عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے- جلد 3
گروہ بندی متن تاریخ
مصنف علامہ سید مرتضیٰ عسکری
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے

تيسری جلد

علامہ سید مرتضیٰ عسکری

مترجم:سید قلبی حسین رضوی


عبدا لله بن سبا اور سبائيوں کی داستان کی تحقيق

پہلی فصل

عبدا لله بن سبا حدیث و رجا ل کی کتابو ں ميں

عبدا لله بن سبا کے بارے ميں کشی کی روایتيں ۔

عبدا لله بن سبا سے متعلق روایتوں ميں تناقض

مرتدوں کو جلانے کی روایتيں ۔

مرتدوں کو جلانے کی روایتوں کی تحقيق جلانے کی روایتوں کے بارے ميں مزید تحقيق شيعوں کی کتابوں ميں مرتدوں کو جلانے کی روایتوں کامعيار

مرتدوں کو جلانے کی روایتوں کا حقيقی پہلو

مباحث کاخلاصہ اور نتيجہ

اس حصہ کے مآخذ


کشی کی روایتيں

و من رجال الکشی انتشرت هذه الروایات فی کتب الشيعه

یہ روایتيں ، صرف رجالِ کشی سے شيعہ کتابوں ميں آگئي ہيں ۔

مؤلف

ا س کتاب کی پہلی جلد کی ابتدا ميں ہم نے عبدا لله بن سبا کے افسانہ کا خلاصہ بيان کيا اور کہا: سيف کی دروغ بافی کی بنياد پر ، اس افسانہ کا ہيرو یعنی “ عبدا لله بن سبا ” یمن کے یہودیوں ميں سے ایک شخص تھا ، جو ریا کاری اور زور و زبردستی اور اسلامی ممالک ميں شورشيں اور فتنہ انگيزیاں کرنے نيز مسلمانوں ميں اختلاف و افتراق کو بڑهاوادینے کيلئے یمن سے اسلامی ممالک کے بڑے شہروں کا سفر کيااور اسلام کا اظہار کرکے اس نے مسلمانوں ميں وصی ، رجعت اور عثمان کی غصبيت کا عقيدہ پھيلایا ، اور ان عقائد کو ایجاد کرکے اسلامی شہروں ميں بڑے پيمانے پر فتنے اور اختلافات بر پا کئے یہاں تک کہ عثمان کے قتل اور جنگ جمل کا سبب بنا۔

یہ تھا عبدا لله بن سبا کے افسانہ کا خلاصہ ، جسے سيف بن عمر نے جعل کرکے مسلمانوں اور اسلامی تمدن کے مآخذ ميں اس کی اشاعت کی ہے ۔

ہم نے افسانہ عبدلله ابن سبا کی تشریح اور اس پر دقيق بحث و تحقيق کو سيف کی تمام جعليات و تخليقات پر بحث و تحقيق کے بعد چھوڑدیا ہے۔خود عبدا لله بن سبا کے بارے ميں حدیث ، رجال اور تاریخ کی کتابوں ميں درج باتوں کو اختتامی بحثوں ميں بيان کریں گے۔ ليکن عبد الله بن سبا کی شخصيت کے بارے ميں جو کثرت سے سوالات ہم سے کئے گئے ہيں اور اس سلسلہ ميں جو پے در پے ہم سے اس کے بارے ميں ہمارا عقيد پوچھا گيا ہے ، اس امر کا سبب بنا کہ بحث کے اس حصہ کو وقت سے پہلے شروع کریں تا کہ منظور نظر مباحث کا ایک حصہ واضح ہونے کے ضمن ميں ان سوالات کا جواب بھی دیا جاسکے اور عبدا لله بن سبا کے بارے ميں ہمارا عقيدہ بھی واضح اور روشن ہوجائے ۔

اسی لئے ہم پہلے حدیث اور رجال کی کتابوں ميں عبدا لله بن سبا کے قيافہ کی تحقيق کرتے ہيں اور آخر ميں ا س کے بارے ميں اپنا نظریہ بيان کریں گے:

١۔ امام محمد باقر عليہ السلام سے کشی کی روایت:

کشی امام محمد باقر عليہ السلام سے نقل کرتا ہے کہ عبدا لله بن سبا نبوت کا دعوی کرتا تھا اور ایسا ظاہر کرتا تھا کہ امير المؤمنين عليہ السلام الوہيت اور خدائی مقام کے مالک ہيں ۔

جب یہ خبر امير المؤمنين عليہ السلام کوپہنچی ، تو انہوں نے ابن سباکو طلب کيا اور اس بارے ميں اس سے سوال کيا ، ابن سبا نے اپنے اس عقيدہ کا فوراً اعتراف کيا اور کہا: جی ہاں آپ وہی خدا ہيں ! اور اضافہ کيا کہ ميرے دل ميں یہی الہام ہوا ہے کہ آپ خدا ہيں اور ميں آپ کا پيغمبر ہوں ۔

امير المؤمنين عليہ السلام نے فرمایا: افسوس ہو تم پر ! شيطان نے تجھ پر اثر کيا ہے ،

اور تيرا مذاق اڑایا ہے تيری ماں تيری سوگوار بنے اس بيان اور فاسد عقيدہ سے دست بردار ہوجاؤ اور توبہ کرو!

ابن سبا اپنی بات پر اصرار کرتا رہا تو امير المؤمنين عليہ السلام نے اسے جيل ميں ڈال دیا اور اسے تين دن کی مہلت دی تا کہ توبہ کرے ، ليکن اس نے توبہ نہيں کی ۔

امير المؤمنين عليہ السلام نے بھی اسے مقررہ مہلت کے بعد نذرآتش کيااور فرمایا :

اس پر شيطان مسلط ہوگيا ہے اور اس نے یہ عقيدہ اسے تلقين کيا ہے۔

٢۔ اما م جعفرصادق عليہ السلام سے کشی کی روایت:

کشی ہشام بن سالم سے نقل کرتا ہے کہ اس نے کہا: ميں نے امام صادق عليہ السلام سے جبکہ وہ اپنے اصحاب کے ساتھ عبدا لله بن سبا کے عقيدہ کے بارے ميں گفتگو کر رہے تھے سنا کہ وہ فرماتے تھے ، جب ابن سبا نے علی عليہ السلام کی الوہيت کے بارے ميں ا پنا عقيدہ ظاہرکيا ، تو امير المؤمنين عليہ السلام نے اس سے چاہا کہ وہ اپنے عقيدہ سے دست بردار ہوجائے اور توبہ کرے ۔ ليکن اس نے توبہ نہيں کی پھر امير المومنين عليہ السلام نے اسے آگ ميں ڈال کر جلادیا ۔

٣۔ اما م صادق ں سے کشی کی ایک اور روایت :

کشی ابان بن عثمان سے نقل کرتا ہے : ميں نے امام صادق عليہ السلام سے سنا کہ وہ فرماتے تھے : خدا لعنت کرے عبدا لله بن سبا پر کہ وہ امير المؤمنين عليہ السلام کی ربوبيت اور الوہيت کا قائل تھا ، جبکہ خدا کی قسم آنحضرت عليہ السلام خدا کے ایک مطيع اور فرمانبردار بندہ کے علاوہ کچھ نہيں تھے ۔ افسوس ہے ان پر جو ہم پر تہمتيں لگاتے ہيں ۔ بعض لوگ ہمارے بارے ميں ایسی باتيں کرتے ہيں اور ہمارے لئے ایسے اوصاف کے قائل ہيں کہ ہم خود اپنے لئے ان چيزوں کے قائل نہيں ہيں ۔ اس قسم کے اوصاف جو خدا سے مخصوص ہيں ہم سے مربوط نہيں ہيں ۔ خدا کی قسم ہم ایسے افرا دسے بيزار ہيں ۔

۴ ۔امام سجادں سے کشی کی روایت:

کشی اما م سجاد عليہ السلام سے نقل کرتاہے کہ انہوں نے فرمایا: خدا ان پر لعنت کرے جو ہماری طرف جھوٹی نسبت دیتے ہيں جب مجھے عبدا لله بن سبا یاد آتا ہے تو ميرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہيں اس نے ایک بڑی چيز کی دعویٰ کيا تھا ، خدا اس پر لعنت کرے ۔یہ کيا عقيدہ تھا جس کا اس نے اظہار کيا ؟! خدا کی قسم علی ابن ابيطالب عليہ السلام خدا کے صالح بندہ اور رسول خدا صلی الله عليہ وآلہ وسلم کے بھائی تھے وہ خدا کے حضور صرف خدا و رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی اطاعت کی رو سے عالی ترین مقام پر پہنچے تھے ۔جس طرح صرف خداوند عالم کی اطاعت سے پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم عالی ترین مقام پر فائز ہوئے تھے ۔

۵ ۔امام جعفر صادق ں سے کشی کی روایت کشی امام صادق عليہ السلام سے نقل کرتاہے کہ انہوں نے فرمایا : ہم ایک سچے اورراست گو خاندان ہيں اور کبھی بھی ایسے کذاب او رجھوٹے افراد سے خوشحال نہيں ہيں جو ہم پر جھوٹ باندتے ہيں یہ جھوٹے لوگ ہم پر جھوٹ کی نسبت دیکر ہماری صحيح بات کو لوگوں کی نظروں ميں بے اعتبار بناتے ہيں اس کے بعد امام نے اضافہ کيا۔

پيغمبر صلى اله عليه وسلملوگوں ميں سب سے سچے تھے ، ليکن مسيلمہ نے ان پر کئی جھوٹ کی نسبت دی ۔ امير المؤمنين رسول خدا صلى اله عليه وسلمکے بعد لوگوں ميں سب سے سچے تھے ، ليکن عبدا لله بن سبا نے ان پر جھوٹ کی نسبت دی اور اس برے کام سے ان کی سچی بات کو جھوٹ کی صورت ميں پيش کرکے انہيں بے اعتبار بناتاہے ۔ عبدا لله بن سبا وہ تھا جس نے خداوند عالم پر بھی جھوٹ کی نسبت دی ہے ( اس کے بعد امام صادق عليہ السلام نے فرمایا :

ابا عبدا لله الحسين بن علی بھی مختار کے جال ميں پهنس گئے تھے )(۱)

عبدا لله بن سبا کے بارے ميں کشی کی وضاحت کشی مذکوہ پنجگانہ روایتوں کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے : بعض مؤرخين نے نقل کيا ہے کہ عبدالله بن سبا ایک یہودی تھا، اس کے بعد اس نے اسلام قبول کيااور علی عليہ السلام کے اصحاب ميں شامل ہوگيا وہ جس طرح یہودی ہونے کے دوران یوشع نون کے بارے ميں غلو آميز عقيدہ رکھتا تھا کہ جو حضرت موسی کے وصی ہيں اسی طرح اسلام کی طرف مائل ہونے اور پيغمبر خدا صلى اله عليه وسلم کی رحلت کے بعد علی کے بارے ميں بھی اس غلو و افراط ميں مبتلا ہوگيا۔ وہ پہلا شخص تھاجس نے پيغمبر اسلام صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد علی ابن ابيطا لبں کی امامت اور ان کی خلافت کا عقيدہ لوگوں کی زبانوں پر جاری کيا اور حضرت ں کے دشمنوں سے بيزاری اور دوری اختيار کی ۔ حضرت کے مخالفوں کے ساتھ سخت مخالفت کی اور ان کی تکفير کی ۔ اسی لئے شيعوں کے مخالفين کہتے ہيں : تشيع کا سرچشمہ در حقيقت یہودیت ہے ۔

____________________

۱: حدیث کا آخر جملہ اضافہ ہے جو کتاب اختيار رجال کشی ميں اس حدیث کے ذیل ميں مقلاص بن ابی خطاب کی ۱ ص ٣٠۵ کی تشریح ميں آیا ہے ۔


ان روایتوں کی جانچ پڑتال کشی نے عبدا لله بن سبا کی وضاحت ميں جو روایتيں نقل کی ہيں وہ ان روایتوں کا خلاصہ جنہيں عبدا لله بن سبا کے بارے ميں سيف نے نقل کيا ہے اور طبری نے بھی اس سے نقل کيا ہے اور دوسروں نے طبری سے نقل کيا ہے ہم نے کتاب کی پہلی جلد ميں اس کی تحقيق کی ہے ۔ليکن ،مذکورہ پنجگانہ روایتيں ، جنہيں کشی نے نقل کيا ہے ہم ان کے مضمون کو کشی سے پہلے یا اس کے زمانے ميں “ملل و نحل” اور ادیان اور عقائد کی شناخت کے بارے ميں لکھی گئی کتابوں سے حاصل کرتے ہيں ۔

کشی ابن بابویہ (وفات ٣ ۶ ٩ هء ) کا ہم عصر تھا، اس کی روایتوں کا مضمون کتاب “المقالات” تاليف سعد بن عبدا لله اشعری (وفات ٣٠١ هء) ، کتاب “ فرق الشيعہ ” تاليف نوبختی (وفات ٣١٠ هء) اور “ مقالات الاسلاميين ” تاليف علی ابن اسماعيل ( وفات ٣٣٠ هء ) ميں نقل ہوا ہے۔ یہ سب مؤلفين کشی اور ابن بابویہ سے پہلے تھے ،فرق صرف اتنا ہے کہ انہوں نے ان روایتوں کو ایک ہی روش اور سياق ميں سند کے بغير نقل کيا ہے ، ليکن رجال کشی ميں یہ روایتيں مختلف صورتوں ميں اور سند کے ساتھ نقل ہوئی ہيں انشاء الله ہم ان پرآنے والی فصل ميں تحقيق کریں گے ۔

یہ روایتيں “ معرفة الناقلين” نامی رجال کشی سے شيعوں کی دوسری کتابوں ميں درج ہوکر منتشر ہوئی ہيں ۔ کيونکہ شيخ طوسی وفات ۴۶ ٠ هء) نے اسی رجال کشی کو خلاصہ کرکے اس کا نام “ اختيار معرفة الرجال ” رکھا ہے اور یہی کتاب آج رائج اور معروف اور ہماری دسترس ميں ہے ۔

اس کے علاوہ احمدبن طاؤس ( وفا ت ۶ ٧٣ ئه) نے اپنی کتاب “ حل الاشکال ” ۶۴۴ ئه )ميں تاليف کی ہے ، اس نے اس کتاب ميں مندرجہ ذیل پانچ کتابوں کی عبارتوں کو یکجا کر دیا ہے:

١۔ رجال شيخ طوسی ۔

٢۔ فہرست شيخ طوسی ۔

٣۔ اختيار رجال کشی ، تاليف شيخ طوسی ۴ ۔ رجال نجاشی ( وفات ۴۵ ٠ هء) اور ۵ ۔ کتاب ‘ ‘ الضعفاء” جو ابن غضائری ( وفات ۴ ٠٠ هء) سے منسوب ہے ، ابن طاؤس کے بعد ، ان کے دو شاگردوں نے اس کی پيروی کی اور ان کے استاد نے جو کچھ اپنی کتاب ميں درج کيا ہے ، انہوں نے بھی اسی کو من و عن اپنی کتابوں ميں نقل کردیا ہے ان دو ميں سے ایک علامہ حلی (وفات ٧٢ ۶ ه) ہيں جنہوں نے اپنی رجال کی کتاب “ خلاصة الاقوال” ميں ا ور دوسرے ابن داؤد ہے جنہوں نے ( ٧٠٧ ئه) ميں تاليف کی گئی اپنی رجال کی کتاب ميں درج کيا ہے ان کے بعد مرحوم شيخ حسن بن زین الدین عاملی ( وفات ١٠١١ هء) نے “ اختيار رجال کشی ” کو ابن طاؤس کی کتاب “ حل الاشکال ” سے الگ کرکے اس کا نام “ تحریر طاوس ”

رکھا ہے ، قہبائی نے ١٠١ ۶ ئه ) ميں تاليف کی گئی اپنی کتاب “ مجمع الرجال ” ميں مذکورہ پنجگانہ کتابوں کو اکٹها کرکے اپنی کتاب ميں ان کتابوں کی من و عن عبارتوں کو نقل کيا ہے ۔

اس طرح یہ کتابيں شيعہ دانشوروں ميں رجال و حدیث کے راویوں کے بارے ميں بحث و تحقيق کے منابع و مآخذ قرار پائی ہيں اور رجال شناسی ميں شيعوں کے مباحث ، صرف انہی کتابوں پر منحصر ہيں ۔ ان کتابوں کے مؤلفين نے مطالب کو ایک دوسرے سے نقل کرکے ایک کتاب سے دوسری کتاب ميں منتقل کردیاہے۔

بعد ميں آنے والے علماء حدیث اور رجال نے بھی اسی روش کو جاری رکھا ہے ،جيسے:

ا لف ) تفرشی : جو علمائے رجال ميں سے ایک ہيں نے ١٠١ ۵ ئه) ميں تاليف کی گئی اپنی کتاب “نقد الرجال ” ميں “ ابن سبا ” کے حالات کی تشریح ميں کشی کی روایتوں ميں سے ایک کو نقل کياہے اورعلامت “کش ” سے اسے مشخص کيا ہے۔

ب) اردبيلی : اس نے ١١٠٠ ئه ميں تکميل کو پہنچائی گئی اپنی تاليف “ جامع الرواة ”

ميں عبدا لله بن سبا کے حالا ت کی تشریح کو کشی اور ان سے نقل کيا ہے جنہوں نے کشی سے ليا ہے اور اسے علامت “کش” سے مشخض کيا ہے ۔

ا ن کے علاوہ علم رجال کے دوسرے دانشوروں نے بھی اسی روش کی تقليد کرتے ہوئے رجال کشی اور ان کے تابعين کو اپنا منبع و مآخذقرار دیا۔

علمائے حدیث:

ج ) علمائے حدیث ميں سے علامہ مجلسی ( وفات ١١١٠ ئه) نے کشی کی پنجگانہ روایتوں کو اسی بيان و وضاحت کے ساتھ جسے آخر ميں ذکر کياہے اپنی اہم ترین کتاب “

بحار الانوار ” ميں نقل کيا ہے ۔

د) شيخ محمد بن حسن حر عاملی ( وفات ١١٠ ۴ ئه) جو اکابرعلمائے حدیث ميں شمار ہوتےہيں ، نے اپنی کتاب “ تفصيل الوسائل ” ميں عبدا لله بن سبا کے بارے ميں کشی کی پہلی اور دوسری روایت نقل کی ہے ۔

ه) ابن شہر آشوب ( وفات ۵۵ ٨ ئه )نے بھی اپنی کتا ب“ مناقب ” ميں کشی کی پہلی روایت کو اس کے مآخذ کی طرف کسی قسم کا اشارہ کئے بغير نقل کيا ہے ۔

بات کا خلاصہ خلاصہ یہ کہ ہم عبدا لله بن سبا کے بارے ميں شيعہ کتابوں ميں ذکر کی گئی روایتوں کے بارے ميں تحقيق کے دوران اس نتيجہ پر پہنچے کہ یہ سب روایتيں کتاب رجال کشی سے نقل کی گئی ہيں اور درج ذیل منابع نے بھی ان روایتوں کو اسی سے نقل کيا ہے:

١۔ “ اختيار رجال کشی ” ت اليف شيخ طوسی (وفات ۴۶ ٠ هء(١١١ هء(

٢۔ “ بحار الانوار ” ت اليف مجلسی ( وفات ١

٣۔ “وسائل ” ت اليف شيخ حر عاملی ( وفات ١١٠ ۴ ئه(

۴ ۔ “جامع الرواة ” ت اليف ا ردبيلی ( وفات ١١٠٠ هء(

۵ ۔“ مجمع الرجال” ت اليف قہپائی ( وفات ١٠١ ۶ هء(

۶ ۔ “نقد الرجال” ت اليف ت فرشی (وفات ١٠١ ۵ هء(

٧۔ “تحریر طاؤس” ت اليف شيخ حسن عاملی(وفات ١٠١١ هء(

٨۔ “الخلاصہ ” ت اليف علامہ حلی ( وفات ٧٢ ۶ هء(

٩۔ “رجال” ت اليف ا بن داؤد ( وفات ٧٠٧ هء(

١٠ ۔ “حل الاشکال” ت اليف ا حمد بن طاؤس( وفات ۶ ٧٣ هء(

١١ ۔“ مناقب ” ت اليف ا بن شہر آشوب (وفات ۵ ٨٨ هء (

رجال کشی اور اس کی روایتوں کی جانچ پڑتال

روی الکشی عن الضعفاء کثيراً و فی رجاله اغلاط کثيرة

کشی غير قابل اعتماد افراد سے بہت روایتيں نقل کرتا ہے اور اس کی کتاب رجال غلطيوں سے بھری پڑی ہے

. نجاشی جبکہ ہمارے لئے یہ واضح ہوگياکہ شيعوں کی حدیث اور رجال کی تمام کتابوں نے عبدا لله بن سبا کی غلو کی داستان کو کسی کی معروف کتاب “ معرفة الناقلين ” سے نقل کياہے ،تواب ہميں مذکورہ کتاب اور اس کی روایتوں کی جانچ پڑتال پر توجہ دینی چاہئے ۔

١۔ کتاب ‘ ‘ معرفة الناقلين ” کا مؤلف اس کتاب کا مؤلف ، ابو عمر محمد بن عمرو بن عبدا لعزیز کشی ہے ، نجاشی نے اس کے بارے ميں کہاہے : کشی ایک مؤثق اور قابل اعتماد شخص ہے ليکن اس نے کثرت سے ضعيف اور ناقابل اعتماد افراد سے روایت نقل کيا ہے مزیدکہتا ہے کشی عياشی کا شاگرد تھا لہذا اس نے بعض مطالب اسی سے سيکهے ہيں اور عياشی کے حالات کی تشریح ميں یوں کہتا ہے : وہ ضيعف اور ناقابل اعتماد افراد سے زیادہ نقل کرتا ہے: نيز عقيدہ و مذہب کے لحاظ سے ابتداء ميں مکتب تسنن کا پيرو تھا اور اہل سنت کی احادیث کو زیادہ سن چکا تھا ،

لہذا اس نے ایسی احادیث زیادہ نقل کی ہيں ۔

٢۔ معرفة الناقلين یا رجال کشی رجال کشی “معرفة الناقلين عن الائمة المعصومين ” کے نام سے تھی ۔ شيخ طوسی نے اسکا خلاصہ کيا ہے اور اس کا “ اختيار رجال الکشی ” نام رکھا ہے ۔ یہ کتاب آج تک دانشوروں کی دسترس ميں ہے ۔

نجاشی نے کشی کی کتاب کے بارے ميں کہاہے : علم رجال ميں کشی کی ایک کتاب ہے اس کتاب ميں بہت زیادہ مطالب ہيں ،جن ميں بے شمار غلطياں پائی جاتی ہيں ۔

نجاشی نے کشی کے بارے ميں کہا ہے : وہ ضيعف اور ناقابل اعتماد افراد سے نقل کرتا ہے۔

مرحوم محدث نوری کتاب “ مستدرک الوسائل ” کے خاتمہ کے فائدہ سوم ميں ، شيخ طوسی کی “اختيار رجال الکشی ” کے بارے ميں کہتے ہيں : “ بعض قرائن سے ہمارے لئے واضح ہوا ہے کہ اس کتاب ميں بھی بعض علماء ،مؤلفين اور ناسخوں نے کچھ تصرفات اور تغيرات انجام دئے ہيں ”(۱)

____________________

١۔ مستدرک ( ٣۵٣٠ )مرحوم نوری اس بيان کے بعد اپنی بات کيلئے کئی دلائل پيش کرتے ہيں ۔


قاموس الرجال کے مؤلف نے کہاہے : “ رجال کشی کا کوئی صحيح نسخہ کسی کے پاس نہيں پہنچا ہے حتی شيخ طوسی اور نجاشی کو بھی ”۔ نجاشی نے اس بارہ ميں کہا ہے “ رجال کشی ميں بہت ساری غلطياں ہيں “

اسکے بعد“ قاموس ” کے مؤلف کہتے ہيں : رجال کشی ميں اس قدر تحریف ہے کہ ان کا شمار کرنا ممکن نہيں ہے اس کتاب ميں تحریف نہ ہوئے مطالب معدود چنداور انگشت شمار ہيں جيسے : “ احمد بن عائذ”، “احمد بن فضل ” ، “اسامہ بن حفص ”، “اسماعيل بن فضل ”،

“اشاعثہ ”، “حسين بن منذر ”، “درست بن ابی منصور ”، “ابو جریر قمی ”، “عبدا لواحد بن مختار ”، “ علی بن حدید ”، “علی بن وهبان ” ، “عمر بن عبدا لعزیز زحل ”، “ عنبسہ بن بجاد ”، اور “منذر بن قابوس ” کی تشریح ۔

اس کے بعدکہتے ہيں :

” ميں نے ان چندناموں کے حالات کی تشریح ميں کوئی تحریف نہيں پائی اگرچہ احتمال ہے کہ ان ميں بھی تحریف کی گئی ہے ان ناموں کے علاوہ ميں نے کتاب کی تمام تشریحوں ميں تحریفات مشاہدہ کی ہے اور تمام تحریفات کی اس کے مقام پر بحث و تحقيق کی ہے“

ا س کتاب ميں بہت کم ایسی روایتيں پائی جاتی ہيں جو تحریف و تغيرات سے پاک و صاف ہوں ، یہاں تک کہ کتب کے بہت سے عنوان بھی تحریف ہوئے ہيں کسی شخص سے متعلق روایت کو کسی دوسرے شخص کے حالا ت ميں بيان کيا گياہے ایک طبقہ کے راویوں کو دوسرے طبقہ ميں درج کيا ہے ۔

ابو بصير ليث مرادی کی روایت کو غلطی سے ابو بصير یحيیٰ اسدی کی تشریح ميں ذکر کيا ہے ۔

ابو بصير یحيیٰ کی روایت کو اشتباہ سے“ علباء اسدی ” کے سلسلے ميں درج کيا ہے اور ابو بصير عبدالله فرزند محمد اسدی کے بارے ميں بھی غلطی کا شکا ہوا ہے ۔

عبدا لله بن عباس کی تشریح کے سلسلہ ميں پہلی روایت کو حزیمہ کی تشریح ميں اس تشریح سے پہلے نقل کيا ہے۔

علی بن یقطين کی تشریح کے آخر ميں ایک روایت اور ابتداء ميں ایک اور روایت کو حذف کيا ہے ۔

ابو الخطاب کی تشریح ميں ٢٣ روایتيں نقل کی ہيں کہ جن کا ابو الخطاب سے کوئی ربط ہی نہيں ہے۔ یہی وجہ تھی کہ قہپائی نے اپنی کتاب ميں ابو الخطاب کی تشریح ميں ان روایتوں کو نقل کرنے کے بعد انهيں کاٹ دیا ہے ۔

حميری کہ جو اما م حسن عسکری عليہ السلام کے صحابی تھے کو امام رضا عليہ السلام کے اصحاب ميں شمار کيا ہے ۔

لوط بن یحيیٰ کو حضرت امير المؤمنين عليہ السلام کے اصحاب ميں درج کيا ہے جبکہ لوط امام باقر عليہ السلام یا امام صادق عليہ السلام کے اصحاب ميں سے تھا اور اس کا داداامير المؤمنين عليہ السلام کے اصحاب ميں سے تھا۔

شيخ طوسی نے اس کتاب کے ایک حصہ کو اس ميں موجود تمام تحریفات ، تغيرات اور اشتباہات کے ساتھ انتخاب کيا ہے اور ان کے ابواب کے عنوان کو حذف کياہے

قہپائی نے اس کتاب کی بعض خرابيوں کو صحيح کرنا چاہا ہے ليکن اس کے برعکس اس کتاب کی خرابيوں ميں اضافہ ہی کردیا ہے اور باطل کا م انجام دیا ہے ۔

ان سب تحریفات کے باوجود کہ کتاب کشی کا یہ نتيجہ ہواکہ اس کتاب کے مطالب پر کسی بھی طرح کا اعتما دنہيں کيا جاسکتا مگر یہ کہ مطلب کے صحيح ہونے کے سلسلہ ميں کتاب کشی کے علاوہ کسی کتاب ميں دليل موجو د ہو ۔

اس بنا پر متاخرین دانشوروں نے کتاب کشی پر اعتماد کرکے متفق القول کہا ہے کہ : “

ابان بن عثمان”فرقہ ناوسيہ سے ہے جيساکہ رجال کشی ميں ایسا ہی ذکر ہوا ہے ان علماء کا رجال کشی پر یہ اعتماد بے جاتھا اور احتمال یہ ہے کہ یہ جملہ اس کتاب ميں تحریف ہوا ہے اور یہ جملہ در حقيقت کان من القادسيہ تھا یعنی ابان اہل قادسيہ تھا ۔

اصل کتاب کشی کے علاوہ ‘ ‘ اختيار رجال کشی ” شيخ طوسی کا خلاصہ ہے اور شيخ کے بعد آج تک یہ کتاب دانشوروں کے پاس موجود ہے اس کتاب ميں اصل کتاب رجال کشی ميں موجود تحریفات کے علاوہ ، شيخ یا اسکے بعد والے علماء نے بھی اس ميں بعض تبدیلياں کی ہيں ا س سبب سے اس کے نسخوں ميں اختلاف پایا جاتاہے جيسے : قہپائی کا نسخہ جو موجودہ طبع شدہ نسخوں سے اختلاف رکھتا ہے ، گویا قہپائی کے نسخہ ميں کتاب کا حاشيہ متن ميں داخل کيا گيا ہے ۔

جو کچھ علامہ حلی نے‘ خلاصة الاقوال ” ميں کشی سے نقل کيا ہے ، اس ميں بھی تحریفات ہيں ، ليکن کم ہيں ۔

جو کچھ اس کتاب سے نقل کرکے ابن داؤد کی رجال ميں آیا ہے ، اس کی تحریفات بے شمار ہيں اور خود ابن داؤد کی کتاب رجال متاخرین دانشوروں کی کتابوں ميں وہی حيثيت رکھتی ہے جو کتاب کشی گزشتہ دانشورں کی کتابوں ميں ر کھتی تھی(۱)

ا س دانشور کے محققانہ بيان کے صحيح ہونے کی حقيقت کتاب رجال کشی کی طرف رجوع کرنے سے واضح وآشکار ہوجاتی ہے۔ اگر ہم اسکے علاوہ اس کتاب کی اصل کے بارے ميں بحث کرناچاہيں ، توایک مستقل کتاب تاليف ہوگی کہ اس کی ضرورت نہيں ہے اور موجودہ نسخہ کی جانچ پڑتال کے بارے ميں ہم اتنے ہی پر اکتفاء کرتے ہيں ۔

٣۔ گزشتہ پانچ روایتيں الف ) علماء نے ان روایتوں پر اعتمادنہيں کيا ہے: گزشتہ پانچ روایتوں کو شيخ کلينی (وفات ٣٢٩ هء ) نے اپنی کتاب “ کافی” ميں درج نہيں کيا ہے ۔

اس طرح شيخ صدوق ( وفات ٣٨١ ئه) نے اپنی کتاب ‘‘ من لا یحضرہ الفقيہ ” ميں اور شيخ طوسی جو خود ہی کتاب اختيار رجال کشی کے مؤلف تھیاپنی کتاب “ تہذیب ”اور “استبصار ” ميں ان روایتوں کی طرف اشارہ تک نہيں کيا ہے اور یہ مطلب خود اسکی دليل ہے کہ یہ بزگواران روایتوں پر اعتماد نہيں کرتے تھے ، خاص کر پہلی اور دوسری روایت کو نقل کرتے تھے کہ حضرت امير المؤمنين ں نے عبدا لله بن سبا کو مرتد ہونے کے جرم ميں نذر آتش کياہے اس طرح فقہا ء نے آج تک مرتد کے حکم کے بارے ميں ا ن دو روایتوں کی طرف اشارہ تک نہيں کيا ہے ۔

ب) تناقض کا اشکال : شيعہ کتابوں ميں عبد الله بن سبا کے بارے ميں دو اور روایتيں موجود ہيں جو کشی کی ان پانچ روایتوں سے تناقض رکھتی ہيں ان دو روایتوں کا مفہوم ان پانچ روایتوں کے مضمون کومکمل طور پر جھٹلاتاہے ۔

پہلی روایت : کتاب ‘ ‘ من لا یحضرہ الفقيہ ” ، ‘ خصال ” ، “تہذیب ” ، “ حدائق ” ،“وسائل ” اور “وافی ” ميں نقل ہوئی ہے اوروہ روایت یہ ہے :

امام صادق عليہ السلام اپنے باپ اما م باقر عليہ السلام سے نقل کرتے ہيں کہ ایک دن امير المومنين نے فرمایا: جب نما زسے فارغ ہوجاؤ تو ، اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرو

____________________

۱ ۔ ۴٨ - .۴٢ ) سے خلاصہ کے طور پر نقل / مذکورہ مطالب کو کتاب قاموس الرجال طبع مصطفوی تہران ١٣٧٩ ه ( ج ١کياگيا ہے ۔


اور خداسے دعا و مناجات کرو ، ابن سبا نے جب امير المؤمنين عليہ السلام کے اس بيان کو سنا ، تو اعتراض کيا اور کہا :اے امير المؤمنين ! کيا خداوند عالم ہر جگہ موجود نہيں ہے ؟

امير المؤمنينں نے فرمایا: جی ہاں خداوند متعال ہر جگہ موجود ہے ابن سبا نے کہا: پھر کيوں حالت دعا ميں ہاتھ آسمان کی طر ف اٹھائے جائيں ؟ امير المؤمنينں نے فرمایا: کيا تم نے قرآن مجيد ميں اس آیت کو نہيں پڑها ہے کہ خدا وند عالم فرماتا ہے:

>و فی السماء رزقکم وما توعدون <

تمہارا رزق اور جس چيز کا وعدہ کيا گيا ہے آسمان پر ہے پس رزق کيلئے اپنی جگہ سے F درخواست کرنی چاہئے اور رزق وہيں پر ہے جس کا خدا نے وعدہ کيا ہے اور وہ آسمان ہے(۲)

و آلہ وسلم پر جھوٹ کی نسبت دیتا ہے ؟ امير المؤمنينں نے فرمایا: کيا کہتا ہے ؟

راوی کہتا ہے کہ ميں نے اس قدر سناکہ امير المومنين نے فرمایا :هيهات ! هيهات ! “بعيد ہے !

بعيد ہے ! ” ليکن ایک مرد جو تند رفتار اونٹ پر سوار ہے اور اونٹ پر کجاوہ بندها ہوا تمہارے درميان آئے گا حج و عمرہ کی خاک کو ابھی پاک نہ کيا ہوگا تم لوگ اسے قتل کر ڈالو گے (اس شخص سے علی کا مقصود ان کے فرزندحسين بن علی تھے)

غيبت نعمانی ميں یہ روایت مسيب بن نجبہ سے یوں نقل ہوئی ہے کہ : ایک شخص “

ابن سوداء ” نامی ایک مرد کے ہمراہ امير المؤمنين عليہ السلام کی خدمت ميں آیا اور کہا: یا امير المؤمنين ! یہ مرد “ ابن سوداء” خدا و رسول خدا صلی الله عليہ وآلہ وسلم کی طرف جھوٹ نسبت دیتا ہے اور آ پ کو بھی اپنے جھوٹ کيلئے گواہ بناتاہے ۔ امير المؤمنين عليہ السلام نے فرمایا: “لقد اعرض وا طول” بکواس کی بات ہے کيا کہتا ہے ۔اس نے کہا، لشکر غضب کے بارے ميں کہتا ہے ، کہ امام نے فرمایا: اسے چھوڑدو ، جی ہاں ، لشکر غضب ایک ایسا گروہ ہے جو آخر زمانہ ميں ظاہر ہوگا

یہ تھيں دو روایتيں جن کا مضمون کشی کی پنجگانہ روایتوں سے مخالف اور تناقض رکھتا ہے کيونکہ پنجگانہ روایتيں دلالت کرتی ہيں کہ ابن سبا الوہيت وبشری خدائی جو شکل و صورت اورجسم رکھتا تھا ، انتقال مکانی کرتا رہتا ہے، کبھی حاضر ہوتا تھا اور کهبيغائب کا قائل

____________________

۲. خدا کی طر ف دل سے توجہ کرتے وقت جسم بھی ایک خا ص جہت ميں ہونا چاہيے وہ بھی ایک خاص کيفيت ميں تاکہ روحانی و فکری توجہ زیادہ ہوجائے یہ جہت اور کيفيت بھی خداکی طرف سے معين ہونی چاہئيے مسيب ،علی عليہ السلام کے اصحاب ميں سے تھا ، اور “جنگ عين الوردہ” کے توبہ کرنے والوں کا کمانڈر تھا جنہوں نے حضرت سيد الشہداء کی خونخواہی کی راہ ميں بغاوت کی تھی ( جمہرة ابن حزم / ٢۵٨ ) وہ اسی / ۶٧٧ ) ترمذی نے اس سے حدیث نقل کی ہے ( التقریب ٢ / جنگ ميں ۶۵ هء ميں قتل ہوا ( سفينة البحار ج ١٢۵٠)۲


تھا ، جبکہ یہاں پر پہلی روایت دلالت کرتی ہے کہ ابن سباخدا کو منزہ اور اس سے بلند تر جانتا تھا کہ اجسام کی طرح کسی مکان ميں موجود ہو اور کسی دوسرے مکان ميں نہ ہو۔

اور دوسری روایت اس پر دلالت کرتی ہے کہ ابن سبا یا ابن سوداء نے پيشن گوئی کی ہے اور یہ پيشن گوئی مسيب کی نظر ميں ( یا دوسرے شخص کی نظر ميں ) عجيب اور ناقابل یقين ہے اور اسے خدا اور رسول کی طرف ایک قسم کے جھوٹ کی نسبت دینا تصور کيا ہے ،

لہذا اسے امام کے حضور ميں لایا جاتا ہے ليکن امام عليہ السلام اس پيشن گوئی کی تائيد فرماتے ہيں اور اس کو آزاد کرنے کا حکم جاری کرتے ہيں جبکہ اس قسم کا شخص کبھی بشر کی الوہيت کا قائل نہيں ہوسکتا ہے اور اس عقيدہ پر اس قدر اصرار اور ہٹ دهرمی کی یہاں تک کہ اسے نذر آتش کيا جاتاہے ۔


مرتد کو جلانے کی روایتيں

انی اذا بصرت امراً منکراً اوقدت ناری ودعوت قنبر

جب ميں سماج ميں کسی برے کا م کا مشاہدہ کرتا ہوں تو اپنی آگ جلاتا ہوں اور اپنی نصرت کے لئے قنبر کو بلاتا ہوں ۔

ہم نے گزشتہ فصلوں ميں بتایا کہ کشی کی جن پانچ روایتوں ميں عبدا لله بن سبا کا نام آیا ہے وہ چند پہلو سے خدشہ دار اور ناقابل قبول ہيں ۔ ان کے ضعف کا ایک پہلو وہی تناقض ہے جو یہ روایتيں چند دوسری روایتوں کے ساتھ رکھتی ہيں ، کيونکہ کشی کی پنجگانہ روایتيں ،

علی عليہ السلام کے بارے ميں غلو کا موضوع ، انکی الوہيت کا اعتقاد ، اور داستان احراق اور ان پر عبد الله بن سبا کو جلانے کی نسبت دیتی ہيں ، ليکن روایتوں کا ایک دوسرا سلسلہ ان رودادوں کو دوسرے افراد کے بارے ميں نقل کرتی ہيں چنانچہ :

١۔ کشی مزید کہتا ہے:

جب امير المؤمنين عليہ السلام اپنی بيوی ( ام عمرو عنزیہ ) کے گھر ميں تھے ۔ حضرت کا غلام ، قنبر آیا اور عرض کيا یا امير المؤمنين عليہ السلام ! دس افراد گھر کے باہر کھڑے ہيں اور اعتقاد رکھتے ہيں کہ آپ ان کے خدا ہيں ۔

امام نے فرمایا: انہيں گھر ميں داخل ہونے کی اجازت دیدو ۔

کہتا ہے جب یہ دس آدمی داخل ہوئے تو حضرت نے سوال کيا : ميرے بارے ميں تمہارا عقيدہ کيا ہے ؟

انہوں نے کہا؛ “ ہم معتقد ہيں کہ آپ ہمارے پروردگار ہيں اور یہ آپ ہی ہيں جس نے ہميں خلق کيا ہے اور ہمارا رزق آپ کے ہاتھ ميں ہے“

امير المؤمنين عليہ السلام نے فرمایا: افسوس ہو تم پر ! اس عقيدہ کو نہ اپناؤ ، کيونکہ ميں بھی تمہاری طرح ایک مخلوق ہوں ۔ ليکن وہ اپنے عقيدہ سے باز نہيں آئے۔

امير المؤمنين عليہ السلام نے فرمایا: افسوس ہو تم پر ! ميرا اور تمہارا پروردگار الله ہے !

افسوس ہو تم پر توبہ کرو اور اس باطل عقيدہ سے دست بردار ہوجاؤ!

انہوں نے کہا: ہم اپنے عقيدہ اور بيان سے دست بردار نہيں ہوں گے اور آپ ہمارے خدا ہيں ، ہميں خلق کيا ہے اور ہميں رزق دیتے ہيں ۔

اس وقت امام نے قنبر کو حکم دیا تا کہ چند مزدوروں کو لائے ، قنبر گئے اور امام کے حکم کے مطابق دو مزدوروں کو بيل و زنبيل کے ہمراہ لائے۔ امام نے حکم دیا کہ یہ دو مزدور زمين کھودیں ۔ جب ایک لمبا گڑها تيار ہوا تو حکم دیا کہ لکڑی اور آگ لائيں ۔ تمام لکڑیوں کو گڑهے ميں ڈال کر آگ لگادی گئی شعلے بهڑکنے لگے اس کے بعد علی عليہ السلام نے ان دس افراد سے جو ان کی الوہيت کے قائل تھے --دوسری بار فرمایا : افسوس ہو تم پر ! اپنی بات سے دست بردار ہوجاؤ ، اس کے بعد امير المؤمنين عليہ السلام نے ان ميں سے بعض کو آگ ميں ڈال دیا یہاں تک کہ دوسری بار باقی لوگوں کو بھی آگ ميں ڈال دیا ۔ اس کے بعد مندرجہ ذیل مضمون کا ایک شعر پڑها:

”جب ميں کسی گناہ یا برے کام کو دیکھتا ہوں ، آگ جلا کر قنبر کو بلاتا ہوں ”

کشی نے اس روایت کو “ مقلاص ” کی زندگی کے حالات ميں مفصل طور پر اور “ قنبر ”

کی زندگی کے حالات ميں خلاصہ کے طور پر نقل کيا ہے ۔ مجلسی نے بھی اسی روایت کو کشی سے نقل کرکے “بحار الانوار ” ميں درج کيا ہے ۔

٢۔دوبارہ کشی ، کلينی، صدوق ، فيض ، شيخ حر عاملی اور مجلسی نے نقل کيا ہے :

ایک شخص نے امام باقر اور امام صادق عليہما السلام سے نقل کيا ہے : جب امير المؤمنين عليہ السلام بصرہ کی جنگ سے فارغ ہوئے تو ستر افراد “ زط” سياہ فام حضرت کی خدمت ميں آئے اور انهيں سلام کيا ۔ اس کے بعد اپنی زبان ميں ان سے گفتگو کرنے لگے ۔

ا مير المؤمنين نے بھی ان کی ہی زبان ميں انهيں جواب دیا ۔ اس کے بعد فرمایا جو کچھ

تم ميرے بارے ميں تصور کرتے ہو ميں وہ نہيں ہوں بلکہ ميں بھی تمہاری طرح بندہ اور خدا کی مخلوق ہوں ۔ ليکن انہوں نے اس بات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا: آپ خدا ہيں ۔

ا مير المؤمنين عليہ السلام نے فرمایا: اگر اپنی باتوں سے پيچھے نہيں ہٹتے اور خدا کی بارگاہ ميں توبہ نہيں کرتے اور ميرے بارے ميں رکھنے والے عقيدہ سے دست بردار نہيں ہوتے ہو تو ميں تمہيں قتل کرڈالوں گا ، چونکہ انہوں نے تو بہ کرنے سے انکار کيا اور اپنے باطل عقيدہ سے دست بردار نہيں ہوئے ، لہذا امير المؤمنين علی عليہ السلام نے حکم دیا کہ کئی کنویں کھودے جائيں اور ان کنوؤں کو زمين کے نيچےسے سوراخ کرکے آپس ميں ملا دیا جائے اس کے بعد حکم دیا کہ ان افراد کو ان کنوؤں ميں ڈال کر اوپر سے انهيں بند کردو ۔ صرف ایک کنویں کا منہ کهلا ہوا تھااس ميں آگ جلادی گئی اور اس آگ ميں دهواں کنوؤں کے آپس ميں رابطہ دینے کے سوراخوں سے ہر کنویں ميں پہنچا اور اسی دهویں کی وجہ سے یہ سب لوگ مرگئے!

اس واقعہ کو بزرگ علماء نے ایک گمنام “ شخص” سے نقل کيا ہے کہ جس کاکوئی نام و نشان نہيں ہے اور ہم نہيں جانتے کہ یہ شخص جس نے امام باقر عليہ السلام اور امام صادق عليہ السلام سے یہ روایت نقل کی ہے ، کون ہے ؟ کہاں اور کب زندگی کرتا تھا ، اور کيا بنيادی طور پر اس قسم کا کوئی راوی حقيقت ميں وجود رکھتا ہے یا نہيں ؟!

اس داستان کو ابن شہر آشوب نے اپنی کتاب “ مناقب ” ميں اس طرح نقل کيا ہے کہ :

جنگ بصرہ کے بعد ستر افراد سياہ فام امير المؤمنين عليہ السلام کی خدمت ميں حاضر ہوئے اور اپنی زبان ميں بات کی اور ان کا سجدہ کيا۔

ا مير المؤمنين نے فرمایا: افسوس ہو تم پر ! یہ کام نہ کرو ، کيوں کہ ميں بھی تمہاری طرح ایک مخلوق کے علاوہ کچھ نہيں ہوں ۔ ليکن وہ اپنی بات پر مصر رہے ۔ امير المؤمنين عليہ السلام نے فرمایا: خدا کی قسم ! اگر ميرے بارے ميں اپنے اس عقيدہ سے دست بردار ہوکر خداکی طرف نہيں پلٹے تو ميں تمہيں قتل کرڈالوں گا ۔ راوی کہتا ہے : جب وہ اپنے عقيدہ سے دست بردار ہونے پر آمادہ نہ ہوئے تو امير المؤمنين عليہ السلام نے حکم دیا کہ زمين کی کهدائی کرکے چند گڑهے تيار کئے جائيں اور ان ميں آگ جلادی جائے ۔ حضرت عليہ السلام کے غلام قنبران کو ایک ایک کرکے آگ ميں ڈالتے تھے ۔ امير المؤمنين عليہ السلام اس وقت اس مضمون کے اشعار پڑه رہے تھے ۔

جب ميں گناہ اور کسی برے کام کو دیکھتا ہوں تو ایک آگ روشن کرتا ہوں اور قنبر کو بلاتا ہوں !

اس کے بعد گڑهوں پر گڑهے کھودتا ہوں اور قنبر ميرے حکم سے گنہگاروں کو ان ميں ڈالتا ہے اس روداد کو مرحوم مجلسی نے بھی “ بحار الانوار ” ميں اور نوری نے ‘ مستدرک ”

ميں کتاب “مناقب ” سے نقل کيا ہے ۔

٣۔ مرحوم کلينی اور شيخ طوسی درج ذیل روایت کو امام صادق عليہ السلام سے یوں نقل کيا ہے:

کچھ لوگ امير المؤمنين عليہ السلام کے پاس آئے اور اس طرح سلام کيا :“ السلام عليک یا ربنا” سلام ہو آپ پراے ہمارے پروردگار!!

امير المؤمنين عليہ السلام نے ان سے کہا : اس خطرناک عقيدہ سے دست بردار ہوکر توبہ کرو۔ ليکن انہوں نے اپنے عقيدہ پر اصرار کيا امير المؤمنين عليہ السلام نے حکم دیا کہ دو گڑهے ایک دوسرے سے متصل کھود کر ایک سوراخ کے ذریعہ ان دونوں گڑهوں کو آپس ميں ملایا جائے جب ان کے توبہ سے نااميد ہوئے تو انهيں ایک گڑهے ميں ڈال کر دوسرے ميں آگ لگادی یہاں تک کہ وہ مرگئے ۔

۴ ۔شيخ طوسی اور شيخ صدوق نے امام صادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے : ایک شخص امير المؤمنين عليہ السلام کی خدمت ميں حاضر ہوا ور کوفہ ميں مقيم دو مسلمانوں کے بارے ميں شہادت دی کہ اس نے دیکھا ہے کہ یہ دوشخص بت کے سامنے کھڑے ہوتے ہيں ا ور ان کی پوجا کرتے ہيں ۔ حضرت عليہ السلام نے فرمایا: افسوس ہو تم پر ! شاید تم نے غلط فہمی کی ہو ۔ اس کے بعد کسی دوسرے کو بھيجا تا کہ ان دو افراد کے حالات کا اچھی طرح جائزہ لے اور نزدیک سے مشاہد ہ کرے ۔حضرت عليہ السلام کے ایلچی نے وہی رپورٹ دی جو پہلے شخص نے دی تھی ۔ امير المؤمنين عليہ السلام نے ا نهيں اپنے پاس بلایا اور کہا: اپنے اس عقيدہ سے دست بردار ہوجاؤ ! ليکن انہو ں نے اپنی بت پرستی پر اصرار کيا لہذا حضرت عليہ السلام کے حکم سے ایک گڑها کھودا گيا اور اس ميں آگ لگادی گئی اور ان دوا فراد کو آگ ميں ڈالدیا گيا ۔

۵ ۔ذہبی نقل کرتا ہے کہ کچھ لوگ امير المؤمنين عليہ السلام کے پاس آکر کہنے لگے:

آپ وہ ہيں ۔ اميرالمؤمنين عليہ السلام نے فرمایا : افسوس ہو تم پر ! ميں کون ہوں ؟ انہوں نے کہا : آپ ہمارے پروردگار ہيں ! حضرت نے فرمایا : اپنے اس عقيدہ سے توبہ کرو ! ليکن انہوں نے توبہ نہيں کی اور اپنے باطل عقيدہ پر ہٹ دهرمی کرتے ہوئے باقی رہے۔ امير المؤمنين عليہ السلام نے ان کا سر قلم کيا ۔ اس کے بعد ایک گڑها کھودا گيا اور قنبر سے فرمایا: قنبر لکڑی کے چندگٹهر لے آؤ ، اس کے بعدان کے جسموں کو نذر آتش کيا ۔ پھر اس مضمون کا ایک شعر پڑها:

” جب بھی ميں کسی برے کام کو دیکھتا ہوں ، آگ کو شعلہ ور کرکے قنبر کو بلاتا ہوں “

۶ ۔ ابن ابی الحدید ابو العباس سے نقل کرتا ہے کہ علی ابن ابيطالب عليہ السلام مطلع ہوئے کہ کچھ لوگ شيطان کے دهوکہ ميں آکر “ حضرت کی محبت ميں غلو ” کرکے حد سے تجاوز کرتے ہيں ، خدا اور اس کے پيغمبر کے لائے ہوئے کے بارے ميں کفر کرتے ہوئے حضرت کو خدا جانتے اور ان کی پرستش کرتے ہيں اور ان کے بارے ميں ایسے اعتقادرکھتے ہيں کہ وہ ان کے خالق اور رزق دینے والے ہيں ۔

ا مير المؤمنين عليہ السلام نے انہيں کہا کہ اس خطرناک عقيدہ سے دست بردار ہوجاؤاور توبہ کرو ليکن انہوں نے اپنے عقيدہ پر اصرار کيا ۔ حضرت عليہ السلام نے جب ان کی ہٹ دهرمی دیکھی تو ایک گڑها کھودا اور اس ميں ڈال کر آگ اور دهویں سے انهيں جسمانی اذیت پہنچائی اور ڈرایا دهمکایا ۔

ليکن جتنا ان پر زیادہ دباؤ ڈالا گيا ، ان کے باطل عقيدہ کے بارے ميں ان کی ہٹ دهرمی بھی تيز تر ہوگئی، جب ان کی ایسی حالت دیکھی تو ان سب کو آگ کے شعلوں ميں جلادیا گيا ۔ اس کے بعد یہ شعر پڑهے :

”دیکھا کس طرح ميں نے گڑهے کھودے ” اس کے بعد وہی شعر پڑهے جو گزشتہ صفحات ميں بيان کئے گئے ہيں ۔

اس داستا ن کو نقل کرنے کے بعد ابن ابی الحدید کہتا ہے ہمارے علما ء مکتب خلفاء کے پيرو--۔-۔ نے اپنی کتابوں ميں درج کيا ہے : جب اميرالمؤمنين نے اس گروہ کو نذر آتش کيا تو انہوں نے فریاد بلند کی : اب ہمارے لئے ثابت ہوا کہ آپ ہمارے خدا ہيں ، آپ کا چچيرا بھائی جوآپ کا فرستادہ تھاکہتا تھا: آگ کے خدا کے سوا کوئی بھی آگ کے ذریعہ عذاب نہيں کرتا

٧۔ احمد بن حنبل عکرمہ سے نقل کرتے ہيں کہ امير المؤمنين عليہ السلام نے اسلام سے منحرف کچھ لوگوں کو نذر آتش کرکے ہلاک کر دیا یہ روئداد جب ابن عباس نے سنی تو اس نے کہا: اگر ان کا اختيار ميرے ہاتھ ميں ہوتا تو ميں ان کو ہرگز نذر آتش نہ کرتا کيونکہ رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے فرمایاہے : “ کسی کو عذاب خدا سے عذاب نہ کرنا ” ميں انهيں قتل کر ڈالتا ۔

جب ابن عباس کی یہ باتيں امير المؤمنين عليہ السلام تک پہنچيں تو انہوں نے فرمایا:

وہ ، یعنی ابن عباس نقطہ چينی کرنے ميں ماہر ہے “ویح ابن عم ابن عباس انه لغواص علی الهنات ”۔

ایک دوسری روایت کے مطابق جب ابن عباس کا بيان امير المؤمنين عليہ السلام تک پہنچا تو انہوں نے فرمایا: ابن عباس نے صحيح کہا ہے ۔

اس داستان کو شيخ طوسی نے “ مبسوط ” ميں یوں درج کيا ہے کہ: نقل کيا گيا ہے کہ ایک گروہ نے امير المؤمنين عليہ السلام سے کہا: آپ خدا ہيں ۔ حضرت نے ایک آگ روشن کی اور ان سب کو نذر آتش کر دیا۔ ابن عباس نے کہا؛ اگر ميں علی عليہ السلام کی جگہ پر ہوتا تو انهيں تلوار سے قتل کرتا کيوں کہ ميں نے پيغمبر خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم سے سنا ہے وہ فرماتے تھے : “ کسی کو عذاب خدا سے عذاب نہ کرنا ” جو بھی اپنا دین بدلے اسے قتل کرنا !

امير المؤمنين عليہ السلام نے اس سلسلہ ميں اپنا مشہور شعر پڑها ہے ١شيخ طوسی نے یہاں پر روایت کی سندکا ذکر نہيں کيا ہے ليکن احمد بن حنبل کے ساتھ روایت ميں اس کی سند کو خارجی مذہب عکرمہ تک پہنچایا ہے!

مرحوم کلينی نے امام صادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے کہ امير المؤمنين عليہ السلام مسجد کوفہ ميں بيٹھے تھے کہ چند افراد جو ماہ رمضان ميں روزہ نہيں رکھتے تھے،

حضرت عليہ السلام کے پاس لائے گئے حضرت نے ان سے پوچھا : کياتم لوگوں نے افطار کی نيت سے کهانا کهایا ہے ؟

-جی ہاں ۔

-کيا تم دین یہود کے پيرو ہو ؟

- نہيں ۔

- دین مسيح کے پيرو ہو؟

- نہيں ۔

- پس تم کس دین کے پيرو ہو کہ اسلام کے ساتھ مخالفت کرتے ہو اور روزہ کو علی الاعلان توڑتے ہو؟

- ہم مسلمان ہيں ۔

-یقيناً مسافر تھے ، اس لئے روزہ نہيں رکھا ہے؟

- نہيں ۔

- پس یقيناً کسی بيماری ميں مبتلا ہو جس سے ہم مطلع نہيں ہيں تم خود جانتے ہو کيونکہ انسان اپنے بارے ميں د وسروں سے آگاہ تر ہے کيونکہ خدا نے فرمایا: الانسان علی نفسہ بصيرة ۔

-ہم کسی بيماری یا تکليف ميں مبتلا نہيں ہيں ۔

اس کے بعد امام صادق عليہ السلام نے فرمایا: یہاں پر امير المؤمنين عليہ السلام نے ہنس کر فرمایا : پس تم لوگ خدا کی وحدانيت اور محمد صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی رسالت کا اعتراف کرتے ہو؟

-ہم خدا کی وحدانيت کا اعتراف کرتے ہيں او رشہادت دیتے ہيں ليکن محمد کو نہيں پہچانتے ۔

-وہ رسول اور خدا کے پيغمبرہيں ۔

- ہم انهيں نبی کی حيثيت سے نہيں پہچانتے بلکہ اسے ایک بيابانی عرب جانتے ہيں کہ جس نے لوگوں کو اپنی طرف دعوت دی ہے۔

-تمہيں محمد صلی الله عليہ وآلہ وسلم کی نبوت کا اعتراف کرنا ہوگا ورنہميں تمہيں قتل کرڈالوں گا!

-ہم ہرگز اعتراف نہيں کریں گےخواہ ہميں قتل کر دیا جائے۔

اس کے بعد امير المؤمنين عليہ السلام نے مامورین کو حکم دے کر کہا انهيں شہر سے باہر لے جاؤ پھر وہاں پر دو گڑهے ایک دوسرے سے نزدیک کھودو۔

پھر ان لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایا : ميں تمہيں ان گڑهوں ميں سے ایک ميں ڈال دوں گا اور دوسرے گڑهے ميں آگ جلادوں گا اور تمہيں اس کے دهویں کے ذریعہ مار ڈالوں گا ۔

انہوں نے علی عليہ السلام کے جواب ميں کہا: جو چاہتے ہو انجام دو ، اور ہمارے بار ے ميں جو بھی حکم دینا چاہتے ہو اسے جاری کرو ۔ اس کے علاوہ اس دنيا ميں آپ کے ہاتھوں اور کوئی کام انجام نہيں پا سکتا ہےفانما تقضی هذه الحياة الدنيا ۔ حضرت نے انهيں آرام سے ان دو گڑهوں ميں سے ایک ميں ڈالا، اسکے بعد حکم دیاکہ دوسرے کنویں ميں آگ جلادیں ۔

اس کے بعد مکرر انهيں اس سلسلے ميں آواز دی کہ کيا کہتے ہو ؟ وہ ہر بار جواب ميں کہتے تھے: جو چاہتے ہو انجام دو اور ان کا یہ جواب تکرار ہورہا تھا ، یہاں تک کہ سب مرگئے ۔

راوی کہتا ہے کہ اس داستان کی خبر کاروانوں نے مختلف شہروں ميں پہنچادی اور تمام جگہوں پر بہترین طریقے سے اہم حادثہ کی صورت ميں نقل کرتے تھے اور لوگ بھی اس موضوع کو ایک دوسرے سے بيان کرتے تھے ۔

امير المؤمنين عليہ السلام اس واقعہ کے بعد ایک دن مسجدکوفہ ميں بيٹھے تھے کہ مدینہ کے یہودیوں ميں سے ایک شخص (جس کے اسلاف اور خود اس یہودی کے علمی مقام اور حيثيت کا سارے یہودی اعتراف کرتے تھے) اپنے کاروان کے چند افراد کے ہمراہ حضرت عليہ السلام سے ملاقات کرنے کيلئے کوفہ ميں داخل ہوا اور مسجد کوفہ کے نزدیک پہنچا اور اپنے اونٹوں کو بٹھا دیا اور مسجد کے دروازے کے پاس کھڑا ہوگيا اور ایک شخص کو امير المؤمنين عليہ السلام کے پاس بھيج دیا کہ ہم یہودیوں کا ایک گروہ، حجاز سے آیا ہے او رآپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہے کيا آپ مسجد سے باہر آئيں گے یا ہم خودمسجد ميں داخل ہوجائيں ؟

امام صادق عليہ السلام نے فرمایا: حضرت عليہ السلام ان کی طرف یہ جملہ کہتے ہوئے آئے: جلدی ہی اسلام قبول کریں گے اور بيعت کریں گے ۔

اس کے بعد علی عليہ السلام ے فرمایا : کيا چاہتے ہو ؟

ان کے سردار نے کہا: اے فرزند ابوطالب ! یہ کون سی بدعت ہے کہ جو آپ نے دین محمد ميں ایجاد کی ہے؟

علی عليہ السلام نے کہا: کونسی بدعت ؟

رئيس نے کہا: حجاز کے لوگوں ميں يہ افواہ پهيلی ہے کہ آپ نے ان لوگوں کو کہ جو خدا کی وحدانيت کا اقرار کرتےہيں ليکن محمد صلى اله عليه وسلمکی نبوت کا اعتراف نہ کرتے دهویں کے ذریعہ مار ڈالا ہے!

علی عليہ السلام : تجھے قسم دیتا ہوں ان نو معجزات کی جو طور سينا پر موسیٰ کو دئے گئے ہيں اور پنجگانہ کنيتوں اور صاحب سرِ ادیان کيلئے ، کيا نہيں جانتے ہو کہ موسیٰ کی وفا ت کے بعد کچھ لوگوں کو یوشع بن نون کے پاس لایا گيا جو خدا کی وحدانيت کا اعتراف کرتے تھے ليکن موسیٰ کی نبوت کو قبول نہيں کرتے تھے۔ یوشع بن نون نے انهيں دهویں کے ذریعہ قتل کيا ؟!

سردار : جی ہاں ، ایسا ہی تھا اور ميں شہادت دیتا ہوں کہ آپ موسی کے محرم راز ہيں ا س کے بعد یہودی نے اپنے آستين سے ایک کتاب نکالی اور امير المؤمنين عليہ السلام کے ہاتھ ميں دی ۔

حضرت عليہ السلام نے کتاب کهولی اس پر ایک نظر ڈالنے کے بعد روئے یہودی نے کہا:

اے ابن ابيطالب آپ کے رونے کا سبب کيا ہے ؟آپ نے جو اس خط پر نظر ڈالی کيا آپ اس مطلب کو سمجھ گئے ؟ جبکہ یہ خط سریانی زبان ميں لکھا گيا ہے اور آپ کی زبان عربی ہے ؟

امير المؤمنين عليہ السلام نے فرمایا: جی ہاں ، اس خط ميں ميرا نام لکھا ہے ۔

یہودی نے کہا: ذرا بتایئے تا کہ ميں جان لوں کہ سریانی زبان ميں آپ کا نام کيا ہے ؟ اور اس خط ميں اس نام کو مجھے دکھایئے!

امير المؤمنين عليہ السلام نے کہا: سریانی زبان ميں ميرانام “اليا ” ہے اس کے بعد اس یہودی کو اس خط ميں لفظ دکھایا ۔

اس کے بعد یہودی نے اسلام قبول کيا اور شہادتين کو زبان پر جاری کيا اور علی عليہ السلام کی بيعت کی پھر مسلمانوں کی مسجد ميں داخل ہوا یہاں پر اميرالمؤمنين نے حمد و ثنا اور خد اکا شکر بجالانے کے بعد کہا:

” شکر خدا کا کہ اس کے نزدیک ميں فراموش نہيں ہوا تھا ، شکر اس خداکا جس نے اپنے نزدیک ميرا نام ابرار اور نيکوں کاروں کے صحيفہ ميں درج کيا ہے اور شکر اس خدا کا جو صاحب جلال و عظمت ہے “

ابن ابی الحدید نے اس روداد کو دوسری صورت ميں نقل کيا ہے کہ علم و تحقيق کے ۴ ٢ ۵ کی طرف رجوع کرسکتے ہيں : / دلدادہ حضرات شرح نہج البلا غہ ج ١

٩۔ ہم ان روایتوں کچھ دوسری روایت کے ساتھ ختم کرتے ہيں جسکا باطل اور خرافات پر مشتمل ہونا واضح اور عياں ہے:

اس روایت کو ابن شاذان نے کتاب “ فضائل ” ميں درج کيا ہے اور ان سے مجلسی نے نقل کرکے بحا الانوار ميں درج کيا ہے اس کے علاوہ اسے علامہ نوری نے بھی ‘ عيون المعجزات ” سے نقل کرکے “ مستدرک ” ميں درج کيا ہے:

امير المؤمنين عليہ السلام ، کسریٰ کے مخصوص منجم کے ہمراہ کسری کے محل ميں داخل ہوئے اميرالمؤمنين عليہ السلام کی نظر ایک کونے ميں ایک بوسيدہ کهوپڑی پر پڑی حکم دیا ایک طشت لایا جائے اس ميں پانی ڈال کر کهوپڑی کو اس ميں رکھا گيا پھر اس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے کهوپڑی تجھے خداکی قسم دیکر پوچهتا ہوں تو بتا کہ ميں کون ہوں ؟ اور تم کون ہو ؟ کهوپڑی گویا ہوئی اور فصيح زبان ميں جواب دیا : آپ امير المؤمنين عليہ السلام اور سيدا وصياء ہيں ! ليکن، ميں بندہ خدا اور کنيز خدا کا بيٹا نوشيروان ہوں ؟

” ساباط ” کے چند باشندے ، امير المؤمنين عليہ السلام کے پاس تھے اور انہوں نے اس روداد کا عينی مشاہدہ کيا وہ اپنی آبادی اور قبيلہ کی طرف روانہ ہوئے اور جو کچھ اس کهوپڑی کے بارے ميں دیکھا تھا لوگوں ميں بيان کيا یہ روداد ان کے درميان اختلاف کا سبب بنی اور ہر گروہ نے اميرالمؤمنين عليہ السلام کے بارے ميں ایک قسم کے عقيدہ کا اظہار کيا ۔ کچھ لوگ حضرت عليہ السلام کے بارے ميں اسی چيز کے معتقد ہوئے جس کے عيسائی حضرت عيسیٰ کے بارے ميں معتقد تھے اور عبدالله بن سبا اور اس کے پيرؤں کا جيسا عقيدہ اختيار کيا ۔

ا ميرالمؤمنين عليہ السلام کے اصحاب نے اس بارے ميں حضرت علی عليہ السلام سے عرض کی : اگر لوگوں کو اسی اختلاف و افتراق کی حالت ميں رکھو گے تو دوسرے لوگ بھی کفر و بے دینی ميں گرفتار ہوں گے جب امير المؤمنين عليہ السلام نے اپنے اصحاب سے یہ باتيں سنيں تو فرمایا: آپ کے خيال ميں ان لوگوں سے کيسا برتاؤ کيا جانا چاہئے ؟ عرض کيا مصلحت اس ميں ہے کہ جس طرح عبدا لله بن سبا اور اس کے پيرؤں کو جلادیا گيا ہے۔ان لوگوں کو بھی نذر آتش کيجئے ۔ اس کے بعدا مير المؤمنين عليہ السلام نے انهيں اپنے پاس بلایا اور ان سے سوال کيا کہ : تمہارے اس باطل عقيدہ کا محرک کيا تھا ؟ انہوں نے کہا :ہم نے اس بوسيدہ کهوپڑی کی آپ کے ساتھ گفتگو کو سنا ، چونکہ اس قسم کا غير معمولی کام خدا کے علاوہ اورکسی کيلئے ممکن نہيں ہے لہذا ہم آپ کے بارے ميں اس طرح معتقد ہوئے۔

اميرالمؤمنين عليہ السلام نے فرمایا: اس باطل عقيدہ سے دست بردار ہوجاؤ اور خدا کی طرف لوٹ کر توبہ کرو، انہوں نے کہا: ہم اپنے اعتقاد کو نہيں چھوڑیں گے آپ ہمارے بارے ميں جو چاہيں کریں ۔ علی عليہ السلام جب ان کے توبہ کے بارے ميں نااميد ہوئے تو حکم دیا تا کہ آگ کو آمادہ کریں اس کے بعد سب کو اس آگ ميں جلادیا ۔ اسکے بعد ان جلی ہوئی ہڈیوں کو ٹنے کے بعد ہوا ميں بکهيرنے کا حکم دیا۔ حضرت کے حکم کے مطابق جلی ہوئی تمام ہڈیوں کو چور کرنے کے بعد ہوا ميں بکهير دیا گيا۔ اس روداد کے تين دن بعد “ ساباط” کے باشندے حضرت علی عليہ السلام کی خدمت ميں آئے اور عرض کيا : اے اميرالمؤمنين عليہ السلام ! دین محمد صلی الله عليہ و آلہ وسلم کا خيال رکھو ، کيوں کہ جنہيں آ پ نے جلا دیا تھا وہ صحيح و سالم بدن کے ساتھ اپنے گھروں کو لوٹے ہيں ، کيا آپ نے ان لوگوں کو نذر آتش نہيں کيا تھا اور ان کی ہڈیاں ہوا ميں نہيں بکهيریں تھيں ؟ اميرالمؤمنين عليہ السلام نے فرمایا: جی ہاں ، ميں نے ان افراد کو جلا کر نابود کردیا، ليکن خداوند عالم نے انهيں زندہ کيا۔

یہاں پر “ ساباط” کے باشندے حيرت و تعجب کے ساتھ اپنی آبادی کی طرف لوٹے ۔

ایک اور روایت کے مطابق اميرالمؤمنين عليہ السلام نے انهيں نذر آتش نہيں کيا ۔ ليکن ان ميں سے کچھ لوگ بهاگ گئے اور مختلف شہروں ميں منتشر ہوئے اور کہا: اگر علی ابن ابيطالب مقام ربوبيت کے مالک نہ ہوتے تو ہميں نہ جلاتے ۔

یہ مرتدین کے احراق سے مربوط روایتوں کا ایک حصہ تھا کہ ہم نے اسے یہاں پر در ج کيا ۔ گزشتہ فصلوں ميں بيان کی گئی عبد الله بن سبا کی روایتوں کی جانچ پڑتال، تطبيق اور تحقيق انشاء الله اگلی فصل ميں کریں گے۔

روایات احراق مرتد کی بحث و تحقيق ان احداً من فقهاء المسلمين لم یعتقد هذه الروایات

علمائے شيعہ و سنی ميں سے کسی ایک نے بھی احراق مرتد کی روایتوں پر عمل نہيں کيا ہے مؤلف جو کچھ گزشتہ فصلوں ميں بيان ہوا وہ عبدا لله بن سبا اس کے نذر آتش کرنے اور اس سلسلہ ميں حدیث و رجال کی شيعہ و سنی کتابوں سے نقل کی گئی مختلف اور متناقض روایتوں کا ایک خلاصہ تھا ۔

ليکن تعجب کی بات ہے کہ اسلامی دانشوروں اور فقہاء ، خواہ شيعہ ہوں یا سنی ان ميں سے کسی ایک نے بھی ان روایتوں کے مضمون پر اعتماد نہيں کيا ہے اور شخص مرتد کو جلانے کا فتوی نہيں دیا ہے بلکہ شيعہ و سنی تمام فقہاء نے ان روایتوں کے مقابلے ميں رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم اور ائمہ ہدی سے نقل کی گئی روایتوں پر استناد کرکے مرتد کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے نہ جلانے کا۔

اب ہم یہاں پر مرتدوں کے بارے ميں حکم کے سلسلے ميں شيعہ و سنی علماء کا نظریہ بيان کریں گے اور اس کے بعد ان روایات کے بارے ميں بحث وتحقيق کا نتيجہ پيش کریں گے ۔

اہل سنت علماء کی نظر ميں مرتد کا حکم ابو یوسف کتاب ‘ ‘ الخراج ” ميں مرتد کے حکم کے بارے ميں کہتا ہے:

اسلام سے کفر کی طرف ميلان پيدا کرنے والے اور کافر افراد جو ظاہراً اسلام لانے کے بعد پھر سے اپنے کفر کی طرف پلٹ گئے ہوں اور اسی طرح یہودی و عيسائی و زرتشتی اسلام قبول کرنے کے بعد دوبارہ اپنے پہلےمذہب اور آئين کی طرف پلٹ گئے ہوں ایسے افرا دکے حکم کے بارے ميں اسلامی علماء ميں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

ان ميں سے بعض کہتے ہيں : اس قسم کے افراد کو توبہ کرکے دوبارہ اسلام ميں آنے کی دعوت دی جانی چاہئے اور اگر انہوں نے قبول نہ کيا توقتل کر دیا جائے بعض دوسرے کہتے ہيں : ایسے افراد کيلئے توبہ کی تجویز ضروری نہيں ہے بلکہ جو ں ہی مرتد ہوجائيں اور اسلام سے منہ موڑیں ، انہيں قتل کيا جائے ۔

اس کے بعد ابو یوسف طرفين کی دليل کو جو پيغمبر اکرم صلی الله عليہ و آلہ وسلم سے نقل کی گئی احادیث پر مبنی ہيں بيان کرتا ہے اور مرتد کو قابل توبہ جاننے والوں کے دلائل کے ضمن ميں عمر بن خطاب کا حکم نقل کرتا ہے کہ جب اسے فتح “ تستر” ميں خبر دی گئی کہ مسلمانوں ميں سے ایک شخص مشرک ہو گيا ہے اور اسے گرفتا رکيا گيا ہے عمر نے کہا ؛ تم لوگوں نے اسے کيا کيا ؟ انہوں نے کہا: ہم نے اسے قتل کردیا عمرنے مسلمانوں کے اس عمل پر اعتراض کيا اور کہا: اسے پہلے ایک گھر ميں قيدی بنانا چاہئے تھا اور تين دن تک اسے کهانا پانی دیتے ، اور اس مدت کے دوران اسے توبہ کرنے کی تجویز پيش کرتے اگر وہ اسے قبول کرکے دوبارہ اسلام کے دامن ميں آجاتا تو اسے معاف کرتے اور اگر قبول نہ کرتا تو اسے قتل کر ڈالتے ۔

ابو یوسف اس نظریہ کی تائيد ميں کہ پہلے مرتد سے توبہ کا مطالبہ کرنا چاہئے ایک داستان بيان کرتے ہوئے کہتا ہے : ایک دن “ معاذ” ، ابو موسی کے پاس آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کے سامنے کوئی بيٹها ہوا ہے اس سے پوچھا کہ یہ شخص کون ہے ؟ ابو موسی نے کہا؛

یہ ایک یہودی ہے جس نے اسلام قبول کيا تھا ليکن دوبارہ یہودیت کی طرف پلٹے ہوئے ابھی دو مہينے گزررہے ہيں کہ ہم اسے توبہ کے ساتھ اسلام کو قبول کرنے کی پيش کش کررہے ہيں ليکن اس نے ابھی تک ہماری تجویز قبول نہيں کی ہے معاذ نے کہا: ميں اس وقت تک نہيں بيٹھوں گا جب تک کہ خدا اور پيغمبر خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے حکم سے اس کا سر قلم نہ کروں ۔

اس کے بعد ابویوسف کہتا ہے ؛ بہترین حکم اور نظریہ جو ہم نے اس بارے ميں سنا (بہترین حکم کو خدا جانتا ہے ) کہ مرتدوں سے ، پہلے تو بہ طلب کی جاتی ہے اگر قبول نہ کياتو پھر سر قلم کرتے ہيں ۔

یہ نظریہ مشہور احادیث اور بعض فقہاء کے عقيدہ کا مضمون ہے کہ ہم نے اپنی زندگی ميں دیکھا ہے ۔

ا بو یوسف اضافہ کرتا ہے :ليکن عورتيں جو اسلام سے منحرف ہوتی ہيں ، قتل نہيں کی جائيں گی، بلکہ انهيں جيل بھيجنا چاہئے اور انهيں اسلام کی دعوت دینی چاہئے اور قبول نہ کرنے کی صورت ميں مجبور کيا جانا چاہئے ۔

ا بو یوسف کے اس بيان سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام علمائے اہل سنت کا اس مطلب پر اتفاق ہے کہ شخص مرتد کی حد ، قتل ہے اس نے قتل کی کيفيت کو بھی بيان کيا ہے کہ اس کا سر قلم کيا جانا چاہئے اس سلسلہ ميں علماء کے درميان صرف اس بات پر اختلاف ہے کہ کيا یہ حد اور مرتد کا قتل کيا جانا تو بہ کا مطالبہ کرنے سے پہلے انجام دیا جائے یا توبہ کا مطالبہ کرنے کے بعداسے توبہ قبول نہ کرنے کی صورت ميں ۔

ابن رشد “ بدایة المجتہد ” ميں “ حکم مرتد” کے باب ميں کہتا ہے علمائے اسلام اس بات پر متفق ہيں کہ اگر مرتد کو جنگ سے پہلے پکڑ ليا جائے تو اسے رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے حکم کے مطابق قتل کيا جانا چاہئے فرمایا ہے : ہر وہ مسلمان جو اپنا دین بدلے اسے قتل کيا جانا چاہئے“

یہ تھا مرتد کے بارے ميں علمائے اہل سنت کا نظریہ

شيعہ علماء کی نظر ميں مرتد کا حکم

مرتد کے بارے ميں شيعہ علماء کا عقيدہ ایک حدیث کا مضمون ہے جسے مرحوم کلينی ، صدوق اور شيخ طوسی نے امام صادق عليہ السلام سے اور انہوں نے اميرالمؤمنين عليہ السلام سے نقل کيا ہے: مرتد کی بيوی کو اس سے جدا کرناچاہئے اس کے ہاتھ کا ذبيحہ بھی حرام ہے تين دن تک اس سے توبہ کی درخواست کی جائے گی اگر اس مدت ميں اس نے توبہ نہيں کی تو چوتھے دن قتل کيا جائے گا۔

” من لا یحضرہ الفقيہ ” ميں مذکورہ حدیث کے ضمن ميں یہ جملہ بھی آیا ہے اگر صحيح اور سالم عقل رکھتا ہو ۔

امام باقر عليہ السلام اور امام صادق عليہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے فرمایا:

مرتد سے توبہ کی درخواست کی جانی چاہئے اگر اس نے توبہ نہ کی تو اسے قتل کرناچاہئے ليکن اگر کوئی عورت مرتد ہوجائے تو اس سے بھی توبہ کی درخواست کی جاتی ہے اور اگر وہ توبہ نہ کرے اور اسلام کی طرف دوبارہ نہ پلٹے تو اسے عمر بھر قيد کی سزا دی جاتی ہے اور زندان ميں بھی اس سے سختی کی جاتی ہے ۔

حضرت امام رضا عليہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ کسی نے ان سے سوال کيا کہ ایک شخص مسلمان ماں باپ سے پيدا ہوا ہے ، اس کے بعد اسلام سے منحرف ہو کر کفر و الحاد کی طرف مائل ہوگيا تو کيا اس قسم کے شخص سے توبہ کی درخواست کی جائے گی؟ یا تو بہ کی درخواست کے بغير اسے قتل کيا جائے گا؟

ا مام نے جواب ميں لکھا “و یقتل ” یعنی توبہ کی درخواست کئے بغير قتل کيا جائے گا۔

امير المؤمنين عليہ السلام کے ایک گورنر نے ان سے سوال کيا کہ : ميں نے کئی مسلمانوں کو دیکھا کہ اسلام سے منحرف ہو کر کافر ہو گئے ہيں اور عيسائيوں کے ایک گروہ کو دیکھا کہ کافر ہو گيا ہے۔ اميرالمؤمنين عليہ السلام نے جواب ميں لکھا : ہر مسلمان مرتد جو فطرت اسلام ميں پيدا ہوا ہے، یعنی مسلمان ماں باپ سے پيدا ہوا ہے پھر اس کے بعد کافر ہو گيا تو توبہ کی درخواست کے بغير اس کا سر قلم کرنا چاہئے، ليکن جو مسلمان فطرت اسلام ميں پيدا نہيں ہوا ہے ( مسلمان ماں باپ سے پيدا نہيں ہوا ہے) اگر مرتد ہوا تو پہلے اس سے توبہ کی درخواست کرنا چاہئے، اگر اس نے توبہ نہ کی تو اس کا سر قلم کرنا ليکن، عيسائيوں کا عقيدہ کافروں سے بد تر ہے ان سے تمہيں کوئی سرو کار نہيں ہونا چاہئے۔

ا ميرالمؤمنين عليہ السلام نے محمد بن ابی بکر کے مصر سے سورج او ر چاند کو پوجا کرنے والے ملحدوں اور اسلام سے منحرف ہوئے لوگوں کے بارے ميں کئے گئے ایک سوال کے جواب ميں یوں لکھا : جو اسلام کا دعوی کرتے تھے پھر اسلام سے منحرف ہوئے ہيں ، انهيں قتل کرنا اور دوسرے عقاید کے ماننے والوں کو آزاد چھوڑ دینا وہ جس کی چاہيں پر ستش کریں ۔

گزشتہ روایتوں ميں ا ئمہ سے روایت ہوئی ہے کہ مرتد کی حد قتل ہے ۔

ا یک روایت ميں یہ بھی ملتا ہےکہ امير المومنين نے مرتد کے بارے ميں قتل کا نفاذ فرمایا ہے چنانچہ ، کلينی امام صادق عليہ السلام سے نقل کرتے ہيں : ایک مرتد کو اميرالمؤمنين عليہ السلام کی خدمت ميں لایا گيا ۔ حضرت عليہ السلام نے اس شخص کا سر قلم کيا عرض کيا گيا یا اميرالمؤمنين اس شخص کی بہت بڑی دولت و ثروت ہے یہ دولت کس کو دی جانی چاہئے ؟ حضرت عليہ السلام نے فرمایا: اس کی ثروت اس کی بيوی اور بچوں اور وارثوں ميں تقسيم ہوگی ۔

پھر نقل ہو ا ہے ایک بوڑها اسلام سے منحرف ہوکر عيسائی بنا امير المومنين عليہ السلام نے اس سے فرمایا: کيا اسلام سے منحرف ہوگئے ہو؟ اس نے جواب ميں کہا: ہاں ،

فرمایا شاید اس ارتداد ميں تمہارا کوئی مادی مقصد ہو اور بعد ميں پھر سے اسلام کی طرف چلے آؤ؟ اس نے کہا: نہيں ۔ فرمایا : شاید کسی لڑکی سے عشق و محبت کی وجہ سے اسلام سے منحرف ہوگئے ہو اور اس کے ساتھ شادی کرنے کے بعد پھر سے اسلام کی طرف واپس آجاؤ گے ؟ عرض کيا : نہيں امام نے فرمایا: بہر صورت اب توبہ کر کے اسلام کی طرف واپس آجا اس نے کہا: ميں اسلام کو قبول نہيں کرتا ہوں ۔ یہاں پر امام نے اسے قتل کر ڈالا ١

ی ہ ان روایتوں کا ایک حصہ تھا جو مرتد کی حد ومجازات کے بارے ميں نقل کی گئی ہيں اس کے علاوہ اس مضمون کی اور بھی بہت سے روایتيں موجو د ہيں ۔

بحث کا نتيجہ جو کچھ مرتد کی حد کے بارے ميں بيان ہوا اس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ مرتد کے حد کے بارے ميں تمام علمائے شيعہ و سنی کا عمل و بيان اور اس بارے ميں نقل کی گئی روایتيں احراق مرتد کی روایتوں کی بالکل برعکس تھيں اور ان ميں یہ بات واضح ہے کہ مرتد کی حد ،

قتل ہے نہ جلانا۔

اس کے علاوہ یہ روایتيں واضح طور پر دلالت کرتی ہيں کہ امام عليہ السلام نے مرتد کے بارے ميں قتل کو عملاً نافذ کيا ہے یہ بات بالکل واضح ہے کہ عربی لغت ميں “ قتل ” کسی شخص کو تلوار ، نيزہ ، پتهر ، لکڑی اور زہر جيسے کسی آلہ سے مارڈالنا ہے ۔ اس کے مقابلہ ميں “ حرق” آگ ميں جلانا ہے اور ” صلب” پهانسی کے پهندے پر لٹکانا ہے ۔

جو کچھ ہم نے اس فصل ميں کہا وہ احراق سے مربوط روایتوں کا ایک ضعف تھا انشاء الله اگلی فصل ميں مزید تحقيق کرکے دوسرے ضعيف نقطوں کی طرف اشارہ کيا جائے گا۔


مرتدین کے جلانے کے بارے ميں روایتوں کی مزید تحقيق

کيف خفيت تلک الحوادث الخطيرة علی المؤرّخين

اتنی اہميت کے باوجود یہ حوادث مورخين سے کيسے پوشيدہ رہے ہيں

مؤلف

ضروری ہے کہ ان روایتوں کے بارے ميں کہ جوکہتی ہيں امير المؤمنين عليہ السلام نے اپنے دین کے مطابق ارتداد کے جرم ميں چند افراد کو نذر آتش کيا تو ہميں اس سلسلے ميں کچھ توقف کے ساتھ ان کے مضمون ميں غور و فکرنيز ان کے مطالب کے جانچ پڑتال کریں اور سوال کریں :

پانچویں روایت ميں جوکہتا ہے : ‘ ‘ حسين بن علی عليہ السلام بھی مختار کے جال ميں پهنس گئے تھے ، اور مختار انهيں عملی طور پر جھٹلاتے تھے! “

حسين ابن علی عليہ السلام کس وقت مختار کے جال ميں گرفتار ہوئے تھے ؟ جبکہ حضرت( عليہ السلام) مختار کے انقلاب سے پہلے شہيد ہوچکے تھے اس کے علاوہ کيا مختار کا امام حسين عليہ السلام کے قاتلوں کو قتل کرنا اور ان کا انتقام لينا حضرت کيلئے ابتلاء و مصيبت محسوب ہوسکتا ہے ؟ یا مختار کا امام حسين عليہ السلام کے قاتلوں کو کيفر کردار تک پہچانا حضرت کو جھٹلانے کے مترادف ہوسکتا ہے ؟!

کيا اس حدیث کو جعل کرنے والوں کا مقصد امام حسين عليہ السلام کے قاتلوں کی حمایت و مدد کرنا نہيں تھا ؟!

اس کے علاوہ اسی روایت ميں آیا ہے کہ عبد الله بن سبا نے امير المؤمنين عليہ السلام کو جھٹلانے کيلئے عملی طور پر کوشش کی ہے او وہ حضرت کو لوگوں کی نظروں سے گرانا چاہتا ہے۔ عبد الله بن سبا کا کونسا عمل یا عقيدہ علی عليہ السلام کو جھٹلانے کے مترادف ہوسکتاہے ؟ کيا کسی نے عبد الله بن سبا سے یہ روایت کی ہے کہ اس نے کہاہوگا: “

خود علی ابن ابيطالب عليہ السلام نے مجھے حکم دیا ہے ميں اس کی پوچا کروں ” تا کہ عبد الله بن سبا کا عقيدہ اور طریقہ کار اميرالمؤمنين عليہ السلام کی نسبت افترا ہو اور انهيں سوء ظن اور دوسروں کے جھٹلانے کا سبب قرار دے ۔

آ ٹھویں روایت ميں آیا ہے کہ امير المومنين عليہ السلام اپنی بيوی ام عمرو عنزویہ کے پاس بيٹھے تھے ۔ امام عليہ السلام کی یہ بيوی جس کا نام “ ام عمرو عنزیہ ” ہے کون ہے ؟ اور کيوں اس راوی کے بغير کسی اور نے علی ابن ابيطالب عليہ السلام کيلئے اس بيوی کا کہيں ذکر تک نہيں کيا ہے ؟

اسکے علاوہ کيا امير المومنين عليہ السلام نے ان افراد کو دهویں کے ذریعہ قتل کيا ہے؟

چنانچہ ان روایتوں ميں سے بعض ميں آیا ہے کہ حضرت نے کئی کنویں کهدوائے اور سوراخوں کے ذریعہ ان کو آپس ميں متصل کرایا اور ان تمام افراد کو ان کنوؤں ميں ڈال دیا اور اوپر سے ان کو مضبوطی سے بند کرا دیا صرف ایک کنویں کو کھلارکھا جس ميں کوئی نہيں تھا پھر اس ميں آگ جلادی ، اس کنویں کا دهواں دوسرے کنوؤں ميں پہنچا اور وہ سب افراد اس دهویں کی وجہ سے دم گھٹ کر نابو دہوئے ۔

یا یہ کہ دهویں سے انهيں قتل نہيں کيا ہے بلکہ پہلے ان کے سر قلم کئے ہيں اس کے بعد ان کے اجساد کو نذر آتش کياہے ؟

یا زمين ميں گڑهے کهدوائے ہيں اور ان گڑهوں ميں لکڑی جمع کرکے اس ميں آگ لگادی ہے اور جب لکڑی انگاروں ميں بدل گئی تو قنبر کو حکم دیا کہ ان افراد کو ایک ایک کرکے اٹھا کر اس آگ ميں ڈال دے اور اس طرح سب کو جلا دیا ہے ؟

کيا تنہا ابن سبا تھا جس نے اميرالمؤمنين عليہ السلام کے بارے ميں غلو کيا تھا اور ان کی الوہيت کا معتقد ہوا تھا اور حضرت عليہ السلام نے اسے جلادیا ہے ؟

یا یہ کہ یہ افراد دس تھے اور ان سب دس افراد کو جلادیا ہے ؟

ی ا یہ کہ وہ ستر افراد تھے اور حضرت نے ان سب سترافراد کو نذر آتش کيا؟

یا یہ کہ علی عليہ السلام نے اس عمل کو مکررانجام دیا ہے کہ ایک بار صرف ایک شخص کہ وہی عبد الله بن سبا تھا ، کو جلا دیا اوردوسری دفعہ دس افراد کو اسکے بعد ستر افراد کو اور آخر کارچوتھی بار دو افرادکو جلادیا ہے؟!

کيا حضرت عليہ السلام نے صرف ان افراد کو نذر آتش کيا ہے جو اس کی الوہيت اور خدائی کے معتقد تھے یا بت پرست ہوئے دوا فراد کو بھی جلا دیا ہے ؟ جن افرادکو اميرالمؤمنين عليہ السلام نے جلایا تھا کيا یہ واقعہ بصرہ ميں جنگ جمل کے بعد رونما ہوا یا جس طرح نویں روایت ميں آیا ہے کہ اس کام کو کسرہ ميں اس وقت انجام دیا جب حضرت کو اپنی بيوی “ ام عمرو عنزیہ ” کے گھر ميں اطلاع دی گئی جيسا کہ آٹھویں روایت ميں بھی آیا ہے ؟!

