کسی کو سمجھانا ہو میرے مولا کی خصوصیت یہ بتائی گئی علی کی خصوصیت بتائی گئی کہ علی کا اپنا کوئی مزاج ہی نہیں تھا جہاں جو مرضی پروردگار تھی وہاں وہ ہی علی کا عمل تھا ایک طرف بہت مسلمان اتنے ٹھنڈے تھے کہ جب میدان جنگ میں لڑنے کا وقت آتا تھا تو لڑا نہیں جاتا تھا اور کچھ اتنے گرم تھے کہ صلح حدیبیہ کے وقت ٹھنڈے ہونے کا وقت تھا ان سے ٹھنڈا نہیں ہوا جا رہا تھ
ایک طرف علی ہیں جب تلوار چلانے کا وقت آتا ہے تو وہی صاحب ذوالفقار ہیں اور جب صلح کا وقت آتا ہے تو وہی کاتب صلح حدیبیہ ہیں ہر جگہ جہاں مرضی رسول خدا ہے وہ اسی طرح تیار ہیں اور یہ اس طرح کا مزاج ہونا علی کا افتخار ہے کہ جب تلوار کا وقت آیا تو تلوار ملی اور جب قلم کا وقت آیا تو رسول نے قلم دی اور علی کے مزاج میں کوئی فوق نہ پڑ
اسی لئے پتہ چلتا ہے کہ صلح حدیبیہ میں مذاکرات کی میز پر صرف علی و نبی نظر آ رہے ہیں باقی سب نیچے بیٹھے ہیں خواہ صدموں غصہ یا جوش یعنی مزاج کے تابع ہیں
پیغمبر لکھواتے جا رہے ہیں علی لکھتے جا رہے ہیں یہ بھی بہت مشہور واقعہ ہے کہ اس وقت لکھنا شروع کیا گیا شروع میں ہی دو رکاوٹیں آ گئی
مولا نے خود کچھ نہیں لکھا کہا کہ رسول جو خود زبان سے بولیں گے
بسم الله الرحمن الرحیم
هذا ما قال علیه رسول الله من القریش
یہ وہ ہے کہ جس پر صلح کی ہے رسول نے اور قریش کے سرداروں نے اب جب بسم اللہ کی ہوئی تو مسئلہ آ گی
سہیل بن عمر نے کہا یہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کیا ہوتا ہے ہم اللہ کو تو جانتے ہیں یہ رحمن و رحیم کون ہے اس کو ہم نہیں جانتے وہی لکھو جس کو ہم جانتے ہیں باقی کاٹ دو پیغمبر مان گئے ادھر مسلمانوں کو غصہ آ گیا کہ آج رسول کو معاذ اللہ ہو کیا گیا ہے
اتنا جھکتے جا رہے ہیں کہ بسم اللہ کی آیت کو بدل دیا علی سے کہا چلو کاٹ دو جو سہیل کہہ رہا وہی لکھ دو مگر ایک بات یاد رکھئے کہ اگر سہیل کہتا کہ اللہ کا نام نہ لاؤ بسم لات لکھو بسم منات لکھو وہ بات عقائد کی تھی وہاں پیغمبر اصرار کرتے اور کبھی اس بات کو قبول نہ کرتے لیکن یہاں پر ابھی جو بات ہے وہ صرف لفظ کی ہے
تو یہاں یہ رسول نے بتا دیا کہ جب مصالحت کئے جاؤ کبھی کاروبار کی ضرورت پڑتی ہے کبھی میاں بیوی میں طلاق کی نوبت آتی ہے تو اگر اصولوں پر جھگڑا ہو تو قبول نہ کریں لیکن اگر لفظی جھگڑا ہو تو مومن کی نشانی یہی ہے کہ وہ لفظی جھگڑے میں نہیں پڑت
چلو اللہ ہی کا نام ہے تم کہتے ہو تو تمہارے طریقہ سے لکھ دیا اس کے بعد دوسرا مسئلہ آیا جس کو ہر ایک جانتا ہے ہذا ما صلح محمد رسول اللہ و صلح من القریش پھر وہی اعتراض اے عبداللہ کے بیٹے یہ رسول اللہ کیا چیز اگر ہم تمہیں رسول مان ہی لیں تو پھر اس ساری جنگ کا کیا فائدہ یہ سب رکاوٹ یہ صلح حدیبیہ سب کچھ ختم ہو جائے گ
آخر تمہیں اپنے باپ کا نام لکھنے پر کیوں اعتراض ہے محمد بن عبداللہ اب یہ مسئلہ کہ پیغمبر کی ذمہ داری اور ہے اور علی کی ذمہ داری اور ہے یاد رکھیں یہ بہت اہم اسلامی مسئلہ ہے کبھی ہماری ذمہ داری کچھ اور ہوتی ہے لیڈر کی ذمہ داری کچھ اور ہوتی ہے آپ کو چاہے معلوم ہو کہ سلمان رشدی کا مسئلہ جب کھڑا ہوا تھا تو امام خمینی کے فتویٰ کے بعد یہ کوئی نیا فتویٰ نہیں تھ
چودہ سو سال سے عام شیعہ سنی حنفی حنبلی سب اس پر متفق تھے
نبی کی توہین کرنے والا واجب القتل ہے
اور نبی کی توہین کرنے والا ایسا واجب القتل ہے ہمارے اعتبار سے کہ اس کیلئے عدالت مجتبہ سے نہیں پوچھنا باقی اگر کوئی گناہ کر چکا ہے مثلا زنا واجب القتل ہو گا ہمیں اختیار نہیں کہ اس کو سزا دیں ہم پکڑ کر لے جائیں گے ہمیں سزا دی جائے گی لیکن شاتم نبی کو برا کہنے والا کو حکم ہے جس کو موقع ملے اس کو مار دو اتنا پکا مسئلہ ہے مگر یورپ میں بعض ایسے علماء ہیں جنہیں سعودی عرب کی جانب سے تنخواہ ملتی ہے ٹیلی ویژن پر آ کر کہا یہ فتویٰ غلط ہے اور دلیل یہ پیش کی کہ دو چار رسول کے زمانے کے مجرم خود رسول کے سامنے آئے تو رسول نے انہیں قتل نہیں کیا اب نبی کے سامنے آئیے تو نبی اس کو معاف کر دے یہ اور مسئلہ ہے اور ہمارے سامنے آئے تو ہم اس کو معاف نہیں کر سکتے ہماری ذمہ داری الگ نبی کی ذمہ داری الگ علی اکبر کا قاتل سید سجاد کے سامنے آئے تو سید سجاد چھوڑ بھی سکتے ہیں قتل بھی کر سکتے ہیں ہمارے سامنے آئے ہمیں یہ اختیار نہیں ہم کو تو اسے قتل کرنا ہی ہے
یہ معاملہ ہر جگہ ہے جب جس کا اپنا کوئی معاملہ ہو تو شریعت اسے اجازت دیتی ہے
دوسروں کی ذمہ داری بدل جاتی ہے
رسول خود رسول اللہ کٹوا سکتے ہیں مگر علی کی ذمہ داری ہے کہ وہ رسول اللہ نہیں کاٹ سکتے اسی وجہ سے رسول نے علی کی معاذ اللہ مذمت نہیں کی
اس کے مقابلے میں کچھ اور واقعات ہیں کہ کچھ اور لوگوں نے پیغمبر کا حکم نہیں مانا تو پیغمبر کتنے ناراض ہوئے کیسے اٹھا دیا کیسے غیض و غضب میں آ گئے یہ وہ مسئلہ ہے فوراً پتہ چل جاتا ہے کہ جس میں نبی کی ذمہ داری الگ تھی علی کی ذمہ داری الگ تھی
سلمان رشدی علی کے سامنے آئے تو علی قتل کرنا پڑے گا اور نبی کے سامنے آئے تو نبی کی مرضی یہ ان کا اپنا مجرم ہے چاہیں تو قتل کریں چاہے تو قتل نہ کریں لیکن ہمارے ہاتھ میں اختیار نہیں ہے
خیر میرے مولا نے قلم رکھ دی
رسول نے اعتراض نہیں کیا کاغذ اٹھایا جہاں رسول اللہ لکھا تھا کاٹ کر اپنے والد کا نام لکھ دیا ضمنی طور پر یہ مسئلہ حل ہو گیا کہ رسول نے وہ لفظ کاٹا بھی اور لکھا بھی کاٹنے کا مطلب ہے کہ رسول نے پڑھا ہو گا اور لکھنے کا مطلب ہے کہ رسول پڑھنا لکھنا جانتے تھے
ایک مثال دیتا ہوں چینی اخبار کا ایک ورق آ جائے تو اس میں ہمیں پتہ ہی نہیں کہ ہمارا نام کیا ہے
بس نبی کا کاٹنا اور لکھنا یہ دلیل ہے اس بات کی کتاب کو پڑھنا لکھنا آتا تھ
سن لیں نبی کا ایک جملہ اے علی مجھ پر جو گزری ہے آپ پر نہیں جو میں نے کیا ہے وہ ہمیں کرنا ہو گا آؤ کامل بن کی تاریخ میں دونوں متفق کہ وہ وقت آ گیا جب صین کی لڑائی نیزوں پر قرآن بلند ہونا ہے پر ختم ہوئی اور دومة الجندل کے مقام پر حاکم شام اور مولا کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا حاکم شام کی جانب سے عمر بن عاص اور مولا کی جانب سے عبداللہ بن علی راقم تھے وہاں پر جو معاہدہ لکھا گیا پہلا جملہ تو جو تھا ٹھیک بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا گیا
هذا ما تحکم ما علیه علی امیر المومنین یہ وہ فیصلہ جو علی امیر المومنین ہیں ان کے درمیان اور حاکم شام کے درمیان پھر بالکل یہی اعتراض عمر بن عاص نے کیا امیر المومنین کیا چیز اگر ہم اس کو امیر المومنین مان لیں تو ہمارا جھگڑا ہی ختم ہو جائے گا پھر ہمیں جھگڑا کرنے کا اختیار ہی نہیں
