امامیہ دینیات درجہ  اوّل (بالغات)
گروہ بندی گوشہ خاندان اوراطفال
مصنف تنظیم المکاتب
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


امامیہ دینیات

درجہ اوّل (بالغات)

تنظیم المکاتب


اصول دین

اصول اور فروع

ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں۔ ان کی باتوں کو ماننا اسلام ہے۔ ہمارے نبیؐ نے ہم کو جتنی باتیں بتائی ہین وہ دو طرح کی ہیں۔ ایک کا نام اصول دین ہے اور دوسرے کا نام فروع دین ہے۔

اصول دین :۔

ان باتوں کو کہتے ہیں جن پر دل سے یقین رکھنا ضروری ہے جیسے خدا ایک ہے، عادل ہے۔ آخری نبی ہمارے نبیؐ ہیں اور ان کے جانشین ہمارے بارہ امام ہیں۔ قرآن اللہ کی کتاب ہے۔ قیامت کا ایک دن معین ہے۔

فروع دین :۔

ان باتوں کو کہتے ہیں جن پر عمل کرنا واجب ہے جیسے نماز پڑھنا روزہ رکھنا ، حج کرنا ، خمس ، زکوٰۃ نکالنا وغیرہ۔

ہر شخص پر واجب ہے کہ اصول دین کو دلیلوں کے ذریعہ سمجھے اور اپنی عقل سے پرکھ کر مانے، صرف کسی کے کہنے پر ماننا کافی نہیں ہے بلکہ دوسروں سے جو کچھ سنے یا معلوم کرے اسے اپنی عقل سے پرکھے جو صحیح ثابت ہو اسے مانے اور جو غلط ثابت ہو اسے نہ مانے۔

فروع دین خدا اور رسولؐ کے احکام کا نام ہے اور خدا اور رسولؐ کے احکام کا فیصلہ اپنی عقل سے نہیں کیا جا سکتا لہذا جو خدا رسولؐ اور امامؐ کا حکم ہوا اسی پر عمل کرنا چاہیئے۔ ان کے احکام کے مقابلہ میں اپنی عقل کو نہ لانا چاہئیے۔ اس لئے کہ فروع دین میں قیاس کرنا حرام ہے۔

اصول دین پانچ ہیں :۔

توحید ۔ عدل ۔ نبوت ۔ امامت ۔ قیامت۔

فروع دین دس ہیں :۔

نماز ۔ روزہ ۔ حج ۔ زکوٰۃ ۔ خمس ۔ جہاد ۔ امر بالمعروف ۔ نہی عن المنکر ۔ تولا ۔ تبرا۔

فروع دین کی بہت سی باتوں کے بارے میں حکم دین معلوم ہے جیسے نماز واجب ہے۔ مغرب کی تین رکعت ہیں۔ البتہ بعض باتوں میں حکم خدا یقینی طور پر نہیں معلوم ہے جیسے سنگ مرمر پر تیمم ہو سکتا ہے یا نہیں۔ سیپ کے بٹن کے ساتھ نماز صحیح ہوگی یا نہیں۔ اور چونکہ آج ہمارے امام علیہ السلام ظاہر نہیں ہیں جن سے ہم حکم خدا معلوم کریں لہذا جن باتوں میں حکم خدا نہیں معلوم ہے ان کو عالم دین سے معلوم کیا جاتا ہے۔ اس کا نام تقلید ہے۔ تقلید سب سے برے عالم دین اعلم کی ہوتی ہے۔

ہم کیوں پیدا ہوئے ؟

اس دنیا میں اللہ نے کوئی چیز بیکار نہیں پیدا کی بلکہ جو کچھ اس نے بنایا ہے کسی نہ کسی مقصد کے لئے بنایا ہے ۔ سورج روشنی دیتا ہے۔ چاند راتوں کے اندھیرے میں اجالا بخشتا ہے۔ بادل پانی برساتا ہے۔ پانی سے کھیتی ہری بھری ہوتی ہے۔ جانور انسانوں کے بہت سے کام کرتا ہے۔ سواری ، کھیتی ، سیچانئی وغیرہ میں جانوروں سے کام لیا جاتا ہے۔ انسان بھی بیکار نہیں پیدا ہوا ہے بلکہ اللہ کی عبادت کے لئے پیدا ہوا ہے۔

اللہ نے اس دنیا کی ہر چیز انسان کے لئے پیدا کی اور انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔ اس دنیا میں تم کو یہ اصول نظر آئےگا کہ ہر مخلوق اپنے سے بلند کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ گھاس اس لئے پیدا ہوئی ہے کہ اسے جانور کھائے۔ جانور اس لئے پیدا ہوا ہے کہ وہ انسان کو کام آ سکے۔ انسان سے بلند صرف خدا ہے لہذا انسان خدا کے احکام ماننے اور اس کی عبادت کرنے کے لئے پیدا ہوا ہے۔

امام حسن عسکری علیہ السلام ایک دن بچپن میں بچوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ سب بچے کھیل کود رہے تھے۔ امام کھیلنے کے بجائے رو رہے تھے۔ ادھر سے بہلول کا گزرنا ہوا۔ بہلول بہت عقلمند اور دیندار آدمی تھے۔ امامؐ کو روتے دیکھ کر رک گئے اور رونے کا سبب پوچھنے لگے۔ تسلی دیتے ہوئے بہلول نے کہا۔ " میں تمہارے لئے بازار سے کھلونے خرید لاتا ہوں۔" حضرت نے کہا۔ " ہم کھیلنے کے لئے نہیں پیدا کئے گئے۔ " بہلول نے سوال کیا۔ " پھر کس لئے پیدا کئے گئے ہیں ؟" حضرت نے فرمایا ۔" ہم کو اللہ نے علم حاصل کرنے اور عبادت کرنے کے لئے پیدا کیا ہے ۔" اور امامؐ نے بہلول کو قرآن مجید کی آیت بھی سنائی جس میں خدا نے کہا کہ ہم انسان کو بیکار نہیں پیدا کیا ہے۔ بہلول امام کی بات سن کر سمجھ گئے کہ یہ کوئی معمولی بچہ نہیں ہے بلکہ زمانہ کا ہادی اور امام ہے۔

ہمارا فرض ہے کہ اپنی زندگی کو کھیل کود میں برباد نہ کریں۔ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی نہ کریں۔ ہر کام سے پہلے سوچ لیں کہ اللہ اس سے خوش ہوگا یا ناراض ، جن کاموں سے خدا ناراض ہوگا ان کو نہ کریں۔ صرف وہ کام کریں جس سے خدا خوش ہو چاہے نماز روزہ ہو یا تجارت اور کاروبار۔


مذہب کی ضرورت

بچہ جس چیز کو دیکھتا ہے اس کو لینے کے لئے لپکتا ہے۔ اسے نہیں معلوم کہ کون سی چیز اچھی ہے اور کون سی چیز بڑی ہے لیکن اس کے ماں باپ اس کو ان چیزوں سے منع کرتے ہیں جو بری ہیں۔ چاہے وہ بچہ کو اچھی لگتی ہوں۔ اور ان چیزوں کو لینے کا حکم دیتے ہیں جو اچھی ہیں چاہے وہ بچہ کو بری لگتی ہوں۔ اسی طرح خدا نے اپنے بندوں کو مذہب کے ذریعہ اچھی اور بری باتیں بتائی ہیں۔ کیونکہ بندے سب چیزوں کی اچھائی اور برائی نہیں جانتے ہیں۔ مذہب اچھائیاں بتاتا ہے اور برائیاں پہچنواتا ہے۔ نیکی کرنے کا حکم دیتا ہے اور برائی کرنے سے روکتا ہے۔

مذہب کے بغیر انسانوں کی زندگی کی اصلاح ممکن نہیں ہے جس کی مثال یہ ہے درخت جنگل میں بھی اُگتے ہیں ، باغ اور چمن میں بھی لگائے جاتے ہیں لیکن جنگل میں آدمی جاتے ہوئے ڈرتا ہے اور باغ میں جانے کو اس کا جی چاہتا ہے۔ یہ صرف اس لئے ہے کہ جنگل میں کسی قاعدہ اور قانون کے بغیر درخت اُگتے ہیں اور باغ میں قاعدےسے لگائے جاتے ہیں۔ جنگل میں کوئی مالی درختوں کی دیکھ بھال نہیں کرتا ہے اور باغ میں مالی درختوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

انسانوں کو بھی اگر بغیر قاعدہ اور قانون کے جینے کا موقع دیا جائے تو انسانوں کی آبادی بھی جنگل کا نمونہ بن جائیےگی اور اگر قاعدہ اور قانون سے لوگ زندگی بسر کریںگے تو آدمیوں کی بستیاں جنت کا نمونہ بن جائیںگی۔ لہذا ضرورت ہے ایک ایسے قانون کی جو انسان کو جینے کا طریقہ بتائے اور اسی قانون کا نام مذہب ہے۔ انسانوں کے اسی چمن باغبان اور مالی نبی اور امام ہوتے ہیں جن کو خدا نے ہمیشہ ہماری ہدایت کے لئے بھیجا ہے۔

کیا خدا نہیں ہے ؟

اس دنیا میں جہاں بےشمار مذہب والے پائے جاتے ہیں وہاں کچھ لوگ لامذہب بھی ہیں۔ یہ لوگ اپنے آپ کو دہریہ کہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ دنیا بغیر کسی خدا کے ایک دن آپ ہی آپ پیدا ہو گئی ہے اور ایک دن آئےگا جب آپ ہی آپ مٹ جائےگی۔

ویسے یہ لوگ بھی دنیا کی ہر چیز کے لئے ایک بنانے والا مانتے ہیں ان کے خیال میں بھی مکان ، سڑک ، فیکٹری ، موٹر ہوائی جہاز ، ریل وغیرہ سے کوئی چیز بھی خود نہیں پیدا ہوئی جو نہیں بنی بلکہ کسی بنانے والے نے ان کو بنایا ہے ۔ لیکن یہی لوگ خدا کا انکار کرتے ہیں اس ہٹ دھرمی پر اتر آئے ہیں کہ کہتے ہیں کہ یہ دنیا خود پیدا ہوئی ہے اس کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں۔

ہمارے چھٹے امام جعفر صادق علیہ السلام کے پاس ایک دہریہ آیا۔ جس کا نام عبد اللہ ویصانی تھا۔ اس نے اصحاب کے سامنے حضرتؐ سے خدا کے بارے میں بحث کرنا چاہی۔ آپ نے اُس سے پوچھا " تیرا نام کیا ہے ؟"

وہ جواب دئیے بغیر چلا گیا۔ اصحاب نے حیرت سے پوچھا ۔ "حضور ! یہ شخص کیوں چلا گیا۔ یہ تو آپ سے بحث کرنے آیا تھا ؟"

آپ نے فرمایا ۔ " بحث ختم ہو گئی اور وہ اپنی بحث میں ہار گیا اس لئے شرمندہ ہو کر چلا گیا۔ "اصحاب نے عرض کی۔ " مولا! اس نے تو کوئی بات ہی نہیں کی، پھر بحث کیسے ختم ہو گئی ؟"آپ نے فرمایا ۔ " میں نے اس کا نام پوچھ لیا۔ وہ سمجھ گیا کہ نام بتانے پر میں فوراً اُس سے سوال کروں گا کہ اگر اللہ نہیں ہے تو پھر تو عبد اللہ کیوں نکہ ہے ؟ عبد اللہ کے معنی ہیں اللہ کا بندہ۔ جب اللہ ہی نہیں تو بندہ کہاں سے آ گیا ؟"

حضرت یہ سمجھنا چاہتے تھے کہ بغیر خدا کے بندے کا وجود محال ہے اور جب بندے موجود ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اُن کا پیدا کرنے والا خدا بھی موجود ہے۔

بغیر پیدا کرنے والے کے یہ دینا نہیں پیدا ہو سکتا ، کیونکہ دنیا کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی بغیر بنانے والے کے نہیں بن سکتی۔ معمار کے بغیر مکان خود بخود نہیں بن سکتا۔ درزی کے بغیر کپڑا خود بخود نہیں سل سکتا۔ بغیر بڑھئیٰ کے الماری ، میز ، کرسی ، پلنگ ، تخت اور دروازے اپنے آپ نہیں بن سکتے تو اتنی بڑی دنیا ، آسمان ، زمین ، چاند ، سورج ، ستارے ، دریا ، پہاڑ ، درخت ، جانور ، آدمی کیسے اور دوسری لاکھوں چیزیں بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود کیسے پیدا ہو سکتی ہیں۔ اسی لئے ماننا پڑھتا ہے کہ ایک خدا ہے جس نے یہ دنیا پیدا کی ہے۔

ایک مرتبہ لوگوں نے ایک بڑھیا سے پوچھا کہ خدا ہے یا نہیں ؟ یہ بڑھیا اپنا چرخہ چلا رہی تھی۔ بڑھیا نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ چرخہ بھی فوراً رک گیا۔ اس نے کہا دیکھو جب میں چرخہ چلاتی ہوں تو چلتا ہے اور جب ہاتھ روک لیتی ہوں تو یہ بھی رک جاتا ہے۔ پھر بتائو کہ اگر دنیا کو چلانے والا کوئی نہیں ہے تو سارے جہاں کا یہ چرخہ کیو نکر چل رہا ہے۔

خدا کو بغیر دیکھے کیوں مانتے ہیں ؟

ہم ریل کے کسی ایک ڈبہ میں بیٹھ کر سفر کرتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ ریل چلتے چلتے اسٹیشنوں پر رکتی ہے۔ پرانے مسافروں کو اتار کر اور نئے مسافروں کو لے کر پھر روانہ ہو جاتی ہے۔ ہم ڈبہ سے جب جھانک کر دیکھتے ہیں تو ہمیں صرف ریل کا انجن گاڑی کو کھینچتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور انجن میں بیٹھ کر ریل کے چلانے والے ڈرائیور کو ہم نہیں دیکھ پاتے۔ پھر بھی ہمیں یقین ہوتا ہے کہ اس گاڑی کا چلانے والا کوئی ضرور ہے۔ اسی طرح جب اس رواں رواں کائنات کو دیکھتے ہیں تو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ خدا ضرور ہے جو پوری دنیا کو چلا رہا ہے۔

ہمارے چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام سے ایک روز ایک دہریہ نے پوچھا کہ ہم نے خدا کو دیکھا نہیں اور آپ کہتے ہیں کہ خدا کو کوئی دیکھ بھی نہیں سکتا تو پھر بتائیے بغیر دیکھے ہم کو کیسے یقین آئے کہ خدا ہے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا کبھی تونے دریا کا سفر کیا ہے ؟ کہا ہاں۔آپ نے پوچھا کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ تمہاری کشتی طوفان سے ٹوٹ کر ڈوبنے لگی ہو ؟ اس نے کہا ہاں ایسا بھی ہوا ہے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا ! اچھا بتائو کہ جب تم کو کشتی کے ڈوبنے اور اپنے مرنے کا یقین ہو گیا تھا تب بھی تمہارا دل یہ کہتا تھا یا نہیں کہ اب بھی کوئی بچا سکتا ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں ضرور کہتا تھا۔ امام علیہ السلام نے پوچھا وہ کون تھا جس سے تم مایوسی کے بعد بھی لو لگائے ہوئے تھے۔ کیا تم نے اسے دیکھا تھا ؟ اس نے کہا دیکھا تو نہیں لیکن دل ان دیکھے سہارے سے لو لگائے تھا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا " مایوسی کی حالت میں جو ذات دل کو سہارا دیتی ہے وہی خدا ہے "۔

سچا مسلمان وہی ہے جو مشکلوں میں گر جانے کے باوجود بھی مایوس نہ ہو اور ہمیشہ خدا کی رحمتوں کی امید رکھے۔

اگر دو خدا ہوتے

ہم نے دنیا میں یہ تجربہ کیا ہے کہ جب کسی کام کو دو آدمی مل کر انجام دیتے ہیں تو اُن میں کبھی آپس میں میل جول رہتا ہے ، کبھی اختلاف ہو جاتا ہے۔

میل جول کی صورت میں دونوں ایک دوسرے کی رائے کے پابند اور ایک دوسرے کے مشورہ کے محتاج رہتے ہیں اور اختلاف کی صورت میں کوئی کام انجام نہیں پاتا۔ یہی حال دو خداؤں کا ہے۔ اگر دو خدا ہوتے تو یا آپس میں اتفاق ہوتا یا اختلاف ہوتا۔ اگر دونوں میں اتفاق ہوتا تو دونوں ایک دوسرے کے محتاج اور اس کی رائے کے پابند ہوتے اور محتاجی اور پابندی صرف بندوں میں پائی جا سکتی ہے۔ خدا میں نہیں پائی جا سکتی۔ خدا نہ کبھی کسی کا محتاج ہو سکتا ہے نہ پابند ، ورنہ وہ خدا نہ رہےگا۔ اور اگر دونوں میں اختلاف ہو گیا۔ ایک نے کہا پانی برسنا چاہئیے ، دوسرے نے کہا نہیں برسنا چاہئیے تو اس جھگڑے میں دنیا کا کاروبار درہم برہم ہو جائےگا۔ کیونکہ دونوں کی بات تو چل نہیں سکتی۔ ایک ہی کی چلے گی۔ جس کی بات چلےگی وہ طاقتور ہوگا اور جس کی بات نہ چلےگی وہ کمزور ہوگا۔ جو طاقتور ہوگا اُسی کی خدائی باقی رہےگی اور جو کمزور ہوگا اس کی خدائی ختم ہو جائےگی۔

اسی لئے ماننا پڑتا ہے کہ خدا ایک ہے۔


ہمارا خدا

واحد ہے ۔ یعنی ایک اور اکیلا ہے اس کا کوئی ساتھی یا سنگھاتی نہیں ہے ۔ نہ کسی کو اپنے کام میں شریک کرتا ہے اور نہ اس کو کسی کی رائے کی ضرورت ہے۔

احد ہے۔ یعنی اس کا کوئی جز نہیں ہے اور نہ وہ کسی کا جز ہے۔ وہ ایک ہے اکیلا ہے اور مرکب نہیں ہے۔ جیسے شربت کہ وہ دیکھنے میں ایک چیز ہے لیکن اصل میں پانی اور شکر سے مل کر بنا ہے اور خدا ایسا نہیں ہے۔

صمد ہے. یعنی وہ ہر چیز سے بے نیاز ہے۔ ساری کائنات اس کی محتاج ہے اور وہ خود کسی کا محتاج نہیں ہے۔

ازلی ہے ۔ یعنی ہمیشہ سے ہے۔

ابدی ہے ۔ یعنی ہمیشہ رہےگا۔

سرمدی ہے ۔ یعنی زمانے سے پہلے تھا اور زمانہ کے بعد بھی رہےگا۔

قیوم ہے ۔ یعنی ساری کائنات کا قیام اسی کی وجہ سے ہے۔اس کا ارادہ بدل جائے تو دنیا دیکھتے دیکھتے فنا ہو جائے۔

( لَیسَ کَمثلهِ شَیءٌ )

یعنی خدا کا جیسا کوئی دوسرا نہیں ہے اور نہ اسے کسی کی مثال بنایا جا سکتا ہے۔

( لَم یَلَد وَ لَم یُولَد )

یعنی نہ اس کا کوئی باپ ہے نہ کوئی اسکا بیٹا۔


صفات ثبوتیہ

کوئی چیز بغیر بنانے والے کے نہیں بنتی ہی اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ اس دنیا کا کوئی پیدا کرنے والا ہے۔ اُس کو کسی نے نہیں پیدا کیا ہے۔ وہ سب کا خالق ہے۔ خدا کے ماننے والے کا فرض ہے کہ خدا جیسا ہے اس کو ویسا ہی مانے۔ نہ اس کی مورتی بنائے۔ نہ دماغ میں اس کی تصویر سوچے اس لئے کہ ہاتھوں سے بننے والا مجسمہ یا دماغ میں بننے والی خیالی تصویر دماغ کی پیداوار ہوتی ہے اور خدا خالق ہے مخلوق نہیں ہے۔ اس کے لئے چند صفات کا جاننا ضروری ہے جو اس میں پائی جاتی ہیں اور ان کا نام صفات ثبوتیہ ہے۔ صفات ثبوتیہ حسب ذیل ہیں۔

قدیم ۔ یعنی وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہےگا کیوں نکہ نہ اس کو کسی نے پیدا کیا ہے اور نہ اس کو موت آ سکتی ہے۔

قادر ۔ یعنی خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ یعنی کسی کام کے کرنے پر مجبور نہیں ہے

عالم ۔ خدا عالم ہے ۔ یعنی سب کچھ جانتا ہے۔ اسی لئے اس دنیا کے کسی کام میں کبھی کوئی گڑبڑ نہیں ہوتی۔

مدرک ۔ خدا مدرک ہے۔ یعنی بغیر دماغ کے سب کچھ جانتا ہے۔ بغیر آنکھ کے سب کچھ دیکھتا ہے۔ بغیر کان کے ہر آواز سنتا ہے۔ بغیر ہاتھ پیر کے سب کام کرتا ہے۔ اگر وہ اپنے کامو٘ ں میں دماغ ، آنکھ ، کان ، ہاتھ اور پیر کا محتاج ہو جائے تو خدا نہ رہےگا اس لئے کہ خدا محتاج نہیں ہے۔

حیّ ۔ خدا سب کو زندگی اور موت دیتا ہے مگر اسے نہ کسی نے زندگی دی ہے اور نہ اس کو موت آ سکتی ہے۔ وہ حی ہے یعنی ہمیشہ سے زندہ ہے ہمیشہ زندہ رہےگا۔

مرید ۔ خدا مرید ہے یعنی جو کام جب چاہتا ہے کرتا ہے اور جب چاہتا ہے نہیں کرتا ہے۔ جب چاہتا ہے سورج کو چمکاتا ہے ، جب چاہتا ہے چاند نکالتا ہے۔ جب چاہتا ہے پانی برساتا ہے۔ جب چاہتا ہے روک دیتا ہے۔ نہ وہ کسی کام کے کرنے پر مجبور

ہے نہ کوئی اس کو کسی کام کے لئے مجبور کر سکتا ہے۔

متکلم ۔ خدا متکلم ہے یعنی جس چیز میں چاہتا ہے اپنی آواز پیدا کر کے اپنے بندوں سے باتیں کر لیتا ہے۔ جیسے جناب موسیؐ سے درخت میں آواز پیدا کر کے باتیں کیں اور ہمارے نبیؐ سے شب معراج حضرت علیؐ کے لہجہ میں باتیں کیں۔

صادق ۔ خدا صادق ہے یعنی اس کا ہر وعدہ پکا ہے۔ وہ ہر بات میں سچا ہے اس لئے کہ جھوٹ بولنا بڑا ہے اور خدا ہر بڑائی سے پاک ہے۔

صفات سلبیہ

اگر ہم کسی عالم کو جاہل اور کسی بہادر کو بزول سمجھیں تو وہ ہم سے کبھی خوش نہ ہوگا۔ اسی طرح اگر ہم خدا کو ایسی صفتوں والا مانیں جو صفتیں اس میں نہیں پائی جاتی ہیں تو خدا کبھی ہم سے راضی نہیں ہو سکتا۔ اس لئے ضرورت ہے کہ ہم ان صفتوں کو بھی جان لیں جو خدا میں نہیں پائی جاتی ہیں اور جن کا ماننے والا خدا کا ماننے والا نہیں ہے۔ ان صفتوں کا نام صفات سلبیہ ہے۔

