امامیہ اردو ریڈر درجہ پنجم- جلد 5
گروہ بندی گوشہ خاندان اوراطفال
مصنف تنظیم المکاتب
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


امامیہ اُردو ریڈر

درجہ پنجم

تنظیم المکاتب


ہدایت

١۔مدرسین کا فرض ہے کہ پڑھنے میں روانی پیدا کرانے کے ساتھ تلفظ

درست کرائیں، الفاظ کے معنی کہوا کر یاد کرائیں۔

٢۔سبق کے بعد کے مشقی سوالات ضرور حل کرائیں۔جابجا قواند سمجھا

کر ان کی مشق کرائی جائے۔

٣۔اردو پڑھانے کے ساتھ اِملا ضرور لکھوایا جائے۔

اور

جو شخطی پر خاص نظر رکھی جائے۔

ناشر


پہلا سبق

اسلام

دنیا میں آدمی کو بہت سی چیزیں پیاری ہوتی ہیں، جان عزیز ہوتی ہے، مال پیارا ہوتا ہے، آبرو قیمتی ہوتی ہے، ہر ایک کی حفاضت کا انتظام کرتا ہے، ہر ایک کے لئے تکلیف برداشت کرنے پر آمادہ رہتا ہے۔ لیکن ایک چیز اور بھی ہے جو ان سب سے زیادہ عزیز ، پیاری اور قیمتی ہے۔ اور وہ ہے مذہب- آدمی مذہب کے نام پر جان، مال، آبرو سب کچھ نچھاور کر سکتا ہے۔ دو دوست آپس میں کتنا ہی گہرا رشتہ کھوں نہ رکھتے ہوں مذہب پر آنچ آجائے تو رشتہ داری کو بلائے طاق رکھ دیتے ہئں۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی سب سے پیاری چیز ہے مذہب۔

دنیا میں مذاہب کی وہ بھیڑ بھاڑ ہے کہ ہر آدمی کا مذہب الگ ہے۔ کوئی عیسائی تو کوئی یہودی۔ کوئی بت پرست ہے تو کوئی ستارہ پرست۔ کوئی آگ کی پوجا کرتا ہے تو کوئی پتھر کی۔ کوئی گوتم بدھ کے راستے پر چلتا ہے تو کوئی گرنانک کے۔ ہر مذہب والا الگ نبی رکھتا ہے۔ اور الگ الگ خدا کا تصور رکھتا ہے۔ عیسائیوں کے آخری نبی حضرت عیسیٰ ہیں۔ یہودیوں کے آخری نبی حضرت موسیٰ ہئں۔ بت پرستی کرنے والے بت پرست کہلاتے ہیں۔ ستارہ کی پوجا کرنے والے صابئی کہے جاتے ہیں۔ آگ کو پوجنے والے مجوسی ہوتے ہیں۔ پتھر کی مورتیاں بنا کر اس کے سامنے سر جھکانے والے ایک ایسے خدا کو مانتے ہیں جس کے تین ٹکڑے ہیں وشنو، مہیش، برھما۔ گوتم بدھ کے قانون پر عمل کرنے والے بدھشٹ کہلاتے ہیں اور گرنانک کی قوم والے سکھ کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں۔

اسی قوم کے ہزاروں اور لاکھوں مذہبوں کے بیچ میں ایک مذہب اسلام بھی ہے۔ اسلام کا خدا ایک ہے۔ نہ اس کا کوئی ساتھی نہ شریک ہے۔ نہ اس کے ٹکڑے ہیں اور نہ ہو سکتے ہیں۔ اس کے آخرۓ نبی حضرت محمد مصطفۓٰ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم ہیں جو مسلمانوں کے پیغمبر ہیں اور جن پر نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ اس کے بعد امامت کا سلسلہ شروع ہوا جس کے پہلے امام حضرت علیٰ او آخری امام حضرت مہدی ہیں۔

اسلام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسۓ پروردگار نے پسند فرمایا ہے۔ اپنا محبوب قرار دیا اور دنیا کی نجات کے لئے اسی کو ذریعہ قرار دیا ہے۔ اس نے قران میں صاف صاف اعلان کر دیا ہے کہ جو شخص اسلام کے علاوہ دین کے مذہب کو اختيار کرےگا اس کا کوئی عمل قبول نہ ہوگا اور وہ قیامت کے دن گھاٹے میں رہےگا۔

اسلام کی دوسری خوبی یہ ہے کہ اس کا قانون کسی بڑے سے بڑے نبی یا ولی کا بنایا ہوا نہیں ہے بلکہ اسے خود پروردگار عالم نے بنایا ہے اس کے علاوہ نہ کسی نے اس کا قانون بنایا اور نہ بنا سکتا ہے اور جب بنا نہیں سکتا تو اس میں کوئی ترمیم اور کاٹ چھانٹ بھی نہیں کر سکتا ہے اسلام کے احکام میں کاٹ چھانٹ کرنے والا کسی قیمت پر مسلمان نہیں کہا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس قانون کو خدا نے بنایا ہوگا وہ کتنا بلند، پاکیزہ اور قیمتی و ہمہ گیر ہوگا۔ اسلام نے اپنی نماز میں اس بات کو بالکل واضح کر دیا کہ مذہب کا قانون عام آدمی اور نبی سب کے لئے برابر ہے او اسی لئے نماز جماعت میں جہاں تمام امت اللّٰہ کے سامنےسر جھکاتی ہے۔ وہاں نبی اور امام برابر سے سجدہ کرتا ہے تاکہ یہ معلوم رہے کہ یہ قانون میرا نہیں ہے بلکہ میرے خدا کا ہے اس لئے مجھ کو بھی ویسے ہی اطاعت کرنا پڑتی ہے جیسے تم کرتے ہو۔

اسلام کی توسری خوبی یہ ہے کہ اس نے انسان کی زندگی کے کسی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ زندگی کے ہر رخ، ہر پہلو، شعبہ اور ہر اقدام کو گھیر لیا ہے اس میں اخلاق کے احکام بھی ہیں اور سیاست کے قوانین بھی۔ باہمی زندگی کے اصول بھی ہیں اور تنہائی کی زندگی کے قواعد بھی۔ حقوق کی تفصیل بھی ہے اور فرائض کی تشریح بھی۔ غرض کوی رخ ایسا نہیں بچا جس کے لئے کوئی حکم نہ مقرر کیا گیا ہو۔ حدیہ ہے کہ پیشاب پاخانہ کے طریقے سے لے کر قتل کے ماوضہ تک ہر بات کی تشریح موجود ہے۔ کیا ایسے ہم گیر اور جامع قانون کے ہوتے ہوئے بھی کسی دوسرے قانون کو اپنایا جا سکتا ہے۔

اسلام کی چوتھی خوبی یہ ہے کہ اس نے خدا اور بندے کو رشتوں کا بیک وقت لحاظ کیا ہے۔ دنیا میں بہت سے مذاہب ایسے ہیں جو خدا کی عبادت تو سکھاتے ہیں لیکن بندوں کے ساتھ سلوک کرنے کے طریقے نہیں سکھاتے اور بہت سے ایسے مذاہب ہیں جو آپس کی زندگی پر زور دہتے ہہں اور خدا کو مانتے ہی نہہں کہ اسکی بندگی کے طریقے سکھائہں اور بتائہں۔ اسلام ان دونوں سے بلند و بالاتر ہے اس نے اہک طرف خدا کی بندگی سکھائی اس کے طرہقے بتلائے اور دوسری طرف آپس کے معملات کا سلہکہ بھی سکھا دہا۔ تجارت کہسے کی جاتی ہے، کھیتی باڑی کا کیا طریقہ ہونا چائیے، نکاح کے آداب کیا ہیں شادی کیسے رچائی جاتی ہے اور اس طرح کی سیکڑوں باتیں ہیں جو اسلام کے احکام میں تفصیل کے ساتھ پائی جاتی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام خدا اور بندے کے تعلق کو ایک ساتھ قائم رکھنا چاہتا ہے اسی لئے حضور پیغمبر اسلام نے اعلان کیا تھا کہ جو دنیا کو آخرت کو نام پر چھوڑ کر پہاڑوں اور غاروں میں آباد ہو جائے وہ بھی مسلمان نہیں ہے اور جو آجرت کو دنیا داری کے لئے چھوڑ کر بندگی سے الگ ہو جائے وہ بھی مسلمان نہیں ہے۔

اسلام کی پانچویں خوبی یہ ہے کہ وہ اس دنیا کا سب سے پڑانا مذہب ہے جس کی تبلیغ کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے جو سب کے سب معصوم تھے جن سے غلطی اور خطا کا کوئی امکان نہ تھا۔ ظاہر ہے کہ جس بات کی سوا لاکھ معصوم تائید کرتے ہیں اس میں کسی غلطی یا کمزوری کا کیا سوال رہ جاتا ہے۔ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفےٰ سے پہلے بھی انببیاء آخری وقت میں اپنی اولاد کو جمع کر کے یہی وصیت کرتے تھے کہ اللّٰہ نے تمہارے لئے دین اسلام کو پسند فرمایا ہے لہذا تم لوگ بھی اگر مرنا تو اسی دین اسلام پر مرنا۔ او ہمارے نبی نے بھی اپنے آخری وقت تک امت کو اسلام پر باقی رہنے کی تعلیم دی تھی۔

یہ اور بات ہے کہ بہت لوگوں کے دلوں مہں چور موجود تھا اور وہ آپ کے بعد اسلام کو چھوڑنے والے تھے اس لئے آپ نے اپنی آمہداری اپنی اولاد اور اپنے گھر والوں کے سپرد کی جو اس وقت سے آج تک اسلام کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ہمارے بارہویں امام جو آج بھی پردہ غیب میں موجود ہیں اُن کو بھی پروردگار عالم نے اسی لئے باقی رکھا ہے کہ جب دنیا میں کفر و شرک پھیل جائےگا اور لوگ اسلام کے راستے سے ہٹ جائیں گے تو وہ پردہ ہٹ کر سامنے آئیں گے اور اپنے دادا حضرت محمد مصطفےٰ کی طرح دوبارہ دنیا میں اسلام پھیلائیں گے اُس وقت ساری دنیا میں اسلام ہی اسلام ہوگا کفر و شرک کا نام و نشان نہ رہےگا عدل و انصاف کا دور دورہ ہوگا اور ظلم و جور مٹ کر رہ جائیں گے۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ ۔

خیرباد ۔ بلائے طاق رکھنا ۔ آنچ آنا ۔ صابئی ۔ ترمیم ۔ نظر انداز ۔

اقدام ۔ تشریح ۔ معاوضہ ۔ جامع ۔ ہمہ گیر ۔ شعبہ ۔ بدھشٹ ۔ عزیز ۔

آبرو ۔ حفاظت ۔ انتظام ۔ بت پرست ۔ ستارہ پرست ۔

سوالات

١۔ اسلام کے خصوصیات بتاؤ۔ اور بتاؤ کہ بارہویں امام ظہور کے بعد کیا کریںگے ؟


دوسرا سبق

الٹی گنگا

دریا کا بہاؤ ایک خاص رُخ پر ہوتا ہے اس کے خلاف اسے نہیں بہایا جا سکتا۔ لیکن کبھی کبھی بعض بےوقوف قسم کے لوگ اس بات کی بھی کوشش کرتے ہیں کہ دریا کا بہاؤ الٹ دیا جائے۔ اسے اتر سے دکھن کے بجائے دکھن سے اتر چلایا جائے یہ بالکل ناممکن سی بات ہے ایسا کرنے والا خد بہہ سکتا ہے دریا کے بہاؤ کو نہیں موڑ سکتا اس لئے کہ پانی کی روانی ایک فطری چیز ہے اور فطرت سے مقابلہ کرنا انسان کے بس کی بات نہیں۔

دریا میں تو یہ بات نہیں ہو سکتی لیکن آدمی کی زندگی میں اکثر اوقات ایسا ہوتا رہتا ہے۔ پروردگار عالم نے زندگی کا بھی ایک رُخ معین کیا تھا اور انسان کو تعلیم دی تھی کہ زندگی کو اسی رُخ پر چلائے لیکن انسان نے اپنی سرکشی کی بنیاد پر الٹی گنگا بہانی شروع کر دی اور اب زندگی کا ہر قانون بھکار ٹھہرایا جانے لگا۔ عزت کی جگہ ذلت اور حیا کی جگہ بحیائی نے لے لی۔ دوسروں کے احترام کی جگہ ہنسی مذاق اور بزرگوں کے ادب کی جگہ مضحکہ نے لے لی۔ عورت پردے کے بجائے آفس میں آ گئی اور مرد آفس کے بجائے گھر چلا گیا۔ یہ الٹی گنگا یہاں تک بہی کہ ہر اخلاقی بات بیوقوفی شمار ہونے لگی۔ اور ہر ادب و تہذیب کا قانون پرانے زمانے کا ڈھکوسلہ بن گیا۔ نتیجہ کیا ہوا ؟ یہی کہ انسان اپنے ہی ہاتھوں فریاد کرنے لگا اور ساری دنیا پرئشانی کا شکار ہو گئی۔

کس قدر تعجب کی بات ہے کہ کل تک آدمی اپنے مال کے نقصان پر آفسوس بہاتا تھا اور آج کے دوکاندار بیمہ کمپنی سے پیسہ وصول کرنے کے لئے نہایت بےدردی کے ساتھ اپنی ہی دوکان کو آگ لگا دیتے ہیں۔ کل کا آدمی ایک بیٹے کے مر جانے پر مدّتوں افسردہ اور پریشان رہا کرتا تھا اور آج انسان ڈاکڑی مدد سے اولاد کے سلسلے ہی کو ختم کرا دیتا ہے اور اسے کوئی افسوس نہیں ہوتا۔

کل کا آدمی لڑکی کے گھر سے باہر نکل جانے پر قوم کو منھ دکھانے کے قابل نہ وہ جاتا تھا اور آج لڑکیوں کا کالج میں لڑکوں کے بغل میں بٹھا کر ماں باپ خوش ہوتے ہیں۔

کل عورت گھر میں بیٹھ کر اطمینان سے کھایا کرتی تھی اور آج کارخانوں میں جھونک کر، فوجوں میں بھرتی کر کے اس سے وہ کام لیا جا رہا ہے جو بڑے بڑے طاقتور مرد بھی نہیں کر سکتے اور عورت ہے کہ اسے بھی اپنی ترقی سمجھتی ہے۔

کل کا شریف انسان کپڑے پر پیشاب کے ایک قطرے کو برداشت نہیں کر سکتا تھا اور اُسے اُس وقت تک چین نہیں آتا تھا جب تک وہ کپڑا دھل نہ جائے اور آج کا شریف کھڑے ہو کر پیشاب کر کے پانی نہ لینے ہی کو اپنی بلندی سمجھتا ہے۔

کل کا سماج شرابی جواری کو ذلّت کی نظر سے دیکھتا تھا ایسے آدمی کو کسی محفل میں جگہ نہیں دی جاتی تھی اور آج شراب کی طرح طرح بوتلیں اچھے گھرانوں کی الماریوں میں سجی رہتی ہیں۔ تاش جیسی لعنت ہر بڑی سوسائٹی کی زینت بنی ہے۔

کل رشوت لینے والے کے پیسے سے پرہیز لیا جاتا تھا اور آج رشوت کے پیسے سے ہر گھر آباد ہے۔

