عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے- جلد 2
گروہ بندی متن تاریخ
مصنف سيد مرتضى عسكرى
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے

دوسری جلد

علامہ سید مرتضیٰ عسکری

مترجم:سید قلبی حسین رضوی


دوسری جلد سے مربوط خطوط اورمقدمے

* - جلد اول کے مطالعہ کے بعد دانشور مرحوم محمود ابوریہ کے لکھے گئے دو خطوط

* - اس کتاب کی پہلی جلد کے بارے میں ڈاکٹر احسان عباس کا خط

* - دوپیش لفظ

* - مطالعات کا نتیجہ

* - سیف کی روایتوں کے بارے میں بحث کا محرک


دانشور مرحوم جناب ابور یہ کے دو خطوط

مصری دانشور مرحوم کی ایک یاد!

گزشتہ دس برسوں کے دوران مصر کے ایک دانشور اور عالم اسلام کے ایک مشہور عالم و محقق مرحوم شیخ ابور ریہ کے ساتھ میری ایک طویل خط و کتابت رہی ، انہوں نے میرے دو خطوط کا جواب اپنی کتاب ” اضواء علی السنة المحمدیہ “ میں شائع کیا ، میں بھی یادگار کے طور پر مرحوم کی پہلی برسی پر ان کے دو خطوط کو اس کتاب کی ابتداء میں شائع کررہا ہوں ، خدا مرحوم کو اپنی رحمت اور بہشت جاوداں سے نوازے۔

پہلا خط

دانشور استاد جناب سید مرتضیٰ عسکری

سلام علیکم و رحمة اللہ وبرکاتہ

ایک دن آزاد فکر اسلامی علماء و دانشوروں کی ایک میٹینگ میں مفکر دانشوروں اور ان کی سبق آموز اور فائدہ بخش کتابو ں کی بات چھڑگئی، ان میں سے ایک شخص نے آپ کا ذکر کیا اور کہا کہ استاد علامہ عسکری نے ” عبد اللہ بن سبا “ کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے ، جو انتہائی عمیق اور حقائق کو واضح کرنے والی کتاب ہے ، اس کتاب میں انہوں نے علم و تحقیق کے دلدادوں کیلئے چند نظریات پیش کئے ہیں کہ ان سے پہلے کوئی بھی دانشور حقائق تک نہیں پہنچا ہے ، انہوں نے ایسے حقائق واضح کئے ہیں کہ منجمد فکر کے حامل اور مقلّد علما اس قسم کے حقائق کے اظہار کرنے کی جرات نہیں رکھتے ۔

اس کی باتوں نے مجھے اس پر مجبور کیا کہ اس کتاب کو ڈھونڈ کر اس کے جدید علمی مباحث سے استفادہ کروں ، خداوند عالم سے خیر و صلاح کا متمنی ہوں اور اب اس کتاب کے ایک نسخہ کی خود حضرت عالی سے درخواست کرتا ہوں ، امید ہے میری درخواست کو منظور فرما کر اسے ارسال کرکے مجھ پر مہربانی فرمائیں گے ۔ میں آپ کی محبتوں کا شکرگزار ہوں ۔

آپ پر خداوند عالم کا درود اوراس کی رحمت ہو

مخلص

محمود ابوریہ ، مصر ، جیزہ۔

۱۷ محرم ۱۳۸۰ ئھ ۱۱ جنوری ۱۹۶۰ ئئ


مذکورہ خط مرحوم شیخ ابو ریہ کا پہلا خط تھا جو مجھے ملا ، جب میں نے مرحوم کی درخواست کے مطابق انھیں کتاب ” عبد اللہ بن سبا “ کی جلد اول تحفہ کے طور پر بھیج دی تو انہوں نے ایک اور خط مجھے لکھا جو حسب ذیل ہے :

دوسرا خط

سرورگرامی و دانشور عالیقدر ، حضرت استاد عسکری

سلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ

خداوند متعال آپ کو ہمیشہ خوشحالی ، صحت و سلامتی اور عافیت عطاکرے ، میں بے حد خوشحال ہوں کہ آج مجھے توفیق حاصل ہوئی کہ آپ کی گراں قدر کتاب ” عبداللہ بن سبا “ کو دقت کے ساتھ ایک بار مطالعہ کرنے کے بعد چند جملے آپ کو لکھوں لیکن اس مفید کتاب کا ایک بار پھر مطالعہ کروں گا ، فی الحال آپ کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا ہو کہ جس بلند اور جدید روش سے آپ نے اس کتاب میں کام لیا ہے وہ ایک بے مثال ، علمی اور اکیڈمک روش ہے جسے آپ سے پہلے کسی نے اس صورت میں انجام نہیں دیا ۔ میں اپنے دل کی گہرائیوں سے آپ کی اس کامیابی پر مبارک باد پیش کرتا ہوں کیونکہ اس کامیابی اور نعمت کو خداوند عالم نے صرف آپ کے نصیب کیا ہے اور آپ کو یہ توفیق عطا کی ہے کہ اس قسم کے اہم اور بنیادی موضوع کے بارے میں بحث و تحقیق کرکے یہ واضح اور قابل قدر تاریخی نتائج حاصل کریں ۔

آپ نے اس بحث و تحقیق کے ذریعہ تاریخ اسلام میں ایسی چیزیں کشف کی ہیں کہ گزشتہ چودہ صدیوں کے دوران کسی دانشمند کو یہ حقائق کشف کرنے میں توفیق حاصل نہیں ہوئی ہے اور آپ کی اس بحث کی ایک یورپی دانشور (کہ شائد اس کانام ” ولز‘ ہے) نے تائید کی ہے ، وہ کہتا ہے :

” تاریخ سراپا جھوٹ ہے “ افسوس ہے کہ ” ولز“ کا کہنا تاریخ اسلام کے بارے میں بھی صحیح ثابت ہوتاہے ، کیونکہ ہر زمانے میں نفسانی خواہشات اور اندھے تعصبات نے تاریخ اسلام کو الٹ پلٹ کر اپنی صحیح راہ سے ایسے منحرف کرکے رکھ دیا ہے کہ آج مسلمان اس بات کی ضرورت کا شدت کے ساتھ احساس کررہے ہیں کہ تاریخ اسلام اور ان کے دین کے بارے میں گہرائی سے تحقیق و بحث کی جائے ۔

حقیقت میں آپ کی کتاب ” عبد اللہ بن سبا “ کو اس قسم کی تحقیقات کے بارے میں ایک راھنما شمار کیا جاسکتا ، آپ کو خداوند عالم کا شکر بجالانا چاہئے کہ اس نے اس تحقیقی بحث کو آپ کیلئے محفوظ رکھا ہے اور اسی سے مدد طلب کرکے اپنے لئے منتخب کی گئی راہ و روش میں مستحکم اور مؤثر قدم بڑھائیں ،ا وراس سلسلہ کو جاری رکھیں اور اپنی علمی تحقیقات سے حقائق کو کشف کرنے کے بعد نتائج ملائم و نرم لہجہ میں دوسروں کے سامنے پیش کریں اور فیصلہ قارئین کے ذمہ چھوڑ دیں ، خاص کر ابو بکر ، عمر اور خلافت سے مربوط مسائل کو بیشتر ملائم اور مناسب حالت میں بیان کریں ،کیونکہ ابھی لوگوں کے اذہان اس حد تک آمادہ نہیں ہیں کہ ان کے بارے میں حقائق صاف ا ور واضح الفاظ میں سن کر انھیں قبول کریں ۔

وا لسلام علیکم

خیر اندیش

محمود ابور یہ

مصر، جیزہ ، شارع قرة بن شریک

۲۰ رجب ۱۳۸۰ ئھ ، ۷ نومبر ۱۹۶۱ ئئ


خرطوم یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر حسن عباس کا خط

میں نے کتاب ” عبد اللہ بن سبا‘ کا مطالعہ ، کیا، ” احادیث سیف بن عمر“ کے موضوع کے تحت آپ نے جو واقعی کو شش کی ہے ، خاص کر جو سیف کی روایتوں اور دوسرے مؤرخین کی روایتوں کے درمیان موازنہ کرکے ان کی مطابقت کی ہے ، اس سے میں ، انتہائی خوش ہوا۔

آپ کی کتاب نے میرے ذہن میں چند سوالا ت پیدا کئے ، جن کو آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں :

۱ ۔ کیا علم رجال کے بعض علماء کی طرف سے سیف کے خلاف حکم جاری کرکے اس کی روایتوں کو ضعیف اورمتروک کہنے پر اکتفاء کرکے اس کی تاریخی روایتوں کو کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے ؟ علم حدیث کے دانشوروں کے پاس حدیث کے راویوں کی پہچان کیلئے خاص معیار موجود ہےکہ جس کے ذریعہ بعض کی تعدیل و توثیق کرتے ہیں کہ اخبار کے راویوں کیلئے یہ اعتراضات کوئی مشکل پیدا نہیں کرتے ۔ مثلا ” قول بہ قدر‘کا الزام بعض اوقات سبب بنتا ہے کہ کسی شخص کے بارے میں جرح کرکے اس کی حدیث کو مردود قرار دیں ۔ اس قسم کے الزامات ہمارے آج کل کے معیار کے مطابق زیادہ مشکل کا سبب نہیں بن سکتے ہیں ۔

۲ ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ سیف نے ان تمام مطالب کو پہلے سے خود ہی گڑھ لیا ہوگا ؟ یعنی ایک پوری تاریخ کو فرضی طور پر لکھا ہوگا؟ اگر آپ کا یہ مفروضہ صحیح ہے توانسان اس وسیع خیال طاقت پر تعجب اور حیرت میں پڑتا ہے !

۳ ۔ سیف نے بعض رودادوں کو مفصل طور پر تالیف کیا ہے اس کی یہ تفصیل نویسی اس کی تیز بینی اور ذرہ بینی کی دلیل ہے جس کا اس نے اہتمام کیا ہے اور دوسروں نے ان چیزوں کی طرف توجہ نہیں کی ہے ۔ اسے انہی تفصیلات کی وجہ سے بعض ناموں کے ذکر کرنے پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ ذہنوں سے نکل کر فراموش ہو گئے تھے اس سلسلہ میں آپ کیلئے ایک مثال پیش کرتا ہوں :

آپ بلاذری کی کتاب ”فتوح البلدان “ کو اٹھا کرابن عبد الحکیم کی کتاب ” فتوح مصر “ سے موازنہ کریں ۔ پہلی کتاب عام موضوع پر لکھی گئی ہے اور دوسری کتاب خاص اور صرف مصر کے بارے میں لکھی گئی ہے ۔ کیا ابن عبد الحکیم نے ان تمام چیزوں کو ---- جو آپ کی اور ہماری نظر میں قابل اعتماد ہیں --- لایا ہے جن کے بارے میں بلاذری نے بھی ذکر کیا ہے ؟ پھر اس صورت میں کیسے ممکن ہے کہ ابن عبد الحکیم کی روایتوں کو بلاذری کی روایتوں سے موازنہ کیا جائے ؟ میرا عقیدہ یہ ہے کہ سیف کی ایسی ہی حالت تھی ، کیونکہ اس کاارادہ تھا کہ ایک مفصل اور جامع کتاب تالیف کرے جس میں تمام رودادوں کو درج کرے اور عام باتوں اور خلاصہ پر اکتفا نہ کرے بلکہ جو کچھ دوسروں کے قلم سے سہواً یا عمداً چھوٹ گیا ہے ان سب چیزوں کو درج کرے ۔ مناسب نہیں ہے کہ صرف سیف کی کتاب کو ابن سعد کی طبقات --- جس کا مقصد اشخاص کے طبقات ، درجے ، اور مراتب لکھنا تھا ---- یا اس کے بعد والی کتابوں جیسے اسد الغابہ اور الاصابہ سے موازنہ کریں ،ہاں ان سے آگاہی پیدا کرے اوریہ اندازہ کرنے کیلئے کہ ان میں سیف کی کس طرح روایتیں نقل ہوئی ہیں اور سلسلہ جاری رہا ہے ۔

میں ہر چیز سے پہلے سیف کی روایتوں کو ---ابو مخنف یا دوسروں کی روایتوں ، جن سے طبری نے روایتیں نقل کی ہیں ---- ترجیح دیتا ہوں تا کہ میرے لئے یہ امر روشن ہوجائے کہ کیا گزرا ہے صرف وہی ہے جس نے ایک موضوع کو نقل کیاہے ، شائد ایسا نہ ہوگا کہ نقل کئے گئے موضوع میں سیف کی تنہائی کا سبب اس کا خیال اور وہم ہوگا یا اس نے چاہا ہوگا کہ ان بزرگوں کا دفاع کرے جن کے دامن پر تاریخ کی رودادوں کی گردِ ملامت بیٹھی ہو۔

۴ ۔ ان مواقع کے بارے میں آپ کا نظریہ کیا ہے جہاں سیف کی روایتیں دوسروں کی روایتوں سے ہم آہنگ ہیں ؟ کیا اس کے باوجود بھی اسے داستان گھڑھنے والا سمجھتے ہیں ؟ مثلا یہ روایت کہ گمان نہیں کرتا ہوں کہ طبری نے اسے نقل کیا ہوگا :

سیف بن عمر نے عبد الملک ابن جریح ، اس نے نافع سے اس نے ابن عمر سے روایت کی ہے وہ کہتا ہے : میں نے عمر سے کہا کہ اپنے لئے ایک جانشین مقرر کرو ، ورنہ اپنے خدا کو اس وقت کیا جواب دو گے، جب اس سے ملاقات کرو گے ، جبکہ امت محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بے سرپرست چھوڑ گئے ہوگے ؟

اس نے جواب دیا : اگر میں اپنے لئے جانشین منتخب کروں ، تو میں نے ایسے شخص کا سا عمل کیا ہےجو مجھ سے بہتر تھا اور اس نے اپنے لئے جانشین مقرر کیا ہے (یعنی ابو بکر کہ جس نے اپنے بعد مجھے مقرر کیا) اور اگر کسی کو مقرر نہ کروں تو بھی میں نے اس شخص کا سا عمل کیا ہے جو مجھ سے بہتر تھا کہ اس کے بقول اس نے اپنے لئے کسی کو جانشین مقرر نہ کیا ہے (اس کا مقصود پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں جنہوں نے اس کے بقول کسی کو جانشین کے طور پر معین نہ کیا تھا)

یہ عین وہی عبارت ہے جسے ابن ابی بکر نے سیف سے روایت کی ہے اور اگر ابن سعد کی طبقات کی طرف رجوع کریں گے تو اسی روایت کو دوسروں کے ذریعہ ملاحظہ فرمائیں گے (ج ۳/ ص ۳۴۸) ۔

امید کرتا ہوں کہ آپ روایتوں کی چھان بین کرتے ہیں ، مہربانی کرکے بتائیے کہ کیا سیف کی تمام روایتیں مردود ہیں یا ان میں سے بعض کو آپ قبول کرتے ہیں ؟

۵ ۔ آپ نے سیف پر تاریخی واقعات کے سالوں میں تحریف کرنے کی نسبت دی ہے لفظ تحریف کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اس نے اس موضوع میں عمداً یہ کام کیا ہے جبکہ تاریخی واقعات میں اختلاف صرف ان سے ہی مخصوص نہیں ہے ، تنہا وہی نہیں تھاکہ تاریخی واقعات میں اختلاف رکھتا ہو ۔ اگر آپ غزوات اور جنگوں کے راویوں ، جیسے موسی بن عقبہ ، ابن شہاب زہری ، واقدی اور ابن اسحاق پر ذر اغور فرمائیں گے تو جنگوں کے سالوں اور لشکر بھیجنے کی تاریخوں کے بارے میں کافی اختلافات مشاہدہ کریں گے اور اگر ذرا سا آگے بڑھ کر تاریخ طبری میں فتح دمشق اور شام کے دیگر شہروں کے بارے میں گوناگوں روایتیں ملاحظہ کریں تو میں نہیں سمجھتا ہوں کہ ان اختلافات کا مطالعہ و مشاہدہ کرنے کے بعد بھی آپ اسی اعتقاد پر قائم رہیں گے کہ سیف نے ان سالوں اور تاریخوں میں عمداً تغیر دے کر تحریف کیا ہے ۔

نمونہ کیلئے طاعون عمواس کے حادثہ کو مد نظر رکھیں ، ابن اسحاق و ابو معشر کہتے ہیں کہ یہ حادثہ ۱۸ ھ ء میں پیش آیا اور سیف کہتا ہے ۱۷ ھء میں پیش آیا ہے ۔ ان اختلافات میں سے بعض اس لئے رونما ہوئے ہیں کہ تاریخ کی ابتداء میں اختلاف تھا، عمر نے ہجرت کی ابتداء کو اول محرم سے حساب کیا ہے جبکہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہجرت ربیع الاول میں واقع ہوئی ہے اس بنا پر اگر مورخ کہتا ہے کہ یہ تاریخی روداد ۱۷ ھء میں واقع ہوئی ہے اور دوسرا کہتا ہے ۱۸ ھء میں تو یہ ان چند مہینوں کی وجہ سے ہے ، کیونکہ بعض راویوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت کی حقیقی ہجرت کو تاریخ کی ابتداء قرار دیا ہے اور بعض نے اس زمانے کو قرار دیا ہے کہ عمر نے مقرر کیا ہے یعنی اگر کوئی موضوع ماہ محرم یا صفر میں واقع ہو ا ہوگا تو ایک آدمی کہہ سکتا ہے ۱۸ ھء میں واقع ہوا ہے اور دوسرا کہہ سکتا ہے ۱۷ ھء کے آخری ماہ میں واقع ہوا ہے ۔

اور اسی طرح سیف کے بعض دوسرے تاریخی اختلافات ہیں جو دوسروں سے مختلف ہیں تاریخ کے ذکر میں اس قسم کے اختلافات کا بدنیتی سے کوئی ربط نہیں ہے اور یہ تحریف کی دلیل نہیں بن سکتے ہیں ، فرض کیجئے اگر سیف ایک مسئلہ میں دوسرے راویوں سے اختلاف بھی رکھتا ہو تو یہ دلیل نہیں بن سکتا ہے کہ اس نے خطا کی ہے ، اور دوسرے صحیح راستہ پر چلے ہیں ہم مجبور ہیں کہ ہر ایک موضوع کی دقیق، تحقیق و تحلیل کریں اور جو بھی صحیح اور زیادہ ترمستحکم ہو اسے قبول کریں ۔

۶ ۔میں چاہتا تھا کہ آپ سیف کی روایتوں میں موجود اسناد و مآخذ جن پر سیف نے تکیہ کیا ہے کی جانچ پڑتال کرتے، تا کہ ہم دیکھتے کہ کیا ان اسناد میں آپ کی نظر میں اشکال موجود ہے یا نہیں اگر ہے تو کس دلیل کی بنا پر ؟ شائد بحث ایک تازہ نتیجہ پر پہنچ جاتی اور آپ کے نقطہ نظر کو تقویت ملتی ۔

یہ تھے وہ چند مسائل جو آپ کی کتاب کے مطالعہ کو مکمل کرنے کے بعد میرے ذہن میں پیدا ہوئے ، اس امید کے ساتھ کہ ہمیں ایک ایسے متحیر سوال کنندہ کی حیثیت سے جان لیں جو حقیقت کی جستجو میں ہے نہ ایک ہٹ دھرم تنقید اور سرزنش کرنے والے کی حیثیت سے ، ہم سب اس چیز کے متمنی ہیں کہ حقیقت تک پہنچ کر قلب ور روح کو مطمئن کریں ۔

والسلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ

مخلص

احسان عباس

۲۴ /۱/ ۱۹۵۷ ئئ


ہمارا جواب جو جواب ہم نے دیا ، وہ حسب ذیل ہے :

آپ کا ۲۴/۱/ ۱۹۵۷ ءء کو لکھا گیا خط ملا ، کتاب ” عبد اللہ بن سبا “ پر آپ کی تنقید و بحث میرے لئے خوشنودی و مسرت کا سبب بنی ، کیونکہ تنقید ایک ایسی چیز ہے جو مصنف کو اس امر کی طرف توجہ دلاتی ہے جس کے بارے میں اس نے غفلت کی ہو ، تا کہ اسے پورا کرکے اپنی بحث کو اختتام تک پہنچا کر فائدہ حاصل کرسکے آپ نے اس تنقید کے ذریعہ میری اس کوشش میں شرکت کی ہے اور ہماری اس جانچ پڑتال اور علمی تحقیق میں تعاون فرمایا ہے میں آپ جیسے دانشوروں کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے اپنے بھائی کے بارے میں اپنا فریضہ انجام دیا ہے ۔

لیکن ، جوآپ نے چند سوالات کرکے عنایت کی ہے ، اس سلسلے میں عرض ہے:

اولاً: آپ نے سوال کیا ہے کہ کیا سیف کے بارے میں علم حدیث کے دانشوروں کا یہ کہنا کہ وہ ضعیف اور مردود ہے ، ہمیں اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ اس کی تاریخی روایتوں کو چھوڑ کر اس پر عمل نہ کریں اور اہل حدیث ----مثلاً کسی ایسے شخص کو جو عقیدہ قدریہ سے مہتم ہو ---ضعیف جان کر اس کی روایتوں پر عمل نہیں کرتے ہیں ؟

ہم اس سوال کے جواب میں کہتے ہیں : نہیں ، کیونکہ اہل حدیث کی تمام روایتوں کے راوی کو ضعیف ہونے کا الزام نہیں لگاتے ہیں اور انھیں یکبارگی رد نہیں کرتے ہیں بلکہ ان کے ضعیف ہونے کے بارے میں مطالعہ کرتے ہیں اور دقیق نظر ڈالتے ہیں کہ اگر کسی کو کسی سبب کے بغیر ضعیف کہا گیا ہو تو ان کے نظریہ کی تائید نہ کرتے ہوئے اس پر عمل نہیں کرتے ہیں ، لیکن اگر جرح و تضعیف کی علت بیان کی گئی ہو تو اس علت پر توجہ کرتے ہیں اور اگر ہم درک کر لیتے ہیں کہ مثلاً ان مطالب کو علت قراردیا ہے کہ ” فلاں مرجئہ “ ہے اس لئے اس کی حدیث متروک ہے ”فلاں شیعہ ہے اور اس پر رافضی ہونے کا الزام ہے “ فلاں ضعیف ہے ، کیونکہ خلق قرآن کا قائل ہے یا متروک ہے کیونکہ فلسفیوں کی باتوں کی ترویج کرتا ہے “ اس صورت میں ہم اس قسم کی تضعیفوں پر اعتنا نہیں کرتے ہیں ۔

لیکن اگر ہم دیکھتے ہیں کہ جرح میں اس قسم کے الفاظ کہے گئے ہیں ” جعل کرنے والا ہے “ ایسے افراد سے روایت کرتا ہے جنہیں خود اس نے نہیں د یکھا ہے ، ” حدیث کو گڑھ لیتا ہے اور غیر معروف اشخاص سے ان کی نسبت دیتا ہے “ جبکہ یہ کہنے والا راوی کا ہم عصر یا اس کے عقیدہ کا مخالف نہ ہو اور اس کے بارے میں خود غرضی نہ رکھتا ہے اور مذہب کے سلسلے میں بھی اس سے اختلاف نہ رکھتا ہو ، جیسے اگر ایک اشعری ہو تو دوسرا معتزلی نہ ہو ، تو ایسی صورت میں دانشور کی بات کو رد نہیں کرسکتے ہیں اور ایسا نہیں ہے کہ جرح کی دوسری وجوہات کی وجہ سے اس کے ساتھ اختلاف رکھنے کی بناء پر اس خاص جرح کے سلسلے میں اعتناء نہ کریں ۔

اس بناء پر میں نے علمائے حدیث کے بیان کو سیف بن عمر کے بارے میں نقل کیا ہے اور میں نے اسے قبول کیا ہے کیونکہ انہوں نے اس کے بارے میں کہا ہے :

” وہ حدیث جعل کرتا تھا “ خود حدیث گڑھ لیتا تھا اور اپنی گڑھی ہوئی حدیثوں کو باوثوق راویوں کی زبانی نقل کرتا تھا “ جنہوں نے اس کے بارے میں یہ الفاظ کہے ہیں وہ علمائے حدیث میں سے گوناگون افراد اس کے بعد والی صدیوں کے دوران مختلف طبقات سے تعلق رکھتے تھے ، اسکے علاوہ میں نے صرف علمائے حدیث پر اکتفاء نہیں کیا ہے بلکہ اس کی روایتوں کو دوسروں کی روایتوں سے موازنہ بھی کیاہے اور اسی موازنہ اور تحقیق کانتیجہ یہ تھا کہ میں نے علمائے حدیث کی بات کی سیف کے بارے میں تائید کی ہے ۔

آپ نے اپنے دوسرے سوال میں یہ کہا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ سیف نے ان سب چیزوں کو خود گڑھ لیا ہوگا ؟

میں کہتا ہوں : اس میں کونسی مشکل ہے ، جبکہ آپ خود جرجی زیدان اور اس کی جعلی داستانوں ، حریری اور اس کے مقامات ، عنترہ ، الف لیلیٰ اور کلیلہ و دمنہ جیسے افسانوں کے لکھنے والوں اور ادبی و اخلاقی ہزار داستانوں پر اعتقاد رکھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ انھیں بعض داستان نویسوں اور ادیبوں نے مختلف ملتوں سے جعل کرکے اپنے زور قلم سے خیالات پر مبنی شخصیتوں اور سورماؤں کو نہ صرف لباس وجود سے آراستہ کیا ہے بلکہ انہیں خلق کیا ہے تو کیا مشکل ہے ہم سیف کو بھی ان جیسا ایک افسانہ ساز جان لیں اور ا س میں کسی قسم کا تعجب ہی نہیں ہے تعجب تو ان تاریخ نویسوں کے بارے میں ہے جنہوں نے سیف کی داستانوں کو با اعتبار جان کر دوسروں کی صحیح اور سچی روایتوں کو نقل نہ کر کے انھیں چھوڑ دیا ہے جب ہم ان کے اس کام کے بارے میں متوجہ ہوئے تو خود اس کے کام کے بارے میں بھی کوئی تعجب اور حیرت باقی نہیں رہی(۱)

____________________

۱۔ اس کا سبب ہم نے اس سے پہلے اسی کتاب کی آخر میں بیان کیا ہے ۔


تیسرے سوال میں بیان کئے گئے مطلب کے بارے میں خلاصہ حسب ذیل ہے :

سیف نے رودادوں کو مفصل طور پر بیان کیا ہے اور بلاذری نے اجمالی اور خلاصہ کے طورپر ، اس کی روایتوں میں تاریخ کو مفصل طور پر بیان کیا گیا ہے جیسے ابن عبد الحکیم کی کتاب ” فتوح مصر “ کی روایتوں کے مقابلہ میں بلاذری کی ” فتوح البلدان “ اول الذکر کتاب تاریخ فتوح مصر سے مخصوص ہے اور مؤخر الذکر کتاب تمام تاریخ اور تمام فتوحات کا ذکر کیا ہے ، ایک خاص علاقے کی تاریخ کی بارے میں تالیف کی گئی کتاب میں ناموں کی تفصیل ذکر ہے اور دوسری کتاب میں یہ تفصیل لکھنا بھول گئے ہیں یا ذہن سے تفصیلات محو ہوگئی ہیں تو کوئی مشکل نہیں ہے اس لحاظ سے بلاذری کی ”فتوح “ کے کام کو ابن عبد الحکیم کے کام سے کیسے قیاس کریں گے !!

میں کہتا ہوں :ان سب فاصلوں اور دوریوں کے باوجود سیف کی ” فتوح “ کو ابن عبدالحکیم کی ”فتوح “ سے موازنہ نہ کرناکیسے جائز ہے ؟!! کیونکہ اولاً ہم دیکھتے ہیں کہ علم حدیث کے دانشوروں نے ابن عبد الحکیم کی ان الفاظ میں تو صیف کی ہے : ” اس میں کسی قسم کی تشویش نہیں ہے ،” وہ سچ بولنے والا ، قابل اعتماد اور علم تاریخ کا دانشور ہے “ اور اس قسم کے دوسرے الفا ظ بیان کئے ہیں اور کوئی اس کے بارے میں اشکال نہیں رکھتا ہے نیز اسے ضعیف نہیں کہا گیا ہے لیکن سیف کا قضیہ اس کے برعکس ہے ، دانشوروں نے اس کی ملامت کی ہے اور اس کی روایتوں کو ضعیف جانا ہے ۔

اس کی ملامت کرنے والوں میں : ابن معین ، ابو حاتم ، ابو داؤد، دار قطنی ، ابن عدی ، ابن حیان برقانی ، ابن عبد البر ، ذہبی ، ابن حجر ، سیوطی ، فیروز آبادی اور زبیدی شامل ہیں ۔

ثانیاً : ان دو اشخاص کی تحریروں میں واضح اور آشکار فرق ہے :

ابن عبد الحکیم ” فتوح مصر “ میں صرف قبل از اسلام اور بعد از اسلام کے بارے میں لکھتا ہے مؤرخین اسلام نے جو کچھ قبل از اسلام کے بارے میں لکھا ہے اس پر اعتراض نہیں کرسکتے کیونکہ انہوں نے دوسروں سے نقل کیا ہے اور ان کے اکثر تاریخی منابع و مآخذ اسرائیلی تھے بلکہ ان کی تاریخ کے اس حصہ کے بارے میں تحقیق کی جانی چاہئے جو انہوں نے اسلام کے بارے میں لکھا ہے تاریخ کا یہ حصہ کئی گروہوں میں تقسیم ہوتا ہے :

ان میں سے بعض حقیقت گو، مؤرخین نے اپنی تحریروں میں واقعی رودادوں کو لکھا ہے اور ان میں سے بعض نے جذبات کے زیر اثر آکر الٹ پلٹ اور کم و بیش کردیا ہے، ایک گروہ نے ایسا نہیں کیا ہے لیکن اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق جو مورخ سے بھی ہو روایتوں کو دیکھ کر انھیں نقل کیا ہے یہ لوگ بعض اوقات اس مطلوبہ چیز کو ایسے افراد کے پاس پاتے تھے کہ وہ تاریخ نویسی میں امین نہیں تھے اور روایتوں میں کم و زیادتی کرتے تھے اس حالت کو جانے کے باوجود بھی اس گروہ سے نقل کرتے تھے

ایک اور گروہ کے افراد غفلت کی وجہ سے ان سے نقل کرتے تھے اور اگر ہم تاریخ ابن عبد الحکیم کی تحقیق کریں تو دیکھیں گے کہ حدیث کے علماء نے اس کے بارے میں حقیقی گواہی دی ہے کیونکہ وہ تاریخ لکھنے میں حقیقت کا متلاشی تھا اور فتوح مصر میں جو کچھ حقیقت میں گزرا تھا اسے لکھا ہے اگر ہم اس کی کتاب کو بلاذری کی کتاب کے ساتھ موازنہ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ ان میں جو فرق پایا جاتا ہے وہ اجمال اور تفصیل کے درمیان ہے لیکن سیف بن عمر کے حالت ایسی نہیں ہے جس پر ہم نے اس کی نکتہ چینی کی ہے اور کتاب ” عبدا للہ بن سبا “ میں اس پر اعتراض کیا ہے وہ دو قسم پر مشتمل ہے :

پہلی قسم : تحریف اور جابجا کر دیا ہے ، جیسے کہ علی ابن ابیطالب علیہ السلام کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ اپنے گھر میں بیٹھے تھے ، خبر دی گئی کہ ابو بکر لوگوں سے بیعت لینے کیلئے مسجد میں بیٹھے ہوئے ہیں تو بغیر عبا قبا کے حضرت صرف ایک کرتا پہن کر مسجد کی جانب روانہ ہو گئے تا کہ ابو بکر کی بیعت کرنے میں پیچھے نہ رہیں اس طرح آکر ان کی بیعت کی اس کے بعد بیٹھ گئے اور کسی کو بھیجا تا کہ ان کا لباس لے آئے پھر لباس پہن کر اپنی جگہ پر بیٹھ گئے ۔

جبکہ طبری اس داستان کو دوسری جگہ پر عائشہ سے یوں نقل کرتا ہے : کہ علی اور بنی ہاشم نے چھ مہینہ تک بیعت نہیں کی ، یہاں تک کہ فاطمہ زہراء (سلام اللہ علیھا) دنیا سے رحلت کرگئیں(۱) ہم اسی روایت کو صحیح بخاری ، مسلم اور حدیث کی دوسری کتابوں میں سیف کی روایت کے برعکس پاتے ہیں ۔ بالکل یہی قضیہ سعد بن عبادہ کی بیعت کے بارے میں بھی ہے اسی طرح خالد بن سعید اموی کی بیعت سے انکار کے بارے میں جو کچھ کہا ہے(۲)

”حواب“(۳) کے کتوں کے بھونکنے کی داستان میں بجائے ام المؤمنین ام زمل کا نام لیتا ہے ۔ اس طرح جو کچھ اس نے مغیرہ بن شعبہ(۴) کے زنا کے بارے میں کہاہے۔

____________________

۱۔ ملاحظہ ہو کتاب عبدا للہ بن سبا (فارسی) صفحہ۷۶ و ۱۱۲۔

۲۔ ملاحظہ ہو کتاب عبد اللہ بن سبا (فارسی) صفحہ ۷۶ پر سیف کی روایت اور ۲۵(۱) پر روایت غیر سیف۔

۳۔ ملاحظہ ہو کتاب عبد اللہ بن سبا (فارسی) صفحہ ۳۰ بہ روایت سیف اور ۲۵ پر روایت غیر سیف۔

۴۔ ملاحظہ ہو کتاب عبد اللہ بن سبا (فارسی) صفحہ ۶۷ سیف کی روایت اور ۶۸ پر روایت غیر سیف۔


ان تمام مواقع پر جہاں طبری نے سیف کے علاوہ دوسروں کی روایتوں کو نقل کیا ہے اسی جگہ سیف کی تحریف شدہ روایتوں کو بھی نقل کیا ہے ۔

دوسری قسم : من جملہ مواقع جن پر ہم سیف کی نکتہ چینی کرتے ہیں ، وہ داستانیں ہیں جنہیں سیف نے جھوٹ پر مبنی گڑھ لیا ہے اور انھیں تاریخ اسلام میں داخل کیا ہے، ان داستانوں کو اس سے پہلے کسی نے بھی نقل نہیں کیا ہے یا اگر اصل داستان سچی تھی تو اس نے اس پر بہت سے مطالب کا اضافہ کیا ہے ۔

من جملہ مطالب کے داستان علاء بن حضرمی ہے جس میں سیف نے ذکرکیا ہے کہ ” دھنا “ کے صحرا میں اس کیلئے پانی جاری ہوا ، اس کے لشکر نے گھوڑے ، اونٹ ، خچر ، گدھے ، سوار اور پیادہ سب کے ساتھ سمندر کو عبور کیا جبکہ اس کی مسافت کشتی کے ذریعہ ایک دن اورایک رات کے فاصلہ کے برابر تھی اور لکھتا ہے کہ خدا نے چار پاؤں کے سموں کے نیچے نرم ریت اُگا دی کہ صرف حیوانوں کے سم پانی کی نیچے جاتے تھے اور اس طرح انہوں نے اس سمندر کو عبور کیا ۔

اور اس افسانہ کے آخر میں بیان کرتا ہے کہ راہب ہجری مسلمان ہوا اور ابوبکر نے اس کے اسلام لانے کے بارے میں صحابہ کو بشارت دی تھی(۱) اور اباقر کے دن گائے کا سعد کے لشکریوں میں سے عاصم بن عمر سے گفتگو کرنا(۲)

____________________

۱۔ عبد اللہ بن سبا ،(فارسی) ص ۱۶۱ ۔ ۱۶۳)

۲۔ عبد اللہ بن سبا، (فارسی) ص ۱۶۱ ۔ ۱۶۳)


اور روز جراثیم کا ایک اور افسانہ کہ سپاہیوں کا دجلہ سے عبور کرنا ، اگر کوئی گھوڑا تھک جاتا تھا تو اس کے سموں کے نیچے ریت کا ٹیلہ پیدا ہوجاتا تھا اور اس پر گھوڑا ایسے تھکاوٹ دور کرتا تھا جیسے کہ وہ زمین پر کھڑا ہو۔(۱)

من جملہ ان کے وہ مطالب ہیں جنہیں سیف دو بھائی قعقاع اور عاصم کے بارے میں نقل کرتا ہے(۲) یا وہ باتیں جو اس نے عثیم(۳) نامی جنّی صحابی کی داستان میں کہی ہیں اس کے علاوہ بکیر کے اطلال نامی گھوڑے کی باتیں کرنا جب بکیر نے اپنے گھوڑے کو چابک کرکے چھلانگ لگانے کو کہا تو گھوڑے نے جواب میں کہا: ” سورہ بقرہ کی قسم میں نے چھلانگ لگائی “ اسی طرح اس کے دوسرے افسانے(۴)

من جملہ مواقع جن میں سیف نے بے حد مبالغہ گوئی کی ہے اور کافی مقدار میں اصل قضیہ میں اضافہ کیا ہے ، وہ یہ ہے کہ اس نے کہا ہے کہ اسلامی فوج نے لاکھوں کی تعداد میں اپنے دشمنوں کو قتل کر ڈالا ہے اس سلسلہ میں اس نے کہا ہے کہ خالد نے تین دن اورتین رات کے اندر اتنے دشمنوں کے سر قلم کئے کہ خون کی ندی جاری ہوگئی ۵ یہ سیف کی ان مبالغہ آمیزیوں کے علاوہ ہے جو اس نے اپنے نفسانی خواہشات کے تحفظ میں انجام دئیے ہیں ۔

____________________

۱۔ عبد اللہ بن سبا ( فارسی ) ص ۲۰۱ ۔ ۲۰۲

۲۔ان دوافراد کی زندگی کے حالات کتاب ”خمسون و ماة صحابی مختلق “ ص ۶۷ ، ۱۲۸، ۱۳۱، ۱۵۸ پر ملاحظہ ہو ۔

۳۔ ”خمسون و ماة صحابی مختلق “ ص ۶۷ ، ۱۲۸، ۱۳۱، ۱۵۸ پر ملاحظہ ہو

۴۔”خمسون و ماة صحابی مختلق“ میں قعقاع کے حالات ملاحظہ ہوں

۵۔”خمسون و ماة صحابی مختلق“ (فارسی) اور اسی کتاب ج(۲) میں فصل ” انتشار اسلام بالسیف “ میں پر ملاحظہ ہو


اسی بنا پر ہم سیف کی ان دوگانہ تحریف میں سے کس کی تائید کریں گے ؟ کیا اس کی ان تحریفات کی تائید کریں جن میں اس نے بڑی شخصیتوں کے دفاع میں اصل تاریخی رودادوں کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے جبکہ خود طبری نے دوسرے راویوں سے ان واقعات کو دوسری طرح سے نقل کیا ہے یا اس کی داستانوں کی دوسری قسم کی تائید کریں جو توہمات اور خرافات پر مشتمل ہیں ، کیا اس قسم کی داستان سرائی کو روایات میں اجمال و تفصیل کہیں گے یا روایتوں میں الٹ پلٹ اور تحریف کا نام دیں گے؟

لیکن، جس دوسرے نکتہ کا آپ نے ذکر کیا ہے کہ ایک خاص علاقہ کی تاریخ لکھنے والا گمنام افراد کا نام لیتا ہے اور جو عام تاریخ لکھتا ہے وہ اس قسم کے مطالب میں مداخلت نہیں کرتا ہے ۔

ہم جواب میں کہتے ہیں : کیا آپ یہ تصور کرتے ہیں کہ عمرو کے دو بیٹے قعقاع اور عاصم جن کا سیف نے نام لیا ہے ، گمنام افراد تھے ؟ نہیں ، ہرگز ایسانہیں ہے سیف کہتا ہے کہ قعقاع رسول خدا کے اصحاب میں سے تھا اور اس نے حدیث نقل کی ہیں ،وہ سقیفہ میں حاضر تھا ، ابوبکر نے اسے خالد کی مدد کیلئے بھیجا ہے اور ا سکے بارے میں یوں کہا ہے : ”جس فوج میں قعقاع جیسے افراد موجود ہوں وہ فوج فرار نہیں کرے گی “ وہ عراق میں خالد کی جنگوں میں شریک تھا ، جب خالد، اسلام کے سپاہیوں کی مدد کیلئے شام کی طرف روانہ ہوا تو اسے اپنے ساتھ لے گیا ، دمشق کی فتح اور اس پر تسلط جمانے کا سبب قعقاع کا اپنے ساتھی کے ہمراہ قلعہ کی دیوار پر چڑھنا تھا اس کے بعد عمر نے اسے دوبار ہ جنگ قادسیہ میں سعد کی مدد کیلئے وہاں سے عراق کی طر ف لوٹا دیا اور اس نے سفید ہاتھی کی آنکھ کو نکال کر اسے اندھابنا دیا قادسیہ کی جنگ میں اس کی بہادریاں مسلمانوں کی فتح و کامرانی کا سبب بنیں ۔

سیف کے نام گزاری کئے گئے ایام : ” الاغواث“ ”عماس “ اور ” الامارث “ میں اس نے مدد کی ہے ۔

سعد نے اس جنگ میں اسکے بارے میں عمر کو یہ تعریفیں لکھیں کہ ”وہ شہسوار ترین سپاہی ہے “ اس جنگ کے بعد عمر نے اسے ایک بار پھر مسلمانوں کی نصرت کیلئے یرموک کی جنگ میں شام بھیجا ، وہاں پر مسلمانوں کی مدد کرنے کے بعد تیسری بار عراق کی طرف روانہ ہوا اور نہاوند کی جنگ میں شرکت کی ، وہاں پر وہ شہر کے اندرپناہ لئے ہوئے ایرانیوں کو باہر لا کر صحرا تک کھینچ لانے میں کامیاب ہوا ،ان کامیابیوں کے بعد عمر نے اسے عراق کی سرحدوں کے محافظوں کے سردار کے طور پر مقرر کرکے اسے سرحد کا نگہبان بنا دیا۔

اس بناء پر دونوں خلیفہ ابوبکر اور عمر قعقاع کو ہر نامناسب حادثہ روکنے کیلئے بھیجتے تھے ، لیکن عثمان نے اسے کوفہ کا سپہ سالار مقرر کیا اور وہ سبائیوں کی تحریک اور ان کی بغاوت تک اس عہدہ پر فائز رہا اور اس شورش کو کچلنے میں کوشش کی جب عثمان محاصرہ میں قرار پایا تو اس کی نصرت کیلئے ایک فوج کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوا ، لیکن اس سے پہلے کہ مدد کرنے والے پہنچ جاتے عثمان قتل ہوچکے تھے لہذا وہ واپس کوفہ کی طرف لوٹا ۔

علی کی خلافت میں اس نے کوفہ کے لوگوں کو جنگ جمل میں علی سے ملحق ہونے پر آمادہ کیا اور علی و عائشہ اور اس کے حامیوں (طلحہ و زبیر) کے درمیان صلح کرانے میں کامیاب ہوا تھا ، اگر سبائی دھوکے میں جنگ کے شعلوں کو نہ بھڑکاتے جب جنگ چھڑ گئی تو وہی تھا جس نے عائشہ کے اونٹ کا تعاقب کرکے اس پر قابو پاکر جنگ کا خاتمہ کیا اور وہی تھا جس نے عائشہ کے لشکر کو امان دیدی۔

معاویہ کے زمانے میں وہ ان افراد میں سے تھا جنہیں معاویہ کے حکم سے فلسطین کی ” ایلیا “ نامی جگہ پر جلا وطن کیا گیا ، کیونکہ وہ حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام کے لئے مخصوص اصحاب میں سے تھا ۔

لیکن اس کا بھائی عاصم : اس کے بارے میں سیف یوں کہتا ہے کہ وہ ۱۲ ھئمیں خالد کے ساتھ یمامہ سے عراق کی طرف کوچ کیا، سیف نے اس کے بارے میں بہت سارے بہادری و شجاعت کے قصے جیسے جنگ قادسیہ میں ہاتھیوں کو اندھا بنانا وغیرہ نقل کی ہیں ۔ خلیفہ عمر نے اسے علاء کی مدد کیلئے فارس بھیجا ہے ، یہ وہی ہے جس کے ساتھ گائے نے گفتگو کی ، عمر نے سیستان کی جنگ کا پرچم اس کے ہاتھ میں دیا اس کے بعد اسے کرمان کی گورنری اور فرماں روائی سونپی اور اپنی وفات ۲۹ ھء تک وہا ں کی گورنری کے عہدہ پر فائز تھا ۔

سیف نے ان دو جنگجو بھائیوں کے بارے میں ا ن تمام اخلاقی خوبیوں کے علاوہ اشعار و مناقب بھی بیان کئے ہیں ۔

کیا بقول سیف جنگجو اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی دو بھائیوں کے بارے میں یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ گمنام افراد میں سے ہوں گے ؟ جبکہ سیف نے ان کیلئے اتنی خصوصیات بیان کی ہیں اور خلفاء کی طرف سے مختلف مراحل میں اتنی نوازشیں اور فرمان روائیاں عطا کی گئی ہیں اور ان سے اتنے اشعار نقل ہوئے ہیں کیا خالد بن ولید کیلئے اتنیشجاعت و بہادری کے قصے کتابوں میں بیان ہوئی ہیں جتنی سیف نے قعقاع کیلئے نقل کی ہیں ؟ اس کے باوجود کیا علت ہے کہ ان دو افراد کا نام صرف سیف کی روایتوں میں ذکر ہوا ہے ؟

طبری نے ۱۰ ھء سے ۲۹ ھء تک کی رودادوں کے بارے میں جو کچھ سیف سے نقل کیا ہے میں نے اسے اسی مدت کے بارے میں د وسروں کی روایتوں سے موازنہ اور تطبیق کیا اور اسی طرح جو کچھ ابن عساکر نے اپنی تاریخ دمشق کی ج ۱ و رج / ۲ میں سیف اور غیر سیف سے روایت کی ہے ، دونوں کی تطبیق کی، لیکن ان دو جنگجوؤں کا کہیں نام ونشان نہیں پایا جاتا، اس کے علاوہ ابن شہاب (وفات ۱۲۴ ھء) ، موسی بن عقبہ (پیدائش ۱۴۱ ھء) ، ابن اسحاق (پیدائش ۱۵۲ ھء) ، ابو مخنف (پیدائش ۱۵۷ ھء) ، محمد بن سائب (پیدائش ۱۴۶) ابن ہشام (پیدائش ۲۰۶ ھء) ، واقدی (پیدائش ۲۰۷ ھء) اور زبیر بن بکار (پیدائش ۲۴۷ ھء) کی روایتوں اور دوسرے راویوں کی روایتوں میں جس سے طبری اور ابن عساکر نے دسیوں روایتیں ان رودادوں کے بارے میں نقل کی ہیں کہ سیف نے ایسی ہی رودادوں میں ان دو بھائیوں کا نام ذکر کیا ہے لیکن ان دوبھائیوں کے بارے میں ا نہوں نے کہیں نام تک نہیں لیا ۔

میں نے اس موازنہ میں صرف اس پر اکتفاء کیا ہے جسے طبری نے سیف اور دوسروں سے نقل کیا ہے اور ابن عساکر کو صرف ایک گواہ کی حیثیت سے پیش کیا ہے چونکہ میں نے دیکھا کہ آپ نے اپنی بات کے تیسرے مرحلہ میں اس مطلب کے بارے میں یاددہانی کی ہے کہ ہم موازنہ اور مقابلہ میں تاریخ طبری پر اکتفاء کریں ، ورنہ میں آپ کے اس نظریہ سے اتفاق نہیں ر کھتا ہوں کہ صرف تاریخ طبری کو اہمیت دی جائے اور اسی پر اکتفاء کیا جائے (اگر آپ اس قسم کا اعتقاد رکھتے ہیں ؟)

آپ کے کہنے کے مطابق یاددہانی اور آگاہی کیلئے قعقاع اور عاصم کے بارے میں کیوں طبقات ابن سعد کی طرف رجوع نہ کریں ؟ کیا ابن سعد نے کوفہ میں رہنے والے اصحاب ، تابعین اور دانشوروں ،کی زندگی کے حالات پر روشنی نہیں ڈالی ہے ؟ اور یہ دو بہادر جنگجو کو سیف کے کہنے کے مطابق کوفہ کی معروف شخصتیں اور جنگجو تھے ؟!

کیا وجہ ہے کہ ہم آشنائی حاصل کرنے کیلئے کتاب ” الاصابہ “ کی طرف رجوع نہ کریں جبکہ ابن حجر بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوں صورتوں میں سیف سے روایتیں نقل کرتے ہیں ؟

کیوں نہ ہم ” الاستعیاب “ ” اسد الغابہ “ اور ” التجرید “ کا مطالعہ کریں اور ان کے سیف سے نقل کئے گئے اصحاب کی زندگی کے حالات کو نہ پڑھیں ؟ کیا یہ کتابیں اصحاب کی زندگی کے حالات کی تشریح کرنے میں خصوصیت نہیں رکھتی ہیں ؟! ہم کیوں تاریخ ابن عساکر کی طرف رجوع نہ کریں اور اس کے ہر موضوع پر لکھے گئے مطالب کو نہ پڑھیں ،جو روایتوں کا ایک عظیم مجموعہ ہے اس نے حتی الامکان تمام روایتوں کو حتی سیف اور غیر سیف سے نقل کیا ہے ؟!

سیف کی فتوحات کی بحث میں ہم کتاب ” معجم البلدان “کا کیوں مطالعہ نہ کریں ؟ جبکہ اس کے مصنف کے پاس سیف کی کتا ب” فتوح “ کا تصحیح شدہ ابن خاضبہ کا لکھا ہوا قلمی نسخہ موجود تھا چنانچہ اس نے شہردں کی تاریخ لکھنے والے تمام مؤلفین کا ذکر کیا ہے کیوں نہ ہم ان کا مطالعہ کرکے موازنہ کریں ؟ اور اس بحث سے مربوط دوسری کتابوں کاکیوں ہم مطالعہ نہ کریں ؟ اس کی کیا دلیل ہے کہ ہم اپنی تحقیق، مطالعہ ، اور موازنہ کو طبری کی روایتوں تک محدود کرکے رکھیں ؟

میں واضح الفاظ میں کہتا ہوں کہ سچی روایتیں نہ لکھنے میں طبری کا تعمد اور اس کی خود غرضی شامل تھی میں اسے اس موضوع کے بارے میں ملزم جانتا ہوں ، کیا یہ شخص وہی نہیں ہے جو ۳۰ ھء کی رودادوں کو لکھتے ہوئے ابو ذر کی زندگی کے حالات کے بارے میں یوں لکھتا ہے :

” اس سال یعنی ۳۰ ھء میں معاویہ اور ابوذر کا واقعہ پیش آیا اور معاویہ نے اسے شام سے مدینہ بھیج دیا ، اس جلاوطنی اور مدینہ بھیجنے کے بارے میں بہت سی وجوہات بیان کی گئی ہیں کہ مجھے ان میں سے بہت سی چیزوں کا ذکر کرنا پسند ہے لیکن جو لوگ اس قضیہ میں معاویہ کو بے گناہ ثابت کرنا چاہتے ہیں انہوں نے اس سلسلہ میں ایک داستان نقل کی ہے کہ سیر نے اسے لکھا ہے کہ شعیب نے اسے بقول سیف اس کیلئے نقل کیا ہے “(۱)

تاریخ طبری کا اس کے بعد والے افراد کیلئے قابل اعتماد بننے اور ان کا اس پر بھروسہ کرنے کا یہی موضوع سبب بنا ہے اس مطلب کی تفصیلات اور وضاحت کیلئے تاریخ ابن اثیر کا مقدمہ ، جہاں پر ۳۰ ھء میں ابوذر کی روداد بیان کی گئی ہے ،تاریخ ابن کثیر ،ج ۷ ص ۲۴۷ اور ابن خلدون جنگ جمل کی داستان کا آخری حصہ اور معاویہ کے ساتھ امام حسن کی صلح کا واقعہ مطالعہ کیا جائے(۲)

____________________

۱۔ طبری، ج ۴/ ص ۶۴

۲۔ اس کتاب کی ابتداء میں ” افسانہ کا سرچشمہ ”‘ نامی فصل ملاحظہ ہو


یہ طبری کا حال ہے نیز ان لوگوں کا جنہوں نے طبری پر اعتماد کر کے اس سے نقل کیا ہے لہذا یہکیسےممکن ہے کہ ہم اپنی تحقیقات اور چھان بین کو تاریخ طبری تک ہی محدود کر دیں ؟

آپ نے اپنے خط کے چوتھے بند میں لکھا تھا: سیف کی ان جگہوں کے بارے میں کیا خیال ہے جہاں پر اس کی روایتیں دوسروں کی روایتوں کے ہم آہنگ اور بالکل ویسی ہی ہیں ؟ کیا اس صورت میں بھی آپ اسے حدیث جعل کرنے والوں میں شمار کرتے ہیں ؟یہاں تک آپ نے لکھا کہ: ” میں امید کرتا ہوں آپ سیف کی روایتوں پر تحقیقات کرتے وقت معین کریں کہ کیا سیف کی ساری روایتوں کوکہ جو کچھ اس سے نقل ہوا ہے اس میں مکمل طور پر الگ کر دیا جائے یا کم از کم اس کی بعض روایتوں کو قبول کیا جائے ؟

اس کے جواب میں کہنا چاہتا ہوں : سیف کی تاریخی روایتوں کی میری نظر میں کوئی قدر و قیمت نہیں ہے میں اس کی وقعت ہارون رشید کے زمانے کی داستانوں پر مشتمل لکھی گئی کتاب ” الف لیلیٰ“ سے زیادہ نہیں سمجھتا جس طرح ہم کتاب ” الف لیلیٰ“ کو ہارون رشید کے زمانے کے بارے میں تاریخ کے ایک مآخذ اور نص کے طور پر مطالعہ نہیں کرتے بلکہ اسے ایک ادبی داستان کی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور اسے تھکاوٹ دور کرنے اور ذہنی سکون حاصل کرنے کے ایک وسیلہ کے طور پر جانتے ہیں حقیقت میں بعض اوقات ان داستانوں میں داستان لکھنے والے کی شخصیت کو پہچانا جاسکتا ہے اور اس کے ہم عصر لوگوں کی فکری سطح پر تحقیق کی جاسکتی ہے اور اسی طرح اس زمانے میں ملک کی ثقافت و تمدن کے بارے میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے جس کا خود داستان کے ساتھ کوئی ربط نہیں ہوتا ۔

میں سیف کی داستانوں کو اسی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور داستان کے اسلوب سے ایسا محسوس کررہا ہوں کہ ہمارا یہ طاقتور داستان نویس اپنی داستانوں کیلئے مآخذ اور اسناد جعل کرنے کیلئے مجبور تھا تا کہ ان داستانوں کا سلسلہ اس زمانے تک پہنچ جائے جس کے بارے میں اس نے داستانیں لکھی ہیں کیونکہ اس کا زمانہ ” جرجی زیدان “ کا زمانہ تھا کہ اپنے تاریخی افسانوں کیلئے سند جعل کرنے کی ضرورت نہ رکھتا ہو ۔

میرے نزدیک سیف کی روایتوں کی حیثیت ایسی ہے کہ میں ان میں سے کسی ایک پر اعتماد نہیں کرسکتا ہوں کیونکہ جس نے اتنا جھوٹ بولا ہو اس پر کیسے بھروسہ کیا جاسکتا ہے کہ اس نے دوسرے مواقع پر بھی جھوٹ نہ کہا ہوگا لہذا عقل حکم دیتی ہے کہ سیف کی کسی بھی روایت پر اعتماد نہ کیا جائے میں اگر سیف سے روایت کی گئی کسی داستان کو کسی دوسرے معتبر طریقے سے حاصل کروں تو اسے قبول کروں گا لیکن اس حالت میں ترجیح دوں گا کہ سیف کی روایت کو کالعدم قرار دوں ۔

اپنے خط کے پانچویں حصہ میں آپ نے ذکر کیا ہے: میں نے سیف کے توسط سے حوادث اور روئداد وں کے سالوں میں سیف پر تحریفات کی تہمت لگائی ہے اور لفظ تحریف سے روئیدادوں کے سال تعیین کرنے میں عمداً یہ کام انجام دینے کا مفہوم ظاہر ہوتا ہے ، جبکہ یہ صرف سیف نہیں تھا جس نے حوادث کے سالوں کے تعیین میں اختلاف کیا ہے ۔

میں اس کے جواب میں کہتا ہوں : اگر چہ سیف کے علاوہ دوسرے راوی بھی رودادوں کے بارے میں سال اور تاریخ معین کرنے میں آپس میں اختلافات رکھتے ہیں ، لیکن یہ کام ان کے یہاں اتنا عام اور مشہور نہیں ہے جتنا سیف کے یہاں پایا جاتا ہے یا اس نے اس کی عادت ڈال لی ہے اس کے علاوہ جس قدر ہم نے سیف کے یہاں تاریخی داستانوں میں تحریفات ، مداخلت اور الٹ پھیر دیکھی ہے اس قدر دوسروں کے یہاں مشاہدہ نہیں ہوتا ، اس کے علاوہ ہم نے اکثر اس کی ان تحریفات کو مد نظر رکھا ہے کہ صرف اس نے عمداً یہ کام انجام دیا ہے اور دونوں راویوں میں سے کسی ایک نے بھی اس کی تائید نہیں کی ہے یعنی اس نے دوسرے تمام راویوں کے بر عکس عمل کیا ہے ۔

لیکن آپ کا یہ کہنا کہ زمانے کے بعض اختلافات جو بذات خود ایسے اسباب ہیں کہ ان کا بد نیتی اور خود غرضی سے کوئی ربط نہیں ہے۔

جواب میں کہتا ہوں کہ : خوش فکر انسان جتنی بھی کوشش کرے زیادہ سے زیادہ سیف کی تحریفات کے چند خاص مواقع کی توجیہ کرسکتا ہے لیکن اس کی تحریفات کے اندر ایسے نمونے بھی ملتے ہیں کہ جس قدر بھی ہم حسن ظن رکھتے ہوں اور اس کے سوا چارہ ہی نظر نہیں آتا ہے کہ اس سے بد نیتی اور خود غرضی کی تعبیر کی جائے ،نمونہ کے طور پر اس امر کی طرف توجہ فرمائیے کہ : طبری نے ۱۲ ھء کی رودادوں کو نقل کرتے ہوئے ” ابلہ “ کی فتح و تسخیر کے بارے میں اپنی تاریخ کی ج(۴) ص ۵ ۔ ۶ میں لکھا ہے : ابوبکر نے خالد کو عراق بھیجا اور اسے حکم دیا کہ پہلے بندر سندھ اور ہند کو فتح کرے وہ جگہ ان دنوں ” ابلہ “ کے نام سے مشہور تھی خلاصہ یہ ہے کہ : اس نے مشرکین کو اس حالت میں دیکھا کہ انہوں نے فرار نہ کرنے کیلئے اپنے آپ کو زنجیروں سے باندھا تھا اور ان کے پاس پانی موجود تھا ، خالد نے ان کے مقابل میں ایک ایسی جگہ پر پڑاؤ ڈالا جہاں پر پانی موجو نہ تھا اور ان کے درمیان جنگ چھڑ گئی خداوند عالم نے بادل کے ایک ٹکڑے کو بھیجدیا اور مسلمانوں کی فوج کے پیچھے موجود تمام گڑھے پانی سے بھر گئے اور اس طرح خداوند عالم نے اسلام کے سپاہیوں کو طاقت بخشی ، سورج چڑھنے سے پہلے اس صحرا میں اس لشکر کا ایک فرد بھی زندہ نہ بچا ، جنہوں نے اپنے کو زنجیروں سے باندھا تھا ، خالد نے ان سب کا قتل عام کیا اسی لئے اس جنگ کو جنگِ ” ذات السلاسل “ کہا گیا ہے ، یعنی زنجیر والوں کی جنگ، خالد نے اس فتح و نصرت کی خبر جنگ غنائم اور ایک ہاتھی سمیت ابوبکر کو بھیجا، ہاتھی کو شہر مدینہ میں گھمایا گیا تا کہ لوگ اس کا تماشا دیکھیں ، مدینہ کی کم عقل عورتیں اسے دیکھ کر آپس میں کہتی تھیں کیا یہ خدا کی مخلوق ہے جسے ہم دیکھتے ہیں ؟ اور خیال کرتی تھیں کہ اسے انسان نے خلق کیا ہے ۔ ابو بکر نے اس ہاتھی کو ” زر“ نامی ایک شخص کے ذریعہ واپس بھیج دیا ۔

اس داستان کے بعد طبری کہتا ہے : ” ابلہ “ اور اس کی فتح کے بارے میں یہ داستان جو سیف نے نقل کی ہے ، اس چیز کے بر عکس ہے جو سیرت لکھنے والوں نے نقل کیا ہے اور اس کے بر خلاف ہے جو صحیح مآخذ اور آثار میں ذکر ہوا ہے بلکہ ” ابلہ “ خلافت عمر کے زمانے میں عقبہ بن غزوان کے ہاتھوں ۱۴ ھء میں فتح ہوا ہے اس کے بعد طبری نے ۱۴ ھء کی روئیداد کے ضمن میں اپنی کتاب کی جلد ۴ ص ۱۴۸ سے ۱۵۲ تک سیف کے علاوہ دوسرے راویوں سے نقل کرکے کچھ مطالب لکھے ہیں جن کا خلاصہ حسب ذیل ہے :

” عمر نے عقبہ سے کہا: ” میں نے تجھے سرزمین ہند کی بندرگاہ کی ماموریت دیدی ہے اور اسے بندر ہند کی گورنری سونپی ، عتبہ روانہ ہوا اور سرزمین ” اجانہ “ کے نزدیک پہنچا ، تقریباً ایک مہینہ تک وہاں پر ٹھہرا ، شہر ” ابلہ “ کے باشندے اس کے پاس آگئے ، عتبہ نے ان سے جنگ کی ، وہ بھاگ گئے اور شہر کوترک کیا ، مسلمان اس شہر میں داخل ہو گئے عتبہ نے اس فتحیابی کی نوید جنگی غنائم کے پانچویں حصہ کے ساتھ عمر کو بھیج دی

خدا آپ کی حفاظت کرے ! ذرا غور سے دیکھئے اور غائرانہ نظر ڈالیے کہ سیف نے کس طرح عمر کے زمانے میں عتبہ نامی سردار کے ہاتھوں واقع ہوئی ایک روداد کو تحریف کرکے اسے ابوبکر کے زمانے سے مربوط کرکے خالد بن ولید کے ہاتھوں رونما ہوتے دیکھا یاہے ، اختلاف صرف سال اور تاریخ ثبت کرنے میں نہیں تھا کہ صرف ۱۴ ھ ئکو ۱۲ ھء کہا ہوگا تا کہ اس کی تحریف کیلئے کوئی توجیہ تلاش کرتے !

اس کے علاوہ سیف نے اس روداد کو لکھتے ہوئے ایک اور چیز کا بھی اضافہ کیا ہے کہ خالد اور اس کے سپاہی ایک ایسی جگہ پر اترے جہاں پر پانی موجود نہ تھا اور خداوند عالم نے ان کے محاذ کے پیچھے ایسا پانی برسایا جس سے وہاں پر موجود تمام گڑھے پانی سے بھر گئے اور اس طرح خدا نے مسلمانوں کو طاقت بخشی سیف اس طرح چاہتا تھا کہ جو برتری اور فضیلت خداوند عالم نے غزوہ بدر میں اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو عنایت کی تھی اسے خالد اور اس کے لشکر کیلئے ثابت کرے جہاں پر خداوند عالم فرماتا ہے :

<و یُنَّزِلُ عَلَیْکُمْ مِنَّ السَّماءِ مَاءً لِیُطَهِّرَکُمْ بِهِ وَ یُذْهِبَ عَنْکُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَلِیَرْبِطَ عَلٰی قُلُوبِکُمْ وَیُثَّبِتَ بِهِ الاَقْدَامَ >

اور آسمان سے پانی نازل کررہا تھاتاکہ تمہیں پاکیزہ بنا دے اور تم سے شیطان کی کثافت کو دور کردے اور تمہارے دلوں کو مطمئن بنادے اورتمہارے قدموں کو ثبات عطاکردے ۔ (سورہ انفال / ۱۱)

اس طرح سیف نے ایک اور مطلب کا اضافہ کیا ہے کہ خالد نے دشمن فوج سے غنیمت کے طور پر ہاتھ آئے ایک ہاتھی کو جنگی غنائم کے ساتھ مدینہ بھیجا تا کہ مدینہ کے لوگ اس کا تماشا دیکھیں ، ہاتھی کو شہر مدینہ میں گھما یا گیا اور مدینہ کی کم عقل عورتیں اسے دیکھ کر کہتی تھی : کیا یہ خدا کی مخلوق ہے یا انسان کے ہاتھ کی بنی ہوئی کوئی چیز ہے ؟ کیا حقیقت میں ہاتھی پوری اس جعلی داستان کے ہم آہنگ نظر آتا ہے ؟ جسے سیف بن عمر نے خلق کیا ہے ، لیکن افسوس، کہ مناسب طریقے پر اسے جعل نہیں کیا ہے میں نہیں جانتا کہ سیف یہ بات کیوں بھول گیا ہے کہ حجاز کے عربوں نے سپاہ ابرھہ کی روداد میں ہاتھی کو دیکھا تھا کاروانوں نے اس خبر کو ہر بیابان تک پہنچا دیا تھا اور داستانیں لکھنے والوں نے اپنے افسانوں میں کافی حد تک اس کا ذکر کیا تھا مسلمان عورتوں نے قرآن مجید میں ان آیات کی کافی تلاوت بھی کی تھی

<اَلَمْ تَرَ کَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحَابِ الْفِیل اَلَمْ یَجْعَلْ کَیْدَهُمْ فِی تَضْلِیلٍ >

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا برتاؤ کیا ہے کیا ان کے مکر کو بیکار نہیں کردیا ہے ۔ (سورہ فیل)

میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ سیف نے کس مقصد سے ان مسائل اور ایسے مطالب کا اس داستان میں اضافہ کیا ہے ؟ کیا وہ یہ چاہتا تھا کہ جو چیز خداوند عالم نے غزوہ بدر میں اپنے پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیلئے عطا کی تھی اسے خالد کیلئے ثابت کرے ؟ یا چاہتاتھا کہ خالد کے مرتبہ و مقام کو بلند کرکے اس کیلئے فتوحات اور کرامتیں بیان کرے تا کہ عراق کی سپہ سالاری سے اس کی معزولی اور سلب اعتماد کے بعد اسے عراق سے شام بھیج کر ایران کی فتوحات میں شرکت سے محروم کئے جانے کی بے چینی کی تلافی کرے یا ان باتوں کے علاوہ کوئی اور چیز اس کے مد نظر تھی ؟

لیکن آپ کے چھٹے مطلب کے بارے میں کہ جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ سیف نے اپنی روایتوں میں جس سلسلہ سندکا ذکر کیا ہے اس کی تحقیق اور چھان بین کی جائے ۔

جواب میں عرض ہے کہ : اگر سیف کی روایتوں کے بارے میں ہماری تحقیق کا نتیجہ یہ نکلا کہ سیف نے جو نقل کیا ہے اس میں وہ منفرد ہے اور اس کے بعد ہمیں معلوم ہوجائے کہ سیف نے اس روایت کو روایوں میں سے کسی ایک سے نقل کیا ہے تو کیا ہم اس روایت کے گناہ کو اس شخص کی گردن پر ڈال سکتے ہیں جس سے سیف نے روایت نقل کی ہے ؟

مجھے امید ہے کہ اس سلسلہ میں اپنے نقطہ نظر سے آگاہ فرمائیں گے شاید ہم اس کتاب کی اگلی بحثوں میں آپ کے نظریہ سے استفادہ کریں(۱)

والسلام علیکم ور حمة اللہ و برکاتہ

کاظمین ، عراق

سید مرتضی عسکری

____________________

۱۔ سیف کی روایتوں کی چھان بین کے دوران معلوم ہوا کہ ان میں سے بعض روایتوں کو سیف نے خود جعل کیا ہے اور دیگر راویوں سے نقل کیا ہے ہم نے ان تحقیقات کے نتائج کو کتاب عبدا للہ بن سبا کے بعد والے طبع میں داخل کیا ہے اور ” رواة مختلقون“ نام کی کتاب زیر تالیف ہے


مطالعات کے نتائج

روایت جعل کرنے میں سیف کا مقصد

ہم نے سیف کی روایتوں کے بارے میں کافی حد تک مطالعہ و تحقیقات کا کام انجام د یا ہے مطالعات کی ابتداء میں ہم یہ تصور کرتے تھے کہ روایت جعل کرنے اور داستانیں گڑھنے میں اس کا صرف یہ مقصد تھا کہ طاقتور اور صاحب اقتدار اصحاب جن کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور تھی اور نفوذ رکھتے تھے، کا دفاع کرے اور ان کے مخالفین کو ذلیل و حقیر کرے اور ان کی عظمت کو گھٹا کر پیش کرے ، ہر چند وہ بلند ایمان اور بافضیلت ہی کیوں نہ ہوں ، اس لئے اس نے تاریخ کے واقعات کو الٹ پلٹ کر کے رکھدیا ہے بہت سے افسانوں اور داستانوں کر گڑھ کر انھیں تاریخ اسلام میں شامل کیا ہے اس طرح نیک اور مخلص اصحاب کو ظالم اور تنگ نظر کی حیثیت سے معرفی کیا ہے اور ظالموں اور آلودہ دامن والوں کو پاک ، دانا اور پرہیزگار کے طور پر پیش کیا ہے اور جعل و تحریف کی اس تلاش میں اسلام کے حقیقی چہرہ کو مسخ کرکے بد صورت دکھایا ہے اس منحوس اور خطرناک منصوبہ اور نقشہ میں اس کی کامیابی کا راز اس میں تھا کہ اس نے اپنے برے اور تخریب کارانہ مقصد کو تمام اصحاب کی تجلیل اور تعریف کے ساتھ ممزوج کرکے رسول خدا کے تمام اصحاب کی حمایت و دفاع کے پردے میں چھپایا ہے ، اس کی یہ چالاکی اور مکر و فریب مسلسل ایک طولانی مدت تک دانشوروں کیلئے پوشیدہ رہا اور انہوں نے خیال کیا ہے کہ سیف حسن ظن اورللہیت اور مقدس مقصد رکھتا ہے اور حدیث و افسانے گڑھ کر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تمام اصحاب کا دفاع کرنا چاہتا ہے اور ان کے فضائل کی تشہیر کرنا چاہتا ہے اسی غلط تصور کے تحت تاریخ اور حدیث کے علماء نے ----اس کے باوجود کہ اسے جھوٹا ا اس کی روایتوں کو جعلی اور خود اس کو افواہ باز و زندیق کہتے تھے --- اس کی روایتوں کو تمام راویوں پر ترجیح دے کر انھیں مقدم قرار دیا ہے ۔

اسی وجہ سے سیف کی جھوٹی روایتیں رائج ہوکر منتشر ہوگئیں اور اسلامی تاریخ اور مآخذ میں شامل ہوگئیں اور اس کے مقابلہ میں صحیح روایتیں فراموشی کی نذر ہوکر اپنی جگہ، سیف کی جھوٹی روایتوں کو دے بیٹھی ہیں اسلام اور اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کے بہانے اسلام کیلئے یہ سب سے بڑا نقصان اور پیکر اسلام پر کاری ضرب تھی جو پہلے سیف کی طرف سے اورپھر اس کے اس جرم میں شریک تاریخ نویسوں کے ایک گروہ کی طرف سے پڑی ہے ۔

چونکہ میں نے سیف کی کارکردگیوں کے اس سلسلہ کو اسلام و مسلمین کے بارے میں نقصان دہ اور انتہائی خطرناک پایا اس لئے میں نے تاریخ اسلام کا عمیق مطالعہ کرنے کا فیصلہ کیا تا کہ پیغمبر اسلام کے نیک اور مخلص اصحاب کا دفاع کروں جن کا حق تاریخ اسلام میں ضائع اور پایمال ہوا ہے۔

اور ان کی ذات کو سیف کی تہمتوں سے پاک کروں اور تاریخ میں گزرے ہوئے ہر واقعہ کو اپنی جگہ پر قراردوں ، خاص کر اپنے مطالعہ کو سیف کی روایتوں کے بارے میں جاری رکھوں اور اس کی تحریفات اور اس کے شریک جرم حامیوں کے تعصبات کے ضخیم پردوں کے نیچے سے تاریخ کے فراموش شدہ حقائق کو نکال کر کما حقہ ،صورت میں پیش کروں ، میں نے اس تحقیقات اور مطالعات کے خلاصہ کو ایک کتاب کی صورت دیدی اور ۱۳۷۵ ھء میں اسے نجف اشرف میں ” عبد اللہ بن سبا “ کے نام پر شائع کردیا یہ تھے میرے مطالعات کے پہلے نتائج اور انکشافات ۔

اس کے بعد میں نے سیف اور اس کی روایتوں کے بارے میں مطالعہ اور تحقیقات کو جاری رکھا میں نے اس سلسلہ میں عمیق تحقیقات اور بیشتر دقت سے کام لیا سب سے پہلے میرے لئے یہ مطلب منکشف اور عیاں ہوگیا کہ ان سب جعل ، جھوٹ اور کذب بیانی کی تشہیر سے سیف کا صرف صاحب اقتدار اصحاب کا دفاع ہی مقصد نہ تھا بلکہ اس کے اور بھی مقاصد تھے جنہیں اس نے ظاہری طور پر تمام اصحاب کے دفاع کے پردے کے پیچھے چھپا رکھا ہے ۔

حقیقت میں سیف کے احادیث جعل کرنے اور افسانہ سازی میں بنیادی اور اصلی محرک کے طور پر درج ذیل دو عوامل تھے :

۱ ۔ خاندانی تعصب

سیف اپنے خاندان ” عدنان “ کے بارے میں انتہائی متعصب تھا اور ہمیشہ اپنے خاندان کے افراد کی خواہش کے مطابق تعریف و تمجید کرتا ہے اور اپنے قبیلہ کے افرادکیلئے فضائل و مناقب جعل کرکے ان کی تشہیر کرتا ہے اور تاریخ کی کتابوں میں انھیں شامل کرتا ہے چونکہ ابو بکر ، عمر ، عثمان اور بنی امیہ کے تمام خلفاء اور ان کے زمانے کے حکام و فرمانروا سب قبیلہ عدنان سے تعلق رکھتے تھے ، اس طرح مہاجر اصحاب ،قریش سے تھے اور قریش بھی قبیلہ عدنان کا ایک خاندان تھا ، سیف ان سب کا خاندانی تعصب کی بناء پر کہ وہ اس کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے دفاع کرتا تھا چونکہ بزرگ صحابی اور طاقتور لوگ اس کے قبیلہ کے افراد تھے اسلئے یہ شبہہ پیدا ہوتا تھا کہ وہ بزرگ اصحاب کا دفاع کرتا ہے جبکہ حقیقت میں وہ اپنے قبیلہ کے بزرگوں یعنی خاندان عدنان کے افراد کا دفاع کرتا تھا اس طرح ایسے خاندانی تعصب کی بناء پر قبیلہ قحطان کے افراد جو فخر و مباحات کے لحاظ سے قبیلہ عدنان کے ہم پلہ اور برابر تھے اس وقت کے حاکموں اور صاحبان اقتدار سے ---جو سب قبیلہ قریش اور عدناں سے تھے---- ----اچھے تعلقات نہیں رکھتے تھے(۱) شدید ملامت کرتا تھااور ان پر ناروا تہمتیں لگاتا تھا۔

چونکہ انصار قبیلہ قحطاں کا ایک خاندان تھا اس لئے سیف نے ان کی ملامت اور مذمت کرنے میں حد کر دی ہے اور انکی مذمت اور تنقید میں داستانیں گڑھ لی ہیں اور بہت سی روایتیں جعل کی ہیں ۔

۲ ۔ کفر و زندقہ

سیف کا اسلام میں جعل وتحریف کرنے کا دوسرا عامل اس کا کفر اور زندقہ تھا سیف اسی کفر و زندقہ اور دل میں اسلام سے عداوت رکھنے کی وجہ سے چاہتا تھاکہ تاریخ اسلام کو الٹ پلٹ کر اسلام کے چہرہ کو بد نما اور نفرت انگیز صورت میں پیش کرے ۔

یہی مقصد اور محرک تھا جس کی وجہ سے اس نے ایک طرف سے حدیث کے راویوں اور پیغمبر

____________________

۱۔خلفاء میں حضرت علی کی یہ خصوصیت تھی کہ ان کے مخالفین قریش و عدنان سے تھے اور ان کے دوست قحطانی تھے اس لئے سیف حضرت علی علیہ السلام کے فضائل بیان کرنے میں بخل کرتا تھا لیکن امام اور ان کے طرفدارو(جو قحطانی تھے) کے بارے میں جھوٹ اور تہمتیں پھیلانے میں زیادہ سے زیادہ کوشش کرتا تھا ۔


کے اصحاب اور حوادث کے سورماؤں کے ناموں میں تبدیلی کی اور بہت سی روایتوں اور حوادث میں تحریف کرکے ان کے رونما ہونے کی تاریخ کو الٹ پلٹ کرکے رکھ دیا ہے اور دوسری طرف سے مفصل روایتیں اور داستانیں جعل کرکے تاریخ اسلام میں شامل کی ہیں اور توہمات پر مشتمل افسانے جعل کرکے مسلمانوں کے اعتقادات کو خرافات اور بیہودگیوں سے بھر دیا ہے۔

سیف نے اس فاسد اور مخرب مقصد تک پہنچنے کیلئے ہر قسم کے جھوٹ ،افواہ بازی اور تحریف سے فروگذاشت نہیں کیا ہے لیکن ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ اس نے زبردست کوشش کی ہے کہ جھوٹی جنگوں اور فتوحات کو نقل کرکے اسلام کو سنگ دل اور اسلام کے سپاہیوں کو خونخوار اور لٹیرے کی حیثیت سے متعارف کراے اور اس طرح ظاہر کرے کہ اسلامی جنگیں قتل و غارت لوٹ کھسوٹ ، ظلم و جور زبردستی اور بربریت پر مبنی تھیں اسی لئے کچھ لوگوں نے یہ تصور کیا ہے کہ اسلام تلوار اور خونریزی کے نتیجہ میں پھیلا ہے اور اس دین نے دنیا میں اس وجہ سے ایک جگہ بنائی ہے ۔

سیف کی جھوٹی داستانوں کی وجہ سے ہے کہ کہتے ہیں ” اسلام زور و زبردستی اور تلوار کا دین ہے“

یہ تھا میرے مطالعات کو جاری رکھنے کے نتائج اور ثمرات کا خلاصہ ، چونکہ بعد والے مطالعات میں عمیق تر نتائج تک پہنچا ہوں اور ان نکات کی طرف متوجہ ہوا ہوں ، اس لئے کتا ب” عبدا للہ بن سبا“ کے تیسرے ایڈیش میں --- جو بیروت میں انجام پایا ---اس کی طرف اشارہ کیا ہے اسی طرح دوسری بحثوں کے ضمن میں جو کتاب ” ایک سو پچاس جعلی اصحاب “ کے نام سے منتشر ہوئی ہے اس میں اس مطلب کی طرف اشارہ کرچکا ہوں بعد میں سیف کے بارے میں حاصل کئے گئے ان ہی مباحث اور تاریخی نکات کو ، جو تاریخ اسلام کے سیاہ زاویوں کو واضح اور روشن کرتے تھے ،ایک جگہ جمع کرکے موجودہ کتاب کی صورت میں آمادہ کیا اور اسے کتاب ” عبد اللہ بن سبا “ کی دوسری جلد قرار دیا، اس کے اختتام پر ” عبدا للہ بن سبا “ ، ” سبیئہ “ اور ” ابن السوداء “ کے بارے میں مفصل اور دقیق بحث ہوئی ہے کیونکہ یہ موضوع بھی ان مطالب میں سے ہے کہ سیف نے ان میں بہت زیادہ اور واضح تحریفات اور تغیرات انجام دی ہیں اور مؤرخین نے بھی سیف کی ان ہی کذب بیانیوں اور جعلیات کو نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے اور تاریخ کی کتابوں سے بھی یکے بعد دیگرے نقل ہوتے ہوئے یہ جعلیات تاریخ اسلام میں بنیادی اصول کی صورت میں پیش ہوئے ہیں ان نقل و انتقال اور فعل و انفعال کے ضمن میں دوسری تبدیلیاں بھی وجود میں آئی ہیں اوران پر کچھ اور مطالب کا اضافہ کیا گیا ہے اس کے بعد ” ملل ونحل “ کے علماء عقیدہ شناسوں اور دوسرے مؤلفین نے جو کچھ سالہا سال تک ان افسانوی سورماؤں کے بارے میں لوگوں کی زبانوں پر جاری تھا ، اسے نقل کرکے کسی تحقیق اورچھان بین کے بغیر اپنی کتابوں میں درج کیا ہے اور اس طرح یہ تحولات اور تبدیلیاں اور ان کی پیدائش کے طریقے اور ان روایتوں اور داستانوں کے حقائق محققین سے بھی پوشیدہ ہیں ۔

اس جانچ پڑتال کا مقصد

ان مباحث کے سلسلہ کو شروع کرنے میں ہمارا مقصد ان لوگوں کیلئے تحقیق کی راہ کھولنا ہے جو تاریخ اسلام کے بارے میں بحث و تحقیق کرکے تاریخی حقائق تک پہنچناچاہتے ہیں ۔

ہمارا مقصد ان تاریکیوں اور رکاوٹوں کو دور کرنا ہے جو احادیث جعل کرنے اور دروغ سازی کی وجہ سے تحقیق اور اسلام کے حقائق تک پہچنے کی راہ میں پیدا کی گئی ہیں تا کہ شاید ہمارا یہ اقدام اسلامی دانشوروں اور محققین کو اس قسم کے مباحث کی ضرورت کی طرف متوجہ کرکے اور انھیں سیرت اور تاریخ اسلام میں بحث وتحقیق کرنے کی ترغیب دے اور وہ اپنی عمیق تحقیقات کے نتیجہ میں حقائق اسلام کو پہچاننے کیلئے دقیق معیار اور تازہ قوانین پیدا کرسکیں اور انھیں عام لوگوں کے اختیار میں دیدیں اور اس کام میں مشعل راہ کی حیثیت اختیار کریں ۔

یہ ہمارا ان مباحث کے سلسلہ اور حدیث اور تاریخ کی تحقیق کا مقصد ہے ۔

خداوند عالم ہمارے مقصد سے باخبر اور ہمارے دلوں کے راز سے آگاہ ہے

یہ کتاب

جو کچھ ان مباحث کے سلسلے میں اور تاریخ اسلام کے دروس کے بارے میں کتاب ” عبد اللہ بن سبا “ کی اس جلد میں درج کیا گیا ہے وہ درج ذیل حصوں میں خلاصہ ہوتا ہے :

۱ ۔ سیف بن عمر کے جھوٹے افسانوں پر مشتمل حصہ ، جس میں اس نے اسلام کو تلوار اور خون کا دین دکھایا ہے ۔

۲ ۔ توہمات پر مشتمل افسانوں کا حصہ ، جس میں سیف نے اسلام کو ایک خرافی مذہب کے طور پر اور مسلمانوں کو توہمات پر اعتقاد رکھنے والوں کی حیثیت سے تعارف کرایا ہے ۔

۳ ۔ تبدیلیوں اور تغیرات کا حصہ ، جس میں سیف نے اسلام کے تاریخی واقعات کو پہچاننے میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے ان میں الٹ پلٹ کی ہے ۔

۴ ۔ ”عبد اللہ بن سبا“ کے بارے میں سیف کی جھوٹی روایتوں کا حصہ ،کہ اس نے اہل بیتِ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طرفدار قبیلہ قحطان کی مذمت اورملامت کیلئے روایتیں جعل کی ہیں ۔