جو یہ ہیں۔

۱ ۔ خدا مرکب نہیں ۔ مرکب وہ چیز ہوتی ہے جو کچھ چیزوں سے مل کو بنتی ہے جیسے شربت شکر اور پانی سے مل کر بنتا ہے۔ خدا کسی چیز سے مل کر نہیں بنا ہے۔ شکر اور پانی شربت کے اجزاء ہیں اور خدا کا کوئی جز نہیں ہے اس لئے کہ شکر اور پانی پہلے ہوتے ہیں ، شربت بعد میں ہوتا ہے۔ اگر خدا بھی کچھ اجزاء سے مل کر بنا ہوگا تو اجزاء پہلے ہوںگے اور وہ خود بعد میں بنےگا۔ اس طرح نہ وہ قدیم رہےگا نہ خالق رہےگا بلکہ مخلوق ہو جائےگا جو پہلے نہیں ہوتا ہے پھر ہو جاتا ہے۔

۲ ۔ خدا جسم نہیں رکھتا ۔ اس لئے کہ جسم مرکب ہوتا ہے اور مخلوق ہوتا ہے اور خدا نہ مخلوق ہے نہ مرکب ہے۔

۳ ۔ خدا کی صفتیں عین ذات ہیں ۔ یعنی خدا کی صفتیں اس کی ذات سے الگ نہیں ہیں کیونکہ اگر اس کی ذات اور اس کی صفتیں الگ الگ ہونگی تو ذاتی طور پر خدا ان صفتوں سے خالی ہوگا اور جو صفات سے الگ ہو وہ خدا نہیں ہو سکتا۔

۴ ۔ خدا مرئی نہیں ۔ یعنی اس کو دنیا اور آخرت میں کہیں بھی کوئی نہیں دیکھ سکتا ۔ کیونکہ دکھائی دینے والا جسم ہوتا ہے اور خدا جسم نہیں رکھتا۔

۵ ۔ خدا کسی چیز میں حلول نہیں کرتا۔ جس طرح کھولتے پانی میں گرمی سما جاتی ہے یا برف میں ٹھنڈک یا جسم میں روح سما جاتی ہے۔ اس طرح خدا نہ کسی چیز میں سما سکتا ہے نہ کوئی چیز اس میں سما سکتی ہے کیونکہ حلول جسموں میں ہوتا ہے اور خدا جسم نہیں رکھتا۔

۶ ۔ خدا مکان نہیں رکھتا۔ یعنی نہ خدا کے رہنے کی کوئی خاص جگہ ہے نہ اس کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ اشارہ جسم کی طرف کیا جاتا ہے اور خدا جسم نہیں رکھتا۔

۷ ۔ خدا محل حوادث نہیں۔ یعنی خدا میں بدلنے والی کوئی چیز نہیں۔ بدلنے والی چیز نہ ہمیشہ سے ہوتی ہے نہ ہمیشہ رہتی ہے اور خدا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہےگا۔

۸ ۔ خدا کا کوئی شریک نہیں۔ یعنی نہ خدا کی ذات میں کوئی اسکا شریک ہے نہ اس کی صفتوں میں کوئی اس کا شریک ہے نہ اس کے کاموں میں کوئی شریک ہے اور نہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت کی جا سکتی ہے۔ وہ ایک اور اکیلا ہے اور ہر لحاظ سے لاشریک ہے۔


خدا قادر و مختار ہے

خدا قادر و مختار ہے۔ یعنی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ کسی کام کے کرنے سے عاجز نہیں ہے۔ خدا مختار بھی ہے۔ یعنی کسی کام کے کرنے پر مجبور نہیں ہے۔ جس کام کو چاہتا ہے کرتا ہے اور جس کام کو نہیں چاہتا ہے نہیں کرتا ہے۔بلکہ ایک ہی کام کو جب چاہتا ہے کرتا ہے اور جب چاہتا ہے نہیں کرتا۔ جیسے ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ ٹھنڈی کر دی تھی اور جانب موسیٰ علیہ السلام نے جب انگارہ ہاتھ میں اٹھایا تو آپ کا ہاتھ جل گیا کیونکہ آگ کا جلانا یا بجھانا خدا کا مقصد نہ تھا بلکہ نبی کو بچانا مقصد تھا۔ جناب ابراہیم علیہ السلام تب ہی بچ سکتے تھے جب آگ ٹھنڈی ہو جائے اور جناب موسیٰ علیہ السلام تب ہی بچ سکتے تھے جب ہاتھ جل جائے کیونکہ فرعون کو شبہ تھا کہ وہ بچہ جناب موسیؐ ہی ہیں جو اس کی حکومت کو مٹا دےگا اور اگر انگارہ آپ کے ہاتھ نہ جلاتا تو فرعون پہچان لیتا اور آپ کو قتل کر ڈالتا۔ اس لئے آگ کو ٹھندا کرنا مناسب نہ تھا اور ہاتھ کا جل جانا ضروری تھا۔

خدا اپنے کسی کام میں کسی کے مشورہ اور مدد کا محتاج نہیں ہے نہ کوئی اس کو کسی کام سے روک سکتا ہے۔

خدا کی ذات و صفت ایک ہے

خدا ایک ہے۔ اس کے کسی بھی قسم کے حصے نہیں ہو سکتے۔ جو اس کی ذات ہے وہی اس کی صفتیں ہیں اور جو صفتیں ہیں وہی اس کی ذات ہے۔ اگر خدا کی ذات اور صفتیں الگ الگ ہوںگی تو اس کے دو حصے ہو جائیںگے اور خدا ایسا ہے جس کے حصے نہیں ہو سکتے ۔

بندہ کی ذات اور اس کی صفتیں الگ الگ ہوتی ہیں۔ مثلاً کام کر سکتے ہیں ۔ برے ہو کر ہم میں اچھی یا بری صفتیں پیدا ہوتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم اور ہیں اور ہماری صفتیں اور ہیں ۔ لیکن خدا کو کسی نے پیدا نہیں کیا ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیسہ رہےگا اور اُس کی صفتیں بھی ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیںگی۔ اُس کی ذات اور صفتیں میں نہ کوئی فرق ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ اس کی صفتیں عین ذات ہیں۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ سے عالم ہے، قادر ہے ، باکمال ہے اس کا کمال اُس کی ذات سے الگ نہیں ہے۔


غیب پر ایمان

اسلام کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ اس نے جہاں انسانوں کو آنکھوں سے کام لینا سکھایا ہے وہاں عقل سے کام لینے کا بھی حکم دیا ہے۔ آنکھ کا کام اُن چیزوں کو دیکھنا ہے جو ظاہر میں اور عقل کا کام ان چیزوں کو دیکھنا ہے جو جائز ہیں اور آنکھوں سے نظر نہیں آ سکتیں۔

دنیا میں بہت سی چیزیں آنکھ سے دیکھنے کے بعد مانی جاتی ہیں۔ مثلاً سورج ، چاند ، ستارے ، پہاڑ ، سمندر وغیرہ اور کچھ چیزیں ایسی ہیں جو آج تک کسی کو دکھائی نہیں دی ہیں مگر لوگ ان کو بغیر دیکھے مانتے ہیں جیسے کرنٹ ، روح ، عقل وغیرہ۔ ہم نے بجلی کے تار دیکھے ہیں مگر اس پر دوڑتی ہوئی بجلی نہیں دیکھی ۔ روح کی وجہ سے ہم سب زندہ ہیں مگر کسی نے روح کو دیکھا نہیں۔ عقل سے سب کام لیتے ہیں مگر عقل آج تک کسی کو دکھائی نہیں دی۔

اسی طرح مذہب نے بھی کچھ چیزیں بتائی ہیں جن کا ماننا اور اُن کے ہونے پر یقین و ایمان رکھنا ہر مسلمان کا فرض ہے کیونکہ یہ باتیں خدا اور رسولؐ کی بتائی ہوئی ہیں جو سچے تھے اور ان کی بیان کی ہوئی کوئی بات کبھی غلط نہیں ہو سکتی۔

جن ، ملائکہ ، حور ، غلمان ، جنت ، دوزخ ، کوثر، وغیرہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کو خدا نے پیدا کیا ہے مگر وہ نظر نہیں آتی ہیں۔ لیکن ہم مسلمان ان کے وجود کا اقرار کرتے ہیں کیونکہ رسولؐ نے بیان کیا ہے کہ یہ چیزیں ہیں۔

غیب پر ایمان لانا ہی حقیقی اسلام ہے جو شخص غیب پر ایمان نہیں رکھتا وہ مسلمان نہیں ہے۔ اسلام خدا کے یقین سے شروع ہوا ہے جو غائب ہے اور قیامت اصول دین کی آخری بات ہے جو غائب ہے۔

بارہویں امامؐ غائب ہیں۔ بحکم خدا انسانوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں۔ آپ کی غیبت پر ایمان رکھنا اور آپ کے وجود کا یقین رکھنا اسلام کا ایک ایسا جز ہے جس کے بغیر اسلام مکمل نہیں ہو سکتا۔


فرشتے

جس طرح اللہ نے زمین پر مٹی سے انسان کو پیدا کیا ہے اسی طرح نور سے ایک مخلوق پیدا کی ہے جس کا نام فرشتہ ہے۔ فرشتے اپنی خلقت میں معصوم ہوتے ہیں۔ ان سے کوئی غلطی نہیں ہوتی۔ یہ ہر وقت اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔ کوئی رکوع میں رہتا ہے کوئی سجدہ میں کوئی قیام میں رہتا ہے کوئی تسبیح میں۔

فرشتوں کو اللہ نے مخلتف کاموں کے لئے پیدا کیا ہے کسی کو زمین کا انتظام سپرد کیا ہے ، کسی کو آسمان کا ، کسی کو پانی پر مقرر کیا ہے اور کسی کو ہوا پر۔

ان فرشتوں میں چار فرشتے زیادہ مشہور ہیں

۱ ۔ جبرئیل ۔ جو ہمارے نبیؐ کے پاس قرآن لیکر آیا کرتے تھے۔

۲ ۔ میکائیل ۔ جو بندوں کا رزق ان تک پہنچاتے ہیں ۔

۳ ۔ اسرافیل ۔ جن کے ایک صور پھونکنے پر ساری دنیا فنا ہو جائےگی۔

۴ ۔ عزائیل ۔ جن کا کام لوگوں کی روح قبض کرنا ہے۔


عدل

عدل کے معنی یہ ہیں کہ خدا ہر برائی سے پاک ہے۔ اُس کی ذات میں مکمل موجود ہے۔ نہ وہ کوئی برا کام کر سکتا ہے اور نہ کوئی ایسے کام کے کرنے سے رُک سکتا ہے اور نہ جس کا کرنا ضروری ہو لہذا نہ خدا ظلم کر سکتا ہے اور نہ ظالم کو سزا دینے سے رُک سکتا ہے۔

خدا کے ہر برائی سے پاک ہونے کی دلیل یہ ہے کہ کوئی بھی برا کام کوئی شخص تب کرتا ہے جب اسے اس کی برائی معلوم نہ ہو یا برائی جانتا ہو لیکن کسی نفع کے لئے جان بوجھ کر برائی کرے۔ خدا میں یہ دونوں باتیں نہیں پائی جاتیں۔ وہ عالم ہے لہذا ہر برائی کو جانتا ہے اور غنی ہے لہذا اس کو کسی چیز کی ضرورت یا لالچ نہیں ہے اس لئے وہ برائی نہیں کر سکتا۔

دوسری دلیل خدا کے عادل ہونے کی یہ ہے کہ اس نے بندوں کو حکم دیا ہے کہ ظلم نہ کریں۔ قرؔآن مجید میں بھی یہ حکم بار بار آیا ہے اور ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بھی اس کا یہ حکم بیان کیا ہے لہذا ظلم نہ کرنے کا حکم دیکر وہ خود کیسے ظلم کو سکتا ہے ؟

تیسری دلیل خدا کے عادل ہونے کی یہ ہے کہ خدا نے کہا ہے کہ برے کام کرنے والوں کو دوزخ میں ڈالوں گا اور اچھے کام کرنے والوں کو جنت دوںگا۔ انسان جنت کی لالچ اور دوزخ کے خوف کی وجہ سے اچھے کام کرتے ہیں اور برے کاموں کو چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ اُن کو خدا کی بات پر بھروسہ ہے لیکن اگر خدا عادل نہ ہو بلکہ ظالم ہو تو ہم سوچ سکتے ہیں کہ ممکن ہے ہم اچھے کام کریں پھر بھی خدا دوزخ میں ڈال دی۔ یہ سوچنے کے بعد نہ خدا پر بھروسہ رہےگا نہ کوئی شخص برا کام کرنے سے باز رہےگا اور نہ کوئی اچھا کام کرےگا۔ اس طرح دنیا برائی سے بھر جائےگی۔

خدا کو عادل ماننا ہم سب پر لازم ہے۔


خدا برائی نہیں کرتا

تم کو معلوم ہے کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے یعنی وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔

اس سے بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خدا برائی بھی کر سکتا ہے۔ جھوٹ بھی بول سکتا ہے ، ظلم بھی کر سکتا ہے اور وعدہ کر کے مکر بھی سکتا ہے اس لئے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

تم خود سوچو کہ کیا ایسا سمجھنا ٹھیک ہے ؟

قادر ہونے کے معنی ہیں " کر سکنا ، نہ کہ کرنا "۔ اس لئے خدا کے قادر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ جو چاہے کر سکتا ہے مگر لازم نہیں کہ ضرور کرے۔

جب بری باتوں کو ہم پسند نہیں کرتے تو خدا کیسے پسند کر سکتا ہے

ہم ہر پانی سے منہ دھونے پر قادر ہیں چاہے وہ پانی نجس ہو یا پاک ہو۔ نہر میں بہ رہا ہو یا گندی نالی میں ، لیکن نالی میں بہنے والے گندے پانی سے صرف پاگل ہی منہ دھو سکتا ہے ہم نہیں دھو سکتے۔ اسی سے سمجھ لو کہ ہم گندے پانی سے منہ دھو سکتے ہیں مگر دھوتے نہیں۔ خدا بھی جھوٹ بول سکتا ہے مگر بولتا نہیں۔ ظلم کر سکتا ہے مگر کرتا نہیں۔ وعدہ کر کے مکر سکتا ہے مگر مکرتا نہیں اور برائی کر سکتا ہے مگر کرتا نہیں۔


انسان مجبور ہے یا مختار ؟

اس دنیا میں بہت سے کام ہیں جن کا انسان سے کوئی تعلق نہیں٘ ہے۔ مثلاً سورج کا نکلنا اور ڈوبنا ، موسم کا بدلنا وغیرہ۔ کام صرف خدا کے ہیں۔ ان کاموں کو بندہ نہیں کر سکتا۔

کچھ کام ایسے ہیں جن کے کرنے میں خدا اور بندے دونوں کا حصہ ہوتا ہے جیسے کھیت جوتنا ، بونا ، پانی دینا ، کھاد ڈالنا ، ہمارا کام ہے۔ درخت کا اُگنا اور اس میں پھول اور پھل پیدا کرنا خدا کا کام ہے۔

بہت سے کام ایسے ہیں جنھیں صرف ہم کرتے ہیں۔ اُن میں خدا شریک نہیں ہوتا جیسے ہم سچ بولتے ہیں یا جھوٹ ، حلال کھاتے ہیں یا حرام ، نماز پڑھتے ہیں یا نہیں پڑھتے ، روزہ رکھتے ہیں یا نہیں رکھتے وغیرہ۔ یہ خالص ہمارے کام ہیں۔ ان کو ہم ہی کرتے ہیں۔ ہمارے ان کاموں میں خدا شریک نہیں ہوتا۔ یہ سمجھنا غلط ہے کہ ہمارے سارے کام اصل میں خدا کے کام ہیں جن کو وہ ہمارے ذریعہ انجام دیتا ہے اور ہم ان کاموں کے کرنے پر مجبور رہیں بلکہ ہم اپنے ان کاموں میں قادر اور مختار ہیں چاہے کریں یا نہ کریں۔

ایک مرتبہ ابو حنیفہ نے ہمارے چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام سے اس مسئلہ پر بحث کی تھی۔ ابو حنیفہ کو خیال میں خدا انسان کے ہر اچھے اور برے کام کا ذمہ دار تھا۔ امامؐ نے ابو حنیفہ کو جواب دیا کہ اگر انسان کے کام کو صرف خدا کرتا ہے تو اچھے یا برے کام کی جزا یا سزا بھی خدا ہی کو (معا ذاللہ) ملنا چاہئے اور اگر انسان اور خدا مل کر اچھے یا برے کام کرتے ہیں تو بھی انسان کے ساتھ خدا کو بھی (معاذاللہ) سزا یا جزا ملنا چاہئے لیکن یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ صحیح بات یہی ہے کہ انسان اپنے کام خود کرتا ہے اسی لئے اس کو جزا یا سزا ملےگی۔ امامؐ کی یہ بحث سن کر ابو حنیفہ شرمندہ ہو گئے اور کوئی جواب نہ دے سکے۔

غرض کہ جس طرح یہ کہنا غلط ہے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے بلکہ سب کچھ خدا کرتا ہے اسی طرح یہ کہنا بھی غلط ہے کہ ہم سب کام کر سکتے ہیں۔ ایک بار ہمارے مولا حضرت علی علیہ السلام سے کسی نے پوچھا تھا کہ انسان سب کام کر سکتا ہے یا نہیں تو آپ نے فرمایا کہ ایک پیر اٹھا کر کھڑے ہو جاؤ۔ جب اُس نے اپنا ایک پیر اٹھا لیا تو آپ نے فرمایا کہ اب دوسرا پیر بھی اٹھا لو۔ اس نے کہا کہ دوسرا پیر اٹھانے سے معذور ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ جس طرح ایک پیر کے بعد دوسرے پیر کا اٹھانا ناممکن ہے اسی طرح دنیا میں بہت سے کام ایسے ہیں جو ہمارے بس میں نہیں ہیں لہذا یاد رکھو کہ جس طرح بندہ خدا کے کام میں دخل نہیں دے سکتا اسی طرح خدا بھی بندوں کے کاموں میں شریک نہیں ہے جو جیسا کرےگا اس کو اسی اعتبار سے سزا یا جزا ملےگی۔


آٹھواں سبق

تین سوال ایک جواب

حضرت بہلول نہایت ہی ہوشیار اور عقلمند آدمی تھے۔ حاضر جوابی میں آپ کا جواب نہ تھا۔ ایک دن آپ ایک مسجد کے پاس سے گزرے جہاں ابو حنیفہ اپنے شاگردوں کو سبق دے رہے تھے۔ آپ نے یہ سنا کہ ابو حنیفہ کہ رہے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی تین باتیں اپنی سمجھ میں نہیں آتیں۔

 وہ کہتے ہیں کہ خدا قیامت کے دن بھی نہ دکھائی دےگا حالانکہ جو چیز موجود ہو وہ نظر ضرور آئےگی۔

 ان کا کہنا ہے کہ شیطان کو جہنم میں جلایا جائےگا حالانکہ شیطان آگ سے بنا ہے اور آگ آگ کو نہیں جلا سکتی۔

 ان کا بیان ہے کہ بندے اپنے کام میں خود مختار ہیں حالانکہ بندے کے بس میں کچھ نہیں ہے۔ جو کچھ کرتا ہے خدا کرتا ہے۔

بہلول کو یہ سن کر غصہ آ گیا اور جیسے ہی ابو حنیفہ باہر آئے۔ ایک ڈھیلا کھینچ مارا۔ ابو حنیفہ کے شاگردوں نے بہلوؒل کو پکڑ لیا اور قاضی کے سامنے لے گئے۔ بہلول نے کہا کہ یہ لوگ بلا وجہ سمجھے پکڑ لائے ہیں، میری کوئی خطا نہیں ہے۔ ابو حنیفہ بولے کہ تم نے مجھے ڈھیلا مارا ہے۔ بہلول نے کہا غلط ہے۔ میں نے نہیں مارا خدا نے مارا ہے۔ تم ابھی کہہ رہے تھے کہ سارے کام خدا کرتا ہے بندہ کچھ نہیں کرتا۔

ابو حنیفہ نے کہا کہ مجھے سخت چوٹ آ گئی ہے، درد سے بےچین ہوں اور تم مذاق کر رہے ہو۔

بہلول نے کہا۔ کہاں ہے درد ؟ ذرا دیکھیں تو ؟

ابو حنیفہ نے کہا۔ درد بھی کوئی دکھائی دینے والی چیز ہے۔

بہلول نے جواب دیا۔ اگر ہے تو اسے نظر آنا چاہیئے اس لئے کہ تم کہتے ہو کہ جو چیز موجود ہے وہ دکھائی ضرور دےگی اور پھر ڈھیلے سے تمہیں چوٹ آ بھی نہیں سکتی اس لئے کہ تم کہتے ہو شیطان آگ سے بنا ہے اسے جہنم کی آگ جلا نہیں سکتی۔ تم بھی مٹی کے بنے ہوئے ہو ڈھیلا بھی مٹی کا تھا اس سے تمہیں چوٹ کیسے آئی ؟

ابو حنیفہ سخت شرمندہ ہوئے اور بہلول ہنستے ہوئے چلے گئے۔

بہلول نے ایک ڈھیلے سے یہ ثابت کر دیا کہ انسان اپنے کاموں کا خود ذمہ دار ہے خدا پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔


نبوت

اس دنیا میں آدمی بھی پیدا ہوتا ہے اور جانور بھی۔ زندگی بھر دونوں کھاتے پیتے ہیں اور رہتے ہیں۔ پھر ایک دن دونوں ہی کو موت آ جاتی ہے۔ ان باتوں میں ہر آدمی اور ہر جانور ایک دوسرے سے ملتے چلتے ہیں۔ لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ جانور سے اس کے اچھے اور برے کاموں کا حساب نہ لیا جائےگا اور اچھے یا برے کاموں کی وجہ سے اسے جنت یا دوزخ میں نہ بھیجا جائےگا لیکن انسان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اپنے خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوگا۔ جس سے خدا خوش ہوگا اس کو جنت کی اچھی نعمتیں ملیںگی اور جس سے خدا ناراض ہوگا اس کو دوزخ میں ڈال دیا جائےگا۔ جانور کی زندگی میں یہ معلوم کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ خدا کن باتوں سے خوش ہوتا ہے اور جن باتوں سے ناراض ہوتا ہے۔ مگر انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان باتوں کو بھی معلوم کرے جن سے خدا خوش ہوتا ہے اور ان باتوں کو بھی معلوم کرے جن سے خدا ناراض ہوتا ہے۔

خدا بندوں پر مہربان ہے اس لئے یہ باتیں بتانے کے لئے اس نے ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی بھیجے، جن میں تین سو تیرہ بڑے نبی تھے۔ بڑے نبی کو رسول کہتے ہیں۔ تین سو تیرہ رسولوں میں پانچ بڑے رسول تھے جن کو اولو العزم کہتے ہیں۔ ان پانچوں میں سب سے بڑے ہمارے رسول حضرت محمد مصطفےٰ صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے جو خدا کے آخری نبی تھے۔ آپ کے بعد نہ کوئی نبی آیا ہے اور نہ آئےگا۔ جتنے لوگوں نے آپ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے وہ سب جھوٹے ہیں۔ جیسے مسیلمہ ، کذاب ، سجاح اور مرزا غلام احمد قادیانی وغیرہ۔

