یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


عنوان: مذہب و عقل

مصنف: سید علی نقی نقوی

***


تمہید

جب کہ دنیا میں صد ہا مذہب چل رہے ہیں اور ہر ایک اپنے سوا اوروں کو گمراہ بتاتا ہے، تو ایک جویائے حقیقت کا فرض ہے کہ وہ ان سب کو عقل سے پرکھے اور جہاں تک عرصہ حیات میں گنجائش پائے، برابر قدم آگے بڑھاتا چلا جائے یہاں تک کہ کسی ایک کو پورے طور پر صحیح سمجھ لے۔ راستوں کی کثرت سے گھبرا کر تحقیق سے جی چرانا اور ناچار سب کو خیرباد کہہ دینا دماغی کاہلی ہے جس کا نتیجہ ہرگز اطمینان بخش نہیں ہو سکتا۔

نظام ہستی میں دانائی کارفرما ہے، جس کے مظاہرات کو آنکھ دیکھ رہی ہے۔ عقل سمجھ رہی ہے، دل مان رہا ہے۔

اس دانائی کا مرکز ایک ہستی ضرور ہے جس کا اس تمام نظام کے ساتھ یکساں تعلق ہے۔ ذہن اس کا اقرار کر لے، یہ ذہن کی حقیقت شناسی ہے مگر وہ ذہنی تخلیق کا نتیجہ نہیں ہے۔ تخلیق کی ضرورت تو اس کے لئے ہوتی ہے جس کی کوئی اصل حقیقت نہ ہو مگر اس حقیقت کا جلوہ تو خود ذہن کو ہر چیز میں دکھائی دیتا ہے۔ یقیناً وہ ”حقیقت“ ثابت ہے جو ذہن اور اس کی تخلیق سے بالاتر ہے۔

صناعیوں میں قدرت کا ظہور ہے اس لئے قادر صناع کا پتہ چلتا ہے۔ وہ صناعیوں سے علٰیحدہ ضرور ہے کیونکہ صناعیاں تو بنتی اور بگڑتی رہتی ہیں مگر وہ برابر قائم ہے جو اس کے موجود ہونے کا قائل ہو گا اسے وجود کا مقرر ہونا پڑے گا۔ مگر یہ وجود اس کی ذات سے علٰیحدہ نہیں ہے۔ نہ اس کی قدرت ذات سے جدا ہے۔

شرع محمدی اور قرآنی ہدایتوں کے پیرو ”مسلمان“ کہلاتے ہیں۔ یہ کلام اللہ اور رسول اللہ کو منجانب اللہ سمجھتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ کلام جسمانی طور پر ذات الٰہی سے صادر ہوتا ہے یا وہ کسی خاص مقام پر بیٹھ کر رسول کو بھیجتا ہے ہرگز نہیں۔ خدا جسم سے بری اور مقام سے بے نیاز ہے۔ مطلب صرف اتنا ہے کہ وہ اس کلام کا خالق ہے یعنی اپنے خاص ارادہ سے کسی مخلوق کی زبان پر اس کو جاری کراتا ہے اور کسی خاص شخص کو اپنے منشا کے موافق احکام پہنچانے اور خلق کی رہنمائی کے لئے مقرر کرتا ہے۔

امامیہ فرقہ میں بارہویں امام کی امامت اور غیبت کا ماننا ضرور ہے۔ گیارہ امام سب مختلف پردوں میں امامت یعنی ہدایت خلق کا کام انجام دیتے رہے ویسے ہی بارہویں امام بھی انجام دیتے ہیں۔

جن عقلی پتوں پر گیارہ اماموں کی امامت کو تسلیم کیا انہی سے بارہویں کی امامت اور حیات کا ثبوت ہے۔

کوئی شے عدم سے وجود میں آ کر بالکل فنا نہیں ہوتی۔ کسی نہ کسی صورت سے باقی رہتی ہے۔ انسان کے لئے بھی کوئی مستقبل ہے۔ جس پر جزا و سزا کا انحصار ہے۔ یہ عقل کا فیصلہ ہے۔ پہلے کی باتیں خود یاد نہ ہوں نہ سہی مگر معتبر بتانے والوں کی اطلاع دہی کو غلط کیسے کہا جائے جب کہ اپنے آپ کو کچھ یاد نہیں اور کہنے والوں کو عقل سچائی کی سند دے چکی۔

یوں ہی آئندہ کی باتیں، کچھ تو عقل عقل خود سمجھتی ہے اور کچھ کے لئے بتانے والوں کے چہرے دیکھتی ہے۔ جو کچھ وہ بتلاتے ہیں اس پر سر جھکاتی ہے کیونکہ اس کے خلاف وہ خود کوئی فیصلہ نہیں رکھتی۔

عقیدوں پر عقل کا پہرا ہے۔ بے شک مراسم کو حیثیت کا پابند ہونا چاہئے اسی بنا پر ”مذہب اور عقل“ کو کتابی صورت میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ عقل و مذہب کی جدائی کا جو دھنڈورا پیٹا جاتا ہے اس کی حقیقت کھلے۔ آئینہ سے جھائیاں دور ہو جائیں او ر حقیقت کا چہرہ صاف نظر آنے لگے۔

علی نقی النقوی

۱۶ ۔ ماہ صیام ۱۳۶۰ ھ


تعارف

مذہب ایک روشن حقیقت ہے جس کا جلوہ ”عقل“ کے آئینہ میں نظر آتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ آئینہ دھندلا نہ ہو۔ ورنہ اپنی کدورت سے چہرہ کو داغدار بنائے گا۔ عیب اس کا ہو گا۔ حقیقت پر حرف آئے گا۔ منشاء یہ ہے کہ مذہب پر صحیح عقل کی روشنی میں تبصرہ کیا جائے اور پاکیزہ اسلام غلط توہمات اور باطل اعتراضات سے بری ہو جائے۔ بالکل سچا اور بے عیب نظر آئے اور عقل و مذہب کے تفرقہ کا خیال برطرف ہو۔ کیونکہ عقل و مذہب میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ مذہب عقل کو آواز دیتا ہے اور عقل مذہب کو ثابت کرتی ہے۔

مگر عقل اور وہم میں مدتوں سے کاوش چلی آتی ہے ”وہم، بھیس بدل بدل کر عقل کے راستے سے ہٹاتا رہتا ہے۔ پہلے بھی کدتھی ، اب بھی ضد ہے۔ فرق اتنا ہے کہ پہلے توہمات جہالت کے دور کی پیداوار تھے اس لئے ان کا پردہ جلدی چاک ہو جاتا تھا۔ اب ”نئی روشنی“ کے علمی پندار کا نتیجہ ہیں جبکہ سائنس بڑی ترقی کر گیا ہے اس لئے ملمع بہت اچھا ہونے لگا۔ ایمی ٹیشن ایسا تیار ہوتا ہے کہ اصل اور نقل میں تمیز دشوار ہوتی ہے۔ کوٹو جم اصلی گھی کو مات کر رہا ہے۔ اسی بھاؤ بکتا ہے۔ اس کہیں اصلی گھی ہے بھی تو اس کی قدروقیمت رائگاں۔

ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی

اب آبروئے شیوہ اہل نظر گئی

حکومتیں زیادہ تر عقل و مذہب کے ہمیشہ سے خلاف رہیں۔ کیونکہ یہ دونوں حکومتوں کے ظلم و استبداد اور من مانی کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں مگر مذہب کو اپنی طاقت پر ہمیشہ بھروسا رہا اسے جتنا مٹایا گیا اتنا نمایاں ہوتا رہا۔ یہ اس کی فطری سچائی کا کرشمہ ہے۔

اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے

اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبائیں گے

عقل ہر چند جھوٹ مبالغہ کی گنجائش مطلق نہیں رکھتی مگر وہم اکثر عقل کا سوانگ بھر لیتا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو عقلائے زمانہ عقلی باتوں میں مختلف نہ ہوتے اور آپس میں کبھی دست و گریبان نہ ہوتے۔

بدیں وجہ، خدا، رسول، کتاب، روح، عقائد اور مراسم میں مذہب اور عقل کے سچے فیصلے پیش کئے جاتے ہیں تاکہ توہمات کو دخل در معقولات کا موقع نہ ملے۔

بے شٹک رواسم جو اکثر آس پاس کی قوموں کی دیکھا دیکھی رواج پا چکے ہیں وہ آج فضا میں بدنما، ترقیوں کو مانع، مذہب کو نقصان رساں، عقل کے رہزن، حیثیت کے دشمن ہیں۔ ان کو بدلنا ضروری ہے۔

یعنی عقائد کے بارے میں غلط توہمات کا دفعیہ۔ نقصان رساں مراسم میں ترمیم درکار ہے۔

اس لئے مراسم کی حقیقت اور عقیدوں کی غلط تعبیروں کے عقارے کھولے ہیں۔ جو ”اصلاح“ کے پردہ میں مفسدہ پردازی کا توڑ، ہوسناک معترضین کے چیلنج کا دفیعہ، ملمع کار انشاء پردازوں کے نوٹس کا جواب، دعویداران فہم سے تبادلہ خیال کا الٹی میٹم ہیں۔

موجوہ صناعیوں کے دور میں تخیل کی فیکٹری میں پرانے اور نئے سبھی قسم کے شبہات ڈھلتے ہیں۔ مصلحان قوم، صاحبان فہم، اہل نظر، اہل قلم کا یہ فرض ہے کہ وہ ان شبہات کی حقیقت کو ظاہر کریں۔

عقیدوں میں مداخلت، معاشرت میں تغیر، رواج میں تبدل، دستور میں دست اندازی کبھی تو حقیقت پروری کی بنیاد پر ضروری اور مناسب ہوتی ہے اور کبھی صرف ”فیشن“ کے لحاظ سے اس کو اختیار کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں وہ تمدن کا فلسفہ اور خودآرائی کا آئینہ نہیں بلکہ خودبینی اور خودنمائی کا آئینہ ہے جو عقل اور استدلال کی چٹان پر گر کر پاش پاش ہوتا ہے۔ دل کہتا ہے:

از قضا آئینہ چینی شکست

اور دماغ خوش ہو کر آواز دیتا ہے۔

خوب شد! اسباب خودبینی شکست

جدت پرستوں کی مکدر کی ہوئی ہوا ہے جو سات سمندر پار سے ہیضہ اور طاعون کی طرح آئی ہے اور پھیل گئی ہے۔ فیشن کی وبا عام ہے مرد داڑھی مونچھیں منڈاتے ہیں اور عورتیں سر کے بال ترشواتی ہیں۔ غرض فطرت سے جنگ کا دور دورہ ہے۔ روس میں خدا کو سلطنت سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔ ہندوستان میں بھی اینٹی گاڈ سوسائٹی بنی ہے۔ اس دباؤ کے خلاف انسانی تمدن کی صحت کو قائم رکھنا آسان نہیں مشکل کام ہے۔ پھر بھی یہ اطمینان ہے کہ جو بھی ہو عارضی بات ہے۔ آخر طبیعت غالب آئے گی اور مرض کے جراثیم ختم ہوں گے۔

وہ عقائد جن کوعقل کی تائید حاصل ہے۔ جو فطرت کی تحریک سے خون میں سرایت کئے ہوئے، رگ و پے میں پیوست، دل میں گھر اور دماغ میں خانہ بنا چکے ہیں آخر اپنی طاقت دکھلائیں گے اور غیرفطری شبہات و توہمات کی کدورت کو دور کرکے ذہن کے آئینہ کو صاف کر دیں گے۔

بے شک وہ رسمیں جو عقلی فیصلوں کے خلاف صرف بربنائے رواج قائم ہو گئی ہیں، ان کو بدلنا، رواج کو توڑنا، اور عادت کوچھوڑنا ضرور ہے۔

اس انقلاب کے لئے ہر ایک کو تیار ہونا چاہئے اور اس کی کوشش کرنا چاہئے۔ ہاں اپنا عرصہ حیات، خوشگوار بنانے کے لئے ان رسموں کے لحاظ سے اصلاحِ معاشرت کی ضرورت ہے۔ بیجا پابندیوں میں وقت، مراسم میں حیثیت ضائع کرنے کا موقع نہیں ہے۔

اس لئے عقیدت کی اصلی حقیقت کو پیش اور رسموں کے نقائص کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اصحاب فہم کا اعتراف، بوالہوس معترضین کا عاجلانہ اضطراب توقع دلاتا ہے کہ شبہات کی سمیت کے لئے یہ تریاق ضرور اثر کرے گا۔ معترضین کی زبانیں بند ہوں گی اور مذہب کے خلاف صدائیں خاموش ہو

عقیدہ

عقل کی کسوٹی پر کس کے، دماغ سے خوب اچھی طرح ٹھونک بجا اور پرکھ کے جس خیال کو ذہن مانے اور دل قبول کرے وہ سچا ”عقیدہ“ ہے۔

مذہب حق عقائد میں کہنے سننے اور تقلید کرنے یعنی بے سوچے سمجھے دوسرے کی بات مان لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ منقولات کا درجہ معقولات کے بعد ہے۔ منقولات وہ مانے جاتے ہیں جن کے ماننے پر عقل خود مجبور کرے اس لئے وہ منقولات بھی معقولات سے الگ نہیں۔ منقولات قدیمہ اور مسلمات سابقہ میں عقل کو تحقیق کا حق ہے۔ اور تحقیق کی آخری مزل یقین ہے۔ عقیدہ بھی اسی کے ماتحت ہے اسی لئے مذہب تحقیق کو ضروری قرار دیتا ہے اور عقل کو پکار پکار کر متوجہ کرتا ہے۔

مگر یہ جسے تم اکثر ”تحقیق“ کا لقب دیتے ہو۔ وہم، وسوسہ اور خیال سے ساز رکھتا ہے، اس سے ضرور ہوشیار چلنا چاہئے۔


مذہب

ٹھوس حقیقتوں کا مجموعہ جن کی سچائی پر عقل نے گواہی دی۔ جو دنیا کی تمدنی اصلاح کے لئے ضروری معلوم ہوتا ہے، وہی سچا مذہب ہے۔

یوں تو دعویدار بہت ہیں جنگ میں بالو چمک کر اکثر پیاسوں کو پانی کا دھوکا دیتی ہے مگر سانچ کو آنچ کیا۔ کھوٹا کھرا چلن میں کھل ہی جاتا ہے۔

بے شک سچے مذہب میں معاشرت کے اصول، تمدن کے قاعدے، نیکی کی ہدایت، بدی سے ممانعت ہے اور جبروتی قوت بھی ساتھ ہے۔ جزا، سزا، قہر، غضب، رحم و عطا ثابت حقیقتیں ہیں جن کی اہمیت کے سامنے عقل سرنگوں ہے۔

سچا مذہب عقل والوں کو آواز دیتا ہے اور جو باتیں عقل سے ماننے کی ہیں ان میں عقل سے کام لینے کی ہدایت کرتا ہے تاکہ سرکش انسان جذبات کی پیروی نہ کرے اور کمزور اور کاہل عقلیں اپنے باپ دادا کے طورطریقہ، ماحول کے تقاضے ہم چشموں کے بہلانے پھسلانے سے متاثر ہو کر سیدھے راستے سے نہ ہٹیں ”حقیقت“ کسی کے ذہن کی پیداوار نہیں ہوتی، اس لئے سچا مذہب کسی کی جودت طبع کا نتیجہ نہیں۔ بے شک اس تک پہنچنا اور پہنچ کر اس پر برقرار رہنا انسان کی عقلی بلندی کی دلیل ہے۔

جھوٹے مذہب، ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو دنیا کو بربادی کی طرف لے جانے والے، معاشرت کے تباہ کرنے والے، تمدن کے جھوٹے دعویدار، تہذیب کے بدترین دشمن۔ بدی کے محرک اور فتنہ انگیزی کے باعث ہوں۔ لیکن سچا مذہب وہی ہے جو عالم میں امن و سکون کا علمبردار، معاشرت کا بہتر رہبر، تمدن کا سچا مشیر، تہذیب کا اچھا معلم، طبیعت کی خودروی، بدی کی روک تھام، ممنوعات سے باز رکھنے کو زبردست اتالیق ہے۔ فتنہ انگیزی سے بچنے بچانے کو نگہبان، امن و امان کا محافظ، جرائم کا سدراہ، فطرت کی بہترین اصلاح ہے۔

انسان کی فطرت میں دونوں پہلو ہیں۔ حیوانیت و جہالت اور عقل و معرفت، مذہب کا کام ہے دوسرے پہلو کو قوت پہنچا کر پہلے کو مغلوب بنانا اور اس کے استعمال میں توازن اور اعتدال قائم کرتا۔ فطرت کے جوش اور جذبات کو فطرت کی دی ہوئی عقل سے دباتا اور انسان کو روکتا تھامتا رہتا ہے۔ جذبات کے گھٹاٹوپ میں قوت امتیاز کا چراغ دکھاتا۔ اور اچھا برا راستہ بتاتا ہے خطرے اور کجروی سے باز رکھتا ہے۔

طبیعت انسانی ایک سادہ کاغذ ہے۔ جیسا نقش بناؤ ویسا ابھرے، جوانی کی اودھم، خواہشوں کی شورش، نفس کی غداری، جس کو بدی کہا جاتا ہے اس کی صلاحیت بھی فطری ہے اور شرم، حیا و نیکی اور پارسائی، تعلیم کی قبولیت اور ادب آموزی کی قدرت بھی فطری ہے۔ بے شک پہلی طاقت کے محرکات چونکہ مادی ہوتے ہیں، انسان کے آس پاس، آمنے سامنے موجود رہتے ہیں اس لئے اکثر ان کی طرف میلان جلدی ہو جاتا ہے۔ پھر بھی جن کی عقل کامل اور شعور طاقتور ہوتا ہے۔ وہ ان تمام محرکات کے خلاف نیکی کی طرف خود سے مائل ہوتے ہیں۔ دوسرے لوگ جن کی عقل کمزور اور کاہل ہے وہ نیکی کی جانب مائل کرائے جاتے ہیں اس نیک توفیق کی عقل انجام بین پر صد ہزار آفریں۔ جس نے مذہب کی باتوں کو سمجھا اور دوسروں کو بتلایا اور حیوانوں کو انسان بنایا۔ مذہب نہ ہو تو حیوانیت پھر سے عود کر آئے۔ شہوانی خواہشوں کا غلبہ ہو۔ انسان حرص و ہوس کی وجہ سے اعتدال قائم نہیں رکھ سکتا اس لئے مذہب کا دباؤ اس کے لئے بہترین طریق ہے۔

فطرت نے درد دکھ کی بے چینیاں، بے بسی کا عالم، سکرات کا منظر، نزع کی سختیاں، موت کا سماں آنکھ سے دکھا دیا، مذہب نے مستقبل کے خطرہ، آخرت کی دہشت، بازپرس کے خوف، بدلے کے اندیشے پر عقل کو توجہ دلائی۔

عقل نے غور کیا، سمجھا اور صحیح مانا اور نگاہ دوربیں سے ان نتائج کو معلوم کر لیا۔

اصلاح کے لئے لامذہب بھی کہتے ہیں کہ یہ بہترین طریقہ ہے اور بے شمار اصلاح پسندوں نے انجام سوچ کر یہ رویہ اچھا سمجھا ہے۔ تو کبھی مذہب کی ان تنبیہوں کو صرف ”دھمکی“ بتا کر اور ان نتیجوں کو ”نامعلوم“ کہہ کر ان کی وقعت نہ گھٹائیں۔ نہیں تو ایک طرف حقیقت کا انکار ہو گا دوسری طرف اصلاح کے مقصد کو ٹھیس لگے گی جس کی ضرورت کا ان کو بھی اقرار ہے۔

عقل

سوچنے سمجھنے والی، دیکھی باتوں پر غور کرکے ان دیکھی باتوں پر حکم لگانے والی بڑے بڑے کلیے بنانے والی اور ان کلیوں پر نتیجے مرتب کرنے والی قوت کا نام عقل ہے۔

انسا ن کے علاوہ تمام حیوانوں میں صرف حواس ہیں اور وہ حواس کے احاطہ میں اچھا برا، نفع نقصان پہچان لیتے ہیں۔ مگر یہ قوت جس کا نام ”عقل“ ہے انسان کے ساتھ مخصوص ہے۔ اسی کی وجہ سے آدمی کو ذوق جستجو پیدا ہوتا ہے اور اس جستجو سے پھر اس کی عقل اور بڑھتی ہے۔ وہ اسی عقل کے برکات سے معلومات کا ذخیرہ فراہم کرتا رہتا ہے۔ موجودہ لوگوں سے تبادلہ خیال، پچھلی کتابوں سے سبق لے کر ہزاروں برس کی گزشتہ آوازوں میں اپنی صدا بڑھا کر آئندہ صدیوں تک پہنچانے کا حریص ہے، اس کی عقل کبھی محدود یا مکمل نہیں ہو سکتی وہ اپنی عقل کا قصور مان کر آگے بڑھ رہا ہے۔

یہ ذوق ترقی انسان کے علاوہ کسی دوسرے میں نا پید ہے۔ انسان کے سوا دوسرا مخلوق لاکھوں برس طے کرے تب بھی انسان نہیں بن سکتا۔

انسان اصل نسل میں سب سے الگ اور خود ہی اپنی مثال ہے۔ بے شک تہذیب و تمدن میں اس کی حالتیں بدلتی رہیں لامعلوم صدیوں کو طے کرکے موجودہ تہذیب و تمدن کی منزل تک پہنچا۔ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے ہر طرح ترقی کی۔

اس نے بہت سے قدم ناسمجھی کے بھی اٹھائے جن سے آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے ہٹا۔ واللہ علم آگے بڑھ کے کہاں پہنچے۔

اس کا عقلی کمال اس میں ہے کہ وہ اپنے معلومات کی کوتاہی کا احساس قائم رکھے۔ اسی لئے اکثر باتوں میں خود عقل حکم لگانے سے انکار کرتی ہے اور انہیں اپنے دسترس کے حدود سے بالاتر قرار دیتی ہے۔

بہت باتوں کو خود عقل سماع کے حوالہ کرتی ہے ان میں اپنا کام بس اتنا سمجھتی ہے کہ امکان کی جانچ کرے، محال نہ ہونے کا اطمینان کر لے۔ اس کے بعد صحت اور عدم صحت مخبر کے درجہ اور اعتبار سے وابستہ ہے۔

واہمہ مشاہدہ کی گود کا پلا، اس کے گرد چکر لگاتا ہے۔ اس نے بہت باتوں کو جن کی مثال آنکھ سے نہیں دیکھی غیرممکن کہہ دیا۔

اسی کے ماتحت انبیاء کے معجزات کا انکار کیا مگر عقل جو مادیت کے پردے اٹھا کر کائنات کے شکنجے توڑ کر حقیقتوں کا پتہ لگانے میں مشتاق ہے۔ اس نے وقوع اور امکان میں فرق رکھا، محال عادی اور محال عقلی کے درجے قرار دیئے اور غیرمعمولی مظاہرات کو جو عام نظام اور دستور کے خلاف ہوں ممکن بتایا اسی سے معجزات انبیاء کی تصدیق کی۔

آج ہزاروں صناعوں کی کارستانیوں نے اس کو ثابت کر دیا۔ موجودہ زمانہ کی ہزاروں شکلیں، لاکھوں اوزار، بے شمار ہتھیار، لاانتہا مشینیں، ہزار ہاملیں ایسے ایسے منظر دکھاتی ہیں جنہیں سو دو سو برس پہلے بھی کسی سے کہتے تو وہ دیوانہ بناتا اور سب باتوں کو غیرممکن ٹھہراتا۔ آج وہ سب باتیں ممکن نہیں بلکہ واقع نظر آتی ہیں۔

ان کارستانیوں نے معجزات انبیاء کا خاکہ کیا اڑایا، بلکہ ان کو ثابت کر دکھایا۔

جو بات آج علم کی تدریجی اور طبیعی ترقی کے بعد دنیا میں ظاہر ہوئی آج معجزہ نہیں ہے۔ لیکن یہی موجودہ انکشافات کے پہلے، عام اسباب کے مہیا کئے بغیر صرف خداوندی رہنمائی سے ظاہر ہوئی تو معجزہ ٹھہری۔

ٹاکی سینما میں عقل کا تماشا ہو یا انجنوں اور موٹروں کی تیزرفتاری، ہوائی جہاز ہو یا ٹیلی فون، وائرلس، ریڈیو، اور لاؤڈاسپیکر سب نے کائنات کی پوشیدہ طاقتوں کا راز کھولا، راز بھی وہ جو لاکھوں برس تک عام انسانوں سے پوشیدہ رہا۔ پھر انسان کو کیا حق ہے کہ و ہ کسی چیز کو صرف اپنے حدود مشاہدہ سے باہر ہونے کی وجہ سے غیرممکن بتا دے۔

مگر یہ انسان کی سخن پروری ہے کہ وہ ان حقیقتوں کو دیکھ کر بھی انبیاء کے معجزات کو افسانہ کہتا ہے۔

عقل ایک واحد طاقت ہے جس کے ماتحت بہت سی قوتیں ہیں۔ ان میں سے ہر قوت ایک احساس ہے اور عقل کا نتیجہ علم ہے۔ انسان کا دماغ مخزن ہے۔ قوت عاقلہ اور پانچوں حواس اس میں معلومات جمع کرتے رہتے ہیں۔ یہی سرمایہ انسان کی کائنات زندگی ہے۔

طبائع انسانی جذبات کے ماتحت جدت پر مائل ہیں۔ ہواؤ ہوس کی شوخیاں نچلا بیٹھنا پسند نہیں کرتیں۔

کبھی حجری زمانہ تھا، بتوں کی خدائی تھی۔ اب شمسی عہد ہے، عالم کا نظام، اجسام میں کشش، مہر کی ضیا سے قائم ہے، پہلے آسمان گردش میں تھا، زمین ساکت تھی۔ اب آسمان ہوا ہو گیا۔ زمین کو چکر ہے، ابھی تک جسم فنا ہو جاتا تھا روح باقی رہتی تھی۔ اب کہا جاتا ہے کہ جسم کے آگے روح کا وجود ہی نہیں۔ یہ انسان کے ناقص خیالات ہیں جن میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ مگر عقل بردبار، ثابت قدم اور مستقل مزاج ہے۔ وہ جن باتوں کو ایک دفعہ یقین کے ساتھ طے کر چکی۔ ہمیشہ انہیں یقینی سمجھتی ہے کوئی سنے یا نہ سنے مانے یا نہ مانے وہ اپنی کہے جاتی ہے۔

مذہب کے خلاف توہمات ہمیشہ سے صف بستہ تھے۔ آج بھی پرے جمائے ہیں۔ جذبات انسانی اس کی گرفت سے نکلنے کو پھڑپھڑائے اور اب بھی پھڑپھڑاتے ہیں مگر عقل اور فطرت کی مدد سے اس کا شکنجہ ہمیشہ مضبوط رہا اور اب بھی مضبوط ہے۔ خدا کی سنت یعنی فطرت کی رفتار کو تبدیلی نہیں ہوتی۔ زمانہ کی تاثیر، ماحول کا اثر، صورتیں۔ شکلیں، ڈیل ڈول، وضع قطع، ذہنیت میں تبدیلیاں ہوتی رہیں۔

صدیوں میں ملکوں کا جغرافیہ، قوموں کی تاریخ، برسوں میں مقامی فضا طبیعتوں کا رنگ۔ مہینوں میں فصلوں کا تداخل، ہفتوں میں چاند کا بدر و ہلال، گھنٹوں میں مہر کا عروج و زوال۔ منٹوں میں سطح آب پر یا لب جو حبابوں کا بگڑنا۔ دم بھر میں سانس کا الٹ پھیر، آنا جانا۔ حیات سے ممات سب کچھ ہوا کرے۔ مگر عقل کی ثابت حقیقتیں کبھی تبدیل نہیں ہو سکتیں۔

اسلام انہی حقیقتوں کی حمایت کا بیڑا اٹھائے ہے۔ اسے میں توہمات کے سیلاب سے مقابلہ۔ جذبات سے بیر، دنیا جہان کے خیالات سے لڑائی ٹھانی ہے مگر ہے تو نیک صلاح۔

اگر خاموش بنشنیم گناہ است

انسان کی بھیڑیا دھان خلقت نے ایک وقت میں حیوانات کے ساتھ ساز کیا اور ذی اقتدار انسانوں کو خدا ماننے میں تامل نہیں کیا۔ پھر خدا کو انسان کے قالب میں مانا بلکہ ان سے بھی پست ہو کر درختوں کی پوجا کی۔ اور پہاڑوں کو معبود بنا لیا۔ اب جب کہ وہ ترقی کا مدعی ہے تو مادہ کے ذروں کو سب کچھ سمجھتا اور کائنات کی پوشیدہ قوتوں کی پرستش کر رہا ہے۔ خیر اس کی نگاہ حاضر مجسموں سے پوشیدہ طاقتوں کی طرف مڑی تو!