امیر المومنین سے مصالحت نہیں ہوتی امیر المومنین کی اطاعت کی جاتی ہے تو جناب ہم اس لفظ کو نہیں مانیں گے اس وقت عبداللہ بن رافع نے کہا یا امیر المومنین میرے لئے کیسے ممکن ہے کہ جو آپ کو اپنا امیر مانتا ہوں آپ کو امیر کاٹ دوں علی نے کہا لاؤ یہ کاغذ مجھے دو وہاں پر اس کو برا نہیں کہا تم میرے کاتب ہو اور خاص میرے نہیں بیت المال کے کاتب ہو
تمہارا کام یہ ہے کہ کاغذ لاؤ اور علی بن ابو طالب کو دیا اور پھر ایک مرتبہ کہاالله اکبر هذا السنة سنة رسول الله آج میں رسول کی سنت پر چلا اور یہ وہی چیز ہے جس کی خبر مجھے خدا کے رسول نے دی تھی
بس ایک بات کہہ کر اپنے موضوع پر آتا ہوں بظاہر یہ دونوں آدمی ہمیں پسند نہیں آ سکتے جو علی کو امیر المومنین نہ مانے جو رسول اللہ کو رسول اللہ نہ مانے سہیل بن عمر بھی غلطی کر رہا حاکم شام کا نمائندہ بھی غلطی کر رہا ہے لیکن ایک حد تک انہیں شاباش دینے کو دل چاہتا ہے کہ رسول نہیں مانا تو نہیں مانا کہہ دیا اگر رسول مانیں تو ان کا حکم ماننا پڑتا ہے
عمر بن عاص نے کہہ دیا اس لئے امیر المومنین کٹوا رہا ہوں اگر علی کو امیر المومنین مان لیا جو مصالحت نہیں اطاعت کی ضرورت ہے
تعجب ہے آج کے مومن پر امیر المومنین بھی مانتا ہے اور پھر علی پر اپنا حکم بھی چلاتا ہے رسول کو رسول اللہ مانتا ہے پھر رسول کے آگے اپنی مرضی چلاتا ہے کہا کہ کون جی شریعت کی پابندی کر سکتا ہے یہ کوئی کرنے کی باتیں ہیں شادی بیاہ میں تو وہی جو رسمیں ہیں دودھ پلایا جا رہا ہے تو جاتا رہے گ
چاول پھیکے جاتے ہیں تو پھیکے جاتے رہیں گے رسول رسول اللہ بھی ہے علی امیر المومنین بھی ہے لیکن حکم ان کا نہیں چلے گ
ان مسلمانوں سے تو وہ بہتر بات تو صحیح کی کہ اگر علی کو امیر المومنین مانیں رسول کو رسول اللہ مانیں تو ان کی بات ہی مانتا ہوں اعتراض کا حق ختم
یہ نکتہ ذہن میں رکھیں ان کا یہ اعتراض صحیح اعتراض ہے کہ اگر ان کو امیر المومنین مانتا تو سمعنا و اطعنا کی منزل پر آنا پڑے گ
فائدہ ہو نقصان ہو
اولاد کو قربان کرنا پڑے گا شاید ہمارے ہاں بات اتنی واضح نہیں ہے امام خمینی جب آئے تو کتنی باتیں چل رہی ہیں امام خمینی کو یہ کرنا چاہئے یہ کرنا چاہئے
یہ نہیں کرنا چاہئے
ایک پیغام یہ ہے اگر امیر المومنین کسی کو مانتا ہے تو پورا ماننا پڑے گا رسول اللہ ماننا ہے تو صلح نہیں ہو سکتی
بغاوت نہیں ہو سکتی مشورہ نہیں ہو سکت
ابھی دستخط ہونا باقی تھے ابو جندل آ گئے اب اتنا وقت نہیں کہ ابو جندل حالات بتائے جائیں یہ پھر بیان کئے جائیں گے لیکن بس اتنی سی بات معاہدہ ہو گیا ہے لیکن دستخط نہیں ہوئے
پیغمبر نے ابو جندل سے کہا چلے جاؤ پھر ایک جملہ کہا میں نے سارے مسلمانوں کا ایک فائدہ اور خیال کیا کبھی اجتماع کے فائدہ کیلئے فرد کو قربانی دینا پڑتی ہے پورے ماحول کو بچانے کیلئے دو چار آدمیوں کو قربان ہونا پڑتا ہے لیکن عام مسلمان جو تھے تو ڑے غصہ میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے مسئلہ پر ان کا غصہ اور بڑھ گی
محمد رسول اللہ کے مسئلہ پر تو غصہ اپنے عروج پر پہنچ گیا کتنا ہم کو دبایا جائے کتنا ہم کو معاذ اللہ ذلیل و بے عزت کیا جائے
یہ جملے تھے مسلمانوں میں اور ابو جندل کو دیکھ کر رسول بھی روئے اور مسلمان بھی روئے کیونکہ اس نے مسلمانوں کے پاس آ کر برقعہ اٹھایا اور اپنے زخم دکھائے کہا میرے جسم پر جتنے زخم ہیں ہر روز میرا باپ مجھے مارتا ہے اور اپنے غلاموں سے پٹوا رہا ہے
کیا تم ایک مظلوم مسلمان کی مدد کو تیار نہیں اور جملہ ہر مسلمان تو مسلمان اللہ کا رسول زارو قطار رو رہا ہے ابو جندل کو دیکھ کر مگر کہہ رہا ہے
تمہارے ایک کی وجہ سے سارے مسلمانوں کا فائدہ ہو رہا ہے
پس یہی وہ اصول ہے جس کی بنا پر رسول کی بیٹیاں کوڑے کھاتی رہیں رسول چپ رہے اور علی کی بیٹیاں قید بنا لی جاتی رہیں اور علی خاموش رہے
مصائب
صلح حدییبہ حصہ ، چھارم
اعوذ باللّٰه من الشیطن الرجیم
بسم اللّٰه الرحمن الرحیم
الحمدللّٰه الملک الحق المبین والصلٰوة والسلام سیدالمرسلین وآله والسلام سید المرسلین وآله وعترته واهلبیة الطیبین الطاهرین ولعنة اللّٰه علی اعدائم اجمعین
اما بعد فقد قال سبحانه وتعالی فی محکم کتاب المبین
بسم اللّٰه الرحمن الرحیم
( لقد صدق الله رسوله الرویا بالحق لتدخلن المسجد الحرام آمنین ان شاء الله )
عددی اعتبار سے تقریر نمبر ۱۰۷ موجودہ سال کی دسویں تقریر اور ذکر ہو رہا تھا صلح حدیبیہ کے نتائج کا اس بات پر یقیناً مجھے معذرت طلب کرنا چاہئے ہماری ماہ دسمبر کی پہلی گفتگو ہوئی تھی اس کے بعد
تقریر کے اعلان کے بغیر مسلسل تین ہفتوں کا وقفہ آ گیا بہرحال اس کی وجوہات جو بھی ہوں اس کے نتیجے میں یہ نقصان تو ہوا ہوگا بہت سی وہ باتیں جن کا آج کے موضوع سے براہ راست تعلق ہے ذہن سے نکل گئی ہوں گی اس لئے ابتداء میں تین یا چار منٹ سرسری طور پر واقعات کو دہرانا پڑے گ
بات یہ ہو رہی تھی کہ سن چھ ہجری میں اللہ کے رسول نے خواب دیکھا کہ پیغمبر اپنے تمام ساتھیوں کے ساتھ مسجد الحرام میں داخل ہو رہے ہیں خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں اور بعض روایتوں کے مطابق صفا اور مروہ کے درمیان دو پہاڑیوں کے درمیان سعی یعنی سات مرتبہ دوڑنے کا عمل انجام دے رہے ہیں اور اس اختتامی عمل یعنی سعی اور سر منڈوانے کا واجب عمل انجام دیاجارہاہے جیسے ہی یہ خواب مسلمانوں کو پتہ چلا وہ تمام مسلمان جن کا تعلق مکہ سے تھا اور جنہیں اپنے وطن کو چھوڑے چھ سال گزر گئے تھے ان کی بے چینی اور تڑپ بڑھ گئی کسی نہ کسی طرح ہمیں مکہ جانا ہے ۱۴۰۰ مسلمانوں کا لشکر پیغمبر اسلام کے ساتھ چلا مگر حدیبیہ کے مقام سے آگے اس لشکر کو بڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کثرت کے ساتھ پیغمبر اسلام کی ذات سے معجزات لوگوں کے سامنے آئے حدیبیہ کے مقام پر روکے جانے کے بعد دونوں طرف سے قاصدوں کا تبادلہ شروع ہوایہاں کاپیغام وہاں اور وہاں کا پیغام یہاں لیکر آتے ہیں
اسی اثنا میں پیغمبر اسلام پر ۵۰ تیر اندازوں نے حملہ بھی کرنا چاہا اور ان تمام واقعات کا اختتام یہاں پر ہوا قریش نے اپنے انتہائی سخت مزاج اور پختہ عمر کے سہیل بن عمر کو بھیجا اور مکمل اختیار دے کر بھیجا جس کے نتیجہ میں صلح حدیبیہ کا معاہدہ طے پایا اب یہ وہ معاہدہ جسے تقریباً تمام مسلمان جانتے ہیں ابتدا ہی سے اس کی شکل و صورت ایسی ہے کہ کوئی مسلمان اس پر خوشی سے راضی نہیں ہے
