اسلام اور سیاست- جلد 2
گروہ بندی متفرق کتب
مصنف آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی دام ظلہ
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


اسلام اور سیاست جلد(۲)

حضرت آیۃ اللہ مصباح یزدی مد ظلہ العالی


چو بیسواں جلسہ

حکومت کی عظیم منصوبہ بندی ۱

۱۔ حکومت کی ضرورت

ہم نے اسلامی سیاسی فلسفہ کے شروع ہی میں یہ بات عرض کی تھی کہ دوسری حکومتوں کی طرح اسلامی حکومت کے بھی دو بنیادی محور ہوتے ہیں :

۱۔ قانون اور قانونگذاری ۔

۲۔ مدیرت اور قوانین کو نافذ کرنا۔

ہماری گذشتہ بحث پہلے محور پر ہوئی ہے مثلاً قانون کی اہمیت، مطلوبہ قانون کے خصوصیات، اسلام کی نظر میں قانون گذاری، اور اس کے شرائط کے سلسلہ میں بحث ہوئی ، نیز اسی بحث کے ضمن میں مذکورہ سلسلہ میں ہونے والے بعض اعتراضات وشبھات کا بھی جواب دیا گیا۔

لیکن اب ہم دوسرے محور (یعنی مدیریت اور نفوذ قوانین) کے سلسلہ میں بحث کریں گے، اس بحث کے نقشہ کو روشن کرنے کے لئے اس مقدمہ پر توجہ کرنا ضروری ہے کہ کسی موسسہ یا سازمان کا ہدف جس قدر واضح اور صاف وشفاف ہوگا اسی مقدار میں اس سازمان کا نقشہ یا اس میں کام کرنے کی شرائط، اسی طرح اس کے منتخب ہونے والے اعضاء کی خصوصیات واضح اور روشن ہوگی اس بنا پر اگر ہم اسلامی حکومت یا حکومت بمعنی خاص یعنی حکومت اسلامی کی مدیریت کے بارے میں بحث کرنا چاہیں اور اس بات کا پتہ لگانا چاہیں کہ اس طاقت کا ڈھانچہ کیسا ہونا چاہئے؟ اس سلسلہ میں کون افراد فعالیت اور کارکردگی کرسکتے ہیں اور ان کی خصوصیات اور ان کے اختیارات کیا کیا ہیں ؟

تو سب سے پہلے اسلامی حکومت کی تشکیل کے اہداف اور ان میں بھی اسلامی حکومت کی مدیریت کے ہدف اور مقصد سے آگاہ ہونا ضروری ہے کیونکہ اگر حکومت کی تشکیل کا ہدف معین اور مشخص نہ ہو تو پھر مدیریت کا ڈھانچہ، اس کے ذمہ دارافراد کی خصوصیات اور ان کے اختیارات واضح نہیں ہوپائیں گے لھٰذا مناسب ہے کہ پہلے حکومت (خاص شکل میں یعنی قوہ مجریہ)کی تشکیل کے اغراض و مقاصد کے سلسلہ میں بحث کریں ۔

ان لوگوں کے نظریہ کو نظرانداز کرتے ہوئے جو حکومت کو ضروری نہیں مانتے اکثر فلسفہ سیاسی دانشمند افراد حکومت کو ضروری مانتے ہیں یعنی ان کا ماننا یہ ہے کہ معاشرہ میں ایسی انجمن یا مجموعوں کا ہونا ضروری ہے جو احکامات صادر کریں اور دوسرے افراد ان کی اطاعت کریں ، یا وہ قوانین جن کو معاشرہ قبول کرتا ہے ان کو معاشرہ میں نافذ کریں اور ان قوانین کی مخالفت کرنے والوں کو مخالفت سے روکیں ، یا ان کو مخالفت پر سزا دیں چنانچہ اس بات پر تقریباً سبھی دانشمنداتفاق رکھتے ہیں تجربہ کی بنیاد پر کم و بیش سبھی لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ معاشرہ کو حکومت کی ضرورت ہے اسی طرح اسلام بھی اس نظریہ کو قبول کرتا ہے، جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام نے (نھج البلاغہ میں ) فرمایا ہے:یھاں تک کہ اگر معاشرہ میں نیک لوگوں کی حکومت نہ ہو تو ایسے حالات میں ایک فاجر اور برے فرد کی حکومت (حکومت نہ ہونے سے) بہتر ہے

وَإنَّه لٰا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ امیرٍ بَرٍّ اوْ فَاجِرٍ یَعْمَلُ فِی إمْرَتِه الْمُومِنُ وَیَسْتَمْتِعُ فِیْها الکٰافِرُ ۔(۱) “ یعنی لوگوں کے ایک حاکم کی ضرورت ہوتی ہے چاہے وہ نیک ہو یا برا، تاکہ اس کی حکومت میں مومنین اپنا کام کرسکیں اور کافر اپنا فائدہ حاصل کرسکیں

کیونکہ اگر حکومت یا قوانین کو جاری کرنے والا ضامن موجود نہ ہو تو پھر معاشرہ کا نظام درہم وبرہم ہوجائے گا، جس کے نتیجہ میں عام لوگوں کے حقوق پامال اور معاشرہ کے مصالح وفوائد نابود ہوجائیں گے لھٰذا اسلامی نقطہ نظر سے ”بے حکومتی“ قابل قبول نہیں ہے، بلکہ مومنین کے اہم و واجب وظائف میں سے ایک یہ ہے کہ نیک افراد کی حکومت بنائیں تاکہ معاشرہ کے مصالح اور فوائد تامین اور پورے ہوں ۔

۲۔قوہ مجریہ کے اہداف کے سلسلہ میں مختلف نظریات

اب جب کہ حکومت اور قوہ مجریہ کی ضرورت ثابت ہوگئی تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ حکومت اور قوہ مجریہ کے اہداف ومقاصد کیا کیا ہیں ؟جبکہ اس بات کو تقریباً سبھی جانتے ہیں کہ قوہ مجریہ کا کام قوانین کو نافذ کرنا ہے، پس یہ طے ہوگیا کہ اس کا کام قوانین کو جاری کرناہے، لیکن اب یہ دیکہنا ہوگا کہ وہ قوانین جن کو حکومت نافذ کرنا چاہتی ہے وہ کس طرح کے اور کس ماہیت کے ہونے چاہئیں ؟ چنانچہ اس سوال کا جواب ایک دوسرے سوال پر متوقف ہے اور وہ یہ ہے کہ قانون کا ہدف اور مقصد کیا ہے؟ معاشرہ کو قانون کی کیا ضرورت ہے؟ اور وہ قانون لوگوں کے لئے کس چیز کو مد نظر رکھے؟ اس سوال کے جواب میں ہم عرض کرتے ہیں کہ قانون کے اہداف و مقاصدکی دو قسمیں ہوتی ہیں :

پہلی قسم: مادی ااغراض و مقاصد۔

دوسری قسم: معنوی اغراض و مقاصد۔

کلی طور پر سیاسی فلسفہ کے بارے میں بحث کرنے والے دانشوروں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ لوگوں کے مادی مصالح ومنافع کو تامین کرے، لیکن معنوی مصالح کے بارے میں اختلاف کیا ہے کہ آیا قانون کو لوگوں کے معنوی مصالح کو بھی پورا کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟ کیا معنوی مصالح کا بھی قانون میں لحاظ کرنا ضروری ہے، اور اس طرح حکومت کو ایسے قوانین کا نافذ کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟

قدیم زمانہ سے بعض فلسفی مکاتب اس نظریہ کو مورد توجہ قرار دیتے تھے کہ حکومت کو لوگوں کے معنوی مصالح کو بھی تامین کرنا چاہئے،اور وہ قانون جس کی حکومت ذمہ دارہوتی ہے اس قانون کو ایسا ہونا چاہئے جو انسانی فضائل کو مد نظر رکھے غیر دینی فلسفی مکاتبمیں بھی یونانی قدیم فلاسفہ مثل ”افلاطون“ (انسانی) فضیلت پر توجہ دیتے تھے، اور حکومت کی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری یہ بھی سمجھتے تھے کہ وہ انسانی فضائل کے رشد و نموکے لئے راستہ ہموار کرے، چنانچہ اسی لئے کھتے تھے : ”حکومت کرنے کا حق صرف انہیں افراد کو ہے جو حکیم (عالم وعاقل) ہوں ، جو انسانی فضائل کے اعتبار سے دوسرے لوگوں سے بہتر ہوں ، جیسا کہ افلاطون کاکہنا ہے: ”حکیمان باید حاکم بشوند“ (حکماء کو حاکم ہونا چاہئے) لھٰذا غیر مسلمان اور غیر الہی فلاسفہ (وہ لوگ جو آسمان ادیان کے کو نہیں مانتے تھے) کے نزدیک بھی انسانی فضائل اور اخلاق کی اہمیت تھی یہاں تک کہ وہ فلاسفہ جو کسی دین اور مذہب کو نہیں مانتے تھے وہ بھی یہی نظریہ رکھتے تھے کہ معاشرہ میں اخلاقی فضائل اورلوگوں کی اخلاقی رشد ونموہونا چاہئے۔

جس وقت یورپ میں عیسائیت پھیلی اور ”کنسٹانٹین“ روم کا بادشاہ ایک عیسائی ہوا ، اس نے یو رپ میں عیسائیت کو رائج کیا، عیسائیت یورپین ممالک کے تمدن کا قانونی مذہب بن گئی ،دین اور حکومت ایک ساتھ مل گئے اور حکومت کے اہداف میں دینی اغراض و مقاصد کو بھی مد نظر رکھا گیا یعنی جو کچھ عیسائیت نے کھا اس کے قوانین کو جاری بھی کیا گیا۔

لیکن ”رنسانس“ کے بعد مغربی نظریات میں تبدیلی آئی ، جس کی بنا پر انھوں نے اخلاقی مسائل کو حکومت کے دائرہ سے نکال دیا کیونکہ رنسانس اور نوزائی کے بعد یورپ میں تغیر و تبدیلی پیدا ہوئی جس کے نتیجہ میں مغربی جدید تمدن کا آغاز ہوا، جس کی سب سے بڑی خصوصیت دین کا حکومت سے جدا کرنا تھا اس دور میں فلاسفہ نے اس سلسلہ میں گفتگو کی، کتابیں لکھیں جس کی بنا پر مختلف فکری مکاتب وجود میں آئے، اور اخلاقی اور معنوی فضائل کو بالائے طاق رکہ دیا گیا۔

انہیں فلاسفہ میں سے ”ہابز“ نامی فلسفی بھی گذرا ہے جس کا نظریہ یہ تھا کہ حکومت کی ذمہ داری صرف ہرج ومرج (بد امنی) پھیلنے سے روکنا نہیں ہے کیونکہ اس کے نظریہ کے مطابق بعض بھیڑیا صفت لوگ ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کی جان پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور ایک دوسرے کو نابود کرنا چاہتے ہیں تو ان کے لئے ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہوتی ہے جو ان بھیڑیا صفت انسان پر کنٹرول کرے اور ان کی درندگی اور ظلم وستم کو روکے، لھٰذا حکومت کا صرف یہی مقصد ہوتا ہے۔

اس کے بعد ”جان لوک“(۲) نے حکومت کے اہداف کوبیان کرتے ہوئے کھا کہ حکومت کی ذمہ داری لوگوں کی ؟اور ان کی حفاظت کرنا ہے، اس کی نظر میں انسانوں کے پاس صرف ایک حکومت کی کمی ہوتی ہے کہ اگر وہ نہ ہو تو پھر معاشرہ کا نظام وجود میں نہیں آسکتا، افرا تفری پھیل جائے گی، امن وامان ختم ہوجائے گا، انسان کی جان ومال خطرہ میں پڑجائے گی جیسا کہ وہ کھتا ہے : ”ھمیں اپنی ضرورت تحت حکومت چاہتے ہیں ، ورنہ تو دوسری چیزوں کا حکومت سے کوئی مطلب وواسطہ نہیں ہے۔“

البتہ دین وحکومت اور اجتماعی مسائل کی جدائی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس نظریہ کے ماننے والے اخلاقی فضائل اور معنوی اقدارکی اہمیت کے قائل نہیں ہیں ، بلکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ ان چیزوں کا حکومت سے کوئی ربط نہیں ہے بلکہ خود عوام الناس کو ان اخلاقی ومعنوی فضائل کی طرف قدم بڑھانا چاہئے: جو لوگ خدا کو مانتے ہیں ان کو چاہئے کہ خود مسجد یا گرجا گھر میں جائیں یا کسی دوسری جگہ پر جاکر خدا کی عبادت کریں ، لیکن اس سلسلہ میں حکومت کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے اسی طریقہ سے اخلاقی فضائل جیسے سچ بولنا، نیک کردار، دوسروں کا احترام واکرام کرنا،فقیر وفقراء کی مدد کرنا وغیرہ یہ فضائل قابل قدر ہیں لیکن یہ فردی (ذاتی) مسائل میں شمار ہوتے ہیں اور اس سلسلہ میں خود افراد کو تلاش وکوشش کرنا چاہئے تاکہ اپنے کو ان اخلاقی فضائل سے آراستہ کرلیں ، لیکن ان کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پس اجتماعی قوانین ، یعنی وہ قوانین جو حکومت کے ذریعہ جاری ہوتے ہیں ان کا ہدف اور مقصد معاشرہ کے امن وامان کو تامین اور ان کی حفاظت کرنا ہے تاکہ لوگوں کی جان ومال؛ ہر طرح کے خطرہ سے محفوظ رہے پس حکومت کی ذمہ داری لوگوں کی جان ومال کی حفاظت ہے،اور یہ بات کہ حکومت کا مقصد امن وامان قائم کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے مختلف تحریروں میں بیان کیا گیا ہے، جیسا کہ ”لاک“ کی تحریروں میں جان ومال کی حفاظت کے علاوہ فردی آزادی کو بھی امنیت کا ایک حصہ شمار کیا ہے، یعنی اس نے امنیت میں جان ومال اور آزادی کو بھی داخل کیا ہے، لیکن اخلاقی اور معنوی مصالح کے بارے میں صرف اس بات کو قبول کرتا ہے کہ اجتماعی قانون کو اخلاق کے مخالف نہیں ہونا چاہئے، یا خدا پرستی سے نہ ٹکراتا ہو، لیکن اجتماعی اور حکومتی قوانین پر؛ اخلاقی اقدار ، دینی اقدار کو حفظ کرنے اور معنوی رشد کرنے کی راہ ہموار کرنے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی، چنانچہ اس کا کہنا ہے کہ یہ تمام چیزیں حکومت سے متعلق نہیں ہیں ۔

آج کل دنیا کے تقریباً سبھی فلسفی مکاتب میں اسی ”لاک“ کا نظریہ انجیل کا حکم اور بنیادی قانون ہوتا ہے اس کا اصلی نعرہ یہ ہے کہ حکومت کو امن وامان اور آزادی کو برقرار کرنے کے علاوہ دینی مسائل یا اخلاقی فضائل کے سلسلہ میں کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

قارئین کرام! مغربی نقطہ نظر اور اسلامی نقطہ نظر میں سب سے بڑا نقطہ اختلاف یہی ہے۔

۳۔ انبیاء (ع) کی حکومت کے اغراض ومقاصد

انبیاء علیہم السلام اور ہمارے نبی اکرم (ص) کا نظریہ خاص طور پر یہ ہے کہ حکومت کی ذمہ داری ،مادی مصالح اور ضرورتوں کو پورا کرنے کے علاوہ معنوی مصالح کوپورا کرنا بھی ہے یہاں تک کہ معنوی مصالح کا پورا کرنا مادی مصالح پر فوقیت رکھتا ہے اور ان پر مقدم ہے یعنی حکومت کو ایسے قوانین جاری کرنا چاہئے جن کا آخری ہدف معنوی ، روحی، اخلاقی اور انسانی مصالح کو تامین (حفاظت) کرنا ہے وہی ‎ مسائل جن کو دین انسان کا آخری ہدف شمار کرتا ہے اور انسانی کمال کو ان سے متعلق گردانتا ہے ، اس دنیا میں انسان کی خلقت اور اس کے لئے انتخاب اور آزادی کی طاقت کا ہونا؛ یہ تمام کی تمام چیزیں اسی وجہ سے ہیں کہ انسان اپنے نھائی اور آخری ہدف کو پہنچان لے اور اسی پر قدم بڑھائے ان تمام مسائل کا محور” قربت خدا “ھے جیسا کہ الحمد لله آج ہمارے اسلامی معاشرہ میں سب پر واضح ہے بلکہ ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان یہ بات رائج تھی یہاں تک کہ جو لوگ اس کے صحیح معنی بھی نہیں جانتے لیکن پھر بھی اس لفظ سے مانوس ہیں کیونکہ جاہل اور کم پڑھے لکھے افراد بھی جملہ ”قربة الی الله“ کو زبان پر جاری کرتے ہیں ۔

اب جبکہ یہ بات معلوم ہوگئی کہ انسان کا آخری ہدف خلقت، قربت خدا ہے تو پھر معاشرہ میں ایسے قوانین کا نافذ ہونا ضروری ہے جو اس ہدف تک پہنچانے میں مدد کریں اور انسان کی زندگی بھی اسی سمت آگے بڑھے، اور انسان کے دوسرے حیوانی پہلو کے دوسرے مسائل اسی صورت میں مہم ہوسکتے ہیں جب وہ مسائل انسان کو معنویات اور قربت خدا کی طرف رشد وترقی کی منزلوں کو طے کرنے میں مددگار ثابت ہوں ۔

اور جب یہ بات ثابت ہوچکی کہ اجتماعی قوانین کو بنانے کا ہدف مادی مصالح کو تامین کرنے کے علاوہ معنوی مصالح کوتامین کرنا بھی ہے تو پھر ظاہراً حکومت کا مقصد بھی مشخص اور معین ہوجاتا ہے اور حکومت کو بھی صرف لوگوں کی جان ومال کی حفاظت ہی کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھنا چاہئے؛ بلکہ ان کے علاوہ معنویات کے رشد کے لئے بھی راہ ہموار کرنا نیز اس راہ میں جو چیز مانع اور ضدیت رکھتی ہوں ان کو راستہ سے ہٹانا بھی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، حکومت کو صرف اسی پر اکتفاء نہیں کرنا چاہئے کہ میں نے تو تمھاری روٹی کے اسباب فراہم کردئے ہیں اور تمھاری جان کی امنیت برقرار کردی ہے،اور بس البتہ یہ ذمہ داری تو سبھی حکومتوں کی ہوتی ہے اور سبھی اس سلسلہ میں متفق بھی ہیں کہ ہر ایک معاشرہ میں ؛ چاہے وہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی، لائیک ہو یا غیر لائیک اس میں جو بھی حکومت تشکیل پائے تو اس کے لئے امنیت برقرار کرنا ضروری ہے تاکہ لوگوں کی جان ومال محفوظ رہے، لیکن اسلامی نقطہ نظر سے حکومت اپنی ذمہ دار ی کو صرف اسی چیز میں محدود نہیں کرسکتی بلکہ اس کو اپناسب سے پہلا وظیفہ یہ سمجھنا چاہئے کہ فضائل انسانی ، معنوی والہی رشد کے لئے راستہ ہموار کرے، طبیعی طور پر اس مقصد تک پھونچنے کے لئے امن وامان اور لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کے سلسلہ میں امنیت برقرار کرنا ضروری ہوتا ہے، البتہ اس امنیت کا برقرار کرنا ایک مقدمہ ہے نہ کہ اصل مقصد نہیں ہے۔

دوسرے الفاظ میں یوں عرض کیا جائے کہ جانی مالی امنیت برقرار کرنا متوسط اہداف میں ہیں نہ نہائی او ر اصلی ہدف، ایک دوسرے طریقہ سے یوں عرض کیا جاسکتا ہے کہ یہ امنیت بلند وعالی ہدف تک پہنچنے کا ایک وسیلہ ہے اور وہ بلند ہدف معنویات کا رشد ہے پس معاشرہ میں وہ قوانین نافذ ہوں جو نہ فقط دین سے ضدیت نہ رکھتے ہوں اور دین کے مخالف نہ ہوں بلکہ ان کو مکمل طریقہ سے دینی اصول ومبانی سے ہم اہنگ اور موافق ہونا چاہئے، اورانسان کے معنوی اور الہی رشد میں معاون ومددگار ، ان کا دین کے مخالف نہ ہونا کافی نہیں ہے بلکہ دین کے اہداف میں مددگار ہونا ضروری ہے، یعنی اسلامی حکومت کا کردار نہ صرف یہ کہ ضد دین نہ ہو بلکہ بے دینی اور دینی ضدیت سے مقابلہ کرے اور دینی اہداف ومقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچائے۔

لھٰذا اسلامی نقطہ نظر سےحکومت یا قوہ مجریہ کا ہدف، صرف جان ومال کی حفاظت کرنا نہیں ہے بلکہ اس سے مہم تر معنوی مسائل پرتوجہ دینا نھایت ہی ضروری ہے، یہاں تک کہ ممکن ہے کہ ایک اسلامی معاشرہ میں معنوی ضرورتوں کو پورا کرنے کی وجہ سے وقتی طور پر مادی ضرورتیں تامین نہ ہوں ، اور اگر اسلامی احکام جاری ہوں تو پھر آئندہ میں لوگوں کی مادی ضرورتیں دیگر حکومتوں سے بہتر طریقہ پر پوری ہوں گی، لیکن اگر فرض کریں کچھ مدت تک لوگوں کی تمام مادی ضرورتوں کو پورا کرنے سے دین کے ضعیف ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر ایسے موقع پر ضروری ہے کہ لوگوں کی ان ضرورتوں کو پورا کیا جائے جن سے دین ضعیف نہ ہو، کیونکہ معنوی مصالح مقدم او راہم ہیں لیکن اس سلسلہ میں مغربی ممالک کا نقطہ نظر ہمارے نظریہ سے الگ ہے کیونکہ وہ لوگ فقط مادی مسائل اور مادی اہداف پر توجہ کرتے ہیں اور ان کی حکومت معنوی مصالح کو تامین کرنے کی ذمہ دار نہیں ہوتی۔

۴۔ لیبرل " Liberal "(آزادی خواہ)نظام میں اجتماعی مشکلات کا اثر

کبھی کبھی بعض لوگ تحریری یا شفاہی طور پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ مغربی ممالک میں بھی دینی مسائل پر توجہ دی جاتی ہے کہ وہ لوگ بھی ایثار وفداکاری کرتے ہیں اور اجتماعی مسائل پر توجہ کرتے ہیں ، اگر چہ یہ مطلب صحیح ہے اور ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ تمام مغربی لوگ خود پسندنہیں ہیں اور لیبرل نظریہ کے رائج ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام مغربی لوگ اس نظریہ سے متاثر ہوں ، بلکہ ہماری مراد یہ ہے کہ لیبرل نظریہ اکثر معاشروں پر غالب ہے اور وہ لوگ پیش آنے والے بعض مسائل کی بنا پر ایسے کام کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ اپنے فلسفہ کے خلاف عمل کرتے ہیں یعنی وہ تمام لوگ جو لیبرل نظریہ کو قبول رکھتے ہیں اور خود پسند ہوتے ہیں وہ بھی ضرورتوں کے تحت مجبور ہوتے ہیں تاکہ اجتماعی مسائل پر توجہ کریں اور شورش اور بلوے کے ڈر سے کہ کھیں اکثر لوگ قیام نہ کرلیں ، لھٰذا محرومین کے حقوق کی رعایت کرتے ہیں عملی طور پر بھت سی سوسیالیسٹ " Socialiste " ڈیموکریٹک " Democratic " حکومتیں لوگوں سے حاصل کئے گئے ٹیکس وغیرہ کے کافی حصہ اجتماعی خدمات پر خرچ کرتے ہیں ، جبکہ ان کا مادی فلسفہ اس چیز کی اجازت نہیں دیتا، لیکن اس کام کو اس وجہ سے کرتے ہیں تاکہ عوام الناس اعتراض نہ کرے، اور امنیت محفوظ رہے اور لوگ قیام وشورش نہ کریں ، ایک دوسرے کی جان کے پیچھے نہ پڑیں ،پس یہ لوگ اپنی مجبوری کی بنا پر اس طرح کی سھولیات فراہم کرتے ہیں ۔

لیبرل نظریہ کیا چاہتا ہے؟ اور اس کے طرفدار کیا کرتے ہیں ؟ یہ دونوں الگ الگ باتیں ہیں ، اتفاقاً یہ اعتراض تو خود ان پر(بھی) ہوا ہے کہ تمھارے لیبرالی نظریہ کے تحت تم کو ان مسائل کی رعایت نہیں کرنا چاہئے، پس تم لوگ ایسے کام کیوں کرتے ہو جس سے محروم طبقے کا فائدہ ہوتا ہوجیسے عام لوگوں کے لئے بیمہ اسکیم، یا دوسری سھیولیا ت کا فراہم کرنا اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ سب چیزیں اس لئے ہیں تاکہ سرمایہ داروں اور مالدار لوگوں کا سرمایہ اور پراپرٹی خطرہ میں نہ پڑجائیں ، اور کمیونسٹی اور مارکسسٹی انقلاب رونما نہ ہوجائیں ۔

یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ مارکسسٹی ممالک میں مارکسسٹی نظریہ آنے سے پہلے یہ نظریہ مغربی ممالک میں رائج ہوچکا تھا اور اپنا اثر دکھا چکا تھا ”مارکس“ نامی دانشمند جرمن کا تھا اور انگلینڈ میں رہتا تھا شروع میں اس کے نظریات اور اس کی کتابیں انگلینڈ میں نشر ہوئیں ،چنانچہ انگلینڈ کے سیاست مداروں نے اس کی کتابوں کے مطالعہ کے بعد مارکس کے بیان شدہ خطرات پر توجہ کی اور پہلے ہی سے ان کی روک تھام کا بندو بست کیا۔

حزب کارگر اور سوسیالسٹی طرز تفکر جو انگلینڈ میں وجود میں آئے اور انھوں نے جو محروم اورکم درآمد لوگوں کے لئے کچھ پر وگرام رکھے ان سب کا مقصد مارکسسٹی طرز تفکر سے روک تھام تھا؛کیونکہ پہلے ہی سے یہ پیشن گوئی کردی گئی تھی کہ سرمایہ داری کی پیشرفت اور ترقی، لوگوں کی اکثریت کو انقلاب اور شورش کرنے پر مجبور کرسکتی ہے لھٰذا انگلینڈ میں مارکسسٹی انقلاب کو روکنے کے لئے فقیر اور غریب لوگوں پر توجہ کی جانے لگی، اور ان کو اطمینان دلایا جانے لگا اگرچہ ان کا یہ رویہ ”کاپیتالسٹی“ طرز تفکر سے سازگار اور ہم اہنگ نہ تھا، لیکن سرمایہ داروں اور مالداروں کے منافع کے حق میں تھا بھرحال لیبرل نظریہ کا ماحصل یہ ہے کہ حکومت کی معنوی امور کے سلسلہ میں کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

ممکن ہے کوئی شخص ہم پر یہ اعتراض کرے کہ مغربی ممالک میں حکومت گرجاگھروں کے لئے ٹیکس لیتی ہے ، تو پھر ان پر دین اور معنویات سے بے توجھی کا الزام کیونکر لگایا جاسکتا ہے ؟!

تو اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی لیبرالیزم کا مقصد نہیں ہے بلکہ یہ کام اس لئے کرتے ہیں تاکہ دیندار لوگوں کا دل جیت لیں ، اور حکومت بناتے وقت گرجا گھر کی طاقت سے استفادہ کریں ہماری بحث تو صرف اس میں ہے کہ لیبرل طرز تفکر کا مقصد او رمطلب کیا ہے؟

چنانچہ جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ ان کے نظریہ کے مطابق ؛ دینی مصالح کی تامین اور ترویج کرنا حکومت کی ذمہ داری کے ذمہ نہیں ہے، اور اگروہ حکومتیں بعض مذہبی مصالح پر توجہ کرتی ہیں تو وہ اپنے ذاتی فائدہ کے لئے ہوتا ہے، یہ صرف الکشن میں کامیاب ہونے کے لئے ہوتا ہے اور وہ لوگ دینداروں کے دلوں کو جیتنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ دینداروں کے دلوں کو جیت لیں تاکہ ان کو ووٹ مل جائیں ، کبھی کبھی امریکہ میں ووٹنگ کے وقت یہ دیکھا جاتا ہے کہ بعض ممبران گرجا گھروں میں جاتے ہیں تاکہ ان لوگوں کو اپنے سے مانوس کرلیں ، البتہ اس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہیں کہ وہ دین کے طرفدار ہوتے ہیں ۔

۵۔ لیبرل نظام سے لوگوں کی انسیت کی دلیل

اسلامی نقطہ نظر سے معنوی مسائل کا تحفظ ہی ، جو دین کے زیر سایہ امکان پذیر ہوتا ہے وہی ‎ اصل اور اولی اہداف میں سے ہیں اور یہی اسلامی اور دنیا میں رائج دوسرے نظریات میں مہم ترین نقطہ اختلاف ہے، اور ہم حکومت کے سلسلہ میں مغربی ممالک کے تابع نہیں ہوسکتے؛ کیونکہ ان کے اور ہمارے درمیان حکومت کے اہدف کے سلسلہ میں بنیادی اختلاف پایا جاتا ہے اور اگر ہم (حکومت کے) ہدف ہی کو بھول جائیں تو حکومت کا ڈھانچہ، شرائط ، ذمہ داریاں اور اختیارات عوض ہوجائیں گے۔

در حقیقت بعض لوگوں کے نظریات میں انحراف اور شک وشکوک کا ایجاد ہونا یہاں تک کہ جو لوگ خود غرضی کے بھی شکار نہ ہوں ، جیسا کہ بعض انحرافات اور اعتراضات جو کتابوں اور اخباروں میں بیان ہوتے ہیں ان کی اصل وجہ یہی ہے کہ انھوں نے اسلامی نظریہ کے تحت حکومت کے قوانین کے اہداف پر توجہ نہیں کی ہے اور نہ ہی اسلامی نظریہ اور دوسرے نظریات کے اختلاف پر توجہ کی ہے انھوں نے اصلِ اسلام کو تو قبول کرلیا ہے واقعاً ایسے لوگ خدا کو مانتے ہیں ، نماز پڑھتے ہیں ، روزہ رکھتے ہیں اور دین کے منکر اور کافر نہیں ہیں ؛ لیکن اجتماعی اور سیاسی عملی میدان میں سو فی صد مغربی ممالک کے تابع ہوجاتے ہیں اور پھر ان کو یہ کوئی فکر نہیں ہوتی کہ ان کا یہ طریقہ کار اسلامی نظریہ سے ہم اہنگ بھی ہے یا نہیں ؟ اور کھتے ہیں کہ آج کل دنیا میں یہی رویہ رائج ہے لھٰذا ہم بھی اسی رویہ کو اختیار کریں اور اس کی مخالفت (بھی) نہیں کرسکتے آج کی دنیا کا تمدن ، مغربی تمدن ہے، اور لیبرل کلچر حاکم ہے ، لھٰذا ہم اس کی مخالفت نہیں کرسکتے۔!!

لیکن سب سے پہلے ہمیں تھیوری اور نظری لحاظ سے یہ سمجھنا چاہئے کہ اسلام کیا کھتا ہے ، کیا وہ سب کچھ جو مغربی ممالک میں ہوتا ہے، اسلام کی نظر میں آیا وہ قابل قبول ہے یا نہیں ؟ دوسرے یہ کہ ہم مقام عمل میں دیکھیں کہ اسلام کے دستور العمل کو رائج کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ اور اگر بالفرض مقام عمل میں اسلامی قوانین کو عملی جامہ نہیں پھناسکتے تو کم سے کم ہمیں یہ تو پتہ ہونا چاہئے کہ اسلام ؛ لیبرل نظریہ کو قبول نہیں کرتا، لھٰذا ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ غیر اسلامی طریقہ کار کو اسلام کا نام نہ دیں ہم شاہ کے زمانہ میں بھی بعض اسلامی طریقہ کار پر عمل نہیں کرسکتے تھے لیکن یہ جانتے تھے کہ شاہ کی حکومت اسلامی نہیں ہے، اور اس کے بعض کام دین کے مخالف تھے پس اسلام کے احکام کا جاری نہ ہوسکنا اس بات کا سبب قرار نہیں پاسکتا کہ ہم یہ کہنے لگیں کہ اسلام بدل گیا ہے، ہم آج بھی بعض موارد میں اسلام کے قوانین کو جاری کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، لیکن ہمیں یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ یہی اسلام ہے جو ہم کرتے ہیں ، اسلام کو تو اسی طرح پہنچانیں جیسا وہ ہے اور اگر کسی مقام پر اسلام پر عمل نہیں کرسکتے تو خداوندعالم سے عذر خواہی کریں کہ ہم سے فلاں مورد میں اسلام کے احکام پر عمل نہیں ہوا، اور اگر خدا نخواستہ ہماری غلطی ہے تو ہمیں ملت اسلامی سے عذر خواہی کرنا چاہئے کہ اسلامی قوانین کے نافذ کرنے میں ہم سے غلطی ہوئی پس ہمیں اسلام میں ردّ وبدل اور تغییر کرنے کا کوئی حق نہیں ہے نیز ہمیں توجہ رکہنا چاہئے کہ اسلام وہی ‎ دین ہے جو ۱۴۰۰ سال پہلے پیغمبر اکرم (ص) کے ذریعہ ہم تک پہنچا ہے۔

۶۔ اسلامی حکومت کے ڈھانچہ کے سلسلہ میں ایک طریقہ

مذکورہ مطالب کے پیش نظر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلامی حکومت کا ہدف؛ معاشرہ میں اسلامی اور معنوی اقدار کو رواج دینا ہے اور اسی کے زیر سایہ مادی مصالح کو پورا کرنا ہے، نہ کہ بالعکس(مثلاً معنوی اقدار کے زیر سایہ مادی مصالح کو پورا کرنا)، تو اب ہم کو یہ دیکہنا ضروری کہ اسلامی حکومت کا ڈھانچہ کیسا ہونا چاہئے اور جو افراد حکومت کی باگ ڈور سنبھالیں ان کے شرائط کیا کیا ہیں ؟

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کسی بھی حکومت میں قوہ مجریہ کی اصلی ذمہ داری قوانین کو نافذ کرنا ہے، اس مطلب پر سبھی اتفاق رکھتے ہیں ؛ اور اسلامی حکومت یعنی وہ سسٹم جو اسلامی قوانین نافذ کرنے کا ضامن اور اسی قانون کے اہداف کو پورا کرناہے تو اب یہ دیکہنا ہے کہ کوئی بھی حکومت ہو ، چاہے مشرقی اور مارکسسٹی حکومت ہو یا مغربی اور لیبرل حکومت یا دیگر حکومتیں ، ان کے ذمہ دار افراد میں کیا کیا خصوصیات ہونا ضروری ہیں ؟ اس سوال کے جواب میں عرض ہے کہ کسی بھی حکومت کے ذمہ دار افراد میں کم سے کم دو صفات کا ہونا ضروری ہے:

۱۔قانون کی شناخت:

جو شخص نفوذ قوانین کا ضامن ہونا چاہتا ہے اگر اس کو قانون کا صحیح علم نہ ہو تو پھر وہ کس طرح قانون کو جاری کرسکتا ہے؟ قوانین سے آگاہ او رآشنا ہونا حکومتی افراد کی پہلی خصوصیت ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داری کو صحیح طورسے نبھاسکے، کیونکہ حکومت قوانین کو جاری کرنے کی ضامن ہوتی ہے تو اگر اس کو قوانین اور دیگر پہلووں کا صحیح علم نہ ہو تو پھر عملی میدان میں غلطی کرسکتی ہے اس سلسلہ میں سب سے بہتر ین طریقہ کار یہی ہے کہ جو شخص حکومت میں سب سے بڑے درجہ پر فائز ہو وہ قوانین پر سب سے زیادہ علم رکھتا ہو اور ان کو اچھے طریقہ سے جانتا ہو، تاکہ اس کی غلطی کا احتمال سب سے کم ہو۔

۲۔قوانین کو نافذ کرنے کی طاقت:

وہ حکومت جو قوانین کو نافذ کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے اس کے پاس اتنی طاقت ہو جس کے ذریعہ مورد نظر قوانین کو نافذ کرسکے، اگر کوئی حکومت ۶ ۰/ ملین لوگوں پر بلکہ ایک ارب لوگوں پر (مثلاًچین اور ھندوستان) حکومت کرے اور ان پر احکام اور مقررات کو جاری کرنا چاہے تو اس کے لئے کافی مقدار میں قدرت وطاقت کا ہونا ضروری ہے چنانچہ یہ مسئلہ اتنی اہمیت کا حامل ہے کہ آج کی دنیا کے بھت سے فلسفی نظریات میں حکومت کو قدرت کے برابر جانتے ہیں اور اسی ”قدرت وطاقت“ کو فلسفہ سیاست کے مہم ترین مفاہیم میں سے ایک مفھوم سمجھتے ہیں بھرحال اس بات پر توجہ رہے کہ حکومت کو صاحب قدرت وطاقت ہونا ضروری ہے۔

لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ”طاقت و قدرت “ کیا ہے؟تو مختصر طور پر یہ سمجھئے کہ قدیم زمانہ سے انسانی معاشرہ میں تحویل وتحول کے ساتھ ساتھ قدرت وطاقت کے مختلف معنی کئے جاتے رہے ہیں ، چنانچہ ابتدائی اور سادہ حکومت(۳)

میں عام طور پرحاکم یا قبیلہ کے سردار میں جسمانی قدرت شامل ہوتی تھی، کیونکہ اس زمانہ میں جو شخص حاکم ہوتا تھا اس کی جسمانی قدرت دوسروں کی بہ نسبت زیادہ ہوا کرتی تھی کیونکہ اگر کوئی شخص ایک ھزار افراد پر مشتمل خاندان ہے اوراس پر حکومت کرتا تھا، اور کوئی شخص حاکم کے قوانین کی مخالف کرتا تھا تو اس کو سزا دینے کے لئے حاکم اپنی جسمانی طاقت سے استفادہ کرتا تھا لھٰذا طے یہ ہوا کہ اس زمانہ میں طاقت سے مراد صرف ظاہری اور جسمانی طاقت مراد ہوتی تھی۔

لیکن جب سے انسانی معاشرہ کے مسائل پیچیدہ تر ہوتے گئے اور معاشرہ نے ترقی کی تو اس وقت ایک شخص کی طاقت نے ایک کمیٹی کی صورت اختیار کرلی ؛ یعنی اگر خود حاکم میں جسمانی طاقت کافی مقدار میں موجود نہ ہو تو اس کے پاس ایسے افراد ہونا چاہئے جو جسمانی اعتبار سے بھت زیادہ طاقتور اور قوی ہوں اس حاکم کے پاس طاقتور لشکر ہونا ضروری تھا ، لیکن اس کے بعد جب علم و دانش نے ترقی کی تو پھر قدرت اپنے ظاہری اور فیزیکی شکل سے نکل کر علمی اور ٹیکنالوجی شکل میں تبدیل ہوگئی یعنی گویا حاکم کے پاس ایسے اسلحے وآلات ہوں جن کے ذریعہ بدنی طاقت کا کام لیا جاسکے۔

اگرچہ ایک موقع پر حاکم کو معاشرہ کا ادارہ کرنے کے لئے اس کی جسمانی طاقت ہی کافی تھی لیکن جیسے جیسے معاشرہ نے علم وفن میں ترقی کی اور بھت سے فوجی اسلحہ بنائے تو پھر حکومت کے لئے بھی ضروری ہوگیا کہ وہ بھی فیزیکی ، صنعتی اور ٹکنالوجی خصوصاً فوجی اسلحہ جات کافی مقدار میں رکھتی ہو، تاکہ خلاف ورزی کا سد باب کیا جا سکے، اور اگر کچھ لوگ شورش اور بغاوت کرنا چاہیں تو آسانی سے ان کا سر کچل دیا جائے، یا اگر کچھ لوگ دوسروں کی جان ومال کے لئے خطرہ بن رہے ہوں تو اپنی طاقت کے ذریعہ ان کو روک سکے۔

۷۔ عوام الناس میں حکومت کی مقبولیت ضروری ہے۔

جس طاقت وقدرت کے بارے میں ہم نے آپ کی خدمت میں عرض کیاوہ جسمانی اور فیزیکی طاقت میں منحصر تھی،جو ابتدائی حکومتوں میں ہوتی تھی، اس کے بعد پیشرفتہ حکومتوں میں مورد توجہ ہوتی تھی یہاں تک کہ آج کل اسی معنی میں استعمال ہوتی ہے ، جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ حکومتیں اپنی طاقتوں کو بڑھانے میں لگی ہوئی ہیں ، ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنے اسلحہ خانہ کو جدید اور اہم اسلحوں سے بھرلیں تاکہ موقع پڑنے پر ان سے کام لیا جاسکے لیکن یہ توجہ رہے کہ حکومت کی طاقت اور اس کا اقتدار صرف اسی چیز میں منحصر نہیں ہے؛ بلکہ پیشرفتہ معاشرہ میں حکومت کی طاقت کو معاشرہ میں نفوذ اور لوگوں کی مقبولیت کو پہلا درجہ دیا جاتا ہے کیونکہ حکومت اپنے تمام پروگراموں اور اپنی خواہشات کو قوت بازو کے زور پر معاشرہ میں نافذ نہیں کرسکتی؛ اصل یہ ہے کہ عوام الناس اپنی خوشی اور رغبت کے ساتھ مقررات اور قوانین کو قبول کریں اور قوانین کے سامنے گردن جھکائیں لھٰذا طے یہ ہوا کہ جو شخص بھی قوانین کو نافذ کرنے کا ذمہ دار ٹھھرے یا سب سے اعلیٰ درجہ پر فائز ہو تو عوام الناس میں اس کی مقبولیت ضروری ہے، اور ظاہری طاقت اور قوتِ بازو کی بنا پر کبھی بھی ایک طولانی مدت کے لئے حکومت باقی نہیں رہ سکتی۔

پس طے یہ ہوا کہ قوانین کا جاری ونافذ کرنے والا طاقتور اور معاشرہ میں مقبولیت رکھتا ہو، یہی وجہ ہے کہ مدیریت میں بد نظمی سے روک تھام اور معاشرہ کے فوائد کو نابودی سے بچانے کے لئے حکومت کے ذمہ دار افراد میں خاص صفات کا ہونا ضروری ہے تاکہ حکومت اور قانون کے اہداف ومقاصد کو پورا کرسکیں ؛ یعنی حقیقت میں حکومت کے ذمہ دار افراد اور قانون کے نافذ کرنے والے ضامن افراد کے لئے ایک خاص صلاحیت کا ہونا ضروری ہے چنانچہ اس بات کو سیاست کے فلسفہ میں مختلف طریقوں سے بیان کیا جاتا ہے جس کو معمولاً اجتماعی مشروعیت اور عام مقبولیت سے تعبیر کیا جاتا ہے یعنی حکومت عقلائی طریقہ کار کو اپنا ئے اور قوانین کو نافذ کرنے میں صحیح طریقہ بروئے کار لائے، اور عوام الناس بھی اس کے لئے قانونی اعتبار کے قائل ہوں قوانین کو نافذ کرنے والے ذمہ دار افراد کے لئے صاحب اقتدار ہونے کے ساتھ ساتھ (تاکہ قوانین کی مخالفت سے روک تھام ہوسکے) عوام الناس بھی ان کے اعتبار کے قائل ہوں اور حکومت کو انہیں کا حق سمجھے۔

قارئین کرام ! خلاصہ یہ ہوا کہ اقتدار کی تین قسمیں ہیں پہلی اور دوسری قسم دوسرے تمام ہی معاشروں میں جانی پہنچانی ہیں ، اگرچہ ان کو جاری کرنے کے سلسلہ میں مختلف قسم کے نظریات اور طریقہ کار پائے جاتے ہیں ، لیکن ہماری نظر میں جس چیز کی زیادہ اہمیت ہے وہی ‎ تیسری قسم کا اقتدار(مقبولیت عام) ہے۔

حوالے:

۱ نھج البلاغہ خطبہ نمبر ۴۰

(۲) اسی شخص نے مغربی لیبرل " Liberal ")آزادی خواہ)نظریہ کی بنیاد رکھی جو آج کل کی سیاسی گفتگو اور یونیورسٹی وغیرہ میں بیان ہوتی ہے اور کم وبیش سبھی لوگ اس کو قبول کرتے ہیں

(۳)مثلاً ھزاروں سال قبل تقریباً دنیا بھر میں قبائلی حکومتیں ہوا کرتی تھیں


پچیسواں جلسہ

حکومت کی عظیم منصوبہ بندی ۲

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر

ہم نے اس سے قبل بھی یہ بات عرض کی تھی کہ مغربی ممالک کے منحرف اور الحادی نظریات کا ذھن اور اسلامی اعتقادات پر اثر انداز ہونا، اسی طرح مغربی ممالک کے پٹھووں ، غلاموں وغیرہ کی اسلامی معاشرہ اور دینی اعتقادات میں شک وتردید ایجاد کرنے کے لئے بھر پور اور حساب شدہ کوششیں کرنا، نیز اسلام کی اصل ثقافت اور کلچر میں سیاسی اور ثقافتی مشکلات کا ایجاد کرنا، یہ تمام چیزیں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ اسلام کے مفکرین اور اسلام کے محافظ افراد جو کہ اسلام کی گھری معلومات اور وسیع ثقافت سے واقف بھی ہوں ان کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہو اور اس سلسلہ میں اساسی ، بنیادی اور مفید گفتگو کا آغاز کریں منجملھ” اسلامی سیاسی نظریھ“ وغیرہ کو سادہ اور روان الفاظ میں اسلامی معاشرہ کے سامنے پیش کریں ، جو علی القاعدہ تخصصی، فنی اور اکیڈمیک طریقہ پر یونیورسٹیوں میں بیان ہوتی ہے۔

اس وقت ہمارے معاشرہ کو اسلام کی ہمیشگی ثقافت ، کلچراور عظیم میراث کا پاس ولحاظ رکہنا ضروری ہے تاکہ دشمنان اسلام کےثقافتی حملوں کا مقابلہ کیا جاسکے، اور ان چیزوں کو اپنی آئندہ نسل میں صحیح وسالم چھوڑ کر جائے، جواسلامی اور انقلابی اہداف کے لئے بھت ہی زیادہ ضرورت مند ہیں لھٰذا اس ہدف تک پہنچنے کے لئے علمی اور باریک مسائل کو آسان زبان میں پیش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اکثر عوام الناس اس کو سمجھ کر ھضم بھی کرسکے، اور ان کو علمی اور مشکل اصطلاحات میں پھنسنے سے نجات بھی مل جائے۔

چنانچہ ہم نے مذکورہ ہدف کے پیش نظر یہ طے کیا کہ اس طرح کے مسائل ”اسلامی سیاسی نظریھ“ کے تحت دو حصوں میں بحث کریں جس کا پہلا حصہ مکمل ہو چکا ہے ، جس میں یہ بیان کیا گیا کہ انسانی معاشرہ کے لئے قانون کی ضرورت ہے اور یہ بھی بیان کیا گیا کہ اسلامی نقطہ نظر سے قانون کا بنانے والا صرف خدا یا وہ افراد جو خداوندعالم کی طرف سے اذن یافتہ اور قانون گذاری کی کافی ووافی صلاحیت رکھتے ہوں چنانچہ اس سلسلہ میں بحث ہوچکی ہے ، ضمناً اس سلسلہ میں ہوئے اعتراضات کے بھی جلسوں کے لحاظ سے جوابات دئے گئے۔

اور ہماری بحث کا دوسرا حصہ حکومت بمعنی خاص کے سلسلہ میں ہے ، در حقیقت پہلے حصے میں حکومت بمعنی عام (جس میں قوہ مقننہ (پارلیمنٹ ) بھی شامل تھی) کے بارے میں گفتگو ہوئی جس کے تحت قانون اور قانون گذاری کے سلسلہ میں بحث ہوئی لیکن اس وقت ہماری بحث حکومت بمعنی خاص؛ یعنی قوہ مجریہ کے بارے میں ہے۔

۲۔ حکومت، انسانی معاشرہ کی دائمی اور ہمیشگی ضرورت ہے۔

حکومت کی مختلف شکل وصورت اور ڈھانچوں کو چھوڑتے ہوئے (کیونکہ اس کی بحث اپنی جگہ ہوگی) جیسا کہ ہم نے پہلے جلسہ میں بھی اشارہ کیا ؛ تمام سیاسی صاحب نظر افراد، معاشرہ کے لئے حکومت پر اتفاق رائے رکھتے ہوئے اس کو ضروری مانتے ہیں صرف ”آنارشیسٹ“ " Anarchiste " (مفسدہ جویان) معاشرہ کے لئے حکومت کے قائل نہیں ہیں ، یونانی قدیم فلسفہ کے زمانہ میں اس گروہ کے طرفدار پائے جاتے تھے، جن کا عقیدہ یہ تھا کہ اگر عوام الناس قوانین کو پہنچانے اور اخلاقی عھد پر عمل کریں تو پھر ان کوحکومت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تھیوری کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ عملی نہیں ہوئی جبکہ اس کے مقابلہ میں عملی طور پر تمام معاشروں میں حکومت کی ضرورت کا احساس ہوا ، اور یہ احساس اسی طرح سے آج تک باقی ہے۔

ہم اپنے بھائیوں کے لئے حکومت کی ضرورت کے نظریہ کو مزید روشن کرنے اور ان کو بعض مغالطوں کے جال میں پھنسنے سے بچانے کے لئے عرض کرتے ہیں کہ مذکورہ نظریہ پر سب کا اتفاق ہے اور انسانی معاشرہ کی واقعیات کی شناخت پر مبنی ہے، اس کی وضاحت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مخلوقات ، روحیات، معاشرہ کے نشیب وفراز اور واقعیت سے آنکھیں بند کرکے ایک بند کمرہ میں اس چیز پر تجزیہ وتحلیل کرے اور انسانوں کو بالکل فرشتوں جیسا تصور کرے جو خیر خواہی اور فضائل کے حصول میں لگے ہوئے ہیں اور پاک وپاکیزہ خصلت وعادت کے مالک ہیں اس کی نظر میں اگر تعلیم کا نظام اور صحیح تربیت عام ہوجائے اور عوام الناس تربیتی لحاظ سے مودب ہوجائیں کہ اپنے اخلاقی خواہشکے تحت قانون کے سلسلے میں عھد کریں اور اس پر عمل کریں اور( کبھی بھی ) مخالفت نہ کریں ، اسی طرح اگر صحیح قوانین اور معاشرہ یا شخص کے فوائد ، نیز قانون شکنی کے مفاسد ونقصانات عوام الناس کے لئے بیان ہوجائیں ، اور پھر صحیح راستہ کا انتخاب ان کے اوپر چھوڑدیا جائے تو پھر کوئی بھی شخص قانون کی مخالفت نہیں کرے گا بلکہ قوانین کے مطابق عمل کرے گا بالکل اسی شخص کی طرح جس کو یہ معلوم ہو کہ اس کھانے میں زھر ملا ہوا ہے تو وہ اس کھانے کو نہیں کھائے گا، اسی طرح عوام الناس بھی ایسے کام کریں گے جو ان کے مفاد میں ہوں اور وہ کام جو ان کے یا معاشرہ کے لئے نقصان دہ ہوں گے ان کو انجام نہیں دیں گے لھٰذا حکومت اور قوانین کو تحمیل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔!!

قارئین کرام ! مذکورہ نظریہ ایک خیالی پلاؤ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے کیونکہ جو لوگ انسانی زندگی اور معاشرتی زندگی کی واقعیات سے با خبر ہیں یا وہ افراد جو تاریخ بشریت اور گذشتہ معاشروں کی تاریخ سے مطلع ہیں ، ہر گز یہ احتمال نہیں دے سکتے کہ کم سے کم آئندہ نزدیک میں اس طرح کا ماحول پیدا ہوجائے گا کہ لوگوں کے درمیان اخلاقی اقدار کے رائج اورپھیلنے کے بعد تمام لوگ آٹومیٹک طریقہ پر نیک کام کرتے ہوئے نظر آنے لگیں ، اور ان کو برے کاموں کی ہوا تک نہ لگے، کوئی بھی جھوٹ نہ بولے، خیانت نہ کرے، لوگوں کے مال اور ناموس (عورتوں ) کی طرف بری نظر نہ اٹھائے، لوگوں کے حقوق پر تجاوز اور ظلم نہ کرے اسی طرح بین الاقوامی مسائل کے سلسلہ میں کوئی ملک اپنے پڑوسی ملک پر ظلم نہ کرے!!

۳۔ حکومت کی ضرورت پر اسلام اور قرآن کا نظریہ

اسلام نے بھی بغیر حکومت کے معاشرہ کو( کہ اس کی صحیح تربیت ہوجائے نیز مصالح ومفاسد اور قوانین کے آشنائی ہونا کافی ہے) ایک خیال خام اور حقیقت سے دور بیان کیا ہے، اسی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت سے متعلق آیات میں ، خلقت انسان کو اس طرح بیان کیا ہے کہ انسان کے نقاط ضعف اور اس میں خطا ولغزش کا امکان ظاہر ہوتا ہے:

( وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَئِکَةِ إِنِّی جَاعِلٌ فِی الْارْضِ خَلِیفَةً قَالُوا اتَجْعَلُ فِیها مَنْ یُفْسِدُ فِیها وَیَسْفِکُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ إِنِّی اعْلَمُ مَا لاَتَعْلَمُونَ ) (۱)

”اے رسول! اس وقت کو یاد کروجب تمھارے پروردگار نے ملائکہ سے کھا کہ میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں اور انھوں نے کھا کہ کیا اسے بنائے گا جو زمین پر فساد برپا کرے اور خونریزی کرے جب کہ ہم تیری تسبیح اور تقدیس کرتے ہیں تو ارشاد ہوا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ہو۔“ جس وقت فرشتوں نے انسان کے بارے میں اجتماعی فساد اور خونریزی کے بارے میں خبر دی تو خداوندعالم نے اس کا انکار نہیں کیا بلکہ ان کے جواب میں انسانی خلقت کی حکمت کی طرف اشارہ کیا جس سے فرشتہ باخبر نہیں تھے۔

اسی طرح دوسری آیات میں انسان کی بعض کمزوری کی طرف اشارہ کیا ہے، منجملہ یہ آیات:

۱۔( إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هلُوعًا إِذَا مَسَّه الشَّرُّ جَزُوعًا وَإِذَا مَسَّه الْخَیْرُ مَنُوعًا ) (۲)

”بیشک انسان بڑ ا لالچی پیدا ہواہے جب اسے تکلیف چھو بھی گئی تو گھبراگیا اور جب اسے ذرا فراخی حاصل ہوئی تو بخیل بن بیٹھا“

۲۔( اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ کَفَّارٌ ) (۳)

”بے شک انسان بڑا ظالم اور انکار کرنے والا ہے۔ “

واقعاً یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ مذکورہ آیت میں خداوندعالم نے انسان کو ”ظلوم“ کے نام سے پہنچنوایا ہے جو مبالغہ کا صیغہ ہے اور بھت ظلم کرنے والے کے معنی میں ہے اور انسان کو اس نام سے یاد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اندر ظلم، سرکشی اور ناشکری اس قدر ہے کہ اس کو فراموش نہیں کیا جاسکتا اور ہمیشہ انسانی معاشرہ ظلم اور ناشکری سے بھرا ہوا ملے گا، تو پھر یہ نظریہ قابل قبول نہیں ہے کہ تعلیم وتربیت اور لوگوں کو وعظ ونصیحت کے ذریعہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے جس میں تمام افراد کا اچھا اور پسندیدہ کردارہو، اور کوئی ایک انسان بھی قوانین اور اخلاقی اقدار سے سرپیچی نہیں کرے گا، اور اس صورت میں حکومت اور طاقت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید بھی اس نظریہ کا مخالف ہے، جبکہ موجودہ حقائق نے بھی یہ بات واضح کردی کہ انسانی معاشرہ میں مختلف وجوھات کی بنا پر ہمیشہ جرائم اور مخالفت رہی ہے البتہ بعض افراد نے جرائم کے اسباب اور جرائم کی وجوھات کے بارے میں پتہ لگایا ہے اور جھل ونادانی اور وراثتی عوامل وغیرہ کی طرف اشارہ کیا ہے ، لیکن اس وقت ہم اس کو بیان نہیں کرنا چاہتے ، ہم تو یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ انسانوں کے درمیان قانون کی مخالفت اور جرائم اور گناہ کا ارتکاب ہمیشہ رہا ہے جس کے پیش نظر آسانی کے ساتھ یہ پیشن گوئی بھی کی جاسکتی ہے کہ آئندہ بھی ایسا ہی رہے گا۔

ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ خداوندعالم کے لطف وکرم سے ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جب حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ھاتھوں ایک اسلامی نمونہ معاشرہ تشکیل پائے گا لیکن پھر بھی اس بات پر توجہ رہے کہ اس زمانہ میں بھی قوانین کی مخالفت اور گناہ انجام دئے جائیں گے، اس کے علاوہ وہ معاشرہ بھی ہمیشہ نہیں رہے گا یہاں تک کہ بعض روایات میں یہ بھی ملتا ہے کہ حضرت ولی عصر امام زمانہ (ع) کی مخالفت میں قیام کیا جائے گا اور آپ (ع) کو شھید کردیا جائے گا۔

پس ہمیں اس چیز کی توقع نہیں رکہنا چاہئے کہ حضرت امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے زمانہ حکومت میں ایک نمونہ اور مطلوب معاشرہ تشکیل پائے گا جو گناہ اور نافرمانی سے بالکل پاک وپاکیزہ ہوگا البتہ امام علیہ السلام کی حکومت اور طاقت کا استعمال اس طریقہ سے ہوگا کہ اس میں کسی طرح کے ظلم و جور کو بغیر جواب دئے نہیں چھوڑا جائے گا نیز اس زمانہ میں عدالت عام ہوجائے گی، اسی بنا پر معاشرہ میں جرائم وگناہ کم ہوجائیں گے، لیکن بالکل ہی ان کا خاتمہ نہیں ہوگا؛ کیونکہ انسان فرشتوں کی طرح نہیں بن سکتا، اور اس کی فطرت انسانی رہے گی، اس میں گناہ و عصیان اور جرائم کے امکانات پائے جائیں گے۔

لھٰذا طے یہ ہوگیا کہ ان تمام حقائق کے پیش نظر حکومت کا ہونا ضروری ہے لیکن اگر کوئی شخص گھر کے ایک کونے میں بیٹہ کر اپنے محدود ذھن میں اس طرح کے معاشرہ کا تصور کرے کہ اخلاقی اور تربیتی ترقی کے بعد ایک ایسا معاشرہ پیدا ہوجائے جس میں کسی بھی طرح کا کوئی ظلم وفساد نہ ہو تو یہ بات حقیقت جامعہ سے بھت دور ہے واقعاً عوام الناس کے درمیان جائے اور ان کے کاموں کا مشاہدہ کرے کہ کس طریقہ سے نیکیوں اور اچھائیوں کے ہوتے ہوئے بھی گناہ وانحراف کا شکار ہوجاتے ہیں کیونکہ جو لوگ اخلاقی مسائل کو اہمیت نہیں دیتے ان کی بات تو الگ ہے جو افراد نیک اور اچھے ہوتے ہیں ان سے بھی کبھی کبھی گناہ اور مخالفت ہوجاتی ہے تو پھر یہ بات ظاہر ہے کہ جرائم اور تخلفات کی روک تھام کے لئے معاشرہ میں مناسب اور شائستہ قوانین(۴) کا نفوذ ضروری ہے، کیونکہ جب معاشرہ میں قوانین نافذ ہونے کے لئے بنائے گئے ہیں تو پھر ان کو نافذ کرنے والے ضامن کی ضرورت ہے حکومت کے وجود کے لئے سب سے عمدہ اور بہتر ین دلیل ؛ معاشرہ میں مختلف طریقوں سے قوانین کو نفوذ کرنے کی ضمانت ہے، اور اسی چیز کو ہم بیان کرنا چاہتے ہیں ، انشاء اللہ ہم اپنی آئندہ بحث میں حکومت یا حکومتی شعبہ جات وغیرہ کی ذمہ داریوں اور اس کے اختیارات کی بحث کریں گے

۴طاقت و قدرت کی ضرورت

قارئین کرام ! قانون بغیر متولی کے نہ رہے اور ان کی تعطیل نہ ہوجائے اور جرائم وخلاف کاریوں کی روک تھام کی جاسکے ، اسی طرح معاشرہ کے امن وامان کو خطرہ میں ڈالنے کی سازشوں کا سد باب کیا جاسکے اور اسی طرح ملک اور اسلامی معاشرہ پرخارجی دشمنوں کے ھجوم کوروکا جاسکے تو ان تمام چیزوں کے لئے ایک طاقتور حکومت کا ہونا ضروری ہے ، تاکہ قوانین کو جاری کرنے ، دیگر امور کی تشریح، عقائد اوراقدارکی حفاظت کرنے اسی طرح معاشرہ کی اندورنی اور بیرونی امنیت کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری کو نبھا سکے اسی وجہ سے سیاسی فلسفہ میں ”مفھومِ قدرت“ کو ایک بنیادی مفھوم قرار دیا گیا ہے یہاں تک ان لوگوں کے نزدیک بھی جنھوں نے ”سیاست“ کو ”علم قدرت“ سے تعبیر کیا ہے۔ اب جبکہ حکومت اور قوہ مجریہ کا وجود ثابت ہوگیا اور یہ بھی بیان ہوگیا کہ حکومت کا صاحب اقتدار اور صاحب طاقت ہونا ضروری ہے، یہ سوال پیش آتا ہے کہ قدرت کا سرچشمہ کیا ہے؟ اور کس بنیاد پر حکومت کے عھدہ دار قدرت اور اقتدار رکھتے ہوں تاکہ جرائم سے روک تھام اور قوانین کو نافذ کرنے کے ذمہ داری کو پورا کرسکیں ؟ چنانچہ فلسفہ سیاست کے بارے میں بھت زیادہ فنّی اور خاص بحثیں ہوئی ہیں لیکن ہم اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کو روان اور سادہ زبان میں عرض کرتے ہیں ۔

انسانی معاشرہ میں ہمیشہ سے بعض افراد بعض وجوھات کی بنا پر مثل کم عقلی،(ادواری) جنون، بری تربیت یا اسی طرح کی دوسری چیزوں کی بنا پر جرائم کے مرتکب ہوتے رہے ہیں ،مثلاً کسی جگہ آگ لگادےتے ہیں ، چاقو یا روالور کے ذریعہ کسی بے گناہ انسان پر حملہ آور ہوجاتے ہیں اسی طرح دوسرے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں کہ الحمد للہ ہمارے ملک میں جرائم کی تعداد کم ہے لیکن آج کے ترقی یافتہ ممالک (یورپ اور امریکہ وغیرہ) میں جرائم کی تعداد کھیں زیادہ ہے؛ جیسا کہ بعض معتبر اخباروں کے ذریعہ یہ خبر ملی تھی کہ کسی ایک ملک کے پائے تخت میں ہر ایک منٹ میں کئی قتل ہوتے ہیں یا ایک دوسرے ملک کی پائے تخت میں ہر آدھے منٹ میں ایک قتل ہوتا ہے(۵) اور یہ رپورٹ ان ملکوں کے سرکاری اخباروں کے ذریعہ نشر ہوتی ہے، در اگر ہمارے ۶۰/ ملین افراد والے ملک میں کبھی کوئی قتل ہوجاتا ہے تو ہمیں تعجب ہوتا ہے کہ کیوں ہمارے اسلامی ملک میں ایک ایسا حادثہ پیش آیا!!

خلاصہ یہ کہ اس طرح کے جرائم اور خلاف ورزیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے حکومت ظاہری اور مادی طاقت رکھتی ہو جس وقت کسی بے گناہ انسان پر ظلم وستم ہو، یا کسی پرشدت سے تجاوز ہوتا ہے یا کسی جگہ پر چوری ہوتی ہے یا ڈاکاپڑتا ہے، تو ایسے مقامات پر حکومت کے بعض افراد (پولیس) اپنی بھر پور طاقت کے ذریعہ ان جرائم کا مقابلہ کریں تاکہ قوانین کے نفاذ کی ضمانت ہوسکے۔

قارئین کرام ! قوانین کو جاری کرنے اور ان کی ضمانت کے امکان کے لئے نیز مجرموں سے مقابلہ کرنے کے لئے پہلی شرط ظاہری ، مادّی اور جسمانی طاقت کا ہونا ضروری ہے اگرچہ ٹکنالوجی کی ترقی کے ساتھ اسلحہ وغیرہ میں بھی ترقی ہوئی ہے جن کی وجہ سے مجرموں کے ھاتھوں میں نئے نئے قسم کے اسلحے ہوتے ہیں ، اسی طرح ادھر حکومت نے بھی مجرموں کو سزا دینے کے لئے الکٹرانک مشینیں ایجاد کرلی ہیں ، لیکن پھربھی ان قوانین کو جاری کرنے والے کے لئے جسمانی طاقت سے بھرہ مند ہونا ضروری ہے چنانچہ اسی ضرورت کے تحت تمام حکومتوں کے پاس چاہے چھوٹی ہوں یا بڑی، ترقی یافتہ ہوں یا غیر ترقی یافتھ؛ تمام کی تمام ان جرائم اور ظلم وستم سے مقابلہ نیز اندرونی امنیت کی برقراری کے لئے پولیس کا انتظام کرتی ہے اور ان کو اپنے حساب وکتاب سے اسلحہ وغیرہ دیتی ہے اور حکومت جتنی چھوٹی ہوگی اس کے پاس اسلحہ وغیرہ سادہ اور کمتر ہوگا اور اگر حکومت بڑی، ترقی یافتہ اور پیچیدہ تر ہوگی اسی حساب سے اس کی پولیس بھی جدید طریقہ اور ترقی یافتہ اسلحوں سے لیس ہوگی۔

اس بنا پر ہر ملک کی پولیس کا مختلف قسم کے تمام تر اسلحوں سے لیس ہونا ضروری ہے، اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حکومت بغیر قدرت کے عملی طور پر قوانین کو نافذ نہیں کرسکتی لھٰذا طے یہ ہوا کہ ہر معاشرہ میں قوہ قھریہ ( پولیس ) کا ہونا ضروری ہے تاکہ جرائم پیشہ لوگ اس سے ڈریں اور جرائم کے قریب نہ جائیں اور اگر جرائم کے مرتکب ہوگئے ہیں تو ان کو سزا مل سکے۔

۵۔ مدیروں میں تقویٰ اور اخلاقی صلاحیت ہونا ضروری ہے

قارئین کرام ! اب تک کی باتوں سے یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ قوانین کو نافذ کرنے، امن وامان کو باقی رکہنے،جرائم اور دوسروں کے حقوق پر تجاوز سے روک تھام کے لئے حکومت کے پاس سبھی طرح کی طاقت کا ہونا ضروری ہے لیکن یہ بھی توجہ رکہنا ضروری ہے کہ اس عھدہ کی حفاظت اور قوانین کو نافذ کرنے اور اس کی ضمانت کے لئے صرف جسمانی اور اسلحہ کی طاقت اور مادّی مھارتیں کافی نہیں ہیں بلکہ وہ شخص جو قوانین جاری کرنے کے لئے منتخب ہو اوراس ہدف کی خاطر ضروری امکانات اور اسلحہ جات اس کے اختیار میں دئے جائیں تو اس کو صاحب تقویٰ اور اخلاقی صلاحیت کا مالک ہونا چاہئے، کیونکہ اگر کوئی صاحب تقویٰ نہ ہو تو جو طاقت اس کے اختیار میں دی گئی ہے نہ صرف یہ کہ فائدہ نہیں دے گی بلکہ اس سے معاشرہ کا نقصان ہوگااور معاشرہ کے لئے بھت سی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں ، کیونکہ وہ اس طاقت اور قدرت سے سوء استفادہ کرے گا اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے اور ملت ایران کے شاہ سے مقابلہ کے دوران حضرت امام خمینی ( رحمةاللہ علیھ) نے ایک بیان میں فرمایاجس کا مضمون یہ ہے کہ اسلحہ نیک اور شائستہ افراد کے ھاتھوں میں دیا جائے، تاکہ شاہ سے مقابلہ کے دوران ، ان کا ہدف عوام الناس کے حقوق دلانا اور اسلام کی حاکمیت کو برقرار رکہنا ہو، نہ یہ کہ وہ صرف قدرت پر قبضہ کرنا چاہیں ؛ لیکن اگر اسلحہ غیر شائستہ لوگوں کے ھاتھوں میں چلا گیا، تو در حقیقت یہ قدرت ؛ طاقتور شیطان کے ھاتھوں میں چلی گئی ہے کہ جس کا نتیجہ معاشرہ میں فتنہ وفساد اور تباہی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوگا۔

خلاصہ گفتگو یہ ہے کہ صرف ظاہری قدرت معاشرہ کے منافع ومصالح کی ضامن نہیں ہوسکتی ، بلکہ جو شخص قوانین کو جاری کرے اور قدرت کو اپنے ھاتھوں میں لے تو اس میں مادّی اور ظاہری مھارت کے علاوہ تقویٰ اور اخلاقی شائستگی کا ہونا ضروری ہے پس اس صورت میں حکومت اپنے تمام تر امکانات اور طاقت وقدرت کے ساتھ ، نیز ان امکانات سے صحیح طریقہ سے استفادہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوئے معاشرہ کی اصلاح کے لئے صحیح رجحان کے تحت اپنی پوری طاقت صرف کردے، اور میدان عمل میں ہویٰ وھوس اور ذاتی مفاد کا شکار نہ ہو لیکن اگر کوئی شخص تقویٰ اور اخلاقی صلاحیت سے بھرہ مند نہ ہو ،اور اس کے ھاتہ طاقت اور مادّی امکانات آجائیں تو اس کو غرور ہوجاتا ہے اور ہویٰ وھوس، شیطانی خواہشات اور جاہ طلبی وغیرہ کے لئے اس قدرت کو استعمال کرنے لگتا ہے ، جس کے نتیجہ میں صحیح راستے سے منحرف ہوجاتا ہے اور معاشرہ میں تباہی وبربادی کے علاوہ کچھ اور نہیں کرپاتا اس صورت میں معاشرہ میں اس کا نقصان اور ضرر عام تباہ کار سے زیادہ ہوتا ہے؛ جیسا کہ فاسد بادشاہ جس ظلم وبربریت کے مرتکب ہوتے ہیں اس کا دوسرے جرائم سے مقائسہ اور مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔

البتہ قانون کا جاری کرنے والا ، قانون اور اس کے مختلف پہلووں کی بحد کافی شناخت رکھتا ہو؛ کیونکہ حکومت قانون کو جاری کرنے کے لئے ہوتی ہے اور حکومتی افراد جس عھدہ پر بھی ہوں ؛ قانون کے مجری ہونے کے ناطے قانون سے بحد کافی آگاہی رکھتے ہوں ورنہ تو اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے قانون کی خلاف ورزی نہ کرنا چاہے اور قانون پر عمل کرنے کا مصمم ارادہ رکھتا ہو، لیکن چونکہ قانون سے صحیح طریقہ سے آشنا نہیں ہے مقام عمل میں غلطی کا امکان پایا جاتا ہے، اسی طرح قانون کو اس کے مصداق پر تطبیق کرنے پر بھی قادر نہیں ہوسکتا، درحالیکہ ایسا شخص بری نیت بھی نہیں رکھتا اور اخلاقی صلاحیت سے بھی بھرہ مند ہوتا ہے لیکن چونکہ قانون کے بارے میں علم نہیں رکھتا اور قانون سے صحیح نتیجہ بھی نہیں نکال سکتا جس کے نتیجہ میں منحرف ہوجائے گااور غلط راستہ پر چل پڑے گا اور عملی میدان میں معاشرہ کے منافع کو پامال کردے گا۔

بنا برین مجری قانون کو قانون سے آشنا ہونا چاہئے ،وہ قانون جاری کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہو اور تقویٰ و اخلاقی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔البتہ متون دینی میں فقیہ کے لئے یہ تین شرطیں قانون جاری کرنے کی قدرت اور مدیریت بیان کی گئی ہیں ،لیکن ان تینوں کلی شرطوں کے بھت سے اجزاء ہیں کہ ہم اس وقت ان کوبیان نہیں کر رہے ہیں چونکہ ہم کلیات بیان کر رہے ہیں جزئیات نہیں ۔

۶۔ فلسفہ سیاست میں حکومت کی مشروعیت

قارئین کرام ! اس سلسلہ میں ایک بحث کا بیان کرنا مقصود ہے جیسا کہ گذشتہ جلسہ میں بھی اس چیز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ حکومت کی مشروعیت (حق حکومت)اور اس کے قانونی ہونے کا معیار وملاک کیا ہے؟ لھٰذا اس چیز کی تحقیق اورجائزہ لینا ضروری ہے کہ کن معیار کے تحت ایک ملت کی حکومت کو کسی شخص یا کسی پارٹی کے سپرد کی جاسکتی ہے تاکہ وہ قدرت سے استفادہ کرسکے واقعاً یہ بحث فلسفہ سیاست کی ایک اصل اور بنیادی بحث ہے اور اس کو مختلف نظریات کی بنا پر مختلف طریقہ سے مورد بررسی وتحقیق قرار دیا گیا ہے اور اس کو بیان کرنے کے لئے بھی مختلف تعبیریں پیش کی گئی ہیں ان میں سے ایک تعبیر ”قدرت اجتماعی“ کے نام سے موجود ہے جسے عوام الناس تسلیم نہیں کرتی،یعنی حکومتی افراد کے اندر مادّی وجسمانی اور مدیریت کی قدرت کے علاوہ ایک دوسری قدرت بھی ہو جس کو ”قدرت اجتماعی“ کھا جاتا ہے اب سوال یہ ہوتا ہے کہ حکومت قدرت اجتماعی کی مشروعیت اور قانون کو جاری کرنے کا حق کھاں سے حاصل کرتی ہے؟ ایک چہ کروڑافراد کی آبادی میں بھت اہم شخصیات ، ماہر افراد اور شائستہ افراد ہوتے ہیں ، ان میں سے کس طرح ایک شخص حکومت کی لگام کو ھاتہ میں لے سکتا ہے؟ کون اس قدرت کو اس کے حوالہ کرتا ہے؟ بنیادی طور پر حکومت اور اس کے ذمہ دار افراد کی مشروعیت(اور جواز حکومت) کھاں سے آتی ہے؟

اس سلسلہ میں مختلف صاحب نظروں نے مختلف جوابات دئے ہیں ، لیکن آج کی دنیا میں رائج اور متفق علیہ جواب یہ ہے کہ حکومت یا رئیس حکومت کو یہ طاقت عوام الناس دیتی ہے گویا یہ قدرت عوام الناس کے ارادہ ومرضی سے کسی کو دی جاتی ہے، اور اگر کوئی شخص اس قدرت پر کسی دوسرے راستہ سے قابض ہوجاتا ہے وہ قدرت مشروعیت نہیں رکھتی اس قدرت کو کسی شخص کے لئے اپنے آباء واجداد سے ارث میں لینا ممکن نہیں ہے؛ جیسا کھ(انقلاب سے پہلے) شاہ کی حکومت کا یہ نظریہ تھا کہ قدرت اور حکومت میراثی ہے مثلاً جب کوئی سلطان اس دنیا سے جائے تو اس کا بیٹا میراث کے عنوان سے اس پر قابض ہوجائے اور اس میں عوام الناس کا کوئی کردار نہ ہو اگرچہ حکومت کا یہ طریقہ آج بھی بعض ملکوں میں رائج ہے، لیکن آج کی دنیا میں موجود کلچر اس سسٹم کو قبول نہیں کرتااور یہ تھیوری عام لوگوں کی نظر میں قابل قبول نہیں ہے، اور ایسا نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص عوام الناس پر حکومت کی بہتر ین صلاحیت رکھتا ہے تو اس کا بیٹا بھی وہی ‎ صلاحیت اور شائستگی رکھتا ہو اس کے علاوہ عوام الناس اس طریقہ کار کو اچھا نہیں سمجھتی، بلکہ اس کے خلاف دیکہنے میں آیا ہے اور بھت سے ایسے مورد دیکھے گئے ہیں جن میں میراثی حاکم سے بہتر اور مناسب افراد موجود ہو جاتے ہیں ۔

قارئین کرام !

چونکہ بادشاہت اور سلطنت کا سسٹم آج کے زمانہ میں قابل قبول نہیں ہے اور اس کی مخالفت بھی ہوتی رہی ہے، کیونکہ بعض بادشاہی نظام میں اس طرح کی کوشش کی گئی ہے کہ بادشاہت برائے نام باقی رہ گئی، اور بادشاہ سے قدرت چھن گئی ہے اور جو شخص عوام الناس کا منتخب شدہ ہوتا ہے مثلاً وزیر اعظم ؛ یہ طاقت اس کے حوالہ ہوجاتی ہے در حقیقت ان ممالک میں صرف بادشاہت کا نام باقی ہے جب کہ واقعی قدرت اس سے چھن چکی ہے۔

پس عام عقیدہ اور آج کل کے زمانہ میں رائج ڈیموکریٹک" Democratic " نظام کے تحت جو شخص حکومت کرنے کی صلاحیت اور قوانین کو نافذ کرنے کی طاقت اپنے ھاتہ میں لیتا ہے وہ عوام الناس کا منتخب شدہ ہو ،اور صرف عوام الناس کے ارادہ ومرضی کے ذریعہ حکومت مشروعیت پیدا کرتی ہے البتہ عوام الناس کا طریقہ انتخاب اور ان کے نظریات مختلف ہوتے ہیں ، اور اس سلسلہ میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں ، مثلاً بعض ممالک میں صدر حکومت کو عوام الناس اپنی اکثریت سے براہ راست انتخاب کرتی ہے ، جبکہ بعض ملکوں میں حکومت کے رئیس کو پارٹیاں اور پارلیمنٹ کے ممبران انتخاب کرتے ہیں ، در حقیقت ممبر آف پارلیمنٹ عوام الناس اور رئیس حکومت کے درمیان واسطہ کے کام کرتے ہیں بھر حال جو شخص براہ راست یا بالواسطہ عوام الناس کی اکثریت سے انتخاب ہوتا ہے اس کو حکومت اور قدرت مل جاتی ہے اور اس کے بعد وہ اجرائے قانون کی سب اہم شخصیت اور معاشرہ کی رہبری اور ہدایت کی باگ ڈور اپنے ھاتھوں میں لے لیتا ہے۔

البتہ عوام الناس کی طرف حاکم کو حکومت دینا ایک ظاہری اور فیزیکی چیزوں میں سے نہیں ہے کہ مثلاً عوام الناس اپنے پاس سے کوئی چیز نکال کر اس حاکم کو دیں یا اس کے جسم میں کوئی خارق العادہ طاقت ایجاد کریں بلکہ یہ حکومت غیر مادّی ہے جو عوام الناس کی موافقت سے حاکم کے لئے وجود میں آتی ہے لھٰذا اسی قرار داد کے تحت یہ عھد کیا جاتا ہے کہ مثلاً دو سال، چار سال، سات سال یہاں تک کہ زندگی بھر کے لئے (ان قوانین کے تحت جو آج کے زمانہ میں مختلف ممالک میں رائج ہیں ) ان کا حاکم مقرر ہو ، اور عوام الناس اپنے منتخب شدہ حاکم کے فرمان کے تحت باقی رہیں ۔

اس فرضیہ کے مطابق حکومت اور قوانین کا مجری، عوام الناس سے اپنی قدرت حاصل کرتا ہے ،اور اگر عوام الناس کے موافق نہ ہو تو پھر وہ (صحیح ) کام نہیں کرسکتا اس نظریہ اور تھیوری کے لئے مختلف دلائل پائے جاتے ہیں جن میں سے بعض فلسفی ہیں ، بعض انسانی معرفت کے پہلو رکھتے ہیں اور بعض صرف اعتباری ہوتے ہیں یا عینی اور خارجی تجربوں کی بنا پر قائم ہوتے ہیں ؛ یعنی تجربہ اور مختلف حکومتوں کی شکلوں کے مشاہدہ کے بعد اس قسم کی حکومت کو بہتر ین اور مفید ترین طریقہ قرار دیا گیا ہے۔

قارئین کرام ! یہ بات قابل توجہ ہے کہ عوام الناس کی طرف منتخب شدہ شخص کو قدرت دینے کے طریقہ کار اور اس کی تحقیق وبررسی کے لئے ایک طولانی گفتگو درکار ہے کہ اگر خداوندعالم نے توفیق دی تو اس سلسلہ میں بعد میں بیان کریں گے (انشاء اللہ ) لیکن یہاں پر صرف مختصر طور پر عرض کرتے ہیں کہ مشروع حکومت تشکیل ہونے کے بعد عوام الناس کا حکومت کے قوانین کو قبول کرنا ضروری ہے اور اس کی فرمانبرداری اور اطاعت پر موافقت کریں اس مطلب پر قبل اس کے دوسرے مکاتب اور مذاہب بیان کریں اسلام نے بیان کرتے ہوئے قبول کیا ہے عوام الناس کی شرکت اوران کی طرف سے عھدہ داران کا انتخاب کرنا اور اس موضوع پر عام موافقت ،قدیم زمانہ سے اسلامی معاشرہ میں یہ تھیوری نہ صرف بیان ہوئی ہے بلکہ اس پر عمل بھی ہوا ہے کیونکہ اگر کوئی میراثی یا طاقت کے بل بوتے پر دوسروں پر حاکم بن جائے تو نہ صرف یہ کہ عملی میدان میں اس کی شکست ہے بلکہ اسلام کی نظر میں بھی یہ طریقہ کار محکوم(غیر مقبول) ہے لھٰذا دین اور اسلام نے اس پر صحیح کا نشان لگایا ہے کہ تمام لوگوں کی موافقت اور عام مقبولیت ہونے ضروری ہے اس میں کوئی بحث نہیں ہے ، لیکن یہاں پر یہ سوال پیش آتا ہے کہ کیا اسلام کی نظر صرف عوام الناس کا اس حکومت کو مشروعیت دینے میں قبول کرلینا کافی ہے ، اور قانونی نقطہ نظر سے اسلامی حکومت میں جیسا کچھ ہوا ہے یا ہوگا صرف عوام الناس کی موافقت کا نتیجہ ہے؟

بعض اخباروں ، کتابوں اور مقالات میں لکھا جاتا ہے کہ آج کی دنیا میں ”مقبولیت“ اور ”مشروعیت“ ایک ساتھ ہوتی ہیں ، یعنی کسی حکومت کی مشروعیت کے لئے عوام الناس کی اکثریت کا ووٹ کافی ہے یا دوسرے الفاظ میں یہ کہ مشروعیت ؛ مقبولیت کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے جب عوام الناس نے کسی کو قبول کرلیا اور اس کو ووٹ دیدیا تو اب منتخب شدہ شخص کی حکومت مشروع اور قانونی ہوجاتی ہے۔

قارئین کرام ! یہ وہی ‎ ڈیموکریٹک" Democratic " نظریہ ہے جو آج کل کی دنیا میں عام مقبولیت رکھتا ہے تو اب یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام بھی بالکل اسی نظریہ کو قبول کرتا ہے۔؟

۷۔ حکومت کی مشروعیت کے سلسلہ میں اسلامی نظریہ کا لیبرل معاشرہ سے فرق

اب جبکہ ہم نے یہ قبول کرلیا ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے حاکم کے لئے ضروری ہے کہ عوام الناس اس کو قبول کرتی ہو اور عوام الناس کی شرکت اور تعاون کے بغیر اسلامی حکومت قوانین کو جاری کرنے پر قادر نہیں ہوسکتی، اور اسلامی احکام کو بھی جاری نہیں کرسکتی، تو سوال یہ ہے کہ اسلامی نظریہ کے مطابق حکومت کے مشروع ہونے میں صرف عوام الناس کا ووٹ کافی ہے، اور قانون کے جاری کرنے والے افراد کی مشروعیت عوام الناس کے ووٹوں کے ذریعہ مشروع ہوجاتی ہے، یا کوئی دوسری چیز بھی اس میں ضمیمہ ہونی چاہئے؟ دوسرے الفاظ میں یوں کھا جائے کہ عوام الناس کا قبول کرنا حکومت کے قانونی اور مشر وع ہونے کے لئے شرط لازم وکافی ہے ،یا اس کے عینی طور پر محقق ہونے کے لئے یہ شرط لازمی ہے۔

جواب میں ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ جو کچھ ”ولایت فقیہ “ کے سلسلہ میں بیان ہوا ہے اور اسی وجہ سے یہ حکومت، دوسری مختلف ڈیموکریٹک حکومت سے صاحب امتیاز بناتی ہے وہ یہ ہے کہ کسی حکومت کی مشروعیت اور اس کا قانونی ہونا اسلام کی نظر میں صرف عوام الناس کی رائے نہیں ہے بلکہ عوام الناس کی رائے گویا ایک بدن کی طرح ہے اور اس مشروعیت کی روح ”اذن الٰھی“ ہے ، اور یہ مطلب ایک مسلمان کے عقیدہ میں راسخ ہے۔

وضاحت :

ایک مسلمان شخص عالم ھستی کو خدا کی ملکیت جانتا ہے اور یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ تمام افراد؛ خداوندعالم کے بندہ اور غلام ہیں ، نیز اس سلسلہ میں افراد کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ، خدا کی بندگی میں سب برابر ہیں ؛ جیسا کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:

اَلْمُومِنُوْنَ کَاسْنَانِ الْمَشْطِ یَتَسَاوُوْنَ فِی الْحُقُوْقِ بَیْنَهمْ(۶)

(مومنین آپس میں گنگھے کے دانتوں کی طرح ہیں اور سب کے حقوق مساوی اور برابر ہیں ۔)

پس معلوم یہ ہوا کہ سب انسان خدا کے بندے ہیں اور سب برابر ہیں نیز اس سلسلہ میں کوئی صاحب امتیاز نہیں ہے ، اسی طرح سب انسانیت میں مساوی ہیں اور کسی ایک کو دوسرے پر کوئی امتیاز نہیں ہے عورت مرد ، کالے سفید اصل انسانیت میں مساوی ہیں توپھر کس معیار اور کس بنیاد کی بنا پر ایک شخص دوسروں پر حکومت کرنے کا حق رکھتا ہے؟ ہم نے یہ بھی قبول کیا کہ قانون کو جاری کرنے والا ایک عظیم طاقت کامالک ہو جس کو ضرورت کے موقع پر استعمال کیا جاسکے، اور ہم نے یہ عرض کیا کہ حکومت بغیر قوہ قھریہ (پولیس یا فوج) کے بغیر اپنے اہداف تک نہیں پھونچ سکتی اور حکومت کا فلسفہ وجودی وہی ‎ قوہ قھریہ ہے جو عوام الناس کو قانون کی پیروی کرنے پر مجبور کرتا ہے اب اگر قوہ قھریہ نہ ہو اور حکومت فقط وعظ ونصیحت کے ذریعہ عوام الناس کو قانون پر عمل کرانے پر قادر ہوتی تو پھر قوہ قھریہ کی کوئی ضرورت نہ ہوتی، اور اس کام کے لئے علماء اور اخلاقی معلمین کافی ہوتے پس ثابت یہ ہوا کہ قوہ مجریہ کا فلسفہ وجودی یہ ہے کہ وقت ضرورت اپنی طاقت سے فائدہ اٹھائے اور بڑھتے ہوئے جرائم کی روک تھام کرے مثلاً اگر کوئی شخص لوگوں کے مال وناموس پر دست درازی کرے تو حکومت اس کو پکڑ کر زندان میں ڈال دے یا اس کوکسی دوسرے طریقہ سے سزا دے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آج کل دنیا بھر میں سزا دینے کے مختلف طریقے پائے جاتے ہیں ، اسی طرح اسلام نے مجرموں کو سزا دینے کے لئے طریقہ معین کئے ہیں جن میں سے سب سے زیادہ رائج مجرم کوجیل میں ڈال دینا ہے جس سے اس کی آزادی کا ایک حصہ سلب ہوجاتا ہے جس وقت کسی شخص کوئی طاقت ایک بند کمرہ میں مقید کردیتی ہے اور اس پر دروازہ بند کردیا جاتا ہے، اور اس کی معمولی اور ابتدائی آزادی سلب کردی جاتی ہے تو سوال یہ ہوتا ہے کہ کسی مجرم کی آزادی کو سلب کرنے کا کسی کو کیا حق ہے؟ بے شک مجریان قانون کی طرف سے کسی شخص کی آزادی کا سلب کرنا یا مجرموں کے حقوق کو سلب کرنا جائز اور حق ہو، یہ ٹھیک ہے کہ مجرم کو سزا ملنی چاہئے ، لیکن کوئی خاص شخص ہی سزا دینے کا حق رکھتا ہے ، دوسرا نہیں ؟ (یہ کھاں سے؟) ایسے افراد کو معین کرنے کے لئے کوئی قاعدہ قانون اور خاص ملاک اور دلیل ہونی چاہئے کیونکہ ان کا کام گویا اس شخص میں مالک جیسا تصرف کرنا ہے،جو شخص کسی مجرم کو جیل میں ڈالتا ہے گویا وہ اس کے وجود میں تصرف کررہا ہے نیز اس سے اختیار اور آزادی کو سلب کررہا ہے، اور اس کو ایک بند کمرے میں مقید کررہا ہے ، اس کو اجازت نہیں دیتا کہ جھاں چاہے چلا جائے، جیسے ایک مالک اپنے غلام کی تنبیہ وتادیب کررہا ہے۔

پس چونکہ مجرموں اور خطاکاروں سے اس طرح کا برتاؤ ان کی آزادی اور حقوق کا سلب کرنا ہے اور انسان میں مالک جیسا تصرف حساب ہوتا ہے اسلامی نقطہ نظر سے حکومت کی مشروعیت کا معیار وملاک اکثریت کی رائے کے علاوہ خداوندعالم کی اجازت ہے، کیونکہ تمام انسان خدا کے بندے ہیں لھٰذا خدا اپنے بندوں پراگرچہ مجرم بندے ہی کیوں نہ ہوں ؛ تصرف کا حق عنایت فرمائے؟ ہر ایک شخص (یھاں تک کہ مجرم بھی) آزادی رکھتے ہیں اور یہ آزادی خدا داد نعمت ہے جو اس نے تمام انسانوں کو عطا کی ہے اور کسی کو اس کے بندوں کی آزادی سلب کرے کا حق نہیں ہے کیونکہ وہی ‎ انسان کی آزادی یہاں تک کے مجرم انسان کی آزادی کا حق رکھتا ہے جو ان کا مالک ہے اور تمام انسانوں کا مالک خداوندقدوس ہے ۔

اس لحاظ سے اسلامی نقطہ نظر سے ان تمام چیزوں کے علاوہ جو دوسری حکومتوں میں حکومت کی تشکیل کے لئے ضروری سمجھا جاتا ہے ، ایک دوسرا معیار اور ملاک بھی ضروری ہے اور وہ اعتقادات اور معارف اسلامی میں سر چشمہ رکھتا ہے ہمارے عقیدہ کی بنیاد پر خداوندعالم، انسان اور تمام مخلوقات کا ربّ ہے اور ہمارا یہ عقیدہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ خدا کی مخلوقات میں ذرا سا بھی دخل وتصرف؛ خدا کی اجازت اور مرضی سے ہونا چاہئے دوسری طرف وہ قوانین جوشھریوں کی رفتار، چال چلن اور کردارکو معین کرتا ہے اور ان کی آزادی کو محدود کرتا ہے، نیز وہ قوانین خود بخود جاری نہیں ہوتے بلکہ ان کو جاری کرنے کے لئے ایک سسٹم کی ضرورت ہے جو ان کو جاری کرسکے،اسی وجہ سے حکومت کے پاس ایک طاقت (پولیس) کی ضرورت ہے، اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حکومت اور قوہ مجریہ،خدا کی مخلوقات میں تصرف کرنے کے بغیر اور ان کی آزادی کو محدود کئے بغیر آگے نہیں بڑہ سکتی، اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ خدا کی مخلوقات میں تصرف کرنا یہاں تک مجرموں اورغنڈوں سے آزادی کا سلب کرنا، صرف اسی شخص کے لئے جائز ہے جس کو خداوندعالم نے اختیار دیا ہے، اور یہ اختیار صرف خداوندعالم کی طرف سے دوسروں کو عطا ہوتا ہے؛ کیونکہ وہی ‎ تمام انسانوں کا مالک اور ربّ ہے، اور حکومت کو اپنی مخلوقات میں تصرف کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔

حکومت کے سلسلہ میں فلسفہ سیاست میں نظریہ ”ولایت فقیھ“ کا دوسرے نظریات پر یہ امتیاز ہے کہ یہ نظریہ توحید اور اسلامی عقیدہ میں سرچشمہ رکھتا ہے اس نظریہ حکومت اور انسانوں میں تصرف کرنے کی نسبت خداوندعالم کی اجازت کی طرف ہوتی ہے اس کے مقابلہ میں دوسرا نظریہ جو کہ قوانین کو جاری کرنے اور انسانوں کی آزادی میں تصرف کرنے میں خدا کی اجازت کو ضروری نہیں سمجھتا، یہ نظریہ ایک قسم کا”ربوبیت میں شرک“ ہے یعنی اگر قوانین کو جاری کرنے والا فرد یہ عقیدہ رکھے کہ وہ خدا کے بندوں میں اس کی اجازت بغیرکے دخل وتصرف کا حق رکھتا ہے، حقیقت میں ایسا عقیدہ رکہنا اس ادّعا کے برابر ہے کہ جس طرح خداوندعالم اپنے بندوں میں تصرف کا حق رکھتا ہے میں بھی اسی طرح مستقل طور پر انسانوں میں دخل وتصرف کا حق رکھتا ہوں ، اور یہ ایک قسم کا شرک ہے اگرچہ ایسا شرک نہیں جو مرتد ہونے کا سبب بنتا ہو بلکہ کمتر درجہ کا شرک ہے جو غلط فکر اور کج فکری کی وجہ سے وجود میں آتا ہے، جس کے نتیجہ میں عصیان اور لغزش وجود میں آتے ہیں اور یہ کوئی کم گناہ نہیں ہے کیسے کوئی شخص اپنے کو خدا کا ہم پلہ قرار دیتا ہے اور یہ دعوی کرتا ہے کہ جس طرح خدا اپنے بندوں میں تصرف کا حق رکھتا ہے میں بھی ان کی رائے اور انتخاب پر تکیہ کرتے ہوئے؛ ان پر تصرف کا حق رکھتا ہوں ؟!! کیا عوام الناس اپنا اختیار رکھتی ہے جو دوسروں کے حوالہ کرسکتی ہے؟ تمام انسان خدا کے بندے ہیں ان کا اختیار بھی خدا کے ھاتہ میں ہے۔

قارئین کرام ! ہمیں یہ معلوم ہوچکا ہے کہ اگر ہم اسلامی نقطہ نظر سے حکومت کی تحقیق وبررسی کریں تو اس نتیجہ پر پہنچ جاتے ہیں کہ اس نظریہ میں دوسرے ممالک کے حکومتی معیار کے علاوہ ایک دوسری چیز کا بھی لحاظ کرنا ضروری ہے ، اور وہ ہے خدا کے بندوں میں تصرف کرنے کے لئے خدا کی اجازت لھٰذا اسی نظریہ کی بنیاد پر حکومت کی مشروعیت خداوندعالم کی طرف سے ہے اور عوام الناس کی رائے اور ووٹس نیز عوام الناس میں اس کی مقبولیت؛ حکومت کے تحقق کے لئے ایک شرط ہے۔

حوالے:

(۱) سورہ بقرہ آیت ۳۰

(۲)سورہ معارج آیات ۱۹ تا ۲۱

)۳(سورہ ابراہیم آیت ۳۴

(۴) جیسا کہ ہم پہلے قوانین کی ضرورت پر گفتگو کر چکے ہیں

)۵(اگرہر آدھے منٹ میں ایک قتل ہوتا ہے تو تقریباً ایک دن میں ۲۸۸۰/(۶۰ * ۲ = ۱۲۰ * ۲۴ =۲۸۸۰) قتل ہوتے ہیں (مترجم(

(۶) بحار الانوار ج۹ ص ۴۹


چھبّیسواں جلسہ

حکومت کے مخصوص کام اور عوام الناس کے ھاتھ بٹانے پر اسلام کا زور

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر

جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ ”اسلامی سیاسی نظریھ“ کی گفتگو دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہے جس کے پہلے حصے میں قانون اور قانونگذاری کے سلسلہ میں بحث ہوچکی ہے اس کا دوسرا حصہ حکومت اور نظام اسلامی میں قوانین کے نفاذ کی ضمانت سے مر بوط ہے ہم نے گذشتہ گفتگو میں حکومت کی ضرورت کو ثابت کرنے کے سلسلہ میں اسلامی حکومتی سسٹم کو ثابت کیا اور ہم نے حکومت کی ضرورت کے سلسلہ میں ایک دلیل یہ پیش کی کہ چونکہ قوانین کو جاری کرنے کے لئے ایک ضامن کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہ بھی عرض کیا کہ اگر قوانین کو جاری کرنے کی کوئی ضمانت نہ ہو تو پھر ان (قوانین) کا ہونا لغو اور بے ہودہ ہوجائے گا، اور چونکہ معاشرہ میں ہمیشہ جرائم اور قانون شکنی ہوتی رہتی ہے (اگر قوانین کی ضمانت اجرائی نہ ہو) تو پھر ان قانون کو بنانے کا مقصد ختم ہوجاتا ہے چنانچہ یہ ایک ایسی بات ہے جس پرہمیشہ تمام ہی ملتوں نے تجربہ کیا ہے اور اسلامی منابع و کتب کے لحاظ سے بھی اس میں کوئی شک وتردید نہیں ہے۔

۲۔ حکومت کے عظیم اور مخصوص کام

قارئین کرام ! جیسا کہ ہم بعد میں ذکر کریں گے کہ حکومت کی ضرورت کے لئے ؛ قوانین کی ضمانت اجرائی کے علاوہ بھی دیگر دلائل موجود ہیں کہ ان تمام دلائل کے پیش نظر حکومت کے وظائف کے مجموعہ کو بیان ، اور ان کی منطقی توجیہ کرنا اسی طرح حکومت کے اختیارات کو بیان کرنا ممکن ہے کیونکہ اگر صرف حکومت کا کام قوانین کو جاری کرنے کی ضمانت ہوتی تو پھر اس طرح کے پیچ وخم والے سسٹم کی ضرورت نہ ہوتی اور صرف محکمہ پولیس کے ذریعہ یہ مسئلہ حل ہوسکتا تھا، اور حکومت کی دوسرے اجتماعی کاموں میں کوئی دخالت نہ ہوتی کیونکہ اس صورت میں حکومت کی ذمہ داری صرف ملک میں قوانین کوجاری کرنا ہوتا جس کے لئے صرف پولیس ہی کافی تھی لیکن حکومتوں کی منجملہ اسلامی حکومت کی دوسری بھی ذمہ داریاں ہوتی ہیں جن میں سے اسلامی معاشرہ کی ان عام ضرورتوں کو پورا کرنا ہے جو انفرادی طور پر ممکن نہیں ہیں ۔

ہم کبھی انسان کی زندگی کو شخصی اور انفرادی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور اس کی ضرورتوں کی جستجو کرتے ہیں تو ظاہراً یہ ضرورتیں خود شخصی طریقہ سے پوری ہونا چاہئے مثلاً روٹی اور مکان کی ضرورت، اور یہ چیزیں خود انسان کی سعی وکوشش سے پوری ہوجاتی ہیں البتہ انسان کی انفرادی سعی و کوشش کا ثمر بخش ہونے کے لئے قاعدہ وقانون کے ما تحت ہونا ضروری ہے۔

لیکن کچھ ضرورتیں انسان اور اہل خانہ سے متعلق نہیں ہوتیں بلکہ وہ پورے معاشرہ یامعاشرہ کے کسی خاص گروہ سے متعلق ہوتی ہیں مثلاً اندرونی اور بیرونی امنیت ایک عام ضرورت ہے ،کیونکہ اندرونی دشمنی، قانون شکنی اور نا امنی سے مقابلہ کرنے کے لئے نیزاسلامی ملک کے عھدہ دار افراد کے جو بیرونی دشمن ہیں ان سے جنگ کے لئے فوج کی تشکیل دینا وغیرہ ؛ یہ چیزیں معاشرہ کے بعض افراد سے متعلق نہیں ہیں ، بلکہ تمام ہی افراد سے متعلق ہیں اور چونکہ اس طرح کی ضرورت معاشرہ کے بعض افراد کے بس کی بات نہیں ہے، بلکہ یہ کام معاشرہ کے تمام افراد کے ذریعہ پورا ہونا چاہئے، جن کو حکومت معاشرہ کی طرف سے قوانین کو مرتب کرنے اور ضروری طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انجام دی سکتی ہے۔

ظاہر سی بات ہے کہ جس وقت معاشرہ کے لئے سرحدی علاقےسے کوئی خطرہ در پیش ہوتا ہے اور عوام الناس اس خطرہ سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں ، تو ان کو صحیح طریقہ سے ٹریننگ دی جائے ، یعنی در حقیقت جنگ اور دفاع میں شرکت کرنے والے تمام لوگوں کو ایک سسٹم کے ماتحت ہونا چاہئے کیونکہ یہاں پر ذاتی اور شخصی سلیقہ کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا لھٰذا ہر شخص اپنے سلیقہ سے دشمن کے حساب شدہ حملوں کو نہیں روک سکتا اسی وجہ سے فوجی افسروں کے تجربوں ، دشمن کے اسلحوں اور اس کی طاقت کی شناخت کے ذریعہ بہتر ین پلان کے ساتھ میدان جنگ میں قدم رکھا جانا ضروری ہے لھٰذا اس اہم ضرورت کو صرف ایسا سسٹم ہی پورا کرسکتا ہے جو پورے معاشرہ پر حکومت کرتا ہو چنانچہ حکومت اپنے خاص پروگرام کے ذریعہ ہی لوگوں کو جنگ میں شرکت کرنے کے لئے تیار کرسکتی ہے تاکہ ملک سے دشمن کا خطرہ ٹل جائے اس کے علاوہ بیرونی دشمن کے مقابلہ کی تیاری کے پیش نظر لازمی اسلحہ کی فراہمی ضروری ہے، اور حکومت کو فوج کی ٹریننگ پر خاص دھیان رکہنا ضروری ہے تاکہ ملک میں سرحدوں کی حفاظت کرنے والی فوج کی تعداد کافی مقدار میں آمادہ رہے، اسی طرح اندرونی فتنہ وفساد سے روک تھام کے لئے پولیس کی ضرورت ہے لھٰذا اس طرح کے مسائل صرف حکومت ہی کرسکتی ہے، لھٰذا عوام الناس حکومت کی اطاعت کریں ، اور اس کے احکام کو لازم الاجراء مانیں ۔

جو مثال ہم نے حکومت کی ضرورت پر دلیل دوم(یعنی معاشرہ کی عام ضرورت) کے تحت پیش کی وہ ملک سے دفاع اور بیرونی دشمن سے مقابلہ کے سلسلہ میں ہے اور ہمارے ملک میں یہ خطرناک وظیفہ ارتش اور سپاہ(فوجوں کے نام) کے ذمہ ہوتا ہے، اسی طرح وہ مثال جس کو ہم نے دلیل اول (یعنی قوانین کی اجرائی ضمانت) کے سلسلہ میں ذکر کی وہ اندورنی امنیت کی حفاظت اور مجرموں کو قانون پر عمل کرنے پر مجبور کرنے کے لئے طریقوں کے سلسلہ میں ہے ،اور یہ ذمہ داری نیروئے انتظامی ( پولیس) کے کاندھوں پر ہوتی ہے۔

اِن ہی عام ضرورتوں میں سے جو عام افراد کے ذمہ داری سے باہر ہوتی ہیں اور انہیں بھی حکومت انجام دیتی ہے وہ معاشرہ کی صحت وسلامتی کا مسئلہ ہے کیونکہ ہمیشہ معاشرہ میں پھیلنے والی بیماریاں موجود رہی ہیں جن کی وجہ سے بھت بڑے بڑے نقصانات معاشرہ کو اٹھانا پڑے ہیں ، اور اگر ان کی روک تھام نہ کی جائے تو معاشرہ کو کافی نقصان اٹھانا پڑے گا (اور بے شمار جانیں چلی جائیں گی) جیسا کہ گذشتہ زمانہ میں میڈیکل ترقی نہ ہونے اور عظیم پیمانہ پر منصوبہ بندی نہ ہونے کی بنا پر معاشرہ میں پھیلنے والی بیماریاں پائے جاتی تھیں مثلاً ”وبا“ ، ”طاعون“ اور ”چیچک“ وغیرہ جن سے بھت سی جانیں جاتی تھیں لیکن آج کل حکومتی پروگرامس وغیرہ کے تحت اور میڈیکل کے ترقی کی وجہ سے اس طرح کی بیماریوں پر کافی حد تک کنٹرول کیا گیا ہے اور حکومت کی مدد نیز تمام عوام الناس کے تعاون اور شرکت سے بعض مذکورہ بیماریوں کی جڑ ہی ختم کردی گئی ہے مثلاً گذشتہ زمانہ میں بچوں میں فالج کا اثر بھت زیادہ ہوتا تھا جس کی وجہ سے ھزاروں اور لاکھوں معصوم بچوں کی جانیں ضایع ہوچکی ہیں لیکن آج بہتر ین منصوبہ بندی اور میڈیکل وغیرہ کے پروگرامس کے تحت ہمارے ملک میں ”واکسیناسین“ " vaccinatin " کا پروگرام بہتر ین طریقہ سے جاری ہوا ہے جس کے نتائج بھی بہتر ین برآمد ہوئے ہیں لیکن یہ کام بغیر حکومتی منصوبہ بندی اور عوام الناس کی بھر پور شرکت کے بغیر ممکن نہیں ہے تو ایسے کاموں کے لئے عام افراد کی قدرت سے بالا تر ایک قدرت کا ہونا ضروری ہے، اوروہ حکومت ہے جواپنے پروگرام کے تحت، ضروری وسائل کے ساتھ اور ضروری مقررات اورمخصوص قانون نامہ مرتب کرکے عملی میدان میں قدم آگے بڑھائے اور عوام الناس بھی حکومت کے قوانین پر عمل کرے، تاکہ معاشرہ کی میڈیکل ضرورت پوری ہوجائے اور معاشرہ سے خطرناک بیماری کی جڑیں ختم کی جاسکے۔

قارئین کرام ! حکومت کے گذشتہ وظائف کی طرح منشیات کادھندہ کرنے والے افرادکا بھی مقابلہ کرنا ہوتا ہے کیونکہ یہ ایک ایسی بلا ہے جس سے بدن ،روح اور معاشرہ کی امنیت کو بھت بڑے نقصانات پھونچے ہیں ، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حکومت خاص منصوبہ بندی کے تحت اور اپنی پوری طاقت صرف کرکے ہی اس برائی کی جڑ کو اکھاڑ پھینک سکتی ہے اس میں محدود افراد کی کوشش کسی نتیجہ پر نہیں پھونچ سکتی۔

پس معاشرہ کی عام ضرورتوں کو پورا کرنا حکومت کے وجود پر ایک دوسری دلیل ہے کیونکہ ان کا پورا ہونا معاشرہ کےلئے مفید اور ثمر بخش ہے، اور اگر ان کے پورا ہونے میں کوئی نقص اور خلل واقع ہو تو پھر اس کا نقصان بھی معاشرہ ہی کو بھگتنا پڑے گا، اور جیساکہ ہم نے عرض کیا کہ یہ ضرورت انفرادی طور پر پوری نہیں کی جاسکتی بلکہ یہ کام معاشرہ پر حکومت کرنے والے حاکم اور وزراء کا ہے، اسی وجہ سے ان تمام ضرورتوں کے پیش نظر یا ان ذمہ داریوں کے الگ الگ ہونے کی وجہ سے ہر ایک کے لئے سلسلہ میں ایک وزراتخانہ تشکیل دیا جاتا ہے۔

البتہ معاشرہ کی بعض ضرورتوں کو انفرادی طور پر پورا کیا جاسکتا ہے لیکن ان کو پورا کرنے کے لئے تمام افراد میں خواہش اور تمنا نہیں ہوتی یا اگر ہوتی بھی ہے تو وہ اتنی زیادہ نہیں ہوتی ، تو اگر اس صورت میں عوام الناس پر یہ کام چھوڑ دئے جائیں تو پھر یہ ضرورتیں ناقص رہ جاتی ہیں ، کم سے کم معاشرہ کے بعض گروہ ان ضرورتوں سے محروم رہ جائیں گے، اسی وجہ سے یہ ذمہ داریاں حکومت کی ہوتی ہیں تاکہ ان ضرورتوں میں کوئی نقص اور خلل واقع نہ ہو مثلاً پورے ملک میں عوام الناس خود ہی مدرسہ ، اسکول اور کالج بنا کر تعلیم وتربیت کا انتظام کرسکتے ہیں اور ان کا خرچ بھی خود ہی برداشت کرسکتے ہیں ، (جیسا کہ گذشتہ زمانہ میں ایسا ہی ہوتا تھا اور آج کل بھی بعض ترقی یافتہ ممالک میں مدارس اور کالج وغیرہ کا انتظام عوام الناس کے ذمہ ہے) لیکن افسوس تعلیم وتربیت پر خرچ کرنے کے لئے کم ہی لوگ تیار ہوتے ہیں تاکہ خود ان کے بچوں اور دیگر بچوں کی تعلیم کا انتظام ہوسکے اگرچہ ہم اس بات کے منکر نہیں ہیں کہ کوئی اس طرح کے امور میں خرچ نہیں کرتا بلکہ ہمیشہ تاریخ میں ایسے مخیر افراد موجود رہے ہیں اور آج بھی بعض ایسے مخیر حضرات موجود ہیں جنھوں نے مدرسہ بنانے کے لئے بھت زیادہ مدد کی ہے، لیکن ان کی مدد محدود ہوتی ہے ، معاشرہ کے تمام لوگوں تک ان کی خدمت نہیں پہنچ سکتی، اور اگر حکومت اس طرح کی ذمہ داریوں کو ایسے مخیر افراد کے اوپر چھوڑدے تو پھر معاشرہ کی مصلحت پوری نہیں ہوگی۔

ایسے حالات میں جب عوام الناس مدارس واسکول بنانے کی ذمہ داری اپنے اوپر نہیں لیتی ، تو پھر معاشرہ کی فلاح وبھبود کے لئے حکومت کو یہ ذمہ داریاں اپنے ذمہ لینا پڑتی ہیں ، تو پھر اس چیز کی ضرورت ہے کہ ان تمام ضرورتوں کا خرچ یا عوام الناس ادا کرے اور حکومت مختلف قسم کے ٹیکس کے ذریعہ یہ مبلغ حاصل کرے ، یا حکومت اپنی ملّی درآمد کے ذریعہ اس خرچ کو پورا کرے؛ کیونکہ تعلیمی نصاب کا ایک حصہ تمام لوگوں تک مفت پہنچانے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرہ فلاح وبھبود کی طرف آگے بڑھے اور اگر حالات بدلے اور تعلیمی اداروں کے اخراجات کو بعض مخیر حضرات برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں تو پھر واقعاً حکومت سے ایک بڑا بوجہ کم ہوجائے گا۔

۳۔ حکومت کے دو طرفہ وظائف

قارئین کرام ! گذشتہ باتوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بعض ایسی ذمہ داریاں ہوتی ہیں جو حکومت سے مخصوص نہیں ہوتی بلکہ حکومت خاص حالات میں ان کو قبول کرتی ہے اور ان کو پورا کرنے میں اپنی ہمت لگادیتی ہے، جبکہ بعض حالات میں ان کو عوام الناس کے سپرد کیا جاسکتا ہے لیکن بعض ایسی ذمہ داریاں ہوتی ہیں جو صرف حکومت ہی سے مخصوص ہوتی ہیں اور کبھی بھی حکومت کے عھدہ سے باہر نہیں ہوتیں اور کسی بھی وقت حکومت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ ان کو عوام الناس کے کاندھوں پر ڈال دے، مثلاً دفاع اور جنگ کیونکہ انفرادی اور مختلف گروہ کے ذریعہ کبھی بھی جنگ اور دفاع ممکن نہیں ہے ، لھٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ بہتر ین منصوبہ بندی کے تحت معاشرہ کی اس اہم ضرورت کو پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے البتہ جب حکومت دفاع اور جنگ کی ذمہ داری قبول کرلے، اور براہ راست اس سلسلہ میں منصوبہ بندی مکمل کرلے تو پھر عوام الناس اپنی مرضی سے فوجی اور بسیجی ( عوامی رضاکار فوج) جنگ میں شرکت کرسکتی ہے اور اپنے اسلامی ملک اور اسلامی حکومت سے دفاع کرسکتی ہے۔

لھٰذا تمام اجتماعی کاموں کوانجام دینے کی ذمہ داری اپنے کاندھے پر لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے؛ بلکہ بھت سی ذمہ داریوں کو خود عوام الناس اپنے عھدہ پر لے سکتی ہے اور اپنی مرضی سے ان کے اخراجات کو برداشت کرسکتی ہے اور ان کاموں کے انجام دینے کے لئے (بھی) وزارت خانہ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ عوام الناس خود اس ذمہ داری کو نبھاسکتی ہے لیکن ان عظیم منصوبوں کو منظم کرنے ،بے نظمی سے بچنے اور ان میں عوام الناس کی شرکت کو بروئے کار لانے نیز ان کو اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے؛ حکومت کو چاہئے کہ اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کرے، جیسا کہ بعض وزارت خانہ صرف نظارت کا کردار ادا کرتے ہیں جبکہ اصل کام عوام الناس کرتی ہے مثلاً محکمہ تجارت کا اصل کام تجارت نہیں ہے اندرونی اور بیرونی تجارت عوام الناس انجام دیتے ہیں البتہ جیسا کہ شاہ کے زمانہ میں درباری لوگ ہی معاملات سے بڑے بڑے فائدہ اٹھاتے تھے اور عوام الناس ان فوائد سے محروم رہتی تھی، لھٰذا اس طرح کی تجارت سے روک تھام کے لئے یہ کام حکومت کے ذمہ ہوتا ہے۔

جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ تجارتی امور عوام الناس سے متعلق ہیں حکومت سے نہیں جیسا کہ معروف ہے کہ ”حکومت ایک مناسب تاجر نہیں ہوسکتی“ اور اگر حکومت براہ راست تجارتی امور کو انجام دےنے (بھی) لگے، تو اس کو شکست اٹھانا پڑے گی کیونکہ تجارتی اور صنعتی امور بلکہ کلی طور پر اقتصادی امور میں افراد اور گروہ کی آپس میں رقابت (مقابلہ،کمپٹیشن) بھت ہی زیادہ موثر ہوتی ہے، اور اگر ان کو صحیح طریقہ پر راہنمائی ہوتی رہے اور ان کے درمیان مقصد معین رہے تو پھر تجارت اور صعنت میں ترقی ہوگی ، لیکن اگر حکومت خود براہ راست تجارت کرے تو پھر اس کے اندر وہ مقصد نہیں ہوتا جس کے نتیجہ میں ترقی نہیں ہوگی۔

”ٹوٹالیٹر“ " Totalitair "(۱) حکومت یا متحدھحکومتیں مثلاً سوسیالیسٹ " Socialiste " اور کمیونسٹ " communiste " حکومتیں جو ” چین“ او ر”کوبا“ پر حاکم تھی یا قدیم روس کی حکومتیں یا مشرقی ممالک کی وہ حکومتیں جن میں حکومت براہ راست تمام تر سیاست گذاری اور پروگراموں کو اپنے ھاتھوں میں لے لیتی ہے اور عوام الناس اقتصادی ، تجاری، صنعتی اور کاشتکاری وغیرہ میں صرف نوکروں کا کردار ادا کرتی ہے کیونکہ تمام کام حکومت کے ذمہ ہوتے ہیں اور تمام عوام الناس یہاں تک کہ کاشتکار اور کارخانوں میں کام کرنے والے افراد حکومت کے نوکر اور مزدوروں کی طرح ہوتے ہیں لیکن اس طرز کی حکومت کے مقابلہ میں اسلامی حکومت کا نظریہ یہ ہے کہ جھاں تک عوام الناس مختلف مسائل کو خود اپنے آپ انجام دے سکتے ہیں اس پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور ان کی مالکیت اور ان کے استقلال کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

۴۔ کم در آمد لوگوں کو مدد پہنچانے والی کمیٹیوں کی ضرورت

قارئین کرام ! جیسا کہ ہم نے عرض کیا معاشرہ میں عام طور پر فائدہ کے لئے کچھ مرکز ہونا چاہئیں تاکہ وہ غریب لوگ جو اپنی بعض ضرورتوں کو پورا نہیں کرسکتے ان مرکزوں سے استفادہ کرسکیں مثلاً ایسے ھاسپٹل بنائے جائیں جھاں پر ان کے لئے مفت علاج کیا جاسکے کیونکہ ان میں علاج کے اخراجات کو ادا کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی، اسی وجہ سے بیمہ اجتماعی کے قوانین کے تحت ھاسپٹل بنائے جاتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں اس طرح کے ھاسپٹل کی تعداد کافی مقدار میں ہوتی ہے، جن میں مریضوں کو اپنے علاج کے لئے اخراجات ادا نہیں کرنے پڑتے، اور حکومت ٹیکس وغیرہ یا اپنی ملّی درآمد کے ذریعہ ان ھاسپٹلوں کا خرچ حاصل کرتی ہے۔

ظاہر سی بات ہے کہ جس وقت حکومت اپنی درآمد کے لئے ٹیکس مقرر کرتی ہے مثلاً عمومی بیمہ کے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے ٹیکس وصول کرتی ہے تو پھر عوام الناس کو یہ ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کرتی ہے ، خصوصاً ترقی یافتہ ممالک میں حکومتیں ایسے طریقے اپناتی ہے جن سے عوام الناس ٹیکس ادا کرنے سے فرار نہیں کرسکتے، اگرچہ بعض فوائد ٹیکس دینے والے کے حق میں بھی ہوتے ہیں ، لیکن معاشرہ کے کم در آمد والے افراد کے لئے یہ امکانات فراہم کئے جاتے ہیں ، تاکہ ٹیکس سسٹم کے تحت مفت علاج اور دوسری خدمات حاصل کرسکیں ۔

لیکن کیا یہ کام عوام الناس پر چھوڑ دینا بہتر ہے کہ وہ خود اپنی مرضی سے عام فائدوں کے لئے اس طرح کے کام انجام دیں اور اسپتال وغیرہ بنائیں تاکہ کم در آمدوالے افراد ان میں جاکر اپنا مفت علاج کراسکیں ؟ یا حکومت لوگوں سے ٹیکس وغیرہ حاصل کرکے کم در آمد والے افراد کے لئے ھاسپٹل وغیرہ بنوائے تاکہ وہ لوگ مفت علاج کراسکیں ؟

جواب یہ ہے کہ بے شک پہلی صورت بہتر اور مناسب تر ہے کیونکہ احکام اسلامی فلسفہ میں اس چیز پر توجہ دی گئی ہے اور مقام تشریع احکام میں بھی مد نظر قرار دیا گیا ہے ، کیونکہ اسلام نے اس بات پر تاکید کی ہے عوام الناس کو اپنے مال کے ایک حصہ کو عام فائدہ کاموں میں خرچ کرنا چاہئے اور اپنی مرضی اور شوق کے ساتھ دوسروں کو اپنے مال سے فائدہ پہنچائیں ، کیونکہ اس صورت میں نیک عمل کو اختیار کرنے کی اہمیت بھی ظاہر ہوجاتی ہے اور انسان ،نفسانی کمال اور آخرت میں ثواب کا مستحق ہوتا ہے نیز اس طرح معاشرہ کی ضرورتیں بھی پوری ہوجاتی ہیں لیکن اگر عوام الناس کو اپنے مال کے کچھ حصے کو خرچ کرنے پر مجبور کیا جائے تو اس میں عمل کو اختیار کرنے کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے اور اس میں ثواب بھی نہیں ہوتا۔

اِن ہی نیک کاموں میں سے ایک کام یہ ہے کہ ہمارے مخیر مسلمان برادران رضاکارانہ طور پرہمیشہ بعض چیزیں وقف کرتے ہیں کہ جس سے معاشرہ میں فوائد رہے ہیں ، یہاں تک کہ یہ بھی کھا جاسکتا ہے کہ اس ملک میں ایسا کوئی دیھات، بستی اور شھر نہ ہوگا جس سے عوام الناس کے لئے کوئی وقف نہ ہو لیکن اس عظیم اور خدا پسند کام میں آج کل رغبت کم ہوگئی ہے جس کی بنا پر وقف کا سلسلہ کم ہوگیا ہے اس کے علاوہ بھت سے ایسے وقف ہیں کہ یا تو وہ بھلادئے گئے ہیں یا ان سے صحیح طریقہ سے فائدہ نہیں اٹھایا جارہا ہے جب کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر دوبارہ وقف کا سلسلہ شروع ہوجائے اور اس عظیم مسئلہ کی اہمیت عوام الناس پہنچان لیں تو پھر حکومت بعض ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوجائے گی اور عوام الناس بھی ثواب کی مستحق ہو گی جس وقت کوئی شخص اپنی مرضی اور رغبت سے کوئی کام انجام دے یا وہ کام جس مقدار میں اختیاراور آزادی کے ساتھ انجام دیا جائے تو اس کا ثواب بھی زیادہ ہوتا ہے۔

جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ وہ امور جو حکومت سے مخصوص نہیں ہیں اور ان میں اصل یہ ہے کہ عوام الناس رضاکارانہ طور پر انجام دیں اور اپنی اجتماعی ضرورتوں کو پورا کریں ، اور یہ کام عوام الناس کے سپرد کیا جائے، لیکن اگر عوام الناس اس کام کو انجام نہ دے اور اجتماعی ضرورتیں رضاکارانہ طور پر انجام نہ ہوپائیں تو اس وقت حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ خاص قوانین بنا کر عوام الناس کو ٹیکس وغیرہ دینے پر مجبور کرے تاکہ معاشرہ کی ضرورتوں کا مکمل خرچ پورا ہوجائے۔

۵۔ عوام الناس کی شرکت پر اسلام کی توجہ

یہ بات عرض کردینا ضروری ہے کہ عوام الناس پر بعض امور کی ذمہ داری کا رکہنا، اور مختلف قسم کے کاموں میں سبھی کی شرکت کا راستہ ہموار کرنا، مثلاً معاشرہ کی بھت سی ضرورتوں کو پورا کرنا، یہ تمام ”جامعہ مدنی “(جیسا کہ ذیل میں وضاحت کی جائے گی) کے خصوصیات ہیں البتہ جامعہ مدنی اور مغرب سے آئی ہوئی بھت سی دیگر اصطلاحات کے مختلف معنی کئے جاتے ہیں ، اسی وجہ سے ان اصطلاحات سے ناجائز استفادہ کیا جاتا ہے، لیکن ہم ان اصطلاحات کو اپنے اعتبار سے قبول کرتے ہیں ، مثلاً جامعہ مدنی کے مختلف بلکہ بعض موقع پر ایک دوسرے کے مخالف معنی کئے جاتے ہیں ، چنانچہ جامعہ مدنی کے ایک معنی یہ ہیں کہ حتی المقدور معاشرہ کے امور خود عوام الناس کے سپرد کئے جائیں ، اور ان میں حکومت کی ذمہ داری نہ ہو حتی الامکان عوام الناس خود رضا کارانہ طور پر معاشرتی امور میں شرکت کریں اور اگر حکومت کسیموقع پر دخالت کر سکتی ہے البتہ معاشرہ کے اہم مسائل میں سیاست گذاری تمام ہی ممالک میں حکومت کے ھاتھوں میں ہوتی ہے اور اس کو عملی جامہ پھنانے اور ان کے مختلف مراحل حتی الامکان عوام الناس کے ذمہ ہوتے ہیں ۔

بے شک جامعہ مدنی کے مذکورہ معنی اسلامی مستحکم اصول کے مطابق ہے جس پر روز اول ہی سے ”جامعہ اسلامی “ یا ”مدینة النبی “ کا نام دیا گیا ہے کیونکہ شروع میں اسلامی حکومت تمام امور کی عھدہ دار نہیں ہوتی تھی بلکہ اکثر معاشرہ کے امور کو عوام الناس ہی انجام دیتے تھے ، لیکن معاشرہ کی ترقی کے ساتھ اور طرح طرح کی جدید ضرورتوں کے پیش نظر اہستہ اہستہ ایسے حالات پیداہوئے کہ بعض ضرورتوں کو پورا کرنا عوام الناس کے بس کی بات نہ تھی تو اس صورت میں حکومت کاان امور کو اپنے ذمہ لینا ضروری تھا مثلاً قدیم زمانہ میں شھر کی روشنی کے لئے عوام الناس کے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے گلی کوچوں میں فانوس اور چراغ لگائے جاتے تھے اور یہ کام خود عوام الناس کے ذریعہ ہوتا تھا، لیکن آج کے زمانہ میں بجلی کے ذریعہ پورے شھر کے گلی کوچوں میں روشنی کرنا عوام الناس کا کام نہیں ہے اور اگر عوام الناس کرنا بھی چاہے تو اس میں نقص پایا جائے گا، لھٰذا معاشرہ کی اس ضرورت کو پورا کرنااور ضروری اسباب فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

۶۔ عوام الناس کی شرکت کو کم کرنے والے اسباب

کلی طور پر عوام الناس میں معاشرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی شرکت کو کم کرنے والے دواسباب کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے:

پھلا سبب: ضرورتوں کی بڑے پیمانہ پر وسعت کے ساتھ ساتھ ان ضرورتوں کا پیچیدہ اور خاص طریقہ پر ہونا ، جس کی بنا پر عوام الناس ان ضرورتوں کو پورا کرنے سے محروم ہیں ، جس کے نتیجہ میں ان کو پورا کرنے کے لئے حکومت کا بوجہ مزید بڑہ جاتا ہے۔

دوسرا سبب: عوام الناس میں اخلاقی اور دینی اقدار کا کمزور ہوجانا اور مغربی ممالک کی طرح صرف ذاتی مفاد کی فکر رائج ہوجانا۔

ان دو اسباب کی وجہ سے عوام الناس معاشرہ اور دوسروں کی ضرورتوں کو پورا کرنے سے کتراتے ہیں کیونکہ مغربی کلچر اپنے ذاتی مفاد، خود پسندی اور ذمہ داری کو قبول نہ کرنے پر مبنی ہوتا ہے جو ”رنسانس“ کے زمانے سے مغربی ممالک میں رائج ہوتا چلا گیا ہے اور اہستہ اہستہ یہ نظریہ اسلامی ممالک میں بھی رواج پیدا کرچکا ہے، جس نے مسلمانوں کے معنوی اور اخلاقی رجحان کو کم رنگ کردیا ہے ایک انسان کو دوسرے کے بارے میں نیز اس کی ضرورتوں میں مدد کرنے سے روک دیا ہے اور انسان کو دوسروں سے بے توجہ کردیا ہے کیونکہ یہ خود پسند نظریہ معاشرہ کے امور میں حصہ لینے کی ذمہ داری کوقبول نہیں کرتا اور صرف اپنے ذاتی مفاد اور اپنی لذتوں کے بارے میں فکر کرتا ہے یہ کلچر بالکل اسلامی ثقافت کے مقابلہ میں ہے جو صدیوں سے اسلامی معاشرہ میں رائج تھا اور عوام الناس کومعاشرہ کے فوائد اور لوگوں کی خدمت پر تحریک کرتا ہے۔

آج کل کے زمانہ میں سنتوں اور اسلامی اقدار پر بے توجھی اور مغربی کلچر کا رواج اس بات کا باعث بنا ہے کہ وقف کی بہتر ین سنت پر کم عمل ہورہا ہے اوروقف ہونے والی زمینوں اور عمارتوں کی نسبت پہلے سے بھت کم ہوتی جارہی ہے اسی طرح رضاکارانہ طور پر عام المنفعہ امور کم ہوتے جارہے ہیں ، اور اسلامی معاشرہ میں ”روح مدنیتی “ (حقیقت جامعہ مدنی) کمزور ہورہی ہے جس کے نتیجہ میں اسلامیحکومت کی ذمہ داری روز بروز بڑھتی جارہی ہے اگر اسلامی انقلاب کی برکت سے معاشرہ میں انسانی اور اسلامی اقدار کی اہمیت دوبارہ زندہ ہوجائے اور عوام الناس اپنی دینی، اخلاقی اور معنوی ذمہ داریوں پر توجہ کریں اور عام المنفعہ امور میں حصہ لیں تو پھر حکومت کا بوجہ کم ہوجائے گا ، حکومت کی ذمہ داریاں کم ہوجائیں گی اور حکومت بعض اپنی ذمہ داریوں کو عوام الناس کے حوالے کرسکتی ہے؛ اور یہ چیز ایک حساب سے” جامعہ مدنی“ کی طرف دوبارہ پلٹ جانا ہے۔

۷۔اسلام میں جامعہ مدنی کی اہمیت

قارئین کرام ! ہم دوبارہ اس بات پر تاکید کرتے ہیں کہ گذشتہ معنی میں جامعہ مدنی کا اسلام اور انبیاء علیہم السلام کی دعوت میں سرچشمہ ملتا ہے اور ہم اسلام سے دور ہونے کی وجہ سے اس سے دور ہوئے ہیں اور وہ وقت آچکا ہے کہ ہم اسلام کی برکت سے اس کی طرف توجہ کریں پس مغربی ممالک کو ہم لوگوں پر احسان نہیں جتانا چاہئے کہ ہم نے ”جامعہ مدنی“ کے نقشے کو پیش کرکے تمام ملتوں پر احسان کیا ہے اور ہم اس وقت تمام افراد کو جامعہ مدنی کی تشکیل کی دعوت اور راہنمائی کرتے ہیں ، بلکہ ہمیں ان کے اوپر احسان جتانا چاہئے کہ جب اسلامی تمدن اپنے اوج پر تھا تو مغربی معاشرہ نیم وحشی تھا(یعنی آدھی حیوانیت پائی جاتی تھی) اور اسلامی تمدن نے ان کو اہستہ اہستہ صاحب تمدن کیا اور انھوں نے جامعہ مدنی کو اسلام سے حاصل کیا ہے لیکن اس وقت یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم مغربی کلچر کو اسلامی ملک میں رواج دینا چاہتے ہیں اور ہماری تربیت کرنا چاہتے ہیں تاکہ جامعہ مدنی کو قبول کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے۔!