امید ہے کہ اگر عقل صلاح کار کا مشورہ قبول کرے تو غیب پر ایمان لے آئے اور مافوق الطبیعت خدا کی ہستی کا اقرار کر لے، وہ خدا جو آسمان اور زمین سب کا مالک ہے کسی جگہ میں محدود نہیں۔ بے شک خلق کی ہدایت کے لئے زمین پر اپنے پیغام بر بھیجتا اور ان کی زبانی بہترین تعلیمات پہنچاتا ہے اور خصوصی دلائل اور نشانیوں کے ذریعہ ان کی تصدیق کرتا ہے۔ ان دلائل کا نام معجزات ہے۔ مستقبل کے اخبار ان کے ماتحت ہیں۔ فطرت و عقل دونوں ان کے ہم آہنگ ہیں۔ ملاحظہ ہو۔


خدا

مذہب حق اور عقل دونوں متحد ہیں اس لئے مذہبی اور عقلی خدا الگ الگ نہیں ہے۔

وہ واحد ہے لاشریک ہے، تمام اوصاف حمیدہ سے متصف ہے۔ مَاعَرَفْنَاکَ حَقَّ مَعْرفتکَ اس کے سب سے زیادہ پہچاننے والے کی آواز ہے۔ لامکان ہے، قاب قوسین اَواَدنیٰ اس سے تقرب کا ایک مجازی نشان ہے۔ کوہ طور کی تجلی اس کی قدرت کی ایک ادنیٰ شان ہے۔ سب کو دیکھتا ہر ایک کی سنتا ہے اس معنی سے کہ اس کی دانائی ہر شے کو عام ہے۔ الفاظ اس کے مخلوق ہیں یہی اس کا کلام ہے۔ جبرئیل اور موسیٰ سے انہی معنی میں ہم کلام ہے۔ قیامت کے روز پوچھ گچھ اس کے حکم سے ہو گی۔ صحائف فرقان، توریت، انجیل، زبور، سب اس کے مخلوق کلام ہیں۔

انسان اپنے خالق کی جستجو میں سرگردان ہے لیکن اس کا وہم و ادراک تخلیق عناصر اور ایتھر کی پیچیدگیوں میں الجھ کر فضائے لامحدود سے آگے نہیں بڑھتا مگر عقل قدم آگے بڑھاتی ہے نظام ہستی کو دیکھ کر یقین کرتی ہے کہ یہ عظیم الشان کارخانہ کسی دانشمند نے سوچ سمجھ کر عمداً بنایا ہے۔ جس صنعت کا کوئی صانع نظر نہ آئے۔ جس قوت کا باعث کوئی دکھائی نہ دے۔ جس دانائی کا کوئی دانشمند معلوم نہ ہو سکے اس کے لئے خواہ مخواہ کوئی مجاز نہیں ہو سکتا کہ جو چاہے سمجھ لے بے شک عقل کا کام غور کرنا ہے اور اسی کو اپنے یقین کی بنا پر مافوق الادراک میں دخل در معقولات کا حق ہے۔

خدا دکھائی نہیں دیتا۔ جان یا روح بھی نظر نہیں آتی۔ جسم سامنے ہے اور متحرک ہے۔ جسم بغیر کی قوت کے متحرک نہیں ہو سکتا، اس کے اندر کوئی قوت ضرور ہے جو متحرک کر رہی ہے اور دکھائی نہیں دیتی۔ یہ سچ ہے کہ قوت جسم نہیں رکھتی مگر بغیر جسم کے ثابت بھی نہیں ہو سکتی اس لئے وہ جسم کے ساتھ شامل اور پیوستہ خود نمایاں ہوتی ہے۔ ہم نے اس کا نام قوت نامیہ رکھ لیا مگر چونکہ وہ خود جسم کے وجود کی محتاج ہے اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ قوت متحرکہ نے جسم کی بنیاد ڈالی ہے۔

عقل نے مزید کاوش کی تو کائنات کے ذرے ذرے میں ایک اور مقدم تر کیفیت محسوس کی جو ذی حیاتوں میں قوت مقناطیسی اور ذی روحوں میں جذبات یا فطرت کی حیثیت سے وابستہ پائی گئی، یعنی اجسام میں کشش اور نر و مادہ کے درمیان خواہش بن کر نمودار ہے۔ یہی دو جسموں کو ملا کر تیسرا جسم اور قوت نامیہ پیدا کر رہی ہے اور اس میں خلاقی طاقت مضمر نظر آتی ہے۔ یہی ابتدائی اور بنیادی قوت نظام ہستی کی بانی معلوم ہوتی ہے۔ ہم نے اس کا نام قوت جاذبہ رکھ لیا۔ ان سب آثار کے مخزن اور مرکز کو ہر جسم میں جان کہنے لگے یہ جسم و جان باہم آمیختہ ایک دوسرے کے ساختہ پرواختہ پائے گئے۔ اگر ہم جان کو جسم سے بے نیاز پاتے تو شاید جان کو خدا مان لیتے مگر ہم جسم و جان کو شامل اور پیوستہ مخلوق پاتے ہیں اس لئے ہماری عقل ان کو خدا ماننے پر تیار نہیں ہوتی اور جسم و جان کے پیدا کرنے والے کو خدا مانا ہے۔

اسی طرح ظاہربظاہر آفتاب کی حرارت، ایتھر کی کاوشیں، عناصر کی جدوجہد، فضائے لامحدود میں ہر قسم کی خلقت بناتی رہتی ہے۔ اس کی طرف بھی تخلیق کی نسبت کا دھوکا ہوتا ہے۔

مگر ظاہر ہے کہ عناصر کے دماغ نہیں جو سوچیں، عقل نہیں جو دانائی ظہور میں آئے اور کائنات کی ہر شے کی ساخت میں سوچی سمجھی، دانائی پائی جاتی ہے۔ وہ سلیقہ شعار جس کی کارسازیاں، پتھر، عناصر، موالید ثلاثہ سے ظاہر ہیں دکھائی نہیں دیتا مگر ضرور وہ ان سبے سے بالاتر ہے اس لئے ہم نے ان سے مقدم اور بالاتر قوت اول و اعلیٰ کو اپنا رب یا خالق مان لیا ہے۔ واضح ہو گیا کہ خدا انسان کی ذہنی تخلیق نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ثابت ہے جس کو ذہن نے اس کے آثار اور مخلوقات کو دیکھ کر معلوم کیا ہے اور اسی کو نظام ہستی کا بانی قرار دیا ہے۔

عقل و مذہب کے معلومات میں سب سے زیادہ مہتم بالشان وجود خداوندی ہے۔ ذہن انسانی نے اب تک خداشناسی میں ہرچند کدوکاوش کی مگر مسلمانوں کے وحدہ لاشریک سے بہتر اوصاف نہ بتلا سکا۔ جس کی ذات، اصل حقیقت کو سمجھنا ناممکن ہے لیکن صنعت مانع کو دکھا رہی ہے۔ خلقت خالق کو بتا رہی ہے۔ سلیقہ دانشمندیاں پیش کر رہا ہے۔ پھر کیونکر ہو سکتا ہے کہ قدرت دیکھیں قادر نہ کہیں، صاعی دیکھیں دانائی نہ مانیں۔ مخلوق کے ہوتے بھی خالق نہ مانا جائے۔

عقل کے پتلوں نے صحن عالم میں مخلوق کی تصویریں چلتی پھرتی دیکھیں۔ افلاک کو حکمت سے رفیع، کائنات کو قدرت سے وسیع۔ موجودات کو فطرت سے موضوع، خلاکوخلقت سے مملو پایا۔ خالق کو تسلیم کر لیا۔ غور سے دیکھا تو اپنے گردوپیش کی تمام مخلوق میں آفتاب کو کارفرما۔ عناصر کو جلوہ آرا پایا۔ زمانے بھر میں اسی کی گرما گرمی پائی۔ فضائے فلکی میں آل آفتاب کو گھومتے پھرتے ستاروں کو جگمگاتے، سیاروں کو چکر کھاتے دیکھا۔ اجسام میں کشش، کشش میں رابطہ، اجرام میں گردش، گردش میں ضابطہ نظر آیا، مگر سب کو قاعدہ کا پابند، فطرت کا تابع، قانون قدرت کا مطیع دیکھا۔ سطح ارضی پر ہوا کو حاوی، پانی کو جاری، نباتات میں نمو، جمادات کو قائم، حیوانات کو متحرک پایا، ان کی بقا کے لئے ہوا میں روح، پانی میں زندگی، نباتات میں غذا پائی، سب کے پیکروں میں اعضا کا تناسب، ہر شے ضروری اجزاء سے مرکب، ہر جسم مناسب اعضا سے مرتب، ہر چیز موزونیت سے سجی سجائی پائی، ان کی خلقت میں منشاء، نوعیت میں ارادہ، صنعت میں سلیقہ، صناعی میں دانائی نظر آئی، کثرت مشاہدہ نے دماغ کو ایسا گھیرا کہ عقل سے نہیں کے بجائے ہاں کہنا پڑا۔ لاکھ موجودات کے مشاہدہ نے دکھایا، بتایا، سمجھایا، ہزار ذہن رسا کی جدت، طبع کی جودت، واہمہ کی قوت، خیال کی وسعت، تصور کی رفعت، فکر کی نزاکت سے کام لیا، مگر دل و دماغ کی قوتیں، مصور قدرت کا ہیولیٰ قائم نہ کر سکیں۔ نظام عالم قائم رکھنے والی تمام قوتوں کو مخلوق پایا۔ وہم نے سب قوتوں کے مجموعہ کو واحد قدرت قرار دینا چاہا مگر عقل نے زبان روکی۔

مجموعہ کا درجہ اجزاء کے وجود کے بعد ہے پھر جب سب قوتیں مخلوق ہیں تو مجموعہ ان کا ضرور بالضرور مخلوق ہوا، مجبوراً ماننا پڑا کہ خالق وہ ہے جو ان سب قوتوں سے بالاتر ہے اور اس نظام سے الگ موجود ہے۔

وہ خالق ہے مجموعہ عناصر خاک و باد، آب، آتش کا۔ صانع ہے موالید ثلاثہ حیوانات، نباتات، جمادات کا، موجد ہے جان، قوت نامیہ، قوت جاذبہ کا۔ اسی سے وجود میں آئی ہے ساری کائنات، پائے ہیں سب نے ضرورتیں رفع کرنے کے لئے مناسب اعضاء، مہیا ہو گیا ہے ہر ایک کے لئے سامان غذاء جس سے اس کی زندگی کی بقا ہے۔ اسی لئے اسے رحیم و کریم اور رازق کہا جاتا ہے وہ ہرگز کسی جزو کا کل نہیں ہے۔ نہیں تو درجہ میں اجزاء کے بعد ہوتا بلکہ جزو و کل ہر ایک کا پیدا کرنے والا ہے۔ وہ بے ہمتا ہے۔ اس لئے واحد کہتے ہیں۔ ورنہ واحد بھی نہیں، وہ احد یعنی اکیلا ہے جو شمار میں نہیں آتا۔ گنتی میں نہیں سماتا۔ وہ پاک و ہپاکیزہ جسم سے منزہ ہے جس کو فنا نہیں، تغیر نہیں، تبدل نہیں، اس کی قدرت کے کرشمے صریحاً آنکھ سے دیکھ رہے ہیں پھر بھی وہ خود غائب ہے۔

وہ سب پر حاوی، ہر شے میں دخیل ہے، اس لئے حاضر کہہ سکتے ہیں۔ صحن عالم میں مخلوق کا اژدہام دیکھا۔ خلا کو خلقت سے مملو پایا، خلاق تسلیم کر لیا۔

کائنات کے ذرہ ذرہ میں حکمت سے عادل مانا۔ قادر، حاضر، دانا، خلاق اور عادل سب عقل سے تسلیم کیا۔ پھر بھی عقل بتلاتی ہے کہ اس کی ذات، نری کھری ذات ہی ہے۔ صفات اس سے الگ نہیں۔

عقل کی سمجھی کامل ذات کو لفظوں سے سمجھانے بیٹھے تو یہ اور ان کے سوا اور بہت صفتیں بن گئیں۔ سب صفتیں حقیقت کے اعتبار سے ٹھیک ہیں کیونکہ کمال کے بہت سے پہلوؤں کو الفاظ میں ادا کرنے والی ہیں۔ مگر حاشا ان کے ظاہری مفہوم کے لحاظ سے انہیں صفت نہ سمجھو۔ صفت تو وہی ہے جو ذات سے الگ ہو۔

خالق میں ذات اور صفات کا تفرقہ کہاں۔ اس کی لامحدود، کامل ذات کی تعبیر نے ہجوم صفات کی شکل اختیا رکی۔

جب قادر اور حکیم ہے تو مہربانی کے موقع پر رحیم، سختی کے محل پر قہار بھی ضرور ہے۔ مہربانی کے نتیجہ میں ستار اور غفار بھی، رزاق بھی ہے۔ دانا ہے اور ہر چیز کو جانتا ہے۔ سننے کی چیز ہو یا دیکھنے کی۔ اس لحاظ سے سمیع و بصیر ہے۔ کلام کا خالق ہے۔ اس لئے متکلم ہے یہ سب باتیں لفظ نہیں، معنی ہیں جو عقل نے سوچے اور ان کے لئے قریب تر الفاظ مقرر کئے ہیں۔

لفظوں کے ظاہری معنی پر جا کر اعتراض ہی کرنا چاہو تو قادر، حاضر، دانا، خلاق اور عادل بھی نہ کہو کیونکہ یہ سب مفہوم کے اعتبار سے صف ہیں اور اس کی ذات صفات سے بری۔ لیکن اگر حقیقت طلبی چاہتے ہو اور نیک نیتی کے ساتھ سمجھنے سمجھانے کے لئے ان الفاظ کا استعمال کرتے ہو تو معنی پر غور کرو اس کمال کے نتیجہ کو دیکھو جو صفت میں مضمر ہے۔ اس نقص پر نہ جاؤ جو اس کے ظاہری مفہوم میں مضمر ہے۔ رحیم کہو اس اعتبار سے کہ اس سے اچھے اچھے فائدے خلق کو حاصل ہوتے ہیں۔ جذبات کا خیال ہرگز دل میں نہ لاؤ۔ قہار کہو اس لحاظ سے کہ عدالت کے تقاضا سے بہت سوں پر اس کی جانب سے سختی بھی ہوتی ہے۔ غصہ اور غضب کی انفعالی کیفیت کا توہم نہ کرو۔

سننے دیکھنے کے معنی فقط یہ سمجھو کہ دیکھنے سننے کی چیزیں اس کے علم میں ہیں اعضاء کا دھیان نہ لاؤ۔ متکلم بھی اس لحاظ سے ہے کہ کلام کو جہاں چاہے پیدا کرتا ہے مگر کام و دہان کا تصور ذہن سے دور رکھو کیونکہ وہ جسم سے مبرا ہے۔ انسانوں کی طرح بولنا سننا اس کی شان سے دور ہے۔ حضرت موسیٰ جس کلام کو سنتے تھے وہ بھی اللہ کا مخلوق ہے۔ اور قرٓن بھی اس کا پیدا کیا ہوا ایک کلام ہے۔ دانائی کے لحاظ سے ہر بات کو سنتا دیکھتا ہے۔ قوی کے مقابل میں ضعیف کو پامال ہوتے بھی دیکھتا ہے۔ اور اپنی حکمت و عدالت سے اس کی پاداش مقرر کرتا ہے۔ اس کے بندے جو اس کے ناظر ہونے کے دل سے قائل ہیں۔ ہرگز دیدہ و دانستہ بدافعالیوں کی جسارت نہیں کرتے۔ بداعمالیوں کی جرات مطلق نہیں ہوتی۔

قیامت کا اعتقاد، عدالت کا لازمی نتیجہ ہے۔ جب بے دیکھے خدا کو عقل سے پہچانا اور اس کو عادل عقل سے مانا تو قیامت کا بھی عقل کے کہنے سے اقرار کیا۔

سوچا سمجھا جانا پہچانا مرکز ہے اس لئے عقل کو اس کے گرد چکر ضرور ہے۔

وہم کی وسوسہ انگیزیاں ہیں جن سے ایک را زکی بے شمار تاویلیں۔ ایک واقعہ کی کثرت سے داستانیں، ایک مزل کے بے حد راستے، ایک نشان کے صدہا نام، ایک نور کی لاانتہا صورتیں ہو گئیں۔

اس معنی سے کہ وہ کسی کے مانند نہیں کہو کہ خدا کوئی شے نہیں بے شک صحیح ہے۔ خدا کوئی چیز نہیں لاریب درست ہے۔ مگر خدا نہیں ہے، بخدا یہ غلط ہے۔

کیا خدائی کے ہوتے بھی خدا نہیں ہے، خلقت کے ہوتے بھی خالق نہیں ہے صنعت کو دیکھتے بھی صانع نہیں ہے۔ موجودات کے ہوتے بھی اس کا وجود نہ مانو گے۔ پھر کس طرح کہہ سکتے ہو کہ ہم کسی علیحدہ وجود کے مقر نہیں۔ عقل کی تسلی کے لئے دنیا کو غور سے دیکھو!

اس کا وجود علیحدہ یعنی مستقل ہے۔ اس کی شہادت کائنا ت کا ذرہ ذرہ دے رہا ہے، اس کی تصدیق بدن کا رویاں رویاں کر رہا ہے۔ اس کی گواہی عناصر اربعہ کی ترتیب دے رہی ہے۔ مخلوق کے اعضاء کی ترکیب دے رہی ہے۔ موالید ثلاثہ کی تخلیق دے رہی ہے۔ قدرت کو فطرت کی صورتوں میں دیکھو۔ خالق کا نشان خلقت کی شکلوں سے پہچانو، وہی ہے کمال بخش عقل، وہی ہے سراسر عدل، اس کی قدرت آشکار ہے ذرہ ذرہ میں، موالید ثلاثہ میں، مجموعہ عناصر میں۔ حواس خمسہ میں، سات طبق زمین، نہ افلاک میں، اس کا جلوہ ہے، آفتاب کی ضیاء، ذرہ کی ضو میں، وہی ہے پیدا کرنے والا کشش کا مرکز میں، وہی ہے خزانہ دار عقل کا۔ وہی ہے قوت کا ماخذ، وہی ہے روح کا موجد، اسی کی کشش ہے دل میں، اسی سے عقل ہے دماغ میں، اسی سے قوت ہے اعضاء میں، اسی سے روح ہے بدن میں، اسی سے کائنات کی ہر شے، شے ہے اور ہر ایک میں ایک حد کا کمال ہے۔ وہ عرش سے بالا، جان سے نزدیک ہے۔ وہ قریب سے قریب تر، دور سے دور تر ہے۔

دور کیوں جاؤ، ،خود کو دیکھو خدا کو پہچانو، آپ میں ہو تو آپ میں دیکھو، کاوش تحقیق اپنے ہی میں خدا کا نشان پا رہی ہے۔ اپنے ہی جسم کے اعضاء کی ترتیب پر غور کرنے سے خدا سمجھ میں آنے لگتا ہے۔ عقل، منشا، ارادہ، صناعی، دانائی، سب خداوندی قدرت کے پرتو ہیں۔ جو تمہارے روئیں روئیں جوڑ پٹھے سے معلوم ہو رہے ہیں۔ کائنات کی ہر شے قدرت کا نشان ہے۔ مگر وہ خود کسی شے میں نہیں ہے۔ کسی جگہ پر نہیں ہے۔ کسی خلوت، جلوت، کشمکش، ہنگامے۔ چہل پہل، گہماگہمی، ہجوم، جمگھٹے، انبوہ، جرگے، گروہ، جماعت، اژدہام، غول، جم غفیر میں اس کی ہستی شامل نہیں۔

وید، بھاگوت، اور پرن، توریت، انجیل، زبور اور فرقان سب اس کے ثناخواں ہیں۔ دیر و حرم میں اس کی یاد، دین اور دھرم میں اس کے گیان ہیں، عرب میں رب، عجم میں خدا، انڈیا میں پریمشر، یورپ میں گاڈ، اس کے مختلف نام اور نشان ہیں۔ صبح کی نوبت، شام کا نقارہ، موذن کی اذان، سنکھ کی آواز، ناقوس کی صدا، گرجا کا گھڑیال سب اس کی عظمت کے اعلان ہیں جن میں کچھ دلوں کے بنائے اور کوئی اس کا فرمان ہے۔

کائنات کی لامحدود وسعت میں ڈھونڈھو، اس کا دیدار کہیں نصیب نہیں، افلاک کی بلندی اور طبقات الارض کی پستی سے اسے یکساں نسبت ہے۔ قطبین کا قیام، زمین و آسماں کی گردش، مہر و ماہ کاطلوع و غروب، عروج و زوال فضائے بسیط کے ستارے اور سیارے، دریا کی روانی، موجوں کی اچھل کود۔ ہوا کے جھونکے، پانی کے تھپیڑے، صحرا کی ویرانی، دشت کا سناٹا۔ بہار کی تازگی، خزاں کی اداسی، سمندر کے شور، پہاڑوں کی خاموشی سے پوچھو۔ سب اس کا کلمہ پڑھتے ہیں، سننے والا کان چاہئے، بجلی کی لپک، سورج کی چمک میں دیکھو۔ سب میں اسکی قدرت کا نور ہے۔ دیکھنے والی آنکھ چاہئے۔

آفتاب دوردراز فاصلہ سے چمکتا ہوا سنہری گولہ ہے۔ ظاہر میں روشنی کا مخرج، باطن میں حرارت کا مخزن۔ حقیقت میں ثوابت اور سیاروں کی کشش کا مرکز ہے۔

ہم نے نظام عالم میں اسی کو کارفرما پایا جو کچھ پایا اسی کی گرمی سے، جو کچھ دیکھا اسی کی روشنی سے۔ خلقت بھر سے فائق پایا۔ اپنا خالق، موجودات کا اخلاق کائنات کا آفرید گار ماننا چاہا مگر عقل نے بتایا کہ جو نکلتا ڈوبتا رہے جو ظاہر ہوتا چھپتا رہے۔ وہ خدا نہیں ہو سکتا۔ سامنے آ جانے سے پردہ فاش ہو گیا۔ وہ بات وہ شان، وہ عظمت تشریف لے گئی۔ صانع کی صنعت، خالق کی خلقت ہو گیا۔ یہ خودآرا نہیں، خود آیا نہیں، خدا کیونکر ہو سکتا ہے۔

اس کی درخشانی کے سبب اس کے جسم کے اجزاء ہیں، اجزا کو کیمیائی ترکیب دینے والے قدرت کے اسباب ہیں۔

محیط عالم، قدرت کا معائنہ، لامحدود کائنات کا مشاہدہ بے شمار موجودات کی ترتیب کا سلیقہ ایک دانشمند ہستی کے وجود کا یقین دلا رہا ہے۔ مگر مشاہدہ اس تک پہنچتا نہیں۔ تصور کوئی صورت بناتا نہیں، خیال پیش نہیں کرتا، حواس خمسہ سے محسوس نہیں ہوتا۔ ایتھر سے باہر، عاصر سے بالاتر ہے، دکھانے کو اشارہ، بتانے کو لفظیں نایاب ہیں۔

البتہ عقل کی نکتہ رسی پر صد ہزار آفریں۔ جس نے مخلوق سے الگ کرکے اسے بتا دیا کہ قادر ہے، حاضر ہے، دانا ہے، خلاق اور عادل ہے، اور کامل بلکہ سراسر کمال ہے۔ اور اسی کے ماتحت وہ سب کچھ ہے جسے عقل کمال کے تحت میں داخل کرے بشرطیکہ اس میں نقص کا شائبہ بھی نہ ہو۔

عقل رکھتے ہوئے اگر مان لو تو تعجب نہیں مگر نہ مانو تو سخت تعجب ہے جبکہ عالم کے ذرہ ذرہ میں اس کی قدرت کا جلوہ نمایاں ہے۔