ادھر سہیل بن عمر دو چیزوں کو محسوس کر چکا تھا نمبر۱ اللہ کا رسول آج کے دن ہرصورت میں صلح چاہتا ہے اور کسی حالت میں بھی جنگ پر تیار نہیں نمبر۲ بہرحال سہیل بن عمر کوئی عام آدمی نہیں ہے بہت ہی پرانا ڈپلومیٹ ہے مدبر ہے قریش کا مانا ہوا سردار ہے تو وہ یہ دوسری چیز کا بھی اندازہ کر چکا ہے کہ مسلمانوں کے جذبات منتشر ہیں مسلمان غم و غصہ کی حالت ہیں ہیں اور وہ یہ محسوس کر رہا ہے کہ اگر میں چاہوں تو قائد اور عوام کے درمیان اختلاف پیدا کر سکتا ہوں عام مسلمان راضی نہیں ان کے چہرے یہ بتا رہے ہیں کہ حدیبیہ کے مقام پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ دل سے اس سے متفق نہیں اور دوسری جانب سہیل بن عمر کو یہ معلوم ہے آج دن وجہ کچھ بھی ہو یہ پیغمبر ہر صورت میں مصالحت چاہتا ہے جس کی تفصیلات گزشتہ تقریر میں بیان ہو چکی ہیں اور پوری کارروائی میں یہ نظر آ رہا ہے کہ ہر ہر مرحلہ پر سہیل بن عمر پیغمبر اور مسلمانوں کو دبانا چاہتا ہے اور ایسا دبانا چاہتا ہے کہ کوئی تعجب نہیں کہ مسلمانوں کی تلواریں خود رسول کے خلاف نکل آئیں
چنانچہ ہم نے دیکھا بسم اللہ الرحمن الرحیم کے لکھے جانے پر اس کو اعتراض ہے اور اگر یہ اعتراض ایک لفظی اعتراض تھ
ان کے اس کے بدلے میں دو لفظ تجویز کیا باسم کلھم لفظ اللہ اس کے اندر بھی ہے صرف الفاظ کی ترتیب کا فرق ہے مقصد پیغمبر اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش ہے اس کے بعد ہم نے دیکھا پیغمبر اسلام کے نام کے ساتھ اختلاف پھر آپ نے دیکھا کہ ایک ایک شرط ایسی کہ ہر شرط پڑھنے کے بعد مسلمانوں کا خون کھولا جا رہا ہے وہ تمام شرائط بیان کی جا چکی ہیں مگر اس میں خصوصیت اس شرط کی ہے جیسے عام طور پر نظر انداز کر دیا جانا ہے
یہ والی شرط کہ آج کے بعد مکہ میں جتنے مسلمان ہیں انہیں کھل کر عبادتیں انجام دینے کا موقع دیا جائے گا صلح حدیبیہ کی باقی پانچ شرطیں مسلمانوں کے خلاف تھیں یہ ایک اہم ترین شرط تھی جو مسلمانوں کے حق میں تھی مگر چونکہ مخالف شرطوں کی تعداد زیادہ تھی اس لئے اس شرط پر عام طور پر لوگ توجہ نہیں دیتے پیغمبر اسلام کا ایک بڑا مقصد اس شرط سے حل ہو رہا ہے فی الحال سہیل بن عمر کا رویہ ہے اب جو پانچ شرطیں وہ رکھوا رہا ہے ایک کے بعد ایک سخت ہو تاکہ مسلمانوں کو یہ محسوس ہو کہ کوئی انہیں کوڑے مار رہا ہے اگر صلح کا معاہدہ ہجرت کی رات لکھا جاتا تو بات سمجھ میں آ جاتی کیونکہ مسلمان کمزور ہیں پھر اگر دب کر صلح کریں تو عقل تسلیم کرتی ہے مگر یہ معاہدہ لکھا گیا بدر کی فتح کے بعد احد کی فتح کے بعد خندق کی عظیم ترین کامیابیوں کے بعد اور اتنے بڑے لشکر اسلام کی موجودگی میں کہ اس سے پہلے کفار مکہ کو مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد کا مقابلہ نہیں کرنا پڑا وہ مسلمانوں کی چھوٹی فوج کا مقابلہ کرتے رہے ہیں وہی کافر مسلمانوں کے اتنے بڑے لشکر کو دیکھ کر اتنا ضد پر اترے ہوئے ہیں یقیناً اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی مصلحت اور بظاہر ہمیں یہی چیز نظر آتی ہے سہیل بن عمر یہ دیکھ رہا ہے کہ پیغمبر اسلام کی مجبوری ہے کہ معاذ اللہ میں یہ لفظ بہت ہی ناقابل شائستہ استعمال کر رہا ہوں سہیل بن عمر یہ دیکھ رہا ہے کہ رسول کی مجبوری یہ ہے کہ رسول نے صلح کرنا ہے اور مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ رسول کی مجبوری کو نہیں سمجھ رہے وہ اپنی طاقت کو دیکھ رہے ہیں اور ان کا غصہ بڑھتا چلا جا رہا ہے
یہاں تک کہ یہ معاہدہ مکمل ہوااہم اہم باتوں کو پھر دہرا لیا جائے دس سال تک یہ معاہدہ چلے گا اس دوران مسلمان اور کافر آپس میں جنگ نہیں کریں گے اس سال مسلمان اپنا عمرہ نامکمل چھوڑ کر چلے جائیں اگلے سال آ کر اپنا عمرہ مکمل کریں بغیر ہتھیار کے عرب میں ہتھیار کم ہیں مرد کا زیور زیادہ ہیں
اس کے علاوہ اور کوئی ہتھیار نہ آئے گا
عرب کے تمام قبیلوں کو یہ اجازت دی جاتی البتہ یہ والی شرط بھی مسلمانوں کے حق کی شرط ہے عرب کے تمام قبیلوں کو یہ اجازت ہے کہ وہ جس فریق کا ساتھ دینا چاہیں دیں مکہ کا رہنے والا مسلمان اگر مدینہ چلا گیا تو اسے واپس کیا جائے گا لیکن مدینہ کا رہنے والا اگر مکہ چلا گیا تو اسے واپس نہ کیا جائے گا
یہ تمام شرطیں مکمل ہو گئیں اور اس کے بعد وہ مشہور واقعہ پیش آیا جس کے بارے میں گزشتہ تقریر میں بھی میں نے عرض کیا تھا اسے بیان کروں تو مناسب محسوس نہیں ہو رہا کیونکہ اتنا مشہور واقعہ ہے اگر بیان نہ کروں تو واقعات کے درمیان خلا ہو جائے گ
ابھی تک سہیل بن عمر مسلمانوں کو پورا جوش اور غصہ دلانا چاہتا ہے اب لفظ کی بات نہ رہی عمل کی بات ہوگئی پھر وہ واقعہ ہو گیاابو جندل کی واپسی جب سارا ڈرافٹ تیار ہو گیا معاہدہ کی تحریر مکمل اہم ترین مرحلہ باقی ہے ہر معاہدہ بے کار ہے جب تک اس پر دستخط نہ ہوں ابھی پیغمبر اور سہیل بن عمر کو دستخط کرنا ہے زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا ایک ایسا مسلمان جو سر سے پیر تک زخموں سے چور اپنے آپ کو آ کے پیغمبر کے قدموں میں گرا دیتا ہے اورایک مرتبہ چونک کر مسلمانوں نے دیکھا کہ کون آیا ہے؟ تمام مسلمانوں نے دیکھ لیاکہ ابوجندل ہے عین اس وقت پہنچا کہ ابھی دستخط نہیں ہوئے تو سب نے پہچان لیا کہ ابو جدل ہے اس کا اصل نام عاص ہے عاص بن سہیل بن جندل اسی امیراور امیر قریش کا بیٹا ابو جدل ہے جو چند مہینے پہلے اسلام قبول کر چکا ہے اس کا باپ اتنا بڑا دشمن اسلام تھا کہ آج قریش اسے اپنا نمائندہ بنا کر بھیج رہے ہیں اپنے بیٹے کے اسلام کو کیسے برداشت کر سکتا ہے اس دوران اس نے اپنے بیٹے پر دل کھول کر ظلم کئے زنجیروں اور بیڑیوں میں اس کو جکڑ کر رکھا اور گھر کے کمرے میں بطور قیدخانے محبوس کر دیا لیکن بعد میں حدیبیہ سے آ جانے کا موقع ملا اسی طرح واقعہ بڑا مشہور جلدی جلدی سے اسے مکمل کر دیا جائے ابھی تک اس کے جسموں پر زخموں کے نشانات باقی ہیں اور یہ نشانات کسی دشمن نے نہیں کسی گیر نے نہیں کسی غلام نے نہیں بلکہ حقیقی باپ اپنے بیٹے پر فقط دین اسلام دشمنی میں لگائے ہیں
وہ ایک مرتبہ اپنے آپ کو پیغمبر کے قدموں میں گرا دیتا ہے خوش رہے وہ جس نے مجھے کافروں کی قید سے رہائی دلوائی اور آپ تک پہنچایا آنے والا بڑی امیدیں لیکر آیا آنے والا اس یقین سے آیا کہ آج کے بعد میری تمام زحمتیں مکمل ہو گئیں اس کے پاس پہنچا ہوں جو ہر مخلوق کا ملجا اور جائے پناہ ہے مگر ایک پیغام یہاں ہمارے سامنے آ رہا ہے بعض اوقات معاشرے کے سوسائٹی کے اجتماع کے فائدے کیلئے افراد کو قربانی دینا پڑتی ہے
بعض اوقات اپنے جائز حق کو چھوڑنا پڑتا ہے
تاکہ سارا معاشرہ سکون کے ساتھ رہے
چھوٹے پیمانے پر اس کی مثال بے گناہ اور بے قصور بچہ جس کے والدین نے گناہ کیا لیکن فقط اس لئے کہ معاشرہ زنا جیسی خرابیوں سے محفوظ رہے اور اس بے گناہ بچے کو بھی اپنے چند مسلمہ حقوق سے دستبرداری اختیار کرنا پڑے گی
یہ پیش امام نہیں بن سکتا یہ مرجع تقلید نہیں بن سکتا اور بڑے پیمانے میں اس کی مثال انقلاب ایران اور اس سے پہلے صلح حدیبیہ میں ہمارے سامنے کہ معاشرے کی بہتری کے لئے دین کی خاطر فرد کے حقوق سے دستبردار ہونا پڑتا ہے ابو جندل کا مسئلہ بھی یہ تھا کہ اب اس سے ایک اجتماع کی خاطر مزید قربانی دینا ہے