لھٰذا ثابت یہ ہوا کہ صحیح معنی میں جامعہ مدنی اسلام اور اسلامی تمدن میں سرچشمہ رکھتا ہے اور اگر کوئی اسلام کی طرف رجوع کرے تو اس میں جامعہ مدنی مل جائے گا؛ لیکن جامعہ مدنی کے دوسرے معنی بھی کئے جاتے ہیں جو ہمارے نزدیک قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ آج کل مغربی کلچر میں جامعہ مدنی کے اسلامی معاشرہ کے مخالف معنی کئے جاتے ہیں ، اور وہ معنی یہ ہیں کہ جامعہ مدنی یعنی جس میں دین کی سلطنت نہ ہو اور معاشرہ کے امور میں دینی کوئی منصوبہ نہ ہو ایسے غیر دینی جامعہ مدنی (جس کا آج کل بھت زیادہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے) میں حکومت کے تمام عھدوں کے سلسلہ میں تمام لوگ برابر ہونے چاہئیں ، اور جیسا کہ کھتے ہیں کہ ایرانی معاشرہ جامعہ مدنی میں تبدیل ہوناچاہئے یعنی ایک یھودی بھی صدر مملکت ہوسکتا ہے کیونکہ تمام انسان ،انسانیت میں برابر کے شریک ہیں ، یعنی انسانوں میں پہلا درجہ یا دوسرا درجہ نہیں ہے کیونکہ وہ اس نعرہ کے ذریعہ چاہتے ہیں کہ ایک الحادی اور منحرف مذہب جو صھیونیزم سے وابستہ ہے ان کو قانونی طور پر مان لیا جائے وہ لوگ اس بھانہ سے کہ انسان ایک درجہ کے ہیں اور ان میں چند درجہ نہیں ہیں ؛ یہ چاہتے ہیں کہ امریکہ اور صھیونیزم سے وابستہ گروھوں کو اہم عھدے مثلاً صدر مملکت کے عھدے پر بیٹھادیا جائے۔

اگر ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم شھریوں کا اختلاف ایک حد تک قابل قبول ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے بنیادی قوانین میں بعض عھدوں کے لئے خاص شرائط رکھے گئے ہیں جیسا کہ خداوندعالم بھی ارشاد فرماتا ہے:

( وَلَنْ یَجْعَلَ اللهُ لِلْکَافِرِینَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ سَبِیلًا ) (۲)

” اور خدا کفار کے لئے صاحب ایمان کے خلاف کوئی راہ نہیں دے سکتا‘

اس طرح کا نظریہ جامعہ مدنی سے کوئی مخالفت نہیں رکھتا، لیکن اسلامی نظریہ کے مطابق وہ جامعہ مدنی جس میں کافر اور مسلمان تمام حقوق اور مختلف عھدوں پر فائز ہونے میں سب برابر ہوں ؛قابل قبول نہیں ہے اور ہم صاف طور پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ اسلام اس چیز کی اجازت نہیں دیتا کہ اسلامی معاشرہ پر کوئی کافر مسلط ہو اور مسلمانوں پر حکومت کرے، اسی طرح یہ بھی اجازت نہیں ہے کہ ایک ایسی پارٹی یا ایک ایسا مذہب جو ملحد اور صھیونیزم سے وابستہ ہو ، اس کوقانونی طور پر مان لیا جائے؛ اس صورت میں کوئی فرق نہیں ہے کہ اس چیز پر انسانوں میں درجہ بندی کی تھمت لگائیں یا کوئی دوسرا نام رکھیں ۔

۸۔ اسلامی انتخاب کے معیار سے مخالفت کے نئے حیلے

قارئین کرام ! آج کل استکبار سے وابستہ بعض افراد اندرون ملک ، انسانوں کے ایک درجہ کا نعرہ لگاتے ہوئے مغربی ممالک کی لیبرلیزم اور ڈیموکریٹک کو رائج کرنا چاہتے ہیں وہ اس مطلب کو معاشرہ کے اندر رائج کرنا چاہتے ہیں کہ انسانوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے لھٰذا ان کے حقوق بھی برابر ہیں اور ملک کے قوانین بناتے وقت ان کو بھی مد نظر رکہنا چاہئے۔

اگرچہ انسانوں کے درمیان دو درجہ نہ ہونے کو اسلام بھی قبول کرتا ہے، جیسا کہ خداوندعالم کا ارشاد ہے:

( یَاایُّها النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَانثٰی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ اکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللهِ اتْقَاکُمْ ) (۳)

” اے انسانو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تم میں شاخیں اور قبیلے قرار دئے ہیں تاکہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہنچان سکو ، بے شک تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ‎ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے “

مذکورہ آیت میں ذاتی اور تکوینی خصوصیات کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہے بلکہ سب برابر ہیں اور اس لحاظ سے انسانوں میں کسی درجہ بندی کا تصور بھی ممکن نہیں ہے لیکن اسی آیت کے ذیل میں عَرَضی فرق کی طرف اشارہ موجود ہے ؛ یعنی اگرچہ تکوینی (ذاتی) طور پر تمام انسان ایک ہی درجہ کے ہیں لیکن اکتسابی خصوصیات اور انسانی صفات کے صاحب امتیاز ہوسکتے ہیں ، اسی وجہ سے باتقویٰ افراد خدا کے نزدیک ایک خاص اہمیت رکھتے ہیں اور یہ بھی نہیں کھا جاسکتا کہ خداوند عالم کے نزدیک تمام انسان برابر ہیں اسی طرح صلاحیت اور شائستگی کے لحاظ سے چونکہ ایک دوسرے میں فرق پایا جاتا ہے لھٰذا معاشرہ میں ان کو عھدہ اور مقام دینے میں بھی برابر نہیں رکھا جاسکتا، کیونکہ ہر عھدہ کے لئے خاص شرائط رکھے گئے ہیں مثلاً پوری دنیا میں یہ کھیں نہیں ہوتا کہ ایک جاہل انسان کو صدر مملکت بنادیا جائے؛ تو کیا اس سلسلہ میں یہ کھا جاسکتا ہے کہ صدر مملکت کے عھدہ کے لئے پڑھے لکھے ہونے کی شرط لگانا؛ انسان کے برابر ہونے کے خلاف ہے؟ اور کیا یہ وہی ‎ انسانوں کے دو درجہ ماننا نہیں ہے؟

دنیا بھر میں اہم عھدوں مثلاً صدر مملکت کے عھدہ کے لئے خاص شرائط مقرر کئے گئے ہیں ، ہماری حکومت میں بھی اسلامی ہونے کی وجہ سے اس کے لئے خاص شرائط رکھے گئے ہیں اور جس دلیل کے تحت صدر مملکت کو پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے ، اسی دلیل کے تحت ایک اسلامی ملک کے صدر مملکت کا اسلام کا حامی اور طرفدار ہونا ضروری ہے، اور یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک ایسا شخص جو اسلام کا دشمن ہو ،اسلامی ملک میں کسی بڑے عھدہ پر فائز ہوسکے؛ اور یہ مطلب اسلامی اصول پر منطبق ہے۔

پس اگر ممبر آف پارلیمنٹ یا دوسرے کاموں کے لئے مسلمان ہونے کی شرط لگائی گئی ہے ، اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ انسانوں میں دو درجہ ہیں اگر اسلامی معاشرہ کے اندر ان حقوق اور ذمہ داریوں کے مقابلہ میں جو مسلمان انجام دیتے ہیں اسی طرح مسلمان خمس وزکواة ادا کرتے ہیں اس کے مقابلہ میں ، دوسرے ادیان کی پیروکاروں کے لئے الگ طریقہ پر حقوق اور وظائف معین کئے جائیں تو اس کا مطلب انسانوں میں درجہ بندی کے نہیں ہیں ؛ اگرچہ ایک لحاظ سے ان فرقوں کی وجہ سے انسان کے درجے میں فرق پایا جاتا ہے۔

اگر کوئی شخص یہ کھے کہ ”مقام رہبری“ ، ”ریاست جمھوری“ اور دوسرے اہم عھدے اس شخص کو دئے جاسکتے ہیں جو اسلام اور اسلامی حکومت کا مخالف ہو نیز بنیادی قوانین کو قبول نہ کرتا ہو، تو ایسا کرنا اس شخص کی مانند ہے جو اپنا کامل اختیار اپنے دشمن کو دیدے!! مسلماً ایسا کام نہ ہی عاقلانہ ہے اور نہ ہی ہونے والا، اور اگر بعض لوگ ایسا کرنا بھی چاہیں تو اسلام اس چیز کی اجازت نہیں دیتا؛ کیونکہ خداوندعالم نے کافروں کو مسلمانوں سے بہتر قرار نہیں دیا ہے اور مسلمانوں پر ان کی حکومت کو قبول نہیں کرتا یہ ہمارا عقیدہ ہے، اور ہمیں اس بات کا بھی ڈر نہیں ہے کہ ہم پر شھریوں کی درجہ بندی کی تھمت لگائی جائے۔

۹۔ اسلامی اصول اور اقدار کی حفاظت اور دشمن زمینہ سازی سے مقابلہ کی ضرورت

ہم بھی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ تمام انسان، انسانیت میں شریک ہیں ، لیکن بعض لوگ مغالطہ کرتے ہیں اور کھتے ہیں کہ چونکہ تمام انسان، انسانیت کے ایک ہی درجہ پر فائز ہیں پس معاشرہ میں بھی ان کے تمام حقوق برابر ہونا چاہئے لیکن انسانیت میں برابر ہونے کا مطلب ، حقوق میں بھی برابر ہونا نہیں ہے، اگرچہ تمام انسان انسانیت میں برابر کے شریک ہوں لیکن انسانی تمام لوازمات اور انسانی فضائل برابر نہیں ہیں ، اسی چیز کے پیش نظر اسلامی معاشرہ میں ایسے بھت سے عھدے ہیں جن کے لئے خاص صلاحیتوں اور شائستگی کا ہونا ضروری ہے جس طرح رہبر کے لئے فقیہ (مجتھد) ہونا ضروری ہے تاکہ اسلامی احکام کے جاری ہونے پر نظر رکھے، اور اگر وہ اسلام ہی کو نہ سمجھے تو پھر اس کی حفاظت بھی نہیں کرسکتا، اسی طرح صدر مملکت کا مسلمان ہونا ضروری ہے، ایک یھودی یا عیسائی ایک ایسے معاشرہ پر حکومت نہیں کرسکتا جس کی ۹ ۰ فی صد آبادی مسلمان ہو۔

ھمیں اس چیز کا ڈر نہیں ہونا چاہئے کہ وہ اخبار یا وہ صاحبان قلم جو عالمی استکبار سے وابستہ ہیں وہ ہم پر اس بات کی تھمت لگائیں کہ یہ لوگ شھریوں میں دو درجہ کے قائل ہیں کیونکہ ان سے امید بھی اور کیا ہوسکتی ہے، کیونکہ وہ لوگ تو اسلامی ضروریات کے بھی منکر ہیں ہمیں ہر حال میں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ اسلامی حکومت کے زیر سایہ واقعی اسلام کو دنیا والوں کے سامنے پیش کریں ، نہ کہ جس طرح سے دشمن چاہتے ہیں ہمیں اسلامی اقدار کو کم رنگ نہیں کرنا چاہئے تاکہ ہمارا دشمن ہم سے خوش رہے۔

اگر ہم نے کوئی بات کھی یا کچھ لکھا تو اس سے امریکہ سے وابستہ اخبار یا ذرائع ابلاغ کو خوشی ہو اور وہ ہماری تعریف کریں ، اس صورت میں ہمیں خوش نہیں ہونا چاہئے بلکہ اگر ہمارے کام سے ہمارا دشمن راضی اور خوشحال ہو، تو ہمیں غمگین ہونا چاہئے۔

افلاطون کے بارے میں مشھور ہے کہ بعض لوگوں نے اس سے آکر کھا کہ ” فلاں شخص تمھاری بھت تعریف کرتا ہے“ یہ سن کر افلاطون رونے لگا، جب لوگوں نے رونے کا سبب پوچھا تو اس نے کھا کہ ”مجھے نہیں معلوم کہ مجھ سے ایسا کونسا جاہلانہ کام ہوگیا ہے جس کی بنا پر اس جاہل شخص کو مجھ سے خوشی ہوئی“!

لھٰذا اگر ہم سے دشمن کے نفع میں کوئی کام ہوگیا ہے جس کی بنا پر وہ خوشحال ہوگیا اور اگر اسلام کو اس طرح پہنچنوایا کہ دشمن کو اچھا لگا تو گویا ہم نے دشمن کی خدمت کی ہے اسلام کی نہیں ! ہمیں اس اسلام کا دفاع کرنا چاہئے جس کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام نے ہم تک پہنچایا ہے، نہ اس اسلام کا جس کی تلقین اسلام دشمن طاقت کررہی ہے۔

قارئین کرام ! خلاصہ کلام یہ ہوا کہ ہم جامعہ مدنی کے اس خاص معنی کو قبول کرتے ہیں جو اسلام سے اخذ شدہ ہو، اور اس سے دور ہونا حقیقت میں اسلام سے دور ہونے کی وجہ سے ہے، لھٰذا اسلامی جامعہ مدنی کی بنا پر اصل یہ ہے کہ معاشرہ کے امور عوام الناس کے ذمہ ہوں لیکن مغربی ممالک کے جامعہ مدنی کے لحاظ سے جس میں دین سے دوری اختیار کی جاتی ہے نیز اس جامعہ مدنی میں تمام انسان چاہے کافر ہوں یا مسلمان؛ تمام کے اجتماعی حقوق اور معاشرہ میں عھدہ داری مساوی ہو ہم اس جامعہ مدنی کو قبول نہیں کرتے اگرچہ بعض لوگوں کی کوشش یہ ہے کہ تمام لوگ معاشرہ کے اہم عھدوں پر فائز ہونے کے اعتبار سے مساوی ہیں ، چاہے وہ مسلمان ہوں یاکافر اور چاہے بنیادی قوانین کو قبول کرتے ہوں یا نہ کرتے ہوں ، اور اسی کو وہ جامعہ مدنی مانتے ہیں !! ہم اس طرح کے جامعہ مدنی کو ردّ کرتے ہیں کیونکہ ہمارے نزدیک مسلمان اور غیر مسلمان ملک کے اہم عھدوں پر فائز ہونے کے اعتبار سے مساوی نہیں ہیں تو اسلام؛ ہمیں جامعہ مدنی کے نام پر، عالمی صھیونیزم سے وابستہ پارٹی کو اس ملک کے قانونی مذہب میں شمار کرنے کی اجازت کیسے دے سکتا ہے۔

حوالے:

(۱)ٹوٹالیٹر ،اس حکومت کو کھا جاتا ہے جو ایک گروہ کے نفع می ں قوانین بنائے اور اپنے مخالفین کو مخفی پولیس وغیرہ کے ذریعہ نابود کرنے کی درپے ہو، ( مترجم)

(۲) سورہ نساء آیت ۱۴۱

(۳) سورہ حجرات آیت ۱۳


ستّائیسواں جلسہ

اسلامی حکومت کی خاص پہنچان

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر

قارئین کرام ! جیسا کہ ہم نے گذشتہ جلسوں میں عرض کیا کہ ہماری بحث ” اسلام کے سیاسی نظریات“ کا یہ حصہ مخصوص ہے حکومت کی ذمہ داریاں اور اس کے اختیارات کی تحقیق وبررسی سے اورجو مباحث اس موضوع سے مربوط ہیں بے شک حکومت کی ذمہ داریوں کی صحیح شناخت تب ہی ہوسکتی ہے جب ہم حکومت کے فلسفہ کو سمجھ لیں ، اور کوئی بھی مجموعہ، کوئی بھی عضو یا کوئی بھی حصہ ایک خاص ضرورت اور ایک خاص ہدف کے لئے بنایا جاتا ہے؛ کیونکہ اگر وہ اس کے ما تحت نہ ہوں تو اس میں نقص اور خلل واقع ہوجائے گا، اور پھر معاشرہ کی ضرورتیں اور مصالح مکمل طور پر محقق نہیں ہوپائیں گی پس ہر عضو یا ہر مجموعہ کے وظائف او رذمہ داریاں ان کی ضرورت کے تحت؛ ان کے وجود کا تقاضا کرتی ہے۔

حکومت کے سلسلہ میں قانون گذار طاقت کی ضرورت واضح ہوگئی، کیونکہ کوئی ایسی ہی ئت یا کمیٹی ہو جو معاشرہ کے لئے ضروری قوانین بنائے لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قوہ مجریہ (حکومت) کی کیا ضرورت ہے؟ وجود حکومت کا فلسفہ کیا ہے ،اور اگر حکومت نہ ہوتی تو پھر کیا حالات پیدا ہوتے؟ اور اگر عوام الناس کی اس طرح سے اخلاقی اور معنوی تربیت ہوجاتی کہ وہ کسی بھی حال میں قانون کی خلاف ورزی نہ کرتے تو کیا پھر حکومت کی ضرورت نہ تھی؟ اس صورت میں حکومت کی اصلی علت معاشرہ میں قوانین کو جاری کرنے کی ضمانت ہوگی ، اس بنیاد پر بعض لوگوں کا یہ تصور ہے کہ لوگوں کی اس طرح تربیت کی جاسکتی ہے کہ خود اپنی مرضی سے اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریں اور پھر کسی ضامن یعنی حکومت کی کوئی ضرورت نہیں ہے لیکن مسلم طور پر یہ نظریہ حقیقت سے کوسوں دور ہے ، اور جیسا کہ ہم نے حکومت کی ضرورت پر دلائل کے سلسلہ میں پہلے بھی عرض کیا کہ حکومت کی ضرورت پر ضمانت اجرائی کے علاوہ دوسرے دلائل بھی موجود ہیں ؛ منجملہ معاشرہ کی عظیم اور اہم ضرورتوں کا ہونا جومعاشرہ کے تمام افراد سے متعلق ہوتی ہیں ، اور کوئی خاص شخص یا کوئی خاص گروہ ان کا عھدہ دار نہیں ہوسکتا، اور ان میں اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی ایک ایسی ہم اہنگ کمیٹی ہو جو اپنی منصوبہ بندی کے تحت معاشرہ کی ان ضرورتوں کوپورا کرسکے ہم نے یہ (بھی) عرض کیا کہ معاشرہ کی عام ضرورتوں میں سے ملک پر حملہ کرنے والوں کے مقابلہ میں جنگ اور دفاع کا مسئلہ بھی ہے بے شک جب جنگ زوروں پر ہوتی ہے تو کوئی خاص فرد یا خاص گروہ دشمن کے حملہ کو روکنے پر قادر نہیں ہوسکتا اور تنھا جنگ کو ادارہ نہیں کرسکتا، بلکہ معاشرہ میں ایک ہمہ گیراور سسٹامیٹک قدرت کا ہونا ضروری ہے تاکہ جنگ میں کامیابی مل سکے اور اپنی منصوبہ بندی کے ذریعہ عوام الناس کو جنگ میں شرکت کی دعوت دے اور ان کو ٹرینڈ کرکے جنگی فنون میں ماہر بنا کر آمادہ جنگ کرے۔

ان کے علاوہ معاشرہ کی دوسری ضروریات بھی ہوتی ہیں کہ جن کو پورا کرنا حکومت کے زیر سایہ ہی ممکن ہے؛ مثلاً معاشرہ میں حفظ الصحت، تعلیم وتربیت اور ضروری دانش کو پورا کرنا؛ اسی طرح دوسری ضروریات بھی ہوتی ہیں جن کے لئے مخصوص وزارت خانے ہونے ضروری ہوتے ہیں اور ظاہر سی بات ہے کہ معاشرہ کے حالات بدلنے اور نئی نئی قسم کی ضرورتوں کا ایجاد ہونا؛ جن کے لئے الگ الگ وزارت خانے ہونے ضروری ہیں : مثلاً معاشرہ کی ضرورت کے لئے بعض حالات میں اگر صرف پانچ وزارت خانے کافی ہوں لیکن نئی نئی ضرورتوں کے پیش نظر ان وزارت خانوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے، اور یہ مناسب نہیں ہے کہ قانون میں مخصوص تعداد میں وزارت خانے معین کئے جائیں بلکہ ان کی تعداد زمان و مکان کے شرائط کے لحاظ سے ہونا چاہئے لھٰذا اسلامی سیاسی نظریہ کے لحاظ سے بھی یہ معین نہیں ہے کہ اسلامی ملک کا صدر کتنے وزیر رکہ سکتا ہے، بلکہ اس مسئلہ کو آزاد رکھا گیا ہے تاکہ زمانہ کے پیش نظر اور مختلف ضرورتوں کے لحاظ سے وزارت خانے تعین کئے جائیں ۔

۲۔ نظام اسلامی اور لائیک نظام میں حکو مت کے سلسلہ میں بنیادی فرق

قارئین کرام ! یہ بات طے ہوچکی ہے کہ حکومت کی ضرورت کا فلسفہ معاشرہ کی مختلف ضرورتیں ہیں جن کو صرف حکومت ہی انجام دے سکتی ہے خلاصہ گفتگو یہ ہے کہ حکومت کی مخصوص ذمہ داری؛ معاشرہ کی مختلف ضرورتوں کو پورا کرنا اور قوانین کا نافذ کرنا ہے۔

ہم نے قانون گذاری کی بحث میں یہ عرض کیا کہ وسعت کے لحاظ سے اسلامی معاشرہ کے قوانین لائیک حکومتوں سے مختلف ہیں : کیونکہ لائیک حکومتوں میں قوانین کو صرف عوام الناس کی مادی ضرورتوں کوپورا کرنے کے لئے بنایا جاتا ہے،اور ان کی حکومت کی بنیاد ہی عوام الناس کی صرف مادّی اور دنیاوی ضرورتوں کو پورا کرنا ہوتا ہے یہاں تک کہ بعض حکومتوں میں اس بات کی شرط کی جاتی ہے کہ دین کے بارے میں کوئی حمایت نہ ہو، اور کسی بھی حکومتی ادارہ میں دین کی کوئی طرفداری یا اس کی حمایت دکھائی نہ دے۔

لیکن اسلامی حکومت میں قوانین کو صرف مادی ضرورتوں کے لحاظ سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ معنوی ضرورتوں کو بھی مدّ نظر رکھا جاتاہے ، بلکہ معنوی مصالح کو مقدم رکھا جاتا ہے یہ مسئلہ بالکل قوہ مجریہ (حکومت) میں بھی بیان ہوتا ہے کہ اسلامی نظام میں حکومت ان قوانین کو جاری کرنے کی ضامن ہے جو دنیاوی زندگی سے متعلق ہوتے ہیں اور معنوی ( اور اخروی) زندگی سے بھی متعلق ہوتے ہیں جس دلیل کے تحت ہم نے قانون گذاری کے سلسلہ میں عرض کیا کہ قوانین کو ایسا ہونا ضروری ہیں جن سے معنوی ضروریات بھی پوری ہوں بلکہ ان کو مقدم رکھا جائے، اسی دلیل کے تحت اسلامی حکومت کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ معنوی مصالح، حقوق الہی اور اسلامی شعار ( رسومات) سے متعلق قوانین کو بھی نافذ کرے ، اور اس سلسلہ میں ہونے والی خلاف ورزیوں کا سدّ باب کرے اور اگر کوئی اسلامی مقدسات کی اہانت کرنا چاہے تو اس کو بھی روکے؛ بےشک یہ مسئلہ حکومت کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔

۳۔ مغربی کلچر کے عاشق افراد کی طرف سے سیکولر حکومت کی پیش کش

بعض اخباروں اور تقریروں میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ حکومت کی ذمہ داری، عوام الناس کی مادی ضرورتوں کا پوری کرنے، ملک میں امن وامان کو برقرار رکہنے اور ہر ج ومرج (افرا تفری) سے روک تھام کے علاوہ کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور معنوی اور دینی مصالح کو پورا کرنا علماء اور دینی مدارس کی ذمہ داری ہے ! یہ نظریہ مغربی کلچر اور سیکولر طرز تفکر سے متاثر ہونے کانتیجہ ہے، جیسا کھہم نے اس سے قبل بھی عرض کیا کہ مغربی ممالک کے کلچر کا سب سے واضح امتیاز ”سیکولرازم“ ہے یعنی دین کو سیاست سے جدا کرنا لائیک اور بے دین حکومتوں میں دنیاوی امور حکومت سے متعلق ہوتے ہیں لیکن معنوی امور حکومت سے متعلق نہیں ہوتے اگر کچھ لوگ دین اور معنوی امور میں مشغول ہونا چاہتے ہیں تو اپنے اس ہدف کے تحت ذاتی امکانات کو خرچ کریں اور اس سلسلہ میں سرکاری امکانات سے استفادہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ دین کے سلسلہ میں حکومت کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ، اسلامی ثقافت کے بالکل برعکس جس کے اہم ترین وظائف میں سے : اسلام کو حفظ کرنا، معاشرہ میں اسلامی شعارکو رائج کرنا اور ان کو بھلادئے جانے سے روک تھام کرنا نیز بے توجھی اور خدا نخواستہ اسلامی شعار اور مقدسات کی توہی ‎ ن کرنا؛ وغیرہ ہے۔

جو لوگ اسلامی ثقافت کو قبول نہیں کرتے بلکہ مغربی کلچر کے تابع ہیں ؛ ان کی طرف سے اس نظریہ کا پیش ہونا کہ ”حکومت کو دینی امور میں دخالت نہیں کرنا چاہئے۔“ بعید نہیں ہے اور ہمارا ان سے یہ اختلاف مبنائی ہے اور ہماری ان سے یہ بحث ہے کہ اسلام حق ہے یا نہیں ؟ لیکن یہ نظریہ ان لوگوں کی طرف سے جو خود کو مسلمان اور اسلامی اصول کا معتقد سمجھتے ہیں ان کے لئے مناسب نہیں ہے، اور اس طرح کی گفتگو کرنا اس بات کی نشانی ہے کہ انھوں نے اسلامی ثقافت کو نہیں سمجھا ہے۔

۴۔ اسلامی شعار کا حفظ اور رائج کرنا ، حکومت کی ایک ذمہ داری

پس جو ذمہ داری مشترک طور پر لائیک اور دینی حکومت کی ہوتی ہے؛ اس کے علاوہ اسلامی حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اسلامی شعار کو قائم کرے البتہ عوام الناس اپنی مرضی سے بعض اسلامی رسومات کو انجام دے سکتے ہیں ؛ مثلاً نماز جماعت کا برقرار کرنا، محفل اور عزاداری کرنا، دینی مدارس قائم کرنا، اسلامی پروگراموں کے منعقد کرنے کے لئے ملّی اور مذہبی مرکز قائم کرنا ان میں سے حوزات علمیہ دینی اہم مرکزوں میں شمار ہوتے ہیں جو عوام الناس کی دی ہوئی رقوم شرعی سےچلتے ہیں اور اسلامی شعار کے حفظ ، ان کی ترویج اور اسلامی ثقافت کی تبلیغ میں مشغول رہتے ہیں ، ان کے لئے حکومت کوئی فنڈ معین نہیں کرتی لیکن عوام الناس کا ان شعار کو انجام دینا حکومت کی ذمہ داری کوسلب کرنے کے معنی میں نہیں ہے، اور ایسا نہیں ہے کہ پھر ان امور میں حکومت کی کوئی ذمہ داری نہیں رہ جاتی کیونکہ اگر عوام الناس کا رضا کارانہ طور پر کام کرنا کافی نہ ہوا تو پھران امور کو انجام دینا حکومت کی ذمہ داری ہے مثال کے طور پر: حج ایک عبادی وظیفہ ہے اور جو شخص مستطیع ہوجائے تو اس کے لئے حج کرنا واجب ہوجاتاہے ، مجتھدین کرام؛ فقھی کتابوں اور روایات سے استفادہ کرتے ہوئے اس مسئلہ کو بیان کرتے ہیں کہ اگر ایک ایسا موقع آجائے کہ اسلامی ملک کے پورے معاشرہ میں کسی پر حج واجب نہ ہو یا اگر کسی پر واجب تو ہوگیا ہے لیکن وہ حج پر جانے کے لئے تیار نہ ہو ، بلکہ نافرمانی کرے اور اپنی مرضی سے کوئی حج پر نہ جائے اور خانہ کعبہ کے خالی رہ جانے کا اندیشہ ہو، تو اس موقع پراسلامی حکومتوں پر مسلمانوں کے بیت المال سے ایک گروہ کو حج کے لئے بھیجنا واجب ہے ؛ کیونکہ وہ اسلامی شعار جو تمام ہی مسلمانوں کے لئے حفظ مصالح کے باعث ہیں وہ تعطیل نہیں ہونے چاہئیں ۔

پس جبکہ حج ایک عبادی مسئلہ ہے اور دنیاوی اور سیاسی امور میں شمار نہیں ہوتا اور خود عوام الناس انجام دیتے ہیں اور اپنے پاس سے خرچ کرتے ہیں ، لیکن اگر عوام الناس نے نافرمانی کی یا حج بجالانے کی قدرت نہ رکھتے ہوں تو پھر اسلامی حکومت پر اسلامی شعار کو قائم کرنے اور قوانین کو جاری کرنے کے ضامن کے عنوان سے ؛ یہ ذمہ داری ہے کہ حج کو انجام دینے کے مقدمات فراہم کرے۔

اس بنا پر اسلامی اور لائیک حکومت کا بنیادی فرق یہ ہے کہ اسلامی حکومت ہر چیز سے پہلے اسلامی شعار اور اسلام کے اجتماعی احکام وقوانین کو جاری کرنے کی فکر میں رہے اور ان کو مقدم رکھے البتہ عملی میدان میں معنوی اور مادّی امور میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہوتا لیکن بالفرض اگر ان میں ٹکراؤ ہو بھی جائے تو پھر معنوی امور کو مقدم کرے۔

لھٰذا اسلامی حکومت کی ذمہ داریوں کی سر فھرست درج ذیل چیزیں ہونا چاہئے: اسلامی شعار کو قائم کرنا، قوانین اور اسلامی ثقافت کی حفاظت کرنا اور ایسی چیزوں کی روک تھام کرنا جومعاشرہ میں اسلامی ثقافت کے کمزور ہونے کا باعث بنے نیز کفر کے رسومات سے روک تھام کرنا۔

۵۔ حکومت اور اس کے کردار ی پہلو

قارئین کرام ! ہم نے اس سے پہلے بھی عرض کیا کہ حکومت پر لازم ہے کہ وہ معاشرہ کی بعض ضرورتوں کوپورا کرنے کی خود ذمہ داری قبول کرے، مثلاً دفاع اور جنگ کا مسئلہ ، جس میں منصوبہ بندی، سیاست گذاری اور اس کے اجرائی امور تمام مسائل حکومت کے ذمہ ہوتے ہیں لیکن حکومت کے مخصوص کاموں کے علاوہ یہ بھی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اسلامی معاشرہ کی بعض ضرورتوں کو پورا کرنے میں اپنا کردار ادا کرے جس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں :

۱۔ حکومت صرف منصوبہ بندی، سیاست گذاری اور ان کے اجراء پر نظارت رکھے اور براہ راست ان امور میں دخالت نہ کرے۔

۲۔ منصوبہ بندی ، سیاست گذاری اور نظارت کے علاوہ ان امور کو خود اپنے ذریعہ انجام دے۔

مزید وضاحت کے لئے عرض کرتے ہیں کہ معاشرہ کے کسی ایک پروجکٹ کو کامیاب بنانے کے لئے پہلے اس کے مقاصد کا روشن ہونا ضرروی ہے تاکہ اسی بنا پر منصوبہ بندی کی جاسکے، اس کے بعداس کو آگے بڑھانے کے لئے اس کے چھوٹے چھوٹے مسائل کو منظم کیا جاتا ہے کیونکہ کسی ایک پروجکٹ کے لئے مدت معلوم ہونی چاہئے شروع اور ختم ہونے کی مدت معلوم ہو اور اس کا خرچ بھی موجود ہو اس مرحلہ کے بعد جو کمپنی اس کام کو کرنا چاہے اس کو طے کیا جاتا ہے؛ یعنی یہ معین کیا جاتا ہے کہ کون لوگ اور کس شکل میں اس پروجکٹ کو انجام دیں گے ، اس کا مدیر ، اس میں کام کرنے والے اور ان کے وظائف معین کئے جاتے ہیں مثلاً امام خمینی انٹر نیشنل ایر پورٹ پروجکٹ کو لے لیجئے : پہلے یہ طے ہوتا ہے کہ کیا اس ایرپورٹ کی ضرورت ہے یا نہیں (اگرچہ یہ بات ملک کی اہم سیاست گذاری سے متعلق ہے) جس کی بنا پر یہ طے ہوتا ہے کہ اس پروجکٹ پر کام ہونا چاہئے یا نھ؟ اور جب پروجکٹ کو قبول کرلیا جاتا ہے تو پھر اس سلسلہ میں منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور یہ طے کیا جاتا ہے کہ یہ پروجکٹ کتنی زمین میں اور کس طرح کے امکانات کے ساتھ انجام دیا جائے اور کس نقشہ کے تحت ہو اس کے بعد اس کا مدیر اور اس کے شروع ہونے کی تاریخ معین کی جاتی ہے، آخر میں اس پروجکٹ کی بولی لگائی جاتی ہے تاکہ جو کمپنی کم خرچ میں اس پروجکٹ کو مکمل کرنے پر آمادہ ہو تو اس کام کو اس کے حوالے کردیا جائے اس صورت میں ایک وقت حکومت سیاست گذاری اور منصوبہ بندی کے بعد اس پروجکٹ کو بھی اپنے ھاتھوں میں لے لیتی ہے اور کوئی سرکاری شعبہ یا کوئی وزارتخانہ اس پروجکٹ پر کام کرتا ہے اور اس پروجکٹ کا خرچ سرکاری خزانہ سے اور سرکاری افراد کے ذریعہ تکمیل ہوتا ہے یا کسی پروجکٹ کو معین کرنے کے بعد کسی کمپنی کے حوالے کیا جاتا ہے تاکہ اس پروجکٹ کو عملی جامہ پھنائے، بھر حال دونوں صورتوں میں حکومت اس پروجکٹ کو عملی بنانے کا وعدہ کرتی ہے لیکن ممکن ہے کہ حکومت کسی پروجکٹ کے لئے ؛سیاست گذاری اور منصوبہ بندی کے بعد اس کام کو خود اپنے ذمہ نہ لے ، اور اس کے خرچ اور اس پر کام کرنے کے لئے دوسروں کے حوالہ کردے اور خود صرف نظارت کرتی رہے ؛ یعنی حکومت اپنی طرف سے کچھ معائنہ کار افراد کو معین کرتی ہے تاکہ قوانین اور مقررات کی خلاف ورزی کی روک تھام کی جاسکے اور نقشہ کے مطابق عمل نہ کرنے سے روکا جاسکے نیز عوام الناس کے مال کو تلف اور برباد ہونے سے روک تھام کی جاسکے اور کوشش یہ کی جاتی ہے کہ پروجکٹ اسی اصل نقشہ کے تحت عمومی مصالح کے قوانین کے مطابق عملی جامہ پھنایا جاسکے۔

۶۔ ”ٹوٹالیٹر“(۱) ( Totalitair ) اور ”لیبرل“حکومت کا مڈل

ان پروجکٹ کے مقابلہ میں معاشرہ کی ضرورتیں مثلاً جنگ اور دفاع، تعلیم وتربیت، علاج معالجہ اور شھر کی صفائی وغیرہ کا انتظام قاعدتاً حکومت کے ذمہ ہوتا ہے، لیکن یہاں پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت کی ذمہ داری صرف ان ضرورتوں میں منصوبہ بندی اور حد اکثر نظارت ہوتی ہے؟ یا منصوبہ بندی اور نظارت کے علاوہ ان کو جاری کرنے کی بھی ذمہ داری اسی کی ہوتی ہے، اور بنیادی طور پر اسلام کی نظر میں کونسا طریقہ صحیح ہے؟ کیا اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں کے بنانے کا خرچ حکومت کے ذمہ ہے؟ یا اس کا کچھ حصہ حکومت کے ذمہ ہوتا ہے اور کچھ حصہ عوام الناس کے ذمہ ہوتا ہے؛ جیسا کہ اکثر ممالک میں منجملہ ہمارے ملک میں ایسا ہوتا ہے کہ ابتدائی تعلیم سب کے لئے ضروری ہے اور اس کا خرچ بھی حکومت کے ذمہ ہے، لیکن یونیورسٹی کی تعلیم کا خرچ حکومت کے ذمہ نہیں ہے بلکہ حکومت یونیورسٹی میں فیس لے کراعلیٰ تعلیم دیتی ہے، اگرچہ بعض ملکوں میں یونیورسٹی کی تعلیم بھی مفت ہوتی ہے۔

بعض حکومتوں میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ معاشرہ کے زیادہ سے زیادہ امور حکومت کے ذریعہ انجام پائیں ، اور یہ طریقہ کار بڑے بڑے مالداروں کی ظالمانہ رفتاراور اپنے ذاتی مفاد کے لئے معاشرہ کے فوائد کو خطرہ میں ڈالنے والے افراد کے مقابلہ میں ایک عکس العمل ہے کیونکہ یہ جامعہ گرا )معاشرہ کی فکر رکہنے والا ) نظریہ اور سوسیالیسٹ " Socialiste "، کمیونسٹ " communiste " ملکوں کا وجود میں آنا؛ مالدار ملکوں میں عوام الناس پر ہونے والے ظلم وستم کا نتیجہ تھا کیونکہ مغربی ممالک میں غریبوں کے حق میں مالداروں نے اس قدر ظلم کیا جس کے نتیجہ میں یہ شدت پسند نظریہ وجود میں آیا کہ تمام کام حکومت کے ذمہ ہو،اور حکومت کو ہونے والے عام فائدوں کو تمام لوگوں کے درمیان برابر سے تقسیم کیا جائے تاکہ تمام لوگ اجتماعی زندگی کے امکانات سے بھرہ مند ہو سکیں ، در حقیقت عام زندگی کے امکانات سے تمام لوگوں کا برابر ہونا اور عوام الناس سے ظلم کو دور کرنا؛ معاشرتی ، سیاسی اور معاشی مسائل میں یہ نظریہ سوسیالیسٹ کا ہے جو دس بیس سال پہلے سے کافی رنگ لایا ہے اور میٹریالیزم(۲) " Materialism " نظریہ کے ساتھ نیز فقر وغربت کو دور کرنے اور تمام لوگوں میں مساوات ایجاد کرنے جیسے نعروں کے ذریعہ بڑے بڑے ملکوں میں (قدیم) روس اور چین وغیرہ میں حکومت کرنے لگا اور اس کے بعد سے مالدار ممالک بلوک " Bloc"(۳) کا سخت رقیب مانا جانے لگا۔

چنانچہ اس نظریہ کی جذابیت اور اس کے نعرے ہمارے ملک میں بھی بعض لوگوں کوبھت اچھے لگے اور ایک مدت تک اس نظریہ کی حمایت ہونی لگی، نیز بھت سے افراد اس کے طرفدار بن گئے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گذشتہ زمانہ میں (انقلاب اسلامی سے پہلے) ہمارے ملک میں بھی سوسیالیسٹی اور کمیونسٹی پارٹیاں تشکیل پائیں لیکن انقلاب اسلامی کی وجہ سے اس کی جڑیں ھل گئیں ، اور اس کا بوریا بستر لپٹ گیا، تاریخی تجربہ نے یہ ثابت کیا کہ وہ حکومت (جو مالداروں اور صاحب قدرت لوگوں کو سوء استفادہ کرنے سے روک تھام کے نعرہ سے برسر پیکار آتی ہے ) اس کا سیاسی، اجتماعی اور معاشی معاملات میں تمام کاموں میں ذمہ داری لینا صحیح اور کار آمد نہیں ہے، اور جلد ہی ان کے خاتمہ کا باعث اور کمیونسٹی بلوک کے ممالک کا شیرازہ بکھرنے کا سبب ہے مخصوصاً ہمارے شمالی پڑوسی ملک کا حال سب نے دیکھاکہ کمیونسٹی نظریہ کی اجتماعی اور سیاسی بنیادیں کس طرح ھلیں اور روس جیسی عظیم طاقت کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا اور اس ملک کی شھنشاہیت کا جنازہ نکل گیا۔

قارئین کرام ! مذکورہ نظریہ بھی فلسفہ سیاست میں ایک نظریہ ہے جس کی بنا پر حکومت معاشرہ کے مختلف امور میں زیادہ سے زیادہ دخالت رکھتی ہے ، تاکہ مالداروں اور صاحب قدرت لوگوں کو ناجائز فائدہ اٹھانے سے روکا جاسکے (لیکن ہم اس وقت مذکورہ نظریہ کی کمزرویاں نہیں بیان کرنا چاہتے ) اس کے مقابلہ میں کمیونسٹ " communiste "، سوسیالیسٹ " Socialiste " اورلیبرل نظریات ہیں جن کی بنا پر معاشرہ کے تمام امور خود عوام الناس کے ذمہ ہوتے ہیں ، اور اپنے کام میں آزاد ہوتے ہیں کہ جس طرح چاہیں عمل کریں اس نظریہ میں حکومت معاشرہ کے کاموں میں کم سے کم دخالت کرتی ہے نیز اس کی دخالت ضروری حد تک اور معاشرہ میں بد نظمی کو روکنے کے لئے ہوتی ہے۔

ظاہر سی بات ہے کہ لیبرل نظریہ میں چونکہ عوام الناس اقتصادی، سیاسی اور اجتماعی امور سے مکمل طور پر آزاد ہوتے ہیں اور جو افراد زیادہ امکانات اور قابلیت رکھتے ہیں تو وہ لوگ تمام ہی چیزوں سے خصوصاً معاشی امور میں بھت زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور دوسروں سے مقابلہ جیت جاتے ہیں جس کے نتیجہ میں اقتصادی کاروبار ان کو بھت زیادہ فائدہ پہنچاتا ہے، جبکہ ان کے مقابلہ میں کمزور اور غریب لوگ جن کے پاس کم امکانات ہوتے ہیں وہ مزید غریب اورکمزور ہوتے چلے جاتے ہیں ۔

لوگوں کے درمیان یہ اختلاف اورمعاشرہ کے بھت کم مالدارافراد کا عمومی اور ملی سرمایہ کا مالک بن جانا، نیز معاشرہ کے دوسرے طبقات میں فقر وغربت کا بڑھنا ؛ یہ سب سبب بنتے ہیں کہ عوام الناس اعتراض کرے اور حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے لگیں اور پھر ان کو سیاست میں آنے نہیں دیا جاتا، اس کے بعد کیمونسٹ نظام کا تشکیل پانا جس میں معاشرہ کے غریب لوگوں کا زیادہ دھیان رکھا جاتا ہے لیکن لیبرل ملکوں میں بھی حکومت کے خلاف مظاہروں اور انقلاب سے روکنے کے لئے کم در آمد لوگوں کو کچھ سھولتیں دی جاتی ہیں ۔

اس وقت یورپی ممالک جن کے بھت سے ملکوں میں لیبرل نظام کی حکومت ہوتی ہے ان میں بھی سوسیالیسٹ " Socialiste " پارٹیاں اپنی کارکردگی دکھاتی ہیں ، یہاں تک کہ بعض حکومتوں میں سوسیالیسٹ یاسوسیال ڈیموکریٹک پارٹیاں کامیاب ہوتی ہیں مثلاً انگلینڈ کے پارلیمنٹ کے انتخابات میں ”کارگر پارٹی“کبھی کبھی اکثریت سے کامیاب ہوجاتی ہے صرف اسی وجہ سے کہ اس کا نظریہ سوسیالیسٹ ہے اور اس نظریہ میں غریب اور کم درآمد لوگوں کو خیال رکھا جاتا ہے اور یہ بھی اس وجہ سے ہوتا ہے کہ کھیں معاشرہ کا غریب اور کم در آمد طبقہ حکومت کے خلاف انقلاب برپا نہ کردے؛ کیونکہ جب معاشرہ کے تقریباً سبھی طبقات کے لئے عام سھولتیں مھیا ہوں گی تو پھر غریب عوام الناس حکومت کے خلاف قدم نہیں اٹھائیں گے عوام الناس کی سھولیات میں جن چیزوں کو پیش نظر رکھا جاتا ہے ان میں سے کچھ در ج ذیل ہیں :

۱۔ اپاہج اور بے کار لوگوں کے لئے بیمھ۔

۲۔میڈیکل بیمہ۔

۳۔ سرکار کی طرف سے کم در آمد لوگوں کے لئے مکان بنوانا اور ان کو کم سے کم کرایہ پر دینا۔

حکومتی سیاسی فلسفہ میں ایک دوسرے کے مخالف نظریات پائے جاتے ہیں :

پھلا نظریہ سوسیالیسٹی ہے جس میں معاشرہ کو اصل مانا جاتا ہے اور معاشرہ کے مفاد کو ذاتی مفادپر مقدم کیا جاتا ہے، کیونکہ اس نظریہ میں معاشرہ پر توجہ کی جاتی ہے چنانچہ اس نظریہ کو عملی بنانے کے لئے حکومت کی ذمہ داریوں اور دخالت میں اضافہ ہوجاتا ہے ،اور معاشرہ کے اجتماعی امور میں حکومت کی ذمہ درایوں کا دائرہ وسیع ہوجاتا ہے تاکہ عمومی سرمایہ کو غارت ہونے اور غریب و مستضعف لوگوں پر ظلم وستم ہونے سے روک تھام کرسکے۔

دوسرا نظریہ لیبرل ہے جس میں خاص دلیلوں کے تحت اس چیز پر اعتقاد رکھا جاتا ہے کہ حکومت کو معاشرہ کے امور میں کم سے کم دخالت کرنی چاہئے۔

قارئین کرام ! آج کل تقریروں ، اخباروں ، مقالوں اور کتابوں میں جو لکھا جاتا ہے کہ حکومت کو کم سے کم یا زیادہ سے زیادہ دخالت کرنی چاہئے انہیں دو نظریات کی بنا پر ہے اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ یورپی اور مغربی ممالک میں اکثر لیبرل نظریہ پایا جاتا ہے اور ایسی حکومتوں میں (وہ ادارے بھی جو ہمارے ملک میں سرکاری ہوتے ہیں ) اکثر ادارے پرائیویٹ ہوتے ہیں ، مثلاً مذکورہ ممالک میں محکمہ ڈاک یا محکمہ ٹیلی فون سرکاری نہیں ہوتے بلکہ پرائیویٹ ہوتے ہیں ، اور ڈاک کا سارا کام، نیز مختلف شھروں میں فون وغیرہ کی خدمات پیش کرنا پرائیویٹ کمپنیاں کرتی ہیں ، وھاں پر حکومت صرف منصوبہ بندی اور نظارت کرتی ہے اسی طرح بجلی،پانی اور معاشرہ کے دیگر ضروریات کو پرائیویٹ کمپنیاں کرتی ہیں لیکن ہمارے ملک میں یہ چیزیں حکومت کے ذمہ ہوتی ہیں ۔

۷۔ اسلامی نظریہ کے تحت حکومت کیسی ہونا چاہئے

قارئین کرام ! یہاں پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ نظریات میں سے اسلام کس نظریہ کو مناسب سمجھتا ہے؟ کیا حکومت کی وسیع پیمانے پر دخالت کو پسند کرتا ہے یا حکومت کی کم سے کم دخالت اور معاشرہ کے امور کو عوام لناس کے سپرد کرنے کو پسند کرتا ہے؟ جیسا کہ ہم نے پہلے جلسے میں عرض کیا کہ عوام الناس کا وسیع پیمانے پر مختلف میدان میں شرکت کرنا حقیقت میں ”جامعہ مدنی“ کے ایک معنی میں سے ہے، اور اس معنی کے لحاظ سے اجتماعی کاموں کو خود عوام الناس پر چھوڑ دیا جانا چاہئے کیونکہ جب ہم اسلامی اصول کی بنیاد پر حکومت کے سلسلہ میں اسلامی نظریہ کو دریافت کرنا چاہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں اسلام کا رویہ درمیانی ہے؛جو آرزوں اور حقیقت دونوں میں شامل ہوتا ہے۔

وضاحت:

بھت سی وہ تھیوری جو یونیورسٹیوں ، حوزات علمیہ یا دیگر جلسوں میں بیان ہوتی ہیں ؛بھت اچھی اور دلربا ہوتی ہیں ، لیکن ایک لحاظ سے یہ فقط خیالی اور آرمانی ہوتی ہیں جن کا عملی

میدان میں کوئی وجود نہیں ہوتا مثلاً یہ مفروضہ کہ عوام الناس کا کرداراتنا بلندکرنے کے لئے کوشش کی جائے تاکہ پھر وہ قانون کی خلاف ورزی نہ کرے اور پھر ان کو کسی روکنے والے قانون یا حکومت کی ضرورت نہیں ہے اس فرضیہ کا تصوربھت اچھا ہے؛ لیکن عملی میدان میں کیا کبھی ایسا ہوسکتا ہے اور وہ بھی اس حد تک کہ اس کو مجری قانون (حکومت) کی کوئی ضرورت نہ ہو دوسری طرف اس وجہ سے کہ معاشرہ میں ہمیشہ قانون کی خلاف ورزی ہوتی رہی ہے یہ بات بھی قابل قبول نہیں ہے کہ حکومت کی طرف سے اتنی سختی کی جائے کہ پھر کوئی قانون شکنی کی ہمت نہ کرسکے جیسا کہ بعض مارکسسٹ " Marxist " ، فاشیسٹ(۴) " Fasciste " اور پولیس کی حکومتوں میں ہوتا ہے کہ سرکاری قوانین پر شدت کے ساتھ عمل کیا جاتا ہے، اور پولیس اور فوج اس طرح سے مجرموں کے ساتھ برتاؤ کرتی ہے کہ (اس کو دیکہ کر) پھر کوئی قانون شکنی کی ہمت نہیں کرتا جس کا نمونہ ہمارا پڑوسی ملک عراق ہے جس نے ہم کو ۸ سال تک جنگ کرنے پر مجبور کیا کیونکہ اس ملک میں فوجی حکومت ہے جو ہر قسم کی مخالفت اور اعتراض کا گلا گھونٹ دیتی ہے یہاں تک کہ اگر کسی سے کوئی چھوٹی سی بھی حرکت خلاف قانون دیکھی گئی تو اس کو عدالت کے فیصلہ کے بغیر ہی گولی ماردی جاتی ہے یا کسی دوسرے طریقہ سے اس کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔

معاشرہ کے غریب اور کم در آمد لوگ جس وقت رشوت اورمھنگائی کا بازار گرم دیکھتے ہیں اور ان کے سامنے مشکلیں آتی ہیں تو یہ آرزو کرتے ہیں کہ اے کاش ان رشوت خور اور گران فروش لوگوں سے شدت کے ساتھ برتاؤ کیا جائے اور ان میں سے چند لوگوں کو سزائے موت دیدی جائے تاکہ پھر کوئی رشوت خوری اور گرا نفروشی کی جرات نہ کرے!! اس طرح کے واقعیات سوسیالسٹی ممالک میں آئے دن ہوتے رہتے ہیں ۔

لیکن ہمیں اس سلسلہ میں اسلامی نظریہ دیکہنا چاہئے کہ اسلام مجرموں اور خلاف ورزی کرنے والوں سے شدت کے ساتھ برتاؤ کو کیسا سمجھتا ہے؟ کیا اسلامی نظریہ کے تحت مجرموں سے اس قدر شدت کے ساتھ پیش آنا صحیح ہے کہ اس کے بعد کوئی بھی خلاف ورزی کی جرات نہ کرے؟ یا مجرموں کے ساتھ اس قدر شدت نہ کی جائے بلکہ ان کو حتی الامکان آزادی دی جائے حکومت کی دخالت اور قوانین کا لاگو کرنا صرف معاشرہ میں آشوب اور ظلم وستم سے روک تھام کے لئے ہو۔

قارئین کرام ! قرآن کریم اور احادیث شریف سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اسلام کی نظر میں اسلامی حکومت ایک درمیانی اور معتدل راستہ اختیار کرے۔

اسلام کے فوجداری قوانین؛ بعض جرائم ، اور بعض عفت کے منافی اعمال پر بھت سخت سزا ئیں معین ہیں ، لیکن اسلام ان جرائم کو ثابت کرنے کے لئے خاص شرائط اور بعض محدویت کا قائل ہے جن کی وجہ سے صرف کم ہی جرائم عملی میدان میں ثابت ہوسکیں ، اور ان قوانین کے نتیجہ میں سخت سزائیں بھت کم ہی موارد (مثلاً سال میں ایک یا دو مورد) میں دی جاتی ہیں ۔

مثلاً قرآن مجید میں چور کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا ایْدِیَهمَا جَزَاءً بِمَا کَسَبَا ) (۵)

”چور مرد اور چور عورت دونوں کے ھاتہ کاٹ دو کہ یہ ان کے لئے بدلہ ہے “

( الزَّانِیَةُ وَالزَّانِی فَاجْلِدُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِنْهمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَلاَتَاخُذْکُمْ بِهمَا رَافَةٌ فِی دِینِ اللهِ إِنْ کُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَلْیَشْهدْ عَذَابَهمَا طَائِفَةٌ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ ) (۶)

” زنا کار عورت او رزنا کار مرد دونوں کو سو سو کوڑے لگائیں اور خبردار ! دین خدا کے معاملہ میں کسی مروت کا شکار نہ ہوجانا اگر تمھارا ایمان اللہ اور روز آخرت پر ہے اور اس سزا کے وقت مومنین کی ایک جماعت کو حاضر رہنا چاہئے۔“

لیکن اس طرف سے اسلام نے زنا کے ثابت ہونے کے شرائط بھت سخت قرار دئے ہیں کیونکہ اسلام کا حکم یہ ہے کہ زنا کرنے والے کو یہ سزا اس وقت دی جاسکتی ہے جبکہ چارشاہد (گواہ) عادل اپنی آنکھوں سے زنا ہوتے دیکھیں اور گواہی دیں ،اور سب کے سب گواہی دینے کے لئے عدالت میں حاضر ہوں ، اور اگر چاروں عادل گواہی دینے کے لئے عدالت میں حاضر نہ ہوئے تو نہ صرف جرم ثابت نہیں ہوگا بلکہ ان پر ”حدّقذف “(۷) جاری ہوگی، کیونکہ ان کی گواہی قابل قبول نہیں ہے اور خود ان کو ایک مومن پر تھمت لگانے کے جرم میں کوڑے لگائے جائیں گے۔

اسی طرح اسلام اجتماعی مسائل میں ، حکومت کو معاشرہ کی تمام ہی ضرورتوں کو پورا کرنے یہاں تک کہ غیر ضروری ضرورتوں کو پورا کرنے کا ذمہ دار نہیں ٹھھراتا اور نہ ہی حکومت کو مکمل طریقہ پر دخالت سے روکتا ہے؛ بلکہ حکومت کی دخالت زمان ومکان کے لحاظ سے ہوتی ہے اور معاشرہ کی بعض ضرورتوں کو پورا کرنے کا ذمہ دار ٹھھراتا ہے۔

کبھی کبھی اس طرح کے حالات پیدا ہوتے ہیں کہ ”جامعہ مدنی“ کی شکل ”مدینة النبی“ کی شکل پر ہو جس کی بنیاد یہ ہے کہ جو کام عوام الناس خود انجام دے سکتے ہوں ، تو اس میں خود اپنی مرضی سے شرکت کریں مثلاً تعلیم وتربیت، بجلی، پانی وغیرہ جیسی ضرورتوں کا خود انتظام کریں ؛ مگر بعض خود غرض اور فرصت طلب افراد ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتے ہوں اور ان کا لالچ اوردوسروں کے حقوق کو غصب کرنے کی وجہ سے معاشرہ کے غریب طبقہ کو ان کے حقوق سے محرومی کا سبب ہوتا ہو تو اس صورت میں حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ خود غرض اور مالدار لوگوں سے مقابلہ کرنے کے لئے اجتماعی میدان میں اترے، اور کمزور لوگوں کے حقوق کا دفاع کرے، یا دوسرے طریقوں سے اپنا کردار نبھائے:

مثلاً اگر پرائیویٹ کمپنی ٹیلیفون خدمات بھت مھنگی کردے تو پھر حکومت کواپنی طرف سے جو سستے داموں میں ٹیلیفون خدمات پیش کرے یا خدمات کرنے والے محکموں کو کلی طور پر اپنے ذمہ لے لے۔

۸۔ متحد حکومتوں کے نقائص

قارئین کرام ! مذکورہ نظریہ کی بنا پر اسلامی نظریہ کی اصل یہ ہے کہ معاشرہ کی ضرورتیں خود عوام الناس کے ذریعہ پوری ہوں ، لیکن اگر خود غرض، فائدہ پرست اور مال ودولت کے لالچی افراد یا اس طرح کے گروہ کی وجہ سے دوسروں کے حقوق ضائع ہورہے ہوں تو پھر حکومت کو عملی میدان میں اترنا چاہئے، اور مناسب طریقہ کار، زمان ومکان کے لحاظ سے مصلحتوں کی رعایت کرتے ہوئے؛ خلاف ورزیوں سے روک تھام کے لئے ضروری قدم اٹھائے کیونکہ یہی راستہ درمیانی اور معتدل ہے، کیونکہ عملی طریقہ سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ معاشرہ کی تمام فعالیتوں کو حکومت کے ذمہ قرار دینا؛ بھت سی دلیلوں کی بنا پر صحیح اور مفید نہیں ہے مثلاً اگر حکومت ؛معاشرہ کی تمام ہی ضرورتوں کو پورا کرنا چاہے تو پھر اس کو بھت بڑے سسٹم کی ضرورت ہے اور تقریبا (بیس فی صد ) لوگوں کو سرکاری نوکریاں دینی پڑینگی اور اس طرح کے طریقہ کار پر تین اشکال ہوتے ہیں :

پھلا اشکال:

اگر تمام ہی کام سرکاری طریقہ سے انجام دئے جائیں تو پھر حکومت کو ایک بھت بڑے خرچ کی ضرورت ہے نیز معاشرہ کے لئے بھی بھت سی مشکلات پیش آسکتی ہیں ۔

دوسرا اشکال:

(یہ اہم اشکال ہے) جس وقت اس طرح کا بھت بڑا سسٹم بنے تو اس کے درمیان خلاف ورزی بھی زیادہ ہوگی، جس وقت کم، محدود اور بہتر ین افراد پر یہ سسٹم مشتمل ہو تو اس میں خلاف ورزی بھی کم اور بھت معمولی ہوگی، لیکن اگر ایک عظیم سسٹم بنایا گیا اور تمام امور میں دخالت کرنے کا حق اس کو ہوگیا تو پھر اس میں خلاف ورزی اور ناجائز فائدہ اٹھانے کے امکانات بھی زیادہ ہوجائیں گے مثال کے طور پر اگر حکومت مھنگائی روکنے کے لئے کوئی ادارہ بنائے جو دکانوں پر جاکر اس سلسلہ میں رپورٹ تیار کرکے حکومت تک پہنچائے لیکن اگر ہر دکان کے لئے ایک معائنہ کرنے والا معین کرے تو پھر آپ اندازہ لگائیں کہ کتنے لوگوں کو نوکری دینی ہوگی، اس کے علاوہ ان کے درمیان بھی خلاف ورزی زیادہ ہوں گی، اور ان میں سے بھت سے لوگ دکانداروں سے رشوت لیں گے تاکہ ان کے خلاف رپورٹ نہ بھیجیں جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ حکومت کو ان معائنہ کاروں پر ایک اور ادارہ بنانے کی ضرورت ہوگی۔

جبکہ تجربہ سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اس طرح کی منصوبہ بندی کامیاب نہیں ہوئی ہے اور اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہوا ہے بلکہ خلاف ورزیوں اور رشوت خوری میں اضافہ ہوا ہے۔

تیسرا اشکال:

یہ اشکال(بھی) اسلام کی نظر سے اہم ہے ، کیونکہ اسلام اس لئے آیا ہے کہ عوام الناس اپنی مرضی اور اختیار سے خود سازی اور نیک کام میں رغبت حاصل کریں ، طاقت کے بل بوتے پر نہیں کیونکہ انسان کا کام اس وقت با اہمیت ہوتا ہے جب وہ اپنی مرضی اور اختیار سے انجام دے، لیکن اگر کسی کام کو مجبوری میں انجام دیا ہے تو پھر اس کام پر وہ معنوی اثر نہیں ہوگا جو اسلام چاہتا ہے اور اصلی مقصد پورا نہیں ہوگا۔

حوالے

(۱)ٹوٹالیٹر اس حکومت کو کھتے ہیں جو ایک گروہ کے نفع می ں قوانین بنائے اور اپنے مخالفین کو مخفی پولیس وغیرہ کے ذریعہ نابود کرنے کی درپے ہو، (مترجم)

(۲) وہ مادی فلسفہ جو معنویات کا منکر ہے اور صرف مادہ کو پہنچانتے ہیں نیز خلقت کائنات کو مادہ کے اجزاء کی حرکت سے جانتے ہیں ،(مترجم)

(۳ ) وہ چند متحد ملک جن کی سیاسی روش ایک ہو ( مترجم)

(۴)(ظالمانہ طریقہ حکومت، جو پہلی عالمی جنگ کے بعد اٹلی می ں رائج تھا لیکن آج کل ڈکٹیٹر شب " Dictaorship " کے معنی می ں استعمال ہوتا ہے، (مترجم )

(۵)سورہ مائدہ آیت ۳۸

(۶)یسورہ نور آیت ۲

(۷) ” حدّ قذف “ زنا کی تھمت لگانے والے پر ۸۰ کوڑے لگائے جاتے ہیں ،جس کی صراحت سورہ نور کی آیت نمبر ۴ می ں وارد ہوئی ہے (مترجم)


اٹھائیسواں جلسہ

اسلامی حکومت اور جائز آزادی اوراقدار کی رعایت کرنا

۱۔ حکومت کی ضرورت پر ایک اشارہ

گذشتہ جلسوں میں قوہ مجریہ (حکومت) کے فلسفہ پر گفتگو ہوئی،تاکہ اس کے سمجھنے کے بعد یہ معلوم ہوجائے کہ حکومت کے وظائف اور کیا کیا شرائط ہیں ،اور اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لئے کیا شرائط ہونے ضروری ہیں ؟ اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا حکومت کے فرائض میں سے ایک فریضہ قوانین کو جاری کرنے کی ضمانت ہے، جو دنیا بھر کی تمام حکومتوں میں مقبول ہے، اسی طرح اسلامی حکومت میں بھی جس میں قوانین یا تو براہ راست شریعت مقدسہ سے لئے جاتے ہیں یا وہ قوانین ان افراد کے ذریعہ مرتب ہوتے ہیں جن کو شریعت کی طرف سے اجازت حاصل ہوتی ہے، لھٰذا قوانین کو جاری ہونا چاہئے پہلے درجہ میں خود عوام الناس کو قوانین پر عمل کرنا چاہئے اور ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت اور اپنے وظائف پر عمل کرنا چاہئے، نیز معاشرتی، گھریلو اور بین الاقوامی روابط؛ اسلامی قوانین کے تحت ہونے چاہئیں ۔

اپنے وظائف کو انجام دینے اور اجتماعی قوانین پر عمل پیرا ہونے کے لئے ایک مصمم ارادہ ہونا چاہئے ، کیونکہ عوام الناس پہلے اپنے ذاتی مفاد کے بارے میں سوچتے ہیں اور اجتماعی امور کے بارے میں کم ہی فکر کرتے ہیں ، خصوصاً اس وقت جبکہ اجتماعی امور انجام دینے میں ان کا کوئی خرچ یا نقصان ہو،اس صورت میں ان کے درمیان بھت کم رجحان پایا جاتا ہے، مگر وہ افراد جو بہتر ین تربیت یافتہ ہوں اور معاشرہ کے فوائد کو اپنے مفاد پر ترجیح دیتے ہوں اس بنا پر اجتماعی امور میں اکثر خلاف ورزی اسی بنیاد پر ہوتی ہے کہ عوام الناس میں اجتماعی ذمہ داریوں کا زیادہ احساس نہیں پایا جاتا، اسی وجہ سے کچھ لوگوں کا ان قوانین کو جاری کرنے کی ضمانت اپنے ذمہ لینا ضروری ہے تاکہ عوام الناس کو اجتماعی قوانین پر عمل کرنے کے لئے آمادہ کریں ،اور مخالفت کرنے کی صورت میں ان کو سزا بھی دلائیں ۔

لھٰذا ایسی حکومت کا ہونا ضروری ہے جو(ضرورت کے وقت) اپنی طاقت کے ذریعہ ان قوانین پر عمل کرائے، اور جیسا کہ ہم نے پہلے بھی عرض کیا کہ ہر معاشرہ میں شروع ہی سے اس کی ضرورت کے تحت قوانین بنائے جاتے ہیں ، مثلاً اگر کوئی شخص کسی کے مال کو غصب کرنا چاہے تو اس کی سزا معین کی جاتی ہے تو اگر کسی نے اس قانون پر عمل نہ کیا اور دوسرے کے مال پر ھاتہ بڑھایا تو قانون کے رکھوالے اس کو سزا دیتے ہیں بعض حالات میں بات واضح نہیں ہوپاتی جس کے نتیجہ میں اختلاف اور کشمکش پیدا ہوتی ہے یہاں تک کہ بعض موقع پر ایسے حالات بن جاتے ہیں کہ طرفین میں سے کوئی ایک بھی خلاف ورزی نہیں کرنا چاہتا لیکن چونکہ حق (بات) ظاہر نہیں ہے لھٰذا اپنے وظیفہ کو معین کرنے میں غلطی کرجاتے ہیں ، ایسے ہی حالات کے لئے ”قوہ قضائیھ“ (عدالت) کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے تاکہ وہ قوانین کو ان کے مصداق پر منطبق (ٹیلی) کرے اور یہ طے کرے کہ کون حق پر ہے؟ اور اگر عدالت کی طرف سے فیصلہ ہونے کے بعد طرفین میں پھر بھی اختلاف باقی رہا اور اس فیصلہ کو نہ مانا تو اس موقع پر پولیس کے ذریعہ اس فیصلہ کو منوایا جاتا ہے لھٰذا یہ (بھی) طے ہوگیا کہ عدالت کا ہونا بھی ضروری ہے، البتہ ہمارے بیان کے مطابق عدالت کو قوہ مجریہ کے تحت ہونا چاہئے، لیکن بھت سے سیاسی فلاسفہ کے نزدیک قوہ قضائیہ کوحکومت اور پارلیمنٹ سے مستقل ہونا چاہئے۔

اس تقسیم کے تحت پارلیمنٹ کا کام قوانین بنانا، افراد کے حقوق کو معین کرنا اور خلاف ورزی کرنے والوں کی سزا معین کرنا ہے، مثال کے طور پر پارلیمنٹ کے ذریعہ قانون معین کیا جاتا ہے کہ فلاں خرید وفروخت صحیح ہے یا باطل ہے، اس کے بعد مقرر شدہ قوانین کے تحت معاملہ ہوتا ہے لیکن اگر اس قانون کے منطبق کرنے میں شک ہو جائے اور معلوم نہ ہوسکے کہ معاملہ صحیح ہے تاکہ لین دین ہوسکے، یا باطل ہے؛ المختصر یہ کہ طرفین کے درمیان اختلاف ہوجائے تو اس صورت میں عدالت جانا ہوگا اور چونکہ عدالت کی ذمہ داری کلی قوانین کو ان کے مصادیق پرمنطبق کرناہے اور قاضی کے فیصلہ کے بعد معلوم ہوجاتا ہے کہ مثلاً زید ، خالد کو فلاں مقدار میں مال دے ، تو اگر طرفین نے یہ فیصلہ مان لیا ہے اور قانون کے مطابق عمل کیا تو ان کے درمیان معاملہ ختم ہوجائے گا ، ورنہ حکومت کو درمیان میں آنا ہوگا اور پویس کے ذریعہ زید سے مال لے کر صاحب حق (خالد) کو دینا ہوگا۔

ہم نے عرض کیا کہ حکومت کے اصل وظائف میں سے ایک وظیفہ اجتماعی قوانین اور احکام کو جاری کرنے کی ضمانت ہے، لیکن اس بات پر بھی توجہ رہے کہ قوانین جاری کر نا فقط حکومت میں منحصر نہیں ہے بلکہ دوسروں (عوام الناس) کو بھی قوانین جاری کرنے چاہئیں ،جس طرح سے حکومت کی ذمہ داری صرف قوانین کو جاری کرنا نہیں ہے بلکہ وہ بعض مواقع پر قوانین بھی بنا سکتی ہے جیسا کہ ”تفکیک قواہ“ (تینوں قدرتوں کا مستقل ہونا) کی بحث میں بیان کریں گے، کیونکہ قانون گذاری اور قوانین کو جاری کرنے میں جدائی ممکن نہیں ہے اور ان کے درمیان رابطہ دنیا کی تمام ہی حکومتوں میں مقبول ہے، یعنی درحالیکہ حکومت کا کام قوانین کا جاری کرنا ہے لیکن بعض مواقع پر قوانین اور مقرارات بھی بنانے ہوتے ہیں دوسری طرف پارلیمنٹ بھی بعض اجرائی کاموں میں دخالت کرتا ہے اور بعض موارد میں بعض اجرائی امور پارلیمنٹ میں طے پاتے ہیں ؛ مثال کے طور پر تیل وغیرہ کے سلسلے میں دوسری حکومتوں اور بیرونی کمپنیوں سے معاملہ کرنا جبکہ معاملہ کرنا ایک اجرائی کام ہے، لیکن بغیر پارلیمنٹ کے طے کر نا ممکن ہے لھٰذا ان قدرتوں کے درمیان کوئی سرخ خط (لائن) نہیں ہے،جس سے ایک دوسرے کے کاموں میں بالکل دخالت نہ کرسکے، نہ حکومت قوانین بنانے کی قدرت رکھتی ہو اور نہ پارلیمنٹ اجرائی امور میں دخالت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، بھر حال یہ قدرتیں اپنے مخصوص مختلف کام رکھتی ہیں ۔

اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ مذکورہ تکونی تقسیم (قوہ مجریہ، قوہ قضائیہ اور پارلیمنٹ )دنیا کی تمام ہی حکومتوں میں مقبول ہے، لیکن اسلامی حکومت قانون گذاری کے سلسلہ میں دوسری حکومتوں سے مختلف ہے: لائیک حکومتوں میں قانون گذاری کا معیارلوگوں کے دنیاوی اور اجتماعی امور ہوتے ہیں ، لھٰذا قانون کو طے کرنے کے علاوہ ان کو جاری کرنے کا سلیقہ بھی اسی لحاظ سے ہوتا ہے لیکن اسلامی نقطہ نظر سے قانون گذاری میں دنیاوی امور کے علاوہ اُخروی اور معنوی مصالح کو بھی نظر میں رکھا جاتا ہے، بلکہ قوانین مرتب کرتے وقت معنوی مصالح کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اسلامی حکومت اور سیکولر اور لائیک حکومتوں میں یہی بنیادی اور اصل فرق ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ ایسی (اسلامی) حکومت کی ذمہ داری بھی دوسری حکومتوں کے نسبت زیادہ ہوتی ہے؛ یعنی (اسلامی) حکومت لوگوں کو اجتماعی امور کی رعایت کرنے اور ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنے سے روکنے نیز ہرج ومرج (بد امنی)سے روک تھام کے علاوہ اسلامی اقدار کی بھی رعایت کرے اور ان کو جامہ عمل پھنائے۔

۲۔ انسانی کردار میں اصل اوّلی

اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ انسان کی مہم اور برجستہ صفات میں سے انتخاب اور اختیار کی قوت ہے، اسی وجہ سے انسان؛ حیوانات اور فرشتوں سے فرق رکھتا ہے: کیونکہ حیوانات کے کام ان کی شھوت کے تحت ہوتے ہیں جن میں انتخاب کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی اور اگر اتفاقی طور پر انتخاب ہوتا بھی ہے تو وہ بھی شھوت کی وجہ سے ہوتا ہے یعنی ان کا انتخاب عقل وفکر کی بنیاد پر نہیں ہوتا اگر ہم دیکھتے ہیں کہ کسی حیوان کی تربیت کے ذریعہ اس کو بعض چیزیں سکھادی جاتی ہیں اور وہ اپنے مالک (مربی) کے اشارہ کے مطابق کام کرتا ہے یا کسی گھوڑے کی ایسی تربیت کی جاتی ہے جس سے وہ مالک کے بتائے ہوئے راستہ پر ہی چلتا ہے ؛ تو اگرچہ یہاں پر (حیوان کی طرف سے) انتخاب ہوتا ہے لیکن یہ انتخاب بھی غرائز اور شھوات کی بنا پر ہوتا ہے۔

لیکن فرشتوں میں ملکوتی اور آسمانی صفات ہوتے ہیں ، ان میں گناہ ومعصیت اور حق کی خلاف ورزی کا مادہ نہیں پایا جاتا ان کا شمار مقدسین اور مقربین میں ہوتا ہے ان کا مقام؛ عالی اور پاک وپاکیزہ ہوتا ہے، لیکن ان میں بھی انتخاب کا مادہ نہیں ہوتا، حقیقت میں ان کے اندر عبادت اور خداوندعالم کی بے چون وچرا اطاعت کا مادہ پایا جاتا ہے لیکن یہ انسان ، خلیفہ خدا اور امانت الہی کا حامل ایک الگ ہی مخلوق ہے اس کے سامنے ہمیشہ دو راستے اور دو جاذبے سامنے رہتے ہیں ایک خدا کی طرف اور دوسرا شیطان کی طرف ان میں سے ایک راستہ کو انتخاب کرنے کی صلاحیت اس میں ہونا چاہئے، ورنہ اگر اس سے انتخاب کی قدرت سلب کرلی جائے اور مجبوراً کسی ایک راستہ پر لگا دیا جائے تو اس میں انسانی خصوصیات اور امتیازات ختم ہوجائیں گے۔

لھٰذا انسانی کردار اور اس کی تربیت میں چاہے وہ انفرادی مسائل میں ہو یا گھریلو مسائل میں اور چاہے اجتماعی اور بین الاقوامی مسائل ہوں سبھی میں اس کے لئے انتخاب کی راہ ہموار ہونا چاہئے تاکہ اپنے انتخاب کے ذریعہ صحیح راستہ کو اپنائے؛ نہ یہ کہ اس پر کوئی راستہ تھونپ دیا جائے لیکن کبھی کبھی اجتماعی مسائل انسان پر سختی کا تقاضا کرتے ہیں در حقیقت قوہ مجریہ اور حکومت ایک ثانوی مصالح کی بنا پر ہے نہ اصل اولی کی بنا پر،یعنی اگر ہم یہ کھتے ہیں کہ معاشرہ کے لئے ایک حکومت کا ہونا ضروری ہے تاکہ وہ قوانین کو نافذ کرے یہاں تک کہ بعض حالات میں حکومت اپنی قدرت کے بل بوتے پر مجرموں کو بھی قوانین کی رعایت کرنے پر مجبور کرے، یہ اصل اولی کے برخلاف ہے کیونکہ اصلی اولی یہ ہے کہ قانون عوام الناس کے اختیار میں ہو وہ اپنی مرضی اور اپنے ارادے سے اس پر عمل کریں اور کوئی (بھی) اس کی مخالفت نہ کرے، کوئی شخص بھی ایک دوسرے پر ظلم نہ کرے، رشوت نہ لے، چوری نہ کرے اور لوگوں کی جان و مال پر ھاتہ نہ بڑھائے لیکن اگر دیکہنے میں یہ آیئے کہ ہمیشہ معاشرہ میں اس طرح کی خلاف ورزی ہوتی رہی ہیں ، تو اس صورت میں پولیس کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ قانون کی خلاف ورزی ہونے سے روک تھام کرے لیکن اگر ایسا نہ ہو تو پھر پوری دنیا میں تباہی اور فساد پھیل جائے گا اور جو افراد صحیح راستہ پر چلنا (بھی) چاہتے ہیں ان کے لئے راستہ بند ہوجائے گا۔

لھٰذا معاشرہ کی اکثریت کے لئے صحیح راستہ کے انتخاب کی راہ ہموار رہنے کے لئے جرائم پیشہ اور خلاف ورزی کرنے والوں کی روک تھام ضروری ہے اور ضرورت کے تحت ان کو سزا بھی دینا ہوگی تاکہ ترقی او رپیشرفت کا موقع فراہم رہے، ورنہ بعض جسمانی یا علمی قدرت اپنی شیطانی چالوں کی بنا پر معاشرہ کے مصالح کو خطرہ میں ڈال دیں گے جس سے انسان کو پیدا کرنے کا الہی مقصد پامال ہوجائے گا۔

یہ بات بجا ہے کہ انسان کو آزادی اور اختیار کی بنا پر صحیح راستہ کا انتخاب کرنا چاہئے لیکن یہ آزادی نامحدود نہیں ہے اور دوسروں کو اتنا اختیار نہیں دینا چاہئے تاکہ وہ دوسروں کے انتخاب کا راستہ ہی بند کردیں ، اور قرآنی اصطلاح کے مطابق دوسروں کو خدائی راستہ پر چلنے سے روک دیں ۔(۱)

لھٰذا طے یہ ہوا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کا سد باب کیا جائے تاکہ وہ مومنین کو خدا کے راستہ پر چلنے سے نہ روکیں ، لیکن اس بات پر بھی توجہ رہے کہ خلاف ورزی کی روک تھا م اورقوانین کو جاری کرنے کے لئے حکومت کے زور اور طاقت کا استعمال بھی خاص قوانین کے تحت اور بھت ہی ظرافت اورباریکی کے ساتھ ہونا چاہئے جن مواقع پر اسلام معاشرہ کے فوائد کے پیش نظر طاقت اور زور کے استعمال کی اجازت دیتا ہے اسی کے ساتھ ساتھ اس بات کا دھیان بھی رکھتا ہے کہ اس وقت بھی انتخاب کی راہ مسدود نہ ہونے پائے، خلاف ورزی کرنے والے کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا رہے مگر جرم اتنا خطرناک ہو کہ معاشرہ کے مصالح وفوائد کی حفاظت کرنے اور معاشرہ میں فساد وتباہی سے روک تھام کی غرض سے مجرم کو سزائے موت دینا پڑے۔

۳۔ سزا دینے کے سلسلہ میں اسلام کا تربیتی پہلو

اسلام نے بعض جرائم کے لئے بھت سخت سزا معین کی ہیں ، لیکن ان کو ثابت کرنے کے بھی سخت طریقہ پیش کئے ہیں جن سے جرم کا ثابت کرنا بھت مشکل ہوتا ہے دوسری طرف اگر کوئی خطرناک جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے لئے سزابھی ایسی ہی سخت معین کی ہے تاکہ دوسروں کے لئے بھی عبرت ہو اور وہ اس کو دیکہ کر اس طرح کے جرائم کا ارتکاب نہ کریں کیونکہ سزا کے فلسفہ میں ایک حکمت یہ ہے کہ لوگ اس سزا کو دیکہ کر عبرت حاصل کریں جس کے نتیجہ میں جرائم کم سے کم ہوں لھٰذا اس مقصد تک پہنچنے کے لئے جرم کے لحاظ سے سزا بھی ہونا چاہئے اور خطرناک جرائم کے لئے سزا بھی سخت سے سخت ہونا چاہئے، مثال کے طور پر چوری کے لئے کم سزا معین کی جائے مثلاً ایک مقدار جرمانہ یا کم مدت کے لئے قید، اس طرح جو لوگ چوری کرتے ہیں ان کے لئے وہ سزا (ایک حد تک) آسان ہو ، تو اس صورت میں معاشرہ میں ہونے والی چوریوں کو نہیں روکا جاسکتا، جس کے نتیجہ میں خداوندعالم نے سزا کی جو حکمت رکھی ہے وہ پوری نہیں ہوگی۔

لیکن اگر جرائم ثابت کرنا آسان ہوجائے اور لوگوں کو آسانی سے سزا ہوجایا کرے تو پھر معاشرہ میں سزا زیادہ ہوجائے گی کیونکہ بھت سے لوگ جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں ، جس کے نتیجہ میں بھت سے خاندان کی حیثیت اورآبرو خاک میں مل جائے گی، اسی وجہ سے اسلام نے جرم کو ثابت کرنے کے طریقوں کو سخت قرار دیا ہے مثلاً زنا کے سلسلہ میں اسلامی سزا سخت ہے یہاں تک کہ اسلام نے حکم دیا ہے کہ زنا کار مرد اور عورت کو عوام الناس کے سامنے سزا دی جائے اور انسانی احساسات اور ہمدردی ”حدود الٰھی“ (اسلامی سزا) کے آڑے نہ آئیں معاشرہ سے اخلاقی برائیوں کو دور کرنے کے لئے زنا کی سزا عوام الناس کے سامنے دی جائے، ایسا نہ ہو کہ کسی مسلمان کی عزت وآبرو کے خیال سے اس کو چھوڑ دیا جائے لیکن دوسری طرف سے جرم کو ثابت کرنے طریقے ایسے سخت قرار دئے ہیں تاکہ کم ہی لوگوں کے جرم ثابت ہوں ، اور کم ہی افراد سزائے اعمال تک پہنچ پائیں ۔

زنا کے سلسلہ میں اسلام کا حکم یہ ہے کہ چار عادل افراد گواہی دیں کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے ان کو زنا کرتے دیکھا ہے، یہاں تک کہ اگر تین افراد گواہی دیں اور چوتھا آدمی گواہی کے لئے نہ ہو تو ملزم کو بری کردیا جائے گا اور قاضی ان تینوں کو سزا دے گا اور ان پر ”حد قذف“(۲) جاری ہوگی۔

اسلامی احکام میں اس طرح کی ظرافت ، باریکی اور دقت خصوصاً سزا کے سلسلہ میں اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسلام کامقصد بلند وعالی اہداف کو جامہ عمل پھنانا اور عالی ترین اقدر کی رعایت کرنا ہے نیز معاشرہ کی حقیقتوں کی رعایت کرنا بھی ہے، اور صرف خیالی اور تصوراتی چیزوں پر اکتفاء نہیں کرتا در حقیقت معاشرہ کی ترقی کے لئے اسلامی طریقہ کار وہی ‎ ہے جس کو اسلام نے معین کیا ہے اور وہ ”آرمان گرائی“ (خیالی اور تصوراتی دنیا) اور ”واقع گرائی“ (حقیقت) کا درمیان راستہ ہے جس میں دونوں چیز شامل ہیں اسلام بلند اقدار کی رعایت ضروری مانتا ہے اور اس معاشرے کے اقدار کوخطرہ میں پڑ جانے کی اجازت نہیں دیتا؛ جیسا غیر اسلامی معاشرہ میں کیا کیا فسادات نظر نہیں آتے جس سے بھت زیادہ فساد اور بھت سی رسوائی سامنے آتی ہیں لھٰذا اسلامی معاشرہ کو ان برائیوں سے دور رکہنے کے لئے مجرموں کے لئے سخت سزا مقرر کی گئیں ہیں ،دوسری طرف اسلام واقع گرا ہے اور یہ جانتا ہے کہ معاشرہ میں بعض لوگوں سے جرائم ہوں گے اسی وجہ سے حتی الامکان ان جرائم کو ثابت نہ ہونے کے لئے سخت طریقہ کار مقرر کئے ہیں الغرض قانون جاری ہونا چاہئے اور ان کو جاری کرنے والا ضامن ہونا چاہئے تاکہ اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرے تو طاقت کے ذریعہ اس کو جاری کیا جاسکے، اس کے علاوہ انسانی خلقت کے اغراض ومقاصد کی بھی رعایت ہونا چاہئے اور وہ یہ ہیں کہ انسان کا کردار اختیاری اور اپنی مرضی سے ہو، دوسری طرف معاشرہ کے امور پر توجہ ہونا چاہئے تاکہ بے لگام آزادی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے معاشرہ کے مصالح کو خطرہ میں نہ ڈال دیا جائے۔

۴۔ حکومت کے مخصوص ثابت او رمتغیر کام

جس وقت ہم قوانین کو دیکھتے ہیں تو ان میں بھت سے قوانین عوام الناس سے متعلق ہوتے ہیں جن پر عمل کرنا عوام کی ذمہ داری ہوتی ہے اور ان میں حکومت کا کام صرف کنٹرول کرنا، لوگوں کے قوانین کا لحاظ رکہنے کے سلسلہ میں منصوبہ بندی تیار کرنا اور خلاف ورزی سے روک تھام کرنا ہوتا ہے لیکن بعض قوانین خود حکومت سے متعلق ہوتے ہیں ، اور خود حکومت کو ان پر عمل کرنا ہوتا ہے بلکہ عوام الناس ان پر عمل کرتی ہے کیونکہ قوانین کا یہ حصہ شھریوں کی ضرورتوں اور اقتصادی، سرمایہ گذاری اور خدمات سے متعلق ہوتا ہے جس کو عوام الناس انجام نہیں دے سکتی، اور عوام الناس ان کو انجام دینے کی قدرت نہیں رکھتے یا اگر قدرت رکھتے ہیں لیکن پھر بھی رضا کارانہ طور پر کوئی ان کو انجام نہیں دیتا، جن کے انجام نہ پانے سے معاشرہ کو نقصان کا سامنا کرنا ہوتا ہے؛ لھٰذا اس بات ایک منظم تنظیم اور ہم اہنگ کمیٹی بنام حکومت کو اس کام کی ذمہ دارہ سنبھالنے کی ضرورت ہے مثال کے طور پربیرونی دشمن کے مقابلہ میں ملک کا دفاع کرنا ، جنگ کرنا اور اس سلسلہ میں اسلحہ وغیرہ فراہم کرنا، یاپھیلنے والی خطرناک بیماریوں جیسے فلج اطفال (بچوں کا فالج)کے لئے ”واکسیناسین“ " vaccinatin " لگاناجو پورے ملک میں ایک معین دن صرف حکومتی پیمانہ پر ہی ممکن ہوسکتا ہے، اسی طرح عام صفائی یا بیماروں کے لئے ھاسپٹل وغیرہ کا انتظام کرنا، یا افیون وغیرہ جیسی نشہ آور چیزوں سے مقابلہ اور ان کے آنے جانے کے راستوں کو بند کرنا، اگرچہ عوام الناس بھی امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے ذریعہ تا حد امکان لوگوں کو اس کام سے روک سکتے ہے لیکن وسیع پیمانہ پر اس عظیم برائی کی روک تھام کرنا عوام الناس کے بس کی بات نہیں ہے ، اسی طرح ان برائیوں کا مقابلہ جو معاشرہ میں کافی پھیل چکی ہیں وغیرہ وغیرہ یہ سب کام حکومت ہی کرسکتی ہے۔

قوانین کی تیسری قسم (عوام الناس)کی ضرورتیں ہیں جن کو خود عوام الناس بھی اور حکومت بھی انجام دے سکتی ہے لیکن زمانہ کے لحاظ سے ان اجتماعی امور کو انجام دینے کا طریقہ کار مختلف ہوجاتا ہے کیونکہ معاشرہ کے بھت سے امور مختلف زمانوں میں محدود طریقہ پر خود عوام الناس کے ذریعہ انجام پاتے رہے ہیں ، لیکن آج کل کے لحاظ سے ان کو انجام دینے کی قدرت عوام الناس میں نہیں ہے اور اگر یہ ذمہ داریاں عوام الناس کے سپرد کردی جائیں تو پھر وہ پوری نہیں ہوپائیں گی،جس کے نتیجہ میں معاشرہ کے مصالح پورے نہیں ہونگے؛ اسی وجہ سے حکومت کو اس سلسلہ میں قدم اٹھانا ضروری ہوتا ہے جیسے بچوں کا تعلیمی سلسلہ ، اگر چہ بچوں کی تعلیم خود والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن آج کل کے حالات اس طرح کے ہیں کہ اگر ملک میں تعلیمی ادارے نہ ہوں تعلیم سے متعلق قوانین الزامی اور ضروری نہ ہوں اور مذکورہ ادارے اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری نہ نبھائیں تو پھر تعلیمی ترقی رک جائے گی اور جھل ونادانی کا رواج بڑھتا چلا جائے گا۔

اسی طرح آج کل کے ترقی یافتہ دور میں عام صفائی اور عام روشنی کا مسئلہ ہے اور یہ بھی حکومت کی ذمہ داری ہے، جب کہ گذشتہ زمانے میں حکومتوں کی یہ ذمہ داری نہیں ہوتی تھی اور بھت سی چیزوں کا تو بالکل وجود ہی نہیں تھا جیسے محکمہ ٹیلویزن، لھٰذا یہ بات مسلم ہے کہ اس ترقی یافتہ دور میں حکومت کی بعض نئی ذمہ داریاں پیدا ہوگئی ہیں اور وہ ذمہ داریاں جن کو خود عوام الناس بھی انجام دی سکتی ہے لیکن چونکہ کوئی رضاکارانہ طور پر تیار نہیں ہوتا اور اگر حکومت بھی ان ذمہ داریوں کو انجام نہ دے تو پھر معاشرہ کا برا حال ہوجائے گا، جس کے نتیجے میں اسلامی معاشرہ علم ، ٹکنالوجی اورصنعت میں پیچھے رہ جائے گا،اور اس کے علمی اور معنوی مصالح پورے نہیں ہوپائیں گے، کیونکہ معنوی ترقی اور کمال؛ علم ہی کے زیر سایہ ہوتا ہے ،معاشرہ میں علم ہی نہ ہوتو اس میں معنوی ترقی نہیں ہوسکتی۔

قارئین کرام ! ہماری بیان شدہ باتوں کے ذریعہ حکومت کی اہمیت، اس کا ثابت ڈھانچہ اور اس کے ارکان واضح ہوجاتے ہیں ،حکومت کے مقومات اور اس کے عناصر کے نہ ہونے پر حکومت کھوکھلی ہوجاتی ہے، اور وہ عناصر درج ذیل ہیں :

۱۔ قوانین مدنی (شھری قوانین) اور معاشرہ کے حقوقی قوانین کو جاری کرنے کی ضمانت، تاکہ اگر کوئی مخالفت کرے تو حکومت اپنی طاقت کے ذریعہ عوام الناس کو ان پر عمل کرنے پر مجبور کرے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دے۔

۲۔ معاشرہ میں ہمیشہ ضروری ثابت مصالح کو پورا کرنا، جن مصالح میں زمان ومکان کے بدلنے سے تبدیلی نہیں آتی، اور ان کو وسیع پیمانے پر صرف حکومت ہی انجام دے سکتی ہے مثلاً معاشرہ میں امن وامان کا برقرار کرنا حکومت کی ہمیشگی ذمہ داری ہوتی ہے، چاہے اس ملک کے عوام کی تعداد لاکھوں ، کروڑوں اور اربوں ہی کیوں نہ ہو؟۔

لیکن وہ متغیر مصالح جو ہمیشہ حکومت کے ذمہ نہیں ہوتے اور اگر حکومت ان کاموں کو انجام نہ دے تو خود عوام الناس ان کو انجام دے سکتے ہیں لیکن آج کل کے نئے حالات ان ذمہ داریوں کو حکومت کے کاندھے پر رکہ دیتے ہیں ، نیز نئی پیش آنے والی ضرورتیں حکومت کے مقومات میں قرار نہیں پاتیں ۔

۵۔ قوانین جاری کرنے کے طریقہ کار میں اسلامی اور غیر اسلامی حکومتوں میں فرق

اب جبکہ حکومت کی اہمیت اور اس کے وظائف معلوم ہوگئے ہیں ، تواسلامی حکومت اور دوسری حکومتوں کا فرق مختصر طور پر بیان کرنا مناسب ہے: اسلامی حکومت قوانین کے سلسلہ میں سیکولر اور لائیک حکومت سے بھت زیادہ فرق رکھتی ہے اور اسلامی حکومت کا دائرہ دوسری حکومتوں سے وسیع تر ہے؛ کیونکہ اسلامی حکومت میں معنوی اور روحانی مصالح کو بھی اہمیت دی جاتی ہے، اسی طرح قوانین جاری کرنے کا طریقہ کار بھی دوسری حکومتوں سے مختلف ہوتا ہے مثال کے طور پر دنیا کی تمام حکومتیں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں در آمد کی محتاج ہوتی ہے جس کا ایک حصہ ٹیکس وغیرہ سے حاصل ہوتا ہے اسلامی حکومت بھی ولی فقیہ کی اجازت سے لوگوں سے ٹیکس حاصل کرنے کے لئے قوانین مرتب کرتی ہے اور ان کو نافذ کرتی ہے چنانچہ ٹیکس کے سلسلہ میں بھی اسلامی حکومت دوسری حکومتوں سے فرق رکھتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلام؛ مالیات اورٹیکس وغیرہ کے سلسلہ میں بھی انسانی وجود کے فلسفہ کو پیش نظر رکھتا ہے۔

یعنی اسلام اس بات پر زیا دہ زور دیتاہے کہ انسانی کام اور اس کی کارکردگی اپنے انتخاب اور مرضی سے ہوں جن کے سبب اس کی معنویات میں اضافہ ہو مالیات وصول کرنے میں حکومت اپنی قدرت بھی استعمال کرسکتی ہے اور لوگوں کو ٹیکس دینے پر مجبور کرسکتی ہے اور ترقی یافتہ ممالک میں تاکہ لوگوں کے ذھن پر ٹیکس وغیرہ گراں نہ گذرے اس لئے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کے اعتراضات وغیرہ کم ہوجاتے ہیں جن میں ایک طریقہ یہ ہے کہ روزانہ کا وہ سامان جو عوام الناس ہر روز خریدتی ہے اسی میں ٹیکس رکھا جاتا ہے، اور عوام الناس اشیاء کی قیمت کے علاوہ ایک مقدار ٹیکس بھی حکومت کو ادا کرتی ہے۔

ظاہر سی بات ہے کہ (مذکورہ طریقہ پر) ٹیکس ادا کرنے سے کسی کو کوئی ثواب اور جزا نہیں ملتی؛ لیکن اسلام اس موقع پر بھی انسان کے معنوی کمال کو مد نظر رکھتا ہے اسی وجہ سے لوگوں کو مالیات دینے پر مجبور نہیں کیا ہے اور خمس جیسے اسلامی ٹیکس کو جمع کرنے کے لئے کسی نمائندہ کو نہیں بھیجتا (جیسا کہ شیعہ فقہ میں ذکر ہوا ہے کہ اسلامی حکومت خمس کو زبردستی نہیں لیتی خصوصاً ” ارباح مکاسب “ (تجارت وغیرہ کی آمدنی) کا، ان چیزوں میں اگرچہ خمس واجب ہوچکا ہے لیکن خود مومنین اپنی مرضی اور رغبت سے اپنے سال کا حساب کرکے خمس نکالیں )اسی طرح زکوٰة میں اگرچہ اسلامی حکومت زکوٰة کو جمع کرنے کے لئے اپنا نمائندہ بھیجتی ہے،لیکن اس میں بھی لوگوں کی آزادی کا خیال رکھا جاتا ہے اسی وجہ سے جب زکوٰة جمع کرنے والے افراد مومنین کے پاس پہنچتے ہیں تو زکوٰة کی مقدار کو خود معین نہیں کرتے بلکہ خود مومنین حاصل شدہ جنس کی مقدار بیان کرتے ہیں تاکہ اس کی زکوٰة کا حساب کرکے، اور اس کو جمع کیا جاسکے یہاں پر (بھی) حقیقت حال جاننے کے لئے زکوٰة دینے والے کو مجبور نہیں کیا جاتا کہ زکوٰة دینے والا سچ کھہ رہا ہے یا جھوٹ بول رہا ہے، مگر جبکہ اس کا جھوٹ واضح ہورہا ہو اور اسلامی حکومت کا نقصان ہورہا ہو، یا ان افراد کے لئے جو علی الاعلان کھتے ہیں کہ ہم زکوٰة نہیں دیں گے، چنانچہ ان مواقع پر اسلامی حکومت اپنے طریقوں سے زکوٰة ادا کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

قارئین کرام ! معلوم یہ ہوا کہ اسلامی حکومت کا دوسری حکومتوں پر ایک امتیاز یہ ہے کہ قوانین کو جاری کرنے کے طریقہ کار میں اسلامی اقدار کا لحاظ رکھا جائے، اور اس موقع پر عوام الناس کی آزادی، ان کے انتخاب اور انسانی اقدار وشرافت کے طرفدار افراد اس نکتہ پر توجہ کریں کہ اسلام نے عوام الناس کی معقول آزادی کو مکمل طور پر نظر میں رکھا ہے، اور اس بات کی کوشش ہے کہ مومنین اپنی مرضی سے اپنے وظائف پر عمل کریں ، جس کی بنا پرمعنوی ترقی اورکمال کے درجات پر فائز ہوں اور اگر بعض موارد میں اسلام شدت سے پیش آتا ہے اور بعض لوگوں کے مطابق تشدد (شدت پسندی) سے کام لیتا ہے، تو وہ اس وجہ سے ہے کہ دوسرے افراد کے معنوی کمالات حاصل کرنے کی راہ مسدود نہ ہوجائے اور اگر بعض لوگوں کو سخت سزا دی جانے کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اس کو دیکہ کر عبرت حاصل کریں ،اور وہ اس طرح کے کام کرنے سے باز رہیں جس کے نتیجہ میں معاشرہ میں مادیات اور معنویات کی ترقی ہو بھرحال اسلامی نقطہ نظر سے انفرادی آزادی مطلق (نا محدود) نہیں ہے اور جب یہ آزادی معاشرہ کے لئے نقصان دہ ہو تو پھر یہ آزادی محدود ہوجاتی ہے، اور ضرورت کے وقت یہ آزادی محدود کر دی جاتی ہیں اور ضرورت کے وقت تشدد سے بھی کام لیا جاتا ہے، بعض مجرموں کو کوڑے لگتے ہیں اور بعض کے ھاتہ کاٹے جاتے ہیں اور بعض حالات میں بھت ہی کم تعداد میں مجرموں کو سزائے موت بھی دی جاتی ہے لیکن یہ تمام سزائیں اس وجہ سے ہیں کہ ان کو دیکہ کرمجرمین عبرت حاصل کریں اور قانون کے مطابق عمل کریں ۔

ظاہر سی بات ہے کہ جب اسلام نے چوری کرنے اور عوام الناس کے چین وسکون اور امنیت کو ختم کرنے والے کے ھاتہ کاٹنے کا حکم دیا ہے، تاکہ دوسرے اس سے عبرت حاصل کریں اور چوریاں کم ہوں ، اور اس رسوائی میں پھنسنے کے راستے کم ہوں لیکن اگر اسی چوری کے لئے آسان سے آسان سزا رکھی جاتی مثلاً چور کو کچھ مدت کے لئے قید کرنا یا ایک مقدار میں جرمانہ ادا کرنا تو پھر چوروں کی تعداد بھت زیادہ ہوجاتی، اور ممکن تھا جو لوگ کسی جرم کی بنا پر زندان میں ہوں تو چوروں کے ساتھ رہنے سے وہ بھی چوری کرنا سیکہ جاتے۔! قارئین کرام ! ہم حقیقت کہنے سے نہیں ڈرتے اور واضح طور پر کھتے ہیں کہ اسلام میں شدت عمل اور (سخت) سزائیں اور غیروں کے مطابق تشدد ہے مجرموں اور فاسدوں کے لئے بھی تشدد روا ہے اور کفار اور اسلام کے دشمنوں کے لئے بھی؛ جیسا کہ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے:

( مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِینَ مَعَه اشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَهمْ ) (۳)

”محمد (ص) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کے لئے سخت ترین اور آپس میں انتھائی رحم دِل ہیں “

اسی طرح خداوندعالم لوگوں کو عبرت دینا اور مجرم کو ذلیل کرنا ضروری سمجھتا ہے :

( وَلْیَشْهدْ عَذَابَهمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِین ) (۴)

”اور اس سزا کے وقت مومنین کی ایک جماعت کو حاضر رہنا چاہئے “

قارئین کرام ! آپ حضرات نے ملاحظہ فرمایا کہ اسلام اور قرآن بعض موارد میں تشدد کے ساتھ عمل کرنے اور مجرم کو ذلیل کرنے کو ضروری سمجھتا ہے، اور ہم ان آیات کو قرآن سے نہیں مٹاسکتے اگر اس طرح کی سزا کو بعض لوگ انسانی شرافت کے خلاف سمجھتے ہیں تو ہم عرض کرتے ہیں کہ اجتماعی مصالح کی حفاظت کے لئے بعض مواقع پر مجرموں اور فاسدوں کے ساتھ انسانی شرافت کے خلاف کام واجب اور ضروری ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی سزا حقیقی خشنونت نہیں ہیں بلکہ عوام الناس کی اجتماعی معقول آزادی سے بھرہ مند ہونے کی راہ ہموار کرنا اور اس کا ایک مقدمہ ہے۔

حوالے:

(۱) ”الَّذِینَ کَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِیلِ اللهِ اضَلَّ اعْمَالَهمْ “( سورہ محمد آیت اول)جن لوگوں نے کفر کیا اور لوگوں کو راہ خدا سے روکا خدا نے ان کے اعمال کو برباد کردیا(اضافہ مترجم

(۲)) ” حدّ قذف “ زنا کی تھمت لگانے والے پر ۸۰ کوڑے لگائے جاتے ہیں ،جس کی صراحت سورہ نور کی آیت نمبر ۴ میں وارد ہوئی ہے (مترجم)

(۳)سورہ فتح آیت ۲۹

(۴)سورہ نور آیت ۲


انتیسواں جلسہ

اسلامی حکومت کی ذمہ داری کے بارے میں نظریات

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر

جیسا کہ ہم نے گذشتہ جلسوں میں عرض کیا کہ اسلامی سیاسی نظام میں حکومت کی اہمیت اور اس کے قوانین کو نافذ کرنے کی ذمہ داری کی معرفت اس بات پر مبنی ہے کہ حکومت کی تشکیل خصوصاً اس سلسلہ میں اسلامی آئیڈیل کی شناخت کی جائے اسی طرح ہم نے حکومت کے وظائف اور ذمہ داریوں کے بارے میں بیان کیا تھا جن کا خلاصہ درج ذیل ہے:

۱۔ ان قوانین کو جاری کرنے کی ضمانت جو براہ راست عوام الناس کے ذمہ ہوتے ہیں ۔

۲۔ کیفری اور سزائی قوانین کا جاری کرنا جو براہ راست حکومت کے ذمہ ہوتے ہیں ؛ یعنی اگر بعض لوگوں نے قوانین اوّلی پر عمل نہ کیا اور ان کی خلاف ورزی کی تو ان لوگوں کو سزا دےنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

۳۔ معاشرہ کی ان ضرورتوں کو پورا کرنا جن کو صرف حکومت ہی انجام دے سکتی ہے اور وہ انفرادی یا گروہی ‎ شکل میں انجام نہیں دی جاسکتیں جس کی بہتر ین مثال بیرونی دشمن کے مقابلہ میں دفاع ہے، عوام الناس اور گروھوں کی قدرت سے بالاتر ایک قدرت (حکومت) ہو جو اس کام کو اپنے ذمہ لے،( اور بیرونی دشمن کو دندان شکن جواب دے سکے)۔

۴۔ ان ضرورتوں کو پورا کرنا جو پہلے مرحلہ میں حکومت کے ذمہ نہیں ہیں بلکہ خود عوام الناس بھی ان امور کو انجام دے سکتی ہے، لیکن بعض وجوھات کی بنا پر وہ عملی جامہ نہیں پھن پاتی ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی خاص فرد ذمہ دار ہوتا ہے مثلاً عام صفائی اور دیگر خدمات وغیرہ جن کو خود عوام الناس بھی انجام دے سکتی ہے لیکن ان کاموں کو انجام دینے میں رغبت نہیں پایی جاتی، یا ان کے وسیع ہونے یا ان میں مشکلات ہونے کی وجہ سے ان کے لئے خاص طریقہ پر منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کام کو حکومت ہی انجام دے سکتی ہے۔

