یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
امامیہ اردو دینیات
درجہ دوم
نظیم المکاتب
معلمّ کے لئے ہدایت
۱ ۔ سبق پڑھنے کے بعد بچوں سے ایسے سوالات کئے جائیں جن کے ذریعہ بچے سبق کے مفہوم کو ادا کر سکیں۔
۲ ۔سبق کے بعد والے سوالات کھلوا کر زبانی یاد کرائے جائیں۔
۳ ۔ مدرس خود بھی سوالات کریں۔
۴ ۔ جہاں ضرورت ہو وہاں عملی تعلیم دی جائے۔
پہلا سبق
وجود خدا
گھروں سے اٹھتے ہوئے دھوئیں کو دیکھ کر یقین ہو جاتا ہے کہ یہاں آگ روشن ہے۔ رستہ پر پیروں کے نشانات سے پتہ چلتا ہے کہ ادھر سے کوئی ضرور گزرا ہے۔
چلتی ریل ۔ بھاگتی موٹر اور دوڑتی سائکل دیکھ کر یقین ہوتا ہے کہ کسی نے ان کو بنایا ہے۔ یہ خود نہیں بنی ہیں اوریہ بھی یقین ہوتا ہے کہ کوئی ان کو چلا رہا ہے یہ خود نہیں چل رہی ہیں۔
اسی طرح زمین ۔ آسمان ۔ انسان ۔ حیوان ۔ چاند ۔ سورج ۔ ستارے ۔ دریا ۔درخت ۔ پہاڑ وغیرہ کو دیکھ کر یقین ہو جاتا ہے کہ کوئی نہ کوئی ان کا پیدا کرنے والا ضرور ہے۔ اسی پیدا کرنے والے کو خدا کہتے ہیں۔
ہم موٹر بنانے والے کو دیکھے بغیر فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ علم والا ہے۔ زندہ ہے ۔ قوت اور طاقت کا مالک ہے۔ اسی طرح اس چلتی پھرتی دنیا کو دیکھ کر ماننا پڑتا ہے کہ اس کا پیدا کرنے والا بڑی قدرت و طاقت والا ہے۔ وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ اسی نے یہ دنیا پیدا کی ہے اور جب چاہے گا ایک اشارے میں فنا کر دےگا۔
سوالات :
۱ ۔ خدا کون ہے ؟
۲ ۔ خدا کو کیسے پہچانا ؟
۳ ۔ یہ دنیا کیوں ازخود پیدا نہیں ہو سکتی ؟
دوسرا سبق
توحید
زمین سے لے کر آسمان تک پوری کائنات کا ایک ہی طریقہ پر چلنا۔ چاند سورج کا اپنے وقت پر نکلنا اور وقت پر ڈوب جانا دریائوں کا ایک دھارے پر بہنا۔ درختوں کا ایک انداز سے اُگنا اور بڑھنا۔ بتاتا ہے کہ اس دنیا کا پیدا کرنے والا ایک اور صرف ایک ہے ورنہ دنیا کے انتظام میں گڑبڑی ہوتی۔
ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوںؐ نے اور تمام آسمانی کتابوں نے بھی یہی بیان کیا ہے کہ خدا ایک ہے ۔ اگر کوئی دوسرا خدا ہوتا تو وہ بھی نبی بھیجتا اور کتابیں نازل کرتا۔ لہذا معلوم ہوا کہ خدا ایک ہے۔
اگر دو خدا ہوتے تو دنیا ایک رنگ پر نہ چلتی۔ اگر دو خدا ہوتے تو دوسرے خدا کی پیدا کی ہوئی کوئی دوسری دنیا ہوتی اور چاند سورج دو طرح کے ہوتے۔ لیکن ایسا نہیں ہے جس سے ثابت ہوا کہ خدا ایک ہے۔
سوالات :
۱ ۔ خدا کے ایک ہونے کی پہلی دلیل کیا ہے ؟
۲ ۔ خدا کے ایک ہونے کی دوسری دلیل کیا ہے ؟
۳ ۔ دنیا کو دیکھ کر کیسے معلوم ہوا کہ خدا ایک ہے ؟
تیسرا سبق
صفات ثبوتیہ
اللہ میں پائی جانے والی مشہور باتیں آٹھ ہیں جن کو صفات ثبوتیہ کہا جاتا ہے۔
( ۱) ۔ قدیم۔ یعنی خدا ہمیشہ سےہے اور ہمیشہ رہےگا۔
( ۲) ۔ قادر۔ یعنی خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ جو کام چاہے کرے جو کام چاہے نہ کرے۔
( ۳) ۔ عالم۔ یعنی خدا ہر چیز کا جاننے والا ہے کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔
( ۴) ۔ مدرک۔ یعنی خدا بغیر آنکھ کے سب کچھ دیکھتا ہے اور بغیر کان کے سب کچھ سنتا ہے۔
( ۵) ۔ حی۔ یعنی خدا ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہےگا۔
( ۶) ۔ مرید۔ یعنی خدا ہر کام اپنے ارادہ اور اختیار سے کرتا ہے اور وہ کسی کام کے کرنے پر مجبور نہیں ہے۔
( ۷) ۔ متکلم۔ یعنی خدا جس چیز میں چاہتا ہے اپنی آواز پیدا کر دیتا ہے۔
( ۸) ۔ صادق۔ یعنی خدا ہر بات میں سطا ہے۔
سوالات :
۱ ۔ ہمارے اور خدا کے دیکھنے سننے میں کیا فرق ہے؟
۲ ۔ قادر اور حی کے معنی بتائے ۔
۳ ۔ ہمارے بولنے اور خدا کے متکلم ہونے میں کیا فرق ہے ؟
چوتھا سبق
صفات سلبیہ
اللہ میں جو باتیں نہیں پائی جاتی ہیں ان میں سے مشہور آٹھ ہیں جن کو صفات سلبیہ کہتے ہیں۔
( ۱) ۔ مرکب یعنی خدا نہ کسی چیز سے ملکر بنا ہے نہ خدا سے ملکر کوئی چیز بنی ہے۔
( ۲) ۔ جسم نہیں۔ یعنی خدا ہاتھ ۔ پیر ۔ کان ۔ آنکھ ۔ منہ ۔ زبان وغیرہ نہیں رکھتا۔
( ۳) ۔ مکان نہیں۔ یعنی خدا کے رہنے کی کوئی جگہ نہیں ۔ البتہ اس کی قدرت کے کر شمے ہر جگہ موجود ہیں۔
( ۴) ۔ حلول نہیں۔ یعنی نہ خدا کسی چیز میں سما سکتا ہے اور نہ اس میں کوئی چیز سما سکتی ہے۔
( ۵) ۔ مرئی نہیں۔ یعنی خدا کو کوئی دنیا یا آخرت میں دیکھ نہیں سکتا۔
( ۶) ۔ محل حوادث نہیں۔ یعنی خدا میں بدلنے والی کوئی چیز نہیں ہے۔
( ۷) ۔ شریک نہیں۔ یعنی خدا اکیلا ہے جس کا کوئی ساتھی نہیں۔
( ۸) ۔ صفات زائد برذات نہیں۔ یعنی خدا کی ذات اور صفات الگ الگ نہیں ہیں۔
سوالات :
۱ ۔ خدا کے رہنے کی جگہ بتاو ۔
۲ ۔ خدا کب دکھائی دیتا ہے ۔
۳ ۔ حلول کو کیا معنی ہیں ؟
پانچواں سبق
اسلام، ایمان، تقویٰ
اصول دین کا تین ماننا اسلام ہے لہذا جو لوگ صرف توحید ، نبوت، قیامت کو اصول دین مانتے ہیں وہ مسلمان کہلاتے ہیں۔
اصول دین کا پانچ ماننا ایمان ہے۔ اس لیے جو لوگ توحید ، عدل ، نبوت ، امامت ، قیامت کو اصول دین مانتے ہیں وہ مومن ہوتے ہیں۔
خدا سے خوف رکھنا۔ اس کے عذاب سے ڈرنا اور اس کے احکام کی پابندی کرنے کا نام تقویٰ ہے۔
اسلام کو نہ ماننے والا کافر ہوتا ہے۔ ایمان نہیں رکھنے والا منافق ہے۔ دین کے احکام کی پابندی نہ کرنے والا فاسق کہلاتا ہے۔
سوالات :