کل دوسروں کا مال کھا لینے والوں کو چور، ڈاکو، بے ایمان کہا جاتا تھا اور آج خمس، زکٰوة نہ دینے والے، خدا کا مال کھا جانے والے کو پکّا ایماندار کہا جاتا ہے۔

کل کی مسجدیں مسلمانوں سے بھری رہتی تھیں اور آج کی مسجدیں ویران پڑی رہتی ہیں۔

کل روزہ نہ رکھنا عیب تھا اور آج رمضان میں کھلم کھلا سگریٹ پی جاتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ جب خدا سے شرم نہیں تو بندے سے کیا شرم ؟ اور یہ امید بھی کی جاتی ہے کہ لوگ حیادار ہی کہیں بےشرم نہ کہنے پائیں۔

کل خدا کی بندگی پر فخر کیا جاتا تھا اور آج ہر بات میں خدا کا مذاق اڑانا باعثِ فخر ہے۔

کیا ایسے حالات میں یہ امید کی جاسکتی ہے کہ ہمارا یہ سماج آئندہ بھی مسلمان رہ سکےگا اور ہم خدا اور رسول اور ائمہ معصومین کی بارگاہ میں مسلمان مان لئے جائیںگے۔ ہرگز نہیں۔ یہ الٹی گنگا بےدینی کے لئے تو بڑی اچھی چیز ہے لیکن مذہب کے لئے کسی زہر سے کم نہیں ہے۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

مضحکہ ۔ مورتیاں ۔ ڈھکوسلہ ۔ کانٹ چھانٹ ۔ پاکیزہ ۔ بلند ۔ افسردہ۔ رُخ ۔ بےوقوف ۔ نا ممکن ۔ فطری ۔ معین ۔ سرکشی ۔ بنیاد ۔ بےدردی ۔ رشوت ۔ ویران ۔ مزاق۔


تیسرا سبق

ہنس کی چال

ہنس ایک پرندہ ہوتا ہے جس کی چال اچھی ہوتی ہے وہ جب چلتا ہے تو بڑا بھلا معلوم ہوتا ہے اور اسی کے مقابلہ میں کوّے کی چال بے ڈنگی ہوتی ہے، ایک دن ایک شخص ے کوّے کو طعنہ دیا کہ ہنس کی چال تجھ سے بہتر ہوتی ہے اسے دیکھ کر لوگ اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور تیری چال دیکھ کر تجھ سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ کوّے نے چپکے سے یہ بات سُن لی اور دل ہی دل میں یہ ٹھان لی کہ آئندہ سے ہنس کی طرح چلنے کی مشق کرے گا اور کچھ دنون بعد جب میری چال ویسی ہی ہو جائے گی تو میں اس طعنہ کا جواب دوں گا اور بتاؤں گا کہ کوّے کی چال ہنس سے کچھ کم نہیں ہوتی ہے۔ ایک مدت تک یہ مشق ہوتی رہی اور ایک دن جب اس نے یہ طے کر لیا کہ میری چال ہنس جیسی ہو گئی ہے تو اس طعنہ دینے والے کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تو نے مجھے طعنہ دیا تھا کہ ہنس کی چال کوّے سے بہتر ہوتی ہے اچھا آج میری چال کو دیکھ کر یہ فیصلہ کر کہ کس کی چال اچھی ہوتی ہے۔ یہ کہ کر اس نے ہنس کے انداز میں چلنے کی کوشش کی اور لنگڑا کر چلنا شر و ع کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لنگڑا بھی ہو گیا اور ہنس کی چال تو بڑی بات خود اپنی چال بھی بھول گیا۔ یہی حال ہم مسلمانوں کا ہے۔ ہم کو بھی دنیا کی ہر چیز بھلی معلوم ہوتئی۔ ہم نے اسے اپنا لیا اور یہ بھول گئے کہ ہم مسلمان ہیں اور دنیا کی دوسری قومیں مسلمان نہیں ہیں ان کا طور طریقہ اور ہے اور ہماری تہذیب اور ہے۔

ہم نے دوسروں کے مذہب میں ہر تہوار میں ناچ، گانا، باجا دیکھا تو خود کرنے لگے۔ انگریزوں کی عورتقں کو بے پردہ بے حیائی کے ساتھ سڑکوں پر گھومتے ہوئے دیکھا تو اپنی عورتوں کو بھی نکال لائے۔ دوسری قوموں کو سینما جاتے دیکھا تو اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کو بھی پہنچا دیا۔ شراب دیکھی تو اسے پینا شروع کر دیا۔ جوا دیکھا تو تاش و غیرہ کھیلنے لگے، تماشے دیکھے تو اس میں مصرف ہو گئے۔ ہماری کوئی تقریب ناچ گانے سے خالی نہ رہی۔ ہمارا کوئی گھر ریدیو کے گانوں سے نہ بچ سکا، ہمارا کوئی بچّہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے محفوض نہ رہ سکا، ہماری کوئی دعوت کھڑے ہو کر کھانے سے الگ نہ رہ سکی، ہماری کوئی لڑکی پردہ دار نہ رہ سکی، ہمارا کوئی جوان ڈاڑھی نہ رکھ سکا، نماز ہمارے گھر سے رخصت ہو گئی۔ روزے ہمارے واسطے مصیبت بن گئے۔ حج میں ہم کو پیسے کی بربادی دکھائی دینے لگی۔ خمس و زکّوة کا ذکر ہمارے گھروں سے نکل گیا۔ ایک دوسرے کو اچھی باتیں بتانا اور بری باتوں پر ٹوکنا ہمارے یہاں عیب بن گیا۔ غلامی رہ گئی۔ آزادی چلی گئی۔ نوکری رہ گئی تجارت چلی گئی۔ بے پردگی رہ گئی غیرت چلی گئی۔ گانا بجانا رہ گیا تلاوت قرآن چلی گئی سینما رہ گیا مسجدوں کی آبادی چلی گئی۔ تاش کے آدے رہ گئے مجلسوں کا مجمع چلا گیا اور نتیجہ وہی ہوا کہ کوّا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھول گیا۔ ہم مسلمان کہلانے کے قابل رہنے نہیں دیا اور دنیا نے ہم کو نہ اپنا مانا نہ ترقی یافتہ۔ اب ہم رہ گئے اور مقدر کا رونا۔ اور نتیجہ میں پروردگار سے شکوہ۔ ہم مسلمانوں کی حالت خراب ہے۔ کاش ہم نے بھی سوچا ہوتا کہ ہم میں مسلمان کون ہے ہم اپنے کو کس منھ سے مسلمان کہتے ہیں۔ ہم نے فروع دین کی کس فرع پر عمل کیا، اصول دین کی کس اصل کو دل سے مانا۔ ضرورت ہے کہ اب بھی ہماری آنکھیں کھل جائیں اور ہم کو ہوش آ جائے دنیا تو ہمارے ہاتھ سے جا چکی ہے۔ یہاں تو ہم ذلیل و پست ہو ہی چکے ہیں۔ اب کم از کم اپنے دین کو تو سنبھال لیں اور آخرت میں تو خدا کو منھ دکھانے کے قابل بن جائیں۔ حالا نکہ اگر ہم آج بھی اسلام کے احکام پر مکمل عمل کریں تو دنیا بھی بن جائے اور آخرت بھی۔ مگر اس کے لئے اپنی چال بدلنا ہوگی۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

طعنہ ۔ مشق ۔ نتیجہ ۔ ہنس ۔ طور طریقہ ۔ مصرف ۔ تقریب ۔ محفوظ ۔ رخصت ۔ غیرت ۔ تلاوت ۔ شکوہ ۔ ہوش ۔ سرکشی ۔ نفرت ۔ چپکے ۔ تہذیب ۔ فرع ۔ اصل۔


چوتھا سبق

محنت

دنیا کی دوسری قوموں کے مقابلے میں مسلمانوں کی ابتری کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمان نے محنت و مزدوری چھوڑ دی ہے، وہ مسلمان جو آج سے چند صدی پہلے دنیا کے لئے راہ نما کی حیشیت رکھتا تھا جس نے دنیا کو محنت و مزدوری اور کاروبار کا طریقہ سکھایا تھا۔ اسپین میں جس کے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزیں دنیا کے ہر بازار میں دکھائی دیتی تھیں۔ آج وہی مسلمان ہر قوم سے زیادہ ذلیل، پست اور احساسِ کمتری کا شکار ہے جسے دیکھئے اسے مقدر کا رونا ہے۔ جس پر نظر کیجئے وہ شکایت روزگار کر رہا ہے جس کی حالت دریافت کیجئے وہ سوائے شکوہ تقدیر کے کوئی اور جواب نہ دیگا۔ اور اس حالت کے باوجود کوئی سوچنے پر آمادہ نہیں ہے کہ ہماری یہ حالت کیوں ہے ؟ ہم ذلیل و پست کیوں ہو گئے ہیں ؟ بات در اصل یہ ہے کہ مسلمان شروع ہی سے اپنے کو ایک اونچی قوم سمجھتا رہا ہے۔ مقدر بھی بڑی حد تک اس کا ساتھ دیتا رہا۔ زمین، جاگیر، جائداد، ریاست علاقہ سب اس کے قبضے میں رہا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ محنت کرنا بھول گیا۔ دشمن نے اسے یہ سب چیزیں اسی لئے دی تھیں کہ وہ محنت کرنے سے عاجز ہو جائے تو سب یکبارگی چھین لیا جائے۔ اس کے بعد تو یہ دھوبی کا کتّا ہو جائے گا۔ نہ گھر کا رہے گا اور نہ گھاٹ کا۔ نتیجہ وہی ہوا دشمن اس کو بےکار بنانے پر تُلا رہا اور وہ شاہی ٹھاٹ باٹ کو اپنی عزت سمجھتا رہا اور آخرکار جب کسی قابل نہ رہ گیا تو ساری زمینین چھین لیں اور اسے ایک چلتا پھرتا مُردہ بنا کر چھوڑ دیا۔

اس حادشہ کے بعد بھی ممکن تھا کہ مسل؛مان کی آنکھیں کھل جاتیں۔ لیکن یہ ہوتا کیوں نکہ ؟ یہاں تو دماغ میں ریاست گھسی ہوئی تھی ہمارے بچّے اور اسکول جائیں۔ ہماری گود کے پالے تعلیم حاصل کریں۔ ہم رئیس گھرانے کے لوگ کاروبار کریں۔ ہم دکان پر بیٹھ کر بنئے کہے جائیں۔ ہم کاروبار کر کے اپنے کو ذلیل کرائیں۔ ہم محنت مزدوری کر کے اپنے کو مزدور، رکشہ والا، یکہ والا کہلائیں۔ ؟ اس سے بہتر یہی ہے کہ زہر کھا کر مر جائیں اور وہ دن نہ دیکھیں۔ ابھی یہ سوچ رہے تھے کہ رہی سہی دولت بھی پیٹ کی نزر ہو گئی ٹھاٹ باٹ میں فرق نہیں آیا اور آمدنی تقریباً ختم ہو گئی۔ یہ رنگ کتنے دن چلتا آجر ایک دن ختم ہونا تھا۔ لیکن مصیبت یہ ہوئی کہ آمدنی ختم ہوئی تو ایسے موقع پر کہ تجارت کرنے کے لئے پیسہ نہیں رہا۔ محنت کرنے کے لئے قوت نہیں رہی، کاروبار کرنے کا دماغ نہیں رہا۔ برابر سے بات کرنے کا مزاج نہیں رہا۔ اب ایک ہی راستہ رہ گیا تھا جو دشمن پہلے سے سوچے ہوئے تھا اور وہ تھا نوکری کا راستہ۔ اُس نے مسلمانوں کو لئے یہ دروازہ کھول دیا اور تیزی کے ساتھ اُنیں نوکر رکھنا شروع کر دیا۔ اِدھر مسلمان نوکری کرنے میں لگے اُدھر محنت کرنے والی قومیں تجارت اور مزدوری میں۔ جس کے نتیجہ میں سب کچھ اُن کے ہاتھ میں چلا گیا اور غلامی، نوکری، ںانٹ پھٹکار ہمارے حصّے میں آ گئی۔ کل ہمارے سامنے جنھیں بات کرنے کی ہمت نہ تھی آج ان کے سامنے کھڑے ہو کر ہم بات کرتے ہوئے لرزتے ہیں۔ کیا اس انقلاب کے بعد بھی ہماری آنکھیں نہ کھلیں گی ؟ اور ہم یہ نہ سوچیں گے کہ قرآن مجید نے سچ کہا کہ جب کسی قوم کی تباہی قریب آتی ہے تو اسے دولت مند بنا کر آزاد کر دیا جاتا ہے وہ رنگ رلیوں میں مبتلا ہو جاتی ہے اور بالآخر تباہی کے گھاٹ اتر جاتی ہے۔ صدر اسلام نے زمانے کو لے لیجئے۔ سرکار دو عالم نے اپنی امت کو کتنی جفاکش، محنتی قوم بنا کر چھوڑا تھا۔ خود باغوں میں سینچائی کر کے اپنی روٹی کا انتظام کرتے تھے۔ حضرت علی یہودی کے باغ میں پانی دیا کرتے تھے، کوفہ میں دکان پر بیٹھ کر خرمے بیچا کرتے تھے جناب فاطمہ اون کاتا کرتی تھیں۔ اپنے ہاتھوں سے چکّی پیستی تھیں۔لیکن تھوڑے ہی دنوں کے بعد جب بنی امیہ اور بنی عباس کے بادشہوں کے ہاتھ دوسرے ملکوں کی دولت لگی تو وہ عیش عشرت ناچ گانا اور عیاشی و بدمعاشی میں لگ گئے اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہمکشہ ہمکشہ کے لئے ذلیل ہوئے۔

ہمارے کاروبار کا یہ عالم ہے کہ ایک لاکھ کی دکان پر پنکھے کے نیچے بھٹھنے کو فخر سمجھتے ہیں اور ٹھیلے پر رکھ کر سبزی بیچنے یا بیڑی ماچس کی دکان پر بیٹھ کر تجارت کرنے کو عیب سمجھتے ہیں۔ در حقیقت یہ اُس رئیسانہ ذہنیت کا اثر ہے جو تجارت نہیں کرنے دیتی بلکہ ریاست اور عیش و آرام سکھاتی ہے اس ذہنیت کا مطلب ہی یہ ہے کہ ابھی مسلمان کو اور ذلیل ہونا ہے۔ ورنہ اب بھی اپنی آنکھیں کھول لے۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :-

ابتری ۔ راہنما ۔ اسپین ۔ ذلیل ۔ پست ۔ احساس متری ۔ مقدر ، دریافت ۔ تقدیر ۔ جاگیر ۔ جائداد ریاست ۔ علاقہ ۔ عاجز ۔ یکبارگی ۔ گھاٹ ۔ شاہی ٹھاٹ ۔ مردہ ۔ حادشہ ۔ ٹھاٹ باٹ ۔ موقع ۔ ڈانٹ پھٹکار ۔ انقلاب ۔ دولت مند ۔ آزاد ۔ جفاکش ۔ سینچائی ۔ عیش و عشرت ۔ عیاشی ۔ بدمعاشی ۔ ذہنیت۔


