امامیہ اردو ریڈر درجہ سوم- جلد 3
گروہ بندی گوشہ خاندان اوراطفال
مصنف تنظیم المکاتب
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


امامیہ اُردو ریڈر

درجہ سوم

تنظیم المکاتب


ہدایت

مدرسین کا فرض ہے کہ پڑھنے میں روانی پیدا کرئیں،

تلفظ درست رہے۔

الفاظ کے معنی کھلوا کر یاد کرائیں۔

سبق کے بعد کے مشقی سوالات ضرور حل کرائیں

جا بجا قواعد سمجھا کر ان کی مشق کرائیں جائے

اُردو پڑھانے کے ساتھ املا ضرور کھلوایا جائے

اور

خوشخطی کی کاپی کھلوائی جائے۔

ناشر


اے خدا

سبق ایسا پڑھا دیا تو نے

دل سے سب کچھ بھلا دیا تو نے

کچھ تعلق رہا نہ دنیا سے

شغل ایسا بتا دیا تو نے

بے طلب جو ملا، ملا مجھ کو

بے غرض جو دیا، دیا تو نے

کہیں مشتاق سے حجاب ہوا

کہیں پردہ اٹھا دیا تو نے

جس قدر میں نے تجھ سے خواہش کی

اس سے مجھ کو سوا دیا تو نے

داغ کو کون دینے والا تھا

جو دیا اے خدا دیا تو نے

سوالات

۱ ۔ دوسرے شعر کا مطلب بتاؤ ۔

۲ ۔ خدا نے کیسے پردہ اٹھا دیا ؟

۳ ۔ ان الفاظ کے جملے بناؤ۔ اور معنی بتاؤ۔

۔تعلق ۔ غرض ۔ طلب ۔ خواہش ۔ شغل ۔ داغ ۔ سوا ۔ حجاب۔


دوسرا سبق

ماں باپ کا مرتبہ

ماں باپ کا مرتبہ بہت بڑا ہوتا ہے۔ پروردگار عالم نے ان کے ساتھ اچھے برتاؤ کو واجب قرار دیا ہے۔ جو آدمی ماں باپ کے ساتھ اچھے برتاؤ نہیں کر سکتا وہ دوسروں کے ساتھ کیا برتاؤ کر سکتا ہے۔ ہم کو چاہیے کہ ماں باپ کا ادب کریں۔ ان کی آواز پر اپنی آواز نہ بلند کریں۔ حضرت رسول خدا نے حضرت علی سے ایک وصیت میں ماں باپ اور اولاد دونوں کے حق کو بیان فرمایا۔ آپ نے فرمایا، اے علی باپ پر اولاد کا حق یہ ہے کہ ان کا اچھا بھلا نام رکھے، انہیں ادب سکھائے اچھی جگہ پر رکھے۔ جو ماں باپ اپنی اولاد کو برے راستے پر لگا دیتے ہیں۔ ان پر خدا لعنت کرتا ہے۔ اور جو اپنی اولاد کو نیک راستے پر چلا دیتے ہیں ان پر رحمت نازل کرتا ہے۔ یہی حال اولا کا بھی ہے ان کو چائیے کہ ماں باپ کا نام لے کر نہ پکاریں۔ ان کے آگے نہ چلیں، ان کے برابر نہ بیٹھے، ان کو اپنے سے الگ نہ کریں۔ وہ اگر ڈانٹ بھی دیں تو خاموش رہیں۔ لیکن اگر خدا اور رسول کی مرضی کے خلاف کوئی بات کہیں تو ہرگز ہرگز ان کا کہنا نہ مانیں، اس لئے کہ خدا کا مرتبہ ماں باپ سے بھی زیادہ بلند ہے۔ایسا کام نہیں کیا جس کو وہ خدا اور رسول کےحکم کے خلاف سمجھتے تھے۔

محمد بن ابی بکر

حضرت علی کی حکومت قائم ہوئی اور اس کے خلاف ان کی بہن عائشہ نے بغاوت کی تھی۔ تو حضرت محمد ابن ابی بکر نے اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ عائشہ میری بہن ہیں۔ بلکہ حضرت علی کو حق پر سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ بہن کے مقابلے پر آ گئے۔ معاویہ کو آپ کا یہ طریقہ سخت باگوار گزرا اس لئے جب حضرت علی نے آپ کو مصر کا گورنر بان کر بھیجا تو امیر شام نے آپ کو شہید کرا دیا ۔ حصرت عائشہ کو بھائی کے مرنے کی خبر ملی تو آپ بہتروئی کیو نکہ اسلام میں شہید پر رونا بدعت نہیں ہے بلکہ عبادت ہے۔

ان الفاظ کے ماعنی بتاؤ :-

واجب ۔ وصیّت ۔ لعنت ۔ رحمت ۔ بغاوت ۔ ناگوار ۔ شہید ۔ بدعت ۔ عبادت۔

سوالات

١۔ ماں باپ کا کیا حق ہے ؟ ٢۔ اولاد کا کیا فرض ہے ؟

٣۔ حضرت محمد ابن ابی بکر کون تھے اور کیوں شہید کر دئے گئے ؟


تیسرا سبق

معجزہ

اہل تاریخ نے لکھا ہے یہ سچّا قصّہ

ایسا قصّہ کہ نہیں جسمیں ذرا بھی شہید

اک یہودی تھا کہ تھا جس کا مدینہ میں مکان

دشمن بانی ، اسلام عدوِ ایمان

اس کی لڑکی کی مقدر سے تھی ایک دن شادی

جمع سب دوست ہوئے بحر مبارکبادی

جو بھی محفل میں تھا وہ ایک سے ایک تھا امیر

ایسی محفل میں کہاں کوئی غریب اور فقیر

دفعتا بات یہ اس قوم کے دل میں آئی

بنت احمد کو بھی بلوائیں پئے رسوائی

یاں ہر ایک شخص کا مبوس میرا نہ تھا

اور وہاں گھر کا ہر انداز فقیرا نہ تھا

آئیں گی بنت محمد جو پھٹے کپڑوں میں

خدمت خانہ سے مٹی سے اٹے کپڑوں میں

دیکھو کہ لوگوں کو زہرا کو ندامت ہو گی

بنت پیغمبر اسلام کی ذلّت ہوگی


سوچ کر دل میں کچھ لوگ چلے سوئے نبی

اور حضرت سے بصر عجز و ادب عرض یہ کی

آج تقریب سے شادی کی ہمارے گھر میں

فاطمہ آئیں تو جان آئے نئے پیکر میں

ہنس کے فرماا پیغمبر نے کہ حدیر سے کہو

تم کو لے جانا ہے زوجہ کو تو شوہر سے کہو

سن کے یہ بات وہ سب آئے قریب حیدر

اور مقصد کو رکھا پیش ولّیِ داور

گپر میں آ کر کہاں حیدر نے کہ اے بنت نبی

آج ہے ایک یہودی کے مکان میں شادی

چاہتے ہیں یہ ہودی کہ وہاں آپ بھی جائیں

انکی تقریب کی رونق کو دو بالا فرمائیں

سر جھکا کر کہاں زہرا نے کہ اے نفس رسول

آپ کے حکم میں کچھ مجھکو نہیں جائے عدد

پو جو حالت ہے میری آپ سے پوشیدہ نہیں

جسم پر میرے بخبر جامہ پوسیدہ نہیں

وعرتیں آئیں گی تقریب میں اہل زر کی

اور ہو جائیں گی تو بہن میری چادر کی


ہنس کے فرمایا کہ تم حق کی ہم آواز بھی ہو

دخترِ ختم رسل صاحب ِ اعجاز بھی ہو

میری خوہش ہے کہ منظور کرو یہ دعوت

اور چاہو تو طلب کر لو لباس جنّت

تھیں یہ باتیں کہ ملک کے لیے لباس آ پہنچا

پاس زہرا کے یہ اللّٰہ کا تحفہ پہنچا

زیب تن کر کے وہ ملبوس چیں بنت نبی

آمد فاطمہ کی دھوم ہ ایک سمت مہکی

دل میں تھا سب کے کہ قسمت سے یہ موقع پایا

وقت تقدیر سے تو ہین نبی کا آیا

پر ہٹی سر سے روا جب تو یہ منظر دیکھا

نور سے فاطمہ کے گھر کو منور دیکھا

غش میں سب گر پڑے اور ہوش کسی کو نہ رہا

چھا گیا بیت عروسی میں عجب سناٹا

سب کو ہوش آیا تو کچھ فکر دلھن کی بھی ہوئی

دی جو جنبش تو کھلا یہ کہ وہ دنیا سے گئی

دیکھ کر یہ ہوا ایک نال و سیون برپا

گھر عورسی کا بنا لمحوں میں ماتم خانہ

گر پڑی بنت نبی سجدے میں اور عرض یہ کی

اے خدا فاطمہ کی ہوگی بڑی بدنامی


لوگ مشہور کریں گے کہ یہ ہیں سبز قدم

ان کے آنے سے ہوا آج خؤشی میں ماتم

ہے دعا میری کہ دے اس کو حیات تازہ

تاکہ ہو منزلِ زہرا کا نہیں اندازہ

اس طرف باب اجابت سے دعا ٹکرائی

اس طرف جسم میں مرسے کے نبی جاب آئی

ہر زبان پر ہو اسلام کا کلمہ جاری

عورتیں بولیں کہ ہم بنت نبی کے واری

پڑ اثر کتنی تھی یہ بنت پیغمبر کی دعا

مردہ زندہ ہوا ہے صل علی صل علی

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :-

معجزہ ۔ عجز ۔ پۓ رسوائی ۔ دفعتّہ ۔ ندامت ۔ سوئے نبی ۔ پیکر ۔ دوبالا ۔ عرول ۔ بخبر ۔ بوسیدہ ۔ تقریب ۔ اہل زر ۔ دختر ۔ اعجاز ۔ زیب تن ۔ ملبوس ۔ بھتِ عروسی ۔ جنبش ۔ نالہ وشیون ۔ سبز قدم ۔ باب ۔ اجابت ۔ پراثر ۔ شل علیٰ ۔ حیات ۔ نفس رسول ۔ ولیِ داور ۔ دختر ۔ ختم رسل ۔ واری ۔