۱ ۔ اسلام کیا ہے اور اس کے مخالف کو کیا کہتے ہیں ؟
۲ ۔ ایمان کی تعریف بتاو۔
۳ ۔منافق اور فاسق میں کیا فرق ہے ؟
چھٹا سبق
عقیدہ و عمل
انسان جب بھی کوئی کام کرتا ہے تو کام کرنے سے پہلے سوچتا ہے کہ کسی طرح کرے اور اس کے بعد کام شروع کرتا ہے۔ خیال جتنا اچھا ہوتا ہے عمل بھی اتنا ہی اچھا ہوتا ہے۔
اسی لیے اسلام نے اچھے کام کے لئے اچھے خیالات رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ان ہی اچھے خیالات کو عقیدہ کہتے ہیں۔
عقیدہ وہ یقین ہے جس سے انسان کی زندگی سدھرتی ہے اور اعمال کو اچھا اور پاکیزہ بنانے میں مدد ملتی ہے۔
توحید۔ ہر کام میں خدا کی اطاعت پر امادہ کرتی ہے۔
نبوت و امامت۔ کے ذریعہ اعمال بجا لانے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے۔
عدالت۔ اچھے کاموں پر انعام پانے اور بڑے کاموں پر سزا پانے کا خیال دلاتی رہتی ہے۔
قیامت۔ جنت میں جانے کی امید اور دوزخ میں ڈالے جانے کا خوف پیدا کراتی ہے۔
سوالات :
۱ ۔ عقیدہ اور عمل میں فرق بتاو۔
۲ ۔ اصول دین کا فائدہ بتاو۔
۳ ۔ عمل اچھا کب بنتا ہے ؟
ساتواں سبق
عدل
خدا کو ایک ماننے کے ساتھ اس کو عادل اور انصاف والا ماننا ضروری ہے۔ خدا کے عادل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی اچھے کام کو چھوڑتا نہیں اور کسی برے کام کو کرتا نہیں۔
خدا جو کچھ کرتا ہے وہ ٹھیک کرتا ہے۔ ہم اس کے کام کی مصلحت اور ٖفائدہ کو نہیں سمجھ پاتے اس لئے اعتراض کر دیتے ہیں خدا کے کام سب کے لئے ہوتے ہیں۔ وہ کسی ایک آدمی یا کسی ایک جگہ کے فائدہ کے لئیے کام نہیں کرتا۔ جب کہ ہم لوگ صرف اپنا ہی فائدہ چاہتے ہیں اور اپنے ہی فائدہ کے لئے کام کرتے ہیں۔ لیکن خدا سب کا ہے۔ وہ ہر کام میں سب کا خیال رکھتا ہے۔ اس نے پیغمبر بھیجے تو سب کے لئے کتابیں نازل کیں تو سب کے لئے امام مقرر کئیےتو سب کے لئے وہ کسی کا رشتہ دار یا عزیز نہیں۔ خدا ہر اچھے شخص کو دوست رکھتا ہے اور ہر برے شخص کا دشمن ہے۔
سوالات :
۱ ۔ عدل کے معنی بتاو۔
۲ ۔ لوگ خدا کو ظالم کیوں سمجھ لیتے ہیں ؟
۳ ۔ خدا کے کام کس کے لئے ہوتے ہیں ؟
آٹھواں سبق
بندوں کے کام
پروردگار عالم نے ہر انسان کو پیدا کرنے کے بعد اسے طاقت و قوت عطا کر دی اور اچھے برے کی پہچان بتا کر ہر شخص کو عمل کی آزادی دے دی۔ اب ہر انسان کو اختیار ہے چاہے دنیا میں اچھے کام کرے یا برے کام انجام دے۔ البتہ قیامت کے دن اسے اس کے ہر اچھے یا برے کام کا بدلہ ضرور دیا جائگا۔
چونکہ مجبور آدمی اچھا کام بھی کرتا ہے تو اس کی تعریف نہیں ہوتی اور برا کام بھی کرتا ہے تو اسے برا نہیں کہا جاسکتا ہے۔ اسی لئے خدا نے کسی انسان کو کسی بات پر مجبور نہیں کیا۔
پیغمبروں نے بندوں کو نیکیوں کا راستہ بتا دیا اور برائی سے بچنے کی ہدایت کر دی۔ ان انسان یہ عذر نہیں کر سکتے کہ ہم کو اچھائی اور برائی کا علم نہ تھا۔
سوالات :
۱ ۔ بندے اپنے کاموں میں مجبور ہیں یا آزاد ؟
۲ ۔ مجبوری کا نقصان کیا ہے ؟
۳ ۔ انبیا کیوں بھیجے گئے ؟
نواں سبق
اوصاف نبی
اللہ نے جن ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کو بھیجا ہے وہ شکل و صورت میں ہمارے جیسے انسان تھے۔ ہماری ہی طرح کھاتے پیتے اور سوتےجاگتے تھے۔ لیکن ان میں چند ایسی باتیں پائی جاتی تھیں جو ہم میں نہیں پائی جاتی ہیں۔
۱ ۔ نبیوں کو اللہ نے ہماری ہدایت کے لئے بھیجا اور ہم کو نبیوں کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔
۲ ۔ وہ عالم پیدا ہوتے ہیں اور بچپن ہی سے حلال و حرام کے پابند ہوتے ہیں۔ ہم جاہل پیدا ہوتے ہیں اور ہم پر حلال و حرام کی پابندی بالغ ہونے کے بعد واجب ہوتی ہے۔
۳ ۔ وہ دنیا میں کسی سے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
۴ ۔ ان سے پوری زندگی میں ایک بھی غلطی نہیں ہوتی ۔ ہم سے اکثر غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔
۵ ۔ ان کو خدا منصب نبوت دیتا ہے جس کے ہم حقدار نہیں۔
سوالات :
۱ ۔ نبی کو کیسا ہونا چاہئیے ؟
۲ ۔ کیا کوئی جاہل یا گنہگار کبھی نبی ہو سکتا ہے ؟
۳ ۔ ہم میں اور نبی میں کیا فرق ہے ؟
دسواں سبق
آخری نبیؐ
اللہ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں میں تین سو تیرہ کو رسول بنایا۔ اور ان تین سو تیرہ رسولوں میں سے پانچ کو اولوالعزم رسول بنایا ہر اولوالعزم رسول کو خدا نے شریعت دی۔
رسول نبی سے بہتر ہوتا ہے اور اولوالعزم پیغمبر، رسول سے بہتر ہوتا ہے اور ان سب سے بہتر ہمارے رسول حضرت محمد مصطفےٰ ہیں۔
ہمارے رسولؐ کو اللہ نے قرآن جیسی عظیم کتاب دی ہے جو قیامت تک باقی رہےگی۔
اسلام جیسا دین دیا ہے جس میں دنیا اور آخرت کی ہر اچھائی اور برائی کے لئے ہدایت موجود ہے۔ اہلبیت جیسے معصوم عزیز پیغمبروں سے افضل ہیں۔
سوالات :
۱ ۔ ہمارے نبیؐ کا نام کیا ہے ؟
۲ ۔ رسول اور اولوالعزم میں کون بہتر ہے ؟
۳ ۔ ہمارے رسولؐ کو کیا کیا شرف ملے ؟
گیارہواں سبق
اوصاف امام
نبی کے بعد دین کو چلانے والے اور بچانے والے کو امام کہا جاتا ہے۔ امام کا کام یہ ہے کہ دین کی ہر بات کو اس کی اصلی شکل میں باقی رکھے اور لوگوں کو دین کی طرف لانے کے لئے کوشش کرتا رہے۔
امام کے لئے معصوم ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا معصوم ہونا نبی کے لئے ضروری ہے۔ امام بھی نبی کی طرح بچپنے سے ہر بات کے عالم ہوتے ہیں اور حلال و حرام کی پابندی کرتے ہیں۔