پانچواں سبق

سامان یا اطمینان

دنیا کا کوئی انسان نہیں ہے جو سکون، چين اور اطمینان کا طلبگار نہ ہو اور کوئی انسان نہیں ہے جو بیچین و مضطرب اور پریشان نہ ہو اور سچی بات تو یہی ہے کہ اگر یہ بے چین نہ ہوتی تو چین کی تلاش نہ رہتی۔ اگر یہ اضطراب نہ ہوتا تو اطمینان کی جستجو نہ ہوتی۔ سکون و اطمینان کی تلاش بےچینی اور پریشانی ہی کا نتیجہ ہے۔ لیکن سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ اطمینان ملے کیسے۔ دنیا کے بہت سے لوگوں نے فیصلہ کیا ہے کہ جہاں سے پریشانی شروع ہوتی ہے وہیں سے اطمینان کا انتظام کرنا چائیے۔ اگر کسی کو روٹی کی پریشانی ہے تو اسے روٹی دینی چائیے۔ اگر کسی کو کپڑے کی پریشانی ہے تو اسے کپڑا دینا چائیے۔ اگر کوئی مکان کا محتاج ہے تو اسے مکان دیا جائے۔ اگر کوئی اولاد کی وجہ سے پریشان ہے تو اس کی اولاد کو صیح تربیت دی جائے۔ اگر کوئی زبردست لوگوں کی وجہ سے مضطرب ہے تو عدالت قائم کر کے انصاف کا انتظام کیا جائے۔ غرض بے چینی کے ہر راستے کو بند کر دیا جائے، سکون اور چین خود ب خود پیدا ہو جائے گا۔ یہی سوچ کر آدمی نے ہر چیز کے لئے کاشتکاری کے عمدہ سے عمدہ ذریعے نکالے، سیکڑوں قسم کی کھاد ایجاد کی۔ قدم قدم پر ٹیوب سیل لگوائے ۔ کپڑے کے لئے مليں کھولیں، مشینیں بنائیں اور ہزاروں قسم کے کپڑے شوق کی تسکین کے لئے ایجاد کئے۔ رہنے کے لئے خوبصورت سے خوبصورت عمارتیں بنوائیں۔ سمندروں کو پاٹ کر جگہ نکالی پہاڑوں کی چوٹیوں کو آبادی کے قابل بنایا تربیت کے لئے نرسری اسکول کھولے۔ ظالم و ستم کو مٹانے کے لئے عدالتیں قائم کیں۔ لیکن حق یہ ہے کہ ہر چیز سے ایک نئی پریشانی ہی پیدا ہوئی سکون نہ ملا۔ مشینوں کے ٹوٹ جانے کے اندیشے نے دل کو چین نہ لینے دیا۔ ما؛ کے لٹ جانے کی فکر نے رات کی نیند حرام کر دی۔ مکان کے گر جانے کے خیال نے پریشان کر دیا اور اطمینان کا ہر ذریعہ پریشانی کا پیش خیمہ بن گیا۔

آجر ایسا کیوں ہوا ؟ بات در اصل یہ ہے کہ انسان نے پریشانی کی وجہ نہیں دریافت کی اور درمیان ہی سے مرض کا علاج شروع کر دیا ۔نتیجہ ہوا کہ اوپر اوپر سے مرض ٹھیک ہوتا رہا اور اندر اندر سے اور مضبوط ہوتا گیا۔

انسان نے یہ طے کیا کہ ساری پریشانی امان کی کمی سے ہے۔ کھانے کے لئے روٹی، پہننے کے لئے کپڑے، رہنے کے لئے مکان نہیں ہے اسی لئے آدمی پریشان رہتا ہے جب یہ سب مہّیا ہو جائے گا تو پریشانی خود ب خود دور ہو جائے گی۔ یہ نہیں سوچا کہ اگر پریشانی سامان کی وجہ سے ہوتی تو جن کے پاس سامان موجود تھا کم از کم وہی مطمئن ہوتے لیکن ایسا بھی نہیں ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اطمینان کا راستہ کچھ اور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے پاس جتنا سامان بڑھتا گیا اتنا ہی اپنے اوپر ہھروسہ ہوتا گیا اور جتنا اپنے اوپر بھروسہ ہوتا گیا تنا ہی اپنے خدا کو بھولتا گیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر مال سے برکت اٹھا گئی اور ہر طرف نحوست پھیل گئی۔ کل جب پانی نہیں برستا تھا تو ہر کسان اپنے مالک کی بارگاہ میں دعا کرتا تھا۔ فصل آنے سے پہلے دعائیں شروع ہو جاتی تھیں۔ مالک موقع موقع سے پانی برسنا۔ مالک پانی اس طرح برسے کہ کھیت میں زیادہ سے زیادہ غلہ پیدا ہو۔ اور آج جب سے ٹیوب ویل وغیرہ کا چکر نکل آیا ہے کسی کو دعا کی ضرورت ہی نہیں رہ گئی۔ ہر ایک یہ سوچتا ہے کہ پانی نہیں برسے گا تو ٹیوب ویل تو موجود ہی ہے بلکہ دل ہی دل میں یہ خواہش بھی ہوتی ہے کہ پانی نہ برسے تو اچھا ہے تاکہ لوگوں سے پیسہ کمایا جا سکے اور یہی بری نیت ہے۔ جس کی وجہ سے مال سے برکت اٹھ جاتی ہے اور نحوست کا دور دورہ ہو جاتا ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بے چینی کی وجہ سامان کی کمی نہیں ہے بلکہ اصل وجہ نیت کی خرابی اور خدا پر بھروسے کا اٹھ جانا ہے۔ جب تک دنیا میں سچّی نیت اور خدا پر بھروسے کی صفت نہ پیدا ہو گی سکون و اطمینان نہیں پیدا ہو سکتا چاہے آدمی چاند پر چلا جائے یا سورج پر۔ جہاں رہے گا پریشان ہی رہےگا۔ اس بات کا بہترین منظر کربلا کے میدان میں دیکھا گیا ہے جہاں ایک طرف سامان ہی سامان تھا۔ فوجین تھی، اسلحے تھے، پانی کی فراوانی تھی، سپاہیوں کی کثرت تھی، آسائش کے اسباب تھے لیکن پریشانی تھی۔ اور دوسری طرف بے سر و سامانی تھی، غربت و مسافر تھی، نہ لشکر تھے نہ اسلحے، نہ فوجیں تھیں نہ تعداد لیکن اطمینان اس درجہ کا تھا کہ قرآن امام حسین کو " نفص مطمئنہ " کہ کر پکار رہا تھا۔ ایسا کیوں تھا ؟ صرف اس لئے کہ یزید کے پاس سب کچھ تھا مگر خدا پر بھروسہ نہ تھا۔ امام حسین کے پاس کچھ نہ تھا لیکن خدا پر بھروسہ اور دین پر اعتماد تھا۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔

چین ۔ اضطراب ۔ جستجو ۔ سکون ۔ اطمینان ۔ تلاش ۔ تربیت ۔ مضطرب ۔ محیا ۔ کاشتکاری ۔ عمدہ ۔ ایجاد ۔ ٹیوب ویل ۔ تسکین ۔ عمارتیں ۔ ظالم و ستم ۔ عدالتیں ۔ اندیشہ ۔ تدبیریں ۔ دريافت ۔ مضبوط ۔ حقیقت ۔ نحوست ۔ فصل ۔ غلہ ۔ دارومدار ۔ خواہش ۔ اعتماد ۔ صفت ۔ آسائش ۔ مسافر ۔ لسکر ۔ نفس مطمئنہ ۔ اعتماد ۔ اسلحہ ۔ فراوانی ۔ خود بخود ۔ شوق ۔ منظر ۔ بہترین ۔


چھٹا سبق

برکت و نحوست

صبح سویرے خالد سے ملاقات ہوئی حالت تباہ کپڑے پھٹے ہوئے، بال الجھے ہوئے اور گردو خاک میں اٹی ہوئے چہرے پر ہوائیں اڑاتی ہوئی رخساروں پر زردی چھائی ہوئی۔ میں نے گبھرا کر پوچھا بھائی خالد یہ تمہارا کیا حال ہے۔ تمہارے پاس تو اللّٰہ کا دیا کچھ کم نہیں ہے۔ مکان بھی ہے، کار بھی ہے، بزنس بھی اچھا چلتا ہے دوستوں کی محفل بھی جمتی ہے۔ دعوتیں ہوتی ہیں۔ پھر آجر کیا بات ہے ؟ یہ حالت تو ہم جیسوں کی ہونی چائیے جو صبح کو کھاتے ہیں تو شام کی فکر ذہن میں رکھ کر۔ لباس پہنتے ہیں تو یہ سوچ کر کہ اس کے پھٹنے کے بعد کیا ہوگا۔ پیدل چلتے ہیں تو تھکن دور ہونے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔

خالد نے میری باتیں بڑی اطمینان سے سنیں اور کہنے لگا۔ بھائی اصل بات یہ ہے کہ اللّٰہ کا دیا ہے تو سب کچھ لیکن برکت اٹھ گئی۔ نہ جانے کیا بات ہے کہ اب کسی چیز میں برکت نہیں ہوتی۔ نہ مال میں برکت ہے نہ پیداوار میں برکت ہے، نہ تجارت میں برکت ہے نہ عمر میں برکت ہے چاروں طرف نحوست ہی نحوست دکھائی دیتی ہے۔

میں نے کہا خالد نا شکری نہ کرو اس سے زیادہ برکت کیا ہو گی۔ مال کے اعتبار سے تم لکھپتی ہو۔ پیداوار بھی اچھی ہو جاتی ہے، تجارت میں روزانہ ایک ہزار روپیہ آسانی سے نکال لیتے ہو، قوم میں عزت بھی ہے اور برکت کس چیز کا نام ہے ؟

یہ سننا تھا کہ خالد کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے، ہچکیاں بندھ گئیں رندھی ہوئی آواز سے بولا۔ حامد بھائی آپ کو میرے حالات کا کیا علم ہے آپ تو صرف دولت دیکھتے ہیں۔ بنگلہ دیکھتے ہیں کار دیکھتے ہیں۔ بزنس دیکھتے ہیں آپ کو اندر کی کیا خبر ؟

میں نے بات کو ٹالتے ہوئے ہنسی کے لہجے میں کہا۔ خالد ڈرامہ نہ کرو۔ میں تم سے ادھار نہ مانگوں گا میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ جب انہیں کسی سے ادھار مانگنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے تو اس کی صورت دیکھتے ہی مصائب کا بیان شروع کر دیتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم بھی مجھے قرض مانگنے والا ہی سمجھتے ہو۔

میرا خیال تھا کہ ان باتوں سے خالد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آجائے گی اور اس کا رنگ بدل جائے گا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا ۔ اس کے آنسو اور تیز ہو گئے اور اس نے کہا بھائی صاحب آپ نے چھیڑ ہی دیا ہے تو میری داستان سُن لیجئے۔ غلہ کافی ہوتا ہے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے لیکن تقریباً ایک سال سے معدے کا مریض ہوں ایک روٹی مشکل سے کھائی جاتی ہے اور اس کے بعد بھی کئی قسم کی دوائیں کھانا پڑتی ہیں۔ دستخوان پر آتا تو بہت کچھ ہے لیکن مجھ سے مطلب ؟ دکان پر آمدنی تو کافی ہوتی ہے لیکن آئے دن ایک نہ ایک مصیبت لگی رہتی ہے، ابھی کل کی بات دیکھو کل اتفاق سے ایک بڑا بزنس لگ گیا تھا اور تقریباً دس ہزار کا فائدہ ہو گیا تھا میں خوشی کے مارے پھولا نہ سماتا تھا۔ دکان بند کر کے گھر کی طرف چلا رستے میں ایک لڑکے نے خبر دی کہ امّی نے کہا ہے پپو کی حالت نازک ہے اچانک ڈگری کا بخار آ گیا ہے ڈاکٹر کو ساتھ لے کر آئے گا میری ساری خوشی منٹوں میں ختم ہو گئی۔ کار کارخ ڈاکٹر کے مکان کی طرف موڑ دیا، رات کے دس بج رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب اٹھ چکے تھے۔ میں نے اندر اطلاع کرائی۔ مشکل تمام یہ خواب ملا کہ اب کپڑے اتار کر آرام فرمانے جا رہے ہیں اس وقت کہیں نہیں جا سکتے۔ میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی خدایا اب کیا ہوگا ؟ میرے لڑکے کی زندگی کا کیا سہارا ہوگا ؟ چند منٹ سوچنے کے بعد پھر ہمت کی اور ملازم سے کہلوایا کیا یہ ممکن ہے کہ میں بچے کو وہیں لے آؤں اور ڈاکٹر صاحب اسے دیکھ لیں۔ ملازم اندر گیا اور پلٹ کر جواب دیا اگر آپ پانچ ہزار روپیہ جمع کر دیں تو ڈاکٹر صاحب پندرہ منٹ تک انتظام کر سکتے ہیں اس کے بعد کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔ میں نے فوراً روپہ جمع کیا اور تیزی سے کار دوڑائی گھر گیا بچّہ کو اٹھایا ڈاکٹر صاحب کے پاس پہونا چودہ منٹ گزر گئے تھے وہ گھر سے باہر آئے ایک نظر دیکھا اور فرمایا کیں بڑا سنگین ہے اس وقت یہ دوا دے دیجئے گا بخار کم ہو جائےگا۔ پھر پندرہ دن باقائدہ علاج ہوگا۔ اور ۰ روپیہ روز کا انجکشن لگے گا۔ علاج کرانا ہو تو کل تشریف لے آئے گا ورنہ گھر میں آرام لیجئےگا۔ حامد بھائی ذرا سوچئے کل کے ایک ہزار الگ گئے اور لڑکے کی حالت الگ خراب ہے، دکان پر بیٹھ نہیں سکتا، ۵۰۰ ٥روپیہ روز کی دوا ہوگی جس کا مطلبیيہ ہے کہ پچھلے مہینے کی کمائی بھی گئی، کیا اسی کو برکت کہتے ہیں اور اسی دولت پر مبارک باد دیتے ہو ؟

میں نے کہا خالد تمہارا قصّہ ضرور افسوسناک ہے لیکن یہ تو سو چوکہ تمہارے یہاں یہ واقعہ ہوا۔ تو تم نے علاج بھی کرا لیا اگر کہیں یہ واقعہ میرے یہاں ہوا ہوتا تو لڑکے کی زندگی سے رات ہی کو ہاتھ دھو لیتا یہاں تو ایک روپیہ بھی جیب میں نہیں ہے دس ہزار تو بڑی بات ہے۔ خالد نے کہا حامد بھائی آپ بالکل سچی فرماتے ہیں لیکن ذرا یہ بھی تو سوچئے کہ یہ واقعہ آپ کے گھر کیوں نہیں ہوا میرے ہی گھر کیوں ہوا۔ بھائی صاحب اصل بات یہ ہے کہ پروردگار جب دولت دیتا ہے تو کچھ ایسی باتیں ساتھ لگا دیتا ہے کہ آدمی اس سے صحیح فائدہ نہ اٹھا سکے اور ہمیشہ پریشان رہے۔