جن نبیوں کے نام کتابوں میں ملتے ہیں اُن میں مشہور یہ ہیں :۔

۱ ۔حضرت آدمؐ ۲ ۔ حضرت نوحؐ ۳ ۔ حضرت ادریسؐ ۴ ۔ حضرت ابراہیمؐ

۵ ۔ حضرت اسمعیلؐ ۶ ۔ حضرت اسحاقؐ ۷ ۔ حضرت یعقوبؐ ۸ ۔ حضرت یوسفؐ

۹ ۔ حضرت یونسؐ ۱۰ ۔ حضرت لوطؐ ۱۱ ۔ حضرت صالحؐ ۱۲ ۔ حضرت ہودؐ

۱۳ ۔ حضرت شعیبؐ ۱۴ ۔ حضرت شیث ۱۵ ۔ حضرت داودؐ ۱۶ ۔ حضرت سلیمانؐ

۱۷ ۔ حضرت ذواکفیلؐ ۱۸ ۔ حضرت یسعؐ ۱۹ ۔ حضرت الیاسؐ ۲۰ ۔ حضرت زکریاؐ

۲۱ ۔ حضرت یحییٰؐ ۲۲ ۔ حضرت موسیٰؐ ۲۳ ۔ حضرت ہارون ۲۴ ۔ حضرت یوشعؐ

۲۵ ۔ حضرت عیسیٰؐ ۲۶ ۔ حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔

پانچ ادلواعزم رسول جن کو خدا نے صاحب شریعت بنایا تھا وہ جناب نوحؐ ، جناب ابراہیمؐ ، جناب موسیٰؐ ، جناب عیسیٰ ؐ ، اور حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں۔

ہمارے رسولؐ کے آنے کے بعد پچھلی تمام شریعتیں خدا نے ختم کر دی ہیں۔ اب قیامت تک صرف آپ کی شریعت باقی رہےگی اور صرف اُس کی نجات ہوگی جو آپ کی شریعت کا ماننے والا ہوگا۔


نبی کے اوصاف

تم جانتے ہو کہ ہر نبی میں چند باتوں کا پایا جانا ضروری ہے۔

۱ ۔ نبی عالم پیدا ہوتا ہے۔ اس کے ماں باپ دادا دادی وغیرہ تمام آباؤ اجداد مسلمان ہوتے ہیں۔ نبی کسی کافر کی نسل میں نہیں پیدا ہوتا بلکہ ہمیشہ پاک و پاکیزہ اور طیب و طاہر نسل میں پیدا ہوتا ہے۔ نبی ہمیشہ شریف اور باعزت گھرانے میں پیدا ہوتا ہے۔ نبی کو کوئی قابل نفرت بیماری نہیں ہوتی ۔ نبی کوئی ایسا کام یا پیشہ نہیں کرتا جو ذلت اور رسوائی کا سبب ہو۔

۲ ۔ ہر نبی معصوم ہوتا ہے۔ اس سے نہ کوئی گناہ سرزد ہوتا ہے نہ کوئی برائی۔ نہ بھول چوک ہوتی ہے اور نہ خطا اور غلطی۔ نبی چونکہ عالم پیدا ہوتا ہے اس لئے ہر گناہ سے نفرت کرتا ہے اور ہر برائی سے بیزار رہتا ہے۔ اسی نفرت اور بیزاری کی وجہ سے وہ کبھی گناہ نہیں کرتا۔ یہ سمجھنا غلط ہے کہ معصوم برائی نہ کرنے اور نیک کام کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ اپنے علم کے باعث اپنے ارادہ اور اختیار سے گناہوں سے بچتا ہے اور نیکیاں بجا لاتا ہے۔

۳ ۔ نبی جتنے لوگوں کی ہدایت کے لئے آتا ہے ان سب لوگوں سے ہر کمال اور خوبی میں بہتر ہوتا ہے۔ نبی کے زمانہ کا کوئی انسان کسی خوبی میں نبی سے افضل نہیں ہو سکتا۔

۴ ۔ کوئی نبی خود بخود نہیں بنتا ہے بلکہ خدا اس کو نبوت دیتا ہے۔


نبی کی پہچان

خدا نے کس کو نبی بنا کر بھیجا ؟۔ یہ بات ہم کو دو طرح سے معلوم ہوتی ہے۔

۱ ۔ جو نبی موجود ہے وہ بعد میں آنے والے نبی کا نام پتہ اور نشان بتا کر جائے جیسے عیسیٰ علیہ السلام ہمارے نبیؐ کے آنے کی خبر دے گئے تھے۔ اور آپ نے پیشینگوئی فرمائی تھی کہ میرے بعد ایک نبی آئےگا جو آخری نبی ہوگا اور اس کا نام احمدؐ ہوگا۔ ہمارے نبیؐ کے آنے کی خبر حضرت موسیٰؐ نے بھی دی تھی۔ آپ نے بتایا تھا کہ یثرب کے شہر میں آخری نبی آئےگا، چناچہ یہودی ہمارے نبیؐ کے آنے سے پہلے ہی شہر یثرب میں آ کر آباد ہو گئے تھے۔یثرب مدینہ منورہ کا دوسرا نام ہے۔ یہودی اور عیسائی جناب موسیٰ اور جناب عیسیٰؐ سے خبر سن کر آخری نبی کا انتظار کر رہے تھے مگر ان کی سب سے بڑی بدبختی یہ تھی کہ جب وہ نبی تشریف لائے جن کا انتظار تھا تو بجائے ایمان لانے اور مدد کرنے کے آپ کے دشمن اور سخت مخالف ہو گئے۔

۲ ۔ نبی کے پہچاننے کا دوسسرا ذریعہ معجزہ ہے۔ معجزہ خدا کی دی ہوئی وہ طاقت ہے جس کے ذریعہ نبی ایسے حیرت انگیز کام کر دکھاتا ہے جس کا جواب لانے سے اس کے زمانے والے عاجز ہو جاتے ہیں۔اس طرح زمانہ کے لوگوں کو یقین ہو جاتا ہے کہ معجزہ دکھانے والا خدا کا بھیجا ہوا نبی ہے۔ اسی لئے ہر نبی نبوت کے دعوے کے ثبوت میں معجزہ پیش کرتا ہے۔ جیسے جناب موسیٰ علیہ السلام کا عصا جس نے اژدہا بن کر جادوگروں کی ان تمام رسیوں کو نگل لیا تھا جو جادوگروں کے کرتب کی وجہ سے رینگتے ہوئے سانپ نظر آ رہی تھیں۔ جناب عیسیٰ علیہ السلام مردوں کو زندہ اور بیماروں کو بغیر دوا کے اچھا کر دیتے تھے۔ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی بہت سے معجزے دکھائے ہیں۔ آپ نے انگلی کے اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے کر دئے تھے۔ ایک بار آپ کی انگلیوں سے پانی کا چشمہ جاری ہوا تھا۔ پتھر اور جانور آپ کے حکم پر انسانوں کی طرح آپ کی نبوت و رسالت کی گواہی دیتے تھے۔ درخت آپ کے حکم پر چل کر آپ کے پاس آ جاتے تھے۔ قرآن مجید ہمارے نبیؐ کا سب سے بڑا اور قیامت تک باقی رہنے والا معجزہ ہے جس میں تمام انسانوں اور جنوں کو چیلینج کیا گیا ہے کہ اگر ممکن ہو تو تم سب مل کر اس کا جواب لاؤ مگر آج تک جواب نہیں آ سکا جو قرآن مجید کے معجزہ ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔


ہمارے آخری نبیؐ

ہمارے نبیؐ ۱۷/ ربیع الاول ۱ ؁ عام الفیل کو جمعہ کے دن صبح صادق کے قریب مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ نبی کریم کی والدہ ماجدہ جناب آمنہؐ خاتون ہیں۔ آپ کے نانا وہب ہیں جو مدینہ منورہ کے بہت باعزت آدمی تھے۔ نبی کریمؐ کی ولادت سے قبل ہی آپ کے والد محترم جناب عبدؐ اللہ کا انتقال ہو گیا تھا۔ جناب ابو طالبؐ آنحضرتؐ کے چچا تھے۔ آپ کی ولادت کے وقت زمین سے آسمان تک ایک نور روشن تھا۔ ملائکہ آسمان سے بڑی تعداد میں زمین پر اُتر رہے تھے۔ شیطان نے گھبرا کر ملائکہ سے پوچھا کہ کیا قیامت آ گئی۔ ملائکہ نے بتایا کہ آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیدا ہوئے ہیں۔ ہم آسمانوں سے مبارکباد کے لئے آ رہے ہیں۔ شیطان یہ سنکر اسی وقت سے نبی کریم اور اُن کی آلؐ پاک کا دشمن ہو گیا۔

آپ جب چار برس کے تھے تو آپ کی والدہ ماجدہ جناب آمنہؐ خاتون نے مقام ابواء میں انتقال فرمایا۔ آپ آٹھ برس کے تھے جب آپ کے شفیق دادا جناب عبد المطلبؐ نے انتقال فرمایا۔ دادا کے انتقال کے بعد آپ کی پرورش آپ کے حقیقی اور مہربان چچا جناب ابو طالبؐ نے کی جناب ابوطالبؐ مرتے دم تک آپ کے حامی و مددگار اور ناصر و محافظ رہے۔ آپ کی چچی جناب فاطمہؐ بنت اسد حضرت علی علیہ السلام کی والدہ ماجدہ ہیں انھوں نے مثل ماں کے آپ کو پالا۔ آپ بھی ان کو ماں ہی کہتے تھے۔ جب آپ کا سن مبارک پچیس سال کا تھا تو آپ کی شادی عرب کی مشہور خاتون جناب خدیجہؐ سے ہوئی۔ جناب خدیجہؐ نے اپنی ساری دولت اسلام کی تبلیغ پر صرف کر دی۔ جناب خدیجہؐ کے انتقال کے بعد نبیؐ کریم نے بہت سی شادیاں کیں۔ لیکن آپ اپنی وفات تک حضرت خدیجہؐ ہی کو یاد فرماتے رہے۔ جب آپ کا سن مبارک چالیس برس کا ہوا تو ۲۷ رجب کو خدا نے آپ کو اعلان نبوت کا حکم دیا۔ تین سال آپ نے پوشیدہ تبلیغ کی اس کے بعد کھل کر تبلیغ کرنے کا حکم دیا۔جب آپ کی عمر اکیاون سال تھی اور اسلام کے اعلان کو گیارہ برس ہو چکے تھے تو چند مہینوں کے فاصلے سے یکے بعد دیگرے جناب ابوطالبؐ اور جناب خدیجہؐ نے انتقال کیا۔ آپ ان دونوں کی موت پر بہت رنجیدہ ہوئے اور اس سال کا نام "عام الحزن یعنی غم کا سال " رکھ دیا۔ جب آپ کی عمر ۵۳/ برس کی تھی تو مکہ میں تیرہ سال دین کی تبلیغ کر کے اور سخت ترین مصائب جھیل کر مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ ہجرت کی رات دشمنوں نے آپ کا گھر گھیر لیا تھا۔ آپ اللہ کے حکم سے گھر کے باہر نکلے تو دشمن اندھے ہو گئے۔ آپ کو جاتے ہوئے نہ دیکھ سکے۔ آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنے بستر پر سلا دیا۔ دشمن بھرا بستر دیکھ کر رات بھر یہی سمجھتے رہے کہ نبیؐ کریم آرام فرما رہے ہیں اور حضرت علی علیہ السلام دشمنوں کی کھیچی ہوئی تلواروں کے سایہ میں رات بھر بڑے اطمینان سے آرام فرماتے رہے۔ دس سال مدینہ منورہ میں آنحضرتؐ نے قیام فرمایا۔ ۶۳ سال کی عمر میں انتقال فرمایا۔ آپ نے جس سال مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی ہے اسی سال سے یہ سن ہجری شروع ہوا ہے۔ ہجرت کے دوسرے سال آپ نے اپنی لخت جگر اسلام کی شہزادی جناب فاطمہؐ زہرا علیہا السلام کی شادی دین و دنیا کے مولا حضرت علی علیہ السلام سے کی ۱۰ ھ؁ میں آنحضرتؐ نے آخری حج کیا اور حج کی واپسی پر ۱۸/ ذی الحجہ کو غدیر خم کے مقام پر سوا لاکھ حاجیوں کے سامنے دن دوپہر کھلے میدان میں حضرت علی علیہ السلام کو اللہ کے حکم سے اپنا خلیفہ اور جانشین مقرر فرمایا اور تمام مسلمانوں کا حاکم قرار دیا۔ مدینہ واپس آ کر آپ دو مہینے دس دن زندہ رہے اور چند دن بیمار رہ کر اٹھائیس صفر ۱۱ ھ؁ کو انتقال فرما گئے۔ حضرت علی علیہ السلام نے اللہ کے آخری رسولؐ کو غسل و کفن دیا اور رسالت کے آفتاب کو قبر کے مغرب میں چھپا دیا۔


عصمت

ہم جاہل پیدا ہوتے ہیں اور دنیا کی ہر چیز سے بے خبر ہوتے ہیں پھر دھیرے دھیرے علم حاصل کرتے ہیں۔ جتنا ہمارا علم بڑھتا ہے اسی قدر ہماری جہالت کم ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود ہمارا علم کم ہی ہوتا ہے۔ ہم میں سے بڑے سے بڑا عالم بھی کم علم ہی ہوتا ہے۔ ہم جاننے کے باوجود بھول جاتے ہیں اور بھولے سے غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم جان بوجھ کر بھی غلطیاں اور گناہ کرتے ہیں۔ اللہ نے ان کمزوروں سے بچانے کے لئے اور ہماری ہدایت کے لئے نبی اور امام بھیجے۔

نبی اور امام کا ان تمام کمزوریوں سے پاک ہونا ضروری ہے ورنہ ہماری ہدایت نہ کر سکیںگے بلکہ ضرورت ہوگی کہ بھول۔چوک اور غلطی کے موقع پر کوئی ان کی ہدایت کرے۔ نبی اور امام کو معصوم بنانے کے لئے خدا ان کو اپنی ایک مخصوص مہربانی کے ذریعہ ایسا عالم اور پاک نفس بنا دیتا ہے کہ اس کے بعد وہ نہ کبھی کسی غلطی کا ارادہ کرتے ہیں اور نہ اُن سے کوئی گناہ ہو سکتا ہے۔ اس مخصوص مہربانی کا نام عصمت ہے اور خدا جس کو اپنی یہ مخصوص مہربانی عطا کرتا ہے وہ معصوم ہوتا ہے۔

چونکہ عصمت ایک پوشیدہ مہربانی ہے جو خدا اپنے مخصوص بندوں پر فرماتا ہے لہذا خدا کے بتائے بغیر کسی کا معصوم ہونا معلوم نہیں ہو سکتا۔ نبیؐ کریم ، بارہ امامؐ اور جناب فاطمہؐ کے لئے اللہ نے بتایا ہے کہ یہ معصوم ہیں۔ نبی یا امام کو صرف خدا ہی مقرر کر سکتا ہے کیونکہ ان کا معصوم ہونا ضروری ہے اس کی خبر سوا خدا کے کسی کو نہیں ہے لہذا ہر نبی یا امام وہی ہوتا ہے جسے خدا مقرر کرتا ہے اور جس کے معصوم ہونے کی اُس نے خبر دی ہو۔


حیات معصوم اور سن و سال

انسان کی زندگی میں بچپن ۔ جوانی اور بڑھاپا تین دور ہوتے ہیں۔ بچپن انتہائی لا علمی اور نا واقفیت کا ہوتا ہے انسان اپنے داہنے بائیں کی چیزوں سے بھی باخبر نہیں ہوتا۔ جوانی میں خواہشات کا طوفان رہتا ہے اور انسان بہکنے لگتا ہے۔ ضعیفی میں عقل کمزور ہو جاتی ہے اور انسان صحیح فیصلہ نہیں کر سکتا ۔

لیکن ہادی اور رہبری کی زندگی اس سے بالکل الگ ہوتی ہے وہ بچپن جوانی۔ بڑھاپا زندگی کے ہر دور میں باکمال ہوتے ہیں ان کے کمالات ان کے ہر منصب کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں اور ان کا منصب اس دنیا میں آنے کے پہلے سے اور اس دنیا سے جانے کے بعد تک باقی رہتا ہے۔ ہمارے نبی اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن برابر اذان و نماز میں ان کی رسالت کا اقرار کر رہے ہیں۔

ہادی اپنے بچپنے میں عالم و فاضل ہوتا ہے اور اپنی جوانی میں معصوم و محفوظ ضعیفی میں اس کی عقل اسی طرح کام کرتی ہے جس طرح جوانی میں کر رہی تھی۔

قرآن کریم اور تاریخ کے دامن میں ایسے بیشمار واقعات موجود ہیں جن سے ہادیان اسلام کے کردار کی بلندی اور ان کے بچپن ۔ جوانی اور بڑھاپے کی یکسا نیت ظاہر ہوتی ہے۔

بچپن ہی کا زمانہ تھا جب حضرت ابراہیمؐ غار سے براآمد ہوئے اور چاند سورج ۔ ستارے کو دیکھ کر یہ ثابت کر دیا کہ یہ خدا نہیں ہو سکتے۔ یہ ایک وقت میں نکل کر دوسرے وقت ڈوب جاتے ہیں۔ اور جو ڈوب جائے وہ خدا نہیں ہو سکتا۔

بچپن ہی کی عمر بھی جب جناب موسیٰ فرعون کے دربار میں پہونچے ہیں۔ اور فرعون نے انھیں دودھ پلانے کے لیے مختلف عورتوں کو بلایا ہے جناب موسیٰ نے کسی عورت کی طرف رخ نہیں کیا اور برابر بھوکے رہے یہاں تک کہ آپ کی مادر گرامی آئیں اور آپ نے ان کا دودھ پیا۔ اس لیے کہ ہادی و رہنما بھی نجس و ناپاک غذا استعمال نہیں کرتے ۔ جناب موسیٰ کے لیے کافر عورتوں کا دودھ حرام تھا اور ان کی والدہ کا دودھ جائز اس لیے آپ نے کسی کی طرف رخ نہیں کیا اور اپنی مادر گرامی کا دودھ پی لیا۔

بچپن ہی کی عمر تھی جب جناب مریم اپنے فرزند حضرت عیسیٰ کو لیکر قوم کے سامنے آئیں اور لوگوں نے پوچھا ! مریم اپنے فرزند حضرت عیسیٰ کو لیکر قوم کے سامنے آئیں اور لوگوں نے پوچھا مریم ! یہ کس کا بچہ ہے ؟ جناب مریم نے گہوارے کی طرف اشارہ کر دیا اور حضرت عیسیٰ نے جھولے میں لیٹے لیٹے آواز دی کہ میں اللہ کا بندہ ہوں مجھے اللہ نے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے۔

بچپن ہی کا عالم تھا جب ہمارے مولا حضرت علیؐ ابن ابی طالبؐ نے تین دن کی عمر میں پیغمبرؐ کی گود میں توریت ۔ انجیل ۔ زبور اور قرآن کی تلاوت کی تھی۔

ان واقعات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہادی و رہنما کا بچپنا عام انسانوں سے بالکل الگ ہوتا ہے وہ بچپنے ہی سے عالم و دانا اور حلال و حرام سے باخبر ہوتے ہیں۔

جوانی میں بھی ہمارے رسولؐ نے جب جناب خدیجہ سے شادی کی جو جناب خدیجہ کی عمر آپ سے زیادہ تھی لیکن آپ نے شادی کر کے بتا دیا کہ میرے کام دل کی پسند کی وجہ سے نہیں ہوتے بلکہ اللہ کی مرضی کے لیے ہوتے ہیں۔

بڑھاپے میں عقل کے صحیح و سالم رہ جانے کی مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں۔ جناب نوح ہزار سال زندہ رہے۔ جناب براہیمؐ نے سو سال سے زیادہ عمر پائی۔ لیکن ان حضرات کے عقل و ہوش میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا پس جس طرح یہ انبیائے کرام تھے اسی طرح ہمارے رسول اور امام تھے کہ ان کے کردار اور عمل میں زندگی کے کسی حصے میں کوئی فرق نہیں آیا اور ہر دور میں عالم و کامل اور نیک کردار و معصوم رہے۔


ہمارے نبیؐ کے خصوصیات

اللہ نے ہمارے نبی کو ساری کائنات سے افضل و برتر بنا کر آپ کو کچھ ایسے ملاکات عطا کر دئیے جو آپ کے علاوہ نہ کسی امتی کو دیے گئے ہیں اور نہ نبی و رسول کو۔ انھیں چیزوں کو خصوصیات نبی کہا جاتا ہے اور ان کی مشہور فہرست یہ ہے۔

 آپ جس طرح سامنے کی چیزوں کو دیکھتے تھے اسی طرح پس پشت کی چیزوں کو بھی دیکھ لیا کرتے تھے۔

 آپ کے بالوں کو آگ جلا نہیں سکتی تھی۔

 بیداری اور خواب کے عالم میں برابر نظر رکھا کرتے تھے۔

 آپ کے جسم اقدس کا سایہ نہ تھا۔

 آپ کے جسم مبارک پر مکھیاں نہ بیٹھ سکتی تھیں۔

 آپ جس بلند قامت آدمی کے ساتھ چلتے تھے آپ کا قد اس سے نکلتا ہوتا تھا۔

 انگڑائی اور جماہی نہیں لیا کرتے تھے۔

 نماز شب آپ کے لئے واجب تھی۔

 مسواک آپ کے لئے ضروری تھی

 آپ چار سے زیادہ شادیاں کر سکتے تھے۔

 آپ جس راستے گزر جایا کرتے تھے کئی دن تک برابر خوشبو پھیلی رہتی تھی۔

 آپ سخت سے سخت پتھر پر قدم رکھ دیتے تھے تو نقش قدم اُبھر آیا کرتے تھے


خدائی پیغامات

خدا وند عالم نے اپنے پیغمبروں کو سارے کمالات اور علوم دے کر بھیجا لیکن اس کے باوجود پیغمبر کی شان ظاہر کرنے کے لیے برابر احکام بھیجتا رہتا تھا۔ ان احکام کے بھیجنے کے چند طریقے تھے۔

کبھی نبی ان احکام کو خواب میں دیکھا کرتے تھے اور نبی کا خواب ہی حکم خدا ہوا کرتا تھا جیسا کہ جناب براہیمؐ کے واقعہ میں ہوا کہ آپ نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے بیٹے اسماعیل کو ذبح کر رہا ہوں اور پھر اس کو حکم خدا سمجھ کر ذبح کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ ایسے خواب کو رویائے صادقہ کہتے ہیں۔

پیغام بھیجنے کا دوسرا طریقہ الہام ہے۔ الہام کے معنی یہ ہیں کہ خدا وند عالم اپنے فرستا دہ ہادی و رہنما کے دل میں ایک بات ڈال دیتا ہے اور ہادی و رہنما اس پر عمل کرنا شروع کر دیتے ہیں اس لیے کہ معصوم کے دل پر شیطان کا قبضہ نہیں ہو سکتا۔ اس میں جوبات آئےگی وہ اللہ ہی کی ہوگی شیطان کی نہ ہوگی۔

تیسرے طریقہ کا نام وحی ہے جو کسی فرشتے کے ذریعہ بھیجی جاتی ہے چاہے پیغمبر اس فرشتے کو دیکھے یا نہ دیکھے۔ ہمارے پیغمبرؐ کے پاس جبریل امین پیغام لیکر آیا کرتے تھے اور آپ برابر ان سے ملاقات بھی فرماتے تھے۔

چوتھا طریقہ یہ ہے کہ اللہ کسی چیز میں آواز پیدا کر کے اپنا پیغام سنا دے اور نبی اس پیغام کو سن لے جیسا کہ کوہ طور پر درخت کے ذریعہ جناب موسیٰؐ کو حکم سنایا گیا تھا۔