ہمارے امام بارہ ہیں۔ انھیں اللہ نے ہمارے رسول حضرت محمد مصطفےٰؐ کا خلیفہ و جانشین بنایا ہے اور یہی شریعت کے محافظ مقرر ہوئے ہیں۔
چونکہ ہمارے نبیؐ سارے پیغمبروں سے افضل اور بالاتر ہیں اور بارہ امام آپ کے جانشین اور خلیفہ ہیں لہذا بارہ امام بھی ہمارے نبیؐ کی طرح سارے پیغمبروں سے افضل و بالاتر ہیں۔
سوالات :
۱ ۔ امام کسے کہتے ہیں ؟
۲ ۔ امام کا معصوم ہونا کیوں ضروری ہے ؟
۳ ۔ ہمارے امام پیغمبروں سے کیوں افضل ہیں ؟
بارہواں سبق
آخری امامؐ
جس طرح اللہ نے ہمارے نبی حضرت محمد مصطفےٰؐ کو آخری نبی قرار دے کر آپ پر نبوت کو ختم کر دیا ہے۔اسی طرح ہمارے بارہویں امام حضرت مہدیؐ آخر الزّمان کو آخری امام قرار دیا ہے۔ نہ ہمارے نبیؐ کے بعد کوئی نبیؐ آیا اور نہ بارہویں امامؐ کے بعد کوئی امام آئےگا۔
بارہویں امامؐ بحکم خدا زندہ ہیں اور ہماری نظروں سے پوشیدہ ہیں۔ جب حکم خدا ہوگا تب ظاہر ہوںگے اور وہ دنیا جو اس وقت ظلم و جور سے بھری ہوگی اسے عدل و انصاف سے بھر دیںگے۔
زمانہ غیبت میں ہمارے علماء امام کی نیابت کرتے ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے احکام کی اطاعت کریں کیونکہ وہ امامؐ کے احکام بتاتے ہیں اور امام کے احکام خدا اور رسولؐ کے احکام ہیں۔
سوالات :
۱ ۔ آخری امامؐ کا نام بتاو ۔
۲ ۔ امامؐ آج ظاہر ہیں یا پردہ غیب میں ؟
۳ ۔ ظاہر ہونے کے بعد امام کیا کریںگے ؟
۴ ۔ ہم علما کے احکام کیوں مانتے ہیں ؟
تیرہواں سبق
قیامت
مرنے کے بعد ایک دن آئےگا جب تمام لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیںگے۔ اس دن کا نام قیامت ہے۔ اس دن اچھے کاموں پر ثواب اور بڑے کاموں پر عذاب ہوگا۔
جنت :۔ وہ جگہ ہے۔ جہاں ہر طرح کا آرام اور تمام نعمتیں موجود ہوںگی۔ اور وہاں کسی قسم کا دکھ درد نہ ہوگا۔ جن کے اعمال اچھے ہوںگے وہ جنت میں ہمیشہ رہیںگے۔
دوزخ :۔ وہ جگہ ہے جہاں ہر طرح کا عذاب اور درد ہوگا۔ دوزخ کی ہر چیز کھانا پینا۔ اوڑھنا بچھونا آگ کا ہوگا۔ بڑے کام کرنے والے یہاں ہمیشہ رہیں گے۔
سوالات :
۱ ۔ قیامت کون سا دن ہے ؟
۲ ۔ جنت کس کی ہوگی اور وہاں کون لوگ رہیں گے ؟
۳ ۔ دوزخ کیسا ہوگا اور وہاں کون لوگ رہیں گے ؟
چودہواں سبق
معجزہ
دنیا کا کوئی عقلمند انسان کسی کی بات کو دلیل کے بغیر نہیں مان سکتا۔ بات کہنے والے کی ذمہ داری ہے کہ اپنی بات منوانے کےلئے ثبوت پیش کرے اور ثبوت بھی ایسا ہو جو بات کو پوری طرح ثابت کر سکے۔
اللہ نے اپنے پیغمبروں اور اماموں کو معجزہ اسی لئے عطا کیا ہے۔ کہ اس کے ذریعہ نبی اور امام اپنی نبوت اور امامت کو ثابت کر سکیں۔
معجزہ اس کام کو کہتے ہیں جس کو کوئی بھی بندہ بغیر خدا کی مخصوص امداد کے نہ کر سکے۔ معجزہ تک کسی انسان کی رسائی اور پہونچ نہیں ہوتی
نبیؐ یا امامؐ اسی لئے معجزہ دکھاتے ہیں تاکہ لوگ یقین کر لیں کہ معجزہ دکھانے والا نبی یا امام ہے۔ عام انسان نہیں ہے بلکہ اللہ کا خاص بندہ ہے جسے خدا نے ہدایت کے لئے بھیجا ہے اور اسی لئے اللہ نے اس کو معجزہ کی مخصوص طاقت عطا فرمائی ہے۔
سولات :
۱ ۔ معجزہ کسے کہتے ہیں ؟
۲ ۔ معجزہ کا فائدہ کیا ہے ؟
۳ ۔ معجزہ کی ضرورت کیوں ہوتی ہے ؟
پندرہواں سبق
قرآن
اللہ کی وہ آخری کتاب ہے جسے اللہ نے اپنے آخری نبیؐ حضرت محمد مصطفےٰؐ کا معجزہ بنا کر نازل کیا ہے اس میں کل ایک سو چودہ سورے ہیں۔ ہر سورہ بسم اللہ سے شروع ہوتا ہے صرف سورہ برائت میں بسم اللہ نہیں ہے۔
قرآن کا پورا علم صرف پیغمبرؐ اور ان کے اہلبیتؐ کے پاس ہے ان کے علاوہ کسی کو پورے قرآن کا علم نہیں ہے۔
وضو کے بغیر قرآن کے حرفوں کا چھونا حرام ہے۔ قرآن کریم میں چار آیتیں ایسی بھی ہیں جن کے پڑھنے یا سننے پر فوراً سجدہ واجب ہو جاتا ہے۔
یہ قرآن اتنی بلند و بالا کتاب ہے جس کا جواب آج تک ساری دنیا مل کر نہیں پیش کر سکی ہے اور نہ قیامت تک پیش کر سکے گی ۔
سوالات :
۱ ۔ قرآن کس پر نازل ہوا ؟
۲ ۔ اس میں کتنے سورے ہیں ؟
۳ ۔ قرآن کا علم کس کے پاس ہے ؟
۴ ۔ قرآن کے حرفوں کو چھونے کے لئے کیا شرط ہے ؟
سولہواں سبق
کعبہ
کعبہ ملک عرب کے شہر مکہ میں اللہ کا گھر ہے جسے جناب ابراہیم اور جناب اسماعیلؐ نے اللہ کے حکم سے لوگوں کے لئے بنایا تھا۔
حاجی اسی کعبہ کا طواف کرتے ہیں۔ نماز میں اسی کعبہ کی طرف رخ کیا جاتا ہے۔ ہمارے پہلے امام حضرت علیؐ اسی کعبہ میں پیدا ہوئے تھے۔
جناب ابراہیمؐ کے بعد اس کعبہ میں بُت رکھ دئے گئے تھے۔ رسولؐ اللہ نے زمانے تک یہ بُت رکھے رہے جب آپ نے مکہ فتح کیا تو اشارے سے سارے بت گرا دئے اور جو بڑے بت اوپر رکھے ہوئے تھے انھیں حضرت علیؐ کو اپنے کاندھوں پر چڑھا کر ان کے ہاتھوں سے گرا دیا۔
کعبہ سے پہلے بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ تھا اس کے بعد ایک دن عین حالت نماز میں کعبہ کی طرف رخ موڑ دیا گیا جو آج تک باقی ہے۔
ہمارے آخری امامؐ کا ظہور بھی اسی کعبہ کے پاس ہوگا۔
سوالات :
۱ ۔ کعبہ کس نے بنایا ؟
۲ ۔ بتوں کی صفائی کب ہوئی ؟
۳ ۔ کعبہ کب قبلہ بنا ؟
سترہواں سبق
عزاداری
امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی یاد منانے کو عزاداری کہا جاتا ہے۔