سوالات

۱۔ اس معجزہ کو اپنی زبان میں بیان کرو ۔

۲۔ جناب فاطمہ کو شادی میں بلانے سے لوگوں کا کیا مقصد تھا ؟

۳۔ جناب فاطمہ کی دعا سے دلہن کے زندہ ہونے کا کیا اثر ہوا ؟


چوتھا سبق

سائنس

اس دنیا میں ایک ایسا زمانہ گزرا ہے، جب مرض تھے دوا نہ تھی تکلیف تھی اور آرام کا سہارانہ تھا، مشکلیں تھی اور ان کا کوئی حل نہ تھا، گھوڑے گدھے کی سواری تھی ہاتھ کا پنکھا تھا، سردی کے لئے آگ تھی، روشنی کے لئے شمع اور لالٹین تھی۔ ایک دوسرے تک دور کی آواز پہنچانے کا کوئی ذریعہ نہ تھا، لوگ بات کرتے تھے اور بات ہوا میں اڑ جاتی تھی، آئینہ میں تصویر دکھائی دیتی تھی اور آئینہ کے ہٹتے ہی مٹ جاتی تھی لوگ بات کرنے میں قریب ہونے کے محتاج تھے۔ اور آج کا زمانہ ایسا ہے جب چلنے کے لئے موٹر اور ریل ہے اڑنے کے لئے ہوائی جہاز اور راکٹ ہے، گرمی کے لئے بجلی کا پنکھا اور کولر ہے، سردی کے لئے ایرکنڈیشنر اور ہیٹر ہے، روشنی کے لئے بلب اور ٹیوب ہیں، آواز پہنچانے کے لئے ریڈیو اور لاؤڈ اسپیکر ہے۔ بات محفوظ کرنے کے لئے ٹیپ ریکارڈ ہے، تصویروں کو باقی رکھنے کے لئے کیمرہ ہے، بات کرنے کے لئے ٹیلیفون ہے، زمین سے آسمان تک جانے کے ذرائع موجود ہیں۔ لیکن کیا تم نے کبھی یہ بھی سوچا کہ ایسا کیوں ہو گیا ؟ یاد رکھو یہ سب سائنس کے کے کرشمے ہیں، انسان کے دماغ نے پوری دنیا کو چھان ڈالا ہے، پانی کا دل اور پتھر کا سینہ چاک کر کے بجلی کی طاقت نکال لی ہے، سائنس نے آدمی کو بہت آرام پہنچایا ہے، اس سے دنیا کو بہت فائدہ پہنچا ہے۔ لیکن یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ سائنس والوں نے چیزوں سے قوت نکالی ہے۔ قوت پیدا نہیں کی۔ قوتقں کا پیدا کرنے والا کوئی اور ہے۔ اور وہ ہے خدا۔ خدا نے یہ دنیا نہ بنائی ہوتی، اس میں یہ طاقتیں نہ رکھی ہوتیں، انسان کو دماغ نہ دیا ہوتا۔ دماغ میں صلاحت نہ پیدا کی ہوتی صلاحتوں کے لئے حالات سازگار نہ کئے ہوتے تو آج یہ سب کچھ کہاں سے ہوتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کی ترقی پروردگار کی دین، ہے جس کے لئے اس کا شکریہ ادا کرنا ضروری ہے، ہ بھی اللّٰہ کی بیشمار نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم اس کی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کریں۔ اسکے احکام پر عمل کریں اور اسکی مرضی کے خلاف کوئی کام نہ کریں۔


پانچواں سبق

ہمدردی

عزیزوں اور محتاجوں کی ہمدردی ہی ایک ایسی چیز ہے جس سے انسان کی انسانیت کو پہچانا جاتا ہے، آج کے زمانے میں آپس کی ہمدردی اس قدر رکم ہو گئی ہے کہ ضعیفی میں بیٹا باپ کے کام نہیں آتا، مفلسی میں بھائی سے دور بھاگتا ہے اور جب اتنے قریب کے رشتوں میں ہمدردی نہیں پائی جاتی تو دوسروں کے ساتھ ہمدردی کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے۔

دین اسلام نے انسان کو ہر قسم کی ہمدردی کا سبق دیا ہے اور ہمارے لئے امام جعفر صادق نے بھی فرمایا ہے کہ ہمارے شیعوں کو دو باتوں کے ذریعہ پہچانو۔ نماز کے اوقات کی پابندی اور آپس کی مالی ہمدردی۔ لیکن ہمارا یہ عالم ہے کہ سڑک پر کسی فقیر، غریب، ناچار دیکھتے ہیں تو اس کی طرف نظر کرنا بھی عیب سمجھتے ہیں۔ ہمارا سر جھکتا ہی نہیں کہ اپنے سے مکتر لوگوں پر نظر پڑ سکے۔ حالانکہ ہمارے مولا و آقا حضرت علیٰ اور ان کے دونوں فرزند حضرت امام حسین و امام حسن کا طریقہ کچھ اور ہی تھا، مشہور واقعہ ہے کہ جب حضرت علیٰ کی شہادت ہو گئی اور امام حسن و حسین باپ کے جنازے کو کوفہ سے باہر نجف میں دفن کر کے واپس ہوئے تو راستے میں ایک کھنڈر سے کسی کے کراہنے کی آواز سنی۔ آج کے شہزادے ہوتے تو مڑ کر نظر بھی نہ کرتے، لیکن دونوں حضرات امام تھے اور امام کے شہزادے۔ وہ اپنا غم بھول گئے اور کھنڈر کی طرف چل پڑے، قریب جا کر دیکھا تو کیا دیکھا کہ ایک اندھا بیکس و ناچار پڑا ہوا ہے، پو چھا بھائی تیرا کیا حال ہے اس نے کہا کیا پوچھتے ہو ایک بندہ خدا برابر مجھے روزی پہونچایا کرتا تھا۔ آج یین دن ہو گئے کہ نہیں آیا ہے۔ بھوک سے بے دم ہو رہا ہوں۔ آپ نے پوچھا کہ اس بندہ خدا کا نام کیا تھا اس نے کہا کہ اس نے نام نہیں بتایا اور جب میں پچھتا تھا تو یہی کہتا تھا کہ ایک فقیر فقیر کے پاس بیٹھا ہوا ہے۔ایک غریب غریب کے پہلو میں بیٹھا ہے۔ یہ سننا تھا کہ دنوں شہزادے رونے لگے اور فرمایا کہ اے بندہ خدا وہ ہمارے باپ حضرت علیٰ بن ابی طالب تھے آج تین دن ہو ئے کہ مسجد کوفہ میں سجدہ کی حالت میں ان کے سر پر تلوار لگائی گئی اور آج ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ ہم انہیں کے جنازے کو دفن کر کے آرہے ہیں۔ نابینا آدمی سر پیٹنے لگا اور کہنے لگا کہ ذرا مجھے بھی اپنے باپ کی قبر پر لے چلو، یہ سن کر دونوں شہزادے اس نابینا کو امام کی قبر تک لے آئے اور وہ وہیں روتے روتے مر گیا۔


ان الفاظ کے معنی بتاؤ :-

ضعیفی ، مفلسی، ہمدردی، پابندی، ناچار، شہزارے، جنازہ، نابینا۔

سوالات

۱۔ ہمدردی کے بارے میں امام حضرت صادق کا کیا ارشاد ہے ؟

۲۔ تم میں شیعوں کی نشانی پائی جاتی ہے یا نہیں ؟

۳۔ جناب امیر نابینا کے ساتھ برتاؤ کیا کرتے تھے ؟

٤ ۴ ۔ امام حسن و امام حسین نے کیا برتاؤ کیا ؟

٥ ۵ ۔ تم نے اپنے امام کے طریقہ پر عمل کیا یا نہیں ؟


چھٹا سبق

ہم حیدری ہیں حیدری

ہم دین کے ہیں لشکری ہم سے ہے شان صفدری

ہے کیا شکوہ قیصری ڈرتے ہیں ہم سے خیبری

ہم حیدری ہیں حیدری

ہم حیدری ہیں حیدری

شیوہ ہے اپنا دلبری طرہ ہے اپنا افسری

ہے دین اپنا داوری مذہب ہے اپنا جعفری

ہم حیدری ہیں حیدری

ہم حیدری ہیں حیدری

ہم صاحبِ ایمان ہیں ہم حامل قرآن ہیں

ہم تابع سلمان ہیں ہم اصل میں انسان ہیں

ہم حیدری ہیں حیدری

ہم حیدری ہیں حیدری

طاعت میں سر دھرتے ہیں ہم میداں کو سر کرتے ہیں ہم

باطل سے کب ڈرتے ہیں ہم حق بات پہ مرتے ہیں ہم

ہم حیدری ہیں حیدری

ہم حیدری ہیں حیدری


شان نمازی ہم میں ہے رعبِ حجازی ہم میں ہے

کردار سازی ہم میں ہے انداز غازی ہم میں ہے

ہم حیدری ہیں حیدری

ہم حیدری ہیں حیدری

سلمان میر کا رواں مقداد ہے اپنا نشاں

عمار ہے اپنی زباں بوذر ہے اپنا تر جماں

ہم حیدری ہیں حیدری

ہم حیدری ہیں حیدری

محراب کے ساجد ہیں ہم شام و سحر عابد ہیں ہم

ہر حال میں زاہد ہیں ہم ہر رنگ میں واحد ہیں ہم

ہم حیدری ہیں حیدری

ہم حیدری ہیں حیدری

ہم مرد ہیں جرار ہیں ہم قوم کے سردار ہیں

ہم صاحب کردار ہیں ہم تابع کرار ہیں

ہم حیدری ہیں حیدری

ہم حیدری ہیں حیدری

ان الفاظ کے معنی یاد کرو :

لشکری ۔ شان ۔ صفدری ۔ شکوہ ۔ قیصر ۔ خیبر ۔ حیدری ۔ شیوہ ۔ دلبری ۔ طرہ ۔ افسری ۔ داوری ۔ جعفری ۔ صاحب ایمان ۔ حامل ۔ تابع ۔ سلمان ۔ طاعت ۔ سکر کرنا ۔ باطل ۔ رعب ۔ حجاز ۔ کردارسازی ۔ غازی ۔ میرکارواں ۔ مقداد ۔ عمار ۔ ابوزر ۔ ترجمان ۔ محراب ۔ ساجد ۔ سحر ۔ عابد ۔ زاہد ۔ واحد ۔ جرار ۔ کرار ۔ کردار۔