کيا یہ مطلب صحيح ہے کہ جب مرتدوں کو جلانے کی خبر ابن عباس کو پہنچی تو انهوں نے کہا: اگر ان کا اختيار ميرے ہاتھ ميں ہوتا تو ميں انهيں نذر آتش نہيں کرتا بلکہ انهيں قتل کر ڈالتا ، کيونکہ پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کسی کو عذاب خدا کے ذریعہ سزا نہ دینا اور اگر کوئی مسلمان اسلام سے منحرف ہو جائے تو اسے قتل کرنا”اور جب امام عليہ السلام نے ابن عباس کے بيان کو سنا تو فرمایا؛ افسوس ہو ام الفضل کے بيٹے پر کہنکتہ چينی کرنے ميں ماہر ہے“

کيا امام اس عمل کے نامناسب ہونے سے بے خبر تھے اور ابن عباس نے انهيں متوجہ کيا ؟!

یا کہ ان روایتوں کو جعل(۱) کيا گيا ہے تا کہ امير المومنين علی عليہ لسلام کی روش کو خليفہ اول کی روش کے برابر دکھائيں اور اس طرح جن چيزوں کے بارے ميں خليفہ اول پر اعتراض ہوا ہے ان ميں اسے تنہا نہ رہنے دیں اور لوگوں کو نذر آتش کرنے کے جرم ميں علی عليہ السلام جيسے کو بھی ان کا شریک کا ر بنا دیں اور اس طرح خليفہ اول کے عمل کو ایک جائز اور معمولی عمل دکھلائيں ، کيونکہ “ فجائيہ سلمی ”(۲) اور ایک دوسرا گروہ خليفہ اول کے حکم سے جلائے گئے تھے اور وہ اس منفی عمل اور سياست کی وجہ سے مورد تنقيد قرار پاتے تھے!

انہوں نے ان روایتوں کو جعل کرکے روش امير المؤمنين عليہ السلام کو خالد بن وليد کی جيسی روش معرفی کرکے یہ کہنا چاہا ہے کہ : اگر چہ خالد بن وليد نے چند مسلمانوں کو زکوٰة ادا کرنے سے انکار کرنے کے جرم ميں جلادیا ہے(۳) ليکن یہ عمل صرف اس سے مخصوص نہيں ہے تا کہ اس پر اعتراض

____________________

۱. زندیقيوں ميں ایسے افراد بھی تھے جو اپنے اساتذہ کو دهوکہ دے کر ان کی کتابوں ميں بعض مطالب کو حدیث کی صورت ميں اضافہ کرتے تھے اور یہ استاد اس کی طرف توجہ کئے بغير اس خيال سے اس حدیث کو نقل کرتا تھا کہ وہ اس کی اپنی ہے ۔ ہم نے اس مطلب کی وضاحت ميں اپنی کتاب “ خمسون و ماة صحابی مختلق ” کے مقدمہ کے فصل زنادقہ ميں ص ٣٧ طبع بغداد ميں توضيح دی ہے، آئندہ اس کی مزید وضاحت کی جائے گی ۔

۲۔ “ فجائيہ سلمی ” وہی ایاس بن عبدا لله ابن عبد یا اليل سلمی ہے کہ اس نے ابوبکر سے چند جنگجو افراد اور اسلحہ بطور مدد حاصل کيا تھا تا کہ مرتدوں سے جنگ کرے ليکن مرتد وں سے جنگ کے بجائے بے گنا ہ لوگوں کا قتل و غارت کيا اپنی راہ ميں ایک بے گناہ عورت کو بھی قتل کيا اسے ابوبکر کے حکم سے پکڑا گيا اس کے بعد ابوبکر نے حکم دیا کہ آگ جلائی جائے اور اس کے بعد فجائيہ کو زندہ آگ ميں ڈالا گيا ۔ یہی علت تھی کہ ابوبکر اپنی زندگی کے آخری لمحات ميں کہتا تھا : ميں اپنی زندگی ميں تين کام کے علاوہ کسی چيز کے بارے ميں فکرمند نہيں ہوں کاش ان کاموں کو ميں نے انجام نہ دیا ہوتا یہاں تک کہتاتھا ميں فجائيہ سلمی کو نذر آتش کرنا نہيں چاہتا تھا بلکہ اسے قتل کرنا چاہتا تھا یا جلاوطن کرنا چاہتا تھا اس سلسلہ ميں اس کتاب کی جلد اول فصل تحصن در خانہ ملاحظہ ہو ۔

۳۔ محب الدین طبری نے الریاض النضرة: ١١


ميں درج کيا ہے کہ قبيلہ بنی سليم کے کچھ لوگ اسلام سے منحرف ہوئے ابوبکر نے خالد بن وليد کو ان کی طرف روانہ کيا خالد نے ان ميں سے بعض مردوں کو گوسفند خانے ميں جمع کرکے انهيں آگ لگادی عمر ابن خطاب نے اس سلسلہ ميں ا بوبکر سے اعتراض کيااور کہا: تم نے ایک ایسے شخص کو ان لوگوں کی طرف روانہ کيا ہے کہ لوگوں کو خدا سے مخصوص عذاب سے سزا دیتا ہے اہل سنت علماء نے ابوبکر کے جلانے کے موضوع اور اس کے دفاع ميں بہت سے مطالب بيان کئے ہيں ۔ مثلاً فاضل قوشجی شرح تجرید ميں کہتا ہے ابو بکر کا فجائيہ کو نذر آتش کرنا ان کی اجتہادی غلطی تھی اور مجتہدوں کيلئے اجتہاد ميں غلطياں کثرت سے پيش آتی ہيں فاضل قوشجی ابوبکر کے دفاع ميں اپنی بات کو یوں جاری رکھتا ہے یہ بات قابل توجہ ہے کہ ہماری بحث سے مربوط احادیث کے مطابق ہو یہ کہتے ہيں کہ علی ابن ابيطالب عليہ السلام نے بہت سے افراد کو نذر آتش کيا ہے ایک جہت سے اس سے اہم تر ہيں جو ابوبکر کے بارے ميں نقل ہوئی ہيں ا ور دوسری جہت سے ابوبکر کے دفاع اور عذر کی بہترین راہ ہے کيونکہ ان روایتوں کے مضمون کے مطابق اميرالمؤمنين عليہ السلام نے بھی ان افراد کو نذر آتش کرنے ميں ا جتہاد کيا ہے اور اس اجتہاد ميں غلطی ہو گئی ہے اور اس روش کی بھی عبدالله ابن عبا س اور دوسرے تمام افرا د کی / طرف سے انکار ہوا ہے ، ليکن خود علی اور خالد بن وليد کی نظر ميں صحيح تھا فتح الباری ۶۴ ٩١ ) کتاب الجہاد ( باب لایعذب بعذاب الله ) کی طرف رجوع کيا جائے ۔کيونکہ علی ابن ابيطالب عليہ السلام نے بھی دوسری وجوہ کی بنا پر چند افراد کو جلا کر نابود کيا ہے۔

کيا با وجود اس کے کہ امام صراحتاً فرماتے ہيں کہ مرتد کی سزا قتل ہے ، عملاً اس حد کو نافذ نہيں کرتے اور مرتدوں کے ایک گروہ کو واقعاًجلا دیتے ہيں ؟!

ليکن جس شعر کو امام سے نسبت دی گئی ہے:

لما رایت الامر امراً منکراً

اوقدت ناری و دعوت قنبراً

کيا امير المؤمنين عليہ السلام نے اس شعر کو ان حوادث کی مناسبت سے جس صورت ميں نقل ہوا ہے ، کہا ہے ، یا کہ ان اشعار کو جنگ صفين ميں ایک قصيدہ کے ضمن ميں یوں کہا ہے:

یا عجباً لقد سمعت منکراً

کذباً علی الله یشيب الشعراً

یہاں تک فرماتے ہيں :

انی اذا الموت دنا و حضرا

شمّرت ثوبی و دعوت قنبراً

لما رایت الموت موتاً احمراً

عبات همدان و عبوا حميراً

جب موت کا وقت نزدیک پہنچا تو اپنے لباس کو جمع کيا اور خود کو موت کيلئے آمادہ کر ليا اور قنبر کو بلایا ۔ جی ہاں ، اب سرخ موت کو اپنے سا منے دیکھتا ہوں ۔ قبيلہ ہمدان کی صف آرائی کرتا ہوں اور معاویہ بھی قبيلہ حمير کی“

ان تمام اشکالا ت اور اعتراضات ، جو احراق مرتدوں کی روایتوں ميں موجود ہيں کے باوجود پھر بھی یہ سوال اپنی جگہ پر باقی ہے کہ کيا عبدا لله بن سبا علی عليہ السلام کے بارے ميں غلو کرتا تھا اور ان کی الوہيت کا قائل تھا ، جيسا کہ گزشتہ روایتوں ميں آیا ہے ؟ ! یا یہ کہ وہ خدا کے منزہ ہونے اور تقدس کے بارے ميں غلو کرتا تھا ۔

( اگر اس سلسلہ ميں یہ تعبير صحيح ہو ) جيسا کہ چهٹی حدیث ميں آیا ہے کہ عبد الله بن سبا دعا کے وقت آسمان کی طرف ہاتھ اٹھانے کی مخالفت کرتا تھا اور اس عمل کو پروردگار سے دعا کرتے وقت ایک نامناسب عمل جانتا تھا ، حتی امام بھی جب اس سلسلہ ميں ا س کی راہنمائی کرتے ہوئے وضاحت فرماتے ہيں ، تو پھر بھی وہ امام کی وضاحت کو قبول نہيں کرتا ہے اور اظہار کرتا ہے کہ چونکہ خداوند عالم ہر جگہ موجود ہے اور کوئی خاص مکان نہيں رکھتا ہے لہذا معنی نہيں رکھتا کہ ہم دعا کے وقت آسمان کی طرف اپنے ہاتھ بلند کریں کيونکہ یہ عمل خدا کو ایک خاص جگہ اور طرف ميں جاننے اور اس کيلئے خاص مکان کے قائل ہونے کے برابر ہے اور یہ عقيدہ توحيد سے مطابقت نہيں رکھتا ہے ۔

کيا اس عبدا لله بن سبا نے مسئلہ توحيد ميں غلو اور افراط کا راستہ اپنایا ہے یا علی عليہ السلام کی الوہيت کا قائل ہوکر تفریط کی راہ پر چلا ہے ؟!

کيا امام نے عبد الله بن سبا کو عقيدہ ميں انحراف کی وجہ سے نذر آتش کيا ہے ؟ یا یہ کہ اس نے عقيدہ ميں ا نحراف نہيں کيا تھا بلکہ غيب کی خبر دیتا تھا اور اسی سبب سے اسے امام کے پاس لے آئے تھے اور امام نے اس کی پيشين گوئی اور کہانت کی تائيد کرکے اسے آزاد کرنے کا حکم دیا ہے ؟!

ا ن تمام سوالات اور جوابات کے باوجود بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ کيا عبدا لله بن سبا بنيادی طور پر ( زط) اور ہندی تھا یا عرب نسل تھا ؟

ا گر وہ ہندی نسل سے تھا تو اس کا اور اس کے باپ کا نام کيسے چار عربی لفظ سے تشکيل پایا ہے : (عبد) ، (الله) اور ابن ، (سبا) اگر وہ عرب نسل سے تھا، تو کيا قدیم زمانے اور جاہليت کے زمانہ سے امام عليہ السلام کے زمانہ تک کہيں یہ سننے ميں آیا ہے کہ کسی عرب نے اپنے ہم عصر کسی انسان کو اپنا خدا جان کر اس کی الوہيت کا قائل ہوا ہو؟!!

دوسری مشکل یہ ہے کہ انسان کی پرستش کی عادت و روش اور ایک شخص معاصر کے الوہيت کا اعتقاد ، قدیم تہذیب و تمدن والی قوموں ،جيسے : روم ،ایران اور اسی طرح جاپان اور چين ميں پایا جاسکتا ہے ، ليکن اسی زمانہ کے جزیرہ نما عرب کا غير متمدن ایک صحرا نشين عرب ، جو دوسرے انسان کے سامنے تواضع اور انکساری دکھانے کيلئے آمادہ نہ تھا ،

اس کا کسی انسان کی پرستش کيلئے آمادہ ہونا دور کی بات تھی ، جی ہاں صحرا نشين بتوں کی پرستش کرتے ہيں اور جن و ملائکہ کی الوہيت کے معتقد ہوتے ہيں ليکن کبھی آمادہ نہيں ہوتے کہ اپنے ہم جنس بشر کے سامنے احترام بجا لائيں اور سجدہ کریں اور اپنے جيسے کسی شخص کے سامنے سر تسليم خم کریں ۔

ان تمام اعتراضات سے قطع نظر پھر بھی یہ مشکل باقی ہے کہ : جو انسان کسی دوسرے انسان کی بندگی اور عبودیت کو قبول کرتا ہے ، اور کسی شخص کے سامنے اپنے آپ کو حقير بناتا ہے اس عبودیت و بندگی اور اس خصو ع و خشوع ميں ا س کا مقصد یا مادی و دنيوی ہے کہ اس صورت ميں ا پنے اس عقيدہ و بيان ميں اس قدر ہٹ دهرمی اور اصرار نہيں کرسکتا ہے کہ اپنی جان سے بھیہاتھ دهوبيٹھے کيونکہ مرنے کے بعد مادی اور دنيوی مقاصد کو پانا معنی نہيں رکھتا ہے ان حالات کے پيش نظر کيسے تصور کيا جاسکتا ہے کہ اس قسم کا شخص کسی بھی قيمت پر اپنی بات سے دست بردار ہونے پر آمادہ نہيں ہوتا یہاں تک کہ اسے زندہ آگ ميں جلادیا جائے اور وہ تمام مادی جہتوں کو ہاتھ سے گنوا دے ؟

یا یہ کہ حقيقت ميں وہ واقعی طور پر اس عبودیت و بندگی کا قائل ہے اس صورت ميں یہ کيسے یقين کيا جاسکتا ہے کہ انسان اپنے معبود سے کہے کہ تو ميرا پرور دگار ہے ،تونے مجھے خلق کيا ہے، اور تومجھے رزق دیتا ہے اور اس کے مقابلہ ميں ا س کا معبود اس کی تمام باتوں کو جھٹلادے اور ا س کے عقيدہ کے بارے ميں اظہار بيزاری و تنفر کرے ليکن پھر بھی یہ شخص اس کے بارے ميں اپنے ایمان و عقيدہ سے دست بردار نہ ہو؟ !!

کيا ایک عقلمند انسان ایسے مطالب کی تصدیق کرسکتا ہے ؟ کيا اس قسم کے مطالب کی صدائے بازگشت یہ نہيں ہوسکتی کہ ایساشخص اپنے معبود سے کہتا ہے: اے ميرے پروردگار ! اے ميرے معبود ! تم اپنی الوہيت کا انکار کرکے غلطی کے مرتکب ہورہے ہو ، اپنی خدائی کا انکار کرکے اشتباہ کررہے ہو صحيح راستہ سے منحرف ہورہے ہو !! تم خدا ہو ، ليکن تم خود نہيں جانتے ہو! اور آخرکار تم خدا ہو اگر چہ خود اس مقام کو قبول بھی نہ کرو گے!!

کون عاقل اس قسم کے مطلب کی تصدیق کرسکتا ہے ؟ اور کيا تاریخ بشریت ميں اس قسم کی مثال پائی جاتی ہے ؟!

جی ہاں ، ممکن ہے کچھ لوگ کسی شخص کی الوہيت کے معتقد ہوجائيں ا ور وہ شخص اس نسبت سے راضی نہ ہواا ور وہ خود اس مقام کا منکر ہو ليکن ایک شخص کے بارے ميں ا س قسم کا عقيدہ کہ اس زندگی کے خاتمہ او رمرنے کے بعد ممکن ہے نہ اس کی زندگی ميں جيسے کہ عيسی بن مریم اور خود علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے بارے ميں ا ن کی حيات کے بعد ایسا واقعہ پيش آیا ہے ۔

ليکن کسی شخص کی الوہيت کے بارے ميں اس کی زندگی ميں عقيدہ رکھنا جبکہ وہ شخص اس عقيدہ اور بات سے راضی نہ ہو اور اسے جھٹلاتا ہو ، اپنے ماننے والوں کی ملامت و مذمت کرتا ہو ، اس قسم کی روداد نہ آج تک واقع ہوئی ہے اور نہ آئندہ واقع ہوگی ۔

آخری اعتراض

اس سلسلہ ميں آخری اعتراض یہ ہے کہ اگر یہ اہم حوادث، حقيقت اور بنيادی طور پر صحيح ہوتے تو معروف مورخين سے کيوں مخفی رہتے ؟ مشہور ترین اور مثالی مورخين ميں سے چند ایک کے نام ہم ذیل ميں درج کرتے ہيں انہوں نے اپنی کتابوں ميں ان حوادث کے بارے ميں کسی قسم کا اشارہ نہيں کيا ہے اور ان افراد کے جلائے جانے کے بارے ميں معمولی سا ذکر تک نہيں کيا ہے ، جيسے :

١۔ ابن خياط وفات ٢ ۴ ٠ هء

٢۔ یعقوبی وفات ٢٨ ۴ هء

٣۔ طبری ، وفات ٣١٠ هء

۴ ۔ ،مسعودی ، وفات ٣٣ ۶ هء

۵ ۔ ابن اثير ، وفات ۶ ٣٠ هء

۶ ۔ ابن کثير ، وفات ٧ ۴۴ هء

٧۔ ابن خلدون ، وفات ٨٠٨ هء

حقيقت ميں ا س مقدمہ اور جواب طلبی کے سلسلے ميں مرتدین کو جلانے سے مربوط روایتوں کو نقل کرنے والوں اور ان کے حاميوں سے وضاحت طلب کی جاتی ہے کہ : اتنی اہميت کے باوجود یہ حوادث کيوں ان مؤرخين سے مخفی رہے ہيں اور انہوں نے اپنی تاریخ کی کتابوں ميں انکے بارے ميں اس کی قسم کا اشارہ کيوں نہيں کيا ؟! جب کہ ان تمام مؤرخين نے “ فجائيہ سلمی ” کو نذر آتش کرنے کی روداد کو کسی قسم کے اختلاف کے بغير اپنی کتابوں ميں تشریح اور تفصيل کے ساتھ درج کيا ہے ۔

گزشتہ فصل ميں جو کچھ بيان ہوا اس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ : عبد الله بن سبا سے مربوط روایتيں اور احراق مرتدین کے بارے ميں روایتيں جو مختلف عناوین سے نقل ہوئی ہيں اور ہم نے بھی ان کے ایک حصہ کو گزشتہ فصل ميں درج کيا مضبوط اور صحيح بنياد کی حامل نہيں ہيں اور یہ سب روایتيں خودغرضوں کے افکار کی جعل کی ہوئی ہيں ليکن یہاں پر یہ سوال باقی رہتا ہے کہ یہ جعلی روایتيں کيسے شيعہ کتابوں ميں آ گئيں ؟ ہم اگلی فصل ميں اس کا جواب دینے کی کوشش کریں گے ۔

شيعوں کی کتابوں ميں احراقِ مرتدین کی روایتوں کی پيدائش و کان لاصحاب الائمة آلاف من الکتب فی مختلف العلوم و غيرا نها قد فقدت

ہمارے ائمہ کے شاگردوں نے مختلف علوم ميں ہزاروں کتابيں لکھی تھيں ، افسوس کہ ہماری دسترس ميں نہيں ہيں ۔

مؤلف گزشتہ فصل ميں بحث یہاں تک پہنچی کہ عبدا لله بن سبا اور احراق مرتدین کے بارے ميں روایتيں علم و تحقيق کے لحاظ سے جعلی ہيں اور مضبوط اور صحيح بنياد کی حامل نہيں ہيں ۔ اس بحث کے سلسلہ ميں ہم مجبور ہيں کہ اس حقيقت کی تحقيق کریں کہ یہ جعلی روایتيں کس طرح شيعوں کی کتابوں ميں داخل ہوکر معتبر روایتوں کی فہرست ميں قرار پائی ہيں ۔

نابود شدہ کتابيں اور اصول:

مکتب اہل بيت عليہم السلام کے شاگردوں نے مختلف علوم ميں متعدد اور متنوع کتابيں تدوین و تاليف کی تھيں ان تاليفات کے ایک حصہ کو “ اصول ” کہا جاتا تھا ، کہتے ہيں ان “ اصلوں ” کی تعداد چار سو تک پہنچی تھی ۔

یہ اصول دست بہ دست چوتھی ہجری ميں شيعہ علماء او ردانشوروں تک پہنچی تھيں اور مرحوم کلينی نے اپنی عظيم روائی کتاب یعنی “ کافی ” ميں ان اصلوں سے بہت زیادہ احادیث نقل کی ہيں ۔

اس کے علاوہ مرحوم ‘ ‘ صدوق ” نے اپنی کتاب “ من لا یحضرہ الفيقہ ” کو ان ہی اصلوں کی فقہی احادیث سے تدوین اور تاليف کی ہے ۔

اسی طرح مرحوم شيخ طوسی نے اپنی دو اہم و معروف کتابوں “ استبصار ”اور “التہذیب ” کو ان ہی “ اصلوں ” سے تاليف کيا ہے اس کے علاوہ اس زمانے کے دیگر علماء نے بھی اپنی کتابوں کو مذکورہ “اصلوں ” کی بنياد پر تدوین کيا ہے اور احادیث کا چہار گانہ مجموعہ ، یعنی : کافی ، من لا یحضرہ الفقيہ ، استبصار ، اور تہذیب اس زمانے سے آج تک فقہائے شيعہ کےلئے فقہی احکام کے لحاظ سے مرجع و مآخذ قرار پایا ہے ۔

رجال ميں بھی چار کتابيں اسی زمانے کے علماء کی آج تک باقی بچی ہيں کہ بعد کے علماء کی تاليفات کيلئے مرجع و ماخذ قرار پاتی ہيں یہ چار کتابيں عبارت ہيں : “ اختيار رجال کشی ” ، “ رجال ’ اور “فہرست ” کہ یہ تين کتابيں مرحوم شيخ طوسی کی تاليف ہيں اور چوتھی کتاب ‘ ‘ فہرست نجاشی ” ہے ۔

اصحاب ائمہ نے مذکورہ اصول چہارگانہ کے علاوہ مختلف علوم ميں ہزاروں جلد متنوع کتابيں تاليف کی تھی ، جيسے “ اخبار اوائل ” کی تاليفات ، اخبار فرزندان آدم و اصحاب کہف و قوم عاد و اس کے علاوہ “ اخبار جاہليت ” کے بارے ميں چند تاليفات مانند کتاب “ الخيل ” “السيوف ” ، “ الاصنام ” ، ایام العرب ، انساب العرب، نواقل القبائل ”(۱) اور “ منافرات القبائل ”(۲) تھيں ۔

اس کے علاوہ اصحاب ائمہ، شہروں ، زمينوں ، پہاڑوں ، اور دریاؤں کے اخبار کے بارے ميں کئی کتابيں تاليف کرچکے تھے علاوہ بر این طلوع اسلام کے نزدیک صدیوں کے عربوں ميں رونما ہوئے حوادث کے بارے ميں اخبار پر مشتمل کتابيں تاليف کی گئی ہيں جيسے: عہد ناموں کی خبریں ، ایام جاہليت ميں عربوں ميں واقع ہوئی گوناگوں ازدواج کی رودادیں یہاں تک عصر اسلام ميں رونما ہوئے حوادث و اخبار جيسے : روداد سقيفہ ، مرتدین ، جنگ جمل ، صفيں ،

حادثہ کربلا ،خروج مختار ، توابين اور ان سے پہلے اور ان کے بعد رونما ہونے والے واقعات ۔

____________________

١۔ نواقل ان افراد اور گروہوں کو کہتے تھے کہ جو اپنا نسب ایک قبيلہ سے دوسرے قبيلہ ميں منتقل و ملتمس کرتے تھے اور اس تاریخ کے بعد دوسرے قبيلہ سے منسوب ہوتے تھے علمائے انساب نے اس سلسلے ميں کئی کتابيں لکھی ہيں ا ور ان قبائل کی تعداد کو ان کتابوں ميں درج کيا ہے ان کتابوں کو “ نواقل ” کہتے ہيں ۔

٢۔ منافرات ، ایک دوسرے سے دوری اختيار کرنے کے معنی ميں ہے کہ بعض قبائل ایک دوسرے سے دورری اختيار کرتے تھے اور ایک دوسرے کی تنقيد ميں بيانات یا اشعار کہتے تھے یا ایک خاص قسم کی کاروائياں کرتے تھے ان بيانات و کاروائيوں کو “ منافرات ’ کہتے ہيں ۔


اصحاب ائمہ نے ان وقائع و حوادث اور ان کے مانند واقعات او ر مختلف و متنوع علوم کے بارے ميں ہزاروں جلد کتابيں تاليف و تدوین کی ہيں ليکن افسوس کہ زمانہ کے گزرنے اور مختلف علل،

عوامل اور محرکات کی وجہ سے یہ کتابيں نابود ہو گئی ہيں اور آج ان کتابوں اور ان کے مؤلفين کے نام کے علاوہ جنہيں بعض فہرستوں جيسے نجاشی ، شيخ طوسی اور الذریعہ ميں درج کيا گيا ہے ان کے بارے ميں کچھ باقی نہيں بچا ہے ۔

شيعوں کے ابتدائی متون اور اصلوں کے نابود ہونے کے اسباب مکتب اہل بيت عليہم السلام کے ماننے والوں کی مختلف علوم ميں تاليف کی گئی کتابوں کے نابود ہونے کے دو اسباب اور محرکات تھے:

١۔ پہلا سبب :

وہ خوف و ڈر تھا جو مکتب اہل بيت عليہم السلام کے پيرو اور شيعہ علما پوری تاریخ ميں وقت کے حاکمو ں سے رکھتے تھے ۔ ان حکام کی طرف سے اہل بيت عليہم السلام کے پيرو اور شيعہ علماء ہر وقت خوف و ہراس ميں ہوا کرتے تھے ، حتی انهيں قتل کيا جاتا تھا ،اور ان کے کتب خانوں کو ہزاروں کتابوں سميت نذر آتش کيا جاتا تھا ۔ چنانچہ بغداد کے اہم اور عظيم کتاب خانہ “ بين السورین ” کے بارے ميں یہ نفرت انگيز عمل انجام دیا گيا ۔

اس کتاب خانہ کے بارے ميں حموی کہتا ہے : کتابخانہ “ بين السورین ” کی کتابيں تمام دنيا کے کتب خانوں کی کتابوں ميں بہترین کتابيں تھيں ، کيونکہ یہ کتابيں مورد اعتماد مؤلفين ،مذہب کے پيشواؤں اور بزرگوں کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تھيں اس کتاب خانہ کا اہم حصہ “

اصلوں ” اور ان کی تحریرات پر مشتمل تھا ۴۴ ٧ هء ميں خاندان سلجوقی کے طغرل بيگ پادشاہ کے بغداد ميں داخل ہونے پر “ محلہ کرخ ” کو آگ لگا دی گئی اور یہ تمام کتابيں بھی اس آتش سوزی ميں لقمہ حریق ہوئيں ۔

جی ہاں ، اس قسم کے حوادث اور فتنوں کے تنيجہ ميں شيعوں کے اس قدر آثار و کتابيں نابود ہوئی ہيں کہ ان کی تعداد کے بارے ميں خدا کے علاوہ کوئی علم نہيں رکھتا ۔

٢۔ دوسرا سبب

ان بنيادی آثار اور کتابوں کے نابود ہونے کا دوسرا سبب یہ ہے کہ شيعہ علما ء اور دانشوروں نے اپنی پوری توجہ کو صرف ان علوم کی تعليم و تربيت کے مختلف ابعاد پر متمرکز

کيا تھا جو فقہ اسلامی کے احکام شرعی کو حاصل کرنے کے بارے ميں استنباط کے مقدمہ کی حيثيت رکھتے ہيں اور اس طرح انہوں نے دیگر روایات اور متون کا اہتمام نہيں کيا تھا، چنانچہ ہم دیکھتے ہيں کہ شيعہ علماء نے گزشتہ زمانے سے آج تک آیاتِ احکام اور فقہی روایتوں کی بحث و تحقيق ميں خاص توجہ مبذول کی ہے اور اس قسم کی آیات اور احادیث کے مختلف ابعاد پر ایسی دقيق بحث و تحقيق کی ہے کہ تهوڑی سی توجہ کرنے سے ہر محقق اطمينان اور یقين پيدا کرسکتا ہے ۔ گزشتہ کئی صدیوں کے دوران شيعہ علماء کی طرف سے فقہی روایتوں کو دی گئی ان ہی غير معمولی اہميت اور گہری بحث و تحقيق کے نتيجہ ميں تمام احکام اسلام سالم اور صحيح صورت ميں آج ہم تک پہنچے ہيں ۔

ليکن افسوس کہ جب ہم گزشتہ صدیوں کے دوران احکام کی روایتوں اور ان کے منابع کے بارے ميں دی گئی خاص توجہ اور اہميت کا سيرت ، تاریخ ، تفسير ، آداب اسلامی اور تمام علوم اسلامی کے بارے ميں انجام دئے گئے ان علماء کے عمل کے ساتھ موازنہ کرتے ہيں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ ميں ا یک خطرناک کوتاہی بھی برتی گئی ہے ۔

معارف اسلام کی کتابوں ميں جھوٹ کی اشاعت کا سبب شيعہ علماء کی طرف سے احکام کے علاوہ روایتوں کو کم اہميت دینے کے نتيجہ ميں دو نقصانات ہوئے ہيں :

اولاً: معارف اسلامی کے بارے ميں مختلف موضوعات پر تاليف کئے گئے پيروان اہل بيت عليہم السلام کے اصلی متون ، ترک کئے جانے کے نتيجہ ميں مفقود ہوچکے ہيں ۔

ثانياً : احکام کے علاوہ دوسرے مآخذ کی طرف رجوع کرنے ميں کوتاہی برتنے کی وجہ سے ان کتابوں ميں حيرت انگيز جعليات اور افسانے درج کئے گئے ہيں ۔

نيتجہ کے طور پر جب بعض مواقع پر شيعہ علماء تاریخ ،سيرت ، تفسير ، شہروں کی آشنائی اور دوسرے فنون کے سلسلہ ميں روایتوں کی طرف رجوع کرتے تھے ، تو اسی کوتاہی کی وجہ سے نہ صرف ایسے مسائل ميں بحث و تحقيق نہيں کرتے تھے بلکہ بعض اوقات تاریخ طبری(۱) کعب الاحبا راور وہب بن منبہ(۲) جيسے افرادکی روایتيں نقل کرنے ميں اعتماد کرکے ملل و نحل کے مؤلفوں کے بيانات کی پيروی کی ہے جنہوں نے اپنی کتابوں کو عام اور بازاری منقولات اور بيانات کی بنياد پر تاليف کيا ہے ۔ اس طرح زندیقيوں ، جھوٹے اور بے دین افرادکی روایتوں کے ایک حصہ جو تاریخ طبری جيسی کتابوں ميں اشاعت پاچکی ہيں نے شيعوں کی تاليفات اور تاریخ کی کتابوں ميں بھی راہ پيدا کی ہے(۳)

اسرائيليات کا ایک حصہ بھی جو کعب الاحبار جيسوں سے نقل ہوا ہے بعض سنی تفاسير سے شيعوں کی تفاسير ميں داخل ہوگيا ہے اور نتيجہ کے طو پر شيعوں کی غير فقہی موضوعات پر تاليف کی گئی کتابوں ميں خرافات پر مشتمل افسانے اور بے بنياد داستانيں بھی درج کی گئی ہيں ۔

غير فقہی روایتوں ميں جو یہ غفلت اور بے توجہی برتی گئی ہے اسکا نتيجہ یہ نکلا ہے کہ تشریحات کی بعض کتابوں جيسے رجال کشی اور “مقالات اشعری ” ميں بعض غلط اور بے بنياد روایتيں منتشر ہوکر بعد کی صدیوں کے دانشوروں کی روایتوں ميں آ گئی ہيں ۔

____________________

١۔ ہم نے اس کتاب کے گزشتہ حصوں ميں طبری کے منقولات کی قدر و منزلت کو واضح کردیا ہے ۔

٢۔ اس بحث کی تفصيل و تشریح مؤلف کی دوسری تاليف “ عن تاریخ الحدیث‘” ميں آئی ہے اميد ہے کہ کتاب جلد ہی طبع ہوکر منظر عام پر آئے گی ۔

۳۔ مثلا شيخ مفيد اپنی کتاب “ الجمل ” ميں کتاب ابو مخنف سے نقل کرتے ہيں کہ سيف بن عمر کہتا ہے :

عثمان کے قتل ہونے کے بعد مدینہ پانچ دن تک امير وسلطان سے محروم رہا اور مدینہ کے لوگ کسی کے پيچھے دوڑتے تھے کہ ان کا مثبت جواب دے اور امور کی با گ ڈور اپنے ہاتھ ميں لے لے ۔ طبری نے اسی روایت کو اس ١) لایا ہے ۔( / متن اور سند کے ساتھ اپنی تاریخ ميں ( ج ٣٠٧٣


مثال کے طور پر مغيرة بن سعيد کی تشریح ميں کشی ، یونس سے نقل کرتا ہے کہ ہشام بن حکم کہتا تھا :

ميں نے امام صادق عليہ السلام سے سنا کہ وہ فرماتے تھے : مغيرہ بن سعيد عملی طور پر بعض جھوٹے مطالب کو ميرے والد سے نسبت دیتا تھا اور انهيں انکے اصحاب کی روایتوں ميں قرار دیتا تھا تا کہ ان کے مضمون کو شيعوں ميں منتشر کریں ۔

یونس کہتا ہے : ميں عراق ميں داخل ہوا اور وہاں پر امام باقر عليہ السلام کے بہت سے اصحاب کو دیکھا ۔ اور ان سے کئی احادیث سنی اور ميں نے ان کی کتابوں کی نسخہ براداری کی ۔ اس کے بعد اپنے نسخوں کو حضرت امام رضا عليہ السلام کی خدمت ميں پيش کيا امام عليہ السلام نے اصحاب امام صادق عليہ السلام کی کتابوں سے نسخہ برداری کی گئی بہت سے روایتوں کو اعتبار سے گرادیا

نتيجہ:

اس قسم کی روایتيں صحيح ہوں یا غلط ، البتہ یہ حقيقت واضح طور پر ثابت ہوجاتی ہے کہ غلط اورجعلی روایتيں متون کی کتابوں ميں جيسے رجال کشی وغيرہ ميں داخل ہوئی ہيں کيونکہ اگر یہ روایتيں صحيح ہوں تو ایسی کتابوں ميں غلط روایتوں کی موجودگی کی خبر دیتی ہيں اور اگر غلط ہوں تو ، وہ خود جعلی اور غلط روایتيں ہيں جو“ رجال کشی ’ ميں داخل ہوئی ہيں اور کشی نے غلطی سے صحيح ہونے کے گمان کے باوجود اپنی کتاب ميں نقل کيا ہے پس دونوں صورتوں ميں ان روایتوں کی موجودگی ،جنہيں ہم نے یہاں پر رجال کشی سے نقل کيا ہے ان کتابوں کے مطالب کے درميان پائی جاتی ہيں بے بنياد اور بے اساس ہيں اور اس پر قطعی دليل بھی موجود ہے۔

خلاصہ:

اس پوری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ: عبدا لله بن سبا اور مرتدوں کے احراق سے مربوط روایتيں ، جو ہماری بحث و گفتگو کا موضوع ہيں ، اسی قسم کی ہيں ،کہ شيعوں کے صحيح اور ابتدائی متون کے نابود ہونے کی وجہ سے گزشتہ صفحات ميں وضاحت کی گئی راہوں سے شيعوں کی کتابوں اور مآخذ ميں پہنچ گئی ہيں اور شيعہ علماء کی غيرفقہی روایتوں کے بارے ميں غفلت کی وجہ سے یہ کام انجام پایا ہے اور چونکہ ان مطالب کے بارے ميں بحث و تحقيق نہيں ہوئی ہے اس لئے صحيح روایتوں کو جعليات اور جھوٹ سے جدا نہيں کيا گيا ہے ، نتيجہ کے طور پر یہ جعلی اور جھوٹی روایتيں شيعہ کتابوں اور مآخذ ميں موجود ہيں اور صدیاں گزرنے کے بعد دوسری کتابوں ميں بھی منتقل ہوئی ہے۔

احراق مرتد کی داستان کے حقيقی پہلومن الجائز ان یحرق الامام جثة مرتد خشية ان یتخذ قبره وثنا امام کے لئے جائز ہے کہ مرتدکی لاش کو جلادیں تاکہ اس کے پيرو اس کی قبر کا احترام نہ کریں

مؤلف ہم نے گزشتہ فصلوں ميں احراق مرتد سے مربوط روایتوں کو بيان کيا اور ان پر بحث و تحقيق کی ۔ ان کے ضعيف اور بے بنياد ہونے کے ابعاد کو واضح کيا اور کہا کہ ان روایتوں کی بنياد مضبوط نہيں ہوسکتی ہے اور یہ صحيح اور حقيقی نہيں ہوسکتی ہيں بلکہ یہ ایک افسانہ ہے جو مختلف اغراض ومقاصد کی وجہ سے جعل کيا گيا ہے ۔

اگر کوئی صدر اسلام ميں جزیرة العرب کے اجتماعی حالات کا مطالعہ و تحقيق کرے ،

تو وہ واضح طورپر اس حقيقت کو محسوس کر لے گا کہ ، اسلام نے اس علاقہ ميں توحيد اور یکتاپرستی کيلئے جو خاص نفوذ اور طاقت پيدا کی تھی ، بت پرستی نيز ،کلی طورپر ہر نوع مخلوق کی پرستش اور غير خالق کے سامنے تسليم ہونے کے خلاف جو مسلسل کوشش کی تھی کہ جس کے نتيجہ ميں یہگنجائش و فرصت باقی نہ رہ گئی تھی کہ ایک انسان پھر سے بت پرست ہو جائے یا کسی بشر کی الوہيت کا معقتد بن جائے اجتماع نقيضين ، محال اور ناممکن جيسے ان خاص شرائط ميں اس روداد ( پرستش مخلوق ) کی کوئی فرد عاقل تائيد نہيں کرسکتا ہے ۔

ليکن یہ ممکن تھا کہ کوئی زندیق اور منکر خدا ہو اور اسے بصرہ سے اسلامی مملکت کےحدودميں لایا جائے ۔ کيوں کہ زندیق اور پروردگار کے منکر ، قبل از اسلام وجود ميں آئے تھے ،

اس قسم کے افراد بصرہ کے پڑوس کے علاقوں ميں جو بعد ميں مسلمانوں کے ذریعہ فتح ہوا موجود تھے ۔ اس بنا پر بعيد نہيں ہے کہ اميرالمومنين عليہ السلام کے زمانے ميں ان ميں سے کچھ لوگ بصرہ ميں داخل ہوکر مسلمانوں سے ان کے روابط کے نتيجہ ميں ان کے کفر و الحادکا پتہ چلا ہواور انهيں حضرت کی خدمت ميں لایا گيا ہوگا۔ اور حضرت علی عليہ السلام نے بھی ان کے خلاف اسلام کا حکم نافذ کرکے انهيں قتل کياہوگا ۔

پھر بھی جيسا کہ بعض زیر بحث روایتوں ميں آیا ہے ممکن ہے ایک شخص عيسائی اسلام کو قبول کرے اس کے بعد دوبارہ عيسائيت کی طرف پلٹ جائے اور اسلام سے خارج ہوجائے اور اسے علی عليہ السلام کے حضور لایا جائے اور حضرت عليہ السلام اس کے خلاف اسلام کا حکم نافذ فرمائيں ۔

جی ہاں ، جو کچھ اوپر بيان ہوا وہ سب صحيح ہوسکتا ہے ليکن حضرت علی عليہ السلام کے توسط سے انهيں نذر آتش کرنا اور جلانا صحيح اور واقعی نہيں ہوسکتا ہے یہ ایک روشن ضمير اور آگاہ محقق کيلئے قابل قبول نہيں ہوسکتا ہے کيونکہ قضيہ کے مذہبی پہلو سے قطع نظر ہرگز اميرالمؤمنين عليہ السلام جيسے نامدار کے لئے ان شرائط و حالات ميں ا یک انسان کو زندہ جلانا مطابقت نہيں رکھتا ہے خاص کر جبکہ اس سے پہلے ابوبکر نے “ فجائيہ سلمی ” کو نذر آتش کرکے مسلمانوں کی مخالفت مول لی تھی اور خود خليفہ نے بھی اس عمل پر اظہار ندامت اور پشيمانی کی تھی ۔ ان حالات کے پيش نظر معنی نہيں رکھتا ہے کہ اميرالمؤمنين ایک انسان یا کئی انسانوں کو نذر آتش کرکے عام مسلمانوں کی مخالفت مول ليں (جيسا کہ گزشتہ بعض روایتوں ميں آیا ہے) اس سلسلہ ميں اس حد تک قبول اور یقين کيا جاسکتا ہے کہ حضرت عليہ السلام ایک مرتد پر حد نافذ کرنے کے بعد ، اس احتمال اور ڈر سے کہ کہيں اس کے پيرو بت کے مانند اس کی قبر کی پوجا نہ کریں اور آنے والی نسلوں کيلئے فساد کا سبب نہ بنے، لہذا حضرت نے اسے جلا کر خاکستر کر دیاہو۔ یہ تھا ، زیر بحث داستان کے واقعی پہلوؤں کے بارے ميں ہمارے نظریہ و عقيدہ کا خلاصہ اور وہ تھے اس داستان کے افسانوی اور جھوٹے پہلو جو گزشتہ فصلوں ميں بيان ہوئے اگر کوئی ہماری بيان کردہ بات پر مطمئن نہ ہو سکے اور اس داستان کے صحيح ہونے ميں اسی حد تک اکتفا کرے اور ان روایتوں کے مضمون کو ہمارے بيان کے علاوہ قبول کرے تو اسے چاہئے ہمارے دوش بہ دوش آئے اور کتاب کے اگلے حصہ ميں بھی ہمارے ساتھ سفر کرے اور ملل و نحل کی کتابوں ميں عبدالله بن سبا اور سبئيہ کے بارے ميں دانشوروں کا نظریہ سنے ۔ اس کے بعد اس موضوع کے بارے ميں بيشتر آگاہی کے ساتھ فيصلہ کرے اور ہم بھی آگے بڑهنے کيلئے اپنے پروردگا سے مدد چاہتے ہيں ۔

مباحث کا خلاصه اور نتيجه ان الزنادقة کانت تدس فی کتب الشيوخ

زندیقی، اساتذہ کی کتابوں ميں اپنی طرف سے حدیث اور روایتيں وارد کرتے تھے ۔ مؤلف علی نے کن لوگوں کو جلایا ؟

گزشتہ فصلوں ميں ہم نے عبدا لله ابن سبا اور مرتدافراد کے احراق کے بارے ميں روایتوں کی مکمل طور پر تحقيق اور جانچ پڑتال کی ان کے جعلی ہونے ، یہ روایتيں کيسے شيعوں کی کتابوں ميں داخل ہوئيں اور آج تک اپنے وجود کو حفظ کرسکيں اور یہ روایتيں کس حد تک صحيح ہوسکتی ہيں ، ایسے مسائل تھے جن پر ہم نے گزشتہ فصلوں ميں تحقيق کی اب ہم اس فصل ميں بھی گزشتہ مطالب کے خاتمہ اور نتيجہ گيری کے عنوان سے کہتے ہيں :

روایاتِ احراق اس امر کی حکایت کرتی ہيں کہ علی عليہ السلام نے ان کے بارے ميں غلو کرنے والوں اور ان کی الوہيت کے قائل افراد کو نذر آتش کيا ہے ليکن ان روایتوں کے مقابلے ميں ایک دوسری روایت بھی موجود ہے جو کہتی ہے:

امير المؤمنين عليہ السلام نے ان لوگوں کو جلایا جو ملحد و زندیق تھے نہ غالی چنانچہ امام صادق عليہ السلام سے نقل کيا گيا ہے : کچھ زنادقہ اور ملحدوں کو بصرہ سے حضرت علی عليہ السلام کی خدمت ميں لایا گيا علی عليہ السلام نے انهيں اسلام کی دعوت دی ، ليکن انہوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کي صحيح بخاری ميں آیا ہے کہ چند کافروں کو اميرالمؤمنين عليہ السلام کی خدمت ميں لایا گيا اور حضرت نے انهيں جلادیا۔ ابن حجر فتح الباری ميں نقل کرتا ہے کہ اميرالمؤمنين عليہ السلام نے زندیقيوں کو نذر آتش کر دیا یعنی مرتدوں کو احمد بن حنبل سے نقل کيا گيا ہے : بعض زندیقيوں کو امير المؤمنين عليہ السلام کے پاس لایا گيا کہ ان کے ہمراہ کچھ کتابيں بھی تھيں امير المؤمنين عليہ السلام کے حکم سے آگ تيار کی گئی اس کے بعد انهيں ان کی کتابوں کے ہمراہ جلا دیا گيا ۔

اس عمل کا محرک کيا تھا ؟

اس قسم کی ضد و نقيض روایتيں سے یہ حقيقت معلوم ہوتی ہے کہ جلانے کی روداد ميں ایک حقيقت موجود تھی کہ حسبِ ذیل جيسی بعض روایتيں اس کی وضاحت کرتی ہيں ۔

امام صادق عليہ السلام نے اپنے والد امام باقر عليہ السلام اور انہوں نے امام سجاد عليہ السلام سے نقل کيا ہے : ایک شخض امير المومنين عليہ السلام کے پاس لایا گيا جو پہلے عيسائی تھا بعد ميں مسلمان ہوا اس کے بعد دوبارہ عيسائيت کی طر ف چلا گيا۔

اميرالمؤمنين عليہ السلام نے حکم دیا کہ اعرضوا عليہ الهوان ثلاثة ایام- ( اسے تين دن مہلت دو اور اسے ذلت کی حالت ميں رکھو) اور ان تين دنوں کی مدت تک حضرت عليہ السلام اسے اپنے پاس سے کهانا بھيجتے تھے ، چوتھے دن زندان سے اپنے پاس بلایا اور اسے اسلام کی دعوت دی ، ليکن وہ اسلام قبول کرنے پر حاضر نہيں ہوا امام نے اسے ( مسجد کے صحن ميں قتل کر دیا۔ عيسائی جمع ہوئے اور حضرت سے درخواست کی کہ ایک لاکه درہم کے ساتھ مقتول کی لاش کو ان کے حوالہ کر دیں ۔ امير المؤمنين عليہ السلام نے قبول نہيں کيا اور حکم دیا کہ اس کے جسد کو نذر آتش کردیا جائے اس کے بعد فرمایا : ميں ہرگز ان کا اس امر ميں تعاون نہيں کروں گا کہ شيطان جنهيں حکم دیتا ہو ۔

ایک دوسری روایت ميں آیا ہے کہ حضرت عليہ السلام نے اس جملہ کا بھی اضافہ کيا :

ميں ان ميں سے نہيں ہوں جو کافر کو جسد بيچ ڈالتے ہيں ۔ بعض روایتوں ميں آیا ہے کہ امام عليہ السلام نے مرتدوں کو قتل کرنے کے بعد ان کے اجساد کو نذر آتش کر دیا۔

بہر حال جو روایتيں ہم نے اوپر نقل کی ہيں ان سے امير المؤمنين عليہ السلام کے طریقہ کار کا راز ان افرادکے بے روح اجساد کو جلانے کی علت واضح ہوجاتی ہے اوریہ معلوم ہوتا ہے:

ا ولاً: جو لوگ علی عليہ السلام کے حکم سے جلائے گئے ہيں ، ملحد یا مرتد تھے ، نہ غلو کرنے والے افراد۔

ثانياً: ان کو قتل کرنے کے بعد انکے بے جان بدن جلائے گئے ہيں نہ قتل کرنے سے پہلے انهيں ارتدادکی حد کے طور پر جلایا گيا ہے ۔

ثالثا : علی عليہ السلام کے اس عمل کا محرک اس امر کو روکنا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ ملحد و مرتد افرادکی قبریں ان کے حاميوں اور طرفداروں کی طرف سے مورد احترام قرار پائيں اور بصورت بت ان کی پوجا کی جائے ۔ پھر بھی ان روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ پھيلانے والوں نے ان روایتوں ميں تحریف کرکے انهيں افسانوں کی صورت ميں پيش کيا ہے کہ عقل جسے قبول کرنے سے انکار کرتی ہے ۔

دو متضاد قيافے عبد الله بن سباکے بارے ميں شيعہ کتابوں ميں نقل ہوئی روایتيں دو حصوں ميں تقسيم ہوتی ہيں عبدا لله بن سبا ان دو قسم کی روایتوں ميں دو مختلف قيافوں کی صورت ميں ظاہر ہوتا ہے : ایک جگہ پر ایک ایسے قيافہ ميں رونما ہوتا ہے کہ علی عليہ السلام کے بارے ميں غلو کر کے ان کی الوہيت اور خدائی کا قائل ہوا ہے اور دوسر ی جگہ پر ایک ایسے شخص کے قيافہ ميں ظاہر ہوا ہے جس نے پروردگار کے منزہ اور مقدس ہونے کے بارے ميں غلو کيا ہے ۔

اور خوارج کے مانند جو خود اس کے گمان ميں حریم قدس ربوبيت کے بارے ميں سزاوار نہيں ہے اس سے انکار کرتا ہے ۔

یہ دو قسم کی روایتيں ایک دوسرے کی متناقض اور مخالف ہيں اور ان کی ایک قسم دوسری قسم کو جھٹلاتی ہے ان روایتوں کی پہلی قسم صرف رجال کشی اور اس سے نقل کی گئی کتابوں ميں ملتی ہيں ہم نے گزشتہ صفحات ميں رجال کشی اور اس کتاب کی حيثيت کے بارے ميں علماء کی رائے اور ان کا عقيدہ نقل کيا ہے اب ہم عبد لله بن سبا کے بارے ميں اس کے ان دو متضاد قيافوں کے ساتھ اپنا نظریہ پيش کرتے ہيں :

عبد الله بن سبا کے بارے ميں ہمارا آخری نظریہ:

عبدا لله بن سبا قيافہ اول ميں :

اس سلسلہ ميں ہمارے نظریے اور عقيدے کا خلاصہ یہ ہے کہ اس قسم کا شخص یا قيافہ کبھی وجود نہيں رکھتا تھا ان روایتوں کے حصہ ميں ذکر ہوئے قيد و شرط و خصوصيات کے ساتھ عبد الله بن سبا نامی کسی شخص کی کوئی حقيقت نہيں ہے بلکہ مسموم افکار نے اس قسم کی شخصيت کو خلق کيا ہے اور مرموز و ظالم ہاتھوں نے اس افسانہ کو تاریخ اسلام ميں جعل کيا ہے اور بعدميں لوگوں نے نقل کرکے اسے پرورش و وسعت بخشی ہے یہاں تک اس نے ایک تاریخی حقيقت کی صورت اختيار کرلی ہے اور نا قابل انکار حقيقت کے روپ ميں منتشر ہوا ہے جس مؤلف نے بھی اس افسانہ کو اپنی کتاب ميں درج کيا ہے اس نے انهيں دو مآخذ یعنی افکار مسمو م اور عوام کے افواہ سے نقل کيا ہے۔

عبدلله ابن سبا قيافہ دوم ميں :

انشاء الله اگلی فصل ميں اس سلسلہ ميں حقيقت کے رخ سے پردہ اٹھا کر بيشتر وضاحت کریں گے

غاليوں کی احادیث کی تحقيق کا خلاصہ :

جو کچھ ہم نے کہا وہ ان احادیث ور روایتوں کے بارے ميں تھا جن ميں عبد الله بن سبا کا نام آیا ہے ليکن، وہ احادیث جو غاليوں کے بارے ميں ہيں اور ان ميں عبدا لله بن سبا کا نام نہيں ایا ہے ان ميں سے ایک رجال کشی ميں ہے اور وہ وہی آٹھویں حدیث ہے کہ کہتا ہے : امام اپنی بيوی ( ام عمرو عنزیہ ) کے گھر ميں تھے کہ کئی غاليوں کو انکی خدمت ميں لایا گيا۔

اس روایت کے ضعف و جعلی ہونے ميں ا تنا ہی کافی ہے کہ اس سے پہلے بھی ہم نے کہاکہ کسی رجال شناس ، حالات کی شرح لکھنے والے ، کسی مؤرخ و حدیث شناس نے اميرالمؤمنين کيلئے قبيلہ “عنزیہ ” کی “ ام عمرو” نامی بيوی نہيں ذکر کيا ہے تا کہ غاليوں کو اس وقت لایا جاتا جب حضرت اپنی اس بيوی کے پاس تھے !!

ان روایتوں ميں سے ایک اورر وایت ایک مرد سے نقل کی گئی ہے کہ ا س مرد کا نام ذکر نہيں ہوا ہے اور در حقيقت اس روایت کا راوی اور ناقل معلوم نہيں ہے تا کہ اس کے اعتبار یا عدم اعتبار اور صحيح یا غلط ہونے کے سلسلے ميں گفتگو کی جاسکے ۔ اس کے علاوہ خود یہ روایتيں بھی ایک دوسرے سے مختلف ہيں اور ایک کا مضمون دوسرے کے مضمون کو ایسے جھٹلاتا ہے کہ تهوڑی سی توجہ اور دقت کرنے سے ان کے مضمون کا بے بنياد اور باطل ہونا واضح ہوجاتا ہے ۔

ان کے علاوہ ان روایتوں کا مجموعی مضمون ان روایتوں سے تناقض و اختلاف رکھتا ہے جو مرتد کی سز اوار حد قتل کو معين کرتی ہيں نہ ان کے جلانے اور نذر آتش کرنے کو ۔

اس سے بالاتر یہ ہے کہ اگر یہ روایتيں اور یہ تاریخی حوادث اس اہميت کے ساتھ حقيقت ہوتے تو مشہور و معروف مورخين سے کيسے مخفی رہ گئے ہيں اور انہوں نے ان کے بارے ميں کسی قسم کا اشارہ تک نہيں کيا ہے جبکہ ان سب نے ابوبکر کی طرف سے ‘ ‘

فجائيہ سلمی ” کو نذر آتش کرنے کے حکم کے بارے ميں نقل کيا ہے ۔

شيعوں کی کتابوں ميں ابن سبا اور غاليوں کی احادیث کی پيدائش کا خلاصہ جو کچھ ہم نے گزشتہ صفحات او ر سطروں ميں بيان کيا اس سے واضح اور قطعی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ عبد الله بن سبا اور غاليوں کے بارے ميں روایتيں جو ہمارے بحث و گفتگو کاموضوع تھيں ، کلی طور پر جعلی اور جھوٹی روایتيں ہيں کہ جو ہماری کتابوں ميں داخل ہوئی ہيں اور ہماری صحيح روایتوں سے ممزوج ہوچکی ہيں اور ان جھوٹی روایتوں کی پيدائش اور ان کے شيعوں کی کتابوں ميں وارد ہونے کے بارے ميں ہم نے اس سے پہلے اشارہ کيا ہے کہ غير متدین افراد نے اساتذہ اور شيخ کی کتابوں ميں جعلی رایتوں کو بعض اوقات مخلوط کيا ہے اور انهيں قابل اعتماد کتابوں کے ذریعہ اپنے چھوٹے اور بے بنياد مطالب کو لوگوں کے درميان منتشر کيا ہے اور دوسری جانب سے شيعہ علماء اور دانشوروں نے فقہ اور احکام کے علاوہ دیگر موضوعات سے مربوط روایتوں کی طرف خاص توجہ نہيں دی ہے اور اس قسم کی روایتوں کی بحث وتحقيق نہيں کی ہے اور دوسری طرف سے فتنوں اور بغاوتوں کی وجہ سے اور سيرت تاریخ ، تشریح اور علوم و فنون اور علمی آثار ميں عدم توجہ کی وجہ سے ان کے نابود ہونے کے نتيجہ ميں اصلی کتابوں کی جگہ ناقابل اعتماد مطالب آ گئے ہيں ۔

یہ تھا، رجال و احادیث کی کتابوں ميں عبدا لله بن سبا کا قيافہ اور اس کے بارے ميں روایتوں کا خلاصہ ، کتاب کے اگلے حصہ ميں ہم ادیان و عقائد (ملل و نحل) ميں اس کے قيافہ کا مشاہدہ کریں گے ۔

حصہ اول کے مآخذ

١۔ اختيار رجال کشی : (ص ١٠ ۶ ۔ ١٠٨ ) عبد الله بن سبا کے بارے ميں کشی کی پنجگانہ روایتيں ۔

٢۔ مصفی المقال : ترجمہ رجال کشی : ص ٣٧ ۵ ۔

٢٨٨ / ٣۔ حاشيہ الذریعہ : ۴

٣٨ ۵/ ۴ ۔ الذریعہ : ٣

٢ ۴ ٩ ۔ ٢ ۵ ١ باب نفی الغلو فی النبی و الائمہ / ۵ ۔ بحار الانوار : طبع کمپانی ٧

۴۵۶ ۔ باب حکم الغلاة و القدریہ / ۶ ۔ وسائل : ٣

٢ ۶۴ باب الرد علی الغلاة و القدریہ / ٧۔ مناقب : ١

٨۔ رجال نجاشی : ص ٢٨٨

٩۔ مصفی المقال : شرح حال حائری ١٠ ۔ رجال نجاشی : ٢٧٠

٢١٣ ، خصال، / ١١ ۔ من لا یحضرہ الفقيہ : بطور مرسل از امير المؤمنين عليہ السلام ١ ۴

٣٢٢ حدیث ١٧١ ، وسائل نقل از من لا یحضرہ الفقيہ و تہذیب و / ص ۶ ٢٨ حدیث ۴ ٠٠ / تہذیب ٢

۵ ١١ / ١١٨ ، و حدائق ٨ / علل باب ٢٨ از ابواب تعقيب ۴ ٨١ وافی در باب فضل تعقيب ۵

۶ ٣ ۵ شيخ طوسی کی امالی کی نقل کے مطابق اور ابن / ١٢ ۔ بحار : طبع کمپانی ١٩

حجر نے بھی ‘ لسان الميزان ” ميں عبد الله بن سبا کے حالات کی تشریح ميں ،ميسب کی بات تک ( وہ کہتا ہے خدا و پيغمبر سے جھوٹ کی نسبت دیتا تھا ) اور بقيہ مطلب کو نا قص چھوڑا ہے ۔

١٣ ۔ غيبت نعمانی : ص ١ ۶ ٧ ۔ ١ ۶ ٨ باب ذکر جيش الغضب ١ ۴ ۔اختيار معرفة الرجال : ص ٣٠٧ ۔ ٣٠٨ حدیث ۵۵۶ اور ص ٧٢ پر حدیث ١٢٧ خلاصہ کے طور پر ۔

٢ ۵ ٩ ۔ ٢ ۶ ٠ حدیث ٢٣ باب مرتد ، من لا یحضرہ / ١ ۵ ۔ اختيار معرفة الرجال : ١٠٩ و کافی ٧

٢ ۵ ٠ باب نفی الغلو و حکم قتال کے باب / ٧٠ باب حد مرتد ، بحار ٧ / ٩٠ ، ووافی : ٩ / الفقيہ ٣

ميں رجال کشی ميں آیا ہے۔

٢ ۵۴ / ١٣٨ و استبصار ۴ / ١ و تہذیب ١ ٢ ۵ ٧ اور حدیث ٨ / ١ ۶ ۔ کافی : باب حد المرتد ، ٧

٢ ۴ ٩ ، و مستدرک وسائل / ٢ ۶۵ ، و بحار طبع کمپانی : ٧ / ١٧ ۔ مناقب ابن شہر آشوب : ١

٢ ۴۴ ۔ /٣

١ ۴ ٠ حدیث ١٣ باب حد مرتد / ٩١ ، تہذیب ١٠ / ١٨ ۔ من لا یحضرہ الفقيہ : ٣

٢٠٢ / ١٩ ۔ تاریخ اسلام ، ذہبی : ٢

٢٢١ حدیث اول / ٢١٧ و ٢٨٢ حدیث ٢ ۵۵ ٢ و سنن ابی داؤد ٢ / ٢٠ ۔ مسند احمد حنبل : ١

از باب “حکم من ارتداد” کتاب حدود ٢٣٢ / ٢١ ۔ سيرة اعلام النبلاء ذہبی ، ابن عباس کی شرح ميں ٣

٢ ۴ ٣ باب حکم الغلاة و القدریہ اس نے کتاب عيون المعجزات سے / ٢٢ ۔ صحيح ترمذی : ۶

نقل کيا ہے ۔

٢ ۴۴ فضائل ابن شاذان سے نقل کيا ہے ۔ / ٢ ۴ ۔ مستدرک وسائل الشيعہ : ٣

١١ ۵ ، کتاب الجہاد باب لایعذب بعذاب الله / ٢٩ ۵ ، صحيح بخاری : ٢ / ٢ ۵ ۔ بدایة المجتہد : ٢

٨ ۴ ٨ حدیث ٢ ۵ ٣ ۵ باب / ١٣٠ از صحيح بخاری باب استتابة المرتد ین و سنن ابن ماجہ : ٢ / و ١ ۴

٢ ۴ ٢ ميں بھی آیا ہے ۔ / المرتد من دینہ از کتاب حدود و سنن ترمذی : ۶

١٣٨ ، حدیث ١٧ باب /١٠، ١٣٨ / ٢ ۵ ٨ حدیث ١٧ باب حد مرتد ، تہذیب ١٠ / ٢ ۶ ۔ کافی : ٧

٢ ۵۵ حدیث ۶ ۔ / حد مرتد و استبصار : ۴

۵ ۴ ٨ / ٢٧ ۔ من لا یحضرہ الفقيہ : ٣

١٣٧ حدیث ۴/ باب حد مرتد، / ٢ ۵۶ حدیث ٣/ باب حد مرتد ، تہذیب : ١٠ / ٢٨ ۔ کافی : ٧

١٩ ابواب حد مرتد۔ / ٢ ۵ ٣ حدیث ۴ باب حد مرتد ، وافی ٧٠ / استبصار ۴

٢ ۵۴ و / ١٣٩ ، حدیث ١٠ استبصار : ۴ / ٢ ۵۶ باب حد المرتد ، تہذیب ١٠ / ٢٩ ۔ کافی ٧

٧٠ / وافی ٩

١٣٩ ، حدیث ١١ / ٩١ ، تہذیب ١٠ / ٣٠ ۔ من لا یحضرہ الفقيہ ٣

٧٠ / باب حد مرتد ، وافی ٩

٧٠ / ٢ ۵ ٨ ح ۵ باب حد مرتد و صفحہ ٢ ۵ ٧ ح ۶ خلاصہ کے طور پر ، وافی ٩ / ٣١ ۔ کافی : ٧

٣٢ صفين طبع مصر : ۴ ٣

١٢ ۶ سے نقل کرکے۔ / ٣٣ ۔ التعریف : تاليف وحيد بہبانی ( وفات ١٢ ۵ ٩ ) الذریعہ ٢

٣ ۴ ۔ معجم البلدان : تحت لغت “ بين السورین ” یہ کتاب شيخ طوسی کے ہاتھ ميں تھی، انهوں نے فتنہ و حادثہ کے بعد نجف مہاجرت کی اور وہاں کے حوزہ علميہ کا ادارہ کيا جو آج تک برقرار ہے ۔

٣ ۵ ۔ یہ دو روایتيں اختيار معرفة الرجال ص ٢٢ ۴ ۔ ٢٢ ۵ نمبر ۴ ٠١ و ۴ ٠٢ ميں آئی ہيں ۔

٢ ۴ ٣ نے دعائم الاسلام و جعفریات سے نقل کيا ہے ۔ / ٣ ۶ ۔ مستد ک وسائل الشيعہ : ٣

١٣٠ باب حکم المرتد ، کتاب استتابة المرتدین ۔ / ٣٧ ۔ صحيح بخاری : ۴

۴ ٩١ حدیث لا یعذب بعذاب الله کی شرح ميں ۔ / ٣٨ ۔ فتح الباری : ۶

٣٢٢ پر درج / ٢٨٢ نمبر ٢ ۵۵ ١ مسند احمد ١ / ۴ ٩٢ ، مسند احمد ١ / ٣٩ ۔ فتح الباری : ۶

ہوا ہے ۔

٢ ۴ ٣ حدیث ٢ باب “ ان المرتد یستتاب بثلاثة ایام ” جعفریات سے / ۴ ٠ ۔ مستد رک وسائل : ٣

نقل کيا ہے ۔

٢ ۴ ٣ حدیث ۴/ باب “حکم الزندیق و الناصب ” دعائم الاسلام / ۴ ١ ۔ مستد رک وسائل : ٣

سے نقل کيا ہے ۔

۴ ٢ ۔ ہماری کتاب“ خمسون ماة صحابی مختلق ” فصل “ زندقہ ” ميں مقدماتی اور ابتدائی بحث کی طرف رجوع کيا جائے ۔


دوسری فصل

عبدا لله بن سبا ، ملل اور فرق کی نشاندہی کرنے والی کتابوں ميں عبدالله بن سبا اور ابن سودا ملل و فرق کی کتابوں ميں ۔

ملل و فرق کی کتابوں ميں سبائيوں کے گروہ۔

ا بن سبا، ابن سودا اور سبيہ کے بارے ميں بغدادی کا بيان۔

ا بن سبا و سبيئہ کے بارے ميں شہرستانی اور اسکے تابعين کا بيان ۔

عبدا لله بن سبا کے بارے ميں ادیان و عقاید کے علماء کا نظریہ ۔

عبدالله بن سبا کے بارے ميں ہمارا نظریہ۔

نسناس کا افسانہ۔

ن سناس کی پيدائش اور اس کے معنی کے بارے ميں نظریات ۔

مباحث کا خلاصہ و نظریہ ۔

ا س حصہ کے مآخذ۔


عبد الله بن سبا و ابن سودا ملل اور فرق کی نشاندهی کرنے والی کتابوں ميں

یرسلون الکلام علی عواهنه

ادیان کی بيوگرافی پر مشتمل کتابيں لکھنے والے سخن کی لگام قلم کے حوالے کرتے ہيں اور کسی قيد و شرط کے پابند نہيں ہيں ۔

مؤلف

ہم نے اس کتاب کی پہلی جلد کے حصہ “ پيدائش عبدا لله بن سبا ” ميں مؤرخين کے نظر ميں عبدالله بن سبا کے افسانہ کا ایک خلاصہ پيش کيا گزشتہ حصہ ميں بھی ان اخبار و روایتوں کو بيان کرکے بحث و تحقيق کی جن ميں عبدا لله بن سباکا نام آیا ہے ۔

ہم نے اس فصل ميں جو کچھ ملل و فرق کی نشاندہی کرنے والی کتابوں ميں عبدا لله بن سبا ، ابن سوداء اور سبيہ کے بارے ميں بيان کرنے کے بعد ان مطالب کو گزشتہ چودہ صدیوں کے دوران اسلامی کتابوں اورمآخذ ميں نقل ہوئے ان کے مشابہ افسانوں سے تطبيق و موازنہ کيا ہے اس کے بعد گزشتہ کئی صدیوں کے دوران ان تين الفاظ کے معنی و مفہوم ميں ایجاد شدہ تغير و تبدیليوں کے بارے ميں بھی ایک بحث و تحقيق کرکے اس فصل کو اختتام تک پہنچایا ہے۔

علمائے ادیان کا بيان سعد بن عبد الله اشعری قمی ( وفات ٣٠١ هء) اپنی کتاب “ المقالات و الفرق ” ميں عبد الله بن سبا کے بارے ميں کہتا ہے:

”وہ پہلا شخص ہے جس نے کھلم کھلا ابوبکر ، عمر ، عثمان ، اور اصحاب پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم پر تنقيد کی اور ان کے خلاف زبان کهولی اور ان سے بيزاری کا اظہار کيا اس نے دعوی کيا کہ علی ابن ابيطالب عليہ السلام نے اسے یہ طریقہ کار اپنانے کا حکم دیا اور کہا کہ اس راہ ميں کسی قسم کی سہل انگاری اور تقيہ سے کام نہ لے اور سستی نہ دکھائے جب یہ خبر علی ابن ابيطالب عليہ السلام کو پہنچی تو انہوں نے حکم دیا کہ اسے پکڑ

کر ان کے پاس حاضر کيا جائے جب اسے ان کے پاس لایا گيا تو روداد کے بارے ميں اس سے سوال کيا اور اس کے اپنائے گئے طریقہ کار اور دعوی کے بارے ميں ا س سے وضاحت طلب کی ،جب ابن سبا نے اپنے کئے ہوئے اعمال کا اعتراف کيا تو امير المؤمنين عليہ السلام نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ اس وقت ہر طرف سے حضرت علی عليہ السلام پراعتراض کی صدائيں بلند ہوئيں کہ اے امير المؤمنين! کيا اس شخص کو قتل کر رہے ہيں جو لوگوں کو آپ اور آپ کے خاندان کے ساتھ محبت اور آپ کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی اور مخالفت کی دعوت دیتا ہے ؟ جس کی وجہ سے حضرت علی عليہ السلام نے اس کے قتل سے چشم پوشی کی اور اسے مدائن ميں جلا وطن کر دیا“

اس کے بعد اشعری کہتا ہے:

” اور بعض مؤرخيں نے نقل کيا ہے کہ عبد الله بن سبا ایک یہودی تھا اس کے بعد اس نے اسلام قبول کيا اور علی عليہ السلام کے دوستداروں ميں شامل ہو گيا وہ اپنے یہودی ہونے کے دوران حضرت موسی کے وصی “ یوشع بن نون ” کے بارے ميں شدید اور سخت عقيدہ رکھتا تھا(۱)

ا شعری اپنی بات کو یوں جاری رکھتا ہے : “ جب علی عليہ السلام کی وفات کی خبر مدائن ميں عبدالله بن سبا اور اس کے ساتھيوں نے سنی تو انہوں نے مخبر سے مخاطب ہوکر کہا؛ اے دشمن خدا ! تم جھوٹ بولتے ہو کہ علی عليہ السلام وفات کر گئے۔ خدا کی قسم اگر ان کی کهوپڑی کو ایک تھيلی ميں رکھ کر ہمارے پاس لے آؤا ور ستر ( ٧٠ ) آدمی عادل ان کی موت کی شہادت دیں تب بھی ہم تيری بات کی تصدیق نہيں کریں گے کيونکہ ہم جانتے ہيں کہ علی عليہ السلام نہيں مریں گے نہ ہی مارے جائيں گے۔ جی ہاں ! وہ اس وقت تک نہيں مریں گے جب تک کہ تمام عرب اور پوری دنيا پر حکومت نہ کریں ”۔

____________________

١۔ اشعری سے وہی اشعری مقصود ہے کہ مؤرخين نے سيف بن عمر ( وفات ١٧٠ ه ) سے ليا ہے اور ہم نے اس مطلب کو اسی کتاب کی جلد اول کے اوائل ميں تحقيق کی ہے ۔


عبدا لله بن سبا اور اس کے ماننے والے فوراً کوفہ کی طرف روانہ ہوگئے اور اپنے مرکبوں کو علی کے گھر کے باہر کھڑا کر دیا اس کے بعد حضرت کے گھر کے دروازے پر ایسے کھڑے رہے جيسیان کے زندہ ہونے پر اطمينان رکھتے ہوں اور ان کے حضور حاضر ہونے والے ہوں اور اس کے بعد داخل ہونے کی اجازت طلب کی ۔ علی عليہ السلام کے اصحاب اور اولاد ميں سے جو اس گھر ميں موجود تھے ، نے ان افرادکے جواب ميں کہا؛ سبحان الله ! کيا تم لوگ نہيں جانتے ہو کہ اميرالمؤمنين مارے گئے ہيں ؟ انہوں نے کہا: نہيں بلکہ ہم یقين رکھتے ہيں کہ وہ مارے نہيں جآئیں گے اور طبيعی موت بھی نہيں مریں گے یہاں تک وہ اپنی منطق و دليل سے تمام عربوں کو متاثر کر کے اپنی تلوار اور تازیانوں سے ان پر مسلط ہوں گے وہ اس وقت ہماری گفتگو کو سن رہے ہيں اور ہمارے دلوں کے راز اور گھروں کے اسرار سے واقف ہيں اور تاریکی ميں صيقل کی گئی تلوار کے مانند چمکتے ہيں “

اسکے بعد اشعری کہتا ہے : “ یہ ہے “ سبيئہ ” کا عقيدہ اور مذہب اور یہ ہے علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے بارے ميں “حرثيہ ” کا عقيدہ “ حرثيہ ” عبد الله بن حرث کندی کے پيرو ہيں ۔ وہ علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے بارے ميں معتقد تھے کہ وہ کائنات کے خدا ہيں اپنی مخلوق سے ناراض ہو کر ان سے غائب ہو گئے ہيں اور مستقبل ميں ظہور کریں گے“

ميں اشعری کی اسی بات کی طرف / ابن ابی الحدید بھی شرح نہج البلاغہ ( ١ ۴ ٢ ۵ )

اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے :

”اصحاب مقالات نے نقل کيا ہے کہ“

اشعری نے اپنی کتاب ميں “ سبيئہ ” کے بارے ميں ا س طرح داستان سرائی کی ہے ،

قبل اس کے کہ اپنی بات کے حق ميں کوئی دليل پيش کرے اور اپنے افسانہ کيلئے کسی منبع و مآخذ کا ذکر کرے۔

نجاشی ، اشعری کے حالات کی تشریح ميں کہتا ہے:

”اس نے اہل سنت سے کثرت سے منقولات اور روایتيں اخذ کی ہيں اور روایات اور احادیث کو حاصل کرنے کی غرص سے اس نے سفر کئے ہيں اور اہل سنت کے بزرگوں سے ملاقاتيں کی ہيں “

بہر حال اشعری نے اپنی کتاب مقالات ميں ا بن سبا کے بارے ميں جو کچھ درج کيا ہے اسکے بارے ميں کوئی مآخذ و دليل پيش نہيں کيا ہے۔

اسی طرح مختلف اقوام و ملل کے - ملل ونحل کے عقائد و ادیان کے بارے ميں کتاب لکھنے والوں کی عادت و روش یہ رہی ہے کہ وہ اپنی گفتگو کی باگ ڈور کو آزاد چھوڑ کر قلم کے حوالے کر دیتے ہيں اور اپنی بات کے سلسلہ ميں سند و مآخذ کے بارے ميں کسی قسم کی ذمہ داری کا احساس نہيں کرتے ہيں مآخذ اور دليل کے لحاظ سے اپنے آپ کو کسی قيد و شرط کا پابند نہيں سمجھتے ہيں اپنے آپ کو کسی بھی منطق و قواعد کا پابند نہيں جانتے ہيں چنانچہ ملاحظہ فرمایا : اشعری نے ایک اور گروہ کو “ حربيہ ” یا “ حرثيہ ” کے نام سے عبدا لله بن حرث کندی سے منسوب کرکے گروہ سبئيہ ميں اضافہ کيا ہے ۔

ابن حزم عبدالله بن حرث کے بارے ميں کہتا ہے:

حارثيہ جو رافضيوں کا ایک گروہ ہے اس کے افراد اس سے منسوب ہيں وہ ایک غالی و کافر شخص تھا اس نے اپنے ماننے والوں کے ليے دن را ت کے دوران پندرہ رکعت کی سترہ نمازیں واجب قرار دی تھيں اس کے بعد توبہ کرکے اس نے خوارج کے عقيدہ “ صفریہ ” کو اختيار کيا ”۔

نوبختی ( وفات ٣١٠ هء) نے بھی اپنی کتاب “ فرق الشيعہ ” ميں اشعری کی اسی بات کو درج کيا ہے کہ جسے ہم نے پہلے نقل کيا ۔ البتہ اشعری کے بيان کے آخری دو حصے ذکر نہيں کئے ہيں جس ميں وہ کہتا ہے: امام کی رحلت کی خبر کی تحقيق کيلئے سبائی ان کے گھر کے دروازے پر گئے ” اس کے علاوہ اپنی بات کا مآخذ جو کہ “ مقالات اشعری ” ہے ، کا بھی ذکر نہيں کيا ہے ۔

علی ابن اسماعيل ( وفات ٣٣٠ هء) اپنی کتاب “ مقالات اسلاميين ” ميں کہتا ہے:

” سبائيوں کا گروہ ، عبدالله بن سبا کے ماننے والے ہيں کہ ان کے عقيدہ کے مطابق علی ابن ابيطالب عليہ السلام فوت نہيں ہوئے ہيں ، اور وہ قيامت سے پہلے دوبارہ دنيا ميں واپس آئيں گے اور ظلم و بے انصافی سے پُر، کرہ ارض کو اس طرح ، عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و جور سے لبریز ہو گی اور نقل کيا گيا ہے کہ ابن سبا نے علی ابن ابيطالب عليہ السلام سے کہا: تم وہی ہو (انت انت )

علی بن اسماعيل اضافہ کرتا ہے کہ سبائيوں کا گروہ ، رجعت کا معتقد ہے اور “ سيد حميری ” سے نقل ہوا ہے کہ اس نے اپنا معروف شعر اسی عقيدہ کے مطابق کہاہے ، جہاں پر کہتا ہے:

الی یوم یؤوب الناس فيه

الی دنياهم قبل الحساب

ميں اس دن کے انتظار ميں ہوں کہ لوگ اس دن پھر سے ان دنيا ميں واپس آئيں گے ،

اس سے قبل کہ حساب اور قيامت کا دن آئے اس کے بعد کہتا ہے :

”یہ لوگ جب رعد و برق کی آواز سنتے ہيں تو کہتے ہيں :

السلام عليک یا امير المؤمنين “!

ملل و نحل کی کتابوں ميں سبائيوں کے فرقے

وهولاء کلهم احزاب الکفر

سبائی، سب اہل کفر کے گروہوں ميں سے ہيں ۔

علمائے ادیان ا بو الحسن ملطی ( وفات ٣٧٧ هء) اپنی کتاب “ التنبہ و الرد ” کی فصل “ رافضی اور ان کے عقاید ” ميں کہتا ہے:

” سبائيوں اور رافضيوں کا پہلا گروہ ، غلو کرنے والا اور انتہا پسند گروہ ہے ،بعض اوقات انتہا پسند رافضی سبائيوں کے علاوہ بھی ہوتے ہيں انتہا پسند اور غلو کرنے والے سبائی ،عبدا لله بن سباکے پيرو ہيں کہ انہوں نے علی عليہ السلام سے کہا: تم وہی ہو ! علی عليہ السلام نے ان کے جواب ميں فرمایا: ميں کون ہوں ؟ انہوں نے کہا: وہی خدا اور پروردگار ! علی عليہ السلام نے ان سے توبہ کا مطالبہ کيا ليکن انہوں نے توبہ قبول کرنے سے انکار کيا ۔ اس کے بعد حضرت علی عليہ السلام نے ایک بڑی آگ آمادہ کی اور انهيں اس ميں ڈال کر جلا دیا ،

اور ان کو جلاتے ہوئے یہ رجز پڑهتے تھے :

لما رایت الامر امراً منکراً

اججت ناری و دعوت قنبراً

جب ميں کسی برے کام کا مشاہدہ کرتا تو آگ کو جلا کر قنبر کو بلاتا تھا تا آخر ابيات ابو الحسن ملطی اس کے بعدکہتا ہے :

اس گروہ کے آج تک کچھ لوگ باقی بچے ہيں کہ یہ لوگ زیادہ تر قرآن مجيد کی اس آیت کی تلاوت کرتے ہيں :

( اِنَّ علَينَا جَمعَْهُ وَ قُر نَْاٰهُ فَاِذَا قَرَانَْاهُ فَاتَّبِع قُر نَْاٰهُ ) (۱)

یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے جمع کریں اور پڑهوائيں ، پھر جب ہم پڑهادیں تو آپ اس کی تلاوت کو دهرائيں ۔

اور یہ گروہ معتقد ہے کہ علی ان ابيطالب عليہ السلام نہيں مرے ہيں اور انهيں موت نہيں آسکتی ہے اور وہ ہميشہ زندہ ہيں اور کہتے ہيں : جب علی عليہ السلام کی رحلت کی خبر ان کو ملی تو انہوں نے کہا: علی عليہ السلام نہيں مریں گے، اگر اس کے مغز کو ستر تھيلوں ميں بھی ہمارے پاس لاؤ گے ، تب بھی ہم ان کی موت کی تصدیق نہيں کریں گے ! جب ان کی بات کو حسن ابن علی عليہ السلام کے پاس نقل کيا گيا تو انہوں نے کہا: اگر ہمارے والد نہيں مرے ہيں تو ہم نے کيوں ان کی وراثت تقسيم کی اور ان کی بيویوں نے کيوں شادی کی ؟

____________________

١۔ سورہ قيامت : آیت ١٧ و ١٨ ۔


ابو الحسن ملطی مزید کہتا ہے:

” سبائيوں کا دوسرا گروہ یہ عقيدہ رکھتا ہے کہ علی ابن ابيطالب عليہ السلام نہيں مرے ہيں بلکہ وہ بادلوں کے ایک ٹکڑے ميں قرار پائے ہيں لہذا جب وہ بادلوں کے ایک صاف و سفيد اور نورانی ٹکڑے کو رعد و برق ١ کی حالت ميں دیکھتے ہيں ، تو اپنی جگہ سے اٹھ کر اس ابر کے ٹکڑے کے مقابلہ ميں کھڑے ہو کردعا و تضرع ميں مشغول ہوتے ہيں اورکہتے ہيں :

اس وقت علی ابن ابيطالب عليہ السلام بادلوں ميں ہمارے سامنے سے گزرے“!

ابو الحسن ملطی اضافہ کرتا ہے:

” سبائيوں کا تيسرا گروہ وہ لوگ ہيں جو کہتے ہيں : علی عليہ السلام مر گئے ہيں ليکن قيامت کے دن سے پہلے مبعوث اور زندہ ہوں گے ، اور تمام اہل قبور ان کے ساتھ زندہ ہوں گے تا کہ وہ دجال کے ساتھ جنگ کریں گے اس کے بعد شہر و گاؤں ميں لوگوں کے درميان عدل و انصاف بر پا کریں گے اور اس گروہ کے لوگ عقيدہ رکھتے ہيں کہ علی عليہ السلام خدا ہیں اور رجعت پر بھی عقيدہ رکھتے ہيں “

ا بو الحسن ملطی اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے:

” سبائيوں کے چوتھے گروہ کے لوگ محمد بن علی ( محمد حنفيہ ) کی امامت کے معتقد ہيں اور کہتے ہيں : وہ رضوی نامی پہاڑ ميں ایک غار ميں زندگی گذار رہے ہيں ایک اژدها اور ایک شير ان کی حفاظت کررہا ہے ، وہ وہی “ صاحب الزمان” ہیں جو ایک دن ظہور کرےں گے اور دجال کو قتل موت کے گھاٹ اتاریں گے ! اور لوگوں کو ضلالت اور گمراہی سے ہدایت کی طرف لے جآئیں گے اور روئے زمين کو مفاسد سے پاک کریں گے“

ابو الحسن ملطی اپنی بات کے اس حصہ کے اختتام پر کہتا ہے:

” سبائيوں کے یہ چاروں گروہ “بداء ” کے معتقد ہيں ! اور کہتے ہيں : خدا کيلئے کاموں ميں بداء حاصل ہوتا ہے یہ گروہ توحيد اور خدا شناسی کے بارے ميں اور بھی باطل بيانات اور عقائد رکھتے ہيں کہ ميں اپنے آپ کو یہ اجازت نہيں دے سکتا ہوں کہ خدا کے بارے ميں ان کے ان ناشائستہ عقائد کو اس کتاب ميں وضاحت کروں اور نہ یہ طاقت رکھتا ہوں کہ خدا کے بارے ميں ا یسی باتوں کو زبان پر لاؤں مختصر یہ کہ یہ سب گروہ اور پارٹياں کفر کے فرقے ہيں “

ا بو الحسن ملطی اسی کتاب کے باب “ ذکر الروافض و اجناسهم و مذاهبہم ” ميں سبائيوں کے بارے ميں دوبارہ بحث و گفتگو کرتا ہے اور اس دفعہ “ ابو عاصم ” سے یوں نقل کرتا ہے کہ:

____________________

١۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بنيادی طور پر سفيد ، صاف اور روشن بادل رعد و برق ایجاد نہيں کرتے ہيں بلکہ یہ سياہ بادل ہے جو رعد و برق پيدا کرتا ہے


” عقيدہ کے لحاظ سے رافضی پندرہ گروہوں ميں تقسيم ہوتے ہيں اور یہ پندرہ گروہ خداکی طرف سے اختلاف اور پراگندگی کے عذاب ميں مبتلا ہو کر اور مزید بہت سے گروہوں اور پارٹيوں ميں تقسيم ہوگئے ہيں :

اول) ان ميں سے ایک گروہ خدا کے مقابلے ميں علی ابن ابيطالب کی الوہيت اور خدا ئی کے قائل ہے ”۔ یہاں تک کہتا ہے “ ان ہی ميں سے عبد الله بن سبا تھا جو یمن کے شہر صنعا کا رہنے والا تھا اور علی عليہ السلام نے اسے ساباط جلا وطن کيا“

دوم ) ان ميں سے دوسرا گروہ جسے “ سبيئہ ” کہتے ہيں ان کا کہنا ہے کہ : علی عليہ السلام نبوت ميں پيغمبر کے شریک و سہيم ہیں ، پيغمبر اپنی زندگی ميں مقدم تھے اور جب وہ دنيا سے رحلت کر گئے تو علی ان کی نبوت کے وارث بن گئے اور ان پر وحی نازل ہوتی تھی جبرئيل ان کيلئے پيغام لے کر آتے تھے۔ اس کے بعد کہتا ہے : یہ دشمن خدا ہيں اور جھوٹ بولتے ہيں ، کيونکہ محمد صلی الله عليہ و آلہ وسلم خاتم الانبياء تھے اور ان کے بعد نبوت رسالت وجود نہيں رکھتی ہے ۔

سوم ) ان کے ایک دوسرے گروہ کو “منصوریہ ” کہتے ہيں وہ اس بات کے معتقد ہيں کہ علی نہيں مرے ہيں بلکہ بادلوں ميں زندگی گذار رہے ہيں “

اس طرح رافضيوں کے پندرہ گروہوں کو اپنے خيال و زعم ميں معين کرکے ان کے عقائد کی وضاحت کرتا ہے ۔

ابن سبا ، ابن سودا اور سبائيوں کے بارے ميں عبدا لقاهر بغدادی کا بيان

و هذه الطائفة تزعم ان المهدی المنتظر هو علیّ

گروہ سبئيہ کا یہ عقيدہ ہے کہ مہدی منتظر وہی علی ہے ۔ بغدادی عبدا لقاہر بغدادی ( وفات ۴ ٢٩ هء ) اپنی کتاب “ الفرق بين الفرق ” کے فصل “ عقيدہ سبئيہ اور ا س گروہ کے خارج از اسلام ہونے کی شرح کے باب ” ميں کہتا ہے:

” گروہ سبيئہ اسی عبدا لله بن سبا کے پيرو ہيں کہ جنہوں نے علی ابن ابيطالب عليہ کے بارے ميں غلو کيا ہے اور اعتقاد رکھتے ہيں کہ وہ پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم ہے ۔ اس کے بعد اس کی الوہيت و خدائی کے معتقد ہوئے اور کوفہ کے بعض لوگوں کو اپنے عقيدہ کی طرف دعوت دی ۔ جب اس گروہ کی خبر علی عليہ السلام کو پہنچی ، تو انکے حکم سے ان ميں سے بعض لوگوں کو دو گڑهوں ميں ڈال کر جلادیا گيا ، حتی بعض شعراء نے اس رودادکے بارے ميں درج ذیل اشعار بھی کہے ہيں :

لترم بی الحوادث حيت شاءَ ت

اذا لم ترم بی فی الحفرتين

”حوادث اور واقعات ہميں جہاں بھی چاہيں ڈال دیں صرف ان دو گڑهوں ميں نہ ڈاليں “

چونکہ علی عليہ السلام اس گروہ کے باقی افراد کو جلانے کے سلسلے ميں اپنے ماننے والوں کی مخالفت اور بغاوت سے ڈر گئے ، اس لئے ابن سبا کو مدائن کے ساباط ميں جلا وطن کيا ۔ جب علی عليہ السلام مارے گئے تو ابن سبا نے یوں اپنے عقيدہ کا اظہار کيا :

جو مارا گيا ہے وہ علی عليہ السلام نہيں بلکہ شيطان تھا جو علی کے روپ ميں ظاہر ہوا تھا اور خود کو لوگوں کے سامنے مقتول جيسا ظاہر کيا ، اس لئے کہ علی عليہ السلام حضرت عيسی کی طرح آسمان کی طرف بلا لئے گئے ہيں ۔

اس کے بعد عبد القاہر کہتا ہے:

اس گرو کا عقيدہ ، جس طرح یہود و نصاریٰ قتل حضرت عيسیٰ کے موضوع کے بارے ميں ایک جھوٹااور خلاف واقع دعوی کرتے ہيں ، ناصبی اور خوارج نے بھی علی عليہ السلام کے قتل کے موضوع پر ایک جھوٹے اور بے بنياد دعوی کا اظہار کيا ہے ۔ جس طرح یہود و نصاریٰ نے ایک مصلوب شخص کو دیکھا اور اسے غلطی سے عيسیٰ تصورکرگئے اسی طرح علی کے طرفداروں نے بھی ایک مقتول کو علی کی صورت ميں دیکھا اور خيال کيا کہ وہ خود علی ابن ابيطالب عليہ السلام ہيں ، جب کہ علی آسمان پر بلا لئے گئے ہيں اور مستقبل ميں پھر سے زمين پر اتریں گے اور اپنے دشمنوں سے انتقام ليں گے“

عبدا لقاہر کہتا ہے:

” گروہ سبئيہ ميں سے بعض لوگ خيال کرتے ہيں کہ علی بادلوں ميں ہيں ۔رعد کی آواز وہی علی کی آواز ہے ۔ آسمانی بجلی کا کڑکنا ان کا نورانی تازیانہ ہے جب کبھی بھی یہ لوگ رعد کی آواز سنتے ہيں توکہتے ہيں : عليک السلام یا امير المؤمنين!