عزاداری کا سلسلہ ہمارے ائمہ معصومینؐ نے شروع کیا ہے اس میں مجلس ۔ ماتم ۔ جلوس جیسی تمام غم کی رسمیں شامل ہیں۔ شام میں سب سے پہلی مجلس جناب زینبؐ نے قید سے رہا ہونے کے بعد کی تھی اس کے بعد یہ سلسلہ ہر ملک ہر قوم اور ہر مذہب میں پھیل گیا۔
آج ہندوستان میں بہت سے غیر مسلم ایسے ہیں جو امام حسینؐ کا غم مناتے ہیں۔
محرم کا زمانہ عزاداری کا مخصوص زمانہ ہے اس لئے کہ اسی مہینے کی دسویں تاریخ کو امام حسینؐ شہید ہوئے تھے۔
عزاداری کا سلسلہ ہمارے ملک میں ۸/ زیع الاول تک قائم رہتا ہے۔
سوالات :
۱ ۔ عزاداری کسے کہتے ہیں ؟
۲ ۔ یہ سلسلہ کب سے شروع ہوا ہے ؟
۳ ۔ عزاداری کا سلسلہ کب تک رہتا ہے ؟
آٹھارہواں سبق
مذہب کے حکم پانچ ہیں
پروردگار عالم نے جو احکام اپنے بندوں کے لئے مقرر کئے ہیں ان کی پانچ قسمیں ہیں۔
واجب ۔ وہ کام جس کے کرنے میں ثواب ہو اور نہ کرنے میں عذاب ہو۔
حرام ۔ وہ کام جس کے کرنے میں عذاب ہو اور نہ کرنے میں ثواب ہو۔
مکروہ ۔ وہ کام جس کا نہ کرنا بہتر ہو اور کرنے میں کوئی عذاب نہ ہو۔
مستحب ۔ وہ کام جس کا کرنا بہتر ہو اور نہ کرنے میں کوئی عذاب نہ ہو۔
مباح ۔ وہ کام جس کا کرنا اور نہ کرنا برابر ہو اور اس میں کوئی عذاب و ثواب نہ ہو
سوالات :
۱ ۔ واجب کسے کہتے ہیں ؟
۲ ۔ مستحب کسے کہتے ہیں ؟
۳ ۔ حرام اور مکروہ کا فرق بتاو۔
انیسواں سبق
تقلید
انسان جس چیز سے نا واقف ہوتا ہے اس میں باخبر افراد پر بھروسہ کرتا ہے۔ مکان بنوانے میں معمار کو بلایا جاتا ہے اور کرسی بناوانے میں بڑھئی کو۔ اسی طرح ہم دین کے احکام معلوم کرنے میں علما پر بھروسہ کرتے ہیں۔ عالم سے مذہب کے احکام معلوم کر کے ان پر عمل کرنے کا نام تقلید ہے۔ تقلید مجتہد کی کی جاتی ہے۔ مجتہد وہ ہوتا ہے جو قرآن اور حدیث سے مذہب کے احکام معلوم کرتا ہے۔
تقلید میں مجتہد کا نام اور پتہ جاننا کافی نہیں ہے بلکہ اس کے احکام پر عمل کرنا ضروری ہے۔
سوالات :
۱ ۔ تقلید کسے کہتے ہیں ؟
۲ ۔ مجتہد کون ہوتا ہے ؟
۳ ۔ کیا تقلید میں صرف مجتہد کا نام جاننا کافی ہے ؟
بیسواں سبق
طہارت و نجاست
کچھ چیزیں پاک ہیں۔ جیسے پانی ۔ مٹٰی ۔ زمین وغیٰرہ ۔ کچھ چیزیں نجس ہیں ۔ جیسے پیشاب ۔ پاخانہ ۔ خون ۔ مردار ۔ شراب ۔ کتا ۔ سور وغیرہ پاک چیزوں کی دو قسمیں ہیں۔
۱ ۔ کچھ چیزیں خود پاک ہیں مگر دوسروں کو پاک نہیں کر سکتی ہیں جیسے عرق گلاب عرق کیوڑہ ۔ دودھ عرق ۔ رس وغیرہ۔
۲ ۔کچھ چیزیں خود بھی پاک ہیں اور دوسری چیزوں کو بھی پاک کر سکتی ہیں۔ جیسے پانی ۔ مٹی وغیرہ ۔
اسی طرح نجس چیزوں کی بھی دو قسمیں ہیں ۔
۱ ۔ کچھ چیزیں ایسی نجس ہیں جو پاک ہو سکتی ہیں مثلاً نجس کپڑا نجس برتن وغیرہ
۲ ۔ کچھ چیزیں ایسی نجس ہوتی ہیں جو پاک نہیں ہو سکتی ہیں جیسے کتا ۔ سور وغیرہ
سولات :
۱ ۔ پانچ پاک چیزیں بتاو ۔
۲ ۔ جو چیزیں دوسری چیزوں کو بھی پاک کر سکتی ہیں ان کی مثال دو۔
۳ ۔ کو سی چیزیں کبھی پاک نہیں ہو سکتیں
اکیسواں سبق
حدث اور خبث
طہارت کی دو قسمیں ہیں ۔
۱ ۔ ایک طہارت وہ ہے جس میں نیت ضروری ہوتی ہے جیسے وضو ۔ غسل ۔ لہذا اگر بغیر وضو کی نیت کے ہاتھ یا منہ دھو لیا جائے یا بغیر غسل کی نیت کے کوئی نہا لے تو نہ وضو ہوگا اور نہ غسل ۔
۲ ۔ دوسری طہارت وہ ہے جس میں نیت کی ضرورت نہٰ ہوتی ہے جیسے کپڑا پاک کرنا۔ بدن پاک کرنا وغیرہ ۔ لہذا اگر کوئی شخص دریا میں گر پڑے یا کوئی برتن حوض میں گر جائے اور اس میں لگی ہوئی نجاست دور ہو جائے تو وہ پاک ہو جائے گا۔ اسے پاک کرنے کی ضرورت نہ ہو گی۔
جن چیزوں کے بعد نیت والی طہارت کرنا ہوتی ہے ان کو حدث کہا جاتا ہے جیسے سونے کے بعد نماز پڑھنے کے لئے وضو کرنا ہوتا ہے۔
جن چیزوں کے بعد بغیر نیت والی طہارت کافی ہوتی ہے ان کو خبث کہتے ہیں ۔ جیسے کپڑے میں خون لگ جائے۔
جس حدث کے بعد وضو نا ہوتا ہے اسے حدث اصغر کہتے ہیں اور جس حدث کے بعد غسل کرنا ہوتا ہے اسے حدث اکبر کہتے ہیں۔
سوالات :
۱ ۔ وضو کون سی طہارت ہے ؟
۲ ۔ بغیر نیت کے نہانے سے غسل ہو جائے گا یا نہیں ؟
۳ ۔ حدث اکبر کسے کہتے ہیں ؟
بائیسواں سبق
حلال اور حرام
دین و شریعت نے جن چیزوں کے استعمال کو جائز قرار دیا ہے۔ انھیں حلال کہا جاتا ہے اور جن چیزوں کے استعمال سے روک دیا ہے انھیں حرام کہا جاتا ہے۔
حلال و حرام کا پہچاننا اور حرام سے پرہیز کرنا بےحد ضروری ہے۔ ہر نجس چیز کا کھانا پینا حرام ہے۔ جیسے پیشاب پاخانہ ، خون ، شراب وغیرہ نجس ہیں۔ لہذا ان کا کھانا پینا حرام ہے۔ لیکن ہر پاک چیز کا کھانا پینا ضروری نہیں کہ حلال ہو جیسے مٹی پاک ہے لیکن اسے کھانا جائز نہیں۔
البتہ صرف ضرورت کے وقت بیماری سے شفا حاصل کرنے کے لئے امام حسینؐ کی قبر کی تھوڑی سی مٹی کھانا جائز ہے۔
سوالات:
۱ ۔ حلال و حرام کا فرق بتاو۔
۲ ۔ مٹی کا کھانا کیسا ہے ؟
۳ ۔ نجس چیزوں کا کھانا پینا کیسا ہے ؟
تیئیسواں سبق
پانی
پانی کی دو قسمیں ہیں :
۱ ۔ مطلق پانی :۔ جسے صرف پانی کہا جاتا ہے۔
۲ ۔ مضاف پانی :۔ جسے خالص پانی نہ کہا جائے۔ جیسے شربت گنے کا رس وغیرہ۔
مطلق پانی دوسری چیزوں کو بھی پاک کر سکتا ہے ۔ مضاف پانی خود تو پاک ہوتا ہے مگر دوسری چیزوں کو پاک نہیں کر سکتا۔
مطلق پانی چند طرح کا ہوتا ہے۔ بارش کا پانی ۔ چشمہ کا پانی ۔ دریا کا اور حوض کا پانی۔ کنویں کا پانی ۔ نل کا پانی۔