میں نے خالد کے منھ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا خبردار ایسی بھہودہ باتیں مت کیا کرو وہ دولت دیتا ہے اور تم پریشان کرنے کا الزام رکھتے ہو۔ درحقیقت یہی ذہنیت ہے جس نے تمہارے مال سے برکت اٹھا دی ہے کہ جتنا زیادہ مال آتا ہے اتنی ہی پریشانی لاتا ہے۔ اٹھو اور فوراً دو رکعت نماز پڑھ کر اللّٰہ کی بارگاہ میں توبہ کرو تاکہ عذاب تم سے دفع ہو جائے۔ اللّٰہ مال بھی دیگا اور چین و سکون بھی۔ میرا یہ کہنا تھا کہ خالد کا سر شرم سے جھک گیا۔ اور اس نے دھیمی آواز سے کہا۔ میں نماز پڑھنا نہیں جانتا۔ یہ سُن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور میں سوچنے لگا۔ خدایا کیا تیرے ایسے بندے بھی ہیں جو اتنی نعمتیں لےکے کر تجھے بھول جاتے ہیں اور تیرے سامنے سر تک نہیں جھکانا جانتے۔ تو ہی ان کے حال پر رحم کر اور ان کی ہدایت فرما۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔

ملاقات ۔ تباہ ۔ ہوائیاں ۔ رخساروں ۔ بزنس ۔ لباس ۔ نحوست ۔ ہچکیاں ۔ ادھر ۔ خطرہ ۔ مصائب ۔ قرض ۔ مسکراہٹ ۔ چھیڑ ۔ معدہ ۔ دسترخوان ۔ اتفاق ۔ اچانک ۔ سہارا ۔ سنگین ۔ باقاعدہ ۔ انجکشن ۔ ادسوسناک ۔ خبردار ۔ بیہودہ ۔ الزام ۔ دفع ۔ رانگٹے ۔ نعمتیں ۔ روزی ۔ لکھپتی ۔ داستان ۔ ملازم ۔ قصد ۔ فوراً ۔ دھیمی ۔ ہدایت ۔


ساتواں سبق

چاند کا سفر

" دُور کے ڈھول سہانے " بڑا مشہور مقولہ ہے۔ چاند جب تک ہماری دنیا سے بالکل الگ تھا ہم اُسے بڑا خوبصورت سمجھتے تھے۔ اس کے شہن جمال کا کلمہ پڑھا کرتے تھے، ہر خوبصورت چیز کی مشال اُسی سے دیا کرتے تھے لیکن ایک زمانہ آیا کہ یہ ڈھائی لاکھ میل کا فاصلہ گھنٹوں میں طے ہونے لگا اور ۲۱ / جولائی ۱۹۶۹ ٩ کو انسان کے قدم چاند پر پہونچ گئے۔ امریکہ کا راکٹ جب چاند کی طرف چلا تھا تو ساری دنیا حیرت میں پڑی ہوئی تھی کچھ لوگ دورِ حاضر کی ترقیات سے بے خبر ہونے کی وجہ سے اس کا مذاق اڑا رہے تھے ۔ پنڈت لوگ اسے مذہب کے لئے ایک خطرہ سمجھ رہے تھے لیکن سائنس کی دنیا میں ایک تہلکہ مچا ہوا تھا وہاں راتقں کی نیند اڑی ہوئی تھی اور ہر آخص اُس لمحہ کا منتظر تھا۔ جب انسانی قدم چاند کے سینے پر پہونچ جائیں۔ اسلام بھی اس ترقی کی اس دوڑ پو زیرلب مسکرا رہا تھا۔ آج وہ ساعت آ رہی ہے جب چودہ صدیوں سے انکار کرنے والے انسان کو اس بات کا یقین آ جائے گا کہ انسانی قدم ستاروں تک پہونچ سکتے ہیں۔ آج کی رات معراج کی رات کی گواہ بن کر آ رہی ہے۔ آج یونان کے پرانے فلسفہ کا جنازہ نکل رہا ہے۔ آج وہ چھوٹی حدیشیں روی کی ٹوکری میں جا رہی ہیں جن میں حضور سرکار دو کائنات کی جسمانی معراج کا انکار کیا گیا تھا۔ جیسے جیسے راکٹ چاند کے قریب ہوتا جاتا تھا۔ زین والوں کے دل کی دھڑکنیں بڑھتی جاتی تھیں۔ کہیں جواری بازی لگا رہے تھے تو کہیں مذہب کے پجاری اپنے مذہب کی خیر منا رہے تھے۔ سائنس داں اپنی فتح مبین کے منتظر تھے۔ اور عہد نو اپنا کمال دکھانے کے لئے بیتاب تھا۔ خدا خدا کر کے ریڈیو نے اعلان کیا۔ " آدمی کے قدم چاند پر پہونچ گئے ۔" اس ایک آواز نے کتنے دلوں کو سکون بخشا۔ اور کتنوں کی دھڑکنیں تیز کر دی۔ خوشی کے چراغ جل رہے تھے محفل سجائی جا رہی تھیں عھد کا سامان ہو رہا تھا اور انسان اپنی اس فتح پر رقص کر رہا تھا۔

چاند پر پہونچنے والوں کے بیانات سے انداز ہوتا ہے کہ چاند کی دنیا سے ہماری زمین کہکں زکادہ خوبصورت ہے اب ہم چاند کو اتنا خوبصورت نہیں سمجھتے جیتنی خوبصورت ہماری زمکن ہے۔

چاند ہماری دنیا سے چھوٹا بھی ہے۔ ہم جس دنیا میں آباد ہیں وہ کئی ہزار میل میں پھیلی ہوئی ہے۔ چاند کی دنیا بھی کچھ چھوٹی نہیں ہے۔ لیکن ہماری اس دنیا سے چھوٹی ہے۔

چاند پر آدمیوں کی آبادی نہیں ہے۔ ہمارے دادا حضرت آدم جن کی اولاد کو آدمی کہا جاتا ہے اسی دنیا میں تشریف لائے تھے۔ اس لئے چاند پر کسی آدمی کا وجود نہیں ہے۔

چاند کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ہواں تک پہونچتے پہونتے ہر چیز کا وزن گھٹ جاتا ہے یہوں تک کہ ٢ کیلوں وزنی چیز کو اگر چاند تک پہونچا دیا جائے تو صرف ایک کیلو وزن کی رہ جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ جو آدمی چاند پر گئے تھے وہ اس قدر ہلکے ہو گئے تھے کہ چاند پر چلنے کے بجائے اچک رہے تھے اور ان کو اپنے جسم پر قابو نہیں تھا۔

آدمی کے چاند تک پہونچ جانے کے بہت سے فائدے ہیں انہیں فائدوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہمارے مولا حضرت علی نے مسجد کوفہ میں اعلان کیا تھا کہ میں زمین کے راستوں سے زیادہ آسمان کے راستوں کو جانتا ہوں جس سے یہ انداز ہوا تھا کہ آسمان پر جانے کے راستے ہیں لیکن زمانے نے اس کی تصدیق نہیں کی تھی، چاند پر پہونچنے کے بعد مولا کے اس کلام کی تصدیق ہو گئی اور یہ راز بھی کھل گیا کہ ابھی اور آگے جانے کے راستے بھی پائے جاتے ہیں، چناچہ آدمی برابر آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے ۔


آٹھواں سبق

اللّٰہ والوں کی داستان

یہ تو سبھی کو معلوم ہے کہ پروردگار عالم نے انسان کی ہدایت کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بھیجے جو سب معصوم بے گناہ پاک دامن، عالم، اطاعت گزار اور پابند حکم الٰہی تھے لیکن ھہ بہت سے لوگوں کو نہیں معلوم کہ ان حضرات نے کیوں نکر انسانوں کی ہدایت کی اور کسی طرح انہیں سیدھے راستے پر لے آئے۔ اس سلسلہ میں کن کن مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا اور کتنے بڑے بڑے امتحانات دینا پڑے۔ آج ہم آپ کو انہیں زحمتوں کی داستان سنانے بیٹھے ہیں۔

یاد رکھئے اس دنیا میں کچھ نہ تھا ہوا کا عالم تھا ایک سناٹا تھا یا ہوا تھا۔ انسانوں لا دور دور پتہ نہ تھا پروردگار عالم نے اپنے فرشتوں کو یہ حکم سنایا کہ میں ایک انسان بنانے والا ہوں جب اس کا پتلہ تیار ہو جائے اور اس میں روح داخل کر دی جائے تو سب کے سب اس کے سامنے سجدہ میں گر پڑنا۔

سب نے حکم کو سنا اور سجدہ کرنے کے لئے تیار ہو گئیے لیکن انہیں فرشتوں کے بیچ ایک ابلیس بھی بیٹھا تھا جو خود فرشتہ نہ تھا لیکن اپنی صورت ویسی ہی بنا لی تھی اس نے دل میں سوچا کہ ہم اتنے دنوں سے اس دنیا میں رہتے ہیں۔ ہمارا قبضہ پرانا ہے۔ ہم کسی نئے آنے والے کو اپنے سے بہتر نہ مانیں گے ںرض کہ پروردگار نے اپنی قدرت کاملہ سے ایک انسان بنایا جس کا نام آدم تھا۔ یہ ہم سب کے دادا تھے۔ سارے انسان انہیں کی اولاد میں ہیں۔ اسی لئے آدمی کہے جاتے ہیں۔ آدم کا پیدا ہونا تھا کہ سارے ملائکہ سجدہ میں گر پڑے اور ابلیس اپنی اکڑ پر باقی رہا۔ پروردگار نے پوچھا کہ تو نے سجدہ کیوں نہیں کیا اس نے کہا کہ یہ میرے سامنے مٹی سے بنے ہیں اور مجھے تو نے آگ سے بنایا ہے آگ مٹی سے بہتر ہوتی ہے لہذا میں انہیں سجدہ نہیں کروں گا۔ پروردگار کو یہ بات بڑی لگی اور اس نے حکم دے دیا کہ تو میرے یہاں سے نکل جا۔ جناب آدم جنّت میں رہتے تھے وہاں طرح طرح کی نعمتیں موجود تھیں ایک دن پروردگار کا حکم پہونچا کہ دیکھو تم کو ہر طرح آزادی ہے جہاں چاہو رہو جو چاہو کھاؤ لیکن اس ایک خاص درخت کے قریب نہ جانا ورنہ مصیبتوں کا شکار ہو جوؤگے، شیطان وہیں موجود تھا اور یہ حکم سن رہا تھا اس نے سوچا کہ مجھے آدم کو سجدہ نہ کرنے ہی کی وجہ سے پروردگار کی بارگاہ سے نکالا گیا ہے لہذا مجھے ان سے بدلہ لینا چائیے اور جب تک یہ جنّت میں رہیں گے ان سے بدلہ نہیں لیا جا سکےگا اس لئے انہیں ناہر لے چلنا چائیے۔ یہ سوچ کر آدم علیہ اسلسلام کو پاس گیا اور ان سے لہا کہ آپ درخت کے قریب نہ جائیں لیکن اس کے پھل کھانے میں یکیا حرج ہے اس سے تو آپ کو منع نہیں کیا گیا ہے۔ جناب آدم نے پہلے انکار کیا مگر جناب حّوا جو آپ کی بیوی تھیں ان کے اصرار پر چند دانے اس درجت کے پھل کے کھا لئے۔ دانوں کا کھانا تھا کہ حکم خدا ہوا کہ اے آدم و حّوا زمین پر جاؤ چناچہ دونوں زمین پر چلے آئے۔ یہاں ان کی نسل پھیلی۔ آدم علیہ السلام کے لئے حضرت حّوا کو بھی بغیر ماں باپ کے پیدا کیا گیا تھا۔ یہ ہم سب کی دادی تھیں۔ شروع میں دو لڑکے پیدا ہوئے ایک کا نام ہابیل تھا اور ایک کا قابیل۔ ہابیل ینیک خصلت اور پاک باطن تھے اور قابیل حسد کرنے والا بد نفس تھا۔ ایک مرتبہ قابیل نے اپنے چھوٹے بھائی ہابیل سے کہا کہ آب ہم دونوں اللّٰہ کی بارگاہ میں قربانی پیش کریں جس کی قربانی قبول ہو جائے وہ زیادہ بلند و برتر مانا جائے۔ یہ کہ کر قربانیاں تیار کی گئیں۔ ہابیل کی طرف سے ایک موٹا تازہ دنبہ پیش ہوا، قابیل کی طرف سے بالیاں، خدا نے ہابیل کی قربانی کو قبول کر لیا قابیل یہ دیکھ کر جل گیا اور اس نے ہابیل کو قتل کر دیا۔ جناب آدم نے اس واقعہ کو دیکھا تو بہت روئے اور قابیل کے لئے بد دعا۔

حضرت آدم کے واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتے ہیں :

۱ ۔ اللّٰہ کے حکم کے مقابلے میں اپنی رائے چلانے والا ابلیس کی طرح لعنت کے قابل بن جاتا ہے اور اللّٰہ کے دربار سے نکال دیا جاتا ہے

۲ ۔ اللّٰہ کے حکم کے بعد یہ نہیں دیکھنا چائیے کہ پتلہ مٹی کا ہے یا کسی اور چیز کا۔ عزت اللّٰہ کے حکم کی ہے نہ کہ مٹی کی۔ علم، تعزیہ کا ہم لوگ اسی لئے احترام کرتے ہیں کہ وہ حضرت عباس کے علم اور امام حسین کے روضہ کی شبیہ ہے۔ ہم کاغذ اور لکڑی کو نہیں مانتے بلکہ امام حسین کی طرف نسبت کو دیکھتے ہیں۔ جو فرشتوں نے کیا تھا وہ ہم کرتے ہیں اور ابلیس کی اکڑ سے بچتے ہیں۔

۳ ۔ جناب آدم کو ابلیس اپنا بدلہ لینے کے لئے جنّت سے باہر لے آیا تھا اس لئے ہمارا فرض ہے کہ شیطان کے بہکانے میں نہ آئیں اور اللّٰہ کی اطاعت کرتے رہیں تاکہ شیطان ذلیل ہو اور حضرت آدم کی روح خوش ہو۔

۴ ۔ خدا اعمال قبول کرنے میں آدمی کی نیت کو دیکھتا ہے۔ جس کی نیت خراب ہوتی ہے اس کا عمل کبھی قبول نہیں ہوتا ۔

۵ ۔ شہید پر رونا نبی خدا کا طریقہ ہے اور نبی کی پیروی باعث ثواب ہے۔

سوالات

۱ ۔ سارے انسان کس کی اولا ہیں اور ان کو آدمی کیوں کہا جاتا ہے ؟

۲ ۔ جناب آدم حّوا کے زمین آنے کا سبب کیا تھا ؟

۳ ۔ جناب ہابیل اور قابیل نے کون سی نظر پیش کی ؟

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔

گردوں ۔ مقولہ ۔ فاصلہ ۔ راکٹ ۔ حیرت ۔ ترقیات ۔ تہلکہ ۔ زیرلب ۔ ساعت ۔ صدیوں ۔ انکار ۔ معراج ۔ جنازہ ۔ آدمی ۔ سائنس ۔ فتح مبین / عہدنو ۔ بیتاب ۔ بخشا ۔ دھڑکنیں ۔ رقص ۔ محفلیں ۔ بیانات ۔ خصوصیت ۔ اچک ۔ تصدیق ۔ راز ۔ مشرق ۔ بشیرت ۔ پاک دامن ۔ اطاعت گزار ۔ زحمتوں ۔ داستان ۔ ہوکا عالم ۔ پتلا ۔ ابلیس ۔ قبضہ ۔ قدرت کاملہ ۔ آدم ۔ حّوا ۔ نسل ۔ ہابیل ۔ قابیل ۔ خصلت ۔ پاک باطن ۔ حسد ۔ بد نفس ۔ بارگاہ ۔ قربانی ۔ دنبہ ۔ بالیاں ۔ بد دعا ۔ تعزیہ ۔ روضہ ۔ شبیہ ۔ تحفہ ۔