کیونکہ ایک طرف اسلام کہتا ہے کہ مظلوم کو پناہ دو مظلوم کی حمایت کرو مظلوموں کا ساتھ دو مظلوم کے معاملے میں خاموش رہنے والا غیر جانبدار نہیں ہے بلکہ ظالم کا دوست ہے تو اب صلح حدیبیہ کے واقعات کو دہرا لیا جائے
اللہ کا رسول ابو جندل کو دیکھتا ہے اور وہ ابو جندل جو درخواست کر رہا ہے التماس کر رہا ہے پیغمبر اسلام کے قدموں میں گرا ہوا ہے سہیل بن عمر فوراً اپنے بیٹے کو پہچان لیتا ہے پیغمبر اسلام مسلمانوں سے مخاطب ہیں یہ جملے ساری تاریخوں میں نہیں کچھ تاریخوں میں ہیں مسلمانوں کا بھائی آیا ہے ابو جندل جو دستخط کیلئے ہاتھ میں قلم پکڑ چکا ہے قلم کو واپس رکھتا ہے اور کہتا ہے خبردار میرا بیٹے کے بارے میں کوئی نہ بولے
پیغمبر اسلام نے اسے کہا کہ یہ مسلمان ہے ہمارا اسلامی بھائی ہے اس کو پناہ دینا ہمارا فرض ہے
سہیل بن عمر نے کہا اے محمد یہ وقت ہے دیکھنے کا کہ معاہدے کے بارے میں تم کتنے سنجیدہ ہو ابھی ابھی یہ معاہدہ طے پایا ہے کہ مکہ کا کوئی آدمی آئے تو مدینہ میں اسے پناہ نہیں دی جائے گی اللہ کے رسول نے بالکل صحیح بات کی کہا اگر معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے دستخط ہو جاتے تو تمہاری بات صحیح تھی مگر ابھی دستخط نہیں ہوئے
سہیل بن عمر کہتا ہے اگر ایسی بات ہے تو یہ معاہدہ اپنے پاس رکھو ہم کوئی معاہدہ کرنے کو تیار نہیں کون سہیل بن عمر اتنا سخت اور اکڑ کر بول رہا ہے لیکن اسے پتہ ہے کہ مکہ اتنا طاقتور نہیں کہ ۱۵۰۰ مسلمانوں کا مقابلہ کر سکے جو کہ ۳۱۳ مسلمانوں کے سامنے شکست کھا چکا ہے تو ۱۵۰۰ کا مقابلہ کیسے کر سکتا ہے کہ پھر اس کا بڑھ بڑھ کر یہ بولنا کہ اگر میرے بیٹے کی واپسی پر دخل اندازی کی جائے گی اور قانونی نکتہ پیش کیا جائے گا تو رکھو یہ معاہدہ میں اس پر دستخط کرنے کو تیار نہیں ہوں کیونکہ وہ محسوس کر چکا ہے وہ بھانپ چکا ہے کہ اللہ کا رسول ہر صورت میں صلح نامہ چاہتا ہے جنگ کیلئے قطعاً تیار نہیں ہے ورنہ سہیل بن عمر کا یہ انداز نہ ہوتا جب پیغمبر اسلام نے اس کو سنا تو روایت یہ ہے کہ اس طرح سے اس سے درخواست کی نہ اس کے ساتھ قریش مکہ نے دو اور آدمی بھیجے ان سب کو رحم آ گیا ان سب کے دل میں ہمدردی پیدا ہو گئی انہوں نے اپنے ہاتھ سے ابو جندل کو پکڑا اور مسلمانوں کے حصہ میں لے گئے کہ رکھو مسلمانوں تم اسے اپنے پاس ہم لوگ آپس میں یہ معاملہ طے کر لیں گے کہ سہیل بن عمر اپنے دو ساتھیوں سے لڑ پڑا میں لیڈر بنا کر بھیجا گیا ہوں تم بھی واپس چلے جاؤ یہ معاہدہ نہیں ہو گا اگر میرا بیٹا میرے حوالے نہیں کیا گیا پیغمبر اسلام ظاہری اعتبار سے جتنی کوشش کر سکتے تھے تو کر لی تو آخر میں پیغمبر نے سہیل بن عمر کو دیکھا ابو جندل کو دیکھا اور کہا اے ابو جندل جیسا تمہارا باپ کہہ رہا ہے اس کو مان لو اور واپس چلے جاؤ تو ایک مرتبہ اس نے ان زنجیروں اور بیڑیوں کو کھول کھول کر اپنے زخم اور نمایاں کرنا شروع کر دیئے مسلمانوں کا غصہ جو شروع سے ہی بڑھتا چلا آ رہا تھا جب سے بسم اللہ الرحمن الرحیم سے یہ شروع ہوا ہے اب تو یہ عروج پر پہنچ چکا ہے مگر پیغمبر اسلام یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے پھر بھی اس کے بعد کہتے ہیں اے سہیل پھر بھی چلے جاؤ اس لئے کہ اللہ تمہاری حفاظت کرے گا اور تمہارے بچنے کا کوئی راستہ نکال دے گا تو پیغمبر اسلام نے اتنی خوشخبری اس کو سنائی اور ایک مرتبہ ابو جندل بڑھا اور اپنے باپ کی جانب بڑھنے لگا
اب یہ بھی تاریخوں میں لکھا ہے اس وقت مسلمانوں میں سے ایک دو آگے بڑھے اور ابو جندل کے پاس پہنچ کر اسے اکسانا چاہا کہ وہ پیغمبر اسلام کی مخالفت کرے اور کہا تم اس وقت آزاد ہو کیوں پیغمبر کی بات مانتے ہو تلوار اٹھاؤ کسی کی اور اپنے باپ کو قتل کر دو تو ابو جندل جواب دینے لگے گو کہ پیغمبر مجھے جواب دے چکے ہیں اب مجھے قید گوارا ہے اب مجھے زخم کھانا گوارا ہے اب مجھے اپنے باپ کے ہاتھوں سے یہ مارپیٹ برداشت ہے
لیکن میں رسول کی مخالفت نہیں کر سکتا یہ کہ بیٹے نے اپنے آپ کو باپ کے حوالے کیا اور آج کی تقریر کا یہ نکتہ جو شروع سے میں بار بار دہرا رہا ہوں
سہیل بن عمر تمام مسلمانوں کے سامنے یہ دیکھ رہا ہے کہ مسلمان ابو جندل کی کتنی حمایت کر رہے ہیں اب سارے مسلمانوں کے سامنے ابو جندل اس طرح سے مارنا شروع کرتا ہے کہ زخموں سے دوبارہ خون جاری ہو جاتا ہے مگر پیغمبر اسلام بالکل خاموش ہیں یہ ظلم ہوتے بھی دیکھ رہے ہیں مظلوم کو ظالم کے ہاتھوں میں جاتے دیکھ رہے ہیں اور یہ درس دے رہے ہیں کہ جب دین اور اسلام کی مصلحت اسی میں ہوتی ہے کبھی ظالم کے سامنے خاموشی بھی اختیار کرنا پڑتی ہے
ابو جندل کا واقعہ مکمل ہوا جیسے بھی سہیل بن عمر نے اسے پکڑا پکڑ کر اپنے غلام کے حوالے کیا واپس آیا معاہدے کے دونوں کاغذوں پر دستخط کئے اس معاہدے کی دو کاپیاں تیار کی گئیں ایک پیغمبر اسلام کے حوالے کی گئی ایک ابو جندل اپنے ساتھ لے گی
صلح حدیبیہ کا واقعہ مکمل ہو گیا لیکن آگے فقہی اور شرعی مسئلہ سامنے آ گی
یہ مسلمان عام کپڑوں میں نہیں احرام میں آئے ہیں اور احرام کا مطلب ہے کہ عبادت شروع ہو گئی اور عبادتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ جب انسان عبادت شروع کر دے تو اپنی مرضی سے ختم نہیں کر سکتا ایک دفعہ عبادت شروع ہو جائے تو اس کے ختم کرنے کا ایک طریقہ کار ہے ہم نے واجب نماز شروع کر دی ایک دفعہ اللہ اکبر کہہ دیں ویسے ہم بااختیار رہیں
ظہرین کی نماز کا وقت مثلاً ۱۲-۳۰ بجے آتا ہے ۵-۴۵ بجغے قضا ہو جاتی ہے چاہے ۲-۴۵ یا ۳-۴۵ بجے جب چاہیں تکبیرة الاحرام مگر جب ایک مرتبہ اللہ اکبر کہہ دیا نماز واجب شروع کر دی اب اپنی مرضی سے اس کو نہیں توڑ سکتے سے پایہ تکمیل تک پہنچانا ہو گ
واجب عبادتوں کو شروع کرنے کے بعد بیچ میں چھوڑنے کی اجازت نہیں جب تک کہ کوئی شرعی جواز نہ آ جائے جان کو خطرہ ہو جائے گھر میں آگ لگ جائے یا کوئی ایسا مسئلہ اب مسلمان احرام پہن کے عمرہ کیلئے نکل چکے ہیں احرام پہننے کا مطلب یہ ہے کہ عبادت شروع ہو گئی لیکن عبادت کو مکمل نہیں کرنے دیا جا رہا ہو سکتا ہے کہ کون صاحب ایک فقہی مسئلہ کو میرے سامنے پیش کر دے اور کہہ دے مولانا آپ نے غلط مثال دی ہے واقعہ تو ٹھیک ہے مثال غلط دی ہے