مطلق پانی سے ہر چیز پاک ہو سکتی ہے۔ مطلق پانی سے ہی وضو اور غسل کیا جاتا ہے۔ مضاف پانی مثلا گلاب۔ کیوڑہ وغیرہ سےنہ وضو ہو سکتا ہے اور نہ غسل اور نہ اس سے کوئی چیز پاک ہو سکتی ہے۔
سوالات :
۱ ۔ مضاف پانی کسے کہتے ہیں ؟
۲ ۔ وضو اور غسل کون سے پانی سے ہوتا ہے ؟
۳ ۔ کونسا پانی وضو غسل اور طہارت کے کام نہیں آتا ؟
چوبیسواں سبق
پیشاب پاخانہ کے آداب
پیشاب پاخانہ کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کر کے بیٹھنا حرام ہے۔ پیشاب کے بعد پانی سے طہارت کرنا واجب ہے پانی کے بغیر پیشاب کی طہارت نہیں ہو سکتی۔ پیشاب کے بعد کا غذ کپڑے یا ڈھیلے سے پونچھ ڈالنا کافی نہیں ہے بلکہ پانی سے پاک کرنا ضروری ہے۔
پیشاب یا پاخانہ کرتے وقت ایسی جگہ نہیں بھیٹنا چاہئیے جہاں کوئی دیکھنے والا موجود ہو۔
کھڑے ہو کر پیشاب کرنا بہت بری بات ہے۔ ہمارے اماموں نے اس کی سخت ممانعت کی ہے۔
آبدست بائیں ہاتھ سے کرنا چاہئیے۔ داہنا ہاتھ اللہ نے کھانا کھانے کے لئے بنایا ہے۔
سوالات :
۱ ۔ پیشاب پاخانہ کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ؟
۲ ۔ پیشاب کس طرح ہوتا ہے ؟
۳ ۔ کھڑے ہو کر پیشاب کرنا کیسا ہے ؟
پچیسواں سبق
وضو
انسان جب بھی نماز کے لئے تیار ہوتو وضو کرنا ضروری ہے وضو کے بغیر نماز پڑھنا حرام ہے۔
وضو کرنے کی ترکیب یہ ہے کہ پہلے نیت کرے کہ وضو کرتا ہوں " قربۃٌ الی اللہ" اس نیت کا دل میں رہنا بہت ضروری ہے۔ نیت کے بعد دونوں ہاتھوں کو گٹے تک دو مرتبہ دھوئے اس کے بعد تین مرتبہ کلی کرے اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالے۔ یہ تینوں کام سنت ہیں واجب نہیں ہیں۔
ناک میں پانی ڈالنے کے بعد چہرے کو بالوں کے اگنے کی جگہ سے تھوڑی تک دھوئے۔ چوڑائی میں کانوں تک پانی پہونچا دینا زیادہ اچھا ہے۔
چہرہ دھونے کے بعد داہنے ہاتھ کو کہنیوں سے انگلیوں کے سرے تک دھوئے پھر بائیں ہاتھ کو اسی طرح دھوئے۔
دونوں ہاتھوں کو دھونے کے بعد جو تری ہتھیلی میں بچ گئی ہے اس میں دوسرا پانی ملائے بغیر داہنے ہاتھ کی ہتھیلی سے سر کے اگلے حصہ کا مسح کرے۔ اس کے بعد داہنے ہاتھ کی ہتھیلی سے داہنے پیر مسح کرے اور اس کے بعد بائیں ہاتھ کی ہھتیلی سے بائیں پیر کا مسح کرے۔ مسح پیر کی انگلیوں سے گٹے تک ہوتا ہے۔
سر اور پیر کے مسح میں ایک ایک انگلی سے مسح کرنا بھی کافی ہے مگر سر کا مسح تین انگلیوں سے اور پیر کا مسح پورے ہاتھ سے کرنا بہتر ہے۔
سوالات :
۱ ۔ وضو کی نیت بتاو ۔
۲ ۔ وضو میں چہرہ کہاں سے کہاں تک دھوتے ہیں ؟
۳ ۔ مسح کس چیز سے کیا جاتا ہے ؟
چھوبیسواں سبق
غسل
غسل دو طرح کے ہوتے ہیں :
۱ ۔ بعض غسل واجب ہوتے ہیں جیسے میت کو غسل دینا یا میت کو چھونے کے بعد غسل کرنا واجب ہے ۔
۲ ۔ بعض غسل سنت ہوتے ہیں جیسے جمعہ کے دن کا غسل زیارت کا غسل وغیرہ
غسل کرنے کے دو طریقے ہیں:
۱ ۔ غسل ترتیبی :۔ اس میں پہلے نیت کی جاتی ہے کہ غسل کرتا ہوں۔ "قربۃ الیٰ اللہ " اس کے بعد سر اور گردن کو دھویا جاتا ہے سر و گردن کے بعد جسم کے داہنے حصہ کو گردن سے پیروں تک دھویا جاتا ہے۔ اور پھر بائیں حصہ کو اسی طرح دھویا جاتا ہے۔
۲ ۔ غسل ارتماسی ۔ اس میں نیت کر کے پانی میں ایک دم سے غوطہ لگایا جاتا ہے۔
اگر جمعہ کا دن بھی ہو اور زیارت بھی کرنا ہو تو سب کے لئے ایک غسل کافی ہے۔ الگ الگ غسل کی ضرورت نہیں ہے۔
سوالات :
۱ ۔ غسل ترتیبی کس طرح کیا جاتا ہے ؟
ستائیسواں سبق
تیمم
وضو یا غسل کرنے والے کو اگر پانی نہ ملے یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے پانی کا استعمال کرنا نقصان دہ ہو یا نماز کے لئے وضو یا غسل کرنے کی وجہ سے قضا ہو جانے کا خطرہ ہو تو وضو یا غسل کرنے کے بجائے تیمم کرنا چاہئیے۔
تیمم صرف مٹی یا پتھر پر ہو سکتا ہے۔ اگر یہ چیزیں نہ ملیں٘ تو گرد و غبار پر بھی تیمم کیا جا سکتا ہے۔
تیمم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے نیت کرے کہ " تیمم کرتا ہوں وضو یا غسل کے بدلے " قربۃً الی اللہ : نیت کے ساتھ دونوں ہاتھوں کو ملا کر خاک پر مارا پھر ہاتھوں کو جھاڑ کر پہلے دونوں ہتھیلیوں کو پوری پیشانی پر اوپر سے نیچے کی طرف پھیرے پھر بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو داہنے ہاتھ کی پشت پر گٹے سے انگلیوں تک پھیرے پھر اسی طرح داہنے ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پشت پر پھیرے پھر دو بارہ ہاتھ مارے اور صرف دونوں ہاتھوں کا مسح کرے۔
اگر ہاتھ میں چھلا یا انگوٹھی وغیرہ ہو تو اسے تیمم کرتے وقت اتار دینا چاہئیے نماز کا وقت نکل جانے کے بعد اگر پانی مل جائے تو تیمم سے پڑھی ہوئی نماز کو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
سوالات :
۱ ۔ تیمم کب کرنا چاہئیے ؟
۲ ۔ تیمم کس چیز پر ہوگا ؟
۳ ۔ اپنے کو تیمم کر کے دکھائو ۔
آٹھائیسواں سبق
اوقات نماز
صبح کی نماز کا وقت صبح صادق سے آفتاب نکلنے تک ہے۔
طہر و عصر کا وقت دوپہر کے وقت آفتاب ڈھلنے سے آفتاب ڈوبنے تک ہے لیکن پہلے نماز ظہر پڑھی جائے گی اس کے بعد نماز عصر۔
مغرب و عشا کا وقت آفتاب ڈوبنے کے بعد آسمان پر سیاہی پھیل جانے سے آدھی رات تک ہے لیکن اس وقت میں پہلے نماز مغرب پڑھے اس کے بعد نماز عشا۔ نماز جمعہ کا وقت آفتاب ڈھلنے سے شروع ہوتا ہے اور اس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک ہر چیز کا سایہ اس کے برابر نہ ہو جائے۔