نواں سبق

حضرت نوح

حضرت آدم و حّوا کی جتنی بھی اولاد لڑکیاں یا لڑکے تھے سب آپس میں بہن بھائی تھے اور بہن بھائی میں شادی ہو نہیں سکتی تھی۔ اس لئے پروردگار عالم نے جنّت سے دو عورتیں بھیجیں جن سے جناب آدم کے دو بیٹوں کا نکاح ہوا۔ ایسا نہ ہوتا تو جناب آدم کی نسل ختم ہو جاتی اور آج دنیا میں کوئی آدمی نہ ہوتا۔ انہیں بیٹوں سے جناب آدم کی نسل بڑھی اور اس قدر بڑھی کہ ایک پوری دنیا آباد ہو گئی۔ لیکن ادھر ابلیس بھی جلا ہوا بیٹھا تھا۔ اس نے دیکھا کہ آدم سے بدلہ لینا تو ناممکم ہو گیا۔ وہ اللّٰہ کے نبی ہیں اور معصوم ہیں ان سے گناہ ہو نہیں سکتا۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ ان کی اولاد سے بدلہ لیا جائے۔چناچہ اس نے سب کو بہکایا اور قریب قریب تمام لوگ اس کے کہنے میں آ گئے۔ اللّٰہ نے ان کی ہدایت کے لئے حضرت نوح کو بیجھا۔ انہوں نے ساڑھے نو سو سال تک ہدایت کی لیکن ۔ لوگوں نے ایک نہ سنی۔ آخر جناب نوح نے بد دعا کی پروردگار اب اس قوم پر عذاب نازل کر دے۔ یہ کسی صورت سے سیدھے راستے پر آنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ حکم ہوا نوح ایک کشتی بناؤ۔ جناب نوح نے کشتی بنانا شروع کی۔ لوگوں نے مذاق اڑانا شروع کیا کہ یہاں پانی کا نام و نشان تک نہیں ہے اور آپ کشتی بنا رہے ہیں۔ جناب نوح یہ سب سنتے رہے اور اپنے کام میں لگے رہے۔ آخر جب کشتی تیار ہو گئی تو عذاب نازل ہو گیا۔ چاروں طرف زمین سے پانی ابلنے لگا۔ آسمان سے موسلادھار بارش ہونے لگی۔ جناب نوح نے اپنے ایماندار اور سچے ساتھیوں کو لیا اور کشتی پر سوار ہو گئے۔ آپ کا ایک بیٹا تیا کنعان۔ آپ نے اس سے بھی کہا کہ آ کشتی پر سوار ہا جا اس نے کہا کہ میں پہاڑ کی چوٹی پر پناہ لے لونگا۔ جناب نوح نے کہا کہ آج کوئی بچانے والا نہیں ہے لیکن اس نے ایک نہ سنی اور مع پہاڑ کے ڈوب گیا۔ کشتی موجوں سے کھیلتی ہوئی بڑھتی رہی اور آخر ایک پہاڑ کی چوٹی پر جا کر ٹھہر گئی۔ اس پہاڑ کا نام تھا جودی۔ طوفان ختم ہو گیا۔ پانی خشک ہو گیا اور دنیا پھر سے آباد ہونے لگی۔ جناب نوح کی نسل بھی جناب آدم کی طرح خوب پھیلی۔ اسی لئے آپ کو آدم شانی کہا جاتا ہے۔ طوفان میں ڈوبنے والوں میں جناب نوح کے بیٹے کے ساتھ اپ کی زوجہ بھی تھی۔ جس نے اپ کا حکم نہ مانا اور باآخر طوفان کی نذر ہو گئی۔

اس واقعہ سے ہمیں چند سبق ملتے ہیں :

۱۔ بھائی بہن کی شادی شروع ہی سے ناجائز تھی۔ اس لئے پروردگار نے دو عورتوں کا انتظام کیا تھا۔

۲۔ ابلیس کسی وقت بھی بہکانے سے باز نہیں آتا اس سے ہر وقت ہوشیار ہنے کی ضرورت ہے۔

۳۔ نبی کے حکم کی مخالفت کرنے کے بعد نبی کا بیٹا بھی نجات نہیں پا سکتا۔

۴ ۔ طوفانِ بلا میں نجات صرف کشتی کے ذریعہ ہو سکتی ہے۔ اس لئے ہمارے نبی نے فرمایا تھا ہمارے اہلبیت کی مشال کشتی نوح کی ہے جُوانِ کا دامن تھام لے گا نجات پائے گا اور جُوان سے الگ ہو جائے گا وہ ڈوب مرےگا۔

۵ ۔ نبی کی مخالفت کے بعد نہ بیٹے کا بیٹا ہونا کام آ سکتا ہے اور نہ بیوی کا بیوی ہونا۔ اسلام میں اصل آدمی کا عمل ہے رشتہ کوئی چیز نہیں ہے۔

سوالات

۱۔ جناب آدم بیٹوں کا نکاح کس سے ہوا ؟

۲۔ جناب نوح نے کتنے سال تبلیغ کی ؟

۳۔ طوفان کیسے آیا اور جناب نوح نے کس طرح لوگوں کو بچایا ؟

۴۔ طوفان میں ڈوبنے والوں میں خاص لوگ کون تھے ؟

۵۔ جناب نوح کو آدم شانی کیوں کہا جاتا ہے ؟

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔

نکاح ۔ نسل ۔ آباد ۔ فریب ۔ مذاق ۔ موسلادھار ۔کنعان ۔ ناجائز ۔ نجارت ۔ کشتی ۔ رشتہ ۔ ادم ثانی ۔


دسواں سبق

جناب ابرائیم

طوفان نوح میں کافروں اور گنہگاروں کے ڈوب جانے کے بعد جناب نوح کے ساتھ وہی لوگ بچے تھے جو اللّٰہ کے ماننے والے، اس کے نبی پر ایمان لانے والے اور اس لی اطاعت کرنے والے تھے۔ لیکن شیطان اس وقت بھی تاک میں لگا ہوا تھا۔ اس نے دیکھا کہ نوح نے میرے تمام ساتھیوں اور پیروؤں کو ڈبو دیا ہے اور اب صرف اللّٰہ والوں کی بستی بسا رہے ہیں۔ اس لئے اس نے بھی اپنا کام شروع کر دیا اور تھوڑے ہی دنوں میں لوگوں کو بتوں اور مورتیوں کی پوجا پر آمادہ کر لیا۔ اسی زمانے میں ایک گمراہ بے ایمان بادشاہ بھی پیدا ہو گیا۔ جس کا نام نمر دو تھا۔ اس نے دیکھا کہ لوگ بتوں اور پتھروں کی پوجا کر رہے ہیں تو میری پوجا کیوں نہ کریں گے ؟

چناچہ اپنے خدا ہونے کا اعلان کر دیا اور اپنی پوجا کرانے لگا۔ ٹھیک اُسی وقت پروردگار نے اپنا ایک خاص بندہ پیدا کر دیا جس کا نام ابرائیم تھا اور لقب " خلیل اللّٰہ " یعنی اللّٰہ کا دوست۔ جناب ابرائیم کے والد کا نام تاریخ تھا جو اُس وقت بھی صرف خدا کی عبادت کر رہے تھے لیکن آپ کا ایک چچا تھا آزر جس نے آپ کی پرورش کی تھی۔ وہ پکّا بت پرست اور کافر تھا۔ جب جناب ابرائیم کچھ بڑے ہوئے تو اس نے کچھ بت آپ کے حوالے کئے کہ جاؤ انہیں بازار میں بیچ آؤ۔ آپ ان بتوں کو ایک رسی میں باندھ کر گھسیٹتے ہوئے بازار کی طرف لے گئے اور اعلان کیا۔ کون ہے ان خداؤں کا خریدنے والا جنھیں ایک آدمی نے گڑھ کر بنایا ہے۔ یہ نہ بول سکتے ہیں نہ بات کر سکتے ہیں نہ کسی کی سُن سکتے ہیں نہ کسی کو سنا سکتے ہیں، نہ کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ کوئی نقصان۔ لوگوں نے جناب ابرائیم کے ہاتھوں اپنے خداؤں کی بےعزتی کو دیکھ کر یہ طے کر لیا کہ ان کو تکلیف پہنچائی جائےگی۔ ایک مرتبہ آپ نے اُن کے عبادت خانے میں جا کر سب بتوں کو توڑ ڈالا۔ ان لوگوں نے بادشاہ کو خبر دی۔ اس نے سب سے صلاح مشورہ کر کے یہ طے کیا کہ آپ کو آگ میں ڈال دیا جائے۔ ایک مدت تک لکڑیاں جمع ہوتی رہیں اور آخرکار ان میں آگ لگا دی گئی۔ اب شعلوں کا یہ عالم تھا کہ آسمان سے باتیں کر رہے تھے۔اگر کوئی پرندہ اُدھر سے اڑ جاتا تو جل کر خاک ہو جاتا۔ ایسی حالت میں جناب ابرائیم کو آگ میں پھینکنے کے لئے بلایا گیا۔ نمردو کا خیال تھا کہ ابرائیم اس آگ کو دیکھ کر ڈر جائیں گے اور ایک خدا کا کلمہ پڑھنا چھوڑ دیں گے۔ لیکن جناب ابرائیم بالکل نہیں ڈرے۔ آپ کا آگ میں جانا تھا کہ آگ گزار ہو گئی۔ نمرود کا چہرہ اتر گیا اور خلیل خدا سر خرد ہو گئے۔

جب آپ بنّانوے برس کے ہو گئے تو خدا وند عالم نے آپ کو ایک فرزند عطا کیا جن کا نام اسمٰعیل تھا۔ جناب اسمٰعیل تیرہ برس کے ہوئے تو باپ بیٹے نے مل کر خانہ کعبہ کی عمارت بنائی وہی کعبہ جو اج تمام مسلمانوں کا قبلہ ہے اور جس کی طعف منھ کر کے تمام لوگ نماز پرھتے ہیں۔

اس کے بعد پروردگار عالم نے آپ کا ایک اور سخت امتحان لیا۔ آپ نے خواب میں دیکھا کہ میں اسمٰعیل کو ذبح کر رہا ہوں۔ خواب سے بیدار ہو کر بیٹے سے ذکر کیا۔ بیٹے نے کہا بابا جان آپ حکم خدا پر عمل کریں میں بھی انشاء اللّٰہ صبر کروں گا۔ جناب ابرائیم بیٹے کو لے کر منیٰ میں ھہنچے اور بیٹے کو منھ کے بل لٹا دیا۔ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی اور گلے پر چھری پھیر دی۔ ادھر ابرائیم نے محبت خدا کا اتنا سخت امتحان دی ا ادھر خدا نے اس محبت کا بدلہ دے دیا۔ فوراً جنت سے ایک دنبہ آ گیا۔ اسمٰعیل چھڑی کے نیچے سے ہٹا دئے گئے اور دنبہ ذبح ہو گیا۔ جناب ابرائیم نے پٹی کھولی تو دیکھا کہ اسمٰعیل زندہ ہیں اور دنبہ ذبہ ہو گیا ہے۔ آپ کو بڑا افسوس ہوس کہ میرا امتحان ادھورا رہ گیا اور میں بیٹے کی قربانی پر صبر کا ثواب نہ لے سکا۔ آواز قدرت آئی ابرائیم تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا۔ تم اپنے امتحان میں کامیاب ہو گئے۔ ہم نے اسمٰعیل کو اس لئے بچا لیا کہ ابھی آجری نبی کے بیٹے کی قربانی ہونے والی ہے جو تمہارے لئے اسمٰعیل سے زیادہ عزیز ہے۔ لہذا اگر تم اس کے غم میں آنسو بہاؤگے تو تمہیں اسمٰعیل کے ذبح کر دینے کا ثواب مل ہائےگا۔ جناب اسمٰعیل کی اسی قربانی کی یادگار ہے کہ آج تک بقرعید کے دن تمام حاجی مقام منیٰ میں جانور قربان کرتے ہیں۔ اور خلیل اللّٰہ کے اس جزبہ کی یاد تازہ کرتے ہیں۔

ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفےٰ بھی جناب اسمٰعیل کی نسل سے تھے۔

جناب ابرائیم کی زندگی سے ہمیں صند سبق ملتے ہیں :

۱۔ شیطان کے بہکانے سے ایک ایسا بھی قوت آ جاتا ہے جب انسان خو خدا ہونے کا دعویٰ کر دیتا ہے اور اس بات اور اس بات کو بھول جاتا ہے کہ اس نے خود اپنے کو نہیں پیدا کیا بلکہ کسی نےاس کو پیدا کیا ہے۔

۲۔ انسان اگر اللّٰہ کی راہ میں صبع سے کام لیتا ہے اور صحیح راستہ پر قائم رہ جاتا ہے تو پروردگار عالم بھی اس کی غیب سے مدد کرتا ہے اور اس کے لئے آگ کو گزار بنا دیتا ہے۔

۳۔ پروردگار اپنی قدرت کاملہ سے ہر وقت اولاد دے سکتا ہے چاہے انسان کی عمر سو برس کے قریب کیوں نہ ہو جائے۔

۴۔ نبی کا خواب عام آدمیوں کا خواب نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے اور اس پر عمل کرنا نبی کا فریضہ ہوتا ہے۔

۵۔ امام حسین کی شہادت پر آنسو بہانے کا بیحد ثواب ہے اور شہادت کی یادگار کو باقی رکھنا اللّٰہ اور اللّٰہ والوں کا طریقہ ہے۔ اسی لئے حضرت اسمٰعیل کی شہادت کی یادگار تقریباً چار ہزار سال سے منائی جا رہی ہے اور اسلام نے اسے ارکان حج میں شامل کر لیا ہے۔

سوالات

۱۔ جناب ابرائیم کا لقب باپ اور چچا کا نام بتاؤ ؟

۲۔ جناب ابرائیم بتوں کو کس طرح بازار میں لے جاتے تھے ؟

۳۔ جناب ابرائیم کے ساتھ نمرود نے کیا سلوک کیا ؟

۴۔ جناب ابرائیم نے اپنا خواب کس طرح سچ کر دکھایا ؟

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔

گنہگاروں ۔ پیرؤں ۔ بت ۔ مورتی ۔ گمراہ ۔ نمرود ۔ پوجا ۔ جلیل ۔ والد ۔ عبادت ۔ آزر ۔ حوالہ ۔ صلاح ۔ شعلوں فرزند ۔ عطا ۔ سخت ۔ ذبح ۔ خواب ۔ صبر ۔ بقرعید ۔ غیب ۔ قدرت ۔ آسمان سے باتیں کرنا ۔


گیارہواں سبق

جناب موسیٰ

یوں تو ہر زمانے میں کوئی نبی یا رسول دنیا والوں کی ہدایت کے لئے ضرور رہا ہے اور کوئی زمانہ خدائی رہبر سے خالی نہیں رہا۔ لیکن یہ خدا وند عالم کا خاص انتظام رہا ہے کہ اس نے تھوڑے تھوڑے زمانے کے بعد کسی ایک بڑے رسول کو ضرور بھیج دیا جو اپنے وقت کی برڑی سے بڑی طاقت سے ٹکر لے کر دین کو دوبارہ اندہ کرے اور دنیا والوں کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلائے۔ انہيں لوگوں ميں سے ايک جناب موسیٰ بھی تھے۔ آپ کے والد کا نام "ومران" تھا۔ ہمارے مولا و آقا حضرت علیٰ کے والد ماجد کا نام بھی "عمران" تھا۔