عامر بن شراحيل شعبی(۱) سے نقل کيا گيا ہے کہ ابن سبا سے کہا گيا:

علی عليہ السلام مارے گئے ، اس نے جواب ميں کہا :

____________________

١۔ عامر بن شراحيل کی کنيت ابو عمر تھی و وہ قبيلہ ہمدان سے تعلق رکھتا ہے اور شعبی کے نام سے معروف ہے ( اور حميری و کوفی ) وہ عمر کی خلافت کے دوسرے حصہ کے وسط ميں پيدا ہوا ہے اور دوسری صدی ہجری کے اوائل ميں فوت ہو چکا ہے اس نے بعض اصحاب رسول صلی الله عليہ و آلہ وسلم ، جيسے امير المؤمنين عليہ السلام سے احادیث نقل کی ہيں ، جبکہ علمائے رجال واضح طورپر کہتے ہيں کہ اس نے جن اصحاب سے احادیث ( ۶۵ ۔ ۶٩ / نقل کی ہيں ، انهيں بچپن ميں دیکھا ہے اور ان سے کوئی حدیث ہی نہيں سنی ہے ( تہذیب التہذیب ۵علمائے رجال کی یہ بات شعبی کے احادیث کے ضعيف ہونے کی ایک محکم اور واضح دليل ہے خاص طور پر شعبی کے احادیث کے ضعيف ہونے کے بارے ميں دوسرے قرائن یہ ہيں کہ وہ ١٠٩ هء ميں فوت ہوا ہے اور بغدادی ۴٢٩ هء ميں فوت ہوا ہے اس طرح ان دو افراد کے درميان آپس ميں تيں سو سال کا فاصلہ ہے زمانے کے اتنے فاصلہ کے باوجود بغدادی کس طرح شعبی سے روایت نقل کرتا ہے اگر اس کی نقل بالواسطہ تھی تو یہ واسطے کون ہيں ؟ کيوں ان کا نام نہيں ليا گيا ہے


اگر ان کے مغز کو ایک تھيلی ميں ہمارے لئے لاؤ گے پھر بھی ہم تمہاری بات کی تصدیق نہيں کریں گے کيونکہ وہ نہيں مریں گے یہاں تک آسمان سے اتر کر پوی روئے زمين پر سلطنت کریں گے“

عبدا لقاہر کہتا ہے :”یہ گروہ تصور کرتا ہے کہ “مهدی منتظر ” وہی علی ابن ابيطالب ہيں کوئی دوسرا شخص نہيں ہے اسحاق بن سوید عدوی(۱) نے اس گروہ کے عقائد کے بارے ميں درج ذیل اشعار کہے ہيں :

ميں گروہ خواج سے بيزاری چاہتا ہوں اور ان ميں سے نہيں ہوں ، نہ گروہ غزال سے ہوں اور نہ ابن باب کے طرفداروں ميں سے، اور نہ ہی اس گروہ سے تعلق رکھتا ہوں کہ جب وہ علی کو یاد کرتے ہيں تو سلام کا جواب بادل کو دیتے ہيں ليکن ميں دل و جان سے برحق پيغمبر اور ابوبکر کو دوست رکھتا ہوں اور جانتا ہوں کہ یہی راستہ درست اور حق ہے۔

اس الفت و دوستی کی بنا پر قيامت کے دن بہترین اجر و ثواب کی اميد رکھتا ہوں(۲) ۔

من الغزال منهم و ابن باب

ومن قوم اذا ذکروا عليا

یردون السلام علی السحاب

و لکنی احب بکل قلبی

واعلم ان ذاک من الصواب

رسول الله و الصدیق حقا

به ارجو غداً حسن الثواب

یہاں پر عبدا للہ بن سبا اور گروہ سبئيہ کے بارے ميں بغدادی کی گفتگو اختتام کو پہنچی ، اب وہ عبد الله بن سودا کے بارے ميں اپنی گفتگو کا آغاز کرتا ہے اور اس کے بارے ميں یوں کہتا ہے:

عبدا لله بن سودا نے سبئيہ گروہ کی ان کے عقيدہ ميں مدد کی ہے اور ان کا ہم خيال رہا۔ وہ بنيادی طور پر حير ہ کے یہودیوں ميں سے تھا ليکن کوفہ کے لوگوں ميں مقام و ریاست حاصل کرنے کيلئے ظاہراً اسلام لایا تھا اور کہتا تھا : ميں نے توریت ميں پڑها ہے کہ ہر پيغمبر کا ایک خليفہ اور وصی ہے اور محمد صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے وصی علی عليہ السلام ہيں “

____________________

١۔ اسحاق بن سوید عدوی تميمی بصری کی موت ١٣١ ئه ميں طاعون کی بيماری کی وجہ سے ہوئی ہے ۔وہ حضرت علی عليہ السلام کی مذمت کرتا تھا اور کہتا تھا کہ ميں ان سے الفت نہيں رکھتا ہوں ۔

٢۔برئت من الخوارج لست منهم


بغدادی کہتا ہے:

جب علی عليہ السلام کے شيعوں نے ابن سودا کی یہ بات سنی تو انہوں نے علی سے کہا کہ وہ آپ کے دوستداروں اور محبت کرنے والوں ميں ہے لہذا علی کے پاس ابن سوداد کا مقام بڑه گيا اور وہ ہميشہ اسے اپنے منبر کے نيچے اور صدر مجلس ميں جگہ دیتے تھے،

ليکن جب علی نے بعد ميں اس کے غلو آميز مطالب سنے تو اس کے قتل کا فيصلہ کيا ،

ليکن ابن عباس نے علی کے اس فيصلہ سے اختلاف کيا اور انهيں آگاہ کيا کہ کيا شام کے لوگوں سے جنگ کرنا چاہتے ہيں آپ کو اس نازک موقع پر لوگوں کی حمایت کی ضرورت ہے اور مزید سپاہ و افراددر کار ہيں اگر ایسے سخت موقع پر ابن سودا کو قتل کر ڈاليں گے ، تو آپ کے اصحاب و طرفدار مخالفت کریں گے اور آپ ان کی حمایت سے محروم ہوجائيں گے علی نے ا بن عباس کی یہ تجویز قبول کی اور اپنے دوستداروں کی مخالفت کے ڈر سے ابن سوداء کے قتل سے صرف نظر کيا،اور اسے مدائن ميں جلا وطن کر دیا ليکن علی کے قتل کئے جانے کے بعد بعض لوگ ابن سودا کی باتوں کے فریب ميں آگئے کيونکہ وہ لوگوں کو اس قسم کے مطالب سے منحرف کرتااور کہتا تھا خداکی قسم مسجد کوفہ کے وسط ميں علی کيلئے دو چشمے جاری ہوں گے ان ميں سے ایک سے شہد اور دوسرے سے تيل جاری ہوگا اور شيعيان علی اس سے استفادہ کریں گے اس کے بعد بغدادی کہتا ہے:

”اہل سنت کے دانشور اور محققين معتقد ہيں کہ اگر چہ ابن سودا ظاہراً اسلام قبول کرچکا تھا ليکن علی عليہ السلام اور ان کی اولاد کے بارے ميں ا پنی تاویل و تفسيروں سے مسلمانوں کے عقيدہ کو فاش کرکے ان ميں ا ختلاف پيدا کرتا تھا اور چاہتا تھا کہ مسلمان علی عليہ السلام کے بارے ميں اسی اعتقاد کے قائل ہوجائيں جس کے عيسائی حضرت عيسیٰ کے بارے ميں قائل تھے(۱)

اس کے بعد بغدادی کہتا ہے:

____________________

١۔ یہ مطالب سيف کی عبد الله بن سبا کے بارے ميں روایت کا مفہوم ہے کہ بغدادی نے انهيں مشوش اور درہم برہم صورت ميں نقل کيا ہے اور خيال کيا ہے کہ ابن سودا علاوہ بر ابن سبا کوئی دوسرا شخص ہے اور یہ دو شخص جدا ہيں اور ابن سودا حيرہ کے یہودیوں ميں سے تھا جبکہ سيف نے ابن سبا کو یمن کے صنعا علاقہ کا دکھایا ہے اور اسے ابن سوداء کے طور پر نشاندہی کی ہے۔کتاب مختصر الفرق کے ناشر فليب حتی عيسائی نے بغدادی کی اس بات کا مذاق اڑادیا ہے اور اسے اس کے فاسد مقصد کے نزدیک دیکھتا ہے اس کتاب کے حاشيہ ميں لکھتا ہے : یہ روداد اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ گوناگون اسلامی فرقے وجود ميں لانے ميں یہودی مؤثر تھے اس کے بعد کہتا ہے :بغدادی کی سبئيہ کے بارے ميں کی گئی بحث مکمل ترین و دقيق ترین بحث ہے جو اس بارے ميں عربی کتابوں ميں آئی ہے ۔


مرموز ابن سودا نے مسلمانوں ميں بغاوت ، اختلاف وفساد اور ان کے عقائد و افکار ميں انحراف پيدا کرنے کيلئے مختلف اسلامی ممالک کا سفر کيا جب اس نے دیگر گروہوں کی نسبت رافضيوں کو کفر و گمراہی اور نفسانی خواہشات کی پيروی کرنے ميں زیادہ مائل پایا تو انهيں عقيدہ سبئيہ کی تعليم و تربيت دی اس طریقے سے اس عقيدہ کی ترویج کی اور اسے مسلمانوں ميں پھيلایا“

مختار کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے بغدادی کہتا ہے:” سبيئہ جو غاليوں اور رافضيوں کا ایک گروہ ہے اس نے مختار کو فریب دیا اور ان سے کہا تم زمانے کی حجت ہو ،اس فریبکارانہ بات سے اسے مجبور کيا تا کہ نبوت کا دعوی کرےں ا نهوں نے بھی اپنے خاص اصحاب کے درميان خود کو پيغمبر متعارف کيا“بغدادی لفظ “ ناووسيہ ” کی تشریح ميں کہتا ہے:

” اور سبيئہ کا ایک گروہ “ ناووسيہ ” سے ملحق ہوا وہ سب یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ جعفر (ان کا مقصود امام صادق عليہ السلام ہيں ) جميع دینی علوم و فنون اعم از شرعيات و عقليات کے عالم ہيں “

ی ہ تھے بغدادی کے گروہ “ سبيئہ ” کے بارے ميں ا پنی کتاب ‘ ‘ الفرق ” ميں درج کئے گئے تار پود اس گروہ کے عقائد و افکار کے بارے ميں دیکھے گئے اس کے خواب اور اس کيلئے جعل کئے گئے اس کے عقائد اس کے بعد اس خيالی اور جعلی گروہ کی گردن پر یہ باطل اور بے بنياد عقائد و افکار ڈالنے کيلئے اس نے داد سخن دیا ہے اور ان خرافات پر مشتمل عقائد کو مسترد کرنے کيلئے ایک افسانہ پيش کرکے اس کی مفصل تشریح کی ہے ۔

حقيقت ميں اس سلسلہ ميں بغدادی کی حالت اس شخص کی سی ہے جو تاریکی ميں ایک سایہ کا تخيل اپنے ذہن ميں ا یجاد کرنےکے بعد تلوار کھينچ کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے ۔

عبد القاہر بغدادی کے بعد ، ابو المظفر اسفرائينی ( وفات ۴ ٧١ ئه) آیا اور جو کچھ بغدادی نے گروہ سبيئہ کے بارے ميں نقل کيا تھا ، اس نے اسے خلاصہ کے طور پر اپنی کتاب “ التبصير ” ميں نقل کيا ہے ۔

پھر بغدادی کے اسی بيان کو سيد شریف جرجانی(وفات ٨١ ۶ هء)نے اپنی کتاب “التعریفات” ميں خلاصہ کے طور پر نقل کيا ہے ۔فرید وجدی ( وفات ١٣٧٣ ئه ) نے بھی اپنے “ دائرة المعارف” ميں لغت “ عبدا لله بن سبا”کے سلسلے ميں بغدادی کی باتوں کو من و عن اورانهيں الفاظ ميں کسی قسم کی کمی بيشی کے بغير نقل کيا ہے ۔

ا بن حزم (وفات ۴۵۴ ئه) اپنی کتاب “ الفصل فی الملل و الاهواء و النحل” ميں کہتا ہے:” غاليوں کا پہلا فرقہ جو غير خد اکی الوہيت اور خدائی کا قائل ہوا ہے عبدا لله ابن سبا حميری (خدا کی لعنت اس پر ہو--)کے ماننے والے ہيں اس گروہ کے افراد علی ابن ابيطالب کے پاس آئے اور آپ کی خدمت ميں عرض کيا: تم وہی ہو ۔

ا نهوں نے پوچھا : “ وہی ”سے تمہارا مقصود کون ہے ؟ انہوں نے کہا: تم خدا ہو-” یہ بات علی کيلئے سخت گراں گزری اور حکم دیا کہ آگ روشن کی جائے اور ان سب کو اس ميں جلادیا جائے اس گروہ کے افراد جب آگ ميں ڈال دئے جاتے تھے تو وہ علی کے بارے ميں کہتے تھے ، اب ہمارے لئے مسلم ہوگيا کہ وہ وہی خدا ہے کيونکہ خدا کے علاوہ کوئی لوگوں کو آگ سے معذب نہيں کرتا ہے اسی وقت علی ابن ابيطالب نے یہ اشعار پڑهے:

لما رایت الامر امراً منکراً

اججت ناری ودعوت قنبراً

”جب ميں لوگوں ميں کسی برے کام کو دیکھتا ہوں تو ایک آگ روشن کرتا ہوں اور قنبر کو اپنی مدد کيلئے بلاتا ہوں “

ابن حزم فرقہ کيسانيہ کے عقائد کے بارے ميں کہتا ہے:”بعض اماميہ رافضی جو “ممطورہ ” کے نام سے معروف ہيں موسی بن جعفر کے بارے ميں یہ عقيدہ رکھتے ہيں کہ وہ نہيں مرے بلکہ زندہ ہيں اور وہ نہيں مریں گے یہاں تک کہ ظلم و ناانصافی سے پر دنيا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔اس کے بعد کہتا ہے:

”گروہ ” ناووسيہ کے بعض افراد امام موسیٰ کاظم کے والد یعنی “جعفر ابن محمد ” کے بارے ميں یہی عقيدہ رکھتے ہيں اور ان ميں سے بعض دوسرے افراد امام موسیٰ کاظم عليہ السلام کے بھائی اسماعيل بن جعفر کے بارے ميں اسی عقيدہ کے قائل ہيں “

اس کے بعد کہتا ہے:

” سبيئہ جو عبدا لله بن سبا حميری یہودی کے پيرو ہيں علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے بارے ميں بھی اسی قسم کا عقيدہ رکھتے ہيں اس کے علاوہ کہتے ہيں کہ وہ بادلوں ميں ہے ،یہاں تک کہتا ہے :

جب علی کے قتل ہونے کی خبر عبد الله بن سبا کو پہنچی تو اس نے کہا: اگر ان کے سر کے مغز کو بھی ميرے سامنے لاؤ گے پھر بھی ان کی موت کے بارے ميں یقين نہيں کروں گ ابو سعيد نشوان حميری ( وفات ۵ ٧ ۴ ئه ) اپنی کتاب “ الحور العين ” ميں کہتا ہے:” سبيئہ وہی عبدا لله بن سبا اور اس کے عقائد کے پيرو ہيں “

اس کے بعد ان کے عقائد کو بيان کرنے کے ضمن ميں ا مير المؤمنين کی موت سے انکار کرنے کی روداد کو بيان کرتے ہوئے کہتا ہے:

” جب ابن سبا کا عقيدہ ابن عباس کے پاس بيان کيا گيا تو انہوں نے کہا: اگر علی نہيں مرے ہوتے تو ہم ان کی بيویوں کی شادی نہ کرتے اوران کی ميراث کو وارثوں ميں تقسيم نہيں کرتے ”(۱)

____________________

١۔ الحور العين : ص ١۵۶


ابن سبا اور سبئيہ کے بارے ميں شہرستانی اور اس کے ماننے والوں کا بيان

و اما السبئية فهم یزعمون ان علياً لم یمت و انه فی السحاب

سبائی معتقد ہيں کہ علی نہيں مرے ہيں اور وہ بادلوں ميں ہيں صاحب البدء و التاریخ شہرستانی ( وفات ۵۴ ٨ هء) اپنی “ ملل و نحل ” ميں ابن سبا اور سبائيوں کے بارے ميں محدثين اور مؤرخين کے بيانات کو خلاصہ کے طور پر درج کرنے کے بعد یوں کہتا ہے :

”عبد الله بن سبا پہلا شخص ہے جس نے علی ابن ابيطالب عليہ السلام کی امامت کو واجب جانا ، اور یہی غاليوں کے دیگر گروہوں کيلئے اس عقيدہ کا سرچشمہ بنا کہ علی نہيں مریں گے اور وہ زندہ ہيں ۔ وہ کہتے ہيں : خداوند عالم کے ایک حصہ نے اس کے وجود ميں حلول کيا ہے اور کوئی ان پر برتری حاصل نہيں کرسکتا وہ بادلوں ميں ہیں اور ایک دن زمين پر آئیں گے۔

یہاں تک کہتا ہے:

”ابن سبا یہی عقيدہ خود علی کی زندگی ميں بھی رکھتا تھا ، ليکن اس نے اس وقت اظہار کيا جب علی کو قتل کر دیا گيا، اس وقت بعض افراد بھی اس کے گرد جمع ہوکر اس کے ہم عقيدہ ہو گئے، یہ وہ پہلا گروہ ہے جو علی اور ان کی اولاد ميں امامت کے محدود و منحصر ہونے کا قائل ہے اور غيبت اور رجعت کا معتقد ہوا ہے اس کے علاوہ اس بات کا بھی معتقد ہوا کہ خداوند عالم کا ایک حصہ تناسخ کے ذریعہ علی کے بعد والے ائمہ ميں حلول کرچکا ہے اصحاب اور یاران پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم بخوبی جانتے تھے اس لئے وہ ابن سبا کے عقيدہ کے مخالف تھے ، ليکن وہ علی عليہ السلام کے بارے ميں اس مطلب کو اس لئے کہتے تھے کہ جب علی عليہ السلام نے خانہ خدا کی بے حرمتی کرنے کے جرم ميں حرم ميں ایک شخص کی آنکھ نکالی تھی یہ واقعہ جب خليفہ دوم عمر کے پاس نقل کيا گيا تو عمر نے جواب ميں یہ جملہ کہا: “ ميں اس خدا کے ہاتھ کے بارے ميں کيا کہہ سکتا ہوں جس نے حرم خدا ميں کسی کو اندها کيا ہو؟

دیکھا آپ نے کہ عمر نے اپنے اس کلام ميں خدا کے ایک حصہ کے علی عليہ السلام کے پيکر ميں حلول کرنے کا اعتراف کيا ہے اور ان کے بارے ميں خداکا نام ليا ہے(۱)

یہ تھا ان افرا د کے نظریات و بيانات کا خلاصہ جنہوں نے “ ملل و نحل ” کے بارے ميں کتابيں لکھی ہيں دوسری کتابوں کے مؤلفين بھی ان کے طریقہ کا رپر چل کر بيہودہ اور بے بنياد مطالب کو گڑه کر اس باطل امور ميں ان کے قدم بقدم رہے ہيں ، مثلاً البدء و التاریخ کا مؤلف کہتا ہے:

ليکن “ سبئيہ ” جسے کبھی‘ ‘ طيارہ ” بھی کہتے ہيں خيال کرتے ہيں کہ ہرگز موت ان کی طرف آنے والی نہيں ہے اور وہ نہيں مریں گے حقيقت ميں ان کی موت اندهيری رات کے آخری حصہ ميں پرواز کرنا ہے اس کے علاوہ یہ لوگ معتقد ہيں کہ علی ابن ابيطالب نہيں مرے ہيں بلکہ بادلوں ميں موجود ہيں لہذا جب رعد کی آواز سنتے ہيں تو کہتے ہيں علی غضبناک ہو گئے ہيں ”۔

اس کے علاوہ کہتا ہے:

” گروہ طيارہ کے بعض افراد معتقد ہيں کہ روح القدس جس طرح عيسیٰ ميں موجود تھا اسی طرح پيغمبر اسلام ميں بھی موجود تھا اور ان کے بعدعلی ابن ابيطالب عليہ السلام ميں منتقل ہوگياعلی سے ان کے فرزند حسن اور اس کے بعد یکے بعد دیگرے باقی اماموں ميں منتقل ہوتا رہا سبيئہ کے مختلف گروہ ارواح کے تناسخ اور رجعت کے قائل ہيں اور سبيئہ کے ایک گروہ کے افراد اعتقاد رکھتے ہيں کہ ائمہ عليہم السلام خدا سے منشعب شدہ نور ہيں اور وہ خدا کے اجزاء ميں سے ایک جزو ہيں اس عقيدہ کے رکھنے والوں کو “حلاجيہ ”(۲) کہتے ہيں ابو طالب صوفی بھی یہی اعتقاد رکھتا تھا اور اس نے انهيں باطل عقائد کے مطابق درج ذیل اشعار کہے ہيں :

قریب ہے کہ وہ وگا اگر کوئی ربوبيت نہ ہوتی تو وہ بھی نہ ہوتا کيا نيک آنکھيں غيبت کيلئے فکرمند ہيں (چشم براہ ہيں )یہ آنکھيں پلک و مژگان والی آنکھيں جيسی نہيں ہيں ۔

خدا سے متصل آنکھيں نور قدسی رکھتی ہيں ، جو خدا چاہے گا وہی ہوگا نہ ہی خيال کی گنجائش ہے اور نہ چالاکی کا کوئی محل۔

وہ سایوں کے مانند ہيں جس دن مبعوث ہوں گے ليکن نہ سورج کے سایہ کے مانند اور نہ گھر کے سایہ کے مانند ____________________

١۔ اس نقل کی بنا پر عمراولين شخص ہے جس نے علی کے بارے ميں غلو کيا ہے اور اس عقيدہ کی بنياد ڈالی ہے اسی طرح وہ پہلے شخص تھے جس نے عقيدہ رجعت کو اس وقت اظہار کيا جب رسول خدا نے رحلت فرمائی تھی جب اس نے کہا: خدا کی قسم پيغمبر نہيں مرے ہيں اور واپس لوٹيں گے اسی کتاب کی جلد اول حصہ سقيفہ ملاحظہ ہو ليکن حقيقت یہ ہے کہ شہرستانی بھی اپنی نقليات ميں تمام علمائے ادیان اور ملل و نحل کے مولفين کے مانند بعض مطالب کو لوگوں سے سنتا ہے اورانهيں بنيادی مطالب اور سو فيصد واقعی صورت ميں اپنی کتاب ميں درج کرتا ہے بغير اس کے کہ اپنی نقليات کی سند کے بارے ميں کسی قسم کی تحقيق و بحث کرے ہم ان مطالب کے بارے ميں اگلے صفحات ميں بيشتر وضاحت پيش کریں گے ۔

۲۔ حلاجيہ حسين بن منصور حلاج سے منسوب ہيں حسين بن حلاج ایک جادو گر اور شعبدہ باز تھا شہروں ميں پھرتا تھا ہرشہر ميں ایک قسم کے عمل اور مسلک کو رائج کرتا تھاا ور خود کو اس کا طرفدار بتاتا تھا ۔مثلاً معتزليوں ميں معتزلی ، شيعوں ميں شيعہ اور اہل سنت ميں خود کو سنی بتاتا تھا ۔


کادوا یکونون لو لا ربوبية لم تکن فيالها اعينا بالغيب ناظرةليست کاعين ذات الماق و الجفن انوار قدس لها بالله متصل کما شاء بلا وهم و لا فظن وهم الاظلة والاشباح ان بعثوالا ظل کالظل من فيئی و لا سکن

ا بن عساکر ( وفات ۵ ٧١ هء ) نے اپنی تاریخ ميں عبدا لله بن سبا کے حالات کی تشریح ميں سيف کی نقل کی گئی روایت (اور ان روایتوں کے علاوہ کہ جن کے بعض مضامين ہم نے اس کتاب کی پہلی جلد(۱) اور بعض کو گزشتہ صفحات ميں درج کيا ہے)مزید چه روایتں حسب ذیل نقل کی ہيں :

١۔ ابو طفيل سے نقل ہوا ہے:

’ ميں نے مسيب بن نجبہ کو دیکھا کہ ابن سودا کے لباس کو پکڑ کر اسے گھسيٹتے ہوئے علی ابن ابيطالب کے پاس --- جب وہ منبر پر تھے ---لے آیا ،علی نے پوچھا : کيا بات ہے ؟ مسيب نے کہا: یہ شخص ابن سودا خدا او رسول خدا صلی الله عليہ وآلہ وسلم پر جھوٹ کی نسبت لگاتا ہے“

٢۔ ایک دوسری روایت ميں آیاہے کہ علی ان ابيطالب عليہ السلام نے فرمایا:

مجھے اس خبيت سياہ چہرہ سے کيا کام ہے ؟ آپ کی مراد ابن سبا تھا جو ابوبکر اور عمر کے بارے ميں برا بھلا کہتا تھا۔

٣۔ اور ایک روایت ميں آیا ہے:

مسيب نے کہا: ميں نے علی ابن ابيطالب کو منبر پر دیکھا کہ ابن سودا کے بارے ميں فرما رہے ہيں :

____________________

١۔ ج / ١ فصل پيدائش افسانہ عبدا لله بن سبا


”کون ہے جو اس سياہ فام (جو خدا اور رسول خدا صلی الله عليہ وآلہ وسلم پر جھوٹ کی نسبت دیتا ہے)خدا اس کو مجھ سے دور کرے۔ اگر مجھے یہ ڈرنہ ہوتا کہ بعض لوگ اس کی خوانخواہی ميں شورش برپا کریں گے جس طرح نہروان کے لوگوں کی خونخواہی ميں بغاوت کی گئی تھی تو ميں اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیتا“

۴ ۔ ایک دوسری روایت ميں مسيب کہتا ہے:

ميں نے علی ابن ابيطالب سے سنا کہ “ عبد الله بن سبا” کی طرف مخاطب ہوکر کہہ رہے تھے افسوس ہو تم پر! خداکی قسم پيغمبر خدا نے مجھ سے کوئی ایسا مطلب نہيں بيان کيا ہے جو ميں نے لوگوں سے مخفی رکھا ہو“

۵ ۔ ایک دوسری روایت ميں مسيب کہتا ہے:

” علی ابن ابيطالب کو خبر ملی کہ ابن سودا ابوبکراور عمر کی بدگوئی کرتا ہے ۔ علی عليہ السلام نے اسے اپنے پاس بلایا اور تلوار طلب کی تا کہ اسے قتل کر ڈالےں ۔ یا یہ کہ جب یہ خبر انهيں پہنچی انهوں نے فيصلہ کيا کہ اسے قتل کر ڈالےں ۔ ليکن اس کے بارے ميں کچھ

گفتگو ہوئی اور یہ گفتگو حضرت کو اس فيصلہ سے منصرف ہونے کا سبب بنی ،ليکن فرمایا کہ جس شہر ميں ، ميں رہتا ہوں اس ميں ابن سبا کو نہيں رہنا چاہئے اس لئے اسے مدائن جلاوطن کر دیا ۔

۶ ۔ ابن عساکر کہتا ہے:

”ایک روایت ميں ا مام صادق عليہ السلام نے اپنے آباء و اجداد سے اور انہوں نے جابر سے نقل کيا ہے کہ : جب لوگوں نے علی عليہ السلام کی بيعت کی، حضرت نے ایک تقریر کی، اس وقت عبدا لله بن سبا اٹھا اور حضرت سے عرض کی : تم “ دابة الارض” ہو ۔ علی عليہ السلام نے فرمایا ؛ خدا سے ڈرو! ابن سبانے کہا: تم پروردگا ہو اور لوگوں کو رزق دینے والے ہو، تم ہی نے ان لوگوں کو خلق کيا ہے اور انهيں رزق دیتے ہو ۔ علی (عليہ السلام )نے حکم دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے ، ليکن رافضيوں نے اجتماع کيا اور کہا؛ یا علی! اسے قتل نہ کریں بلکہ اسے ساباط مدائن جلاوطن کردیں کيونکہ اگر اسے مدینہ ميں قتل کر ڈاليں گے تو اس کے دوست اور پيرو ہمارے خلاف بغاوت کریں گے یہی سبب بنا کہ علی عليہ السلام اس کو قتل کرنے سے منصرف ہوگئے اور اسے ساباط جلاوطن کردیا، کہ وہاں پر “قرامطہ ” اور رافضيوں کے چندگروہ زندگی گذار رہے تھے، جابر کہتا ہے: اس کے بعد گيارہ افراد پر مشتمل سبائيوں کا ایک گروہ اٹھا اور علی عليہ السلام کی الوہيت اور خدائی کے بارے ميں ا بن سبا کی باتوں کو دهرایا، علی عليہ السلام نے ان کے جواب ميں فرمایا :

اپنے عقيدہ سے دست بردار ہوجاؤ اور توبہ کرو کہ ميں پروردگا و خالق نہيں ہوں بلکہ ميں علی ابن ابيطالب ہوں تم ميرے ماں باپ کو جانتے ہو اور ميں محمد کا چچيرا بھائی ہوں ۔ انہوں نے کہا: ہم اس عقيدہ سے دست بردار نہيں ہوں گے تم جو چاہتے ہو ، ہمارے بارے ميں انجام دو اور ہمارے حق ميں جو بھی فيصلہ کرنا چاہتے ہو کرو لہذا علی عليہ السلام نے ان لوگوں کو جلا دیا اور ان کی گيارہ قبریں صحرا ميں مشہور و معروف ہيں ۔

اس کے بعد جابر کہتا ہے : اس گروہ کے بعض دوسرے افراد نے اپنے عقائد کاہمارے سامنے اظہار نہيں کيا تھا ، اس روداد کے بعد انہوں نے کہا: کہ علی ہی خدا ہیں اور اپنے عقيدہ اور گفتار پر ابن عباس کی باتوں سے استناد کرتے تھے کہ انهوں نے پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم سے نقل کياتها: خدا کے علاوہ کوئی آگ کے ذریعہ عذاب نہيں کرے گا۔

جابر کہتا ہے : جب ابن عباس نے ان کے اس استدلال کو سنا ، تو کہا: اس لحاظ سے تمہيں ابوبکر کی بھی پرستش کرنا چاہئے اور ان کی الوہيت کے بھی قائل ہونا چاہئے ، کيونکہ انهوں نے بھی چند افراد کو آگ کے ذریعہ سزا دی ہے ۔


عبدالله بن سبا کے بارے ميں ادیان و عقائد کے علماء کا نظریہ

عبدالله بن سبا من غلاة الزنادقة ضال و مضل

عبدا لله بن سبا انتہا پسند زندیقيوں ميں سے ہے اور وہ گمراہ کنندہ ہے ذہبی

متقدمين کانظریہ :

ہم نے عبد الله بن سبا ، سبئيہ اور ابن سودا کے بارے ميں ادیان اور عقائد کی کتابوں کے بعض متقدم مؤلفين کے بيانات اور نظریات کو گزشتہ فصول ميں ذکر کيا اب ہم ان ميں سے بعض دوسروں کے نظریات اس فصل ميں ذکر کریں گے اس کے بعد اس سلسلہ ميں متاخرین کے نظریات بيان کریں گے ۔

ذہبی (وفات ٧ ۴ ٨ هء) اپنی کتاب “ ميزان الاعتدال ” ميں عبدالله بن سبا کی زندگی کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتا ہے:

” وہ زندیقی اور ملحد غاليوں ميں سے تھا ۔ وہ ایک گمراہ اور گمراہ کنندہ شخص تھا ۔

ميرے خيال ميں علی عليہ السلام نے اسے جلا دیا ہے ” اس کے بعد کہتا ہے: جو زجانی نے عبد الله کے بارے ميں کہا ہے کہ وہ خيال کرتا تھا موجودہ قرآن اصلی قرآن کا نواں حصہ ہے اور پورے قرآن کو صرف علی عليہ السلام جانتے ہيں اور انهيں کے پاس ہے عبد الله بن سبا اس طرح علی ابن ابيطالب کی نسبت اظہار دلچسپی کرتا تھاليکن علی عليہ السلام اسے اپنے سے دور کرتے تھے ”(۱)

____________________

١۔ جوزجانی وہی ابراہيم بن یعقوب بن اسحق سعدی ہے اس کی کنيت ابو اسحاق تھی نواحی بلخ ميں جوزجان ميں پيدا ہوا ہے بہت سے شہروں اور ممالک کا سفر کيا ہے دمشق ميں رہائش پذیر تھا حدیث نقل کرتا تھا“ الجرح و التعدیل ” ، “الضعفاء ” اور“ المترجم ” اس کی تاليفات ہيں ۔

ذہبی اپنی کتاب ‘ ‘ تذکرة الحفاظ” ميں اس کے حالات کی تشریح ميں کہتا ہے : جوزجانی علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے بارے ميں انحرافی عقيدہ رکھتا تھا مزید کہتا ہے : وہ علی عليہ السلام کے خلاف بد گوئی کرتا تھا ۔


ابن حجر ( وفات ٨ ۵ ٢ هء) بھی اپنی کتاب “ لسان الميزان ”ميں عبد الله بن سبا کے بارے ميں ذہبی کے اسی بيان اور ابن عساکر کے پہلے والے بعض نقليات کو نقل کرنے کے بعدکہتا ہے:

”اما م نے ابن سبا کو کہا: خدا کی قسم پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے مجھے کوئی ایسا مطلب نہيں بتایا ہے کہ ميں نے” معجم البلدان” ميں لفط جوزجان ميں آیا ہے کہ جوزجانی نے کسی سے چاہا کہ اس کےلئے ایک مرغ ذبح کرے اس شخص نے نہيں مانا جوزجانی نے کہا: ميں تعجب کرتا ہوں کہ لوگ ایک مرغ کو ذبح کرنے کيلئے آمادہ نہيں ہوتے ہيں جبکہ علی ابن ابيطالب نے تنہا ایک جنگ ميں ستر ہزار افرد کو قتل کيا جوزجانی ٢ ۵ ٩٣١ / هء ميں فوت ہوا ہے )( تذکرة الحفاظ ترجمہ ۵۶ ٩ ، تاریخ ابن عساکر و تاریخ ابن کثير ١١ملاحظہ ہو(

اسے لوگوں سے مخفی رکھا ہو ميں نے رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم سے سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے : قيامت سے پہلے، تيس افرا دکذاب اور جھوٹے پيدا ہوں گے اس کے بعد فرمایا:

ابن سبا تم ان تيس افراد ميں سے ایک ہوگے۔

ابن حجر مزید کہتا ہے:

” سوید بن غفلہ ، علی ابن ابيطالب عليہ السلام کی خلافت کے دوران ، ان کی خدمت ميں حاضر ہوا ور عرض کی : ميں نے بعض لوگوں کو دیکھا جن ميں عبد الله بن سبا بھی موجود تھا ، وہ ابوبکر اور عمر پر سخت تنقيد کرتے تھے اور انهيں برا بهلا کہتے تھے اور وہ اعتقاد رکھتے ہيں کہ آپ بھی ان دو خليفہ کے بارے ميں باطن ميں بدگمان ہيں “

ابن حجر اضافہ کرتا ہے :

”عبد الله بن سبا پہلا شخص تھاجس نے خليفہ اول و دوم کے خلاف تنقيد اور بدگوئی کا آغازکيا اور اظہار کرتا تھا کہ علی بن ابی طالب ان دو خليفہ کے بارے ميں بدگمان تھے اور اپنے دل ميں ان کے بارے ميں عداوت رکھتا ہے ۔ جب علی نے اس سلسلہ ميں عبدا لله بن سبا کے اظہارات کو سنا ، کہا: مجھے اس خبيث سياہ چہرے سے کيا کام ہے ؟ ميں خدا سے پناہ مانگتا ہوں اگر ان دو افرادکے بارے ميں ميرے دل ميں کسی قسم کی عداوت ہو، اس کے بعد ابن سبا کو اپنے پاس بلایا اور اسے مدائن جلا وطن کردیا اور فرمایا: اسے قطعاً ميرے ساتھ ایک شہر ميں ز ندگی نہيں کرنی چاہئے اس کے بعدلوگوں کے حضور ميں منبر پر گئے اورابن سباکی روداد اور خليفہ اول و دوم کی ثنا بيان کی ۔ اپنے بيانات کے اختتام پر فرمایا: اگر ميں نے کسی سے سنا کہ وہ مجھے ان دو خليفہ پر ترجيح دیتا ہے اور ان سے مجھے برتر جانتا ہے تو ميں ا س پر افترا گوئی کی حد جاری کروں گا اس کے بعد کہتا ہے:

” عبد الله بن سبا کے بارے ميں ر وایتيں اور روداد تاریخ کی کتابوں ميں مشہور ہيں ليکن خدا کا شکر ہے کہ اس سے کوئی روایت نقل نہيں ہوئی ہے اس کے ماننے والے “سبائيوں ”

کے نام سے مشہور تھے جو علی ابن ابيطالب عليہ السلام کی الوہيت کے معتقد تھے علی عليہ السلام نے انهيں آگ ميں ڈال کر جلا دیا اور انهيں نابود کردیا ۔(۱)

____________________

١۔ مؤلف کہتا ہے : اس داستان کو جعل کرنے والا ، شاید امام کے ان خطبوں کو فراموش کرگيا ہے جو امام نے ان دو افراد کے اعتراض اور شکایت کے موقع پر جاری کيا تھا۔ جيسے حضرت کا خطبہ شقشقيہ جو نہج البلاغہ کا تيسرا خطبہ ہے۔


”خدا کی قسم فرزند ابو قحافہ نے پيراہن خلافت پہن ليا حالانکہ وہ ميرے بارے ميں ا چھی طرح جانتا تھاکہ مير اخلافت ميں وہی مقام ہے جو چکی کے اندر اس کی کيل کا ہوتا ہے ميں وہ کوہ بلند ہوں جس پر سے سيلاب کا پانی گزر کر نيچے گرتا ہے اور مجھ تک پرندہ پر نہيں مارسکتا ميں نے خلافت کے آگے پردہ لٹکادیا اور اس سے پہلو تہی کر لی اور سوچنا شروع کيا کہ اپنے کٹے ہوئے ہاتھوں سے حملہ کروں یا اس سے بهيانک تيرگی پر صبر کرلوں کہ جس ميں سن رسيدہ بالکل ضعيف اور بچہ بوڑها ہوجاتاہے اور مومن اس ميں جد و جہد کرتا ہوا اپنے پروردگار کے پاس پہنچ جاتا ہے مجھے اسی اندهيرے پر صبر ہی قرین عقل نظر آیا لہذا ميں نے صبر کيا حالانکہ ميری آنکھوں ميں خس و خاشاک اور گلے ميں ہڈی پهنسی ہوئی تھی۔ ميں اپنی ميراث کو لٹتے دیکھ رہا تھا یہاں تک کہ پہلے نے اپنی راہ لی اور اپنے بعد خلافت ابن خطاب کودے گيا تعجب ہے کہ و ہ زندگی ميں تو خلافت سے سبکدوش ہونا چاہتاتھا ليکن اپنے مرنے کے بعد اس کی بنياد دوسرے کيلئے استوا رکرتا گيا بے شک ان دونوں نے سختی کے ساتھ خلافت کے تهنوں کو آپس ميں بانٹ ليا اس نے خلافت کو ایک سخت اور ناہموار جگہ پر رکھ دیا اس کی جراحتيں کاری تھيں اور اس کا چھونا خشن تھا جہاں بات بات ميں ٹھوکر کهانا اورپھر عذر کرنا تھا جس کااس سے سابقہ پڑے وہ ایساہے۔

مقریزی ( وفات ٨ ۴ ٨ هء ) اپنی کتاب “ خطط” کی فصل “ذکر الحال فی عقائد اهل الاسلام ” ميں عبدا لله بن سباکے بارے ميں کہتا ہے: “ اس نے علی ابن ابيطالب کے زمانے ميں بغاوت کی اور یہ عقيدہ ایجاد کيا کہ پيغمبر اسلام صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے علی عليہ السلام کو مسلمانوں کی امامت اور پيشوائی کيلئے معين فرمایا اورپيغمبر کے واضح فرمان کے مطابق آپ کے بعد علی آپ کے وصی، جانشين اور امت کے پيشوا ہيں اس کے علاوہ یہ قيد بھی ایجاد کيا کہ علی ابن ابيطالب عليہ السلام ور رسول خدا اپنی وفات کے بعد رجعت فرمائيں گے یعنی دوبارہ دنيا ميں تشریف لائيں گے ان کے عقيدہ کے مطابق علی ابن ابيطالب نہيں مرے ہيں بلکہ وہ زندہ اور بادلوں ميں ہيں اور خداوند عالم کا ایک جز ان ميں حلول کرچکا ہے(۱)

مقریزی اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے یہاں تک کہتا ہے:

”اس ابن سبا سے غاليوں اور رافصيوں کے کئی گروہ وجود ميں آئے ہيں کہ وہ سب جيسے کہ کوئی سرکش اونٹ پر سوار کہ مہار کھينچتا ہے تو اس کی ناک کا درميانی حصہ شگافتہ ہوجاتا ہے جس کے بعد مہار دینا ہی ناممکن ہوجائے گا اور اگر باگ کو ڈهيلا چھوڑدیتا ہے تو وہ اس کے ساتھ ہلاکتوں ميں پڑجائے گا۔ خدا کی قسم ! لوگ کجروی، سرکشی، متلون مزاجی اور بے راہ روی ميں مبتلا ہوگئے، ميں نے اس طویل مدت اورشدید مصيبت پر صبر کي دوسری جگہ بھی ان فرمائشات کے مانند بيان فرمایا ہے ۔

____________________

١۔ تعجب کا مقام ہے کہ مقریزی اپنی بات ميں تناقض کا شکار ہوا ہے اپنے گذشتہ بيان پر توجہ کئے بغير مقریزی کہتا ہے: ابن سبا کے عقيدہ کے مطابق علی عليہ السلام اپنی وفات کے بعد رجعت کریں گے اس کے بعد بلافاصلہ کہتا ہے ابن سبا معتقد ہے کہ علی - نہيں مرے ہيں اور ا بھی زندہ ہيں ۔


امر امامت ميں “ توقف ” کے قائل ہيں کہتے ہيں : مقام امامت معين افراد کيلئے مخصوص اور منحصر ہے اور ان کے علاوہ کوئی اور اس مقام پر فائز نہيں ہوسکتا ہے ۔

رافضيوں نے رجعت کے عقيدہ کو اسی ابن سبا سے حاصل کيا ہے اور کہا ہے: امام مرنے کے بعد رجعت یعنی دوبارہ دنيا ميں آئيں گے یہ عقيدہ وہی عقيدہ ہے کہ اماميہ ابھی بھی “ صاحب سرداب” کے بارے ميں یہی عقيدہ رکھتے ہيں کہ حقيقت ميں یہ تناسخ ارواح کے علاوہ کوئی اور عقيدہ نہيں ہے ۔

اس کے علاوہ رافضيوں نے حلول کا عقيدہ بھی اسی عبدا لله بن سبا سے حاصل کيا ہے اور کہا ہے: خدا کا ایک جزو علی عليہ السلام کے بعد آنے والے ائمہ ميں حلول کر گيا ہے اور یہ لوگ اسی وجہ سے مقام امامت کے حقدار ہيں ، جس طرح حضرت آدم ملائکہ کے سجدہ کے حقدار تھے۔

مصر ميں خلفائے فاطميين کے بيانات اور دعوی بھی اسی اعتقاد کی بنياد پر تھے جس کا خاکہ اسی عبدا لله بن سبا نے کھينچا تھا ۔

مقریزی اپنی بات کو یوں جاری رکھتاہے: “ابن سبا یہودی ہے جس نے عثمان کے تاریخی فتنہ وبغاوت کو برپا کرکے عثمان کے قتل کا سبب بنا“

مقریزی ابن سبا اور اس کے عالم اسلام اور مسلمانوں کے عقائد ميں ایجاد کردہ مفاسد کی نشاندہی کے بعد گروہ “ سبيئہ ” کا تعارف کراتے ہوئے کہتا ہے:

” پانچواں گروہ بھی “ سبئيہ”ہی سے ہے اور وہ عبدا لله بن سبا کے ماننے والے ہيں کہ اس نے علی ا بن ابيطالب کے سامنے واضح اور کھلم کھلا کہا تھا کہ “ تم خدا ہو“

متاخرین کا نظریہ یہاں تک ہم نے ابن سبا اور گروہ سبيئہ کے بارے ميں عقائد و ادیان کے دانشوروں ،مؤرخين اورادیان کی کتابيں لکھنے والے مؤلفين کے نظریات بيان کئے اور ہم نے مشاہدہ کيا کہ ان علماء کی یہ کوشش رہی ہے کہ ان اقوال اور نظریات کو دورہ اول کے راویوں سے متصل و مربوط کریں اور ان سے نقل قول کریں اور من وعن انہيں مطالب کو بعد والے مؤلفين اور متاخرین نے آ کر تکرار کی ہے اور بحث و تحقيق کے بغير اپنے پيشرؤں کی باتوں کو اپنی کتابوں ميں ثبت کر دیا ہے ، جيسے:

١۔ ابن ابی الحدید ( وفات ۶۵۵ هء) شرح خطبہ ٢٧ از شرح نہج البلا غہ ۔

٢۔ ابن کثير ( وفا ٧٧ ۴ هء ) نے اپنی تاریخ ميں ۔

٣۔ بستانی ( وفات ١٣٠٠ هء) نے بھی جو کچھ عبد الله بن سبا کے بارے ميں اسی لفظ

کے ضمن ميں اپنے دائرة المعارف ميں درج کيا ہے اسے مقریزی اور ابن کثير سے نقل کيا ہے ۔

۴ ۔ دوسروں ، جيسے ابن خلدون نے بھی اس روش پر عمل کيا ہے اور مطالب کو تحقيق کئے بغير اپنے پيشواؤں سے نقل کيا ہے بہر حال اس قسم کے مولفين نے بعص اوقات سيف کے بيانات کو بالواسطہ نقل کرکے اس کی پيروی کی ہے اور کبھی اس قسم کے مطالب نقل کرنے والوں کی پيروی کی ہے اور ان مطالب کو ان سے نقل کرکے دوسروں تک پہنچایا ہے اس قسم کے افراد بہت ہيں مانند مقریزی کہ وہ اپنے مطالب کو سيف کی روایتوں اور “ ملل ونحل”

کی کتابيں لکھنے والے مؤلفين سے نقل کرتا ہے اور بستانی “ ملل و نحل ” کے مؤلفين کے بيانات کو اسی مقریزی اور سيف کی روایتوں کو ابن کثير سے نقل کرتا ہے اور تمام مؤلفين نے بھی اس روش کی پيروی کی ہے ۔


عبدا لله بن سبا کے بارے ميں ہمار ا نظریہ

انهم تنافسوا فی تکثير عدد الفرق فی الاسلام

ادیان کی کتابيں لکھنے والے مؤلفين نے اسلامی فرقوں کی تعداد بڑهانے ميں مقابلہ کيا ہے ۔

انهم یدونون کل ما یدور علی السنة اهل عصرهم

ادیان کی کتابيں لکھنے والوں نے اپنے وقت کے کوچہ و بازار کے لوگوں کے عاميانہ مطالب کو اپنی کتابوں ميں درج کيا ہے. مؤلف یہ تھا عبدالله بن سبا، سبيئہ اور اس سے مربوط روایتوں کے بارے ميں قدیم و جدید علمائے ادیان ، عقائد اور مؤرخين کا نظریہ جو گزشتہ پنجگانہ فصلوں ميں بيان کيا گيا ہے اور اس سلسلہ ميں ہمارا نظریہ یہ ہے کہ ان بيانات اور نظریات ميں سے کوئی ایک بھی مضبوط اور پائيدار نہيں ہے کيونکہ ان کی بنياد بحث و تحقيق پر نہيں رکھی گئی ہے کيوں کہ اصل ميں عبدا لله بن سباسے مربوط روایتيں سيف بن عمر سے نقل کی گئی ہيں ہم نے اس کتاب کی ابتداء ميں اور کتاب “ ایک سو پچاس جعلی اصحاب ” ميں سيف کی روایتوں اور نقليات کی حيثيت کو واضح کردیا ہے اور ثابت کيا ہے کہ وہ ایک خیالی اور جھوٹا افسانہ ساز شخص تھا کہ اس کی روایتيں اور نقليات افسانوی بنیادوں پر استوار ہيں ۔

ملل و مذہبی فرقوں سے متعلق کتابوں کے مؤلف انہوں نے بھی مذاہب اور اسلامی فرقوں کی کثرت اور تعداد کو بڑهانے ميں ایک دوسرے سے مقابلہ کيا ہے اور مختلف گروہوں کی تعداد زیادہ دکھانے ميں ایک دوسرے سے سبقت لينے کی کوشش کی ہے اسلام ميں گوناگوں فرقے اور گروہ وجو دميں لائے ہيں اور ان کی نامگذاری بھی کرتے ہيں تاکہ وہ اس راہ سے جدت کا مظاہر کریں اور جدید مذاہب کے انکشاف ميں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کریں اس محرک کے سبب مجہول اور گمنام تو کبھی خیالی ا فسانوی اور ایسے فرقے اپنی کتابوں ميں درج کردیاہے ہيں جس کا حقيقت ميں کہيں وجو دہی نہيں ہے جيسے : ناووسيہ ، طيارہ ، ممطورہ ، سبئيہ ، غرابيہ ، معلوميہ و مجہوليہ(۱) وغيرہ۔

ا سکے بعد ان مؤلفين نے ان ناشناختہ یا جعلی فرقوں اور گروہوں کے نظریا ت اور عقائد کے بارے ميں مفصل طور پر روشنی ڈالی ہے ہر مؤلف نے اس بارے ميں دوسرے مؤلف پر سبقت لينے کی سرتوڑ کوشش کی ہے اور ہر ایک نے تلاش کی ہے کہ اس سلسلہ ميں جالب تر مطالب اور عجےب و غریب عقائد ان مصروف گروهوں سے منسوب کریں ۔

یہ مؤلفين اور مصنفين اس خود نمائی، فضل فروشی اور غيرو اقعی مطالب لکھنے اور مسلمانوں کی طرف گوناگوں باطل عقائد کی تہمت لگانے ميں ---جن کی کوئی حقيقت نہيں ہے --- ایک بڑے ظلم کے مرتکب ہوئے ہيں ۔

اگر یہ طے پاجائے کہ ہم کسی دن اسلام کے مختلف فرقوں کے بارے ميں کوئی کتا ب لکھيں تو ہم مذکورہ گروہوں ميں ‘ موجدین ” کے نام سے ایک اور گروہ کا اضافہ کریں گے ۔ اس کے بعد اس فرقہ کی یوں نشاندہی کریں گے “ موجدیہ ” اسلام ميں صاحبان ملل و نحل اور عقائد و نظریات پر کتابيں لکھنے والے مؤلفين کا وہ گروہ ہے جن کاکام مسلمانوں ميں نئے نئے فرقے ایجاد کرنا ہے ان کو “ موجدیہ ” اسلئے کہا جاتاہے کہ وہ اسلام ميں فرقے ایجاد کرنے کا کمال رکھتے ہيں اور جن فرقوں کو وہ جعل کرتے ہيں ان کی عجيب و غریب نامگذاری بھی کرتے ہيں ۔

اس کے بعد جعل کئے گئے فرقوں کے لئے افسانوں اور خرافات پرمشتمل عقائدبھی جعل کرتے ہيں ۔

ہمارے اس دعوی کی بہترین دليل اور گویا ترین شاہد وہی مطالب ہيں جو شہرستانی کی “ ملل و نحل ” بغدادی کی الفرق بين الفرق ” اور ابن حزم کی “ الفصل ” کے مختلف ابواب اور فصلوں ميں درج ہوئے ہيں اگر ہم ان کی اچھی طرح تحقيق کریں تو مجبوراً اس نتيجہ پرپہنچيں گے کہ ان کتابوں کی بنياد علم ، تحقيق اور حقيقت گوئی پر نہيں رکھی گئی ہے اور مختلف فرقوں اور گروہوں کو نقل کرنے اور ان کے عقائد و نظریات بيان کرنے ميں ان کتابوں کے اکثر مطالب حقيقت نہيں رکھتے اور ان کے بيشتر نقليات بے بنياد اور خود ساختہ ہيں ۔

محرکا ت ہماری نظر ميں ان مؤلفين کی اس تباہ کن اور علم و تحقيق کی مخالف روش انتخاب کرنے ميں درج ذیل دو عامل میں سے کوئی ایک ہوسکتا ہے :

ا ول :جيسا کہ ہم نےپہلے اشارہ کيا ہے ادیان و مذاہب کی کتابيں لکھنے والے مذکورہ مؤلفين نے ان بے بنياد مطالب ، بيہودہ عقائد اور ان افسانوی اور نامعلوم فرقوں کو فضيلت اور سبقت حاصل کرنے کيلئے اپنی کتابوں ميں درج کيا ہے تا کہ اس کے ذریعہ اپنی جدت پسندی اور ندرت بیانی کرسکيں اور اس کے ساتھ ہی اپنے علم و فضيلت کے مقام کو دوسروں سے برتر ، معلومات کو زیادہ وسيع تر اپنی تاليف کردہ کتابوں کو دوسرو ں کی کتابوں سے تازہ تر اور ہماری اصطلاح ميں تحقيقی تر اور جدید تر اور عجيب تر مطالب والی کتابيں دکھائيں اور اس طرح اسلامی گروہوں کے انکشاف ميں دوسروں سے سبقت حاصل کرليں ۔

دوم : اگر ہم ان مؤلفين کے بارے ميں حسن ظن رکھيں اورےہ نہ کہيں کہ وہ اپنی تاليفات ميں بد نيتی ندرت جوئی ، برتری طلبی اور جدت پسندی رکھتے تھے کم از کم یہ کہنے پر مجبور ہيں کہ ان مؤلفين نے اپنی کتابوں کے مطالب کو اپنے زمانے کے لوگوں کی افواہوں اور گلی کوچوں کے عاميانہ مطالب سے لے کر تاليف کيا ہے ۔

اور خرافات پر مشتمل تمام وہ افسانے ان کے زمانے کے لوگوں کے درميان رائج اور دست بہ دست نقل ہوئے تھے کو جمع کرکے اپنی تاليفات ميں بھر دیا ہے اس لحاظ سے ان کتابوں کو ان مؤلفين کے زمانے کے عاميانہ افکار کی عکاسی کرنے والا آئينہ کہا جاسکتا ہے اور ان کتابوں سے یہ معلوم کيا جاسکتا ہے کہ ان مؤلفين کے زمانے ميں عام لوگ مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے بارے ميں بے بنياد تصورات رکھتے تھے ، جيساکہ ہم اپنے زمانے ميں ان چيزوں کا کثرت سے مشاہدہ کرتے ہيں ۔ مثلاً بعض شيعہ عوام سنی بهائيوں کے بارے ميں یہ عقيدہ رکھتے ہيں کہ ان کے ایک دم ہوتی ہے اور وہ اس دم کو اپنے لباس کے نيچے چهپا کے رکھتے ہيں اور اہل سنت کے عوام بھی شيعوں کے بارے ميں یہ عقيدہ رکھتے ہيں کہ وہ ایک دم رکھتے ہيں ۔

اس لحاظ سے اگر کسی دن ہم بھی ملل و نحل ،عقائد اور نظریات پر کوئی کتاب لکھنا چاہيں تو اسميں مذکورہ مؤلفين کے طریقہ کار کی پيروی کرناچاہيں تو ہميں ان مؤلفين کی کتابوں ميں درج کئے گئے گوناگون فرقوں ميں ایک اور فرقے کا اضافہ کرنا چاہئيے ، اور کہنا چاہئے کہ: ایک اور فرقہ جو مسلمانوں ميں موجود ہے اس کا نام فرقہ “ دُنبيہ ” ہے اور اس فرقہ کے افراد بعض حيوانات کے مانند صاحب دم ہيں اور اس دم کو اپنے لباس کے نيچے مخفی رکھتے ہيں !!


افسانہ نسناس(۱)

هيهات لن یخطی القدر من القضاء این المفرّ ؟

تقدیر کا تير خطا کرکے کتنا دور چلا گيا قضا سے بچنے کی کوئی راہ فرار نہيں ہے .نسناس جيسا کہ ہم نے گزشتہ فصل ميں اشارہ کيا کہ ملل و نحل اور ادیان و عقائد کی کتابيں لکھنے والے مؤلفين کسی دليل ، سند اور ماخذکے ذکر کرنے کی ضرورت کا احساس کئے بغير ہر جھوٹے مطلب اور افسانے کو اپنی کتابوں ميں نقل کرتے ہيں اور اگر بعضوں نے سند و ماخذکا ذکرکيا بھی ہے تو وہ سند و مآخذ صحيح نہيں ہيں کيونکہ افسانوں کيلئے سند جعل کرنا بذات خود ایک دلچسپ کارنامہ ہے جو اس افسانہ کے صحيح یا غلط ہونے پر کسی طرح دلالت نہيں کرتا ہے اگر گزشتہ روایتوں کا آپس ميں موجود تناقض اور ان کے مضمون و متون کا من گڑهت اور ناقابل قبول ہونا ---جيسا کہ گزشتہ صفحات ميں ا ن کی نشاندہی کی گئی ---ان کے جعلی اور جھوٹ ہونے کو ثابت کرنے ميں کافی نہ ہوں اور انهيں بے اعتبار نہ کرسکيں تو ہم آنے والی فصل ميں گزشتہ روایتوں کے مانند چند دوسری جھوٹی روایتوں کو نقل کریں گے جو مسلسل اور متصل سندکے ساتھ صاحب خبر تک پہنچتی ہيں تا کہ اسی قسم کی افسانوی روایتوں کی سندوں کی قدر و قيمت بيشتر واضح ہو سکے ، اور معلوم ہوجائے کہ ان روایتوں کا ظاہر طور پر مستند ہونا ان کے صحيح اور حقيقی ہونے کی دليل نہيں ہوسکتی ہے ،

کيونکہ بہت سی جعلی اور افسانوی روایتےں مسلسل سند کے ساتھ اصلی ناقل تک پہنچتی ہيں ليکن ہرگز صحيح اور واقعی نہيں ہوتيں ۔

افسانہ نسناس کی با سند روایتيں اب ہم ان روایتوں کا ایک حصہ اس فصل ميں ذکر کرتے ہيں جو سند کے ساتھ نقل ہوئی ہيں ليکن پھر بھی صحيح اور واقعی نہيں ہيں اس کے بعد والی فصلوں ميں ان پر بحث و تحقيق کریں گے نتيجہ کے طور پر اس حقيقت تک پہنچ جائيں گے کہ صرف سند نقل کرنا روایت کے صحيح اور اصلح ہونے کی دليل نہيں ہے۔

١۔ مسعودی ، عبد الله بن سعد بن کثير بن عفير مصری سے اور وہ اپنے باپ سے اور وہ یعقوب بن حارث بن نجم سے اور وہ شبيب بن شيبہ تميمی سے نقل کرتا ہے کہ : ميں “ شحر ١ ميں اس علاقہ کے ”

____________________

١۔شحر، بحرالہند کے ساحل پرےمن کی طرف ایک علاقہ ہے (معجم البلدان(


رئيس و سرپرست کا مہمان تھا ، گفتگو کے ضمن ميں “ نسناس” کی بات چهڑگئی ميزبان نے اپنے خدمت گذاروں کو حکم دیا کہ اس کيلئے ایک “ نسناس ” شکار کریں ۔ جب ميں دوبارہ اس کے گھر لوٹ کرآیا تو ميں نے دیکھا کہ خدمت گذار ایک نسناس کو پکڑلائے ہيں نسناس نے ميری طرف مخاطب ہوکر کہا : تجھے خدا کی قسم دیتا ہوں ميرے حال پر رحم کرنا ميرے دل ميں بھی اس کيلئے ہمدردی پيدا ہوئی ،ميں نے اپنے ميزبان کے نوکروں سے کہا کہ اس نسناس کو آزاد کردوتا کہ چلا جائے انہوں نے مير ی درخواست پر نسناس کو آزاد کردیا ۔ جب کهانے کيلئے دستر خوان بچها ، ميزبان نے سوال کيا کيا نسناس کو شکار نہيں کيا ہے ؟ انہوں نے جواب ميں کہا: کيوں نہيں ؟

ليکن تيرے مہمان نے اسے آزاد کر دیا ، اس نے کہا: لہذا تيار رہنا کل نسناس کو شکار کرنے کيلئے جآئیں گے دوسرے دن صبح سویرے ہم شکار گاہ کی طرف روانہ ہوئے اچانک ایک نسناس پيدا ہوا اور اچهل کود کر رہا تھا ، اسکا چہرہ اور پير انسان کے چہرہ اور پير جيسا تھا ،

اس کی ٹهڈی پر چند بال تھے اور سينہ پر پستان کے مانند کوئی چيز نمودار تھی دو کتے اس کا پيچها کررہے تھے او وہ کتوں سے مخاطب ہوکر درج ذیل اشعار پڑه رہا تھا :

ا فسوس ہے مجھ پر ! روزگار نے مجھ پر غم و اندوہ ڈال دیا ہے۔

ا ے کتوں ! ذرا ميرا پيچها کرنے سے رک جاؤ اور ميری بات کو سن کرےقےن کرو۔

ا گر مجھ پر نيند طاری نہ ہوتی توتم مجھے ہر گز پکڑنہيں سکتے تھے ، یا مرجاتے یا مجھ

سے دور ہوجاتے ۔

ميں کمزور اور ڈرپوک نہيں ہوں اور ایسا نہيں ہوں جوخوف و ہراس کی وجہ سے دشمن سے پيچھے ہٹتا ہے ۔

ليکن یہ تقدیر الٰہی ہے کہ طاقتور اور سلطان کو بھی ذليل و خوار کردیتا ہے(۱)

شبےب کہتا ہے کہ آخر کار ان دو کتوں نے نسناس کے پاس پہنچ کر اسے پکڑليا ۔

٢۔ حموی معجم البلدان ميں اس داستان کو شبيب سے نقل کرکے بيشتر تفصيل سے بيان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ شبيب نے کہا:

” ميں شحر ” ميں خاندان “ مہر” کے ایک شخص کے گھر ميں داخل ہوا یہ اس علاقہ کا رئيس اور محترم شخص تھا ميں کئی روز اس کا مہمان تھا اور ہر موضوع پر بات کرتا تھا اس اثناء ميں ميں نے اس سے نسناس اور اس کی کيفيت کے بارے ميں سوال کيا اور اس نے کہا: جی ہاں نسناس اس علاقہ ميں ہے اور ہم اسکا شکار کرتے ہيں اور اس کا گوشت

____________________

١ الویل لی مما به دهانی

دهری من الهموم و الاخزان

قفا قليلاً ایها الکلبان

استمعا قولی و صدقانی

انکما حين تحاربانی

الفيتما حضرا عنانی

لو لا سباتی ما ملکتمانی

حتٰی تموتا او تفارقانی

لست بخوار و لا جبان

و لابنکس رعش الجنان

لکن قضاء الملک الرحمان

یذل ذا القوة و السلطان


کهاتے ہيں مزید کہا : نسناس ایک ایسا حيوان ہے جس کے ایک ہاتھ اور ایک پير ہیں اور اس کے تمام اعضا یعنی کان ، آنکھ ایک سے زیادہ نہيں ہيں اور اس کا نصف چہرہ ہوتا ہے ۔

شبيب کہتا ہے : خدا کی قسم دل چاہتا ہے کہ اس حيوان کو نزدیک سے دیکھ لوں ،

اس نے اپنے نوکروں کو حکم دیاکہ ایک نسناس کا شکار کریں ۔ ميں نے دوسرے دن دیکھا کہ اس کے نوکروں نے اس حيوان کو پکڑ لیا جس کا چہرہ انسان کے جيسا تھا ، ليکن نہ پورا چہرہ بلکہ نصف چہرہ اس کے ایک ہاتھ تھا وہ بھی اس کے سينہ پر لٹکا ہوا تھا اسی طرح اس کا پير بھی ایک ہی تھاجب نسناس نے مجھے دیکھا تو کہا؛ ميں خدا کی اور تيری پناہ چاہتا ہوں ميں نے نوکروں سے کہا کہ اسے آزاد کردو انہوں نے ميرے جواب ميں کہا: اے مرد! یہ نسناس تجھے فریب نہ دے کيونکہ یہ ہماری غذا ہے ليکن ميرے اصرار اور تاکيد کے نتيجہ ميں انہوں نے اسے آزاد کردیا ۔ اور نسناس بهاگ گيا اور طوفان کی طرح چلا گيا اور ہماری آنکھوں سے غائب ہوگيا جب دوپہر کے کهانے کا وقت آیا اور دسترخوان بچهایاگياتو ميزبان نے اپنے نوکروں سے سوال کيا : کيا ميں نے کل تمہيں نہيں کہا تھا کہ ایک نسناس کا شکار کرنا ؟

انہوں نے کہا: ہم نے ایک کو شکار کيا تھا ليکن تيرے مہمان نے اسے آزاد کردیا ميزبان نے ہنس کر کہا: لگتا ہے کہ نسناس نے تجھے فریب دیا ہے کہ تم نے اسے آزاد کيا ہے اس کے بعد نوکروں کو حکم دیا کہ کل کيلئے ایک نسناس کا شکار کریں شبيب کہتا ہے : ميں نے کہا اجازت دو گے کہ ميں بھی تيرے غلاموں کے ہمراہ شکار گاہ جاؤں اور نسناس کو شکار کرنے ميں ان کی مدد کروں ؟ اس نے کہا : کوئی مشکل نہيں ہے ،ہم شکاری کتوں کے ہمراہ شکار گاہ کی طرف روانہ ہوئے اور رات کے آخری حصہ ميں ایک بڑے جنگل ميں پہنچے ، اچانک ایک آواز سنی جيسا کہ کوئی فریاد بلند کررہا تھا: اے ابو مجمر ! صبح ہوچکی ہے ، رات نے اپنا دامن سميٹ لیاہے ، شکاری سر پر پہونچ چکا ہے لہذا جلدی سے اپنے آپ کو کسی پنا گاہ ميں پہنچا دو(۱) !

دوسرے نے جواب ميں کہا: کلی و لا تراعی “ کهاو اور ناراض مت ہو“

راوی کہتا ہے : ميں نے دیکھا کہ “ ابو مجمر ” کو دو کتوں نے محاصرہ کيا ہے اور وہ یہ اشعار پڑه رہا ہے :الویل لی مما دهانی تا آخر اشعار ( کہ گزشتہ روایت ميں ملاحظہ فرمایا(

شبيب کہتا ہے : آخر کار وہ دو کتے “ ابو مجمر ” کے نزدیک پہنچے اور اسے پکڑ ليا ۔

جب دوپہر کا وقت آیا نوکروں نے اسی ابو مجمر کا کباب بنا کر ميزبان کے دستر خوان پر رکھا۔

٣۔ پھر یہی حموی ، حسام بن قدامہ اور وہ اپنے باپ سے اور وہ بھی اپنے باپ سے نقل کرتا ہے : ميرا ایک بھائی تھا ، اس کا سرمایہ ختم ہوا تو وہ تنگ دست ہوگے

ا۔ سرزمين ‘ ‘ شحر ”ميں ہمارے چند چچيرے بھائی تھے ۔ ميرا بھائی اس اميد سے کہ چچيرے بھائی اس کی کوئی مالی مدد کریں گے “ شحر ” کی طرف روانہ ہوا ۔ چچيرے بهائيوں نے اس کی آمد کو غنيمت سمجھ کر اس کا استقبا ل کيا اور اس کی مہمان

____________________

١۔ یا ابا مجمر! ان الصبح قد اسفر ، و الليل قد ادبر و القنيص قد حضر فعليک بالوزر ۔


نوازی اور خاطر تواضع کرنے ميں کوئی کسر باقی نہ رکھی ۔ ایک دن اسے کہا کہ اگر ہمارے ساتھ شکار گاہ آجاؤ گے توتيرے لئے یہ سےر و سياحت نشاط و شادمانی کا سبب ہوگی ۔

مہمان نے کہا اگر مصلحت سمجھتے ہيں تو کوئی حرج نہيں ہے اور ان کے ساتھ شکار گاہ کی طرف روانہ ہوا یہاں تک ایک بڑے جنگل ميں پہنچے اسے ایک جگہ پرٹھہرا کر خود شکار کرنے کيلئے جنگل ميں داخل ہوئے ۔ وہ مہمان کہتا ہے : ميں ایک کنارے پر بيٹها تھا کہ اچانک دیکھا کہ ایک عجيب الخلقہ مخلوق جنگل سے باہر آئی ظاہری طور پر یہ مخلوق انسان سے شباہت رکھتی تھی اس کے ایک ہاتھ اور ایک پير تھا اور ایک آنکھ اور نصف ریش یہ جانور فریاد بلند کررہا تھا :الغوث ! الغوث! الطریق الطریق عافاک الله ( مدد ! مدد! راستہ چھوڑو ! راستہ چھوڑو ! خدا تجھے سلامت رکھے داستان کا راوی کہتا ہے : ميں اسکے قيافہ اور ہيکل کو دیکھ کر ڈر گيا اور بهاگ کھڑا ہوا اور متوجہ نہيں ہوا کہ یہ عجيب مخلوق وہی شکار جس کے بارے ميں ميرے ميزبان نے گفتگو کی تھی ، وہ جانور جب اچهلتے کودتے ہوئے ميرے نزدیک سے گزرا تھا تو درج ذیل مضمون کے اشعار پڑه رہا تھا ۔

صياد کی صبح ہوئی شکاری کتوں کے ہمراہ شکار پر نکل پڑے ہیں آگاہ ہوجاؤتمہارےلئے نجات کا راستہ ہے۔

ليکن موت سے کہاں فرار کيا جاسکتا ہے ؟ مجھے خوف دلایا جاتا اگر اس خوف دلانے ميں کوئی فائدہ ہوتا!مقدر کے تير کا خطا ہونا بعيد ہے تقدیر سے بهاگنا ممکن نہيں(۱)

جب وہ مجھ سے دور چلا گيا، تو فوراً ميرے رفقاء جنگل سے باہر آگئے اور مجھ سے کہا : ہمارا شکار کہاں گيا جسے ہم نے تيری طرف کوچ کيا تھا ؟ ميں نے جواب ميں کہا: ميں نے کوئی شکار نہيں دیکھا ، ليکن ایک عجيب الخلقة اور حيرت انگيز انسان کو دیکھا کہ جنگل سے باہر آیا اور تيزی کے ساتھ بهاگ گيا ۔ ميں نے اس کے قيافہ کے بارے ميں تفصيلات بتاتی تو

____________________

١غدا القنيص فابتکر

باکلب وقت السحر

لک النجا وقت الذکر

ووزر و لا وزر

این من الموت المفر ؟

حذّرت لو یغنی الحزر

هيهات لن یخطی القدر

من القضاء این المفر؟ !


ا نہوں نے ہنس کر کہا: ہمارے شکار کو تم نے کھودیا ہے ميں نے کہا؛ سبحان الله کيا تم لوگ آدم خور ہو ؟ جس کو تم اپنا شکار بتاتے ہو وہ تو آدم زاد تھا باتيں کرتا تھا اور شعر پڑهتا تھا ۔ انہوں نے جواب ميں کہا: بھائی ! جس دن سے تم ہمارے گھر ميں داخل ہوئے ہو صرف اسی کا گوشت کهاتے ہو ، کبھی کباب کی صورت ميں تو کبھی شوربے دار گوشت کی صورت ميں ۔ ميں نے کہا: افسوس ہو تم پر ! کيا ان کا گوشت کهایا جاسکتاہے اور حلال ہے ؟ انہوں نے کہا؛ جی ہاں چونکہ یہ پيٹ والے ہيں اور جگالی بھی کرتے ہيں لہذا ان کا گوشت حلال ہے ۔

۴ ۔ پھر سے حموی -- “ ذ غفل ” نسابہ(۲) سے اور وہ ایک عرب شخص سے نقل کرتا ہے کہ ميں چند لوگو کے ہمراہ “ عالج ” کے صحرا ميں چل رہے تھے کہ ا تفاق سے ہم راستہ بهول گئے یہاں تک سمندر کے ایک ساحل پر واقع جنگل ميں پہنچ گئے اچانک دیکھا کہ اس جنگل سے ایک بلند قامت بوڑها باہر آیا ۔ اس کے سروصورت انسان کے مانند تھےليکن بوڑها تھا ایک ہی آنکھ رکھتا تھا اور تمام اعضاء ایک سے زیادہ نہ تھے جب اس نے ہميں دیکھا تو بڑی تيزی سے تيز رفتار گھوڑے سے بھی تيز تر رفتار ميں بهاگ گيا ، اسی حالت ميں اس مضمون چند اشعار بھی پڑهتا جارہاتھا:

خارجی مذہب والوں کے ظلم سے تيزی کے ساتھ فرار کررہا ہوں چونکہ بهاگنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہيں ہے ۔

ميں جوانی ميں بڑا طاقت ور اور چالاک تھا ليکن آج کمزور اور ضعيف ہوگیا ہوں ١

۵ ۔ پھر حموی کہتا ہے : یمن کے لوگوں کی روایتوں ميں آیا ہے کہ کچھ لوگ نسناس کے شکار کيلئے گئے لشکر گاہ ميں انہوں نے تين نسناسوں کودیکھا ان ميں سے ایک کو شکار کيا ۔ باقی دونسناس درختوں کی پيچھے چهپ گئے اور شکاری انهيں ڈهونڈ نہ سکے ۔

ایک شکار ---جس نے نسناس کا شکار کيا تھا ---نے

____________________

٢۔ ذغفل ، حنطلہ بن زید کا بيٹاہے ابن ندیم کہتا ہے؛ ذغفل کا اصل نام حجر ہے اورذغفل اس کا لقب ہے اس نے عصر پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کو درک کيا ہے ليکن اس کا صحابی ہونا علماء تراجم کے یہاں اختلافی مسئلہ ہے قول صحيح یہ ہے کہ اسے پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے صحابی ہونے کا افتخار ملا ہے معاویہ کی خلافت کے دوران اس کے پاس گيا معاویہ نے اس سے ادبيات ، انساب عرب اورعلم نجوم کے بارے ميں چندسوال کئے اس کی معلومات کی وسعت اسے بہت پسند آئی حکم دیا تا کہ اس کے بيٹے کو علم انساب ،نجوم ، اورادبيات سکهائے ، دغفل جنگ ازارقہ ميں ۶٠ هء سے پہلے دولاب فارس ميں ڈوب گيا ۔ فہرست ابن ندیم ٢٣۶ رجوع کيا جائے ۔ / ۴۶۴ نمبر ٢٣٩٩ اور تقریب التہذیب ١ / ١٣٢ اصابہ ١ / ١٣١ ، و المحجر ۴٧٨ ، اسدا لغابہ ٢

١ فررت من جود الشراة شدا اذ لم اجد من القرار بدا

قد کنت دهراً فی شبابی جلدا فها انا اليوم ضعيف جدا


کہا: خداکی قسم جسے ہم نے شکار کيا ہے بہت ہی چاق اور سرخ خون والا ہے جب اسکی آواز کو درختوں ميں چهپے نسناسيوں نے سنی تو انميں سے ایک نے بلند آواز ميں کہا: چونکہ اس نے “ صرو ” ١

کے دانے زیادہ کهائے تھے لہذا چاق ہوا ہے جب شکاریوں نے اس کی آواز سنی اس کی طرف دوڑے اور اسے بھی پکڑ ليا ۔ ایک شکاری نے ۔ جس نے اس نسان کا سر کاٹا تھا۔ کہا:

خاموشی اور سکوت کتنی اچھی چيز ہے ؟ اگر یہ نسناس زبان نہ کهولتا ہم اس کی مخفی گاہ کو پيدا نہيں کرسکتے اور اسے پکڑ نہيں سکتے تھے اسی اثناء ميں درختوں کے بيچ ميں تيسرے نسناس کی آواز بھی بلند ہوئی اور اس نے کہا: دیکھئے ميں خاموش بيٹها ہوں اور زبان نہيں کهولتا ہوں ۔ جب اس کی آواز کو شکاریوں نے سنا تو اسے بھی پکڑ ليا اس طرح تينوں نسناسوں کو پکڑ کر ذبح کيا اور ان کا گوشت کها ليا۔

یہ تھا ان روایتوں کا ایک حصہ جنہيں سند کے ساتھ نسناس کے بارے ميں نقل کيا گيا ہے اگلی فصل ميں اور بھی کئی روایتيں نسناس کے وجود کے بارے ميں نقل کرکے ان پر بحث و تحقيق کریں گے۔


نسناس کے پائے جانے اور اسکے معنی کے بارے ميں نظریات

انّ حيّاً من قوم عاد عصوا رسولهم فمسخهم الله ن سناساً

قوم عاد کے ایک گروہ نے اپنے پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی نافرمانی کی تو خدا نے انهيں نسناس کی صورت میں مسخ کردے(۱) ۔ ( بعض لغات کی کتابيں )

ہم نے گزشتہ فصل ميں نسناس کے بارے ميں کئی روایتيں نقل کيں ۔ اب ہم اس فصل ميں نسناس کے وجود اورتعارف کے بارے ميں کئی دوسری روایتيں نقل کریں گے اور اس کے بعد ان روایتوں پر بحث و تحقيق کریں گے ۔

١۔ حموی نے احمد بن محمد ہمدانی ١ کی کتاب سے نسناس کے وجود کے بارے ميں يوں نقل کيا ہے:” آدم ” کی بيٹی “ وبار ” ہر سال صنعا ميں “شحر ” اور ‘ تخوم ” کے درميان واقع ایک وسيع اورسرسبز

____________________

١۔ احمد بن محمد بن اسحاق ، معروف بہ ابن الفقيہ ہمدانی صاحب ایک کتاب ہے جو ملکوں اور شہروں کی شناسائی پر ہے اوریہ کتاب دو ہزار صفحات پر مشتمل ہے اس کی وفات ٣۴٠ ه ء ميں واقع ہوئی ہے فہرست ابن ندیم ٢١٩ اور هدیة العارفين ۔


شاداب محل ميں کچھ مدت گزاری تھی چونکہ یہ علاقہ روئے زمين پر پر برکت ترین ،سر سبز و شاداب ترین علاقہ تھا اور دنيا کے دوسرےحصوں کی نسبت یہاں پر بيشتر درخت ، باغات ، ميوہ اور پانی جيسی نعمتيں تھيں ، اس لئے تمام علاقوں سے مختلف قبائل وہاں جاکر جمع ہوتے تھے بہت سی زمينيں آباد کی گئيں تھی اور ان کی ثروت دن بہ دن بڑهتی جا رہی تھی ، اس لئے ان لوگوں نے تدریجاً عياشی اور خوش گزارانی کے لئے اپنا ٹهکانابناليا تھا اور کفر و الحاد کی طرف مائل ہوگئے تھے اور طغيانی و بغاوت پر اتر آئے تھے خداوند عالم نے بھی ان کی اس نافرمانی اور بغاوت کے نتيجہ ميں ان کی تخلےق و قيافہ کو مسخ کرکے انهيں نسناس کی صورت ميں تبدیل کردیاتا کہ ان کے زن و مرد نصف سر و صورت اور ایک آنکھ ایک ہاتھ اور ایک ٹانگ والے ہوجآئیں ، وہ اس قيافہ و ہيکل کی حالت ميں سمندر کے کنارے نيزاروں (جهاڑیوں ) ميں پھر تے تھے اومویشيوں کی طرح چرا کرتے تھے ۔

٢۔ طبری نسناس کے نسب کو ابن اسحاق سے یوں نقل کرتا ہے:

’ اميم بن لاوذ بن سام بن نوح کی اولاد صحرائے “ عالج ” ميں “ وبار” کے مقام پر رہائش پذیر تھے ۔ نسل کی افزائش کی وجہ سے ان کی آبادی کافی حد تک بڑه گئی اور وہ ثروت مند ہوگئے اس کے بعد ایک گناہ کبيرہ کے مرتکب ہونے کی وجہ سے خدا کی طرف سے ان پر بلا نازل ہوئی کہ اس بلا کے نتيجے ميں وہ سب ہلاک ہوگئے صرف ان ميں سے معدود چندافراد باقی بچے ليکن وہ دوسری صورت ميں مسخ ہوئے کہ اس وقت نسناس کے نام سے مشہور ہيں ۔

٣۔ پھر سے طبری ابن کلبی(۱) سے نقل کرتا ہے : “ابرهة بن رائش بن قيس صفی بن سبا بن یشجب کے بيٹے یمن کے پادشاہ نے ملک مغرب کی انتہا پر ایک جنگ لڑی اور اس جنگ ميں اس نے فتح پائی ایک بڑی ثروت کو غنيمت کے طورپر حاصل کيا ان غنائم کو نسناسوں کے ساتھ لے آیا ۔ وہ وحشتناک قيافہ رکھتے تھے لوگوں نے وحشت ميں پڑ کر پادشاہ کو “ ذو الاذاعر”’ نام رکھا یعنی رعب ووحشت والے

۴ ۔ کراع(۲) کہتا ہے: نسنا س نون پر زبر یا زیر سے --- نقل ہوا ہے کہ ---- وحشی حيوانوں ميں سے ایک حيوان ہے کہ اسے شکار کرتے ہيں اور اس کا گوشت کهاتے ہيں ۔ ان کا قيافہ انسانوں کا سا ہے اور انسانوں کی طرح گفتگو کرتے ہيں البتہ ایک آنکھ ، ایک ہاتھ اور ایک ٹانگ رکھتے ہيں ۔ ۵ ۔ ازهری ٣ نسناس کی یوں نشان دہيکرتا ہے:

____________________

١۔ ابن کلبی : ہشام بن محمد کلبی نسابہ کے نام سے معروف ہے ٢٠۴ هف یا ٢٠۶ ه ميں وفات پائی ہے ۔

٢۔ کراع النمل : وہی ابو الحسن علی بن حسن ہنائی عضدی مصری ہے کہ چھوٹے قد کی وجہ سے “ کراع النمل ”سے معروف تھا ۔ لغت عرب ميں وسيع معلومات رکھتا تھا اور صاحب تاليفات بھی تھا اس نے ٣٠٩ ئه کے بعد / ١١٢ ) اور انباء الرواہ القفطی ( ٢ وفات پائی ہے اس کی زندگی کے حالات کے بارے ميں ا رشاد الاریب حموی ( ۵٢۴٠ کی طرف رجوع کيا جائے ۔


۵۔ ازہری : ابو منصور محمد بن احمد بن ازہر علمائے لغت ميں سے ہے کہتے ہيں لغت عربی کو جمع کرنے کيلئے ٣٨ / اس نے تمام عرب نشين علاقوں کا سفر کيا ہے ۔ ٣٧٠ ميں وفات پائی ہے اس کی زندگی کے حالات اللباب ١ميں آئے ہيں ۔

” نسناس ایک مخلوق ہے جو قيافہ اور ہيکل کے لحاظ سے انسان جيسے ہيں ليکن جنس بشر سے نہيں ہيں بعض خصوصيات ميں انسان سے مشابہ ہيں اور بعض دوسرے خصوصيات ميں انسان سے مشابہ نہيں ہيں ۔

۶ ۔ جوہری(۱) صحاح اللغة ميں یوں کہتا ہے : نسناس ایک قسم کی مخلوق ہے جو ایک ٹانگ پر چلتے اور اچهل کود کرتے ہيں ۔

٧۔ زبيدی نے ‘ ‘ ابی الدقيش ”(۲) سے “ التاریخ ” ميں یوں نقل کيا ہے کہ نسناس سام بن سام کی اولاد تھے جو قوم عاد و ثمود تھے ليکن نسناس عقل نہيں رکھتے ہيں اور ساحل هند کے نيزاروں (جهاڑیوں )ميں زندگی گذارتے ہيں عرب اور صحرا نشين انهيں شکار کرتے ہيں ا ور ان کے ساتھ گفتگو کرتے ہيں نسناس عربی زبان ميں بات کرتے ہيں نسل کی نسل بڑهاتے ہيں اور شعر بھی کہتے ہيں ، اپنے بچوں کے نام عربی ميں رکھتے ہيں ۔

٨۔ مسعودی کہتا ہے : نسناس ایک سے زیادہ آنکھ نہيں رکھتے۔ کبھی پانی سے باہر آتے ہيں اور گفتگو کرتے ہيں اور اگر کسی انسان کو پاتے ہيں تو اسے قتل کر ڈالتے ہيں ۔

٩۔ نہایة اللغة ” ، ‘ ‘ لسان الميزان ” ، “ قاموس ” اور ‘ التاج” نامی لغت کی معتبر و قابل اعتماد چار کتابوں کے مؤلفيں نے لغت “نسناس” کے ضمن ميں اس روایت کو نقل کيا ہے کہ :قوم عاد کے ایک قبيلہ نے اپنے پيغمبر کی نافرمانی کی تو خداوند عالم نے انهيں مسخ کرکے نسناس کی صورت ميں تبدیل کر دیاکہ وہ ایک ہاتھ اور ایک ٹانگ رکھتے ہيں اوروہ ا نسان کا نصف بدن رکھتے ہيں راستہ چلتے وقت پرندوں کی طرح اچهل کود کرتے ہيں اور کهانا کهاتے وقت بھی حيوانوں کی طرح چرتے ہيں ۔

١٠ ۔ قاموس اور شرح قاموس التاج ميں آیا ہے : کبھی کہتے ہيں کہ نسناس کی وہ نسل نابود ہوچکی ہے جو قوم عاد سے مسخ ہوئی تھی ۔

کيونکہ دانشوروں نے تحقيق کی ہے کہ مسخ شدہ انسان تين دن سے زیادہ زندہ نہيں رہ سکتا ہے ليکن اس قسم کے نسناس --- جنہيں بعض جگہوں پر عجيب قيافہ اور خلق ميں دیکھا گيا ہے --- کوئی اور مخلوق ہے اور شاےد نسناس تين مختلف نسل ہيں : ناس ،

نسناسی ، اور نسانس نوع آخر کی مؤنث اور جنس مادہ ہے!