نماز عید کا وقت آفتاب نکلنے سے زوال تک ہے۔
ہر نماز کو وقت کے اندر پڑھنا ضروری ہے۔ جان بوجھ کر نماز کا قضا کرنا حرام ہے
سوالات :
۱ ۔ صبح کی نماز کب قضا ہو جاتی ہے ؟
۲ ۔ نماز کو اس وقت کے اندر نہ پڑھنا کیسا ہے ؟
۳ ۔ نماز عیدین کا وقت کیا ہے ؟
انتیسواں سبق
سجدہ گاہ
سجدہ صرف زمین پر یا زمین سے اگنے والی ایسی چیز پر ہونا چاہئیے جو کھائی یا پہنی نہیں جاتی ہو۔
مٹی ۔ پتھر ۔ لکڑی ۔ چٹائی ۔ کاغذ ۔ وغیرہ پر سجدہ کرنا جائز ہے۔ اور کھائے جانے والے پھلوں ۔ پتوں اور کپڑے پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے۔
سجدہ صرف پاک چیز پر ہونا چاہئیے، نجس چیز پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے۔
قبر حسینؐ کی مٹی پر سجدہ کرنے میں زیادہ ثواب ہے۔ اس لئے شیعہ حضرات اس مٹی کی سجدہ گاہ اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور اسی پر سجدہ کرتے ہیں اس میں ثواب بھی زیادہ ہے اور یہ یقین بھی ہے کہ یہ مٹی پاک ہے۔
سوالات :
۱ ۔ کیلے کے پتے اور پان پر سجدہ جائز ہے یا نہیں ؟
۲ ۔ لکڑی یا چٹائی پر سجدہ کیوں جائز ہے ؟
۳ ۔ کربلا کی سجدہ گاہ پر سجدہ کیوں کیا جاتا ہے ؟
تیسواں سبق
ترکیب نماز
نماز پڑھنے والے کو چاہئیے کہ پاک کپڑے پہن کر وضو کر کے قبلہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو اور نیت کرے کہ صبح کی دو رکعت نماز پڑھتا ہوں قربۃً الی الل نیت کے بعد فوراً اللہ اکبر کہے اور پھر سورہ الحمد اور کوئی دوسرا سورہ پڑھ کر رکوع میں جائے۔ رکوع میں پہنچ کر کم سے کم ایک مرتبہ "سبحان ربی العِظِیمِ وَ بِحَمدِه " کہ کر کھڑا ہو جائے کھڑے ہو کر "سَمِعَ اللهُ لِمَن حَمِدَه ۔الله اکبر " کہ کر سجدہ میں جائے اور خاک پر پیشانی رکھ کر کم سے کم ایک مرتبہ "سُبحَانَ رَبِّی الاَعلیٰ وَ بِحَمدِه " کہے اور پھر اٹھ کر بیٹھ جائے اورالله اکبر اَستَغفِرُ الله رَبِّی وَ اَتُوبُ اِلَیه ۔الل اکبر " کہ کر دوسرے سجدہ میں جائے اور "سُبحَانَ رَبِی الاَعلیٰ وَ بِحَمدِه " کہے پھر بیٹھ کر اللہ اکبر کہے اور پھربِحَولِ اللهِ وَ قُوَّتِهِ اَقُومُ اَقعُد " کہتا ہوا کھڑا ہو جائے اور حمد و سورہ کے بعد قنوت پڑھے۔ قنوت میں چہرے کے سامنے دونوں ہاتھ بلند کر کے دعائے قنوت پڑھنا چاہئیے اور کوئی دعا یا دنہ ہو تو کم سے کم صلوٰت پڑھنے دعا کے بعد رکوع میں جائے اور پہلی رکعت کی طعح رکوع و سجدہ تمام کرے۔اس کے بعد بیٹھ کر اس طرح تشہد پڑھے۔اَشهدُ اَن لاَّ اِلهَ اِلاَّ اللهُ وَحدَهُ لَا شَرِیکَ لَهُ وَ اَشهدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبدُهُ وَ رَسُولُهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ ٰالِ مُحَمَّدٍ۰
تشہد کے بعد اس طرح سلام پڑھ کر نماز کو تمام کرےاَلسَّلَامُ عَلَیکَ اَیُّهَا النِّبیُ وَ رَحمَة اللهِ وَ بَرَکَاتُهُ ۔اَلسِّلَامُ عَلَینَا وَ عَلیٰ عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِینَ ۔اَلسَّلامُ عَلَیکُم وَ رَحمَة اللهِ وَ بَرَکَاتُهُ ۔
اگر نماز تین یا چار رکعتی ہے تو تشہد کے بعد سلام نہ پڑھے بلکہ کھڑا ہو جائے اور ایک ہا دو رکعت اور پڑھے تیسری اور چوتھی رکعت میں سورہ الحمد یا تین بارسُبحَانَ اللهِ وَ الحَمدُ للهِ وَلاَ اِلٰهَ الاللهُ هوَ اللهُ اَکبَر پڑھنا چاہئیے۔ دوسرے سورہ کی ضرورت نہیں ہے۔اس کے بعد رکوع ۔ سجدہ ۔ تشہد ۔ سلام پہلے کی طرح پڑھ کر نماز تمام کرے۔
سوالات :
۱ ۔ نماز سناو ؟
۲ ۔ نماز پڑھ کر دکھاو ؟
۳ ۔ دعائے قنوت ۔ تشہد اور سلام سناو ؟
اکتیسواں سبق
آداب نماز
نماز پڑھنے والے کو چاہئیے کہ نماز میں اس طرح باادب کھڑا ہو جیسے خدا کے سامنے کھڑا ہونا چاہئیے۔ نماز میں داہنے بائیں ديکھانا جائز نہیں ہے۔
نماز کی حالت میں ہنسنا اور رونا بھی جائز نہیں ہے۔ ہاں اگر خدا کے خوف سے آنسو نکل آئیں تو اس سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے۔
نماز میں بات کرنا بھی حرام ہے، نماز کی حالت میں صرف نماز کے امور ہی انجام دینا چاہئیے۔ ہاں اگر کوئی نماز کی حالت سلام کرے تو اس کاجواب دینا ضرور دینا چاہے۔ نماز کی حالت میںسَلاَمُ عَلَیکُم کا جوابو عَلَیکُم السَّلام نہیں کہنا چاہئیے۔
نماز کی حالت میں آداب عرض ہے۔ وغیرہ کا جواب نہیں دیا جائےگا۔
سوالات :
۱ ۔ نماز پڑھتے وقت ہنسنے سے نماز صحیح رہےگی یا نہیں ؟
۲ ۔ نماز کی حالت میں سلام کا جواب کیسے دیں ؟
بتیسواں سبق
روزہ
ماہ رمضان کا چاند دیکھتے ہی ہر مسلمان مرد عورت پر روزہ واجب ہو جاتا ہے روزہ صبح کی اذان سے شروع ہو کر مغرب کی اذان تک رہتا ہے۔
جان بوجھ کر روزہ نہ رکھنے والے کو بعد میں قضا بھی کرنا پڑے گی۔ اور ایک ایک روزہ کے بدلے میں ساٹھ ساٹھ روزے رکھنا پڑیں گے۔ یا ساٹھ غریبوں کو کھانا کھلانا پڑےگا۔
نابالغ بچوں پر روزہ واجب نہیں ہے لیکن انھیں بھی روزہ ضرور رکھنا چاہئیے اس میں ان کے لئے فائدہ ہے اور ان کے ماں باپ کے لئے ثواب ۔
بیمار اور مسافر پر روزہ واجب نہیں ہے۔ لیکن بعد میں رکھنا ہوگا۔ روزہ کی حالت میں کھانا پینا اور پانی میں سر ٖڈبونا وغیرہ حرام ہے۔ روزہ کی نیت ہے
روزہ رکھتا ہوں ماہ رمضان کا قربہ الی اللہ۔
سوالات :
۱ ۔ روزہ کب سے کب تک رہتا ہے ؟
۲ ۔ جان بوجھ کر روزہ چھوڑنے والے کو کیا کرنا پڑےگا ؟