افریقہ کے شمالی حصہ میں ایک ملک ہے جس کا نام ہے مصر وہاں ایک دريا بہتا ہے نیل۔ جناب ابرائیم کی دوسری پشت جو بنی اسرائیل کے نام سے مشہور ہوئی۔ مصر میں آباد تھی۔ یہاں ایک بادشاہ تھا۔ انتہائی ظالم، جابر، کافر، بے رحم، جس کا نام فروعن تھا۔ اس نے بنی اسرائیل کو بے حد ستایا تھا۔ ان کے مردوں کو اپنا غلام اور ان کی عورتوں کو اپنی لونڈی بنایا تھا۔ اس کا غرور اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ اس نے اپنے لئے خدائی تک کا دعویٰ کر دیا تھا۔ ایک دن اس کے نجومیوں نے اسے یہ اطلاع دی کہ تیرے ملک ميی ایک ایسا بچہ پیدا ہونے والا ہے جو تیری سلطنت کا تختہ پلٹ دیگا اور تیری خدائی کو خاک میں ملا دیگا۔ اس نے حکم عام دے دیا کہ اس سال کوئی لڑکا میرے ملک میں پیدا نہ ہونے پائے۔ جاسوس گھر گھر مقرد کر دئے۔ عورتوں کو ستایا جانے لگا۔ یہاں تک کہ ستر ہزار بچوں کو قتل کرا دیا گیا۔ ادھر جناب موسیٰ کی ولادت کا وقت بھی قریب آ گیا۔ پروردگار نے یہ انتظام کیا کہ حمل کی کوئی علامت ظاہر نہ ہو۔ چناچہ حکومت کی جاسوس عورتیں آئیں اور مادرِ موسیٰ کو دیکھ کر چلی گئیں۔ تھوڑی دیر کے بعد جناب موسیٰ کی ولادت ہو گئی۔ بچّہ کو دیک کر ماں بےحد پریشان ہوئی کہ ابھی حکومت کو خبر لگ جائے گی اور میرا بچہ قتل کر دیا جائےگا۔ یکایک ایسا معلوم ہوا کہ جیسے کوئی سمجھسنے والا سمجھا رہا ہے کہ بچہ کو ایک صندوق میں بند کر کے نیل میں ڈال دو اور پھر قدرت خدا کا تماشا دیکھو۔ جناب موسیٰ کی والدہ نے ایسا ہی کیا ادھر فرعون محل میں بیٹھا ہوا بیوی کے ساتھ نیل کا نظارہ کر رہا تھا۔ ایک دفعہ کیا دیکھا کہ صندوق موجوں سے کھیلتا ہوا چلا آ رہا ہے۔ فروعن نے لہا اس صندوق کو نکالا جائے۔ صندوق نکالا گیا اور اب جو اسے کھولا گیا تو اس میں ایک ہنستا کھیلتا بچہ نظر آیا۔ فروعن نے چاہا کہ اسے قتل کرا دیں لیکن چونکہ اس کے کوئی اولاد نہ تھی اس لئے اس کی بیوی مچل گئی اور اس نے کہا کہ اس بچہ کو میں پالوںگی۔ فروعن نے یہ درخواست منظور کر لی۔ اب جناب موسیٰ فروعن کے یہاں پرورش پانے لگے۔ لیکن جب دودھ پینے کا وقت آتا تو کسی عورت کا دودھ نہ پیتے۔ آخرکار زوجہ فرعون جو ایک مومنہ تھی سمجھ گئی اس نے کہا میں انتظام کرتی ہوں۔ مادر موسیٰ کو بلا بھیجا۔ وہ بحیشیت ایک دائی کے آتیں اور بچے کو دودھ پلا جاتیں۔ حضرت موسیٰ یوں ہی فرعون کے محل میں پلتے رہے ۔ آپ کا دستور تھا کہ فرعون کی گود میں بیٹھ کر اس کی ڈاڑھی نوچا کرتے تھے اور اس کے منھ پر طمانچے لگایا کرتے تھے۔ ایک دن فرعون کو یہ شبہ ہو گیا کہ یہ وہی بچہ ہے جس کی خبر نجومیوں نے دی ہے چناچہ اس نے قتل کا ارادہ کیا۔ بیوی نے سمجھایا اور کہا کہ اس کا امتحان کر لو۔ اور خاص صلایحت والا ہو گا تو یاقوت کی برف ہاتھ بڑھا دیگا۔ دونوں چیزیں منگوائی گئیں۔ فرعون کے سامنے رکھی گئیں۔ فرعون نے بچہ کو چھوڑ دیا۔ حکم قدرت ہوا ۔ موسیٰ مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ آگ کی گرمی برداشت کر لر۔ جناب موسیٰ نے آگ کی طرف ہاتھ بڑھا دیا۔ ہاتھ میں چھالا پڑ گیا۔ قدرت نے اس چمکدار بنا کر " یدبیضا " کا لقب دیا۔ جب بڑے ہوئے اور فرعون نے انہیں قتل کرنا چاہا تو وہ مدینہ چلے گئے۔ کچھ عرصہ کے بعد آپ پھر فرعون کے پاس گئے اور اسے حکم خدا کے مطابق دین اسلام کی دعوت دی۔ اس نے ایک نہ سنی اور کہنے لگا کہ کیا میں نے تم کو اسی دن کے لئے پالا تھا ؟ جناب موسیٰ نے کہا کہ دونوں عالم کا پالنے والا میرا خدا ہے جس نے میری پرورش کا انتظام تیرے گھر میں کر دیا تھا۔ یہ کہ کر آپ دربار سے باہر نکل آئے اور بنی اسرائیل سے کہا۔ فرعون ناقابل ہدایت ہے۔ بہتر یہی ہے کہ تم لوگ یہاں سے نکل چلو۔ تمام لوگ تیار ہو گئے لیکن اس قدر ضدی تھے کہ نیل کے کنارے پہنچ کر اڑ گئے کہ دریا کے اس پار کس طرح جائیں۔ جناب موسیٰ نے عصا مارا۔ دریا میں راستہ بنایا۔ لوگوں نے کہا ہم سب ایک راستے سے نہ جائیں گے ہمارے بارہ خاندان ہیں۔ آپ نے بارہ راستے بنا دئے۔ لوگوں نے کہا ہم سب ایک دوسرے کو دیکھنا بھی چاتے ہیں۔ آپ نے دریا میں دریچے بھی بنا دئے۔ ادھر فرعون کو جب یہ اطلاع ملی کہ موسیٰ میری رعایا کو لئے جا رہے ہیں تو فوراً لشکر تیار کیا اور حضرت موسیٰ کا پیچھا کیا۔ نیل کے قریب پہنچ کر عجیب منظر دیکھا۔ دریا میں خشک راستے بنے ہوئے ہیں اور بنی اسرائیل نکلے جا رہے ہیں۔ فوراً گھوڑے کو اسی راستے پر ڈال دیا۔ آگے آگے موسیٰ کی قوم پیچھے پیچھے فرعون کا لشکر۔ ادھر موسی٢ کی قوم کا آجری آدمی نیل کے باہر نکلا، ادھر فرعون کے لشکر کا آجری آدمی نیل میں داخل ہوا اور دریا کے دونوں پاٹ مل گئے، جھوٹا خدا مع اپنی خدائی کے ڈوب مرا۔

جناب موسیٰ کے امزنے میں ایک پہاڑ تھا کوہ طور آپ اسی پہاڑ پر خدا سے باتیں کرنے جایا کرتے تھے۔ وہاں ایک درخت تھا جس میں خدا وند عالم حضرت موسیٰ کے ہر سوال کے جواب کے لئے آواز پیدا کر دیتا تھا۔ اور موسیٰ سے سن لیا کرتے تھے۔ آپ کی مشہور کتاب توریت بھی اسی پہاڑ پر اتری ہے۔ توریت اللّٰہ کی اتاری ہوئی کتاب تھی۔ اس میں ہدایت کی باتیں تھیں لیکن حضرت موسیٰ کے بعد ان کی قوم نے اسے بالکل بدل ڈالا اور آج کی توریت کو خدائی کتاب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ کے ایک بھائی آپ کے وزیر، جانشین، اور تبلیغ میں آپ کے مکمل ساتھی تھے جن کا نام ہارون تھا۔ اسی لئے ہمارے رسول نے فرمایا تھا کہ میری اور علی کی وہی مشال ہے جو موسیٰ اور ہارون کی تھی۔ میں اپنے دور کا موسیٰ ہوں اور علی ہارون ہیں۔ اور کفار و منافقین فرعون ۔

اس واقعہ سے ہمیں صند سبق ملتے ہیں :

۱۔ اللّٰہ والے تبلیغ کی راہ میں کسی بڑی سے بڑی طاقت سے مر عوب نہیں ہوتے وہ اپنی آواز بہر حال بلند کرتے ہیں۔ چاہے اس راہ میں انہیں در بدری اختیار کرنا پڑے۔

۲۔ اللّٰہ جب کسی کو بچانا چاہتا ہے تو اس طرح بچاتا ہے کہ کسی کو وہم و گمان تک نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ جانی دشمن کے گھر میں بھی پرورش کرا دیتا ہے۔

۳۔ جناب موسیٰ بچے تھے لیکن آپ نے کسی کا فر عورت کا دودھ نہیں پیا کیونکہ نبی بچپن سے نبی اور معصوم ہوتا ہے اور معصوم کبھی کائی حرام چیز نہیں استعمال کر سکتا۔

۴۔ اگر کسی آدمی کی نیت خراب ہے تو وہ نبی کے راستے پر چلنے کے بعد بھی ڈوب جائے گا اور نجات نہ پا سکے گا۔ اس لئے کہ نجات ایک دارومدار زینت اور خلوص پر ہے۔

۵۔ اللّٰہ کے کلام کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ کوئی زبان رکھتا ہے اور اسی زبان سے بولتا ہے بلکہ اس کے متکم ہونے کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ جس چیز میں چاہتا ہے کلام پیدا کر دیتا ہے۔

سوالات

۱ ۔ جناب موسیٰ کے والدہ کا نام کیا تھا ان کی پرورش کا واقعہ بتاؤ ؟

۲۔ جناب موسیٰ کس طرح تبلیغ اور دریائے نیل کے پاس کیا واقعہ پیش آیا ؟

۳۔ توریت کہاں سے اتری اور امت موسیٰ نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟


بارہواں سبق

جناب یوسف

حضرت ابرائیم کے دو بیٹے تھے اسمٰعیل اور اسحاق۔ اسمٰعیل سے نسل ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفےٰ تھے ااور اسحاق کی نسل یعقوب سے نسل چلی۔اس نسل کو بنی اسرائیل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جناب یعقوب کے بارہ بیٹے تھے۔ ان میں سے جناب یوسف سب سے زیادہ خوبصورت، حسین، باکمال اور شریف تھے۔ جناب یعقوب انہیں بیحد دوست رکھتے تھے۔ ان کے بھائیوں نے جب یہ دیکھا کہ بابا جان یوسف کو زیادہ عزیز رکھتے ہیں اور ان کی وجہ سے ہماری چعف توجہ نہیں فرماتے تو آپس میں یہ طےکر لیا کہ یوسف کو قتل کر دیا جائے۔ ان کے مرنے کے بعد بابا جان ہم سب کو چاہنے لگیں گے۔ ادھر جناب یوسف نے خواب میں دیکھا کہ مجھے گیارہ ستارے سجدہ کر رہے ہیں اور اس خواب کو باپ اے بیان کیا۔ باپ نےیہ تعبیر دی کہ گیارہ ستاروں سے مراد تہارے گیارہ بھائی ہیں جو تم سے فضیلت میں بہت کم ہیں اور تم اس قابل ہو کہ وہ تمہارے سامنے سر جھکائیں۔ لیکن دیکھو اس خواب کو اپنے بھائیوں سے نہ بیان کرنا۔ ورنہ وہ تمہاری جان کے دشمن ہو جائیںگے۔

جناب یوسف نے اپنے خواب کو چھپا لیا لیکن ادھر وہ لوگ پہلے ہی سازش کر چکے تھے۔ چناچہ ایک دن باپ کے پاس آ کر کہنے لگے کہ آپ ھوسف کو ہمارے ساتھ بھیج دئجیے۔ ہم لوگ سیر و شکار کے لئے جا رہے ہیں۔ وہاں ان کا بھی دل بہل جائےگا۔ جناب یعقوب ان کی نیت کو پہچان گئے اور بحکم خدا گواہ ہوئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم انہیں کسی جگہ چھوڑ کر چلے جاؤ اور کوئی بھیڑیا ا کر کھا جائے۔ لوگوں نے کہا یہ آپ کیا فرما رہے ہیں۔ یہ ہمارا چھوٹا بھائی ہے ہم بھلا اس کو جنگل میں اکیلا چھوڑ سکتے ہیں۔ جناب یعقوب نے اجازت دی دی وہ لوگ یوسف کو لے کر گئے اور جنگل میں ایک کنویں میں پھنک دیا اور ان کی قمیض کو جانور کے خون میں لت پت کر کے آئے۔ باپ کے سامنے آتے ہی سب نے رونا شروع کر دیا۔ جناب یعقوب نے کہا کہ آخر رونے کا سبب کیا ہے۔ سب نے کہا۔ بابا جاب آپ نے سچ کہا تھا ہم لوگوں نے یوسف کو سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا۔ ادھر سے ایک بھیڑیا آیا اور انہیں کھا گیا۔ یہ ان کی قمیض ہے جس پر ان کے خون کے دبھے موجود ہیں۔ جناب یعقوب نے سر جھکا لیا اور فرمایا خدا ہی مجھے صبر دیگا۔ اور یہ کہ کر رونا شروع کر دیا اور اتنا روئے کہ روتے روتے آنکھیں سفید ہو گئی۔ آپ کے دوسرے لڑکے کے برابر سمجھاتے رہے بلکہ آپ کے رونے کا مذاق تک اڑاتے رہے لیکن آپ نے رونا موقوف نہیں کیا۔

ادھر جنگل سے ایک قافلہ کا گزر ہوا۔ ان لوگوں نے چاہا کہ کنویں سے پانی نکال لیں۔ اب جو کنویں میں ڈول ڈالا تو ڈول کے ساتھ حضرت یوسف باہر آ گئے۔ قافلے والے یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ اس لئے کہ اس زمانے میں آدمیوں کے بیچنے کا عام رواج تھا۔ ان لوگوں نے سوچا کہ اس خوبصورت اور باکمال بچۓ کے دام اچھے لگیںگے۔ یہ سوچ کر یوسف کو ساتھ لے چلے۔ مصر کے بازار میں لائے۔ وہاں انہیں فروخت کیا۔ بادشاہ مصر نے خرید لیا اور اب یوسف قصر شاہی میں رہنے لگے۔ وہاں ایک خاتون تھی جس کا نام تھا زلیخا۔ اس نے جب یوسف کے خوبصورت صہرے کو دیکھا تو انہیں چاہنے لگی۔ لیکن حضرت یوسف نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔ وہ اس بات سے جل گئی اور اس نے بادشاہ سے شکایت کر دی کہ اس جوان کی نیت خراب ہے۔ اس کا کردار اچھا نہیں ہے۔