۵۔ حکومت کی مہم ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری معاشرہ کے عام درآمدی منابعسے فائدہ اٹھاناہے جس کو اسلامی ثقافت میں ”انفال“ کھا جاتا ہے، مثلاً جنگل، دریا، تیل اور گیس، یا سونے چاندی کی کانیں وغیرہ جن کا کوئی مخصوص مالک نہیں ہوتا اور کسی کو ان سے ذاتی طور پر فائدہ اٹھانے کا حق (بھی) نہیں ہوتا، تو انہیں چیزوں کے پیش نظر اس بات کی ضرورت ہے کہ ان چیزوں کی حفاظت کے لئے کوئی کمیٹی (یاحکومت) ہو تاکہ ان معدنوں سے صحیح فائدہ اٹھاکر معاشرہ کی ا صلاح کے لئے خرچ کیا جاسکے۔

ظاہر سی بات ہے کہ حکومت کے وظائف اور اس کی مخصوص ذمہ داریوں کی شناخت کے بعد اس کے وجود کا فلسفہ بھی (آسانی) سے سمجھا جاسکتا ہے اسی طرح عام طور پر اس کی اہمیت بھی معلوم ہوجاتی ہے، لیکن اس نکتہ پر توجہ ضروری ہے کہ اسلامی حکومت کا خاص امتیاز یہ ہے کہ وہ مادی امور جن کو عام حکومتیں بھی انجام دیتی ہیں ان کے علاوہ معاشرہ میں معنوی اور روحانی امور کو ملحوظ خاطر رکہنا ہوتا ہے، اسی لئے اسلامی شعار کی حفاظت کرنا، دینی عام معلومات کا فراہم کرنااور اسلام واسلامی مقاصد کو بہتر سے بہتر رواج دینا اسلامی حکومت کی مخصوص ذمہ داری ہے۔

۲۔ اسلامی حکومت کے عھدہ داروں کے شرائط

اب جبکہ معلوم ہوگیا کہ اسلامی حکومت کی عظیم ذمہ داریاں ہوتی ہیں تو پھر حکومت کے مختلف عھدہ داروں میں کن شرائط کا ہونا ضروری ہے کیونکہ عھدہ داروں کے شرائط بھی ان کے وظیفوں کے لحاظ سے ہونا ضروری ہیں ، اور جس قدر وظائف عظیم اور مہم ہونگے اسی لحاظ سے اس کے عھدہ داروں کے شرائط بھی عظیم ہونا ضروری ہیں ، اور چونکہ اسلامی حکومت کی ذمہ داری دوسری حکومتوں سے زیادہ ہوتی ہے تو اس کے عھدہ داروں کے لئے بھی مہم شرائط ہونا ضروری ہیں ہر حکومت میں قوانین کو نافذ ہونا چاہئے، لیکن لائیک حکومتوں کی نسبت اسلامی حکومت کے قوانین کا دائرہ وسیع تر ہے جیسا کہ ہم نے قانون کے سلسلہ میں عرض کیاکہ غیر دینی حکومتوں میں قوانین کو صرف معاشرہ کی مادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے بنایا جاتا ہے، جیسا کہ سیاسی فلاسفہ کھتے ہیں کہ حکومت کی ذمہ داری صرف اجتماعی طور پر امن وامان قائم کرنا اور ہرج ومرج(بد امنی) سے روک تھام ہے، لھٰذا اس طرح کے اہداف آسان شرطوں کے ساتھ پورے ہوسکتے ہیں ، لیکن اگر اس مقصد کے ساتھ ایک عظیم ہدف معنوی مصالح اور دینی والہی اقدار کا اضافہ ہوجائے (جیسا کہ قانون اساسی (بنیادی قوانین) میں موجود ہے اور ان کو نافذ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے) تو اسلامی حکومت کے عھدہ داروں کے شرائط دیگر حکومتوں کے عھدہ داروں سے سخت ہوجائیں گے۔

قارئین کرام ! ہم اپنے اس مقدمہ کو بیان کرنے کے بعد مناسب سمجھتے ہیں کہ قوانین نافذ کرنے والے عھدہ داروں کے شرائط بیان کریں ، (لھٰذا ہم عرض کرتے ہیں کھ) قوانین کے نافذ کرنے والے عھدہ داروں کے عام طور پر تین شرائط ہیں جن کے بارے میں تمام حکومتوں میں کوشش کی جاتی ہے کہ وہ شرائط عھدہ داروں میں ہونے چاہئے، اوراسلامی حکومت کے عھدہ داروں کے شرائط کے سلسلہ میں قرآن وحدیث میں بیان شدہ دلائل کے علاوہ ایسے عقلی (اور منطقی) دلائل ہیں جن میں انسان اعتراض نہیں کرسکتا:

الف۔ قانون کی پہنچان

جو شخص قانون کو نافذ کرنے کا عھدہ سنھالنا چاہتا ہے تو اس کے لئے اس سے آگاہی ضروری ہے نیز اس کے شرائط اور اس کو جاری کرنے کا طریقہ کار بھی جانتا ہو اگر کوئی شخص قانون نہ جانتا ہو تو اس کو نافذ بھی نہیں کرسکتا، جس کی بنا پر قانون کو نافذ کرنے میں غلطی کر بیٹھے گااور اپنی ذمہ داری کو ہی نقصان پہنچائے گا اور چونکہ اسلامی حکومت کے قوانین اسلامی اصول کے مطابق ہوتے ہیں تو ہر عھدہ دار اور مدیر کے لئے اپنے ما تحت انجام پانے والے امور کے بارے میں شرعی قوانین کا علم ہونا ضروری ہے کیونکہ ان قوانین کے تحت کام کرنااس کی ذمہ داری ہے اور جو شخص کسی کام کی ذمہ داری اپنے اوپر لیتا ہے تو اس کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنا خاص اہمیت رکھتا ہے اور چونکہ جیسی ذمہ داری ہوتی ہے اسی لحاظ سے اس کی اہمیت ہوتی ہے مثال کے طور پر کسی انسان کو ایک چھوٹی سی ذمہ داری دی جاتی ہے تو اس کے قوانین اور مقررات بھی محدود ہوتے ہیں لیکن کبھی اس کی ذمہ داری اس سے بڑہ کر ہوتی ہے جیسے ڈپٹی کمشنر تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ما تحت مختلف اداروں ، ان میں نافذ ہونے والے قوانین اور ان کی دیکہ بھال کے بارے میں پوری معلومات رکھتا ہو، اسی طرح ذمہ داریاں بڑھتی رہتی ہے، یہاں تک کہ وزیر اور وزیر اعظم یا صدر مملکت جو ملک کا سب سے بڑا عھدہ ہوتا ہے اس کے لئے مختلف قانون کے بارے میں مزید معلومات کا ہونا ضروری ہے، لھٰذا اس عظیم عھدہ کے لئے وہی ‎ شخص لیاقت رکھتا ہے جو دوسروں سے زیادہ قوانین کے بارے میں علم رکھتاہو۔

ب۔ اخلاقی صلاحیت

اسلامی حکومت کے عھدہ دار، مدیر اور کارگزاروں کو قوانین کے بارے میں معلومات رکہنے کے علاوہ ان میں اخلاقی شائستگی ہونا (بھی) ضروری ہے تاکہ اپنے عھدے اور موجود امکانات سے ناجائز فائدہ نہ اٹھاسکے، اور ان کو اپنی ذمہ داری کو صحیح طور پر نبھاتے ہوئے ان کو کام میں لائے، اور اس میں ذاتی مفاد یا کسی خاص گروپ کا فائدہ اس کو اپنے وظائف پر عمل کرنے سے نہ روکے ممکن ہے کوئی شخص قوانین کو خوب اچھی طرح جانتا ہو لیکن اگر اس قانون کو جاری کرنا اس کے نفع میں نہ ہو تو ہوسکتا ہے وہ اپنے فائدہ کے لئے قانون کو پامال کردے اس کی مثال دنیا کے مختلف ممالک میں دیکہنے کو ملتی ہے کہ ملک کے بڑے بڑے عھدہ داروں نے کتنا غبن کیا (کیسے کیسے گھوٹالے کئے) جن کی خبریں دنیا بھر کے اخباروں کی سرخی بنتی ہیں کہ مثلاً فلاں ملک کا صدر مملکت فلاں گھوٹالے کی وجہ سے جیل بھیج دیا گیایا فلاں وزیر یا فلاں عھدہ دار کو فلاں سزا ہوگئی اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ قوانین کو اپنے حق میں مانع دیکھتے ہیں ، (لھٰذا ان کو پامال کرتے ہوئے اپنے منافع کو ترجیح دیتے ہیں )، ان میں تقویٰ اور اخلاقی صلاحیت نہیں پائی جاتی کہ جس کی وجہ سے معاشرہ کو اپنی ذات پر ترجیح دیں اسی وجہ سے وہ قوانین کو پامال کردیتے ہیں ۔

لھٰذا طے یہ ہوا کہ قانون کے رکھوالوں کے لئے اخلاقی صلاحیت کا ہونا ضروری ہے اور اس قدر تقویٰ ہونا ضروری ہے کہ اپنی ہوا وھوس اور ذاتی مفاد کا مقابلہ کریں اور (ھمیشھ) حق کو مقدم رکھیں ۔

ج۔ مدیریتی مھارت اور تجربہ

قانون کے ذمہ دار افراد قانون کو صحیح طریقہ سے جاری کریں اور ان کو خاص اور جزئی موارد میں منطبق کرنے کے لئے کافی حد تک تجربہ اور مھارت کا ہوناضروری ہے، اور صرف قوانین کے بارے میں معلومات ہونا کافی نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے کہ بھت سے لوگ قوانین کو اچھی طرح جانتے ہوں اور تقویٰ اور صلاحیت بھی رکھتے ہوں لیکن قوانین کو جاری کرنے کا تجربہ اور مھارت نہ ہو، اور عملی میدان میں قوانین کو اس کے مصداق پر تطبیق نہ کرسکتے ہوں لھٰذا حکومت کے بڑے عھدہ دار کسی ایسے شخص کو ذمہ دار قرار نہ دیں جو کافی مقدار میں مھارت اور تجربہ نہ رکھتا ہو لھٰذا مدیریت کو ثمر بخش ہونے کے لئے اس شرط کا لحاظ رکہنا بھی ضروری ہے۔

قارئین کرام ! دنیا کے تمام ہی ممالک میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ حکومت کے عھدہ داروں میں یہ شرط ہونا چاہئے؛ اسی طرح اسلام نے بھی حکومت کے عھدہ داروں کے لئے ان تین شرائط کو لازم اور ضروری جانا ہے اور ان کو بھت زیادہ اہمیت دی ہے، لیکن دوسری شرط؛ یعنی تقویٰ اور اخلاقی صلاحیت پر اسلام نے بھت زیادہ توجہ دی ہے جبکہ دنیا کے دوسرے ممالک میں دوسری دو شرطوں پر توجہ دی جاتی ہے اور عھد ہ داروں کے لئے تقویٰ وعدالت پر زیادہ دھیان نہیں دیا جاتا ھاں اس شرط کو فقط اس حد تک ضروری سمجھتے ہیں کہ بعض حکومتی عھدوں کے لئے جن ا شخاص کو منتخب کرتے ہیں وہ جرائم میں ملوث نہ ہو۔

۳۔ عھدہ داری کے شرائط کا نصاب معین کرنے کی ضرورت

قارئین کرام ! ایک قابل توجہ نکتہ جس پر مختلف سیاسی مکتب میں توجہ کی جاتی ہے وھ(مذکورہ) شرائط کے مختلف درجات ہیں جو اقدار کی وجہ سے مختلف ہوتے ہیں مثلاً جس طرح تقویٰ کے مختلف درجات ہوتے ہیں جس کا سب سے کمترین درجہ یہ ہے کہ انسان اپنے واجبات کو انجام دے اور گناہوں سے اجتناب کرے، اس کا ایک درجہ وہ ہے جس پر اولیاء اللہ اور دینی عظیم پیشوا مثل امام خمینی رحمة اللہ علیہ یا وہ افراد جن کا مقام معصومین علیہم السلام سے قریب ہوتا ہے؛ فائز ہوتے ہیں ،اور اس درجہ کے ہوتے ہوئے ان کے خیال وفکر میں بھی ناجائز تصور نہیں آتے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومتی عھدوں کو حاصل کرنے کے لئے کس درجے کا تقویٰ؛ معیار اور ملاک قرار دیا جانا چاہئے، اور اگر تقویٰ کا بلند ترین درجہ معیار قرار دیں تو پھر ایک مشکل پیداہوجائے گی کہ اس طرح کے افراد بھت کم ہوتے ہیں جو شاید ملک کے عظیم اور مہم عھدوں کے لئے ہی کافی ہو، لیکن دوسرے عھدوں کے لئے کافی نہ ہوں گے، اور اگر کمترین درجے والے تقویٰ کو معیار قرار دیں تو وہ مقام عمل میں سودمند نہیں ہوتا جس کی بنا پر خلاف ورزیاں ہوتی رہیں گی،اور جس کے نتیجہ میں اپنے مقصد تک نہیں پہنچا جاسکتا یہ مسئلہ انسانی کردار کے مختلف بنیادی مشکلات اور مسائل کے حل کے مقابلہ میں ہے، لیکن بعض افراد کا یہ ماننا ہے کہ عھدہ داری کے لئے یا تمام تر اخلاقی صلاحیت پائی جائیں اور اگر تمام صلاحیت نہ ہوں تو پھر کسی بھی صلاحیت کا ہونا ضروری نہیں ہے، ”یا سب کچھ یا کچھ بھی نہیں “ یعنی یا تو انسان میں بلندترین صفات ہونا چاہئے یا بالکل بھی صفات کا ہونا ضروری نہیں ہے اور یہ نظریہ انسانی علوم کے مختلف شعبوں میں جن میں سے ایک فلسفہ اخلاق بھی ہے ؛ پایا جاتا ہے۔

۴۔ اخلاقی صفات کے بارے میں ”کانٹ“ کے نظریہ کی ردّ

جو لوگ اخلاقی فلسفہ سے آشنائی رکھتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ جرمنی فیلسوف ”کانٹ“ کا ایک نظریہ ہے جس کے بھت زیادہ طرفدار (بھی) پائے جاتے ہیں ، اس کا نظریہ یہ ہے کہ وہ اخلاقی صفت اس وقت اہمیت پیدا کرتی ہے جب وہ بلند ترین درجے پر فائز ہو اور کسی دوسری چیز پر توجہ کئے بغیر اس کو اپنایا جائے، محبت ، احساسات اور معاشرہ کی وجہ سے نہ ہو، یعنی اگر انسان کوئی نیک کام کرنا چاہے تو فقط اس کو اس کے نیک ہونے کی وجہ سے انجام دے، اس پر مرتب ہونے والے اثر (وثواب) کے لئے نہیں ،اور نہ اپنی خواہش کو پورا کرنے یا محبت کی تسکین کے لئے، لھٰذا اگر کوئی ماں آدھی رات بچے کے رونے کی آواز سن کر اپنی میٹھی نیند سے بیدار ہوکر بچے کو اپنی گود میں لے اور اس کو دودہ پلائے ، اگرچہ عوام الناس کی نظر میں یہ کام بااہمیت ہے ، لیکن کانٹ کے نزدیک اس کام کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہے کیونکہ ماں نے اپنی مامتا اور بچے سے شدید محبت کی وجہ سے اس کو دودہ پلایا ہے اور اگر وہ اس بچے کو دودہ نہ پلائے تو پریشان ہوجائے گی ، در حقیقت ماں نے اس بچے کو دودہ پلاکر اپنی مامتا کو ٹھنڈا کیا ہے۔

اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کام کو معاشرہ کی بھلائی کے لئے انجام دے یا عوام الناس کے اعتماد کو جلب کرنے کے لئے سچ بولے، تو ان کاموں کی کوئی ارزش واہمیت نہیں ہے سچائی کی اہمیت اس وقت ہے جب صرف اس کی خوبی کو مد نظر رکہ کر سچ بولے۔

قارئین کرام ! جیسا کہ آپ حضرات نے ملاحظہ فرمایا کہ کانٹ نے اخلاقی اقدار کے لئے بھت سخت شرائط بیان کئے ہیں جس کے تحت بھت کم افراد ہی اس کے مصداق مل پائیں گے، اور بھت ہی کم افراداخلاقی اقدار والے مل پائیں گے؛ کیونکہ یہ اخلاق کبھی تو مامتا کی وجہ سے یا اور کبھی اجتماعی فائدہ کی وجہ سے یا اُخروی ثواب کے لئے ہوتاہے۔

لھٰذا اگر اخلاقی صفات میں تمام صفات پائے جائیں تو وہ صحیح ہے لیکن اگر ان میں کچھ شرائط نہ پائے جائیں تو اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے اسی طرح دوسری چیزوں میں بھی منجملہ سیاست اور حکومت کے بارے میں ، کہ وہ حکومت بر حق ہے جس کے تمام عھدہ دار اعلیٰ شرائط پر فائز ہوں اور اگر ایسے افراد موجود ہوں تب کھیں حق کی حکومت کی بارے میں سوچا جاسکتا ہے۔

اسلامی انقلاب سے پہلے ہمارے معاشرہ میں بھی بعض دیندار افراد لیکن سخت دل اور کج فکر رکہنے والے اس طرح کا نظریہ رکھتے تھے اور کھتے تھے: اگر اسلامی حکومت بنانا چاہتے ہیں تو جب ہمارے معاشرہ میں سلمان فارسی جیسے افراد کی تعداد کافی مقدار میں موجود ہوں گی تاکہ ایسے ہی افراد کو شھر کا حاکم بنایا جائے ، اور جب تک ہمارے پاس ایسے افراد نہ ہوں تو پھر ہمیں انقلاب لانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ان تنگ نظر لوگوں کا نظریہ تھا کہ حضرت امام زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظھور تک اسلامی انقلاب کے لئے راستہ ہموار نہیں ہوگا، لھٰذا ہمیں انقلاب کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، اور ہمیں انتظار کرنا چاہئے یہاں تک کہ حضرت امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) اپنے تین سو تیرہ ممتاز ساتھیوں کے ساتھ آکر انقلاب برپا کریں اور عدل وانصاف کی حکومت قائم کریں ان لوگوں کا خیال یہ تھا کہ اس وقت تقویٰ اور اخلاقی صفات کے مالک افراد نہیں ہیں لھٰذا انقلاب برپا کرنا صحیح نہیں ہے متقی اور مخلص افراد کی تعداد اس قدر ہوکہ حکومت کے مہم عھدے ان کے سپرد کئے جاسکیں ، تاکہ وہ معاشرہ کو صحیح طریقہ سے چلاسکیں اور معاشرہ میں کسی طرح کا نقص وعیب پیدا نہ ہوسکے۔

قارئین کرام ! اس نظریہ پرچھوٹے سے چھوٹا اشکال یہ ہے کہ اس طرح کی نمونہ حکومت کسی بھی وقت نہیں بن سکتی، اور جب تک تقویٰ اور اخلاق سے مزین ایسے افراد کی تعداد حدّ نصاب تک نہ پہنچے اسلامی حکومت کی فکر کرنا ہی بے کار ہے؛ تو اس صورت میں معاشرہ میں فساد و تباہی پھیلتی چلی جائے گی، اور اجتماعی وسیاسی مثبت پہلو کی طرف ترقی ہونے کے بجائے ان کا راستہ بالکل محدود ہوکر رہ جائے گا۔

۵۔اقدار اور وظائف کے بارے میں اسلامی درجہ بندی نظریہ

مذکورہ ایک پہلو والے اقدار کے نظریہ کے برخلاف؛ بعض حکومتوں میں چاہے انفرادی کردار ہو یا اجتماعی اور سیاسی مختلف مراتب اور مختلف نمونے پیش کئے گئے ہیں : اول درجہ میں ایک آئیڈیل(نمونھ) پیش کیا جاتا ہے اس کے بعد دوسرے درجے والے نمونے اور کمترین شرائط والے نمونے ، اس کے بعد مجبوری والے نمونے پیش کئے جاتے ہیں اسی طرح اسلام نے مختلف مواقع پر درجات والے نمونے بیان کئے ہیں مثال کے طور پر اسلام نے انسان پر تمام شرائط کے ساتھ نماز واجب کی ہے لیکن اگر انسان مجبوری کی حالت میں ہو تو پھر وہ کامل شرائط ضروری نہیں ہوتے، بلکہ وہ اس وقت سے مخصوص ہیں جب انسان ان شرائط اور اجزاء پر قدرت رکھتا ہو ، لیکن مجبوری یا اضطراری حالت میں وہ شرائط کم ہوجاتے ہیں مثال کے طور پر جن مواقع پر انسان کے لئے غسل کرنا واجب ہوجاتا ہے لیکن اگر پانی موجود نہ ہو یا پانی اس کے بدن کے لئے نقصان دہ ہو، یا اگر اس کا وظیفہ وضو کرنا ہو لیکن ٹھنڈا پانی اس کے لئے نقصان د ہ ہو اور وہ وضو نہ کرسکتا ہو ، تو اسلام ”یا سب کچھ یا کچھ بھی نہیں “ کے نظریہ کو قبول نہیں کرتا اسلام یہ نہیں کھتا کہ نماز صرف اس صورت میں واجب ہے جب تمام شرائط موجود ہوں او رنماز کو تمام تر مقدمات اور شرائط کے ساتھ بجالائے اور اس کے علاوہ نماز نہیں ہوگی،بلکہ اسلام نے اس طرح کے مواقع پر اسی لحاظ سے وظیفہ معین کیا ہے، چنانچہ مذکورہ صورت کے بارے میں فرمایا کہ اگر انسان وضو اور غسل کے ذریعہ نماز نہیں پڑہ سکتا تو تیمم کے ساتھ نماز پڑھے، اور اگر کھڑے ہوکر نماز نہیں پڑھی جاسکتی تو بیٹہ کر پڑھے، اور اگر کوئی شخص بیٹہ کر بھی نہیں پڑہ سکتا تو لیٹ کر پڑہ لے، اور اگر ھاتہ پیر اورزبان کو حرکت نہیں دے سکتا لیکن ہوش میں ہو تو اس سے بھی نماز ساقط نہیں ہے تو اس نازک حالت میں بھی اسی حالت کے لحاظ سے نماز واجب ہے۔

مقصد یہ ہے کہ اسلامی اقداری نظام میں کیفیت اور کمیت (تعداد) کے لحاظ سے سیاسی، اجتماعی اور شرعی وظائف کے درجات رکھے گئے ہیں جن میں سے ہر ایک انسان کی حالت کے لحاظ سے اہمیت رکھتے ہیں ، اول درجہ میں سب سے بلند درجہ مد نظر ہے اس کے بعد دوسرا درجہ اور پھر تیسرا درجہ یہاں تک انسان کی مجبوری کے لحاظ سے جس مقدار بھی انجام دے سکتا ہے اسی کو کافی گردانتا ہے۔

۶۔عبادت کے بھی مختلف درجات ہیں

دوسری مثال جس سے کانٹ کے نظریہ کا فرق واضح ہوجاتا ہے ؛ یہ ہے کہ اسلام عبادت کے سلسلہ میں مراتب اور درجات کا قائل ہے؛ کیونکہ سب سے بہتر ین عبادت وہ عبادت ہے جو صرف اور صرف خدا کی محبت اور اس کی شکر گذاری کے لئے انجام دی جائے جیسی عبادت حضرت علی علیہ السلام انجام دیتے تھے، جیسا کہ آپ اپنی مناجات میں عبادت کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

”اِلٰهی مَا عَبَدْتُکَ خَوْفاً مِنْ عِقَابِکَ وَلاٰ طَمَعاً فِی ثَوَابِکَ وَلَکِنْ وَجَدْتُکَ اهلاً لِلْعِبَادَةِ فَعَبَدْتُکَ “ (۱)

”پروردگارا ! میں تیری عبادت تیرے عذاب کے ڈر سے یا تیرے ثواب کے لالچ میں نہیں کرتا بلکہ تجھے عبادت کا حقدار پاتا ہوں تو تیری عبادت کرتا ہوں ۔“

”اِنَّ قَوماً عَبَدُوْا اللهَ رَغْبَةً فَتِلْکَ عِبَادَةُ التُّجَّارِ وَاِنَّ قَوماً عَبَدُوْا اللهَ رَهبَةً فَتِلْکَ عِبَادَةُ الْعَبِیْدِ وَاِنَّ قَوماً عَبَدُوْا اللهَ شُکْراً فَتِلْکَ عِبَادَةُ الاحْرَارِ “ (۲)

”بعض لوگ خدا کی عبادت؛ بخشش کی امید میں کرتے ہیں تو ایسی عبادت تاجروں کی عبادت ہے، اور بعض لوگ خدا کی عبادت اس کے خوف کی وجہ سے کرتے ہیں تو یہ غلاموں کی عبادت ہے، اور بعض لوگ خدا کی عبادت اس کے شکر کی وجہ سے کرتے ہیں اور یہی عبادت آزاد افراد کی عبادت ہے۔“

قارئین کرام ! حضرت امیر المومنین علیہ السلام اپنے اس بیان میں سب سے بہتر ین عبادت اس عبادت کوقرار دیتے ہیں جو صرف اور صرف خدا کے شکر کے لئے بجالائی جائے، اور اسلام بھی یہی چاہتا ہے کہ تمام مومنین اسی طرح عبادت کریں ، لیکن یہ بات واضح ہے کہ تمام مومنین اس طرح کی قابلیت اور ہمت نہیں رکھتے کہ اس طرح کی عبادت بجالاسکیں ، کیونکہ اس طرح کی عبادت صرف خالص اولیاء اللہ ہی انجام دے سکتے ہیں جن کا مقام اتنا بلند ہوجاتا ہے کہ وہ جمال پروردگار میں محو ہوجاتے ہیں ، اور اگر ان کو جھنم میں (بھی) لے جایا جائے تو وہ پھر بھی خدا کی عبادت اور اس سے مناجات کرنا ترک نہیں کریں گے یا اگر ان کو جنت سے محروم کردیا جائے تو وہ پھر بھی خدا کی عبادت کو ترک نہیں کریں گے لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس طرح کے افرادلاکھوں میں ایک دو ہی مل پائیں گے۔

بھر حال اگر ہم کانٹ کے نظریہ ”یا سب کچھ یا کچھ بھی نہیں “ کو قبول کریں اور یہ مان لیں کہ اخلاقی نیکی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اس عمل میں تمام شرائط اور قابلیت پائی جائے اور ذرہ برابر بھی اس کے شرائط میں کمی نہ ہو ، تو پھر ہم یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ عبادت اس وقت مقبول ہے جب عالی ترین اور بلند ترین درجہ پر فائز ہو، اور صرف خدا کے شکر کے لئے بجالائی جائے؛ یعنی صرف خالص اولیاء اللہ کی عبادت مقبول ہوگی، اور جو لوگ جھنم کے خوف یا بھشت کے لالچ میں عبادت کریں تو اس کی عبادت قابل قبول نہیں ہے لیکن جیسا کہ یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اسلام اس تنگ نظری کو قبول نہیں کرتا بلکہ مومنین کی سھولت ،زخمتوں اور سختیوں کو دور کرنے کے لئے عبادت اور دیگر وظائف میں درجات رکھے ہیں ، ایسے درجات جو کم سے کم شرائط سے شروع ہوتے ہیں اور بلند ترین درجات تک پہنچ جاتے ہیں جن میں تمام شرائط اور صلاحتیں پائی جاتی ہیں ، اور اگر کوئی انسان ان بلند درجات تک پہنچ جائے تو انسانی اور الہی کمال پر پہنچ جاتا ہے جیسے حضرت علی علیہ السلام اور آپ کے (خاص) شاگردوں کی عبادت؛ جس کی وجہ سے یہ حضرات معرفت کے بلند ترین مقام پر پہنچ گئے ہیں اور خدا کی بندگی کے عالی ترین مرتبہ پر فائز ہوچکے ہیں ؛ لیکن جن کا درجہ ان سے کم ہے اور وہ لوگ جو ثواب کے شوق میں عبادت کرتے ہیں اس کی عبادت بھی خدا کے نزدیک مقبول ہے اسی طرح وہ لوگ جو اس درجہ سے بھی کم درجہ رکھتے ہیں اور جھنم کے خوف سے خدا کی عبادت کرتے ہیں ان کی عبادت بھی مقبول ہے اور یہ بھی اہمیت و ارزش کا ایک مرتبہ ہے۔

۷۔ اسلامی حکومت کے درجہ بندی شدہ نمونے

جیسا کہ بیان ہوچکا ہے : اسلام کا نظریہ ”یا سب کچھ یا کچھ بھی نہیں “ نہیں ہے بلکہ اسلامی نقطہ نظر سے ارزش اوراقدار کے مختلف مراتب ہیں ، کم درجہ سے شروع ہوکر بلند ترین درجہ تک پہنچتے ہیں اسلامی سیاست میں بھی اسی طرح ہے: اسلام اول درجہ میں ایک نمونہ حکومت پیش کرتا ہے جو فقط خاص شرائط کے تحت اور ان افراد کے ذریعہ جن میں مکمل شرائط اور بہتر ین قابلیت پائی جاتی ہے جن تک عام افراد نہیں پہنچ پاتے، حقیقت میں ویسی حکومت صرف انہیں افراد کے ذریعہ ہوسکتی ہے جو مقام عصمت تک پہنچے ہوئے ہیں اور ان کے کردار میں ذرہ برابر بھی کوئی خطا وغلطی کا تصور نہیں پایا جاتا بلکہ ان کی فکر بھی پاک وپاکیزہ ہوتی ہے،یہ اسلامی حکومت کی بلند ترین اور بہتر ین شکل ہے وہ حکومت جس کا رئیس ایسا شخص ہو جو نہ صرف یہ کہ ہوا وھوس کے تحت معصیت نہ کرے بلکہ نا خواستہ میں بھی اس سے غلطی کا امکان نہ ہو ، اور اس سے کوئی بھی خطا ولغزش نہ ہو، اور مکمل طور پر مصالح ومنافع کی رعایت کرے، اور تمام اسلامی قوانین کے مجموعہ کو جانتا ہو ، اوران کو بہتر ین طریقہ سے جاری کرے اور یہ وہی ‎ نمونہ حکومت ہے جو انبیاء علیہم السلام اور پیغمبر اکرم (ص) اور کچھ مدت کے لئے حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے ذریعہ وجود میں آئی۔

البتہ اس نمونہ حکومت سے بھی بالا تر ایک اور حکومت کا تصور کیا جاسکتا ہے جو کبھی بھی نہیں ہوسکتی اور وہ یہ ہے کہ رئیس حکومت میں معصوم کے علاوہ تمام فرماندار اور ریاستی حاکم تمام کے تمام معصوم ہوں ۔

اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا اس طرح کی حکومت کبھی بھی نہیں ہوسکتی کیونکہ کسی بھی زمانہ میں معصوم کی تعداد اس قدر نہیں ہوسکتی جن میں سے حکومت کے تمام عھدوں کے لئے معصوم کا انتخاب کیا جاسکے صرف وہی ‎ نمونہ حکومت ہوسکتی ہے جس کا رئیس معصوم ہواور یہ بھی صرف اسی وقت تصور کی جاسکتی ہے کہ جب معصوم موجود ہو ،اوروہ بھی اس صورت میں جب تمام رکاوٹیں ختم ہوجائیں ۔

لھٰذا اسلامی سیاست میں حکومت کے لئے مختلف مراتب اور درجات موجود ہیں کہ اگر حکومت کی بہتر ین قسم کا امکان نہ ہونے کی صورت میں اس سے ایک درجہ کم والی حکومت اس کے قائم مقام بنے، لھٰذا اگر بلند ترین حکومت جس میں ریاست معصوم کی ہو؛ نہ بن سکے تو ہم اسلامی حکومت کی تشکیل سے صرف نظر نہیں کرسکتے، بلکہ اگر معصوم حاضر نہ ہو تو ایسے شخص کی حکومت ہو جو علم ، تقویٰ اور مدیریت کے لحاظ سے معصوم سے شباہت رکھتا ہو (اگرچہ علم وتقویٰ اور مدیرت کا سب سے بلند درجہ معصوم کی ذات ہی میں تصور کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کا علم اور اس کا کردار عصمت کے زیر سایہ ہوتا ہے) ، اوراگر ایسا شخص بھی موجود نہ ہو تو پھر اس سے کم درجے والے کا انتخاب کیا جائے، اسی طرح کم سے کم درجہ والے کا انتخاب کیا جائے، یہاں تک کہ نصاب حکومت کے نچلے درجہ تک پہنچ جائے، اور اگر اس نصاب سے کم درجہ ہے تو پھر اس حکومت کے اہداف محقق نہیں ہوپائیں گے، لھٰذا اس شکل کی حکومت کو کسی بھی وقت میں انتخاب نہیں کیا جاسکتا۔

۸۔ ولایت فقیہ کی حکومت پر عقلی دلیل

قارئین کرام ! اگر ہماری بیان شدہ باتوں پر توجہ کی جائے تو ولایت فقیہ کی حکومت کی دلیل خود بخود واضح ہوجائے گی، اور وہ یہ ہے کہ : اگر ہم شرعی اور تعبدی دلائل سے صرف نظر کرلیں تو اسلامی بہتر ین حکومت کا نمونہ معصوم کی حکمرانی کی صورت میں تصور کیا جاسکتا ہے، لیکن چونکہ اسلام میں اقدار کے مراتب اور درجات ہیں لھٰذا بغیر شک وشبہ کے حکومت کے بھی درجات ہیں ، جس وقت معصوم کے نہ ہوتے ہوئے اس کے بہتر ین نمونہ ممکن نہ ہو تو ایسے شخص کو حکمرانی کے لئے انتخاب کریں جو معصوم سے زیادہ شباہت رکھتا ہو، اور وہ جامع الشرائط فقیہ ہے جو صلاحیت ، قابلیت ، علم، عمل اور مدیریت میں معصوم سے زیادہ شباہت رکھتا ہے اور امام کا جانشین شمار ہوتا ہے۔

پس ولایت فقیہ نظام کی دلیل یہ ہے کہ جب امام معصوم (ع) تک رسائی ممکن نہ ہو تو اس صورت میں جامع الشرائط فقیہ حکومت کی باگ ڈور سنبھالے کیونکہ وہ قوانین سے آشنائی، تقویٰ منجملہ سیاسی اور اجتماعی تقوے میں ، عام عدالت کی رعایت میں ، قوانین کو جاری کرنے میں ،حُسن تدبیر اور معاشرہ پر مدیرت میں ، عملی میدان میں مھارت، قوانین کو جاری کرنے کے طریقہ کار کی شناخت میں ، ہوائے نفس اور شیطان سے مقابلہ میں اور اسلام ومسلمین کے مصالح کو ذاتی اور گروہی ‎ منافع پر ترجیح دینے میں دوسروں پر فضیلت اور برتری رکھتا ہے۔

ھوسکتا ہے کوئی شخص یہ کھے کہ جب امام معصوم (ع) تک رسائی ممکن نہ ہو، تو پھر اسلامی حاکم کے لئے وہ شرائط ضروری نہیں ہیں ؛ نہ فقاہت اور علم کی شرط معتبر ہے اور نہ تقویٰ اور مدیریت کی قدرت، اور جو شخص بھی اپنے آپ کو مسلمانوں کی حکمرانی کے لئے ممبر کے طور پر پیش کرے اور وہ اکثریت سے جیت جائے تو اس کی حاکمیت اور حکومت معتبر اور نافذ ہے۔

حقیقت میں یہ فرضیہ اسی نظریہ ( ”یا سب کچھ یا کچھ بھی نہیں “ ) پر مبنی ہے یعنی جب اعلیٰ قسم کے شرائط جو فقط معصوم (ع) میں ہوسکتے ہیں ؛والا شخص نہ ہو تو پھر کم تر درجہ والے شرائط کی ضرورت نہیں ہے،جب معصوم (ع) کا تقویٰ نہ ہو تو پھر حاکم کے لئے تقوی کی شرط نہیں ہے اور وہ فاسد انسان جو گناہ کبیرہ کا بھی مرتکب ہوتا ہے وہ بھی اسلامی حکومت کا صدر بن سکتا ہے یہاں تک کہ وہ شخص جس نے فقہ وفقاہت کی بو بھی نہ سونگھی ہو وہ بھی اسلامی حکومت کا صدر بن سکتا ہے لیکن اسلامی سیاست کے تحت یہ نظریہ بغیر دلیل کے ہے اور باطل ہے، اور صرف مغربی ممالک میں رائج ڈیموکریٹک کے لحاظ سے ہے۔

اسلامی ممالک اور مسلمانوں کے درمیان اسلام سے معمولی معلومات رکہنے والے اور اپنے کو روشن فکر کہنے والے اپنی اسلامی معلومات کو مغربی کلچر سے مخلوط کرکے مشکلات میں پھنس گئے ہیں ، اور جب وہ ڈیموکریسی کو عملی طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں تومعلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے نظریہ ”یا سب کچھ یا کچھ بھی نہیں “ کو قبول کرلیا ہے، یہ سادہ لوح مسلمان اس بات کو مانتے ہیں کہ اگر امام معصوم (ع) موجود ہوں تو پھراسلامی معاشرہ میں انہیں کی حکومت ہونا چاہئے؛ لیکن اب جب کہ امام معصوم (ع) حاضر نہیں ہیں تو پھر معیار لوگوں کی اکثریت ہے اور عوام الناس کی مقبولیت کے علاوہ کوئی شرط ضروری نہیں ہے۔

قارئین کرام ! مذکورہ نظریہ ذرہ برابر بھی اسلامی حقیقت سے سنخیت نہیں رکھتا اسلام خود اپنے سلسلہ میں مراتب کا قائل ہے اور ارزشی واقدار کے سلسلہ میں مختلف مراتب پائے جاتے ہیں ، اسی طرح ہم اجتماعی مسائل میں دیکھتے ہیں کہ بعض امور کے لئے خاص شرائط قرار دئے گئے ہیں لیکن اگر تمام شرائط موجود نہ ہوں تو پھر اس سے کم درجہ کے شرائط معتبر سمجھے جاتے ہیں ہم اپنی بات کو واضح کرنے کے لئے اسلامی اجتماعی احکام میں سے ”وقف“ کے بارے میں اشارہ کرتے ہیں :

احکام ”وقف“ کے سلسلہ میں بیان ہوا کہ اگرکوئی چیز کسی خاص کام کے لئے وقف کی جائے تو اس کو اسی کام میں استعمال کیا جانا چاہئے لیکن اگر وہ کام بالکل ختم ہوجائے اور اس کا وجود خارجی نہ ہو تو پھر اس کام میں استعمال کیا جائے جو اس سے نزدیک ہو مثلاً قدیم زمانہ میں بعض چیزوں کو حضرت امام حسین علیہ السلام کے زائرین کے سواروں (گھوڑے وغیرہ) کے لئے وقف کیا جاتا تھا اور اس کی در آمد سے حضرت سید الشھداء (ع) کے زواروں کے ان حیوانوں پر جن پر سوار ہوکر کربلا جاتے تھے؛ ان کے لئے گھاس وغیرہ خریدی جاتی تھی لیکن آج کل اس طرح کا کوئی سلسلہ نہیں ہے اور آج کل کوئی گدھے گھوڑوں پر سوار ہوکر کربلا نہیں جاتا بلکہ آج کل تو ہوائی جھازوں اور گاڑیوں سے سفر کئے جاتے ہیں ، تو کیا اس طرح کی وقف شدہ چیزوں کو بالکل ہی چھوڑ دیا جائے اور ”یا سب کچھ یا کچھ بھی نہیں “ کے نظریہ کے تحت اس وقف شدہ شی ‎ کو بالکل ہی استعمال نہ کیا جائے، یا جس طرح اسلام نظریہ پیش کرتا ہے کہ اگر اعلیٰ ترین مرتبہ نہ ہو تو اس سے کم مرتبہ والے کواخذ کیا جائے جو گذشتہ استعمال سے زیادہ شباہت رکھتا ہے، اور یہ کھیں کہ اب جب جانوروں کو گھاس کھلانے کا موقع نہیں ہے تو اس کی در آمد کو ان گاڑیوں کے تیل وغیرہ میں خرچ کیا جاسکتا ہے، جن کے ذریعہ کربلا جاتے ہیں ؟ کیونکہ یہ کام گذشتہ استعمال سے زیادہ نزدیک ہے۔

اسی طرح اگر وقف کرنے والا اپنے بعد وصیت کرے کہ اس کے بعد اس کے لڑکوں میں سے ہی کوئی ایک اس کا متولی ہو لیکن متولی کے شرائط بیان کریں منجملہ یہ کہ متولی مجتھد ہو، تو اگر اس کی اولاد میں کوئی مجتھد نہ ہو لیکن ایسا لڑکا ہو جو اجتھاد کے قریب یا مجتھد متجزّی ہو، تو کیا اس صورت میں وقف شدہ شئے بغیر متولی کے رہے گی کیونکہ اس کے لڑکوں میں کوئی مجتھد نہیں ہے ؟ یا اگر پہلا درجہ ممکن نہ ہو تو دوسرے درجہ کو اختیار کیا جائے گا؛ اور مجتھد نہ ہونے کی صورت میں قریب الاجتھاد کو اس کا متولی بنایا جائے؟

بھر حال شرعی، اجتماعی اور سیاسی مسائل میں ایسے بھت سے نمونے موجود ہیں جن کو عقل اور شریعت صاحب مراتب سمجھتے ہیں اسی طرح اسلامی حکومت میں حاکم اور صدر کے لئے مراتب اور درجات رکھے گئے ہیں کہ اگر اول درجہ یعنی امام معصوم (ع)نہ ہونے کی صورت میں وہ شخص حاکم بنے جو امام معصوم (ع) کا جانشین ہو اور ہر لحاظ سے معصوم (ع) سے قریب ہو ،اور وہ جامع الشرائط ولی فقیہ کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔

حوالے:

(۱)بحار الانوار ج ۴۱ ض ۱۴

(۲) نھج البلاغہ، کلام ۲۳۸


تیسواں جلسہ

اسلامی حکومت سے ولایت مطلقہ فقیہ کی نسبت

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر

قارئین کرام ! ہماری یہ بحث ”اسلامی سیاسی نظریھ“ کے تحت ہے اور ہم نے اس بحث کو دو عام حصوں میں تقسیم کیا، جس کا پہلا حصہ قانون اور قانون گذاری کے سلسلے میں تھا اور دوسرا حصہ قانون جاری کرنے کا طریقہ کار اور معاشرہ کا نظام یا بالفاظ دیگر حکومت اور قوہ مجریہ کی اہمیت ہے دوسرے حصہ میں فلسفہ سیاست کے بارے میں لکھی گئی کتابوں میں مختلف نظریات اور مختلف طریقہ کار بیان کئے گئے ہیں ، لیکن ہم نے اپنے لحاظ سے اس طریقہ کو اپنایا ہے کہ پہلے حکومت کی ضرورت کے بارے میں بحث کریں ، تاکہ اس ضرروت کے تحت اس کے وظائف کی بھی پہنچان ہوجائے اس کے بعد حکومت کی ذمہ داریوں کے پیش نظر اس کے اختیارات کے بارے میں بھی معلومات ہوجائے۔

آخری چند جلسوں میں ہماری بحث یہ تھی کہ حکومت کی مخصوص ذمہ داریوں میں سے معاشرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنا بھی ہے وہ ضرورتیں جن کو انفرادی یا گروہی ‎ صورت میں انجام نہیں دیا جاسکتا یا ان کو انجام دینے والا کوئی نہیں ہوتا، اور اگر حکومت اپنا قدم نہ بڑھائے تو پھر وہ ضرورتیں پوری نہیں ہوپاتیں انہیں ضرورتوں میں سے کچھ اس طرح ہیں : دفاعی طاقت کو بڑھانا، بیرونی دشمن کے مقابلہ میں دفاع کرنے کے لئے مکمل طور پر تیاریاں کرنا، اور جنگ کو صحیح اور بہتر طریقہ سے ادارہ کرنا،اندرونی ناخوشگوار حالت سے مقابلہ کرنا، اندورن ملک میں امن وامان قائم کرنا، اسلامی قوانین اور مقرارت (وہ قوانین جو اصل ہیں یا جن کو پارلیمنٹ طے کرتا ہے) کو نافذ کرنا، عمومی مال پر نظارت کرنا اور ان سے صحیح طریقہ سے فائدہ اٹھانامثلاً انفال (جیسے معادن (کان) دریا اور جنگل وغیرہ) اور ان چیزوں کو استعمال کرنا جن کا کوئی خاص مالک نہیں ہے،اسی طرح معاشرہ کے ان لوگوں کی سرپرستی کرنا کم سن ہونے یا معلول (اپاہج) یا کم عقلی کی بنا پر سرپرستی کے نیاز مند ہوتے ہیں جن کا کوئی سرپرست نہیں ہوتا؛ نیز اسلامی حکومت کے سب سے مہم وظیفہ یعنی اسلامی شعار قائم کرنا ، احکام اسلامی اور حدود اسلامی کو جاری کرنا نیز اسلامی قوانین کی خلاف ورزی سے روک تھام کرنا ہے، اس آخری وظیفہ کے علاوہ دیگر تمام ذمہ داریاں دنیا بھر کی حکومتوں کے بھی ہوتے ہیں ،اور جو چیز اسلامی حکومت کو دوسری حکومتوں سے ممتاز بنادیتی ہے یہی اہم اور عظیم وظیفہ ہے ، در حقیقت اس کو اسلامی حکومت کے وظیفوں کی سر فھرست قرار دینا چاہئے۔

۲۔ اسلامی حکومت کے وظائف اور اختیارات کا برابر کا توسعہ

اسلامی حکومت کے وجودی فلسفہ اور اس کی ذمہ داریوں کی وضاحت کے بعد ،حکومت کے وہ اختیارات جن کی بنا پر وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتی ہے، روشن ہوجاتی ہیں ؛ کیونکہ اگر حکومت کے ذمہ کچھ وظائف معین کئے جائیں ، لیکن ان وظائف پر عمل کرنے کے لئے ضروری اختیارات نہ دئے جائیں تو وہ وظائف فائدہ مند نہیں ہوسکتے؛ چنانچہ روز مرہ کے مسائل میں یہ بات بالکل واضح وروشن دکھائی دیتی ہے مثال کے طور پر اگر کوئی شخص گھر میں کوئی کام اپنے بیٹے کے سپرد کرے لیکن اس کو انجام دینے کے لئے ضروری وسائل اس کو نہ دے یا کسی مزدور کو کسی کام کے لئے معین کیا جائے لیکن کام میں آنے والے وسائل فراہم نہ کرے یا اس کو وسائل کو ھاتہ لگانے کی اجازت نہ دے؛ تو بیشک کے ایسا کام بے ہودہ اور لغو ہے اور ہر صاحب عقل ایسے شخص کی مذمت کرے گا۔

جس وقت کسی کو کوئی ذمہ داری دی جاتی ہے تو اس کام کے لئے ضروری اختیارات بھی دئے جاتے ہیں تاکہ ان کے استعمال سے اپنے وظائف کو پورا کرے، اسی بنا پرہم جس وقت دوسری حکومتوں کے مقابلہ میں اسلامی حکومت کی مہم ذمہ داریوں کو ملاحظہ کرتے ہیں تو پھر اس حکومت کے اختیارات او رامکانات بھی دوسری حکومتوں سے زیادہ ہونے چاہئیں تاکہ بہتر ین طریقہ سے ان وظائف پر عمل پیرا ہوسکے اسلامی حکومت معاشرہ کی جائز ضرورتوں کو پورا کرنے قانونی اور جائز وسائل اور امکانات کو اختیار کرے ؛ ورنہ وہ اپنے وظائف پر عمل ہی نہیں کرسکتی اس بات کو مزید روشن کرنے کے لئے ایک مثال عرض کرتے ہیں :

جب ہم دیکھتے ہیں کہ آج کل ٹکنالوجی کی ہر روز ترقی ہورہی ہے اور قدیم زمانے کے حالات بدل رہے ہیں اور انسانی معاشرہ کے لئے نئے نئے حالات پیدا ہورہے ہیں تو پھر انسانی زندگی کے معاملات بھی مختلف طریقوں کے ہوجائیں گے، یہاں تک کہ اب انسان نے آسمان اور ہوا پر قبضہ کرلیا ہے جب تک انسان نے گاڑی نہیں بنائی تھی تو اس وقت گلی گوچے اور سڑک وغیرہ باریک ہوتی تھی جھاں سے صرف گدھا اور خچر وغیرہ ہی گذر سکتے تھے ، پرانے شھروں کے بعض محلوں میں اب بھی اس طرح کی گلیاں موجود ہیں ، لیکن اب جب کہ گاڑیوں کا زمانہ آگیا ہے اور اکثر لوگ گاڑیوں اور کاروں سے شھر میں آتے جاتے ہیں ، تو اس بات کی ضرورت ہے کہ ان گلی گوچوں کو چوڑا کیا جائے اور ان کی جگہ بڑی سڑک بنائی جائے تاکہ گاڑیاں آسانی سے رفت وآمد کرسکیں ، نیز احتمالی خطروں کی بھی روک تھام کی جاسکے۔

جس وقت حکومت یا حکومت کے کاگزار گلی کوچوں اور سڑکوں کو چوڑا کرنا چاہیں تو ان کو عوام الناس کے مکانوں کو توڑنا پڑے گا، تو اگر حکومت کی ذمہ داری ہو تو سڑکوں کو وسیع بنائے تاکہ رفت وآمد میں کوئی مشکل نہ ہو، لیکن اس کو لوگوں کے مکانوں کو توڑنے کا حق نہ ہو، تو حکومت سے ایسے کام کی درخواست لغو وبے ہودہ اور نہ ہونے والا ہے پس معلوم یہ ہوا کہ حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے اس طرح کے اختیارات کا ہونا ضروری ہے اور اور اس ذمہ داری کو نبھانے کے لئے ضروری وسائل فراہم ہونا ضرروی ہے؛ البتہ حکومت کو چاہئے کہ لوگوں کے ہوئے نقصان کا جرمانہ ادا کرے اور ان کے لئے مزید سھولیات کا انتظام کرے تاکہ وہ لوگ دوبارہ اپنے مکان بنا کر زندگی بسر کریں ۔

۳۔ حکومتی اختیارات سے ولایت مطلقہ فقیہ کی نسبت

قارئین کرام ! حکومت اسلامی کے وظائف پر عمل کرنے کے لئے ضروری اور کافی اختیارات منجملہ عوام الناس کی ملکیت میں ضرورت کے موقع پر تصرف کرنے کا حق ہونے کو مطلق ولایت فقیہ کھا جاتا ہے۔

قرآن کریم، احادیث معصومین علیہم السلام اور فقھا ء کرام کے بیانات میں لفظ ”حکومت“ کی جگہ لفظ ”ولایت“ کا استعمال ہوا ہے، اور ان چیزوں میں اس کلمہ کے استعمال کی دلیل سے صرف نظر کرتے ہوئے لفظ ”ولایت“ لفظ ”حکومت“سے زیادہ مناسب ہے (جیسا کہ مقام معظم رہبری حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای دامت برکاتہ نے فرمایا ہے کہ لفظ ”ولایت“ کا بار لفظ ”حکومت“سے زیادہ ہے کہ لفظ ”حکومت“میں ایک طرح کی زور گوئی اور تحکم پایا جاتا ہے) کیونکہ لفظ ”ولایت“ میں محبت اور عاطفہ شامل ہے؛ شاید اسی وجہ سے لفظ ”ولایت“، لفظ ”حکومت“ کی جگہ استعمال ہوا ہے بھر حال لفظ ”ولایت“ بالکل لفظ ”حکومت“ کی جگہ استعمال ہوا ہے اور جو شخص معاشرہ پر حکومت کو ضروری سمجھتا ہے شرعی لحاظ سے معاشرہ کے لئے ولایت کو ضروری سمجھتا ہے۔

چنانچہ اس مقدمہ کی بنا پر عرض کرتے ہیں کہ اگر یہ ولایت ان تمام اختیارات رکھتی ہو جن کے ذریعہ اپنے وظائف پر عمل کرسکے اور معاشرہ کی مختلف ضرورتوں کو جائز اور شرعی نقطہ نظر سے پوری کرے ، تو اس ولایت کو ”ولایت مطلقھ“ کھا جاتا ہے لیکن اگر ”ولی امر“ کے لئے ضرورت کے وقت ولایت ہو یعنی صرف لوگوں کی جان و مال کے خطرہ کے وقت اس کو تصرف کرنے کا حق ہو اور اس کو گلی اور سڑکوں کی وسعت یا مختلف مقامات پر پارک بنانے یا شھر کو خوبصورت بنانے کی اجازت نہ ہو تو اس ولایت کو محدود اور غیر مطلق کھا جاتا ہے۔

۴۔ مخالفین کی طرف سے ولایت مطلقہ کے بارے میں شک وشبھات

قارئین کرام ! جو کچھ ہم نے بیان کیا وہ چیزیں مخالفین بد نیتی رکہنے والے عوام الناس (اوربالخصوص) جوانوں کے ذھنوں کو مخدوش کرنے کے لئے بیان کرتے ہیں اور ”ولایت فقیھ“ کی تھیوری کو برعکس پیش کرکے درج ذیل مغالطہ انجام دیا:

پھلے تو انھوں نے لفظ ”ولایت“ کے بارے میں شبہ ایجاد کیا کہ لفظ ”ولایت“ بچوں اور دیوانوں کے لئے استعمال ہوتا ہے”ولی“ یعنی ”سرپرست“ اور جو بچے یا پاگل لوگ اپنی زندگی کو چلانے کے لئے کافی عقل وتدبیر نہیں رکھتے تو ان کو سرپرست کی ضرورت ہوتی ہے قارئین کرام! یہ مغالطہ بالکل واضح اور ورشن ہے، اور جیسا کہ اہل بیت علیم السلام کی ولایت بھی سرپرستی کے معنی میں نہیں ہے، لھٰذا یہاں پر بھی لفظ ”ولایت“ بالکل حکومت کے معنی میں ہے اور اس کے معنی اجتماعی امور کی تدبیر اور معاشرہ کے عظیم مدیریت کے ہیں ”ولایت فقیہ “ کے معنی یہ ہیں کہ جو حضرات خداوندعالم کی طرف سے معاشرہ کے عظیم امور کو چلانے کی اجازت رکھتے ہیں ،نہ یہ کہ ”ولایت فقیہ “ کی حاکمیت اور حکومت کے تحت صرف بچے، دیوانے او رکم عقل لوگ ہیں ۔

اس کے بعد لفظ ”مطلق“ میں شبہ ایجاد کیا اور اپنے بعض مقالوں میں یہاں تک کھہ دیا کہ ”ولایت مطلق“ کا اعتقاد رکہنا موجب شرک ہے، لھٰذا جو لوگ ”ولایت مطلق“ کے قائل ہیں در واقع وہ مشرک ہیں اور انھوں نے خداوندعالم کی ذات کے ساتھ شریک قرار دیا؛ کیونکہ خدا وند عالم کے علاوہ کوئی مطلق نہیں ہے،اور انھوں نے ”ولی امر“ کو بھی مطلق قرار دیا ہے!!

قارئین کرام! واقعاً انسان اس طرح کی بچکانہ باتوں کاکیا جواب دے لیکن مختصر طور پر عرض کرتے ہیں کہ اولاً قرآن وروایات اور دوسری اسلامی تحریر وں میں خد ا کو ”مطلق“ نہیں کھا گیا ہے، اور عربی قواعد کے تحت بھی خداوندعالم کے لئے لفظ مطلق کہنا صحیح نہیں ہے لیکن اگر مسامحہ اور مطلق کے معنی میں دخل وتصرف کرتے ہوئے خدا کے لئے لفظ مطلق کو استعمال بھی کریں تو اس کے معنی یہ ہونگے کہ خدوندعالم نامحدود ہے اور کسی طرح کا کوئی نقص وعیب نہیں رکھتا؛ لیکن کوئی بھی شخص کسی کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ نہیں رکھتا ہمارا عقیدہ ہے کہ صرف خدائے واحد کمالِ مطلق رکھتا ہے اور ذرہ برابر بھی نقص وعیب نہیں رکھتا، اور اس کی ذات میں تمام صفات وجودی غیر متناہی طورپر پائے جاتے ہیں اور یہ بات مسلم ہے کہ اس طرح کے عقیدہ کا ملازمہ یہ نہیں ہے کہ اسلامی حکومت اپنے وظائف پر عمل کرنے کے لئے ضروری اختیارات بھی نہ رکھے، اور بنیادی طور پر ان دونوں (باتوں ) میں کوئی ربط نہیں ہے۔ ”ولایت مطلق“ یعنی امت اسلامی کا حاکم اور رہبر،اسلامی معاشرہ کے مصالح کو جاری کرنے کے لئے ضروری اختیارات کا مالک ہوتا ہے، ولی فقیہ اسلامی معاشرہ کی بھلائی اور اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ضروری دخل وتصرف کرسکتا ہے اس مطلب کو مزید واضح کرنے کے لئے ایک مقدار ”اسلامی حکومت کی تھیوری“ پر روشنی ڈالیں گویا اس سے پہلے بھی اس مطلب پر اشارہ کیا جا چکا ہے۔

۵۔ اسلامی حکومت کا ڈھانچہ

جس وقت اسلامی حکومت کے ڈھانچہ کی بات ہوتی ہے تو بعض لوگ فلسفہ سیاست کے بارے میں لکھی گئی کتابوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس میں لکھی گئی قدیم زمانے سے آج تک کی حکومتوں کی قسمیں ملاحظہ کرتے ہیں مثلاً حکومت الیگارکی " Oligachy "(۱) ، اریسٹو کریسی، " Aristocracy "(۲) شاہی، ڈیموکریسی وغیرہ، اور آج کل ڈیموکریسی بھی جمھوری اور مشروطہ سلطنت پر تقسیم ہوتی ہے اور جمھوری بھی یا پارلیمنٹی ہوتی ہے یا ریاستی،اس وقت یہ سوال کرتے ہیں کہ اسلامی حکومت مذکورہ اقسام میں سے کونسی قسم ہے؟یا ان کے مقابلہ میں اس حکومت کی کوئی خاص شکل ہے؟ اگر اسلامی حکومت وہی ‎ جمھوری حکومت ہے تو یہ تو وہی ‎ ڈیموکریسی اور عوام الناس پر عوام الناس کی حکومت ہے اور اس بنا پر اسلام کی نظر میں حکومت کی کوئی خصوصیت اور امتیاز نہیں ہے اور اگر اسلامی حکومت کو بادشاہی حکومت کھا جائے تو پھر ایران کی اسلامی حکومت کو ”جمھوری اسلامی“ کیوں کھا جاتا ہے؟ بھر حال حکومت کی شکل کے سلسلہ میں کوئی نظریہ نہیں ہے اور اس سلسلہ میں عوام الناس کو اختیار دیا ہے تاکہ وہ جس طرح بھی چاہیں حکومت تشکیل دیں ؛ یاحکومت کے سلسلہ میں اسلام نے کوئی نیا طریقہ ایجاد کیا ہے؟

اسلامی لحاظ سے حکومت کی شکل کے سلسلہ میں مختلف طریقوں سے بھت زیادہ بحثیں ہوئی ہیں اوراسلامی حکومت کی شکل کے لحاظ سے بھت سے سوالات کے جواب میں کہنے والوں نے کھا کہ اسلام نے حکومت کے سلسلہ میں کوئی خاص شکل بیان نہیں کی ہے اگرچہ یہ جواب کافی حدّ تک صحیح ہے لیکن اشکالات اور ابھام سے خالی نہیں ہے جس کی وضاحت کے لئے دو نکات کا بیان کرنا ضروری ہے:

الف۔ اسلامی قوانین کی وسعت اوران کا نسخ نہ ہونا

پھلا نکتہ اسلام اور اسلامی قوانین کسی خاص زمانے اور کسی خاص جگہ سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ تمام زمانوں اور تمام معاشروں کے لئے نازل ہوئے ہیں اسلام کے ثابت اور غیر قابل تبدیل احکام اس طرح وضع کئے گئے ہیں جو تمام ہی معاشروں میں قابل اجراء ہیں دوسری طرف، ممکن ہے حکومت کسی چھوٹے معاشرہ کی ہو یا کروڑوں یا اربوں والی آبادی کی ہو جیسے چین اور ھندوستان کی حکومتیں جن کی آبادی ایک ارب سے بھی زیادہ ہے، بھر حال حکومت کی مختلف قسمیں ہوسکتی ہیں : مثلاً ایک سو گھر والے معاشرہ میں بھی حکومت ہوسکتی ہے اور ایک ارب والے معاشرہ میں بھی حکومت ہوسکتی ہے یہاں تک کہ پوری دنیا پر بھی ایک عالمی حکومت ہوسکتی ہے، اور انہیں حکومتوں کی اقسام کی بنا پر ان کے لئے ایک ایسا نمونہ پیش کیا جائے تو تمام قسموں کو شامل؟ یا حکومت کی کوئی خاص شکل معین نہیں کرنا چاہئے، یا اگر کوئی خاص شکل معین کی گئی تو پھر مسلم طور پر آج کل کی بعض حکومتوں سے ہم اہنگ ہوگی، اور دوسرے معاشروں کے لحاظ سے نہیں ہوگی؟ مثال کے طور پر اگر کھیں کہ ظھور اسلام کے وقت اسلامی پیغام صرف بعض مقامات تک محدود تھا اور اس کے احکام صرف مدینہ منورہ کے چھوٹے معاشرہ کے لئے تھے، اور وہ حکومت جو رسول اسلام (ص) کے ذریعہ تشکیل پائی وہ اس زمانہ کے لئے مناسب تھی جس کی آبادی شاید ایک لاکہ سے زیادہ نہ ہو آیا اسلام کی پیش کردہ ”اسلامی حکومت“ کی شکل وصورت اسی طریقہ کی ہے جو صدر اسلام میں رسول اکرم (ص) کے زمانہ میں تھی، انہیں خصوصیات اور امتیازات کے ساتھ جو اس محدود آبادی میں مخصوص اخلاق اور ثقافت کے ساتھ ہے؟ یا نہ صرف یہ کہ اسلام نے حکومت کی کوئی خاص شکل بیان نہیں کی ہے بلکہ حکومت کے سلسلہ میں کسی طرح کی کوئی قید وشرط پیش نہیں کی ہے؟

قارئین کرام ! حقیقت تو یہ ہے کہ اسلام نہ پہلے گزینہ کو پسند کرتا ہے اور نہ دوسرے کو، بلکہ اسلام نے حکومت کی خاص شکل وصورت بیان کرنے سے بھی بالاتر غیر قابل تبدیل احکام کی بنا پر حکومت کی عام اور وسیع پیمانہ پر معرفی کی ہے، جن کے تحت تغیر اور تبدیلی کی بنا پر مختلف بھت سی شکلیں بن سکتی ہیں اسلام نے نہ عوام الناس کو بالکل ہی آزاد چھوڑا ہے کہ جو چاہیں کریں اور نا ہی حکومت کی کوئی خاص اور محدود شکل بیان کی ہے جس کو صرف کسی خاص زمان ومکان میں ہی نافذ کیا جاسکتا ہے اسلام کے پیش کردہ قوانین اس طرح کے ہیں جن کے تحت حکومت کی صحیح اور عقلائی شکلیں آسکتیں ہیں البتہ حکومت کی وہ شکلیں اسلام کے عام اصول سے خارج نہ ہونے پا ئیں ہم اسلام کے معین کردہ قوانین اور حدود کو اسلامی حکومت کھتے ہیں ہوسکتا ہے ان قوانین کے تحت ایک وقت حکومت کی کوئی خاص شکل ہو اور کسی دوسرے زمانہ میں اس کی شکل وصورت دوسری ہو، لیکن یہ دونوں شکلیں حکومت اسلامی ہونے کے لحاظ سے ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہوتیں ۔

دوسرے الفاظ میں یوں عرض کیا جائے کہ اسلام نے حکومت کی کوئی خاص شکل وصورت بیان نہیں کی ہے لیکن اس حکومت کو اسلامی قوانین اور حدود سے باہر نہ ہونا چاہئے بلکہ اسلامی اصول کے ہم اہنگ اور مطابق ہو کیونکہ یہ مسئلہ علمی اور عقلی لحاظ سے دقیق اور ظریف ہے کہ اسلام کے ثابت اور غیر قابل تبدیل احکام روز قیامت تک کے لئے بنائے گئے ہیں جن میں کلّی اور عظیم ڈھانچہ موجود ہے، اور ان کے مقابلہ میں جزئی اور قابل تبدیل احکام زمان ومکان کے لحاظ سے وضع ہوئے ہیں ، انہیں قابل تبدیل احکام میں سے حکومتی احکام ہیں جو ہر زمانہ میں ولی فقیہ کے ذریعہ یا اس کے دستخط کے ذریعہ وضع ہوتے ہیں جن کی اطاعت او رپیروی کرنا واجب ہے۔

ب۔اسلام کی طرف سے حکومت کے درجہ وار نمونے

دوسرا نکتہ : جیسا کہ ہم نے پہلے جلسے میں بھی عرض کیا تھا کہ کبھی کوئی شخص کسی مقصد کو سامنے رکھتا ہے، اور اس مقصد تک پہنچنے کے لئے کچھ نمونے شرائط مدّ نظر رکھے جاتے ہیں لیکن وہ شرائط فراہم نہیں ہوتے تو پھر اس کے بدلے میں دوسرے (اور کمتر) شرائط رکھے جاتے ہیں ، یعنی اگر وہ اول درجہ کے نمونہ شرائط حاصل نہ ہوں تو پھر اس کی جگہ دوسرے درجہ کے شرائط کو ہی انتخاب کیا جاتا ہے، اور اگر دوسرے درجے کے شرائط بھی نہ ہوں تو پھر بات تیسرے درجہ پر پہنچتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اقدار اور ارزشی نظام تمامیت (مکمل) خواہ نہیں ہے اور ارزش کو فقط اعلیٰ درجہ میں منحصر نہیں کرتا، کہ اگر اس اعلیٰ درجہ کے شرائط میں ذرا بھی نقص وارد ہوگیا تو پھر اس کی کوئی ارزش اور اہمیت نہیں رہے گی بلکہ اسلام کے ارزشی نظام میں ارزشوں اور اقدار کے مختلف درجات ہیں ، جس میں تمام شرائط پائے جائیں گے وہ بالاتر اور نمونہ اقدار کا مالک ہے اس کے بعد کم درجے والے شرائط کی بھی ایک اہمیت ہوتی ہے ایسا نہیں ہے کہ اگر اعلیٰ درجہ کا مقصد حاصل نہ ہو تو بالکل ہی اس کو چھوڑ دیا جائے اور اس کے لئے کم درجہ والی حالت کو قائم مقام نہ بنایا جائے۔

مقصد یہ ہے کہ اسلام نے حکومت کی ایک نمونہ اور آئیڈیل شکل پیش کی ہے اور وہ نمونہ شکل اس صورت میں رونما ہوگی جب امام معصوم حاضر ہو اور حکومت کی باگ ڈور اپنے ھاتھوں میں سنبھالیں ، جیسا کہ قرآن مجید میں اسی نمونہ کا انتخاب کرکے بیان کیا گیا ہے ، ارشاد ربّ العزت ہوتا ہے:

( یَاایُّها الَّذِینَ آمَنُوا اطِیعُوا اللهَ وَاطِیعُوا الرَّسُولَ وَاوْلِی الْامْرِ مِنْکُمْ ) (۳)

”اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کرو جو تمھیں میں سے ہیں ۔“

اور دوسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَمَا آتَاکُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوه وَمَا نَهاکُمْ عَنْه فَانْتَهوا ) (۴)

” اور جو کچھ بھی رسول تمھیں دیدے اسے لے لو اور جس چیز سے منع کرے اس سے رک جاؤ “

اگرچہ اسلام کایہ نظریہ ہے کہ اول درجہ میں حکومت کی ریاست امام معصوم (ع)فرمائیں چونکہ معصوم صاحب عصمت ہوتا ہے لھٰذا وہ بہتر ین طریقہ پر حکومت کو چلا سکتا ہے لیکن نہ تو ہمیشہ معصوم (ع) حاضرہیں تاکہ براہ راست حکومت کو اپنے ھاتھوں میں لیں اور نہ ہمیشہ امام معصوم (ع) مبسوط الید (آزاد) ہیں تاکہ حکومت تشکیل دیں اور اپنی قدرت کا مظاہرہ کریں ؛ جیسا کہ ہمارے ائمہ علیہم السلام میں صرف حضرت علی علیہ السلام اور امام حسن علیہ السلام نے حکومت تشکیل دی وہ بھی کم مدت کے لئے، اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے بعد سے اس طرح کے حالات نہ تھے کہ ائمہ معصومین علیہم السلام حکومت تشکیل دیں ، یا عوام الناس یا عوام الناس کی اکثریت نے ائمہ علیہم السلام سے نہیں چاہا کہ حکومت تشکیل دیں یا معاشرہ کے اہم افراد ائمہ (ع) کی تشکیل حکومت میں مانع تھے، جن کی وجہ سے ائمہ علیہم السلام کو ہمیشہ حکومت سے کنارہ کشی کرنا پڑی۔

۶۔ اسلامی نقطہ نظر سے ”حکومت میں حکومت“ کے نقشہ کی تاریخ

اگر حکومت کی باگ ڈور امام معصوم علیہ السلام یا عادل مومنین کے ھاتھوں میں نہ ہو بلکہ ظالم اور طاغوت کی حکومت ہوجائے، تو کیا اس صورت میں کوئی بھی حکومتی کام صحیح طریقہ پر انجام نہ دیا جائے اور تمام امور غاصب اور ظالم حاکم کے ھاتھوں میں چلے جائیں اور عوام الناس حکومت کے تمام امور کو چھوڑ دے؟ کیا نیک ، صالح اور شائستہ افراد کسی بھی طرح کے حکومتی امور میں رسیدگی نہ کریں اور حتی الامکان معاشرہ کی رہبری نہ کریں ؟ بےشک اسلام کا جواب نفی میں ہوگا، اور اس طرح کے حالات میں اضطراری اور مجبوری کا بدل رکھا ہے اور فرمایا ہے کھ: اگر امام معصوم علیہ السلام حاضر ہوں لیکن حکومت تشکیل دینے میں آزاد نہ ہوں یا امام معصوم (ع) حاضر نہ ہوں اور حکومت ان کے نیک اور صالح جانشینوں کے ھاتھوں میں نہ ہو، تو کیا اس صورت میں عوام الناس محدود موارد میں حکومتی امور کے سلسلہ میں کسی ایسے شخص کی طرف رجوع کریں جو معصوم سے زیادہ شباہت رکھتا ہو۔

بےشک معاشرہ میں ہمیشہ ذاتی ، گھریلو اور اجتماعی مسائل میں اختلاف اور جھگڑا رہا ہے اور مال وثروت، معاملات اور خرید وفروخت نیز شرکتوں میں جھگڑے ہوتے رہے ہیں مثلاً دو شریک اپنے حصے کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں یا ورثا میراث کے سلسلہ میں اختلاف کرتے ہیں یا میاں بیوی کے درمیان اختلاف ہوتے ہیں ، لامحالہ ان تمام اختلافات اور جھگڑوں کو حل کرنے کے لئے ایک حکومت کا ہونا ضروری ہے تاکہ ان مواقع پر اس کی طرف رجوع کریں اور اپنے اختلافات کو حل کریں اور وہ ان کے اختلافات اور جھگڑوں کو حال کرے ظالم اور طاغوت کی حکومت کے ہوتے ہوئے عوام الناس کو یہ بھانہ نہیں کرنا چاہئے کہ چونکہ حق وانصاف کی حکومت نہیں ہے اور امام معصوم (ع) یا حاکم عادل کی ریاست نہیں ہے لھٰذا ظالم اور طاغوت کی حکومت پر راضی ہوجائیں اور حکومت کی مرضی پر راضی ہوجائیں اور اس سلسلہ میں کوئی تدبیر نہ کریں ؛ بلکہ اگر خاص موارد میں کسی ایسے شخص کی طرف رجوع کرنا ممکن ہے جو اسلامی احکام کو صحیح طریقہ سے بیان کرے اور ان کو جاری کرے،تو اگر ایسا کوئی شخص ہے تو اس کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے، اسی وجہ سے ہمارے ائمہ معصومین علیہم السلام نے اس طرح کے حالات کے لئے ایک نقشہ پیش کیا ہے جس کو آج کل کی اصطلاح میں ” حکومت میں حکومت کی تشکیل“ کھا جاتا ہے۔

جس وقت حکومت ظالموں اور نااہلوں کے ھاتھوں میں ہو اور وہ معاشرہ پر حکومت کررہے ہوں اور عوام الناس اس حکومت کے خلاف قیام کرنے اور اس حکومت کا تختہ پلٹنے کے کافی امکانات نہ رکھتے ہوں تو جن حکومتی مسائل میں سرکاری اور قانونی دفاتر کی طرف رجوع کرنا ہوتا ہے؛ تو اس موقع پر ضروری ہے کہ فقھاء ، علماء اور ایسے لوگوں کی طرف رجوع کریں جو معصوم تو نہ ہوں لیکن اہل بیت علیہم السلام کے مکتب کے تربیت شدہ ہوں اور علم و تقویٰ کے بلند ترین درجہ پر فائز ہوں اور ان کا علمی اور اخلاقی مقام دوسروں کی نسبت معصوم سے زیادہ نزدیک ہو حتی الامکان اپنے حکومتی مسائل میں ایسے فقیہ کی طرف رجوع کریں جو علمی لحاظ سے اتنی صلاحیت رکھتا ہو تاکہ اسلام کے احکام کا صحیح طریقہ سے استنباط کرے، اور قضاوت و فیصلوں کے لئے کافی مھارت رکھتا ہو؛ نیز تقویٰ کے بلند ترین درجات رکھتا ہو اور مورد اعتماد اور اطمینان ہو۔

”حکومت میں حکومت“ کے نظریہ کا مطلب یہ ہے کہ ظالم و جابر حکومتوں میں چھوٹی چھوٹی اور محدود حکومتیں تشکیل دی جائیں تاکہ عوام الناس اپنے حکومتی مسائل میں مشکلات کے وقت ان کی طرف رجوع کرسکیں ، جس کو ہماری اسلامی ثقافت میں ”ولایت مقیدھ“ (محدود ولایت) کھا جاتا ہے جو معصومین علیہم السلام کے زمانہ میں بھی فقھاء کرام رکھتے تھے اور امام معصوم علیہ السلام کی اجازت سے خاص موارد میں قضاوت اور امر ونھی کیا کرتے تھے، اور غیبت کے زمانہ میں بھی اگرچہ فقھا مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتے تھے اور حکومت نہیں بنا سکتے تھے لیکن محدود مسائل میں اختلافات اور جھگڑوں نیز معاشرہ کے ضروری ترک شدہ امور جن کو ہماری فقہ میں ”امور حسبیھ“ کھا جاتا ہے؛ میں حکومت کیا کرتے تھے، اگرچہ ”ولایت مقیدھ“ ظاہری اور معنوی لحاظ سے ”ولایت مطلقہ فقیھ“ سے فرق رکھتی ہے۔

شیعہ تاریخ میں ہمیشہ فقھاء کی طرف سے ” ولایت مقیدھ“ جاری ہوتی رہی ہے، اور شیعہ افراد اطمینان اور مکمل رضایت کے ساتھ اجتماعی امور، اختلافات اور جھگڑوں میں فقھاء کی طرف رجوع کرتے تھے اور ان سے ان کا حل طلب کرتے تھے اور شاید اس سلسلہ میں تاریخی پہلو اور ہمیشہ تاریخ میں اس کے موجود رہنے اور اس کی ضرورت کی وجہ سے کسی نے اس سلسلہ میں زیادہ اعتراضات اور شبھات وارد نہیں کئے ہیں ، لیکن ”ولایت مطلقہ فقیہ “ کے سلسلہ میں چونکہ تاریخ کاحوالہ نہیں ملتا اور اس کی وجہ سے دشمنان اسلام کی زندگی خطرہ میں پڑگئی نیز اس نے ناجائز منافع میں رکاوٹ پیدا ہوگئی جس کی بنا پر انھوں نے اس سلسلہ میں بھت سے اعتراضات اور شبھات پیدا کردیتے ۔

۷۔ حضرت امام خمینی (رہ)کی طرف سے ”ولایت مطلقہ فقیہ“ کا نقشہ

حضرت امام زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی غیبت کے وقت سے انقلاب اسلامی ایران سے پہلے تک یہ احتمال دینا کہ ایک زمانہ میں جامع الشرائط فقیہ کے ذریعہ حق وحقیقت کی حکومت کاقائم ہونا صرف ایک خواب تھا، یہاں تک کہ اگر انقلاب سے تیس چالیس سال پہلے خود اسی ملک کی عوام الناس سے کھا جاتا کہ ایک روز وہ آنے والا ہے جب ایک روحانی فقیہ کے ذریعہ اس شھنشاہی حکومت کا تختہ پلٹ جائے اور وہ خود حکومت کی باگ ڈور سنبھالے گا تو کسی کو یقین نہ آتا، اور اس طرح کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھاجو فقط خواب کی طرح تھا یہ بالکل اس بات کی طرح تھا کہ اگر ہم کھیں کہ ایک زمانہ وہ آنے والا ہے جب انسان کسی چیز کا سھارا لئے بغیر آسمان میں پرواز کرنے لگے گا، کیونکہ اس طرح کا تصور فقط خواب میں کیا جاسکتا ہے اور ایسا کبھی بھی نہیں ہوسکتا۔

اُس زمانہ میں یہ بات واقعاً ایک مذاق تھی کہ اگر کوئی کھے کہ ایک عالم دین اس طاغوت بادشاہ کی جگہ خود حکومت بنائے گا کیونکہ اس وقت لوگ یہی کھتے کہ کیا ایسا ہوسکتا ہے؟!! کیا ایسا شخص جو اپنی زندگی کو مشکل سے چلاتا ہو اور اپنے گھر میں بھی امنیت نہ رکھتا ہو اور کسی بھی وقت (مخفی) پولیس ان کے گھر میں آکر گرفتار کرسکتی تھی، یا ان کو جلاوطن کردے یا جیل میں ڈال دے اور ان کو شکنجہ کرے تو کیا ایسا شخص حکومت تشکیل دینے کی قدرت حاصل کرسکتا ہے!!

اگرچہ گذشتہ زمانہ میں ”ولایت فقیھ“ کاظاہری وجود نہیں تھا یہاں تک کہ عقلی طور پر اس کا احتمال بھی نہیں دیا جاتا تھا؛ لیکن اس کو علمی طور پر تصور کیا جاسکتا تھا جس میں کوئی اشکال بھی نہیں تھا، بھت سے فقھاء ومجتھدین نے ”ولایت فقیھ“ کی تھیوری کو بیان کیا ہے، اور اس سلسلہ میں تحقیق وبررسی کی ہے کہ اگر ایک زمانہ فقیہ کی حکومت کے لئے آجائے اور وہ فقیہ مسند حکومت پر تشریف فرما ہو، تو اس کی ولایت مطلق ہوگی یا مقید (اور محدود)؟۔

ائمہ معصومین علیہم السلام کے زمانہ کے برخلاف کہ جب ائمہ (ع) تقیہ میں ہوتے تھے اور مکمل طور پر آزادی نہیں ہوتی تھی، اور نہ ہی حکومتی مسائل میں کوئی دخالت کرسکتے تھے ،مومنین صرف مخفی طور پر امام علیہ السلام سے ملاقات کرتے تھے اور اپنی بعض مشکلات منجملہ اختلافات وغیرہ کو بیان کرتے تھے تاکہ گواہ اور ثبوت کے بعد ائمہ (علیہم السلام) دونوں فریقوں کے درمیان فیصلہ فرماتے تھے، اسی طرح اس زمانہ کے برخلاف جس میں فقھاء حکومت سے دور رکھے جاتے تھے ،اور حکومتی مسائل میں دخالت کا حق نہیں رکھتے تھے، تواگر کسی زمانہ میں فقیہ ومجتھد کی حکومت بنانے کی راہ ہموار ہوجائے اور وہ حکومت تشکیل دینے کی قدرت رکھتا ہو، تو کیا اس کی ولایت صرف ضروری کاموں تک محدود رہے گی؟ جس کو اصطلاحاً ”امور حسبیھ“ کھا جاتا ہے،یا ظالم وستمگر کی حکومت کی تمام تر قید وبند اور محدودیت ختم ہوجائے گی؟ جبکہ اسلامی سیاست کے لحاظ سے ولی فقیہ کی قدرت کے بارے میں کوئی محدویت نہیں ہے، وہ امام معصوم (ع) کی طرح مبسوط الید ہے جو حکومت تشکیل دے اور معاشرہ کے نظام کو چلانے میں امام معصوم (ع) کی طرح ہے لھٰذا دوسری قسم ”ولایت مطلقہ فقیہ کی تھیوری“ کے عنوان سے پیش ہوئی ہے۔

ہمارے بزرگوں میں ”ولایت مطلقہ فقیہ کی تھیوری“ کی وضاحت کے علاوہ اس کو عملی طور پر بھی محقق کرکے دکھانے والوں میں حضرت امام خمینی (رہ) تھے، جنھوں نے تقریباً چالیس سال پہلے اپنے درس میں اس سلسلہ میں بیان کیا کہ ایک فقیہ کسی خاص علاقہ میں حکومت تشکیل دے سکتا ہے اور وہ اس صورت میں تمام حاکم شرعی کے اختیارات رکھتا ہوگا، اور صرف ضروری اور امور حسبیہ میں منحصر نہیں ہوگا، وہ اسلامی معاشرہ کے تقاضوں کے تحت اسلامی قوانین کے تحت ولایت کو جاری کرسکتا ہے۔

جس وقت امام خمینی (رہ)نے اس نظریہ کو بیان کیا تو آپ کے شاگردوں نے حسن نیت اور آپ سے لگاؤ کی وجہ سے اس نظریہ کو قبول تو کرلیا لیکن ان کو دل سے یقین نہیں تھا کہ ایسا بھی زمانہ آئے گا یہاں تک کہ اس تحریک کا آغاز ہوا اور اہستہ اہستہ انقلاب آگیا، اور اسلامی حکومت کی تشکیل سے مذکورہ نظریہ عملی طور پر ظاہر ہوگیا۔

پس ”ولایت مطلقہ فقیھ“ یعنی وہ شخص جو اسلامی نظریہ کے مطابق حکومت کرنے کے شرائط رکھتا ہو، اور علم، تقویٰ اور معاشرہ کی رہبری کے سلسلہ میں امام معصوم (ع) سے زیادہ شباہت رکھتا ہو اور حکومت تشکیل دے، اور وہ معاشرہ کو ادارہ کرنے میں معصوم (ع) کے اختیارات رکھتا ہوگا اور جس وقت ولی فقیہ کے اس قدر وسیع اختیارات ہوں تو اس وقت ولی فقیہ کے تحت اسلامی حکومت کے تمام قوانین اور دستور العمل ولی فقیہ کی اجازت اور اس کے اذن سے مشروعیت (جواز) پیدا کرتے ہیں ، اور ایک ایک کو براہ راست یا مستقل طور پر قانون گذاری کا حق نہیں ہوگا، اور نا ہی حکومتی قوانین کو جاری کرنے کا حق ہوگا، تمام حکومتی امور اسی کی اجازت سے قانونی ہونگے، اس کی حکومت میں قوانین کو جاری کرنے کا کوئی بھی عھدہ اسی کی طرف دیا جائے گا، یا اگر کسی خاص قانون کے ذریعہ اس کا انتخاب کیا جائے تو اس کو اسی وقت قانونیت ملے گی جب ولی فقیہ اس کی موافقت کردے، لھٰذا چاہے قانون گذاری کا مسئلہ ہو یا قانون کو جاری کرنے کا مسئلہ جب تک ولی فقیہ کی اجازت نہ ہو تو کوئی بھی کام جائز نہیں ہے۔

جیسا کہ امام خمینی (رہ) مکرر ارشاد فرماتے تھے: ”اگر کوئی حکومت ولی فقیہ کی اجازت سے نہ ہو تو وہ طاغوت ہے۔“

اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کی صرف دو قسمیں ہیں ایک حق کی حکومت اور دوسری طاغوت کی حکومت حق کی حکومت وہ حکومت ہے جس کی باگ ڈور ولی فقیہ کے ھاتھوں میں ہے اور حکومت کے تمام مسائل اسی کے ماتحت ہوں اور اسی کی اجازت سے مشروعیت پیدا کرتے ہیں ، لیکن اگر ایسا نہ ہو تو وہ حکومت باطل اور حکومت طاغوت ہے ، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلاّٰ الضَّلاٰلُ ) (۵)

”اور حق کے بعد ضلالت کے سوا کچھ نہیں ہے “

۸۔ مقبولہ(روایت) عمر بن حنظلہ سے ولایت فقیہ

قارئین کرام ! مذکورہ بیان کے مطابق، ولی فقیہ کے وسیع اختیارات قوانین شرع مقدس میں منحصر ہیں اور ان سے متجاوز نہیں ہونگے؛ کے پیش نظر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ”ولایت مطلقہ فقیھ“ موجب شرک اور غیر خدا کو مطلق قرار دینا نہیں ہے؛ بلکہ اس کے برعکس ائمہ معصومین علیہم السلام سے نقل شدہ روایات کے مضمون کے لحاظ سے اگر کوئی شخص ولی فقیہ کے حکم اور فرمان کی نافرمانی کرے تو وہ مشرک ہے جیسا کہ عمر بن حنظلہ کی روایت میں موجود ہے:

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دو شیعہ افراد( جن میں دینی مسائل یا دنیوی مسائل اور میراث کے سلسلہ میں اختلاف تھا)کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اپنے اختلافات کو دورکرنے اور اپنے فیصلہ کے لئے کس کی طرف رجو ع کریں ؟ تو امام علیہ السلام نے ان کو ظالم اور طاغوت حاکم کی طرف رجوع کرنے سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ راویان حدیث اور دینی مسائل کے ماہر اور اہل فن کی طرف رجوع کریں ، چنانچہ آپ ایک حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں :

” فَاِنِّی قَدْ جَعَلْتُه حَاکِماً، فَاِذَا حَکَمَ بِحُکْمِنَا فَلَمْ یَقْبَلْه مِنْه فَاِنَّمَا اسْتَخَفَّ بِحُکْمِ اللهِ وَعَلَیْنَا رَدَّ، وَالرَّادُ عَلَیْنَا الرَّادُ علی اللهِ وَهوْ عَلٰی حَدِّ الشِّرْکِ بِاللهِ “ (۶)

(میں اس (فقیہ اور دین میں ماہر شخص )کو تم پر حاکم قرار دیتا ہوں پس جس وقت وہ ہمارے حکم کے مطابق فیصلہ کرے اور کوئی اس کو قبول نہ کرے تو بے شک اس نے حکم خدا کو ھلکا قرار دیا ہے اور ہمارے حکم کو ردّ کیا ہے ، ہمارے حکم کو ردّ کرنا خدا کے حکم کو ردّ کرنا ہے اور یہ خدا وندعالم پر شرک کی حد ہے۔)

چنانچہ مذکورہ روایت کے پیش نظر اگر کسی جامع الشرائط فقیہ نے حکومت تشکیل دی تو اگر کوئی شخص اس کی مخالفت کرے یا اس کے حکم کو ردّ کرے تو گویا اس نے ائمہ معصومین علیہم السلام کی مخالفت کی اور ان کی مخالفت خدا کے شرک کی حد تک ہے البتہ یہ شرک ربوبیت تکوینی میں شرک کی طرح نہیں ہے بلکہ ربوبیت تشریعی میں شرک ہے کیونکہ توحید کے اقسام ومراتب ہیں :

۱۔ توحید در خالقیت؛ یعنی خداوندعالم کی وحدانیت اور اس کی یکتائی کا اقرار کرنا۔

۲۔ توحید در الوہی ‎ ت وعبودیت؛ یعنی خدا وندعالم کے علاوہ ربّ اور مطلق قانون گذار نہ ہونے اور کسی کے لائق عبادت ہونے پر عقیدہ رکہنا۔

خود توحید ربوبی کی دو قسمیں ہوتی ہیں :

۱۔ توحید ربوبیت تکوینی۔

۲۔ توحید ربوبیت تشریعی۔

”توحید در ربوبیت“ یعنی دونوں جھان کی تدبیر کو خدا وندعالم سے مخصوص مانے اور اس بات پر عقیدہ رکھیں کہ گردش آفتاب ومھتاب ، دن رات کا موجود ہونا، انسان وحیوانات کی موت وزندگی اور دیگر جاندار اشیاء کی حفاظت نیز دیگر حادثات خدا کی طرف سے ہوتے ہیں ، وہی ‎ زمین وآسمان کی حفاظت کرتا ہے نیز اس وسیع وعرض دنیا میں جو چیز بھی پیدا ہوتی ہے ، رشد کرتی ہے، اپنے بچے پیدا کرتی ہے اور پھر مرجاتی ہے یا کسی بھی طرح کے جو آثار رونما ہوتے ہیں وہ تمام کے تمام خدا وندعالم کی تدبیر اور اس کے ارادہ کے تحت ہوتے ہیں ، اور کوئی بھی واقعہ خداوندعالم کے دائرہ ربوبیت سے باہر نہیں ہے۔

”ربوبیت تشریعی“ صرف انسانوں کی اختیاری تدبیر سے متعلق ہوتی ہے برخلاف دوسری مخلوقات کے ، کیونکہ انسان کی تمام حرکات وسکنات اور اس کی ترقی ؛ اس کے اختیاری افعال کی بنا پر ہوتی ہے ، کیونکہ خداوندعالم نے انسان کو راہ مستقیم کی ہدایت فرمائی ہے، اور اس کو خوب وبد کی پہنچان کرادی ہے، اور وہی ‎ انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں قانون صادر فرماتا ہے۔

لھٰذا توحید اور اس کے اقسام کے بارے میں بیان شدہ مطالب کے پیش نظر اگر کوئی شخص توحید در خالقیت اور عبودیت نیز توحید ربوبیت تکوینی کو قبول کرلے لیکن اگر توحید ربوبیت تشریعی کو قبول نہ کرے تو وہ مشرک ہے، جس طرح سے حضرت شیطان بھی اسی شرک میں مبتلا ہوئے ہیں ، کیونکہ شیطان خدا وندعالم کی توحید در خالقیت کو قبول رکھتا تھا اسی طرح خداوندعالم کی توحید ربوبیت تکوینی کو بھی قبول رکھتا تھا، اسی وجہ سے اس نے کھا:

( قَالَ رَبِّ بِمَا اغْوَیْتَنِی لَازَیِّنَنَّ لَهمْ فِی الْارْضِ وَلَاغْوِیَنَّهمْ اجْمَعِینَ ) (۷)

”اس نے کھا پرودگارا ! جس طرح تو نے مجھے گمراہ کیا ہے میں ان بندوں کے لئے زمین میں ساز و سامان آراستہ کروں گا اور ان سب کو اکھٹا کروں گا۔“

قارئین کرام ! جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ شیطان خداوندعالم کی تکوینی ربوبیت کا معتقد تھا، اور خداوندعالم کو اپنا پروردگار سمجھتا تھا، لیکن اس نے ربوبیت تشریعی کا انکار کیا اسی وجہ سے وہ مشرک ہوگیا جب خداوندعالم امام معصوم علیہ السلام کی اطاعت کو واجب قرار دیتا ہے تو اگر کوئی شخص اس کو نہ مانے اور اس (امام) کی اطاعت نہ کرے، تو اس نے خداوندعالم کی تشریعی ربوبیت کا انکار کیاہے اور وہ تشریعی ربوبیت میں مشرک ہوگیا ہے اسی طرح اگر امام معصوم علیہ السلام کسی شخص کو اپنے طرف سے معین اور منصوب فرمائیں اور اس کی اطاعت دوسروں پر واجب قرار دیں تو اگر کوئی اس کو نہ مانے اور امام معصوم علیہ السلام کو تسلیم نہ کرے تو وہ بھی تشریعی ربوبیت میں شرک کا مرتکب ہوا ہے لھٰذا اگر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرمائیں : ولی فقیہ کی مخالفت ”علی حدّ الشرک بالله“ (خدا پر حدّ شرک ہے) ؛ تو امام نے کوئی مبالغہ نہیں کیا ہے اور حقیقت کو بیان فرمایا ہے، لیکن خالقیت یا تکوینی ربوبیت میں شرک نہیں ؛ بلکہ اس کا شرک شیطان کی طرح تشریعی ربوبیت میں ہے۔

مذکورہ باتوں کے پیش نظر اسلامی نظریہ کے مطابق اسلامی حکومت کے مختلف مراتب ہیں اس حکومت کابلندترین نمونہ اس وقت وجود میں آسکتا ہے جب اس حکومت کی باگ ڈور پیغمبر یا امام معصوم علیہ السلام کے ھاتہ میں ہو اس سے کم مرتبہ کی حکومت وہ حکومت ہے جو جامع الشرائط فقیہ کے ذریعہ تشکیل پاتی ہے، جو علم وعمل اور معاشرہ کی مدیریت کے لحاظ سے امام معصوم (ع) سے زیادہ شباہت رکھتا ہے اس سے کم مرتبہ والی حکومت کا بھی تصور پایا جاتا ہے (جیسا کہ فقھاء نے اپنی اپنی کتابوں میں اس بارے میں بھی بیان کیا ہے)اور وہ یہ ہے کہ اگر جامع الشرائط فقیہ موجود نہ ہو یا اگر موجود ہے لیکن معاشرہ کی رہبری کی صلاحیت نہ رکھتا ہو تو اس وقت ولایت وحکومت عادل مومنین کے حوالے کی جائے گی؛ کیونکہ معاشرہ کو اس کے حال پر نہیں چھوڑا جاسکتا، اور اس کے لئے حکومت تشکیل نہ دی جائے لھٰذا طے یہ ہوا کہ اگر امام معصوم علیہ السلام حاضر ہوں تو ان کی حکومت وولایت بہتر ین اور مطلوب حکومت ہے، لیکن اگر امام معصوم (ع)حاضر نہ ہوں توپھر وہ جامع الشرائط فقیہ جو امام معصوم (ع) سے زیادہ شباہت رکھتا ہے اس کی حکومت ہونا چاہئے، لیکن اگر جامع الشرائط فقیہ بھی موجود نہ ہو تو تو پھرایسے عادل مومن کی حکومت ہو جس کا تقویٰ اور عدالت اس حدّ تک ہو جس پر عوام الناس اعتماد کریں ، اور اس کے احکام جاری کرنے پر راضی ہوں اگرچہ اس کا علم فقیہ کی حد تک نہ ہو۔

اگرچہ ہمارا نظریہ یہ ہے کہ ہمیشہ معاشرہ میں ایسے علماء ، فقھاء اور بزگان رہے ہیں جو معاشرہ کی رہبری اور مدیریت کی صلاحیت رکھتے ہیں ، تاکہ معاشرہ کی رہبری کی عظیم ذمہ داری کا بار اپنے شانوں پر اٹھائیں ، جیسا کہ خداوندعالم نے ہم پر احسان کیا کہ اس نے حضرت امام خمینی (رہ) جیسی عظیم نعمت سے سرفراز کیا، تاکہ معاشرہ کی بہتر ین طریقہ سے رہبری کریں ، اور ان کے بعد ایسے شخص کا ذخیرہ کیا جو امام خمینی (رہ) کا خاص شاگرد اور ان کا خلف صالح ہے، جس میں زھد وتقویٰ، سیاسی فکر، مصالح مومنین کی رعایت، اسلامی معاشرہ کی رہبری اور مدیریت نیز دیگرمہم صفات میں امام خمینی (رہ) سے زیادہ مشابہ اور نزدیک ہے۔

۹۔ اسلام کی نظر میں تفکیک قوا ( قدرت کا جدا جدا ہونا) کا جائزہ

دوسری وہ چیز جس پر ہم نے زیادہ اشارہ کیا ہے اور کہ اس پر مزید روشنی ڈالنا مناسب ہے وہ تفکیک قوا ( قدرت کا جدا جدا ہونا) اور حکومتی ذمہ داریوں کی تقسیم ہے جیسا کہ آپ حضرات نے ملاحظہ فرمایا کہ اسلامی نقطہ نظر سے حکومت کی ایسی کوئی خاص شکل وصورت نہیں ہے جو مخصوص شرائط یا کسی خاص معاشرہ سے مخصوص ہو اسلام کے لحاظ سے حکومت ایسی بھی ہوسکتی ہے جس میں فقط چند خاندان شامل ہوں ، یا بھت زیادہ آبادی والے ملک میں بھی حکومت ہوسکتی ہے ، بلکہ عالمی معاشرہ کے لئے بھی حکومت ہوسکتی ہے ظاہر سی بات ہے کہ حکومت کی مخصوص ذمہ داریاں اور وظائف جن سے حکومت کا وجودی فلسفہ ظاہر ہوتا ہے (خصوصاً زیادہ آبادی والے ملک میں ) تو یہ ذمہ داریاں ایک یا دوافراد کے بس کی بات نہیں ہیں ۔

اندرونی امنیت ، بیرونی دشمن سے مقابلہ، اقتصادی کارکردگی پر نظارت، بین الاقوامی امور پر نظارت، بین الاقوامی تعلقات کو طے کرنا نیز معاشرہ کی دوسری ضرورتیں اور ان سب میں مہم اسلامی شعار کو اقامہ کرنا، احکام اسلامی کے جاری ہونے پر نظارت اور ان کی حفاظت وغیرہ وغیرہ جیسی مہم ذمہ داریاں حکومت کے ذمہ ہوتی ہیں جن کے تحت ان کے لئے کام تقسیم ہونا چاہئے یہ تقسیم کار دو محور میں انجام پاتی ہے، ایک عمودی (طولی ) اور دوسرا افقی (عرضی) ؛ یعنی حکومتی کار کردگی کے یہ دونوں حصے ساق مثلث کے دو خطوں کو تشکیل دیتے ہیں ، جو وسط سے ایک دوسرے کے راستہ کو نہیں کاٹتے، اور آخر میں ” راس ہرم“ (مرکزی نقطھ) پر پہنچ جاتے ہیں ، سادہ الفاظ میں حکومت کو ہرم کے مانند سمجھیں ، جیسا کہ سیاست دانوں نے اس شباہت کی بنا پر حکومت کو ”ھرم قدرت“ سے تعبیر کیا ہے، جس میں ایک مرکزی نقطہ ہوتا ہے اور اسی کے تحت ہرم ہوتی ہے، اسی طرح حکومت کی مرکزی قدرت ایک شخص کے پاس ہوتی ہے جس کے تحت تمام ادارے کام کرتے ہیں

جس وقت ہم حکومت کے عام معنی تصور کریں تو قدرت کا ہر ایک رخ حکومت کے وظائف کو تشکیل دیتا ہے ”مانٹسکیو“ کے زمانہ سے فلسفہ حقوق اور سیاست میں حکومتی قدرت کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:قوہ مقننہ (پارلیمنٹ) قوہ قضائیہ (قضاوت وعدالت) اور قوہ مجریہ (قوانین کو جاری کرنے والی طاقت جو حکومت کی شکل میں دکھائی دیتی ہے)، حکومت کا ایک رخ قانون گذاری ہوتی ہے دوسرا رخ قضاوت (عدالت) اور تیسرا رخ قوانین کو جاری کرنا ہوتا ہے حکومت کی کار کردگی کا ایک حصہ کلی اور جزئی قوانین ومقررات بنانا ہوتا ہے اور دوسرا حصہ عوام الناس کے اختلافات اور جھگڑوں کے فیصلے کرتا ہے، اور تیسرا حصہ معاشرہ میں قوانین کو جاری کرتا ہے۔

۱۰۔ طاقت کے ایک ساتھ ہونے کا سبب

اگرچہ حکومتی کارکردگی اور اس کی قدرت کی مذکورہ تقسیم مناسب اور بجا ہے، لیکن اس بات پر بھی توجہ رکہنا ضروری ہے کہ ان تینوں حصوں کے درمیان خط کھینچنا آسان کام نہیں ہے یعنی یہ بات عملی طور پر ممکن ہی نہیں ہے کہ ہم عام طور پر قوانین ومقررات اور آئین ناموں اور ان کے جاری کرنے کو جدا جدا کریں اور قوہ مجریہ کو بالکل کسی بھی طرح کے قوانین نہ بنانے کی اجازت نہ دیں ، آج کل ان تمام ہی ممالک میں جن میں ڈیموکریسی سسٹم ہوتا ہے قدرت کی تقسیم کو قبول کیا گیا ہے، اور ان میں خواہ نا خواہ بعض چیزوں میں قانون گذاری اور ان کو جاری کرنے کے سلسلہ میں اختلاط (مخلوط ہونا) پایا جاتا ہے، جس کی سب سے واضح مثال کا پارلیمنٹ نظام میں مشاہدہ کیا جاتا ہے، کیونکہ ڈیمو کراٹک نظام پارلیمنٹ اور ریاستی نظام کی طرف تقسیم ہوتا ہے۔

۱۔پارلیمنٹی نظام

جو قدرت کے یکجا ہونے کی بنیاد پر ہوتا ہے، یعنی تمام تر قدرت پارلیمنٹ کے تحت ہوتی ہے جب عوام الناس کے ووٹوں سے مختلف پارٹیوں سے ممبران منتخب ہوتے ہیں تو ان کے ذریعہ پارلیمنٹ بنتا ہے، اور اسی میں سے مختلف وزیراور وزیر اعظم بنائے جاتے ہیں ، اور تمام بڑے بڑے عھدے اسی پارلیمنٹ کے ممبران میں سے ہوتے ہیں اس نظام میں پارلیمنٹ کی طرف سے مختلف وزراء کو مختلف اداروں کی ذمہ داری دی جاتی ہے ، اور یہی پارلیمنٹ وزراء کو معزول بھی کرسکتا ہے۔

۲۔ ریاستی نظام

جس میں قدرت جدا جدا تقسیم ہوتی ہے اس نظام میں صدر مملکت پارلیمنٹ کی طرف سے انتخاب نہیں ہوتا اور وزراء صدر مملکت کی طرف سے منصوب ہوتے ہیں ،اور پارلیمنٹ ان کو معزول نہیں کرسکتا، در مقابل پارلیمنٹ بھی قوہ مجریہ سے مستقل اور جدا ہوتا ہے اس سسٹم میں ممبر آف پارلیمنٹ اور وزراء کابینٹ " Cabinet " میں ذاتی اور مانعة الجمع اختلاف ہوتا ہے یعنی صدر مملکت ممبر آف پارلیمنٹ میں سے وزیر نہیں بنا سکتامگر اس وزیر کو جس نے پارلیمنٹ کی ممبری شپ سے استعفاء دیدیا ہو۔

ریاستی حکومت میں صدر مملکت براہ راست عوام الناس کے ذریعہ انتخاب ہوتا ہے اور اس میں ایک طرح طاقت کے دخل کا مشاہدہ ہوتا ہے، اور بعض قوانین ومقررات کو طے کرنا وزراء کابینٹ کی ذمہ داری ہوتی ہے آج کل ہمارے ملک میں بھت سی اجتماعی اور اقتصادی کار کردگی کے لئے حکومت کے قوانین کافی ہوتے ہیں ؛ یعنی حکومتی کابینٹ کا جلسہ ہوتا ہے اور صلاح مشورہ کے بعد قوانین تصویب کئے جاتے ہیں ، اور خود ان کو جاری بھی کرتی ہے لھٰذا بعض قوانین بنانے میں حکومت کو اجازت ہوتی ہے۔

دوسری طرف اگرچہ پارلیمنٹ کا کام قوانین بنانا ہوتا ہے لیکن بعض اجرائی کاموں کو بھی انجام دیتی ہے: مثال کے طور پر بیرونی کمپنیوں سے معاہدہ (اگریمنٹ) کرنا ایک اجرائی کام ہے اور قاعدہ کے مطابق حکومت کو کرنا چاہئے لیکن چونکہ یہ مسئلہ بھت مہم اور بنیادی ہے لھٰذا اس سلسلہ میں تمام پہلووں پر نظر رکھتے ہوئے احتیاط کے ساتھ ضروری تحقیق وجائزہ کے بعد یہ قدم اٹھایا جاتا ہے تاکہ اس سے ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جاسکے،اور حکومت میں اس طرح کے معاہدہ کو بیان کرنے کے بعد ضروری تحقیق وبررسی کرکے پارلیمنٹ کے حوالے کیا جاتا ہے، اور جب پارلیمنٹ اس کی تائید کردیتا ہے تو اس پر عمل درآمد ہوتا ہے۔

المختصر تفکیک قوا ( قدرت کا جدا جدا ہونا) کا نظریہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ تینوں طاقتیں ایک دوسرے سے مستقل اور جدا ہوں ، لیکن عملی میدان میں دنیا کے مختلف نظام میں بعض امور کے سلسلہ میں ان قوتوں میں اختلاط پایا جاتا ہے، البتہ یہ قدرتیں جس قدر بھی ایک دوسرے سے جدا جدا رہیں اور ہر قدرت ایک دوسرے سے مستقل ہوں تو پھر ایک دوسرے میں دخالت اور ناجائز فائدہ اٹھانے کا امکان کم پایا جاتا ہے۔

حوالے:

(۱) الیگارکی اس نظام حکومت کو کھتے ہیں جس میں مقتدر لوگوں کی حاکمیت ہوتی ہے

(۲) عمراء اور بادشاہوں کی حکومت جو نسلاً بعد نسل چلتی رہتی ہے

(۳)سورہ نساء آیت ۵۹

(۴) سورہ حشرا آیت ۷

(۵)سورہ یونس آیت ۳۲

(۶) وسائل الشیعہ ج ۱ ص ۴۳

(۷) سورہ حجر آیت ۳۹


اکتیسواں جلسہ

تفکیک قوا (قدرتوں کی جدائی) کے نظریہ کی تحقیق اور اس پر نقد وتنقید

۱۔ گذشہ مطالب پر ایک نظر

جیسا کہ ہم نے گذشتہ جلسات میں عرض کیا کہ اسلامی حکومت کے بھت سے وظائف اور ذمہ داریاں ہوتی ہیں جن کی بنا پر اسلامی حکومت کا فلسفہ وجودی سمجھ میں آتا ہے وہ وظائف اور ذمہ داریاں جن کی اسلامی حکومت عھدہ دار ہوتی ہے ان کے لئے کچھ خاص اختیارات بھی ہونا ضروری ہیں جن کے تحت وہ اپنے وظائف اور ذمہ داریوں کو پورا کرسکتی ہے بھر حال تمام ہی حکومتوں بالخصوص اسلامی حکومت کی خاص ذمہ داریوں کی وجہ سے کاموں کی تقسیم بندی ہوتی ہے جو مھارت، لیاقت اور ذمہ داری کی قسم کی بنا پر عھدہ داران کو دی جاتی ہے بے شک یہ کاموں اور قدرتوں کی تقسیم ایک ضروری چیز ہے، کیونکہ اگر ایک محدود مقام جیسے کسی گاؤں وغیرہ کی حکومت کا مسئلہ ہوتا تو اس وقت کاموں کی تقسیم اتنی زیادہ ضروری نہ ہوتی لیکن چونکہ اسلامی حکومت ایک خاص علاقے سے مخصوص نہیں ہے لھٰذا اکثر موارد میں قدرتوں کی تقسیم نھایت ضروری ہے۔

اور چونکہ اسلامی حکومتی نظریہ پوری دنیا اور تمام زمانوں کے لئے ہے، لھٰذا اس کے لئے ایک ایسا نقشہ مرتب کیاگیاہے جو عالمی اوردائمی ہے، او رکسی خاص علاقے اور خاص زمانہ سے مخصوص نہیں ہے،اسی وجہ سے اس کے لئے ایسے قوانین کا انتخاب کیا گیا ہے جو مختلف زمانہ اور مختلف مقامات کے لئے جاری ہونے کی صلاحیت رکھتے ہوں ؛ بے شک کاموں اور قدرت کی تقسیم انہیں قوانین کے تحت ہوتی ہے۔

۲۔ تفکیک قوا (قدرتوں کی جدائی) کے نظریہ کی تاریخی حیثیت

قارئین کرام ! جیسا کہ ہم نے گذشتہ جلسہ میں عرض کیا کہ حکومتی نظام کا ایک ہرم(وسیلہ اور طاقت) کی طرح تصور کیا جاسکتا ہے،جو مختلف شکلوں اور صورتوں سے تشکیل پاتا ہے،لیکن ان شکلوں کی تعداد تقریباً معاہدہ کے طور پرہوتی ہیں چنانچہ حکومت کی یہ شکل قدیم زمانہ سے چلتی آرہی ہے،یونانی فلاسفہ منجملہ ”ارسطو“ کے زمانے سے حکومت کی یہی تین چھرے والی تصویر پیش کی گئی ہے ان میں سے ایک چھرہ ان لوگوں سے مخصوص ہوتا ہے جو معاشرہ کے صاحب عقل وخرد ہوتے ہیں ، اورحکومت کے اس حصے کو (جسے آج کل ”قانون گذاری پاور“ (ممبر آف پارلیمنٹ ) کا نام دیا جاتا ہے)؛وہ لوگ تشکیل دیتے ہیں جو اپنی عقل وفکر کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشرہ کے نظام کے لئے ضروری قوانین مرتب کرتے ہیں اسی طرح ارسطو کے کلام میں دوسرے دو چھروں کا بھی تذکر ہ ہے جو قوہ مجریہ (حکومت) اور قوہ قضائیہ (عدل) پر منطبق ہوتی ہیں ،اور وہ درج ذیل ہیں :

۱۔ معاشرہ کے حکام اور اس کو چلانے والے۔

۲۔عوام الناس کے فیصلے کرنے والے افراد۔

اسی طرح ان آخری صدیوں میں مغربی سیاست داں افراد نے بھی حکومت کے تین چھروں والا نظریہ پیش کیا ہے چنانچہ ان کے آخر میں ”مونٹسکیو“ نے بھی تفکیک قوا کے نظریہ کے تحت حکومت کو درج ذیل تین حصوں میں تقسیم کیا ہے: قانون گذاری، عدلیہ، اور قوہ مجریہ، اور اسی وجہ سے اس نے ”روح القوانین“ نامی کتاب لکھی، جس میں ہر ایک قدرت کے بارے میں تفصیل سے بحث کی ہے ”مونٹسکیو“ کی علمی اور نئے نظریات کے سلسلہ میں کی گئی کوشش کی وجہ سے تفکیک قوا کا مسئلہ اسی وقت سے مشھور ہوگیا یہاں تک کہ آج بعض لوگ اسی کو اس تھیوری کا مخترکھتے ہیں ۔

آج کل اکثر ممالک منجملہ ہمارے ملک میں بھی بنیادی قوانین اسی نظریہ کے تحت بنائے جاتے ہیں ، اور تینوں طاقتوں کو استقلال اور ڈیموکریسی کے اصول میں شمار کرتے ہیں بین الملل (عالمی سطح) پر اسی ملک کو ڈیموکریٹک کھا جاتا ہے جس میں یہ تینوں طاقتیں ایک دوسرے سے الگ الگ اور مستقل ہوں اور ایک دوسرے پر مسلط نہ ہوں ۔

۳۔ تفکیک قوا نظریہ کے دلائل پر ایک نظر

۱۔ چونکہ حکومت کی مختلف اور پیچیدہ ذمہ داریاں ہوتی ہیں جن کے سبب ان کے بارے میں کافی معلومات اور خاص مھارت کی ضرورت ہوتی ہے لھٰذا یہ سب کام ایک شخص سے نہیں ہوسکتا لھٰذا انہیں پیچیدگیوں کے پیش نظر کام اور قدرت کی تقسیم ضروری ہے اور چونکہ حکومت کی مختلف ذمہ داریاں ہوتی ہیں لھٰذا ان میں اختلاف اور ایک دوسرے کامخالف ہونا بھی ممکن ہے تو اس صورت میں حکومت کے اسی خاص چھرے کے لحاظ سے عھدہ داروں کا بھی انتخاب ہوتا ہے اسی بنا پر حکومت کی تینوں طاقتیں تقسیم ہوتی ہیں اور انہیں کے تحت تمام حکومتی امور انجام پاتے ہیں ،البتہ اس کی زیادہ تر فعالیت قوہ مجریہ کے تحت ہوتی ہیں : مثلاً جنگ اور دفاع سے متعلق مسائل، معاشرہ کے مستضعف او رکمزور لوگوں کی امداد کرنا، تعلیم وتربیت کا نظام اور علاج ومعالجہ سسٹم وغیرہ یہ تمام محکمات قوہ مجریہ کے تحت ہوتے ہیں جبکہ عدلیہ کا کام صرف عوام الناس کے اختلافات اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے، اور قانون گذار پاور (پارلیمنٹ ) کا کام فقط قوانین بنانا ہوتا ہے، اس کے علاوہ دوسرے مخصوص کام نیز معاشرہ اور ملک کی دوسری ضرورتوں کا پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

قوہ مجریہ کی عظیم اور وسیع ذمہ داریوں کے پیش نظر ہوسکتا ہے اس کو عدلیہ اور پارلیمنٹ کے برابر رکہ دیا جائے اوراس کو ایک قدرت کا نام دیدیا جائے لیکن خود حکومت کا ایک پہلو نہیں ہوتا بلکہ مختلف ذمہ داریوں اور وظائف کی بنا پر اس کے ایک سے زیادہ پہلو ہوتے ہیں اور اس قدرت کی تقسیم کی بنا پر ہر ایک محکمہ پر ایک قدرت کا اطلاق ہوسکتا ہے، اس صورت میں اس کے بھت سے پہلو دکھائی دے سکتے ہیں ،اور اس کے، تحت ہر وزارتخانہ اس کے ایک پہلو کو تشکیل دیتا ہے۔

بھر حال حکومتی نظام کی مختلف ذمہ داریوں کی بنا پر قدرت کی جوتین قسمیں کی گئی ہے،اور اس تقسیم کو آج کی دنیا ئے سیاست نے بھی قبول کیا ہے اور وہ ایک معاہدہ کے عنوان سے مشھور ہے، لھٰذا اس تقسیم میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

قارئین کرام ! یہاں پر ایک سوال یہ باقی رہتا ہے کہ کیا حکومت کی مختلف ذمہ داریوں کا ہونا اس تقسیم اور استقلال کے لئے کافی ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ مختلف ذمہ داریوں کا ہونا صرف تفکیک قوا پر ایک توجیہ تو ہوسکتی ہے لیکن اس کو اس سلسلہ میں علت تامہ (مکمل طور پر علت) قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ جب ہم قوہ مجریہ کو دیکھتے ہیں تو اس میں بھی مختلف ذمہ داریاں ہوتی ہیں جن میں آپس میں زیادہ تعلق بھی نہیں ہوتا؛ مثلا جنگ اور دفاع کا مسئلہ، میڈیکل وغیرہ لیکن اس کے بعد بھی یہ تمام چیزیں قوہ مجریہ کے تحت ہوتی ہیں اور اگر ذمہ داریوں کے مختلف ہونے ہی کو قدرت کے زیادہ ہونے کا سبب قرار دیں تو پھر دسیوں مستقل قدرتیں ہونا چاہئیں تھیں ۔

۲۔ تفکیک قوا اور تکونی تقسیم کی مہم ترین دلیل اور توجیہ وہی ‎ ہو جس کی بنا پر مونٹسکیو نے تفکیک قوا کا یہ نظریہ پیش کیا ہے: چونکہ انسانی فطرت میں ایک دوسرے پر سلطنت اور ظلم کی طرف جھکاؤ پایا جاتا ہے ، اور اگر تینوں طاقتیں ایک شخص یا ایک گروہ کے تحت ہوتیں تو پھر اس (حکومت) سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے زیادہ امکانات پائے جاتے،کیونکہ اس صورت میں وہی ‎ گروہ قانون گذار بھی ہے اور فیصلے کرنے کی ذمہ داری بھی اسی کی ہے اور قوانین کو جاری کرنے کا عھدہ بھی اسی کے پاس ہے، اور یہ ظاہر ہے کہ ہر انسان اپنے مفاد میں قانون بناتا ہے اور پھر اپنےھی حق میں فیصلے کرتا ہے، اس طرف سے قوانین کو جاری کرنے کی ذمہ داری بھی اسی کی ہے لھٰذا ناجائز فائدہ اٹھانے کے بھت سے راستے ہموار ہوجاتے اسی بنا پر مونٹسکیو کا ماننا تھا کہ راہ اعتدال کو برقرار رکہنے اور ظلم وجور سے روک تھام اور ناجائز فائدہ اٹھانے سے روکنے کے لئے تینوں قدرتوں کا الگ الگ ہونا ضروری ہے۔

قارئین کرام ! گذشتہ مطالب کے پیش نظر یہ بات معلوم ہوگئی کہ قدرتوں کا مستقل ہونا اس لئے ضروری ہے،کہ ناجائز فائدہ اٹھانے کا سد باب ہوجائے خصوصاً قوہ مجریہ کے لئے جو جب عدلیہ بالکل مستقل ہو تو پھر سب کے فیصلے قوانین کے تحت ہوں گے،اور کوئی بھی سزا سے نہیں بچ سکتا،اور تمام ہی افراد عدلیہ کے مقابلہ میں جواب دہ ہوں گے، کیونکہ اس صورت میں عدلیہ بڑے سے بڑے حکومتی عھدہ دار کو عدالت کے کٹھیرے میں کھڑا کرسکتی ہے،اور اگر انھوں نے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کو سزا دے سکتی ہے اسی طرح اگر قانون گذار طاقت (پارلیمنٹ ) نے اسلامی قوانین کی مخالفت کی ہے تو اس صورت میں عدلیہ ان کے خلاف کاروائی کرسکتی ہے اسی طرح اگر قانون گذار طاقت مستقل ہوگی تو وہ (بھی) قانون گذاری کے سلسلہ میں کسی (عدلیہ اور حکومت) سے متاثر ہوکر قانون نہیں بنائے گی اور ممبر آف پارلیمنٹ قوانین بناتے وقت مکمل طور پر مستقل اور آزادی کے ساتھ قوانین بنائیں گے اور کسی بھی طاقت کے تحت تاثیر قرار نہیں پائیں گے، اور دوسرے سے وابستہ ہونے کا احساس بھی نہیں کریں گے۔

۴۔ تفکیک قوا کو بالکل محدود کرنا نا ممکن

سیاست داں حضرات نے ڈیموکریسی کے لئے تینوں طاقتوں کو مستقل ہونا شرط قرار دیا ہے،البتہ یہ استقلال عملی طور پرحاصل ہونا چاہئے اور نظریہ کے لحاظ سے بھی، کیونکہ ہوسکتا ہے کوئی نظام تفکیک قوا کے نظریہ کے تحت ہو اور یہ تصور کیا جائے کہ تینوں طاقتیں ایک دوسرے سے بالکل جدا ہیں ،اور کسی ایک طاقت سے بھی متاثر نہیں ہے لیکن عملی میدان میں ایک طاقت دوسری طاقت پر تجاوز کرجائے اور اپنے حکمرانی چلانے کی کوشش کرے۔

اگر ہم دنیا بھر کی ڈیموکرسی حکومتوں پر غور کریں تو ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ بھت ہی کم ایسی حکومتیں ہیں جن میں تینوں طاقتیں ایک دوسرے سے مکمل طور پر الگ الگ ہوں ،مثلاً عدلیہ اور پارلیمنٹ ؛ حکومت سے متاثر نہ ہوں اور یہ تو ظاہر سی بات ہے کہ جب عدلیہ کے تمام اخراجات حکومت کے ھاتہ میں ہوں اور انتخابات حکومت کے ذریعہ انجام پاتے ہوں تو پھر بھت ممکن ہے کہ حکومت چند پارٹیوں کے مقابلہ میں اسی طرح اپنی حکومت کو برقرار رکھے؛ اور جب حکومت اس کے ھاتہ میں ہوگی تو دوسری طاقتیں بھی اسی کے اختیار میں ہوں گی۔

اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر کی مختلف حکومتوں میں حکومت کے عھدہ دار افراد کبھی علی الاعلان اور کبھی مخفی طور پر دوسری حکومتوں میں دخالت کرتے ہیں اور ان پر زور دیتے ہیں ، خصوصاً وہ ممالک جن میں پارلیمنٹی نظام ہوتا ہے اور پارلیمنٹ کے ذریعہ ہی حکومتیں عھدہ داروں کا انتخاب کرتی ہیں ،یعنی ممبر آف پارلیمنٹ براہ راست عوام الناس کے ذریعہ چنے جاتے ہیں اور پھر یہی ممبر اپنی اکثریت سے حکومت کے لئے عھدہ داروں کا انتخاب کرتے ہیں ۔

اسی طرح ریاستی نظام جن میں صدر مملکت کا انتخاب خود عوام الناس کرتی ہے اور اجرائی قدرت صدر مملکت کے اختیار میں ہوتی ہے؛ ان میں حکومت پارلیمنٹ اور عدلیہ میں دخالت کرتی ہے، خصوصاً بھت سے وہ ممالک جن میں صدر مملکت کو وٹو " Veto " کا حق ہوتا ہے، اور وہ پارلیمنٹ کے قوانین کو بے اثر کرسکتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمنٹ باید وشاید طور پر اپنے نظریہ کو حکومت پر لاگو نہیں کرسکتا، ممبر آف پارلیمنٹ قوانین بناتے ہیں ، اپنی بحث وگفتگو کے بعد اکثریت سے کسی قانون کو پاس کرتے ہیں ، لیکن چونکہ خود بنیادی قوانین نے صدر مملکت کو وٹو کا حق دیا ہے لھٰذا ان کے بنائے ہوئے قوانین بے اثر ہوجاتے ہیں ۔

ہماری نظر میں کوئی ایسا ملک نہیں ہے جس میں تینوں طاقتیں ایک دوسرے سے مستقل ہوں ، اور کسی ایک طاقت کے تحت تاثیر نہ ہوں اور ایک دوسرے میں کسی طرح کی کوئی دخالت نہ کرتی ہوں ،خصوصاً قوہ مجریہ جو دوسری طاقتوں پر زیادہ نفوذ رکھتی ہے، فقط بنیادی قوانین میں استقلال کے نام سے موجود ہے جبکہ حقیقت میں تینوں طاقتیں مستقل اور ایک دوسرے سے جدا نہیں ہے، بلکہ حکومت ان پر مسلط ہوتی ہے۔

اور چونکہ تینوں طاقتیں ایک دوسرے میں دخالت کرتی ہیں لھٰذا ان تینوں طاقتوں کے کام کے درمیان ایک ثابت حد بندی معین کرنا واقعاً مشکل ہے جیسے قانون گذاری والے مسائل ہوں یا قوانین جاری کرنے والے مسائل یا اس کے برعکس،یعنی اجرائی مسائل کو قانون گذاری کے حوالے سے جدا کرنا مشکل ہے ہم خود اپنے ملک میں اور دوسرے ممالک میں یہ دیکھتے ہیں کہ وہ مسائل جو قانون گذاری کا پہلو رکھتے ہیں لیکن وہ (بھی) حکومت کے ذمہ ہیں مثال کے طور پر بنیادی قوانین کے تحت بعض قوانین حکومتی کابینٹ کے سپرد کئے جاتے ہیں جن کو طے کرکے جاری کیا جاتا ہے اگرچہ ان قوانین پر اسپیکر کے دستخط ہونا (بھی) ضروری ہوتے ہیں ، لیکن کبھی کبھی صرف ان قوانین کا پارلیمنٹ میں بھیج دینا ہی کافی ہوتا ہے بعض حکومتوں میں اسپیکر کے دستخط کرنا یا پارلیمنٹ میں بھیجنا ضروری بھی نہیں ہوتا، بلکہ خود حکومتی کابینٹ میں پاس ہونے سے وہ قانونی شکل اختیار کرلیتے ہیں ،اور ان کو نافذ کردیا جاتا ہے لیکن وہ موارد میں جن میں اسپیکر کے دستخط اور اس کا تائید کرنا ضروری ہوتا ہے،ان میں ( بھی) دستخط اور تائید کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی اور صرف دکھاوٹی پہلو ہوتا ہے کیونکہ حکومتی کابینٹ کوئی بھی قانون بنادے تو پھر اسپیکر کو اس پر دستخط کرنا ہی ہوتا ہے اور اگر یہ فرض کرلیں کہ اسپیکر کے دستخط دکھاوے کے طور پر نہیں ہیں توکیا اسپیکر کے دستخط کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس قانون کو ممبر آف پارلیمنٹ نے بنایا ہے؟!