پانچواں طریقہ ہمارے نبیؐ کے ساتھ مخصوص ہے جہاں پروردگار عالم نے معراج کی رات عرش اعظم پر بلا کر حضرت علیؐ کے لہجہ میں بات کی تھی یہاں نہ کوئی خواب تھا نہ الہام ، نہ کوئی فرشتہ تھا نہ درخت صرف حضور تھے اور علیؐ کا لہجہ خدا بول رہا تھا اور اس کا جیب سن رہا تھا۔ امت تک اس پیغام کی حقیقت کچھ رسول کے بیان سے پہونچی ہے اور کچھ غدیر خم کے میدان میں رسول کے عمل سے۔


قرآن مجید کا اعجاز

یہ بات تو ساری دنیا جانتی ہے کہ آج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے ہمارے رسولؐ نے قرآن مجید کو لوگوں کے سامنے یہ کہہ کہ پیش کیا تھا کہ اگر تمہیں اس کی برتری اور اس کے کلام خدا ہونے میں شک ہے تو اس کا جواب لے آؤ اور آج تک دنیا اس کا جواب نہ لا سکی۔ لیکن یہ بات بھی جاننے کے لائق ہے کہ وہ کون سی باتیں تھیں جن کا جواب نہ ہو سکا۔ ایسی باتیں حسب ذیل ہیں۔

۱ ۔ قرآن مجید میں بڑی سے بڑی بات کو کم سے کم لفظوں میں بڑے سے بڑے مطلب کو آسان طریقہ پر بیان کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے اس کی نظر دنیا میں نہیں ہے۔ اس میں نہ کوئی لفظ ایسا ہے جو آدمی کو سننے میں گراں گزرے اور نہ کوئی جملہ ایسا ہے جس کا ایک حرف کم کر دینے میں مطلب ادا ہو جائے۔

۲ ۔ قرآن مجید میں پیغمبرؐ اسلام کے ہزاروں سال پہلے اور پیغمبرؐ کے ہزاروں سال بعد قیامت تک کے حالات بیان کر دئے ہیں جن کی اطلاع نہ اس وقت کسی کو تھی اور نہ آج تک ہے۔

۳ ۔ قرآن مجید کے الفاظ کے صرف ظاہری معنی ہی نہیں ہیں بلکہ ایک ایک لفظ کے ستر ستر معنی ہیں۔ جن کا علم خدا اور رسولؐ اور ائمہؐ کے علاوہ کسی کو نہیں ہے۔

۴ ۔ قرآن مجید میں اکثر سوروں کے شروع میں حروف مقطعات المٓ ۔الرٓ ۔حمٓ ۔ وغیرہ استعمال کیے گئے ہیں جن کے معنی کسی کو معلوم نہیں ہیں اور نہ ان کی مصلحت کو کوئی آدمی جانتا ہے۔

۵ ۔ قرآن مجید نے تبلیغ و ہدایت کا جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ انسانی فطرت سے قریب اور سماج کے مزاج سے بالکل ہم آہنگ ہے اس نے پہلے عقائد کی درستگی کا انتظام کیا اس کے بعد اعمال کی اصلاح کی یہ طریقہ تبلیغ نہ کل کسی کے ذہن میں آیا تھا اور نہ آج یہ سلیقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔


آداب تلاوت

قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت ان علامتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔

ج ۔ یہ علامت وقف جائز ہے یہاں پر ٹھہرنا جائز ہے۔

ز ۔ یہ بھی علامت وقف جائز کی علامت ہے مگر ملا کر پڑھنا بہتر ہے۔

لا ۔ اس علامت پر ٹھہرا نہیں چاہئیے بلکہ بعد سے ملا کر پڑھنا چاہئیے۔

ط ۔ یہ علامت وقف مطلق کی ہے جس سے آگے بڑھ جانا مناسب نہیں ہے۔

م ۔ یہ علامت وقف لازم کی ہے جس سے آگے بڑھنا جائز نہیں ہے۔

قف ۔ یہ ٹھہر جانے کی علامت ہے ۔

ص ۔ یہاں سانس توڑ دینے کی رخصت ہے۔

صلے ۔ یہاں وصل اولیٰ ہے (یعنی) آگے سے ملاکر پڑھنا بہتر ہے۔

یہ علامت جس لفظ کے آگے پیچھے ہوتی ہے اس میں دو میں سے ایک جگہ وقف کیا جاتا ہے


امامت

امامت بھی نبوت ہی کی طرح اصول دین میں ہے نہ کہ فروع دین میں اس لئے جو خدا بندوں کی ہدایت کے لئے نبی کے بعد نبی بھیجتا رہا ہے اُس خدا کے لئے ضروری ہے کہ نبوت ختم ہونے کے بعد قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کہ ہدایت کا انتظام کرے۔ چناچہ اس نے خاتم المرسلین حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد بارہ اماموں کو انسانوں کا ہادی اور رہبر مقرر کیا ہے۔ ان بارہ اماموںؐ کی امامت کے خاتمہ پر دنیا ختم ہو جائےگی اور قیامت آجائےگی۔

امامت اصول دین کا مسئلہ ہے اس کو مانے بغیر نہ کوئی شخص با ایمان مر سکتا ہے اور نہ مرنے کے بعد جنت میں جگہ پا سکتا ہے۔ خدا وند عالم فرماتا ہے۔" قیامت کے دن ہم ہر انسان کو اس کے امام کے ساتھ بلائیںگے۔" معلوم ہوا کہ قیامت کے دن انسانوں سے فقطہ یہ سوال نہیں ہوگا کہ تمہارا خدا کون ہے۔ تمہارا رسول کون ہے تمہاری کتاب کونسی ہے ۔تمہارا قبلہ کیا ہے ۔ تمہارا دین کیا ہے بلکہ سب سے بڑا سوال یہ بھی ہوگا تمہارا امام کون ہے۔ لہذا امام کا جاننا اور ماننا ضروری ہے۔ حضرت رسولؐ کریم نے فرمایا ہے۔ " جو شخص اپنے زمانے کے امام کو پہچانے بغیر مر جائے گا اس کی موت گمراہ اور کافر کی موت ہوگی "۔ معلوم ہوا کہ امام زمانہ کو مانے بغیر کوئی شخص مسلمان کی موت نہیں مر سکتا۔ جب امام کو ماننا اس قدر ضروری ہے تو خدا کی ذمہ داری ہے کہ وہ اماموں کا انتخاب کرے اور نبی کے ذریعہ ان اماموں کے ناموں کا اعلان کرے۔

جب قیامت تک دین خدا اور قرآن کا رہنا ضروری ہے تو یہ بھی ضروری ہے کہ شریعت و کتاب و سنت کے کچھ محافظ بھی قیامت تک رہیں۔ بارہ امام اسی لئے مقرر کئے گئے کہ وہ نبی کے دین کو باقی رکھیں۔

امام۔ نبی کی طرح معصوم ہوتا ہے۔ ہر خطا ، غلطی ، بھول چوک اور سہود نسیان سے پاک ہوتا ہے۔

امام ۔ نبی کی طرح عالم پیدا ہوتا ہے اور وہ زندگی میں کسی چھوٹے سے چھوٹے یا بڑے سے بڑے مسئلہ کے بارے میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے معلوم نہیں۔

امام ۔ نبی کی طرح معجزہ کی طاقت کا مالک ہوتا ہے۔ نبی اور امام کے معجزہ کا جواب لانا ممکن نہیں ہوتا۔

امام ۔ نبی کی طرح اپنے زمانہ کے تمام انسانوں سے ہر فضل و کمال میں افضل ہوتا ہے۔

امام ۔ نبی کی طرح ہر ذاتی ۔ خاندانی ۔ جسمانی ۔ روحانی ۔ ظاہری اور باطنی عیب سے پاک ہے۔

امام ۔ نبی کی طرح کمالات کا مجموعہ ہوتا ہے۔

امام ۔ نبی کی طرح اپنے زمانہ کا سب سے بہادر انسان ہوتا ہے۔

امام ۔ نبی کی طرح دین و دنیا کا مکمل حاکم ہوتا ہے۔

امام ۔ ہاشمی ہوتا ہے اور نبی کے اہلبیتؐ میں سے ہوتا ہے۔


امام کا ہونا ضروری ہے

امام کے بغیر نہ دنیا باقی وہ سکتی ہے اور نہ انسانوں کو ہدایت مل سکتی ہے۔ اس مسئلہ میں ہم ایک دلچسپ گفتگو سناتے ہیں۔

ہشام بن حکم جو جناب امام جعفر صادق علیہ السلام کے صحابی اور شاگرد تھے انھوں نے سنا کہ عمرو بن عبیدہ بصرہ کی جامع مسجد میں لوگوں کے سامنے برے بڑے غلط اور جھوٹے دعوے کرتا ہے۔ تو ایک مرتبہ جمعہ کے دن اُس مسجد میں جا پہونچے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ لوگ اُسے گھیرے ہوئے ہیں اور کچھ پوچھ رہے ہیں۔ یہ بھی بھیڑ کو چیرتے ہوئے اس کے قریب جا پہونچے اور دونوں میں یوں باتیں ہونے لگیں۔

ہشام ۔ میں ایک مسافر ہوں اگر اجازت ہو تو میں بھی کچھ پوچھوں۔

عمرو ۔ (بیباکی سے) جو پوچھنا ہو پوچھو۔

ہشام ۔ کیا تمہاری آنکھیں ہیں ؟

عمرو ۔ یہ بھی کوئی سوال ہے۔ کیا اس سے بڑھ کر بےقوفی کا کوئی سوال ہو سکتا ہے۔

ہشام ۔ مجھے تو یہی پوچھنا ہے آکر بتانے میں تمہارا کیا بگڑتا ہے۔

عمرو ۔ اچھا خفا نہ ہو تمہیں اگر یہی پوچھنا ہے تو میں بھی جواب دیتا ہوں کہ آنکھیں ہیں۔

ہشام ۔ بھلا تم اس سے کیا کام لیتے ہو ؟

عمرو ۔ ارے بھائی یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔ ظاہر ہے میں اس سے چیزوں کو دیکھتا اور رنگوں کا فرق پہچانتا ہوں۔

ہشام ۔ کیا تمہارے ناک بھی ہے ؟

عمرو ۔ ہے پھر آپ کا مطلب ؟

ہشام ۔ مطلب کچھ نہیں صرف یہ بتا دیجئیے کہ آپ اس سے کیا کام لیتے ہیں ؟

عمرو ۔ اس سے ہر طرح اچھی بری بو ، معلوم ہوتی ہے اس سے سانس لیتے ہیں۔

ہشام ۔ کیا زبان ہے ؟

عمرو ۔ اچھا بھائی یہ سوال بھی سہی، ہاں زبان بھی ہے۔

ہشام ۔ کیا اس سے کچھ کام لیتے ہو ؟

عمرو ۔ اس سے باتیں کرتا ہوں ۔ مختلف چیزوں کے مزے محسوس کرتا ہوں، میٹھا ، کڑوا نمکین ، پھیکا اسی سے معلوم ہوتا ہے۔

ہشام ۔ کیا تمہارے کان بھی ہیں ؟

عمرو ۔ ہاں بھائی ہیں۔

ہشام ۔ کہا یہ بھی کام آتے ہیں یا یوں ہی ؟

عمرو ۔ کیا خوب ۔ حضرت ان سے اچھی بری ، قریب اور دور کی باتیں سنتا ہوں۔

ہشام ۔ خیر ہوگا ، بھلا یہ تو فرمائیے ہاتھ بھی ہیں ؟

عمرو ۔ واہ واہ ہاتھ ہیں نہیں تو کیا ٹنڈا ہوں اپنا مطلب کہئے۔

ہشام ۔ ان سے کچھ کام بھی چلتا ہے یا صرف یونہی دیکھنے کے ہیں ؟

عمرو ۔ سبحان اللہ ! ارے بھائی انھیں سے تو سردی اور گرمی ، خشکی ، تری ، نرمی ، ختی، کھرمی اور چیکنی چیزیں معلوم ہوتی ہیں۔

عرض اس طرح ایک ایک عضو کے بارے میں پوچھتے پوچھتے آکر دل کے بارے میں سوال کیا۔

ہشام ۔ کیا تمہارے پاس دل بھی ہے، یا بغیر دل کے پیدا ہوئے ہو ؟

عمرو ۔ ماشاء اللہ جب دل ہی نہ ہو تو پھر کیونکر کام ہو۔ دل ہی سارے کاموں کا ذمہ دار ہے۔

ہشام ۔ کیا اس سے بھی کچھ کام نکلتا ہے ؟

عمرو ۔ کیا کہنا ۔ ارے بھائی یہ تو سارے بادشاہ ہے اور یہی بدن کی ساری سلطنت کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

ہشام ۔ کیا اور عضاء سب اس کے محتاج اور تابع فرمان ہیں ؟

عمرو ۔ ہاں بغیر اس کے تو کوئی کام ہو ہی نہیں سکتا۔

ہشام ۔ جب یہ اعضاء صحیح و سالم ہیں تو دل کے محتاج کیوں ہیں ؟

عمرو ۔ میاں صاحبزادے جب یہ اعضاء کسی بات میں شک کرتے ہیں تو دل ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور دل جو حکم کرتا ہے اس پر عمل کرتے ہیں۔

ہشام ۔ کیا انسان کے بدن میں دل کا ہونا ضروری ہے کہ بغیر اس کے اعضاء کو کسی چیز کا یقین حاصل ہی نہیں ہو سکتا۔

عمرو ۔ ہاں ہاں ضرور ، بغیر اس کے کچھ نہیں ہو سکتا ۔

ہشام ۔ اے عمرو ! جب خدا نے جسم کے چند اعضاء کو بغیر رہنما اور حاکم کے نہیں چھوڑا ہے تو پھر کیسے ممکن ہے کہ ساری دنیا کے انسانوں کو بغیر امام چھوڑ دے اور اُن کی ہدایت کا انتظام نہ کرے۔

یہ سن کر عمرو کے ہوش اڑ گئے اور گبھرا کر کہنے لگا۔

عمرو ۔ میاں کیا تم ہشام ہو ؟

ہشام ۔ نام سے کیا مطلب ؟

عمرو ۔ تم کیاں کے رہنے والے ہو ؟

ہشام۔ کوفہ کا باشندہ ہوں۔

عمرو ۔ "تب تو تم ضرور ہشام ہی ہو ۔" یہ کہہ کر جلدی سے اٹھا اور ہشام کو گلے لگا لیا اور مسند پر جگہ دی اور اپنے پہلو میں بٹھایا اور جب تک ہشام وہاں بیٹھے رہے ڈر کے مارے دم نہ مارا اور کوئی بات نہ کی۔

اس واقعہ سے ثابت ہوا کہ ہر زمانہ میں ایک امام کا ہونا ضروری ہے۔


بارہ امام

شیعہ اور سنی کی حدیث کی کتابوں میں میں حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بہت سی حدیثیں موجود ہیں جن میں آپ نے فرمایا ہے کہ میرے خلیفہ اور امت کے ہادی بارہ ہوںگے۔ بارہ کی قید کا مطلب یہی ہے کہ امام اور خلیفہ نہ بارہ سے کم ہو سکتے ہیں اور نہ بارہ سے زیادہ۔ آج مسلمانوں میں جتنے فرقے پائے جاتے ہیں ان میں صرف شیعہ اثنا عشری ہی ایسا فرقہ ہے جو بارہ اماموں کو مانتے ہیں ورنہ دوسرے فرقوں کے امام اور خلیفہ یا بارہ سے کم ہیں یا زیادہ ہیں یہی ان کے باطل ہونے کی دلیل ہے۔

شیعہ اثنا عشری اسی لئے کہلاتے ہیں کہ اثنا عشری کے معنی بارہ ہیں اور اثنا عشری شیعہ صرف بارہ اماموں کے ماننے والے ہیں اس دلیل سے شیعہ اثنا عشری کا سچا فرقہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ہم جن بارہ اماموں کو مانتے ہیں ان کے امام ہونے کی بہت سی دلیلیں ہیں۔

پہلی دلیلی ۔

حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ میرے بعد میرے خلیفہ علیؐ ہوںگے اُن کے بعد حسنؐ ان کے بعد حسینؐ ، پھر علیؐ ابن الحسینؐ زین العابدینؐ ۔ ان کے بعد محمدؐ ابن علیؐ الباقرؐ، پھر جعفرؐ ابن محمدؐ الصادقؐ ، ان کے بعد موسیؐ ابن جعفرؐ الکاظمؐ ، پھر علیؐ ابن موسیؐ الرضاؐ ، ان کے بعد محمدؐ ابن علیؐ التقیؐ ، پھر علیؐ ابن محمدؐ النقیؐ ، ان کے بعد حسنؐ ابن علی العسکریؐ ، پھر محمدؐ ابن حسنؐ المہدی ہوںگے۔معلوم ہوا نبیؐ اپنے بارہ اماموں کے نام مع لقب اور باپ کے نام کے بتلا گئے ہیں لہذا ہر مسلمان کا فرض ہے کہ جب نبیؐ کا بتایا ہوا دین مانا ہے تو انکے بتائے ہوئے اماموں کا بھی اقرار کرے۔

دوسری دلیل ۔

پیغمبر اسلامؐ کی مشہور حدیث ہےاِنِّی تارِکٌ فِیکُمُ الثَّقَلینُ کِتَابَ اللهِ وَ اَهلَبَیتِی مَا اِن تَمَسَّکُتُم بِهِمَا لَن تَضِلُّوا بَعدِی وَ لَن یَّفتَرِقَا حَتَّیٰ یَرِدَا عَلَیَّ الحَوضَ ۔ میں تم میں دو بار عظمت اور گر انقدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں جن سے وابستہ رہوگے تو کبھی ہرگز میرے بعد گمراہ نہ ہوگے۔ ایک اللہ کی کتاب ہے دوسرے میری عزتٔ ہے وہی میرے اہلبیت ہیں۔ قرآن مجید اور میرے اہلبیتؐ ایک دوسرے کے ساتھ رہیںگے کبھی خدا نہ ہوںگے۔ حوض کوثر پر دونوں میرے پاس آئیںگے۔

امام اسی لئے ہوتا ہے کہ وہ گمراہاہی کو روک سکے۔ پیغمبرؐ اسلام کے ارشاد کے مطابق قرآن اور اہلبیتؐ گمراہی سے بچانے والے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ قیامت تک قرآن کے ساتھ کوئی امام بھی رہے جو نبیؐ کی عترت یعنی آپ کی اولاد میں سے ہوا اور ہامرے بارہ امامؐ سب کے سب نبیؐ کے اہلبیتؐ اور آپ عترت ہیں۔ اس حدیث سے ہمارے بارہ اماموںؐ کا امام ہونا ثابت ہوتا ہے کیونکہ بارہ اماموں کے علاوہ جتنے لوگوں نے خلیفہ یا امام ہونے کا دعویٰ کیا وہ نبیؐ کے اہلبیتؐ نہ تھے۔ لہذا ائمہ اہلبیت علیہم السلام کا امام ماننا ہر صاحب ایمان کے لئے ضروری ہے۔


حضرت علی علیہ السلام کی خلافت

حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے ثبوت میں قرآن مجید کی بہت سی آیتیں ، رسول کریمؐ کی بہت سی حدیثیں اور تاریخ اسلام کے بہت سے واقعات پیش کئے جا سکتے ہیں یہاں پر ان میں سے صرف دو دلیلیں لکھی جاتی ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام کو شیعہ بھی خلیفہ مانتے ہیں اور سنی بھی۔ فرق یہ ہے کہ سنی حضرات آپ کو چوتھا خلیفہ مانتے ہیں اور شیعہ بلا فصل اور پہلا خلیفہ مانتے ہیں۔ سنی اس لئے خلیفہ مانتے ہیں کہ لوگوں نے اپنے تیسرے خلیفہ کے قتل کے بعد آپ کو خلیفہ تسلیم کر لیا تھا اور شیعہ اس لئے خلیفہ مانتے ہیں کہ رسولؐ کریم اپنی زندگی میں حضرت علی علیہ السلام کو اپنا خلیفہ بحکم خدا بنا گئے تھے۔

پہلی دلیل ۔

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھلی تبلیغ کرنے کا حکم ملا تو آپ نے حکم خدا کے مطابق حضرت علی علیہ السلام کو بھیج کر سب سے پہلے اپنے خاندان کے لوگوں کو بلایا۔ خاندان عبد المطلبؐ کے چالیس آدمی جمع ہوئے۔ حضرت امیرؐ نے رسولؐ کے ارشاد کے مطابق آنے والے مہمانوں کی ضیافت کا بھی انتظام کیا تھا۔ کھانے کی مقدار کم تھی اور کھانے والے زیادہ تھے مگر جب نبی کریمؐ نے دودھ ، روٹی اور گوشت کو پہلے ذرا ذرا سا چکھنے کے بعد مجمع سے کھانے کے لئے کہا تو آپ کی برکت اور آپ کی زبان سے نکلی ہوئی بسم اللہ کے اثر سے تھوڑا کھانا بہت ہو گیا اور کھانے والے کھا کر سیر ہو گئے پھر بھی کھانا بچ رہا۔ جب حضورؐ تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ابو لہب نے آپ کی تقریر سے پہلے یہ کہہ کر مجمع کو بھڑکا دیا کہ ان کی تقریر مت سنو یہ جادوگر ہیں ، تم نے ابھی ابھی دیکھا ہے کہ انھوں نے تھوڑے کھانے کو جادو کے ذریعہ زیادہ کر دیا ہے اگر تقریر سنوگے تو یہ جادو کے ذریعہ تم کو تمہارے مذہب سے منحرف کر دیںگے۔ مجمع یہ سن کر اٹھا اور چلا گیا۔ رسول کریمؐ نے پھر حضرت علی علیہ السلام کو بھیج کر دوسرے دن کے لئے سب کو بلوایا اور کھانے کا بھی انتظام کیا۔ دوسرے دن بھی سب لوگ آئے اور نبیؐ کی برکت سے تھوڑا کھانا بہت ہو گیا۔ سب کے سیر ہونے کے بعد بھی بچ رہا۔ آج ابو لہب نے پھر تقریر میں روکاوٹ ڈالنا چاہی تو جناب ابو طالب علیہ السلام کھڑے ہو گئے اور ابو لہب کو سختی کے ساتھ ڈانٹا اور رسولؐ کریم سے عرض کی کہ اے میرے سردار آپ جو کچھ کہنا چاہتے ہوں کہئے۔ رسولؐ نے اسلام پیش کیا۔ خدا کی توحید کا پیغام سنایا ، اپنی نبوت کا اعلان کیا اور اس کے بعد فرمایا۔

"جو شخص ہدایت کے کام میں میری مدد کرےگا میں اُسے اپنا بھائی ، وصی اور وزیر مقرر کروںگا۔ وہ میرے بعد میرا خلیفہ اور جانشین ہوگا اس کی اطاعت لوگوں پر میری طرف سے واجب ہوگی۔ "

نبیؐ کی آواز پر کسی نے آواز نہ دی صرف دس سال کے کمسن علیؐ نے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ " میں مدد کا وعدہ کرتا ہوں "۔ رسولؐ اسلام نے حضرت علی علیہ السلام کی پشت پر ہاتھ رکھ کر آپ کو مجمع کے سامنے کیا اور یہ اعلان فرمایا کہ۔ انھوں نے میری مدد کا وعدہ کیا ، لہذا یہ میرے بھائی وصی اور وزیر ہیں۔ میرے بعد میرے خلیفہ اور جانشین ہیں میں ان کو اپنی طرف سے حاکم مقرر کرتا ہوں۔ انکی اطاعت تم سب پر واجب ہے۔ ابو لہب نے جل کر جناب ابو طالب علیہ السلام کو طعنہ دیا۔