بادشاہ نے جناب یوسف سے صفائی چاہی۔ جناب یوسف نے کہا کہ یہ ایک بچہ گہوارے میں پڑا ہے۔ اس سے پوچھو یہ گواہی دیگا۔ لوگوں نے اس بچے سے دریافت کیا۔ اس نے یوسف کے معصوم ہونے کی گواہی دی۔ عرصہ کے بعد جناب یوسف کو بیحد عصت ملی۔ آپ کو شاہیخزانے کا مالک و منتظم بنا دیا گیا۔ آپ کے زمانے میں ایک مرتبہ ملک میں قحط پڑا۔ بادشاہ نے قحط کے مارے ہوئے لوگوں کو شاہی خزانے سے امداد دینے کا اعلان کر دیا۔ چاروں طرف سے لوگ آنے لگے۔ بھوک سے عاجز آکر جناب یوسف کے بھائی بھی آئے۔ آپ نے ان سب کو پہچان لیا۔ لیکن ان لوگوں نے آپ کو نہیں پہچانا اور آخر کار آپ نے یہ ظاہر کر دیا کہ میں وہی یوسف ہوں۔ جسے تم لوگوں نے کنویں میں ڈال دیا تھا۔ دیکھو پروردگار نے مجھے کیا عزت دی ہے اوت تم لوگوں کو کس طرح میرا محتاج بنا دیا ہے۔ وہ لوگ نے حد شرمندہ ہوئے اور معافی مانگی۔ جناب یوسف نے سب کو معاف کر دیا۔ اور جب جناب یعقوب کو بیٹے کی سلامتی کی خبر دی گئی تو آپ کی گئی ہوئی بینائی پلٹ آئی اور گوا آپ کو دوبارہ زندہگی مل گئی۔

اس واقعہ سے ہمیں چند سبق ملتے ہیں :

۱۔ حسد کا انجام برا ہوتا ہے۔ جناب یوسف کے بھائیوں کو آخرکار ذلت کا منھ دیکھا پڑا۔

اسی لئے ہمارے نبی نے فرمایا ہے کہ حسد ايمان کو اسی طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ سوکھی لکری کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔

۲۔ کسی ھر جھوٹی تہمت لگانا بہت بری بات ہے۔ آخر جناب یوسف کی گواہی گہوارے کے بچۓنے دے دی اور زلیخا کو شرمندہ ہونا پڑا۔

۳۔ نبی کو آئندہ زمانے کا بھی علم ہوتا ہے۔ اسی لئے جناب یعقوب نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ مجھے تم لوگوں کے ساتھ بھیجنے میں خطرہ محسوس ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود لڑکوں کی آنکھ نہ کھلی، جرم کر بیٹھے۔ یہ نہ سمجھے کہ نبی سب کچھ جانتا ہے۔

۴۔ خبر قتل پر آنسو بہانا سنت پیغمبر ہے۔

۵۔ قتل پر رونے سے وہی لوگ روکتے ہیں جو قتل میں شریک ہوتے ہیں اور اس بات سے ڈرتے ہیں کہ رونے سے ہمارے ظلم کا پردہ چاک ہو جائےگا۔

سوالات

۱ ۔ بنی اسرائیل کسے کہتے ہیں ؟

۲ ۔ جناب یوسف نے خواب میں کیا دیکھا اور جناب یعقوب نے اس کے

۳ ۔ بیان کرنے سے کیوں روکا ؟

۴ ٣۔ یوسف کے بھائیوں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟

۵ ٤۔ جناب یوسف کی عصمت کی گواہی کس نے دی ؟

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔

حسین ۔ باکمال ۔ شریف ۔ سجدہ تعبیر ۔ فضیلت ۔ سازش ۔ قصر ۔ زلیخا دریافت ۔ قحط ۔ بنیائی ۔ محتاج ۔ سرمندہ


تیرہواں سبق

حضرت عیسیٰ علیہ السلام

دنیا میں کوئی امانہ ایسا نہیں آتا جب سبھی لوگ اچھے اور پارسا بن جائیں ہر زمانے میں کچھ لوگ اللّٰہ والے، نیک، متقی اور پرہیزگار ہوتے ہیں اور کچھ لوگ کافر، بتدین، بدکار اور بےعمل ہوتے ہیں۔ عام طور پر انسانوں کی گمراہی کا یہ سبب ہوتا ہے کہ سماج میں کچھ لوگ ایسے پیدا ہو جاتے ہیں جو اپنے اچر و روخ کی وجہ سے نمایاں جگہ حاصل کر لیتے ہیں۔ لوگوں کے دلوں پر ان کا رعب جم جاتا ہے اور وہ اپنے غرور کی بنا پر نئی نئی باتیں نکال کر لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ جب تک لوگ اللّٰہ کو مانتے رہیں گے۔ ہماری اطاعت و عبادت نہ کریں گے ۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ انہیں خدا کے راستے ہے ہٹا دیا جائے۔ تاکہ یہ ہماری پوجا کرنے لگیں۔ اور ہماری باتوں پر عمل کریں۔ پروردگار نے اس کا یہ انتظام کیا کہ زمانے میں ایسا نبی بھیج دیا جو اس قوت کے تمام کمالات کو توڑ پیش کر سکے اور لوگوں کو یہ سمجھا سکے کہ سرکشی اس درجہ تک نہیں پہنچ سکتی جہاں تک ایک خدا کا بندہ پہونچ سکتا ہے۔

جناب موسیٰ کے زمانے میں جادو کا بڑا زور تھا۔ روردگار نے انہیں یہ معجزہ دی دیا کہ وہ ہر جادو کو بیکار کر دیں۔ چناچہ جب فروعن کے دربار میں جادو گروں نے اپنی رسّیوں ک جادو کے زور سے سانپ بنا دیا۔ تو حضرت موسیٰ نے بھی اپنا عصا پھینک دیا اور وہ اثردہا بن کر تمام سانپوں کو نگل گیا۔ حضرت موسیٰ کے بعد طب اور حکمت کا دور دورہ ہوا۔ ایسے ایسے حکیم اور اتنے تجربہ کار طبیب پیدا ہو گئے کہ جن کے علاج کو دیکھ کر لوگ دنگ رہ جاتے تھے اور اسی کمال کی بنا پر ان لوگوں نے خدائی احکام کو ماننا چھوڑ دیا تھا۔ خدا وند عالم نے ان کے جواب میں جناب عیسیٰ کو بھیج دیا جو مردہ کو زندہ کر دیتے تھے۔ جناب عیسیٰ کی والدہ حضرت مریم اپنے قوت کی انتہائی پارسا اور پاک دامن خاتون تھیں۔ ہمیشہ اللّٰہ کے گھر کی خدمت اور اللّٰہ کی عبادت کیا کرتی تھیں۔ اسی لئے آپ نے شادی بھی نہیں کی تھی لیکن اللّٰہ نے اپنی قدرت کاملہ سے انہیں ایک فرزند عطا کر دیا۔ جن کا نام جناب عیسیٰ تھا۔ حضرت عیسیٰ کا پیدا ہونا تھا کہ چاروں چعف ہل چل مچ گئی ہر شخص نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ مریم کے یہاں بغیر شادی کے بچہ کیوں نکر پیدا ہوا ہے اور آخر میں کچھ لوگ جناب مریم ہی کے پاس آ گئے اور ان سے بھی یہی سوال کر دیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ مجھ سے مت پوچھو یہ تو خود بچہ بتائےگا۔ لوگوں نے کہا کہ بچے سے کیوں نکر بات پوچھی جائے گی ؟ یہ سننا تھا کہ حضرت عیسیٰ گہوارے ہی سے بول پڑے۔ میں اللّٰہ کا بندہ ہوں۔ مجھے اللّٰہ نے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے۔ جناب عیسیٰ کا بولنا تھا کہ ساری قوم چپ ہو گئی اور آپ نے واضح کر دیا کہ جو گہوارے میں بات کر سکتا ہے وہ بغیر باپ کے پیدا بھی ہو سکتا ہے۔ اللّٰہ کے دشمن نہیں کر سکتے۔

جناب عیسیٰ کو اللّٰہ نے بہت سے معجزے عطا کئے تھے۔ آپ مردہ کو زندہ کر دیا کرتے تھے۔ مٹی کا پتلہ بنا کر حکم اسے اسے پرندہ بنا کرتے تھے۔ ایسے بیماروں کو اچھا کر دیتے تھے جن کے علاج سے سب مایوس ہو گئے ہوں لوگوں کو غیب کی باتیں بتایا کرتے تھے۔ اور ہمیشہ دین خدا کی تبلیغ میں مصروف رہا کرتے تھے۔ آپ کی کتاب کا نام انجیل تیا جس میں ہدایت کی تمام باتیں درج تھیں۔ لیکن بعد میں امت نے سب کو بدل ڈالا اور کتاب کی اصل صورت بگار دی ۔

آپ کی تبلیغ کی وجہ سے یہودی کے اس قدر دشمن ہو گئے کہ ایک مرتبہ آپ کے قتل کا منصوبہ بنا لیا۔ ایک شخص نے جاسوسی کا کام شروع کر دیا۔ لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہی جاسوس جب جناب عیسیٰ کے پاس سے نکلا تو پروردگار نے اسے عیسیٰ کی شکل کا بنا دیا اور لوگ یہ سمجھے کہ عیسیٰ ہم سے بچ کر نکل جانا چاہتے ہیں۔ چناچہ لوگوں نے اسے گرفتار کر کے عیسیٰ کے خیال میں سولی دے دی اور خدا نے عیسیٰ کو وہی سے آسمان پر اٹھا لیا۔ جہاں وہ آج تک موجود اور زندہ ہیں۔ جب ہمارے بارھویں امام حضرت مہدی علیہ السلام کا ظہور ہوگا تو جناب عیسیٰ بھی آسمان سے اتریں گے اور امام کے پیچھے جماعت پڑھیںگے۔ اور پھر دونوں مل کر دین خدا کی تبلیغ کریں گے۔

جناب عیسیٰ کی زندگی سے چند سبق ملتے ہیں :

۱۔ خدا ہر چیز پر قادر و مختار ہے وہ بغیر باپ کے بیٹا اسی طرح پ یدا کر سکتا ہے جس طرح بغیر ماں باپ کے آدم و حوّا کو پیدا کیا ہے۔

۲۔ اگر گواہی کی ضرورت پڑ جائے تو بچہ گہوارے میں کلام کر سکتا ہے جس طرح میرے مولا نے رسول اللّٰہ کے ہاتھوں پر قرآن کی تلاوت کر کے آپ کی رسالت کی گواہی دی تھی۔

۳۔ خدا جسے بچانا چاہتا ہے اسے کوئی مٹا نہیں سکتا۔ حضرت عیسیٰ کو سولی دینے والا سولی پر چڑھ گیا اور حضرت عیسیٰ محفوظ رہ گئے۔

۴۔ ہمارے اماموں کا مرتبہ رسول خدا کے علاوہ ہر نبی سے بلند ہے۔ اسی لئے حضرت عیسیٰ بارھویں امام کے پیچھے نمازیں پڑھیں گے۔

۵۔ ایک آدمی حکم خدا سے ہزاروں سال زندہ رہ سکتا ہے جیسے آسمان پر حصرت عیسیٰ زندہ ہیں اور زمین پر ہمارے امام زمانہ ۔

سوالات

۱۔جناب عیسیٰ نے ماں کی پاکیزگی کی گواہی کس طرح دی ؟

۲۔ جناب عیسیٰ کے کچھ معجزات بتاؤ ؟

۳۔ سولی کس کو دی گئی ؟

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔

پارسا ۔ متقی ۔ پرہیزگار ۔ اثرو رسوخ ۔ غرور ۔ کمالات ۔ سرکشی ۔ معجزہ ۔ حکمت ۔ طبیب ۔ مریم ۔ پاکدامن ۔ فرزند ۔ واضہ ۔ مایوس ۔ منصوبہ ۔ سولی ۔ ظہور ۔ مختار ۔ قادر ۔ محفوظ۔


چودہواں سبق

حضرت محمد مصطفےٰ

حضرت عیسیٰ کے آسمان پر چلے جانے کے بعد گمراہہوں کے لیے میدان بالکل صاف ہہو گیا۔ آپ لے اوصیاء ہدایت کرتے رہے۔ لیکن اس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا کہ تقریباً پانچ برس کے بعد ایک دفعھ مکہ کی سر زمین سے ایک نور چمکا جس کی روشنی ساری دنیا میں پھیل گئی۔ یہ نور ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفےٰ کا تھا جو حضرت آدم کی پیدائش سے ہزاروں سال پہلے پیدا ہو چکے تھے۔ ۱۷ / ربیع الاول ۱ ؁ عام الفیل کو یہ نور مکہ کی سر زمین پر چمکا، یعنی ہمارے رسولؐ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ آپ کی ولادت کا اثر تھا کہ ایواں کسری کے چودہ کنگرہ ٹوٹ کر گر گئے۔فارس کا آتشکدہ جو ہزاروں سال سے روشن تھا گل ہو گیا۔ دریائے ساوہ خشک ہو گیا اور نہ جانے رحمت کے کتنے اثرات ظاہر ہوئے۔ حد ہے کہ شیطان کی آسمان تک آمد بند ہو گئ۔

آپ کی ولادت کے سال کو عام الفیل اس لئے کہتے ہیں کہ اسی سال ابرہم بادصاہ نے خانہ کعبہ کو دھا نے کے لئے پاتھی سوا ر فوج سے حملہ کیا تھا اور پروردگار عالم نے ابابیل کے بچّوں سے کنکریاں گرا کر پورے لشکر کو تباہ کر دیا تھا جس کا ذکر قرآن مجید کے سورہ فیل میں موجود ہے۔

آپ کے والد جناب عبد اللہ کا انتقال آپ کی پیدائش سے دو مہینے پیلے ہی ہو چکا تھا۔ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد ماں کا بھی انتقال ہو گیا۔ آٹھ سال کے تھے کہ دادا جناب عبد المطلبؐ کا انتقال ہو گیا۔ اب آپ کی پرورش اور حفاظت کا پورا بار آپ کے چچا جناب ابو طالبؐ کے کاندھوں پر پڑا۔ جو ہمارے مولا حضرت علیٰؐ کے والد ماجد تھے۔ جناب ابو طالب نے آپ کو بڑی محبت سے پالا اور تمام کفار سے بچا کر رکھا۔ یہاں تک کہ جب آپ جوان ہوئے تو عرب کی انےتہائی دولت مند شہزادی جناب خدیجہ نے اپنے مال سے تجارت کرنے کی درضواست کی۔ آپ نے ایسی عمدھ تجارت کی کہ جناب خدیجہ کو آپ کی امانت داری کا حال معلوم ہوا تو انھوں نے آپ سے شادی کر لی۔ شادی کے وقت آپ کی عمر ۲۵ سال تھی۔ جناب خدیجہ آپ کی بیویوں میں سے سب سے زیادہ متقی، پرہیزگار، پاک باطن بیوی تھیں۔ انھیں کے ذریعہ سے آپ کی نسل چلی ہے۔ پروردگار نے آپ کو کئی اولاد دیں۔ لیکن ان میں سے صرف جناب فاطمہؐ باقی رہیں جو رسولؐ اکرم کی ایک اکیلی بیٹی تھیں اور جن کے علاوہ آپ کے کوئی اور بیٹی نہ تھی۔ جب آپ کی عمر ۴۰ سال کی ہوئی تو آپ نے حکم خدا سے اپنے خاندان کے تمام لوگوں کی دعوت کر کے انھیں اپنی رسالت کا پیغام سنایا اور ان سے مدد کا تقاضا کیا۔ سارے مجمع میں سناٹا چھا گیا۔ صرف ایک حضرت علیٰؐ کی ذات تھی جنھوں نے ۱۰ ۔ ۱۱ برس کی عمر میں آپ کی تصدیق کی اور نصرت کا وعدہ کیا۔