بھر حال بعض ایسے مسائل جو قانون گذاری کے پہلو رکھتے ہیں اور ان پر بحث وگفتگو کے ذریعہ ان کو پاس کرنا پارلیمنٹ کے ذمہ ہوتا ہے ، لیکن ان کی فوری طور پر ضرورت ہے اور اگر وہ فوراً تصویب نہ ہوئے تو معاشرہ میں خلل پیش آجائے گا تو اس صورت میں خود حکومتی کابینٹ کو اس طرح کے قوانین بنانے کا حق دیا جاتا ہے دوسری طرف بعض وہ مسائل جو اجرائی پہلو رکھتے ہیں لیکن ان کی اہمیت کے پیش نظر بنیادی قوانین ان کو جاری کرنے کے لئے پارلیمنٹ کو مصوب کرنے اور اس کی تائید کرنے کی شرط کرتا ہے مثلاً جنگ، اقتصاد اور تیل وغیرہ کے سلسلہ میں بیرونی کمپنیوں سے معاہدہ کرنا یہ سب کام اجرائی پہلو رکھتے ہیں لیکن بنیادی قوانین کے مطابق پارلیمنٹ کا پاس کرنا ضروری ہے قارئین کرام ! ہمارا مقصد یہ ہے کہ تھیوری اور نظری لحاظ سے پارلیمنٹ اور قوہ مجریہ کے وظائف میں مکمل طور سے جدائی کرنا صحیح اور منطقی نہیں ہے۔

حکومتی نظام میں پارلیمنٹ اور قانون گذار مجلس کے علاوہ دوسری شوریٰ اور مجالس بھی ہوتی ہیں جن کا کام بھی ایک طرح سے قانون گذاری ہوتا ہے مثال کے طور پر ہمارے ملک میں ”شوریٰ انقلاب فرہنگی“ بھی بعض چیزوں کو تصویب کرتی ہے جن کو قانون کی جگہ سمجھا جاتا ہے،اور ان قوانین کی شکل ایسی ہوتی ہے جس کی بنا پروہ شوریٰ اسلامی مجلس او رممبر آف پارلیمنٹ کے ذریعہ تصویب ہوجاتے ہیں ، لیکن ہمارے ملکی نظام کے ثقافتی اہمیت کی خاطر اور ثقافتی سلسلہ میں سیاست اور طریقہ کار کو طے کرنے کی ذمہ داری ان افراد پر ہوتی ہے جو اس سلسلہ میں کافی تجربہ اور مھارت رکھتے ہوں اسی طرح بعض دوسرے مخصوص ادارے ہوتے ہیں جن کا شمار قوہ مجریہ میں ہوتا ہے،اور قانون کو جاری کرنے والوں کی طرح تصیمم گیری کرتے ہیں اور قانون گذاری پہلو نہیں رکھتے، مثلاً ”شوریٰ عالی امنیت“ اور ”شوریٰ عالی اقتصاد“ جو اس سلسلہ کے ماہر ین افراد پر مشتمل ہوتی ہیں ، جن کی مھارت اور دقت عقلی دوسری کی نسبت زیادہ ہوتی ہے جوملک کے اہم اور اسٹریٹیجک" Strate'gique " مسائل میں اپنی دقت اور ظرافت کے ساتھ عمل کرتی ہے۔

قارئین کرام ! ہماری گذشتہ باتوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تینوں طاقتوں کا مکمل طریقہ سے مستقل اور الگ الگ ہوناچاہے تھیوری" Theory " کے لحاظ ہو یا عملی (پریکٹیکل) " Practical " اعتبارسے ایک مشکل کام ہے،خصوصاً حکومت کے مخصوص کاموں کا پارلیمنٹ کی ذمہ داریوں سے الگ کرنا لیکن جیسا کہ دیکہنے میں آتا ہے کہ یہ طاقتیں ایک دوسرے میں دخالت کرتی ہیں ،خصوصاً بھت سے ملکوں میں حکومت؛ پارلیمنٹ اور عدلیہ میں دخالت کرتی ہے اسی وجہ سے اس طرح کی مداخلت سے روک تھام کے لئے ایک طریقہ سے معاہدہ کرنا ضروری ہے۔

۵۔ تینوں طاقتوں پر ایک ناظر اور ہم اہنگ کرنے والی طاقت کی ضرورت

قارئین کرام ! دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر در حقیقت تینوں طاقتوں میں مطلق اور مکمل طور جدائی ہوجائے اور ہم پارلیمنٹ کو مستقل طور پردیکہنا چاہیں جودوسری دونوں طاقتوں سے کوئی بھی عھدا دار کا رابطہ نہ رکھتا ہو، اسی طرح قوہ مجریہ یا عدلیہ کو مستقل طور پر دیکہنا چاہیں اور اس تقسم میں تھیوری اور پریکٹیکل طور پر کسی طرح کی کوئی مشکل پیش نہ آئے تو ملک کی ترقی کے سلسلہ میں پیش آنے والے اہم امور میں بھت بڑی مشکل میں پھنس جائیں گے، اور وہ مشکل یہ ہوگی کہ حکومت میں ایک قسم کاشدید اختلاف پیدا ہوجائے گا؛ گویا ایک ہی ملک میں تین حکومتیں ہوں گی، جن میں سے ہر ایک اپنے لحاظ سے کارکردگی میں مشغول ہے جس کاایک دوسرے سے بالکل کوئی واسطہ نہیں ہے۔

المختصرایک طرف حکومت کی کار کردگی کا مختلف ہونا اور ان کا پیچیدہ اور وسیع ہونا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ طاقتیں تقسیم ہونا چاہئیں ، اور حکومت کے لئے مختلف پہلو مد نظر رکھے جائیں ، اور ان تینوں طاقتوں کی ذمہ داری کی وجہ سے ایک حکومت کے لئے بھت سے چھرے تصور کئے جائیں جس کے نتیجہ میں ایک حکومت مثلث القاعدہ یا مخمس القاعدہ ہوجائے جس کی وجہ سے اس حکومت کے مختلف چھرہ دکھائی دیں دوسری طرف سے عوام الناس اور معاشرہ کے نظام کی وحدت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ حکومت میں ایک وحدت اوران کا منسجم ہونا ضروری ہے تاکہ اسی کے زیر سایہ تمام نظام کی وحدت اور اتحاد نیز طاقتوں کے درمیان ایک ہم اہنگی برقرار رہے اسی طرح ان تینوں طاقتوں کی کارکردگی پر بھی نظارت ہوسکے۔

لھٰذا ہم اسلامی حکومت کے لئے دو قسم کی مصلحت اندیشی کے روبرو ہیں : ایک طرف سے ہمیں طاقتوں اور ذمہ داریوں کی تقسیم کو قبول کرنا ہے کیونکہ حکومت کی مختلف کار کردگی کی الگ الگ قسمیں ہیں اور ایسے ماہر افرادجواپنی مھارت او رتجربہ کے ذریعہ مختلف ذمہ داریوں کو نبھاسکیں ، بھت ہی کم ہیں ، اور شاید ایسے افراد کا وجود ہی نہ ہو ، لھٰذاان طاقتوں کا تقسیم کرنا ضروری ہے، اور ہر حصہ کی مخصوص ذمہ داریاں اسی فن میں ماہر افراد کے سپرد کی جائے دوسری طرف ،چونکہ معاشرہ کو ایک اتحاد اور وحدت کی ضرورت ہے؛ کیونکہ اگر ان طاقتوں میں اختلاف اور ٹکراؤ ہونے کا امکان ہے، لھٰذا ان تینوں طاقتوں کو ہم اہنگ کرنے سے ایک اہم طاقت کا ہونا ضروری ہے تاکہ اگر ان طاقتوں میں اختلاف ہوجائے تو وہ طاقت ان کے درمیان اس اختلاف کو دور کرسکے،اور ادھر معاشرہ میں اتحاد کے پیش نظر اپنا بنیادی کردار ادا کرے کیونکہ وہ معاشرہ جس پر تین طاقتیں مستقل طور پر اپنا اپنا حکم چلاتی ہیں ؛ اس کو ایک متحد اور ہم اہنگ نہیں کھا جاسکتا اور خواہ نخواہ ایک طرح کا اختلاف اور ٹکراؤ پیدا ہوجائے گا۔

اس مشکل کو حل کرنے اور ان طاقتوں میں اتحاد کو برقرار رکہنے کے لئے، نیز اختلاف کو حل کرنے کے لئے سیاست دانوں نے بھت سی راہ حل بیان کی ہیں جن کا بیان کرنا اس وقت ممکن نہیں ہے ، اور ہم صرف اسلامی راہ حل پیش کرتے ہیں ۔

۶۔ ولایت فقیہ معاشرہ کے اتحاد کا مرکز

قارئین کرام ! گذشتہ جلسات میں بیان شدہ مطالب کے پیش نظر جن میں اسلامی حکومت کی مختلف صورتیں اور اس کے اقداری درجات کے بارے میں عرض کیا کہ اسلامی حکومتوں کی بعض صورتیں نمونہ ہیں ، اور ان میں سے بعض اس سے کم تر درجہ کی ہیں ، کہ اگر بلند ترین اور نمونہ حکومت تشکیل نہ ہوسکے تو اس سے کم تر درجہ والی حکومت تشکیل پائے گی؛ یہاں پر ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ اسلامی نظام میں اس مشکل کے بارے میں بہتر ین چارہ جوئی بیان کی گئی ہے کیونکہ نمونہ حکومت میں ایک معصوم ذات کو بر سر اقتدار ہونا چاہئے، اور اسی کے ھاتھوں میں طاقت وقدرت ہونی چاہئے،اور یہ ظاہر سی بات ہے کہ جب (معصوم علیہ السلام) کے ھاتھوں میں قدرت ہوگی تو تو معاشرہ میں وحدت واتحاد اور قدرتوں میں ہم اہنگی پیدا ہوجائے گی، اور اپنی قدرت سے اختلافات اور قدرتوں کے درمیان ٹکراؤ کا خاتمہ فرمادیں گے اس کے علاوہ ہر قسم کی خودخواہی ،ذاتی مفاد اور پارٹی بازی سے جدا رہیں گے؛ کیونکہ معصوم وہ ہے جس میں کسی طرح کا کوئی غیر الہی تصور نہیں پایا جاتا (البتہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ اسلامی حکومت کی نمونہ صورت(آئیڈیل شکل) صرف امام علیہ السلام کے حاضر ہونے کی صورت ہی میں ممکن ہے۔

اسی طرح اسلامی حکومت کی دوسرے درجہ میں وہ حکومت ہے جس میں صاحب اقتدار وہ شخص ہو جو امام معصوم علیہ السلام سے زیادہ مشابہ اور نزدیک ہو ، اور ضروری شرائط کے علاوہ امام معصوم کے بعد تقویٰ اور عدالت کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہو ایسی شخصیت کو ولی فقیہ کھا جاتا ہے؛ معاشرہ کی وحدت ، قدرتوں کو ہم اہنگ کرنے والی اور عھدہ داران کی کارکردگی پر ناظر اورنگراں ہوتی ہے، نیز حکومت کے لئے اہم راہنمائیاں ، رہبری اور اہم سیاست گذاری اسی ذات کے ذریعہ ہوتی ہے۔

قدرت سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے لئے ”مونٹسکیو“ نے قدرتوں کی جدائی کا نظریہ پیش کیا جس کو تقریباً سبھی لوگوں نے قبول کیااور وہ ایک حد تک مفید بھی ہے ؛ لیکن اس نظریہ سے اصل مشکل کا حل نہیں ہوتا کیونکہ اگر حکومت کے عھدہ داران (تینوں طاقتوں میں ) اخلاقی صلاحیت اور تقویٰ الہی سے مزین نہ ہوں اور قدرت تقسیم ہوجائے اور تین حصوں میں بٹ جائے، تو اس صورت میں معاشرہ کی برائیاں اور خود حکومت بھی تین حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے اس صورت میں اگر ہم قوہ مجریہ کی برائیاں کم ہوتی دکھائی دیتی ہیں تو اس کی وجہ اس دائرہ کا محدود ہوجانا ہے اور صرف قدرت کا ایک حصہ اس کے پاس ہے لھٰذا ہمیں اس چیز پر خوش نہیں ہونا چاہئے کہ قوہ مجریھ( حکومت)کے جرائم اور فساد کم ہوگئے ہیں کیونکہ بعض مفاسد عدلیہ کی طرف منتقل ہوگئے ہیں اور بعض پارلیمنٹ کی طرف جو غالباً قوہ مجریہ کے تحت تاثیر ہوتی ہے،اور ان سے خلاف ورزیاں اور مفاسد سرزد ہوتے ہیں ۔

لھٰذا ان طاقتوں کے مفاسد اور ایک دوسرے میں دخالت کرنے سے روک تھام کا بہتر ین طریقہ عھدہ داروں کے لئے تقویٰ الہی اور اخلاقی صلاحیت کی سفارش کرنا ہے اور ہر عھدہ دار اپنے عھدہ کے لحاظ سے تقویٰ اور اخلاقی صلاحیت کا مالک ہو ، اگر عھدہ عظیم اور بڑا ہے تواس کا تقویٰ اور اخلاقی صلاحیت بھی دوسروں کی بہ نسبت زیادہ ہو، اور اسی قانون کے تحت جو شخص اس اسلامی قدرت کی صدارت کررہا ہو وہ سب عھدہ داروں میں سب سے زیادہ متقی اور پرہیزگار ہو،نیز مدیریت اور قوانین کی معلومات بھی بہتر ین ہوں اسی وجہ سے اسلامی نظام میں قدرتوں کے درمیان اختلافات کو روکنے، مفاسد کو دور کرنے اورٹکراؤ وغیرہ سے روک تھام ، نیز معاشرہ کے اتحاد ووحدت کو برقرار رکہنے والے رہبر کے لئے دوسرے حکومتی عھدہ داروں سے زیادہ تقویٰ اور عدالت کی شرط رکھی گئی ہے تاکہ عوام الناس اس کی عدالت اور تقویٰ پر اطمینان رکھتے ہوئے اس کی اطاعت کریں اور اس کو اپنی مشکلات حل کرنے والا سمجھیں اس صورت میں اگر تینوں قدرتوں میں کچھ خامیاں اور مشکلات پیدا ہوجائیں تو اس عظیم الشان رہبری کے زیر سایہ برطرف ہوجائیں ،اور معاشرہ کی مشکلات بھی رفتہ رفتہ دور ہوجائیں جیسا کہ اس بیس سال کے زمانہ میں ہم مقام رہبری کا مشکل کشاء اور ، سعادت بخش کردار دیکھتے آئے ہیں ۔


بتّیسواں جلسہ

اسلامی نظام کے اعتقادی عظمت بیان ہونے کی ضرورت

۱۔ اسلامی حکومت کی تھیسز" The'sis " کی پہنچان کے مختلف طریقے

ہم نے گذشتہ جلسوں میں اسلامی حکومتی نظام کے مختلف ڈھانچوں کی طرف اشارہ کیا اور کھا کہ حکومتی نظام ایک چند پہلو طاقت کی طرح ہے جس کی صدارت اس شخص کے پاس ہو جو بالواسطہ یا بغیر واسطہ خداوندعالم کی طرف منصوب ہو اور یہ نقشہ سیاسی فلسفہ میں ایک تھیوری" Theory "کے نام سے بیان ہوتا ہے ، لیکن اس کو ثابت کرنا کہ واقعاً یہ نقشہ اسلامی بہتر ین نظریہ ہے جس کو حکومت اور اسلامی معاشرہ کی عظیم مدیریت کے لئے پیش کیا جانا واقعاً مزید علمی اور دقیق مطالعہ کی ضرورت ہے؛ اسی وجہ سے اس سلسلہ میں بھت سے ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات کے لئے ماہرین اور فقھاء کرام کو بہتر ین علمی اور دقیق تحقیقات کے بعد جوابات پیش کرتے ہیں ، البتہ ان سوالات کے جوابات کو تین مرحلوں میں جواب دیئے جاسکتے ہیں :

الف۔ مختصر شناخت:

کبھی کبھی انسان اپنے وظیفہ اور ذمہ داری کی پہنچان کے لئے ماہرین کی طرف رجوع کرتا ہے، تاکہ وہ اپنے علمی قواعد کے تحت اس کا وظیفہ معین کریں ، مثلاً عوام الناس کا مراجع تقلید کی طرف رجوع کرنا،اور ان سے استفتاء کرنا اورشرعی امور میں اپنے وظیفہ کو معین کرنے کی درخواست کرنا ، اسی طرح ہر صنف کے ماہرین کی طرف رجوع کرنا؛ جیسے کسی مریض کا ماہر ڈاکٹر کے پاس جانا اور اس سے علاج کرنے کی درخواست کرنا، اسی طرح کسی بلڈنگ یا مکان کا نقشہ بنوانے کے لئے کسی بلڈر کی طرف رجوع کرنا اور ظاہر ہے کہ اس صورت میں اس کو مختصر سا جواب دیا جاتا ہے اور اس میں علمی اصول کی تفصیل بیان نہیں کی جاتی، بلکہ در حقیقت اس علم کا ما حصل اور خلاصہ بیان کیا جاتا ہے۔

یہ بات ظاہر ہے کہ اسلامی حکومت کے سلسلہ میں مختصر اور اجمالی شناخت ہمارے معاشرہ کے لئے واضح ہے اور جس وقت سے ہمارے ملک میں اسلامی حکومت قائم ہوئی ہے تو کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہوگا جس کو اسلامی حکومت کی حقیقت کے بارے میں معلومات نہ ہوگی شاید اسلامی انقلاب سے پہلے بھت کم ہی ایسے افراد ہوں گے جو اسلامی حکومت اور ولایت فقیہ کے بارے میں آگاہ نہ ہوں ،اور ان کے لئے مختصر طور پر اس تھیوری کی معلومات فراہم کی جائے لیکن (الحمد للھ) آج کل کسی شخص کو اسلامی حکومت کے بارے میں مختصر اور اجمالی شناخت کے بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں ہے (بلکہ اس سلسلہ میں عام شناخت اور معلومات رکھتے ہیں ) البتہ ایسا بھی نہیں ہے کہ اسلامی حکومت کے بارے میں تفصیل اورمکمل وضاحت کی ضرورت نہ ہو، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ولایت فقیہ اور اسلامی حکومت کی اصل تھیوری عوام الناس کے لئے حل شدہ اور روشن ہے،یھاں تک کہ ہمارے مخالفین اور دشمن بھی اس سلسلہ میں معلومات رکھتے ہیں ،جبکہ وہ اپنی تمام تر طاقت انقلاب اور اسلام کی مخالفت میں خرچ کرتے رہتے ہیں لیکن ادھر چونکہ ہماری عوام نے اپنے نظام کی حقانیت کو درک کرلیا ہے تو یہ بھی اپنے تمام وجود سے اس اسلامی انقلاب اور ولایت فقیہ کا دفاع کرتے ہیں اور اس انقلاب اور اسلامی نظام کی حفاظت کے لئے کچھ بھی کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں چنانچہ ہمارے افراد انقلاب اور نظام اسلامی کے دشمنوں کے مقابلہ میں ”مرگ بر ضد ولایت فقیھ“ ( ولایت فقیہ کے دشمن مرجائیں ) کے نعرہ کو ولایت فقیہ دشمنوں سے مخالفت کا ایک اعلان سمجھتے ہیں ، اور ہمیشہ اس نعرہ کی حفاظت کرتے ہیں اور اسی پر قائم ر ہیں یہاں تک کہ سیاسی اور مذہبی محفلوں اور مساجد میں بھی اس کو دعا کے عنوان سے ہمیشہ پڑھتے رہتے ہیں ۔

قارئین کرام ! اسلامی حکومت اور ولایت فقیہ کے سلسلہ میں مختصر جواب کے علاوہ دوسرے دو جواب بھی موجود ہیں : ایک صاحب نظر اور ماہرین افراد کے لئے اجتھادی اور اکیڈمیک جواب، اور دوسرا اسٹوڈینٹس وغیرہ کے لئے متوسط قسم کا جواب ہے۔

ب۔ مخصوص اور علمی شناخت:

تفصیلی ، علمی اور مخصوص نیز اکیڈمیک جواب ان افراد کے لئے ہوتا ہے جوبلند ترین علمی درجات پر فائزھوتے ہیں اور اپنی تمام تر استعداد اور امکانات کو اسلامی حکومت اور ولایت فقیہ کے موضوع سے مخصوص کرتے ہیں جیسے وہ طالب علم جو ”اسلامی حکومت“ یا اس کے کسی ایک حصے میں ڈاکٹری کرنا چاہتا ہے اور اپنا پایان نامھ( علمی رسالھ) لکہنا چاہتا ہے جس کے بعد اس کو " P.H.D "کی سند ملتی ہے تو وہ اس موضوع پر تحقیقی نظر ڈالتا ہے اور اس کے تمام پہلوؤں پر نظر ڈالتا ہے اور چند سال تک اس کی تحقیق وبررسی کرتا ہے، اور علمی و دقیق منابع ومآخذ کا مطالعہ کرتا ہے نیز اس فن کے ماہر اور زبدہ اساتیذ سے صلاح ومشورہ کرنے کے لئے اپنے استدلال و برہان بیان کرتا ہے تاکہ اس کی پی ایچ ڈی قبول ہوجائے۔

اسی طرح علمی اور دقیق کاوشیں حوزات علمیہ میں بھی انجام پاتی ہیں اور جو لوگ درس خارج میں مشغول اور قریب الاجتھاد ہوتے ہیں اور اپنے مورد نظر مسائل میں استنباط کرنا چاہتے ہیں تو کبھی کبھی ایک ظاہراً معمولی اور چھوٹے سے مسئلہ کی سالوں تحقیق اور مطالعہ کرتے ہیں ، اور دسیوں کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں ، اور فقھاء ومجتھدین سے بحث وگفتگو کرتے ہیں تاکہ آخر میں اپنا مخصوص نظریہ پیش کرسکیں اس سلسلہ میں کوئی شک نہیں ہے کہ تمام نظری مسائل منجملہ عقائد، اخلاق، احکام فرعی، اجتماعی، سیاسی، حقوقی، اور بین الملل مسائل میں اس طرح کی دقیق اور علمی بحث کی ضرورت ہے تاکہ اس سلسلہ میں ماہرین علماء کے ذریعہ اسلامی فرہنگ وثقافت کا وقار اپنی جگہ باقی ہے؛ لیکن یہ بات مخفی نہ رہے کہ اس طرح کے جوابات نہ تو عوام الناس کے لئے ضروری ہیں اور نہ ہی مفید ہیں ۔

ج۔ متوسط شناخت:

آخر میں ”اسلامی حکومت اور ولایت فقیھ“ جیسے مسائل کے جواب کے لئے متوسط اور درمیانی قسم کی تحقیق وبررسی ہمارے سامنے ہے،جن کو عام جلسوں میں بیان کیا جاسکتا ہے ، جبکہ ہمارا مقصد بھی ان جلسات میں اسی قسم کے جوابات پیش کرنامقصود ہیں ، ہم نہ تو اسلامی حکومت کے سلسلے میں مختصر جواب پیش کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ ایک مجتھد اور مفتی استفتاء کے جواب میں اپنے رسالہ عملیہ میں لکھتا ہے اور نہ ہی اس کو مفصل اور تحقیقی طور پر بیان کرنا چاہتے ہیں جن کا چند سال طولانی سلسلہ ہوسکتا ہے بلکہ ہمارا مقصد تو معاشرہ کے مختلف لوگوں کے لئے درمیانی(متوسط) قسم کی معلومات فراہم کرنا ہے تاکہ اسلامی نظام کے مخالف اور دشمنوں کے شبھات اور اعتراضات کا مقابلہ کرسکیں اور ان کی مختلف سازشوں کو ناکارہ بناسکیں معاشرہ کی اس وقت کی ثقافتی حالت ایک ایسے معاشرہ کی طرح ہے جس کا کسی خطرناک بیماری سے مقابلہ ہو اور سبھی کو اس سے خطرہ در پیش ہو اور اس بیماری سے مقابلہ کرنے کے لئے صرف ایک دفعہ ٹوک دینا کافی نہیں ہے یا صرف اس سلسلہ میں کار شناسی نظریہ اخبار یا دوسرے ذرائع ابلاغ میں اعلان کردینا کافی نہیں ہے، بلکہ اس بارے میں مسلسل تذکر اور ضروری ہدایات دینا ضروری ہے تاکہ عوام الناس کی معلومات میں اضافہ ہو اور اس اجتماعی بیماری سے مقابلہ کرسکیں ایک مختصر تذکر اور یاد دھانی کے علاوہ سمینار، کانفرنس اور تقریریں ہوں تاکہ اس سلسلہ میں عوام الناس کے لئے مسائل واضح اور روشن ہوجائیں اور اس سلسلہ میں موجودات خطروں کا پتہ لگالیں ۔

اس وقت ہم ”اسلامی حکومت“ اور ”ولایت فقیھ“ کے سلسلہ میں متوسط قسم کی شناخت پیش کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہم یہ احساس کرتے ہیں کہ ہمارے آج کل کے نوجوان اسلامی حکومت اور ولایت فقیہ اسلامی نظام کے رکن ؛ سے زیادہ معلومات نہیں رکھتے، اور بعض شیطان صفت لوگوں نے ان کو گمراہ کرنے کی ٹھان رکھی ہے لھٰذا چونکہ یہی ہمارے جوان جو ہماری امیدیں اور اس انقلاب کے وارث بھی ہیں ان کو اس سلسلہ میں معلومات حاصل کرنا چاہئے تاکہ ثقافتی آفتوں اور شیطانی مشکلات کا شکار نہ ہوں ، لھٰذا ہم اپنی بحث کومتوسط قسم کے لحاظ سے بیان کرتے ہیں ،تاکہ نظریہ ولایت فقیہ کے سلسلہ میں اجتماعی اور ثقافتی بصیرت ویقین میں اضافہ ہو، اور بعض التقاطی (چنیدھ) نظریات اور انحرافات وغیرہ سے مقابلہ کرسکیں اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ عوام الناس کو ولایت فقیہ کے نظریہ سے آگاہ کرنے اور اس کو ثابت کرنے کے لئے علمی اور دقیق راستہ نہیں اپنانا چاہئے ، جیسا کہ فقھاء ومجتھدین کسی ایک مسئلہ کو حل کرنے کے لئے آیات و روایات سے استدال کے وقت سند ودلالت کے بارے میں بھت زیادہ تفصیل سے بحث کرتے ہیں کیونکہ یہ طریقہ کار تو حوزہ علمیہ میں مجتھدین یا سیاسی علوم میں ڈاکٹری وغیرہ سے متعلق ہوتا ہے۔

قارئین کرام ! مذکورہ مطالب کے پیش نظر اس وقت ہم نظریہ ”ولایت فقیہ “کو آسان الفاظ میں اپنے جوانوں کے ذھنوں تک پہنچانا چاہتے ہیں تاکہ اگر کوئی شخص ان سے اسلامی حکومت اور ولایت فقیہ کے بارے میں سوال کرے تو وہ جواب دے سکیں اور اپنے اعتقاد کا دفاع کرسکیں لیکن اگر ان کے سامنے دقیق تر سوالات بیان کئے جائیں جن میں تخصصی اور کار شناسی ( معاملہ فھم)بررسی وتحقیق کی ضرورت ہو تو ان کو ماہرین کی طرف رجوع کرنا چاہئے لھٰذا ہم نے اسی مذکورہ ہدف کی خاطر اپنی بحث کے دو حصے کئے: ۱۔ قانون گذاری۔ ۲۔ اجرائے قانون (قوانین کا نافذ کرنا)۔

۲۔ قانون کی ضرورت اور اس کے خصوصیات پر ایک نظر

گذشتہ پہلے حصے کا خلاصہ :

۱۔ انسان اپنی اجتماعی زندگی کے لئے قانون کا محتاج ہے، کیونکہ بغیر قانون کے زندگی میں افرا تفری ، حیوانیت اور انسانی اقدار نیست ونابود ہوجاتا ہے، چنانچہ یہ بات کسی بھی صاحب عقل پر پوشید نہیں ہے۔

۲۔ اسلامی نقطہ نظر سے انسانی اجتماعی زندگی کے لئے ایسا قانون ضروری ہے جس سے مادی اور دنیاوی مصالح بھی پورے ہوتے ہوں اورمعنوی اور اُخروی مصالح بھی پورے ہوتے ہوں ۔

یھاں پر اس بات کی یاد دھانی کرا دینا ضروری ہے کہ اگرچہ کبھی کبھی بعض اسلام دشمن طاقتوں کی طرف سے نئے نئے شبھات اوراعتراضات ہوتے ہیں جن کے جوابات دینا ضروری ہیں اگرچہ مختصر ہی کیوں نہ ہوں ، آج کل بعض مقالوں ، تقریروں یہاں تک کے بعض ٹیلی ویزن پروگراموں میں یہ مسئلہ بیان ہوتا ہے کہ دنیاوی مسائل؛ اخروی مسائل سے جدا ہیں ، یہاں تک کہ بعض لوگوں نے تو یہاں تک کھہ دیا کہ کوئی بھی قانون ایسا نہیں ہے جس سے دنیاوی اور اُخروی دونوں مصالح پورے ہوتے ہوں کسی بھی حکومت کو یا تو صرف دنیا پرست ہونا چاہئے اور دنیاوی اور مادی مسائل کو حل کرے یا آخرت پرست؛ جس میں دنیا سے کوئی مطلب نہ ہو۔

قارئین کرام ! مذکورہ بالا اعتراض ”اسلامی سیاسی نظام“ کے سلسلہ میں ہونے والے اعتراضات میں سب سے گھٹیا(پست) قسم کا اعتراض ہے، اور واقعاً افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض عھدہ دار افراد بھی اس سلسلہ میں بڑی آب وتاب اور شان وشوکت سے اس طرح کا اعتراض کرتے ہیں جن کی وجہ سے دوسرے لوگ بھی گمراہ ہوجاتے ہیں ۔

بے شک اسلامی نظریہ کی بنیاد اس بات پر قائم ہے کہ یہ دنیاوی زندگی آخرت کی زندگی کا مقدمہ اور پیش خیمہ ہے، اور جو کچھ بھی ہم اس دنیا میں اعمال انجام دیتے ہیں انہیں کی وجہ سے ہم آخرت میں سعادت مند یا شقاوت مند ہوں گے در حقیقت دین کا ہدف اور مقصد یہ ہے کہ انسانی زندگی اس طرح گذاری جائے تاکہ اس دنیاوی سھولتوں کے ساتھ ساتھ آخرت کی سعادت بھی حاصل ہوجائے ، یعنی خداوندعالم کی طرف سے بھیجے ہوئے انبیاء کرام علیہم السلام نے بشریت کے لئے ایسا نظام پیش کیا ہے جس سے انسان کی دنیاوی زندگی کے ساتھ آخرت کی زندگی بھی کامیاب اور سعادتمند قرار پائے اور چونکہ یہ مسئلہ بالکل واضح اور روشن ہے واقعاً تعجب کا مقام ہے کہ بعض وہ لوگ جو قرآن کریم اور سنت نبوی سے کم وبیش آگاہی رکھتے ہیں اور ان کو جاہل نہیں کھا جاسکتا وہ لوگ خود غرضی کی وجہ سے اپنی آنکھوں سے حقیقت کا نظارہ نہیں کرتے اور اپنی باتوں میں دنیاوی مسائل کو آخرت سے بالکل الگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ،چنانچہ کھتے ہیں : آخرت سے مربوط مسائل عبادت گاہوں ، گرجا گھروں اور مساجد میں ہونا چاہئے، اس کے مقابل دنیاوی اور اجتماعی مسائل انسانی تجربہ اور غور وخوض سے حل ہوسکتے ہیں ، اور دین اس سلسلہ میں کوئی کردار نہیں کرسکتا !!

یہ ایک ایسا شیطانی اعتراض ہے جو ہر صاحب عقل مسلمان پر واضح ہے کہ یہ تمام ادیان بالخصوص اسلامی نظریہ کے مخالف ہیں ۔

۳۔تیسرا مقدمہ یہ ہے کہ اگر یہ مان بھی لیں کہ انسان نے ہمیشہ اپنے تجربات، علم اور غور وفکر سے کام لیتے ہوئے اپنے مادی اور دنیاوی ضرورتوں کو حاصل کرلے، ( البتہ دنیاوی مصالح بھی اُخری مصالح پورے ہونے کی صورت میں پورے ہوسکتے ہیں کیونکہ انسان احکام الہی سے فائدہ حاصل کئے بغیر دنیاوی مصالح کو بھی پورا نہیں کرسکتا) (تو پھر وھ) معنوی اور اُخروی مصالح کو پورا نہیں کرسکتا کیونکہ انسان خود بخود اُخروی مصالح کے بارے میں نہیں جانتا کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ کونسا عمل اس کی اُخروی زندگی کی سعادت کے لئے مفید ہے؛ کیونکہ اس نے اُخروی زندگی کو دیکھا (بھی) نہیں ہے بالفرض اگر انسان دوسروں کی دنیاوی زندگی سے تجربہ حاصل کرلے اور اسی تجربہ کی بنا پر اپنے لئے زندگی کا راستہ معین کرلے، لیکن اُخروی زندگی کے سلسلہ میں نہ خود کو کوئی تجربہ ہے اور نہ ہی دوسروں کے تجربات اس کے سامنے ہیں ، لھٰذا اپنے لئے آخرت کی سعادت اور کامیابی کا راستہ معین نہیں کرسکتا۔!!

قارئین کرام ! ہماری مذکورہ باتوں سے یہ بات طے ہوجاتی ہے کہ دنیاوی اور اُخروی مصالح صرف انہیں افراد کے ذریعہ حاصل ہوسکتے ہیں جن کو خداوندعالم نے اپنی علوم سے نوازا ہے؛ اور معاشرہ پر ایسے قوانین حاکم ہوں جو خداوندعالم کی طرف سے آئے ہوں تاکہ اس کے زیر سایہ دنیاوی مصالح بھی اور اُخروی مصالح بھی پورے ہوسکیں ۔

۳۔ قوانین جاری کرنے والے کے صفات پر دوبارہ ایک نظر

ہم نے قوانین کو جاری کرنے والے کے لئے تین مہم شرائط کا ذکر کیا، اور جو شخص قوانین کو جاری کرنے والا ہو نیز دنیاوی اور اُخروی مصالح کو پورا کرنے والا ہو اور خدا کی طرف اس کی نسبت ہو، اس کے لئے مذکورہ شرائط کا مالک ہونا ضروری ہے۔

مذکورہ شرائط:

پہلی شرط یہ تھی کہ قانون جاری کرنے والے اوراسلامی حاکم کو قانون شناس ہونا چاہئے البتہ علم ومعرفت کے مختلف درجات ہوتے ہیں اسی وجہ سے تمام افراد ایک درجہ میں نہیں ہوتے معرفت اور شناخت کے ان درجات میں نمونہ درجہ وہ ہے جس میں الہی قوانین سے بالکل خطا نہ ہو، اور ایسی شان صرف معصوم علیہ السلام کی ہوتی ہے جو معرفت اور ادراک میں کبھی کوئی خطا وغلطی نہیں کرتا،اور جو قانون خداوندعالم نے نازل کیا ہے اس کو کما حقہ پہنچانتا ہے ظاہر سی بات ہے کہ اگر ایسی شخصیت یعنی معصوم علیہ السلام موجود ہو تو پھر معاشرہ کے لئے اس کی حکومت ضروری اور ترجیح رکھتی ہے لیکن اگر معصوم علیہ السلام غائب ہوں تو اس صورت میں یہ منصب ایسے شخص کا ہے جو دوسروں لوگوں سے زیادہ قوانین کی معرفت اور شناخت رکھتا ہو۔

دوسری شرط یہ تھی کہ قانون کا جاری کرنے والا شخص عملی میدان میں اپنے ذاتی مفاد یا کسی گروہ کے حق میں کام نہ کرے؛ یعنی اخلاقی صلاحیت رکھتا ہو اور یہ اخلاقی صلاحیت بھی علم کی طرح مختلف درجات رکھتی ہے جس کا نمونہ درجہ معصوم علیہ السلام کی شخصیت میں تصور کیا جاسکتا ہے کیونکہ معصوم علیہ السلام کی ذات کسی بھی وقت غیر الہی انگیزوں کے تحت تاثیر قرار نہیں پاتی اور نا ہی کسی کا خوف اور ناہی کوئی لالچ ہوتا ہے، نیز اجتماعی منافع ومصالح کو اپنی ذاتی یا گھریلو یا گروہی ‎ مصالح پر قربان نہیں کرتا لیکن اگر معصوم علیہ السلام کی ذات موجود نہ ہو تو پھر ایسا شخص جو اس سلسلہ میں معصوم (ع) سے بھت زیادہ شباہت رکھتا ہو ، وہی ‎ قوانین الہی کو جاری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تیسری شرط یہ تھی کہ قوانین کو جاری کرنے والا مدیریت اور کلی قوانین کو جزئی قوانین پر منطبق کرنے میں کافی مھارت رکھتا ہو، یعنی خداوندعالم کے عام قوانین سے آگاہی کے ساتھ ان کے مصادیق کو بھی جانتا ہو اور یہ بھی جانتا ہو کہ کس طرح ان قوانین کو جاری کیا جانا چاہئے تاکہ قوانین کا اصل ہدف محفوظ رہے البتہ قوانین کو جاری کرنے میں اس قدر مھارت اور مدیریت کے لئے خاص تجربات کا ہونا ضروری ہے جن کو انسان اپنی زندگی میں حاصل کرتا ہے ، جس کا بہتر ین اور عالی ترین مرتبہ امام معصوم (ع) میں تصور کیا جاسکتا ہے،کیونکہ معصوم علیہ السلام کی ذات جس طرح خداوندعالم کے قوانین کی شناخت میں غلطی نہیں کرسکتا اور مقام عمل میں بھی ہوای نفس کے تحت تاثیر واقع نہیں ہوسکتا اور خداوندعالم کی خاص تائید اس کے شامل حال ہوتی ہے،اور معاشرہ کے مصالح کو معین کرنے ، عام موارد کو خاص موارد میں منطبق کرنے میں (بھی) انحراف اور غلطی کا شکار نہیں ہوتا۔

۴۔اعتقادی اصول سے اسلامی حکومت کی تھیوری کا تعلق

بےشک اگر کوئی شخص مذکورہ مقدمات کو قبول کرے کہ واقعاً انسانی معاشرہ کے لئے ایسے قوانین کی ضرورت ہے جن سے مادی اور دنیاوی مصالح پورے ہوتے ہوں اور معنوی اور اُخروی مصالح بھی، اور اسلامی حاکم اور اسلامی معاشرہ کے ذمہ دار افراد کے شرائط کو بھی قبول کرتا ہو تو پھر اس صورت میں اسلامی نظام کی حقانیت کو قبول کرنا آسان ہے البتہ خود مذکورہ مقدمات کو قبول کرنا بھی دوسری چیزوں پر موقوف ہے: کیونکہ پہلے درجہ میں انسان کو یہ ماننا پڑے گا کہ خدا ہے، اس کے بعد یہ قبول کرے کہ اس نے ایسے پیغمبر کو بھیجا جس نے اس کے احکام بندوں تک پھونچائے اسی طرح یہ بھی قبول کرے کہ اس دنیاوی زندگی کے بعد ایک اُخروی زندگی بھی ہے اور اس دنیاوی زندگی اور اُخروی زندگی میں علت ومعلول والا تعلق ہے یہ تمام مقدمات ہماری بحث کے مبنیٰ ہیں ، جن کو اعتقادی، کلامی اور فلسفی مباحث میں تفصیلی طور پر ثابت کیا گیا ہے، اور عام اجتماعی، حقوقی اور سیاسی جلسات میں ہر ایک پر الگ الگ بحث نہیں کی جاسکتی ورنہ تو نتیجہ تک پہنچے کے لئے سالوں درکار ہوں گے۔

ہمارے مخاطب مسلمان اور وہ حضرات ہیں جو خدا، دین، وحی، نبوت، پیغمبر، عصمت اور قیامت کو قبول رکھتے ہیں اور یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ کیا اسلام حکومتی نظام پیش کرتا ہے یا نہیں ؟ نہ وہ لوگ جو منکر خدا ہیں ، اور نہ ہی وہ لوگ جو خود خدا کے خلاف جلوس نکالنے اور اس کے خلاف نعرے لگانے کے لئے تیار ہوں !! اور نہ ہی وہ لوگ جو دین اور احکام اسلام کو بالکل ہی نہیں مانتے،اور نہ وہ لوگ جو پیغمبر کے لئے کھتے ہیں کہ وہ بھی دوسروں کی طرح وحی کو سمجھنے میں غلطی کرسکتا ہے اسی طرح جو افراد اصول میں ہمارے مخالف ہیں وہ اس وقت کی بحث میں ہمارے مخاطب نہیں ہیں اگر وہ لوگ بحث وگفتگو کرنا چاہتے ہیں تو ان سے کسی دوسرے موقع پر بحث کی جاسکتی ہے اور ان کے سامنے اعتقادی اصول کو عقلی اور فلسفی برہان کے ذریعہ ثابت کیا جاسکتا ہے اور ان کی ہدایت کی جاسکتی ہے اور ان کو یہ سمجھایا جاسکتا ہے کہ ھاں خدا بھی ہے اور قیامت بھی آئے گی، نیز خداوندعالم نے ہدایت بشر کے لئے انبیاء کرام کو بھیجاتاکہ وہ ان کو اس کے بندوں تک پہنچائے اسی طرح پیغمبر معصوم ہوتا ہے اور وحی کے سمجھنے میں کسی طرح کی کوئی غلطی واشتباہ نہیں کرتا اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر وہ پیغمبر نہیں ہوسکتا۔

قارئین کرام ! مذکورہ مقدمات کو قبول کرتے ہوئے کیا کوئی صاحب عقل اس بات کو قبول کرسکتا ہے کہ معصوم علیہ السلام کے ہوتے ہوئے؛ جو علم ورفتار میں معصوم ہو اور دوسروں کی نسبت معاشرہ کے مصالح کو بہتر درک کرتا ہو ؛ کوئی دوسرا مسند قدرت پر بیٹہ جائے؟ ! کیونکہ یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ اختیاری صورت میں مرجوح کو راجح پر اور بہتر کو غیر بہتر پر ترجیح دینا قبیح اورناپسند ہے اور کوئی بھی صاحب عقل وشعور اس کو قبول نہیں کرتا ہماری گفتگو ان لوگوں سے ہے جو خود کو مسلمان کھلاتے ہیں ،لیکن معصوم کے وجود کا اقرار نہیں کرتے، اور معتقد ہیں کہ نہ تو پیغمبر معصوم تھے اور نہ ہی ائمہ (علیہم السلام) معصوم تھے؛ ان لوگوں سے بھی ہمارا کوئی سروکار نہیں ہے ہمارامفروضہ یہ ہے کہ تمام موضوعہ اصول کو قبول رکھتے ہوں اور پیغمبر اکرم (ص) کو معصوم مانتے ہوں ، اور شیعہ اعتقاد کے مطابق ائمہ علیہم السلام کو بھی معصوم مانتے ہوں ۔

فرضیہ یا مفروضہ یہ ہے کہ اگر معاشرہ میں معصوم علیہ السلام موجود ہوں تو کیا اس صورت میں حکومت کسی غیر معصوم کے سپرد کی جاسکتی ہے؟ کیونکہ غیر معصوم کو حکومت سپرد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ قانون کے سمجھنے میں غلطی اور اشتباہ کو جائز مانتے ہیں ،اور اس چیز کو بھی جائز مانتے ہیں کہ کوئی شخص اپنے ذاتی مفاد کو معاشرہ کے مفاد و مصالح کو جائز مانیں اور معاشرہ کے منافع ومصالح کو اپنی خواہشات پر قربان کردے، نیز اس بات کو بھی جائز ماننا ہے کہ کوئی معاشرہ پر حکومت کرنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوئے بھی معاشرہ کی حکومت اپنے ھاتھوں میں لے لے!! جبکہ یہ تمام چیزیں عقلی لحاظ سے مردود اور قابل قبول نہیں ہیں اس بنا پر کوئی بھی صاحب عقل اس چیز میں شک نہیں کرتا کہ اگر امام معصوم (ع) معاشرہ میں حاضر ہو تو اسی کو حکومت سپرد کرنا اولیٰ اور بہتر ہے،اور اگر اس کے بجائے کسی دوسرے کو حکومت کے لئے انتخاب کیا جائے تو یہ کام غیر عقلی اور بے ہودہ ہے اس صورت میں کسی کو شک نہیں ہے اور اسی بات پر تمام لوگوں کی عقل حکم کرتی ہے، نیز اس کو ثابت کرنے کے لئے ہمیں احادیث سے استدلال کرنے اور ان آیات کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے جن میں پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ علیہم السلام کی اطاعت کو واجب قرار دیا گیا ہے ، مثال کے طور پر :

( یَاایُّها الَّذِینَ آمَنُوا اطِیعُوا اللهَ وَاطِیعُوا الرَّسُولَ وَاوْلِی الْامْرِ مِنْکُمْ ) (۱)

”اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کرو جو تمھیں میں سے ہیں ۔“

( مَنْ یُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ اطَاعَ اللهَ ) (۲)

” جو رسول کی اطاعت کرے گا اس نے اللہ کی اطاعت کی “

۵۔ حکومت کے طولی(تحت) مراتب کی منطقی اور عقلی دلیل

قارئین کرام ! اگر امام معصوم معاشرہ میں حاضر ہوں تو اسی کی حکومت اولویت رکھتی ہے اس سلسلہ میں ذکر شدہ مطالب ایک استدلال اور عقلی متوسط بیان ہے جو سبھی کے لئے قابل قبول اور قابل دفاع ہے،یھاں تک کہ اگر کوئی حکومت (وولایت) کے سلسلہ میں قرآنی آیات سے بھی آگاہ نہ ہو، چنانچہ ہمارے ذکر شدہ مطالب کے پیش نظر اپنے اعتقاد کا دفاع کرسکتا ہے لیکن ہماری اصل بحث امام معصوم علیہ السلام کی غیبت کے زمانہ میں اسلام کا نظریہ پہنچاننے کے بارے میں ہے کہ جب عوام الناس امام معصوم کے وجود سے محروم ہو، اور اس تک رسائی ممکن نہ ہو، تاکہ اس کی حکومت سے بھرہ مند ہوسکیں اسی طرح امام معصوم علیہ السلام کے حضور کا وہ زمانہ، جس میں ظالم حکومت معصوم کی حکومت سے مسلمانوں کو محروم کردے، یا اجتماعی حالات ایسے نہ ہوں جس میں معصوم علیہ السلام قدرت کو اپنے ھاتھوں میں لے سکے۔

ان دونوں صورتوں میں ہم کسی علمی ، فنّی اور اکیڈمیک دلائل سے استدلال نہیں کرتے جس کا سمجھنا عام لوگوں کے لئے مشکل ہو، بلکہ ہم تو ایک عام عقلی قاعدہ سے استدلال کرتے ہیں جس طرح ہر عام انسان اپنی روز مرہ زندگی میں اسی عقلی قاعدہ سے استدلال کرتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ اگر کسی سلسلہ میں سو فی صد والا درجہ میسر نہ ہو تو پھر ۹۹ فی صد والے درجہ کو انتخاب کرتا ہے اگر کسی چیز کاکامل درجہ حاصل کرنا ممکن نہ ہو تو پھر کامل سے نزدیک والے درجہ کا انتخاب کرتا ہے چنانچہ اس قاعدہ سے مختلف مقامات پر استفادہ کیا جاسکتا ہے، مثلاً:کسی بھی عھدہ کے لئے کچھ خاص شرائط اور صفات رکھے جاتے ہیں ، اور اگر کسی میں وہ تمام شرائط پائے جاتے ہیں تو اسی شخص کا انتخاب کیا جاتا ہے، لیکن اگر ان تمام صفات کا حامل شخص نہ مل پائے تو پھر ایسے شخص کا انتخاب کیا جاتا ہے جو اس سے کم شرائط رکھتا ہو، لیکن دوسروں پر برتری اور فضیلت رکھتا ہو۔

دوسری مثال: اگر آپ کسی ایسے ڈاکٹر سے علاج کراسکتے ہیں جو تیس سال کا تجربہ رکھتا ہو اوروہ اپنی ڈاکٹری میں خاص مھارت اور روشن فکری رکھتا ہے ، لیکن آپ اس کو چھوڑ کر کسی ایسے ڈاکٹر سے علاج کرائیں جس نے ابھی ڈاکٹری کی سند لی ہے اور ابھی کلینک کھولی ہے اگر آپ اس سے علاج کرائیں اوروہ غلط علاج کرے تو آپ کی بیماری کا نہ صرف علاج ہوگا بلکہ اس میں شدت آجائے گی، تو کیا آپ عقل اور عقلاء کی نظر میں محکوم نہیں ہیں ؟ اور کیا عقلاء آپ کی ملامت نہیں کریں گے کہ ایک ماہر (اسپیشلسٹ)ڈاکٹر کے ہوتے ہوئے وہ بھی آپ کے مکان کے قریب ، پھر آپ نے غیر ماہر ڈاکٹر کی طرف کیوں رجوع کیا؟!

اور آپ کا عذر صرف اسی صورت میں قابل قبول ہوسکتا ہے جب اس ماہر ڈاکٹر کی فیس بھت زیادہ ہو یا ماہر ڈاکٹر سے علاج کرانے کے لئے کسی دوسرے ملک میں جانے پڑتاہو جس کا خرچ برداشت کرنا آپ کے بس کی بات نہ ہو، اسی وجہ سے آپ نے کسی غیر ماہر ڈاکٹر کا علاج کرایا ہے۔

لیکن ہمارا فرض اس صورت میں ہے جب آپ کسی ماہر ڈاکٹر سے علاج کرانے پر قادر ہوں اور اس کی فیس دوسرے غیر ماہر ڈاکٹر سے کم یا اس کے برابر ہے، تو اگر اس صورت میں اگر آپ نے کسی نئے ڈاکٹر کی طرف رجوع کیا اور آپ کی بیماری میں شدت پیدا ہوگئی تو آپ عقل اور صاحبان عقل کی نظر میں معذور نہیں ہیں ، اور سبھی اس سلسلہ میں آپ کی ملامت اور سرزنش کریں گے۔

اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ مذکورہ عقلی قاعدہ تمام اجتماعی امور میں جاری ہے ، اور اس قاعدہ کو تمام ہی صاحبان عقل قبول کرتے ہیں چاہے مسلمان ہوں یا غیر مسلم، اور اس کی نسبت حکم ِ عقل کی طرف ہے، جس میں شرعی دلیل کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

چنانچہ اسی مذکورہ قاعدہ کے تحت اگر اسلامی حکومت کی نمونہ شکل ممکن نہ ہو (جیسا کہ عقل بھی اسی کو بہتر ین حکومت مانتی ہے) اور معاشرہ میں علم وتقویٰ اور مدیریت کے لحاظ سے اعلی ترین درجہ والا شخص نہ ملے جو صاحب عصمت بھی ہے تو اس صورت میں عقل کا حکم اور اس کا فیصلہ کیا ہوگا؟ کیا اس صورت میں ہماری عقل اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ ہم جو چاہیں کریں اور جس کو چاہے حاکم بنادیں ؟ یا ہماری عقل اس چیز کا حکم کرتی ہے کہ اگر معاشرہ معصوم علیہ السلام کے وجود سے محروم ہو اور آئیڈیل شخص حکومت کے لئے ممکن نہ ہو تو ایسے شخص کا انتخاب کریں جو تقویٰ اور صلاحیت کے لحاظ سے معصوم علیہ السلام سے شبیہ اور زیادہ نزدیک ہو؟ اگر سو فی صد والا درجہ حاصل نہ ہوں تو پھر ۹۹ والے درجہ کا انتخاب کریں اور اگر ۹۹ والا درجہ نہ ہو تو پھر ۹۸ والے درجہ کا انتخاب کریں ،اسی طرح اگر اعلیٰ درجہ کا انتخاب ممکن نہ ہو تو پھر اس سے کم والے درجہ کا انتخاب کریں ،اور پھر باری باری نیچے والے درجہ کا انتخاب کریں ، ایسا نہیں ہے کہ اگر عالی ترین درجہ کا انتخاب ممکن نہ ہو تو پھر دوسرے تمام درجے مساوی اور برابر ہیں ، اور ۹۹ والا درجہ اور ایک والا درجہ سب برابر ہوجائیں ، اسی بنا پر اگر ہمارے فرض کے مطابق نمونہ اور آئیڈیل مقصود حاصل نہ ہوتو پھر کوئی فرق نہیں چاہے کسی کا بھی انتخاب کریں !! بے شک اس کو عقل تسلیم نہیں کرتی۔

لھٰذا عقل کے اس یقینی حکم کی بنا پر جو ہر انسان کی سمجھ میں آتا ہے اگر اسلامی حکومت کی نمونہ شکل ممکن نہ ہو اور معصوم علیہ السلام کی ذات تک رسائی نہ ہو تاکہ براہ راست عوام الناس پر حکومت کریں تو اس صورت میں اسلامی حکومت کے لئے ایسا فرد جو صلاحیت رکھتا ہے جس میں تینوں بنیادی شرط ( یعنی علم، تقویٰ اور مدیریت )دوسروں کی نسبت زیادہ اور معصوم علیہ السلام سے مشابہ ہو ، یعنی وہ شخض جو دوسروں سے زیادہ قوانین کی معرفت اور شناخت رکھتا ہو اسی طرح اس کی عدالت اور تقویٰ دوسروں کی نسبت زیادہ ہو اور دوسروں سے زیادہ اپنی خواہشات پر کنٹرول رکھتا ہو نیز اس کی مدیریتی طاقت اور بصیرت دوسروں سے زیادہ ہو۔

قارئین کرام ! یہ عقلی بیان ہر صاحب عقل کے لئے سمجھنا آسان ہے اور فقہ وکلام کے پیچیدہ دلائل کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

۶۔ اسلامی حکومت کے سلسلہ میں چند سوالات

البتہ مسلمانوں پر حکومت کی صلاحیت رکہنے والے کے بارے میں سوالات کے علاوہ اسلامی حکومت کے سلسلہ میں دوسرے سوالات بھی بیان ہوتے ہیں جن کے جوابات (بھی) عرض کرنا ضروری ہیں مثلاً یہ سوال کہ کیا اسلام نے اسلامی حکومت کے عھدہ پر فائز ہونے والے کے لئے شرائط اور خصوصیات بھی بیان کئے ہیں اور حکومت کے لئے خاص شکل معین کی ہے یا نہیں ؟ یعنی کیا صرف اسلام نے اسلامی حکومت کے صدر کے لئے بیان کیا ہے کہ کون صدر ہوسکتا ہے لیکن دوسرے حکومتی امور اور اس کا خاکہ عوام الناس کی مرضی پر چھوڑ دیا ، یا اجتماعی حالات کے بدلنے کے ساتھ ساتھ اس کی شکل بھی بدل جائے گی؟۔ دوسرا سوال جو اس سے زیادہ علمی اور دقیق ہے اور جو لوگ فقھی اور حققوقی مسائل سے آشنائی رکھتے ہیں ان کے لئے قابل فہم ہے ، اور وہ یہ ہے کہ آیا حکومت ایک ”تاسیسی“ مقولہ سے ہے یا ”امضائی“ مقولہ سے ہے؟

وضاحت: کیونکہ بعض اسلامی اور فقھی مسائل تاسیسی ہیں ، جن کو شارع مقدس نے عوام الناس میں رائج ہونے سے پہلے بیان کیا ہے اور ان کی کیفیت اور طریقہ بھی بیان کیا ہے مثلاً نماز ایک تاسیسی عبا دت ہے جس کا وجوب بھی خود شریعت نے بیان کیا ہے اور اس کا طریقہ بھی خداوندعالم کی طرف سے پیغمبر اکرم (ص) کے ذریعہ مسلمانوں کے لئے بیان ہوا ہے،اور اس واجب اور اس کی کیفیت کو بیان کرنے سے پہلے عوام الناس اس سے آگاہ نہ تھی ( نماز ہی نہیں بلکہ ) عام طور پر تمام عبادتیں تاسیسی ہیں جن کو عوام الناس نے پیغمبر اکرم (ص) سے سیکھا ہے جیسے دوسرے واجبات : روزہ، حج اور دوسرے یاعبادتی احکام تاسیسی ہیں ۔

ان تاسیسی احکام کے مقابلہ میں اسلام کے بعض دوسرے احکام امضائی ہیں یعنی عوام الناس اپنی اجتماعی امور میں کچھ معاملات، عقود اور معاہدات کومعین کئے ہوئے ہیں ، یہاں تک کہ اگران میں سے بعض تحریری شکل میں بھی نہ ہوں لیکن ان پر عمل ہوتا ہے ، مثلاً عام طور پر خرید وفروخت، چنانچہ اس سلسلہ میں شریعت نے عوام الناس کو حکم نہیں دیا ہے کہ اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو اس کو جاکر خرید لے اس مسئلہ کی ضرورت خود صاحبان عقل سمجھتے ہیں اور معاملات وغیرہ کے لئے طریقہ کار معین کرتے ہیں اس کے بعد شریعت مقدسہ ان معاملات کی تائید کردیتی ہے اور اس کو شرعی حیثیت مل جاتی ہے ، مثلاً:( احل الله البیع ) (۳) (خدانے خرید و فروخت کو حلال قرار دیا ہے )جو عوام الناس کے درمیان رائج ہے، اور خرید وفروخت کی یہ حلیت شرعی تائید کی وجہ سے ہے، اور گویا اس عقلاء کے طریقہ کار کو قبول کرنے کی طرح ہے جو آپس میں ایک دوسرے سے خرید وفروخت انجام دیتے ہیں ۔

اس مقام پر حکومت کے سلسلہ میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قبل اس کے کہ خدا نے انبیاء کرام علیہم السلام کے ذریعہ الہی حکومت کی پیروی کرنے کا حکم دیا کیا عوام الناس کے درمیان خود کوئی حکومت کا طریقہ کار موجود تھا جس کی شریعت مقدسہ نے تائید کی اور اس پر دستخط فرمائے ؟ یانہ بلکہ حکومت کی شکل اور ڈھانچے کو بھی عوام الناس نے خداوندعالم کے حکم کے مطابق بنایا ہے؟ اور اگر انبیاء علیہم السلام خدا کی اجازت سے عوام الناس پر حکومت نہ کرتے تو وہ ان کی اطاعت کرنے کا وظیفہ نہ رکھتے ،( یعنی)عوام الناس حکومت کی شکل وصورت سے آگاہ نہ تھے۔

المختصر جب ہم کھتے ہیں کہ اسلامی حکومتی نظام کو اسلام نے بیان کیا ہے اور اس کی دینی اور فقھی حیثیت ہے اور خود خداوندعالم نے اس کی اطاعت پر لوگوں کو موظف بنایا ہے، توکیا یہ حکومت خداوند عالم کی طرف سے تشریع کی گئی ہے اور خدا اس حکومتی نظام کا موسس ہے؟ یا اس حکومت کی شکل وصورت خود عوام الناس کے ذریعہ بنائی گئی ہے اور اس کو اجتماعی معاہدات کی بنا پر بنایا گیا اور خداوندعالم نے اس کی تائید وامضا کردیا ہے، اسی وجہ سے یہ حکومت اسلامی حکومت بن گئی ہے کہ جس کی خداوندعالم نے تائید کی ہے اور یہ حکومت امضائی حکم رکھتی ہے؟

حوالے

(۱) سورہ نساء آیت ۵۹

(۲) سورہ نساء آیت ۸۰

(۳)سورہ بقرہ آیت ۲۷۵


تینتیسواں جلسہ

اسلام اور حکومت کے مختلف نقشے

۱۔ اسلام کی طرف سے حکومتی سلسلہ میں کوئی طریقہ بیان نہیں کیا گیا (ایک اعتراض)

گذشتہ جلسوں میں حکومت کی شکل وصورت کے بارے میں یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ کیا اسلام نے حکومت کے لئے کوئی خاص نقشہ پیش کیا ہے، یا اس کا معین کرنا خود عوام الناس کے اوپر ہے؟ اور اگر اسلام نے حکومت کے لئے کوئی خاص نقشہ پیش کیا ہے تو کیا وہ کسی خاص زمانہ سے مخصوص ہے یا نہ ، بلکہ اس کا ایک خاص نقشہ ہے جو ہر زمانہ میں جاری نہیں ہوسکتا؛ اور انسانی معاشرہ کے حالات کی بنا پر اس کی شکل ونقشہ بدل رہتا ہے چنانچہ بعض لوگ کھتے ہیں کہ اگرچہ حضرت رسول اکرم (ص) کے زمانہ میں اسلامی حکومت ایک خاص طرز پر ہوتی تھی، لیکن وہ طریقہ صرف اسی زمانہ سے مخصوص تھا ، اور خداوندعالم نے اسی طریقہ کار کو صرف پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ کے لئے معین فرمایا تھا اور اس کے بعد نئے نئے نقشے اس حکومت کے قائم مقام ہوسکتے ہیں یہاں تک کہ ممکن ہے کہ بعض اجتماعی حالات کی بنا پر اسلامی حکومت ڈیموکریسی لیبرل شکل اختیار کرلے، اور آپس میں کوئی تضاد یا ٹکراو نہ ہو جس طرح ہم نے مغربی ممالک کے بعض طریقوں کو انتخاب کیا ہے؛ مثلاً ”پارلمانی نظام“ کو قبول کرلیا ہے،اور اس کو اسلام کے مخالف نہیں پایا، اسی طرح ”مشروطیت“(۱) کو قبول کرلیا اور اس وقت ”جمھوریت“ کو قبول کرلیا ہے اور ہمارا ماننا ہے کہ یہ اسلام کے مخالف نہیں ہیں ، ہوسکتا ہے ایک دن وہ بھی آئے جب ہم ”ڈیموکریسی لیبرل“ کو بھی قبول کرلیں اور اس کو بھی اسلام کے مخالف نہ پائیں !

آج کل ہمارے معاشرہ میں اس طرح کے سوالات اور جوابات پیش کئے جاتے ہیں اور اس سلسلہ میں بحث وغیرہ ہوتی رہتی ہیں ، جبکہ ان بحثوں میں بعض اشکالات وابھامات لوگوں کے ذھن میں ڈالے جاتے ہیں جن کی بنا پر بعض لوگ دانستہ اور بعض لوگ نادانستہ طور پر اسلامی صحیح تفکر سے منحرف ہوجاتے ہیں ۔

قارئین کرام ! مذکورہ اعتراض کا جواب دینے سے پہلے بعض ان نکات کا بیان کرنا ضروری ہے جن کی وجہ سے مذکورہ اعتراض تشکیل پاتا ہے تاکہ ان کے روشن ہونے سے جواب کا راستہ صاف ہوجائے:

جیسا کہ ہم سبھی لوگ اس بات کو جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں انقلاب اسلامی کے عظیم الشان رہبر حضرت امام خمینی رحمة اللہ علیہ کے ذریعہ اسلامی جمھوری نظام قائم ہوا، اور شروع انقلاب ہی میں اس کے اساسی اور بنیادی قوانین مرتب ہوئے جن کی خود امام خمینی (رہ) نے تائید کی ہے اسی طرح آپ ہی کی تائید کے مطابق حکومت کا نقشہ معین ہوا ، اور زمانہ کے ساتھ ساتھ بعض چیزوں میں تبدیلی کرنا پڑی جن کو حضرت امام خمینی (رہ) نے قبول فرمایا جبکہ یہ بات واضح ہے کہ اسلامی حکومت کا یہ نقشہ نہ حضرت رسول اکرم (ص) کے زمانہ میں تھا اور نہ ہی حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے زمانہ میں اس طرح کی حکومت تھی، اور ہماری یہ حکومت اسلامی حکومت کے عنوان سے قائم کی گئی ہے۔

قدرتوں میں جدائی نہ حضرت رسول اکرم (ص) کے زمانہ میں تھی اور نہ ہی حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے زمانہ میں ، لیکن ہمارے بنیادی قانون میں قدرتوں کے الگ ہونے کو قبول کیا گیاہے،اور حکومتی نظام تین قدرتوں قوہ مقننہ (پارلیمنٹ) ، قوہ قضائیہ (عدلیھ) اور قوہ مجریہ (حکومت) سے تشکیل پایا اس نظام میں سب سے بلند مقام جس کے ذریعہ ملکی عظیم سیاست معین کی جاتی ہے مقام معظم رہبری ہے، اس کے بعد صدر مملکت ملک کے دوسرے بڑے عھدہ پر فائز ہوتا ہے، اسی طرح رئیس قوہ قضائیہ اور رئیس مجلس شوریٰ اسلامی (اسپیکر) ملک کے عالی ترین عھدہ میں شمار ہوتا ہے یہاں تک کہ انقلاب اسلامی کے بیس سال کے بعد بھی بنیادی قوانین میں بعض تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں مثال کے طور پر پہلے وزیر اعظم اجراء قوانین کا سب سے بڑا عھدہ ہوتا تھا ، اور اسی کے ذریعہ کابینٹ کا انتخاب ہوتا تھا، اس کے بعد صدر مملکت اور مجلس شوریٰ اسلامی تائید کرتی تھی،لیکن غور وفکر کے بعد وزیر اعظم کا عھدہ حذف کردیا گیا اور صدر مملکت ہی اجراء قوانین کا عھدہ دار ہوتا ہے۔

بے شک حکومت کا اس طرح کا نقشہ اسلام میں اس سے پہلے کبھی نہیں تھا نہ ہی اسلام نے اس سلسلہ میں کوئی حکم صادر فرمایا ہے، لھٰذا کوئی بھی شخص یہ دعویٰ نہیں کرسکتاکہ اسلام نے صاف طور پر وضاحت کردی ہے کہ عوام الناس ووٹ دے کر صدر مملکت کا انتخاب کریں اسی طرح دوسرے انتخاب میں حصہ لے کر اپنا کردار ادا کریں ۔

قارئین کرام ! ہمارے گذشتہ مطالب کے پیش نظر بعض لوگ اس کو دلیل مانتے ہیں کہ اسلام نے حکومت کے سلسلہ میں کوئی نقشہ پیش نہیں کیا ہے، لھٰذا اس بات کو ماننا پڑے گا کہ اسلام نے اس سلسلہ میں عوام الناس کو اختیار دیا ہے کہ وہ خود اپنی مرضی سے حکومت کا نقشہ بنائیں اور خود ہی قوانین کا انتخاب کریں ؛ اسی طرح دوسرے حکومتی امور بھی خود عوام الناس سے متعلق ہیں ۔

اسی بنا پر اس بات میں کہ حکومت کو خدا کی طرف سے معین ہونا چاہئے اور حکومت خود عوام الناس کے ذریعہ معین ہو؛ تضاد اور ٹکراؤ پایا جاتا ہے، اور یہ جو کھا جاتا ہے کہ حکومت خداوندعالم کی طرف سے معین کی جاتی ہے جبکہ جو چیز عملی طور پر دیکھی جاتی ہے ان دونوں میں تضاد اور ٹکراؤ پایا جاتا ہے یہاں تک کہ خود ”جمھوری اسلامی“ کہنا بھی ایک قسم کا تضاد ہے، کیونکہ ”جمھوریت“ کے معنی حکومت کاعوام الناس کے ھاتھوں میں ہونااور اس کا نقشہ وشکل عوام الناس کے ذریعہ معین ہونا ہیں ، جبکہ اس جمھوری کے ساتھ ”اسلامی“ کا اضافہ کرنا اور کہنا کہ حکومت کی باگ ڈور ولی فقیہ کے ھاتھوں میں ہونا چاہئے خصوصاً جبکہ ہم اس بات کو مانیں کہ ولایت فقیہ خداوندعالم اور امام زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ذریعہ مشروعیت (جواز) پیدا کرتی ہے؛ اور اس حکومت کو حکومت الہی سمجھتے ہیں نہ عوامی اور مردمی، یعنی اس حکومت کی مشروعیت اوپر سے شروع ہوتی ہے، پہلے درجہ میں خدا مشروعیت عطا کرتا ہے اس کے بعد پیغمبر اور اس کے بعد امام معصوم (ع)، اور ولی فقیہ امام معصوم علیہ السلام کی طرف سے انتخاب ہوتا ہے جس کی بنا پر اس کی مشروعیت ہوتی ہے اورجو ولی فقیہ کے تحت نظام ہوتا ہے وہ ولی فقیہ کی وجہ سے ہی مشروعیت پیدا کرتا ہے تو اگر حکومت جمھوری ہے تو پھر اس طرح کی باتیں نہیں ہونا چاہئے اور جس کو عوام الناس انتخاب کرلیں وہی ‎ حقیقت میں اسی کو صاحب اقتدار ہونا چاہئے۔

۲۔ مذکورہ اعتراض کا جواب، اور حکومت کی شکل کے سلسلہ میں اسلامی نظریہ

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ اعتراض کبھی وضاحت کے ساتھ اور کبھی اشاروں میں اخبار، میگزین اور کانفرنس میں بیان میں ہوتا ہے ، اور بیرونی ریڈیو اور دوسرے ذرائع ابلاغ اس پر بھت شور مچاتے ہیں ، اور جو کچھ بھی ہمارے اخباروں اور مقالات میں بیان ہوتا ہے اس میں اسلامی حکومت کو تناقض آمیز(ضدّ و نقیض) اور دینی استبداد کے عنوان سے پہنچنوایا جاتا ہے اسی وجہ سے ان مسائل کو صاف اور شفاف طریقہ سے بیان کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ اس سلسلہ میں اسلامی نقطہ نظر واضح ہوجائے۔

کیا جب ہم یہ کھتے ہیں کہ ہمارا حکومتی نظام ”جمھوری اسلامی“ ہے تو اس نظام کا اسلامی ہونا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس حکومت کا نقشہ اور اس کی شکل خداوندعالم کی طرف سے معین ہو ، اور قرآن وروایات اور کم سے کم پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ علیہم السلام کی سیرت میں بیان ہوا ہو؟ اور اگر اسلامی نظام ہونا اس بات میں مخصوص نہیں ہے کہ اس کی شکل وصورت خداوندعالم کی طرف سے معین ہو، (جیسا کہ دوسرے شواہد بھی اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اس نظام کی شکل وصورت خداوندعالم نے معین نہیں کی ہے) تو پھر نظام کے اسلامی ہونے کا معیار کیا ہے؟

چنانچہ اس سلسلہ میں بھت زیادہ بحث وگفتگو ہوسکتی ہے اور جو کچھ ہم نے عرض کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگوں نے اس بحث کو اہمیت دی اور بعض لوگوں کی طرف سے اس سلسلہ میں غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے عوام الناس کو منحرف کرنا چاہا، لھٰذا ہم اس سلسلہ میں وضاحت کرنا مناسب سمجھتے ہیں ، اور ہماری اس بحث میں دقت کرنے سے مطالب واضح اور روشن ہوجائیں گے ، اور پھر دوسرے لوگوں کی باتیں اور شیطانی وسوسے اثر انداز نہیں ہوپائیں گے۔

کوئی شخص بھی اس بات کا دعویٰ نہیں کرتا کہ اسلام نے حکومت کے لئے خاص نقشہ معین کیا ہے، نہ قرآن میں ، نہ روایات میں اور نہ معصومین علیہم السلام کی عملی سیرت میں ،اور نہ ہی حضرت امام خمینی رحمة اللہ علیہ اور مقام معظم رہبری ( حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای مد ظلھ) اور نہ ہی دوسرے علماء ورہبروں کے بیانات میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسلامی حکومت وہ حکومت ہے جس کا نقشہ اور شکل خداوندعالم اور دینی رہبروں کے ذریعہ معین کیا گیا ہے، مثلاً یہ کہ اسلام نے حکم دیا ہو کہ ولی فقیہ صاحب اقتدار اور مرکز قدرت ہو اور اس کے بعد دوسرا درجہ صدر مملکت کا ہے ، اور یہ تینوں قدرتیں ایک دوسرے سے مستقل اور جدا ہونی چاہئیں تو جب اسلامی حکومت ہونے کا معیار یہ نہیں ہے کہ اس کا نقشہ اور حکومتی امور نیز قدرتوں کا استقلال خدا کی طرف سے معین ہو تو پھر اسلامی حکومت ہونے کے معیار کو دوسری جگھوں پر تلاش کرنا چاہئے۔

۳۔ حکومتی ثابت اور مسلم ڈھانچہ پیش کیا جانا ممکن نہیں

قارئین کرام ! یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام کی طرف سے حکومت کے لئے کوئی معین نقشہ اور خاص صورت بیان نہ ہونا اسلام کے ناقص ہونے کی دلیل نہیں ہے؟ کیا اسلام ایک کامل دین نہیں ہے اور کیا اسلام نے انسانی معاشرہ کی انفرادی اور اجتماعی ضرورتوں کو بیان نہیں کردیا ہے؟ تو پھر کیوں حکومت کے سلسلہ میں کوئی خاص شکل بیان نہیں کی ہے؟

ہم جواب میں عرض کرتے ہیں : وہ اسلام جس نے پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ کے چھوٹے اور محدود معاشرہ کے نظام کو چلایا ہے اور اسلام؛ انسانی مختلف وسیع اور پیچیدہ معاشروں میں ایک عالمی حکومت کرنا چاہتا ہو، توکیا اس کے لئے ایک ثابت اور مسلم نقشہ پیش کرنا ممکن نہیں ابتدائے اسلام میں حضرت پیغمبر اکرم (ص) کے ذریعہ ایسی حکومت تشکیل پائی جس کی مردم شماری شاید ایک لاکہ لوگوں تک بھی نہ ہو اور وہ سادہ قسم کی زندگی اور سادہ ثقافت والے لوگوں کی تعداد جن میں اکثریت بادیہ نشین اور مدینہ کے گرد ونواح کے دیھاتیوں کی تھی؛ یہ بات ظاہر ہے کہ اس زمانہ کے لحاظ سے اور اس تعداد کے لحاظ سے حکومت بھی سادہ تھی اس کے بعد اہستہ اہستہ اسلامی علاقوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور خلفاء کے زمانہ میں منجملہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے زمانہ میں کہ ابھی ظھور اسلام کو آدھی صدی ہی گذری تھی اسلامی حکومت ایران، مصر، عراق، سوریہ، حجاز اور یمن تک پہنچ گئی تھی اور اسلام کے تحت نفوذ اس ترقی ووسعت کے پیش نظر ایسا ممکن نہ تھا کہ جب پیغمبر اکرم (ص) مدینہ منورہ میں ایک چھوٹی سی حکومت بنائیں تو اس کو اس طرح تشکیل دیں جس سے ھجرت کے وقت سے پچاس سال (بعد) کی حکومت کو بھی شامل ہوجائے ، اور اگر اس زمانہ میں رسول اکرم (ص) ایک عظیم اسلامی علاقہ کے لئے حکومت کو بیان کرتے تو اس زمانہ کے لوگوں کے لئے ایک خواب کی طرح ہوتا، اور دوسری طرف چونکہ اس طرح کی حکومت کا راستہ ہموار نہیں تھا لھٰذا اس طرح کا نقشہ پیش کرنا ایک بے ہودہ کام تھا۔

اور چونکہ اس پچاس سال کے عرصے میں مسلمانوں کے حالات بھت بدل گئے تھے لھٰذا اس کے لئے مختلف طریقوں کی حکومت ہونا چاہئے تھی، اسی طرح اس کے بعد کا زمانہ جس میں مسلمانوں اور جھان اسلام کے حالات میں بھی کافی تبدیلی آنا تھی تو اگر رسول اکرم (ص) ان تمام حالات کے پیش نظر ہر زمانہ کے لئے ایک خاص قسم کی حکومت کو بیان فرماتے تو پھر فرضی حکومتوں کے سلسلہ میں ایک عظیم ”دائرة المعارف“ (انسائیکلو پیڈیا) بن جاتاجس میں ہر زمانہ کی حکومت کے لئے تفصیل بیان کی جاتیں لیکن چونکہ اس زمانہ میں لکہنے پڑھنے والی کی تعداد ہی بھت کم تھی، اور اس سلسلہ میں عالم افراد اور دانشوران کا ہونا تو دور کی بات ہے تاکہ وہ اس سلسلہ میں تفصیل دیں اور ایک دوسرے سے جدا کریں ، نہ اس وقت اس موضوع کو بیان کرنے کے امکانات تھے ، اور اگر بیان بھی ہوجاتے تو ان کو محفوظ رکہنا اور ان کو رائج کرنا بھی ممکن نہیں تھا۔

المختصر یہ کہ حکومت کا نقشہ اور اس کی شکل زمان ومکان کے لحاظ سے ہمیشہ متغیر ہے ، اور انسانی معاشرہ میں ہمیشہ کے لئے ایک خاص حکومت کا نقشہ معین کرنا ممکن نہیں ہے جس کو ہر دور میں اور ہر جگہ قائم کیا جاسکے حکومت کا نقشہ اسلام کے متغیر اور ثانوی احکام میں سے ہے جو زمان ومکان کے لحاظ سے بدلتے رہتے ہیں جن کو معین کرنا ولی امر مسلمین کے عھدہ پر ہوتا ہے،اور جب امام معصوم علیہ السلام حاضر ہوں تو وہی ‎ ولی ا مر مسلمین ہیں ، اور وہ حاضر نہ ہوں تو پھر ان کی جگہ ان کا نائب (خاص) ولی امر مسلمین شمار ہوتا ہے (اسلام کے ان متغیر احکام کے مقابل میں اسلام کے ثابت اور مسلم احکام بھی ہیں جو ہمیشہ کے لئے ثابت ہیں جن کو کسی بھی زمانہ میں اور کسی جگہ پر جاری کیا جاسکتا ہے۔)

لھٰذا یہ تصور کرنا کہ اسلام کو ہر علاقے اور ہر زمانہ کے لحاظ سے حکومت کا ایک نقشہ پیش کرنا چاہئے تھا؛ یہ تصور صحیح نہیں ہے، چونکہ اس طرح کا کام عملی طور پر ممکن بھی نہ تھا لھٰذا معلوم یہ ہوا کہ اسلام کی طرف سے حکومت کے لئے خاص نقشہ پیش نہ کرنا اسلام کا کوئی نقص نہیں ہے بلکہ اگر اسلام کی طرف سے حکومت کے سلسلہ میں کلّی اور عام قواعد پیش نہ کئے جاتے تو اس وقت یہ کھا جاسکتا تھا کہ اسلام میں نقص ہے؛ کیونکہ اس صورت میں نہ تو اسلام نے زمان ومکان کے لحاظ سے حکومت کی کوئی شکل پیش کی ہے اور نہ ہی حکومت کے بارے میں کوئی راستہ بیان کیا ہے لیکن الحمد للہ اسلام نے حکومت کے نقشہ کے بارے میں راستہ تو بتادیا ہے اور اس کے لئے متغیر احکام قرار دئے ہیں اور جیسا کہ ہم نے قانون گذاری کے سلسلہ میں عرض کیا ہے کہ زمان ومکان کے لحاظ سے متغیر احکام کا معین کرنا ولی امر مسلمین کی ذمہ داری ہوتی ہے،جو اسلامی اصول کی بنا پر اور اس زمانہ کے متغیر مصالح کے پیش نظر اور اس سلسلہ میں ماہرین سے صلاح ومشورہ کے بعد ان کو بیان کرتا ہے ، اور انہیں مسائل میں سے حکومت بھی ہے، (اور جب ولی امر مسلمین ان احکام کو بیان کردے تو پھر) عوام الناس کے لئے ان پر عمل کرنا ضروری ہے اسلام نے اس راہ حل کو پیش کرکے عوام الناس کو سرگردانی اور حیرت سے نجات عطا کردی ہے، جس کی بنا پر اختلافات اور جھگڑوں کا خاتمہ ہوگیا ہے۔

۴۔ حکومت کا عرفی اور دنیاوی ہونا اور قوانین اسلام کا ہم عصری ہونا (ایک اعتراض)

قارئین کرام ! اس سلسلہ میں ایک دوسرا اعتراض یہ ہوتاہے کہ اسلام کی طرف سے حکومت کے لئے کوئی خاص نقشہ بیان نہ کرنا اس بات کی علامت ہے کہ حکومتی مسائل عرفی اور دنیاوی ہیں جو خود عوام الناس سے متعلق ہیں اور اسلام نے اس سلسلہ میں کوئی اظھار نظر نہیں کیا ہے آج کل کے وہ لوگ جو مغربی کلچر خصوصاً ”لیبرلیزم“سے متاثر ہیں اس اعتراض کو ہوا دیتے ہیں اور اپنے مقالات، تقریروں اور اپنی گفتگو میں اس اعتراض کی حمایت کرتے ہیں کہ حکومتی مسائل دنیاوی اور عرفی ہیں جن کا اسلام سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور اپنی بات پر شاہد اس چیز کو پیش کرتے ہیں کہ اسلام نے نہ تو جمھوری حکومت کے بارے میں کچھ کھا ہے اور نہ بادشاہی حکومت کے سلسلہ میں کچھ کھا ہے، اور نہ ہی دوسری حکومتوں کے بارے میں کچھ بیان دیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومتی مسائل ایسے نہیں ہیں جن کے بارے میں ہمیں یہ امید نہیں رکہنی چاہئے کہ اس سلسلہ میں خدا اور پیغمبر کچھ بیان کریں ، بلکہ یہ مسائل تو دنیا اور عوام الناس سے متعلق ہیں اور خود انہیں کو اس سلسلہ میں طے کرنا چاہئے۔

اور اہستہ اہستہ اس سے بھی آگے قدم بڑھاتے ہوئے کھتے ہیں : نہ صرف یہ کہ حکومت کے نقشہ کو خود عوام الناس معین کرے بلکہ حکومت کے قوانین بھی خود عوام الناس کو بنانا چاہئے؛ چاہے وہ قوانین اسلامی اصول کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں !!

لیکن اس وقت ان کے سامنے یہ سوال آتا ہے کہ اگر حکومتی مسائل دنیاوی اور عرفی ہیں اور عوام الناس سے متعلق ہیں یہاں تک کہ قوانین بھی انہیں کے ذریعہ بنائے جائیں ، تو پھر قرآن اور متواتر روایات میں حکومت سے متعلق بھت سے احکام کیوں بیان ہوئے ہیں ؟ مثلاً احکام قضا، احکام مالیات (ٹیکس) اور احکام جزائی وغیرہ،یہ وہ بند گلی ہے جس سے نکلنے کا راستہ نہیں ہے ، اگرچہ انھوں نے اس بند گلی سے نکلنے کے لئے بھت سے راستے اختیار کئے ہیں لیکن ان سب کو اس وقت بیان نہیں کیا جاسکتا۔

ان میں سے بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ حکومتی احکام وقوانین جو قرآن وروایات میں وارد ہوئے ہیں ، وہ حضرت رسول اکرم (ص) کے زمانہ سے مخصوص ہیں اور اسی زمانہ کی ضرورت کے مطابق تھے ، اور اسلام نے صرف رسول اکرم (ص) کے زمانہ میں حکومتی مسائل میں دخالت کی ہے اور کچھ قوانین پیش کئے ہیں ، کیونکہ اس وقت کے لوگ اپنی ضرورت کے مطابق قوانین بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے، لھٰذا اسلام کو ان کی ضرورت کے مطابق کچھ قوانین پیش کرنا پڑے، اسی وجہ سے قرآن وروایات میں حکومت، سیاست اورقضاوت سے متعلق احکامات بیان ہوئے ہیں جو صرف اسی زمانہ میں کار آمد تھے، لیکن اس زمانہ میں جب انسان نے علم ودانش میں کافی ترقی کرلی ہے اور خود اپنی ضرورت کے مطابق قوانین بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور آج کل ماڈرن زمانہ ہے، لھٰذا وہ قوانین کار آمد نہیں ہیں اور ان کو ترک کردینا چاہئے!!

قارئین کرام ! اس طرح کی باتیں بھت سے اسلام کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کی طرف سے بیان ہوتی ہیں اور کبھی کبھی تو صاف کھتے ہیں کہ احکام اسلام (منجملہ اسلام کے اجتماعی احکام) رسول اسلام (ص) کے زمانہ سے مخصوص تھے، اور آج ہمارے زمانہ میں کار آمد نہیں ہیں ، بلکہ اصلاً اس زمانہ کے لئے نازل (بھی) نہیں ہوئے ہیں ، اور کبھی کبھی اپنے مذکورہ نظریہ کو پشت پردہ بیان کرتے ہیں چونکہ اتنی ہمت نہیں کرتے کہ واضح طور پر اسلام کے تمام اجتماعی احکام پر اعتراضات نہیں کرسکتے ، اور اسلام کے بعض سزائی احکام منجملہ ”چور کے ھاتہ کاٹنے والے حکم“ پر اعتراض کرتے ہیں ۔

چنانچہ کھتے ہیں کہ ”چور کے ھاتہ کاٹنے کا حکم“ چوری کرنے اور لوگوں کے مال میں خیانت کرنے سے روک تھام اور معاشرہ میں مالی امن وامان کو برقرارکرنے کے لئے تھا لیکن اب اگر ہمارے پاس اس طرح کے جرائم سے روک تھام کے لئے اس سے بہتر طریقے موجود ہوں تو پھر انہیں کو کام میں لایا جائے، نہ یہ کہ ہر زمانہ میں چور کے ھاتہ کاٹ دئے جائیں اسلامی قوانین کا مقصود معاشرہ میں امن برقرار رکہنا ہے اور اس زمانہ میں اس سے بہتر اور کوئی طریقہ کار نہیں تھا کہ چور کے ھاتہ کاٹ دئے جائیں لیکن آج کل اس سے بہتر طریقے موجود ہیں تاکہ اس طرح کے جرائم سے روک تھام ہوسکے، جن میں تشدد اور شدت پسندی بھی نہیں ہے اور ان کی انسانی شرافت بھی داغدار نہیں ہوتی کیونکہ چور کے ھاتہ کاٹ دینا تشدد اور وحشیانہ عمل ہونے کے علاوہ انسانی شرافت سے بھی ہم اہنگ نہیں ہے جس کو ترک کردینا چاہئے آج کل ہم اس زمانہ میں زندگی بسر کرتے ہیں جس کو ماڈرن زمانہ کھا جاتا ہے، آج اجتماعی مسائل بالکل بدل گئے ہیں ، اور چونکہ آج کل کے جدید حالات پیغمبر اکرم ( (ص)) اور ائمہ معصومین (علیہم السلام) کے زمانہ سے بالکل الگ ہیں لھٰذا اسلامی قوانین کو جاری نہیں کیا جاسکتا۔

قارئین کرام ! آپ حضرات نے ملاحظہ فرمایا کہ پہلے توان لوگوں نے یہ کھا کہ اسلام نے حکومت کے لئے کوئی نقشہ پیش نہیں کیا، اور اس سلسلہ میں خود عوام الناس کو اختیار ہے اور جب حکومتی مسائل عوام الناس پر چھوڑ دئے تو اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ جن موارد میں اسلام کے مشخص اور معین قوانین نہیں ہیں تو ان قوانین کو معین کرنا خود عوام الناس کے عھدہ پر ہے اس کے بعد اس سے آگے قدم بڑھایا اور کھا : یہاں تک کہ جن موارد میں اسلامی قوانین موجود بھی ہیں تو ان اسلامی قوانین کو نسخ بھی کیا جاسکتا ہے اور ان کو بدلا جاسکتا ہے! بے شک اس صورت میں تواسلام کا جلد ہی فاتحہ دیاجائے گا۔

۵۔ مذکورہ اعتراض کا جواب، اور اسلام کے متغیر اور ثابت احکام کی نسبت

ہم نے مختصر طور پر یہ عرض کیا کہ اسلام کے ثابت اور غیر قابل تبدیل احکام کے علاوہ متغیر احکام بھی ہیں کیونکہ اسلام کے احکام واقعی مصالح ومفاسد کے تحت ہیں ، اور انسان کی زندگی بعض امور میں متغیر حالات کے تابع ہے ، البتہ وہ متغیر حالات بھی واقعی مصالح ومفاسد کے لحاظ سے متغیر ہیں اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ حکومت بھی ثانوی اور متغیر احکام رکھتی ہے اور ہر زمانہ میں اس کی شکل وصورت کا معین کرنا نیز اس کے لئے مناسب قوانین بنانا ولی فقیہ کا کام ہے جو اسلامی اصول کے تحت اور اسلامی ارشادات کے مطابق اپنے وظیفہ پر عمل کرتا ہے۔

قارئین کرام ! توجہ رہے کہ اسلام کے متغیر اور ثابت احکام میں امتیاز پیدا کرنا اوران میں تمیز کرنا فقھاء اور مجتھدین کا کام ہے کیونکہ وہ اسلامی منابع ومآخذ کی روح یعنی قرآن،سنت، اورپیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی سیرت کا علم رکھتے ہیں لھٰذا اسلام کے متغیر اور ثابت احکام میں تمیز کرسکتے ہیں ، اور ان میں سے ہر ایک کے صفات کو معین کرسکتے ہیں ۔

صرف یہ کھہ دینا کہ اسلام میں متغیر احکام پائے جاتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی اسلام کے تمام احکام کو متغیر کھہ دے کیونکہ اگر اسلام کے تمام قوانین متغیر ہوں تو پھر اسلام میں کیا باقی بچے گا؟ اور اس صورت میں ہم کس اسلام کا دفاع کرنا چاہتے ہیں ؟ اگر تمام اسلامی قوانین اور احکام متغیر ہوں اور اسلام کا کوئی بھی قانون یا حکم ثابت اور مسلم نہ ہو تو پھر ہم نے کیوں انقلاب برپا کیا، اور اسلام کے احکام جاری ہونے کے خواہشمند ہیں ، اس کی وجہ سے لاکھوں افراد شھید ہوئے خود شاہ (محمد رضا) کے زماہ میں ایک ریفارم " Rwforme " (اصلاح) اور تبدیلی کے ذریعہ عوام الناس کی مانگ کو پورا کیا جاسکتا تھا،تاکہ خود عوام الناس کے لئے قوانین بنانے کا راستہ ہموار ہوجاتا ، اگر یہ وہی ‎ اسلام ہے جس کے قوانین عوام الناس کی رائے سے بدل جاتے ہیں تو پھر ہم نے بے فائدہ انقلاب برپا کیا، بہتر تھا کہ ہم ”ملی گرا“ کے تابع ہوجاتے، جس کی بنا پر معاشرہ کے منافع کو حاصل کرتے، اور پھر ہمارے یہ نقصانات نہ ہوتے!! جیسا کہ ملی گرا مشورہ دیتے اسی کو جاری کرتے اور لیبرل ڈیموکریسی کے تحت آرام کے ساتھ ووٹنگ کرتے اور پھر اپنے منتخب شدہ ممبران کو شاہ کے پارلیمنٹ میں بھیجتے، اور وہ عوام الناس کی خواہش کے مطابق غیر عوامی قوانین تبدیل کرتے!!

قارئین کرام ! یہ ان لوگو ں کی باتوں کا کا خلاصہ ہے جو بیرونی ”تئوریسین“ سے متاثر ہیں جو بعض ان اخباروں میں بیان ہوتے ہیں جو مسلمانوں کے بیت المال سے چلتے ہیں !!

اسی طرح کے بعض لوگ ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان جوانوں کو جنھوں نے ابھی تک اسلام کے اجتماعی مسائل کا مطالعہ نہیں کیا ہے اور کافی مقدار میں علم نہیں رکھتے ان کو تحت تاثیر قرار دیتے ہیں ، مثال کے طور پر کھتے ہیں : اسلامی حکومت صرف ایک ادعای ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، کیونکہ اسلام نے نہ جمھوریت کے بارے میں کچھ کھا ہے اور نہ ہی قدرتوں میں جدائی کے بارے میں کچھ بیان دیا ہے۔

اور جب اسلام نے اس سلسلہ میں کچھ (بھی) بیان نہیں کیا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے حکومت کے سلسلہ میں کوئی نقشہ پیش نہیں کیا بلکہ حکومتی امور خود عوام الناس کے سپرد کردئے گئے ہیں ۔

یھاں پر ہمارے مخاطب وہ لوگ ہیں جو خدا، اسلام اور قرآن پر اعتقاد رکھتے ہیں ، احکام اسلامی کو کھیل سمجھنے والے افرادنہیں ، کیونکہ ان کے سلسلہ میں گفتگو کرنا بے کار ہے ہم ان لوگوں سے مخاطب ہیں جو خدا کے وجود کا اقرار کرتے ہیں اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا نے پیغمبر کو ہماری ہدایت کے لئے بھیجا ہے، نیز قرآن مجید اس کی طرف سے نازل ہوا ہے؛ (ہم ان سے یہ عرض کرتے ہیں کھ) قرآن مجید صاف طور پر ایسے احکام اور قوانین کا ذکر کرتا ہے جو ہمیشہ ثابت اور غیر قابل تبدیلی ہیں اور قابل استثناء بھی نہیں ہیں ، اس کے علاوہ قرآن مجید نے بار بار اس بات پر زور دیاہے کہ ان احکام میں کسی طرح کا کوئی خدشہ وارد نہیں کرنا چاہئے ان ہی میں سے اسلام کے قضائی احکام ہیں اگرچہ بعض مسائل ضروری اور واجب ہیں لیکن ان کو عام معمولی طریقہ سے قرآن مجید میں ذکر کیا گیا ہے، لیکن بعض مسائل منجملہ احکام قضاوت (اسلامی قوانین کے احکام وقوانین کے مطابق) ہیں جن کے بارے میں اس قدر تاکید کی گئی ہے اور ان کو اس شدید انداز میں بیان کیا گیا کہ اگر انسان ان کی خلاف ورزی کرنا چاہے تو اس کا بدن لرز جاتا ہے جیسا کہ خداوندعالم اپنے پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ خدا کے حکم کے مطابق حکم فرمائیں :

( إِنَّا انزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَا ارَاکَ اللهُ ) (۲)

” ہم نے آپ کی طرف یہ بر حق کتاب نازل کی ہے کہ لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کریں “

دوسری جگہ رسول خدا (ص) کے فیصلوں کے سامنے تسلیم ہونے اور اس کی اطاعت کے بارے میں فرماتا ہے:

( فَلاَوَرَبِّکَ لاَیُؤْمِنُونَ حَتّٰی یُحَکِّمُوکَ فِیمَا شَجَرَ بَیْنَهمْ ثُمَّ لاَیَجِدُوا فِی انفُسِهمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوا تَسْلِیمًا ) (۳)

” پس آپ کے پروردگار کی قسم کہ یہ ہرگز صاحب ایمان نہ بن سکیں گے جب تک آپ کو اپنے اختلافات میں حَکم نہ بنائیں گے اور پھر جب آپ فیصلہ کردیں تو اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی کا احساس نہ کریں اور آپ کے فیصلہ کے سامنے سراپا تسلیم ہوجائیں ۔“

قارئین کرام ! جیسا کہ آپ حضرات نے ملاحظہ کیا کہ خداوندعالم نے ( فَلاَوَرَبِّک ) سے قسم کھاکر (جو بھت بڑی قسم ہے) صرف ان لوگوں کو مومن شمار کیا ہے جو اپنے اختلافات اور جھگڑوں میں (جو معمولاً مالی امور میں اور کبھی جان وناموس کے سلسلے میں ہوتے ہیں ) صرف پیغمبر اکرم (ص) کی طرف رجوع کریں لیکن اگر اپنے اختلافات کو دور کرنے کے لئے پیغمبرا کرم (ص) کی خدمت میں نہ گئے اور آنحضرت (ص) سے فیصلہ کی درخواست نہ کی، یا اگر پیغمبر اکرم (ص) نے ان کے درمیان فیصلہ فرمادیا چاہے کسی کے نقصان میں ہو یا فائدہ میں ، او ر وہ دل وجان سے پیغمبر کے فیصلہ پر راضی نہ ہوئے اور ان کے دل رنجیدہ رہے ، تو اس صورت میں وہ مومن نہ رہیں گے لھٰذامومنین کو بھی آنحضرت (ص) کو قضاوت اور فیصلوں کے لئے منتخب کرنا چاہئے اور جس وقت وہ فیصلہ فرمادیں تو چاہے ان کے فائدہ میں ہو یا نقصان میں ، تو ان کو اپنے دل میں ناراضگی اور رنجیدگی کا احساس تک نہ ہونے پائے، اور مکمل طریقہ سے رسول خدا (ص) کے فیصلہ پر راضی رہیں جو لوگ آنحضرت (ص) کو خدا کا رسول مانتے ہیں لیکن ان کے فیصلوں کو نہیں مانتے وہ لوگ جھوٹے اور منافق ہیں ؛ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ رسول کی رسالت کا اقرار کرتے ہوں لیکن اس کے فیصلوں کو نہ مانیں ؟!

قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر چند مسلسل آیتوں میں خدا کے حکم کے علاوہ قضاوت کرنے والے لوگوں کو فاسق، کافر اور ظالم کھا گیا ہے:

ارشاد رب العزت ہوتا ہے:

( وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا انزَلَ اللهُ فَاوْلَئِکَ همْ الْکَافِرُون ) (۴)

”اور جو شخص بھی ہمارے نازل کئے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے گا اس کا شمار کافروں میں ہوگا۔“

( وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا انزَلَ اللهُ فَاوْلَئِکَ همْ الظَّالِمُونَ ) (۵)

”اور جو شخص بھی ہمارے نازل کئے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے گا اس کا شمار ظالموں میں ہوگا۔“

( وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا انزَلَ اللهُ فَاوْلَئِکَ همْ الْفَاسِقُونَ ) (۶)

”اور جو شخص بھی ہمارے نازل کئے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے گا اس کا شمار فاسقوں میں ہوگا۔“

کیا کوئی شخص قرآن مجید کی ان آیات کو اس انداز اور اس لحن میں ملاحظہ کرنے کے بعد (بھی) یہ احتمال دے سکتا ہے کہ اسلامی قضاوت کے احکام صرف رسول اکرم (ص) کے زمانہ تک اور زیادہ سے زیادہ آپ کے بیس سال بعد تک کے لئے ہیں ، اور جب اسلامی علاقوں میں ایران، مصراور دوسرے علاقے شامل ہوگئے تو اسلام کے یہ قضائی احکام کار آمد نہیں رہے اور قضاوت کے احکام لوگوں پر چھوڑ دئے گئے ہیں ؟ کیا ہر وہ شخص جو ان آیات اور اسی طرح کی دوسری آیات کو ملاحظہ کرنے کے بعد یہی نتیجہ اور فیصلہ کرے گا؟! یا نہ اس کا فیصلہ یہ ہوگا کہ کسی بھی وقت اور کسی بھی حالت میں خدا وندعالم کے احکام کو پاؤں سے روندھا نہیں جاسکتا؟

بے شک ہر وہ صاحب عقل اور انصاف پسند انسان جو خدا پر ایمان رکھتا ہو اور ان آیات کو خدا کا کلام سمجھے تو ان آیات کے لب ولھجے کو دیکہ کر یہ یقین نہیں کرسکتا کہ یہ مذکورہ آیات صرف رسول اکرم (ص) کے زمانہ اور زیادہ سے زیادہ آنحضرت کے بیس سال بعد تک کے لئے ہیں ؛ بلکھ(ان آیات کے لب ولھجے کو دیکہ کر) اس کو یقین ہوجائے گا کہ تاقیامت ان آیات کے مضمون پر عمل ہونا چاہئے، اور ہمیشہ احکام خدا کو اپنے اعمال کے لئے نمونہ عمل قرار دینا چاہئے، اور ان کی خلاف ورزی نہیں کرنا چاہئے:

( وَمَنْ یَتَعَدَّ حُدُودَ اللهِ فَاوْلَئِکَ همْ الظَّالِمُونَ ) (۷)

” اور جو حدود الہی سے تجاوز کرے گا اس کا شمار ظالمین میں سے ہوگا۔“

اس کے علاوہ اگر بعض آیات کا مضمون کسی قدر واضح اور روشن نہ ہوتا تو اس میں کچھ شبہ ہوسکتا تھا، علماء او رمجتھدین کا وظیفہ ہے کہ یہ معین کریں کہ یہ آیات کسی خاص زمانہ سے مخصوص ہیں یا زمانہ کے لحاظ سے مطلق ہیں اور کیا کسی خاص قوم( جزیرة العرب کی عوام) سے مخصوص ہیں یا ان آیات میں دوسرے تمام لوگ بھی شامل ہیں ؟

بھر حال دشمن؛ احکام اسلامی اور قوانین اسلامی کو برداشت کرنے سے شانے خالی کرتے ہیں اور اپنی خواہش نفسانی نیز شیطانی ہواو ہوس کے تحت نیز جوان نسل کو گمراہ اور منحرف کرنے کے لئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام کے اجتماعی اور سیاسی احکام رسول اکرم (ص) کے زمانہ سے مخصوص ہیں اور اس کے بعد کار آمد نہیں ہیں ، اگرچہ ہم نے اپنی حکومت کو ”جمھوری اسلامی“ کا عنوان دیا ہے لیکن اسلام کا نام صرف ایک دکھاوٹی پہلو ہے ، اور عوام الناس جو قانون بھی بنانا چاہیں بناسکتے ہیں ،اور اس پر عمل کرسکتے ہیں ؛ چاہے وہ قوانین سو فی صد خداوند عالم کے حکم کے مخالف ہوں !! افسوس کہ بعض لوگ اپنے مقالات اور تقریروں میں اسی طرح کا نظریہ پیش کرتے ہیں ، جبکہ ان سے اس کے علاوہ کی امید بھی نہیں ہے۔

۶۔ انسانی، تمام مسائل میں احکام الہی کی وسعت

قارئین کرام ! یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اسلام کی طرف حکومت کے لئے کوئی خاص نقشہ پیش نہ کرنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ حکومت اور حکومتی قوانین : عدلیہ ، قانون گذاری اور اجرائے احکام سے متعلق قوانین(۸) خود عوام الناس کے سپرد کردئے جائیں اور خداوندعالم ان کے بارے میں کوئی نظریہ نہ رکھتا ہو؛ بلکہ خداوندعالم نے انسان کے ذاتی اور اجتماعی مسائل میں اسی طرح حکومت و سیاست کے بارے میں دستور العمل بیان کیا ہے، اور ہمیں کوئی ایک ایسا مورد نہیں ملے گا جس میں خدا وندعالم کا حکم شامل نہ ہوتا ہو۔

وضاحت ہم جو کچھ بھی کام انجام دیتے ہیں اور جو احکام ہم پر لاگو ہوتے ہیں ان میں سے بعض احکام وجوبی اور الزامی ہوتے ہیں جن پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے ان کے مقابلہ میں بعض احکام حرام ہوتے ہیں جن کا ترک کرنا واجب ہوتا ہے، ان اوامر ونواہی والے الزامی احکام کے علاوہ دوسرے احکام جائز ہوتے ہیں او ران پر غیر الزامی احکام جاری ہوتے ہیں ، غیر الزامی احکام یہ ہیں : مستحب، مکروہ اور مباح پس ہمارے تمام کام انہیں پانچوں قسم میں سے ہوتے ہیں چاہے وہ واجب ہوں یا حرام، مستحب ہوں یا مکروہ اور مباح، اور یہ تمام خداوندعالم کے احکام ہیں ۔

اس بنا پر اگر کسی مقام پر کوئی کام حرام یا واجب یا مستحب یا مکروہ نہ ہو تو وہ کام انسان کے لئے آزاد ہے جس کو روایات میں مطلق اور فقھاء ومجتھدین کی اصطلاح میں ”مباح“ کھا جاتا ہے؛ مباح بھی خداوندعالم کے احکام میں سے ایک حکم ہے لھٰذا معلوم یہ ہوا کہ انسان کے انفرادی اور اجتماعی مسائل میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس پر حکم خدا شامل نہ ہو،کیونکہ ہر مسئلہ یا ہر موضوع پر احکام خمسہ (واجب ، حرام، مستحب، مکروہ اور مباح) میں سے کوئی نہ کوئی حکم ضرور شامل ہوگا البتہ حقوق اور سیاست کے لحاظ سے مستحب اور مکروہ صرف اخلاقی پہلو رکھتا ہے اور ان کا ذکر حقوقی مسائل میں بیان نہیں ہوتا اور مسائل حقوقی یا واجب ہیں جن کی رعایت ہونا چاہئے یا حرام جن کو ترک کیا جائے یا مباح ہیں (چاہے عمل کرے یا نہ کرے۔)

آخر میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم نے مان لیا کہ اسلام نے حکومت کے سلسلہ میں نظریہ پیش کیا ہے،اور وہ شخص جو اقتدار میں مرکزیت رکھتا ہے اس کے لئے خاص شرائط وصفات معین کئے ہیں ، جس کے نتیجہ میں جو شخص ان صفات کا حامل ہوگا وہی ‎ شریعت اسلام کی طرف سے معاشرہ کی رہبری کے لئے حکومت کے لئے منصوب ہوگا؛ تو کیا جن مسائل میں اسلام نے بیان نہیں دیا ہے وہ عوام الناس کے حوالے ہیں اور ان میں شریعت اسلام نے کوئی تصمیم گیری نہیں کی ہے اور اس سلسلہ میں ان کو طے کرنے کے لئے عوام الناس کی سمجھ بو جہ اور ان کے درمیان موجود عرف کے مطابق عمل کیا جائے؟ یہاں پر ، حتیٰ وہ افراد جو اسلامی اور فقھی بحثوں سے کسی حد تک آشنائی رکھتے ہیں کبھی کبھی ایسے گول مٹول الفاظ استعمال کرتے ہیں جن سے دوسرے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں ،مثال کے طور پر کھتے ہیں : ہم اپنی زندگی کے بعض مسائل کو دین اسلام سے اخذ کریں اور ان کے سلسلہ میں قرآن مجید، روایات اور زیادہ سے زیاہ پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ اطھار علیہم السلام کی عملی سیرت کی طرف رجوع کریں ؛ لیکن ان کے علاوہ اپنی عقل کے مطابق عمل کریں در حقیقت ہم اپنی صحیح زندگی کی راہ کو معین کرنے کے لئے دو منابع رکھتے ہیں : ایک قرآن مجید ، دوسرے عقل اس طرح کے مسامحہ آمیز (ذو معنی ) الفاظ وہ حضرات استعمال کرتے ہیں جو صاحب نظر اور واقعاً متدین ہیں ، اور چونکہ اس طرح کی باتیں باعث لغزش و گمراہی ہوتی ہیں لھٰذا ان کو ردّ کرنا ضروری سمجھتے ہیں ۔

اس نکتہ پر توجہ کرنا ضروری ہے کہ حکم شرعی اور حکم الہی کے لئے کم سے کم دو اصطلاح موجود ہیں :

۱۔ حکم شرعی کی پہلی اصطلاح : (یا حکم تعبدی اور الٰھی) وہ حکم ہے جو قرآن مجید اور سنت نبوی سے حاصل کیا جاتا ہے، وہ قرآن اور معتبر احادیث میں ذکر ہوئے ہیں اس اصطلاح کے مطابق وہ حکم جو دوسرے طریقہ سے حاصل ہو جیسے عقل کے ذریعہ تو اس کو شرعی حکم نہیں کھا جاتا، بلکہ اس کو ”حکم عقل“ کھا جاتا ہے لھٰذا اگر کسی حکم کو عقل مستقل طور پر حاصل کرلے ، اور اس سلسلہ میں شریعت مقدس کی طرف سے بھی حکم وارد ہوا ہو، تو اس (شرعی حکم) کو ارشادی کھا جاتا ہے جس میں حکم شرعی اور تعبدی نہیں ہوتا۔

وضاحت ہماری عقل دوسری چیزوں سے قطع نظر بعض چیزوں کو سمجھتی ہے مثلاً ہر صاحب عقل انسان اس بات کو آسانی سے سمجھ لیتا ہے کہ عدالت اچھی چیز ہے اور ظلم بری چیز ہے؛ اور کوئی بھی صاحب عقل، عقل کے اس حکم میں شک نہیں کرتا اس وقت جب قرآن مجید کی آیت میں عدل کے بارے میں حکم ہوتا ہے تو فقھاء کی اصطلاح میں اس حکم کو ”ارشادی“ کھا جاتا ہے ؛ یعنی یہ آیت صرف عقل کے اس حکم پر ہدایت کرتی ہے جو ہماری عقل نے الگ سے سمجھ لیا ہے۔

حکم شرعی میں اس اصطلاح کا فقھاء کے یہاں استعمال ہونا بعض لوگوں کے منحرف ہونے کاسبب بنا ہے اور خیال کیا جانے لگا کہ ہم اپنی زندگی کے تمام مسائل میں شرعی حکم کے محتاج نہیں ہیں بلکہ بعض مسائل میں ہمارے لئے حکم عقل کافی ہے اور پھر ان میں خدا وند عالم کی کوئی حکومت نہیں ہوگی،کیونکہ خداوندعالم کی حاکمیت ان احکام میں ہوتی ہے جو قرآن مجید اور سنت پیغمبر میں نازل ہوئے ہیں ، اور اگر کسی سلسلہ میں خدا کا کوئی حکم نہ ہو تو وھاں پھر خدا نے اپنی حاکمیت کو نہیں رکھا ہے بلکہ اس کو عقل کے سپرد کردیا ہے پس ہماری زندگی کے امور دو حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں : بعض میں خدائی سلطنت ہے اور دوسرے حصہ میں ہماری عقل حاکم ہے اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ خدا وندعالم تمام مقامات پر حکومت نہیں رکھتا، ہمیں ہر جگہ خدا کے حکم کو تلاش نہیں کرنا چاہئے بلکہ جس جگہ خدا کا حکم نہ ہو اس کو ہمارے حوالے کردیا ہے تاکہ ہم اپنی عقل کے ذریعہ اس کا حکم حاصل کرلیں ۔

قارئین کرام ! جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ فقھاء کے یہاں پہلی اصطلاح میں حکم شرعی میں مسامحہ آمیز تعبیر استعمال کی گئی ہے، (جس کی بنا پر حکم شرعی اس حکم تعبدی کو کھا جاتا ہے جو قرآن وسنت میں ذکر ہوا ہو، اس کے مقابلہ میں عقل کے قطعی اور یقینی حکم کو قرار دیتے ہیں جس کے سلسلہ میں شارع مقدس نے کوئی تعبد نہیں رکھا ہے، اور ہماری عقل اس حکم کو حاصل کرنے میں شریعت کی پابند نہیں ہے، اور شریعت نے صرف اس سلسلہ میں ارشادی حکم کو پیش کیا ہے) جس سے بعض لوگوں نے غلط نتیجہ نکالا ہے اور یہ اعتقاد کرلیا کہ ہماری زندگی کا ایک حصہ خداوندعالم کی حاکمیت اور سلطنت سے باہر ہے اور اس سلسلہ میں قوانین کو مرتب کرنا عقل کی ذمہ داری ہے۔

۲۔ حکم شرعی کی دوسری اصطلاح: یہ ہے کہ وہ احکام جو خداوند عالم کے ارادہ تشریعی سے متعلق ہو ں ؛ یعنی ہر وہ کام جو خداوندعالم ہم سے چاہتا ہے چاہے الزامی صورت میں ہو یا مباح کی صورت میں ہو پس جو کچھ خداوندعالم ہم سے چاہے کہ ہم اسے انجام دیں تو وہ حکم خدا ہے؛ چاہے وہ قرآن وسنت اور تعبدی دلائل کے ذریعہ ثابت ہوں اور چاہے عقل کے ذریعہ ثابت ہوں اس بنا پر خود عقل بھی حکم خدا کی پہنچان کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے لھٰذا ہم اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کی پیروی کرتے ہیں کیونکہ عقل خداوندعالم کے تشریعی ارادہ کی عکاسی کرتی ہے، لھٰذا معلوم یہ ہوا کہ یہ حکم وہی ‎ چیز ہے جس کو خداوندعالم نے ہم سے چاہا ہے اگر فقھی کتابوں میں بیان ہوا ہے کہ قرآن مجید، سنت نبوی کے علاوہ بھی احکام شرعی کو ثابت کرنے کے لئے ایک دوسری چیز بھی ہے جس کو عقل کھا جاتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ عقل بھی خدا کے احکام کو پہنچاننے والے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے، اور عقل بھی قرآن وسنت کی طرح حکم خدا کو کشف کرسکتی ہے اور حکم خدا صرف قرآن وسنت میں منحصر نہیں ہے بلکہ احکام خدا وہ ہیں جس پر خدا کا ارادہ تشریعی متعلق ہو جو قرآن سنت اور عقل کے ذریعہ کشف ہوتا ہے۔ قارئین کرام ! اس اصطلاح اور معنی کے پیش نظر انسان کے تمام کام چاہے وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی، چاہے حقوقی ہوں یا جزائی یا اندرونی ہو یا بیرونی اور بین الاقوامی تمام پر حکم شرعی اور حکم خدا شامل ہے؛ چاہے حکم خدا قرآن وسنت کے ذریعہ اثبات ہو یا عقلی طریقہ پر ثابت ہو البتہ توجہ رہے کہ عقلی حکم اس قدر واضح ، روشن اور یقینی ہو کہ جس پر ہمیں اطمینان ہوجائے کہ جو کچھ عقلی دلیل کے ذریعہ ثابت ہوا ہے وہ خداوندعالم کے تشریعی ارادہ سے متعلق ہے۔

حوالے:

(۱) مشروطیت اس شاہی حکومت کو کھتے ہیں جس میں قوانین کے تحت کام کیا جائے (مترجم)

(۲)سورہ نساء آیت ۱۰۵

(۳) سورہ نساء آیت ۶۵

(۴) سورہ مائدہ آیت ۴۴

(۵) سورہ مائدہ آیت ۴۵

(۶) سورہ مائدہ آیت ۴۷

(۷) سورہ بقرہ آیت ۲۲۹

(۸) جن کو ہم فلسفہ سیاست کی تھیوریوں میں بیان کریں گے


چونتیسواں جلسہ

اسلامی احکام کی عظمت اوراس کی دوسرے نظام پر برتری

۱۔حکومت اورمتغیر احکام سے اسلامی ثابت احکام کی نسبت

جیسا کہ ہم گذشتہ جلسہ میں عرض کرچکے ہیں بعض دوسری فکر رکہنے والے لوگ اخباروں اور اپنی تقریروں میں یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ احکام اور قوانین جن کو معاشرہ کی ضرورت ہوتی ہے ان کو پارلیمنٹ میں طے ہونا چاہئے، اور اگر ہم صرف قرآن و سنت میں بیان شدہ قوانین پر اکتفاء کرنا چاہیں تو کسی بھی صورت میں معاشرہ کی ضرورت پوری نہیں ہوگی حالانکہ ہمارے جمھوری اسلامی نظام میں (جیسا کہ دوسرے ڈیموکریٹک ممالک میں ہوتا ہے) ممبر آف پارلیمنٹ کے ذریعہ قوانین بنائے جاتے ہیں ،تو پھر ہمیں اپنی اس حکومت کو ”اسلامی حکومت“ کا نام دینے ، اور پارلیمنٹ میں مصوب قوانین کو ”اسلامی قوانین“ کہنے کی کیا پڑی ہے ؟ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہر ملک میں عوام الناس کے ذریعہ منتخب ممبر آف پارلیمنٹ اسی ملک کی ثقافت کے لحاظ سے قوانین بناتے ہیں اور قوانین کو طے کرنے میں ہی اس معاشرہ کے اقدار کا احترام کرتے ہیں لیکن چونکہ ہمارے ملک کے عوام الناس مسلمان ہیں اور اس میں خاص ثقافت کا رواج ہے ، ممبر آف پارلیمنٹ اسلامی اور دینی ثقافت کا کم وبیش لحاظ کرتے ہیں لیکن بھر حال ہمارے ملک میں قانون گذاری کا وہی ‎ طریقہ ہے جو ڈیموکریٹک ممالک میں موجود ہے لھٰذا ہم کو اپنی حکومت کو اسلامی حکومت کہنے اور اسلامی قوانین نافذ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

قارئین کرام ! جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اسلامی احکام کی دو قسمیں ہیں :

۱۔ ثابت احکام۔ ۲۔متغیر احکام، جو حالات کے متغیر ہونے سے بدل جاتے ہیں ۔

لیکن انسانی معاشرہ کے حالات بدلنے سے اسلامی ثابت احکام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اور ان کی شکل صورت میں کسی بھی وقت کوئی تبدیلی نہیں ہوتی بلکہ ثابت رہتے ہیں ، اور ہر زمانہ اور ہر حال میں ان پر عمل کرنا ضروری ہے اب اگر ملکی قوانین کو مصوب کرتے وقت اسلام ثابت احکام کی رعایت نہ کی جائے اور قوانین اسلام کے خلاف قوانین بنائے جائیں تو وہ قوانین غیر اسلامی ہوں گے؛ چاہے تمام ہی ممبر آف پارلیمنٹ متفق طور پر ان قوانین کو طے کریں ، اور اسلام کے مخالف قوانین کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے ، بلکہ اس کو قانون ہی نہیں کھا جاسکتا جیسا کہ ہمارے ملکی بنیادی قانون میں موجود ہے کہ اسلامی ملک کے تمام قوانین؛ اسلامی اصول کے عین مطابق ہونا ضروری ہے یہاں تک کہ اگر کوئی قانون؛ شرعی ادلہ کے عموم اور اطلاق کے خلاف ہوگا تو اس کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہوگی

اس بنا پر، وہ اسلامی ثابت احکام جو قرآن کریم اور روایات متواتر اورمعتبر روایات میں ثابت احکام کے عنوان سے بیان کئے گئے ہیں ان کی رعایت کرنا ضروری ہے اور ان میں کسی بھی طرح کا کوئی نسخ اور تبدیلی نہ ہو اس کے مقابل میں بعض وہ متغیر احکام ہیں جو حالات اور علاقہ کے لحاظ سے قابل تبدیل ہیں البتہ ان کو معین کرنا علماء اور مجتھدین کا کام ہے۔

اگرچہ متغیر احکام کو آج کل کے زمانہ میں ”قوانین موضوعہ“ کے عنوان سے جانا جاتا ہے جو قانون گذاری اداروں میں تصویب ہوتے ہیں ،لیکن اسلامی ثقافت میں اور فقھی اصطلاحات میں متغیر احکام وہی ‎ سلطنتی احکام ہیں جن کو معین کرنا ولی فقیہ کے دائرہ اختیار میں ہے اور ولی فقیہ ہی معاشرہ کے مختلف حالات کے لحاظ سے ان کو معین کرے اور ان کو نافذ کرے ، اور کم سے کم مصوب شدہ قوانین کو جاری کرنے کے لئے ولی فقیہ کی تائید ضروری ہے البتہ کبھی ولی فقیہ بطور مستقیم قوانین اور مقررات کو معین اور مصوب کرتا ہے، اور کبھی اپنے ان مشاورین کے ذریعہ جو مد نظر مسائل میں کافی مھارت اور تجربہ رکھتے ہیں ان کے ذریعہ قوانین مصوب کرتا ہے، اور ضروری بحث وگفتگو کے بعد قوانین طے پاتے ہیں بھر حال موضوعہ قوانین ومقررات کا اعتبار ولی امر مسلمین کی اجازت اور اس کی موافقت پر ہوتا ہے ، ورنہ تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔

قارئین کرام ! اس بات پر توجہ رہے کہ ولی امر مسلمین اور دوسرے قانون گذار اداروں کو اس بات کا ذرہ بھی حق نہیں ہے کہ وہ اسلامی اصول قواعد اور اسلامی اقدار کو مد نظر رکھے بغیر اپنی مرضی سے کوئی متغیر قانون بنائیں دوسرے الفاظ میں یوں سمجھئے کہ قوانین موضوعہ اور متغیر قوانین کو بھی اسلامی اصول اور اسلامی ثابت اور کلی احکام کے تحت ولی فقیہ اور فقھی مسائل کے ماہرین(جو اس سلسلہ میں کافی مھارت رکھتے ہوں اور ان قوانین کے مصداق کو بخوبی مشخص اور معین کرسکتے ہوں )؛ کے ذریعہ طے ہونا چاہئیں ؛ نیز ان کو مصوب کرنے میں اسلامی اقدار کی رعایت کرنا بھی ضروری ہے اسی وجہ سے قوانین کلی کے حدود کو معین کرنا اور ان کے مصادیق اور موضوعہ قوانین پر منطبق کرنا اسی طرح اسلامی اقدار کا موضوعہ قوانین پر تطبیق کرنا ایک مشکل کام ہے جس میں بھت زیادہ دقت اور فقھی مھارت کی ضرورت ہوتی ہے، جمھوی اسلامی ایران کے بنیادی قوانین میں موجود ہے کہ اسلامی پارلیمنٹ کے ذریعہ بنائے ہوئے قوانین کو ”شوریٰ نگھبان“ (جو برجستہ مجتھدین اور حقوق داں حضرات سے مل کر بنتی ہے)؛ کے ذریعہ تائید ہوں تاکہ یہ دیکہ لیا جائے کہ خدا نخواستہ یہ قوانین اسلامی اصول کے مخالف تو نہیں ہیں ؟

۲۔ احکام اولیہ اور احکام ثانویہ۔

احکام ثانویہ اسلام سے ٹکراتے ہیں (ایک اعتراض( بعض لوگ تصور کرتے ہیں کہ وہ احکام سلطنتی ، وقتی اور وہ قوانین جو زمانہ اور حالات کے لحاظ سے وضع کئے جاتے ہیں بعض موارد میں اسلامی احکام کے مخالف ہوتے ہیں ؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام الناس صرف اسلام کے احکام اولیہ کو اسلامی احکام جانتے ہیں اور وہ اس چیز سے غافل ہیں کہ اسلام نے مجبوری اور ضرورت کے وقت احکام ثانویہ بھی وضع کئے ہیں اور وہ بھی احکام شرعی شمار ہوتے ہیں ۔

وضاحت: اسلام کے اولیہ احکام جو عام حالات کے لئے وضع کئے گئے ہیں ان کے علاوہ دوسرے احکام بھی اسلام نے وضع کئے ہیں جو مجبوری اور ضرورت کے وقت کے لئے ہوتے ہیں جن کواحکام ثانوی کھا جاتا ہے اور یہ احکام ثانوی کچھ تو قرآن مجید اور سنت نبوی میں ذکر ہوئے ہیں لیکن ان میں سے بعض دینی کتابوں میں ذکر نہیں ہوئے ہیں ، ان کو وضع کرنا ولی امر مسلمین کے اختیار میں ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر نماز پڑھنے کے لئے وضو کرنا واجب ہے یا اگر ہم پر غسل واجب ہے تو نماز کے لئے غسل کرنا واجب ہے وضو اور غسل کا وجوب احکام اولیہ اور عام حالات سے متعلق ہیں کہ جب مثلاً ہمارا بدن سالم ہو اور پانی ہمارے لئے نقصان دہ نہ ہو اور پانی موجود بھی ہو لیکن اگر کوئی مجبور ی پیش آجاتی ہے یا کسی بیماری کی وجہ سے وضو یا غسل کرنا ممکن نہ ہو، مثلاً پانی موجود نہ ہو یا اگر پانی موجود ہے تو وہ نقصان دہ ہے،تو اس صورت میں وضو یا غسل واجب ہونے کی جگہ وجوب تیمم جو حکم ثانوی ہے؛ اس کی جگہ آجاتا ہے اسی وجہ سے کھا جاتا ہے کہ اگر آپ کے پاس پانی نہ ہو یا پانی بدن کے لئے نقصان دہ ہو تو وضو یا غسل کے بدلے تیمم کرنا ضروی ہے ۔

جب احکام اولی اور احکام ثانوی جن کو احکام اضطراری بھی کھا جاتا ہے؛ قرآن مجید اور روایات میں ذکر ہوئے ہیں تو ہم ان کے درمیان کوئی فرق نہیں پاتے چونکہ حکم اولیہ (جیسے وضو یا غسل) کا موضوع اس وقت ہے جس وقت پانی ہمارے پاس موجود ہو اور وہ نقصان دہ بھی نہ ہو، اور احکام ثانوی یعنی تیمم اس شخص کے لئے ہے جب کسی شخص کے پاس پانی نہ ہو یا پانی اس کے بدن کے لئے نقصان دہ ہو؛ اسی وجہ سے بعض لوگوں کووضو کر نے کا حکم ہے اور بعض لوگوں کوتیمم کرنے کا حکم ہے لیکن بعض مقامات پر احکام اولی کے مقابلہ میں جو مجبوری اور اضطراری وقت کے لئے ہوں خاص احکام شریعت میں ذکر نہیں ہوئے ہیں تو یہیں پر اسلام کے احکام اولی جاری کر نے کو کھا جاتا ہے، مگر یہ کہ باعث عسر و حرج ہوں ؛ کیونکہ اسلام یہ نہیں چاہتا کہ بندگانِ خدااپنے وظیفہ پر عمل کرنے میں غیر قابل تحمل مشقت اور حرج میں گرفتار ہوں ، جیسا کہ ارشاد رب العزت ہوتا ہے:

( وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّینِ مِنْ حَرَجٍ )(۱)

” اور دین میں کوئی زحمت نہیں قرار دی ہے۔“

( یُرِیدُ اللهُ بِکُمْ الْیُسْرَ وَلاٰیُرِیدُ بِکُمْ الْعُسْرَ ) (۲(

” خدا تمھارے بارے میں آسانی چاہتا ہے، زحمت نہیں ۔“

قارئین کرام ! ہمارے گذشتہ مطالب کے پیش نظر فقھاء کھتے ہیں کہ اگر انسان اپنے وظیفہ اور حکم شرعی پر عمل کرنے سے عسر وحرج میں مبتلا ہو تو خدا وندعالم اس وظیفہ کو اٹھا لیتا ہے قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ بعض مقامات پر احکام اولی کا بدل احکام ثانوی شریعت میں بیان ہوا ہے لیکن بعض موارد میں احکام ثانوی اور اضطراری شریعت میں بیان نہیں ہوئے ہیں ، لیکن ولی فقیہ کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ اگر احکام اولیہ پر عمل کرنا ممکن نہ ہو اور عوام الناس کے لئے باعث عسر و حرج ہو تو اس صورت میں عوام الناس کا وظیفہ معین کرے لھٰذا جو کچھ بھی ولی فقیہ اسلامی اصول وقوانین کے تحت حکم بیان کرے تو وہ احکام ثانوی اور اسلامی حکم ہوگا؛ کیونکہ اس نے اس (ولی فقیه) کو جب عسر و حرج کی صورت میں تکلیف اولی اٹھالی جائے تو عوام الناس کے وظیفہ اور عمل کو معین کرنے کا حکم دیا ہے۔

لھٰذا چونکہ بعض لوگ صرف اسلام کے احکام اولی سے آشنائی رکھتے ہیں اسی وجہ سے یہ تصور کرتے ہیں کہ اسلامی احکام صرف یہی ہیں ، اور اگر ولی امر مسلمین یااسلامی حکومت کے دوسرے قانون گذار اداروں سے اسلام کے احکام اولی کے خلاف قانون بنتا دیکھتے ہیں تو کھتے ہیں کہ یہ قانون اسلام کے مخالف ہے جبکہ وہ قانو احکام شرع اور اسلام کے مخالف نہیں ہے بلکہ اسلام کے اولیہ احکام کے مخالف احکام کو احکام ثانوی میں شمار کیا جاتا ہے اور بے شک احکام ثانوی (بھی) اسلامی احکام مانے جاتے ہیں جس طرح اسلام نے حکم دیا ہے کہ مسافر کو روزہ نہیں رکہنا چاہئے اور جو مسافر نہیں ہے (اگر دوسرے شرائط موجود ہیں ) تو اس کو روزہ رکہنا چاہئے اور کوئی مسافر کے روزہ نہ رکہنے کو اسلامی احکام کا مخالف شمار نہیں کرتا، کیونکہ خود اسلام نے صاف طور پر ارشاد فرمادیا ہے کہ جو شخص مسافر یا مریض ہے اس پر روزہ واجب نہیں ہے(فَمَنْ شَھدَ مِنْکُمْ الشَّھرَ فَلْیَصُمْہ وَمَنْ کَانَ مَرِیضًا اوْ عَلَی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ ایَّامٍ اخَرَ یُرِیدُ اللهُ بِکُمْ الْیُسْرَوَلاٰیُرِیدُ بِکُمْ الْعُسْر )(۳) اسی طرح احکام اجتماعی، مدنی، جزائی، تجاری اور دوسرے معاملات میں اگر احکام اولی کے مطابق عمل کرنا ممکن نہ ہو اور موجب عسر و حرج ہو تو وہ حکم ثابت نہیں رہے گا اور خاص قواعد اور مقررات کے تحت ولی امرمسلمین زمان ومکان کی حالات کی بنا پر نئے قوانین کو وضع کرتا ہے اور یہ بات مسلم ہے کہ وہ قوانین اسلامی احکام کے مخالف نہیں ہوں گے، بلکہ (اگر ہوں گے بھی تو) اسلامی اولی احکام کے مخالف ہوں گے اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ اسلام کے احکام ”احکام اولی“ اور” احکام ثانوی“ دونوں کو شامل ہوتے ہیں ۔

اسلامی معاشرہ میں در پیش جدید تقاضوں کے تحت جو ہمیشہ اجتماعی حالات کے بنا پر رونما ہوتے ہیں (مثلاً ٹریفک کی سھولت کے لئے اور گاڑیوں کی بھیڑ سے بچنے کے لئے سڑکوں کو چوڑاکرنایا مِیونسپلٹی " Municpality "کو صفائی یا شھر کو خوبصورت بنانے کے لئے پیش آنے والی ضرورتیں ، یا محکمہ آب اور بجلی کی دیگر ضرورتیں جو قدیم زمانہ میں نہیں تھیں ) یا آج کل کی ترقی کے پیش نظر معاشرہ کی وہ ضرورتیں جن کو خود عوام الناس پورا نہیں کرسکتے اور گذشتہ زمانہ کی ضرورتوں کی طرح نہیں ہیں کہ جن کو خود عوام الناس انجام دیا کرتے تھے،تو ان تمام صورتوں میں متعلقہ محکمہ جات کاضروری قوانین بنانا ضروری ہے ہماری گفتگو یہ ہے کہ یہ قوانین بغیر کسی اصل کے نہیں ہیں اور بے حساب و کتاب لوگوں کی اپنی مرضی سے نہیں بن جاتے؛ بلکہ یہ قوانین اور احکام ثانوی اسلامی عام قوانین کے تحت ہونے چاہئیں اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ یہ احکام ثانوی اہم کو مہم پر ترجیح دینے کی طرح ہوں ، یا ان قوانین کو زمان و مکان کے حالات کے پیش نظر بنایا جائے جیسا کہ ہمارے ملک میں یہ احکام ثانوی ”مجلس شوریٰ اسلامی“ میں اور ولی فقیہ کی اجازت سے بنائے جاتے ہیں اس صورت میں یہ احکام؛ اسلامی احکام سے باہر نہیں ہوتے (یعنی ان کو اسلامی احکام میں شمار کیا جاتا ہے) کیونکہ یہ تمام قوانین ولی امر مسلمین کے حکم سے بنائے جاتے ہیں ، یا دوسرے خاص قوانین جیسے قاعدہ ” عسر وحرج“ یا قاعدہ ”لاضرر“ یا ان دوسرے قواعد کے تحت جو فقھی کتابوں میں وارد ہوئے ہیں ؛ کے تحت یہ احکام ثانوی بنائے جاتے ہیں ۔

قارئین کرام ! یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اسلامی حکومت میں قوانین کو یا اسلامی منابع؛ جیسے قرآن کریم اور سنت نبوی سے لئے جاتے ہیں (اورجیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ عقل بھی اسلامی منابع میں شمار ہوتی ہے اور ”مستقلات عقلیھ“ اور احکام قطعی عقل معتبر ہوتے ہیں اور فقھی اصطلاح میں حکم قطعی عقل کے ذریعہ خداوندعالم کے ارادہ تشریعی کو کشف کیا جاسکتا ہے کہ یہ حکم عقل بھی خداوندعالم کے ارادہ اور اس کی مرضی سے متعلق ہے اسی وجہ سے یہ حکم ”اسلامی حکم“ ہوگا) یا کسی بھی طریقہ سے قرآن وسنت میں بیان شدہ عام احکام کے تحت واقع ہونے چاہئیں اسی وجہ سے یہ بھانہ کرتے ہوئے کہ اسلامی حکومت کے بعض قوانین اور مقررات ناپائیدار اور تغیر پذیر؛ قرآن مجید اور سنت نبوی میں ذکر نہیں ہوئے ہیں ،لھٰذا قرآن مجید اور سنت نبوی (ص) کو بالائے طاق رکہ دیا جائے،اور عوام الناس کی مرضی کے مطابق قوانین بنائے جائیں اسلام کے ثابت احکام پر ہمیشہ عمل ہونا چاہئے اور احکام متغیر ہمیشہ اسلامی اصول، احکام ثابت اور عام قوانین کے تحت ولی فقیہ یا اس کی طرف اذن یافتہ لوگوں کے ذریعہ بنائے جائیں ۔

۳۔ ڈیموکریٹک حکومتوں کے نقائص

جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ حکومت کی مشکل ایک ”مثلث القاعده“ زاویہ کی طرح ہے جس کے تین پہلو ہوتے ہیں : ۱۔ قوہ مقننہ (پارلیمنٹ)، ۲۔ قوہ قضائیہ (عدلی) اور قوہ مجریہ (حکومت) اور حکومت کی یہ شکل ”منٹسکیو“سے شروع ہوئی اور رائج ہوتی چلی گئی۔

بھر حال اگرچہ اس (ہماری) حکومت بھی تین قدرتوں سے تشکیل پائی ہے لیکن اس بات کی کوئی گارانٹی نہیں ہے کہ آئندہ بھی اسی طریقہ سے باقی رہے کیونکہ آئندہ زمانہ کی ترقی کے پیش نظر یا اجتماعی حالات کی تبدیلی کی وجہ سے حکومت کی شکل بدل سکتی ہے مثال کے طور پر حکومت کی قدرتوں میں اضافہ ہوجیسا کہ ”مربع القاعدھ“ ہوجائے یا ”مخمس القاعدھ“ ہو جائے لیکن توجہ رہے کہ اصل اور بنیادی قاعدہ یہ کہ حکومت کو تشکیل دینے والی تمام قدرتیں مرکز کی طرف منتھی ہوتی ہوں یعنی جب حکومتی صورت کو جو مختلف قدرتوں سے تشکیل پاتی ہے تو مثلث القاعدہ ہرم سے تشبیہ کرتے ہیں تو اگر اس ہرم کے اوپر سے نیچے کی طرف آئیں تو اس کا دائرہ زیادہ ہوجائے گا یہاں تک کہ اس قاعدہ ہرم اور اس کے نیچے حکومتی بھت سے ادارے دکھائی دیتے ہیں لیکن ہرم کے نیچے سے اہستہ اہستہ اوپر کی طرف جائیں تو پھر حکومتی قدرت اور حکومتی ادارے متمرکز اور جمع ہوتے ہوئی دکھائی دیں گی، یہاں تک کہ تمام قدرتیں اس ہرم کے سرے تک پہنچ جائیں گی،اور سب ایک نقطہ میں سماجائیں گی، اور وہ وسیع اور متفرق قدرت بسیط اور وحدت کی شکل میں دکھائی دے گی۔

ھرم قدرت میں اس کے علاوہ کے مثلث القاعدہ قدرتیں اس نقطہ کی طرف منتھی ہوتی ہیں جو اس کے مرکز میں ہوتا ہے اور وہی ‎ نقطہ تمام قدرتوں کا مرکز ہوتا ہے اور حکومتی تمام تر قدرت اور اختیارات بسیط ہوکر وھاں جمع ہوجاتے ہیں ، اور چونکہ حکومتی قدرت اور اختیارات وھاں سے تقسیم ہوکر مختلف شکلوں : قانون گذاری، عدلیہ اور اجرائی شعبوں میں پھیل جاتی ہے اور ان میں سے ہر قدرت اپنے خاص مراتب سے سروکار رکھتی ہے۔

اس وقت دنیا بھر کے ممالک میں حکومت کی اسی شکل وصورت کو قبول کیا گیا ہے جس میں تین قدرتیں ہوتی ہیں : قانون گذاری، عدلیہ اور اجرائی پاور، لیکن ان تینوں قدرتوں کا ایک نقطہ میں جمع ہونا واضح طور پر نہیں دکھائی دیتا؛ یعنی ان حکومتوں میں اصل یہ ہے کہ حکومت مستقل تین حصوں میں بٹ جاتی ہے اور ایک قدرت کا ایک حصہ قوہ مجریہ (حکومت) میں چلا جاتا ہے اور ایک حصہ قانون گذاری میں اور تیسرا حصہ عدلیہ کا ہوتا ہے؛ اور ان میں نہ قوہ مجریہ دوسری قدرتوں میں دخالت کرتی ہے اور نہ دوسری قدرتیں قوہ مجریہ میں دخالت کرتی ہیں اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا ان قدرتوں میں عملی طور پر استقلال دکھائی نہیں دیتا، اور بھت سے وہ موارد جو اجرائی اور نفاذ کا حکم رکھتے ہیں جن کی وجہ سے ان کو قوہ مجریہ کے تحت ہونا چاہئے لیکن ان کی اہمیت کے پیش نظر قانون گذار پاور کی دخالت کو معتبر سمجھا جاتا ہے مثال کے طور پر بین الاقوامی سطح نیز دو ملکوں کے درمیان ہونے والے مہم معاہدات، حالانکہ یہ چیزیں اجرائی پہلو رکھتی ہیں لیکن ان کے بارے میں پہلے پارلیمنٹ پاس کرے تب وہ معاہدات انجام پاتے ہیں ،اور یہیں پر قوہ مجریہ میں پارلیمنٹ کی دخالت دکھائی دیتی ہے۔

دوسری طرف حکومتی کابینٹ " Cabinet " بعض قوانین اور مقررات کو تصویب کرتی ہے، اور ان کو نافذ کرتی ہے اگرچہ ان پر قانون کے عنوان کا اطلاق نہیں ہوتا لیکن قانونی ماہیت رکھتے ہیں اور ان کا طے کرنا پارلیمنٹ کے مخصوص کام میں سے ہے لیکن بنیادی قوانین میں موجود بعض وجوھات کی بنا پر اس کو طے کرنا حکومت کے عھدہ پر ہوتا ہے اسی وجہ سے قانون گذاری کا ایک حصہ حکومت کے سپرد کیا جاتاہے لھٰذا معلوم یہ ہوا کہ حکومت پارلیمنٹ میں دخالت کرتی ہے بھر حال مختلف ممالک میں کم و بیش قدرتیں ایک دوسرے میں دخالت کرتی ہیں ، اور یہ محدود دخالت اس وجہ سے بھی ہے کہ چونکہ حکومتیں ایک دوسرے سے مل کر ایک حکومت کو تشکیل دیتے ہیں ، اور اگر یہ بالکل ایک دوسرے سے الگ الگ ہوجائیں توگویا اس کا اتحاد ختم ہوجائے گا۔

۴۔ قدرتوں میں ہم اہنگ کرنے کے اسباب کا ہونا ضروری ہے

اگر چہ حکومت تین قدرتوں (قوہ مجریہ، قوہ عدلیہ اور قوہ مقننھ) سے تشکیل پاتی ہے لیکن ان تینوں قدرتوں میں ایک دوسرے سے رابطہ ضروری ہے، اور چونکہ انہیں ان تینوں قدرتوں سے مل کر ہی حکومت بنتی ہے تو ان قدرتوں کے لئے کچھ ایسے اسباب ہونا ضروری ہیں جن کے درمیان اتحاد اور وحدت قائم رہے لیکن دنیا بھر کے ممالک میں ان قدرتوں میں ہم اہنگ کرنے والی قدرت نہ ہونے کی بنا پر ان کے درمیان میں نا ہماہنگی دکھائی دیتی ہے جس کی بنا پر ملک میں بحرانی حالات پیدا ہوجاتے ہیں اس طرح کے بحران سے بچنے کے لئے بعض حکومتوں میں بھت سی راہ حل پیش کی گئی ہیں جن میں سے صدر مملکت کے لئے ”حق وٹو“ " Veto " رکھا جاتا ہے: مثال کے طور پر اگرچہ پارلیمنٹ کو قوانین بنانے اور ان کو طے کرنے کا حق ہوتا ہے ، اور پارلیمنٹ اسی ذمہ داری کے تحت ممبر آف پارلیمنٹ (کسی بھی قانون بنانے کے لئے) بھت بحث وگفتگو کے بعد قوانین بناتے ہیں ، اس کے بعد وہ قوانین ”مجلس سنا“ " S'enat " کے ذریعہ تائید ہوتے ہیں لیکن چونکہ صدر مملکت کے لئے حق وٹو ہوتا ہے(تو اگر وہ قوانین ناقص ہوتے ہیں تو) صدر مملکت ان کوروک دیتا ہے چاہے کچھ ہی مدت کے لئے ہی کیوں نہ ہو اور ان کو نافذ نہیں ہونے دیتا اگر قوانین بنانا پارلیمنٹ کا حق ہے اور قوہ مجریہ (صدر مملکت) کو پارلیمنٹ میں دخالت کرنے کا حق نہیں ہے، تو پھر پارلیمنٹ کے بنائے گئے قوانین کو قوہ مجریہ کسی طرح روک دیتا ہے اور ان کو نافذ نہیں ہونے دیتا؟ پس معلوم یہ ہوا کہ قدرتوں کا استقلال مکمل طور پر عملی نہیں ہوتا اور عملی طور پر پارلیمنٹ اور حکومت کے وظائف میں ہم اہنگی پائی جاتی ہے۔

اسی طرح ان قدرتوں میں ہم اہنگ کرنے والے اسباب کے نہ ہونے کی وجہ سے بھت سے ممالک میں سیاسی، پارٹی اور گروہی ‎ اختلاف پیدا ہوجاتا ہے جس کی بنا پر قدرتوں میں اختلاف پیدا ہوجاتا ہے اور ممکن ہے کہ بعض مواقع پر حالات اس قدر بگڑ جائیں کہ ملک میں کوئی حکومت ہی نہ ہو اور عملی طور پر حکومت ختم ہوجائے مثال کے طور پراگر کوئی حکومت بنے اور قدرت اپنے ھاتہ میں لے لے، لیکن ایک مدت کے بعد پارلیمنٹ میں اس کے لئے اعتماد ختم ہوجاتا ہے اور حکومت ٹوٹ جاتی ہے اور اس کے بعد (جلد) کوئی حکومت نہ بن سکے، کیونکہ جو شخص بھی وزیر اعظم بننا چاہتا ہے اور اس کے لئے وزراء کابینٹ " Cabinet " بنانا چاہے تو اگر ممبر آف پارلیمنٹ کا اعتماد کا ووٹ حاصل نہ کرسکے؛ کیونکہ پارلیمنٹی حکومتوں میں صرف وہی ‎ پارٹی حکومت بناسکتی ہے جس کے پارلیمنٹ میں ممبروں کی اکثریت ہو یا دوسری پارٹی کے ممبروں کو شامل کرکے اپنی اکثریت ثابت کردے۔

اور جیسا کہ آپ حضرات جانتے ہیں کہ انہیں آخری چند سالوں میں ہمارے پڑوسی ملک میں کافی مدت تک حکومت نہ تھی؛ کیونکہ جو شخص بھی وزیر اعظم بننا چاہتا تھا اس کو اعتماد کا ووٹ ہی نہیں ملتا تھا البتہ کسی نہ کسی طریقہ بھت سے حکومتی امور انجام پاتے ہیں لیکن چونکہ جب وزیر یا معاون وقتی (عبوری) ہوں تو ان کو کاموں میں زیادہ دل چسپی نہیں ہوتی ؛ اور مثال کے طور پر اگر کسی ملک میں چہ ماہ تک بغیر دل چسپی کے کام کیا جائے تو آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ اس ملک کا کتنا نقصان ہوگا۔

بعض ملکوں میں صدر مملکت کو یہ حق ہوتا ہے کہ چاہے وقتی طور پر ہی صحیح پارلیمنٹ کو منحل کردے، اور یہیں حکومت کا پارلیمنٹ میں دخالت کرنا ظاہر ہوتا ہے یہاں تک بعض مواقع پر تو پارلیمنٹ کو منحل کردیا جاتا ہے ظاہر سی بات ہے کہ اس طرح کی دخالتیں اختلاف ، جھگڑوں اور بعض حالات میں شدید بحرانی حالات پیدا ہونے کا باعث ہوجاتا ہے، اس کی علت یہ ہے کہ یا تو ان حکومتوں میں ان بحرانی حالات سے نپٹنے کے لئے کوئی راہ حل پیش نہیں ہوتا یا اگر وہ راہ حل پیش بھی کیا گیا ہے تو وہ اتنا زیادہ کار آمد نہیں ہوتا: مثلاً بعض حکومت میں صدر مملکت کے ھاتھوں میں حکومتی نظام نہیں ہوتا بلکہ صرف ایک تشریفاتی عھدہ ہوتا ہے (جیسا کہ خود ھندوستان میں ہوتا ہے) لیکن اگر ملک میں بحرانی حالات پیدا ہوجائیں تو پھر صدر ہی حکومتی امور کو اپنے ھاتھوں میں لے لیتا ہے اور اس بحرانی کیفیت کو ختم کرتا ہے در حقیقت اپنا کردار بحرانی حالات میں نمایا کرتا ہے۔

۵۔ ولایت فقیہ حکومت کو ہم اہنگ کرنے والی طاقت

قارئین کرام ! یہ بات معلوم ہوچکی ہے کہ اس وقت جبکہ بھت سے ممالک میں بحرانی حالات سے نپٹنے کے لئے بعض راہ حل پیش کئے گئے ہیں لیکن کوئی بھی ضروری طور پر کار آمد نہیں ہے ، اور ان قدرتوں کے درمیان ایک دوسرے میں دخالت کرنے والی جیسی برائی باقی ہے لیکن نظام ولایت فقیہ میں (کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض خود غرض مولفین اور بے انصاف زر خرید اہل قلم (اس ولایت فقیہ کو بھی) ارتجاعی(قدیم زمانہ کی طرف لوٹانا) کے نام سے پہنچنواتے ہیں ) اس طرح کے اسباب فراہم ہیں تاکہ ملک میں بحرانی حالات سے نجات دے، اور نظام کو ہر ممکن پریشانی سے نجات مل جائے اور ملک کو کوئی نقصان نہ پہنچے ہمارے ملک میں بھی دوسرے ملکوں کی طرح قوہ مجریہ ہے جس میں صدر مملکت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اسی طرح پارلیمنٹ اورعدلیہ بھی ہے جو ایک دوسرے سے الگ اور مستقل ہے،لیکن یہ تمام (قدرتیں ) اس ایک نظام کی قدرتیں ہیں ، اور ایک دوسرے سے ربط رکھتے ہیں جو ایک مرکزی نقطہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور جو شخص اس نظام میں نقطہ مرکزی اور اصلی ہوتا ہے وہ قدرت کے بلند ترین مقام پر ہوتا ہے وہ ولی فقیہ ہوتا ہے جو تمام قدرتوں میں اتحاد اور وحدت ایجاد کرتا ہے۔

برخلاف دوسری حکومتوں میں کوئی ایسا محور نہیں پایا جاتا جو ان قدرتوں میں ہم اہنگی اور وحدت ایجاد کرے اور اگر ان حکومتوں میں کوئی ایسا راہ حل بھی پیش کیا گیا ہے تو وہ بھت ضعیف اور کمزور ہے، نظام ولایت فقیہ میں مذکورہ تینوں قدرتیں ایک مرکزی نقطہ (ولی فقیھ) کے زیر سرپرستی ہوتی ہیں در حالیکہ وہ بنیادی قانون کا بھی حافظ ہوتا ہے اور اسلامی احکام، اقدار اور انقلابی اہداف کا بھی محافظ اور نگھبان ہوتا ہے؛ اسی طرح مذکورہ تینوں قدرتوں کو متحد اور ہم اہنگ رکھتا ہے اور سبھی کو وحدت، دوستی اور ہمدلی کی دعوت دیتا ہے اور اختلافات سے محافظت کرتا ہے اگر اتفاقی طور پر ملک میں کوئی بحرانی صورت حال پیدا ہوگئی ہے تو یہی اختلافات کو دور کرکے ملک کو بحرانی صورت حال سے نجات عطا کرتا ہے۔

انقلاب اسلامی کے بعد سے بیس سال کے عرصہ میں چاہے حضرت امام خمینی رحمة اللہ علیہ کا زمانہ ہو یا مقام معظم رہبری حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای مدظلہ العالی کا زمانہ ہو؛ خواستہ یا نخواستہ معاشرہ میں اختلافات کی وجہ سے ملک میں متعدد بار بحرانی صورت حال پیدا ہونے والی تھی لیکن اگر (ولی فقیہ کی) حکیمانہ تدبیریں نہ ہوتیں تو واقعاً ملک کبھی کا بحران کی نذر ہوجاتا جیسا کہ آج کل ترکی، پاکستان، بنگلادیش اور افغانستان میں بحرانی صورت حال ہے الحمد لله اس عظیم اور خدا داد نعمت کی برکت سے اور اس لطف ومھربانی اور اس محبت کی وجہ سے جو ان کے اور عوام الناس کے درمیان موجود ہے اس طرح کے بحرانی صورت حال سے نجات ملتی رہتی ہے۔

۶۔ دوسری حکومتوں پر ولایت فقیہ نظام کے امتیازات

قارئین کرام ! یہاں پر ہمارا اپنی اس اسلامی حکومت کا دوسری ان ڈیموکریٹک حکومتوں سے مقائسہ (مقابلھ) کرنا مناسب ہے جو آج کل کی پیشرفتہ حکومتیں جانی جاتی ہیں ؛ اس اسلامی حکومت کے دوسری حکومت کے مقابلہ میں امتیازات اور خصوصیات بیان کریں :

الف۔ اندورنی انسجام و یگا نگت

ہماری حکومت کا سب سے پہلا امتیاز اور خصوصیت اندورنی انسجام ووحدت ہے جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ تمام ڈیموکریٹک حکومتوں میں ڈیموکریسی کی سب سے بڑی پہنچان قدرتوں میں استقلال اور ایک دوسرے میں دخالت نہ کرنا مانا جاتا ہے ہم نے ان حکومتوں کے کچھ اندرونی تعارض اور ٹکراؤ کو بیان کیا اور کھا کہ یہ اس وجہ سے ہے کہ مذکورہ قدرتوں کو ایک دوسرے میں دخالت نہیں کرنا چاہئے لیکن عملی میدان میں کوئی ایک بھی ایسا ملک نہیں ہے جس میں مذکورہ قدرتیں ایک دوسرے سے مکمل طور پر مستقل ہوں اور ایک دوسرے میں دخالت نہ کرتی ہوں ، اور قانونی طور پر قدرتوں کے لئے ایک دوسرے میں دخالت کا ذرا بھی اختیار نہ ہو ، غیر قانونی دخالت ، خلاف ورزیوں اور تحت فشار قرار دینے کے علاوھ؛ ہم عملی طور پر دیکھتے ہیں کہ (جب) قدرت ایک طاقت کے ھاتہ میں ہوتی ہے اور اپنی تمام تر طاقت کے بل بوتہ پر دوسری طاقت کو تحت فشار قرار دیتی ہے جب پولیس اور فوجی طاقت؛ اسی مالی ،اقتصادی امکانات ،پورے ملک کا خرچ حکومت کے ھاتہ میں ہوتا ہے تو پھر دوسری قدرتیں اس سے متاثر ہوں گی اور صدر یا وزیر اعظم اگر اپنی قدرت سے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو اس کے لئے آسان ہوجاتا ہے۔

پس معلوم ہوا کہ دنیا بھر کی تمام ڈیموکریسی حکومتوں میں ایک قسم کی تفرقہ اور نا ہماہنگی پائی جاتی ہے، لیکن ہماری حکومت میں در حالانکہ تینوں قدرتوں میں اتحاد اور ہم اہنگی پائی جاتی ہے اور اپنے اپنے اختیارات میں مستقل ہیں اور ان کے درمیان ناہماہنگی اور تفرقہ بھی نہیں پایا جاتا؛ کیونکہ ہماری حکومت میں ایک ایسا وحدت بخش سبب (ولایت فقیھ) پایا جاتا ہے جو تینوں قدرتوں کی سرپرستی کرتا ہے، ان میں انسجام اور وحدت برقرار رکھتا ہے، اور اس نظام اور حکومت کا اصلی محور ہونے کی وجہ سے بحرانی صورت حال پیدا ہونے سے روکے رکھتا ہے یہاں تک کہ ہم نے متعدد بار دیکھا کہ کس طرح مقام معظم رہبری حضرت آیت العظمیٰ خامنہ ای مدظلہ العالی نے کس طریقہ سے مختلف عھدہ داروں کے درمیان ہونے والے اختلافات کا خاتمہ کیا ہے اور اگر کبھی بحرانی صورت حال پیدا ہونے کی راہ ہموار ہوبھی گئی ہے تو قانونی طور پر صدر جمھوری نے مقام معظم رہبری سے درخواست کی کہ اپنی قدرت کے ذریعہ اس بحران سے روک تھام فرمائیں ، اور موصوف نے بہتر ین طریقہ سے بحرانی صورت حال پرکنٹرول فرمایا ہے ولی فقیہ اگرچہ براہ راست کسی بھی ایک قدرت کا عھدہ دار نہیں ہے لیکن تینوں قدرتوں کے عھدہ دار یا براہ راست اس کے ذریعہ نصب ہوتے ہیں یا بنیادی قانون کے مطابق یہی عوام الناس کی رائے کو نافذ کرتا ہے اور اسی کے نصب اورنافذ کرنے سے تینوں قدرتوں کے عھدہ داران مشروعیت پیدا کرتے ہیں ۔

ب۔ روحی اور اندرونی نفاذ کی ضمانت

دوسری حکومتوں پرہماری حکومت کا ایک امتیاز یہ ہے کہ عوام الناس کے درمیان روحی اور اندرونی نفاذ کی ضمانت ہے اور یہ چیز اسلامی حکومت کے قوانین اور مقررات کی اطاعت کرنے کی ذمہ داری کے احساس سے حاصل ہوتی ہے اس طرح کی ضمانت اور کنٹرول دوسری حکومتوں میں موجود نہیں ہے اور تقریباً تمام ہی حکومتوں میں طاقت کے زور پر قوانین کو نافذ کیا جاتا ہے اور جھاں پر عوام الناس میں آزادی کا احساس ہوجائے یا وہ کنٹرول وغیرہ کم ہوجائے تو پھر اس پر عمل کرنے سے گریز کرتے ہیں ۔

آپ حضرات نے مکرر سنا ہوگا کہ یورپی ممالک میں قوانین کی رعایت بھت زیادہ کی جاتی ہے، مغربی اور یورپی ممالک میں عوام الناس آٹومیٹک طریقہ سے قوانین اور مقررات کی رعایت کرتے ہیں اور ٹیکس وغیرہ ادا کرتے ہیں اور اس طرح کا یہ ظاہری نظم وانضباط اس ترقی یافتہ حکومت کے کنٹرول کی وجہ سے ہوتا ہے کہ جس کی بنا پر عوام الناس قوانین کی رعایت کرتے ہیں اور مالیات اور ٹیکس وغیرہ ادا کرتے ہیں اور بھت ہی کم لوگ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں وھاں پر ٹیکس وغیرہ حاصل کرنے کا سسٹم چند صدیوں سے چلا آرہا ہے خصوصاً اس نصف صدی میں خاصا تجربہ ہوا ہے اور کمپیوٹر وغیرہ کے ذریعہ بہتر ین سسٹم بنایا گیا ہے اور اسی بنا پر مختلف طریقوں سے ٹیکس وغیرہ حاصل کیا جاتا ہے اورعام طور پر عوام الناس آسانی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن بڑی بڑی کمپنیاں جو حکومتی ملازمین سے ساز باز کئے رہتے ہیں وہ ٹیکس نہ ادا کرنے کی کوشش کیا کرتے ہیں ۔

قارئین کرام ! ہم یہاں پر، جو لوگ مغربی کلچر کے عاشق ہیں اور وھاں کے نظم ومدنیت کا شور مچاتے ہیں ، ان کی خدمت میں یہ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں : مغربی ممالک کی بھت سی مدح اور تعریفیں صرف ایک نعرہ سے ہوتی ہیں جن میں حقیقت اور واقعیت نہیں ہوا کرتی مثال کے طور پر یہ کھا جاتا ہے کہ مغربی ممالک میں ڈرائیور قوانین کی بھر پور رعایت کرتے ہیں اور بہتر ین طور پر نظم وانضباط کا مظاہرہ کرتے ہیں ؛ جبکہ یہ صرف ایک دعویٰ ہے ، ہم یہاں پر مذکورہ دعویٰ کو باطل کرنے کے لئے ایک نمونہ پیش کرتے ہیں : ہم امریکہ کی ”فیلڈفیا یونیورسٹی“ کی طرف سے ایک تقریر کے لئے مدعو ہوئے اور جب ہم ”نیویورک“ سے ”فیلڈفیا “ کی طرف چلے تو راستہ میں مختلف شھروں کا دیدار کیا اسی راستے میں ہم نے دیکھا کہ گاڑی کا ڈرائیور اپنی گاڑی کے آگے کوئی چھوٹی سی مشین رکھتا ہے اور کچھ دیر بعد اس کو گاڑی کے داش بورڈ " Dash board " میں رکہ دیتا ہے اور کچھ دیر بعد پھر اسی طرح کرتاہے، ہمارے ذھن میں سوال پیدا ہوا کہ اس سے معلوم کریں کہ یہ کس لئے ہے؟

تو اس نے بتایا کہ امریکہ میں ۹۰ میل فی ساعت کی رفتار سے زیادہ گاڑی چلانا ممنوع ہے اور پولیس نے خلاف ورزی سے روک تھام کے لئے سڑک پر ”راڈار“ لگا دئے ہیں جن کے ذریعہ سے جو لوگ غیر مجازرفتار سے زیادہ گاڑی چلاتے ہیں ان کو پکڑکر جرمانہ لگائے اس کے علاوہ خود بھی سڑک کے کنارے کمین لگائے بیٹھے رہتے ہیں تاکہ خلاف ورزی کرنے والوں پر جریمہ لگاسکے اورچونکہ گاڑیوں کی رفتار پولیس کے ذریعہ نصب شدہ راڈار کے ذریعہ کنٹرول ہوتی ہیں اسی وجہ سے بعض ماہرین نے ایسی مشین بنائی ہے جو اس راڈار کو اندھا کردیتی ہیں اور اس وقت یہ مشین بازار میں آسانی کے ساتھ خرید و فروخت ہوتی ہے اسی وجہ سے راستہ میں پولیس لگی ہوئی ہوتی ہے تاکہ جو اس مشین کے ذریعہ ان کے راڈار کو اندھا کرکے بھت زیادہ رفتار سے گاڑی چلاتے ہیں ان کو روک کر جرمانہ لگاسکے ، لھٰذا اس مشین کے لگانے کے بعد کسی بھی رفتار سے گاڑی چلاسکتے ہیں اورجب پولیس کے چک پوسٹ سے نزدیک ہوتے ہیں اس کو اتار کر چھپا دیتے ہیں اور پھر دوبارہ اس کو لگادیتے ہیں !

قارئین کرام ! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ وہ لوگ قوانین پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اور قوانین کے محافظ پولیس کے کنٹرول کو بے اثر کرنے کے لئے ایک مشین ایجاد کرتے ہیں تاکہ پولیس کے راڈار کو اندھا کردیں اور اس مشین کو امریکی بازاوں میں کافی مقدار میں خرید و فروخت کرتے ہیں اس وقت ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ امریکہ میں ایسا ترقی یافتہ کلچر ہے جس کی بنا پر عوام الناس اپنی مرضی اور رغبت سے قوانین پر عمل کرتے ہیں اور وھاں بہتر ین نظم و انضباط برقرار ہے وارداتیں وھاں پر جو مختلف ہوتی رہتی ہیں اس کی خبر ہم تک پہنچتی رہتی ہیں جو خود ایک بڑا تفصیلی پہلو رکھتی ہے ہمارے ایک دوست جو چند سال امریکہ میں رہ کر ایران واپس آئے ، انھوں نے ہم سے بیان کیا کہ امریکہ کا کوئی بھی کالج ایسا نہیں ہے جس میں پولیس نہ ہو اس کے بعد بھی ہر روز وھاں پر قتل وغارت ہوتا رہتا ہے، مثلاً ایک اسٹوڈینٹ اسلحہ کے ذریعہ اپنے استاد یا ہم کلاسیوں کی طرف گولی چلاتا ہے اور ان کو قتل کردیتا ہے!! یہ ہے وھاں کا نظم اور انضباط!!

جی ھاں ! مغربی ممالک میں قوانین پر اگرعمل ہوتا ہے تو وہ جرمانہ اور قید کے خوف کی وجہ سے ہوتا ہے اور اگر ان کو اس چیز کا خوف نہ ہو اور اس سے کسی بھی طریقہ سے محافظین کے کنٹرول کو بے اثر کرسکتے ہوں تو پھر قوانین کی خلاف ورزی کرنے میں ذرا بھی جھجھک نہیں ہوتی۔

لیکن ہماری اس اسلامی حکومت میں بیرونی کنٹرول کرنے والے اسباب جیسے جرمانہ اور جیل؛ کے علاوہ اندرونی مہم سبب بھی موجود ہے کہ اگر اس کو اور مزید تقویت پہنچائی جائے تو پھر معاشرہ کی بھت سی اجتماعی مشکلات حل ہوجائیں گی اور وہ سبب خود ان کے اندر قوانین پر عمل کرنے کا رجحان موجود ہے، اور اس کی وجہ ان کا اسلامی حکومت کے قوانین پرعمل کرنے کے ایمان کی وجہ سے ہے، درحققت عوام الناس حکومتی قوانین پر عمل کرنا اپنا شرعی وظیفہ سمجھتے ہیں اور یہ ظاہر سی بات ہے کہ اگر ہمارے ملک میں اسلامی حکومت نہ ہوتی اور حضرت امام خمینی (رہ) جیسے رہبر اور مرجع تقلید نے نہ فرمایا ہوتا کہ اسلامی حکومت کے قوانین پر عمل کرنا شرعاً واجب ہے، تو پھر عوام الناس جرمانہ اور دوسری سزاؤں سے بچنے کے لئے قوانین پر عمل کیا کرتے۔

آج اسلامی انقلاب کے طرفدار اور متدین افراد ولی امر مسلمین کی اطاعت کی وجہ سے اسلامی حکومت کے قوانین پر عمل کرتے ہیں ؛ اگرچہ بعض موارد میں وہ جانتے ہیں کہ یہ قوانین ہمارے نقصان میں ہیں لھٰذا یہ اندرونی اور معنوی سبب جو ان کے ایمان کی وجہ سے ہے؛ ایک بڑا سبب ہے تاکہ خود عوام الناس قوانین کے پابند رہیں ، لھٰذا ایسا بہتر ین اور مہم سبب ہمارے معاشرہ میں موجود ہے لیکن ہم اس کی قدر نہیں کرتے اسی طرح عوام الناس کو حکومتی قوانین کا پابند بنانے میں دوسرا سبب یہ ہے کہ عوام الناس اسلامی حکومت کے قوانین کو خدا کی خوشنودی کا سبب جانے جس کی بنا پر وہ شرعی وظیفہ سمجھتے ہوئے ان پر عمل کریں اور ان سے خلاف ورزی کو خدائی عذاب سبب شمار کریں اگرچہ ہم اس چیز کا انکار نہیں کرتے کہ ہمارے معاشرہ میں قوانین کی خلاف ورزی ہوتی، لیکن یہ خلاف ورزی؛ قوانین پر عمل کرنے کے مقابلہ میں بھت کم ہیں ؛ اور اگر قانون پر عمل ہونے کی نسبت؛ خلاف وزیوں کی تعداد زیادہ ہوتی تو ہمارا یہ نظام کبھی کا ختم ہوگیا ہوتا۔

ج۔ مقام رہبری میں شائستگی اور تقویٰ کے عالی ترین درجات کا ہونا

دوسری حکومتوں پر ہماری حکومت کا تیسرا امتیاز یہ ہے کہ مقام معظم رہبری کو تقویٰ ، اخلاقی شائستگی اور عظمت کے بلند ترین درجات پر فائز ہونا ضروری ہے؛ کیونکہ یہ ذات پیغمبر اور امام زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کا جانشین ہوتا ہے اور عوام الناس اس کو امام زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی تجلی اور ان کا ایک پرتو سمجھتے ہیں ، اسی وجہ سے وہ محبت اور لگاؤ جو پیغمبر اکرم (ص) اور امام زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) سے رکھتے ہیں اسی کے مشابہ (مقام معظم رہبری) سے بھی محبت اور لگاؤ رکھتے ہیں اگرچہ مقام معظم رہبری سب سے عظیم عھدہ پر فائز ہیں اور سب سے زیادہ قدرت بھی رکھتے ہیں ، لیکن اگر (خدا نخواستھ) ان سے کوئی خلاف وزی یا ایسا گناہ جو باعث فسق اور عدالت کے خاتمہ کا باعث ہوجائے تو خود بخود ولایت مسلمین کے عھدہ سے معزول ہوجائیں گے اور کسی عدالت میں جانے یا جرم کو ثابت کرنے اور اس کو معزول کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی، العیاذ باللہ جرم کے مرتکب ہوتے ہی عدالت ساقط ہوجائے گی اور خود بخود اس عھدہ سے معزول ہوجائیں گے، اور ”مجلس خبرگان“ان کی رہبری کی صلاحیت نہ ہونے کا اعلان کرے گی، ان کو معزول نہیں کرے گی؛ کیونکہ عدالت ختم ہوتے ہی عزل حاصل ہوجائے گا!۔

دنیا بھر کے کسی بھی ملک میں بڑے عھدوں پر فائز افراد اتنی اخلاقی صلاحیت اور شائستگی نہیں رکھتے جس قدر ہمارے مالک میں مقام معظم رہبری ہے، یہاں تک کہ بعض ممالک کے رہبروں کا حال یہ ہے کہ وہ سر سے پیر تک اخلاقی فساد میں آلودہ ہوتے ہیں : وہ امریکہ جس کو تمدن کا ترقی یافتہ نمونہ کھا جاتا ہے اس کے صدر پر اخلاقی اور جنسی تعلقات میں ملوث ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے اور اس کے خلاف بھت سے گواہ بھی مل جاتے ہیں اور وہ خود بھی اس چیز کا اعتراف کرتا ہے لیکن جب اس کے خلاف پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کا مسئلہ پیش آتا ہے تو اکثر ممبر آف پارلیمنٹ نے اس عدم اعتماد پر ووٹ نہیں دئے اور وہ کمافی السابق صدرات کے عھدہ پر باقی رہ جاتا ہے اور اس کے لئے کوئی بھی مشکل پیش نہیں آتی تمام لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ وہ فاسد ہے لیکن سیاسی ھتہ کنڈوں کی وجہ سے عدم اعتماد کے ایک یا دو ووٹ کم رہ گئے اور وہ فاسد صدر اپنے عھدہ پر باقی رہا!! چنانچہ اسی طرح کی بھت سی دوسری مثالیں موجود ہیں اور خلاف ورزی کرنے والے افراد یہاں تک کہ ان کو عدلیہ نے محکوم بھی کیا ہے لیکن سیاسی حربوں کی بنا پر وہ اپنے عھدہ پر باقی رہتے ہیں اوران کا دوسرے انتخابات میں کامیاب ہوجانے کا امکان ہوتا ہے۔

لھٰذا اسلامی نظریہ کے مطابق اگر مقام معظم رہبری میں بھی کوئی ایک ضروری شرط موجود نہ رہے یا کوئی جرم سرزد ہوجائے تو اپنے عھدہ سے خود بخود معزول ہوجائیں گے، کیونکہ صرف ایک گناہ کے مرتکب ہونے سے عدالت ختم ہوجاتی ہے اور وہ فاسق ہوجاتا ہے، جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی رہبری کرنے کی صلاحیت بھی ختم ہوجاتی ہے؛ اس کے بعد اس کے جرم کو ثابت کرنے یا عدالت میں جانے یا خبرگان کی رائے کی ضرورت نہیں ہوتی پس معلوم یہ ہوا کہ دنیا بھر کے کسی بھی ملک میں ملکی عھدہ داروں خصوصاً بڑے عھدہ دار یعنی رہبری کے لئے اتنی سختی نہیں ہے۔

د۔ انسانی معنوی اور واقعی مصالح کی رعایت

آخر میں دوسری حکومتوں پر ہماری حکومت کا مہم امتیاز انسانیت کے معنوی مصالح کی رعایت کرنا ہے: ہم ایک مسلمان ہونے کے لحاظ سے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خداوندعالم دوسروں سے زیادہ انسان کے مصالح اور منافع کو جانتا ہے اور ہم انہیں مصالح کو انسانی معاشرہ میں رائج کرنا چاہتے ہیں جن کو خداوندعالم نے بیان کیا ہے، اور یہ مقصد خداندعالم کے بنائے دینی قوانین پر عمل کرنے کے علاوہ پورا نہیں ہوسکتا روئے زمین پر صرف ایک جمھوری اسلامی ایران ایک ایسا ملک ہے جس کے بنیادی قانون کے چوتھے بند میں یہ بیان ہے کہ ملک کے تمام قوانین اور مقررات کو اسلامی اصول وقواعد کے تحت طے کرکے نافذ کیا جانا چاہئے یہاں تک کہ اگر کوئی قانون دلیل شرعی کے عموم واطلاق کے برخلاف ہوگا تو اس کو معتبر نہیں سمجھا جائے گا اس بنا پر وہ ملک جس میں انسان کے واقعی مصالح ومنافع پورے ہوتے ہیں وہ ہمارا ہی ملک ہے۔

سب لوگوں کو یہ بات معلوم ہے کہ یہ ہمارا نظام اور اس کے تمام نتائج؛ صرف عوام الناس کی قربانیوں اور شھداء کے خون کی برکتوں (منجملھ” شھداء ھفت تیر“ ) سے وجود میں آئے ہیں اور انھوں نے اس انقلاب کی خاطر اپنی جان اور خون کی قربانی پیش کرکے ہمارے لئے عزت، سربلندی اور بلند ترین اقدار کا سامان فراہم کیا ہے لھٰذا ہمیں (ھر وقت) بیدار رہنا چاہئے کھیں ایسا نہ ہو کہ ہم ان عظیم اقدار کو مفت میں بیچ ڈالیں آج کل بھت سی سازشیں چل رہی ہیں جن کی بنا پر اصل اسلام، ولایت فقیہ اور اسلامی حکومت کے قوانین پر اعتراضات کئے جاتے ہیں چونکہ یہ ارزشیں اور اقدار ان کی آنکھوں کاکانٹا بنا ہوا ہے جس کو صاف کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور اپنی تمام خراب کاری کوششوں کو انہیں چند اصلی نقطوں پر صرف کردیتے ہیں تاکہ مختلف طریقوں اور مکاریوں سے ان پر حملہ کریں اور نقصان پہنچائیں ۔

کبھی کبھی تقریروں ، مقالوں اوربعض کثیر الاانتشار اخباروں میں اصل اسلام اور اسلامی احکام پر اعتراض کیا جاتا ہے، اور کھا جاتا ہے کہ آج وہ زمانہ گذر چکا ہے جب لوگوں کو حلال اور حرام کی باتیں بتائی جائیں لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ خود تصمیم گیری کریں اور اپنی مرضی سے انتخاب کریں !! یا متعدد بار دیکہنے میں آیا ہے کہ ولایت فقیہ کی شان میں گستاخی، جسارت اور توہی ‎ ن کرتے ہیں کہ اگر ہمارے عھدہ داروں کے سینہ میں ثقافتی کشادہ دلی نہ ہو تو قانونی طور پر ان کو سزا ملنا چاہئے لیکن یہ حضرات اپنی بزرگی کا احساس نہیں کرتے اور ان کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاتا لیکن ہماری ایک انقلابی اور امام خمینی (رہ)اور مقام معظم رہبری (حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای مدظلہ العالیٰ) کے پیرو کار ہونے کے لحاظ سے یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس طرح کی جسارت کرنے والوں کو اس طرح کی گستاخیوں کا مزہ چکھادیں اور شریعت مقدس اسلام اور تشیع، اور اسلامی اقدار جن کی وجہ سے دنیا وآخرت کی کامیابی ہے جو آسانی سے حاصل نہیں ہوتیں ان کو سیاسی مکاروں کے چور باز ار میں کم سے کم قیمت میں بیچ ڈالیں جن کی بنا پر ذلت، خدا ورسول اور فرشتوں ، مومنین اور آئندہ آنے والی نسلوں کی لعنت کے مستحق قرار پائیں ، خدا کرے کہ وہ وقت نہ آئے۔

حوالے:

(۱) سورہ حج آیت ۷۸

(۲) سورہ بقرہ آیت ۱۸۵

(۳) (سورہ بقرہ آیت ۱۸۵) ترجمہ: (”لھٰذا جو شخص اس ماہ میں حاضر رہے اس کا فرض ہے کہ روزہ رکھے (لیکن) جو مریض یا مسافر ہو وہ اتنے ہی دن دوسرے زمانہ میں روزہ رکھے خدا تمھارے لئے آسانی چاہتا ہے زحمت نہیں چاہتا “ (اضافہ، مترجم)


پینتیسواں جلسہ

قوانین اور حکومت سے آزادی کی نسبت

۱۔ حاکم کا نصب کرنا آزادی اور ڈیموکریسی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ (ایک اعتراض)

ہم نے گذشتہ جلسوں میں عرض کیا کہ قوانین کو براہ راست خداوندعالم بنائے یا اس کی اجازت اور اذن سے بنائے جائیں ، اسی طرح قوانین کو جاری کرنے والا شخص بھی یا براہ راست خداوندعالم کی طرف سے معین ہو یا خداوندعالم کی طرف سے اذن یافتہ ہو؛ بھرحال نظام حکومتی (چاہے قوہ مجریہ ہو، یا قوہ قضائیہ ہو یا پارلیمنٹ) خداکے اذن کی طرف مستند ہوں اس کے علاوہ دینی اور شرعی لحاظ سے اس کی مشروعیت نہیں ہوگی ہم نے گذشتہ بحثوں میں قانون گذاری اور قانون کو جاری کرنے کے سلسلہ میں بھت سے اعتراضات کو بیان کرکے ان کے جوابات پیش کئے قانون گذاری کے سلسلہ میں ایک اعتراض یہ تھا کہ عوام الناس کا خداوندعالم کے قوانین کا پابند ہونے کا مطلب انسانی آزادی اور انسان کے اپنے اختیار کے مخالف ہے؛ اور ہم اس کا جواب قانون گذاری کی بحث میں دے چکے ہیں اسی کے مثل بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت لھجہ سے قوانین کو جاری کرنے کے سلسلہ میں بھی ہوتا ہے؛ اور وہ یہ ہے کہ اگر ہم یہ مان لیں کہ قانون کا جاری کرنے والا خدا وندعالم کی طرف سے معین ہونا چاہئے یا اس کی طرف سے اذن یافتہ ہو، تو اس صورت میں عوام الناس سے حق انتخاب کو چھین لیا ہے اور عوام الناس کو اس چیز کی اجازت نہیں ہے کہ خدا کے فرمان اور اس کے معین کردہ کے خلاف اپنی مرضی سے کسی کا انتخاب کریں ؛ اور یہ بات در حقیقت ڈیموکریٹک کے خلاف ہے۔

قارئین کرام ! اگرچہ گذشتہ بحثوں میں ہم اس اعتراض کا جواب عرض کر چکے ہیں لیکن چونکہ اسلامی نظام کے مخالف بلکہ در حقیقت اسلام کے مخالفین اس طرح کے اعتراض مسلسل کئے جارہے ہیں اور مختلف صورتوں میں اس طرح کے شبھات اور اعتراضات بیان کررہے ہیں ، اس وجہ سے ہم اس سلسلہ میں مزید وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں پہلے آزدای کے سلسلہ میں کچھ چیزیں بیان کریں گے اس کے بعد اسلامی حکومت کی تشکیل کا طریقہ کار اور قوانین اسلامی کو جاری کرنے کا طریقہ بیان کریں گے۔

۲۔ تکوینی آزادی اور نظریہ جبر کی تحقیق اور ردّ

ہمارے سامنے آزادی کا مسئلہ ہے جس کو اصطلاح میں تکوینی آزادی کھا جاتا ہے جس کے مقابلہ میں نظریہ جبر ہے جس کو بعض دانشمندوں نے بیان کیا ہے قدیم زمانہ سے انسان کے سلسلہ میں یہ اختلاف چلا آرہا ہے کہ وہ مختار ہے یا مجبور بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ انسان مجبور ہے اور اپنی زندگی میں ذرا بھی اختیار نہیں رکھتا اور اگر کوئی انسان یہ تصور کرے کہ وہ اپنے ارادہ سے اپنے امور انجام دیتا ہے تو یہ اس کا خیال خام کے علاوہ کچھ نہیں ہے انسان در حقیقت مجبور ہے وہ جو بھی کام کرتا ہے مجبوراً اور فشار کے تحت انجام دیتا ہے؛ اگرچہ وہ خود اس چیز کا احساس نہ کرتا ہو۔

ھمیشہ اس نظریہ جبر کے طرفدار لوگ پائے گئے ہیں اور بعض اسلامی علماء نے بھی اس نظریہ کی طرفدار ی کی ہے اسلامی فرقوں میں ”فرقہ اشاعرہ“ (جو اہل سنت کا ایک کلامی فرقہ ہے) جبر کا اعتقاد رکھتا ہے؛ البتہ اتنی شدت اور غلظت سے نہیں جتنے دوسرے مانتے ہیں لیکن ہمارے اور اکثر مسلمانوں کے لحاظ سے یہ نظریہ باطل اور مردود ہے، چاہے انسان اپنے اعمال وافعال میں اپنے کو صاحب اختیار اور آزاد تصور کرے اور اگر صرف جبر انسان کے اوپر حاکم ہوتا تو پھر اخلاقی، تربیتی اور حکومتی نظام کی کوئی ضرورت باقی نہ بچتی۔

اخلاقی اور تربیتی سلسلہ میں اگر انسان نیک یا برے کام پر مجبور ہوتا اور اس کا کوئی اختیار ان چیزوں پر نہ ہوتا تو پھر اس کے نیک کاموں پر اس کی تعریف اور تمجید کوئی معنی نہیں رکھتی اور نہ ہی اس کے لئے کوئی جزا یا انعام کی ضرورت ہے، اسی طرح اگر انسان مجبور ہوتا تو برے کاموں پر اس کی مذمت اور سرزنش بھی نہیں ہونا چاہئے،اگر کوئی بچہ اپنے کسی فعل میں مجبور ہو تو پھر اس کی تربیت لا حاصل ہے اور اس کے اخلاقی کردار کو سنوارنے کے لئے برنامہ ریزی کی کوئی ضرورت نہیں ہے جس وقت معلم اور مربیّ ؛ بچے اور شاگرد سب ہی اپنے کردار میں مجبور ہوں تو پھر استاد بچے سے یہ نہیں کھہ سکتا کہ فلاں کام انجام دو یا فلاں کام نہ کرو اسی طرح حقوقی، سیاسی اور اقتصادی مسائل میں جو نصیحتیں کی ہیں ان کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے اعمال اور افعال میں مختار اور آزاد ہے۔

جب انسان اپنے افعال اور اعمال کے کرنے یا نہ کرنے میں آزاد ہو تو اسی وقت اس کو یہ کہنا درست ہے کہ اس کام کو انجام دے اور اس کام سے پرہیز کرے، لیکن اگر انسان مجبور ہو اور اپنے کاموں کو انتخاب کرنے کا اختیار نہ ہو تو اس کے یہ کہنے کا کوئی مطلب نہیں ہے کہ اس کام کو کرے یا اس کام کو انجام نہ دے۔

یہ آزادی اور اختیار جس کو سبھی سمجھتے ہیں یہ ایک ”تکوینی امر“ ہے اور ”نظریہ جبر“ کے مقابلہ میں ہے،اور یہ اختیار اور آزادی خدا داد نعمت ہے جو انسان کی خصوصیات میں سے ہے اور اسی کی بنا پرانسان دوسری موجودات پر فضیلت اور برتری رکھتا ہے وہ تمام موجودات جن کا ہم علم رکھتے ہیں ان میں صرف انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے جو مختلف نظریات بلکہ بعض اوقات متضاد (ایک دوسرے سے ٹکرانے والی) نظریات میں سے کسی ایک کو انتخاب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور وہ اپنے خواہشات کا جواب دینے میں مکمل طریقہ سے صاحب اختیار اور آزاد ہے چاہے وہ خواہشات ”حیوانی خواہشات“ ہوں یا وہ خواہشات ”الہی اور معنوی“ خواہشات ہوں بے شک خداوندعالم نے اس انسان کو اپنی اس نعمت سے نوازا ہے تاکہ وہ اپنے اختیار اور انتخاب سے راہ حق یا راہ باطل کا انتخاب کرے، اور انسان کا یہی وہ امتیاز ہے جو دوسری تمام مخلوقات یہاں تک کہ فرشتوں پر رکھتا ہے یہی قدرت انتخاب ہے اگر اس نے اس قدرت کا صحیح استعمال کیا اور الہی احکام کا انتخاب کیا اور حیوانی خواہشات کو ترک کیا تووہ کمال کے اس درجہ پر پہنچ جائے گا کہ اس کے سامنے فرشتے خضوع وخشوع کرتے ہوئے نظر آئیں ۔

البتہ انسان کے پاس یہ آزادی کا ہونا ایک تکوینی مسئلہ ہے اور آج تقریباً کوئی ایسا نہیں ہے جو اس پر اعتقاد نہ رکھے اور اپنے کو سو فی صد مجبور سمجھے، اور اپنے لئے ذرا بھی آزادی نہ سمجھے ، قرآن مجید نے اس مسئلہ کے واضح ہونے پر زور دیا ہے:

( وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْیُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْیَکْفُر )(۱)

”(اے رسول )تم کھہ دو کہ سچی آیات (کلمہ توحید )تمھارے پروردگار کی طرف سے (نازل ہو چکی)ھے بس جو چاہے مانے اور جو چاہے نہ مانے “

( إِنَّا ہدیْنَاہ السَّبِیلَ إِمَّا شَاکِرًا وَإِمَّا کَفُورًا )(۲(

”اور اس کو راستہ بھی دکھادیا(اب وه)خواہ شکر گزار ہو یا نا شکرا “

سیکڑوں آیات بلکہ پورا قرآن انسان کے مختار ہونے پر تاکید کرتا ہے، کیونکہ قرآن مجید انسان کی ہدایت کے لئے ہے اور اگر انسان مجبور ہوتا اور اس کی ہدایت جبر کے تحت ہوتی اسی طرح اس کی گمراہی بھی جبر کے تحت ہوتی توپھر انسان کے لئے ہدایت کو اختیار کرنے کا کوئی مقصد نہیں تھا اور اس صورت میں قرآن کریم بے فائدہ اور بے اثر ہوجاتا۔

اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ ہماری گفتگو تکوینی آزادی کے بارے میں نہیں ہے کیونکہ اس میں کسی کو بھی کوئی شک وشبھہ نہیں ہے ا ور اس کی بحث کامقام فلسفہ اور علم کلام ہے ، حقوق اور سیاست میں یہ بحث نہیں کی جاتی۔

۳۔ معنوی اور اندورنی اقدار کا آزادی سے کوئی ٹکراؤ نہیں

قارئین کرام ! یہاں پر ایک ضروری گفتگو یہ ہے کہ ہر انسان کے پاس ایک اندرونی طاقت ہوتی ہے جو انسان کے اعمال اور کردار کے لئے دائرہ معین کرتی ہے، اور ایک اصطلاح کے مطابق انسان ایک ارزشی اور اقداری مشین رکھتا ہے جس کی بنا پر ہر انسان یہ طے کرسکتا ہے کہ اس کواخلاقی طور پر کون سے کام انجام دینا چاہئے اور کن چیزوں کو ترک کرنا چاہئے،جن کے طے کرنے کے بعد مخصوص کاموں کو انجام دیتا ہے اور کچھ چیزوں کو ترک کرتا ہے ہمیں کسی ایسے معاشرہ کا علم نہیں ہے جس میں ”باید ھا اور نباید ھا“ (کرنا چاہئے اور نہ کرنا چاہئے) نہ ہوں ، اور اچھے کاموں کو بُرا اور برے کاموں کو اچھا سمجھتا ہو۔

چنانچہ انسانی اسی اچھے اور برے کاموں کو سمجھنے والی اندرونی طاقت کو ”عقل عملی“ یا”وجدان“ کھا جاتا ہے جو انسان کو عقلی اور اخلاقی رفتار وگفتار کی ہدایت کرتی ہے، اور یہی وہ طاقت ہے جو ہمیشہ سے تمام انسانوں کے پاس رہی ہے، جس کی بنا پر انسانیت کے لئے ایک راہنما کا کام کرتی ہے ہر انسان کی ”عقل عملی“ یا”وجدان“ اس بات کو سمجھتی ہے کہ عدل، امانت داری اور سچائی نیک کام ہیں ، لھٰذا ان پر عمل کرنا چاہئے اسی طرح ہر انسان کی ”عقل عملی“ یا”وجدان“ ظلم اور ستم کو بُرا سمجھتی ہے اور ظلم نہ کرنے کا حکم دیتی ہے، خصوصاً جبکہ اگر کسی ایسے شخص پر ظلم و ستم کرے جو اپنے دفاع پر بھی قادرنہ ہو اسی طرح انسانی عقل جھوٹ اور خیانت کو بُرے کاموں میں سے شمار کرتی ہے اور اس سے دوری کرنے کا حکم دیتی ہے۔

لھٰذا معلوم ہوا کہ انسان کے پاس ایک اندرونی اور باطنی ایسی طاقت ہے جو انسان کے لئے ہر حال میں اقداری مشین کا کام کرتی ہے جس کی بنا پر اچھے اور برے کاموں کی شناخت ہوجاتی ہے، اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ تمام ہی انسان عدالت اور صداقت کو نیک کام شمار کرتے ہیں اور کوئی بھی انسان صداقت کو بُرا نہیں سمجھتا اسی طرح تمام ہی انسان اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ ظلم اور جھوٹ برے کام ہیں اور آپ کو کوئی بھی ایسا شخص نہیں مل سکتا جو ان کو اچھا سمجھتا ہو بےشک انسانی اقدار کو معین کرنے والی یہ طاقت اپنے فیصلہ میں مستقل اور آزاد ہوتی ہے اور کسی باہری طاقت کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، اور صرف اپنے نظریہ کے مطابق حکم کرتی ہے۔

انسانی عقل و وجدان کے ذریعہ بیان شدہ باید ھا و نباید ھا (کرنا چاہئے اور نہ کرنا چاہئے) یا امر و نھی کی ماہیت اور حقیقت کی تحقیق وجائزہ (کہ امر ونھی صرف اس کی تشخیص اور درک کی وجہ سے ہوتا ہے یا انسان کے اندر کوئی طاقت ایسی ہوتی ہے جو اس کو امر ونھی کرتی ہے) اخلاقی فلسفہ سے متعلق ہے جو ہمارا موضوع گفتگو نہیں ہے لیکن ہماری عقل کا یہ طے کرنا کہ کون سے کام نیک ہیں اور کون سے کام بُرے؟ یہ ایک طرح سے ہمارے لئے لازمی احکام صادر کرتی ہے جس کی بنا پر ہماری قدرتی آزدای محدود ہوجاتی ہے، یعنی خود ہماری عقل اور وجدان ہمیں حکم دیتی ہے کہ اپنی کچھ آزادی سے فائدہ نہ اٹھاؤ: (مثلاً) ہم دوسروں پر ظلم کرسکتے ہیں لیکن ہماری عقل کھتی ہے کہ کسی پر بھی ظلم نہ کرو، بلکہ عدالت کو برقرار رکھو، اسی طرح ہم جھوٹ بول سکتے ہیں لیکن ہماری عقل یہ حکم کرتی ہے کہ جھوٹ نہ بولو بلکہ صداقت سے کام لو ہماری عقل اس بات کاحکم کرتی ہے کہ اگرچہ تم امانت میں خیانت کرسکتے ہو لیکن (کسی بھی چیز میں ) خیانت نہ کرو ، لھٰذا معلوم یہ ہوا کہ انسانی عقل عملی اور اس کا وجدان انسان کی خصوصیت میں اور ان اسباب میں سے ہے جو ہماری آزادی کو محدود کرتی ہے،اور اگر کسی شخص میں ایسی طاقت وقدرت موجود نہ ہو اور اپنے لئے اچھے اور برے کی پہنچان نہ کرسکتا ہو تو گویا وہ عقل سے بے بھرہ ہے اور اس کو دیوانہ کھا جائے گا۔

اب جبکہ انسانی عقل اس اپنی رفتار و گفتار کو محدود بنادیتی ہے اور انسان اس کام کو اپنے عقل اور وجدان کی طرف نسبت دیتا ہے لیکن کوئی بھی اس کو آزادی کا مخالف قرار نہیں دیتا یہ کوئی کھتا ہوا نظر نہیں آتا کہ ہماری عقل نے امر ونھی کے ذریعہ سے ہماری آزدای کو محدود کردیا ہے جب حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی اس اندورنی طاقت کی پیروی کرتے ہوئے اپنی آزادی کو محدود کرلیتا ہے جو خود اسی کی عقل کے تحت ہوتی ہیں اور باہر سے کوئی چیز سبب بھی نہیں ہوتی کیونکہ انسانی عقل کے ذریعہ انسان کی رفتار و گفتار کا محدود ہونا بالکل اس ڈاکٹر کی طرح ہے جو ہم سے (مریض ہونے کی صورت میں )یہ کھتا ہے کہ فلاں چیز نہ کھانا کیونکہ وہ تمھارے لئے نقصان دہ ہیں ، اور فلاں دوائی استعمال کرو کیونکہ تم اس سے ٹھیک ہوجاؤ گے اس صورت میں نہ صرف یہ کہ انسان ڈاکٹر کے حکم اور پرہیز بتانے سے ناراحت نہیں ہوتا بلکہ اس کو خوشی بھی ہوتی ہے اور اس کے حکم کو اپنی صحت یابی کے لئے راہنمائی اور ہدایت سمجھتا ہے در حقیقت اس صورت میں بھی ہم اپنی آزادی اور اختیار سے استفادہ کرتے ہیں اور ہماری پیدائشی آزدای پر کوئی حرف نہیں آتا اور بعض اخلاقی نظریات کی بنا پر عقل صرف ہمیں ایک راستہ دکھاتی ہے اور ہماری اس راستہ کی طرف راہنمائی کرتی ہے، جس کے بہتر ین فوائد ظاہر ہوتے ہیں نہ کہ اس میں ڈکٹیٹری " Dictaory " نہیں دکھائی دیتی، (بلکہ دوستانہ اور دلسوزی کی بناپر ہوتی ہیں ۔)

یھاں تک کہ اگر ہم اپنی عقل کے حکم کو ڈکٹیٹری کا نام بھی دیدیں جس کی بنا پر وہ حکم کرتی ہے، جیسا کہ کھا بھی جاتا ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنی عقل و وجدان کی مخالفت کی تو اس عقل ہی اس کو مورد مذمت اور عذاب قرار دیتی ہے ، اور عقل و وجدان کا عذاب ہماری ادبی کتابوں میں مشھور معروف ہے، لیکن ان تمام باتوں کے پیش نظر عقل و وجدان کا حکم آزادی کے مخالف نہیں ہے اور اس کی آزادی ختم نہیں ہوتی، اور جو شخص اپنی عقل اور وجدان کے مطابق عمل کرتا ہے اس کے بارے میں یہ نہیں کھا جاتا ہے کہ یہ مقید ہو گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عقل اور وجدان خود انسان سے متعلق ہے اور یہ اندارونی طاقت کے عنوان سے ہمارے کاموں میں نظارت اور قضاوت کرتی ہے جس کے نتیجہ میں بعض چیزوں کا حکم دیتی ہے اور بعض چیزوں کے انجام دینے سے روکتی ہے پس جس وقت ہماری اندورنی طاقت ہمیں حکم دے تو ہماری آزادی سلب نہیں ہوتی، اور اگر ہم اپنی اس عقل کے فرمان کے مطابق اپنی مرضی سے عمل کریں تو گویا ہم نے اپنی مرضی کے مطابق عمل کیا؛ ہماری آزادی اس وقت سلب ہوتی ہے جب کوئی بیرونی طاقت ہمیں کسی کام کی انجام دھی پر مجبور کرے یا کسی کام سے روکے۔

۴۔ آزادی اور دینی وظائف کی نسبت

قارئین کرام ! یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دین (اسلام) کے احکام اور شرعی اوامر ونواہی جو خداوندعالم کی طرف سے ہوتے ہیں کیا انسان کی آزادی کو سلب کرتے ہیں ؟ مثلاً اگر کوئی شخص صبح اٹہ کر نماز صبح نہ پڑھنا چاہے، لیکن خداوندعالم کا حکم ہے کہ صبح اٹہ کر نماز صبح پڑھو؛ اسی طرح دوسرے احکام جن کے بجالانے کو شریعت مقدس نے انسان کے لئے لازم اور ضروری قرار دیاہے مثلاً روزہ کا حکم، زکوٰة و خمس اور دوسرے واجبات کا حکم، یا وہ چیزیں جو حرام ہیں ان کو ترک کرنے کا حکم جیسے (الکحل) والی مشروبات کے پینے سے روکنا (وغیرہ وغیرہ)۔

جواب: یہ احکام اور امر و نھی جب تک نفوذ ہونے کے بارے میں پشت پناہی نہ رکھتی ہوں تو گویا یہ بھی عقل اور وجدان کے حکم کی طرح ہیں اور ان کے ذریعہ سے انسان کی آزادی سلب نہیں ہوتی یعنی جس وقت خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے کہ : نماز پڑھو، اگر ہم نے نماز نہ پڑھی ، تو ہم سے کوئی مطلب نہ ہو اور ہمیں عذاب اور سزا میں مبتلا نہ کرے،اسی طرح معاشرہ بھی خداوندعالم کے احکام پر عمل نہ کرنے کی نتیجہ میں ہم سے خفا نہ ہو اور ہمیں ذلیل وحقیر نہ سمجھے تو اس صورت میں اگر شرعی امر ونھی صرف نصیحتی پہلو رکھتے ہوں تو ہماری آزادی سلب نہیں ہوتی کیونکہ ان نصیحت کوباہر سے جاری کرنے والا کوئی ضامن نہیں ہے، اور کوئی بیرونی طاقت ہم پر کوئی دباؤ نہیں ڈالتی جس کی بنا پر ہم بعض کاموں کو انجام دیں اور بعض سے پرہیز کریں ؛ اس صورت میں شرعی امر ونھی عقل اور وجدان کے حکم کے ہم پلہ قرار پاتے ہیں جس کی وجہ سے آزادی سلب نہیں ہوتی مسامحہ آمیز (ذو معنی) تعبیر کے مطابق، جس طرح ہم ایک ایسی متصل عقل رکھتے ہیں جو ہمیں ”باید ھا اور نباید ھا“ (کرنا چاہئے اور نہ کرنا چاہئے) کے بارے میں نصیحت اور امر و نھی کرتی ہے لیکن عملی طور پر اس کے احکام پر عمل کرنا لازمی اور ضروری نہیں ہوتا ، اسی طرح ہمارے پاس عقل منفصل (جدا) بھی ہے جو ہمارے وجود سے باہر ہے اور امر و نھی کرتی ہے، یعنی خداوندعالم ”عقل کلّی“ کے عنوان سے ہمارے لئے امر و نھی کرتا ہے اور وہ صرف نصیحت کی حد تک ہوتی ہے اور ارشادی(ونصیحتی) پہلو رکھتے ہیں ۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ شرعی امر و نھی عملی طور پر لازمی اور ضروری ہوتے ہیں اور ان میں صرف نصیحتی پہلو نہیں ہوتا بلکہ جس وقت خداوندعالم ہمیں حکم دیتا ہے کہ نماز پڑھو تو اگر ہم نماز نہ پڑھیں تو ہمیں جھنم میں ڈال کر عذاب میں مبتلا کرے گا یہاں تک کہ بعض برے کاموں پر اسی دنیا میں سزا اور تازیانے کی حدّ معین فرمائی ہے ، اور اس سے بھی بالاتر گذشتہ امتوں کے لئے آسمانی عذاب نازل کیا ہے اور جب بھی کوئی پیغمبر مبعوث برسالت ہوتا تھا تو عوام الناس کو خدا کے عذاب سے ڈراتا تھا، اور یہ کھتا تھا کہ اگر تم نے خداوندعالم کے احکام کی اطاعت نہ کی توتم پر اسی دنیا میں بھی عذاب نازل ہوسکتا ہے قرآن مجید میں مکرر مسلمانوں کو اس بات سے ڈریا گیا ہے اور ان کو یاد دھانی کرائی گئی ہے کہ گذشتہ امتوں کے حالات پر نظر کرو کہ خدا کے احکام کی نافرمانی اور گناہ کے نتیجہ میں خداوندعالم نے ان پر عذاب نازل کیا لھٰذا تمھیں بھی دنیاوی یا اُخروی عذاب سے ڈرنا چاہئے انبیاء کرام (ع) عذاب الہی سے اس قدر ڈراتے تھے جس کی بنا پر تمام انبیا (ع) کا نام نذیر اور منذر (ڈرانے والا) معروف ہوگیا؛ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

(إِنَّا ارْسَلْنَاکَ بِالْحَقِّ بَشِیرًا وَنَذِیراً وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلاَ فِیْھاَ نَذِیْرٌ)(۳)

”ہم ہی نے تم کو یقینا قرآن کے ساتھ خشخبری دینے والا و ڈرانے والا (پیغمبر)بنا کر بھیجا اور کوئی امت (دنیا میں )ایسی نہیں گزری کہ اس کے پاس (ہمارا ) ڈرانے والا (پیغمبر )نہ آیا ہو “

لھٰذا وہ شرعی امر و نھی جن پر ہمیشہ دنیاوی یا اُخروی عذاب سے ڈرایا گیا ہے؛اخلاقی اور عقلی امر ونھی جن پر ہماری عقل اور وجدان کے حکم سے فرق پایا جاتا ہے اور اس سے انسانی آزادی محدود ہوجاتی اور انسان پر دباؤ ڈالتی ہے۔

اور اگر ہم نے اس بات کومان لیا کہ تمام انسان مکمل طور پر آزاد ہیں ، اور ”حقوق بشر کے اعلانیھ“ کے مطابق (جو بعض روشن فکر کے نزدیک وحی اور کتاب مقدس کا حکم رکھتا ہے) کسی کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ کسی انسان کی آزادی کو محدود کرے، تو کیا خداوندعالم کو بھی انسانوں کی آزادی کو محدود کرنے کا حق نہیں ہے ؟! اور ان کو عذاب اور سزا سے ڈرا کر تحت تاثیر قرار دے، اورزیادہ سے زیادہ خدا بھی عقل اور وجدان کی طرح انسان کو اپنے وظائف اور واجبات کو انجام دینے کے سلسلہ میں ارشاد اور نصیحت نہیں کرسکتا، مثال کے طور پر ہمیں نماز پڑھنے کا حکم دے تو اگر ہم نماز نہ پڑھیں تو ہم نے گویا اپنی آزادی سے استفادہ کیا ہے! اور اگر ایسا ہے تو پھر خداوندعالم نے ہمیں کس لئے ڈرایا ہے اور کھتا ہے : اگر گناہ کرو گے تو تم کو آخرت میں جھنم میں ڈال دو ں گا ، اور مسلسل ہمیں اپنے عذاب سے ڈراتا رہتا ہے، چنانچہ اس نے اپنے انبیاء (ع) کے وظائف میں سے ایک وظیفہ عوام الناس کو عذاب الہی سے ڈرانا قرار دیا ہے؟

بےشک مسلمانوں کو اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ خداوندعالم فرمان اور احکام صادر کرسکتا ہے اور ان کے جاری کرنے کا ضامن بھی ہے اسی طرح انبیاء علیہم السلام کا وظیفہ امر ونھی کا پہنچانا اور عذاب الہی سے ڈرانا ہے، (کبھی کوئی مسلمان ان چیزوں میں شک نہیں کرتا) بلکہ وہ ان تمام چیزوں کو دل وجان سے قبول کرتا ہے تمام مسلمان خدا اور رسول کے احکام کے سامنے سر جھکاتے ہوئے نظر آتے ہیں ، اگرچہ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ احکام ان کو محدود کرتے ہیں اور ان کی بعض آزادی کوسلب کرتے ہیں اور ایک طریقہ سے ان کو تحت تاثیر قرار دیتے ہیں کیونکہ جب خداوندعالم ہمیں کسی کام کو انجام دینے کا حکم دیتا ہے تو اگر ہم نے اس کام کو انجام نہ دیا تو پھر ہمارے لئے عذاب کا وعدہ کیا گیا (اور خدا کا وعدہ سچا ہے) تو ہم اس سے متاثر ہوتے ہیں پس معلوم یہ ہوا کہ خدا وندعالم ہم کو بعض کاموں کے انجام دینے اور بعض کاموں سے پرہیز کرنے کا پابند کرسکتا ہے اس میں کوئی شک (بھی) نہیں ہے؛ لیکن خداوندعالم کی طرف سے امر و نھی آنے کی حکمت اور فلسفہ کیا ہے اور کیوں خداوندعالم ہم کو شرعی واجبات ومحرمات کا پابند کیوں بناتا ہے تو اس سلسلہ میں علم کلام میں بحث ہوگی، لیکن خلاصہ کے طور پر عرض کرتے ہیں کہ:

خداوندعالم اپنے تمام تر لطف ومھربانی اور فضل وکرم کی بنا پر انسان کوسعادت مند بنانا چاہتا ہے اسی وجہ سے سعادت مندی کے راستہ کی پہنچان بتادی ہے جس کی بنا پر ہمارے لئے احکام اور فرمان معین فرمادئے ہیں تاکہ ہم اپنے ان وظائف پر عمل کرتے ہوئے سعادت مندی کے راستہ پر گامزن رہیں اور جس کے زیر سایہ واقعی سعادت کے راستہ کو پہنچان لیں ظاہر سی بات ہے کہ خداوندعالم کے ڈرانے اور دھمکانے سے ہم ہوشیار ہوجاتے ہیں جس سے سعادت کے راستہ سے منحرف نہیں ہوتے، اور اگر یہ احکام ہمارے لئے ضروری اور لازمی نہ ہوتے تو پھر ہم اپنے وظائف کو اچھے طریقے سے انجام نہ دیتے اور اپنے غلط کردار اور گناہوں کی وجہ سے راہ سعادت سے بھٹک جاتے لھٰذا خداوندعالم نے اپنے لطف وکرم کی بنا پر شرعی وظائف پر عمل کرنے کی وجہ سے ہم کو برائیوں اور برے کاموں سے روکا ہے جس کے نتیجہ میں خدا کی رحمت واسعہ ہمارے شامل حال ہوجائے۔

اس بنا پر حقیقت یہ ہے کہ دین انسان کو محدود کرتا ہے اور اس کی بعض آزادی سلب ہوجاتی ہیں انبیاء علیہم السلام عوام الناس کو ڈرانے کا وظیفہ رکھتے تھے اور دینی احکام کی مخالفت اور عذاب الہی سے ڈراتے تھے بے شک اس سلسلہ میں ظاہری اور روحانی دونوں طرح کا دباو ہوتا ہے ظاہری دباؤ اس شخص پر ہوتا ہے جس پر بعض گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے حدّ جاری ہوتی ہے اور روحانی دباؤ ان لوگوں پر ہوتا ہے جو کسی پر حدّ جاری ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں جس کے نتیجہ میں وہ اس سزا سے ڈرتے ہیں ، اور ان لوگوں پر بھی جو ہمیشہ آخرت کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں ۔

ہم اس وقت جو مطلق آزادی کے طرفدار ہیں لوگوں سے یہ سوال کرنا چاہتے ہیں کہ کیا تم اس ظاہری اور روحانی دباؤ کو محکوم کرتے ہو؟ یعنی کیا تم یہ کھتے ہو کہ خداوندعالم کو اس طرح کی محدودیت اور مشکل میں قرار نہیں دینا چاہئے؟ اور اس کو دنیاوی اوراخروی عذاب سے ڈرانے کے لئے پیغمبر نہیں بھیجنا چاہئے؟ تو کیا ان چیزوں کا محکوم کرنا اسلام اور تمام آسمانی ادیان کے انکار کے برابر نہیں ہے؟ (لیکن کیا کسی کو دین کے انکار کرنے کا حق ہے یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے اس وقت ہم انبیاء علیہم السلام کی اتباع کی حقانیت کو ثابت نہیں کررہے ہیں (

جو شخص کھتا ہے کہ انسان مکمل طور پر آزاد ہے اور اس پر کسی طرح کی محدودیت اور دباؤ نہیں ہونا چاہئے، تو کیا وہ محدودیت بھی جو خداوندعالم کی طرف سے اپنے بندوں پر ایجاد ہوتی ہے مثلاً گناہ کرنے پر جھنم میں جانا ہوگا یا بعض گناہوں کی اسی دنیا میں سزا ملے گی تو کیا ایسا شخص اس بات کو محکوم کرتا ہے؟(اور اگر ایسا ہے ) تو گویا اس نے دین اور بعثت انبیاء (ع) اور الہی شریعتوں کا انکار کیا ہے اور اس وقت ہماری بحث ان سے نہیں ہے ہماری بحث تو ان لوگوں سے ہے جو دین کو قبول رکھتے ہیں اور دین اسلام کو حق جانتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خداوندعالم نے اپنی حکمت اور لطف وکرم کی بنا پر ہدایت کے لئے انبیاء علیہم السلام کو بھیجا ہے اور اسی وجہ سے اس کا شکر ادا کرتے ہیں ۔

۵۔ حدود اور سزاؤں میں آزادی کی نسبت

اب جبکہ ہم نے یہ قبول کرلیا ہے کہ نہ صرف خداوندعالم کو یہ حق ہے بلکہ اس کے لطف و کرم اور فضل کی بنا پر ہمیں جھنم سے ڈرائے تاکہ ہم صحیح راستہ پر چلیں اور برے راستے سے پرہیز کریں ، یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خداوندعالم نے بعض گناہوں پر حدّ کس لئے اور کیوں قرار دی ہے اور حدود وتعزیرات کو اصلاً کس لئے رکھا ہے؟ خداوندعالم ہمیں عذاب آخرت سے ڈرناصحیح ہے کیونکہ عذاب سے ڈرانا ہمارے فائدہ میں ہے جوہمارے لئے جھنم کے عذاب سے ڈرتے ہوئے سعادت اور نیک بختی کے راستے کو اپنانے کا سبب بنتا ہے بلکہ ایک معنی کے لحاظ سے یہ ڈرانا ایک قسم کا ارشاد اور ہدایت ہے اور خداوندعالم ہمیں یہ بتانا چاہتا ہے کہ دیکھو تمھارے برے کاموں کا نتیجہ آخرت میں جھنم ہے، اور عذاب بھی وہ جو حقیقی ہے اور باہمی مفاہمت (ریزولیشن " Resolution ") نہیں ہے بلکہ تمھارے دنیاوی برے اعمال کا مجسمہ ہے لیکن خدا نے کیوں فرمایا کہ اگر کوئی عظیم گناہ جیسے زنا کا مرتکب ہوا تو اس کو لوگوں کے سامنے کوڑے لگائیں جائیں تاکہ اس کی عزت وآبرو ختم ہوجائے؟

ارشاد ہوتا ہے:

(الزَّانِیَةُ وَالزَّانِی فَاجْلِدُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہما مِائَةَ جَلْدَةٍ وَلاَتَاخُذْکُمْ بِہما رَافَةٌ فِی دِینِ اللهِ إِنْ کُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَلْیَشْھدْ عَذَابَہما طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ((۴)

” زنا کار عورت او رزنا کار مرد دونوں کو سو سو کوڑے لگائیں اور خبردار ! دین خدا کے معاملہ میں کسی مروت کا شکار نہ ہوجانا اگر تمھارا ایمان اللہ اور روز آخرت پر ہے اور اس سزا کے وقت مومنین کی ایک جماعت کو حاضر رہنا چاہئے۔“

یہ سوال صرف دین سے متعلق نہیں ہے بلکہ سزائی قوانین اور ہر ملک کے قوانین سے متعلق ہے دنیا بھر کی تمام حکومتوں میں حقوقی اور سزائی قوانین ہوتے ہیں حقوقی قوانین ان لوگوں کے بارے میں ہوتے ہیں جو دوسرے کے مال اور حقوق پر تجاوز اور دست درازی کرتا ہے مثلاً کسی کامال کھاجاتاہے یا کسی کے بدن کو زخمی کردیتا ہے یا کسی کو قتل کردیتا ہے تو اس صورت میں اگر کوئی مخصوص شکایت کرنے والا موجود ہے تو وہ مجرم کی شکایت کرتا ہے جس کے نتیجہ میں مجرم کو سزا ہوتی ہے یا جرمانہ دینا ہوتا ہے اور اگر کسی کے حق کو غصب کیا تھا تو اس کو واپس کرے اور اگر کسی ظلم اور جنایت کا مرتکب ہوا تو اس سے قصاص (بدلہ) لیا جاتا ہے یا اسی طرح کی دوسری سزائیں معین کی جاتی ہیں لیکن تمام سزائی قوانین میں مجرم کو سزا دینے کے لئے کسی خاص شکایت کرنے والے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ خود د عدالت اور مدعی العموم قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اور ملکی مصالح کو پامال کرنے والے کے خلاف مقدمہ دائر کرسکتا ہے اور اگر ملزم کا جرم اثبات ہوجائے تو اس کو سزا ملتی ہے۔

جھاں تک ہم جانتے ہیں دنیا بھر میں کوئی بھی ملک ایسا نہیں ہے جس میں حقوقی اور سزائی قوانین موجود نہ ہوں اور مجرموں کو سزا اور جریمہ نہ ہوتا ہو خلاصہ یہ ہے کہ یا مجرم کو جریمہ دینا پڑتا ہے یا اس ک جیل بھیج دیا جاتا ہے یا اس کے لئے دوسری سزائیں معین کی جاتی ہیں ؛ چنانچہ اسلام بھی اس قاعدہ سے مستثنی نہیں ہے اور اسلام کے بھی حقوقی اور سزائی قوانین ہیں یہاں تک کہ بعض موارد میں تو سخت سے سخت سزائیں ہیں لھٰذا یہ سوال یہ ہے کہ تمام ہی حکومتوں کو مجرموں سزا دلانے کا حق ہے تو کیا یہ چیز انسان کی آزادی کے مخالف نہیں ہے تویہ بات مسلم ہے کہ تمام ہی لوگ حکومت کو حقوقی اور سزائی قوانین بنا نے کا حق دیتے ہیں اورمجرمین کے لئے خاص سزائی قوانین مترتب کرکے نافذ کرانا چاہتے ہیں اس بات کی دلیل یہ ہے کہ ہمیں کسی ایسے ملک کے بارے میں اطلاع نہیں ہے جس میں مجرموں کے لئے حقوقی سزائی قوانین نہ ہوں یا ان کے لئے جرمانہ یا قید یا دوسری سزائیں نہ ہوں اور کسی کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہے البتہ بحث وگفتگو میں یہ بحث کی جاسکتی ہے اور یہ اشکال ہوسکتا ہے کہ کیا کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ اس دنیا میں کسی شخص کو سزا دی جاسکتی ہے اور اس کی آزادی کو محدود کرنا یا اس کی آزادی کو سلب کرنے کا اختیار کسی کو ہے یا نہیں ؟

۶۔ حکومت اور قوانین کے زیر سایہ مطلق طور پر آزادی نہیں ہوسکتی

جو لوگ کھتے ہیں کہ کسی بھی حکومت کو عوام الناس کی آزادی کو محدود کرنے اور ان کے لئے سزا معین کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، (کیونکہ اس صورت میں عوام الناس سزا وغیرہ کے ڈر سے کسی خلاف ورزی کو انجام نہیں دیتے ؛ لیکن اگر سزا وغیرہ نہ ہوتی تو پھر انسان اپنی مرضی سے جو بھی چاہتا انجام دیتا چاہے وہ کام اچھا ہوتا یا بُرا،) تو اگر ایسا شخص دنیا بھر کی حکومتوں پر اعتراض کررہا ہے تو اس کا ایک دوسرے طریقہ سے جواب دیا جائے اور اگرصرف اسلام پر اعتراض کرتا ہے تو پھر اس کا جواب ایک دوسرا ہوگا لیکن چونکہ اس کا اعتراض دنیا بھر کی عام حکومتوں پر ہے اور تمام حکومتی نظام منجملہ اسلامی حکومت پر بھی اعتراض کرتا ہے کہ کیوں مجرموں کے لئے سزائیں اور محدودیت قرار دی ہیں ان پر دباؤ ڈالا گیا ہے؟تو اس صورت میں ہمارا جواب بھی ایسا ہوگا جو سب کو شامل ہوجس میں تمام حکومتوں اور اسلامی حکومت کے حقوقی اور سزائی قوانین کے بارے میں جواب دیا جائے۔

جواب:

مذکورہ اعتراض ”مطلق آزادی“ کی بنیاد پر ہے اور ان کا یہ خود ساختہ نظریہ ہے جس کی بنا پر ان کا تصور یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں مکمل طور پر آزاد ہونا چاہئے اور کسی بھی طرح اس پر کوئی دباؤ نہیں ہونا چاہئے، اور کوئی بھی شخص اس کو کسی کام کے کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا اور نہ ہی کسی کام سے روک سکتا ہے۔

بے شک یہ اصل اور بنیاد غیر منطقی اور ہر صاحب عقل وشعور کے نزدیک باطل اور غلط ہے کوئی بھی انسان مطلق اور بغیر کسی حد وقید کی آزادی نہیں رکھتا کہ جو کچھ بھی کرنا چاہے کوئی بھی قانون اس کو نہ روکے (یھاں پر قوانین سے مراد اخلاقی قوانین اور مستقلات عقلیہ نہیں ہیں جن کی اجرائی ضمانت نہیں ہے بلکہ ہماری مراد عام معنی میں قوانین حقوقی مراد ہیں جن کو نافذ کرنے کی حکومت ذمہ دار ہوتی ہے ) لھٰذا قوانین اور مقررات ہونا چاہئے اور عوام الناس کو ان پر عمل کرنے کے لئے آمادہ کیا جائے تاکہ عوام الناس کے حقوق کو ادا کریں ٹریفک قوانین ہونا چاہئے اور جو لوگ کبھی کبھی بھت سے لوگوں کی جان جانے کے باعث بنتے ہیں ان کے لئے سزائیں اور جرمانہ ہونا چاہئے۔

اس کے علاوہ کہ ہمیشہ سے پوری تاریخ میں اور ہر جگہ پر عوام الناس موجودہ قوانین کو قبول کرتے آئے ہیں جس کی بنا پر کسی کو بھی مطلق آزادی کا حق نہیں ہے اور نا ہی کسی دوسرے پر کسی طرح کا کوئی دباؤ ڈالنے اور اس کی آزادی کا ایک حصہ ختم کرنے کا حق ہے؛ اور عملی طور پر کوئی شخص بھی ایسا عقیدہ نہیں رکھتا ، کیونکہ مطلق آزادی کا مطلب مدنیت کا انکار کرنا اور وحشیانہ جنگل راج کو قبول کرناہے اگر انسان ایک اجتماع پسند موجود ہے تو اس کے لئے اجتماعی نظام کی ضرورت ہے اور عوام الناس کو ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کرنا چاہئے اور اس سلسلہ میں قوانین ہونا ضروری ہیں نیز مجرموں کے لئے سزائی قوانین مد نظر رکھے جائیں ، اور حکومت بھی ان کو نافذ کرنے کی ضامن ہو واقعاً مطلق آزادی ( اور یہ کہ کسی شخص کوکسی دوسرے کو کسی کام پر مجبور کرنے یا کسی کام سے روکنے کا کوئی حق نہیں ہے) کا نعرہ لگانے کا مطلب یہ ہے کہ پھر حکومت کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ انسان جو کچھ بھی کرنا چاہے کرسکے؛ کیونکہ حکومت بھی عوام الناس کی رائے سے بنتی ہے اور قوانین کا نافذ کرنا اس کی ذمہ داری ہوتی ہے لھٰذا اس طرح کا نظریہ قانون مداری، جامعہ مدنی، تمدن اور قوانین کی اتباع کی ضرورت سے ہم اہنگ نہیں ہے کیونکہ انسانی معاشرہ اور تمدن بشریت کی بنیاد یہ ہے کہ اس میں قوانین اور ان کو نافذ کرنے والی قدرت کا ہونا ضروری ہے، اور ظاہر سی بات ہے کہ حکومت قوانین کو نافذ کرنے کے لئے ان پر دباؤ ڈالے گی۔

حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ ضرورت کے وقت مجرموں کو قوانین پر عمل کرنے پر مجبور کرنے کے لئے اپنی طاقت کا استعمال کرے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دے، اور اگر صرف کہنے اور نصیحت کرنے پر کفایت کرے تو پھر وہ معلم اور مربیّ ہوگی حکومت نہیں ہوگی علماء اور واعظین کا وظیفہ عوام الناس کو اجتماعی اخلاق اور انسانی آداب کی رعایت کرنے کے لئے وعظ و نصیحت کرنا ہے، لیکن وہ ان وعظ ونصیحت کو نافذ کرنے کے لئے قدرت کا استعمال نہیں کرسکتے، اور قدرت کے زور پر لوگوں کو انسانی اخلاق کی رعایت پر مجبور کرنا بھی ان کی ذمہ داری نہیں ہے لیکن حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اگر ضرورت پڑے تو اپنے قدرت کے زور پر قوانین پر عمل کرائے اور اگر کوئی خلاف ورزی کرے تو اس کو سزائے اعمال تک پھونچائے اور یا اس پر جرمانہ کرے یا اگر کوئی خلاف ورزی کر کے بھاگ نکلناچاہے تو اس کا تعقب کرے اور اس کو پکڑکر اس پرحدود اور سزا جاری کرے اس بنا پر حکومت اور قوہ مجریہ کا وجود خود اس بات پر دلیل ہے کہ انسان مکمل اور مطلق طور پر آزاد نہیں ہے اور مطلق آزادی کا نظریہ باطل اور مردود ہے نیز انسانی تمدن اور اجتماعی زندگی کے ساتھ ہم اہنگ نہیں ہے اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ چاہے حکومت شھری قوانین جو خود شھریوں کی خواہش کے مطابق مرتب ہوتے ہیں یا اسلامی حکومت الہی قوانین جاری کرے۔

۷۔ حاکمیت کا خدا سے متصل ہونا

قارئین کرام ! گذشتوں بحثوں میں ہم نے اس بات کو ثابت کیا کہ قوانین کو نافذ اور جاری کرنے والا یا خود خداوندعالم کی طرف سے منصوب ہو یا خدا کی طرف سے اذن یافتہ ہو، کیونکہ قوانین کو جاری کرنے سے عوام الناس پر دباؤ ڈالا جاتا ہے اور ان کی آزادی کو محدود کیا جاتا ہے اور عوام الناس خداوندعالم کے مملوک اور بندے ہیں لھٰذا صرف خدا ہی ان میں تصرف کرسکتا ہے، اور ”ربوبیت تشریعی“ اور حاکمیت الہی کی بنا پر کسی بھی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ خدا کی اجازت او رمرضی کے بغیر اس کے بندوں پر فشار ڈالے اور ان میں تصرف کرے لھٰذا حکومت کو خدا کے بندوں میں تصرف کرنے یا ان پر دباؤ ڈالنے کے لئے ان مالک (خداوندعالم) سے اجازت لےنا چاہئے لیکن جو لوگ عوامی ڈیموکریٹک کے قائل ہیں اور معاشرہ کو ادارہ کرنے کے لئے قوانین مدنی کو کافی جانتے ہیں اور حکومت کو انہیں قوانین کو جاری اور نافذ کرنے کی ضامن مانتے ہیں ، چنانچہ کھتے ہیں کہ قوانین کو نافذ کرنے والے کا خدا کی طرف سے اذن یافتہ ہونا ضروری نہیں ہے؛ بلکہ عوام الناس سے ووٹ دیتے ہی وہ قوانین کو جاری کرسکتا ہے اور ضرورت کے وقت حکومت اپنی طاقت کو بروئے کار لاسکتی ہے، اور لوگوں پر دباؤ بھی ڈال سکتی ہے۔

یہ لوگ حکومت کے عوام الناس پر دباؤ ڈالنے کے سلسلہ میں کیا دلیل پیش کرتے ہیں ؟ ڈیموکریٹک اصول کے تحت اس طرح جواب دیا جاتا ہے کہ عوام الناس چونکہ حکومت کو ووٹ دیتی ہے چاہے وہ ممبر آف پارلیمنٹ کے انتخاب ہوں یا خود حکومت کے صدراتی انتخاب ہوں ، اور یہ ووٹ دینا ہی گویا حکومت کے قوانین اور حکومت کی طرف سے ان کو نافذ کرنے کو قبول کرنا ہے؛ چاہے حکومت ان کو جاری اور نافذ کرنے کے سلسلہ میں اپنی طاقت کا استعمال ہی کیوں نہ کرے لھٰذا حکومت کی طرف قوانین کو نافذ کرنے کے سلسلہ میں جو دباؤ دیا جاتا ہے وہ آزادی سے منافات نہیں رکھتا؛ کیونکہ اس حکومت اور نظام کو خود انھوں نے قبول کیا ہے، اور اس کے سامنے اپنا سر تسلیم کیا ہے اور یہ بالکل عقل اور وجدان کے اس حکم کی طرح ہے جو انسان کو بعض چیزوں کو انجام دینے اور بعض چیزوں سے پرہیزکرنے کا حکم دیتی ہے اور وہ آزادی سے مخالفت نہیں رکھتا، اور اس سے آزادی سلب نہیں ہوتی، کیونکہ یہ احکام خود ان کی اندرونی طاقت کی بنا پر ہوتے ہیں اور خود انہیں سے متعلق ہے اور ان پر تھونپا نہیں گیا ہے۔

البتہ ڈیموکریسی حکومتی نقشے، ان کی کار کردگی اور اختیارات نیز اپنی حقانیت اور مشروعیت کے لئے جو دلیل پیش کرتے ہیں ؛ ان تمام چیزوں پر بھت سے اشکالات ہوتے ہیں جو فلسفہ سیاست اور فلسفہ حقوق سے متعلق کتابوں میں بیان کئے گئے ہیں ہم یہاں پر کچھ اعتراضات بیان کرتے ہیں جو اس وقت مناسب ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کھ: دنیا میں کوئی بھی جگہ ایسی نہیں ہے جھاں پر قوانین کو اتفاقی طور پر قبول کیا جاتا ہے، یا متفق طور پر کسی کو وزیر اعظم یا صدر مملکت منتخب کیا جاتا ہو یہاں تک کہ خود جمھوری اسلامی (ایران) جو دنیا میں عوامی ملکوں میں بے نظیر ہے ، جس میں ۲/۸۹ فی صد لوگوں نے اس اسلامی نظام کو ووٹ دئے اور ۸/ ۱ فی صد لوگوں نے اس نظام کو ووٹ نہیں دئے جو اس وقت کی مردم شماری کے لحاظ سے وہ تعداد تقریباً دس لاکہ سے بھی زیادہ ہے جس وقت دنیا بھر میں رائج ڈیموکریسی اور عوامی نظام میں دس لاکہ سے زیادہ افراد اس نظام کے حق میں ووٹ نہ دیں تو حکومت کو عوام الناس کو اپنے قوانین اور احکام پر عمل کرنے پر مجبور کرنے کا کیا حق ہے؟ جبکہ کچھ لوگ کھتے ہیں کہ ہم اس نظام حکومتی کو نہیں مانتے تو پھر صرف عوام الناس کے اکثریت کا ووٹ حاصل کرنے سے حقانیت اور مشروعیت حاصل کرکے کس طرح اپنے قوانین کو اپنے مخالفوں پر نافذ اور جاری کرسکتی ہے؟

ڈیموکریسی اور عوامی نظام کے طرفدار افراد اس طرح کے سوالات کا جواب دیتے ہیں اور ایسا نہیں ہے کہ اس سلسلہ میں گفتگو اور بحث نہ ہوئی ہو لیکن ان کے جوابات اطمینان بخش نہیں ہیں ، اور بھت سے حل نہ ہونے والے اعتراض باقی رہتے ہیں ، مثال کے طور پر کھتے ہیں کہ وہ نظام حکومتی جو اکثریت کے ووٹوں سے وجود میں آیا ہے اور اس نظام کو اقلیت نے ووٹ نہیں دیا ہے ان کے بھی کچھ حقوق ہیں اور ان کے حقوق کا لحاظ رکھا جائے اور وہ لوگ اپنے شخصی اور ذاتی احوال میں اپنی مرضی کے مطابق عمل کرسکتے ہیں ۔

ہم کھتے ہیں کہ یہ کافی نہیں ہے کس دلیل کی بنا پر عام قوانین اور حکومت کے اجتماعی قوانین کو ان لوگوں پر تھونپاجاسکتا ہے؟ نیز اسے مختلف ٹیکس اور دوسرے اخراجات کس دلیل کی بنا پر لئے جاتے ہیں ؟

ان میں سے بعض لوگ یہ کھتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ آخر کار ہمیں معاشرہ کو آگے بڑھانے کے لئے کچھ تو کرنا ہی ہوگا اور ہمارے پاس معاشرہ کو چلانے کے لئے ڈیموکریسی حکومتی نظام سے بہتر کوئی نظام نہیں ہے۔

لیکن مذکورہ اعتراض کا جواب اسلامی نقطہ نظر سے یہ ہے کہ قانون گذاری کا حق خداوندعالم سے متعلق ہے یا جو افراد خداوندعالم کی طرف سے اذن یافتہ ہوں وہ خداوندعالم کے مقرر کردہ قوانین کے تحت قوانین بناسکتے ہیں اسی طرح عوام الناس پر حکومت کرنے اور ان کے لئے قوانین جاری کرنے کا حق اس شخص کو ہے جو خداوندعالم کی طرف سے منصوب ہو یا اس کی طرف سے اذن یافتہ ہو اس صورت میں وہ شخص خدا کے نمائندہ ہونے کے عنوان سے اور وہ شخص جو خداوندعالم کی طرف عوام الناس پر حکومت کرنے کے لئے مقرر کیا گیا ہے اس بات کا حق رکھتا ہے کہ قوانین کومعاشرہ میں نافذ کرے اگرچہ اس کو اپنی طاقت کا بھی استعمال کرنا پڑے اس کو حکومت کے مخالف لوگوں اور قانون توڑنے والوں کو بھی قوانین پر عمل کرنے پر مجبور کرنے کا حق ہے بےشک جو شخص خدا اور دین کا اعتقاد رکھتا ہے یہ تھیوری قابل قبول، منطقی اور عقلی اشکالات سے خالی ہے جو ڈیموکریسی حکومت پر وارد ہوتے ہیں لیکن جو شخص دین اور خدا کو نہیں مانتا اور الہی حکومت سے روگرانی کرتا ہے وہ کبھی بھی اس جواب کو بھی قبول نہیں کرے گا لیکن وہ عوام الناس جو مسلمان ہیں اور خداپر ایمان رکھتے ہیں ،الہی حاکمیت ایک عظیم تمنا ہے جو ان کی منطق عقل، خواہش وجدان اور انسانی اصول سے ہم اہنگ ہے اسی وجہ سے وہ تناقص اور ٹکراؤ جو ڈیموکریسی اور عوامی نظام میں پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ (ڈیموکریسی) نظریہ باطل ہوجاتا ہے،لیکن (وہ تناقض اور ٹکراؤ) اسلامی حکومت میں نہیں پایا جاتا؛ اور اس تھیوری اور نظریہ میں مکمل طور پر معاشرہ کی وحدت اور نظم و ضبط کا خیال رکھا جاتا ہے۔