واجبات کے اندر بیچ میں عمل توڑنے کو حرام قرار دیا ہے لیکن سنت عبادتوں میں تو اجازت ہے سنت نماز ایک رکعت پڑھی چھوڑ سکتے آپ سنت روزہ کو رکھنے کے بعد توڑ سکتے ہیں تو بات ٹھیک ہے کہ سنت عبادتوں میں بیچ میں توڑا جا سکتا ہے اور عمرہ واجب نہیں ہے عمرہ مستحب ہے تو جواب یہ ہے کہ کچھ منت عبادتیں بھی ایسی ہیں کہ جن کا حکم واجب جیسا ہے نمبر۱ اعتکاف مسجد میں بیٹھ کر تین دن عبادت کرنا اعتکاف سنت عبادت ہے جب تک کہ کوئی منت نہ مانی جائے اب اگر سنت اعتکاف کر لیا تو اس کو مکمل کرنا پڑے گا بیچ میں نہیں چھوڑ سکتے عمرہ میں بھی گو کہ سنت عبادت ہے ایک دفعہ احرام پہن لیں اب اسے مکمل کرنا واجب ہو جائے گا تمام سنتوں عبادتوں سے ہٹ کر اعتکاف اور عمرہ کا مسئلہ الگ ہے اعتکاف میں بھی دو دن کے بعد عمرہ میں تو شروع سے ہی ایک مرتبہ شروع ہو گئے تو بیچ میں چھوڑنے کا حق نہیں عمرہ احرام سے شروع ہوتا ہے ان کے بعد تین واجب اور ہوتے ہیں خانہ کعبہ کا طواف دو رکعت نماز صفا و مروہ کے درمیان سعی اور پھر آخر میں سر کو منڈوا کر احرام اتارا جاتا ہے عین اس وقت قرآن کی آیتیں نازل ہوئیں اور قیامت تک مسئلہ حل ہوا کہ اگر کوئی آدمی عمرہ شروع کر دے مگر بیماری کی وجہ سے مکمل نہ کر پائے یا حکومت کی سختی کی وجہ سے عمرہ نہ کر پائے
ادھر پیغمبر سہیل بن عمر کو رخصت کر کے مسلمانوں کی طرف آئے لشکر اسلامی انتہائی غصہ کے عالم میں بیٹھا ہے
پیغمبر نے ابو جندل کے واقعہ کے بعد کہا اے مسلمانو عمرہ تو ہم نہیں کر سکتے چنانچہ اپنا سر منڈوا لو اور اپنا احرام اتار دو مسلمان ٹس سے مس نہیں اتنا شاک پہنچا ہے مسلمانوں کو جیسے آدمی بیہوشی کے عالم میں ہو جیسے آدمی شدید غفلت کے عالم میں ہو آنکھیں کھلی ہیں مگر دماغ کسی چیز کو سمجھنے کو تیار نہیں ہیں دوبارہ پیغمبر نے یہی حکم دہرایا پھر بھی کسی پر اثر نہیں ہو
اور تیسری مرتبہ پیغمبر انتہائی غم کے عالم میں اپنے خیمے میں داخل ہوئے
پیغمبر اسلام کا طریقہ کار یہ ہے کہ جب کسی سفر پر جاتے ہیں تو اپنی بیویوں میں سے کسی ایک کو لیکر جاتے ہیں اس سفر میں پیغمبر اسلام کی وہ بیوی پیغمبر کے ساتھ تھی ایمان و تقدس میں حضرت خدیجہ کے بعد سب سے عظیم ہیں حضرت ام سلمیٰ پیغمبر اپنے خیمے میں داخل ہوئے حضرت ام سلمیٰ نے محسوس کیا کہ پیغمبر کے چہرے پر اس وقت غم کے آثار ہیں
اللہ کے رسول کیا بات ہے خیریت تو ہے کہا اے ام سلمیٰ یہ مسئلہ پیش آ گیا ہے اس وقت ام سلمیٰ نے ایک مشورہ دیا جسے اکثر میں دروس میں بیان کرتا رہتا ہوں کہ تمام مورخین اسلام متفق ہیں کہ کسی عورت کی جانب سے سیرت رسول میں آنے والا یہ بہترین مشورہ ہے سارے مسلمان آپ کے مخالف نہیں اس وقت غم کی وجہ سے یہ لوگ کوئی چیز سمجھنے کے قابل نہیں ہیں آپ زبان سے انہیں کچھ نہ کہیں آپ عملاً اپنا سر منڈوائیے جانور کو ذبح کریں اور احرام اتار دیں
بہرحال یہ عبادت گزار ہیں آپ کو دیکھ کر یہ آپ کی نقل کریں گے پیغمبر اسلام کو یہ مشورہ پسند آیا خیمے سے نکل کر اسی ڈیڑھ ہزار مسلمانوں کے درمیان گئے حجام کو بلوایا گیا اور سر منڈوانے کا حکم دیا پیغمبر اسلام کے سر کے بال اتارے گئے اور پھر جب پیغمبر قربانی کا جانور ساتھ لے کر آئے ہیں ذبح کیا گیا اور پیغمبر احرام اتار کر لباس پہن لیا یہ منظر جو دیکھا جا رہا ہے اب ڈیڑھ ہزار کے مجمع میں حرکت کے آثار پیدا ہوئے اور انہوں نے پیغمبر اسلام کی سنت کی نقل کی یہاں پر چھوٹی چھوٹی باتوں کی وضاحت ہے پہلی بات یہ ہے کہ اس دنیا میں بہت سے ایسے مقامات ہیں جہاں پر پیغمبر اسلام کا موئے مبارک ہے اور محفوظ ہیں میں یہ نہیں کہتا کہ جہاں جہاں شہرت ہے کہ پیغمبر کے بال ہیں تو وہ صحیح ہے بعض جگہیں غلط بھی ہیں لیکن بعض لوگ جو اس بات پر اعتراض کرتے ہیں وہ اعتراض غلط ہے کہ پیغمبر یا امام کا جسم بالکل محفوظ رہتا ہے
تو کوئی دانت، بال یا ہڈی کا کہیں پہنچنا ہی ناممکن یہ اعتراض کر کے ان تمام زیارتوں کو رد کیا جاتا ہے یہ اعتراض غلط ہے اس لئے کہ پیغمبر نے جو عمرہ اور حج کے دوران سر منڈوایا وہ بال مسلمانوں نے بطور تبرک آپس میں تقسیم کئے ہیں اور نسل بعد از نسل یہ بال مختلف علاقوں تک پہنچ گئے ہیں یہ تو نہیں کہا جا سکتا ہے کہ دنیا میں جہاں جہاں پیغمبر کے موئے مبارک کی زیارت کا دعویٰ کرتے ہیں ہماری مسجد یا درگاہ میں موئے مبارک ہے
ممکن ہے صحیح نہ ہو لیکن یہ دعویٰ کہ پیغمبر کا موئے مبارک کسی کو مل ہی نہیں سکتا تاریخ بتاتی ہے کہ واقعتاً حج و عمرہ کے بعد بال تقسیم ہوئے سب سے پہلے صلح حدیبیہ کا واقعہ سب سے آخری حج الوداع کا واقعہ کہ جہاں پیغمبر نے سر منڈوایا اس کی وضاحت آ گئی تو میں نے کر دی اور دوسری بات اسی سلسلہ میں ایک اور دوسری بات ایک اور یہ بھی ایک فقہی مسئلہ ہے حج اور عمرہ ایک عظیم عبادت ہے جس نے خود حج و عمرہ نہ کیا ہو اس کی سمجھ میں یہ مسئلہ نہیں آتا اور اسے یہ مشکل ترین عبادت محسوس ہونے لگتی ہے اور اس کے مسائل بوجھل ترین مسئلے لگتے ہیں اور جو کوئی حج و عمرہ کر کے آ گیا البتہ صحیح طریقہ سے تو اسے اتنی دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے ان عبادتوں سے تو ایسے بعض اوقات نماز و روزہ سے آسان یہ مسائل محسوس ہوتے ہیں تو ایسا ہی ایک مسئلہ کہ جب کوئی آدمی عمرہ پر جاتا ہے تو مردوں کو اسلام نے اجازت دی ہے کہ چاہے تو پورا سر منڈواؤ اور چاہے تو تھوڑے سے بال کاٹ لو
برادران اہل سنت کے ہاں سر منڈوانا لازم ہے اسی لئے وہ اس آدمی کو حیرت سے دیکھتے ہیں جو عمرہ پر گیا ہو اور بغیر سر منڈوائے آ گیا ہو تو یقین نہیں آتا ہے اس نے عمرہ کیا ہے ہماری فقہ میں دونوں چیزوں کی اجازت ہے یا پورا سر منڈواؤ اسے حلق کہتے ہیں یا تھوڑے سے بال منڈواؤ جسے تقصیر کہتے ہیں وہی تقصیر جو غلطی اور گناہ کے معنوں میں استعمال ہوتاہے البتہ یہ مردوں کیلئے ہے
خواتین کیلئے تو بہرحال سر منڈوانا حرام ہے انہیں تو تھوڑے سے بال ہی کٹوانا پڑتے ہیں
عام حالات میں بالکل یہ اجازت ہے چاہے سر منڈواو چاہے بال کٹواو حج ہے جس سر مندوانا پڑتا ہے اس میں بھی آقای خوئی کہتے ہیں وہا ں بھی اجازت ہے چاہے سر منڈواو یا بال کٹواو خیر اس میں بھی شک نہیں عمرہ کے دوران البتہ سر منڈوانے کا ثواب زیادہ ہے لیکن صلح حدیبیہ میں یہ مسئلہ ثو اب کا نہیں بلکہ ایمان کا بن گیا اس طرح سے کہ پیغمبر نے سر منڈوایا یہ خاص صلح حدیبیہ کی بات ہے اور وہ مسلمان جو پیغمبر پر پورا یقین رکھتے ہیں فقط اس غم کی وجہ سے خاموش تھے انہوں نے پیغمبر کی پوری نقل کی پورا سر منڈوایا لیکن وہ مسلمان جو اس مسئلہ پر اختلاف رکھتے تھے تو وہ سر منڈوانے پر تیار نہیں تھے اب اگر صاف انکار کر دیتے تو صاف الگ ہو جاتے اور نمایاں ہو جاتے تو انہوں نے فقہی مسئلہ سے فائدہ اٹھایا کہ تھوڑے سے بال بھی کاٹے جا سکتے ہیں تو انہوں نے تھوڑے سے بال کاٹ کر احرام اتار دیا یعنی کہنے کو ہو گیا کہ جیسا باقی مسلمانوں نے کیا وہ ہم نے بھی کیا یہی وجہ کہ جب سارے مسلمان احرام اتار دیئے