رسول

رسول بھی مذ ہبی وہی ہے جو کہ عقلی ہے۔ تفرقہ کرنا اپنی عقل کی کوتاہی ہے۔

نبی اور رسول اصطلاحی لفظیں۔

لغت کے اعتبار سے مجاز، اصطلاح کے لحاظ سے حقیقت ہیں۔

نبی کے معنی خبر دینے والا، یعنی ان حقیقتوں کا بتلانے والا جو عام نگاہوں سے اوجھل ہیں۔ پیشین گوئی اور غیب کی خبر دینی، اس کی حقیقت کاجزو نہیں ہے بلکہ نبی کی تصدیق کے لئے بطور اعجاز ایک خارجی صفت ہے۔ رسول کے معنی فرستادہ، خدا کا پیغام پہنچانے والے ہیں۔ مگر معنی کی حقیقت میں محل کے اختلاف سے تبدیلی ہوتی ہے۔ بھیجنے کا تعلق کسی مادی ہستی کے ساتھ ہو تو وہ بھیجنا بھی مادی ہو گا یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا لازم ہو گا لیکن جب غیرمادی ذات یا غیرمادی چیز کے ساتھ اس کا تعلق ہو تو بھیجنے والے کا مقام۔ قیام اور جسم کچھ بھی درکار نہیں۔ اس کے معنی ہیں صرف یہ کہ خدا کی مرضی اور حکم کی بناء پر کوئی اصلاح خلق اور دنیا کو سچائی کی تعلیمات پہنچانے کا ذمہ دار ہو۔

وہ ظاہر و باطن ہر طرح انسان ہوتے ہیں مگر عامہ بشر سے مافوق۔ مافوق البشر نہیں بلکہ بلند مرتبہ والے بشر۔ نور سے خلقت کا ہونا ایک مجازی تعبیر ہے صفائے نفس اور کمال عقل کی۔

فضائل اور مناقب کی حدیثیں جو محمد و آل محمد کے لئے وارد ہوئی ہیں انہیں رسالت و نبوت کے عمومی عقائد میں داخل کرنا ہرگز درست نہیں، نبیوں کی فہرست طولانی ہے۔ سب کے لئے کس نے کہا ہے اور کب کہ تمام مخلوق و ملائکہ سے پہلے خلق کئے گئے ہیں یا خدا نے اپنے ہی نور سے خلق فرمایا ہے۔ یاان ہی کی خاطر سب چیزوں کو خلق کیا ہے۔ یا یہاں سے سننے سمجھنے، دیکھنے رہنے آسمان پر جایا کرتے ہیں۔

خداوند عالم کی خصوصی تعلیم جو انبیاء تک پہنچتی ہے اسی کا نام وحی ہے۔ بیشک بعض انبیاء کو کتاب بھی عطا ہوئی۔

روحانی حیثیت کے سفیر کا پیام و سلام پہنچانا بھی عقل کے نزدیک لائق انکار نہیں ہے۔ کارخانہ قدرت کو بے شک بخوبی دیکھا بھالا، غور کیا اور سمجھا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو معرفت ان کی ناقص ہوتی۔ دوسروں کی تکمیل و تربیت کس طرح کرتے اکثر رموز الٰہی سے واقب بھی کئے جاتے ہیں مگر دونوں جہان کا مالک سوائے اللہ کے کوئی نہیں، سب طرح کی قوت سوائے اس کے کسی کو نہیں۔ وہ جتنے اختیارات جس کو دیدے۔ جتنی قوت جس کو عطا کر دے اتنی اس کو ہے۔ اسی قوت سے انبیاء کام لیتے ہیں۔ اس قوت کا درجہ بھی مصلحت اور ضرورت کے لحاظ سے خدائے تعالیٰ کی مرضی پر ہے۔ نظام عالم کبھی ٹوٹتا نہیں۔ مگر عام معمول اور ظاہری دستور کا انتظام کبھی کبھی ان کے ہاتھوں خدا توڑ بھی دیتا ہے۔ دنیا میں ہر زمانہ میں بہت سے واقعات عام دستور کے خلاف ہوتے رہتے ہیں اور نظام عادت اکثر ٹوٹتا رہتا ہے۔ مگر یہی خلاف دستور و عادت امر جب نبی کے دعوے کے مطابق، اس کے قول کے ثبوت میں ہو جاتا ہے تو معجزہ کہلاتا ہے۔ وفات پانے کے بعد مادی زندگی انبیاء کے لئے بھی ثابت نہیں، ہاں روح جتنی کامل ہو اس کے ادراکات اتنے قوی اور کامل ہوں گے۔ ان معنوں سے ان کو روحانی زندگی حاصل ہے۔ اور ان کا ذریعہ خدا کی بارگاہ میں کارآمد ہے۔

فطرت الٰہی سے نہیں بلکہ اکثر نقائص مادی سے اپنے عقلی و روحانی کمال کی بدولت بری ہیں۔ گناہوں سے بالکل معصوم، غلطی سے بے شک بری ہیں۔ نہیں تو ان کا قول و فعل تمام خلق کے لئے سند نہیں ہو سکتا۔

یہ ہیں انبیاء کے عمومی صفات، اس کے علاوہ بہت باتیں خاص خاص انبیاء کے مناقب کی ہیں۔ جو منقول طور پر بتائی گئی ہیں اور عقل ان کے انکار کا کوئی خاص سبب نہیں پاتی۔

سختی کے وقت ملائکہ کا مدد کو آنا۔ قیامت میں بخشوانا۔ شفیع روز محشر۔ خاتم المرسلین اور اشرف الانبیاء حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خصوصی اوصاف و مناقب ہیں۔

محال (عقلی) کا ممکن بنانا ہرگز کسی نبی و رسول کا کام نہیں۔ بلکہ محالات سے تو خدا کی قدرت بھی متعلق نہیں ہوتی۔

آنحضرت عملی طور سے اصلاحِ خلق کا کام اور رسالت کے فرائض ابتدائے عمر سے انجام دے رہے تھے۔ جب چالیس برس تک اپنے عقلی اور عملی کمال کو قوم سے منوا لیا تو آواز غیبی سے زبانی دعوائے رسالت پر مامور ہوئے۔

واہمہ خلاق اس کا ہوتا ہے جس کی عقل ناقص ہو اور مالیخولیا یا خبط میں مبتلا ہو لیکن وہ انسان جس کے کمال عقل کی گواہی واقعات، حالات اور اس کے حکیمانہ تعلیمات نے دے دی ہو وہ اس خبط میں کبھی مبتلا نہیں ہو سکتا۔ وہ آواز سنے گا تو حقیقت ہو گی۔ خواہ وہ صدا فلک کی ہو یا ملک کی بہرحال اصلیت رکھے گی۔

بشر ہونے میں آپ کے کوئی شک نہیں۔

آپ خود فرماتے تھے کہانا بشرمثلکم ۔ اگر بشر نہ ہوتے تو عالم بشری کے لئے نمونہ کیسے بنتے مگر بشر ایسے تھے جو کمال بشری کا نمونہ بن سکے۔ ذاتی طور پر غیب دان کوئی رسول نہیں تھا۔ مگر خداوندی تعلیم ہے۔ آپ نے غیب کی خبریں ضرور دیں۔ پارہ ۲۱ سورہ روم آیت۔ ۱ ۔

۲۸ ۔ مقام پر قرآن میں موجود ہے کہ آپ کو معجزہ عطا ہوا۔

وحی ذہنی تصور کا نام نہیں ہوتا۔ ورنہ ہر مالیخولیائی اور خبطی وحی کا مرکز سمجھا جائے بلکہ وحی نام ہے خداوندی پیغام کا خواہ بذریعہ ملک ہو یا صدائے غیب سے،

خدا دکھائی نہیں دے سکتا اس لئے سورہ والنجم میں بھی جبرئیل ہی مراد ہو سکتے ہیں۔

صدائے غیب کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی جسم میں پیدا ہو اس لئے اللہ جب چاہے جہاں چاہے اسے خلق کر سکتا ہے۔

نبی کی ضرورت اس وقت ہوئی جب شریعت محدود مدت تک کے ضروریات کو پیش نظر رکھ کر جاری کی گئی ہوئی لیکن جب نوع انسانی کی تعلیم کا نصاب آخری درجہ تک پہنچا۔ تو شریعت ایسی بھیجی گئی جس کے قواعد و ضوابط سے ہر زمانہ کے ضروریات میں رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ایسی شریعت کے پہنچا دینے کے بعد کسی پیغام لانے والے معلم کی ضرورت باقی نہیں رہی اور جس کے ہاتھوں یہ کامل شریعت آئی وہ آخری پیغمبر ہوا۔

یہ ہمارے رسول حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں۔ افراد کے عمل نہ کرنے اور منحرف ہونے سے اور اس طرح خلق کے گمراہ ہونے سے شریعت و رسول کی ضرورت پیدا نہیں ہوا کرتی۔ ورنہ بہت سے انبیاء وہ تھے جن کے زمانہ میں فیصدی ۹۹ آدمی گمراہ تھے اور ایک آدمی راہ راست پر تھا۔ خود آنحضرت کے زمانہ میں اوراس کے بعد کسی وقت میں ایسا نہیں ہوا کہ حق پرستوں کی تعداد گمراہوں سے بڑھ جائے۔ پھر اس سبب سے اگر آج کسی رسول کی ضرورت پیدا ہو تو اس کے بہت پہلے یہ ضرورت پیدا ہو چکی اور خود آنحضرت کی موجودگی میں اور رسول کی بعثت ہونا چاہئے تھی۔

معلوم ہوتا ہے کہ رسول کی بعثت کا یہ سبب نہیں ہوتا بلکہ یہ سبب ہوتا ہے کہ گزشتہ شریعت کے تعلیمات جتنی مدت کے حالات کے لحاظ سے بھیجے گئے تھے وہ میعاد ختم ہو گئی اس لئے دوسرا رسول بھیجا جاتا ہے۔ اب اگر کسی رسول کے تعلیمات کو بغیر کسی مقررہ میعاد کے ہمیشہ کے لئے جاری کیا گیا ہو تو اس کے بعد کسی رسول کی ضرورت بھی نہیں ہو گی۔ ہر دین اپنے اپنے وقت کے مصالح کے لحاظ سے کامل ضرور تھا مگر بلااستثناء کامل دین وہی ہے جس کے بعد دوسرے دین کی ضرورت باقی نہ رہے۔ پارہ ۶ سورہ مائدہ آیت ۴ میں پیغمبر کو مخاطب کرکے نہیں کہا گیا ہے کہ تمہارا دین کامل ہوا یا تم پر نعمتیں تمام کی گئیں بلکہ نوع بشر کو مخاطب کرکے یہ ارشاد ہوا ہے کہ اس لئے سمجھنا صحیح نہیں ہے کہ دین کامل ہوا ہے تو آنحضرت کا۔ نعمتیں تمام کی گئی ہیں تو آنحضرت پر، بلکہ دین کامل ہوا تو تمام خلق کا اور نعمتیں تمام ہوئیں تو نوع بشر پر اس لئے نہ اس دین کے بعد کوئی دین، اور نہ اس نعمت سے مکمل تر اس کے بعد کوئی نعمت۔ یہی ایک نعمت تا ابد تمام دنیا کے لئے ہے اس لئے نہیں کہا جا سکتا کہ دنیا تاابد نعمتوں سے محروم ہو گئی۔

پارہ ۸ سورہ اعراف آیت ۳۵ ۔

یابنی اٰدم امّا یأتینکم رسل منکم یقصون علیکم اٰیاتی کا یہ ترجمہ بالکل غلط ہے کہ ”اے اولاد آدم(ع) تمہارے پاس تمہارے ہی ہم جنس رسول ضرور آئیں گے جو میری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائیں گے“۔

آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ اے اولاد آدم(ع)، اگر آئیں تمہارے پاس تمہارے ہم جنس رسول جو میری آیتیں پڑھ کر سنائیں تو جو شخص پرہیزگاری اختیار کرے او راپنے اعمال کی اصلاح کرے تو وہ محزون نہ ہو گا۔

اس میں ایک عام اصول کا اعلان کیا گیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا رسول جو آیا ہے اس پر اگر ایمان لاؤ گے تو نجات پاؤ گے لیکن اب اس کے بعد کوئی رسول آنے والا ہے یا نہیں، اس کا یہاں پر کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ بلکہ دوسری آیت میں بتلا دیا ہے کہ اس رسول کے بعد کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں۔

اب اس آیت کی برکت سے نہ مرزا غلام احمد صاحب کا رسول بنایا جانا درست ہے۔ نہ آئندہ اس آیت کے رو سے لوگ رسول بن سکتے ہیں۔ اس کے انسداد کے لئے قرآن کا فرمان کہ (ولکن رسول اللّٰہ و خاتم النبین) اور یہ اعلان کہ (اکملت لکم دینکم واتمت علیکم نعمتی )کافی ہے۔


اشرف الانبیاء

ہمارے رسول حضرت خاتم النبین کثرت فضائل و خصوصیات کے لحاظ سے تمام انبیاء میں اشرف و بہتر ہیں۔ گزشتہ انبیاء میں حضرت عیسیٰ(ع) سب سے آخر میں تھے۔ جن کی ماننے والی ایک بڑی امت موجود ہے ان کی فضلیت کے متعلق حسب ذیل خصوصیات کا توہم ہوتا ہے مگر وہ توہم صحیح نہیں ہے۔

( ۱) عیسیٰ روح اللہ ہیں۔ اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ وہ خدا کی جان و روح ہیں۔

بلکہ ان کی روح کو مقام شرف میں اللہ نے اپنی طرف منسوب کیا ہے یہ حضرت عیسیٰ سے کیا مخصوص ہے بلکہ سلسلہ انبیاء میں جو سب سے پہلے فرد تھے حضرت آدم، جو اولوالعزم بھی نہیں ہیں ان کے متعلق کہا ہے۔ فاذانفخت فیہ من روحی۔

اس کے برخلاف ہمارے حضرت کا خود روح ہونا کیسا آپ امنزل روح تھے جیسا کہ ارشاد ہوا۔ ولقد ارسلنا الیک روحامن امرنا۔

اور دوسری جگہ:تنزل الملائکة والروح ۔

( ۲) حضرت عیسیٰ(ع) بے باپ کے پیدا ہوئے مگر حضرت آدم تو بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے۔ معلوم ہوتا ہے یہ سبب فضلیت نہیں ہے۔ حضرت ابراہیم(ع) سب کے نزدیک افضل ہیں مگر وہ بھی ماں باپ دونوں سے پیدا ہوئے تھے۔ اس کو ذاتی شرافت سے کوئی تعلق نہیں ۔

( ۳) عیسیٰ(ع) کی والدہ صدیقہ ہیں اور انہیں خدا نے پاک فرمایا اور تمام جہان کی عورتوں سے بڑھ کر برگزیدہ کیا مگر اس سے زیادہ خصوصیات ہمارے رسول کو حاصل ہے کہ حضرت کی دختر صدیقہ، مطہرہ، اور مریم سے زیادہ علم و طہارت کی حامل ہے اور سیدة نساء العالمین ہے۔ یہ خصوصیت عیسیٰ(ع) کو ہرگز حاصل نہیں ہے۔

( ۴) حضرت عیسیٰ(ع) کا صرف بطن مادر سے پیدا ہونے کے بعد نبوت کا دعویٰ تھا اور ہمارے رسول نے فرمایا کہ میں عالم ارواح میں خصوصیات نبوت کا حامل تھا۔ کنت نبّیا و اٰدم بین المآ ء والطین۔

( ۵) اٰتانی الکتاب کے معنی یہ ہرگز نہیں کہ عیسیٰ(ع) کی ولادت کے ساتھ کتاب دنیا میں آ گئی تھی بلکہ اس سے مطلب صرف اتنا ہے کہ مجھ کو اس نے کتاب عطا فرمانے کے لئے منتخب کیا ہے۔ یہی صورت ہمارے پیغمبر کے لئے ہے۔

عیسیٰ(ع) کی کتاب بطور اعجاز نہیں دی گئی تھی مگر ہمارے رسول کی کتاب کو معجزہ قرار دیا گیا۔

( ۶) عیسیٰ(ع) کو پیدا ہوتے ہی کلام کی ضرورت اس لئے آئی کہ ان کی ماں کے دامن پر ایک بڑا شرمناک دھبا آ رہا تھا۔ ہمارے رسول کے یہاں خدانخواستہ ایسے کسی الزام کی گنجائش نہ تھی۔

( ۷) ہر نبی کو معجزہ اس کے اہل زمانہ کے لحاظ سے عطا ہوتا ہے جس چیز میں کمال کا اس زمانہ والوں کو ادعا ہو۔

عیسیٰ(ع) کو معجزے عطا ہوئے تھے جسمانی اس لحاظ سے کہ اس زمانہ میں فن طب کا زور تھا مگر ہمارے رسول کے زمانہ میں فصاحت و بلاغت اور کلام و بیان کا دور دورہ تھا اس لئے ان کو معجزہ اس طرح کا عطا ہوا۔

عیسیٰ(ع) کے معجزات فانی تھے مگر ہمارے رسول کا معجزہ باقی ہے۔ اور ہر زمانہ میں رسول کی سچائی ثابت کرنے کو کافی ہے۔

( ۸) یہ بالکل غلط ہے کہ آنحضرت کو معجزے نہیں دیئے گئے آپکو بھی معجزات عطا ہوئے جن کے متعلق آیات قرآنی کا حوالہ آئندہ آئے گا۔

( ۹) مصائب اٹھانا خاصان خدا کا شیوہ ہے مگر حضرت عیسیٰ(ع) کو سولی سے بچانے کا سبب یہ تھا کہ موسوی جماعت میں یہ بات مقرر تھی کہ جو سولی پر چڑھایا جائے گا وہ ملعون ہو گا، حضرت عیسیٰ(ع) کو سولی سے بچایا گیا تاکہ ان کی روحانی عظمت پر حرف نہ آئے یونہی حضرت رسول کی سچائی کے اظہار کے موقع پر چونکہ قرآن میں ارشاد ہوا تھا کہ لو تقوّل علینا بعض الا قاویل لاخذنامنہ بالیمین ثم لقطعنامنہ الوتین اس لئے آنحضرت کو خود شہادت ظاہری نہیں عطا ہوئی اور آپ کو قتل سے محفوظ رکھا گیا اور شب ہجرت قتل سے آپ کی حفاظت ہوئی جس طرح عیسیٰ(ع) کی حفاظت سولی پر چڑھنے سے کی گئی۔

( ۱۰) حضرت عیسیٰ(ع) کی یہ خصوصیت کہ اہل کتاب میں سے کوئی نہ بچے گا مگر یہ کہ مرنے سے پہلے عیسیٰ(ع) پر ضرور ایمان لائے گا۔ اس سے بہتر خصوصیت ہمارے رسول کے لئے ہے کہ آخر میں آپ کا دین سب پر غالب آئے گا (لیظھرہ علی الدین کلہ) اور آپ کے اتباع خلافت فی الارض کے مالک ہوں گے۔

(وعداللّٰه الذین امنوامنکم وعملوالصالحات لیستخلفتهم فی الارض )

( ۱۱) عیسیٰ(ع) کے متعلق ارشاد ہوا۔ اتینا عیسی بن مریم البینات وایدناہ بروح القدس تو ہمارے رسول کے لئے بھی ارشاد ہوا۔ وقداتیناک من لدنا ذکرا اورآپ کے اتباع کی امداد کثیرالتعداد۔ ملائکہ سے ہوئی (وایده بجنودلم تروها )۔ (ولقد نصرکم اللّٰه ببد روانتم اذلة)

( ۱۲) حضرت عیسیٰ(ع) آسمان پر گئے اور ہمارے پیغمبر منزل قاب قوسین و ادنیٰ پر تشریف لے گئے۔

( ۱۳) عیسیٰ(ع) ابھی تک زندہ ہیں تو یہ خصوصیت ہمارے رسول کے بارھویں جانشین حضرت مہدی موعود(ع) کو عطا ہوئی کہ انہیں اب تک حیات حاصل ہے۔

( ۱۴) حضرت عیسیٰ(ع) کے پیروؤں کو غالب رکھنے کا وعدہ ہوا اور ہمارے پیغمبر کے دین کے غالب رہنے اور آپ کی جماعت کے بلند رہنے اور بلاشرکت غیرے اللہ کی عبادت اطیمنان سے کرتے رہنے کا صاف وعدہ ہوا۔

( ۱۵) معجزات تمام انبیاء کو وقتی دیئے گئے۔ اسی میں عیسیٰ(ع) بھی داخل ہیں اور ہمارے پیغمبر کو معجزہ دائمی عطا ہوا۔ یہ خصوصیت کسی نبی کو حاصل نہیں ہے۔

روایتی اور تاریخی واقعات

( ۱۶) حضرت عیسیٰ(ع) باوجودیکہ تبلیغ میں گھومتے پھرتے رہے مگر آپ پر ایمان لانے والے صرف چند نفر ماہی گیر تھے مگر حضرت رسول پر ایمان لانے والے آپ کی زندگی میں ہزاروں سے بڑھ کر لاکھوں تک پہنچے۔

( ۱۷) حضرت عیسیٰ(ع) کو اتنا اقتدار کبھی حاصل ہی نہ ہوا کہ ملک و مال حاصل ہوتا اور حضرت محمد مصطفی نے اس اقتدار کے باوجود فقیرانہ شان سے زندگی بسر کی۔

( ۱۸) عیسیٰ(ع) کو اتنی قوت نہیں حاصل ہوئی کہ وہ تلوار اٹھاتے پھر بھی انہوں نے اپنے ساتھ والوں کو تلوار رکھنے کی تاکید کی۔ آنحضرت نے باوجود قوت شمشیرزنی اور جنگ کرنے کے پھر بھی رحم و کرم کی وہ مثالیں پیش کیں جو انسانیت کے لئے سبق آموز ہیں۔

( ۱۹) حضرت عیسیٰ(ع) عورتوں سے علیحدہ رہے اور شادی نہیں کی، اس طرح ان کی زندگی خلق خدا کے لئے مثال بننے سے قاصر رہی مگر ہمارے رسول نے تعلقات دنیا قائم رکھنے کے ساتھ پھر بھی روحانی فرائض کو مکمل طور پر انجام دیا اس طرح تعمیر انسانیت کی مثال پیش کی۔

( ۲۰) حضرت عیسیٰ(ع) کے معجزے جو مفاد عامہ کے تھے وہ خاص خاص افراد سے متعلق ہوتے تھے اور جسمانی بیماریوں سے متعلق تھے اور ہمارے رسول کا معجزہ قرآن جو مفاد عامہ کے لئے ہے وہ تمام خلق کے واسطے ہے اور انسانیت و روحانیت کے کمال کا ذریعہ ہے۔

مذکورہ وجوہ سے اشرف الانبیاء ہمارے رسول حضرت محمد مصطفی ثابت ہوتے ہیں۔


کتاب

بے شک تخمیناً ۲۵ کروڑ زندہ مسلمان مقر ہیں کہ قرآن کلام اللہ ہے کتاب خود بھی اسے بتا رہی ہے۔ مگر کلام اللہ کے یہ معنی سمجھنا بالکل غلط ہے کہ وہ اس کے زبان و دہن سے نکلا ہوا ہے۔ وہ تو جسم و جسمانیات سے بری ہے پہلے بھی کہا جا چکا اور پھر سنئے اور سمجھئے کہ کلام اللہ کے معنی ہیں خدا کا اپنے ارادہ خاص سے خلق کیا ہوا کلام خواہ کسی درخت میں یا فضا میں یا فرشتے کی زبان پر یا رسول کے قلب و دماغ میں۔ اسی کا نام کلام اللہ ہے۔ یہ کہنا کہ ”بنی امیہ نے اپنے دور حکومت میں بانی اسلام کے ارشادات کو قریش کی فصیح تر زبان میں اپنے طریق پر مرتب کیا ہے۔“ ہرگز صحیح نہیں ہے۔ اس میں بس اتنا جزو درست ہے کہ اس کتاب (قرآن) کے اجزاء (سوروں) کی ترتیب بنی امیہ کے پہلے حکمران خلیفہ ثالث عثمان بن عفان نے اپنے زمانہ میں دلوائی ہے۔ مگر الفاظ قرآن اور متن آیات میں بنی امیہ کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ وہ قریش کی فصیح ترین زبان میں آیا تو رسول کے دل و زبان ہی پر آیا۔ ان ہی الفاظ کا مجموعہ آیاتِ قرآن کی صورت میں محفوظ تھا جسے پہلے خلیفہ اول ابوبکر ابن ابی قحافہ نے سوروں کی شکل میں ترتیب دلایا۔ پھر خلیفہ ثالث عثمان نے اپنے وقت میں سوروں کو مرتب کرکے کتاب کی شکل میں پھیلایا۔

آئین فطرت اور قانون قدرت کے خلاف کوئی بات کلام الٰہی میں نہیں ہو سکتی۔ یہ معقول مگر آئینِ فطرت اور قانونِ قدرت سے مراد ہمارے محدود مشاہدات اور مختصر تجربات ہرگز نہیں ہو سکتے۔

ہزاروں مثالیں ایسی ہم نے دیکھی اور سنی ہیں جو ہمارے عام مشاہدوں کے خلاف ہیں۔

پھر ہم کسی ایسی بات کو جو صرف ہمارے تجربہ و مشاہدہ کی دنیا سے باہر ہو آئین فطرت اور قانون قدرت کے خلاف کیسے سمجھ سکتے ہیں۔

خالق خود ہی ہمارے حدود و مشاہدہ سے بالاتر ہے تو اس کی طرف روحانی بات چیت کو ہم مادی لباس پہنائیں ہی کیوں جو ہمیں سمجھنے میں دشواری ہو۔ معاہدہ ہے اور گفتگو جس میں ایک فریق ہے خالق اور دوسرا فریق مادہ سے بے نیاز روحیں تو یہاں کی گفتگو کو کانوں سے سنی جانے والی گفتگو سمجھنا عقل و دانش کا ثبوت نہیں ہے۔ وہ صلاحیتوں اور ارواح کے روحانی جوہروں کی زبان تھی جو خالق کی ربوبیت کی اقراری تھی۔ اب مادہ کی کثافتوں میں گرفتار رہ کر کتنے ہیں جو اس معاہدہ و اقرار سے دور ہو جاتے ہیں اور اسے فراموش کرتے ہیں یعنی اپنی روحانی صلاحیتوں کو دبا کر خدا سے الگ ہو جاتے اور اس طرح اپنی روح کے معاہدہ کو بھول جاتے ہیں۔