١١ ۔پھر سے “ التاریخ ” ميں “ عباب ” سے نقل کرتا ہے کہ نسل نسناس نسل نسناس سے عزیز تر و شریف تر ہے پھر ابو ہریرہ سے نسناس کے بارے ميں ایک حدیث نقل کی ہے کہ

____________________

١۔ جوہری : ابو نصر اسماعيل بن حماد ہے ان کی نسب بلا د ترک کے فاراب سے ہے اس نے عراق اور حجاز کے سفر کئے ہيں تمام علاقوں کا دورہ کيا ہے اس کے بعد نيشابور آیا ہے اور اسی شہر ميں سکونت کی ہے لکڑی سے دو تختوں کو پروں کے مانند بنا کر انهيں آپس ميں ایک رسی سے باندها اور چهت پر جاکر آواز بلند کی لوگو! ميں نے ایک ایس چيز بنائی ہے جو بے مثال ہے ابھی ميں ان دو پروں کے ذریعہ پر وار کروں گا نيشابور کے لوگ تماشا دیکھنے کيلئے جمع ہوئے اس نے اپنے دونوں پروں کو ہلا کر فضا ميں چهلانگ لگادی ليکن ان مصنوعی دو پروں نے اس کی کوئی یاری نہيں کی بلکہ وہ چهت سے زمين پر ١٠ ) کی طرف رجوع فرمائيں ۔( / ٢۶٩ ) لسان الميزان ۴٠٠ /٢ گر کر مرگيا ۔ یہ روئداد ٣۴٣ هء ميں واقع ہوئی ۔ معجم الادباء ٠٧ ميں آیا ہے ۔

٢۔ ابو الدقيش : قناتی غنوی ہے کہ اس کے حالا ت کی شرح ميں فہرست ابن ندیم طبع مصر ص ٠


اس عجيب نسل سے گروہ “ ناس ” نابود ہوگئے ہيں ليکن گروہ “ نسناس ” باقی ہیں اور اس وقت بھی موجود ہيں

١٢ ۔ سيوطی سے نقل ہوا ہے کہ اس نے نسناس کے بارے ميں یوں نظریہ پيش کيا ہے ” لےکن وہ معروف حيوان جسے لوگ نسناس کہتے ہيں ان ميں سے ایک نوع بندر کی نسل ہے اور وہ پانی ميں زندگی نہيں کرسکتے یہ حرام گوشت ہيں ليکن ان حيوانوں کی دوسری نوع جو دریائی ہيں اور پانی ميں زندگی بسر کرتے ہيں ، ان کا گوشت حلال ہونے ميں دو احتمال ہے “ رویانی ”(۱) اور بعض دوسرے دانشور کہتے ہيں : ان کاگوشت حلال اور خوردنی ہے ۔

١٣ ۔ شيخ ابو حامد غزالی(۲) سے نقل ہوا ہے کہ نسناس کا گوشت حلال نہيں ہے کيونکہ وہ خلقت انسان کی ایک مخلوق ہے ۔

١ ۴ ۔ مسعودی ‘ مروج الذہب ” ميں نقل کرتا ہے:

” متوکل نے اپنی خلافت کے آغاز ميں حنين بن اسحاق(۳) سے کہا کہ چند افرادکو“نسناس ”اور اس کے بعد مسعودی کہتا ہے:

” ہم نے اس روداد کی تفصيل اور تشریح اپنی کتاب “ اخبار الزمان ” ميں درج کی ہے ،

اور وہاں پر اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ان لوگوں کو “ عربد” لانے کيلئے “ یمامہ اور نسناس ” لا نے کيلئے “ شحر ” بھيجا گيا تھا ۔یہ تھيں افسانہ نسناس اور اس کے پائے جانے کے بارے ميں روایتيں جو نام نہاد معتبر اسلامی کتابوں ميں درج کی گئی ہيں اور یہ روایتيں سند اور راویوں کے سلسلہ کے ساتھ

____________________

١۔ رویانی رویان سے منسوب ہے اور رویان طبرستان کے پہاڑوں کے درميان ایک بڑا شہر ہے حموی نے رویان کی تشریح ميں کہا ہے رویان ایک شہر ہے علماء اور دانشوروں کا ایک گروہ اسی شہر سے منسوب ہے جيسے : ابو لمحاسن عبدالواحد بن اسماعيل بن محمد رویانی طبری جو قاضی اور مذہب شافعی کے پيشواؤں ميں سے ایک ہے اور اس شخص نے بہت سی کتابيں لکھی ہيں علم فقہ ميں بھی ایک بڑی کتا ب“ البحر ” تصنیف کی ہے سخت تعصب کی وجہ سے ۵٠٠ هء یا ۵٠١ هء ميں مسجد جامع آمل ميں اسے قتل کيا گيا ۔

٢۔ ابو حامد : محمد بن محمد بن محمدغزالی ہے ایک گاؤں سے منسوب ہے جس کا نام غزالہ ہے یا یہ کہ منسوب بہ غزل ہے وہ ایک فلاسفر اور صوفی مسلک شخص ہے اس نے حجة الاسلام کا لقب پایا ہے دو سو سے زیادہ کتابيں لکھی ہيں اور مختلف شہروں جيسے : نيشابور ، بغداد ، حجاز ، شام اور مصر کے سفر کئے ہيں اور وہاں سے اپنے شہر طابران واپس آیا ہے اور وہيں پر ۵٠۵ ئه ميں وفات پائی ہے ۔

٣۔ حنين بن اسحاق کا باب اہل حيرہ عراق تھا بغداد کے علماء کا رئيس تھا اس کی کنيت ابو زید اور لقب عبادی تھا ٢۶٠ هء ميں اس نے وفات پائی (وفيات الاعيان) ۔


”عربد” ١ لانے کيلئے یتار کرے ۔ کئی لوگ گئے ، ليکن انہوں نے جتنی بھی کوشش اور کاروائی کی صرف دونسناس کو متوکل کی حکومت کے مرکز “ سرمن رای” تک صحيح و سالم پہنچا سکے ۔

اصلی ناقل تک پہنچی ہيں ليکن اس کے باوجود یہ تمام روایتيں جھوٹ اور افسانہ کے علاوہ کچھ نہيں ہيں ۔ ان کی اسناد اور راویوں کا سلسلہ بھی جھوٹ کو مضبوط اور مستحکم کرنے کيلئے جعل کيا گيا ہے اگلی فصل ميں یہ حقيقت اور بھی واضح ہوگی ۔

بحث کا خلاصہ اور نتيجہ افسانہ نسناس کے اسناد ہم نے گزشتہ دو فصلوں ميں نسناس کے وجود اور پيدائش کے بارے ميں نقل کی گئی روایتوں کو انکے اسناد اور راویوں کے سلسلہ کے ساتھ ذکر کيا ہے اور دیکھا کہ یہ روایتيں ایسے افراد سے نقل کی گئی ہيں کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے نسناس کو دیکھا ہے اور اپنے کانوں سے ان کی گفتگو و اشعار اور ان کا قسم کهانا سنا ہے اسے دیکھا ہے کہ ایک ہاتھ اور ایک ٹانگ اورایک آنکھ اور نصف صورت کے باوجود بظاہر شبيہ انسان طوفان کے مانند تيز رفتار گھوڑے سے بھی تيز تر دوڑتے تھے ۔

ا ن دو روایتوں کو ایسے افراد سے نقل کيا ہے کہ انہوں نے نسناس کا شکار کرنے اور اس کا گوشت کباب اور شوربہ دار گوشت کی صورت ميں کهانے ميں شرکت کی ہے ۔

ایسے افرادسے بھی روایت کی ہے کہ اس کے گوشت کے حلال ہونے ميں اشکال کيا ہے اور کہا ہے کہ چونکہ نسناس انسان کی ایک قسم ہے اور گفتگو و شعر کہتا ہے اس لئے حرام ہے اس کے مقابلہ ميں بعض دوسرے افراد نے کہا ہے کہ نسناس کا گوشت حلال ہے کيونکہ وہ پيٹ رکھتا ہے اور حيوانوں کے مانند جگالی کرتا ہے ۔

ان روایتوں کو ایسے افراد نے نقل کيا ہے کہ خود انہوں نے خليفہ عباسی متوکل کو دیکھا ہے کہ اس نے اپنے زمانے کے بعض حکماء کو بھيجا کہ اس کيلئے “ عربد” اور “ نسناس ” شکار کرکے لائيں اور ان کے توسط سے دو عدد نسناس سامراء پہنچے ہيں ۔

ایسے افراد سے ان روایتوں کو نقل کيا گيا ہے کہ وہ خود نسناس شناس ہيں ا ور انہوں نے نسناس کے شجرہ نسب کے بارے ميں تحقيق کی ہے اور اپنا نظریہ پيش کيا ے اور ان کا شجرہ نسب بھی مرتب کيا ہے اور اس طرح نسناس کی نسل حضرت نوح تک پہنچتی ہے وہ اميم بن لاوذبن سام بن نوح کی اولاد ہيں جب بغاوت کرکے معصيت و گناہ ميں حد سے زیادہ مبتلا ہوئے تو خداوند عالم نے انهيں مسخ کيا ہے ۔

ان تمام مسلسل اور باسند روایتوں کو علم تاریخ کے بزرگوں ،علم رجال کے دانشوروں اور علم انسان کے اساتذہ نے نقل کيا ہے ، جيسے:

١۔ عظيم ترین اور قدیمی ترین عرب نسب شناس ابن اسحاق ( وفات ۶ ٨ هء(

٢۔ مغازی اور تاریخ کے دانشوروں کا پيشوا ابن اسحاق ( وفات ١ ۵ ١ هء(

٣۔ نسب شناسوں کا امام و پيشوا : ابن کلبی ( وفات ٢٠ ۴ هء(

۴ ۔ مؤرخيں کے امام و پيشوا: طبری ( وفات ٣١٠ ئه(

۴ ۔ جغرافيہ دانوں کے پيش قدم : ابن فقيہ همدانی ( وفات ٣ ۴ ٠ هء(

۶ ۔ تاریخ نویسوں کے علامہ : مسعودی ( وفات ٣ ۴۶ هء(

٧۔ علم بلدان کے عظيم دانشور : حموی ( وفات ۶ ٢ ۶ ئه(

٨۔ مختلف علم کے علامہ و استاد : ابن اثير ( وفات ۶ ٣٠ ئه(

جی ہاں ہم نے گزشتہ صفحات ميں جتنے بھی مطالب نسناس کے بارے ميں بيان کئے ہيں ان کو مذکورہ ، تاریخ ،لغت ، اور دیگر علوم ميں مہارت اور تخصص رکھنے والے علماء نے اپنی کتابوں اور تاليفات ميں نقل کيا ہے ۔

ت عجب کی حد یہ ہے کہ کبھی اس افسانہ کو حدیث کی صور ت ميں نقل کيا گيا ہے اور اس کی سند کو معصوم تک پہنچادیا ہے : نسناس قوم عاد سے تھے اپنے پيغمبر کی نافرمانی کی تو خدا نے انهيں مسخ کردیا کہ ان ميں سے ہر ایک کا ایک ہاتھ ، ایک ٹانگ اور نصف بدن ہے اور پرندوں کی طرح اچهل کود کرتے ہيں ا ور مویشيوں کی طرح چرتے ہيں ۔

پھر روایت کی ہے کہ نسناس قوم عاد سے ہيں ۔ بحر ہند کے ساحل پر نيزاروں ميں زندگی کرتے ہيں اوران کی گفتگو عربی زبان ميں ہے ۔

اپنی نسل بھی بڑهاتے ہی شعر بھی کہتے ہيں اپنی اولاد کيلئے عربی ناموں سے استفادہ کرتے ہيں ۔

ا س کے بعد ان علماء نے نسناس کے گوشت کے حلال ہونے ميں اختلاف کيا ہے بعض نے اس کے حلال ہونے کاحکم دیاہے ا ور بعض دوسروں نے اسے حرام قرار دیا ہے ليکن جلال الدین سيوطی تفصيل کے قائل ہوئے ہيں اور صحرا کے نسناسوں کو حرام گوشت ليکن سمندری نسناسوں کو حلال گوشت جانا ہے ۔

یہ عقائد و نظریات اور یہ روایتيں اور نقليات بزرگ علماء اور دانشوروں کی ہيں کہ ان میں سے بعض کے نام ہم نے یبان کئے ہيں اور بعض دوسروں کے نام ذیل ميں درج کئے جاتے ہيں :

١۔ کراع ، “ التاج ” کی نقل کے مطابق : وفات ٣٠٩ هء

٢۔ ازہری : تهذےب کے مطابق : وفات ٣٧٠ هء

٣۔ جوہری : صحاح کے مطابق : وفات ٣٩٣ هء

۴ ۔ رویانی : “التاج” کے مطابق: وفات ۵ ٠٢ هء

۵ ۔ غزالی :“ التاج” کے مطابق: وفات ۵ ٠ ۵ ئه

۶ ۔ ابن اثير : نہایة اللغة کے مطابق : وفات ۶ ٠ ۶ هء

٧۔ ابن منظور : لسان العرب کے مطابق : وفات ٧١١ هء

٨۔ فيروز آبادی : قاموس کے مطابق : وفات ٨١٨ هء ٩

۔سيوطی : التاج کے مطابق : وفات ٩١١ هء

١٠ ۔ زبيدی : تاج العروس کے مطابق: وفات ١٢٠ ۵ هء

١١ ۔ فرید وجدی دائرة المعار ف کے مطابق: وفات ١٣٧٣ ئه

افسانہ سبيئہ اور نسناس کا موازنہ

کيا مختلف علوم کے علماء ودانشوروں کے نسناس کے بارے ميں ان سب مسلسل اور با سند روایتوں کا اپنی کتابوں اور تاليفات ميں درج کرنے اور محققين کی اس قدر دلچسپ تحقيقات اور زیادہ سے زیادہ تاکےد کے بعد بھی کوئی شخص نسناس کی موجودگی حتی ان کے نر ومادہ اور ان کی شکل و قيافہ کے بارے ميں کسی قسم کا شک و شبہہ کرسکتا ہے !؟

کيا کوئی “ نسناس” ، “ عنقاء” ، “ سعلات البر ” اور “ دریائی انسان ”(۱) جيسی مخلوقات کے بارے ميں شک کرسکتا ہے جبکہ ان کے نام ان کی داستانيں اور ان کے واقعات باسند اورمرسل طور پر علماء کی کتابوں ميں وافر تعداد ميں درج ہوچکی ہيں ؟

علماء اور دانشوروں کی طرف سے “ ناووسيہ ” ، “ غرابيہ ” ، “ ممطورہ ” “ طيارہ ” اور سبئےہ ” کے بارے ميں ا س قدر مطالب نقل کرنے کے بعد کيا کوئی شخص مسلمانوں ميں ان

____________________

١۔ عنقاء : کہا گيا ہے کہ عنقاء مغرب میں ایک پرندہ ہے جس کے ہر طرف چار پر ہيں اور اس کی صورت انسان جيسی ہے اس کا ہرعضو کسی نہ کسی پرندہ کے مانند ہے اور اس کے علاوہ مختلف حيوانوں سے بھی شباہت ٢١٢ نے عنقاء کے بارے / ٨۵ ، مسعودی مروج الذہب ٢ / رکھتا ہے کبھی انسانوں کو شکار کرتا ہے ابن کثير ١٣


ميں مفصل و مشروح روایت کی سند کے سلسلہ کے ساتھ نقل کيا ہے ‘ سعلات” عرب دیو کی مادہ کو“سعلات ١ ۵ ) صحرانشين عرب خيالی کرتے تھے کہ سعلات اور غول ( دیو ) دو زندہ مخلوق / ”کہتے ہيں (- تاج العروس ٨

ہيں کہ بيابانوں ميں زندگی گزارتے ہيں ا ور ان دونوں کے بارے ميں بہت سے اشعار اور حکایتں بھی نقل کی گئی ١٣ ۴ ۔ ١٣٧ /باب ذکر اقاویل العرب فی الغيلان) یہيں پر مسعودی عمر ابن خطاب سے نقل کرتا / ہيں مروج الذہب ( ٢ہے کہ اس نے شام کی طرف اپنے ایک سفر ميں ایک بيابان ميں ایک جن کو دیکھا تواس نے چاہا اس طرح اس کو بھی فریب دے جس طرح وہ لوگوں کو فریب دیتا ہے ليکن عمر نے اسے فرصت نہيں دی اور تلوار سے اسے قتل کيا۔

انسانی دریائی : عربوں اور غير عربوں ميں انسان دریائی کے بارے ميں داستانيں اور افسانے نقل ہوئے ہيں زبان زد عام وخاص ہيں ۔

گروہوں اور فرقوں کی موجودگی کے بارے ميں شک و شبہ کرسکتا ہے ؟ جی ہاں ، ہم دیکھتے ہيں کہ گروہ سبيئہ اور نسناس کے بارے ميں جو افسانے نقل ہوئے ہيں با وجود اس کے کہ علماء اوردانشوروں نے انهيں صدیوں تک سنااور سلسلہ راویوں کے ساتھ نقل کيا ہے آپس ميں کافی حد تک شباہت رکھتے ہيں ہماری نظر ميں صرف مطالعہ اور ان دو افسانوں کے طرز و طریقہ پر دقت کرنے سے ان کا باطل اور خرافات پر مشتمل ہونے کو ہر فرد عاقل اور روشن فکر کيلئے ثابت کيا جاسکتا ہے اس فرق کے ساتھ کہ افسانہ سبيئہ ميں موجود اختلافات و تناقض کوجو افسانہ نسناس ميں موجود نہيں ہيں اضافہ کيا جائے کہ خود یہ تناقص و اختلاف سبب بنے گا کہ یہ روایتيں ایک دوسرے کے اعتبار کو گرادیں گی اور اس طرح ان روایتوں پر کسی قسم کا اعتبار باقی نہيں رہے گااورا ن کی تحقيق و بحث کی نوبت ہی نہيں آئے گی ۔

اگرطے ہو کہ گروہ سئبيہ ، ابن سوداء اور ابن سبا کے بارے ميں بيشتر وضاحت پيش کریں اور طول تاریخ ميں ان کے تحولات پر بحث و تحقيق کریں تو کتاب کی مستقل حصہ کی ضرورت ہے ۔

یہاں پر اس کتاب کے اس حصہ کو اختتام تک پہنچاتے ہيں اور دوسرے ضروری مطالب کو اگلے حصہ پر چھوڑ تے ہيں ہم اس دینی اور علمی فریضہ کو انجام دینے ميں خداوند عالم سے مدد چاہتے ہيں ۔

دوسرے حصے کے مآخذ

١۔ اشعری : سعد بن عبدالله کتاب “المقالات و الفرق ” ٢٠ ۔ ٢١ ميں ٢۔ نوبختی : کتاب “ فرق الشيعہ ” ٢٢ ۔ ٢٣ ميں ٨ ۵ / ٣۔ اشعری : علی ابن اسماعيل ، کتاب “ مقالات اسلاميين ” ١

۴ ۔ ملطی : کتاب “ التنبيہ وا لرد ” ٢ ۵ ۔ ٢ ۶ و ١ ۴ ٨

۵ ۔ بغدادی : کتاب “ الفرق ” ١ ۴ ٣

١٨ و ٣٩ اور کتاب “ اختصار الفرق ” تاليف ، ١٣٨ ، ۶ ۔ بغدادی : کتاب الفرق ١٢٣

۵ ٧ ، ٢ ۵ ، ٢٢ ، ١ ۴ ٢، عبدالرزاق ١٢٣

١٨ ۶ اور / ١ ۴ ٢ اور طبع التمدن ۴ / ٧۔ ابن حزم : کتاب “ الفصل ” طبع محمد علی صبيح ۴

١٣٨ / ۴

١٢٩ ۔ ١٣٠ / ٨۔ البداء و التاریخ ۵

٩۔ ذہبی : کتاب “ ميزان الاعتدال ” شرح حال عبدالله بن سبا ، نمبر ۴ ٣ ۴ ٢

٢٨٩ شرح حال نمبر ١٢٢ ۵ ۔ / ١٠ ۔ ابن حجر کتاب “ لسان الميزان ” ٣

/ ١١ ۔ مقریزی : کتاب “ الخطط ” روافض کے نو گروہوں میں سے پانچویں گروہ ميں ۴

١٨ ۵ ۔ / ١٨٢ و ۴

١٢ ۔ ابن خلدون : مقدمہ ميں ١٩٨ طبع بيروت ميں کہتا ہے : فرقہ اماميہ ميں بھی جو گروہ وجود ميں آئے ہيں جو غالی اور انتہا پسندہيں انہوں نے ائمہ کے بارے ميں غلو کيا ہے اور دین اور عقل کے حدود سے تجاوز کرگئے ہيں اور ان کی الوہيت اور ربوبيت کے قائل ہوئے ہيں ليکن اس کے باوجود اس سلسلے ميں مبہم اور پيچيدہ بات کرتے ہيں جس سے معلوم نہيں ہوتا ہے کہ اس گروہ کے عقيدہ کے مطابق ائمہ بشر ہيں اور خدا کی صفات کے حامل ہيں یایہ کہ خداخود ہی ان کے وجود ميں حلول کرگيا ہے دوسرے احتمال کے بناء پر وہ حلول کے قائل ہيں جس طرح عيسائی حضرت علی عليہ السلام کے بارے ميں قائل تھے جبگہ علی ابن ابيطالب نے ان کے بارے ميں ا س قسم کا اعتقاد رکھنے والوں کو جلادیا ہے ۔

٢٠٨ ۔ ٢١٠ / ١٣ ۔ مسعودی : ٢

١ ۴ ۔ معجم البلدان : لفظ “ شحر ” کی تشریح ميں ۔

٨٩٩ ۔ ٩٠٠ / ١ ۵ ۔ معجم البلدان : لفظ “ وبار” کی تشریح ميں : ١ ۴

١ ۶ ۔ معجم البلدان : لفظ “ وبار ” کی تشریح ميں ١٧ ۔ معجم البلدان : لفظ “ وبار ” کی تشریح ميں ، مسعودی نے بھی اسی مطلب کو ٢٠٨ ۔ ٢١٠ درج کيا ہے ۔ / مختصر تفاوت کے ساتھ ‘ مروج الذہب ” ٢

١٨ ۔ معجم البلدان : لفظ “ شحر ” کی تشریح ميں اس کا خلاصہ “ مختصر البلدان ” ابن فقيہ ٣٨ ميں آیا ہ ے ۔

۵ ٨ / ٢١ ۴ ، ‘ ‘ ابن اثير ” ١ / ١٩ ۔ “ طبری ” ١

۴۴ ١ ۔ ۴۴ ٢ / ٢٠ ۔ طبری ١

٢١ ۔ لسان العرب ابن منظور و تاج العروس زبيدی لفط نسناس کی تشریح ميں ۔

٢٢ ۔ لسان لعرب ابن منظور و قاموس فيروز آباد ی، لفط نسناس کی تشریح میں ٢٣ ۔ نہایة اللغة : ابن اثير ١/ ٢ ۴ ۔ مروج الذہب ، ٢٢٢

٢١١ اس نے اسی جگہ پر نسناس سے مربوط روایتوں کو نقل کيا / ٢ ۵ ۔ مروج الذہب ، ٢

ہے پھر اس مخلوق کے وجود کے بارے ميں شک و شبہہ کيا ہے ۔


تيسری فصل

عبد الله بن سبا اور سبائی کون ہيں ؟

سبا اور سبئی کا اصلی معنی

لغت ميں تحریف مغيرہ کے دوران حجر بن عدی کاقا یم

حجر ابن عدی کی گرفتاری

حجر اور اُن کے ساتهيوں کا قتل

حجر کے قتل ہوجانے کا دلوں پر اثر

حجر کی روداد کا خلاصہ

لفظ سبئی ميں تحریف کا محرک

لفظ سبئی ميں تحریف کا سلسلہ

افسانہ سيف ميں سبيئہ کا معنی

عبدالله بن سبا کون ہے ؟

ابن سودا کون ہے؟

اس حصہ کے مآخذ


سبا و سبئی کا اصلی معنی

سبا بن یشجب بن یعرب سليل قحطان قریع العرب

سبا بن یشجب بن یعرب نسل قحطان اور عرب کا منتخب شدہ ہے ۔انساب سمعانی

کتاب کے اس حصہ ميں بحث کے عناوین ابن سبا اور سبئيہ کے بارے ميں جو تمام افسانے ہم نے گزشتہ فصلوں ميں نقل کئے اورا س کے بارے ميں جو روایتيں حدیث اور رجال کی کتابوں ميں درج ہوئی ہيں وہ سب کی سب درج ذیل تين ناموں کيلئے جعل کی گئی ہيں ۔

١۔ عبدالله بن سبا ۲. عبدالله بن سودا ٣۔ سبيئہ و سبائيہ حقيقت کو روشن کرنے کيلئے ہم مجبور ہيں کہ جہاں تک ہميں فرصت اجازت دے مذکورہ عناوین ميں سے ہر ایک کے بارے ميں الگ الگ بحث و تحقيق کریں ۔

سبئی کا معنی:

” سبائيہ ” و “ سبيئہ ” دو لفظ ہيں کہ از لحاظ لفط و معنی “یمانيہ ”و “یمنيہ ”کے مانند ہيں ۔

سمعانی ( وفات ۵۶ ٢ ئه ) اپنی انساب ميں مادہ “ السبئی ” ميں اس لفظ کی وضاحت ميں کہتا ہے: “ سبئی ” سين مہملہ پر فتحہ اور باء نقطہ دار سے “سبا بن یشجب بن یعرب بن قحطان ” سے منسوب ہے ۔

ا بو بکر حازمی ہمدانی ( وفات ۵ ٨ ۴ هء) کتاب “ عجالة المبتدی ” ميں مادہ “ سبئی ” ميں کہتا ہے : “سبئی ” سبا سے منسوب ہے کہ اس کا نام عامر بن یشجب بن یعرب بن قحطان ہے اس کتاب کے ایک نسخہ ميں آیا ہے کہ سبئی کے نسب کے بارے ميں درج ذیل اشعار بھی کہے گئے ہيں :

لسبا بن یشجب بن یعرب

سليل قحطان قریع العرب

نسب خير مرسل نبينا

عشرة الازد الاشعرینا

و حميرا و مذحجا و کنده

انما رسادسا لهم فی العدة

و قد تيامنوا من اشام له

غسان لخم جذام عامله(۱)

____________________

١۔بہترین پيغمبروں کو عرب کے دس قبيلوں سے نسبت دی گئی ہے کہ ان ميں سے سبا بن یشجب بن یعرب ہے جو قبيلہ قحطان سے ہے اور عربوں کا سردار ہے اور فرمایا ہے کہ ان ميں سے چه قبيلے دائيں طرف سفر پر چلے گئے وہ عبارت ہيں ازد ، اشعری ، حمير مذحج ، کندہ ،ا نمار ، اور دوسرے چار قبيلے شام کی طرف چلے گئے کہ عبارت ہيں غسان لخم ، جذام اور عاملہ ۔


ترمذی نے اپنی سنن ميں ، سورہ سبا کی تفسير ميں اورا سی طرح ابو داؤد نے اپنی سنن ميں کتاب “الحروف ” ميں بيان کيا ہے کہ : ایک شخص نے رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم سے سوال کيا “ سبا ” کيا ہے ؟ کسی محلہ کا نام ہے ؟ یا کسی عورت کا نام ہے ؟

پيغمبر اکرم صلی الله عليہ وآلہ وسلم نے اس کے جواب ميں فرمایا : سبا، نہ کسی محلہ یا مخصوص جگہ کا نام ہے اور نہ کسی عورت کا نام بلکہ سبا ایک شخص تھا جس کی طرف سے عربوں کے دس قبيلے منسوب ہيں ان ميں سے چه خاندان عبارت ہيں : اشعری ، ازد ، حمير ،مذحج، انمار ،اور کندہ جنہوں نے دائيں طر ف سفر کيا ہے اور دوسرے چار خاندان جنہوں نے شام کی طرف سفر کيا عبارت ہيں ؛ لخم ، جذام ، غسان اور عاملہ“

کتاب لساب العرب ميں لفظ سبا کے بارے ميں آیا ہے : “ سبا ’ ایک شخص کا نام ہے جس سے یمن کے تمام قبائل منسوب ہيں “

یاقوت حموی نے “معجم البلدان ” ميں لغت “ سبا” کے بارے ميں کہا ہے :“ سبا ” س اور ب پر فتح اور ہمزہ یا الف ممدودہ کے ساتھ یمن ميں ایک علاقہ کا نام ہے کہ اس علاقہ کا مرکزی شہر “ مارب” ہے مزید اضافہ کرتا ہے : اس علاقے کو اس لئے سباکہا گيا ہے کہ وہاں پر سبا بن یشجب کی اولاد سکونت کرتی تھی“

ابن حزم (- وفات ۴۵۶ ) اپنی کتاب “ جمہرة الانساب ” ميں جہاں پر یمانيہ کے نسب کی تشریح کرتا ہے ، کہتا ہے : تمام یمانيوں کی نسل قحطان کی فرزندوں تک پہنچتی ہے اس کے بعد “ سبا ” کے مختلف خاندانوں کا نام ليتا ہے اور ان خاندانوں ميں سے ایک کی تشریح ميں کہتا ہے وہ سبائی ہيں اور سبائی کے علاوہ اس خاندان کيلئے کوئی دوسری نسبت نہيں دی گئی ہے ۔

ابن خلدون ( وفات ٨٠٨ هء) اپنے مقدمہ ميں کہتا ہے : رہا اہل یمن، تو سبا کی اولاد اور نسل سے ہيں ا ورجب عربوں کے طبقہ دوم کی با ت آگئی تو مزید کہتا ہے : یہ طبقہ عربوں ميں یمنی اور سبائی کے نام سے معروف ہے قبائل قحطان کے شام اور عراق کی طرف کوچکرنے کے بعد انہيں یاد کرتے ہيں اور کہتے ہيں جو کچھ بيان ہوا وہ ان لوگوں کے حالات کی تشریح تھی جو قبائل سبا سے تھے اور یمن سے ہجرت کرکے عراق ميں سکونت اختيار کرگئے ہيں قبائل سبا کے چار گروہوں نے بھی شام ميں سکونت اختيار کی اور دوسرے چه گروہ اپنے اصلی وطن یمن ہی ميں رہے“

ابن خلدون مزید کہتا ہے: انصار سبا کی نسل سے ہيں خزاعہ ، اوس اور خزرج بھی وہی نسل ہيں ،

ذہبی ( وفات ٧ ۴ ٨ هء) المشتبہ ميں سباکے بارے ميں کہتا ہے : سبائی مصر ميں ایکہے ہيں ان ہی ميں سے کئی افراد ہيں جن کے نام حسب ذیل ہيں عبدالله بن هبيرہ معروف بہ ابو ہبيرہ ابن حجر ( وفات ٨ ۵ ٢ هء) اپنی کتاب “ تبصرة المتنبہ ” ميں لفظ سبا کے بارے ميں کہتا “ سبا” ایک قبيلہ کا باپ ہے اور “ سبئی ” کی شرح ميں کہتا ہے : “ سبا” ایک قبيلہ کانام ہے اس قبيلہ سے عبد الله بن هبيرہ سبائی معروف بہ ابو ہبيرہ ہے ۔ابن ماکولا ( وفات ۴ ٧ ۵ هء) ‘

الاکمال ”(۱)

ميں کہتا ہے : سبئی ایک قبيلہ سے منسوب ہے اسکے بہت سے افراد ہيں اور وہ مصر ميں آبادہيں ۔

سبئی راوی:

قبيلہ سبا اور “ سبيئہ ” کے معنی کو بيشتر پہچانے کيلئے ہم یہاں پر راویوں کے ایک گروہ کا ذکر کرتے ہيں جنہيں علمائے حدیث اور تاریخ نے سبا بن یشجب سے منسوب کيا ہے اور اسی لئے انهيں سبئی کہتے ہيں :

١۔ عبدالله بن هبيرہ :

یہ قبيلہ سبا کے راویوں ميں سے ایک معروف راوی ہے علمائے حدیث اور رجال نے اس کے نسب کی اپنی کتابوں ميں نشان دہی کی ہے چنانچہ : ابن ماکولا و سمعانی اپنی انساب ميں لفظ “ سبا” کی تشریح ميں سبا بن یشجب سے منسوب سبئی نام کے بعض حدیث کے راویوں کا نام ليتے ہوئے کہتے ہيں : سبیء راویوں ميں سے من جملہ عبدالله بن هبيرہ سبائی ہے ۔

ابن قيسرانی : محمد بن طاہر بن علی مقدسی ( وفات ۵ ٠٧ هء) نے بھی اسی ابو ہبيرہ کے حالات کے بارے ميں ا پنی کتاب “الجمع بین رجال الصحيحين” ميں درج کيا اور جہاں پر “صحيح مسلم “کے راویوں کے حالات پر روشنی ڈالتاہے عبدالله کے نام پر پہنچ کر اس کے بارے ميں کہتا ہے : عبدالله ابن هبيرہ سبائی مصری نے ابو تميم سے حدیث نقل کی ہے ۔

”تہذیب التہذیب ” ميں بھی اسی عبد الله اورا س کے تمام اساتذہ اور شاگردوں کا بھی مفصل طور پر ذکر کيا ہے ۔

ابن حجر اسی کتاب ميں کہتا ہے : علم حدیث کے علماء نے عبد الله بن هبيرہ کی توثيق اور تائيد کی ہے تمام علماء اس موضوع پر اتفاق نطر رکھتے ہيں اور اس کے بعد کہتے ہيں : ابن ھبيرہ کی پيدائش عام الجماعة یعنی ۴ ٠ هء ميں ا ور وفات ١٢٠ ميں واقع ہوئی ہے ۔

ن ےز ابن حجر تقریب التہذیب ميں کہتا ہے عبدالله بن ہبيرہ بن اسد سبائی حضرمی مصر کے لوگوں ميں سے تھا وہ علمائے حدیث کی نظر ميں طبقہ سوم کے راویوں ميں باوثوق اور قابل اعتماد شخص ہے اس نے ٨١ سال کی عمر ميں وفات پائی ہے ۔

ان دو کتابوں ميں “ تہذیب التہذیب ” اور “ تقریب التہذیب” ميں عبد الله بن ہبيرہ سبائی ان راویوں ميں شمار ہوا ہے جن سے صحاح کے مولفين ، سنن مسلم ، ترمذی ، ابو داؤد ،

نسائی اور ابن ماجہ نے حدیث روایت کی ہے اور احمد حنبل نے اپنی مسند کے باب مسند ابو نضرہ غفاری ميں اس سے حدیث نقل کيا ہے ۔

____________________

١۔ کتاب اکمال ميں راویوں کو ہر قبيلہ کے لغت ميں تعارف کراتے ہيں ۔


٢۔ عمارة بن شبيب سبئی :

وہ سبئی راویوں ميں سے ایک اور راوی ہےجس کا نام استيعاب ، اسدا لغابہ ، اور اصابہ ميں پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے اصحاب کی فہرست ميں ذکر ہوا ہے۔

استيعاب کا مولف کہتا ہے : عمارة بن شبيب سبائی اصحاب پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم ميں شمار کيا گيا ہے اور ابو عبدالرحمان جبلی نے اس سے حدیث نقل کيا ہے ۔

ا سد الغابہ ميں بھی عمارة بن شبيب کے بارے ميں یہی مطالب لکھے گئے ہيں اور اس کے بعد اضافہ کيا گيا ہے : اس نے رسول خدا صلی الله عليہ وآلہ وسلم سے حدیث نقل کيا ہے ۔ صاحب اسدالغابہ اس سلسلہ ميں بات کو اس بيان پر ختم کرتے ہيں کہ : سبیء جو “ س”

بدون نقطہ اور ایک نقطہ والے “ ب” سے لکھا جاتا ہے ، اس کو کہتے ہيں جو سبا سے منسوب ہو۔

صاحب “ الاصابہ” عمارة ابن شبيب کے حالات کی تشریح ميں کہتا ہے : وہ ۵ ٠ ئه ميں فوت ہوا ہے ۔

معروف کتاب صحيح بخاری کے مؤلف امام بخاری نے بھی اس کے حالات کی تشریح اور تفصيل اپنی رجال کی کتاب ‘ تاریخ الکبير ” ميں درج کی ہے اور اس کے بعد اس سے ایک روایت نقل کرکے اس کی وضاحت کرتے ہوئے اس خصوصی حدیث کو ضعيف شمار کيا ہے ۔

ابن حجر بھی اسی عمارة بن شبيب سبئی کو کتاب “ تہذیب التہذیب ” اور “ تقریب التہذیب ” ميں درج کرتے ہوئے کہتا ہے : ترمذی و نسائی نے اپنی سنن ميں ا س سے حدیث نقل کی ہے ۔

٣۔ ابو رشد بن حنش سبئی :

یہ سبئی راویوں ميں سے ایک اور راوی ہے کہ مسلم نے اپنی صحيح ميں اور نسائی و ترمذی، ابن ماجہ اور ابو داؤد نے اپنی سنن ميں ا س سے حدیث نقل کی ہے چونکہ ابن حجر نے بھی اس کے نام کو کتاب “ تہذیب التہذیب ” ا ور “ تقریب التہذیب ” ميں درج کياہے اور اسکے بارے ميں اور ایک دوسرے سبئی راوی کے بارے ميں کہتا ہے : عمرو بن حنظلہ سبئی و ابو رشد بن صنعانی صنعا ، یمن کے رہنے والے تھے اور باوثوق اور قابل اعتماد ہيں ۔

ذہبی نے بھی انہيں مطالب کو اپنی تاریخ ميں درج کرتے ہوئے اضافہ کيا ہے کہ اس نے مغرب زمين کی جنگ ميں شرکت کی اور افریقہ ميں سکونت اختيار کی اور اسی وجہ سے اس کے بيشتر دوست او ر شاگرد اہل مصر ہيں اس نے افریقہ ميں ١٠٠ هء ميں محاذ جنگ پر رحلت کی ۔

ابن حکم اپنی کتاب “ فتوح افریقہ ” ميں کہتا ہے : جب مسلمانوں نے “ سردانيہ ” کو اپنے قبضہ ميں ليا ، تو جنگی غنائم سے متعلق بہت ظلم کيا اور واپسی پر جب کشتی ميں سوار ہوئے تو کشتی کے ڈوبنے کی وجہ سے سب دریا ميں غرق ہوگئے صرف ابو عبدالرحمان جبلی اور حنش بن عبدا لله سبئی بچ گئے کيونکہ ان دو افراد نے غنائم جنگی سے متعلق ظلم ميں شرکت نہيں کی تھی ۔

۴ ۔ ابو عثمان حبشانی : ١٢ ۶ ئه ميں فوت ہوا ہے ۔

۵ ۔ ازہر بن عبدا لله سبئی : ٢٠ ۵ ئه ميں مصر ميں فوت ہوا۔

۶ ۔ اسد بن عبدا لرحمان سبئی اندلسی : وہ علاقہ “ بيرہ” کا قاضی تھا یہ شخص ۵ ٠ ا هء کے بعد بھی زندہ تھا ۔

٧۔ جبلہ ابن زہير سبئی : یہ یمن کا رہنے والا تھا ۔

٨۔ سليمان بن بکار سبئی : وہ بھی اہل یمن تھا۔

٩۔ سعد سبئی : ابن حجر “ا صابہ” ميں اس کے حالات کی تشریح ميں کہتا ہے :

واقدی اسے ان لوگوں ميں سے جانتا ہے جنہوں نے رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے زمانہ ميں ا سلام قبول کيا ۔

یہ تھے راویوں اور حدیث کے ناقلوں کے چند افراد کہ جن کو سمعانی اور ابن ماکو نے لفط “سبائی” کے بارے ميں چند دیگر سبئی کے ساتھ ان کے حالات لکھے ہيں اور ان کی اساتذہ اور شاگردوں کا تعارف کرایاہے ۔ اگر کوئی شخص رجال اور حدیث کی کتابوں ميں بيشتر تحقيق کرے تو مزید بہت سے راویوں کو پيدا کر ے گا جو قبلہ قحطان سے منسوب ہونے کی وجہ سے سبئی کہے جاتے ہيں ۔

نتيجہ کے طور پر یہ راوی اور دسيوں دیگر راوی سبا بن یشجب بن یعرب قحطان سے منسوب ہونے کی وجہ سے سبئی کہے جاتے ہيں ا ور اسی نسب سے ،معروف ہوئے ہيں علمائے حدیث و رجال نے ان کی روایتوں اور نام کو اسی عنوان او رنسبت سے اپنی کتابوں ميں درج کرکے ان کے اساتذہ اور شاگرودوں کے بارے ميں مفصل تشریح لکھی ہے اور یہ سبئی راوی دوسری صدی کے وسط تک اکثر اسلامی ملکوں ا ور شہروں ميں موجود تھے اور وہيں پر زندگی گذارتےتھے اور اسی عنوان اور نسبت سے پہچانے جاتے تھے یہ بذات خود لفط سبئی و سبيئہ کے اصلی اور صحيح معنی کی علامت ہے اور یہ اس بات کی ایک اور دليل ہے کہ ےہ لفظ تمام علماء اور مؤلفين کے نزدیک دوسری صدی ہجری کے وسط تک قبيلہ کی نسبت پر دلالت کرتا تھا نہ کسی مذہبی فرقہ کے وجود پر جو بعد ميں جعل کيا گيا ہے ۔

یہ سبئی راوی علمائے حدیث کی نظر ميں ا یسے معروف و شناختہ شدہ اور قابل اطمينان ہيں کہ حدیث کی صحاح ، سنن اور سند و دیگر صاحبان مآخذ و حدیث کے معتبر کتابوں کے مؤلفين نے بغےرکسی شک شبہ، کے ان سے احادیث نقل کی ہيں جبکہ یہی علماء اس زمانے ميں شيعہ راویوں کی روایتوں اور حدیثوں کو علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے شيعہ ہونے کے جرم ميں سختی سے ردکيا کرتے تھے اور اس قسم کے راویوں کو ضعيف اور ناقابل اعتبار جانتے تھے اور اپنی کتابوں ميں شيعہ راویوں سے ایک بھی حدےث نقل نہيں کرتے تھے اس زمانے ميں اس سبئی راویوں سے بغےرکسی رکاوٹ کے روایتيں اور احادیث نقل کرکے اپنی کتابوں ميں درج کرتے تھے اوریہ اس بات کی دليل ہے کہ سبئيہ ان کے زمانے اور نظر ميں قبيلگی نسبت کے علاوہ کسی اور معنی و مفہوم کی ضمانت پيش نہيں کرتا تھا اور یہ لفظ کسی بھی فرقہ و مذہبی گروہ پر دلالت نہيں کرتا تھاکہ جس کی وجہ سے ان سے احادیث قبول کرنے ميں کوئی رکاوٹ پيش آئے اور ان علماء کی نظر ميں ان سے نقل احادیث اعتبار کے درجہ سے گرجائے بلکہ یہ مفہوم بعد والے زمانے ميں وجود ميں آیا ہے چنانچہ خدا کی مدد سے ہم اگلے حصہ ميں ‘ ‘ تحریف سبيئہ ” کے عنوان سے اس حقيقت سے پردہ اٹھائيں گے ۔


سبا اور سبائی کے معنی ميں تحریف

ان السبئية دلت علی الانتساب الی الفرقة المذهبية بعد قرون

سبئےہ جو ایک قبيلہ کا نام تھا ، کئی صدیوں کے بعد تحریف ہوکے ایک نئے افسانوی مذہب ميں تبدیل ہوگیا ہے مؤلف

سبئی قبيلے جيساکہ ہم نے گزشتہ فصل ميں اشارہ کيا کہ گہری تحقيق اورجانچ پڑتال سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ “سبئی ” حقيقت ميں قحطان کے قبيلوں کاانتساب ہے کہ یہ قبيلے یمن ميں سکونت کرتے تھے ليکن بعد ميں بعض علل و عوامل کی وجہ سے جن کی تفصيل ہم اگلے صفحات ميں پيش کریں گے یہ لفط تحریف ہوکر ایک نئے مذہب سے منسوب ہوا اور اسی تحریف اور نئے استعمال کے نيتجہ ميں اسلام ميں ایک نيااور افسانوی مذہب پيدا ہوا ہے کہ حقيقت ميں اس قسم کا کوئی مذہب مسلمانوں ميں وجود نہيں رکھتا تھا ۔

اس سلسلہ ميں بيشتر تحقيق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تغير و تحول اور یہ تحریف اور الفاظ کا ناجائز فائدہ ان ادوار سے مربوط ہے جس ميں سبئی قبيلے یعنی قحطانيوں نے--- جو شيعان علی عليہ السلام کہے جائے تھے -- کوفہ ميں اجتماع کرکے جنگ جمل و صفين اور دوسری جنگوں ميں حضرت علی عليہ السلام کی نصرت کی ،جن کے سردار حسب ذیل تھے:

١۔ عمار بن یاسر قبيلہ عنس سبائی سے تھے ۔

٢۔ مالک اشتر اور کميل بن زیاد اور ان کے قبيلہ کے افراد دونوں ہی قبيلہ نخ و سبائی سے تھے

٣۔ حجر بن عدی کندی اورا ن کے قبيلہ کے افراد اورا ن کے دوست و احباب جوان کے ساتھ تھے سبائی تھے۔

۴ ۔ عدی بن حاتم طائی اورا ن کے قبيلہکے ا فراد سبائی تھے۔

۵ ۔ قيس بن سعد بن عبادہ خزرجی کہ قبائل سبائی کے خاندانوں ميں سے تھے اور دوسرے لوگ جو قبيلہ خزرج سے ان کے ساتھ تھے سبائی تھے۔

۶ ۔ خزیمہ بن ثابت ذو الشہادتين اور حنيف کے بيٹے سہل و عثمان سب سبائيوں ميں سے تھے اسی طرح قبيلہ اوس کے افراد جوان کے ساتھ تھے سبائی تھے۔

٧۔ عبدالله بدیل ، عمرو بن حمق ، سليمان بن صرد اور انکے قبيلہ کے افراد وہ سب خزاعی سبائی تھے ۔

جی ہاں ، یہ لوگ اور ان کے قبيلوں کے دوسرے دسيوں ہزار افراد قبيلہ سبائی سے منسوب ہيں ، یہ لوگ خاندان اميہ کے سخت مخالف تھے عثمان کے دوران سے لےکر اميوں کی حکومت کے آخری دن تک یہ لوگ علی عليہ السلام اور ان کے خاندان کے دوستدار تھے ان لوگوں نے اپنی زندگی کے آخری لمحات تک حضرت علی عليہ السلام اور ان کے خاندان کی حمایت اور طرفداری کی ،اور اسی راہ ميں اپنی جان بھی نچھاور کرڈالی ۔

لفظ سبئی ميں تحریف کا آغاز

جيسا کہ ہم نے وضاحت کی کہ علی عليہ السلام کے اکثر چاہنے والے اور شيعہ،

قحطانی تھے اور یہ قحطانی “ سبا” سے منسوب تھے ۔ اسی نسب کی وجہ سے علی عليہ السلام کے دشمن پہلے دن سے زیاد بن ابيہ کی کوفہ ميں حکومت کے زمانہ تک نسبت کو ایک قسم کی برائی اور شرم ناک نسبت کے عنوان سے پيش کرتے تھے اور لفظ “ سبی” جو اس نسبت کی دلالت کرتا تھا سرزنش و ملامت کے وقت شيعہ علی کی جگہ پر حضرت علی عليہ السلام تمام پيرو و شيعوں کو “ سبا” سے نسبت دیتے تھے ۔ اس طرح اس لفظ کو اپنے اصلی معنی سے دور کرکے ایک دوسرے معنی ميں استعمال کرتے تھے ۔

مندرجہ ذیل خط ميں آپ ملاحظہ فرمائيں گے کہ زیاد بن ابيہ نے جو خط کوفہ سے معاویہ کو لکھا ہے ایسے افرادکے بارے ميں یہی لقب اورعنوان استعمال کيا ہے جو کبھی سبئی نہيں تھے حقيقت ميں یہ پہلاموقع تھا کہ لفظ“ سبئی” اپنے اصلی معنی ---جو یمن ميں ا یک قبيلہ کا نام تھا ---سے تحریف ہوا اور علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے تمام دوستداروں اور طرفداروں کيلئے استعمال ہونے لگا حقيقت ميں یہ روداد اس لفظ ميں تحریف کا آغاز ہے ملاحظہ ہو اس خط کا متن:

بسم الله الرحمن الرحيم

بندہ خدا معاویہ امير المؤمنين کے نام: اما بعد! خداوند عالم نے امير المؤمنين معاویہ پر احسان فرمایا اورا س کے دشمنوں کو کچل کے رکھ دیا اور جو اس کی مخالفت کرتے تھے انهيں بدبخت اور مغلوب کردیا ،ان “ ترابيہ ” اور“ سبائيہ ” ميں سے چند باغی و سرکشی افراد حجر بن عدی کی سردکردگی ميں امير المؤمنيں کی مخالف پر اتر آئے ہيں اور مسلمانوں کی صف سے جدا ہوکر ہمارے خلاف جنگ و نبرد آزمائی کاپرچم بلند کردیا ،ليکن خداوند عالم نے ہميں ان پر کامياب اور مسلط کردیا کوفہ کے اشراف و بزرگ اس سرزميں خير افراد اور متدین و نيکو کار لوگ جنہوں نے ان کے فتنہ و بغاوت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور ان کی کفر آميزباتوں کو سنا تھا ، کو ميں نے بلاکر ان سے شہادت طلب کی ، انہوں نے ان کے خلاف شہادت اور گواہی دی ۔ اب ميں اس گروہ کے افراد کو امير المؤمنين عليہ السلام کی خدمت ميں بھيج رہا ہوں شہر کے جس متدین اور قابل اعتماد گواہوں نے ان کے خلاف شہادت دی ہے ميں نے ان کے دستخط کو اس خط کے آخر ميں ثبت کيا ہے“

ہم مشاہدہ کرتے ہيں کہ اس خط ميں زیاد نے حجر اور اُن اس کے ساتھيوں کو ترابيہ و سبائيہ نام سے یادکیا ہے اور ان کے ہمشہریوں سے انکے خلاف شہادت طلب کی ہے لهذا اُن ميں سے کئی افراد نے شہادت دیکر زیاد کی رضامندی اور خوشنودی حاصل کی ہے ان کی اس شہادت کے مطابق ایک شہادت نامہ بھی مرتب کرکے معاویہ کے پاس بھيجا گيا ہے ۔

طبری کی روایت کے مطابق شہادت نامہ کا متن طبری نے زیاد کی طرف سے ریکارڈ اور شہادت نامہ مرتب کرنے کے بارے ميں یوں ذکر کيا ہے:

زیاد بن ابيہ نے حجر اور ان کے ساتھيوں کو زیر نظر رکھا ان ميں سے بارہ افرد کو گرفتار کرکے جيل بھيج دیا اس کے بعد قبائل کے سرداروں اور قوم کے بزرگوں کو دعوت دی اور ان سے کہا کہ جو کچھ تم لوگوں نے حجرکے بارے ميں دیکھا ان دنوں کوفہ ميں اہل مدینہ کا سردار “عمر بن حریث” تمےم اور ہمدان کے سردار “ خالد بن عرفہ” اور “قيس بن وليد بن عبد بن شمس بن سفےرہ ”ربيعہ اور کندہ کا سردار ابو بردة ابن ابی موسی اشعری تھا وہ اس کے علاوہ قبيلہ “مذحج و اسد ” کا بھی سردار تھا ۔

ان چار افراد نے ابن زیاد کی درخواست پر حسب ذیل شہادت دی:

” ہم شہادت دیتے ہيں کہ حجر بن عدی کئی افراد کو اپنے گرد جمع کرکے خليفہ (معاویہ ) کے خلاف کھلم کھلا دشنام اور بد گوی کرتا ہے لوگوں کو اس کے خلاف جنگ کرنے کی دعوت دیتا ہے نيزدعویٰ کرتا ہے کہ خاندان ابوطالب کے علاوہ کسی ميں خلافت کی صلاحيت نہيں ہے اس نے شہر کوفہ ميں بغاوت کرکے امير المؤمنين (معاویہ ) کے گورنر کو وہاں سے نکال باہر کيا ہے وہ ابو تراب ( علی عليہ السلام ) کی ستائش کرتا ہے اور کھلم کھلا اس پر درود بھيجتا ہے اور اس کے مخالفوں اور دشمنوں سے بيزاری کا اظہار کرتا ہے وہ افرادجن کو پکڑ کر جيل بھيج دیا گیا ہے وہ سب حجر کے اکابر اصحاب ميں ہيں اور اس کے ساتھ ہم فکر وہم عقيدہ ہيں “

طبری کہتا ہے:

” زیاد نے شہادت نامہ او ر گواہوں کے نام پر ایک نظر ڈال کر کہا: ميں گمان نہيں کرتا ہوں کہ یہ شہادت نامہ مير ی مرضی کے مطابق فيصلہ کن اور مؤثر ہوگا ميں چاہتا ہوں کہ گواہوں کی تعداد ان چار افراد سے بيشتر ہو اور اس کےمتن ميں بھی کچھ تبدیلياں کی جائيں ۔

اس کے بعد طبری ایک دوسرے شہادت نامہ کو نقل کرتا ہے جسے زیاد نے خود مرتب کرکے دستخط کرنے کيلئے گواہوں کے ہاتھ ميں دیا تھا اس کا متن حسب ذیل ہے:

بسم الله الرحمن الرحيم

ابو بردة ابن موسیٰ ، اس مطلب کی گواہی دیتا ہے اور اپنی گواہی پر خدا کو شاہد قراردےتا ہے کہ حجر بن عدی نے خليفہ کی اطاعت و پيروی کرنے سے انکار کيا ہے اور اس نے مسلمانوں کی جماعت سے دوری اختيار کی ہے وہ کھلم کھلا خليفہ پر لعنت بھيجتا ہے کئی لوگوں کو اپنے گرد جمع کرکے کھلم کھلا معاویہ کے ساتھ عہد شکنی اور اس کو خلافت سے معزول کرنے کيلئے دعوت دیتا ہے اور انهيں جنگ و بغاوت پر اکساتا ہے اس طرح خداوند عالم سے ایک بڑے کفر کا مرتکب ہوا ہے(۱)

زیاد نے اس شہادت نامہ کو مرتب کرنے کے بعد کہا: تم سب کو اسی طرح شہادت دینی چاہئے خدا کی قسم ميں کوشش کروں گا کہ اس احمق( حجر ) کا سر قلم کيا جائے ۔

اس لئے چار قبيلوں کے سرداروں نے اپنی شہادت بدل دی اور ابو بردة کے شہادت نامہ کے مانند ایک دوسر اشہادت نامہ مرتب کيا۔ اس کے بعد زیاد نے لوگوں کو دعوت دی اور حکم دیا کہ تم لوگوں کو بھی ان چار افردکی طرح شہادت دینا چاہئیاس کے بعد طبری کہتا ہے:

زیاد نے کہا ےہاں پر : پہلے قریش کے افراد سے شہادت لو ، اور پہلے ان لوگوں کا نام لکھنا کہ ہمارے نزدیک ( معاویہ ) عقيدہ کے لحاظ سے سالم اور خاندان اميہ کے ساتھ دوستی ميں مستحکم اور معرو ف ہيں ۔ زیاد کے حکم کے مطا بق ستر افراد کی گواہی کو حجر اور اُن کے اصحاب کے خلاف ثبت کيا گيا۔

ا س کے بعد طبری چندگواہوں کے نام ذکر کرتا ہے جوعبارت ہيں : عمر بن سعد،شمربن ذی الجو شن،ثبث بن ربعی اورزحر بن قيس۔

طبری مزید کہتا ہے : شداد ابن منذر بن حارث معروف بہ“ابن بزیعہ ” جسے اُس کی ماں سے نسبت دیا جاتا تھا،نے بھی اس شہادت نامہ پر دستخط کی ۔تو زیاد نے کہا :کيا اس کا کو ئی باپ نہ تھاجس کی طرف اس کی نسبت دی جاتی؟

اسے گواہوں کی فہرست سے حذف کردو انہوں نے کہا: یا امير! اس کا ایک بھائی ہے جس کا نام حضين بن منذر ہے اور باپ سے نسبت رکھتا ہے زیاد نے کہا : شداد کو بھی اس کے باپ سے نسبت دو اور کہو شداد بن منذر تو پھر کےوں اسے ابن بزیعہ کہتے ہو؟ یہ روداد جب ابن بزیعہ کے کانوں تک پہنچی تو وہ ناراض ہوا اوربے ساختہ بولا : امان ہو! زنا زادہ سے افسوس ہو! اس پر کيا اس کی ماں سميہ اس کے باپ سے زیادہ معروف نہيں تھی ؟ خدا کی قسم اسے اپنی ماں کی شہرت اور باپ سے نامعلوم ہونے کی وجہ سے ہميشہ اس کی ماں سے نسبت دی جاتی تھی اوروہ ابن سميہ سے معروف تھا ۔

شہادت نامہ کا جھٹلانا پھر سے طبری کہتا ہے:

” شہادت نامہ ميں موجود ناموں اور دستخطوں ميں ایک شریح بن حارث اور دوسرا شریح بن هانی تھا ليکن ان دونوں نے اپنے دستخط کو جھٹلایا ۔ شریح بن حارث کہتا ہے : زیاد نے حجر کے بارے ميں مجھ سے سوال کيا ميں نے اسے کہا: حجر ایسا شخص ہے جودن کو روزہ رکھتا ہے اور راتوں کو پروردگار کی عبادت ميں مشغول رہتا ہے ۔

____________________

١۔ ابو موسی کے بيٹے کے یہاں پر کفر سے مراد معاویہ کی بيعت کرنے سے انکار اور معاویة کو خلافت سے معزول کرنا ہے اس کے مانند ، حجاج کا بيان ہے جو اس نے ابن زبير کے بارے ميں اس کے قتل کے بعد اپنے خطبہ کے ضمن ميں کہا؛ لوگو ! عبد الله بن زبير پہلے اس امت کے نيک لوگوں ميں سے تھا یہاں تک کہ خلافت کا خواہشمند ہوا اور خلافت کے عہدہ داروں سے نبرد آزما ہوا اور حرم خدا ميں کفر و الحاد کا راستہ اختيار کيا خداوند ٣٣١ ) پھر حجاج نے ابن زبيرکی ماں سے / عالم نے بھی عذاب آتش کا مزہ اسے چکها دیا ( تاریخ ابن کثير ٨١٣۶ ) یہ بالکل / مخاطب ہوکر کہا؛ تمہار ابيٹا خانہ خدا ميں کفر و الحاد کا مرتکب ہو اہے ( تاریخ اسلام ذہبی ٣

واضح ہے کہ حرم الہی سے ابن زبير کے کفر و الحاد سے حجاج کا مقصد اس کی بنی اميہ کی منحوس خلافت سے مخالفت ہے۔


ليکن ، شریح بن ہانی کہتا ہے : جب ميں نے سنا کہ حجر بن عدی کے خلاف ميرے جعلی دستخط کئے گئے ہيں اور ميری شہادت بھی ثبت کی گئی ہے تو ميں نے اس شہادت نامہ کو جھٹلایا اور اسے جعل کرنے والوں کی مذمت کی ،شریح بن ہانی نے معاویہ کے نام ذاتی طور پر ایک خط بھی لکھا اورا سے وائل بن حجر کے توسط سے اس کے پاس بھيجا اور اس خط کا مضمون یہ تھا:

” معاویہ ! مجھے __________اطلاع ملی ہے کہ زیاد نے حجرکے خلاف اپنے خط ميں ميرے دستخط بھی ثبت کئے ہيں ، ليکن یہ شہادت اور دستخط جعلی ہيں ،حجر کے بارے ميں ميری صریح شہادت یہ ہے کہ وہ نماز پڑهتا ہے امر بمعروف و نہی عن المنکرکرتا ہے ، اسکی جان و مال محترم اور اسے قتل کرنا حرام ہے اب تم جانو چا ہے اسے قتل کرو یا آزاد“

جب معاویہ نے شریح کے خط کو پڑها تو اس نے کہا: شریح نے اس خط کے ذریعہ اس شہادت سے اپنے آپ کو الگ کيا ہے اس کے علاوہ ابن زیاد نے جن افراد کا نام شہادت نامہ ميں لکھا تھا ان ميں سری بن وقاص حارثی بھی تھا ، ليکن اس کو اس شہادت کے بارے ميں علم نہيں تھا۔


مغيرہ کے دوران حجر ابن عدی کا قيام

کان حجر من اعيان الصحابة یکثرالامر بالمعروف و النهی عن المنکر

حجر بن عدی پيغمبر اکرم صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے بزرگ صحابيوں ميں سے تھے وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کثرت سے کرتے تھے ۔ مؤرخين گزشتہ فصل ميں حجر اور ان کے ساتھيوں کی بات چلی ہم نے کہا کہ زیاد بن ابيہ کی ان کے ساتھ گتهم گتھا ہوئی ،زیاد نے انهيں گروہ کو ‘ ‘ترابيہ و سبيئہ ” کا نام دیااور ان کے خلاف مقدمہ چلایا ان کے خلاف کئی لوگوں سے شہادت لی اور آخرکار افسوسناک اور دلخراش صورت ميں ا نهيں قتل کرڈالا ۔

اب ہم اس فصل ميں حجر ابن عدی کا تعارف کرائيں گے کہ وہ کون ہيں ؟ اور ان کے سبئی ہونے کا سر چشمہ کہاں سے ہے؟ زیاد بن ابيہ انهيں کيوں اور کيسے سبئی بتاتا ہے ؟

حجر کون ہيں ؟

حجر بن عدی بن معاویہ ، قبائل سبا بن یشجب کے خاندان معاویة بن کندہ سے تعلق رکھتے تھے رجال اور تشریح کی کتابوں ، جيسے : “ طبقات ابن سعد ” ، “ اسد الغابہ ” اور ‘ ‘اصابہ ” ميں ان کے بارے ميں یوں آیا ہے : حجر اور اس کے بھائی هانی مدینہ ميں داخل ہوئے اور پيغمبر اسلام صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے حضور دین اسلام قبول کيا حجر نے جنگ “

قادسيہ ”(۱) ميں شرکت کی اور “ مرج عذرا ”(۲) انہی کے ہاتھوں فتح ہوا۔

____________________

١۔ قادسيہ مسلمانوں کی ایرانيوں کے ساتھ ایک جنگ ہے یہ جنگ خلافت عمر ميں سعد بن ابی وقاص کی سپہ سالاری ميں عراق ميں واقع ہوئی ۔

٢۔ مرج عذرا دمشق کے نزدیک ایک بڑی آبادی تھی ۔


ا بن سعد طبقات ميں کہتا ہے :

”حجر اُن لوگوں ميں سے ہيں جنهوں نے دوران جاہليت و اسلام دونوں دیکھا ہے وہ ایک مؤثق اور قابل اعتماد شخص تھے حضرت علی عليہ السلام کے علاوہ کسی اورسے حدیث نقل نہيں کرتے تھے“

حاکم ، مستدرک ميں کہتا ہے:

”حجر ، پيغمبر اسلام کے اصحاب ميں سے ایک شائستہ صحابی تھے ، ان کا سالانہ وظيفہ دو ہزار پانچ سو تھا وہ اصحاب ميں ایک عادل اور تارک دنيا شخص تھے ”۔

صاحب استيعاب کہتا ہے:

”حجر پيغمبر اسلام صلی الله عليہ وآلہ وسلم کے اصحاب ميں سے تھے وہ ایک ایسا شخص تھا جس کی دعا بارگاہ الہی ميں قبول ہوتی تھی وہ اصحاب کے درميان “ مستجاب الدعوہ ”

کے نام سے مشہور ہوچکے تھے“

صاحب اسد الغابہ کہتا ہے :

”حجر اصحاب پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے درميان معروف ، باشخصيت اور با فضيلت اصحاب ميں سے تھے یہ جنگ صفين ميں امير المؤمنين علی عليہ السلام کی رکاب ميں قبيلہ کندہ کا پرچم انہی کے ہاتھ ميں تھا جنگ نہروان ميں بھی ميسرہ کی کمانڈ انہی کے ہاتھ ميں تھی جنگ جمل ميں بھی انهوں نے شرکت کی ہے حجر، پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے بزرگ اصحاب ميں شمار ہوتے تھے ۔

اس کے بعد صاحب اسدا لغابہ اضافہ کرتا ہے:” وہ حجر خير کے نام سے معروف و مشہور ہيں ۔

سير اعلام النبلاء ميں آیا ہے:

”حجر ، ایک انتہائی شریف اور بزرگوار شخص تھے اپنے قبيلہ ميں انتہائی بااثر اور قابل اطاعت فردتھے امر بمعروف اور نہی عن المنکر کے موضوع کو کافی اہميت دیتے تھے اور اسے شجاعت ، شہامت اور کسی قسم کے خوف و ہراس کے بغير نافذ کرتے تھے ۔ نہی عن المنکر ميں تمام مسلمانوں سے پيش قدم تھے علی عليہ السلام کے نيک اور جانثار شيعوں ميں شمار ہوتے تھے جنگ صفين ميں علی عليہ السلام کے کمانڈروں ميں سے ایک تھے اپنے زمانہ کے صالح اور شائستہ اشخاص ميں شمار ہوتے تھے ۔

ذہبی کی ‘ تاریخ اسلام ” ميں آیا ہے:

حجر ، پيغمبر اسلام صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے صحابی اور “وفادت”(۱) کے افتخار سے سرفراز تھے وہ مدینہ آئے ، اپنی مرضی سے اسلام کی تعليمات کا نزدیک اور دقت سے مشاہدہ کيا ، اپنی فکر و تشخيص سے اسے پسند کيا اور اسے رضاکارانہ طو پر قبول کيا وہ پاک زاہد افراد ميں سے ایک تھے ہميشہ با طہارت اور با وضو رہا کرتے تھے امر بمعروف اور نہی عن المنکر پر دوسروں سے زیادہ عمل پيرا تھے“

ابن کثير اپنی تاریخ ميں کہتا ہے:

” حجر بن عدی اسلام قبول کرنے کيلئے مدینہ ميں رسول خدا صلی الله عليہ وآلہ وسلم کی خدمت ميں حاضر ہوئے۔ وہ زاہد اور پرہيز گار ترین بندگان خدا ميں سے تھے، اور برا وبوالدتی کا مصداق اور شاہکار تھے ۔ وہ کثير الصلوٰة ا ور کثير الصوم تھے ان کا وضو کبھی باطل نہيں ہوتا تھا مگر یہ کہ وہ فوراً وضو کرتے تھے اورجب بھی وضو کرتے تھے اس کےبعد کوئی نماز بجالاتے تھے“ا صابہ ميں آیا ہے ؛”حجر ، علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے اصحاب اور شيعوں ميں سے تھے، ان کا علی عليہ السلام سے چولی دامن کا ساتھ تھا ابوذر کی وفات کے وقت ربذہ ميں ان کے سراہنے موجود تھے“صاحب اصابہ نے کہا ہے:

”جس وقت حجر کو شام لے جایا جارہاتھا انهےں غسل جنابت کے لئے پانی کی ضرورت پڑی اپنے مامور سے کہا: ميرے پينے کے پانی کے کل کے حصہ کو مجھے اس وقت دیدو تا کہطہارت کرلوں ( غسل کرلوں ) مامور نے کہا: ڈرتا ہوں کل پياس سے مرجاؤ گے اور معاویہ ہميں سرزنش کرکے سزادے گا ۔

صاحب اصابہ کا کہنا ہے : جب مامور نے پانی دینے سے انکار کيا تو حجر نے بارگاہ الہی ميں دعا کی اس کے بعد بادل کا ایک ٹکڑا سر پر نمودار ہوا اور اتنی بارش ہوئی کہ اس سے ان کی حاجت پوری ہوگئی اس کے ساتھيوں نے جب یہ روداد دیکھی تو کہا: حجر ! تم تو “

مستجاب الدعوة’ ’ ہو ، تمهاری دعا اس طرح بارگاہ الہی ميں قبول ہوتی ہے لہذا خداوند عالم سے دعا کرؤ تا کہ ہميں ظالموں سے نجات دے حجر نے کہا : “اَللّٰهم خر لنا” پروددگارا !جو کچھ

ہمارے لئے مصلحت ہو وہی عطا کر، کيونکہ ہم تيری چاہت کے خواہاں ہيں ۔

ی ہ تھے حجر اور ان کی شخصيت نيز ان کے سبائی ہونی کی داستان

مغيرہ کے خلاف حجر کا قيام طبری ۵ ١ هء کے حوادث کی پہلی فصل اور حجر اور اُن کے ساتھيوں کی روداد کی فصل ميں یوں نقل کرتا ہے:

____________________

١۔ وفادت : پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے زمانے ميں اگر کوئی شخص اسلام قبول کرنے کيلئے مدینہ ميں داخل ہوتا تھا اور اپنی مرضی و تشخيص سے اسلام کو قبول کرتا تھا سے “ وفادت ” کہتے تھے ۔ پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے زمانے ميں یہ عمل ایک ممتاز اور بلند افتخار مانا جاتا تھا۔


جب ۴ ١ ئه کے ماہ جمادی ميں معاویہ نے مغيرہ بن شعبہ کو کوفہ کے گورنر کے طور پر انتخاب کرنا چاہا تواسے اپنے پاس بلایا اورکہا: مغيرہ ! ميں چاہتا تھا بہت سے مطالب کے بارے ميں تجھے یاددہانی کراؤں اور متعدد وصيتيں کروں ليکن اب ان باتوں کو نظر انداز کرتا ہوں کيونکہ تيری بصيرت اور کارکردگی پر کافی اعتماد و اطمينان رکھتا ہوں اورمجھے توقع ہے کہ جس ميں ہماری رضا مندی ہو اور جس چيز سے ہماری حکومت ترقی کرے گی اور رعيت کے امور کی مصلحت وابستہ ہو، اسے ہی انجام دو گے اور اس کے مطابق عمل کرو گے، ليکن اس کے باوجود ایک نکتہ کی طرف اشارہ کرنے پر مجبور ہوں کہ جسے ہميشہ پيش نظر رکھنا اور اسے ميری اہم ترین وصيت سمجھ کر اس کی انجام دیہی ميں کسی قسم کی غفلت اور لا پروائی سے کام نہ لينا اور وہ یہ ہے کہ کسی وقت علی کی بد گوئی کرنے اور انهےں برا بهلا کہنے سے دست بردار نہ ہونا اور عثمان کی تعریف و توصيف ميں کوتاہی نہ کرنا، علی کے ماننے والوں کی عيب جوئی کرنے اور ان پراعتراض کرنے، اس کے شيعوں کی باتوں پر توجہ نہ دینے اور عثمان کے تابعےن سے پيار و محبت سے پيش آنے نيز ان کے تقاضوں اور مطالبا ت پر توجہ دینے کو اپنے پروگرام کا حصہ قرار دینا ۔

مغيرہ نے معاویہ کے جواب ميں کہا: ميں اپنے کام ميں تجربہ کار اور تربيت یافتہ ہوں تم سے پہلے دوسروں کی طرف سے بھی مختلف عہدوں پر فائز رہ چکا ہوں ميں نے ان کے لئے بھی شائستہ خدمات انجام دی ہيں اور مجموعی طور پر گذشتگان ميں سے کسی نے بھی ميرے کام کے سلسلہ ميں ميری سرزنش اور ملامت نہيں کی ہے کيونکہ جو بھی ذمہ داری مجھ پر ڈال دی جاتی ہے اس کو انجام دینے ميں توقع سے زیادہ تلاش اور کوشش کرتا ہوں ،اب تم بھی ميرا امتحان لوگے اور دیکھ لو گے کہ ميں ا س امتحان ميں پاس ہوکر ستائش اور تجليل کا مستحق بن جاتا ہوں یا فيل ہوکر سرزنش اور ملامت کا حقدار ۔

معاویہ : جانتا ہوں تيری سر گرمی اور کارکردگی ہماری خوشنودی کا باعث ہوگی ۔

اس کے بعد طبری کہتا ہے : “ مغيرہ ، معاویہ کی طرف سے سات سال سے زیادہ عرصہ تک گورنری کے عہدہ پر فائز رہا ۔ اس مدت ميں اس نے ریاست اور حکمرانی کی بہترین روش کو اپنایا لوگوں کی مصلحت ، بہبودی اور آسائشکا خیال رکھتا تھا، ليکن اس مدت ميں معاویہ کے حکم کے مطابق ہر چيز سے بيشتر اس نکتہ پر خاص توجہ دیتا تھا اور ہر موضوع سے بيشتر اس ميں سعی و کوشش کرتا تھا کہ علی عليہ السلام کی مذمت کرنے اور ان کی بد گوئی کرنے ميں کوتاہی نہ کرے عثمان کے قاتلوں پرلعنت بھيجنے ميں ایک لمحہ بھی غفلت نہ کرے عثمان کيلئے دعا کرنے ميں ان کيلئے طلب رحمت و مغفرت کرنے ميں ان کی اور ان کے دوستوں کی تعریف و تمجيد کرنے ميں کسی قسم کا بخل نہ کرے ۔ جب حجر بن عدی مغيرہ کی علی عليہ السلام کے بارے ميں اس سخت سرزنش اور لعنت و نفرین کو سنتے تھے تو کہتے تھے۔ خداوند عالم تجھ پر لعنت اور سرزنش کرے نہ کہ علی عليہ السلام اور اُن کے ماننے والوں پر۔

ایک دن مغيرہ تقریر کررہا تھا اور شعلہ بيانی کے ساتھ بولتے بولتے علی عليہ السلام اور ان کے دوستداروں کی بد گوئی کرنے لگااور عثمان کی تعریف و تمجيد ميں مصروف ہوگيا حجر بن عدی لوگوں کے درمیان سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور بلند آواز ميں بولے کہ خداحکم دیتا ہے کہ انصاف کی رعایت کرو، سچی گواہی دو ، ميں شہادت دیتا ہوکہ جس کی تم سرزنش او ر بدگوئی کررہے ہو وہ فضيلت کا مستحق ہے اور جس کی تم تعریف و تمجيد کرتے ہو وہ مذمت اور سرزنش کيلئے سزاوار تر ہے ۔

مغيرہ نے جب حجر کا بيان سنا تو بولا: اے حجر ! جب تک ميں تيرا فرمانروا ہوں تم آسائش ميں ہو اے حجر افسوس ہے تم پرحاکم ---معاویہ ---کے خشم سے ڈرو ، اس کی طاقت اور غضب سے چشم پوشی نہ کرو کيونکہ سلطان کے خشم کی آگ کبھی تم جيسے بہت سے لوگوں کو اپنی لپيٹ ميں لے کر نگل جاتی ہے ۔

ا س طرح مغيرہ بعض اوقات حجر کو ڈراتا اوردهمکاتا تھا اور سختی اور سزا کے بارے ميں انهےں تہدید کرتا تھا اور کبھی کبھی اغماض اور چشم پوشی سے پيش آتا تھا یہاں تک کہ مغيرہ کی حکمرانی کے آخری ایام آپہنچے پھر سے ایک دن مغيرہ نے اپنی تقریر کے دوران علی عليہ السلام اور عثمان کے بارے ميں زبان کهولی اور یوں کہا؛ خداوندا! عثمان بن عفان پر اپنی رحمت نازل کرے اور اسے بخش دے اور اس کے نيک اعمال کی بہترین جزا دے کيونکہ اس نے تيری کتاب پر عمل کيا اور پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی سنت کی پيروی کی اور ہماری پراکندگی کو اتحاد وا تفاق ميں تبدےل کيا اور ہمارے خون کی حفاظت کی اور خود مظلوم اور بے گناہ مارے گئے پروردگارا !تو اسے ، اس کے ماننے والوں ، دوستوں اور خونخواہوں کو بخش دے ۔

مغيرہ نے اپنی تقریر کے اختتام پرعثمان کے قاتلوں پر لعنت بھيجی یہاں پر حجر اٹھ

کھڑے ہوئے اور مغيرہ پر ایسی فریادبلند کی کہ مسجد کے اندر اور باہر موجود سب لوگوں نے ان کی آواز سن لی ،انهوں نے مغيرہ سے مخاطب ہوکر چيختے پکارتے ہوئے کہا؛ تم اپنے بوڑهاپے کی وجہ سے سے نہيں سمجھتے ہو کہ کس کے ساتھ الجه رہے ہواور جھگڑا کررہے ہو؟ اے مرد ! حکم دے تا کہ بيت المال سے ميرا وظيفہ مجھے دیاجائے کيوں کہ تيرے حکم سے ميرا حق مجھ سے روکاگياہے ۔ جبکہ تجھے یہ اختيار نہيں ہے اورہمارے ساتھ تم نے ظلم کيا ہے۔ سابق گورنر ایسا نہيں کرتے تھے اور اس قسم کی جرات و جسارت نہيں کرتے تھے ۔ تم نے اب حد سے زیادہ تجاوز کيا ہے اور یہاں تک پہنچے ہو کہ امير المؤمنين علی عليہ السلام کی مذمت اورسرزنش کرتے ہو اور ظالموں کی مدح و ثنا کرتے ہو!!

حجر کے مقابل ميں مغيرہ کی سياست طبری کہتا ہے:

جب حجر کی بات یہاں تک پہنچی تو مسجد ميں دو تہائی لوگ کھڑے ہوگئے اور ایک آواز ميں کہا: جی ہاں ،صحيح ہے مغيرہ ! خداکی قسم حجر سچ کہتا ہے اور حق کا دفاع کررہا ہے تيری یہ باتيں ہمارے لئے کوئی فائدہ نہيں رکھتی ہيں ، حکم دو تا کہ ہمارے حصہ کو بيت المال سے ادا کریں ا ور یہيں پر همارا حق دیدیں لوگوں نے مغيرہ کو ایسی باتيں بہت سنائيں اور شور و غل بر پا ہوگیا مغيرہ منبر سے نيچے اترا اور اپنے گھر چلا گيا اس کے طرفدار اجازت حاصل کرکے اس کے پاس گئے اور اس سے کہا: مغيرہ ! تم کيوں اس شخص کو اجازت دیتے ہو کہ یہ تيرے سامنے تيری حکومت کے بارے اس طرح گستاخانہ باتےں کرتاہے؟ تم نے اپنی اس روش کی وجہ سے اپنے لئے مشکل مول لی ہے اول یہ کہ : اپنی فرمانروائی کو کمزور کردیا ہے دوسرے یہ کہ معاویہ کی سرزنش اور غضب ميں اپنے آپ کو مبتلا کردیاہے ، کيونکہ اگر آج کی روئدادکی رپورٹ معاویہ تک پہنچے تو تيرے لئے معاویہ کی طرف سے حجر کی بے احترامی سے بد تر جسارت و سرزنش ہوگی“

طبری کہتا ہے :

مغيرہ نے ان کے جواب ميں کہا: ميں نے اپنی سياست اور نرم رویہ سے اسے موت کے نزدیک پہنچادیا ہے کيونکہ عنقریب ہی ایک نيا گورنر اس شہر ميں آنے والا ہے ۔ حجر اس کے ساتھ بھی ميرے جيسا سلوک کرے گا جس بے حيائی کا اس نے آج مظاہرہ کيا اور آپ نے بھی دیکھا ، اس گورنر کے سامنے بھی وہ اس کی تکرار کرے گا اور وہ پہلے ہی مرحلہ ميں حجر کو گرفتار کرکے بد ترین صورت ميں ا سے قتل کر ڈالے گا اور اب مير ی عمر آخر کو پہنچی رہی ہے اور ضعف و سستی سے دوچار ہوں ميں نہيں چاہتا ہوں اس شہر ميں دہشت گردی کا آغازميری وجہ سے ہوجائے اور ميرے ہاتھ اہل کوفہ کے نيک ترین اور متدین ترین شخصيتوں کے خون سے رنگيں ہوجائيں اوران کا خون بہایاجائے ا ور وہ اس طرح فيض سعادت کو پہنچيں اور ميرے نصيب شقاوت و بدبختی ہوجائے اور معاویہ اس دنيا ميں زیادہ سے زیادہ ریاست و عزت کا مالک بن جائے اور مغيرہ آخرت کی ذلت و بدبختی ميں مبتلا ہوجائے بطور کلی فی الحال ميری روش یہ ہے کہ جو بھی ميرے ساتھ ہے مجھ سے نيکی کرے ميں اس کی نيکی کا اجر اسے دوں گا اور جو کوئی ميرے ساتھ مخالفت اوردشمنی کرے اسے معاف کرکے اُس کے حال پر چھوڑ دوں گا ، برباد ، حليم اور خاموش طبع افرادکی ستائش کروں گا ۔ بے عقل ، نادان اورنکتہ چينی کرنے والوں کو نصيحت کروں گا تا کہ جس دن موت ميرے اور ان کے درميان جدائی و دوری ایجاد کرے ، اور اس صورت ميں جس دن کوفہ کے لوگ ميرے بعد نئے گورنر کی سخت روش کا مشاہدہ کریں گے تو اس وقت ميرے طریقہ کار کی ستائش کریں گے اور مجھے نيکی کے ساتھ یاد کریں گے ۔


زیاد بن ابيہ کے دوران حجر کاقيام

ویل امک یا حجر سقط العشاء بک علی سرحان

افسوس ہو تيری مال کی حالت پر اے حجر ! کہ تم بهيڑ یے کا لقمہ بن گئے زیاد بن ابيہ

حجر سے زیاد کی گفتگو مغيرہ ۴ ١ هء سے ۵ ١ هء تک کوفہ کا گورنر تھا ، اس نے ۵ ١ هء ميں وفات پائی، اس تاریخ کے بعد بصرے اور کوفہ کی فرمانروائی زیاد بن ابی سفيان کو سونپی گئی زیاد کوفہ کی طرف روانہ ہوا اور دار الامارہ ميں داخل ہوا ۔

ابن سعد کی “ طبقات” اور ذہبی کی “ سير اعلام النبلاء ”’ ميں آیا ہے:

”جب زیاد بن ابيہ گورنر کی حيثيت سے کوفہ ميں پہنچا اس نے حجر بن عدی کو اپنے پاس بلایا اور ان سے کہا: حجر ! کيا تم جانتے ہو کہ ميں تجھے دوسروں سے بہتر پہچانتا ہوں جيسا کہ تم جانتے ہو کہ ميں اور تم دونوں ایک دن علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے محب اور دوستدار تھے ليکن آج حالات بدل گئے ہيں تجھے خدا کی قسم دیتا ہوں کہ کوئی ایسا کام انجام نہ دینا کہ تيرے خون کا ایک قطرہ ميرے ہاتھ پر گر جائے ، چنانچہ اگر مسئلہ یہاں تک پہنچا تو ميں تم سب کاخون بہادوں گا حجر ! اپنی زبان پر کنٹرول کرنا اور اپنے گھر کے ایک کونے ميں بيٹهنا کہ اےسی صورت ميں تيری جگہ یہ تخت حکمرانی ہوگی اور تيری تمام ضروریات پوری ہوں گی ۔

حجر ، تجھے تيری جان کيلئے خداکی قسم دیتاہوں کہ اپنا خيال رکھنا ميں تيری جلد بازی سے باخبرہوں اے ابو عبدا لرحمان ١ ا ن ذليل ، بد معاش ، جاہل اور نادان لوگوں سے دور رہنا ایسا نہ ہو کہ لوگ تيری فکر کو بدل ڈاليں اور تيرے عقيدہ کو منحرف کرڈالےں اگر تم اس کے علاوہ کچھ ثابت ہوئے اور بيوقوفوں کی راہ پرچلے تو تم نے ميری نظر ميں اپنے مقام کو پست و حقير بنادیا اور اپنی حيثيت کو گرادیا ہے حجر ! جان لو کہ اس صورت ميں آسانی کے ساتھ تم سے دست بردار نہيں ہوں گا اورتجھے سزا دینے ميں کسی بھی جسمانی اذیت سے دریغ نہيں کروں گا ۔

حجر نے زیاد بن ابيہ کے جواب ميں ا س مختصر جملہ پر اکتفا کيا : تيری بات کو ميں سمجھ گيا اور زیاد بن ابيہ کے خلاف حجر کی بغاوت اس طرح شيعہ حجر کے گھر آمد و رفت کرتے تھے اور ان کی ہمت افزائی کرتے تھے کہ تم ہمارے رئيس و سرپرست ہو ، دیگر لوگوں کی نسبت تمہيں زیاد کی اس ناشائستہ حرکتوں اور طریقہ کار کا زیادہ انکارکرنا چاہئے اور علی عليہ السلام کے خلاف اس کے لعن کے مقابلہ ميں کھڑا ہونا چاہئے جب حجر مسجد کی طرف جاتے تو شيعيان علی بھی ان کے ساتھ مسجد جاتے تھے یہاں تک کہ زیاد بصرہ چلا گيا اور عمرو ابن حریث کو اپنی جگہ پر جانشين مقر رکيا عمرو نے ایک شخص کو حجر کے پاس بھيجا تا کہ پوچهے کہ اس اجتماع کا سبب کيا تھا؟ اور کيوں یہ لوگ تيرے گرد جمع ہوئے تھے جبکہ تم نے اميرکے ساتھ عہد و پيمان باندها ہے اور اس سے مدد کا وعدہ کے(۱) ہے۔

حجر نے عمرو بن حریث کے قاصد کو کہا: کيا تم خود نہيں جانتے ہو کہ کيا کرتے ہو؟ دور ہوجاؤ ! عمرو بن حریث نے حجر کی باتوں کے بارے ميں زیاد بن ابيہ کو من و عن رپورٹ دی اور یہ جملہ بھی اضافہ کيا کہ : اگر کوفہ کی ضرورت رکھتے ہو تو فوراً خودکو کوفہ پہنچاو ۔

زیاد عمرو کے خط کو پڑهنے کے بعد فوراً کوفہ کی طرف روانہ ہوا ور شہر ميں داخل ہوگے

____________________

١۔ عربی زبان ميں اگر کسی کا احترام کرنا چاہتے ہيں تو ا س کی کنيت سے خطاب کرتے ہيں ۔


تيرے پوشيدہ مقاصد سے بھی آگاہ ہوا اس کے بعد اپنے گھرچلے گئے گورنر کی طرف سے حجر کو بلانے کی خبران کے دوستوں او رشيعيان امير المؤمنين عليہ السلام کو پہنچی ، وہ اسکے گھر گئے اور انهےں بلایا اور گفتگو کی علت پوچھی حجر نے زیاد کی باتوں سے انهيں آگاہ کيا ۔ اس کے دوستوں نے کہا: زیاد کی باتيں تيرے لئے اصلاح و خير خواہی کا پہلو نہيں رکھتی ہيں ۔

طبری روایت کرتا ہے : زیاد پہلے دار الامارہ ميں داخل ہوا اس کے بعد ریشمی قبا زیب تن کئے ہوئے سبز عبا شانوں پر رکھ کر سر کے بالوں کو کنگھی کرکے مسجد کی طرف روانہ ہوا اور منبر پر گيا،اس وقت حجر اپنے ساتھيوں کی ایک بڑی تعداد کے ہمراہ مسجد کے ایک کونے ميں بيٹھے ہوئے تھے ، زیاد نے حمد و ثنا کے بعد کہا؛ سر کشی اور گمراہی کا انجام خطرناک ہے یہ چونکہ آرام وآسائش ميں زندگی کرتے تھے اس لئے سر کش ہوئے ہيں اور اطمينان حاصل کرکے ميرے مقابلہ ميں جسارت کی ہے خداکی قسم ! اگر اپنی گمراہی سے دست بردار نہيں ہو ئے اور سيدهے راستے پر نہ آئے توميں تمہارے درد کا علاج جانتا ہوں اگر ميں کوفہ کے علاقہ کو حجر کے حملات سے محفوط نہ رکھ سکا اور اسے عبرتناک سزا نہ دے سکا تو ميری کوئی قدر و منزل نہيں ہے افسوس ہو تيری ماں کی حالت پر اے حجر ! کہ تم بهيڑیہ کا لقمہ ہوگئے ۔

طبری مزید نقل کرتا ہے : زیاد بن ابيہ نے ایک دن ایک لمبی چوڑی تقریر کی اور نمازميں تاخير کی حجر بن عدی نے زبان کهولی اور کہا؛ زیاد ! نماز کا خيال رکھنا ، نماز کا وقت گزر گيا ليکن زیاد بن ابيہ نے اس کی باتوں کی طرف توجہ نہيں کی اور اپنی تقریری جاری رکھی پھر سے حجر نے بلند آواز نماز ! نماز! زیاد نے پھر بھی اپنی تقریر کو جاری رکھا جب حجرکو وقت نمازکے گزرجانے کا خوف ہوا تو اس نے مسجد ميں موجود کنکریوں سے دونوں مٹهياں بھرکر پھينکا اور خود نماز کيلئے کھڑے ہوگئے لوگ بھی ان کے ساتھ نماز کيلئے اٹھ کھڑے ہوئے جب زیاد نے اس حالت کا مشاہد کيا تو فوراً منبر سے اتر کر نماز کيلئے کھڑا ہوگيا لوگوں نے بھی اس کے ساتھ نماز ادا کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد معاویہ کے نام ایک خط کے ضمن ميں حجر کے حالات بھی منعکس کئے اور بہت سے دوسرے مطالب بھی اس کے خلاف لکھے۔

معاویہ نے زیاد کے خط کے جواب ميں لکھا : اس کی گردن ميں ایک بهاری زنجير بانده کر ميرے پاس بھيج دو ۔

استيعاب کا مؤلف اس داستان کو اس صورت ميں بيان کرتا ہے جب معاویہ نے زید کو عراق اور اس کے نواحی علاقوں کی گورنری سوپنی تو زیادنے اس علاقہ ميں برے سلوک او رسختی کا آغاز کيا اس وجہ سے حجر نے اس کی اطاعت کرنے سے انکار کيا ليکن معاویہ کی حکمرانی کی نافرمانی نہيں کی علی عليہ السلام کے شيعوں اور ان کے پيروں ميں سے بعض لوگوں نے زیاد کو معزول کرنے کے سلسلہ ميں حجر کی حمایت کی اورا ن کی پيروی کی ایک دن حجر نے زیاد کی طرف سے نماز ميں تاخير کرنے کی وجہ سے زیاد کی طرف پتهر پھينکے ۔

” اسد الغابہ ” اور ‘ الاصابہ ” کے مؤلفين نے بھی اس مطلب کی تائيد کی ہے ۔

طبری اس روداد کو ایک دوسری روایت ميں یوں نقل کرتاہے:

زیاد نے اپنی پوليس کو یہ آڈر جاری کيا کہ وہ حجر کو گرفتار کرکے اسکے پاس لے آئيں ،پوليس کے افراد جب حجر کے پاس پہنچے تو حجر کے ساتھيوں نے ان سے کہا : حجر ، کبھی زیاد کے پاس نہيں جآئیں گے ہم زیاد کيلئے کسی بھی قسم کے احترام کے قائل نہيں ہيں ۔

پوليس کے افسر نے دوسری بار چند مامورین کو بھيج دیا تا کہ حجر کو پکڑ کر اس کے پاس لے آئيں جب یہ مامورین حجر کے نزدیک پہنچے تو حجر کے ساتھيوں نے گاليوں اور بدگوئی سے ان کا جواب دیا ۔

حجر کے ساتھيوں کا متفرق ہونا:

زیادنے کوفہ کے بزرگوں اور اشراف کو اپنے پاس بلایا اور غضبناک حالت ميں ان سے مخاطب ہوکر بولا : اے کوفہ کے لوگو ! ایک ہاتھ سے سر پهاڑتے ہو اوردوسرے ہاتھ سے مرہم پٹی باندهتے ہو تمہارے جسم ميرے ساتھ اور دل حجر ،پاگل اور سراپا شر وفساد کے ساتھ ہيں تم لوگ ميرے ساتھ ہو ليکن تمہارے بھائی ، بيٹے اور قبيلہ کے افراد حجر کے ساتھ ہيں یہ ميرے ساتھ حيلہ اور فریب کے علاوہ کچھ نہيں ہے ۔ خدا کی قسم یا تم لوگ فوراً اس سے دوری اور بيزاری اختيار کروورنہ ایک ایسی قوم کو تمہارے شہر ميں بھيج دوں گا جو کہ تم کو سيدها کرکے رکھدیں گے۔

جب زیاد کی بات یہاں تک پہنچی تو حضار مجلس اٹھ کر کھڑے ہوئے اور کہا: ہم خداکی پنا ہ چاہتے ہيں کہ آپکے احکام کی پيروی کرنے اور امير لمؤمنين (معاویہ ) اور قرآن کی اطاعت کرنے کے علاوہ کوئی اور خيال نہيں رکھتے حجر کے بارے ميں جو بھی آپ کا حکم ہو ہم اطاعت کرنے کے لئے حاضر ہيں آپ مطمئن رہيں ۔

زیاد نے کہا: پس تم ميں سے ہر ایک شخص اٹھے گا اور اپنے بھائی ، فرزندں و رشتہ داروں اور قبيلہ کے لوگوں کو حجر کے گرد سے اپنی طرف بلائے اور تم ميں سے ہر شخص حتیٰ الامکان یہ کوشش کرے کہ حجر کے ساتھی متفرق ہوجائيں ۔

کوفہ کے سرداروں نے زیاد کے حکم پر عمل کيا اور حجر کے گرد جمع ہوئے اکثر لوگوں کو متفرق کردیاجب زیاد نے دیکھاکہ حجر کے اکثر ساتھی متفرق ہوگئے ہيں تو اس نے اپنے پوليس افسر کو حکم دیا کہ حجر کے پاس جائے اگر اس نے بات مانی اور اطاعت کی تو اپنے ساتھ ميرے پاس لے آو ورنہ اپنے سپاہےوں کو حکم دے کہ بازار ميں موجود لکڑی کے کهمبوں کو اکهاڑ کر ان پر حملہ کریں اور حجر کو ميرے پاس لائيں اورجو بھی اس راہ ميں رکاوٹ بنے اس کی پٹائی کریں ۔

پوليس افسر نے اپنے افراد کو حکم دیا کہ بازار کے لکڑیوں کے کهمبوں کو اکهاڑ کر حملہ کریں زیاد کی پوليس کے سپاہےوں نے ایساہی کيا اور ڈنڈوں کے ساتھ حجر کے ساتھيوں پر حملہ آ ور ہوئے ۔