سیف کی روایتوں میں بحث کرنے کا محرک

اختلاق فی اختلاق

سیف کی تمام روایتں جھوٹ کا پولندہ ہیں ۔

مؤلف

اسلام کے مخالفوں اور دشمنوں میں یہ افواہ پھیلی ہے کہ اسلام تلوار اورخونریزی سے دنیا میں پھیلا ہے ، یہاں تک اس مطلب کو ایک نعرہ کی صورت میں پیش کیا گیا ہے اور لوگوں کی زبان پر جاری کیا گیا ہے اور اسے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک حربہ کی حیثیت سے استعمال کرتے اور کہتے ہیں : ” اسلام تلوار اور خون کا دین ہے “ جب ہم تاریخ کی کتابوں کا دقت سے مطالعہ کرتے ہیں ، سیرت اور احادیث کی تحقیق کرتے ہیں تو ہم سیف کی روایتوں کے علاوہ کہیں بھی ان بے بنیاد باتوں کے بارے میں کوئی دلیل و مآخذ نہیں پاتے ، کیونکہ یہ صرف سیف ہے جس نے اسلامی جنگوں اور غزوات میں بے حد خون خرابہ، قتل عام ،انسان کشی ، شہروں کی بربادی اور ویرانیاں نقل کی ہیں کہ ان کی مثال مغل اورتاتاریوں کی بربریت بھری اور وحشتناک جنگوں کے علاوہ کہیں نہیں ملتی ، اور سیف کی یہی جھوٹی روایتیں اس غلط طرز تفکر کے لئے مآخذبن گئیں ۔

ہم نے ذیل میں پہلے اپنے دعویٰ کیلئے دو شاہد پیش کئے ہیں اس کے بعد سیف کی مذکورہ روایتوں کی بحث و تحقیق کی ہے:

۱ ۔ میں نے کتاب خانہ ” آثار بغداد “ میں تاریخ طبری کا ایک نسخہ دیکھا جو پہلے مسیحی پادری ”اب انسٹانس ماری کرملی “ کی ملکیت تھی اس نسخہ میں اسلامی فتوحات و جنگوں میں نقل شدہ قتل عام کی بڑی تعداد پر نشان لگے ہوئے تھے ، جب میں نے باریک بینی سے اس پر غور کیا تو یہ تمام موارد ایسی روایتوں میں ملے جنہیں سیف نے نقل کیا ہے ۔

۲ ۔ اسلام شناس مستشرق ” اجناس گلڈزیہر “ اپنی کتاب کے صفحہ ۴۲ پر لکھتا ہے :

” اپنے سامنے وسیع سرزمینوں کا مشاہد کررہا ہوں کہ عربی ممالک کے حدود سے و سیع تر ہیں ،یہ سب سرزمینیں تلوار کے ذریعہ مسلمانو ں کے ہاتھ میں آئی ہیں “

اس قسم کے فیصلے سیف کی روایتوں کے نتیجہ میں ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کیلئے باقی رہا ہے، لیکن ہم سیف کے علاو دوسروں سے نقل شدہ روایتوں میں اس کے برعکس پاتے ہیں ، ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں نے کسی پر تلوار نہیں کھینچی ہے جب تک کہ ان پر کسی نے پہلے تلوار نہ کھینچی ہو ،یا انہوں نے ان حکام و فرمانرواؤں پر تلوار اٹھائی ہے جو تلوار اور خونریزی کے ذریعہ لوگوں پر مسلط ہوئے تھے اور اکثر اوقات خود لوگوں نے ایسے ظالم اور خود سر حکمرانوں کے تختہ الٹنے میں مسلمانوں کا تعاون کیا ہے ۔ چنانچہ :

یرموک کی جنگ میں مسلمان شام میں رومیوں سے لڑنے میں مصروف تھے کہ حمص کے باشندوں نے مسلمانوں کی مدد کی اس کی روداد ” فتوح البلدان “ میں درج ہے ۔


چھٹا حصہ :

* -آئندہ مباحث کا پس منظر

* -جنگ ابرق کی روایتیں

* - ذی القصہ کی داستان

* -قبیلہ طی کے ارتداد کی داستان

* -ام زمل کے ارتداد کی داستان

* -عمان اور مہرہ کے باشندوں کے ارتداد کی داستان

* -اہل یمن اور اخابث کا ارتداد

* -سلاسل کی جنگ

* -حیرہ میں خالد کی فتوحات

* -فتح حیرہ کے بعد والے حوادث

* -سیف کی روایتوں کا دوسروں کی روایتوں سے موازنہ

* - گزشتہ مباحث کا خلاصہ اور نتیجہ

* -اس حصہ سے مربوط مطالب کے مآخذ


آئندہ مباحث کا پس منظر

جب ہم سیف کی روایتوں کی تحقیق کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ اس نے تاریخ اسلام میں بڑی تعداد میں مرتد ین کی جنگیں ، کشور کشائیاں اور فتوحات نقل کی ہیں ، اور ان روایتوں میں ایسا منعکس کیا ہے کہ مسلمانوں نے ان جنگوں اور فتوحات میں اپنے مخالفین کا قتل عام کرکے بہت سے افراد کو موت کے گھاٹ اتاردیا ہے ان کے گھروں کو مسمار کرکے تباہ و برباد رکر دیا ہے اور ان کے باغات اور کھیتوں کو بنجر زمینوں میں تبدیل کرکے ویران کردیا ہے ۔

جبکہ حقیقت میں اس قسم کی جنگیں اسلام میں واقع ہی نہیں ہوئی ہیں اور ایسے حوادث وجود ہی میں نہیں آئے ہیں اسلام کی صحیح تاریخ ان تمام چیزوں کو مسترد کرتی ہے سیف نے جو کچھ ان جنگوں اور فتوحات کے بارے میں نقل کیا ہے ،سپاہیوں کیلئے جن سپہ سالاروں کو خلق کیا ہے اور جنگی اشعار و رجزخوانیاں ، مقتولین ، خرابیوں اور ویرانیوں کے بارے میں جو باتیں کہیں ہیں وہ سب کی سب بے بنیاد اور جعلی ہیں اور صرف سیف کے خیالات کا نتیجہ ہے جن وحشتناک داستانوں کو سیف نے مرتدین کی جنگوں یا فتوحات اسلام کے نام سے نقل کیا ہے ان میں سے کوئی ایک بھی واقع نہیں ہوئی ہے اور نہ ان کی کوئی حقیقت ہے ۔

اب ہم خدا کی مدد سے ان جنگوں اور فتوحات کے چند نمونوں کا یہاں پر ذکر کرکے ان میں سے ہر ایک پر جداگانہ فصل میں مستقل طور سے بحث و تحقیق کریں گے تا کہ شائد اس طرح سے محققین کیلئے حقیقتیں واضح اور منکشف ہوجائیں اور تاریخ اسلام کو پہچاننے اور اس کے تجزیہ و تحلیل کے جدید قوانین بھی حاصل ہوجائیں گے ضمناً مذکورہ اعتراضات کی بنیاد اور ان کے جواب بھی واضح ہوجائیں گے ۔

جنگ ابرق کی روایتیں

هکذا انتشرت روایات سیف فی المصادر

سیف کی جھوٹی روایتیں اس طرح تاریخ کی کتابوں میں آگئی ہیں ۔

مؤلف

دروغ بافی کی زمینہ سازی

سیف نے” اسلام کو خون و شمشیر کا دین دکھانے کیلئے “ اور اپنے دوسرے فاسد مقاصد کی وجہ سے جن روایتوں کو جعل کیا ہے وہ دو قسم کی ہیں ، ان میں سے بعض مرتدین کی جنگوں کے عنوان سے ہیں اور بعض فتوحات اسلامی کے نام سے ہیں ۔

چونکہ سیف مرتدین کی جنگوں کے بارے میں بعض روایتیں جعل کرنا چاہتا تھا اور عجیب و غریب اور وحشتناک رودادوں کو اس سلسلے میں نقل کرنا چاہتا تھا ، اسلئے اس کیلئے پہلے سے ہی چند چھوٹی روایتوں کوجعل کرکے راہ ہموار کرتا ہے ، طبری نے ان روایتوں کو اپنی تاریخ میں مرتدین سے مربوط روایتوں کے آغاز میں نقل کیاہے ۔

سیف ان روایتوں میں یوں کہتا ہے :

” پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت اور جنگ موتہ کے لئے اسامہ کے لشکر کے روم کی طرف روانہ ہونے کے بعد ، حجاز میں کفر و الحاد کا رجحان پیدا ہوا ، فتنہ و بغاوت کے شعلوں نے حجاز کو ہر طرف سے اپنی لپٹ میں لے لیا ۔ مدینہ کے اطراف میں قبیلہ قریش اور ثقیف کے علاوہ موجود ہ تمام قبائل اور خاندان کے عام و خاص سب کے سب مرتد ہوگئے اور دین اسلام سے منحرف ہوگئے “

اس کے بعد سیف نے قبیلہ غطفان کے مرتدین ، قبیلہ ہوازن کے زکات ادا کرنے سے انکار اور قبیلہ طی اور ” اسد “ کے عام افراد کا ” طلیحہ “ کے گرد جمع ہونے اور اس طرح قبیلہ ” سلیم “ کے سرداروں کے مرتد ہونے کا ذکر کیا ہے اس کے بعد کہتا ہے: اسی طرح اسلامی مملکت کے مختلف علاقوں میں تمام مسلمان گروہ گروہ کفر کی طرف مائل ہوگئے اور اسلامی حکومت کے گورنروں اور فرمانرواؤں کی طرف سے مدینہ میں خطوط پہنچے اور ا ن میں بھی قبیلہ کے سردار وں یا قبائل کے تمام افراد کی طرف سے پیمان شکنی دیکھی گئی ۔

سیف قبائل اور ان کے سر داروں کی طرف سے ارتداد اور اسلام سے رواگردانی کو نقل کرنے کے بعد دوسری روایوں میں ا بوبکر کے ان مرتدافراد سے جنگ کرنے کا ذکر کرتا ہے بقول سیف یہ جنگ اسامہ کے واپس آنے سے پہلے واقع ہوئی ہے(۱) اب ہم اس جنگ کے چند نمونوں پر اس فصل میں بحث و تحقیق کرتے ہیں

طی قحطان کا ایک قبیلہ ہے اور حاتم طائی مشہور اسی قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے بیٹے عدی

____________________

۱۔ ہم نے اس کتاب کی جلد اول می ں جنگ اسامہ جو شام کے اطراف می ں واقع ہوئی ہے کو نقل کیا ہے کہ ثقیف اور غطفان اورہوازن قبیلے ہی ں کہ ان کا نسب قیس بن عدی تک پہنچتا ہے ” اسد “ عرب می ں چند قبیلو ں کا نام ہے اور سیف کا مقصد یہا ں پر اسد بن خزیمہ ہے جو کہ قبیلہ مضر سے تھا اور طلیحہ کہ جس نے نبوت کا جھوٹا دعوی کیا تھاوہ اسی قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا


کا نام بھی مرتدوں کی جنگوں میں آیا ہے ۔

” بنو سلیم “ عربوں کے کئی قبیلوں کا کہا جاتا ہے کہ ” بنو سلیم بن فہم “ ان میں سے ایک ہے اور وہ قحطان کا ایک طائفہ ہے ان ہی میں سے ”بنو سلیم بن حلوان “ ہے کہ جو قبیلہ قضاعہ سے تعلق رکھتا ہے ان قبائل کی تشریح کے بارے میں ا بن حزم کی ” جمہرة انساب العرب ، اور ابن اثیر کی ” لباب “ کی طرف رجوع کیاجائے ۔

جنگِ ابرق کی داستان

طبری کی سیف سے اور سہل بن یوسف سے نقل کی گئی روایتوں میں یوں آیا ہے کہ ” ثعلبہ بن سعد“ کے مختلف قبائل اور دوسرے قبائل جوان کے ہم پیمان تھے ، جیسے ” مرة “ اور ” عبس“ ، سرزمین ” ربذہ “ میں ” ابرق“ نامی ایک جگہ پر جمع ہوئے ا ور بنی کنانہ کا ایک گروہ بھی ان سے ملحق ہوا ،اس طرح ان کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ اس سرزمین میں ان کیلئے کوئی گنجائش باقی نہ رہی ، اس لئے وہ دو گروہوں میں تقسیم ہوئے ایک گروہ اس سرزمین ” ابرق“ میں رہا اور دوسرا گروہ ” ذی القصہ “ نامی دوسری جگہ کی طرف روانہ ہوا ” طلیحہ اسدی “ جس نے پیغمبری کا دعویٰ کیا تھا اس نے اپنے بھائی ” حبال“ کی قیادت میں ان کیلئے مدد اور فوج بھیجی ”حبال “کی سپاہ میں قبائل ” دئل “ ، ” لیث“ اور ”’مدلج“ بھی شامل تھے ”فلان بن سناں “ کا بیٹا ” عوف“ بھی ابرق میں قبیلہ ” مرہ “ کیقیادت کررہا تھا ، قبیلہ ” ثعلبہ “ اور ”عبس“ کی قیادت” بنی سبیع“ قبیلہ کے حارث بن فلان “ کے ذمہ تھی ۔

اس طرح ان کی تعداد حد سے زیادہ بڑھ گئی اس کے بعدا ن قبیلوں نے بعض افراد کو اپنے نمائندوں کی حیثیت سے مدینہ بھیجا ، نمائندوں نے مدینہ کی طرف روانہ ہوکر مدینہ میں معروف شخصیتوں سے ملاقات کی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا عباس کے علاوہ اپنے میزبانوں کو مجبور کیا تا کہ ابوبکر کے پاس جاکر بیچ بچاؤ کریں کہ یہ افراد اور قبائل نماز پڑھیں گے لیکن زکوٰت ادا کرنے سے مستثنی قرار پائیں گے، ابوبکر نے ان کے جواب میں کہا: خدا کی قسم اگر یہ قبائل زکوٰة ادا کرنے میں ایک اونٹ کے بندِ پا کے برابر بھی انکار کریں تو ،میں ان سے جنگ کروں گا ۔

سیف نے ایک دوسری روایت میں (جسے طبری نے مذکورہ روایتوں سے پہلے نقل کیا ہے) قبیلہ ” عیینہ “ اور ” غطفان“ کے ارتداد اور قبیلہ ” طی“ سے مرتد شدہ لوگوں کی داستان ذکر کرتے ہوئے کہا ہے : قبیلہ ” اسد“ ، ”غطفان“ ، ”ھوازن“ اور ” قضاعہ“ کے نمائندے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے دس دن بعد مدینہ میں جمع ہوئے اور ابوبکر سے درخواست کی کہ وہ نماز تو پڑھیں گے لیکن زکات ان سے معاف کی جائے ، انہوں نے اپنی تجویز کو مسلمانوں کی بزرگ شخصیتوں کی ذریعہ ابوبکر تک پہنچا دی ، پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا عباس کے علاوہ تمام بزرگوں نے ان کی اس تجویز کی تائید کرکے ابوبکر کے پاس جاکر ان قبائل کی تجویز ان تک پہنچادی ۔ ابوبکر نے ان کی تجویز کو منظور کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ اس میں اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ زکوٰت کو اسی صورت میں ادا کریں جس طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی خدمت میں اداکرتے تھے ۔ قبائل کے نمائندوں نے ابوبکر کا حکم ماننے سے انکار کیا اور ابوبکر نے بھی انھیں ایک دن اور ایک رات کی مہلت دی تو ان نمائندوں نے اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے قبائل کی طرف لوٹ آئے۔

مرتد گروہوں کے نمائندے جب مدینہ سے واپس آئے تو انہوں نے مسلمانوں کی کمزوری اور ان کی کمی کے بارے میں اپنے قبائل کے افرادکو مطلع کیا اورانھیں مسلمانوں سے جنگ کرنے پر اکسایا ،اور انھیں اسلامی مرکز پر حملہ کرنے پرآمادہ کیا ۔

جب ابوبکر کو روداد کی خبر ملی ، علی ، طلحہ ، زبیر اور ابن مسعود کو مدینہ کی گزرگاہوں کی ماموریت دیدی تا کہ باغیوں کے اچانک حملہ کو روکیں اور مدینہ کے لوگوں کو بھی حکم دیا کہ نماز جماعت کے وقت سب ،مسجد النبی میں جمع ہوجائیں اور ان سے کہا:

مدینہ کے لوگو! آپ کے شہر کے اطراف میں موجود قبائل کفر و ارتداد کی طرف چلے گئے ہیں ان کے نمائندوں نے تمہاری کمزوری اور تعداد کی کمی کا نزدیک سے مشاہدہ کیا ہے ، انہوں نے جرات پیدا کی ہے اور تمہاری طرف پیش قدمی کررہے ہیں اور ایک دن پیدل چلنے کے بعد تمہارے نزدیک پہنچ جائیں گے معلوم نہیں ہے کہ وہ دن میں شہر پر حملہ کریں گے یا رات میں ۔ لہذا تم لوگوں کو بھی جنگ کیلئے تیار رہنا چاہئے ۔

اس واقعہ کو ابھی تین دن نہ گزرے تھے کہ مرتدین کے ایک بڑے لشکر نے رات میں مدینہ پر دھاوا بول دیا انہوں نے ذخیرہ فوج کے عنوان سے ایک گروہ کو سرزمین ” ذی حسی “‘ میں لشکر کی پشت پناہی کیلئے رکھا اور ایک گروہ نے مدینہ پر حملہ کیا ،جب یہ حملہ آور مدینہ کی گزرگاہوں کے نزدیک پہنچے تو ابوبکر کے مقرر کردہ جنگجوؤں سے روبرو ہوئے اور انھیں مدینہ میں داخل ہونے سے روکا گیا ۔ موضوع کو ابوبکر تک پہنچایا گیا ۔

اس نے گزرگاہ کے محافظوں کو حکم دیا کہ اپنی ماموریت کی جگہ پر ڈٹ کر مقابلہ کریں اور امدادی فوج کے پہنچے تک استقامت دکھائیں ، اس کے بعد ابوبکر نے مسجد میں موجود ان ہی افراد کے ہمراہ آب کش(۱) اونٹوں پر سوار ہوکر دشمن کی طرف دوڑ پڑے اور ان کا ” ذی حسی“ تک تعاقب کیا، لیکن ”ذی حسی‘ ‘ کی جگہ پر پہنچنے کے بعد وہاں پر موجود دشمن کی امدادی فوج نے اپنے شکست خوردہ سپاہیوں کی مدد کی ، انہوں نے اپنی خاص مشکوں کو جن کی رسیاں ان کے اندر ڈال دی گئی تھیں اور اس سے ایک مہیب اور ہولناک آواز پیدا ہوگئی تھی مسلمانوں کے اونٹوں پر پھینک دیا ، اونٹ خوف سے رم کرکے بھاگ کھڑے ہوگئے ،مسلمان جو اونٹوں پر سوار تھے ، انھیں کنٹرول نہ کرسکے اس لئے بے اختیار انہیں اونٹوں کے پیچھے دوڑتے ہوئے مدینہ لوٹے البتہ انھیں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا ۔

سیف کہتا ہے : ” خطیل بن اوس “ نے بھی اس حادثہ کے بارے میں اس مضمون کے چند اشعار کہے ہیں :

” میرا ا ونٹ اور سفر کا بوجھ بنی ذیبان پر اس شب کی یاد میں قربان ہو جائے جب ابوبکر نے دشمن کے افراد کو نیزوں سے پیچھے ڈھکیل دیا تھا(۲)

____________________

۱۔ سیف کہنا چاہتا ہے کہ چونکہ مسلمانو ں کے پاس سواری کے اونٹ اور گھوڑے نہ تھے لہذا آب کش اونٹو ں پر سوار ہوکر مرتدو ں سے جنگ کرنے کیلئے گئے ۔

۲ فدی لبنی ذبیان رحلی وناقتی

عشیة یحدی بالرماح ابو بکر


سیف کہتا ہے : یہ حادثہ اس امر کا سبب بنا کہ دشمنوں نے مسلمانوں میں کمزور اور سستی کا بیشتر اندازہ کیا اور اس حادثہ کی خبر ان فوجیوں کو دیدی جو ”ذی القصہ “ میں موجود تھے ، اور وہ بھی مسلمانوں سے لڑنے کیلئے ” ذی القصہ “ سے ” ابرق“ کی طرف روانہ ہوئے ، لیکن ابوبکر نے اس رات آرام نہیں کیا یہاں تک کہ ایک لیس لشکر کو تشکیل دیدیا ، ” نعمان بن مقرن “ کو اس لشکر کے میمنہ پر اور ” عبد اللہ بن مقرن “ کو اس کے میسرہ پر مقرر کیا ”سوید بن مقرن “ کو جس کے ساتھ اونٹ سوار بھی تھے ، لشکر کے قلب میں قرار دیا اور اس طرح اپنے لشکر کو مکمل طور پر آمادہ اور لیس کیا ، پو پھٹنے سے پہلے ہی ابوبکر کا لشکر دشمن کی فوج کے مد مقابل قرار پایا ، اس سے پہلے کہ مرتدوں کی فوج مسلمان لشکر کے آنے کے بارے میں خبردار ہوجائے مسلمانوں کی طرف سے جنگ کا آغاز ہوا ۔ سورج چڑھتے ہی دشمن کی فوج شکست و ہزیمت سے دوچار ہوئی اور مسلمان مدینہ کے اطراف میں موجود ان قبائل پر جو دین سے منحرف ہو گئے تھے کامیاب ہوئے ” طلیحہ “ کا بھائی حبال بھی اس جنگ میں قتل کیا گیا۔

ابوبکر کے لشکر نے ان کا ” ذی القصہ “ تک تعاقب کیا اور یہ سب سے پہلی فتح تھی جو ابوبکر کو نصیب ہوئی ۔

ابوبکر نے اس فتحیابی کے بعد ” نعمان بن مقرن “ کو سپاہیوں کے گروہ کی سرکردگی میں ” ذی القصہ “ میں ماموریت دی اور خود اپنے سپاہیوں کے ہمراہ مدینہ لوٹ آئے ، اس فتحیابی کا نتیجہ تھا کہ مشرکین مسلمانوں سے مرعوب ہوئے ۔

ابوبکر کے واپس چلے جانے کے بعد قبیلہ ” بنی عبس“ا ور ” ذبیان “ کے بعض افراد نے اپنے درمیان موجود مسلمانوں کے خلاف بغاوت کی اور ان سب کو قتل کر ڈالا اور باقی قبائل نے بھی ان کی اس روش کی پیروی کی اور ان کے درمیان موجود مسلمانوں کے سر قلم کئے ۔

جب اس حادثہ کی خبر ابوبکر کو ملی ، تو انھوں نے غضبناک ہوکر قسم کھائی کہ تمام مشرکوں کے سر قلم کرکے رکھدیں اور ہر قبیلہ کے توسط سے جتنے مسلمان قتل کئے گئے تھے ان سے زیادہ لوگوں کو قتل کر ڈالیں ،اس سلسلہ میں زیاد بن حنظلہ نے چند اشعار کہے ہیں جن کا مضمون حسب ذیل ہے :

” صبح سویرے ابوبکر بڑی تیزی سے ان کی طرف بڑھے ، گویا کہ ایک موٹا اونٹ اپنے دشمن پر حملہ آور تھا ، علی کو سواروں کا سردار قرار دیا ، یہاں پر طلیحہ کا بھائی حبال قتل کیا گیا“

سیف کی روایتوں میں اس سلسلہ میں حنظلہ سے بھی چند اشعار نقل ہوئے ہیں :

” ابوبکر نے اپنے قول اور فیصلہ کے مطابق قدم بڑھایا ، اور یہی آہنی ارادہ مسلمانوں کی استقامت اور ثبات کا سبب بنا ،اس عمل نے مشرکین کے درمیان شدیدرد عمل پیدا کیا، اور ان کے دل میں ایک زبردست وحشت پیدا کردی ۔

سیف مرتدین کی جنگ کو اس طرح نقل کرتا ہے یہا ں تک کہ مسلمانوں کے بعض افراد جو مدینہ کی گزرگاہوں اور اطفال کی حفاظت پر مامورتھے ” ذی القصر“ پہنچ گئے اور ابوبکر سے کہا: اے خلیفہ رسول ! خدا کے واسطے اپنے آپ کو دشمن کے مقابلے میں قرار دیکر خود کو ہلاکت کی نذر نہ کریں ،کیونکہ آپ کا وجود مسلمانوں کیلئے انتہائی اہم اورضروری ہے اور دشمنوں پر بھاری اور مؤثرہے اور اگر آپ ہلاک ہوگئے تو مسلمانوں کا نظم درہم برہم ہوجائے گا اور یہ سماجی شیرازہ بکھر جائے گا اور دشمن ہم پر مسلط ہوجائے گا لہذاپنی جگہ پر کسی اور کو معین کردیں تا کہ اگر وہ مارا گیا تو اس کی جگہ پر دوسرے کو معین کیا جاسکے ۔

ابوبکر نے کہا: خدا کی قسم میں یہ کام ہرگز نہیں کروں گا بلکہ اپنی جان کی قربانی دے کر تم مسلمانوں کی مدد و یاری کروں گا ۔

یہ کہہ کر اپنے لشکر کے ہمراہ ” ذی حسی “ اور ’ ’ ذی القصہ “ کی طرف روانہ ہوگئے اور ” ابرق “ کے مقام پر ’ ’ربذہ “کے لوگوں سے روبرو ہوئے اور ان کے درمیان ایک جنگ چھڑ گئی ، اس جنگ میں ابوبکر نے ” حارث “ اور ” عوف“ پر فتح پائی ،اور ” حطیہ “ کو گرفتار کرلیا، قبیلہ ”بنو عبسی “اور ”بنو بکر “ بھاگ گئے، ابوبکر نے چند دن سرزمین ” ابرق “ پر قیام کیا اور ان چند دنوں کے دوران بھی ” بنی ذبیان “ سے جنگ کی اور انھیں شکست دی اور ان کے شہروں اور آبادیوں کو اپنے تصرف میں لے لیا اور انھیں وہاں سے نکال کرباہر کیا اور کہا:

اس کے بعد کہ خداوند عالم نے ہمیں ان شہروں کو عطا کیا ہے ” بنی ذبیان “ کا شہروں پر تصرف حرام اور ممنوع ہے اس کے بعد ابرق کے بیابانوں کو مسلمانوں کے جنگی گھوڑوں کیلئے مخصوص کیا اور دوسرے تمام حیوانوں کیلئے ربذہ کے دوسرے حصوں کو چرا گاہ کے عنوان سے اعلان کیا۔

یہ تھا افسانوی اور جھوٹی جنگ ابرق کا خلاصہ جو سیف کے بقول سرزمین ” ربذہ“ میں ” ابرق “ نامی جگہ پر واقع ہوئی ہے اسی لئے اس کو جنگ ” ابرق“ کہتے ہیں اس کے کہنے کے مطابق زیاد بن حنظلہ نے بھی اس جنگ کی داستان کو شعر کی صورت میں پیش کیا ہے اور اس میں اس جنگ کا نام ” ابرق “ رکھا ہے وہاں پر کہتا ہے :

جس دن ہم نے ابارق میں شرکت کی ۔

جنگ ابرق کے افسانہ کی پیدائش اور اس کا تاریخی کتابوں میں درج ہونا

یہاں تک ہم نے جنگِ ابرق اور اس سے مربوط حوادث کی داستان کے بارے میں ایک خلاصہ پیش کیا جسے طبری نے سیف سے نقل کیا ہے جبکہ ان حوادث اور روداد وں میں سے کوئی ایک بھی صحیح نہیں ہے بلکہ یہ سب سرا پا جھوٹ اور بے بنیاد ہیں ۔

مثلاً سیف کہتا ہے ” حبال، جنگ ” ابرق“ میں قتل ہوا جبکہ وہ ”جنگ ِ بزاخہ “ میں خالد کی طرف سے پیش قدم کے طور پر بھیجے جانے کی صورت میں ” عکاشہ “ اور ” ثابت “ کے ہاتھوں قتل ہوا ہے اس روداد کی تفصیل آپ مرتدین کی داستان میں جو سیف کے علاوہ دوسرے راویوں نے نقل کی گئی ہے مطالعہ کریں گے کہ یہ بے بنیاد داستان جنگ ” ابرق ربذہ “ کے نام سے گزشتہ بارہ صدیوں کے دوران تاریخ کی کتابوں میں منتشر اور نقل ہوتی چلی آرہی ہے ۔

سیف نے اس داستان کو دوسری صدی ہجری کے اوائل میں جعل کیا ہے اور طبری نے بھی اپنی تاریخ میں اسے نقل کیا ہے اور بعد والے مؤرخین جیسے : ابن اثیر ، ابن کثیر ، ابن خلدون نے طبری سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں ثبت کیا ہے ۔

اس طرح یاقوت حموی نے ” ابرق ربذہ “ کی تشریح کو سیف سے نقل کرکے اپنی کتاب ”معجم البلدان “ میں درج کیا ہے اور ” مراصدا الاطلاع “ کے مؤلف نے اسے حموی سے نقل کیا ہے اس طرح ابرق ربذہ کی داستان ابتدائی متون اور تاریخ کی نام نہاد معتبر کتابوں میں درج ہوئی ہے اور آج تک مسلمانوں میں نقل اور منتشر ہوتی چلی آ رہی ہے اور اس طرح یہ سلسلہ آگے بڑھتا جارہا ہے ہم خدا کی مدد اور فضل سے آنے والی فصل میں ” ذی القصہ “ کی داستان کے ذیل میں ا س داستان کی تحلیل نیز تحقیق کریں گے اور اس کے جعلی اور بے بنیاد ہونے کو واضح کردیں گے ۔


ذی القصہ کی داستان

کلما اوردناه خلاصة ما رواه الطبری

جن تمام جھوٹے افسانوں کا ہم یہاں ذکر کریں گے وہ تاریخ طبری میں سیف کی روایتوں کا ایک خلاصہ ہے

مؤلف

ایک دوسری داستان جو گزشتہ داستان سے مربوط اور مرتدین کی داستان کا بقیہ ہے وہ ”ذی القصہ “ کی داستان ہے کہ طبری نے سیف سے اور اس نے سہل بن یوسف سے نقل کیا ہے اس کی تفصیل یوں ہے کہ سیف کہتا ہے :

اسامہ فتح پاکر شام سے واپس آیا(۱) اور زکوٰة کے عنوان سے کافی مال و ثروت مدینہ لے آیا ،یہ مال اتنا تھا کہ اس سے متعدد اور بڑے لشکروں کیلئے ساز و سامان اور دیگر ضروریات پورے کئے جاسکتے تھے، جب، ابوبکر نے یہ حالت دیکھی تو اس نے سرزمین ” ذی القصہ “ کی طرف کوچ کیا اور وہاں پر مسلمانوں کے بڑے اور کافی تعداد میں لشکر تشکیل دئے اور انھیں آراستہ کیا اور انھیں گیارہ لشکروں میں

____________________

۱۔ سیف کا مقصد اسامہ کا جنگ تبوک سے لوٹنا ہے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران اسے لشکر کا سردار مقرر فرمایا تھا ابوبکر ، عمر اور دوسرے مہاجرین کو اس لشکر کا جزء قرار دیا تھا اور اسامہ کی سرکردگی می ں تبوک روانہ کیا تھا لیکن انہو ں نے سستی اور لیت و لعل کیا یہا ں تک پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وفات پائی اور یہ لوگ سقیفہ می ں جمع ہوگئے اور ابوبکر کو خلیفہ مقرر کرلیا اس کے بعد اسامہ کو اس جنگ پر روانہ کیا۔


تقسیم کیا ہر لشکر کیلئے ایک کمانڈر مقرر کیا اور ہر کمانڈر کے ہاتھ میں ایک پرچم دیا اور ہر ایک کو مرتدوں کے ایک قبیلہ کی طرف روانہ کیا ۔

۱ ۔ ایک پرچم خالد بن ولید کے ہاتھ میں دیا اور اسے حکم دیا کہ طلیحہ بن خویلد کی طرف روانہ ہوجائے اور اس کے قبیلہ کو کچل دے اس کو کچلنے کے بعد مالک بن نویرہ کو کچلنے کیلئے ” بطاع“ کی طرف روانہ ہوجائے اگر مالک نے اس کے مقابلہ میں استقامت دکھائی تو اس سے جنگ کرے ۔

۲ ۔ ایک اور پرچم عکرمة بن ابی جہل کے ہاتھ میں دیا اور اسے مسیلمہ کو کچلنے کیلئے مامور کیا۔

۳ ۔ ایک اور پرچم مہاجرین بن ابی امیہ کے ہاتھ میں دیا اور اسے حکم دیا کہ ” عنسی “ کے لشکر کو کچلنے کے بعد یمن کے ایرانی نسل کے لوگوں کی حمایت کرے اور انھیں ” قیس بن مکشوح “ اور اس کے حامیوں سے نجات دے اور اس کے بعد سرزمین حضرموت میں واقع کندہ نامی جگہ کی طرف روانہ ہوجائے ۔

۴ ۔ ایک اور پرچم خالد بن سعید بن عاص کے ہاتھ میں دیا تو اس نے خطرہ محسوس کرکے اپنی ماموریت کی جگہ یمن کو ترک کر دیا اور مدینہ گیا تو اسے ماموریت دی کہ ” حمقتین “ کی طرف روانہ ہوجائے جو شام میں ایک جگہ تھی ۔

۵ ۔ ایک اور پرچم عمرو بن العاص کے ہاتھ میں دیا اور اسے ” قضاعہ “ ، ” ودیعہ “ اور ” حارث“ کے گروہوں کو کچلنے کا حکم دیا ۔

۶ ۔ ایک اور پرچم ” حذیفہ بن محصن غلفانی “ کے ہاتھ میں دیا اور اسے ’ ’ دبار “ کے باشندوں کی بغاوت کو کچلنے کا حکم دیا ۔

۷ ۔ ایک اور پرچم ” عرفجة بن ہرثمہ “ کے ہاتھ میں دیا اور اسے حکم دیا کہ ” مہرہ “ کی طرف روانہ ہوجائے، ضمناً ”حذیفہ “ اور ”عرفجہ “ کو حکم دیا کہ اس راہ میں آپس میں اجتماع اور اتحاد کرکے ایک دوسرے کی مددکریں ۔

۸ ۔ ایک اور پرچم ” شرجیل بن حسنہ “ کے ہاتھ میں دیا اور اسے ” عکرمہ بن ابی جہل “ کی مدد کیلئے بھیجا اور اسے کہا کہ جب اکرمہ جنگِ یمامہ سے فارغ ہوجائے تو اسے ” قضاعہ “ روانہ ہوکر وہاں پر مرتدوں سے لڑنا چاہئے ۔

۹ ۔ ایک اور پرچم ” معن بن حاجز ‘ یا ’ ’ طریفة بن حاجز“ کے ہاتھ میں دیا اور اسے حکم دیا کہ ”بنی سلیم “ اور ” قبیلہ ہوازن “ نیز ان کی مدد کو آنے والے افراد کو کچلنے کیلئے روانہ ہوجائے ۔

۱۰ ۔ دسواں پرچم ” سویدبن مقرن “ کے ہاتھ میں دیا اور اسے حکم دیا کہ یمن میں ” قبیلہ تہامہ“ کی طرف روانہ ہوجائے ۔

۱۱ ۔ آخر میں گیارھویں پرچم کو ” علاء بن حضرمی “ کے ہاتھ میں دیا اور اسے بحرین کی طرف روانہ ہونے کا حکم دیا ۔

یہ گیارہ کمانڈر اپنے گروہ اور سپاہیوں کے ہمراہ ” ذی القصہ “ میں ایک دوسرے سے جدا ہوگئے اور ہر ایک اپنے لشکر کے ساتھ اپنی ماموریت کی جگہ کی طرف روانہ ہوا ۔

ابوبکر نے روانگی کے حکم اور منشور جنگ کے علاوہ کمانڈروں کے ہاتھ میں حکم نامے بھی دئے اور ان تمام قبائل کے نام خطوط لکھے جو اسلام سے منحرف ہوئے تھے اور ان کو کچلنے کیلئے فوج بھیجی تھی ، ان کو ارتداد اوربغاوت کے عواقب اور خطرات سے آگاہ کیا تھا اور انھیں دوبارہ اسلام کے دائرے میں آکر اس کی اطاعت کرنے کی دعوت دی تھی ۔

خطوط کا مضمون

سیف نے ” ذی القصہ “ کی داستان کو عبید للہ ابن سعید کی ایک اور روایت سے اس طرح خاتمہ بخشا ہے :

ابوبکر نے عرب کے باغی اور سرکش قبائل کی طرف سپاہ کو روانہ کرتے وقت ان کے نام خطوط بھی بھیجے ان تمام خطوط کا مضمون حسب ذیل تھا :

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ابوبکر ، پیغمبر خدا کے جانشین کی طرف سے ہر اس شخص کے نام جسے میرایہ خط پہنچے ، خاص و عام کے نام ، جو اسلام پر ثابت قدم رہے اور جو اسلام سے منحرف ہوکر مرتد ہوئے ، سلام ہو! ان پر جو راہ راست کی پیروی کرتے ہیں ، طبری نے اس خط کو دو صفحوں پر مشتمل لکھنے کے بعد آخر میں یوں لکھا ہے :

میں نے فلاں کو بعض مہاجرین ، انصار اور تابعین کے ہمراہ تمہاری طرف روانہ کیا ہے اور اسے حکم دیا ہے کہ کسی سے جنگ نہ کرے اور کسی کو قتل نہ کرے مگر یہ کہ پہلے اسے خدا کی طرف دعوت دے ، جو بھی اس کا مثبت جواب دے اور اسلام کو قبول کرے ، بغاوت و سرکشی سے ہاتھ کھینچ لے ، اسے قبول کرکے اپنے ساتھ ملائے اور جو حق کو قبول کرنے سے انکار کرے اس سے شدت کے ساتھ جنگ کرے اور باغی و سرکش افراد میں سے کسی ایک کو زندہ نہ چھوڑے اور ان سب کو تہہ تیغ کرکے نذر آتش کرے ان کی عورتوں اور بچوں کو اسیر بنالے اور کسی سے اسلام کے علاوہ کسی چیز کو قبول نہ کرے.

اس کے بعد سیف کہتا ہے:

قاصدوں نے ان خطوط کو لشکر کے پہنچنے سے پہلے قبائل تک پہنچادیا ، اور ہر ایک کمانڈر بھی اپنے سپاہیوں کے ہمراہ اپنی ماموریت کی جگہ کی طرف روانہ ہوا جبکہ ابوبکر کا عہدنامہ بھی ان کے ہاتھ میں تھا ۔

منشور جنگ کا متن

جیسا کہ ہم نے کہا کہ سیف کے کہنے کے مطابق جب ابوبکر نے اپنے گیارہ کمانڈروں کو جزیرة العرب کے سرکش اور باغی قبائل کو کچلنے کیلئے روانہ کیا تو ان کے ہاتھ میں ا یک منشور اور فرمان نامہ بھی دیا، ان سب کا متن حسب ذیل تھا :

خدا کے نام سے یہ ابوبکر ، جانشین پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے ایک عہد نامہ ہے فلاں کیلئے جب اس عہد نامہ کو اس کے ہاتھ میں دیتا ہے اسے مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ ان لوگوں کی طرف روانہ کرتا ہے جنہوں نے اسلام سے منہ موڑاہے اور اسے تاکید کے ساتھ نصیحت کرتا ہے کہ حتی الامکان تقویٰ اور پرہیزگاری کو اپنا پیشہ بنائے اور اسے حکم دیتا ہے کہ احکام الٰہی کے نفاذ میں سخت تلاش کرے ان لوگوں کے ساتھ شدت سے لڑے جنہوں نے خدا کے حکم کی نافرمانی کی ہے اور مرتد ہوئے اور بغاوت پر اتر آئے ہیں ، انھیں جہاں پر پائے نابودکردے کسی سے بجز اسلام کوئی اورچیز کو قبول نہ کرے اور سب کوخدا کی طرف دعوت دے اور جو بھی دعوت قبول کرے اس کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرے اور محبت سے پیش آئے اور انھےں احکام الٰہی سکھائے اور جو بھی اس کی دعوت کو مسترد کرے اس کے ساتھ جنگ کرے اور اگر وہ کامیاب ہوجائے تو ان باغی اور سرکش افراد کا سر قلم کردے اور انھیں ہر ممکن طریقے سے قتل کرکے نابود کردے ۔

داستان ذی القصہ کی اشاعت

جو کچھ ہم نے ” ذی القصہ “ کی داستان کے بارے میں کہا ، وہ طبری کی روایتوں کا خلاصہ تھا اور طبری نے بھی ان تمام روایتوں کو سیف سے نقل کرکے اپنی تاریخ کی کتاب میں درج کیا ہے اور دوسرے مؤرخین نے جیسے : ابن اثیر ، ابن کثیر ، ابن خلدون وغیرہ نے بھی اس داستان کو طبری سے نقل کیا ہے ۔

یاقوت حموی نے بھی جو کچھ اپنی کتاب ” معجم البلدان “ میں سرزمین ” حمقتین “ کی شرح میں لکھا ہے ، اسی سیف کی روایت سے نقل کیا ہے اور یوں کہتا ہے :

” سیف نقل کرتا ہے ، جب خالد بن سعید نے لوگوں سے ڈرکر یمن میں اپنی ماموریت کی جگہ کو ترک کر دیا اور مدینہ آگیا ، ابوبکر نے اس کے ہاتھ میں ایک پرچم دیا اور اسے شام کے اطراف میں واقع ”حمقتین “ نامی جگہ کی طرف روانہ کیا “

” مراصد الاطلاع “ کے مصنف نے بھی جو کچھ سرزمین ” حمقتین “ کے بارے میں ذکر کیا ہے اسے حموی سے نقل کیا ہے اور ”استیعاب “ َ ” اسد الغابہ “ اور ” اصابہ “ کے مؤلفین نے بھی ” حذیفہ بن محصن “ اور ” عرفجہ بن ھرثمہ “ کے بارے میں جو کچھ پیغمبر کے اصحاب کی حیثیت سے لکھا ہے ، وہی مطالب ہیں جو سیف کی روایتوں میں آیا ہے انہوں نے سیف کی باتوں پر اعتماد کرکے ان دونوں کو پیغمبر کے اصحاب کی حیثیت سے لکھا ہے۔

حقیقت میں سیف کی روایتیں مسلمانوں میں اس طرح پھیل گئیں اور یہ خشک اور بے بنیاد درختوں نے اسلامی مصادر و کتابوں میں اپنا مقام بنا لیا ہے۔

سیف کی روایتوں کی جانچ پڑتال

” ابرق ربذہ “ اور داستان ” ذی القصہ “(۱) کے بارے میں سیف کی روایت کی سند میں سہل بن یوسف کا نام آیاہے اور ہم نے ثابت کردیا ہے کہ سہل بن یوسف، سیف کے انسان سازی کے کا رخانہ کو بنایاہوا راوی ہے اور خداوند عالم نے اس انسان کو خلق نہیں کیا ہے اور در حقیقت کوئی راوی اس نام و نشان کا پایا نہیں جاتا۔

____________________

۱۔ داستان ابرق گزشتہ فصل می ں بیان ہوچکی ہے اور داستان ذی القصہ کو بھی اس فصل می ں ملاحظہ فرمایا، اسلئے یہا ں پر یہ دونو ں داستانی ں سند اور دوسرو ں کی روایتو ں سے موازنہ کرکے ان کی تحقیق کی جاتی ہے ۔


سیف کی دوسری روایت (جو مرتدوں کے نام ابوبکر کے خط کے متن کے بارے میں ہے) کی سند میں عبد اللہ بن سعید کا نام آیا ہے اور ہم نے اس عبد اللہ کو بھی سیف کے جعلی راویوں میں ثابت کیا ہے ، کیونکہ سیف کی روایتوں کے علاوہ ہم نے تاریخ اور رجال کی کسی اور کتاب میں اس شخص کا کہیں نام و نشان نہیں پایا ۔

سیف کے علاوہ دوسروں کی روایت میں ”ذی القصہ “ کی داستان

جو کچھ سیف نے داستان ” ذی القصہ “ کے بارے میں ذکر کیا ہے ہم نے اس کا خلاصہ بیان کیا لیکن دوسرے راویوں نے اس داستان کو دوسری صورت میں نقل کیا ہے کہ ہم قارئین کرام کی

خدمت میں پیش کرتے ہیں :

طبری نے ابن کلبی سے نقل کیا ہے کہ اسامہ اپنے لشکریوں کے ہمراہ شام کی جنگ سے مدینہ واپس آیا ، اسکے بعد ابوبکر نے مرتدوں سے جنگ کرنے کا اقدام کیا اورمسلمانوں کے ایک گروہ کے ساتھ مدینہ سے باہر آیا یہاں تک کہ مدینہ سے بارہ میل کی دوری پر نجد کی طرف ” ذی القصہ “ نامی جگہ پر پہنچا ، اور وہاں پر اپنے لشکر کو آراستہ کیا خالد بن ولید کو مرتدوں کے قبائل کے طرف بھیجا اور انصار کی سرکردگی ثابت بن قیس(۱) کو سونپی اور خالد

____________________

۱۔ ثابت بن قیس قبیلہ خزرج میں شمار ہوتا ہے اس کی ماں قبیلہ طی سے تھی وہ جنگ احد میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ترجمان تھا اور اس نے احد کے بعد واقع ہونے والی جنگوں میں بھی شرکت کی ہے اور یمامہ کی جنگ میں مارا گیا اسکے بیٹے ، محمد ، یحییٰ اور عبد اللہ بھی جنگ صفین میں قتل ہوئے ہیں اسد الغابہ، ج ۱/ ص ۲۲۹


کو پورے لشکر کا سپہ سالار قرار دیا اور اسے حکم دیا کہ ” طلیحہ “ اور عیینہ بن حصن کی طرف روانہ ہوجائے تو انہوں نے قبیلہ بنی اسد کی زمینوں میں سے بزاخہ نامی جگہ پر پڑاؤ ڈالا تھا ، ضمناً اسے کہا کہ میری اور میرے لشکر کی ملاقات تجھ سے خیبر میں ہوگی ۔

البتہ ابوبکر نے اس جملہ کو جنگی حکمت عملی کے پیش نظر زبان پر جاری کیا ہے تا کہ یہ بات دشمنوں کے کانوں تک پہنچے اور ان کے دل میں رعب و وحشت پیدا ہوجائے ورنہ اس نے تمام جنگجوؤں کو خالد کے ساتھ دشمن کی طرف بھیج دیا تھا اور کوئی باقی نہ رہا تھا کہ کسی دوسرے لشکر کو تشکیل دیا جاتا اور خالد کی مدد کیلئے ” بزاخہ “ یا ” خیبر “ کی طرف روانہ ہوتا ۔

” ذی القصہ ‘ ‘ کی طرف ابوبکر کی روانگی اس جگہ پر خالد کو سپہ سالار بنانے کی روداد کو ” یعقوبی“ نے بھی اپنی تاریخ میں درج کیا ہے لیکن وہ اضافہ کرتا ہے کہ اس کے بعد ” ثابت “ کو انصار کا امیر بنادیا گیا تو انہوں نے ابوبکر سے جھگڑا کیا کہ اس نے کیوں انصار میں سے کسی کو امیر نہیں بنایا ؟!

بلاذری اور مقدسی نے بھی ” ذی القصہ “کی داستان کو نقل کیا ہے اور حملہ ” بنی فزارہ “ کی روداد کا اس میں اضافہ کیا ہے ۔

مقدسی ، ابوبکر کے ” ذو القصہ “ کی طرف روانہ ہونے کی روداد کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے تب خالد اپنی فوج کے ہمراہ دشمن کی طرف روانہ ہوا لیکن جب ” خارجہ بن حصن فزری “(۱) نے مسلمانوں

____________________

۱ خارجہ ، عیینة بن حصن کا بھائی ہے یہ وہ شخص ہے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حضور آیا اور خشک سالی کے بارے میں شکایت کی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے قبیلہ کے بارے میں دعا کی اور وہ بھی مسلمان ہوگیا اور واپس اپنے قبیلہ میں چلا گیا ۔

واقدی کہتا ہے کہ خارجہ وہ شخص ہے جس نے اپنے قبیلہ کو زکوة دینے سے روکا تھا اور نوفل بن معاویہ جو زکوٰة جمع کرنے کا


کی تعداد کو کم پا یا تو اس نے جرات پیدا کرکے چند جنگجو سواروں کے ہمراہ ان پر حملہ کیا مسلمانوں نے شکست کھا کر فرار کی اور ابوبکر نے بھی ایک درخت پر چڑھ کر پناہ لی اور اسکی شاخوں سے اوپر چڑھ گئے تا کہ دشمن کی نظروں سے اوجھل ہوجائے ۱ اس وقت طلحہ بن عبد اللہ ایک بلند جگہ پر کھڑا ہوا اور اس نے فریاد بلند کی : لوگو ! مسلمانو ! نہ ڈرو! فرار نہ کرو! ہمارا لشکر آپہنچا ہے ۔

شکست خوردہ مسلمان واپس آگئے اور خارجہ بھی وہاں سے چلا گیا اور اپنی راہ لے لی تب ابوبکر درخت سے نیچے اترے اور واپس مدینہ چلے آئے۔

بلاذری نے اس داستان کو اس طرح نقل کیا ہے کہ ابوبکر مسلمانوں کے ہمراہ باغیوں کی سرزمین ” ذو القصہ “ کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں پر مرتد قبائل کے خلاف ایک بڑا لشکر تشکیل دیکر اسے آراستہ کیا، اس وقت خارجہ اور منظور بن زبان (دونوں ہی بنی فزارہ سے تعلق رکھتے تھے،)نے ابوبکر کے لشکر پر حملہ کیا اور ایک گھمسان کی جنگ چھڑ گئی اور اس جنگ میں مشرکوں نے شکست کھائی اور

بھاگ گئے طلحہ نے ان کا پیچھا کیا اور ان میں سے ایک شخص کو قتل کیا اور یہاں تک کہتا ہے:

مامور تھا سے ملاقات کی اور تمام زکوٰة و صدقات جو اس کے پاس تھے واپس لے لیا اور اپنے رشتہ داروں کو دیدیا خارجہ وہی ہے جو بنی اسد سے خالد کی جنگ کے بعد ابوبکر کے پاس آیا اور ابوبکر نے اس سے کہا : تمہیں ان دو روایتوں میں سے ایک کا انتخاب کرناچاہئے : یا ” سلم مخربہ “ یعنی ذلت کے ساتھ تسلیم ہوجاؤ یا ” حرب مجلیہ “ یعنی نابود کرنے والی جنگ کو قبول کر اس کے بعد ابوبکر نے ان دو جملوں کی تشریح کی اس نے کہا: میں سلم کا انتخاب کرتا ہوں ،اصابہ، ج ۱ ص ۳۹۹ ، نمبر ۲۱۳۳)

۱ ۔ میری نظر میں یہ روایت ابن اسحاق اور دوسروں کی روایت سے صحیح تر ہے کہ طبری نے اپنی تاریخ ( ۱/۱۷۰) ، انھیں سے نقل کرتا ہے ،”ابوبکر نے اپنے آپ کو ایک کچھار میں مخفی کیا “کیونکہ ان سرزمینوں میں کوئی کچھار اور جنگل موجود نہ تھا کہ ابوبکر خود کو اس میں مخفی کرتے۔

” اس کے بعد ابوبکر نے ” ذی القصہ “ میں ایک پرچم خالد کے ہاتھ میں دیا اور ثابت بن قیس کو بھی انصار کے گروہ کا کمانڈر مقرر کیا اس کے بعد اسے حکم دیا کہ ثابت کے ہمراہ ” طلیحہ “ کی طرف روانہ ہوجائے جو ان دنوں ” بزاخہ “ میں تھا “۔

موازنہ اور تحقیق

جب ہم جنگِ ابرق اور داستان ” ذی القصہ “ کے بارے میں سیف کی روایت کو دوسرے مؤرخین کی روایتوں سے مقابلہ کرکے ان کی تطبیق و موازنہ کرتے ہیں تو سیف کے افسانے آسانی کے ساتھ آشکار ہوجاتے ہیں ، کیونکہ دوسرے مؤرخین نے متفقہ طور پر کہا ہے کہ ابوبکر جنگ و لشکر کشی کیلئے صرف ایک بار مدینہ سے باہر نکلے ہیں اور کہا ہے کہ اسامہ کو ” موتہ “ سے واپسی کے بعد ” ذی القصہ“ کی طرف روانہ کیاگیا ہے اور وہاں پر لشکر آمادہ کیا ہے اور اس لشکر کی کمانڈری خالد بن ولید کو سونپی اور انصار کے گروہ کی سرپرستی ” ثابت بن قیس “ کو سونپی ، اس کے بعد ان کو حکم دیا کہ ” طلیحہ “ اور اس کے گرد جمع ہوئے قبیلہ ” اسد “ و ” فزارہ “ کو کچلنے کیلئے ” بزاخہ “ کی طرف روانہ ہوجائیں ، لیکن بعض مؤرخین نے بنی فزارہ پر شبانہ حملہ کرنے نیز انکے ایک شخص کے قتل ہونے اور اس واقعہ کے ذی القصہ میں رونما ہونے کی خبر دی ہے ۔

یہ ہے حوادث ، لشکر کشی اور جنگوں کا مجموعہ جو مؤرخین کے نقل کے مطابق جو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد ایک مختصر زمانے میں واقع ہوئے ہیں ۔

لیکن چونکہ اس فصل اور گزشتہ فصل میں آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ سیف نے بہت سی روایتیں اور مفصل داستانیں نقل کی ہیں اور ابوبکر کیلئے متعدد جنگیں اور حملات نقل کئے ہیں کہ دوسرے مؤرخین کی روایتوں میں ان داستانوں اور جنگوں کا کوئی اثر معلوم نہیں ہے اور یہ سب سیف کی خصوصیات میں سے ہے ۔

سیف کے کہنے کے مطابق ابوبکر مدینہ کے اطراف میں مرتد قبائل کی طرف کئی بار روانہ ہوئے ہےں اور ان کے ساتھ جنگ کی ہے۔

یہاں پر ہم سیف کے خیالی اور افسانوی جنگوں کی مفصل اور مشروح داستانوں کا ایک خلاصہ پیش کرتے ہیں تا کہ سیف کی روایتوں کا دو سرے راویوں کی روایتوں سے تفاوت اور اختلاف واضح ہوجائے ۔

۱ ۔ سیف کہتا ہے : ابوبکر کی مرتدوں کے ساتھ سب سے پہلی جنگ اس طرح تھی کہ مدینہ کے اطراف میں رہنے والے اکثر قبائل نے مدینہ کی حکومت کی اطاعت سے انکار کیا اورمرتد ہوگئے ، وہ اپنے دین و مذہب سے منحرف ہوئے اور ” ابرق ربذہ “ نامی ایک جگہ پر اجتماع کیا ۔

قبیلہ ” ثعلبہ بن سعد “ اور ” عبس “ ، ” حارث ‘ کی سرپرستی میں اور قبیلہ ” مرہ“ عوف کی سرپرستی میں اور قبیلہ ” کنانہ “کے ایک گروہ نے آپس میں اجتماع کیا اور ایک بڑا لشکر تشکیل دیا کہ شہروں میں ان کیلئے جگہ کی گنجائش نہیں تھی ، اس کے بعد سیف اپنے اس خیال اور افسانوی لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے ایک گروہ کو” ابرق ربذہ “ میں رکھتا ہے اور دوسرے گروہ کو ” ذی القصہ “ کی طرف روانہ کرتا ہے اور طلیحہ نے بھی اپنے بھائی ” حبال “ کی سرپرستی میں ایک لشکر کو ان کی طرف بھیج دیا ہے ، اس کے بعد وہی باغی او رسرکش قبائل تجویز پیش کرتے ہیں کہ وہ نماز وتر پڑھیں گے لیکن انھیں زکوٰة دینے سے معاف قرار دیا جائے اور اس تجویزکو اپنے چند افراد کے ذریعہ مدینہ بھیجتے ہیں اور روداد کو ابوبکر کے سامنے پیش کرتے ہیں ابوبکر ان کی تجویز کو مسترد کرتے ہیں قبائل کے نمایندے اپنے لشکر کی طرف --- جو ” ابرق“ میں موجود تھا --- روانہ ہوتے ہیں اور روداد کی رپورٹ اپنے کمانڈروں کو دیتے ہیں اور مسلمانوں کی کمزوری اور تعاون کی کمی سے انھیں آگاہ کرتے ہیں اور ابو بکر کی حکومت کے مرکز یعنی مدینہ پر حملہ کرنے کی ترغیب و تجویز پیش کرتے ہیں ابوبکر کو روداد کی اطلاع ملتی ہے تو دشمنسےمقابلہ کرنے کیلئے آمادہ ہوجاتے ہیں ۔

سیف کہتا ہے : ابوبکر نے بزرگ اصحاب میں سے چار اشخاص کو چند جنگجوؤں کے ہمراہ مدینہ کی گزرگاہوں کی محافظت پر مامور کیا اس کے بعد تمام مسلمانوں ں کو مسجد میں جمع کیا ا ور روداد سے انھیں آگاہ کیا اور دشمن سے لڑنے کیلئے ایک لشکر کو آراستہ کیا اس واقعہ کے بعد تین دن گزرے تھے کہ مرتدوں کے لشکر نے ایک گروہ کو ذخیرہ کے طور پر ”ذی حسی “ میں رکھ کر باقی افراد کے ذریعہ مدینہ پر حملہ کیا ، لیکن مدینہ کے محافظین نے ان کا جواب دیا اورا نھیں پیچھے ڈھکیل دیا ، ابو بکر کو روداد کی خبر ملی اور اس نے مسلمانوں کو آگے بڑھنے کا حکم دیا ، وہ اپنے آب کش اونٹوں پر سوار ہوئے اور خود ابوبکر کی کمانڈر ی میں دشمن کی طرف بڑھ گئے ۔

سیف کے کہنے کے مطابق ان دولشکروں کے درمیان گھمسان کی جنگ چھڑ جاتی ہے اور مسلمان فتحیاب ہوتے ہیں اور دشمن کو بڑی شکست دیتے ہیں اور انھیں ”ذی حسی “ تک پیچھے ڈھکیل دیتے ہیں مرتدوں کا ” ذی حسی “ میں ذخیرہ شدہ گروہ اچانک مسلمانوں پر حملہ کرتا ہے وہ اپنی مشکوں کو ، جنہیں وہ پہلے ہی ہوا سے پر کرکے رسیاں ان کے اندر ڈال چکے تھے مسلمانوں کے اونٹوں کے سامنے ڈالتے ہیں اور یہ اونٹ رم کرکے اپنے مسلمان سواروں سمیت مدینہ پہنچتے ہیں ،مسلمانوں کی کمزوری کی خبر ذی حسی سے ذی القصہ تک پہنچ جاتی ہے مرتدوں کے قبائل ” ذبیان “ اور ” اسد“ جو ذی القصہ میں موجود تھے ذی حسی کی طرف روانہ ہوتے ہیں اور ” ابرق “ کے مقام پر آمنا سامنا ہوتا ہے ۔

۲ ۔ سیف کہتا ہے : ابوبکر دوسری بار اپنی سپاہ کو آراستہ کرتے ہیں لشکر کے میمنہ اور میسرہ کیلئے کمانڈر مقرر کرتے ہیں اور قلب لشکر کیلئے بھی ایک کمانڈر مقرر کرتے ہیں اور روانہ ہونے کا حکم دیتے ہیں ، ابوبکر کے سپاہیوں نے راتوں رات روانہ ہوکر اچانک دشمن پر حملہ کیا اور انہیں بڑی شکست دی ان کے تمام حیوانوں کو اپنے قبضہ میں لے لیا اس جنگ میں ” طلیحہ“ کا بھائی ”حبال “ بھی مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا ۔ آخر کار ابوبکر نے دشمن کا پیچھا کیا یہاں تک ” ذی القصہ “ پہنچے وہاں پر اپنے کچھ فوجیوں کو ” نعمان بن مقرن “ کی کمانڈری میں رکھ کر خود مدینہ واپس آ گئے۔

۳ ۔ سیف تیسری بار ابوبکر کو مدینہ سے قبائل کی طرف روانہ کراتے ہوئے کہتا ہے :

قبیلہ ” عبس “ اور ”ذیبان “ نے اپنے درمیان موجود مسلمانوں کے خلاف بغاوت کی اور ان سب کو قتل کر ڈالا ابوبکر نے ایک لشکر کو آراستہ کرکے مدینہ سے انکی طرف روانہ ہوئے یہاں تک ”ابرق“ پہنچے اور مذکورہ دو قبیلوں سے جنگ کی اور انھیں شکست دی اور بعض افراد کو اسیر بنایا ، ” ربذہ “ میں واقع ان کی سرزمینوں اور آبادیوں پر قبضہ جمایا اور جنہوں نے مسلمانوں سے جنگ کی تھی انھیں ان شہروں سے، شہر بدر کیا ” ابرق “ کے تمام بیابانوں کو سواری کے گھوڑوں کے لئے مخصوص کردیا اور سیف نے دوسرے بیابانوں کو مسلمانوں کے عام حیوانوں کیلئے آزاد رکھا ۔

سیف ان جنگوں اور فتوحات کو نقل کرنے کے بعد اپنی بات کو ثابت اور محکم کرنے کے لئے کہتا ہے کہ اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں سے ” زیاد بن حنظلہ “ نامی ایک شاعراور اس زمانے کے دوسرے شعراء نے ان جنگوں کے بارے میں اشعار اور قصیدے لکھے ہیں اور ان جنگوں کی داستانوں کو شعر کی صورت میں بیان کیا ہے ۔

۴ ۔ سیف ابوبکر کیلئے ایک اور جنگ کی داستان نقل کرتا ہے اور اسے چوتھی بار ” ذی القصہ “ کی طرف حرکت دیتے ہوئے کہتا ہے ۔

ابوبکر مسلمانوں کے ایک گروہ کے ہمراہ ” ذی القصہ “ کی طرف روانہ ہوئے ، اور وہاں پر حجاز کے اطراف کے باغیوں اور جزیرة العرب کے سرکش قبائل کو کچلنے کیلئے ایک فوج تیارکی اور اس فوج کو گیارہ لشکروں میں تقسیم کیا اور ہر لشکر کیلئے ایک کمانڈر مقرر کیا اور اس کے ہاتھ میں ایک پرچم دیا اور ہر کمانڈر کے ہاتھ میں ایک خط او رمنشور کی ایک ایک کاپی دی ، اور ایک خط ہر مرتد قبیلہ کے نام بھی روانہ کیا ، جن کے خلاف اس نے فوج کشی کی تھی ، اور انھیں ہتھیار ڈالنے اور امن امان کی دعوت دی۔

تطبیق اور موازنہ کا نتیجہ

اس سلسلہ میں کی گئی مزید تحقیقات اور دقیق جانچ پڑتال کے بعد ہم وثوق کے ساتھ

کہہ سکتے ہیں :

جنگ ” ابرق “ اور داستان ” ذی القصہ “ کے بارے میں کہ جس میں اس قدر مفصل اور طولانی مطالب نقل کئے گئے ہیں ، وہ سب سیف کی خصوصیات ہیں اور کسی بھی دوسرے مؤرخ نے ان مطالب کو سیف کے علاوہ نقل نہیں کیا ہے اور یہ سب جھوٹ اور فرضی افسانہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے نہ ان قبائل کے اکثر کے ا رتداد کے بارے میں (سیف نے ان پر ارتداد کی تہمت لگائی ہے) صحیح ہے اور نہ ان کا ” ابرق “ اور ”ذی القصہ “ میں اجتماع کرنا واقعیت رکھتاہے اور نہ مرتدین کی طرف سے ایک گروہ کو مدینہ بھیجنے میں کوئی سچائی اورحقیقت ہے اور نہ ابوبکر کی طرف سے چندا فراد کومدینہ کی گزرگاہوں کی حفاظت کیلئے معین کرناصحیح ہے نہ اس کی لشکر کشیاں اور نہ اونٹوں کے رم کرنے میں کوئی حقیقت ہے نہ چار جنگوں ---کہ سیف نے ابوبکر کیلئے نقل کیا ہے --- کی کوئی حقیقت ہے وہ تمام اشعار، قصیدے ، فتوحات دشمن کی سرزمینوں اور شہروں پر تسلط جمانا ، سب کا سب جھوٹ کا پلندہ اور جعلی ہے ایسے افراد اور علاقے دنیا میں خلق ہی نہیں ہوئے ہیں ۔

” ابرق ربذہ “ نام کی نہ کوئی جگہ ، ” زیاد بن حنظلہ “نامی نہ کوئی شاعر صحابی ہے اور نہ ہی ”خیطل “ نام کا کوئی شاعر ہے اور نہ ہی راویان حدیث میں : سہل بن یوسف اور عبد اللہ بن سعید جیسوں کا کہیں وجود ہے، بلکہ ان سب کو ناول نویس زبردست داستان ساز دروغگو سیف بن عمر زندیق نے اپنی خیالی طاقت کے ذریعہ خلق کیا ہے !!

حقیقت میں صرف ایک چیز صحیح ہے جسے دوسرے مورخین نے بھی نقل کیا ہے ، وہ یہ ہے کہ ابوبکر نے ایک لشکر تیار کیا اور گروہ انصار کی سرکردگی ” ثابت بن قیس “ کو سونپی اور خالد بن ولید کو لشکر کا سپہ سالار مقرر کیا اور ” بزاخہ “ میں جمع ہوئے ان افراد کے ساتھ جنگ کرنے کیلئے روانہ کیا جو مسلمانوں سے جنگ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے اور انھیں حکم دیا کہ اس کے بعد دوسروں سے جنگ کرنے کیلئے روانہ ہوجائیں ،جی ہاں ! ابوبکر نے ان دو افراد کے علاوہ کسی کو کمانڈر مقرر نہیں کیا اور ان پرچموں کے علاوہ کوئی پرچم کسی کے ہاتھ میں نہیں دیا اور خالد بن سعید کو بھی لشکر کے کمانڈر کی حیثیت سے مرتدوں سے لڑنے کیلئے اطراف شام میں ” حمقتین “ نامی جگہ کی طرف روانہ نہیں کیا ، بلکہ خالد بن سعید ، مرتدوں سے جنگ کے خاتمہ کے بعد شام جانے والے سپاہیوں کے ساتھ وہاں چلا گیا ہے ۔

خلاصہ یہ کہ جو کچھ سیف نے اس سلسلہ میں نقل کیا ہے وہ بے بنیاد اور جعلی ہے ، سیف نے ایک پرچم اور ایک کمانڈر اور ایک لشکر اور ایک پیمان اور ایک خط گیارہ گیارہ کی تعداد میں بیان کیا ہے ، جیسا کہ ہم نے یاد دہانی کرائی کہ ان روایتوں کی سند کی بھی کوئی بنیاد نہیں ہے ، کیونکہ ان روایوں کی سند میں سہل بن یوسف اور عبد اللہ بن سعید کا ذکر آیا ہے کہ ہم نے کہا کہ یہ دو شخص ان راویوں میں سے ہیں کہ سیف کے خیالات نے انھیں خلق کیا ہے اور حقیقت میں وجود نہیں رکھتے ہیں ۔

اسلامی مآخذ میں سیف کی روایتوں کے نتائج

۱ ۔ بے بنیاد جنگی منشورات ، خطوط اور بے اساس عہد ناموں کا ایک سلسلہ اسلام کے اصلی اور سیاسی خطوط کی فہرست میں درج ہوئے ہیں ۔

۲ ۔ سیف کے ذاتی طورپر جعل کئے گئے اشعار اور قصائد اسلام کے بنیادی ادبیات میں اضافہ ہوئے ہیں ۔

۳ ۔ حمقتین اور ابرق ربذہ نامی افسانوی دو شہروں یا سر زمینوں کا اصلاً کہیں وجود ہی نہیں تھا ، پھر بھی اسلامی سرزمینوں کی فہرست میں قرار پائے ہیں اور معجم البلدان اور شہروں کی تشریح سے مربوط کتابوں میں درج ہوکر اسلامی مآخذ میں شامل ہوئے ہیں ۔

۴ ۔ زیاد بن حنظلہ نامی صحابی شاعر کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں تھا پھر بھی وہ پیغمبر خدا کے اصحاب کی فہرست میں قرار پایا ہے اور علم رجال اور اصحاب کی زندگی کے حالات پر مشتمل کتابوں میں درج ہوا ہے ۔

۵ ۔ سیف نے ان روایتوں میں ” سہل بن یوسف “ اور ” عبد اللہ بن سعید “ نامی دو راوی خلق کئے ہیں ، حتی سہل کا نام علم رجال کی کتابوں میں بھی درج ہوا ہے اور ان کتابوں کو دروغ سے آلودہ کیا ہے ۔

۶ ۔ سیف کی آخری کا ری ضرب یہ ہے کہ اس نے ان روایتوں ، کمانڈروں لشکر کشیوں اور گھمسان کی جنگوں کو جعل کرکے ایسا دکھایا ہے کہ پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں اسلام نے لوگوں کے دلوں میں جگہ نہیں پائی تھی اور یہ دین زور و زبردستی اور تلوار کے ذریعہ پھیلا ہے ، اسی لئے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد مختلف عرب قبائل یکے بعد دیگرے ارتداد کی طرف مائل ہوئے اور دوبارہ تلوار کی ضرب اور خونریزی سے اسلام کی طرف پلٹ گئے ہیں ۔

افسانہ کے راویوں کا سلسلہ

سیف کی روایتوں کے متن کے لحاظ سے ، دوسرے مؤرخین کی روایتوں سے ان کی عدم تطبیق اور اس طرح مآخذاسلامی میں ان کے بُرے آثار و نتائج کے پیش نظر ضعف و تزلزل کو آپ نے ملاحظہ فرمایا۔

لیکن ان روایتوں کی سند کے ضعف کے بارے میں اتنا ہی کافی ہے کہ :

” یہ روایتیں جس کتاب میں بھی درج ہوئی ہیں او رجس کسی نے بھی انھیں نقل کیا ہے آخرمیں وہ سیف پر منتہی ہوتی ہیں اور ان تمام نقلوں کا سرچشمہ وہی ہے “

اس کا حدیث جعل کرنا اور جھوٹ بولنا بھی اسلام کے تمام دانشوروں اور مؤرخین کے یہاں ثابت ہے بلکہ وہ زندیق اور بے دین ہونے میں معروف ہے ان حالات کے پیش نظر ان روایتوں پر کیسے اعتماد کیا جاسکتا ہے اور تاریخ اسلام کے حقائق کے ذریعہ سے کیسے پہچانا جاسکتا ہے نیز دوسروں کو بھی کیسے پہچنوایا جاسکتا ہے ؟!

یہ ہے جنگ ابرق اور ”ذی قصہ “ کے بارے میں سیف کے راویوں کا سلسلہ اور ملاحظہ فرمائیں کہ یہ روایتیں کیسے صرف سیف پر ہی منتہی ہوئی ہیں اور کیسے اسی پر ہی ختم ہوتی ہیں ۔

بنیاد

سیف نے ان روایتوں کو :

۱ ۔ سہل بن یوسف

۲ ۔ عبد اللہ بن سعید

سے نقل کیا ہے کہ دونوں سیف کے جعل کردہ اور اس کی فکرو خیال کے پیداوار ہیں اور اسلام میں ایسے راویوں کا بالکل وجو د ہی نہیں ہے ۔

شاخیں :

سیف سے :

۱ ۔ طبری نے اپنی تاریخ میں

۲ ۔ استیعاب کے مؤلف نے

اصحاب پیغمبر کی تشریح میں

۳ ۔ اسد الغابہ کے مؤلف نے

اصحاب پیغمبر کی تشریح میں

۴ ۔ تجرید کے مؤلف نے

اصحاب پیغمبر کی تشریح میں

۵ ۔ اصابہ کے مؤلف نے

اصحاب پیغمبر کی تشریح میں

۶ ۔ معجم البلدان کے مؤلف نے اصحاب پیغمبر کی تشریح میں

نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے اس فرق کے ساتھ کہ سیف نے ان تمام روایتوں کو درج کیا ہے لیکن دوسروں نے ان میں سے بعض کو ہی درج کیا ہے ۔

اور طبری سے بھی

۷ ۔ ابن اثیر نے اپنی تاریخ میں

۸ ۔ ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں

۹ ۔ ابن خلدون نے اپنی تاریخ میں

نقل کیا ہے ۔

اور معجم البلدان سے بھی :

” مراصد الاطلاع “ کے مؤلف نے نقل کیا ہے لیکن خلاصہ کے طور پر محقق دانشور توجہ فرمائیں کہ ان تمام نقلوں اور روایتوں کا سرچشمہ کس طرح مشہور زندیق اور کاذب سیف تک پہنچتا ہے اور اس کے ہی سبب سے یہ جعلی روایتیں تاریخ اسلام میں داخل ہوئی ہیں اور اسلامی مآخذ میں اپنا مقام بنایا ہے۔


قبیلہ طی کے ارتداد کی داستان

کان هذا خبر ردة طی فی روایات سیف

قبیلہ طی کے ارتدا د کے بارے میں سیف کی روایتوں کے متون و اسناد یہ ہیں ۔

مؤلف

طبری نے قبیلہ طی کے ارتداد کی داستان کو سیف کی سات روایتوں کو نقل کرکے مندرجہ ذیل تفاوت کے ساتھ اپنی تاریخ میں د رج کیا ہے :

ان روایتوں میں سے دو روایتوں میں قبیلہ ” غطفان “ ، قبیلہ ” طی “ اور قبیلہ ” اسد“ کے ارتداد (اور ان کاپیغمبری کا مدعی) ” طلیحہ “ کے گرد جمع ہونے کا افسانہ آیا ہے ۔

تیسری روایت میں کہتا ہے کہ قبیلہ ” اسد “ نے سرزمین سمیراء میں قبیلہ ”غطفان “ نے مدینہ کے نزدیک اور قبیلہ ” طی “ نے اپنے کھیتوں میں اجتماع کیا ۔

ایک دوسری مفصل روایت میں ان قبیلوں کے ارتداد کی علت بیان کرتا ہے اور آخر میں کہتا ہے ان تین قبیلوں کے افراد مدینہ گئے ا ور مشہور و معروف مسلمانوں کے گھروں میں داخل ہوئے اور تجویز پیش کی کہ ہم نماز پڑھنے کیلئے آمادہ ہیں اس شرط سے کہ ہم سے زکوٰة لینا معاف کیا جائے ابوبکر کے علاوہ تمام مسلمانوں نے ان کی تجویز قبول کی، لیکن ابوبکر نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا: تم لوگ دوسرے مسلمانوں کے مانند ٹیکس اور اموال کی زکوٰة ادا کرنے میں مجبور ہو اور ایک دن اور رات سے زیادہ مہلت نہیں ہے لہذا انہوں نے اس فرصت سے استفادہ کرکے اپنے قبائل کی طرف فرار کیا ۔

چوتھی روایت میں یوں آیا ہے : جب ابوبکر نے ” طلیحہ “ کے پیروکاروں کو (ابرق ربذہ میں جمع ہوئے تھے)وہاں سے نکال باہر کیا تو ” طلیحہ “ نے قبیلہ ” طی “ کے دو خاندانوں ” جدیلہ “ اور ”غوث“ کو پیغام بھیجا کہ اس کے ساتھ ملحق ہوجائیں اور اس کی مدد کریں ،ان میں سے بعض بڑی ہی سرعت سے طلیحہ کی طرف روانہ ہوگئے اور حکم دیا کہ باقی لوگ بھی تدریجاً ’ ’ طلیحہ “ کی طرف دوڑ پڑیں ۔

سیف کہتا ہے : ابوبکر نے خالد کو ”ذی القصہ “ سے ان قبائل کی طرف روانہ کرنے سے پہلے ”عدی بن حاتم “ کو ان کی طرف روانہ کیااور اس سے کہا کہ تم انھیں نجات دینا ، قبل اس کے کہ وہ دوسروں کا لقمہ بن کر ہلاک ہوجائیں ، عدی روانہ ہوا ور خالد بھی اس کے پیچھے روانہ ہوا اورابوبکر نے خالد کو بھی حکم دیا کہ پہلے قبیلہ طی کی طرف روانہ ہوجاؤ جو سرزمین ” اکنا ف“ میں تھے ،خالد ان کی طرف روانہ ہوا اور قبیلہ طی کے باقی افراد خالد کی فوج کے پہنچنے کی وجہ سے طلیحہ کے لشکر سے ملحق نہیں ہوسکے عدی بھی براہ راست ان کے پاس پہنچا اور انھیں اسلام لانے کی دعوت دی ، قبیلہ طی نے عدی کے جواب میں کہا: ہم ” ابو الفصیل“(۱) کی ہرگز بیعت نہیں کریں گے عدی نے انھیں کہا:

____________________

۱۔ چونکہ کلمہ ” بکر “ و کلمہ ’ فصیل “ دونوں اونٹ کے بچہ کے معنی ہیں اس لئے بعض لوگ ابوبکر کو حقارت و توہین کی غرض سے ” ابو الفصیل “ یعنی اونٹ کے بچے کا باپ کہتے تھے اورجو اس کا احترام کرتے تھے وہ اسے ” ابو الفحل “ کہتے ہیں اس داستان میں ابو الفصیل اور ابو الفحل ابوبکر ہے ۔


خدا کی قسم ایک ایسا لشکر تمہاری طرف آیا ہے کہ تمہاری ناموس کو مباح قرارد ے گا تب تم اسے ” ابو الفحل الاکبر “ کہو گے انہوں نے جب عدی کی بات سنی تو خوف و ہراس سے دوچار ہوئے اور اس سے کہا: تم اپنے لشکر کی طرف چلے جاؤ اور انھیں ہمارے قبیلہ پر حملہ کرنے سے روک لو تا کہ ہم طلیحہ کے لشکر سے ملحق ہوئے اپنے قبیلہ کے افراد کو اپنی طرف پلٹا دیں گے ، اس کے بعد ہم تمہارے لشکر سے ملحق ہوسکتے ہیں اور طلیحہ کی مخالفت کرسکتے ہیں اگر اس کام سے پہلے ” طلیحہ“ سے مخالفت کریں گے ، تو وہ اس کی فوج میں موجود ہمارے قبیلہ کے تمام افراد کو نابود کرکے رکھ دے گا ،عدی نے جو ابھی ” سُنح“ میں تھا ، خالد کی طرف لوٹ کر کہا: مجھے تین دن کی مہلت دو تا کہ پانچ سو بہادر سپاہیوں کو تیرے رکاب میں حاضر کردوں جو ” طلیحہ “ سے جنگ میں تیری نصرت کریں گے اور دشمن کے لشکر کو تہس نہس کرکے رکھ دیں گے یہ کام اس سے بہتر ہے کہ جلد بازی میں ان پر حملہ کرو اور انھیں آتش جہنم میں جلا دو اور اپنے آپ کو انھیں کچلنے میں مشغول کرو۔

خالد نے عدی کی بات مان لی ، قبیلہ طے نے اپنے ان افراد کو پیغام بھیجا جو بزاخہ میں طلیحہ کے گرد جمع ہوئے تھے ، اور انہیں اپنے پاس بلایا ، انہوں نے بھی ایک خاص چالاکی اور فریب دے کر اس بہانے سے اپنے آپ کو طلیحہ سے جدا کیا کہ اپنے قبیلہ کی مدد کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح وہ اپنے قبیلہ کی طرف لوٹ آئے اگرو ہ یہ چالاکی نہ کرتے تو طلیحہ کا لشکر انھیں ہرگز نہ چھوڑتا ۔

اس طرح ، عدی قبیلہ غوث کو نجات دیکر انھیں ہلاک ہونے سے بچانے میں کامیاب ہوا جو خاندان طی میں سے تھا اور خود عدی بھی اسی قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا ۔

سیف کہتا ہے : خالد نے فیصلہ کیا کہ قبیلہ طی کے ایک اور خاندان ” جدیلہ “ کی طرف روانہ ہوجائے عدی نے یہاں پر بھی اس سے مہلت چاہی تا کہ جس طرح قبیلہ ”غوث “ کو نجات دے چکا تھا ” جدیلہ “ کو بھی نجات دے سکے خالد نے یہاں پر بھی عدی کو مہلت دیدی اور وہ جدیلہ کی طرف روانہ ہوا اور ابو بکر کیلئے ان سے بیعت لینے تک ان کے درمیان رہا اور ان کے اسلام لانے کی خبر خالد کے پاس لے آیا ، اس طرح ” عدی “ قبیلہ طی کے ایک ہزار سوار مرد مسلمان فوج میں شامل کرنے میں کامیاب ہوا اور انھیں ہلاکت و بدبختی سے نجات دی ۔

یہاں پر یہ کہنا چاہئے کہ عدی ، قبیلہ طی میں ان کیلئے بہترین اور بابرکت ترین فرد تھا ۔

یہ تھا سیف کی چوتھی روایت کا خلاصہ ، جو اس نے قبیلہ طی کے مرتدوں کے بارے میں نقل کی ہے اور طبری نے بھی اس سے نقل کرکے اپنی کتاب میں درج کیا ہے ۔

سیف اپنی پانچویں روایت میں ” بزاخہ“ میں ” طلیحہ “ کے لشکر کی شکست کی تشریح کرنے کے بعد کہتا ہے ،

قبائل اسد، غطفان ، ہوازن اور طی سے کوئی عذر قبول نہیں کیا گیا جب تک کہ وہ ان افراد کو خالد کے حوالہ نہ کر دیں جنہوں نے مسلمانوں کو اذیتیں پہنچائی تھیں ۔

سیف اپنی چھٹی روایت میں ا م زمل کے ارتداد کو نقل کرنے کے ضمن میں کہتا ہے : قبائل غطفان ، ہوازن ، سلیم اور طی کے وہ افراد جنہوں نے لشکر سے فرار کیا تھا ، ام زمل کے گرد جمع ہوئے(۱)

____________________

۱۔ اس روایت کا باقی حصہ ہم ام زمل کی داستان میں نقل کریں گے ۔


سیف اپنی ساتویں روایت میں ” بطاح “ کی داستان بیان کرتا ہے اور اس کی ابتداء میں کہتا ہے :

خالد ، قبیلہ ” اسد“ ” غطفان “ ” طی “ اور ”ہوازن “ کے کام کو خاتمہ بخشنے کے بعد ” بطاح “ کی طرف روانہ ہوا ۔

یہ تھا قبیلہ ” طی “ کے ارتداد کی روداد کے بارے میں سیف کی سات روایتوں کا خلاصہ کہ ان سب کو طبری نے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے

سندکی چھان بین

سیف کی مذکورہ سات روایتوں کی سند کے طور پر درج ذیل راوی ذکر ہوئے ہیں :

اولاً: حبیب بن ربیعہ اسدی کا نام ان روایوں میں آیا ہے جس نے بنی اسدسے مدینہ جاکر نماز پڑھنے اور زکوٰة معاف کرنے کی تجویز پیش کرنے کی داستان ” عمارہ اسدی “ نامی ایک اور راوی سے نقل کیا ہے جبکہ ہم نے ان دو راویوں کا نام سیف کی روایتوں کے علاوہ کسی اور کتاب روایت میں نہیں پایا ہے ۔

اس دلیل کی بنا پر ہم سیف کے مذکورہ دو راویوں کو جعلی اور اس کے ذہن کی تخلیق سمجھتے ہیں ۔

ثانیا ً: ”سہل بن یوسف “ کا نام درج ذیل روایتوں کی سند میں پایا جاتاہے :

۱ ۔ ”طلیحہ“ کے گرد قبائل ” اسد “ ، غطفان “ اور ” طی کے جمع ہونے کی داستان ۔

۲ ۔ قبیلہ طی کا اپنی کھیتوں میں جمع ہونا ۔

۳ ۔ قبیلہ ” طی“ کی ” طلیحہ “ سے ملحق ہونے کی داستان اور یہ کہ عدی بن حاتم نے کس طرح ان کو ” طلیحہ “ کے لشکر سے جدا کیا ۔

۴ ۔ ” طلیحہ “ کی شکست کے بعد باقی مرتدوں کے ”ام زمل “ کے گردجمع ہونے کی داستان ۔

۵ ۔ بطاح کی داستا ن ، کہ خالد بن ولید مرتدوں کو کچلنے کے بعد بطاح کی طرف روانہ ہوا ۔

ان تمام روئیدادوں اور روایتوں کو سیف نے ” سہل بن یوسف “ سے نقل کیا ہے ، جبکہ حدیث کے راویوں میں ” سہل بن یوسف “ نامی کسی راوی کا کہیں وجود نہیں ہے بلکہ سہل ان راویوں میں سے ہے جنہیں سیف نے اپنے ذہن سے خلق کیا ہے اور اسے روایت نقل کرنے کا منصب سونپا ہے اور اسے تاریخ اسلام کے راویوں میں شامل کیا ہے تا کہ اس کے نام پر جھوٹ گڑھ کر مسلمانوں کے حوالے کردے ۔

یہ تھا قبیلہ ” طی “ کے ارتداد کی داستان کا خلاصہ ، اس متون و اسنادکے ساتھ جس کو آپ نے ملاحظہ فرمایا: اور اس کی داستان کو طبری نے سیف کی سات روایتوں سے حاصل کرکے سیف کی داستان سازی کے کارخانہ کا ٹریڈ مارک لگا کر اپنی تاریخ میں درج کیا ہے اور دوسروں نے بھی اس جھوٹ کو طبری سے نقل کرکے اس کوپھیلایا ہے چنانچہ ” الاصابہ “ کا مؤلف ” ثمامہ “ و ”مھلھل “ (سیف کی روایتوں میں دونوں قبیلہ طی سے منسوب ہیں )چنانچہ وہ ان کے حالات مآخذکے ذکر کے ساتھ طبری سے نقل کرتاہے اور ” معجم البلدان “ کے مؤلف ” حموی “ نے بھی ” سنح “ کی تشریح میں ----جسے سیف نے قبیلہ طی کے شہروں کے ضمن میں اس کا ذکر کیا ہے ۔---سیف سے نقل کیا ہے ”مراصد الاطلاع “ کے مؤلف نے بھی لفظ ” سنح“ کی وضاحت میں اسے حموی سے نقل کیا ہے اسی طرح اس داستان کو ابن اثیر ، اور ابن کثیر نے بھی طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

سیف کے علاوہ دوسروں کی روایت میں ” طی “ کی داستان

طبری قبیلہ طی کی روداد کو ابن کلبی سے اور وہ ابو مخنف سے یوں نقل کرتا ہے :

قبیلہ طی کے سپاہیوں کی بنی اسد اور فزارہ سے مڈبھیڑ ہوتی تھی اور ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے تھے ، لیکن ان کے درمیاں جنگ واقع نہیں ہوتی تھی ”قبیلہ اسد و فزارہ “کہتے تھے : خدا کی قسم ہم کبھی ابو الفصیل یعنی ابوبکر کی بیعت نہیں کریں گے طی کے سپاہی اس کے جواب میں کہتے تھے خدا کی قسم وہ تمہارے ساتھ ایسی جنگ کرے گا کہ اسے ” ابوالفحل اکبر “ کہنے پر مجبور ہوجاؤ گے

طبری ابن کلبی سے مزید نقل کرتا ہے کہ جب خالد بن ولید بزاخہ کی طرف روانہ ہوا تو اس نے عکاشہ بن محصن(۱) اور ثابت بن اقرم(۲) کو لشکر کے پیش رو کی حیثیت سے وہاں بھیجا اور جب وہ اپنی ماموریت کی جگہ کے نزدیک پہنچے تو اتفاق سے طلیحہ اور اس کے بھائی کے ساتھ ان کی مڈبھیڑ ہوگئی ---

____________________

۱۔ عکاشہ ایک شخص تھا جو ابو محصن کے نام سے معروف تھا وہ قبیلہ اسد سے تعلق رکھتا تھا اور خاندان عبد شمس کا ہم پیمان تھا عکاشہ نے پیغمبر کے زمانے میں مدینہ ہجرت کی تھی اور اسلام کے تمام جنگوں میں شرکت کی ہے (اسد الغابہ ،ج(۴) / ۳۰۲)

۲۔ ثابت اقرم کا بیٹا اور گروہ انصار کا ہم پیمان تھا اس نے پیغمبر کے حضور تمام جنگوں میں شرکت کی اور جنگ موتہ میں بھی جعفر بن ابیطالب کے ساتھ شریک تھا کہ جعفر کی شہادت کے بعد اسلام کا پرچم اس کے ہاتھ میں دیدیا گیا لیکن اس نے اسے خالد کے حوالہ کیا اور کہا کہ تم فنون جنگ میں مجھ سے آگاہ تر ہو (الاصابہ ، ج(۲) / ۸۸)


جو مسلمانوں کے لشکر کااندازہ لگانے کیلئے اپنے قبیلہ سے باہر آئے تھے ،اور ان کے درمیان ایک جنگ واقع ہوئی جس میں عکاشہ اور ثابت ط،لیحہ اور اس کے بھائی کے ہاتھوں مارے گئے ۔

طلیحہ نے وہاں پر چندا شعار کہے اور ان کے ضمن میں یوں کہا:

جب میں نے ان کا قیافہ دیکھا ، مجھے اپنے بھائی کی یاد آئی اور میں نے یقین کرلیا کہ اب اپنے بھائی کے خون کا انتقام لے لوں گا اور جب میں نے اپنے بھائی کا انتقام لے لیا ،اس شب میں نے ابن اقرم اور عکاشہ غنمی کو خاک و خون میں غلطان کرکے چلا گیا ۔

طبری نے ابن کلبی سے نقل کیا ہے کہ : خالد اپنے لشکر کے ہمراہ آرہا تھا اس کے سپاہی ثابت کی زمین پر پڑی لاش پر توجہ کئے بغیر اس کے اوپر سے عبور کر گئے اور اس کا جسد ان کے گھوڑوں کے سموں تلے روندا گیا یہ روداد مسلمانوں کیلئے بہت گراں گزری ، اس کے بعد انہوں نے عکاشہ کا جنازہ دیکھا ۔ یہاں پر مسلمانوں نے بے ساختہ فریاد بلند کرکے روتے ہوئے کہا کہ : یہ دیکھو مسلمانوں کے دو عظیم شخصیتیں اور بہادر قتل کئے گئے ہیں !