ساتواں سبق

تقّیہ

حامد اور محمود دونوں رات کو آٹھ بجے سیدھے راستے سے گھر جا رہے تھے۔ چلتے چلتے اندیھرے میں ایک چمک دار چیز دکھائی دی۔ حامد ہمّت کر کے آگے بڑھ گیا، کیا دیکھتا ہے کہ ایک سانپ ہے جو پھن کاڑھے ہوئے کھڑا، حامد ایک چیخ کے ساتھ واپس ہوا اور اس نے محمود سے کہا کہ میں تو اسی راستے سے جاؤں گا۔ میری امّی نے بتایا ہے کہ ہمیشہ سیدھے راستے سے چلا کرو۔ ٹیڑھے راستے سے چلنا برے لڑکوں کا کام ہے۔

حامد نے کہا کہ تم ٹھیک کہتے ہو اور تمہاری امّی نے بھی ٹھیک کہا ہے ، میری امّی نے بھی مجھے یہی سکھایا تھا لیکن بھائی اس وقت راستے میں سانپ ہے اس وقت کیسے جایا جا سکتا ہے۔ محمود نے کہا سانپ سے کیا ہوتا ہے حامد نے جواب دیا وہ ہم دونوں کو ڈس لے گا۔ اور ہم لوگ مر جائیں گے۔

محمود بولا، چاہے جان چلی جائے لیکن میں سیدھے راستے کو نہیں چھوڑ سکتا۔ یہ میرے بزرگوں کی تعلیم ہے میں اسے ترک نہیں کر سکتا۔ حامد نے کہا میاں یہ بیوقوفی ہے اسے فرماں برداری نہیں کہتے۔ دیکھو انسان کی زندگی میں کبھی کبھی ایسے حالات آ جاتے ہیں جب اسے سیدھے راستہ چھوڑ کر تھوڑی دیر کے لئے ٹیڑے راستے پر آنا پڑتا ہے اور جان بچانے کے لئے اسے عیب نہیں کہا جاتا بلکہ اسی کو عقلمندی کہا جاتا ہے۔ جان ہے تو جہان ہے۔ زندہ رہیں گے تو ہمیشہ سیدھے راستے پر چلیں گے اور آج ہی مر گئے تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سیدھے راستے سے محروم ہو جائیں گے۔

محمود کو یہ بات بہت پسند آئی۔ اس نے کہا کہ بات تو تم ٹھیک کہتے ہو لیکن کہیں یہ بات خدا کو بڑی نہ لگ جائے۔ حامد نے کہا ہرگز بری نہیں لگے گی کیا تم نے یہ نہیں سنا کہ ہمارے رسول کے ایک صحابی حضرت عمار یاسر کو مکہ کے کافروں نے گھیر کر ان سے رسول کے ءلاف کچھ الفاظ کہلوائے تو وہ روتے ہوئے حضور کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں تو مر گیا۔ میری زبان سے حضور کے خلاف الفاظ نکل گئے۔ تو قرآن شریف کی آیت نازل ہوئی کہ مجبوری میں سیدھے راستے کو چھوڑ دینے والے پر کوئی عذاب نہیں ہو سکتا۔ بشرطیکہ اس کے دل میں یہ رہے کہ مجبوری کے ہٹتے ہی پھر سیدھے راستے کو اختیار کر لے گا۔


محمود کے دل میں یہ بات لگ گئی اور اس نے خوش ہو کت پوچھا۔بھائی حامد ہمرے دین اسلام میں اسے کیا کہتے ہیں حامد نے جواب دیا۔تقیّہ

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

چمکدار ۔ ہمیشاہ ۔ بزرگ ۔ تعلیم ۔ ترک ۔ فرماں برداری ۔ عیب ۔ عقلمندی ۔ عذاب ۔ اختیار ۔ تقیّہ۔

سوالات

۱۔ حامد محمود نے راستہ کیوں بدل دیا ؟

۲۔ سیدھے راستے کو کب چھوڑا جا سکتا ہے ؟

۳۔ محمود نے حامد کی بات کیوں مان لی ؟

٤ ۴ ۔ حضرت عمار کا واقع کیا ہے ؟

٥ ۵ ۔ مجبوری میں راستہ بدل دینے کا شریعت میں کیا ہے ؟


آٹھواں سبق

جہاد

رسول اللّٰہ سے پہلے عرب میں لڑائیاں بہت ہوتی تھیں ان کی فطرت می لڑنے کا جذبہ پوشیدہ تھا وہ بات بات پر تلوار اٹھا لیا کرتے تھے اور پھر مدتوں لڑا کرتے تھے۔ ایک ایک اونٹ اور ایک ایک گھوڑے پر چالیس چالیس سال جنگ ہوا کرتی تھیں۔ عرب اپنی اس حالت پر بے حد خوش تھے اور اسے بہت بڑی بہادوری سمجھتے تھے۔ رسول اللّٰہ نے جب دین اسلام کو پھیلایا تو اس میں یہ بھی بتا دیا کہ بات بات پر لڑنا بہادری نہیں ہے بلکہ درنگی ہے۔ یہ بہت بڑی بزولی ہے کہ آدمی اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے۔ اور ایک جانور کے لئے اتنے دنوں تک آدمیوں کا خون بہاتا رہے جب کہ آدمی کی قدر و قیمت جانور سے کہیں زیادہ ہے اسی لئے آپ نے جنگ کی جگہ پر جہاد کو رکھا۔ اور جہاد میں کسی معصوم کی اجازت کو ضروری قرار دے دیا تاکہ لڑائی میں خوش کے ساتھ ہوش بھی باقی رہے۔ رسول اکرم نے یہ بھی فرمایا کہ سب سے بڑا جہاد یہ ہے کہ ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہ دی جائے۔ اور اس کی بادشاہت کی کوئی پرواہ نہ کی جائے۔ آپ کا یہ فرمان آپ کے مخصوص اصحاب نے اپنا لیا۔ انہیں اصحاب میں سے ایک جناب ابوذر بھی تھے۔ یہ حضرت علیٰ کی خاص چاہنے والں میں تھے۔ انہوں نے جب یہ دیکھا کہ حکومت مسلمانوں کا مال لوٹ لوٹ کر جمع کر رہے ہیں تو بڑی بہادری کے ساتھ دربار میں پہونچ گئے صاف لفظوں سے یہ خدائی اعلان سنایا کہ جو لوگ اس طرح سے سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور اس راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے ان پر قیامت کے دن سخت عذاب ہو گا۔ اسی تقریر کا اثر تھا کہ حکومت نے آپ کو بڑی خراب جگہ یعنی زندہ بھجوا دیا اور آپ وہن مسافرت کے عالم میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :-

فطرت ۔ جذبہ ۔ پوشیدہ ۔ معصوم ۔ جوش ۔ ہوش ۔ مخصوص ۔ جہاد ۔ عزاب ۔ مسافرت ۔

سوالات

١۔ جہاد کسے کہتے ہیں اور اس میں کیا شرط ہے ؟

٢۔ حضرت ابوذر نے کون سا جہاد کیا تھا ؟

٣۔ ظالم کے دربار میں حضرت ابوذر نے کون سا خدائی اعلان سنایا تھا ؟


نواں سبق

بیمار پُرسی

مکہ میں ایک بُڑھیا رہتی تھی، یہ بُڑھیا اللّٰہ کے رسول حضرت محمد مصطفےٰ کی بڑی دشمن تھی۔ جب آپ اس کے گھر کے پاس سے گزرتے تھے تو وہ گھر کا سارا کوڑا کرکٹ آپ پر پھینک دیتی تھی۔ آپ چپ چاپ چلے جاتے تھے، کبھی اس سے کچھ نہیں کہتے تھے، کبھی ناراض نہیں ہوتے تھے۔

ایک دن آپ اسی راستے سے گزرے تو بڑھیا نے آپ پر کوڑا نہیں پھیکا، آپ نے محلہ والوں سے پوچھا۔۔۔" بُڑھیا کہاں ہے :۔

لوگوں نے جواب دیا۔۔۔بیمار ہے۔

اللّٰہ کے نبی نے جب یہ سنا کہ بُڑھیا بیمار ہے تو آپ اس کے دروازے پر پہونچے اور اجازت لے کر اندر گئے اور اس کی مزاج پُرسی کی۔بُڑھیا آپ کا اخلاق دیکھ کر بڑی شرمندہ ہوئی اور مسلمان ہو گئی۔

اللّٰہ کے رسول بیماروں کی مزاج پرسی اور ان کی خدمت پر بڑا زور دیتے تھے۔ جب کسی کی بیماری کی خبر سنتے تو اسے دیکھنے ضرور جاتے تھے۔ اس کا دل بہلاتے تھے اور اسے خوش رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔

آپ کی تعلیم ہے کہ بیماروں کی مزاج پرسی کرنے والوں سے اللّٰہ خوش ہوتا ہے۔ ان کو بڑا ثواب ملتا ہے۔

آپ غریبوں اور کمزوروں کی مدد پر بھی زور دیتے تھے اور خود اپنے پرائے سب ہی کی مدد کرتے تھے۔ دشمنوں کی بھی مدد اور ءبر گیری فرماتے تھے۔ سب سے اخلاق سے پیش آتے مسکرا کے ملتے اور ہر شخص کا کام کرنے پر تیار رہتے تھے۔ مسلمانوں کو ہمیشہ یہ تعلیم دیتے تھے کہ رشتہداروں کی مدد کرو، یتیموں کی مدد کرو، مسافروں کی مدد کرو، بیوہ اور نے سہارا عورتوں کی مدد کرو، ہمسایوں کی مدد کرو اور کسی کی خدمت سے انکار نہ کرو۔ سب سے نیکی سے پیش آؤ۔ سب سے محبت کرو۔


ہمارے نبی کو پڑوسیوں کا اتنا خیال تھا کہ آپ یہ فرماتے تھے کہ وہ شخص مسلمان نہیں ہے جو خود تو کھانا کھا لے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔

ایک مرتبہ لوگوں نے حضرت نبی سے عرض کیا۔ " یا رسول اللّٰہ ایک عورت ہے جو بہت نمازیں پڑھتی ہے اور روزے رکھتی ہے، خیرات کرتی ہے، لیکن اپنے پڑوسیوں سے لڑتی رہتی ہے "۔

آپ نے جواب میں فرمایا کہ وہ جہنم میں جائے گی اس لئے کہ وہ پڑوسیوں سے محبت نہیں کرتی۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :-

مزاج پرسی ۔ چپ چاپ ۔ ناراض ۔ اخلاق ۔ خبر گیری ۔ بیوہ ۔ پڑوسی ۔ یتیموں ۔ بے سہارا ۔ ہمسایہ۔