عمير بن یزدی کندی جو خاندان هند سے تعلق رکھتا تھا اور “ ابو العمر طہ ” کے نام سے مشہور تھا ، نے کہا؛ اے حجر! تيرے ساتھيوں ميں ميرے سوا کسی کے پاس تلوار نہيں ہے اور ایک شخص تو کچھ کر ہی نہيں سکتا ہے حجر نے کہا:اب ميں کيا کروں مصلحت کيا ہے ؟

عمير نے کہا؛ تمہيں یہاں سے فوراً چلے جانا چاہئے اور اپنے قبيلہ کے افرادکے پاس پہنچنا چاہئے تا کہ وہ تيری حمایت اور نصرت کریں ۔

اس وقت زیاد منبر پر چڑه کر کھڑا مشاہدہ کررہا تھا کہ پوليس کے افراد ڈنڈوں سے حجر کے افرد پر حملہ کررہے تھے حمراء(۱) ميں سے بکر بن عبيہ عمودی نامی ایک شخص نے جو

____________________

١۔ حمراء ،ایک لقب تھا خلافت کے دربار ميں موجود عربوں نے اس لقب کو ایرانيوں کيلئے رکھا تھا۔


حجر کے ساتھيوں ميں سے تھا عمرو بن حمق ١ کے سر پر زور سے ایک ضرب لگائی وہ زمين پر گر گيا ليکن قبيلہ ازد کے دو افراد نے اسے اٹھا کر اس کے قبيلہ کے ایک شخص کے گھر لے گئے عمر وکچھ دن اس گھر ميں مخفی رہا اور ٹھيک ہونے کے بعد وہاں سے چلا گيا ۔طبری کہتا ہے : اس حملہ کے بعد حجر کے ساتھی مسجد کے کندہ نامی دروازے کی طر ف جمع ہوئے اس اثناء ميں ایک پوليس والے نے عبد الله بن خليفہ طائی پر ایک ڈنڈہ مارا وہ زمين پر گرگيا اور پوليس والا یہ رجز پڑ ه رہاتھا ۔

قد علمت یوم الهياج خلتی

انی اذا فئتی تولت

و کثرت عداتها او قلت

انی قتّال غداة بلت

ميرے دوست جانتے ہيں اگرميد ان کارزار ميں ميرا ہم رزم گروہ بهاگ جائے اور ہمارے دشمن زیادہ ہوں ميں اس کمی کے باوجود ایساقتل عام کروں گا کہ دوسرے فرار کر جائيں گے۔

حجر مخفی ہوجا تے ہيں :اس کے بعد حجر کے ساتھی مسجد کے ان دروازوں سے باہر نکلے جن کا نام کندہ تھا حجر گھوڑے پر سوارہو کر اپنے گھر کی طر ف چلے گئے پھر بھی اس کے بعض ساتھيو ں نے اس کے گھر ميں اجتماع کيا، جو قبيلہ کندہ کے افراد کی نسبت کم تھے اسی جگہ پر حجر کے سامنے زیاد کے مامورین اور حجر کے ساتھيوں کے درميان ایک جنگ چهڑ گئی حجر نے اپنے ساتھيوں سے مخاطب ہوکر کہا: افسوس ہے تم پر ! کيا کررہے ہو ؟ جنگ نہ کرو اور متفرق ہوجاؤ ۔ ميں بعض کوچوں ميں سے گزر کر قبيلہ بنی حرب کی طرف جاتا ہوں اس کے بعد حجر

____________________

١۔ طبری عبدا لله بن عوف سے نقل کرتاہے کہ وہ کہتا ہے کہ مصعب کے قتل ہونے کے ایک سال بعد کو فہ ميں داخل ہوا اتفاقاً راستہ ميں ایک احمری شخص کو دیکھا جس دن عمر بن حمق زخمی ہوا تھا اس دن سے اسے نہيں دیکھا تھا اور تصور نہيں کرتا تھا کہ اگر کبھی عمرو کے مارنے والے کو دیکھ لوں تو اسے پہچان سکوں ليکن چونکہ ميں نے اس کودیکھاتھا تو احتمال دیا کہ یہ عمرو کا مارنے والا ہوناچاہئے ميں نے سوچا کہ اگر موضوع کو سوال کی صورت ميں پيش کروں تو ممکن ہے بالکل انکار کرے۔ اس لئے ميں نے مسئلہ کو اس طرح پيش کيا : ميں نے تمہيں اس روز کے بعد آج تک نہيں دیکھا جب تم نے عمرو پر حملہ کرکے اس کے سر کو زخمی کردیا تھا ، اس نے جواب ميں کہا: تيری آنکھيں کتنی تيز بين اور تيری نظر کتنی رسا ہے ۔ جی ہاں جو کام اس دن مجھ سے سرزد ہوا ، اس کے بارے ميں آج تک پشيمان ہوں کيونکہ عمرو ایک لائق اور شائستہ شخص تھاجب ميرا گمان یقين ميں بدل گيا تو ميں نے اس سے کہا: خدا کی قسم جب تک نہ تجھ سے عمرو کا انتقام لے لوں تم سے دست بردار نہيں ہوں گا ۔ اس نے مجھ سے التماس اور درخواست کی کہ اسے معاف کردوں ليکن ميں نے اس کی بات کی طرف توجہ نہيں کی ۔ ميرا ایک غلام جو ایرانی اور اصفہانی تھا ، اس کے ہاتھ ميں ایک بهاری برچھی تھی ، اس نے اس سے لے ليا اور پوری زور سے اس شخص کے سر پر دے مارا کہ وہ زمين پر گرگيا اور اسی حال ميں چھوڑکر ميں چلا گيا ۔ ليکن بعد ميں اس کا زخم ٹھيک ہوگيا تھا کہ ایک بار پھر اس سے ملاقات ہوئی ہر بار جب وہ مجھے دیکھتا تھا تو کہتا تھا : ميرے اور تيرے درميان خدا فيصلہ کرے گا۔ اور ميں بھی اس کے جواب ميں کہتا تھا :خداتيرے اور عمرو بن حمق کے درميان فيصلہ کرے ۔


اسی طرف روانہ ہو گئے ا ور سليم بن یزد نامی بنی حرب کے ایک شخص کے گھر ميں داخل ہوئے زیاد کے مامور اور پوليس جو حجر کا پيچها کررہے تھے نے اس گھر کو تحت نظر رکھا اور اسے اپنے محاصرہ ميں قرار دیا سليم نے جب اپنے گھر کو زیاد کے مامورین کے محاصرہ ميں پایاتو اس نے اپنی تلوارکھينچ لی تاکہ زیادکے مامورین سے جنگ کرے اس کی بيٹيوں کے رونے کی آواز بلند ہوئی حجر نے پوچھا : سليم ! تم کيا کرنا چاہتے ہو ؟ اس نے جواب ميں کہا : ميں ان لوگوں سے درخواست کرنا چاہتاہوں تاکہ آپ سے دست بردار ہوکرچلے جائيں ، اور اگر انہوں نے ميری بات قبول نہ کی تو جب تک ميرے ہاتھ ميں یہ تلوار ہے ان سے لڑوں گا اورتمہارا دفاع کروں گا حجر نے کہا: لا ابا لغيرک --- تيرے علاوہ بن باپ کا ہے ميں نے تيری بيٹيوں کيلئے کيا مصيبت پےدا کی ہے ! سليم نے کہا: نہ ان کا رزق ميرے ہاتھ ميں ہے اور نہ ميں ان کا محافظ ہوں ان کا رزق اور ان کی حفاظت اس خداکے ہاتھ ميں ہے جو ہميشہ زندہ ہے اورمرگ و زوال اس کے لئے ہر گز نہيں ہے ميں کسی بھی قيمت پر اس ذلت کو برداشت نہيں کروں گا کہ وہ ميرے گھر ميں داخل ہوکر ميرے مہمان اورجا گزےن شخصکو گرفتار کریں اور جب تک ميں زندہ ہوں اور تلوار ميرے ہاتھ ميں ہے ہر گز اس کی اجازت نہيں دوں گا کہ تجھے ميرے گھر ميں گرفتار کيا جائے اور تجھے اسيرکرکے زنجيروں ميں جکڑا جائے مگر یہ کہ مجھے تيرے سامنے قتل کيا جائے اسکے بعد جو چاہيں کرےں حجر نے کہا: سليم ! تيرے اس گھر ميں کوئی سوراخ یا کہيں پست دیوار نہيں ہے ؟ تا کہ ميں راستہ سے خود کو باہر پہنچا دوں ؟ شاےد خدا وند عالم مجھے ان افراد کے شر سے اور تجھے جنگ و قتل سے نجات دے ؟ کيونکہ جب وہ مجھے تيرے پاس نہ پائيں گے تو تجھے کوئی ضررر نہيں پہنچائيں گے سليم نے کہا؛ کيوں ، یہ ایک سوراخ ہے یہاں سے نکل کر بنی عنبر اور دیگر قبيلوں کے ےہاں پہنچ سکتے ہو جو تيرے رشتہ دار ہيں حجر سليم کے گھر سے چلے گئیاور کوچوں کے پيچ و خم سے گزر کر قبيلہ نخ کے ےہاں پہنچ گئے اور اشتر کے بھائی عبدالله بن حارث کے گھر ميں داخل ہوئے حارث نے حجر کا استقبال کيا اور ان کی مہماں نوازی اور حمایت کی ذمہ داری لے لی جو عبد الله کے گھرميں تھا ایک دن اسے اطلاع ملی کہ زیاد کی پوليس اسے قبيلہ نخ ميں ڈهونڈ رہی ہے اور اس کا پيچها کررہی ہے اس کی سياہ فام کنيز نے پوليس والوں کو یہ اطلاع دی تھی حجر قبيلہ نخ ميں ہے جب پوليس والے اس سے مطلع ہوئے تو حجر عبدالله کے گھر سے بهيس بدل کررات کو نکل گئے اور خود عبد الله بھی سوار ہوکر اس کے ساتھ نکلا یہاں تک ربيعہ بن ناجد ازدی کے گھرے ميں داخل ہوگئے ایک دن اور رات وہاں پر ٹھہرے اس طرح سپاہی کافی تلاش کے باوجود حجر کو گرفتارنہ کرسکے اور نااميدی کے ساتھ زیاد کی طر ف واپس لوٹے پھر زیاد بن ابيہ نے حجر کو گرفتار کرنے کيلئے ایک دوسری راہ کا انتخاب کيا اور اس طرح حجر بن عدی کو گرفتار کيا گيا اگلی فصل ميں داستان کا باقی حصہ بيان کریں گے ۔


حجر بن عدی کی گرفتاری

والله لا حرصنّ علی قطع خيط رقبة

خدا کی قسم کوشش کرتا ہوں کہ اس کی گردن کی رگ کو کاٹ دوں زیاد بن ابيہ جيسا کہ ہم نے گزشتہ فصل ميں کہا کہ زیاد کے مامور حجر کو گرفتار نہ کرسکے اور نااميدی کی حالت ميں واپس آئے زیا دنے روداد کو جب اس حالت ميں دیکھا تو حجر کی گرفتار کيلئے دوسری راہ اختيار کی اور وہ یہ کہ : محمد بن اشعث کو اپنے پاس بلایا اور اس سے کہا:

اے ابو ميثاء ! حجر جہاں بھی ہو اسے تمہيں تلاش کرنا ہوگا اور اسے تلاش کرکے ميرے حوالہ کرنا ، ورنہ خدا کی قسم تيرے تمام درختوں کو کاٹ دوں گا ، تيرے گھر کو مسمار کردوں گا اور تجھے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالوں گا ۔

ابن اشعث نے کہا: امير ! مجھے مہلت چاہئے ۔ زیاد نے کہا: اس کا م کوانجام دینے کيلئے تجھے تين دن کی مہلت دیتا ہوں اگر تين دنوں کے اندر حجر کو لا سکے تو نجات پاؤ گے ورنہ اپنے آپ کو مردوں ميں شمار کرنا اس کے بعد حکم دیا محمد بن اشعث ---جس کا رنگ اڑگيا تھا اور حالت بگڑ گئی تھی --- کو گھسيٹتے ہوئے زندان کی طرف لے گئے ۔ حجر بن یزید کندی نے جب محمد کو اس حالت ميں دیکھا تو زیاد کے پاس آکر کہا؛ امير ! ميں محمد کيلئے ضمانت دیتاہوں اسے آزادکردو تا کہ حجر کو تلاش کرے کيونکہ اگر اسے زندان ميں ڈالنے کے بجائے آزاد چھوڑ دو تا کہ پورے انہماک اور لگن کے ساتھ اس کام کو انجام دے ۔ زیاد نے کہا: کيا تم اس کی ضمانت دوگے ؟ اس نے کہا : جی ہاں ،ز یاد نے کہا: اے ابن یزید: باوجود اس کے کہ تم ميرے نزدیک بلند مقام و منزلت کے حامل ہو اگر محمد بن اشعث ہمارے چنگل سے فرار کر گيا تو تجھے موت کے حوالہ کرکے نابودکردوں گا ۔

حجر بن یزید نے کہا: محمد ہر گز مجھے ضمانت ميں پھنسا کر فرار نہيں کرے گا اس کے بعد زیاد نے محمد کو آزاد کرنے کا حکم دیا پھر زیاد نے قيس بن یزید کو اپنے پاس بلایا جو جيل ميں تھا اور اسے کہا؛ قيس ! ميں جانتا ہوں کہ حجر کے رکاب ميں تيرا جنگ کرنا خاندانی تعصب کی بناء پر تھا نہ عقيدہ اور ہم فکری کی وجہ سے ميں نے تيری اس خطا اور گناہ کو بخش دیا اور تجھے عفو کيا کيونکہ ميں نے جنگ جمل ميں معاویہ کے رکاب ميں تيری حسن رائے اور جانفشانی کے بارے ميں سنا ہے ليکن تجھے آزاد نہيں کروں گا جب تک کہ اپنے بھائی عمير کو ميرے پاس حاضر نہ کرو گے۔ قيس نے جواب دیا : انشاء الله جتنا جلد ممکن ہوسکا اسے تيرے حضورميں پيش کروں گا زیاد نے کہا: کوئی تيری ضمانت کرے تا کہ تجھے آزاد کردوں قيس نے کہا: یہی حجر بن یزید مير اضامن ہے حجر بن یزید نے کہا: جی ہاں ، ميں قيس کی ضمانت دیتاہو ، اس شرط پر کہ امير، ہمارے عمير کو امان دیدے اور اس کی طرف سے ان کی جان و مال پر کوئی نقصان نہ پہنچے زیاد نے کہا: ميں نے عمير کو امان دی۔

قيس اور حجر گئے اور عمير کو زخمی بدن اور خون آلود حال ميں زیاد کے پاس لے آئے اس نے حکم دیا کہ اس کی گردن پر ایک بهاری زنجير ڈالی دیں زنجير ڈال کرزیاد کے حکم کے مطابق بعض مامورین زنجير کو پکڑ کر اسے دیوار کی بلندی تک کھينچتے اورپھر زنجير کو چھوڑ

دیتے تھے کہ وہ زور سے زمين پر گرتا تھا دوبارہ اسے دیوار کی بلندی تک کھينچتے تھے اور زمين پر چھوڑتے تھے حجر بن یزید نے اعتراض کرتے ہوئے کہ؛ اے امير : کيا تم نے اسے امان نہيں دیا ہے ؟ اس نے کہا: ہاں ميں نے اس کے مال و جان کو امان دی ہے نہ اس کے بدن کو ۔ميں نہ خون بہاتا ہوں اور نہ اس کے مال سے کچھ ليتا ہوں ، حجر نے کہا: وہ تو تيرے اس عمل سے مرنے کے قریب ہوجائے گا اس کے بعد حاضرےن بزم ميں سے ےمنی جماعت نے اٹھ کر زیاد سے گفتگو کی اور عمير کی آزادی کی درخواست کی ۔ زیاد نے کہا: اگر تم لوگ اس کی ضمانت کرو گے اوروعدہ کرو گے کہ اگر اس نے پھر سے ہماری سياست اور حکومت کے خلافت کوئی کاروائی کی تو تم لوگ تو خود اسے گرفتار کرکے ہمارے حوالہ کرو گے تو ميں اسے آزاد کردوں گا ۔ انہوں نے کہا:

جی ہاں ، اس تعہد و ضمانت کو قبول کرتے ہيں ۔ زیاد نے عمير کو آزاد کرنے کا حکم دیا ۔

حجر کا مخفی گاہ سے باہر آنا:

ا یک شب و روز تک ، حجر بن عدی، ربيعہ ازدی کے گھر ميں پناہ گزےن رہے اسی جگہ پر حجر مطلع ہوئے کہ زیاد نے محمد بن اشعث سے تعہد ليا ہے کہ حجر کو اس کے حوالہ کردے گا ورنہ اس کی ثروت پر قبضہ ، گھر کو مسمار اور خود اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردے گاحجر نے یہ خبر سننے کے بعد محمد بن اشعث کو پيغام بھيجا کہ تيرے بارے ميں اس ظالم اور ستم گر کی باتوں کو ميں نے سنا ، ليکن پریشان نہ ہونا کيونکہ ميں خود تيرے پاس آجاؤں گا ليکن تم بھی اپنے قبيلہ کے افراد کو جمع کرنا اور ان کے ہمراہ زیاد کے پاس جانا اور اس سے ميرے لئے امان کی درخواست کرناتاکہ مجھے کسی قسم کی تکليف نہ پہنچائے اور مجھے معاویہ کے پاس بھيج دے تا کہ ميرے بارے ميں خود وہ فيصلہ کرے ۔ جب یہ خبر محمد بن اشعث کو پہنچی تو وہ اٹھ کر حجر بن یزید، جریر بن عبد الله اور مالک اشتر کے بهتيجے عبدالله بن حارث کے گھر گيا اور ان سب کو اپنے ساتھ لے کر زیاد کے پاس گيا اور اس کے ساتھ حجر بن عدی کے بارے ميں گفتگو کی اور حجر کو امان دینے اور اسے معاویہ کے پاس بھيجنے کی درخواست کی ۔ زیادنے ان کی درخواست منظور کی اور حجر ابن عدی کو امان دی ۔

ا نہوں نے بھی حجر بن عدی کو اطلاع دیدی کہ زیاد نے تيری درخواست منظورکرلی ہے اور تجھے امان دیا ہے اب تم اپنی مخفی گاہ سے باہر آسکتے ہو،اور زیاد سے ملاقات کرسکتے ہو حجر بن عدی بھی ربيعہ کے گھر سے باہر آگئے اور دار الامارہ ميں گئے حجر پر زیاد کی نظر پڑتے ہی زیادنے کہا:

مرحبا ہو تم پر اے عبدالرحمان ، جنگ کے دنوں ميں جنگ و خونریزی اور صلح و آرام کے دنوں ميں بھی جنگ و خونریزی ؟ علی اهلها تجنی براقش(۱) حجر نے زیاد کے جواب ميں کہا:

ميں نے نہ اطاعت سے انکار کيا ہے اور نہ جماعت سے دوری اختيار کی ہے بلکہ ميں اپنی سابقہ بيعت معاویہ پر قائم ہوں ۔

زیاد نے کہا: هيئات ، هيئات ، ! بعيد ہے اے حجر ! تم ایک ہاتھ سے تھپڑ مارتے ہو اور دوسرے ہاتھ سے نوازش کرتے ہو تم چاہتے ہو کہ جب ہم تم پر کامياب ہوں تو اس وقت تجھ سے راضی ہوجائيں ! خدا کی قسم نہيں !

حجر نے کہا: کيا تم نے مجھے امان نہيں دی ہے تاکہ معاویہ کے پاس جاؤں اور جس طرح وہ چاہے ميرے ساتھ برتاؤ کرے ؟

____________________

١۔کہتے ہيں ایک عرب قبيلہ کے کتے کا نام ‘ براقش” تھا ، ایک رات کو اس کتے نے گھ وڑوں کے چلنے کی آوازسنی اور بهونکا ۔ان گھ وڑوں پر ڈاکو سوار تھے اس کتے کی آواز پر اس قبيلہ کے گھ ر شناسائی کرکے اس پر شب خون مارا اور تمام ثروت کو لے بهاگے اس روز کے بعد عربوں ميں یہ جملہ ضرب المثل بنا ہے : “ علی اهلها جنت براقش” یہ ضرب المثل اس وقت کہتے ہيں جب کوئی خود اپنے کام پر یاقبيلہ پر ظلم کرتا ہے براقش کتے نے اپنے ہی مالک پر ظلم کيا ۔


زیاد نے کہا: کيوں نہيں ، ميں نے ہی تجھے امان دی ہے اس کے بعد مامورین کی طرف رخ کرکے بولا : اسے زندان لے جاؤ جب حجر زندان کی طرف روانہ ہو ئے زیاد نے کہا :خدا کی قسم اگر اسے امان نہ دیا ہوتا تو یہيں پر ا س کا سر قلم کردیتا اور خدا کی قسم آرزو رکھتا ہوں کہ اس کا انتقام لے کر اس کی زندگی کاخاتمہ کرکے رکھدوں ۔ حجر نے بھی زندان کی طرف جاتے ہوئے بلند آواز ميں کہا: خدایا ! تو شاہد رہنا ميں اپنی بيعت اور عہد و پيمان پر باقی ہوں ميں نے اسے نہيں توڑا ہے اور نہ اسے توڑنے کا ارادہ رکھتا ہوں ! لوگو! سن لو!

اس وقت اس سرد ہوا ميں حجر کے سر پر صرف ایک ٹوپی تھی ، اسے دس دن کيلئے جيل بھيج د یا گيا۔

حجر کے ساتھيوں کی گرفتاری اس مدت کے دوران زیاد نے حجر کے ساتھيوں کو پکڑنے کے علاوہ کوئی کام نہيں کيا ۔

عمرو بن حمق اور رفاعہ بن شدا دجو حجر کے خاص ساتھی تھے نے کوفہ سے فرار کيا اور عراق کے موصل پہنچے اور وہاں پر ایک پہاڑ کے درميان مخفی ہوگئے اور ایک جگہ کو اپنے لئے پناہ گاہ قرار دیا ، جب علاقہ کے چودهری کو اطلاع ملی کہ دو ناشناس افراد پہاڑوں ميں ایک غار ميں مخفی ہوئے ہيں وہ ان کے بارے ميں شک ميں پڑگيا اور چند لوگوں کے ہمراہ انکی طرف بڑها ، جب کوہ کے دامن پر پہنچے تو وہ دونوں پہاڑ کے درميان سے باہر نکلے عمر بن حمق سن رسيدہ ہونے کی وجہ سے بہت تهک چکا تھا اوراب اس ميں فرار کی ہمت باقی نہيں رہی تھی اس لئے اس نے فرار اور مقابلہ کرنے پر ہتهيار ڈالنے کو ہی ترجيح دیا ليکن رفاعہ عمرکے لحاظ سے جوان اور جسم کے لحاظ سے قوی اور طاقتور تھا وہ گھوڑے پر سوار ہوا تا کہ عمرو بن حمق کا دفاع کرے اور اسے گرفتار ہونے سے بچالے عمرو نے اسے کہا : رفاعہ ! تيری جنگ اور مقابلہ کا کوئی فائدہ نہيں ہے اگر ہوسکے تو اپنے آپ کو ہلاکت سے بچالو اور اپنی جان کا تحفظ کرلو رفاعہ نے ان پر حملہ کيا اور ان کی صف کو توڑ کر بهاگنے اور اپنے آپ کو نجات دینے ميں کامياب ہوگيا ليکن عمرو بن حمق پکڑا گيا اس سے پوچھا گيا کہ تم کون ہو ؟ اس نے جواب ميں کہا: ميں وہ ہوں ، اگر مجھے آزاد کرو گے تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر قتل کرو گے تو تمہارے لئے گراں تمام ہوگااس نے صرف اسی جملہ پر اکتفا کيا اوراپنا تعارف کرانے سے اجتناب کيا لہذاا سے موصل کے حاکم عبدالرحمان بن عبد الله ثقفی معروف بہ ابن ام حکم ---معاویہ کے بهانجے ---کے پاس بھيجا عبدالرحمان نے عمرو کو پہچان ليا اس نے معاویہ کو ایک خط ميں اس کے فرار کرنے اور پکڑے جانے کی روئداد لکھی اور اس کے بارے ميں اپنا وظیفہ دریا فت کیا۔

معاویہ نے خط کے جواب ميں لکھا : عمرو بن حمق نے اپنے اعتراف کے مطابق عثمان کے بدن پر برچھی کے نو ضربيں لگآئیں ہم اس سے تجاوز کرنانہيں چاہتے لہذا جس طرح اس نے عثمان کے بدن پر نو ضرب لگائی ہيں اسی طرح تم بھی اس کے بدن پر برچھی سے نو ضرب لگاو۔

عبدالرحما ن نے عمرو کے بارے ميں معاویہ کے حکم پر عمل کيا پہلی یا دوسری بار جب اس کے بدن پر برچھی کی ضرب لگائی گئی تو اس نے جان دیدی ۔

عمرو بن حمق کون ہے ؟

عمرو بن حمق رسول خدا صلی الله عليہ وآلہ وسلم کے اصحاب ميں سے تھے صلح حدیبيہ کے بعد آنحضرت صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی خدمت ميں حاضر ہوکر صحابی رسول بننے کی سعادت حاصل کی ۔ آنحضرت صلی الله عليہ و آلہ وسلم سے کثیر تعداد ميں احادیث یاد کےں جب عمرو نے آنحضرت صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی خدمت ميں ایک گلاس پانی پيش کيا آنحضرت نے اس کيلئے یوں دعا کی:

خدایا : اسے جوانی سے بہرہ مند فرما :اللهم امتعه بشبابه

لہذا اسی ( ٨٠ )سال کی عمرميں بھی اُن کے چہرے پر جوانی کا نشاط نمایاں تھا ،

حتی اس کے سر و صورت کا ایک بال بھی سفيد نہيں ہوا تھا۔

وہ ان افراد ميں سے ہيں جنہوں نے عثمان کے خلاف بغاوت ميں شرکت کی عمرو بن حمق عثمان کے مظالم سے مقابلہ کرنے کيلئے کچھ لوگوں کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے ان چار افراد ميں سے ایک ہيں جو عثمان کے گھر ميں داخل ہوئے ۔(۱) وہ امير المؤمنين علی عليہ السلام کے نزدیک ترین اصحاب ميں سے تھے علی عليہ السلام کی تمام جنگوں جنگ جمل، صفين اور نہروان ميں علی کی رکاب ميں شرکت کی ہے زیاد بن ابيہ سے ڈر کے مارے کوفہ سے بهاگ کر موصل فرار کر گئے موصل کے حاکم نے معاویہ کے حکم سے ان کا سر قلم کرکے معاویہ کے پاس بھيجدیا ۔

مؤرخين نے کہا ہے : اسلام ميں جو پہلا سر شہر بہ شہر لے جایا گيا عمرو بن حمق کا کٹا ہوا سر تھا ۔

جب اس کے سر کو معاویہ کے پاس لایا گيا اس نے حکم دیا اس کے سر کو اس کی بيوی ( آمنہ بنت شرید ) جو معاویہ کے حکم سے ایک مدت سے شام کے زندان ميں تھی کے پاس لے جائيں عمرو کے کٹے ہوئے سر کوزندان ميں اسکی بيوی کی آغوش ميں پھينک دیا گيا آمنہ اپنے شوہر کا کٹا سر دیکھ کر مضطرب اور وحشت زدہ ہوئی اس کے بعد کٹے ہوئے سر کو آغوش ميں لے کر اپنے ہاتھ کو اپنے شوہر کی پيشانی پر رکھا اسکے ہونٹوں کو چوما اور پھر کہا: “ ایک طولانی مدت تک اس نے مجھ سے جدا کردیا اور آج اس کا کٹا سر ميرے لئے تحفہ کے طورپر لائے ہو آفرین ہو اس تحفہ پر مرحبا

____________________

١۔ عثمان کے قتل ميں کن لوگوں نے براہ راست اقدام کيا اسکے بارے ميں مورخين ميں اختلاف ہے بعض کہتے ہيں محمد ابن ابی بکر نے ہاتھ ميں لئے ہوئے نيزہ سے ضرب لگائی اور اسے قتل کيا ليکن کچھ لوگ کہتے ہيں کہ محمد بن ابوبکر اسکے گھ ر ميں داخل ہوئے ليکن سودان بن حمران نامی ایک شخص نے اسے قتل کيا کچھ لوگ کہتے ہيں کہ محمد بن ابی بکر عثمان کی داڑهی کو پکڑ کرکھيچاجس پر عثمان نے کہا: ایک ایسے ریش کو کھينچ رہے ہو کہ تيرا باپ اس کا احترام کرتا تھا اور تيرا باپ تيرے اس کام سے راضی نہيں ہوگا محمد نے جب عثمان کا یہ جذباتی کلام سنا تو چھوڑ کر اس گھ رکے سے باہرنکل گئے۔


اس ہدیہ پر(۱) : عمرو بن حمق ۵٠ هء ميں شہيد ہوئے(۲)

حجر بن عدی اور ان کے ساتهيوں کا قتل

اللّٰهم انما نستعدیک علی امتن

خداوندا ! ہم اپنی ملت سے، کوفہ شام کے بظاہر ان مسلمانوں سے تيری بارگاہ ميں شکایت کرتے ہيں ! حجر ابن عدی طبری کہتا ہے : زیاد بن ابيہ نے حجر ابن عدی کے ساتھيوں کو گرفتار کرنے کی زبردست کوشش کی ان ميں سے ہرایک کسی نہ کسی طرف فرار کرتا رہا جہاں کہيں بھی ان ميں سے کسی کو پایا گرفتار کرليتا تھا ۔

صيفی کی گرفتاری طبری کہتا ہے : قيس بن عباد شيبانی، زیاد کے پاس گيا اور کہا : ہمارے قبيلہ ميں صيفی بن فسےل نامی خاندان ہمام کا ایک شخص ہے وہ حجر بن عدی کے ساتھيوں ميں ایک بزرگ شخصيت ، وہ تيرے شدید مخالفوں ميں سے ہے، زیاد نے ایک مامور کو بھيجا اور صيفی کو لایا گيا زیاد نے اس سے مخاطب ہوکر کہا: اے دشمن خدا ! ابو تراب کے بارے ميں تيرا عقيدہ کيا ہے ؟اس نے کہا: ميں ابو تراب کو نہيں جانتا ہوں زیاد نے کہا: تم اسے اچھی طرح جانتے ہو ! صيفی نے کہا: نہيں ، ميں ابو تراب کو نہيں جانتا ہوں ! زیاد نے کہا: کيا تم علی ابن ابيطالب عليہ السلام کو نہيں جانتے ہو ؟ اس نے کہا: کيوں نہيں ؟ زیاد نے کہا:وہی تو ابو تراب ہيں !

صيفی نے کہا؛ نہيں ، وہ ابو الحسن اور ابو الحسين ہيں ۔ زیاد کی پليس افسر نے صيفی کو دهمکی دیتے ہوئے کہا: کہ امير کہتا ہے وہ ا بو تراب ہيں اور تم کہتے ہو نہيں ؟ صيفی نے کہا:

اگر امير جھوٹ کہے تو کيا مجھے بھی اس کے جھوٹ کی تائيد کرنی چاہئے اور اسکے باطل اور بے بنياد مطالب پر گواہی دوں ؟! زیاد نے کہا: صيفی ! یہ بھی ایک دوسرا گناہ ہے ۔ حکم دیا ایک عصا لائيں ، اس کے بعد صيفی سے مخاطب ہوکر بولا : تم علی عليہ السلام کے بارے ميں کيا کہتے ہو؟ صيفی نے کہا: بہترین بات جو ایک بندہ خدا کيلئے زبان پر جاری کرسکتا ہوں وہی علی عليہ السلام کے بارے ميں کہوں گا زیاد نے حکم دیا کہ عصا سے اس کی گردن پر اس قدر ماریں تا کہ زمين پر گرجائے ۔ ظالموں نے ایسا ہی کيا ۔ زیاد نے کہا: اسے چھوڑ دو اس کے بعد سوال کيا: اب بتاؤ علی عليہ السلام کے بارے ميں کيا کہتے ہو؟ صيفی نے کہا: خدا کی قسم اگر مجھے چاقو سے ٹکڑے ٹکڑے کر دوتو علی عليہ السلام کے بارے ميں اس کے علاوہ کچھ نہيں سُن پاؤ گے ۔ زیاد نے کہا: علی پر لعنت کرو ورنہ تيرا سر قلم کردوں گا ۔ صيفی نے

____________________

١۔ غير قالية و مقلية

٢۔ ہم نے عمرو بن حمق کی زندگی کے حالات کو “ استيعاب ” ، اسد الغابہ اور اصابہ سے نقل کيا ہے ليکن کے کٹے سر کو اس کی بيوی کے پاس بھيجنے کی روایت کو صرف اسد الغابہ سے نقل کيا ہے ۔


کہا: خدا کی قسم اگر ميرے سر کو تن سے جدا کردو گے تب بھی ميری زبان پر علی عليہ السلام پر لعنت جاری نہيں ہوگی اب اگر چاہتے ہو تو ميرا سر قلم کردو کہ ميں راہ خدا ميں خوشنود ہوں ليکن تمہارا انجام بدبختی کے سواکچھ نہيں ہے زیاد نے کہا: بعد ميں اس کا سر قلم کرنا ۔ اس کے بعد کہا: اس کو زنجيروں ميں جکڑ کر زندان بھيجدو۔

عبدالله بن خليفہ کی گرفتاری:

اسکے بعد زیاد نے بکير بن حمران احمری کو اس کے چند ساتھيوں کے ہمراہ حکم دیا کہ عبدا لله بن خليفہ --- جو قبيلہ طی سے تھا --- کو گرفتار کریں ، عبدا لله بن خليفہ وہ شخص تھا جس نے حجر بن عدی کی بغاوت ميں ا س کا تعاون کيا تھا ۔ بکير اور اس کے ساتھی عبدا لله بن خليفہ کو ڈهونڈنے نکلے اور اسے عدی بن حاتم کی مسجد ميں پایا اسے وہاں سے باہر لائے چونکہ وہ اسے زیاد کے پاس لے جانا چاہتے تھے ۔ عبدالله چونکہ ایک با عزت با وقارشخص تھے اس لئے انهوں نے زیاد کے پاس جانے سے انکار کيا نتيجہ کے طور پر اس کے اورمامورین کے درميان جهڑپ ہوئی مامورین نے اس کے سر پرضرب لگائی اور لکڑی اور پتهر سے انهيں زخمی کردیا یہاں تک کہ وہ زمين پر گرگئے ۔ اس کی بہن “ ميثاء ” نے قبيلہ طی کے افرادکی طرف فریاد بلند کرتے ہوئے کہا: اے قبيلہ طی ! کيا ابن خليفہ جو تمہاری زبان ، نيزہ و سنان ہے دشمن کے ہاتھ ميں دےدوگے ؟ ! جب “ ميثاء ” کی آواز بلند ہوئی ابن زیاد کا مامور احمری (غير عرب ) ڈر گيا کہ کہيں اس کی گرفتاری اس کے قبيلہ کے افراد کے مشتعل ہونے کا سبب نہ بنے اور اس کے قبيلہ کے افراد اس کی مدد کيلئے اٹھ کھڑے ہوجائيں اور اسے قتل کر ڈاليں لہذا س نے ابن خليفہ کو اپنے حال پر چھوڑ کر فرار کرگيا ۔ قبيلہ طی کی چند عورتيں جمع ہوئيں اور ابن خليفہ کو ایک گھر ميں لے گئيں احمری بھی زیاد کے پاس پہنچا اورکہا: قبيلہ طی کے لوگ ميرے خلاف جمع ہوئے ہيں چونکہ ميرے ہمراہ ان سے مقابلہ کرنے کيلئے مناسب تعداد ميں ا فراد نہيں تھے اس لئے آپ کے پاس آیا ہوں ۔

زیاد نے کسی کو قبيلہ طی کے سردار عدی بن حاتم طائی کے پاس بھيج دیا جو مسجد ميں تھا اسے گرفتارکرکے کہا تمہيں عبدا لله ابن خليفہ کو جو ---تمہارے قبيلہ کا ہے ---

ہمارے ےہاں پيش کرنا چاہئے عدی نے کہا؛ جسے ان لوگوں نے قتل کيا ہے اسے ميں کيسے تيرے پاس پيش کروں گا ؟ زیاد نے کہا: اسے لانا پڑے گا تا کہ یہ معلوم ہوجائے کہ وہ مرگيا ہے یازندہ ہے عدی نے دوبارہ کہا کہ ميں نہيں جانتا ہوں وہ کہاں اور کس حالت ميں ہے ؟ زیاد نے حکم دیا کہ عدی بن حاتم کو جيل بھيج دیاجائے عدی کی گرفتاری پر کوفہ کے لوگوں ميں بے چينی پهيلی خاص کر قبائل “ یمنی ” قبيلہ “ مضر ” اور ربيعہ نے شدید رد عمل کا اظہار کیاان قبائل کے سردار زیاد کے پاس آگئے اور عدی کے بارے ميں اس سےگفتگو کی اور اس کی آزادی کا مطالبہ کيا ۔

دوسری طرف سے خود عبد الله بن خليفہ نے عدی کو پيغام بھيجا اگر چاہتے ہو تو مخفی گاہ سے باہر آجاؤ اور ميں تيری مدد کرنے کيلے حاضر ہوں ۔

عدی نے جواب ميں کہا: خدا کی قسم اگر تم ميرے پير وں کے نيچے بھی مخفی ہوگے تو ميں قدم نہيں اٹھاؤں گا یہاں تک کہ تيرا تحفظ کروں گا خلاصہ یہ کہ ان قبائل کے سرداروں کی سرگرمياں کے نتيجہ ميں زیاد عدی کوآزاد کرنے پر مجبور ہوگيا اسے زندان سے بلاکر کہا:

عدی ! ميں تجھے آزاد کرتا ہوں ليکن اس شرط پر کہ عبدالله بن خليفہ کو کوفہ سے جلا وطن کرکے طی کے پہاڑوں ميں بھيج دیا جائے۔

عدی نے اس شرط کوقبول کيا اور عبدالله کو پيغام بھيج دیا تا کہ شہر کوفہ سے چلا جائے جب ایک مدت کے بعد زیاد کا غصہ ٹهنڈا ہوجائے گا تو ميں اس سے تيرے بارے ميں گفتگو کروں گا اور تيری مکمل آزادی کيلئے راہ ہموار کروں گا ۔ اس پيغام کے مطابق عبدلله باہر آئے اور پھر سے اپنی آزادی حاصل کی۔

کریم بن عفيف کی گرفتاری

کریم بن عفيف ، قبلہ “ خشعم ” کا وہ شخص تھا جسے زیاد بن ابيہ نے حجر بن عدی سے تعاون کے الزام ميں گرفتار کيا زیاد نے پوچھا : تيرا نام کيا ہے ؟ اس نے کہا: ميں کریم بن عفيف ہوں ۔ زیاد نے کہا؛ افسوس ہے تم پر ! تيرا اور تيرے باپ کا نام کتنا اچها ہے ؟ ليکن تيرا عمل و کردار کتنا بدنما ہے ؟! ابن عفيف نے کہا: زیاد ابھی زیادہ وقت نہيں گزرا ہے کہ تم پہچان لئے گئے ،یہ کہنا اس کا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پہلے زیاد بھی اس کی طرح علی عليہ السلام کے دوستداروں ميں تھا ۔

گرفتار کئے گئے لوگوں کی تعداد

زیاد بن ابيہ نے حجر کے ساتھيوں کو ہر طرف سے پکڑ کر جيل ميں بھيج دیا یہاں تک کہ ان کی تعداد دو ہزار افراد تک پہنچ گئی ۔ اس کے بعد --جيساکہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کيا ہے ---قبائل کے سرداروں اور کوفہ کے محلوں کے بزرگوں کو جمع کيا ان کے ذریعہ حجر اور ان کے ساتھيوں کے خلاف مقدمہ اور شہادت نامہ مرتب کرکے انهيں شام روانہ کيا ، ان کے پيچھے مزید دو افراد کو روانہ کيا کہ مجموعاً چودہ افراد ہوگئے ۔

یہ چودہ افراد “ جبانہ عرزم ” نامی ایک قبرستان کے نزدیک پہنچے اس قبرستان کے نزدیک “قبيصة بن ضبيعہ ” نامی ایک گرفتار شدہ شخص کا گھر تھا ۔ قبيصہ نے اپنی بيٹيوں کو دیکھا جو مکان کی چهت سے اس کو دیکھ رہيں تھےں اور سرد آہيں بھرتی اور دلخراش صورت ميں آنسو بہاتی ہوئی اسے رخصت کررہيں تھيں ۔

قبيصہ نے بھی اپنے گھر اور بچوں پر ایک نظر ڈالی اور مامورین سے درخواست کی کہ اسے اجازت دیدیں تا کہ اپنی بيٹيوں کو کچھ وصيت کرے جب وہ بيٹيوں کے نزدیک پہنچا تو انتہائی گریہ و زاری کی حالت ميں ایک دوسرے سے ملے چند لمحہ رکنے کے بعد بولا: ميری بيٹيو ! ذرا سکون ميں آجاؤ۔ جب وہ کچھ دےر کےلئے سکون ميں آگئيں قبيصہ نے کہا: ميری بيٹيو! خدا سے ڈرو اور صبر و شکيبائی کو اپنا طریقہ بنانا ميں جس راہ پر جارہا ہوں خداوند عالم سے دو نيکيوں ميں سے ایک کی اميد رکھتا ہوں یا شہيد ہوجاؤں گا کہ ميرے لئے شہاد ت خوشبختی ہے یا صحيح و سالم تمہارے درميان واپس آجاؤں گا بہر صورت تمہيں رزق دینے والا اور سرپرست وہی خدا ہے جو ہميشہ زندہ ہے اور موت و زوال اس کيلئے نہيں ہے اميد رکھتا ہوں کہ وہ تمہيں تنہا نہيں چھوڑے گا ۔

قبيصہ جب اپنی بيٹيوں سے آخری دیدار کرکے واپس آرہا تھا اپنے رشتہ داروں سے ملا۔

وہ اسکے سلامتی کيلئے دعاکررہے تھے ليکن انہوں نے اس کی آزادی کيلئے کسی قسم کی کوشش نہيں کی قبيصہ نے کہا؛ ميرے نزدیک گرفتاری کا خطرہ ہلاکت و بدبختی کے مساوی ہے ميری قوم:مدد کرے یا نہ کرے ان کيلئے ہلاکت و بد بختی کا مشاہدہ کررہا ہوں ؟ قبيصہ ان سے تعاون کی اميد رکھتا تھا لےکن انہوں نے اس کام ميں پہلو تہی کی۔

گرفتار ہوئے افراد کی راستے ميں عبدالله بن جعفی سے ملاقات ہوئی ، عبدالله نے ان کو دیکھ کر کہا؛ کيا دس آدمی نہيں ہيں جو ميری مدد کرتے تا کہ ان چودہ افرادکو ان ظالموں سے چهٹکارا دلاتا ؟ اس کے بعد کہا: کيا پانچ افراد بھی نہيں ہيں جو ميری مدد کرتے تا کہ ان مظلوموں کو ان ظالموں سے نجات دلاتا ليکن کسی ایک نے بھی عبد الله کو مثبت جواب نہيں دیا اور اس کی نصرت کيلئے نہيں اٹھا اس کيلئے افسوس اور غم و اندوہ کے سوا کچھ نہ رہا تھا۔

حجر او راسکے ساتھيوں کيلئے آخری حکم

ان چودہ افرادکو شہر دمشق سے بارہ ميل کی دوری پر “ مرج عذرا ” نامی ایک جگہ پر پہنچادیا گيا اور وہيں پر انهيں جيل ميں ڈال دیا گيا ، جب زیاد کا نمائندہ دمشق ميں معاویہ سے ملنے جارہا تھا حجر بن عدی ---جو زنجيروں ميں جکڑا ہواتھا --- اٹھا اور بولا : یہ ہمارا پيغام بھی معاویہ کو پہچانا کہ ہمارا خون بہانا مناسب اور جائز نہيں ہے کيونکہ معاویہ نے ہمارے ساتھ صلح کی ہے(۱)

معاویہ سے کہدو: ہمارا خون بہانے ميں جلد بازی نہ کرے ۔ اس بارے ميں بيشتر غور و فکر اور دقت سے کام لے جب معاویہ کی مجلس ميں ان چودہ افرادکی حالت بيان ہوئی ،حضار ميں سے چند افراد نے کئی افراد کی شفاعت کی اور معاویہ نے ان ميں سے چه افرا د کی آزادی کا حکم دیا اور باقی اٹھ افراد کے قتل کا حکم دیا ۔

غروب کے وقت معاویہ کے مامور حکم کو نافذ کرنے کيلئے “ مرج عذرا ” پہنچے ۔ حجر کے ساتھيوں ميں سے خثعمی مامورین کا مشاہدہ کررہا تھا ان ميں سے ایک کو دیکھا کہ ایک آنکھ سے کانا ہے خثعمی نے کہا: ميں ایسا فال دیکھتا ہوں کہ ہم ميں سے آدهے آزاد ہوں گے اور آدهے قتل کئے جائيں گے ۔

اسيروں ميں سے ایک اور شخص سعد بن عمران نے اس حالت ميں کہا: پروردگارا !

مجھے ان لوگوں ميں قرار دینا کہ جو ان کے ہاتھوں ذليل و خوار ہونے سے نجات پائيں گے یعنی انکے ہاتھوں شربت شہادت پلادے اس حالت ميں کہ تم مجھ سے راضی ہو اس کے بعد کہا:

ایک طویل مدت سے اپنے آپ کو شہادت کيلئے پيش کرتا تھا ليکن آج تک خدا نہيں چاہتا تھا ۔

حجر اور اس کے ساتھيوں کی آزادی کی شرط معاویہ کے مامورین نے حجر اور اس کے ساتھيوں سے کہا: ہميں حکم دیا گيا ہے کہ تم لوگوں کو علی

____________________

١۔ حجر کی مراد امام حسن اور اہل کوفہ کی معاویہ کے ساتھ صلح تھی۔


عليہ السلام سے بيزاری کا اعلان کرنے اور ان پر لعنت بھيجنے کی تجویز پيش کریں اگر اس پر عمل کرو گے تو تمہيں آزاد کردیں گے ورنہ تم لوگوں کو قتل کر ڈاليں گے ۔

اس کے علاوہ اضافہ کياکہ امير المؤمنين ( معاویہ ) کہتا ہے آپ لوگوں کے ہم وطنوں کی شہادت اور گواہی پر آپ لوگوں کا خون بہانا حلال و جائز ہے اس کے باوجود وہ تمہيں عفو کرنے اور تمہيں قتل کرنے سے منصرف ہونے کيلئے آمادہ ہے اس شرط پر کہ اس شخص ( علی ابن ابيطالب ) سے بيزاری کا اعلان کرو گے تا کہ ہم تمہيں آزاد کردیں گے ۔

انہوں نے جواب ميں کہا: خدا کی قسم ہم یہ کام ہر گز نہيں کریں گے ۔

آخری حکم کا نفاذ اور المنا ک قتل

معاویہ کے جلادوں نے جب دیکھا کہ علی عليہ السلام کے عاشق ان کی محبت کو چھوڑنے پر آمادہ نہيں ہيں اور ان کی محبت ميں صادق اور پائيدار ہيں تو ان کيلئے قبر کھودنے کا حکم دیدیا ۔ قبریں آمادہ ہوئيں اور کفن حاضر کئے گئے۔ ان لوگوں نے وہ رات، صبح تک نمازووعبارت ميں گزاری جب سورج چڑها ، معاویہ کے جلادوں نے حجر اور اس کے ساتھيوں سے مخاطب ہوکر کہا: ہم نے گزشتہ رات دیکھا کہ تم لوگوں نے نمازیں طولانی رکوع و سجود بجالائے اور صبح تک عبادت اور راز و نياز ميں مشغول رہے، بتاو ہم جاننا چاہتے ہيں کہ عثمان کے بارے ميں تم لوگوں کا عقيدہ کيا ہے ؟

انہوں نے کہا: ہمارے عقيدہ کے مطابق عثمان پہلا شخص ہے جس نے مسلمانوں پر ظلم کا دروازہ کهولا اور باطل راہ پر چل کے بے انصافی کا مظاہرہ کياہے۔

جلادوں نے کہا: امير المؤمنين ( معاویہ ) تمہيں اچھی طرح سے جانتا تھا ، اس لئے اس نے تم لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے اس کے بعد اپنی گزشتہ بات کی تکرار کی کہ کيا علی عليہ السلام سے بيزاری کا اعلان کرتے ہو ۔

حجر اور اس کے ساتھيوں نے جواب دیا: ہم انهيں دوست رکھتے ہيں ا ور ان لوگوں سے بيزاری کا اعلان کرتے ہيں جو علی عليہ السلام سے بيزاری کرتے ہيں ، ہاں پر مامور نے ان افراد ميں سے ایک ایک کا ہاتھ پکڑ ليا تا کہ نهيں قتل کرےں ۔ قبيصہ کے ہاتھ کو “ ابو شریف بدّی ” نے پکڑليا تا کہ اسے قتل کر ڈالے قبيصہ نے کہا: اے ابو شریف ! تيرے اور ميرے قبيلہ کے درميان کسی قسم کی سابقہ دشمنی و عداوت نہيں ہے بلکہ ان دو قبيلوں کے درمياں ہميشہ امن و مصالحت رہی اورہم ایک دوسرے کے شر و گزند سے محفوط تھے تمہيں ميرا قاتل نہيں ہونا چاہئے اس ذمہ داری کوکسی دوسرے کے سپرد کردوتا کہ ان دو قبيلوں ميں فتنہ پيدا نہ ہو ابو شریف نے کہا: “ صلہ رحم تيرے نامہ اعمال ميں ثبت ہو” اس کے بعد قبيصہ کو چھوڑ کر خضری کو پکڑ ليا اور اسے قتل کر ڈالا قبيصہ بھی ایک شخص قضاعی کے ہاتھوں قتل ہوا ۔

حجر بن عدی کا قتل یا ایک بڑا تاریخی جرم!

جب حجر بن عدی کے قتل کی باری آئی تو انهوں نے کہا: مجھے اتنی فرصت دو تا کہ وضو کرلوں انہوں نے کہا: تم وضو کرنے ميں آزاد ہو حجر نے وضو کرنے کے بعد کہا: اجازت دو گے کہ دو رکعت نماز پڑه لوں ؟ کيوں کہ خدا کی قسم ميں نے زندگی بھر ميں جب کبھی وضو کيا ہے اس کے بعد ضرور دو رکعت نماز پڑهی ہے انہوں نے کہا: نماز بھی پڑه لو ۔ حجر نے دو رکعت نماز پڑهنے کے بعد کہا: خداکی قسم ميں نے زندگی بھر ميں اس دو رکعت نماز سے مختصر کوئی نماز نہيں پڑهی ہے اگر یہ احتمال نہ دیتا کہ تم لوگ کہنے لگو گے کہ مو ت سے ڈر کر طولانی نماز پڑه رہاہے تو ميں اس نماز کو طولانی تر بجالاتا ۔ اسکے بعد آسمان کی طرف رخ کرکے بولے : پروردگارا ! ميں تيری بارگاہ ميں اپنی ملت و امت وا ہل کوفہ و شام کی شکایت کر لے آیا ہوں کہ کوفيوں نے ہمارے خلاف جھوٹی گواہی دی ہے اور شامی ہميں قتل کررہے ہيں اس کے بعد مامورین کی طرف مخاطب ہوکر کہا: تم لوگ جو ہميں ا س نقطہ پر قتل کرنا چاہتے ہو خدا کی قسم ميں پہلا مسلمان تھا جس نے اس نقطہ پر قدم رکھا اور ميں پہلا مسلمان تھا ( جس نے مشاہدہ کيا کہ ) اس علاقہ کے مقامی کتوں نے اس پر بهونکا اور ميں ہی تھا جس نے اس علاقہ کو تم مسلمانوں کے فائدہ ميں فتح کرکے اسے عيسائيوں کے چنگل سے آزاد کیا تھا ۔

جب “ هدبة بن فياض” معروف بہ ‘ ‘ اعور ”نيام سے کھينچی ہوئی تلوا ر ہاتھ ميں لئے آگے بڑهے تو اس منظر کو دیکھ کو حجر لرزا ٹهے اعور نے کہا: تم فکر کرتے ہو کہ موت سے نہيں ڈرتے ہو ؟ اگر موت سے نجات پانا چاہتے ہو اور آزاد ہونا چاہتے ہو تو ابھی ابھی علی عليہ السلام سے بيزاری کا اعلان کرو!

حجر نے جواب دیا کيوں ناراض نہ ہوں او رموت سے نہ ڈروں ؟ کون ہے جو موت اور تلوار سے نہ ڈرے ؟ اس وقت ميں اپنے سامنے آمادہ قبر، کفن حاضر اورنيام سے کھينچی ہوئی تلوار دیکھ رہا ہوں اور لرز رہا ہوں ليکن خدا کی قسم ان سب ناراضگےوں اور خوف و لرزش کے باوجود اپنی آزادی اور نجات کيلئے ہرگز ایسا کوئی لفظ زبان پر جاری نہيں کروں گا جو خدا کو غضبناک بنادے۔

جب حجر کی بات یہاں تک پہنچی تو اعور نے اس کا سر قلم کردیا اور دوسرے مامورین ميں سے ہر ایک نے حجر کے ساتھيوں ميں سے ایک کو قتل کر ڈالا اور مقتوليں کی تعداد چهتک پہنچ گئی ۔

حجر کے دوا ور ساتھی عبد الرحمان بن حسان عنزی اور کریم بن عفيف خثعمی نے معاویہ کے مامورین سے درخواست کی کہ : “ ہميں معاویہ کے پاس بھيجنا تا کہ اس کے سامنے علی عليہ السلام کے بارے ميں جو وہ چاہتے ہيں زبان سے بيان کریں ۔“

مامورین نے ان دوا فرادکے پيغام کو معاویہ کے پاس پہنچادیا معاویہ نے حکم دیا کہ ان دو افراد کو ميرے پاس بھيجدو جب عبدالرحمان اور کریم بن عفيف معاویہ کے محل ميں داخل ہوئے اور اسکے روبرو قرار پائے تو خثعمی نے کہا: معاویہ ! خدا سے ڈرو کيونکہ تم بھی اس دار فانی سے ایک نہ ایک دن جاؤ گے اور ابدی دنيا ميں منتقل ہوجاؤ گے اور عدالت الٰہی کی کچہری ميں ہمارا بے گناہ خون بہانے کے جرم ميں مسول ہوگے اور تمہار مؤاخذہ ہو گا!

معاویہ نے پوچھا: خثعمی ! علی عليہ السلام کے بارے ميں تيرا عقيدہ کيا ہے ؟

خثعمی نے جواب دیا : علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے بارے ميں مير اعقيدہ وہی ہے جس کے بارے ميں تم اعتقاد رکھتے ہو۔

معاویہ نے کہا: کيا تم علی عليہ السلام کے دین و مذہب سے بيزاری کا اعلان کرتے ہو؟ خثعمی نے خاموشی اختيار کی او راس کے جواب دینے سے اجتناب کيا یہاں پر خثعمی کے ایک چچيرا بھائی --- جو معاویہ کا صحابی تھا ---نے فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اٹھ کر معاویہ سے درخواست کی کہ خثعمی کو قتل کرنے سے معاف کرو معاویہ نے اس کی درخواست منظور کی اور خثعمی کو ایک مہينہ قيد ميں رکھنے کے بعد اس شرط پر اسے آزاد کيا کہ جب تک زندہ ہے شہر کوفہ ميں قدم نہيں رکھے گا ۔

اس کے بعد معاویہ نے عبد الرحمان عنزی کی طرف رخ کرکے کہا:خبر دار اے قبيلہ ربيعہ کے بھائی ! تم علی عليہ السلام کے بارے ميں کيا کہتے ہو؟عبد الرحمان نے جواب دیا : معاویہ ! اس مطلب کو چھوڑدو ، اگر اس بارے ميں مجھ سے کچھ نہ پوچھو تو تيرے فائدے ميں ہے ۔

معاویہ نے کہا: خدا کی قسم تجھے اُس وقت تک آزاد نہيں کروں گا جب تک کہ تم اس موضوع کے بارے ميں ا پنے عقيدہ کا اظہار نہيں کروگے ۔

عبدالرحمان نے جواب دیا : عثمان وہ پہلا شخص ہے جس نے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے دروازہ کهولا اور حق کے دروازہ ان پر بند کردیا ۔

معاویہ نے کہا: عبدالرحمان ! یہ کہہ کر تم نے اپنے آپ کو موت کے حوالے کردیا ہے ۔

عبدالرحمان نے کہا؛ معاویہ! ميں نے تجھے موت کے حوالہ کردیا ہے اس کے بعد اپنی قوم کو پکار کر کہا: کہاں ہو قبيلہ ربيعہ ۔

معاویہ نے حکم دیا کہ عبدالرحمان کو کوفہ ميں زیاد کے پاس لے جائيں اور زیاد کے نام اس مضمون کا ایک خط بھی لکھا : یہ شخص عنزی بد ترین شخص ہے جسے تم نے ميرے پاس بھيجا ہے تم اسے ایسی شدید سزا دینا جس کا وہ سزاوار ہے اور اسے عبرتناک حالت ميں قتل کردینا ۔

جب اسے کوفہ ميں داخل کيا گيا زیاد نے اسے “ قس ناطف” بھيج دیا اور وہاں پر اس کو زندہ در گور کردیاگيا(۱)

طبری کہتا ہے : جب عنزی اور خثعمی کو معاویہ کے پاس لے جارہے تھے تو عنزی نے حجر سے مخاطب ہوکر کہا: اے حجر ! خدا تجھے رحمت کرے ، کيونکہ تم مسلمانوں کے بہترین بھائی اور اسلام کے بہترین یاور ہو۔

خثعمی نے بھی خد احافظی کے وقت حجر کو یہ جملہ کہا: حجر ! رحمت خدا سے تم دورو محروم نہيں رہ سکتے کيونکہ تم نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اہم فریضہ انجام دیا ہے ۔

____________________

١۔ جو کچھ ہم نے یہاں تک حجر اور اُن کے ساتھيوں کے بارے ميں درج کيا ہے، طبری سے نقل کيا ہے اور اس کے مآخذ کو براہ راست ذکر کيا ہے ۔


ا س کے بعد حجر نے اپنی نظروں سے ان دو ساتھيوں کو رخصت کرتے ہوئے کہا؛ یہ موت ہے جو دوستوں کو ا یک دوسرے سے جدا کرتی ہے ۔

حجر کے قتل کا دلوں پر عميق اثر

یا معاویة ! اما خشيت الله فی قتل حجر و اصحابه ؟!

اے معاویہ ! حجر اوران کے ساتھيوں کو قتل کرنے ميں خدا سے نہيں ڈرے ؟!.عائشہ کتاب استيعاب ميں حجر کی زندگی کے حالات پر یوں روشنی ڈالی گئی ہے : “جب عائشہ ، حجر اور اس کے ساتھيوں کے بارے ميں زیاد کی سازشوں اور ان کے خلاف مقدمہ مرتب کرنے کے بارے ميں مطلع ہوئيں تو عبدالرحمان حارث بن هشام کے ذریعہ معاویہ کو یہ پيغام بھيجا:

معاویہ ! حجر اور اس کے ساتھيوں کے بارے ميں خدا سے ڈرنا!

عبدالرحمان جس وقت شام پہنچا حجر اور اسکے پانچ ساتھی قتل ہوچکے تھے عائشہ کے ایلچی ، عبدالرحمان نے معاویہ سے کہا: معاویہ ! تم نے حجرا وراس کے ساتھيوں کے کام ميں ا بوسفيان کے حلم و بردباری کوکيسے بهلادیا ؟ کيوں ان کو جيل ميں نہ رکھا تا کہ اپنی طبيعی موت سے یا طاعون جيسی کسی بيماری سے مرجاتے، معاویہ نے کہا: جب تم جيسے لوگ ميری قوم سے دور ہوگئے ! عبدالرحمان نے کہا: خدا کی قسم اس کے بعد عرب تجھے صبور نہيں جانيں گے ۔ معاویہ نے کہا: ميں کيا کروں ؟ زیاد نے ان کے بارے ميں شدت اورسختی کی اور لکھا کہ اگر انهيں چھوڑ دوگے تو وہ فتنہ و فساد پھيلائيں گے اور ایک بهيانک اور ناقابل تلافی بغاوت و افتراتفری پھيلادیں گے مزید روایت کی ہے کہ عائشہ اس بارے ميں کہتی تھيں ۔

اگر کوفہ کے لوگوں ميں شجاع غيرتمند اور جان نثار افرادموجود ہوتے تو معاویہ اس قسم کی جرات نہيں کرسکتا تھاکہ حجر اور اسکے ساتھيوں کو کوفہ کے لوگوں کے سامنے گرفتار کراکے شام ميں قتل کر ڈالے ليکن جگر خوار ماں کا بيٹا جانتاتهاکہ شجاع اور غيرت مند مرد چلے گئے ہيں اور ان کی جگہ پرکمزوردل اور بيکار لوگ بيٹھے ہيں ۔

خداکی قسم ! حجر اور اس کے ساتھی شجاعت ، اپنے عقيدہ کے تحفظ اور دانشمندی کے لحاظ سے عرب کے سردار تھے اس کے بعد عائشہ نے لبيد کے دو شعر پڑهے ، جن کا مضمون حسب ذیل ہے : وہ چلے گئے جن کی حمایت کے سایہ ميں زندگی آرام بخش تھی اور ميں ایسے پسماندگان کے درميان رہی ہوں جو خارش والے بيماروں کی کهال کے مانند ہيں ---کہ ان سے دوری اختيار کرنی چاہئے --- نہ انکا کوئی فائدہ ہے اور نہ ان سے کسی قسم کی خير و نيکی کی اميد ہے ۔ کہنے والے کی عيب جوئی کرتے ہيں اگر چہ اس نے ناروا بات بھی نہ کہی گئی ہو؟

طبری کہتا ہے : معاویہ سفر حج پر مدینہ ميں داخل ہوا عائشہ سے اجازت چاہی تا کہ ان کے گھرميں آئے عائشہ نے اجازت دی ۔ جب معاویہ گھر ميں داخل ہوکر بيٹها ، عائشہ نے کہا: معاویہ ! کيا تم خود کو امان ميں محسوس کرتے ہو؟ ! گمان نہيں کرتے ہو ميں نے کسی کو مامور کيا ہوگا کہ ميرے بھائی محمد ابن بی بکر کے خون کا انتقام ميں تمہيں یہيں پر قتل کردے ؟!

معاویہ نے کہا نہيں ، ہرگز ایسا نہيں کرو گی کيوں کہ ميں ا یک ایسے گھر ميں داخل ہوا ہوں کہ جوامن وامان کا گھر ہے ۔

اس کے بعد عائشہ نے کہا: معاویہ ! کيا تم حجر اور اس کے ساتھيوں کو قتل کرنے ميں خدا سے نہيں ڈرے ؟!

معاویہ نے جواب ميں کہا: انهيں ان افراد نے قتل کيا جنہوں نے ان کے خلاف شہادت دی ہے.

مسند احمد حنبل ميں آیا ہے کہ معاویہ نے عائشہ کے جواب ميں کہا: ایسا نہيں کریں گی کيونکہ ميں امن و امان کے گھر ميں ہوں او رميں نے رسول خدا صلی الله عليہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ فرماتے تھے : ایمان دہشت گردی کيلئے رکاوٹ ہے ۔ اس کے بعد کہا: عائشہ !

ان چيزوں کو چھوڑیں ، مجھے اپنے مطالبات پورے کرنے ميں کيسا پاتی ہيں ؟!

عائشہ : اچهے ہو ۔

معاویہ نے کہا: اس لحاظ سے مقتولين کے بارے ميں ہميں چھوڑ دیں تا کہ خدا کے پاس ان سے ملاقات کروں ۔

استيعاب ميں کہتا ہے : ربيع بن زیاد حارثی جو ایک فاضل و جليل القدر شخصيت اور خراسان ميں معاویہ کا گورنر تھا نے جب حجر اور اس کے ساتھيوں کے قتل ہونے کی خبر سنائی تووہ وہيں پر بارگاہ الٰہی ميں دعا کی اور کہا: خداوندا ! اگر ربيع تيری بارگاہ ميں کسی قسم کی خير و نيکی کا سزاوار ہے تو فوری طور پر اسے اپنے پاس بلالے اس دعاکے بعد ربيع اس مجلس سے نہ اٹھا اور وہيں پر رحمت حق سے جاملا۔

معاویہ کی موت جب نزدیک آگئی تو وہ خفيف آواز ميں اس جملہ کی تکرار کررہا تھا : “

اے حجر ! ميرا مستقبل کا دن تيرے سبب سے طولانی ہوگا“

یہ تھی حجر ابن عدی اور اس کے ساتھيوں کی داستان ، اور وہ تھی اسکے سبائی ہونے کی داستان ، انشاء الله اگلی فصلوں ميں اسسلسلے ميں بيشتر وضاحت اور دقيق تر بحث و تحقيق کریں گے ۔


حجر کی داستان کا خلاصہ

یومی منک یا حجر طویل

اے حجر ! ميرا آنے والا دن تيرے سبب طولانی ہوگا ۔ معاویہ حجر اور اس کے ساتھی ---جن کی داستان گزشتہ فصلوں ميں گزری --- امت اسلاميہ کے زاہد اور پرہيزگار افراد تھے ۔ وہ اصحاب پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم اور تابعين ١ ميں فاضل اور نيک اشخاص ميں شمار ہوتے تھے۔انہوں نے مغيرة بن شعبہ اور زیاد بن ابيہ جيسے سرکش اور ظالم گورنروں کی طرف سے علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے خلاف منبر پر لعنت بھيجنے پر کھلم کھلا اعتراض کيا اس کے علاوہ ان کی نماز ميں لا پروائی اور وقتِ نماز ميں تاخير پر اعتراض کرتے تھے اور امر بمعروف و نہی عن المنکر کرتے تھے ، انہوں نے اپنی اس سرگرمی کو جاری رکھا ، یہاں تک کہ وقت کے حاکم ان کے ساتھ نبرد آزماہوئے ، انهيں قيدی بناکر ان کے خلاف کيس مرتب کيا گيا اور ان کے خلاف جھوٹی اور ناحق گواہی نامہ مرتب کيا گيا ، اس پر دستخط لئے گئے اس کے بعد انهيں زنجيروں ميں جکڑ کرشہر بہ شہر پھر ا کر شام پہنچادیا گيا ۔ وہاں پر ان کے بارے ميں حکم جاری کيا گيا کہ امام المتقين علی عليہ السلام پر لعنت بھيجيں ،اور ان سے بيزاری کا اعلان کریں اور ان کے خلاف بد گوئی کریں ليکن انہوں نے امام ،وصی و برادر رسول خدا صلی الله عليہ وآلہ وسلم اور اولين مسلمان پر لعنت بھيجنے سے انکار کيا اور ان کے دین سے دوری اختيار کرنے سے اجتناب کيا کيونکہ ان کا دین وہی دین اسلام ہے اور ان کے دین سے دوری اختيار کرنا ارتداد کے مرتکب ہونے اوراسلام سے دوری اختيار کرنے کے علاوہ کوئی اور چيز نہيں ہوسکتی جب انہوں نے علی عليہ السلام سے بيزاری نہيں کی اوران کے دین سے دوری اختيار نہيں کی توا ن کے سامنے ان کيلئے قبریں کھودی گئيں اور کفن حاضر کئے گئے۔

یہ گروہ صبح تک نماز و مناجات الٰہی ميں مشغول رہا صبح ہونے پر دوبارہ انهيں تجویز

پيش کی گئی کہ دو راستوں ميں سے ایک کا انتخاب کریں ، یا علی پر لعنت بهےجےں اور اس کے دین سے دوری اختيار کرےں یا قتل ہوناگوارا کرےں ،ليکن انہوں نے ایک کے بعد ایک نے دل کهول کے موت کا استقبال کيا او راس طرح ذلت بھری زندگی ---جس ميں علی عليہ السلام پر لعنت بھيجنا اور ان سے دوری اختيارکرنا تھا ---پر قتل ہونے کو ترجيح دی۔

ا ن ميں سے ایک شخص کا سر قلم کرکے اس کے کٹے ہوئے سر کو شہر شہر پھر ا کر ،

اس کی بيوی کی آغوش ميں ڈالدیا گيا جو ولائے علی عليہ السلام کے جرم ميں زندان ميں تھی ، اس طرح اس بے پناہ عورت کو وحشت زدہ کرکے مرعوب کرنا چاہا ایک دوسرے شخص کو علی عليہ السلام کی محبت کے جرم ميں زندہ دفن کيا گيا!!

مسلمانوں کے معزز اور بزرگ شخصيتوں کے بارے ميں بنی اميہ کے مجرموں کے ظلم و جرائم اتنے وسيع اور زیادہ تھے کہ عائشہ بھی معاویہ کو پيغام بھيجنے پر مجبور ہوئی اور یہ پيغام اسے بھيجا :

معاویہ ! حجر اور اس کے ساتھيوں کے بارے ميں خدا سے ڈرو! اس کے بعد عائشہ حجر کا یوں تعارف کراتی ہيں اور کہتی ہيں : خداکی قسم ! حجر اور اس کے ساتھی عربوں کے سربرآوردہ سردار تھے اور عبيد کے مندرجہ ذیل اشعار کو گواہی کے طور پر پيش کرتی ہيں :

ذهب الذین یعاش فی اکنافهم

وبقيت فی خلف کجلد الاجرب

وہ چلے گئے جن کی حمایت کے سایہ ميں زندگی آرام بخش تھی اور ميں ایسے پسماندگان کے درميان رہی ہوں جو خارش والی بيماروں کے کهال کے مانند ہيں جن سے دورری اختيار کرنی چاہئے ۔

وہ دوسرا عبدالله ابن عمر ہے کہ جب اس دلخراش داستان کی خبر اسکے کے کانوں تک پہنچی ہے تو کهلے بازارميں ایک جگہ کھڑا ہوکر بے ساختہ چيختے ہوئے روتا ہے ادهر زیاد حارثی ، اور جليل القدر ، صاحب فضيلت و شہرت شخص ،حجر اورا س کے ساتھيوں کے بارے ميں بنی اميہ کے جرائم کی خبر سنتے ہی موت کوزندگی پر ترجيح دیتا ہے اور خداسے موت کی آرزو و درخواست کرتا ہے اور خداوند عالم بھی اس کی دعا کو مستجاب کرتاہے ا ور اسے اس ذلت آمےز زندگی سے نجات دیتا ہے خود معاویہ بھی مرتے وقت اس کی آواز اس کے گلے ميں پهنس جاتی ہے اور جان کنی کے عالم ميں کہتا ہے:

” اے حجر ! قيامت ميں ميرادن تيرے سبب طولانی ہوگا“

یہی افرا د جو راہ حق ميں ظلم و ستم کو روکنے کيلئے جہاد کرتے ہوئے قتل ہوئے ا ور ان کے قتل نے تمام مسلمانوں ---دوست و دشمن ---کو متاثر کرکے رکھ دیا “ سبيئہ -” کہے جاتے ہيں ۔

تاریخ اسلام ميں یہ پہلا موقع تھاکہ کسی حکومتی عہدہ دار کی طرف سے نام “

سبئی” مسلمانوں کے خلفيہ معاویہ کے نام زیاد بن ابيہ کے خط ميں باقاعدہ طور پر لکھا گيا ہے وہ ایک سرکاری خط ميں ا ن افراد کو “ سبئيہ ” کہتا ہے ورنہ لفظ “ سبئيہ ” سے اس کی مراد اہل یمن کے قبائل سبيئہ اور انکے ہم پيمان ہيں نہ صرف قبائل سبئی سے منسوب افراد۔

قابل غور بات ےہ ہے کہ زیاد بن ا بيہ کا کونسا محرک تھا جس کی وجہ سے اُس نے اس اصطلاح کو ان کے بارے ميں ا ستعمال کيا ہے ؟! اور ان سب کا نام سبئيہ رکھا ہے جبکہ وہ سب قبائل سبئيہ سے تعلق نہيں رکھتے تھے ۔

ہماری نظر ميں زیاد بن ابيہ کے اس کام کا سرچشمہ ایک نفسياتی اور داخلی عقيدہ ہے کہ اگلی فصل ميں زیاد کے نسب پر بحث و تحقيق سے یہ حقيقت واضح ہوجائے گی۔

لفظ سبئی ميں زیاد کی تحریف کا محرک

دفعت عقدهً النقص زیاداً ان یعير القبال السبئية!

زیاد بن ابيہ کو احساس کم تری نے مجبور کيا تھا کہ لفظ سبئيہ کو علی کے دوستداروں کی سرزنش کے عنوان سے استعمال کرے ۔

مؤلف

زیاد بن ابيہ کا شجرہ نسب زیاد کی ماں کا نام “ سميہ ” تھا ۔ سميہ پہلے ایران کے دیہاتوں کے ایک کسان کی کنيزتھی اس نے اس کنيز کو حارث بن کلدہ ثقيفی کو بخش دیا۔ حارث --- جو عرب کا مشہور طبيب اور قبيلہ ثقيف سے تعلق رکھتا تھا اور طائف ميں سکونت کرتا تھا --- نے اپنی کنيز “ سميہ ”

کی شادی “ عبيد ” نامی اپنے غلام سے رچائی یہ غلام اہل روم تھا زیاد ان ہی دنوں عبيد رومی کے گھر ميں “ سميہ ” سے پيدا ہوا اور اسے ابن عبيد کہا جاتا تھا بعد ميں جب زیاد بڑا ہوگيا اور اسے کہيں روزگار ملا تو اس نے اپنے ماں اور باپ کو خرید کر آزاد کيا۔

اس کے بعدایک زمانہ گزر گيا اورایک دور ختم ہوگيا اوروقت کےخليفہ معاویہ کی سياست نے تقاضا کيا کہ زیادکو اپنے باپ ابوسفيان سے ملحق کرے اور اسے اپنابھائی بنائے اس طرح کل کازیاد بن عبيد آج کا زیاد بن ابو سفيان ہوجائے ليکن عبيد کا بيٹا کيسے ابوسفيان کا بيٹا اور معاویہ کا بھائی ہوگا اور ابوسفيان کے خاندان سے ملحق ہوگا ؟

اس مشکل کو اس طرح حل کيا گيا ہے اور کہا گيا ہے کہ: ابوسفيان نے دوران جاہليت ميں زیاد کی ماں ، عبيد رومی کی بيوی “ سميہ ” سے زنا کيا تو زیاد اسی زنا اور خلاف شرع عمل کے نتيجہ ميں پيدا ہوا ہے ۔

ابو مریم سلولی ، شراب فروش نے بھی معاویہ ، زیاد اورقوم کے سرداروں کے سامنے اس موضوع کے بارے ميں شہا دت دی اورکہا ایک دن ابوسيفان ميرے پاس آیا اور ایک فاحشہ عورت کا مجھ سے مطالبہ کيا ميں نے کہا “ سميہ ” کے علاوہ کوئی اور عورت فی الحال نہيں ہے ابو سفيان نے کہا چارہ نہيں ہے اسی کو لاؤ اگر چہ وہ ایک کثيف عورت ہے اور اس سے بدبو آتی ہے ميں نے سميہ کو ابوسفيان کے پاس پيش کيا انہوں نے خلوت کی اس کے بعد سميہ ابو سفيان کے ہمراہ ا سی حالت ميں باہر آگئی کہ منی کے قطرات اس سے ٹپک رہے تھے !! جب ابو مریم کی بات یہاں تک پہنچی تو زیاد نے کہا: ابو مریم ! مهلاً ! خاموش ہوجاؤتجھے گواہی دینے کيلئے بلایا گياہے نہ فحاشی اور بدگوئی کيلئے ”۔

اس طرح معاویہ زیاد بن ابيہ کو اپنے شجرہ نسب سے ملا کر اسے قریش ، قبيلہ بنی اميہ اور مسلمانوں کے خليفہ خاندان سے تعارف کرانے ميں کامياب ہوا یہ روداد نيک مسلمانوں کيلئے انتہائی گراں گزری اور انہوں نے قبول نہيں کيا ہے کہ معاویہ کی اس سازش سے زیاد کو ابوسفيان کا بيٹا قبول کریں ا ورا نہوں نے کہا ہے : معاویہ نے اپنے اس عمل سے حکم اسلام اور رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے فرمان کو مسترد کرکے ان کے حکم کی نافرمانی کی ہے ،کيونکہ آنحضرت صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے فرمایا:“ فرزند اپنے باپ سے ہے اور زنا کرنے والے کو سنگسار کيا جاتاہے ” ،“الولد للفراش و للعاهر الحجر ”: ” یعنی زنا کرنے والے کو سنگسار کرنا چاہئيے نتيجہ کے طور پر اسکے بعد مسلمانوں کا ایک گروہ زیاد کو “ زیاد بن ابيہ ”

کہنے لگا یعنی اپنے باپ کا بيٹا اور ایک دوسرا گروہ اسے “زیاد بن ابو سفيان ” اور بعض لوگ گوشہ و کنار ميں دربار خلافت کے آنکھ اور کان سے دور “زیاد بن عبيد” کہتے تھے۔

بعض مسلمانوں نے معاویہ اور زیاد کے دور اقتدار ميں خود ان سے اعتراض کرکے ان کے اس شرمناک عمل کی مذمت کی ہے بعض شعراء نے بھی اس بارے ميں تند اوربرے اشعار کہے ہيں اور اس عمل کا اپنے اشعار ميں مذاق اڑایا ہے جيسے عبدالرحمان بن حکم نے اپنے شعر ميں يوں کہا ہے:

پيغام پہنچادو حرب کے بيٹے معاویہ کو ایک حسب و نسب والے شخص کی طرف سے --- خود عبدالرحمان ہے ---کہ اگر تجھے کہاجائے کہ تيراباپ عفت والا تھا تو تم غضبناک ہوتے ہو ؟ اور اگریہ کہا جائے کہ اس نے سميہ سے زنا کيا ہے تو خوشحال ہوتے ہو؟ ميں گواہی دیتا ہوں کہ زیا د سے تيری رشتہ داریہاتھی کی گدهے کے بچے کے ساتھ قرابت کے مانند ہے ميں گواہی دیتا ہوں کہ سميہ نے زیاد کو جنم دیا ہے جبکہ ابوسفيان نے سميہ کو ننگے سر نہيں دیکھا ہے یہ اس بات کا کنایہ ہے کہ سميہ ابوسفيان کی بيوی نہيں تھی تاکہ اپنے دو پٹے کو اس کے سامنے اٹھا ليتی ۔(۱)

یہ خبر جب معاویہ کو پہنچی تو اس نے قسم کهائی کہ عبدالرحمان سے اس وقت تک راضی نہيں ہوگا جب تک کہ نہ یزیداس سے راضی ہوجائے عبدالرحمان نے زیاد کی طرف سفر کيا اس کی رضا مندی کو چند اشعار ذیل کے ذریعہ حاصل کيا ۔

تم “ زیاد ” ہو خاندان حرب ميں محبوب ترین فرد ہو ميرے پاس درميانی انگلی کے مانند ہو ميں اس کی قرابت پر خوشحال اور شاد ہوں کر کہ خدا نے اسے ہمارے لئے بھيجا ہے اور ميں نے کہا وہ غم ميں ہمارا بھائی ہے اور ہمار اقابل اعتماد ہے اس زمانہ ميں خدا کی مدد سے ہمارے لئے چچا اور بهتيجا ہے زیاد نے معاویہ کو اس کے بارے ميں رضایت نامہ لکھا معاویہ نے جب عبد الرحمان کے اشعار سنے ، عبدالرحمان سے کہا: تيرا دوسرا شعر پہلے سے بدتر ہے ليکن تم نے اسے فریب دیا ہے او وہ نہيں سمجھا(۲)

ا س قسم کے اشعار ،بيانات اور لوگوں کے اعتراضات اور تنقيدیں اس امر کاسبب بنی ہيں کہ “زیاد بن ابيہ ” کے ضمير ميں ایک خطرناک احساس کمتری پيدا ہوجائے اسی احساس کمتری کی وجہ سے وہ کبھی شعوری اور کبھی لا شعوری طورپر مجبورہوکر اپنے آپ کو قریش کے خاندان بنی اميہ سے منسوب کرنے ميں ا فراط کرتا تھا اس خاندان کااور ا سکے ساتھ منسوب اور ہم پيمانوں کے مقام کو بلند کرنے کيلے مبالغہ اور افراط سے کام ليتا تھا تاکہ اس خاندان کے مخالفين یعنی قبائل قحطان--- جو بنام سبائيہ مشہور تھے ----اور ان قبائل کے ہم پيمانوں سے سخت مخالفت کرے ،اور ان سے مقابلہ کرنے اور انہيں نيچا دکھانے ميں ا پنے سے زیادہ قبائل قریش کی خودنمائی کرے تاکہ ا س طرح اس کا قریشی ہونا بھی ثابت ہوجائے ۔ اس زمانے ميں قبائل کے ہم پيمان قبائل یمن ربيعہ تھے اور ان دو سلسلہ کی اس ہم پيمانی کا سبب تاریخ سے یوں معلوم ہوتا ہے ۔

____________________

١۔ عبد الرحمان نے اپنے شعر ميں توریہ سے کام ليا ہے توریہ علم بلاغت ميں یہ ہے کہ لفط کا ظاہر ميں کچھ اور معنی ہوتا ہے اور باطن ميں مراد کچھ اور ہوتی ہے کہ بدون توجہ و دقت یہ معنی معلوم نہيں ہوتا بولنے والے کا مقصد پوشيدہ معنی ہوتا ہے چنانچہ اس شعر ميں “ زیاد ” بنی اميہ کا منہ بولا بيٹا ہے یہ معنی اس لفظ کا ظاہری معنی ہے ليکن شاعر نے یہاں پر توریہ کيا ہے اور زیاد سے خاندان ابوسفيان ميں زیادہ ( اضافی ) ہونے کا معنی ليا ہے ۔

)٢۶۶ / ٢۔ اغانی ميں عبد الرحمان کی تشریح ملاحظہ ہو (طبع بيروت ١٣


دو قبيلوں کے اتحاد کے پيمان کا سبب قبائل ربيعہ کے افراد یمنی سبئی قبائل کی مانند علی عليہ السلام کے شيعوں اور ناصروں ميں تھے ان دو قبيلوں نے جنگ جمل اور دوسری جنگوں ميں علی عليہ السلام کی نصرت اور مددميں اپنی شجاعتوں کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ کيا ہے۔

امير المؤمنين عليہ السلام نے ان دو قبيلوں کے درميان درج ذیل عہد نامہ لکھ کر اتحاو و یکجہتی کے پيمان کی تاکيد فرمائی ہے ۔

عہد نامہ درج ذیل پيمان پر قبائل یمن کے شہر نشين اور صحرا نشين اور قبائل ربيعہ کے شہر نشين اور صحرا نشين نے اجماع واتفاق کيا ہے کہ دونوں قبيلوں کے افراد کتاب خدا پر ایمان و اعتقاد رکھيں گے او رلوگوں کواس کی طرف دعوت دیں گے اور اس پر عمل کرنے کا حکم کریں گے اور ان کی بات کو قبول کریں گے جو انهيں قرآن پر عمل کرنے کی دعو ت دیں گے کسی بھی قيمت پر قرآن مجيد کو نہيں چھوڑدیں گے کسی بھی چيز کوقرآن مجيد کی جگہ پر قبول نہيں کریں گے ان دو قبيلوں کے افراد پرضروری ہے کہ ایک دوسرے کی مدد وپشت پناہی کریں جو اس نظام العمل کی مخالفت کریں گے اور انهيں ترک کریں گے ان کے خلاف بھی متحد ہو کر ایک دوسرے کی نصرت کریں گے ۔

اس پيمان کو آپسی رنجش اور اختلاف نيز ایک دوسرے کو ذليل کرنے کے بہانے اور سب و شتم کی بناء پر نہيں توڑیں گے دونوں گروہوں کے تمام افراد حاضر و غائب دانشور ،عقلمند اور عام لوگ اس پيمان کے مطابق متعہد اور ملتزم ہيں اور اس عہد نامہ پر عمل کرنے کيلئے اپنے خدا سے محکم عہد و پيمان باندهاہے اور خداکے پيمان کے بارے ميں جواب طلبی ہوگی ( عہد نامہ کو لکھنے والے علی ابن ابيطالب عليہ السلام (ا مير المؤمنين کے ہاتھوں تنظيم و مرتب ہوئے اس عہد نامہ کے بعد قبيلہ ربيعہ ، قبائل سبائيہ یمن ميں شمار ہوئے قبائل سبائيہ جو عراق اورا س سے وابستہ سرزمينوں ميں زندگی گذارتے ہيں اور دونوں قبيلے ایک قبيلہ کی صورت ميں تشکيل پائے اپنے مخالفوں کے مقابلہ ميں متحد ہوتے تھے اس پيمان کے بعد مختلف اور گوناگوں حوادث ميں ربيعہ کا نام قبائل یمن کے ساتھ کہ عراق ميں تھے ، دکھائی دیتے ہيں اسی لئے تاریخ ميں انهيں گاہی قبائل یمن کہتے ہيں اور اس لفظ سے قبائل سبائيہ اور ان کے ہم پيماں کو مراد ليتے ہيں اور کبھی دونوں قبيلوں کے نام ذکر کرتے ہيں اور کہتے ہيں قبائل یمن اور ان کے ہم پيمان ربيعہ و غير ربيعہ عقدے کهل جاتے ہيں زیاد بن ابيہ کی احساس کمتری اور اس کی قریش خاص کر خاندن اميہ کی بے حد و حساب حمایت اور ان کے مخالفوں سے عداوت کے محرک کی حقيت معلوم ہونے اور اسی طرح ربيعہ اور سبائيوں کے عہد وپيمان کے عيان ہونے کے بعد ہمارے لئے واضح ہوجاتا ہے کہ :

زیاد--- ابو سفيان کاناجائز فرزند اور خاندان اميہ سے وابستہ --- ميں پائی جانے والی احساس کمتری اسے شعوری یا غير شعوری طور پرا س بات پر مجبور کرتی تھی کہ قبائل سبائيہ کی --

علی عليہ السلام سے ان کی خاص محبت اور عام طور سے قریش اور بالخصوص خاندن اميہ سے ان کی عداوت کی بناپر ---سرزنش اور عيب جوئی کرے اور اس زمانے کے سماج ميں سبائيہ لقب کو مذمت و بدگوئی کے عنوان سے پيش کرے اور اسے ایک مبتذل و شرم ناک لقب کے طور پرقبائل سبائيہ کے علاوہ ان کے ہم پيمان دوسرے قبائل پر بھی لگائے اس طرح تمام وہ افراد جو علی عليہ السلام کی طرفداری اور خانداں بنی اميہ کی مخالفت ميں سبائيوں کے ساتھ تعاون اور ہم فکری رکھتے تھے ان سب پرسبئيہ کا ليبل لگادے ا س کا م کو عربی زبان ميں “ تغليب” کہتے ہيں اور یہ عربی اصطلاحات ميں کافی استعمال ہوتا ہے ، مثلاً “ شمس و قمر ” سے کبھی تغليب کے طور پر “ قمر ین ” یعنی دو چاند ، اور کبھی “ شمسين ” یعنی دو سورج تعبير کرتے ہيں ۔ زیاد بن ابيہ نے بھی عربی الفاظ ميں رائج اسی تغليب کو لفط “ سبئيہ ” ميں استعمال کيا ہے اس کا اس لفط “ سبئيہ ” ميں تغليب و تصرف سے اسکے علاوہ کوئی او رمقصد نہيں تھا کہ وہ اس لفظ کے معنی کو وسعت بخش کر یمنيوں کے مختلف قبائل اور دوسرے قبائل کے افراد جوان کے ساتھ ہم پيمان تھے اور اتحاد و یکجہتی رکھتے تھے کو ایک ناشائستہ مقصد رکھنے والی ملت و جماعت کے عنوان سے پہچنوائے اس کے ضمن ميں اس کے نسب کی ایک اجتماعی سرزنش بھی انجام دے اور اپنے اندر پائی جانے والی احساس کم تری کی آگ جو غيرشعوری طورپر اس ميں بھڑکی تھی کو بجھا دے ۔

ہماری اس بات کا گواہ وہی جھوٹ اور بے بنياد شہادت نامہ ہے جو اس نے ان افرادکی دشمنی ميں اور انہيں قتل و نابودکرنے کيلئے تنظيم و مرتب کيا اس طرح اس نے اپنے خيال ميں بہت سے جرائم اور ناقابل عفو گناہوں کو اس شہادت نامہ ميں ا نکی گردن پر ڈالدیا جہاں تک ممکن ہوسکا ہے ان کے خلاف بر ابهلا کہنے ميں کوتاہی نہيں کی ہے یہاں تک کہ ان کے جرائم کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کرنے اور ان کی جانوں کو خطرہ ميں ڈالنے کيلئے معاویہ کو لکھا کہ : یہ افراد خليفہ کے خلاف کھلم کھلا بد گوئی کرتے ہيں اور لوگوں کو اس سے جنگ کرنے کيلئے اکساتے ہيں (اظهرواشتم الخليفة و دعوا الی حربه )

ان کے عقائد و افکار بيان کرتے ہوئے اس جملہ کو لکھا کہ:“ یہ لوگ خلافت کو خاندان ابوطالب سے مخصوص جانتے ہيں ابو تراب کو ( علی عليہ السلام ) عثمان کے خون ميں معذور اور بے گناہ جانتے ہيں اور اس پر درود بھيجتے ہيں ” چونکہ یہ شہادت نامہ اس کی انتقام جوئی اور احساس کم تری کی آرزو کو پورا نہيں کرتا تھا اسلئے ایک دوسرا شہادت نامہ مرتب کيااور اس ميں ا ن افراد کے جرائم اس صورت ميں بيان کئے تھے :“ یہ لوگ خليفہ کی اطاعت سے انکار کرتے ہيں ،اس لحاظ سے مسلمانوں کی جماعت سے جداہوئے ہيں اور لوگوں کو خليفہ سے جنگ کرنے پر اکساتے ہيں انہوں نے اسی مقصد سے کئی لوگوں کو اپنے گرد جمع کررکھا ہے اور اپنی بيعت کو توڑ کر اميرالمؤمنين (معاویہ ) کو خلافت سے معزول کيا ہے“