طبری ایک اور روایت میں ا ضافہ کرکے کہتا ہے : جب خالد نے اپنے لشکر کی چیخ و پکار کی حالت دیکھی تو ان کی تسلی کیلئے کہا،کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں ایک بڑے قبیلہ کے یہاں لے چلوں ، جن کی تعداد زیادہ ہے ، ان کی شان و شوکت محکم وہ اپنے دین و مذہب میں پایدار ہیں حتی ان میں سے ایک فرد بھی اسلام سے منحرف نہیں ہوا ہے اس کے سپاہیوں نے کہا: یہ کونسا قبیلہ ہے ؟ اور کیا بہتر قبیلہ ہے خالد نے کہا، جس قبیلہ کا میں نے تجھے تعارف کرایا ہے، وہ قبیلہ ” طی “ ہے سپاہیوں کو خالد کی بات پسند آئی اور انہوں نے اس کیلئے دعا کی اس کے بعد خالد اپنے سپاہیوں کے ہمراہ قبیلہ طی کی طرف لوٹا اور ان کے درمیان پہنچا ۔

ایک دوسری روایت کے مطابق کہ اسے بھی طبری نے نقل کیا ہے : قبیلہ طی کے معروف شخص ”عدی“ نے خالد کو پیغام بھیجا کہ اپنے لشکر کے ہمراہ اس کے قبیلہ کی طرف آئے اور ان کے درمیان کچھ دیر ٹھہرے تا کہ وہ طی کے قبیلہ والوں کو اطلاع دے اور خالد کے موجودہ لشکر سے ایک اسلحوں سے لیس لشکر تشکیل دے اور اس کے بعد دشمن کی طرف روانہ ہوجائے خالد نے عدی کی تجویز کو قبول کرکے اس پر عمل کیا ۔

یہ تھا اس کا ایک خلاصہ جو ہمیں قبیلہ طی کے بارے میں سیف کے علاوہ دوسروں کے ذریعہ حاصل ہوا ہے اس کا مضمون سیف کی روایتوں سے بالکل مختلف ہے ۔

لیکن جو کچھ سیف نے طلیحہ کے ارتداد اور بزاخہ کی جنگ کے بارے میں روایت کی ہے اور حدیثیں گڑھ لی ہیں ، دوسرے مؤرخین نے اس کے برعکس لکھا ہے کہ مدینہ کے اطراف میں قبائل میں سے صرف دو قبیلوں نے طلیحہ کی مدد کرکے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سرگرمی کی ہے ، ان میں سے ایک خود طلیحہ کا قبیلہ اسد ہے اور دوسرا گروہ فزارہ جو قبیلہ غطفان کا ایک حصہ ہے اور غطفان بھی قبیلہ قیس عیلان کی ایک شاخ تھی ان دو قبیلوں کے علاوہ کسی اور قبیلہ کا نام نہیں آیا ہے ،جس نے طلیحہ کے گرد جمع ہوکر مسلمانوں سے جنگ کی ہو(۱)

____________________

۱۔ یہ مطلب ” معجم البلدان “ میں لغت ” بزاخہ “ کے بارے میں ابوعمر شیبانی سے نقل ہو اہے اور فتوح اعثم کوفی میں بھی اس کا ذکر آیا ہے


مؤرخین مزید کہتے ہیں کہ قبیلہ اسد کی آبادیوں میں ایک آبادی ”بزاخہ“ میں طلیحہ کے سپاہ کااجتماع واقع ہوا ہے اور خالد بن ولید ”ذی القصہ “ سے قبیلہ فزارہ کے دو ہزار سات سو افراد لے کر ان کی طرف روانہ ہوا اور ان دو سپاہیوں کا اسی بزاخہ میں آمنا سامنا ہوا،اور ان کے درمیان ایک گھمسان کی جنگ چھڑ گئی جب مسلمان طلیحہ کے سپاہیوں کو تہہ تیغ کررہے تھے ، عیینہ طلیحہ کے پاس آیا اور کہا: دیکھا ” ابوالفصیل“ کے سپاہی کیسی خونریزی کررہے ہیں کیا جبرئیل نے اس سلسلے میں تجھے خبر نہیں دی ہے ؟! طلیحہ نے جواب میں کہا: ابھی نہیں

عیینہ دوبارہ سپاہیوں کے صف میں شامل ہوکر جنگ میں مشغول ہوا اور اس دفعہ اسے سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا اوردوبارہ فرار کرکے طلیحہ کے پاس آکر پوچھا : جبرئیل کے بارے میں

کوئی خبر ہے ؟

طلیحہ نے کہا: ابھی تک کوئی خبر نہیں ہے

عیینہ نے کہا: آخر کب تک ہمیں جبرئیل کا انتظار کرنا چاہئے اب تو دشمن بری طرح ہمارا انتقام لے رہا ہے دوبارہ لشکر کی طرف جاکر جنگ میں مشغول ہوا جب خطرہ اس کے نزدیک پہنچا تو طلیحہ کی طرف بھاگ کر کہا: کیا ابھی تک جبرئیل نے کوئی خبر نہیں دی ؟

طلیحہ نے کہا: جی ہاں ، جبرئیل نازل ہوئے اور یہ آیہ میرے لئے نازل ہوئی :

اور دوسری کتابوں سے بھی استفادہ کیا جاتا ہے چنانچہ طبری نے ابن کلبی سے نقل کیا ہے کہ قبیلہ طی کے سپاہیوں اور قبیلہ اسد اور فزازہ کے درمیان مڈبھیڑ ہوتی تھی ۔

”ان لک رحاً کرحا ویوماً لا تنساہ“

” تیرے لئے بھی ایک چکی ہے ، محمد کی چکی کے مانند اور ایک دن ہے ناقابل فراموش۔

عیینہ نے کہا: خدا کی قسم میں دیکھ رہا ہوں تیرے سامنے ناقابل فراموش ایک دن ہے اس کے بعد اپنے افرادکی طرف مخاطب ہوکر یوں بولا :

اے بنی فزارہ ! یہ شخص دروغگو ہے اور پیغمبر نہیں ہے یہ کہہ کر وہ اس کے لشکر سے بھاگ گیا،اس رودادکے بعدطلیحہ کے لشکرنے مکمل طور پر شکست کھائی اور مسلمان کامیاب ہوئے اور عیینہ کو گرفتار کرکے مدینہ لے آئے لیکن ابوبکر نے اسے قتل نہیں کیا بلکہ معاف کرکے اسے آزاد کیا دوسری طرف سے جب طلیحہ نے اپنی شکست کا یقین پیدا کیا تو پہلے سے ایسے موقع کیلئے آمادہ رکھے ہوئے ایک گھوڑے پر سوار ہوکر شام کی طرف بھاگ گیا ، لیکن مسلمان سپاہیوں نے اسے پکڑ کر مدینہ بھیجا وہ مدینہ میں مسلمان ہوا اور بعد کی جنگوں میں اسلام و مسلمین کے حق میں اچھے خدمات انجام دئے ۔

یعقوبی نے اس روداد کو دوسری صورت میں ذکر کیا ہے اور کہتا ہے : طلیحہ شام بھاگ گیا لیکن شام سے عذر خواہی کے طور پر دو شعر ابوبکر کے نام بھیج دئے اور ان دو اشعار کے ضمن میں یوں عذر خواہی کی :

اگر میں تو بہ کروں اور اپنے گناہوں سے منہ پھیر لوں تو کیا ابوبکر میری توبہ قبول کریں گے ؟

یعقوبی کہتا ہے :یہ خط جب ابو بکر کو پہنچا تو اس نے اس پر رحم کھا کر اسےمدینہ واپس بلا لیا ۔

تطبیق اورتحقیق کا نتیجہ

قارئین کرام نے یہاں تک ملاحظہ فرمایا کہ سیف نے اپنے جھوٹ کیلئے مقدمہ سازی کے طور پر قبیلہ طی کے ارتداد کی داستان کو سات روایتوں کے ذریعہ نقل کیا ہے ، اس طرح کہ : پہلی اور دوسری روایت میں قبیلہ طی کا ارتداد اور ان کا طلیحہ کے گرد اجتماع کرنا بیان کرتا ہے ۔

تیسری روایت میں ان کے ارتداد کی علت اور ان کے مدینہ جانے کی روداد کی وضاحت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ قبیلہ طی نے چند نمائندوں کو مدینہ بھیجا اور تجویزپیش کی کہ نماز تو پڑھیں گے لیکن انھیں زکوٰة ادا کرنے سے معاف قرارد یا جائے اور تمام مسلمانوں نے اس کی تجویز کی تائید کی لیکن ابوبکر نے ان کی تجویز مسترد کرکے انھیں تین دن کی مہلت دی تا کہ غور و فکر کرکے بغاوت اور ارتداد سے ہاتھ کھینچ لیں وہ اس فرصت سے استفادہ کرکے اپنے قبائل کی طرف بھاگ گئے ۔

چوتھی روایت میں قبیلہ طی کے ایک گروہ پر یوں الزام لگاتا ہے کہ وہ طلیحہ کے لشکر سے ملحق ہوئے اوردوسروں کو ملحق ہونے میں حوصلہ افزائی کررہے تھے اس لئے ابوبکر نے خالد بن ولید کو حکم دیا کہ وہ طلیحہ کے لشکر سے ملحق ہو اور دوسروں کو بھی ملحق ہونے میں حوصلہ افزائی کررہے تھے اس لئے ابوبکر نے خالد بن ولید کو حکم دیا کہ پہلے قبیلہ طے کی طرف روانہ ہوجائے اور انھیں طلیحہ کے ساتھ ملحق ہونے سے روکے ،سیف اس روایت میں کہتا ہے کہ ابوبکر نے خالد بن ولید کو قبیلہ طی کی طرف روانہ کرنے سے پہلے عدی کو ان کی طرف روانہ کیا جو قبیلہ طی کا ایک مشہور و معروف اور نیک شخص تھا ،تاکہ انھیں ارتداد اور بغاوت سے روک لے اور انھیں اسلام قبول کرنے اور اسلامی حکومت کے سامنے تسلیم ہونے کو کہے ،عدی نے خود کو قبیلہ کے پاس پہنچادیا اور انھیں ابوبکر کی بیعت کرنے کی دعوت دی ، لیکن انہوں نے جواب میں کہا: ہم ” ابو الفصیل“ اونٹ کے بچے کے باپ (ابوبکر) کی ہرگز بیعت نہیں کریں گے عدی نے کہا: ابوبکر (جسے تم لوگ ابو الفصیل کہتے ہو اور اس کی بیعت سے انکار کرتے ہو) آپ کی ناموس اور آبرو پر ایسا حملہ کرے گا اورتمہیں اسیر بنائے گا کہ اسے ” ابو الفحل اکبر “ کے نام سے یاد کرو گے قبیلہ طی نے جب عدی سے یہ باتیں سنیں تو خوف و وحشت سے دوچار ہوئے اور عدی کے ذریعہ خالد سے مہلت کی درخواست کی تا کہ اپنے افراد کو فریب کاری سے طلیحہ کے سپاہ سے واپس بلا کر خالد سے ملحق کریں خالد نے بھی ان کی درخواست منظور کی ۔

پانچویں روایت میں لشکر طلیحہ کی شکست کھانے کی روداد بیان کرتا ہے اور کہتا ہے خالد نے طلیحہ کی شکست کھانے کے بعد قبیلہ اسد اور طی کے کسی فرد کی بیعت قبول نہیں کی مگر یہ کہ جن افراد نے مسلمانوں پر حملہ کرکے انہیں نذر آتش کیا تھا اور ان کی لاشوں کو مثلہ کیا تھا ، کو ان کے حوالہ کردیں ۔

اور چھٹی روایت میں قبیلہ طی کو ان افراد میں شمار کرتا ہے جنہوں نے جنگ ” بزاخہ “ میں شکست کھانے کے بعد ” ام زمل “ کے گرد اجتماع کیا تھا ۔

آخر میں ساتویں روایت میں : قبیلہ طی کو ان لوگوں میں شمار کرتا ہے جنھیں خالد نے ” بطاح “ کی طرف روانہ ہونے سے پہلے ارتداد سے باز آنے کے لئے آماد کیا تھا ۔

جی ہاں ! سیف قبیلہ طی کے ارتداد کی داستان اس طرح بیان کرتا ہے ، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے کیوں کہ دوسرے مؤرخین کے لکھنے کے مطابق کہ جن کا ہم نے اس بحث و تحقیق میں ذکر کیا، ” طی “ وہی قبیلہ ہے کہ جس نے نہ صرف طلیحہ کی طرفداری نہیں کی ہے بلکہ طلیحہ کے لشکر کا مقابلہ کرتے تھے اور ان سے کہتے تھے کہ ابوبکر تمہارے ساتھ ایسی جنگ کرے گا کہ آپ اسے ابو ا لفحل کے نام سے پکاریں گے اوریہ وہی قبیلہ ہے کہ اسلام پرثابت قدم تھا اور افراد کی کثرت اورجنگی طاقت اور استقامت کی وجہ سے خالدبن ولید نے ان کے یہاں پناہ لی تھی اور طلیحہ سے جنگ میں ان سے مدد طلب کی تھی ۔

سیف نے اس تحریف اور جھوٹ گڑھ نے میں اس بات کی کوشش کی ہے کہ قبیلہ طی کو مرتد قبائل کی فہرست میں قرار دے اور انہیں ایسے معرفی کرے کہ اسلام کی طرف دوبارہ پلٹنا موت اور اسارت کے ڈر سے تھا نہ عقیدہ و ایمان کی وجہ سے ، سیف ، قبیلہ طی کے علاوہ کئی دوسرے قبائل کو بھی مرتدوں میں شمار کرتا ہے اور انھیں طلیحہ کے دوست اورسپاہ میں شامل کرتا ہے جبکہ طلیحہ کے لشکر میں قبیلہ اسد کے چند افراد ----جو اس کا اپنا قبیلہ تھا ----اور فزارہ کے رئیس عیینہ کی سرپرستی میں بعض افراد کے علاوہ دوسرے قبائل سے کوئی شامل نہیں تھا ۔

سیف نے ان افسانوی اور جھوٹ کے پلندوں کو خود جعل کرکے مؤرخیں اور تاریخ کا مطالعہ کرنے والوں کے اختیار میں د یدیا ہے لیکن افسوس اس پر ہے کہ یہ جھوٹ اور افسانے تاریخ کی کتابوں اسلامی علوم کے مآخذ میں داخل ہوگئے اور آج مسلمانوں میں اشاعت اور رواج پیدا کرچکے ہیں یہاں تک کہ اماکن اور علاقوں کے نام جو سیف نے اپنی روایتوں کے ضمن میں جعل کئے ہیں ، معجم البلدان میں درج ہوچکے ہیں او راشخاص اور اصحاب کے نام جو اس نے خلق کئے ہیں رجال کی کتابوں اور تشریحات اور اصحاب پیغمبر کی زندگی کے حالات پرمشتمل کتابوں میں درج ہوکر حقیقی صورت اختیار کرچکے ہیں ۔

حدیث کے راویوں کا سلسلہ

اولا : سیف نے ارتداد قبیلہ طی کی داستان کو :

۱ ۔ سہل بن یوسف ۔

۲ ۔ حبیب اسدی ۔

۳ ۔ عمار اسدی۔

سے نقل کیا ہے پانچ روایتوں میں سہل کا نام پایا جاتا ہے اور ایک روایت میں حبیب اور عمارہ کا نام ہے یہ تینوں سیف کے ذہن کی تخلیق ہیں ۔

ثانیا ً: سیف سے :

۱ ۔ طبری نے ذکر سند کے ساتھ اپنی تاریخ میں ۔

۲ ۔ مؤلف ” اصابہ “ نے ذکر سند کے ساتھ اصحاب کے حالات کی تفصیل میں ۔

۳ ۔ معجم البلدان کے مؤلف نے سند کے ذکر کے بغیر اماکن کے حالات کی تفصیل میں ۔

درج کیا ہے ۔

ثالثاً طبری اور معجم البلدان سے بھی :

۱ ۔ ابن اثیر نے

۲ ۔ ابن کثیر نے اور

۳ ۔ ابن خلدون نے اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔


ام زمل کے ارتداد کی داستان

ابیدت فیها بیوتات

اس جنگ میں بہت سے خاندان نابود ہوئے ۔

سیف

طبری ” ام زمل “ نامی ایک عورت کے ارتداد کے بارے میں ایک اور مفصل داستان سیف سے نقل کرتا ہے جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے :

ام زمل جس کا نام سلمی تھا ، ایک ارجمند اور مقتدر عورت تھی اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابیوں میں شمار ہوتی تھی ، وہ عزت واحترام میں اپنی ماں ام فرقہ بنت ربیعہ سے کچھ کم نہ تھی ، یہ عورت ابوبکر کے زمانے میں مرتد ہوئی اور اسلام و مسلمانوں کے خلاف اس نے بغاوت کی، ”جنگ بزاخہ“ اور طلیحہ کے تمام شکست خوردہ اور بھاگے ہوئے سپاہی اس کے گرد جمع ہوئے ،اس کے بعد سیف کی خیالی جنگوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں ہزیمت سے دوچار ہوکر بھاگے ہوئے قبائل غطفان ، ہوازن ، سلیم، اسد اور طے کے بچے کچھے سپاہی بھی اس عورت کے لشکر سے ملحق ہوئے اس کے علاوہ مرتد ہوئے قبائل کے تمام فراری اور آوارہ لوگ بھی اس سے جا ملے اور اس طرح اس نے مسلمانوں کے مقابلہ میں ایک عظیم لشکر منظم کیا، اس بڑے لشکر کی کمان خود ام زمل نے سنبھالا۔

یہ لشکر مسلمانوں سے لڑنے کیلئے آمادہ ہوا، جب یہ خبر مسلمانوں کے سپہ سالار خالد بن ولید کو پہنچی تو وہ ام زمل کے لشکرکی طرف روانہ ہوا اور ان کے درمیان ایک شدید جنگ واقع ہوئی اس جنگ میں ام زمل ایک عظیم الجثہ اونٹ پر سوار تھی یہ اونٹ اسے اپنی ماں کی طرف سے وراثت میں ملا تھا ، جسے ایک محترم اونٹ مانا جاتا تھا ،کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اس اونٹ کو معمولی تکلیف پہنچاتا تو اسے اس کے مقابلہ میں سو اونٹ دینا پڑتے تھے ، ام زمل ایسے ہی اونٹ پر سوار ہوکر سپاہ کی کمانڈ کررہی تھی اور اپنی والدہ ام فرقہ کی طرح عجیب اور بے مثال بہادری اور شجاعت کے ساتھ مسلمانوں سے لڑرہی تھی۔

سیف کہتا ہے :

اس جنگ میں خاسی، ہاربہ، اور غنم قبیلہ کے بہت سے خاندان نابود ہوئے اور قبیلہ ” کاہل“ کے بہت سے افراد قتل ہوئے اور ام زمل کے اونٹ کے اطراف میں کشتوں کے پشتے لگ گئے کہ صرف ام زمل کے اونٹ کے اطراف میں سو سے زائد لاشیں پڑی تھیں ،آخرکار یہ جنگ ام زمل کے قتل اور مسلمانوں کی فتحیابی پر ختم ہوئی مسلمانوں کی فتح کی نوید مدینہ بھیجی گئی ۔

یہ بھی مرتدوں کی ایک اور جنگ ہے کہ سیف نے اسے مؤرخین کیلئے تحفہ کے طور پر پیش کیا ہے اور کہتا ہے کہ اس جنگ میں قبائل خاسی، ھاربہ اور غنم کے کئی خاندان نابود ہوئے اور قبیلہ کاہل کے بہت سے افراد قتل ہوئے اور ام زمل کے اونٹ کے اطراف میں بھی مختلف قبائل کے ایک سو افراد قتل ہوئے ۔

یہ تھی سیف کے بقول ام زمل کے ارتداد اور مسلمانوں کے ساتھ اس کی جنگ کا خلاصہ جو بنیادی طور پر جھوٹ اور جعلی ہے اس جنگ کے تمام جزئیات اور تانے بانے کو سیف نے خود گڑھا اور بنا ہے حتی اس جنگ کی سپہ سالار اور سورما ، ام زمل نامی عورت بھی سیف کے ذہن کی تخلیق ہے اس کے علاوہ سہل نامی اس داستان کا راوی بھی سیف کے ذہن کی مخلوق ہے ، اس کے بعد اس داستان کو سیف سے طبری ، حموی اور ابن حجر نے نقل کر کے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ، بعد میں دوسرے مؤرخین نے بھی ان تین افراد سے نقل کرکے اسے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے اس طرح یہ افسانوی او رجھوٹی داستان تاریخ کی کتابوں اور اسلامی متون میں شامل ہو گئی ہے(۱)

____________________

۱۔ ہم نے کتاب عبدا للہ بن سبا کی جلد اول میں فصل ” نباح کلاب الحواب “ اور جلد دوم میں فصل ” رواة مختلفون “ میں ” ام زمل “ کے حالات کی تشریح میں اس موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔


عمان اور مہرہ کے باشندوں کے ارتداد کی داستان

و قتلوا من المشرکین فی المعرکة عشرة آلاف

اس جنگ میں مسلمانوں نے دس ہزار مشرکین کو قتل کر ڈالا ۔

سیف

سیف کی روایت

جیسا کہ طبری سیف سے نقل کرتا ہے ، مسلمانوں کا ” دبا“ کے مقام پر مشرکین سے آمنا سامنا ہوا اور ان کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی اس جنگ میں مسلمان فتحیاب ہوئے اور دس ہزار مرتدوں کو قتل کر ڈالا، ان کے بچوں کو اسیر بنایا ان کا مال و منال لوٹ لیا اور آپس میں تقسیم کردیا ، اسیروں میں سے پانچویں حصہ ---- جن کی تعداد آٹھ سو سے زیاد ہ تھی --- کو اسیروں کے خمس کے عنوان سے ابوبکر کے پاس مدینہ بھیج دیا ۔

سیف کہتا ہے : مسلمانوں نے ” دبا“ کے مشرکین سے جنگ کے بعد ”مہرہ“ کی طرف کوچ کیا تا کہ وہا ں کے مشرکین سے لڑیں ” مہرہ “ کے مشرکین دو گروہ میں منقسم تھے اور سرداری کے موضوع پر آپس میں اختلاف و جنگ کرتے تھے ، ان میں سے ایک گروہ کی سرپرستی خاندان ” شخرات“ نامی ایک شخص کررہا تھا یہ گروہ ” جیروت “ میں زندگی گذار رہا تھا اور اس کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ جیروت سے ”نضدون“ تک پھیلے ہوئے تھے ، اس کے بعد سیف ” جیروت “ اور نضدون کاتعارف کراتے ہوئے کہتا ہے : ” جیروت“ اور ” نضدون “ ” مہرہ “ کے بیابانوں میں سے دو بیابان ہیں ۔ اس کے بعد اپنی بات کو یوں جاری رکھتا ہے : مسلمان جب ” مہرہ “ پہنچے تو ” شخریت“ مسلمانوں کے کمانڈر سے ملحق و متحد ہوکر ان کا ہم پیمان ہو گیا اور اپنے تمام افراد و سپاہیوں کے سمیت مسلمانوں کے لشکر سے ملحق ہوا اور انہوں متحد ہوکر مشرکین کے دوسرے گروہ کی طرف کوچ کیا یہاں پر ” دبا“ کی جنگ سے ایک شدیر تر جنگ واقع ہوئی اور آخر کار مشرکین کا سردار مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوا اور مشرکین کے لشکر کو شکست و ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا اور مسلمانوں کے فوجیوں نے انھیں تہہ تیغ کیا اور حتی الامکان ان کے افراد کا قتل عام کیا ،ان کے مال و منال کو غنیمت کے طور پر لوٹ لیا اور ان کا پانچواں حصہ غنائم کے خمس کے طور پر ابوبکر کو بھیج دیا اس جنگ میں مسلمانوں نے اس قدر مشرکین سے جنگی غنائم حاصل کئے کہ ان میں سے صرف ایک قسم عمدہ نسل کے دو ہزار گراں قیمت گھوڑے تھے ۔

سیف کہتا ہے : جب یہ پے در پے فتحیابیاں مسلمانوں کو نصیب ہوئیں تو اس علاقہ کے تمام لوگوں میں خوف و وحشت پھیلی اور سب لوگوں نے جان و مال کے خطرہ میں پڑنے کے ڈر سے اسلام قبول کیا ،ان جنگوں کے نتیجہ میں جو لوگ مسلمان ہوئے ان میں ، ریاضہ ، مر،للبان ، جیروت ، ظہور السحر، الصبرات ، ینعب َ اور ذات خیم کے باشندے تھے ،ان علاقوں کے باشندوں کے مسلمان ہونے کی روداد کو نوید کے طور پر مرکز اسلامی میں ابوبکر کو اطلاع بھیج دی گئی ۔

یہ تھا اس داستا ن کا ایک حصہ جسے سیف نے اپنی کتاب فتوح میں درج کیا ہے اور طبری نے بھی اسے سیف سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں ثبت کیا ہے اور دوسرے مؤرخین جیسے ابن اثیر ، ابن کثیر اور ابن خلدون نے طبری سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

حموی نے بھی اس داستان میں ذکر ہوئے شہروں اور علاقوں کے نام سیف سے نقل کرکے شہر اور اماکن کی فہرست میں قرار دے کر سیف کی روایتوں سے ان کیلئے تفصیل و تشریح لکھی ہے مراصد الاطلاع کے مؤلف نے بھی حموی سے نقل کیا ہے ابن حجر نے بھی ” شخرات “ نامی شخص (جو اس داستان میں آیا ہے) کو سیف سے نقل کرکے اس کی زندگی کے حالات کو” اصابہ “ میں اصحاب رسول کی فہرست میں درج کیا ہے ،اس طرح یہ جھوٹی داستانیں ، ان میں ذکر ہوئے اشخاص و اماکن کے نام اشخاص کے حالات سے مربوط کتابوں میں درج ہونے کے بعد ”معجم البلدان “ (شہروں اور اماکن سے مربوط کتابوں ) آگئے ہیں ، اور آج تک تاریخ اسلام کے حقیقی واقعات کے طور پر مسلمانوں کے اختیار میں قرار پائے ہیں ۔

اس داستان کی سند کی چھان بین

سیف نے محکم کاری اور دانشوروں کو اطمینان دلانے کیلئے عمان اور مہرہ کے باشندوں کی افسانوی داستان کو دو اسناد سے نقل کیا ہے ان دو مآخذ میں سے ایک میں ” سہل بن یوسف ‘ کا نام ہے اور دوسری میں ” غصن بن قاسم “ کا نام آیا ہے ، ہم نے گزشتہ بحثوں میں کہا ہے کہ یہ دونوں راوی سیف کے جعل کردہ ہیں اور اس قسم کے راویوں کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں ہے

سیف کے علاوہ دوسروں کی روایتوں میں عمان او رمہرہ کے باشندوں کی داستان : قارئین کرام نے یہاں تک عمان اور مہرہ کے باشندوں کے ارتداد کی داستان کو سیف کی زبانی سنا ،اب ہم دوسرے معتبر راویوں کی زبانی اسی داستان کو بیان کرتے ہیں تا کہ سیف کی خود غرضیاں واضح اور روشن ہوجائیں ۔

کلاعی کتاب ” اکتفاء “ میں اور ابن عثم کوفی کتاب ” فتوح “ میں کہتا ہے : عکرمہ(۱) ا پنے لشکر کے ساتھ ” دبا“ کی طرف روانہ ہوا ا ور اس کے سپاہیوں کا ” دبا“ کے باشندوں کے ساتھ آمنا سامنا ہوا اور ان کے درمیان جنگ ہوئی، مسلمانوں کے حملے سخت اور کاری تھے اور ” دبا“ کے سپاہی ان کے مقابلے میں تاب نہ لا سکے اور شکست کھا کر بھاگ گئے اور اپنے شہر کے آخری نقطہ تک پیچھے ہٹے ، مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا اور انھیں تہہ تیغ کیا اور اس جنگ میں ان کے ایک سو سپاہیوں کو قتل کر ڈالا، باقی لوگوں نے قلعوں اور آبادیوں میں پناہ لے لی ،مسلمانوں نے انھیں اسی قلعہ میں محاصرہ کردیا، جب ” دبا“ کے لوگوں نے خود کو محاصرہ میں پایا تو انہوں نے مسلمانوں کے سامنے ہتھیار ڈال

____________________

۱۔ عکرمہ بن ابی جہل قبیلہ قریش اور خاندان مخزوم سے تھا ، اس کی ماں ”ام مجالد “ہلال بن عامر کے خاندان سے ہے عکرمہ وہ شخص ہے جس کے بارے میں پیغمبر خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ میں اسے قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا تھا اور وہ ڈر کے مارے یمن بھاگ گیا تھا اس کے بعد اس کی بیوی ام حکیم (چچیری بہن)اور حارث بن ہشام نے اس کیلئے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے امان حاصل کیا اور اسے مکہ میں پیغمبر کے حضورمیں پیش کیا، عکرمہ وہاں پر مسلمان ہوا اس کے بعد اس نے کہا: یا رسول اللہ جتنے پیسے میں نے آج تک آپ کے خلاف صرف کئے ہیں اسی مقدار میں پیسے راہ خدا میں صدقہ دیدوں گا یہ وہی عکرمہ ہے جسے ابوبکر نے مردوں کی جنگ میں کمانڈر مقرر کیا وہ جنگ اجنادین یا یرموک یا جنگ صفر جو شام کی جنگوں میں سے ایک تھی ۱۳ ھء میں قتل ہو (اسد الغابہ ۴/ (۶) ، تاریخ اسلام ذہبی ج ۱/۳۸۰)


دئے ،مسلمانوں نے ان کے سرداروں اور کمانڈروں کو قتل کر ڈالا اور باقی لوگوں ----جن میں تین سو جنگجو اور چار سو عورتیں اور بچے تھے---- کو ابوبکر کے پاس بھیج دیا،ابوبکر ان کے مردوں کو قتل کرکے عورتوں اور بچوں کو مسلمانوں میں تقسیم کرنا چاہتے تھے عمر نے اسے ایسا کرنے سے روکا اور کہا کہ یہ مسلمان ہیں اور دل سے قسم کھاتے ہیں کہ ہم اسلام سے منحرف نہیں ہوئے ہیں لیکن مال و دولت سے ان کی انتہائی دلچسپی انہیں زکوٰةدینے سے روکتی تھی جس نے انھیں اس انجام تک پہنچادیا ہے ۔

اسلئے ابوبکر نے ان کو قتل نہیں کیا لیکن ان کو مدینہ سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی انھیں مدینہ میں نظر بند رکھا گیا یہاں تک عمر کی خلافت کا دور آگیا اور انھوں نے انھیں آزاد چھوڑدیا،کلاعی اضافہ کرتا ہے کہ وہ آزاد ہونے کے بعد بصرہ کی طرف روانہ ہوئے اور وہیں پر رہائش اختیار کی ۔

بلاذری ”مہرہ“کے باشندوں کے بارے میں کہتا ہے :قبیلہ مہرة بن حیدان کے بعض لوگوں نے اجتماع کیا عکرمہ ان کی طرف روانہ ہوا اور انہوں نے اپنے مال کی زکوٰةاسے ادا کی اس لئے ان کے درمیان کوئی نبرد آزمائی نہیں ہوئی ۔

تحقیق و تطبیق کا نتیجہ

سیف کہتا ہے : مسلمانوں نے عمان کے باشندوں کے ساتھ جنگ میں ان کے دس ہزار افرادکو قتل کر ڈالا اور ان کے بہت سے لوگوں کو اسیر بنایا جس کے پانچویں حصہ کی تعداد آٹھ سو افراد پر مشتمل تھی جبکہ دوسرے مؤرخین نے ان کے چند سرداروں سمیت کل مقتولین اور اسیروں کی تعداد صرف آٹھ سو افراد بتائی ہے ۔

لیکن ، مہرہ کے باشندوں کے بارے میں سیف کہتا ہے کہ وہ دو گرہوں میں منقسم تھے اور ان میں سے ایک گروہ نے مسلمانوں سے اتحاد کیا اور دوسرے تما م مشرکوں سے لڑے اور یہ جنگ ” دبا“ کی جنگ سے شدید تر تھی اس جنگ میں مشرکین کا سردار مارا گیا اور مسلمانوں سے جتنا ممکن ہوسکا قتل عام کیا اور ان کے مال و ثروت کو دلخواہ حد تک لوٹ لیا اس جنگ میں دیگر اموال و غنائم کے علاوہ دو ہزار گراں قیمت اور اچھے نسل کے گھوڑے مسلمانوں کے نصیب ہوئے کہ ان کا پانچواں حصہ ابوبکر کی خدمت میں مدینہ بھیج دیا گیا، اس قتل و غارت کے بعد اس علاقہ کے لوگ دوبارہ اسلام کے دائرے میں آگئے ۔

جبکہ دوسرے مؤرخین کہتے ہیں مہرہ کے لوگوں کے درمیان ایک چھوٹا سا اجتماع منعقد ہوا تھا جب عکرمہ مہرہ میں داخل ہوا تو مہرہ کے لوگوں نے کسی جنگ کے بغیر اپنے مال کی زکوٰةادا کی ۔

داستان کا خلاصہ

عمان کے باشندوں کے ارتداد کی داستانوں نے جو تلخ و ناگوار نتائج مسلمانوں کے حوالے کیا وہ حسب ذیل ہیں :

۱ ۔ شخریت نامی ایک اور جعلی صحابی کا نام اصحاب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی فہرست میں اضافہ کیا گیا اور اس کی زندگی کے حالا ت علم رجال کی کتابوں اور اصحاب رسول کے حالات پر مشتمل مآخذمیں درج کئے گئے ہیں اور انھیں جھوٹ کے ساتھ ممزوج کیا گیا ہے ۔

۲ ۔ اسلامی جغرافیہ کی کتابوں میں آٹھ افسانوی سرزمنیوں کو مختلف ناموں کے ساتھ درج کیا گیا ہے اور اس طرح ان کی کتابوں کی قدر و منزلت اور اعتبار کو گرا دیا گیا ہے ۔

۳ ۔ اسلام کو تلوار اور خون کا دین معرفی کرنے کے افسانوں میں دو اور افسانوں کا ذکر کیا گیا ہے اور اس طرح دشمنوں کے بہانہ کو تقویت بخشی ہے۔

عمان اور مہرہ کے باشندوں کے ارتداد کے افسانہ کے راویوں کا سلسلہ

اولاً: سیف نے عمان اور مہرہ کے باشندوں کے ارتداد کی روایت کو دو طریقوں سے نقل کیا ہے :

ایک کو سہل بن یوسف سے نقل کیا ہے اور دوسری کو غصن بن قاصم سے نقل کیا ہے لیکن یہ دونوں شخص سیف کے جعلی اور نقلی راوی تھے عالم اسلام میں اصلاً اس قسم کے راویوں کا کہیں وجود ہی نہیں تھا ۔

ثانیاً:سیف سے :

۱ ۔ طبری نے سیف کے استناد سے ۔

۲ ۔ یاقوت حموی نے معجم البلدان میں سند کی ذکر کے بغیر۔

۳ ۔ ابن حجر نے ” اصابہ “ میں سیف کے استناد سے ۔

اس کے علاوہ :

۴ ۔ ابن اثیر نے

۵ ۔ ابن کثیر اور

۶ ۔ ابن خلدون نے طبری سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

۷ ۔ عبدا لمؤمن نے بھی معجم البلدان سے نقل کرکے اسے ” مراصدالاطلاع“ میں درج

کیا ہے۔

اہل یمن اور اخابث کا ارتداد

و انما اختلق سیف بن عمر

ان سب کو سیف بن عمر نے بذات خود جعل کیا ہے ۔

مؤلف

اہل یمن کا ارتداد

سیف کہتا ہے : ابوبکر کی حکومت کے دوران جب نبوت کا جھوٹا دعوی کرنے والا ” اسود“ ہلاک ہوا ، تو اس کے حامیوں کا ایک گروہ ازد، بجیلہ و خثعم کے مختلف قبائل کے افراد پر مشتمل تشکیل پایا اور ”حمیضہ بن نعمان “ کے گرد جمع ہوئے اور صنعا و نجران کے درمیان رفت و آمد کرتے رہے ابوبکر کی طرف سے مقرر کردہ طائف کے حاکم عثمان بن ابی العاص نے عثمان بن ربیعہ کی کمانڈری میں ایک لشکر ان کی طرف روانہ کیا ۔

یہ دو لشکر ’ ’ شنواء“ نام کی ایک سرزمین پر ایک دوسرے کے مقابلہ میں قرار پائے اور ان کے درمیان ایک گھمسان کی جنگ چھڑگئی یہ جنگ کفار کی شکست اور انکے تتر بتر ہونے پر ختم ہوئی اور ان کا سردار حمیضہ بھی کسی دور دراز علاقہ کی طرف فرار کرکے روپوش ہو گیا۔

اہل یمن کا دوسرا ارتداد

سیف کہتا ہے: جب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رحلت فرمائی تو ابوبکر نے یمن کے سرداروں اور بزرگوں کے نام ایک خط لکھا اور اس میں انھیں دعوت دی کہ اپنے دین پر پائیداری اور استقامت کے ساتھ باقی رہیں اور ایرانی نسل کے لوگوں --- جو ” ابناء“ یعنی فرزندان فارس کے نام سے مشہور تھے ---- کی نصرت کریں ، اور ان کے سردار فیروز کی اطاعت کریں ،جب یہ خبر قیس بن عبدیغوث کو پہنچی تو اس نے ظلم و ستم، بربریت اور وحشتناک قتل عام کا آغاز کیا ۔

اس نے ” ابناء“ کے بزرگوں کو قتل کر ڈالا اور باقی لوگوں کو شہر یمن سے شہر بدر کیا اسود عنسی کے سپاہی (جو یمن کی پہلی جنگ میں شکست کھاکر فرار کرگئے تھے اور پراکندہ حالت میں مسلمانوں سے لڑرہے تھے)کے نام خفیہ طور پر ایک خط لکھا اور انھیں دعوت د ی کہ اس کے ساتھ ملحق ہوکر مسلمانوں کو کچلنے کیلئے ان سے اتحاد کریں ، انہوں نے قیس کی دعوت کا مثبت جواب دیا اوراس کی طرف روانہ ہوئے اس سے پہلے کہ وہ قیس تک پہنچتے ، قیس نے فیصلہ کیا کہ ”ابناء“ کے سرداروں اور بزرگوں کو مکر و فریب کے ذریعہ قتل کر ڈالے ، اس لئے اس نے ان کو ایک ایک کرکے دعوت دی اور یہ دعوت پہلے ”ازویہ “ سے شروع کی اور اسے ایک بہانہ سے اپنے گھر بلایا اور دھوکہ سے قتل کرڈالا۔

جب ”ابناء“ کے دوسرے سردار اور معروف شخصیتیں قیس کے مقصد سے آگاہ ہوئے تو وہ ڈر کے مارے پہاڑوں کی طرف بھاگ گئے ، قیس نے ان کی عورتوں اور بچوں کو گرفتار کرکے یمن سے نکال باہر کرکے ان کے اصلی وطن ایران کی طرف روانہ کیا ،بالکل اسی اثناء میں اسود کے باقی بچے فوجی بھی قیس کی دعوت کے مطابق اس کے پاس پہنچے اور ” صنعاء“ میں اسکے لشکر سے ملحق ہوگئے ۔ یہاں پر ” صنعاء“ اور اس کے اطراف میں ایک زبردست انقلاب رونما ہوا، ”ا بناء“ کے سردار فیروز نے قیس کے لشکر کو کچلنے کیلئے بعض قبائل کی مدد کی درخواست کی اور ایک لشکر کو مسلح و اآراستہ کرکے قیس کے سپاہیوں سے نبرد آزما ہوا ، یہاں تک اس نے ابناء کی عورتوں اور بچوں کو دشمن سے آزاد کر کے اپنے پاس لے آیا ،دوسری بار بھی یہ دو لشکر صنعاء کے نزدیک ایک دوسرے سے متخاصم ہوئے یہاں پر ایک شدید تر جنگ واقع ہوئی اس جنگ میں فیروز کا لشکر کامیاب ہوا اور قیس کی فوج کو سخت شکست دیدی اور خود قیس کو بھی گرفتار کرکے ابوبکر کے پاس بھیج دیا۔

اخابث کا ارتداد

سیف کہتا ہے : تہامہ میں جو پہلی شورش اور بغاوت رونما ہوئی وہ قبیلہ ”عک“ و ”اشعر“ کے ذریعہ تھی، انہوں نے مرتد ہونے اور بغاوت پر اترنے کے بعد ” اعلاب“نامی ایک ساحلی جگہ پر اجتماع کیا ،”طاہر بن ابی ہالہ“ --- جو اسلامی حکومت کی طرف سے عک و اشعر کا حاکم تھا ---مرتد نہ ہوئے قبائل کے چند افراد کے ساتھ ان دو قبائل کے مرتدوں کی طرف روانہ ہوا ، اور ” اعلاب “ کی جگہ پر ان سے روبرو ہوا ور ان کے درمیان ایک جنگ چھڑگئی نتیجہ کے طور پر قبیلہ عک اور ان کے حامیوں نے شکست کھائی اور وہ سب قتل ہوگئے ان کی لاشیں اتنی دیر زمین پر پڑی رہیں کہ وہ سڑگئیں اور ان کی بدبو تمام اطراف اور قافلوں کی راہوں تک پھیل گئی یہ فتحیابی مسلمانوں کیلئے ایک عظیم فتح شمار ہوئی ، چونکہ ابوبکر نے ابی ہالہ کے نام اپنے خط میں ان دو قبیلوں کے باغی اور نافرمان افرادکو اخابث یعنی خبیت افراد اور ان کی راہ کو ” راہ خبث“ کہا تھا ، اسی لئے ان دو قبیلوں کو اس تاریخ کے بعد ”اخابث“ کہا جاتا ہے اور یہ جنگ بھی ” جنگ اخابث“ اور یہ راستہ بھی ” راہ اخابث“ کے نام سے مشہور ہوا ۔

ان روایتوں کے اسناد کی تحقیق اور ان کا تاریخ کی کتابوں میں درج ہونا :

سیف سے نقل کی گئی ان روایتوں کی سند میں حسب ذیل راوی ذکر ہوئے ہیں :

۱ ۔ سہل : یہ وہی سہل بن یوسف سلمی ہے جو سیف کی روایتوں کا افسانوی سورما ہے۔

۲ ۔ مستنیر بن یزید : اس کو سیف نے قبیلہ نخع سے متعارف کرایا ہے۔

۳ ۔ عروة بن غزیہ : سیف نے اسے قبیلہ دثین سے شمار کیا ہے ۔

ہم نے گزشتہ بحثوں میں کہا ہے کہ ان راویوں میں سے کوئی ایک بھی حقیقت میں وجود نہیں رکھتا تھا اور یہ سب سیف کی ذہن کی تخلیق اورپیداوار ہیں ۔

طبری نے بھی ان روایتوں کو سیف سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں ۱۱ ھء کے حوادث کے ضمن میں درج کیا ہے ،ابن اثیر نے بھی طبری سے نقل کرکے انھیں اپنی تاریخ میں درج کیا ہے ، ابن کثیر نے بھی ان ہی داستانوں کے خلاصہ کو طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں ثبت کیا ہے ۔

” الاصابہ“ کے مؤلف نے ” ابن ابی ہالہ “ عثمان بن ربیعہ اور حمیضہ بن نعمان کی زندگی کے حالات کے بارے میں ان ہی داستانوں پر اعتماد کرکے ان کے نام اور کوائف کو سیف کی ان ہی روایتوں سے استفادہ کرکے ان کے بارے میں اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیثیت سے بھی تشریح لکھی ہے ۔

معجم البلدان میں لفظ ” اعلاب “ و ” اخابث“ کی تشریح کے سلسلے میں یاقوت حموی کا مآخذ بھی سیف کی عبارتیں ہیں ،وہ کہتا ہے : ابوبکر نے اس قبیلہ کے افراد اور اطراف سے ان کی طرف آنے والے افراد کو ” اخابث “ کہا ہے،اور یہ گروہ اس تاریخ سے آج تک اخابث کے عنوان سے معروف ہوا ہے اور جس راہ پر وہ چلے ہیں اسے راہ اخابث کہا جاتا ہے

اس عبارت کے خلاصہ کو ابن اثیر اپنی تاریخ میں درج کرکے یوں لکھتاہے :

ابوبکر نے اس قبیلہ کو ” اخابث“ اور جس راہ پر وہ چلے تھے اسے راہ اخابث نام رکھا اور یہ تمام آج تک ان کیلئے باقی ہے ۔

چونکہ معجم البلدان کے مؤلف اور ابن اثیر کے بیان میں بھی یہ جملہ آیا ہے کہ انھیں اخابث کہا گیا ہے اور یہ نام ابھی تک باقی ہے لیکن ان کے بیان میں اس روایت کا مآخذ اور راوی ذکر نہیں ہوا ہے پڑھنے والا گمان کرتا ہے کہ یہ جملہ خود ابن اثیر اور معجم البلدان کے مؤلف کا ہے کہ ان کے زمانے میں اخابث نام کی راہ اور لوگ موجود تھے،اور انہوں نے اس راہ اور ان لوگوں کے نام کو اپنی کتابوں میں درج کیا ہے اور ان کی تشریح اور تفصیل لکھی ہے،لیکن زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ نام نابود ہوکر فراموش ہو گئے ہیں ۔

اور یہ ہمارے زمانے میں اس قسم کی جگہوں اور لوگوں کا نام و نشا ن نہیں ہے جبکہ ابن اثیر مؤلف معجم البلدان اور نہ طبری کے زمانے میں اس قسم کی راہ یا جگہ یا لوگوں کا روئے زمین پر کہیں وجود تھا اور نہ ان سے پہلے اور نہ ان کے بعد اور حتی نہ خود سیف کے زمانہ میں اس قسم کی کوئی جگہ یا لوگ موجود تھے بلکہ انھیں سیف بن عمر نے خود جعل کرکے اپنے تمام جعلیات میں اضافہ کیا ہے اور سیف کے بعد آنے والوں نے بھی اس کی عین عبارتوں اور الفاظ کو نقل کیا ہے اور یہی موضوع دوسروں کی غلط فہمی کا سبب بنا ہے ۔

سیف کے علاوہ دوسروں کی روایت

ہم نے مؤرخین میں سیف کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھا ہے جس نے اہل یمن کیلئے ارتداد کی دو جنگوں کا ذکر کیا ہو اور کہا ہو کہ کوئی گروہ بنام اخابث تھا اور وہ مرتد ہوا تھا اس سلسلہ میں صرف بلاذری ایک مختصر بات بیان کرتے ہوئے کہتا ہے : قیس پر ”ازویہ “ کے قتل کا الزام لگا تھا اور ابوبکر کو بھی اس روداد کی خبر ملی کہ وہ صنعا میں مقیم ایرانیوں کو وہاں سے نکال باہر کرنا چاہتا تھا اور ان کے ایک مشہور شخص ”ازویہ “ کو قتل کیا ہے لہذا اس موضوع کرے بارے میں وہ ناراض اور غضبناک ہوا اور صنعا میں اپنے حاکم کو حکم دیا کہ قیس کو گرفتار کرکے مدینہ بھیج دے جب قیس مدینہ میں داخل ہوا تو اس نے ازویہ کے قتل کے بارے میں انکار کیا ،ابوبکر نے اسے مجبور کیا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر کے پاس جاکر پچاس مرتبہ قسم کھائے کہ وہ ”ازویہ “ کے قتل کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں رکھتا ہے ۔

اس نے قسم کھائی اس کے بعد ابوبکر نے اس کی بات مان لی اور اسے آزاد کرکے حکم دیا کہ شام جاکر رومیوں سے لڑنے والے اسلام کے سپاہیوں کی مدد کرے ۔

نتیجہ اور خلاصہ

جو کچھ ہم نے بیان کیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مؤرخین میں سے کسی نے بھی اس فصل میں ذکر ہوئی سیف بن عمر کی داستانوں کے بارے میں نقل نہیں کیا ہے ،اور بنیادی طورپر پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب میں ” حمیضہ “ اور ” عثمان بن ربیعہ “ نام کے کمانڈروں کا کہیں وجود نہیں تھا تا کہ یمن کے مرتدوں کے ساتھ ان کی جنگ صحیح یا غلط ثابت ہو۔

جس طرح خداوند عالم نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیوی حضرت خدیجہ کے طاہر بن ابی ہالہ نامی فرزند کو اصلا خلق نہیں کیا ہے تا کہ اخابث کے مرتدو ں سے وہ جنگ کرے اس طرح قطعاً اعلاب اور اخابث نامی کسی جگہ کو بھی روئے زمین پرخلق نہیں کیا ہے تا کہ وہاں پر کوئی جنگ واقع ہو۔

جی ہاں ! نہ ایسی کوئی جنگ واقع ہوئی ہے جس کے اوصاف سیف نے بیان کئے ہیں اور نہ کوئی جگہ اس نام و نشان کی موجود تھی اور نہ اس قسم کے کمانڈروں ،جنگ کے بہادروں اور ارتداد کا کہیں نام و و نشان تھا بلکہ یہ سب اور ان کے جزئیات و کوائف اور سورما سیف بن عمر کے خلق کئے ہوئے ہیں ، جس طرح اس نے سہل بن یوسف عروة بن غزیہ دثینی اورمستنیر جیسے راویوں کو اپنے ذہن سے خلق کیا ہے اور یہ داستانیں ان سے ہمارے لئے نقل کی ہیں ۔

گزشتہ فصلوں کا خلاصہ و نتیجہ

جیسا کہ گزشتہ فصلوں میں بیان ہوا ،سیف نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد مختلف عرب قبائل کو مرتد اور پیمان شکن کے طورپر معرفی کیا ہے ان کے اور مسلمانوں کے درمیان زبردست او رشدید خونریزیاں نقل کی ہیں ، ان کا نام”حروب“ یا مرتدوں کی جنگیں رکھا ہے ، ہم نے گزشتہ فصلوں میں ان جنگوں کے سلسلہ میں ان مقامات کو نمونہ کے طور پرپیش کیا اور ان کی ایک ایک کرکے تشریح لکھی،ان کا خلاصہ سیف کے کہنے کے مطابق حسب ذیل تھا:

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد اسلام کی سرزمین کفر و ارتداد کی طرف مائل ہوگئی۔ تمام عرب قبیلے بجز قبیلہ قریش اور ثقیف ، مرتد ہوئے اور اسلامی حکومت کی اطاعت کرنے سے منکر ہوئے، نتیجہ کے طور پر تمام اسلامی سرزمنیوں میں جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے اور اکثر لوگوں کو لقمہ اجل بنادیا

اس مقدمہ اور راہ ہموار کرنے کے بعد سیف ابوبکر کے نام پر کئی جنگیں نقل کرتا ہے ان جنگوں کا نام جنگ ”ابرق ربذہ “ اور ” ذی القصہ “ رکھتا ہے۔

سرزمین ” ذی القصہ “ میں گیارہ پرچم اور گیارہ کمانڈر خلق کرتا ہے اور ہر کمانڈر کے ہاتھ ایک پرچم دیتا ہے ابوبکر کی طرف سے کمانڈرو ں کے نام عہد نامے اور مرتد ہوئے قبائل کے نام کئی خطوط تالیف کرتا ہے ۔

اس کے بعد ارتداد کے بارے میں کئی دوسری داستانیں جیسے : قبیلہ طی ، ام زمل مر ، عمان ، یمن ، گروہ اخابث اور قبائل عرب کے نام پر گڑھ لیتا ہے اس کے بعد خونین اور گھمسان کی جنگوں ، ان جنگوں میں قتل اور اسیر ہونے والوں کی بڑی تعداد کا ذکر کرتا ہے اپنے کام اور بیان کو استحکام بخشنے کیلئے ان افسانوی جنگوں کے بارے میں اشعار و قصائد بھی گڑھ لیتا ہے ۔

یہ ہے سیف کی مرتدوں کے ساتھ واقع ہوئی نو جنگوں کا خلاصہ ہم نے ان جنگوں کے بارے میں گزشتہ بحثوں میں تحقیق و جانچ پڑتال کی اور یہ نتیجہ نکالا کہ سیف نے ان تمام داستانوں ، روایتوں ، جنگوں ، خونین مناظر اورجنگی علاقوں کو بذات خود جعل و خلق کیا ہے اور مرحلہ اول کے مؤرخوں کے سپرد کیا ہے اس نے اپنے افسانوی منصوبوں کے نفاذ کیلئے بنام حمیضہ اور طاہر اور دسیوں دوسرے سورما خلق کئے ہیں اور زیاد اور حنظلہ نامی شعراء بھی خلق کئے ہیں تا کہ ان حوادث کو شعر کی صورت میں پیش کرکے انھیں زیادہ سے زیادہ قانونی حیثیت وا ہمیت بخشے ، بعض اماکن اور جگہوں کو جعل کیا ہے اور ان کی نام گزاری بھی کی ہے تا کہ یہ دکھائے کہ یہ افسانوی جنگیں ان خیالی جگہوں پر واقع ہوئی ہیں جیسے: ابرق ربذہ ، حمقتین جیروت ، ذات خیم ریاضہ ، الروضة اللبان ، مر ،نضدون اور ینعب کہ یہ تمام علاقے جعلی ہیں اور اس قسم کے علاقے اور اماکن روئے زمین پر موجود ہی نہیں ہےں ، لیکن سیف کیا کرے ہر جنگ و حادثہ کیلئے ایک جگہ او رمکان کی ضرورت ہوتی ہے ۔

سیف نے اس مقصد کے پیش نظر بعض راویوں کو خلق کیا ہے تا کہ اپنی ان داستانوں اور جعلیات کو ان سے نقل کرے ، جیسے : سہل بن یوسف ، عروة بن غزیہ اور مستنیر و

دلچسپ بات ہے کہ سیف نے سب سے پہلے ایک بنیاد بنائی ہے تا کہ اپنے تمام جھوٹ اور جعلیات کو اس پر قرار دے اس نے اپنی بات کی ابتداء میں کہا ہے : رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد اسلامی سرزمینوں میں فتنہ کے شعلے بھڑک اٹھے اور تمام عرب قبائل اسلام سے منحرف ہوگئے ۔

سیف، ارتداد و کفر کے الزام سے کسی بھی قبیلہ کو مستثنی قرار نہیں دیتا ہے ، بجز قبیلہ قریش اور ثقیف کے واضح ہے کہ اس نے ان دو قبیلوں کو بھی اس لئے کا فرو مرتد نہیں بنایا ہے تا کہ انھیں دوسرے قبائل سے جنگ کرنے کیلئے بھیج دے ورنہ یکطرفہ جنگ قابل تصور نہیں ہے ۔

جو کچھ ہم نے یہاں تک مرتدوں کے بارے میں سیف سے نقل کیا وہ مشتی از خروارے اور سمندر سے ایک قطرہ کے مانند ہے ان نمونوں کو بیان کرنے کا ہمارا مقصد یہ تھا کہ دانشوروں اور محققین کی توجہ ان بے بنیاد مطالب کی طرف مبذول کرائیں کہ سیف نے انھیں جعل کیا ہے اور انھیں نام نہاد معتبر تاریخی کتابوں میں درج کرایا ہے ورنہ اس کی تمام جعلی روایتوں کی تحقیق اور جانچ پڑتال کرنا ایک طولانی کام ہے اور یہ کام ہمیں اپنے مقصد تک پہنچنے میں (اسلام کو پہچاننے کی راہ میں حدیث اور سیرت کی پہچان میں ) رکاوٹ بن سکتا ہے ان ہی مختصر نمونوں کا نقل کرناہمیں آسانی کے ساتھ دکھاتا ہے کہ سیف نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد جزیرة العرب اور اسلامی سرزمینوں کے بارے میں ایک ایسا بد نما اور نفرت انگیز چہرے کا خاکہ کھینچا ہے کہ دنیا کے ان علاقوں کے ہر نقطہ سے مرتدوں کا ہجوم نظر آتا ہے اور ہر سمت سے ارتداد کی صدائیں اور دین مخالف نعرے بلند ہوتے سنائی دے رہے ہیں یعنی اسلام نے اپنے پیرؤں میں کس قسم کا اثر نہیں ڈالا تھا اور وہ دوبارہ تلوار کے ذریعہ اسلام قبول کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور اس سلسلہ میں وہ اتنے مارے گئے ہیں کہ ان کی سڑی گلی لاشوں کی بدبو سے بیابانوں سے گزرنا مشکل ہو جاتا ہے اور باقی لوگ اسیر بنائے جاتے ہیں اور انھیں قافلہ کی صور ت میں مدینہ بھیج دیا جاتا ہے ۔

تیرہ صدیوں سے یہ جھوٹ مسلمانوں میں رائج ہے اور تاریخ کی کتابوں میں درج ہوا ہے، اس طولانی مدت کے دوران نہ صرف یہ کہ دانشوروں میں سے کسی نے ان جھوٹ کے پلندوں کی طرف توجہ نہیں دی ہے بلکہ کھلے دل سے ان اکاذب کا استقبال کیاہے کیونکہ سیف نے اس جھوٹ کی رپوٹ کو ابوبکر کی مدح و ثناء کے دائرے میں قرار دیا ہے اور اسے اس کی تعریف و تمجید سے مزین کیا ہے۔

اب ہم سیف کی ابوبکر کے بارے میں کی گئی مدح و ثنا کے چند نمونے پیش کرتے ہیں جن کے سبب اس کی جھوٹی روایتوں کو قبول کیا گیا ہے :

۱ ۔ سیف اپنی ان افسانوی داستانوں میں کہتا ہے :

جب رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رحلت فرمائی اور اسامہ جنگ تبوک کی طرف روانہ ہوا تو تمام اسلامی سرزمنیوں کے مختلف علاقوں میں عرب کفر و ارتداد کی طرف مائل ہوگئے اور پیغمبر کے زمانے میں مختلف شہروں میں ماموریت پر بھیجے گئے افراد مدینہ واپس آگئے یمن ، یمامہ اور دوسرے شہروں نیز علاقوں کے لوگوں اور قبیلہ اسد کے ارتداد کی خبر لے آئے ، ابوبکر نے ان سے کہا : صبر کرو تا کہ تمام امراء اور فرمانرواؤں کے خطوط بھی ہمیں پہنچ جائیں شائد ان کے خطوط تمہارے بیان سے ناگوار تر اور تلخ ترہوں زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مامورین اور فرمانرواؤں کے خطوط بھی مختلف علاقوں سے مدینہ پہنچ گئے جس طرح ابو بکر نے پیشنگوئی کی تھی لوگوں کے ارتداد اور مرتدوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل ہونے کی خبر ان خطوط میں نمایاں تھی ، ابوبکر نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مشرکین کے ساتھ روا رکھی جانے والی روش کے مطابق ان سرکش اورپیمان شکن لوگوں کی طرف چندافراد کو روانہ کیا تا کہ ان پر قابو پایا جاسکے اور کچھ خطوط بھی ان کے نام لکھے اور ان خطوط کے ضمن میں انھیں دوبارہ اسلام قبول کرنے نیزاسلامی حکومت کوتسلیم کرنے کی دعوت دی اور سر کشی و بغاوت اور ان کے ارتداد کے برے نتائج سے انھیں متنبہ کیا ۔ اس کے بعد اسامہ کے رومیوں کی جنگ سے واپس ہونے کا انتظار کیا تا کہ اسے حکومت اسلامی کی نافرمانی کرنے والے ان مرتدوں کی سرکوبی کیلئے بھیج دے ۔

۲ ۔ سیف ایک دوسری جگہ پر کہتا ہے:

تمام سرداروں اور فرمانرواوں نے مرتدوں سے ڈر کر مدینہ کی طرف فرار کیا اور مختلف قبائل کے ارتداد کی خبر ابوبکرکو پہنچادی گئی اور انھےں اس امر سے خبردار کیا جاتا رہا لیکن وہ اس قدر شجاع اور بہادر تھے کہ ذرہ برابر خوف محسوس نہیں کرتے تھے بلکہ یہ خبر دیتے ہوئے ایسا لگتا تھا کہ جیسے انھیں نوید دی جارہی ہو نہ یہ کہ انھیں کسی خطرے سے آگاہ کیا جا رہا ہو اس لئے لوگ ابوبکر کے بارے میں کہتے ہیں کہ” پیغمبر کے علاوہ ہم نے خطرناک اور وسیع جنگوں کے مقابلہ میں ابوبکر سے جری اور بہادر تر کسی کو نہیں دیکھا “

۳ ۔ سیف مزید کہتا ہے :

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے دس دن بعد قبیلہ اسد، غطفان ، ھوازن طی اور قضاعہ کے چند افراد مدینہ میں داخل ہوئے اور پیغمبر کے چچا عباس کے علاوہ مدینہ کے مشہور افراد سے ملاقات کی اور انھیں واسطہ قرار دیا تا کہ ابوبکر ان قبائل کے نماز پڑھنے پر اکتفاء کرےں اور زکوٰةکی ادئیگی سے انھیں سبکدوش قرار دیں ۔

امن و امان کے تحفظ کی غرض سے تمام مسلمان ان کی اس تجویز سے اتفاق کرکے ابوبکر کے پاس گئے اور روداد کو ان تک پہنچا دیا اور قبائل کے نمائندوں کی درخواست کو اس خبر کے ساتھ ابوبکر تک پہنچا دیا کہ اصحاب پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بالاتفاق اس تجویز کی تائید کی ہے ابوبکر نے اس تجویز اور درخواست کو قبول کرنے سے انکار کیااور قبائل کے نمائندوں کو ابوبکر نے ایک رات اور ایک دن کی مہلت دی تا کہ اپنے حال پر نظر ثانی کرلیں وہ بھی اس فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے قبائل کی طرف روانہ ہوگئے۔

۴ ۔ ابوبکر کے ذو القصہ کی طرف روانہ ہونے کے بارے میں سیف یوں قصیدہ خوانی ومدح سرائی کرتا ہے کہ مسلمان اس سے کہتے تھے :

اے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جانشین! خدا کا واسطہ اپنے آپ کو اس طرح خطرہ میں نہ ڈالئے ،کیونکہ اگرآپ قتل ہوگئے تو مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کا شیرازہ بکھر جائے گا آپ کا وجود دشمن کے مقابلہ میں ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے مانند اور ناقابل شکست ہے لہذا بہتر ہے اپنی جگہ پر کسی اور کو اس جنگ پر روانہ کر دیں اگر وہ مارا گیا تو کسی دوسرے کو اس کی جگہ پر مقرر کردیا جائے گا ۔

ابوبکر نے کہا:

خدا کی قسم ہرگز ایسا نہیں کروں گا اور اپنی جگہ پر کسی دوسرے کا انتخاب نہیں کروں گا مجھے اپنی جان کی قسم !تم مسلمانوں کی نصرت ومدد کرنی چاہئے ۔

جی ہاں ، سیف اچھی طرح جانتا ہے کہ لقمہ کو کیسے نگلنا چاہئے اور زہریلی غذا میں کونسی چٹنی ملانی چاہئے تا کہ لوگوں کو آسانی کے ساتھ کھلائی جاسکے اسی قسم کے کارنامے اور رنگ آمیزیاں سبب بنی ہیں کہ مسلمانوں کے مشہور علماء اور دانشور سیف کی روایتوں کے دالدادہ بن جائیں اور اسے زندقہ اور جھوٹ سمجھنے کے باوجود دوسرے راویوں اور حدیث نقل کرنے والوں پر اس کو ترجیح دیں اور اس کی روایتوں کو دوسروں کی نسبت زیادہ اہمیت دیگر ترویج کریں اور ابوبکر کی خلافت کے دوران واقع ہوئے حوادث کے بارے میں ہمارے لئے صحیح طور پر عکاسی کرنے والی معتبر روایتوں کو پس پشت ڈال کر فراموش کردیں ۔


جنگ سلاسل یا فتح ابلہ

و هذه القصة خلاف ما یعرفه اهل السیرة

یہ داستان مورخین کے بیان کے برعکس ہے۔

طبری

گزشتہ صفحات میں ہم نے بیان کیا کہ سیف نے اسلام کو ” تلوار اورخون “ کا دین ثابت کرنے کیلئے بہت سی روایتوں اور داستانوں کو جعل کیا ہے ۔

اس سلسلہ میں سیف کی روایتیں دو قسم کی ہیں :

ان میں سے ایک حصہ مرتدوں کی جنگوں کے طور پر اور دوسرا حصہ فتوحات اسلامی کے عنوان سے ہے ہم نے گزشتہ فصلوں میں سیف کی ان روایتوں کے نمونے بیان کئے جنہیں اس نے مرتدوں سے خونین اور وحشتناک جنگوں کے بارے میں جعل کیا ہے اس فصل میں ہم اسلامی فتوحات کے بارے میں جعل کی گئی سیف کی روایتوں کو بیان کریں گے ان میں سے ہر ایک کے بارے میں ایک مستقل اور جداگانہ فصل میں تشریح اور تفصیل پیش کریں گے ، لیکن چونکہ دونوں قسم کی روایتیں ایک مقصد کیلئے جعل کی گئی ہیں اور دونوں اسلام کے چہرہ کو جنگ و خوں ریزی اور خونین ثابت کرنے کیلئے ہے ، لہذا ہم بھی انھیں ایک ہی حصہ میں بیان کریں گے ۔

فتح ابلہ کی داستان

سیف نے جن جنگوں کو فتوحات کے عنوان سے نقل کیا ہے ، ا ن میں ایک جنگ ، فتح ابلہ یا جنگ سلاسل کے نام سے مشہورہے اس جنگ کی روداد کو سیف نے حسب ذیل صورت میں تشریح کی ہے :

ابوبکر نے ایک خط میں خالد بن ولید --جو ان دنوں یمامہ میں تھا ---- کو لکھا کہ یمامہ کی جنگ کے بعد عراق کی طرف روانہ ہوجاؤ اور اس سرزمین کے کفارو مشرکین سے جنگ کرو اور ”ابلہ “ ---جو ان دنوں ایران اور ھند کا بندر شمار ہوتا تھا ----تک پیش قدمی کرو۔

خالد نے عراق کی طرف روانہ ہونے سے پہلے ، سرحد ” ابلہ “ میں موجود ایرانی سرحد کے محافظ ہرمز کے نام ایک خط لکھا اس خط کو آزادبہ (یمن کے زباذبیہا کے باپ) کے ہاتھ بھیجا کہ اس کا مضمو ن یوں تھا ۔

خالد بن ولید کی طرف سے عجم کے سرحد ی چوکیوں کے کمانڈر ہرمز کے نام !