اب کچھ لوگوں کے سر منڈھے ہوئے ہیں اور کچھ کے بال کٹے ہوئے ہیں جب اس حالت میں یہ لشکر پلٹا تو پیغمبر اسلام نے پورے لشکر کو دیکھ کر یہ کہا رحم اللہ علی المحلقین اللہ رحمت نازل کرے جنہوں نے سر منڈوایا ہے کسی کونے سے آواز آئی اللہ کے رسول جنہوں نے تھوڑے سے بال کاٹے ہیں ان کے بارے میں پیغمبر نے بھی اسی بات کو دہرایا رحم اللہ علی المحلقین خدا رحمت نازل کرے سر منڈوانے والوں پر اب جنہوں نے تھوڑے سے بال کاٹے ہیں پھر ذرا بے چین اللہ کے رسول اور بال کاٹنے والے پیغمبر نے پھر وہی اپنا جملہ دہرایا تو تھوڑے سے بال کاٹنے والے تڑپ کے آگے بڑھے تو پھر پیغمبر نے کہا اور بال کاٹنے والوں پر بھی پھر کسی نے پوچھا اللہ کے رسول آپ نے بال منڈوانے کا اتنا زیادہ اور بال کٹوانے والوں کا اتنا کم تذکرہ اور وہ بھی ایسے جیسے کسی کا دل رکھنے کیلئے بات کی جا رہی ہے تو پیغمبر کا جواب یہی تھا کہ سر انہوں نے منڈوایا جنہیں میری نبوت و رسالت میں ذرا بھی شک نہیں اور بال انہوں نے کٹوائے جنہیں نبوت و رسالت پر شک ہے اور دوسروں کو دھوکہ دینے کی خاطر بال کٹوائے ہیں یہ صلح حدیبیہ کا بہت خاص واقعہ ہے لیکن اس کا اطلاق آج کل نہیں ہوتا وہ خاص حکم تھا اب اختیار ہے تھوڑے سے بال کٹوائے یا سر منڈوائے
خیر ہم واقعات کو آگے بڑھاتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کے اس عمل کے پیچھے حضرت ام سلمیٰ کا مشورہ ہے تمام مسلمانوں کو عام کپڑوں میں لے آی
اب پیغمبر نے کہا کہ ہمیں واپس جانا ہے اس موقع پر میں وہ جملہ دھرا دوں کہ جو میں گزشتہ تقریر میں کہہ چکا ہوں عین اس وقت ایک شخص آگے بڑھا اے اللہ کے رسول کیا آپ نے مدینہ میں یہ نہیں کہا تھا کہ ہم لوگ خانہ کعبہ میں گئے طواف کیا سعی کی پیغمبر نے کہا ہاں یہ میں نے کہا تھا کہ اللہ کے رسول وہ بات پوری نہیں ہوئی
پیغمبر نے کہا میں نے یہ تو نہیں کہا کہ اس سال ہم طواف کریں گے یاد رکھو پروردگار اپنے وعدہ پورا کرے گا اور اب یہ قافلہ کچھ دور چلا کہ جبرائیل امین قرآن کریم کا سورہ نمبر ۴۸ سورہ فتح لیکر نازل ہو گئے جس کا پہلا ہی جملہ یہ ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم انا فتحنا لک فتحا مبین
اے مسلمانوں یہ واپسی پر سورہ نازل ہوا ہے اے مسلمانو آج ہم نے تمہیں کھلی ہوئی فتح عطا کی ہے پھر آگے چل کر وہ آیت جو ہماری آج کی تقریر کا سرنامہ کلام بنی ہے لقد صدق اللہ رسولہ رویة بالحق یاد رکھو اللہ اپنے رسول کے خواب کو سچا دکھائے گ
لتد خلن فی المسجد الحرام امنین انشاء اللہ اور تم امن سے خانہ کعبہ میں داخل ہو گے اب یہ دو وعدے قرآن کر رہا ہے اب یہ وعدہ کسی طرح پورے ہوئے آگے چل کر آئے گا پھر ایک مرتبہ اس جملے کو دہرا دیا جائے کہ قرآن واپسی کے سفر پر پہلی آیت یہ نازل کر رہا ہے کہ انا فتحنا لک فتحا مبینا خالی یہ نہیں کہا کہ ہم نے تمہیں فتح دی فتح مبین دی کھلی ہوئی فتح
بدر کی لڑائی کے بعد یہ لفظ نہیں آیا احد کی لڑائی کے بعد یہ لفظ نہیں آیا خندق کی لڑائی کے بعد یہ لفظ نہیں آیا
خیر کے معرکہ کے بعد یہ لفظ نہیں آئے گا مگر صلح حدیبیہ کے موقع پر یہ لفظ آیا ہے
امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں ما کان قصیة ما اعظمھا ببرکة منہا ہاں اسلام میں صلح حدیبیہ سے زیادہ برکت والا کوئی واقعہ نہیں ہے برکتیں ہی برکتیں اس واقعہ میں اُن سب سے کچھ کا تذکرہ ضروری ہے مگر اس سے پہلے صرف اتنی سی بات ایک مرتبہ مسلمانوں کا لشکر مدینہ پہنچ گیا اور شیخ طوسی شیخ طبرسی سید قطب الدین راوندی اور ابن شہر آشوب اور اس کے علاوہ شیعہ سنی تقریبا تمام مؤرخین نے لکھا ہے کہ صرف اور صرف ۲۰ دن پیغمبر مدینہ میں رہے اکیسواں دن آیا صلح حدیبیہ سے لشکر واپس آی
صرف بیس دن قیام رہا اکیسویں دن پیغمبر مدینہ سے خیبر کی جانب چلے اور خیبر کے حالات آ گئے اسی لئے صلح حدیبیہ کا ایک بڑا تعلق خیبر کے واقعہ سے بھی ہے میں نے پہلے بھی عرض کیا آج پھر بھی دہراؤں گا اسی دوران ایک واقعہ اور پیش آیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام میں الفاظ کی کتنی اہمیت ہے
چاہے وہ فقہی مسائل ہوں یا سیاسی چاہے وہ آپس میں معاہدے ہوں تو جب پیغمبر مدینہ واپس پہنچے تو عقبہ بن ابی معید مکہ میں بہت بڑا دشمن اسلام اور کافر اس کی بیٹی ام کلثوم جو مسلمان ہو چکی تھی مگر اپنے آپ کو بوسیدہ کئے ہوئے موقع پا کر وہ مکہ سے مدینہ آئی اور پیغمبر اسلام کی خدمت میں آ کر پناہ طلب کی اور پیغمبر نے اسے پناہ دے دی اِسی دوران اس کے دونوں بھائی ولید اور عمار مدینہ پہنچ گئے اور پیغمبر اسلام سے اس حوالہ سے گفتگو شروع کی اے عبداللہ کے بیٹے ہمیں یہ پتہ ہے کہ آپ کبھی دھوکہ نہیں کرتے غدر نہیں کرتے معاہدے کو توڑتے نہیں ہیں وعدہ خلافی نہیں کرتے یہ رسول ہی کا تو واقعہ ہے کہ اگر مکہ میں کسی نے وعدہ لیا ہے یہاں انتظار کرو میں آتا ہوں اور وہ بھول گیا اور تین دن کے بعد وہاں سے گزرا تو دیکھا کہ پیغمبر وہیں پر تشریف فرما ہیں اور اس سے کہا کہ مرتے دم تک میں یہیں بیٹھا رہتا اتنا وعدے کا خیال رکھنے والے جیسے مکہ والے صادق و امین کہا کرتے اس حوالہ سے بات کی کہ ہماری بہن آپ کے پاس آتی ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان معاہدہ ہوا ہے مکہ سے جو بھی آئے گا اسے واپس کیا جائے گ
پیغمبر نے جواب دیا کہ معاہدے میں مرد کا لفظ آیا ہے مومن جو مومن ہو گا وہ واپس کیا جائے گا
یہ مومن نہیں ہے مومنہ ہے اور عورت کا تذکرہ معاہدے میں نہیں ہے اس وقت بعض مسلمان بھی ذرا پریشان ہوئے جسے آجکل بھی جب کوئی فقہی مسئلہ بیان کرتے ہیں تو لوگ یہی کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو الفاظ سے کھیلنا ہے اگر آپ بنک میں پیسہ رکھیں کہ اگر نیت یہ کہ آپ نہیں مانگیں گے تو وہ نہیں دیتے اگر دے دیں گے تو لے لیں گے کی نیت ہو تو حلال ہے اور اگر یہ نیت نہ ہو تو حرام ہے
اس لئے آقائی خوئی نے کہا انعامی بانڈ اس نیت سے خریدا تو حرام اور اگر اس نیت سے خریداکہ انعام نکل آیا دے دیں گے تو لے لیں گے نہیں دیں گے تو ہم جھگڑا نہیں کریں گے اس صورت میں پرائز بانڈ کا خریدنا حلال ہے عام لوگ یہ کہتے ہیں یہ کیا بات ہوئی سود ہے تو ہر صورت میں حرام ہونا چاہئے یہ کیا کہ یہ نیت کر لیں تو حلال وہ نیت کر لیں تو حرام یہ سب معاذاللہ مولویوں کے چکر ہیں
اللہ کے رسول کی زندگی میں بھی یہ واقعہ پیش آ چکا ہے کہ پیغمبر نے کہا معاہدے میں لفظ مومن آ چکا ہے مومنہ نہیں آیامسلم لکھا ہے مسلمہ نہیں لکھا یعنی مرد کیلئے آیا ہے عورت کیلئے یہ لفظ استعمال نہیں ہو
عورتوں کو واپس کرنے کے بعد ہم نے کوئی معاہدہ نہیں کی
وہ کفار مکہ تو چلے گئے لیکن بعض مسلمانوں کے دلوں میں شک پیدا ہو گیا یہ پیغمبر نے کہا ارشاد فرما دیا معاہدے کے اندر لفظ کوئی بھی تھا مقصد کو یہی تھا کہ مکہ والے کو واپس کیا جائے گا