۳ ۔ روزہ کی نیت کیا ہے ؟
تیتیسواں سبق
حج
حج صرف ان لوگوں پر واجب ہوتا ہے جو بالغ ۔ عاقل اور آزاد ہوں اور حج کا خرچ بھی رکھتے ہوں۔ نابالغ ۔ دیوانہ ۔ غلام اور غریب آدمی پر حج واجب نہیں ہوتا۔ حج عمر بھر میں صرف ایک مرتبہ واجب ہوتا ہے۔ واجب حج کرنے کے بعد کوئی حج واجب نہیں رہ جاتا۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ جس شخص پر حج واجب ہو اور وہ حج کے بغیر مر جائے تو وہ مسلمان نہیں مرتا ہے بلکہ یہودی یا عیسائی مرتا ہے۔ مرنے والے سے سچی محبت یہی ہے۔ کہ اگر اس پر حج واجب ہو تو اس کی طرف سے حج کرا دیا جائے۔
سوالات :
۱ ۔ حج کے بغیر مرنے والے کی موت کیسی ہوتی ہے ؟
۲ ۔ دیوانہ پر حج واجب ہے یا نہیں ؟
۳ ۔ حج عمر بھر میں کتنی مرتبہ واجب ہے ؟
چوتیسواں سبق
زکوٰۃ
زکوٰۃ نو چیزوں میں واجب ہوتی ہے۔ گیہوں ۔ جو ۔ خرما ۔ کشمش سونے چاندی کے سکے ۔ اونٹ ۔ گائے ۔ بکری ۔ ان کے علاوہ زیور ۔ نوٹ ۔ چنا ۔ چاول ۔ دال وغیرہ پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔
زکوٰۃ واجب ہونے کے لئے ضروری ہے کہ مال اتنی مقدار میں ہو جتنی مقدار پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے ۔ گیہوں یا جو یا خرما یا کشمش ۸۴۷ کیلو ہو تو ان پر زکوٰۃ واجب ہوگی ورنہ نہیں۔
سونے چاندی کی زکوٰۃ چالیسواں حصہ ہے۔ گیہوں ۔ جو وغیرہ کی زکوٰۃ پیدا وار ہے اگر پیداوار سینچائی کے بغیر ہوتی ہے۔ تو مال کا دسواں حصہ زکوٰۃ میں دینا ہوگا۔ اور اگر سینچائی کرنا پڑی ہے تو مال کا بیسواں حصہ زکوٰۃ میں دینا ہوگا۔
سوالات :
۱ ۔ چالیسواں حصہ کس چیز کی زکوٰۃ ہے ؟
۲ ۔ گیہوں ۔ جو کتنا ہو کہ اس پر زکوٰۃ واجب ہو ؟
۳ ۔ جو یا گیہوں پر کتنی زکوٰۃ دینا ہوگی ؟
پینتیسواں سبق
خمسُ
خمس٘ سات چیزوں پر واجب ہوتا ہے :
۱ سالانہ بچت ۲ خزانہ ۳ کان ۴ مال حلال جس میں مال حرام مل جائے اور مال حرام کی مقدار نہیں معلوم ہو ۵ جواہرات وغیرہ جنھیں غوطہ لگا کر نکالا جائے ۶ جہاد کا مال غنیمت ۷ ذمی کافر کی زمین جو اس نے مسلمان سے خریدی ہو۔
سال بھر میں نوکری ۔ کھیتی ۔ تجارت ۔ محنت ۔ مزدوری ۔ تحفہ وغیرہ کسی ذریعہ سے جو مال ملے سال کے آخری دن اس مال کی بچت کا پانچواں حصہ خمس کے طور پر نکالنا واجب ہے خمس کے دو حصہ ہوتے ہیں ایک حصہ امام علیہ السلام کا ہے جو مجتہد کو دیا جاتا ہے اور ایک حصہ سادات کا حق ہے جو صرف ان سیدوں کو دیا جائے گا جو غریب ہوں اور کھلم کھلا گناہ نہ کرتے ہوں۔ اگر کسی کی ماں سیدانی ہو اور باپ سید نہ ہو تو اسے خمس نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن اگر کسی کی ماں سیدانی نہ ہو مگر باپ سید ہو تو اسے خمس دیا جا سکتا ہے۔
سوالات :
۱ ۔ خمس کن چیزوں پر واجب ہوتا ہے ؟
۲ ۔ کس دن کا حساب کرنا چاہئیے ؟
۳ ۔ مجتہد کو خمس کا کونسا حق دیا جاتا ہے؟
چھتیسواں سبق
نذر و فاتحہ
نبیؐ اور امامؐ کی خدمت میں کسی چیز کے پیش کرنے کا نام نذر ہے۔ نذر اگر نبیؐ ۔ امامؐ تک پہونچ سکتی ہے تو نذر کی چیز ان کی خدمت میں پیش کی جائے گی ورنہ غریبوں کو دے کر اس کا ثواب ان کی خدمت میں پیش کر دیا جائے گا۔ نذر زندہ امام ۔ نبی کی بھی ہو سکتی ہے۔
فاتحہ صرف مرنے والے کو ثواب پہونچانے کا نام ہے۔ نذر کا طریقہ یہ ہے کہ صلوات پڑھنے کے بعد سورہ حمد اور قل ھو اللہ وغیرہ کی تلاوت کر کے پھر صلوات پڑھے اور خدا کی بارگاہ میں عرض کرے کہ " میں نے ان سوروں کا ثواب چہادہ معصومینؐ کو نذر کیا "۔
اور اگر کسی مردہ کا فاتحہ دینا ہے تو یہ بھی کہے کہ " اس کے عوض میں جو ثواب حاصل ہو اسے فلاں شخص کی روح کو بخش دیا۔
سوالات :
۱ ۔ نذر کس چیز کا نام ہے ؟
۲ ۔ نذر کا طریقہ کیا ہے ؟
۳ ۔ فاتحہ کیوں کر دیتے ہیں ؟
سینتیسواں سبق
خیرات
جناب عیسیٰ علیہ السلام نے ایک لکڑہارے کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ آج مر جائےگا لیکن شام کو جب آپ اس گاوں میں واپس آئے تو دیکھا کہ وہ لکڑی کا ایک گٹھا ست پر رکھے ہوئے جنگل سے واپس آ رہا ہے آپ نے اس سے لکڑی کا گٹھا کھلوایا۔ لکڑیوں کے درمیان ایک سانپ تھا جس کو لکڑہارا لکڑی سمجھ کر باندھ لایا تھا۔ سانپ کے منہ میں ایک پتھر تھا ۔ آپ نے لکڑہارے سے پوچھا کہ آج تونے کون سا نیک کام کیا ہے ؟ لکڑہارے نے بتایا کہ جب میں کھانا کھانے بیٹھا تو ایک روٹی میں ایک بھوکے آدمی کو کھلا دی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ آج تیری موت سانپ کے ذریعہ ہونے والی تھی لیکن تیری روٹی نے تجھے بچا لیا۔ اسی لئے سانپ کے منہ میں پتھر ہے۔
بچوں ! یاد رکھو اللہ کی راہ میں خیرات کرنے سے بلائیں ٹل جاتی ہیں۔
سوالات
۱ ۔ خیرات سے کیا فائدہ ہوتا ہے ؟
۲ ۔ لکڑہارے کی جان کیسے بچ گئی ؟
۳ ۔ لکڑہارا خیرات نہ کرتا تو کیا ہوتا ؟
اڑتیسواں سبق
قرآن پڑھنے کے آداب
قرآن مجید پڑھتے وقت ان باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
۱ ۔ تلاوت سے پہلے وضو کرنا چاہئیے۔
۲ ۔ تلاوت کے وقت سر کھلا نہ رکھنا چاہئیے۔
۳ ۔ تلاوت سے پہلےاَعُوذُ بِالله مِنَ الشَّیطَانِ الرَّحِیم کہنا چاہئیے۔
۴ ۔ تلاوت کے بعدصَدَقَ اللهُ العَلِّی العَظِیم کہنا چاہئیے۔
۵ ۔ تلاوت سے پہلے اور تلاوت کے بعد صلوات پڑھنا چاہئیے۔
۶ ۔ تلاوت کرنے میں حروف کو صحیح طریقے سے ادا کرنا چاہئیے۔