کچھ وہ ہیں جو مادی طاقتوں کو مغلوب رکھتے ہوئے اپنی روحانیت کی زندگی کو برقرار رکھتے خالق اور اس کی طرف کے متعلقہ فرائض کا احساس رکھتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جنہوں نے اس معاہدہ کو یاد رکھا ہے اور اسے ہرگز فراموش نہیں کیا ہے۔

اب بتائیے کہ اس میں آئین فطرت اور قانون قدرت کے خلاف کیا بات ہے۔ اسی طرح انسان کی خلافت عیسیٰ(ع) کی ولادت، اصحاب کہف کی نیند، یوسف(ع) کا حسن، سلیمان(ع) کی قدرت، نوح(ع) کا طول حیات، خضر(ع) کی عمر جاودانی، جانوروں کی بات چیت، موسیٰ(ع) سے تکلم،ان تمام باتوں میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس کے خلاف کوئی عقلی دلیل قائم ہو زیادہ سے زیادہ یہی ہے کہ وہ غیرمعمولی بات ہے جو عام طور سے نہیں ہوا کرتی۔

مگر ایسی غیرمعمولی باتیں دنیا میں مختلف اسباب کی بناء پر ہوتی ہی رہتی ہیں کون کہہ سکتا تھا کہ آدمی ہوا پر اڑیں گے۔ یہ گزشتہ ہزاروں صدیوں میں کسی نے نہیں دیکھا تھا مگر یہ آئین فطرت اور قانون قدرت کے خلاف تھا؟ اگر ایسا تھا تو آج یہ کیسے وجود میں آ گیا۔ کس کے مشاہدہ میں آیا تھا کہ ہزاروں میل کی آواز اپنی جگہ پر بیٹھ کر سن لی جائے مگر پھر بھی یہ قانون فطرت اور آئین قدرت کے خلاف نہ تھا نہیں تو آج آنکھوں کے سامنے نہ آتا۔

یہی صورت معجزات انبی(ع)ء کی ہوتی ہے وہ عام مشاہدات سے باہر ضرور ہوتے ہیں مگر عقل کے خلاف نہیں ہوتے اس لئے انہیں قانونِ فطرت یا آئین قدرت کے خلاف نہیں سمجھنا چاہئے۔

مٹی سے بنائے پتلے کو ملائکہ سے سجدہ کرانا اس منصب کی اہمیت دکھلانے کے لئے جس کے واسطے یہ خاکی نژاد انسان مقرر ہوا ہے نہ قانون قدرت کے خلاف ہے نہ آئین فطرت کے منافی۔

کتاب سے مراد وہ الفاظ قرآنی ہیں جو قلمبند ہونے پر بصورت کتاب مرتب ہوتے ہیں اس کے لئے خدا و رسول کے لئے کتابت ثابت ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

امت کے لئے چار نکاح عدالت کی شرط کے ساتھ اور وہ بڑی دشوار۔ پیغمبر کی آزمائش کو سخت رکھا گیا۔ متعدد ازواج کی موجودگی میں نہ کسی کے حقوق میں کوتاہی نہ دوسرے فرائض میں فروگزاشت۔

یہ معمولی انسانوں کا کام نہیں ہو سکتا۔

نافرمانی پر آدمیوں کی شکل میں تبدیلی ہونا۔ مردوں کا قدرت نمائی کے موقع پر زندہ کرنا۔ یہ سب وہ غیرمعمولی مظاہرات ہیں جو کسی دلیل عقلی سے غیرممکن الوقوع نہیں ہیں۔

یہ کس نے کہا کہ قہر الٰہی سے جو بستیاں اجاڑی گئیں ان میں معصوم بچے موجود تھے اور وہ بھی اسی عذاب سے ہلاک ہوئے۔

بلکہ روایات سے پتہ چلتا ہے کہ عذاب کے بہت پہلے سے اولاد کا سلسلہ قطع کر دیا جاتا تھا۔

کلام اللہ کے معنی کئی دفعہ دہرائے جا چکے اللہ کا خصوصی پیدا کیا ہوا کلام خواہ جسم میں ہو یا جان میں، یہی وہ ہے جو خدا کی طرف منسوب ہوتا ہے۔

وہ سب کا رب ہے اور ہر ایک قوم کو نوازتا رہا ہے۔ سب سے آخر عرب کو نوازا کیونکہ ان میں قومی عصبیت سب سے زیادہ تھی۔ کسی اور پر کلام اترتا تو وہ مانتے نہیں ان کی اصلاح کے لئے اس کی ضرورت تھی کہ کلام ان میں اتارا جائے ان کی زبان میں ہو۔ زبانیں سب اپنی اپنی قوم کی ایجاد ہیں۔ اگر خدا ان سب کو چھوڑ کر کسی نئی زبان میں اتارتا۔ تب تو پھر کوئی بھی نہ سمجھتا۔ اسی لئے عرب میں جو سب سے فصیح زبان تھی حجاز کا لہجہ اور قریش کا محاورہ اس کو منتخب کیا۔ یہ خدا کی نہیں۔ ہماری محتاجی ہے کہ ہماری زبان میں ہو تو ہم سمجھیں۔ اسے دنیا کے موجودہ نظام سے کام نکالنا منظور تھا ضرورت کیا تھی کہ وہ زبان میں توڑپھوڑ، دماغ انسانی میں تصرف کرے۔ وہ قادر ہر ممکن بات پر ہے۔ مگر ممکن ہر شے جو قدرت کا نتیجہ ہو حکمت کے مطابق تو نہیں ہوتی۔

یہ غلط ہے کہ جو چیز قدرت کی طرف سے ہے وہ بلاامتیاز خاص و عام، بلاتفریق ادنیٰ و اعلیٰ بلاتخصیص انبیاء و اوصیا، بلااستثنائے شخصے سب کے لئے برابر ہے۔

عقل، قوت طاقت، بلکہ خط و خال، قدوقامت، شکل شمائل سب قدرت کی طرف سے ہیں مگر برابر نہیں ہیں۔

مناظر قدرت، چاند کی چاندنی، آفتاب کی دھوپ، فضا میں آواز زبان پر ذائقہ، زہر کا اثر، اشیاء کی تاثیر، تکلیف و راحت کا احساس، تناسل کا قانون، تخلیق کے قاعدے، موت کے اسباب مختلف حالات کے لحاظ سے جداگانہ ہیں۔

خالق کے عطیے حواس خمسہ، قوت ناطقہ، جسم، روح، عناصر سب کے لئے ہیں مگر پھر بھی مختلف طبائع و اشخاص میں مختلف ہیں۔ قدرت کے تحفے ہوا پانی، گرمی، سردی، برسات، دن، رات، چاند، سورج، تارے، زمین آسمان، سیارے سب کے لئے ہیں مگر خواص اور حالات الگ الگ ہیں قدرت کے عظیم الشان کارخانہ میں صلاحیتوں کے لحاظ سے تقسیم اور تفریق قائم ہے۔

بے شک اللہ کی جانب سے مذہب سب کا ایک ہے مگر مستفید ہونے میں اپنے عقل و عمل کی طاقتوں کے اختلاف سے تفرقہ ہے۔

خدا نے کتاب دی سب کو ایک مگر سمجھنے میں دماغ و ذہن کی قوتوں کی تبدیلی سے امتیاز ہے۔

قدرت کے عطیے قوتوں کے بڑھنے کے ساتھ ترقی کرتے ہیں کوئی ضرورت نہیں کہ ایک ہی کتاب ابتدائے خلقت سے دی جائے۔ وہ دلچسپ و دلنشیں ہے مگر اکثر میں سمجھنے کا قصور ہے۔

ہدایت خدا کی طرف سے ہے مگر اس سے اثر لینا ارادہ و اختیار کے ساتھ وابستہ ہے۔ بے شک، اختیار کی طاقتیں داخل فطرت ہیں مگر خود اختیار ہی میں دونوں پہلوؤں کی گنجائش ہے۔ مذہبی اصول میں ہرگز تبدیلی نہیں ہوتی۔ نہ وہ قابل ترمیم میں ہیں۔ یہ شریعت کے آئین ہوتے ہیں جن میں حالات کے لحاظ سے تبدیلی و ترمیم ہوتی ہے۔

خدا خود سب بندوں کی یکساں سمجھ میں کب آیا جو اس کی کتاب سب بندگان الٰہی کی سمجھ میں یکساں آئی اور سب کو یکساں سمجھاتا۔ اصول میں تمام ہادی متفق القول ہیں۔ لیکن احکام ممنوعات، میراثی ترتیب، تعزیری قوانین، مالی حقوق میں زمانہ کے اعتبار سے فرق ہوتا ہے جو حکیمانہ نگاہ کا تقاضا ہے۔

ہدایت انسان کے لئے ہرگز غیرارادی و اختیاری افعال کی طرح نہیں ہے جو خودبخود سرزد ہوں بلکہ انسان کے حسن کارکردگی کا نتیجہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو جزا و سزا بیکار ہوتی۔ تعریف و مذمت کا استحقاق نہ ہوتا۔

جس متحیر عقل کو قدرت کی لامحدود کائنات، خلقت کے اژدہام، ستاروں کے جمگھٹے، سیاروں کے انبوہ میں محض ایک معمولی ستارہ دنیا، اور دنیا کی بے شمار مخلوق میں سے ایک ضعیف البیان انسان اور پیکر انسانی کے منجملہ تمام اعضاء کے آنکھ کی پتلی کے چھوٹے سے تل کی حقیقت اور اس کے رموز و اسرار معلوم نہ ہوں یا جو آنکھ کرہ ارضی کے تین حصوں کو گھیرے ہوئے پانی کے ایک قطرہ میں ایک سو بیس طرح کی خلقت کے نظارہ سے لاکھوں برس محروم رہی ہو اور اب جدید سائنس کے آلات سے احساس کر سکی ہو، یا جس کی نظریں عالم کے نظام اور اجسام کی کشش میں ڈانوال ڈول رہی ہوں کبھی زمین کو مرکز مانیں اور کبھی سورج کو یا جو عناصر کے اعتدال اور ذرات کے امتزاج کے کیمیاوی طریقہ کو نہ سمجھ سکی ہوں اس لئے باوجود اجزاء کو سمجھ لینے کے پھر بھی علیحدہ اجزاء کو اس طرح ترکیب دینے پر قادر نہ ہوں یا جس کو غوروفکر میں سینکڑوں سنسان خاموش راتیں جاگ کر کاٹنے کی ضرورت پڑی ہو پھر بھی نقطہ حقیقت دور ہی رہا ہو یا جسے تبادلہ خیال میں صدہا دماغوں سے مشورہ اور بیسیوں کتابوں سے سبق لینا پڑا ہو۔ پھر بھی آخر میں وہ یہی سمجھا ہو کہ ہمارے مجہولات کی دنیا معلومات سے زیادہ ہے یا جس کی غلطیوں اور خامیوں کا یہ عالم ہو کہ ایک ایک صفحہ لکھنے کے لئے ورق کے ورق سیاہ کرکے پھر چاک کر ڈالے ہوں اس کے متعلق کس طرح باور کیا جا سکتا ہے کہ وہ عالم کائنات کے اسرار و رموز کو بالکل سمجھ سکتا ہے یا اپنے محسوسات و مشاہدات کو معیار حقیقت سمجھ سکتا ہے۔

پھر جب کہ ہر انکشاف کا کاشف اور صنعت کا موجد اپنے اپنے وقت میں ایک ہوا ہے پھر دوسروں نے اس کی پیروی کی تو یہ باور کرنے میں کیا حیرت ہے کہ کسی وقت میں یہ محیط عالم قدرت کسی ایک کامل انسان سے رازداری رکھتی ہو بات کرنے والی نہ سہی، وہ کلام کی خالق ہے اسی لحاظ سے وہ اپنے ارادہ کے مطابق جو بات ہو اسے پہنچاتی اور اپنے منشاء کو پورا کرتی ہے۔

عقل ہرگز مشاہدہ اور دستور کی پابند نہیں ہوتی۔ وہ دلیل کے پیچھے چلتی اور حجت کی تلاش کرتی ہے جب تک کسی شے کے غیرممکن ہونے پر دلیل نہ قائم ہو وہ اسے امکان کے دائرہ میں برقرار رکھتی ہے۔

عقل اسی معیار پر مضامین مندرجہ قرآن کو جانچتی ہے اور ہر ایک کی صحت کا اقرار کرتی ہے۔ وہ نہ عیسیٰ(ع) کی تخلیق کو بعید از حقیقت سمجھتی۔ نہ نوح(ع) کے طول حیات کو خلاف فطرت جانتی۔ نہ یوسف(ع) کے حسن۔ موسیٰ(ع) کے یدبیضا۔ اصحاب کہف کی نیند، خضر(ع) کی عمر جاودانی کو لایعنی قصہ کہانی کہتی ہے۔ یہ سب باتیں مادیت میں گھرے ہوئے اوہام کی ہیں جو محسوسات کے شکنجے میں اسیر ہو کر اپنے عقلی جوہر کو کھو بیٹھتے ہیں۔ عقل ان کی باتوں سے فریادی ہے اور سب سے زیادہ اس بات پر چراغ پا ہے کہ یہ اپنے من گھڑت محدود تخیلات کو عقل کے نام سے پیش کرتے اور عقل کو بدنام کرتے ہیں۔ جھوٹے کے آگے سچا رو مرے مثل اصل ہے مجبوراً عقل ”جواب جاہلاں“ پر اکتفا کرتی ہے اور خاموشی اختیار کرتی ہے۔

جس طرح انسانوں میں باہم فرق ہے، مقامی تاثیر، ماحول کے اثر سے، کالا گورا رنگ، اچھی شکل، بری صورت، چھوٹے بڑے قد قوی اور ضعیف اعضا وغیرہ، مختلف اسباب کے ماتحت ہیں یوں ہی انسانی ذہنیت دماغ اور اس کے ادراکات میں فرق ہو جاتا ہے۔ مادیت کی فضا میں رہنے سہنے بسنے اور سانس لینے والے اشخاص میں زیادہ تر مافوق الطبیعت ادراکات سے قاصر رہتے ہیں، یہ ان کی عقل کا نہیں ماحول کا قصور ہے جو عقل کو کام نہیں کرنے دیتا۔ مگر وہ اس کا احساس نہیں کرتے وہ کہہ دیتے ہیں قدرت نے ہر شخص کے دماغ میں عقل ودیعت فرمائی ہے اس لئے عقل سے سمجھا ہے تو سمجھا دیجئے۔

بے شک سمجھایا جا سکتا ہے بشرطیکہ سمجھنے کا ارادہ بھی ہو نہیں تو اگر ”میں نہ سمجھوں تو بھلا کوئی سمجھائے مجھے“ پر عمل ہوا تو تمام کوششیں بے سود ہیں۔ نہ انبیاء و مرسلین(ع) کے نصائح فائدہ مند، نہ قرآن کی ہدایت کارآمد، نہ خداوندی مذہب سمجھانے میں کامیاب ہے یہ سب باتیں اپنے ہاتھوں، سب کوتاہیاں اپنے گنوں سے ہیں۔ ذاتی افعال کا نتیجہ ہیں قدرت کو اس سے کیا سروکار۔ اس کی کتاب سب کے سمجھنے کے لائق اور مذہب سب کے ماننے کے قابل ہے۔

اس کے یہاں مساوات ہے۔ وہ عادل ہے۔ اس کے گھر انصاف ہے۔ وہ سب کے لئے یکساں، اس کے نزدیک سب برابر ہیں۔


روح

حیوان کی جان کو روح کہتے ہیں مگر وہ ہے کیا؟ اس کی حقیقت لوگوں کی سمجھ سے باہر ہے اس لئے جاننا چاہئے کہ امر رب ہے۔

انسانی روح اس کے ساتھ بہت سے خصائص ادراک کی حامل ہے اور جسمانی خواص سے الگ ہے اس لئے اس کے ماننے میں کیا عذر ہے کہ وہ وجود جسم سے ماقبل ہے اور مرنے کے بعد بھی ناپید نہیں ہوتی۔ جب کہ اس کے خواس جسم سے الگ ہیں جسم کی ناتوانی کے باوجود وہ توانا اور جسم کی توانائی کے باوجود وہ ناتوان ہوتی ہے۔ جسم کے مرض کی حالت میں وہ صحیح اور جسم کی صحت کی حالت میں وہ اکثر مریض ہوتی ہے۔ پھر اگر جسم کی فنا کے ساتھ وہ باقی رہے تو اس میں عقل کو کیا گنجائش انکار ہے۔ فضا میں اس کی سیرکرنا۔ جسم سے پھر ملحق ہونا۔ وادی السلام یا وادی برہوت میں قیام ہونا، یہ باتیں مذہبی روایات میں وارد ہیں۔ جو کسی عقلی اصول کے خلاف نہیں ہیں۔ لیکن دوسرے جسموں میں حلول کرنا، سر پر آنا، شیطان بننا، ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہوا کرنا۔

بھوت پریت، برم راکس، اگیابیتال، شہید مرد، نٹ بن جانا، درختوں میں عمارتوں میں ٹھکانا بنا لینا۔ بازاری باتیں ہیں جن کی مذہب پر ذمہ داری نہیں۔ شریر آدمی اس دنیا میں ہیں شیطان ہیں۔ بعد مردن ان کے شیطان بننے کی کوئی اصلیت نہیں دوسرے جسموں میں حلول کرنا آریوں کا آواگون ہے اس کو مذہب اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔

اسباب و سامان خانہ داری سے مستفید ہونے کے معنی صرف اتنے صحیح ہیں کہ اگر کسی غریب کو اس کے ذریعہ سے امداد پہنچائی گئی تو اس کا نیک صلہ قدرت کی طرف سے دینے والے کی نیت کے لحاظ سے میت کی روح کو حاصل ہو سکتا ہے جو اخروی نعمتوں کے لباس میں ہو گا۔

ایسا ہرگز نہیں کہ یہ دینوی سازوسامان بجنسہٖ روح کے کام آئے۔ اور اس سے وہ فائدہ اٹھائے۔

قوت جاذبہ و نامیہ کو روح کہنا غلط ہے اس لئے کہ یہ توپھول پتی گھانس اور درخت میں بھی موجود ہے۔ مگر روح اس میں نہیں مانی جاتی وہ حیوان سے مخصوص ہے۔ اور انسانی روح وہ اس سے خاص ہے۔

ہوا کی ضرورت نباتات کے لئے بھی ویسی ہی ہے جیسے حیوان کے لئے پھر اس کی جان کو روح کیوں نہیں کہتے۔

پرانے زمانہ کے ریاضت کرنے والے سادھوں برسوں تک سانس روکے رکھنے کی مشق کرتے تھے۔ اس عرصہ میں خارجی ہوا ان کے جسم میں اعضاء کے ذریعہ سے نہیں پہنچتی تھی پھر بھی اس عالم میں روح ان کے جسم میں موجود تھی۔

پھر جب وہ چاہتے ہیں تو برسوں کے بعد سانس لے لیتے ہیں ہوا کی آمد نہیں تھی پھر بھی روح موجود تھی اگر روح نہ رہتی تو ہمیشہ کے لئے مر جاتے پھر سانس کیسے لیتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ روح کوئی اور چیز ہے۔

پھیپھڑوں کی کشش، دل کی حرکت سے ہوا کی آمد ورفت کے ذریعہ فضا کے حیات بخش اجزاء کا پہنچنا، اور برے اور مضر اجزاء کا نکال پھینکنا، خون کا دوران، عناصر کا اعتدال اور امتزاج، اجزاء کی ترکیب اور ترتیب، اندرونی اعضا کا عمل یہ سب روح کے آثار و لوازم ہیں۔ روح کے نکلنے سے یہ تمام مشینری بے کار اور معطل ہو جاتی ہے روز ہزار پرزے بگڑیں جب تک روح ہے اسی وقت تک زندگی قائم رہتی ہے اور نفس کی آمدوشد برقرار رہتی ہے۔

قدرت نے عالم کا نظام اسباب پر قرار دیا ہے مگر اپنے سے علاقہ قطع نہیں کیا ہے وہ جب چاہتا ہے اسباب کا نظام بدل دیتا ہے۔ اور نتائج میں تبدیلی کر دیتا ہے۔ اس لئے ہر شے جو فنا ہوتی ہے کسی سبب سے فنا ہوئی مگر پھر خدا کی مشیت کے ماتحت۔ بے شک خصوصی حیثیت سے مشیت کا عمل اس وقت نمایاں ہے جب نظام اسباب کی رفتار کو روکنا اور ان کے رویہ کا بدلنا ہو ورنہ جو عام نوعی نظام جاری کر دیا اسی کے مطابق ہو گا اور اس کے ہر ہر جزو میں خصوصی منشا او رمفاد کے ڈھونڈنے کی ضرورت نہ ہو گی۔ جبکہ بحیثیت مجموعی وہ پورا نظام ایک خاص حکمت اور مصلحت پر مبنی کیا گیا ہے۔

بڑے فائدے کے لئے چھوٹے نقصانات گوارا کئے جاتے ہیں اور میزان میں آ کر وہ نقصان نقصان نہیں رہتے بلکہ فائدہ بن جاتے ہیں۔ یہی حالت نظام کائنات کی ہے۔

خالق کا کام بے شک بنانا ہے۔ اور بگاڑنا بھی اس کا حقیقت میں بنانا ہی ہوتا ہے۔ کوتاہ نظر انسان اسے بگاڑنا سمجھتا ہے پھر بننے بگڑنے میں خود اسی نے اسباب کا عمل دخل رکھا ہے اسی لئے بیماری میں علاج سے عناصر، اعضا، اعصاب کا امتزاج درست کیا جاتا ہے اور یہ قدرت کے خلاف مقابلہ نہیں قرار پاتا، نہ حفظان صحت کے کالجوں میں اس کے مقابلہ کو امدادی افواج کی تیاریاں ہیں بلکہ یہ سب بھی قدرت کے منشاء پر عملدرآمد ہے۔

اس نے ان اسباب کو مقرر کیا ہے اور اس نے ان میں اثر دیا، بے شک وہی کبھی اس اثر کو سلب بھی کر لیتا ہے۔ مگر ہمیں تو عام قانون پر عمل چاہئے اور کامیابی کے لئے پھر بھی قدرت سے لو لگانا چاہئے کہ اسی کی یہ سب فوج ہے اور اسی سے ان افواج کی کامیابی کی ڈھارس ہے۔

عقائد و مراسم

جو باتیں مدت سے چلی آئی ہیں، انہی کے مطابق عملدرآمد کو رواج کہتے ہیں۔ عقیدہ کو رواج پر ہرگز مبنی نہیں ہونا چاہئے بلکہ عقل اور استدلال پر مبنی ہونا چاہئے۔ بے شک مراسم رواج سے متعلق ہوتے ہیں۔ وہ اگر خلق خدا کے لئے فائدہ رسان ہیں اور ان کی کوئی عقلی بنیاد ہے تو انہیں باقی رہنا چاہئے ورنہ ختم ہونا چاہئے۔

مراسم اکثر بڑھ کر موروثی خلل دماغ ہو گئے ہیں یہ یقیناً اصلاح طلب ہیں۔

قدرت نے ہم کو لامحدود عقل اور گویائی دے کر انسان بنا دیا۔ دماغ دیا ہے کہ سوچ کر سمجھئے، نطق دیا ہے کہ پوچھ کر سمجھئے، آنکھیں دی ہیں کہ پرانے قضیے، گزرے افسانے، قدیم مقولے، موجودہ فضا کو دیکھ بھال کر سمجھئے، سمجھ کی اصلاح یا صحیح اندازے کے لئے عقل عنایت کی ہے۔

بہترین انسان وہی ہے جو قدرت کی دی ہوئی نعمتوں کو اچھی صورت سے صرف میں لائے۔ کسی بات کا بلادلیل اقرار نہ کرے۔ کسی بات کا بلادلیل انکار نہ کرے جبکہ یہ صحیح ہے کہ فطرت کے آئین میں قوت، خواہش، قد، نیند، عمر، وغیرہ کی کوئی حد مقرر نہیں تو پھر کمی یا زیادتی کے درجہ پر ناک بھوں چڑھانا عقل کے اصول پر صحیح نہیں ہے۔ عام و خاص کے اعتدال اور کم و بیش کے اوسط پر دل کی تسلی ہو جائے تو ہو جائے۔ دماغ کوسکون نہیں ہو سکتا جب کہ انہی اوسط حدود میں آخری نقطہ معمول سے باہر ہی ہو گا۔ تو پھر اس آخر پر بھی اضافہ کا امکان کیوں نہ ہو۔

قوت! کوئی شخص دو چار چھ من کا وزن اٹھا لے، اور رام مورتی صاحب بقول شخص ترکیب سے ۳۸ من پتھر کا سینہ پر توڑ ڈالیں تو آخر ۳۸ دوناچھہتر من کا وزن اٹھانا غیرممکن کیسے سمجھا جائے۔ دماغ یہاں خاموش اور عقل دم بخود رہے گی انکار کی جرات نہ کرے گی۔ واہمہ ہے جو مشاہدہ کے آگے ایک انچ قدم آگے بڑھانے میں تھراتا ہے۔ وہ تو رام مورتی صاحب کا قصہ بھی اگر پہلے پہل سنتا تو انکار پر تل جاتا اس لئے کہ اس کے سامنے وہ انوکھا تھا تو اس سے زیادہ طاقت کے مظاہرہ پر بھی وہ انکار کی جرات کرتا ہے۔ مگر عقل دوراندیش کہتی ہے کہ جب قوت کی کوئی حد نہیں مقرر تو اس سے زیادہ بھی قوت کا امکان ہے یوں ہی خواہش، قد اور نیند کو سمجھ لو، عمر کے لئے کسی نے کوئی میعاد مقرر نہیں کی۔ کوئی حد قرار نہیں دی۔ اب تم اصول فطرت کے مشاہدے تک مانتے ہو تو جو آخری مشاہدہ قراردو گے وہ عام نظام فطرت سے الگ ہی ہو گا۔

پھر جب عام نظام سے وہ الگ ہے اور مانا گیا اس لئے کہ مشاہدہ میں آ گیا تو اس سے زیادہ مقدار کے مشاہدہ کا اگر کوئی ادعا رکھتا ہو تو تم کس عقلی اصول کی بناء پر اس کا انکار کرو گے۔ اس کا باور نہ کرنے والا اپنے محدود مشاہدات کے حلقہ کا قیدی واہمہ ہے۔ اس کو عقل سے کوئی تعلق نہیں۔