اما بعد اپنی سلامتی کی خاطر اسلام قبول کرنا یا اپنی اور اپنی امت کی طرف سے جزیہ دینا اور اگر ان دو میں سے کسی ایک کو قبول نہ کیا تو اپنی ذات کے علاوہ کسی کی ملامت نہ کرنا ، کیونکہ میں ایسے دلاوروں کے ساتھ تیری طرف آرہا ہوں کہ وہ موت کو اس قدر دوست رکھتے ہیں جتنا تم زندگی کو “

سیف کہتا ہے : ہندوستا ن کی سرحد ایران کی مہم ترین اور مضبوط ترین سرحدوں میں سے ایک تھی اس کے سرحدی محافظ سمندر میں ہندوستانیوں سے نبر آزما ہوتے تھے اور خشکی میں عربوں سے لڑتے تھے اور اس سرحد کا کمانڈر ہرمز ، عربوں کا بدترین اور خطرناک ترین ہمسایہ تھا اور تمام عرب اس سے غضبناک تھے اور اس کے ساتھ شدید عداوت اور دشمنی رکھتے تھے اور وہ عربو ں میں خباثت و ظلم میں ضرب المثل تھا اگرعرب کسی کو انتہائی خبیث یا کافر کہنا چاہتے تھے تو کہتے تھے فلاں ہرمز سے زیادہ خبیث یا اس سے زیادہ بد تر ہے “ ہرمز نسبی شرافت اور خاندانی حیثیت سے ایران میں انتہا کو پہنچا تھا اور اسی لئے وہ انتہائی گراں قیمت ٹوپی پہنتا تھا ، سیف کہتا ہے جوں ہی خالد کا خط ہرمز کو ملا ، وہ بجائے اس کے کہ اسے مثبت و صلح آمیز جواب لکھتا یا صلح و سازش کی راہ اختیار کرتا ، بادشاہ وقت ”کسری“ کے بیٹے شیرویہ “ اور شیرویہ کے بیٹے ’اردشیر “ کے نام ایک خط لکھا اور اس میں انھیں روداد اور خالد کے خط کے مضمون سے آگاہ و مطلع کیا اس کے بعد خالد سے مقابلہ کرنے کیلئے ایک لشکر کو آمادہ اور لیس کیا، لشکر کے یمین و یسار کے جناحوں کو بالترتیب قباد اور انوشجان کو سونپا یہ دو بھائی تھے اور ان کا نسب ایران کے قدیمی بادشاہ اردشیر، شیرویہ تک پہنچتا تھا، انہوں نے لشکر کو جمع اور تیار کرنے کے بعدسپاہیوں کو زنجیروں اور سلاسل سے باندھا تا کہ محاذ جنگ سے کوئی فرار نہ کرسکے(۱) اسی وجہ سے تاریخ میں

____________________

۱۔ سیف نے جو یہ بات اس داستان میں کہی ہے ایک تعجب خیز و ناقابل یقین بات ہے کیونکہ میدان جنگ میں کوئی سپاہی اپنے آپ کو زنجیروں سے نہیں باندھتا ہے اس لئے کہ اس کو میدان کارزار میں ہلکا ہونا چاہئے اور اس کے ہاتھ پاؤں آزاد ہونے چاہئے تا کہ آسانی کے ساتھ ہر سو حرکت کر سکے اور دشمن کے حملوں کا جواب دے سکے، لیکن ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کیوں سیف نے اس نکتہ کی طرف توجہ نہیں دی ہے یا عمداًچاہتا ہے کہ اس قسم کے جھوٹ کو گڑھ کر مسلمانوں کا مذاق اڑائے اور انھیں سادہ لوح اور تنگ نظر معرفی کرے اور یہ ثابت کرے کہ طبری جیسے ان کے دانشور کس قدر ہر جھوٹ اور مسخرہ آمیز چیز کو نقل کرتے ہیں اور علم و تمدن کے نام سے اپنی کتابوں میں درج کرتے ہیں ،تعجب اس بات پر ہے کہ ان تمام جھوٹ کے شاخسانے کومسلمان قبول کرتے ہیں ۔


اس جنگ کا نام جنگ سلاسل یعنی سلسلوں اور زنجیروں کی جنگ رکھا گیا ہے ۔

سیف اپنی بات کو یوں جاری رکھتا ہے کہ ہرمز سپاہ کو تیار کرنے کے بعد ایک بڑی اور مسلح فوج کے ہمراہ خالد کے لشکر کی طرف روانہ ہوا اور ” کاظمہ “ نامی ایک جگہ پر ایک پانی کے نزدیک پڑاؤ ڈالا اور پانی پر قبضہ جمایا ، جب خالد کا لشکر وہاں پہنچااور دیکھا کہ پانی پر دشمن نے قبضہ جما لیا ہے اس لئے انہوں نے ایک خشک جگہ پر پڑاؤ ڈالا، جب خالد کے سپاہیوں نے پانی کے بارے میں اس سے گفتگو کی تو خالد نے انھیں حکم دیاکہ سامان اتار کر ایک جگہ بیٹھ جائیں ، اس کے بعد خالد نے کہا: خدا کی قسم آخرکار یہ پانی ان دو سپاہیوں میں سے صابر اور بااستقامت ترین سپاہ کے قبضہ میں آئے گابس تم لوگ جمنے کی کوشش کرنا اور یہ کہنے کے بعد دشمن کو فرصت اور مہلت دیئے بغیر ان پر حملہ کردیا خداوند عالم نے بھی بادلوں کے ایک ٹکڑے کو انتخاب کیا اور مسلمانوں کے لشکر کے پیچھے پانی برسایا، جس سے مسلمانوں میں جرات اور قوت پیدا ہوئی ۔

ہرمز، تن تنہا میدان کارزار میں آیا اور پکارتے ہوئے بولا: تنہا جنگ کرو!تنہا جنگ کرو! خالد کہاں ہے ؟! اس طرح ہرمز خالد سے تنہا جنگ کی دعوت دیتا تھا ۔ اس نے اپنی فوج کے سرداروں سے طے کیا تھا کہ خالد کو تنہا جنگ میں کھینچ کر اپنے حامیوں کے تعاون سے ایک چالاکی اور فریب سے اسے موت کے گھاٹ اتاردے گا خالد نے جب ہرمز کی آواز اور تنہا جنگ کی فریاد سنی تو اپنے گھوڑے سے اتر گیا اور پیدل ہرمز کی طرف بڑھا ۔ ہرمز بھی اپنے گھوڑے سے اتر گیا اور خالد کے مقابلے میں آکھڑا ہوا دو نوں طرف سے تلواریں بلند ہوئیں خالد نے ہرمز کو نیچے گرادیا اس وقت ہرمز کے فریب کاروں اور حامیوں نے خالد پر حملہ کیا تا کہ اس کو قتل کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں ، لیکن اس کے باوجود وہ خالد کو ہرمزکے قتل سے نہ روک سکے ، دوسری طرف سے ” قعقاع بن عمرو “ بھی خالد کی مدد کیلئے آگے بڑھا اور فریب کاروں کے منصوبہ کو نقش بر آپ کرکے رکھ دیا اور انھیں خالد کو قتل ہونے سے بچا لیا آخرکار ایرانی فوج نے شکست کھائی اور مسلمانوں نے ان پر فتح پائی اور رات گئے تک سبھی تہہ تیغ کر دیئے گئے ۔

سیف ایک دوسری روایت میں کہتا ہے : ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا کہ اس عظیم اور وسیع بیابان میں ایرانیوں کے زنجیر میں جکڑے ہوئے سپاہیوں میں سے ایک بھی زندہ نہیں بچا تھا ۔ یہاں تک کہتا ہے :

جب اس دن مسلمانوں کی فتحیابی اور ایرانی لشکر کی شکست و ہزیمت پر جنگ ختم ہوئی اور مسلمانوں کا مقصد اس جنگ میں پورا ہوا تو خالد نے اپنے لشکر کے ساتھ وہاں سے کوچ کیا اور بصرہ کے عظیم پل پر پڑاؤ ڈالا اس کے بعد مثنی کو دشمن کی بھاگی فوج کا پیچھا کرنے کیلئے روانہ کیا اورمعقل بن مقرن کو بھی ابلہ کی طرف روانہ کیا تاکہ وہ وہاں پر جنگی اسیروں اور دشمن کے اموال کو جمع کرے یہ تھا جنگ ” ذات السلاسل “ کا خلاصہ جو مسلمانوں کے حق میں تمام ہوئی اور ایران کے بادشاہ ہرمز بھی خالد کے ہاتھوں قتل ہوا لیکن ہرمز کے دو سپہ سالار قباد اور انوشجان میدان کارزار سے زندہ نکل کے بھاگنے میں کامیاب ہوئے اور خالد نے جنگ کے خاتمہ پر اس فتح و کامرانی کی نوید کو غنائم جنگی کے خمس اور اس جنگ میں ہاتھ آئے ایک ہاتھی کے ساتھ ” زربن کلیب“ کے ذریعہ مدینہ بھیج دیا ۔ مدینہ میں اس ہاتھی کو عام لوگوں کے تماشا اور نمائش کیلئے رکھا گیا اور اسے گلی کوچوں میں گھمایا گیا جب کم عقل عورتیں اسے دیکھتی تھیں توخیال کرتی تھیں کہ یہ ایک مصنوعی مخلوق ہے اور کہتی تھیں : کیا حقیقت میں یہ بھی خدا کی مخلوق ہے ؟! ابوبکر نے اس ہاتھی کو دوبارہ خالد کے پاس بھیج دیا اور ہرمز کی ٹوپی کو بھی انعام کے طور پر اسے بخش دیا ۔

سند کی جانچ

سیف نے فتح ابلہ کی داستان کو سات روایتوں کے ضمن میں نقل کیا ہے کہ ان سات روایتوں کی سند میں سیف کے پانچ جعلی راویوں کا نام آیا ہے اس طرح ان میں سے تین راوی : ” محمد بن نویرہ ، مقطع بن ھیثم بکائی اور حنظلہ بن زیاد“ کا نام ایک یا اور ان میں سے دو راوی : عبدالرحمن بن سیاہ احمری اور مہلب بن عقبہ کا نام دوبار سیف کی سات روایتوں میں ذکر ہوا ہے۔

یہ ہے داستان فتح ابلہ کی سند اور سیف کے راویوں کا خلاصہ لیکن اس کے بعد اس کی سند اس طرح ہے کہ طبری نے اسے مفصل طور پر اور ذہبی نے خلاصہ کے طور پر لیکن دونوں نے سیف سے نقل کیا ہے ، دوسرے معروف مورخین جیسے : ابن اثیر اور ابن کثیر نے اسی داستان کو مفصل طور پر اور ابن خلدون نے خلاصہ کے طور پر طبری سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں آنے والی نسل کیلئے درج کیا ہے اس طرح جعل کی گئی روایتیں تاریخ کی کتابوں اور اسلام کے نام نہاد علمی مآخذ میں درج ہوئی ہیں ۔

تطبیق اور موازنہ

اگر ہم سیف کی روایتوں کو دوسرے مؤرخین کی روایتوں سے تطبیق و موازنہ کریں گے تو اس نتیجہ پر پہنچ جائیں گے کہ سیف کی روایتیں اس سلسلہ میں نہ صرف سند کے لحاظ سے خدشہ دار اور باطل ہیں بلکہ متن کے لحاظ سے بھی باطل اور ان کا جعلی ہونابہت واضح ہے کیونکہ سیف ان روایتوں میں دو الگ داستانوں یعنی داستان فتح ابلہ اور خالد کے ہرمز سے جنگ کی داستان کو آپس میں ملا کر ان دونوں میں تحریف اور رنگ آمیزی کرکے ایک تیسری داستان جعل کی ہے جس کو قارئین کرام نے اس کی مذکورہ سات روایتوں میں ملاحظہ فرمایا اب ذرا ان دو داستانوں کی حقیقت دوسرے مورخین کی روایتوں میں ملاحظہ فرمائیں ۔

۱ ۔ فتح ابلہ

طبری نے اپنی تاریخ میں فتح ابلہ کے بارے میں سیف کی سات روایتوں کو ۱۲ ھء کے حوادث کے ضمن میں نقل کرنے کے بعد لکھا ہے یہ روایتیں جو فتح ابلہ کے بارے میں سیف سے ہم تک پہنچی ہیں ، معتبر مورخین اور صحیح تاریخ کے بیان کے برخلاف ہے کیونکہ فتح ابلہ ۱۴ ھء میں خلافت عمر کے دوران عتبہ بن غزوان کے ذریعہ انجام پائی ہے کہ ہم اسے اسی سال کے حوادث کے ضمن میں مفصل طور پر بیان کریں گے ۔

بالکل اسی عبارت کو ابن اثیر اور ابن خلدون نے بھی اپنی تاریخ کی کتابوں میں خلاصہ کے طورپر درج کیا ہے ۔

طبری نے اپنی کتاب کی اس فصل میں دئے گئے اپنے وعدے کے مطابق فتح ابلہ صحیح اخبار کو اپنی کتاب کی دوسری فصل میں ۱۴ ھء کے حوادث کے ضمن میں درج کیا ہے اور ابن اثیر نے بھی اس روش میں اسی کی پیروی کی ہے لیکن دوسری فصل میں فتح ابلہ کے بارے میں سیف کی روایتوں اور داستانوں کا کوئی نام و نشان دکھائی نہیں دیتا ہے بلکہ وہاں پر فتح ابلہ کی داستان کو ابو مخنف کی روایت کے مطابق یوں بیان کیا گیا ہے :

ابی مخنف کی روایت کے مطابق فتح ابلہ

عتبہ بن غزوان تین سو جنگجوؤں کے ہمراہ بصرہ میں داخل ہوا اور خریبہ(۱) نام کی ایک جگہ پر پڑاؤ ڈالا ان دنوں ابلہ (جو چین اور کئی دوسرے ممالک کی بندرگاہ تھی) جس کی حفاظت پانچ سو ایرانی سوار کرتے تھے عتبہ نے تھوڑے سے توقف کے بعد وہاں سے کوچ کیا اور اجانہ کے نزدیک پڑاؤ ڈالا ، ابلہ کے باشندے ایک لیس لشکر کے ساتھ شہر سے باہر آگئے عتبہ ان کی طرف روانہ ہوا ، اس نے اپنے سپاہیوں میں سے فتادہ و قسامہ نامی دو افراد کو دس سوار فوجیوں کے ساتھ لشکر کے پیچھے مقرر کیا تا کہ مسلمانوں کے لشکر کی دشمن کے اچانک حملہ سے حفاظت کرسکیں اور فرار کرنے والے سپاہیوں کو روک

____________________

۱۔ خریبہ ایک قدیمی محل تھا ، مسلمانوں کے وہاں پہنچنے سے پہلے خراب ہو چکا تھا اس لیے اس جگہ کو خربیہ کہتے تھے(معجم البلدان)


لیں اس کے بعد ابلہ کے لشکر سے نبرد آزما ہوا اور ان کے ساتھ گھمسان کی جنگ کی یہ جنگ ایک اونٹ کو ذبح کرکے اسکے گوشت کو تقسیم کرنے کی مدت تک جاری رہی خداوند عالم نے مسلمانوں کو فتح و کامرانی نصیب کی ۔ ابلہ کی سپاہ نے شکست کھائی اور اپنے شہر سے بھاگ گئے عتبہ میدان کارزار سے اپنے کیمپ کی طرف واپس آیا ابلہ کے باشندے چند دن اپنے شہر میں رکے رہے خداوند عالم نے ان کے دلوں پر ایسا خوف و ہراس ڈال دیا کہ اس سے زیادہ وہ اپنے شہر میں نہ رک سکے اور فرار کو قرار پر ترجیح دی اور ہلکے بارلے کر فرات کو عبور کرکے چلے گئے اس طرح شہر ابلہ مسلمانوں کیلئے خالی کر دیا مسلمانوں کے سپاہی شہر ابلہ میں داخل ہوئے تھوڑی اجناس ، جنگی اسلحہ اور چھ سو درھم نقدان کے ہاتھ آیا کہ ہر سپاہی کو دو درھم ملے اس کے علاوہ چند افرادکو اسیر کرلیا۔

یہ فتح ماہ رجب یا شعبان ۱۴ ھء میں انجام پائی عتبہ نے ایک خط کے ذریعہ فتحیابی کی خبر کو عمر کی خدمت میں بھیج دیا جو اس زمانہ میں خلیفہ تھے ۔

فتوح البلدان میں بھی فتح ابلہ کو عمر کے زمانے میں عتبہ بن غزوان کی سرکردگی میں روایت کیا گیا ہے ۔

۲ ۔ خالد کے ہرمز کے ساتھ نبرد آزمائی کی داستان

بیہقی نے اس داستان کو اپنی سنن میں یوں بیان کیا ہے : خالد کی ہرمز کے ساتھ ” کاظمہ “ نامی میدان میں مڈبھیڑ ہوئی اور اسے جنگ کی دعوت دی ، ہرمز میدان میں آگیا لیکن خالد نے اسے پہلے ہی حملہ میں قتل کر ڈالا ۔

یاقوت حموی نے بھی معجم البلدان میں ” کاظمہ “ کی وضاحت میں یوں لکھا ہے :

” کاظمہ “ ایک وسیع میدان ہے جو سمندر کے ساحل پر ہے وہاں سے بحرین کے راستے سے بصرہ تک دو دن کا فاصلہ ہے “

گزشتہ مباحث کا نتیجہ

جو کچھ اس فصل میں بیان ہوا سیف کی نقل کے مطابق یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ خالد بن ولید یمن کے ”زبابہ “ کے باپ ” آزادبہ “ کے ذریعہ ہر مز کو ایک خط لکھتا ہے جس سرحد پر ہرمز حکومت کرتا تھا وہ ایران کی سب سے بڑی اور اہم ترین سرحدوں میں سے ایک تھی اور اسکے سرحد بان ایران کے طاقتور ترین سرحد بانوں میں سے ہوتے تھے اس کے کمانڈر”تجربہ “ ترین جنگجو ہوا کرتے تھے جو سمندر کے راستے سے ہندوستان سے نبرد آزما ہوتے تھے اور خشکی کے راستے سے عربوں سے برسرپیکار رہتے تھے، ہرمز جو عربوں کا بد ترین ہمسایہ اور خباثت اور بدجنس ہونے میں ضرب المثل تھا بادشاہ وقت ایران شیرویہ اور اس کے بیٹے ولیعہد اردشیر کے نام خط لکھتا ہے اور انھیں مسلمانوں کے ایران کی سرحد کی طرف لشکر کشی کی خبر دیتا ہے اورخود بھی خالد سے مقابلہ کرنے کیلئے ایک لشکر کو تشکیل دیتا ہے اس لشکر کی کمانڈ خاندان سلطنت کے دو آدمیوں کو سونپتا ہے سپاہی بھی فرار سے بچنے کیلئے اپنے آپ کو زنجیروں اور سلاسل سے جکڑ لیتے ہیں ، اس کے بعد خالد کی طرف روانہ ہوتے ہیں اور ” کاظمہ “ نام کی ایک جگہ پر پڑاؤ ڈالتے ہیں پانی پر قبضہ کرتے ہیں خالد کے سپاہی مجبورہوکر ایک خشک اور بے آب و گیاہ جگہ پر پڑاو ڈالتے ہیں لیکن خداوند عالم ان کیلئے پانی برساتا ہے اور انھیں سیراب کرتا ہے جس طرح جنگ بدر میں خدا نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کےلئے بارش نازل کی تھی آخرکار جنگ چھڑ جاتی ہے ہرمز کے لشکر کے سردار خالد کو قتل کرنے کا ایک منصوبہ مرتب کرتے ہیں تا کہ اسے مکر و فریب کے ذریعہ قتل کر ڈالیں اس مقصد کیلئے ہرمز خالد کو تنہا جنگ کی دعوت دیتا ہے ۔

یہ دونوں آپس میں جنگ کرتے ہیں خالد ہر مز کو بغل میں لے لیتا ہے تا کہ اسے زمین پر دے مارے ،یہاں پر ہرمز کے حامیوں کو خالد کے قتل کی مناسب فرصت ملتی ہے اور اس پر حملہ کرتے ہیں لیکن خالد دشمن کے حملہ کی پروا کئے بغیر ہرمز کو قتل کر ڈالتا ہے اسی اثناء میں قعقاع میدان کارزار میں پہنچ جاتا ہے اور نہایت چالاکی اور چابک دستی سے دشمن کے سپاہیوں کو میدان سے کھدیڑ دیتا ہے اور انھیں خالد کو قتل کرنے کی فرصت نہیں دیتا، اس طرح اس جنگ میں مسلمان فتح پاتے ہیں اور ایران کی سب سے بڑی سرحد ابلہ پر قبضہ کرتے ہیں ، دشمن کے اموال کو غنیمت کے طورپر حاصل کرتے ہیں اسلامی فوج کا سپہ سالار ، خالد غنائم کے پانچویں حصہ کو ابو بکر کے پاس مدینہ بھیجتا ہے کہ ان غنائم میں ایک عظیم الجثہ ہاتھی بھی تھا کہ جسے دیکھ کر مدینہ کی عورتیں خیال کرتی ہیں کہ یہ مصنوعی اور جعلی مخلوق ہے ابوبکر اس ہاتھی کو دوبارہ خالد کے پاس بھیج دیتا ہے ۔

یہ سب مطالب جو فتح ابلہ کے بارے میں ذکر ہوئے انھیں صرف سیف نے نقل کیا ہے اس کے علاوہ کسی بھی مورخ نے ان روداد وں اور حوادث میں سے کسی ایک کو نقل نہیں کیا ہے چنانچہ ہم نے گزشتہ صفحات میں کہا کہ سیف نے یہاں پر دو مستقل داستانوں کو آپس میں ملا کر تحریف اور رنگ آمیزی کے بعد ان سے ایک تیسری داستان جعل کی ہے ان داستانوں میں سے ایک جس سے سیف نے غلط فائدہ اٹھایا ہے وہ فتح ابلہ کی داستان ہے کہ اس کے بارے میں مؤرخین کہتے ہیں کہ یہ عمر کے زمانے میں واقع ہوئی ہے نہ ابوبکر کے دور میں اس فتح کا سپہ سالار ” عتبہ بن غزوان “ تھا نہ خالد ۔

دوسری داستان ” خالد کی ہرمز سے نبرد آزمائی کی “ہے کہ جس کے بارے میں مؤرخین نے لکھا ہے کہ یہ واقعہ بصرہ سے دو منزل کی دوری پر رونما ہوا ہے وہاں پر بھی خالد نے ہرمز سے جنگ کی دعوت دی ،نہ کہ ہرمز نے خالد سے ۔

لیکن سیف ان تمام وقائع اور رودادوں کو جنہیں مؤرخین نے بیان کیاہے الٹا دکھایا ہے اور ان میں ملاوٹ کر دی ہے۔

تحریف اورالٹ پھیر کرتا اور ان سے دوسری داستانیں بنا کر ان کی جگہ پر ثبت کرتا ہے تا کہ اس طرح تاریخ اسلام کو درہم برہم کرکے واقعات کو ناقابل شناخت بنا کر دگرگوں کردے ۔

حدیث سازی میں سیف کا تخصص اور اس کا ہنراس وقت زیادہ رونما ہوتا ہے جب اس افسانہ کو سات روایتوں سے نقل کرتاہے تا کہ کثرت روایات سے اپنے جھوٹ کو محکم اور مضبوط بنا کرحقیقت و قبولیت کی منزل سے قریب کردے اور اس افسانوی مطلب پر حقیقت کا خول چڑھا دے ۔

ان روایتوں کے اسناد میں اپنے پانچ جعلی راویوں کا نام لیتا ہے تا کہ وہ بھی پہچان لئے جائیں اور قانونی حیثیت حاصل کرلیں ۔ مختصر یہ کہ دو خطوط یعنی ” خالد کا ہرمز کے نام خط “ اور ہرمز کا ” شیروہ “ اور ” اردشیر “ کے نام خط ، سپاہیوں کو زنجیروں اور سلاسل میں جکڑنا ، جنگ کا آغاز اور خالد کے شدید حملے ، خالد کے قتل کیلئے دشمن کی سازش اس جنگ میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے افسانوی صحابی قعقاع کا کردار ،خالد کے فوجیوں کیلئے بارش کی کرامت کا واقع ہونا ، مسلمانوں کی فتحیابی ،دشمن کے مال و منال کا غارت ہونا اورغنائم کے پانچویں حصہ کو ایک عظیم الجثہ ہاتھی کے ہمراہ مدینہ بھیجنا وغیرہ ان مطالب میں سے کوئی ایک بھی صحیح اور حقائق پر مبنی نہیں ہے اس طر ح ”زر“ اور قعقاع نامی اصحاب اور سیف کے اس داستان کے راویوں میں سے کسی ایک کا حقیقت میں وجود نہیں تھا بلکہ یہ سیف ہے جس نے ان سب چیزوں کو جعل کیا ہے اور ان جھوٹ کے پلندوں کا بیج تاریخ اسلام میں بویا ہے کہ آج ہم ان کے تلخ میوؤں کا مزہ چکھ رہے ہیں اور آج اس کا تلخ ترین میوہ افسانوی جنگوں میں ایک اور جنگ کا اضافہ ہے جس کی وجہ سے اسلام کو خون اور تلوار کا دین معرفی کیا گیا ہے یہ ایک سرخ و خونین جنگ ہے جس میں سیف کے کہنے کے مطابق مسلمانوں نے زنجیر میں جکڑے ہوئے دشمنوں پر حملہ کیا اوران سبھی کو تہہ تیغ کرکے موت کے گھاٹ اتاردیا ۔

حیرہ میں خالد کی فتوحات

تفرد سیف بذکر ما ذکرناه

سیف کے علاوہ کسی اور نے ان جنگوں کے بارے میں نقل نہیں کیا ہے ۔

مؤلف

سیف خالد کیلئے کئی جنگیں اور فتوحات نقل کرتا ہے کہ اس کے علاوہ تاریخ نویسوں میں سے کسی اور نے اس قسم کی فتوحات خالد کیلئے نقل نہیں کی ہیں ۔

۱ ۔ جنگِ سلاسل یا فتح ابلہ

اس جنگ کے بارے میں گزشتہ فصل میں وضاحت کی گئی ہے ۔

۲ ۔ جنگِ مذار

سیف جنگ سلاسل کے بعد ثنی یا مذار نامی ایک دوسری جنگ کے بارے میں نقل کرتا ہے اور اس سلسلہ میں یوں کہتا ہے :

سرزمین ایران کی سرحد کے کمانڈر ہرمز نے ایران کے بادشاہ ” شیرویہ “ اور اس کے بیٹے ”اردشیر “ کے نام ایک خط لکھا، اس خط میں خالد کی ایران کی سرحدوں کی طرف لشکر کشی کے بارے میں وضاحت کی ، اور ان سے مدد کی درخواست کی ۔ اس کے جواب میں ” قارن بن قریانس “ کی کمانڈ میں ایک لشکر بھیجا گیا ۔ جب ” قارن “ ، ”مذار “ کے مقام پر پہنچا تو اس نے ہرمز کے قتل ہونے کی خبر سنی ، مزید غضبناک ہوا ۔ دوسری طرف سے ہرمز کے شکست خوردہ سپاہی ، اہواز ، فارس اور اس کے اطراف کے باشندوں اور کوہ نشینوں کو اس روداد کی اطلاع ملی اور ہر طرف سے قارن کی طرف روانہ ہوئے اور ”مذار “ میں ان کے لشکر سے ملحق ہوئے اور اس طرح ایک عظیم لشکر تشکیل پایا۔ قارن نے مذار پہنچ کر اس جگہ کو اپنا فوجی کیمپ قرار دیا اور وہیں پر اپنی فوج کو منظم و لیس کرنے میں لگ گیا۔

ہرمز کے شکست خوردہ دو کمانڈروں قباد اور انوشجان کو بالترتیب یمین ویسار کا کمانڈر مقرر کیا ۔ اس طرح اپنے لشکر کو خالد سے لڑنے کیلئے آمادہ کیا۔ مثنی اور اس کے بھائی معنی نے اس روداد کی خبر آناً فاناً خالد کو پہنچادی اور اس نے بھی اپنے لشکر کو آراستہ کیا اور قارن کی طرف روانہ ہوا ۔ یہ دولشکر ” مثنی“ نام کی ایک جگہ پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوئے اور وہیں پر دونوں لشکروں کے درمیان ایک خونین او ر گھمسان کی جنگ چھڑ گئی ” ابیض الرکاب “ کے لقب سے مشہور شخص ” معقل بن اعشی “ نے قارن کو قتل کر ڈالا ۔ عدی نے قباد کو اور عاصم نے انوشجان کو موت کے گھاٹ اتاردیا ۔ اس طرح ایرانی لشکر کے تینون کمانڈر قتل کئے گئے اور ایرانی سپاہیوں نے شکست و ہزیمت سے دوچار ہوکر فرار کیا ۔ مسلمانوں نے انھیں تہہ تیغ کیا اور ان کی ایک بڑی تعداد کو موت کے گھاٹ اتاردیا ، یہاں تک مقتولین کی تعداد تیس ہزار تک پہنچ گئی اس کے علاوہ ان کی ایک بڑی تعداد دریا میں غرق ہوگئی لیکن بڑے دریا مسلمانوں کیلئے فراریوں کا پیچھا کرنے میں رکاوٹ بن گئے ۔

اس طرح جنگ مثنی یا مذار مسلمانوں کے حق میں تمام ہوئی خالد نے جنگی غنائم کو اپنے فوجیوں میں تقسیم کیا اور ا س کا خمس مدینہ بھیج دیا اس جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ آنے والا مال غنیمت جنگ سلاسل کے غنائم اور اسراء سے زیادہ تھا ۔

۳ ۔ فتح ولجہ

سیف کہتا ہے :جب جنگِ مذار میں ایرانی سپاہ کی شکست اور قارن کے قتل ہونے کی خبر ایران کے بادشاہ اردشیر کو پہنچی تو ا س نے سرزمین سواد کے ” اندرزغر “ نامی ایک شخص کی کمانڈ میں حیرہ سے کسکر اور اطراف کے عربوں اور دیہات کی آبادیوں کے باشندوں کو جمع کرکے ایک لشکر آراستہ کیا اور اسے ”بہمن جاذویہ “ کی کمانڈر ی میں ایک دوسرے لشکر کی مدد فراہم کرکے تقویت بخشی اور اس کے بعد ان کو روانہ ہونے کا حکم دیا ۔ اس طرح خالد کی طرف ایرانیوں کی تیسری لشکر کشی کا آغاز ہوا ۔ یہ فوج ۱۳ ھ ء کے ماہ صفر میں ” ولجہ ‘ میں داخل ہوئی ۔

سیف کہتا ہے : خالد کو ” اندرزغر“ کے لشکر کے پہنچنے کی خبر ملی اس نے مثنی سے ولجہ کی طرف کوچ کیا اور وہاں پر جنگ مثنی سے شدید تر ایک جنگ چھڑگئی ۔ یہاں تک دونوں لشکروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا ۔ خالد نے اس جنگ میں دو کمین گاہیں بنائی تھیں اسلام کے سپاہیوں کے ایک گروہ کو ” سعید بن مرہ“ کی کمانڈری میں ان دوکمین گاہوں میں سے ایک میں مخفی رکھا تھا ۔ انہوں نے کمین گاہ کے دونوں طرف سے اچانک ایرانیوں پر تابڑ توڑ حملے شروع کئے اور ان سے سخت انتقام لیا ان کی صفوں کو تہس نہس کرکے رکھ دیا اور انھیں پیچے ہٹ کر فرار کرنے پر مجبور کیا ۔خالد نے آگے سے اور دوسروں نے پیچھے سے دشمن کے لشکر کو بیچ میں محاصرہ کرلیااور ان کا عرصہ حیات تنگ کردیااور ان کی فوج کو ایسے درہم برہم کردیا کہ کوئی ایک دوسرے کے مارے جانے کو نہیں دیکھ سکتا تھا ۔

اس طرح ایران کے سپہ سالار ” اندرزغر“ کو شکست ملی اور وہ بھاگنے پر مجبور ہوا اورپیاس کی شدت کی وجہ سے ہلاک ہوگیا ۔

خالد نے ایران کے ایک ایسے پہلوان سے جنگ کی جو ہزار افراد کے برابر تھا اور اسے قتل کر ڈالا اس کی لاش سے ٹیک لگا کر اپنے لئے کھانا منگوایا اور اسی حالت میں کھانا کھایا ۔

۴ ۔ فتح الیس

سیف کہتا ہے : جب خالد بن ولید نے جنگِ ولجہ میں قبیلہ بکر بن وائل کے بعض افراد کو موت کے گھاٹ اتاردیا ۔ وہ عرب عیسائی تھے جنہوں نے ایرانیوں کی مدد کی تھی تو ان کے قبیلہ کے لوگ غضبناک ہوگئے اور انہوں نے ایرانیوں کے ساتھ خط و کتابت کی ۔ اس کے بعد عبدا للہ بن اسود عجلی کی سرکردگی میں ” الیس ‘ کے مقام پر اجتماع کیا ۔ ایران کے پادشاہ اردشیر نے بہمن جاذویہ (جو ایرانیوں کی شکست کے بعد ” قسیاثا“ میں رہائش پذیر ہوا تھا) کے نام ایک خط لکھا اور قبیلہ بکر بن وائل کے ” الیس “ میں اجتماع کے بارے میں اسے مطلع کیا ۔ بہمن جاذویہ نے پہلے ” جابان“ کو الیس کے باغیوں کی طرف روانہ کیا اور اسے حکم دیا کہ میرے پہنچنے تک جنگ کیلئے اقدام نہ کریں اس کے بعد خود اردشیر کے پاس گیا تا کہ اقدامات کے بارے میں ذاتی طور پر اس کے ساتھ گفتگو اور صلاح و مشورہ کرے ایرانیوں میں یہ رسم تھی کہ ہر روز ایک شخص کو لوگوں کے نمائندہ کے طور پر بادشاہ کے پاس بھیجتے تھے اور بہمن ان کے نمائندوں میں سے ایک تھا۔ جابان کی مسلمانوں کے خلاف لشکر کشی اور اس کے ” الیس“ پہنچنے کی خبر جب لوگوں تک پہنچی تو وہ ہر طرف سے اس کی طرف دوڑ پڑے ۔ تمام سرحدی نگہبان اورگزشتہ جنگوں کے فراری جومسلمانوں کے ساتھ دل میں بغض و کینہ رکھے ہوئے تھے جابان کے گرد جمع ہوگئے ۔اور عبدا للہ اسود نے بھی عرب نسل کے عیسائیوں اور قبائل ” عجل“ ، ” تنیم اللات “ اور ”ضبیعہ “ اور حیرہ کے اطراف کے اعراب کو اپنے گرد جمع کیا اور ان کے ہمراہ اس کے لشکر سے جاملا۔

جب خالد کو یہ اطلاع ملی کہ اعراب نے ” عبد الاسود“ کے گرد اجتماع کیا ہے ، تو اس نے اپنے لشکر کو آمادہ کیا اور ان کی طرف روانہ ہو گیا۔

خالد کو اس وقت ایرانیوں کی لشکر کشی اور ایرانی سپہ سالار جابان کے الیس پہچنے کی کوئی اطلاع نہیں تھی وہ صرف ” عبد الاسود “ کو کچلنے کیلئے نکلا تھا۔

ایرانی سپاہی جب ” الیس “ پہنچے تو انہوں نے اپنے کمانڈر جابان سے پوچھا کہ کیا ہم پہلے تیزی کے ساتھ دشمن پر حملہ کریں یا پہلے دسترخوان بچھائیں اور سپاہیوں کو کھانا کھلادیں ؟ تا کہ دشمن یہ خیال کرے کہ ہم قدرتمند ہیں اور ان کی کوئی پروا نہیں کرتے ہیں ، اس کے بعد فرصت سے دشمن پر اچانک حملہ کرکے ان سے جنگ کریں ۔

جابان نے کہا: اگر مسلمانوں نے تمہارے ساتھ چھیڑچھاڑ نہ کی تو تم بھی ان کے مقابلہ میں بے توجہی کا مظاہرہ کرنا ۔ لیکن فوجیوں نے اس کی تجویز سے اختلاف کیا اور دسترخوانوں کو بچھا کر کھانا حاضر کیا اور فوجیوں کو کھانا کھانے کی دعوت دی اور اس طرح سب دستر خوان پر بیٹھ گئے ۔

اسی اثناء میں خالد ” الیس “ پہنچا اور ایرانی سپاہیوں کو وہاں پر دسترخوان پر دیکھا۔

اس نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ تمام اسباب زمین پر رکھ کر بجلی کی طرح دشمن پر ٹوٹ پڑیں ۔ خالد کے سپاہ کے تابڑ توڑ حملے شروع ہوگئے۔ جابان نے اپنے سپاہیوں سے کہا: کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ عرب تمہیں فرصت نہیں دیں گے ؟! اب اگر کھانا نہ کھا سکتے ہو تو کم از کم اس کھانے کو مسموم کرکے رکھ دو۔ اگر دشمن پر فتح پاؤ گے تو کوئی خاص چیز کو ہاتھ سے نہیں دیا اور اگر شکست کھائی اور یہ کھانا دشمن کے ہاتھ لگ گیا اور انہوں نے اسے کھالیا تو یہی کھانے ان کی ہلاکت کا سبب بن جائےں گے لیکن انہوں نے یہا ں پر بھی جابان کے کہنے پر عمل نہیں کیا اور دسترخوان سے اٹھ کر خالد کے لشکر کے حملہ کا جواب دیا ۔ دونوں فوجوں میں ایک سخت جنگ چھڑ گئی اور اس جنگ میں مشرکین زیادہ استقامت دکھا رہے تھے ۔

خالد نے کہا: خداوندا ! تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر یہیں ان لوگوں پر فتح نصیب کر دے گا تو میں ان میں سے ایک فرد کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں گا اور ان کے خون کی ندی بہادوں گا۔ آخرکار خدا نے مسلمانوں کو فتح نصیب کی اور خالد کی طرف سے منادی نے فریاد بلند کی : لوگو ! دشمن کے افراد کو اسیر بنالو اور انھیں قتل نہ کرو مگر ان لوگوں کو جو اسیر ہونے سے گریز کریں مسلمان دشمن کی طرف بڑھے اور انھیں جوق در جوق اسیرکر لیا ۔ خالد بن ولید نے حکم دیا کہ ندی کے پانی کو بند کرو اور کچھ لوگوں کو اس کام پر مامور کیا کہ اسیروں کا خشک ندی کے کنارے پر سر قلم کریں تا کہ ان کا خون ندی میں جاری ہوجائے اور خالد کی قسم کو عملی جامہ پہنایا جائے یہ سلسلہ تین دن رات تک جاری رہا ۔

فتحیابی کے بعد دوسرے دن دشمن کے فراریوں کا بین النہرین تک تعقیب کیا گیا الیس کے تمام اطراف میں اسی حد تک آگے بڑھے اور جس کسی کو پکڑتے تھے اس نہر کے کنارے لاکر اس کا سر قلم کرتے تھے تا کہ ندی میں خون جاری کرسکیں اور خالد کی قسم کو عملی جامہ پہنا سکیں ۔

یہاں پر قعقاع اور دیگر صلح پسند افراد نے خالد سے کہا کہ اگر روئے زمین کے تمام لوگوں کے سر قلم کئے جائیں تب بھی ندی میں خون جاری نہیں ہوگا کیونکہ آدم کے بیٹے کے قتل کے بعد زمین پر خون کا سرد ہونے کے بعد جاری ہوناروکا گیا ہے ۔

اس لئے بہتر یہ ہے کہ اس خون پر پانی بہنے دیا جائے تا کہ وہ پانی خون سے رنگین ہو کر جاری ہوجائے اور اس طرح تیری قسم بھی پوری ہوجائے گی ۔

خالد نے پانی کو کھولنے کا حکم دیا اور اس طرح ندی کا پانی خونین رنگ میں تبدیلی ہوکر جاری ہوا اس لئے اس ندی کو آج تک خون کی ندی کہا جاتا ہے اس ندی پر چند پن چکیاں تھیں جو اس خونی پانی سے چلیں اور اٹھارہ ہزار فوجیوں کیلئے گندم پیس کر آٹا بنا دیا ۔ الیس میں مقتولین کی تعداد ستر ہزار افراد تھی اور ان میں اکثر ”امغشیا“ کے باشندے تھے ۔

۵ ۔ فتح امغشیا :

سیف کہتا ہے : جب خالد الیس کی جنگ سے فارغ ہوا تو وہ ” امغشیا “ ۱ کی طرف روانہ ہوا ۔ امغیشیا کے باشندوں کو جب اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے فرار کیا خالد جب وہاں پہنچا تو ان لوگوں کو اس کی مہلت نہیں دی کہ اپنی ضروریات زندگی کا ساز و سامان شہر سے باہر لے جائیں ۔

” امغیشیا “ کے باشندے عراق کے کھیتوں میں پراکندہ ہوئے خالد نے ” امغیشیا “ کو مسمار کرنے اور جو کچھ وہاں ہے اسے نیست ونابود کرنے کا حکم دیا ۔

سیف کہتا ہے : ” امغیشیا “ ایک بڑا شہر تھا ۔ حیر ہ اور الیس اس کے اطراف کے علاقے شمار ہوتے تھے ۔

مسلمانوں کو اس جنگ میں کثرت سے بے مثال جنگی غنائم ہاتھ آئے کہ کسی دوسری جنگ میں انھیں اس قدر جنگی غنائم نہیں ملے تھے ۔ ان غنائم میں سے ہر سپاہی کو انعام و اکرام کے علاوہ فی کس ایک ہزار پانچ سو دینار کی رقم باضابطہ حصہ میں ملی جب یہ خبر ابوبکر کو پہنچی تو اس نے کہا؛ اے گروہ قریش ! آپ کا شیر ، خالد ایران کے بڑے شیر سے نبرد آزما ہوا اور اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ، دنیا کی عورتیں خالد جیسے کوجنم دینے سے عاجز اور بانجھ ہیں ۔

۶ ۔ فرات بادقلی کی فتح

سیف کہتا ہے : خالد نے امغیشیا کی فتح کے بعد کشتیوں کے ذریعہ حیرہ کی طرف کوچ کیا۔ حیرہ کے سرحد ی کمانڈر ” آزادبہ “ کوجب یہ اطلاع ملی تو اس نے خالد سے جنگ کرنے کیلئے ایک لشکر آمادہ کیا اور خالد کی فوج کی طرف روانہ ہوا اور ”غریبین “ نامی ایک جگہ پر پڑاؤ ڈال کر اس جگہ کو اپنا فوجی کیمپ قرار دیا اور اپنے بیٹے کو ایک گروہ کے ہمراہ بھیج دیا انہوں نے خالد کی کشتیوں کیلئے دریا کے پانی کا رخ بدل دیا مسلمانوں کی کشتیاں دلدل میں پھنس گئیں ۔ خالد نے اپنے فوجیوں کو کشتیوں سے نیچے اتارا اور آزادبہ کے بیٹے کی طرف روانہ ہوا اور ” بادقلی “ کے دریا میں ان کا آپس میں آمنا سامنا ہوا اسے تمام فوجیوں کے ساتھ قتل کر ڈالا اور دریا پر جو باندھ بنایا گیا تھا اسے توڑدیا اور پانی ندیوں کی طرف جاری ہوگیا اور ان کی کشتیاں تیرنے لگیں اس کے بعد خالد حیرہ کی طرف روانہ ہو ا۔ جب ” آزادبہ “ کو خالد کی پہنچنے کی خبر ملی اس نے جنگ کئے بغیر فرار کی ۔ خالد غریبین میں داخل ہوا ۔اور یہا ں پر موجود محلوں ، عمارتوں اور شہر حیرہ کو اپنے محاصرہ میں لے لیا۔

سیف کہتا ہے : چونکہ آزادبہ خاندانی نسب اور حیثیت کے لحاظ سے متوسط طبقہ کا شخص تھا اور ایسے افرا د کونصف اشراف کہتے تھے ، اس لئے ایک متوسط ٹوپی پہنتا تھا اور اس کی ٹوپی کی قیمت پچاس ہزار دینا تھی ۔

سند کی تحقیق

فتوحات کے بارے میں جو داستانیں ہم نے یہاں تک نقل کی ہیں ،سیف نے انھیں پندرہ روایتوں پر تقسیم کیا ہے ان روایتوں کی سند میں ” محمد بن عبدربہ بن نویرہ “ نامی ایک راوی چھ بار ذکر ہوا ہے دوسرے راوی ” بحر بن فرات عجلی “ زیاد بن سرجس احمری “ ، ” عبد الرحمان بن سیاہ احمری “ اور ”مہلب بن عقبہ اسدی “ دوبار اور ایک دوسرا راوی بنا م ’ غصن بن قاسم “ ایک بار ان روایتوں کی سند میں ذکرہوا ہے ۔

موازنہ اور تطبیق

یہاں تک ہم نے فتح حیرہ سے پہلے تک فتوحات خالد کے بارے میں نقل کی گئی روایتوں کا ایک اجمالی خاکہ بیان کیا لیکن دوسرے مؤرخین اس سلسلہ میں کہتے ہیں :

خالد نے مذار میں کچھ ایرانیوں کے ساتھ جنگ کی اور بعض تاریخ نویسوں کے نقل کے مطابق خالد نے جنگ مذار کی کمانڈ ری ” جریر “ کے سپرد کی اور یہ جنگ اسی جریر کے اقدامات اور نگرانی میں انجام پائی اور خود خالد ” کسگر “ کی کی طرف سے ” زندرود“ کی طرف روانہ ہوا اور اس جگہ کو تیر اندازی سے فتح کیا پھر وہاں سے ” درنی “ اور اس کے اطرف روانہ ہوا اور ” درنی “ کے لوگوں کو امان دی اور اسی امان کے نتیجہ میں ” درنی “ اور اس کے اطراف کو کسی جنگ وخونریزی کے بغیر اپنے قبضہ میں لے لیا پھر ”ہرمزجرد “ کی طرف روانہ ہوا اور وہاں کے لوگوں کو بھی پناہ دی اور اس طرح یہ علاقہ بھی کسی جنگ و خونریزی کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوا ۔

وہاں سے ” الیس “ کی طرف روانہ ہوا ’ الیس “ کا حاکم اور کمانڈر جابان جب رودا د سے آگاہ ہوا تو اس نے ایک لشکر کو آراستہ کیا اور خالد سے جنگ و مقابلہ کرنے کیلئے اپنے کیمپ سے باہر آیا۔ خالد نے بھی اپنے سپاہیوں کے حصہ کو ” مثنی “ کی کمانڈری میں جابان کی طرف روانہ کیا تھا ۔ یہ دو لشکر ”نہرخون “ کے نزدیک ایک دوسرے کے مقابل میں پہنچے اور ان کے درمیان ایک جنگ چھڑ گئی۔ جابان کے لشکر نے اس جنگ میں شکست کھائی اور بھاگ گئے ۔

اس ندی کے کنارے اس جنگ کے واقع ہونے کی وجہ سے اس ندی کا نام نہر خون پڑا اور یہ ندی اسی نام سے مشہور ہوئی ۔

مؤرخین کہتے ہیں : خالد جنگ الیس سے فراغت پانے کے بعد ” حیرہ ‘ کی طرف روانہ ہوا جب وہ ” حیرہ “ کے نزدیک پہنچا تو ” آزاذبہ“ کے سوار بھی اس کی طرف بڑھ گئے یہ دو لشکر ندیوں کے ایک سنگم پر ایک دوسرے کے مقابلہ میں پہنچ گئے اور ان کے درمیان ایک جنگ چھڑ گئی ۔

خالد کی سپاہ کے ایک کمانڈر ” مثنی “ نے آزادبہ کے سواروں کو سخت شکست دی ۔ جب اہل حیر ہ نے مسلمانوں کی اس شجاعت اور کامیابی کا مشاہدہ کیا تو سب نے ہتھیار ڈال دیا اور مسلمانوں کے استقبال کیلئے نکل پڑے

اسلامی ثقافت میں سیف کی روایتوں کا ما حصل

فتوحات خالد کے بارے میں یہاں تک تحقیق و جانچ پڑتال سے ہمارے لئے واضح ہوگیا : یہ صرف سیف ہے جس نے ” معقل بن اعشی “ اور ” سعید بن مرہ “ جیسے پہلوانوں کا نام لیا ہے ” الاصابہ “ کے مؤلف نے بھی ان دواشخاص کی زندگی کے حالات کو اصحاب پیغمبر کے حالا ت کے ضمن میں درج کیا ہے ، لیکن اس نے بھی جو کچھ ان دو خیالی اشخاص کے بارے میں لکھا ہے وہ سب سیف سے اخذ کیا ہے ۔

پھر بھی تنہا سیف ہے جس نے ” عاصم “ نامی ایک اور صحابی کا نام لیا ہے اور ” الاصابہ “ کے مؤلف اور دوسرے شرح نویسوں نے بھی اس کے بارے میں حالات کو سیف سے نقل کیا ہے اور اسے پیغمبر خدا کے اصحاب کی فہرست میں قرار دیا ہے ۔

پھر بھی تنہا سیف ہے جس نے ” امغیشیا “ ، ” مثنی “ اور ” قسیاثا “ نامی مقام کا نام لیا ہے اور ” معجم البلدان “ کے مؤلف اور ” مراصد الاطلاع “ کے مؤلف نے ان ناموں کو سیف سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے اور انھیں اسلامی شہر اور آبادیوں میں شمار کیا ہے ۔

نیز تنہا سیف ہے جس نے ” مثنی “ کیلئے ” مغنی “ نامی ایک بھائی خلق کیا ہے،اور اسے تابعین کی فہرست میں قرار دیا ہے ۔

نیز تنہا سیف ہے جس نے اپنی روایتوں میں ایرانی لشکر کیلئے ” قارن بن قریانس ‘ اور ” قباد انوشجان “ نامی دوسرداروں کا نام لیا ہے جبکہ دوسرے مؤرخین ان سرداروں کو نہیں جانتے ہیں اور بنیادی طور پر ان کا کہیں وجود ہی نہیں تھا ۔

نیز تنہا سیف ہے جس نے خالدپر انسان کشی ، خونریزی ، خون کی ندی بہانے اور ” امغیشیا “ کو مسمار کرنے کی قسم کھانے کا الزام لگایا ہے ۔

اور تنہا وہی ہے جس نے ” ولجہ “ نامی ایک اور جنگ ، دسیوں خونین حوادث اور دوسری خونین جنگوں کے بارے میں اپنے جعلی اور افسانوی راویوں سے داستانیں نقل کرکے انھیں آنے والی نسلوں کیلئے درج کیا ہے ۔

یہ سب جھوٹ، افسانے ، سیکڑوں توہمات اور دوسرے افسانے سیف کے ذہن اور خیال کی پیداوار ہیں جو اسلامی تمدن میں نفوذ کرکے اسلامی مآخذ میں یادگار کے طور پر باقی رہ گئے ہیں ۔ جی ہاں ! ان تمام روایتوں اور حوادث کو تنہا سیف نے نقل کیا ہے اور طبری نے بھی اسی سے نقل کیا ہے اور بعد والے مؤرخین جیسے : ابن اثیر ، ابن کثیر اور ابن خلدون نے انھیں طبر ی سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے ۔ اس طرح یہ جھوٹے اخبار و حوادث ، یہ جنگی افسانے یہ خیالی مکان و علاقے، یہ افسانوی اصحاب و راوی اور یہ جعلی سپہ سالار تاریخ کی کتابوں اور مختلف اسلامی مآخذ میں درج ہو کر آج تک مسلمانوں کے درمیان اشاعت پاکر مشہور ہوئے ہیں اور ان سب کا مجموعی طور پر ایک منحوس اور فاسد نتیجہ نکلتا ہے کہ ” اسلام تلوار اور خون کا دین ہے اور تلوار کے زور اور خونریزی کے ذریعہ پھیلا ہے “۔


فتح حیرہ کے بعد والے حوادث

فقتل یوم الفراض ماة الف

مسلمانوں نے جنگ فراض میں ایک لاکھ افراد کا قتل کیا ۔

سیف بن عمر

۱ ۔ جنگ حصید

سیف کہتا ہے : فتح حیرہ کے بعد ----جس کی داستان گزشتہ فصل میں بیان ہوئی ----ایرانیوں نے مسلمانوں کے خلاف دوبارہ بغاوت کی ۔ ” ربیعہ “ کے عرب بھی ان کی نصرت کیلئے اٹھے اور سب کے سب ”حصید “ نامی مقام پر جمع ہوکر مسلمانوں سے لڑنے کیلئے آمادہ ہوگئے ۔ مسلمانوں نے بھی قعقاع بن عمرو سے مدد کی درخواست کی ۔ قعقاع ان کی مدد کرنے کیلئے آمادہ ہوا اور ایرانیوں اور ربیعہ کے عربوں سے لڑنے کیلئے ” حصید “ کی طرف روانہ ہوا ۔ انکے ساتھ سخت جنگ کی ۔ اس جنگ میں قعقاع (مسلمانوں ) کو فتح، نصیب ہوئی ۔

اس جنگ میں کافی تعداد میں ایرانی مارے گئے اور ایرانیوں کا سپہ سالار ” زمہر “ بھی اس جنگ میں قتل ہوا اور اس کا قاتل قعقاع تھا ۔ اس جنگ میں ” روزبہ “ بھی قتل ہوا اور اس کا قاتل ، قبیلہ ”حارث بن طریف ضبی “کا ” عصمت بن عبدربہ “ نامی ایک شخص تھا ، عصمت گروہ ” بررہ “ میں شمار ہوتا تھا اور ” بررہ “ ایک ایسے خاندان کو کہتے ہیں ، جس کے تمام افراد مدینہ ہجرت کرچکے تھے ، اور آنحضرت کو درک کرچکے تھے ۔ ” خیرہ“ بھی ایک گروہ کا نام ہے جس کے قبیلہ کے تمام افراد مدینہ ہجرت کرگئے تھے ۔

بہر صورت اس جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ کافی مقدار میں جنگی غنائم آئے اور لشکرحصید کے بچے کھچے افراد ” خنافس “ کی طرف فرار کرگئے ۔ جب مسلمان ان کا پیچھا کرتے ہوئے ” خنافس“ میں داخل ہوئے تو ایرانیوں کا سپہ سالار ” مہبوذان “ اپنے لشکر کے ہمراہ ”خنافس“ سے ” مصیخ “ کی طرف بھاگ گیا

۲-جنگ مصیخ

سیف کہتا ہے : ایرانی لشکر اور ان کے سپہ سالار ” بہبوذان “ کے مصیخ کی طرف فرار کرنے کی اطلاع خالد بن ولید کو ملی ۔ اس نے اپنے لشکر کے کمانڈر ، قعقاع ، اعبد بن فدکی اور دوسرے کمانڈروں کے نام ایک خط لکھا اور ان کیلئے ایک رات مقرر کی تا کہ اس رات کو وہ سب مصیخ میں اجتماع کریں ۔ مقررہ وقت پر فوجی مصیخ میں جمع ہوئے دشمن کے افراد جو بے خبری کے عالم میں گہری نیند سورہے تھے تین جانب سے مسلمانوں کے حملوں کا نشانہ بنے ۔ مسلمانوں نے دشمن کا ایسا قتل عام کیا کہ مصیخ کے بیابان میں کشتوں کے پشتے لگ گئے ۔ اس بیابان میں جس نقطہ پر نگاہ پڑتی تھی دشمنوں کے جنازے زمین پر بھیڑ بکریوں کی لاشوں کے مانند بکھرئے ہوئے نظر آرہے تھے

۳ ۔ جنگ ثنی

پھر سیف کہتا ہے : جب مصیخ کے لوگوں نے اس طرح شکست کھائی اور مسلمانوں کے ہاتھوں خفت اٹھائی تو تغلب کے قبائل نے مسلمانوں کے خلاف بغاوت کی اور ان سے جنگ کی غرض سے ”ثنی “ اور ” زمیل “ میں جمع ہوگئے خالد بن ولید نے اپنے کمانڈروں کے ساتھ یہ فیصلہ کیا کہ ” ثنی “ اور ” زمیل “ کے باشندوں کے ساتھ مصیخ کے لوگوں کا سا سلوک کریں گے لہذا خالد نے اپنے سپاہ کو آمادہ کیا اور رات کی تاریکی میں تین جانب سے ثنی پر دھاوابول دیا اور سب لوگوں کو تہہ تیغ کر ڈالا ، ان کی عورتوں اور بچوں کو اسیر بنایا ۔ ثنی میں دشمن کی جمع شدہ فوج میں سے ایک فرد بھی زندہ نہ بچ سکاتا کہ روداد کی خبر کوزمیل میں موجود اپنی دوسری سپاہ تک پہنچا سکے ۔

۴ ۔ جنگِ زمیل

اس کے بعد سیف نے روایت کی ہے :

خالد نے ”ثنی “ کے باشندوں کا کام تمام کرنے کے بعد ” زمیل “ کے بے خبر لوگوں کی طرف رخ کیا اور ان پر تین جانب سے شب خون مارا ۔ ان کے بہت سے افراد کو ایسے قتل کر ڈالا کہ گزشتہ جنگوں میں اس کی مثال نہیں ملتی ہے کیونکہ خالد نے قسم کھائی تھی(۱) کہ دشمن پرشب خون مار کر ان سب کو نابود کر ڈالے گا مسلمانوں کو اس جنگ میں کافی مقدار میں مال غنیمت ہاتھ آیا ۔ جنگ کے خاتمہ پر

____________________

۱۔ میں نہیں جانتا کہ خالد نے انسانوں کے قتل کی کتنی قسمیں کھائی تھیں ؟!


خالد نے ان تمام غنائم کو اپنے سپاہیوں کے درمیان تقسیم کیا اور اس کے خمس کو ابوبکر کے پاس مدینہ بھیج دیا ۔

۵ ۔ جنگ ِ فراض

پھر سیف کہتا ہے : خالد ” زمیل “ سے ” فراض“ کی طرف روانہ ہوا تو دوسری طرف سے روم کی حکومت نے مسلمانوں کی خونریز روش سے سخت غضبناک ہوکر ان کی بیخ کنی کیلئے روم کی سرحد پر موجود ایرانی فوجی کیمپوں کی مدد کی اس کے علاوہ عربوں کے مختلف قبائل جیسے ’ تغلب “ ” ایاد “ اور”نمر“ کی بھی مدد کی ۔

ان سب نے روم کی حکومت سے وعدہ کیا کہ وہ اس کی حمایت اور مدد کریں گے اورمسلمانوں سے جنگ کرنے کی اپنی آمادگی کا اظہار کیا اور انہوں نے اپنے فوجیوں کو رومیوں کے اختیار میں د یدیا اس طرح ایک بہت بڑا لشکر جمع ہوا اور روم کے افواج کے ساتھ ملحق ہوا اس طرح ایک عظیم فوج تشکیل پائی ۔ اس کے بعد رومیوں اورمسلمانو ں کے د رمیان ایک گھمسان اور طولانی جنگ چھڑگئی ۔ یہ جنگ بھی رومیوں کی شکست پر ختم ہوئی خالد نے یہاں پر مسلمانوں کو حکم دیا کہ جہاں تک ممکن ہو سکے ان کے بارے میں سختی کریں اور کسی قسم کی نرمی نہ برتیں اس کے نتیجہ میں مسلمان دشمن کے فراری سپاہیوں کو پکڑ کر نیزوں اور برچھیوں کے سائے میں گروہ گروہ کی صورت میں لاکر ایک جگہ جمع کرتے تھے اور اس کے بعد سب کے سر قلم کرتے تھے ۔ مسلمانوں نے اس جنگ میں ایک لاکھ افرادکو قتل کرکے انھیں خاک و خون میں غلطاں کیا ۔

سند کی تحقیق

سیف کی نقل کردہ ان روایتوں میں محمد ، مہلب ، زید اورغصن بن قاسم نامی چند راوی ملتے ہیں کہ یہ سب سیف کے جعل کردہ راوی ہیں اور اس نام و نشان کے راوی دنیا میں کہیں موجود نہیں تھے جیساکہ ہم نے اس سے پہلے بھی ذکر کیا ہے ۔

اس کے علاوہ ان روایتوں کی سند میں ” ظفر بن دھی “ نامی ایک اور راوی نظر آتا ہے کہ وہ بھی سیف کا جعلی صحابی پیغمبر اور نقلی راوی ہے ۔

سیف نے ان روایتوں کی سند میں قبیلہ سعد کے ایک شخص اور قبیلہ کنانہ کے ایک شخص کو راویوں کے طور پر پیش کیا ہے لیکن ان کیلئے نام معین نہیں کئے ہیں تا کہ علم رجال کی کتابوں میں درج ہوکر ان کی سوانح لکھی جاتی ۔

ہم ان دو بے نام و نشان راویوں کے حالات پر روشنی ڈالنے سے معذور ہیں ۔

تحقیق کا نتیجہ

جو کچھ ہم نے ”حیرہ “ کے بعد خالد کی جنگوں کے بارے میں اس فصل میں بیان کیا اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے :

تنہا سیف ہے جس نے ’ جنگ حصید“ کے نام پر ایک جنگ کا ذکر کیا گیا ہے ،جس میں بڑی تعداد میں ایرانیوں کاقتل عام کیا گیااور اسی طرح ” روزبہ “ اور ” رژمہر “ نامی دو ایرانی کمانڈروں کے قتل کے بارے میں نقل کیا ہے۔

یہ تنہا سیف ہے جس نے ” عصمت بن عبدربہ ضبی “ نامی ایک صحابی کا نام لیا ہے اور اسے قبیلہ ”بررہ “ میں شمار کیا ہے اور اس کے ضمن میں یہ وضاحت کی ہے کہ ” بررہ “‘ ہراس قبیلہ و خاندان کو کہتے ہیں کہ اس کے تمام افراد نے مدینہ ہجرت کی ہو اور ” خیرہ “ بھی کسی خاندان کے اس گروہ کو کہتے ہیں جنہوں نے اپنے قبیلہ سے مدینہ ہجرت کی ہو ۔

پھر تنہا یہی سیف ہے جس نے ” مصیخ “ نامی ایک جگہ کا نام لیا ہے اور کہا ہے کہ اس جگہ کے لوگ مسلمانوں سے جنگ میں اس قدر قتل ہوئے کہ مقتولین کے جنازے بھیڑ بکریوں کی لاشوں کے مانند بیابانوں میں بکھرے پڑے تھے ۔

پھر تنہا سیف ہے جس نے ’ ثنی “ اور وہاں کے تمام باشندوں کے قتل اور نابود ہونے کی بات کی ہے اور اس طرح ” زمیل “ نامی ایک اور جگہ پر بے مثال قتل عام کی تعریف کی ہے ۔

یہ تنہا سیف ہے جس نے ” جنگ فراض “ اور اس جنگ میں ایک لاکھ افراد کے قتل ہونے کی خبرہمارے لئے نقل کی ہے ۔

پھر تنہا سیف ہے جس نے نقاط ، اماکن ، شہروں اور بہت سی آبادیوں کا نام اپنی روایتوں اور داستانوں میں بیان کیا ہے کہ کسی کو ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے یاقوت حموی نے بھی ان اماکن اور جگہوں کے نام کوسیف سے نقل کرکے واقعی شہروں اور اماکن کی فہرست میں درج کیا ہے اور حموی سے بھی ’ ’ مراصد الاطلاع “ کے مؤلف نے انھیں نقل کرکے اپنی کتاب میں د رج کیا ہے ۔

بنیادی طور پر ان داستانوں اور حوادث کو طبری نے سیف سے نقل کیا ہے پھر ابن اثیر اور ابن کثیر نے بھی طبری سے نقل کرکے انھیں اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

پھر تنہا سیف ہے جو اپنی ان داستانوں میں پیغمبر کے خاص اصحاب جیسے : اعبدا بن فدکی اور عصمة ابن عبد اللہ ضبی کا نام لیا ہے کہ سیف کے علاوہ کوئی بھی شخص پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کےلئے ان نام ونشان کے اصحاب کے بارے میں کچھ نہیں جانتا لیکن طبری نے ان سب کو سیف کی داستانوں سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے اس کے علاوہ ” الاصابہ “ کے مؤلف نے بھی انھیں طبری سے نقل کرکے ان ناموں کو پیغمبر کے واقعی اصحاب کی فہرست میں درج کیا ہے ۔

سیف کی روایتوں کا دوسرے مورخین کی روایتوں سے موازنہ

هکذا کانت طبیعة غزوات خالد فی العراق

عراق میں خالد کی جنگیں اس طرح تھیں (نہ اس طرح کہ سیف کہتاہے)

مؤلف

ہم نے گزشتہ فصل میں فتح حیرہ کے بعد خالد کی جنگوں کے بارے میں سیف کی روایتوں کے ایک خلاصہ کا مطالعہ کیا اور سند کے لحاظ سے ان کے ضعیف ہونے کا بھی مشاہدہ کیا ،اب ہم اس سلسلہ میں ان دو نکتوں کی طرف اشارہ کریں گے جو ان داستانوں کے ضعیف اور جعلی ہونے کو ثابت کرنے کے سلسلے میں ضروری نظر آتے ہیں :

۱ ۔ چنانچہ گزشتہ فصل میں ملاحظہ فرمایا کہ سیف جنگ حیرہ کے بعد چند جنگیں نقل کرتاہے اور ان جنگوں میں مقتولین کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچادیتا ہے اور کہتا ہے کہ صرف جنگ فراض میں مسلمانوں کی تلواروں سے ایک لاکھ افراد قتل کئے گئے ۔

جبکہ اولاً اس زمانہ میں وہ بھی ان دیہات اور قصبوں میں اتنے لوگوں کا اجتماع ناقابل قبول ہے اس کے علاوہ اس زمانے کے سرد اسلحہ اور جنگی وسائل سے اتنے لوگوں کا قتل عام کرنا سرسام آوراور ناقابل یقین ہے کیونکہ خود سیف کے کہنے کے مطابق یہ جنگیں عراق میں واقع ہوئی ہیں اور عراق کا علاقہ ان دنوں چھوٹے چھوٹے دیہات پر مشتمل تھا جو پراکندہ حالت میں ندیوں کے کناروں پر آباد تھے ان آبادیوں کے لوگ عرب نسل کے کسان اور بعض جگہوں پر ایرانی رہا کرتے تھے، ان دیہات میں سب سے بڑی آبادی حیر ہ تھی کہ عرب بادشاہ اس آبادی میں سکونت کرتے تھے ”بلاذری “ کی نقل کے مطابق جب خالد بن ولید نے عراق کے سب سے بڑے شہر حیرہ کی مردم شماری کی تو ان کی تعداد چھ ہزار تک پہنچ گئی ان پر لازم قرار دیا کہ سالانہ چودہ درہم فی کس ، اسلامی حکومت کوبعنوان جزیہ و ٹیکس ادا کریں ۔

جب ایک مرکزی شہر کی آبادی چھ ہزار ہو تو قریہ اور اس کے دوسرے دیہات کی آبادی کتنی ہونی چاہیے تا کہ مقتولین کی تعداد صرف ایک جنگ میں ایک لاکھ افراد تک پہنچ جائے ؟ اور اکیس خونین جنگیں بھی واقع ہوجائیں ۔

۲ ۔ ان جنگوں کی حقیقت سے آگاہ ہونے کے لئے (کہ جن سے ان دنوں عراق کے شہروں میں آٹے کی پن چکیاں چلنے لگیں ) جب ہم معروف مؤرخ دینوری کے بیان پر ایک نظر ڈالتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اپنی کتاب ” اخبار الطوال “ میں ایسے مطالب بیان کرتا ہے جن سے سیف کی جنگوں اور داستانوں کی بنیاد درہم برہم ہوکر ان کا جعلی اور افسانوی ہونا واضح ہوجاتا ہے ۔

دینوری یوں کہتا ہے:

جب سلطنت ،کسری کی بیٹی پوران کو ملی تو یہ افواہ پھیل گئی کہ ایران ایک شائستہ پادشاہ اور ایک دانا رہبر سے محروم ہے اور وہاں کے لوگ بیچارگی کی وجہ سے ایک عورت کے گھر میں پنا گزین ہوئے ہیں یہی وجہ تھی کہ اس زمانے کے ڈاکوؤں اور لٹیروں نے اس فرصت سے استفادہ کیا اور قبیلہ بکر بن وائل کے دو افراد نے ایرانی آبادی والے دیہات کے لوگوں کے مال و ثروت پر ڈاکہ مارا اور جہاں تک ممکن ہوسکا لوٹ کھسوٹ مچانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔

جب لوگ ان کا پیچھا کرتے تھے تو وہ بیابانوں میں چھپ جاتے تھے اور لوگ انھیں پکڑنے سے عاجز تھے ، ان دو افراد میں سے ایک ” مثنی“ تھا جو حیرہ کے اطراف میں ڈاکہ زنی کرتا تھا اوردوسرا ” سوید“ تھا جو ” ابلہ “ کے اطراف میں لوٹ کھسوٹ مچارہا تھا یہ روداد ابوبکر کی خلافت کے دوران رونما ہوئی ،یہاں تک مثنی نے ابوبکر کے نام ایک خط لکھا اور اس خط میں ایرانیوں کی نسبت اپنی طاقت اور ایرانیوں کی کمزوری کے بارے میں انھیں مطلع کیا اور اس سے مدد اور لشکر بھیجنے کی درخواست کی تاکہ ایرانیوں پر حملہ کرسکے اور اس وسیع سرزمین کو مسلمانوں کیلئے فتح کرے ۔

ابوبکر نے یہ موضوع خالد بن ولید کو لکھا ، جو ان دنوں مرتدوں کی جنگ سے فارغ ہوچکا تھا ، اور اسے حکم دیا کہ حیرہ کی طرف روانہ ہوجائے اور مثنی کو اپنے لشکر کے ساتھ ملحق کرے ،خالد بھی ابوبکر کے فرمان کے مطابق حیرہ میں داخل ہوا لیکن مثنی نے خالد کے حیرہ میں داخل ہونے پر تنفر کا اظہار کیا،

پھر جب ہم بلاذری کی فتوح کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہاں پر مشاہدہ کرتے ہیں اس نے اپنی کتاب میں خالد کی جنگ خاص کر حیرہ کی جنگوں کے بارے میں ا س طرح تفصیلات ذکر کئے ہیں کہ ہمارے لئے ان جنگوں کی حقیقت واضح ہوسکتی ہے ہم نے گزشتہ صفحات میں حیرہ کی جنگوں کے بارے میں بلاذری سے نقل کرکے کچھ گوشے بیان کئے ہیں اب ہم اس فصل میں اس کا ایک خلاصہ بیان کریں گے جو اس نے حیرہ کے بعد والی جنگوں کے بارے میں نقل کیا ہے :

بلاذری کہتا ہے :

خالد نے بشیر بن سعد انصاری کو ” بانقیا“ روانہ کیا فرخبنداذ کی کمانڈری میں سپاہ عجم کے ایک گروہ نے اس کا راستہ روک کر اس پر تیر اندازی کی ،بشیر کے فوجیوں نے بھی اس پر حملہ کیا اور انھیں بری طرح شکست دیکر فرار کرنے پر مجبور یا حتی خود ” فرخبنداذ“ کو بھی قتل کر ڈالا لیکن بشیر اس جنگ میں بری طرح زخمی ہوا اس لئے مجروح حالت میں میدان جنگ سے پیچھے ہٹا اور ’ ’عین التمر “ کے مقام پر زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا

بعض نے کہا ہے کہ ” فرخبنداذ“ کو خود خالد نے قتل کیا اور ” جریر بن عبدربہ بجلی “ کو ان کی طرف بھیجا، ”صلوبا “ کا بیٹا ”بصبہری “ اس کے پاس آیا اور صلح کی تجویز پیش کی ،جریر نے بھی ان کی تجویز قبول کی اور دو ہزار درہم اور ” طلیسان ‘ کو ان سے لے کر صلح کی(۱)

بعض مورخین نے کہا ہے کہ صلوبا کا بیٹا خود خالد کے پاس آیا اور اس کے سامنے صلح کی تجویز

____________________

۱۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ دو ہزار درہم اور ” طلیسان “ سالانہ ٹیکس اور جزیہ کے طور پر لیا جاتا تھا


پیش کی ، اور بعض نے کہا ہے کہ جنگ حیرہ کے بعد خالد ” فلالج “ میں آیا ۔ وہاں پر کچھ عجمی جمع ہوئے تھے اور وہ خالد کو دیکھ کر پراکندہ ہوئے اس لئے خالد کے لشکر کی وہاں پر کسی سے مڈ بھیڑ نہیں ہوئی اور وہ کسی کو قتل کئے بغیرحیرہ کی طرف واپس لوٹا۔ حیرہ میں خالد کو اطلاع ملی کہ شہر شوشتر میں ”جابان “ نے کچھ لوگوں کو اپنے گرد جمع کیا ہے اور مسلمانوں سے جنگ کرنے کی تیاری کررہاہے اسی لئے مثنی اور حنظلہ بن ربیع کو جابان کی طرف روانہ کیا جب یہ افراد شوشتر پہنچے تو جابان نے ”انبار“ کی طرف فرار کیا اور شوشتر کے لوگوں نے قلعوں میں پنا لے لی خالد نے جب روداد کو اس صور ت میں پایا تو مثنی کو چند سپاہیوں کے ہمراہ بغداد کے قدیمی بازار کی طرف بھیج دیا کہ اسے لوٹ لیں مثنی کے سپاہیوں نے بغداد کے بازار پر حملہ کیا اور سونا ، چاندی ، اور ہلکی مگر قیمتی اشیاء ان سے غنیمت کے طور پر لے لیں ، اس کے بعد ” انبار ‘ کی طرف رخ کیا ، جہاں پر خالد بھی موجود تھا ،خالد کے حکم سے انبار کو اپنے محاصرہ میں لے لیا اور اس کے اطراف میں آگ لگادی انبار کے باشندوں نے جزیہ اور مختصر حقِ صلہ ادا کرکے خالد سے صلح کرلی۔

بعض مؤرخین نے کہا ہے کہ ” انبار “ کے لوگوں کی صلح عمر کے زمانے میں جریر سے ہوئی ہے ،

خلاصہ یہ کہ مؤرخین کے کہنے کے مطابق عراق میں خالد کی جنگیں اس صورت میں تھیں کہ وہ بعض اوقات چند سوار فوجیوں کو ایک گاؤں میں بھیجتا تھا اور اس گاؤں کے لوگ صلح کی تجویز کے ساتھ جزیہ اور ٹیکس ادا کرکے ان کا استقبال کرتے تھے یا مختصر مقابلہ اور تیر اندازی کے بعد دشمن کو شکست دیتے تھے یا بازار میں دشمن کے اجتماع پر حملہ کرکے انھیں متفرق کر دیتے تھے اور ان کے اموال کو بازار سے غنیمت کے طور پر لوٹ لیتے تھے اور بعض اوقات ایک شہر یا گاؤں پر حملہ کرتے تھے اور وہاں کے غنڈوں اور طاغوتیوں سے لڑتے تھے یا ان پر حملہ کرتے تھے جو مسلمانوں کے خلاف اسلحہ اٹھائے ہوئے تھے اور ان میں سے بعض بعض کو قتل کرتے تھے اور ضمناً ان واقعات کے دوران بعض افراد کو اسیر بناتے تھے اور غنائم جنگی پر بھی قبضہ کرلیتے تھے ۔

البتہ اس قسم کی پراکندہ اور چھوٹی جنگیں خالد کے لشکر کی تعداد سے مطابقت رکھتی ہیں کہ بلاذری خالد کے فوجیوں کی تعداد کے بارے میں کہتا ہے :

خالد بن ولید ۱۳ ھء ربیع الاول کے مہینہ میں شام کی طرف روانہ ہوا تا کہ وہاں پر مسلمان فوجیوں کی مدد کرے شام جاتے ہوئے راستے میں عراق میں یہ چھوٹے حملے بھی انجام دئے ۔

بعض نے کہا ہے کہ اس کا لشکر سات سو افراد پر مشتمل تھا ،اور بعض راویوں نے کہا ہے کہ اس کے چھ سو سپاہی تھے اور بعض دوسروں نے اس کے سپاہی کی تعداد پانچ سو افراد نقل کی ہے ۔

واضح ہے کہ آٹھ سو یا پانچ سو افراد پر مشتمل ایک فوج یہ طاقت نہیں رکھتی کہ لاکھوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار سکے جیسا کہ سیف کی روایتوں میں بتایاگیا ہے ۔


گزشتہ مباحث کا خلاصہ اور نتیجہ

هدف سیف من وضع هذا التاریخ الاسائة الی الاسلام

اس داستان سازی سے سیف کا مقصد اسلام کو نقصان پہچانا تھا ۔

مؤلف

گزشتہ فصلوں میں ہم نے ملاحظہ کیا کہ سیف کی روایتوں کے مطابق خالد بن ولید جنگ ِ ذات السلاسل میں ایرانی فوجیوں کو جنہوں نے اپنے آپ کو زنجیروں اور سلاسل میں جکڑا تھا ،سب افراد کو موت کے گھاٹ اتاردیا ہے ۔

” ثنی “ کی جنگ میں ایسا قتل عام کرتا ہے کہ میدان کارزار میں مقتولین کی تعداد تیس ہزار تک پہنچتی ہے اس کے علاوہ ان کی ایک تعداد پانی میں غرق ہوجاتی ہے ۔

اس کے علاوہ خالد بن سید ” الیس “ کی جنگ میں قسم کھاتا ہے کہ دشمن کے خون سے ایک نہر جاری کرے اور اس مقصد کیلئے مسلسل تین دن تک سرزمین ” الیس “ کے باشندوں کو پکڑ پکڑ کر لاتا ہے اور ندی کے کنارے ان کا سر قلم کرتا ہے ، یہاں تک اس جنگ میں مقتولین کی تعداد ستر ہزار تک پہنچ جاتی ہے ۔

اس کے بعد ’ ’ امغیشیا “ کو ویران کرتا ہے ۔

جنگ حیرہ میں ” آزادبہ “ کے لشکر کو نابود کرتا ہے ۔

جنگ ”حصید“ میں قعقاع بن عمرو ایک بڑے اور وحشتناک قتل عام کو انجام دیتا ہے اور ”حصید“ کے باشندے نیند اور بے خبری کے عالم میں تین جانب سے مسلمانوں کے حملہ و ہجوم کا نشانہ بن جاتے ہیں اور اتنے لوگ مارے جاتے ہیں کہ پورا علاقہ مقتولین کے جنازوں سے بھر جاتا ہے جیسے کہ بھیڑ بکریوں کی لاشین زمین پر پڑی ہوں ۔

سیف کے کہنے کے مطابق وہ پھر ” ثنی “ واپس آتا ہے اور وہاں کے باشندوں پر تین جانب سے حملہ کرتا اور تمام لوگوں کو تہہ تیغ کرتا ہے یہاں تک کہ ان میں سے ایک آدمی بھی موت اور مسلمانوں کی تلوار سے نجات نہیں پاتا تا کہ اپنے قبائل کو اس روداد کی خبر دیتا ۔

سیف کے کہنے کے مطابق مسلمانو ن نے تین طرف سے ” زمیل “ کے باشندوں پر ایک سخت حملہ کرکے ایک ایسے قتل عام کا بازار گرم کیا کہ گزشتہ جنگوں میں اس کی مثال نہیں ملتی ،کیونکہ خالد بن ولید نے اس جنگ میں بھی قسم کھائی تھی کہ ان پر شب خون مار کر ان سب کو نابود کردے گا۔

پھر خالد حکم دیتا ہے کہ ” فراض“ کے باشندوں پر شکست کے بعد سختی کریں ، لہذا مسلمان سوار انھیں گروہ گروہ کی صورت میں پکڑ کر لاتے اور ایک جگہ کرکے سب کے سر قلم کرتے تھے اس جنگ میں مقتولین کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچی ۔

یہ ہیں سیف کی وہ فتوحات او رجنگیں جن کے گیت وہ اسلام و مسلمانوں کیلئے گاتا ہے ان المناک واقعات کو سننے کے بعد کس انسان کے رونگٹے کھڑے نہیں ہوں گے ؟ کیا مغل ، تاتار اور تاریخ کے دیگر لٹیروں اور غارتگروں کے ظلم اور خونریزی کی داستاں اس سے زیاد تھیں کہ ان افسانوی فتوحات میں ذکر ہوئی ہیں او ر اس سلسلہ کی تاریخی روایتوں میں منعکس ہوئی ہیں ؟

کیا اسلام کے دشمنوں کو یہ فرصت نہیں ملی ہے کہ ان ہی جعلی تاریخی واقعات کو تاریخی وقائع کے روپ میں شائع کرکے انھیں اسلام کے خلاف ایک حربہ کی صورت میں استعمال کریں اور یہ کہیں کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہے ؟ کیا ان جعلی حوادث کے مطالعہ کے بعد کوئی شک کرسکتا ہے کہ سیف اسلام کے بارے میں بد نیتی رکھتا تھا ؟

کیا سیف کے ان جعلی داستانوں اور جھوٹ گڑھنے میں دانشوروں کے بقول اسکے ،کافر و زندیق ہونے کے علاوہ کوئی اور محرک ہوسکتا ہے ؟

تعجب اور حیرت کی بات یہ ہے کہ کیا سیف کے یہ سب جھوٹ اور بہتان امام المؤرخین طبری اور اس کے علامہ ابن اثیر اور اس کے ترجمان ابن کثیر اور مؤرخین کے فلاسفر ابن خلدون اور دسیوں دوسرے تاریخ دان حضرات جیسے : ابن عبد البر ، ابن عساکر ، ذہبی اور ابن حجر کےلئے واضح نہیں تھے ؟ کہ انہوں نے کسی تحقیق اور جانچ پڑتال کے بغیر انھیں اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ؟

قطعی اور یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب حضرات سیف کوبخوبی جانتے تھے اور اس کے کفر و زندقہ اور فاسد و ناپاک عزائم کے بارے میں پوری اطلاع رکھتے تھے ، کیونکہ یہی مورخین ہیں جنہوں نے اسے جھوٹ بولنے والا اورافواہ بازمعرفی کیا ہے اور اس پر کافر وزندقہ ہونے کا الزام لگایا ہے لیکن اس کے باوجود کیوں انھوں نے اس کی روایتوں کو نقل کرکے شیر و شکر کے مانند انھیں آپس میں ملایا ہے؟ یہ واقعی طور پر تعجب و حیر کا مقام ہے اور اس سلسلہ میں دقت و تفکر انتہائی سر سام آور اور پریشان کن ہے ۔

ہم نے جنگ ” ذات السلاسل“ میں طبری ، ابن اثیر اور ابن خلدون کے بیان کا ذکر کیا کہ وہ کہتے ہیں کہ اس جنگ کے بارے میں سیف کی روایت اس حقیقت کے خلاف ہے کہ اہل تاریخ و سیرت نے اس سلسلہ میں بیان کیا ہے لہذا یہ سب مؤرخین سیف کے جھوٹے اور زندقہ ہونے کے بارے میں اطلاع رکھتے تھے اور اطلاع و آگاہی کے باوجود اس کی روایتوں پر اعتماد کرکے اس کے جھوٹ نقل کئے ہیں اور وہ اس جھوٹ پر اعتماد کرنے کیلئے بھی محرک رکھتے تھے اور ان کے اسی محرک نے اس عمل کو محکم بنادیا ہے اس نے اپنے جھوٹ کو ان کے فضائل و مناقب کی تشہیر سے مزین کیا ہے یہی وجہ ہے کہ علماء اور مؤرخین نے ان روداد اور حوادث کے بہتان ہونے کے باوجود ان کی اشاعت میں کوشش کی ہے اور ان کی ترویج میں سعی و کوشش کی ہے ۔

مثلاً سیف نے فتوح عراق میں اپنے جھوٹ کو خالد بن ولید کے مناقب کی اشاعت کو پردہ میں چھپا دیا ہے الیس کی جنگ میں شہر امغیشیا کی تخریب کے سلسلے میں اس کے بارے میں یوں ذکر کیا ہے :

” ابوبکر نے کہا:اے گروہ قریش ! تمہارے شیر نے کسی دوسرے شیر پر حملہ کیا ہے اور اس کے ہاتھ سے لقمہ کو چھین لیا ہے دنیا کی عورتین خالد جیسے کو جنم دینے سے بے بس اور بانجھ ہیں “

اس کے علاوہ مرتدین کی جنگوں کو بھی ابوبکر کے مناقب سے مزین کیاہے اور فتوحات شام و ایران میں بھی (کہ اس کے کہنے کے مطابق عمر کے زمانے میں واقع ہوئی ہیں ) اسی روش پر عمل کیا ہے ۔

دوبارہ عثمان کے زمانے کے حوادث اورجنگ جمل میں بھی اسیطرح کی پردہ پوشی سے استفادہ کیاہے تمام داستانیں جو حوادث کے بارے میں جعل کی ہیں انھیں صاحب اقتدار ، زور آور اور جنگجو اصحاب کے مناقب و فضائل سے مزین کیا ہے یہی وجہ ہے کہ سیف کی روایتوں نے رواج پیدا کیا اور تشہیر ہوئی لیکن اس کے مقابلہ میں تاریخ کی صحیح اورحقائق پرمبنیروایتیں فراموشی کی نذر ہوئی ہیں ۔

لیکن ، اس نکتہ پر بھی توجہ کرنی چاہئے کہ اگر چہ سیف نے اپنی روایتوں کو صحابہ کے فضائل کے ذریعہ پردہ پوشی کی ہے لیکن حقیقت میں یہ ہے کہ یہ داستانیں نہ صرف اصحاب کیلئے کسی قسم کی فضیلت نہیں بنتی ہیں بلکہ حقیقت میں ان کیلئے ملامت اورمذمت کا باعث ہیں ۔

میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ان مؤرخین نے کیوں اس نکتہ کی طرف توجہ نہیں کی کہ خالد کے لاکھوں انسانوں کو قتل کرنے اور خون کی ندی بہانے کیلئے ندی کے کنارے ان کا سر قلم کرنے میں خالد کےلئے کونسی فضیلت ہے ؟ اس کے علاوہ ویرانیاں نیز شہروں اور آبادیوں کو مسمار کرنے میں خالد کی کوئی تعریف و فضیلت نہیں ہوسکتی ، مگر بے عقیدہ افراد اور زندیقیوں کے نظریہ کے مطابق کہ زندگی و حیات کو نور کےلئے ایک زندان تصور کرتے ہیں اورکہتے ہیں زندگی کے اس زندان کو منہدم کرنے کیلئے بیشتر تلاش و کوشش کرنی چاہئے تا کہ وہ نور نجات پائے(۱)

بہر حال سیف کے بے مصرف متاع نے تاریخ کے بازار میں اس طرح شہرت پائی ہے کہ ایک طرف سے خود سیف نے زورآور اصحاب کے مناقب سے اسے رنگ آمیزی کی ہے کہ ہر مطلب

و داستان جو بظاہر ایسے اصحاب کیلئے ایک فضیلت شمار ہوتی ہے اگر چہ حقیقت میں یہ فضیلت نہیں ہے

____________________

۱۔ملاحظہ ہو موضوع بحث الزندقہ و الزنادقہ کتاب ”خمسون وماة صحابی مختلق “


پھر بھی اسے لوگوں میں تشہیر کرکے اسے رواج دیاگیا ہے ۔

اس سے بدتر یہ ہے کہ سیف نے صرف اسی پر اکتفاء نہیں کیاکہ بعض روایتوں اور داستانوں کو جعل کرکے جو بظاہر اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کےلئے فضیلت شمار ہوں اور انہیفضائلکےپس پردہ اپنیچاہت کے مطابق اسلام کو ضربہ پہچانے کیلئے ان کی اشاعت کی، بلکہ سیف نے پیغمبر کےلئے ایسے اصحاب بھی خلق کئے ہیں کہ خداوند عالم نے انھیں پیدا نہیں کیا ہے اس کے بعد اپنی مرضی کے مطابق ان کیلئے شرف ، کرامت ، فتوحات ، اشعار اور فضائل و مناقب قلم بند کئے ہیں اس کے، اس کام کا محرک یہ تھا کہ وہ بخوبی جانتا تھا کہ بعض مسلمان جو کچھ بھی اصحاب کی مدح و ثناء اور منقبت وفضیلت میں ہو، اس کا دل کھول کر استقبال کرتے ہیں اور اسے آنکھیں بند کرکے قبول کرنے کیلئے تیار ہیں اس نے بھی اسی عقیدہ پر اعتماد و تکیہ کرکے اسلام کو تخریب اور منہدم کرنے کیلئے جو کچھ مناسب سمجھا اسے جعل کرکے مضحکہ خیز مسکراہٹ کے ساتھ مسلمانوں کے حوالہ کیا ہے ،اور یہ سادہ لوح تاریخ دان سیف کی خواہش اور مقصد کی پیروی کرکے گزشتہ تیرہ صدیوں سے اس کے جھوٹ اور بہتانوں کو رواج دینے کی اشاعت کررہے ہیں الحمد اللہ ہم ان کے منحوس منصوبوں کو ناکام بنا کر تاریخ کے حقیقی چہرے سے توہمات اور باطل کے ضخیم پردوں کو اٹھانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔

ہم اسی پر اکتفاء کرتے ہیں کیونکہ جو نمونے ہم نے پیش کئے وہ سیف کی تمام روایتوں کی قدر و منزلت جاننے کیلئے کافی ہیں ، جو اس نے مسلمانوں کی فتوحات اور مرتددوں سے جنگوں کے بارے میں نقل کی ہیں تا کہ یہ ثابت کرے کہ اسلام تلوار کے زور پرپھیلا ہے “

اگر ہم صحابہ کے زمانے میں اسلامی فتوحات کے بارے میں سیف کے نقل کئے گئے جعلیات اور بہتانوں میں سے ہر ایک پر الگ الگ تحقیق و جانچ پڑتال کرنا چاہیں تو بحث و تحقیق کا دامن مزید وسیع اور طولانی ہوگا اور موضوع تھکن اور خستگی کا سبب بن جائے گا اسلئے سیف کے برے عزائم کو دکھانے کیلئے کہ جو اسلام کو خون و تلوار کا دین معرفی کرتا ہے ، اسی قدر سیف کی جھوٹی جنگوں اور فتوحات پر اکتفاء کرتے ہیں اور اسکے علاوہ محققین کے ذمہ چھوڑ دیتے ہیں ہم اس کتا ب کے اگلے حصہ میں سیف کی توہمات پر مشتمل روایتوں پر بحث کریں گے ۔


اس حصہ سے مربوط مطالب کے مآخذ

جنگِ ابرق کے مآخذ

۱ ۔ مرتدین کی جنگوں کا مقدمہ ، تاریخ طبری ۱/ ۱۸۷۱ ۔ ۱۸۷۲

۲ ۔ غطفان کے ارتدادکا سبب ، تاریخ طبری ۱/ ۱۸۱۱ ۔ ۱۸۹۴

سیف کی روایتوں کے مطابق جنگِ ابرق کی داستان:

۳ ۔ تاریخ طبری : ۱/ ۱۸۷۳ ۔ ۱۸۸۵

۴ ۔ تاریخ ابن اثیر ، ۲/ ۲۳۲ ۔ ۲۳۴ ۔

۵ ۔ تاریخ ابن کثیر : ۶/ ۵۱۱ ۔ ۵۱۶ ۔

۶ ۔ تاریخ ابن خلدون: ۲/ ۲۷۳ ۔ ۵۱۶

۷ ۔ زیاد بن حنظلہ کے حالات کتاب ” خمسون و ماة صحابی مختلق “

۸ ۔،(۹) ۔ قبائل حمزة بن حزم و لباب بن اثیر کے حالات کی تشریح

۱۰ ۔ ۱۱ ۔ ابرق ربذہ کی وضاحت : معجم البلدان و مراصد الاطلاع

داستان ذی القصہ کے مآخذ

۱ لف۔ سیف کی روایت کے مطابق

۱ ۔ تاریخ طبری ۱/ ۱۸۸۰ ۔ ۱۸۸۵ ۔

۲ ۔ تاریخ ابن اثیر ، ۲/ ۲۳۲ ۔ ۲۳۴

۳ ۔تاریخ ابن اثیر : ۶/ ۵۱۱ ۔ ۵۱۶

۴ ۔تاریخ ابن خلدون : ۲/ ۲۷۳ ۔ ۲۷۴

۵ ۔ و(۶) ۔ حمقتین کی وضاحت : معجم البلدان ،مراصدالاطلاع

ب : داستان ذی القصہ ، سیف کے علاوہ دوسروں کی روایت میں :

۱ ۔ تاریخ طبری : ۱/ ۱۸۷۰

۲ ۔ تاریخ یعقوبی / طبع الغری /نجف/ ۱۳۸۵ ھء

۳ ۔ فتوح البلدان ، بلاذری / طبع مصر/ السعادہ ۱۹۵۹ ءء / ۱۰۴

۴ ۔ البدء وا لتاریخ : ۵/ ۱۵۷

ارتداد طی کے مآخذ

۱ ۔ داستان ارتداد طی سیف کی روایتوں میں :

۱ ۔ طلیحہ کے گرد طی کے لوگوں کا اجتماع کرنے کے بارے میں روایت : طبری ۱/ ۱۸۷۱

۲ ۔ طی کے لوگوں کی بغاوت : طبری ۱/ ۱۸۷۳

۳ ۔ قبیلہ طی کی تجویز : تاریخ طبری ۱/ ۱۸۹۱ ۔ ۱۸۹۲

۴ ۔ عدی قبیلہ طی کو لشکر طلیحہ سے واپس لایا: تاریخ طبری : ۱/ ۱۸۸۵ ۔ ۱۸۸۷

۵ ۔ مرتدوں اور قبیلہ طی سے خالد کا مسلمانوں کے قاتلوں کا مطالبہ : تاریخ طبری : ۱/ ۱۹۰۰

۶ ۔ طلیحہ کے فراری سپاہیوں کا ام زمل سے جاملنا : تاریخ طبری : ۱/ ۱۹۰۲

۷ ۔ قبیلہ طی کی جنگ کے خاتمہ کے بعد خالد کا واپس آنا: تاریخ طبری : ۱/ ۱۹۲۲

۸ ۔ قبیلہ طی کی جنگ کے خاتمہ کے بعد خالد کا واپس آنا: تاریخ ابن اثیر طبع منیریہ : ۲/ ۲۳۴

۹ ۔قبیلہ طی کی جنگ کے خاتمہ کے بعد خالد کا واپس آنا: تاریخ ابن کثیر : ۴/ ۳۱۷

۱۰ ۔ مادہ ” سخ ‘ اور ”قرودہ “ میں : معجم البلدان

۱۱ ۔ مادہ ” سخ “ اور ”قرودہ ‘ میں : مراصدالاطلاع

ب۔ داستان ارتداد طی سیف کے علاوہ دوسروں کی روایتوں میں :

۱ ۔ قبیلہ طی کا کیمپ کلبی کی روایت سے : تاریخ طبری : ۱/ ۱۹۰۰

۲ ۔ حبال ، عکاشہ و ثابت کا قتل ، فتوح البلدان : بلاذری ، طبع دارالنشر : ۱۳۳

۳ ۔ جنگ بزاخہ و جنگ طلیحہ و اسارت عینیہ : فتوح البلدان بلاذری : ۱۳۴

۴ ۔ جنگ بزاخہ و جنگ طلیحہ و اسارت عینیہ : تاریخ ابن الخیاط : ۱/ ۸۷

۵ ۔ جنگ بزاخہ و جنگ طلیحہ و اسارت عینیہ : فتوح اعثم : ۱۳ ۔ ۱۴

۶ ۔جنگ بزاخہ و جنگ طلیحہ و اسارت عینیہ : تاریخ طبری : ۱/ ۱۸۹

۷ ۔ الفاظ ، بزاخہ ، قطن ، فھر ، معجم البلدان انہی موارد کے ذیل میں ۔

۸ ۔ الفاظ ، بزاخہ ، قطن ، فھر ، تاریخ اسلام ، ذہبی ۱/ ۳۵۰

۹ ۔الفاظ ، بزاخہ ، قطن ، فھر ، تاریخ یعقوبی ۲/ ۱۰۸

۱۰ ۔ الفاظ ، بزاخہ ، قطن ، فھر ، البداء و التاریخ ۵/ ۱۵۹

عمان و مہرہ کے باشندوں کے ارتداد کی داستان کے مآخذ

۱ ۔ طبری : ۱/ ۱۹۷۶ ۔ ۱۹۸۳

۲ ۔ ابن اثیر : ۲/ ۱۴۲ ۔ ۱۴۳ ۔

۳ ۔ ابن کثیر : ۶/ ۳۲۹ ۔ ۳۳۱

۴ ۔ ابن خلدون : ۲/ ۲۹۴ ۔ ۲۹۵

۵ ۔ معجم البلدان : الفاظ جیروت ، خیثم ، ریاض اور روضہ کی تشریح میں ۔

۶ ۔ مراصدا لاطلاع : الفاظ ، صبرات ، لبان ، مر ، نضدون ، روضہ کی تشریح میں ۔

۷ ۔ فتح البلدان بلاذری : ۱/ ۹۳

۸ ۔ فتوح اعثم : ۱/ ۷۴ و تاریخ الردة خلاصہ از کتاب اکتفاء کلاعی : ص ۱۴۷ ۔ ۱۱۵۰ ذکر ردة اہل دبا

۹ ۔ اسد الغابہ تشریخ ” عکرمہ بن ابی جہل “

۱۰ ۔ تاریخ الاسلام ، ذہبی ، تشریح ” عکرمہ بن ابی جہل “

یمن کے باشندوں اور گروہ اخابث کی ارتداد کے مآخذ

۱ ۔ تاریخ طبری : ۱/ ۱۹۸۰ ۔ ۱۹۹۹

۲ ۔ تاریخ ابن اثیر: ۲/ ۱۴۲ ۔ ۱۴۳

۳ ۔ تاریخ ابن کثیر : ۶/ ۳۲۹ ۔ ۳۳۲

۴ ۔ فتوح البلدان : ۱۲۷

۵ ۔ اصابہ ، طاہر ، حمیضہ ، عثمان بن ربیعہ کے حالات کی تشریح

۶ ۔ معجم البلدان : الفاظ ، اعلاب ، اخابث کی تشریح میں ۔

۷ ۔ مراصد الاطلاع : الفاظ ، اعلاب ، و اخابث کی تشریح میں ۔

مرتدوں کی پانچویں جنگ کے مآخذ

۱ ۔ ابوبکر کیلئے فضیلتیں بیان کرنا ،تاریخ طبری: ۱/ ۱۸۷۱ ۔ ۱۸۷۲

۲ ۔ مرتدین کی تجویز کو ابوبکر مسترد کرتا ہے : تاریخ طبری : ۱/ ۱۸۷۳

۳ ۔ لوگ ابوبکر سے درخواست کرتے ہیں کہ خود کو خطرہ میں نہ ڈالیں طبری : ۱/ ۱۸۷۸

فتح ابلہ کے مآخذ

الف : فتح ابلہ سیف کی روایتوں کے مطابق

۱ ۔ تاریخ طبری : ۱/ ۲۰۲۰ ۔ ۲۰۲۶

۲ ۔ تاریخ ابن اثیر : ۲/ ۲۰۹۴ ۔ ۲۰۹۶

۳ ۔ تاریخ ذہبی : ۱/ ۳۷۴

۴ ۔ تاریخ ابن کثیر : ۶/ ۳۴۴

۵ ۔ تاریخ ابن خلدون : ۲/ ۲۹۶

۶ ۔ اصابہ ، لفظ ” زرّ“کی تشریح میں ۔

ب: فتح ابلہ سیف کے علاوہ دوسروں کی روایتوں کے مطابق

۱ ۔ تاریخ طبری : ۱/ ۲۰۱۶ ۔ ۲۰۱۹ و ۱/ ۲۳۷۷ ، و ۲۳۸۲ ، ۲۳۸۶ و فتوح البلدان (ص ۴۱۸ ۔ ۴۲۰) باب فتح کو ردجلہ

۲ ۔ تاریخ ابن اثیر : ۳/ ۳۷۷ ۔ ۳۸۷

۳ ۔ خالد کی ہرمز سے مقابلہ ۔ سنن بیہقی باب النقل بعد الخمس ۶/ ۳۱۳

حیرہ میں خالد کی فتوحات کے مآخذ

۱ ۔ تاریخ طبری :

۲ ۔ تاریخ ابن اثیر ، ۲/ ۲۹۶ ۔ ۲۹۸

۳ ۔ تاریخ ابن کثیر / ۳۴۴ ۔ ۳۴۶

۴ ۔ تاریخ ابن خلدون : ۲۹۷ ۔ ۲۹۸

۵ ۔ فتوح البلدان ، بلاذری : ۲۹۶ ۔ ۲۹۷

۶ ۔ اصابہ : ” معقل بن اعشی “، ” سعید بن مرہ “ اور ” عاصم بن عمرو “ کی تشریح میں ۔

۷ ۔ معجم البلدان: ” قسیاثا“ اور ” ولجہ “ کی شرح میں ۔

۸ ۔ مراصد الاطلاع ” قسیاثا“ اور ” ولجہ “ کی شرح میں ۔

حیرہ کے بعد والی فتوحات کے مآخذ

۱ ۔ تاریخ طبری : ۱/ ۲۰۶۶ ۔ ۲۰۷۵

۲ ۔ تاریخ ابن اثیر : ۲/ ۳۰۱ ۔ ۲۰۶

۳ ۔ تاریخ ابن کثیر : ۲/ ۳۵۰ ۔ ۳۵۲

۴ ۔ تاریخ ابن خلدون : ۲/ ۲۹۹ ۔ ۳۰۲

۵ ۔ فتوح البلدان بلاذری : ۲۹۸ ، ۲۹۹ اور ۱۳۱

۶ ۔ اخبار الطوال دینوری: ۱۱۱

۷ ۔ اصابہ : ” عصمت بن عبد اللہ “ اور ” اعبدا بن فدکی “ کی تشریح میں

۸ ۔ معجم البلدان: الفاظ : ” مصیخ “ ، ” بنی برشاء “ ، ” ثنی “ اور ” زمیل “ کی وضاحت میں

۹ ۔ مراصد الاطلاع : الفاظ : ” مصیخ “ ، ” بنی برشاء “ ، ” ثنی “ اور ” زمیل “ کی وضاحت میں


ساتواں حصہ:

سیف کی خرافات پرمشتمل داستانیں

* -سیف کے حدیث جعل کرنے کا ایک اور محرک

* -مہلک زہر خالد پر اثر نہیں کرتا

* -عمر کے بارے میں پیغمبروں کی بشارتیں

* - مسلمانوں کے اللہ اکبر کی آواز حمص کے در و دیواروں کو گرادیتی ہے

* - دجال ،لات مار کر شہرو شوش کو فتح کرے گا

* -اسود عنسی کی توہمات بھری داستان

* -جواہرات کے صندوق اور عمرکا اعجاز

* -خلاصہ و نتیجہ

* -اس حصہ سے مربوط مآخذ


سیف کے حدیث جعل کرنے کا ایک اور محرک

و انما یدس الخرافات فی عقائد المسلمین

سیف نے مسلمانوں کے صحیح عقائد میں خرافات کی ملاوٹ کرنا چاہا ہے ۔

مؤلف

گزشتہ صفحات میں ہم نے سیف کے ا ن مقاصد کی وضاحت کی جن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اس نے افسانہ سازی اور دروغ گوئی سے کام لیا ہے اور ہم نے کہا کہ اس میں اس کے تین مقصد تھے :

۱ ۔ وہ قبیلہ عدنان سے منسوب صاحب اقتدار اور بانفوذ اصحاب کا دفاع کرنا چاہتا تھا یا یہ کہ ان کے فضائل و مناقب کی تشہیر کرے خاص کر خاندان عمرو و اسید ---جو خاندان تمیم اور عدنان کے قبیلے تھے ----کی تمجید و تعریف کرے ۔

۲ ۔ وہ نیک اور صالح اصحاب ---- جو اقتدار اور سیاسی اثر و رسوخ کے مالک نہ تھے اور اسی طرح قبائل قحطان کے مختلف خاندان جو عدنانیوں اور وقت کے صاحب اقتدار کی مخالفت کرتے تھے ----- کی تنقید و بد گوئی کرے اور انھیں فاسد اور تنگ نظر متعارف کرے ۔

۳ ۔ سیف ان خونین جنگی داستانوں کو گڑھ کر اسلام کو تلوار اور خون کا دین بتانا چاہتا تھا ۔

لیکن سیف کی بعض داستانوں میں مذکورہ مقاصد میں سے کوئی ایک مقصد نظر نہیں آتا ہے نہ کسی عدنانی ، تمیمی اور صاحب اقتدار صحابی کی مدح و ثناء ہے اور نہ ہی کسی نیک و صالح صحابی اور قحطانی کی مذمت و ملامت ہے اور نہ اسلام کو تلوار اور خون کا دین دکھانے کی بات ہے ،بلکہ اس نے یہاں پر یہ کوشش کی ہے کہ اپنی ان داستانوں اور افسانوں کے ذریعہ اسلام کے پاک و پاکیزہ اور صاف و شفاف دین میں خرافات اور توہمات کی ملاوٹ کرے اور اس طرح مسلمانوں کے اصلی عقائد کو خرافات اور باطل سے ممزوج کرکے ان کے دین کے خوبصورت قیافہ کو بدنما اور مشکوک دکھائے ۔

سیف اپنی انہی خرافات پر مشتمل داستانوں اور افسانوں کے ذریعہ اپنے خطرناک منصوبے کو عملی جامہ پہنا کر اپنے کفر و زندقہ کے محرکات کو مثبت جواب دینے میں کامیاب ہوا ہے ۔

سیف کے اس قسم کے افسانے دو حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں :

۱ ۔ ان افسانوں کا ایک حصہ خود سیف سے مخصوص ہے کہ اس نے خود انھیں جعل کیا ہے ۔

۲ ۔ ان افسانوں کے دوسرے حصہ کو سیف نے دیگر افراد کے تعاون سے خلق کیا ہے ،بہر صورت سیف نے اس مقصد کے پیش نظربہت سی داستانوں کو گڑھ لیا ہے کہ اگر ہم ان سب کو یہاں پر بیان کریں گے تو اس کتاب کا حجم حد سے زیادہ بڑھ جائے گا اس لئے ہم اس کتاب میں شاہد و نمونہ کے طور پر صرف چند داستانوں کو درج کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں ،کیونکہ یہی نمونے سیف کی دوسری داستانوں کی طرف راہنمائی کرنے میں مددگار ثابت ہوں گےنیزاس کی توہمات بھری روایتوں کو پہچاننے اور ان کی قدر و منزلت جاننے کے بارے میں محققین کیلئے ایک معیار ہوگا ۔

مہلک زہر خالد پر اثر نہیں کرتا !