سوالات

۱۔ بڑھیا نے رسول کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟

۲۔ رسول نے بڑھیا کے ساتھ کیا برتاؤ کیا ؟

۳۔ پڑوسیوں سے محبت نہ کرنے والے کے لئے رسول نے کیا فرمایا ؟


دسواں سبق

خودداری

ایک کتّے نے کہا یہ شیر سے ۔ ہے بات کیا

سارے جنگل پر مسلم ہے جو سرداری تری

جانور جتنے ہیں تجھ کو مانتے ہیں بادشاہ

جانتے ہیں گر چہ وہ فطرت ہے خونخواری تری

آدمی بھی کرتے ہیں عزت تری ہر اک طرح

گو یا کہ ہے مشہور عالم مردم آزاری تری

ہے نشان پر تیری صورت تیغ پر تیرا ہے نقش

اسلح داری تری ہے اور علم داری تری

جانور جتنے ہیں تجھ کو دیکھ کر جاتے ہیں بھاگ

کس قدر دہشت ہر اک کے دل پہ ہے طاری تری

تو کسی کے بھی نہیں دنیا میں کام آتا کبھی

قوم ہے بے منفعت اور ذات ناکاری تری

رحم کی نرمی تجھ میں خو نہیں ہ ے نام کو

بلکہ ہے مشہور دنیا میں ستمگار تری

دیکھتے ہیں جب ترے اس ظالمانہ کام کو

لوگ پھر عزت سے کیوں لیتے ہیں تیرے نام کو

بر خلاف اس کے مجھے دیکھو کہ ہوں خدمت گزار

ساری دنیا میں مسّلم ہے وفاداری مری


اپنے مالک کی حفاظت رات بھر کرتا ہوں میں

پاسبانی کو ہے اس کی وقف بے داری مری

جب کہیں جاتا ہے تو رکھتا ہے مجھ کو ساتھ ساتھ

کٹتی ہے خدمت میں اس کی عمر ہی ساری مری

جب کبھی جھڑکا تو بھاگا، جب بلایا آ گیا

دیکھئے فرماں پزیری ، حکم برداری مری

پھر بھی ہے بدنام دنیا میں ہر اک سو میرا نام

ہر گلی کو چہ میں ہوتی ہے سدا خواری مری

مارتا ہے کوئی پتھر کوئی ڈنڈے سے مجھے

ایک بھی سنتا نہیں ہے گریہ وزاری مری

شیر نے سن کر دیا یہ مختصر اس کو جواب

میری عزت کا سبب ہے خاص خود داری مری

غیر کے ٹکڑوں پہ رہتی ہے تیری ہر دم مظر

اس لئے دنیا میں ہے تو خوار و رسوا دربدر

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

مسلم ۔ خونخواری ۔ نشان ، تیغ ۔ اسلح ۔ دشمن ۔ منفعت ۔ ناکاری ۔ خو ۔ فرماں پزيری ۔ حکم برداری ۔ دربدر ۔ رسوا ۔

سوالات

۱۔ اس نظر سے تم کیا سمجھے ؟

۲۔ شیر اور کتّے میں کیا فرق ہے ؟

۳۔ شیر کی عزت کیوں ہوتی ہے ؟


گیارہواں سبق

مشرق بعید

ہندستان کے مشرق میں بارہ سو جزیروں پر مشتمل ایک ملک ہے، جسے انڈونیشیا کہتے ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے یہ دنیا کا سب سے بڑا مسلم ملک ہے اور یہاں آٹھ کروڑ مسلمان رہتے ہيں۔ انڈونیشیا میں ایک آزاد جمہوری حکومت قائم ہے انڈونیشیا کا سب سے بڑا جزیرہ جاوا ہے۔ یہ بہت آباد اور خوش حال علاقہ ہے اور شکر سازی کےلئے بہت مشہور ہے جاوا کے بعد دعسرا سب سے آباد جزیرہ سُماترا ہے۔

انڈونیشیا کے لوگوں میں مذہبی جزبہ بہت ہے۔ چناچہ ہر سال جتنے آدمی انڈونیشیا سے حج کے لئے جاتے ہیں کسی دوسرے ملک سے نہيں جاتے ، انڈونیشیا میں اسلام سولھویں صدی کے آغاز میں پہونچا اور عرب تاجروں نے جو مسالے خریدنے انڈونیشیا جایا کرتے تھے ، وہاں کے باشندوں کے اسلام کیدعوت دی، تھوڑے ہی عرصہ میں سارا ملک مسلمان ہو گیا اور آج تک وہاں اسلام کا پرصم لہرا رہا ہے۔

چین میں مسلمانوں کی بہت بڑی آبادی ہے۔ وہاں چھہ کروڑ مسلمان رہتے ہیں چین کے جنوبی اور مغربی عاقوں میں مسلمانوں کی آبادی بہت زیادہ ہے۔ چین میں اسلام اپنے ابتدائی دور میں پہونچ گیا تھا۔ اور سملمان مبلغین برف پشی پہاڑوں اور دشوار گزار ریگستانوں سے گزرتے ہوئے چین کے دور دراز علاقہ میں توحید کا پیغام لے گئے تھے۔

ملایا میں بھی ایک آزاد مسلمان حکومت قائم ہے۔ اور جونوبی مشرقی ایشیا کا یہ پورا ملک مسلمان ہے۔ یہاں بھی عرب تاجروں کی بدولت اسلام پھیلا۔ ملایا اور سنگاپور میں شیعہ کافی اچھی حالت میں موجود ہیں۔

مشرقی ایشیا کے دوسرے مملک برما اور فلپائن وغیرہ میں بھی مسلمان موجود ہیں۔ لیکن مناسب تبلیغ نہ ہونے کی وجہ سے ان ممالک میں اسلام کوئی زیادہ ترقی نہیں کر سکا۔


یورپ اور امریکہ میں بھی مسلمان موجود ہیں لیکن بہت کم۔

دنیا میں اسلام کو جو ترقی نصیب ہوئی وہ اس صداقت اور حقانیت کا نتیجہ ہے جو اسلام کی روح ہے۔ اسلام نے دنیا کو توحید کا درس دیا۔ نسل انسان میں مساوت اور اخوّت کا تصوّر عام کیا۔ انسان اور اس کے معبود کے درمیان مضبوط رشتہ قائم کیا۔ انسان کو علم اور ترقی کی نعمتوں سے مالامال کیا۔ نسل، وطن اور رنگ کے بُتوں کو پاش پاش کیا، تعصّب اور تو ہم پرستی کو ختم کیا۔ اور انسانی اخلاق و کردار کو اتنا بلند کر دیا کہ انسان ایک بلند تر مخلوق نظر آنے لگا۔ یہ اب فیض تھا ہمارے نبی کریم حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیم کا، قرآن پاک کی ہدایت کا اور آل رسول کی ان بے پناہ جاں فشانیوں اور قربانیوں کا جو انہوں نے دین کی راہ میں دی تھیں آج یہ انہیں چیزوں کا طفیل ہے کہ دنیا کی چھہ ارب آبادی میں سے ایک ارب سے زیادہ انسان مسلمان ہیں اور آج بھی دنیا کے ایک بڑے علاقہ میں مسلمانوں کی حکومتیں قائم ہیں، یہ صحیی ہے کہ آج مسلمان دنیا کی دوسری طاقتوں سے پیچھے نظر آتے ہیں۔ لیکن اگر ہم ایک بار پھر قرآن پاک اور آل رسول کے اسوؤ حسنہ کا سہارا لے لیں تو ہم دنیا کی انتہائی ترقی بافتہ قوم بن سکتے ہیں۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

مشرق بعید ۔ صدی ۔ پرچم ۔ برف پوشی ۔ دور دراز ۔ توحید ۔ چداقت ۔ حقانیت ۔ اخوت ۔ پاش پاش ۔ اُسوہ حسنہ ۔ مخلوق ۔ جا نفشانی ۔

سوالات

١۔ ہندوستان کے باہر اسلام کہاں کہاں ہے ؟

٢۔ انڈونیشیا کتنا بڑا ملک ہے ؟

٣۔ دنیا میں اسلام کس طرح پھیلا ؟


بارہواں سبق

قیامت کا ڈر

اللّٰہ کے سارے سچّے اور اچھّے بندے قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں اور کوئی ایسا کام نہیں کرتے جس کے نتیجہ میں اللّٰہ اُن سے ناراض ہو اور وہ جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کے سپرد کر دئیے جائیں۔

ہمارے نبی اور ہمارے اماموں نے ہمیں قیامت کے حساب سے ڈرتے رہنے کی تاکید کی ہے اور نیک عمل کرتے رہنے کا حکم دیا ہے۔

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کا بچپن تھا، یہی کوئی سات، آٹھ برس کا سنٍ ہو گا۔ ایک دن آپ سڑک کے کنارے کھڑے تھے، وہیں کچھ بچّے کھیل رہے تھے۔ لیکن آپ ان سے الگ تھلگ کسی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے خاموش کھڑے تھے اور پلکوں پر آنسو جھلک رہے تھے۔

اٍدھر سے ایک بزرگ آ نکلے جن کا نام تھا بہلول دانا۔ انہوں نے دیکھا کہ نبی کا چاند آنکھوں میں آنسو بھرے کھڑا ہے۔ ان کا دل تڑپ اٹھا اور امام سے بولے آپ کیوں روتے ہیں ؟ میں اچھے اچھے کھلونے لائے دیتا ہوں ان سے جی بہلائیے۔

امام نے جواب میں فرمایا، بہلول، میں بے کار کھیل کود میں وقت نہیں گنواتا۔

بہلول نے یہ جواب سنا تو بہت متعجب ہوئے عرض کیا " پھر آپ کیوں رو رہے ہیں "؟

کم سنِ امام نے ارشاد فرمایا ۔" میں اللّٰہ کے خوف سے روتا ہوں"

بہلول کو اور زیادہ اچنبھا ہوا۔ اس کمسنی میں اللّٰہ کا اتنا ڈر۔ عرض کیا ۔ آپ تو ابھی بچّے ہیں۔ آپ کو اللّٰہ سے اتنا ڈرنے کی کیا ضرورت ہے "۔