اگر ہم اسلامی نظام حکومتی کا آج کل کی دنیا میں رائج ڈیموکریسی جو صرف عوام الناس کے ووٹوں کی بنیاد پر ہوتی ہے؛مقابلہ کریں تو ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ اسلامی نظام حکومت جو ہمارے عقیدہ کی بنا پر خداوندعالم سے نسبت رکھتا ہے اور عوام الناس کی حمایت اور ان کے رائے کا بھی لحاظ رکھا جاتا ہے؛ اس میں مزید اعتبار پایا جاتا ہے؛ کیونکہ ہم عوام الناس کے ووٹوں سے انکار نہیں کرتے اور ان کا احترام کرتے ہیں اور جمھوری اسلامی ایران کے بھت سے ادارے، سازمان وغیرہ عوام الناس کے ووٹوں سے تشکیل پاتے ہیں ؛ مثال کے طور پر صدر مملکت کا انتخاب، ممبر آف پارلیمنٹ کا انتخاب، خبرگان رہبری اور شوریٰ اسلامی شھر وروستا جو تمام عوام الناس کے ووٹوں سے بنائے جاتے ہیں اسی وجہ سے ہم عرض کرتے ہیں کہ ہمارا حکومتی نظام خداکی اجازت کی وجہ سے ہوتا ہے اور عوام الناس کی حمایت بھی اس میں شامل ہوتی ہے ، لیکن عوامی اور ڈیموکریسی نظام جو صرف عوام الناس کے ووٹوں پر استحکام پیدا کرتا ہے اگر ہمارے سامنے ڈیموکریسی تھیوری کو لایا جائے تو ان سے یہ کھیں گے کہ جو کچھ تمھاری حکومتوں میں ہے ہمارے یہاں بھی ہے اور ہم بھی عوام الناس کے ووٹوں کے معتقد ہیں اور ان کااحترام کرتے ہیں اس کے علاوہ منطقی اور عقلی لحاظ سے اسلامی حکومت کی تھیوری ڈیموکریسی تھیوری پر برتری اور فضیلت رکھتی ہے، اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ ڈیموکریسی نظام اندرونی اتحاد اور صحیح منطقی اور عقلی دلیل نہیں رکھتی،اور اس میں تناقض اور ٹکراؤ پایا جاتا ہے، لیکن ولایت فقیہ کی تھیوری عقلی اور منطقی لحاظ سے بھی مستحکم اور مضبوط ہے جس میں کسی بھی طرح کا کوئی تناقض نہیں پایا جاتا۔

خلاصہ گفتگو یہ ہے کہ بعض روشن فکر اور غلط فکر رکہنے والے کی طرف سے یہ اعتراض ہوتا ہے کہ کیوں خداوندعالم نے انبیاء علیہم السلام کو مبعوث کرکے، آسمانی کتابوں ، اور آسمانی شریعتوں کو نازل کرکے نیز فوجداری قوانین جیسے ھاتہ کاٹنا، جرمانہ کرنااور دوسری حدود وتعزیرات وغیرہ کو پیش کرکے عوام الناس کی آزادی کو سلب کرلیا ہے اور ان کوآزاد نہیں چھوڑا تاکہ جو کرنا چاہیں کرسکیں اور ان کو تحت فشار قرار دیا ہے؛ جبکہ اصل انسانیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ مکمل طریقہ سے آزاد ہو ، کیونکہ آزادی انسانی کی اہم خصوصیات میں سے ہے؟

قارئین کرام ! جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ مطلق آزادی ؛ انسانی حقیقت اور اس کے اجتماعی ہونے سے ہم اہنگ نہیں ہے اگر ہم نے یہ مان لیا کہ انسان کی زندگی اجتماعی ہے تو پھر اس کی اجتماعی زندگی اس بات کی تقاضا کرتی ہے کہ عوام الناس کے نظم و ضبط کے لئے لازم الاجراء قوانین اور مقررات کا ہونا ضروری ہے اور ان کو نافذ کرنے کے لئے ایک حکومت کا ہونا ضروری ہے۔

مذکورہ دلیل دنیا بھر کی تمام حکومتوں میں مقبول ہے اور اسلام بھی اس کو قبول کرتا ہے، اور ہمیشہ سے عوام الناس اس کا اعتقاد رکھتے تھے نیز اس پر کسی طرح کا کوئی اعتراض بھی نہیں ہوتا تھا لیکن جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ حکومت کی ضرورت، قوانین اور مقررات کا جاری کرنا، اور بعض حالات میں اپنی طاقت کو بروئے کار لانے کے سلسلہ میں ڈیموکریسی اور عوامی حکومت میں بحد کافی منطقی دلیل موجود نہیں ہے اور ان کی حکومتی تھیوری اندرونی اتحاد و انسجام نہیں رکھتی اور اس میں تناقض اور ٹکراؤ پایا جاتا ہے۔

لیکن اسلامی حکومتی نظام میں دلیل جَدلی بھی موجود ہے کیونکہ ہم بھی ڈیموکریسی اصول پر عمل کرتے ہیں اور عوام الناس کے ووٹوں کواہمیت دیتے ہیں اور بھت سے حکومتی ادارے عوام الناس کے ووٹوں ہی سے چلتے ہیں ، اسی طرح منطقی اور عقلی برہانی اصول پر مبنی ہوتی ہے؛ منجملہ یہ کہ اصل حاکمیت خدا کا حق ہے کیونکہ عوام الناس خدا کے بندے ہیں ، دوسروں کی حکومت اس وقت صحیح اور حق ہوسکتی ہے جب خدا کی مرضی اور اس کی اجازت سے ہو یعنی صرف خدا کی اجازت سے خدا کے بندوں پر حکومت کی جاسکتی ہے ، وہ حکومت جس میں الہی منشاء نہ ہو اور خداوندعالم کی طرف نسبت نہ ہو؛ تو ایسی حکومت باطل اور حق اور عقلی اصول کے برخلاف ہے۔

حوالے

(۱)سورہ کھف آیت ۲۹

(۲) سورہ انسان (دھر) آیت ۳

(۳)سورہ فاطر آیت ۴ ۲

(۴)سورہ نور آیت ۲


چھتّیسواں جلسہ

اسلامی قوانین قطعی طور پر جاری ہونے چاہئیں

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر

قارئین کرام! اس سے پہلے جلسہ میں ہم نے عرض کیا کہ انسانی عقل و وجدان ”باید ھا اور نباید ھا“ (کرنا چاہئے اور نہ کرنا چاہئے) انسان کے لئے معین کرتی ہے اور بھت کاموں کے بارے میں یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا کام نہیں کرنا چاہئے اور کیا کام نہ کرنا چاہئے جس کے نتیجہ میں انسان کی آزادی محدود ہوکر رہ جاتی ہے؛ لیکن چونکہ آزادی کی محدویت انسان کی اندرونی طاقت کے ذریعہ ہوتی ہے لھٰذا اس کی آزادی سلب ہونے کا سبب نہیں بنتا اور کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا ہے کہ انسانی عقل کی نصیحتوں سے اس کی آزادی سلب ہوجاتی ہے انسانی عقل اور وجدان کی اندرونی نصیحتوں کی طرح مسلمانوں کے لئے خداوندعالم کے اوامر اور احکام ہوتے ہیں جو خدا اور رسول کے ذریعہ صادر ہوتے ہیں جس طرح ہماری عقل کسی کام کو انجام دینے کا حکم کرتی ہے اسی طرح خداوندعالم نے بھی ہمارے لئے کچھ وظائف قرار دئے ہیں وہ وظائف جو واقعی مصالح (و فوائد)کی بنا پر صادر ہوتے ہیں چونکہ خداوندعالم ان کے بارے میں لامحدود علم رکھتا ہے اور ان کا سمجھنا ہماری عقل سے بالاتر ہے۔

گویا یہاں پر اندرونی عقل متصل کے علاوہ خداوندعالم عقل منفصل اور بے نھایت ؛ انسان کے کامل مصالح اور اس کے خطرات سے مکمل طور سے معین کرتا ہے اسی وجہ سے ہم سے یہ چاہتا ہے کہ فلاں کام کو انجام دیں کیونکہ یہ کام ہمارے حق میں ہے اور فلاں کام کو انجام نہ دیں چونکہ ہمارے لئے باعث ضرر ہے۔

انسانی آزادی کی یہ محدودیت جو خدا اور بندے کے درمیان موجود رابطہ کی بنا پر پیدا ہوتا ہے سیاسی یا حقوقی فلسفہ سے متعلق نہیں ہے اور سیاسی لحاظ سے بھی مشکل ساز نہیں ہے کیونکہ خدا پر ایمان رکہنے والے افراد اپنے عقیدہ کی بنا پر اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ کچھ کاموں کو انجام دیا جائے اور کچھ کاموں سے پرہیز کیا جائے، اور یہ لازمی عقیدہ اور کار کردگی معاشرہ سے متعلق نہیں ہے بلکہ انسان کے خدا سے رابطہ کی بنا پر ہے جیسا کہ انسان اپنی عقل سے رابطہ رکھتا ہے۔

۲۔ حکومت کی ضرورت اور انسان کی اجتماعی زندگی کا عکس العمل

قارئین کرام ! یہاں پر بحث یہ ہے کہ بھت سے کام خود انسان کے ذات اور اس کی دنیا و آخرت سے متعلق نہیں ہوتے بلکہ دوسروں کے لئے بھی موثر ہوتے ہیں اور ان کا فائدہ یا نقصان عوام الناس اور معاشرہ تک بھی پھونچتا ہے چنانچہ اس موقع پر دنیا بھر کے دانشور حضرات معتقد ہوجاتے ہیں کہ ایک ایسے نظام کا ہونا ضروری ہے جو معاشرہ کے لئے نقصان دہ چیزوں کی روک تھام کرسکے اور جو لوگ خلاف ورزی کریں ان کو سزائے اعمال تک پھونچائے۔

لھٰذا حکومت کی ضرورت اور یہ کہ ہمیں ایک طاقت کی ضرورت ہے جو معاشرہ کے نقصان کو روک سکے ، سماج کا نقصان نہ ہو اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا مل سکے، اسی وجہ سے حکومت کی ضرورت ہوتی ہے اسی بنا پر ”انارشیسٹ“ " Anarchiste " (فساد طلب) کے علاوہ دنیا بھر کے تمام صاحب علم سیاست اور حقوق کے رکھوالے حکومت کو ضروری سمجھتے ہیں ؛ لیکن اخلاقی اقدار اور وہ اچھائیاں اور برائیاں جن کو خود انسانی عقل اپنی ذاتی زندگی میں معین کرتی ہے ان کا سیاست اور حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یھاں پر ایک دوسری بحث یہ ہوتی ہے کہ عقل انسانی انفرادی ، ذاتی اور معنوی مسائل کے علاوہ آزادی کے ایک حصے کو محدود کرتی ہے توکیا حکومت بھی انسان کی آزادی کو محدود کرسکتی ہے؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ اجتماعی زندگی کے لحاظ سے حکومت کی خصوصیت اور اس کا تقاضا ہی آزادی کو محدود کرنا ہے، کیونکہ اگر کوئی حکومت کی ضرورت کو مانتا ہو لیکن آزادی کو محدود کرنے کو قبول نہ کرتا ہو تو اس کی بات تناقض گوئی پر مشتمل ہے حکومت قوانین اور مقررات مرتب کرتی ہے اور بعض کاموں کو جائز اور بعض کاموں کو ممنوع قرار دیتی ہے اور اگر کوئی ان کی خلاف ورزی کرے تو بعض کو مالی جرمانہ بعض کو زندان اور بعض کو دوسرے طریقوں سے سزائیں دیتی ہے۔

یھاں تک کہ بعض حکومتوں میں مثلاً اسلامی حکومت میں جسمانی سزائیں جیسے سزائے موت بھی قرار دی گئی ہے لھٰذا اس مقدمہ کو قبول کرنا ضروری ہے کہ بنیادی طور پر حکومت کا وجود اجتماعی آزادی کو محدود کرنے کے لئے ہی ہوتا ہے اور آزادی کے محدود نہ ہونے کا مطلب حکومت کا نہ ہونا ہے ہمیں یہ قبول کرنا چاہئے کہ اجتماعی زندگی کے لئے حکومت کی ضرورت ہے یعنی یہ قبول کریں کہ انسان کی سیاسی اور اجتماعی آزادی محدود ہو، یا یہ قبول کریں کہ انسانی اجتماعی زندگی کے لئے حکومت کی ضرورت نہیں ہے اور کسی کو دوسروں پر مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالنے کا بھی حق نہیں ہے؛ جس کے نتیجہ میں عوام الناس سیاسی اور اجتماعی مسائل میں مطلق آزادی سے بھرہ مند ہوسکیں ۔

قارئین کرام ! ہماری گذشتہ گفتگو کے پیش نظر یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ جو لوگ یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ ”آزادی حکومت اور قانون سے بالاتر ہے“ صرف ایک مغالطہ ہے حکومت کو چاہئے کہ آزادی کو محدود کرے اور اگر کوئی اس بات کاقائل ہوجائے کہ کوئی بھی حکومت انسانوں کی سیاسی اور اجتماعی آزادی کو محدود نہیں کرسکتی۔؛ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، اور حکومت بے کار، نامشروع اور غیر قانونی اور طاقت کے بل بوتے پر ہے۔

۳۔ حکومت کی مشروعیت کے منشاء کی طرف ایک اشارہاور ڈیموکریسی پر اشکالات

قارئین کرام ! اب جبکہ ہم نے یہ قبول کرلیا ہے کہ معاشرہ میں ایک قانونی اور مشروع حکومت کا وجود ضروری ہے جس سے سیاسی اور اجتماعی آزادی محدود ہوجائے، اس کے بعد ایک اساسی اور بنیادی مسئلہ ہمارے سامنے ہے: اول یہ کہ حکومت کس وجہ سے قانونی اور مشروعیت پیدا کرتی ہے اور حکومت کس حق کی بنا پر آزادی کو محدود کرتی ہے؟ دوسرے یہ کہ حکومت کس حد تک آزادی کو محدود کرسکتی ہے؟

گذشتہ بحث میں یہ بات واضح اور روشن ہوچکی ہے کہ ہمارے عقیدہ کی بنا پر اسلامی سیاسی نظریہ کے علاوہ حکومت کے لئے کوئی قابل قبول اور عقل پسند دلیل نہیں ہے کیونکہ اگر ہم یہ کھیں کہ حکومت کے زیر سایہ عوام الناس خود اپنی آزادی کو محدود کرتے ہیں البتہ اس چیز سے قطع نظر کہ اگر کوئی چاہے تو اپنی آزادی پر کنٹرول کرسکتا ہے اور پھر اس صورت میں حکومت کی کوئی ضرورت نہیں ہے تاکہ اس کی آزادی کنٹرول کی جاسکے،یہ نظریہ تناقض گوئی پر مشتمل ہے؛ کیونکہ جو شخص آزاد رہنا چاہتا ہے وہ کبھی بھی اپنی آزادی کو محدود کرنا نہیں چاہتا۔

سب سے آخری اور بہتر ین نظریہ جو دنیا بھر میں حکومت کی مشروعیت اور قانونی ہونے کے بارے میں بیان کیا جاتاہے اور دنیا بھر کے لوگ اس نظریہ کو قبول (بھی) کرتے ہیں یہ ہے کہ عوام الناس اپنے بعض حقوق حکومت کے حوالے کردیتے ہیں یعنی یہ انسان جو اپنی زندگی کا حاکم ہے اور اپنی زندگی کے لئے (مخصوص) قوانین بنا سکتا ہے اور اپنی آزادی کو محدود کرسکتا ہے، لیکن اپنے اس حق کو حکومت کے حوالے کردیتا ہے تاکہ اس کی اجتماعی زندگی کے لئے (بھترین) قوانین بنائے اور ان کو نافذ کرے یہ حکومت کو حاکمیت کا حق حوالے کرنا آج کل کی دنیا میں ڈیموکریسی کے نام سے مشھور و معروف ہے۔

قارئین کرام ! آج کل کی ڈیموکریسی تھیوری پر بھت سے اشکالات وارد ہوتے ہیں ، ہم ان میں سے صرف تین اشکالات پر اکتفاء کرتے ہیں :

پھلا اشکال:

کیا انسان کو اپنے اندر ہر طرح کا تصرف کرنے، اپنی آزادی کو محدود کرنے اور اپنے پر دباؤ ڈالنے کا حق ہے؟ یعنی کیا انسان کو حق ہے کہ خود اپنے کو سزا دے؟ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دنیا بھر میں آج کل کی تمام حکومتیں خلاف ورزی کرنے والوں کی سزا معین کرتی ہیں اور بعض جرائم کے لئے قید با مشقت قرار دیتی ہے اور بعض جرائم کے لئے جسمانی سزا، شکنجہ اور سزائے موت قرار دیتی ہے تو کیا انسان کو خود کُشی کا حق ہے کہ جس کے نتیجہ میں اپنے لئے سولی کا حکم حکومت کے حوالے کردے؟ اگر انسان خود کُشی کا حق رکھتا ہو تو وہ دوسرے کو اس طرح کے قانون بنانے کا حق دے سکتا ہے کہ اگراس نے بعض ایسے جرائم کو انجام دیا جن کی سزا سولی ہو اور حکومت اس کے حق میں جاری کرسکے بے شک انسان خود کُشی کا حق نہیں رکھتا کیونکہ انسان کو اپنی جان کا اختیار نہیں ہے تاکہ جب بھی چاہے ختم کردے، انسان کی جان خداوندعالم کی طرف سے ہے، اور کسی کو اپنی جان کو نقصان پھونچانے کا حق حاصل نہیں ہے حد تو یہ ہے کہ اسلامی نظریہ کے مطابق انسان اپنے بدن کو نقصان بھی نہیں پھونچا سکتا کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے بدن کو زخمی کرلے مثلاً اپنے ھاتہ یا انگلی کو کاٹ لے کیونکہ انسان کا بدن خداسے متعلق ہے اور انسان اس کا مالک اور صاحب اختیار نہیں ہے اس صورت میں کس طرح انسان حکومت کو سزائی اور فوجداری قوانین بنانے کا حق دے سکتا ہے اور حکومت کو مجرموں کو سزا دینے کی اجازت دے اور چور کے ھاتہ کاٹ دئے جائیں اور بعض مجرموں کو سزائے موت دیدی جائے؟

دوسرا اشکال:

فرض کرلیں کہ انسان اپنی جان اور بدن میں ہر طرح کا تصرف کرسکتا ہے اور اپنے بدن کو نقصان اور ضرر پھونچاسکتا ہے اور اپنی زندگی کو ختم کرسکتا ہے اور اس صورت میں اپنا یہ حق حکومت کے حوالے کردیتا ہے در حقیقت جو شخص پارلیمنٹ کو ووٹ دیتا ہے گویا قانون گذاری کے سلسلہ میں پارلیمنٹ کو اپنا وکیل بنادیتا ہے کہ اس کی اجتماعی زندگی کے لئے قوانین اور مقررات بنائے جن میں سے حقوقی اور سزائے قوانین (بھی) ہیں ؛ اسی طرح حکومت کو بھی اپنا وکیل بناتا ہے کہ اس پر قوانین نافذ کرے لیکن اس صورت میں صرف حکومت کو اپنے اوپر تصرف کا حق دیتا ہے، لیکن یہ حق نہیں دیتا کہ حکومت دوسروں پر بھی تصرف کرے اور ان کے حقوق اور ان کی آزادی کو سلب کرے بالفرض اگر انسان اپنے کو سزا دینے کاحق رکھتا ہو اور یہ حق حکومت کو دیدے کہ اگر اس نے خلاف ورزی کی تو اس کو سزا دے، تو اس صورت میں (بھی) صرف اپنا وکیل بنا سکتا ہے کہ اس کی طرف سے تصمیم گیری کرے اور اس پر عمل کرے لیکن دوسرووں کو سزا دینے کا حق (اسے نہیں ہے تاکہ یہ حق) حکومت کے حوالے کردے۔

ڈیموکریسی نظریہ کی رائج اصطلاح کا مطلب یہ ہے کہ عوام الناس حکومت کو وکالت دیتے ہیں اور اس کو اپنا وکیل اور نمائندہ قرار دیتی ہیں تاکہ وہ مختلف قوانین بنائے اور ان کو جاری کرے آج دنیا بھر میں رائج ڈیموکریسی حکومت اگر اکثریت سے جیت جائے یعنی ۵۱% یا اس سے زیادہ ووٹ حاصل کرلے تو پھر اسے حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ پورے معاشرہ کے لئے منجملہ ان لوگوں کے لئے (بھی) جنھوں نے حکومت کو ووٹ نہیں دیا ہے؛ قوانین بنائے اور ان کو لاگو کرے در حقیقت جب آدھے لوگوں نے نہ کہ سب نے حکومت کو ووٹ دئے ہیں صرف وہی ‎ لوگ حکومتی قوانین کو قانونی مانیں گے اور معاشرہ کے وہی ‎ لوگ ان قوانین کے سامنے اپنا سر تسلیم کریں گے لیکن یہاں پر ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تقریباً آدھے لوگوں نے حکومت کو ووٹ ہی نہیں دیا اور حکومت کو اپنا وکیل ہی قرار نہیں دیا کہ ان کی طرف سے قوانین بنائے اور ان کو جاری کرے، تو پھر اس صورت میں حکومت کو کیا حق حاصل ہے کہ وہ ان کی اجتماعی زندگی کے لئے قوانین بنائے ، اور کس وجہ سے وہ ان پر حکم چلائے؟ اور اگر انھوں نے خلاف ورزی کی ہو تو ان کو سزائے اعمالتک پھونچائے؟ لھٰذا طے یہ ہوا کہ حکومت کے لئے اپنے مخالفین اور جن لوگوں نے اس کو ووٹ نہیں دیا ہے ؛ ان پر حکومت کرنے، اپنی طاقت کے بل بوتے پر اپنی اطاعت پر مجبور کرنے کے لئے کوئی (بھی) عقل پسند راستہ موجود نہیں ہے۔

تیسرا اشکال:

قارئین کرام ! موکل کو اپنے وکیل کو معزول کرنے کا حق ہوتا ہے، یا اس کے بنائے ہوئے منصوبوں کو لغو اور بے اثر کرنے کا حق ہوتا ہے لھٰذا اگر کوئی شخص ممبر آف پارلیمنٹ کو ووٹ دے کر انتخاب کرلے لیکن اس کے بعد اپنی رائے سے پلٹ جائے تو وہ اپنے نمائندہ کو اس مقام سے معزول کرسکتا ہے اس کے علاوہ وکیل کو صرف موکل کی مرضی کے مطابق ووٹ دینے کا حق ہوتا ہے اور یہ حق نہیں ہوتا کہ اپنے موکلوں کی مرضی کے خلاف کوئی قدم اٹھائے اب اگر تمام عوام الناس یا ان میں آدھے افراد کسی قانون کے مخالف ہوں ، تو حکومت اس قانون کو کس حق کے تحت جاری کر سکتی ہے؟

خلاصہ یہ ہے کہ ڈیموکریسی حکومت کی مشروعیت اور قانونی ہونے کے لئے کوئی عقل پسند راستہ موجود نہیں ہے! اور اس سلسلہ میں ڈیموکریسی نظریہ کے طرفدار لوگ یہ کھتے ہیں کہ ملک اور معاشرہ کوچلانے کے لئے ڈیموکریسی نظریہ سب سے بہتر ین نظریہ ہے کیونکہ اگر اقلیت کی مرضی کے مطابق حکومت بنے اور ان کی مرضی کے مطابق عمل کرے تو پھر اکثر عوام الناس کا حق ضایع ہوجائے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ عوام الناس کی اکثریت مظاہرہ کرنے لگیں گے اور اس صورت میں ان کی شورش اور انقلاب کو روکنا مشکل ہوجائے گا یہی وجہ ہے کہ حکومت عوام الناس کی اکثریت سے انتخاب ہو اور ان کی مرضی کے مطابق عمل کرے؛ نہ یہ کہ حکومت عقل پسند مشروعیت رکھتی ہے۔

۴۔ اسلام میں حکومت کی مشروعیت اور اس کا قانونی ہونا

اسلامی نظریہ کے مطابق، وہ عقل جو انسان سے کھتی ہے کہ فلاں کام اچھا ہے اور فلاں کام بُرا ہے، وہی ‎ عقل جو انسان سے کھتی ہے کہ ماں باپ، استاد اور عوام الناس تم پر حق رکھتے ہیں لھٰذا ان کے حقوق کو ادا کرنا چاہئے، وہی ‎ عقل انسان سے کھتی ہے کہ وہ خدا جس نے تمام دنیا، تجھے او ر تمام مخلوقات کو پیدا کیا ہے اس کے حقوق دوسروں سے بھت زیادہ اور عظیم ہیں اور انسان کو چاہئے کہ ان کو ادا کرنا چاہتے اب چونکہ خداوندعالم نے ہمیں پیدا کیا ہے اور ہمارے وجود بلکہ تمام کائنات کا مالک ہے اور تمام چیزیں اس کے ارادہ سے وجود میں آتی ہیں ، اور اگر وہ ارادہ کرلے تو تمام چیزیں نابود ہوجائیں گی، اس نے اگر کسی کو قوانین نافذ کرنے کے لئے معین کیا ہے تو اس کا حکومت کرنا قانونی اور مشروعیت رکھتا ہے اور پھر عوام الناس کے قبول کرنے یا نہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے جس وقت وہ خدا جو ہم پر سب سے زیادہ حقوق رکھتا ہے(بلکہ تمام ہی حقوق اسی کی طرف سے ہیں ) اس نے حکومت اور ولایت کا حق پیغمبر، ائمہ معصومین علیہم السلام یا امام معصوم (ع) کے جانشین کو دیا ہے ، اس کو حق ہے کہ معاشرہ میں خدائی احکام نافذ کرے، کیونکہ یہ شخص اس ذات کی طرف سے منصوب ہوا ہے کہ کل ھستی، تمام اچھائیاں اور تمام حقوق وخوبصورتی اسی کی طرف سے ہے۔

اس بنا پر اسلامی حکومتی نظریہ میں جس میں حاکم اسلامی خداوندعالم کی طرف سے قوانین اور احکام الہی جاری کرنے کاحق حاصل ہوتا ہے،لھٰذا وہی ‎ مجرموں اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزائے اعمال تک پھونچا سکتا ہے، اور اس میں کسی بھی طرح کا کوئی تعارض نہیں ہے اور یہ نظریہ عقلی اصول پر (بھی) منطبق ہے البتہ یہ نظریہ ان لوگوں کے نزدیک قابل قبول ہے جو خداوندعالم پر ایمان رکھتے ہیں ورنہ اگر کوئی شخص خدا کو قبول نہ رکھتا ہو تو پھر وہ شخص اس نظریہ کو بھی قبول نہیں کرے گا، اور ہم پہلے اس کے لئے خداوندعالم کے وجودکا اثبات کریں اور اگر وہ خدا پر ایمان لے آتا ہے تو پھر اس موقع پر اس سے بیٹہ کر حکومت کے سلسلے میں اسلامی سیاسی نظریہ کے بارے میں بحث کریں لھٰذا جو افراد جو خدا ، رسول اور دین کو مانتے ہیں ان کے لئے بہتر ین راہ حکومت کی مشروعیت اور قانونی ہونے کے لئے یہی ہے کہ کل کائنات کا مالک خدا؛ معاشرہ کے مصالح کی رعایت کے لئے حق حکومت اپنے کسی (خاص) بندے کو عنایت کرتا ہے (تاکہ ا نسان معاشرہ کی خیر وبھلائی کے ساتھ آخرت کی سعادت بھی حاصل ہوجائے )

اسلامی معرفت کے پیش نظر اسی طرح اسلامی سیاسی نظریہ کی شناخت کی بنا پر معلوم یہ ہوتا ہے کہ انسانوں کے ایک دوسرے پر حقوق سے بالاتر خدا وند عالم حق ہے خداوندعالم کا، اس بنا پر اگر خداوندعالم اپنے کسی بندے کو کوئی کام کرنے کا حکم دے چاہے اس کے نقصان میں ہی کیوں نہ ہو تو اس کو انجام دینا چاہئے؛ البتہ خداوندعالم اپنے بے انتھا لطف وکرم اور مھربانی کی وجہ سے اپنی مخلوقات کے ضرر اور نقصان میں امر ونھی صادر نہیں کرتا، وہ کسی کا نقصان نہیں چاہتااور اس کے اوامر ونواہی انسان کی دنیا وآخرت کی مصلحت اور اس کی بھلائی میں ہوتے ہیں اور اگر خداوندعالم کے احکام کی تعمیل کی بنا پر انسان کو اس دینا میں کچھ نقصان بھی ہوتا ہے مثال کے طور پر اگر چند روزہ دنیا میں بعض لذتوں اور نعمتوں سے محروم رہتا ہے تو خداوندعالم اس کو آخرت میں جبران کردے گا اوردنیا میں ہوئے اس کے نقصان کے ھزاروں برابر اس کو ثواب اور اجر عنایت فرمائے گا۔

۵۔ انبیاء علیہم السلام اور عوام الناس کی ہدایت کا طریقه

خدا وندعالم نے اپنی طرف سے انبیاء علیہم السلام کو بھیجا تاکہ عوام الناس کو دین اور دنیا کے خیر وبھلائی کی ہدایت کریں خدا کی طرف سے بھیجا ہوا نبی پہلے تو حق (خدا) کی طرف دعوت دیتا ہے اور خدا کی آیات کو لوگوں کے سامنے تلاوت کرتا ہے اور جب ان کو خدا کی شناخت اور معرفت ہوجاتی ہے اور وظائف اور تکالیف قبول کرنے کا زمینہ فراہم کرتا ہے در حقیقت اس مرحلہ میں نبی یا پیغمبر عقل منفصل کا کردار ادا کرتا ہے ، اور اس سلسلہ میں کسی بھی طرح کا کوئی زور اور دباؤ نہیں دیا جاتا اور ان کی آزادی سلب کئے بغیر ان کی عقل وفہم کو بلند کرتا ہے تاکہ ان میں آزادانہ طور پر انتخاب کا زمینہ فراہم ہوجائے اور آزادانہ طور پر اسلام اور اس کے عظیم احکام کو قبول کرنے کا مادہ پیدا ہوجائے۔

پیغمبر اس لئے مبعوث ہوتا ہے تاکہ لوگوں کو حق و باطل کی شناخت کرائے اور ان کو حق و باطل کے راستہ پر لاکر کھڑا کردے تاکہ اپنی مرضی اور آزادی سے یا راہ حق وحقیقت کا انتخاب کرلے یا باطل کا راستہ اپنالے اس کے لئے وہ اپنی طاقت کے ذریعہ رسالت کو قبول نہیں کراتا یا دباؤ ڈال کر اپنے نظریات لوگوں سے قبول نہیں کراتا،(کیونکھ) یہ ارادہ الہی کے برخلاف ہے، خداوندعالم کا ارادہ یہ ہے کہ عوام الناس حق وباطل کے راستہ کو پہنچان کر آزادانہ طور پر کسی ایک کا انتخاب کریں لھٰذا معلوم یہ ہوا کہ خدا کا بھیجا نبی پہلے مرحلہ میں عوام الناس سے رابطہ برقرار کرتا ہے اور ان کو اپنے سے مانوس کرتا ہے ان سے گفتگو کرتا ہے نیز عقل دلائل ، معجزات اور آیات الہی کے ذریعہ اپنا پیغام ان تک پھونچاتا ہے، اور حق (وحقیقت) کی پہنچان کراتا ہے۔

انبیاء علیہم السلام خداوندعالم ، اس کی آیات اور الہی نظام کو مستقر ہونے کے سلسلہ میں عوام الناس پر کسی طرح کا کوئی سختی اور دباؤ نہیں ڈالتے تھے، ان کے اہداف میں لوگوں کی آزادی اور آگاہانہ انتخاب پر خاص توجہ رکھی جاتی تھی ، در حقیقت عوام الناس کی آزادی کا خیال دوسرے نظاموں سے زیادہ رکھا جاتا تھا، ان کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ عوام الناس دعوت خدا اور نظام کو قبول کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہوں اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ انسان کو خلق کرنے سے خداوندعالم کا ہدف اور مقصد یہ ہے کہ انسان آزاد اور خود انتخاب کرنے والا ہو اور اپنے مکمل اختیار اور آزادانہ طریقہ سے راہ حق کا انتخاب کرے اور اسی کی ہدایت حاصل کرے، انبیاء علیہم السلام کا دعوت خدا اور نظام الہی کا قیام کے لئے اپنی طاقت اور زور کا استعمال کرنا؛ خداوندعالم کے ہدف اور مقصد سے ہم اہنگ نہیں ہے اگر طے یہ ہو کہ انسان کسی راستہ کو مجبوری کی حالت میں یا طاقت کے زور پر قبول کرے تو ہوسکتا ہے کہ وہ اس راستہ کی حقانیت کو نہ پہنچانے، یہاں تک کہ شاید اس راستہ کے صحیح (بھی) نہ مانتا ہو؛ کسی بھی راستہ کی حقانیت اور اس کے صحیح ہونے کومعین کرنے کے لئے پہلے اس کے بارے میں شناخت اور معرفت ضروری ہے اور آزاد طور پر اس راستہ کو انتخاب کرنے کا زمینہ ہموار کیا جائے اور پھر خداوند عالم کے اس ہدف کے تحت کہ انسان علم و آگاہی کے ساتھ آزادانہ طور پر حق و حقیقت کا راستہ انتخاب کرے، خداوندعالم نے معجزہ کے ذریعہ راہ حق کو عوام الناس پر نہیں تھونپا ہے اور اس کی مرضی بھی یہ نہیں ہے کہ معجزہ کے ذریعہ لوگوں کو آزادنہ انتخاب سے روک دے اور ان کی مرضی میں تصرف کرے تاکہ غیر اختیاری طور پر راہ حق کوقبول کرلیں ، اوراس کے مقابلہ میں سست پڑجائے، اسی وجہ سے خداوندعالم نے ارشاد فرمایا ہے:

( لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَفْسَکَ الاَّ یَکُونُوا مُؤْمِنِینَ إِنْ نَشَا نُنَزِّلْ عَلَیْهمْ مِنَ السَّمَاءِ آیَةً فَظَلَّتْ اعْنَاقُهمْ لَها خَاضِعِینَ ) (۱)

”(اے رسول)شاید تم (اس فکرمیں ) اپنی جان ھلاک کر ڈالوگے کہ یہ (کفار)مو من کیوں نہیں ہو جاتے اگر ہم چاہیں تو ان لوگوں پر آسمان سے کوئی ایسا معجزہ نازل کر یں کہ ان لوگوں کی گر دنیں اس کے سامنے جھک جائیں “

۶۔ عوام الناس کی ہدایت میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت

قارئین کرام ! اس بات پر توجہ رہے کہ خداوندعالم نے عوام الناس کی ہدایت کے لئے اپنی طرف سے انبیاء بھیجے تاکہ راہ حق و باطل میں شناخت کرائیں ، تاکہ وہ صحیح راہ کی شناخت اور معرفت کے بعد آزادانہ طور پر اس صحیح راستہ کا انتخاب کریں ؛ بعض مستکبر اور منفعت طلب لوگ جو لوگوں کی جھل و نادانی سے ناجائز فائدہ اٹھاکر بھت زیادہ مال و دولت اکھٹا کرلیتے ہیں وہ لوگ انبیاء علیہم السلام کی دعوت حق اورلوگوں کی ہدایت میں اپنے شیطانی اہداف کی بنا پر مانع ہوتے ہیں ، اور انبیاء علیہم السلام سے مقابلہ کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں ، اور انبیاء علیہم السلام کو عوام الناس سے گفتگو بھی نہیں کرنے دیتے یا ان کو آیات الہی بھی نہیں سنانے دیتے تاکہ کھیں ایسا نہ ہوں کہ یہ لوگ ہدایت پاجائیں یہ لوگ اپنی طاقت کے بل بوتے پر عوام الناس کو بھت زیادہ آزار واذیت پھونچاتے ہیں اور ان کے لئے بھت سی مشکلیں پیدا کردیتے ہیں تاکہ عوام الناس ہدایت سے فیضیاب نہ ہوسکیں یہ لوگ جو عوام الناس کی ہدایت میں مانع ہوتے ہیں خداوندعالم نے ان کوقرآن مجید میں ”ائمہ کفر“ اور فتنہ وفساد کی جڑ کھا ہے ، اور حکم دیا کہ پیغمبر اور ان کے ساتھی ان سے مقابلہ کریں اور ان کو اپنے راستہ سے ہٹا دیں ؛ کیونکہ ان کا وجود اور ان کی شیطانی اور باطل حرکتیں خدائی اہداف میں مانع ہوتی ہیں کیونکہ خداوندعالم تو یہ چاہتا ہے کہ تمام انسان ہدایت سے سرفراز ہوجائیں اور راہ حق و باطل کو پہنچان لیں ، لیکن یہ لوگ مانع ہوتے ہیں :

ارشاد رب العزت ہوتا ہے :

( فَقَاتِلُوا ائِمَّةَ الْکُفْرِ إِنَّهمْ لاٰ ایْمَانَ لَهمْ لَعَلَّهمْ یَنتَهونَ ) (۲)

”تو تم کفر کے سربر آ وردہ لوگوں سے خوب لڑائی کرو ان کی چار قسموں کا ہرگز کوئی اعتبار نہیں ہے تاکہ یہ لوگ اپنی شرارت سے باز آجائیں “

مثال کے طور پر اگر کوئی شخص سڑک پر گاڑی چلارہا ہے اور اس کے راستہ میں ایک بڑا سا پتھر موجود ہو تو اس کو اپنا راستہ طے کرنے کے لئے اس پتھر کو سڑک سے اٹھاکر دور پھیکنا پڑے گا، اور اس سلسلہ میں اپنی تمام تر کوششوں کو اس میں لگادے گا تاکہ اس پتھر کو اپنے راستہ سے ہٹا دے اصولی طور پر ہر صاحب عقل انسان اپنے راستہ میں آنے والی رکاوٹ کو دور کرتا ہے خداوندعالم بھی اپنے اس ہدف کے تحت کہ انسان ہدایت یافتہ ہوجائے؛ حکم دیا ہے کہ پیغمبر اور ان کے اصحاب ، بلکہ دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ ہدایت کے سلسلہ میں موجود دنیا بھر کے استکبار ، بادشاہ، ستمگر، دولت پرست اور تمام شیطانی قدرتوں کے ساتھ جنگ کریں اور ان کو نابود کردیں ۔

خلاصہ یہ کہ : خداوندعالم کا فرمان یہ ہے کہ انسانوں کی ہدایت میں جو لوگ مانع ہوں (اہل کفر وباطل)ان کے ساتھ طاقت کے ذریعہ مقابلہ کیا جائے اور شدت پسندی کو ان کے حق جائز قرار دیا گیا ہے خداوندعالم نہیں فرماتا کہ ان کے ساتھ بیٹہ کر مسکرائیں اور خوش لھجہ، تبسم ، التماس اور التجا کریں کہ آپ حضرات اجازت دیں تاکہ ہم عوام الناس کی ہدایت کریں ! اگر وہ اس درخواست کو قبول کرنے والے ہوتے اور اپنی خوش لھجہ زبان سے اپنی برے چال چلن سے رکنے والے ہوتے تو پھر وہ مستکبر ہی کیوں ہوتے ان میں بنیادی طور پر استکبار ، حیوانیت اور سرکشی ان کے اندر شامل ہے، وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ دوسرے انسانوں کو اپناغلام بنا نا چاہتے ہیں اور ان کاخون پی لینا چاہتے ہیں ، وہ اس چیز کی اجازت نہیں دیتے کہ ان کے منافع خطرہ میں پڑجائیں ،اسی وجہ سے یہ لوگ نہیں چاہتے کہ عوام الناس ہدایت یافتہ ہوجائیں اور انبیاء (علیہم السلام) کے فرمانبردار بن جائیں مومنین اور ہدایت کے طلبگاروں کے لئے اس کے علاوہ اور کوئی راستہ باقی نہیں ہے کہ ان لوگوں سے شدت اور تشدد کے ساتھ برتاؤ کیا جائے، اسی وجہ سے خداوندعالم اپنے پیغمبر اکرم (ص) کو قرآن مجید میں حکم دیتا ہے کہ ان لوگوں سے جنگ کریں اور تشدد اور غصہ کے ساتھ ان کا مقابلہ کریں وہی ‎ پیغمبرجس کی صفت خداوندعالم یوں بیان فرماتا ہے:

( فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنْ اللهِ لِنْتَ لَهمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیظَ الْقَلْبِ لاَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِکَ ) (۳)

”(تو اے رسولیہ بھی)خدا کی ایک مھربانی ہے کہ تم (سا) نرم دل )سردار) ان کو ملا اور تم اگر بد مزاج اور سخت دل ہوتے تب تو یہ لوگ(خدا جانے کب کے )تمھارے گروہ سے تتر بتر ہو گئے ہوتے “

دوسری جگہ پیغمبر اکرم (ص) کو حکم ہوتا ہے کہ کفار (مشرکین اور منافقین) سے شدت کے ساتھ مقابلہ کریں اور ان سے جنگ کریں ، اور شدت پسندی کو ان کے حق میں جائز جانتا ہے، ارشاد ہوتا ہے:

( یَاایُّها النَّبِیُّ جَاهدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِینَ وَاغْلُظْ عَلَیْهمْ وَمَاوَاهمْ جَهنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ) (۴)

”اے رسول کفار کے ساتھ (تلوار سے)اور منافقوں کے ساتھ (زبان سے) جھاد کرواور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکا نا تو جھنم ہی ہے اور وھ( کیا)جگہ ہے “

ایک دوسری جگہ خداوندعالم اپنے پیغمبر (ص) کوحکم دیتا ہے کہ جو لوگ مسلمانوں کی جان اور مال کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں ان کے سات شدت پسندی سے برتاؤ کریں ، اور جیسے وہ کریں ان کو ویسا ہی جواب دیں ، اور بھت زیادہ شدت کے ساتھ جنگ کریں ، ارشاد ہوتا ہے:

( وَقَاتِلُوا فِی سَبِیلِ اللهِ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَکُمْ وَاقْتُلُوهمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوهمْ وَاخْرِجُوهمْ مِنْ حَیْثُ اخْرَجُوکُمْ وَالْفِتْنَةُ اشَدُّ مِنْ الْقَتْلِ وَلاَتُقَاتِلُوهمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّی یُقَاتِلُوکُمْ فِیه فَإِنْ قَاتَلُوکُمْ فَاقْتُلُوهمْ کَذَلِکَ جَزَاءُ الْکَافِرِینَ ) (۵)

”اور جو لوگ تم سے لڑیں تم (بھی) خدا کی راہ میں ان سے لڑو اور زیادتی نہ کرو (کیونکہ ) خدا زیادتی کرنے والوں کو ہرگز دوست نہیں رکھتا ۔اور تم ان مشرکوں ) کو جھاں پاو مار ہی ڈالو اور ان لوگوں نے جھاں (مکہ سے)سے تمھیں شھر بدر کیا ہے تم بھی انہیں باہر نکال دو۔اور فتنہ پر دازی (شرک) خونریزی سے بھی بڑہ کے ہے اور جب تک وہ لوگ (کفار) مسجد حرام (کعبھ) کے پاس تم سے نہ لڑیں تم بھی ان سے اس جگہ نہ لڑو پس اگر وہ تم سے لڑیں تو (بے کھٹک) تم بھی ان کو قتل کرو۔کافروں کی یہی سزا ہے۔“

۷۔ الہی اقدار کی حفاظت اور مغربی کلچر سے روک تھام ضروری ہے

دشمنوں سے مقابلہ اور جھاد، شجاعت، غیرت، حمیت، دینی تعصب، دین سے رغبت، فداکاری اور ایثار وغیرہ بہتر ین اور عظیم ترین اسلامی اقدار ہیں جن کی وجہ سے مسلمانوں میں دینی پہنچان، حیات، استقلال اور آزادی وجود میں آتے ہیں لیکن اس کے مقابلہ میں مغربی کلچر (والے) یہ چاہتے ہیں کہ کچھ جھوٹے اور خود ساختہ اقدار جیسے مطلق طور پر شدت پسندی کو منع کرنا (وغیرہ) کے ذریعہ ہماری سلامی اقدار کو ہم سے چھینا چاہتے ہیں ؛ اسی وجہ یہ کھتے ہیں کہ شدت پسندی مطلق طورپر مذموم اور محکوم ہے!!

جی ھاں ہم بھی مانتے ہیں کہ ابتداء میں کسی کے ساتھ شدت پسندی مذموم اور محکوم ہے ، لیکن کیا شدت پسندی کے مقابلہ میں شدت پسندی یا ظلم وستم، قتل وغارت، جان و مال اورناموس پر تجاوز ، اور ان سب سے مہم اسلام (جس کے لئے مسلمانوں کی جان بھی قربان ہے) ؛ سے خیانت کرنے والوں کے مقابلہ میں بھی شدت پسندی بری اور محکوم ہے؟ مسلّم طور پر اس طرح کی شدت پسندی نہ صرف یہ کہ مذموم اور محکوم نہیں ہے بلکہ ضروری اور ہر مسلمان کی خواہش ہے۔

تو پھر کیوں ہم سے یہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے دینی اقدار کو پامال ہوتے ہوئے دیکھیں جو کہ ہمیں جان سے بھی زیادہ عزیز ہے ان کو تمھارے ھاتھوں برباد ہوتا ہوا دیکھیں اور اپنے منہ پر ھاتہ رکہ لیں اور کچھ نہ کریں اور ان کے ساتھ بیٹہ کر مسکرائیں ؛ پس خداوندعالم نے انسان میں غضب کو کس لئے پیدا کیا ہے؟ کس لئے ہمارے اندر قھر وغضب کے احساس کو پیدا کیا؟ آیا کچھ شدت پسند، خائن اور زر خرید غلاموں کے مقابلہ میں کچھ بھی اقدام نہ کریں یہاں تک کہ اگر ہمارا دین بھی خطرہ میں پڑ جائے کچھ بھی نہ بولیں اور شدت پسندی کو نہ اپنائیں ؛ بلکہ آرام سے بیٹھے ہوئے مسکراتے رہیں ، پس یہ آیت کریمہ کس کے لئے ہے:

( وَاقْتُلُوهمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوهمْ )

کس لئے خداوندعالم نے یہ ارشاد فرمایا ہے:

( مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ وَالَّذِینَ مَعَه اشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَهمْ ) (۶)

”محمد (ص) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ انکے ساتھ ہیں وہ کفار کے لئےسخت ترین اور آپس میں انتھائی رحم دِل ہیں “

کھتے ہیں کہ اسلام تشدد اور شدت پسندی کا مخالف ہے، توآپ حضرات کھیں کہ اسلام کس شدت پسندی کا مخالف ہے؟ بعض مبہم چیزوں کو مطلق اقدار کے عنوان سے پیش کرتے ہیں تاکہ حقیقت کو چھپاسکیں ، تاکہ شھادت طلبی، ایثار اور شجاعت وغیرہ کو لوگوں سے چھین لیں ، اور ان کی جگہ بے توجھی، دین سے لاابالی اور دینی اور ملّی غیرت وغیرہ جیسے چیزوں کو عوام الناس میں رائج کریں ۔

ھمیشہ تساہل(سستی) اور تسامح (ذو معنیٰ باتیں کرنا)کی باتیں کرتے ہیں ، کیا جو شخص ہماری جان کے لئے خطرہ ہو اس کے مقابلہ میں تساہل اور تسامح سے کام لیا جاسکتا ہے؟! کیا وہ شخص جو انسانی ناموس میں خیانت کرے اس کے ساتھ تساہل اور تسامح سے کام لیا جاسکتا ہے؟ کیا وہ شخص جو ہمارے دین کو جو ہماری جان سے بھی زیادہ عزیز ہے ؛ ہم سے چھین لینا چاہتا ہو اس کے مقابلہ میں تساہل اور تسامح سے کام لیا جاسکتا ہے؟!

اس بنا پر ، اسلامی حکومت کی تشکیل سے پہلے عوام الناس کی ہدایت کرنا ضروری ہے ، اور اس مرحلہ میں عوام الناس سے سخت لھجہ میں گفتگو نہیں ہونا چاہئے، اور سختی اور طاقت کے بل بوتے پر اسلامی حکومت کے تحقق کے لئے قدم نہ اٹھایا جائے اسی طرح اس مرحلہ میں لوگوں سے جھوٹے وعدے، فریب کاری اور گمراہ کنندہ وسائل کے ذریعہ عوام الناس کی صحیح ہدایت میں مانع ہونا صحیح نہیں ہے اس مرحلہ میں بھر پور سنجیدگی، بردباری، حوصلہ، صبر اور بھرپور وضاحت ، صداقت اور منطق اور عقل کی بنیاد پر عوام الناس سے گفتگو کی جائے تاکہ وہ حقیقت تک پھونچ جائیں اور غفلت وجھالت سے نجات پیدا کرلیں البتہ اس سلسلہ میں پیش آنے والی تمام تر رکاوٹوں کو راستہ سے ہٹایا جائے، اور جو لوگ عوام الناس کی ہدایت میں مانع ہوتے ہوں ان سے مقابلہ کیا جائے تاکہ عوام الناس کے لئے حق وحقیقت کے راستے کو انتخاب کرنے کا راستہ فراہم ہوجائے۔

جس وقت عوام الناس کا ایک گروہ حق کی طرف ہدایت پاجائے تو پھر اس حق کے پیروکاروں میں اضافہ کرنے کے لئے اور ااسلامی اور الہی معاشرہ کی وسعت کے لئے عوام الناس میں ثقافتی کارکردگی اور راہنمائی صبر وتحمل کے ساتھ ہوتی رہیں ؛ جیسا کہ خداوندعالم بھی اپنے پیغمبر کو قرآن کریم میں اپنی رسالت کے پھونچانے میں صبر وتحمل کی طرف دعوت دیتا ہے اور آپ سے یہ چاہتا ہے کہ سختیوں ، بری بھلی باتوں ، گالیوں ، سخت برتاؤ اور اذیتوں کے مقابلہ میں صبر وتحمل سے کام لیں تاکہ عوام الناس ہدایت یافتہ ہوجائیں :

( فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اوْلُوا الْعَزْمِ مِنْ الرُّسُلِ ) (۷)

” اے رسول )پیغمبروں میں سے جس طرح اولوالعزم (عالی ہمت)صبر کرتے رہے تم بھی صبر کر۔

۸۔ قوانین کو جاری کرنے اور دشمن نظام سے بھر پور مقابله

قارئین کرام ! جس وقت خداوندعالم کی مرضی کے مطابق اسلامی حکومت تشکیل پائے، تو معاشرہ میں اسلامی احکام اور قوانین جاری ہوں اور دوسری حکومتوں کی طرح اس میں قوہ قھریہ (پولیس یا فوج) سے استفادہ کیا جائے، نیز حکومت کے پاس خلاف ورزی کرنے والوں سے مقابلہ کے لئے کافی اسباب و وسائل موجود ہوں ، اور مجرموں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے زندان، جرمانہ اور دوسری سزائیں معین کی جائیں ، اور بیرونی دشمنوں نیز اندرونی فتنہ وفساد سے روک تھا م کے لئے پولیس اور فوج کا انتظام کیا جائے؛ کیونکہ حکومت صرف اخلاقی طور پر وعظ ونصیحت سے اپنا کام نہیں چلا سکتی وہ حاکم جس کے پاس طاقت اور قدرت نہ ہو اور فقط وعظ ونصیحت اور تذکر پر اکتفاء کرے وہ اخلاقی معلم تو ہوسکتا ہے حاکم نہیں ہو سکتا!!

پس جس قوت اسلامی حکومت اور قانونی حکومت تشکیل ہوجائے اور عوام الناس اس حکومت کو قبول کرلیں اور اس کی بیعت کرلیں ، نیزحکومت بھی اسلامی قوانین اور احکام کو جاری کرنے اورملکی مسائل میں رسیدگی کرنے میں مشغول ہوجائے، تو اگر کوئی گروہ فتنہ وفساد اور آشوب برپا کرے تو اس سے مقابلہ ضروری ہے جیسا کہ ہماری اسلامی فقھی کتابوں میں وارد ہواہے کہ فتنہ وفساد اور آشوب برپا کرنے والوں (جن کو اصطلاحاً ”اہل بغی“ (بغاوت کرنے والے) کھا جاتا ہے) سے جھاد واجب ہے جس طرح حضرت علی علیہ السلام نے فتنہ وفساد پھیلانے والوں سے مقابلہ کیا ہے اور ان کو اپنی جگہ بٹھا دیا ہے۔

حضرت رسول اکرم (ص) کی وفات غم ناک کے بعد عوام الناس حضرت علی علیہ السلام کی بیعت پر آمادہ نہیں ہوئی جس کے نتیجہ میں حکومت دوسروں کے ھاتھوں میں چلی گئی، (اس وقت بھی) حضرت علی علیہ السلام نے لوگوں کی ہدایت فرمائی اور ان کی راہنمائی کی ہے ، اور حضرت نے ۲۵/ سال سے اپنے اس وظیفہ کو انجام دیا اور حکومت (وقت) سے کنارہ کشی اختیار کرلی لیکن جس وقت اسلامی ممالک مثل مصر، عراق اور مدینہ منورہ کے ایک بڑے مجمع نے آپ کی خدمت میں حاضری دی اور آپ کی بیعت کی ، اور آپ کو اپنا امام اور مقتدا تسلیم کرلیا، اس وقت حضرت علی علیہ السلام نے اپنے اوپر حجت تمام دیکھی اور عوام الناس پر حکومت کرنے کا اپنا فریضہ سمجھا کیونکہ اس عظیم مجمع کی بیعت کے پیش نظر جس کا وجود تاریخ میں بے نظیر ہے ؛ حکومت سے دور رہنے کی کوئی دلیل باقی نہیں رہی ، لھٰذا آپ حکومت قبول کرنے پر مجبور ہوگئے؛ حالانکہ آپ کو حکومت سے ذرا بھی دلچسپی نہ تھی ، اور صرف عوا م الناس کی بیعت کے ذریعہ الہی وظیفہ کا احساس کرتے ہوئے حکومت کی باگ ڈور اپنے ھاتھوں میں سنبھالی، جیسا کہ آپ نھج البلاغہ میں ارشاد فرماتے ہیں :

”اَمَا وَ الَّذِی فَلَقَ الْحَبَّةَ وَ بَرَا الْنَسَمَةِ لَولٰا حُضُورُ الْحَاضِرِ وَ قَیَامُ الْحُجَّةِ بِوُجُوْدِ النَّاصِرِ، وَمَا اَخَذَ اللّٰه عَلَی الْعُلَمَاءُ اَنْ لٰا یُقَارُّوْا عَلٰی کَظَّةِ ظَالِمٍ وَلاٰ سَغَبِ مَظْلُوْمٍ لَاَلْقَیْتُ حَبْلَها عَلَی غَارِبِها وَلَسَقِیْتُ آخِرَها بِکَاْسِ اَوَّلِها وَلَاَلْفَیْتُمْ دُنْیَاکُمْ هٰذِه اَزْهدَ عِنْدِیْ مِنْ عَفَطَةِ عَنْز “ (۸)

دیکھو! اس ذات کی قسم جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور ذی روح چیزیں پیدا کیں ،اگر بیعت کرنے والوں کی موجودگی اور مدد کرنے والوں کے وجود سے مجھ پر حجت تمام نہ ہو گئی ہوتی ، اور خدا وندعالم نے علماء سے یہ عھد و پیمان نہ لیتا کہ وہ ظالم کی شکم پری اورمظلوم کی گرسنگی پر سکون وقرار سے نہ بیٹھیں تو میں خلافت کی باگ ڈور اسی کے کندھے پر ڈال دیتا اور اس کے آخر کو پہلے والے کے کاسہ سے سیراب کرتا اور میری نظر میں تمھاری دنیا کی قیمت بکری کی ناک سے بھتے پانی کی طرح ہے۔

لیکن ابھی حضرت علی علیہ السلام کی حکومت کو صرف چند ہی دن گذرے تھے کہ دنیا پرست اور تبعیض اور بے عدالتی چاہنے والوں نیز اپنے کو دوسروں سے بہتر جاننے والے حضرت علی علیہ السلام کی عدالت کو برداشت نہ کرسکے اسی طرح وہ لوگ جو حضرت علی علیہ السلام کی حکومت میں اپنی شیطانی تمناؤں اور غاصب اور غیر قانونی حکومت کو خطرہ میں دیکہ رہے تھے ، اسی طرح وہ سادہ لوح مسلمان جو صحیح اسلامی نظریہ کو سمجھنے سے قاصر تھے نیز ان کی فکر پست اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے حضرت علی علیہ السلام کی عظیم حکمت عملی کو نہیں سمجھ رہے تھے، یہ تمام لوگ ایک کے بعد ایک فتنہ وفساد اور آشوب برپا کرنے لگے ، چنانچہ جنگ جمل، جنگ صفین اور آخر کار جنگ نھروان رونما ہوئیں اس موقع پر حضرت علی علیہ السلام ایک اسلامی حاکم کے عنوان سے ؛ جب آپ نے الہی اور اسلامی قوانین و احکام کو خطرہ میں دیکھا تو آپ کا کیا وظیفہ تھا؟ کیا آپ ھاتہ پر ھاتہ رکھے تماشا دیکھتے رہتے!! اور فتنہ وفساد اور آشوب کی روک تھام نہ کرتے؟! کیونکہ تشدد اور شدت پسندی محکوم اور مذموم ہے؟!!

لیکن حضرت علی علیہ السلام نے اس وقت اسلامی حکومت اور اس کے ارکان کی حفاظت کے خاطر تلوار اٹھالی اور باغی اور سرکش لوگوں کے ساتھ جنگ کی ، جنگ جمل میں بھت سے صحابی رسول یہاں تک کہ طلحہ و زبیر جو مدتوں تک رسول اکرم (ص) کے ساتھ مل جھاد کرتے تھے؛ کو قتل کیا حالانکہ زبیر آپ کا پھوپھی زاد بھائی تھا اور اس کی جانفشانی اور آنحضرت (ص) کے بزم میں اپنے صلاحیت کی وجہ سے آنحضرت (ص) نے اس کے لئے دعا فرمائی ہے، لیکن حضرت علی علیہ السلام نے نہیں فرمایا: کہ اے زبیر ! تو میرا پھوپھی زاد بھائی ہے اور دونوں دوستی کرلیں ، اور میں تجھ سے نرم رویہ اختیار کروں گا اور تیری چاہتوں کو پورا کردو ں گا بلکہ آپ نے اس عقیدہ کے ساتھ کہ چونکہ میری حکومت حق ہے لھٰذا جو لوگ اس کے مقابلہ میں سرکشی کریں گے ان کو پسپا کردیا جائے لھٰذا آپ نے پہلے ان کو وعظ اور نصیحت فرمائی لیکن جب انھوں نے نہ مانا تو پھر تلوار کا سھارا لیا اور ان کو پسپا کردیا اور بھت سے لوگوں کو قتل کر ڈالا کیونکہ آپ کی نظر میں خدا اور مسلمانوں کا حق ذاتی مفاد سے کھیں بالاتر تھا اور اسلامی نظام کو باقی رکہنے کے لئے تشدد اور شدت پسندی کو ضروری سمجھا؛ کیونکہ اسلامی نظام کی حفاظت کے لئے تشدد اور شدت عمل کو واجب سمجھتے تھے۔

۹۔ سازش کرنے والوں اور زر خرید غلاموں کے مقابلہ میں عوام الناس کی ہوشیاری

قارئین کرام ! اسلامی انقلاب سے پہلے جب اسلامی حکومت تشکیل نہیں ہوئی تھی حضرت امام خمینی رحمة اللہ علیہ اپنی تقاریر اور مکاتبات کے ذریعہ عوام الناس کی ہدایت اورراہنمائی کرتے تھے اور حکومت کو نصیحت فرمایا کرتے تھے؛ لیکن جس وقت لوگوں نے امام خمینی (رہ) کی بیعت کی اور اسلام پر اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار ہوگئے اور اسلام دشمن طاقتوں کو ملک سے باہر نکالنا چاہتے تھے اور اس ملک میں اسلامی و الہی حکومت کے خوھاں تھے، اس وقت حضرت امام خمینی (رہ) نے حکومت کی ذمہ داری قبول کی اور فرمایا:

”میں اس ولایت کی مشروعیت کی بنا پر جس کو خداوندعالم نے مجھے عطا فرمائی ہے نیز آپ حضرات کی مدد اور کمک کے ذریعہ اس حکومت کا جنازہ نکال دونگا اور خود حکومت بناؤں گا۔“

یعنی امام خمینی (رہ)ولی فقیہ کے عنوان سے عوام الناس پر حکومت کا حق رکھتے تھے اور آپ کی ولایت الہی مشروعیت اور قانونیت رکھتی تھی، لیکن جب تک عوام الناس میدان میں نہ آئی اور آپ کی بیعت نہ کی ، اس وقت تک اس ولایت نے عینی تحقق پیدا نہ کیا؛ لیکن عوام الناس کے میدان میں آنے اور انقلابی صحنوں کم نظیر حاضر ہونے اور راہ اسلام و رہبری کی اتباع کرنے میں وفاداری اور جانفشانی کے اعلان کے بعد ، وہ الہی ولایت عینی تحقق موجود ہوگئی اور اسلامی حکومت تشکیل ہوگئی۔

بے شک کہ اس اسلامی حکومت کو لاکھوں شھیدوں کا خون دینا پڑا ہے جس کی وجہ سے آج بھی باقی ہے اور بھت عظیم فدارکار اور انقلاب کے فداکاروں کے ذریعہ اس ملک کی سر حد اور انقلابی اقدار کی حفاظت میں مشغول ہیں لھٰذا چند زر خرید غلاموں کے ذریعہ اس کو کوئی نقصان نہیں پھونچنا چاہئے ہمارے عوام الناس اس چیز کی کبھی اجازت نہیں دیں گے کہ چند خود فروش مزدوروں کے ذریعہ ؛ اسلامی مصالح، لوگوں کی جان ومال اور ناموس خطرہ میں پڑ جائیں جو لوگ اس مرحلہ میں (۱۸ تیر ماہ ۱۳۷۸ھجری شمسی کے بعد سے(۹) کچھ آشوب بپا کرنے والے مزدوروں اور دوسروں کی روٹیوں پر پلنے والے سڑکوں پر نکل کر آشوب بپا کرنے لگے اور لوگوں کے گھروں ، دکانوں وغیرہ کو آگ لگائیں اور بھت زیادہ لوٹ مار کریں ، لوگوں کی ناموس اور عزت کو پامال کریں ، تو کیا ان تمام لوگوں کا سختی کے ساتھ مقابلہ نہ کیا جائے؟!! اور کیا اسلام تشدد کی اجازت نہیں دیتا؟! یا یہ کہ ان لوگوں نے اسلام کو نہیں پہنچانا ، یا پھر وہ مسلمانوں کے ساتھ خیانت کرنا چاہتے ہیں !!

ھنسی اور لوریاں دے کر تو آشوب گری سے روک تھام نہیں کی جاسکتی، ان کے مقابلہ میں پولیس، تشدد اور شدت عمل کے ذریعہ برتاؤ کیا جائے اور طاقت کے بل بوتے پر ان کی روک تھام ہوسکتی ہے، جس کے بعد پھر کبھی ملک میں اس طرح کے درد ناک حوادث رونما نہ ہونے پائیں کیونکہ ہمارے برادران ان لوگوں کے فریب میں نہیں آئیں گے جو کھتے ہیں کہ تشدد اور شدت پسندی ہمیشہ اور مطلقاً ممنوع ہے، ان کی باتوں کو نہیں مانیں گے اور اگر آج تک صبر کیا اور خون جگر پیا ہے تو وہ مقام معظم رہبری حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای مد ظلہ کی طاعت اور فرمانبر داری کی وجہ سے ہے، ورنہ تو جب ہمارے فداکار لوگوں کو یہ احساس ہوجائے کہ مقام معظم رہبری فلاں کام پر دل سے راضی نہیں ہیں تو پھر ان کی مرضی کے لئے اپنی جان کی بازی بھی لگاسکتے ہیں چنانچہ پوری دنیا نے دیکھا کہ جب مقام معظم رہبری نے ساکت رہنے اور آرام سے رہنے کے لئے کھا تو سبھی لوگ آپ کی اطاعت اور عمومی مصالح کی بنا پر سب بیٹھے دیکھتے رہے اور خون جگر پیتے رہے اور جب تک آپ کا اشارہ نہ ہوا سڑکوں پر نہ آئے اور مظاہرے نہ کئے، لیکن جیسے ہی انقلاب سے وفاداری کے اعلان کا وقت آپہنچا تو دشمنوں کو دکھادیا کہ ہم ہمیشہ اسلام اور انقلاب سے دفاع کرنے کے لئے حاضر ہیں ، پورے ملک میں وہ عظیم مظاہرے ہوئے جن پردنیا بھر کے لوگوں اور خود دشمنوں نے تعجب کیا۔

حوالے

(۱)سورہ شعراء آیت ۳ تا ۴

(۲) سورہ توبہ آیت ۱۲

(۳)سورہ آل عمران آیت ۱۵۹

(۴) سورہ توبہ آیت ۷۳

(۵) سورہ بقرہ آیت ۱۹۵۰ تا ۱۹۱

(۶) سورہ فتح آیت ۲۹

(۷)سورہ احقاف آیت ۳۵

(۸)نھج البلاغہ خطبہ نمبر ۳

(۹)یہ تھران یونیورسٹی میں ہونے والے حادثہ کی طرف اشارہ ہے جس کی آگ وھاں سے شروع ہوکر شھر کے مختلف مقامات تک پہنچی اور جس میں امریکہ غلاموں نے قتل وغارت اور بربریت کا وہ کھیل کھیلا جس سے انسانیت لرز اٹھی یہاں تک کہ عبادت گاہوں اور مساجد میں آگ لگادی گئی (مترجم)


سیتیسواں جلسہ

تشدد کے سلسلہ میں ایک تحقیق

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر

ہم نے عرض کیا کہ اسلامی حکومت کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ معاشرہ میں اسلامی قوانین نافذ کرے اور امن وامان برقرار رکھے نیز ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ رکھے ظاہر سی بات ہے کہ اس سلسلہ میں پولیس ، طاقت اور تشدد سے کام لیا جائے گا اور جو لوگ اسلامی ملک سے دشمنی اور عناد کی بنا پر جنگ وجدال کرتے ہیں ؛ ان سے پیار ومحبت اور نرمی کے ساتھ مقابلہ نہیں کیا جاسکتا، یا وہ لوگ جو اندرون ملک شیطانی حرکتوں کے تحت فساد کرتے ہیں ؛ ان سے پیار ومحبت کے ذریعہ ان سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔

ہم نے یہ بھی عرض کیا کہ جس طرح سے اسلامی قوانین رحمت ومحبت اور مھربانی پر مبنی ہوتے ہیں اور اسلام پیام دوستی ومحبت دیتا ہے؛ اسی طرح خاص مواقع پر طاقت، سخت رویّےاور خشونت (شدت پسندی)سے بھی کام لیا جاتا ہے، اور اسلام مجرموں اورفساد کرنے والوں کے ساتھ مقابلہ کرنے اور سزا دینے کا بھی حکم دیتا ہے لیکن چونکہ یہ بحث ایک فرعی تھی اور اس بحث کا شمار ہماری اصلی بحث میں نہیں ہوتا، لھٰذا مختصر طور پر اس سلسلہ میں گفتگو ہوئی لیکن حق مطلب ادا نہیں ہوسکا لیکن اس سلسلہ میں اخباروں اور جرائد میں ہونے والے عکس العمل (ری ایکشن) سے اندازہ ہوتا ہے کہ محبت اور تشدد کے سلسلہ میں مزید تفصیلی بحث کی ضرورت ہے، لھٰذا اس جلسہ کے لحاظ سے اس موضوع پربعض چیزیں بیان کرتے ہیں ۔

۲۔ دشمنوں کی طرف اسلام کے خلاف پروپیگنڈا اور کارکردگی

ایک زمانہ سے اسلام کے دشمنوں نے دین اسلام کو تشدد اور شدت پسندی کا دین قرار دے رکھا ہے اور کھتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے، کیونکہ اسلام نے دشمنوں سے جھاد اور مقابلہ کو قابل ستائش قرار دیا ہے، چنانچہ قرآنی بھت سی آیات جھاد کے بارے میں موجود ہیں ، اور جھاد کو فروع دین قرار دیا گیا ہے۔

چنانچہ بعض لوگ اس مسئلہ سے نا جائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کھتے ہیں کہ اسلام، تشدد اور شدت پسندی کا دین ہے ، اور اسلام پھیلانے کے لئے طاقت اور تلوار کا استعمال کیا گیا ہے، یعنی لوگوں نے ڈر کر اسلام کوقبول کیا ہے ان کے مقابلہ میں بعض لوگوں نے اس نظریہ سے متاثر ہوتے ہوئے دفاعی لھجہ اختیار رکرتے ہوئے کھا کہ اسلام میں تشدد نہیں ہے، اسلام ہمیشہ پیار ومحبت کی دعوت دیتا ہے، اور جھاد یا شدت پسندی کے مسائل ایک خاص زمانہ اور خاص مقام سے مخصوص تھے ، عصر حاضر میں ان مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے، اور ان کو (آج کل) بیان بھی نہیں کرنا چاہئے، آج کل صرف پیار محبت اور جھک کر باتیں کرنا چاہئے!

ہماری ملت جانتی ہے کہ دشمن کن اغراض ومقاصد کے تحت اسلام کے خلاف پروپیگنڈاکررہا ہے لھٰذا ہماری ملت دشمن کے پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہوتی لیکن توجہ رہے کہ مسئلہ یہی پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اس سے آگے قدم رکھا جاتا ہے ، اور جیسا کہ آپ حضرات جانتے ہیں کہ آج اسلامی دشمن طاقتیں نئے نئے طریقوں سے اسلام کے خلاف پروپیگنڈاکررہی ہیں اور ہر روز مختلف طریقوں ؛ جیسے ادبی، ھنری اور دیگر طریقوں سے اسلامی معارف میں شبھات و اعتراضات وارد کررہی ہیں ، تاکہ ہماری ثقافت میں خطرناک برے آثار پھیلادیں تاکہ عوام الناس دینی سلسلہ میں کمزور ہوجائیں یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں نفسیاتی اور ذاتی تجربات شھادت دیتے ہیں ۔

ہم نے اپنی آنکھوں سے اپنے اسلامی معاشرہ اور دوسرے اسلامی ملکوں کو دیکھا ہے کہ جس وقت اسلام دشمن طاقتیں اپنے مختلف طریقوں سے مسلسل پروپیگنڈاکرتی ہیں اور کسی ایک معاشرہ کو تحت تاثیر قرار دیتی ہیں ، یہاں تک کہ آنے والی نسل (جودشمن کے مد نظر ہوتی ہے) دشمن کی تبلیغ سے متاثر ہوجاتی ہے، اور جوان طبقہ دشمن کے پروپیگنڈے کی زد میں آکر اپنی دینی اور قومی حیثیت بھول جاتا ہے اور جیسا کہ دشمن چاہتا ہے اپنی اصلی حیثیت کو بھول کر دشمن کی پیش کردہ صورت اپنالیتا ہے۔

اگر ہم عصرِ حاضر کی ثقافت خصوصاً روشن خیال رکہنے والوں کے یہاں رائج ثقافت کو دیکھیں تو دشمن کے پروپیگنڈے کے آثار واضح طور پر دکھائی دیں گے، اور ان چیزوں کا بھی مشاہدہ کرلیں گے جو دشمن نے ہماری یہاں رائج کی ہیں ہماری ثقافت میں دشمن کی رائج کردہ چیزوں میں سے آزادی اور ڈیموکریسی ہیں جس کو مطلق اقدار کی صورت میں ہمارے معاشرہ میں رائج کردیا گیا ہے، اور ان چیزوں کے بارے میں اس قدر پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ گویا ایک بت ہے کہ کوئی اس ڈیموکریسی کے خلاف بولنے کی جرائت نہیں کرتا اور نہ ہی اس کے نقائص کو بیان کرسکتا ہے حالانکہ خود مغربی دانشور وں نے ڈیموکریسی کے سلسلہ بھت زیادہ اور سخت تنقید کی ہے، اور آج بھی بھت سے سیاسی فلاسفہ اور سماج ماہرین مختلف مواقع پر ڈیموکریسی کے برخلاف گفتگو کیا کرتے ہیں نیز اس سلسلہ میں کتابیں بھی لکھی جاتی رہی ہیں ، اور یہی نہیں بلکہ ان میں سے بعض (بھترین) کتابوں کا دنیا کی مختلف مشھور زبانوں میں ترجمہ ہوتا ہے منجملہ فارسی (و اردو) ، ان کو عوام الناس پڑھتے ہیں ؛ لیکن اس زمانہ میں دشمنوں کی طرف سے ڈیموکریسی کے اس طرح مقدس جلوہ دکھائے جاتے ہیں کہ جھان سوم میں کوئی اس کے خلاف بولنے کی جرائت نہیں کرتا اور اس سلسلہ میں تنقید نہیں کرسکتا، اگر کوئی مغربی ممالک میں رائج ڈیموکریسی اور آزادی کے بارے میں زبان کھولے تو اس کو بیک ورڈ اور ظلم واستبداد جیسی تھمتوں سے نوازا جاتا ہے۔

۳۔ مغربی ممالک میں حقوق بشر کا جھوٹا دعویٰ

بے شک مغربی باشندے اپنے پروپیگنڈوں کے پیچھے ایک خاص مقصد چھپائے ہوئے ہیں ، اور اپنے منافع کے خاطر نیز انقلابی ممالک کو اپنے تحت لانے کے لئے ہمیشہ ڈیموکریسی، آزادی اور حقوق بشر کا دم بھرتے ہیں ، اور اگر کوئی ان کی مخالفت کرتا ہے تو اس پر ڈیموکریسی کی مخالفت اور حقوق بشر کی پامالی کی تھمت لگاتے ہیں حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ظالم ترین اور ڈکٹیٹر" Dictaor " حکومتوں کے ظلم وستم کے مقابلہ میں کوئی عکس العمل ( ری ایکشن) نہیں دکھایا جاتا، کیونکہ اس حکومت کے ذریعہ ان کے مقاصد پورے ہوتے ہیں بلکہ خود وہ حکومتیں انہیں کی پٹھو ہوتی ہیں ۔

قارئین کرام ! ان کے جھوٹے دعوں کا پول تو اس وقت کھلتا ہے جب کسی ملک میں ڈیموکریسی اصول وضوابط کے تحت انتخابات ہوتے ہیں لیکن اسلام پسند پارٹی اکثریت میں آجاتی ہے اور وہ پارٹی کامیاب ہوجاتی ہے تو اس وقت ان انتخابات کو باطل قرار دیدیا جاتا ہے؛ اور فوجی بغاوت کے ذریعہ فوجی حکومت قائم کردی جاتی ہے اور ہر روز ھزاروں بے گناہ لوگوں کا خون بھایا جاتا ہے، اور آزادی خواہ مسلمانوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے اور حقوق بشر کے یہ جھوٹے نعرے لگانے والے نہ صرف یہ کہ اس حکومت کو حقوق بشر پامال کرنے اور آزادی کی رعایت نہ کرنے کا الزام نہیں لگاتے بلکہ جلد ہی اس حکومت کو تسلیم بھی کرلیتے ہیں اور ان کے کارناموں کی تائید کرتے ہیں اور بھت ہی وسیع پیمانے پر ان کی حمایت کرتے ہیں ۔

یا جس وقت صھیونیزم ”سر زمین فلسطین“ پر قبضہ کرتے ہیں اور لوگوں کو اپنے گھروں سے باہر نکال دیتے ہیں اور ھزاروں بے گناہ لوگوں کا خون بھاتے ہیں اور لاکھوں لوگوں کو اپنے ملک سے باہر نکال دیتے ہیں ،اس وقت کوئی نہیں کھتا کہ ان کا یہ کام حقوق بشر کے خلاف ہے بلکہ طاقتور ممالک اور سوپر پاور ممالک اس غاصب اور قابض حکومت کو تسلیم کرلیتے ہیں ، جبکہ یہ ظالم اور غاصب حکومت اس سر زمین کے اصلی مالکوں کا قتل عام کرتی ہے اور ان کے گھروں کو مسمار کر رہی ہے، لیکن ان سب کو دیکہ حقوق بشر کا نعرہ لگانے والے کوئی اعتراض نہیں کرتے صرف کبھی کبھار اقوام متحدہ اپنی سیاست کے تحت کوئی بے معنی اور غیر موثر حکم صادر کرتی ہے اور عملی طور پر اس غاصب وظالم حکومت کو گرین لائٹ دکھاتی ہے کہ اگر اس حکم نامہ پر عمل نہ بھی کیا تو کوئی بات نہیں کوئی مشکل پیش آنے والی نہیں ہے اور کسی طرح کا کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا۔

جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دسیوں حکم نامہ اسرائیل غاصب کے خلاف دئے جاچکے ہیں لیکن اس نے کسی پر بھی عمل نہیں کیا ہے اورہمیشہ ان کی مخالفت کرتا رہا ہے ، لیکن نہ یہ کہ کبھی اس کو سزا دی گئی بلکہ انعام کے طور پر اس کو کروڑوں ڈالر کی (بلا عوض) امداد کی جاتی ہے اور بڑے بڑے اسلحے، مھلک ھتھیار (آئیٹم بم) بنانے کی ٹکنالوجی دی جاتی ہے توکیا کوئی حکومت اور حقوق بشر کا دفاع کرنے والوں نے اس غاصب اسرائیل کے بارے میں جو انسانوں کے روز مرہ کے حقوق بھی پامال کر رہا ہے اور اقوام متحدہ کے حکم ناموں کو بھی نہیں مانتا او رہمیشہ ان کی مخالفت کرتا ہے، کیا اس کو کبھی کسی نے ڈیموکریسی اور حقوق بشر کا مخالف قرار دیا؟!!

۴۔ اسلامی نظام پر تشدد طلب ہونے کا الزام اور اس کے خلاف سازشیں

ہمارے ملک میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد (اسلام دشمن طاقتوں نے) تشدد کے سلسلہ میں بھت زیادہ پروپیگنڈا کیا ہے، سب سے پہلے یہ کھا کہ شاہ پہلوی کی قانونی حکومت کے سامنے قیام کرنا تشدد ہے اور انقلاب کی کامیابی کے بعد، جب منافقین گروھوں نے عوام الناس کو اپنے غیر اسلامی اہداف سے ہم اہنگ نہ پایا تو انھوں نے انقلاب اور عوام الناس سے مقابلہ شروع کردیا اور دینی اور سیاسی مہم شخصیتوں کو قتل کرنے لگے یہاں تک کہ بے گناہ لوگوں پر بھی رحم نہ کیا، جس کے بعد عوام الناس نے بھی ان سے مقابلہ شروع کردیا اور ان کو ملک سے بھگادیا؛ اس روز سے آج سے مغربی ممالک ہمارے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں اور کھتے ہیں کہ منافقین سے ایسا برتاؤ کرنا تشدد ہے! کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ ان منافقین کے گروھوں نے کس قدر ہمارے ملک کو نقصانات پھونچائے ہیں کوئی مہم شخصیتوں کے قتل کی مذمت نہیں کرتا ہے، لیکن جس وقت ایک ملت اپنے دین اور ملک سے دفاع کرنے کے لئے قیام کرتی ہے اور ٹرورسٹوں " Terroristes "کو پسپاکرتی ہے اور ان میں سے بعض لوگوں کو سزائے اعمال تک پہنچاتی ہے اور بعض کو ملک بدر کرتی ہے تو اس وقت شور و غل مچاتے ہیں کہ یہ سب کچھ حقوق بشر کے خلاف ہے!!

اسی طرح جب ۱۸ تیر ماہ ۱۳۷۸ئہ شمسی کے بعد بعض فتہ وفساد برپا کرنے والے بیت المال، عوامی مال دولت، بینک، ذاتی اور سرکاری گاڑیوں یہاں تک کہ مسجدوں میں بھی آگ لگادیتے ہیں اور عورتوں کو بے آبرو کرتے ہیں عورتوں کے سروں سے چادر چھین لیتے ہیں ؛ اس وقت کوئی نہیں کھتا کہ یہ کام حقوق بشر کے خلاف ہے ، بلکہ ان لوگوں کو اصلاح طلب اورڈیموکریسی و آزادی کا طرف دار کھا جاتا ہے! لیکن اگر اسلامی جمھوری ایران اور فدا کار بسیجی ( عوامی رضاکار فوج) بے خوف وخطر ان سے مقابلہ کرتی ہے اور دین و شرف اور اپنے محبوب نظام سے دفاع کے لئے اٹہ کھڑی ہوتی ہے اور فتنہ وفساد پھیلانے والوں کا قلع وقمع کرتی ہے تو اس موقع پر یہ لوگ فلک شگاف نعرے لگاتے ہیں کہ ایران میں آزادی نہیں ہے، اور ایرانی نظام حکومت ڈکٹیٹر شب" Dictaorship " ہے!!

مغربی ممالک اپنے دعوی کے باطل ہونے کو جانتے ہیں لھٰذا انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد سے اسلامی نظام کو درہم و برہم کرنے کے لئے اس طرح کے پروپیگنڈے کیا کرتے ہیں اگرچہ ہم ان کے نحس مقاصد اور ارادوں سے بے خبر نہیں ہیں ، لیکن وہ اپنے تجربات کی بنا پر اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس طرح ایک نظام کو سرنگوں کیا جاتا ہے چاہے پچاس سال کے بعد ہی کیوں نہ ہو، (اگرچہ ان کا یہ خیال باطل اور بے ہودہ ہے) لھٰذا وہ ابھی سے اس سلسلہ میں مختلف طریقوں سے بھت زیادہ کارکردگی کر رہے ہیں ان کا مقصد یہ ہے کہ انقلاب کی ایک دو نسل گذرنے کے بعد جنھوں نے انقلاب کو نہیں سمجھا ہے اور انقلاب سے پہلے مفاسد اور شاہ پہلوی کے ظلم و جور کو نہیں دیکھا ہے اور اسلامی نتائج سے آگاہی نہیں رکھتے نیز حضرت امام خمینی (رہ) اور ان کے ساتھیوں کے تربیت یافتہ نہیں ہے، یہ سبب ان کے پروپیگنڈوں سے متاثر ہوجائیں گے؛ تاکہ اسلامی حکومت کو سرنگون کرکے اپنی مرضی کی حکومت تشکیل دیں جس کو آج کی اصطلاح میں ڈیموکراٹک " Democratic "کھا جاتا ہے۔

۵۔ لوگوں میں انتخابات سے بائیکاٹ کا راستہ ہموار کرنا

یہ لوگ اپنے نحس مقاصد تک پہنچنے کے لئے حساب شدہ منصوبہ بندی کرتے ہیں اور ثقافتی بنیادی فعالیت انجام دیتے ہیں اور موثر و کارگر وسائل کو بروئے کار لاتے ہیں انقلاب کی کامیابی کے بعد سے (خصوصاً آخری چند سالوں سے) جن الفاظ سے استفادہ کرتے ہیں ، ان میں سے تساہل (سستی) تسامح (لاپرواہی) اور مدارا(تال میل) ہیں جن کو مطلق اقدار کے عنوان سے پیش کرتے ہیں ، اور اس کے مقابلہ میں قاطعیت اور تشدد کی مطلق طور پر مذمت کرتے ہیں ۔

اس نظریہ کی دلیل یہ ہے کہ انھوں اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ جو چیز نظام اسلامی کے بقاء کی ضامن ہے وہ ہے عوام الناس خصوصاً جوانوں اور بسیجیوں کا اسلام اور رہبری سے لگاؤ اور محبت ہے ؛ یہاں تک کہ ان اقدار کی حفاظت (جو کہ لاکھوں شھیدوں کے خون کی برکت سے حاصل ہوا ہے) ؛ کے لئے اپنی جان سے کھیلنے کے لئے حاضر ہیں یہ لوگ علم و ادب اور ثقافتی پروپیگنڈوں سے عوام الناس کی شجاعت، ایثار، بھادری، معنوی طاقت اور دینی غیرت کو چھین لینا چاہتے ہیں اسی وجہ سے منفی ، غیر انسانی اور ظالمانہ تشدد جو دنیا بھر میں ہوتی رہتی ہے، اور جس کے تباہ کن نتائج ہر روز دیکہنے میں آتے رہتے ہیں ؛ اس کو ہمارے سامنے بیان کرتے ہیں تاکہ یہ سمجھائیں کہ تشدد کے یہ برے نتائج ہوتے ہیں ؛ لھٰذا کسی بھی طرح کی کوئی تشدد صحیح نہیں ہے بلکہ مذموم ہے یہاں تک کہ اگر کوئی غیظ وغضب میں کچھ کھے، یا” امریکہ مردہ باد“ کے نعرہ لگائے یا فساد پھیلانے والوں سے مقابلہ کرے اوران کو کچل دے ، تو ان کا یہ کام تشدد ، شدت پسندی اور محکوم و مذموم ہے۔

ان لوگوں مقصد یہ ہے کہ اس طرح انقلابی اقدار کا دفاع کرنے والوں کو شدت پسندی کانام دے کر عوام الناس کو سست کردیں تاکہ کوئی ان کی خطرناک سازشوں سے مقابلہ کے لئے کھڑا نہ ہو ، اور اپنے خیال ناقص میں ۲۸ مرداد ۱۳۳۲ھجری شمسی کی بغاوت کی طرح ایک دوسری بغاوت کرادیں اور جیسا کہ ان لوگوں کا کام ہے ۲۸ مرداد میں مٹھی بھربد معاش، لچّے لفنگے لوگوں کے ذریعہ بغاوت کرادی اور انھوں نے لوگوں کی جان ومال اور ناموس پر حملہ کیا اور دشمن کے نقشہ کو عملی جامہ پھنادیا؛ اسی طرح ۱۸ تیر ماہ ۱۳۷۸ئہ شمسی کو بھی اپنے ناپاک منصوبہ کے لئے مناسب پایا اور ملک میں بغاوت پھیلادی چنانچہ ان لوگوں نے اس سلسلہ میں بھت زیادہ مطالعہ اور تحقیق ، بھت زیادہ خرچ کرکے سادہ لوح افراد کو فریب دینے کے لئے اس کام کے مقدمات پہلے سے تیار کررکھے تھے جیسا کہ اس حادثہ میں ملوث افراد نے خود اپنے انٹر یو میں اس بات کا اقرار کیا کہ انھوں نے امریکہ سے پیسہ اور فکری امداد حاصل کی تھی ، یہ سب اسی حقیقت کی عکاسی ہے تاکہ جب موقع پائیں تو بد معاش اور لچّے لفنگے لوگوں کو میدان میں اتار دیں تاکہ یہ لوگ اندرونی اور بیرونی میڈیا کی امداد اور مختلف طریقوں سے کمک کے ذریعہ بدامنی پھیلائیں اور دکانوں ، گھروں اور دفتروں کو آگ لگائیں خلاصہ بغاوت کے نقشہ کو عملی جامہ پھنادیں ۔

جی ھاں ، یہ لوگ شدت پسندی کو برا اور مذموم کھہ کھہ کر عوام الناس میں مقابلہ کے حوصلوں کمزور کرنا چاہتے تھے نیز انقلاب سے دفاع کے سلسلہ میں ان کے حوصلے پست کرنا مقصود ہے،تاکہ جب ضد انسانی اور ضد انقلابی کارناموں کا نظارہ کریں اور عوام الناس کے مال و دولت کو غارت ہوتے دیکھیں نیز سرکاری ملکیت کو نابود ہوتا ملاحظہ کریں اور خود فروش لوگوں کے ذریعہ بلوا ہوتے دیکھیں تو سب کے سب خاموش بیٹھے تماشا دیکھتے رہیں اور فتنہ و فساد پھیلانے والوں کو کچلنے کی فکر نہ کریں بلکہ صرف تباہی پھیلانے والوں سے آرام کے ساتھ گفتگو کرنے کی دعوت دیں اور ان کے مطالبات کو سنیں اور ان سے کھیں کہ ھاں تمھیں اعتراض کرنے کا حق ہے، تم واقعاً پریشان ہو، لھٰذا تم اپنی طرف سے کسی کو نمائندہ بنا کر بھیجو تاکہ آپس میں بیٹہ کر آرام کے ساتھ گفتگو کریں ، تمھارے مطالبات کو پورا کیا جائے گا، آؤ اور آپس میں سمجھوتہ کرلیں کچھ تم لوگ اپنے مطالبات کم کرو اور کچھ ہم اپنی سیاست سے پیچھے ہٹیں ۔

جب کہ یہ بات ظاہر ہے کہ ان کے مطالبات قوانین اسلامی کو ختم کرنے، اسلامی شعارکو حذف کرنے ، اور اسلام کا دفاع نہ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوں گے، اور ان سب مطالبات کو مان لینے کے بعدملکی پیمانہ پر ایک بھت بڑی بغاوت رونما ہوجائے گا جس کے نتیجہ میں اسلامی اقدار کا خاتمہ ہوجائے گا، اور اگر دوسرے ممالک کی امداد کی ضرورت ہوگی (جیسا کہ پہلے سے طے ہوچکا تھا) مشرقی اور مغربی سرحدپار سے ملک پر حملہ کرکے اس نظام کا خاتمہ کر دیا جائے گا اور پھر اپنی مرضی کے مطابق کسی کو حاکم بنادیا جائے گا۔

۶۔ اسلامی مقدسات کی توہی ‎ ن کرنے والوں اور ثقافتی سازشوں سے مقابلہ کی ضرورت

المختصر : ان آخری چند سال سے تشدد اور شدت پسندی کے مسئلہ کو مطلق طور پر اقدار کے مخالف قرار دیتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں سستی، لاپرواہی اور تال میل کو مطلق اقدر کے عنوان سے بیان کرتے ہیں ،اور مختلف میڈیا کے ذریعہ یہ پروپیگنڈے اس قدر وسیع پیمانے پر حساب شدہ ہوتے ہیں کہ بعض اوقات تو بعض خواص (خاص الخاص افراد) بھی دھوکہ کھاجاتے ہیں ، اور دشمن کے جال میں پھنس جاتے ہیں جب کہ ان لوگوں کا ہدف مسلمانوں سے دینی غیرت کو چھین لینے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے، تاکہ ضرورت کے وقت اسلام کے دفاع کے لئے کھڑے نہ ہونے پائیں اس بات پر گواہ ابھی کے تازہ ہونے والے واقعات ہیں اور بھت سی سازشیں تو ابھی تک فاش نہیں ہوئی ہیں اور(انشاء اللہ) اہستہ اہستہ معلوم ہوجائیں گی۔

اسی وجہ سے حقیر نے اپنی تشخیص کے مطابق یہ احساس کیا کہ نظام اسلامی کو درہم وبرہم کرنے کے لئے ایک بھت بڑی سازش ثقافتی خطرہ در پیش ہے،لھٰذا یہ طے کیا کہ دشمنوں کی طرف سے ہوئے اعتراضات اور شبھات کا جواب دے اور ان کی ثقافتی سازشوں کو فاش کیا جائے، اور اپنے برادران کو ہوشیار کروں نیز جو لوگ دشمن کے پروپیگنڈوں کی زد میں آکر خواب غفلت میں سوئے ہوئے ہیں ان کو بیدار کروں ، اور کم سے کم دشمن کی طرف سے ہوئے پروپیگنڈوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے جھوٹے عقائد اور نظریات میں شک وتردید پیدا کریں ، اوردینی اور ثقافتی عھدہ داروں کو در پیش عظیم خطرات سے آگاہ کروں اور اپنے سوالات کو پیش کرکے معاشرہ کو متوجہ کروں تاکہ دشمن کے غلط پروپیگنڈوں کا اثر کم سے کم ہو۔

حقیر نے اپنا وظیفہ سمجھتے ہوئے یہ طے کیا کہ ”مطلق تشدد کے نفی“ کے بت کو توڑ ڈالوں ، اور ہر تشدد کو برا نیز ہر نرمی اور پیار محبت کو اچھا کہنے والے تصور کی نفی کروں اسی وجہ سے ہم نے اس سے پہلے بھی جلسہ میں عرض کیا تھا کہ ہر مطلق تشدد او رشدت پسندی محکوم او رمذموم نہیں ہے اور ہر نرمی اور پیار و محبت اچھا نہیں ہے، بلکہ ہر ایک کے لئے مخصوص موقع و محل ہوتا ہے جیسا کہ یہی گفتگو آزادی کے سلسلہ میں بھی کی اور عرض کیا کہ مطلق آزادی اچھی نہیں ہے بلکہ مطلق آزادی باطل اور مردود ہے ، ہم اس آزادی کی قدر کرتے ہیں جو قوانین اسلامی اور دینی اقدار کے تحت ہو حالانکہ ہماری یہ باتیں سن کر بعض لوگ غضب ناک ہوگئے کہ فلاں صاحب آزادی کے خلاف گفتگو کررہے ہیں لیکن جب ان کو آزادی کے نعرے لگانے والوں کی سازشوں کا پتہ چل گیا تو ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ بعض لوگ اس آزادی کا پرچم بلند کرکے دین اور اسلامی اقدار اور مقدسات کی نابودی چاہتے ہیں ؛ یہاں تک ہماری حکومت کے ایک بڑے عھدہ دار جو کہ ایک سیاسی شخصیت مانی جاتی ہے اپنی ایک تقریر میں کھتے ہیں :

”ہماری عوام الناس آزاد ہے یہاں تک خدا کے خلاف بھی مظاہرہ کرسکتے ہیں “ !!

چنانچہ (بعض) دوستوں نے واضح طور پر کھا کہ وہ آزادی مطلوب اور مقصود ہے جو اسلامی قوانین اور دینی اقدار کے تحت ہو اور اگر اس طرح کی باتیں بیان نہ کی جاتی تو معاشرہ کو وہ جھٹکا نہ لگتااور شایدحکومتی عھداران بھی یہ احساس نہ کرتے کہ ہم ”اسلامی قوانین اور دینی اقدار کے تحت آزادی“ کی طرف داری کریں نہ کہ مطلق آزادی کی۔

اور آج اگر ہم یہ کھتے ہیں کہ تشدد مطلقاً مذموم نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگ مطلق تشدد کے نفی کے پرچم کے نیچے اسلام اور اسلامی اقدار کے دفاع میں ہر اٹھنے والے قدم کو تشدد کا نام دےتے ہوئے اس کی مذمت کرتے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے نہ صرف یہ کہ ہمارے ذھن کی ایک پیداوار ، تاکہ بعض لوگ یہ کھیں کہ فلاں کی باتیں تو خیال خام اور ہوائی گولیاں ہوتی ہیں اتفاق سے ہمارے پاس اس بات پر بھت سے شواہد بھی ہیں ، اگرچہ سب کو بیان کرنے کی فرصت نہیں ہے، صرف ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں : ایک موقع پر بعض لوگوں نے جھاد کے سلسلہ میں اعتراض کیا اور اس کو تشدد اور شدت پسندی کا نام دیدیا ، جن میں سے ایک صاحب نے تھران یونیورسٹی میں محرم کے پہلے عشرہ میں اپنے تقریر کے دوران کھا: حضرت امام حسین علیہ السلام کا میدان کربلا میں قتل ہونا ؛جنگ بدر میں رسول اکرم (ص) کی تشدد کا ایک عکس العمل تھا!

یعنی یہ شخص حضرت رسول اکرم (ص) کی اسلامی جنگوں اور غزوات کو بھی محکوم کرتا ہے اور کھتا ہے کہ جب پیغمبراکرم (ص) نے مشرکین کو قتل کیا تو ان کی آل و اولاد پیغمبر کی آل و اولاد کو قتل کرتی، اور اگر پیغمبر ان کو قتل نہ کرتے تو ان کی اولاد بھی قتل نہ کی جاتی!! درحقیقت وہ یزیدوں کو بری الذمہ اور اسلام وپیامبر اسلام (ص) کو محکوم کرتا ہے اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ ان باتوں کو سن کرجو کہ پیغمبر اکرم (ص) کی توہی ‎ ن ہے اور امام حسین علیہ السلام کی شخصیت نیز واقعہ کربلا میں تحریف ہے اور ضروریات دین کا انکار ہے، نہ صرف یہ کہ کوئی کچھ نہیں کھتا بلکہ بعض اخباروں اور جرائد میں اس شخص کی پوری تقریر چھپتی ہے اور وہ بھی صفحہ اول پر!! افسوس کہ ہمارے حکومتی عھدہ داران اس سلسلہ میں کوئی حساسیت نہیں دکھاتے حضرت امام حسین علیہ السلام کے نام پر انقلاب برپا ہونے والے اور امام حسین (ع) کے نام سے باقی رہنے والے اسی ملک میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے قیام کو تحریف کرکے پیش کیا جاتا ہے اور یہ نتیجہ لیا جاتا ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں اور ہمارے زمانہ کے حسین قتل نہ ہوں تو ہمیں بھی تشدد آمیز برتاؤ اور شدت پسندی کو ترک کرنا ہوگا!!

اور اب ہم اس مقالہ نگار سے مخاطب ہے جس کا مقالہ ایک کثیر الانتشار اخبار میں چھپ چکا ہے ، چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ فلاں صاحب موضوع سے الگ اورہوا میں باتیں کرتے ہیں اور ہم سے خطاب کیا ہے کہ اپنی گفتگو پر تجدید نظر کریں کیا ہم ہوا میں باتیں کرتے ہیں یا عصرِ حاضر کے اپنے معاشرہ وسماج کی؟ کیا ہماری باتیں اسی موضوع سے متعلق نہیں ہیں جو ہمارے ملک میں رائج ہے، اور کیا ہماری باتیں اسی حقیقت سے متعلق نہیں ہے جو ہر روز ہمارے ملک میں رونما ہوتی جارہی ہے؟ آیا ہم اپنی باتوں میں تجدید نظر کریں یا آپ کہ ایک وقت آپ ”بین الاقوامی اسلامی“ پارٹی کے عضو تھے اور فدائیان اسلام کی حمایت کو ایک افتخار سمجھتے تھے؟

قارئین کرام! یہاں پر ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ حضرت امام خمینی علیہ الرحمةکا نورانی اور مشکل کشا کلام کی طرف اشارہ کریں جس میں موصوف نے آزادی کے پرچم کے نیچے پوشید ہ کن کن ثقافتی خطرات کو بیان کیا ہے:

” اب میری وصیت ہے حال حاضر اور آئندہ کی مجلس شورای اسلامی (پارلیمنٹ) اور اس وقت کے رئیس جمھور(صدر مملکت) اور ان کے بعد والے صدر، شورای نگھبان، شورای قضائی اور ہر زمانہ کی حکومت؛ سب کو چاہئے کہ میڈیا، جرائد اور مجلات کو اسلام اور ملکی مصالح سے منحرف نہ ہونے دیں ، اور سب کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ مغربی ممالک کی طرح کی آزادی جوانوں ، لڑکوں اور لڑکیوں کو تباہ و برباد کردے گی اسلام ، ملکی مصالح اور عمومی عفت کے بر خلاف تبلیغات، مقالات، تقاریر، کتابیں اور جرائد کا وجودحرام ہے ہم سب پر اور تمام مسلمانوں پر ان کی روک تھام کرنا واجب ہے اور فساد برپا کرنے والی آزادی کی روک تھام کرنا ضروری ہے، اور جو چیزیں شرعی طور پر حرام ہیں یا وہ چیزیں جو ملت و اسلامی ملک کے برخلاف ہیں ، یا جمھوری اسلامی کی حیثیت کے مخالف ہے، لھٰذا اگر ان کے خلاف سخت کاروائی نہ کی جائے تو تمام کے تمام لوگ ذمہ دار ہیں اور ہمارے عوام الناس اور حزب اللٰھی جوان اگر ان چیزوں کو دیکھیں تو متعلق اداروں کو مطلع کردیں ، اور اگر وہ اس سلسلہ میں کوتاہی کریں تو وہ خود روک تھام کی ذمہ داری پر عمل کریں ۔“(۱)

۷۔ خداوندعالم کی رحمت اور غضب کے بارے میں اسلامی تصویر کشی

اسلام اور قرآن کے سلسلہ میں مغربی افراد کے شبھات اور اعتراض میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کا خدا جیسا کہ قرآن میں بیان ہوا ہے ،بد خُلق، غصہ والا، اہل غضب اور انتقام لینے والا ہے، جبکہ خدائے انجیل بخشنے والا، مھربان، سعہ صدر(کشادہ دل) والا، تحمل کرنے والا اور بھت زیادہ مھربان اورلوگوں سے اس قدر دلسوزی کرنے والا ہے کہ نغوذ باللہ اس نے اپنے بیٹے (عیسیٰ) کو قربانی کے لئے بھیج دیا تاکہ تمام لوگوں کی بخشش ہوسکے اور اس کا خون تمام لوگوں کے گناہوں کا کفارہ بن جائے!! تو کیا قرآن مجید میں بیان شدہ خدا غصہ ور اور بد خلق ہے یا رحیم اور رؤف ہے؟

قارئین کرام! گذشتہ اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ہمارا خدا صفت رحمت بھی رکھتا ہے اور صفت غضب بھی، وہ ”ارحم الراحمین“ (بھت زیادہ رحم کرنے والا) بھی ہے اور ”اشد المعاقبین (سخت عذاب دینے والا)بھی، قرآن مجید کے ۱۱۴ سوروں میں سے ۱۱۳ سورے( بِسْمِ اللّٰه الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ) سے شروع ہوتے ہیں جس میں خداوندعالم کی دو صفات یعنی ”رحمن“ اور ”رحیم“ کا ذکر ہوتا ہے اور صرف ایک سورہ کی شروعات ”بسم اللہ “ سے نہیں ہوئی ہے، جبکہ سورہ نمل میں شروع کے علاوہ خود سورہ کے اندر بھی( بِسْمِ اللّٰه الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ) تکرار ہوئی ہے؛ جب ملکہ سبا (بلقیس) حضرت سلیمان علیہ السلام کے خط کو اپنی قوم کے سامنے پڑھتی ہے تو اس کا آغاز( بِسْمِ اللّٰه الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ) سے ہوتا ہے، بھر حال پورے قرآن مجید میں ۱۱۴ بار( بِسْمِ اللّٰه الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ) کی تکرار ہوئی ہے جس میں خداوندعالم کی دو رحمتی صفات کا ذکر ہے لیکن قرآن مجید میں خداوندعالم کی اسی رحمت واسعہ کے ذکر کے ساتھ ساتھ خدا کے خشم (غصھ) اور غضب بھی ذکر ہوا ہے؛ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَاللهُ عَزِیزٌ ذُو انْتِقَامٍ ) (۲)

” اور خدا سخت انتقام لینے والا ہے “

( إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِینَ مُنتَقِمُونَ ) (۳)

”ہم یقینا مجرمین سے انتقام لینے والے ہیں “

( فَبَاءُ وْا بِغَضَبٍ عَلَی غَضَبٍ وَلِلْکَافِرِینَ عَذَابٌ مُهینٌ ) (۴)

” ا ب یہ غضب بالائے غضب کے حقدار ہیں اور ان کے لئے رسوا کن عذاب بھی ہے “

اگر یورپی لوگ (اپنے الفاظ میں ) اپنے خدا کو صرف مھربان اور رحیم بتاتے ہیں اور کھتے ہیں کہ ہمارا خدا غصہ وغضب والانہیں ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس طرح قرآن نے خدا کی توصیف کی ہے ، ان لوگوں نے اس کو صحیح طریقہ سے بیان نہیں کیا ہے؛ کیونکہ جس خدا پر ہم اعتقاد رکھتے ہیں وہ صرف اہل غضب ہی نہیں ہے بلکہ صاحب رحمت اور مھربان بھی ہے اور صاحب قھر و غضب بھی، لیکن اس کی رحمت اس کے غضب پر چھائی ہوئی ہے، اسی وجہ سے ارشاد ہوتا ہے:

"کَتَبَ عَلَی نَفْسِه الرَّحْمَةَ " (۵)

” اس نے اپنے اوپر رحمت کو لازم قرار دے لیا ہے “

اور یہ معنی سنی شیعہ متواتر روایات میں بیان ہوئے ہیں ، جیسا کہ ہماری دعاؤں میں وارد ہوا ہےیا مَنْ سَبَقَتْ رَحْمَتُہ غَضَبَہ اے وہ جس کی رحمت اس کے غضب پر مقدم ہے۔

یعنی خدا کی رحمت اس کے غضب کی نفی نہیں کرتی بلکہ اس کی رحمت اس کے غضب پر مقدم ہے اور جھاں تک اس کا لطف وکرم اور اس کی حکمت تقاضا کرے وھاں تک بندوں پر اپنے لطف وکرم اور رحمت کی بارش کرتا ہے اور اپنے غضب کا مظاہرہ نہیں کرتا؛ مگر یہ کہ اس کی ضرورت ہو اور خداوندعالم کچھ لوگوں کو قھر وغضب میں گرفتار کرے اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں خداوندعالم نے بعض گذشتہ اقوام جیسے قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود پر اپنا غضب نازل کیا ہے اور اپنا عذاب بھیج کر ان کو نیست و نابود کردیا ہے (جیسا کہ ان اقوام کے مفصل واقعات قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں ) لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی قوم میں بھیجے گئے انبیاء (ع) ہمیشہ ان کو راہ ہدایت کی دعوت دیتے تھے اور راہ ہدایت کو واضح اور روشن کرنے کے لئے معجزات اور الہی نشانیاں دکھاتے رہتے تھے ؛ لیکن ان لوگوں نے ان تمام چیزوں کے باوجود بھی کفر وضلالت کا راستہ اختیار کیا اور ان کی رفتار و گفتار میں ذرا بھی تبدیلی واقع نہ ہوئی، اور یہی نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ فتنہ و فساد، گناہ عصیان اور احکام الہی کی مخالفت میں جری ہوتے چلے گئے تو اس موقع پر خداوندعالم کی حکمت او راس کی مشیت کا تقاضا تھا کہ ان کو اپنے غیظ و غضب اور عذاب میں گرفتار کرے تاکہ فتنہ و فساد پھیلانے والوں ، لجاجت کرنے والوں ، خدا سے دشمنی کرنے والوں ، اور متکبرین کے لئے بہتر ین عبرت حاصل ہوجائے۔

لھٰذا معلوم یہ ہوا کہ قرآن کریم میں ذکر شدہ خدا غیظ وغضب والا نہیں ہے بلکہ خدائے رحمت و لطف وکرم ہے، اور صرف بعض مقامات پر جب اس کی حکمت اور مشیت کا تقاضا ہوتا ہے،اپنے غیظ وغضب کا اظھار کرتا ہے۔

لھٰذااس سوال( کہ کیا اسلام میں رحمت ومھربانی پائی جاتی ہے یا غیظ وغضب اور شدت پسندی؟)؛ کے جواب میں ہم عرض کرتے ہیں : اسلام میں رحمت اصل چیز ہے اوراس کی بنا یہی ہے کہ معاشرہ میں رحمت ومحبت کا رواج ہو، لیکن خاص موارد میں (جیسا کہ قرآن مجید نے بھی اشارہ کیا ہے) پیار محبت اور مھربانی سے کام نہیں لینا چاہئے بلکہ وھاں پر غیظ وغضب ، تشدد اور شدت پسندی کا مظاہرہ ہونا چاہئے خداوندعالم صفت رحمت بھی رکھتا ہے، اور صفت غیظ وغضب اور انتقام بھی۔

۸۔ ہدایت کے موانع کو بر طرف کرنے ،دشمنوں اور منافقین سے مقابلہ کی ضرورت

اسلام ، اس کی نشر واشاعت اور اس کے دفاع سے متعلق عرض کرتے ہیں کہ اسلام پہلے مرحلہ میں انسانوں کو ہدایت کی دعوت دیتا ہے، لیکن اگر کوئی دعوت انبیاء (ع) کی نشر واشاعت میں رخنہ ڈالنا چاہے تو پھر قرآن حکم دیتا ہے کہ ان سے جنگ کی جائے، اور ہدایت کے راستے میں بچھے کانٹوں کو ہٹا پھینک دیا جائے اسی وجہ سے خود پیغمبر اکرم (ص) اور معصومین علیہم السلام کے زمانہ میں ”جھاد ابتدائی“ (یعنی اپنی طرف سے جھاد کی شروعات کرنا)واجب تھا، تاکہ لوگوں کی ہدایت کے موانع بر طرف کئے جاسکیں اسی بنیاد پر جب پیغمبر اکرم (ص) مبعوث برسالت ہوئے ، بات یہ نہیں کہ آنحضرت (ص) روم اور ایران جیسے ملکوں کے داخلی امور میں دخالت کر نے کا حق رکھتے ہیں یا نہیں ؛ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) روئے زمین کے تمام انسانوں کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے ہیں ، لھٰذا اگر کوئی یہاں تک کہ بادشاہ ایران اور قیصر روم بھی پیغمبر اکرم (ص) کی دعوت اسلام کی مخالفت کریں تو اس صورت میں پیغمبر اکرم (ص) کا وظیفہ بنتا ہے کہ وہ ان سے جنگ کریں اسی وجہ سے آنحضرت (ع) نے (مختلف) ملکوں کے بادشاہوں کو خطوط لکھے اور ان کو اسلام کی دعوت دی اور ان سے یہ چاہا کہ اپنے اپنے ملکوں کی عوام الناس کے لئے رسول خدا اور ان کے نمائندوں کے ذریعہ ہدایت کا راستہ ہموار کریں ؛ ورنہ جنگ کے لئے تیار ہوجائیں ۔

اور چونکہ جھاد ؛ اسلام کے مسلم اصول میں سے ہے اور تمام شیعہ سنی فرقے اس سلسلہ میں متفق ہیں اور کسی نے کوئی مخالفت نہیں کی ہے، (اور کفر وشرک کے سرداروں سے جھاد اس وجہ سے واجب تھا کہ وہ اپنے تحت لوگوں کی ہدایت وارشاد اور پیغمبروں کی دعوت کی تبلیغ میں مانع ہوتے تھے، اسی وجہ سے رسول خدا (ص) کا یہ وظیفہ تھا کہ ان لوگوں کو ہدایت کے راستہ سے ہٹانے اور عوام الناس کی ہدایت کے راستہ صاف کرنے کے لئے ان سے جنگ کریں ) ان تمام چیزوں کے پیش نظر یہ بات کیسے کھی جاسکتی ہے کہ اسلام مطلقاً جھاد اور جنگ کو لازم اور جائز نہیں جانتا ہے؟ کیا ہم ان آیات قرآن جو کفار ومشرکین اور منافقین نیز دشمنان اسلام سے جھاد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ان کو نظر انداز کردیں اور ان کو چھپادیں ؟

قارئین کرام ! ہم (یہ بات علی الاعلان) کھتے ہیں کہ دشمنان خدا سے مقابلہ کرنا اسلامی اصول کے تحت ہے او ر اسلام نے احکام جھاد کے سلسلہ میں انسانی بہتر ین اصول کو مد نظر رکھا ہے، اور ان کی رعایت کرنے پر زور دیا ہے، لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی زور دیا ہے کہ جب دشمنان (اسلام) اور وہ لوگ جو دانستہ طور پر حق و حقیقت کے خلاف کھڑے ہوجائے اور دین خدا سے مقابلہ کرنے لگے اور اپنے عھد و پیمان کو توڑ ڈالیں ؛ تو ان سے جنگ کرو:

( وَإِنْ نَکَثُوا ایْمَانَهمْ مِنْ بَعْدِ عَهدِهمْ وَطَعَنُوا فِی دِینِکُمْ فَقَاتِلُوا ائِمَّةَ الْکُفْرِ إِنَّهمْ لاَایْمَانَ لَهمْ لَعَلَّهمْ یَنتَهونَ ) (۶)

” اگر یہ عھد کے بعد بھی اپنی قسموں کو توڑدیں اور دین میں طعنہ زنی کریں ، تو کفر کے سربراہوں سے کُھل کو جھاد کرو کہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں ہے شاید اسی طرح اپنی حرکتوں سے باز آجائیں ۔“

اسی طرح خداوند عالم سورہ تحریم اور سورہ توبہ میں فرمان دیتا ہے کہ پیغمبر اور مسلمان؛ کفار ومنافقین سے جنگ کریں اور ان کے ساتھ غیظ و غضب اور شدت پسندی کا برتاؤ کرو:

( یَاایُّها النَّبِیُّ جَاهدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِینَ وَاغْلُظْ عَلَیْهمْ وَمَاوَاهمْ جَهنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیرُ ) (۷)

” اے پیغمبر ! کفار اور منافقین سے جھاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے کہ ان کا انجام جھنم ہے جو بد ترین ٹھکانہ ہے۔“

( وہ مذکورہ مقالہ نگار جس نے لکھا تھا کہ جھاد سے متعلق قرآنی آیات کفار سے مخصوص ہیں ، اس نے اس آیت پر غور فکر نہیں کیا کہ اس آیہ مبارکہ میں خداوندعالم نے کفار سے جھاد کے علاوہ داخلی منافقوں سے بھی جھاد او رمقابلہ کا حکم دیا ہے۔)

اسی طرح سورہ توبہ میں ایک دوسری جگہ ارشاد رب العزت ہوتا ہے:

( یَاایُّها الَّذِینَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِینَ یَلُونَکُمْ مِنْ الْکُفَّارِ وَلْیَجِدُوا فِیکُمْ غِلْظَةً وَاعْلَمُوا انَّ اللهَ مَعَ الْمُتَّقِینَ ) (۸)

” اے ایمان لانے والو ! اپنے آس پاس کفار سے جھاد کرو تاکہ وہ تم میں سختی اور طاقت کا احساس کریں اور یاد رکھو کہ اللہ صرف پرہیز گار افراد کے ساتھ ہے۔

مذکورہ آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ کفار جو تمھارے نزدیک زندگی گذار تے ہیں ؛ ان سے جنگ کرو اور ان سے غافل نہ ہو جانا اور اپنے غیظ وغضب کا مزہ اپنے پڑوسی کفار کو چکھا دو تاکہ وہ (مسلمانوں سے) ڈریں اور ان کے خلاف کوئی خیانت اور سازش نہ کریں ۔

اسی طرح خداوندعالم فرماتا ہے:

( وَاعِدُّوا لَهمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهبُونَ بِه عَدُوَّ اللهِ وَعَدُوَّکُمْ وَآخَرِینَ مِنْ دُونِهمْ لاَتَعْلَمُونَهمْ اللهُ یَعْلَمُهمْ وَمَا تُنفِقُوا مِنْ شَیْءٍ فِی سَبِیلِ اللهِ یُوَفَّ إِلَیْکُمْ وَانْتُمْ لاَتُظْلَمُونَ ) (۹)

” اور تم سب ان کے مقابلہ کے لئے امکانی قوت اور گھوڑوں کی صف بندی کا انتظام کرو جس سے اللہ کے دشمن، اپنے دشمن اور ان کے علاوہ جن کو تم نہیں جانتے ہو اور اللہ جانتا ہے سب کو خوفزدہ کردو ، اور جو کچھ بھی راہ خدا میں خرچ کرو گے سب پورا پورا ملے گا اور تم پر کسی طرح کا ظلم نہیں کیا جائے گا۔“

(وہ حضرات جو عربی ادبیات (زبان) جانتے ہیں ؛ ہم ان کو اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ وہ لفظ ”ارہاب“ کے ہم معنی لفظ دوسری زبانوں میں تلاش کریں ؛ اور اگر ہم عرض کردیں تو کل ہی اخباروں کی سرخی بن جائے گی کہ فلاں صاحب تو ٹروریزم " Terrorisme "کے طرفدار ہیں ۔)

بھر حال قرآن مجید نے حکم دیا ہے کہ جن لوگوں سے منطق اور اصول کے ساتھ گفتگو نہیں کی جاسکتی اور انھوں نے جرات او ردلیری کے ساتھ راہ ہدایت کو بند کردیا ہے اور بغض و عناد اور دشمنی کی بنا پر اسلام اورمسلمانوں کے ساتھ جنگ کرتے ہیں ، ان کے ساتھ تو تشدد اور غیظ وغضب سے مقابلہ کرنا چاہئے اور مسلمانوں کو چاہئے کہ ان کے درمیان رعب و دھشت ایجاد کردیں تاکہ ان کے اندر مسلمانوں کے ساتھ خیانت کرنے اور اسلام کو نقصان پھونچانے کا تصور بھی پیدا نہ ہو ان سے یہ نہیں کھا جاسکتا کہ : ”تم اپنے دین پر ہم اپنے دین پر، آؤ مل جل کر ایک ساتھ اطمینان کی زندگی بسر کریں ۔“

۹۔ اسلامی سزا کے احکام کی مخالفت

بعض مقالہ نگاروں نے اپنے مقالات میں ہم پر یہ اعتراض کیا کہ اسلام نے کفار و مشرکین کے سلسلہ میں تشدد اور شدت پسندی کے برتاؤ کا حکم دیا ہے ، اور ان کواپنا ہمشھری ماننے سے انکار کیا ہے، حالانکہ یہ لوگ اس بات سے غافل ہیں کہ اسلام نے بعض جرائم پر خود مسلمانوں کے لئے سخت سے سخت سزا معین کی ہے، اور اپنے قوانین میں ایسے لوگوں کے لئے کڑی سزا مقرر کی ہے مثال کے طور پر چوری کے مسئلہ میں اسلام کا حکم ہے کہ چور کے ھاتہ کاٹ دئے جائیں یا زنا، عفت اور عزت کے دوسرے مسائل میں مجرموں کے لئے حد اور سزا معین کی ہے مثلاً زنا کرنے والے کو سو تازیانے لگانے کی سزا معین کی گئی ہے، اور بعض عفت کے منافی جرائم کے سلسلہ میں سزائے موت بھی رکھی گئی ہے در حقیقت اس طرح کے مجرموں کے لئے اسلامی سزا بھت سخت اور ناقابل برداشت ہیں لیکن اس چیز پر توجہ رکھی جائے کہ اسلام نے بعض عفت کے منافی جرائم جیسے زنا؛کوثابت کرنے کے لئے سخت شرائط معین کئے ہیں جس کی بنا پر بھت ہی کم یہ جرم ثابت ہوپاتے ہیں تاکہ ان پر حد جاری ہوسکے۔

بعض شرعی اور اسلامی حدود اور سزا کی بنا پر اسلام دشمن افراد کو اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا ایک بھانہ مل گیا ہے جس کی بنا پر یہ لوگ کھہ دیتے ہیں کہ اسلام میں حقوق بشر کی رعایت نہیں کی جاتی، اور اسلام کی سزا میں تشدد پائی جاتی ہے نیز انسانی شرافت کو نظر انداز کیا جاتا ہے جی ھاں ! دشمن اور حقوق بشر کے جھوٹے مدعی کھتے ہیں : ”ایک مسلمان چور کے ھاتھوں کو کاٹنا غیر انسانی عمل اور تشدد آمیز ہے اور انسانی شرافت کے مخالف ہے؛ کیونکہ جس شخص کے ھاتہ کاٹے جاتے ہیں تو وہ انسان پوری زندگی کے لئے اس مفید عضو سے محروم ہوجاتا ہے اور ہمیشہ معاشرہ میں ایک چور کے عنوان سے پہنچانا جاتا ہے“ ۔

جبکہ اس کے مقابلہ میں بعض اسلام کا دعویٰ کرنے والوں نے اسلام کا دفاع کرتے ہوئے اس طرح کا نظریہ پیش کرتے ہیں : اسلام کے یہ سزا کے احکام گذشتہ زمانہ سے متعلق تھے اور ایک خاص زمانہ سے مخصوص تھے ، آج کل تو امنیت کے تحفظ اور چوری سے روک تھام کے لئے نئے نئے طریقے موجود ہیں لھٰذا کسی چور کے ھاتہ کاٹنے کی ضرورت نہیں ہے اگر امنیت کے تحفظ اور دوسرے جرائم سے روک تھام کے لئے بہتر طریقے موجود ہوں تو پھر امریکہ ؛ جس میں جرائم سے روک تھام کے لئے نئے نئے طریقے نافذ کئے جاتے ہیں ، لیکن پھر بھی روزانہ ھزاروں جرائم ہوتے ہیں ، اور وھاں کے کالجوں میں مسلح پولیس کا رہنا ضروری ہے۔

جولوگ جو نھایت بے شرمی کے ساتھ کھتے ہیں کہ یہ اسلامی سزائیں نا قابل قبول ہیں اور ان کو تشدد اور شدت پسندی کا عنوان دیتے ہوئے یہ کھتے ہیں کہ یہ سزائیں چودہ سو سال پہلے سے متعلق تھیں عصر حاضر میں کوئی ان کو قبول نہیں کرسکتا، کیا وہ لوگ یہ بھول گئے کہ جن لوگوں نے قصاص (بدلا) کے قوانین کو غیر انسانی کھہ کر اس کے خلاف مظاہرے شروع کردئے تھے، اس موقع پر حضرت امام خمینی (رہ) نے ان کو مرتد قرار دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ ان کا خون مباح اور ان کی بیویاں ان لوگوں پر حرام ہیں اور ان کا مال ان کے مسلمان ورثہ میں تقسیم کر دیا جائے۔

جی ھاں امریکن حقوق بشر کے طرفداروں نے اسلامی سزاؤں کو غیر انسانی اور تشدد آمیز کا عنوان دے کر ان کو محکوم و مذموم قرار دیا ہے لیکن ہم ان سے یہ کھتے ہیں کہ اگر اسلامی سزائیں تشدد آمیز ہیں ، مان لیتے ہیں کہ بعض مواقع پر اسلامی حدود اور سزائیں تشدد آمیز ہیں ، لیکن ہم اسلامی قوانین کا دفاع کرنے والے ہیں اور اس کے خلاف ہر طرح کی سازش کا مقابلہ کرنے کے لئے دل و جان سے آمادہ ہیں ، ہم یہ نہیں مانتے کہ احکام منسوخ ہوگئے ہیں ، بلکہ ہمارا تو عقیدہ یہ ہے کہ:

”حَلاٰلُ مُحَمَّدٍ حَلاٰلٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ وَحَرَامُ مُحَمَّدٍ حَرَامٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ “

( آنحضرت (ص) کی حلال کردہ چیزیں قیامت تک حلال اور آپ کی حرام کردہ چیزیں قیامت تک حرام ہیں ۔)

ہم نے انقلاب اسی وجہ سے برپا کیا ہے کہ ہمارے معاشرہ میں اسلامی احکام نافذ ہوں ، ورنہ تو شاہ پہلوی بھی کھتا تھا: ”جو کچھ میں کھتا ہوں وہ اسلام کے مطابق ہے،اور علماء غلطی پر ہیں ، اور یہ لوگ بیک ورڈ ہیں “!