بنی اميہ کے منہ بولے اس بيٹے کے عقيدہ کے مطابق یہ گواہ معاویہ کو خلافت سے معزول کرنے کی وجہ سے کفر وا رتداد ميں چلے گئے ہيں زیاد بن ابيہ نے اس شہادت نامہ ميں ان کے خلاف ہرطرح کی نسبت دینے ميں کوئی کسر باقی نہيں رکھی ہے اور ان افراد کے عقيدہ ميں انحراف ظاهر کرکے اسلام سے خارج ہوتے دکھایا ہے اس سلسلہ ميں ا سکی دليل صرف یہ تھی کہ انہوں نے معاویہ کو خلافت سے معزول کيا ہے

تحقيق کا نتيجہ

ا ن تاریخی حوادث ؛کی تحقيق سے یہ نتيجہ نکلتا ہے کہ یہی زیاد بن ابيہ امير المؤمنين کے زمانے ميں ابتدا ء ہی سے ان کے شيعوں سے مکمل رابطہ رکھتا تھا حضرت کے بعد بھی کوفہ کے شيعوں کا حاکم بنا اورعلی عليہ السلام کے تمام شيعوں کو بخوبی جانتا تھا اور ان کے عقائد و افکار سے مکمل آشنائی رکھتا تھا زیاد بن ابيہ نے قسم کهائی کہ حجر ابن عدی سے انتقام لے کر اس کی زندگی کا خاتمہ کردے اس روداد کا زمانہ ۵ ٠ هء یا ۵ ١ هء یعنی حکومت امير المومنين کے دس سال بعد تھا زیاد بن ابيہ ابتداء سے شيعوں سے قربت اور نزدیکی کے با وجود حاکم اور امير بننے کے بعد ان کا جانی دشمن تھا ۔

اگر یہی زیاد بن ابيہ جانتا کہ کوفہ ميں علی عليہ السلام کے شيعوں ميں بعض ایسے افراد موجود ہيں جو علی عليہ السلام کے بارے ميں ا لوہيت اور خدائی کے قائل ہيں یا دوسرے ایسے عقائد کے قائل ہيں جن کا سيف کی روایتوں ميں ذکر ہوا ہے ا ور ملل و نحل کے دانشوروں نے انهيں اپنی کتابوں ميں نقل کيا ہے تو وہ خود ان سے خبردار ہوتا اور حجر اور ان کے ساتھيوں کا خون بہانے کيلئے اس کے لئے بہترین بہانہ پيدا ہوجاتا جبکہ اس نے ا ن کے خلاف جرم ثابت کرنے ميں انواع و اقسام کے جھوٹ اور تہمت لگانے ميں کوئی کسر باقی نہيں رکھی تھی تو ان باطل عقائد اور خرافت پرمشتمل بيانات کے ا س زمانہ کے معاشرہ ميں موجود ہونے کا پورا پورا فائدہ اٹھاتا اور ان عقائد کو حجر اور ا سکے ساتھيوں سے منسوب کرنے ميں کوتاہی نہ کرتا بلکہ ان نسبتوں کو اپنے مقصد تک پہچنے کی راہ ميں بہترین وسيلہ قرار دیتا۔

اس کے علاوہ یہی عقائد اور باتيں خود معاویہ کيلئے بھی ان کی خونریزیوں کی توجيہ کيلئے بہترین وسيلہ قرار پآئیں اورا ن تہمتوں سے اپنے اعمال پر بہتر ین صورت ميں پردہ ڈال سکتا تھا اور ان افرادکا خون بہانے ميں یوں بہانہ تراشی اور توجيہ کرتا :“ چونکہ یہ لوگ سبئيہ تھے اور خلاف اسلام عقائد جيسے علی ابن ابيطالب عليہ السلام کی الوہيت کے قائل تھے لہذا ن کو قتل کرنا واجب ہے“

ليکن ہم دیکھتے ہيں کہ خود معاویہ اور اس کے آلہ کار زیاد نے ان لوگوں کو اس عقيدہ کے بارے ميں متہم نہيں کيا ہے اور ا س قسم کی نسبت ان کونہيں دی ہے ۔

لہذا یہ تاریخی حقيقت اس بات کی دليل ہے کہ اس زمانے ميں یہ عقائد اور باتيں مسلمانوں ميں بالکل وجود نہيں رکھتی تھيں اس زمانے ميں اس قسم کے مذہبی گروہ کو ان خصوصيات و عقائد کے ساتھ کہ ملل ونحل کے علماء نے چند صدیوں کے بعد اپنی کتابوں ميں درج کيا ہے ،کوئی نہيں جانتاتھا حقيقت ميں اس زمانے ميں اس قسم کے کسی مذہبی گروہ کا روئے زمين پر بالکل ہی وجو دنہيں تھا بلکہ اس زمانے ميں لفظ “ سبائی ” کا ایسا معنی و مفہوم ہی نہيں تھا اور پہلی بار جس شخص نے اس لفظ ميں تحریف ایجاد کی اور اسے وسعت دیدی اور تمام دوستداران علی عليہ السلام کے بارے ميں اسے استعمال کيا ، وہ وہی زیاد بن ابيہ ہے جس نے حجر اوران کے ساتھيوں کے خلاف ترتيب دئے گئے شہادت نامہ ميں اس لفظ کو پہلی بار تحریف کرکے درج کيا اس کے بعد دوسروں نے زیاد کے اس غلط اور سياسی استعمال کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنے جعل کئے گئے اور بے بنياد مذاہب کے ماننے والوں کيلئے اس لفظ کا استعمال کيا ہے اس موضوع کے بارے ميں اگلی فصل ميں بيشتر وضاحت کی جائے گی۔

لغت “سبئی ”ميں تحریف کاجائزہ

هذه النصوص تدل علی ان السبئية کانت نبزاً بالالقاب

تاریخ کی یہ صریح عبارت اس پر دلالت کرتی ہے کہ لفط “ سبئيہ ” تحریف ہونے کے بعد چند لوگوں کی سرزنش کے علاوہ کسی دوسرے معنی ميں استعمال نہيں ہوتا تھا۔

مؤلف اس سے قبل گزشتہ فصلوں ميں ہم نے بيان کيا کہ لفط ‘سبائی” پہلے قبائل یمن کا نام تھا بعد ميں سياسی وجوہات کی بناء پر تحریف کرکے ایک دوسرے معنی ميں بدل دیا گيا اور علی عليہ السلام کے شيعوں اور ان کے تمام دوستوں کی سرزنش اور ملامت کے طورپر ا ستعمال کيا گيا یہ تحریف مندرجہ ذیل چند مراحل ميں انجام پائی ہے۔

١۔ زیاد کے دوران

لفظ“ سبئی ” ميں پہلی تحریف زیاد کے دوران اسی کے توسط سے اس وقت انجام پائی جب اس نے حجر اور ان کے ساتھيوں کے خلاف شہادت نامہ لکھا ہم نے گزشتہ فصلوں ميں ا س روداد کی اس کے نفسياتی اور سياسی علل و محرکات کے پيش نظر تشریح کی ۔

٢۔ مختار کے د وران

مختار نے ابراہيم بن اشتر ہمدانی سبائی کی سرکردگی ميں قبائل سبئيہ کی مدد اور حمایت سے کوفہ پر قبضہ کيا اور حسين بن علی عليہ السلام کے بعض قاتلوں کو ، جيسے:عمر بن سعد قرشی ، شمر بن ذی الجوشن صبائی ، حرملہ بن کاہل اسدی ، منقذ بن مرہ عبدی اور کئی دیگر افراد،جو سب کے سب قبائل عدنان سے تھے کو کيفر کردار تک پہنچا کر قتل کردیا ۔

مختار اور اس کا سرکردہ حامی ابراہيم یہ دونوں ہی ان افرادکے ساتھ اس عنوان و دليل سے لڑتے تھے کہ وہ پيغمبر کے نواسے کے قاتل تھے اور اسی بات سے ان کے خلاف تبليغ کرتے تھے اور لوگوں کو ان کے خلاف اکساتے تھے ۔

ليکن اس دور کے بعد ایک دوسرے دورکاآغاز ہوتا ہے کہ اس دور ميں مختار کے دشمن اس کے خلاف بغاوت کرکے تلوار ، تبليغ اور جھوٹی افواہوں کے ذریعہ اس کے ساتھ جنگ کرتے ہيں اور بے بنياد مطالب کے ذریعہ اس پر تہمت لگاتے ہيں اور لوگوں کو اس کے خلاف شورش پر اکساتے ہيں اور اس کے طرفداروں کو نابودکرتے ہيں ۔

مختارپر تہمت لگاتے ہيں کہ وہ مقام نبوت او نزول وحی کا مدعی ہے ! اس کے ماننے والے اور ساتھيوں کو “ سبئيہ ” کہتے ہيں ان کا مقصود یہ تھا کہ مختار کے ساتھی اہل یمن اور قبائل سبا سے تھے جنہوں نے مختار اور اس کے طرز عمل پر ایمان لاکرا س کی جھوٹی دعوت اور دعویٰ کو قبول کيا ہے۔ طبری نے اس روداد کو اس طرح نقل کيا ہے۔

” شبث بن ربعی”(۱) نے مختار کے لشکر کے ساتھ لڑتے ہوئے اس ميں سپاہيوں کے دو سپاہی حسان بن یخدج،اور سعر بن ابی سعر حنفی اور خليد کہ جو آزاد کردہ حسان بن یخدج تھا، کو اسير بنایا شبث نے خليد سے پوچھا : تم کون ہو ؟ اس نے کہا: حسان بن یخدج ذهلی کا آزادکردہ خليدہوں ۔

شبث نے کہا: اے متکاء(۲) کے بيٹے ! کوفہ کے گھور پر نمک چهڑکی ہوئی مچھياں بيچنے کو ترک کرکے باغيوں سے جاملے ہو ؟ کيا تجھے آزاد کرنے والوں کی جزا یہی تھی کہ تلوار اٹھا کر ان کے خلاف بغاوت کرو گے اور ان کے سر تن سے جدا کرو گے ؟ اس کے بعد شبت نے حکم دیا کہ اس کی اپنی تلوار سے اس کا سر قلم کردیں او را سی لمحہ اسے قتل کردیا گيا ۔

پھر شبث نے سعد حنفی کے چہرہ پر نظر ڈالی اور اسے پہچان کر کہا: کيا تم خاندان حنفيہ سے ہو؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ شبث نے کہا: افسوس ہو تم پر ! ان سبائيوں کی پيروی کرنے اور ان سے ملحق ہونے ميں تيرا مقصد کيا تھا ؟ بے شک کتنے تنگ نظر ہو تم اس کے بعد حکم دیا اور اسے آزاد کيا گيا ۔

جيسا کہ ہم نے کہاکہ یہ گفتگو صراحت سے اس مطلب کو واضح کرتی ہے کہ تعبير “سبئيہ ” صرف قبائل “سبائيہ” کی متابعت و پيروی کرنے کے مفہوم ميں ا ستعمال ہوتا تھاا ور اس تعبير کے علاوہ کسی اور معنی و مفہوم ميں استعمال نہيں ہوتا تھا کيونکہ شبث بن ربيعہ قبيلہ تميم کے خاندان یربوع سے تھا اورسعر بن ابی سعر بھی قبيلہ بکر کے خاندان حنفيہ بن لجيم سے تھا اور دونوں قبيلے عدنان سے منسوب تھے ۔ شبث بن ربعی نے باوجود اس کے کہ سعر عدنانی ہے ليکن مختار کے پيرو یمنی سبائيوں کی پيروی کرنے کی وجہ سے ان کی سرزنش اور ملامت کرتاہے اور اسے بھی سرزنش کے عنوان سے سبئيہ کہتا ہے:

مختار کی شکست کهانے کے بعد ان کے دشمنوں او رمخالفين --جو قبيلہ عدنان سے تھے --- نے حکومت کی باگ و ڈور سنبھالی اور لوگوں پر مسلط ہوگئے عراق کے تمام شہروں ميں سرگرم ہوئے اور اپنی حکومت اور تسلط کو مضبوط کردیا ، ليکن اس کے باوجود اپنے دشمنوں اور ان کی فکروں کو بالکل سے نابود نہيں کرسکے جو قبائل سبئيہ سے تھے وہ اکثر علی عليہ السلام کے شيعہ او ران کے دوستدار تھے بلکہ انہوں نے کبھی سپاہ توابين کے نام پر سليمان بن صرد خزاعی کی سرکردگی ميں مختار سے پہلے بغاوت کی ،اور کبھی علویوں کے پر چم تلے مختار کے بعد اپنے مخالفين سے جنگ کی ۔

____________________

١۔ جب اس تميمی عورت ‘ سجاح ”نے نبوت کا دعوی کيا تو شبث اس پر فریفتہ ہوا اورا س کا ساتھی بنابعض مورخين نے کہاہے کہ شبث اسی سجاح کا مؤذن تھا اس کے بعد ابن زیاد کے لشکر سے جاملا جو حسين ابن ) علی عليہ السلام سے جنگ کررہے تھے اور انہيں قتل کيا(جمہرة انساب العرب: ٢٢٧

٢۔ متکاء: یعنی بڑ ے شکم والی عورت اور وہ عورت جو اپنے پيشاب پر کنٹرول نہ کرسکتی ہو ۔


ان مبارزوں کا سرچشمہ بيشتر اہل کوفہ تھے اورا س کے بعد قدرت کے مطابق اطراف ميں پهيلتے تھے یہ نبرد آزمائی آشکار و پنہان صورت ميں ا ن دو گروہوں ميں دوسری صدی ہجری کے اوائل تک جاری رہی اس زمانہ ميں تيسری بار لفظ “ سبئيہ ” ایک سرکاری سند ميں درج ہواہے ، اور اس سند کو طبری نے اپنی تاریخ ميں یوں درج کيا ہے۔

٣۔ سفاح کے دوران

جب سب سے پہلے عباسی خليفہ کے طور پر “ ابو العباس سفاح” کی کوفہ ميں خلافت کے عنوان سے بيعت کی گئی تو اس نے منبر پر چڑه کر اپنی تقریر ميں يوں کہا:

خداوند عالم نے ہميں رسول اکرم صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی قرابت اور رشتہ داری کی خصوصيت عطا کی ہے اور ہميں پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے اجداد کے صلب سے پيدا کيا ہے اس کے بعد اہل بيت عليہم السلام کے بارے ميں نازل ہوئی چند روایات کی تلاوت کی پھر کہا: خداوند __________عالم نے ہمارے خاندان کی بزرگی اور فضيلت کولوگوں ميں اعلان فرمایا ہے ہماری محبت ، دوستی اور حقوق کو ان پر واجب قرار دیا ہے ہمارے احترام و عزت ميں جنگی غنائم ميں سے بيشتر حصہ کو ہمارے خاندان کيلئے مخصوص فرمایا ہے خداوند عالم فضل عظيم کا مالک ہے ليکن گمراہ سبائی گمان کرتے ہيں کہ ہمارے خاندان کے علاوہ کوئی اور خاندان ریاست و قيادت کيلئے سزاوار تر ہے ان کے چہرے کالے ہوں ! کيوں اور کيسے دوسرے افراد اس مقام کيلئے ہم سے زیادہ سزاوار ہوسکتے ہيں ؟ لوگو ! کيا ایسا نہيں ہے کہ خداوند عالم نے ہمارے خاندان کے توسط سے اپنے بندوں کو ضلالت و گمراہی کی راہ سے سعادت وہدایت کی طرف رہبری کی ہے ؟ اور ہمارے توسط سے ان کو جہالت اورظلم سے نور و روشنی کی طر ف لاکر ہلاکت و بدبختی سے نجات دی ہے ؟ اور ہمارے خاندان کے ذریعہ ہی خداوند عالم نے حق کو ظاہر او رباطل کو نابود کيا ہے ؟

سفاح کی تقریر کی تحقيق

یہاں پر یہ سوال پيدا ہوتا ہے کہ “ ابو العباس سفاح” کيوں اپنی پہلی تقریرکو اسکے بقول گروہ“سبائی” پرحملہ سے شروع کرتا ہے اور اپنے افتتاحی بيان کو ان پر یورش اور تنقيد سے آغاز کرتا ہے ؟!

ہ م اس سوا ل کا جواب طبری کے بيان سے حاصل کرسکتے ہيں کہ وہ اپنی تاریخ ميں ١٣٢ هء کے حوادث کے ضمن ميں ا یک مطلب کوبيان کرتا ہے جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے:

جب ابو مسلم کے سپاہی عراق پہنچے اور بنی اميہ کے لشکر پر فتح پائی تو پھر کوفہ کی طرف رخ کيا اور ابو سلمہ حفض بن سليمان --- جو ان دنوں “وزیر آل محمد ” کے عنوان سے معروف تھا اور ا ن کی سيا سی بغاوت کی رہبری کرتا تھا،کی بيعت کی ۔ ابو سلمہ پہلے سفاح کے بڑے بھائی ابراہيم بن محمد کی طرف لوگوں کو دعوت کرتا تھا اور لوگوں سے اس کيلئے بيعت ليتا تھا جب ابراہيم مروان کے ہاتھوں قتل ہوا اور اس کے مرنے کی خبر ابوسلمہ کو پہنچی تو وہ خلافت کو خاندان بنی عباس سے خاندان علی ابن ابيطالب کی طرف لوٹانے لگا اس خاندان کے کسی فرد کيلئے بيعت لينا چاہتا تھاجبکہ ابراہيم بن محمد نے -جو مروان کے ہاتھوں قتل ہوا تھا --- اپنے بھائی ابو العباس سفاح کو وصيت کی تھی اور اسے اپنا جانشين اور خليفہ قرارد یاتھا ۔ لہذا ابوالعباس نے اپنے بھائی ابراہيم بن محمد کے قتل کے بعد بيعت لينے کيلئے اپنے خاندان کے ساتھ کوفہ کی طرف روانہ ہوا ليکن ابو سلمہ اس کے کوفہ ميں داخل ہونے ميں رکاوٹ بن گيااو روہ مجبور ہوا ابوسلمہ کے زیر نظر کوفہ سے باہر ٹھہرے اور اسی حالت ميں چاليس دن گزر گئے اور ابو العباس اپنے خاندان کے ساتھ کوفہ سے باہر حبس اور زندان کی حالت ميں گذارتا رہا اس مدت کے دوران ابو سلمہ اس کی حالت کو لشکر کے سرداروں سے مخفی رکھتا تھا جو ابراہيم کی وصيت کے مطابق اس کی بيعت کرنے کيلئے آمادہ تھے لشکر کا سردار ابو العباس کے بارے ميں ابوسلمہ سے سوال کرتا تھا تو وہ جواب ميں کہتا تھا : جلد بازی نہ کرنا کيونکہ ابھی شہر “ واسط ” ١ فتح نہيں ہوا ہے اور وہ ابھی بنی اميہ کے طرفداروں کے قبضہ ہے اسی بہانہ سے ابو العباس کی حالت بتانے سے پہلو تہی کررہا تھا یہاں تک آخر کار لشکر کے سرداروں نے ابوا لعباس کی رہائش گاہ کے بارے ميں ا طلاع حاصل کی اور ابوسلمہ کو مطلع کئے بغير اسکے پاس گئے ۔ خلافت کے عنوان سے اس کی بيعت کی اور اسے جيل سے نکال کر باہر لائے اور سب سے پہلے اسے کوفہ کے دارالامارہ ميں لے جایاگيا اس کے بعد اسے مسجد ميں لایا گيا مسجد ميں کوفہ کے مختلف طبقوں کے لوگوں نے اس کی بيعت کی ۔

ابو العباس نے بيعت کے مراسم مکمل ہونے کے بعد ایک تقریر کی (جسے ہم نے پہلے نقل کيا ہے) اس کی اس تقریر کا مقصد یہ تھاکہ اپنے مخالفين اور دشمنوں جو خلافت کو اس سے چھين کر اس کے چچيرے بهائيوں کو دینا چاہتے تھے کو دبادے اور انهيں حسادت کی تہمت لگا کر عوام کی نظروں ميں پست اور حقير نيز نادان بتائے۔ اسی لئے اس نے اپنی تقریر ميں “ سبيئہ ” کو گمراہ کی حيثيت سے پيش کيا پھر ان کے عقيدہ کی یوں تشریح کی : وہ گمان کرتے ہيں کہ دوسرے افراد ہم سے زیادہ لوگوں کی ریاست و قيادت کيلئے سزاوار ہيں اور خلافت کيلئے همارے خاندان سے لائق تر ہيں ۔

جيسا کہ ہم دیکھتے ہيں کہ ابو العباس سفاح اپنے مخالفين کو دبانے اور انہيں متہم کرنے ميں اس سے آگے نہيں بڑه سکا ہے “ وہ کسی دوسرے خاندان کو ہم سے لائق تر جانتے ہيں “

اگر سفاح اپنے مخالفوں کو دبانے کيلئے کوئی اور مطلب رکھتا قطعاً اس کے ذکر سے پرہيز نہيں کرتا اگر اپنے مخالفوں ميں کوئی عيب او رمشکل پاتا تو اسے اظہار کرنے ميں اپنا منہ بند نہيں کرتا ،مثلاً کہتا ہے : وہ گمراہ افراد ہيں جو دین اسلام سے خارج ہوئے ہيں اور ایک انسان کی الوہيت او رخدائی کے قائل ہوئے ہيں ” کيونکہ جو سفاح ابو سلمہ کو حيلہ وبہانہ سے قتل کرنے ميں دریغ نہيں کرتا ہے(۱) وہ اس پر ہر ممکن تہمت لگانے سے بھی گریز نہيں کرتا ۔

____________________

١۔ طبری اور دوسرے مؤرخيں نے تشریح کی ہے کہ سفاح نے کس طرح ابو سلمہ کو قتل کر ڈالا۔


نتيجہ:

جو کچھ اس تحریر سے مجموعی طور پر معلوم ہوتا ہے اور لفط سبئی کے مختلف مراحل ميں استعمال ہونے سے استفادہ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ در حقيقت یہ لفظ یمن کے قبائل ميں سے ایک قبيلہ کا نام تھا ، اس کے بعد مختلف ادوار ميں وقت کی حکومتوں کے توسط سے ، وہ بھی کوفہ اور اسکے اطراف ميں تحریف ہوا ہے اور علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے شيعوں اور ان کے چاہنے والے گروہ کی سرزنش و ملامت کے عنوان سے استعمال ہوا ہے یہ لفط اس زمانے ميں کسی بھی قسم کا مذہبی مفہوم اور دلالت نہيں رکھتا تھا ، جيسا کہ بعد کے ادوار ميں اس قسم کا استدلال کيا گيا ہے بلکہ اس زمانے ميں اصلاً کوئی اس نام کے کسی مذہبی فرقے کو نہيں جانتا تھا ليکن بعد ميں ا س لفظ ميں ایک دوسری تحریف رونما ہوئی کہ اپنے اصلی اور پہلے معنی اور دوسرے معنی سے بھی ہٹ کر ایک تيسرے معنی ميں تحریف ہوکر ایک نئے مذہبی گروہ کے بارے ميں استعمال ہوا ہے اس قسم کے نئے مذہبی گروہ کا ان عقائد و افکار کے ساتھ اسلام ميں کہيں وجود ہی نہيں تھا ہم اگلی فصل ميں اسکے بارے ميں مزید وضاحت سے روشنی ڈاليں گے۔


سيف کے افسانہ ميں “ سبئيہ ” کے معنی

ان السبئيين اتباع عبدالله ابن سبا

سبئی ایک گروہ ہے جنہوں نے عبدالله بن سبا کے عقيدہ کی پيروی کی ہے

سيف بن عمر

افسانہ سبئيہ لفط “ سبئيہ ” کی حالت زیاد بن ابيہ کے دور سے لے کر دوسری صدی ہجری کے اوائل تک وہی تھی جسے ہم نے گزشتہ فصلوں ميں بيان کيا ، یعنی یہ لفظ تنقيد او سرزنش کے عنوان کے علاوہ کسی بھی دوسرے مذہبی و اعتقادی مفہوم ميں استعمال نہيں ہوتا تھا اور وہ بھی صرف کوفہ اور اسکے اطراف ميں ، یہاں تک کہ دوسری صدی ہجری کے اوائل ميں کوفہ کا ایک باشندہ “ سيف بن عمر ، تميمی” نامی خاندان عدنان کے ایک شخص نے “ افسانہ سبئيہ ” جعل کيا اسی نے اپنے اعلی افسانہ ميں ‘ سبئيہ ” کے مفہوم اوردلالت کو قبيلہ کے نام سے --- تحریف کرکے عبدالله بن سباکی پيرو ی کرنے والے ایک مذہبی فرقہ سے منسوب کيا -

--عبدالله بن سبا کو بھی ایک ایسے شخص کے قيافہ ميں پيش کيا ہے کہ پہلے یہودی اور اہل یمن عثمان کی حکومت کے دوران اسلام قبول کيا ہے اور اس نے وصایت او ررجعت کاعقيدہ ایجاد کيا ہے۔

سيف نے اپنے جعل کئے گئے اس افسانہ ميں کہا ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے اس افسانوی عبدالله بن سبا کی پيروی کی ہے رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے بعض خاص اصحاب جو علی ابن ابيطالب کے پيرو اور شيعہ تھے نے ، علی عليہ السلام کے پيروکاروں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ اس کی روش اور طریقہ کا رکو اپنایا، عبدالله بن سبا کی پيروی کرنے کی وجہ سے یہ سب لوگ “سبئيہ ” کہے جاتے ہيں ۔

سيف کے کہنے کے مطابق، عثمان کو قتل کرنے والے اور علی ابن ابيطالب عليہ السلام کی بيعت کرنے والے بھی وہی “سبائی ” اور عبدالله بن سبا کے پيرو تھے ۔

بقول سيف یہی سبائی تھے جنہوں نے جنگ جمل ميں طرفين کے درميان انجام پانے والی صلح کو جنگ و آتش کے شعلوں ميں بدل دیا اور علی عليہ السلام و عایشہ کے فوجيوں کو آپس ميں ٹکرایا، ان تمام مطلب کو سيف نے اپنی کتاب“ الجمل و مسير علیّ عليہ السلام و عائشة ” ميں ثبت و درج کيا ہے یہ افسانہ دوسری صدی ہجری کے اوائل ميں سيف کے توسط سے جعل کيا گيا ہے چونکہ اس افسانہ کا نقل کرنے والا تنہا سيف تھا اسلئے اس نے اشاعت اور رواج پيدا نہيں کيا ،

یہاں تک کہ بزرگ مؤرخيں جيسے طبری ( وفات ٣١٠ هء) نے اس افسانہ کو سيف کی کتاب سے نقل کرکے اپنی تاریخ ميں درج کيا ہے تو اس کو بے مثال اشاعت اور شہرت ملی ۔

” سبئيہ ” کی تاریخ پيدائش ، شہرت اور جدید معنی:

عبدالله بن سبا اور گروہ “ سبئيہ ” کے بارے ميں سيف کے افسانہ کی شہرت اور رواج پانے سے پہلے یہ لفط صرف قبائل سبئی پر دلالت کرتا تھا جيسا کہ ہم نے اس مطلب کو صحاح ششگانہ کے مؤلفين سے نقل کی گئی روایتوں ميں مشاہدہ کيا۔

زیاد بن ابيہ ، مختار اور ابوالعباس سفاح کے زمانے ميں یہ لفط صرف کوفہ ميں کبھی قبائل سبئيہ --جو علی عليہ السلام کے شيعہ تھے --- سرزنش کے القا ب کے طور پر استعمال ہوا ہے ليکن سيف کے افسانہ کو اشاعت ملنے کے بعد یہ جملہ ایک نئے مذہبی گروہ سے منسوب ہوکر مشہور ہو اجس گروہ کا بانی عبد الله بن سبایہودی تھا۔ اس تاریخ کے بعد اس لفظ کا استعمال اپنے اصلی اور پہلے معنی جو قبائل سبائيہ سے منسوب تھا اور اسکے دوسرے معنی ميں کہ حکومت کے مخالفين کی سرزنش ميں استعمال ہوتا تھا رفتہ رفتہ متروک اور فراموش ہوا اور اسی جعلی مذہبی معنی ميں مخصوص ہو ااور اس معنی ميں شہرت پائی(۱) اور سيف نے اس حکم کو پہلے اپنے افسانہ ميں صرف ایک فرقہ کا نام رکھا تھا کہ علی ابن ابيطالب عليہ السلام کی وصایت اور خلافت بلا فصل کے قائل تھے ليکن بعد ميں اپنے دوسرے افسانوں ميں جنہيں اسی جعلی فرقہ اور گروہ کے بارے ميں گڑه ليا ہے ایک دوسرے معنی ميں تبدیل کرکے اس گروہ کيلئے استعمال کيا ہے جو علی عليہ السلام کے بارے ميں آپ کی الوهيت اور خدائی کے قائل ہيں ۔

____________________

١۔ اس تحقيق سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ ‘ سبئيہ ” تين مرحلوں ميں تين مختلف معنی ميں استعمال ہوا ہے اس اصلی معنی یمن کے ایک قبائل کا نام تھا اس کا دوسر اور سياسی معنی حکومت زیاد ، ابن زیاد اور سفاح کے دوران صرف کوفہ ميں رائج تھا اور اس کا مذہبی معنی کہ ایک جدید مذہبی گروہ کا نام ہے سيف کے افسانہ کے شائع ہونے کے بعد رائج ہوا اور اسی نا م سے مشہور ہے


اس تبدیلی او رتغيرکی تشریح سيف بن عمرو دوسری صدی کے اوائل ميں کوفہ ميں ساکن تھا اس نے اپنے افسانوں کو اسی زمانہ ميں جعل کيا ہے اس جھوٹ اور افسانہ سازی ميں اس کا محرک درج ذیل دو چيزی تھيں :

١۔ قبائل قحطانی یمنی سے س کا شدید تعصب کہ جو قبائل عدنانی کے مقابلہ ميں تھا اورخود بھی قبائل قحطانی سے منسوب تھا۔

٢۔ زندیقی ، بے دینی اور اسلام سے عداوت رکھنے کی بنا پر تاریخ اسلام کو مشوش اور درہم برہم کرنا۔

وضاحت :

علی ابن ابيطالب کے دوستدار او رشيعہ قبائل قحطانی یمنيوں پرمشتمل تھے ۔ یہ قبائل بھی وہی سبئيہ ہيں کہ عدنانيوں کے مقابلے ميں قرار پائے تھے اور علی عليہ السلام کے زمانہ سے بنی اميہ کی حکومت کے زمانہ تک ہميشہ دقت کی ظالم حکومتوں کے ساتھ کھلم کھلا مخالفت کرتے تھے ۔

خاص کر خاندان اميہ کی حکومت کی ---سيف ذاتی طورپر اس حکومت کا حامی تھا ---

عدنانيوں کے بالکل برعکس قبائل سبئی معتقد تھے کہ رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے علی ابن ابيطالب عليہ السلام کو اپنا وصی معين فرمایا ہے یہ تھی کلی طور پر عدنانی قبيلوں کے مقابلے ميں قحطانی یاسبائی قبيلوں کی اعتقادی خصوصيات اور سياسی موقعيت دوسری طرف سيف بن عمر اپنے شدید خاندانی تعصب و عداوت اور زندیقی ہونے کی وجہ سے قبائل سبئی قحطان کو لوگوں ميں منحرف خود غرض مرموز اور نادان کے طو رپر تعارف کراتا ہے اور ایسے مسائل و موضوعات ميں ان کے عقيدہ کو بے اعتبار اور بے بنياد دکھاتا ہے ۔

سيف نے اسی مقصد کے پيش نظر عبدالله بن سبا کے افسانہ کو جعل کيا ہے اسے صنعا کا باشندہ بتایا ہے اور کہاہے : علی عليہ السلام کی وصایت کا بانی اور سرچشمہ وہی عبد لله بن سبا تھا نہ پيغمبر اکرم صلی الله عليہ وآلہ وسلم “سبئيہ ” یہ وہی گروہ ہے جو اس عقيدہ ميں عبدالله بن سبا کی پيروی کرتے ہيں سيف نے افسانہ کو جعل کرنے کے بعد مسلمانوں کے ذہن ميں انحراف و بدبينی ایجاد کی اوراپنے افسانہ ميں اکثر بزرگ اصحاب جو علی عليہ السلام کے شيعہ تھے کو اپنے جعل کئے گئے تازہ مذہبی گروہ سے مربوط دکھایا اور ابوذر ، عمار یاسر، حجر بن عدی ، صعصعہ بن صوحان عبدی ، مالک اشتر ، کميل بن زیاد ، عدی بن حاتم ، محمد بن ابی بکر ، محمد بن ابی حذیفہ اور دیگر مشہور و معروف افراد کو اس گروہ کے اعضاء اور سردار کے طور پر پيش کيا ہے۔

اگر خود سيف کے زمانہ ميں کوفہ ميں لفط “ سبئيہ ” کامعنی و مفہوم علی عليہ السلام کی الوہيت اور خدائی ہوتا تو سيف ہرگز اسے نقل کرنے ميں کوتاہی نہيں کرتا اور اسے اس صور ت ميں ضرورت ہی نہيں تھی تا کہ ایک نيا افسانہ گڑه کر علی عليہ السلام کے بارے ميں پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی وصيت کے موضوع ميں اپنے مد نظر افراد کی سرزنش کرنے کيلئے سبائيوں کے عقيدہ ميں شامل کرتا ،کيونکہ علی عليہ السلام کی الوہيت کے عقيدہ کا مسئلہ تنقيد اور سرزنش کے طورپر علی ابن ابيطالب کی خلافت و وصایت کے مسئلہ کے مقابلے ميں بيشتر مؤثر اور کارگر ثابت ہوتا۔

یہاں پر یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ ہم نے تيسری صدی ہجری کے اواخر تک کسی کتاب ميں لفظ سبئيہ کے بارے ميں قبائل یمانی سے منسوب ہونے اور افسانہ عبدالله بن سبا ميں ذکر کئے گئے معنی ----یعنی سبئيہ ایک ایساگروہ ہے جوعلی عليہ السلام کی وصایت و خلاقت کے قائل ہيں ----کے علاوہ کوئی اور معنی نہيں پایا ۔

ليکن تيسری صدی کے اواخر او رچوتھی صدی کے اوائل کے بعدعلمائے ادیان و عقائد کی ملل و نحل کے عنواں سے لکھی گئی کتابوں اور تاليفات ميں درج کيا گيا ہے کہ عبدالله بن سبا اور اس کے پيرو ---جو سبئيہ کے نام سے معروف ہيں ---معتقد ہيں کہ علی عليہ السلام قتل نہيں کئے گئے ہيں بلکہ وہ کبھی نہيں مریں گے وہ خد ارہيں ۔ اور حضرت نے عبد الله بن سبا یا اس کے طرفداروں کو اسی عقيدہ کی وجہ سے آگ ميں جلادیا ۔

پس جيسا کہ ملاحظہ فرمارہے ہيں سبئيہ کے مفہوم و معنی نے قبائل یمن سے تدریجا بعض افراد کيلئے سرزنش کے مفہوم ميں تغير دیا اور اس کے بعد ایک نئے مذہبی گروہ سے منسوب معنی ميں تبدیل ہوا ہے کہ علی عليہ السلام کی وصایت و خلافت کے قائل ہيں پھر ایک دوسرے مذہبی گروہ کے مفہوم ميں تبدیل ہو اکہ علی عليہ السلام کی الوہيت اور خدائی کے قائل ہيں اور اس کے بعد “ سبيئہ ” اور “ابن سبا ” کے سلسلہ ميں بہت سے افسانے پائے گئے ہيں ۔

جعل کا محرک اور ترویج کا عامل

دیکھنا چاہئے یہ تغير و تحول کيسے وجو د ميں آیا ہے ؟ یہ بے بنيا دمطالب کيوں گڑه

لئے گئے ہيں ؟ ! اور یہ مطالب مسلمانوں کی کتابو ں ميں کس طرح رواج پائے ہيں ؟!

ا ن مطالب کی وضاحت ميں ہميں کہنا چاہئے کہ : سيف بن عمر نے افسانہ “ سبئيہ ”

اور دوسرے افسانوں کو جعل کرکے یہ چاہا ہے کہ اپنے قبائل کے سرداروں اور بزرگوں ---عدنان جوہر دور ميں صاحب اقتدارا ور حکومت تھے --خلفائے راشدین سے لے کر امویوں تک سب کی حمایت و دفاع کرے اور انہيں ان پر کئے گئے اعتراضات سے بری الذمہ قرار دے او اس کے مقابلے ميں تمام برائيوں اور گناہوں کو قبائل قحطان سبئی کے افراد کے سر تهونپنے اور انهيں دبانے جو عدنانيوں اور وقت کی حکومتوں کا مخالف محاذ تشکيل دیتے تھے سيف نے اس طریقہ سے اپنے قبيلہ عدنان او ر صاحبان اقتدار و سطوت کی توجہ اور تائيد حاصل کی ہے اور انهيں اپنی افسانہ سازی کے ذریعہ راضی او رخوشحال کياہے اور اپنے افسانوں کے ذریعہ صاحب اقتدار و حکومت اصحاب کو دفاع و بچاؤ کا لباس زیب تن کيا ہے اس کے علاوہ اپنے افسانوں کو اصحاب پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی طرفداری کے زیور سے مزین کيا ہے ا س طرح اسلام کی پہلی صدی کے مشاہير اور صاحب قدرت اصحاب پر کی جانے والی تنقيد اور اعتراضات کا دفاع کيا ہے لهذااس روش کی وجہ سے اس کے افسانے ہر زمانے ميں عام لوگوں ميں قابل قبول پسندیدہ قرار پائے ہيں اور قدرتی طور پر عوام کی طرف سے اپنے افسانوں کے بارے ميں طرفداری اور حمایت حاصل کرنے ميں کامياب ہوا ہے سيف نے ا س طرح اپنے افسانوں کی ترویج کی ضمانت فراہم کی ہے اور وقت کے گزرنے کے ساتھ جعليات کی اشاعت کيلئے بنيادی تحفظ حاصل کرنے ميں بھی کامياب ہوا ہے۔

یہی سبب ہے کہ سيف کی کتاب ‘ ‘ جمل ” جس ميں افسانہ عبدالله بن سبا ہے ،

شائع ہونے کے بعد ہاتھوں ہاتھ منتشر ہوئی اور اس کے افسانے وسيع پيمانے پر نقل ہوئے اور قلم بھی حرکت ميں آئے اور ان افسانوں کو اس کی کتاب سے نقل کرکے دوسری کتابوں ميں درج کيا گيا اور اس کے بعد جو کچھ افسانہ “ سبئيہ ” کے بارے ميں طبری جيسے مورخين نے اپنی تاریخ کی کتابوں ميں درج کيا تھا اسی کمی وبيشی کے بغيراسی صور ت ميں باقی رہا اور بعد والی نسلوں تک منتقل ہوا۔

افسانہ سبئيہ ميں تغيرات

افسانہ عبدالله بن سبا جس صورت ميں لوگوں کی زبانوں پر رائج اور عام ہواتھا وہ ایک عاميانہ صورت کا افسانہ تھا اس نے وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ رفتہ رفتہ رشد و پروورش پائی اور اپنے لئے ایک وسيع تر ین دائرہ کا آغاز کيا او ر اس ميں کافی تبدیلياں ہوگئيں یہاں تک کہ افسانہ ابن سبا دو افسانوں کی صور ت اختيار کرگيا۔

پہلا: وہ افسانہ ، جسے سيف نے جعل کياتهاا ور کتابوں ميں درج ہوچکا تھا۔

دوسرا: وہ افسانہ جو سيف کے افسانہ ميں تغيرات ایجاد ہونے کے بعد لوگوں کی زبانوں پر جاری تھا یہ اس زمانے سے مربوط ہے کہ ملل و نحل کے علماء نے لوگوں کے عقائد و مذاہب کے بارے ميں کتابيں لکھنا شروع کی تھيں يہ علما ء فرقوں اور مذہبی گروہوں کی تعداد بيان کرنے ميں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے ميں بڑی دلچسپی رکھتے تھے اپنی کتابوں ميں جو کچھ مذہبی فرقوں کے بارے ميں لکھتے تھے ان کے مآخذ وہی ہوتے تھے جو ان کے زمانہ کے عام لوگ تصور کرتے تھے عقيدوں کے بارے ميں جو کچھ یہ مصنفين لوگوں سے سنتے تھے ان گروہوں اور فرقوں کے حالات کی تشریح ميں حقائق کی صورت ميں ا ن ہی مطالب کو اپنی کتابوں ميں درج کرتے تھے اور اس طرح مذہبی گروہوں اور عقائد اسلام ميں تحریف و نقليات کے بارے ميں کسی قسم کی تحقيق اور تجسس کئے بغير اضافہ کرتے تھے اس کے بعد لغت کے مؤلفين ، جيسے: ابن قتيبہ ، ابن عبدربہ پيدا ہوئے اور ادب کی مختلف فنون اور تاریخ پر کتابيں لکھيں ۔

ان مؤلفين نے مذہبی فرقوں کے بارے ميں عام لوگوں سے جمع کرکے ملل و نحل کی کتابوں ميں درج کی گئی روایتوں کو نقل کرکے اپنی کتابوں ميں ثبت کيا ہے اور ان کی سند و متن کے بارے ميں کسی قسم کی کوئی تحقيق نہيں کی ہے ۔

ا ن کے بعد والے مؤلفيں ، جيسے ابن ابی الحدید شارح نہج البلاغہ نے مذکورہ کتابوں سے ان مطالب کوکسی تحقيق و تصدیق کے بغيراپنی کتابوں ميں نقل کيا ہے اسی سليقہ اور روش کے مطابق بعض مؤلفين نے سبيئہ کی داستان کو لوگوں کی زبانی سنی سنائی صورت ميں حاصل کرکے اپنی کتابوں ميں درج کيا ہے اور اس طرح یہ افسانے لوگوں کی زبان سے کتابوں ميں داخل ہوئے ہيں ا ور ایک کتاب سے دوسری کتا ب ميں منتقل ہوئے ہيں اس طرح عبدالله بن سبا کا افسانہ جو ایک افسانہ تھا رفتہ رفتہ دو افسانہ بن گيا:

پہلا: سيف کا افسانہ جو اپنی پہلی حالت ميں باقی ہے ۔

دوسرا: وہ افسانہ جو عام لوگوں کی زبانوں پرتها،وقت گزرنے کے ساتھ نقل و انتقال کی تکرار سے تغير پيدا کرکے نشو نما پاچکا ہے اور افسانہ عبدالله بن سبا ميں اس تغير و تحول کے نيتجہ ميں جو تبدیلياں رونما ہوئی ہيں ا س کے پيش نظر خود عبدالله ابن سبا بھی دو شخصيتوں کے طور پر ابهرکرسامنے آیاہے اس طرح مؤلفين کے لئے غلط فہمی اور تشویش کا سبب بنا ہے انشاء الله ہم اگلی فصل ميں اس پر روشنی ڈاليں گے۔

عبدلله ابن سبا کون ہے ؟

ولم نجد فی کتاب نسب عبدالله بن سبا

ہم نے ہزاروں کتابيں چهان ليں ليکن عبدالله بن سبا کے نسب کے بارے ميں کوئی نام و نشان نہيں پایا۔

مؤلف

ہ م نے اپنے بيان کے آغاز ميں کہاہے کہ کتاب کے اس حصہ ميں تين لفظوں کے بارے ميں تحقيق کریں گے:

”سبئيہ” ، “ عبدالله بن سبا ’ اور “ ابن سودا“

ہم گذستہ فصلوں ميں “ سبئيہ ” کی حقيقت اور اس کلمہ کے معنی ميں مختلف ادوار ميں تغير و تحول اور اس کے اصلی معنی سے سياسی معنی ميں اور سياسی معنی سے مذہبی معنی ميں اسکی تحریف سے آگاہ ہوئے اب ہم اس فصل ميں عبدالله بن سباکی حقيقت پر تحقيق کرنا چاہتے ہيں تاکہ اس افسانوی سورما کو اچھی طرح پہچان سکيں ۔

عبدالله بن سبا کا نسب ،پہلے مرحلہ کی کتابوں ميں :

لفط “ عبدالله بن سبا” چار لفظوں : “ عبد” ، “الله” ،“ ابن ”، و “ سبا” پر مشتمل ہے ۔ یہ چاروں لفظ عربی زبان سے مخصوص ہيں ۔ یہ ایک مضبوط دليل ہے کہ یہ باپ بيٹے یعنی ‘ ‘

عبدالله ” و “سبا” دونوں عرب ہيں ۔ اس افسانہ کو جعل کرنے والا یعنی سيف بن عمر بھی عبدالله بن سبا کو واضح طورپر اہل صنعا (یمن) ہی بتاتاہے اور تمام مؤرخين اور مولفين نے ابن سبا کی سرگرميوں اور نشاط کا دور عثمان بن عفان اور علی ابن ابيطالب عليہ السلام کا زمانہ معين و محدود کياہے اس کيلئے جس سرگرمی اور فعاليت کے زمانے کا ذکر کيا گيا ہے وہ پہلی صدی ہجری کی چوتھی دہائی سے بيشتر نہيں ہے اور عبدالله ابن سباکے بارے ميں جتنے بھی افسانے اور داستانيں ملتی ہيں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے زمانے کا معروف و مشہور شخص تھا۔

ان تين تمہيدات کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ عبدالله بن سبا ایک عرب اور ایک عرب کا بيٹا تھا اورپہلی صدی ہجری کی چوتھی دہائی کے دوران حضرت عثمان اورعلی عليہ السلام کے زمانے ميں جزیرة العرب ميں زندگی گزارتا تھا اور مسلمانوں کے سياسی اور دینی مسائل ميں نمایاں سرگرمی انجام دیتا تھا، اسی لئے وہ اس زمانے کا ایک معروف و مشہور شخص تھا۔

یہاں پر ایک ناقابل حل مشکل پيش آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ جزیرة العرب ميں اسلام کی پہلی صدی ميں اموی خلافت کے زمانے تک کوئی ایسا عرب مرد تاریخ ميں نہيں ملتا ہے کہ اس کا نام ، اس کے باپ کا نام ااور رہائش کی جگہ کا نام اور اس کی سرگرمياں معلوم ہوں ،معروف و مشہور اور لوگوں کا فکری قائد بھی ہو ، ليکن اس کے جد اور شجرہ نسب نامعلوم ہو!

کيونکہ عرب اپنے شجرہ نسب کے تحفظ ميں اتنی غير معمولی سرگرمی اور دلچسپی دکھاتے تھے کہ ان کی یہ سرگرمی غلو اور افراط کی حد تک بره گئی تھی ، یہاں تک کہ نہ صرف افرادکے انساب کے بارے ميں خود دسيوں کتابيں تاليف کرچکے ہيں بلکہ اپنے گھوڑوں کے انساب کے تحفظ کے سلسلے ميں بھی خاص توجہ رکھتے تھے کہ یہاں تک بعض دانشوروں نے گھوڑوں کے شجرہ نسب کے بارے ميں کتابيں لکھی ہيں جيسے : ابن کلبی ( وفات ٢٠ ۴ هء)

گھوڑوں کے نسب کے بارے ميں اس کی کتاب “ انساب الخيل ” موجود ہے اس وقت اسلام کے اس زمانے کی تاریخ ،تشریح ، انساب اورتمام فنون وادب کے بارے ميں ہزاروں جلد قلمی اور مطبوع کتابيں ہمارے اختيار ميں ہيں اور ان کتابوں ميں سے کسی ایک ميں بھی عبدالله بن سبا کے شجرہ نسب کے بارے ميں کوئی نام و نشان نہيں ملتا ہے ۔

پس عبدالله بن سباکون ہے ؟ اس کے جد کا نام کيا ہے ؟ اس کے آباء و اجداد کون ہيں ان کا شجرہ نسب کس سے ملتا ہے ؟ اور وہ کس قبيلہ اور خاندان سے تعلق رکھتا تھا؟

ا تنے علماء اور دانشوروں اور مؤلفين نے عبدالله بن سبا سے متعلق افسانوں اور داستانوں کو درج کرنے ميں نمایاں اہتمام کيا ہے ليکن کيا وجہ ہے کہ اس کے باوجود مذکورہ موضوع کے بارے ميں انہوں نے خاموشی اختيار کی ہے اورا س کے شجرہ نسب کے بارے ميں کسی قسم کا اشارہ تک نہيں کيا ہے اور نہ اس کے بارے ميں کوئی مطلب لکھا ہے ؟!

ہم جو دسيوں سال سے مختلف اسلامی موضوعات کے بارے ميں مدارک و مآخذ کے سلسلہ ميں تحقيق و تفتيش کررہے ہيں ، تا بہ حال اس سوال کا جواب کہيں نہيں پایااور عبد الله بن سبا کا اس موضوع کے بارے ميں کہيں کوئی نام و نشان نہيں ملا ہے ۔

عبدالله بن سبا کون تھا؟

ابن قتيبہ ( وفات ٢٧ ۶ ء ه) کی کتاب ‘ الامامة و السياسة ” ميں آیا ہے:

فقام حجر بن عدی و عمر بن الحمق الخزاعی و عبدالله بن وهب الراسبی علی علی فاسئلوہ عن ابی بکر و عمر ”(۱)

اور ثقفی -( وفات ٢٧٣ هء) اپنی کتاب “ الغارات” ميں لکھتا ہے :

____________________

١۴٢ / ١۔ الامامة و السياسة ج ١


دخل عمرو بن الحمق و حبة العرنی و الحارث بن الاعور و عبدالله بن سبا علی امير المؤمنين بعدما افتتحت مصر و هو مغموم حزین فقالوا له: بين لنا ما قولک فی ابی بکر و عمر ” ٢

ان دو کتابں ميں آیا ہے کہ امير المؤمنين کے چند اصحاب حضرت کے پاس گئے اور حضرت ابوبکرو عمر کے بارے ميں سوال کيا ، کتاب الامامة و السياسة ميں ان افراد ميں عبدالله وهب راسبی کا ذکر کيا ہے اور ثقفی کی کتاب “ غارات” ميں عبدالله بن سباکا نام ليا گيا ہے کہ ظاہر ميں آپس ميں اختلاف رکھتے ہيں اور اس اختلاف کو بلاذری ( وفات ٢٧٩ هء) نے انساب الاشراف ميں جعل کيا ہے اس نے داستان کو یوں نقل کيا ہے:

حجر بن عدی الکندی و عمرو بن الحمق الخزاعی و حبة بن جوین الجبلی ثم العرنی وعبدالله بن وهب الهمدانی و هوابن سبا فاسئلوه عن بی ابی بکر و عمر ”(۱)

بلاذری اسی داستان کو بيان کرتے ہوئے کہتا ہے : اور عبدالله بن وهب وہی ابن سبا ہے اس بنا پر عبدالله بن سبا، عبد الله بن وهب ہے ۔

سعد بن عبدالله اشعث ( وفات ٣٠٠ هء یا ٣٠١ هء) نے اپنی کتاب “ المقالات و الفرق”

ميں یہی بات بيان کی ہے جہاں پر غالی اورانتہا پسند گروہوں کے بارے ميں کہتا ہے : “ غلو کرنے والوں ميں پہلا گروہ جس نے افراط اور انتہا پسندی کا راستہ اختيار کيا اسے سبئيہ کہتے ہيں وہ عبدالله بن سبا کے پيرو ہيں کہ جو عبدالله بن وهب راسبی ہے“

مزید کہتا ہے : مذکورہ غالی گروہوں ميں سے ایک “ سبيئہ ” ہے اوروہ عبدالله بن سباکے پيرو ہيں ابن ماکولا ( وفات ۴ ٧ ۵ هء) اپنی کتاب “ الاکمال” ميں لفظ “ سبئی ” کے ضمن ميں سبائيوں کی تعداد کے بارے ميں لکھتا ہے کہ :“سبائيوں ” ميں سے ایک عبدا لله بن وهب سبئی ، رئيس خوارج ہے “ ذهبی ( وفات ٧ ۴ ٨ ئه اپنی کتاب “المشتبہ ” ميں لفط سبئی کے ضمن ميں کہتا ہے : “ عبدالله بن وهب سبئی خوارج کا رئيس اور سرپرستتھا “ذہبی اپنی دوسری کتاب “ العبر” ميں جہاں پر ٣٨ هء کے حوادث بيان کرتا ہے کہتا ہے : “اس سال علی عليہ السلام اور خوارج کے درميان جنگ نہروان چهڑ گئی اور اسی جنگ ميں خوارج کا رئيس و سردار عبدالله بن وهب سبائی قتل ہوا ۔

ابن حجر ( وفات ٨ ۵ ٢ هء )اپنی کتاب ‘ تبصير المتنبہ ” ميں کہتا ہے : “ سبائی ایک گروہ ہے ان ميں عبدالله بن وهب سبائی سرداراور سرپرست خوارج ہے“

____________________

)٣٠٢ / ٢۔ الغارات ، ثقفی ، انتشارات انجمن آثار ملی نمبر ١١۴ ( ج ١

٢٨٣ ) طبع مؤسسہ اعلمی بيروت ١٣٩۴ ئه۔ / ١۔ انساب الاشراف ج ٢


مقریزی ( وفات ٨ ۴ ٨ ئه) اپنی کتاب “ الخطط” ميں کہتا ہے :“علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے زمانے ميں “ عبدالله بن وهب بن سبا” معروف بہ “ ابن السوداء سبئی ” نے بغاوت کی اور اس عقيدہ کو وجود ميں لایا کہ رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے اپنے بعد علی ابن ابيطالب عليہ السلا م کو وصی وجانشين مقرر کيا اور انهيں امامت کيلئے معين فرمایا ہے اور پھر اس عبدالله بن سبا نے پيغمبر ا و ر علی عليہ السلام کی رجعت کا عقيدہ بھی مسلمانوں ميں ایجاد کرکے یوں کہا: علی ابن ابيطالب عليہ السلام زندہ ہيں اور خدا کا ایک جزء ان ميں حلول کرگيا ہے اور اسی “ ابن سبا” سے غالی ، انتہا پسند اور رافضيوں کے مختلف گروہ وجود ميں آئے ”۔

عبدالله بن سبا وہی عبدالله بن وهب ہے:

گزشتہ صفحات ميں بيان کئے گئے مطالب کے پيش نظر یہ سوال پيدا ہوتا ہے کہ آخر یہ عبدالله کون ہے ؟ اس کا شجرہ نسب کہاں اور کس شخص تک پہنچتا ہے ؟ اور اس کی داستان کيا تھی ؟

جو کچھ تحقيق او ر جانچ پڑتال کے بعد ان سوالوں کے جواب ميں کہاجاسکتاہے وہ یہ ہے کہ:

وہ عبدالله بن وهب بن راسب بن مالک بن ميدعان بن مالک بن نصر الازدبن غوث بن بنت مالک بن زید بن کہلان بن سبا ہے ۔چونکہ اس کا نسب راسب ، ازد اور سبا تک پہنچتا ہے اسے سبائی و ازدی و راسبی کہا جاتا ہے:

عربی زبان ميں خاندان کی طرف نسبت دینا باپ سے نسبت دینے سے مترادف ہے کہتے ہيں : بنیہاشم و بنی اميہ ہاشم کے بيٹے اور ا ميہ کے بيٹے یہاں پر قبيلہ کے تمام افرادکو خاندان سے نسبت دی گئی ہےکبھی ایک نامور شخص کو خاندان سے نسبت دیتے ہيں جيسے پيغمبر اسلام صلی الله عليہ و آلہ وسلم کو کہتے ہيں “ ابن ہاشم” بجائے ا سکے کہ کہيں ابن عبدالله اور آنحضرت کو اپنے باپ سے نسبت دیتے ۔

اسی قاعدہ کے مطابق عبدالله بن وهب سبائی کو اپنے خاندان سے نسبت دیکر ابن سبا کہا ہے علمائے نسب شناس کا مقصود ابن سبا بھی یہی ہے کہ عبدالله بن وهب کے بارے ميں ذکرکيا ہے اب ہم تحقيق کریں گے کہ یہ عبدالله بن وهب راسبی سبائی جسے ابن سبا کہاگيا ہے کون تھا ؟

یہ عبدالله سبائی “ ذی الثفنات ”یعنی گھٹے دارکا لقب پایا ہے کيونکہ کثرت سجود کی وجہ سے اس کے ہاتھ اور زانو پر اونٹوں کے زانوں پر گھٹوں کے مانند گھٹے پڑگئے تھے ۔

یہ عبدالله سبائی علی ابن ابيطالب کی جنگوں ميں حضرت عليہ السلام کی رکاب ميں تھا جب جنگ صفين ميں حکميت کی رودا دپيش آئی اور خوارج کے بعض افراد نے علی عليہ السلام سے مخالفت کی اور ان کے مقابلہ ميں محاذ آرائی کی ، عبدالله بھی ان کے ساتھ تھا اس شخص کے دل ميں علی عليہ السلام کے خلاف اس قدر بغض و عداوت تھی کہ حضرت کو منکر خداجانتا تھا ، اور خوارج کے دوسرے افراد نے اس کے گھر ميں اجتماع کيا اور اس نے ان ميں ایک تقریر کی اور انہيں پرہيز گاری اور ترک دنيا کی حوصلہ افزائی کی اور آخرت کيلئے تلاش کرنے کيلئے ترغيب دیتے ہوئے کہا: بهائيوں ! جتنا جلد ممکن ہوسکے اس وادی ، سے جہا ں ظالم رہتے ہيں چلے جائيں اور دیہات اور کوہستانوں یا دوسرے شہروں ميں زندگی کریں ان گمراہ کنندہ بدعتوں سے انکار کریں تو بہتر ہے(۱) ان لوگوں نے ٣٧ هء ميں اسی عبدالله کی بيعت کی اور اسے پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے خليفہ کے طور پر اپنا قائد و سرپرست منتخب کيا اور اس کے بعد ایک ایک کرکے چوری چهپے کوفہ سے باہر نکلے امام نے جب حالات کو یوں پایا تو اپنے سپاہيوں کے ہمرا ہ ان کا پيچها کيا اور دریائے نہروان سے پہلے ہی ان تک پہنچے اور ان سے جنگ کی، اس جنگ ميں عبدلله بن وهب سبائی راسبی ، ہانی بن زیاد خصفی اور زیاد بن خصفہ کے ہاتھوں قتل کيا گيا۔

تمام افراد جو عبدالله بن وهب کے ساتھ تھے قتل ہوئے صرف معدود چند افراد جن کی تعداد دس افراد سے زیادہ نہ تھی اس معرکہ سے زندہ بچ نکلے ۔

یہ تھا وہ عبدالله سبا جو عصر امام ميں تھا ،صحيح تاریخ نے اس زمانے ميں اس کے علاوہ کسی اور کو اس نام و نشان سے نہيں جاناہے اورنہہی کوئی نشان دہی کی ہے(۲)

آخری نتيجہ

جو کچھ عبدالله بن سباکے تعارف اور شناخت ميں کہا گيا ہے جو بھی روایت حادثہ یا داستان عبدالله کے نام سے نقل ہوئی ہے اگر اس عبدالله بن وهب سبائی سے تطبيق کرتی ہے تو اس کے واقع اور صحيح ہونے کا امکان ہے اور اگر اسکی تاریخ اور زندگی سے تطبيق نہ کرے تو اس قسم کی روایت اور داستان کا وجود نہيں ہے بلکہغلط اور جعلی ہے اوراس کی حقيقت ایک افسانہ سے زیادہ نہيں ہوسکتی کيونکہ اس زمانے ميں عبدالله بن وهب کے علاوہ کوئی دوسرا عبدالله بن سبا وجود نہيں رکھتا تھا اور یہ عبدالله وهب سبئی بھی امام علی عليہ السلام کی وصایت اور امامت کے عقيدہ کا بانی نہيں تھا اورنہ اس کا موجد تھا اور نہ علی عليہ السلام کی الوہيت اور خدائی کا بانی تھا ، بلکہ وہ صرف خوارج کا سرپرست و سردار تھا جس نے حضرت علی عليہ السلام سے جنگ کی ۔

ا س لحاظ سے نہ تو جو سيف نے اس کے بارے ميں مطالب لکھے ہيں اور مؤرخين نے انہيں

____________________

١۔ ابن حزم کہتا ہے : عبدالله بن وهب المعروف “ ذو الثفنات ” پہلا شخص تھا جس نے جنگ نہروان ميں خوارج کی باگ ڈور سنبھالی اور اسی جنگ ميں قتل ہو اجبکہ اس سے قبل نيک تابعين ميں شمار ہوتا تھا ، بدانجامی سے ) خدا کی پناہ ( جمہرة الانساب ٣٨۶

۲۔ وہی عبدالله ابن وه ب سبئی ہے کہ لفط “ وهب ” کے حذف کرنے اور “ سبئی ” کی یا کے الف ميں تغير پيدا کرنے سے عبدالله بن سبا ميں تحریف ہوگيا ہے ورنہ کوئی بھی “ عبدالله بن سبا ” جيسا تاریخ و عقائد کی کتابوں ميں وجود نہيں رکھتا ہے اس تحریف کی کيفيت اگلے صفحات ميں ملاحظہ فرمائيں گے ۔


اس سے نقل کيا ہے صحيح اور درست ہے اور نہ توملل و نحل کی کتابيں لکھنے والوں نے اس کے بارے ميں جو کچھ لکھا ہے کوئی بنياد اور حقيقت رکھتا ہے جی ہاں اس درميان ميں جو بعض روایتيں اور اس عبدالله کے بارے ميں شيعہ کتابوں ميں ذکر ہوئی ہيں صحيح ہوسکتی ہيں ،

جيسے یہ روایت کہ: ابن سبا نے دعا کے وقت آسمان کی طرف ہاتھ اٹھانے پر امير المؤمنين عليہ السلام سے ا عتراض کيا اور اس موضوع کو روح توحيد اور یکتاپرستی کے مخالف جانا“

ایک اور دوسری روایت کہ جس ميں کہتا ہے : ابن سبا کو ---اس سے سنے گئے بيان کے سلسلے ميں ---امام کے پاس لایا گيا حضر ت نے اس کی بات کی تائيد و تصدیق کی اور پھر اسے آزادکردیا“

یہ تھا اس کا خلاصہ جو عبدالله بن سبااور اسکے بارے ميں نقل کی گئی داستانوں کی تحقيق اور حوادث و وقائع کے موازنہ سے حاصل ہوا ہے اب دیکھنا چاہئے کہ “ ابن السوداء ” کون ہے اور کيا معنی رکھتا ہے ؟

ابن سودا کون ہے اور کيا معنی رکھتا ہے ؟

و لاتنابزوا بالالقاب

برے القاب سے ایک دوسرے کی سرزنش نہ کرو قرآن کریم ہم نے کہاکہ اس حصہ ميں تين الفاظ :“ سبيئہ” ،“ عبدالله بن سبا ”اور “ ابن السوداء ”

پربحث کریں گے ۔ گزشتہ دو فصلوں ميں ہم نے“‘ عبدالله بن سبا ” اور “سبئہ” پر تحقيق کی ،اب ہم اس فصل ميں “ ابن اسودا” کے بارے ميں بحث کریں گے -۔

لفظ “ابن سوداء” علم اور کسی خاص شخص کا نام نہيں ہے بلکہ یہ لفط سرزنش ،کے عنوان سے لقب اورعيب جوئی کی تعبير ميں ہے جس کسی کی ماں سياہ فام کنيزہوتی تھی اسے سرزنش کے موقع پر “ ابن السوداء ”یعنی سياہ فام عورت کا بيٹا ، کہتے تھے ا ور اس لفظ کے استعمال سے ملامت اور عيب جوئی ہوتی تھی ، چنانچہ :

ابن حبيب ( وفات ٢ ۴۵ هء) نے اپنی کتاب “ المحبر ” ميں (حبشی عورتوں کے بيٹے ) کے باب ميں ۵ ٩ (انسٹه ) ایسے افراکا نام ذکرکيا ہے ، جن کی مائيں حبشی تھيں ، من جملہ خليفہ

دوم کے والد “ خطاب” کو بھی انهيں ميں شمار کيا ہے اورا س کے بارے ميں کہتا ہے: خطاب بن نفيل کی والدہ “‘حية ” جابر بن حبيب فہمی کی کنيز تھی اور کہا گيا ہے کہ ایک دن ثابت بن قيس شماس انصاری نے مذاق اور عيب جوئی کے طور پر عمر بن خطاب سے کہا: “ یا ابن السوداء”یعنی اے سياہ فام عورت کے بيٹے! یہاں پر خداوند عالم نے اس آیت کو نازل فرمایا:

>ولا تلمزوا انفسکم و لا تنابزوابالالقاب بئس الاسم الفسوق بعد الایمان <

آپس ميں ایک دوسرے کو طعنے نہ دو اور نہ ہی برے القاب سے یاد کرو اس لئے کہ ایمان کے بعد فسقبرا نام ہے ۔

قدیم عربی لغت کی تاریخ ميں لفظ “ ابن السوداء” کا مفہوم و مدلول یہی معنی تھا کہ جو بيان ہوا ۔ خود سيف نے بھی اپنے افسانہ کے سورما یعنی عبدالله بن سبا کو “ ابن السودا ”

نام دیا ہے ، اس کامقصود بھی سرزنش اور برے القاب کے علاوہ کچھ نہيں تھا، مثلاً لوگوں کا عثمان کو قتل کرنے کيلئے جانے کی روداد بيان کرتے ہوئے کہتا ہے:

عبدالله بن سبا یہودی مذہب اہل صنعا کا ایک شخص تھااس کی ماں ایک سياہ فام کنيزتھی اس نے عثمان کے زمانہ ميں اسلام قبول کي بعض روایتوں ميں اسے “ عبدالله بن السوداء ” اور بعض دوسری روایتوں ميں “ ابن السوداء” سے توصيف اور تعارف کراتا ہے ليکن زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس افسانہ ميں تغيرات پيدا ہوئے ہيں یہاں تک کہ پانچویں صدی ہجری کے اوائل کا زمانہ آپہنچا اس زمانہ تک عبدالقاہر بغدادی ابن سبا اور ابن سوداء کو دو شخص تصور کرتا تھا اور ان ميں سے ہر ایک کيلئے خاص سرگرميوں اور تحریکوں کا ذکر کيا ہے پھر اس نے کہا ہے : “ یہ دو شخص بعض اوقات ایک دوسرے کا تعاون بھی کرتے تھے ” جی ہاں ابن سبا کی داستان اور افسانہ نے زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ اس د رجہ نشو ونما پایا کہ اسکی شخصيت بھی دوگناہوگئی اس کی مزید وضاحت اور گزشتہ بحثوں کی تکميل کے لئے ان بحثوں کے خلاصہ کو ہم ضروری اضافات کے ساتھ اگلی فصل ميں بيان کریں گے ۔

تيسرے حصہ کے منابع و مآخذ

ا یک: سبئی کی سبا بن یشعب سے نسبت:

٢٨٢ لفظ سبی کے ضمن ميں ۔ / ١۔ انساب سمعانی : صفحہ : ٢

۵ ٣٢ ۔ / ٢۔ الاکمال ، تاليف ابن ماکولا: ۴

٣۔ تبصير المتنبہ ، ابن حجر : ٧١ ۵

٣٢٩- ۴ ۔ جمہرة انساب العرب ،ابن حزم : ص ٣٣٠

١٠ و ١ ۵ ۔ /٢ ، ٨٧١ ، ٧٠ ، ١٨ / ۵ ۔ تاریخ ابن خلدون : ١

دو: سبئی راویوں کے حالات کی تشریح ١۔ انساب سمعانی : لفظ “ سبئی ” کے ضمن ميں ۔

٢۔ الاکما ،ابن ماکولا : لفظ “ سبئی ” کے ضمن ميں ۔

١٩ ۴ و / ٣۔ ابوهبيرہ کی زندگی کے حالات کی تشریح : کتاب جرح و تعدیل : ٢

۴۵ ٨ و تفسير المتنبہ : ٧١ ۵ / تقریب التہذیب : ١

٢١ ، اسد الغابہ : / ۵ ٠ و استيعاب ، حاشيہ الاصابہ ٣ / ۴ ۔ شرح عمارہ ، تقریب : ٢

۵ ٠٨ / ۵ ١ ، الاصابہ : ٢ / ۴

٢٠ ۵ / ۵ ۔ شرح حال حنش ، التقریب : ١

١١١ / ۶ ۔شرح حال سعد سبئی : الاصابہ : ١

تين:۔ : حجر اور گواہوں کی داستان کے بارے ميں زیاد کا خط ١٣١ ۔ ١٣ ۶ / ١۔ تاریخ طبری : ٢

۴ ٠٣ ۔ ۴ ٠ ۴ ۔ / ٢۔ تاریخ ابن اثير : ٣

چار:۔حجر بن عدی کے حالات کی تشریح ان کتابوں ميں ہے:

١ ۵ ١ ۔ ١ ۵۶ پيغمبر کے اصحابميں علی ابن ابيطالب (ع) / ١۔ طبقات ، ابن سعد ؛ ۶

کے راویوں کے بارے ميں ۴۶ ٨ / ٢۔ مستدرک حاکم : ٣

١٣ ۴ ۔ ١٣ ۵ شرح حال نمبر : ۵۴ ٨ / ٣۔ استيعاب ، طبع حيدر آباد : ١

٣٨ ۵ ۔ ٣٨ ۶ / ۴ ۔ اسد الغابہ : ١

٣٠ ۵ ۔ ٣٠٨ ،شرح حال نمبر : ٣١ ۴ ۔ / ۵ ۔ سير النبلاء ،ذہبی : ٣

٢٧ ۶/ ۶ ۔ تاریخ الاسلام ، ذہبی : ٢

۵ ٠ / ٧۔ تاریخ ابن اثير: ٨

٣١ ۵ / ٨۔ اصابہ : ١

پ انچ:۔ حجر کی بغاوت کی داستان ١١١ ۔ ١ ۴ ٩ / ١۔ تاریخ طبری: ٢

۴ ٠٣ ۔ ۴ ٠ ۴ / ٢۔ تاریخ ابن اثير : ٣

چه: عمرو بن حمق کے حالات ۴۴ ٠ ۔شرح حال نمبر : ١٩٢٣ / ١۔استيعاب : ٢

١٠٠ ۔ ١٠١ / ٢۔ اسد الغابہ : ۴

۵ ٢ ۶ ۔ شرح حال نمبر : ۵ ٨٣٠ / ٣۔ اصابہ : ٢

١ ۵ ۔ / ۴ ۔ طبقات ، ابن سعد: ۶

سات : دوران مختار ميں سبئيہ ، طبری ميں شبث اور سعر کی گفتگو اٹھ: سبئہ : دوران خلفائے عباسی اور سفاح کی تقریر ٢٩ ۔ ٣٠ / ١۔ طبری : ٣

٣١٢ ۔ ٣١ ۶ / ٢۔ ابن اثير: ۵

نو: سيف کا افسانہ ا سی کتاب کی جلد اوں کے حصہپر عبدالله بن سبا کے افسانہ کاسرچشمہ دس : عبدالله سبا وہی عبدالله بن وهب سبئی ہے ۔

١۔ مقالات اشعری : ص ٢٠

٢۔ اکمال ابن ماکولا، لفظ سبئی کے ضمن ميں ٣۔ انصاب سمعانی ،لفظ سبئی کے ضمن ميں ۴ ۔ المشتبہ ، ذہبی : ص ٣ ۴۶

١٨٣ / ۵ ۔ العبر ، ذہبی : ٢

۶ ۔ تفسير المتنبہ ، ابن حجر : ٧١ ۵ ۔

١٨٢ ۔ / ٧۔ خطط ، مقریری ۴

٨۔ انساب ابن حزم ميں عبدالله بن سبا کا نسب ، ص ٣٨ ۶

٩۔ عبدالله بن سبا کا “ ذی الثفنات ” لقب پانا:

٣٨ ۵ / ٣٣٨٢ ،جمہرہ ابن حزم : ٣ / طبری : ١

٩١ شرح ہال نمبر : / ١٠ ۔ عبدالله بن وهب کے سجدوں کی کثرت، اصابہ : ٣

۶ ٣ ۶ ١

٢٨٩ / ١١ ۔ عبدالله بن وهب کا خوارج سے تعاون کی داستان : تاریخ ابن کثير ٧

١٢ ۔ عبدالله بن وهب کی علی ابن ابيطالب عليہ السلام سے عداوت:

٢٨ ۶ / ٣٣٨٢ ، ابن اثير : ٣ / طبری : ١

١٣ ۔ خوارجکے در ميان عبدالله بن وهب کی خلافت کی روداد:

جمہرة الانساب ، ابن حزم / ٣٨ ۶ بنی ميدعان کے انساب کے بيان ميں ؟

١٩١ / ١ ۴ ۔ عبد الله بن وهب کے قاتل: تاریخ ابن اثير، ٣

١ ۵ ۔ نہروان ميں خوارج کے مقتوليں کی تعداد:

٢٩١ ، اور دیگر تاریخ کی کتابوں ميں ۔ / تاریخ یعقوبی : ٢

گيارہ: عبدالله ابن سوداء کے بارے ميں مطالب ١۔ عبدالله بن سودا ایک حبشی سياہ فام عورت کا بيٹا تھا:

کتاب المحبر، ابن حبيب : ص ٣٠ ۶

٢۔ ابن سوداء کے بارے ميں سيف کی روایات ٢٩ ۴ ٢ / تاریخ طبری : ١

٣۔ سيف کی روایتوں ميں عبدالله ابن سودا کا نام:

٢٩ ۴۴ / تاریخ طبری : ١

۴ ۔ سيف کی روایتوں ميں ابن سودا کانام :

،٢٩ ۵۴ ، ٣٨ ۵ ٨ ۔ و ١٨ ۵ ٩ ۔ ٢٩٢٢ ، و ٢٩٢٨ / تاریخ طبری : ١

،٣١ ۶۵ ، ٣١ ۶ ٣ ،٣٠٢٧


چوتھی فصل

چندافسانوں کی حقيقت علی“ عليہ السلام” بادلوں ميں ہيں کا افسانہ۔

علی“ عليہ السلام’ بادلوں ميں ہيں نيزدوسرے افسانوں کی تحقيق۔

علی“ عليہ السلام’ بادلوں ميں ہيں کی حقيقت ۔

اس حصہ کے مآخذ۔


افسانہ علی عليہ السلام بادلوں ميں ہيں !

قالت السبئية انَّ علياً لم یمت و انه فی السحاب

سبئيہ کہتے ہيں : علی نہيں مرے ہيں بلکہ وہ بادلوں ميں ہيں ۔

علماء ادیان و عقائد اس کتاب کی گزشتہ بحثوں ميں ہم نے اس بے حساب نا قابل تعداد جھوٹ کی نشاندہی کی جسے گزشتہ کئی صدیوں کے دوران علماء اور مؤرخين نے مسلمانوں ميں پھيلانے کے سلسلے ميں کوشش کی ہے ۔ ہم نے خداکی مدد سے ان جھوٹ کے ضعيف اور بے بنيادہونے کو واضح کيا اور اس کی حقيقت سے پردہ اٹھایا ہے جيسے : ارتداد کی جنگوں ميں قتل عام ، فتوحات اسلامی ميں نقل ہوئے تعجب آور جھوٹ ، مسخرہ آميز خرافات ، شعر ،

معجزے ، شہروں کے نام، راوی اور دیگر مطالب اور بے بنيا د روایتوں کو اسی کتاب کی پہلی اور دوسری جلد ميں ذکرکرکے ان پر ایک ایک کرکے بحث کی اور اس سلسلہ ميں اپنی تحقيق اور نظریات کو محققين کی خدمت ميں پيش کيا ۔

اب ہم کتا ب کے اس حصہ ميں بھی چندایسے جھوٹ پر بحث وتحقيق کریں گے جو عقائد ، نظریات (ملل و نحل)اور دیگر کتابوں ميں “ جاء علی فی السحاب ” یعنی علی “عليہ السلام” بادل ميں آئے کے عنوا ن سے تحقيق درج ہوئی ہے ۔ انشاء الله جو کچھ اس سلسلہ ميں لکھا گيا ہے ہم اسے ضعيف اور بے بنياد ثابت کرکے اس کی حقيقت کو واضح اور روشن کریں گے اور اسی موضوع کے ساتھ اس کتاب کے مباحث کو خاتمہ بخشيں گے اور اگلی فصل ميں اس قسم کے اکاذب پر مشتمل روایتوں کو بيان کریں گے اور ان پربحث و تحقيق کو اگلی فصلوں ميں بيان کریں گے ۔

” جاء علی فی السحاب کے بارے ميں اخبار راور روایتيں “

مسلم نيشاپوری ( وفات ٢ ۶ ١ هء ) اپنی کتاب صحيح ميں ایک روایت کے ضمن ميں نقل کرتے ہيں : رافضی عقيدہ رکھتے ہيں کہ علی “عليہ السلام” بادلوں ميں ہيں اور کہتے ہيں کہ ہم دنيا کی اصلاح کرنے کيلئے ظہور کرنے والے آپ کے فرزند سے اس وقت تک نہيں مليں گے جب تک کہ خود علی ابن ابيطالب عليہ السلام آسمان اور بادلوں سے آواز نہيں دیں گے اور ہميں ان کی نصرت کيلئے بلائيں اور ان کی رکاب ميں انقلاب بر پا کرنے کا حکم نہيں دیدیں گے“

اشعری -( وفات ٣٠١ ) اپنی کتاب المقالات ميں لکھتا ہے “ ایک گروہ کے لو گ اس پر اعتقاد رکھتے ہيں کہ علی بادلوں کے بيچ ہیں “

ابو الحسن اشعری ( وفات ٣٣٠ هء) بھی اپنی کتاب “مقالات الاسلاميين” ميں سبئيہ کا عقيدہ بيان کرتے ہوئے کہتا ہے اور یہ یعنی “ سبئيہ ” رعد کی آواز سنتے وقت کہتے ہيں :

السلام عليک یا امير المؤمنين ابو الحسن ملطی ( وفات ٣٣٧ هء) کہتا ہے : سبئيوں کا دوسرا گروہ یہ عقيدہ رکھتا ہے کہ علی عليہ السلام نہيں مرے ہيں ا وروہ بادلوں کے بيچ ميں ہيں جب بادلوں کا ایک سفيد ،شفاف اور نورانی ٹکڑا آسمان پر نمودار ہوتا ہے اور رعد و برق ایجاد کرتا ہے تو اس گروہ کے لوگ کھڑے ہوتے ہيں اور دعا و مناجات کرتے ہيں اور کہتے ہيں کہ : وہ علی عليہ السلام تھے جنهوں نے ہمارے سروں کے اوپر سے عبور کياہے“

بغدادی ( وفات ۴ ١٩ هء )اپنی کتاب “ الفرق بين الفرق ” ميں کہتا ہے : بعض “ سبئيہ ”

خيال کرتے ہيں کہ علی عليہ السلام بادلوں کے بيچ ميں ہيں اور رعد اس کی آواز اور تازیانہ ہے اگر اس گروہ کا کوئی ایک فرد رعد کی آواز سنتا ہے تو وہ کہتا ہے السلام عليک یا امير المؤمنين اور ایک شاعر سے نقل کيا ہے کہ اس گروہ سے دوری اختيار کرنے کے بارے ميں یہ شعر کہا ہے:

و من قوم اذا ذکروا علياً

یردون السَّلام علی السحاب

یعنی :ميں ا س فرقہ سے بيزاری اور دوری چاہتا ہو جو علی عليہ السلام کو یاد کرکے بادلوں کو سلام کرتے ہيں “

ابن حزم ( وفات ۴۵۶ هء ) کتاب ‘ ‘ الفصل ” ميں کہتا ہے : سبئيہ جو عبدالله بن سبا حميری یہودی کے پيرو ہيں ، علی عليہ السلام کے بارے ميں معتقد ہيں کہ وہ بادلوں کے بيچ ميں ہے“

البدا و التاریخ کا مؤلف کہتا ہے: “سبئيہ” جنہيں طيارہ بھی کہتے ہيں وہ عقيدہ رکھتے ہيں کہ وہ نہيں مریں گے ان کا مرنا اس طرح سے ہے کہ ان کی روح کا رات کی تاریکی ميں پرواز کرنا ، اور یہ گروہ یہ بھی عقيدہ رکھتا ہے کہ علی نہيں مرے ہيں اور وہ بادلوں کے بيچ

ميں ہيں اس لئےجب یہ لوگ رعد کی آواز سنتے ہيں تو کہتے ہيں علی غضبناک ہو گئے ہيں “

اسفرائينی ( وفات ۴ ٧١ هء) “ سبئيہ ” کے بارے ميں کہتا ہے اور اس گروہ کے بعض لوگ کہتے ہيں کہ علی عليہ السلام بادلوں ميں رہیں رعد ان کی آواز اور برق ان کا تازیانہ ہے جب یہ لوگ رعد کو سنتے ہيں تو کہتے ہيں “ السلام عليک یا امير لمؤمنين ” اس کے بعد اسفرائينی نے وہی شعرذکرکيا ہے جو پہلے بيان ہوا۔

عثمان بن عبدالله عراقی حنفی ( وفات تقریباً ۵ ٠٠ هء) کتاب“الفرق المتفرقہ” ميں کہتا ہے : “سحابيہ ” ایک گروہ ہے جو یہ عقيدہ رکھتا ہے کہ علی عليہ السلام ہر بادل کے ساتھ ہوتے ہيں ان کی گواہی سے عقدے بند ہوتے ہيں یہاں تک کہتا ہے : وہ اعتقاد رکھتے ہيں کہ علی نہيں مرے ہيں ، وہ جلدی ہی واپس لوٹنے والے ہيں اور اپنے دشمنوں سے انتقام ليں گے“

سبائيہ کی تعریف ميں کہتا ہے : سبائيہ ایک گروہ ہے جو عبدالله بن سباسے منسوب ہے وہ اعتقاد رکھتا ہے کہ علی عليہ السلام زندہ ہيں اور نہيں مرے ہيں وہ ہر بادل کے ساتھ چکر لگاتے رہتے ہيں ، رعد ان کی آواز ہے ، جلدی ہی واپس لوٹ کر اپنے دشمنوں سے انتقام ليں گے“

اسی طرح عثمان حنفی نے مذکورہ کتاب ميں مذہبی فرقوں ميں فرقہ سحابيہ کا بھی اضافہ کيا ہے ۔

شہرستانی ( وفات ۵۴ ٨ هء) سبئيہ اور غلو کرنے والے گروہ کے بارے ميں کہتا ہے وہ عبدالله بن سبا کے پيرو ہيں اور خيال کرتے ہيں کہ علی زندہ ہيں اور خدا کا ایک جزء ان ميں حلول کرگيا ہے لہذا انهيں موت نہيں آ سکتی ہے اور وہ بادلوں ميں آتے ہیں رعد ان کی آواز

ہے اور برق ان کی مسکراہٹ ہے وہ مستقبل ميں زمين پر اتریں گے اور زمين کو عدل و انصاف سے بھردیں گے جبکہ ظلم و ستم سے لبریز ہوگی ۔

سمعانی ( وفات ۵۶ ٢ هء) اپنی کتاب “ الانساب ” ميں سبائی کے بارے ميں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے : یہ عبدالله بن سبا وہی ہے جس نے علی عليہ السلام سے کہا تم خدا ہو یہاں تک کہ علی نے اسے مدائن جلا وطن کردیا عبدالله بن سبا کے پيرو خيال کرتے ہيں کہ علی ( عليہ السلام) بادلوں کے بيچ ميں رہیں رعد ان کی آواز اور برق ان کا تازیانہ ہے اس لئے شاعر کہتا ہے :

ومن قوم اذا ذکروا عليا یصلون الصلاة علی السحاب

یعنی : ميں اس گروہ سے بيزاری اور دوری چاہتا ہوں جو علی عليہ السلام کو یاد کرتے وقت بادلوں پر صلوات بھيجتا ہے“

ابن ابی الحدید ( وفات ۶۵۵ هء )نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر ٢٧ کی تشریح ميں تفصيل سے گفتگو کرنے کے بعد کہتا ہے: وہ کہتے ہی کہ علی عليہ السلام نہيں مرے ہيں اور آسمان ميں رہتے ہيں رعد ان کی آواز اور برق ان کا تازیانہ ہے جب وہ رعد کی آواز سنتے ہيں تو کہتے ہيں :السلام عليک یا امير المؤمنين ۔

مقریزی ( وفات ٨ ۴۵ هء) “ خطط” ميں روافض کے بيان ميں کہتا ہے :“ روافض کاپانچواں گروہ یہی سبائی ہے کہ عبد الله بن سباکا پيرو ہے ابن سبا وہی شخص ہے کہ جس نے علی بن ابيطالب عليہ السلام کے سامنے کہا؛ تم خدا ہو اس کا اعتقاد یہ تھا کہ علی عليہ السلام قتل نہيں ہوئے ہيں بلکہ زندہ ہیں اور بادلوں کے بيچ ميں رہتے ہيں ،رعد ان کی آواز اور برق ان کاتازیانہ ہے یہ وہی ہے جو مستقبل ميں زمين پر اتریں گے ابن سبا کو خدا رسواکرے!

مقریزی نے ا ن ہی مطالب کو “ ذکر الحال فی عقائد اهل الاسلام ’ ميں بھی تکرار کيا ہے ۔

بعد والے مؤلفين اور مصنفين نے ان کے لکھے گئے مطالب اور نوشتوں کو اپنی کتابوں ميں نقل کيا ہے جيسے : فرید وجدی ( وفات ١٣٧٣ هء) نے دائرة المعارف ميں لفط عبدالله بن سبا کے ضمن ميں بغدادی کے الفاظ و بيان کو کتاب “ الفرق بين الفرق ” ميں من و عن درج کيا ہے ۔

اس طرح بستانی ( وفات ١٣٠٠ هء) اپنی دائرة المعارف ميں بعض گزشتہ مؤلفين ---جن کا گزشتہ صفحات ميں ذکر ہو ا ہے ---کے مطالب کو نقل کرتا ہے ۔

یہ تھا بعض علماء و مؤرخين کا افسانہ “ علی ابرکے بيچ ميں ہے ” کے بارے ميں یبان انشاء الله اگلی فصل ميں آئے گااور ہم اس کی تحقيق کریں گے ۔

”علی بادلوں ميں رہیں ” کے افسانہ کی تحقيق

کانت للنبی عمامة تسمی بالسحاب عممها عليا

پيغمبر اکرم کا ایک سحاب نامی عمامہ تھا اسے علی عليہ السلام کے سر پر رکھا۔ علمائے حدیث.

گزشتہ فصل ميں ہم نے داستان“ علی بادل ميں ہیں ” کے بارے ميں بعض روایتوں کو نقل کيا ، اب ہم اس فصل ميں ان روایتوں پر بحث و تحقيق کرتے ہيں :

پہلے ہميں ان بزرگ اور نامور علماء اور مؤلفين سے پوچهنا چاہئے کہ اپنی کتابوں ميں درج کی گئی ان ضد و نقيض روایتوں کو نقل کرتے وقت کيا انهوں نے اپنی فکر و عقل کا استعمال نہيں کيا؟!

کيا وہ اس نکتہ کی طرف متوجہ نہيں ہيں کہ سبئيہ کے عقيدہ کے مطابق امام کائنات کا خدا ہے جيسا کہ سعد اشعری نے نقل کياہے جرجانی و مقریزی کے نقل کے مطابق بقول ابن سبا علی در حققيت خدا ہے ابن ابی الحدیدکے بيان کے مطابق ابن سبا خود امام سے کہتا تھا: تم خدا ہوا ور ابن سبا کے پيرو اس عقيدہ پر اصرار کرتے تھے یہاں تک خود امير المؤمنين عليہ السلام نے ان تمام افرادکویا ان ميں سے بعض کو متعدد روایتوں کی نقل کے مطابق جلا دیا ہے ۔

اگر امام علی عليہ السلام کے بارے ميں ابن سبا کے پيرؤں کا عقيدہ یہی تھا تو وہ کسی طرح اسے بادلوں ميں ڈهونڈتے ہوئے “ السلام عليک یا امير المؤمنين ” کہہ کر درود بھيجتے اور امير المؤمنين کہہ کر خطاب کرتے تھے ؟!