۷ ۔ سورہ حمد کے ختم ہونے پراَلحَمدُ لِلهِ رَبِّ العَالمِین کہنا چاہئیے۔
۸ ۔ سورہ قل ھو اللہ پڑھنے کے بعدکَذَا لِکَ اللهُ رَبِّی کہنا چاہئیے۔
۹ ۔ سورہ برات سے پہلے بِسمِ اللہ کے بجائےاَعُوذُ بِاللهِ مِن غَضَبِ الجَبَّارِ کہنا چاہئیے
۱۰ ۔ سجدہ والی ّآیتوں کی تلاوت کے بعد سجدہ کرنا چاہئیے۔
سوالات :
۱ ۔ تلاوت قرآن سے پہلے کیا کہنا چاہئیے اور بعد میں کیا کہنا چاہئیے ؟
۲ ۔ سورہ قل ھو اللہ کے بعد کیا کہنا چاہئے؟
۳ ۔ سورہ برات کی تلاوت سے پہلے کیا کہنا چاہئیے ؟
سورہ کافرون
بِسمِ اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم
قُل یٰآیُّهاالکَافِرُونَ ۰ لَا اَعبُدُ مَا تَعبُدُونَ ۰
وَلَا ٓاَنتُم عَابِدُونَ مَآ اَعبُدُ ۰ وَلآ اَنَا عَابِدٌ
مَّا عَبَدتُّم ۰ وَلَآ اَنتُم عَابِدُونَ مَآ اَعبُدُ ۰
لَکُم دِینُکُم وَلِیَ دِین
سورہ انشراح
بِسمِ اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم
اَلَم نَشرَح لَکَ صَدرَکَ ۰ وَوَضعنَا عَنکَ
وِزرَکَ ۰ الَّذِیٓ اَنقَضَ ظَهرَکَ ۰
وَ رَفَعنَالَکَ ذِکرَکَ اِنَّ مَعَ العُسرِ یُسراً ۰ فَاِنَّ مَعَ العُسرِ یُسراً ۰
۰ فَاِذَ ا فَرَغتَ فَانصَب ۰
وَ اَلیٰ رَبِّکَ فَارغَب
سورہ اعلی
بِسمِ اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم
سَبِّح اسمَ رَبِّکَ الاَعلیَ ۰ الَّذِی خَلَقَ
فَسَوَّی ۰ وَالَّذِی قَدَّرَ فَهدٰی ۰ وَ الَذِیٓ
اَخرَجَ المَرعیٰ ۰ فَجَعَلَهُ غُثَآءً اَحوَی ۰
سَنُقرُءُکَ فَلاَ تَنسیٰٓ ۰ اِلَّا مَاشَآ ءَاللهُ
اِنَّهُ یَعلَمُ الجَهرَ وَمَا یَخفیٰ ۰ وَ نُیَسِّرُکَ
لِلیُسریٰ ۰ فَذَکِّر اِن نَّفَعَتِ الذَّکریٰ ۰
سَیذَّکَّرُ مَن یَّخشیٰ ۰ وَ یَتَجَنَّبُهَا الاَشقَی ۰
الَّذِی یُصلَی النَّارَ الکُبریٰ ۰ ثُمَّ لاَ یَمُوتُ
فِیهَا وَلاَ یُحییٰ ۰ قَد اَفلَحَ مَن تَذَکّٰی ۰ وَ
ذَکَرَ اسمَ رَبِّهِ فَصَلّٰی ۰ بَل تُوثِرُونَ الحَیٰوةَ
الدُّنیَا ۰ وَالاٰخِرَةُ خَیرٌ وَّ اَبقیٰ ۰ اِنَّ هٰذَا
لَفِی الصُّحُفِ الاُولیٰ ۰ صُحُفِ ابرَاهِیمَ وَ مُوسیٰ ۰ٔ
سورہ شمس
بِسمِ اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم
وَ الشَّمسِ وَ ضحٰهَا ۰ وَ القَمَرِ اِذَا تَلٰهَا ۰
وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰهَا ۰ وَ الَّیلِ اِذَا یُغشٰهَا ۰
وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰهَا ۰ وَ الاَرضِ وَمَاطَحٰهَا ۰
وَ نَفسٍ وَّ مَا سَوّٰاهَا ۰ فَاَلهَمَهَا فجُورَهَا وَ
تَقوٰهَا ۰ قَد اَفلَحَ مَن زکّٰهَا ۰ وَ قَد خَابَ
مَن دَسّٰهَا ۰ کَذَّبَت ثَمُودُ بِطَغوٰهَا ۰
اِذِ انبَعَثَ اَشقٰهَا ۰ فَقَالَ لَهُم رَسُولُ اللهِ
نَاقَةَ اللهِ وَ سُقیٰهَا ۰ فَکَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا ۰
فَدَمدَم مَعَلَیهِم رَبُّهُم بِذَنبِهِم فَسَوَّهَا ۰
وَلاَ یَخَافُ عُقبٰهَا ۰ٔ
سورہ زلزال
بِسمِ اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم
اِذَا زُلزِلَتِ الاَرضُ زِلزَالَهَا ۰
وَ اَخرَجتِ الاَرضُ اَثقَالَهَا ۰ وَ قَالَ
الاِنسَانُ مَالَهَا ۰ یَومَءِذٍ تُحَدِّثُ
اَخبَارَهَا ۰ بِاَنَّ رَبِّکَ اَوحیٰ لَهَا ۰
یَومَءِذٍ یَّصدُرُ النَّاسُ اَشتَاتا ۰ لِّیُرَو
اَعمَالَهُم ۰ فمَن یَّعمَل مِثقَالَ ذَرَّهٍ
خَیرًا یَّرَهُ ۰ وَ مَن یَّعمَل مِثۡقالَ ذَرَّة
شَرًّا یَّرَهُ ۰ٔ
فہرست
معلمّ کے لئے ہدایت ۴
پہلا سبق ۵
وجود خدا ۵
سوالات : ۵
دوسرا سبق ۶
توحید ۶
سوالات : ۶
تیسرا سبق ۷
صفات ثبوتیہ ۷
سوالات : ۷
چوتھا سبق ۸
صفات سلبیہ ۸
سوالات : ۸
پانچواں سبق ۹
اسلام، ایمان، تقویٰ ۹
سوالات : ۹
چھٹا سبق ۱۰
عقیدہ و عمل ۱۰
سوالات : ۱۰
ساتواں سبق ۱۱
عدل ۱۱
سوالات : ۱۱
آٹھواں سبق ۱۲
بندوں کے کام ۱۲
سوالات : ۱۲
نواں سبق ۱۳
اوصاف نبی ۱۳
سوالات : ۱۳
دسواں سبق ۱۴
آخری نبیؐ ۱۴
سوالات : ۱۴
گیارہواں سبق ۱۵
اوصاف امام ۱۵
سوالات : ۱۵
بارہواں سبق ۱۶
آخری امامؐ ۱۶
سوالات : ۱۶
تیرہواں سبق ۱۷
قیامت ۱۷
سوالات : ۱۷
چودہواں سبق ۱۸
معجزہ ۱۸
سولات : ۱۸
پندرہواں سبق ۱۹
قرآن ۱۹
سوالات : ۱۹
سولہواں سبق ۲۰
کعبہ ۲۰
سوالات : ۲۰
سترہواں سبق ۲۱
عزاداری ۲۱
سوالات : ۲۱
آٹھارہواں سبق ۲۲
مذہب کے حکم پانچ ہیں ۲۲
سوالات : ۲۲
انیسواں سبق ۲۳
تقلید ۲۳
سوالات : ۲۳
بیسواں سبق ۲۴
طہارت و نجاست ۲۴
سولات : ۲۴
اکیسواں سبق ۲۵
حدث اور خبث ۲۵
سوالات : ۲۵
بائیسواں سبق ۲۶
حلال اور حرام ۲۶
سوالات: ۲۶
تیئیسواں سبق ۲۷
پانی ۲۷
سوالات : ۲۷
چوبیسواں سبق ۲۸
پیشاب پاخانہ کے آداب ۲۸
سوالات : ۲۸
پچیسواں سبق ۲۹
وضو ۲۹
سوالات : ۲۹
چھوبیسواں سبق ۳۰
غسل ۳۰
سوالات : ۳۰
ستائیسواں سبق ۳۱
تیمم ۳۱
سوالات : ۳۱
آٹھائیسواں سبق ۳۲
اوقات نماز ۳۲
سوالات : ۳۲
انتیسواں سبق ۳۳
سجدہ گاہ ۳۳
سوالات : ۳۳
تیسواں سبق ۳۴
ترکیب نماز ۳۴
سوالات : ۳۴
اکتیسواں سبق ۳۵
آداب نماز ۳۵
سوالات : ۳۵
بتیسواں سبق ۳۶
روزہ ۳۶
سوالات : ۳۶
تیتیسواں سبق ۳۷
حج ۳۷
سوالات : ۳۷
چوتیسواں سبق ۳۸
زکوٰۃ ۳۸
سوالات : ۳۸
پینتیسواں سبق ۳۹
خمسُ ۳۹
سوالات : ۳۹
چھتیسواں سبق ۴۰
نذر و فاتحہ ۴۰
سوالات : ۴۰
سینتیسواں سبق ۴۱
خیرات ۴۱
سوالات ۴۱
اڑتیسواں سبق ۴۲
قرآن پڑھنے کے آداب ۴۲
سوالات : ۴۲
سورہ کافرون ۴۳
سورہ انشراح ۴۳
سورہ اعلی ۴۴
سورہ شمس ۴۵
سورہ زلزال ۴۶
فہرست ۴۷