امام نے یہ جملہ سنا تو پھوٹ کر رونے لگے۔ ہچکیاں بندھ گئیں۔ بولے۔ "بہلول میں نے اپنی ماں کو چولھا جلاتے دیکھا ہے، وہ چولھے میں پڑی ہوئی بڑی لکڑیوں کو جلانے کے لئے پہلے چھوٹی لکڑیوں میں آگ لگاتی ہیں۔ جب چھوٹی لکڑیوں جل آٹھتی ہیں تب ایندھن میں آگ لگتی ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ جب قیامت کے دن بڑے بوڑھے جہنم کا ایندھن بنیں تو میں اس ایندھن کو جلانے والی چھوٹی لکڑیوں میں ملا دیا جاؤں "۔ یہ کہ کر امام اتنا روئے کہ بے ہوش ہو گئے۔

امام تو معصوم تھے ان سے گناہ تو کیا کبھی معمولی بھول چوک بھی نہیں ہوئی۔ ایسی حالت میں جب وہ قیامت سے اتنا ڈرتے تھے تو ہم بڑے گناہ گار انسانوں کو قیامت سے کتنا ڈرنا چاہئیے۔ یہ سوچنا ہمارے لئے بہت ضروری ہے۔

جو جہنّم سے ڈرےگا وہ کبھی کوئی گناہ نہیں کرےگا۔

جو جنّت میں جانا چاہتا ہے وہ ہمیشہ نیک اور اچھے کام کرےگا۔

ایسی حالت میں جنّت اور جہنّم پر ایمان رکھنے میں ہمارا فائدہ ہی فائدہ ہے۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

متعجب ۔ کمسن ۔ حملہ ۔ پھوٹ پھوٹ کر رونا ۔ شعلہ ۔ تاکید

سوالات

۱۔امام حسن عسکری کے قول سے تم نے کیا سبق لیا ؟

۲۔ چھوٹے بچّوں کو خدا سے کیوں ڈرنا چائیے ؟

۳۔ امام نے بہلول کی بات کا کیا جواب دیا ؟


تھرہواں سبق

نئی دنیا

جہالت ہی سبب ہوتی ہے ذلت اور خواری کا

جہالت ہی سبب ہوتی ہ ے اکثر ہد نصیبی کا

جہالت جیسی لعنت کو زمانے سے مٹائیں گے

اسی دنیا کو ہم ایک دن نئی دنیا بنائیں گے

نہ باہم رنجسیں ہوں گی نہ باہم سختیاں ہوں گی

نہ یہ ظلم و ستم ہوں گے نہ یہ بد بختیاں ہوں گی

ستم رانوں میں لطف و رحم کے جزبے جگائیں گے

اسی دنیا کو ہم ایک دن نئی دنیا بنائیں گے

کسی صورت بھی ہم تھمنے نہ سیں گے کوششوں کی رو

جو کم ہوتی نظر آئی چراغ زندگی کی لو

چراغ زندگی میں خون بھی اپنا ملائیں گے

اسی دنیا کو ہم ایک دن نئی دنیا بنائیں گے

فلک پر جگمگائے گا ستارہ آدمیّت کا

زمیں پر بول بالا ہوگا پھر عدل و صداقت کا

زمانے کو سبق روشن ضمیری کا پڑھائیں گے

اسی دنیا کو ہم ایک دن نئی دنیا بنائیں گے


نرانی شان کا ہوگا قریب و دور کا عالم

نظر آئے گا تاحدِّ نظر ایک نور کا عالم

نئی شمعیں جلائیں گے نئی محفل سجائیں گے

اسی دنیا کو ہم ایک دن نئی دنیا بنائیں گے

فردزاں ہونگی ہر سینے میں شمعیں عزم و ہمت کی

کریں گے دل سے پوری ہر ضرورت ملک و ملّت کی

ہم اپنے ملک و ملّت کو نئی منزل پہ لائیں گے

اسی دنیا کو ہم ایک دن نئی دنیا بنائیں گے

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

خواری ۔ ستم رانوں ۔ رو ۔ لو ۔ فلک ۔ روشن ۔ ضمیری ۔ فروزاں ۔ عزم ۔ ملّت ۔ لعنت ۔ رنجش ۔ باہم ۔

سوالات

۱۔ تم نے اس نظم سے کیا سیکھا ؟

۲۔ تم آ گے چل کر کیا کرو گے ؟

۳۔ یہ دنیا نئی دنیا کس طرح بن سکتی ہے ؟


چودھواں سبق

مساوات

ہمارے نبی کریم کی تعلیم ہے کہ سارے آدمی چاہے گورے ہوں، چاہے کالے، امیر ہوں یا غریب، ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ نہ کوئی اُونچا نہ کوئی نیچا۔ سب آدمی کی اولاد ہیں اس لئے سب برابر ہیں۔

ذات، پات، نسل، رنگ، وطن یا دولت کی وجہ سے نہ کوئی اونچا ہو جاتا ہے نہ کوئی نیچا۔ عزت اور برائی بس کردار سے ہوتی ہے۔ اللّٰہ کا ارشاد ہے کہ جو زیادہ پرہیزگار ہے یعنی جو زیادہ اللّٰہ سے ڈرتا ہے۔ وہی اللّٰہ کے نزدیک عزت والا ہے۔

حصرت امام علیٰ رضا علیہ السلام کے یہاں ایک مہمان آیا۔ وہ بہت مالدار بھی تھا اور بہت اونچے خاندان سے بھی تھا اِسے دولت کا بھی گھمنڈ تھا اور خاندان کا بھی غرور۔

امام علیہ السلام کھانے کے لئے بیٹھے۔ مہمان کو پاس بیٹھایا۔

دسترخوان پر کھانا چنا گيا۔ امام علیہ السلام نے نوکروں کو آواز دی۔ نوکر آئے اور دسترخوان پر آپ کے ساتھ بیٹھ گئے۔

دولت مند مہمان کو یہ بات ناگوار گزری۔ معمولی نوکر اور ایک امیر کے پہلو میں لیکن امام تو اسلام کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ ان کے دربار میں بھلا یہ غرور کیسے کام دیتا ؟ وہ سب انسانوں کو برابر اور ایک دوسرے کا بھائی سمجھنے کے عادی تھے اس لئے انہوں نے وہی کیا تھا جو اسلام کا حکم تھا۔

دولت مند مہمان نے امام سے عرض کیا " نوتروں کو اپنے ساتھ دسترخون پر نہ بیٹھائے۔ ان سے کہئے کہ وہ الگ بیٹھ کر کھانا کھائیں "۔


امام نے یہ بات سنی تو آپ بہت ناراض ہوئے اور ارشاد فرمایا، اللّٰہ ایک ہے اور سب آدمی اس کے بندے ہیں۔ سارے انسان ایک داد حضرت آدم کی اولاد ہیں اس لئے سب برابر ہیں سب ایک دوسرے کے بھائی ہیں ان میں بڑے اور چھوٹے کا کوئی فرق نہیں۔

مہمان یہ سن کر شرمندہ ہوا اور اس نے توبہ کی کہ اب کبھی انسانوں میں بڑے چھوٹے کا امتیاز نہیں کرےگا۔

ہمارے نبی اکرم اور ان کی آل نے ہمیشہ یہی تعلیم دی ہے کہ سب مسلمانوں کو اپنا بھائی سمجھو، سب کو برابر جانو اور اونچ نیچ ذات پات کے خیال دل سے دور کر کے سارے انسانوں کو ایک کنبہ خیال کرو۔ اسی میں سب انسانوں کی بھلائی ہے۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

مساوات ۔ ذات پات ۔ نسل ۔ ارشاد ۔ گھمنڈ ۔ غرور ۔ دسترخوان ۔ ناگوار ۔ فرق ۔ شرمندہ ۔

سوالات

۱۔ مہمان نے امام سے کیا کہا ؟

۲۔ امام نے اسے کیا جواب دیا ؟

۳۔ تم نے امام کے ارشاد سے کیا سیکھا ؟


پندرہواں سبق

وجودباری

بچّو آؤ مزہ کی بات سُنو اس کو قصّہ فقد نہ تم جانو

ایک جگہ چند لوگ جمع ہوئے جن میں تھے سب کے سب پڑھے لکھے

بعض ان میں خدا کے منکر تھے بعض وائل خدائے واحد کے

گفتگو گفتگو میں بات چھڑی تو تو میں میں میں خوب بحث بڑھی

مسئلہ تھا وجود باری کا ناستِک روپہ بات کے تھا تُلا

پڑ گیا ایک بہت بڑا لجھاؤ کون تھا اب جو دیتا ان کو سمجھاؤ

ایک بڑھیا ہیں پہ تھی بیٹھی اپنا چرخہ لئے چلاتی تھی

طے ہوئی بات ان میں آپس میں بات سلجھے نہیں یہ اب بس میں

چلو بڑھیا کے پاس مل کے چلیں اس سے اللّٰہ کے لئے پوچھیں

کیا یہ جاہل جواب دیتی ہے کیا دعا پر دلیل لاتی ہے

پاس بڑھیا کے سب کے سب پہونچے گڑ گڑا کر یہ اسے کہنے لگے

بیٹھی بڑھیا نرے پھر اتی تھی روزی اپنے لئے کماتی تھی

بول اللّٰہ پر دلیل بھی ہے واقعی کیا کوئی دلیل بھی ہے

سن کے چرخہ سے ہاتھ کو روکا غور سے منھ ہر ایک کا دیکھا

دہریہ سے یہ مڑ کے کہنے لگی رونا آتا ہے عقل پر تیری

تو ہے کمبخت کس قدر جاہل اپنے اللّٰہ کا ہے نہیں قائل

دیکھ نام خدا میں لیتی ہوں اور تجھ کو دلیل دیتی ہوں

خود سے چلتا نہیں ہے يہ چرخہ کام ہے دیکھنے میں چھوٹا سا


میں چلاتی ہوں جب، تو ہے چلتا روک دینے سے یہ ہے رک جاتا

چل رہا ہے بھلا خدا کے سوا کیسے دنیا کا یہ بڑا چرخہ

سن کے سب عقل والے دنگ ہوئے ٹھہرے بڑھیا کے سامنے کورے

ایک اللّٰہ کو جو مانا ہے عقل سے اپنی اس کو جانا ہے

بچّو اللّٰہ ایک اکیلا ہے بڑھیا کا خود گواہ چرخہ ہے

ان الفاظ کے معنی بتائے :

وجود ۔ باری ٹکر ۔ قائل ۔ واحد ۔ تو تو میں میں ۔ ناستک ۔ دنگ ۔ ہونا ۔ روکنا ۔ دلیل ۔ نرے ۔ دہریہ۔