ہمارے معاشرہ میں قرآن مجید کے اندر بیان شدہ اسلامی مسائل اور احکام کو نافذ ہونا چاہئیں یہ وہی ‎ اسلام ہے جس کی سرفرازی اور بلندی نیزاسلامی حکومت کے لئے ہم نے اپنے رشتہ داروں کی قربانی پیش کی ہے اور اب بھی جانفشانی کرنے کے لئے تیار ہیں ، اسی اسلام کی پہنچان مقام معظم رہبری (حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای مد ظلہ العالی)نے فرماتے ہوئے کھا ہے : ” اسلام ناب وہی ‎ اسلام ہے جو قرآن اور سنت میں بیان ہوا ہے ، جس کے احکام اور قوانین مناسب اور اجتھادی طریقہ سے انہیں دو عظیم الہی منبع و مرکز (قرآن و سنت) سے استنباط (حاصل) کئے جاتے ہیں اور جو لوگ اس اسلام کو نہیں مانتے، انھوں نے گویابنیادی طور پر اسلام کو قبول ہی نہیں کیا ہے، کیونکہ اسلام (صرف ایک ہی ہے) دو نہیں ہیں ۔“

۱۰۔ تشدد ، اسلامی سزائی قوانین میں محدود نہیں ہے

ایک مقالہ نگار نے اپنے مقالہ میں یہ بیان کیا کہ ” اسلام نے جن قوانین میں تشدد کو جائز قرار دیاہے وہ جزائی اور سزائی قوانین ہیں اور ہم بھی اس بات کو مانتے ہیں کہ اسلام نے فتنہ گروں اور تباہ کارو ں کے لئے جو سزائیں معین کی ہیں ان میں کم و بیش تشدد پائی جاتی ہے لیکن جس تشدد کے بارے میں ہماری بحث ہے اور ہم جس کو محکوم کرتے ہیں ، وہ اسلام کے سزائی قوانین سے متعلق نہیں ہے اور اصولی طور پر سزائی قوانین ہماری تشدد کی بحث سے متعلق نہیں ہیں ۔“

اور یہ لکھا کہ میں موضوع سے ہٹ کر گفتگو کرتا ہوں اور اسی بات کو کئی اخباروں نے سرخی بنایا کہ کیوں فلاں صاحب موضوع سے ہٹ کر گفتگو کرتے ہیں ! لھٰذا ہم عرض کرتے ہیں کہ ہمارا موضوع معاشرہ میں ہونے والے ثقافتی کج روی ہے ، جیسا کہ اخباروں نے لکھا تھا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کا قتل ہونا ؛ آپ کے جد (رسول اللہ (ص)) کی جنگ بدر میں تشدد کا عکس العمل تھا!!

ہم اس مقالہ نگار کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ اے قاضی اور حقوقدان آپ ہمارے بارے میں لکھتے ہیں کہ فلاں صاحب موضوع سے ہٹ کر گفتگو کرتے ہیں ، لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ جو بات حضرت امام حسین علیہ السلام کی شھادت کے بارے میں کھی گئی ہے اس میں کس تشدد کی بات ہے اور کس طرح کی تشدد کی نفی کی گئی ہے؟ ہم تو معاشرہ میں پیدا ہونے والی انہیں چیزوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں ہم تشدد، آزادی اور میل جول جیسے الفاظ سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں ، یہاں تک یہ بھی کھہ دیا گیا کہ ”جنگ بدر ایک تشدد تھی“ لھٰذا اسلام تشدد کادین ہے! لھٰذا ہم اپنے موضوع سے خارج نہیں ہوئے ہیں ۔

ھوسکتا ہے کوئی شخص یہ کھے: ”ہم اس طرح کے ناجائز فائدہ اٹھانے والی فکر کو ردّ کرتے ہیں اور اسلام کو تشدد کا دین نہیں مانتے۔“ ہمارا اس سے کہنا یہ ہے کہ حکومتی قوانین ، سزائی قوانین اور وہ عدالت جس میں سزائی احکام بنائے جاتے ہیں ان تمام چیزوں سے صرف نظر کرتے ہوئے ؛کیا عوام الناس بھی تشدد کا برتاؤ کرسکتے ہیں ، اور وارد میدان ہوسکتے ہیں اور کیا حکومتی اداروں سے ہٹ کر خود عوام الناس تشدد سے کام لے سکتی ہے؟ ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ تم لوگ اسلامی انقلاب کو تشدد سمجھتے ہو یا نہیں ؟ جن لوگوں کو ۱۷/ شھریور ۱۳۵۷ئہ شمسی اور اس کے بعد کے حادثات یاد ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہمارے غیرت مند جوانوں اور بھارد قوم نے شاہ پہلوی کے خلاف کیا کیا اقدامات کئے تو کیا شاہ پہلوی کے خلاف مظاہرے اور اقدامات تشدد تھا، یا نہیں ؟ کیا یہ کام صحیح تھے یا نہیں ؟ اور کیا اسلام اس طرح کے اقدامات پر راضی ہے یا نہیں ؟ اگر اسلام نے اس طرح کے اقدامات کو جائز قرار نہیں دیا ہے تو آپ کا یہ انقلاب غیر قانونی ہے، کیونکہ (آپ کے نظریہ کے مطابق تو) اسلام میں تشدد نہیں پائی جاتی اور اسلام تشدد آمیز اقدامات کو جائز ہی نہیں مانتا! اسی طرح وہ مقدس کارنامے جو مرحوم نواب صفوی اور فدائیان اسلام نے شاہ کی حکومت کے خلاف کئے ،( جن کے مہم کارناموں کی بنا پر ان کا نام ہمیشہ ہمارے ملک میں زندہ رہے گا، اور ہم ان کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، اور آج کل تھران اور دوسرے شھروں کی بھت سی سڑکوں کا نام انہیں حضرات کے ناموں پر ہے)تو کیا ان کے یہ اقدامات صحیح تھے یا نہیں ؟ اسی طرح ”ھیئت موتلفہ اسلامی“ کے اعضاء ؛ یعنی شھید محمد بخارایی اور ان کے ساتھی جنھوں نے شاہ پہلوی کے جلاّد وزیر اعظم کو واصل جھنم کیا۔

ھوسکتا ہے کہ کوئی شخص یہ کھے کہ واقعاً اس طرح کے تشدد والے اقدامات نہیں کرنا چاہئے تھے ، بلکہ قانونی طور پر صلح و صفائی کی ایک پارٹی بنانا چاہئے تھی جس کے ذریعہ شاہ پہلوی کے سامنے اپنے مطالبات کو رکھا جاتا اور اس سے گفتگو کی جاتی“ لیکن کیا ان کی باتوں کو سنا جاتا اور وہ حساب شدہ باتوں کو سنتے تویہ لوگ اس طرح کے غیظ وغضب کے ساتھ قدم نہ اٹھاتے، جب انھوں نے دیکہ لیا کہ ان کی جائز باتیں اس طرح گفتگو کے ذریعہ نہیں سنی جاتی تب جاکے انھوں نے اس طرح کے اقدامات شروع کئے۔

ممکن ہے وہ قاضی صاحب فرمائیں : ہماری نظر میں وہ اقدامات محکوم او رمذموم ہیں ، ان کو چاہئے تھا کہ آرام و سکون اور مکمل حوصلہ کے ساتھ برتاؤ کرتے، اور اپنی مشکلات کو حل کرنے نیز اپنے مطالبات کوپورا کرانے کے سلسلہ میں کوشش کرتے!

ہم ان کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ :

جب ۱۸ تیر ماہ ۱۳۷۸ئہ شمسی اور اس کے بعد بعض فسادی اور بد معاش لوگوں نے بیت المال، عمومی اموال ، بینک، ذاتی اور سرکاری گاڑیوں یہاں تک کہ مسجدوں میں بھی آگ لگادی اور عورتوں کو بے آبرو کےا عورتوں کے سروں سے چادر چھین لیں اور اسلام کے خلاف نعرہ لگائے، تو کیا آپ نے ان لوگوں کے ساتھ پیار ومحبت اور ھنسی خوشی سے اپنی آغوش میں بٹھاکر ان کو خاموش کردیا ، یا یہ کام ہمارے ان بسیجیوں نے انجام دیا جو اپنے جان کو ھتھیلی پر رکہ کر آگے بڑھے اور تمام تر خطرات سے نپٹنے کے لئے میدان عمل میں وارد ہوئے اور ان کو کچل دیا،( بھت افسوس کے ساتھ یہ عرض کرتے ہیں کہ ان مظلوم بسیجیوں کے حق کو آج تک نہیں پہنچانا گیا اور اس کا شکریہ ادا نہیں کیا جاتا؛ جبکہ یہ جوان انقلاب اور اسلام کے دفاع کے لئے قربة الی اللہ حاضر ہوئے تھے اور خدا ہی ان کو بہتر ین اجر و ثواب عنایت کرے گا۔)

ممکن ہے وہ جناب کھیں : کہ ہم فتنہ وفساد پھیلانے والوں کے سلسلہ میں بسیجیوں کے اقدامات کو محکوم کرتے ہیں ، اور ان کو اس طرح کا اقدام نہیں کرنا چاہئے تھا، کیونکہ ان کو لوگوں کو بھی یہ حق تھا کہ وہ اپنی بات کھیں اور اعتراض کریں وہ بھی آزاد ہیں جیسا کہ امریکائیوں کا کہنا ہے: جن لوگوں نے قیام کیا اور مظاہرے کئے اور مساجد میں آگ لگائی یہ آزادی خواہ تھے لھٰذا ان لوگوں کو یہ کہنے کاحق تھا کہ ہم آزادی چاہتے ہیں ، اور دین نہیں چاہتے! (جیسا کہ ایک صاحب اپنی تقریر میں کھتے ہیں کہ لوگوں کو خدا کے خلاف مظاہرے کرنے کا بھی حق ہے۔ (

لیکن اگر وہ یہ کھیں : جب ان لوگوں نے دیکہ لیا کہ اگر خوش رفتاری سے اپنی بات کو علی الاعلان کھتے ہیں کہ ہمیں دین و اسلام نہیں چاہئے تو حکومت ان کی بات کو نہ مانتی؛ اسی وجہ سے یہ لوگ مجبور ہوگئے کہ ذاتی اور سرکاری عمارتوں اور مساجد میں آگ لگادیں اور اسلام کے خلاف نعرے لگائیں ، تاکہ وہ کسی نتیجہ پر پہنچ پائیں ؛ اوریہ لوگ ایسا کرنے میں حق بجانب تھے، نہ کہ ان لوگوں کو کچلنے والے ۔

ہم اس کے جواب میں صرف اتنا عرض کرتے ہیں : آخر کار تم لوگ بھی تشدد اور شدت پسند ی کو مانتے ہو کیونکہ اس حادثہ کے سلسلہ میں دو باتوں میں سے کسی ایک کو تو ضرور قبول کروگے، یا فتنہ فساد برپا کرنے والوں اور مساجد میں آگ لگانے والوں کا اقدام صحیح تھا ؛ اس صورت میں تم خود تشدد کی تائید کر رہے ہو، چونکہ ان کا اقدام تشدد پر مبنی تھا، یا تم یہ کھوکہ بسیجی، عوام الناس اور پولیس کا رویہ صحیح تھا؛ تو اس صورت میں بھی تم نے تشدد کی تائید کی ، لھٰذا آپ بتائیں کہ کس تشدد کو جائز قرار دیتے ہو؟

ہم اس طرح کے لوگوں کی باتوں کو نہیں مانتے بلکہ ہمارے لئے معیار بانی انقلاب حضرت امام خمینی رحمة اللہ علیہ کا کلام ہے ہم انہیں کے تابع ہیں ہم نے حکومتی اور ولایتی احکام انہیں سے سیکھے ہیں چنانچہ موصوف نے فرمایا:

” اگر ہمارے جوان اور حزب اللٰھی عوام الناس نے اس چیز کا مشاہدہ کیا کہ بعض تبلیغات، مقالات ، تقاریر، کتابوں اور جرائد میں اسلام اور حکومتی مصالح کے خلاف قدم اٹھایا جارہا ہے، تو ان کا وظیفہ ہے کہ وہ اس سلسلہ میں متعلقہ اداروں کو رپورٹ دیں اور ان اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اس سلسلہ میں قدم اٹھائیں لیکن اگر متعلقہ اداروں نے کوتاہی کی اور قانونی طریقہ سے اس طرح کے انحرافات اور فاسد تبلیغات کا سد باب نہ کیا تو اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے کہ ہمارے دیندار جوان میدان عمل میں گود پڑیں اور ہر مسلمان پر واجب ہے کہ اس سلسلہ میں اپنا قدم آگے بڑھائے۔“(۱۰)

تمام لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ جس مرتد سلمان رشدی نے ”شیطانی آیات“ نامی کتاب لکھی جس میں قرآن کریم اور پیغمبر اکرم (ص) کی توہی ‎ ن کی گئی، توحضرت امام خمینی (رہ) نے اس کے قتل کا فتویٰ صادر کردیا،” اور ہر مسلمان پر واجب قرار دیدیا کہ اگر کوئی سلمان رشدی کو قتل کرسکتا ہے تو اس پر قتل کرنا واجب ہے“ اور یہ فتویٰ صرف امام خمینی (رہ) ہی کا نہیں تھا بلکہ تمام اسلامی فقھاء نے اسی طرح کا فتویٰ دیا اور تمام اسلامی ملکوں نے اس فتویٰ کی تائید کی اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امام خمینی (رہ) کا یہ فتویٰ تشدد پر مبنی نہیں تھا؟ (کیوں نہیں ) لھٰذا معلوم یہ ہوا کہ حضرت امام خمینی (رہ) نے بھی اس شخص کے بارے میں تشدد کا رویہ اختیار کیا جس نے ضروریات دین اور اسلامی مسلم اصول کی توہی ‎ ن کی اور اسلامی مقدسات کو حرمت کو پامال کرنا چاہا ، امام خمینی (رہ) نے اس طرح کی تشدد کو جائز قرار دیا بلکہ ضروری سمجھا اور ایسے شخص کو مرتد اور واجب القتل قرار دیا۔

۱۱۔ ہر موقع پر علمی شبھات اور اعتراضات کا جواب دیا جائے (اسلامی نظر یہ)

لیکن اگر کوئی شخص سازش یا کسی نقصان پہنچانے کا قصد نہ رکھتا ہو اور دین، ضروریات دین اوراحکام اسلام کے بارے میں کوئی شبہ یا اعتراض اس کے ذھن میں ہو تو وہ اس کو بیان کرسکتا ہے، بھر پور ادب و احترام کے ساتھ اس کی باتوں کو سنا جائے گا اور منطق و استدلال کے ساتھ اس کو جواب دیا جائے گا، کیونکہ دین اسلام دین منطق ہے ، اس کی بنیاد استدلال اور برہان پر قائم ہے، اور جب مسلمانوں اور علماء اسلام سے جب بھی کسی نے کسی اعتراض کا جواب طلب کیا ہے تو انھوں صبر و بردباری اورکشادہ دلی کے ساتھ بہتر ین دلائل پر مبنی عقلی اور شرعی جوابات پیش کئے ہیں اور اسلام کی حقانیت کو ثابت کیا ہے اسی وجہ سے قرآن مجید کا حکم ہے کہ اگر کوئی شخص اگرچہ میدان جنگ میں دشمن کا سپاہی کیوں نہ ہو؛ سفید پرچم کو اٹھائے ہوئے اسلام کی حقانیت کے بارے میں تحقیق وجستحو کرنے کے لئےمسلمانوں کے پاس آئے اور اپنے سوالات کا جواب تلاش کرے، تواس وقت مسلمانوں کو چاہئے کی اس کو تحفظ دیں حفاظت کریں اور اس کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہ پہنچائیں ، آرام وسکون اور پیار محبت سے اس کی باتوں کو سنیں ،اور اسلام کی حقانیت اور بر حق ہونے کو دلیل اور برہان کے ذریعہ ثابت کریں ؛ اس کے بعد اس کو تمام تر حفاظت کے ساتھ دشمن کے لشکر میں واپس کردیں ۔

خداوندعالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

( وَإِنْ احَدٌ مِنْ الْمُشْرِکِینَ اسْتَجَارَکَ فَاجِرْه حَتَّی یَسْمَعَ کَلَامَ اللهِ ثُمَّ ابْلِغْه مَامَنَه ذَلِکَ بِانَّهمْ قَوْمٌ لاَیَعْلَمُونَ ) (۱۱)

” اور اگر مشرکین میں کوئی تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دو تاکہ وہ کتاب خدا سنے اس کے بعد اسے آزاد کرکے جھاں اس کی پناہ گاہ ہو وھاں تک پھونچا دو اور یہ مراعات اس لئے ہے کہ یہ جاہل قوم حقائق سے آشنا نہیں ہے۔ “

قرآن کا حکم ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام کی حقانیت کے بارے میں سوال اور تحقیق کے لئے آتا ہے، لیکن تحقیق کے بعد بھی مسلمان نہ ہو تو اس کو مکمل حفاظت کے ساتھ اس امن کی جگہ پھونچادو اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اس کو کسی طرح کا کوئی گزند پھونچائے؛ کیونکہ وہ اپنے سوالات کا جواب لینے کے لئے آیا تھا لھٰذا اس کی حفاظت ضروری ہے، اس کے سوالات کا جواب دیدیا گیا ہے۔

قارئین کرام! اب ہم سوال کرتے ہیں کہ دنیا کے کس گوشہ اور کس مذہب میں اسلام کی طرح اس بلندترین برتاؤ پر زور دیا گیا ہے؟

لیکن اگر کوئی شخص عناد و دشمنی اور سازش کے تحت ، نظام اسلام کو نقصان پہنچانے کے لئے کوئی شبہ یا اعتراض کرتا ہے اور مسلمانوں کے عقائد، اصول اور اسلامی اقدار میں شک و تردید ایجاد کرنا چاہتا ہے تو پھر اس کا مقابلہ کرنا ضروری ہے ، اور اس شخص کا مسئلہ اس مسئلہ سے الگ ہے جو اپنے سوالات کا جواب چاہتاہو اور اس کے دل میں اسلام کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں ہو۔

۱۲۔ دشمن کی سازشوں سے مقابلہ کی ضرورت

ھمیں ثقافتی امور میں وسیع پیمانے پراسلامی اصول اور عقائد کے خلاف سازشیں کرنے والوں کے مقابلہ میں خاموش نہیں رہنا چاہئے ، اوراسیی طرح ان لوگوں کے سامنے جو اندرون ملک زر خرید قلم کے ذریعہ اسلام کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں ؛ خاموش بیٹھے تماشا نہیں دیکہنا چاہئے واقعاً ان لوگوں نے سازش کا پروگرام بنا رکھا ہے جبکہ بعض لوگ اس کو ثقافتی ردّ وبدل کا عنوان دیتے ہیں ،اور اخباروں میں لکھتے ہیں کہ کسی طرح کی کوئی سازش نہیں ہے ، اور سازشوں کے دعویٰ کو خیال خام قرار دیتے ہیں ، لیکن کچھ مدت پہلے ہوئے حادثہ نے ان سازشوں سے پردہ اٹھادیا ۔

وہ سب اسلامی نظام کے خلاف مظاہرے اور عمومی اور سرکاری اموال پر حملہ اور فتنہ وفساد؛ یہ سب اسی بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ واقعاً اسلامی نظام کے خلاف ایک بھت بڑی سازش تھی، جیسا کہ مقام معظم رہبری (حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای مد ظلہ العالی)نے بھی بیان فرمایا کہ اسلام دشمن طاقتوں کی طرف سے اسلامی نظام کے خلاف سازش تھی اور اسی حقیقت کے پیش نظر جب فتنہ گروں کو اپنے جگہ بٹھادیا گیا اور فتنہ کی لگائی ہوئی اس آگ کو فدا کار بسیجیوں نے بجھادیا تو اس وقت ان کی حمایت اور اسلامی نظام کی محکومیت میں دنیا میں شور ہونے لگا یہاں تک کہ خود امریکہ کے ممبر آف پارلیمنٹ نے یہ نعرہ لگایا کہ اسلامی جمھوری ایران کو محکوم ہونا چاہئے اور اس کے خلاف قوانین بنائیں جائیں ؛ کیونکہ اسلامی حکومت نے بیرونی زر خرید نوکروں کو فتنہ وفساد پھیلانے کی اجازت نہیں دی!!

دنیا بھر میں ہر روز ھڑتال ، مظاہرے اور توڑ پھوڑ ہوتی رہتی ہے اور بھت سے لوگ قتل اور زخمی ہوتے رہتے ہیں ہم ہر روز یہ دیکھتے ہیں کہ صھیونیزم بے گناہ فلسطینی مسلمانوں کا خون بھاتے ہیں جو صرف اپنے پامال شدہ حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں ، یہاں تک کہ امریکہ سے وابستہ حکومتوں کے ذریعہ سینکڑوں لوگوں کا قتل ہوتا ہے لیکن کوئی کچھ نہیں کھتا ، کھیں سے یہ آواز نہیں اٹھتی کہ یہ حقوق بشر کی پامالی ہے، یا ان لوگوں کا کچلنا آزادی کے خلاف ہے بلکہ اس حکومت کی حمایت کی جاتی ہے اور کھتے ہیں کہ یہ قانونی حکومت کے خلاف قیام تھا اور حکومت کو بھی اپنے دفاع کا حق ہے لیکن جب ایران کی کسی یونیورسٹی میں مشکوک طریقہ سے کسی کا قتل ہوجاتا ہے جس کا قاتل بھی ابھی تک پتہ نہ چل سکا (اگر چہ یہ بھی دشمن کے زر خرید نوکروں اور فساد پھیلانے والوں کا کام ہے) یا کسی شخص کی کسی حادثہ میں موت ہوجاتی ہے ، اسی طرح جب فتنہ وفساد پھیلانے والوں کے ذریعہ مساجد میں آگ لگائی جاتی ہے، ناموس پر حملہ کیا جاتا ہے ، اور بسیجی ان کا مقابلہ کرتے ہیں ؛ تو اس وقت مغربی ممالک خصوصاً امریکہ میں ہمارے ملک کے خلاف ھنگامہ ہوتا ہے، اور ہماری حکومت کو محکوم کیا جاتا ہے، اور ہمارے ملک کو آزادی اور ڈیموکریسی کا مخالف قرار دیا جاتا ہے دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ مظاہرہ کرنے والے اپنے حقوق اور آزادی کے خواہاں تھے، لیکن ایرانی حکومت نے ان کو کچل دیا ، جس کے نتیجے میں ایرانی حکومت کو محکوم کرنے کے علاوہ کوشش یہ ہوتی ہے کہ اسلامی جمھوری ایران سے مقابلہ کے لئے قوانین بنائے جائیں !

۱۳۔ دشمنان اسلام سے مقابلہ اور اعلان برائت ضروری ہے (قرآن کریم)

قارئین کرام ! نتیجہ یہ ہوا کہ جس خدا کی پہنچان قرآن کریم نے فرمائی ہے وہ خدا صاحب رحمت بھی ہے اور صاحب غضب بھی، اگرچہ اس کی رحمت اس کے غضب سے کھیں زیادہ ہے، اور اس کے غضب سے آگے آگے رہتی ہے ، اور یہ کہ خدا کی رحمت اس کے غضب کی نفی نہیں کرتی، جیسا کہ خداوندعالم نے گناہوں پر اصرار کرنے والی بعض گذشتہ اقوام پر اپنا غیظ وغضب کا مظاہر ہ کیا، اور ان پر اپنا عذاب نازل کیا ہے۔

دوسرے یہ کہ اسلام نے ؛ اپنے سے دشمنی اور عداوت رکہنے والوں کے لئے سخت سے سخت قوانین مرتب کئے ہیں اور مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ اسلام دشمن افراد سے واضح طور پر برائت اور نفرت کا اعلان کریں ۔

اس سلسلہ میں آپ حضرات سورہ ممتحنہ کی تلاوت کریں جس میں کفار اور مشرکین سے مسلمانوں کے طور طریقہ کو بیان کیا گیا ہے اور جو لوگ دشمنان خدا سے دوستی کا نقشہ پیش کرتے ہیں ان کی سخت مذمت کی گئی ہے ، نیز خداوندعالم دشمنان اسلام سے مخفی طور پر دوستی کرنے سے ڈراتا ہے۔ اس سورہ مبارکہ میں خداوندعالم مسلمانوں کو حکم دیتاہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور ان کے اصحاب سے پند حاصل کریں اور دشمنان خدا کے مقابلہ میں ان کے رویہ کو اپنے لئے نمونہ عمل قرار دیں ، نہ یہ کہ جو لوگ اسلام اور مسلمین کی نابودی کے لئے ظاہری اور مخفی طریقہ سے فعالیت کرتے ہیں ؛ ان کے سامنے بیٹھے مسکراتے رہیں !

چنانچہ ارشاد رب العزت ہوتا ہے:

( یَاایُّها الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَتَّخِذُوا عَدُوِّی وَعَدُوَّکُمْ اوْلِیَاءَ تُلْقُونَ إِلَیْهمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ کَفَرُوا بِمَا جَائَکُمْ مِنَ الْحَقِّ یُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِیَّاکُمْ انْ تُؤْمِنُوا بِاللهِ رَبِّکُمْ إِنْ کُنتُمْ خَرَجْتُمْ جِهادًا فِی سَبِیلِی وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِی تُسِرُّونَ إِلَیْهمْ بِالْمَوَدَّةِ وَانَا اعْلَمُ بِمَا اخْفَیْتُمْ وَمَا اعْلَنْتُمْ وَمَنْ یَفْعَلْه مِنْکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِیل ) (۱۲)

” ایمان والوں خبر دار ! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بنانا کہ تم ان کی طرف دوستی کی پیش کش کرو جب کہ انھوں نے اس حق کا انکار کردیا ہے جو تمھارے پاس آچکا ہے اور وہ رسول کو او رتم کو صرف اس بات پر نکال رہے ہیں کہ تم اپنے پروردگار (اللہ ) پر ایمان رکھتے ہو، اگر واقعاً ہماری راہ میں جھاد اور ہماری مرضی کی تلاش میں گھر سے نکلے ہو تو ان سے خفیہ دوستی کس طرح کر رہے ہو؟ جب کہ میں تمھارے ظاہر و باطن سب کو جانتا ہوں ، اور جو بھی تم میں سے ایسا اقدام کرے گا وہ یقینا سیدھے راستہ سے بھک گیا ہے۔“

( قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِی إِبْرَاهیمَ وَالَّذِینَ مَعَه إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنْکُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِکَفَرْنَا بِکُمْ وَبَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ ابَدًا حَتَّی تُؤْمِنُوا بِاللهِ وَحْدَه ) (۱۳)

” تمھارے لئے بہتر ین نمونہ عمل ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی ہے جب انھوں نے اپنے قوم سے کھہ دیا کہ ہم تم سے اور تمھارے معبودوں سے بےزار ہیں ہم نے تمھارا انکار کردیا ہے اور ہمارے تمھارے درمیان بغض اور عداوت بالکل واضح ہے یہاں تک کہ تم خدائے وحدہ لاشریک پر ایمان لے آؤ “

ہم سے کھا جاتا ہے کہ زندگی کی باتیں کیجئے اور ”امریکہ مردہ باد“ کے نعروں کو چھوڑئیے، جی نہیں ، ”امریکہ مردہ باد“ کے نعرے پورے زور وشور سے لگائے جائیں گے ، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح ان سے یہ بات واضح طور پر کھہ دی جائے کہ جب تک حق کے سامنے سر تسلیم نہ کروگے، خدا کے سامنے اپنا سر نہ جھکائیں اور دوسروں پر اپنی حکومت جتانا نہیں چھوڑتے اور استکبارکی حالت سے اپنے کو نہیں نکالتے اور اپنے اپنائے ہوئے راستہ کو نہیں بدلتے،دنیا بھر کے لوگوں کے منافع کو پامال کرنا نہیں چھوڑتے اور آزاد ملتوں پر ستم کرنا ترک نہیں کرتے، ہم تمھارے دشمن ہیں ۔

حالانکہ ان لوگوں نے ہمارے اور دوسرے اسلامی ملکوں کے منافع کو غارت کیا اور بھت زیادہ نقصانات پہنچائے، ہماری عزت و آبرو کو پامال کیااور ہمارے بھت سے رشتہ داروں کا خون بھایا، ہم بھلا کس طرح ان سے دوستی اور محبت کا مظاہرہ کریں ؟ کیا دنیا بھر میں سیکڑوں بار کا تجربہ ہمارے لئے کافی نہیں ہے کہ ہم یہ سمجھ لیں کہ ان کے اندر مفاد پرستی اور استکبار کے علاوہ کچھ نہیں ہے، ہم پھر ان کے مکر وفریب کے جال میں پھنس جائیں ؟!

قارئین کرام! قرآن مجید نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ خدا ورسول اور اسلام کے دشمنوں کے سامنے واضح طور پر برائت اور دشمنی کا اظھار کریں اور اگر ہم اسی اسلام اور قرآن کے ماننے والے ہیں جو کروڑوں کی تعداد میں ہر مسلمان کے پاس موجود ہے اور دشمنان خدا سے برائت پر زور دیتا ہے، اور یہ برائت اور دشمنی کا اعلان صرف جزائی (سزائی) قوانین کے تحت نہیں ہے بلکہ اس سے بھی آگے ہے؛ تو پھر یہ کس طرح کھا جاسکتا ہے کہ سب کے سامنے بیٹھے مسکراتے رہیں اور سب کے ساتھ مھربان رہیں ؟

حوالے

(۱)وصیت نامہ سیاسی الہی امام خمینی (رہ) ، بند دوم

(۲)سورہ آل عمران آیت۴

(۳)سورہ سجدہ آیت۲۲

(۴) سورہ بقرہ آیت۹۰

(۵) سورہ انعام آیت ۱۲

(۶) سورہ توبہ آیت۱۲

(۷)سورہ توبہ آیت۷۳،سورہ تحریم آیت نمبر ۹

(۸)سورہ توبہ آیت۱۲۳

(۹ ) سورہ انفال آیت۶۰

(۱۰) وصیت نامہ حضرت امام خمینی (رہ)، بند دوم

(۱۱)سورہ توبہ آیت۶

(۱۲) سورہ ممتحنہ آیت نمبر ۱

(۱۳) سورہ ممتحنہ آیت نمبر ۴


اڑتیسواں جلسہ

اسلامی قوانین کے ساتھ مغربی نظریات کا ٹکراؤ

۱ ۔ تحریک مشروطیت اور مغربی کلچر کا رواج

قارئین کرام! ہم نے ”اسلامی سیاسی نظریات“ کی بحث کے دوران بعض ان مشکلات کی طرف اشارہ کیا جو مغربی ثقافت کے نفوذ کی وجہ سے ہمارے ملک میں پیدا ہوگئی ہیں ، اور ہم نے ان اسباب کی طرف بھی اشارہ کیا جن کی وجہ سے یہ مشکلات پیدا ہوئی ہیں تاکہ ہمارے برادران خصوصاً جوانانِ عزیز اور آئندہ انقلاب کے وارث ان مشکلات میں گرفتار نہ ہوں منجملہ ان مشکلات کے جس کو گذشتہ بحث میں بیان کیا آزادی اور ڈیموکریسی کی بحث تھی۔

”تحریک مشروطیت“(۱) کے آغاز سے اس وقت تک ہمارے رابطہ مغربی کلچر سے زیادہ ہوتا گیا ہے، فرامانسون " Francmaconne "(۲) اور مغرب پرست (مغربی کلچر سے متاثر افراد) نے مغربی ممالک میں رائج مختلف کلچر کو اپناتے ہوئے ان کو اسلامی معاشرہ میں رائج کرنا شروع کردیا اگرچہ مختلف وجوھات کی بنا پر بعض چیزوں (جیسے آزادی اور ڈیموکریسی) کے رائج ہونے کا راستہ فراہم تھا، کیونکہ شاہ کے ظلم وستم سے ہمارا معاشرہ پریشان ہوچکا تھا، لھٰذا آزادی کی آواز پر فوراً لبیک کھا اور جب بھی کسی نے آزادی کا نعرہ لگایا اس کا بھت زیادہ استقبال ہوا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس طرح کے نعرے سب کی زبان پر آنے لگے، اور آزادی اور آزادی خواہی کے بھت زیادہ طرفدار بن گئے البتہ اسلامی اقدار کے مخالف ان قید و بند اور ظلم و ستم سے عوام الناس آزادی چاہتے تھے لیکن مغربی تمدن سے متاثر حضرات نے آزدای کا دوسرا رخ پیش کیا یعنی اسلام سے آزادی در حقیقت وہ اس نعرے کے ذریعہ عوام الناس کو اسلام سے دور کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ اسلامی قوانین اور اسلامی اقدار کی پابندی نہ کرپائیں ۔

اسی طرح وہ عوام الناس جو خان، راجہ اور فئوڈل( اشرافی حکومت، یا جاگیر داری )کی ظالم حکومت سے پریشان تھے، لھٰذا ان کو ڈیموکریسی کا نعرہ اچھا لگا اور ڈیموکریسی حکومت بنانے کی کوشش کرنے لگے، نہ یہ کہ اس طرح کے ظالم و جابر افراد ان کی سر نوشت اور زندگی کے بارے میں منصوبہ بندی بنائیں اسی وجہ سے یہ نظریہ عوام الناس میں قابل قبول تھا لیکن جن لوگوں نے اس معنی کو عام طور پر رواج دیا اور اس مغربی تحفہ کی عبادت وپرستش کرتے ہوئے دوسروں کو بھی اس کی پرستش کی دعوت دی، تو ان کا مقصد ڈیموکریسی کے اس نعرہ سے اسلامی اقدار کو بالائے طاق رکہ دینا تھااور دین کو معاشرہ کی سیاسی زندگی سے ہٹانا تھا، نیز عوام الناس کے نظریات اور ان کی مرضی کو اسلامی اور مذہبی اقدار کی جگہ قرار دینا ان کا مقصد تھا لیکن جو لوگ مغرب پرستوں کے ان ناجائز اہداف سے واقف نہ تھے وہ اس طرح کے مطلق شعار کو قبول کرلیتے تھے؛ لیکن جو لوگ دور اندیش اور ہوشیار تھے انھوں نے اس کے خلاف عکس العمل دکھایا، اور عوام الناس پر اس حقیقت کو واضح کرنے اور دشمن کی سازش کو برملا کرنے کے لئے انھوں نے اپنی جان تک کی بازی لگادی، اور اپنے تمام تر وجود کے ساتھ یہ اعلان کردیا کیا کہ وہ مطلق آزادی اور ڈیموکریسی جو اسلام اور اسلامی قوانین کے مخالف ہو؛ وہ اسلامی لحاظ سے قابل قبول نہیں ہے۔

شھید بزرگوار شیخ فضل اللہ نوری رحمة اللہ علیہ کا جرم یہ تھا کہ انھوں نے ڈیموکریسی اور مشروطہ غربی کی مخالفت کی جو کہ اسلامی اور الہی اقدار کے مخالف تھی، اور موصوف نے ”مشروطہ مطلقھ“ کے مقابلہ میں ”مشروطہ مشروعہ“(۱) پیش کی چنانچہ موصوف فرماتے تھے: ہم مشروطہ کو مطلق طور پر قبول نہیں کرتے، بلکہ ہم اس مشروطہ کو قبول کریں گے جو اسلام اور قوانین اسلامی کے موافق ہو ، لیکن دوسرے لوگ مشروطہ مطلقہ کا نعرہ لگاتے تھے، کیونکہ ان کی نظر میں اس کا موافق شریعت ہونا یا نہ ہونا کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا؛ لھٰذا اپنے ناپاک اہداف کے تحت اس عالی قدر عالم روحانی کو ظلم و استبداد کی طرف داری اور مشروطہ مطلقہ کی مخالفت کے جرم میں پھانسی پر لٹکا دیا اور ان کو شھید کردیا اگرچہ ایک طرف سے ”اصول گرایان“ اور ”اسلام خواہان“کے درمیان اور دوسری طرف دگر اندیشان اور مغرب پرستوں میں یہ جنگ و جدال اور کشمش ابھی تک جاری و ساری ہے۔

۲ ۔ اسلام میں مطلوب اور مقصود آزادی کے نقشہ پر بعض مولفین کی نا رضا مندی

قارئین کرام ! ہم نے گذشتہ سال آزادی اور ڈیموکریسی کے سلسلہ میں بحث وگفتگو کی جس میں ہم نے بیان کیا کہ ہمارے معاشرہ میں مطلق آزادی قابل قبول نہیں ہے، اور جیسا کہ اسلامی تمدن اور بنیادی قوانین میں مشروط آزادی مقبول ہے بنیادی قوانین کی اصل نمبر ۴ کی بنا پر : بنیادی قوانین کے اصول، قوانین موضوعہ، پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قوانین،یا دوسرے اداروں کے ذریعہ بنائے جانے والے قوانین اس وقت معتبر ہیں جب وہ دلیل شرعی کے عموم اور اطلاق سے کسی طرح کی کوئی مخالفت اور مغایرت نہ رکھتے ہوں لھٰذا اگر بنیادی قوانین کی ایک اصل بھی آیات و روایات کے عموم اور اطلاق سے مخالفت رکھتے ہوں تو وہ غیر معتبر ہے! ہماری ملت نے اسی بنیادی قوانین کو ووٹ دیا ہے جو اس قدر اسلامی مضبوط پشت پناہی رکھتا ہے لھٰذا اسلام کے احیاء اور زندگی کے لئے انقلاب برپا کرنے والے ہماری ملتبنیادی قوانین میں اسلامی احکام اور اسلامی منزلت کے تحفظ کے طلب گار ہیں ، تو پھر وہ غیر اسلامی تمدن کو کیسے قبول کرسکتی ہے؛ لھٰذا ہماری ملت کے نزدیک (جو اسلامی

____________________

(۱)یعنی وہ مشروطیت جس میں شرعی قوانین کے تحت کام کیا جائے (مترجم)

نظریہ ہے)؛وہ آزادی قابل قبول ہے جو اسلامی احکام اور اقدار کے تحت ہو۔

لیکن ہماری اس بحث کے بعد بھت سے اخبار وں کے مالکان نے ہماری مخالفت شروع کردی، اور بھت سے مقالات ہماری مخالفت میں چھپنے لگے، اور ہم کو آزادی اور ڈیموکریسی کا مخالف اور ظلم وستم کا طرف دار بتایا جانے لگا، یہاں تک کہ بعض لوگوں نے تو یہ بھی کھہ ڈالا کہ فلاں صاحب تو ایران کو پیچھے کی طرف لے جارہے ہیں ! اور آخر کار ایک مسلمان اور انصاف پسند مقالہ نگار نے ہماری باتوں کا اعتراف کیا اور کھا: ہمارا معاشرہ اس آزادی کا دفاع کرسکتا ہے جو اسلامی احکام اور قوانین شریعت کے دائرہ میں ہو؛ جبکہ ہمارے حکومتی عھدہ داران نے بھی بارہا اسی مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے اور کرتے رہتے ہیں ۔

۳ ۔ مفسد فی الارض کے بارے میں اسلامی حکم

ہم نے گذشتہ بحث میں بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ عدلیہ کو طاقتور ہونا ضروری ہے تاکہ خلاف ورزی کرنے والوں کو ان کی سزائے اعمال تک پہنچایا جاسکے، اور مجرموں کو سزا مل سکے، اور اس کام کے لئے پولیس اور قدرت کا استعمال کرنا ضروری ہے اور اگر اس طرح کی طاقت اسلامی حکومت میں نہ ہو تو پھر وہ معاشرہ میں اسلامی قوانین کو نافذ کرنے کی ضامن نہیں ہوسکتی اس چیز کو دنیا بھر کی حکومتوں میں قبول کیا جاتا ہے سوائے ”آنارشیسٹوں “" Anarchistes " ( فساد طلب ) اور حکومت کا انکار کرنے والوں کے، اور سبھی افراد حکومتوں کے لئے طاقت اور پولیس کو لازمی اور ضروری جانتے ہیں لھٰذا اسلامی حکومت کے لئے امن وامان قائم کرنے، معاشرہ میں نظم وضبط برقرار رکہنے،الہی احکام اور حدود نیز اسلام کے سزائی قوانین کو نافذ کرنے کے لئے قدرت اور طاقت کا استعمال ضروری ہے اسی طرح اگر کچھ لوگ اسلامی نظام کے خلاف مظاہرہ کرنے لگیں اور معاشرہ میں بد امنی پھیلانے لگیں تو اس وقت اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی قدرت اور پولیس کے ذریعہ ان کو اپنی جگہ بٹھادے۔

قارئین کرام ! ہم نے عرض کیا کہ بغیر کسی حد اور قید کے مطلق آزادی کو ایک ناقابل انکار ارزش اور اقدار کے عنوان سے بیان کرنے والے اور اس کے مقابلہ میں تشدد اور شدت پسندی کو مطلق طور پر ضدِّ اقدار قلمبند کرنے والے افراد کھتے ہیں : ”یھاں تک کہ نظام اسلامی کے مقابلہ میں قیام کرنے والوں اور تشدد اور شدت پسندوں کے مقابلہ میں ؛ تشدد اور شدت پسندی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے، بلکہ پیار و محبت اور الہی و اسلامی رحمت کے ساتھ برتاؤ کیا جانا چاہئے۔“

بے شک ان لوگوں کا یہ نظریہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ اگر مجرموں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے مقابلہ میں سخت رویہ نہ اپنایا جائے اور ضروری مواقع پر تشدد اور پولیس کا سھارا نہ لیا جائے تو اس طرح کے فتنہ وفساد دوبارہ بھی ہوسکتا ہے یہاں تک کہ ممکن ہے اس طرح کے برتاؤ سے دوسرے بھی ناجائز فائدہ اٹھائیں ، کیونکہ اگر اس طرح کا فتنہ وفساد بپا کرنے والوں ، مساجد میں آگ لگانے والوں ، عورتوں کے سروں سے چادر چھینے والوں اور مختلف مقامات پر آگ لگانے والوں نیزدھشت گردی پہلانے والوں کے مقابلہ میں اگر بیٹھے مسکراتے رہیں اور نرمی کے ساتھ برتاؤ کرتے رہیں تو گویا یہ فتنہ وفساد پہلانے والوں کے لئے ایک سبز چراغ ہوگا اور وہ یہ سوچ سکتے ہیں کہ اس طرح کا کام دوبارہ بھی کیا جاسکتا ہے!! لھٰذا یہ نظریہ بالکل نا درست اور اسلام کے مخالف ہے کیونکہ اسلام کا حکم یہ ہے کہ محارب (لڑائی جھگڑا کرنے والا) اور مفسدفی الارض کے لئے سخت سے سخت سزائیں دی جائیں ۔

عام طور پر حکومتی قوانین کی خلاف ورزی کرنا اور تشدد کا استعمال کرنا دو طریقہ پر ہوسکتا ہے: کبھی تو انفرادی طور پر ہوتا ہے اور کبھی اجتماعی طور پر اجتماعی طور پر اس طرح سے کہ ایک گروہ منصوبہ بندی کے ساتھ حکومت کے خلاف مسلحانہ حملہ کرتا ہے اسلامی فقہ میں اس گروہ کو ”بُغاة“ اور ”اہل بَغی“ (بغاوت کرنے والا) کھا جاتا ہے اسلامی جھاد کی ایک قسم اسی طرح کے لوگوں سے جھاد کرنا ہے اگر کچھ لوگ کسی گروہ کے تحت اسلامی حکومت کے خلاف مسلحانہ قیام کریں توان سے جنگ کرنا ضروری ہے، یہاں تک کہ اسلامی حکومت کے سامنے تسلیم ہوجائیں اور ان سے کسی طرح کی کوئی سازش نہیں کرنا چاہئے لیکن کبھی حکومت کے خلاف اس طرح کا قیام کسی خاص گروہ کے تحت نہیں ہوتا بلکہ ایک یا دو آدمی مسلحانہ حملوں کے ذریعہ معاشرہ میں بد امنی پھیلاتے ہیں اور عوام الناس کی جان ومال او رناموس پر حملہ ور ہوتے ہیں اور دھشت گردی پھیلاتے ہیں شریعت اسلام میں ایسے افراد کو ”محارب“ کھا گیا ہے ایسے افراد کے مقابلہ میں لشکر کشی کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ ان لوگوں کو اسلامی عدالت کے حوالہ کیا جاتا ہے تاکہ قاضی شرع ان کے بارے میں فیصلہ کرے۔

اور قاضی شرع بھی محارب اور مفسد فی الارض کے سلسلہ میں چار احکام میں سے کوئی ایک حکم لگا سکتا ہے، اور وہ چار حکم درج ذیل ہیں :

۱ ۔ پھانسی دینا۔

۲ ۔ تلوار یا بندوق کے ذریعہ موت کے گھاٹ اتار دینا۔

۳ ۔ مختلف سمت سے ھاتہ پیر کاٹ دینا ،(یعنی داہنا ھاتہ اور بایاں پیر ،یا بایاں ھاتہ اور داہنا پیر)۔

۴ ۔ اسلامی ملک سے نکال دینا۔

چنانچہ اس سلسلہ میں قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِینَ یُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَه وَیَسْعَوْنَ فِی الْارْضِ فَسَادًا انْ یُقَتَّلُوا اوْ یُصَلَّبُوا اوْ تُقَطَّعَ ایْدِیهمْ وَارْجُلُهمْ مِنْ خِلاَفٍ اوْ یُنفَوْا مِنْ الْارْضِ ذَلِکَ لَهمْ خِزْیٌ فِی الدُّنیَا وَلَهمْ فِی الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیمٌ ) (۳)

”بس خدا و رسول سے جنگ کرنے والے اور زمین میں فساد کرنے والوں کی سزا یہی ہے کہ انہیں قتل کردیا جائے یا سولی پر چڑھا دیا جائے یا ان کے ھاتہ پیر مختلف سمت سے قطع کردئے جائیں یا انہیں ارض وطن سے نکال باہر کیا جائے، یہ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں عذاب عظیم ہے۔ “

لھٰذا معلوم یہ ہوا کہ جو لوگ اسلامی حکومت اور نظام اسلام کے خلاف فتنہ وفساد برپا کریں وہ محارب اور مفسد فی الارض ہیں اور ان کو اسلام کے مطابق سزا دی جائے، کسی بھی صورت میں اسلامی سزا اٹھائی نہیں گئی ہیں اسلامی تمدن کے مخالف افراد کھا کرتے ہیں کہ اسلامی سزائیں اور اسلام کے احکام تشدد آمیز ہیں اور عام طور پر کسی بھی طرح کی تشدد مذموم ہے اور جیسا کہ ہم نے تشدد کی بحث میں بیان کیا کہ جس طرح مطلق آزادی صحیح نہیں ہے اسی طرح مطلق تشدد بھی محکوم اور مذموم نہیں ہے بلکہ بعض موقع پر تشدد اور غیظ وغضب کا مظاہرہ کرنا جائز اور لازم ہے، اور جو لوگ تشدد اور غیظ وغضب کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں ان کے ساتھ میں ویسے ہی تشدد اور قھر و غضب کے ساتھ جواب دیا جائے، ورنہ اگر ان کے ساتھ پیار و محبت کا برتاؤ کیا جائے تو واقعاً یہ ان کے لئے ایک سبز چراغ دکھانے کی طرح ہوگا اور وہ پھر دوبارہ بھی اس طرح کا آشوب برپا کرسکتے ہیں ، اور اس طرح دوبارہ فساد پھیلانے کا راستہ ہموار ہوجائے گا۔

۴ ۔ سخت رویہ نہ اپنانے کا نتیجہ

گذشتہ سال ملک کے بعض مقامات پر مختصر طور پر بدامنی پھیلی ، اور بعض دلائل کی بنا پر حکومتی عھدہ داروں نے یہ مصلحت دیکھی کہ بد امنی پھیلانے والوں کے ساتھ تھوڑی نرمی کے ساتھ برتاؤ کیا جائے، اور سخت رویہ نہ اپنایا جائے؛ چنانچہ آپ حضرات نے دیکھا کہ اسی نرم رویہ اپنانے کا نتیجہ تھا کہ ایک بار پھر بد امنی پھیل گئی، جس کے درد ناک نتائج ناقابل برداشت تھے لھٰذا اگر بد امنی پھیلانے والوں اور مفسد فی الارض کے ساتھ سخت برتاؤ نہ کیا جائے اور اسلامی سزائیں ان کے حق میں جاری نہ کی جائیں تو پھر دوبارہ بدامنی نہ پھیلنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے اور یہ بھی ضمانت نہیں ہے کہ ایک بار پھر یونیورسٹی کے ماحول سے ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جائے گا بے شک ہمارے یونیورسٹی کے طلباء مسلمان، ہوشیار اور موقع شناس ہیں اور بدامنی اور آشوب پھیلانے سے بری ہیں لیکن بعض افراد ایسے بھی موجود ہیں جو انہیں طلباء کے پاکیزہ احساسات سے ناجائز فائدہ اٹھاکر پھر دوبارہ بد امنی پھیلانا چاہتے ہیں ۔

لھٰذا گر بد امنی پھیلانے والوں کے ساتھ سخت رویہ نہ اپنایا جائے اور بعض لوگوں کے مطابق؛ ان کے ساتھ تشدد اور شدت پسندی کا برتاؤ نہ کیا جائے تو پھر دوبارہ اس طرح کی بد امنی نہ پھیلانے کی کیا ضمانت ہے؟ لھٰذا توجہ رہے کہ اگر اسلامی سزائیں سخت ہیں جیسا کہ چور کے ھاتہ کاٹنے کا حکم ہے یا دوسرے جرائم؛ خصوصاً محارب اور مفسد فی الارض کے لئے سخت سے سخت سزائیں معین کی ہیں ، تو وہ اس وجہ سے ہیں تاکہ پھر کوئی بد امنی پھیلانے کی جرائت نہ کرسکے ، اور اس طرح کے مجرم سخت سزا سے خوف زدہ رہیں کیونکہ دشمن اور مجرم کو ڈرانے کا مسئلہ اسلام کی ایک بھت بڑی حکمت ہے جس کی طرف قرآن مجید نے اشارہ کیا ہے، مسلمانوں اور سیاسی مسلمانوں کو اس آیت پر توجہ کرنا چاہئے، ارشاد رب العزت ہوتا ہے:

( وَاعِدُّوا لَهمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهبُونَ بِه عَدُوَّ اللهِ وَعَدُوَّکُمْ وَآخَرِینَ مِنْ دُونِهمْ لاَتَعْلَمُونَهمْ اللهُ یَعْلَمُهمْ وَمَا تُنفِقُوا مِنْ شَیْءٍ فِی سَبِیلِ اللهِ یُوَفَّ إِلَیْکُمْ وَانْتُمْ لاَتُظْلَمُونَ ) (۴)

” اور تم سب ان کے مقابلہ کے لئے امکانی قوت اور گھوڑوں کی صف بندی کا انتظام کرو جس سے اللہ کے دشمن، اپنے دشمن اور ان کے علاوہ جن کو تم نہیں جانتے ہو اور اللہ جانتا ہے سب کو خوفزدہ کردو، اور جو کچھ بھی راہ خدا میں خرچ کرو گے سب پورا پورا ملے گا اور تم پر کسی طرح کا ظلم نہیں کیا جائے گا۔“

جن مواقع پر عوام الناس کی طرف سے تشدد جائز ہے وہ اس وقت ہے جب عوام الناس کو یہ احساس ہوجائے کہ اسلامی عھدہ داران خطرہ میں ہیں ، اور اسلامی نظام کے خلاف سازش ہورہی ہے ، اور صرف اسلامی حکومت اسلامی نظام کا دفاع کرنے پر قادر نہیں ہے کیونکہ جب اسلامی حکومت کو نظام کے سلسلہ میں کسی سازش کا پتہ چل جاتا ہے تو وہ خود اپنی ذمہ داری پر عمل کرتی ہے، لیکن اگر اسلامی حکومت تنھا کافی نہ ہو تو عوام الناس کا وظیفہ بنتا ہے کہ اسلامی حکومت کی مدد کریں اور اسلامی حکومت کے عھدہ داروں کا دفاع کریں جیسا کہ آپ حضرات نے دیکھا کہ اس سال (تیر ماہ ۱۳۷۸ ئہ شمسی ) کے درد ناک حادثہ میں کس طرح کا ماحول پیدا ہوگیا، اس وقت واقعاً اسلامی نظام خطرہ میں تھا، اس وقت حکومتی قدرت اس فساد کی آگ کو بجھانے کے لئے کافی نہ تھی، لھٰذا عوام الناس اور بسیجی ( عوامی رضاکار فوج) اس آگ کو بجھانے کے لئے آگے بڑھے اور اس کو خاموش کردیا؛ جیسا کہ بعض حکومتی بڑے عھدہ داروں نے بھی اس بات کی وضاحت کی کہ اس شعلہ ور آگ کو ہمارے بسیجیوں نے بجھایا ہے۔

لھٰذا اگر اسلامی نظام کے خلاف کوئی سازش ہو (جبکہ بعض لوگ اس سازش سے بے خبر رہتے ہیں ) اور ہم واضح اور قطعی طور پر اس سازش کا احساس کرلیں اور اس سازش کو ختم کرنے کے لئے تشدد کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہ ہو،تو اس صورت میں تشدد او رشدت پسندی کا اظھار کرنا واجب اور ضروری ہے جیسا کہ حضرت امام خمینی (رہ) نے فرمایا کہ ”اس موقع پر تقیہ کرنا حرام ہے، اور قیام کرنا چاہئے، ہرچہ بادا باد “(چاہے کچھ بھی ہو) جس وقت خود اسلام خطرہ میں ہو اس موقع پر کسی طرح کا کوئی تقیہ جائز نہیں ہے، اور اسلام کے دفاع کے لئے اٹہ کھڑا ہونا چاہئے، یہاں تک کہ اگر ھزاروں لوگ بھی قتل ہوجائیں ، اگرچہ دوسرے افراد کسی وجہ سے اس خطرہ کی طرف متوجہ نہ ہوں یا وہ اس کام میں مصلحت نہ سمجھتے ہوں ، لیکن جب یقینی دلائل کے ساتھ واضح ہوجائے کہ واقعاً اسلامی نظام اور اسلامی عھدہ داروں کے لئے خطرہ ہے تو پھر عوام الناس کو ان کا دفاع کرنا واجب ہے؛ لھٰذا یہاں پر تشدد اور غیظ وغضب کا ظاہر کرنا واجب ہے۔

ہماری باتوں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر موقع پر تشدد سے کام لیا جائے ، ہم تشدد کے طرفدار نہیں ہیں بلکہ ہمارا اعتقاد تو یہ ہے کہ پیار و محبت اور مھربانی اصل ہے ، اور صرف ضروری مواقع پر تشدد سے کام لیا جائے ہماری عرض تو اتنی ہے کہ جب اسلامی حکومت موجود ہو تو پھر حکومتی متعلق اداروں اور عدلیہ کے فیصلہ کے مطابق کام ہو؛ لیکن اگر کوئی مسئلہ حکومت کے ھاتھوں سے نکل جائے اور اسلام اور اسلامی نظام کی حفاظت کے لئے تشدد کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہ بچے تو اس وقت تشدد کا مظاہرہ کرنا واجب ہے۔

۵ ۔ تشدد کی بحث کے مقابلہ میں غیر ذمہ دارانہ رویہ

گذشتہ جلسہ میں تشدد کے سلسلہ میں مطالب بیان کرنے کے بعد بعض مغرب پرست اخباروں نے ہمارے اوپر اعتراضات کئے اور بھت سے مقالات اخباروں میں چھپے حقیر اس سلسلہ میں ان تمام افراد کا شکر گذار ہے جنھوں نے ہماری موافقت یا مخالفت میں گفتگو کی یا مقالہ لکھا کیونکہ ہمارا تو یہ نظریہ ہے کہ اخباروں میں اس طرح کی باتوں پر نقد وتنقید کوئی نقصان دہ نہیں ہوتی؛ بلکہ اس طرح سے بات بالکل صاف ہوجاتی ہے تاکہ عوام الناس اپنے عقائد کو راسخ تر کرلیں ، اور اپنے وظیفہ کو بہتر طور پر سمجھ لیں لیکن شرط یہ ہے کہ ایک طرف کی بات سن کر فیصلہ نہ کیا جائے اور دونوں طرف کی مکمل باتوں کو پیش کیا جائے لیکن افسوس کے ساتھ عرض کیا جاتا ہے کہ بعض لوگوں نے ہماری باتوں کو کاٹ چھانٹ کر بعض عھدہ داروں تک پہنچائی جن کی وجہ سے وہ پریشان ہوگئے اور جلد بازی میں ہمارے خلاف فیصلہ کرنے لگے۔

ھمیں ددسروں سے یہ امید نہیں ہے کہ وہ ہماری باتوں کی تائید کریں اسی طرح ان سے کسی طرح کا کوئی خوف بھی نہیں ہے ہم اپنی شرعی اور الہی ذمہ داری پر عمل کرتے ہیں ، اگر کسی کو اچھا لگے تو بہتر ، ورنہ ہم نے اپنی ذمہ داری پر عمل کردیا ہے اور خدا پر بھروسہ کیا ہے، ہمیں کسی کی توہی ‎ ن یا دھمکی کا کوئی خوف نہیں ہے لیکن جو لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ سب کی باتوں کوکشادہ دلی کے ساتھ سننا چاہئے؛ ان سے یہ امید تھی کہ ہماری باتوں کو سنتے اور شاید ہماری پوری بات کو سننے کے بعد ان کو مان بھی لیتے اور اگر ہماری بات کو قبول بھی نہ کرتے تو اس کا جواب دلیل و منطق اور اصول کے تحت دیتے، نہ یہ کہ نامناسب الفاظ سے ہمیں نوازا جاتا۔

افسوس کہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ ہم ان تمام لوگوں کو تحریری جواب دیں جنھوں نے تقریروں ، اخباروں اور مقالوں میں اظھار محبت کی اور ہمارے نفع یا ہمارے نقصان میں کچھ بیان کیا اوران دو ھفتوں میں سیکڑوں مقالے لکھے، اسی طرح ان سب کو الگ الگ زبانی جواب دینے کی بھی فرصت نہیں ہے لھٰذا ان کو جواب نہیں دیتے ، ہمیں امید ہے کہ ان سب کا یہ کام خوشنودی خدا کے لئے ہوگا۔

ہم اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ اسلامی معاشرہ کے لئے ضروری چیزوں کو دلائل اور برہان کے ساتھ بیان کریں ، لیکن اگر کسی کو اچھا نہ لگے تووہ منطق اور دلیل کے ساتھ اس کا جواب دے۔

۶ ۔ قرآن مجید میں لفظ ” تشدد“ کے ہم معنی لفظ کی تحقیق

قارئین کرام ! ہم یہاں پر ضروری سمجھتے ہیں کہ تشدد کے سلسلہ بیان شدہ باتوں کا خلاصہ کریں : ”تشدد“ عربی لفظ ہے اور فارسی زبان میں بھی استعمال ہوتا ہے، جس کے معنی سختی سے پیش آنے کے ہیں ، اس کے مقابلہ میں لفظ ”لیّن“ ہے جس کے معنی ”نرمی “ کے ہیں قرآن مجید میں لفظ ”لیّن“کے مقابلہ میں لفظ ”تشدد“ کا استعمال نہیں ہوا ہے، بلکہ لفظ ”غلظت“ استعمال ہوا ہے؛ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں (تشدد اور غلظت) مترادف (ہم معنی) الفاظ ہیں جیسا کہ فارسی (یا کسی دوسری زبان ) میں مترادف الفاظ ہوتے ہیں ، اسی طرح عربی زبان میں بھی بھت سے مترادف الفاظ ہوتے ہیں ، قرآن مجید میں کبھی ان دو مترادف الفاظ میں سے ایک لفظ استعمال ہوا ہے اور کبھی کبھی دونوں الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، اور کبھی دو الفاظ میں سے ایک خاص معنی میں استعمال ہوا ہے، مثال کے طور پر لفظ ”قلب“ سے ایک معنی مراد ہوتے ہیں اور لفظ ”فواد“ سے دوسرے معنی، (جبکہ دونوں کے معنی ”دل“ کے ہیں ) اور کبھی کبھی ایک لفظ کی جگہ دوسرا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن مجید میں لفظ ”لیّن“ (نرمی) کے مقابلہ میں لفظ ”غلظت“ استعمال ہوا ہے، جیسا کہ خداوندعالم نے پیغمبر اکرم سے خطاب فرماتا ہے:

( فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللهِ لِنْتَ لَهمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِکَ ) (۵)

” پیغمبر یہ اللہ کی مھربانی ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے نرم رہو ورنہ اگر تم بد مزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمھارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے “

فارسی میں لفظ” غلظت “ سختی کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا، بلکہ ہماری زبان میں اس لفظ کو ”بھنے والی “ چیزوں میں استعمال کیا جاتا ہے، مثلاً کھا جاتا ہے کہ خرمے کا رس ”غلیظ“ ہے ، یعنی سخت ہے، اور لفظ ”غلظت“ جس کے مقابلہ میں لفظ ” لیّن“ ہے؛ اس کے ہم معنی لفظ ”تشدد“ ہے جس کے سلسلہ میں ہم نے بحث کی ہے،اور کھاکہ تشدد مطلق طور پر مذموم نہیں ہے، بلکہ بعض مواقع پر نہ صرف یہ کہ مذموم نہیں ہے بلکہ ضروری اور واجب بھی ہے۔

۷ ۔مغربی اور اسلامی نظر میں تحمل اور ٹولرانس کے معنی

قارئین کرام ! ہم نے آزادی کے سلسلہ میں عرض کیا کہ ہمارے سیاسی اور ادبی معاشرہ میں کئے جانے والے آزدای کے معنی لفظ لبرلیزم " Liberalism " کا ترجمہ ہے جس کا رواج مغربی ممالک میں بھت زیادہ ہے اسی طرح لفظ ”تحمل“ (کسی کی بات کو برداشت کرنا) جو لفظ ”تشدد“ کے مقابلہ میں استعمال کیا جاتا ہے یہ انگلش لفظ ٹولرانس " Toleranec " کے ہم معنی ہیں جس کے معنی تحمل اور برادشت کرنا ہیں بھر حال چونکہ یہ دونوں الفاظ مغربی ممالک میں بھت زیادہ رائج ہیں البتہ اس چیز میں کوئی ممانعت بھی نہیں ہے کہ اگر کسی دوسری زبان کا لفظ واضح اور شفاف معنی رکھتا ہو تو اس کو ”ھو بھو“ یا اس کے ہم معنی کوئی دوسرا لفظ اپنی ادبیات میں شامل کرلیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں البتہ اس نکتہ پر توجہ رہے کہ کبھی کبھی دوسری زبان کے یہ الفاظ بھت سی حد و قید رکھتے ہیں اور خاص الخاص معنی رکھتے ہیں نیز اسی زبان کے ماحول سے اس کے معنی کئے جاتے ہیں یعنی جب کسی زبان میں کوئی لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس کے مثبت یا منفی معنی ہوتے ہیں لیکن اگر اسی کو کسی دوسری زبان میں لے جاکر معنی کئے جائیں تو اس کے معنی بدل جاتے ہیں یا اس کے معنی بالکل برعکس ہوجاتے ہیں ، مثال کے طور پر:

یھی لفظ ” آزادی“جو مغربی تمدن سے ہماری زبان میں وارد ہوا ہے ؛ مغربی ممالک میں اس کے بھت زیادہ وسیع معنی ہیں اور جنسی مسئلہ میں کسی قسم کی روک ٹوک نہ ہونے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جب کہ ہمارے معاشرہ میں ایسا نہیں ہے، ا ور یہ معنی ہمارے معاشرہ بلکہ دوسرے اسلامی معاشرہ میں بھی قابل قبول نہیں ہیں ، لھٰذا ہم اسلامی اور قومی اقدار کی بنا پر مجبور تھے کہ اس آزادی میں کچھ قید وشرط کا اضافہ کریں اور جائز آزادی نیز اسلامی قوانین کے مطابق آزادی کو قبول کرلیں ، لھٰذا واضح طور پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم ”مطلق آزادی“ کو نہیں مانتے اسی طرح ”تشدد“ کے وہ معنی جو ہماری زبان میں وارد ہوگئے ہیں اور مغربی ممالک میں اس کو مطلقاً قابل مذمت گردانتے ہیں ؛ جب کہ ہم اس کو بطور مطلق ضدّ اقدار نہیں سمجھتے، جس طرح سے مطلق آزادی کو نہیں مانتے بلکہ ہم منطق اور اصول سے خالی تشدد جوانسانی اخلاق کے مخالف ہو؛اس کو مذموم مانتے ہیں ، اور ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ بعض مواقع پر تشدد ؛ عقل کا تقاضا اور معاشرہ کے منافع کو پورا کرنے والی ہے، لھٰذا اس وقت اس میں کوئی نقصان بھی نہیں ہے۔

لھٰذا جب لفظ ٹولرانس " Toleranec " انگلش سے نکل کر ہماری زبان میں داخل ہوا ، تواس کو مطلق طور پر قبول کرنے سے پہلے اس کے صحیح معنی پر توجہ کریں اور یہ دیکھیں کہ مغربی ممالک میں اس کے کیا کیا مثبت یا منفی پہلو ہیں ، اور اس کے پشت پردہ کیا راز پوشیدہ ہے اور کس مقصد کے تحت ہماری سیاسی ادبیات میں داخل ہوا ہے؟ نیز یہ دیکھیں کہ اس کے منتقل ہونے کے بعد اس کے معنی میں کیا کچھ تبدیلی پیدا ہوئی ہے یا نہیں ؟

لفظ ٹولرانس کا مفھوم مغربی ماڈرن تمدن کا ایک تحفہ ہے جو ” رنسانس“کے زمانہ بعد سے اہستہ اہستہ رائج ہوتا چلا گیا ہے اور آج کل مغربی ممالک میں بے دینی تمدن کی ایک واضح پہنچان ہے (توجہ رہے کہ ہم نے اس سے پہلے بھی عرض کیا ہے کہ جب ہم مغربی تمدن کا نام لیتے ہیں تو اس سے مراد ان ممالک میں رہنے والے تمام لوگوں کا تمدن نہیں ہے؛ کیونکہ وھاں پر بھت سے دیندار مسلمان بھی موجود ہیں ، بلکہ ہماری مراد مغربی ممالک میں حکمراں تمدن ہے جس کے مخالف بھی خودانہیں ممالک میں بھت زیادہ پائے جاتے ہیں ۔)

اس لفظ ٹولرانس " Toleranec " کی تحقیق کے سلسلہ میں مزید عرض کرتے ہیں :

اولاً: مغربی ممالک میں حکمراں تمدن میں تمام اقدار (چاہے وہ اخلاقی اقدار ہوں یا اجتماعی اقدار یا حقوقی اور سیاسی) اعتباری امور ہیں اور ان کی کوئی عقلائی اور واقعی حققت نہیں ہے دوسرے الفاظ میں یوں سمجھ لیجئے کہ اقدار کا تعلق عوام الناس کی مرضی اور ان کے سلیقہ پر ہوتا ہے کیونکہ کسی چیز پر اعتقاد رکہنا سب کے لئے اور سب جگہ پر اقدار نہیں کھلاتا بلکہ مغربی ممالک کی نظر میں اقدار اس وقت اقدار ہے جب معاشرہ اس کو قبول کرے، لیکن اگر ایک زمانہ میں عوام الناس کا سلیقہ بدل جائے تو یہی اقدار ضد اقدار میں بدل جائے گا۔

ثانیاً : یہ لوگ اسلامی اعتقاد کو اسی اعتباری اقدار کے ہم پلہ قرار دیتے ہیں ، اورانسان کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ چاہے وہ ان کو قبول کرے یا ترک کردے، گویا دینی عقائد کو بھی ایک سلیقہ کی طرح قرار دیتے ہیں :

جس طرح انسان اپنے سلیقہ کی بنا پر اپنے لباس کا رنگ اختیار کرتا ہے مثلاً کوئی نیلا رنگ پھننا چاہتا ہے اور کوئی کالا رنگ ، جبکہ کسی کو یہ نہیں کھا جاسکتا کہ تم اس رنگ کو کیوں انتخاب کرتے ہو؟! اور نہ ہی اس کے اس کام پر مذمت کی جاسکتی ہے کیونکہ ہر شخص اپنے سلیقہ میں مختار اور آزاد ہے، اسی طرح یہ لوگ دین کوبھی اپنے سلیقہ کی بنا پر اختیار کرتے ہیں ، اس کے بارے میں یہ نہیں کھا جاسکتا کہ تو نے اس دین کو کیوں انتخاب کیا اور اس دین کو کیوں انتخاب نہیں کیا، اور کیوں فلاں دینی عقیدہ کی توہی ‎ ن کرتے ہواور اس کو نفی کرنے کی کوشش کرتے ہو اور اس سے بھی بالاتر اگر کسی نے اپنے دینی اعتقادات کوبالائے طاق رکہ دیا اور کسی دوسرے مذہب میں داخل ہوگیا تو اس کی بھی مذمت نہیں کی جاسکتی ، کیونکہ عقیدہ بدلنا بھی ایک سلیقہ کی طرح ہے جو کسی بھی وقت بدلا جاسکتا ہے!

لیکن اسلامی نقطہ نظر سے دینی مقدسات اور اسلامی اقدار ؛جان ومال اور ناموس سے بھی زیادہ مہم ہے وہ اسلام جو ہمیں اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ مال کی حفاظت کے لئے جان کی حد تک دفاع کرسکتے ہیں ( یعنی جب تک جان جانے کا خطرہ نہ ہو اس وقت تک اس کی حفاظت ضروری ہے، لیکن اگر مال کی خاطر جان جانے کا خطرہ ہو تو اس وقت اس مال کو جان پر قربان کردیا جائے) کیا وہ اسلام دینی مقدسات کے دفاع کی اجازت نہ دے گا؟ (اگر چہ شورایٰ شھر تھران کے ایک نمائندہ نے اس بات کی بھی اجازت دیدی ہے کہ خدا کے خلاف بھی مظاہرہ کیا جاسکتا ہے) لیکن تمام مراجع تقلید کے فتوایٰ کی بنا پر اور شیعہ و سنی اجماع کی بنا پرتمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کوئی شخص ایک جنگل اور بیابان میں کہ جھاں پر کوئی موجود نہ ہو ؛خدا، رسول ، مقدسات اسلامی اور دین اسلام کی ضروریات کی توہی ‎ ن کرے ، اوراس کو پولیس یا عدلیہ کے حوالہ کرنے کا کوئی امکان نہ ہو تو ہر مسلمان پر واجب ہے کہ اس کو اسلامی مقدسات کی توہی ‎ ن کی بنا پر قتل کردے اور اسی اسلامی نظریہ کی بنا پر حضرت امام خمینی (رہ) نے مرتد سلمان رشدی کے قتل کا فتویٰ صادر فرمایاجس کی تمام شیعہ سنی علماء نے تائید کی مغربی تمدن سے ہمارا نقطہ اختلاف یہی ہے جس کو اسلام قبول کرتا ہے لیکن مغربی کلچر نہیں مانتا۔

ہمارا دینی وظیفہ اور دینی غیرت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ہم اسلامی مقدسات کی توہی ‎ ن ہوتے ہوئے خاموش بیٹھے دیکھتے رہیں ، اسلام نے دینی مقدسات کی توہی ‎ ن کے مقابلہ کے لئے تشدد کو جائز قرار دیا ہے جب اسلام ہمارے نزدیک اپنی جان و مال اور اولاد سے بھی زیادہ عزیز ہے تو ہم اس کی حفاظت اور دفاع کے لئے اپنی جان کو بھی خطرہ میں ڈال سکتے ہیں لھٰذا اگر کوئی اسلامی مقدسات کی توہی ‎ ن کرے تو ہر انسان اس کو سزا دے سکتا ہے یہاں تک کہ اگر اس کو یہ بھی احتمال ہو کہ کل اسے (اسی قتل کی بنا پر) گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے اور اس کے خلاف کاروائی کی جاسکتی ہے کہ تجھے اس قتل کا کوئی حق نہیں تھا ، اور وہ مقتول کے ”مھدور الدم“ ( یعنی قتل جائز )ھونے کو ثابت نہ کرسکتا ہو جس کے نتیجہ میں اس پر قصاص یا سزائے موت کا فیصلہ دیا جائے، تو اس صورت میں بھی وہ اپنے دینی وظیفہ پر عمل کرسکتا ہے اور اسلام کی توہی ‎ ن کرنے والے کو سزائے اعمال تک پہنچا سکتا ہے ، مگر یہ کہ اس کے قتل کرنے سے مزید فساد پھیلنے کا خطرہ ہو۔

حوالے:

(۱) مشروطیت اس شاہی حکومت کو کھتے ہیں جس میں قوانین کے تحت کام کیا جائے (مترجم)

(۲) طرفداران انسانیت، تھذیب ، اخلاق اور انسانی فکری رشداور مذہبی اختلافات کو دور کرنے والوں کو فرامانسون کھا جاتا ہے (مترجم)

(۳)سورہ مائدہ آیت۳۳

(۴ ) سورہ انفال آیت۶۰

(۵)سورہ آل عمران آیت ۱۵۹


انتالیسواں جلسہ

دینی عقائد و اقدار کے نسبی ہونے کے نظریہ کی تحقیق و بررسی

۱ ۔ دینی مسائل کو مطلق یا نسبی قرار دینا

قارئین کرام! ہم نے گذشتہ دو سال میں ”اسلامی سیاسی نظریات“ کے بارے میں گفتگو کی گذشتہ سال اسلامی نقطہ نظر سے ”قانون اور قانون گذاری“ کے سلسلہ میں بحث کی اور اس سال میں ”کشور داری“ (حکومت او راس کی ذمہ داریوں ) کے بارے میں بحث کررہے ہیں اور ہم نے اپنی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے کھا کہ بعض چیزوں کے لئے عقلی دلائل کا ہونا ضروری ہیں اور اکثر چیزیں آیات وروایات کی طرف مستند ہونا چاہئیں اسی وجہ سے ہماری بحث ایک ”تلفیقی“ بحث ہیں یعنی ہماری بحث میں نہ صرف عقلی دلائل ہیں اور نہ صرف شرعی اور تعبدی، بلکہ قارئین کرام کے لحاظ سے جو طریقہ بھی مناسب ہوتا ہے جس سے بات کو آسان طریقہ سے سمجھایا جاسکتا ہے؛ اسی لحاظ سے بیان کرتے ہیں ، چاہے وہ عقلی دلائل ہوں یا شرعی۔

چاہے ہم عقلی دلائل کے ذریعہ کسی چیز کو ثابت کریں اور چاہے شرعی دلائل کے ذریعہ کسی چیز کے بارے میں بحث کریں ، دونوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن چیزوں کو ہم اپنی بحث میں ثابت کرتے ہیں کیا وہ سب کے نزدیک معتبر اور حجت ہیں ؟ یعنی مطلق طور پر اعتبار رکھتے ہیں ، یا مطالب اور اقدار نسبی ہوتے ہیں اور صرف کہنے والے کے نظریہ کو بیان کرتے ہیں ، اور ممکن ہے کہ اس سلسلہ میں دوسروں کا ایک الگ نظریہ ہو جو اس کے مطابق نہ ہو؟ دوسرے الفاظ میں یوں عرض کیا جائے کہ ایک مسلمان ، یا شیعہ اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کا تابع شخص ہمارے دلائل کے ساتھ بیان پیش کردہ مطالب کو قبول کرتے ہیں اور ان کو مطلق طور پرمانتے ہیں یا نہیں ؟ کیونکہ یہ صرف ایک خاص نظریہ کو بیان کرنے والے ہیں جس کے مقابلہ میں دوسرے بھی نظریات پائے جاتے ہیں جو اعتبار کے لحاظ سے ان کے برابر یا اس سے بالاتر ہوسکتے ہیں ؟

بعض اخباروں اور تقریروں میں کھا جاتا ہے کہ ان مطالب اور نتائج کو مطلق طور پر بیان نہیں کرنا چاہئے اور یہاں تک بھی کھہ دیتے ہیں کہ ان مطالب کی نسبت اسلام کی طرف نہیں دینا چاہئے؛ اور صرف کہنے والے کا نظریہ ماننا چاہئے یعنی کہنے والا کھتا ہے کہ اسلام سے میرا حاصل کردہ نتیجہ یہ ہے ، نہ یہ کہ اپنے حاصل کردہ نظریہ کو اسلامی نظریہ کے عنوان سے بیان کریں اس طرح کی گفتگو خصوصاً گذشتہ ھفتہ میں آپ حضرات نے بھت سنی ہوگی کھ: کسی بھی شخص کو اپنی سمجھ کو مطلق قرار نہیں دینا چاہئے، کیونکہ بعض افراد ایسے بھی ہیں جو اس کے علاوہ بھی فہم اور نتیجہ رکھتے ہیں اور ان کا ایک الگ اعتبار اور اہمیت ہے۔

۲۔ معرفت کے نسبی ہونے کے سلسلہ میں تین نظریات

یھاں پر چند مہم سوال پیدا ہوتے ہیں کہ ”مطلق“ اور ”نسبی“ الفاظ کے معنی کیا ہیں ؟ مثلاً ”فلاں مطلب اعتبارِ مطلق نہیں رکھتا“ یعنی چھ؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی معرفت اعتبارِ مطلق نہیں رکھتی؟ اور اس صورت میں مطلق اور نسبی معرفت میں کیا فرق ہے؟ اور کیا معرفت کا نسبی ہونا یا اعتبار معرفت کا نسبی ہونا صرف دینی مسائل سے متعلق ہے؟ یا کسی بھی علم کا کوئی بھی مطلب اور واقعہ نسبی ہوتا ہے؟

الف: معرفت کے نسبی ہونے پر پہلا نظریہ

معرفت کے مطلق یا نسبی ونے کی تحقیق ایک فلسفی مسئلہ ہے جس کو اپیسٹمولوجی " Epistemology "(معرفت شناسی) کھا جاتا ہے قدیم زمانہ سے تقریباً ۲ ۵ صدی پہلے دانشوروں کے درمیان یہ اختلاف تھا کہ انسانی معرفت، اس کے اعتقادات اور اس کی قضاوت (فیصلے) کیا ”اعتبار ِ مطلق“ رکھتے ہیں یا ”اعتبار ِ مطلق“ نہیں ر کھتے یہ سوفسطائی لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے پہلے یونان میں زندگی بسر کرتے تھے اور لفظ ”سفسطھ“ (یعنی مغالطھ) انہیں کے نام سے لیا گیا ہے، ان کا عقیدہ یہ تھا کہ انسان کو کسی بھی بات پر کوئی جزم ویقین حاصل ہو ہی نہیں سکتا، اور ہر چیز قابل شک وتردید ہے لھٰذا ان کے بعد سے تمام شکّاک فرقے اور آگنوسٹیسٹ " Agnostist " ، نسبی گرایان اور رلٹویسٹس " Relatists " اس طرح کا نظریہ رکھتے ہیں المتخصر: معرفت کے نسبی ہونے کا نظریہ کوئی نیا نظریہ نہیں ہے ، بلکہ قدیم زمانہ سے فلسفہ کی تاریخ میں موجود ہے اگرچہ آج کل جھان اسلام میں بھت ہی کم شکّاک افراد ہوں گے، لیکن امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک میں شکّاک اور نسبت گرا لوگوں کی بھر مار ہے بلکہ وھاں پر شکاک ہونا انسانی افتخار میں سمجھا جاتا ہے!

اور اگر ہم معرفت کے نسبی ہونے (یعنی انسان کو کسی بھی چیز کے بارے میں یقین حاصل نہیں ہوسکتا) اور شکّاکیت کے بارے میں اکیڈمیک طریقہ پر تحقیق کریں تو اس وسیع بحث کی تحقیق کے لئے ایک طولانی زمانہ درکار ہے لیکن ہم یہاں پر مختصر طور پر ایک اشارہ کرتے ہیں ۔

جو لوگ ہم سے کھتے ہیں کہ آپ اپنی سمجھ اور نظریہ کو مطلق تصور نہ کریں ، تو کیا ان کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی چیز کے بارے میں یقینی طور پر اعتقاد پیدا نہیں ہوسکتا، اور حقیقت میں انسان کے لئے معرفت حاصل کرنے کا دروازہ بند ہے ، اور ہمارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ منطقی اور اصولی طور پر اس پر یقین حاصل ہوسکے، یا ان کا مطلب یہ ہے کہ بعض عقائد اور بعض چیزوں کی یقینی طور پر معرفت حاصل کرسکتے ہیں ؟ ”منطقی“ کی قید لگانے کی وجہ یہ ہے کہ کبھی انسان کسی چیز کے بارے میں یقین رکھتا ہے اور کسی طرح کا کوئی شک ا س کے ذھن میں نہیں ہوتا، لیکن ایک مدت کے بعد متوجہ ہوتا ہے کہ اس نے غلطی کی ہے؛ ایسا یقین جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی ”نفسیاتی یقین “ کھا جاتا ہے یعنی انسان یونھی کسی چیز پر یقین کرلیتا ہے اور اس میں کسی طرح کا کوئی شک نہیں ہوتا، اگرچہ اس کا یقین غلط ہو اور جھل مرکب (نہ جاننے کے بارے میں نہ جاننا) کا شکار ہو ، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس طرح کا اعتقاد و یقین باطل ختم ہوجاتا ہے مثال کے طور پر دو اور دو کا چار ہونا ایک صحیح منطق ہے کیونکہ دنیا کے کسی بھی گوشہ میں دو اور دو پانچ یا چہ نہیں ہوتے پس اس حساب کا اعتبار مطلق ہے اور منطقی طور پر صحیح ہے، یہ ایک ذاتی نظریہ نہیں ہے، بلکہ سبھی اس کو تسلیم کرتے ہیں ۔

اگر ان لوگوں کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو کسی بھی چیز اور واقعہ میں یقینی اعتقاد حاصل نہیں ہوسکتا، اگرچہ اس فلسفی بحث میں بھت زیادہ نظریات پائے جاتے ہیں اور اس جلسہ کی وسعت سے باہر ہیں ، بس مختصر طور پر عرض کرتے ہیں کہ ان کا نظریہ نہ صرف یہ کہ انسانی فطرت سے ہم اہنگ نہیں ہے اور نہ ہی دنیا کے کسی بھی مذہب میں اس کو قبول کیا جاتا ہے اصولی طور پر یہ بات قابل یقین نہیں ہے کہ دنیا بھر میں کوئی عاقل انسان کھے: میں نہیں جانتا کہ کرہ زمین موجود ہے یا نہیں ؟ شاید اس کے بارے میں صرف خیال کے علاوہ کچھ نہ ہو! یا کھے کہ میں نہیں جانتا کہ کرہ زمین پر کوئی انسان زندگی بسر کرتا ہے یا نہیں ؟ یا مجھے شک ہے کہ یورپ میں کوئی ملک فرانس بھی ہے یا نہیں ، اور آیا میرا بھی کوئی وجود ہے یا نہیں ، اور یہ تمام چیزیں کسی بھی طریقہ سے قابل اثبات نہیں ہیں ! اور اگر ہماری ملاقات اس طرح کے آدمی سے ہو تو ہم اس کے ساتھ کیا برتاؤ کریں گے؟ یقینا اس سے کھیں گے کہ کسی نفسیاتی ڈاکٹر کے پاس جاؤ ، کیونکہ ایسا شخص عقلی لحاظ سے صحیح و سالم دکھائی نہیں دیتا پس اگر ان لوگوں کا مطلب یہ ہے (جو کھتے ہیں : اپنی سمجھ اور اپنے نظریہ کو مطلق نہ سمجھیں ) کہ کسی بھی عقیدہ اور یقین کو مطلق نہیں سمجھنا چاہئے اور کسی بھی واقعہ کے بارے میں دقیق قضاوت اور مطلق نظریہ قائم نہیں کیا جاسکتا تو ان کا مختصر جواب یہ ہے کہ ان کا اس طرح کا دعویٰ کرنا عقل اور تمام ادیان کے بالکل خلاف ہے اور ہمارے گمان کے مطابق ہمارے قارئین میں اندرون ملک یا بیرون ملک کوئی ایسا شخص نہ ہوگا جو اس طرح کا احتمال دے؛ لھٰذا اس سلسلہ میں بحث وگفتگو کرنا بے کار اوربے فائدہ ہے۔

ب۔معرفت کے نسبی ہونے پر دوسرا نظریہ

البتہ معرفت کے نسبی ہونے کے سلسلہ میں دوسرے نظریات بھی پائے جاتے ہیں جو مذکورہ بالا نظریہ کی طرح مضحکہ خیز نہیں ہے، انھی نظریات میں سے ایک نظریہ یہ ہے : جو افراد اس طرح کا نظریہ رکھتے ہیں وہ یہ نہیں کھتے کہ کسی بھی علم میں یقینی اور مطلق چیزیں موجود نہیں ہیں ؛ بلکہ ان کے عقیدہ کے لحاظ سے علوم تجربی، علوم عقلی اور ریاضیات میں ایک حد تک یقینی ، قطعی اور مطلق چیزیں موجود ہیں ، اور صرف علوم عملی (یعنی اقداری علوم، احکامات اور وظائف) نسبی ہیں یعنی جھاں پر خوب و بد اور ”باید ھا ونباید ھا“ (کرنا چاہئے اور نہ کرنا چاہئے)بیان ہوتے ہیں ، تو یہ چیزیں نسبی ہوتی ہیں چنانچہ اقدار اور وظائف کو نسبی قرار دینے والوں نے اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے دل فریب اور گمراہ کن چیزیں بیان کیں ہیں مثال کے طور پر کھتے ہیں : ہم دیکھتے ہیں کہ کسی ایک ملک میں کسی کام کو اچھا سمجھا جاتا ہے جبکہ دوسرے ملک میں اسی کام کو ناپسند اور برا سمجھا جاتا ہے دنیا بھر کے ممالک میں کسی ایک ملک کے آداب و رسوم کو اسی ملک میں اچھا سمجھا جاتا ہے اور ہوسکتا ہے دوسرے ملک میں انہیں ناپسند اور برا سمجھا جائے، اور ان سے عوام الناس نفرت کرتے ہوں ۔

کسی کے احترام واکرام کے بارے میں (جیسا کہ ہم نے سنا ہے کھ) مشرقی ایشیاء کے بعض ممالک میں جب کسی کا بھت زیادہ احترام واکرام کرتے ہیں تو ایک دوسرے کو بُو کرتے ہیں ، جبکہ یہی کام دوسرے ملکوں میں ناپسند اور برا سمجھا جاتا ہے، اسی طرح مغربی ممالک خصوصاً امریکہ میں جب کسی کی تقریر یا باتیں سننے کے بعد اس کا احترام کرتے ہیں تو اس کے چھرے کے بوسے لئے جاتے ہیں اوراس میں فرق نہیں ہے کہ چاہے وہ عورت ہو یا مرد جبکہ ہمارے اسلامی معاشرہ میں کسی نامحرم عورت کے بوسے لینا بھت بُرا سمجھا جاتا ہے پس ممکن ہے کہ بعض معاشرہ میں کسی ایک کام کو اچھا سمجھاجاتا ہو لیکن دوسرے معاشرہ میں اسی کام کو ناپسند اور بُرا سمجھا جاتا ہو، یہاں سے معلوم ہوجاتا ہے کہ خوب وبد اور بایدھا و نبایدھانسبی ہیں ، اوران کے بارے میں مختلف ممالک اور معاشروں میں الگ الگ حکم لگایا جاتا ہے، یہاں تک کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک ہی معاشرہ میں بعض چیزیں ایک زمانہ میں اچھی مانی جاتی ہو ں اور ایک زمانہ میں ناپسند اور بُری سمجھی جاتی ہوں ۔

بعض مغربی ممالک میں ثقافتی اور اخلاقی برائیاں روز بروز بڑھتی جارہی ہیں ، حالانکہ تقریباً تیس یا چالیس سال پہلے اگر کوئی شخص ٹی شرٹ میں باہر نکلتا تھا تو پولیس اس کو روکتی تھی ہم سے ایک صاحب نے نقل کیا کہ کناڈا کے ایک شھر میں تقریباً ۴۰ سال پہلے ایک شخص گرمی کی وجہ سے اپنا کوٹ اتاکر ٹی شرٹ میں چھل قدمی کرنے لگا ، تو فوراً گھوڑ سوار پولیس نے اس پر اعتراض کیا کہ تم اپنا کوٹ اتار کر کیوں گھوم رہے ہو، عام مقامات پر ٹی شرٹ میں آنا ” شرم وحیا“ کے خلاف ہے! لیکن آج اسی کناڈا میں اگر عورت مرد نیم عریاں بھی سڑکوں پر دکھائی دینے لگیں تو کوئی کچھ نہیں کھتا اور اس کام کو برا نہیں سمجھا جاتا لھٰذا خوب و بد اور اچھائی برائی؛ زمانہ کے لحاظ سے بھی مختلف اور نسبی ہیں لھٰذا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ علوم جن میں خوب وبد اور بایدھا اور نبایدھا کو بیان کیا جاتا ہے؛ جیسے علم اخلاق، علم حقوق یا اجتماعی اور انفرادی زندگی سے متعلق دوسرے علوم سب نسبی ہیں اور ان کے درمیان کوئی مطلق معیار موجود نہیں ہے، اور یہ نہیں کھا جا سکتا کہ فلاں چیز ہر جگہ مطلقاً اچھی ہے یا فلاں چیز ہر موقع پر مطلقاً بُری ہے۔

قارئین کرام! ان لوگوں کی پیش کی جانی والی دلیل یہی ہے جس کو ہم نے بیان کیا، البتہ بعض دوسری دلیلیں بھی بیان کرتے ہیں جن کو یہاں پر بیان کرنے کی فرصت نہیں ہے۔

۳ ۔ بعض اقدار کا مطلق اور ثابت ہونا

مطلب کی وضاحت کے لئے عرض کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ ہر اقداری مفھوم ، حلال و حرام اور بدی اور خوبی مطلق ہے، تو اس کے دعویٰ کو باطل کرنے کے لئے یہ کہنا کافی ہے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک چیز ایک معاشرہ میں اچھی ہو اور وہی ‎ چیز دوسرے معاشرہ میں بری ہو ایک جگہ اس کواقدار میں شمار کیا جاتا ہو اور دوسری جگہ ضد اقدار حساب کیا جاتا ہے دوسرے الفاظ میں یوں کھا جائے کہ وہ گذشتہ دعویٰ جس کو ”موجبہ کلیھ“ کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے یعنی تمام اچھائیاں اور برائیاں ؛ مطلق اور کلی ہیں ، اسی چیز کو ”سالبہ جزئیھ“ کے عنوان سے بھی پیش کیا جاسکتا ہے، جس کی بنا پر وہ دعویٰ اور ”حکم کلی“ نقض ہوجاتا ہے یعنی جب ہم نے ان اقداری چیزوں کو دیکہ لیا جو مطلق نہ تھے، اور بعض معاشرہ میں وہ اچھی اور بعض دوسرے معاشرہ میں ناپسند اور بری سمجھی جاتی ہوں ، تو ہم کھہ سکتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے تمام اقدار اور قضایا مطلق ہوں ، بلکہ بعض اقداری قضایا نسبی ہیں بے شک یہ فیصلہ صحیح اور درست ہے، اور ہم بھی یہ نہیں کھتے کہ تمام اقداری مسائل اور تمام بایدھا اور نبایدھا مطلق اور کلی ہیں اور ہر معاشرہ کے لئے ہمیشہ ثابت اور غیر قابل تبدیلی ہیں ہم بھی اس بات کومانتے ہیں کہ بعض احکام متغیر اور موقع و محل کے لحاظ سے ہیں ؛ لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ کوئی بھی اقدار مطلق نہیں ہے یعنی اقداری نسبیت کا اثبات ”سالبہ جزئیھ“ ہے نہ کہ ”سالبہ کلیھ“ لھٰذا اس بنیاد کی بنا پر ہم کم ہی اقداری مسائل کے بارے میں مطلق یا نسبی ہونے کو ثابت کرسکتے ہیں ۔

ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ہمارے پاس مطلق اقداری چیزیں موجود ہیں اوربھت سے اقداری مسائل پر مطلق اعتقاد رکہ سکتے ہیں اور اگر یہ نظریہ ثابت ہوجائے، تو پھر ہم اس کی سیکڑوں مثال پیش کرسکتے ہیں ، چونکہ عقلی بحث اورعقلی نظریات کا دار و مدار عدد اور اگنتی پر نہیں ہوتا کیا آپ حضرات کو کوئی ایسا شخص مل سکتا ہے جو یہ کھے کہ عدالت ایک معاشرہ میں پسندیدہ اور دوسرے معاشرہ میں ناپسند اور بری ہے؟ اور کیا کوئی ایسا عاقل انسان مل سکتا ہے جو کھے کہ ظلم بعض مقامات پر صحیح اور پسندیدہ ہے ؟ ھاں یہ ہوسکتا ہے کہ ظلم اور عدل کے مصداق میں غلطی ہوجائے اور الفاظ کا غلط استعمال کریں مثال کے طور پر کوئی یہ ہے کہ کسی بھی شخص کو مارنا ظلم ہے، جبکہ بعض لوگوں کو سزا کے عنوان سے مارا جاتا ہے اور اس کو قصاص کی بنا پر مارنا بُرا نہیں ہوتا، بلکہ حق و عدل کے عین مطابق ہے نکتہ یہ ہے کہ اگر واقعاً کوئی کام ظلم ہو ، تو پھر وہ دوسرے مقام پر اچھا نہیں کھلایا جاسکتا، یا اگر کوئی کام واقعاً عدل کے مطابق ہو تو وہ بعض مقامات پر بُرا نہیں ہوسکتا اور بعض مقامات پر عدل کو برا نہیں سمجھا جاسکتا اور یہ مسئلہ اس قدر واضح اور سبھی کو معلوم ہے کیونکہ جب قرآن مجید عوام الناس کو شرک سے پرہیز کرنے کے لئے کھتا ہے تو آوزا دیتا ہے:

( إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیمٌ ) (۱)

”بے شک کہ شرک بھت بڑا ظلم ہے۔“

یعنی اس کبریٰ (کہ ”ھر وہ چیز جو ظلم ہے اس سے دوری اور اجتناب کیا جائے“) ؛ میں کوئی شک وتردید نہیں ہے، اور یہ قضیھ؛ مطلق، کلی، ثابت اور غیر قابل تبدیلی ہے، کیونکہ شرک ظلم کا ایک مصداق ہے، جو ہمیشہ برا ہے اور اس سے پرہیز کیا جائے۔

ہمارا دعویٰ یہ نہیں ہے کہ تمام اقداری مسائل بطور مطلق ہیں بلکہ ہم تو یہ کھتے ہیں کہ بعض اقدار مطلق ہیں اسی طرح معرفت کے باب میں ؛ ہم ہر معرفت کو مطلق نہیں مانتے، اور یہ بھی نہیں مانتے کہ ہر شخص کو حاصل ہونے والی معرفت اور شناخت صحیح اور مطلق ہے کیونکہ بعض لوگوں کو حاصل ہونے والی شناخت اور معرفت نادرست ہے پس معلوم یہ ہوا کہ بعض معرفت اور شناخت نسبی ہیں اور بعض چیزوں میں نسبیت پائی جاتی ہے: مثال کے طور پر آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ تھران یونیورسٹی بڑی ہے یا چھوٹی؟ تو چونکہ اگر آپ اس کواپنے گھر سے مقابلہ کریں گے تو آپ کا جواب ”بڑی“ ہوگا اور کھیں گے کہ تھران یونیورسٹی بھت بڑی ہے لیکن اگر اسی یونیورسٹی کو کرہ زمین سے مقابلہ کریں گے تو اس وقت آپ کا جواب یہ ہوگا کہ تھران یونیورسٹی بھت چھوٹی ہے؛ یہاں تک کہ دریا کے ایک قطرہ کی مانند شمار کی جائے گی۔

پس معلوم یہ ہوا کہ چھوٹا یا بڑا ہونا نسبی چیزوں میں سے ہے اور اسی طرح کے معنی ومفاہیم پر نسبی اطلاق کیا جائے گا لیکن کسی چیز کے چھوٹے یا بڑے ہونے سے یہ نتیجہ نہیں لیا جاسکتا ہے کہ تمام چیزیں نسبی ہیں ، یہاں تک کہ خدا بھی نسبی ہے انسانی وجود، کرہ زمین اور عالم ھستی بھی نسبی ہیں چھوٹائی اور بڑائی؛ نسبی اور اضافی ہوتی ہیں اور ”مقولہ اضافھ“ سے تعلق رکھتی ہیں ؛ لیکن بعض ایسے معنی اور مفاہیم ہیں جو نسبی نہیں ہیں اور ان کے ذریعہ تشکیل پانے والے قضایا مطلق ہوسکتے ہیں ۔

اس بنا پر ہمارا کہنا یہ نہیں ہے کہ ہر اقدار چاہے کسی بھی جگہ ہو یا کسی بھی زمانہ میں ہو اس پر اعتقاد رکہنا مطلق ہے بلکہ ہمارا کہنا تو یہ ہے کہ ”موجبہ جزئیھ“ کے حد تک ہمارے پاس ”مطلق اقدار“ موجود ہیں ، یعنی ہمارے پاس ایسے چیزیں موجود ہیں جو مطلق اقدار کھی جاسکتی ہیں اور موقع ومحل اور زمان و مکان کے لحاظ سے تبدیل نہیں ہوتی ، اور نہ ہی ان چیزوں میں کسی استثناء کا قائل ہوا جاسکتا بے شک ہمارے سامنے دو طرح کے اقدار موجود ہیں ایک مطلق ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو مطلق نہیں ہوتے ہمارے عقیدہ کے لحاظ سے ظلم ہمیشہ اور ہر جگہ اور ہر ایک کے لئے بُرا ہے اور عدل ہمیشہ اور ہر جگہ اور ایک کے لئے حَسن، اچھا اور پسندیدہ ہے ہمارے پاس واقعی قضایا اور علوم توصیفی سے متعلق قضایا مطلق اور یقینی ہیں مثال کے طور پر ہم یقین اور جزم کے ساتھ یہ کھہ سکتے ہیں کہ آسمان و زمین اور انسان موجود ہیں ، خداوندعالم موجود ہے، وحی اور قیامت کا وجود ہے؛ بے شک یہ تمام چیزیں مطلق ہیں ، نسبی نہیں ۔

بعض اقدار کے مطلق ہونے کا معیار

قارئین کرام! یہاں پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں یہ کیسے معلوم ہو کہ یہ چیز مطلق ہے یا نسبی؟ تو اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ ہر وہ واضح اور روشن قضیہ یا وہ قضیہ جو صحیح طور پر واضح چیزوں سے حاصل ہو وہ مطلق ہے لیکن وہ قضایا جو واضح نہیں ہیں یا صحیح طریقہ پر واضح و روشن چیزوں سے حاصل نہ ہو وہ نسبی ہے، جس کا نتیجہ بھی واضح اورروشن نہیں ہوگا اور بالکل یہی تقسیم اقدار کے سلسلہ میں بھی ہے: احساسات، محبت، خیالات اور عادات کی بنیاد پر حاصل شدہ اقدار، نسبی ہیں ؛ لیکن جن اقدار کی بنیاد عقل پر ہوتی ہے اور جن پر عقلی دلائل قائم کئے جاسکتے ہیں اور ان کے اقداری ہونے پر دلیل پیش کی جاسکتی ہے؛ وہ مطلق ہیں مثال کے طور پر ہم عبادت خدا کوایک اقدار کے عنوان سے مانتے ہیں جو ہمیشہ بطور مطلق مقصود اور پسندیدہ ہے، اور کبھی بھی اس میں استثناء نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اس کی بنیاد یہ ہے کہ انسان کے لئے واقعی اور حقیقی راہ تکامل (ترقی) عبادت خدا ہے اسی طرح اجتماعی اقدار میں عدالت ہمیشہ اچھی ہے ، جس کے بارے میں کبھی بھی کوئی استثناء نہیں کیا جاسکتا، اس کے مقابلہ میں ظلم ہمیشہ اور ہر جگہ ناپسند اور بُرا ہے لھٰذا معلوم یہ ہوا کہ مطلق اقدار بھی موجود ہیں ۔

۴ ۔ مغربی تمدن میں تمام دینی عقائد نسبی ہیں

آج کل مغربی ممالک میں بھت سے فلسفی مکاتب پیدا ہوگئے ہیں جن میں کھا جاتا ہے کہ اقدار کے سلسلہ میں عقلی اور واقعی پشت پناہی نہیں ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ تمام اقداری مسائل نسبی اور قرار دادی(باہمی مفاہمت) ہیں ، یعنی جس کو عوام الناس اچھا کھیں وہ اچھا ہے اور جس کو بُرا طے کرلیں وہ برا ہے انہیں فلسفی مکاتب میں سے ایک مہم اخلاقی مکتب بنام ”پوزیٹیزم“ " Positivism " ہے، جس میں معاشرہ کی پسند کو اقدار کا ملاک قرار دیا جاتا ہے اسی بنا پر اس مکتب کے ماننے والے کھتے ہیں کہ خوب و بد اور اقدار و ضد اقدار طے کئے جانے والے معاملات میں سے ہیں اگر آج عوام الناس کسی چیز کو اقدار اور اچھی مانتے ہیں تو وہ اچھی اور قابل قدر دانی ہے، لیکن اگر لوگوں کا نظریہ بدل جائے تو پھر وہی ‎ چیز جس کو اچھا سمجھا جارہا ہے اس کو بُرا کھا جانے لگے گا،اور وہ ضد اقدار شمار ہونے لگی گی۔

لیکن ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ تمام اقداری مسائل نسبی نہیں ہے اور تمام اقداری مسائل قرار داد کے تحت نہیں ہیں ٹھیک ہے کہ کسی بھی معاشرہ کے آداب و رسوم قرار دادی اور موقع ومحل کے لحاظ سے قابل تبدیلی ہوتے ہیں ، لیکن بھت سے ایسے اقدار ہیں جو انسان کی فطرت میں پائے جاتے ہیں ، وہ فطرت جو ثابت اور غیر قابل تبدیلی ہے:

جیسا کہ قرآن مجید میں خداوندعالم کا ارشاد ہوتا ہے:

( فَاقِمْ وَجْهکَ لِلدِّینِ حَنِیفًا فِطْرَةَ اللهِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْها لاَتَبْدِیلَ لِخَلْقِ اللهِ ) (۲)

”آپ اپنے رخ کو دین کی طرف رکھیں اور باطل سے کنارہ کش رہیں کہ یہ دین وہ فطرت الہی ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، اور خلقت الہی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی “

چونکہ فطرت الہی میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی، لھٰذا وہ اقدار جو فطرت پر مبنی ہوں گے وہ بھی غیر قابل تبدیلی ہوں گے لھٰذا ہمارے پاس مطلق اقدار ہوسکتے ہیں جو لوگ ہم سے کھتے ہیں کہ آپ اپنے نظریہ کو مطلق نہ سمجھے، اگر ان کا مطلب یہ ہے کہ اپنے اقداری افکار کو مطلق نہ کھیں کیونکہ ہم ایسے عقائد اور اقدار پر یقین رکھتے ہیں جن پر دوسرے لوگ اعتقاد نہیں رکھتے، اور ہمارے مقابلہ میں دوسری چیزوں کا اعتقاد رکھتے ہیں ؛ لھٰذا ہمیں اپنے عقائد ان لوگوں پرتحمیل نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ ہمارا اقداری نظریہ ہمارے سلیقہ کے تحت ہے اور دوسروں کی اقداری نظر ان کے اپنے سلیقوں کے تحت ہے، اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ دوسروں کے سلیقے کو غلط کھے بے شک اگر کوئی شخص اس طرح کا نتیجہ پیش کرتا ہے تو یہ اسی اخلاقی مکتب ” پوزیٹیزم " Positivism " “کی بنیاد پر ہے جس کی بنیاد عوام الناس کا سلیقہ اور ان کی مرضی ہے، جبکہ یہ نظریہ فاسد اور باطل ہے، اور اسلام اور فلسفہ اخلاق کے صحیح مکتب سے ہم اہنگ نہیں ہے۔

اسی پوزیٹیزم اخلاقی مکتب کے طرفدار ہم سے کھتے ہیں کہ ”اپنے نظریات کو مطلق قرار نہ دیں “؛ وہ لوگ واقعاً بھت بڑے دھوکے میں ہیں ہم مطلق اقدار کی حفاظت کی خاطر اپنی جگہ پر اٹل ہیں اور کوشش کرتے رہیں گے تا کہ اسلامی ثابت اقدار معاشرہ میں زندہ رہیں اور ان کی تبلیغ ہوتی رہے ، اور ان کے بارے میں کسی طرح کا کوئی اشکال اور اعتراض باقی نہ رہے۔

مغربی افراد ”رنسانس“ کے زمانہ کے بعد سے دینی معنی و مفاہیم کو اقدار کے دائرہ میں قرار دیتے ہیں خصوصاً وہ دینی مسائل جو دینی مناسک اور احکام سے متعلق ہیں اور چونکہ دوسری طرف سے یہ لوگ اقدار کو نسبی قرار دیتے ہیں ، اسی وجہ سے دینی اقدار کو بھی نسبی شمار کرتے ہیں ،اور ان کے لئے مطلق اقدار کے قائل نہیں ہیں چنانچہ اسی بنیاد پر کھتے ہیں کہ تمام ادیان اور مذاہب اچھے اور برحق ہوسکتے ہیں : اور یہ دین اپنے ماننے والوں کے لئے اچھا اور برحق ، اور وہ دین اس کے ماننے والوں کے لئے اچھا اور برحق ہے، اور کسی شخص کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے دینی نظریہ کو مطلق قرار دے ، اسی طرح یہ بھی کہنے کا حق نہیں ہے کہ صرف اور صرف دین اسلام صحیح اور برحق ہے اور دوسرے ادیان عالم باطل اور بے بنیاد ہیں چاہے دین اسلام ایک طرح کے اقداری احکام سے تشکیل ہوا ہے مثلاً دینی حلال و حرام چیزیں جیسے نماز پڑھیں ، روزہ رکھیں ، یا جھوٹ نہ بولیں ، یا نامحرم کو نہ دیکھیں اور لوگوں کے مال اور ناموس پر تجاوز نہ کریں جب کہ یہ بات ظاہر ہے کہ اگر اقدار مسائل نسبی اور قرار دادی (باہمی مفاہمت) ہوں تو دینی مسائل بھی نسبی ہوں گے ، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دین اسلام اعتبارات اور قرارداد کادین بن جائے گا۔

اس پوزیٹیزم نظریہ اور دینی مسائل کواقدار کے دائرہ میں قرار دینے کی بنا پر بعض لوگ ہم سے کھتے ہیں کہ آپ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اپنے دین کو دوسروں پر تحمیل کریں ،اور ان کو مسلمان کرنا چاہیں دین اسلام تمام مسلمان کے لئے محبوب اور پسندیدہ ہے، اسی طرح دین یھودیت یھودیوں کے لئے پسندیدہ ہے، چونکہ یہ ادیان نسبی ہیں اور ان میں سے کوئی بھی مطلق نہیں ہے اور چونکہ یہ ادیان اور اقدار نسبی اور قراردی ہیں اسی لحاظ سے مختلف معاشروں میں ان کا حکم بھی مختلف ہے: چودہ سو سال پہلے اسلام؛ سعودی عرب کے لئے مناسب اور اچھا تھا لیکن عصر حاضر میں ماڈرن دنیاکے لئے ایک دوسرا دین مناسب اور مطلوب ہے! لھٰذا اسلام کو مطلق قرار نہیں دینا چاہئے اور مسلمانوں کو بھی اپنے دینی نظریات کو دوسروں پر نہیں تھونپنا چاہئے اسلام ان لوگوں کے اچھا ہے جن کے سلیقے ان سے میل کھاتے ہیں لیکن دوسروں کے لئے یہ دین اچھا نہیں ہے کیونکہ وہ اس دین کو پسند نہیں کرتے اور اپنے سلیقہ کے لحاظ سے دوسرا دین اختیار کئے ہوئے ہیں لھٰذا ہمیں اپنے اسلامی سلیقہ کو دوسروں پر تحمیل نہیں کرنا چاہئے اور دوسروں کے سلیقوں کونظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔

قارئین کرام! گذشتہ نظریہ کا جواب یہ ہے کہ ہم مان لیتے ہیں کہ اسلام کے بعض احکام (جیسے احکام ثانوی) نسبی اور متغیر ہیں اور بعض احکام موقع و محل کے لحاظ سے ہوتے ہیں ، لیکن اسلامی تمام احکام متغیر نہیں ہیں ؛ بلکہ بھت سے اسلامی احکام ثابت، مطلق اور غیر قابل تبدیلی ہیں اس کے علاوہ یہ بھی عرض کردیا جائے کہ اسلام کا کوئی بھی حکم عوام الناس کے سلیقہ کے تابع نہیں ہے ، اور متغیر احکام کے لئے بھی خاص دلائل ہوتے ہیں پس اولاً: ہم اس نظریہ کو نہیں مانتے کہ تمام اقدار عوام الناس کے سلیقہ اور ان کی پسند کے تابع ہیں بلکہ ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ بعض اقدار اور بعض ضد اقدار مطلق چیزیں ؛ مصالح ومفاسد کے تابع اور نفس الامری ہیں ، لھٰذا وہ ثابت اور غیر قابل تبدیلی ہیں دوسرے: اسلام کے ثابت اقدار اسی قسم کے ہیں (یعنی مصالح و مفاسد کے تابع اور نفس الامری ہیں ) لھٰذا وہ مطلق ہیں اور ہم ان کو ہمیشہ اور ہر جگہ کے لئے معتبر جانتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمارے اسلامی نظریات مطلق ہیں ، اور صرف یہی اسلامی نظریات مطلق ، صحیح اور بر حق ہیں پس نتیجہ یہ نکلا کہ مغربی ممالک میں نسبی گرایی نظریہ اسلامی نظریات کے مطابق نہیں ہے۔

ج۔ معرفت کے نسبی ہونے پر تیسرا نظریھ(معرفت دینی میں نسبیت کا وجود)

نسبی نظریات میں سے ”معرفت دینی میں نسبیت“کا نظریہ بھی ہے، چنانچہ اسی نظریہ کے تحت بعض لوگ کھتے ہیں کہ ہم بھی یہ مانتے ہیں کہ دین ثابت اور مطلق ہے، اور دینی اقدار بھی مصالح ومفاسد کے تابع، واقعی اور نفس الامری ہیں ، ہم بھی حقیقت دین کو مطلق اور ثابت مانتے ہیں لیکن ہمارے پاس کوئی واقعی اور مطلق دین نہیں ہے، جس سے ہم رابطہ برقرار کریں صرف ہمارے اختیار میں دین کی معرفت اور اس کی شناخت ہے اور جو کچھ بھی ہم دوسروں کو دین کے عنوان سے بتاتے ہیں ، درحقیقت وہ دین سے حاصل کردہ ہمارا ایک نتیجہ اور شناخت ہوتی ہے جبکہ دوسرے افراد دین سے ایک دوسرا نتیجہ حاصل کرتے ہیں اگرچہ ہم اصلِ دین کو ثابت اور مطلق مانتے ہیں لیکن دینی معرفت اور دینی شناخت کو قابل تغیر اور نسبی مانتے ہیں ، ہمارے نظریہ کے مطابق کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے نتیجہ اور شناخت کو مطلق مانے، اور اپنے اس نظریہ کو دوسروں پر تھونپے۔

یھاں پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ ہماری بعض دینی شناخت مطلق ہو، اور سبھی لوگ دین سے یہی نتیجہ اخذ کریں اور سبھی اسی کو قبول کریں یا نہ ، دینی کوئی بھی معرفت مطلق نہیں ہے بلکہ دینی ہر موضوع کی ہر شناخت نسبی ہے؟ جس کے نتیجہ میں دو دینی شناختوں میں سو فی صد اختلاف ہوسکتا ہے کہ ایک دوسرے کے بالکل مخالف ہو؛ یعنی کوئی شخص کسی چیز کو دینی مسائل میں شمار کرے جبکہ کوئی دوسرا شخص اس کا انکار کرے، حالانکہ دین سے حاصل کردہ دونوں شناخت مقبول اور معتبر ہوں ؟!