عقل کو بیکار بدنام کرنا اپنی انسانیت کو دھبا لگانا ہے۔ عقل تو دلیل کی پابند ہے۔ وہ بلادلیل ہرگز کوئی مفروضہ قائم نہیں کرتی۔ نہ کسی بات کا انکار کرتی ہے۔ نہ وہ واقعات کو مشاہدات کا پابند سمجھتی ہے۔

نظام قدرت میں مداخلت اور آسمان پر دست درازی اگر اسی کے منشاء سے ہو جو اس نظام کا موجد اور آسمان کا بانی ہے تو ہمارا یا کسی کا اجارہ نہیں ہے۔ اس کی قدرت کو مان کر اس کی کارفرمائی کا انکار بالکل بعید از انسانیت ہے۔


جزا، سزا، قیامت

انسان جو کچھ سوچتا یا کرتا ہے ان میں اچھی باتیں بھی ہوتی ہیں بری بھی اچھی باتوں کا بدلا جزا۔ برے کاموں کا بھگتان سزا اور وہ موقع جب سب کو ان کے کئے کی آخری جزا یا سزا ملے اس کا نام قیامت ہے۔

دل میں خواہش، دماغ میں عقل قدرت کی جانب سے ودیعت ہے۔ دماغ دل کا مشیر قانونی ہے۔ دل مچلا عقل نے اچھا برا سمجھا دیا۔ مگر عقل کی آوا ز اسی کو سنائی دیتی ہے جس کا ضمیر مردہ نہ ہوا ہو۔ عادی مجرم جن کا ضمیر مردہ ہو جاتا ہے عیب کو ہنر سمجھ کر کرتے ہیں۔ یہ سمجھنا ان کا اپنے عمل کا نتیجہ ہے اس لئے وہ اس میں الزام سے بچ نہیں سکتے۔ مگر سوال یہ ہے کہ احساس گناہ کا نتیجہ جو روحانی تکلیف ہو سکتی ہے وہ تو ان کو نہیں ہوتی۔

اگر دل کے دھڑکے، ضمیر کے اضطراب، نتیجہ کی دہشت ہی سزائے جرم قرار دی جائے تو نتیجہ یہ ہے کہ ابتدائی مجرم نوسکھیے گناہگار کی سزا سخت اور عادی مجرموں کی سزا اس سے کم اور ایک وقت میں بالکل مفقود ہو جائے۔

بھلا یہ اصول کس انصاف کے قانون پر ٹھیک ہو گا کہ جتنا جرم کا ارتکاب ہوتا جائے سزا ختم ہوتی جائے اور جو گناہ میں بالکل منج جائے اس کے سزا بالکل رخصت ہو جائے۔

زبردست کمزور کا گلا کاٹتا، اس کے مال اسباب جائداد پر قبضہ کرتا اور خوش ہوتا ہے۔

وکیل جھوٹا مقدمہ بنا کر عدالت سے ڈگری حاصل کرتا ہے۔ اور ناز کرتا ہے۔

گواہ جھوٹی گواہی دے کر حقدار کا حق مارتا اور جرح میں نہ ٹوٹنے پر بغلیں بجاتا ہے۔

ڈاکو، چور، اٹھائی گیرے کمزور حکومتوں کے دور میں خوب مزے اڑاتے ہیں اور پھر بھی بال بیکا نہیں ہوتا۔

مہاجن ہزاروں غریبوں کے گھر برباد کرکے اپنی دولت میں اضافہ کرتا ہے اور مونچھوں پر تاؤ دیتا ہے۔ آئین و قانون کی آڑ میں حکام کی طرف سے سینکڑوں مظلوموں کے گلے کٹتے ہیں اور وہ مطمئن ہیں اس لئے کہ قانون خود ان ہی کے ہاتھ کا کھیل ہے۔

بتائیے ان تمام جرائم کی پاداش میں کون سا دل کا دھڑکا، ضمیر کا اضطراب، نتیجہ کی دہشت، صحت کی خرابی، انجام کی دھمکی حشر برپا کر دیتی ہے۔ کون سی عدالت کی زحمتیں اور قانونی سزائیں قیامت ڈھاتی ہیں۔

رہ گئی بدنامی و رسوائی یعنی آدمیوں کا برا کہنا تو اس سے تو اچھے آدمی بچتے ہیں نہ برے۔ اچھے آدمیوں کو یہ تکلیف بروں سے زیادہ برداشت کرنا پڑتی ہے اور ان کی روح کو ایذا بھی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ ان پر عائدکردہ الزامات حقیقت سے دور ہوتے ہیں۔

تو بتائیے ان کے لئے یہ اچھے کاموں کی جزا ہے یا سزا، بے شک بہت سے جرائم کے برے نتائج خود ان ہی جرائم کے بعد ظاہر ہو جاتے ہیں مگر جزا و سزا کو ان وقتی نتائج میں محدود بناؤ گے تو بہت سے اچھے کام تمہیں مورد سزا نظر آئیں گے اور بہت سے برے کاموں پر تمہیں جزا کا قائل ہونا پڑے گا اگر انصاف اور عدالت کی دنیا میں اچھے برے میں حد فاصل کا برقرار رہنا ضروری ہے تو ان وقتی اور عارضی نتائج کے آگے تم کو ایک مستقل اور مختتم جزا و سزا کا ماننا ضروری ہے۔ وہی قیامت ہے۔ جو اس کے حقیقی معتقد ہیں وہ ہرگز گناہوں کے ارتکاب کی جسارت نہیں رکھتے۔ جو اندیشہ معاد سے آزاد ہیں انہیں جرائم سے با زرکھنے کے لئے صرف قانونی تحفظ کا سامان کافی ہے اس لئے وہ جرائم سے متنفر نہیں ہوتے بلکہ صرف اپنے بچاؤ کے خواہاں ہی رہتے ہیں۔


مذہب اسلام

باامن و امان عرصہ حیات طے کرنے کے لئے مافوق انسانی لامحدود طاقت کو سمجھ کر اور مان کر کچھ اصول کے پابند ہو جانے کا نام مذہب ہے۔ خداوندی پیغام کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کا نام اسلام ہے۔ جس نے اس پیغام کو نہ مانا کافر ہوا یہ تفریق ہمیشہ سے قائم ہے خدا کا دین ہمیشہ سے اسلام رہا اصطلاحی طور پر نام بے شک حضرت ابراہیم(ع) سے چلا۔ پیغام ایک تھا پیغام لانے والے بدلتے گئے او راصلاح خلق کے عملی تعلیمات پروگرام کے مطابق تبدیل ہوتے رہے ہر پیغامبر کے پیغام پہنچانے پر جنہوں نے انکار سے کام لیا وہ کافر ٹھہرے جنہوں نے تسلیم کر لیا اور اقرارکیا وہ مسلم قرار پائے۔

اس پیغام کے آخری حامل اور شریعت کے معلم حضرت محمد مصطفی تھے اس لئے آخری معیار اسلام اور کفر کا آپ کی رسالت کو تسلیم کرنا اور نہ تسلیم کرنا قرار پایا۔ اب جتنے لوگ آپ کے پہنچائے ہوئے پیغام اور بتلائی ہوئی شریعت کو مانتے ہیں وہ مسلم کہے جانے کے حقدار ہیں۔ اسلام کے اصل اصول کو فطری بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ ہوش و حواس میں رہ کر ہر انسان اپنے خالق کا مقر ہے اور اگر باپ دادا کے راستے کی محبت، ماحول کا اثر، پرانے رسم و رواج کی لاج مانع نہ ہو تو خالق کے پیغام کے سامنے سر جھکانا بھی فطرت کا تقاضا ہے۔

اسلام کا مذہب اٹل اور ٹھوس حقائق کا مجموعہ ہے جو ہمیشہ سے ایک حالت پر برقرار ہیں۔

بے شک شریعت اسلام جو وسیع اور جامع اور جاودانی ہدایات کو لے کر آئی ہے ناسخ ہے تمام گزشتہ شریعتوں کی۔

تاریخ شاہد ہے کہ علمبردارانِ اسلام نے تبلیغ وحدانیت اور تکذیب شرک سے لاکھوں کافر مسلمان بنا دیئے بلکہ یوں کہا جائے کہ اپنے لاجواب تعلیمات سے کروڑوں آدمی انسان بنا دیئے۔

اسلام اب بھی وہی ہے۔ اس کی ٹھوس حقیقتیں وہی ہیں اس کے لاجواب تعلیمات وہی ہیں۔ رہ گئی ”مسلمان“ نام اختیار کرنے والی جماعت کی بے راہروی تو یہ آج بھی ہے اور پہلے بھی تھی اور اس کے بعد بھی تھی اور خود پیغمبر اسلام کی زبان سے اسلام کا پیغام پہنچائے جانے کے دور میں بھی تھی اور اس کے بعد بھی رہی۔ بات یہ ہے کہ زبان سے اقرار والے سب دل سے تو مومن نہیں ہوتے۔ نہ سب ان حقیقتوں کی صحیح معرفت رکھتے ہیں۔ جنہیں وہ عقیدے کے طور پر مان رہے ہیں۔ کیونکہ ماننا اور ہے اور جاننا یا سمجھنا اور ہے۔ عقائد، واہمہ، غلو، تعصب کی آمیزش ہمیشہ سے رہی۔ روایتی مذہب ہمیشہ بنتے رہے۔ مجموعہ میں ابتری اور شیرازہ میں برہمی کب نہ تھی۔ اسلام کفر میں، سچ جھوٹ میں کب نہ چھپا تھا عقیدت کو ازروئے حقیقت دل میں جگہ دینے والے ہمیشہ سے کم تھے۔ آج بھی وہی صورت ہے امتداد زمانہ سے کچھ بدتر سہی حالانکہ بدتر بھی نہیں کہہ سکتے۔

ہر فرقہ کا دوسرے فرقوں کو کافر بنانا، بے بنیاد باتوں پر لڑنا جھگڑنا، تعلیمات اسلام کے خلاف لباس، وضع، سوسائٹی کی پیروی اور رواج کی پابندی اور اپنے خودساختہ رسوم قدیمہ اور مسلمات دیرینہ کی پابندی کرنا۔

یہ باتیں بے شک افسوسناک ہیں جو اسلام کی ترقی میں سدراہ ہیں مگر عقل کا کام ہے کہ وہ حقیقت کے جواہرات کی تلاش کرے اگرچہ وہ گرد میں اٹے ہوئے ملیں۔ گرد جھاڑو تو ہیرا اپنی چمک پوری دکھلائے گا اس کی قیمت میں کمی نہیں ہو گی۔ کتب پارینہ، اقوال دیرینہ اور مسلمات سابقہ بے شک ماننے کے قابل ہیں۔ بشرطیکہ مستند وجوہ سے ان کی صحت ثابت ہو۔

عقل کو نقل سے دبانا اور مسائل عقلیہ کو تاویل سے مکرانا درست نہیں بشرطیکہ وہم کو عقل او رمحدود مشاہدہ کے نتائج کو مسائل عقلیہ کے نام سے پیش نہ کیا جا رہا ہو۔

مشاہدہ جزئیات سے متعلق ہوتا ہے او راپنی حد میں اس کے مکرانے کا کسی کو حق نہیں مگر مشاہدہ کا نتیجہ ہمیشہ جزئی ہوتا ہے اور اس پر کلی اصول کی بنیاد قائم نہیں ہو سکتی، اوہام پرستی کبھی حقیقت پروری کا ذریعہ نہیں ہو سکتی مگر آج کل کی روشنی میں اوہام کو مسائل عقلیہ اور عقلی دلائل کو اوہام سے تعبیر کیا جانے لگا ہے۔ ٖ

خرد کانام جنوں رکھ دیا، جنوں کا خرد

عقائد اگر حقیقت کے مطابق ہیں تو ان کی پرورش عین حقیقت کی پرستش ہے۔ پیر اگر رہبر حقیقت ہوں تو ان کی پیروی صحیح طریقت ہے۔ ملا اگر عالم باعمل ہوں تو ان کی تقلید عین ہدایت ہے۔ مرشد اگر واقعی ”مرشد“ یعنی راہ رشاد کے مالک ہیں تو ان کے ارشاد کی تعمیل نجات کی ضامن ہے۔ مگر آب و سراب میں تمیز، یاقوت اور ایمی ٹیشن میں فرق عقل و شعور کی آزمائش اور انسانیت کی کسوٹی ہے۔ خدائے واحد کے علاوہ پرستش کسی کی صحیح نہیں مگر اس کی طرف تعلق سے کسی کی تعظیم، کسی شے کا احترام خواہ وہ کوئی قبر ہو۔ کوئی شبیہ ہو۔ یا کوئی خداساختہ یا خودساختہ چیز حقیقتاً اللہ کی پرستش اور اس کی عبادت ہے نیت سے عمل میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ کعبہ بھی خودساختہ ہے۔ قرآن کے نقوش بھی کاتب کے خودساختہ ہیں مگر یہ سب عزت و احترام کے مستحق ہیں اور ان کے سامنے سر جھکانا عین اسلام ہے اس نسبت کی وجہ سے جو ان کو خالق کی طرف حاصل ہے۔

واقعات و معجزات اگر صحیح ذرائع سے ثابت ہوں تو ان کا ماننا جزو ایمان ہے۔

اسلاف کے کارنامے ضرور عزت و افتخار کے ساتھ ظاہر کرنے کے مستحق ہیں، بے شک واقعات میں اصل اور تراشیدہ، کارناموں میں کردہ اور ناکردہ کے جانچ کی ضرورت ہے۔ مگر کچھ غلط اصول یا خودساختہ توہمات کی بناء پر ہر واقعہ اور معجزہ کو آنکھ بند کرکے تراشیدہ اور ہر غیرمعمولی کارنامہ کو ناکردہ کہہ دینا بھی آج کل کے دماغوں کا بڑا کارنامہ ہے جو عقل و ہوش کے مخالف ہے۔

اسلام عقلی مذہب ہے تو اس کے اصول کا ماننا بھی ضرور ہے اسی ماننے کا نام عقیدہ ہے پھر مطلق اعتقاد کی بیخ و بن کیوں اکھاڑتے ہو۔ اس کے احکام کو عقل و دانش کے مطابق جانتے ہو تو ناواقف لوگوں کو واقفیت حاصل کرنے کے لئے واقف کار لوگوں سے دریافت کرنا ضروری ہے۔ پھر مطلق تقلید کی مخالفت کیوں کرتے ہو۔

اسلام کی کتاب بے شک رفعةً آسمانی اور باعتبار خلقت نسبتہً کلام آلہی ہے۔

غلط ہے جو کہے کہ آسمان پر خدا کا مقام ہے اور وہ وہاں بیٹھا ہوا رسولوں کو بھیجتا ہے اور کتابوں کو نازل کرتا ہے۔

بے شک ایسا ہی ہے کہ ہم اپنے پیکر میں سر کو تمام اعضا سے برتر پاتے ہیں اس لئے اپنے اشارہ میں خدا کو رفعةً اور ادباً سر سے اوپر اور اپنے محاورے میں افلاک سے بالاتر بتاتے ہیں حالانکہ قدرت کی حیثیت سے اس کو جہات ستہ میں اوپر نیچے آگے پیچھے دہنے بائیں کسی طرف محدود نہیں بنا سکتے۔

بانی اسلام عام ذرائع تعلیم کے لحاظ سے ان پڑھ تھے مگر علم و معرفت اور عقل و حکمت کا جوہر ان کا خداداد تھا۔ اپنے دماغ سے جو باتیں انہوں نے دنیا کو بتلائیں اور سنائیں وہ احادیث کہیں گئیں ان میں بھی حکمت اور دانشمندی کے خزانے مضمر ہیں مگر خود ان کے دل و زبان پر قدرت کی طرف سے ایک ایسا کلام جاری ہوتا رہا جس سے خود ان کے اقوال کو کوئی نسبت اور مماثلت نہیں اس کو وہ اپنے رب کا کلام مانتے اور بتلالتے تھے او راپنے خالق کی طرف سے ایک سفیر یعنی جبرئیل کے ذریعہ آیا ہوا ظاہر کرتے تھے۔ انہوں نے جبرئیل کی تشریح اوصاف کے ذریعہ سے اس طرح سے کی کہ معلوم ہوا وہ خدا کی روحانی مخلوق ایک فرشتہ ہے۔

جبر کے معنی پیغام اور ئیل کے معنی قوت الٰہیہ کہنا آپ کے قول کی بلاوجہ تاویل اور اپنے دل کی ایجاد ہے۔ حضرت کے دعوے سے اس کا کوئی تعلق ہی نہیں۔

جماعت اسلام نے بھی صرف ان ہی اقوال کو جو ان کے ذاتی کلام سے ممتاز اور بالاتر تھے خدا کی طرف سے اترا ہوا کلام مانا ہے اور اس وحی کا مجموعہ قرآن، عرب کے لہجہ میں اوپر سے آیا ہوا فرمان ہے۔

بانی اسلام کی سیرت تھی کہ سوال کا جواب، نیکی کی ہدایت، بدی سے ممانعت یا کسی بات کا حکم اپنے دل سے نہ دیتے تھے، بلکہ اس غیبی طاقت کی ہدایت کے منتظر رہتے تھے دل سے سوچ سمجھ کر جو باتیں کی ہیں وہ حدیثیں ہیں تمہارے ہمارے سامنے موجود ہیں۔ ان کا انداز، طریقہ طرز ایک خاص ہے اور جو وحی ربانی کا کلام ہے وہ بھی سامنے ہے اس کاانداز و طریقہ بالکل جدا ہے کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ حدیثیں بے سوچے سمجھے فوراً کہہ دی جاتی تھیں۔ ہرگز نہیں، وہ بھی عقل خداداد کی رہنمائی، توفیق ربانی، تائید آسمانی سے متعلق تھیں مگر آں ہمہ دیگر اور کلام قرآنی چیزے دیگر ہے۔ اسی کی تبلیغ پر رسالت کے مدعی ہوئے۔ یعنی جو خداوندی پیغام ان کو ودیعت ہوئے خواہ عقل خداداد سے اور خواہ قول خداساز سے ان کو ہم تک پہنچانے کے رسول ہیں۔

آپ نے اپنی بساط تلقین ہرگز اس نیم تاریخی اور روایتی زمین پر نہیں بچھائی جو یہودونصاریٰ اور بنی اسرائیل کو خوشگوار تھی بلکہ آپ نے ان کے روایات کی تصحیح کی، ان کی ترمیم کی اور ان کو اصلی صورت پر پیش کیا۔

دیکھ لو آدم(ع) کا جنت میں گندم کھانے کا قصہ، حضرت داؤد(ع) کا اوریائے حتی والا واقعہ۔ بائبل میں اور قرآن میں۔ معلوم ہو گاکہ ان کہ وہ اجزاء جو شان رسالت واوہیت کے خلاف ہیں قرآن میں کہیں موجود نہیں ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ تاریخی اظہارات میں قرآن نے تقلید سے نہیں۔ تحقیق سے کام لیا۔

گزشتہ واقعات میں ”تانہ باشد چیزکے“ کے مطابق جتنی اصلیت تھی اس کو بیان کیا گیا اور آدمیوں کی بنائی ہوئی ”چیزہا“ کے جو اضافے تھے انہیں خذف کر دیا۔ نیکی کی ہدایت، جزا کی بشارت دی، بدی سے ممانعت کی، سزا سے ڈرایا، قوم میں شریعت قائم کی۔ جہالت کی فضا تھی، عرب میں لکھے پڑھے ہوئے آدمیوں کی کمی تھی، آپ نے کوشش کے ساتھ لکھے پڑھے آدمی فراہم کئے جو کچھ کلام آٰلہی کی حیثیت سے آپ کی زبان پر جاری ہوتا۔ اسے فوراً کاتب کو بلا کر خود لکھوا دیتے تھے او راپنے بھائی، داماد اور شاگرد خاص حضرت علی ابن طالب(ع) کی حفاظت میں دے دیتے تھے۔ دوسرے لوگ بھی جو کچھ سنتے تھے۔ یاد کرتے تھے اور ہڈی چمڑے لکڑی پتہ، پوست، کاغذ جو پاتے تھے اس پر لکھ لیتے تھے۔

حضرت کی وفات کے بعد ایک طرف تو حضرت علی(ع) نے دنیا سے الگ تھلگ ہو کر سب سے پہلا کام یہی کیا کہ ان تمام مکتوبات کو کتاب کی شکل میں مرتب کر لیا۔ دوسری طرف بااقتدار جماعت یعنی خلیفہ اول حضرت ابوبکر اور ان کے گروہ نے بڑی کوشش سے آیتوں کو ترتیب دے کر صحیفوں کی شکل میں جمع کیا۔ اور اصحاب نے بھی اپنے اپنے سلیقہ کے مطابق اپنے اپنے محفوظات کو کتاب کی شکل میں ترتیب دے لیا۔ جیسے ابی بن کعب، عبداللہ بن مسعود وغیرہ وغیرہ۔ ان سب کے جمع کئے ہوئے مصحفوں میں اگر کچھ فرق تھا تو ترتیب کا تھا اسی لئے جب حضرت علی(ع) کے جمع کئے ہوئے قرآن کو لوگوں نے نہ لیا تو آپ نے اس کی اشاعت ضروری نہیں سمجھی۔ بلکہ آپ ہمیشہ اسی قرآن پر عمل اور اس کی تعظیم پر لوگوں کو مامو رکرتے رہے جو مسلمانوں میں رائج ہو گیا تھا۔

آپ نے معمولی احکام شرعیہ کے لئے جن کے متعلق حکومت کا طرز عمل خلاف آئین حقیقت تھا۔ علانیہ مخالفت کے طور پر (جو آپ کے نزدیک مفاد اسلامی کے خلاف تھی) نہ سہی مگر اظہار حقیقت کے طور پر اظہار واقعہ سے کبھی دریغ نہیں کیا۔ پھر غیرممکن تھا کہ قرآن میں کسی قسم کی قطع برید ہوتی، کوئی الحاق و اضافہ کیا جاتا اور اس پر آپ احتجاج سے خاموش رہتے اور اس کا صاف اعلان نہ کر دیتے۔ حضرت عثمان کی جدوجہد اپنے دور میں صرف یہ رہی کہ مسلمانوں کو ایک ترتیب کا پابند بنا دیں اور وہ تمام مصاحف جن کی ترتیبیں مختلف تھیں جو عبداللہ بن مسعود و ابی بن کعب وغیرہ کے پاس تھے انہیں تلف کرا دیں اس لئے کہ وہ لوگ اپنی ہی ترتیب کے مطابق اپنے شاگردوں کو تعلیم بھی دیتے تھے اور اسی کی اشاعت کرتے تھے۔ حضرت علی(ع) نے اپنے ترتیب دادہ مصحف کی اس کے پہلے ہی اشاعت نہ کی تھی اس لئے اب اس دور میں آپ کے اس مصحف کے خلاف کوئی کوشش و کاوش بھی نہ ہوئی۔ موجودہ ترتیب بے شک ترتیب عثمانی ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ اکثر جگہ بے ربط ہے۔ آیتیں سورے اپنی جگہ پر نہیں۔ مکی مدنی آگے پیچھے۔ پہلے بڑے سورے رکھے پھر بتدریج چھوٹے سوروں پر اختتام کیا ہے مگر کوئی شبہ نہیں کہ ہر آیت اپنی جگہ وہی کلام ہے جو پیغمبر اسلام نے بحیثیت کلام اللہ پیش کیا۔ اس میں ہمارے خیال میں کمی نہیں ہوئی اور زیادتی تو قطعاً نہیں ہوئی۔

ترتیب میں بنی امیہ کا سلیقہ ہو تو ہو مگر بہترین احکام و ہدایات کے ساتھ قدیم حکایات کے ہونے میں بنی امیہ کا قصور سمجھنا غلطی ہے۔ حکایات بھی اس کی طرف کے ہیں جس کی جانب کے احکام و ہدایات ہیں نہ مکرر سہ کرر فقرے تاید و یاددہانی کے طو رپر مختلف وقت پر آئے ہوئے مضامین میں تکرار۔ نصیحت اور عبرت کے استحکام کے لئے ایک بات پر دو چار بار بلکہ دس بار اس لئے کہ زودفراموش افراد کو یاد رہے۔ بیان میں انتشار موقع اور محل کے اختلاف سے۔ نصیحت کہیں پر صراحتہً اور کہیں ضمناً، یہ شاذ نہیں بلکہ ہر مقام پر یہاں تک کہ قصص و حکایات میں نصیحت ہی اصل مقصد و مفاد۔ ہدایت جا بجا نہیں بلکہ ہر جا۔ قسمیں حسن بیان اور کلام کی سجاوٹ اور شان کے لئے، خودستائیاں دنیا کو اپنی معرفت حاصل کرانے کے لئے جس میں دنیا کی بہبود اور ترقی کا راز پنہاں۔ دوزخ سے دھمکیاں شریر طبیعتوں کی اصلاح کے لئے بہشت کی بشارتیں نیک اعمال والوں کی ہمت افزائی کے لئے۔ پچھلے قصے پرانی حکایتیں، سبق دینے اور عبرت حاصل کرانے کے لئے۔ انسان کی خلافت انسان کے مقصد خلقت بتانے کو، آدم(ع) کی حکایت۔ انسان کی قدر و شان اور اس کی عملی کمزوری کا امکان جتانے کو۔ جانوروں کی باتیں خالق کی ہمہ گیر قدرت کے اظہار کے لئے۔ موسیٰ(ع) کا تکلم، انبیائے سابق کی معرفت حاصل کرانے کے لئے، شیطان کی کہانی بنی آدم کی تنبیہ و توجہ دہانی کے لئے، ہابیل قابیل کا قصہ رشک و عداوت کا انجام بتانے کے لئے۔ بلقیس کا تخت۔ سلیمان(ع) کی سلطنت مال ومتاع دنیا کی بے اعتباری دکھانے کے لئے، طوفان کی واردات دنیا کی موجودہ سرکش آبادی کو خوف دلانے کے لئے۔ یوسف(ع) کا قصہ اسباب معیشت کی فراوانی کے موقع پر نبی(ع) خدا کی پاکدامانی کے اظہار کے لئے، ہاروت ماروت کی سرگزشت جادو اور ظلم کی حقیقت کھولنے کے لئے۔ زکری(ع) کا ذکر، انبی(ع) کا تذکرہ صالحین کی یاد تازہ کرکے ان کے اسوہ حسنہ کی طرف دنیا کو دعوت دینے کے لئے، عزیر کی دوبارہ حیات، حیات بعدالموت کے تصدیق و اقرار کے لئے، غرض کوئی جزو بیکار نہیں کوئی بات فضول نہیں ہر ایک خدائے حکیم کی جانب سے حکمت اور مصلحت کی بناء پر بندوں کی ہدایت و اصلاح کےلئے مذکور ہوئی ہے۔