سوالات

۱۔ بڑھیا نے اللّٰہ کا وجود کیسے ثابت کیا ؟

۲۔ بڑھیا کا جواب سن کر ناستک پر کیا اثر ہوا ؟


سولھواں سبق

قنبر

رسول اللّٰہ سے پہلے دنیا میں لوگ دوسرے ملکوں پر یا دوسرے قبیلوں پر چڑھائی کر کے اس کے آدمیوں کو غلام بنا لیا کرتے تھے اور غلاموں کے ساتھ بےحد برا برتاؤ کرتے تھے۔ ان کو آدمی تک نہ سمجھتے تھے۔ رسول اللّٰہ نے اسلام کا پیغام سنایا تو اس میں یہ بھی بتایا کہ دوسری قوموں پر چڑھائی کرنا بہت بری بات ہے۔ دوسرے لوگوں کو غلام بنا کر ان کے ساتھ برا برتاؤ کرنا انسانیت کے خلاف ہے۔ حضرت علیٰ علیہ السلام نے بھی غلاموں کے ساتھ اچھا برتاؤ کر کے دنیا والوں کو ایک سبق دے دیا۔ آپ کے ایک غلام تھے۔ جن کا نام قنبر تھے۔ يہ انتہائی وفادار، اطاعت کرنے والے اور بہادر تھے۔ ان کی بہادری کا یہ عالم تھا کہ جب حجّاج بن یوسف نےیہ سوچ کر کہ حضرت علیٰ کے چاہنے والوں کو قتل کرایا جائے، قنبر کو بلایا اور پوچھا کہ کیا تمہیں قنبر ہو، تو انہوں نے کہا ہاں، پوچھا کیا علیٰ بن ابی طالب تمہارے آقا تھے۔ فرمایا ۔" بے شک " حجاج نے کہا اچھا اب تم علیٰ کے دین سے بیزاری ظاہر کرو۔ آپ نے فرمایا کیا کوئی ایسا بھی دین ہے جو حضرت علیٰ کے دین سے بہتر ہو۔ حجاج کو یہ سن کر بہت غّصّہ آگیا اور اس نے کہا کے تم کس طرح قتل ہونا پسند کروگے۔ آپ نے فرمایا کہ جس طرح تو قیامت کے دن میرے ہاتھ سے قتل ہونا پسند کرے۔

قنبر جس طرح ایک وفادار غلام تھے اسی طرح حضرت علیٰ سلیہ السلام بھی ان کے ساتھ برابری کا برتاؤ کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے بازار سے دو کپڑے خریدے ایک ذرا کچھ اچھا تھا۔ اور ایک معمولی، اچھا والا قنبر کو دے دیا اور معمولی والا خود لے لیا قنبر نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ آپ آقا و مولا ہیں آپ اچھا کپڑا پہنئے۔ آپ نے فرمایا کہ تم ابھی جوان ہو، جوانوں کو اطھے کپڑے پہننے چائیں۔ میری عمر تم سے زیادہ ہے میرے لئے معمولی کپڑے ہی ٹھیک ہیں۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

غلام ۔ قبیلہ ۔ انسانیت ۔ وفادار ۔ اطاعت ۔ عالم

سوالات

۱۔ دنیا میں غلاموں کے ساتھ کیا برتاؤ ہوتا تھا ؟

۲۔ حصرت علیٰ نے قنبر کے ساتھ کیا برتاؤ کیا ؟

۳۔ قنبر کی بہادوری کا کوئی واقہ سناؤ ؟


سترہواں سبق

ہندوستان

یہ ہندوستان رشک خلد بریں اگلتی ہے سونا وطن کی زمیں

کہیں کو ئل اور لوہے کی کان کہیں سرخ پتھر کی اونچی چٹان

کہیں سنگ مرمر کی شفاف سل پھسلتا ہ ے جس کی چفائی پہ دل

بہت سے خزینے ہیں اس خاک میں ہمارے بیاباں بھی گزار ہیں

بڑے رُس بھرے ہیں ہمارے ثمر بہت ہی گھنے ہیں ہمارے شجر

گل ولالہ دیا سمن کے ایاغ مہکتے ہوئے آم کے سبز باغ

لٹتے ہوئے خوشے انگور کے چھلکتے ہوئے جام بلّور کے

ہرے اور بھرے جنگلوں کی بہار جھلا جھل چمکتے ہوئے رنگ زار

یہ سوچ کی کرنوں کا رنگین جال کہجس طرح فطتر نے کھولے ہوں بال

افق سے اُبلتا ہوا رنگ و نور فضاؤں میں پروا نہ کرتے طیور

کنول جھیل مسکراتے ہوئے چراغاں کا منظر دیکھتے ہوئے

تڑ پتی مچلتی ہوئی بجلیاں سمندر میں ملتی ہوئی ندیاں

یہ نیلم اور الماس کے کوہ سار یہ چاندی کے چھگلے ہوئے آبشار

یہ مخمل میں لپیٹی ہوئی وادیاں ہمالہ کی گل پوش شہزادیاں

یہ گنگا کا آنچل یہ جمنا کا ریت

یہ دھان اور گیہوں کے شاداب کھیت

ان الفاظ کے معنی بتائے :

رشک ۔ خلد ۔ سنگ ۔ شفاف ۔ سل ۔ خزینے ۔ دفینے ۔ گہبار ۔ گزار ۔ ثمر ۔ شجر ۔ ایاغ ۔ جام ۔ بلور ۔ افق ۔ طیور ۔ کوہ سار ۔ آبشار ۔ گل پوش ۔ شاداب ۔ کان ۔ نیلم ۔ الماس ۔ فطرت ۔ خوشہ ۔ لالہ ۔ یاسمین ۔ سنگ مرمر ۔ وادی ۔


اٹھاراواں سبق

ہماری عملی ترقیاں

نبی کریم حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیم کے نتیجہ میں مسلمانوں نے علمی میدان میں بڑی ترقی کی اور اس حقیقت کو سبھی مانتے ہیں کہ آج دنیا میں علمی ترقی نظر آتی ہے اس کی شمع روشن کرنے والے مسلمان ہی تھے۔

مسلمانوں نے صرف تفسیر، حدیث، کلام، جال، اور فقہ کے علوم ہی دنیا میں نہیں پھيلائے دوسرے علوم بھی مسلمانوں ہی کی بدولت دنیا میں پھیلے ہیں۔

تاریخ کا عِلم مسلمانوں نے ایجاد کیا اور آج یہ دنیا کا ایک بہت بڑا علم ہے۔

یہ جغرافیہ جو ہم آپ اسکول میں پڑھتے ہیں اس کی ایجاد کا سہرا بھی مسلمانوں کے سر ہے۔ مسلمان بیوپاری تجارت کے لئے دور دراز ملکوں میں جاتے تھے۔ ان کے علاوہ مسلمان علمأ، دین پھلانے کے لئے جگہ جگہ جاتے تھے۔ اس لئے ان لوگوں نے ہر ملک کی آب و ہوا، پیداوار اور رہن سہن کے متعلق کتابیں لکھیں اور ان سے زیادہ کو جغرافیہ کا علم ملا۔ یہ بڑے کام کا علم ہے اور اس کے جاننے سے بڑے فائدے ہوتے ہیں۔

ریاضی کے علم کو مسلمانوں نے بڑی ترقی دی اور الجبر ایجاد کیا جس سے دنیا کو بڑا فائدہ پہونچا۔

علم کیمیاں جو ہماری موجودہ سائنس کی بنیاد ہے۔ ہمارے چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام کے شاگرد جابر ابن حیان نے دنیا کو عطا کیا۔

علم طب کو مسلمانوں نے بڑی ترقی دی۔ انہوں نے نئی نئی دوائیں ایجاد کیں۔ بیماریوں کے علاج کے نئے نئے طریقے ایجاد کئے۔ اور اس طرح انسانوں کی ایک بڑی خدمت انجام دی۔

جہاز رانی کا فن آج جس ترقی یافتہ شکل میں نظر آتا ہے اس ترقی کی موجودہ منزل پر پہونچانے میں بھی مسلمانوں کا بڑا ہاتھ ہے راستوں کو سمجھنے کے لئے قطب نما کی ایجاد مسلمانوں کا ہی کارنامہ ، گھڑی بھی مسلمانوں کی ایجاد ہے ۔


ستاروں کو دیکھنے اور اُن کی چال معلوم کرنے کے لئے اُصطُر لاب بھی مسلمانوں نے ہی بنایا۔

منطق، فلسفہ، شاعری، ادب اور دوسرے علوم بھی مسلمانوں نے ہی دنیا میں عام کئے۔

اُس وقت جب کہ ساری دنیا جہالت کا شکار تھی مسلمان ملکوں میں بڑے بڑے مدارس قائم تھے۔ جہالت ہر وقت علم کا چرچا رہتا تھا۔

مدینہ، نجف، بغداد، قاہرا، دہلی، لاہور، ملتان، لکھنؤ، سمر قند، شیراز، قرطبہ، غرناطہ اور دوسرے شہروں میں اس وقت بھی اسلامی دارالعلوم قائم تھے جب دنیا کے دوسرے شہروں میں جہالت پھیلی ہوئی تھی۔

اج یورپ اور امریکہ میں بڑے بڑے کالج ہیں لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یورپ والوں نے پہلے مسلمانوں کے مدارس میں ہی آ کر تعلیم حاصل کی ہے۔ اور مسلمان ہی ان یورپ والوں کے اُستاد ہیں۔ ہمارے پہلے امام کا ارشاد ہے کہ علم و حکمت مومن کی کھوئی ہوئی ملکیت ہیں۔ انہیں جہاں پاؤ لے لو۔

مسلمانوں نے جتنی ترقی کی، علم کے سہارے کی آئندہ بھی مسلمانوں کی ترقی کا انحصار علم پر ہی ہے۔

سچّی ترقی :- ایک مسلمان نے بہت سی دولت جمع کر لی۔ ایک دوسرا مسلمان انجینیر یا ڈاکٹر بن گیا۔ ایک تیسرا مسلمان بڑا سرکاری افسر بن گیا۔

ہم کہیں گے ۔" ان سب نے بڑی ترقی کی ہے ۔"