" محمدؐ تم کو بیٹے کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں" ۔

جناب ابو طالب علیہ السلام نے جواب دیا کہ

" میرا بھتیجا جو بات بھی کہتا ہے وہ بہرحال خیر ہے "۔

اس واقعہ کا نام دعوت ذوالعشیرہ ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نے زندگی بھر اپنی جان اور مال سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدد کی اور آپ کے بعد آپ کی پاک نسل یعنی گیارہ اماموںؐ نے دین کی مدد میں اپنی پاکیزہ زندگیاں صرف کیں۔ حضرت امیرؐ نے اپنا وعدہ پورا کیا اور رسول اللہؐ نے بھی اپنے وعدہ کا ایفا فرمایا۔ حضرت علی علیہ السلام کو اور ان کے بعد ان کی نسل کے گیارہ اماموںؐ کو اپنا نائب ، جانشین اور خلیفہ مقرر کیا۔

یہ کہنا کہ حضورؐ انتقال کے وقت کسی کو خلیفہ بنا کر نہیں گئے بلکہ امت کو خلیفہ بنانے کا حق دے گئے غلط ہے اور رسول اعظمؐ کی پاک اور بے داغ سیرت پر وعدہ خلافی کا الزام بھی ہے۔ کوئی سچا مسلمان اپنے نبیؐ پر وعدہ خلافی کا الزام لگانا پسند نہیں کرےگا۔ لہذا رسولؐ کے بعد حضرت علی علیہ السلام کو بلا فصل خلیفہ ماننا ہر سچے مسلمان کے لئے ضروری ہے۔

دوسری دلیل ۔

رسالتمابؐ نے اپنے انتقال سے دو مہینے دس دن پہلے اٹھارہ ذی الحجہ ۱۰ ھ؁ کو غدیر خم کے میدان میں حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کا مفصل اور مکمل اعلان فرمایا۔ آپ اس وقت آخری حج کر کے مکہ معظمہ سے واپسی تشریف لا رہے تھے آپ کے ساتھ سوا لاکھ حاجیوں کا مجمع تھا۔ جلتی دوپہر میں قافلہ کو روک کر جمع کیا ۔ کجاوون کا ممبر بنوایا اور بحکم خدا حضرت علی علیہ السلام کو لیکر ممبر پر تقریر کے لئے تشریف لے گئے کیونکہ خدا کی طرف سے رسولؐ السلام پر ۔ آیہ تبلیغ نازل ہوئی تھی۔

"اے رسولؐ اس بات کا اعلان کر دو جس کے اعلان کا ہم تم کو حکم دے چکے ہیں۔ اگر یہ اعلان نہ کیا تو گویا رسالت کا کوئی کام انجام نہیں دیا۔ خدا دشمنوں سے آپ کی حفاظت کا وعدہ کرتا ہے"۔

اس حکم خدا کے بعد حضورؐ نے مجمع کے سامنے ایک طولانی تقریر فرمائی جس کے آخر میں ہر مسلمان سے پوچھا کہ تم اپنی جان اور مال کے مالک ہو یا میں تمہاری جان اور مال کا مالک ہوں۔اس سوال کا مقصد یہ تھا کہ تم لوگ اپنے کو اپنا حاکم سمجھتے ہو یا مجھے اپنا حاکم سمجھتے ہو۔

سب نے کہا۔ حضورؐ ! آپ ہمارے حاکم اور ہماری جان و مال کے مالک ہیں۔" نبیؐ نے اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام کو بازو پکڑ کر پورے جسم سے اٹھا لیا اور فرمایا۔

"جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علیؐ مولا ہیں۔ جس کا میں حاکم ہوں یہ علی بھی اس کے حاکم ہیں "۔پھر آپ نے خدا سے دعا فرمائی۔ کہ تو اسے دوست رکھ جو علیؐ سے محبت کرے اور علیؐ کے ہر دشمن کو اپنا دشمن قرار دے۔ ممبر سے اتر کر سب مسلمانوں کو حکم دیا کہ جاکر علیؐ کی بیعت کرو اور ان کو مومنوں کا حاکم کہہ کر سلام کرو۔ سب نے حکم رسولؐ کی تعمیل کی حضرت عمر نے خصوصی مبارکباد دی کہ کہ آج آپ میرے اور ہر مومن اور مومنہ کے حاکم مقرر ہو گئے۔ اس واقعہ کو واقعہ غدیر کہتے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد خدا نے آئیہ اکمال نازل فرمائی جس میں ارشاد ہے۔

"آج کے دن کافر تمہارے دین سے مایوس ہو گیا اب تم ان سے نہ ڈرنا بلکہ صرف مجھ سے ڈرنا۔ آج کے دن میں نے تمہارے دین کو کامل کر دیا تم پر نعمتیں تمام کر دیں اور اسلام کو تمہارے لئے بہ حیثیت دین کے پسند کر لیا۔"

اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ نبیؐ نے اپنی عمر کے آخر تک حضرت علی علیہ السلام ٍ کو اپنا جانشین رکھا اور جو حضرت علی علیہ السلام کو نبیؐ کا خلیفہ بلا فصل مانےگا خدا اسی کو دوست رکھےگا۔ جو خلافت بلا فصل مولا علیؐ کا قائل ہوگا اسی کا دین کامل ہوگا خدا کی نعمتیں اسی کو ملیںگی اور خدا اسی کے اسلام کو قبول کرےگا۔


بارہویں امامؐ

بارہویں امام علیہ السلام زندہ ہیں۔ پردہ غیبت میں ہیں۔ جب حکم خدا ہوگا اس وقت کعبہ کے پاس ظہور فرمائیںگے اور ظلم سے بھری ہوئی زمین کو عدل سے بھر دیںگے۔

بحمد اللہ آپ کی عمر ساڑھے گیارہ سو سال سے زیادہ ہو چکی ہے اور خدا وند عالم جب تک چاہےگا زندہ رکھےگا۔ حضرتؐ کی طولانی عمر پر تعجب نہیں ہونا چاہئے ۔جناب نوحؐ کو خدا نے تقریباً دو ہزار سال کی عمر عطا فرمائی۔ جناب خضرؐ ، جناب الیاسؐ ، جناب اوریسؐ اور جناب عیسیؐ اب تک زندہ ہیں۔ جو شخص آپ کی طولانی عمر پر شک کرتا ہے وہ در اصل خدا کی قدرت پر شک کرتا ہے۔ خدا کی قدرت کے آگے نہ کوئی چیز مشکل ہے نہ قابل تعجب۔

اصحاب کہف ہزاروں سال سے غار میں سو رہے ہیں اور خدا کی قدرت سے زندہ ہیں۔جو خدا پہاڑ سے جناب صالحؐ نبی کے لئے آناً فاناً مع بچہ کے اونٹنی پیدا کر سکتا ہے۔ جناب موسیٰؐ کے عصا کو اژدھا اور اژدھا کو عصا بنا سکتا ہے۔ جناب عیسیؐ کو بغیر باپ کے پیدا کر سکتا ہے۔ لاکھوں من آگ میں جناب ابراہیمؐ کو بچا سکتا ہے۔وہ خدا سیکڑوں کیا ہزاروں سال کی عمر امام علیہ السلام کو کیوں نہیں دے سکتا اور ان کو دشمنوں سے کیوں محفوظ نہیں رکھ سکتا ہے۔

بارہویں امام علیہ السلام کے وجود پر بہت سای دلیلیں ہیں جن میں سے چند آسان دلیلیں لکھی جاتی ہیں۔

دلیل نمبر ۱ ۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ( وَ لِکُلِّ قَومٍ هَادٍ ) یعنی ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہونا ضروری ہے۔

نبیؐ کریم کا ارشاد ہے "مَن مَّاتَ وَ لَم یَعرِف اِمَامَ زمَانِهِ فَقَدمَاتَ مِیتَةً جَا هِلِیَّةً یعنی جو شخص اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانتا ہو اور مر جائے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوتی ہے "۔ معلوم ہوا کہ ہر زمانہ میں ایک امام کا ہونا ضروری ہے لہذا اس زمانہ میں بھی ایک ہادی اور امام ہونا چاہئے اور وہ ہمارے بارہویں امام علیہ السلام ہیں۔

دلیل نمبر ۲ ۔

قرآن مجید میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ صادقین کی پیروی کرو اور صاحبان امر کی اطاعت کرو۔ ان دونوں حکموں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر زمانہ میں ایک صادق اور صاحب امر ہونا چاہئے ہمارے بارہویں امامؐ کے علاوہ کسی کے لئے صادق اور صاحب امر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔

دلیل نمبر ۳ ۔

پیغمبرؐ اسلام کا ارشاد ہے "لَا یَذَالُ هٰذَ الَّذِّنُ قَاءِماً ایلی اِثنَا عَشَرَ خَلِفَةً مِّن قُرَیشٍ فَاذَا هَلَکُو مَاجَتِ الاَرضُ بِاَهلِهَا یعنی یہ دین اس وقت تک قائم رہےگا جب تک میرے بارہ خلیفہ پورے نہ ہو جائیں جو سب کے سب قریش ہوں گے ان بارہ خلیفہ کے ختم ہونے کے بعد زمین مع اپنی تمام آبادیوں کے تباہ ہو جائےگی۔

اہلسنت کے مشہور عالم ملا علی متقی نے اپنی کتاب کنز العمال میں اس حدیث کو لکھا ہے۔ اگر بارہ امام ختم ہو گئے ہوتے تو نہ یہ دنیا باقی ہوتی اور نہ دین۔ دونوں کا باقی رہنا دلیل ہے کہ بارہویں امام علیہ السلام زندہ ہیں جن کے دم سے دین اور دنیا دونوں قائم ہیں۔


بارہ اماموں کی عمریں

حضرت امام علی علیہ السلام :

آپ تیرہ رجب ۳۰ ھ؁ عام الفیل یعنی ہجرت سے تیس سال پہلے شہر مکہ میں جمعہ کے دن خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے اور اکیس رمضان ۴۰ ھ؁ کو شہید ہوئے۔ آپ کی عمر ترسٹھ برس کی تھی۔ آپ کی قبر مطہر نجف میں ہے۔

حضرت امام حسن علیہ السلام :

آپ پندرہ رمضان ھ ۳ ؁ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور اٹھائیس صفر ۵۰ ؁ میں شید ہوئے ۔آپ جنت البقیع مدینہ میں دفن ہوئے،

حضرت امام حسین علیہ السلام :

آپ کی عمر سینتالیس برس تھی۔ آپ تین شعبان ۴ ھ؁ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور دس محرم ۲۱ ھ؁ میں شہید ہوئے۔ آپ کی عمر ستاون برس تھی۔ آپ کا روضہ کربلا میں ہے

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام :

آپ پندرہ جمادی الاول ۳۸ ھ؁ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور ۲۵ ھ؁ محرم ھ ۹۵ ؁ کو شہید ہوئے۔ آپ کی عمر ستاون برس تھی۔ آپ کی قبر جنت البقیع مدینہ میں ہے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام :

آپ پہلی ۵۷ ھ؁ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور سات الحجہ ۱۱۴ ھ؁ کو شہید ہوئے۔آپ کی عمر ستاون برس تھی۔ آپ بھی جنت البقیع مدینہ منورہ میں دفن ہوئے۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام :

آپ ۱۷ ربیع الاول ۸۳ ھ؁ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور ۱۵ شوال ۱۴۸ ھ؁ میں شہید ہوئے۔ آپ کی عمر پینسٹھ برس تھی۔ آپ کی قبر بھی جنت البقیع مدینہ منورہ میں ہے۔

حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام :

آپ سات صفر ۱۲۸ ھ؁ کو ابوا میں پیدا ہوئے اور ۲۵ رجب ۱۸۳ ھ؁ کو شہید ہوئے۔ آپ کی عمر ۵۵ برس تھی۔ آپ کا روضہ کاظمین میں ہے۔

حضرت امام علی رضا علیہ السلام :

آپ گیارہ ذیقعدہ ۱۵۳ ھ؁ کو مدینہ منورہ میں بیدا ہوئے اور ۲۳ ذیقعدہ ۲۰۳ ھ؁ کو شہید ہوئے۔ آپ کی عمر ۵۰ برس تھی۔ آپ کا روضہ مشہد میں ہے۔

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام :

آپ دس رجب ۱۹۵ ھ؁ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور ۲۹ ذیقعدہ ۲۲۰ ھ؁ کو شہید ہوئے۔ آپ کی عمر ۲۵ برس تھی۔ کاظمین میں آپ کی قبر مطہر ہے۔

حضرت امام علی نقی علیہ السلام :

آپ پانچ رجب ۲۱۴ ھ؁ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور تین رجب ۲۵۴ ھ؁ میں شہید ہوئے۔ آپ کی عمر چالیس برس تھی۔ آپ سامرہ میں دفن ہوئے۔

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام :

آپ دس ربیع الشانی ۲۳۲ ھ؁ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور آٹھ ربیع الاول ۲۶۰ ھ؁ کو شہید ہوئے۔ آپ کی عمر ۲۸ برس تھی۔ آپ کا روضہ بھی سامرہ میں ہے۔

حضرت امام مہدی آخرالزماں علیہ السلام :

آپ پندرہ شعبان ۲۵۶ ھ؁ کو شہر سامرہ میں پیدا ہوئے اور آج تک بحکم خدا زندہ ہیں اور پردہ غیب میں ہیں جب حکم خدا ہوگا تو ظاہر ہوں گے۔


چودہ معصومؐ

۱ ۔ ہمارے رسولؐ ۔ آپ کے باپ جناب عبدؐ اللہ ۔ دادا جناب عبد المطلبؐ اور ماں جناب آمنہؐ خاتون تھیں۔ آپ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے اور مدینہ طیبہ میں انتقال فرمایا۔

۲ ۔ جناب فاطمہؐ کے باپ ہمارے رسول حضرت محمد مصطفےٰ اور ماں جناب خدیجہؐ تھیں۔ آپ کی شادی حضرت علیؐ سے ہوئی ۔ مکہ میں پیدا ہوئیں اور مدینہ میں شہادت پائی۔

۳ ۔ حضرت علیؐ کے باپ جناب ابوطالبؐ ۔ دادا جناب عبد المطلبؐ اور ماں جناب فاطمہؐ بنت اسد تھیں۔ آپ خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے اور مسجد کوفہ میں شہید ہوئے

۴ ۔ امام حسنؐ کے والد حضرت علیؐ اور والدہ فاطمہؐ تھیں۔ مدینہ ہی میں پیدا ہوئے اور مدینہ ہی میں شہید ہوئے۔

۵ ۔ امام حسینؐ کے والد حضرت علیؐ اور والدہ فاطمہؐ تھیں۔ مدینہ میں پیدا ہوئے اور کربلا میں شہید ہوئے۔

۶ ۔ امام زین العابدینؐ کا نام علیؐ تھا ۔ آپ امام حسینؐ کے بڑے فرزند تھے۔ جناب شہر بانو آپ کی ماں تھیں۔ مدینہ ہی میں پیدا ہوئے اور مدینہ ہی میں شہید ہوئے۔

۷ ۔ امام محمد باقر کا نام محمدؐ تھا۔ امام زین العابدینؐ آپ کے والد ماجد تھے اور امام حسنؐ کی بیٹی جناب فاطمہ آپ کی ماں تھیں۔ مدینہ میں پیدا ہوئے اور مدینہ ہی میں شہید ہوئے۔

۸ ۔ امام جعفر صادق ؐ کا نام جعفرؐ ہے باپ امام محمد باقرؐ تھے۔ ماں کا نام امفروہ ہے۔ مدینہ میں پیدا ہوئے اور وہیں شہید ہوئے۔

۹ ۔ امام موسیٰ کاظمؐ کا نام موسیٰ ہے۔ باپ امام جعفر صادقؐ تھے اور ماں کا نام حمیدہ ہے۔ آپ ابواء میں پیدا ہوئے اور بغداد میں شہید ہوئے۔

۱۰ ۔ امام علی رضاؐ کا نام علیؐ ہے۔ آپ امام موسیٰ کاظمؐ کے بیٹے تھے۔ آپ کی ماں کا نام نجمہ تھا۔ مدینہ میں پیدا ہوئے اور خروسان میں شہید ہوئے۔

۱۱ ۔ امام محمد تقیؐ کا نام محمدؐ ہے۔ آپ کے باپ امام علی رضاؐ تھے ۔ ماں کا نام سبیکہ تھا۔ مدینہ میں پیدا ہوئے اور کاظمین میں شہید ہوئے۔

۱۲ ۔ امام علی نقیؐ کا نام علیؐ ہے۔ باپ امام محمد تقیؐ اور ماں سمانہ تھیں۔ آپ مدینہ میں پیدا ہوئے اور سامرہ میں شہید ہوئے۔

۱۳ ۔ امام حسن عسکریؐ کا نام حسنؐ ہے۔ آپ کی ماں کا نام حدیثہ تھا اور باپ امام علی نقیؐ ہیں۔ آپ مدینہ میں پیدا ہوئے اور سامرہ میں شہید ہوئے۔

۱۴ ۔ امام مہدیؐ کا نام محمدؐ ہے۔ آپ امام حسن عسکریؐ کے بیٹے تھے۔ ماں کا نام نرجس خاتون ہے۔ سامرہ میں پیدا ہوئے اور بحکم خدا زندہ ہیں۔ آپ کےالقاب مہدی ۔ امام زمانہ ۔ ولی عصر ۔ حجت اللہ ۔ صاحب العصر ۔ صاحب الزمان وغیرہ ہیں۔ آپ کو نام کے بجائے ان القاب سے پکارنا چاہئیے۔


نوابِ اربعہ

جب امام حسن عسکری علیہ السلام کا انتقال ہوا تو ہمارے امامؐ زمانہ کی عمر چار پانچ برس کی تھی لوگوں نے یہ طے کر لیا کہ آپ کو کسی صورت سے زندہ نہ رہنے دیا جائے ، آپ حکم خدا سے لوگوں کی نظروں سے غائب ہو گئے اور تقریباً ۷۰ برس تک اس غیبت صغریٰ کا سلسلہ جاری رہا۔ اس زمانہ میں آپ کے کچھ مخصوص اصحاب تھے جن کو آپ نے اپنا پتہ دیا تھا انھیں سے ملاقات کرتے تھے اور انھیں کے ذریعہ اپنے شیعوں تک اپنے پیغام بھیجا کرتے تھے۔ انھیں اصحاب کو نواب اربعہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ چار حضرات تھے اور چاروں کی قبریں بغداد میں ہیں جہاں لوگ برابر ان کی زیارت کے لئے جاتے رہتے ہیں۔ ان میں سے پہلے نائب جناب عثمان بن سعید تھے جو امام کی طرف سے مال کے وکیل تھے اور خمس کا سہم امام آپ ہی کو دیا جاتا تھا۔

دوسرے نائب آپ ہی کے فرزند محمد بن عثمان تھے جنھیں حضرت امام زمانہؐ نے ان کے باپ کے مرنے پر تعزیت کا خط لکھا تھا اور اس میں ان کے نائب ہونے کا ذکر فرمایا تھا۔

تیسرے نائب جناب حسین بن روح تھےجن کے ذریعہ سے آج بھی ۱۵/ شعبان کی صبح کو امامؐ کی خدمت میں عریضے بھیجے جاتے ہیں۔ آپ کا ایک مشہور واقعہ یہ ہے کہ بغداد کا رہنے والا ایک شخص بخارا گیا ہوا تھا جب وہاں سے آنے لگا تو وہاں کے ایک آدمی نے سونے کے دس پتھر یہ کہہ کردئیے کہ انھیں حسین بن روح کے حوالہ کر دینا ، یہ شخص لے کر چلا تو راستے میں ایک پتھر گم ہو گیا۔ بغداد میں آ کر سامان دیکھا تو اس کے گم ہو جانے کا پتہ چلا فوراً اسی قسم کا ایک پتھر بازار سے خرید کر سب کو جناب حسین بن روح کی خدمت میں لایا۔ آپ نے ان میں سے نو لئے اور ایک واپس کر دیا اس نے تعجب سے پوچھا کہ یہ کیوں واپس کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ پتھر جو تجھ سے گر گیا تھا وہ میرے پاس پہونچ گیا ہے اور یہ تو نے بازار سے خریدا ہے۔

آپ کے بعد چوتھے نائب علی ابن محمد سمری مقرر ہوئے اور ان کے انتقال کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو گیا۔ آپ کا انتقال ۱۵/ شعبان ۳۲۹ ھ؁ کو ہوا جس کے بعد امام نے یہ اعلان کر دیا کہ اب غیبت کبریٰ کا آغاز ہو رہا ہے اس میں جو نئے مسائل پیش آئیں۔ ان میں فقاء کی طرف رجوع کیا جائےگا۔ ان کا حکم ہمارا حکم ہوگا اور ہمارا حکم خدا کا حکم ہے۔


رجعت

جب خدا کی مرضی ہوگی تو امام آخر الزماں علیہ السلام ظہور فرمائیں گے اسی وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتر کر امام علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھیں گے اور مدد کریں گے۔ امامؐ کے ظہور کے بعد دنیا میں صرف ایک دین رہ جائگا۔ اسلام کے منکر یا ایمان لے آئیں گے یا امام سے لڑ کر قتل ہو جائیں گے۔ زمین پر مشرق سے مغرب تک ، شمال سے جنوب تک صرف اللہ کے نام کا سکہ چلےگا۔ ایسا وقت آنا اس لئیے ضروری ہے کہ ابھی تک زمین پر خدا کے دشمنوں کا قبضہ اور غلبہ رہا ہے۔ ایک دن وہ بھی آنا چاہئیے جب ساری زمین پر صرف خدا کے ماننے والے ہوں تاکہ خدا اور دشمان خدا کے قبضہ اور غلبہ میں نہ فرق پیدا ہو جائے کہ خدا کا قبضہ مکمل ہو اور صرف اسی کا دین باقی رہ جائے۔

امام آخر الزماں علیہ السلام کی زندگی میں کچھ خالص مومن اور کچھ پکے کافر اور چند سخت ترین دشمنان نبی و آل نبیؐ جو مر چکےہیں وہ دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اسے دوبارہ زندہ کئیے جانے کا نام رجعت ہے۔ غرض کہ امامؐ کے زمانہ میں جن جن کو خدا چاہے گا زندہ کرے گا تاکہ نیک اعمال والے اپنے اعمال کا تھوڑا پیل اسی دنیا میں دیکھ کر خوش ہو لیں اور بد اعمال اپنے کرتوتوں کی تھوڑی سی سزا دنیا میں بھی بھگت لیں۔

احادیث میں بیان ہوا ہے کہ معصومین علیہم السلام ابھی دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے اور طولانی حکومتیں کریں گے سب سے پہلے امام حسینؐ تشریف لائیں گے اور امام زمانہؐ کی وفات کے بعد آپ کی تجہیز و تکفین کریں گے اس لیے کہ امام کو صرف امام ہی غسل و کفن دے سکتا ہے۔

رجعت کے بارے میں خدا کی قدرت پر ایمان رکھنے والے کو شک شبہ نہیں ہو سکتا جو خدا پہاڑ سے جناب صالح علیہ السلام کے لیے اونٹنی مع بچہ کے پیدا کر سکتا ہے جس کی قدرت سے جناب موسیٰ علیہ السلام کا عصا اژدھا بن کر دوبارہ عصا بن سکتا ہے جس کی قدرت دکھانے کے لیے جناب عیسیٰ علیہ السلام مردوں کو زندہ کر دیتے ہیں وہ اس دنیا میں چند انسانوں کو رجعت میں یقیناً دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے۔