یہ مرد و عورت کا کیا چکر ہے قرآن مجید کا سورہ ممتحنہ نازل ہوا بسم اللہ الرحمن الرحیم یا ایھا الذین آمنو اذا جاء کم المومنات المہاجراتجب تمہارے پاس مومنہ عورتیں آئیں چار لفظوں کے بعد قرآن کہہ رہا ہے لا ترجو ھن الی الکفار خبردار انہیں کافروں کے پاس واپس نہ کرنا پیغمبر کے عمل کی قرآن کریم نے تصدیق کر دی اور اس تصدیق کے بعد اس مسئلے کو بھی واضح کر دیا کہ احکام دین میں الفاظ کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے
لفظ ضرور توجہ کے ساتھ سنا کریں ورنہ مسئلہ کہیں کا کہیں پہنچ جائے گا
اچھا آپ کو یاد ہو گا ایسے دو واقعات پیش آئے ایک صلح حدیبیہ کے مقام پر اور دوسرا مدینہ پہنچنے پر پیش آیا جس کی وجہ سے میں نے اسے دہرا دی
اب اللہ کا رسول خیبر کیلئے روانہ ہوا خیبر کے حالات واقعات آئندہ کی تقریر میں
اب پیغمبر مدینہ سے چلے اور مدینہ واپس آ گئے صلح حدیبیہ پر دستخط کر کے واپس آئے واپسی کے سفر پر قرآن یہ بھی سنا چکا ہے کہ یہ فتح مبین ہے اب سرسری طور پر دیکھنا ہے کہ صلح حدیبیہ کے کیا فوائد حاصل ہوئے ویسے تو علما نے پوری پوری کتابیں لکھ دی ہیں لیکن مختصراً تین چار باتیں
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اس صلح حدیبیہ کے نتیجہ میں مکہ میں جو مسلمان اب تک تھے ان کیلئے کھل کر اپنے ایمان کو ظاہر کرنا اور اپنے اعمال کو انجام دینا ممکن ہو گیا مکہ کے مسلمانوں کیلئے صلح حدیبیہ اتنی بڑی برکت بن کر آ گیا کہ خود قرآن کے سورہ فتح کے آخر میں مکہ کے بوڑھے مرد و عورتیں جو مسلمان ہیں ان کا بھی خیال کرو
فقط اپنے آپ کو نہ دیکھو طاقتور ہیں کافروں کو شکست دے سکتے ہیں ان کمزوروں کا بھی خیال کرنا ہے کمزوروں کیلئے کہ واقعہ اور آیت بہت بڑی رحمت بن کر آیا دوسرا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوا جسے آج ہم روس میں دیکھ رہے ہیں ایک آئرن کرٹن یا آئینی پردہ پڑا ہے اسلام پر کفر مکہ نے تمام کافروں کو مسلمانوں سے قریب ہونے سے روکا ہوا ہے
خصوصاً یہ کہہ کر کہ جو وہاں گیا ہمارا دشمن ہے اور عرب کے لوگ قریش کی دشمنی مول لینے کو تیار نہیں ایک خانہ کعبہ کی وجہ سے اور ایک یہ کہ قریش ایک بڑی طاقت بنتے جاتے ہیں
اب اس معاہدے کی نتیجہ میں فرق یہ پڑا کہ جو چاہے جس کا ساتھ دے سکتا ہے چنانچہ کثرت کے ساتھ قبائل کو پیغمبر کے پاس آنے کا موقع ملا یہی وجہ ہے کہ ایک طویل عرصہ سے حدیبیہ کی سرزمین پر جو قبیلہ رہتا تھا بنی خزاع جن کے تعلقات پیغمبر کے پڑدادا بنی ہاشم سے تھے ان کی ہمدردی مسلمانوں کے ساتھ تھی آج تک وہ مسلمانوں کا ساتھ نہیں دے پائے لیکن جیسے ہی معاہدے پر دستخط ہوئے کھڑے کھڑے ہی انہوں نے کھل کر اعلان کیا کہ آج سے ہم مسلمانوں کا ساتھ دے رہے ہیں
یہ بالکل مکہ کے پڑوس میں رہتے ہیں ایسے بہت سے قبائل تھے جو مسلمانوں کی طاقت بنے
تیسرا بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اس معاہدے کے بعد مکہ سے جو مسلمان ہجرت کر کے آئے ہیں بہرحال ان کا پورا خاندان تو ہے مکہ میں آپس میں ملنے کیلئے وہ تڑپ تو رہے ہیں اب آمدورفت کا موقع مل گیا مکہ کے لوگ مدینہ جاتے ہیں مدینہ کے لوگ مکہ جاتے ہیں ایک دوسرے کو تحفے بھجواتے ہیں بہرحال ایک دوسرے کے قریب تو آئے ورنہ اس سے پہلے تک قریش والوں نے کسی کافر کو مسلمانوں کے قریب نہیں آنے دی
یہ جادوگر ہیں یہ شاعر ہیں ان کے پاس جن آتے ہیں اس قسم کی باتیں کرتے تھے
اب قریب تو آئے آنے جانے کا اثر تو ہو
انہوں نے مسلمانوں کی شرافت دیکھی تقدس دیکھا تقویٰ دیکھا چوتھا بڑا فائدہ یہ ہوا کہ پیغمبر اسلام کو اسلام پھیلانے کا موقع مل گیا اب تک قریش یکے بعد دیگرے حملوں پہ حملے کر کے اتنا موقع ہی نہ دیا تھا کہ پیغمبر دنیا کے دوسرے علاقوں کی جانب متوجہ ہوتے اس صلح حدیبیہ کے نتیجہ میں بڑا فائدہ یہ ہو گیا چنانچہ اس کے بعد مصر حبشہ ایران روم سارے خطوط جا رہے ہیں
پانچواں بڑا فائدہ یہ ہوا کہ قریش کے بعد اسلام کا دوسرا بڑا دشمن یہودیت کا مذہب تھا ابھی تک قریش اور یہودی ہر جگہ ساتھ ساتھ چلے آ رہے تھے
صلح حدیبیہ تک آ کے پیغمبر نے اس اتحاد کو توڑ دیا اب ان کا مقابلہ کرنا آسان ہوا اسی لئے پیغمبر نے ۲۰ دن انتظار کیا اور فوراً خیبر پر حملہ کر دیا یعنی پیغمبر کو تو معلوم تھا کہ معاہدہ دو سال چلے گا کیونکہ یہ خطرہ تو رہتا ہے کہ دوسرا فریق اسی کو توڑ دے
اس لئے پیغمبر یہ چاہتے تھے کہ معاہدہ ٹوٹنے سے پہلے کم از کم یہودیت کا تو خاتمہ ہو جائے اور یہ چوتھا اور پانچواں فائدہ بہت بڑا ہے، تبلیغ کا موقع ملا یہودیت کی کمر توڑنے کا موقع ملا اس لئے پیغمبر نے جتنا جلد ممکن ہو خیبر پر حملہ کر دیا اور یہ ۲۰ دن بھی جو ٹھہرے تھے اس لئے کہ جو لوگ صلح حدیبیہ میں نہیں گئے تھے انہیں بھی ساتھ ملایا جائے ایک بڑا لشکر تیار کر کے حملہ کیا جائے یہ بھی ایک بہت بڑا فائدہ تھا
اس کے بعد ایک اور اہم بات سامنے آئی جیسے آپ چھٹا فائدہ بھی کہہ سکتے ہیں اور قرآن کے اس وعدے کی تکمیل میں اردو میں ایک شعر مشہور ہے عموماً شعر و شاعری کا سہارا نہیں لیتا مگر اسی موقع پر یہ مصرعہ بہت ٹھیک ہے کہ لو آپ اپنے دام میں صیار آ گیا یہ شق جو مسلمانوں کیلئے سب سے زیادہ سخت تھی کہ مکہ میں جو مسلمان آ گیا واپس نہ ہو گا
وہی شرط قریش کے گلے میں ہڈی کی طرح اٹک گیا قریش بہت زیادہ پریشان ہوئے اور یہ وہ شرط ہے جس پر مسلمان بہت زیادہ ناراض ہوئے کہ اللہ کے رسول یہ کیسی شرط کہ ہمارا مظلوم بھائی مکہ سے ہمارے پاس پناہ لینے آئے اور ہم کہہ دیں واپس چلے جاؤ یہی شرط بظاہر اسلام کی ذلت اور قریش کی فتح تھی یہی شرط قریش کے گلے میں ہڈی کی طرح اٹک گئی اس شرط پر آ کر درخواست کی اللہ کے رسول باقی معاہدہ رکھیں اسی شرط کو کاٹ دیں
اسی میں ایک بہت اہم درس ہمارے لئے ہے اسلام ہمارے لئے ذمہ داری قرار دیتا ہے تبلیغ امر بالمعروف نہی عن المنکر اللہ کا پیغام پہنچانا یہ ہر ایک کی ذمہ داری ہے
عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جب ایک آدمی کے پاس سہولتیں اور وسائل ہوں تو وہ تبلیغ کر سکتا ہے لیکن ایک مجبور اور بے کس آدمی کیا تبلیغ کرے گا صلح حدیبیہ نے بتایا کہ یہ بات غلط ہے یہی صلح حدیبیہ کا ایک قیدی جسے اس کا باپ لے گیا تھا جا کر اپنے قیدخانے میں بند کیا اب اس کیلئے باہر کا ایک آدمی نگران رکھا کیونکہ اپنوں کو رکھ کر وہ گھبرا گیا تھا کہ سارے ہی مسلمان نہ ہو جائیں اور باہر کا آدمی زیادہ سخت ہو گا نرمی کم کرے گا