لیکن ہندو اور عیسائی بھی دولت جمع کرتے ہیں، پڑھتے لکھتے ہیں سرکاری افسر بھی بنتے ہیں، راج بھی چلاتے ہیں پھر ایک مسلمان میں اور اُن میں کیا فرق ہے ؟

بڑا فرق ہے ان دونوں میں۔

ہندو، مسلمان، عیسائی، یہودی دنیا کے معاملہ میں تو سبھی ترقی کرتے ہیں۔ لیکن مسلمان وہ ہیں جو صرف دنیاوی ترقی کو بڑی چیز نہیں مانتے۔ بلکہ روحانی ترقی کو بڑی چیز مانتے ہیں۔


مسلمان کے نزدیک دولت اور حکومت بڑی چیز نہیں ، اللّٰہ کی محبت بڑی چیز ہے۔

ہمارے نزدیک اصلی اور سچّی ترقی اس میں ہے کہ انسان اللّٰہ کی صفات کمال کا نمونہ بن جائے۔ مثلاً :-

اللّٰہ عالم ہے،اس لئے ہمیں علم میں کمال حاصل کرنا چائیے۔

اللّٰہ قادر ہے، اس لئے ہمیں علم کے سہارے دنیا کی ہر چیز پر قدرت حاصل کرنے کی کوشش کرنا چائیے۔

اللّٰہ حیّ ہے۔ اس لئے ہمیں ایسے کام کرنا چائیے جن سے ہمارا اور ہماری قوم کا نام ہمیشہ زندہ رہے۔

اللّٰہ مرید ہے، اس لئے ہمیں بہی اپنے ارادہ و اختیار کی قوتوں کو مضبوط بنانا چائیے۔

اللّٰہ مدرک ہے، یعنی بغیر آنکھ، ناک، کان کی مدد کے ہر چیز جانتا ہے، ہمیں آنکھ، ناک، کان، دل اور دماغ سے کام لیتے ہوئے نئی نئی باتیں معلوم کرنے کی کوشش کرنا چائیے۔

اللّٰہ قدیم ہے، یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا ہمیں بھی ایسے کام کرنا چائیے جن کے نتیجہ میں ہمیں دائمی زندگی مل جائے۔

اللّٰہ کو ماننا دنیا کی ہر ترقی کی بنیاد ہے۔

ہم انسان صرف اللّٰہ کے سامنے سر جھکاتے اور دنیا کی ہر چیز کو انسان کی ملکیت مانتے ہیں۔ ایسی حالت میں ہمارا فرض ہو جاتا ہے کہ ہم دنیا کی ہر چیز سے فائدہ اٹھائیں۔

بس یہیں سے ہماری ترقی شروع ہو جاتی ہے۔

دوسری وعمیں صرف دنیاوی ترقی کرتی ہیں، ہم اپنی ہر دنیاوی ترقی کو اللّٰہ کے کام میں لگا کر روحانی ترقی بھی حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً ہماری دولت اللّٰہ کے لئے جرچ ہوتی ہے اور ہمارا علم انسانوں کی خدمت کے کام آتا ہے۔ اس سے اللّٰہ خوش ہوتا ہے اور اس کی خوشی کے نتیجے میں ہمیں روحانی ترقی بھی ہوتی ہے۔


سچّی ترقی یہی ہے کہ دینی اور دنیاوی دونوں میدانوں میں ترقی کی جائے اور یہ نعمت اللّٰہ کی محبت اور اسلام کی پابندی سے ہی حاصل ہوتی ہے۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

کلام ۔ جال ۔ فقہ ۔ قطب ۔ نما ۔ صطرلاب ۔ راج ۔ دارالعلوم ۔ مرید ۔ مدرک ۔ حدیث ۔ تفسیر ۔ ایجاد ۔ جغرافیہ ۔ ریاضی ۔ الجبرا ۔ کیميا ۔ طب ۔ جہاز رانی ۔ منطق ۔ فلسفہ۔

سوالات

۱ ۔ ہماری ترقی اور دنیا کی ترقی میں کیا فرق ہے ؟

۲ ۔ انسان میں کیا کمالات ہونے چاہئیں ؟

۳ ٣۔ دنیا نے کس کس علم میں ترقی کی ؟


انیسواں سبق

ریل اور پہاڑ کا سفر

عجب شان ہے آج جاتی ہے ریل کہ صر صر کو پیچھے ہٹاتی ہے ریل

مسرت میں سیٹی بجاتی ہے ریل دیوئیں دشت غم کے اڑاتی ہے ریل

اندھیرا پہاڑوں کے اندر کہیں چڑھائی کہیں اور چکر کہیں

وہ ٹھنڈی ہوا اور بادل بھی وہ سر سبز وادی وہ جنگل کی سیر

قدم سُست و آہستہ دھرنا کہیں پہاڑوں پہ چڑھنا اترنا کہیں

مقام ایسے دو چار پائے گئے جہاں دو دو انجن لگائےگئے

کہیں سیکڑوں فٹ وہ سڑکیں بلند نہ تافرط پستی سے پہونچے گزند

پہاڑوں کے اندر ہے رستہ جہاں وہاں دن کو روشں ہوئیں بتیاں

اسی طرح چڑھتی اترتی ہوئی چلی مر حلے قطع کرتی ہوئی

جو رستے میں تھے چھوٹے چھوٹے مقام کسی جانہ اس نے کیا کچھ قیام

جوسگنل نظر آ گیا ایک بار لگی سیٹیاں دینےکے اختیار

ںرض اب وہ اسٹیشن آیا نظر کہ تھا جس کی خاطر یہ سارا سفر

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

صر صر ۔ وشت ۔ فرط ۔ مرحلے ۔ قطع ۔ گزند ۔ سگنل ۔ خاطر ۔


بیسواں سبق

فریاد

آج کے زمانے میں جسے دیکھو وہ ایک نہ ایک فریاد کرتا رہتا ہے۔ کسی کو غلہ کی گرانی کا رونا ہے، تو کسی کو کپڑے کی مہنگائی کا کوئی گرمی سے پریشان ہے تو کوئی آسمان سردی سے۔ کوئی زمین والوں کی شکایت کر رہا ہے تو کوئی آسمان والوں کی۔ اور مرنے کی بات تو یہ ہے کہ ہر شخص اپنے کو دوسرے سے بدحال اور دوسرے کو اپنے سے خوش حال سمجھتا ہے۔ کوئی یہ نہیں دیکھنا چاہتا کہ اگر میں ٹوٹے مکان میں رہتا ہوں تو کتنے ایسے بھی ہیں جو فٹ پاتھ پر پڑے رہتے ہیں۔ اگر میں جو کی روٹی کھاتا ہوں تو کتنی ایسے بھی ہیں جو فاقے کرتے ہیں۔ اگر میں کھدر کے کپڑے پہنتا ہوں تو کتنے ایسے بھی ہیں جو ننگے رہتے ہیں، ہمارے مولا حضرت علیٰ فرمایا کرتے تھے کہ میرے ملک میں ایک آدمی بھی ننگا یا بھوکا رہ جائے تو میرے لئے کھانا حرام ہو جائے گا۔

افسوس کہ آج مولا کے راستے پر چلنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے اور سب اپنے عیش و آرام کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں، ایک دفع کا واقعہ ہے کہ ایک بہت بڑے عالم جلیل اپنے شاگردوں کو سبق پڑھا رہے تھے۔ گرمی کا زمانہ تھا، دو پہر کا وقت تھا، سب ایک کمرے میں بیڑھے تھے جہاں بجلی کا پنکھا بھی تھا، اتفاق سے ادھر سے ایک رئیس کی پالکی گزری جس میں چار کہار آگے اور چار پیچھے اور پہلو میں ایک آدمی اس خس کی ٹٹی پر پانی چھڑکتا ہوا جو پالکی کے چاروں طرف لگائی گئی تھی۔ ایک طالب علم نظر اس پر پڑ گئی، اس کے دل سے ایک آہ نکل گئی۔ استاد نے پوچھا اس آہ کا کیا سبب ہے، شاگرد نے کہا کچھ نہیں ہے صرف عادت کے طور پر ایسا ہوا ہے۔ استاد نے اصرار کیا۔ آخر کار اس نے بتایا کہ مجھے صرف اس بات کا صدمہ ہوا کہ یہ جاہل آدمی کس اطمینان سے جا رہا ہے اور ہم لوگ علم دین حاصل کرنے کے باوجود اس گرمی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ نہ جانے پروردگار کی کیا مرضی ہے۔ ؟ عالم دین کے تیور بگڑ گئے۔ انہوں نے فرمایا کہ تم نے انصاف نہیں کیا ہے اس قافلے میں دس آدمیوں میں آٹی کہار، ایک پانی چھڑکنے والا مزدور اور ایک رئیس۔ ان دس میں سے ایک تم سے بہتر ہے اور نو تم سے بدتر۔ تم نے اس کو تو دیکھ لیا اور ان نو افراد کو بھول گئے۔ یاد رکھو جس کے خیالات اتنے کمزور ہوں وہ علم دین نہیں حاصل کر سکتا۔


ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

فریاد ۔ غلّہ ۔ گرانی ۔ شکایت ۔ بدحال ۔ خوش حال ۔ حرام ۔ عیش و آرام ۔ طالب علم ۔ استاد ۔ صدمہ ۔ اطمینان ۔ جاہل ۔ عالم ۔ مرضی ۔ انصاف ۔ قافلہ ۔ کمزوری ۔ رئیس۔ پالکی ۔ خس کی ٹٹی ۔ تیور ۔ کہار ۔ افراد ۔ فٹ پاتھ ۔ فاقہ ۔ عالم ۔ جلیل۔

سوالات

۱ ۔ تم نے اس سبق سے کیا سیکھا ؟

۲ ۔ تمہارے مولا کا غریبوں کے بارے میں کیا خیال تھا ؟

۳ ٣۔ عالم دین نے کیو نکر حساب لگایا ؟

۴ ٤۔ آئندہ تمہارا کیا طریقہ ہوگا ؟


اک i سواں سبق

زندگی کا مقصد

کتنی حسین اور دلکش ہے یہ دنیا۔

یہ روشنی اور حرارت بخشنے والا آفتاب، یہ نور برساتا ہوا چاند، یہ دمکتے ہوئے ستارے، یہ سنکتی ہوئی ہوائیں، یہ فضا میں منڈلاتے ہوئے بادل، یہ برف سے ڈھکے ہوئے پہاڑ، یہ نیلے نیلے استھاہ سمندر، یہ سر سبز اور ہری بھری وادیاں، یہ بل کھاتی ہوئی ندیاں،ییہ ہوا کے روش پر تیرتے ہوئے پرندے، یہ جنگلوں میں سیر کرتے ہوئے جانور۔