تاریخ اسلام بتاتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد تین خاندان دنیا کے سامنے آئے :

۱ ۔ بنی امیہ ۲ ۔ بنی عباس ۳ ۔ بن ہاشم

بنی امیہ اور بنی عباس اپنی بدترین برائیوں کے باوجود دنیا میں حکومت کر گئے، اور بنی ہاشم اپنی بہترین اچھائیوں کے باوجود سخت ترین تکلیف اور مصیبت اُٹھا کر دنیا سے سدھارے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ قیامت آنے سے پہلے ایک زمانہ ایساآئے جو نبیؐ اور آل نبی کا دور حکومت ہو۔ اور ان کی سلطنت کے حدود ساری دنیا میں پھیلے ہوں اگر رجعت نہیں ہوتی ہے تو دلوں میں یہ شبہ باقی رہ جائے گا کہ دنیا میں نیکی آدمی کو مصیبت میں ڈالتی ہے اور برائی حکومت دلاتی ہے۔ اسی شبہ کو دور کرنے کے لیے خدا نے معصومین علیہم السلام اور ان کے زمانہ کے لوگوں کی رجعت رکھی ہے۔

اگر رجعت نہ ہو اور معصومین علیہم السلام کو حکومت کرنے کا موقع نہ ملے تو قیامت میں اگر چہ انکو ثواب مل جائے گا ان کے دشمن عذاب کا مزہ چکھیں گے دشمنوں سے خدا معصومین علیہم السلام کو بدلہ بھی دلا دیگا لیکن آخرت میں خدا کی حکومت ہوگی بندے حکمت نہیں کریںگے دنیا میں خدا نے نبیؐ اور آل نبی علیہم السلام کو حکومت کرنے کا جو حق دیا ہے اس کا عوض چونکہ آخرت میں بھی ممکن نہیں ہے اس لیے دنیا میں دوبارہ ہیدا کیے جائیں گے۔ تاکہ اپنا حق حکومت پا جائیں۔


قیامت

قیامت کا دوسرا نام معاد ہے۔ قیامت وہ دن ہے جب انسان دوبارہ زندہ کئے جائیں گے تاکہ ان کے اچھے برے کاموں کا حساب لیا جائے اور اعمال کے مطابق ان کو جنت یا دوزخ میں جگہ دی جائے۔

مردوں کے زندہ کرنے پر تعجب نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ جو خدا اپنی قدرت سے بغیر کسی چیز کے سب کچھ پیدا کر سکتا ہے وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ تمام انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر دے۔

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ جناب ابراہیمؐ ایک دریا کے کنارے سے گزرے۔ آپ نے دیکھا کہ ایک مردار ہے جس کا آدھا حصہ دریا کے باہر ہے اور آدھا دریا کے اندر۔ آپ کو یہ دیکھ کر سخت تعجب ہوا اور آپ نے اللہ کی بارگاہ میں دعا کی۔ پروردگار مجھے یہ دکھا دے کہ ایسے مردوں کو کیسے زندہ کرےگا۔ حکم خدا ہوا ابراہیمؐ ! چار جانورں کو پکڑ لو اور انھیں اپنے سے مانوس بناؤ اس کے بعد انھیں ذبح کر کے ان کے ٹکڑے الگ الگ پہاڑوں پر رکھ دو اور سب کی منقار (چونچ) اپنے ہاتھ میں رکھو۔ اس کے بعد سب کو الگ الگ آواز دو۔ یہ سارے ٹکڑے دوڑ کر تمہارے پاس آ جائیںگے۔

جناب ابراہیمؐ نے ایسا ہی کیا اور آپ نے جو آواز دی تو ہر جانور کے ٹکڑے آنے لگے۔ آپ نے ہر ایک کی چونچ اس کے جسم میں لگا دی اور ہر جانور پرواز کر گیا۔

اس واقعہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خدا وند عالم مرنے کے بعد بلکہ قیمہ قیمہ ہونے کے بعد بھی زندہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اسکی طاقت میں شک کرنا قرآن کریم پر ایمان نہ لانے اور خدا اور رسولؐ کی بات کا انکار کرنے کے برابر ہے۔


دنیا کا آخری انجام

جس طرح پہلے یہ دنیا نہ تھی اور بعد میں پیدا ہو گئی اسی طرح ایک دن ایسا بھی آئےگا جب یہ دنیا رہےگی اور قیامت آ جائےگی۔ قیامت اس طرح آئیگی کہ خدا کے حکم سے حضرت اسرافیل ایک صور لےکر زمین پر آئیںگے صور کے اوپر کے سرے میں دو گوشے ہوںگے ایک گوشہ کا رخ آسمان کی طرف ہوگا اور دوسرے کا رخ زمین کی چعف ہوگا پہلے زمین کی طرف والے گوشہ میں صور پھونکیںگے، اس وقت زمین والے سے سب آسمان والے مر جائیںگے اور سوائے حضرت اسرافیل کے کوئی زندہ نہ رہےگا۔ پھر حضرت اسرافیل بھی حکم خدا سے مر جائیںگے اور خدائے عزیز کے علاوہ اور کوئی باقی نہ رہ جائےگا۔ اس کے بعد جب خدا کی مرضی ہوگی تو پہلے آسمان والوں کو اور پھر زمین والوں کو زندہ کیا جائگا اور سب کا حساب و کتاب ہوگا اور اپنے اپنے اعمال کے مطابق لوگ جنت یا جہنم میں جائیںگے۔

قیامت کی علامتیں : قیامت آنے سے پہلے کچھ باتیں ظاہر ہونگی جن سے پتہ چل جائےگا کہ قیامت آنے والی ہے۔

۱ ۔ یاجوج ماجوج :۔ یہ بڑی تباہی مچاتے تھے اور خونریزی کیا کرتے تھے۔ سکندر ذوالقرنین نے ایک دیوار بنا دی تھی جس کی وجہ سے یاجوج ماجوج کی مصیبتوں سے دنیا نجات پا گئی تھی۔ جب قیامت قریب ہوگی تو یہ دیوار گر جائےگی اور یاجوج ماجوج نکل آئیںگے اور بڑی تباہی پھیلائیںگے۔

۲ ۔ قیامت آتے وقت سورج پچھم سے نکلےگا۔

۳ ۔ قیامت آنے سے پہلے ساری دنیا میں دھواں پھیل جائےگا۔


موت کے بعد

برزخ :۔

ہر آدمی کے مرنے کے بعد سے لے کر قیامت تک کی مدت کو برزخ کہتے ہیں۔ برزخ میں صحیح عقیدے والے آرام سے اور برے عقیدے والے تکلیف سے رہتے ہیں۔

قبر میں سوال و جواب :۔

مرنے کے بعد قبر میں دو فرشتے آتے ہیں جو مردہ کو زندہ کر کے اس سے سوال کرتے ہیں۔ اچھے اعمال والوں کے پاس آنے والے فرشتوں کے نام مبشر و بشیر ہیں اور برے اعمال والوں کے پاس آنے والے فرشتوں کے نام منکر و نکیر ہیں۔

فرشتوں کے سوال جواب

تیرا خدا کون ہے ؟ اللہ

تیرا دین کیا ہے ؟ اسلام

تیرے پیغمبر کون ہیں ؟ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

تیرا امام کون ہیں ؟ حضرت علی علیہ السلام اور ان کے بعد گیارہ امامؐ

تیری کتاب کیا ہے ؟ قرآن مجید

تیرا قبلہ کیا ہے ؟ کعبہ محترم

جو شخص ان سوالوں کا جواب ٹھیک دیتا ہے اس کی قبر کو فرشتے جنت کا ایک باغ بنا دیتے ہیں اور جس کے جواب ٹھیک نہیں ہوتے اس کی قبر کو دوزخ کی آگ سے بھر دیتے ہیں۔

نامئہ اعمال :۔

خدا کی طرف سے ہر شخص پر دو فرشتے مقرر ہیں۔ ایک اچھے اعمال لکھتا ہے۔ دوسرا برے اعمال لکھتا ہے۔ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کا اعمالنامہ دیا جائےگا۔

میزان :۔

قیامت کے دن ہر شخص کے اعمال انصاف کی ترازو میں تولے جائیںگے۔ اسی ترازو کو میزان کہتے ہیں۔

صراط :۔

ہر شخص کو قیامت کے دن ایک پل پر سے گزرنا ہوگا جو بال سے زیادہ باریک ، تلوار کی دھار سے زیادہ تیز اور آگ سے زیادہ گرم ہوگا۔ صحیح ایمان اور اچھے اعمال والے اس پر سے گزر جائیںگے اور جن کا ایمان و عمل خراب ہوگا وہ دقزخ میں گر پڑیںگے۔

شفاعت :۔

قیامت کے دن ہمارے نبیؐ اور امام گنہگار مومنین کو شفاعت کر کے بجشوائیں گے اور خدا ان کی شفاعت کو قبول کرےگا۔


برزخ

ہر انسان کے مرنے سے قیامت تک کے درمیانی فاصلے کا نام برزخ ہے۔ جس کی موت جس قدر قیامت سے قریب ہوگی اس کا برزخ اتنا ہی مختصر ہوگا اور جس قدر دور ہوگی اسی قدر برزخ بھی طولانی ہوگا۔

برزخ کی ضرورت اس لئے ہے کہ انسان اس دنیا میں دو قسم کے عمل انجام دیتا ہے ایک ظاہری عمل جسے کردار کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور ایک باطنی عمل جسے اعتقاد سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

قیامت کا دن کردار کے مکمل حساب کے لئے معین ہے اور روح کے اعمال یعنی عقائد کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس لئے ضرورت تھی کہ جسم کے روح سے الگ ہونے کے بعد ایک جگہ مقرر کر دی جائے جہاں روح کو اس کے عقائد کا اچھا یا برا بدلہ دیا جا سکے بس اسی عالم کا نام برزخ ہے۔ برزخ میں ہر شخص کو اس کے عقائد کے اعتبار سے اچھی یا بڑی جگہ دی جاتی ہے۔

برزخ میں روحیں اپنے جسم کے بجائے ایک دوسرے جسم میں رہتی ہیں جس طرح ہم جب بستر پر سوتے ہوتے ہیں اور خواب میں کسی جگہ جاتے ہیں کھاتے پیتے اور دوڑتے بھاگتے ہیں۔ خواب میں ہم کو جو اپنا جسم نظر آتا ہے برزخ خدا ہر انسان کو اسی سے ملتا جلتا ایک جسم دےگا جس کو جسم مثالی کہتے ہیں۔

حدیثوں میں آیا ہے کہ عالم برزخ میں مومنین کی روحیں وادی السلام میں رہتی ہیں اور کافروں ، منافقون اور اہلبیتؐ کے دشمنوں کی روحیں وادی برہوت میں رہتی ہیں۔

مرنے کے بعد انبیاء ، ائمہ اور نابالغ ، کم عقل اور دیوانے لوگوں کے علاوہ فشار قبر بھی ہوتا ہے۔ جمعہ کی رات یا دن کو مرنے والا یا جوار ائمہؐ میں دفن ہونے والا فشار قبر سے محفوظ ہوتا ہے۔ فشار کا مطلب یہ ہے کہ خدا سے سرکشی کرنے والوں یا اپنے اہل و عیال یا مومنین سے سختی کرنے والوں کو زمین دباتی ہے۔

قیامت کے دن گناہگار مومنین کی شفاعت معصومین فرمائیںگے۔ لیکن برزخ میں کوئی شفاعت نہ ہوگی لہذا برزخ کے لئے ہر مومن کو خود اپنے اوپر بھروسہ کرنا پڑےگا۔ مرنے والے کے اعزا و احباب کا فریضہ ہے کہ وہ مرنے والے کے واجبات کو ادا کریں اسکے ذمہ جو حقوق خدا یا بندوں کے باقی ہوں انھیں بھی ادا کریں ، اسکے علاوہ ایصال ثواب کے لئے اعمال خیر بھی کریں تاکہ مومن کا برزخ آسانی سے گزر جائے۔

جو خدا کچھ نہ ہونے پر ساری دنیا کو پیدا کر سکتا ہے وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ بھی کر سکتا ہے اور دنیا کے ختم ہونے کے بعد اسے دوبارہ پیدا بھی کر سکتا ہے۔

وہ خدا اس پر بھی قادر ہے کہ جن مرنے والوں کی لاشیں زمین پر پڑی رہتی ہیں یا جلا دی جاتی ہیں یا دریا میں ڈال دی جاتی ہیں یا جن لاشوں کو چیل کوے یا درندے کھا جاتے ہیں ان سب کی روحوں کو بھی برزخ میں رکھے اگر چہ ان کی تکلیف یا راحت ہم کو نظر نہیں آتی۔

ایک بار ایک کافر کی کھوپڑی ایک شخص نے پانچویں امامؐ کے سامنے پیش کی اور پوچھا کہ یہ کھوپڑی ٹھنڈی ہے اس کو عذاب کہاں دیا جا رہا ہے۔ امامؐ نے چقماق کے پتھر منگائے اور پوچھنے والے سے کہا کہ دیکھو یہ ٹھنڈے ہیں یا نہیں اُسنے چھو کر کہا کہ ٹھنڈے ہیں۔ امامؐ نے فرمایا کہ ان کو ایک دوسرے سے رگڑو۔ رگڑتے ہی پتھر سے چنگاریاں نکلنے لگیں۔ امامؐ نے فرمایا جو خدا اس ٹھنڈے پتھر کے اندر آگ رکھ سکتا ہے وہ اس ٹھنڈی کھوپڑی کو بھی آگ کی سزا دے سکتا ہے۔ وہ شخص جواب سن کر امامؐ کو دعا دیتا ہوا چلا گیا۔


عمل اور حساب

اللہ نے بندوں کو عمل کا موقع صرف دنیا میں دیا ہے۔ آخرت میں کسی کو عمل کا موقع نہیں ملےگا۔ جو لوگ اس دنیا میں نماز روزہ نہیں کرتے۔ زکوۃ خمس نہیں نکالتے۔ حج نہیں کرتے اور مر جاتے ہیں۔ وہ آخرت میں بہت پچھتائیں گے اور سوا افسوس کرنے کے کچھ ان کے ہاتھ نہیں لگےگا۔ آخرت صرف جزا اور سزا کی جگہ ہے عمل کی جگہ نہیں ہے۔ عمل کرنے کے لئے صرف دنیا ہے۔ یہاں جزا اور سزا نہیں ملتی۔ اگر دنیا میں اچھے کامو٘ں کی جزا اور برے کاموں کی سزا مل جاتی ہوتی تو نبی ، امام اور اللہ کے نیک بندے مصیبتوں میں نہ رہتے اور نہ نمرود ، فرعون ، یزید جیسے برے لوگ راحت و آرام میں رہتے۔

خیرات کرنے سے بلائیں خرور دور ہوتی ہیں لیکن خیرات کا ثواب آخرت میں ملےگا۔ اسی طرح گناہوں سے بلائیں نازل ہوتی ہیں مگر گناہوں کی سزا آخرت میں ملنے والی ہے۔

اللہ نے دو دو ملک ہر انسان پر معین کئے ہیں جو اس کے ہر کام کو لکھتے رہتے ہیں۔ حساب کے دن ملائکہ کے لکھے ہوئے اعمال نامے انسان کو دئے جائیں گے جس کے بعد کوئی شخص اپنے گناہوں سے انکار نہ کر سکےگا۔ اعمال نامہ کے علاوہ ہمارے ہاتھ ، پیر ، آنکھ ، کان سب اعضا بھی ہمارے ان تمام گناہوں کی گواہی دیںگے جو گناہ ہم نے ان اعضا سے کئے ہوںگے۔

اللہ نے جنت یا دوزخ میں جگہ دینے سے پہلے حساب کتاب اسلئے رکھا ہے کہ کوئی شخص اللہ پر اعراض نہ کر سکے۔ اگر خدا پیدا کرتے ہی ہر انسان کو جنت یا دوزخ میں بھیج دیتا تو لوگ اعتراض کرتے کہ بغیر گناہ کے دوزخ میں کیوں ڈالا اور بغیر عبادت کے جنت میں جگہ کیوں دی۔ اعمال کے بعد کوئی شخص خدا پر اعتراض نہ کر سکےگا۔


تاریخ

۱ ۔ شخصیتیں

۲ ۔ واقعات

۳ ۔ مقامات

ہمارے ہادی

چودہ معصوم ہمارے ہادی اور رہبر ہیں جنھوں نے بڑی بڑی قربانیاں دے کر دین کو پھیلایا اور بچایا ہے۔ اگر یہ نہ ہوتے تو آج زمانہ میں دین کا اجالا نہ ہوتا۔ ان کی محبت اور تعظیم ہم سب پر واجب ہے اور ان کے نقش قدم پر چلنا ہم سب کی زندگی کا مقصد ہے۔ ان کی زندگی ہمارے لئے نمونہ عمل ہے۔ ان کی زندگی کے حالات سے واقف اور باخبر ہونا ضروری ہے اس سبق میں ہر معصوم کی زندگی چند واقعات لکھے جاتے ہیں۔

ہمارے رسولؐ :

نبوت کے اعلان سے پہلے بھی تمام لوگ آپ سے محبت کرتے تھے۔ ہر شخص آپ پر بھروسہ کرتا تھا۔عرب جھگڑالو مزاج رکھتے تھے۔ بات بات پر لڑ پڑتے تھے۔ معمولی معمولی باتوں پر چالیس سال جنگ کرتے تھے۔ ہر قبیلہ ہر وقت دوسرےقبیلہ کو نیچا دکھانے کی فکر میں رہتا تھا۔ کوئی قبیلہ دوسرے قبیلہ کی عزت کو بڑھتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ مکہ میں جب ہر شخص قبیلہ اور خاندان میں بٹا ہوا تھا اُس وقت بھی ہمارے حضورؐ پورے شہر کی آنکھ کا تارا تھے اور آپ سے تمام قبیلوں کے آدمی یکساں محبت کرتے تھے لوگ آپ کو صادق و امین ، سچا اور امانتدار کہہ کر یاد کرتے تھے۔ خانہ کعبہ کی پرانی عمارت گرا کر نئی بنائی جا رہی تھی۔ ہر قبیلہ کے آدمی اس تعمیر میں حصہ لے رہے تھے اور قبیلہ مطمئین تھا کہ خانہ کعبہ کی عمارت بنانے کا شرف ہم سب کو ملا۔

حجر اسود ایک پتھر ہے جسے بحکم خدا جبرئیلؐ آسمان سے لائے تھے اور وہ خانہ کعبہ کی ایک دیوار میں نصب تھا۔ کعبہ کی نئی عمارت بننے کے بعد جب حجر اسود دوبارہ اس کی جگہ پر نصب کرنے کا وقت آیا تو ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ یہ شرف اور عزت ہم کو مل جائے۔

چناچہ اس سوال پر کہ حجر اسود کون نصب کرے لوگوں کی تلواریں نکل آئیں۔ تھوڑی دیر پہلے جو لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر کام کر رہے تھے وہ اب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے۔ صورت حال بےحد خطرناک ہو گئی اور ہر آن خطرہ تھا کہ جنگ کی چنگاری اڑے اور سارے مکہ کو جلا کر خاک کر دے۔

کچھ سمجھدار لوگوں نے رائے دی کہ آج حجراسود کو نصب نہ کیا جائے بلکہ کل پھر ہم لوگ یہاں جمع ہوں اور جو شخص سب سے پہلے ہماری طرف آتا دکھائی دے اس کو ہم اپنے جھگڑے کا حکم مان لیں اور جو فیصلہ وہ کر دے اسے سب منظور کر لیں۔ یہ رائے پسند کی گئی رات بھر کے لئے تلواریں نیام میں چلی گئیں۔ دوسرے سب لوگ وعدہ کے مطابق جمع ہو گئے۔ دور سے ایک شخص آتا ہوا دکھائی دیا سب کی نظریں آنے والے پر جمی ہوئی تھیں۔ قریب آنے پر معلوم ہوا کہ آنے والے ہمارے نبیؐ تھے۔ آپ کو دیکھ کر مجمع خوشی سے جھوم اٹھا ۔ سب نے یک زبان ہو کر کہا آپ سے بہتر فیصلہ کرنے والا نہیں مل سکتا۔ حضورؐ نے فیصلہ بھی ایسا فرمایا کہ سب کے دل باغ باغ ہو گئے۔ آپ نے ایک چادر منگائی چادر میں حجراسود رکھا اور ہر قبیلہ کے ایک ایک آدمی کو بلا کر کہا کہ سب مل کر چادر اٹھاؤ۔ سب نے مل کر چادر کو اٹھایا ۔ آخر میں حضور نے چادر سے اٹھا کر حجراسود کو اس کی جگہ پر رکھ دیا سارا مجمع آپ کے گن گاتا ہوا اپنے گھروں کو واپس ہو گیا۔

جناب فاطمہ زہراؐ :

آپ عورتوں کے لئے نمونہ عمل بن کر آئی تھیں جناب فضہ آپ کی کنیز تھیں مگر ہماری شہزادی نے ان کو گھر کا برابر کا درجہ دیا تھا۔ ایک دن خود کام کرتی تھیں اور ایک دن فضہ سے کام لیتیں تھیں۔ اہلبیتؐ کے گھر میں غلام اور آقا کنیز اور مالکہ میں فرق نہیں تھا۔ آپ کے در سے کبھی کوئی سائل خالی ہاتھ واپس نہیں ہوا۔ شادی کے بعد جب آپ باپ کے گھر سے رخصت ہو کر شوہر کے گھر آئیں تو دوسرے دن صبح کو حضورؐ اپنی بیٹی سے ملنے کے لئے حضرت علیؐ کے گھر آئے۔ حضورؐ نے دیکھا کہ جناب فاطمہؐ کے جسم پر شادی کے جوڑے کے بجائے پرانا لباس ہے۔ دریافت فرمایا بیٹی یہ کیا ہے آپ نے فرمایا کہ ایک غریب عورت لباس مانگنے آئی میں نے اسے دیدیا حضور نے فرمایا کہ پرانا لباس کیوں نہ دیدیا۔ عرض کی شادی کا جوڑا مجھے پسند تھا اور خدا نے فرمایا ہے کہ راہ خدا میں ہمیشہ اپنی پسندیدہ اور محبوب چیز دینا چاہئے۔ اس لئے پرانا لباس میں نے پہن لیا اور شادی کے کپڑے راہ خدا میں دیدئے۔

ایک بار حضورؐ بیٹی سے ملنے آئے ۔ آپ کے ساتھ آپ کے نابینا صحابی عبداللہ ابن مکتوم بھی تھے۔ آپ نے گھر میں آنے کی اجازت طلب کی تو جناب فاطمہ زہراؐ نے کہا کہ بابا پہلے میں پردہ کر لوں تب تشریف لائین کیو نکہ آپ کے ساتھ آپ کے صحابی بھی ہیں۔ حضورؐ نے فرمایا مگر وہ تو نابینا ہیں۔ شہزادیؐ نے عرض کی مگر میں تو ان کو دیکھ سکتی ہوں۔ اس جواب پر حضورؐ نے خوش ہو کر شاہزادیؐ کو دعائیں دیں اور فرمایا میری بیٹی میری نبوت کا ایک حصہ ہے۔

حضرت علیؐ :