و دس فی خبر الصلح اسطورة تناول خالد سم ساعة

سیف نے صلح حیرہ کی داستان میں مہلک زہر کا افسانہ خود گڑھ کر اضافہ کیا ہے ۔

مؤلف

اصل داستان

سیف کی سب سے پہلی خرافات پر مشتمل داستان (جس کا مسلمانوں کے عقاید کے ساتھ براہ راست ربط ہے) خالد پر زہر کا اثر نہ کرنا ہے ، کہ اس کی تفصیل حسب ذیل ہے :

طبری ۱۲ ھء کے حوادث کے ضمن میں فتح حیرہ کی روایت کو سیف سے نقل کرتا ہے کہ خالد بن ولید نے حیرہ کے بعض قلعوں کا محاصرہ کیا ،عمرو بن عبد المسیح خالد سے گفتگو کرنے کیلئے قلعہ سے باہر آیا ایک تھیلی اس کی کمر میں لٹکی ہوئی تھی جب وہ خالد کے نزدیک پہنچا تو خالد نے اس تھیلی کو اس سے لے لیا جو کچھ اس تھیلی میں تھا اسے اپنی تھیلی میں ڈالا اس کے بعد عمرو سے پوچھا کہ : یہ کیا ہے ؟

عمرو نے کہا: مہلک اور خطرناک زہر ہے جو انسان کو اسی وقت ہلاک کرسکتا ہے ۔

خالد نے پوچھا : اس زہر کو کس لئے ساتھ لائے ہو؟

عمر و نے کہا: مجھے ڈر تھا کہ تم ہماری صلح کی تجویز کو قبول نہ کرو گے لہذا میں زہر کو کھا کر خود کشی کر لوں گا، کیونکہ میرے لئے موت اس سے بہتر ہے کہ اپنے قبیلہ والوں کو جنگ کی ناگوار خبر سناؤں ۔

خالد بن ولید نے کہا: اگر کسی کی اجل نہ پہنچی ہو تو یہ زہر اسے ہلاک نہیں کرسکتا ہے اس کے بعد خالد نے یہ عبارت پڑھی : ” بسم اللہ خیر الاسماء رب الارض و رب السماء الذی لیس یضر مع اسمہ داء الرحمن الرحیم“ اس کے بعد اپنی ہتھیلی پر موجود زہر کو اپنے ہونٹوں کی طرف لے گیا اس کے اطرافیوں نے اسے زہر کھانے سے روکنا چاہا لیکن اس نے اس سے پہلے ہی زہر کو اپنے منہ میں ڈال کر اسے نگل لیا ۔

عمرو نے یہ منظر دیکھ کر کہا: اے بزرگ مرد ! اوراے گروہ عرب خدا کی قسم آپ ایسے شریف اور آزاد مرد کے ہوتے ہوئے جو چاہو گے ، اسے حاصل کرو گے !

طبری اس افسانہ کو نقل کرنے کے بعد خالد اور عمرو کے درمیان واقع ہوئی صلح کی کیفیت کو مفصل بیان کرتا ہے ۔

سیف نے اس داستان میں خالد سے گفتگو کا مطالبہ کرنے والے شخص کا نام ” عمروبن عبد المسیح“ بتایا ہے اور خالد کے زہر کھانے کے افسانہ کو اس میں اضافہ کیا ہے ۔

جبکہ بلاذری نے بھی صلح حیرہ کی روداد کو اپنی فتوح میں درج کیا ہے لیکن خالد سے گفتگو کرنے کا مطالبہ کرنے والے شخص کا نام ”عبد المسیح بن عمرو “ بتایا ہے نہ ” عمرو بن عبد المسیح ‘ اور خالد کے زہر کھانے کے افسانہ کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا ہے

دوسری جگہ پر طبری نے اس صلح کی روداد کو عظیم مؤرخ ابن کلبی سے نقل کیا ہے لیکن اس روایت میں خالد کے زہر کھانے کے افسانہ کا وجود نہیں ہے اور خالد سے بحث و گفتگو کرنے والا ’ ’ عبد المسیح بن عمرو“ ہے نہ ”عمروبن عبدا لمسیح ‘ جیسا کہ سیف کی روایت میں آیا ہے ۔

اس کے علاوہ ” انساب ابن الکلبی “ اور ” جمہرة انساب العرب “ میں بھی یہ شخص ” عبدالمسیح بن عمرو“ ہے او ر اس کے خاندانی کوائف بھی مفصل طور پر بیان ہوئے ہیں

جیسا کہ ملاحظہ فرمایا: سیف نے اس داستان کو گفتگو کرنے والے کے نام میں تحریف و تغیر کرکے نقل کیا ہے طبری نے بھی اس سے نقل کیا ہے اور اس کے بعد والے مؤرخین میں سے ہر ایک نے جیسے : ابن اثیر اور ابن کثیر نے بھی اس داستان کو طبری سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے البتہ ابن کثیر نے خالد کے مہلک زہر کو کھانے کی داستان کو روایت سے حذف کیا ہے ۔

داستان کی سند کی چھان بین

سیف کی صلح حیرہ کے بارے میں نقل کی گئی داستان کی سند میں درج ذیل راوی ملتے ہیں :

۱ ۔ غصن بن قاسم : وہ بھی اس داستان کو قبیلہ کنانہ کے ایک ناشناس مرد سے نقل کرتا ہے طبری کی نقل کے مطابق غصن بن قسم کا نام سیف کی تیرہ روایتو ں کی سند میں آیا ہے چونکہ ہم نے اپنی تحقیق اور بررسی کے دوران اس راوی کا کہیں نام و نشان نہیں پایا ، لہذااسے سیف کے جعلی صحابیوں کی فہرست میں قرار دیا ہے اور جسے اس نے اپنے خیالات میں تخلیق کیا ہے ۔

۲ ۔ کنانہ سے ایک شخص : چونکہ سیف نے اپنے اس افسانوی راوی کا نام معین نہیں کیا ہے لہذا مؤرخین اور راویوں کے حالات پر روشنی ڈالنے والے اس نام کو اپنی کتابوں میں درج نہیں کرسکتے ہیں ۔

۳ ۔ محمد : سیف کی روایتوں کے اسناد میں محمد، محمد بن عبد اللہ بن سواد بن نویرہ ہے اور ہم نے معاویہ کے زیاد کو ابوسفیان سے ملانے کی بحث میں کہا ہے کہ اس نام کا کوئی راوی آج تک پہچانا نہیں گیا ہے ا س لئے یہ بھی ان راویوں میں سے ہے جنہیں سیف نے خو ہی جعل کیا ہے

نتیجہ

اس بحث و تحقیق سے یہ نتیجہ نکلا کہ :

اولاً: سیف نے خالد سے گفتگو کرنے والے شخص کا نام ” عبد المسیح بن عمرو “ سے بدل کر ”عمرو بن عبد المسیح “ ذکر کیا ہے اور اس تحریف شدہ نام کو طبری سے سیف کی سولہ روایتوں میں ذکر کیا ہے جبکہ اس کا نام بلاذری کی فتوح البلدان اور ابن حزم کی جمہرہ میں ابن کلبی سے نقل کرکے ----خود طبری نے بھی اسے نقل کیا ہے ----عبدا لمسیح بن عمرو ذکر ہو اہے ۔

ثانیاً : سیف نے اس صلح کے افسانہ پر خالد کے زہر کھانے کا افسانہ بھی ذکر کیا ہے اس افسانہ کو اس کے علاوہ کسی اور مؤرخ نے ذکر نہیں کیا ہے ۔

یہ دروغ سازی کیوں ؟

سیف بن عمر نے اس لحاظ سے اس روداد پر اس افسانہ کا اضافہ کیا ہے کہ وہ بخوبی جانتا تھا کہ لوگ اپنے گزشتہ گان کے بارے میں اس قسم کے فضائل سننے کے شوقین ہوتے ہیں لہذا سیف کیلئے یہ سنہرا موقع تھا کہ خرافات اور افسانوں کو مسلمانوں کے عقائد میں ممزوج کرکے مسلمانوں کو توہمات اور افسانہ پرست بنادے اور اسلام کو باطل اور خرافات کا دین بتائے ۔

اس کام اور اس قسم کے دوسرے کاموں میں اس کا محرک وہی اس کا کفر و زندقہ تھا جو اس کے دل میں پوشیدہ تھا اور علم رجال اور تاریخ کی کتابوں میں بھی اس کی زندقہ کی حیثیت سے توصیف و معرفی کی گئی ہے ۔

روایت کے راویوں کا سلسلہ

اولاً: سیف نے خالد کے زہر کھانے کی داستان کو :

۱ ۔ غصن بن قاسم

۲ ۔ محمد بن عبد اللہ بن سواد بن نویرہ

۳ ۔ ایک مرد کنانی سے نقل کیا ہے ۔

پہلے دوراوی سیف کے جعلی اور نقلی راویوں میں سے ہیں اور تیسرا راوی بھی مجہول غیر معروف ہے اور سیف نے اسے قبیلہ کنانہ کا ایک مرد جانا ہے اور سیف کے بغیر کوئی نہیں جانتا کہ یہ کنانی مرد کون تھا !

ثانیاً: سیف سے بھی مندرجہ ذیل بزرگوں نے اس داستان کو نقل کیا ہے :

۱ ۔ طبری نے سیف سے نقل کیا ہے اور طبری سے :

۲ ۔ ابن اثیر نے اور

۳ ۔ ابن کثیر نے نقل کیا ہے اور اسے اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے کہ اس طرح ان تمام نقلوں کا سرچشمہ سیف ہے اور یہ وہی سیف جسے زندقہ کہا گیا ہے۔

حضرت عمر کے بارے میں پیغمبروں کی بشارتیں

البشری اورشلیم علیک الفاروق ینفیک مما فیک

مژدہ ہو تجھے اے اورشلیم کہ عمر تجھے کثافتوں سے پاک کرے گا

گزشتہ پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر

عمرو عاص کی جنگیں

طبری ۱۵ ھء میں فتح فلسطین کی روداد کو سیف سے یوں نقل کرتا ہے :

عمر نے ایک خط کے ذریعہ عمرو عاص کو حکم دیا کہ روم کے سپہ سالار ”ارطبون “ سے فلسطین میں جنگ کرے ، اس کے بعد سیف کہتا ہے : یہ ارطبون “ حکومت روم کا چالاک ، مکار اور بڑے کام کا کمانڈر تھا اس نے فلسطین کے ایک قدیمی شہر ’ ’ رملہ “ میں ایک عظیم لشکر تیار کر رکھا تھا اور بیت المقدس میں بھی ایک دوسرا بڑا لشکر آمادہ رکھا تھا ۔

عمروعاص نے ” ارطبون“ کی آمادگی کے بارے میں عمر کو لکھا جب عمرو کا خط خلیفہ کے ہاتھ میں پہنچا تو اس نے کہا: ہم نے ارطبون ” عرب کو ” ارطبون “ روم سے جنگ کرنے کیلئے بھیجا ہے دیکھئے ان میں سے کون فتح پاتا ہے ، سیف اپنی بات کو یوں جاری رکھتا ہے کہ عمرو عاص اپنے لشکر کے ہمراہ روانہ ہوا اور ” اجنادین “(۱) نامی ایک جگہ پر پڑاؤ ڈالا اور کچھ مدت وہاں پر ٹھہرا اس مدت کے دوران

____________________

۱۔ اجنادین فلسطین کے اطراف میں ایک جگہ ہے۔


”ارطبون “ کے کام میں اس کے کمزور نقاط سے اطلاع حاصل کرنے کیلئے کئی بار افراد کو ”ارطبون “ کے پاس بھیج دیا تا کہ اس کے معمولی ترین نقطہ ضعف سے مطلع رہے اور بوقتِ ضرورت اس سے استفادہ کرے مجبور ہوکر خود عمرو عاص بھی بعنوان نمائندہ عمرو عاص ارطبون کے پاس گیا اور نزدیک سے اس سے گفتگو کی اور اس گفتگو کے ضمن میں اپنی چالاکی اور خاص مہارت سے تمام قلعوں اور سپاہ ارطبون پر مسلط راستوں کے بارے میں ضروری معلومات حاصل کی، لیکن ارطبون اپنی ذہانت سے سمجھ گیا کہ یہ جو عمرو عاص کے نمائندے کی حیثیت سے اس کے پاس آیا ہے ، خود عمرو عاص ہے اس لئے حکم دیا کہ کسی کو راستے میں معین کرے تا کہ اسے قتل کردے ،عمرو عاص نے جب اپنی چالاکی اور فراست سے ارطبون کے منصوبہ کو سمجھ لیا تو ارطبون کے منصوبہ کو نقش بر آب کرنے کیلئے خود ایک تدبیر سوچی اور ارطبون سے کہا:

تم نے میری بات سنی اور میں نے بھی تیری بات سنی اور تیری بات نے مجھ پر ایک گہرا اثر ڈالا میں ان دس افراد میں سے ایک ہوں جنہیں خلیفہ نے عمرو عاص کے پاس بھیجا ہے تا کہ اس کی مدد اور تعاون کروں میں اس وقت جاؤں گا اور ان نو افراد کو بھی تیرے پاس لے آؤں گا اگر انہوں نے بھی تیری تجویز کو میری طرح قبول کیا تو یقینا سپہ سالار اور فوجی بھی اسی کی قبول کریں گے اور اگر ان نو افراد نے تیری تجویز کو قبول نہ کیا تو تجھے انھیں امان دینا ہوگا تا کہ وہ محفوظ جگہ پر واپس چلے جائیں ۔

ارطبون کو عمرو کی یہ بات پسند آئی اور اس کو قتل کرنے سے عارضی طور پر صرف نظر کیا اور قتل کے مامور کو راستہ سے ہٹا لیا عمرو عاص اس تدبیر اور حکمت عملی سے ارطبون کی مجلس سے باہر آنے میں کامیاب ہوا، اس وقت ارطبون سمجھ گیا کہ عمرو عاص نے اسے دھوکہ دیا ہے اور تعجب کی حالت میں کہا:

عمرو ایک چالاک آدمی ہے!

اس کے بعد عمرو عاص نے چونکہ اپنے اس معائنہ کے دوران اس سرزمین کے تمام اصلی اور فرضی راستوں کو جان لیا تھا اور ارطبون تک جانے اور اس پر مسلط ہونے کے راستوں کو مکمل طور پر پہچان چکا تھا ، اس لئے وہ اپنے لشکر کے ساتھ اس کی طرف روانہ ہوا اور یہ دونوں لشکر ” اجنادین “ کی جگہ پر ایک دوسرے کے مقابلہ میں پہنچ گئے اور جنگ ” یرموک “ کے مانند ان میں ا یک گھمسان کی جنگ چھڑ گئی ۔

بہت سے افراد مارے گئے ارطبون کی فوج نے مسلمان کے ہاتھوں بری شکست کھائی انہوں نے بیت المقدس تک عقب نشینی کی اور عمرو نے فتحیابی کے ساتھ اجنادین پر قبضہ کیا ۔

جن مسلمانوں نے بیت المقدس کا محاصرہ کیا تھا ، ارطبون کو موقع دیا تا کہ بیت المقدس میں داخل ہوجائے، اس کے بعد مسلمان بیت المقدس کے اطراف سے متفرق ہوئے اور ” اجنادین “ میں عمرو عاص کے پاس چلے آئے ۔


بیت المقدس کی فتح کے بارے میں حضرت عمر کی پیشین گوئی۔

ارطبون جو بیت المقدس میں مستقر ہوا تھا نے وہاں سے عمرو عاص کے نام ایک خط لکھا کہ اس کا مضمون یوں تھا : تم اپنی قوم و ملت کے درمیان مجھ جیسے ہو اور قوم و ملت کے درمیان جو میری حیثیت ہے تم بھی اسی کے مالک ہو او ر خدا کی قسم اجنادین کو فتح کرنے کے بعد اب فلسطین کے ایک کونے کو بھی فتح نہیں کرسکو گے ، اپنے آپ پر مغرور نہ ہونا جس راستے سے آئے ہو اسی سے واپس چلے جانا ورنہ ایسی شکست سے دوچار ہوجاؤ گے جس کا سامنا تیرے اسلاف کو کرنا پڑا ہے ۔

جب یہ خط عمرو عاص کو ملا ، ایک شخص جو رومی زبان سے آشنا تھاارطبون کے پا س بھیجا اور اسے حکم دیا کہ ارطبون کی مجلس میں ایسا ظاہر کرنا کہ رومی زبان سے آشنائی نہیں رکھتے ہو تا کہ ارطبون کی باتوں کو سن کر اس کی اطلاع عمرو عاص تک پہنچادو،اس کے بعد ارطبون کے نام حسب ذیل مضمون کا ایک خط لکھا :

مجھے تیرا خط ملا ، جی ہاں ، جیسا کہ تم نے لکھا ہے تم بھی اپنی قوم میں میری طرح عزیز اور محترم ہو اور ایک عظیم شخصیت کے مالک ہو اور اگر تم شخصیت اورعظمت میں مجھے سے کم ہوتے تو میری فضیلت و شخصیت کا انکار کرتے ،لیکن یقین کرنا کہ میں فلسطین کے شہروں کا فاتح ہوں گا اور یہ شہر میرے ہاتھوں مسلمانوں کےلئے فتح ہوں گے، میں اس بات پر تیرے فلاں و فلاں وزیروں کو شاہد رکھتا ہوں ، تم اس خط کو ان کیلئے پڑھنا تا کہ وہ اس بارے میں تجھے اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کریں گے ۔

عمرو و عاص کا نمائندہ اس کے حکم کے مطابق روانہ ہوا اور ارطبون کے پاس پہنچا او ر عمرو عاص کے خط کو اس کے چند وزراء اور اطرافیوں کے سامنے دیدیا، وزراء اور اطرافی جب خط کے مضمون سے آگاہ ہوئے تو ہنس کر تعجب سے کہنے لگے :

ارطبون ! تمہیں کہاں سے پتا چلا کہ عمرو عاص فلسطین کے شہروں کو فتح نہیں کرسکتا ہے اور وہ ان شہروں کا فاتح نہیں ہے؟

ارطبون نے کہا: ان شہروں کو ایسا شخص فتح کرسکتا ہے جس کا نام ” عمر “ ہوگا اور وہ نام تین حروف پر مشتمل ہوگا نہ ” عمرو “ جو چار حروف پر مشتمل ہے(۱)

اس کے بعد عمروعاص کا نمائندہ واپس آگیا اور روداد کے بارے میں اسے مطلع کیا، لہذا عمرو عاص سمجھ گیا کہ فلسطین خلیفہ دوم عمر کے ہاتھوں فتح ہوگا نہ عمرو عاص کے ہاتھوں ، اس لئے خلیفہ کے نام ایک خط لکھا:

میں ایک خطرناک اور کمرتوڑ جنگ میں پھنس گیا ہوں اور ایسے شہروں کے مقابلے میں قرار پایا ہوں جن کی فتح کو خداوند عالم نے آپ کیلئے ذخیرہ کیا ہے ، اب میں آپ کے حکم کا منتظر ہوں ۔

جب یہ خط عمر کو پہنچا تو خلیفہ سمجھ گیا کہ عمرو عاص نے اس موضوع کو بدون اطلاع و آگاہی نہیں کہا ہے علم الٰہی میں یہ فتوحات عمر کے نام پر ثبت ہوئی ہیں اس لئے وہ اس کی شرکت و دخل اندازی سے آزاد ہوں گی اس لئے عمر نے اپنی فوج کو آمادہ کرکے عمرو عاص کی طرف روانہ ہوا اور جابیہ میں داخل ہوا(۱)

____________________

۱۔تاریخ ابن اثیر میں آیا ہے کہ ارطبون نے کہا: فلسطین کو فتح کرنے والا ان صفات کا ایک مرد ہے اس کے بعد ایک ایک کرکے عمر کے اوصاف بیان کئے ،جب کہ ابن اثیر صحابہ پیغمبر کے دوران فتوحات کو ہمیشہ تاریخ طبری سے نقل کرتا ہے لیکن تاریخ طبری میں ایسا کوئی مطلب نہیں آیا ہے ،گویا ابن اثیر نے یہاں اس پر خود ایک تفصیل کے ساتھ اضافہ کیا ہے ۔

عمر تین حروف سے لکھا جاتا ہے لیکن عمرو چار حرف سے لکھا جا تا ہے یعنی اس کے آخر پر واو کا اضافہ ہے جسے نہیں پڑھا جاتا تا کہ ان دو لفظوں میں اشتباہ نہ ہوجائے اس لئے داستان گڑھنے والے کا مقصد یہ ہے کہ ارطبون نے کہا کہ فلسطین کے شہروں کو وہ شخص فتح کرے گا کہ جس کا نام ”عمر “ ہے جو تین حروف سے لکھا جاتا ہے نہ وہ ”عمرو“ جو رسم الخط میں چار حروف لکھا جاتا ہے ۔


سیف کہتا ہے : جب عمر شام کی سرزمین میں داخل ہوئے تو شام کے ایک یہودی نے اس کا استقبال کرکے کہا:

اے فاروق ! آپ پر درود ہوآپ ہی بیت المقدس کو فتح کرنے والے ہیں خدا کی قسم اس سفر سے واپس نہیں ہوں گے مگر یہ کہ بیت المقدس آپ کے ہاتھوں فتح ہوجائے گا۔

سیف کہتا ہے : اس جنگ میں کبھی کبھی بیت المقدس کے لوگ عمروبن عاص پر غلبہ کرتے تھے اور کبھی عمرو بن عاص ان پر غلبہ حاصل کرتا تھا ،لیکن بہر صورت وہ بیت المقدس کو فتح نہ کرسکا اور نہ ”رملہ “ کوعمربن خطاب نے جابیہ میں پڑاؤ ڈالا تھا ،ایک دن اس نے اچانک دیکھا کہ اس کے سپاہیوں نے تلواریں کھینچ لیں اور جنگ کیلئے تیار ہوگئے ،عمر نے سوال کیا : کیا بات ہے ؟ انہوں نے کہا: کیا دشمن کی فوج اور ان کی بلند کی گئی تلواروں کو نہیں دیکھ رہے ہیں ؟ عمر نے جب غور سے دیکھا تو دور سے ایک گروہ کو اس حالت میں آگے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ وہ اپنی تلواروں کو اپنے سروں کے اوپر لہرارہے تھے اور تلواروں کی چمک آنکھوں کو چکا چوند کر دیتی تھیں عمر نے اس حالت کو دیکھ کر کہا؛ ڈرو نہیں وہ تم لوگوں پر حملہ کرنا نہیں چاہتے ہیں بلکہ وہ تم سے امان مانگنے آرہے ہیں انھیں امان دے دینا، عمر کے فوجیوں نے انھیں امان دیا ، پھر دیکھا کہ وہ بیت ا لمقدس کے باشندے ہیں کہ عمر کی پیشنگوئی کے مطابق انہوں نے مسلمانوں کے سامنے ہتھیار ڈالدئے ہیں اور ان سے امان چاہتے ہیں اور مسلمانوں کو عمر کی مرضی

____________________

۱۔ جابیہ شام کے علاقوں میں ایک علاقہ تھا ۔


کے مطابق ہرطرح کی رعایت دے کر صلح کرنے پر حاضر ہیں اور آشتی چاہتے ہیں ان لوگوں نے آگے بڑھ کر عمر سے صلح کی اور عمر سے ایک صلح نامہ حاصل کیا اس صلح نامہ میں بیت المقدس تمام اطراف ، رملہ اور اس کی آبادیوں اور دیہاتوں کے سمیت درج تھا اس صلح نامہ میں فلسطین کا علاقہ جو صوبوں پر مشتمل تھادو حصوں میں تقسیم ہوا تھا اس کا ایک حصہ بیت المقدس اوردوسرا حصہ ” رملہ “ لکھا گیا تھا ۔

سیف کہتا ہے : فلسطین ان دنوں شامات پر مشتمل تھا یعنی آج کے سوریہ ، لبنان اور اردن بھی اس میں شامل تھے،پھر اضافہ کرتا ہے :وہ شامی مرد یہودی جس نے پہلے عمر کو بیت المقدس کی فتح کی نوید دی تھی صلح فلسطین میں حاضر تھا ، جب اس کو ایک باخبرشخص سمجھا تو عمر نے اس سے ” دجال “ کے بارے میں سوال کیا یہودی نے عمر کو جواب دیا :

دجال بنیامین کے فرزندوں میں سے ہے اور خدا کی قسم آپ عرب اسے باب ” لد“(۱) سے دس ہاتھ کی دوری سے قتل کریں گے ۔

سیف کہتا ہے : عمر کے جابیہ میں داخل ہونے کے وقت ارطبون بیت المقدس سے مصر کی طرف بھاگ گیا اور صلح نہ کرنے والے اس کی حامی بھی اس کے ساتھ جاملے اس کے بعد جب مسلمانوں نے مصر کے لوگوں سے صلح کی توارطبون نے وہاں سے روم کی طرف فرار کیا اور مسلمانوں سے لڑنے والے رومی سپاہیوں سے ملحق ہوگیا اور وہیں پر رہا اور موسم گرما کی جنگوں میں لشکر روم کا

____________________

۱۔ حموی معجم البلدان میں کہتا ہے ”لد“ بیت المقدس کے نزدیک واقع ایک گاؤں کا نام ہے اور ” رملہ “ کو بھی ”لد‘ کہتے ہیں ۔


کمانڈر بنا اور سپاہ اسلام کے کمانڈروں سے لڑتا تھا،ان جنگوں میں سے ایک میں قبیلہ قیس کے ”ضریس“ نامی ایک شخص سے اس کا مقابلہ ہوا اور اس کے ساتھ دست بہ دست لڑائی کی، اس جنگ میں ارطبون نے ” ضریس“ کے ہاتھ کو کاٹ ڈالا اور ضریس نے اسے قتل کر ڈالا(۱) ضریس نے وہاں پر یہ اشعار کہے:

اگر ارطبون نے میرے ہاتھ کو کاٹ ڈالا ، لیکن بحمد اللہ ابھی بھی اس ہاتھ سے استفادہ کرتا ہوں ، کیونکہ میری دو انگلیاں اور ہتھیلی باقی بچی ہے کہ اس سے دشمن کی طرف نیزہ پھینک سکتا ہوں اس دن جب دوسرے خوف و وحشت میں ہیں ،اگر ارطبون روم نے میرے ہاتھ کو کاٹ ڈالا ہے اس کے بدلے میں میں نے بھی اس کے بدن کے ٹکڑے کرکے بیابان میں بکھیر دئے ہیں(۲)

زیاد بن حنظلہ نے بھی اس سلسلہ میں یہ اشعار کہے ہیں :

مجھے جنگ روم یاد آتی ہے وہ کافی طولانی رہی اس سال جب ہم رومیوں کے ساتھ

لڑرہے تھے مجھے یاد ہے یہ جنگ جس دن ہم حجاز میں تھے اور ہمارے اور رومیوں کے درمیان ایک ماہ کا زبردست اورپر مشقت کا فاصلہ تھا اور مجھے یاد آتا ہے وہ دن جب

____________________

۱۔ سیف ایک اور روایت میں جسے طبری نے بھی ۲۰ ھء کے حوادث میں ذکر کیا ہے یوں کہتا ہے کہ ارطبون فتح مصر میں اسی پہلے حملہ میں لشکر عمرو عاص کے ہاتھوں قتل کیا گیا اور یہ دوروایتیں جو دونوں سیف کی ہیں آپس میں اختلاف رکھتی ہیں اور ایک دوسرے کو جھٹلاتی ہیں اور ” دروغگو را حافظہ نباشد “ کی روداد کو زندہ کرتی ہیں ۔

۲فان یکن ارطبون الروم افسدها

فان فیها بحمد للّٰه منتفعا

بنانان وجرموز اقیم به

صدر القناة اذا ما آنسو فزعا

و ان یکن ارطبون الروم قطعها

فقد ترکت بها اوصاله قطعاً


ارطبون روم اپنے شہروں کی حمایت کرتا تھا اور مسلمان بہادروں سے وہاں پر لڑتا تھا(۱)

ایک حیرت انگیز پیشین گوئی

سیف اپنی سند سے ایک ایسے شخص کے بقول جو فتح بیت المقدس میں حاضرتھا، نقل کرتا ہے کہ جب عمر جابیہ سے بیت المقدس کی طرف روانہ ہوئے اور مسجد بیت المقدس میں داخل ہوئے وہاں پر نماز پڑھی پھر اٹھ کر ایک کوڑے دان کی طرف بڑھے جسے رومیوں نے بنی اسرائیلیوں پراپنے تسلط کے دوران مسجد بیت المقدس میں بنایا تھا، اس طرح سے کہ وہ مسجد کوڑے کر کٹ کے نیچے چھپ گئی تھی جب بنی اسرائیل اقتدار میں آگئے تو اس کو ڑ کرکٹ کے ایک حصہ کو مسجد سے باہر لے گئے،لیکن اس کا ایک حصہ مسلمانوں کے ہاتھوں بیت المقدس کے فتح ہونے تک وہاں پر موجود تھاعمر نے جب بیت المقدس کو آزاد کیا تو اس کوڑے دان کو وہاں پر دیکھ کر لوگوں سے کہا: میں جو کام

انجام دوں گا تم لوگ بھی وہی کام انجام دینا ،اس کے بعد مسجد کی ایک دیوار کے پاس (جہاں پر یہ کوڑے دان تھا) دوزانو بیٹھ گئے اور اپنی قبا کو پھیلا کر کوڑے دان کی خاک کو اس قبا میں ڈال رہے تھے کہ اس اثناء میں پیچھے سے ” اللہ اکبر “ کی آواز بلند ہوئی چونکہ وہ لوگوں

____________________

۱ تذکرت حرب الروم لما تطاولت

و اذ نحن فی عام کثیر نزاو له

و اذا نحن فی ارض الحجاز و بیننا

مسیرة شهر بینهن بلا بلد

و اذارطبون الریم یحمی بلاده

یحاوله قرم هناک یساجله


کے امور کے بارے میں کبھی غفلت کو پسند نہیں کرتے تھے اس لئے آپ نے پوچھا : یہ تکبیر کی صدا کیسی ہے جو میں سن رہا ہوں ؟ کہا گیا : یہ کعب تھا جس نے تکبیر کہی اور لوگوں نے بھی اس کی پیروی کرتے ہوئے بلند آواز میں تکبیر کہی ، عمر نے کہا اسے میرے پاس لے آو جب کعب حاضر ہوا تو اس نے اپنی تکبیر کہنے کا سبب یوں بیان کیا :

اے امیر المومنین !پانچ سو سال پہلے ایک پیغمبر نے ،آپ کے اس انجام دئے گئے کارنامے کے بارے میں پیشین گوئی کی تھی ۔

عمر نے کہا؛ وہ کیسے ؟

کعب نے کہا:ایک زمانے میں روم کے لشکر نے بیت المقدس پر حملہ کیا اور بنی اسرائیل کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور مسجد بیت المقدس کوکوڑے کاڈھیربنادیا اس کے بعد بنی اسرائیل فتحیاب ہوئے اور بیت المقدس کی حکومت کو دوبارہ اپنے ہاتھ میں لے لیا ،لیکن انہوں نے یہ فرصت پیدا نہ کی کہ اس مسجد کو، اس کوڑے کرکٹ سے پاک کریں ،خداوند عالم نے ایک پیغمبر کو بھیجا اور وہ پیغمبر اس کوڑے پر چڑھ کر بیت المقدس کی طرف خطاب کرتا تھا اور یوں کہتا تھا : ”مژدہ ہو تم پر اے اورشلیم فاروق تمہیں اس تمام کوڑے کرکٹ اور کثافت سے پاک کرے گا“

اور ایک دوسری روایت میں یہ جملہ بھی آیا ہے کہ : اے اورشلیم فاروق سپاہ میں میرے حکم سے تیری طرف آئے گا اور رومیوں سے تیرے باشندوں کا انتقام لے گا “

نیرنگ اور چالبازیاں

سیف نے روایتوں میں عمر کے بارے میں انبیاء کی بشارت کو ایک عجیب مہارت اور کاری گری سے جعل کیا ہے اس میں انتہائی دقت اور نفاست سے کام لیا ہے تا کہ مسلمان اس کے ناپاک عزائم سے آگاہ نہ ہو سکیں اور اس سلسلہ میں اس کی تمام روایتوں کو غیر شعوری طور پر قبول کریں اور جن خرافات کو اس نے ان روایتوں میں شامل کیا ہے ان پر توجہ کئے بغیر اعتقاد پیدا کرلیں ہم سیف کی ان خطرناک چالبازیوں اور مکر و فریب پر بیشتر توجہ کیلئے اس کی نقل کی گئی بشارت انبیاء کی داستان کے بارے میں پھر سے جانچ پڑتال اور تحقیق کرتے ہیں اوردیکھتے ہیں کہ کیاسیف کہتا ہے؟

۱ ۔ روم کے لشکر کا کمانڈر ارطبون پہلے سے ہی جانتا تھا کہ بیت المقدس اور فلسطین کے دوسرے شہروں کا فاتح ایک شخص ہے جس کا نام عمر ہے جو تین حروف پر مشتمل ہے ۔

قارئین اس روداد سے قطعاً یہ سمجھ لیں گے کہ ارطبون نے یہ اطلاع کسی ماہر سے حاصل کی ہوگی اور ان اطلاعات و علوم کا استاد او رماہر کون ہے ؟

یہ ان لوگوں کے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتا ہے جنہوں نے اس اطلاع کو پیغمبروں سے حاصل کیا ہو لہذا عمر کی فتوحات کے بارے میں اس پیشین گوئی اور بشارت کا سراغ انبیاء تک پہنچتا ہے ۔

۲ ۔ سیف اس داستان کی پیروی میں مرد یہودی کی داستان کو بیان کرتا ہے کہ عمر کے استقبال کیلئے آیا ہے اور اسے گراں قدر اور معنی خیز لقب ” فاروق“ سے خطاب کیا ہے اور اسے نوید دی ہے کہ بیت المقدس کو فتح کرنے والا وہ ہے اس یہودی نے اپنی بات کو ثابت کرنے کیلئے قسم بھی کھائی ہے ۔

سیف اس جملہ کو نقل کرکے یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ یہودی چونکہ لقب ”فاروق“ کو قدیم کتابوں میں پیدا کرچکا تھا لہذا عمر کو اس لقب سے پکارا اور یہ شخص قدیمی کتابوں کے بارے میں وسیع اطلاعات رکھتا تھا لہذ عمر نے اس سے دجال کے بارے میں سوال کیا اور اس نے بھی دجال کے حسب و نسب اوراسے قتل کرنے والوں کے بارے میں اطلاع دی اور حتی اس کے قتل کی جگہ کے بارے میں بھی دقیق طور پر بتایا ۔ لہذا عمر کے بارے میں بیان کی گئی یہ بشارت اور فضیلت بھی قدیمی اور خداکے پیغمبروں کی کتابوں سے لی گئی ہے ۔

۳ ۔ اسکے بعد سیف اپنے جھوٹ کو مستحکم کرنے کیلئے ایک اور داستان کو بیچ میں کھینچ لیتا ہے کہ عمر بیت المقدس کے کوڑے کرکٹ کو اپنی قبا میں جمع کرکے باہر لے گئے اور لوگوں کو بھی ایساہی کرنے کا حکم دیا اسی اثناء میں کعب -(دشمن اسلام) کی تکبیر کی صدا بلند ہوتی ہے اور اس کی پیروی میں تمام مسلمان تکبیر بلند کرتے ہیں عمر اسے بلا کر تکبیر کہنے کی علت پوچھتے ہیں ۔

یہ سب وہ پیش خیمے ہیں جو سیف کے توسط سے یکے بعد دیگرے عمل میں آئے ہیں ان مقدموں کے بعد کعب کی زبانی خلیفہ کا جواب یوں بیان کیا ہے : ” امیر المؤمنین “ جو کام آپ نے آج انجام دیا اسے آج سے پانچ سو سال پہلے ایک پیغمبر نے انجام دیا ہے “

سیف دوسری بار اپنی جھوٹی داستان کو مضبوط بنانے کیلئے کہتا ہے کہ عمر نے اس بات کے سلسلے میں کعب سے وضاحت چاہی کعب نے اس کے جواب میں کہا؛ رومیوں نے بنی اسرائیلیوں پر غلبہ پایا اور بیت المقدس پر قبضہ کیا اور بیت المقدس کوخش وخاشاک اور کوڑا کرکٹ سے بھر دیا اور اسے کوڑے کے ڈھیرمیں تبدیل کیا خداوند عالم نے ایک پیغمبر کو بھیجااس نے کوڑے کے ڈھیرپر چڑھ کر بیت المقدس سے مخاطب ہوکر کہا:

” مژدہ ہو تجھے اے اورشلیم ! کہ فاروق تجھ پر تسلط جمائے گا اورتجھے اس ناپاکی سے پاک کرے گا “

۴ ۔ آخر میں سیف اپنی جھوٹی داستان کو ایک دوسری روایت میں خلیفہ کے لشکر کی تعریف و توصیف سے استحکام بخشتا ہے اور کہتا ہے :

اس پیغمبر نے بیت المقدس سے مخاطب ہوکر کہا: فاروق خداکے فرمانبردار سپاہیوں کے ساتھ تجھ پر مسلط ہوگا اور رومیوں سے تیرے باشندوں کا انتقام لے گا “

جیسا کہ ہم نے سیف کی روایتوں میں پڑھا کہ پہلے ارطبون مسیحی نے خبر دی تھی کہ بیت المقدس کو فتح کرنے والا عمر ہوگا اسکے بعد شام میں ایک یہودی نے بھی عمر کو یہ بشارت دی اور کعب نے بھی اپنے بیان میں ان خبروں سے سرچشمہ کا انکشاف کیا یہ سب گزشتہ پیغمبروں کی بشارتیں اور پیش گوئیاں ہیں ۔

لیکن سیف نے داستان کو مستحکم کرنے کیلئے اس بشارت کو چند روایتوں کے ضمن میں بیان کیا ہے اور اس کے ہر زاوئے کو ایک روایت میں سمو دیا ہے اور اس کے درمیان اپنے ناپاک عزائم کو بھی پوشیدہ طورپر بیان کیا ہے ۔

کیا ان سب چارلبازیوں اور افسانہ سازیوں اور ان تمام مستحکم کاریوں و مقدمہ سازیوں کے بعد کوئی اس میں شک و شبہہ کرسکتا ہے کہ جس طرح گزشتہ پیغمبروں نے ” احمد “ نامی ایک پیغمبر کے آنے کی بشارت دی ہے اسی طرح ” عمر “ نام کے ایک خلیفہ کے آنے کی بھی بشارت دی ہوگی ؟

کیا اس روداد کو امام المؤرخین طبری کے اپنی تاریخ میں نقل کرنے کے بعد کوئی اسے جھٹلانے کی جرات کرسکتا ہے یا اس میں شک و شبہہ کرسکتا ہے ؟

سیف کی روایتوں کی سند کی جانچ پڑتال

عمرو عاص اور ارطبون کی روداد کے بارے میں سیف کی روایتوں کی سند میں ” ابوعثمان “ کا نام آیا ہے اور ابو عثمان بھی سیف کے کہنے کے مطابق وہی یزید بن اسید غسانی ہے کہ تاریخ طبری اور تاریخ ابن عساکر میں اس کا نام سیف کی دس سے زیادہ روایتوں میں آیا ہے ٌ۔

اور ہم اس ابوعثمان کو ان راویوں میں سے جانتے ہیں کہ حقیقت میں جووجود نہیں رکھتا اور سیف نے اسے جھوٹ گڑھنے کیلئے خلق کیا ہے تا کہ وہ اسے اپنے دروغ سازی کے کارخانے میں معین کرکے ان کے نام پر افسانے جعل کرے ہم نے راویوں کے اس سلسلہ کو اپنی کتاب ” رواة مختلقون “ میں پہچنوایا ہے ۔

سیف کی ایک دوسری روایت کی سند میں جس میں گزشتہ پیغمبر میں سے ایک پیغمبر اورشلیم کو فاروق کی بشارت دیتا ہے ،ایک نامعلوم راوی کا ذکر ہوا ہے کہ خود سیف بھی اسے نہیں جانتا اورکہتا ہے جو فتح بیت المقدس میں حاضر تھا ہم نہیں جانتے سیف کی نظر میں یہ بے نام و نشان راوی کون تھا اور اس کا کیا نام تھا؟ تا کہ ہم اس کے بارے میں بحث و تحقیق کرتے ۔

سیف کی روایتوں کا دوسروں کی روایتوں سے تطبیق و موازنہ

سیف نے جو روایتیں بیت المقدس کی داستان میں بیان کی ہیں وہ مندرجہ ذیل مطالب پر مشتمل ہیں :

۱ ۔ عمرو عاص اور ارطبون کے درمیان واقع ہوئی روداد اور اخبار ہم نے ان رودادوں کو سیف کی روایتوں کے علاو ہ اور کسی روایت اور تاریخ میں پیدا نہیں کیا ۔

۲ ۔حضرت عمر کے بارے میں گزشتہ انبیاء کی بشارتیں اور پیشینگوئیاں ہم نے ان بشارتوں کو سیف کے علاوہ کسی مورخ کی تاریخ میں نہیں پایا ۔

۳ ۔ فتح بیت المقدس ” ایلیا “ کی خبر، یہ خبربھی دوسرے مورخین کی روایتوں میں دوسری صورت میں نقل ہوئی ہے کہ جو سیف کی روایت کو جھٹلاتی ہے ۔

تاریخ ابن خیاط -(وفات ۲۴۰ ھء) میں ،ابن کلبی سے نقل ہو کر یوں آیا ہے :

مسلمانوں کے سردار ابوعبیدہ نے حلب کے باشندوں سے صلح کی اور انھیں آپ کا صلح نامہ دیا اس کے بعد وہاں سے بیت المقدس کی طرف روانہ ہوا اور اسکے ایک کمانڈر خالد بن ولید جو لشکر کے آگے آگے تھا ، بیت المقدس میں داخل ہوا اور اس کو اپنے محاصرہ میں لے لیا اوروہاں کے باشندوں نے بھی مجبور ہوکر ہتھیار ڈال دیے اور صلح کی درخواست کی ۔

ایک دوسری روایت میں بلاذری نے فتوح البلدان میں مذکورہ جملہ کے بعد درج ذیل عبارت کا اضافہ کیا ہے،بیت المقدس کے لوگوں نے کہا: ہم حاضر ہیں کہ جن شرائط پر شام کے لوگوں نے آپ سے صلح کی ہے ان ہی شرائط پر ہم بھی صلح کریں جتناوہ جزیہ اور ٹیکس کے عنوان سے مسلمانوں کو اداکرتے تھے ہم بھی اتنا ہی ادا کریں گے لیکن شرط یہ ہے کہ خود عمر اس صلح نامہ پر دستخط کرےں اور ایک امان نامہ دےں ، ابوعبیدہ نے بیت المقدس کے لوگوں کی تجویز عمر کو لکھی اور وہ بیت المقدس آگئے، ایک صلح نامہ کا مضمون لکھا گیا ، عمر نے اس پر دستخط کئے چند دن بیت المقدس میں توقف کرنے کے بعد دوبارہ مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے۔

یعقوبی (وفات ۲۹۲ ھء) نے اسی مطلب کو خلاصہ کے طورپر لکھا ہے ۔

ابن اعثم (وفات ۳۱۳ ھء) نے بھی اپنی کتاب فتوح میں اسی روایت کو بیشتر تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے ۔

یاقوت حموی (وفات ۶۲۶ ھء) نے معجم البلدان میں مادہ ’ ’ القدس“ میں اسی مطلب کو خلاصہ کے طور پر درج کیا ہے ۔

۴ ۔ سیف کی ان ہی روایتوں میں جو دوسری داستان ذکر ہوئی ہے وہ شمشیر بازوں اور امان طلب کرنے والوں کی روداد ہے ۔

یہ داستان بھی سیف کے علاوہ دوسرے مورخین کی روایتوں میں دوسری صورت میں بیان ہوئی ہے کہ سیف کے بیان کے ساتھ سازگار و موافق نہیں ہے “

ابو عبیدہ کتاب ” الاموال “ اور بلاذری ” فتوح البلدان “ میں کہتا ہے : عمر جب شام سے بیت المقدس کی طرف آرہے تھے ، ابو عبیدہ نے اس کا استقبال کیا اس وقت مقامی باشندوں کا ایک گروہ جنہیں ” ُمقلسون “(۱) کہا جاتا تھا ، تلواروں اور پھولوں کو لیکر عمر کے استقبال کیلئے آگئے عمر نے جب ان کو دیکھا تو بلند آواز میں کہا : انہیں واپس لوٹادو ، اور انھیں اس کام سے روکو ، ابو عبیدہ نے کہا؛ اے امیر المؤمنین ! یہ عجمیوں کے عادات و روسومات میں سے ایک ہے (یا اس کے شبیہ جملہ کہا) اس کے بعد اضافہ کرتے ہوئے کہا؛ اگر آپ ان کو شمشیر بازی کرنے سے روک لیں گے تو وہ اسے ایک قسم کی پیمان شکنی تصورکریں گے، عمر نے کہا: انھیں اپنے حال پر چھوڑدو عمر اور اس کے فرزند ابو عبیدہ کے مطیع ہیں ۔

۵ ۔ اسی طرح جو ایک دوسری داستان سیف کی روایتوں میں آئی ہے وہ عمر کے ہاتھوں بیت المقدس کی صفائی کرنا ہے ۔

یہ روداد بھی کتاب ابو عبیدہ کی الاموال میں حسب ذیل آئی ہے :

عمر بن خطاب نے فلسطین کے مقامی باشندوں کو اجرت کے بغیر بیت المقدس کو جھاڑو لگانے پر مقرر کیا کیونکہ بیت المقدس میں کوڑے کرکٹ کا انبار لگاتھا ۔

تطبیق اور جہاں بین کا نتیجہ

سیف کی روایتوں کی دوسرے مورخین کی روایتوں سے تطبیق اور موازنہ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ دو قسم کی روایتیں کئی جہت سے آپس میں اختلاف اور تناقض رکھتی ہیں :

۱ ۔ سیف فتح بیت المقدس کی داستان میں ایسی روداد لکھتا ہے کہ دوسرے مورخین کی روایتوں میں ان کا وجود ہی نہیں ہے اور یہ سیف کی روایتوں کی خصوصیات شمار ہوتی ہیں ۔

۲ ۔ سیف کی روایت کے مطابق بیت المقدس میں مسلمانوں کی فوج کا کمانڈر عمروبن عاص تھا اور دوسروں کی روایت کے مطابق ابوعبیدہ جراح تھا ۔

۳ ۔ دوسروں کی روایت کے مطابق فتح بیت المقدس میں مسلمانوں کے لشکر کا کمانڈر ابو عبیدہ جراح تھا اور عمر صرف صلح نامہ پر دستخط کرنے کیلئے بیت المقدس آئے تھے ، اس لئے کہ فلسطین کے باشندوں نے درخواست کی تھی کہ خود خلیفہ صلح نامہ پر دستخط کرےں اور ابوعبیدہ نے جو روداد، عمر کیلئے لکھی تھی،اس کے بنا پروہ بیت المقدس آئے اور صلح نامہ پر دستخط کی اور ا س کے بعد واپس مدینہ روانہ ہوگئے لیکن سیف کی روایت کے مطابق اس فتح میں مسلمان فوجیوں کا کمانڈر عمرو بن عاص تھا کہجس کے مقابلہ میں رومی کمانڈر” ارطبون“ تھا اور سیف کے کہنے کے مطابق یہ ارطبون چالاکی اور دانائی میں عمرو بن عاص کے مانند تھا ،جیسا کہ خلیفہ اور عمرو عاص اور خود ارطبون نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے ، پھر سیف کہتا ہے کہ ”عمرو عاص “اور” ارطبون“ کے درمیان کافی خط و کتابت اور چالبازیاں رد و بدل ہوتی رہی ہیں اور عمرو وعاص ان نیرنگ بازیوں میں ارطبون پر سبقت لے جاتا تھا اورمکر و حیلہ میں اس پر غلبہ پاتا تھا ، اس طرح کہ اولاً : عمرو عاص کے نمائندہ کی حیثیت سے ارطبون کے پاس گیا اور اس پر غلبہ پانے کے راستوں کی اطلاعات حاصل کی۔

ثانیاً: جب ارطبون نے اسے قتل کرانے کا منصوبہ بنایا تو عمرو عاص اپنی چالاکی اور فراست سے زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔

ثالثاً: جب ارطبون نے اپنے وزیروں اور کمانڈروں کے سامنے فاتح بیت المقدس کا نام زبان پر لیا اور کہا کہ وہ خلیفہ دوم ”عمر “ ہوں گے توعمرو عاص قضیہ سے فوری طور پر آگاہ ہوا اور اس کی اطلاع خلیفہ وقت کو دی اور خلیفہ بیت المقدس کی طرف روانہ ہوئے اور ایک یہود ی عمر کے استقبال کیلئے دوڑا اور اسے یہ بشارت بھی دی کہ بیت المقدس کی فتح اس کے ہاتھوں انجام پائے گی ،عمر بیت المقدس کی طرف روانہ ہوئے ا ور وہاں کے باشندوں نے ہتھیار ڈال دیے اور ان سے صلح کی لیکن ارطبون اور اس کے ساتھیوں نے صلح کو قبول نہ کرتے ہوئے مصر کی طرف فرار کیا ،مصر کو جب مسلمانوں نے فتح کیا تو ارطبون وہاں سے بھی روم کی طرف بھاگ نکلااور روم کی فوج کا گرمی کے موسم میں کمانڈر کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا اور قبیلہ قیس کے ضریس نامی ایک شخص کے ہاتھوں ایک اسلامی جنگ میں قتل ہوا ۔

۴ ۔شمشیر بازوں کی داستان

اس داستان کو نقل کرنے میں بھی سیف کی روایتیں دوسروں سے اختلاف و تناقض رکھتی ہیں سیف کی روایت کے مطابق بیت المقدس کے باشندوں نے تلواریں لہراتے ہوئے عمر کا استقبال کیا عمر کے فوجیوں نے ان کے مسلح حالت میں آگے بڑھنے پر خوف کا احساس کیا، عمر نے کہا؛ڈرو نہیں یہ امان کی درخواست کرنے کیلئے آرہے ہیں لہذا انھیں امان دینا، بعد میں پتا چلا کہ عمر کی پیشنگوئی صحیح تھی اور وہ حقیقتاً امان کی درخواست کرنے اور صلح نامہ منعقد کرنے کیلئے آئے تھے ۔

لیکن سیف کے علاوہ دوسروں کی روایتوں میں یہ شمشیر باز ”اذ رعات“ کے لوگ تھے اور انہوں نے پہلے ہی مسلمانوں سے صلح کا پیمان باندھا تھا اور گلدستے لے کر خاص کراس وقت مظاہرہ کرتے ہوئے عمر کا استقبال کیا تھا سیف نے اس داستان میں یہ دکھایا کہ مسلمان ڈر گئے اور اپنے اسلحہ ہاتھ میں لے لئے اور عمر نے ان کے مقاصدکے بارے میں مسلمانوں کو وضاحت دی جب کہ روداد بالکل اس کے برعکس تھی اور عمر ان کے مقاصد کو نہیں سمجھسکتے تھے اور شمشیر بازی اور ان کے حرکات سے ڈر گئے اور ان کے مقاصد کے بارے میں ابوعبیدہ نے عمرکے لئے وضاحت کی۔

۵ ۔ بیت المقدس کو جھاڑودینے اور صاف کرنے کی داستان

سیف کی روایتوں کے دوسرے مورخین کی روایتوں سے اختلاف کا ایک اور مسئلہ بیت المقدس کو جھاڑو دینے کی داستان ہے سیف کی روایت کے مطابق عمر نے مسجد کے کوڑے کرکٹ کو اپنے دامن میں جمع کیا اوراپنے سپاہیوں کو بھی حکم دیا کہ اس کام میں اس کی پیروی کریں یہاں پر کعب کے تکبیر کی آواز بلند ہوئی اور اس نے عمر کو خبر دیدی کہ سوسال پہلے ایک پیغمبر نے اورشلیم کو اس حادثہ کی بشارت دی ہے ۔

لیکن د وسروں کی روایت میں یوں آیا ہے کہ عمر نے ” انباط “ کو بیت المقدس میں جھاڑو دینے کا حکم دیا تھا اور ”انباط“ نچلے طبقہ والوں اور مزدوروں کو حکم دیتے تھے اس لحاظ سے عمر نے فلسطین کے فقراء اور مزدوروں کے ایک گروہ کو اجرت کے بغیرمسجد میں جھاڑ ودینے پر مقرر کیا تھا اور انھیں کے ذریعہ بیت المقدس کو پاک و صاف کرایا ہے ۔

جی ہاں ! سیف نے تاریخی واقعات میں اس طرح تحریف کرکے انہیں اپنی پسند کے مطابق پیش کیا ہے اور کبھی کبھی خود دوسری داستانیں بھی جعل کرکے ان میں ا ضافہ کیاہے اور اس طرح ان سے اپنے لئے مقاصد حاصل کئے ہیں کہ ذیل میں ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔

سیف نے جنگ روم اور عمر کے بارے میں بشارت کے عنوان سے روایتیں جعل کرکے جن جھوٹ اور اکاذب کو حقیقت اور تاریخی واقعات کے طور پر اسلامی تمدن اور مآخذ میں درج کیا ہے وہ حسب ذیل ہیں :

۱ ۔ ایک جعلی راوی بنام عثمان

۲ ۔ روم کے لشکر کیلئے ایک کمانڈر بنام ”ارطبون“

۳ ۔ ’ ’ ضریس قیسی “ اور ” زیاد بن حنظلہ “ نامی دو شاعر و اصحاب

۴ ۔ فتح بیت المقدس کے مسلمان کمانڈر کے نام میں تحریف کرکے ابوعبیدہ کی جگہ پر عمرو عاص کا نام بتانا اس کے علاوہ اس داستان میں سیف کے توسط سے اور بھی تحریفات اور جعلیا ت انجام پائے ہیں اور آنے والی نسلوں کیلئے اسلامی ثقافت میں درج ہوئے ہیں ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سیف کو کس چیز نے مجبور کیا ہے کہ ایک کمانڈر کا نام بدل کر اس کی جگہ دوسرے کا نام لے لے جبکہ دونوں قحطانی قبیلہ سے تعلق رکھتے ہوں اور اس تبدیلی میں خاندانی تعصب اور فخر و مباہات کو خاندان قحطان سے قبیلہ عدناں میں تبدیل کرنے کا موضوع ہی نہیں تھا ؟

آخر سیف کے لئے ان تمام خرافات اور بے بنیاد مطالعہ کو تاریخ اسلام میں درج کرنے میں کونسا محرک کارفرما تھا ؟

کیا سبب ہے کہ عمر ایک یہودی سے دجال کے بارے میں وضاحت پوچھتے ہیں اور وہ بھی جواب دیتا ہے اور دجال کا ان سے تعارف کراتا ہے۔

ان سوالات کا جواب اسکے علاوہ کچھ نہیں ہوسکتا کہ ہم یہ کہیں کہ سیف کا ان تمام جعل وتحریف کا مقصد اولاً مسلمانوں کی تاریخ میں تشویش و شبہہ پیداکرکے اسے الٹ پھیرکرنا تھا اور ثانیاً اسلام کے حقیقی عقائد میں جھوٹ اور خرافات داخل کرکے مسلمانوں کو توہم پرست ثابت کرنا تھا۔

افسوس ہے ، کہ سیف اپنے ان دونوں مقاصد میں کامیاب ہوا ہے ، کیونکہ اس قسم کے بے بنیاد مطالب کو اس نے ” خلیفہ دوم “ کے فضائل و مناقب کے پر دے میں جھوٹی اور خرافات روایتوں کو تاریخ اسلام میں داخل کر کے رواج دے دیا ہے۔ اور وہ شائع اور عام ہیں ۔ اس طرح امام المورخین طبری نے ان روایتوں کو خود سیف سے نقل کیا ہے اور دوسروں نے بھی اس سے نقل کرکے انھیں کتابوں میں درج کیا ہے : جیسے :

۱ ۔ ۲ ۔ ابن اثیر اور ابن کثیر میں سے ہر ایک نے کعب کی داستان کو حذف کرکے ان تمام روایتوں کو طبری سے نقل کیا ہے ۔

۳ ۔ ابن خلدون نے بھی اس داستان کے خلاصہ کو ارطبون کے خاتمہ کی روداد اور اس کی پیشین گوئی کو حذف کرکے باقی مطالب کو طبری سے نقل کرکے اپنی کتاب میں درج کیا ہے ۔

۴ ۔ ابن حجر نے بھی ” اصابہ “ میں قیس کے نام کو اصحاب پیغمبر کی فہرست میں قرار دے کر اس کی زندگی کے حالات لکھنے میں سیف کی کتاب ” فتوح“ پر اعتماد کیا ہے ۔


مسلمانوں کے اللہ اکبر کی آواز حمص کے در و دیواروں کو گرادیتی ہے

کبر المسلمون فتهافتت دور کثیرة حیطان

حمص میں مسلمانوں کی صدائے تکبیر نے دیوار اور گھروں کو مسمار کر کے رکھ دیا۔

سیف

فتح حمص کی داستان سیف کی روایت میں :

طبری نے ۱۵ ھء کے حوادث کے ضمن میں فتح ”حمص “(۱) کے بارے میں سیف سے تین روایتیں نقل کی ہیں :

پہلی روایت میں کہتا ہے : جب مسلمان ” حمص“ کو فتح کرنے کیلئے اس شہر میں داخل ہوئے تو ” ہرقل“(۲) نے ”حمص“ کے باشندوں کو حکم دیا کہ وہ بھی ایسے دنوں میں مسلمانوں سے لڑیں جب سخت سردی ہو اور شدید برف باری ہورہی ہو نیز ان سے کہاکہ اگر انہوں نے اس پر عمل کیا تو مسلمانوں میں ایک شخص بھی موسم گرما تک زندہ نہیں بچے گا حمص کے باشندے ہر قل کے حکم کے مطابق سردیوں کے

____________________

۱۔ حمص سوریہ کا ایک شہر ہے ۔

۲۔ ہرقل ان دنوں سوریہ کے شہروں کا حاکم تھا ۔


دنوں میں مسلمانوں سے لڑے تھے ۔

دوسری روایت میں ا بوا لزہراء قشیری سے یوں نقل کیا ہے : حمص کے باشندوں نے آپس میں ایک دوسرے کو یوں سفارش کی کہ موسم سرما پہنچنے تک اپنے شہروں کا عربوں کے حملوں اور تجاوز کے مقابلہ میں تحفظ اور بچاؤ کریں اور جب موسم سرما پہنچ جائے تو وہ تمہارے خلاف کچھ نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ وہ پا برہنہ ہیں ، موسم سرما میں سردی کی وجہ سے ان کے پاؤں ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے اس کے علاوہ ان کے ہمراہ خوراک بھی مختصر ہے اس لئے وہ اپنی جسمانی طاقت کو بھی ہاتھ سے دیدیں گے لیکن رومیوں کے تصور کے خلاف جب وہ جنگ سے واپس لوٹے تو اسکے بر عکس اپنے ہی بعض افرادکے پاؤں کو دیکھا کہ ان کے جوتوں کے اندر زخمی ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہوئے ہیں لیکن مسلمان باوجود اس کے کہ نعلین کے علاوہ کوئی اور چیز ان کے پیروں میں نہ تھی ان میں سے کسی ایک کے پاؤں میں بھی معمولی سا زخم بھی نہیں لگا تھا جب موسم سرما ختم ہوا تو حمص کے باشندوں میں سے ایک بوڑھا اٹھ کھڑا ہوا اور انھیں مسلمانوں سے صلح کرنے کی دعوت دی لیکن لوگوں نے اس کی بات نہیں مانی ایک اور بوڑھے نے بھی حمص کے باشندوں کیلئے وہی تجویز پیش کی لیکن اس کی تجویز کا بھی لوگوں نے مثبت جواب نہیں دیا ۔

سیف نے تیسری روایت میں غسانی اور بلقینی کے بوڑھے مردوں کی ایک جماعت سے نقل کرکے یوں بیان کیا ہے مسلمانوں سے موسم سرما کے بعد شہر حمص کی طرف حملہ کیا اور اچانک ایسی تکبیر کی آواز بلند کی کہ شہر کے لوگوں میں چاروں طرف خوف و وحشت پھیل گئی اور ان کے بدن کانپنے لگے اور تکبیر کی آواز سے ایک دم شہر کی درو دیوار زمین بوس ہوگئی ۔ حمص کے لوگوں نے ان بوڑھوں کے یہاں پناہ لے لی ، جنہوں نے پہلے ہی انھیں مسلمانوں سے صلح کرنے کی تجویز پیش کی تھی ، لیکن اس دفعہ ان بوڑھوں نے اپنی طرف سے ان لوگوں کی نسبت بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا اور انھیں ذلیل وخوار کرکے رکھ دیا۔

سیف کہتا ہے مسلمانوں کی تکبیر کی آواز ایک بار پھر شہر حمص کی فضا میں گونج اٹھی اور اس دفعہ شہر کے بہت سے گھر اور دیوار گرگئے اور لوگوں نے دوبارہ ان بوڑھوں اور قوم کے بزرگوں کے پاس پناہ لے لی اور کہا: کیا تم لوگ نہیں دیکھتے ہو کہ عذاب خدا نے ہمیں اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ؟

انہوں نے لوگوں کے جواب میں کہا: تمہارے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ مسلمانوں سے خود صلح کی درخواست کرو حمص کے لوگوں نے شہر کے مینار پر چڑھ کر فریاد بلند کی ” صلح ، صلح “ مسلمان چونکہ نہیں جانتے تھے کہ ان پر کیا گزری ہے اور ان پر کیسی ترس و وحشت طاری ہوئی ہے ؟ لہذا ان کی صلح کی تجویز کو قبول کیا دمشق کے باشندون کے ساتھ صلح کی جو شرائط رکھی تھیں ان ہی شرائط پر حمص کے باشندوں کے ساتھ بھی صلح کی ۔

دوسروں کی روایت کے مطابق فتح حمص کی داستان

فتح حمص کی داستان کو سیف نے مذکورہ تین روایتوں کے ضمن میں بیان کیا ہے جس کا آپ نے مطالعہ فرمایا ۔ لیکن دوسرے مؤرخین نے اس داستان کو دوسری حالت میں بیان کیا ہے ۔ مثلاً بلاذری کہتا ہے :

دمشق کو فتح کرنے کے بعد مسلمان حمص میں آگئے جب وہ شہر کے نزدیک پہنچے ، تو حمص کے باشندوں نے پہلے مسلمانوں سے جنگ کی، لیکن بعد میں اپنے شہر کے اندر داخل ہوکر قلعوں میں پناہ لے لی اورمسلمانوں سے صلح و امان کی درخواست کی ۔

بلاذری اضافہ کرتا ہے :

حمص کے حاکم ہر قل کا فرار کرنا ایک طرف سے اور مسلمانوں کی بے مثال قدرت اور پے در پے فتحیابیاں دوسری طرف سے حمص کے باشندوں کے کانوں میں پہنچ گئیں ان کے نتیجہ میں ان کے دل میں عجیب خوف و وحشت پیدا ہوگئی تھی۔

موازنہ اور تحقیق کا نتیجہ

جو کچھ ہمیں سیف کی روایتوں کی دوسرے مورخین کی روایتوں سے تطبیق کے نتیجہ میں حاصل ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسروں کی روایتوں کے مطابق حمص کے باشندوں کے صلح کرنے کا محرک ان کے حاکم کی فرار اور مسلمانوں کی طاقت کے بارے میں ان کا مطلع ہونا تھا ۔

لیکن سیف کے کہنے کے مطابق حمص کے باشندوں کے مسلمانوں سے صلح کرنے کا محرک یہ تھا کہ انہوں نے پورے موسم سرما میں مسلمانوں سے جنگ کی اورسردی کی وجہ سے ان کے پاؤں زخمی ہوہو کر کٹ گئے اور دوسری طرف سے مسلمانوں کی تکبیر کی آواز سے شہر کے درو دیوار اور گھر زمین بوس ہوگئے ان پر رعب اور وحشت طاری ہوگئی اس کے نتیجہ میں ہتھیار ڈال کر صلح کرنے پر مجبور ہوگئے یہ تھا متن کے لحاظ سے سیف کی روایت میں ضعف ، اب ہم سند کے لحاظ سے اس کی تحقیق کرتے ہیں :

سیف کی روایتوں کی سند کے لحاظ سے تحقیق

سیف کی روایتوں کی سند بھی چند زاویوں سے خدشہ دار اور متزلزل ہے کیونکہ

۱ ۔ سیف نے حمص کے باشندوں کے پاؤں کے کٹ جانے کی داستان ” ابو الزہراء قشیری “ سے نقل کی ہے ۔ قشیری کا نام تاریخ طبری میں سیف کی پانچ روایتوں میں ذکر ہوا ہے ۔اور ان ہی روایتوں پر تکیہ کرکے ابن عساکر نے ” تاریخ دمشق“ میں اور ابن حجر نے ”الاصابہ “ میں قشیری، کو پیغمبرخدا کے اصحاب میں سے ایک شمار کیا ہے ۔ لیکن ہم نے علم رجال کی کتابوں اور اصحاب رسول کے حالات پر مشتمل کتابوں میں گہرے مطالعہ و تحقیق کے بعد یہ حقیقت کشف کی کہ قشیری نام کا پیغمبر اسلام کا کوئی صحابی وجود نہیں رکھتا ہے اور اسے سیف نے خود جعل کیا ہے ۔

۲ ۔ سیف نے حمص کے گھروں اور دیواروں کے گرجانے کی خبر غسان اور بلقین کے بوڑھوں سے نقل کی ہے اب ہم کیسے ان بوڑھوں کو پہچان کر ان کے بارے میں بحث و تحقیق کریں جنہیں سیف نے غسان اور بلقین کے شیوخ سے جعل کیا ہے ؟

داستان کے راویوں کا سلسلہ

اولاً: سیف نے داستان حمص کی روایتوں کو :

۱ ۔ غسان اور بلقین کے بوڑھوں اور

۲ ۔ ابو الزہراء قشیری

سے نقل کیا ہے چونکہ سیف نے غسان اور بلقین کے بوڑھوں کا نام معین نہیں کیا ہے ، لہذا ہمارے لئے مجہول اور نامعلوم ہیں اور ان کی بات ناقابل قبول ہے اور دوسری طرف سے ہم نے کہا کہ قشیری بھی جو ان روایتوں کی سند میں آیا ہے ، سیف کا جعلی راوی ہے ۔

ثانیاً: سیف سے بھی :

۱ ۔ طبری نے بھی سیف کی سند سے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے ، اور طبری سے:

۲ ۔ ابن اثیر اور

۳ ۔ ابن کثیر نے نقل کرکے اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

دجال شہر شوش کو فتح کرے گا!