قارئین کرام! نسبت کے سلسلہ میں یہ تیسرا نظریہ جو ”معرفت دینی میں نسبیت“ کے نام سے شھرت پیدا کرتا جارہا ہے اور اس نظریہ کے طرفدار اس کو ”قبض وبسط شریعت“ (شرعی مسائل میں کمی وزیادتی) کے عنوان مانتے ہیں ، اور یہ نظریہ تقریباً بیس سال سے رائج ہوتا جارہا ہے اور ہر روز مزید پھیلتا جارہا ہے نیز اخباروں اور جرائد میں بیان ہوتا ہے،اس کی بنا پر ایسا ظاہر کیا جاتا ہے کہ دین کے متعلق تمام لوگوں کی شناخت برابر نہیں ہے: ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے اعتقاد کی بنا پر کھے کہ نماز صبح دو رکعت ہے، لیکن کوئی اپنے نظریہ کی بنا پر یہ بھی کھہ سکتا ہے کہ نماز صبح تین رکعت ہے؛ حالانکہ دونوں نظریات معتبر او رمقبول ہیں ! اور اگر ہم اپنے عقیدہ کی بنا پر نماز صبح کو دو رکعت سمجھیں تو ہمیں یہ حق نہیں ہے کہ دوسرے افراد کو بھی نماز صبح دو رکعت پڑھنے کے لئے کھیں اس بنیاد پر ہمارے عقیدہ کی بنا پر نماز صبح دو رکعت ہے، ہوسکتا ہے کہ کوئی دوسرا شخص دین سے یہ نتیجہ حاصل کرے کہ نماز صبح تین رکعت ہے اور وہ بھی دین کی شناخت اور ایک قرائت کھلائے گی، اور اقداری لحاظ سے دو قرائت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے اور ہر شخص کا حاصل کردہ نتیجہ اس کے لئے محترم ہے، نیز کسی کویہ حق نہیں ہے کہ دین سے حاصل کردہ اپنے نتیجہ کو مطلق قرار دے،چونکہ شناخت اور معرفت قبض وبسط رکھتی ہیں یعنی ان میں کمی یا زیادتی ہوسکتی ہے، یہاں تک کہ ایک شناخت اور قرائت ایک طرف ہو او ردوسری شناخت اور قرائت اس کے بالکل مخالف ہو،اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی ایک دینی عقیدہ کو آج ثابت کریں اور کل اسی عقیدہ کی ردّ کریں اس کی وجہ یہ ہے کہ واقعی دین ہمارے پاس نہیں ہے، بلکہ صرف دینی معرفت ہمارے پاس ہے، جبکہ یہ دینی معرفت قابل تبدیلی ہے اور بعض افراد کے لحاظ سے مختلف ہو جاتی ہے۔

۵ ۔ قرائت نسبی اور قرائت مطلق دونوں جدا جدا ہیں

بے شک ”معرفت دینی میں نسبیت“ کے نظریہ (جو کافی مدت سے ہمارے ملک میں جاری ہے اور اس کے بارے میں بھت سی کتابیں اور مقالات بھی چھپ چکے ہیں )؛ کی تحقیق و بررسی کے لئے کافی مدت درکار ہے ، لیکن ہم اس وقت مختصر طور پر عرض کرتے ہیں : ہم یہاں پر سب سے پہلے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا ”قبض وبسط شریعت“ کے ماننے والوں کے نزدیک ہر دینی مسائل کی چند تفسیر اور چند قرائت ہوسکتی ہیں ؟ یا صرف بعض دینی مسائل کی مختلف تفسیر اور معنی ہوسکتے ہیں ؟ اس سلسلہ میں ان کی پیش کردہ دلائل کے پیش نظر صرف بعض دینی مسائل میں مختلف تفسیر اور قرائت کا ہونا ثابت ہوتا ہے؛ لیکن وہ لوگ اس دلیل کو عام قرار دیتے ہوئے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ تمام دینی مسائل میں مختلف تفسیر اور نتائج ہوسکتے ہیں منجملہ ان کے بعض مجتھدین اور فقھاء کے اختلافی مسائل ہیں ۔

ان کا دعویٰ یہ ہے کہ اسلامی فقہ میں (بعض) مجتھدوں کا فتویٰ مختلف ہے چنانچہ ایک کھتا ہے کہ نماز جمعہ واجب ہے اور دوسرا کھتا ہے کہ نماز جمعہ واجب نہیں ہے، ایک کھتا ہے کہ ”شطرنج“ کھیلنا حرام ہے لیکن دوسرا اس کو حلال قرار دیتا ہے پس معلوم یہ ہوا مجتھدین کا فتویٰ اور اسلام سے ان کا حاصل کردہ نظریہ نسبی اور متغیر ہے، ثابت نہیں ، یہاں تک کہ بعض مجتھدین میں خود ان کا فتویٰ مختلف ہے ، جیسا کہ بعض مجتھدین کا ایک زمانہ میں کچھ فتویٰ تھا لیکن بعد میں اپنا فتویٰ بدل دیا اور ایک نیا فتویٰ صادر کردیا لھٰذا معلوم یہ ہوا کہ یہ فتاویٰ اور نتائج کا اختلاف اس بات کی دلیل ہے کہ دینی معرفت اور قرائت نسبی اور قابل تغیر ہے، اور ممکن نہیں ہے کہ دینی معرفت اور شناخت ثابت اورمطلق ہو۔

قارئین کرام ! مذکورہ مسئلہ کے جواب میں ہم عرض کرتے ہیں کہ اس بات کو تو ایک دور دراز کے علاقے میں رہنے والا جاہل انسان بھی جانتا ہے کہ فروع دین کے بعض مسائل میں مجتھدین کا فتویٰ مختلف ہے لیکن فتووں کا یہ اختلاف دلیل نہیں ہے کہ آپ لوگ یہ دعویٰ کرنے لگیں کہ وحی کے ذریعہ پیغمبر اسلام (ص) کی معرفت تک مطلق نہیں ہے؛ چونکہ پیغمبر اکرم (ص) کی معرفت بھی انسانی معرفت کی طرح ہے جس میں خطا کا امکان پایا جاتا ہے! یعنی جس وقت خداوندعالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ( قُلْ هوَ اللهُ اَحَدٌ ) (۳) یا( وَإِلَهکُمْ إِلَه وَاحِدٌ لاَإِلَه إِلاَّ هوَ الرَّحْمَانُ الرَّحِیمُ ) (۴) کھتا ہے تو ہمیں یہ نہ معلوم ہو کہ خدا کی وحی کیا ہے ہم پیغمبر اکرم کے فرمان کے مطابق جس میں آپ نے فرمایا کہ خداوندعالم مجھ پر وحی نازل کرتا ہے؛ آگاہ ہوجاتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) پر وحی نازل ہوتی ہے، لیکن وحی الہی کی حقیقت کے بارے میں نہیں جانتے اور پیغمبر اکرم (ص) نے وحی کے سلسلہ میں جو کچھ چیزیں ہمیں بتائی ہیں وہ وحی خدا نہیں ہے بلکہ وحی سے اپنی معرفت اور فہم کو پیش کیا ہے؛ اور چونکہ آپ کی فہم و سمجھ بھی انسانی اور قابل خطا ہے،تو ہوسکتا ہے کہ انھوں نے وحی حاصل کرنے میں غلطی کی ہو خداوندعالم بیان کچھ کرنا چاہتا تھا لیکن آپ نے

اس کے سمجھنے میں غلطی کردی اور اپنی معرفت اور سمجھ کو وحی خدا کے عنوان سے بیان کردیا چنانچہ اس نظریہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن مجید کی کسی بھی آیت کے بارے میں کسی کی فہم اور سمجھ معتبر نہیں ہے اور ان سب میں خطا اور غلطی کا احتمال پایا جاتا ہے!

قارئین کرام! کیا یہ بھی دین اسلام کی ایک نئی قرائت ہے؟ کیا قرائت کا میدان اس قدر لا محدود اور وسیع ہے؟ ہم یہ ماننے ہیں کہ مجتھدین کے فتووں میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن کیا خداوندعالم کے وجود میں بھی شک و تردیدپیدا ہوسکتا ہے ؟ اور کیا اس بات کو قبول کیا جاسکتا ہے کہ اسلامی نقطہ نظر اور قرآنی آیات کے تحت کوئی شخص خدا کے وجود کو ثابت کرے اور دوسرا (انہیں قرآنی آیات کے ذریعھ) وجود خدا کی نفی کرے، اور دونوں کو دو دینی معرفت کے نام سے معتبر سمجھا جائے؟ اور کیا ۱۴۰۰ سال سے تمام شیعہ سنی اسلامی فرقوں کے علماء کے بیان کے مقابلہ میں کوئی یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ ان سبھی نے غلطی کی ہے اور غلط سمجھا ہے ، انھوں نے اپنے نتائج کو بیان کیا ہے اور ہم بھی اپنا نتیجہ بیان کرتے ہیں ؟

دین میں کس حد تک مختلف قرائت ہوسکتی ہیں ؛اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مختلف قرائت کا وجود صرف فروع دین میں قابل تصور ہیں ، نہ کہ اصول دین میں اور وہ بھی ان ظنی مسائل میں جن میں اختلاف کا امکان موجود ہے، نہ کہ قطعی، اجماعی اور اتفاقی مسائل میں اس کے علاوہ فروع دین میں صرف دینی صاحب نظر اور متخصص (ماہرین علماء ) کی نظر معتبر ہیں ، نہ یہ کہ ہر کس و ناکس کے نظریہ کا کوئی اعتبار ہے ان لوگوں کی نظر معتبر ہے جنھوں نے تقریباً پچاس سال تک بڑے بڑے اساتیذ جیسے مرحوم آیت اللہ بروجردی، مرحوم آیت اللہ امام خمینی اور علامہ طباطبائی (رحمة اللہ علیھم)سے درس پڑھا ہے اور اس راستہ میں آنے والی تمام تر سختیوں کو برداشت کیا ہے نیز اپنی رفتار، فھم، تحقیق اور استنباط میں تقویٰ الہی سے مزین ہوں ، نیز ہوا پرستی کا شکار نہ ہوں دینی معاملات میں مغربی تمدن سے متاثر چند بول پڑھنے والے ( خود کو دینی ماہر کھلانے والے)؛ کی نظر معتبر نہیں ہے۔

نتیجہ یہ ہوا کہ اختلاف نظر اور مختلف قرائت صرف دین کے ظنّی اور متشابہ مسائل میں قابل قبول ہے، اور اسلام کے قعطی مسائل، محکمات، ضروریات اور بینات میں صرف ایک ہی قرائت موجود ہے اور وہ بھی خدا وپیغمبر کی قرائت ہے، لھٰذا اس سلسلہ میں کسی طرح کے اختلاف نظر، شک وتردید اور مختلف قرائت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، جیسا کہ اسلام کو ۱۴۰۰ سال گذر چکے ہیں ان کے بارے میں کسی طرح کا کوئی اختلاف نہیں ہوا ہے ہم نے دیکھا کہ حضرت امام خمینی رحمة اللہ علیہ نے مرتد سلمان رشدی کے قتل کا فتویٰ صادر کیا تو اس وقت تمام علماء اسلام نے تائید کی اوراس حکم کے بارے میں کسی طرح کی کوئی مخالفت سنائی نہ دی، اور سب نے یہ اتفاقی طور پر کھا کہ حضرت امام خمینی (رہ) کا بیان کردہ فتویٰ حکم اسلام ہے اگرچہ بعض مغرب پرست نو وارد جنھوں نے اسلام کی بو بھی نہیں سونگھی ہے اس فتویٰ کی مخالفت کی اور کھا: اسلام سے ہماری قرائت یہ نہیں ہے لیکن یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ دنیا بھر کے صاحب عقل صرف اسی شخص کے نظریہ کو اہمیت دیتے ہیں اور صرف اسی کے نظریہ کو معتبر جانتے ہیں جو متعلق علم میں صاحب نظر اور محقق ہو اور صحیح طریقہ اور اس علم سے مناسب تحقیق کے بعد اپنی رائے کا اظھار کرے۔

حوالے

(۱) سورہ لقمان آیت۱۳

(۲) سورہ روم آیت ۰ ۳

(۳) سورہ اخلاص (توحید) آیت ۱، ترجمہ :” اے رسول کھہ دیجئے کہ وہ اللہ ایک ہے “

(۴) سورہ بقرہ آیت ۱۶۳ ترجمہ ‎ : ”اور تمھارا خدا بس ایک ہے ، اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے وہی ‎ رحمن بھی ہے اور وہی ‎ رحیم بھی ہے “


چالیسواں جلسہ

دینی معارف افسانہ ہیں یا حقیقت نما آئینہ

۱ ۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر

”اسلامی سیاسی نظریات کی وضاحت“ کے سلسلہ میں ہماری بحث یہاں تک پہنچی تھی کہ اگر اسلامی منابع کے لحاظ سے قوانین اور ضوابط بنانا چاہیں اور ان کو اسلامی اقدار کے مطابق نافذ کرنا چاہیں ، تو اس کے لئے ہمارے پاس قرآن وسنت( جو ہمارے اصلی منابع ہیں )؛ کی گھری شناخت اور قابل اعتماد پہنچان ہونا ضروری ہے، تاکہ قانون گذاری کے وقت اسلامی نظریہ کو مدّ نظر رکھیں ، اور وہ قوانین وضوابط اسلام کے کلی قوانین کے تحت قرار پائیں ، اور اسی طرح قرآن وسنت سے الھام لیتے ہوئے ان کو نافذ کرنے کا طریقہ اپنائیں اس سلسلہ میں کبھی کبھی آیات و روایات سے ہونے والا نتیجہ مختلف ہوجاتا ہے اور بعض آیات و روایات کی مختلف تفسیر و معنی کئے جاتے ہیں نیز بعض روایات سے مختلف استنباط ہوتے ہیں لیکن اس سلسلہ میں بعض لوگ اس قدر آگے بڑہ گئے ہیں کہ انہیں اختلاف کے پیش نظر یہ کھتے ہیں کہ تمام دینی مسائل میں اختلاف جائز ہے، اور کھتے ہیں کہ ہر شخص اسلام سے مخصوص قرائت اور مخصوص نتیجہ حاصل کرسکتا ہے، اور کسی شخص کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے نظریہ کو دوسروں پر تحمیل کرے جیسا کہ اخباروں اور جرائد میں مکرر یہ شعار دیا جاتا ہے کہ کسی کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ دین سے اپنے حاصل کردہ نتیجہ کو مطلق گردانے، بلکہ توجہ رہے کہ دوسرے افراد بھی آراء اور نظریات رکھتے ہیں ، اور یہ کہ اسلام کی صرف ایک قرائت نہیں ہے، نیز اسلام کے بارے میں مختلف قرائت کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ دین کی ہر ایک قرائت معتبر اور محترم ہے۔

۲ ۔ واقع نما اور غیر واقع نما زبانوں کی اہمیت

قارئین کرام ! ہم نے گذشتہ جلسہ میں دینی سلسلہ میں مختلف نظریات کے مطلق نہ ہونے نیز دین کی مختلف قرائت نہ ہونے کے بارے میں بحث کی، اور نظریات کے نسبی ہونے نیز مختلف قرائت کا سر چشمہ تلاش کرتے ہوئے ”نسبیت معرفت“ کے مسئلہ کو بیان کیا اور عرض کیا کہ ”نسبیت معرفت“ کے سلسلہ میں تین نظریات پائے جاتے ہیں اس جلسہ میں دینی نظریات کے مطلق نہ ہونے کے شعار اور دین کی مختلف ہونے کے بارے میں دوسرے دو نظریات کی طرف اشارہ کرتے ہیں ، اور وہ دو نظریہ یہ ہیں : ”دین کی زبان“ اور ”ھرمنوٹیک“ " Hermeneutics " کی بحث اور علم تفسیر متون (تحریر کی شرح وتفسیر کرنا) جو کہ عصرِ حاضر میں معرفت کا ایک مہم باب کھلاتا ہے، اور دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں مخصوص ڈیپارٹمینٹ اور مخصوص علمی گروہ اس میں مشغول ہیں لھٰذا ہم اس جلسہ میں انہیں دو چیزوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں ۔

دین کی زبان کے سلسلہ میں بحث، اور دینی معرفت مطلق نہ ہونے والے مسئلہ کا سرچشمہ یہ ہے کہ ان آخری چند صدیوں کے دوران یورپی ممالک میں ”فلسفہ دین اور کلام جدید“ کے سلسلہ میں ایک نئی بحث یہ کی گئی ہے کہ کیا دین کی زبان واقع نما ہے یا دین کی زبان سمبلیک " Symbilec " (رمزی)اور قصہ کھانی اورافسانہ کی زبان ہے اس سلسلہ وضاحت کے طور پر یوں عرض کیا جائے کہ انسان اپنی بات کو سمجھانے کے لئے زبانی اور عرفی محاورات یا علمی اور فلسفی اصطلاحات ، نیز الفاظ اور ان کی ترکیبات کا استعمال کرتا ہے تاکہ دوسروں کو خارجی یا عینی چیزوں کی واقعیت کی طرف متوجہ کرسکے اور کبھی انسان ان الفاظ کے ذریعہ خارجی اور عینی واقعیات کے طرف متوجہ کرتا ہے اور کبھی ان الفاظ کے ذریعہ منطق اور فلسفہ جیسے علم میں ذھنی اور تصوری حقائق کی طرف متوجہ کرتا ہے، مثال کے طور پر کوئی شخص یہ کھے کہ ”فضا روشن ہے“ اس جملہ سے کہنے والے کی مراد یہ ہوتی ہے کہ سننے والے کو اس بات کی خبر دے کہ فضا روشن ہے، اورچراغ کے ذریعہ روشنی کرنے کی ضرورت نہیں ہے بے شک یہ زبان واقع نما ہے اور ایک بیرونی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے اور اسی طرح کی زبان ریاضیات ، منطق اور فلسفہ میں بھی استعمال کی جاتی ہے، البتہ یہ زبان علوم دقیقہ (منطق وفلسفھ) اور تجربی علوم میں تھوڑے دخل وتصرف کے ساتھ استعمال کی جاتی ہے اسی وجہ سے کھا جاتا ہے کہ زبان علم اور زبان فلسفہ واقع نما ہوتے ہیں اور بیرونی حقیقت یا ذھنی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔

لیکن کبھی کبھی کسی بھی زبان کے الفاظ بیرونی یا ذھنی حقیقت کو بیان کرنے کے لئے استعمال نہیں کئے جاتے اگرچہ الفاظ کی ترتیب وہی ‎ ہوتی ہے جس کو علوم میں حقیقت نما طریقہ پر استعمال کیا جاتا ہے ، لیکن کہنے والے یا لکہنے والے کا مقصد حقیقت سے باخبر کرنا نہیں ہوتا، مثال کے طور پر افسانہ اور قصہ کی زبان، جس میں کسی بھی طرح کی کوئی واقعیت کا پتہ نہیں دیا جاتا ، لھٰذا اس طرح کی زبان واقع نما نہیں ہے جس وقت قصہ اور کھانیوں کی کتابوں میں ”کلیلہ ودمنھ“ کی داستان بیان کی جاتی ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان قصوں میں استعمال ہونے والے الفاظ کسی طرح کی حقیقت کی حکایت نہیں کرتے اگر ان میں جنگلی حیوانات مثلاً شیر، بھیڑیا اور لومڑی وغیرہ کا کے بارے میں باتیں بتائی جاتی ہیں تو مولف کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ جنگلی حیوانات میں اس طرح کی گفتگو ہوتی ہے؛ بلکہ مولف اس داستان کے ذریعہ حیوانات کی زبان میں غیر مستقیم طور پر بعض مہم باتوں کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے لھٰذا افسانہ اور قصہ کی زبان غیر واقع نما زبانوں کا ایک حصہ ہے۔

انھی غیر واقع نما زبانوں میں سے: زبان سمبلیک " Symbilec " (رمزی) ہے جو بھت سے علوم میں استعمال کی جاتی ہے ، اسی طرح انسانی معارف کی بھت سی قسموں میں حکایت اور حقائق کے بیان کرنے کے لئے اس زبان سے استفادہ کیا جاتا ہے، جس کا واضح نمونھ؛ علم ھندسہ اور ریاضی کی مثالیں اور فارمولے نیز اختصار کی علامتیں ہوتی ہیں جیسے " y" , "x " ،کیونکہ یہ مثالیں اور فارمولے کسی حقیقت کی حکایت نہیں کرتے، بلکہ بعض علمی حقائق کے لئے صرف ایک علامت ہوتی ہیں ، اسی طرح شاعروں کی زبان بھی غیر واقع نما ہوتی ہیں جب شاعر؛ مئے، ساغر اور ساقی جیسے الفاظ کو اپنے شعر میں استعمال کرتا ہے توحقیقت میں اس کی مراد واقعی ساقی اورشراب نہیں ہوتی بلکہ ان الفاظ کو کنایةً استعمال کرتا ہے جب کہ اس کے ذھن میں حقیقی مطلب کچھ اور ہوتا ہے۔

۳ ۔ دین کی زبان کو غیر واقع نما قرار دینے کا سبب

چنانچہ بعض لوگ کھتے ہیں کہ دین بھی اپنی خاص زبان رکھتا ہے، اور دین کی زبان غیر واقع نما زبانوں میں سے ہے پہلے تو دین کی زبان کا مسئلہ یورپ میں یھودیت اور عیسائیت کے عقائد کے بارے میں بیان ہوا، اسی وجہ سے دانشوروں اور متفکروں نے اپنے نظریہ کی تائید میں یھودیوں اور عیسائیوں کی کتاب مقدس سے مثالیں پیش کیں ، اور یہ کھا کہ جب ہم کتاب مقدس کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس کے اندر بعض چیزوں کے بارے میں دیکھتے ہیں ، تو ہمارا تصور یہ نہیں ہونا چاہئے کہ یہ مقدس کتاب ہم کو علمی (اور سائنسی) کتابوں کی طرح بیرونی حقائق سے آشنا کر رہی ہے، بلکہ دین نے جو زبان استعمال کی ہے وہ ایک افسانہ کی زبان اور سمبلیک " Symbilec " زبان ہے، (واقع نما نہیں ۔)

عام طور پر زبان کی دو قسم بیان کی جاتی ہے: ایک واقع نما زبان اور دوسری غیر واقع نمازبان،اور بعض لوگ دین کی زبان کو غیر واقع نما زبانوں میں قرار دیتے ہیں ، یعنی دین کی زبان حقائق اور واقعیت پر مشتمل نہیں ہوتی بلکہ افسانہ ، قصہ وکھانیوں کی طرح ہوتی ہے لیکن یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دین کی زبان کو زبان افسانہ قرار دینے کی علت اور وجہ کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب یورپ میں سائنس اور ٹکنالوجی کی ترقی کے پیش نظر ہر روز نئی نئی چیزیں کشف ہوئی، اور زمین ، سورج اور دیگر ستاروں کے بارے میں مغربی دانشوروں جیسے ”کلپر“، ”کپرنیک“، ”گالیلہ“ ؛ نے نئے نئے فرضیہ قائم کئے جو یھودیوں اور عیسائیوں کی مقدس کتاب (توریت اور انجیل) سے ہم اہنگ نہ تھے، جس کی وجہ سے انھوں نے یہ اندازہ لگالیا کہ عصرِ حاضر میں سائنس کی نئی تھیوری اور نظریات؛ کتاب مقدس میں بیان شدہ بعض عقائد کو جھوٹاثابت کرتے ہیں ، جس کی بنا پر یھودیت اور عیسائیت کا چراغ گُل ہوجائے گا،کیونکہ جب توریت اور انجیل میں بیان شدہ چیزیں نادرست، بے بنیاد اور جھوٹی ثابت ہوجائیں گی تو پھر یہ دین کیسے باقی رہ سکتا ہے خصوصاً عیسائیت جس کے پیروکاروں کی تعداد بھت زیادہ ہے۔

خصوصاً ”رنسانس“ کے زمانہ کے بعد سے ؛ کتاب مقدس کی اہمیت کو بچانے اور یھودیت و عیسائیت کی دیواریں ھلنے سے روکنے کے لئے راہ حل تلاش کرنے کی فکر ہوئی ، (اور کافی مدت کے بعد اس نتیجہ پر پھونچے کھ) توریت اور انجیل میں بیان شدہ عقائد اور دوسری چیزیں ؛ سائنس کے جدید نظریات اور ٹکنالوجی سے اس وقت ہم اہنگ نہ ہوں گی جب ہم دین کی زبان کو واقع نما اور حقائق کی عکاسی کرنے والی زبان کھیں لیکن اگر دین کی زبان کو غیر واقع نما زبان قرار دیدیں اور یہ کھیں کہ دین کی زبان؛ شعراور افسانہ کی زبان ہے جو حقائق اور واقعیت کی عکاسی نہیں کرتی اور توریت و انجیل میں بیان شدہ چیزیں گویا افسانہ اور قصہ کھانیوں کی طرح ہیں اور خاص اغراض ومقاصد کے تحت تنظیم ہوئی ہیں ، تو اس صورت میں سائنس اور دینی باتوں میں کسی طرح کا کوئی اختلاف پیش نہیں آئے گا؛ کیونکہ بنیادی طور پر دونوں زبانوں کا مقصد مختلف ہے اس نظریہ کا خلاصہ یہ ہے کہ توریت اور انجیل میں خدا، وحی، قیامت اور جنت وجھنم کے بارے میں ذکر شدہ مطالب صرف عوام الناس کو اچھائیوں اور برائیوں کے سمجھنے کے لئے بیان ہوئے ہیں ، تاکہ دیندار افراد نیک کام کرنے اور برے کاموں سے پرہیز کرنے کی کوشش کریں جھوٹ نہ بولیں ، غیبت نہ کریں اور دوسرے پر ظلم وستم کو جائز نہ مانیں مثلاً اگر ان میں کھا جاتا ہے کہ جو شخص کسی پر ظلم کرے گا تو آخرت میں اس پر عذاب ہوگا ، تو در حقیقت اس قول سے ظلم کی بُرائی کو مزید مجسم کیا گیاہے ، ایسا نہیں ہے کہ واقعاً آخرت میں کوئی جنت و جھنم موجود ہے، لھٰذا ہمیں دینی مسائل سے اس طرح کا کوئی تصور اور نتیجہ حاصل نہیں کرنا چاہئے۔

کتاب مقدس (توریت اور انجیل) سے عام فہم عوام الناس یہی نتیجہ حاصل کرتے ہیں کہ ان کتابوں میں ذکر شدہ دینی مسائل حقائق پر مبنی ہیں اور بیرونی حقائق کی عکاسی کرتی ہیں ، لیکن روشن خیال رکہنے والوں اور دانشوروں کے نزدیک توریت و انجیل میں بیان شدہ مطالب صرف عوام الناس کے لئے تربیتی پہلو رکھتے ہیں یعنی ان کے پیش نظر عوام الناس میں نیک کام کرنے اور بُرے کاموں سے پرہیز کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اس کے علاوہ ان مقدس کتابوں میں بیان شدہ مطالب میں کوئی پیغام نہیں ہے یہاں تک کہ دین کی افسانوی زبان میں خدا کا کوئی وجود ہی نہیں ہے، چنانچہ اگر توریت اور انجیل میں خدا کا ذکر ہے یا انبیاء (علیہم السلام) اور وحی کے بارے میں بیان ہوا ہے، تو اس افسانوی زبان میں یہ صرف خدا کا ایک عکس ہے ورنہ (نعوذ باللہ ) نہ تو خدا ہے اور نہ جنت وجھنم اور وحی اور اس عکس کو اس افسانوی زبان میں اس قدر بہتر ین سلیقہ سے بیان کیا گیا ہے تاکہ عوام الناس میں نیک کام کرنے اور بُرے کام سے پرہیز کرنے کا شوق پیدا ہو،اور انسانی اقدار کا پاس و لحاظ رکھا جائے ان کی یہ کوشش رہے کہ اسی دنیا میں بہتر ین زندگی گذاریں اور دوسرے کو آزار و اذیت نہ دیں ؛ ورنہ تو توریت و انجیل کی ”کلیلہ ودمنھ“ داستان سے زیادہ اہمیت نہیں ہے جس طرح سے یونانی قدیم تمدن اور دوسرے قدیمی معاشروں میں افسانوی خدا ہوتے تھے، یہاں تک کہ ان کی بعض داستانوں میں یہاں تک بیان ہوا ہے کہ وہ خدا ایک دوسرے سے شادی کیا کرتے ہیں ، اور کبھی تال میل کرتے ہیں اور کبھی ایک دوسرے سے ناراض ہوجاتے ہیں ، اسی طرح دوسرے ادیان کی کتابوں منجملہ توریت اور انجیل میں بھی صرف خیالی اور افسانوی عکس ہوتا ہے جس میں کسی بھی طرح کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔

قارئین کرام! جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ یھودیت اور عیسائیت کو نابودی سے بچانے کے لئے توریت اور انجیل میں بیان شدہ دینی مسائل کے بارے میں یہ تھیوری اور نظریہ پیش کیا گیا ہے اور یہ نظریہ اہستہ اہستہ مغربی ممالک کے دیندار لوگوں میں بھی رائج ہوتا چلا گیا، اورکتاب مقدس کی توجیہ (اور دلیل) کے عنوان سے اس نظریہ کو بہتر ین راہ حل مانا جانے لگا لیکن ”رنسانس“ کے زمانہ سے پہلے یھودی اور عیسائی متدین لوگ دینی عقائد اور مسائل کو صادق، حق اور واقع کے مطابق مانتے تھے،اور انھوں نے جب نئی نئی کشفیات اور سائنس کے نظریات کو اپنی کتاب مقدس کے بر خلاف پایا تو کتاب مقدس کے دفاع کرتے ہوئے بعض دانشورں کی سخت مخالفت کی یہاں تک کہ بعض دینی مسائل کے مخالف دانشوروں کو پھانسی دے دی گئی اور بعض کو زندہ آگ میں جلادیا گیا اسی طرح بعض بھت سے دانشوروں کو منجملہ ”گلیلھ“ کو توبہ پر مجبور کیا جس کی بنا پر اس نے اپنے نظریات واپس لے لئے۔

۴ ۔مغربی نسبی گرائی نظریہ کی ترویج (وتبلیغ)کرنے والے مغرب پرست روشن خیال

قارئین کرام ! مغربی ممالک میں پہلے یہ نظریہ پیش کیا کہ دین کی زبان؛ سائنس کی زبان سے مختلف ہے اور دین کی زبان کسی بھی طرح کے حقائق پر مبنی نہیں ہے، بلکہ دین کی زبان قصہ کھانی اور افسانہ کی زبان ہے، لیکن مشرقی ممالک سے مغربی ممالک کے تعلقات اور علمی تبادلہ خیالات اور مغربی ممالک میں اسٹوڈینٹ کا تعلیم حاصل کرنے وغیرہ جیسے امور کی وجہ سے یہ نظریہ مشرقی ممالک میں بھی آگیا مغرب پرست اور مغربی کلچر کے عاشق اور دلدادہ نیز مغربی ممالک میں تعلیم یافتہ اسٹوڈینٹ وغیرہ مغربی تمدن کے شیدائی بن گئے ، اور وھاں کی تعلیم اور وھاں کی زبان سے آشنائی کو اپنے مہم افتخارات میں شمار کرنے لگے، اور اس الحادی تھیوری اور نظریہ کے حصول کو اپنے لئے باعث سرفرازی سمجھنے لگے، نیز اس نظریہ کو کار گر اور بہتر ین تحفہ کے عنوان سے عالم اسلام میں داخل کردیا، اور کھا کہ جس طرح مغربی ممالک میں توریت اور انجیل کے ماننے والے اپنے دین کی زبان کو غیر واقع نما زبان قرار دیتے ہیں اور اس کو صرف قصہ کھانی کی زبان مانتے ہیں جو کسی بھی طرح کے حقائق کو بیان نہیں کرتی، اسی طرح قرآن کریم کی زبان بھی قصہ کھانی اور افسانہ کی زبان ہے جس میں حقائق سے کوئی سرو کار نہیں ہے۔!!

عالم اسلام میں بعض عربی ممالک جو اہل بیت علیہم السلام کی تعلیم سے آشنائی نہیں رکھتے تھے لھٰذا انھوں نے اس تھیوری اور نظریہ کو قبول کرلیا اور بعض عربی اہل قلم نے اس سلسلہ میں کتابیں بھی لکہ ڈالیں اور اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے شواہد یا ”مستندات قرآن“ کا بھی ذکر کیا اور جب انھوں نے قرآن مجید کی متشابہ آیات کو دیکھا جن کو سمجھنے سے قاصر رہے اور ان کے حقیقی معنی کو درک نہ کرسکے، اور ان کے ظاہری معنی کو علم اور سائنس سے ہم اہنگ نہ پایا تو توریت و انجیل کے ماننے والوں کی طرح اپنے دینی عقائد کی افسانوی تفسیر و توضیح کرنے لگے، اور قرآن مجید کی بھی افسانوی اور سمبلیک " Symbilec " (رمزی) تفسیر کرنا شروع کردی تاکہ اپنے خیال ناقص میں سائنس کے نظریات کے، دینی عقائد اور دینی مسائل سے ٹکراؤ کا راہ حل پیش کرسکیں تقریباً تیس سال سے خصوصاً ان آخری چند سالوں میں یورپ اور امریکہ میں تعلیم یافتہ لوگوں نے اس سلسلہ میں بھت زیادہ فعالیت اور کار کردگی کی تاکہ مغربی تمدن کے اس نظریہ کو ہمارے معاشرہ میں رواج دیں اور قرآن کی زبان کو قصہ کھانی اور افسانوی زبان کھہ ڈالا، اور اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کے لئے قرآن مجید کی بعض رمزی اور سمبلیک تفسیر کے چند نمونہ پیش کئے:

۵ ۔ ھابیل اور قابیل کے واقعہ سے انحرافی نتیجہ

تیس سال پہلے انحرافی اور مارکسسٹ " Marxist " نظریہ رکہنے والے ایک صاحب نے اپنی ایک تقریر میں ھابیل و قابیل کے واقعہ سے سمبلیک " Symbilec " تفسیر کی۔

جب کہ قرآن مجید میں اصل واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے:

( وَاتْلُ عَلَیْهمْ نَبَا ابْنَیْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ احَدِهمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنْ الْآخَرِ قَالَ لَاقْتُلَنَّکَ قَالَ إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللهُ مِنْ الْمُتَّقِینَ ) (۱)

” اور اے پیغمبر ! آپ ان کو آدم کے دونوں فرزندوں کا سچا قصہ پڑہ کر سنائیے کہ جب دونوں نے قربانی دی اور ایک کی قربانی قبول ہوگئی اور دوسرے کی نہ ہوئی تو اس نے کھا کہ میں تجھے قتل کردوں گا تو دوسرے نے جواب دیا کہ میرا کیا قصور ہے خدا صرف صاحبان تقویٰ کے اعمال قبول کرتا ہے “

اسلامی کتب میں واردہ شدہ روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ جناب آدم علیہ السلام کے دو بیٹے ھابیل و قابیل کو خدا کی بارگاہ میں قربانی کرنا تھی چنانچہ قابیل نے ایک گوسفند کی قربانی کی، اور جناب ھابیل نے ایک مقدار گیھوں راہ خدا میں ہدیہ دئے، جناب ھابیل کی قربانی بارگاہ رب العزت میں قبول ہوگئی لیکن قابیل کی قربانی قبول نہ ہوئی، جس کے بنا پر قابیل کو جناب ھابیل سے حسد ہونے لگا یہاں تک کہ جناب ھابیل کو قتل کردیا؛ لیکن اپنے کئے پر پشیمان ہوا اس کے بعد اپنے بھائی کے جنازہ کے بارے میں فکر ہوئی کہ اس کو کیا کرے تو خداوندعالم نے ایک کوّے کو بھیجا جس نے قابیل کو دفن کرنے کا طریقہ سکھادیا۔

( فَبَعَثَ اللهُ غُرَابًا یَبْحَثُ فِی الْارْضِ لِیُرِیَه کَیْفَ یُوَارِی سَوْاةَ اخِیه قَالَ یَاوَیْلَتَا اعَجَزْتُ انْ اکُونَ مِثْلَ هذَا الْغُرَابِ فَاوَارِیَ سَوْاةَ اخِی فَاصْبَحَ مِنْ النَّادِمِینَ ) (۲)

” پھر خدا نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کو کھود رہا تھا کہ اسے دکھلائے کہ بھائی کی لاش کو کس طرح چھپائے گا تو اس نے کھا کہ افسوس میں اس کوّے کے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش کو زمین میں چھپا دیتا اور اس طرح وہ نادمین اور پشیمان لوگوں میں شامل ہوگیا ۔“

کوّے نے اپنی غذا کو چھپانے کے لئے زمین میں ایک گڑھا گھودا اور اپنی غذا وھاں چھپادی؛ جب خداوندعالم کے حکم سے کوّے نے زمین میں اپنی غذا کو دفن کیا تو کیونکہ قابیل کو نہیں معلوم تھا کہ زمین میں مردہ کس طرح دفن کیا جاتا ہے، لیکن کوّے کے کام سے اپنے مردہ بھائی کے دفن کا طریقہ سیکہ لیا۔

وہ مقرر اور مولف اس واقعہ کے بارے میں اپنی سمبلک تفسیر میں کھتا ہے:

اس واقعہ میں جناب ھابیل زحمت کش اورکاشتکاری کا ایک نمونہ ہے جو بھت زیادہ زحمت کے بعد بھت کم نتیجہ حاصل کرتا ہے اور چونکہ خداوندعالم اس طبقہ کا طرفدار ہے لھٰذا خداوندعالم نے اس کا نا چیز ہدیہ قبول کرلیا اور قابیل مالداری کا نمونہ ہے اور جب ایک مالدار نے گوسفند کی قربانی کی تو خدا نے اس کو قبول نہیں کیا ؛ کیونکہ خداوندعالم مالداری کا دشمن ہے چنانچہ اس مقرر نے اس واقعہ سے یہ نتیجہ نکالا کہ ھابیل وقابیل اور گندم اور گوسفند کی قربانی کوئی حقیقت نہیں رکھتااور صرف سمبلیک " Symbilec " (رمزی) پہلو رکھتا ہے، اور یہ واقعہ مزدور اور مالدار طبقوں کے درمیان اختلاف اور جنگ و کشمکش کی حکایت کرتا ہے (لیکن یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں جناب آدم و حوا اور ان کے دونوں فرزند ھابیل و قابیل کے علاوہ کوئی تھا ہی نہیں کس طرح غریب، مزدور اور مالدار طبقہ کا تصور کیا جاسکتا ہے، اور اس طرح کی طبقاتی تقسیم اس زمانہ کے لئے معنی نہیں رکھتی بھر حال مارکسسٹ " Marxist " نظریہ کے رواج اور اس الحادی نظریہ کے طرفداروں کی وجہ سے یہ سمبلیک تفسیر قابل قبول قرار پائی )

قارئین کرام ! مذکورہ مقرر نے ھابیل وقابیل کے بارے میں تو یہ سمبلیک تفسیر بیان کردی لیکن یہ نہیں بتایا کہ کوّا کس چیز کا نمونہ تھا؛ یہاں تک کہ اس کے ایک شاگرد نے اس کے بارے میں ایک نظریہ پیش کیا کہ وہ کالا کوّا مولویوں کا نمونہ تھا جو مجلس پڑھتے ہیں اور عزاداری کرتے ہیں جو منبر پر جاکر روزی کے سیاہ وسفید کے بارے میں بیان کرتے ہیں اور مالداروں اور سرمایہ داروں کی حمایت کرتے ہیں اور مزہ کی بات یہ ہے کہ اس سلسلہ میں خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے :( وَاتْلُ عَلَیْهم نَبَا ابْنَیْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا ) یعنی(اے رسول) اس واقعہ کی حقیت لوگوں کے لئے بیان کریں ، گویا خداوندعالم یہ خبر دے رہاہے کہ ایک روز ایسا بھی آئے گا جب اس واقعہ کے سلسلہ میں غلط بیانی سے کام لیا جائے گا، لھٰذا آپ پہلے ہی اس واقعہ کی حقیقت کو بیان فرمادیں ۔

جی ھاں ، ان چند سالوں میں بعض مغربی ممالک کے کلچر سے متاثر افراد قرآن مجید سے اس طرح کی تفسیر بیان کرتے ہیں اور آج کل دین اور قرآن کے بارے میں اس طرح کی باتیں اپنے زوروں پر ہے اور ان کی تبلیغ و ترویج ہو رہی ہے، یہاں تک کہ بعض علماء بھی اس نظریہ سے متاثر ہوچکے ہیں اور یہ کھتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ (نعوذ باللہ ) قرآن کی زبان واقع نما نہیں ہے اور ایسا نہیں کہ قرآن مجید کی آیات کے ذریعہ ہمیں کسی حقیقت کے بارے میں پتہ چلتا ہو ، ہمارے پاس قرآنی آیات کی تفسیر کے سلسلہ میں قطعی، برہانی اور مسلم معیار نہیں ہیں تاکہ ان کی بنا پر ہم یہ دعویٰ کریں کہ قرآن مجید کی فلاں آیت سے یہ نتیجہ ہے اور دوسری تفسیریں باطل اور نادرست ہیں بلکہ ہر شخص اپنے ذھن اور علم کی بنا پر قرآن کے بارے میں سمبلیک تفسیر بیان کرسکتا ہے، چاہے اس کی تفسیر دوسری تفاسیر سے بالکل مخالف اور متضاد ہو۔!!

۶ ۔ دین کی زبان واقع نما نہ ہونا یا دین کی ایک مبہم تصویر

دینی مسائل اور قرآن کریم کی زبان کو غیر واقع نما قرار دینے کے سلسلہ میں وضاحت کے لئے عرض کرتے ہیں کہ ماڈرن ھنری میوزیم " Museum " میں بھت سی مختلف ھندسی اور مبہم چیزوں کی تصویر ہوتی ہیں جس کو دیکہ کر واضح طور پر معلوم نہیں ہوپاتا کہ یہ کس چیز کی تصویر ہے جس کی بنا پر مختلف احتمالات دئے جاتے ہیں اور ہر شخص اپنے ذوق کے لحاظ سے ان کی توضیح و تفسیر کرتا ہے اور ان کو کسی خاص چیز کا سمبل (اشارہ) بتایا جاتا ہے شاید ان کا مصور دوسروں کے مختلف نظریات کی طرف متوجہ بھی نہ ہو اسی طرح بعض نفسیاتی لیباریٹری" Laboratory "میں ایک کاغذ پر تھوڑی روشنائی ڈال دی جاتی ہے اور اس کو پھیلاکر بعض لوگوں سے سوال کیا جاتا ہے کہ یہ کس چیز کی شکل ہے؟ تو وہ تھوڑی دیر غور وفکر کے بعداپنے ذھن کے لحاظ سے کوئی شکل کھہ دیتے ہیں ، مثلاً کھتے ہیں کہ یہ ایک عورت کے بال ہیں اور یہ اس کا ھاتہ ہے اور اپنے ذھنی خیالات کی بنا پر اس کو ایک عورت کی تصویر کھہ ڈالتے ہیں جبکہ اس کام کے کرنے والے نے کسی خاص تصویر کے لئے یہ کام نہیں کیا ہوتا اور ناہی اس کام کو منظم طریقہ سے کیا جاتا ہے بلکہ یونھی روشنائی ڈال دی جاتی ہے کہ ہر شخص اپنے ذھن کے لحاظ سے اس کے بارے میں فیصلہ کرے۔

چنانچہ یہ لوگ کھتے ہیں کہ قرآن کی زبان واقع نما نہیں ہے، بلکہ قرآن مجید میں بیان شدہ مسائل کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہر شخص اپنے لحاظ سے اس کو سمجھے، اور کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ قرآن مجید سے اپنے حاصل کردہ نظریہ کو مطلق قرار دے، اور یہ کھے کہ میری بیان کردہ ہی تفسیر قرآن ہی درست اور صحیح ہے اور دوسروں کی بیان کردہ تفسیریں غلط ہیں جس طرح ایک مبہم تصویر کودیکہ کر کوئی یہ فیصلہ کرے کہ صرف میرا ہی نظریہ صحیح ہے اور دوسروں کا نظریہ غلط ہے؛ یہ کہنا اس کے لئے صحیح نہیں ہے، کیونکہ جس طرح وہ اپنے ذاتی خیالات اور تصورات کے ذریعہ کوئی خاص تفسیر کرنے کا حق رکھتا ہے اسی طرح دوسرے بھی اپنے ذھن اور موقع محل کے لحاظ سے تفسیر کرسکتے ہیں ، جن میں سے کسی ایک کو صحیح اور دوسری کو غلط قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اس طرح کی چیزوں میں صحیح اور غلط ہونا ثابت نہیں ہے، یہ نہیں کھا جاسکتا کہ فلاں صاحب کا حاصل کردہ نتیجہ صحیح ہے اور فلاں صاحب کا نتیجہ غلط ہے!

قارئین کرام! کیا قرآن مجید بھی (نعوذ باللہ ) ایک ماڈرن میوزیم کی تصویروں کی طرح ہے کہ ہر شخص کو اس کی تفسیر کرنے کا حق ہے؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آسمانی کتابوں کے بارے میں اس طرح کا نظریہ رکھتے ہیں غالباً وہ لوگ خدا اور وحی پر عقیدہ نہیں رکھتے، اور اگر زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں ، تو ان کا یہ مسلمان ہونے کا دعویٰ صرف دکھاوے کے لئے ہوتا ہے اس وقت اختلاف قرائت کا نظریہ رکہنے والے کتاب مقدس کی تفسیر کے بارے میں کھتے ہیں : بالفرض اگر خدا بھی ہو، وحی بھی نازل ہوئی ہو اور انبیاء نے وحی کو صحیح سمجھا ہو (اگرچہ ان باتوں میں بھی شک ہے)، تو چونکہ انبیاء بھی انسان ہیں اور انسانی درک و فہم رکھتے ہیں اور انسانی درک وفھم؛ غلطی سے خالی نہیں ہے،لھٰذا بھت ممکن ہے کہ نبی نے خدا کی باتوں کو صحیح نہ سمجھا ہو اور اگر یہ بھی مان لیں کہ پیغمبر نے وحی کو حاصل کرنے میں غلطی نہیں کی ہے، تو بھی قرآن مجید کی یقینی تفسیر بیان کرنے کے لئے کوئی راستہ نہیں ہے، تاکہ اسی معیار کی بنا پر کسی ایک تفسیر کو یقینی قرار دیں ا ور دوسری تفاسیر کو غلط سمجھیں لھٰذا قرآن مجید سے کوئی بھی شخص اپنے لحاظ سے نتیجہ نکال سکتا ہے اور اپنے نظریہ اور نتیجہ کو صحیح و معتبر قرار دے سکتا ہے اور کسی دوسرے کو یہ حق نہیں ہے کہ اس کے حاصل کردہ نظریہ کو ردّ کرے ہم کتاب مقدس کی تفسیر کے بارے میں بالکل انہیں افراد کی طرح ہیں جن کے سامنے نفسیاتی لیباریٹری " Laboratory " میں ایک مبہم تصویر پیش کی جاتی ہے جس کے بارے میں ہر شخص کو اپنا اپنا نظریہ دینا پڑتا ہے مثلاً کوئی شخص کھتا ہے کہ یہ شکل تو میری معشوقہ کے بالوں کی طرح ہے اور کوئی کھتا ہے کہ یہ رستم کی شکل ہے، اور اس سلسلہ میں ہر ایک شخص کی نظر محترم ہے اور کسی دوسرے کو اعتراض کا حق نہیں ہے، اگرچہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس مبہم تصویر کو سمجھنے میں سب نے غلطی کی ہو اور کسی نے بھی صحیح نہ بتایا ہو بلکہ اس طرح سے کاغذ پر روشنائی ڈالنے والے کا ہدف بھی صرف یہی ہو کہ ہر شخص اپنے لحاظ سے اس کے بارے میں اپنا تصور بیان کرے!

۷ ۔ قرآن مجید کا شعراء کی زبان سے مقابلہ کرنا؛ بھت سے نتائج ہونے پر دلیل ہے!!

دین کی زبان کے سلسلہ میں معرفت کو نسبی قرار دینے والوں کے نظریہ کو بیان کرنے کے لئے ایک دوسری مثال یہ بھی پیش کی جاسکتی ہے: جیسا کہ عرفانی اور عشقی اشعار سے مختلف نتائج نکالے جاسکتے ہیں خصوصاً حافظ کی غزلیات، جیسا کہ اکثر ایرانیوں کے گھر میں ”دیوان حافظ“ ہوتا ہے اور ایک قدیم زمانہ سے دیوان حافظ سے فال بھی نکالی جاتی ہے مثلاً جب کسی شخص کا رشتہ دار سفر میں ہوتا ہے اور وہ اس کے بارے میں باخبر ہونا چاہتا ہے تو وہ دیوان حافظ کے ذریعہ فال نکالتا ہے اور سامنے نکلنے والے صفحہ پر موجود غزل کو پڑہ کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کا رشتہ دار خیریت سے ہے اور جلد ہی پلٹنے والا ہے اور اگر کوئی شخص مریض ہو اور دیوان حافظ سے فال نکالتا ہے تو وہ بھی اسی غزل سے یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ جلد ہی اس کو بیماری سے شفا ملنے والی ہے؛ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اسی غزل سے ایک شخص پریشان کن نتیجہ نکالے جبکہ حافظ کی عارفانہ اور عاشقانہ غزلیں اس طرح فال نکالنے کے لئے نہیں ہیں ، اور حافظ کا ان غزلیات سے بالکل یہ مقصد نہیں ہے کہ فلاں مریض شفایاب ہوجائے گا یا فلاں مسافر سفر سے جلد لوٹ آئے گا، یا فلاں شخص کی یہ آرزو پوری ہوجائے گی یا فلاں صاحب کی یہ حاجت پوری نہیں ہوگی کیونکہ حافظ نے عرفانی اور شاعری ماحول میں شعر کھیں ہیں جبکہ فال نکالنے والا اپنے ذھن کے لحاظ سے مختلف نتیجے نکال رہا ہے جب کہ شاعر اور دوسروں کے نتیجہ سے میلوں فاصلہ موجود ہے مولانا (شاعر) نے کیا خوب کھا:

ھر کس از ظن خود شد یار من

از درون من نجست اسرار من

(اپنے خیال میں ہر شخص ہمارا دوست بن گیا ہے لیکن کسی نے ہمارے اندر کے اسرار کا پتہ نہ لگایا)

کھتے ہیں کہ قرآن کریم بھی حافظ کی غزلوں کی طرح ہے جس سے ہر شخص مختلف نتیجہ نکال سکتا ہے بلکہ ایک دوسرے کے بالکل مخالف بھی، اور ہر کوئی شخص اپنے ذھن اور سابقہ علم کی بنا پر قرآن کریم کی آیات سے نتیجہ نکال سکتا ہے، اور کسی شخص کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے حاصل کردہ نتیجہ اور قرائت کو مطلق قرار دے۔

یھاں پر پھونچنے کے بعد یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے یا کم سے کم یہ احتمال پایا جاتا ہے کہ اس نعرہ (کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ دین سے حاصل کردہ اپنے نظریہ کو مطلق قرار دے)؛ کی اصلی بنیاد یہی دین کی زبان کا مسئلہ ہے کیونکہ اس نظریہ کی بنا پر دین کی زبان قصہ کھانی اور افسانہ کی زبان ہے، اور یہ زبان سمبلیک " Symbilec " (رمزی) اور غیر واقع نما ہے، لھٰذا ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ذھنیت کے لحاظ سے دینی مسائل کے معنی و تفسیر کرے، نیز کسی شخص کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ صرف اپنی قرائت اور تفسیر کو صحیح قرار دے اور دوسروں کے حاصل کردہ نتائج کو باطل و بے بنیاد!

تو کیا واقعاً اس بے بنیاد اور الحادی نظریہ کی نشر و اشاعت کے بعد جس میں قرآن کریم کو دیوان حافظ کی طرح قرار دیا جاتا ہے اور جس سے ہر کس وناکس اپنے ذھن کے لحاظ سے معنی وتفسیر کرنے کا حق رکھتا ہے تو کیا اس صورت میں یہ قرآن کریم ؛ کتاب ہدایت باقی رہے گی؟ ! اور کیا قرآن کریم سے اس طرح کے پیش کردہ نتائج کے بعد وہی ‎ کتاب باقی رہے گی جس کے لئے پیغمبر اکرم (ص)، ائمہ معصومین علیہم السلام نے اپنی جان خطرات میں ڈالی اوراس راہ میں کس قدر شھید فدا ہوگئے؟ اگر ہر کس و ناکس قرآن مجید کی تفسیر کرسکتا ہو اور اپنے حاصل کردہ نتیجہ کو حجت قرار دے سکتا ہو تو پھر آیات قرآن کی صحیح تفسیر پر قرآن مجید کیوں زور دیتا ہے اور تفسیر بالرائے کرنے سے کیوں ڈراتا ہے، نیز دین میں بدعت گذاری کی کس قدر مذمت کی گئی ہے؟ اگر قرآن مجید کی تفسیر من پسند ہونے لگے اور دو بول پڑھنے والا ہر شخص قرآن مجید سے نتیجہ حاصل کرنے لگے، تو پھر ہمارے انقلاب کا کیا فائدہ ؟کیوں ہم نے شاہ کی حکومت کو سرنگون کیا؟ کیونکہ شاہ بھی اپنے کاموں اور اپنی سمجھ کو قرآن اور دین کے مطابق سمجھتا تھا، یہاں تک کہ وہ تو یہ بھی کھتا تھا کہ جو کچھ میں کھتا ہوں وہ ملاؤں کی بیان کردہ باتوں سے زیادہ مناسب ہے!! اور یہ دعویٰ کرتا تھاکہ میں ملاؤں سے زیادہ قرآن کو سمجھتا ہوں ، میرے خلاف بے وجہ تقریریں کی جاتی ہیں بلا وجہ عوام الناس کو میرے غلاف ورغلایا جاتا ہے!! دین کے سلسلہ میں شاہ کی بھی ایک قرائت تھی کیوں اس کی قرائت کو باطل قرار دیا گیا!

اگر کوئی شخص اسی نظریہ کی بنا پر یہ دعویٰ کرے کہ دین سے حاصل کردہ میرا نتیجہ یہ ہے کہ خداوندعالم وجود عینی اور واقعی نہیں رکھتا اور مسلمان ہونا خدا کو ماننے میں منحصر نہیں ہے، تو کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے؛ چونکہ اس نے اپنے درک و فہم کو بیان کیا ہے اور دین سے اس طرح کا نتیجہ حاصل کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ حافظ کے اشعار میں بھی مختلف معنی اور تفسیر کرنے کی گنجائش پائی جاتی ہے مثلاً حافظ کھتے ہیں :

اگر غم لشکر انگیزد کہ خون عاشقان ریزد

من و ساقی بہ ہم سازیم وبنیادش بر اندازیم

(اگر لشکر میں طلاطم پیدا ہوجائے تو عاشقوں کا خون بھی بھادیا جاتا ہے، ہم اور ساقی آپس میں پیار و محبت سے رہیں تو پھر اس کی بنیاد کو گراسکتے ہیں ۔ )

چنانچہ اس شعر کو پڑہ کر ہر شخص اپنی ذھنیت کے لحاظ سے نتیجہ نکال سکتا ہے کہ اس کی بیماری کو شفا ہوجائے گی، یا اس کی حاجت پوری ہوجائے گی، اور اپنے حاصل شدہ نتیجہ کے لئے مثال کے طور پر یہ کھا جاتا ہے کہ ” مئے اور ساقی“ سے مراد ؛ مریض اور ڈاکٹر ہے، اور ”بنیادش بر اندازیم“ سے مراد یہ ہے کہ یعنی مرض کو جڑ سے ختم کردیا جائے گا لیکن کوئی دوسرا شخص اسی دیوان حافظ سے فال نکالے اور یہی شعر نکلے تو وہ اس سے بالکل مخالف نتیجہ نکال سکتا ہے۔

اگر قرآن مجید میں ایسے نتائج کی گنجائش پائی جاتی ہو کہ مثلاً خدا کا کوئی وجود ہی نہیں ہے، اور خداوندعالم کے اثبات کرنے کے لئے کوئی دلیل بھی نہ ہو، تو پھر اسلام میں کیا باقی بچے گا؟ اگر ہر کس و ناکس قرآن مجید سے مستقل طور پر ایک نتیجہ نکالنے کا حقدار ہو اور تمام لوگوں کے حاصل کئے ہوئے نتائج کا احترام کیا جائے تو پھر دین اسلام سے دفاع، اور دین کے سلسلہ میں غیرت مندی کامظاہرہ اور اسلامی اقدار کے مقابلہ میں حساسیت دکھانا؛ بے معنی اور بے ہودہ ہوگا سب کو ٹولرانس " Toleranec "کی رعایت کرتے ہوئے دوسروں کی باتوں کو برداشت کرنا چاہئے اور دوسروں کے نظریات پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے ہر شخص اپنے لحاظ سے دینی مسائل پر عمل کرے ، اور اگر اس کا یہ نظریہ ہے کہ واقعاً خداوندعالم واحد او ریکتا ہے تو اس کو اپنے وظیفہ کے مطابق عمل کرنا چاہئے، لیکن اگر کسی نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ھزاروں خدا موجود ہیں تو اس کا وظیفہ اسی لحاظ سے ہوگا؛ اور جب ہر شخص کی اپنی سمجھ حجت ہے تو کسی طرح کا کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہئے اور سب پیار ومحبت کے ساتھ بہتر ین زندگی بسر کریں ، اور کوئی بھی ایک دوسرے کے نظریات کے مقابلہ منفی اعتراض نہ کرے۔

بھر حال، یہ نظریہ جس میں دین کی زبان کو سمبلیک " Symbilec " زبان قرار دیا گیا ہے، جس میں ہر شخص کو یہ اختیار ہے کہ وہ اپنے ذھن کے لحاظ سے دینی راز اور مخفی باتوں کے من پسند معنی کرے ، اسی بنیاد پر کہنے والے کھتے ہیں کہ دینی معرفت اور شناخت نسبی اور سیال (رواں دواں ) ہے اور کسی کو اپنے نظریہ کو مطلق قرار دینے کا حق نہیں ہے بے شک اس طرح کا فاسد نظریہ دین اور قرآن کی نظر میں باطل اور بے بنیاد ہے اور اس طرح کا نظریہ دین سے کسی بھی ہم اہنگ نہیں ہے ہم عقلی دلائل سے یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ خداوندعالم کی حکمت اور اس کا لطف اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ایک مقصد اور ایک راہ حق و مطلق کی طرف ہدایت کرے، جس کے لئے خداوندعالم نے قرآن مجید نازل کیا جس میں ہر انسان کے لئے حجت اور موعظہ ہے اور جو نوع بشریت کی روحی و نفسیاتی بیماریوں کا علاج کرتا ہے جب کہ پیامبر اکرم (ص) اور ائمہ علیہم السلام کے مکتب سے تعلیم حاصل کرنے والوں کے نزدیک قرآن مجید کی ایک ہی قرائت اور تفسیر ہے اور وہ بھی پیغمبر اور اہل بیت علیہم السلام کی تفسیر ہے اور صرف انہیں حضرات کی رائے اور نظریہ صحیح اور بر حق ہے جو معرفت کے آب زلال کا سر چشمہ ہیں ، دین کی یہ قرائت دوسری مختلف قرائتوں سے سازگار نہیں ہے، اور ان کو باطل قرار دیتی ہے اگر چہ عالم اسلام میں ”مارٹن“ اور ”لوٹری“ پیدا ہوجائیں اور ایک نیا دین ایجاد کرلیں جس کی بنا پر مختلف اور مخالف قرائتیں پیدا ہونے لگیں اور معرفت کے نسبی قرار دینے کی وجہ سے تمام قرائتوں کو صحیح قرار دیا جانے لگے، لیکن ائمہ علیہم السلام سے نقل شدہ بے شمار روایات کے ذریعہ قرآن مجید کی صحیح قرائت ہم تک پھونچی ہے اور لوگوں کو تفسیر بالرائے سے سخت منع کیا گیا ہے۔

اولیاء اللہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عوام الناس کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے طرف سے دین میں کچھ چیزوں کو شامل کردیں اور اگر کسی مقام پر غیر واضح متشابہ بیان ہو ،تو اس موقع پر توقف کیا جائے اور اہل بیت علیہم السلام کی موجیں مارتے ہوئے دریائے معرفت سے اس کی تفسیر حاصل کریں ، اور خدا اور اسلام کی طرف اسی چیز کی نسبت دیں جو خود خداوندعالم، قرآنی آیات اور پیغمبر اکرم و ائمہ معصومین علیہم السلام کے فرمان میں موجود ہو۔

۸ ۔ ہر منو ٹک فلسفہ میں قرائت کی کثرت اور معرفت کا سیلاب

تعدد قرائت اور اپنی نظریہ کو مطلق قرار نہ دینے کے نعرہ کی ایک دلیل ؛ علم ہر منوٹیک " Hermeneutics " (تحریر کے معنی اور تفسیر کرنا) ہے؛یہ علم آج کل معرفت اور شناخت کے بارے میں ایک عظیم شعبہ ہے جس کی تحقیق کے سلسلہ میں دنیا بھر میں بھت سے افراد مشغول ہیں اس علم کی پیدائش بھی مغربی ممالک میں ہوئی ہے، پہلے یہ ہر منوٹیک" Hermeneutics " عیسائیت کے علم کلام اور حکمت (فلسفھ) کے کام میں آتا تھا جس کا موضوع کتاب مقدس (عھد عتیق اور عھد جدید)کی حقائق کی معنی وتفسیر کرنا تھا لیکن اس کے بعد اس میں وسعت دیدی گئی اور اس کوانسانی کردار، رفتار و گفتار و آثارکی اہمیت کے معنی و تفسیر کے سلسلہ میں ایک فن اورمھارت سمجھا جانے لگا اور اس آخری معنی کی وجہ سے علم ہرمنوٹیک کو خدا شناسی (الھیات) سے نکال کر فلسفہ سے مخصوص کردیا گیا، اور یہ انسانی علوم کے مطالعات یا علوم انسانی کے لئے خاص روشوں میں استعمال ہونے لگا۔

اس علم میں بیان ہونے والی تھیوری اور نظریات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہمارے استعمال کردہ الفاظ دوسروں تک مافی الضمیر منتقل کرنے سے قاصر ہیں ، ہمارے یہ الفاظ کسی بھی صورت میں اس معنی اور حقائق کی طرف منتقل نہیں کرتے جن کو مولف نے بیان کئے ہیں پس جس وقت کوئی شخص دوسروں سے گفتگو کرتے وقت الفاظ کا استعمال کرتا ہے تو سننے والا؛ کہنے والے کے اصلی مقصد تک نہیں پہنچ سکتا مثال کے طور پر ہر انسان کی باطنی احساسات ہوتے ہیں جیسے محبت، عشق، غصہ، نفرت اور تعجب تو اگر کوئی شخص کوئی تعجب آور چیز دیکھتا ہے اگر وہ اپنے تعجب کے احساس کو دوسرے سے بیان کرنا چاہے، تو سننے والا صرف یہ بات سمجھتا ہے کہ اس کو تعجب ہوا ہے ، لیکن کسی بھی صورت میں استعمال ہونے والے الفاظ کے اندر حقیقت تعجب کاپتہ نہیں چلتا، در حقیقت الفاظ کے ذریعہ صرف ایک احساس کی خبر دی جاتی ہے لیکن اس احساس کی ماہیت اور کیفیت منتقل نہیں ہوتی مثال کے طور پر اگر آپ کسی سے کھیں کہ میں فلاں چیز کا عاشق ہو، تو آپ کا مخاطب آپ کے اندر احساس کو نہیں سمجھ سکتا وہ آپ کے بعض حالات سے ایک طرح کا اندازہ لگاسکتا ہے لیکن تفصیلی طور پر اس کی شناخت اور اندرونی احساس کو نہیں سمجھ پاتا۔

۹ ۔ الفاظ کے ذریعہ مختلف حقائق کو سمجھا جاسکتا ہے

جیسا کہ اس بات کی طرف اشارہ ہوچکا ہے کہ ان لوگوں کے دعووں میں ایک دعویٰ یہ ہے کہ کسی مولف یا مقرر کے الفاظ مقصد کو بیان کرنے اور ما فی الضمیر کو منتقل کرنے سے قاصر ہیں ، اور الفاظ کامافی الضمیر کے منتقل کرنے میں نا کافی ہونا ہرمنوٹیک کی بحث کا ایک حصہ ہے نیز دینی تحریروں میں بھی اس سے کام لیا جاتا ہے گذشتہ اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اگر ہم گذشتہ چند ھزار سال پہلے کی مختلف اقوام و مذاہب کا تاریخی مطالعہ کریں اور ہر دین و مذہب اور مسلک کے ماننے والوں کی ادبیات پر سرسری نظر دوڑائیں تو ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ تمام ہی اقوام اور مذاہب کی رونق بخش تعلیمات ”عشق“ کی بنیاد پر ہے اور اس نکتہ سے پتہ یہ چلتا ہے کہ عشق ایک ایسی حالت ہے جس کا احساس تمام انسانوں کے یہاں پایا جاتا ہے، جو سب کے لئے قابل فہم ہے اب اگر کوئی جاپانی، چینی، ایرانی یا عرب باشندہ اپنے عشق کے بارے میں خبر دے تو پھر یہ دعویٰ کیسے کیا جاسکتا ہے کہ ہم اس کے احساس کو درک نہیں کرسکتے؟ کیونکر یہ دعویٰ کیا جاسکتاہے کہ لیلا مجنون یا شیرین اور فرہاد کی داستانِ عشق ہمارے لئے قابل فہم نہیں ہے اور ہم ان داستانوں میں عشق کو صحیح طریقہ سے سمجھ نہیں سکتے؛ اور یہ بھانہ کریں کہ الفاظ کے ذریعہ احساسات منتقل نہیں ہوتے ہیں ، اگر عشق جیسی حالت اور احساس تمام کہنے والوں یا سننے والوں کے لئے قابل فہم نہ ہو تو پھر ہر قوم و ملت میں عشق کے سلسلے میں اس قدر نظم ونثر کیوں موجود ہے، اور عشق کے بارے میں اس زبان کی ادبیات کیوں بھری ہوئی ہے؟

ہم بھی اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ انسان اپنی اندرونی احساسات کو کما حقہ (ھو بھو) دوسروں کی طرف منتقل نہیں کرسکتا، لیکن قرائن و شواہد اور دوسری چیز کو دیکہ کر دوسروں کے احساسات کو سمجھا جاسکتا ہے (مثلاً) ہم اپنے اندر موجود احساس خوف کو دوسرے کی طرف منتقل نہیں کرسکتے جس سے ہمارے احساس کو سمجھ سکے؛ لیکن چونکہ خوف اور ڈر کا احساس ایک ایسی چیز ہے جو تقریباً کم و بیش سبھی کے اندر پایا جاتا ہے، لھٰذا دوسرے افراد بھی ہمارے اندر موجود خوف کا احساس کرسکتے ہیں لیکن اگر کسی کے یہاں ہماری طرح کا احساس نہ پایا جاتا ہو تو وہ قرائن اور شواہد کے ذریعہ بھی ہمارے احساس کا پتہ نہیں چلا سکتا مثال کے طور پر اگر کسی کے اندر عشق و محبت کا احساس نہ پایا جاتا ہو ، تو پھر وہ عشقی داستان سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا، لیکن یہ بات بھی ماننا پڑے گی کہ ایسے شخص کو انسان بھی مشکل سے کھا جائے گا کیونکہ ہر شخص میں تھوڑا بھت محبت کا احساس پایا جانا ضروری ہے، اب اگر کوئی شخص اپنے اس اندرونی احساس کے بارے میں خبر دے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس حالت میں شدت اور زیادتی کا امکان پایا جاتا ہے، تو اس کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ جب یہ حالت اپنی سر حدّ کمال اور بھت زیادہ شدت تک پہنچتی ہے تو اسی کو ”عشق“ کھا جاتا ہے پس ایسا نہیں ہے کہ ہم اپنے اندرونی احساسات کو دوسروں تک منتقل نہیں کرسکتے، جس کے نتیجہ میں ہمارے استعمال کردہ الفاظ اپنی دلی حالت کی ترجمانی کرنے کے ناکافی اور قاصر ہوں ۔

۱۰ ۔ قرآن کریم سے مطلق اور واقعی معرفت کا حاصل کرنا ممکن ہے

جی ھاں ، ہم بھی یہ بات مانتے ہیں کہ عام طریقوں اور معمولی شناخت کے ذریعہ کُنہ حقائق (جوھر حقائق) اور ماورای طبیعت مثلاً فرشتہ کے ماہیت اور حقیقت کے بارے میں آگاہی حاصل نہیں کی جاسکتی، اور ان کے بارے میں مکمل طور پر شناخت حاصل نہیں ہوسکتی، ان کے بارے میں ہونے والی گفتگو متشابہ اور ذو معنی ہیں ، اسی وجہ سے بعض آیات قرآن میں اس طرح کی موجودات کے بارے میں بیان شدہ مطالب متشابہ ہیں ان حقائق کی پہنچان کے لئے مخصوص راستے موجود ہیں جو عام انسان کو معلوم نہیں ہیں اور صرف وہی ‎ حضرات ان طریقوں کو جانتے ہیں جنھوں نے مدتوں تھذیب نفس اور اخلاقی و عرفانی سیر و سلوک کا راستہ طے کیا ہے،جس کی بنا پر ان بعض موجودات کو درک کیا ہے لیکن قرآن مجید کی بعض باتوں کو نہ سمجھنا دلیل نہیں ہے کہ ہم یہ کھہ دیں کہ جو کچھ بھی قرآن مجید میں بیان ہوا ہے وہ سب اسی طرح ہے، ہم اس کو نہیں سمجھ سکتے، اور ہمارے لئے قابل فہم نہیں ہے، نیز الفاظ کے ذریعہ ہمیں حقائق کا پتہ نہیں چلتا، اور ہر انسان اپنے ذھن کے لحاظ سے ان الفاظ کے معنی و تفسیر کرسکتا ہے اگرچہ یہی ماوراء طبیعت حقائق( جیسے ملک و فرشتہ )؛ کے بارے میں مکمل معرفت حاصل نہیں ہوسکتی، اور ایک عام انسان ان کی شناخت اور اور حقیقت سے باخبر نہیں ہوسکتا، لیکن ان کے بارے میں جن صفات اور خصوصیات کا ذکر قرآن مجید میں ہوا ہے ہم ان کے ذریعہ کافی حد تک ان کی معرفت حاصل کرسکتے ہیں ۔

دین اور قرآن کی زبان کو افسانوی زبان قرار دینے والوں کی ایک دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید اور دیگر آسمانی کتابوں میں استعارات، کنایات، تشبیھات اور تمثیلات ذکر ہوئی ہے، منجملہ یہ مثال قرآن مجید میں ذکر ہوئی ہے:

( وَلاَتَکُونُوا کَالَّتِی نَقَضَتْ غَزْلَها مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ انکَاثًا ) (۳)

” اور خبر دار ! اس عورت کے مانند نہ ہوجاؤ جس نے اپنے دھاگہ کو مضبوط کاتنے کے بعد بعد اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا “

اگرچہ قرآن مجید میں یہ مثال بیان ہوئی ہے اور شاید اس طرح کی کوئی بُڑھیا کا وجود ہی نہ ہو۔

اسی طرح گدھے کے بارے میں ایک مثال قرآن مجید میں یہ ذکر ہوئی ہے:

( مَثَلُ الَّذِینَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوها کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اسْفَارًا ) (۴)

” ان لوگوں کی مثال جن پر توریت کا بار رکھا گیا اور وہ اسے اٹھا نہ سکے اس گدھے کی مثال ہے جو کتابوں کا بوجہ اٹھائے ہوئے ہو “

کہنے والے کھتے ہیں کہ جب اس طرح کی افسانوی مثالیں قرآن مجید میں بیان ہوئی ہیں تو پھر قرآن مجید میں بیان شدہ دوسری باتیں منجملہ خدا، قیامت، وحی اور جنت و دوزخ کس طرح افسانوی نہ ہوں گی!

قارئین کرام ! اس طرح بے بنیاد اور بے ہودہ نیز الحادی باتیں مقالات کی صورت میں پورے ملک کی یونیورسٹیوں کے اسٹوڈینٹس تک پہنچائی جارہی ہیں ، تاکہ ان کو یہ بات تلقین کی جائے کہ پورے کا پورا قرآن افسانہ اور کھانی ہے یہاں تک یہ گستاخی اس قدر بڑھتی جارہی ہے کہ ایک اسٹوڈینٹ نے اپنے مقالہ میں قرآن مجید میں بیان شدہ حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ سے رومانٹیک " Romantique " نتیجہ حاصل کیا اور ایک خیالی داستان کے عنوان سے لکھا، اور اس کے بعد اس پر ادبی تنقید کی اور اس پر بھت سے اعتراض و اشکال کئے، اور جب حضرت یوسف کی اس رومانٹیک داستان کو استاد کی موجودگی میں سب کے سامنے پڑھا، تو اس داستان کو سننے کے بعد استاد نے بھی بھت سے اعتراضات کئے، جس کے بعد یہ نتیجہ نکالا گیا کہ داستان یوسف کا لکہنے والا کوئی ماہر ادیب نہیں تھا جس کی بنا پر یہ داستان صحیح طریقہ پر نہیں لکھی گئی ہے!!

۱۱ ۔ قرآن کی زبان کو واقع نما نہ ہونے پر نسبی نظریہ رکہنے والوں کی بے بنیاد دلیل

افسوس کہ جرائد کی ”آزادی بیان“ کے زیر سایہ اور یونیورسٹیوں و دیگر مراکز میں آزاد سیاسی ماحول، اسی طرح ہمارے ملک کے سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی نظام کی کمزوری، نیز انقلاب کے بعد سے تعلیم و تربیت کے عھدہ داروں کی بے توجھی خصوصاً یونیورسٹی کا موجودہ ماحول میں ؛ اسلامی اقدار کے خلاف وسیع پیمانہ پر زھریلی تبلیغات اور پروپیگنڈے ہورہے ہیں ، اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ عصرِ حاضر میں بعض یونیورسٹی طلباء کا سوال یہ ہے کہ جب قرآن مجید میں داستان، افسانہ اور استعارات و کنایات بیان ہوئے ہیں اور ان کے حقیقی معنی مراد نہیں ہیں اور ان کی جگہ مجازی معنی مراد لئے جاتے ہیں ، تو پھر قرآن مجید کے دوسرے مطالب بھی اسی طرح کے ہونے چاہئیں ؟ شاید خدا، وحی اور قیامت جیسے الفاظ سے بھی مجازی اور غیر حقیقی معنی مراد ہوں ؟

جی ھاں ، یہ سب معرفت کے نسبی ہونے، زبان دین کے سمبلک ہونے اور ہر منوٹیک " Hermeneutics " کے ذریعہ دینی تحریر کے معنی و تفسیر کرنے کا نتیجہ ہے جس کے ذریعہ ہمارے عظیم الشان اعتقادت اور اصول کو نقصان پہنچایاجارہاہے جو ہمیشہ ہماری ثقافت اور معاشرہ کے لئے باعث عزت ہے اور ہمارے گذشتہ اور حال کے افتخارات انہیں اسلامی اعتقادات کی وجہ سے ہیں اور تمام انبیاء اور اولیاء اللہ کی امانت کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

یہ نسبیت گرائی اور شکاکیت کا نتیجہ ہے کہ کہنے والے کھتے ہیں کہ کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اپنے نظریہ کو مطلق قرار دے، اور دین سے حاصل شدہ مختلف نتائج کو قابل احترام سمجھا جائے کیونکہ قرآن کی زبان واقع نما اور حقیقی نہیں ہے بلکہ سمبلک ہے، ہر شخص قرآنی آیات سے مستقل طور پر نتیجہ نکال سکتا ہے ہمارا کہنا تو یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن مجید میں مثالوں ، استعاروں اور داستانوں کو بھانہ بنا کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن کریم اصولی طور پر حقائق اور واقعیت کو بیان کرنا نہیں چاہتا بلکہ صرف داستانوں ، افسانوں اور کنایات و استعارات کی گفتگو کو بیان کرنا چاہتا ہے ہم یہاں پر یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر کسی کتاب یا مقالہ یا نظم میں کوئی مثال ذکر ہوئی ہو تو کیا اس کو شعر اور مَثَل کی کتاب کا نام دیا جائے گا؟ اگر کوئی مقرر اپنی تقریر کے دوران کوئی لطیفہ یا کوئی طنز بیان کرے تو کیا اس کی تمام باتوں کو مسخرہ اور طنز آمیز کھا جاسکتا ہے ؟ اگر کوئی شخص کسی موقع پر اپنی گفتگو میں مثال، شعر، استعارہ، تشبیہ، کنایہ اور مجاز جیسی چیزوں کا استعمال کرتا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہے کہ اس کی تمام گفتگو شعر اور افسانہ ہے جس میں کچھ استعارات، کنایات ، تشبیھات اور مثالیں بیان ہوئی ہیں اس صورت میں پھر کسی بھی قلمکار کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنی کتابوں میں مثال ، شعر یا طنز کا استعمال کرے، ورنہ تو اس کی کتاب شعر اور طنز کی کتاب کھلائے گی اگر خداوندعالم نے قرآن مجید میں مَثَل ذکر کی ہے تو کیا خداوندعالم کے اس قول( وَاتْلُ عَلَیْهمْ نَبَا ابْنَیْ آدَمَ بِالْحَقّ ) (۵) کو ایک افسانہ اور مَثَل قرار دیا جاسکتا ہے؟ اورکیا خداوندعالم کے اس فرمان( وَبِالْحَقِّ انزَلْنَاه وَبِالْحَقِّ نَزَلَ ) (۶) کو شعر اور افسانہ قرار دیں سکتے ہیں ؟!۔

یہ لوگ ہر منوٹیک " Hermeneutics " نظریہ اور عبارت و تحریر کی تفسیر کے اعتبار پر ایک دلیل یہ ذکر کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے یہاں ہمیشہ تفسیر اور تاویلات ہوتی رہی ہیں اور علماء و عرفاء نے تاویل اور تفسیر کے بارے میں بھت سی کتابیں بھی لکھی ہیں ؛ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی مختلف تفاسیر اور مختلف تاویلات ہوسکتی ہیں جس طرح عرفاء اور علماء نے قرآن مجید کی تاویلات اور تفاسیر ذکر کی ہیں اسی طرح ہمیں بھی قرآن مجید کی جدید تفسیر کرنے کا حق حاصل ہے، اگرچہ ہماری بیان کردہ تفسیر علماء کی تفسیر سے بالکل مخالف ہو جیسا کہ بعض روایات میں قرآن مجید کی تفسیر؛ قرآن کے ظاہری الفاظ سے بالکل مختلف ہے، لھٰذا قرآن مجید میں مختلف تفاسیر کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مجید کی مختلف تفاسیر اور تاویلات کی جاسکتی ہیں ؛ لھٰذا ہم بھی یہ کام کرسکتے ہیں اور چونکہ ان کے درمیان فرق نہیں کیا جاسکتا کہ ان میں سے کون سے تفسیر صحیح ہے اور کون سی غلط؛ لھٰذا ان سب کو معتبر ماننا چاہئے!

قارئین کرام ! یہ بات صحیح ہے کہ قرآن مجید میں متشابہ آیات پائی جاتی ہیں جس کی تفسیر آیات محکمات کے لحاظ سے ہونا چاہئے، اور روایات میں بھی بیان ہوا ہے کہ قرآن مجید میں بھت سارے باطن اور مختلف پردہ ہیں ، لیکن قرآن مجید کی کسی بھی آیت میں یہ بیان نہیں ہوا کہ ظاہر آیات اور کلمات و الفاظ حجیت نہیں ہیں ، اور ہم پر حقائق کو آشکار نہیں ہوتے۔

قارئین کرام ! آیات کے ظاہری اعتبار کے علاوہ قرآن مجید میں اور بھی مزید دقیق اور گھرے مطالب موجود ہیں جن کو بطون اور تاویل آیات کھا جاتا ہے، اور اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ اصلاً قرآنی ظواہر معتبر نہیں ہیں ، اور صرف ان سے حاصل کردہ ہمارا نتیجہ معتبر ہے اور وہ بھی وہ تاویلات جو تاویل کرنے والے کے ذھن کے مطابق اور اس کے ذھن کی پیداوار ہوں اس طرح دینی سلسلہ میں مختلف اور متضاد قرائت پیش کی ہو رہی ہیں اور ہم سے یہ کھا جاتا ہے کہ ان سب کو قابل احترام مانیں !!

۱۲ ۔ تحریف دین کے سلسلہ میں حضرت علی علیہ السلام کا اظھار افسوس

قارئین کرام ! ہم اپنی گفتگو کے آخر میں لازم اور ضروری سمجھتے ہیں کہ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کے ان نورانی کلمات کی طرف اشارہ کریں جس میں آپ نے رسول اکرم (ص) کی وفات کے بعد پیدا ہونے والے دینی انحرافات اور شبھات کو بیان کیا ہے اورجن کی بنا پر افسوس ناک اور بُرے نتائج بر آمد ہوئے ہیں جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی حکومت رسول اکرم (ص) کی وفات کے ۲۵/ سال کے بعد قائم ہوئی ہے، اس وقت تک وہ اصحاب رسول موجود تھے جنھوں نے خود رسول اکرم (ص) کی زبان مبارک سے آیات قرآن کی تفسیر اور شان نزول کو سنا تھا اور پیغمبر اکرم (ص) پر نازل ہونے والی آیات کے موقع کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا؛ کیونکہ اس وقت قرآن کے نزول کو زیادہ وقت نہیں گذرا تھا لیکن وہ منافقین اور دشمنان اسلام موجود تھے جو اہل بیت علیہم السلام کے بے انتھا دریائے معرفت سے بے بھرہ تھے، اور جاہ وحشم کے دلدادہ اور ہوا پرست دین میں شبھات اور تحریفات ایجاد کررہے تھے جس کی وجہ سے اسلام میں انحرافات پیدا ہوگئے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے درمیان برادر کُشی ہونے لگی چنانچہ اس موقع پر حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

” وَ لٰکِنَّا إِنَّمَا اصْبَحْنَا نُقَاتِلُ إِخْوَانَنَا فِی الإِسْلاٰمِ عَلٰی مَا دَخَلَ فِیْه مِنَ الزَّیْغِ وَ الْإِعْوِجَاجِ وَالشُّبْهةِ وَالتَّاوِیْلِ “ (۷)

( مگر اب ہم کو ان لوگوں سے جو اسلام کی رُو سے ہمارے بھائی کھلاتے ہیں ان سے جنگ کرناپڑ گئی ہے، چونکہ (ان کی وجہ سے) اس میں گمراہی، کجی، شبھات اور غلط سلط تاویلات داخل ہوگئے ہیں )

یھی وہ شبھات اور اعتراضات ہیں جو عصر حاضر میں علمی طریقہ سے بیان کئے جاتے ہیں اور منظم طور پر بیان ہوتے ہیں ، حضرت علی علیہ السلام کے زمانہ میں انہیں اعتراضات کی وجہ سے مسلمانوں میں مقابلہ بازی شروع ہوگئی ، اور اسی طرح کے شبھات اور اعتراضات کو قبول کرتے ہوئے جنگ جمل اور جنگ نھروان میں حقیقی مفسر قرآن حضرت علی علیہ السلام کے مقابلہ میں آگئے جس کی بنا پر بھت سے لوگ قتل کردئے گئے۔

حضرت علی علیہ السلام خداوندعالم کی بارگاہ میں عوام الناس کی جھالت کی شکایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

” إِلَی اللّٰه اَشکُوا ِمنْ مَعْشَرٍ یُعِیْشُوْنَ جُهالًا وَ یَمُوْتُوْنَ ضَلاٰلًا، لَیْسَ فِیْهمْ سِلْعَةٌ ابْوَرُ مِنِ الْکِتَابِ إِذَا تُلِیَ حَقَّ تِلاٰوَتِه، وَلاٰ سُلْعَةٌ انْفَقُ بَیْعاً وَلاٰ اغْلیٰ ثَمَناً مِنَ الْکِتَابِ إِذَا حُرِّفَ عَنْ مَوَاضِعِه وَ لٰا عِنْدَهمْ انْکَرُ مِنَ الْمَعْرُوْفِ وَلاٰ اعْرَفُ مِنَ الْمُنْکَرِ “ (۸)

( اللہ ہی سے شکوہ ہے ان لوگوں کا جو جھالت میں جیتے ہیں اور گمراہی میں مرجاتے ہیں ، ان میں قرآن سے زیادہ کو ئی بے قیمت چیز نہیں ہے، جب کہ اسے اس طرح پیش کیا جائے جیسا پیش کرنے کا حق ہے، اور اس قرآن سے زیادہ کوئی مقبول اور قیمتی چیز نہیں ، اس وقت جب کہ اس کی آیتوں کا بے محل استعمال کیا جائے، ان کے نزدیک نیکی سے بڑہ کر کوئی برائی نہیں اور بُرائی سے زیادہ کوئی نیکی نہیں ۔)

قارئین کرام ! توجہ فرمائیں حضرت امیر علیہ السلام کا یہ شکوہ و شکایت اس وقت کا ہے جب رحلت پیغمبر اکرم (ص) کو ۲۵/ سال کا عرصہ بھی نہ گذرا تھا، لیکن انحرفات ، شبھات اور بدعت دین کے لئے اس قدر نقصان دہ ثابت ہورہے تھے کہ حضرت نے تنھائی کے عالم میں لوگوں کی ہدایت کے مسئلہ کو ان کے حال پر چھوڑتے ہوئے بارگاہ رب العزت میں اپنے ھاتہ آسمان کی طرف بلند کردئے اور اپنے درد و غم کو بیان کرنا شروع کردیا۔

مذکورہ بالا کلام کی طرح خطبہ نمبر ۱۴۵/ میں بھی حضرت فرماتے ہیں :

” وَ إِنَّه سَیَاتِی عَلَیْکُمْ مِنْ بَعْدِیْ زَمَانٌ لَیْسَ فِیْه شَیْءٌ اَخْفٰی مِنَ الْحَقِّ، وَ لٰا اظْهرُ مِنَ الْبَاطِلِ، وَ لاٰ اکْثَرُمِنَ الْکِذْبِ عَلَی اللهِ وَ رَسُوْلِه، وَ لَیْسَ عِنْدَ اهلِ ذٰلِکَ الزَّمَانُ سِلْعَةٌ ابْوَرَ مِنِ الْکِتَابِ إِذَا تُلِیَ حَقَّ تِلاٰوَتِه، وَلاٰ انْفَق إِذَاحُرِّفَ عَنْ مَوَاضِعِه وَ لٰا فِی الْبِلاٰدِ شَیْءٌ انْکَرَ مِنَ الْمَعْرُوْفِ وَلاٰ اعْرَفَ مِنَ الْمُنْکَرِ “

(میرے بعد تم پر ایک ایسا دور آنے والا ہے جس میں حق بھت پوشیدہ اور باطل بھت نمایاں ہوگا، اور اللہ اور اس کے رسول پر افتراء پردازی کا زور ہوگا، اس زمانہ والوں کے نزدیک قرآن سے زیادہ کوئی بے قیمت چیز نہ ہوگی جبکہ اسے اس طرح پیش کیا جائے جیسے پیش کرنے کاحق ہے، اور اس قرآن سے زیادہ ان میں کوئی مقبول اور قیمتی چیز نہیں ہوگی جب کہ اس کی آیتوں کا بے محل استعمال کیا جائے، اور (ان کے) شھروں میں نیکی سے زیادہ کوئی برائی اور برائی سے زیادہ کوئی نیکی نہ ہوگی۔ )

اس کے بعد مزید فرماتے ہیں :

”چنانچہ حاملان قرآن کو چھوڑ دیا جائے گا اور حافظین قرآن کو بھلادیا جائے گا، قرآن اور قرآن والے (اہل بیت ) بے گھر اور بے در ہوں گے، اور ایک ہی راہ میں ایک دوسرے ساتھی ہوں گے، انہیں کوئی پناہ دینے والا نہ ہوگا وہ (بظاہر) لوگوں میں ہوں گے مگر ان سے الگ تھلگ ، ان کے ساتھ ہوں گے مگر بے تعلق، اس لئے کہ گمراہی ہدایت سے سازگار نہیں ہوسکتی، اگرچہ وہ یک جا ہوں لوگوں نے تفرقہ پردازی پر تو اتفاق کرلیا ہے اور جماعت سے کٹ گئے ہیں گویا کہ وہ کتاب کے پیشوا ہیں کتاب ان کی پیشوا نہیں ، ان کے پاس تو صرف قرآن کا نام رہ گیا ہے اور صرف اس کے خطوط او رنقوش کو پہنچان سکتے ہیں ، اس آنے والے دور سے پہلے وہ نیک بندوں کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچا چکے ہوں گے، اور اللہ کے متعلق ان کی سچی باتوں کا نام بھی بھتان رکہ دیا ہوگا اور نیکیوں کے بدلہ میں انہیں بُری سزائیں دی ہوں گی۔“

نیز فرماتے ہیں :

” وَ اْعَلَمُوْا انَّکُمْ لَنْ تَعْرِفُوْا الرُّشْدَ حَتّٰی تَعْرِفُوْا الَّذِیْ تَرَکَه وَ لَنْ تَاخُذُوْا بِمِیْثَاقِ الْکِتَابِ حَتّٰی تَعْرِفُوْا الَّذِیْ نَقَضَه وَ لَنْ تَمَسَّکُوْا بِه حَتّٰی تَعْرِفُوْا الَّذِیْ نَبَذَه “

( جان لو کہ تم ہدایت کو اس وقت تک نہ پہنچان سکو گے جب تک اس کے چھوڑنے والوں کو نہ پہنچان لو اور قرآن کے عھد و پیمان کے پابند نہ رہ سکو گے جب تک کہ اس کے توڑنے والے کو نہ جان لو اور اس سے وابستہ نہیں رہ سکتے جب تک کہ اسے دور پھینکنے والوں کی شناخت نہ کرلو )

اور خطبہ کے آخر میں ارشاد فرماتے ہیں :

” پس انہیں سے ہدایت حاصل کرو، وہی ‎ علم کی زندگی اور جھالت کی موت ہیں وہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کا (دیا ہوا) ہر حکم ان کے علم اوران کی خاموشی ان کی گویائی کا پتہ دے گی، اور ان کا ظاہر ان کے باطن کا آئینہ دار ہے، وہ نہ دین کی مخالفت کرتے ہیں نہ اس کے بارے میں باہم اختلاف رکھتے ہیں ، دین ان کے سامنے ایک سچا گواہ ہے اور ایک ایسا بے زبان ہے جو بول رہا ہے۔“(۹)

قارئین کرام ! آپ حضرات نے ملاحظہ فرمایا کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام لوگوں کو متوجہ کرنے کے بعد ان سے چاہتے یہ ہیں کہ دین کو صرف اہل بیت (علیہم السلام) کے ذریعہ حاصل کریں کیونکہ دین اور قرآن سے انہیں کا حاصل کردہ نتیجہ صحیح اور بر حق ہے، اور دین سے دوسرے حاصل کردہ نتائج باطل اور بے بنیاد اور راہ خدا کو حاصل کرنے والوں اور حق و حقیقت کے تلاش کرنے والوں کے چور ہیں ، جس کا نتیجہ گمراہی اور ذلت کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔

توجہ فرمائیں کہ حضرت علی علیہ السلام کے نظریہ کے مطابق یہ بات قابل قبول نہیں ہے کہ ہر کس و ناکس دین سے ایک الگ نتیجہ حاصل کرلے اور اس طرح کے تمام حاصل شدہ نتائج صحیح اور درست ہوں ، کیونکہ یہ اپنے سلیقہ اور ذوق کے مطابق ہے کیا دین کے سلسلہ میں ذوق کا بھی کوئی دخل ہے؟ کیا دینی مسائل میں بھی ذوق دکھایا جاسکتا ہے؟ (ھرگز نہیں )

تو پھر دین کی صحیح تفسیر اہل بیت علیہم السلام سے حاصل کرنا چاہئے ، نہ یہ کہ اپنے سلیقہ اور ذوق کی بنا پر خود بھی گمراہ ہورہے ہوں اور دوسروں کو دین سے گمراہ کردیں ۔

۱۳ ۔ دینی سلسلہ میں ذاتی سلیقہ کو ردّ کیا جائے

بعض لوگ ہم سے کھتے ہیں کہ اپنے سلیقہ اور ذوق کو دوسروں پر نہ تھونپئے، تو کیا دین ذوق اور سلیقہ کا نام ہے، اور اس کی حد و حدود اور اس کے معنی و تفسیر انسان کے سلیقہ سے معین ہوتے ہیں ؟ سلیقہ اور ذوق انسان کی عام زندگی سے متعلق ہوتا ہے؛ مثال کے طور پر کوئی شخص کوئی کپڑا یا دوسری چیز خریدنا چاہتا ہے تو اس موقع پر کسی دوسرے شخص پر اپنا سلیقہ تحمیل کرنا صحیح نہیں ہے لیکن اعتقادات میں سلیقہ اور ذوق کا کوئی سرو کار نہیں ہے، مثلاً کوئی شخص یہ کھے کہ میرا سلیقہ یہ کھتا ہے کہ خدا ایک ہے، اور( نعوذ باللہ ) دوسرا شخص کھے کہ میرا سلیقہ یہ ہے کہ کئی خدا ہیں ، کیونکہ شریعت اور احکام الہی عوام الناس کے ذوق کے تحت نہیں ہیں تاکہ کہنے والے کھیں کہ دوسروں کے سلیقوں کو بھی برداشت کریں ، نیز دوسروں کے سلیقوں کو ردّ نہ کریں پس اعتقادی مسائل، ضروریات اسلام، احکام اسلام، عقائد اور الہی اقدار کسی کے سلیقہ کے تحت نہیں ہیں ، او ران کے سامنے ذوق و سلیقہ کو بالائے طاق رکہ دیا جائے۔

خلاصہ یہ ہے اپنے نظریہ کو مطلق نہ قرار دینے کے شعار فقط دین کے فرعی اور ظنی مسائل میں صحیح ہے اور ان میں بھی ان حضرات کا نظریہ قابل قبول ہے جو دینی و فقھی مسائل میں اپنے عظیم الشان علم اور صحیح طریقہ سے مکمل طور پر اجتھاد کریں اور قرآن و سنت کے ذریعہ اپنے نظریہ کو استنباط کریں اور اسی کے مطابق فتویٰ دیں اور جو شخص اس طرح کی صلاحیت کا مالک ہوتا ہے اس کو اصطلاحاً ”فقیھ“ کھا جاتا ہے ، چنانچہ اسی موقع پر کھا جاتا ہے کہ ایک فقیہ اپنی رائے کو دوسرے فقیہ پر تحمیل کرنے کا حق نہیں رکھتا یہ مسلم ہے کہ دو فقھاء کے درمیان فتووں میں اختلاف ہوتا ہے لیکن ان میں سے کوئی بھی فقیہ یہ نہیں چاہتا کہ اپنے نظریہ کو دوسرے فقیہ پر تحمیل کرے لیکن عقائد، اصول اور اسلام کے قطعیات میں انسان کا کوئی سلیقہ اور ذوق قابل قبول نہیں ہے کیونکہ دینی عقائد میں صرف وہی ‎ چیز صحیح ہے جس کو چودہ سو سال پہلے پیغمبر اکرم (ص) اور آپ کے بعد ائمہ معصومین علیہم السلام نے بیان فرمایا ہے، اور تمام علماء اور فقھاء کا اس بات پر اتفاق ہے، کیونکہ اسلامی مسلمات کے سلسلہ میں پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی قرائت کے علاوہ دوسری تمام قرائت باطل اور بے بنیاد ہیں ، اور کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے کہ کوئی آگے بڑہ کر یہ کھے میں بھی دین سے ایک نئی قرائت پیش کرتا ہو ں ، در حقیقت اس طرح کا نظریہ دین میں بدعت گذاری کا واضح مصداق ہے جس سے مقابلہ کرنا حقیقی علماء اسلام کا فریضہ ہے، تاکہ وہ خداوندعالم ، اس کے فرشتوں اور نیک بندوں کی لعنت و نفرین کے مستحق قرار نہ پائیں ۔

والسلام علیکم و رحمة الله و برکاته ۔

والحمد للہ رب العالمین

تمت بالخیر

۱۲۰۰۱۵

حوالے:

(۱)سورہ مائدہ آیت۲۷

(۲) سورہ مائدہ آیت۳۱

(۳) سورہ نحل آیت ۹۲

(۴) سورہ جمعہ آیت ۵

)۵( سورہ مائدہ آیت ۲۷ ترجمہ : ” اور اے پیغمبر ! آپ ان کو آدم کے دونوں فرزندوں کا سچا قصہ پڑہ کر سنائیے “

(۶) سورہ اسراء (بنی اسرائیل) آیت ۱۰۵ ترجمہ : ہم نے قرآن کو حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور یہ حق ہی کے ساتھ نازل ہوا ہے “

(۷) نھج البلاغہ خطبہ نمبر ۱۲۲

(۸) نھج البلاغہ خطبہ نمبر ۱۷

(۹)نھج البلاغہ ترجمہ مفتی جعفر حسین اعلی اللہ مقامہ، خطبہ نمبر۱۴۵


فہرست

چو بیسواں جلسہ ۴

حکومت کی عظیم منصوبہ بندی ۱ ۴

۱۔ حکومت کی ضرورت ۴

۲۔قوہ مجریہ کے اہداف کے سلسلہ میں مختلف نظریات ۵

۳۔ انبیاء (ع) کی حکومت کے اغراض ومقاصد ۷

۴۔ لیبرل " Liberal "(آزادی خواہ)نظام میں اجتماعی مشکلات کا اثر ۹

۵۔ لیبرل نظام سے لوگوں کی انسیت کی دلیل ۱۱

۶۔ اسلامی حکومت کے ڈھانچہ کے سلسلہ میں ایک طریقہ ۱۲

۱۔قانون کی شناخت: ۱۲

۲۔قوانین کو نافذ کرنے کی طاقت: ۱۲

۷۔ عوام الناس میں حکومت کی مقبولیت ضروری ہے۔ ۱۳

حوالے: ۱۴

پچیسواں جلسہ ۱۶

حکومت کی عظیم منصوبہ بندی ۲ ۱۶

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر ۱۶

۲۔ حکومت، انسانی معاشرہ کی دائمی اور ہمیشگی ضرورت ہے۔ ۱۷

۳۔ حکومت کی ضرورت پر اسلام اور قرآن کا نظریہ ۱۸

۴طاقت و قدرت کی ضرورت ۲۰

۵۔ مدیروں میں تقویٰ اور اخلاقی صلاحیت ہونا ضروری ہے ۲۱


۶۔ فلسفہ سیاست میں حکومت کی مشروعیت ۲۳

۷۔ حکومت کی مشروعیت کے سلسلہ میں اسلامی نظریہ کا لیبرل معاشرہ سے فرق ۲۵

وضاحت : ۲۶

حوالے: ۲۸

چھبّیسواں جلسہ ۲۹

حکومت کے مخصوص کام اور عوام الناس کے ھاتھ بٹانے پر اسلام کا زور ۲۹

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر ۲۹

۲۔ حکومت کے عظیم اور مخصوص کام ۲۹

۳۔ حکومت کے دو طرفہ وظائف ۳۲

۴۔ کم در آمد لوگوں کو مدد پہنچانے والی کمیٹیوں کی ضرورت ۳۴

۵۔ عوام الناس کی شرکت پر اسلام کی توجہ ۳۵

۶۔ عوام الناس کی شرکت کو کم کرنے والے اسباب ۳۶

۷۔اسلام میں جامعہ مدنی کی اہمیت ۳۷

۸۔ اسلامی انتخاب کے معیار سے مخالفت کے نئے حیلے ۳۸

۹۔ اسلامی اصول اور اقدار کی حفاظت اور دشمن زمینہ سازی سے مقابلہ کی ضرورت ۳۹

حوالے: ۴۱

ستّائیسواں جلسہ ۴۲

اسلامی حکومت کی خاص پہنچان ۴۲

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر ۴۲

۲۔ نظام اسلامی اور لائیک نظام میں حکو مت کے سلسلہ میں بنیادی فرق ۴۳


۳۔ مغربی کلچر کے عاشق افراد کی طرف سے سیکولر حکومت کی پیش کش ۴۴

۴۔ اسلامی شعار کا حفظ اور رائج کرنا ، حکومت کی ایک ذمہ داری ۴۴

۵۔ حکومت اور اس کے کردار ی پہلو ۴۵

۶۔ ”ٹوٹالیٹر“(۱) ( Totalitair ) اور ”لیبرل“حکومت کا مڈل ۴۷

۷۔ اسلامی نظریہ کے تحت حکومت کیسی ہونا چاہئے ۴۹

وضاحت: ۵۰

۸۔ متحد حکومتوں کے نقائص ۵۲

پھلا اشکال: ۵۲

دوسرا اشکال: ۵۲

تیسرا اشکال: ۵۳

حوالے ۵۳

اٹھائیسواں جلسہ ۵۴

اسلامی حکومت اور جائز آزادی اوراقدار کی رعایت کرنا ۵۴

۱۔ حکومت کی ضرورت پر ایک اشارہ ۵۴

۲۔ انسانی کردار میں اصل اوّلی ۵۶

۳۔ سزا دینے کے سلسلہ میں اسلام کا تربیتی پہلو ۵۸

۴۔ حکومت کے مخصوص ثابت او رمتغیر کام ۵۹

۵۔ قوانین جاری کرنے کے طریقہ کار میں اسلامی اور غیر اسلامی حکومتوں میں فرق ۶۱

حوالے: ۶۳

انتیسواں جلسہ ۶۴


اسلامی حکومت کی ذمہ داری کے بارے میں نظریات ۶۴

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر ۶۴

۲۔ اسلامی حکومت کے عھدہ داروں کے شرائط ۶۵

الف۔ قانون کی پہنچان ۶۵

ب۔ اخلاقی صلاحیت ۶۶

ج۔ مدیریتی مھارت اور تجربہ ۶۷

۳۔ عھدہ داری کے شرائط کا نصاب معین کرنے کی ضرورت ۶۷

۴۔ اخلاقی صفات کے بارے میں ”کانٹ“ کے نظریہ کی ردّ ۶۸

۵۔اقدار اور وظائف کے بارے میں اسلامی درجہ بندی نظریہ ۶۹

۶۔عبادت کے بھی مختلف درجات ہیں ۷۰

۷۔ اسلامی حکومت کے درجہ بندی شدہ نمونے ۷۱

۸۔ ولایت فقیہ کی حکومت پر عقلی دلیل ۷۲

حوالے: ۷۵

تیسواں جلسہ ۷۶

اسلامی حکومت سے ولایت مطلقہ فقیہ کی نسبت ۷۶

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر ۷۶

۲۔ اسلامی حکومت کے وظائف اور اختیارات کا برابر کا توسعہ ۷۷

۳۔ حکومتی اختیارات سے ولایت مطلقہ فقیہ کی نسبت ۷۸

۴۔ مخالفین کی طرف سے ولایت مطلقہ کے بارے میں شک وشبھات ۷۸

۵۔ اسلامی حکومت کا ڈھانچہ ۷۹


الف۔ اسلامی قوانین کی وسعت اوران کا نسخ نہ ہونا ۸۰

ب۔اسلام کی طرف سے حکومت کے درجہ وار نمونے ۸۱

۶۔ اسلامی نقطہ نظر سے ”حکومت میں حکومت“ کے نقشہ کی تاریخ ۸۲

۷۔ حضرت امام خمینی (رہ)کی طرف سے ”ولایت مطلقہ فقیہ“ کا نقشہ ۸۴

۸۔ مقبولہ(روایت) عمر بن حنظلہ سے ولایت فقیہ ۸۶

۹۔ اسلام کی نظر میں تفکیک قوا ( قدرت کا جدا جدا ہونا) کا جائزہ ۸۹

۱۰۔ طاقت کے ایک ساتھ ہونے کا سبب ۹۰

۱۔پارلیمنٹی نظام ۹۰

۲۔ ریاستی نظام ۹۰

حوالے: ۹۱

اکتیسواں جلسہ ۹۳

تفکیک قوا (قدرتوں کی جدائی) کے نظریہ کی تحقیق اور اس پر نقد وتنقید ۹۳

۱۔ گذشہ مطالب پر ایک نظر ۹۳

۲۔ تفکیک قوا (قدرتوں کی جدائی) کے نظریہ کی تاریخی حیثیت ۹۳

۳۔ تفکیک قوا نظریہ کے دلائل پر ایک نظر ۹۴

۴۔ تفکیک قوا کو بالکل محدود کرنا نا ممکن ۹۶

۵۔ تینوں طاقتوں پر ایک ناظر اور ہم اہنگ کرنے والی طاقت کی ضرورت ۹۸

۶۔ ولایت فقیہ معاشرہ کے اتحاد کا مرکز ۹۹

بتّیسواں جلسہ ۱۰۱

اسلامی نظام کے اعتقادی عظمت بیان ہونے کی ضرورت ۱۰۱


۱۔ اسلامی حکومت کی تھیسز" The'sis " کی پہنچان کے مختلف طریقے ۱۰۱

الف۔ مختصر شناخت: ۱۰۱

ب۔ مخصوص اور علمی شناخت: ۱۰۲

ج۔ متوسط شناخت: ۱۰۳

۲۔ قانون کی ضرورت اور اس کے خصوصیات پر ایک نظر ۱۰۴

۳۔ قوانین جاری کرنے والے کے صفات پر دوبارہ ایک نظر ۱۰۶

مذکورہ شرائط: ۱۰۶

۴۔اعتقادی اصول سے اسلامی حکومت کی تھیوری کا تعلق ۱۰۷

۵۔ حکومت کے طولی(تحت) مراتب کی منطقی اور عقلی دلیل ۱۰۸

۶۔ اسلامی حکومت کے سلسلہ میں چند سوالات ۱۱۰

حوالے ۱۱۲

تینتیسواں جلسہ ۱۱۳

اسلام اور حکومت کے مختلف نقشے ۱۱۳

۱۔ اسلام کی طرف سے حکومتی سلسلہ میں کوئی طریقہ بیان نہیں کیا گیا (ایک اعتراض) ۱۱۳

۲۔ مذکورہ اعتراض کا جواب، اور حکومت کی شکل کے سلسلہ میں اسلامی نظریہ ۱۱۵

۳۔ حکومتی ثابت اور مسلم ڈھانچہ پیش کیا جانا ممکن نہیں ۱۱۶

۴۔ حکومت کا عرفی اور دنیاوی ہونا اور قوانین اسلام کا ہم عصری ہونا (ایک اعتراض) ۱۱۷

۵۔ مذکورہ اعتراض کا جواب، اور اسلام کے متغیر اور ثابت احکام کی نسبت ۱۱۹

۶۔ انسانی، تمام مسائل میں احکام الہی کی وسعت ۱۲۳

حوالے: ۱۲۶


چونتیسواں جلسہ ۱۲۷

اسلامی احکام کی عظمت اوراس کی دوسرے نظام پر برتری ۱۲۷

۱۔حکومت اورمتغیر احکام سے اسلامی ثابت احکام کی نسبت ۱۲۷

۲۔ احکام اولیہ اور احکام ثانویہ۔ ۱۲۸

۳۔ ڈیموکریٹک حکومتوں کے نقائص ۱۳۱

۴۔ قدرتوں میں ہم اہنگ کرنے کے اسباب کا ہونا ضروری ہے ۱۳۳

۵۔ ولایت فقیہ حکومت کو ہم اہنگ کرنے والی طاقت ۱۳۴

۶۔ دوسری حکومتوں پر ولایت فقیہ نظام کے امتیازات ۱۳۵

الف۔ اندورنی انسجام و یگا نگت ۱۳۵

ب۔ روحی اور اندرونی نفاذ کی ضمانت ۱۳۶

ج۔ مقام رہبری میں شائستگی اور تقویٰ کے عالی ترین درجات کا ہونا ۱۳۸

د۔ انسانی معنوی اور واقعی مصالح کی رعایت ۱۳۹

حوالے: ۱۴۱

پینتیسواں جلسہ ۱۴۲

قوانین اور حکومت سے آزادی کی نسبت ۱۴۲

۱۔ حاکم کا نصب کرنا آزادی اور ڈیموکریسی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ (ایک اعتراض) ۱۴۲

۲۔ تکوینی آزادی اور نظریہ جبر کی تحقیق اور ردّ ۱۴۲

۳۔ معنوی اور اندورنی اقدار کا آزادی سے کوئی ٹکراؤ نہیں ۱۴۴

۴۔ آزادی اور دینی وظائف کی نسبت ۱۴۶

۵۔ حدود اور سزاؤں میں آزادی کی نسبت ۱۴۹


۶۔ حکومت اور قوانین کے زیر سایہ مطلق طور پر آزادی نہیں ہوسکتی ۱۵۱

جواب: ۱۵۱

۷۔ حاکمیت کا خدا سے متصل ہونا ۱۵۲

حوالے ۱۵۶

چھتّیسواں جلسہ ۱۵۷

اسلامی قوانین قطعی طور پر جاری ہونے چاہئیں ۱۵۷

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر ۱۵۷

۲۔ حکومت کی ضرورت اور انسان کی اجتماعی زندگی کا عکس العمل ۱۵۷

۳۔ حکومت کی مشروعیت کے منشاء کی طرف ایک اشارہاور ڈیموکریسی پر اشکالات ۱۵۹

پھلا اشکال: ۱۵۹

دوسرا اشکال: ۱۶۰

تیسرا اشکال: ۱۶۱

۴۔ اسلام میں حکومت کی مشروعیت اور اس کا قانونی ہونا ۱۶۱

۵۔ انبیاء علیہم السلام اور عوام الناس کی ہدایت کا طریقه ۱۶۲

۶۔ عوام الناس کی ہدایت میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت ۱۶۴

۷۔ الہی اقدار کی حفاظت اور مغربی کلچر سے روک تھام ضروری ہے ۱۶۶

۸۔ قوانین کو جاری کرنے اور دشمن نظام سے بھر پور مقابله ۱۶۸

۹۔ سازش کرنے والوں اور زر خرید غلاموں کے مقابلہ میں عوام الناس کی ہوشیاری ۱۷۰

حوالے ۱۷۱

سیتیسواں جلسہ ۱۷۲


تشدد کے سلسلہ میں ایک تحقیق ۱۷۲

۱۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر ۱۷۲

۲۔ دشمنوں کی طرف اسلام کے خلاف پروپیگنڈا اور کارکردگی ۱۷۲

۳۔ مغربی ممالک میں حقوق بشر کا جھوٹا دعویٰ ۱۷۴

۴۔ اسلامی نظام پر تشدد طلب ہونے کا الزام اور اس کے خلاف سازشیں ۱۷۵

۵۔ لوگوں میں انتخابات سے بائیکاٹ کا راستہ ہموار کرنا ۱۷۶

۶۔ اسلامی مقدسات کی توہی ‎ ن کرنے والوں اور ثقافتی سازشوں سے مقابلہ کی ضرورت ۱۷۷

۷۔ خداوندعالم کی رحمت اور غضب کے بارے میں اسلامی تصویر کشی ۱۸۰

۸۔ ہدایت کے موانع کو بر طرف کرنے ،دشمنوں اور منافقین سے مقابلہ کی ضرورت ۱۸۲

۹۔ اسلامی سزا کے احکام کی مخالفت ۱۸۴

۱۰۔ تشدد ، اسلامی سزائی قوانین میں محدود نہیں ہے ۱۸۶

۱۲۔ دشمن کی سازشوں سے مقابلہ کی ضرورت ۱۹۰

۱۳۔ دشمنان اسلام سے مقابلہ اور اعلان برائت ضروری ہے (قرآن کریم) ۱۹۱

حوالے ۱۹۲

اڑتیسواں جلسہ ۱۹۴

اسلامی قوانین کے ساتھ مغربی نظریات کا ٹکراؤ ۱۹۴

۱ ۔ تحریک مشروطیت اور مغربی کلچر کا رواج ۱۹۴

۲ ۔ اسلام میں مطلوب اور مقصود آزادی کے نقشہ پر بعض مولفین کی نا رضا مندی ۱۹۵

۳ ۔ مفسد فی الارض کے بارے میں اسلامی حکم ۱۹۶

۴ ۔ سخت رویہ نہ اپنانے کا نتیجہ ۱۹۸


۵ ۔ تشدد کی بحث کے مقابلہ میں غیر ذمہ دارانہ رویہ ۲۰۰

۶ ۔ قرآن مجید میں لفظ ” تشدد“ کے ہم معنی لفظ کی تحقیق ۲۰۱

۷ ۔مغربی اور اسلامی نظر میں تحمل اور ٹولرانس کے معنی ۲۰۱

حوالے: ۲۰۴

انتالیسواں جلسہ ۲۰۵

دینی عقائد و اقدار کے نسبی ہونے کے نظریہ کی تحقیق و بررسی ۲۰۵

۱ ۔ دینی مسائل کو مطلق یا نسبی قرار دینا ۲۰۵

۲۔ معرفت کے نسبی ہونے کے سلسلہ میں تین نظریات ۲۰۶

الف: معرفت کے نسبی ہونے پر پہلا نظریہ ۲۰۶

ب۔معرفت کے نسبی ہونے پر دوسرا نظریہ ۲۰۷

۳ ۔ بعض اقدار کا مطلق اور ثابت ہونا ۲۰۹

بعض اقدار کے مطلق ہونے کا معیار ۲۱۰

۴ ۔ مغربی تمدن میں تمام دینی عقائد نسبی ہیں ۲۱۱

ج۔ معرفت کے نسبی ہونے پر تیسرا نظریھ(معرفت دینی میں نسبیت کا وجود) ۲۱۳

۵ ۔ قرائت نسبی اور قرائت مطلق دونوں جدا جدا ہیں ۲۱۴

حوالے ۲۱۷

چالیسواں جلسہ ۲۱۸

دینی معارف افسانہ ہیں یا حقیقت نما آئینہ ۲۱۸

۱ ۔ گذشتہ مطالب پر ایک نظر ۲۱۸

۲ ۔ واقع نما اور غیر واقع نما زبانوں کی اہمیت ۲۱۸


۳ ۔ دین کی زبان کو غیر واقع نما قرار دینے کا سبب ۲۲۰

۴ ۔مغربی نسبی گرائی نظریہ کی ترویج (وتبلیغ)کرنے والے مغرب پرست روشن خیال ۲۲۲

۵ ۔ ھابیل اور قابیل کے واقعہ سے انحرافی نتیجہ ۲۲۳

۶ ۔ دین کی زبان واقع نما نہ ہونا یا دین کی ایک مبہم تصویر ۲۲۵

۷ ۔ قرآن مجید کا شعراء کی زبان سے مقابلہ کرنا؛ بھت سے نتائج ہونے پر دلیل ہے!! ۲۲۶

۸ ۔ ہر منو ٹک فلسفہ میں قرائت کی کثرت اور معرفت کا سیلاب ۲۲۹

۹ ۔ الفاظ کے ذریعہ مختلف حقائق کو سمجھا جاسکتا ہے ۲۳۰

۱۰ ۔ قرآن کریم سے مطلق اور واقعی معرفت کا حاصل کرنا ممکن ہے ۲۳۱

۱۱ ۔ قرآن کی زبان کو واقع نما نہ ہونے پر نسبی نظریہ رکہنے والوں کی بے بنیاد دلیل ۲۳۲

۱۲ ۔ تحریف دین کے سلسلہ میں حضرت علی علیہ السلام کا اظھار افسوس ۲۳۴

۱۳ ۔ دینی سلسلہ میں ذاتی سلیقہ کو ردّ کیا جائے ۲۳۷

حوالے: ۲۳۸