آپ بہت بہادر تھے۔ بڑے بڑے سورما آپ کا نام سن کر لرز جاتے تھے۔ آپ نے کئی من وزنی دروازہ جنگ خیبر میں اکھاڑ کر اپنے ہاتھوں پر اٹھا لیا تھا۔ آپ کبھی خوف زدہ نہیں ہوتے تھے۔ مشکلوں میں گھبرانا آپ جانتے ہی نہ تھے۔ ہر جنگ آپ کے ہاتھ پر فتح ہوئی تھی۔

بہادر وہی ہوتا ہے جو گھبراتا نہیں۔ دنیا میں ایسے بہت سے بہادر گزرے ہیں جنھوں نے بڑے بڑے پہلوانوں کو پچھاڑ دیا ہے۔ مگر ایسے بہادر بہت کم گزرے ہیں جو اپنے نفس کو پچھاڑ دیتے ہوں اپنی خواہشوں کو زیر کر لیتے ہوں۔ اپنے تمناؤں سے جنگ کر لیتے ہوں۔ دشمن سے تلوار لے کر لڑنا چھوٹا جہاد ہے اور دل کی خواہشوں سے جنگ کرنا جہاد اکبر ہے آؤ تم کو حضرت علیؐ کی زندگی کا ایک ایسا واقعہ سنائیں جہاں آپ نے جہاد اکبر اور جہاد اصغر دونوں ایک ساتھ کئے۔

خندق کی جنگ تیسری اسلامی لڑائی ہے۔ اسلام اور نبی کا دشمن مکہ سے چل کر مدینہ کی سرحد تک آ چکا ہے۔ مسلمانوں نے میدان جنگ میں اپنی حفاظت کے لئے خندق کھودی ہے۔ خندق کی وجہ سے دشمن مدینہ میں داخل نہیں ہو سکا۔ خندق کے دونوں طرف دونوں فوجیں آمنے سامنے پڑاؤ ڈالے پڑی ہیں۔ مکہ کا کافر لشکر اپنے ساتھ عرب کا سب سے مشہور پہلوان لایا ہے۔ عربوں کے خیال میں عمرو بن عبدود سے بڑا پہلوان اور بہادر دنیا میں کوئی نہ تھا۔ عمرو کے مقابلہ پر آنے کی ہمت سوائے حضرت علیؐ کے کسی نے نہیں کی مکہ والے اپنے پہلوان کی فتح پر مکمل یقین رکھتے تھے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد بھی اس یقین میں انکے ساتھ شریک تھی مگر دونوں لشکر حیرت میں پڑ گئے جب انھوں نے عمرو کے سینہ پر حضرت علیؐ کو بیٹھا دیکھا۔

حضرت علیؐ عمرو کو قتل کرنا چاہتے تھے کہ عمرو نے اپنی ہار سے کھیاکر حضرت پر تھوک دیا۔ اس کی نازیبا حرکت کے بعد فوراً ہی آپ اس کے سینہ سے اُتر آئے۔ جب لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ ایسے زبردست دشمن پر قابو پا کر اس کو آپ نے کیوں چھوڑ دیا تھا تو آپ نے فرمایا کہ اس کے تھوکنے پر مجھے غصۃ آ گیا تھا۔ میں اس دشمن خدا کو صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے قتل کرنا چاہتا تھا۔ اگر غصہ میں قتل کر دیتا تو جہاد میں وہ خلوص نہ وہ جاتا لہذا میں عمرو کے سینے سے اتر کر پہلے اپنے غصہ سے لڑا اس کے بعد عمرو کو پھر پچھاڑا اور اس کا سر قلم کیا۔ حضورؐ نے اس موقع پر ایک حدیث ارشاد فرمائی تھی کہ " خندق کے دن علیؐ کی تلوار کا ایک وار دونوں جہاں کی عبادت سے افضل ہے۔ "

امام حسنؐ :

آپ بڑے عبادت گزار بہادر اور حلیم تھے۔ آپ کی سخاوت اور خیرات مشہور ہے۔ دو مرتبہ آپ نے اپنے کل مال کا آدھا آدھا حصہ راہ خدا میں لٹا دیا۔ امیر شام آپ کے سخت دشمن تھے۔ آپ کی سخاوت کا شہرہ سن کر دل میں جلتے رہتے تھے۔ ایک بار امیر شام نے آپ کو خط میں زیادہ خیرات کرنے سے روکتے ہوئے لکھا۔ " فضول خرچی میں بھلائی نہیں ہے ۔" آپ نے جواب میں امیر شام کا جملہ الٹ دیا اور اس کو لکھا ۔ " خیرات فضول خرچی نہیں ہے۔"

آپ کا سخاوت کو دیکھ کر کسی نے آپ کو مشورہ دیا کہ خیرات و سخاوت کم کیجئے۔ آنے والے کسی سخت وقت کے لئے مال و دولت بچا کر رکھئے۔ آپ نے فرمایا تمہارا مشورہ غلط ہے کیوں کہ اب تک اللہ مجھے دیتا ہے میں اس کے بندوں کو دیتا ہوں اگر میں اپنی عادت بدل دوں اور خدا کے بندوں کو عطئے دینا بند کروں تو یہ بھی ممکن ہے کہ خدا بھی اپنی عادت بدلے اور مجھے رزق دینا بند کر دے۔

آپ نے مسلمانوں میں خونریزی بند کرنے کے لئے امیر شام سے صلح کر لی جبکہ آپ کے بہت سے جوشیلے ساتھیوں کو صلح ناپسند تھی مگر آپ نے فرمایا موجودہ حالت میں جنگ کرنا خودکشی ہے۔ ایمان کی حفاظت کے لئے اس وقت صلح کرنا ضروری ہے۔ آپ صلح پر آخر تک قائم رہے اور لوگوں کی مذمت اور ملامت کی کوئی پرواہ نہیں کی جو لوگوں کی تنقید سے ڈر کر راستہ بدل دے وہ بزول ہے۔ بہادر وہی ہے جو حق کا راستہ نہ چھوڑے اور لوگوں کی رائے سے ڈر کر سچ سے منہ نہ موڑے۔

امام حسینؐ :

ہم آپ چاہے غلطی کو دیکھ کر خاموش رہیں لیکن ہادی اور امام کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ غلطی دیکھ کر آگے بڑھ جائے۔ امام حسنؐ امام حسینؐ بچپن میں ایک دن مدینہ کی کسی گلی سے گزر رہے تھے۔ رستہ میں ایک بوڑھا آدمی غلط وضو کر رہا تھا۔ اس کے غلط وضو کو دیکھ کر دونوں شاہزادے رک گئے اور فرمایا کہ ہم دونوں وضو کرتے ہیں آپ دیکھ کر بتائیں کہ کس کا وضو غلط ہے۔ بوڑھا دونوں کو وضو کرتا دیکھتا رہا۔ جب دونوں کے وضو ختم ہو گئے اور بوڑھے نے دیکھا کہ دونوں نے ایک وضو کیا تو سمجھ گیا کہ شاہزادے میرے غلط وضو کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔ بڑے ادب سے بولا شاہزادو ! میں ہمیشہ تمہارا شکر گزار رہوںگا کہ بڑھاپے میں تم نے میرے وضو کو درست کر دیا۔

جب امام حسینؐ ایک شخص کے غلط وضو کو دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتے تھے اور جب تک اس کی اصلاح نہ کر لی آگے نہیں بڑھے تو جب دین کو یزید مٹا دینا چاہتا تھا تو کیونکر ممکن تھا کہ آپ خاموش بیٹھے رہتے۔ آپ نے یزید کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ اس راہ میں آپ کو عظیم مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سارے ساتھی ، پورا کنبہ بھوکا پیاسا فرات کے کنارے شہید ہو گیا جو بچ رہے تھے وہ قیدوبند کی سخت ترین تکلیفیں جھیلتے رہے مگر آپ نے ہدایت کے لئے سب کچھ برداشت کر لیا۔ یزید ختم ہو گیا یزیدیت اپنی موت مر گئی۔ اسلام زندہ ہو گیا اور حسین کا ذکر عام ہو گیا۔

امام زین العابدینؐ :

آپ بڑے عبادت گزار تھے۔ اتنی نمازیں پڑھتے تھے کہ پیروں پر ورم آ جاتا تھا۔ سجدوں کی کثرت سے پیشانی اور سجدہ میں زمین پر ٹکنے والے دوسرے اعضا پر گھٹے پڑ جاتے تھے جو تراشے جاتے تھے۔ آپ نے اتنی عبادت کی تھی کہ سجدہ کے گٹھوں کے تراشے سے دو تھیلیاں بھر گئی تھیں۔ آپ راتوں کو پوشیدہ طور پر مدینہ کے غریب گھروں میں کھانے کا سامان اپنی پیٹھ پر لاد کر پہونچایا کرتے تھے جس کی وجہ سے آپ کی پیٹھ پر سخت گٹھا پڑ گیا تھا۔

جن غریبوں تک سامان پہونچایا کرتے تھے ان کو معلوم بھی نہ تھا کہ کون اللہ کا بندہ ان کی خبر گیری کرتا ہے۔ جب آپ کی شہادت ہو گئی اور سامان کا آنا بند ہو گیا تب لوگوں کو پتہ چلا کی غریبوں کی غائبانہ مدد کرنے والے امام زین العابدین علیہ السلام تھے۔

صحیفہ کاملہ آپ کی دعاؤں کا مجموعہ ہے جسے زبور آل محمدؐ بھی کہا جاتا ہے۔

امام محمد باقرؐ :

آپ واقعہ کربلا موجود تھے۔ اس وقت آپ کا سن پانچ برس کا تھا سب کے ساتھ آپ قیدی بنا کر کوفہ اور دمشق لے جائے گئے۔

جب یزید نے امام زین العابدین علیہ السلام کے قتل کا حکم دیا تو آپ نے فرمایا کہ جناب موسیٰ بھی معصوم تھے اور میرے باپ بھی معصوم ہیں فرعون جناب موسیٰ کو قتل کرنے پر راضی نہیں ہوا نہ اس کے درباری اس بات پر راضی تھے کیونکہ وہ ناجائز اولاد نہیں تھے لیکن اے یزید تو اور تیرے درباری معصوم کے قتل کرنے پر اس لئے روضی اور تیار ہیں کہ تم سب ناجائز اولاد ہو اس لئے کہ صرف ایسے ہی لوگ معصوم کے قتل کرنے پر راضی ہو سکتے ہیں جو ناجائز اولاد ہوں۔ یزید یہ سن کر خاموش ہو گیا اور اس نے قتل کا ظالمانہ حکم واپس لےلیا۔

آپ کے سامنے ایک بار ایک شخص نے ایک کافر کی میت کی کھوپڑی پیش کر کے سوال کیا کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ کافر پر مرنے کے بعدعذاب ہوتا ہے مگر یہ عقیدہ غلط ہے کیونکہ یہ کافر کی کھوپڑی ہے مگر نہ جل رہی ہے نہ اس پر عذاب ہو رہا ہے۔ امامؐ نے چقماق کے دو پتھر منگوائے۔ چقماق اس پتھر کو کہتے ہیں جن کے ٹکرانے سے آگ پیدا ہو جاتی ہے۔ پہلے لوگ چقماق ہی سے دیا سلائی کے بجائے آگ جلایا کرتے تھے۔ غرض کہ امامؐ نے پتھر منگا کر اس شخص کو دئے اور کہا ان کو ایک دوسرے سے ٹکراؤ جب ٹکرانے پر آگ نکلی تو آپ نے فرمایا بتاؤ پتھر گرم ہے یا نہیں۔ اس نے کہا پتھر تو ٹھنڈا ہے۔ امامؐ نے فرمایا جو خدا اس پر قادر رہے کہ اس پتھر کو ٹھنڈا رکھے مگر اس کے اندر آگ بھ دے وہ خدا اس پر بھی قادر ہے کہ یہ کھوپڑی اوپر سے ٹھنڈی رہے مگر اس کے اندر عذاب کی آگ بھری ہو۔ آپ کا جواب سن کر وہ مطمئین ہو گیا۔


امام جعفر صادقؐ :

آپ کے زمانہ میں علم دین کا چرچہ خوب پھیلا پورے ملک سے علماٗ سمٹ کر مدینہ آ گئے تھے چار ہزار آدمی ہر وقت قلم دوات لئے تیار رہتے تھے کہ جب بھی آپ کچھ فرمائیں وہ لوگ اُسے لکھ لیں۔

آپ کے زمانہ میں بنی امیہ کی حکومت ختم ہوئی اور بنی عباس کی حکومت قائم ہوئی۔ بنی عباس نے لوگوں کو امام حسینؐ کے خون ناحق کے نام پر بنی امیہ کے خلاف ابھارا تھا اس زمانہ میں جب لوگ اہلبیتؐ کی محبت کا چرچا کیا کرتے تھے خراسان کا ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا جب آپ کی حمایت و مدد کرنے والے صرف خراسان میں ایک لاکھ موجود ہیں تو اپنا حکومت کا حق کیوں نہیں حاصل کر لیتے۔ یہ سن کر آپ نے اس شخص سے کہا کہ بھڑکتے ہوئے تنور میں کود جاؤ۔ وہ شخص یہ سنکر لرز اٹھا اور التجا کرنے لگا کہ آپ اپنا حکم واپس لے لیں۔ اُسی وقت جناب ہارون مکی امام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے ہارون مکی سے بھی تنور میں کود جانے کے لئے کہا اور ہارون فوراً کود گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد آپ اس شخص کو لیکر تنور تک قریب آئے۔ سب نے دیکھا ہارون تنور میں بیٹھے ہوئے ذکر خدا کر رہے ہیں اور آگ بالکل نقصان نہ پہونچا سکی۔

امام علیہ السلام نے اس شخص سے دریافت فرمایا ۔" بتاؤ خراسان میں ایسے ماننے والے کتنے ہیں " اس نے کہا ایک بھی نہیں۔ آپ نے فرمایا آیندہ کبھی اپنے امام کو مشورہ نہ دینا۔

امام مویٰ کاظمؐ :

آپ بہت حلیم اور بردبار تھے۔ ایک بار ایک کنیز کے ہاتھ سے گرم سالن کا پیالہ چھوٹ کر آپ کے اوپر گر پڑا۔ کنیز خوف زدہ ہو گئی اور اس نے برحبستہ قرآن مجید کا ایک فقرہ پڑھا جس میں ان لوگوں کی مدح خدا نے کی ہے جو غصہ ضبط کرتے ہیں امام علیہ السلام نے سن کر فرمایا میں نے غصہ کو ضبط کیا۔ پھر کنیز نے آیت کا وہ حصہ پڑھا جس میں خدا نے معاف کرنے والوں کی تعریف کی ہے۔ امام نے فرمایا میں نے تجھے معاف کیا۔ کنیز نے آخر میں آیت کا وہ حصہ پڑھا جس میں اللہ نے کہا ہے کہ میں ان لوگوں کو دوست رکھتا ہوں جو احسان کرتے ہیں۔ امام علیہ السلام نے یہ سن کر اس کنیز کو آزاد فرما دیا۔ آپ حلم میں اتنا مشہور ہوئے کہ کاظم آپ کا لقب پر گیا۔

امام علی رضاؐ :

آپ کے زمانہ میں شیعہ مذہب نے بہت ترقی کی۔ حکومت آپ سے ڈرتی تھی۔ جب مامون نے جو اس وقت خلیفہ تھا آپ کو دار الحکومت میں طلب کیا تو راستہ میں آپ بہت سے مقامات سے گزرے۔ ہر جگہ لوگ جوق در جوق آپ کی زیارت کے لئے جمع تھے اور آپ سے دین کی باتیں پوچھتے تھے۔ اس سفر میں ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ ایک شخص ابو جیب نے خواب دیکھا کہ رسولؐ خدا ان کی بستی میں تشریف لائے ہیں۔ ابو جیب مشتاق زیارت ہو کر حضور کی قیام گاہ کا پتہ پوچھتے ہوئے نکلے۔ ان کو معلوم ہوا کہ حضورؐ اس مسجد میں ہیں جہاں حاجی اترتے ہیں۔ ابو جیب نے مسجد میں جا کر دیکھا۔ حضورؐ مسجد کی ایک محراب میں تشریف فرما ہیں۔ ابو جیب نے سلام کیا حضورؐ نے جواب سلام دے کر ایک مٹھی کھجوریں ابو جیب کو دیدیں جو اٹھارہ تھیں۔ ابو جیب نے اس خواب کی تعمیر یہ سمجھی کہ ان کی عمر میں اٹھارہ سال باقی ہیں۔ اس کے بعد امام رضا علیہ السلام ان کی بستی سے گزرے۔ ابو جیب مشتاق زیارت ہو کر نکلے تو امام کو اسی مسجد میں اُسی جگہ بیٹھتے دیکھا جہاں حضورؐ کو بیٹھے دیکھا تھا۔ امامؐ کے سامنے بھی ایک طبق میں خرمے رکھے تھے۔ ابوجیب نے سلام کیا۔ امامؐ نے سلام کا جواب دے کر ایک مٹھی خرمے دیدئے۔ ابوجیب نے جب اُنکو گنا تو وہ بھی اٹھارہ خرمے تھے۔ ابو جیب نے کہا مولاؐ کچھ اور بھی مرحمت فرمائے۔ امام علیہ السلام نے جواب دیا اگر میرے جد نے زیادہ خرمے دئے ہو تو میں بھی زیادہ دیتا۔

امام محمد تقیؐ :

آپ کے علم کا رعب و دبدبہ بچپنے سے ہی سب پر قادر ہو گیا تھا۔ ایک مرتبہ آپ بغداد کے ایک راستہ پر کھڑے تھے اور آپ کے علاوہ بچے کھیل رہے تھے۔ اس راستہ سے مامون بادشاہ عباسی کی سواری گزری، بادشاہ کی سواری دیکھ کر تمام بچے بھاگ گئے مگر آپ اپنی جگہ پر نہایت اطمینان سے کھڑے رہے۔ مامون کو امام علیہ السلام کا یہ اطمینان دیکھ کر بہت تعجب ہوا۔ اس نے آپ سے بچوں کے ساتھ نہ بھاگنے اور کھڑے رہنے کی وجہ پوچھی۔ آپ نے فرمایا کہ رستہ کشادہ تھا اس لئے ہٹنے کی ضرورت نہ تھی۔ میں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے خوف زدہ ہو کر بھاگ جاتا اور تو بے سبب مجھے ستائےگا یہ بدگمانی میں نے تیری طرف سے نہیں کی۔ پھر کیوں چلا جاتا اور کھڑا نہ رہتا مامون کو آپ کی گفتگو سن کربےحد تعجب ہوا اس نے آپ کا نام پوچھا آپ نے فرمایا میں امام علی رضاؐ کا بیٹا محمدؐ ہوں۔

جب مامون اسی راستے سے واپس ہوا تو امام بھی اسی راستہ پر پہلے کی طرح کھڑے رہے اور تمام بچے بھاگ گئے۔ مامون نے مٹھی بند کر کے پوچھا بتاؤ میرے ہاتھ میں کیا ہے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا خدا دریاؤں میں مچھلی پیدا کرتا ہے۔ بادشاہوں کے باز ان کا شکار کر کے لاتے ہیں اور بادشاہ مچھلی کو ہاتھ میں چھپا کر ہم اہلبیتؐ کا امتحان لیتا ہے۔ مامون نے کہا بیشک آپ علی رضاؐ کے بیٹے ہیں۔ بادشاہ امامؐ کو اپنے ساتھ لایا اور اپنی بیٹی کا نکاح آپ سے کر دیا۔ لوگوں نے مامون کی مذمت کی کہ ایک بچے سے اپنی بیٹی کا نکاح کیوں کرتے ہو۔ مامون نے اس وقت کے تمام علماٗ کو جمع کیا اور امامؐ سے مناظرہ کرایا۔ امام علیہ السلام نے سب کو لاجواب کر دیا اور سارے زمانے پر آپ کے حکم کا سکہ بیٹھ گیا۔


امام علی نقیؐ :

آپ کی سخاوت ، عبادت ، اور علم کا شہرہ دور دور تک پھیلا تھا۔ حکومت آپ کے بڑھتے ہوئے اثر سے خوف زدہ رہتی تھی ۔ ایک مرتبہ ایک عورت نے یہ دعویٰ کر دیا کہ میں جناب فاطمہؐ کی بیٹی زینبؐ ہوں۔ غائب ہو گئی تھی اب ظاہر ہوئی ہوں۔ خلیفہ اس کے جھٹلانے سے عاجز تھا۔ آخر مجبور ہو کر امامؐ سے مدد مانگی۔ آپ نے فرمایا کہ جناب فاطمہؐ کی اولاد کو درندے نہیں کھا سکتے لہذا اس عورت کو درندوں کے سامنے ڈال دیا جائے حقیقت معلوم ہو جائےگی۔ اس عورت کے سامنے جب یہ بات پیش کی گئی تو اس نے خود ہی اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کر لیا۔ لوگوں نے خلیفہ کو مشہور دیا کہ امام علی علیہ السلام بھی تو جناب فاطمہ زہراؐ کی اولاد ہیں ان ہی کے قول کے مطابق ان کو بھی درندوں کے سامنے آنے کے لئے کہا جائے چناچہ خلیفہ نے آپ کے سامنے یہ بات پیش کی۔ وہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ درندے آپ کو نقصان پہونچائیں گے۔ مگر آپ تیار ہو گئے۔ امامؐ اس مکان میں تشریف کے گئے۔ خلیفہ اپنی چھت سے یہ نظر دیکھ رہا تھا کہ درندے نکلے اور امامؐ کے قدموں پر منہ ملنے لگے۔ سب یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے۔

امام حسن عسکریؐ :

آپ بھی اپنے معصوم بزرگوں کی طرح دین کی حفاظت فرماتے رہے۔ آپ کے زمانہ میں ایک مرتبہ قحط پڑا۔ مسلمان نماز استقاٗ پڑھ کر دعا مانگ چکے تھے مگر پانی کو نہ برسنا تھا نہ برسا۔ لوگ حیران و پریشان تھے اُسی وقت ایک عیسائی راہب نکلا۔ وہ جس وقت دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتا تھا اُسی وقت پانی برسنے لگتا تھا۔ مسلمانوں میں بڑی بےچینی پھیل گئی جس کے دور کرنے کا کوئی ذریعہ حکومت کے پاس نہ تھا۔ عزت بچانے کے لئے حکومت امامؐ سے مدد لینے پر مجبور ہوئی۔ آپ تشریف لائے اور راہب نے جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو آپ نے اپنے صحابی سے فرمایا جو چیز اس کی انگلیوں کے درمیان ہے اسے نکال لو۔ جو چیز نکالی گئی وہ ایک ہڈی تھی۔ آپ نے فرمایا یہ کسی نبی کے جسم کی ہڈی ہے۔ جب بھی اس کو زیر آسمان برہنہ کیا جائےگا پانی برسنے لگےگا۔ آپ نے اس ہڈی کو دفن کر دیا پھر خود نماز استقاٗ پڑھ کر دعا فرمائی۔ پانی برسا اور خوب برسا کہ زمین جل تھل ہو گئی اور لوگ نہال ہو گئے۔