فاتی صاف باب السوس و دقه برجله

دجال نے آگے بڑھ کر شہر شوش کے دروازہ پر لات ماری اور اسے مسلمانوں کےلئے کھول دیا

سیف

فتحِ شوش کی داستان ، سیف کی روایت میں

طبری ۱۷ ھء کے حوادث کے ضمن میں سیف سے نقل کرتا ہے کہ مسلمانوں کا کمانڈر ” ابوسبرہ “(۱) اپنے لشکر کے ساتھ شہر شوش آیا اور اسے محاصرہ کیامسلمانوں نے شوش کے باشندوں کے ساتھ کئی بار جنگ کی اور ہر بار اہل شوش نے مسلمانوں پر کاری ضرب لگائی راہب اور پادری شہر کے مینار پر چڑھ کر بلند آواز سے بولے :

اے گروہ عرب! جو کچھ ہمیں دانشوروں سے شہرشوش کے بارے میں معلوم ہوا ہے ، وہ یہ ہے

____________________

۱۔ ابو سبرہ بن ابررہم عامری قبیلہ قریش کے ان افراد میں سے ہے جس نے اوائل بعثت میں اسلام قبول کیا ہے اور آنحضرت کی تمام جنگوں میں شرکت کی ہے ۔ آنحضرت کی وفات کے بعد واپس مکہ چلا گیا اور خلافتِ عثمان کے زمانے میں و ہیں پر وفات پائی ۔

ابوسبرہ کی زندگی کے حالات استیعاب میں الاصابہ کے حاشیہ میں ۴/ ۸۲ ، اسد الغابہ ۵/ ۲۰۷ الاصابہ : ۴/ ۸۴ اور طبقات ج۳/ ۱۹۳ میں خلاصہ کے طور پر اور باب مقیمان مکہ ج ۵/ ۳۲۲ میں مفصل طور پر آیا ہے ۔


کہ شہر ،دجال کے بغیر یاا ن لوگوں کے علاوہ فتح نہیں ہوگا جن میں دجال موجودنہ ہو ۔ اس بنا پر اگر دجال تمہارے درمیان ہے تو جلدی ہی اس شہر کو فتح کر لوگے اور اگر تمہارے درمیان دجال نہیں ہے تو اپنے آپ کو تکلیف میں مت ڈالو کیونکہ یہ کوشش بے نتیجہ ہوگی مسلمانوں نے ان پیشین گوئی کرنے والوں کی باتوں پر کان نہیں د ھرا اور ایک بار پھر شوش کے باشندوں سے جنگ و تیر اندازی کی ۔ راہبوں اور دانشوروں نے ایک بار پھر قلعہ کے مینار پر چڑھ کر مسلمانوں سے مخاطب ہوکر اپنی پہلی باتوں کی تکرار کی اور مسلمانوں پر فریاد بلندکرکے انھیں غضبناک کیا ۔

صاف بن صیاد “(۱) جو ان کے درمیان تھا ، شہر کے دروازے کے پاس آگیا اور اپنے دروازہ پر ایک لات مارکر کہا: اے بظار(۲) کھل جا ۔ اچانک دروازے کی زنجیریں اور قفل ٹوٹ گر گئے ، دروازہ کھل گیا اور مسلمان شہر شوش میں داخل ہوگئے ! مشرکین نے جب یہ حالت دیکھی تو ڈرکے مارے اپنا اسلحہ زمین پر رکھ دیا اور ” صلح صلح“ کی فریاد بلند کر نے لگے اور مسلمان مکمل طور پر شہر شوش میں داخل ہو گئے اور ان کی درخواست کا مثبت جواب دیا اور ان سے صلح کی ۔

____________________

۱۔ اہل سنت کے مآخذ میں ذکر ہوئی روایتوں کے ایک حصہ میں یوں آیا ہے : صاف بن صیاد، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں مدینہ میں پیدا ہوا اور مدینہ کے لوگ اسے دجال جانتے تھے اور متن میں جو داستان ہم نے بیان کی ہے اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دجال کی داستان اور اس کا صاف بن صیاد سے معروف ہونا سیف کے دوران مشہور تھا اور اس نے اس معروف داستان سے استفادہ کرکے اسے ایک د وسری داستان سے ممزوج کیا ہے اور ان د و داستانوں سے ایک تیسری داستان جعل کی ہے جیسے کہ کتاب کے متن میں ملاحظہ فرمایا : صاف بن صیاد کے بارے میں صحیح بخاری ۳/ ۱۶۳ و ۲/ ۱۷۹ کی طرف رجوع کیا جائے۔

۲۔ ” بظارہ “ مادہ حیوانات کی شرم گاہ کو کہتے ہیں کہ سیف کے کہنے کے مطابق صاف بن صیاد نے شہر شوش کے دروازہ کو اس قبیح اور گندے لفظ سے یاد کیا اور ” بظارہ “ کہا ۔


یہ تھا اس افسانہ کا خلاصہ جسے سیف نے فتح شوش کے بارے میں بیان کیاہے طبری نے بھی اس افسانہ کو سیف سے نقل کیا ہے ابن اثیر اور ابن کثیر نے اسے طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

فتح شوش کی داستان دوسروں کی روایت میں :

یہ تھی فتح شوش کی داستان سیف کی روایت کے مطابق لیکن ، فتح شوش کے بارے میں دوسرے مؤرخین کی روایتیں یوں ہیں :

خود طبری جو سیف کی روایت نقل کرنے والا ہے ، مشہور مورخ، مدائنی سے نقل کرتا ہے : جب ابو موسیٰ اشعری نے شہر شوش کا محاصرہ کیا تو مسلمانوں کے ہاتھوں فتح جلولا اور پادشاہ جلولا اور یزد جرد کے فرار کرنے کی خبر شوش کے باشندوں تک پہنچی اور وہ اس روداد کے بارے میں سن کر مرعوب ہوئے اور ابو موسیٰ سے امان و صلح کی درخواست کی اس نے بھی ان کی درخواست منظور کرلی اس طرح مسلمانوں اور شوش کے باشندوں کے درمیان صلح کا پیمان منعقد ہوا ۔

بلاذری ، فتوح البلدان میں کہتا ہے : ابو موسیٰ اشعری نے شوش کے باشندوں سے جنگ کی ان کا محاصرہ کر لیا یہاں تک ان کے پاس موجود پانی اور خوراک ختم ہوگئی اور ہتھیار ڈال کر صلح کر نے پر مجبور ہوئے ابو موسیٰ نے ان جنگجوؤں کو قتل یا اسیر کردیا کہ جن کے نام صلحنامہ میں ذکر نہیں ہوئے تھے اور ان کا مال غنیمت کے طور پرلوٹ لیا ۔

بلاذری کی باتوں کو ” دینوری “ نے بھی ” اخبار الطوال “ میں خلاصہ کے طور پر ذکر کیا ہے ۔

ابن خیاط نے بھی اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ فتح شوش ۱۸ ھء میں ابو موسی ٰ اشعری کے ذریعہ صلح کے طریقے سے انجام پایا ۔

روایت سیف کی سند کے اعتبار سے تحقیق

جس طرح سیف کی روایت کے متن سے اس کا ضعیف اور باطل ہونا ظاہر ہے اور دوسرے مؤرخین کے متن سے سازگار نہیں ہے سند کے لحاظ سے بھی اس کا کمزور اور باطل ہونا بہت واضح ہے کیونکہ:

سیف کی روایت کی سند میں شوش کی فتح کی داستان بیان کرنے والا ” محمد“ ذکر ہوا ہے ہم نے مکرر کہا ہے کہ یہ ”محمد “ سیف کے جعلی راویوں میں سے ایک ہے ۔ اس کے علاوہ اس روایت کی سند میں چند دوسرے مجہول اور نامعلوم افراد جیسے : ” طلحہ “ اور ” عمر “ بھی راوی کے طور پر ذکر ہوئے ہیں کہ علم رجال اور تشریح کی کتابوں میں ان کا نام و نشان نہیں ملا ۔ بحث کے طولانی ہونے کے پیش نظر ہم ان افراد کی تحقیق و جانچ پڑتال سے صرف نظر کرتے ہیں ۔

تطبیق اور جانچ پڑتال کا نتیجہ

سیف کے کہنے کے مطابق شوش کی فتح کا سبب مسلمانوں کے لشکر میں دجال کی موجودگی تھی کہ جس کے بارے میں راہبوں اور پادریوں نے پہلے ہی پیشین گوئی کی تھی اور لوگوں کو اس کے بارے میں مطلع کیا تھا اور یہ پیشین گوئی بھی اس وقت واقع ہوئی جب مسلمان سپاہیوں میں سے دجال باہر آگیا اورشہرکے دروازہ پر لات مارتے ہوئے کہا: ” کھل جا اے دروازہ جو ” بظار“ کے مانند ہو “ دروازہ کی زنجریں اچانک ٹوٹ کی ڈھیر ہوگئیں قفل بھی ٹوٹ کرگرگئے اور دروازے کھل گئے ، مسلمان شہر میں داخل ہوئے شوش کے لوگوں نے جنگ سے ہاتھ کھینچ لیا اور صلح کی فریادیں بلند ہوئیں اس جنگ کا سپہ سالار ” ابو سبرہ“ عدنانی تھا ۔

یہ تھا فتح شوش میں مسلمانوں کے سپہ سالار کے نام اور اس فتح کے سبب کے بارے میں سیف کی روایت کا خلاصہ لیکن دوسرے مورخین کہتے ہیں : شوش کی فتح کا سبب جلولا کی فتح اور وہاں کے بادشاہ کے فرار کے بارے میں اہل شوش تک خبر پہنچنا اور شوش کے لوگوں کا پانی اور غذا کاختم ہونا تھا کہ وہ ان عوامل کی وجہ سے صلح کرنے پر مجبور ہوئے اور امان کی درخواست کی مسلمانوں کے لشکر کا سپہ سالار ابوموسیٰ اشعری تھا جو قبیلہ قحطان سے تھا ، نہ ” ابو سبرہ “ عدنانی ۔

اس تطبیق اور جانچ پڑتال سے واضح ہوتا ہے کہ سیف نے اس داستان کو نقل کرنے میں خاندانی تعصب سے کام لیا ہے اور عدنانی قبیلہ کے تعصب کی ندا کا مثبت جواب دے کر فتح شوش کی فضیلت کو ابو موسیٰ قحطانی سے چھین کر ابوسبرہ عدنانی کے کھاتے میں درج کیا ہے لیکن سیف کو کس محرک نے مجبور کیا ہے مسلمانوں کی شوش کی فتح و پیروزی کی داستان کو ” دجال “ سے نسبت دیدے ؟ جبکہ اس انتساب میں نہ اصحاب پیغمبر کیلئے کسی قسم کی ثنا گوئی ہے اور نہ کسی قسم کا خاندانی تعصب ؟

اس امر میں نہ خود سیف کے قبیلہ کیلئے کوئی فخرکی بات ہے اور نہ قبیلہ عدنان کے بارے میں کوئی فضیلت ، کیونکہ معمولاً سیف اس سلسلہ میں تعصب سے کام لیتا ہے ؟

لہذا ، اس نسبت و اسناد میں ، حقائق میں تحریف اور خرافات گڑھنے میں کونسا محرک ہوسکتا ہے ؟ کیا اس سلسلہ میں ا س کے زندقہ و کفر --- جس کا ا س پر الزام ہے ----کے علاوہ کسی او رمحرک کا تصور کیا جاسکتا ہے ؟

جی ہاں ! اس نے اپنے کفر و زندقہ کے اقتضاء کے مطابق مسلمانوں کے عقائد کو خرافات سے ممزوج کرکے تاریخ اسلام کوتشویش اور درہم برہم کرنا چاہا ہے ۔

داستان شوش کی روایت کے راویوں کا سلسلہ

اولاً: فتح شوش کی روایتوں کو سیف نے ” محمد “ نامی ایک نقلی اور جعلی راوی اور دومجہول اور نامعلوم راویوں سے نقل کیا ہے ۔

ثانیاً: سیف سے بھی ان روایتوں کو

۱ ۔ طبری نے اور طبری سے

۲ ۔ ابن اثیر اور

۳ ۔ ابن کثیر نے نقل کرکے اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔


اسود عنسی کی داستان

لایحرف سیف ولا یختلق الا لتحقیق غایة

سیف اپنے ناپاک عزائم کے علاوہ کسی اور چیز کیلئے کسی حقیقت میں تحریف یا کسی داستان کو جعل نہیں کرتا ہے۔

مولف

سیف کے روایت کے مطابق اصل داستان

طبری نے ’ ’ اسود عنسی ----جس نے یمن میں پیغمبری کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا ----کے بارے میں سیف سے کئی روایتیں نقل کی ہیں ہم ان روایتوں کے خلاصہ کوذیل میں درج کرتے ہیں :

جب اسود عنسی پیغمبری کا دعویٰ کرکے یمن پر مسلط ہوا تو اس نے یمن کے ایرانی بادشاہ ” شہر بن باذان ‘ ‘کو قتل کیا اور اس کی بیوی کے ساتھ شادی کی یمن میں مقیم ایرانیوں کی سرپرستی کو کمانڈر ’ فیروز “ اور آزادبہ نامی دو ایرانی نسل اشخاص کے ذمہ رکھی اور اپنے تمام فوجیوں کے کمانڈر ان چیف کے طور پر ” قیس بن عبدیغوث “ کو منصوب کیا ۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ سے ان تین افراد کے نام خط لکھا اور حکم دیا کہ اسود عنسی سے جنگ کریں اور اسے جنگ یا مکر و فریب کے ذریعہ نابود کریں اور ایرانیوں کو اس کے شر سے نجات دلائیں انہوں نے بھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم کے مطابق آپس میں اتحاد کیا تھاکہ نیرنگ کے ذریعہ اسود کو نابود کریں لیکن اسود کو شیطان نے اسے اس روداد سے آگاہ کردیالہذا اسود نے قیس کو اپنے پاس بلا کر کہا:

قیس ! یہ میرا فرشتہ کیا کہتا ہے ؟

قیس نے کہا: کیا کہتا ہے ؟

اسود: میرا فرشتہ کہتا ہے تم نے اس قیس کا اتنااحترام کیا ہے اور اسے لشکر کے کمانڈر ی اور اعلی عہدہ تک ترقی دیدی ہے یہاں تک کہ احترام وشخصیت میں تمہارا ہم پلہ بن گیا اب اس نے تیرے دشمن کے ساتھ ہاتھ ملا کر فیصلہ کیا ہے کہ تیری سلطنت کو نابود کردے اور اس نے اپنے دل میں مکر و حیلہ چھپا رکھا ہے ۔

اس کے بعد اسود نے کہا: یہ فرشتہ مجھ سے کہتا ہے : اے اسود ! اے اسود ! اے بد بخت اے بدبخت ! قیس کے سر کو تن سے جدا کردو! ورنہ وہ تجھے قتل کر ڈالے گا اور تیرے سر کو قلم کردے گا ۔

قیس نے کہا: تیری جان کی قسم اے اسود! میرے دل میں تیرا مقام اور منزلت اس سے بالاتر ہے کہ تیرے بارے میں برا سوچوں اور تیری نسبت خیانت کروں

اسود: اے مرد تم کتنے ظالم ہو کہ میرے فرشتہ کو بھی جھٹلاتے ہو معلوم ہوتا ہے کہ اب اپنے عمل سے پشیمان ہوئے ہو اور جو کچھ مجھے میرے فرشتہ نے خبر دی ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ میرے بارے میں بدنیتی سے منصرف ہوئے ہو ۔

سیف یہاں پر اسود کے اسی شیطان کو فرشتہ کے نام سے یاد کیا ہے اور روایت کرتا ہے کہ وہ تمام روداد کے بارے میں اسودکو خبر دیتاتھا ۔

سیف کہتا ہے قیس اسود کی مجلس سے اٹھ کے چلا گیا اور اس روداد کو اپنے د وستوں اور ان افراد کے سامنے تفصیلاً بیان کیا جن کے ساتھ اس نے اسود کو قتل کرنے کا منصوبہ مرتب کیا تھا ۔

اسود نے دوسری بار قیس کو اپنے پاس بلا کر کہا:

کیا میں نے تجھے تیرے کام کی حقیقت کے بارے میں آگاہ نہیں کیا؟ لیکن تم نے مجھ سے جھوٹ کہااب پھر فرشتہ مجھ سے کہتا ہے : اے بدبخت اے بد بخت اگر قیس کے ہاتھ کو نہ کاٹو گے تو وہ تیرے سر کو قلم کرکے رکھ دے گا !

قیس نے کہا: میں تجھے ہر گز قتل نہیں کروں گا ، تم خدا کے پیغمبر ہو لیکن تم میرے بارے میں جو مصلحت سمجھتے ہو اسے انجام دو کیونکہ ترس و اضطراب کی حالت میں سر قلم ہونا میرے لئے ناگوار ہے حکم دو تا کہ مجھے قتل کر ڈالیں کیونکہ میرے لئے ایک بار مرنا اس سے بہتر ہے کہ ہر روز خوف و ہراس سے مروں اور پھر زندہ ہوجاؤں نیز ذلت کی زندگی سے مرنا بہتر ہے ۔

سیف کہتا ہے : اسود کو قیس کی اس بات کا اثر ہوا اور اس کیلئے اس کے دل میں رحم پیدا ہوا اور اسے آزاد کردیا ۔

سیف اضافہ کرتا ہے کہ اسود نے حکم دیا اور ایک سو گائے اور اونٹ حاضر کئے گئے اس کے بعد اس کے سامنے زمین پر ایک سیدھا خط کھینچا اور خود اس خط کے مقابلہ میں کھڑا رہا اور اونٹوں کو اسی خط کے پیچھے رکھا اور اس کے بعد ان اونٹوں کے ہاتھ پاؤں باندھے بغیر انھیں نحر کردیا ۔ لیکن ان اونٹوں میں سے ایک اونٹ نے بھی اس کے معین کردہ خط سے آگے قدم نہیں بڑھایا اور ان سب نے اسی خط کے پیچھے جان دیدی ۔

سیف کہتا ہے : اس دن سے وحشتناک دن نہیں دیکھا گیا کہ ان سب اونٹوں کو جو آزاد تھے ایک ساتھ نحرکر دیا گیا اور ان میں سے ایک نے بھی خط سے آگے قدم نہیں بڑھاےا بلکہ اس خط کے پیچھے تڑپتے ہوئے جان دیدی ۔

سیف دوبارہ اسود کے قتل کے بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے سلسلہ کوجاری رکھتے ہوئے کہتا ہے :

آخر کار ان تین افراد جنھوں نے اسود کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا تھا اس کی بیوی کو بھی اپناہم نوا بنا لیا اور فیصلہ کیا کہ اسکی مدد اور تعاون سے رات کے وقت اسود کو قتل کر ڈالیں گے جب وہ اسود کی خواب گاہ میں داخل ہوئے تو فیروز نے اسے قتل کرنے میں پیش قدمی کی اسود کو شیطان نے بیدار کیا اور دشمن کے داخل ہونے کے بارے میں اسے اطلاع دی چونکہ اسود اس وقت گہری نیند میں سویا ہوا تھا اس لئے آسانی کے ساتھ بیدار نہ ہوا ۔ لہذا شیطان خود فیروز کو وحشت میں ڈالنے کیلئے اسود کے روپ میں اس سے مخاطب ہوا اور کہا : فیروز تم مجھ سے کیاچاہتے ہو ؟ جب فیروز نے یہ جملہ سنا تو اس نے اسود کی گردن پر ضرب لگائی اور وہ دم توڑ بیٹھا ۔

سیف کہتا ہے: اس کے بعد فیروز کے دوسرے ساتھی داخل ہوئے تا کہ اسود کے سر کو تن سے جدا کریں ۔ لیکن اسود کا شیطان اس کے بے جان بدن میں داخل ہوا اور اسے حرکت دیتے ہوئے اس کے سر کو تن سے جدا کرنے میں رکاوٹ ڈالتا تھا ان میں سے دو افراد اسود کی پیٹھ پر سوار ہوئے اور اس کی بیوی نے اس کے سر کے بال مضبوطی سے پکڑ لئے تا کہ وہ حرکت نہ کرسکے شیطان اسکے اندر سے نامفہوم باتیں کررہاتھا ۔ آخر کار،چوتھے شخص نے اس کے سر کو تن سے جدا کردیا ۔ اس وقت اسود کے اندر سے ایک خوفناک آواز اور نعرہ بلند ہوا جو گائے کی آواز سے مشابہت رکھتا تھا اوراس دن تک ایسی وحشتناک آواز نہیں سنی گئی تھی ۔یہ آواز اس اسود کے شیطان کی تھی جو اس کے اندر سے پکار رہا تھا یہ آواز جب محافظوں کے کانوں تک پہنچی تو وہ کمرے کے دروازے تک آگئے اور شور وغل کا سبب پوچھا اسود کی بیوی نے کہا: کوئی خاص بات نہیں ہے، پیغمبر پر وحی نازل ہورہی تھی ،وہ ختم ہوگئی ۔

یہ تھا اسود عنسی کے افسانہ کا خلاصہ جسے طبری نے سیف کی گیارہ روایتوں کے ضمن میں بیان کیا ہے اور ذہبی نے بھی ان میں سے دو روایتوں کو ” تاریخ الاسلام “ نامی اپنی کتاب میں درج کیا ہے

سند کی تحقیق اور بررسی

طبری نے اسود عنسی کی داستان کو سیف کی گیارہ روایتوں کے ضمن میں نقل کیا ہے ان میں سے دو روایتوں کے راوی کے طور پر سہل بن یوسف کا نام ملتا ہے اور سہل نے بھی عبید بن صخر نامی ایک شخص سے روایت کی ہے ۔

ان روایتوں میں سے دو روایتوں کی سند میں ” مستنیربن یزید“ کا نام آیا ہے کہ اس نے بھی عروق بن غزیہ سے نقل کیا ہے ۔

اور ان روایتوں میں سے ایک میں خود”عروق بن غزیہ “ کا نام مستنیر کا نام لئے بغیر ذکر ہوا ہے ۔

جو کچھ ہم نے اسود کی داستان کے بارے میں بیان کیا وہ سیف کی روایتوں کا ایک خلاصہ تھا جن کی سند کو مذکورہ چند جعلی راوی تشکیل دے رہے ہیں کہ ہم ان کے حالات پر حسب ذیل روشنی ڈالتے ہیں ۔

۱ ۔ سہل : طبری نے جو روایتیں سیف سے نقل کی ہیں ان میں سے ۳۷ روایتوں میں اس کا نام ملتا ہے سیف نے اسے یوسف سلمی کا بیٹا بتایا ہے قبائل عرب میں سے کئی قبائل کو سلمی کہتے ہیں ہمارے خیال میں یہاں پر سلمی سے سیف کامقصود وہ شخص ہے جس کا نسب سلمة بن سعد خزرجی انصاری تک پہنچتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کوائف کا کوئی بھی راوی جس کا نام سہل ہو اس کے باپ کا نام یوسف اور وہ سلمة بن سعد خزرجی یا دیگر قبائل سلمی سے منتسب ہو وجود نہیں رکھتا ہے وہ سیف کا جعل کیا ہوا راوی ہے ہم نے جعلی راویوں کے بارے میں اپنی تالیف کی گئی کتاب ” راویان ساختگی “ میں اس حقیقت پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔

۲ ۔ عبید بن صخر بن لوذان سلمی : یہ دوسرا شخص ہے جس کا اسود کی داستان کی سند میں مشاہدہ ہوتا ہے لیکن وہ بھی ان راویوں میں سے ہے جسے سیف نے اپنے خیال سے جعل کیا ہے اور اسے اصحاب پیغمبر کی فہرست میں قرار دیا ہے ہم نے اس کے حالات پر اپنی کتاب ” ایک سو پچاس جعلی اصحاب “میں تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔

۳ ۔ عروة بن غزیہ دثینی : عروہ وہ شخص ہے جسے سیف نے قبیلہ دثین سے متعلق بتایا ہے اس کا نام سیف کی چھ روایتوں میں ذکر ہوا ہے جنہیں طبری نے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے ان چھ روایتوں میں سے چار کو ضحاک بن فیروز نے نقل کیا ہے ۔ لیکن ہم نے عروة کا نام رجال یا تراجم کی کتابوں میں سے سمعانی و حموی کے نقل کے علاوہ کسی اور میں نہیں پایا۔

سمعانی ” کتاب الانساب“ میں لفظ ” دثینہ “ کے ضمن میں کہتا ہے دثینی ، دثینہ سے منسوب ہے اور ہم گمان کرتے ہیں کہ دثینہ یمن کے گاؤں اور آبادیوں میں سے ہوگا اور عروة بن غزہ دثینی بھی ، جو ضحاک بن فیروز سے روایت نقل کرتا ہے اور فتوح سیف بن عمر میں اس کا نام آیا ہے اسی آبادی کے لوگوں میں شمار ہوتا ہے ۔

ابن اثیر نے بھی سمعانی کی اسی بات کو خلاصہ کے طور پر ” اللباب “ میں درج کیا ہے(۱) حموی دثینہ کی تشریح میں کہتا ہے : اور عروة بن دثینی ، جو ضحاک ابن فیروز سے روایت نقل کرتا ہے اسی دثینہ سے منسوب ہے ۔

البتہ سمعانی اور حموی کی روایتوں کے مآخذ وہی سیف کی روایتیں ہیں آخر کار سمعانی نے اس کے مآخذ کو صراحتاً بیان کیا ہے لیکن حموی نے اپنی روایت کے مآخذ کو معین نہیں کیا ہے ۔

۴ ۔ مستنیر بن یزید : سیف نے اسے قبیلہ نخع سے تصور اور خیال کیا ہے کہ اس کا نام طبری کی

____________________

۱۔ رجال اور تراجم ان کتابوں کو کہا جاتا ہے جن میں اشخاص کے حالات کی تشریح کی گئی ہو ۔


سیف سے نقل کی گئی اٹھارہ روایتوں میں مشاہدہ ہوتا ہے لیکن چونکہ ہم نے اسے سیف کی روایتوں کے علاوہ کہیں اور نہیں دیکھا ہے ، لہذا ہم اسے گزشتہ راویوں کی طرح سیف کے جعلی راویوں میں جانتے ہیں ۔

تحقیق اور موازنہ

داستان اسود عنسی کی سند کے تزلزل اور ضعف کے بارے میں یہ ایک خلاصہ تھا جسے سیف نے نقل کیا ہے ۔ لیکن اس داستان کا متن اور مفہوم کے لحاظ سے ضعیف ہونا اسی صورت میں واضح ہوتا ہے کہ ہم دوسرے تاریخ نویسوں کے نقطہ نظر پر بھی نگاہ ڈالیں اور اس کے بعد ان دو روایتوں کا آپس میں تطبیق اور موازنہ کریں ۔

اب ہم داستان اسود عنسی کے بارے میں مورخین کی روایتیں بیان کرتے ہیں :

بلاذری نے اپنی کتاب فتوح البلدان میں اسود عنسی کی داستان کو نقل کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے :

” اسود بن کعب بن عوف “ فال گوئی اور پیشین گوئی کرتا تھا نیز پیغمبری کا دعوی بھی کرتا تھا اس کے اپنا قبیلہ عنس تھا ، اس کے قبیلہ والے اس کی پیروی کرتے تھے اور دوسرے قبیلوں کے بعض گروہ بھی اس کی طرف رجحان پیدا کرچکے تھے ، اسود نے اپنا ”رحمان یمن “ نام رکھا تھا اور ایک تربیت یافتہ گدھا بھی رکھتا تھا کہ جب بھی اسے کہتا تھا : اپنے پروردگار کیلئے سجدہ کر ، وہ سجدہ میں جاتا تھا اور جب اس سے کہتا تھا: گھٹنے ٹیک ، وہ گھٹنے ٹیکتا تھا، بعض مورخین نے اسود کو ” ذو الحمار “ کہا ہے ۔ کیونکہ وہ ہمیشہ سر پر عمامہ رکھتا تھا۔ بعض مورخین نے کہا ہے کہ اس کا اصلی نام اسود ” عبہلہ “ تھا لیکن چونکہ سیاہ چہرہ تھا ، اس لئے ” اسود “کے نام سے معروف تھا۔

بلاذری کہتا ہے : اسود صنعا گیا اور اس جگہ پر قبضہ جمالیا اور وہاں کے حاکم (جو پیغمبر اسلام کی طرف سے حکومت کرتا تھا) کو نکال باہر کیا اوریمن میں مقیم ایران نسل کے لوگوں (جو ابناء(۱) )کہے جاتے تھے کو سخت دباؤ اور جسمانی اذیت کے تحت قرار دیا اور وہاں کے پادشاہ ” باذان “ کی بیوی مرزبانہ “ کے ساتھ شادی کی ۔ جب یہ خبر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پہنچی تو آنحضرت نے ” قیس بن ہبیرة بن مکشوح مرادی“ کو اسود سے جنگ کرنے پرمامور کیا اور اسے حکم دیا کہ یمن مین مقیم ایرانیوں کی ہمت افزائی اور انہیں اپنی طرف مائل کرے ۔

جب قيس يمن پہنچا اسود کے پاس يوں ظاہر کيا کہ اسکا پیرو ، ہم عقیدہ اور ہم فکر ہے اسود نے اس کی بات پر یقین کیا اور اس کے صنعا میں داخل ہونے سے مانع نہیں ہوا،قیس قبیلہ مذحج، ہمدان اور دوسرے قبائل کے ہمراہ صنعا میں داخل ہوا۔ ایرانیوں کے ایک مشہور شخص فیروز کی حوصلہ افزائی کی خاص کر ایرانیوں کے سرپرست داذویہ کی ہمت افزائی کی ۔ ایرانیوں نے بھی قیس کے توسط سے اسلام قبول کیا ۔ قیس اور ایرانی آپس میں ہم نوا ہوگئے اور اسود کو قتل کرنے میں اتحاد و اتفاق کر لیا۔ چونکہ اسود

____________________

۱۔ چونکہ ابناء، ابن کا جمع یعنی بیٹے ہے اس لئے اعراب یمن میں مقیم ایرانیوں کو ابناء یعنی ایرانیوں کے بیٹے یا ایرانی نسل کہتے تھے ۔


کی بیوی پہلے سے اسکے ساتھ عداوت و دشمنی رکھتی تھی اس لئے قیس اور اس کے ساتھیوں نے مخفی طور پر ایک شخص کو اسکے پاس بھیجا اور اسود کو قتل کرنے میں مدد طلب کی اس نے بھی ان کی نصرت کرنے کا وعدہ کر لیا اور انھیں اسود کے گھر میں منتہی ہونے والے ایک پانی کے راستہ کی راہنمائی کی بعض مورخین کہتے ہیں کہ اسود کے گھر کے دیوار کو سوراخ کیا گیا اور سحر کے وقت اسی جگہ سے اس کی خوابگاہ میں داخل ہوئے اور اسے اپنے بسترہ میں مست پایا پھر فیروز نے اسے اسی حالت میں قتل کر ڈالا اور قیس نے بھی تلوار سے اس کے سر کو تن سے جدا کر ڈالا صبح کا وقت تھا کہ شہرکے قلعہ کے اوپر چڑھ کر تکبیر کی آواز بلند کی اور یوں تکبیر کہی:

الله اکبر ، الله اکبر ، اشهد ان لا اله الا الله اشهد ان محمداً رسول الله و ان اسود الکذاب عدو الله خدا کی وحدانیت کی گواہی دیتا ہوں ، شہادت دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خدا کے رسول ہیں اور اسود جھوٹا اور دشمن خدا ہے ۔

اسود کے حامی اور پیرو جمع ہوئے قیس نے قلعہ کے اوپر سے اسود کے سر کو ان کی طرف پھینک دیا وہ سب ترس و وحشت سے متفرق ہوگئے ان میں سے صرف معدود چند افراد قلعہ کے ارد گرد موجود رہ گئے قیس نے اپنے دوستوں کی مدد سے ان میں سے ایک شخص کے علاوہ (جس نے اسلام قبول کیا تھا) باقی سب کو قتل کر ڈالا ۔

کتاب ” البدء و التاریخ “ کے مؤلف نے اسود کی داستان کو تقریباً اسی مضمون کے ساتھ اپنی کتاب (ج(۵) / ۱۵۴ ۔ ۱۵۵) میں درج کیا ہے۔

یعقوبی نے بھی اپنی تاریخ میں اس روداد کو خلاصہ کے طور پر نقل کیا ہے(۱)

کلاعی نے اپنی کتاب ” الاکتفاء “ میں داستان کو تقریباً مذکورہ صورت میں درج کیا ہے(۲)

تحقیق کا نتیجہ

ہم نے یہاں تک داستان اسود کے بارے میں سیف اور دوسرں کی روایتوں کو بیان کیا اور ان دونوں بیانات کا آپس میں موازنہ و تطبیق کی ۔ اب ہم مذکورہ دونوں بیانات کے درمیان اختلاف کا خلاصہ اور نتیجہ پیش کرتے ہیں :

۱ ۔ سیف کی روایتوں میں یمن کے پادشاہ --- جس کی بیوی سے اسود نے شادی کی ---کا نام ”شہر بن باذان “ ذکر ہوا ہے جبکہ دوسرے مؤرخین نے اس کا نام ” باذان “ بتایا ہے ۔

۲ ۔ سیف نے قیس کے باپ کا نام عبدیغوث بتایاہے جبکہ دوسرے مورخین نے اس کا نام ” ھبیرہ بن مکشوح “(۳) بتایا ہے ۔

____________________

۱۔ ج ۲/ ۱۸۰،

۲۔ ملاحظہ ہو کتاب الردة ،ص ۱۵۱ کہ جو کلاعی کی کتاب الاکتفاء سے اقتباس ہے۔

۳۔ جمہرہ ،ص ۳۸۲ پر ابن حزم کے کہنے کے مطابق قیس ، مکشوح کا بیٹا ہے اور مکشوح کا اصلی نام ھبیرہ بن یغوث ہے لہذا اس بناپر قیس بن مکشوح اور قیس بن ہبیرہ بن عبدیغوث ایک ہی شخص ہے لیکن سیف نے قیس کو عبدیغوث کا بیٹا کہا ہے اور درمیان سے ایک واسطہ کو حذف کیا ہے اور اس کا یہ کام اس کا سبب بنا ہے کہ شخصیات کے حالات کی تشریح لکھنے والے مغالطے کا شکار ہوجائیں ا ور قیس کے نام پر دو شخص تصور کریں اور اس کیلئے دوبارہ تشریح لکھیں جیسے کتاب اسد الغابہ ، ۴/ ۲۶۲ و ۴/۲۲۷ اور الاصابہ، ۵/ ۷۳)


۳ ۔ سیف کہتا ہے : اسود نے اپنے لشکر کی کمانڈری ، یمن میں موجود قیس کو سونپی اور رسول خدا نے قیس جو یمن میں تھا اور یمن میں مقیم ایرانیوں کو ایک خط کے ذریعہ حکم دیا کہ اسود کو قتل کر ڈالیں ۔ لیکن دوسرے مورخین نے کہا ہے : رسول خد ا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قیس کو براہ راست اپنی طرف سے اسود سے جنگ کرنے کیلئے بھیجا اور اسے حکم دیا کہ وہاں پر مقیم ایرانیوں کے ساتھ پیار محبت سے پیش آئے اور ان کی ہمت افزائی کرے ۔ جب قیس صنعا میں داخل ہونا چاہتا تھا تو اس نے اسود کا پیرو اور حامی ہونے کا اظہار کیا ، اسود نے بھی اس پر یقین کر لیا اور قیس کو صنعا میں داخل ہونے کی اجازت دیدی۔

یہ ان تحریفات و تغییرات کا خلاصہ تھا جسے سیف نے اسود کی داستان میں انجام دیا ہے ، لیکن وہ چیزیں جو سیف نے اس داستان میں خود اضافہ کی ہیں اور جھوٹ اور افسانے کے طور پر اس داستان میں ضمیمہ کی ہیں وہ حسب ذیل ہیں کہ کہتا ہے :

۱ ۔ اسود کا ایک شیطان تھا جو اسے وحی کرتا تھا اور اسے غیب کی اطلاع دیتا تھا اسود اسے اپنا ”فرشتہ “ کہتا تھا ۔ اس شیطان نے اسود کو چند بار خبر دی کہ ” یہ قیس ، جسے تم نے عزت و احترام میں اپنے برابر پہنچا دیا ہے، عنقریب تمہیں قتل کر ڈالے گا۔

سیف کہتا ہے: اسود نے زمین پر ایک لکیر کھینچی اور اس لکیر کے پیچھے سو اونٹ اورگائے جمع کیں ، پھر ان کے سامنے کھڑا ہوا ا س کے بعد بغیر اس کے کہ ان حیوانوں کے ہاتھ پاؤں باندھے انھیں نحر کردیا ، جبکہ ان میں سے ایک نے بھی لکیر سے باہر قدم نہیں رکھا ۔ اسی حالت میں رکھا تا کہ لکیر کے اس طرف تڑپتے ہوئے جان دیدیں ۔

سیف اسود کے اس معجزہ کو روداد کے شاہد کے طورپر اپنے راوی کے ایک دوسرے جملہ سے مستحکم اور مضبوط بناتا ہے کہ: وہ کہتا ہے کہ ”میں نے اس سے خطرناک اور وحشتناک ترین دن کبھی نہیں دیکھاتھا “

۳ ۔ سیف کہتا ہے :جب اسود کے قاتل اس کی خوابگاہ میں داخل ہوئے اور وہ اپنے بستر پر گہری نیند سورہا تھا تواس کا شیطان --- جسے فرشتہ کہتے تھے --- اسودکے قاتلوں کو ڈرانے دھمکانے کیلئے اسود کے روپ میں اس کے لہجہ و زبان سے بات کرتا تھا۔

سیف کہتا ہے: وہی شیطان اسود کے قتل ہونے کے بعد اس کے بدن میں داخل ہوا اور اس کے جسم کو ہلا رہا تھا تا کہ اس کے قاتل اس پر کنٹرول کرکے اس کا سر تن سے جدا نہ کرسکیں یہاں پر قاتلوں میں سے دو افراد اس کی پیٹھ پر سوار ہوگئے اور اس کی بیوی نے اس کے سر کے بال پکڑلئے اور ایک شخص نے اس کے سر کو تن سے جدا کیا۔ اس دوران شیطان مبہم اور غیر مفہوم باتیں کرتے ہوئے فریاد بلند کررہا تھا ۔ جی ہاں ! سیف ان معجزوں اور غیر معمولی واقعات کو اس جھوٹے پیغمبر اسود کیلئے بیان کرتا اور اس طرح اس کی تعریف و توصیف کرتا ہے۔ لیکن ہم نہیں جانتے کہ ایک جھوٹے پیغمبر کیلئے یہ معجزہ گڑھنے میں سیف کا محرک اور مقصد کیا تھا ؟

کیا سیف نے کسی مقصد کے بغیر اس افواہ بازی کو انجام دیا ہے ؟ جبکہ ہم جانتے ہیں وہ مقصد کے بغیر کسی بھی حقیقت کو تحریر نہیں کرتا ہے اور مقصد کے بغیر کسی جھوٹ کو نہیں گڑھتا ہے ؟

کیا اس معجزہ سازی سے اس کا مقصود یہ تھا کہ اس طرح اسود کیلئے چند فضائل و مناقب جعل کرے ؟ جبکہ اسود عنسی قبیلہ قحطان سے تعلق رکھتا ہے اور سیف ہمیشہ قبیلہ قحطان کے عیوب ثابت کرتا ہے نہ مناقب۔ اس کے علاوہ سیف نے اپنی روایت کو اسود کی فضیلت کے طور پر بیان نہیں کیا ہے بلکہ وہ کہتا ہے کہ اسود شیطان کے زیر اثر تھااور شیطان اس کے ساتھ گفتگو کرتا تھا لیکن خود اسود اسے فرشتہ کہتا تھا ۔

بہر حال یہ شیطان وہی تھا جس نے قیس کی روداد کے بارے میں اسود کوخبر دی ، وہی تھا جب اسود اپنے بسترہ پر گہری نیند سورہا تھا ، اسود کی زبانی باتیں کرتاتھا ، اور وہی شیطان تھا جو اسود کے جسم کو ہلا رہا تھا تا کہ اس کے قاتل اس کا سر تن سے جدا نہ کرسکیں یہا تک چار آدمی آپس میں تعاون کرتے ہیں تا کہ اس کے بدن کی حرکت کو روک لیں پھر اس کا سر تن سے جدا کر سکے ہیں ۔

سیف کے ان مجموعی بیانات سے یہ معلوم ہوتاہے کہ اس جھوٹے پیغمبر کو شیطان عالم غیب کی خبر دیتا تھا اور غیر معمولی و قانون فطرت کے مخالف کام کو اس کی زبان اور سائر اعضاء سے جاری کرتا تھا وہ حقیقت میں شیطان تھا لیکن اسود اسے فرشتہ کہتا تھا اور بہت سے لوگ اس کے ان غیر معمولی کارناموں کی وجہ سے اس پر ایمان لے آئے تھے۔

یہ وہ مطالب ہیں جنہیں سیف نے خود جعل کرکے اسود کی داستان میں اضافہ کیا ہے، لیکن کس محرک نے اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا ؟ اس کو خدا بہتر جانتا ہے ہمیں کیا معلوم؟

شاید سیف کے ان جھوٹ اور اکاذیب جعل کرنے میں اس کا مقصد یہ تھا کہ وحی ، ملائکہ ، غیب کی خبریں ، معجزات کی کیفیت اوردر نتیجہ پیغمبروں کے غیر معمولی کار نامے کا مضحکہ کرنا تھا جیسا کہ اس نے اس افسانہ میں انجام دیا ہے اور انھیں شیطانیحرکت یا کہا نت یا جنات اور شیاطین سے ارتباط کے طو پر معرفی کرتا ہے اور اس داستان کو تمام پیغمبروں کے غیبی ارتباط اور فعالیت کے ایک نمونہ کے طور پر پیش کرتا ہے اس طرح ان تحریفات میں اس کا محرک پیغمبروں کے کام کا مذاق اڑانا ہے اس میں اس کا وہی زندقہ و بے دین ہونا کارفرما تھا ۔

شاید وہ اس طرح مسلمانوں کو ان کے عقیدہ میں سست او رمتزلزل کرنا چاہتا تھا تا کہ انھیں اس طرح تلقین کر ے کہ کیا معلوم اسود کے غیبی کارنامے نیرنگ اور شیطنت پر متکی ہوں اور دوسرے پیغمبروں کے کارنامے فرشتہ و حقیقت پر متکی ہوں ؟ شائد دوسرے پیغمبربھی اسود کے مانند ہوں اور ان کے فرشتے بھی اسود کے فرشتہ کے مانند تھے !

بہر حال ، سیف کا مقصد جو بھی ہو ، وہ اس کام میں کامیاب ہوا ہے کہ خرافات کو مسلمانوں کے عقائد میں ملاوٹ کرکے اپنے جھوٹ اور جعلیات کو ان کے ذہن میں ڈال دے ۔

یہاں تک کہ طبری جیسے مورخین اور نامور مؤلفین نے بھی اس کے جھوٹ اور جعلیات کو مسلمانوں کے درمیان شائع کیا ہے اور صدیاں گزرنے کے بعد بھی کسی نے ان پر توجہ نہیں کی ہے ۔

اسود عنسی کی داستان کے راویوں کا سلسلہ

اولا ً: سیف نے جس داستان کو اسود عنسی کی داستان کے نام سے جعل کیا ہے ، وہ دو حصوں پر مشتمل ہے:

۱ لف) اس کے ایک حصہ میں اصلی داستان میں بعض مطالب تحریف کئے گئے ہیں اس کو سیف نے تحریف اور رنگ آمیزی کرکے ایک نئی صورت دیدی ہے ۔

دوسرے حصہ میں ایسے افسانے ہیں کہ سیف نے خود انہیں جعل کیا ہے اور اصل داستان میں ان کا اضافہ کیاہے ۔

اس کے بعد ان سب کو روایتوں اور احادیث کی صورت میں پیش کیا ہے اور ان روایتوں کیلئے اپنے جعلی راویوں کے ذریعہ ایک سند بھی جعل کی ہے اور اسے مکمل اور مضبوط کرنے کے بعد علمائے تاریخ کی خدمت میں پیش کیا ہے ۔

سیف نے ان روایتوں کو مندرجہ ذیل راویوں سے نقل کیا ہے :

۱ ۔ سہل بن یوسف سلمی

۲ ۔ عبد بن صخر بن لوذان سلمی انصاری

۳ ۔ عروة بن غزیہ دثینی

۴ ۔ مستنیر بن یزید نخعی

ہم نے حدیث اور رجال اور تاریخ کی کتابوں میں تحقیق کرنے کے بعد جان لیا کہ یہ سب افراد سیف کے جعلی راوی ہیں اور حقیقت میں ان کا کہیں وجود ہی نہیں تھا ۔

ثانیاً : اسود عنسی کی داستان کی جن روایتوں کو سیف نے اپنے جھوٹے روایوں سے نقل کیاہے ، مندرجہ ذیل مؤرخین نے انھیں ان سے لے کر اپنی کتابوں میں درج کر دیا ہے :

۱ ۔ طبری نے سند کے ذکر کے ساتھ۔

۲ ۔ ذہبی نے ” تاریخ اسلام “ میں سیف تک سندکے ذکر کے ساتھ ۔

۳ ۔ ابن اثیر نے ” الکامل “ میں ۔

۴ ۔ ابن کثیر نے البدایہ و النہایة میں ۔

موخر الذکر دو مورخین نے اسود عنسی کی داستان کے بارے میں سیف کی روایتوں کو طبری سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

۵ ۔ سمعانی نے ” انساب“ میں ان روایتوں کے ایک حصہ کو درج کیا ہے ۔

۶ ۔ ابن اثیر نے ان روایتوں کو ” لباب“ میں درج کیا ہے لیکن یہاں پر سمعانی سے نقل کرتا اور اس کی سند کو سیف تک پہنچاتا ہے۔

۷ ۔ حموی نے ” معجم البلدان “ میں ان روایتوں کے ایک حصہ کو سند کے بغیر درج کر دیا ہے۔

جواہرات کی ٹوکری اورحضرت عمر کا معجزہ

لست ادری ما ذا قصد واضع هذا الخبر

میں نہیں جانتاکہ اس جھوٹی داستان کو جعل کرنے والے کا مقصود کیا ہے ؟

مولف

ہم نے گزشتہ فصلوں میں کہا کہ سیف کی خرافات پر مشتمل داستانیں دو قسم کی ہیں : ان میں سے ایک حصہ کو سیف نے خود جعل کیا ہے اور اس کا دوسرا حصہ ان جعلی داستانوں پر مشتمل ہے کہ جس میں دوسروں نے بھی اس کا ہاتھ بٹایا ہے ۔ ہم نے سیف کی ان داستانوں کے نمونے گزشتہ پانچ فصلوں میں پیش کئے ، جنہیں سیف نے خود جعل کیا ہے ۔ اب اس فصل میں خرافات پر مشتمل اس کی ان داستانوں کے سلسلہ کو پیش کریں گے جن کے جعل کرنے میں دوسروں نے بھی سیف کا ہاتھ بٹایا ہے پھر یہ داستانیں تاریخ اسلام اور مسلمانوں کے عقائد میں داخل ہوئی ہیں ، جیسے مندرجہ ذیل داستان:

سیف کہتا ہے :

خلیفہ دوم عمر بن خطاب نے ” ساریہ بن زنیم دئلی “ کو ” فسا“ اور ” داراب“ کے شہروں کی طرف روانہ کیا، ساریہ کے سپاہیوں نے ان دو شہروں کے باشندوں کو اپنے محاصرہ میں لے لیا ۔ ایرانیوں نے اطراف و اکناف میں خبر دی اور دیہات و قصبوں کے لوگوں سے مدد طلب کی ،لوگ ہر طرف سے ان کی طر ف مدد کوآ گئے اور اس طرح ایک عظیم فوج جمع ہوگئی اور ساریہ کے سپاہیوں کو اپنے بیچ میں قرار دیا ۔ خلیفہ دوم عمر مدینہ میں نما ز جمعہ کے خطبے پڑھنے میں مشغول تھے ، وہاں سے جب انھوں نے فسا میں ساریہ کے سپاہیوں کے حالات کا مشاہدہ کیا۔ تو وہیں سے ان کی طرف خطاب کیا : ” یا ساریة بن زنیم الجبل ، الجبل “ اے ساریہ ! پہاڑ کی طر ف پناہ لے لو ۔ پہاڑ کی طرف ، فسا میں مسلمانوں نے مدینہ سے عمر کی آواز سنی ۔ وہ ایک پہاڑ کے کنارے پر پناہ گزیں تھے کہ اگر اس پہاڑ میں پناہ لیتے تو دشمن صرف ایک طرف سے ان پر حملہ کرسکتا تھا ۔ مسلمان سپاہیوں نے بھی عمر کی آواز سن کر اسی پہاڑ میں پناہ لے لی اور وہاں سے ایرانیوں پر حملہ کیا اور انھیں شکست دیدی ساریہ نے اس جنگ میں کافی مقدار میں مال غنیمت پر قبضہ کیاکہ ا ن میں گراں قیمت جواہرات سے بھری ایک ٹوکری بھی تھی۔ ساریہ نے سپاہیوں سے درخواست کی کہ جواہرات بھری یہ ٹوکری خلیفہ کو بخش دیں ۔ سپاہیوں نے اس کی موافقت کی ساریہ نے اس ٹوکری کو فتح کی نوید اور خبر کے ساتھ اپنے ایک سپاہی کے ذریعہ عمر کے یہاں بھیج دیا ۔وہ شخض خلیفہ کی مجلس میں اس وقت پہنچا جب دستر خوان بچا ہوا تھا اور ایک گروہ کو کھانا کھلا یا جارہا تھا ۔ ساریہ کا قاصد بھی خلیفہ کے حکم سے ان سے جاملا ، جب انہوں نے کھانا کھا لیا تو خلیفہ اٹھ کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے ، ساریہ کا قاصد بھی اس کے پیچھے پیچھے چلا ، عمر جب گھر پہنچے تو اس کیلئے دوپہر کا کھانا لایا گیا جو خشک روٹی ، روغن زیتون اور نمک پر مشتمل تھا ، عمر نے اپنی بیوی ام کلثوم سے کہا:

کیا کھانا کھانے کیلئے ہمارے پاس نہیں آؤگی ؟

ام کلثوم نے کہا: میں آپ کے پاس ایک اجنبی مرد کی آواز سن رہی ہوں ۔

عمر نے کہا: جی ہاں ، ایک اجنبی مرد میرے پاس بیٹھا ہوا ہے ۔

ام کلثوم نے کہا: اگرآپ چاہتے ہیں کہ میں مردوں کے پاس آجاؤں ، تو میرے لئے بہتر اور مناسب لباس فراہم کریں ۔

عمر نے کہا؛ کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ لوگ یہ کہیں کہ ام کلثوم علی کی بیٹی اور عمر کی بیوی ہے ؟ ام کلثوم نے کہا: یہ کوئی ایسا فخر نہیں ہے جو مجھے خوشنود یا سیر کرے عمر نے ساریہ کے قاصد سے کہا؛ سامنے آجاؤ اور کھانا کھاؤ ، اگر وہ مجھ سے راضی ہوتی تو یہ کھانا اس سے بہتر ہوتا ۔

سیف کہتا ہے : دونوں کھانا کھانے میں مشغول ہوئے ، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو اس شخص نے کہا: میں آپ کے لشکر کے کمانڈر ساریہ کا قاصد ہوں ۔

عمر نے اسے خوش آمدید کہا اور اپنے بہت نزدیک بٹھایا اس کے بعد لشکر کے بارے میں اس سے حالات پوچھے ساریہ کے قاصد نے مسلمانوں کی فتح وکامیابی کی خبرخلیفہ کو سنادی اور جواہرات کی ٹوکری کی روداد سے بھی انھیں آگاہ کیا ۔ عمر نے اسے قبول نہیں کیا اور اس کے ساتھ تند کلامی کرتے ہوئے بولے: ان جواہرات کو واپس لے جاؤ اور سپاہیوں کے درمیان تقسیم کردو

سیف نے ایران کے شہر ” فسا“ اور ” داراب“ کی فتح کی داستان کو دو مختلف سندوں سے نقل کیا ہے ان میں جواہرات کی ٹوکری کی روداد کو ساریہ سے منسوب کیا ہے ۔

سیف نے جواہرات کی داستان کو سلمة بن قیس شجعی(۱) کی کردوں کے ساتھ جنگ میں بھی ذکر کیا ہے لیکن اس روایت میں جواہرات بھیجنے کی داستان کوسلمة سے منسوب کیا ہے اور کہا ہے کہ سلمة بن قیس نے ان جواہرات کو کردوں سے غنائم کی صورت میں حاصل کرکے عمر کو تحفہ کے طور پر بھیجا ہے۔

دوسری روایت کو طبری نے سیف سے نقل کیا ہے اور طبری سے بھی ابن کثیر نے نقل کرکے اپنی کتاب میں درج کیا ہے فیروز آبادی نے بھی ” قاموس“ میں اور زبیدی نے ”تاج العروس “ میں اسے لغت ” سری “ کی تشریح میں سند کے ذکر کے بغیر درج کیا ہے ۔

داستان کے متن کی جانچ پڑتال

یہ تھا سیف کی روایت کے مطالب جنگ ساریہ اور صندوق جواہرا ت کی داستان کا خلاصہ اس داستان کو دوسرے مؤرخین نے بھی دیگر اسناد کے ساتھ درج کیا ہے لیکن ہم نہیں جانتے کہ کیا اصل داستا ن کو سیف نے جعل کیا ہے اور دوسروں نے اس سے اقتباس کرکے سیف کی اسناد کے علاوہ دوسری اسناد اس میں اضافہ کی گئی ہیں یا یہ کہ اصل داستان کو دوسروں نے جعل کیا ہے اور سیف نے ان سے اقتباس کرکے ان پر بعض اسناد کا اضافہ کیا ہے؟

بہر حال ہم اس داستان کی سند اور اس کے وجود میں آنے کی کیفیت پر تحقیق کرنا نہیں چاہتے اور ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ اس کی تاریخ پیدائش اور اشاعت پر بحث کریں کیونکہ ان دو موضوعات پر بحث و تحقیق انتہائی طولانی اور تھکادینے والی ہوگی ۔

بلکہ ہم اس داستان کو متن کے لحاظ سے تحقیق کرنا چاہتے ہیں جو نکات اس داستا ن میں بیان ہوئے ہیں ان پر بحث و تحقیق کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ اس داستان کا متن اس کے جھوٹے ہونے کا ایک رسوا کنندہ اور مستحکم شاہد ہے پھر ایسی مضبوط دلیل اور واضح گواہ ہوتے ہوئے دوسرے دلائل کی ضرورت ہی نہیں ہے

ملاحظہ ہو متن داستان :

۱ ۔ اس داستان میں آیا ہے : جب عمر مدینہ میں نماز جمعہ کا خطبہ پڑھ رہے تھے۔ اچانک ان پر حقیقت کشف ہوئی اور شہر مدینہ سے شہر فسا میں اپنے سپاہیوں کی خطرناک حالت کو مشاہدہ کیا اور ان کی اتنی دور ی سے ان کی رہنمائی کی اور پہاڑوں میں پناہ لینے کی ہدایت کی۔عمر کی آواز سپاہیوں کے کانوں تک پہنچ گئی انہوں نے اس کے حکم کے مطابق پہاڑوں میں پناہ لے لی اور مورچے سنبھالے اور قطعی و حتمی شکست سے بچ گئے اور ایک بڑی فتح و کامیابی حاصل کی ۔

ہم کہتے ہیں کہ اگر پر وردگار کی اپنے نیک بندوں سے رسم وروش ایسی تھی تو اس خلیفہ کو ”پل ابو عبید “کی روداد میں کیوں آ گاہ نہیں نہ کیا تاکہ وہ اپنے لشکر کو اس پل سے گزرنے نہ دیتا اور اتنی بڑی شکست سے دوچار ہونے سے بچا لیتا۔

کیوں جنگ احد میں خداوند عالم نے اپنے پیغمبر کو آگاہ نہیں کیا کہ جن تیر اندازوں کو محا فظت کے لئے مقر ر کیا تھاا نھیں اپنی ماموریت کی جگہ پہاڑ کے درہ کوخالی کرنے نہ دیتے تاکہ مشر کین کے سپاہی مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ نہ کر سکتے جس کی وجہ سے مسلمانوں کو وہ نا قابل تلا فی شکست و ہزیمت اٹھانا پڑی اور مسلمانوں کے بہت سے افراد کو تہہ تیغ کیا گیا؟

۲ ۔ مزید ہم کہتے ہیں کہ جو شخص قاصد کی حیثیت سے عمر کی طرف روانہ ہوا تھا اس نے کس طرح اس فتح وکا مرانی کی خبر کو اتنی مدت تک تاخیر میں ڈال دیا اور یہ نوید خلیفہ کو نہ پہنچا ئی تاکہ کھانا کھانے کی روداد تمام ہوئی اور اس کے بعد پورے راستے میں خلیفہ کے ہمراہ ان کے گھر تک اس سلسلہ میں کچھ کہا اور خلیفہ کے گھر میں بھی لب کشائی نہیں کی یہاں تک دوسری بار کھانا کھانے سے فارغ ہوا اس کے بعد اپنے آپ کوپہچنوای

جی ہاں ، کیسے اور کیوں اس قاصد نے اتنی اہم خبر کو اس طولانی مدت تک تاخیر دیتا رہا؟اور اس مدت کے دوران اس کا اونٹ کہاں پر تھا ، جس پر جواہرات کی ٹوکری لادی ہوئی تھی؟

۳ ۔ ہم پوچھتے ہیں : سیف کے کہنے کے مطابق جواہرات کو تحفہ کے طور پر عمر کو بھیجنے والا کمانڈر کون تھا؟

۴ ۔ پھر ہم پوچھتے ہیں کہ جنگ کن کے ساتھ تھی، ایرانیوں سے یاد کُردوں سے ؟ اگر کُردوں سے تھی تو کس جگہ پر اور کس علاقہ میں تھی ؟

۵ ۔پھر ہم پوچھتے ہیں کہ کس طرح خلیفہ نے اپنی بیوی ام کلثوم سے مطالبہ کیا کہ آکر ایک نا محرم کے ساتھ بیٹھے اور اس کے ساتھ ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھائے ؟

کیا ام کلثوم نے خلیفہ کی درخواست اس لئے منظور نہیں کی کہ اس کے لباس نئے اور مردوں کی بزم کے مناسب نہیں تھے ؟ جبکہ خداوند عالم فرماتا ہے : ” عورتیں یہ حق نہیں رکھتی ہیں کہ اپنی زینت مردوں کو دکھائیں مگر یہ کہ اپنے شوہر یا ماں باپ اور اولاد کو“ کیا مدینہ پیغمبر ان دنوں مردو زن کے اختلاط کے لحاظ سے آج کل کے ہمارے شہروں کے مانند تھا اور خلیفہ بھی آج کے زمانے کے مردوں کی طرح تھے کہ اپنی بیوی کو نامحرموں کی محفلوں میں شرکت کی اجازت دیتے اور ان کی بیوی بھی مردوں کی محفلوں میں خودنمائی اور خودآرائی کرتی ؟ کیا اس زمانے میں مدینہ منورہ میں کوئی مرد اپنی بیوی سے متعلق اس قسم کا کام نجام دیتا تھا؟

ہم نہیں جانتے اس داستان کو جعل کرنے والے کا مقصد کیا تھا ؟ البتہ ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ وہ اس قسم کی خرافات او ر جھوٹ پر مشتمل داستانیں جعل کرکے انھیں مسلمانوں کے اعتقادات میں داخل کرنا چاہتا تھا تا کہ اس طرح مسلمانوں کو ان کے عقائد میں سست او رمتزلزل کر سکے منتہی اس نے تاریخ نویسی ، سیرت اور اصحاب پیغمبر کے حالات بیان کرکے اپنے اس مقصد کی طرف قدم بڑھا یا ہے، کیونکہ اس قسم کی تاریخ اور سیرت جیسے خلیفہ کے زہد و تقوی کی داستان ، قدرتمندوں اور صاحبان اقتدار کے فضائل و معجزے سننا اکثر لوگوں کیلئے خوش آئند اور لذت بخش ہے، اور اس طرح اسے قبول کرنا ان کیلئے آسان ہوتا ہے ۔

اس داستان کے بارے میں دانشوروں کا طریقہ کار:

گذشتہ دانشوروں کی کتابوں کے مطالب سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض علماء اس داستان کے جعلی اور جھوٹی ہونے کے بارے میں متوجہ ہوئے ہیں اور اس سلسلہ میں ا پنے نظریات کو واضح طور پر بیان کرچکے ہیں اب ہم ان میں سے بعض نمونے حسب ذیل بیان کرتے ہیں :

۱ ۔ ابن اثیر نے اپنی تاریخ میں ا س داستان کو نقل کیا ہے لیکن خلیفہ کی اپنی بیوی سے ایک اجنبی مرد کے ساتھ دسترخوان پر کھاناکھانے کی گفتگو کی روداد جو ساریہ اور مسلمہ کی خبر میں آئی ہے کو حذف کیا ہے جبکہ داستان کا یہ حصہ اس افسانہ کا شاہکار ہے جو اس داستان کو جعل کرنے والے کا بنیادی مقصد تھا۔

۲ ۔ ابن حزم ” جمہرة الانساب “ میں جب بنی الدیل کے شجرہ نسب پر پہنچتا ہے تو کہتا ہے :

” ساریہ بن زنیم “ اور یہ وہی ساریہ ہے جس کے بارے میں نقل کیا گیا ہے کہ عمر نے اسے مدینہ سے پکارا اور اس نے ایران کے ”فسا “ میں عمرکی آواز سنی، لیکن یہ مطلب بہت بعید ہے میری نظر میں اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اور صحت سے کوسوں دور ہے۔

۳ ۔ سیف اس داستان میں کہتا ہے: ” جنگ د ارا بجرد “ میں مسلمانوں کے ہاتھ جواہرات کی ایک ٹوکری ہاتھ آئی ، اسے تحفہ کے طور پر خلیفہ کی خدمت میں بھیجا گیا ، لیکن دوسرے مؤرخین کے بیان میں یہ داستان دوسری صورت میں ذکر ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر :

بلاذری ” فتوح البلدان “ میں کہتا ہے : خلیفہ دوم نے ، جنگ نہاوند میں جنگی غنائم کی سرپرستی ”سائب بن اقرع ‘ کو سونپی ، اس نے بھی غنائم کو جمع کیا اور انھیں جنگ میں شرکت کرنے والے مسلمانوں میں تقسیم کیا ۔ سائب نے نہاوند میں غنائم تقسیم کرنے کے بعد ایک خزانہ پایا ۔ اس خزانہ میں جواہرات سے بھری دو ٹوکریاں تھیں ان دونوں ٹوکریوں کو غنائم جنگی کے خمس کے ساتھ خلیفہ عمر کے پاس لے گیا ، ان کے پیدا ہونے کی تفصیلات خلیفہ کو بتائی ، خلیفہ نے کہا: انھیں بازار میں بیچ کر اس کے پیسے محاذ جنگ میں شرکت کرنے والے مسلمانوں میں تقسیم کردو۔ سائب ان جواہرات کو بازار کوفہ میں لے گیا اور عمرو بن حریث کو فروخت کیا اور اس کے پیسے محاذ جنگ میں شرکت کرنے والے سپاہیوں میں تقسیم کیا(۱)

اسی روداد کے مانند دینوری نے ” اخبار الطوال “ میں ا ور اعثم نے اپنی ”’ فتوح “ میں نقل کیا ہے ۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ سائب نے جنگ نہاوند میں پائے جانے والے جواہرات کی ان دو ٹوکریوں کو ان اموال میں محسوب کیا ہے کہ جو حملہ اور جنگ کے بغیر انہیں حاصل کیا گیا ہو اور یہ غنائم کا جزء نہیں ہے کہ انھیں غنائم کے خمس کے ہمراہ خلیفہ عمر کو بھیجا ہوگا ۔ لیکن عمر نے اسے غنائم جنگی محسوب کرکے محاذ جنگ میں شرکت کرنے والے سپاہیوں کیلئے واپس بھیج دیا ۔ لیکن، سیف کہتا ہے کہ یہ جواہرات جنگ فسا میں ، جنگ و غلبہ کے دوران مسلمانوں کے ہاتھ آئے ، اور مسلمانوں نے انھیں اپنے کمانڈر کے حکم سے تحفہ کے طورپر خلیفہ کی خدمت میں بھیج دیا نہ اس صور ت میں کہ یہ خلیفہ وقت سے مخصوص تھے ۔

یہ تھا ، مؤرخین کی روایتوں کے مطابق جواہرات کے ایک صندوق یا دو صندوقوں کی داستان کا خلاصہ جو سیف کی روایتوں سے کسی قسم کی مطابقت نہیں رکھتا ہے ۔

۴ ۔ سیف کہتا ہے کہ ایک اہم جنگ چھڑ گئی او رمسلمان اس جنگ میں فاتح ہوئے اس وقت مسلمانوں کے لشکر کا کمانڈر ساریة بن زینم تھا ۔

لیکن بلاذری ” فتوح البلدان “ میں کہتا ہے کہ اولا ً: ”دارابجرد “ میں کوئی جنگ ہی واقع نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ جگہ وہاں کے لوگوں کے ہتھیار ڈالنے اور صلح کے ذریعہ فتح ہوئی ہے اور اس کا فاتح بھی عثمان بن ابی ا لعاص ثقفی تھا نہ ساریة بن زنیم اور مسلمانوں کے لشکر کا سپہ سالار بھی ابو موسیٰ اشعری تھا نہ ابن زنیم ۔

چھان بین اور موازنہ کا نتیجہ

۱ ۔ ” فسا“ اور ” دارابجرد “ ساریہ کے ہاتھوں فتح نہیں ہوئے ہیں ، بلکہ ان دو شہروں کا فاتح عثمان بن ابی العاص تھا ۔ اور اس جنگ میں سپہ سالار اعظم ابو موسی ٰ اشعری تھا ۔

۲ ۔ جواہرات کے صندوق کو ساریہ یا سلمہ اشجعی نے خلیفہ کے یہاں نہیں بھیجا ہے ، بلکہ اسے جنگ نہاوندمیں مسلمانوں کے کمانڈر سائب بن اقرع خلیفہ کے پاس لے گیاہے۔

____________________

۱۔ سائب قبیلہ ثقیف سے ہے وہ ایک نوجوان تھا اپنی والدہ ملیکہ کے ساتھ مدینہ میں پیغمبر خدا کے حضور پہنچا ، پیغمبر نے اس کے سر پر دست شفقت پھیرا اور اس کے حق میں ایک دعا کی ، سائب پیغمبر کے بعد اصفہان کا گورنر بنا اور آخر تک وہیں تھا یہاں تک کہ وفات پائی (اسد الغابہ : ،ج ۲/۲۴۹ و الاصابہ، :۲/ ۸)


۳ ۔ جوہرات کے اس صندوق کیلئے سپاہیوں میں سے کسی نے خلیفہ کیلئے درخواست نہیں کی ہے بلکہ یہ ایک خزانہ تھا جو نہاوند میں ہاتھ آیا تھا جسے غنائم جنگ پر مامور سائب نے غنائم کے خمس کے طور پر مدینہ میں خلیفہ کے پاس لے گیا ۔ اس لحاظ سے نہ سلمہ نے کسی قاصد کو جواہرات کے ساتھ مدینہ بھیجا ہے اور نہ فتح فسا اور دارابجرد میں ساریہ موجود تھا تا کہ کسی قاصد کو مدینہ بھیجتا اور خلیفہ بھی آرزو کرتا کہ اس کی بیوی ام کلثوم سلمة یا ساریہ کے قاصد کے ساتھ دستر خوان پر کھانا کھائے ۔

اور اسی طرح اس داستان کے باقی حصہ میں بھی مذکورہ حصہ کی طرح ضعف و جھوٹ کی کمی نہیں ہے اسی لئے بعض مورخین اس داستان کے افسانوی اور جھوٹی ہونے کے بارے میں متوجہ ہوئے ہیں اور ان میں سے ایک نے اس داستان کے ایک حصہ کو حذف کیا ہے اور ایک دوسرے مؤرخ نے اس کے ایک حصہ کو بعید جان کر اسے نادرست بتایا ہے ۔

لیکن جو بھی ہو یہ افسانہ تاریخ ، حدیث اور لغت کی کتابوں میں اپنی جڑ مضبوط کرکے آج تک وسیع پیمانے پر پھیل کر شہرت حاصل کرچکا ہے اور اس قسم کے افسانوں کی شہرت اور اشاعت کا محرک یہ تھا کہ اسکو جعل کرنے والے نے داستان سرائی میں عجیب چالاکی اور مہارت سے کام لیا ہے اور جو کچھ جعل کیا ہے اسے خلیفہ کے زہد و فضیلت کو تشہیر کرنے کے لفافے میں بند کرکے اصحاب کی مدح و تعریف کا لباس پہنا کر تاریخ کے بازار میں پیش کیا ہے تاکہ بیہودہ اور متعصب افراد کے لئے پسندیدہ اور خوش آئند ہو اور اسی افراط اور حد سے زیادہ محبت کی وجہ سے ان کی سند کا ضعف اورمتن کی کمزوری ، حتی قرآن مجید کی صریح آیات کی مخالفت ہونے سے بھی چشم پوشی کرکے د ل کھول کر ان کے استقبال کیلئے آگے بڑھیں اور انھیں اپنی کتابوں میں درج کرکے تاریخ اسلام کے حقیقی حوادث کے طور پر شائع کریں ۔

خلا صہ اور نتیجہ

ہم نے کتاب کے اس حصہ میں سیف کی جھو ٹی داستا نوں کے کئی نمو نوں کے بارے میں بحث و تحقیق کی اور انھیں متن اور سند کے لحاظ سے جانچ پڑتال کر کے دوسرے مور خین کی روایتوں کے ساتھ تطبیق اور موازنہ کیا۔ اس پو ری بحث و تحقیق کا نتیجہ حسب ذیل صورت میں حاصل ہوا کہ سیف کی روایتوں کے مطابق :

۱ ۔ خالد نے مہلک اور خطر ناک زہر کو ایک دفعہ نگل لیا، لیکن اس زہرنے خالد پرکسی قسم کا اثر نہیں کیا ۔

۲ ۔شہر حمص کے مکانات مسلمانوں کی تکبیر کی آواز سے منہدم ہو گئے اور در ودیوار گرکر زمین بوس ہوگئیں ۔

۳ ۔ صاف نامی ایک صحابی ---جو وہی دجال معروف ہے --- نے شہر شوش کے قلعہ کے دروازے پر ایک لات ماری اور اس کی زنجیریں اورقفل ٹوٹ کرڈھیر ہوگئے اور شہر کا دروازہ مسلمانوں کے لئے کھل گیا۔

۴ ۔ جھو ٹے پیغمبر اسود عنسی کاایک شیطان تھا جوحقیقی پیغمبر وں کے فرشتہ کے مانند اسے وحی کرتاتھا اور اسے غیبی اسرار کے بارے میں آگاہ کرتاتھا اور وہ اس کی وجہ سے غیر معمولی کام انجام دیتاتھا۔

۵ ۔ عمر نے اپنے فوجی سپہ سالار کو جو ایران کے ”دارا بجرد “نامی مقام پر تھا مدینہ سے پکارا اور اس کی جنگی پالیسی کے لحاظ سے راہنمائی کی جو مسلمانوں کی فتحیا بی کا سبب بنا۔

۶ ۔ عمر اپنی بیوی کو حکم دیتے ہےں کہ ایک نامحرم اور اجنبی مرد کے ساتھ ہم دسترخوان ہو جائے تو وہ نئے لباس نہ ہو نے کی وجہ سے ایسا کر نے سے انکار کرتی ہے۔

لیکن یہ سب مطالب جھوٹ اور بے بنیاد ہیں اور افسانہ کے علاوہ کچھ نہیں ہیں کہ افسانہ نویس سیف نے انھیں جعل کیا ہے اور اصحاب پیغمبر کی مدح و فضلیت کے عنوان سے مسلمانوں کے اختیار میں پیش کیا ہے اور سادہ لو ح و متعصب افراد جواس قسم کی جھوٹی داستانوں کو اپنے اسلاف اور ان داستانوں کے سور ماؤں کے لئے ایک فضیلت سمجھتے ہیں لہذا انھوں نے حرص و طمع اور انتہائی دلچسپی کے ساتھ سیف سے نقل کر کے ان کی وسیع پیمانے پر اشاعت کی ہے جبکہ وہ زندیق اور کافر سیف کے خطر ناک مقاصد کے بارے میں متو جہ نہیں ہوئے ہیں کہ وہ ان افسانوں کو جعل کر کے خرافات اور جھوٹ کو اسلام کے اصلی عقا ئد میں شامل کر نا چاہتا ہے اور مسلمانوں کو تو ہم پر ست اور تنگ نظر دیکھانا چاہتا ہے تاکہ انھیں بیو قوف اور احمق ثابت کرے، پیغمبروں کی و حی اور ان کے معجزات کا مذا ق اڑائے، لو گوں کو اس قسم کے مسائل کے بارے میں بد ظن اور بے تعلق بنادے ،ورنہ وہ اس کے علاوہ کونسا محرک رکھتاتھا جس کے پیش نظر شہر شوش کے دروازہ کے قفل کو توڑ نے کے لئے دجال اوراس کے فر مان سے مستند بنائے؟اور جھو ٹے پیغمبری کا دعوی کر نے والے اسود عنسی سے نسبت دے کہ فرشتہ(شیطان)اسے وحی کرتا اور اسے غیبی اسرار سے آگاہ کرتا تھا،اور وہ اس کے ذریعہ غیر معمولی کام اور معجزے انجام دیتا تھا ،اس حالت میں ا س جھوٹے پیغمبر جسے شیطان خبر دیتا تھا اور ایک حقیقی پیغمبر جسے فرشتہ خبر دیتا تھا کے درمیان کیا فرق ہے ؟ کیونکہ یہ دونوں خبر لانے والے کو فرشتہ کہتے ہیں اور اپنی اطلاعات کو اسی سے مستند کرتے ہیں ۔

اس نے کس مقصد کے پیش نظر عمر کو یہ نسبت دی ہے کہ وہ چاہتا تھا کہ اپنی بیوی کو ایک نامحرم اور اجنبی مرد کے سامنے لاکر اسے دکھائے اس میں اس کے علاوہ کوئی اور علت نہیں تھی کہ وہ مسلمانوں کے عقیدہ کو متزلزل اور مخدوش کرنا چاہتا تھا اور اس طرح دین مخالف مطالب کو ان کے دین و مذہب کے ساتھ ممزوج کرنا چاہتا تھا ۔

حیوانوں کے فصیح عربی زبان میں گفتگو کرنے میں ا س کا مقصود کیا تھا؟ کہ وہ کہتا ہے : ” بکیر “ نے اپنے معروف گھوڑے ” اطلال “ سے کہا: چھلانگ لگاؤ ندی کے اُس پار اے میرے اطلال ! گھوڑے نے فصیح عربی زبان میں کہا؛ سورہ بقرہ کی قسم میں نے چھلانگ لگائی یا کہتا ہے کہ : عاصم نے چرواہے سے گائے کے بارے میں سوال کیا ، اس نے جواب دیا : میں نے یہاں پر کوئی گائے نہیں دیکھی کچھار میں موجود گائے نے بولتے ہوے فصیح عربی زبان میں کہا: خدا کی قسم اس دشمن خدا نے جھوٹ بولا ہے ہم یہاں پر موجود ہیں “

سیف کا ان افسانوں اور اس قسم کے دسیوں افسانوں کو جعل کرنے میں کیا مقصد تھا کہ اس نے انہیں روایتوں میں بیان کیا ہے اور اس طرح ان کو مسلمانوں کے عقائد میں شامل کیا ہے ؟

وہ اس افسانہ سازی سے اس کے علاوہ کوئی اور مقصد نہیں رکھتا تھا کہ مسلمانوں کے عقائد میں تشویش اور تخریب پیدا کرے اور انھیں توہم پرست اور تنگ نظر ثابت کرے ، ان کی عقل و دین پر ڈاکا مارے اور اس تمام راہ میں صرف محرک اس کا کفر و زندقہ ہونا تھا ۔

سیف نے جعل و تحریف کی اس مقدار پر اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ اس کے علاوہ تاریخ اسلام کے مختلف حوادث میں بہت سے ناموں میں تغیر و تحریفات کیں اور جعلیات بھر دئے ہیں اور ایک نام کو دوسرے نام میں بدل دیا ہے اس طرح تاریخ کے واضح حقائق کو تاریک اور نامعلوم بنا کے رکھ دیا ہے ان ہی تغیرات اور تبدیلیوں کی وجہ سے گزشتہ کئی صدیوں سے دانشمندوں اور محققین کیلئے یہ حوادث نامفہوم اور نامعلوم بن کر رہ گئے ہیں کہ اس کی صحیح تشخیص دینے میں مغالطہ سے دوچار ہوئے ہیں اور بہت سے اسلامی حقائق ان کیلئے غیر واضح رہے ہیں ہم اس قسم کے تحریفات اور تغییرات کے نمونے آنے والی فصل میں بیان کریں گے ۔


اس حصہ سے مربوط مطالب کے مآخذ

۱ ۔ داستان صلح حیرہ اور خالد کے زہر کھانے کی روداد سے متعلق مآخذ:

۱ ۔ صلح حیرہ، خالد کا زہر کھانے اور ” عبد المسیح بن عمرو“ کا نام تبدیل ہوکر ” عمرو بن عبد المسیح“ ہونا سیف کی نقل کے مطابق۔

تاریخ طبری : ج/ ۱ ،ص/ ۲۰۳۹ ۔ ۲۰۴۴ ، ۲۱۹۷ ، ۲۲۵۵ ، ۲۲۵۶ اور ۲۳۸۹ ،

۲ ۔ صلح حیرہ، زہر کھانے کی روداد اور نام کی تبدیلی کے بغیر ، کلبی کی نقل کے مطابق:

تاریخ طبری : ج / ۱ ،ص/ ۲۰۱۹

۳ ۔ صلح حیرہ ، زہر کھانے کی روداد اور نام کی تبدیلی کے بغیر،

فتوح البلدان بلاذری ، ۲۵۲ ۔

۴ و ۵ ۔ صلح حیرہ میں خالد سے گفتگو کرنے والے کا نام ” عبدا لمسیح بن عمرو “ تھا نہ ” عمرو بن عبد المسیح “ انسان ابن کلبی نسب قحطان کی تشریح میں ا ور ” جمہرة الانساب “ ابن حزم : ۳۵۴ ۔

۶ ۔ صلح حیرہ ، خالد کے زہر کھانے کے افسانہ کے ساتھ اور نام کی تبدیلی سیف کی نقل کے مطابق:

تاریخ ابن اثیر ، طبع منیریہ ۲/۲۶۶

۷ ۔ خالد کے زہر کھانے کا افسانہ ، تاریخ ابن کثیر ، : ۶/ ۳۴۶ ،

۲ ۔ عمر کے بارے میں پیغمبر کی بشارتوں کی داستان کے مآخذ

الف : روایات سیف :

۱ ۔ تاریخ طبری : ۱/ ۲۵۸۶ ، ۱۵ ھء کے حوادث میں ۔

۲ ۔ تاریخ طبری : ۱/ ۲۳۹۷ ۔ ۲۴۱۱ ، ۱۵ ھء کے حوادث میں ۔

۳ ۔ تاریخ ابن اثیر : ۲/ ۳۸۷ ۔ ۳۸۹ ، ۱۵ ھء کے حوادث میں ۔

۴ ۔ تاریخ ابن کثیر : ۷/ ۴۵ ۔ ۵۸ ، ۱۵ ھء کے حوادث میں ۔

۵ ۔ تاریخ ابن خلدون : ۲/ ۳۳۶ ۔

۶ ۔ اصابہ ابن حجر : ۲/ ۲۰۸

ب : بیت المقدس کے بارے میں دوسروں کی روایتیں :

۱ ۔ تاریخ خلیفہ ابن خیاط : ۱/ ۱۰۵ ، ۱۶ ھء کے حوادث میں ۔

ٍ ۲ ۔ فتوح البلدان بلاذری ۱/ ۲۶۴ حوادث فلسطین کی فصل میں ۔

۳ ۔ تاریخ یعقوبی : ۲/ ۱۴۷ ، دوران عمرکے حوادث میں ۔

۴ -فتوح اعثم ؛ ۱/ ۲۸۹ ۔ ۲۹۶

۵ ۔ معجم البلدان : تراجم بلدان کے حصہ میں ،

ج ۔ شمشیر بازوں کے بارے میں دوسروں کی روایتیں

۱ ۔ کتاب اموال ابی عبید؛ ۱۵۳ ( فصل اہل صلح کو اپنے مال پر چھوڑنا چاہے)

۲ ۔ فتوح البلدان ، بلاذری ۱۶۵ فصل (حوادث فلسطین)

د ۔ بیت المقدس کی صفائی کے بارے میں دوسروں کی روایتیں :

۱ ۔ کتاب اموال ابی عبید ؛ ۱۴۸ فصل (اہل ذمہ کو مسلمانوں کی طرف سے امان دینا)

۲ ۔ کتاب اموال ابی عبید: ۱۵۴ فصل (اہل صلح کو اپنے حال پر چھوڑنا چاہئے)

۳ ۔ داستان شہر حمص کے مآخذ

۱ ۔ داستان شہر حمص کے بارے سیف کی تین روایتیں

تاریخ طبری : ۱۵ ھ ء کے حوادث میں ۱/ ۲۳۹۱

۲ ۔ حمص کے باشندوں کی صلح کی روداد:

فتوح البلدان ، بلاذری ، : ۱۳۷

۳ ۔ حمص کے لوگوں کے پاؤں کٹ جانے کی روداد کے بارے میں قشیری کی روایتیں

تاریخ طبری : ۱/ ۱۵۴ ۲ و ۲۳۹۱ ، ۲۳۹۵ ، ۲۷۹۶ ، ۲۵۳۳ ،

۴ ۔ شہر حمص کے در و دیوار گرجانے کی داستان:

تاریخ ابن اثیر ، طبع منیریہ ، ۲/ ۳۴۱ ،

۵ ۔ شہر حمص کے درو دیوار گرجانے کی روداد

تاریخ ابن کثیر : ۷/ ۵۳

۴ ۔ داستان فتح شوش کے مآخذ

۱ ۔ تاریخ طبری: ۱/ ۲۵۶۴ ۔ ۲۵۶۵

۲ ۔ تاریخ ابن اثیر، ۲/ ۳۸۶ ،

۳ ۔ تاریخ ابن کثیر : ۷/ ۸۸

۴ ۔ تاریخ طبری : ۱/ ۲۵۶۲ ۔

۵ ۔ ابو موسی کی شوش کے باشندوں سے جنگ:

فتوح البلدان بلاذری : ۳۸۶

۶ ۔ ابو موسی کی شوش کے باشندوں سے جنگ:

اخبار الطوال ، دینوری ، ۱۳۲ ۔

۷ ۔ شوش کے باشندوں سے ابو موسی کی صلح:

تاریخ ابن خلیفہ : ۱۱۱

ابن صائد ابن صیاد معروف بہ دجال فاتح شوش کا افسانہ درج ذیل مآخذ میں آیا ہے ۔

۸ ۔ صحیح بخاری: ۱/ ۱۶۳ ،(۲) / ۶۷ ، ۴/ ۵۳

۹ ۔ صحیح مسلم : ۸/ ۱۸۹ ۔ ۱۹۴ ،

۱۰ ۔ سنن ابی داؤد : ۲/ ۲۱۸

۱۱ ۔ سنن ترمذی: ۹۱۱۹

۱۲ ۔ مسند طیالسی ، حدیث : ۸۶۵ ،

۱۳ ۔ مسند احمد: ۱/ ۳۰۸ ، ۴۵۷ ، و ۲/ ۱۴۸ ، ۱۴۹ ، و ۳/ ۲۶ ، ۴۳ ، ۶۶ ، ۷۹۸۲ ، ۳۶۸ ، و ۴ ۲۸۳ ، ۴۵/ ۴۹ ۔ ۱۴۸ ،

۵ ۔ اسود عنسی کی داستان کے مآخذ

۱ ۔ تاریخ طبری: ۱/ ۱۸۵۳ ۔ ۱۸۶۷ ، ۱۱ ھء کے حوادث میں ۔

۲ ۔ تاریخ اسلام ، ذہبی، ۱/ ۳۴۲ ۔ ۳۴۳ ،

۳ ۔ تاریخ ابن اثیر: ۲/ ۲۲۹ ،

۴ ۔ تاریخ ابن کثیر: ۶/۳۰۷ ۔ ۳۱۰ ،

۵ ۔ جمہرہ ابن حزم: ۳۸۲ ،

۶ ۔ لسان المیزان ، ابن حجر : ۳/ ۱۲۲ ، سہل بن یوسف کے حالات میں ۔

۷ ۔ انساب سمعانی : ۱/ ۲۲۳

۸ ۔ اصابہ ابن حجر : ۷۳۱۵

۹ ۔ تاریخ یعقوبی ، طبع نجف ، ۲/ ۱۰۸ ،

۱۰ ۔ البداء و التاریخ : ۵/ ۱۵۴ ۔

۱۱ ۔ فتوح البلدان بلاذری، طبع سعادت مصر ، ۱۹۵۹ ءء / ۱۱۳ ۔ ۱۱۵ ۔

۱۲ ۔ معجم البلدان حموی : مادہ ” دثینہ “ میں ۔

۶ ۔ جواہرات کی ٹوکری اور اس کے مآخذ

۱ ۔ تاریخ طبری : ۱/ ۲۷۰ ، و ۲۷۱۴ ۔ ۲۷۲۱

ابن کثیر : ۷/ ۱۳۰ ۔ ۱۳۱ و فیروز آبادی نے قامو س میں ا ور زبیدی نے تاج العروس میں لغت ”سری“ کی تشریح میں

۲ ۔ جمہرہ ابن حزم : ۱۷۴ ۔ ۲۳۸

۳ ۔ فتوح اعثم ، طبع حیدر آباد : ۵۹ ۔ ۶۲ ،

۴ ۔ فتوح بلاذری، طبع بیروت ۱۳۷۷ ھ ، ۲/ ۳۰۲ و ۳۸۰ ۔

۵ ۔ تاریخ ابن اثیر ، طبع منیریہ ، قاہرہ ۱۳۴۹ ھء ۲/ ۲۱ و ۲۵

۶ ۔ اخبارا لطوال دینوری : طبع اول قاہرہ : ۱۳۸

۷ ۔ معجم البلدان ، تحت کلمہ ” فسا“ و ” درابجرد“

اسلامی ثقافت میں تحریف ہوئے نام

خالد بن ملجم بریدہ بن یحسن

معاویہ بن رافع عبدا لمسیح بن عمرو

عمرو بن رفاعہ شہر بن باذان

خزیمہ بن ثابت فیس بن عبدیغوث

سماک بن خرشہ عبدا للہ بن سبا و حزب سبایان۔

گزشتہ اور آئندہ مباحث پر ایک نظر

سیف نے اپنے تحریف اور مسخ کرنے کے کام کو تاریخ اسلام کے تمام جوانب اور ابعاد میں انجام دیا ہے اور اپنے خطرناک منصوبے کو ہر جہت اور زاوئے سے عملی جامہ پہنایا ہے ۔ اسلام کے حقائق کو تہ و بالا کرنے اور ہر چیز کو اس کے خلاف تبدیل کرنے میں اس نے کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے اور یہ کام انتہائی مہارت اور ایسی ہوشیاری سے انجام دیا ہے کہ دانشوروں او رمحققین کیلئے اس کی تحریفات اور تبدیلیوں کی تشخیص دینا انتہائی مشکل اور دشوار بنا دیاہے ۔ جن حقائق کو اس نے مسخ اور الٹ پلٹ کرکے رکھ دیا ہے ان کا اصلی اور حقیقی قیافہ ابھی بھی دانشوروں اورعلماء کیلئے مجہول اور غیر معروف ہے۔

سیف نے اپنی تحریف کے جامع اوروسیع منصوبے کو چند طریقوں سے تاریخ اسلام میں داخل کر دیا ہے :

۱ ۔ خونین جنگوں کی ایجاد جیسے مرتدین کی جنگیں ۔

۲ ۔ خرافات پر مشتمل افسانے جعل کرکے ، مثلاً داستان اسود عنسی

۳ ۔ افسانوی اشخاص اور اماکن کا جعل کرنا، جیسے طاہر جیسا کمانڈر اور اعلاب جیسی سرزمین

۴ ۔ احادیث میں ملاوٹ اور انھیں الٹ پھیر کرنا۔

اس نے تاریخ اسلام میں تحریف کرکے اسے حقیقی اور صحیح راہ سے منحرف کردیا ہے ہم نے مذکورہ چہارگانہ تحریفات کی گزشتہ فصلوں میں وضاحت کی ہے اور اس سلسلہ میں قارئین کرام کی خدمت میں کئی نمونے بھی پیش کئے ہیں ، اب ہم اس حصہ میں سیف کی تحریف کی پانچویں قسم پر بحث و تحقیق کریں گے:

۵ ۔ سیف نے حدیث کے راویوں ، پیغمبر خدا کے اصحاب اور وقائع و حوادث کے پہلوانوں کے ناموں کو بدل کر تاریخ کے حقائق کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے اور اس طرح کی تحریفا ت کے ذریعہ اپنے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوا ہے ۔

سیف ناموں کی تبدیلی کے حصہ میں ----کہ اس فصل میں یہی ہمارا موضوع ہے ----کبھی معروف اشخاص کے نام کو ایک غیر معروف نام میں تبدیل کرتا ہے ، کبھی اشخاص کو اپنی خیالی طاقت سے خلق کرتا ہے ، پھر انہیں کسی معروف اور نامور شخص کے نام سے نام گزاری کرتا ہے اور کبھی کسی حدیث میں ذکر ہوئے نام کو نقل کرتا ہے لیکن اسے الٹا اور تبدیل کرکے پیش کرتا ہے باپ کی جگہ پر بیٹے کا نام اور بیٹے کی جگہ پر باپ کا نام رکھتا ہے ۔ ہم ان تینوں قسم کی تبدیلی کو ایک الگ فصل میں بیان کریں گے اور ان میں سے ہر ایک کیلئے کئی نمونے بھی ذکر کریں گے تا کہ ان نمونوں سے ہر فصل میں سیف کے تمام روایتوں کو پہچاننے کیلئے ایک مضبوط و مستحکم طریقہ کار معلوم ہوجائے ۔