کيا ان کے عقيدہ کے مطابق علی عليہ السلام کائنات کاخدا ہے یا امير المومنين ؟! ميں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ان دانشوروں اور محققين نے کيوں اپنے بيان ميں موجود اس واضح وروشن تناقض کی طرف توجہ نہيں کی ہے اور ان کذب بيانيوں کی تصدیق و تائيد کی ہے ؟! یہاں تک کہ بعض محققين نے ان عقائد کی تردید بھی کی ہے اور اس مطلب کے نص ميں استدلال پيش کياہے کہ یہ عقيدہ بنيادی طور پر جھوٹ ہے ۔ جيسے بغدادی اپنی ‘ الفرق بين الفرق ” ميں کہتا ہے: ہم اس عقيدہ کے طرفداروں سے کہتے ہيں کہ تمہارا یہ دعویٰ کہ رعد علی کی آواز اور برق ان کا تازیانہ ہے کيسے درست اور صحيح ہوسکتا ہے؟! جبکہ اسلام اور علی عليہ السلام کی پيدائش سے قبل اسی رعد کی آواز کو لوگ سنتے تھے اور وہی بجلی آسمان پر دکھائی دیتی تھی اس کے علاوہ اسلام سے پہلے والے فلاسفروں نے اپنی کتابوں ميں رعد و برق کے بارے ميں بحث کی ہے اور ان کے علل و عوامل پر اختلا ف نظر کيا ہ ے ابن حزم اس گروہ کی تردید ميں اپنی کتاب ‘ الفصل ” ميں کہتا ہے: کاش ميں جانتا کہ وہ ان بادلوں ميں سے کس بادل ميں ہے جبکہ بادل کے ٹکڑے زمين و آسمان کے درميان کثير تعداد ميں موجود ہيں !! ان بزرگ علماء نے اس جھوٹ اور خرافات کو اپنی کتابوں ميں لکھ کر ان کی تائيد کی ہے۔

یہ جھوٹ اور توہمات پر مشمل افسانے کبھی صرف جعل کئے گئے ہيں اور کبھی ایک تاریخی حقيقت ميں مسخ ،تحریف یا ناجائز تفسير کرکے وجود ميں لائے گئے ہيں ۔


افسانہ “ علی بادلوں ميں ایا ” کی حقيقت

اتاکم علیّ فی السحاب

اب علی عليہ السلام عمامہ سحاب سر پر رکھ کر آپ کی طرف آئيں گے۔ رسول خدا گزشتہ فصلوں ميں ہم نے افسانہ “علی بادلوں ميں ” کو بيان کيااور اس پر بحث و تحقيق کی اور خلاصہ کے طور پر کہا: کہ اگرچہ یہ افسانہ جس صورت ميں ادیان و عقائد کی کتابوں ميں آیا ہے واقعی نہيں ہے ليکن افسانہ ایک تاریخی حقيقت سے سرچشمہ لے کر تحریف ہوا ہے اور وہ یہ کہ:

پيغمبر اکرم صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے زمانہ ميں غالباً وسائل زندگی کے نام رکھے جاتے تھے ، اور یہ روش پيغمبر کی زندگی ميں زیادہ مشاہدہ ہوتی تھی کنزل العمال ميں آیا ہے کہ: پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی عادت یہ تھی : آپ جنگ ميں اپنااسلحہ ،سواری ،اشياء اور دوسری چيزوں کی نام گزاری فرماتے تھے ۔(۱)

____________________

۱- ٧٢ ۔ ٧٣ / ١۔ کنزل العمال طبع دوم ۔ حيدر آباد ( ج ٧


پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی سيرت کی کتابوں ميں آیا ہے کہ پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کا دلدل نام کا ایک خچر تھا اور عفير یا یعفور نام کا ایک گدها تھا ،قصوا، جدعا و عضباء نام کے چند اونٹ تھے ،بتار ،مخدوم و رسوب و ذوالفقار نامی چند تلواریں تھی عقاب نامی ایک سياہ علم تھا اور سحاب نامی ایک عمامہ تھا کہ جس کو مخصوص مواقع پر سر پر رکھتے تھے ۔ پيغمبر اسلام صلی الله عليہ و آلہ وسلم فتح مکہ کے دن سياہ عمامہ سر پر رکھ کر مکہ ميں داخل ہوئے(۱)

ا س سحاب نامی عمامہ کو کبھی علی عليہ السلام کے سر پر رکھتے تھے غدیر کے دن اس عمامہ کو تاج گزاری کے طور پر علی عليہ السلام کے سر پر رکھا گياتھا علی عليہ السلام اسی عمامہ کے ساتھ آتے تھے اور پيغمبر فرماتے تھے : “ جاءَ کم علی فی السحاب ”

یعنی علی عليہ السلام سحاب عمامہ ميں دے ۔ چونکہ سحاب کے معنی بادل رہیں اس لئے اس خرافات پر مشتمل افسانہ کا سر چشمہ یہيں سے ليا گيا ہے اب ہم اس پر بحث و تحقيق کرتے ہيں ۔

اہل سنت کی روایتوں ميں سحاب

ابن اثير کی “ نہایة ” ميں لفط سحاب کی تشریح ميں ایا ہے : پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے عمامہ کے نام سحاب تھا ۔

” لسان العرب ” اور “ تاج العروس ” ميں ذکر ہواکہ : حدیث ميں وارد ہوا ہے کہ پيغمبر اکرم صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے عمامہ کو سحاب کہتے تھے ، چونکہ سفيدی ميں وہ ایک سفيد بادل سے شباہت رکھتا تھا(۲)

ذہبی کی “ تاریخ الاسلام ” ، قسطلانی کی “المواهب لدنيہ ” اور نبہانی کی “انوارمحمدیہ ” ميں آیا ہے کہ : رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کا سحاب نامی ایک عمامہ تھا اسے“ لاطی ” یعنی سر سے چپکی ہوئی ایک ٹوپی کے اورپر باندهتے تھے ۔

تاریخ یعقوبی ميں آیا ہے کہ : رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کا سحاب نامی ایک سياہ عمامہ تھا۔

سنن ابن ماجہ کے باب “ العمامة السوداء ” سنن نسائی کے باب “ لبس العمائم السوداء ” سنن ابی داؤد کے باب “ العمائم ” ابن سعدکی طبقات ، مسند احمد حنبل ، بلاذری کی “انساب الاشراف ” ذہبی کی “ تاریخ الاسلام ” اور تاریخ ابن کثير ميں جابر سے نقل ہے کہ رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم فتح مکہ کے دن سياہ عمامہ سر پر رکھے ہوئے مکہ ميں داخل ہوئے ۔

____________________

۴۵ ۔ ۴٩٢ اور سيرت کی دوسری کتابيں ۔ / ١۔ طبقات ابن سعد، طبع بيروت ج ١

۲۔ ان دو دانشمندوں نے پيغمبر اکرم صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے سحاب نامی عمامہ کی نام گزاری کے سبب کے بارے ميں غلطی کی ہے کيونکہ پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کا عمامہ سياہ بادل سے شباہت رکھتا تھا نہ سفيد بادل سے۔


رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے اپنے “سحاب ”نامی عمامہ کو علی بن ابيطالب عليہ السلام کے سر پر رکھا ، چنانچہ ابن قيم جوزی اپنی کتاب “ زاد المعاد ” ميں اس سے متعلق کہتا ہے : “ رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کا سحاب نامی ایک عمامہ تھا اس عمامہ کو علی ابن ابيطالب کے سر پر رکھا وہ اس عمامہ کو ایک ٹوپی کے اوپر سے سر پر باندهتے تھے ۔

کنز العمال ميں ابن عباس سے نقل کرتا ہے “ جب رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے اپنے سحاب نامی عمامہ کو علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے سر پر رکھا تو فرمایا: اے علی ! عمامہ عربوں کے نزدیک تاج کے مانند ہے ،یعنی : یہ تاج ہے جسے ميں نے تيرے سرپر رکھا ہے ” اور اس سلسلہ ميں جو روایت نقل کی گئی ہے وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے علی عليہ السلام کے سر پر اپنے عمامہ باندهنے کی روداد غدیر کے دن واقع ہوئی ہے اسی دن رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے علی عليہ السلام کو بلا کر ان کے سر پر ایک عمامہ رکھا اور اس کا ایک سرا ان کی پشت پر لٹکا دیا۔

حموی ( وفات ٧٢٢ هء) نے ‘ فرائد السمطين ” ميں نقل کياہے کہ رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے اپنے سحاب نامی عمامہ کو علی ابن ابيطالب عليہ اسلام کے سر پر رکھا اور اس کے دو نوں سرے کو آگے اور پيچھے کی طرف لٹکادیا اس کے بعد فرمایا: اے علی !

ميری طرف آجاؤ ۔ علی عليہ السلام پيغمبر اکرم صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی طرف بڑهے پھر آنحضرت صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پيچھے کی طرف پلٹ جاؤعلی عليہ السلام پلٹ گئے جب رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے علی عليہ السلام کو آگے اور پيچھے سے دقت کے ساتھ مشاہدہ کرلياتو فرمایا ملائکہ اسی شکل و صورت ميں ميرے پاس آتے ہيں “

ابن حجر ( وفات ٨ ۵ ٢ ئه) اپنی کتاب “ الاصابہ” ميں علی ابن ابيطالب عليہ السلام سے روایت کرتا ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے غدیر خم کے دن ميرے سر پر ایک سياہ عمامہ باندها، اسکا ایک گوشہ ميرے شانہ پر لٹکا ہوا تھا ، کنزل العمال ميں علی ابن ابيطالب عليہ السلام سے نقل کيا گيا ہے کہ : “ رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے غدیر کے دن ميرے سر پر ایک عمامہ باندها اور ا س کے ایک گوشہ کو ميری پشت پر آویزاں کردیا ”۔

ا یک اور روایت ميں آیا ہے کہ حضرت نے فرمایا: “ رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے اس عمامہ کے دو کناروں کو ميرے دو شانوں پر آویزاں کيا اس کے بعد فرمایا: خداوند عالم نے جنگ بدر و حنين ميں جب فرشتوں کو ميری مدد کيلئے بھيجا تو وہ اسی طرح سر پر عمامہ رکھے ہوئے تھے۔

کنز ل العمال ميں نقل ہوئی ایک دوسری روایت ميں یوں آیا ہے : رسول خدا صلی الله

عليہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے عمامہ کو علی عليہ اسلام کے سر پر رکھا اور عمامہ کے دو گوشوں کو سر کے پيچھے اور آگے لٹکا دیا اس کے بعد فرمایا: پيچھے مڑو تو علی عليہ السلام پيچھے مڑگئے ۔ اس کے بعد رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے اصحاب کی طرف رخ کرکے کہا: فرشتوں کے تاج بھی ایسے ہی ہوتے ہيں ۔ علی عليہ السلام ،رسول خدا صلی الله

عليہ و آلہ وسلم کے سحاب نامی عمامہ کو سر پر رکھ کر لوگوں ميں آتے تھے اور لوگ کہتے تھے : “ جاء علی فی السحاب ” علی پيغمبر اکرم صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے سحاب نامی مخصوص عمامہ کے ساتھ آگئے ہيں ۔

غزالی ( وفا ۵ ٢٠ هء ) کہتا ہے: رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کا سحاب نامی ایک عمامہ تھااسے آپ نے علی عليہ السلام کو بخش دیا ، بعض اوقات ؛علی اسی عمامہ ميں تشریف لاتے تھے تو رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم فرماتے تھے

:“ اتاکم علی فی السحاب “

صفدی ( وفات ٧ ۶۴ ئه) کہتا ہے: رسول خدا کی ایک کالی عبا اور سحاب نامی ایک عمامہ تھا آپ نے اسے علی کو بخش دیا جب کبھی آپ علی کو وہ عمامہ سر پر رکھے ہوئے دیکھتے تھے تو فرماتے تھے : “اتاکم علی فی السحاب ” علی عمامہ سحاب سر پر رکھ کرآئے ہيں “

علی ابن برہان الدین شافعی حلبی ( وفات ١٠ ۴ ٢ ئه ) “سيرہ حلبيہ ” ميں کہتا ہے :

رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کا سحاب نامی ایک عمامہ تھا آپ نے اسے علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے سر پرر کها ، جب کبھی علی اس عمامہ کو سر پر رکھے ہوئے آنحضرت صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی خدمت ميں حاضر ہوتے تھے تو رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم فرماتے تھے: “ اتاکم علی فی السحاب” یعنی علی ميرے مخصوص عمامہ سحاب کو سر پر رکھے ہوئے آرہے ہيں ۔

نبہانی اپنی کتاب “ وسائل الوصول الی شمائل الرسول ” ميں کہتا ہے: رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کا سحاب نامی ایک عمامہ تھا ، اسے علی ابن ابيطالب عليہ السلام کو بخش دیا ،تھا جب کبھی علی اس عمامہ کے ساتھ باہر آتے تھے تورسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم فرماتے تھے : “اتاکم علی فی السحاب

یہ ان روایتوں کا ایک نمونہ تھا جو پيغمبر خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی طر ف سے علی عليہ السلام کو اپنا عمامہ بخشنے اور علی فی السحاب کے صحيح معنی کے بارے ميں اہل سنت کی حدیث ، سيرت اور لغت کی کتابوں ميں ائی ہيں ۔ اسی قسم کی احادیث شيعوں کی کتابوں ميں بھی نقل ہوئی ہيں ان کے چند نمونے بھی یہاں پر پيش کرتے ہيں :

شيعہ روایتوں ميں سحاب

اسماعيل ١ ابن امام موسی بن جعفر عليہ السلام ، کتاب “ جعفریات ” ميں اپنے آبا و اجداد امير المؤمنين سے نقل کرتے ہیں کہ: حضرت فرماتے تھے : رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کا سحاب نامی ایک عمامہ تھا ان ہی روایتوں کو مرحوم نوری ( وفات ١٣٢٠ هء) نے اپنی کتاب المستدرک کی کتاب صلاة باب “استحباب التعمم و کيفيته ” ميں نقل کيا ہے ۔

کلينی( وفات ٣٢٩ ئه) نے اپنی کتاب کافی “ کتاب الزی و التجميل باب القلانس ” ميں امام صادق عليہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم یمنی سفيد ، اور مضری ٹوپياں استعمال فرماتے تھے اور سحاب نامی ایک عمامہ بھی رکھتے تھے ۔

ان روایتوں کو مرحوم فيض ( وفات ١٠٩١ هء) نے اپنی کتاب “وافی ، باب “ القلانس” ميں اور مرحوم محمد حسن حر عاملی ( وفات ١١٠ ۴ ئه) نے کتاب وسائل کی “ کتاب الصلاة ، باب ما یحتسب من القلانس ” ميں درج کيا ہے ۔

رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے جنگ خندق ميں اپناسحاب نامی عمامہ کو علی کے سر پر باندها مرحوم فضل بن حسن طبری ( وفات ۵۴ ٨ هء) مجمع البيان ميں تفسير سورہ احزاب ميں جنگ احزاب کی بحث کے دوران کہتے ہیں : جنگ خندق ميں جب امير المؤمنين عليہ السلام عمرو ابن عبدود سے جنگ کرنے کے لئے روانہ ہونا چاہتے تھے تو رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے “ ذات الفصول ” نامی اپنی ذرہ انہيں پہنادی “ ذو الفقار ” نامی اپنی تلوار انکے ہاتھ ميں دیدی اور “سحاب” نامی اپنا عمامہ ان کے سے سر پر باندها اور اسی روایت کو مرحوم مجلسی( وفات ١١١١ هء) نے بحار الانوار کی چهٹی جلد ميں ، نوری نے مستدرک الوسائل “ استحباب التعمم اور ابواب احکام الملابس فی غير الصلاة ” ميں اور مرحوم قمی (وفات ١٣ ۵ ٩ هء) نے سفينة البحار ميں مادہ عم کے ذیل ميں طبرسی سے نقل کيا ہے حسن بن فضل طبرسی نے بھی اپنی کتاب ‘ مکارم الاخلاق ” کے باب “مکارم اخلاق النبی صلی الله عليہ و آلہ وسلم ” ميں نقل کيا ہے ۔

رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کا ایک مخصوص عمامہ تھا اسے “ سحاب ” کہتے تھے کبھی آپ اسے اپنے سر پر باندهتے تھے اورکبھی اسی عمامہ کو علی عليہ السلام کے سر پر رکھتے اور جب بھی علی اس عمامہ کے ساتھ باہر آتے تھے تو رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم فرماتے تھے : “ اتاکم علی فی السحاب ” اس وقت علی ‘ سحاب ” ميں تمہاری طرف آرہے ہيں آپ کا مقصود اس تاریخی جملہ ميں “ سحاب ”سے وہی مخصوص عمامہ تھا جسے آپ نے خود علی کو بخش دیا تھا ۔

ا س روایت کو مجلسی نے بحار کی چهٹی جلد ميں اور قمی نے سفينة البحار ميں مادہ “سحاب” کے ذیل ميں ذکر کيا ہے۔

مرحوم کلينی نے اپنی کتاب “ کافی” کے “ باب عمائم ” ميں امام صادق عليہ السلام سے یوں نقل کيا ہے کہ ایک دن رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے علی عليہ السلام کے سر پر ایک عمامہ رکھا عمامہ کے ایک طرف کو سامنے اوردوسرے طرف کو چار انگليوں کی لمبائی ميں سے کم تر پيچھے کی جانب لٹکا دیا، اس کے بعد فرمایا: اے علی عليہ السلام :

____________________

١۔اسماعيل امام سوسی بن جعفر عليہ السلام کی فرزند ہيں نجاشی اپنی رجال ميں اور شيخ طوسی اپنی فہرست ميں ٣۴ ۔ ٣٣ پر کہتے ہيں : اسماعيل مصر ميں سکونتپذیر تھے اور بہت سی کتاب کے مؤلف ہیں ان کی روایتوں کو کلی طور پر اپنے آباو اجداد طاہرین سے نقل کی ہے ان ميں سے متن ميں ذکر ہوئی دو روایتيں بھی ہيں نجاشی اور طوسی کا مقصود اسماعيل کی وہی کتابيں ہيں جسے علمائے حدیث ان کو “ جعفریات ”

اورکبھی“اشعشيات ” کا نام دیا ہے ان روایتوں کے راوی کے طور پر ابو علی محمد بن اشعث کو نسبت دیتے ہيں ٢٩١ ) اور صاحب الذریعہ نے / اسماعيل کے حالات پر مرحوم نوری نے اپنی مستدرک کے خاتمہ پر فائدہ دوم ( ٣

١٠٩ ۔ ١١١ ميں درج کيا ہے ۔ / اپنی کتاب ٢


پيچھے مڑو ! علی عليہ السلام پيچھے مڑگئے ، اس کے بعد فرمایا: اے علی ! سامنے کی طرف مڑو پھر رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے آگے اور پيچھے سے علی عليہ السلام کے قيافہ او رہيکل پر ایک نظر ڈالی ، پھر فرمایا: فرشتوں کے تاج بھی ایسے ہی ہيں ۔

دوسری روایت کو مرحوم فيض نے اپنی کتاب “ وافی ”کے باب العمائم ميں اور حر عاملی نے اپنی کتاب “وسائل ”کے باب “ استحباب العمامة ” ميں ا ور مجلسی نے بھی بحار الانوار کی نویں جلد ميں درج کياہے ۔

ا ن روایتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے اس عمل کو علی عليہ السلام کے بارے ميں کئی بار انجام دیا ہے ایک بار جنگ خندق ميں جيسا کہ اس کی روایت بيان کی گئی ، دوسری با غدیر خم کے دن جيسا کہ علی بن طاؤس ( وفات ۶۶۶ ئه) کتاب “ امان الاخطار ” ميں رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے صحابی عبدالله بن بشر ١ سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہيں :

رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے غدیر خم کے دن علی عليہ السلام کو اپنے پاس بلایا اور اپنے ہاتھ سے ان کے سر پر ایک عمامہ رکھا اس عمامہ کا ایک سرا ان کے شانہ پر لٹکادیا ،اس کے بعد فرمایا: خداوند عالم نے جنگ حنين ميں ميری مدد کيلئے کئی فرشتے کہ جن کے سر پر علی عليہ السلام کے عمامہ کے مانندعمامے تھے اوروہ ہمارے اور مشرکين کے درميان (دیوار) کے مانند حائل ہو گئے اس طرح مشرکين کے سپاہيوں کيلئے رکاوٹ بنے ۔

بحرانی ( وفات ١١٩٧ هء) نے کتاب “ غایة المراد ” کے سولہویں باب ميں حموینی کی ٧ ۴ روایتوں کو اہل سنت کی روایتوں کے ضمن ميں درج کيا ہے ۔

کلينی اپنی کتاب “ کافی ” کتاب “ کتاب ن u۱۵۷۵ الحجة باب ما عندالائمة من سلاح الرسول و متاعہ ” ميں یوں نقل کرتے ہيں کہ : رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے اپنے مرض الموت ميں اپنی ذرہ ، علم ، لباس ، ذو الفقار ، ڈهال اور سحاب علی کو بخش دیا ۔ علل الشرائع ميں بھی اسی مضمون کی ایک روایت ذکر ہوئی ہے۔

خلاصہ اور نتيجہ:

ان روایتوں سے جو سنی اور شيعہ کتابوں ميں کثرت سے پائی جاتی ہيں “ سحاب”

اور جاء علی فی السحاب کے معنی مکمل طورپر واضح اورروشن ہوجاتے ہيں کہ “ سحاب سے ۔

____________________

١۔عبدالله بن بشر اہل حمس ميں سے ہے بغوی “معجم الصحابہ ”ميں عبدالله کا نام ذکر کرکے کہتا ہے یحيیٰ بن حمزہ نے عبيدہ حمسی سے اور اس نے عبدالله سے نقل کيا ہے کہ رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے علی عليہ السلام کے سر پر ایک سياہ عمامہ رکھا اس کے ایک طرف کو سامنے یا سر کے پيچھے آویزان کيا پھر سے وہ علی عليہ السلام سے نقل کرتا ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے غدیر ٢۴٧ ۔ / کے دن اپنے ہاتھ سے ایک سياہ عمامہ ميرے سر پر رکھا ” شرح حال نمبر ۴۵۶۶ اصابہ : ٢


مراد بادل نہيں ہے بلکہ اس سے مراد پيغمبر اسلام صلی الله عليہ و آلہ وسلم کا ایک خصوصی عمامہ ہے جس کا نام سحاب تھا اور آپ نے اسے علی بن ابيطالب عليہ السلام کو بخش دیا تھا ۔علی عليہ السلام بھی کبھی اسے اپنے سرپر باندهتے تھے جملہ “جاء علی فی السحاب ”سے مقصود بھی ےہی حقيقت ہے کہ علی عليہ السلام پيغمبر اکرم صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے مخصوص عمامہ کو سر پر رکھ کر آتے تھے ليکن تحریف کرنے والے اور انتقام جو افراد ، خاص کر شيعوں کے دشمنوں نے اس حقيقت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اس ميں شعوری یا غير شعوری طور پر تحریف کی ہے اور سحاب کو بادل کے معنی ميں استعمال کرکے اس تاریخی جملہ: جاء علی عليہ السلام فی السحاب کو علی بادل ميں ہیں کے معنی سے تشریح کی ہے ۔ اس طرح مضحکہ خيز اور خرافات پر مشتمل “ افسانہ علی ابر ميں ” کو وجود ميں لایا ہے اور کئی افراد کو ا س افسانہ کے ذریعہ مورد الزام قرار دیا ہے جس کی وضاحت گزشتہ فصل اور اگلی فصل ميں ہم اہل ملل ونحل کی افسانہ پر دازی کے ایک اور نمونہ کے ضمن ميں تحقيق کریں گے ۔

افسانہ ‘ ‘ خدا کے ایک جزء نے علی عليہ السلام ميں حلول کيا ہے“

شہرستانی نے کتاب “ ملل و نحل ” ميں فرقہ سبائيہ اور عبدالله بن سبا کے اس اعتقاد کے بارے ميں کہا علی (عليہ السلام )نہيں مرے ہیں کيونکہ ان ميں خدا کاایک جز ء حلول کرگيا ہے : اور اس پر کچھ نہيں ہوتا ہے ! کو بيان کرتے ہوئے سبائيوں کے بارے ميں کہتاہے:

وہ معتقد ہيں کہ خداکا ایک جزء علی (عليہ السلام )کے بعد ائمہ کے اندر حلول کر گيا ہے ا ور یہ ایسا مطلب ہے جسے اصحاب جانتے تھے اگر چہ وہ ابن سبا کے مقصود کے خلاف کہتے تھے ، یہ عمر ابن خطاب تھا کہ جس نے علی عليہ السلام کے بارے ميں کہا --- جب علی عليہ السلام نے ایک شخص کوحرم ميں ایک آنکھ کا کانا کردیاتو اس کے بعد اس کے پاس شکایت لے گئے تو --- ميں کيا کہہ سکتا ہوں خدا کے اس ہاتھ کے بارے ميں جس نے خدا کے حرم ميں کسی کی آنکھ نکال لی ہو؟ عمر نے اس پر خدا کا نام دیا ہے اس بنا پر کہ جو کچھ وہ ان کے بارے ميں جانتا تھا(۱)

ا بن ابی الحدید( وفات ۶۵۵ هء) یا ۶۵۶ ئه) نے اس مطلب کو یوں بيان کيا ہے “ بعض افراد نے ایک کمزور شبہہ کو دستاویز بنادیا ہے جيسے عمر کی اس بات پر جب علی عليہ السلام نے کسی کو حرم ميں بے

____________________

١۔عبدالله بن سبا کے عقيدہ کو بيان کرتے ہوئے کہاگيا ہے:

زعم ان عليا یمت ، ففيه الجزء الالهی ، ولا یجوز ان یستولی عليه انما اظهر عبدالله بن سبا هذه المقالة بعد انتقال علی عليه السلام و اجتمعت عليه جماعة و هم اول فرقة قالت بالتوقف ، والغيبة و الرجعة و قالت بتناسخ الجزء الالهی فی الائمه بعد علی عليه السلام و هذا المعنی ممّا کان یعرفه اصحابه و ان کانوا علی خلاف مراد هذا عمر بن الخطاب کان یقول فيه حين فقا عين واحد فی الرحم و رفعت القصة اليه : ما ذا اقول فی ید الله فقائت عينا فی حرم الله فاطلق عمر اسم الالهية عليه لما عرف منه

٢) فصل تعریف فرقة سبائيہ کے حاشيہ کی طرف رجوع کيا جائے ۔( / ذالک کتاب “ ملل و نحل ” ج ١١


احترامی اور بے دینی کرنے کے جرم ميں اس کو ایک آنکھ سے کانا کردیا تھا ، تو عمر نے کہا تھا: ميں خدا کے اس ہاتھ کے بارے ميں کيا کہوں جس نے خدا کے حرم ميں کسی کی آنکھ نکال لی ہو؟(۱)

ا بن ابی الحدید نے اپنا مآخذ ذکر نہيں کيا ہے شاید اسی شہرستان کی ملل ونحل سے نقل کيا ہوگا ۔و ہ توایک افسانہ ہے جسے نقل کيا گيا ہے اور اس افسانہ کی حقيقت وہی ہے جسے محب الدین طبری نے الریاض النضرة ميں يوں درج کيا ہے : عمر طواف کعبہ ميں مشغول تھے اور علی عليہ السلام بھی ان کے آگے آگے طواف ميں مشغول تھے اچانک ایک شخص نے عمر سے شکایت کی ، یا امير المؤمنين ! علی “عليہ السلام ”اور ميرے سلسلے ميں انصاف کرو!

عمر نے کہا؛ علی“ عليہ السلام” نے کيا کيا ہے ؟

اس نے کہا : اس نے ميری آنکھ پر ایک تھپڑ مارا ہے ۔

عمروہيں پر ٹھہرگئے یہاں تک کہ علی“ عليہ السلام” بھی طواف کرتے ہوئے وہاں پہنچے ان سے پوچھا اے ابو الحسن کيا اس شخص کی آنکھ پر تم نے تھپڑ مارا ہے ؟!

علی نے کہا: جی ہاں ،یا امير المؤمنين ۔

عمر نے کہا: کيوں ؟

علی “عليہ السلام” نے کہا: اسلئے کہ ميں نے اسے دیکھا کہ طواف کی حالت ميں مؤمنين کی عورتوں پر بری نگاہ سے دیکھ رہاتھا ۔

عمر نے کہا؛ احسنت یا ابا الحسن ! یہ تھی اس داستان کی حقيقت ، کتاب ملل و نحل ميں اس قسم کی اشتباہات اور خطائيں بہت زیادہ ہيں ليکن ہم اس کتاب ميں حقائق کی تحریف کو دکھانے کيلئے ان ہی چند افسانوں کی تحقيق پر اکتفا کرتے ہيں اس کے بعد گزشتہ بحثوں کا ایک خلاصہ پيش کریں گے ۔

____________________

)۴٢۶ / ١۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ( ج ١


چوتھے حصہ کے مآخذ و منابع

الف: افسانہ “علی ابر ميں ہے” کے مآخذ ١۔ المقالات و الفرق تاليف سعد بن عبدا لله اشعری، ص ٢٧

٨ ۵ / ٢۔ مقالات الاسلاميين ابو الحسن اشعری ١

٣۔ التنبہ و الراد ابو الحسن ملطی ، ص ٢ ۵

۴ ۔ الفرق بين الفرق بغدادی ، تحقيق محمد محی الدین مدنی ، طبع قاہرہ،

ص ٢٣٣

١٨ ۶/ ۵ ۔ الفصل ابن حزم، طبع اول، : ۴

١٢٩/ ۶ ۔ البداء و التاریخ : ۵

٧۔ التفسير فی الدین: ا سفرائينی : ص ١٠٨

٨۔ الملل و النحل ،شہرستانی : تحقيق عبدالعزیز طبع دارا لاتحاد مصر ١٣٨٧ ئه :

١٧ ۴ / ١

٩۔ الانساب، سمعانی : ل غت سبئی کے ذیل ميں ۔

١٠ ۔ شرح نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید ، خطبہ ٢٧ کی شرح ميں ١١ ۔ التعریفات ، جرجانی : ص ١٠٣

١٢ ۔ مقدمہ ابن خلدون : ص ١٩٨

١٧ ۵ و ١٧٢ ۔ / ١٣ ۔ خطط ، مقریزی ، طبع نيل مصر : ١٣٢ ۴ هء : ۶

١ ۴ ۔ دائرة المعارف ، فرید وجدی ، لغت “ سبئيہ ” کے ذیل ميں ١ ۵ ۔ دائرة المعارف ، بستانی ، لغت عبدالله بن سبا ميں ب : سحاب’ پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے عمامہ کا نام ہے:

اہل سنت کی کتابوں سے اس روایت کے مآخذ:

١۔ نہایة ابن اثير ، لغت سحاب ميں ۔

٢۔ لسان العرب ، ابن منظور ، لغت سحاب ميں ٣۔ تاج العروس ، زبيدی ، لغت سحاب ميں ۴ ٢٨ ۔ ۴ ٢٧ / ۴ ۔ مواهب الدنيہ ، قسطلانی : ١

۵ ۔ انوار المحمدیہ ، نبہانی : ص ٢ ۵ ١

ج : پيغمبر اسلام صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے عمامہ “ سحاب ” علی عليہ السلام کے سر پر باندها۔

۶ ٠ / ١۔ کنزا لعمال : متقی هندی : ۴

٢/ ٢۔ الریاض النضرة ، محب الدین طبری ، طبع دار التاليف مصر: ١٣٧٢ هء ،: ٢٩٨

د: ا س خبر کے مآخذ کہ کبھی علی عليہ السلام اسی عمامہ کے ساتھ نکلتے تھے اور رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم فرماتے تھے : “ علی سحاب ميں آئے ہیں “

١۔ وسائل الوصول الی شمائل الرسول : نبہانی : ٧٠

٢۔ السيرة النبی “ صلی الله عليہ و آلہ وسلم ” ، برہاں الدین حلبی ، پریس ٣٧٩ / مصطفی محمد ، قاہرہ : ٣

ه: سحاب کے بارے ميں شيعوں کی کتابوں کے مآخذ:

سحاب پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے عمامہ کانام ہے:

٢١٣ ۔ / ١۔ مستدرک الوسائل ، نوری: ١

۴۶ ١ ۔ ۴۶ ٢ / ٢۔ فروع کافی ، کلينی ، ۶

٣۔ وافی ،فيض کاشانی جلد ١١ : ص ١٠١

٢٨ ۵ / ۴ ۔ وسائل الشعيہ ، شيخ حر عاملی : ١

و: جنگ خندق ميں رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے عمامہ “ سحاب ” کو علی عليہ السلام کے سر پر باندها:

٣ ۴ ٣ / ١۔ مجمع البيان، طبرسی ، طبع صيدا، ٧

۵ ٢٩ / ٢۔ بحار الانوار ،مجلسی : ۶

٢١٣ / ٣۔ مستدرک ، نوری : ١

٢٧٩ لفظ “عم ” ميں / ۴ ۔ سفينة البحار ، قمی ، ٢

ز: کبھی علی عليہ السلام عمامہ “ سحاب” کو سر پر رکھتے تھے اور رسول خدا صلی الله

عليہ و آلہ وسلم فرماتے تھے، علی عليہ السلام عمامہ سحاب کے ساتھ تمہاری طرف آگئے۔

١۔ مکارم الاخلاق طبرسی : ٢١

١ ۵۵ / ٢۔ بحار الانوار ، مجلسی ، ۶

۶ ٠ ۴ لغت سحاب کے ذیل ميں / ٣۔ سفينة البحار ، قمی : ١

ح: رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ و سلم نے عمامہ ‘ ‘سحاب ” کو ایک خاص کيفيت کے ساتھ علی عليہ السلام کے سر پر رکھا:

١۔ کتاب “ کافی ” ، کلينی،

٢۔ کتاب وافی فيض کاشانی باب العمائم ميں ٣۔ وسائل ، حر عاملی : اباب استحباب التعمم ۶ ١ ۵ / ۴ ۔ بحارا لانوار ، مجلسی : ٩

٢٧٩ / ۵ ۔ سفينة البحار، قمی : ٢

ط: رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے عمامہ “ سحاب ” سے کئی بار علی عليہ السلام کی تاج پوشی کی ہے:

١۔ امان الاخطار ، علی بن طاؤس ٢۔ وسائل ، شيخ حر عاملی، باب التعلم ی : رسول اکرم صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے عمامہ “ سحاب ” کو اپنے مرض الموت ميں علی عليہ السلام کوہبہ کيا:

٢٣ ۶ / ١۔ کافی ، کلينی ، ١

٢۔ غایة المرام ، سيد ہاشم بحرانی ، ص ٨٧

٣۔ مقدمة ابن خلدون ، تيسرا اڈیشن بيروت ، ١٩٠٠ ءء ، ص ١٩٨


پانچواں حصہ

خلاصہ اور خاتمہ سبئيہ ، دوران جاہليت سے بنی اميہ تک۔

سبئيہ ، بنی اميہ کے دوران۔

سبئيہ ، سيف بن عمر کے دوران۔

تاریخ ، ادیان اور عقائد کی کتابوں ميں عبدالله سبا و سبئيہ l

عبد الله بن سبائی کی عبدالله بن سبا سے تحریف ۔

جعل و تحریف کے محرکات ۔

گزشتہ مباحث کا خلاصہ ۔

اس حصہ کے مآخذ۔


سبيئہ دوران جاہليت سے بنی اميہ تک

ان السبيئية مرادفة للقحطانية و اليمانية

سبئيہ ، قحطانيہ اور یمانيہ کے ہم معنی تھا اور قبيلہ پر دلالت کرتا تھا

. مؤلف

سبئيہ اسلام سے پہلے

سبئيہ ، کافی پرانا اور سابقہ دار لفظ ہے، جو قبل از اسلام دوران جاہليت ميں عربوں کی زبان پر رائج تھا اور قبيلہ کی نسبت پر دلالت کرتاتها، یہ لفظ قحطانيہ کا مترادف اور ہم معنی تھا یہ دونوں لفط سبئيہ و قحطانيہ سبا بن یشجب بن یعرب بن قحطاان کی نسبت پر دلالت کرتے تھے، چونکہ ان کے باپ کا نام سبا تھاا س لئے انہيں سبائيہ یا سبئيہ کہتے ہيں اور چونکہ ان کے جد کا نام قحطان تھا اس لئے انہيں قحطانيہ کہتے ہيں چونکہ ان کا اصلی وطن یمن تھا اسلئے انہيں یمانی یا یمنيہ بھی کہتے تھے ۔ نتيجہ کے طور پر تينوں لفظ ایک ہی قسم کے قبائل پر دلالت کرتے ہيں انکے مقابلہ ميں عدنانيہ ، نزاریہ، ومضریہ تھے مضر بن نزار بن عدنان کے قبائل سے منسوب تھے اسماعيل ابن ابراہيم کی اولاد ميں سے تھے--- اور اسی پر دلالت کرتے ہيں ۔

ان دونوں قبيلے دوسرے قبائل سے بھی عہد و پيمان قائم کرتے تھے اور انهيں وہ اپنا ہم پيمان کہتے تھے اس طرح سبئيہ ، قحطانيہ اور یمانيہ ،کا نام نہ صرف سبا بن یشجب پر بلکہ ان کے ہم پيمان قبائل جيسے قبيلہ ربيعہ پر بھی استعمال ہوتا تھا ، اسی طرح “ عدنانيہ ”

مضریہ اور نزاریہ بھی مضر بن نزار قبائل اور ان کے ہم پيمانوں کے لئے استعمال ہوتا تھا ۔

سبئيہ ، اسلام کے بعد

اسلام کی پيدائش کے بعد ان دونوں قبيلوں کا، ایک ایک خاندان مدینہ ميں جمع ہوگيا اور رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی قيادت و زعامت ميں پہلا اسلامی معاشرہ تشکيل پایا ۔ سبائی یا قحطانی جو پہلے سے یمن سے آکر مدینہ ميں ساکن ہوئے تھے ، انهيں انصار کہا جاتا تھا ۔ عدنانی بھی پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے مدینہ ہجرت کے بعد مکہ اور دوسرے علاقوں سے مدینہ آئے تھے اور انهيں “ مہاجر ” کہا جاتاتھا ، بعض اوقات ان دو گروہوں کے درميان اختلافات اور جھگڑے بھی واقع ہوتے تھے ۔

پہلاجھگڑا اور اختلاف جو اسلام ميں ان دو گروہوں یعنی قحطانی کہ جو قبائل سبائيہ سے تھے اور عدنانی ، یا دوسرے لفظوں ميں مہاجر و انصار کے درميان واقع ہوا جنگ بنی المصطلق ميں “ مریسيع ” کے پانی پر تھا ۔ مہاجرین اور انصار کے ایک ایک کارگذار کے مابينپانی کھينچنے پر اختلاف اور جھگڑا ہوگيا تو مہاجرین کے کار گزار نے بلند آواز ميں کہا: یا للمهاجرین ! اے گروہ مہاجر مدد کرو ! اور انصار کے کارگذارنے بھی آواز بلندکی : یا للانصار ! اے گروہ انصار! ميری نصرت کرو ! اس طرح انصار اور مہاجر کے دو گروہ آپ ميں نبرد آزما ہوئے اور نزدیک تھاکہ ایک بڑا فتنہ کھڑا ہو جائے اس موقع پر منافقين کے سردار عبدالله بن ابيہ اس فرصت سے استفادہ کرتے ہوئے اختلافات کو ہوا دینے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف اکساتے ہوئے بولا : اگر ہم مدینہ لوٹيں گے تو صاحبان اقتدار یعنی “ انصار ” ذليلوں یعنی مہاجرین کو ذلت و خواری کے ساتھ مدینہ سے نکال باہر کریں گے ١رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے اس موقع پر کوچ کرنے کا حکم دیا ۔ اور سب کو آگے بڑهادیایہاں تک کہ نمازکا وقت آگيا نماز

پڑهنے کے بعد بھی رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے روانہ ہونے کا حکم دیا رات کے آخری حصہ تک چلتے رہے ۔ اس کے بعد جب پڑاؤ ڈالا تو تهکاوٹ کی وجہ سے سب سو گئے صبح ہونے پر بھی آنحضرت صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے روانہ ہونے کا حکم دیا ۔ اسی طرح چلتے رہے لهذا آنحضرت نے انهيں اس فتنہ کو پھر سے زندہ کرنے کی ہرگز فرصت نہيں دی یہاں تک یہ لوگ مدینہ پہنچ گئے اور اس طرح آنحضرت صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی حکمت عملی سے یہ فتنہ ختم ہوگيا۔

ان دو گروہوں کا دوسرا تصادم سقيفہ بنی ساعدہ ميں واقع ہوا جب پيغمبر خدا صلی الله عليہ وآلہ و سلم نے رحلت فرمائی انصار سقيفہ بنی ساعدہ ميں جمع ہوئے تا کہ سعد بن عبادہ انصاری سبائی کو پيغمبر کے خليفہ اور مسلمانوں کے قائد کے طورپر منتخب کریں مہاجرین نے بھی اپنے آپ کو سقيفہ پہنچادیاا ور ان کے مقابلہ ميں محاذ آرائی کی اور ابوبکر کی خلافت کو پيش کيا ،وہ اس نبرد اور جھگڑے ميں ان پر غالب ہوئے اور ابوبکر کو مسند

____________________

١۔ یہ داستان سورہ منافقين یوں آئی ہے :

)٨/ >یقولون لئن رجعنا الی المدینه ليخرجن الاعز منها الاذل >۔ سورہ منافقين ۶٣


خلافت پر بٹھادیا اور خلافت کو قریش ميں ثابت کردیا اور ۔ اس طرح ایک قریشی حکومت کی داغ بيل ڈال دی اس تاریخ کے بعد انصار کو حکومت اور تمام سياسی و اجتماعی امور سے محروم کرکے یا بہت کم اور استثنائی مواقع کے علاوہ نہ انهيں جنگوں ميں سپہ سالاری کے عہدہ پر فائز کرتے تھے اور نہ کسی صوبے کا گورنر حتی کسی شہر کے ڈپٹی کمشنر کا عہدہ بھی انہيں نہيں سونپتے تھے(۱)

خلافت عثمان کے دوران

مسلمانوں کے حالات ميں اسی طرح حوادث پيدا ہوتے گئے اور زمانہ اسی طرح آگے بڑهتا گيا ، یہاں تک کہ عثمان کا زمانہ آگيا۔ اس زمانہ ميں کام اور حکومت کے حالات بالکل دگرگوں ہوگئے قریش کی حکومت اور اقتدار بدل کر خاندان بنی اميہ ميں منحصر ہوگئی ۔ اموی خاندان کے اراکين اور ان کے ہم پيمان قبائل نے تمام کليدی عہدوں پر قبضہ جماليا۔ یہ لوگ مصر،شام ، کوفہ ، بصرہ ، مکہ ، مدینہ اور یمن کے علاوہ اسلامی ممالک کے وسيع علاقوں کے گورنر اور حکمراں بن گئے اور اس طرح ان شہروں اور اسلامی مراکز ميں مطلق العنان اور غير مشروط حکمرانی اور فرمانروائی پر فائز ہوئے ۔خاندان اموی کی طرف سے مسلمانوں کے حالات پر مسلط ہونے کے بعد اذیت و آزار اور ظلم و بربریت کا آغازہو ااور اسلامی شہروں اور تمام نقاط ميں قساوت بے رحمی کا برتاؤ کرنے لگے ۔ مسلمانوں کے مال و جان پر حد سے زیادہ تجاوزہونے لگا ۔ ظلم و خيانت اورغنڈہ گردی انتہا کو پہنچ گئی یہاں تک کہ بنی اميہ کے خود سراور ظالم گورنروں اور فرمانرواؤں کے ظلم و ستم نے مسلمانون کے ناک ميں دم کر دیا اس موقع پر قریش کی نامور شخصيتوں ،جيسے ام المؤمنين عائشہ ، طلحہ ، زبير ، عمرو عاص اور دوسرے لوگوں نے عوام کی رہبری اور قيادت کی باگ ڈور سنبھالی اور بنی اميہ کے خلاف بغاوت کی ،اور تمام اطراف سے مدینہ کی طرف لوگآنے لگے آخرکاراموی خليفہ عثمان کو مدینہ ميں ان کے گھر ميں قتل کر دیا گيا عثمان کے قتل ہونے کے نتيجہ ميں ، بنی اميہ کے درميان ---جوکہ خود قریش تھے -- قریش کے دوسرے خاندانوں کے ساتھ سخت اختلافات پيدا ہوگيا ، اس طرح مسلمانوں پر قریش کا تسلط کم ہوا ، پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد پہلی بار مسلمان اپنے اختيارات کے مالک بنے اور حکومت کی باگ ڈور قریش سے چھيننے ميں کامياب ہوئے ۔ یہ وہ وقت تھا کہ مسلمانوں نے کسی رکاوٹ کے بغير ایک دل اور ایک زبان ہوکر علی عليہ السلام کی طرف رخ کيا اور پوری دلچسپی اور محبت سے انهيں مسلمانوں پر حکومت کرنے کيلئے منتخب کيا۔ انتہائی اصرار کے ساتھ متفقہ طور پر ان کی بيعت کی اور حکومت کی باگ ڈور انکے لائق اور باصلاحيت ہاتھوں ميں سونپ دی۔

علی عليہ السلام نے اپنی حکومت کو اسلامی قوانين کی بنيادوں پر استوار کيا۔ عام مسلمانوں ميں برادری نيز مساوات اوربرابری کے منشور کا اعلان ہوا، ان پر عدل و انصاف کی حکومت کی ، بيت المال کو ان کے درميان یکسان اور مساوی طور پر تقسيم کيا۔ انصار کے لائق اور شائستہ افراد کو -- جنہيں گزشتہ حکومتوں ميں محروم کياگيا تھا---

____________________

١۔ چنانچہ ابو بکر ، عمر اور عثمان کے دوران امراء اور سپہ سالاروں کے بارے ميں تحقيق کرنے سے یہ حقيقت واضح اور روشن ہوتی ہے۔


اہم عہدوں پر فائز کيا اور انہيں مختلف شہروں اور اسلامی مراکز ميں گورنروں اور حکمرانوں کے طور پرمنصوب کيا ۔ مثلا : عثمان بن حنيف کو بصرہ ميں ، اس کے بھائی سہل کو مدینہ ميں ،

قيس بن سعد بن عبادہ کو مصر ميں ، شام کی طرف مسافرت کے دوران کوفہ ميں اپنی جگہ پر ابو مسعود انصاری کو اور مالک اشر سبئی کو جزیرة اور اس کے اطراف ميں بعنوان حکمراں اور گورنر منتخب فرمایا(۱)

حکومت کی اس روش سے“علی عليہ السلام” نے قریش کی گزشتہ حکومتوں کی تمام اجارہ داری کو منسوخ کرکے رکھ دیا۔

یہی وجہ تھے کہ قریش نے علی عليہ السلام کی سياست کو پسند نہيں کيا اور ان کے خلاف ایک وسيع پيمانہ پر بغاوت کا سلسلہ شروع کردیا یہاں تک کہ جنگِ جمل و صفين کو برپا کيا ، اسی لئے علی عليہ السلام ہميشہ قریش سے شکایت کرتے تھے اور ان کے بارے ميں ان کا دل شکوہ شکایتوں سے بھرا ہواتھا حضرت کبھی قریش کے بارے ميں شکوؤں کو زبان پر جاری فرماتے تھے اور ان کی عادلانہ روش کے مقابلہ ميں قریش کے سخت رد عمل پر صراحت کے ساتھ بيزاری اور نفرت کا اظہار کرتے تھے :

ایک ایسا درد مند ،جس کے زبان کهولنے سے در و دیوار ماتم کریں نہج البلاغہ ميں آیا ہے کہ علی عليہ السلام قریش کی شکایت کرتے ہوئے فرماتے تھے:

” خداوندا! ميں قریش اور اُن کے شریک جرم افراد کے خلاف تيری بارگاہ ميں شکایت کرتا ہوں کيوں کہ انہوں نے قطع رحم کيا ہے اور ہماری بزرگی اور مقام و منزلت کو حقير بنایا ہے حکومت کے معاملہ ميں جو مجھ سے مخصوص تھی ميرے خلاف بغاوت کی اور بالاتفاق ہميں اُس سے محروم کيا اور مجھ سے کہا کہ ہوشيا رہوجاؤ ! حق یہ ہے کہ اسے لے لو اور حق یہ ہے کہ اسے چھوڑ دو ۔ وہ دعویٰ کرتے تھے کہ ميرے حق کے حدود کو معين کریں ۔ تجھے قریش سے کيا کام؟ خدا کی قسم جس طرح ميں ا ن کے کفر کے دوران ان سے لڑتا تھا آج بھی --چونکہ انہوں نے فتنہ و فساد کو اپنایا ہے-- ان سے جنگ کروں گا اس دن ميں ہی تھا جس نے ان سے جنگ کی اور آج بھی ميں ہی ہوں جو ان سے جنگ کررہا ہوں ۔

اپنے بھائی عقيل کے نام ایک خط کے ضمن ميں لکھا ہے :

قریش کو ، ان کے حملوں اور گمراہی کی راہ ميں اور وادی شقاوت و سرکشی ميں ان کے نمود و نام کو چھوڑدو ،انهيں حيرت وپریشانی کی وادی ميں چھوڑ دو ! قریش نے ميرے خلاف جنگ

____________________

١۔ابن اثير اپنی تاریخ ميں جلد ٣ صفحہ نمبر ٣٣۴ امير المؤمنين کے گورنر کے عنوان کے ذیل ميں کہتا ہے: مدینہ ميں علی(ع) کا گورنر ابوایوب انصاری اور بعض مورخين کے عقيدہ کے مطابق سہل بن حنيف تھا۔


کرنے ميں اتفاق کيا ہے اسی طرح کہ اس سے پہلے پيغمبر اکرم صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے خلاف جنگ کرنے ميں شریک جرم ہوئے تھے ۔ قریش مجھ پر کئے ظلم جس کی سزا وہ ضرور پائيں گے قریش نے ہمارے ساتھ قطع رحم کيا ہے حکومت کے ميرے پيدائشی حق کو مجھ سے چھين ليا ہے ۔

سبئيہ علی کے دوران علی

عليہ السلام کے زمانے کی تاریخ سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے--- جس کا ایک اجمالی خاکہ ان صفحات ميں پيش کيا گيا --- وہ یہ ہے کہ : عدنانی قریش نے پيغمبر صلی اللهعليہ و آلہ وسلم کے بعد علی ابن ابيطالب عليہ السلام سے دشمنی اور مخالفت مول لی اور ان کے خلاف متحد ہوکر اسلامی حکومت سے انهيں الگ کردیا جب حضرت لوگوں کی حمایت سے خلافت پر پہنچے تو اس وقت بھی وہی قریش تھے جنہوں نے ان کے خلاف فتنے او ر بغاوتيں کيں ليکن تمام حساس اور نازک مواقع پر قبائل سبئيہ --- کہ وہی قحطانی قبائل ہيں -- کے تمام دوست و مجاہدین ان کی رکاب ميں تھے۔ خاص کر قبائل سبائی کے سرکردہ اشخاص ، جيسے : مالک اشتر ہمدانی سبئی(۱) عبدا لله بدیل خزاعی سبئی ، حجر بن عدی کندی سبئی ،قيس بن سعد بن عبادہ سبئی انصاری اور قبائل سبئيہ کے بعض دیگر سردار جو علی عليہ السلام کے یار و غمخوار تھے،ان کے محکم اور ثابت قدم طرفداروں کے گروہ کو تشکيل دیتے تھے(۲) ليکن جنگ صفين اور حکميت اشعری کی روداد کے بعد اہل کوفہ و بصرہ کے عربوں نے جنکی اکثریت علی کے ماننے والوں کی تھی ، علی عليہ السلام کو حکميت کے نتيجہ کو قبول کرنے پر کافر سے تعبير کيا اور اس سبب سے اپنے آپ کو بھی کافرجانا اور کہا: ہم نے توبہ کيا اورکفر سے پھر اسلام کی طرف لوٹے ، اس کے بعد انہوں نے تمام مسلمانوں حتی خود علی عليہ السلام کی بھی تکفير کی انکے اور تمام مسلمانوں کے خلاف بغاوت کرکے ان پر تلوار کھينچی۔اس طرح اسلام ميں ایک گروہ کی ریاست و قيادت کی “عبدالله بن وهب سبائی ” نے ذمّہ داری لی تھی انہوں نے نہروان ميں امام سے جنگ کی ،عبدالله بن وهب سبائی اس جنگ ميں قتل کيا گيا ، اس کے بعد انہيں خوارج ميں سے ایک شخص کے ہاتھوں امير المؤمنين عليہ السلام محراب عبادت ميں شہيد ہوئے، علی “عليہ السلام” کی شہادت کے بعد تاریخ کا صفحہ پلٹ گيا اور قبائل سئبيہ ميں ایک دوسر ی حالت پيدا ہوگئی جس کی اگلی فصل ميں وضاحت کی جائے گی ۔

____________________

١۔ ابن خلدوں اپنی تاریخ٢/ ٢۶ ميں لکھتا ہے :جس دن اسلام کاظہور ہوا قبيلہ ہمدان کے افراد اسلامی ممالک ميں پهيل گئے اور ان ميں ایک گروہ یمن ميں رہا صحابہ کے درميان اختلاف او رکشمکش پيدا ہونے کے بعد قبيلہ ہمدان شيعہ ا ور علی عليہ السلام کے دوستدار تھے یہاں تک علی عليہا لسلام نے ان کے بارے ميں یہ شعر کہا ہے : ولو کنت بوا باً لابواب جنة لقلت لهمدانی ادخلی بسلام یعنی اگر ميں بہشت کا چوکيدار ہوں گا تو قبيلہ ہمدانی کے افراد سے کہوں گا کہ سلامت کے ساتھ بہشت ميں داخل ہوجاؤ۔)

۲۔ معاویہ شام ميں سکونت کرنے والے قبائل سبئيہ کے بعض گروہ کو عثمان کی خونخواہی کے بہانہ سے باقی قبائل سبئيہ سے جدا کرنے ميں کامياب ہوا اور خاص کر انہيں اپنی طرف مائل کردیا یہ گروہ اس زمانہ سے خلفائے بنی مروان تک وقت کے حکام کے پاس خاص حيثيت کے مالک ہوا کرتے تھے ليکن اس دوران کے بعد قبائل قحطانی و عدنانيوں کے درميان عمومی سطح پر شدیداختلافات رونما ہواجس کے نتيجہ ميں مروانی ، اموی حکومت گر گئی اور بنی عباسيوں نے حکومت کی باگ ڈو ر پر قبضہ کيا کتاب صفين تاليف نصر بن مزاحم ، مقدمہ سوم کتاب “ ١۵٠

جعلی اصحاب ” ملاحظہ ہوں


”سبئيہ” ،بنی اميہ کے دوران

اشتدت الخصومة بينها فی اخریات العهد الاموی

بنی اميہ کی حکومت کے اواخر ميں قبائل عدنان کی، قبائل سبائی سے خصومت انتہا کو پہنچی تھی ۔مولف امير المومنين کی شہادت کے بعد قریش نے گزشتہ کی نسبت زیادہ چوکس انداز ميں ا سلامی ممالک اور مسلمانوں کی رهبری کی باگ ڈور دوبارہ اپنے ہاتھ ميں لی انصاراور سبئيوں کو تمام امور سے بے دخل کيا ان کے ساتھ بے رحمانہ اور انتہائی سنگدلی سے برتاو کيا بنی اميہ کے منہ بولے بيٹے یعنی زیاد بن ابيہ ، اس کے بعد اسکے بيٹے ابن زیاد کے ذریعہ شہر کوفہ کے تمام علاقے اور اطراف ميں قبائل سبئيہ کے بزرگان ، ہر شيعہ علی عليہ السلام کہ جو غالباً سبئيہ سے تھے کو پکڑپکڑ کر انتہائی بے دردی سے قتل کيا جاتاتھا ، پهانسی پر لٹکایا جاتاتھا زندہ دفنایا جاتا تھا، اور ان کے گھروں کو ویران کيا جاتا تھا ! اور ان مظلوم اور ستم دیدہ مسلمانوں نے حسين ابن علی عليہ السلام کے یہاں پناہ لی !

ان سے مدد طلب کی اور بنی اميہ عدنانی ظالمانہ حکومت کے پنجوں سے اسلام و مسلمانوں کو نجات دلانے کيلئے اٹھ کھڑے ہوئے اس حالت ميں ا بن زیاد--- خاندان اميہ کے منہ بولے بيٹے کافرزند ---فریب کاری اور دهوکہ سے کوفہ ميں داخل ہوا اور حالات پر کنٹرول حاصل کيا ۔ امام حسين عليہ السلام کے نمائندہ اور سفير مسلم ابن عقيل کو گرفتار کرکے قبائل سبئيہ کے سردار ہانی بن عروہ کے ہمراہ قتل کر دیا اس کے بعد قبائل عدنان کے سرداروں او بزرگوں جيسے عمر سعد قرشی ، شبث بن ربعی تميمی ، شمر بن ذی الجوشن اور دیگر عدنانی ظالموں کو اپنے گرد جمع کيا اور ایک بڑی فوج تشکيل دی۔ کوفہ کے تمام جنگجوؤں کو مختلف راہوں سے قرشی خلافت کی فوج سے ملحق کيا وہ بھی اس طرح سے کہ کسی ميں ان کی نصرت کی جرات نہ ہو سکے اور تاب مقاومت باقی نہ رہے تا کہ زیاد بن ابيہ کی علنی طور پر مخالفت نہ کر سکے اور امام حسين عليہ السلام کے انقلاب کو تقویت بخشنے کيلئے کوشش و فعاليت نہ کرسکے نتيجہ کے طور پر قرشی خلافت نے خاندان پيغمبر“ صلی الله عليہ و آلہ وسلم” کو کربلا ميں اپنے اصحاب سميت خون ميں غلطان کرکے ان کے بے سر اجساد کو ميدان ميں برہنہ چھوڑنے ميں کامياب ہوئے ۔

پہاں پر قبائل عدنان کی قبائل قحطان سبئی پر کاميابی عروج کو پہنچی۔

سبئيہ قيام مختار ميں

کربلا کے جانکاہ حادثہ اور یزید بن معاویہ کی ہلاکت کے بعد کوفيوں کے دل بيدار ہوئے چونکہ امام حسين عليہ السلام کی نصرت کرنے ميں انہوں نے سخت کوتاہی کرکے کنارہ کشی کی تھی ، اس لئے انہوں نے ذہنی طور پر احساس ندامت و پشيمانی محسوس کی اور ان ميں سے “ توابين ” نام کی ایک فوج تشکيل پائی اس فوج نے ابن زیاد کی فوج سے جنگ کی یہاں تک سب شہيد کئے گئے اس کے بعد سبائی قبائل مختار ثقفی کے گرد جمع ہوئے اور حسين ابن علی عليہ السلام کی خونخواہی کيلئے اٹھ کھڑے ہوئے ان کی کمانڈ ابراہيم بن اشتر سبئی کررہے تھے ایک عظيم اور نسبتاًقوی فوج وجود ميں آگئی ابتداء ميں انہوں نے عمربن سعد عدنانی ،شمر بن ذی الجوشن ضبابی اور قبائل عدنان کے بہت سے دوسرے افراد جن کا امام حسين عليہ السلام کے قتل ميں مؤثر اقدام تھا کو قتل کيا ، ان کے مقابلہ ميں قبائل عدنان کے افراد مصعب بن زبير عدنانی کے گرد جمع ہوئے اور قبائل سبئی اور حسين عليہ السلام کے خونخواہوں سے مقابلہ کيلئے آمادہ ہوگئے ان سے ایک سخت جنگ کی ا ور ان پر غالب آگئے اور امام حسين عليہ السلام کے خونخواہوں کی رہبری کرنے والے مختار کو قتل کيا ۔

ان تمام کشمکش اورنزاعی مدت ميں کوفہ و بصرہ پر زیاد بن ابيہ کی حکومت جس ميں ایران بھی ان کی حکومت کے زیر اثرتھا تمام مشرقی اسلامی ممالک سے خلفائے بنی اميہ کی آخر ( ١٣٢ هء ہے) تک خلافت قرشی عدنانی اپنے مخالفوں سے ---جو خاندان پيغمبر صلی اللهعليہ و آلہ وسلم کے ددستداران و شيعہ تھے --- دو اسلحہ سے جنگ لڑتے تھے جيساکہ تمام جنگوں ميں یہ رسم ہے کہ گرم اسلحہ کے علاوہ سردا سلحہ یعنی پروپيگنڈااور افترا پردازی سے بھی استفادہ کرتے تھے اس نفسياتی جنگ ميں دربارِخلافت سے وابستہ تمام شعراء، مقررین، قلم کار ، محدثين ، اور دانشور تمام شيعوں ، بالخصوص سبائيہ قبائل کے خلاف منظم ہوگئے تھے دربار سے وابستہ یہ لوگ اس نفسياتی جنگ ميں مختارکے خلاف کہتے تھے: “مختار ” نے وحی اور نبوت کا دعویٰ کيا ہے ’ اس پروپيگنڈا پر اتنا زور لگایا گيا کہ یہ افتراء اس درجہ مشہورہوا کہ نسل در نسل نقل ہوتا رہا اور رواج پا گيا یہاں تک کہ بات زبان سے گزر کر سرکار ی کتابوں اور دیگراسناد ميں درج ہو گئی اورمختار کے خلاف اس نفسياتی جنگ نے اس کے حاميوں اور طرفداروں کو بھی اپنی لپيٹ ميں لے ليا ، جو اکثر سبئی تھے(۱)

سبئيہ بنی اميہ کے آخری ایام ميں

عدنانی او رسبئی قبائل کے در ميان یہ کشمکش اورٹکراؤ شروع شروع ميں مدینہ اور کوفہ تک محدود تھا ، بعد ميں یہ وسيع پيمانے پر پهيل کر تمام جگہوں تک پہنچ گيا ، یہاں تک تمام شہروں اور علاقوں ميں ا ن دو قبيلوں کے درميان اختلاف اور کشمکش پيدا ہوگئی اس راہ ميں کافی خون بہائے گئے انسان مارے گئے موافقين کے حق ميں اور مخالفين کی مذمت ميں شعر و قصيدے کہے گئے یہ عداوت و دشمنی اور نفرت و بيزاری بنی اميہ کی حکومت کے آخری ایام ميں شدید صورت اختيار کر کے عروج تک پہنچی گئی تھی۔

____________________

١۔ چنانچہ گزشتہ فصل ميں شبث بن ربعی کی سعد بن حنفی کے ساتھ روایت ميں بيان ہوا کہ مختار سے پہلے لفظ “ سئبہ ” سرزنش اور قبائل کی تعبير ميں ا ستعمال ہوتا تھا ا س عنوان سے کہ وہ علی کے شيعہ تھے جيساکہ داستان حجر ميں ا سکی وضاحت کی گئی ليکن مختار کی بغاوت کے بعد دشمن کی زبان پر “ سبئيہ ”قبائل یمانيہ کے ان افراد کو کہتے تھے جو قبائل عدنانی سے جنگ و پيکارکر کرتے تھے اور مختار ثقفی پر ایمان رکھتے تھے اس نام گزاری ميں بھی اشارہ اس کی طر ف تھا کہ مختار نے نبوت کا دعوی کيا ہے اور ان افرد نے اس کی دعوت کو قبول کيا ہے اور اس پر ایمان لایا ہے ليکن مختار اور اس کے پيرؤں کے بارے ميں یہ بات بھی ا فتراء اور بہتان کے علاوہ کچھ نہيں تھی ۔(


”سبئيہ ” ، سيف بن عمر کے دوران

حرّف سيف کلمة السبئية

جب سيف کا زمانہ آیا تولفظ “ سبئيہ ” کو تحریف کرکے اس کے اصلی معنی سے ایک دوسرے معنی ميں تبدیل کردیا ۔مؤلف

بنی ا ميہ کے دورکے آخری ایام ميں عدنانيوں اور قحطانيوں کے اختلافات عروج پر پہنچ چکے تھے۔ دونوں طرف کے ادیب اور شعراء اپنے قبائل کی مدح ميں ا ور دشمنی کی مذمت وسرزنش ميں شعر و قصيدہ لکھتے تھے اسی زمانے ميں کوفہ ميں سيف بن عمر تميمی پيدا ہوا ۔ اس نے تاریخ اسلام ميں دو بڑی کتابيں “ الرد و الفتوح ” اور “ الجمل و مسير علی و عائشہ ” لکھيں ۔ اس نے ان دونوں کتابوں کو گوناگوں تحریفات ، جعليات ، توہمات پرمشتمل روایتوں سے بھر دیا ۔ اس نے دسيوں بلکہ سيکڑوں شعراء احادیث، پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے راوی ، پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے اصحاب ، تابعين اسلامی جنگوں ،کے سورما اور فاتح اور بہت سے دیگر افراد کو اپنے ذہن سے جعل کيا جن کا دنيا ميں در حقيقت کہيں وجود ہی نہيں تھا ۔ اس کے بعد ان ميں سے ہر ایک کی نام گزاری کرکے خاص عنوان دیا ، ان کے نام پر داستانيں ، تاریخی وقائع ، کثير روایتيں ، اشعاراورا حادیث جعل کيں ۔ ا ن تمام چيزوں کو اسنے جعل کئے ہوئے نام و نشان اور خصوصيات کے ساتھ اپنی مذکورہ دو کتابو ں ميں درج کيا ۔

دوسرا خطرناک کام جو سيف نے ان دو کتابوں ميں انجام دیا وہ یہ تھا کہ اس نے تمام خوبيوں فضائل ، مجاہدتوں اور نيکيوں کو قبائل عدنان کے نام پر درج کيا اور تمام عيوب ، نواقص ،برائياں ، اور مفاسد کو قبائل قحطان و سبئی سے نسبت دیدی انکے بارے ميں جتنا ممکن ہوسکا دوسروں کی عيوب و نواقص کو بھی جعل کيا اہم ترین مطلب جو اس نے ان کی مذمت او رسرزنش ميں جعل کياوہی ‘ ‘افسانہ سبئيہ ” تھا کہ اس افسانہ ميں “ سبئيہ ” کو ایک یہودی اور سياہ فام کنيز کے بيٹے عبدالله بن سباکے پيرو کے طور پر پہچنوایا ہے اسی طرح اس نے لفط “سبئيہ ” کو اپنے اصلی مفہوم ---کہ قبيلہ کی نسبت کے طو پر قبائل سبائی اور ان کے ہم پيمانوں کی سرزنش کے عنوان سے استعمال ہوتا تھا ---سے تحریف کرکے ایک مذہبی مفہوم ميں تبدیل کيا اور کہا: سبئيہ ایک منحرف مذہبی گروہ ہے جوگمنام اور منحرف یمانی الاصل یہودی عبدالله بن سبا کے پيرو و معتقد ہيں ، اس کے بعد عصر عثمان اور امير المؤمنين کے دور کے تمام جرم و جنایات کو ان کے سر پر تهونپ کر کہتا ہے کہ:اسی فرقہ سبئيہ کے افراد تھے ۔جو ہميشہ حکومتوں سے عداوت اور مخالفت کرتے تھے ۔

ان کے بارے ميں طعنہ زنی اور عيب جوئی کرتے تھے لوگوں کوان کے خلاف اکساتے تھے ، یہاں تک ان پر یہ تہمت بھی لگائی ہے کہ انہوں نے متحد ہوکر مسلمانوں کے خليفہ عثمان کو مدینہ ميں قتل کيا اور عبد لله بن سبا سے منسوب اسی سبيئہ گروہ کو جنگ جمل کے شعلے بهڑکانے کا بھی ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

سيف نے اپنے اس بيان سے قبائل عدنان کے بزرگوں اور سرداروں جن ميں سے خود بھی ایک تھاکو ہر جرم ، خطا اور لغزش سے پاک و منزہ قرار دیا ہے اور سبئيہ کو جنگ جمل اور اس ميں ہوئی برادر کشی کا ذمہ دار قرار دیا ہے سيف نے اپنی باتوں سے ان تمام فتنوں کو ایجاد کرنے والے ، جسے: مروان ، سعيد ، وليد، معاویہ ، عبدالله بن سعد بن ابی سرح ،طلحہ ، زبير ، عائشہ اور قبائل عدنان کے دسيوں دیگر افرادکو بے گناہ ثابت کيا ہے ، جنہوں نے علی عليہ السلام کی عدل و انصاف پر مبنی اور تفریق سے عاری حکومت کے خلاف جنگ جمل بهڑکائی ۔ اس طرح تمام جرائم و گناہ و ظلم و بربریت کو گروہ سبئيہ کے سر تهونپا ہے ۔ سيف نے اپنے کام ميں اپنے وقت کے تمام ادیبوں اور مؤلفين خواہ وہ عدنانی ہوں یا قحطانی ، پر سبقت حاصل کی ہے کيونکہ ان ميں ہر ایک ادیب یا شاعر تھا جس نے اپنے قبيلہ کی مدح ميں یا اپنے مد مقابل قبيلہ کی مذمت ميں کچھ لکھا یاکہا ہوگا ليکن سيف نے دسيوں شاعراور ادیب جعل کئے ہيں کہ ان ميں سے ہر ایک نے اپنے قبيلہ کی مدح اور اپنے مد مقابل کی مذمت ميں سخن آفرینی کی ہے۔

ا ن سب چيزوں سے اہم تر یہ کہ سيف اپنے افسانوں کو حقيقی رنگ و روپ دینے ميں کامياب ہوا،اس نے اپنے جعل کئے ہوئے شاعروں کے نام پر کہے اشعار اوراپنے جعل کئے ہوئے جعلی اصحاب کے نام فتح و معجزہ اور حدیث گڑه کر ان کو تاریخی حوادث اور اشخاص کی صورت ميں پيش کيا ہے ، اور اس طرح اپنے تمام افسانوں کو دوسری صدی ہجری سے آج تک مسلمانوں ميں تاریخ لکھنے کے نام پر بے مثال رواج دیا اس نے اپنے تمام چھوٹے بڑے افسانوں کيلئے روایتوں کے مانند سند مآخذ جعل کرکے اپنے جعلی راویوں سے روایت نقل کی ہے ۔

سيف کی سبقت حاصل کرنے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ لفظ سبيئہ کو قبيلہ کی نسبت اور قبائل یمانی اور ان کے ہم پيمانوں کی سرزنش کے معنی و مفہوم سے ایک نئے مذہبی معنی ميں تحریف کرنا اور خوارج کے سردار عبدالله بن وہب سبائی و عبدالله بن سبا یہودی ميں تبدیل کرکے اسے سبائيوں کے نئے مذہبی فرقہ “ سبئيہ ” کا بانی بتانےميں کامياب ہوا ہے!!

حقيقت ميں سيف نے افسانہ “ سبئيہ ’ کو تاریخ کے عنوان سے جعل کيا ہے ، ایک موذی شخص کو اس افسانہ کا ہيرو بنایا ہے اور اس کا نام عبدالله بن سبا رکھا ہے اس کے بعد اس کو چالاکی او رخاص مہارت سے تاریخ کے بازار ميں پيش کيا ہے پھر یہ افسانہ تاریخ لکھنے والوں کے مزاج کے مطابق قابل قبول قرار پایا ہے اس وجہ سے “ افسانہ سبئيہ ” نے خلاف توقع اشاعت اورشہرت پائی اس افسانہ کے خيالی ہيرو عبدالله سبا نے بھی کافی شہرت حاصل کی جس کے نتيجہ ميں عبدالله بن وهب فراموشی کا شکار ہوگياجبکہ علی عليہ السلام کے دوران لفط سبئی اسی عبدالله بن وهب سبائی سے منسوب تھا کہ جو فرقہ خوارج کا رئيس تھا سيف کے افسانہ کو اشاعت ملنے کے بعد یہ لفظ اپنے اصلی معنی سے تحریف ہوکر ایک تازہ پيدا شدہ مذہبی فرقہ ميں ا ستعمال ہوا ہے جس کا بانی بقول سيف عبدا لله سبا نامی ایک یہودی تھا ،اس جدید معنی ميں اس لفظ نے شہرت پائی، اورعبد الله بن وهب سبائی بھی عبدالله سبائی یہودی ميں تبدیل ہوگیا اس تاریخ کے بعد رفتہ رفتہ لفط “سبئيہ ” کا قبيلہ سے نسبت کے طورپر استعمال ہونا متروک ہوگیا،خاص طورپر عراق کے شہروں اور عراق کے گرد و نواح شہروں اور افسانہ عبدالله بن سبا اور فرقہ سبائيہ کی پيدائش کی جگہميں اس کا اصلی معنی ميں استعمال مکمل طور پر فراموشی کی نظرہوگيا یہاں تک کہ ہم نے اپنے مطالعات ميں اس کے بعد کسی کو نہيں دیکھا جو ان شہروں ميں سبا بن یشجب سبئی سے منسوب ہواہو ليکن یمن، مصر اور اندلس ميں دوسری اور تيسری صدی ہجری ميں کبھی یہ لفط اسی اصلی معنی ميں استعمال ہوتا تھا ،بعض افراد جو فرقہ “ سبئيہ ”’ کے بانی عبدالله بن سبا سے اصلا کوئی ربط نہيں رکھتے تھے سبا بن یشجب اور قبيلہ قحطان سے منسوب ہونے کے سبب سبئيہ کہے جاتے تھے صحاح کی کتابوں کے مولفين نے بھی حدیث ميں ان سبئی افراد کوبعنوان حدیث کے قابل اعتماد راویوں کے طورپر ذکر کيا ہے ليکن بعد ميں ان شہروں ميں بھی زمانہ کے گزرنے کے ساتھ سبئيہ کا استعمال بعنوان قبيلہ بالکل نابود ہوگيا اور اس طرح اس لفظ نے تمام شہروں اور اقطاع عالم ميں ایک مذہبی فرقہکے نام سے شہر ت پائی ہم اگلی فصل ميں اسی کی وضاحت کریں گے ۔

تاریخ ، ادیان اور عقائد کی کتابوں ميں عبدالله بن سبا

هم الذین یقولون ان عليّاً فی السحاب وان الرعد صوته و البرق سوطه

گروہ سبائيہ معتقد ہيں کہ علی“ عليہ السلام ”بادلوں ميں ہيں اور رعد ان کی آواز اور برق ان کا تازیانہ ہے علمائے ادیان و عقائد

تاریخ ميں عبدالله سباکی متضاد تصویریں

سيف نے افسانہ عبدالله سبا وسبئيہ کو جعل کرکے اپنی کتابوں ميں تاریخی حوادث کے طور پر ثبت کيا ہے ، اس کے بعد طبری اور دوسرے مورخين نے اس کی دو کتابوں سے اس افسانہ اور سيف کے دوسرے افسانوں کو نقل کرکے اپنی کتابوں ميں درج کيا ہے خاص کر افسانہ سبئيہ کو مسلمانوں ميں پہلے سے زیادہ منتشر کيا اس افسانہ کے منتشر ہونے کے بعد لفظ “ سبئيہ ” تمام نقاط ميں اور تمام لوگوں کی زبانوں پر عبدالله بن سبا کے ماننے والوں کيلئے استعمال ہوا اور اس معنی ميں خصوصيت پيدا کر گيا اس کے بعدا س کااپنے اصلی معنی ميں ---کہ قبيلہ قحطان اور سبا بن یشجب سے منسوب ہونا --- استعمال متروک ہوگيا ہے۔

ليکن بعد ميں سبئی کا مفہوم اس معنی سے بھی تغير پيدا کرگيا اور اس ميں ا یک تبدیلی آگئی اور یہ لفظ مختلف صورتيں اختيار کرگيا اس کا جعل کرنے والا بھی متعدد قيافوں اور عنوانوں سے ظاہر ہوا ، مثلاً : دوسری صدی ہجر ی کے اوائل ميں سيف کی نظر ميں “ سبئی ”

اس کو کہا جاتا تھا جو علی عليہ السلام کی وصایت کا معتقد ہو ليکن تيسری صدی کے اواخر ميں ‘ سبئی ” اس کو کہتے تھے جو علی عليہ السلام کی الوہيت کا معتقد ہو اسی طرح عبدالله بن سبا سيف کی نظر اور اسکے زمانے ميں وہی ابن سودا تھاليکن پانچویں صدی ہجری کے اوائل ميں عبدالله بن سبا ، ابن سودا کے علاوہ کسی اور شخصيت کی حيثيت سےپہچاناگيا بلکہ یہ الگ الگ دو افراد پہچانے گئے کہ ہر ایک اپنی خاص شخصيت کا مالک تھا اور وہ افکار و عقائد بھی ایک دوسرے سے جدا رکھتے تھے کلی طور پر جو مطالب پانچویں صدی ہجری کے اوائل ميں عبدالله سبا کے بارے ميں ذکر ہوئے ہيں ان سے یوں استفادہ کيا جاسکتا ہے عبدالله سبا چنداشخاص تھے، اور ہر ایک کےلئے اپنی مخصوص داستان تھی:

اول: عبدالله بن وهب سبائی جو علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے زمانے ميں زندگی کرتا تھا وہ خوارج گروہ کا سردار تھا ليکن علماء کی ایک مخصوص تعداد کے علاوہ اسے کوئی نہيں جانتا ۔

دوم: وہ عبدالله بن سبا جو ابن سودا کے نام سے مشہور تھا سيف کے کہنے کے مطابق یہ عبد الله سبا فرقہ “ سبائيہ ” کا بانی کہ جو علی عليہ السلام کی رجعت اور وصایت کا معتقد تھا اس نے اکثر اسلامی ممالک اور شہروں ميں فتنے اور بغاوتيں برپا کی ہيں ، لوگوں کو گورنروں اور حکمرانوں کے خلاف اکساتا تھا نتيجہ کے طورپر سبائی مختلف شہروں سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں پر جمع ہونے کے بعد مسلمانوں کے خليفہ عثمان کو قتل کر ڈالا یہ وہی تھے جنہوں نے جنگ جمل کی آگ بهڑکا ئی اور مسلمانوں ميں ایک زبردست قتل عام کرایا ۔

سوم : عبدالله سبائی ، غالی ، انتہا پسند تيسرا عبدالله سبا ہے وہ فرقہ سبئيہ کا بانی تھا جو علی عليہ السلام کے بارے ميں غلو کرکے انکی الوہيت کا قائل ہوا تھا ۔

پہلا عبدالله سبائی حقيقت ميں وجود رکھتا تھا اور علی ابن ابيطالب کے زمانہ ميں زندگی بسر کرتا تھا اپنے حقيقی روپ ميں کم و بيش تاریخ کی کتابوں ميں درج ہو اہے دوسرا عبدلله بن سبا وہ ہے جسے بنی اميہ کی حکومت کے اواخر ميں سيف کے طاقتور ہاتھوں سے جعل کيا گيا ہے اس کی زندگی کے بارے ميں روایتيں اسی صورت ميں تاریخ کی کتابوں ميں ہيں جيسے سيف نے اسے جعل کياہے ۔

ليکن تيسرا عبدالله بن سبا ، جو تيسری صدی ہجری ميں پيدا ہوا ہے اس کے بارے ميں روایتيں دن بہ دن وسيع سے وسيع تر ہوتی گئی ہيں اور اسکے بارے ميں مختلف داستانيں و مطالب مفصل طورپر نقل کئے گئے ہيں کہ تاریخ ، رجال او رمخصوصاً ادیان و عقائد کی کتابيں ان سے بھری پڑی ہيں ۔

ایک مختصر بحث و تحقيق کے پيش نظر شاید اس روداد کی علت اور راز یہ ہو کہ عبدالله بن وهب سبائی یا پہلا عبدالله چونکہ حقيقت ميں وجود رکھتا تھا اس کے بارے ميں سر گزشت اور روایتيں جس طرح موجود تھيں اسی طرح تاریخ ميں آگئی ہيں اور اسی مقدار کے ساتھ اختتام کو پہنچی ہيں ليکن دوسرا عبدالله بن سبا ، چونکہ اس کو خلق کرنے والا سيف بن عمر ہے اس لئے اس نے اس افسانہ کو حسب پسند اپنے خيال ميں تجسم کرکے جعل کيا ہے اس کے بعد اسے اپنی کتاب ميں درج کيا ہے اور بعد والے مؤرخين نے بھی اسی جعل کردہ افسانہ کو اس سے نقل کرکے اپنی کتابوں ميں درج کياہے اس لحاظ سے ان دو عبد الله بن سبا کے بارے ميں اخبار رو روایتوں ميں زمانہ اور صدیاں گزرنے کے باوجو دکوئی خاص فرق نہيں آیا ہے ۔

ليکن ، تيسرا عبدالله سبا چونکہ مؤرخين اور ادیان و عقائد کے علماء نے اس کے بارے ميں روایتوں اور داستانوں کو عام لوگوں اور گلی کوچوں سے ليا ہے اور عام لوگوں کی جعليات ميں بھی ہر زمانے ميں تبدیلياں رونما ہوتی ہيں ۔ اس لئے تيسرے عبدالله بن سبا کے افسانہ ميں زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ وسعت پيدا ہوکر تغيرات آگئے ہيں تيسری صدی ہجری کے آواخر سے نویں صدی ہجری تک کتابوں ميں عبدالله بن سبا کی شناخت یوں کرائی گئی ہے؛

ا لف ) عبدالله سبا وہی ہے جو علی عليہ السلام کی خلافت کيلئے بيعت کے اختتام پر حضرت کی تقریر کے بعد اٹھا اور بولا: “ یاعلی ! تم کائنات کے خالق ہو اور رزق پانے والوں کو رزق دینے والے ہو !” امام عليہ السلام اس کے اس بيان سے بے چين ہوئے اور اسے مدینہ سے مدائن جلا وطن کيا اس کے بعد ان کے حکم کے مطابق ان کے ‘ سبئيہ ” نامی گيارہ ماننے والوں کو گرفتار کرکے آگ ميں جلادیا ، ان گيارہ افراد کی قبریں اسی سرزمين صحرا ميں معروف ہيں ۔

ب) عبدالله بن سبا ، وہی ہے جس نے امام علی عليہ السلام کے بارے ميں غلو کيا ہے اور انہيں پناہ خدا تصور کيا، لوگوں کو اپنے اس باطل عقيدہ کی طرف دعوت دی ،ایک گروہ نے اس کی اس دعوت کو قبول کيا ،علی عليہ السلام نے بھی اس گروہ ميں سے بعض افراد کو آگ کے دو گڑهوں ميں ڈال کرجلا دیا یہاں پر بعض شعراء نے کہاہے:

لترم بی الحوادث حيث شاءَ ت

اذا لم ترم فی الحضرتين

یعنی : حوادث روزگار ہميں جس خطرناک عذاب ميں ڈال دیں ،ہميں اس کی کوئی پرواہ نہيں ہے مگر ہميں علی عليہ السلام آگ کے ان دو گڑهوں ميں نہ ڈالےں ۔

علی عليہ السلام نے جب ابن سبا کے اس غلو و انحراف کا مشاہدہ کيا تو اسے مدائن ميں جلاوطن کردیا وہ علی عليہ السلام کی رحلت کی خبر سننے تک مدائن ميں تھا ،اس خبر کو سننے کے بعد اس نے کہا: علی عليہ السلام نہيں مرے ہیں ، جو مرگيا ہے وہ علی عليہ السلام نہيں تھے بلکہ شيطان تھا ، جو علی عليہ السلام کے روپ ميں ظاہر ہوا تھا کيوں کہ علی عليہ السلام نہيں مرےں گے بلکہ انهوں نے عيسیٰ کے مانند آسمانوں کی طرف پرواز کی ہے اور ایک دن زمين پر اترکر دشمنوں سے انتقام ليں گے!

ج) عبدالله سبا وہی ہے جس نے کہا: علی خدا ہیں اور ميں ان کا پيغمبر ہوں علی عليہ السلام نے اسے گرفتار کرکے جيل ميں ڈال دیا ۔ عبدالله بن سبا تين دن رات تک اسی زندان ميں رہا ،اس مدت کے دوران اس سے درخواست کرتے تھے کہ توبہ کرے اور اپنے باطل عقيدہ کو چھوڑدے ،ليکن اس نے توبہ نہيں کی ،علی عليہ السلام نے اسے جلادیا اس روداد کے بارے ميں علی نے یہ شعرپڑها :

لما رایت الامر منکرا اوقدت ناری و دعوت قنبراً

” جب ميں نے ناشائستہ عمل دیکھا، اپنی آگ کو شعلہ ور کرکے قنبر کو بلایا“

د) عبدالله بن سبا وہی تھا جب امام علی بن ابيطالب عليہ السلام نے اسکے سامنے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے تو اس نے امام پر اعتراض کيا اورکہا؛ کيا خدائے تعالیٰ ہر جگہ پر نہيں ہے؟!! کيوں دعا کے وقت اپنے ہاتھ کو آسمان کی طرف بلند کرتے ہو ؟

ه ) عبدالله بن سبا وہی ہے جو اپنے ماننے والوں کے ہمراہ امام کی خدمت ميں آ کر کہنے لگا: اے علی عليہ السلام تم خدا ہو ! علی عليہ السلام نے بھی ان کی کفر آميز باتوں کے جرم ميں ان سب کو آگ ميں جلادیا ،ان کو ایک ایک کرکے آگ ميں ڈالتے وقت وہ کہتے تھے :اب ہميں یقين ہوگيا کہ علی عليہ السلام ہی خدا ہیں ، کيونکہ خدا کے علاوہ کوئی اور کسی کو آگ سے معذّب نہيں کرتا ہے!