بنی امیہ لاکھ برے سہی مگر ان کی اتنی مجال نہ تھی کہ یہ سب کچھ قرآن میں بڑھا دیتے اور مسلمان ٹھنڈے دل سے گوارا کر لیتے بلکہ اس پر یونہی پردہ پڑا رہتا اور کوئی اس پردہ کو نہ اٹھاتا۔ نہ اس کا انکشاف کرتا۔ یہ بات بالکل غیرممکن ہے۔

بنوامیہ کو بڑھانا ہی تھا۔ تو اپنی تعریف او رمنقبت کے سورے بڑھا دیتے اپنی سلطنت کی حقیقت کے لئے آیتیں تصنیف کرتے۔ نہیں کیا ضرورت تھی کہ یہودیوں کے تالیف قلب کو موسیٰ(ع) کا یدبیضا۔

لاٹھی، عصا، بچھڑے کا قصہ، طور کا واقعہ، لاش فرعون کی بقاء۔ نصاریٰ کے استفسار پر پچھلی کتابوں کے معلومات ک ااظہار، ذوالقرنین کی گام فرسائی وغیرہ وغیرہ کی تصنیف کے لئے سرمغزی کرتے او ران تمام باتوں کا اضافہ قرآن میں کر دیتے۔ جو ایسا گمان کرے عقل کے ساتھ کھیل کھیلتا ہے او رکلام الٰہی کی تکذیب کو اس پردہ میں چھپاتا ہے کہ آئی گئی بنی امیہ کے سر ڈالتا ہے مگر دنیا ایسی سادہ لوح نہیں ہے کہ وہ ان چکموں میں آئے اور ایسی بیوقوف بنے۔

کون نہیں جانتا کہ بنی امیہ نے احکام شرع میں جو تبدیلیاں کیں اور مذہب کے ساتھ جو بغاوت کی اس کے خلاف آل رسول اور سچے مسلمان احتجاج کرتے رہے اور نہ صرف احتجاج بلکہ قربانیاں پیش کرتے رہے۔ کربلا کی خونی تاریخ کی اسی پر بنیاد ہے۔ کیا ممکن تھا کہ قرآن میں اس تصنیف و ایجاد پر آل رسول اور تمام سچے مسلمان خاموش رہتے اور آج سے پہلے اس کا کبھی اظہار نہ کیا جاتا۔

یہ بھی دیکھئے کہ بنی امیہ کے بعد سلطنت بنی عباس کی قائم ہوئی جو بنی امیہ کے حریف تھے۔ اس لئے لوگوں کو اس دور میں بنی امیہ کے نقائص و معائب بیان کرنے کا خوب موقع ملا۔ مگر اس وقت بھی قرآن جوں کا توں قائم رہا اور کسی نے بنی امیہ کے خلاف یہ الزام نہیں عائد کیا کہ انہوں نے یہود اورنصاریٰ کی خاطر اس میں غلط افسانے شامل کئے ہیں اور جھوٹے حکایات درج کئے ہیں۔

حکومت کا دباؤ ہرگز مسلمانوں کے زبان اور دل پر ایسا سخت پہرہ نہیں بٹھا سکتا تھا کہ اتنا اہم معاملہ دبا رہتا اور ایک صدا بھی اس کے خلاف بلند نہ ہوتی۔ نہ پہلے نہ بعد اس وقت جبکہ حکومت کا دباؤ اٹھ چکا تھا اور دوسری حکومت قائم ہو چکی تھی۔

نہ یہود اور نصاریٰ کا رسوخ امور سلطنت میں اس درجہ تھا کہ وہ اپنی طبیعت کے موافق قرآن میں تبدیلیاں کر سکتے۔

شروع والی خلافت کے دور میں تو کچھ نو مسلم یہود ایسے تھے بھی جن کے روایات احادیث و اخبار کے ذیل میں مسلمانوں میں رواج پا گئے مگر اس کے بعد پھر کوئی ایسی جماعت یہودونصاریٰ میں سے کبھی برسراقتدار نہیں رہی۔ عثمان کا قتل جن الزاموں پر تھا وہ ہمارے سامنے موجود ہیں۔ ان میں یہ ہرگز نہیں ہے کہ انہوں نے یہود اور نصاریٰ کی جماعت کی خاطر قرآن کی آیتیں یا سورے تصنیف کرکے الحاق کئے۔

ان کے قتل ہو جانے کے واقعہ ہی سے ظاہر ہے کہ مسلمان اتنے مردہ دل نہیں تھے کہ وہ آسانی سے ان باتوں کو گوارا کر لیتے جو ان کے نزدیک بالکل غلط ہیں۔ جب معمولی الزامات پر عثمان قتل کر دیئے جاتے ہیں تو قرآن میں اضافے ہوتے اسے مسلمان کیسے گوارا کر سکتے۔

ایں خیال است و محال است

غیرمذہب والا اگر عقل و انصاف سے کام لے گا تو وہ ایسے اعتراض نہیں کر سکتا جن کی کوئی بنیاد نہ ہو۔

آسمان حسی طریقہ پر سروں کے اوپر بطور چھت کے نظر آتا ہے، حقیقت اس کی جو کچھ ہو۔ بہرحال وہ کچھ اجسام و اجرام کا مجموعہ ہو، ایتھر کا طبقہ ہو، حد نگاہ ہو، کچھ ہو۔ قرآن نے کب کہا کہ وہ لوہے سونے چاندی یا پیتل کا کوئی ٹھوس جسم ہے یہ تو سمجھ کا فتور ہے کہ لوگوں نے اپنے دل سے ایسا ہی سمجھ لیا تھا وہ سمجھا کریں۔ مگر قرآن پر اس کی ذمہ داری کیا ہے؟ چھت پر خدا کا مقام ہرگز نہیں بتایا۔ کتاب کے بلند مضامین اگر کسی بلند طبقہ سے اسے متعلق بتائیں تو نہ ماننا اپنے ضمیر سے مقابلہ کرنا ہے۔

قرآنی حکایتوں میں بہت سی باتوں کی صحت واقعات سے ثابت ہو چکی، بہت سی باتوں کے لئے مستقبل کا انتظار کرو، محدود معلومات کے ساتھ کامل دانائی کا دعویٰ عقل انسانی کے شایان شان نہیں ہے۔

ترتیب میں بے شک زید بن ثابت کی صلاح ہے مگر قریش کی فصیح ترین زبان قدرت کا انتخاب ہے۔ مکہ کے زباں دانوں، مدینہ کے زباں آشناؤں اور قریش کے فصیح اللسانوں کا سرِ عاجزی جھکانا ہند کے عربی میں دخل نہ رکھنے والے بے تمیزوں کے لئے بھی سند ہے۔

ترتیب کی بے ربطی سے آیتوں کے مضامی کو مجذوب کی بڑ کہنے والا مشرکین عرب کا ہم زباں ہے جو رسول کو مجنون اور دیوانہ کہتے تھے۔

سورہ النجم بھی سامنے ہے۔ آیات میں وہی شکوہ و دبدبہ اور شان ہے جو فصاحت و بلاغت کی جان ہے۔ پریشان خیالی سے دیکھنے پر بیان منتشر عبارت طول طویل، مکررسہ کرر فقرے اور الفاظ کی تکرار نظر آئے اور بے ربط طبیعت کو حکایتیں بے ربط معلوم ہوں تو اس میں قرآن کا کوئی قصور نہیں، اس میں ہدایات بھی ہیں اور نصائح بھی۔ خدا کے جاہ و جلال کا نقشہ ہے جو مقصد رسالت ہے اسے چاہے خودستائیاں کہو اور چاہے جو کچھ مگر خودستائی ناقص انسانوں کی زبان سے قابلِ مذمت اور کامل ہستی کی طرف سے انسان کے فہم و عرفان کی تکمیل کاذریعہ ہے۔

دہلانا۔ بہلانا۔ یعنی عذاب و ثواب۔ بہشت و دوزخ کا تذکرہ چاہے طبیعتوں پر بار ہو لیکن منکروں کو بھی اقرار ہے کہ اصلاح خق کے لئے یہ طریقہ بہتر ہے۔ عیسیٰ(ع) کی تعریف اور موسیٰ(ع) کی شریعت کا تذکرہ حق کا اظہار ہے رہ گیا مفسرین کی مختلف عقل آرائیوں کا حاشیہ۔ وہ نہ قرآن کے اندر ہے۔ نہ قرآن اس کا ذمہ دار ہے۔

سورہ کہف میں بھی کوئی بات ایسی نہیں جو عقل کے خاف ہو۔ دیوار چین مشہور ہے۔ تاتار کے غیرمعمولی انسانوں کی آبادی بھی ہر ایک کو معلوم ہے۔ آفتاب حسی صورت سے سمندر میں اندر ڈوبتا اور اس سے نکلتا ہے۔ سمندر کے اندر ہی دوسری سمت امریکہ کے جزائر کا اب انکشاف ہوا۔ اس لئے پانی میں زمین کی شرکت کا عین حمہ کی لفظ سے اظہار کیا گیا۔ آج تک حفریات میں ہزاروں چیزیں برآمد ہوتی ہیں جن کا پہلے پتہ نہ تھا۔ سینکڑوں پہاڑ۔ ہزاروں غار اب تک ایسے ہیں جن تک تحقیق کا ہاتھ نہیں پہنچا۔ پھر اصحاب کہف کی نسبت کس لئے انکار ہے؟

حضرت خضر(ع) کے ہاتھ سے بچہ کا قتل ایک سابق شریعت کی بات ہے۔ جس کی بنیاد باطنی اسرار پر ہے۔ اس سے ہرگز بچہ کی خلقت کا عبث ہونا ضروری نہیں ٹھہرتا تمہیں کیا معلوم کی اتنی ہی عمر میں خلقت کا منشا پوا نہیں ہو گیا جب مقصد کی تکمیل ہو گئی تو دنیا سے اٹھا لینے کا ذریعہ بنایا گیا۔ یہ پشمانی نہیں ہے بلکہ حالات کے لحاظ سے نتائج کی تبدیلی ہے۔ موت کا فرشتہ مارتا تو بھی خدا کے حکم سے ہوتا خضر(ع) باطنی شریعت کے ہوتے ہوئے منشائے قدرت کے رازدار اور ملک الموت کے قائم مقام بنائے جائیں تو ہمیں اعتراض کا کیا حق ہے؟ بے شک ہماری شریعت کی بنیاد ظاہری اسباب پر ہے اس لئے ہماری شریعت میں اس عمل کی مثال نہیں لائی جا سکتی۔

آسمان حد نگاہ ہو یا کچھ، پھر بھی بلندی کی سمت ایک کائنات کا عالم آباد ہے اسی کو قرآنی زبان میں افلاک و سماوات کہا جا رہا ہے۔

ثوابت کی گردش ثابت ہو مگر سیارات کے لحاظ سے وہ اتنی سست ہے کہ حسی طور پر مفقود ہے اسی لئے بطور تقابل سیارات کے ساتھ ثوابت کا ثبوت صحیح ہے۔

یہ تمام اعتراضات اپنی جہالت اور کوتاہی معلومات کی نشانی ہیں۔

اپنے ناقص معلومات نہیں بلکہ سچے علم و معرفت کی قسم کہ اس کتاب کے تمام آیات بجنسہٖ تزیل آسمانی ہیں۔

(وانه لتنزیل من رب العالمین نزل به الروح الامین علی قبلک لتکون من المنذرین )

بلسان عربی مبین ۔

لایاتیه الباطل من بین یدیه ولامن خلفه تنزیل من حکیم حمید ۔


معجزہ

لغت میں ”وہ بات جو عاجز کر دے“ معجزہ ہے۔ اہل مذاہب کی اصطلاح میں خداوندی منصب جیسے نبوت، رسالت یا امامت کے عہدوں کے واسطے ان کے حامل کو جو غیرمعمولی خصوصیات حاصل ہوں۔ جنہیں وہ اپنے دعوے کے ثبوت میں پیش کریں وہ معجزہ ہیں۔ اگر کوئی غیرمعمولی خصوصیت ایسی جو دلیل نبوت بن سکے نہیں ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہر دعویدار کو سچا رسول، نبی یا امام مان لیا جائے۔

پیغمبر اسلام کا باقی اور دائمی معجزہ قرآن ہے۔ آپ نے عمومی حیثیت سے اسی کو ثبوت رسالت میں پیش کیا۔ یہ روایت نہیں درایت ہے۔ اور یہ تمام انبی(ع) کے معجزات میں اس کی امتیازی صفت ہے۔ رہ گئے دیگر انبی(ع)ء کے معجزات وہ ہم تک بطور روایت پہنچے ہیں۔ ویسے معجزات ہمارے رسول کے لئے بھی حاصل ہوئے اور ہم تک روایتہ پہنچے۔ شق القمر اسی طرح کا معجزہ ہے۔

قرآن کی آیت اقتربت الساعة وانشق القمر۔ کا یہ ترجمہ کہ ”قریب آ گئی ساعت اور شق القمر“ بالکل غلط ہے۔

جس عربی دان سے چاہے پوچھ لو ترجمہ اس کا یہ ہوا کہ ”قریب آ گئی ساعت اور شق ہوا قمر۔“

روایات کے اختلاف سے اصل واقعہ کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ وفات رسول ایسی مسلمہ حقیقت مگر کس تاریخ یہ وفات ہوئی مسلمانوں میں عظیم اختلاف کا مرکز ہے۔

نماز ایسی مسلمہ بات مگر رسول نماز کس طرح پڑھتے تھے اس میں مسلمانوں میں بڑا اختلاف ہے۔

پھر جس طرح تاریخ کے اختلاف سے وفات رسول کا اصل واقعہ مشکوک نہیں ہو سکتا۔ نماز کے خصوصیات میں اختلاف سے اصل حقیقت کہ رسول نماز پڑھتے تھے محل انکار نہیں بن سکتی تو ویسے ہی صورت و کیفیت اور تفصیل کے اختلاف سے اصل واقعہ شق القمر کی صحت پر اثر نہیں پڑ سکتا جبکہ مجموعی حیثیت سے تمام روایات اس کے وقوع پر متفق ہیں۔

چاند کی ہیئت مختلف مقامات کے دیکھنے والوں کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ سوائے قریب الافق مقامات کے ایک شکل و صورت پر ایک وقت میں چاند کہیں نظر نہیں آتا۔ عرب اور اس کے قریب الافق مقامات میں تاریخ نگاری کا رواج بالکل نہیں تھا ان کی تاریخ راویوں کے بیانات ہی سے مدون ہوئی ہے اوراسلام کے غلبہ کے بعد تمام لکھنے پڑھنے والے افراد اور تدوین و تصنیف کرنے والے لوگ اسلام لا چکے تھے۔ ان ہی راویوں نے اس واقعہ کی روایت بیان کی اور ہم تک پہنچی۔ غیراسلامی جماعت کے افراد کی کوئی تاریخ تدوین کردہ اس وقت کی موجود ہو اور اس میں یہ واقعہ درج نہ ہو تو خیر اس کی صحت پر کچھ اثر بھی پڑے۔

بہرحال یہ روایتی بحث ہے۔ اسلام اور نبوت رسول کی بنیاد معجزہ شق القمر پر ہرگز نہیں ہے۔ اس کی بنیاد ان عظیم الشان گوناگوں معجزات پر ہے جو اس ایک قرآن عظیم میں مضمر ہیں۔ یہی ہزاروں معجزوں کا ایک معجزہ ہے جو ہمیشہ کے واسطے رسول کی تصدیق کے لئے بہترین دلیل او رحجت ہے۔

کہا جاتا ہے کہ خود قرآن میں موجود ہے کہ آنحضرت کو معجزے عطا نہیں فرمائے گئے۔ ثبوت میں ۱۴ آیتیں پیش کی جاتی ہیں۔ مگر ان آیتوں میں کہیں بھی معجزہ کی لفظ نہیں ہے۔ ان میں جو کچھ ہے وہ ”آیات“ اور ”بینات“ کی لفظ ہے۔ ان ہی کا ترجمہ ”معجزہ“ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ان آیات سے معجزہ کی نفی کا ثبوت اسی وقت ہو سکتا ہے۔ جب یہ مان لیا جائے کہ قرآنی اصطلاح میں معجزہ کو ”آیت“ اور ”بینہ“ کہا جاتا ہے۔ اگر اس کو مان لیا جاتا ہے تو آپ کو قرآن مجید میں حسب ذیل ۲۸ مقام پر واصح اور صاف الفاظ میں ثبوت ملے گا کہ ہمارے رسول کو بھی معجزات عطا ہوئے ہیں۔ ملاحظہ ہو۔

نمبر ------- پارہ ------ سورہ ------ مضمون

۱ ---------------------- یقینا ہم نے اتارے ہیں تم پر روشن معجزات، اور نہیں انکار کر سکتے ان کا مگر فاسق لوگ ۔

۲ -------- ۲ ----- بقرہ ------ جو لوگ علم نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کہ کیوں ہم سے خدا بات نہیں کرتا یا کوئی خاص معجزہ کیوں نہیں اترتا۔ ایسا ہی کہا تھا ان لوگوں نے جو ان کے پہلے تھے ان کے ہی قول کی مثل یقیناً ہم نے معجزات ظاہر کئے ان لوگوں کے لئے جو یقین لانے پر آمادہ ہیں۔

۳ ---------------- اگر تم نے لغزش کی بعد اس کے کہ معجزے تمہاری طرف آ چکے تو جان لو کہ خدا زبردست اور صاحب حکمت ہے۔

۴ --------------- کیونکہ خدا راہ راست پر لائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے ایمان لانے کے بعد پھر انکار کیا اور گواہی دی کہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس معجزے آئے۔ اور خدا ہدایت نہیں کرتا ان لوگوں کی جو ظالم ہوں۔

۵ -------------- ان لوگوں کے سامنے جو بھی معجزہ ان کے پروردگار کی طرف سے آتا ہے۔ یہ اس سے روگردانی ہی کرتے ہیں۔

۶ ------------- ہمیں معلوم ہے کہ تمہیں رنج ہوتا ہے ان لوگوں کی باتوں سے، یہ لوگ تمہاری ذات کو تھوڑی جھٹلاتے ہیں بلکہ وہ ظالم خدا کے معجزوں کا جان بوجھ کر انکار کرتے ہیں۔

۷ ------------- جنہوں نے جھٹلایا ہمارے معجزوں کو یہ بہرے ہیں اور گونگے ہیں، تاریکی میں مبتلا ہیں۔

۸ ----------- جب آئیں تمہارے پاس وہ لوگ جو ہمارے معجزوں پر ایمان لاتے ہیں تو کہو سلامتی ہے تمہارے واسطے، تمہارے پروردگار نے لازم کر لیا ہے اپنے اوپر رحمت کو،

۹ ------------ جب ان کے پاس کوئی معجزہ آتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ ویسی ہی باتیں نہ آئیں جو اور پیغمبروں کو ملی تھیں خدا خوب بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنا پیغام کس طرح بھیجے۔

۱۰ -------------- یقیناً آیا تمہارے پاس معجزہ تمہارے پروردگار کی جانب سے اور ہدایت و رحمت تو پھر کون شخص زیادہ ظالم ہو گا اس سے کہ جو خدا کی طرف کے معجزات کی تکذیب کرے اور ان سے روگردانی کرے۔

۱۱ ------------- جب ہم کسی ایک معجزے کے بجائے بدل کر دوسرا معجزہ بھیج دیتے ہیں اور خدا زیادہ واقف ہے اس چیز کے متعلق جسے وہ اتارتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ تم تو اپنے دل سے گڑھتے ہو۔ بلکہ اکثر ان میں سے علم نہیں رکھتے۔

۱۲ --- ۱۴ ---- النحل_۱۰۴ ------ وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے خدا کے معجزات پر خدا ان کو جبراً راہ راست تک نہیں پہنچائے گا اور ان کے لئے دردناک سزا مقرر ہے۔

۱۳ ----- ۱۵ ----- الإسراء_۹۷_۹۸ ------ ہم ان کو روز قیامت اندھا بہرا محشور کریں گے یہ ان کا بدلہ ہے اس بات کا کہ انہوں نے ہماری طرف کے معجزوں کا انکار کیا۔

۱۴ ------- ۱۵ ------- الكهف_۵۷ ------ اس سے بڑھ کر کون ظالم ہو گا جس کو اس کے پروردگار کی طرف کے معجزات کے ذریعہ سے یاددہانی کی گئی مگر اس نے روگردانی کی۔

۱۵ ---------- ۱۶ ------- مريم_۷۷ ------- کیا دیکھا تم نے اس شخص کو جس نے انکار کیا ہمارے معجزات کا۔

۱۶ -------- ۱۷ ------- الحج_۱۶ ------- ہم نے اس کو اتارا ہے، روشن معجزوں کی حیثیت سے اور خدا ہدایت کرتا ہے جس کی چاہتا ہے۔

۱۷ -------- ۱۸ -------- المؤمنون_۵۷_۵۸_۵۹_۶۰_۶۱ ------- وہ لوگ جو اپنے پروردگار کے خوف سے ڈرتے رہتے ہیں اور جو اپنے پروردگار کی طرف کے معجزات پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نیک باتوں میں تیزی کرتے ہیں اور قدم آگے بڑھاتے ہیں۔

۱۸ -------- ۱۸ ------- النور_۱ -------- سورہ ہے جس کو ہم نے اتارا اور مقرر کیا اور اس میں معجزات اتارے کہ جو روشن ہیں۔

۱۹ ------- ۱۸ ------- النور_۳۴ ------- یقیناً ہم نے تمہاری طرف اتارے ہیں واضح معجزات اور ویسی ہی باتیں جو پہلے زمانہ کے لوگوں کو ملی تھیں اور موعظہ و نصیحت پرہیزگاروں کے لئے۔

۲۰ --------- ۱۸ -------- النور_۴۶ ------ ہم نے اتارے ہیں روشن معجزے اور خدا جس کو چاہتا ہے راہ راست کی طرف ہدایت کرتا ہے۔

۲۱ -------- ۲۰ -------- النمل_۹۳ ------ کہو الحمدللہ عنقریب ہم تمہیں معجزات دکھلائیں گے جنہیں تم پہچانتے ہو گے۔

۲۲ ------- ۲۳ ------- الصافات_۱۴_۱۵ ------ جب وہ کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ نہیں ہے مگر کھلا ہوا جادو۔

۲۳ ---------- ۲۴ ------- غافر_۸۱ ------ دکھلا رہا ہے وہ اپنے معجزے۔ پس خدا کے کن کن معجزات کا تم انکار کرو گے۔

۲۴ -------- ۲۵ ------- الجاثية_۹ -------- جب ہمارے معجزات میں ان کو کسی کا علم ہوتا ہے تو یہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان کے لئے ذلت آمیز سزا ہے۔

۲۵ ------- ۲۶ -------- الأحقاف_۷ ------- جب ان کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں ہمارے روشن معجزے تو جو لوگ انکار کرتے ہیں۔ وہ حق کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ یہ کھلا ہوا جادو ہے۔

۲۶ ------- ۲۷ ------- الحديد_۹ ------ وہ اتارتا ہے اپنے بندہ پر روشن معجزات تاکہ نکالے تمہیں تاریکی کے پردوں سے روشنی کی طرف۔

۲۷ ------- ۲۸ ------ الصف_۶ ----- کہا عیسیٰ بن مریم نے کہ اے بنی اسرائیل میں خدا کا رسول ہوں تمہاری جانب تصدیق کرنے والا اس توریت کی جو میرے قبل تھی اور بشارت دینے والا ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ہو گا تو جب وہ آیا ان کی طرف معجزات کے ساتھ تو انہوں نے کہا کہ یہ کھلا ہوا جادو ہے۔

۲۸ ------- ۳۰ ------- البينة_۴ ------- نہیں اختلاف کیا ان لوگوں نے کہ جنہیں کتاب عطا ہوئی ہے مگر بعد اس کے کہ ان کی طرف معجزہ آ گیا۔

ان تمام آیتوں سے صاف ظاہر ہے کہ رسالت مآب بھی اسی طرح معجزات کے ساتھ مبعوث ہوئے تھے جس طرح سابق انبی(ع)ء معجزات کے ساتھ آئے تھے اب جب کہ اتنی آیتوں میں رسول کو معجزوں کا عطا کیا جانا مذکور ہے تو غور کیجئے ان چودہ آیتوں پر جو اس کے ثبوت میں پیش کی جاتی ہیں کہ ہمارے رسول کو معجزے نہیں عطا ہوئے۔

بات یہ ہے کہ سنت آلٰہیہ یہ رہی کہ تمام انبیا کے معجزے یکساں نہیں رہے بلکہ ہر نبی کو حکمت و مصلحت کے لحاظ سے مخصوص معجزات عطا ہوئے جو اسی نبی سے خاص ہیں۔ رسول کو بھی خدا کی طرف سے وہ معجزات عطا ہوئے جو آپ کے ساتھ خاص ہیں۔

مشرک لوگ عناد اور تعصب سے ان تمام معجزوں سے سرتابی کرتے ہوئے کبھی مضحکہ کے انداز پر اور کبھی بہانہ کے طور پ رنئے نئے معجزوں کی فرمائش کرتے تھے۔ حقیقت طلبی کے جذبہ سے نہیں بلکہ صرف اپنے انکار کی سخن پروری کے لئے۔ اور کبھی یہ چاہتے تھے کہ بالکل وہی معجزے جو سابق انبی(ع)ء کو مل چکے ہیں وہ ان کو بھی دیئے جائیں۔ ان کے جواب میں کبھی یہ کہا گیا ہے کہ یہ معجزات پہلے انبی(ع)ء پر آ چکے ہیں اور لوگوں نے تکذیب کی۔ پھر اب ان ہی معجزات سے کیا فائدہ اور کبھی یہ کہا گیا کہ اگر یہ معجزے دیکھو گے تب بھی تم ایمان نہیں لاؤ گے۔ اور کبھی یہ کہا گیا کہ معجزے تمہارے سامنے موجود ہیں اگر تم ایمان لانا چاہو تو وہ کافی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر ہر فرد کی فرمائش پر معجزہ ہی ہونے لگے تو معجزہ بازیچہ اطفال بن جائے اور اس کی غیرمعمولی عظمت و اہمیت باقی نہ رہے۔