بارہویں امامؐ

جناب ابراہیمؐ اور جناب موسیؐ کی طرح زمانے کے ظالم آپ کی پیدائش سے پہلے ہی آپ کے دشمن تھے اور چاہتے تھے کہ آپ پیدا نہ ہونے پائیں کیونکہ وہ سب جانتے تھے کہ آپ ظاہر ہو کر دنیا سے ہر ظالم کے ظلم کو مٹا دیں گے۔ اسی وجہ سے ہر ظالم آپ کے پیدا ہونے سے ڈرتا تھا۔ خدا وند عالم نے آپ کی حفاظت کا یہ انتظام فرمایا کہ جناب نرجس خاتون کے یہاں آثار حمل ظاہر ہی نہیں ہوئے اور کسی کو ولادت سے پہلے پتہ نہ چل سکا کہ کہ جناب نرجس خاتون کی گود امام زمانہؐ سے آباد ہونے والی ہے۔ آپ کی پرورش بھی پوشیدہ طور پر ہوتی رہی۔ ابھی آپ کا سن مبارک چار سال کا تھا کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ گیارہویں امامؐ کی شہادت کے بعد آپ لوگوں کی نظر سے پوشیدہ رہتے تھے۔ صرف آپ کے نائب آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور ان کے ذریعہ مسائل کے جواب ملتے تھے۔ ستر سال کے بعد جب غیبت صغریٰ کی مدت پوری ہو گئی اور حضرت کے چوتھے نائب کا بھی انتقال ہو گیا تو آپ نے اعلان فرمایا کہ اب کوئی میرا نائب نہیں ہے اور اس وقت سے غیبت کبریٰ کا دور شروع ہو گیا۔ غیبت کبریٰ کے زمانہ میں بھی بہت سے خوش نصیب افراد کو حضرت کی زیارت نصیب ہوتی رہتی ہے۔

نوٹ : بچوں کو یہ سبق اس طرح پڑھایا جائے کہ واقعات ذہن نشین ہو جائے۔


ذوالعشیرہ کا واقعہ

جب پروردگار عالم نے رسولؐ خدا کو کھل کر تبلیغ کرنے کا حکم دیا اور یہ ہدایت کی کہ اسے رسولؐ سب سے پہلے قریبی رشتہ داروں میں تبلیغ کیجیئے تو حضرت علیؐ کو رسولؐ خدا نے خاندان عبد المطلبؐ کے تمام مردوں کے پاس یہ پیغام لے کر بھیجا کہ میرے چچازاد بھائی محمد مصطفےٰ نے تم کو دعوت میں بلایا ہے۔ دوسرے دن چالیس آدمی حضرت کے پاس آئے۔ آپ نے پہلے سب کو کھانا کھلایا اور کھانے کے بعد تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ لیکن ابو لہب کے بھڑکانے پر تمام لوگ تقریر سنے بغیر چلے گئے ۔آپ نے حضرت علیؐ کو بھیج کر دوسرے دن پھر سب کو بلایا اور پہلے کھانا کھلایا پھر سب کے سامنے اسلام کو پیش کیا اور فرمایا کہ تم میں سے کون شخص ہدایت کے کاموں میں میری مدد کرنے پر تیار ہے۔ جو شخص میری مدد کرےگا وہ میرا بھائی ، وصی ، وزیر اور خلیفہ ہوگا اور لوگوں پر میری طرف سے حاکم ہوگا۔

حضرت علیؐ فوراً کھڑے ہو گئے اور آپ نے رسولؐ خدا کی مدد کا وعدہ کیا۔ رسولؐ خدا نے فرمایا کیونکہ علیؐ نے میری مدد کا وعدہ کیا ہے لہذا یہ میرے بھائی ، وصی ، وزیر اور خلیفہ ہیں اور میری طرف سے تم لوگوں پر حاکم ہیں۔ ان کے احکام کو سنو اور ان کی اطاعت کرو۔

اس واقعہ کا نام دعوت ذوالعشیرہ ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسولؐ خدا نے حضرت علیؐ کو تبلیغ کے پہلے دن ہی اپنا خلیفہ مقرر کر دیا تھا اور سب لوگوں پر آپ کی اطاعت واجب کر دی تھی۔

غدیر خم

پیغمبرؐ اسلام کی زندگی کا آخری زمانہ ہے۔ آپ ّآخری حج کے لئے مکہ معظمہ کی طرف تشریف لے جا رہے ہیں۔ مسلمانوں میں یہ خبر عام ہو چکی ہے۔ دنیا کے ہر گوشے سے مسلمان اللہ کے گھر کا طواف کرنے اور حضور کی زیارت کے شوق میں جوق در جوق چلے آ رہے ہیں۔

حج کا وقت آتے آتے مکہ معظمہ میں لاکھوں مسلمان جمع ہو گئے اور حضورؐ کے ساتھ حج کے اعمال بجا لائے۔ حج سے فارغ ہونے کے بعد حضورؐ نے مدینہ کا رخ کیا۔ مسلمانوں کے قافلے آپ کے ساتھ چلے۔ ہر دل میں شوق ہے کہ جتنا وقت بھی حضورؐ کی خدمت میں گزر جائے اپنی خوش قسمتی ہے۔

چلتے چلتے قافلہ غدیر خم کے چوراہے پر پہونچ گیا جہاں سے قافلوں کے رستے الگ الگ ہو جاتے تھے۔ مسلمان اپنے اپنے راستہ جانا ہی چاہتے تھے کہ جبرئیل امین خدا کا پیغام لےکر حضورؐ کی خدمت میں پہونچ گئے۔ " میری رسولؐ اُس پیغام کو پہونچا دو جو ہم پہلے تمہیں بتا چکے ہیں اور اگر یہ پیغام تم نے نہیں پہونچایا تو گویا رسالت کا کوئی کام ہی نہیں کیا۔ میرے رسولؐ ! پیغام کے پہونچانے میں گھبرانا نہیں ہم تمہاری حفاظت کے ذمہ دار ہیں "۔

یہ حکم سنتے ہی حضورؐ نے قافلہ کو رکنے کا حکم دیا۔ جو مسلمان آگے بڑھ گئے تھے وہ واپس بلائے گئے جو پیچھے رہ گئے تھے ان کا انتظار کیا گیا۔ یہاں تک کہ سوا لاکھ کلمہ پڑھنے والوں کا مجمع ہو گیا۔ حضورؐ کے حکم سے اونٹوں کے کجاؤوں کا ممبر تیار کیا گیا اور آپ اس پر تشریف لے گئے اور خدا کی حمد و ثنا کے بعد مجمع سے سوال کیا۔ مسلمانوں بتاؤ ۔ کیا میں تمہارا حاکم نہیں ہوں ؟ سارے مجمع نے یک زبان ہو کر اقرار کیا کہ حضورؐ ہی ہمارے حاکم ہیں ۔ اس اقرار کے بعد حضورؐ نے امیر المومنین علی بن ابطالب علیہ السلام کو اپنے ہاتھوں پر بلند کیا اور فرمایا یاد رکھو جس کا میں حاکم ہوں اس کا یہ علیؐ حاکم ہیں ۔"

اس واقعہ کو واقعہ غدیر خم کہا جاتا ہے جو ا ۱۸/ ذی الحجہ ۱۰ ھ؁ کو پیش آیا۔ جس کے بعد حضورؐ صرف دو مہینے دس دن زندہ رہے اور ۲۸/ صفر ۱۱ ھ؁ کو رحلت فرمائی۔


چند واقعات

شب ہجرت :

جب کفار مکہ نے قتل کرنے کی نیت سے رات کو رسولؐ کے گھر کو گھیر لیا تو آپ نے حکم خدا سے ہجرت کی گھر چھوڑا ور غارثور میں پناہ لی اور وہاں سے مدینہ تشریف لائے۔ جب آنحضرتؐ گھر سے چلے تو حضرت علیؐ کو اپنے بستر پر لٹا دیا تاکہ دشمن رات بھر یہ سمجھتے رہیں کہ رسولؐ گھر میں موجود ہیں۔ حضرت علیؐ کھنچی تلواروں میں بڑے چین کی نیند سوئے۔ خدا نے جبرئیلؐ اور میکائیلؐ کو آپ کی حفاظت اور پہرے کے لئے بھیجا اور آیت اتار کر اعلان کیا کہ علیؐ نے میری خوشنودی کے لئے اپنا نفس میرے ہاتھ بیچ ڈالا۔ اسی لئے حضرت علیؐ کو نفس اللہ کہتے ہیں۔

آئیہ ولایت :

ایک شخص نے رسولؐ کی مسجد میں آکر سب نمازیوں سے سوال کیا مگر کسی نے کچھ جواب نہ دیا جب وہ واپس جا رہا تھا تو حضرت علیؐ نے انگلی ہلاکر انگوٹھی اتارنے کا اشارہ کیا۔ آپ اس وقت رکوع میں تھے۔ خدا نے آیت اتاری۔ " تمہارا ولی صرف اللہ ہے اور اللہ کا رسولؐ ہے اور وہ ایمان والے ہیں٘ جو نماز پڑھتے ہوئے حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں۔ " اس آیت کا نام آیہ ولایت ہے۔

آئیہ تطہیر :

ایک دن رسولؐ جناب فاطمہؐ کے گھر تشریف لائے اور ایک یمنی چادر اوڑھ کر لیٹ رہے۔امام حسنؐ امام حسینؐ ، حضرت علیؐ اور جناب فاطمہؐ یکے بعد دیگرے اجازت لے کر چادر میں داخل ہوئے۔ خدا نے ملائکہ سے کہا کہ میں نے دنیا اور اس کی ہر چیز ان پنجتنؐ کی محبت میں پیدا کی ہے اور اسکے بعد جبرئیلؐ کو ایک آیت لے جانے کا حکم دیا۔ جبرئیلؐ نے چادر میں داخل ہو کر آیہ تطہیر سنائی جس میں خدا نے کہا کہ " اے اہلبیتؐ اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ ہر برائی کو تم سے دور رکھے اور کمال سے تم کو اتنا آراستہ و پیراستہ رکھے جو آراستہ کرنے کی آخری حد ہے ۔" اس ّآیت کا نام آیہ تطہیر ہے۔ کساٗ کے معنی چادر کے ہیں اس لئے اس روایت کا نام حدیث کساٗ ہے۔ اور اسی وجہ سے پنجتن پاک کو اصحاب کساٗ کہا جاتا ہے۔

آیہ مودّت :

ایک بار امام حسنؐ اور امام حسینؐ بیمار ہوئے رسولؐ کے ارشاد کے مطابق ماں باپ نے بچوں کی صحت کے لئے تین روزوں کی نذر مانی۔ صحت ہو جانے پر حضرت علیؐ ، جناب فاطمہ نے روزے رکھے۔ دونوں شہزادے بھی روزے سے رہے اور گھر کی کنیز نے بھی روزہ رکھا۔ تینوں دن جب یہ لوگ روزہ کھولنے بیٹھتے تھے تو کوئی نہ کوئی سائل آجاتا تھا۔ سب لوگ اپنی اپنی روٹیاں مانگنے والے کو دیدیتے تھے اور پانی سے روزہ افطار کر کے سو رہتے تھے۔ چوتھے دن جب رسالتمابؐ ملنے آئے تو کمزوری اور بھوک کی شدت سے دونوں شہزادے کانپ رہے تھے حضورؐ نے دعا فرمائی اُسی وقت جنت سے سب کے لئے کھانا آیا اور خدا نے سورہ دہر بھی نازل فرمایا جس میں اہلبیتؐ کے اس ایثار قربانی اور خیر خیرات کی بہت تعریف کی گئی۔

مباہلہ :

نجران کے عیسائی رسولؐ کے پاس مذہبی بحث کرنے آئے کیونکہ حضرت عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں اس لئے وہ خدا کے بیٹے ہیں۔ جواب میں رسولؐ نے قرآن کی آیت کا حوالہ دیا کہ حضرت آدمؐ اگر بغیر ماں باپ کے پیدا ہو سکتے ہیں تو حضرت عیسیٰؐ بغیر باپ کے کیاں پیدا نہیں ہو سکتا۔ مگر جب وہ دلیلوں سے قائل نہ ہوئے تو خدا نے آیت اتاری کہ " اے پیغمبرؐ کھلی دلیلوں کے بعد بھی جو حق نہیں مانتا اس سے کہئے کہ تم اپنے بچوں ، عورتوں اور نفسوں کو لے آؤ ، میں بھی اپنے بچوں ، عورتوں اور نفسوں کو لے کر آتا ہوں۔ پھر ہم سب جمع ہو کر مباہلہ کریں تاکہ جھوٹے پر خدا کا عذاب نازل ہو۔ رسولؐ مباہلہ میں اس طرح آئے کہ گود میں امام حسینؐ تھے۔ انگلی پکڑ کر امام حسنؐ چل رہے تھے نبیؐ کے پیچھے جناب فاطمہؐ تھیں اور آپ کے پیچھے حضرت علیؐ تھے۔ آپ نے سب کو بٹھلا کر کہا کہ جب میں میں بد دعا کروں تو تم لوگ آمین کہنا۔ عیسائی مباہلہ کرنے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ان کے عالموں نے کہا رسولؐ اپنے ساتھ ایسے لوگوں کو لے کر آئے ہیں کہ وہ جو بھی کہہ دیں گے وہ بات ہو کر رہےگی لہذا سالانہ کچھ دینے کا وعدہ کر کے عیسائیوں نے صلح کر لی۔ اس واقعہ کا نام مباہلہ ہے۔ نبیؐ بچوں میں صرف حسنینؐ کو عورتوں میں صرف جناب فاطمہؐ کو اور نفسوں میں صرف حضرت علیؐ کو لے کر آئے تھے اسی وجہ سے حضرت علیؐ کو نفس رسولؐ کہا جاتا ہے۔


مکہّ ۔ مدینہ

مکہّ ۔ مدینہ ۔ سعودی عرب کے دو مشہور شہر ہیں۔ مسلمانوں میں ان دونوں شہروں کی بیحد اہمیت ہے۔ مکہّ میں اللہ کا گھر کعبہ ہے جسے اللہ کے دو نبی جناب ابراہیمؐ اور جناب اسمعیلؐ نے مل کر تعمیر کیا تھا۔ اس کی تعمیر میں کسی غیر معصوم کا حصہ نہ تھا۔ جناب ابراہیمؐ اور جناب اسمعیلؐ اس کی دیواروں کو بلند کر رہے تھے اور جبرئیل امین ان دونوں کا ہاتھ بٹا رہے تھے۔ اسی کعبہ کی ایک دیوار میں حجر اسود نصب ہے جو ایک جنتی پتھر ہے۔ کعبہ کی تاریخ کا سب سے مشہور واقعہ یہ ہے کہ جناب فاطمہ بنت اسدؐ اسی کعبہ کی دیوار کے قریب دعا کر رہی تھیں دیوار شق ہوئی اور آپ اندر تشریف لے گئیں اور وہیں مولائے کائنات حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہوئی۔

ہمارے رسول جناب محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی مکہّ میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کے خاندان کے بزرگوں میں جناب عبد المطلب ، جناب ابو طالب کی قبریں اسی مکہ میں ہیں جسے جنت المعلیٰ کہا جاتا ہے۔ رسول کریمؐ کو مکہ سے بےحد محبت تھی۔ جب آپ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو برابر مکہّ کے حالات دریافت کیا کرتے تھے اور اپنے وطن میں پلٹ کر آنے کے خواہشمند تھے یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو موقع دیا اور آپ ۸ ھ؁ میں اپنے اصلی وطن میں ایک فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے۔

مدینہ منورہ ۔ نبی کریمؐ کا حرم کہا جاتا ہے۔ یہاں حضورؐ کی قبر مطہر ہے۔ ہجرت کے بعد حضورؐ نے اسی مدینہ میں آ کر قیام فرمایا تھا۔ اہل مدینہ نے آپ کا بڑا زبردست استقبال کیا تھا۔ اس موقع کا مشہور واقعہ یہ ہے کہ آپ نے اپنے اونٹ کو آزاد کر کے یہ اعلان کر دیا تھا کہ جس کے دروازے پر اونٹ بیٹھ جائے گا میں اسی کے مکان میں قیام کروں گا۔ اونٹ حضرت ابو ایوب انصاری کے دروازے پر ٹھہرا اور آپ نے انھیں کے یہاں قیام فرمایا۔

مدینہ آنے پر جہاں اہل مدینہ نے آپ کی حمایت کی وہاں کفار مکہّ برابر آپ پر حملہ کرتے رہے اور آپ کو چند سال کے اندر بہت سی لڑائیاں لڑنا پڑیں۔ ۲۸/ صفر ۱۱ ھ؁ کو آپ نے اسی مدینہ میں انتقال فرمایا اور یہیں دفن ہوئے۔ اب یہ مدینہ "مدینہ منورہ " اور " مدینتہ الرسول کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اسی مدینہ میں ایک مشہور قبرستان جنت البقیع ہے جہاں چار امام۔ حضرت امام حسنؐ ، حضرت امام زین العابدینؐ ، حضرت امام محمد باقرؐ ، حضرت امام جعفر صادقؐ اور ایک معصومہ عالم جناب فاطمہ زہراؐ کی قبریں ہیں۔ مدینہ بے حد با برکت جگہ ہے۔


نجف اشرف

ملک عراق کا ایک بڑا مشہور شہر ہے۔ آج سے ہزار سال پہلے سے " ظہر کوفہ" کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔اس زمانہ میں کوفہ کی آبادی بہت بڑی تھی۔ یہاں ہزاروں آدمی بستے تھے، بےشمار باغات تھے۔ دریا تھا پانی کا انتظام تھا۔ حکومت نے اسے فوجی چھاؤنی بنا رکھا تھا۔ نجف کوفہ سے باہر کا علاقہ تھا جسے کوفہ کی پشت کہا جاتا تھا۔ ظہر کے معنی ' پشت ' ہیں۔

یہاں تک کہ ۴۰ ھ؁میں اسی کوفہ کی جامع مسجد میں مولائے کائنات حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی شہادت ہوئی۔ آپ کی وصیت تھی کہ مجھے پشت کوفہ نجف میں دفن کیا جائے۔ وہاں آپ کی قبر پروردگار کے مخصوص انتظام کی بنا پر پہلے سے بنی تیار تھی۔ امام حسنؐ اور امام حسینؐ نے آپ کے جنازے کو اسی قبر میں دفن کیا۔

نجف اشرف کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ یہاں چار نبیوں کی قبریں ہیں۔ جناب آدمؐ ، جناب نوحؐ ، جناب ہودؐ اور جناب صالحؐ یہ سب یہیں دفن ہیں۔

امیر المومنینؐ کا مزار بننے کے بعد سے اس جگہ نے شہرت پائی اور دھیرے دھیرے اس شہر کی آبادی بھی بڑھتی گئی اور آج لاکھوں تک پہونچ چکی ہے۔ جب کہ کوفہ کی آبادی اس کی چوتھائی بھی نہیں ہے۔ یہ مولائے کائنات کا ایک شرف ہے کہ جس زمین کو آپ نے اپنی آرامگاہ بنا لیا وہ ویرانہ بھی آباد ہو گیا۔

ہزار سال پہلے یہ جگہ آباد ضرور تھی لیکن علمی اہمیت نہیں تھی۔ جب حکومت کے ظالم و جور نے شیخ ابو جعفر طوسی پر بغداد میں ظلم ڈھائے اور آپ کا کتب خانہ جلا دیا تو آپ نے بغداد کو چھوڑ کر نجف اشرف کو آباد کر دیا۔ شیخ طوسی علیہ الرحمہ شیعہ علماٗ میں اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم اور مذہب شیعہ کی حدیث کی اہم کتابوں کے مؤلف تھے۔

امیر المومنین علیہ السلام کے ہمسایہ ہونے کی برکت اور شیخ طوسی علیہ الرحمہ کی نیت کے خلوص کا اثر تھا کہ اس علمی درسگاہ کی اور عرصہ تک نجف اشرف سب سے بڑا دینی مرکز رہا۔


فہرست

اصول دین ۴

اصول اور فروع ۴

اصول دین :۔ ۴

فروع دین :۔ ۴

اصول دین پانچ ہیں :۔ ۴

فروع دین دس ہیں :۔ ۴

ہم کیوں پیدا ہوئے ؟ ۵

مذہب کی ضرورت ۶

کیا خدا نہیں ہے ؟ ۶

خدا کو بغیر دیکھے کیوں مانتے ہیں ؟ ۷

اگر دو خدا ہوتے ۸

ہمارا خدا ۹

صفات ثبوتیہ ۱۰

صفات سلبیہ ۱۰

خدا قادر و مختار ہے ۱۲

خدا کی ذات و صفت ایک ہے ۱۲

غیب پر ایمان ۱۳

فرشتے ۱۴

عدل ۱۵


خدا برائی نہیں کرتا ۱۶

انسان مجبور ہے یا مختار ؟ ۱۷

آٹھواں سبق ۱۸

تین سوال ایک جواب ۱۸

نبوت ۱۹

نبی کے اوصاف ۲۱

نبی کی پہچان ۲۲

ہمارے آخری نبیؐ ۲۳

عصمت ۲۵

حیات معصوم اور سن و سال ۲۶

ہمارے نبیؐ کے خصوصیات ۲۸

خدائی پیغامات ۲۹

قرآن مجید کا اعجاز ۳۰

آداب تلاوت ۳۱

امامت ۳۲

امام کا ہونا ضروری ہے ۳۳

بارہ امام ۳۶

پہلی دلیلی ۔ ۳۶

دوسری دلیل ۔ ۳۶

حضرت علی علیہ السلام کی خلافت ۳۷


پہلی دلیل ۔ ۳۷

دوسری دلیل ۔ ۳۸

بارہویں امامؐ ۴۰

دلیل نمبر ۱ ۔ ۴۰

دلیل نمبر ۲ ۔ ۴۰

دلیل نمبر ۳ ۔ ۴۰

بارہ اماموں کی عمریں ۴۲

حضرت امام علی علیہ السلام : ۴۲

حضرت امام حسن علیہ السلام : ۴۲

حضرت امام حسین علیہ السلام : ۴۲

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام : ۴۲

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام : ۴۲

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام : ۴۲

حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام : ۴۲

حضرت امام علی رضا علیہ السلام : ۴۳

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام : ۴۳

حضرت امام علی نقی علیہ السلام : ۴۳

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام : ۴۳

حضرت امام مہدی آخرالزماں علیہ السلام : ۴۳

چودہ معصومؐ ۴۴


نوابِ اربعہ ۴۶

رجعت ۴۷

قیامت ۴۹

دنیا کا آخری انجام ۵۰

موت کے بعد ۵۱

برزخ :۔ ۵۱

قبر میں سوال و جواب :۔ ۵۱

نامئہ اعمال :۔ ۵۱

میزان :۔ ۵۱

صراط :۔ ۵۱

شفاعت :۔ ۵۲

برزخ ۵۳

عمل اور حساب ۵۵

تاریخ ۵۶

ہمارے ہادی ۵۶

ہمارے رسولؐ : ۵۶

جناب فاطمہ زہراؐ : ۵۷

حضرت علیؐ : ۵۷

امام حسنؐ : ۵۸

امام حسینؐ : ۵۹


امام زین العابدینؐ : ۵۹

امام محمد باقرؐ : ۶۰

امام جعفر صادقؐ : ۶۱

امام مویٰ کاظمؐ : ۶۱

امام علی رضاؐ : ۶۱

امام محمد تقیؐ : ۶۲

امام علی نقیؐ : ۶۳

امام حسن عسکریؐ : ۶۳

بارہویں امامؐ ۶۳

ذوالعشیرہ کا واقعہ ۶۵

غدیر خم ۶۵

چند واقعات ۶۷

شب ہجرت : ۶۷

آئیہ ولایت : ۶۷

آئیہ تطہیر : ۶۷

آیہ مودّت : ۶۷

مباہلہ : ۶۸

مکہّ ۔ مدینہ ۶۹

نجف اشرف ۷۰

فہرست ۷۱