ز) عبدالله بن سبا پہلا شخص تھا جس نے ابوبکر، عمر، عثمان، اورپيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے تمام اصحاب کی مذمت و سرزنش کی اور ان سے بيزاری کی ، مسيب بن نجيہ نے اسے گرفتار کيا اور گھسيٹتے ہوئے امام کے پاس لے آیا ،حضرت نے پہلے ابو بکر و عمر کی ثنا خوانی کی اور ان کااحترام کيا، اس کے بعد فرمایا: جو بھی مجھے ان سے برتروافضل جانے گا ميں اس پر افتراء کی حد جاری کروں گا ، اس کے بعد اسے مدائن جلا وطن کردیا۔

ح) عبدالله بن سبا ، وہی تھا کہ علی کو مرنے کے بعد بھی زندہ جانتا تھا جب وہ مدائن ميں جلاوطنی کے دن گزاررہاتھااور اس سے علی عليہ السلام کی رحلت کی خبر دی گئی ،تو اس نے اس خبر کو قبول نہيں کيا جس نے یہ خبر دی تھی اسے کہا: اے دشمن خدا ! خدا کی قسم تو جھوٹ بول رہاہے ،اگر علی عليہ السلام کے سر کی کهوپڑی بھی ميرے سامنے لاؤ گے اور ستر عادل مومن گواہی دیں گے کہ علی عليہ السلام وفات کرگئے ہيں پھر بھی ميں تيری بات کی تصدیق نہيں کروں گا کيونکہ ميں جانتاہوں کہ علی ابن ابيطالب عليہ السلام نہيں مریں گے اور نہ قتل کئے جائيں گے یہاں تک کہ پوری دنيا پر حکمرانی کریں گے،اس کے بعد عبدالله بن سبا اسی دن اپنے ساتھيوں کے ہمرا ہمدائن سے کوفہ کی طرف روانہ ہوگيا وہ علی کے گھر کے دروازے پر پہنچے دوروازہ پر کھڑے ہو کر جس طرح کسی زندہ انسان سے گھر ميں داخل ہونے کی اجازت چاہتے ہيں علی عليہ السلام سے اجازت طلب کی ،امام کے خاندان والوں نے ان کی رحلت کی خبر دی ، انہوں نے علی کی وفات کو قبول نہيں کيا اورا مام کی رحلت کے بارے ميں امام کے اہل بيت عليہم السلام کی بات کو ماننے سے انکار کيا اور اسے جھوٹ کہا:

یہ تھا ان مطالب کا ایک خلاصہ جو تيسرے عبدالله سبا کے بارے ميں کہے گئے ہيں اور اسکی زندگی کے حالات اورعقيدہ کے طور پر کتابوں ميں ثبت ہوکر رائج ہوئے ہيں اسی کے بارے ميں مزید کہا گيا ہے: عبدالله بن سبا وہی ابن سودا ہے یعنی ایک سياہ فام کنيز کا بيٹا ، اس کے باوجود معروف یہ ہے ابن سبااور ابن السوداء دوا فراد اور الگ الگ دوشخصيتيں ہيں ۔

اور کہا گيا ہے کہ : دوسرا عبدالله بن سباحير ہ کے یہودیوں ميں سے تھا ، اس نے علی عليہ السلام اور اس کی اولاد کے بارے ميں تاویلات کرکے مسلمانوں کے دین کو فاسد و منحرف کرنا چاہا تا کہ مسلمان علی عليہ السلام اور ان کے فرزندوں کے بارے ميں وہی اعتقاد پيدا کریں جو عيسائی حضرات عيسیٰ کے بارے ميں رکھتے ہيں اس کے علاوہ وہ کوفہ کے لوگوں پرریاست اور سرپرستی کرنا چاہتا تھا ۔ اس لئے اس نے کوفہ کے لوگوں ميں افواہ پھيلائی کہ توریت ميں آیا ہے “ ہر پيغمبر کا ایک وصی ہے اور علی عليہ السلام بھی محمد خاتم النبيين صلی اللهعليہ و آلہ وسلم کے وصی ہيں ” لوگوں نے یہ بات اس سے سن کر علی عليہ السلام کو پہنچا دی کہ ابن سوداء آپ کے دوستدا روں اور چاہنے والوں ميں سے ہے ، علی( عليہ السلام )نے اس کا کافی احترام کرتے اور اسے اپنے منبر کے نيچے بٹھاتے تھے ليکن جس دن علی عليہ السلام کے بارے ميں عبدالله کا غلو ظاہر ہواا ور حضرت تک پہنچا تو حضرت نے اس کو قتل کرنے کا فيصلہ کيا، ليکن چونکہ حضرت اس کے ماننے والوں کے فساد و بغاوت سے ڈر گئے اس لئے اس کے قتل سے منصرف ہوئے اور عبدالله بن سبا کو مدائن جلاوطن کيا جب اس نے مدائن ميں گروہ رافضہ سبيئہ کو کفر و بے دینی ميں شدیدترین اور منحرف ترین افراد پایا تووہ ان کے ساتھ جاملا ۔

گروہ سبئيہ جن کا بانی یہی تيسرا عبدالله سبا تھا،کہتے تھے :

علی عليہ السلام بادلوں ميں ہے ، رعد اس کی آواز اور برق اس کا تازیانہ ہے اور جب بھی رعد کی آواز ان کے کانوں تک پہنچتی ہے اس کے مقابلے ميں کھڑے ہوکر تعظيم و احترام کے ساتھ کہتے ہيں :

السلام عليک یا امير المؤمنين

یہ گروہ سبئيہ وہی ہيں جو کہتے ہيں : امام علی ابن ابيطالب وہی مہدی موعود ہيں کہ دنيا اس کے انتظار ميں ہے وہ تناسخ کا اعتقاد رکھتے ہيں اور کہتے ہيں : ائمہ اہل بيت عليہم السلام خداکا جزء ہيں ۔

وہ کہتے ہيں : ‘ خدا کے ایک جز ء نے علی عليہ السلام ميں حلول کيا ہے“

وہ کہتے ہيں : “ ہمارے ہاتھ ميں جو قرآن ہے وہ حقيقی قرآن کے نو حصوں ميں سے ایک حصہ ہے کہ اس کا پورا علم علی عليہ السلام کے پاس ہے۔

وہ “ ناووسيہ ” سے متحد ہيں اور کہتے ہيں : جعفر بن محمد عليہما السلام تمام تعاليم اور احکام دین کے عالم ہيں ۔

انہوں نے ہی مختار کو نبوت کا دعویٰ کرنے پر مجبور کيا ۔

یہ وہی فرقہ “ طيارہ ” ہے جو کہ کہتے ہيں : ان کی موت ان کی روح کا عالم بالا کی طرف پرواز کے علاوہ کچھ نہيں ہے ،مزید کہتے ہيں : روح القدس عيسیٰ سے محمد ميں منتقل ہوا ہے اور محمد سے علی ميں اور ان سے حسن و حسين عليہما السلام ميں اور ان سے دیگر ائمہ ميں جو ان کی اولاد ہيں ۔

وہ اسی عمر ابن حرث کندی کے اصحاب ہيں جس نے اپنے ماننے والوں کو دن رات کے اندر سترہ ( ١٧ ) نمازیں واجب کيں کہ ہر نمازپندرہ رکعت کی تھی یہ گروہ اعتقاد رکھتاتهاکہ علی نہيں مرے ہيں بلکہ اپنی مخلوق سے ناراض ہو کرکے ان سے غائب ہوگئے ہيں اور ایک دن ظہور کریں گے وہ ، وہی خشبيہ فرقہ ہے جو مختار کا ماننے والا ہے ۔ وہ ، وہی گروہ ممطورہ ہيں ۔

ا سی طرح وہ دوسرے دسيوں گروہ ہيں !جو تيسرے عبدالله بن سبا کے پيرو گروہ “

سبئيہ” کے بارے ميں نقل ہوئے ہيں ۔

ہم نے جعل کئے گئے فرقہ سبائی کے بارے ميں ان بيہودگيوں ، بہتانوں ، ملاوٹوں اور تحریفات کو دیکھا ۔ اگلی فصلوں ميں ان کے بانی عبدلله سبائی پر بحث و تحقيق کریں گے ۔


جعل و تحریف کے محرکات

انها کانت تدمغ ائمة اهل البيت فی جميع العصور

یہ جعليات اور افسانے تمام زمانوں ميں شيعوں کو نقصان پہنچانے اور انهيں کچلنے کيلئے تھے۔مؤلف

اگر ہم تمدن اسلامی کے بعض مواقع کے بارے ميں ایجاد کی گئی تحریفات اور تغيرات پر دقيق بحث و تحقيق کریں گے تو ہميں معلوم ہوگا کہ ان تحریفا ت ميں سے بعض مؤلفين کی غلطيوں کی وجہ سے وجود ميں آئی ہيں ان غلطيوں سے دوچار ہونے والے افراد ، انکی اشاعت کرنے ميں شاید سياسی محرک یا خاندانی تعصب یا مذہبی تعصب کار فرما نہيں تھا ۔

ليکن افسانہ عبدالله بن سبا اور سبئيہ کے جعل و نشر ميں عام طور پر ملوث افراد اور خصوصی طورپر وقت کی حکومتيں مختلف عزائم اور محرکات رکھتی تھےں ، کيونکہ:

١ (افسانہ عبد الله بن سبا ، اصحاب پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم پر ہونے والے اعتراضات اور تنقيدوں پر پردہ پوشی کرتاہے اور انہيں ان اعتراضات سے پاک ، منزہ اور مبرا کرتا ہے یہ ایک بہت نازک اور سياسی مطلب ہے جو تمام ادوار ميں لوگوں کے مختلف طبقات اور صاحب قدرت اور حکومتوں کا پسندیدہ تھا ۔

٢۔ یہ افسانہ اسلام کی ابتدائی صدیوں کے تمام تاریخی مظالم ، عيوب ، خطاؤں اور گناہوں کو قبائل قحطان کی گردن پر ڈالتا ہے اور اس کے مقابلہ ميں تمام فضائل و تاریخی کارناموں کو قبائل عدنان سے نسبت دیتا ہے چونکہ خاندان عباسی کے اواخر تک حکومتيں قبيلہ قریش اور عدنانيوں ميں رہی ہيں ،یہ لوگ قحطانيوں اور سبائيوں سے عداوت اور شدید مخالفت رکھتے تھے اس لئے انہوں نے اس افسانہ کی اشاعت اور ترویج ميں جو ان حکومتوں کے حق ميں اور ان کے دشمنوں کے نقصانات ميں تھا ۔ تمام قدرت اور پوری طاقت کے ساتھ ہر ممکن کوشش کی ۔

٣۔ ان سب سے اہم یہ کہ یہ افسانہ خلفاء کی حکومت کے مخالفوں ---جو خاندان عصمت کے شيعہ تھے ----پر کفر و الحاد د کا الزام لگا کر انہيں دین و مذہب سے خارج کرتا ہے کيونکہ یہ لوگ خلفای عثمانی کے دور تک تمام ادوار ميں حتی آج تک وقت کی حکومتوں کے مخالف تھے ۔ خود یہی افسانہ ہے جس نے گزشتہ زمانہ ميں وقت کی حکومتوں کيلئے شيعوں پر حملہ کرنے کا راستہ ہموار کيا ہے اور شيعوں پر ہم قسم کے دباؤ ، مشکلات ، اور دشواریاں ایجاد کرنے کيلئے حکومتوں کيلئے قوی سہار ااور مضبوط دستا ویز کا کام کياہوا ہے بالکل واضح ہے کہ وقت کی حکومت اس قسم کی فرصت سے فائدہ اٹھانے کی پوری پوری کوشش کرتی اور اس قسم کے وسيلہ کی تائيد و تثبيت کرنے کيلے پوری طاقت اور قدرت کو بروئے کار لائی ہے۔

خود یہی محرک اور اس کے علاوہ دوسرے محرکات تھے جس نے اس افسانہ کو وجودبخشانيز اس کو اشاعت اورشہرت دی اور اس سلسلے ميں علماء و محققين پر بحث و تحقيق کے دروازے مسدودکردئيے یہاں تک خداوند عالم نے اس پر بحث و تحقيق کرنے کی توفيق ہميں عنایت فرمائی ولله الحمد و المنة

سيف کی دوسری تحریفات اور جعليات

سيف کی جعليات و تحریفات صرف افسانہ عبدالله بن سبا تک ہی محدود نہيں تھيں بلکہ اس سے پہلے اشارہ کئے گئے محرکات کے علاوہ اپنے الحاد اور زندقہ کے محرکات کے پيش نظر بھی فراوان افسانے جعل کئے ہيں اور ان افسانو ں کيلئے سورما بھی خلق کئے ہيں جن کی تحقيق کيلئے ہم نے کئی کتابيں جيسے : “خمسون و ماة صحابی مختلق ”یعنی “ایک سو پچاس جعلی اصحاب” “ رواة مختلقون ” یعنی “جعلی راوی ” اور “ عبدالله بن سبا’ ’تاليف کی ان کتابوں ميں ضمنی طو رپر ان سوالات کا جواب بھی آیا ہے کہ:یہ تاریخ اسلام ميں یہ تحریفات ، تبدیلياں اور جعليات کيوں اور کيسے وجود ميں آئے ہيں ؟!تاریخ اور حدیث کے علماء نے اس کے مقابلہ ميں کيوں بالکل خاموشی اختيار کی ہے اور گزشتہ کئی صدیوں کے دوران اس سلسلہ ميں کسی قسم کی تحقيق اورجانچ پڑتال نہيں کی گئی ہے ؟!اس کے علاوہ ہم نے کتاب “ عبد الله بن سبا”(۱) کی فصل “ تحریف و تبدیل ”ميں اس بات کی طرف اشارہ کيا ہے کہ سيف بن عمر نے امير المؤمنين حضرت علی عليہ السلام کے قاتل عبدالرحمان ابن ملجم کے نام کو کيسے خالد بن ملجم ميں تحریف کرکے اسے علی عليہ السلام کے بارے ميں غلو کرنے والے فرقہ “ سبئيہ ” کی ایک بزرگ شخصيت دکھا یا ہے اس کے علاوہ پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے مشہور صحابی “ خزیمة بن ثابت انصاری ” کو کيسے دو اشخاص : ایک “ ذو الشہادتين ” کے نام سے اور دوسرے کو “غير ذو الشہادتين ”کے نام سے پيش کيا ہے اسی طرح “ سماک بن خرشہ انصاری ” کو دو اشخاص دکھائے ہيں ایک معروف بہ ابو دجانہ اور دوسرا غير ابودجانہ ، اور عبدالله بن سباکو بھی دو اشخاص دکھانے ميں کامياب ہوا ہے ایک ابن وهب سبائی جو علی عليہ السلام کی خلافت کے دوران گروہ خوارج کا سردار تھا اور دوسرا ابن سبا جس کا حقيقت ميں کوئی وجود ہی نہيں تھا اوراس نے کسی ماں سے جنم ہی نہيں ليا تھا بلکہ یہ سيف کے ذہن کی پيدا وار تھا اس لحاظ سے تاریخ اسلام ميں جعل ، تحریف او رتخليق سيف کی باضابطہ ہنر مندی اور معمول کے مطابق پيشہ تھا اور اس ميں کسی قسم کے چون و چرا اور تعجب و حيرت کی بالکل گنجائش نہيں ہے پھر بھی ان تحریفات و جعليات کے مقابلہ ميں علماء کی خاموشی تازہ نہيں تھی اور افسانہ عبدالله بن سبا سے ہی مخصوص نہيں تھی کہ جو ایک فرد محقق کيلئے بُعد اور ناقابل قبول اور ناقابل حل دکھائی دے ۔

____________________

١۔ اس کتاب کی جلد دوم فارسی ترجمہ ١٩٢ و ٢٠۴ ملاحظہ ہو۔


پانچ جعلی اصحاب یاددہانی کے طور پر سيف کے سورماؤں کو تخليق کرنے کے کارنامے اور ان کارناموں کے نمونے پيش کرنے کے لئے یہا ں پر مناسب ہے درج ذیل پانچ افسانوی اصحاب کی طرف اشارہ کریں ۔

١۔ قعقاع بن عمر و بن مالک تميمی اسيدی:

سيف نے اسے ایک زبردست اور الہام شدہ شاعر، پيغمبر کا صحابی اور لشکر اسلام کے کمانڈر کی حيثيت سے پہچنوایا ہے سنی اور شيعہ علماء نے بھی اس کی زندگی کے حالات پر تفصيل سے روشنی ڈالی ہے ہم نے بھی اپنی کتاب“ ١ ۵ ٠ جعلی اصحاب ” ميں ١ ۴ ٠ صفحات پر اس کے افسانہ پر بحث و تحقيق کی ہے ۔

٢۔ عاصم بن عمر و، قعقاع کا بھائی

٣۔ نافع بن سود بن قطبة بن مالک تميمی اسيدی ،قعقاع کا چچيرا بھائی ۔

۴ ۔زیاد بن حنظلہ تميمی ۵ ۔ طاہر بن ابیہالہ خدیجہ رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی بيوی کا بيٹا ۔

اس قسم کے افسانوی افراد بہت زیاد ہيں جنہيں سيف نے اپنے تصوراور خيال ميں خلق کياہے ا ور انہيں بعنوان : راوی ،شاعر ،صحابی یا جنگی سورما وغيرہ کی صورت ميں پيش کياہے ۔ اسلامی تمدن کی حسب ذیل شيعہ و سنی کتابوں ميں ان کا ذکر آیا ہے:

اہل سنت علماء کی کتابيں

١۔ سيف بن عمر تميمی ( وفات تقریباً ١٧٠ هء) نے اپنی دو کتابوں :“الجمل ’‘ اور “الفتوح ” ميں ۔

٢۔ طبری ( وفات ٣١٠ هء) نے اپنی “تاریخ” ميں ۔

٣۔ بغوی ( وفات ٣١٧ هء) نے اپنی“ معجم الصحابہ” ميں ۴ ۔ رازی ( وفات ٣٢٧ هء) نے اپنی “الجرح و التعدیل ”ميں ۵ ۔ ابن سکن ( وفات ٣ ۵ ٣ هف) نے اپنی “حروف الصحابہ” ميں ۔

۶ ۔ اصفہانی ( وفات ٣ ۵۶ هء) نے اپنی “اغانی ”ميں ٧۔ مرزبانی (وفات ٣٧ ۴ هء) نے اپنی “ معجم الشعراء ” ميں ٨۔ دار قطنی ( وفات ٣٨ ۵ هء) نے اپنی کتاب “ المؤتلف و المختلف ” ميں ٩۔ ابو نعيم ( وفات ۴ ٣٠ هء) نے اپنی “تاریخ اصفہان” ميں ١٠ ۔ ابن عبد البر (وفات ۴ ٣٠ هء) نے اپنی“ استيعاب” ميں ۔

١١ ۔ابن ماکولا ( وفات ۴ ٧ ۵ هء) نے “الاکمال ”ميں ۔

١٢ ۔ ابن بدرون ( وفات ۵۶ ٠ هء) نے“ شرح قصيدہ ابن عبدون” ميں ١٣ ۔ ابن عساکر ( وفات ۵ ٧١ هء) نے اپنی “تاریخ دمشق ”ميں ١ ۴ ۔ حموی وفات ( ۶ ٢ ۶ ئه) نے “ معجم البلدان ”ميں ۔

١ ۶ ۔ ابن اثير (وفات ۶ ٣٠ ئه ) نے “الکامل التاریخ” ميں ١٧ ۔ابن اثير (وفات ۶ ٣٠ ئه ) نے “اسد الغابہ” ميں ۔

١٨ ۔ ذہبی ( وفات ٧ ۴ ٨ ئة نے “النبلاء” ميں ۔

١٩ ۔ ذہبی ( وفات ٧ ۴ ٨ ئة نے “تجرید الاسماء الصحابہ” ميں ٢٠ ۔ ابن کثير ( وفات ٧٧٠ هء) اپنی“ تاریخ ”ميں ٢٠ ۔ ابن خلدون (وفات ٨٠٨ ئه) نے اپنی“ تاریخ” ميں ٢١ ۔ حميری ( وفات ٨٢ ۶ هء) نے اپنی“ روض المعطار” ميں ۔ اس کتاب کی تاریخ تاليف ٨٢ ۶ ئه ہے۔

٢٢ ۔ ابن حجر ( ٨ ۵ ٢ ئه) نے اپنی “اصابہ” ميں ۔

٢٣ ۔ ابن بدان ( وفات ١٣ ۴۶ ئه) نے اپنی“ تہذیب تاریخ ابن عساکر” ميں ۔

شيعہ علماء کی کتابيں

بعض شيعہ علماء(۱) اور مؤرخين نے اہل سنت کی کتابو ں پر اعتماد کی وجہ سے ان ہی افسانوی افراد کے نام اور ان کی رواتيوں اور داستانوں کو اپنی کتابوں ميں درج کيا ہے ،

جيسے:

١۔ نصر بن مزاحم ( وفات ٢١٢ هء) اس کے اپنی کتابوں ميں درج کئے بعض مطالب ميں سے بعض کو اپنی کتاب “ وقعة الصفين ” ميں نقل کيا ہے ۔

٢۔ شيخ طوسی ( وفات ۴۶ ٠ ) نے اپنی “ رجال ميں ۔

٣۔ قہبائی نے “ مجمع الرجال ” ميں ١٠١ ۶ ئه ميں ا س کی تاليف سے فارغ ہو اہے ۔

۴ ۔ اردبيلی ( وفات ١١٠١ هء) نے “ جامع الرواة ميں ۔

____________________

١۔ علمائے شيعہ نے فقہ کے علاوہ تمام موضوعات جيسے : تفسير ، سيرت پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم ،رجال اور تاریخ ميں علمائے سنی سے کثرت سے نقل کيا ہے ۔


۵ ۔ مامقانی ( وفات ١٣ ۵ ٢ ئه) نے “ تنقيح المقال ”ميں ۔

۶ ۔ سيد عبدالحسين شر ف ا لدین ( ١٣٧٧ هء) نے “الفصول المہمة”ميں ٧۔ تستری “معاصر قاموس الرجال” ميں

نتيجہ اس بحث و گفتگو سے جو نتيجہ حاصل کيا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ : تاریخ اسلام ميں پيدا ہوئے یہ تمام جعليات ، تحریفات اور اختلافات علماء ، اور مؤلفيں کيلئے پوشيدہ اور ناشناختہ رہے ہيں اسلئے انہوں نے تحقيق و تجسس کے بغير ان جعلی افراد اور ان کی جھوٹی افسانوی داستانوں اور روایتوں کواپنی کتابوں ميں درج کيا ہے اوریہی امر اس بات کی علامت ہے کہ عبدالله بن سبا کا افسانہ بھی مؤرخين اور مؤلفين اور علم رجال و ادیان کے علماء سے پوشيدہ اور غير معروف رہ گيا ہے ۔

عبد الله سبائی کی عبدالله بن سبا سے تحریف

ليس غریبا من سيف هذا الدس و التحریف و الاختلاق

سيف جيسے شخص سے اس قسم کی ملاوٹ ، تحریف اور جعل بعيد اور تعجب آور نہيں ہے ۔

مؤلف

ہم نے گزشتہ فصل ميں کہا کہ اسلامی لغات ميں عبدالله بن سبا تين مختلف چہروں ،

قيافوں اور شخصيات ميں پایا جاتاہے اور ہر قيافہ وشخصيت کيلئے مخصوص روایتيں اور داستانيں نقل کی گئی ہيں خاص کر تيسرے عبدالله سبا کيلئے بڑی مفصل روایتيں اور داستانيں درج کی گئی ہيں ۔

مذکورہ تين عبدالله بن سبا ميں سے صرف پہلا عبدالله بن وهب سبائی وجود رکھتا تھا باقی افسانہ کے علاوہ کچھ نہيں تھے ۔

عبدالله بن وهب سبائی جو حقيقت ميں وجود رکھتا تھا کی داستان کا خلاصہ یوں ہے:

وہ علی عليہ السلام کے زمانے ميں زندگی بسرکرتا تھا اور پہلے حضرت کے طرفداروں ميں سے تھا ليکن اس نے جنگ صفين ميں حَکَميت کے بارے ميں علی عليہ السلام پر اعتراض کيا اور اس کے بعد اس کی علی سے عداوت اور مخالفت شروع ہوگئی ا س کے ہم فکر علی کے بعض مخالفين اس سے جا ملے اور اجتماعی طور پر حضرت علی عليہ السلام کے خلاف

____________________

١۔ مصنف کی کتاب “ ایک سو پچاس جعلی اصحاب ” اس افسانوی صحابی کے حالات ملاحظہ ہوں ۔


بغاوت کی اور جنگ نہروان کو وجود ميں لانے کا سبب بنا عبدالله اس جنگ ميں مارا گيا بعد کے ادوار ميں ابن عبدالله بن وهب سبائی ایک مرموز اور افسانوی یہودی عبدالله بن سبائی ميں تبدیل ہواا ور “ سبئيہ نامی ” ایک جدید مذہبی فرقہ کے بانی کے طور پر پہچانا گيا ۔

یہ عبدالله سباء دوم تحریف شدہ افسانوی بھی پہلے سيف کے وسط سے وصایت علی عليہ السلام کے معتقد فرقہ “ سبئيہ ” کا بانی معرفی کيا گيا اس کے بعد زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی زبانوں پر افواہوں کے ذریعہ تغيرات اور تبدیلياں پيدا کرتے ہوئے ‘ سبيئہ ”نام ایک فرقہ غالی ---جو علی عليہ السلام کی الوہيت کا قائل تھا-- کے بانی کے طور پرنمایاں ہوا س کے بارے ميں روایتوں اور داستانوں ميں بھی دن بہ د ن وسعت پيدا ہوتی گئی اور ا س طرح فرقہ سبئيہ کا افسانہ وجود ميں آگيا۔

کئی ایسے لوگ بھی پيدا ہوئے جنہوں نے ان افسانوں کےلئے اسناد و مآخذ جعل کئے جيساکہ ہم نے گزشتہ فصلوں ميں مشاہدہ کيا کہ افسانہ نسناس کيلئے کس طرح محکم اور مضبوط اسناد جعل کئے گئے تھے۔

اگر سوال کيا جائے کہ : یہ سب تحریف اور جعل و افسانے کيسے انجام پائے ہيں اور گزشتہ کئی صدیوں کے دوران اکثر علماء و مؤرخين سے پوشيدہ رہے ہيں ! اس کا جواب یہ ہے کہ تاریخ اسلام ميں مسئلہ تحریف لفظ عبدالله یا “سبئيہ ” سے مخصوص نہيں ہے کہ جدید اور ناقابل یقين ہو اور بعيد نظر آئے، بلکہ تاریخ اسلام ميں اس قسم کی تحریفات اورتغيرات کثرت سے ملتے ہيں ،یہاں تک کہ بعض علماء نے اس سلسلہ ميں مستقل کتابيں لکھی ہيں کہ ہم یہاں پر اپنی بات کے شاہد کے طور پر اس فہرست کے چند نمونے درج کرتے ہيں :

١۔ ابو احمد عسکری ( وفات ٣٨٢ هء) نے شرح ما یقع فيہ التصحيف و التحریف(۱) نام کی ایک کتاب لکھی ہے ۔

ابو احمد عسکری اس کتاب کے مقدمہ ميں کہتا ہے : ميں اس کتاب ميں ایسے الفاط اور کلمات کا ذکر کرتا ہوں جن ميں مشابہت لفظی کی وجہ سے ان کے معنی ميں تحریف و تغيرات ہوئے ہيں ۔

مزید کہتا ہے : ميں نے اس سے پہلے تحریف شدہ الفاظ کے بارے ميں جن کا تشخيص دینا مشکل تھا ایک بڑی اور جامع کتاب تاليف کی تا کہ اسسلسلہ ميں علمائے حدیث کی مشکلات حل ہوجائيں ۔ اس کتاب ميں راویوں ، اصحاب ، تابعين ، اور دیگر افراد کے نام جن ميں اشتباہ اور تحریف واقع ہوئی ہے ذکر کئے ہيں ليکن اس کے بعد علما ء نے مجھ سے مطالبہ کيا کہ جن تحریفات کے بارے ميں حدیث کے علماء کو احتياج ہے انکو ان تحریفات سے جدا کردوں جن کی ادب اور تاریخ کے علماء کو احتياج ہے ميں نے ا ن کی درخواست قبول کرتے ہوئے ان دو حصوں کو جدا کياا ور ہر حصہ کو ایک

____________________

١۔یعنی جس ميں تحریف و تغير واقع ہو ا ہے اس کی تشریح۔ اس کتاب کا ایک نسخہ تحقيق عبدا لعزیز احمد ،طبع مصطفی ، ٣٨٣ هء مؤلف کے پاس موجود ہے ۔


مستقل کتاب کی صورت ميں تاليف کرکے دو الگ کتابيں آمادہ کيں ۔ ان ميں سے ایک ميں حدیث کے راویوں کے ناموں ميں تحریف درج ہے اور دوسرے ميں ادیبوں اور مؤرخين کی ضرورت کے مطابق تحریف شدہ نام ہيں ۔

ابو احمد عسکری نے اس کتاب ميں بزرگ علماء جيسے: خليل ، جاحظ، اور سجستانی ، کی غلطيوں کے بارے ميں ایک مستقل باب لکھا ہے اس طرح انساب ميں ہوئی غلطيوں کو ایک الگ باب ميں ذکر کيا ہے۔

ابو احمد عسکری کے علاو دوسرے دانشوروں نے بھی اس موضوع پر کتابيں تاليف کی ہيں : جيسے:

١۔ ابن حبيب ( وفات ٢ ۴۵ هء) نے قبائل و انساب کے بارے ميں مشابہ ناموں پر ایک کتاب لکھی ہے ۔

٢۔ ابن ترکمان ( وفات ٧ ۴ ٩ هء ) نے بھی قبائل و انساب کے ناموں کے بارے ميں ایک کتاب تاليف کی ہے ۔

٣۔ آمدی ( وفات ٣٧٠ هء) نے شعراء کے مشابہ ناموں پر ایک کتاب لکھی ہے ۔

۴ ۔ دار قطنی ( وفات ٣٨ ۵ هء) حدیث کے راویوں کے مشابہ ناموں کے بارے ميں کتاب لکھی ہے ۔

۵ ۔ ابن الفرضی ( وفات ۴ ٠٣ هء )

۶ ۔ عبدا لغنی ( وفات ۴ ٠٩ هء)

٧۔ابن طحان الخضرمی ( وفات ۴ ١ ۴ هء )

مذکورہ تين دانشوروں نے مشابہ نام ، القاب ،اور کنيت کے بارے ميں یہ کتابيں لکھی ہيں ۔

٧۔ ابن ماکولا ( وفات ۴ ٧٨ ئه )نے “ اکمال ” نامی کتاب مشابہ نام ، القاب اور کنيت کے بارے ميں لکھی ہے یہ معروف اور جامع تریں کتاب ہے(۱)

اسی طرح ایک دوسرے سے مشابہ نسبتوں کے بارے ميں بعض علماء اور مؤلفين نے چندکتابيں تاليف کی ہيں کہ ا نميں سے چند اشخاص کے نام حسب ذیل ہيں :

مالينی ( وفات ۴ ١٢ هء)

زمخشری ( وفات ۵۴ ٨ هء)

____________________

١۔ اس کتاب کی چه جلدیں طبع حيدر آباد سال ١٣٨١ ئمؤلف کے کتابخانہ ميں موجود ہيں کہ حرف “ع” تک پہنچتا ہے ضرور چند جلدیں اور بھی ہوں گی ۔


حازمی ( وفات ۵ ٨ ۴ هء(

ا بن باطيش ( وفات ۶۴ ٠ هء(

فرضی ( وفات ٧٠٠ ئه(

ذہبی ( وفات ٧٣٨ هء (

ابن حجر ( وفات ٨ ۵ ٢ ه(

ان علماء کے بعد ، دوسرے مؤلفين نے جو کچھ گزشتہ علماء سے چھوٹ گيا تھا اور ان کی کتابوں ميں نہيں آیا تھایا ان کتابوں ميں کوئی غلطی رہ گئی تھی۔ ان کے بارے ميں مستقل کتابيں تتمہ اور ضميمہ کے طورپرلکھی ہيں چنانچہ مندرجہ ذیل اشخاص نے عبد الغنی کی کتاب پر تتمہ لکھا هے ۔

مستغفری ( وفات ۴ ٣ ۶ ئه) “ الزیادات “

خطيب ( وفات ۴۶ ٣ هء) “الموتنف“

ا بن نقطہ -( وفات ۶ ٢٩ هء نے بھی “ مستدرک ” نامی ایک کتاب کو ابن ماکولا کی “

اکمال ” پر تتمہ کے طور پر لکھا ہے ۔

ابن نقطہ کی کتاب پر بھی درج ذیل مؤلفين نے ضميمے لکھے ہيں ۔

حافظ منصور ( وفت ۶ ٧٧ هء(

ابن صابونی (وفات ۶ ٨٠ ئه(

مغلطای ( وفات ٧ ۶ ٢ هء(

ابن ناصر الدین ( وفات ٨ ۴ ٢ ئه) نے بھی ایک کتاب بنام ‘ الاعلام بما فی مشتبہ الذهبی من الاوهام ” ذہبی کی کتاب پر ضميمہ لکھا ہے ۔

ليکن مذکورہ دانشوروں ، مؤلفين اور علماء کے علاوہ ہر دوسرے مؤلفين(۱) اور علماء جو مشابہ نام ،

____________________

١۔ مانند خطيب کہ اس نے اس سلسلے ميں “ موضح اوهام الجمع وا لتفریق’ نامی ایک کتاب تاليف کی ہے اس کا تين جلدوں پر مشتمل ایک نسخہ مؤلف کے پاس موجود ہے اور مانند ناصر الدین کہ اس نے “ مشتبہ ذهبی ” نام کی ایک کتاب تاليف کی ہے دوسرے علماء نے بھی اس موضوع پر کتابيں لکھی ہيں اس قسم کی کتابوں کی بيشتر اطلاع حاصل کرنے کيلئے “ مصحح اکمال ” طبع حيدر آباد کے مقدمہ کی طرف رجوع کيا جائے ۔


الفاظ ، اور تحریفات کے بارے ميں کوشش و تلاش اور تحقيق انجام دی ہے اس کے باوجو داسلامی لغات ميں فراوان تحریف شدہ الفاظ و نامو ں کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ ان تمام دانشوروں سے چھوٹ گئے ہيں اگر ان کی جمع آوری کی جائے تو ایک بڑی اور ضخيم کتاب تشکيل پائے گی اس سلسلہ ميں کيا خوب کہا گيا ہے : کم ترک الاول للآخر ، گزشتگان نے نہ جانے کتنے کام انجام نہيں دئے ہيں انہيں مستقبل ميں آنے والوں کيلئے چھوڑا ہے تاکہ وہ انجام دیں ۔


گزشتہ مباحث کا خلاصہ

تاریخ ميں لفظ “ سبيہ ” کا ایک سرسری جایزہ جو کچھ ہم نے گزشتہ صفحات اورفصلوں ميں ابن سباا ور سبئيہ کے افسانہ کے بارے ميں بيان کيا اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے : زمان جاہليت سے دوران حکومت بنی اميہ تک لفظ“ سبئيہ ” سبا بن یشجب و قبيلہ قحطان سے منسوب افراد پر دلالت کرتا تھا ان افراد ميں سے ایک “ عبدالله بن وهب سبائی ” تھا جو فرقہ خوارج کا سردار تھا ۔

ليکن قبائل عدناں اور قحطان کے درميان مدینہ وکوفہ ميں اختلاف و عداوت پيدا ہونے کے بعد ، قبائل عدنان نے اس لفظ کے معنی کو تبدیل کرکے اسے قحطانيوں کی سرزنش کے طور پر استعمال کيا اور اسے قبيلہ کی نسبت کے معنی سے قبائل قحطان اور ان کے طرفداروں کی بد گوئی اور سرزنش کے معنی ميں تبدیل کيا یہ استعمال اور معنی ميں تغير بنی اميہ کی حکومت کے دوران کوفہ ميں انجام پایا ۔

ليکن جب اسکے بعد سيف کا زمانہ آیا ، اور اس نے شدید خاندانی تعصب ، کفر اور زندقہ کے محرکات کے پيش نظر افسانہ سبئيہ کو جعل کيااور اس افسانہ ميں لفظ سبيہ کو قبيلہ کی نسبت کے معنی یا سرزنش کے معنی سے تبدیل کرکے ایک جدید مذہبی فرقہ کے معنی ميں تحریف کيا اور اس مذہب کے بانی کو بھی عبدالله سبایمانی نام کے ایک شخص سے پہچنوایا ۔

فرقہ سبئيہ کے بانی کے نام “ عبدالله سبا ” کو بھی سيف نے ایک خوارج کے گروہ کے سرپرست “ عبدالله بن وهب ” کے نام سے لے کر اس ميں اس طرح تحریف کی ہے جيسا کہ بلاذری ، اشعری ، اورمقریزی کے بيانات سے اس کا اشارہ ملتا ہے ۔

ی ا یہ کہ اس نے ایک افسانہ جعل کياہے اور اپنے افسانہ کيلئے ایک ہيرو خلق کيا ہے اور اس ہيرو کيلئے بلا واسطہ “ عبدالله بن سبا’ ’ نام رکھا ہے بغير ا سکے کہ اس نام کو کسی اور نام سے ليا یا اقتباس کياہو۔

ب ہر صورت “ عبدالله ” کے سلسلہ ميں علی عليہ والسلام و عثمان کے زمانے ميں زندگی کرنے والے عبدالله بن وهب سبائی کے علاوہ کوئی اور حقيقت نہيں ہے ۔

سيف کے افسانہ سبئيہ نے دوسری صدی ہجری اور تيسری صدی ہجری کے اوائل ميں عراق کے شہروں ، جيسے : کوفہ ١ بصرہ، بغداد اور اس کے اطراف ميں شہرت پائی ۔ ان شہروں ميں اسی افسانہ کے شہرت پانے کے بعد لفظ “ سبيئہ ” کا اصلی معنی ---وہی قبيلہ قحطان وسبئی کا انتساب تھا ---فراموش کيا گيا اور خاص طور پر خود سيف کے اپنے خيالات ميں جعل کئے گئے اسی جدید مذہبی فرقہ کے معنی ميں استعمال ہوا۔ ليکن اسی زمانہ جب لفظ “سبئيہ ” کوفہ اور بصرے ميں اس کے جدید معنی ميں منتشر ہوا تھا، یمن، مصر اور اندلس ميں اپنے اصلی اورپہلے معنی -- قبيلہ قحطان کے انتساب ---ميں استعمال ہوتا تھا --- اس لحاظ سے دوسری صدی ہجری اور تيسری صدی ہجری کے اوائل ميں لفط “ سبئيہ” دو مختلف اور الگ الگ معنی پر دلالت کرتا تھا اسلام کے مشرقی ممالک اور شہروں ميں جدید مذہبی فرقہ کے معنی ميں اور دوسرے شہروں اور ممالک ميں قبيلہ کی نسبت ميں ا ستعمال ہوتاتھا ۔

اس کے بعد افسانہ “ سبئيہ ” زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی زبانوں اور افواہوں کی شکل اختيار کر گيا اور گلی کوچوں کے لوگوں کے خرافات اوربيہودگيوں سے مخلوط و ممزوج ہوگيا اس طرح اس ميں وسيع پيمانے پر تغيرات اور تبدیلياں رونما ہوئيں اور اس کے نتيجہ ميں وہی معنی مذہبی فرقہ بھی ایک خرافات پر مشتمل معنی ميں تبدیل ہوگيا اور ان لوگوں کے بارے ميں ا ستعمال ہونے لگا جو علی عليہ السلام کے بارے ميں غلو کرکے ان کی الوہيت کے قائل تھے ۔

اس طرح افسانہ سبئی لفظ “ سبئيہ ” کے اپنے اصلی اور ابتدائی معنی یعنی قبيلہ کينسبت ميں اسلامی معاشرے کے تمام ممالک اور شہروں ميں منتشر ہونے کے بعد مکمل طورپر فراموشی کی نذرہو گيا اور اسی جدید مذہبی فرقہ کے معنی سے مخصوص ہو کر صرف ان افرادکے بارے ميں استعمال ہونے لگا جوعلی عليہ السلام کی وصایت یاا لوہيت کے قائل ہيں ۔

تاریخ ميں لفظ “ عبدالله سبا” کے نشيب و فراز

” عبد الله سبا ” چنانچہ گزشتہ صفحات ميں اشارہ کيا گيا ہے کہ ابتداء ميں اس لفظسے علی عليہ السلام کے زمانے ميں ز ندگی کرنے والے اور خوارج کا سردار مقصود تھا سيف کے افسانہ سازی اور افسانہ “ سبئيہ” کی اشاعت کے بعد “ عبدلله بن وهب ” سبائی فراموش ہوگيا اور لفظ “ عبد الله سبا” یمن سے آئے ہوئے ایک گمنام ، افسانوی اور یہودی شخص کے بارے ميں استعمال ہونے لگا اسی کی روایتوں کے مطابق یہ شخص علی عليہ السلام کی وصایت کا قائل تھا،ليکن زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ افسانہ سبئيہ گوناگوں نشيب و فراز

سے دوچار ہواا ور اس افسانہ کے سورما عبدالله بن سبا نے بھی قدرتی طورپر توہماتی اوراحساساتی روپ اختيار کر گيا اور علی عليہ السلام کی الوہيت کے معتقد فرقہ “ سبئيہ ” کو جعل کرنے والے ایک خطرناک غالی اور انتہا پسند شخص کيلئے استعمال ہونے لگا ۔

____________________

١۔ ابی مخنف عالم کوفی ( وفات ١۵٧ هء) کے یہاں ہم نے افسانہ سبئيہ کے بارے ميں سيف کی روایتوں ميں سے ایک روایت پائی کہ اس کی مزید وضاحت کيلئے “ کتاب ایک سو پچاس جعلی اصحاب ” کی جلد اول کے مقدمہ کی طرف کی رجوع کيا جائے


یہ تغير اور تبدیلياں کبھی بعض روایات کے معنی کو سمجھنے ميں اشتباہ کا سبب بنتی ہيں مثلاً: عبدالله اوراس کے بارے ميں روایتيں اور تاریخی روداد اور معصومين علی عليہ السلام کی احادیث بعض اوقات لفظی غلطيوں کی وجہ سے سيف کے جعل کردہ “ عبدالله سبا ” دوم کے بارے ميں تاویل و تطبيق ہوا ہے اورا س طرح تاریخی وقائع و مطالب اور معصومين عليہم السلام کی بعض احادیث ميں ممزوج ہوکر تاریخ و حدیث ميں قہری تحریف رونما ہوئی ہے مؤرخين کی عدم دقت و تحقيق نہ کرنے کی وجہ سے یہ اشتباہ و تحریف جبری کا سلسلہ،

صدیوں تک رہاہے اور نتيجہ کے طور پر اس تحریف نے رفتہ رفتہ تاریخ ميں جڑ پکڑ کر حقيقت کا روپ اختيار کرليا ہے یہ اشتباہ اور تحریف فقط ‘ عبدالله سبا ” اور “ سبئيہ ”سے مخصوس نہيں ہے بلکہ اسلامی لغات ميں ا یسے ہزاروں دوسرے الفاظ ایسے ہی انجام سے دوچار ہوئے ہيں اور علماء نے بھی ان کے بارے ميں کتابيں لکھ کر ان پرتحقيق کی ہے ليکن اسکے باوجو دایسے دوسرے تحریف شدہ الفاظ کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے جن کے بارے ميں غفلت ہوئی ہے اور وہ ان علماء کے قلم سے چھوٹ کر ان کی کتابوں ميں درج نہيں ہوئے ہيں نہ ہی ان پر تحقيق کی گئی ہے ۔

دونوں تحریف ہيں ، ليکن یہ کہاں اور وہ کہاں ؟

سيف کی تحریفات بھی صرف ان ہی دو لفظوں ‘ ‘ عبدالله بن سبا” اور “ سبئيہ’ تک محدود نہيں ہيں بلکہ اس نے تاریخ اسلام ميں بہت سے الفاظ ميں تحریف و تبدیلی کی ہے چنانچہ ہم نے اسکے بہت حصوں کو اپنی تاليفات ميں ذکر کيا ہے سيف کے علاوہ بھی بعض دوسرے افراد نے اسلامی لغت ميں کچھ تحریفات ایجاد کی ہيں ١ ليکن سيف کی تحریفات اور جعليات دوسروں کی تحریفات و جعليات سے کافی فرق رکھتی ہيں اس طرح کہ شاید دوسرے ایک لفظ با مطلب کو غلطی سے یا نادانستہ طور پر تحریف اس کے بعدابن جوزی اضافہ کرتے ہوئے کہتا ہے : ان زندیقوں کا کام یہ تھا کہ وہ روایات کو گڑهتے تھے اور انہيں علمائے حدیث کی کتابوں ميں درج کرتے تھے علماء بھی اس خيال سے کہ یہ احادیث ان کی اپنی ہيں ان سب کو اپنی روایتوں کے ضمن ميں نقل کرتے تھے ۔

یا ایک حقيقت کو نہ سمجھتے ہوئےتبدیل کردیں ، ليکن سيف ہميشہ عمداً اور خاص محرک و مقصد کے پيش نظر تحریف اور جعل کا کام انجام دیتا ہے اس خطرناک عمل سے اس کا مقصد ا س صحيح تاریخ کو آلودہ کرکے اس کی بنيادوں کوکهوکهلاو متزلزل کرنا ہے ۔ اس ميں اس کا محر ک زندیق ہونا اور شدید خاندانی تعصب ہے دوسرا تفاوت یہ ہے کہ: وہ خلفاء ، قدرتمندوں کے نفع ميں اورعام لوگوں کی پسند کے مطابق تاریخ اسلام ميں تحریف اور جعل انجام دیتاہے ۔

اس طرح وہ تمام ادوار ميں اپنے افسانوں اور جھوٹ کو رونق بخشنے ميں کامياب ہوا ہے ۔ اسی رویہ کو اختيار کرنے کی وجہ سے:

____________________

٣٧ ۔ ٣٨ ميں کہتا ہے : ابن ابی العوجا ملحد ، حماد بن سلمہ کا منہ بولا / ١۔ ابن جوزی اپنی کتاب “ موضوعات ” ( ١بيٹا اور تربيت یافتہ تھا ۔ وہ جھوٹی احادیث گڑه ليتا تھا ۔ انہيں چالاکی سے اور چوری چهپے حماد کی کتاب ميں وارد کرتا تھا جب کوفہ کے گورنر محمد بن سليمان نے اسے گرفتار کيا اور حکم دیاکہ اس کا سر قلم کيا جائے اورجب اسے اپنی موت کے بارے ميں یقين پيدا ہوا تو صراحت سے کہا: خداکی قسم ميں نے چار ہزار حدیث خود جعل کی ہيں اور انہيں آپ کے صحيح احادیث ميں ملا دیا ہے ۔


ا ولاً: سيف کی روایتوں نے صاحبان اقتدار اور وقت کی حکومتوں ميں رونق بازار اور سرگرم طرفدارپيدا کئے اور لوگوں ميں یہ روایتيں مورد استقبال قرار پاکر رواج اور اشاعت پاگئی ہيں ۔

ثانياً : سبئيہ کے بارے ميں سيف کے جعليات علماء اور دانشوروں سے پوشيدہ اور ناشناختہ رہے ہيں اس طرح اس کے دوسرے جعليات اور خيالی افسانے ،سيکڑوں اصحاب اور حدیث کے راوی شعراء بھی ان علماء کی نظر ميں حقيقت اور صحيح صورت ميں رونما ہوئے ہيں ۔

ابن سبا اور سبئيہ کے بارے ميں شيعوں کی روایتيں

عبدالله بن سبا اور سبئيہ کے نام پر جو روایتيں و مطالب اہل سنت کی کتابوں ميں ائی ہيں ، ان کے بارے ميں جس طرح گزشتہ صفحات ميں بيان ہو ا ، پہلے سيف نے انہيں جعل کيا ہے پھر افواہ کی صورت ميں لوگوں ميں پهيل گئی ہيں ان علماء اور مؤرخين نے بھی انہيں سيف اور لوگوں کی افواہوں سے لے کر اپنی کتابوں ميں درج کيا ہے ۔

ليکن جو روایتيں اس بارے ميں شيعوں کے ائمہ اہل بيت“ عليہم السلام ” سے ہم تک پہنچی ہيں اس سلسلے ميں ہم پہلے یہ کہنا چاہتے ہيں کہ ہم پر دقيق علمی بحث و تحقيق کے بعد ثابت ہوا ہے کہ تاریخ اسلام ميں قطعی طور پر کوئی شخص بنام عبدالله بن سبا اور گروہ و فرقہ بنام “ سبئيہ ” حقيقت ميں وجودنہيں رکھتا تھا ایک یا دو روایتوں ميں کسی غير موجود کے بارے ميں نام آنے سے اسے موجودکانام نہيں دیا جا سکتا ہے اور ایکغير موجود کو وجود نہيں بخش سکتا ہے اس بنا پر جو بھی روایت ائمہ اہل بيت عليہم السلام کے نام پر عبدالله سبا کے بارے ميں شيعی کتابوں ميں ائی ہے ، اگر اس روایت ميں ذکر ہوئے مطالب عبدالله بن وهب سبائی ---تاریخ اسلام ميں جس کا وجود تھا اور امام علی عليہ السلام کے زمانہ ميں زندگی بسر کرتا تھا--- سے تطبيق کرتے ہيں تو ایسے مطالب کے صحيح اور حقيقی ہونا کا احتمال ہے ، جيسے : ابن سبا کا امير المومنين کا آسمان کی طرف دعا کيلئے ہاتھ اٹھانے پر اعتراض کی روایت یا عبدالله بن سباکو مسيب کے ذریعہ علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے حضور لانے کی روائداد یا اس روایت کے مانند کہ جس کہ بارے ميں کہا جاتا ہے کہ علی ابن ابيطالب عبدالله بن سبا کی طرف سے مشکل ميں تھے ۔

اس قسم کی روایتيں جو عبدالله بن وهب سبائی کی زندگی اور روش سے تطبيق کرتی ہيں سب صحيح اور حقيقی ہوسکتی ہيں ۔

ليکن ہر وہ روایت جو عبدالله بن وهب کی زندگی اور روش سے تطبيق کرتی ہے وہ صحيح اور حقيقی نہيں ہوسکتی اور وہ جھوٹ کے علاوہ کچھ نہيں ہے کہ اسے گمنام ہاتھوں نے جعل کرکے ائمہ اہل بيت سے جھوٹی نسبت دیدی ہے ، شيعہ کتابوں ميں انہيں درج کيا گيا ہے تا کہ انہيں بيشتر اشاعت مل سکے اور عوامی سطح پر قابل قبول قرار پائيں ليکن “

عبدلله بن سبا ’ نامی شخص یا قعقاع اورا سی کے خلق کئے گئے دوسرے افراد کبھی صحيح نہيں ہوسکتے ہيں ۔

یہی وجہ ہے کہ ‘ سبئيہ” کے بارے ميں روایتوں کی شناخت کيلئے جو کلی قواعدا ور معيار ہمارے ہاتھ آیا ہے وہ یہ ہے کہ ان روایتوں ميں سے جو بھی راوی قبيلہ قحطان ---جنہيں سبئيہ بھی کہتے ہے---سے تطبيق کرے اس ميں صحيح اور واقعی ہونے کا امکان موجود ہے ورنہ صحيح نہيں ہوسکتی ہے کيوں کہ قحطان کے علاوہ اسلام ميں سبئيہ نام کا کوئی فرقہ وجود نہيں رکھتا تھا تاکہ اس سے مربوط مطالب اور روایتيں صحيح ہوسکيں ۔

ان تمام تحقيقات اور جانچ پڑتال کے بعد کہ ہم نے حقائق کو جھوٹ اور کذب سے جداکرنے ميں جو تلاش اور کوشش کی ہے اگر پھر بھی کوئی شخص ابن سبا ، سبئيہ اور سيف کی دوسری جعليات و تحریفات کے بارے ميں جنہيں ہم نے اپنی اس کتاب ميں ذکر کيا ہے ، اسے قبول کرنا پسند نہ کرے اور اس کے تمام منحرف انگيز اور خرافات پر مشتمل افسانوں پر ایمان لانا چاہے تو اس کی مثال ان بوڑهی عورتوں کی جيسی ہے جو خرافات پر مشتمل افسانوں پر اعتقاد رکھتی ہيں ۔

یہاں پر ہم سيف کے اپنے ذہن ميں جعل کئے گئے عبدالله بن سبا و سبئيہ اور دوسرے افسانوی سورماؤں اور افسانوں کے بارے ميں اپنی بات کاخاتمہ کرتے ہيں اور بار گاہ الٰہی سے دست بہ دعا ہيں کہ علماء کو یہ توفيق عنایت فرمائے تا کہ وہ اسلامی حقائق کو افسانوی اور خرافات سے جلد از جلد جدا کریں ۔

والله ولی التوفيق وهو حسبناو نعم الوکيل


اس حصہ کے مآخذ

١۔ خمسون و مائة صحابی مختلق ، تيسرا مقدمہ ، طبع بغداد ٢۔ عبدالله بن سبا ، جلد اول ، حصہ سقيفہ ٣۔ نقش عائشہ جلد دوم ، عائشہ در دوران علی عليہ السلام ۵ ٢ ۔ ١ ۵ ٣١ ، حکومت علی کے دوران وقائع / ۴ ۔ تاریخ ابن اثير : ٢

۵ ۔ وقعة صفين : نصر بن مزاحم ١٢

۶ ۔ نہج البلاغہ خطبہ نمبر : ١ ۶ ٧

٧۔ نہج البلاغہ خطبہ نمبر ٣٣

٨۔ نہج البلاغہ خطبہ نمبر ٣ ۶

کتاب کے منابع و مآخذ کی فہرست

١۔ الآثار الباقيہ عن قرون الخالية :تاليف، ابو ریحان محمد بن احمد بيرونی خوارزمی( ٣ ۶ ٢ ۔

۴۴ ٠ ه) ( ٩٧٣ ۔ ١٠ ۴ ٨ ء) طبع لایپزیک ١٩٣٢ ءء۔

٢۔ الاحکام السلطانيہ: تاليف ، قاضی ابو یعلی محمد بن حسيں فراء حنبلی مشہور بہ ماوردی ( ٣٨٠ ۔ ۴۵ ٨ ه)( ٩٩٠ ۔ ١٠ ۶۶ ء) تصحيح ، محمد حامد فقی ، طبع مصطفی حلبی (

١٣ ۵۶ ئه)۔

٣۔ الاخبار الطوال : تاليف ، ابو حنيفہ احمد بن داودبن ونند دینوری ، ( ۔ ٢٨٢ ه) ( ۔

٨٩ ۵ ء ) طبع وزارة الثقافة و الارشاد مصر، ( ١٩ ۶ ٠ ء(

۴ ۔ الاستيعاب فی معرفة الاصحاب : تاليف ابو عمر یوسف بن عبدالله مشہور بہ ابن عبد البر نمری قرطبی اشعری ( ٣ ۶ ٨ ۔ ۴۶ ٣ یا ۴۶ ٠ ه) ( ٩٧٩ ۔ ١٠٧١ م) طبعمصر ، سال ١٣ ۵ ٨ ه اور طبع حيدر آباد، ١٣٣ ۶ ه(

۵ ۔ اسد الغابة ، تاليف ،عز الدین علی بن محمد بن محمد بن عبد الکریم شيبانی جزری مشہور بہ ابن اثير ، ( ۵۵۵ یا ۵۵ ٠ ۔ ۶ ٣٠ ه) ( ١١ ۶ ٠ ۔ ١٢٣٢ ء) طبع قاهرہ ، سال ٢٣٨٠ ه ۔

۶ ۔ الاصابہ فی تمييز الصحابہ : تاليف ابو الفضل شهاب الدین احمد بن علی بن محمد کنانی عسقلانی مصری شافعی معروف بہ ابن حجر ، ( ٧٧٣ ۔ ٨ ۵ ٢ ه ) ( ١٣٧٢ ۔ ١ ۴۴ ٩ م) طبع مصر ١٣ ۵ ٨ ه۔

٧۔الاعلام : تاليف ، خير الدین مشہور بہ زرکلی ،معاصر ، طبع سال ١٣٧٣ ۔ ١٣٧٨ ه ) (

١٩ ۵۴ ۔ ١٩ ۵ ٩ ء)پریس کوستاتسوماس۔

٨۔ الاغانی : تاليف ابو الفرج علی بن حسين بن محمد بن موسی مروانی ( ٢ ۴ ٨ ۔ ٣ ۵۶

ه) ( ٨٩٧ ۔ ٩ ۶ ٧ ء ) طبع مصر ( ١٣٢٣ ءء(

٩۔ ا لامامة و السياسة یا تاریخ الخلفاء : تاليف ابن قتيبہ ابو محمد عبدا لله بن مسلم دینوری ( ٢١٣ ۔ ٢٧ ۶ یا ٢٧١ ه) ( ٨٢٧ ۔ ٨٩٩ ء ) ۔اور چونکہ کچھ لوگوں نے مولف کی جانب اس کتاب کی استناد ميں شک کيا ہے اسی لئے ہم نے صرف کتاب سے نقل نہيں کيا ہے بلکہ دوسری معتبر کتابوں ميں اس کی تائيد بھی ملی ہے۔

١٠ ۔ امتاع الاسماع : تاليف تقی الدین احمد بن علی بن عبدالقادر بن محمد شافعی ١٣ ۶ ٧ ۔ ١ ۴۴ ١ ء) طبع مصر پریس لجنة التاليف ( ١٩ ۴ ١ ءء)۔ )( مشہور بہ مقریزی ( ٧ ۶ ٩ ۔ ٨ ۴۵

١١ ۔ انساب الاشراف : تاليف بلاذری ابو جعفر احمد بن یحيی بن جابر بغدادی (وفات ٢٧٩

ءء ) ( ٨٩٢ ءء) ، طبع مصر دار المعارف مصر ١٩ ۵ ٩ ء(

١٢ ۔ ایضاح المکنون : کشف الظنون ملاحظہ ہو۔

١٣ ۔بخاری ، صحيح بخاری ملاحظہ ہو۔

١ ۴ ۔ البدء و التاریخ: تاليف ابو زید احمد بن سہل بلخی ( ٢٣ ۵ ۔ ٣٢٢ ه) ( ٨ ۴ ٩ ۔ ٩٣ ۴ ء )

طبع پيرس ( ١٩٠١ ۔ ١٩٠٣ ء ) البتہ کچھ علماء محمد بن طاهر مقدسی ( ۴۴ ٨ ۔ ۵ ٠٧ ه ) ( ١٠ ۵۶ ۔

١١١٣ ء) کو کتاب کا مؤلف جانتے ہيں ۔

١ ۵ ۔ تاج العروس فی شرح القاموس : تاليف محمد بن محمد بن محمد مقلب بہ مرتضی واسطی زبيدی حنفی ( ١١ ۴۵ ۔ ١٢٠ ۵ ه ) ( ١٧٣٢ ۔ ١٧٩١ ء ) طبع اول۔

١ ۶ ۔ الکامل فی التاریخ معروف بہ تاریخ ابن اثير : تاليف ابن اثير صاحب اسد الغابہ طبع قاهر ہ ١٣ ۴ ٧ ۔ ١٣ ۵۶ ه ، ایضاً طبع قاهرہ ، ١٢٩٠ ۔ ١٣٠٣ ه

١٧ ۔ العبرمعروف بہ تاریخ ابن خلدون : تاليف ابو زید عبدالرحمن بن محمد بن خلدون مالکی شبيلی مغربی حضرمی ( ٧٣٢ ۔ ٧٠٨ ه ) ( ١٣٣٢ ۔ ١ ۴ ٠ ۶ ء ) پریس مطبعة النهضہ مصر (

١٣ ۵۵ ه(

١٨ ۔ نزهة النواظر معروف بہ تاریخ ابن شحنہ : تاليف محمد بن محمد بن محمد مشہور بہ ابن شحنہ حنفی ( ٧ ۴ ٩ ۔ ٨١ ۵ ه) ( ١٣ ۴ ٨ ۔ ١ ۴ ١٢ ء) طبع قاهرہ ( ١٢٩٠ ۔ ١٣٠٣ ه ) ۔

١٩ ۔ تاریخ مدینة دمشق ، معروف بہ تاریخ ابن عساکر: تاليف ابو القاسم علی بن حسين بن هبة الله دمشقی مشہور بہ ابن عساکر ( ۴ ٩٩ ۔ ۵ ٧١ ه) ( ١١٠ ۵ ۔ ١١٧ ۶ ء ) جلد ا و ٢ طبع مجمع علمی دمشق۔

٢٠ ۔ البدایة و النهایة ، مشہور بہ تاریخ ابن کثير: تاليف عماد الدین ابو الفداء اسماعيل بن عمرو بن کثير قرشی دمشقی بصری ، شافعی ( ٧٠٠ یا ٧٠١ ۔ ٧٧ ۴ ه ( ١٣٠١ ۔ ١٣٧٣ ء ) طبع مطبعہ السعادة ۔

٢١ ۔ المختصر فی اخبار البشر ،مشہور بہ تاریخ ابوالفداء : تاليف عماد الدین اسماعيل بن علی بن محمود شافعی مشہور بہ ابو الفداء صاحب حماة ( ۶ ٧٢ ۔ ٧٣٢ ه ) ( ١٢٧٣ ۔ ١٣٣١ ء(

٢٢ ۔ تاریخ الادب العربی : تاليف: نيکلسن ، طبع کمبریج ٢٣ ۔ تاریخ الاسلام الکبير: تاليف شمس الدین ابو عبدالله محمد بن احمد بن عثمان بن قایماز ترکمانی مصری شافعی مشہور بہ ذهبی ۶ ٧٣ ۔ ٧ ۴ ٨ ه ) ( ١٢٧ ۴ ۔ ١٣ ۴ ٨ ء ) طبع قاهرہ (

١٣ ۶ ٧ ه(

٢ ۴ ۔ تاریخ الاسلام السياسی ،طبع اول مصر تاليف ڈاکٹر حسن ابراہيم حسن ( پی ، ایچ ،

ڈی ، فلسفہ و اخلاق (

٢ ۵ ۔ تاریخ الکبير بخاری: تاليف ابو عبد بالله محمد بن اسماعيل بن ابراہيم ( ١٩ ۴ ۔ ٢ ۵۶ ه )

٨١٠ ۔ ٨٧٠ ء ) طبع حيدر آبار ١٣ ۶ ١ ه۔اس کتاب ميں مولف نے موثق اور ضعيف راویوں کو جمع )

کيا ہے۔

٢ ۶ ۔ تاریخ بغداد :تاليف احمد بن علی بن ثابت ، مشہور بہ خطيب بغدادی ( ٣٩٢ یا ٣٩١ ۔

۴۶ ٣ ه) ( ١٠٠٢ ۔ ١٠٧١ ء ) طبع مصر۔

٢٧ ۔ تاریخ الخميس : تاليف شيخ حسين بن محمد بن حسن دیار بکری مالکی ( وفات ) ٩ ۶۶

٢٨ ۔ تاریخ الخلفاء ،معروف بہ تاریخ سيوطی : تاليف جلال الدین عبدالرحمن ابو بکر ناصر الدین محمد شافعی مشہور بہ سيوطی ( ٨ ۴ ٩ ۔ ٩١١ ه) ١ ۴۴۵ ۔ ١ ۵ ٠ ۵ طبع مصر ١٣ ۵ ١ ء ٢٩ ۔ تاریخ الامم و الملوک مشہور بہ تاریخ طبری: تاليف ابو جعفرمحمد بن جریر ابن یزید ٢٢ ۴ ۔ ٣١٠١ ه ) ( ٨٣٩ ۔ ٩٢٣ ه ) طبع لدن ، پریس حسينيہ مصر ( ١٣٢ ۴ ه ( طبری ٠

٣٠ ۔ تاریخ یعقوبی : تاليف احمد بن ابی یعقوب اسحاق بن جعفر اخباری مشہور بہ یعقوبی و ابن واضح (وفات ٢ ۴ ٨ ۔ه)( ٨٩٧ ) طبع نجف ( ١٣ ۵ ٨ ) طبع دار صادر بيروت، سال ١٣٧٩ ه( )

٣١ ۔ تجرید اسماء الصحابہ : تاليف ذهبی صاحب تاریخ اسلام ، طبع حيدر آباد ( ١٣ ۴ ٢ ه(

٣٢ ۔ تذکرہ خواص الامة معروف بہ تذکرہ سبط ابن جوزی: تاليف ابو مظفر شمس الدین یوسف بن قزاوغلی بن عبدالله بغدادی حنفی مشہور بہ سبط ابن جوزی( ۵ ٨١ یا ۵ ٨٢ ۔ ۶۵۴ ه)

١١٨ ۵ ۔ ١٢ ۵۶ ء) طبع نجف سال ١٣ ۶ ٩ ه۔

٣٣ ۔ تلخيص مستدرک حاکم: تاليف ذهبی صاحب تاریخ الاسلام ، طبع حيدر آبا ( ١٣ ۴ ٢ ه(

٣ ۴ ۔ تلخيص معالم دار الهجرة : تاليف زین الدین ابو بکر بن حسين بن عمر مراغی ٧٢٧ یا ٧٢٩ ۔ ٨١ ۶ ه ( ١٣٢٧ ۔ ١ ۴ ١ ۴ ء ) طبع سال ١٣٧ ۴ ه تحقيق محمد عبدالجواد اصمعی۔

٣ ۵ ۔ التمهيد : تاليف ابو بکر محمد بن طيب بن محمد بصری اشعری مشہور بہ باقلانی (

٣٣٨ ۔ ۴ ٠٣ ه) ٩ ۵ ٠ ۔ ١٠١٣ ء ۔

٣ ۶ ۔ التمهيد و البيان فی مقتل الشہيد عثمان : تاليف ابو عبدا لله محمد بن یحيی بن محمد اشعری مالکی اندلسی مشہورر بہ ابن ابوبکر ( ۶ ٧ ۴ ۔ ٧ ۴ ١ ه ) ١٢٧ ۵ ۔ ١٣ ۴ ٠ م(

٣٧ ۔ التنبيہ و الاشراف : تاليف ابو الحسن علی بن الحسين شافعی ( ٣ ۴۵ ئيا ٣ ۴۶ هء ٩ ۵۶ ءء طبع مصر تصحيح صاوی ۴ ٨ ۔ تہذیب تاریخ ابن عساکر : تاليف عبدالقادر بن احمد بن بدران ١٣ ۶۶ هء ٩٢٧ ءء طبع اول دمشق ١٣٢٩ ه۔

٣٩ ۔ تہذیب التہذیب : تاليف ابن حجرمعروف بہ صاحب اصابہ ، طبع حيدر آباد ( ١٣٢ ۵ ۔

١٣٢٧ ه(

۴ ٠ ۔ تيسير الوصول الی جامع الاصول : تاليف وجيہ الدین ابو عبدالله عبدالرحمن بن علی ١ ۵ ٣٨ یا ١ ۵ ٣٧ ء ) ، ١ ۴۶ ١ ) بن محمد مشہور بہ ابن الدیبع شيبانی زبيدی شافع ۔ ( ٨ ۶۶ ۔ ٩ ۴۴

طبع مصر ،سال ١٣ ۴۶ ه

۴ ١ ۔ الجرح و التعدیل : تاليف ابو محمد عبدالرحمن بن ابی حاتم بن محمد ( ٢ ۴ ٠ ۔ ۴ ٢٧ ه)

٨ ۵۴ ۔ ٩٣٨ ء ء) طبع حيدرآباد سال ١٣٧٢ ه )

۴ ٢ ۔ الحضارة الاسلامية : تاليف مشتخبرشناس آدم متن ترجمہ بہ عربی بقلم عبدالهادی ابوربدہ طبع دوم پریس لجنة التاليف و الترجمہ و النشر قاهرہ ، سال ١٣ ۶۶ هء۔

۴ ٣ ۔ خصائص : خصائص الکبری : تاليف سيوطی صاحب تاریخ الخلفاء ، طبع حيدرآباد ١٣١٩ هء۔

۴۴ ۔ خلاصة تہذیب الکمال فی اسماء الرجال : تاليف صفی الدین احمد بن عبدالله خزرجی انصاری ( ٩٠٠ وفات ٩٢٣ ئه کے بعد) ( ١ ۴ ٩ ۵ ۔ ١ ۵ ١٧ ء ) کتاب کی تاليف کا سال ٩٢٣ ه تھا طبع قاهرہ ١٣٢٣

۴۵ ۔ خطط مقریزی: تاليف صاحب امتاع الاسماع ،طبع مصر۔

۴۶ ۔ دائرة المعارف الاسلاميہ: تاليف ، مشرق شناس، هوٹسمان ویشنگ،آرنالڈ وبرونسال ، ہيفن ، و شادہ ، وباسہ ، ہارٹمان، جيب ، انسائکلوپيڈیا اصل ميں انگلش ، جرمنی اور فرانسيسی زبان ميں تاليف کی گئی ہے اور اس کے بعد مصری اساتذہ محمد ثابت اور احمد شنتاوی ، ابراہيم زکی خورشيد اور عبدالحميد یونس نے اکتوبر ١٩٣٣ ءء سے اس کا عربی زبان ترجمہ شروع کيا ، ہم نے اس کتاب کا انگلش ایڈیشن ملاحظہ کيا ہے۔

۴ ٧ ۔ دائرة المعارف القرن العشرین مشہور بہ دائرة المعارف فرید وجدی: تاليف محمد فرید مصطفی وجدی ( ١٢٩٢ ۔ ١٣٧٣ ه ) ( ١٨٧ ۵ ۔ ١٩ ۵۴ م) طبع اول مصر۔

۴ ٨ ۔ دلائل النبوة : تاليف حافظ ابو نعيم احمد بن عبدالله اصفہانی ( ٣٣ ۶ یا ٣٣ ۴ ۔ ۴ ٣٠ ه )

٩ ۴ ٣ ۔ ١٠٣٨ ) طبع حيدر آباد ( ١٣٢٠ ه(

۴ ٩ ۔ الدولة العربية و سقوطها: تاليف یوليوس و لهاوزن ، ترجمہ عربی بہ قلم ڈاکٹر یوسف العش طبع مطعة الجامة السوریة دمشق ( ١٣٧ ۶ ۔ ٩ ۵۶ ءء(

۵ ٠ ۔ الذریعة الی تصانيف الشيعة : تاليف شيخ محمد محسن الطهرانی ( حاج شيخ آغا بزرگ تہرانی) طبع اول نجف ، طهران ۵ ١ ۔ ذیل کشف الظنون : تاليف صاحب هدیة ، طبع استنبول ( ١٣ ۶۴ ه ١٣ ۴۵ ء(

۵ ٢ ۔روضة الصفا:تاليف مير خواند محمد بن خاوند شاہ بن محمود شافعی( وفات ٩٠٣ ه )

١ ۴ ٩٧ ء( )

۵ ٣ ۔ الریاض النضرة : تاليف احمد بن عبدالله بن محمد شافعی مشہور بہ محب الدیں طبری ( ۶ ١٠ یا ۶ ١ ۴ یا ۶ ١ ۵ ۔ ۶ ٩ ۶ ه ) ( ١٢١٨ ۔ ١٢٩ ۵ ء(

۵۴ ۔ السقيفة و فدک ، معروف بہ سقيفة جوہری : تاليف ابو بکر احمد بن عبدالعزیز جوہری ، ١٠٩ / بحار ميں ج ٨

۵۵ ۔ السنة و الشيعة : تاليف سيد محمد رشيد رضا ابن علی بن رضا قلمونی مصری بغدای الاصل ( ١٣٨٢ ۔ ١٣ ۵۴ ه ) ( ١٨ ۶۵ ۔ ١٩٣ ۵ ء(

۵۶ ۔ سنن ابن ماجہ: تاليف ابو عبدالله محمد بن یزید بن عبدالله بن ماجہ قزوینی ( ٢٠٩ ۔

٢٧٣ ه ) ( ٨٢ ۴ ۔ ٨٨٧ م ) چاپ قاهرہ ( ١٣٧٣ ه ) تصحيح محمد فؤاد عبدالباقی۔

۵ ٧ ۔ سنن ابو داود سجستانی : تاليف سليمان بن اشعث بن اسحاق بن بشير بن شداد ازدی حنبلی جوکہ حفاظ حدیث تھا ، ( ٢٠٢ ۔ ٢٧ ۵ ه ) ٨١٧ ۔ ٨٨٩ ء ) طبع لکھنو ( ١٣٢١ ه(

۵ ٨ ۔ صحيح ترمذی معروف بہ سنن ترمذی : تاليف محمد بں عيسی بن سورة سلمی (

٢١٠ ۔ ٢٧٩ ه ) ، ( ٨٢ ۵ ۔ ٨٩٢ ه ) طبع بولاق ١٢٩٢ ۔ و طبع المطبعة المصریة ( ١٣ ۵ ٠ ۔ ١٣ ۵ ٢ ه(

۵ ٩ ۔ سنن دارمی : تاليف ابو محمد عبدالله بن الرحمن دارمی ( ١٨١ ۔ ٢ ۵۵ ه) ( ٧٩٧ ۔ ٨ ۶ ٩

ء ) طبع مطبعہ اعتدال دمشق شام سال ١٣ ۴ ٩ ۔

۶ ٠ ۔ السيادة العربية و الشيعة و الاسرائيليات : تاليف مشرق شناس فان فلوٹن ، عربی ترجمہ ڈاکٹر حسن ابراہيم حسن کے قلم سے طبع اول مصر سال ١٩٣ ۴ ءء۔

۶ ١ ۔ السيرة الحلبية : انسان العيون فی سيرة الامين و المامون : تاليف علی بن برهان الدین حلبی شافعی ( ٩٨ ۴ ۔ ١٠ ۴۴ ه ) ( ١ ۵۶ ٧ ۔ ١ ۶ ٣ ۵ ء ) طبع مصر ( ١٣ ۵ ٣ ه(

۶ ٢ ۔ السيرة النبویة : تاليف احمد بن زینی دحلان مکی شافعی ( ١٢٣١ ۔ ١٣٠ ۴ ه ) (

١٨١ ۶ ۔ ١٨٨ ۶ ء) ، تاریخ تاليف ( ١٢٧٨ ه (

۶ ٣ ۔ شذرات الذهب : تاليف عبدالحی بن احمد بن محمد دمشقی حنبلی مشہور بہ ابن ١٠٨٩ ه) ( ١ ۶ ٢٣ ۔ ١ ۶ ٧٩ ء) طبع مصر سال ١٣ ۵ ٠ ۔ ١٣ ۵ ١ ه( ، العماد ( ١٠٣٣

۶۴ ۔ شرح ابن ابی الحدید : تاليف عزالدین ابو حامد عبدالحميد بن هبة الله محمد مدائنی معتزلی مشہور بہ ا بن ابی الحدید ( ۵ ٨ ۶ ۔ ۶۵۵ ه ) ( ١١٩٠ ۔ ١٢ ۵ ٧ ء ) طبع اول مصر مطبعہ الحلبی مصر و طبع دوم تحقيق ابوالفضل ابراہيم ( ١٩ ۵ ٩ ۔ ١٩ ۶ ٣ ء) ۴۶ و چاپ سنگی ایران۔

۶۵ ۔ صحيح بخاری : تاليف صاحب کتاب مشہور بہ تاریخ بخاری ، طبع مصر ( ١٣٢٧ ء(

۶۶ ۔ صحيح ترمذی : سنن ترمذی ٢٠ ۶ ٧ ۔ صحيح مسلم : تاليف ابو الحسين مسلم بن حجاج قشيری نيشاپوری ( ٢٠ ۶ ی ۴

۔ ٢ ۶ ١ ه ) ( ٨١٠ ۔ ٨٧ ۵ ء ) طبع مصر سال ١٣٣ ۴ ه۔

۶ ٨ ۔ صفة الصفوة : تاليف ابی الفرج عبدالرحمان بن علی بن محمد بکری حنبلی مشہور بہ ابن جوزی ( ۵ ١٠ ۔ ۵ ٩٧ ه ) ( ١١١ ۶ ۔ ١٢٠١ ) طبع حيدر آباد ( ١٣ ۵ ٧ ه(

۶ ٩ ۔ کتاب الصفين : تاليف نصر بن مزاحم بن سيار منقری کوفی ( ٢١٢ ه ) ( ٨٢٧ ء ) طبع مصر۔ ٧٠ ۔ طبری: تاریخ طبری ٧١ ۔ طبقات ابن سعد: کتاب طبقات صحابہ و تابعين : تاليف ابو عبدالله محمد بن سعد بن منيع زهری بصری ( ١ ۶ ٨ ۔ ٢٣٠ ه ) ( ٧٨ ۴ ۔ ٨ ۴۵ ء) طبع بيروت ١٣٧ ۶ ۔ ١٣٧٧ ه ) طبع لنڈن۔

٧٢ ۔ طبقات شافعيہ کبری: تاليف : تاج الدین عبدالوهاب بن علی بن عبدالکافی شافعی مشہور بہ سبکی ( ٧٢٧ یا ٧٢٨ ۔ ٧١١ ه ) ( ١٣٢٧ ۔ ١٣٧٠ ء ) طبع اول مصر پریس حسينيہ سال ١٣٢ ۴ ه ۔

٧٣ ۔ عایشہ و سياست : تاليف سعيد افغانی ( معاصر ) طبع قاهرہ ، پریس لجنة التاليف و النشر (سال ١٩ ۴ ٧ ء )۔

٧ ۴ ۔ العقد الفرید: تاليف شہاب الدین احمد بن محمد بن عبد ربہ اندلسی مروانی مالکی (

٣٢٨ ه ) ( ٨ ۶ ٠ ۔ ٩ ۴ ٠ ء ) طبع مصر ( ١٣٧٢ ه( ) ٢ ۴۶

٧ ۵ ۔ عقيدة الشيعہ : تاليف دوایٹ ،م، دونولڈسن ، عربی ترجمہ عبدالمطلب ، طبع پریس سعادت قاہرہ ( ١٣ ۶۵ ۔ ١٩ ۴۵ ء(

٧ ۶ ۔ عيون الاثر: تاليف، فتح الدین ابوالفتح محمد بن محمد بن محمد بن عبدالله شافعی ١٢٧٣ م) پریس - ۶ ٧١ ه/ ١٣٣ ۴ - یعمری اندلسی اشبيلی مصری مشہور بہ ابن سيد الناس ( ٧٣ ۴

قدسی قاہرہ ١٣ ۵۶ ه

، ٧٧ ۔ فتوح البلدان: تاليف بلاذری صاحب انساب الاشراف ، طبع مصر، سال ١٣١٩

٧٨ ۔ فجر الاسلام : تاليف احمد امين مصری ( ١٢٩ ۵ ۔ ١٣٧٣ ه ) ( ١٨٧٨ ۔ ١٩ ۵۴ ء)، طبع لجنة التاليف و النشر قاہرہ ، ١٩ ۶۴ ۔

٧٩ ۔ فہرست ابن ندیم ، فوز العلوم : تاليف ابوا لفرج محمد بن اسحاق بن ابی یعقوب ندیم معتزلی ( ۴ ٣٨ ه ) ( ١٠ ۴ ٧ ء ) طبع مصر ١٣ ۴ ٨ ۔

٨٠ ۔ القاموس ، القاموس المحيط : تاليف ، مجد الدین ابو طاهر محمد بن یعقوب بن محمد شيرازی شافعی مشہور بہ فيروز آبادی ( ٧٢٩ ۔ ٧١٧ ه ) ( ١٣٢٩ ۔ ١ ۴ ١ ۴ ء ) طبع ، مصر ، ( ١٣ ۵ ٣

۔ ١٣ ۵۴ ه(

٨١ ۔ کشف الظنون عن اسامی الکتب و الفنون : تاليف حاجی خليفہ مصطفی بن عبدالله

١ ۶ ٠٩ ۔ ١ ۶۵ ٧ ء) طبع اسٹنبول ( ١٣ ۶ ٠ ۔ ١٣ ۶ ٢ ه( ) ( مشہور بہ کاتب حلبی ( ١٠١٧ ۔ ١٠ ۶ ٧

٨٢ ۔ کنز العمال فی سنن الاقوال و الافعال : تاليف علاء الدین علی بن حسام الدین عبدالملک بن قاضخان مشہور بہ متقی ہندی ( ٨٨ ۵ ۔ ٩٧ ۵ ه ( ١ ۴ ٨٠ ۔ ١ ۵۶ ٧ ء ) سال ٩ ۵ ٧ ه ،

طبع حيدر آباد ( ١٣١٣ ه(

٨٣ ۔ اللئالی المصنوعة فی الاحادیث الموضوعة : تاليف سيوطی صاحب تاریخ الخلفاء ،

٨ ۴ ۔ اللباب فی تہذیب الانساب : تاليف ابن اثير صاحب تاریخ ابن اثير ، طبع قدسی، سال ١٣ ۵ ٧ ه

٨ ۵ ۔ لسان الميزان : تاليف ابن حجر صاحب اصابہ طبع حيدر آباد ، ( ١٣٢٩ ه(

٨ ۶ ۔ مروج الذهب: تاليف مسعودی صاحب التنبيہ و الاشراف ، طبع مصر ( ١٣ ۴۶ ه(

٨٧ ۔ کتاب المستدرک علی الصححين : بخاری و مسلم، تاليف ابو عبدالله محمد بن عبدالله

بن محمد نيشاپوری ( ٣٢١ ۔ ۴ ٠ ۵ ه ) ( ٩٣٣ ۔ ١٠١ ۴ ء ) طبع حيدرا آباد ( ١٣٣ ۴ ء(

٨٨ ۔ مسند احمد ، تاليف : ابو عبد الله احمد بن محمد بن حنبل شيبانی مروزی ( ١ ۶۴ ۔

٢ ۴ ١ ه (

٨٩ ۔ مسند طيالسی : تاليف سليمان بن داود بن جارود طيالسی ( ١٣٣ ۔ ٢٠ ۴ یا ٢٠٣ ه )

٧ ۵ ١ ۔ ٨٢٠ ء ) طبع حيدر آباد ( ١٣٢١ ه( )

٩٠ ۔ معجم الادباء : تاليف ابوعبدالله یاقوت بن عبدالله حموی رومی بغدادی ( ۵ ٧ ۴ ۔

۶ ٢ ۶ ه)( ١١٧٨ ۔ ١٢٢٩ ء ) طبع دمشق مطبعہ الترقی ،سال ١٣٧ ۶ ه۔

٩١ ۔ معجم البلدان : تاليف یاقوت حموی معروف کہ صاحب معجم الادباء طبع یورپ و طبع بيروت ( ١٣٧ ۴ ۔ ١٣٧ ۶ ه(

٩٢ ۔ معجم المولفين : تاليف عمر رضا کحالہ ( معاصر) طبع مطبعہ الترقی بدمشق ، (

١٣٧ ۶ ۔ ١٣٨١ ه) ( ١٩ ۵ ٧ ۔ ١٩ ۶ ١ ء(

٩٣ ۔ مقاتل الطالبين : تاليف ابوالفرج معروف بہ صاحب اغانی طبع قاهرہ ، ( ١٣٢٣ ه(

٩ ۴ ۔ مقدمہ ابن خلدون : تاليف ابن خلدون صاحب تاریخ ابن خلدون ، طبع مطبعہ النہضة

قاهرہ ( ١٣ ۵۵ ه(

٩ ۵ ۔ الملل و النحل : تاليف شہرستانی ابو الفتح محمد بن عبدا لکریم بن احمد اشعری (

۵۴ ٨ یا ۵۴ ٩ ه) ( ١٠٧ ۵ ۔ ١١ ۵ ٣ ء( ، ۴۶ ٧ یا ۴ ٧٩

٩ ۶ ۔ منتخب کنز ل العمال : تاليف علاء الدین هندی ، طبع اول مصر ۔

٩٧ ۔ الموفقيات: تاليف زبير بن بکار بن عبدالله بن مصعب بن ثابت بن عبدالله بن زبير( ١٧٢

۔ ٢ ۵۶ ه) ( ٧٨٩ ۔ ٨٧٠ ء) ہم نے اس کتاب سے نقل کرنے ميں شرح نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید پر اعتماد کيا ہے۔

٩٨ ۔ ميزان الاعتدال : تاليف ذهبی صاحب تاریخ اسلام ، طبع لکھنو ( ١٣٠ ۶ ه(

٩٩ ۔ سيرة اعلام النبلاء : تاليف ذهبی معروف بہ صاحب تاریخ اسلام طبع اول قاہرہ پریس دار المعارف ( ١٩ ۵ ٧ ه(

١٠٠ ۔نسب قریش : تاليف ابو عبدالله مصعب بن الزبيری ( ١ ۵۶ ۔ ٢٣ ۶ ه ) ( ٧٧٣ ۔ ٨ ۵ ١ ء ) از

انتشارات مشرق شناس ، الف ،ليفی ، برنسال طبع ( دار المعارف(

١٠ ۔نہج البلاغہ ، تاليف شریف رضی محمد بن حسين بن موسیٰ ( جوحضرت موسی ١

بن جعفر عليہ السلام کی پاک و پاکيزہ دریت ميں ہيں ) ( ٣ ۵ ٩ ۔ ۴ ٠ ۶ ه ) ( ٩٧٠ ۔ ١٠١ ۵ ء) طبع مصر شرح محمد عبدہ۔

١٠٢ ۔ ہدیہ۔ ہدیة العارفين الی اسما ء المؤلفين، تاليف اسماعيل پاشا ابن محمد امين بن مير سليم بغدادی، ( ١٩٣٩ م) ( ١٩٢٠ م) طبع اسلامبول ( ١٣ ۶۴ ۔ ١٣ ۶۶ ه)۔

١٠٣ ۔ وفيات ، (وفيات الاعيان ): تاليف احمد بن محمد بن ابراهيم بر مکی اربلی شافعی مشہور بہ ابن خلکان ، طبع پریس النهضة مصر ( ١٣ ۶ ٧ ه)۔

ضميمہ فہرست مآخذ ١۔ جمہرة الانساب: تاليف ، هشام بن محمد بن سائب معروف بہ ابو منذر ( وفات ٢٠ ۴ ه)

یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے کہجس کی پہلی جلد قبيلہ عدنان کی نسب کے بارے ميں اور دوسری جلد قبيلہ قحطان کے نسب کے بارے ميں ہے ۔ اس کتاب کی زیراکس(عکس) آیة

الله نجفی مرعشی کی لائبریری ميں موجود ہے اور ہم نے اسی سے استفادہ کيا ہے۔

٢۔ “التاریخ ” : تاليف ابن الخياط ، خليفہ ، ابو عمر ، ملقب بہ شباب عصفری (وفات ٢ ۴ ٠

هء) اور اس کتاب کی تحقيق ، ضياء عمر نے ١٣٨ ۶ هء ميں انجام دیکر طبع آداب ،جو کہ مطبوعات نجف ميں سے ایک ہے۔

٣۔ “الفتوح ” :تاليف ابن اعثم ، ابو محمد احمد بن اعثم کوفی وفات ٣١ ۴ هء) اوریہ کتاب ١٣٨٨ ه کو حيدر آباد ، ہندوستان ميں طبع ہوئی ہے ۴ ۔“ جمہرة انساب العرب ”:تاليف ابن حزم، ابو محمد علی بن احمد فرزند سعيد بن حزم اندلسی (وفات ۴۵۶ ه) اس کتاب کی تحقيق عبدالسلام نے کی ہے اور ١٣٨٢ هء کو دار المعارف مصر ميں طبع ہوئی ہے ، اسی مولف کی دوسری کتاب “ الفصل فی الملل و الاهواء و النحل” ہے جو کہ طبع تمدن ١٣٣٢ ه کو شائع ہو چکی ہے۔

۵ ۔ “لسان الميزان ” ، “تقریب التهذیب”: تاليف ابن حجر احمد بن علی عسقلانی ، (وفات ٨ ۵ ٢ هء) کی یہ دو کتابيں ہمارے مآخذ ميں شامل ہے ۔ لسان الميزان طبع حيدر آباد ، ١٣٢٩ ه،

اور تقریب کی تحقيق عبدالوهاب عبد الطليف ، طبع دار الکتب العربيہ ،قاہرہ ١٣٨٠ ه ۔

مؤلف کی تيسری کتاب “فتح الباری ”“ شرح صحيح بخاری” طبع مصطفی البانی الحلبی ، مصر سال ١٣٧٨ ہے۔

۶ ۔ مؤلف نے اپنے قلم سے لکھی ہوئی دوسری کتابوں سے بھی استفادہ کيا ہے۔

١۔ احادیث ام المؤمنين عایشہ ، طبع تهران ١٣٨٠ ه۔

٢۔ عبدالله بن سبا جلد ١، طبع بيروت ١٣٨٨ ه۔

٣۔ خمسون و ماة صحابی مختلق جلد ا ،طبع دوم بغداد ١٣٨٩ ه

٧۔ اجناس گلدزیہر ، ولادت ١٨ ۵ ٠ ء ، وفات ١٩٢١ ء ، اس کی کتاب “ تاریخ التصور العقيدتی و التشریعی فی الدین الاسلامی ” جس کا عربی ترجمہ “ محمد یوسف اور علی حسن عبدالقادر و عبد العزیز عبدالحق ” نے کيا ہے اور دار الکتب الحدیثہ ، مصر نے اس کو شائع کيا ہے۔__


فہرست

عبدا لله بن سبا اور سبائيوں کی داستان کی تحقيق ۴

پہلی فصل ۴

کشی کی روایتيں ۵

١۔ امام محمد باقر عليہ السلام سے کشی کی روایت: ۵

٢۔ اما م جعفرصادق عليہ السلام سے کشی کی روایت: ۶

٣۔ اما م صادق ں سے کشی کی ایک اور روایت : ۶

۴ ۔امام سجادں سے کشی کی روایت: ۶

علمائے حدیث: ۹

رجال کشی اور اس کی روایتوں کی جانچ پڑتال ۱۰

مرتد کو جلانے کی روایتيں ۱۷

شيعہ علماء کی نظر ميں مرتد کا حکم ۲۷

مرتدین کے جلانے کے بارے ميں روایتوں کی مزید تحقيق ۳۰

آخری اعتراض ۳۶

نابود شدہ کتابيں اور اصول: ۳۷

١۔ پہلا سبب : ۳۹

٢۔ دوسرا سبب ۳۹

نتيجہ: ۴۲

خلاصہ: ۴۲

عبد الله بن سبا کے بارے ميں ہمارا آخری نظریہ: ۴۶


عبدا لله بن سبا قيافہ اول ميں : ۴۶

عبدلله ابن سبا قيافہ دوم ميں : ۴۶

غاليوں کی احادیث کی تحقيق کا خلاصہ : ۴۷

حصہ اول کے مآخذ ۴۸

دوسری فصل ۵۱

عبد الله بن سبا و ابن سودا ملل اور فرق کی نشاندهی کرنے والی کتابوں ميں ۵۲

ملل و نحل کی کتابوں ميں سبائيوں کے فرقے ۵۶

ابن سبا ، ابن سودا اور سبائيوں کے بارے ميں عبدا لقاهر بغدادی کا بيان ۵۹

ابن سبا اور سبئيہ کے بارے ميں شہرستانی اور اس کے ماننے والوں کا بيان ۶۵

عبدالله بن سبا کے بارے ميں ادیان و عقائد کے علماء کا نظریہ ۷۰

متقدمين کانظریہ : ۷۰

عبدا لله بن سبا کے بارے ميں ہمار ا نظریہ ۷۶

افسانہ نسناس(۱) ۷۹

نسناس کے پائے جانے اور اسکے معنی کے بارے ميں نظریات ۸۷

افسانہ سبيئہ اور نسناس کا موازنہ ۹۴

دوسرے حصے کے مآخذ ۹۵

تيسری فصل ۹۸

عبد الله بن سبا اور سبائی کون ہيں ؟ ۹۸

سبا و سبئی کا اصلی معنی ۹۹

سبئی کا معنی: ۹۹


سبئی راوی: ۱۰۲

١۔ عبدالله بن هبيرہ : ۱۰۲

٢۔ عمارة بن شبيب سبئی : ۱۰۴

٣۔ ابو رشد بن حنش سبئی : ۱۰۴

سبا اور سبائی کے معنی ميں تحریف ۱۰۷

لفظ سبئی ميں تحریف کا آغاز ۱۰۸

مغيرہ کے دوران حجر ابن عدی کا قيام ۱۱۳

زیاد بن ابيہ کے دوران حجر کاقيام ۱۱۹

حجر کے ساتھيوں کا متفرق ہونا: ۱۲۲

حجر بن عدی کی گرفتاری ۱۲۶

عمرو بن حمق کون ہے ؟ ۱۳۰

حجر بن عدی اور ان کے ساتهيوں کا قتل ۱۳۱

عبدالله بن خليفہ کی گرفتاری: ۱۳۳

کریم بن عفيف کی گرفتاری ۱۳۴

گرفتار کئے گئے لوگوں کی تعداد ۱۳۴

حجر او راسکے ساتھيوں کيلئے آخری حکم ۱۳۵

آخری حکم کا نفاذ اور المنا ک قتل ۱۳۷

حجر بن عدی کا قتل یا ایک بڑا تاریخی جرم! ۱۳۸

حجر کے قتل کا دلوں پر عميق اثر ۱۴۱

حجر کی داستان کا خلاصہ ۱۴۳


لفظ سبئی ميں زیاد کی تحریف کا محرک ۱۴۵

تحقيق کا نتيجہ ۱۵۰

لغت “سبئی ”ميں تحریف کاجائزہ ۱۵۱

١۔ زیاد کے دوران ۱۵۱

٢۔ مختار کے د وران ۱۵۱

٣۔ سفاح کے دوران ۱۵۴

سفاح کی تقریر کی تحقيق ۱۵۴

نتيجہ: ۱۵۶

سيف کے افسانہ ميں “ سبئيہ ” کے معنی ۱۵۷

” سبئيہ ” کی تاریخ پيدائش ، شہرت اور جدید معنی: ۱۵۸

وضاحت : ۱۵۹

جعل کا محرک اور ترویج کا عامل ۱۶۰

افسانہ سبئيہ ميں تغيرات ۱۶۱

عبدلله ابن سبا کون ہے ؟ ۱۶۲

”سبئيہ” ، “ عبدالله بن سبا ’ اور “ ابن سودا“ ۱۶۲

عبدالله بن سبا کا نسب ،پہلے مرحلہ کی کتابوں ميں : ۱۶۳

عبدالله بن سبا کون تھا؟ ۱۶۴

عبدالله بن سبا وہی عبدالله بن وهب ہے: ۱۶۶

آخری نتيجہ ۱۶۷

ابن سودا کون ہے اور کيا معنی رکھتا ہے ؟ ۱۶۸


تيسرے حصہ کے منابع و مآخذ ۱۶۹

چوتھی فصل ۱۷۳

افسانہ علی عليہ السلام بادلوں ميں ہيں ! ۱۷۴

” جاء علی فی السحاب کے بارے ميں اخبار راور روایتيں “ ۱۷۴

”علی بادلوں ميں رہیں ” کے افسانہ کی تحقيق ۱۷۷

افسانہ “ علی بادلوں ميں ایا ” کی حقيقت ۱۷۹

اہل سنت کی روایتوں ميں سحاب ۱۸۰

شيعہ روایتوں ميں سحاب ۱۸۲

خلاصہ اور نتيجہ: ۱۸۵

افسانہ ‘ ‘ خدا کے ایک جزء نے علی عليہ السلام ميں حلول کيا ہے“ ۱۸۶

چوتھے حصہ کے مآخذ و منابع ۱۸۹

پانچواں حصہ ۱۹۲

سبيئہ دوران جاہليت سے بنی اميہ تک ۱۹۳

سبئيہ اسلام سے پہلے ۱۹۳

سبئيہ ، اسلام کے بعد ۱۹۳

خلافت عثمان کے دوران ۱۹۵

سبئيہ علی کے دوران علی ۱۹۸

”سبئيہ” ،بنی اميہ کے دوران ۲۰۰

سبئيہ قيام مختار ميں ۲۰۰

سبئيہ بنی اميہ کے آخری ایام ميں ۲۰۱


”سبئيہ ” ، سيف بن عمر کے دوران ۲۰۳

تاریخ ، ادیان اور عقائد کی کتابوں ميں عبدالله بن سبا ۲۰۵

تاریخ ميں عبدالله سباکی متضاد تصویریں ۲۰۵

جعل و تحریف کے محرکات ۲۱۱

سيف کی دوسری تحریفات اور جعليات ۲۱۲

اہل سنت علماء کی کتابيں ۲۱۳

شيعہ علماء کی کتابيں ۲۱۴

عبد الله سبائی کی عبدالله بن سبا سے تحریف ۲۱۵

گزشتہ مباحث کا خلاصہ ۲۲۰

تاریخ ميں لفظ “ عبدالله سبا” کے نشيب و فراز ۲۲۱

ابن سبا اور سبئيہ کے بارے ميں شيعوں کی روایتيں ۲۲۴

اس حصہ کے مآخذ ۲۲۶

کتاب کے منابع و مآخذ کی فہرست ۲۲۶