اب ان آیتوں پر الگ الگ نظر ڈالئے۔ خود ان کے الفاظ بتلاتے ہیں کہ یہ خاص فرمائشی معجزات سے متعلق ہیں۔

( ۱) کہتے ہیں کہ خدا نے تو ہم سے عہد کیا ہے کہ جب کوئی رسول یہ معجزہ نہ دکھائے کہ وہ قربانی کرے اور اس کو آسمانی آگ آ کر چٹ کر جائے اس وقت تک ہم ایمان نہ لائیں گے۔ تم کہدو کہ بہت پیغمبر مجھ سے قبل تمہارے پاس واضح اور روشن معجزات اور جس چیز کی تم نے فرمائش کی ہے لے کر آئے تم نے قتل کر ڈالا۔

( ۲) کہتے ہیں کہ اسی نبی پر اس کے پروردگار کی جانب سے کوئی معجزہ کیوں نہیں نازل ہوتا۔ تم کہدو کہ خدا معجزے کے نازل کرنے پر ضرور قادر ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔

اس آیت کے قبل یہ موجود ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ ان لوگوں کے اقوال سے تمہیں صدمہ پہنچتا ہے یہ لوگ فقط تمہاری ہی تکذیب تھوڑی کرتے ہیں بلکہ خدا کے معجزوں کی تکذیب کرتے ہیں اور اس کے بعد یہ آیت ہے کہ جو لوگ ہمارے معجزوں کی تکذیب کرتے ہیں یہ تاریکیوں میں اندھے اور گونگے ہیں۔

( ۳) ان لوگوں نے خدا کی سخت قسمیں کھائیں کہ ان کے پاس کوئی معجزہ آئے تو ضرور اس پر ایمان لائیں گے، ”کہو کہ معجزہ تو بس خدا ہی کے پاس ہے اور تمہیں کی امعلوم کہ معجزے آئیں گے تو یہ ایمان نہ لائیں گے۔ اور ہم ان کی آنکھیں الٹ پلٹ کر دیں گے۔“

کتنے غضب کی بات ہے کہ ترجمہ لکھ کر اتنا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس لئے کہ بعد کا ٹکڑا مقصد کے لئے مضر ہے۔

آخری فقرہ کو اس طرح ملا کر پڑھئے ”اور ہم ان کی آنکھیں الٹ پلٹ کر دیں گے جس طرح یہ لوگ ایمان نہیں لائے اور چھوڑ دیں گے ان کو سرکشی میں ان کی تاریکی میں ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے۔“

اس سے صاف ظاہر ہے کہ پہلے معجزہ آیا اور یہ لوگ ایمان نہیں لائے او راب ان کی خواہش صرف سرکشی اور عناد پر مبنی ہے۔ اسی لئے ان کا مطالبہ پورا نہیں کیا جاتا۔

( ۴) جب تم ان کے پاس کوئی خاص معجزہ نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے اسی کو کیوں نہ منتخب کیا۔ تم کہدو کہ میں تم بس وحی کا پابند ہوں جو میرے پروردگار کی طرف سے میرے پاس آتی ہے۔“

اس آیت سے کسی طرح مطلب نکل ہی نہیں سکتا تھا جب تک اس کے معنی میں ترمیم نہ کی جائے۔

اس لئے اس کا ترجمہ کیا گیا ہے کہ ”جب تم ان کے پاس کوئی معجزہ نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے اسے کیوں نہیں بنا لیا۔“

آیت میں یہ لفظ ہے (لولا اجتبیتھا) اجتباء کے معنی بنانے کے ہرگز نہیں ہیں بلکہ اجتباء کے معنی منتخب کرنے کے ہیں اور انتخاب کے لفظ سے صاف ظاہر ہے کہ دوسرے معجزات ان کے سامنے موجود تھے مگر وہ یہ چاہتے تھے کہ جو معجزہ وہ کہہ رہے ہیں وہی پیش کیا جائے۔ اس لئے وہ کہتے تھے کہ آپ نے بجائے دوسرے معجزات کے اسی کو کیوں نہ منتخب کیا۔

( ۵) کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر کوئی معجزہ کیوں نہیں نازل کیا گیا؟ تو تم کہدو کہ ”غیب تو صرف خدا کے واسطے خاص ہے“ اس میں اصل آیت میں اتنا ٹکڑا اور ہے، ”پس انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔“

انتظار اسی بات کا ہوتا ہے جو آئندہ ہونے والی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں مطلوبہ معجزہ کا انکار نہیں کیا گیا ہے بلکہ آئندہ کا وعدہ کیا گیا اور چونکہ خدا کا وعدہ غلط نہیں ہو سکتا اس لئے ماننا پڑے گا کہ یہ معجزہ ضرور ظاہر ہوا۔

( ۶) یہ لوگ کہہ بیٹھیں کہ خزانہ کیوں نہیں نازل کیا یا اس کے ساتھ فرشتہ کیوں نہ آیا۔ تو تم صرف ڈرانے والے ہو، خدا ہر چیز کا ذمہ دار ہے۔ اس میں تو معجزہ کا کہیں نام بھی نہیں ہے بلکہ دو خاص باتوں کا ذکر ہے، ایک خزانہ نازل ہونا اور دوسرے ان کے ساتھ فرشتہ کا لوگوں کے سامنے آنا۔ ان دونوں باتوں کی نفی سے مطلق معجزہ کا انکار کہاں ثابت ہوتا ہے۔

( ۷) تم سے کہا کہ جب تک تم ہمارے واسطے زمین سے چشمہ نہ بہا نکالو گے ہم تم پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے یا کھجوروں کا اور انگوروں کا تمہارا کوئی باغ ہو ان میں تم بیچ بیچ میں نہریں جاری کرکے دکھا دو۔ یا جیسا تم گمان رکجھتے تھے ہم پر آسمان ہی کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے گراؤ۔ یا خدا اور فرشتوں کو گواہی میں لا کھڑا کرو۔ یا تمہارے لئے کوئی طلائی محل سرا ہو، یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور جب تک تم ہم پر کتاب نازل نہ کرو گے کہ ہم اسے خود پڑھ بھی لیں اس وقت تک ہم تمہارے قائل نہ ہوں گے۔ تم کہدو کہ سبحان اللہ میں ایک آدمی رسول کے سوا اور آخر کیا ہوں۔ اس میں بھی تمام تر فرمائشی معجزات کا تذکرہ ہے اور مطلق معجزہ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

( ۸) کہتے ہیں کہ یہ اپنے پروردگار کی طرف سے ہمارے پاس کوئی معجزہ کیوں نہیں لاتے۔ تو کیا اگلی کتابوں میں ان کے پاس نہیں پہنچے۔ یہ ترجمہ بھی غلط ہے اور بالکل بے معنی ہے۔

آخری فقرہ کا آیت کے ترجمہ یہ ہے کہ ”کیا اگلی کتابوں میں جو کچھ تھا۔ اس کا ثبوت (بینہ) ان کے پاس نہیں آیا۔“

اس سے تو بینہ یعنی دلیل نبوت کا وجود ثابت ہوتا ہے۔ معجزہ کی نفی کہاں ثابت ہوتی ہے۔

( ۹) جس طرح کے اگلے پیغمبر(ع) معجزے لائے تھے ویسا ہی کوئی معجزہ یہ بھی کیوں نہیں لاتا۔ ان سے پہلے ہم نے جن بستیوں کو تباہ کر ڈالا وہ ان معجزات پر ایمان نہیں لائے تو کیا یہ لوگ ایمان لائیں گے۔“

اس میں بھی ان ہی خاص طرح کے معجزات کا مطالبہ کیا گیا ہے جو پہلے انبی(ع)ء پر اتر چکے تھے اور ان ہی کا انکار کیا گیا ہے۔

( ۱۰) ” جب حق ان کے پاس پہنچا تو کہنے لگے جیسے موسیٰ(ع) کو معجزے عطا ہوئے ویسے ہی اس رسول کو کیوں نہیں دیئے گئے۔ کیا جو معجزے موسیٰ(ع) کو عطا ہوئے ان سے ان لوگوں نے انکار نہ کیا تھا۔“ اس میں تو خاص حضرت موسیٰ(ع) کے معجزات کا تذکرہ ہے۔

( ۱۱) کہتے ہیں کہ اس کے پروردگار کی طرف سے معجزے کیوں نہیں نازل ہوئے۔ کہہ دو کہ ”معجزے تو بس خدا ہی کے پاس ہیں اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں۔“ اس کے پہلے یہ آیت موجود ہے کہ ”یہ روشن معجزات ہیں ان لوگوں کے دلوں میں جو صاحبان علم ہیں اور ہمارے معجزات کا انکار وہی کرتے ہیں کہ جو ظالم ہیں۔“

اس سے صاف طور پر معجزوں کا ثبوت ہوتا ہے۔ اب اگر اسی کے بعد اس جماعت کا انکار مذکور ہے تو یہ صرف ان کی ہٹ دھرمی کا اظہار ہے۔

جبکہ ۲۸ جگہ قرآن میں صاف معجزات کا ثبوت موجود ہے اور گیارہ آیتیں ان چودہ نکات میں سے جو معجزوں کی نفی کے متعلق پیش کی گئی ہیں وہ صرف فرمائشی معجزات سے متعلق ہے اور خود ان میں ایسے ضمیمے اور قرائن موجود ہیں جو معجزات کے وجود کا پتہ دیتے ہیں تو اگر دو تین آیتوں میں صرف یہ الفاظ نظر آئیں گے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ معجزہ کیوں نہیں دکھایا جاتا، تو ماننا پڑے گا کہ یہاں بھی مراد خاص مطلوبہ معجزات ہیں اور کچھ نہیں۔


اصول دین

اول توحید:

خدا ایک ہے اس کا شریک کوئی نہیں۔

قدرت جو کائنات کے ذرہ ذرہ میں شامل ہے ذات قادر کا پتہ دے رہی ہے اس حیثیت سے اسی کو قدرت بھی کہہ سکتے ہو کہ اس کی ذات سے الگ قدرت کوئی چیز نہیں۔

دوم عدل:

خدا عادل ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ ایک طرف رحیم و غفار ہے اور دوسری طرف قہار۔ عذاب نازل کرنا عدل کا نتیجہ ہے۔ عاصیوں کے گناہوں کی پاداش معصوموں کو نہیں ملتی۔ جو عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں وہ یا گناہ کرنے سے یا بخوشی گناہگاروں کا ساتھ دینے سے۔ رحم بھی عدل کے حدود کے ماتحت ہوتا ہے۔ اتفاقی گناہ کا مرتکب جب کہ دل سے پشیمان ہوا تو رحم کا حقدار ہے اس استحقاق کے درجے مختلف ہیں۔ سرکش اور گناہ پر اصرار رکھنے والا آدمی رحمت کا حقدار نہیں نہ اس پر رحمت کی برش ہے، وہ قہر کا مستوجب ہے اور یہ قہر بھی عدالت کا نتیجہ ہے۔ محل اور موقع جداگانہ ہے۔ ہر ایک کا کردار جدا اور اس کے ساتھ برتاؤ بھی الگ ہے، یہی عین عدالت ہے بے شک عزت و ذلت، بادشاہت اور فقیری، دینا اور لینا، فراغت اور بے فکری سب خدا کے چاہنے سے ہوتی ہے مگر اس کا چاہنا حکمت و عدالت کے اصول کے موافق ہوتا ہے۔ کفار کی جسانی طاقت مقابلہ بھی اسی کی دی ہوئی ہے اگر اس نے ان کے مقابلہ میں اپنے رسول کو فرشتوں کی غیبی طاقت عطا کرکے توازن قائم کر دیا تو اصول عدالت کے خلاف کیا ہے؟

کفار کی شرارتوں اور فساد کی طاقتوں کو شکست دینا جس طرح بھی ہو صلاح عالم کا ذریعہ ہے جو عین حکمت کے مطابق ہے۔ عدالت اصول حکمت و مصلحت کے لحاظ ہی کا نام ہے۔ جو شے موافق حکمت ہو وہی عدالت ہے۔

جب تک انسان طالب حقیقت رہتا ہے خدا مدد کرتا ہے اور ایسے اسباب فراہم کرتا ہے کہ وہ سیدھے راستے پر آ جائے۔ جب انسان ہٹ دھرمی سے کام لیتا ہے تو خدا اس کی پاداش میں اپنی نگاہ موڑ لیتا ہے اور گمراہی چھوڑ دیتا ہے۔ یہ بداعمالی کی ایک سزا ہے جو اصول عدالت کے مطابق ہے۔ اس نگاہ موڑ لینے کے بعد دلوں کے مرض میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ بھی اپنے کرتوت کا نتیجہ ہے اسی کا نام ڈھیل دینا ہے۔ الٹ پلٹ کرنا بھی کرتوتوں کی بدولت ہے تو عدالت کے خلاف کیا ہے۔ بے شک خدا چاہتا تو جبری طاقت سے کام لیتا، اس صورت میں یہ لوگ شرک نہ کرتے مگر یہ جبر کرنا اصول عدالت کے خلاف ہوتا۔ اسی طرح وہ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت بنا دیتا مگر ایسا بھی عدالت ہی کی بناء پر نہ ہوا۔ وہ چاہتا تو ایک ہی گروہ بنا دیتا مگر اسے تو ہر ایک کے اختیار عمل کے مطابق اس سے سلوک کرنا ہے۔ جو اپنے اختیار سے گمراہی پر مصر ہیں خدا انہیں گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے، خدا کی توفیق سلب ہونے سے غفلت میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے۔ یہ آنکھوں پر پردوں کا پڑنا ہے اور بیشک جو اتنا بداعمال ہو کہ خدا اسے گمراہی کے سپرد رہنے دے اور ہدایت سے ہاتھ اٹھا لے تو پر کون اسے راہ راست پر لا سکتا ہے۔ کوئی اسے راہ پر لانے والا نہیں۔ کیونکہ اس کا عناد اور اصرارہدایت کی آواز پر رخ ہی نہیں کرنے دے گا۔

اس سے کیا حرف آ سکتا ہے اس قدرت کاملہ کے انصاف پر جو کامل عقل اور مکمل عدل ہے۔

سوم نبوت:

نبی کی تصدیق ان خصوصی دلائل اور آیات وبینات کے ذریعہ سے ہو گی جو اس کے کمال صفات اور بلندی ذات اور خداوندی انتساب کے شاہد ہیں۔ انہی دلائل سے اس کے بشیر و نذیر ہونے میں اثر پیدا ہو گا۔ جو اس کے دلائل سے ایمان نہ لائے گا وہ اس کے بشارت و انذار سے اثرپذیر بھی نہیں ہو گا۔

چہارم امامت:

پیغمبر کی جانشینی ہے اس لئے پیغمبر کی زبان سے نام کا اعلان کافی ہے۔ قرآن تو مجمل ہدایات کا مجموعہ ہے جس کی تفصیل پیغمبر کے قول و عمل سے ہوئی ہے۔ اسی لئے ہم تنہا قرآن کو ہدایت کے لئے کافی نہیں سمجھتے پھر جو شخص کہ قرآن کو بنی امیہ کی تالیف بتاتا ہو اسے تو قرآن میں ائمہ کے نام ڈھونڈنے کا کوئی موقع ہی نہیں۔ بقول شخصے” قلم در کف دشمن است“ بنی امیہ کی تالیف اور اس میں ہمارے ائمہ کے نام، یہ غلط خیال و محال ہے۔

پنجم معاد:

یہ جزا و سزا کے لئے انسانوں کی باز گشت ہے۔ اس کے ثبوت کے لئے عقل کا فیصلہ ہے۔ تفصیلی حالات اور بہشت و دوزخ کے کیفیات بے شک نبی کی زبان سے معلوم ہوئے۔ مگر نبی کی سچائی ان کے دلائل نبوت سے جب حاصل ہے تو آئندہ کے لئے ان کا قول ہر طرح سند ہے واقفیت کے لئے ان کا بتلانا کافی ہے۔ خدا کو دیکھا نہیں عقل سے پہچانا ایسے ہی قیامت کو سمجھ لو۔


فروع دین

اول نماز:

خدا کے حکم کی پابندی کے لئے اس کی بارگاہ میں تھوڑی دیر کی حاضری ہے۔ بے سمجھے ہوئے بھی پڑھتے ہیں صرف حکم کی پابندی کے لئے۔ یہ بھی عین فرض شناسی ہے جو عبادت کی حقیقت ہے۔

دوسرے روزہ:

بے شک صحت و برداشت کے ساتھ ہے مگر بیماری کے لئے اصلیت درکار ہے۔ بہانہ بازوں کا اعتبار نہیں۔

تیسرے حج:

استطاعت کی صورت میں فرض ہے مگر بغیر استطاعت بھی قبول ہے۔ بہت سوں کو جب ایک دفعہ عمر بھر میں استطاعت حاصل ہو گئی تو پھر چاہے روپیہ اڑ جائے، حیثیت لٹ جائے حج کا فرض عائد ہے۔ ایسے بہت کم ہوں گے جنہیں عمر بھر میں ایک دفعہ بھی اتنی استطاعت نہیں ہوئی۔

چوتھے زکوٰة:

مقدرت کیسی، مخصوص مقدار سے زیادہ روپیہ کو ایک سال تک روکے رہنے پر واجب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کا سرمایہ چلتا پھرتا رہے۔ کام میں لگا رہے ایک جگہ بند کرکے نہ رکھا جائے۔

پانچویں خمس:

مصارف اس کے مقرر ہیں۔ اب بھی موجود ہیں۔ یہ فروع محل نظر ہے۔

چھٹے جہاد:

خود سے پیش قدمی کرنا ہو تو اجازت امام درکار ہے مگر مدافعانہ جنگ کا دروازہ کھلا ہے۔ حفاظت خوداختیاری کے لئے قوم و ملت کی جانب سے جہاد میں اجازت امام کی ضرورت نہیں ہے۔


امامت

بارھویں امام(ع) کی حیات کے لئے عقلی دلائل کی تلاش ہے، عقل بتلاتی ہے کہ خدا کا وعدہ غلط نہیں ہو سکتا۔ رسول کی پیشین گوئی جھوٹ نہیں ہو سکتی۔ قطعی دلائل سے ثابت ہو جانے والے پیشوایاں اور ائمہ معصومین(ع) کی بات مہمل نہیں ہو سکتی۔

زندگی اور موت دونوں ممکن الوقوع باتیں ہیں۔ ہر ممکن کے ثبوت یا نفی کی تعین ذرائع اطلاع سے ہوتی ہے۔ بارھویں امام کی زندگی کے لئے خبریں موجود ہیں۔ موت کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس لئے عقل کا فیصلہ ثبوت کے حق میں ہے۔

یاد رہے کہ امکانی حوادث میں عقلی دلائل صرف امکان سے متعلق ہو سکتے ہیں وقوع سے نہیں۔ روزمرہ کے ہونے والے حوادث میں بھی دلیل عقلی سے وقوع کا کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ مثلاً زید کی عمر ساٹھ برس ہونا کس عقلی دلیل سے ثابت ہے؟ اس کے باپ کی عمر پچاس سال ہونا۔ اس کے دادا کی عمر پینسٹھ سال ہونا۔ اس کے کسی بھائی کا صرف بیس برس کی عمر مں انتقال ہو جانا۔ اس کے کسی فرزند کا تین ہی برس کی عمر میں باپ کو داغ جدائی دے دینا۔ اس کے ایک بچہ کا شیرخوارگی ہی کے عالم میں رخصت ہو جانا وغیرہ ان تمام واقعات کو اور اس افتراق حالات کو اگر عقلی معیار سے جانچنے کی کوشش کی جائے تو دلائل ساتھ چھوڑ دیں گے، حجت و برہان جواب دے دیں گے اور کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو گا۔ جب ان حوادث روزگار میں کسی ایک کے عقلی ثبوت کا مطالبہ کیا جائے تو اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ ان میں سے کوئی بات بھی غیرممکن اور محال نہیں ہے پھر جب معتبر اشخاص نے اس کے وقوع کو بیان کیا اور متعلقہ افراد نے جو واقف ہو سکتے تھے خبر دی ہے تو یہی ذریعہ اس کے وقوع کے تسلیم کرنے کا ہے۔

عمر کے متعلق جہاں تک غور کیا گیا عقلائے عالم، حکمائے زمانہ، اطبائے دہر شروع سے اب تک اس کا کوئی معیار ہی نہیں مقرر کر سکے ہیں کہ کس بناء پر کس کی عمر زیادہ اور کس کی کمی ہوئی ہے اور یہ کہ واقعی اس کی ایک منضبط حد کیا ہے پھر جب عقلی حیثیت سے اس کا کوئی معیار ہی نہیں مقرر ہو سکا تو اس میں حدبندی کا حق کیا ہے کہ اتنی عمر تو ہو سکتی ہے مگر اس سے زیادہ نہیں۔ رہ گیا مشاہدہ تو حوادث کائنات میں ہر زمانہ میں ایسی صورتیں ظاہر ہوتی رہتی ہیں جن کے مثل مشاہدہ اس کے قبل نہ ہوا تھا حالانکہ اگر صرف مشاہدہ کی بناء پر ہم کوئی مقدار مقرر کریں تو جو بھی زیادہ سے زیادہ مقدار مقرر کریں گے اس میں کوئی ایک فرو غیرمعمولی ضرور ہو گی۔

کوئی کتنا ہی جئے، چاہے ہزاروں برس کی عمر ہو پھر بھی آخر میں تو یہ زندگی ختم ہونا ہے۔ قرآن ٹھیک کہہ رہا ہے کہ کسی بشر کو سدا کی زندگی نہیں دی گئی۔ سدا یعنی ہمیشہ کی زندگی کسی کو بھی نہیں۔

تاریخی مشاہدے:

دو ہزار برس یا اس کے پہلے سے تاریخی دور ہے۔ اس مدت میں بہت سوں کے متعلق تاریخ غیرمعمولی طور پر طولانی عمر کا پتہ دیتی ہے۔

نام شخص عمر نام شخص عمر

شریح قاضی ۱۲۱ سال عمرو بن المسیح ۱۵۰ سال

ارطاة بن سہیہ ۱۳۰ قروة بن نفاثہ سلولی ۱۵۰

فرزدق شاعر ۱۳۰ معاذ بن مسلم ہراء ۱۵۰

منقذ بن عمرو ۱۳۰ ابورہم بن مطعم ۱۵۰

ابو عثمان الہندی ۱۳۰ بحر بن حارث کلبی ۱۶۰

جبیر بن اسود ۱۳۴ بشر بن معاذ توزی ۱۶۰

لبید بن ربیعہ ۱۴۰ میمون بن حریز ۱۷۵

طفیل بن زید حارثی ۱۴۰ صبیرہ بن سعد ۱۸۰

طفیل بن یزید مازنی ۱۴۰ نابغہ جعدی ۱۸۰

قیس بن سائب ۱۴۰ اوس بن حارثہ بن لام طلائی ۲۰۰

جابر بن عبداللہ عقیلی ۱۵۰ حتطلہ بن شرتی ۲۰۰

زربن حبیش ۲۱۲ اماناة بن قیس بن شیباں ۳۲۰

عبید بن شریہ ۲۴۰ جہمتہ بن عوف ۳۶۰

سلمان فارسی ۲۵۰ شیخ یمن ۳۹۰

حظر بن مالک ۲۸۰ جبیر بن حارث ۵۷۰

عمرو بن صممہ ۳۰۰ زریب بن ثرملا ۱۹۰۰

یہ چند واقعات ہیں جو سردست عرب کی تاریخ سے پیش نظر ہیں۔ ہندوستان کی قدیم تاریخ اور ایران کے سلاطین کی تاریخ میں ایک ایک کی عمر سینکڑوں بلکہ ہزاروں سال تک کی مندرج ملتی ہے۔

اب کوئی ان سب کا انکار کرے اور پھر کہے کہ ”بتائیے تاریخ میں کس کو زندگی کے لئے یہ دن نصیب ہوئے ہیں۔“ تو اس کا کیا علاج ہے۔

فطرت کا کوئی آئین ایسا منضبط نہیں دکھلایا جا سکتا جس کی بناء پر عمر کے لئے خاص مدت ثابت ہو۔

یہ کہنا کہ قدرت کا قانون ہے کہ بچہ جوان ہو کر بوڑھا ہو جاتا ہے کیا مشاہدہ کے سوا کسی عقلی استدلال پر مبنی ہے؟ پھر مشاہدہ کا حال تو اس کے پہلے معلوم ہو چکا ہے۔

”جوان ہو کر بوڑھا ہوتا ہے“ مگر جوانی کتنے دن تک قائم رہ سکتی ہے اس کا کوئی کلیہ اور اصول نہیں۔

فطرت کے آئین ہیں کہ بڑھاپے میں اعضاء روزبروز مضمحل ہوتے ہوتے روح فراہم کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ مگر بڑھاپا کب آ جائے گا۔ یہ عمر کے لحاظ سے مختلف ہے، پھر جب کہ عمر کی کوئی میعاد نہیں تو بڑھاپے کی حد کون مقرر کر سکتا ہے۔

فطرت کا آئین جو واقعات کی بناء پر ثابت ہے اس آئین کا انضباط خود سنے ہوئے غیرمعمولی واقعات کی تصدیق اور تکذیب پر ہے یعنی اگر ان واقعات کو تسلیم کر لیا جائے تو حدود آئین اتنے وسیع ہو جائیں گے اور تکذیب کی جائے تو حدود آئین مختصر۔

اس صورت میں خود آئین اس واقعہ کی تصدیق یا تکذیب کا معیار کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے۔

قدرت کے قاعدوں کی کوئی لفظی کتاب ہرگز نہیں ہے۔ اگر ہے تو واقعاتی کتب جس کے سطور حوادث کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ اگر کوئی واقعہ غیرمعمولی صورت پر ہوا ہے تو وہ بھی اس کتاب کا ایک جزو ہے۔ اس کا انکار کر دینا اس کتاب کی ایک سطر کو چھیل دینا یا محو کر دینا ہے۔

ذاتی تجربے؟ اللہ اللہ کہاں عالم کی وسیع اور لامحدود کائنات اور کہاں انسان کا محدود تجربہ۔ اگر انسان کے محدود تجربہ ہی میں ”قضا کی فضا“ کو محدود کر دیا جائے تو گولر کے بھنگے کی دنیا بے شک گولر کی اندرونی محدود فضا ہی ہے۔