یہ سب کتنے خوبصورت ہیں۔

اور پھر یہ بڑے بڑے شہروں میں رواں رواں زندگی کا قافلہ، یہ گورے، کالے اور بھورے انسان، یہ تیز رفتار موٹریں، یہ سمندر کی چھاتی پر رینگتے ہوئے جہاز، یہ شور مچاتے ہوئے ریلوے انجن، یہ دھواں اڑاتی ہوئی چمنیاں، یہ جگمگاتی ہوئی دکانیں، یہ فضا میں اُڑتے ہوئے ہوائی جہاز، یہ خونصورت مکان یہ شاندار دفتر، یہ سب زندگی کے کتنے حسین منظر ہیں۔

اور پھر ان میں سے کوئی چیز بھی تو بےکار نہیں۔

سورج ہمکں گرمی دے رہا ہے، چاند اندھکرے رستوں میں اُجالا کر رہا ہے، ہوائیں بادل لا رہی ہیں، بادل ہماری سوخی ہوئی زمینوں کو سر سبز بنا رہے ہیں، ندیا ہمارۓ کھیتوں کو پانی دے رہی ہیں اور ضروریات زندگی مہیّا کر رہی ہیں، ریلوے اور موٹر ہمارے لئے سفر کی شہولت فراہم کر رہے ہیں، بجلی ہمارے گھروں کو روشنی دے رہی ہے۔ غرض یہ کہ دنیا کی ہر چیز ہماری خدمت میں لگی ہوئی ہے۔ دنیا کی ہر چیز انسان کو فائدہ پہونچا رہی ہے۔

اللّٰہ کا کرم دیکھئے کہ اس نے ہمارے فائدہ اور آرام کے لئے ان گنت چیزیں پیدا کر دی ہیں۔ دنیا کی ہر چیز کے پیدا کئے جانے کا مقصد یہ ہے کہ وہ انسان کی خدمت کرے اور اس کی جسمانی، روحانی اور ذہنی زندگی میں معاون ہو۔

اب سوال یہ ہے کہ خود انسان کے پیدا کئے جانے کا مقصد کیا ہے ۔؟


جس انسان کے لئے قدرت نے زمین، آسمان ، چاند، سورج، ہوا، بادل، سمندر، درخت سب پیدا کئے اس انسان کے پیدا کئے جانے کا بھی کچھ مقصد ہونا چائیے۔

اگر انسان کے پیدا کئے جانے کا مقصد محض یہ ہے کہ وہ کھائے، پئے، سوئے، اور مر جائے، تو جانور بھی یہی سب کچھ کرتے ہیں۔ پھر انسان اور جانور میں کیا فرق رہتا ہے۔؟

اللّٰہ نے انسان کو عقل دی، علم دیا، ذہالت دی، نئی نئی چیزیں ایجاد کرنے کی قوت دی، کائنات کی ہر شے پر حاکم بنایا۔ کیا اللّٰہ نے یہ سب کچھ محض اس لئے دیا ہے کہ انسان کھئے، پئے، سوئے اور مر جائے ۔؟

نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔

اللّٰہ نے اگر انسان کو اپنی ہر مخلوق پر فضیلت دی ہے تو اس کی زندگی کا مقصد بھی بہت اعلیٰ بنایا ہے اللّٰہ نے دنیا کی ہر چیز انسان کے لئے بنائی ہے اور انسان کو اپنی اطاعت کے لئے بنایا ہے۔

انسان کی زندگی کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللّؤہ کی خوشنودی حاصل کرے، ایمان اور اطھے اعمال کے سہارے خدا سے قریب تر ہو جائے۔

اس اعلیٰ اور بلند مقصد کا انعام بھی بہت اعلیٰ اور بلند ہے۔

"جنّت " اللّٰہ کی وہ لازوال نعمت ہے جو ان بندوں کے لئے مخصوص ہے جو اپنی زندگی کا مقصد پورا کرتے ہوئے اللّٰہ کی خوشنودی اور قریب حاصل کر لیتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خدا کی خوشنودی کیسے حاصل کی جائے۔

اس کا جواب بالکل سادہ ہے۔

اللّٰہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ اللّٰہ کے احکام کی اطاعت ہے۔ قرآن پاک نے اسی بات کو یوں واضع کیا ہے۔


ہم نے جن و انس کو نہیں پیدا کیا لیکن اس لئے کہ وہ ہماری عبادت کریں۔

" عبادت " کے معنی یہاں اطاعت اور بندگی کے ہیں۔ اللّٰہ کا ارشاد ہے کہ ہم نے انسان کو صرف اپنی اطاعت کے لئے پیدا کیا ہے۔

پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللّٰہ کے وہ احکام کیا ہیںؤ جن کی ہم پابندی کریں ؟ یہ حکم ہمیں کہاں سے مل سکتے ہیں ؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ :-

"اللّٰہ کے احکام وہ ہیں جو قرآن میں درج ہیں "

قرآن ہدایت ہے، نور ہے، فرقان ہے، وہ انسانی زندگی کا ایک ایسا مکمل قانون ہے، جسے اللّٰہ نے بذریعہ وحی اپنے نبی پر نازل فرمایا ہے۔

قرآن کے معنی خود اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

" یہ قرآن عقل و دانش کا مہموعہ ہے، ہدایت ہے، رحمت ہے، ایمان اور یقین والوں کے لئے "

" یہ قرآن تمام عالموں کے لئے نصیحت ہے "

" یہ قرآن ہم نے اُتارا ہے، یہ برکت والا ہے، اس کے احکام پر چلو "

" یہ ایسی کتاب کی باتیں ہیں جو حکمت سے معمور ہے ۔"

" اے نبی ہم نے آپ پریہ کتاب اتاری جس میں ہر شے کو روشن کر دیا۔ یہ کتاب مسلمانوں کے لئے ہدایت، رحمت اور خؤشخبری ہے۔"

یہ رحمت، مرکت اور ہدایت والا قرآن جو علم و یقین سے بھر پور ہے، ہمیں ایک ایسی زندگی راہ دکھاتا ہے جو عزت اور کامیابی کی ندگی ہے۔


قرآن ایک ایسا قانون ہے جو زندگی میں عزت اور آخرت میں نجات کا ضامن ہیاور ہم اسی قانون پر عمل کر کے اپنا مقصد زندگی حاصل کر سکتے ہیں۔ قرآن کے احکام کی پابندی کر کے ہم اللّٰہ کی خوشنودی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس لئے قرآن کو پڑھنا اور سمجھ کے پڑھنا ہمارے لئے حد درجہ ضروری ہے۔

ان الفاظ کے معنی بتائے :

دلکش ۔ حرارت ۔ استھا ۔ دوش ۔ رواں رواں ۔ معادن ۔ شے ۔ درج ۔ فرقان ۔ دانش ۔ معمور ۔ ضامن ۔ سکتی ۔ فضا ۔ جگمگاتی ۔ کرم ۔ محض ۔ ان گنت ۔ کائنات ۔ اعلیٰ ۔ لازوال ۔ نعمت ۔ خوشنودی ۔ وحی ۔ دمکتے۔

سوالات

۱ ۔ دنیا کی چيزیں کس کے لئے پیدا ہوئی ہیں ؟

۲ ۔ انسان کی پیدائش کا مقصد کیا ہے ؟

۳ ٣۔ ہمارا مقصد خلقت کہاں سے معلوم ہوگا ؟


فہرست

ہدایت ۴

اے خدا ۵

سوالات ۵

دوسرا سبق ۶

ماں باپ کا مرتبہ ۶

محمد بن ابی بکر ۶

ان الفاظ کے ماعنی بتاؤ :- ۶

سوالات ۶

تیسرا سبق ۷

معجزہ ۷

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :- ۱۰

سوالات ۱۰

چوتھا سبق ۱۱

سائنس ۱۱

پانچواں سبق ۱۲

ہمدردی ۱۲

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :- ۱۳

سوالات ۱۳

چھٹا سبق ۱۴


ہم حیدری ہیں حیدری ۱۴

ان الفاظ کے معنی یاد کرو : ۱۵

ساتواں سبق ۱۶

تقّیہ ۱۶

ان الفاظ کے معنی بتاؤ : ۱۷

سوالات ۱۷

آٹھواں سبق ۱۸

جہاد ۱۸

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :- ۱۸

سوالات ۱۸

نواں سبق ۱۹

بیمار پُرسی ۱۹

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :- ۲۰

سوالات ۲۰

دسواں سبق ۲۱

خودداری ۲۱

ان الفاظ کے معنی بتاؤ : ۲۲

سوالات ۲۲

گیارہواں سبق ۲۳

مشرق بعید ۲۳


ان الفاظ کے معنی بتاؤ : ۲۴

سوالات ۲۴

بارہواں سبق ۲۵

قیامت کا ڈر ۲۵

ان الفاظ کے معنی بتاؤ : ۲۶

سوالات ۲۶

تھرہواں سبق ۲۷

نئی دنیا ۲۷

ان الفاظ کے معنی بتاؤ : ۲۸

سوالات ۲۸

چودھواں سبق ۲۹

مساوات ۲۹

ان الفاظ کے معنی بتاؤ : ۳۰

سوالات ۳۰

پندرہواں سبق ۳۱

وجودباری ۳۱

ان الفاظ کے معنی بتائے : ۳۲

سوالات ۳۲

سولھواں سبق ۳۳

قنبر ۳۳


ان الفاظ کے معنی بتاؤ : ۳۳

سوالات ۳۳

سترہواں سبق ۳۴

ہندوستان ۳۴

ان الفاظ کے معنی بتائے : ۳۴

اٹھاراواں سبق ۳۵

ہماری عملی ترقیاں ۳۵

ان الفاظ کے معنی بتاؤ : ۳۸

سوالات ۳۸

انیسواں سبق ۳۹

ریل اور پہاڑ کا سفر ۳۹

ان الفاظ کے معنی بتاؤ : ۳۹

بیسواں سبق ۴۰

فریاد ۴۰

ان الفاظ کے معنی بتاؤ : ۴۱

سوالات ۴۱

اک i سواں سبق ۴۲

زندگی کا مقصد ۴۲

ان الفاظ کے معنی بتائے : ۴۵

سوالات ۴۵