اب ابو جندل پر مظالم ہوتے غیر اس لئے مقرر کئے کہ نرمی نہ ہو ابو جندل بھی اس طرح نہیں کہ رسول نے ہماری مدد نہیں کی اب قید کا زمانہ ہے ہم صبر کرتے ہیں ایسا صبر اسلام کو نہیں چاہئے جس میں تحرک نہ ہو اب اسی قیدخانہ میں تبلیغ شروع کر دی البتہ آہستہ آہستہ نتیجہ کیا ہوا کہ وہ محافظ خود مسلمان ہو گیا یہ خبر جیسے ہی سہیل بن عمر کو ملی اس نے خود کو ایک مرتبہ قید میں ڈال دیا یہ سردار مکہ ہے دوسرا آدمی لیکر آیا ہے پہلے ایک مبلغ تھا اب مبلغ دو ہیں وہ ایک ہے پھر ایک اور آدمی لایا گیا اس طرح انہوں نے قید میں ستر آدمیوں کو مسلمان کر دیا ستر آدمی ایک مظلوم قیدی ابو جندل کی تبلیغ سے مسلمان ہو گئے جو مکہ کے سخت ترین کافر تھے اور پھر ایک دن موقع پا کر رات کی تاریکی میں قیدخانہ توڑ کر نکل پڑے یہ تو ان کو پتہ ہے کہ مدینہ تو یہ جا نہیں سکتے اللہ کا رسول جو مدینہ جاتا ہے اسے واپس پلٹادیتا ہے ان کوطلاع ملی کہ سمندر کے کنارے ایسے ہی مسلمانوں کی ایک بستی بنی ہے جو بھی مکہ سے نکلتا ہے ذوالمرہ کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں ہے وہیں پناہ لیتا ہے وہ بھی کیسے بنا صلح حدیبیہ کے بعد یہ تو ابو جندل کا واقعہ ہے ایک مسلمان ہے عتوہ بن عمیر وہ اپنی کنیت سے زیادہ مشہور ہے
ابو عمیرہ وہ مکہ سے بھاگ کر مدینہ پہنچ گیا یہ صلح حدیبیہ کے فوراً بعد کا واقعہ ہے اسے یہ بھی علم تھا کہ مکہ سے عورتیں مدینہ گئیں انہیں نہیں بھیجا گیا یہ پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوا مگر اس کے ساتھ ساتھ قریش کے دو نمائندے بھی آ گئے کیونکہ اس کے فرار کی اطلاع مکہ والوں کو مل گئی تھی ایک غلام اور ایک بنی عامر کا نوجوان اور خط لکھ کر بھیجا جاؤ اور رسول کو یہ خط دے دین
پیغمبر نے خط کو پڑھا لکھا تھا کہ معاہدے کے مطابق ہمارے بندے کو ان نمائندوں کے ساتھ بھیج دیں ابو عمیر کہنے لگا یا رسول اللہ وہ مجھ پر بڑا ظلم کریں گے
پیغمبر نے کہا معاہدہ کے مطابق تمہیں جانا خدا کوئی سبب بنا دے گا اس پر توکل کرو یہ کہہ کر وہ ان کے ساتھ چل پڑا ابھی دو کوس ہی گئے تھے کہ ذوالحلیفہ کے مقام پر پہنچے جیسے تمام حج و عمرہ پر جانے والے افراد جانتے ہیں یہ ایک گڑھا تھا جہاں پر آج کل مسجد شجرہ بنا دی گئی ہے
وہاں پر باتوں ہی باتوں میں اس نے اس قریش جوان کی تعریف کی کیسی تلوار ہے عربوں میں یہ ایسے ہے جیسے کسی عورت کے زیورات کی تعریف کر دی جائے وہ نوجوان بھی اپنی تلوار کی خصوصیات بتانے لگا اتنے میں ابو عمیر نے کہا ذرا اتنی صفات کی حامی تلوار کو مجھے دکھا اب باتوں ہی باتوں میں جب اس نے یہ تلوار دکھائی تو اگلے ہی لمحے اس کی گردن اڑ گئی
مکہ کا کافر ہے ویسے ہی واجب القتل ہے اب دیکھیں ایسا ماحول او عمیر نے بنا دیا کہ کون مجھ سے کیا کہہ رہا ہے تلوار دی تو مارا گیابڑی تیزی کے ساتھ بھاگ کر مدینہ آیا وآتے ہی شکوہ کیا وہ آدمی ہمارے ساتھ مکہ نہیں گیا راستہ میں میرے سردار کو قتل کردیا ہے اب مجھے بھی مارنا چاہتا ہے اتنے میں ابو عمیر بھی آ گئے اور کہنے لگا یا رسول اللہ آپ نے معاہدے کی پاسداری کی ہے
آپ نے مجھے روانہ کیا اوراب یہ ان کی کمزوری ہے کہ وہ مجھ پر قابو نہیں پا سکے میں اپنی طاقت پر ان سے جان چھڑا سکا اب میں آزاد ہوں معاہدے میں یہ نہیں ہے کہ آپ مکہ پہنچا کر آئیں آزادی میں نے خود حا صل کی ہے اب میں آزاد ہوں آپ مجھے مکہ نہ بھیجیں لیکن پیغمبر نے کہا کہ میں تمہیں مدینہ میں نہیں رکھ سکتااب اس نے کہا کہ میں جارہا ہوں مکہ جا نہیں سکتا مدینہ والے اس کو رکھنے کو تیا ر نہیں آخر مجبوری کے عالم میں ساحل سمندر کے قریب جا کر رہنے لگا ادھر مکہ میں بہت سے مسلمان تھے چوبیس گھنٹے تو کوئی کسی کی نگرانی نہیں کر سکتا اب جب انہیں اطلاع ملتی کہ ابو عمیر نے سمندر کے کنارے قیام کیا ہے اب اصل مسئلہ کیا تھا کہ مکہ کے مسلمان کہاں جائیں مکہ میں رہ نہیں سکتے مدینہ قبول نہیں کرتا
اب ایک تیسری جگہ بنی رفتہ رفتہ یہ اس تیسری جگہ پہنچنے لگے اور عموماً اس جگہ جانے والے مرد ہوں گے عورتوں کو تو مدینہ میں پناہ مل جاتی
بوڑھے مردوہاں تک جانے کاتصور نہیں کرسکتے خلاصہ سارے طاقتور مرد وہاں پر جمع ہوگئے ابو جندل نے جب قید کو توڑا تو وہ بھی اپنے ستر آدامیوں کو لیکر وہاں پہنچ گئے سب طاقتور نوجوان اور یہ وہ راستہ تھا جہاں سے تجارتی قافلے گزرتے تھے یہ بات اس سے پہلے کئی مرتبہ بیان ہوئی قریش چونکہ کعبہ کے متولی ہیں اس لئے عرب کے ڈاکو بھی ان پر حملہ نہیں کرتے تھے
یہ بہت بڑا ان پر فضل تھا جیسے قرآن نے ان کیلئے بیان کیا ہے رحلة الشتاة السیف ہم نے گرمی و سردی میں تمہارے قافلوں کو بچایا
لیکن یہ جو نئے مسلمان ہوئے ہیں انہیں تو پتہ ہے کہ قریش کا کوئی احترام نہیں ہے چنانچہ وہ لوگ قریش کے قافلوں پر حملہ کرنے لگے قریش جناب اسماعیل سے لیکر آج تک کبھی بھی اس امتحان میں نہیں پڑے کہ کوئی ان کے تجارتی قافلوں پر حملہ کر دے اب کے قافلے لٹنے لگے یہ ان کیلئے بہت بڑا مسئلہ بن گیا کہ ان پر حملہ کیسے کریں کیونکہ وہ روایتی فوج نہیں ہے بہتر یہ ہے کہ یہ مدینہ چلے جائیں کیونکہ یہ ابھی آزاد ہیں اللہ کا رسول کبھی ڈاکہ زنی کو پسند نہیں کرے گا یہ مدینہ پہنچ جائیں ہمارا مسئلہ حل ہو جائے گا
چنانچہ پیغمبر کے پاس قریش کا ایک وفد ہاتھ جوڑتا ہوا گیا اے عبداللہ کے بیٹے وہ جو صلح حدیبیہ کی ایک شرط ہے اسے ہم حذف کرتے ہیں چنانچہ ان لوگوں کو آپ مدینہ میں رکھیں اور بیشک باندھ کر رکھیں ہمارا مسئلہ حل ہوجائے گااب قریش کو پورا معاہدہ قبول ہے سوائے اس شرط کے سب سے مشکل شرط جو مسلمانوں کو لگی وہی شرط اچھی بن گئی پیغمبر نے کہا اگر تمہاری خوشی ہے تو میں راضی ہوں پھر پیغمبر نے خط لکھ کر اس بستی کی طرف روانہ کیا اور لکھا کہ تم اپنے سارے ساتھیوں کو لے کر مدینہ میں آ جائیں اب یہ یاد رکھیں کہ وہ جو تین سو آدمی ہیں اپنی خوشی سے نہیں ہیں کون ایسا مسلمان ہو گا کہ پیغمبر کا زمانہ اور اپنے آپ کو پیغمبر کی زیارت سے محروم رکھے وہ مجبوری سے رہ رہے ہیں کہ رسول ہمیں لینے کو تیار نہیں اب جیسے ہی خط وہاں پہنچا وہاں تو گویا عید ہو گئی ابو عصیر جو سردار ہیں اس بستی کے جو سب سے پہلے آنے والے ہیں حالت نزاع میں ہیں ابو جندل ان کے نائب ہیں ابو عصیر کے پاس آئے اور کہا مبارک ہو اللہ کے رسول نے خود خط لکھ کر ہمیں بلوایا ہے ابو عصیرنے یہ سنا آنکھیں کھولیں سبحان اللہ ،الحمد للہ ساری زندگی کی محنتیں آج مبارک ہو پروردگار نے میری محنتوں کو قبول کیاپیغمبر کا خط میرے نام آرہا ہے اب ابو جندل مجھ میں تو اتنی سکت نہیں کہ پیغمبر تک پہنچ سکوں میرا سلام پہنچا دینا بس کم از کم اتنی سعادت مجھے د ے دو اتنا کرو کہ یہ خط میرے سینے پر رکھو تاکہ جب آنکھیں بند ہوں تو پیغمبر کا دعوت نامہ میرے ساتھ ہو ابو جندل نے جھک کر سینے پر رکھا جونہی خط سینے پر رکھا روح پرواز کر گئی ابو جندل نے وہیں دفن کیا اور ایک چھوٹی سی مسجد وہاں پر بنا دی جس کے بعد ابو جندل ان مسلمانوں کو لیکر مدینہ آئے اور پیغمبر اسلام کو سارا واقعہ سنایا یہ چھٹا بہت بڑا فائدہ مکمل ہو گیا
فہرست
صلح حدییبہ حصہ اول ۴
صلح حدییبہ حصہ دوئم ۳۱
صلح حدیبیہ صلح حدیبیہ حصہ سوئم ۴۷
صلح حدییبہ حصہ ، چھارم ۷۰