انسان اشرف المخلوقات، صرف اس لئے ہے کہ وہ اپنی جہالت کا احساس کرتا ہوا اآگے بڑھتا رہتا ہے اور اگر کہیں وہ اپنے کو جہانیاں جہاں گشت محقق ماضی و حال، مستقبل اندیش، نکتہ رس، حقیقت آشنا سمجھ کر طلب سے قدم روک بیٹھا اور کائنات کو اپنے محدود تجربوں اور مشاہدوں کا پابند سمجھنے لگا تو وہ ہرگز گولر کے بھنگے اور کنوئیں کے مینڈک یا فضا کے بلند پرواز تیزنظر گدھ سے زیادہ نہیں ہو گا۔ بے شک عقیدہ عقل کے مطابق ہے اور عقل بتلاتی ہے کہ خالق قویٰ جس کسی کی قوت کو چاہے جتنی مدت تک برقرار رکھے۔ اس میں ہمارا اور کسی کا اختیار نہیں ہے۔ جن چیزوں کو ضروریات زندگی سمجھا جاتا ہے۔ اول تو عقلی حیثیت سے ضروریات زندگی نہیں بلکہ اس دنیا کی کثیف و ثقیل غذاؤں کے پیداکردہ ضروریات ہیں۔ دوسرے یہ کہ ضروریات زندگی پورا کرنے کے لئے کسی خاص عمر کی حد نہیں مقرر ہے۔ وہ قوائے طبعی کے سلامت رہنے کے ساتھ بہرحال پورے ہو سکتے ہیں۔

گمراہی کا دور انبیاء و مرسلین(ع) کی موجودگی میں بھی رہا۔ ائمہ کے زمانہ میں بھی رہا۔ اب بھی ہے۔ ہدایت پانے والے جب بھی ہدایت پاتے تھے اب بھی ہدایت پاتے ہیں۔ امامت گیارہ اماموں کی، زمانہ والوں کی مخالفانہ سرگرمیوں کے باعث پوشیدہ رہی مگر وہ بزرگوار برابر کسی نہ کسی پردہ میں ہدایت کے فرائض انجام دیتے رہے اسی طرح بارھویں امام بھی اپنا فرض انجام دیتے رہے ہیں جو حاصل ان امامتوں کا تھا وہی اس امامت کا بھی ہے اور یہی عدل الٰہی کا تقاضا ہے۔


نماز

خدا کے حضور اس کی حمد اپنی عبودیت سے اقبال، نعمتوں کا شکریہ، مدعا کا اظہار ہے۔ دوگانہ ہو یا پنجگانہ۔ یا جماعت، اسلام میں باہم یک جہتی قائم کرنے کو وضع کی گئی ہے۔ اسی یک جہتی کے قائم رکھنے کے لئے اس کے لئے مخصوص الفاظ خاص عربی زبان کے مقرر کر دیئے گئے ہیں۔ تاکہ وہ آپس کی زبانوں کے باہمی اختلاف کے باوجود ایک متحدہ قوت کا رمزونشان رہے حضور قلب اس تصور سے متعلق ہے کہ یہ کس بزرگ مرتبہ ذات کی عبودیت کا مظاہرہ ہے۔ جتنا یہ احساس قوی ہو گا اتنا ہی حضور قلب اور خضوع و خشوع زیادہ ہو گا۔ ادھرادھر کے دھیان دل میں نہ آئیں گے۔ اس کا زبان فہمی سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو عربی جاننے اور سمجھنے والے سب ہی نماز کو اعلیٰ درجہ کے حضور قلب سے ادا کرتے مگر ایسا نہیں ہے ہزاروں عالم فاضل، عربی دان طالب علم بھی اگر موقع کا صحیح احساس نہیں رکھتے تو دل و دماغ ان کے یکسو نہیں رہتے اور ہزاروں میں ایک بھی حضور قلب سے نہیں پڑھتا۔ یہ معرفت خدا کے نقص کا نتیجہ ہے عربی دانی یا غیرعربی دانی کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

بے سمجھے بھی اگر اس احساس کے ساتھ پڑھتا ہے کہ اس کے مالک کا عائدکردہ فریضہ ہے تو یہی عین عبادت ہے۔ دربار قدرت میں اس کی بڑی وقعت ہے اور اس عبادت کی بڑی عزت ہے کیونکہ وہ فرض شناسی کا نتیجہ ہے۔ سوسائٹی میں بھی اس کی بے حد عزت ہے۔ رہ گئی دنیاسازی یہ نیت سے وابستہ ہے۔ اور نیت کا حال بس خدا کو معلوم ہے۔

تقلید

زندگی کے ہر شعبہ میں ناواقف آدمی کا بہتر سے بہتر واقفکار آدمی کو تلاش کرکے اس پر بھروسا کرنا اور اسکے کہے پر عمل کرنا ایک عقلی ناقابل انکار اصول ہے۔ بیماری میں حکیم ڈاکٹر۔ مقدمہ کی کشمکش میں بہترین وکیل اور بیرسٹر۔ مکان کی تعمیر میں ماہر فن انجینئر، غرض ہر کام میں جو اس کا ماہر ہو اسے اپنا علاج و درمان سپرد کیا جائے گا۔ اسی کا نام تقلید ہے۔ واقف کار اور ماہر شخص کی تلاش میں خوب عقل سے سوچ سمجھ لینے کی ضرورت ہے۔ آنکھ بند کرکے ہر ایک کے کہے پر نہ چلنا ورنہ گھاٹے میں رہو گے لیکن جب کسی ایک کو اس شعبہ کا ماہر سمجھ لیا تو پھر اس کی ہدایتوں میں میخیں نہ نکالو۔ اس کی رہنمائی پر عمل کرو یہی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ اس کے کہے پر چل کر غلطی بھی کی تو اپنا بھی ضمیر مطمئن ہو گا اور دوسروں کو بھی اعتراض کا حق نہ ہو گا اور جو اس کے کہے کے خلاف کیا اور ٹھوکر کھائی تو خود اپنے نزدیک مجرم اور خلق کے نزدیک ملزم ہو گئے۔ نقصن مایہ اور شماتت ہمسایہ اسی کانام ہے۔


دیگر اعتقادات

تقیہ

تقیہ اور نفاق ہرگز ایک چیز نہیں۔ نفاق باطن کا خراب ہونا اور ظاہر کا درست ہونا ہے اور تقیہ کیا ہے باطن کا صحیح رکھنا اور ظاہر میں اس پر پردہ ڈالنا نقصان سے بچنے بچانے کو۔ حفاظت خوداختیاری تقیہ ہے جو عقل اور مذہب کا تقاضا ہے اس وقت جب دین اور ایمان کی حفاظت کا اظہار حقیقت پر منحصر نہ ہو گئی ہو ورنہ دین کی حفاظت کے لئے جان کا دے دینا شان ایمان کا ہو گا۔ بے شک شہید کربل(ع) نے اس کی مثال پیش کر دی ہے۔

استخارہ

نہ مذہب کے اصول میں سے ہے۔ نہ فروع سے، بے شک اماموں کی زبان سے نقل کیا ہوا حیرت اور سرگشتگی کے دور کرنے کا، خدا سے لو لگا کر یکسوئی حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اس کا محل وہی ہے جب عقل بالکل کام نہ کرے، رائے مشورے سے بھی کوئی صورت نہ نکلے اس وقت رائے کو سہارا۔ اضطراب کو تسلی دینے کے لئے بہترین صورت ہے۔ بے شک جاہلوں نے اس کا بیجا استعمال کیا ہے اور بہت سی صورتوں میں صرف ایک رسم بنا لیا ہے۔ اس کی اصلاح کی ضرورت ہے۔

فاتحہ درود

اس موقع کے زیادہ تر کام مذہبی نہیں، رواجی ہیں۔ غریبوں کی اعانت، امور خیر کی انجام دہی بہرصورت بہتر ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہوتا ہے وہ ڈھکوسلا ہے اپنے سے نہ ہو تو اجرت دے کر دوسرے سے میت کے لئے نماز پڑھونا، روزے رکھوانا اپنی طرف سے ایک مالی قربانی ہے۔ اس لئے اس کا ثواب ہے۔

بے ادبی اور گستاخی اس میں کاہے کی؟

بے شک اور سب رسمیں اسراف ہیں۔

قرآن کی تلاوت کو ترتیل کے ساتھ ہونے کی ہدایت کرو۔ اچھا ہے مگر سرے سے اڑانا کوئی اچھی خدمت نہیں ہے۔

روح کے خود جسم تو نہیں مگر وہ جوہر ہے جو جسم سے متعلق ہوتا ہے۔ جسم سے الگ ہو کر اس کے ادراکات میں اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ مادیت کے شکنجہ سے رہا ہو چکی ہے۔ اس لئے اسے اچھے کاموں سے مسرت حاصل ہوتی ہے۔ اور کچھ سمجھ میں نہ آئے تو اسی کو ثواب سمجھ لو۔ اس مسرت کا حصول ایک بہترین تحفہ ہے۔

یہ سمجھنا ہرگز صحیح نہیں کہ دنیا کی چیزیں بجنسہٖ میت کو پہنچتی اور اس کے لئے کارآمد ہوتی ہیں۔ وہ عالم دوسرا ہے اور وہاں کی چیزیں وہاں کے اعتبار سے ہیں۔

ذبیحہ

قدرت کا یہ منشا بے شک نہیں ہے کہ انسان کے لئے گوشت کھانا لازمی ہے لیکن قدرت نے جس بات کا انسان کو موقع دیا ہے اس کے اسباب مہیا کئے ہیں۔ اور یہ نظام قرار دیا ہے کہ ہر پست چیز بلند کی تربیت کے لئے اپنے کو فنا کرکے ترقی کا درجہ حاصل کرتی ہے۔ زمین کے ذرے قوت نباتی سے اپنی ہستی کو فنا کرکے پود ے میں شامل کرتے ہیں تو نباتات کی پیدائش ہوتی ہے۔ نباتات اپنے کو غذا بناتے ہیں تو حیوان کی پرورش ہوتی ہے یوں ہی حیوان اگر انسان کی غذا میں صرف ہو تو یہ عام نظام فطرت کے بالکل مطابق ہے۔

بیشک بلاضرورت صرف تفریح کے طور پر جانوروں کو مارنا بھی ممنوع ہے مگر اپنی غذا فراہم کرنے کے لئے جانوروں کو ذبح کیا تو کوئی قیامت نہیں ڈھائی ایسے ہی رحمدل ہو تو جانوروں پر سواری نہ لو۔ بار نہ لادو۔ کھیت نہ جوتو یہ سب باتیں تکلیف کی ہیں مگر ان کا کوئی پابند نہیں۔ بس ایک گوشت کھانے کے لئے ذبح کرنے میں تکلیف کا خیال ہے۔

ہاں یہ ہدایت ہوئی ہے کہ شکم کو جانوروں کا مقبرہ نہ باؤ۔ یعنی گوشت کھانے میں افراط سے کام نہ لو۔ مگر بہت سے غریبوں کا پیٹ بھرنے کے لئے کثیر تعداد میں خانہ کعبہ کی زمین پر جانوروں کے ذبح کئے جانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔


قربانی

ابراہیم(ع) پیغمبر نے اپنے ہاتھ سے بیٹے کے ذبح کا حکم خدا کے موافق تہیا کر لیا تھا بڑے استقلال اور ثبات قدم سے اپنے ارادہ پر آخر تک قائم رہے۔

سب سامان ہو گیا تھا۔ بالکل عین وقت پر حکم تبدیل ہوا۔ بیٹے کو ہٹا کر بھیڑا ذبح کر دیا گیا۔ اس قربانی کے ارادہ کی یادگار ہے جو مسلمان بقرعید کے دن قرباتی کرتے ہیں۔ اس سے غریبوں کا پیٹ بھی بھرتا ہے اور جذبہ ایثار و قربانی بھی پیدا ہوتا ہے۔

کعبہ شروع شروع خدائے واحد کی عبادت کا خالص گھر تھا۔ بعد میں مشرکوں نے بت خانہ بنایا۔ آنحضرت نے اس کی پہلی حالت کو پلٹایا اور خدائے لامکن کا عبادت خانہ بنایا۔ کوئی مسلمان اینٹ چونے پتھر کو نہیں پوجتا یہ تو عبادت کی جگہ ہے۔ عبادت ہوتی ہے خدائے واحد کی جو لاشریک ہے۔ قدرت تو کسی چیز کی احتیاج نہیں۔ نہ حیوان کے جان و خون کی، نہ ہماری اٹھا بیٹھی اور رکوع و سجدہ کی جس کا نام ہے نماز۔ یہ سب احکام ہمارے نفس کی پاکیزگی۔ ہماری ریاضت، ہم میں فرض شناسی کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے ہیں۔

وہ مقصد جس طرح نماز سے پورا ہوتا ہے۔ روزہ سے پورا ہوتا ہے اسی طرح قربانی سے پورا ہتا ہے۔

مگر مذہب اور احکام شریعت پر اعتراض کرنا اس زمانہ کا فیشن ہے۔ نکتہ چینی اور جدت طرازی کا موسم ہے۔ سمجھنے غور کرنے سے مطلب نہیں، وہی آوازیں سنائی دیں گی جو برسات کی موسمی ہوا کا تقاضا ہے۔

وحشی پرندوں کا صدقہ جس صورت سے عام طور پر ہوتا ہے بے شک ایک بے اصل و حقیقت رسم ہے۔ جو اڑا دیئے جانے کے قابل ہے۔

بے آزار چرندوں پرندوں پر بلاضرورت نشانہ آزمائی قابل اعتراض طرز عمل ہے۔ ترک کئے جانے کا مستحق ہے۔

حرام حلال

فروعی احکام ہیں جن میں زمانہ کے حالات کے لحاظ سے محدود شریعتوں میں تبدیلی ہوتی رہی ہے لیکن جس طرح ہر نصاب کے لئے ایک آخری درجہ ہوتا ہے جس کے لئے تعلیمات نسبتہً مکمل اور جامع ہوتے ہیں اسی طرح خدائے واحد کی طرف کے قانون شریعت کا آخری نصاب جو خاتم المرسلین کے ذریعہ سے پہنچایا گیا۔ ایسا جامع اور مکمل اور معتدل اور ہمہ گیر نصاب ہے جس میں کلی تبدیلی کی ضرورت نہیں اور جزئی تبدیلیاں جو ضروری بھی ہوں وہ اس کے وسیع کلیات کے ماتحت ہوں گی اس لئے بحیثیت مجموعی اس میں تبدیلی کی گنجائش نہیں سمجھنا چاہئے۔ رواج جو اس قانون کے موافق ہو وہ حق بجانب ہے جواس کے خلاف ہے وہ رواج ناجائز ہے۔

حرامی کو خطاکار کون کہتا ہے؟ یہ اور بات ہے کہ اس کا حرامی پن رنگ لائے اور وہ کام ہی ایسے کرے جو خطاکاروں کے ہوتے ہیں تو اسے ویسی ہی پاداش بھی دی جائے گی۔

عقد و مہر

قانون شرع کی پابندی میں عورت اور مرد کے درمیان مضبوطی کے لئے جو عہد باندھا جاتا ہے ا س کو عقد کہتے ہیں مہر اس کا معاوضہ ہے۔

اسلام فطرت کے تقاضوں کو اعتدال میں رکھنے کا ذمہ دار ہے اس لئے اس نے قواعد مقرر کئے پابندیاں لگائیں پھر بھی اعتدال کی شرط کے ساتھ تعدد ازدواج کی اجازت دی۔

فطرت کے جوش و جذبات کو روکا اس حد تک کہ فرض شناسی کا احساس قائم رہے مذہب ہے لیکن اس سے زیادہ بیکار کا دباؤ ہے۔ اسلام کے وقت جس حد تک تعداد بڑھانے کی ضرورت تھی اسی قدر جنگ جوئی کے لئے نہ سہی۔ اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے اب بھی ضرورت ہے۔ ویسا ہی زمانہ اور ویسا ہی عہد ہے۔ پھر اصلاح کا کون سا موقع ہے۔

مہر کا زیادہ رکھنا اس زمانہ کی یادگار ہے جب دولت گھر کی لونڈی تھی۔ اور روپے ٹھیکروں کی طرح پیروں کے نیچے ٹھوکریں کھاتے تھے اس وقت وہی لاکھوں کے مہر کی حیثیت کے موافق تھے۔

اب وقت بدل گیا۔ زمانہ دوسرا ہو گیا۔ اب مہر کا اتنا باندھنا بیکار کی اپچ ہے۔ عقل کے خلاف ہے۔

مہر کی کمی میں ہم چشموں میں خفت کا خیال کیسا۔ کون سی حیثیت اپنی پہلے کی سی ہے جو مہر پہلے کا سا بندھے۔ سواری کا تزک و احتشام پہلے کا سا نہیں۔ دروازہ کی چہل پہل اور رونق پہلے کی سی نہیں۔ محل کی شان و شوکت پہلے کی سی نہیں، نوکروں چاکروں کی کثرت پہلے کی سی نہیں۔ دسترخونوں پر کھانوں کی فراوانی پہلے کی سی نہیں، مہمانوں کی میزبانی پہلے کی سی نہیں، جسم پر لباس پہلے کا سا نہیں، گھر کا اثاثہ پہلے کا سا نہیں۔ اس سبب میں جب خفت نہیں تو پھر مہر پہلے کا سا نہ ہو گا تو کیا خفت ہو جائے گی۔

بہترین صلاح یہی ہے کہ اس خفت کا خیال بالکل چھوڑو۔ بہتر تو ہے کہ مہر فاطمی باندھو اور زیادہ بھی اتنا جو دولہا کی حیثیت کے لحاظ سے زیادہ سے زیادہ تم مقرر کر سکو۔ مگر اتنا نہیں جس کی اون اس کے وہم و خیال میں بھی نہ آ سکے۔

اگر اس خلاف عقل طرز عمل سے مہر اور اس کے عقد کی رسم کو بالکل ڈھکوسلا سمجھا اور حقیقت خیال نہ کیا تو یاد رکھو کہ عقد تشریف لے گیا اور حلال کے پردے میں عمربھر حرام ہوتا رہے گا جس کی ذمہ داری اس غلط طرز عمل پر ہو گی۔

کثرت ازدواج

شرع نے مجبور نہیں کیا ہے۔ کوئی ضرورت نہ ہو اور خرابیاں دیکھو تو ہرگز ایسا نہ کرو۔ کرو تو بہت سمجھ بوجھ کر کرو۔

حق تلفیاں اور خون ریزیاں ناحق شناس طبیعتوں کا خاصہ ہیں۔ خود اسلام میں کثرت ازدواج کے ساتھ سوتیلے بھائیوں کے خوشگوار تعلقات کی بھی نظیریں موجود ہیں۔ ایسے بھائی جو یک جان و دو قالب ہوں۔ حسین(ع) اور عباس کو دیکھ لو پھر ایک کے مرنے کے بعد دوسری سے نکاح کے تم بھی منکر نہیں مگر پہلی کی اولاد سے دوسری کو اور اس کے خاندان والوں کو سوتیلے پن کی جلن وہاں بھی ہوتی ہے اسلام کی ابتدا سے حق تلفیاں، حق ناحق کی خونریزیاں، گھروں میں جھگڑے اور گھرانو ں میں لڑائیاں بہت سی اسی کے ماتحت تھیں پھر اس کو کثرت ازدواج کے سر کیوں عائد کرو۔

پردہ

کہا جاتا ہے کہ پردہ اٹھ رہا ہے اور دعوے ہیں کہ اٹھ کر رہے گا۔ مگر ہمارا اندازہ ہے کہ جو رفتار پردہ کے اٹھنے کی دس برس پہلے تک تھی اس میں اب سستی پیدا ہو گئی ہے۔ سبب اس کا یہ ہے کہ استادوں نے خود اپنی غلطی محسوس کر لی ہے۔ ہندوستان نے قدم آگے اس وقت بڑھائے جب یورپ قدم پیچھے ہٹاتا یا ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ عورتوں کی حد سے بڑھی ہوئی آزادی پر پابندیاں عائد ہونے لگی ہیں۔

ہندوستان میں خراب نتائج بہت جلدی ایسے ظاہر ہوء ےکہ دیکھنے والے دہل کئے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ وبا زیادہ نہیں پھیےل گی اور جتنی پھیل گئی ہے اس کی بھی رفتہ رفتہ اصلاح ہو جائے گی۔

بے شک ممکن ہے کہ ہندوستان کے خاص حصوں کی، شرفاء کے گھروں کی پابندیاں اور پردہ کی مروجہ صورت زیادہ تر قائم نہ رہے۔ بہت سے گھرانوں میں عراق اور ایران کا سا چادر اوربرقعہ کا رواج ہ جائے۔ وہ بھی غنیمت ہے اگرچہ ہندوستان کے حالات ویسے ہی پردہ کے متقاضی ہیں جیسا شرفاء کے یہاں کا عام دستور ہے۔


شب برات پندرہ شعبان

دن کے حلوے، روٹی کی کوئی اصلیت نہیں۔ رات کو بے شک حضرت امام عصر(ع) کی ولادت کی خوشی ہے۔ آتشبازی مظاہرہ مسرت ہے۔ سوچ سمجھ کر پرانے لوگوں نے رکھا ہے۔ نفسیاتی طور پر اپنی خوشی کے دوسروں کے بھی گھروں میں منائے جانے کا ذریعہ ہے۔ عرائض دلوں کو غیبی رہنما کی طرف متوجہ کرنے کا وسیلہ ہیں۔ دونوں باتیں اچھی ہیں۔ دوسرے ہنستے ہیں تو ہنسنے دو۔ ہماری کونسی بات ان کی ہنسی سے خالی ہے۔ ہماری نماز کی اٹھا بیٹھی۔ حج کی دوڑ دھوپ اور بہت باتیں ان کی ہنسی کا سرمایہ ہیں۔ صرف دوسروں کی ہنسی کی وجہ سے اپنے شعائر دینی اور رسوم مذہبی کا ترک کرنا دوسروں کی خاطر ناک کٹانا ہے۔ دوسروں کو ہنسنے دو۔ اپنا کام کئے جاؤ۔ اسی میں کامیابی ہے۔

مراسم

کوئی شک نہیں کہ شادی بیاہ پیدائش اور وفات اور زندگی کی ہزاروں رسمیں جو رائج ہو گئی ہیں۔ ان کی کوئی اصلیت و حقیقت نہیں ہے۔ وہ ہماری زندگی کو تباہ کرنے کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ پرانے زمانہ میں جب دولت افراط سے تھی اس وقت یہ رسمیں بھی کھلتی نہ تھیں۔ بیکار کی دولت لٹانے کا ایک اچھا ذریعہ تھا۔

اب جبکہ پیسہ پاس نہیں، فاقوں مر رہے ہیں تو ان رواسم کی بہتات، مرے پر سو درے والی بات ہے۔ ان مراسم کو یک قلم ترک ہونا چاہئے۔

”اصلاح المراسم“ اس سلسلہ میں اچھی کتاب ہے اس میں ان تمام رسموں کی حقیقت اور ان کی نوعیت پر کافی تبصرہ کیا ہے۔

تتمہ

مذکورہ بیانات کو جو ”مذہب اور عقل“ کے تحت میں آپ کے سامنے پیش کئے گئے ہیں سامنے رکھئے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ عقل کو مذہب سے الگ کرنا صریحی غلطی ہے۔ سچے مذہب کے طریقہ پر چلنے والے ہی عقل کے راستے پر گامزن ہوں گے۔ وہ آزاد خیال افراد جن کو دہریہ یا لامذہب یا نیچری کہا جاتا ہے عقل کے نام پر وہم کے شکنجہ میں اسیر ہیں ایسا نہ ہوتا تو مشاہدات کے آگے حقیقتوں کو قبول کرنے سے انکار نہ کرتے حالانکہ عقل کا کام ہی آنکھ سے اوجھل چیزوں کا سمجھنا اور ان پر حکم لگانا ہے۔

مذہبی حضرات جو شریعت کے پابند قرآن کے زیرفرمان ہیں وہ بھی عقل کے فیصلہ کی بناء پر ہیں۔ حکایتوں پر بھی ایمان لاتے ہیں تو عقل کی رائے اور اشارہ سے۔ بعید از مشاہدہ واقعات کو بھی باور کرتے ہیں تو عقل کے سمجھانے سے۔

انہوں نے عقل کے صاف اور شفاف آئینہ میں حقیقتوں کا جلوہ پہلے ہی سے دیکھ لیا ہے۔ اچھے برے کی تمیز کر لی ہے۔ میلااور داغدار آئینہ نگاہ کو ملگجا اور حقیقت کو داغدار بناتا ہے۔ اسی لئے جھائیاں دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے مگر اجمالی تبصرہ دھندلی نگاہوں کے لئے ناکافی ثابت ہو سکتا تھا اس لئے تفصیلی تبصرہ کی ضرورت محسوس کی گئی۔

اب یہ آپ کے سامنے ہے۔ سب ”مسئلہ“ ”مسائل“ جو اس ذیل میں پیش ہوں۔ ان کا اسی میں جواب ہے۔ پھر بھی آسانی کے لئے خلاصہ اور اصل کتاب کا حوالہ ذیل میں درج ہے۔


فہرست

تمہید ۴

تعارف ۶

عقیدہ ۸

مذہب ۹

عقل ۱۰

خدا ۱۳

رسول ۱۹

اشرف الانبیاء ۲۳

روایتی اور تاریخی واقعات ۲۵

کتاب ۲۶

روح ۳۱

عقائد و مراسم ۳۲

جزا، سزا، قیامت ۳۴

مذہب اسلام ۳۶

معجزہ ۴۴

اصول دین ۵۱

اول توحید: ۵۱

دوم عدل: ۵۱

سوم نبوت: ۵۲


چہارم امامت: ۵۲

پنجم معاد: ۵۲

فروع دین ۵۳

اول نماز: ۵۳

دوسرے روزہ: ۵۳

تیسرے حج: ۵۳

چوتھے زکوٰة: ۵۳

پانچویں خمس: ۵۳

چھٹے جہاد: ۵۳

امامت ۵۴

تاریخی مشاہدے: ۵۴

نام شخص عمر نام شخص عمر ۵۵

نماز ۵۸

تقلید ۵۸

دیگر اعتقادات ۵۹

تقیہ ۵۹

استخارہ ۵۹

فاتحہ درود ۵۹

ذبیحہ ۶۰

قربانی ۶۱

حرام حلال ۶۱

عقد و مہر ۶۲

کثرت ازدواج ۶۳

پردہ ۶۳

شب برات پندرہ شعبان ۶۴

مراسم ۶۴

تتمہ ۶۴