آٹھواں حصہ :

سیف کے ذریعہ اشخاص کے ناموں کی تخلیق اور تبدیلی

* -معروف ناموں کوغیر معروف ناموں میں تبدیل کرنا۔

* -اصحاب پیغمبر کے ناموں کا ناجائز فائدہ اٹھانا۔

* -سیف الٹ پلٹ کرتا ہے ۔

* -تیسرے حصہ کے مآخذ


معروف ناموں کا غیر معروف ناموں میں تبدیل کرنا

و صحف من اسماء اعلام الاسلام و المسلمین

سیف نے بہت سی معروف اسلامی شخصیتوں کے نام تبدیل کئے ہیں ۔

مؤلف

سیف نے بعض احادیث میں اپنے قبیلہ یا خاندان سے تعلق رکھنے والے اپنے محبوب افراد کی مذمت و ملامت کا اظہار کیاہے یا اسی طرح جن افراد کے بارے میں وہ دل میں بغض و عداوت رکھتا تھا ان کی ان احادیث میں مدح و فضیلت کا اظہار کیا ہے ، لہذا اس نے اس قسم کی احادیث میں ا یسے معروف و نامور اشخاص کے نام کو ایک غیر معروف اور مجہول نام میں تبدیل کر دیا ہے تا کہ اس کے دوستوں کا عیب اوران کی برائی چھپ جائے یا معروف و نامور اشخاص کی فضیلت و منزلت پر دے میں رہ جائے۔

یہاں پر ہم ان تبدیلیوں کے کئی نمونے پیش کرتے ہیں :

۱ ۔ خالد بن ملجم

سیف نے امیر المؤمنین علی بن ابیطالب (علیہ السلام) کے قاتل عبد الرحمان بن ملجم کا نام بدل کر خالد بن ملجم کر دیا ہے، جہاں پر خلیفہ دوم اپنے سپاہیوں کی پریڈ کا مشاہدہ کرنے کی روداد کا ذکر کرتے ہوئے یوں کہتا ہے :

”خلیفہ ایک لشکر کو ” قادسیہ “ روانہ کررہے تھے، لہذا ” صرار “(۱) کے مقام پر اس لشکر کی پریڈ کا اس طرح مشاہدہ کیا کہ سپاہی اس کے سامنے سے گروہ گروہ اور پریڈ کرتے ہوئے گذرتے جارہے تھے، قبیلہ ” سکون “(۲) کا چار سو افراد پر مشتمل گروہ بھی خلیفہ کے سامنے سے گزرا ، کہ اچانک خلیفہ کی نظر چند سیاہ فام اور لمبے بال والے جوانوں پر پڑی اور انھوں نے ان سے منہ موڑ لیا،جب وہ دوسری بار خلیفہ کے سامنے سے گزرے تو پھر انھوں نے ان سے منہ موڑ لیا اور یہ روداد تین بار تکرار ہوئی جب ان سے اس روگردانی اور اعراض کے بارے میں سوال کیا گیا ۔

انھوں نے جواب میں کہا: میں ان افرادکے بارے میں بد ظن ہوں ، کیونکہ ان کا چہرہ میرے لئے غیر معروف اور پر اسرار لگ رہا ہے اور ان کے بارے میں میرے دل میں عجیب و غریب بغض و عداوت پیدا ہو رہی ہے اس کے بعد ان کے بارے میں مکرر ذکر کرتے اور کراہت و نفرت کا اظہار کرتے رہے اور لوگ بھی عمر کے اس قول اور فعل کے بارے میں حیرت اور استعجاب کا اظہار کرتے رہے یہاں تک کہ مستقبل میں اس مطلب کا راز لوگوں پر آشکار ہوا خالد بن ملجم جس نے بعد میں علی ابن ابیطالب علیہ السلام کو قتل کیا اور اس کے علاوہ عثمان کے قتل کی حمایت کرنے والے بھی اس گروہ میں موجود تھے“(۳)

پھر سیف ۳۵ ھ ء کے حوادث کے ضمن میں کہتا ہے :

جب سبائیوں کے اکسانے پر مختلف اسلامی شہروں سے عثمان کے پاس شکایتیں پہنچیں تو، اس نے بھی مقامی تحقیقات کیلئے چند اشخاص کو ان شہروں کی طرف روانہ کیا تا کہ حالات کا نزدیک سے جائزہ لے کر خلیفہ کو ان کی اطلاع دیں ۔ ان افراد میں عمار یاسر بھی تھے ، جنھیں عثمان نے مصر کیلئے مامور کیا تھا بھیجے گئے تمام افراد عمار سے پہلے خلیفہ کے پاس واپس آ کر بولے ہم نے ان شہروں میں کسی بری یا ناخوشگوا رچیز کا مشاہدہ نہیں کیا ، ان شہروں کے حالات اطمینان بخش ہیں ۔ کچھ غیر معروف و خاص لوگ ناراضگی اور شکایت کا اظہار کرتے ہیں نہ عام لوگ اور امراء ، ان کے فرمانروا بھی مکمل طور پر لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف سے پیش آتے ہیں لیکن عمار کے مدینہ واپس لوٹنے میں تاخیر ہوئی ۔ یہاں تک لوگ ان کے بارے میں فکر مند ہوئے اور انہوں نے گمان کیا کہ انھےں مصر میں قتل کر دیا گیا ہے اسی اثناء میں مصر کے گورنر کا ایک خط مدینہ پہنچا جس میں لکھا تھا ، مصر میں ایک پارٹی عمار کو فریب دے کر ان کے اردگرد جمع ہوگئی کہ جن میں عبد اللہ بن سوداء اور خالد بن ملجم(۴) شامل تھا۔

۳۶ ھ کے حوادث کے ضمن میں کہتا ہے : جنگ جمل کے واقع ہونے سے پہلے ، قعقاع بن عمرو(۲) نے امیر المومنین علی اور عائشہ ، طلحہ و زبیر کے درمیان صلح و صفائی کرانے کیلئے فرد ثالث کا فریضہ نبھانا طرفین نے صلح کرنے کا فیصلہ کیا ۔

۲ ۔ قعقاع سیف کا ایک افسانوی اور جعلی سورما ہے ، اس نے اسے اپنے خیال میں خلق کیا ہے اس کے بعد اسے پیغمبر خداکے ایک صحابی کے طور پر پہچنوایا ہے ہم نے اپنی کتاب ۱۵۰ جعلی اصحاب میں اس کے بارے میں ایک الگ فصل میں وضاحت کی ہے اور جنگ جمل کی روداد کو بھی کتاب ”عائشہ “ علی کے زمانے میں “ میں مکمل طور پر بیان کیا ہے

لیکن سبائیوں کا گروہ جیسے : ابن السوداء اور خالد بن ملجم صلح وآشتی پر راضی نہیں تھے ۔ اس لئے انہوں نے ایک خفیہ میٹنگ بلائی اور ایکمنصوبہ بنایا تا کہ مسلمانوں کے درمیان صلح کے منصوبہ کو درہم برہم کر کے رکھ دیں اور ان کے درمیان جنگ کے شعلوں کو بھڑکادیں ۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے اس منحوس منصوبہ کو عملی جامہ پہنایا اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والی صلح کو ایک زبردست خونین جنگ میں تبدیل کر دیا(۵)

یہ وہ مطالب ہیں جنہیں سیف نے امیر المؤمنین کے قاتل کے بارے میں نقل کیا ہے اور اسے خالد بن ملجم نام رکھا ہے جب کہ اس کا نام ’ عبدا لرحمان بن ملجم مرادی “ ہے اور یہ وہی شخص ہے جو فتح مصر میں موجود تھا اور وہاں اپنا گھر بنا چکا تھا،خلیفہ دوم نے

____________________

( ۱ صرار مدینہ کے نزدیک عراق کے راستہ پرایک پانی ہے ۔

( ۲ .سکون خاندان کندہ کا ایک قبیلہ ہے کہ جو قحطان سے محسوب ہوتا ہے ان کا شجرہ نسب سباء بن یشجب تک پہچتا ہے اور سیف تاریخ اسلام کی تمام برائیاں اور شر و فساد ان کی گردن پر ڈالتا ہے ۔

( ۳ ۔ تاریخ طبری : ۱/ ۲۲۲۰ ۔ ۲۲۲۱۔

( ۴ .تاریخ طبری : ۱/ ۲۹۴۴ اور تاریخ ابن اثیر ۳/ ۱۹۲)

( ۵ خلفاء کے زمانے میں رسم تھی کہ جو کوئی بھی خلافت پر پہچتا تھا مرکز کے لوگ اس کی بیعت کرتے تھے اس کے بعد روداد کی صوبوں اور آبادیوں تک اطلاع دی جاتی تھی اور بڑے شہروں کی بعض معروف شخصتیں وفد کی صورت میں نمائندہ کے طور پر آکر اپنی اور شہروں کے باشندوں کی طرف سے نئے خلیفہ کی بیعت کرتی تھیں


اس زمانے میں مصر کے گورنر عمرعاص کو اس کے بارے میں یوں لکھا تھا :

” عبدا لرحمان بن ملجم کے گھر کو مسجد کے نزدیک قرار دینا تا کہ وہ لوگوں کو قرآن اور دینی مسائل کی تعلیم دے “

پھر جب امیرالمؤمنین علی خلافت پر پہنچے ، مدینہ کے لوگوں کی بیعت کے بعد، قصبوں کے باشندوں کو بیعت کی دعوت دی(۲)

۲ ۔ خلفاء کے زمانے میں رسم تھی کہ جو کوئی بھی خلافت پر پہچتا تھا مرکز کے لوگ اس کی بیعت کرتے تھے اس کے بعد روداد کی صوبوں اور آبادیوں تک اطلاع دی جاتی تھی اور بڑے شہروں کی بعض معروف شخصتیں وفد کی صورت میں نمائندہ کے طور پر آکر اپنی اور شہروں کے باشندوں کی طرف سے نئے خلیفہ کی بیعت کرتی تھیں ۔

عبد الرحمان بن ملجم نے بھی اسی وقت ان کے پاس آکر ان کی طرف دستِ بیعت پھیلا یا ، لیکن امیر المؤمنین نے اس کی بیعت کو قبول نہیں کیا ، وہ دوسری بار آیا تاکہ ان کی بیعت کرے پھر امیر المومنین نے اس کی بیعت قبول نہیں کی یہاں تک تیسری بار اس کی بیعت کو قبول کیا اور کہا:

” کس چیز نے شقی ترین لوگوں کو روکا ہے “ اس کے بعد اپنی داڑھی کو ہاتھ میں پکڑ کر فرمایا:

” قسم اس خدا کی جس کے ہاتھ میں علی کی جان ہے میری یہ داڑھی میرے سر کے خون سے رنگین ہوگی“۔

” و الذی نفسی بیده لتخضبن هذه من هذه(۱)

امیر المؤمنین کی نگاہ جب ابن ملجم پر پڑی تھی تو یہ شعر پڑھ کر گنگنانے لگے:

ارید حیا ته و یرید قتلی عذیرک من خلیلک من مراد (۲)

سیف کی روایت کی تحقیق اور بررسی

یہی عبدا لرحمان بن ملجم مرادی ہے کہ سیف نے گزشتہ چند روایتوں میں اس کے نام کو تبدیل کرکے خالد بنادیاہے ۔ اور اس تبدیلی اور تحریف کو اس نے جنگجو اصحاب کے فضائل کی تشہیر کے ضخیم

____________________

۱۔ انساب سمعانی : ورقہ ۴۰۱ ، اور لسانی المیزان : ۳/ ۴۳۹۔

۲۔ الاغانی : ۱۴ /۳۳، تاریخ ابن اثیر ۳/ ۳۲۶اور وہ مورخین ،جنہوں نے حضرت علی علیہ السلام کے قاتل کا نام عبد الرحمان بن ملجم لکھا ہے نہ خالد بن ملجم وہ درج ذیل ہیں :الف) یعقوبی اپنی تاریخ کی ج ۲/۲۱۲ اور ۲۱۴ پر ۔ب) ابن سعد، طبقات، ج ۶، ص ۶۱۔ج) ابن حزم، جمہرة انساب العرب، ص ۲۰۰


پردے کے پیچھے مخفی اور پوشیدہ رکھا ہے تا کہ اپنے جھوٹ کو رواج دینے اور اشاعت کرنے میں بیشتر وسائل و امکانات مہیا کرسکے،اسی مقصود سے سیف :

پہلی روایت میں کہتا ہے :عمر ابن خطاب نے ” صرار “ کے مقام پر اپنے سپاہیوں کی پریڈ کا مشاہدہ کرتے ہوئے خالد بن ملجم سے نفرت و کراہت اور سپاہ میں اس کی موجودگی پر پریشانی کا اظہار کیا ،خلیفہ کے اس کام سے لوگ تعجب و حیرت میں پڑے یہاں تک کہ امیر المؤمنین کے قتل کے بعد ان کے بارے میں خلیفہ کی حیرانی اور پریشانی کی علت سمجھ گئے کہ عمر کو ان کے ہاتھوں مستقبل میں انجام پانے والی خیانت کے بارے میں علم تھا۔

دوسری روایت میں کہتا ہے ؛ تیسرے خلیفہ عثمان نے لوگوں سے عادلانہ برتاؤ اور خوش اخلاقی کے پیش نظر ، بعض اشخاص کو ماموریت دیدی تاکہ قصبوں میں جاکر ان شکایتوں کی تحقیقات کریں جو انھیں پہنچی تھیں ۔ واپسی پر ان انسکپٹروں نے خلیفہ کے گورنروں کے بارے میں لوگوں کی رضا مندی اور کسی قسم کی شکایت نہ رکھنے کی رپورٹ کے علاوہ کچھ اور نہیں لاےا ۔ ان انسپکٹروں میں صرف عمار تھے جو مصر میں ماموریت کے دوران ” ابن السوداء “ اور خالد بن ملجم اور تمام سبائیوں سے مل کر ان کا ہمنوا بنے اور یہی سبائی تھے جولوگوں کو شکایتیں لکھنے پر اکساتے تھے ۔

تیسری روایت میں کہتا ہے : جنگ جمل میں طرفین ---جس میں د ونوں طرف اصحاب رسول تھے --اور کمانڈروں کے درمیان صلح کا معاہدہ طے پایا تھا اور جنگ کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن اسکے بعد سبائیوں کی سازش کی وجہ سے ، جن میں خالد بن ملجم بھی تھا ۔ جنگ کے شعلے دوبارہ بھڑک اٹھے ۔

ظاہر ہے کہ ان تین روایتوں میں سیف نے بہت سارے حقائق میں تبدیلی پیدا کر کے کثرت سے جھوٹ کی ملاوٹ کر دی ہے اور بے شمار جھوٹ گڑھ لیا ہے، کیونکہ نہ خلیفہ دوم اپنی فوج کا پریڈ دیکھنے کیلئے ” صرار“ گئے تھے اور نہ ہی انھوں نے اپنی فراست اور ذہانت سے ابن ملجم سے اظہار تنفر کیا ہے بلکہ اس کے بر عکس سیف کے کہنے کے مطابق خلیفہ نے مصر کے گورنر کو سفارش و تاکید کی تھی کہ ابن ملجم کی تجلیل اور احترام کرکے اسکے گھر کو مسجد کے قریب قرار دے تا کہ وہ احکام و قرآن کی تعلیم دینے کی ذمہ داری سنبھالے ۔

جی ہاں ، یہ امیر المومنین علی علیہ السلام تھے کہ جنھوں نے ابن ملجم کے بارے میں کراہت و نفرت کا اظہار کیا اور اس کی بیعت کوکئی بار مسترد کیا نیز ہمیشہ اس شعر کو پڑھتے رہے:” ارید حیاتہ“

اس کے علاوہ نہ خلیفہ سوم عثمان نے کسی کو لوگوں کی شکایتوں کی تحقیقات کیلئے کہیں بھیجا تھا اور نہ جعلی پارٹی سبائیوں کی سازش کا نتیجہ میں لوگوں نے بنی امیہ کے گورنروں کے خلاف کوئی شکایت خلیفہ کو بھیجی تھی اور نہ تحقیق کی غرض سے عمار یاسر کو مصر بھیجنے کی داستان صحیح ہے اور نہ مذکورہ جعلی پارٹی کے ذریعہ اسکے فریب کھانے میں کوئی حقیقت ہے ۔

اسکے علاوہ نہ جنگ جمل میں صلح کا کوئی موضوع تھا اور نہ سبائیوں کی سازش کے نتیجہ میں یہ صلح جنگ میں تبدیل ہوئی ہے اور نہ سبائیوں کے نام پر دنیا میں کوئی گروہ وجود میں تھا اور نہ کوئی صحابی رسول بنام قعقاع وجود رکھتا تھا جو جنگ جمل میں سفیر صلح ہوتا۔

اور نہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کا قاتل خالد تھا ، بلکہ یہ سب سیف کے جعل کردہ افسانے ہیں جو اس نے کفر و الحاد کے زیر اثر یہ سب تغیرات اور تحریفات کو جنم دے کر مسلمانوں بالخصوص مورخین کے حوالے کر دیا ہے تا کہ اس طرح اسلام کی صحیح تاریخ کو درہم برہم کر دے اور تاریخی حقائق کو مخفی ، مبہم اور پیچیدہ بنا کر رکھ دے اور ان تمام جعلی ، تبدیلیوں اور تحریفات میں اول سے آخر تک، صاحب اقتدار اصحاب کی فضیلت تراشی اور مدح گوئی سے پورا پورا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے اور انھیں اپنے لئے آلہ کار قرار دیا ہے اور اس طرح اپنے ناپاک عزائم، کو اصحابِ پیغمبر کے دفاع اور ان کے فضائل کی تشہیر کی آڑ میں مسلمانوں تک پہنچا دیا ہے

معاویہ بن رافع اور عمرو بن رفاعہ

اللهمَّ ارکسهما فی الفتنة رکساً

خدایا ! معاویہ و عمراور عاص کو فتنہ و فساد میں غرق فرما!

رسول خدا

معروف افرادکے نام تبدیل کرکے دوسرے غیر معروف نام رکھنے کے دو اور نمونے یہ ہیں کہ سیف معاویة بن ابی سفیان اور عمرو عاص کی حمایت کیلئے ۔” ابو برزہ اسلمی “(۱) کی روایت میں ان کے نام بدل کر معاویہ بن رافع اور عمرو بن رفاعہ رکھا ہے روداد کی تفصیل حسب ذیل ہے :

ابوبرزہ اسلمی کہتا ہے : ہم ایک سفر میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تھے ۔ دو افراد کی نغمہ خوانی اور غنا کی آواز آنحضرت کے کانوں تک پہنچی کہ وہ ترانہ گا رہے تھے اور شعر پڑھ رہے

____________________

۱۔ ابو برزہ کا نام غضة بن عبید ہے ، وہ اوائل اسلام میں مسلمان ہوا جنگ خیبر ، حنین اور فتح مکہ میں آنحضرت کے حضور میں شرکت کی اور جنگ نہروان و صفین میں حضرت علی کی رکاب میں شرکت کی اس نے بصرہ میں سکونت اختیار کی اس کے بعد جنگ خراسان میں شرکت کی اور ساٹھ (۶۰) یا ستر (۷۰) سال کی عمر میں وہیں پر فوت ہوا ، اور جس دن سر مبارک امام حسین یزید کے سامنے لایا گیا ابو برزہ اس مجلس میں حاضر تھا اور یزید جب ایک چھڑی سے امام حسین کے خوبصورت دانتوں کی طرف اشارہ کررہا تھا ، ابو برزہ نے کھل کر اعتراض کیا اور کہا: یزید : اپنی چھڑی کو ان دانتوں سے اٹھالے ، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان دانتوں کو چوم رہے تھے یزید ! قیامت کے دن تیرا شفیع ابن زیاد ہوگا اور ان کا شفیع رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے یہ کہکر ابوبرزہ مجلس سے اٹھ کر چلا گیا ۔ طبقات : ۷/۲/ ۱۰۰، اصابہ : ۳/ ۵۲۶ تشریح نمبر ۸۷۱۸ ، تہذیب، ۱۰/ ۴۴۶ تشریہ نمبر ۸۱۵۔


یزال حواری تلوح عظامه

زوی الحرب عنه ان یجن و یقبرا

ترجمہ: میرے اس خیر خواہ دوست کی ہڈیاں نمایاں و ظاہر ہیں کیونکہ جنگ اس کے کفن و دفن میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے ۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ذرا دیکھئے یہ غنا کی آواز کہاں سے آرہی ہے اور کس کی ہے ؟ کہا گیا : یا رسول اللہ ! یہ معاویہ اور عمرو عاص ہیں کہ اس طرح گانا گاتے ہیں ؛ رسول خدا نے دعا کی : خدایا ! انھیں فتنہ میں غرق فرما اور انھیں آگ کی طرف کھینچ لے !

اللهم ارکسهما فی الفتنة رکسا و دعهما الی النار دعاً (۱)

سیف نے دیکھا کہ یہ روایتیں معاویہ اور عمرو عاص کی آبروریزی کرتی ہیں اور ان کے اصلی چہرے کو دکھاتی ہیں لہذا اس نے ان میں تحریف کرکے معاویہ و عمروعاص کے نام بدل کر ان کی جگہ پر معاویہ بن رافع اور عمرو بن رفاعہ لکھ دیا ہے تا کہ اس طرح معاویہ اور عمرو عاص کے چہروں پر ایک نقاب کھینچ سکے اور ان کے نفرین شدہ چہروں کو چھپادے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ان کے بارے میں کی گئی نفرت و بیزاری کو دوسروں کی گردن پر ڈال سکے اسی لئے اس نے مذکورہ روایت کو

____________________

۱۔ معاویہ اور عمرو عاص کے بارے میں پیغمبر خدا کی نفرین کی حدیث ابوبرزہ کی روایت میں جن الفاظ کے ساتھ آئی ہے ، انہیں الفاظ میں :

۱لف۔ احمد بن حنبل اپنی مسند ، ۴/ ۴۲۱ میں درج کیا ہے ۔ اس تفاوت کے ساتھ کہ اس نے ان دو کے نام کی جگہ پر فلاں فلاں کا استعمال کیاہے اور ان کے نام فاش نہیں کئے ہیں ، لیکن :

ب۔ نصر بن مزاحم کی کتاب صفین کے ۱۲۹ پر یہ روایت مکمل طور پر نقل کی گئی ہے اور

ج۔ سیوطی نے اللئالی المصنوعہ میں اور ابولیلی نے اپنی مسند میں نفرین کی روایت کو مکمل طور پر درج کیا ہے ۔


اس طرح نقل کیا ہے کہ راوی کہتا ہے :

میں ایک سفر کے دوران آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تھا ۔ آنحضرت کے کانوں تک ایک آواز پہنچی میں اس طرف چلا گیا جہاں سے آواز آرہی تھی ، میں نے دیکھا کہ معاویہ بن رافع اور عمرو بن رفاعہ ہیں ، جو ترانہ لایزال حواری گا رہے تھے میں نے روداد آنحضرت کی خدمت میں بیان کی ۔ پیغمبر نے ان کے بارے میں نفرین کی اور فرمایا:اللهم ارکسهما فی الفتنة رکساً پیغمبر کی یہی نفرین سبب بنی کہ آنحضرت کے سفر سے واپس ہونے سے پہلے عمرو بن رفاعہ اس دنیا سے چلا گیا(۱)

ابن قانع اس روایت کو سیف سے نقل کرنے کے بعد کہتا ہے : اس روایت نے مشکل حل کردی ہے اور واضح ہوا کہ پہلی حدیث میں غلطی ہوئی ہے یعنی اصلی حدیث کہ اس حدیث میں ” ابن رفاعہ “ نامی ایک منافق کی جگہ پر ” ابن عاص “ اور ایک دوسرے منافق ” معاویہ بن رافع ‘ کی جگہ پر ”معاویہ بن ابی سفیان “ درج ہوکر مشتبہ ہوا ہے اس کے بعد کہتا ہے : خدا بہتر جانتا ہے ۔

سیف کی روایتوں کی چھان بین:

اس حدیث اور پیغمبر خدا کی سیرت کے اس حصہ (جو سیف کی روایت میں ذکر ہو اہے) کی دقیق تحقیق اور جانچ پڑتال سے معلوم ہوتا ہے کہ سیف نے دو اشخاص کے نام میں تحریف کی ہے

____________________

۱۔ اس روایت کو سیوطی نے اللئالی المصنوعہ : ۱/ ۴۲۷ میں ابن قانع کی ” ُمعجم الصحابہ “ سے نقل کیا ہے ۔


اور دو روایتوں کو بدل دیا ہے اور انھیں آپس میں ملا کر ایک تیسری روایت جعل کی ہے اس کے بعد اس جعلی روایت کیلئے خود ایک سند بھی جعل کی ہے اور ہماری سابق الذکر روایت کے مانند اسے درست کیا ہے ۔

سیف کی تحریف کی گئی دو روایتوں میں سے ایک کو ہم نے اس فصل کی ابتداء میں ا بو برزہ اسلمی سے نقل کیا ہے ۔

لیکن دوسری روایت جس میں سیف نے تبدیلی کر دی ہے ، ” رفاعہ بن زید “ کی موت کی روداد ہے کہ اسے ابن ہشام نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے جگہ” بنی المصطلق “ سے واپسی کی روداد کے ضمن میں یوں ذکر کیا ہے :

رسول اکرم لوگوں کے ساتھ روانہ ہوئے اور حجاز کے بیابانوں سے گزرے یہاں تک حجاز کی آبادیوں میں سے بقیع سے اوپر بقعا نامی ایک آبادی میں پہنچ گئے ۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب وہاں سے روانہ ہونا چاہتے تھے ، ایک تیز ہوا چلی ، لوگ ترس و وحشت میں پڑے ۔ رسول خدا نے فرمایا: اس طوفان سے نہ ڈرنا کیونکہ یہ ہوا کفار کے ایک بزرگ شخص کی موت کیلئے چلی ہے ۔

جب آنحضرت مدینہ میں داخل ہوئے تو معلوم ہو اکہ اسی دن رفاعہ بن زید بن تابوت فوت ہوا ہے(۱)

____________________

۱۔ سیرة ا بن ہشام : ۳/ ۳۳۶ ، اور سیرہ ابن ہشام میں اس بارے میں د وسری احادیث بھی ذکر ہوئی ہیں : ۳/ ۱۳۷ و ۱۵۰ و ۱۸۸ و ۱۹۸


جو قبیلہ قینقاع سے تعلق رکھتا تھا اور یہودیوں کا سردار اور منافقین کی پنا گاہ تھا ۔

سیف پہلی روایت میں ” معاویہ“ کے نام کو ’ ’ معاویہ بن رافع “ اور ” عمرو عاص “ کے نام کو ”عمرو بن رفاعہ بن تابوت “ میں تبدیل کرتا ہے جس طرح جملہ ” سمع رجلین یتغنّیان “ کو ”سمع صوتا“ میں تحریف کیاہے اوررفاعہ کی موت کی روداد کو دو صحابیوں کے گاناگانے کی روداد سے ممزوج کیا ہے اور ان دو روایتوں کو آپس میں ملا کر اور تغیر و تبدیلی اور فریب کارانہ دخل و تصرف سے ایک اور روایت جعل کی ہے اور اس طرح ” معاویہ بن ابوسفیان “ اور ” عمرو عاص “ کو نغمہ خوانی اور پیغمبر کی نفرین سے بری کرکے دوسروں پر یہ تہمت لگانے میں کامیاب ہوا ہے کیونکہ اگر ان دو اشخاص کی اصلیت کے بارے میں مسلمان آگاہ ہوتے تو بعض مسلمان آج تک ان کی پیروی نہ کرتے لیکن جو بھی تھا ، سیف کی روایت ” ابن قانع “ کےلئے مورد پسند و خوشائند قرار پائی ہے اور اس نے اس کے شبہہ کو دور کیا ہے کیونکہ اس روایت نے اس کی چاہت کی ضمانت مہیا کی ہے اور اس کے اپنے قول کے مطابق مشکل حل ہوئی ہے اور یہ مشکل حدیثِ اول اور معاویہ اور ابن عاص کے بارے میں اعتراض تھا ۔

ابن قانع سے جواب طلبی :

یہاں پر مناسب ہے کہ ہم ابن قانع سے سوال کریں اور کہیں :

مان لیا کہ سیف کی یہ روایت آپ کی نظر میں معاویہ اور عمرو عاص سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نفرین کو دور کرتی ہے اور ان کیلئے مشکلات میں سے ایک مشکل کو برطرف کرتی ہے کیا یہ روایت آپ کو دوسری بہت ساری مشکلات سے دوچار نہیں کرتی ہے ؟

کیا اس صورت میں آپ سے نہیں پوچھا جائے گا کہ یہ دو منافق ” معاویہ بن رافع “ اور ” عمرو بن رفاعہ “ جو سیف کی روایت میں آئے ہیں --کون ہیں ؟ اور کہاں تھے ؟ اور کیوں ان کا نام سیف کے علاوہ کسی اور کی روایت میں نہیں آیا ہے ؟

یا پھر آپ سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ یہ خیالی منافق کیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا ؟ اور پیغمبر نے اس کے گانے کی آواز سنی ؟ لیکن وہ پیغمبر کے سفر سے واپس آنے سے پہلے ہی مدینہ میں فوت ہو گیا؟

جی ہاں ! سیف نے ایسی ہی تحریفیں اور تبدیلیاں وجود میں لائی ہیں اور صدیاں گزرنے کے بعد بھی اس کی تحریفات علماء اور دانشوروں میں رائج ہوئی ہیں ۔کیونکہ اس نے ان تمام تحریفات اور تبدیلیوں کو صاحب اقتدار اصحاب کے فضائل و مناقب کی تشہیر و اشاعت کے ڈھانچے میں ان کے دوستوں اور طرفداروں کے سامنے پیش کیا ہے اور ان کے یہی حامی اور طرفدار ان جھوٹ ، باطل اور تحریفات کی نشر و اشاعت کا سبب بنے ہیں ۔ جو کچھ ایسے مسائل میں ہمارے نقطہ نظر کے مطابق قابل اہمیت ہے وہ یہ ہے کہ سیف جیسے مجرموں نے حدیث اور سیرت پیغمبر میں ا س طرح تحریف کی ہے اور ” ابن قانع “ جیسے دانشوروں نے پوری طاقت سے ان تحریفات کو پیغمبر کی صحیح حدیث اور سیرت کے عنوان سے مسلمانوں میں ترویج کی ہے اور اس کے نیتجہ میں پیغمبر کی صحیح حدیث اور سیرت (جو مجموعاً پیغمبر خدا کی دو سنت ہیں ) مسلمانوں کی پہنچ سے اس حد تک دور رہی ہیں کہ بعض اوقات ان کو فراموش کیا گیا ہے ، اور اس کے بعد جو کوئی اس تحریف شدہ سنت سے تمسک پیدا کرتا ہے اس کی تجلیل کی جاتی ہے اور اسے اہل سنت کہتے ہیں یہاں پر اہل بحث و تحقیق دانشوروں پر لازم اور واجب ہے کہ اپنی پوری طاقت کو بروئے کار لاکر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آلودہ حدیث اور سیرت کو ان ناپاکیوں سے پاک و منزہ کریں تا کہ مسلمان پیغمبر اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی صحیح سنت سے تمسک پیدا کرسکیں ۔


اصحاب ِ پیغمبر کے ناموں کا ناجائز فائدہ اٹھانا

فالتبس علی العلماء مدی العصور

یہ ہے اصحاب کے ایک گروہ کی حقیقت جو دانشوروں کیلئے صدیوں تک مسلسل غیر معروف رہے ہیں ۔

مؤلف

سیف نے اپنی تحریفات میں ناموں کوتبدیل کرنے میں جو دوسرا راستہ اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ اس نے بعض اشخاص کو اپنے ذہن میں خلق کیا ہے ، پھر ان افسانوی اشخاص اور اپنے ذہن کی مخلوق کو معروف افراد کے کسی نام سے نام گزاری کی ہے اور حدیث سازی کے موقع پر انھیں ماموریت دی ہے اور ان کے نام پر کثرت سے احادیث اور داستانیں جعل کی ہیں ۔ ان ہی ناجائز استفادوں کی وجہ سے مشہور نام، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے معروف صحابی و اصحاب سے مربوط حقائق و مطالب صدیوں تک دانشوروں کیلئے مبہم ، پیچیدہ اور غیر معروف رہے ہیں ۔

سیف نے اپنے خود ساختہ اصحاب اور راویوں کیلئے مشہور معروف اصحاب اور راویوں کے ناموں سے کسی نام کا انتخاب کرکے اس پر ان کا لیبل لگادیا ہے اور اس طرح اس قسم کے بہت سے اصحاب و راوی جعل کئے ہیں ہم اس فصل میں علم و تحقیق کے دلدادوں کیلئے ان کے چند نمونے پیش کرتے ہیں :

۱ ۔ خزیمہ بن ثابت

ہم جانتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گروہ انصار اور خاندان اوس سے خزیمہ بن ثابت نامی ایک صحابی تھا ، اس نے ” بدر“ یا ” احد“ کے بعد تمام جنگوں میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رکاب میں شرکت کی ہے ۔

پیغمبر اسلام نے ایک واقعہ کی وجہ سے اسے ” ذو الشہادتین “ کا لقب بخشا تھا کہ اس دن کے بعد اس کی شہادت دو افراد کی شہادتوں کے برابر مانی جاتی تھی، یہ روداد اس کے خاندان کیلئے فخر و مباہات کا سبب بن گئی تھی ۔ وہ جنگ صفین میں امیر المؤمنین حضرت علی علیہ والسلام کے پرچم کے نیچے لڑتے ہوئے شہید ہوا چونکہ خزیمہ کا امیر المؤمنین کی سپاہ کی صف میں قتل ہونا بنی امیہ کیلئے ننگ و شرم کا سبب تھا اسلئے سیف نے اسی ” خزیمہ بن ثابت “ ذو الشہادتین سے ایک دوسرے ” خزیمہ بن ثابت “ کو خلق کیا ہے ، اس کے بعد یوں کہتا ہے : جو خزیمہ جنگ صفین میں علی کے سپاہیوں میں موجود تھا اور قتل ہوا ، وہ یہی خزیمہ تھا نہ ” خزیمہ ذو الشہادتین “ ۔ ذو الشہادتین جنگ صفین سے پہلے عثمان کے زمانے میں فوت ہوا تھا(۱)

۲ ۔ سماک بن خرشہ

انصار کے درمیان ” سماک بن خرشہ “ نام کا ایک صحابی تھا کہ وہ ’ ’ ابودجانہ “ کے نام سے مشہور

ہوا تھا ۔ اس نے پیغمبر اسلام کی جنگوں میں گراں قدر خدمات انجام دی تھیں اور جنگ یمامہ میں شہید

____________________

۱۔ کتاب ایک سو پچاس جعلی اصحاب میں ذو الشہادتین ، سماک بن خرشہ ، وبرہ بن یحسن کی زندگی کا حالات ملاحظہ ہوں ۔


ہوا ہے ۔ سیف نے ایک دوسرے صحابی کو ” سماک بن خرشہ “ کے نام سے خلق کیا ہے اور کہا ہے کہ : یہ ”سماک “ ، ”ابودجانہ “ کے نام سے مشہور ” سماک “ نہیں ہے بلکہ وہ بھی ایک صحابی تھا۔ اس کے بعد اسی جعلی ” سماک “ سے روایتیں اور داستانیں گڑھ لی ہیں اور بعض جھوٹی اور افسانوی جنگوں میں اسے سپہ سالار کے عنوان سے پیش کیا ہے(۱)

۳ ۔ وبرہ بن یحنس خزاعی :

سیف نے ” وبرہ بن یحنس کلبی ‘ ‘ نامی معروف صحابی کے مقابلہ میں ”وبرہ یحنس“(۲) نامی دوسرے صحابی کو خلق کیا ہے ۔ البتہ کہا ہے کہ یہ وبرہ قبیلہ خزاعہ سے ہے نہ قبیلہ کلب سے(۳)

۴ ۔ سبائی

سیف نے اپنے انسان سازی کے کارخانہ میں صرف انفرادی اور متفرق اشخاص کو خلق و جعل کرنے پر اکتفاء نہیں کیا ہے بلکہ اس نے بہت سے افراد پر مشتمل ایک گروہ کو بھی خلق کیا ہے اوراس گروہ کا نام ” سبیئہ “رکھا ہے ۔ اس کے بعد اکثر مفاسد و برائیوں کوانکے سر تھونپا ہے اور تاریخ اسلام میں واقع ہوئی تمام تخریب کاریوں ، ویرانیوں اور خطرناک جنگوں و بغاوتوں کا ذمہ دار انہیں کو ٹھہرایا ہے۔

____________________

۱۔ کتاب ایک سو پچاس جعلی اصحاب میں خزیمةذو الشہادتین ، سماک بن خرشہ ، وبرہ بن یحسن کی زندگی کا حالات ملاحظہ ہوں

۲۔ کتاب ایک سو پچاس جعلی اصحاب میں خزیمة ذو الشہادتین ، سماک بن خرشہ ، وبرہ بن یحسن کی زندگی کا حالات ملاحظہ ہوں

۳۔ کتاب ایک سو پچاس جعلی اصحاب میں خزیمة ذوالشہادتین ، سماک بن خرشہ ، وبرہ بن یحسن کی زندگی کا حالات ملاحظہ ہوں


سیف نے اس نام کو اسی ” سبئیہ “ نام سے لیا ہے جو یمن میں چند قبائل کا نام تھاکہ ان کے جد کو ”سبا بن یشجب ‘ ‘ کہتے تھے(۱)

۵ ۔ عبد اللہ ابن سبا :

سیف نے اپنی تحریفات کی کاروائیوں کے سلسلہ میں جو سب سے اہم کام انجام دیا ہے وہ یہ ہے کہ اس نے اپنے ذہن میں ایک پر اسرار اور فتنہ انگیز شخص کو خلق کیا ہے اور اسے ” عبدا للہ بن سبا “ نام رکھا ہے ، اور اس نام گزاری میں بھی جنگ نہروان میں خوارج کے رئیس و امیر ”عبد اللہ بن وہب سبئی“ کے نام سے استفادہ کیا ہے پھر اس کے نام پر بہت سی داستانیں اور وسیع پیمانے پر افسانے گڑھ لئے ہیں کہ تاریخ اسلام میں معروف و مشہور ہیں ۔ انشاء اللہ اس کتاب کی اگلی فصل میں اس پر مستقل طور پر بحث و گفتگو کریں گے ۔(۲)

____________________

۱۔ کتاب ” عبدا للہ بن سبا “ کے چوتھے حصہ میں ” حقیقت ابن سبا و سبئیاں “ ملاحظہ ہوں

۲۔اس کتاب کے دوسرے حصہ میں ” خالد کے زہر کھانے کی روداد “ ملاحظہ ہو


سیف کی الٹ پھیر

استطاع بکل ذلک ان یشوّه معالم التاریخ

اس طرح سیف تاریخ اسلام کو پریشان اور تاریک دکھانے میں کامیاب ہوا ہے

مؤلف

تحریفات میں ناموں کی تبدیلی کے سلسلہ میں تیسرا راستہ جس سے سیف نے استفادہ کیاہے ، وہ یہ ہے کہ اس نے تاریخ اسلام کے حقائق کو مبہم و مشتبہ بنانے کیلئے بعض احادیث کے راویوں کے ناموں یا بعض داستانوں کے سورماؤں کے ناموں میں الٹ پھیر کرکے رکھ دیا ہے ، بیٹے کی جگہ پر باپ کا نام اور باپ کی جگہ پر بیٹے کا نام رکھا ہے ، جیسا کہ صلح حیرہ میں خالد سے گفتگو کرنے والے کا نام ” عبدا لمسیح بن عمرو “ تھا ، اسے بدل کر ” عمرو بن عبدالمسیح “ یعنی بیٹے کو باپ اور باپ کو بیٹا بنا کے رکھ دیا ہے سیف کے توسط سے نامو ں میں اس قسم کی الٹ پھیر اس کی سولہ روایتوں میں مشاہدہ ہوتی ہے جنہیں طبری نے نقل کیا ہے ۔

پھر یمن کے ایرانی بادشاہ ” باذان بن شہر ‘ جس کی بیوی سے اسود عنسی نے شادی کی تھی ، کے نام بدل کر ” شہر بن بادان “ رکھا ہے اس کے بارے میں ہم نے گزشتہ صفحات میں اسود عنسی کی داستان میں بحث کی ہے ۔

سیف نے اس اسود عنسی کی داستان میں ایک اور تحریف انجام دی ہے اور قیس کے باپ ”ہبیرہ بن مکشوح مرادی “ کے نام کو ” عبیدیغوث “ میں بدل دیا ہے

سیف نے اس قسم کی الٹ پھیر بہت زیادہ انجام دی ہے کہ ہم نے یہاں پر ”مشتے از خروار“ یعنی کچھ نمونہ کے طور پر چند کی طرف اشارہ کیا تا کہ محققین اور حقیقت کے متلاشی سیف کی تحریفات سے کسی حد تک آشنا ہوجائیں ا ور معیار اور اجمالی ضابطہ حاصل کریں ا ور جان لیں کہ سیف کی تحریفات یکساں و یکنوع نہیں تھیں کہ محققین و علماء آسانی و جلد ی سے اس کے ناپاک عزائم کے بارے میں مطلع ہوجائیں اور اس کی تخریب کارانہ سرگرمیوں سے آگاہی پیدا کرسکیں ۔ اس نے مختلف راہوں اور طریقوں سے تاریخ اسلام میں تخریب کاری و تحریفات انجام دی ہیں اور اس طرح تاریخ اسلام کو تہہ و بالا کر کے تاریخی حقائق و وقائع کو الٹ پھیر کیا اور مذموم صورت میں پیش کیا ہے ، روایوں ، صحابیوں ، غیر صحابیوں اور حوادث و داستانوں کے سورماؤں کے نام بدلنے میں کامیاب ہوا ہے ۔

سیف تخریب کاروں ، فتنہ انگیزوں شرپسندوں اور راویان حدیث کے مفسدگروہ، جنگوں کے کمانڈر، شعراء اور جنگی رجز خوانوں کی اپنے ذہن سے تخلیق کرنے ، افسانوی جنگوں کو وجود میں لانے اور سیاسی کتابیں اور افسانوی خطبے جعل کرنے میں کامیاب ہوا ہے ۔

ان تمام تحریفی و تخریبی سرگرمیوں میں محرک اس کا کفر و زندقہ تھا لیکن اس نے اس خطرناک محرک اور اپنے ناپاک عزائم کو اصحاب کی طرفداری میں پردہ پوشی کی ہے اور ان کے مناقب و فضائل کی اشاعت کے لفافے میں مخفی اور مستور کرکے رکھ دیا ہے اس طرح وہ اپنے ان تمام جھوٹ ، جعلیات اور افسانوں کو تاریخ کی نام نہاد معتبر کتابوں میں درج کرا کے مسلمانوں میں رائج کرنے میں کامیاب ہوا ہے اور اس طرح گزشتہ تیرہ صدیوں سے مسلسل انکے بقاء کی ضمانت مہیا کر چکا ہے ۔

لیکن جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ سیف نے تاریخ اسلام کو الٹ پلٹ کرنے اور تحریف کے سلسلے میں جو سب سے اہم ترین سر گرمی انجام دی ہے وہ اس کا گروہ سبیئہ کو جعل کرنا ہے کہ ہم اس کتاب کی آنے والی فصلوں میں اس موضوع پر بحث و تحقیق کریں گے کہ سیف نے ”سبائیوں “ کے گروہ کو کس طرح وجود میں لایا اور ”عبدا للہ بن سبا “ کو کسی طرح ” عبداللہ بن سبابن وھب “ کے مقابلہ میں جعل کیا ہے ۔ اور یہ افسانہ کیسے اشاعت اور ارتقاء کے منازل طے کرکے اسلامی مآخذ کی کتابوں میں راہ پیدا کرسکا اور تاریخ کی رفتار کے ساتھ آگے بڑھا اور آج تک تاریخ اسلام میں اپنی جگہ کو محفوظ کرسکا ہے ؟!


خاتمہ:

گزشتہ مباحث پر ایک نظر

* -مرتدین کی جنگوں پر ایک نظر

* -مرتدین کی جنگوں کی جانچ پڑتال

* -کندہ کی جنگ

* -جنگ کندہ کی تحقیق

* -مالک بن نویرہ کی جنگ

* -ان جنگوں کا حقیقی محرک

* -سیف کی فتوحات پر ایک نظر


مرتدین کی جنگوں پر ایک نظر

یہاں تک ہم نے سیف کی روایتوں کے بارے میں بحث و تحقیق کی اور جو کچھ اس سلسلہ میں گزشتہ بحثوں کے ضمن میں بیان ہوا ، اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے :

سیف نے مرتدین کی جنگوں اور بیہودہ اور بے بنیاد فتوحات کے بارے میں داستانیں جعل کرکے اسلام کو ” تلوار اور خون کادین “ معرفی کیا ہے اور دوست و دشمن کو یہ دکھایا ہے کہ اسلام صرف شمشیر و نیزہ سے پھیل کر ادیان عالم میں اپنے لئے ایک جگہ بناسکا ہے ۔

ہم نے کتاب کی پہلی بحث میں کہا کہ سیف نے اسلام کو ” تلوار اور خون کا دین “ کے عنوان سے پہچنوانے کیلئے اپنے خیال میں مسلمانوں کیلئے بہت سی جنگیں جعل کی ہیں اور انھیں مرتدوں کی جنگوں کا نام دیا ہے ۔

سیف نے مرتدوں کی جنگوں کے باے میں جعل کی گئی روایتوں کے ضمن میں خلاصہ کے طور پر کہا ہے :

قبیلہ قریش اور ثقیف کے علاوہ تمام عرب قبائل یکبارگی اسلام سے منحرف ہو کر کفر و ارتداد کی طر ف مائل ہوگئے اور اسلام سرزمینوں میں فتنہ کی آگ بھڑک اٹھی اسکے بعد سیف مرتد قبائل کے سرزمین ابرق ربذہ پر ان کے اجتماع کی روداد اور ابوبکر کے پاس ان کے چند نمائندے بھیجنے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتا ہے : مرتد قبائل نے اپنے نمائندوں کے توسط سے ابوبکر سے درخواست کی کہ وہ نماز پڑھ لیں گے لیکن انھیں زکوٰة ادا کرنے سے مستثنی قرار دیا جائے ابوبکر نے ان کی تجویز کو مسترد کیا اور مدینہ کے لوگوں کو ان قبائل سے لڑنے کیلئے آمادہ کیا ۔ اس کے بعد ان قبائل نے مدینہ پر حملہ کیا ، خلیفہ کے سپاہیوں نے ان کا جواب دیا اور ان کے خیموں تک انھیں پیچھے ڈھکیل کیا ۔ اس طرح مرتدوں سے جنگوں کا آغاز ہوا ۔ ابوبکر نے ان کو کچلنے کیلئے تین بار لشکر کشی کی اور مدینہ سے ان کی طرف روانہ ہوا اسکے بعد سیف ان جنگوں کی کیفیت ، مرتدوں کے قتل ہونے ، خلیفہ کا ان کی زمینوں پر قبضہ جمانے ، سرزمین ابر ق کی چراگاہوں کے مسلمانوں کے گھوڑوں کیلئے وقف کرنے اور اس کے علاوہ ان افسانوی جنگوں میں رونما ہوئے حوادث کے جزئیات کی مفصل تشریح کرتا ہے لیکن لب لباب یہ ہے کہ اس پوری تشریح و تفصیل کے باوجود ان تما م رودادوں کو نقل کرنے میں سیف منفرد ہے نہ کسی دوسرے مؤرخ نے ان مطالب کو نقل کیا ہے اور نہ ان مطالب میں سے کوئی ایک صحیح و درست ہے ۔

سیف ابوبکر کیلئے چوتھی روانگی بھی نقل کرتا ہے کہ ابوبکر مدینہ سے ” ذی القصہ “ کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں پر اپنی فوج کو آراستہ کیا اور انھیں گیارہ لشکروں میں تقسیم کیا اور ہر لشکر کیلئے ایک کمانڈر مقرر کیا اور ہر کمانڈر کے ہاتھ میں ایک پرچم دیا تا کہ مرتدوں کے گروہوں سے لڑیں اور وہیں پر ان کمانڈروں کیلئے جنگی منشور اور مرتد قبائل کیلئے خطوط لکھے

سیف نے جو یہ روانگی ابوبکر سے منسوب کی ہے اور اس سفر میں جو روداد اس کیلئے نقل کی ہیں وہ بھی صحیح نہیں ہیں اور اس سلسلہ میں جو بھی نقل کیاہے خالد کی روانگی کے علاوہ سب اس کے ذہنی جعلیات ہیں جنہیں اس نے مورخین کی خدمت میں پیش کیا ہے اور انہوں نے بھی انھیں مسلمانوں تک پہنچایا ہے ۔

سیف نے ”ام زمل “ نام کی ایک اور ارتداد کی داستان نقل کی ہے اور اس کے بعد اسی عنوان سے ایک جنگ بھی جعل کیاہے اس جنگ میں بھی عجیب و غریب اور وحشتناک قتل عام حوادث اور بے مثال تباہی دکھائی ہے جب کہ نہ کوئی ” ام زمل “ وجود حقیقی رکھتی تھی کہ مرتدہوتی اور اس قسم کی جنگ واقع ہوتی اور یہ سب قتل و غارت اور تباہیاں واقع ہوتیں ۔

سیف نے ارتداد ” اخابث“ کے نام سے سرزمین ” اعلاب “ میں ایک اور ارتداد کے بارے میں نقل کیا ہے اور کہتا ہے: طاہر نام کا ایک کمانڈر -- جو خدیجہ کا بیٹا اور پیغمبر کاربیب تھا --- مرتدوں سے لڑنے کیلے ” اخابث“ کی طرف روانہ ہوا ۔ وہاں پر ان کا اتنا قتل عام کیا کہ ان کے زمین پر پڑے لاشوں میں بدبو پھیلنے کی وجہ سے چلتے ہوئے قافلے رک گئے ۔

جبکہ نہ ” اعلاب “ کے نام پر کوئی سرزمین وجود رکھتی تھی اور نہ اخابث کے نام پر وہاں کے باشندے اور نہ ہی طاہر نامی کوئی صحابی تھا جسے پیغمبر اکرم نے پالا ہو ، جو اخابث کے افسانوی لشکر کا کمانڈر بنتا ۔

جی ہاں ، ان حوادث ، رودادوں اور دیگر بہت سے حوا دث کی کوئی حقیقت نہیں ہے جنہیں سیف نے مرتدوں کی جنگوں کے بارے میں نقل کیا ہے ۔ یہ سب داستانیں بے بنیاد اور جعلی ہیں اور جھوٹ اور افسانہ سے زیادہ کچھ نہیں ۔

لیکن اس کے باوجود سیف اپنی خاص مہارت او ر تخصص کی بنا پر حدیث اور تاریخ کو جعل کرکے پیغمبر کے بعد مسلمانوں کے مرتد ہونے کے بارے میں اپنے جھوٹ اور جعلیات کی اشاعت کرنے میں کامیاب ہوا ہے اور ایسا ظاہر کیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد جزیرة العرب کے تمام مسلمان اسلام سے منہ موڑ کر مرتد ہوگئے اور انہوں نے طاقت اور تلوار کے ذریعہ دوبارہ اسلام قبول کیا بجا ہے اس بحث کے اختتام پر تاریخ اسلام کے اس حصہ کو بیشتر واضح ہونے کیلئے مرتدوں سے جنگ کے نام پر جعل کی گئی سیف کی جنگوں کے بارے میں ایک مختصر تحقیق کی جائے :

۱ ۔ ان جنگوں کا ایک حصہ کہ بیشتر مرتدوں کی جنگوں کے افسانوں اور داستانوں پر مشتمل ہے ایسی جنگیں ہیں جنہیں حقیقت میں سیف نے اپنی ذہنی طاقت سے جعل کیا ہے اور ان جنگوں کی سورماؤں ، کمانڈروں اور جنگجوؤں کو بھی خود سیف نے خلق کیا ہے اس کے علاوہ اس نے اماکن اور جنگیں واقع ہونے کے مقامات کو بھی جعل کرکے مور خین کے اختیار میں دیدیا ہے ، جبکہ نہ ان جنگوں کو کوئی بنیاد ہے اور نہ ان کے دیگر کوائف کی کوئی حقیقت ہے اور نہ ان جنگوں میں ذکر ہوئے اکثر سورما اور کمانڈروں کا کوئی وجود تھا ۔ حقیقت میں اس قسم کی جنگیں اسلام میں بالکل وجود میں ہی نہیں آئی ہیں ۔

۲ ۔ سیف نے جن جنگوں کو مرتدین کی جنگوں کے نام سے بیان کیا ہے ان کا ایک حصہ وہ جنگیں ہیں جو مسلمان اور کفار کے درمیان خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں واقع ہوئی ہیں ، یہ جنگیں مرتدوں سے نہیں تھیں جیسے ” مسیلمہ “ اور ” طلیحہ “ سے مسلمانوں کی جنگ کہ ان دونوں نے خود پیغمبر کے زمانے میں جھوٹی پیغمبری کا دعویٰ کیا تھا اور کچھ لوگوں کو اپنے گرد جمع کیا تھا کہ پیغمبر کی رحلت کے بعد مسلمانوں نے ان سے جنگ کی اور انھیں شکست دی ہے۔

اگر چہ یہ جنگیں واقعیت رکھتی ہیں لیکن یہ صحیح نہیں ہے کہ ہم ان افراد کو مرتد کہیں اور ان کے ساتھ جنگ کو مرتدوں کی جنگ کہیں ، بلکہ مسلمانوں کی، اس گروہ کے ساتھ جنگ ، کفار کے ساتھ جنگ تھی ، نہ مرتدوں کے ساتھ۔

۳ ۔ ان جنگوں کی تیسری قسم جن کے بارے میں سیف نے مرتدوں کی جنگ کہا ہے وہ جنگیں ہیں جو خود مسلمانوں کے درمیان واقع ہوئی ہیں اور یہ داخلی جنگوں کا ایک سلسلہ تھا نہ مسلمانوں کی مرتدوں سے جنگ یہ جنگیں اس صورت میں تھیں کہ عرب مسلمانوں کے بعض قبائل نے ابوبکر کی بیعت کرنے اور اپنے مال کی زکوٰة دینے سے انکار کیا ان کے علاوہ ایک اور گروہ بھی ابوبکر کے مامور حکام اور گورنروں کی بدرفتاری اور بے جا سختی کی وجہ سے زکوٰة دینے سے انکار کر تا تھا ابو بکر بھی اس قسم کے ہر گروہ کی طرف ایک لشکر کو روانہ کرتے تھے اور انھیں حکومت کے احکام پر عمل کرنے کیلئے مجبورکرتے تھے یہ جنگیں ، ابوبکر کے فرمانرواؤن اور قبائل کندہ کے درمیان واقع ہوئی جنگ کے مانند تھی یہ جنگ ایک جوان اونٹ کے سلسلے میں واقع ہوئی ہے کہ اعثم کوفی ، بلاذری اور حموی نے اس کی روداد کو مفصل طور پر ذکر کیا ہے ۔

کندہ کی جنگ

حموی معجم البلدان میں مادہ ” حضرموت “ میں کہتا ہے :

جب مدینہ کے باشندوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد ابوبکر کی بیعت کی ابوبکر نے پیغمبر کے مامور ” کندہ “ و ”حضرموت“ کے حاکم ” زیادہ بن لبید بیاضی “ ۱ کے نام خط لکھا اور اسے پیغمبر کی رحلت اور مدینہ کے لوگوں کی طرف سے پیغمبر کے بعد اس کی بیعت کرنے کی اطلاع دی اور اس کے ضمن میں اسے حکم دیا کہ حضر موت کے باشندوں سے اس کیلئے بیعت لے لے۔

یہ خط جب ” زیاد بن لبید “کو پہنچا تو وہ لوگوں کے درمیان کھڑا ہوا اور ایک تقریرکی اور انھیں پیغمبر کی وفات کے بارے میں آگاہ کیا اور ابوبکر کی بیعت کرنے کی دعوت دی ۔ اشعث بن قیس نے ابوبکر کی بیعت کرنے سے انکار کیا ، اور قبیلہ کندہ کے بعض افراد نے اشعث کی پیروی میں ابوبکر کی بیعت کرنے سے اجتناب کیا ، لیکن اسی قبیلہ کندہ کے بہت سے افراد نے ابوبکر کے نمائندہ کی حیثیت سے ” زیا د بن لبید “ کی بیعت کی زیاد اپنے گھر چلا گیا عصر پیغمبر کے مانند صبح سویرے زکوٰة دریافت کرنے کیلئے آمادہ ہوگیا۔

ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ : ابوبکر نے زیاد بن لبید اور ابو امیہ مخزومی کے مہاجرین کو لکھا

____________________

۱۔ زیاد بن لبید کا لقب وکنیت ابو عبد اللہ بن لبید بن سنان تھا وہ قبیلہ خزرج کے گروہ انصار اور خاندان بیاضی سے ہے پیغمبر نے اپنی زندگی میں حضرموت کی حکومت اسے سونپی تھی ، پیغمبر کی رحلت کے بعد ابوبکر نے اسے خط لکھا اور اسے اپنے عہدہ پر برقرار رکھا وہ معاویہ کی خلافت کے دوران فوت ہوا اسد الغابہ : ۲/ ۲۱۷ ، جمہرہ ابن حزم : ۳۵۶


کہ دو شخص متفقہ طورپر لوگوں سے اس کیلئے بیعت لے لیں اور جو بھی ابوبکر کی بیعت کرنے یا زکوٰة دینے سے انکار کرے ، اس کے ساتھ جنگ کریں ۔

اعثم اپنی فتوح میں کہتا ہے : بعض لوگ رضا و رغبت کے ساتھ اور بعض جبر و اکراہ سے زیا دکو زکوٰة دیتے تھے زیاد بن لبید بھی زکوٰة وصول کرنے میں مصروف تھا اور لوگوں پر سختی کررہا تھا اتفاقاً ایک دن زید بن معاویہ قشیری سے زکات میں حاصل کئے گئے ایک اونٹ پر زکوٰة کی علامت لگا دی اور دیگر اونٹوں کے گلہ میں جنھیں ہنکا دیا ،ابوبکر کے پاس بھیجنا تھا ۔

یہ جوان قبیلہ کندہ کے حارثہ بن سراقہ نام کے ایک سردار کے پاس آیا اور کہا: چچیرے بھائی ، زیاد بن لبید نے میرا ایک اونٹ لے لیا اور اس پر علامت لگا کر زکوٰة میں لئے گئے اونٹوں میں چھوڑ دیا ہے۔اور میں زکوٰة دینے سے منکر ہوں لیکن اس اونٹ کو بہت پسند کرتا ہوں اگر مصلحت جانتے ہو تو اس بارے میں زیاد سے گفتگو کرو تا کہ اس اونٹ کو مجھے واپس دیدے اور میں اس کے بدلے میں دوسرا اونٹ دیدوں گا۔

اعثم کہتا ہے : حارثہ بن سراقہ زیاد کے پاس گیا اور کہا: اگر ممکن ہے تو اس جوان پر ایک احسان کرو اور اس کا اونٹ واپس کردو اور اس کے بدلے میں دوسرا اونٹ لے لینا ۔

زیاد نے حارثہ کے جواب میں کہا : یہ اونٹ خداکے حق میں قرار پایا ہے اور اس پر زکوٰة کی علامت لگی ہے اور میں پسند نہیں کرتا ہوں کہ اس کے بدلے میں دوسرا اونٹ قبول کروں ۔

بلاذری نے اس داستان کو اس طرح بیان کیا ہے : زیاد بن لبید ایک شدت پسند شخص تھا اس نے ایک کندی سے ایک اونٹ زکوٰة کے طور پر حاصل کیا اس نے کہا کہ اس اونٹ کو مجھے واپس دینا اور اس کی جگہ پر میں دوسرا اونٹ دیدوں گا ابوامیہ نے اس سلسلہ میں انکساری کی لیکن زیاد نے ممانعت اور سختی کی ۔

اعثم اس داستان کو یوں جاری رکھتا ہے(۱) حارث نے جب اس جوان کی تجویز زیاد کے پاس پہنچائی تو اس نے نہ یہ کہ اس سے منفی جواب سنا بلکہ وہ اس کی تندی اور سخت رویہ کا مشاہدہ کرنے پر بھی مجبور ہوا حتیٰ کہ تنگ آکر غضبناک حالت میں بولا : ہم کہتے ہیں کہ اس اونٹ کو مہربانی و بزرگواری سے چھوڑ دو ،ورنہ ذلیل و خوار ہوکے تو ضرور چھوڑ دو گے زیاد بھی حارثہ کی بات سے غضبناک ہواا ور کہا : میں اس اونٹ کو ہرگز نہیں چھوڑوں گا اور دیکھوں گا کون اسے میرے ہاتھ سے لینے کی جرات کرتا ہے۔

اعثم کہتا ہے : حارثہ نے اس کی یہ بات سن کر ایک مضحکہ خیز مسکراہٹ کے ساتھ اس مضمون کے چند اشعار پڑھے :

ایک بوڑھا تجھ سے اونٹ کا بچہ لینا چاہتا ہے کہ اس کی پیری کے آثار اس کے رخسار سے واضح ہیں ایک ایسا بوڑھا مرد جس کی داڑھی سفید کرتے کے مانند سفید ہوچکی ہے(۲)

____________________

۱۔ اعثم کی روایت کی گئی اس داستان کو تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ الکلاعی نے کتا ب الاکتفاء میں درج کیا ہے

۲ یمنها شیخ بخدیه الشیب

ملمح کما یلمح الثوب


اعثم کہتا ہے : اس کے بعد حارثہ ان اونٹوں کے درمیان آگیا اور اس اونٹ کو ان میں سے جدا کر کے نکال لایا اور اس کی لگام اس کے مالک کے ہاتھ میں دیدی اور کہا: اپنے اونٹ کو لے چلو اگر اس اونٹ کے بارے میں کسی نے تجھ سے کچھ کہا تو تلوار سے اس کی ناک کاٹ کر رکھ دینا اور اس جملہ کا بھی اضافہ کیا :

”ہم نے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی کہ جب وہ زندہ تھے ، پیروی و اطاعت کی ہے ان کی رحلت کے بعد اگر ان کے خاندان کا کوئی فرد جانشین ہوتا تو پھر بھی ہم اس کی اطاعت کرتے لیکن پسر ابو قحافہ ! خدا کی قسم نہ اس کی اطاعت ہم پر واجب ہے اور نہ ہمارے اوپر کوئی بیعت ہے ۔

حارثہ نے یہاں پر بھی چند اشعار اس مضمون کے پڑھے :

جب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان تھے ، ہم نے ان کی اطاعت کی لیکن تعجب ان لوگوں پر ہے کہ جو ابوبکر کی بیعت کرتے ہیں(۱)

معجم البلدان کے قول کے مطابق اس بارے میں حارثہ کے اشعار اس مضمون کے تھے :

ہم نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس وقت پیروی کی جب وہ ہمارے درمیان موجود تھے اے قوم !ہمیں ابوبکر سے کیا کام ؟!

کیا ابوبکر اپنے بعد خلافت کو اپنے بیٹے بکر کی وراثت میں چھوڑے گا ؟ خدا کی

____________________

۱ اطعنا رسول الله اذکان بیننا

فیا عجبا ممن یطیع ابابکر


قسم ابوبکر کا یہ کام کمرشکن ہوگا(۱)

اعثم کہتا ہے :

جب یہ اشعار زیاد بن لبید نے سنے تو وہ وحشت میں پڑا کہ ایسا نہ ہو کہ زکوٰة میں لئے گئے تمام اونٹ اس سے واپس لے لئے جائیں لہذا راتوں رات بعض دوستوں کے ہمراہ حضرموت سے مدینہ کی طرف روانہ ہو گیا اور تمام اونٹوں کو اپنے ساتھ لے گیا جب حضرموت سے دودن کے فاصلہ پر پہنچا تو وہاں سے حارثہ بن سراقہ کے نام ایک خط لکھا اس خط میں چند اشعار بھی تھے ان اشعار میں سے ایک کا مضمون یہ تھا :

ہم راہ خدا میں تمہارے ساتھ لڑیں گے یہاں تک کہ تم ابو بکر کی اطاعت کرو یقین کے ساتھ جان لو کہ خدا کامیاب ہوگا(۲)

اعثم کہتا ہے : کندہ کے قبائل زیاد کے خط کے مضمون سے غضبناک ہوئے اور اشعث بن قیس کے پاس شکایت لے کر آئے اشعث نے کہا: اگر تم لوگ زیاد سے اختلاف نظر رکھتے ہو توکیوں اپنے مال کی زکات اسے دیتے ہو وہ اسے لے کر جاتا ہے ، اور اسکے بعد تمہیں قتل کی دھمکی دیتا ہے ؟

____________________

۱ اطعنا رسول الله ما دام وسطنا

فیا قوم ما شانی و شان ابی بکر

ایورشهاً بکراً اذا کان بعده

فتلک لعمر الله قاصمة الظهر

۲ نقاتلهم فی الله و الله غالب

علی امره حتی تطیعوا بابکر


اس کے ایک چچیرے بھائی نے اس سے کہا: اشعث ! خدا کی قسم تم نے سچ کہا اور خداکی قسم ہم قریش کیلئے وہی زر خرید غلام بن گئے ہیں کہ بعض اوقات امیہ(۱) کو ہماری طرف بھیجتا ہے اور کبھی زیاد کو ہم پر مسلط کرتا ہے جو ہماری ثروت کو بھی ہم سےہڑپتا ہے اور ہمیں قتل کرنے کی دھمکی بھی دیتا ہے ۔

اشعث نے کہا: اے قبیلہ کندہ ! اگر میری بات قبول کرو تو تمہاری مصلحت اس میں ہے کہ متحد رہو تم لوگوں کی بات ایک ہونی چاہئے اپنے شہروں اور دیہاتوں میں بیٹھے رہو ، اپنی حیثیت اور وجود کا دفاع کرو اورا اپنے مال کی زکوٰة کسی کو نہ دو ۔کیونکہ میں جانتا ہوں کہ عرب اس حالت کے جاری رہنے پر راضی نہیں ہوں گے کہ وہ ” تیم بن مرہ “ قبیلہ ابوبکر(۲) کی اطاعت کریں اور بنی ہاشم کے سردار جو بطحا کے بزرگ ہیں کو چھوڑ دیں جی ،ہاں ، صرف بنی ہاشم ہیں جو ریاست کی شائستگی رکھتے ہیں ان کے علاوہ کوئی ہم پر حکومت کرنے کا حق نہیں رکھتا ۔

ہم اس مقام کےلئے دوسروں سے سزاوار تر اور مقدم ہیں کیونکہ جس زمانے میں ہم سلطنت اور سرداری کرتے تھے اس وقت روئے زمین پر نہ قریش کی کوئی خبر تھی اور نہ ابطحیوں کی(۳)

____________________

۱۔ میری نظر میں اباامیہ ہے نہ امیہ

۲۔ بعض نسخوں میں تیم بن مرہ آیا ہے لیکن ہماری نظر میں وہی صحیح ہے کہ متن میں ملاحظہ ہوا شائد ’تیم بن مرہ ‘ قبیلہ کندہ کا ایک خاندان ہوگا لیکن تیم بن مرہ وہی قبیلہ ابوبکر ہے چنانچہ شاعر جنگ جمل کی روداد میں کہتا ہے ہم نے شقاوت و بدبختی سے خاندان تیم کی پیروی کی جبکہ وہ چند کنیز و غلاموں کے علاوہ کچھ نہیں ہیں ، شاعر کا مقصود یہاں پر اس شعر سے خاندان تیم سے ابوبکر کی بیٹی ہے کہ تفصیلی روداد کو ہم نے کتاب ” عائشہ دوران علی میں “ بیان کیا ہے ۔ تیم بن مرہ ،جمہرہ : ۱۳۵ میں اس طرح ذکر ہوا ہے کہ ہم نے کہا۔

۳۔ اس کا مقصود سلاطین سبئیہ ہے کہ جو حمیر ، قریش اور دوسروں سے قدیم تر تھے ۔


اعثم کہتا ہے: زیاد بن لبید، جب زکوٰة کے اونٹوں کو حضرموت سے مدینہ لے کر بھاگ رہا تھا، راستے میں ا بوبکر کے پاس جانے کے ارادے سے منصرف ہوا اور اونٹوں کو ایک مورد اعتماد شخص کے ذریعہ مدینہ بھیج دیا اور اسے حکم دیا کہ جو روداد واقع ہوئی ہے اس کے بارے میں ابوبکر کو کچھ نہ کہنا اس کے بعد قبائل کندہ کے ایک خاندان ” بنی ذہل بن معاویہ “(۱) کے پاس آیا اور ان سے روداد بیان کی انھیں ابوبکر کی بیعت کرنے اور اس کی اطاعت و پیروی کرنے کی دعوت دی ۔

بنی ذہل کا ایک سردار قبیلہ ” حارث بن معاویہ “(۲) نے اس سے مخاطب ہوکر کہا: زیاد ! تم ہمیں ایک ایسے شخص کی اطاعت اور پیروی کرنے کی دعوت دیتے ہو کہ نہ ہم سے اس کے بارے میں کوئی عہد و پیمان لیا گیا ہے اور نہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اس کی بیعت کرنے کا کوئی حکم دیاہے اور نہ تمہیں ،زیاد نے جواب میں کہا: اے مرد! صحیح کہا تم نے کہ اس کے بارے میں کوئی بیعت او رعہد وپیمان موجود نہیں تھا لیکن ہم نے اسے اس مقام کیلئے انتخاب کیا ہے ۔

حارث نے کہا: ذرا یہ بتاؤ، تم لوگوں نے اہل بیت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس مقام سے کیوں محروم کیا ہے ؟ جبکہ وہ دوسروں سے سزاوار تر تھے کیونکہ خداوند عالم فرماتا ہے : رشتہ دار و اعزہ کتاب خدا میں ---یعنی خداکے حکم سے --- ایک دوسرے کی نسبت اولی اور نزدیک تر ہیں ۔

زیاد نے کہا: گروہ مہاجر و انصار اپنے کام میں تم سے آگاہ تر ہیں ۔

____________________

۱۔ بنی ذہل ایک خاندان تھا جو حضر موت میں زندگی کرتا تھا : جزیرة العرب ھمدانی / ۸۵

۲۔ حارث بن معاویہ کا نام و نسب ابن حزم کی جمہرہ ۲/ ۴۷۷ میں آیا ہے کہ وہ معاویہ بن ثور کا بیٹا تھا ور قبیلہ کندہ سے تھا


حارث نے کہا: خداکی قسم ایسا نہیں ہے بلکہ تم لوگوں نے اس مقام کے حقداروں کو محروم کرکے

رکھ دیا ہے اور انکے بارے میں عداوت و حسد سے کام لیا ہے کیوں کہ میری عقل یہ قبول نہیں کرتی ہےکہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دنیا سے چلے جائیں اور لوگوں کیلئے کسی کو معین نہ کریں جس کی یہ لوگ پیروی کریں اے لوگو! ہم سے دور ہوجاؤ کیونکہ ہمیں ایک ایسی راہ کی طرف دعوت دیتے ہو کہ خدا اس پر راضی نہیں ہے ۔

اس کے بعد حارث بن معاویہ نے مندرجہ ذیل مضمون کے چند اشعار پڑھے :

جس پیغمبر کی ہم اطاعت کرتے تھے وہ اس دنیا سے چلا گیا

خدا کا درود اس پر ہو اور اپنا کوئی جانشین و خلیفہ معین نہیں کیا ؟(۱)

اعثم کہتا ہے : یہاں پر ” عرفجة بن عبدا للہ “ اٹھا اور کہا : خدا کی قسم حا رث صحیح کہتا ہے اس شخص کو نکال باہر کرو ، اس کو بھیجنے والا مقام خلافت کیلئے کسی قسم کی لیاقت اور حق نہیں رکھتا ہے اور گروہ مہاجر و انصار دین و امت کے امور میں اظہار نظر کرنے کے معاملہ میں پیغمبر اور ان کے اہل بیت ﷼ سے شائستہ تر نہیں ہیں

عاصم کہتا ہے : اس کے بعد قبیلہ کندہ کا ” عدی “ نامی ایک اور شخص اٹھا اور کہا:

لوگو ! ” عرفجہ “ کی بات پر توجہ نہ کرو اور اس کے حکم کی اطاعت نہ کرو کیونکہ وہ تمہیں کفر کی دعوت دیتا ہے اور حق کی پیروی کرنے سے روکتا ہے ، زیاد کی دعوت کو مثبت جانو اور اس کا جواب دو اور جس چیز پر

____________________

۱ کان الرسول هو المطاع فقد مضی

صلی علیه الله لم یستخلف


یہ شخص صحرا نشین عرب تھا اور پیغمبر کو مدینہ میں درک نہیں کیا تھالہذا وصی کے تعین کے بارے میں پیغمبر کی احادیث نہیں سنی تھیں ۔

مہاجر وانصار راضی ہوئے ہیں تم لوگ بھی اس پر راضی ہوجاؤ کیونکہ وہ اپنے کام میں تم لوگوں سے آگاہ تر ہیں ۔

اعثم کہتا ہے : اس شخص کے کئی چچیرے بھائی اپنی جگہ سے اٹھے اور اسے برا بھلا کہا اور گالیوں سے نوازا اور اس کی اتنی شدید پٹائی کی کہ اس کا بدن لہولہان ہوگیا اس کے بعد زیاد پر بھی حملہ بول دیا اور اسے قتل کرنا چاہتے تھے لیکن اس سے منصرف ہوئے اورا سے اس جگہ سے نکال باہر کیا ۔

اعثم کہتا ہے :زیاد قبائل کندہ میں سے جس کسی کے پاس بھی جاتا ان کی طرف سے اسے مثبت جواب نہیں ملتا تھا اور اس کی درخواست کو مسترد کردیا جاتا تھا(۱)

زیاد نے جب یہ حالت دیکھی تو وہ مدینہ کی طرف روانہ ہوا اور ابوبکر کے پاس جا کر تمام روداد سنادی اور ایسا ظاہر کیا کہ قبائل کندہ ارتداد کی طرف میلان رکھتے ہیں اور اسلام سے برگشتہ ہیں ۔

ابوبکر نے چار ہزار افراد پر مشتمل ایک لشکر آمادہ کیا اور زیاد کی کمانڈری میں حضرموت کی طرف روانہ کیا ۔ جب یہ خبر قبائل کندہ کو پہنچی ، تو گویا وہ اپنے کئے پر پشیمان ہوئے اور ”’ ابضعة بن مالک “ جو کندہ کے شاہزادوں میں سے ایک تھا ، ان کے درمیان کھڑا ہوا اور یوں بولا: اے گروہ کندہ ! ہم نے اپنے خلاف ایک ایسی آگ کے شعلے بلند کئے ہیں کہ گمان نہیں کیا جاسکتا ہے کہ یہ شعلے جلد بجھ جائیں

گے مگر یہ کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے اور ہم میں سے بہت سے افراد

____________________

۱۔ اس بات سے یوں استفادہ ہوتا کہ : زیاد ان قبائل کو اسلام کی دعوت نہیں دیتا تھا کیونکہ وہ مسلمان تھے اور نماز و زکات کا اعتراف کرتے تھے صرف ابوبکر کی خلافت سے انکار کرتے تھے اور اسے زکات دینے سے اجتناب کرتے تھے ۔


کو لقمہ اجل بنادیں گے اگر میری بات پر کان دھرو اور میرے نظریہ کو قبول کروتو یہ بہتر ہے کہ ہمیں گزشتہ کی تلافی کرنا چاہئے اور جو چیز ہاتھ سے گنوا دی ہے اس کا تدارک کرناچاہئے اور یہ جو آگ ہمارے خلاف شعلہ ور ہوئی ہے اسے اس طرح بجھا ئیں کہ اور ابوبکر کے پاس ایک خط لکھیں کہ ہم اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اپنے مال کی زکوٰة اپنی مرضی سے اسے ادا کریں گے اور ہم ان کی پیشوائی اور امامت پر راضی ہیں(۱)

” ابضعہ “ نے اپنی بات کے اختتام پر اس جملہ کا بھی اضافہ کیا : باوجود اس کے کہ میں یہ تجویز تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں نیز تمہاری رای اور نظر سے بھی کوئی اختلاف نہیں رکھتا ہوں لیکن تمہارے کام کا نتیجہ وہی دیکھتا ہوں جو میں نے کہا ہے اور اس کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہیں آرہا ہے۔

اس کے بعد اعثم قبیلہ کندہ میں ا ختلاف پیدا ہونے کی کیفیت اور ”اشعث“کی مخالفت اور اس کے عدم تعاون کی مکمل طور پر تشریح کرتے ہوئے کہتا ہے :

زیاد نے قبیلہ کندہ کے ” بنو ھند “ نامی ایک خاندان پر اچانک حملہ کرکے انھیں بری طرح شکست دی کہ وہ بھاگ کھڑے ہوئے اور مسلمانوں نے ان کی عورتوں ، بچوں اورمال و دولت پر تسلط جمایا

____________________

۱۔ ہم واضح طور پر مشاہد کرتے ہیں کہ تمام جنگیں ابوبکر کی خلافت اور حکومت کے سلسلہ میں تھیں نہ اسلام کیلئے لیکن چونکہ مؤرخین ابوبکر کی خلافت کو باقاعدہ قبول کرتے ہیں اس لئے ان اختلافات کو ارتداد سے منسلک کر کے اسلام سے اختلاف کے طور پر جانتے ہیں لہذا کہتے ہیں ” مسلمانوں نے عورتوں اور بچوں پر تسلط جمایا“ اور لشکر ابوبکر کو مسلمان جانتے ہیں اس کے مقابلہ میں ابوبکر کے مخالفوں کو مرتد کہتے ہیں اور یہی نام گزاری آج تک باقی رہی ہے ورنہ نہ کوئی ارتداد تھا اور نہ دین سے خروج کا کہیں وجود تھا ۔


اعثم کہتاہے : زیاد ” بنو ھند “ کو شکست دینے کے بعد کندہ کے ” بنو عاقل “ نامی قبیلہ، کی طرف روانہ ہوا اس نے ان پر بھی اچانک او ران کو اطلاع دیئے بغیرحملہ کیا ۔ ” زیاد بن لبید “ کے سپاہی جب بنی عاقل کے نزدیک پہنچے تو قبیلہ کی عورتوں کی فریاد بلند ہوئی تو لوگ زیاد کے لشکر سے لڑنے کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے قبیلہ کے لوگوں اور سپاہیوں کے درمیان نبرد آزمائی ہوئی اور تھوری مدت کے بعد یہ جنگ قبیلہ والوں کی شکست پر ختم ہوئی انہوں نے گھر بار اور بال بچوں کو چھوڑ کے فرار کیا اور وہ سب ” زیاد بن لبید “ کے سپاہیوں کے ہاتھ لگ گئے ۔

اسکے بعد وہ قبیلہ ” بنی حجر “ کی طرف روانہ ہوا اور ان پر شب خون مارا ۔ بنی حجر کے افراد ان دنوں زبردست اور نامور جنگجو مانے جاتے نیز قبائل کندہ کے بے مثال تیر اندازشمار ہوتے تھے چونکہ زیا دکے حملہ کے بارے میں پہلے سے مطلع نہیں تھے اور ان پر اچانک حملہ کیا گیاتھا اس لئے ایک مختصر جنگ اور مقابلہ کے بعد شکست سے روبرو ہوکر بھاگنے پر مجبور ہوئے زیادکے سپاہیوں نے ان کے دو سو افراد کو قتل کرڈالا اور پچاس افرادکو قیدی بنالیا اورقبیلہ کے باقی افراد بھاگ گئے ان کا جو بھی مال و منال تھا مسلمانوں کے ہاتھوں یا بہ عبارت واضح ابوبکر کے سپاہیوں کے ہاتھ لگ گیا زیاد بن لبید ”بنی حجر “ سے جنگ کے بعد قبیلہ ” بنی حمیر “ کی طرف روانہ ہوا ۔ اس قبیلہ اور مسلمانوں کے درمیان ایک جنگ چھڑ گئی کہ اس میں مسلمانوں کے بیس افراد قتل کئے گئے اور قبیلہ کے بھی بیس افراد مارے گئے آخرکار قبیلہ ” بنی حمیر“نے بھی دوسرے قبیلوں کی طرح شکست کھائی اور بھاگ گئے مسلمانوں نے ان کی عورتوں اور بچوں پر تسلط جمایا۔

زیاد بن لبید کی کمانڈری میں انجام پانے والی ان جنگوں اور خونریزیوں کی خبر اشعث بن قیس کو پہنچی تو انتہائی غضبناک ہوا اور کہا:” کیا لبید کا بیٹا میرے رشتہ داروں اور میرے چچیرے بھائیوں کو قتل کرے ،عورتوں اور بچوں کو اسیر بنائے اور ان کی ثروت کو لوٹ لے اور میں آرام سے بیٹھا رہوں ؟!

اس کے بعد اپنے چچا زاد بھائیوں کو بلایا اور زیاد کی طرف روانہ ہواورشہر ” تریم “ ۱ کے نزدیک زیاد کے فوجیوں سے نبرد آزما ہوا اور ان کے تین سو افرادکو قتل کر ڈالا ۔ زیاد نے شکست کھاکر شہر ” تریم“ میں پناہ لے لی ، لہذا اشعث نے وہ تمام مال اور بچے پھر سے اپنے قبضہ میں لے لئے جنہیں زیاد لوٹ چکا تھا اس کے بعدا نہیں ان کے مالکوں کو واپس پہنچادیا ۔ اس روداد کے کندہ کے بعد مختلف قبیلے کے بہت سے افراد اشعث کے گرد جمع ہوگئے اور زیاد اور اسکے طرفداروں کا ” تریم “ میں محاصرہ کیا ۔ زیاد نے اس روداد کو ایک خط کے ذریعہ ابوبکر تک پہنچا دیا ابوبکر اس روداد سے غمگین اور پریشان ہوئے اور اسکے علاوہ کوئی چارہ نہ پایا کہ اشعث کے نام ایک خط لکھ کر اسے راضی کرےں ۔ مجبور ہوکر مندرجہ ذیل خط اس کے نام لکھا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم،بندہ خدا عبد اللہ بن عثمان جانشین رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے اشعث بن قیس اور قبیلہ کندہ کے تمام ان افراد کے نام جو اس کے ساتھ ہیں ، اما بعد، خداوند عالم اپنے پیغمبر پر نازل کی گئی کتاب میں فرماتا ہے :

____________________

۱۔” تریم “ حضرموت کے شہروں میں سے ایک کا نام ہے اور ایک دوسرے شہر کا نا م شبام ہے او ردونوں شہر دو قبیلوں کے نام سے منصوب ہیں جو وہاں پر بستے تھے


”ایمان والو! اللہ سے اس طرح ڈرو جو ڈرنے کا حق ہے اور خبردار اس وقت تک موت کو دعوت مت دو جب تک مسلمان نہ ہوجاؤ “(۱) میں تمہیں تقویٰ اور پرہیزگاری کا حکم دیتا ہوں اور ارتداد و خدا سے پیمان شکنی سے روکتا ہوں کہ نفسانی خواہشات کی پیروی نہ کرنا تا کہ یہ چیز تمہیں راہ خدا سے گمراہ کرکے ہلاکت و بدبختی کی طرف نہ کھینچ لے ۔ اگر اسلام سے منحرف(۲) ا ور زکوٰة دینے سے انکار کرنے میں تمہار امحرک میرے نمائندہ زیاد بن لبید کی نامناسب اقدام اور بدسلوکی ہے(۳) تو میں اس کو آپ لوگوں کی سرپرستی سے معزول کرتا ہوں اور جسے تم بھی پسند کرتے ہو میں اسے تمہارے لئے سرپرست قرار دیتا ہوں اور حامل رقعہ کو میں نے حکم دیا ہے کہ اگر تم لوگوں نے اس حق کو قبول کیا تو وہ بھی زیاد کو حکم دے گا کہ وہ تمہارے شہر ووطن کو چھوڑ کر واپس آجائے اور تم لوگ بھی اپنے کئے پر نادم ہو کر جتنا جلد ممکن ہو توبہ کر لوخداوند عالم ہمیں اور تمہیں اسی راہ پر کامیاب کرے جو اس کی رضا اور خوشنودی کی راہ ہے والسلام(۴)

____________________

۱۔<یا ایها الذین آمنوا اتقو الله حق تقاته و لاتموتن الا و انتم مسلمون >(آل عمران / ۱۰۲)

۲۔ میں نہیں جانتا ابوبکر انہیں کس ارتدادکا الزام لگاتے ہیں کہ جبکہ وہ خدا کی وحدانیت اور پیغمبر اسلام کی نبوت کی شہادت دیتے اور مسلمانوں کے قبلہ کی طرف رخ کرے نما زپڑھتے تھے ؟!

۳۔ ابوبکر نے یہاں پر اپنے گورنر کی جارحیت اور ظلم کا اعتراف کیا ہے اور اختلاف کے اسرار کو فاش کیا ہے کہ قبائل عر ب کے اختلافات اور بغاوت کا سبب گورنروں کی جارحیت تھی نہ کہ ان کا ارتداد اور اسلام سے انحراف۔

۴۔ فتوح اعثم کی ج ۱/ ص ۶۸ پر اسی صورت میں آیا ہے اور جو کچھ حسان نے ابوبکر کے نامہ کے ذیل میں لکھا ہے اسے منعکس نہیں کیا ہے شائد اس سلسلہ میں چند اشعار بھی تھے فتوح کے مؤلف کے نقل کرنے سے رہ گئے ہیں ۔


جب ابوبکر کا خط اشعث کو ملا اور اس نے اس کو پڑھ لیا تو، اس نے قاصد سے کہا؛ تیرا رئیس ابوبکر ہماری مخالفت کے سبب ہم پر کفر و ارتداد کا الزام لگاتا ہے ، لیکن اپنے نمائندے کو کافر نہیں جانتا ہے جس نے ہمارے مسلمان رشتہ داروں اور چچیرے بھائیوں کو قتل کیا ہے ؟

قاصد نے کہا: جی ہاں ، اشعث ، تیرا کفر ثابت ہے کیونکہ تم نے مسلمانوں کے گروہ سے اختلاف کیا ہے(۱)

قاصد نے جب یہ جملہ کہا تو اشعث کے چچیرے بھائیوں میں ایک جوان نے اٹھ کر اس پر حملہ کیا اور اسکے فرق سر پر تلوار لگا کر اسے وہیں پر قتل کر ڈالا ۔

اشعث نے اس جوان سے کہا: احسنت ! آفرین ہو تم پر ، ایک جھگڑالو کو خاموش کردیا اور ایک دخل در معقولات کرنے والے کو فوری جواب دیا ۔

ابو قرہ کندی اس روداد سے غضبناک ہوا اور اپنی جگہ سے اٹھ کر بولا: اشعث ! نہیں ، خدا کی قسم تم نے جو کام انجام دیا ہے، ہم میں سے کوئی ایک شخص بھی ترے ساتھ اس بات پر موافق نہیں ہے اور تعاون نہیں کرے گا کیونکہ تم نے ایک ایسے قاصد کو قتل کیا ہے جو کسی گناہ کا مرتکب نہیں ہوا تھاجب کہ تم اس پر جارحیت کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے تھے ابو قرہ نے کہا اور اپنے قبیلہ کے افراد کے ساتھ اشعث کے گروہ سے اٹھ کر اپنے قبیلہ کے مرکز کی طرف چلا گیا ۔

____________________

۱۔ معلوم ہوتا ہے کہ ابوبکر کے مامور اشعث اور اس کے افراد کے ساتھ اتحاد و یکجہتی ہمدردی ایجاد کرنے کے بجائے اشعث اور اس کے افراد کے ساتھ سختی سے پیش آتے تھے ۔


اس کے بعد ابو سمرکندی اٹھا اور بولا: اشعث! تم ایک بڑے گناہ کے مرتکب ہوئے ہو ، کیونکہ تم نے ایک بے گناہ شخص کو قتل کر ڈالا ہے ہم ان سے لڑتے ہیں جو ہم سے جنگ کرتے ہیں لیکن قاصد اور حامل خط کو قتل کرناصحیح اور مناسب نہیں تھا ۔

اشعث نے کہا؛ تم لوگ اپنے فیصلہ میں جلد بازی نہ کرو، اولاً اس قاصد نے ہم سب لوگوں پر کفر و ارتدادکا الزام لگا یا ۔

ثانیاً اگرچہ میں اس کے قتل سے ناراض نہ ہوا لیکن بہرحال میں نے اس کے قتل کا حکم بھی تو نہیں دیا تھا!

اس کے بعد ایک اور شخض اٹھا اور بولا : اشعث ! ہم سمجھتے تھے کہ تم اس نامناسب کام کے سلسلہ میں ہمارے لئے کوئی قابل قبول و اطمینان بخش عذر پیش کر کے ہمیں لاجواب کرو گے ، لیکن تم نے ہمارے جواب میں ا یک ایسی بات کہی جو ہم میں سے بیشتر افراد کی تم سے نفرت و بیزاری کاسبب بنا ، خدا کی قسم اگر تم دانا اور عقلمند ہوتے تو اس نامناسب کا م کو انجام پانے سے روکتے اور اس بے گناہ قاصد کی نسبت جارحیت اور ظلم کے مرتکب نہیں ہوتے اور اسے قتل نہیں کرواتے ۔

ایک اور شخص نے کہا: لوگو ! اس ظالم سے دوری اختیار کرو تا کہ خدا جان لے کہ تم اس کے ظلم و جارحیت سے راضی نہ تھے ۔

اس روداد کے بعد اشعث کے دوست و احباب اس کے گرد سے متفرق ہوگئے اور دو ہزار افراد کے علاوہ اس کے پاس کوئی نہ رہا ۔

زیاد نے ابوبکر کو ایک خط لکھا اور اس کے قاصدکے قتل ہونے کی خبر سے اسے مطلع کیا اور اس کے ضمن میں لکھا : میں اپنے احباب کے ساتھ فی الحال شہر ” تریم “ میں سخت محاصرہ اور برے حالات میں بسرکررہا ہوں ۔

ابوبکر نے قبیلہ کندہ کے بارے میں مشورہ کیا ۔ ابو ایوب انصاری ، نے کہا: فی الحال ان لوگوں کی تعداد زیادہ ہے اور اپنی پادشاہی اور ریاست میں مغرور ہیں اگر بیشتر سپاہ جمع کرنے کا فیصلہ کریں تو وہ یہ کام کر سکتے ہیں ۔ بہتر یہ ہے کہ اس سال تم اپنی فوج کو وہاں سے واپس بلا لو اور ان کے اموال کی زکوٰة سے صرف نظر کرو ۔ اس صورت میں مجھے امید ہے کہ وہ اپنی مرضی سے حق کی طر ف پلٹ آئیں گے اور اگلے سال سے اپنی مرضی اور خوشی سے زکوٰة ادا کریں گے ۔

ابوبکر نے کہا: ابو ایوب !خدا کی قسم جو کچھ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان پر متعین فرمایا ہے ، اگر اس میں سے اونٹ کے پاؤں کا ایک حلقہ بھی کم دینے میں انکار کریں گے تو میں ا ن کے ساتھ جنگ کروں گا(۱) یہاں تک کہ بغاوت اور نافرمانی سے ہاتھ کھینچ لیں گے اور ذلیل و خوار ہوکر حق کو تسلیم کریں گے ۔

____________________

۱۔ اس جملہ میں ابوبکر کا اشعث کے افراد سے اختلاف کا راز واضح ہوتا ہے کہ ابوبکر چاہتا تھا وہ اسی طرح زکوٰة دیتے رہیں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں دیتے تھے ورنہ بات ہرگز اسلام اور زکوٰة کے فریضہ کو قبول کرنے کے بارے میں نہیں تھی ۔


اس کے بعد ابوبکر نے عکرمة بن ابی جہل(۱) کو ایک خط میں لکھا کہ وہ اہل مکہ کے ایک گروہ اور اس کے ہمنواؤں کے ساتھ زیاد بن لبید کی طرف روانہ ہوجائے اور راستے میں عرب قبائل میں سے جو

بھی قبیلہ ملے انہیں اشعث کے خلاف لڑنے پر مشتعل کرے ۔

ابوبکر کے حکم سے عکرمہ قریش اور ان کے ہم پیمانوں کے دو ہزار سواروں کے ہمراہ زیاد کی طرف روانہ ہوا یہاں تک کہ نجران میں داخل ہوا اس وقت ” جریر بن عبد اللہ بجلی “ اپنے چچیرے بھائیوں کے ساتھ نجران میں سکونت پذیر تھا اور خاندان بجلی کی سرداری اس کے ہاتھ میں تھی عکرمہ نے جریر کو اشعث سے جنگ کی دعوت دی لیکن جریر نے ان کا تعاون کرنے سے انکار کیا عکرمہ وہاں سے ” مارب“ کی طرف روانہ ہوا جب ”دبا“ کے باشندوں کو عکرمہ کے ’ ’مارب “پہچنے کی خبر ملی تو وہ عکرمہ کی روانگی سے غضبناک ہوئے اورکہا: ہم عکرمہ کو اس کے لئے نہیں چھوڑیں گے کہ قبیلہ کندہ اور غیر کندہ کے ہمارے چچیرے بھائیوں پر حملہ کرے اور انھیں قتل کر ڈالے ” دبا“ کے باشندوں نے اسی غرص سے ابوبکر کی طرف سے ان پر مامور نمائندہ ” حذیفہ بن محصن “ کو اپنے شہر سے نکال باہر کیا ، حذیفہ نے عکرمہ کے یہاں پناہ لے لی اور ”دبا“ کے باشندوں کی بغاوت کے بارے میں ابوبکر کو اطلاع دی ۔ ابوبکر اس واقعہ سے غضبناک ہوئے اور عکرمہ کے نام مندرجہ ذیل خط لکھا :

____________________

۱۔ عکرمہ ، جس کا لقب ابوعثمان بن ابو جہل بن ہشام تھا وہ قبیلہ قریش کے خاندان مخزوم سے تھا اس کی والدہ مجالا نامی قبیلہ ہلال کی ایک عورت تھی ، عکرمہ کے باپ ابوجہل کا اصلی نام عمرو تھا عکرمہ بھی اپنے باپ ابوجہل کی طرح ایام جاہلیت میں رسول اللہ کے جانی دشمنوں میں شمار ہوتا تھا اور فتح مکہ کے کچھ دنوں بعد اسلام قبول کیا اور جنگ جمل میں ماراگیا اسد الغابہ ،۴/ ۲۔۷۔


اما بعد ، میں نے پہلے خط میں حکم دیا تھا کہ حضرموت کی طرف روانہ ہونالیکن

جب میرا یہ خط تجھے ملے تو اپنا راستہ بدل کر’ ’دبا“ کی طرف روانہ ہوجاواور وہاں کے لوگوں سے ایسا برتاؤ کروجس کے وہ شائستہ ہوں اور اس فرمان کو عملی جامہ پہنانے میں کسی قسم کی تاخیر اور کوتاہی نہ کرنا ور جب ” دبا“ کی ماموریت سے فارغ ہوجاؤ تو وہاں کے باشندوں کو گرفتار کرکے میرے پاس بھیجدواس کے بعد زیاد بن لبید کی طرف روانہ ہوجاو امید رکھتا ہوں خداوند عالم سرزمین حضرموت کی فتح تیرے ہاتھوں نصیب کرےو لا حول و لا قوة الا بالله العلی العظیم

عکرمہ اسی حکم کے مطابق ”دبا“ کی طرف روانہ ہوا اور وہاں کے باشندوں سے جنگ کی ، اور انہیں اپنے محاصرہ میں لے لیا چونکہ دبا کے باشندے اس محاصرہ میں مشکلات سے دوچار ہوئے تو اپنے گزشتہ حاکم حذیفہ کو پیغام بھیجا اور اس سے صلح کی درخواست کی اور کہا کہ وہ زکوٰةکو ادا کریں گے اور حذیفہ سے بھی محبت کرکے اس کے احکام کی اطاعت کریں گے حذیفہ نے دبا کے باشندوں کے نمائندہ کو اس پیغام کے ساتھ واپس بھیجا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان صلح کا معاہدہ منعقد نہیں ہوگا مگر مندرجہ ذیل شرائط پر:

۱ ۔ اقرار و اعتراف کرو کہ تم باطل پر ہو اور ہم حق پر ہیں ۔

۲ ۔ اعتراف کرو کہ تمہارے مقتولین جہنم میں ہیں اور ہمارے مقتولین بہشت میں(۱)

____________________

۱ ۔کیا خداوند عالم قیامت کے دن جو کچھ ابوبکرکے گماشتے کہیں گے اسی پر عملی جامہ پہنائے گا؟ہم یہاں پر ایک بار پھر ابوبکر کے مامورین کی سختی اور تندی کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔


۳ ۔ تمہارے ہتھیار ڈالنے کے بعد ہم اپنی مرضی کے مطابق تمہارے ساتھ برتاؤ کریں گے نہ تمہاری رائے اور مرضی کے مطابق۔

”دبا“ کے باشندوں نے مجبور ہوکر یہ شرائط مان لئے ۔ حذیفہ نے بیشتر اطمینان کیلئے پیغام بھیجا کہ اگر تم لوگوں نے واقعاً ہماری تجویز کو مان لیا ہے تو اسلحہ کے بغیر شہر سے باہر آنا ۔ انہوں نے بھی حاکم شہر کے اطمینان کیلئے اس کے حکم پر عمل کیا اور غیر مسلح صورت میں شہر سے باہر آگئے تا کہ صلح کا معاہدہ منعقد ہوجائے ۔

لیکن عکرمہ نے اس فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شہر کے قلعہ پر قبضہ جمایا اور وہاں کے اشراف اور بزرگوں کے کھلے عام سر قلم کئے ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنالیا اور ان کی ثروت کو غنیمت کے طور پر لوٹ لیا اور باقی لوگوں کو اسیر بناکر ابوبکر کے پاس بھیج دیا ۔

ابوبکر نے فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کردےاجائے اور انکے بچوں کو سپاہیوں کے درمیان غلاموں کی حیثیت سے تقسیم کردےاجائے ۔ عمر ابوبکر کے اس فیصلہ کو عملی جامہ پہنانے میں رکاوٹ بنے اور کہا: اے پیغمبر کے جانشین ! یہ لوگ دین اسلام پر باقی ہیں کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ لوگ دل سے قسم کھاتے ہیں کہ اسلام سے منحرف نہیں ہوئے ہیں ۔

ابوبکر عمر کے کہنے پر ان کو قتل کرنے سے منصرف ہوگئے اور انھیں مدینہ کےجیل میں ڈال دیا یہاں تک وہ دنیا سے گزر گئے اور جب ابوبکر کے بعد حکومت کی باگ ڈور عمر کے ہاتھ آئی تو اپ نے انھیں جیل سے آزاد کر دیا۔

عکرمہ ” دبا“ کو فتح کرنے کے بعد ” زیاد “ کی مدد کیلئے حضرموت کی طرف روانہ ہو گیا ۔ جب یہ خبر اشعث کو پہنچی تو اس نے ” نجیر “ کے قلعہ میں پناہ لے لی ۔ اپنے دوست و احباب کی عورتیں اور بچے بھی وہیں پر جمع کر لئے اسکے بعد عکرمہ اور اس کے درمیان کئی جنگیں واقع ہوئیں جب اس روداد کی خبر قبیلہ کندہ اور ان افراد کو ملی جو ابوبکر کے قاصد کو قتل کرنے پر اشعث سے اختلاف کرکے اس سے جدا ہوئے تھے ، انہوں نے آپس میں کہا کہ اب جب کہ ہمارے بھائی قلعہ ” نجیر “ میں محاصرے میں پھنسے ہیں تو یہ ہمارے لئے ایک بڑی ننگ اور شرم کی بات ہے کہ انھیں دشمن کے حوالے کر کے خود نعمت و آسائش میں بسر کریں ، آئیے ہم ان کی طرف دوڑتے ہیں اور انہیں نجات دینے کی کوشش کرتے ہیں اس طرح قبیلہ کندہ کے جنگ سے پیچھے بھاگنے والے لوگ دوبارہ زیاد کی فوج سے لڑنے کیلئے روانہ ہوئے زیاد کو جب انکی روانگی کی خبر ملی تو اس نے بے بسی اور پریشانی کا اظہار کیا عکرمہ نے اس سے کہا کہ مصلحت اس میں ہے کہ تم اسی جگہ پر رہنا اور محاصرہ میں پھنسے لوگوں کو محاصرہ توڑنے کی اجازت نہ دیناا ور میں چند لوگوں کے ساتھ ان لوگوں کی طرف چلا جاؤں گا جو ہماری طرف آرہے ہیں اور انھیں آگے بڑھنے سے روک لوں گا ۔

زیاد نے کہا: اچھی رائے ہے ، لیکن اگر خدا نے تجھے کامیابی عطا کی تو تلوار کو نیام میں نہیں رکھنا یہاں تک انکے آخری فرد کونہ قتل کر دو(۱)

____________________

۱۔ خلیفہ کے گماشتے ایک دوسرے کو اسی طرح کی سفارش کرتے تھے کہ مسلمانوں کے مخالفین میں سے کسی کو زندہ نہ رکھنا ۔


عکرمہ نے کہا: جہاں تک ممکن ہوسکے اس راہ میں کوشش کروں گا اس کے بعد روانہ ہوا یہاں تک ان لوگوں میں پہنچا اور ان کے درمیان جنگ واقع ہوئی ۔ عکرمہ اور اس کے دوستوں نے اس جنگ میں شکست کھائی جب رات ہو گئی توجنگ کے شعلے بجھ گئے لیکن دوسرے دن کی صبح کو دونوں فوجیں دوبارہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے قرار پائیں اور اس روز عصر تک گھمسان کی جنگ جاری رہی ۔

دوسری طرف سے اشعث بن قیس جو محاصرے میں تھا ، ان روداد کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا ور چونکہ اس قلعہ کا محاصرہ جاری رہا بھوک اور پیاس نے اشعث اور اس کے ساتھیوں کو تنگ اور مجبور کر دیا اشعث نے زیا د کو پیغام بھیجا کہ خود اسے ، اس کے خاندان اور اس کے دوستوں میں سے دس افراد کو امان دیدے ۔ زیاد نے اس تجویز کی موافقت کی اور ان کے درمیان ایک عہد نامہ لکھا گیا ۔ محاصرہ میں پھنسے لوگوں نے خیال کیا کہ اشعث نے یہ امان نامہ سب لوگوں کیلئے حاصل کیا ہے اور تمام محاصرہ شدہ لوگ اس امان نامے میں شامل ہیں ، لہذا وہ خاموش رہے اور اس عہد نامہ کی مخالفت نہیں کی ۔ زیاد نے بھی ایک خط کے ذریعہ اس امان نامہ کی روداد عکرمہ کو بھیج دی ۔ عکرمہ نے ان لوگوں سے --جو اس سے لڑتے تھے ---کہا: لوگو ! ہم سے کس لئے جنگ کرتے ہیں ؟

عکرمہ نے کہا: یہ دیکھ لو ! تمہارے سردار نے امان کی درخواست کی ہے ۔ یہ کہا اور خط کو ان کی طرف پھینک دیا ۔ جب انہوں نے خط کو پڑھ لیا اور خط کے مضمون یعنی یہ کہ اشعث نے زیاد سے امان کی درخواست کی ہے سے مطلع ہوئے تو کہا : عکرمہ اب ہماری تیرے ساتھ کوئی جنگ ہی نہیں ہے ، تم سلامت چلے جاؤ اور وہ بھی اشعث کو گالیاں سناتے ہوئے عکرمہ کی جنگ سے واپس چلے گئے ۔

عکرمہ جب ان قبائل کی جنگ سے مطمئن ہوا تو اپنے دوستوں سے کہا: جتنا جلد ممکن ہوسکے زیاد کی طرف روانہ ہوجاؤ، کیونکہ اشعث نے امان کی درخواست کی ہے اور اگر زیاد اور اس کے ساتھی قلعہ کو فتح کریں اور وہاں کی ثروت کو غنیمت کے طور پر لے جائیں تو شائد تمہیں اس میں شریک قرار نہ دیں کیونکہ وہ قلع فتح کرنے میں تم لوگوں پر سبقت حاصل کریں گے ۔

عکرمہ اور اس کے دوست جب قلعہ ” نجیر “ کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ ابھی اشعث قلعہ سے باہر نہیں آیا ہے اور اپنے اور اپنے دوستوں کیلئے ایک مضبوط عہد نامہ کا مطالبہ کررہا ہے ۔ زیاد نے عکرمہ سے سوال کیا کہ : قبائل کندہ کے ساتھ تم نے کیا کیا ؟

عکرمہ نے کہا: تمہاری نظر میں مجھے ان کے ساتھ کیا کرناچاہئے تھا خدا کی قسم میں نے قبائل کندہ کے لوگوں کو ایسا مرد پایا جو طاقت ور ، جنگجو اور موت کا مقابلہ میں صابر و شاکر تھے۔ میں نے ان کے ساتھ جنگ کی لیکن آخرکار معلوم ہوا کہ وہ مجھ سے طاقتور اور قوی تر ہیں ۔ اس کے علاوہ تیر اخط مجھے پہنچا اور میں نے دیکھا کہ اشعث نے امان کی درخواست کی ہے اور جنگ ختم ہوئی ہے اس لئے میں بھی اشعث کے امدادی فوجیوں سے جنگ ترک کرکے تیری طرف روانہ ہو گیا ہوں ۔

زیاد نے کہا: عکرمہ! نہیں ! خدا کی قسم جو کچھ تم نے کہا ، وہ ایک بہانہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور حقیقت یہ ہے کہ تم ایک ڈرپوک شخص ہو اور تیرا بزدل ہونا ہی سبب بنا ہے کہ تم جنگ سے فرار کرگئے ہو اور ہماری طرف آگئے ہو، کیا میں نے تجھے حکم نہیں دیا تھا کہ قبائل کندہ پر ایسی تلوار چلانا کہ ان میں سے ایک فرد بھی زندہ نہ بچ سکے ؟ اب تم اپنے دوستوں کے ہمراہ اس خوف میں واپس آئے ہو کہ کہیں مال غنیمت ہاتھ سے نہ چلا جائے ۔اس پر خدا کی لعنت ہو جو آج کے بعد تجھے بہادر کہے ۔ عکرمہ ، زیاد کی باتوں سے غضبناک ہوا اور کہا: زیاد ! خداکی قسم اگر وہ تیرے ساتھ جنگ کرتے تو تم انھیں ایسے شیر پاتے جو اپنے تیز دانتوں اور اپنے مضبوط اور وحشی پنجوں کو تیز کرکے اپنے بچوں کے ہمراہ اٹھتے ہیں اور بہادرانہ طور پر بہادروں کے ساتھ جنگ کرتے ہیں ، اس وقت تم آرزو کرتے کہ وہ تم سے دست بردار ہوکر دوسری طرف رخ کرتے ۔ اسکے علاوہ تم خود ایک خشک ، سخت ، بہت بڑے ظالم ، غاصب ، بزدل اور مال و ثروت کے بارے میں دوسروں سے حریص تر ہو ۔ یہ تم تھے جس نے یہ سب شورشیں برپا کیاہے ۔ یہ تم تھے جس نے ان لوگوں سے جنگ کی ہے اور وہ بھی ایک اونٹ کیلئے ، جی ہاں ، صرف ایک اونٹ کیلئے اپنے اور ان قبائل کے درمیان اتنی جنگیں اور خونریزیاں برپا کی ہیں ا ور اگر میں اور میرے فوجی تیری نصرت کیلئے نہ آتے تو سمجھ لیتے تجھے کیسے یہ لوگ تہ تیغ کرکے طوق و زنجیر میں جکڑ تے ہیں ۔

اس کے بعد عکرمہ نے اپنے ساتھیوں کی طرف خطاب کیا اور انھیں حکم دیا کہ روانہ ہوجائیں لیکن زیاد نے عکرمہ سے معافی مانگی ۔ عکرمہ نے بھی اس کی معافی قبول کی اور اس کی نصرت اور مدد کرنے میں وفاردار رہا ۔ اس کے بعد اشعث اپنے خاندان ، بنی اعمام کے بزرگوں اور اپنے چچیرے بھائیوں اور ان کے خاندان اور مال و منال کے ساتھ قلعہ سے باہر آیا ۔ چونکہ اشعث نے صرف اپنے رشتہ داروں اور اعزہ کیلئے امان طلب کی تھی اور اس کا اپنا نام اس امان نامہ میں ذکر نہیں ہوا تھا، لہذا زیاد نے کہا: اشعث ! تم نے اپنے لئے امان نہیں چاہی ہے ۔ خدا کی قسم اب میں تجھے قتل کردوں گا ۔

اشعث نے کہا: میں نے اپنے رشتہ داروں کیلئے امان کی درخواست کی تھی مناسب نہیں تھا کہ اس میں اپنا نام بھی لکھدوں ، لیکن ، یہ جو تم نے کہا کہ : مجھے قتل کر ڈالو گے ، خد اکی قسم اگر مجھے قتل کر دو گے تو یمن کے تمام لوگ تیرے اور تیرے سردار ابوبکر کے خلاف شورش و بغاوت کریں گے اور وہ بغاوت ایک بے مثال بغاوت ہوگی ۔

زیاد ، اشعث کی باتوں پر توجہ کئے بغیر قلعہ میں داخل ہوا اور اشعث کے ایک ایک سپاہی کو پکڑ کر سر قلم کررہا تھا ، انہوں نے کہا: زیاد ! ہم نے اس لئے دروازہ تیرے لئے کھولا ہے کہ تم نے ہمیں ا مان دی تھی، اب تم کس حیثیت سے ہمیں قتل کررہے ہو ؟ امان دینا کہاں اور یہ قتل کرنا کہاں ؟

زیاد نے کہا: اشعث نے تم لوگوں سے جھوٹ کہا ہے ،کیونکہ عہد نامہ میں اس کے گھر انے کے افراد اور اس کے رشتہ داروں میں سے دس افرادکے علاوہ کسی کا نام نہیں آیا ہے ۔

اس کے بعد ان لوگوں نے کچھ نہیں کہا اور سمجھ گئے کہ یہ اشعث ہے جس نے انھیں موت کے حوالے کیا ہے ۔

جس وقت زیاد قلعہ کے لوگوں کے سر قلم کررہا تھا، اسی اثناء میں ابوبکر کی طرف سے اسے مندرجہ ذیل مضمون کا ایک خط ملا:

مجھے خبر ملی ہے کہ اشعث نے امان کی درخواست کی ہے اور میرے حکم کی اطاعت کی ہے تو اسے میرے پاس بھیج دو اور کندہ کے بزرگوں میں سے کسی کو قتل نہ کرنا۔

زیاد نے کہا: اگر یہ خط مجھ پہلے ملتا تو ان میں سے ایک کو بھی قتل نہیں کرتا اس کے بعد باقی افراد کو جمع کیاان کی تعداد اسی ( ۸۰) تھی انھیں زنجیروں میں جکڑ کر ابوبکر کے پاس بھیج دیا۔

قبیلہ کندہ کے افراد جب مدینہ میں داخل ہوئے اور ابوبکر کے مقابلہ میں کھڑے ہوئے تو ابوبکر نے اشعث سے کہا:

شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمیں تم پرمسلط کیا ۔

اشعث نے کہا؛ جی ہاں ، میری جان کی قسم تم مجھ پر مسلط ہوگئے ہو جبکہ میں اسی چیز کا مرتکب ہوا ہوں جس کا گذشتہ دوسرے لوگ بھی مرتکب ہوئے تھے وہ یہ کہ تیرے حاکم زیاد بن لبید نے ہمارے اعزہ اور رشتہ داروں کو بے گناہ اور ظلم و ستم سے قتل کیا اور میرے خاندان اور رشتہ داروں کے ساتھ وہی کیا جسے تم خود جانتے ہو۔

عمر اپنی جگہ سے اٹھے اور کہا: اے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جانشین ! یہ اشعث مسلمان تھا، پیغمبر پر ایمان لایا تھا اور قرآن پڑھتا تھا ، بیت اللہ کی زیارت کی تھی اس کے بعد اپنے دین سے منحر ف ہو گےا اور اپنے طریقہ کو بدل ڈالا اور زکوٰة دینے سے انکار کیا۔ پیغمبر نے حکم دیا ہے جو بھی اپنے دین کو بدل دے اسے قتل کردو ۔ اب خدا نے بھی تجھے قدرت عطا کی ہے لہذا اس کو قتل کرنا کیونکہ اس کا خون حلال و مباح ہے ۔

اشعث اٹھا اور عمر کے جواب میں ا بوبکر سے مخاطب ہوا : اے پیغمبر کے جانشین! میں نہ تو اپنے دین سے منحرف ہوا ہوں او رنہ ہی اپنے مالک کو زکوٰة دینے میں بخل سے کام لیا ہے ۔ لیکن تیرے نمائندہ زیاد بن لبید نے میرے رشتہ داروں اور اعزہ پر ظلم کیا اور ان میں سے بے گناہ افراد کو قتل کیا میں اس کے اس کام سے پریشان تھا اور اس کا انتقام لینے کیلئے اٹھا تھا اور اس سے جنگ و مقابلہ کیا ۔ یہ تھی وہ روداد جو گزری اب میں حاضر ہوں تا وان اور پیسے ادا کرکے اپنے آپ کو اور ان شاہزادوں اور یمن سے لائے گئے اسیروں کو نجات دلاؤں اور زندگی بھر تیرا حامی و مددگار رہوں اور تم اپنی بہن ام فروہ کو میرے عقد میں دے دو تا کہ میں تیرے لئے بہترین داماد بنوں ۔

ابوبکر نے کہا: میں نے تیری درخواست منظور کی، اس کے بعد اپنی بہن کو اشعث کے عقد میں دیدیا اور اسے بذل و بخشش سے بھی نوازا اس دن کے بعد اشعث ابوبکر کے دربار میں بہترین مقام و حیثیت کا مالک ہو گیا۔

یہاں پر جنگ کندہ کی روداد اختتام کو پہنچی ، اب ہم اس جنگ کے اسباب اور نتائج پر بحث کرتے ہیں ۔


جنگ کندہ کی جانچ پڑتال

یہ تھی وہ جنگیں جو قبائل کندہ اور ابوبکر کے سپاہیوں کے درمیان واقع ہوئیں تمام مؤرخین اتفاق نظر رکھتے ہیں کہ یہ سب جنگیں صرف ایک اونٹ کے سبب واقع ہوئی ہیں اس اونٹ کا مالک اسے بہت چاہتا تھا ۔اور ابو بکر کے نمائندہ زیاد بن لبید سے درخواست کی کہ اس اونٹ کے بدلے میں اس سے دوسرا اونٹ قبو ل کرے ، لیکن زیاد نہیں مانا ۔ اس جوان نے اپنے قبیلہ کے ایک سردار کو واسطہ قرار دیا ، پھر بھی زیاد نے قبول نہیں کیا یہاں تک یہ معمولی روداد ایک بڑی ، خونین ،اور تباہ کن جنگ میں تبدیل ہوئی ۔

لیکن اکثر مورخین نے اس روداد کی تفصیلات اور جزئیات لکھنے سے اجتناب کیا ہے تا کہ یہ امر بزرگ اصحاب پر تنقید اور اعتراض کا سبب نہ بنے صرف اعثم کوفی نے کسی حد تک اس کے جزئیات کی طرف اشارہ کیاہے کہ ہم نے اس سے نقل کیا ۔

تعجب اور حیرت کی بات یہ ہے کہ مؤرخین نے ” زیاد بن لبید “ کی ظالمانہ روش (جو اس جنگ میں واضح ہے) اور اس کے فضائل میں شمار کیا ہے اور اس کی تجلیل کی ہے کہ وہ ایک قوی اور پختہ ارادے کا مرد اور زکوٰة حاصل کرنے میں بہت سخت تھا جبکہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے اس قسم کی سختی کرنے کی ممانعت فرمائی ہے اور اس سلسلے میں اپنے والی اور حکام کو نرمی سے پیش آنے کی سفارش فرماتے رہے ہیں ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب ” معاذ بن جبل “ کو یمن کیلئے مامور کیا تو اپنے فرمان کے ضمن میں یوں فرمایا:

” معاذ ! تم ان لوگوں کی طرف جارہے ہو جو اہل کتاب (یہود و نصاریٰ)ہیں خدا اور اس کے دین کا انکار نہیں کرتے ہیں تم مصمم اردہ سے خدا کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کے بارے میں دعوت دینا اگر انہوں نے تیری دعوت کو قبول کی تو ان سے کہنا کہ خداوند عالم نے تم لوگوں پر روزانہ پانچ وقت کی نماز فرض اور واجب کی ہے ۔ اگر انہوں نے نماز کو بھی قبول کیا تو اسکے بعد کہنا کہ خداوند عالم نے زکوٰة بھی تم لوگوں پر واجب کی ہے کہ جو دولتمندوں سے حاصل کی جاتی ہے اور فقراء و حاجتمندوں کو دی جاتی ہے اگر اس حکم کو بھی قبول کر لیں تو ان سے بہترین اموال لینے سے پرہیز کرنا ”فایاک و کرائم اموالھم“ اور مظلوموں کی نفرین سے ڈرنا کیونکہ خداوند عالم مظلوموں کی نفرین کو جلدی قبول کرتا ہے ”اتق دعوة المظلوم“

یہ حدیث صحیح بخاری ، ابو داؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، دارمی ، مالک اور ابن حنبل جیسے مآخذ میں درج ہے ۔

ابن حجر فتح الباری میں جملہ فایاک وکرائم اموالھم کی تشریح میں کہتا ہے کرائم ، کریمہ کی جمع ہے کریمہ ہر نفیس اور پسندیدہ چیز کو کہتے ہیں ۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس حکم میں لوگوں سے ایسی چیزیں لینے سے منع فرمایا ہے جو مالک کی پسندیدہ اور قابل توجہ ہوں ۔ اس حکم کا راز یہ ہے زکوٰة غمخواری اور اقتصادی زخموں پر مرہم پٹی لگانے کیلئے ہے اور یہ کام مال داروں کے ساتھ ظلم وستم اور ناانصافی کرنے اور ان کے جذبات مجروح کرنے سے انجام نہیں پاسکتا ۔

اور جملہ ” اتق دعوة المظلوم “ کی تشریح میں کہتا ہے : پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس جملہ کے ذریعہ فرماتے ہیں : کسی پر ظلم و ستم کرنے سے ڈرنا ، ایسا نہ ہو کہ کوئی مظلوم تجھے نفرین کرے۔ اس کے بعد کہتا ہے : پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو یہ جملہ لوگوں سے گراں قیمت اور ان کے پسندید اموال لینے کے ضمن میں فرمایا ہے ، اس کا سبب یہ ہے کہ وہ فرمانا چاہتے ہیں : لوگوں سے ان کے پسندیدہ اموال لینا ان پر ظلم ہے اس لئے اس سے قطعاً پرہیز کرنا چاہئے ۔

یہ تھا زکوٰة کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حکم کہ اسے کس طرح حاصل کرناچاہئے ا ور کن کے درمیان تقسیم کرناچاہئے خلیفہ کے گماشتوں کا عمل پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس حکم کے بالکل بر عکس تھا کیونکہ وہ ان قبائل کے مال کو زکوٰة کیلئے وصول کرتے تھے نہ اس لئے کہ اسے حاجتمندوں اور فقراء میں تقسیم کریں ، بلکہ اس لئے وصول کرتے تھے کہ اسے خلیفہ کے پاس بھیج دیں ،انہوں نے اپنے اس عمل سے پیغمبر اسلام کے فرمائشات کی مخالفت کی ہے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم کی نافرمانی کی ہے مظلوموں اور بے سہاروں کی نفرین کی پرو انہیں کی لوگوں کے من پسندی اموال کوا ن سے زبردستی لیتے تھے اونٹ کے ایک بچہ کیلئے ایک بڑی اور خونین جنگ لڑکر زمانہ جاہلیت کی جنگ ” بسوس “ کو بری الذمہ کردیا ہے ۔

لیکن ان سب چیزوں سے بالاتر ، خدا اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان رکھنے والے مسلمانوں پر کفر و ارتداد کا الزام لگایا کہ مورخین بھی آج تک اس بڑی اور ناقابل عفو افتراء پردازی کے جرم میں ان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں ۔

مالک بن نویرہ کی جنگ

مالک بن نویرہ کی ایک اور جنگ ہے جس سے عرب قبائل کا ابوبکر کی حکومت کے ساتھ اختلاف کا سبب معلوم ہوتا ہے اور واضح ہوتا ہے کہ لوگوں کا اعتراض اس وقت کے طرز حکو مت پر تھا نہ یہ کہ وہ اسلام سے منحرف ہوکر مرتد ہوئے تھے ۔

اعثم کوفی نے ” مالک بن نویرہ کی جنگ “ کی یوں تشریح کی ہے :

خالد بن ولید نے عرب قبائل کو کچلنے کیلئے ایک بڑے لشکر کو جمع کیا اور سرزمین بنی تمیم کی طرف آگے بڑھا اور وہاں پر اپنا کیمپ لگادیا ۔ وہیں پر اپنی فوج کو کئی حصوں میں تقسیم کیا اور ہر حصہ کو ایک طرف روانہ کر دیا ان میں سے ایک گروہ کو مالک بن نویرہ کی طرف روانہ کیا اس وقت مالک بن نویرہ اپنی بیوی اور چند رشتہ داروں کے ہمراہ ایک باغ میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ انھوں نے اچانک خود کو اور اپنے افراد کو کچھ سواروں کے درمیان پایا کہ انہوں نے ہر طرف سے انہیں گھیر لیا تھا ۔ اس طرح خالد کے سپاہیوں نے مالک کے ساتھیوں کا محاصرہ کیا اور اسے اس کی خوبصورت بیوی کے ساتھ قیدی بنالیا نیز ان کے علاوہ ان کے رشتہ داروں اور چچا زاد بھائیوں کو بھی اسیر بنایا ، اسکے بعد انھیں خالد کے پاس لے آئے اور ان سب کو اس کے سامنے کھڑا کردیا ۔

ٍخالد نے بغیر کسی سوال و پوچھ تاچھ ، تحقیق اور جواب گوئی کے حکم دیا کہ مالک کے تمام اعزہ واقارب کو قتل کردیا جائے انہوں نے فریاد بلند کی کہ ہم مسلمان ہیں ،کیوں ہمارے قتل کا حکم جاری کرتے ہو اور کس کی اجازت سے ہمیں قتل کرتے ہو؟

خالد نے کہا: خدا کی قسم میں تم سب کو قتل کرڈالوں گا ۔

ان میں سے ایک بوڑھے نے کہا: کیا ابوبکر نے تمہیں رو بہ قبلہ نماز پڑھنے والوں کو قتل کرنے سے منع نہیں کیا ہے ؟

خالد نے کہا؛ جی ہاں ابوبکر نے ہمیں ا یسے افراد کو قتل کرنے سے منع کیا ہے لیکن تم لوگوں نے کبھی نماز نہیں پڑھی ہے ۔

اعثم کہتا ہے : اسی اثناء میں ابو قتادہ اپنی جگہ سے اٹھا اور خالد سے مخاطب ہوکر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تمہیں ان لوگوں پر تجاوز کرنے کا حق نہیں ہے ۔

خالد نے کہا: کیوں ؟

ابوقتادہ نے کہا؛ کیونکہ میں نے خود اس واقعہ کامشاہدہ کیا ہے کہ جب ہمارے سپاہیوں نے ان پر حملہ کیا اور ان کی نظر ہمارے فوجیوں پر پڑی انہوں نے سوال کیا کہ تم کون ہو؟ ہم نے جواب میں کہا کہ ہم مسلمان ہیں ، اس کے بعد انہوں نے کہا: ہم بھی مسلمان ہیں اس کے بعد ہم نے اذان کہی اور نماز پڑھی انہوں نے بھی ہماری صف میں کھڑے ہوکر ہمارے ساتھ نماز پڑھی ۔

خالد نے کہا؛ ابوقتادہ! صحیح کہتے ہو ، اگر چہ انہوں نے تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی ہے لیکن زکوٰة دینے سے انکار کیا ہے لہذا نھیں قتل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے ۔

اعثم کہتا ہے : ایک بوڑھا ان میں سے اٹھا اس نے کچھ باتیں کہیں ، لیکن خالد نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی اور ان سب کا ایک ایک کرکے سر قلم کر ڈالا۔

اعثم کہتا ہے : ابوقتادہ نے اس دن قسم کھائی کہ اس کے بعد وہ کبھی بھی ایسی جنگ میں شرکت نہیں کرے گا جس کا کمانڈر خالد ہوگا۔

اعثم اپنی بات کو یہاں جاری رکھتا ہے کہ : خالد نے مالک بن نویرہ کے افراد کو قتل کرنے کے بعد اسے اپنے پاس بلایا اور اس کے قتل کا بھی حکم جاری کیا ۔ مالک نے کہا؛ کیا مجھے قتل کرو گے جبکہ میں ایک مسلمان ہوں اور رو بہ قبلہ نماز پڑھتا ہوں ؟

خالد نے کہا: اگر تم مسلمان ہوتے تو زکوٰة دینے سے انکار نہیں کرتے ، اور اپنے رشتہ داروں اور قبیلہ کے لوگوں کو بھی زکوٰة نہ دینے پر مجبور کرتے خدا کی قسم تم پھر سے اپنے قبیلہ میں جانے کا حق نہیں رکھتے ہو اپنے وطن کا پانی نہیں پیو گے اور میں تمہیں قتل کرڈالوں گا ۔

اعثم کہتا ہے : اسی اثناء میں مالک بن نویرہ نے اپنی بیوی پر ایک نظر ڈالی اور کہا: خالد ! کیا اس عورت کیلئے مجھے قتل کرتے ہو؟

خالد نے کہا: میں تجھے خدا کے حکم سے قتل کرتا ہوں کیونکہ تم اسلام سے منحرف ہوئے ہو اور زکوٰة کے اونٹوں کو رم کر چکے ہو اور اپنے رشتہ داروں اور اعزہ کوزکوٰة دینے سے روکا ہے ۔

خالد نے یہ کہتے ہوئے مالک کے سر کو تن سے جدا کیا مورخین کہتے ہیں کہ خالد بن ولید نے مالک کو قتل کرنے کے بعد اس کی بیوی سے شادی کی اورا س کے ساتھ ہمبستری کی یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے تمام علمائے تاریخ کا اتفاق ہے ۔

ان جنگوں کا اصل محرک

جو کچھ ہم نے بیان کیا اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ابو بکر کے سپاہیوں نے بعض ایسے مسلما نوں سے جنگ کی ہے جنھوں نے نہ تلوار اٹھا ئی تھی اور نہ دوسرے مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تھی، بلکہ بار ہااپنے اسلام کا اعلان کیا تھا اور مسلمانوں کے ساتھ ایک ہی صف میں نمازبھی پڑھی تھی ۔

جی ہاں ، ابو بکر کے سپاہیوں نے ایسے ہی افراد کے ساتھ جنگ کی ہے، انھیں اسیر بنایا ،زکوٰة اداکر نے کے الزام میں انکا سر قلم کیا ہے ، کم ازکم ان سے زکوٰة کا مطالبہ کرتے تا کہ دیکھتے کہ کیا وہ زکوٰة ادا کر نے سے منکر بھی ہیں یا نہیں ۔

حقیقت میں ان جنگوں کے واقع ہو نے میں کچھ اور ہی اسباب اور علل ہیں ا وردوسرے اغراض اور مقاصد ہیں نہ انکا ار تداد سے کو ئی ربط ہے اور نہزکوٰة ادانہ کر نے سے کوئی تعلق ہے ۔ چنانچہ مالک بن نویرہ خالد بن و لید کو صراحتا الزام لگاتے ہےں کہ وہ ان کی بیوی کے لئے اسے قتل کر رہا ہے اور خالدکا اس کے بعد والا طرز عمل بھی مالک کی بات کی تائید و تصد یق کرتا ہے۔

کیا اس قسم کی جنگوں کو اسلام کے کھاتے میں ڈالا جا سکتا ہے اور انھیں مرتدافراد اور اسلام کے دشمنوں سے جنگ کہا جاسکتا ہے ؟ کیا یہ جنگیں حقیقت میں مالک کی بیوی یا تیز رفتار اونٹ کیلئے نہیں تھیں ؟ اور یا ان کے ابو بکر کی بیعت کرنے میں تامل اور ان کی حکومت کو زکوٰة اداکرنے سے اجتناب کی وجہ سے واقع ہوئی ہیں ؟

جو بات یقینی اور مسلم ہے وہ یہ ہے کہ ان جنگوں میں اسلامی مقاصد نہیں تھے اور یہ اسلام کیلئے انجام نہیں پائی ہیں ہم یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ اس کے باوجود کیسے ان جنگوں کو مرتدلوگوں سے جنگوں کا نام دیا گیا ہے ! اور اصحاب کے زمانے سے آج تک اسی جعلی نام سے مشہور و معروف ہیں ۔ یہ سب غیر حقیقی بیانات ، بے بنیاد اور خطرناک نام گزار یاں اور اسی قسم کی دسیوں منحوس اور تاریک تحریفات سیف کے توسط سے تاریخ اسلام میں وجود میں آئی ہیں ۔


سیف کی فتوحات پر ایک نظر

سیف بن عمر نے بہت سی جنگوں کو مرتدین کی جنگوں کے نام سے جعل کیا ہے ، اور بعض غیر اسلامی جنگوں کو بھی دین اسلام کے کھاتے میں ڈال کر انھیں بھی مرتدین کی جنگوں میں شمار کیا ہے ۔ یہ جنگی روایتیں اور افسانے اسلام و مسلمانوں کو گوناگوں نقصانات پہنچانے کے علاوہ اسلام کے چہرہ کو مسخ کرکے شرمناک صورت میں پیش کرتی ہیں اور اسکے علاوہ اسلام کی دشمنی اور کینہ رکھنے والوں کیلئے مضبوط دستاویز فراہم کرتی ہیں ، کہتے ہیں :

” اسلام نے مسلمانوں کے دل میں جگہ نہیں پائی تھی ۔ جزیرة العرب کے مختلف قبائل جو اسلام قبول کرچکے تھے پیغمبر کی وفات کے بعد ہی گروہ گروہ اسلام سے منحرف ہوگئے اور دوسری بار تلوار اور نیزے کے بل بوتے پر پھر سے اسلام لائے “

اسی طرح اسلامی فتوحات کے بارے میں بھی سیف کی روایتیں جھوٹ سے بھری ہیں اور مرتدین کی افسانوی جنگوں کے انھیں مقاصد کی پیروی کرتی ہیں ان کے بارے میں کتاب کے دوسرے حصہ میں مرتدین کی جنگوں کے ساتھ ان پر بھی بحث ہوئی ہے ۔ ان میں ایسا دکھایا گیا ہے کہ اسلامی فوج نے جزیرة العرب کے قبائل اور ملتوں کے لوگوں میں سے لاکھوں افراد کو تہہ تیغ کیا ہے یہاں تک کہ وہ لوگ ترس ووحشت سے تسلیم ہوکر اسلام کے فرمانبردار بنے۔

جبکہ یہ سب مطالب بے بنیاد اور حقائق کے خلاف ہیں ، کیونکہ سیف نے جن لوگوں کو اپنی روایتوں میں ذکر کیا ہے نہ یہ کہ وہ مخالف اسلام نہ تھے بلکہ مسلسل مسلمانوں کے فائدہ میں کوشش اور سرگرمی دکھاتے رہے ہیں اور غیر اسلامی حکومتوں کا تختہ الٹنے کے بارے میں ان کا تعاون کرتے رہے ہیں ۔ چنانچہ مسلمانوں کی رومیوں سے جنگ میں حمص اور شام کے تمام شہروں کے باشندوں نے مسلمانوں کی نصرت کی کہ جس کومعروف مؤرخ بلاذری نے ان کی روداد کو مفصل طور پر درج کیا ہے اور یوں لکھتا ہے ۔

ہر قل نے شام کے لوگوں کو مسلمانوں سے جنگ کرنے کیلئے آراستہ کیا اور جنگ ” یرموک “ کے لئے آمادہ ہوئے جب اس روداد کی خبر مسلمانوں کو پہنچی تو انہوں نے حمص کے لوگوں سے وصول کیا گیا ٹیکس انھیں واپس کیا اور کہا ہم تمہاری مدد اور دفاع کرنے سے معذور ہیں او ر تمہارے امور کو تم پر ہی چھوڑتے ہیں ۔

حمص کے باشندوں نے کہا: آپ لوگوں کی عادلانہ اور منصفانہ حکومت ہمارے لئے ہرقل کی ظالمانہ حکومت سے بہتر ہے ہم حاضر ہیں تاکہ آپ کے کارندوں ، نمائندوں اور مسلمانوں کی مدد کریں اور ہرقل کے سپاہیوں کو شہر حمص سے نکال باہر کریں ۔ دوسری طرف حمص کے یہودی بھی اٹھے اور کہا کہ قسم ہے توریت موسی کی ہرقل کے سپاہی اس شہر میں داخل نہیں ہوسکتے ہیں مگر یہ کہ ہمارے افراد ختم ہوجائیں اور ہم ان کے مقابلے میں عاجز و ناتواں ہوجائیں ا س وجہ سے انہوں نے ہرقل کے سپاہیوں کیلئے شہر حمص کے دروازے بند کئے اور شہر کے بچاؤ کی ذمہ داری خود سنبھال لی اس طرح دوسرے شہروں کے ان یہودیوں اور عیسائیوں نے بھی اسی طرز عمل کو اختیار کیا اور مسلمانوں کی مدد (جو صلح کے ذریعہ مغلوب ہوئے تھے)کی۔

بلاذری کہتا ہے : جب روم کی فوج نے شکست کھائی اور مسلمان خوش ہوئے تو اس شہر کے دروازوں کو مسلمانوں کیلئے کھولا گیا اور انہوں نے اپنے ” مقلسین “(۱) کو اسلام کے سپاہیوں کے استقبال کیلئے بھیجا جو جشن و شادامانی کی وجہ سے ناچتے گاتے تھے اور ایک خاص احترام کے ساتھ مسلمانوں کا استقبال کیا کرتے تھے اور اپنی رضا ور غبت سے اپنے مال کا ٹیکس اسلامی حکومت کو ادا کیا۔

اس طرح عراق کے مختلف شہروں کے سرداروں اور گاؤں کے چوہدریوں نے بھی اسلامی فوج کا تعاون کیااور ان کی مدد کی ،چنانچہ حموی کہتا ہے :

مقامی سردار اور چوہدری مسلمانوں کیلئے خیر خواہی کرتے تھے اور ایرانیوں کے اسرار و رموز ان پر فاش کرتے تھے اور ایرانی سپاہیوں پر تسلط جمانے کے راز سے انھیں آگاہ کرتے تھے ، مسلمانوں کو تحفے و تحائف پیش کرتے تھے مسلمانوں کی آسائش کیلئے بازار تشکیل دیتے تھے(۲) یہاں تک کہتا ہے :

اسلام کے سپاہی ” سعد “ کی کمانڈری میں ا یران کے پادشاہ یزجرد سے نبرد آزما ہونے کیلئے مدائن کی طرف جارہے تھے ایک ایسی جگہ پر پہنچے جہاں پانی کو عبورکرنے

کے راستہ سے آگاہ نہیں تھے ۔ لہذا وہ وہاں پر رک گئے مقامی لوگوں نے ان کی

____________________

۱۔ مقلسین فن کاروں کا ایک گروہ تھا جو دف بجانے ، عورتوں کے دائرے ، رقص کرتے ہوئے حکام اور فرمانرواؤں کے استقبال کیلئے جاتے تھے ۔

۲۔ پرانے زمانے میں یہ رسم تھی کہ ہر شہر کے لوگ جب کسی لشکر کے اس شہر میں داخل ہونے پرراضی ہوتے تھے تو لشکر کی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے بازار تشکیل دیتے تھے ۔


نصرت کی اور انھیں صیادین کے گاؤں کے نزدیک عبور کا راستہ دکھانے میں راہنمائی کی سعد کے سپاہیوں نے اپنے گھوڑوں کے ساتھ وہیں سے دریاکو عبور کیا اس کے بعد مدائن پر حملہ کیا ۔ یزجرد نے جب یہ حالا ت دیکھے تو وہ بھاگ کھڑا ہوا اور مسلمانوں نے مقامی لوگوں کی حمایت اور راہنمائی کے نتیجہ میں ایک عظیم فتح پائی ۔

ایک محقق ان روشن دلائل اور صحیح تاریخی نصوص سے واضح طور پر سمجھ سکتا ہے کہ کس طرح امتوں اور ملتوں نے اپنے فرمانرواؤں او رحکام کے مقابلہ میں مسلمانوں کا استقبال کیا ہے اور ان کا تعاون کیا ہے ؟

ان ہی دلائل اور تاریخ کے معتبر نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں اور دوسری ملتوں کے درمیان قطعاً کوئی جنگ واقع نہیں ہوئی ہے بلکہ مسلمانوں کی جنگیں اےسے حکام اور فرمانرواؤں کے خلاف واقع ہوئی ہیں جو ملتوں اور لوگوں پر مسلط تھے اور زبردستی ان پر حکو مت کرتے تھے مسلمان جب اس قسم کی مطلق العنان اور جابر حکومتوں کے خلاف جنگ کرتے تھے تو لوگ مسلمانوں کی مدد کرتے تھے اور ان کی فتحیابی پر استقبال کرتے اور مسلمانوں کی حکومت کو ان جابر اور ظالم حکمرانوں کی حکومت پر ترجیح دیتے تھے ۔

یہ تھا مسلمانوں کی جنگوں کا قیافہ جو تاریخ کے صحیح نصوص اور روایتوں کی تحقیق کے بعد حاصل ہوتا ہے لیکن افسوس ہے کہ سیف کے بعد اکثر تاریخی منابع و مآخذ نے ان حقائق کو پس پشت ڈال کر سیف کی روایتوں کی طرف رجوع کیا ہے اور سیف کی جھوٹی روایتوں سے استناد کرنے کے نتیجہ میں اسلام کی جنگوں کو خونین اور وحشت ناک دکھایا ہے اور ان پر افسانوی وحشتناک جنگوں کا بھی اضافہ کیا ہے کیونکہ پڑھنے والا سیف کی روایتوں میں یوں پڑھتا ہے کہ پیغمبر کی رحلت کے بعد مسلمانوں نے بہت سی خونین اور خطر ناک جنگیں لڑی ہیں اور بہت سے انسانو ں کا قتل عام کیا ہے متعدد شہروں کو ویران اور مسمار کیا ہے لیکن یہ سب باتیں ان حقائق کے خلاف ہیں جو تاریخ کے صحیح اور معتبر نصوص سے حاصل ہوتی ہیں ۔

سیف فتح عراق کے بارے میں کہتا ہے : ” جنگ ذات السلاسل “ میں مسلمانوں نے ایرانی سپاہیوں کا قتل عام کیا اور انہیں بالکل ہی نابودکرکے رکھدیا جیسے کہ کوئی جنگ ہی واقع نہ ہوئی ہو۔

سیف نے ” ثنی “ ، ” مذار “ ، ” ولجہ “ ، ” الیس “ اور ” امغیشیا “ نام کی دوسری جنگیں بھی نقل کی ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک واقع نہیں ہوئی ہے اصلاً ” امغیشیا “ نام کا کوئی شہر ہی روئے زمین پر وجود نہیں رکھتا تھا جس کے بارے میں سیف نے کہا ہے کہ اسلام کے سپاہیوں کے ہاتھوں ویران ہوا ہے۔ اس طرح سیف کی روایتوں میں ” مقر “ اور ” فم فرات بادقلی “ نام کی جنگوں کا بھی ذکر آیا ہے کہ اصلاً واقع نہیں ہوئی ہیں اس کے علاوہ سیف کی دوسری جنگیں جو اس کی کتاب فتوح میں ایرانیوں کے ساتھ جنگوں کے عنوان سے درج کی گئی ہیں کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور یہ سب سیف نے خود جعل کی ہیں اس سلسلہ میں جو کچھ اس نے کہا ہے جھوٹ اور جعلی تھا ، خاص کر جو اس نے ان جنگوں میں لاکھوں غیر عرب کے قتل عام ہونے کے بارے میں لکھا ہے وہ اس کے جھوٹ اور افتراء کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

ان روایتوں کا نتیجہ

بہر حال سیف کی روایتوں کی اشاعت کا نتیجہ یہ ہو کہ لوگوں میں خاص کر اسلام کے دشمنوں میں یہ مشہور ہوجائے کہ اسلام خونریزی ، نیزہ اور تلوار کے زور پر پھیلا ہے اور یہی سیف کی روایتیں سبب بنی ہیں کہ مستشرقین اور مغربی اسلام شناس اسلام کو تلوار اور زورو زبردستی کا دین بتاتے ہیں ، مثال کے طور پر

۱ ۔ گلدزیہر(۱) صراحت اور قطعی طور پر کہتا ہے :

” ہم اپنے سامنے اسلامی حکومت کے قلمرو میں وسیع نقاط کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ عرب سرزمینوں سے آگے بڑھے ہیں اور یہ سب تلوار اور نیزہ کے زور پر حاصل کئے گئے ہیں “

نیز فرمانرواؤں کے بارے میں کہتا ہے :

” یہ دنیا پرست فرمانروا اپنی پوری ہمت اور توجہ ایسے قوانین کو مستحکم و نافذ کرنے پر متمرکز کرتے تھے کہ حکومت کے اختیارا ت کو تقویت بخشیں اور ان کی

-____________________

۱۔ گلدزیہر اسرائیلی ہے ۱۸۵۰ ءء میں ” ھنگاریا “ میں پیدا ہواا س نے یورپ کے مشرق شناسی کے معرو ف ترین مدرسوں میں تعلیم حاصل کی ہے اس کے بعد ایک سیاسی ماموریت پر شام اور وہاں سے فلسطین اور پھر مصر گیا اور الازہر یونیورسٹی کے اساتذہ سے عربی زبان سیکھی اس کے بعد ان سے پوری آمادگی کے ساتھ مشرق شناسی کی ماموریت سنبھال لی اور ۱۹۴۷ ءء میں فوت ہوا اس کے خاندان نے اس کے مرنے کے بعد شہر قدس میں اس کی لائبریری ” کتابخانہ عمومی صہیونی “ کو بیچ ڈالا ۔

کتاب المستشرقون تالیف نجیب طبع دوم طبع دائرة المعارف ۱۹۴۷ ء ھ ص ۱۹۶ پر بھی کہتا ہے ” گلدزیہر اسلام کےساتھ ایک شدید عداوت رکھتا تھا اس کی تالیفات اسلام اور مسلمانوں کےلئے خطرناک و نقصان دہ ہیں (الفکر الاسلامی) طبع پنجم ، طبع بیروت ، چاپخانہ دار الفکر ،ص/ ۵۳


حکومت کو جومختلف سرزمینوں میں تلوار اور عرب نسل پرستی کی بنیا دپر برقرار کرچکے تھے کو مضبوط اور پائیدار بنادیں “

۲ ۔” بلدیدور ورگیل“ نامی ایک اور اسلام شناس اس سلسلہ میں کہتا ہے:

” اسلام تلوار کے زور اور عورتوں کی شرکت سے پھیلا ہے “

۳ ۔ یہ مطلب یورپیوں میں رواج پیدا کرگیا ہے حتیٰ ان کی ادبیات میں بھی شامل ہوگیا ہے چنانچہ ” جربویل “ ” مصطفی “ نامی ڈرامہ میں ا یک مسلمان وزیر کی زبانی جواپنے پادشاہ سے کہتا ہے : ”ہمارے شجاع بہاد رپیغمبر کی مدد ، تلوار اور نیزہ سے کی گئی ہے “

۴ ۔ ”جون دراید “ اپنے ” دون سباستیان “ نامی ڈرامہ میں یوں کہتا ہے : ” سپاہ اسلام کے ایک کمانڈر نے محمد کی خوشنودی اور تقرب حاصل کرنے کیلئے حکم دیا کہ عیسائیوں کابھیڑ بکریوں کی طرح سر تن سے جدا کرکے ان کے پیغمبر کے پاس ہدیہ کے طور پر بھیج دیں “

”حصا رودس “ نامی ایک اور ڈرامہ میں ا یک مسلمان کی زبانی لکھتا ہے :

کیا خوب انجام دیا ہمارے بہادر پیغمبر نے کہ : سستی، تساہلی اور ہزیمت کوحرام اور منع قرار دیا ۔

اور ہمیں حکم دیا کہ تلوار اور نیزے کے ذریعہ اپنی حکومت کو تمام دنیا میں پھیلا دیں ۔

۵ ۔ فلیپ حِتی ۱ اپنی کتاب ” تاریخ العرب “ میں کہتا ہے :

____________________

۱۔ فلیپ حتی عیسائی اور اصل میں لبنانی ہے ،بعد میں امریکاکی نیشنلٹی اختیار کی وہ برنسٹن یونیورسٹی امریکہ میں شرق شناسی تدریس کرتا تھا اور امریکہ کی وزارت خارجہ میں مشرق وسطی کے امور کا غیر رسمی مشاور تھا وہ اسلام و مسلمانوں کا ایک سخت دشمن شمار ہوتا تھا الفکر الاسلامی ص ۵۵۴۔ ۵۵۵


” جہاد جو اسلام کے منصوبوں میں سے ایک ہے وہی کمزور شکست خوردہ ملتوں کی لوٹ مار ، غارت گری اور انھیں بے چارہ اور نابود کرنا ہے کہ ایک قوم اور طاقتور ملت کا ضعیف اور کمزور ملتوں پر تسلط جما کر انھیں مختلف طبقات میں تقسیم کرےں اور ان میں سے ایک گروہ مثل غیر عرب مسلمانوں کو نو آبادیوں میں تبدیل کرکے نچلے طبقہ میں قرار دے کر انھیں اپنا نوکر بنا لیں “(۱)

____________________

۱۔ رسالة الاسلام ۔


سیف کے خرافات پر مشتمل افسانوں پر ایک نظر

سیف کی جعلیات اور الٹ پلٹ کا صرف اسی پر خلاصہ نہیں ہوتا ہے کہ جن کو ہم نے یہاں تک بیان کیا ہے ، بلکہ جس طرح ہم نے کتاب کے دوسرے حصہ میں پڑھا ، سیف نے اپنی روایتوں میں بہت سے افسانوں کی بھی اشاعت کی ہے اور انھیں افسانوں کے ذریعہ خرافات اور جھوٹ جعل کئے ہیں ، جیسے :

- خالد کا زہر کھانے اور اس پر اس کا اثر نہ ہونے کا افسانہ ۔

-مسلمانوں کی تکبیر کی آواز سے حمص کے گھروں کا گرجانے کا افسانہ

- دجال کا شہر کے دروازہ پر لات ماکر شوش کی فتح کا افسانہ

-اسود عنسی کے شیطان اور اس کے معجزات اور غیب گوئی کاافسانہ کہ وہ اسے فرشتہ کہتا تھا

-جواہرات کی ٹوکری اور خلیفہ کے زہد و تقویٰ کا افسانہ

-عمر کی اپنی بیوی سے ایک نامحرم کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا کھانے کے سلسلہ میں گفتگو کا افسانہ۔

-عمر کا مدینہ سے شہر” فسا “میں موجود اپنے سپاہیوں کو آواز دینے کا افسانہ

-”بکیر“ نامی گھوڑے کی گفتگو کا افسانہ

-عاصم بن عمرو کے ساتھ گائے کی گفتگو کا افسانہ و

سیف کے تغیرات پر ایک نظر

ہم نے کتاب کے تیسرے حصہ میں بتایا کہ سیف نے تاریخ اسلام کو الٹ پلٹ کرنے اور تاریخی حقائق کو مجہول اور غیر معروف بنانے کی غرض سے بعض حوادث کے پہلوانوں کے ناموں میں گوناگون صورت میں تغیرات ایجاد کئے ہیں معروف اشخاص کے ناموں کو غیر معروف افراد کے ناموں میں تبدیل کیا ہے ، جیسے :

عبد المسیح بن عمرو کے نام کو عمروبن عبدا لمسیح میں ،

معاویہ بن ابی سفیان کے نام کو معاویہ بن رافع میں ،

عمرو بن عاص کے نام کوعمروبن رفاعہ میں اور عبدا لرحمان بن ملجم کے نام کو خالد بن ملجم میں تبدیل کیا ہے ۔

سیف نے بعض اوقات اسی مقصد کے پیش نظر دنیا میں وجود نہ رکھنے والے بعض افراد کو اپنے زور خیال سے خلق کرکے اپنے ان افسانوں میں معروف و مشہور افرادکے ناموں پر نام گزاری کی ہے ، جیسے :

خزیمہ بن ثابت انصاری غیر ذو الشہادتین کو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے معروف صحابی ” خزیمة بن ثابت “ معروف بہ ذو الشہادتین کے مقابلہ میں خلق کیا ہے ۔

افسانوی، سماک بن خرشہ کو پیغمبر خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے معروف صحابی ”سماک بن خرشہ“ معروف بہ ” ابودجانہ “ کے مقابلہ میں خلق کیا ہے اور جعلی وبرة بن یحنس خزاعی “ کو پیغمبر کے معروف صحابی وبرة بن یحنس کلبی “ کے مقابلہ میں خلق کیا ہے ۔

اس کے علاوہ سیف نے اپنے خیال میں جعلی اسماء کی کثیر تعداد پیش کر دی ہے تا کہ ضرورت پڑنے پر اپنے جعلی افراد اور اماکن کو ان سے نام گزاری کر کے اپنے افسانوں میں انھیں استعمال کرے۔

سیف کے افسانوی افرادو اشخاص کے کئی گروہ ہیں :

۱ ۔ ان میں سے بعض کو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب کے طور پر پہچنوایا گیا ہے ، جیسے :

اسود بن قطبہ ، اعبد بن فدکی ، حمیضة بن نعمان ، ثمامہ بن اوس بن لام طایی، شخریت طاہر بن ابی ہالہ ، عاصم بن عمرو اسیدی ، عثمان بن ربیعہ ثقفی ، عصمة بن عبد اللہ، قعقعاع بن عمرو بن مالک عمری ، نافع بن اسود تمیمی ، مہلہل بن زید بن لام طایی۔

۲ ۔ سیف کے بعض جعلی افراد ، صحابی ہونے کے علاوہ راوی بھی معروف ہیں ، جیسے : ظفر بن دہی ، عبید بن صخر بن لوذان انصاری سلمی ، ابوزہراء قشیری ۔

۳ ۔ سیف کے بعض افسانوی افراد کو صحابی ہونے کے علاوہ شاعر کے طور پر بھی پیش کیا گیا ہے، جیسے : زیاد بن حنظلہ تمیمی ، ضریس قیسی خطیل بن اوس۔

۴ ۔ سیف نے اپنے جعلی افراد میں سے ایک گروہ کو غیر صحابی راویوں کے طور پر پہچنوایا ہے ، جیسے : بحر فرات عجلی ، حبیب بن ربیعہ اسدی ، حنظلہ بن زیاد بن حنظلہ ، زیاد بن سرجس احمری ، سہل بن یوسف بن سہل بن انصار سلمی ، عبد الرحمان بن سیاہ احمری ، عبد اللہ بن سعید انصاری بن ثابت بن جزع انصاری ، عروة بن عرفجہ دثینی ، عمارة بن فلان اسدی ، غصن بن قاسم کنانی ، محمد بن نویرة بن عبدا للہ ، مستنیر بن یزید ، مقطع بن ھیثم بکایی ، مہلب بن عقبہ ، یزید بن اسید غسانی ۔

۵ ۔ سیف نے اپنے جعلی حوادث کے افسانوی اشخاص و سورماؤں کے مذکورہ چند گروہوں کے علاوہ ، اس قسم کے افسانوی حوادث کیلئے کئی جگہیں اور اماکن بھی جعل کئے ہیں اور ان کی جعلی نام گزاری کی ہے جبکہ ان ناموں کی جگہیں روئے زمین پر کہیں وجود ہی نہیں رکھتی تھیں اور نہ اس وقت ان کا کہیں وجود ہے ، جیسے:ابرق ربذہ ، اخابث ، اعلاب ، جبروت، حمقتین ، ریاضة الروضات ، ذات الخیم ، شہر طی میں سنح ،صبرات ، ظہور الشحر ، لبان ،مر ، نضدون و ینعب۔

۶ ۔ سیف نے ان سب کے علاوہ ایرانی فوج کے چندکمانڈر بھی جعل کئے ہیں جیسے:

اندرز غر ، انوشجان ، بہمن داذویہ ، قارن بن قریانس ، قباذ اور اس کے علاوہ بہت سے دوسرے افراد۔

۷ ۔ سیف نے بعض رومی کمانڈر بھی جعل کئے ہیں ، جیسے : ارطبون ، روم کا مکار اور چالاک کمانڈر ۔

تاریخ اسلام میں سیف کے جعلیات اور تغیرات کے یہ چند نمونے تھے اس کے علاوہ تاریخ اسلام میں سیف کا ایک اور جعلی کام ، عبد اللہ بن سبا کا افسانہ خلق کرنا اور اس کی نام گزاری ہے کیونکہ تاریخ عرب میں قحطانیوں میں ایک قبیلہ کا نام ” سبائی “ تھا کہ حقیقت میں وہ یمن میں رہائش پذیر تھے ، ان میں سے ایک شخص کا نام عبدا للہ بن وہب سبائی تھاجو بعد میں خوارج کا سردار بنا اور نہروان کی جنگ میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے جنگ کی اور اسی جنگ میں مارا گیا ۔ سیف نے اس نام سے ایک بڑا افسانہ گڑھ کر اسلام میں ایک مذہبی فرقہ جعل کیا ہے اور ” سبائیین“ کا لفظ اس فرقہ کا نام رکھا ۔

اصل میں یہ ایک قحطانی قبیلہ کا نام تھا اس افسانوی فرقہ کیلئے سیف نے ایک رئیس بھی جعل کیا ہے اور عبدا للہ بن وہب سبائی رئیس خوارج کا نام بدل کر اس فرقہ کے جعلی رئیس کا نام عبداللہ بن سبا رکھا ہے ۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعض نیک اور پاک اصحاب کو بھی اس فرقہ سے منسوب کیا ہے۔ سیف نے اپنے اس جعلی افسانہ کے ذریعہ تاریخ کے چہرہ اور راہ کو حقیقت میں بدل کر رکھ دیا ہے۔

چونکہ یہ بحث خود ایک مفصل داستان ہے اور ایک مستقل کتاب کی ضرورت ہے ، لہذا ہم اس موضع کو اس کتاب کی اگلی جلد کیلئے مخصوص رکھتے ہیں اور ا س سے دلچسپی رکھنے والوں سے گزارش ہے کہ اس موضوع کی طرف رجوع کریں ۔ اس کے ساتھ ہی ہم یہاں پر سیف کی جنگوں ، فتوحات ، خرافات اور تحریفات کے موضوع کو ختم کرتے ہیں ۔

مرتضی عسکری

شب سہ شنبہ ۲۱ جمادی الثانی ۱۳۸۴ ھ ق


داستان کندہ کے مآخذ

۱ ۔ فتوح اعثم : ۱/ ۵۶ ۔ ۸۷

۲ ۔ فتوح بلاذری : ۱۲۰ ۔ ۱۲۴ ، خاندان بنی ولیقہ اور اشعث کے ارتداد کی فصل میں ۔

۳ ۔ معجم البلدان : مادہ نجیر : / ۷۶۲ ۔ ۷۶۴ ، مادہ حضرموت میں : ۲/ ۲۸۴ ۔ ۲۸۷

گراں قیمت اموال لینے کی ممانعت کے بارے میں حدیث:

۱ ۔ صحیح بخاری : فصل صدقات میں : ۱/ ۱۸۱ ،

۲ ۔ صحیح بخاری : حکم اموال گراں قیمت : ۱/ ۱۷۶

۳ ۔ فتح الباری : ۴/ ۶۵ ۔ ۹۹

۴ ۔ مسند احمد : ۱/ ۲۳۳

۵ ۔ سنن پنجگانہ ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، دارمی اور موطا مالک احکام زکوٰة میں ۔

۶ ۔ طبقات ابن سعد : ج ۴/ ق ۲/ ۷۶

۷ ۔ کنز العمال : حدیث ۱۱۹۴ احادیث زکوٰة سے ۔

۸ ۔ قصہ مالک بن نویرہ فتوح اعثم میں : ۱/ ۲۰/ ۲۳

۹ ۔ حمص کے لوگوں کا مسلمانوں کی مدد کرنا : فتح بلاذری : حدیث ۳۶۷ فصل فتح حمص / ۱۶۲

۱۰ ۔ عراق کے دیہاتیوں کا مسلمانوں کی مدد کرنا : معجم البلدان : ۴/ ۳۲۳ مادہ کوفہ

۱۱ ۔ گلدزیہر کا بیان: العقیدہ و الشریعہ : ۴۳ ۔۔ ۴۸


فہرست

دوسری جلد سے مربوط خطوط اورمقدمے ۴

دانشور مرحوم جناب ابور یہ کے دو خطوط ۵

مصری دانشور مرحوم کی ایک یاد! ۵

پہلا خط ۵

دوسرا خط ۶

خرطوم یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر حسن عباس کا خط ۸

مطالعات کے نتائج ۲۶

روایت جعل کرنے میں سیف کا مقصد ۲۶

۱ ۔ خاندانی تعصب ۲۷

۲ ۔ کفر و زندقہ ۲۸

اس جانچ پڑتال کا مقصد ۳۰

یہ کتاب ۳۰

سیف کی روایتوں میں بحث کرنے کا محرک ۳۰

چھٹا حصہ : ۳۳

آئندہ مباحث کا پس منظر ۳۴

جنگ ابرق کی روایتیں ۳۴

دروغ بافی کی زمینہ سازی ۳۴

سیف ان روایتوں میں یوں کہتا ہے : ۳۵

جنگِ ابرق کی داستان ۳۶


جس دن ہم نے ابارق میں شرکت کی ۔ ۴۰

ذی القصہ کی داستان ۴۲

خطوط کا مضمون ۴۴

منشور جنگ کا متن ۴۴

داستان ذی القصہ کی اشاعت ۴۵

سیف کی روایتوں کی جانچ پڑتال ۴۶

موازنہ اور تحقیق ۴۹

تطبیق اور موازنہ کا نتیجہ ۵۲

اسلامی مآخذ میں سیف کی روایتوں کے نتائج ۵۳

افسانہ کے راویوں کا سلسلہ ۵۴

بنیاد ۵۴

قبیلہ طی کے ارتداد کی داستان ۵۶

سندکی چھان بین ۶۰

سیف کے علاوہ دوسروں کی روایت میں ” طی “ کی داستان ۶۱

تطبیق اورتحقیق کا نتیجہ ۶۵

حدیث کے راویوں کا سلسلہ ۶۶

ام زمل کے ارتداد کی داستان ۶۸

عمان اور مہرہ کے باشندوں کے ارتداد کی داستان ۷۰

سیف کی روایت ۷۰

اس داستان کی سند کی چھان بین ۷۱


تحقیق و تطبیق کا نتیجہ ۷۳

داستان کا خلاصہ ۷۳

عمان اور مہرہ کے باشندوں کے ارتداد کے افسانہ کے راویوں کا سلسلہ ۷۴

اہل یمن اور اخابث کا ارتداد ۷۵

اہل یمن کا ارتداد ۷۵

اہل یمن کا دوسرا ارتداد ۷۵

اخابث کا ارتداد ۷۶

سیف کے علاوہ دوسروں کی روایت ۷۸

نتیجہ اور خلاصہ ۷۸

گزشتہ فصلوں کا خلاصہ و نتیجہ ۷۹

جنگ سلاسل یا فتح ابلہ ۸۳

فتح ابلہ کی داستان ۸۳

سند کی جانچ ۸۶

تطبیق اور موازنہ ۸۶

۱ ۔ فتح ابلہ ۸۶

ابی مخنف کی روایت کے مطابق فتح ابلہ ۸۷

۲ ۔ خالد کے ہرمز کے ساتھ نبرد آزمائی کی داستان ۸۸

گزشتہ مباحث کا نتیجہ ۸۸

حیرہ میں خالد کی فتوحات ۹۰

۱ ۔ جنگِ سلاسل یا فتح ابلہ ۹۰


۲ ۔ جنگِ مذار ۹۱

۳ ۔ فتح ولجہ ۹۱

۴ ۔ فتح الیس ۹۲

۵ ۔ فتح امغشیا : ۹۴

۶ ۔ فرات بادقلی کی فتح ۹۵

سند کی تحقیق ۹۵

موازنہ اور تطبیق ۹۵

اسلامی ثقافت میں سیف کی روایتوں کا ما حصل ۹۶

فتح حیرہ کے بعد والے حوادث ۹۸

۱ ۔ جنگ حصید ۹۸

۲-جنگ مصیخ ۹۸

۳ ۔ جنگ ثنی ۹۹

۴ ۔ جنگِ زمیل ۹۹

۵ ۔ جنگ ِ فراض ۱۰۰

سند کی تحقیق ۱۰۰

تحقیق کا نتیجہ ۱۰۱

سیف کی روایتوں کا دوسرے مورخین کی روایتوں سے موازنہ ۱۰۱

گزشتہ مباحث کا خلاصہ اور نتیجہ ۱۰۷

اس حصہ سے مربوط مطالب کے مآخذ ۱۱۲

جنگِ ابرق کے مآخذ ۱۱۲


داستان ذی القصہ کے مآخذ ۱۱۲

ارتداد طی کے مآخذ ۱۱۳

عمان و مہرہ کے باشندوں کے ارتداد کی داستان کے مآخذ ۱۱۴

یمن کے باشندوں اور گروہ اخابث کی ارتداد کے مآخذ ۱۱۴

مرتدوں کی پانچویں جنگ کے مآخذ ۱۱۵

فتح ابلہ کے مآخذ ۱۱۵

ب: فتح ابلہ سیف کے علاوہ دوسروں کی روایتوں کے مطابق ۱۱۵

حیرہ میں خالد کی فتوحات کے مآخذ ۱۱۵

حیرہ کے بعد والی فتوحات کے مآخذ ۱۱۶

ساتواں حصہ: ۱۱۷

سیف کی خرافات پرمشتمل داستانیں ۱۱۷

سیف کے حدیث جعل کرنے کا ایک اور محرک ۱۱۸

مہلک زہر خالد پر اثر نہیں کرتا ! ۱۱۹

اصل داستان ۱۱۹

داستان کی سند کی چھان بین ۱۲۰

نتیجہ ۱۲۱

یہ دروغ سازی کیوں ؟ ۱۲۱

روایت کے راویوں کا سلسلہ ۱۲۱

حضرت عمر کے بارے میں پیغمبروں کی بشارتیں ۱۲۲

عمرو عاص کی جنگیں ۱۲۲


بیت المقدس کی فتح کے بارے میں حضرت عمر کی پیشین گوئی۔ ۱۲۵

زیاد بن حنظلہ نے بھی اس سلسلہ میں یہ اشعار کہے ہیں : ۱۲۹

ایک حیرت انگیز پیشین گوئی ۱۳۰

نیرنگ اور چالبازیاں ۱۳۱

سیف کی روایتوں کی سند کی جانچ پڑتال ۱۳۳

سیف کی روایتوں کا دوسروں کی روایتوں سے تطبیق و موازنہ ۱۳۴

تطبیق اور جہاں بین کا نتیجہ ۱۳۵

۴ ۔شمشیر بازوں کی داستان ۱۳۶

۵ ۔ بیت المقدس کو جھاڑودینے اور صاف کرنے کی داستان ۱۳۷

مسلمانوں کے اللہ اکبر کی آواز حمص کے در و دیواروں کو گرادیتی ہے ۱۳۹

فتح حمص کی داستان سیف کی روایت میں : ۱۳۹

دوسروں کی روایت کے مطابق فتح حمص کی داستان ۱۴۱

موازنہ اور تحقیق کا نتیجہ ۱۴۱

سیف کی روایتوں کی سند کے لحاظ سے تحقیق ۱۴۱

داستان کے راویوں کا سلسلہ ۱۴۲

دجال شہر شوش کو فتح کرے گا! ۱۴۲

فتحِ شوش کی داستان ، سیف کی روایت میں ۱۴۲

فتح شوش کی داستان دوسروں کی روایت میں : ۱۴۵

روایت سیف کی سند کے اعتبار سے تحقیق ۱۴۵

تطبیق اور جانچ پڑتال کا نتیجہ ۱۴۶


داستان شوش کی روایت کے راویوں کا سلسلہ ۱۴۶

اسود عنسی کی داستان ۱۴۸

سیف کے روایت کے مطابق اصل داستان ۱۴۸

سند کی تحقیق اور بررسی ۱۵۰

تحقیق اور موازنہ ۱۵۲

تحقیق کا نتیجہ ۱۵۴

اسود عنسی کی داستان کے راویوں کا سلسلہ ۱۵۸

جواہرات کی ٹوکری اورحضرت عمر کا معجزہ ۱۵۹

داستان کے متن کی جانچ پڑتال ۱۶۱

ملاحظہ ہو متن داستان : ۱۶۱

اس داستان کے بارے میں دانشوروں کا طریقہ کار: ۱۶۳

چھان بین اور موازنہ کا نتیجہ ۱۶۴

خلا صہ اور نتیجہ ۱۶۵

اس حصہ سے مربوط مطالب کے مآخذ ۱۶۸

گزشتہ اور آئندہ مباحث پر ایک نظر ۱۷۲

آٹھواں حصہ : ۱۷۴

معروف ناموں کا غیر معروف ناموں میں تبدیل کرنا ۱۷۵

۱ ۔ خالد بن ملجم ۱۷۵

سیف کی روایت کی تحقیق اور بررسی ۱۷۸

معاویہ بن رافع اور عمرو بن رفاعہ ۱۸۰


سیف کی روایتوں کی چھان بین: ۱۸۳

ابن قانع سے جواب طلبی : ۱۸۵

اصحاب ِ پیغمبر کے ناموں کا ناجائز فائدہ اٹھانا ۱۸۷

۱ ۔ خزیمہ بن ثابت ۱۸۷

۲ ۔ سماک بن خرشہ ۱۸۸

۳ ۔ وبرہ بن یحنس خزاعی : ۱۸۹

۴ ۔ سبائی ۱۸۹

۵ ۔ عبد اللہ ابن سبا : ۱۹۰

سیف کی الٹ پھیر ۱۹۱

خاتمہ: ۱۹۳

گزشتہ مباحث پر ایک نظر ۱۹۳

مرتدین کی جنگوں پر ایک نظر ۱۹۴

کندہ کی جنگ ۱۹۶

جنگ کندہ کی جانچ پڑتال ۲۲۰

مالک بن نویرہ کی جنگ ۲۲۱

ان جنگوں کا اصل محرک ۲۲۳

سیف کی فتوحات پر ایک نظر ۲۲۴

ان روایتوں کا نتیجہ ۲۲۷

سیف کے خرافات پر مشتمل افسانوں پر ایک نظر ۲۳۰

سیف کے تغیرات پر ایک نظر ۲۳۰


سیف کے افسانوی افرادو اشخاص کے کئی گروہ ہیں : ۲۳۱

داستان کندہ کے مآخذ ۲۳۳

گراں قیمت اموال لینے کی ممانعت کے بارے میں حدیث: ۲۳۳