تیرہ سال تک آپ مکّہ میں دین کی تبلیغ کرتے رہے۔ اس دوران میں کفار کی اذیت سے عاجز آ کر جناب ابو طالبؐ سب کو لر کر ایک غار میں چلے گئے اور تین سال تک وہاں فاقوں کی زندگی بسر کرتے رہے۔ جناب ابو طالبؐ کا دستور تھا کہ آپ ایک بستر پر رسولؐ اکرم کو لٹاتے تھے اور ایک پر حضرت علیٰ کو۔ تھوڑی رات گزرنے کے بعد دونوں کی جگہ بدل دیتے تھے۔ تاکہ اگر دشمن حملہ کر دی تو بیٹا قتل ہو جائے اور بہتیجا یعنی رسول بچ جائے۔ بارہ سال کے بعد جناب ابو طالبؐ کا انتقال ہو گیا اور اسی کے فوراً بعد جناب خدیجہ کا انتقال ہو گیا۔ جس کی وجہ سے اس سال کا نام عَامُ الحُذُن پڑ گیا۔ اب مکہ میں آپ کا کوئی ایسا مددگار نہیں رہ گیا تھا۔ دشمنوں نے قتل کے ارادہ سے آپ کا مکان گھیر لیا تھا۔اس لئے حکم خدا ہوا کہ اپنے بستر پر علیٰؐ کو لٹا کر ہجرت کر جائو۔ یعنی مکہ سے مدینہ چلے جائو۔ آپ نے حضرت علیؐ کو لٹا دیا اور راتوں رات نکل گئے۔ چلتے چلتے یہ تاکید کر گئے کہ میرے پاس کفار کی امانتیں ہیں۔ انھیں واپس کر کے تم بھی چلے آنا۔ حضرت علیٰؐ نے ساری امانتیں واپس کیں اور پھی خود بھی مدینہ چلے گئے۔

مدینہ میں بھی آپ کو چین نہ مل سکا اور آئے دن کفار کے حملے ہوتے رھے۔ مدینہ کی دس سال کی زندگی میں تقریباً اسی لڑائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ تو کہئے کہ آپ کے ساتھ حضرت علیؐ جیسا شجاع و بہادر وفادر موجود تھا۔ جس نے بدر، احد، ضیبر، خندق، حنین تمام لڑائیوں میں اسلام کو فاتح بنایا۔ ۲ ؁ میں حدیبیہ کے مقام پر کفار سے صلح ہوئی تو اس کا صلح نامہ بھی آپ ہی نے لکھا۔ ۸ ؁ میں عیسائیوں سے مباہلہ ہوا تو اس میں بھی اہلبیتؐ ہی میدان میں گئے۔ ۸ ؁ھ میں رسول اکرم نے مکہ کو فتح کیا اس میں بھی حضرت علیؐ آپ کے ساتھ تھے اور انھوں نے ہی خانہ کعبہ کو بتوں سے خالی کرایا تھا۔ ۱۰ ؁ھ میں حضرت نے آخری حج کیا جس کی واپسی پر غدیر خم کے مقام پر حضرت علیؐ کی ولایت و خلافت کا اعلان ان لفظوں میں کیا۔ '' جس کا میں مولا ہوں اس کا علیٰؐ بھی مولا ہے ''۔ جس کے بعد ایکلاکھ بیس پزار کے مجمع نے مبارک باد پیش کی جس میں سب سے آگے آگے ابن الخطاب تھے۔

حج کی واپسی پر آپ تقریباً دو مہینے دنیا میں رہے اور ۲۸/ صفر ۱۱ ؁ھ کو اس دارفانی سے رحلت فرما گئے۔ آپ کو اپنی امت سے اس قدر محبت تھی کہ مرض الموت میں بھی اس بات کی فکر لاحق تھی کہ کس طرح امت کو اپنے اصحاب کے مجمع سے خطاب کر کے فرمایا کہ مجھے قلم و دوات دے دو۔ تاکہ میں تمہارے لئے ایک تحریر لکھ دوں جو تمہارٰ نجات کی ذمہدار ہو، اور جس کے بعد تم بہک نہ سکو۔ لیکن آپ کی اس طلب پر لوگوں نے کان نہ دھرا اور کچھ لوگوں نے تو یہاں تک کہ دیا کہ قلم و دوات ہر گز نہ دینا ان پر بخار کا غلبھ ہے۔ یہ خدا جانے کیا آمءیں باءیں کہہ رہے ہیں جس پر آپ کو بے حد غصہ ٓایا اور آپ نے فرمایا کہ تم لوگ میرے پاس سے دور ہو جائو تمہیں شرم نہیں آتی کہ نبیؐ کے پاس بیٹھ کر جھگڑا کر رہے ہو۔ ظاہر ہے کہ نبی کا غصہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔ اسی غصہ کا اثر تھا کہ امت ہمیشہ کے لئے اس رہنمائی سے محروم ہو گئی اور آج ذلت کے غاروں میں دھنسی جا رہی ہے۔

آپ کے انتقال کے بعد فوراً ہی کچھ لوگ سفیفہ نبی ساعدپ کی طرف روانہ ہو گئے اور وہاں غدیو کے اعلان کو بھلا کر حضرت علیؐ کے خلاف ایک جلسہ کر ڈالا اور اس میں صرف چند کی روئے کے مطابق ایک نئے شخص کو رسول کا خلیفہ بنا دیا۔ ادھر سفیفہ میں خلافت و حکومت کی کاروائی ہو رہی تھی۔ اُدھر نبی کے گھر میں شور گریہ و ماتم بلند تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان حکومت ہی بناتے رہ گئے اور سوا لاکھ اصحاب کو چھوڑ کر جانے والے نبی کو صرف ان کے گھر والوں نے دفن کیا اور اسلام میں ایک عظیم جھگڑے کی بنیاد پڑ گئی دین پیغمبر کو اہمیت دینے والے اہلبیت کے ساتھ ہو گئے اور حکومت و اقتدار کا ساتھ دینے والے سفیفہ کے اصحاب کے پیر وبن گئے۔

ان واقعات سے ہمیں چند سبق ملتے ہیں :

۱ ۔ رسول عام انسان جیسا نہیں ہوتا۔ بلکہ وقت ولادت ہی سے ایسے آثار رکھتا ہے جو اسے عام انسانوں کے درجہ سے بلند کر دیں۔ جیسا کہ رسول اکرم کی ولادت کے وقت ظاہر ہونے والے آثار ست ثابت ہے۔

۲ ۔ پروردگار اگر کسی کو بچانا چاہے تو ابابیل کے بچوں کی کنکریوں سے ہاتھی سوار لشکر تہس نہس کر سکتا ہے۔

۳ ۔ حق کے سامنے نہ مال عزیز ہوتا ہے اور نہ اولاد۔ اسی لئے جناب خدیجپ نے اسلام پر اپنا سارا مال قربان کر دیا اور حضرت ابو طالب نے اولاد۔

۴ ۔ دین حق کی حمایت کرنے والوں کی موت سے ایک عشرہ ہی نہیں بلکہ پورا سال حُزن و غم کا سال بن جاتا ہے۔

۵ ۔ اسلام کی صلح ہو یا جنگ، سب میں کامیابی کا سہرا حضرت علیٰؐ ہی کے سر رہا ہے۔

۶ ۔ کسی نبی یا ولی کے دربار میں جانے کے بعد وہاں کے آداب کا لحاظ رکھنا بے حد ضروری ہے۔ ورنہ نبی کو اٹھ جانے کا حکم دینے کی ضرورت پڑ جاتی ہے اور امت کو ذلت و ضلالت کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔

سوالات

۱ ۔ حضرت عیسیٰؐ کے آسمان پر چلے جانے کے کتنے سال بعد پیغمبر اسلام کی ولادت ہوئی ؟

۲ ۔ رسولؐ اللہ نے ہجرت کیوں کی َ

۳ ۔ مدینہ میں آکر کتنی لڑائیاں ہوئیں ؟

۴ ۔ سفیفہ نبی ساعدہ میں کیا ہوا ؟

ان الفاظ کے معنی بتائو :

اوصیاء ۔ پیدائش ۔ عام الفیل ۔ کسری ۔ آتش کدہ ۔ فیل ۔ اذیت ۔ غار ۔ عام الحزن ۔ امانتیں ۔ شجاع ۔ وفادار ۔ بدر ۔ خیبر ۔ خندق ۔ حنین۔ فاتح ۔ حدیبیہ ۔ صلحنامہ ۔ ولایت ۔ مبارباد ۔ دارفانی ۔ رحلت ۔ مرض الموت ۔ محروم ۔ سفیفہ نبی سادہ ۔ بنیاد ۔ پیرو ۔ آثار ۔ ثابت ۔ ابابیل ۔ تہس نہس ۔ سہرا ۔ ذلت ۔ ضلالت۔


پندرہواں سبق

ہماری زبان

ہمارے ملک میں بہت سبی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اردو ، ہندی ، انگریزی ، سنکرت ، بنگالی ۔ تامل ، رلگو ، پنجابی ، کشمیری ، مراٹھی۔ اردو ان سب میں زیادہ خوبصورت اور میٹھی زبان ہے۔ اس کے قواعد سہل اور آسان ہیں اردو کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ پر زبانکے اچھے الفاظ کو اپنے اندر صحولینے کی صلاحیت رکھتی ہے، اسی لئے اس نے کئی زبانوں کی خوبیاں اٹھا کر لی ہیں۔

اردو عربی ، سنکرت جیسی قدیم زبان نہ سہی لیکن اپنے اندر تمام زبانوں کے مزے ضرور رکھتی ہے۔ اس میں فارسی نزاکت بھی ہے اور عربی کا جلال بھی سنکرت کی عنائیت بھی ہے اور قدیم ہندستانی زبانوں کا رس بھی۔ اور چونکہ اس زبان نے اپنی واعت کا دروازہ بند نہیں کیا ہے۔ اس لئے آئے دن اس کےذخیرے میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کبھی انگریزی کی خوبیوں سے اپنا دامن بھر لیتی ہے اور کبھی بندی کے الفاظ سے غرض جو چیز جہاں اچھی نظر آتی ہے، اردو فوراً اپنے دامن میں سمو لیتی ہے۔

اردو زبان والوں نے عربی ، فارسی وغیرہ کی طرح اپنے دل کی آواز سنانے کے لئے دو طریقے اختیار کئے ہیں۔ ایک نظم اوت ایک نثر، نثر سادہ کلام کو کہتے ہیں اور نظم کسی کلام میں وزن ، ردیف ، قافیہ وغیرہ کی پابندی کا نام ہے۔ اردو میں نظم و نثر کا ایک ذخیرہ موجود ہے جو آنے والی نسلوں کے لئے شمع راہ ہے۔

اردو کی ایک خوش قسمتی یہ بھی ہے کہ اس نے زمانے کے ساتھ ساتھ چلنے کا عزم کر رکھا ہے۔ وہ حالات زمانہ کی اصلاح ضرور کرتی ہے۔ لیکن زمانے کے تقضوں سے غافل نہیں رہتی ور نہ ان تقاضوں کے مطابق اپنے کو بدل لینے میں کوئی عیب سمجھتی ہے۔ اس نے جب ہندسان میں قدیم تہذیب اور فارغ البالی لے اثرات دیکھے تو نثر مقفیٰ کا روپ دھار کے دنیا لو فسانہ ، عجائب سنایا ، طلسم ہوشربا دکھایا ، دربارِ اکبری میں باریاب بنایا۔ خیال کی نیزنیگوں سے آشنا کیا حیات کا پانی لایا۔

قاور جب حالات کو بگڑتا ہوا دیکھا تو رویف ، قافئے کے زیورات پھینک کر میدان میں آ گئی۔ غالب نے اس کے خطوط لکھے ۔ سدید نے اس کے اخلاق کی تہذیب کی۔ حالی نے اسے تنقید کا سلیقہ سکھایا۔ اور شبلی نے عجم کے شعرائ سے روشناس کرایا۔

یہی حال اس کی نظم کا رہا ہے۔ سکون و اطمینان کے دور میں وہ لفظوں کی سجاوٹ کو پسند کرتی تھی ، صنعتوں کی فراوانی سے خوش ہوتی تھی گل بکاؤلی اور بدرِ منبر کے قصے اسے بھاتے تھے۔ لیکن حالات کے بگڑ جانے پر اس کے نتیجے میں ان الفاظ کو پھر سے اپنا لیا جن کو نثہ دولت میں دور پھینک دیا تھا۔

قسمت بھی کیا عجیب چیز ہے کہ جس طرح اسلامی علوم میں شیعوں کی خدمات پیش رہی ہیں اس طرح اردو ادب میں بھی نمایاں شخصیتیں شیعہ ہی تھیں۔ غزل میں میر و غالب ، مرثیہ میں انیس و دبیر ، قصیدہ میں عزیز و سودا ، نظم میں جوش و صفی ، مسدس میں آلِ رضا و جمیل منطہری ، تنقید میں آزاد و اختشام ، سلام میں مونس و وحید ، نوحوں میں متین و نجم وغیرہ کے نام سر فہرست دکھائی دیتے ہیں۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

سنکرت ۔ بنگالی ۔ پنجابی ۔ کشمیری ۔ مراٹھی ۔ سہل غنایئت ۔ اضافہ ۔ نظم ۔ رویف ۔ قافیہ ۔ ذخیرہ سمع راہ ۔ خوش قسمتی ۔ عزم ۔ اصلاح ۔ تقاضا ۔ غافل ۔ فارغ البالی ۔ نیزنکیاں ۔ آشنا ۔ غالب ۔ تنقید ۔ سلیقہ ۔ روشناس ۔ نظم سجاوٹ ۔ گلبکاؤلی ۔ بدر منبر ۔ ترجمانی ۔ نشہ ۔ شیعہ ۔ میر ۔ مرثیہ ۔ انیس ۔ دبیر ۔ جوش ۔ صفی ۔ مسدس آل رضا ۔ جمیل مظہری ۔ اختشام ۔ وحید ۔ مونس ۔ متین۔


سولہواں سبق

اسلامی علوم

دنیا میں ہزاروں قسم کے علوم پائے جاتے ہیں۔ بعض کا تولق مذہب سے بہت دور کا ہے اور بعض کا تعلق بہت قریب کا بعض علوم ایسے بھی ہیں جن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ مذہب نے ان کے خطرات کے پیش نظر انھیں حرام قرار دے دیا ہے۔ جن علوم کا تعلق مذہب سے دور کا ہے انھیں میں سے فلسفہ ، منطق ، طب ، کیمیا ، فلکیات سانئنس وغیرہ ہیں۔

فلسفہ اس علم کا نام ہے جس میں چیزوں کی حقیقت دریافت کی جاتی ہے۔

منطق وہ علم ہے جس میں کسی بات کو ثابت کرنے کا طریقہ بتلایا جاتا ہے۔

طب وہ علم ہے جس کے ذریعہ انسان کے جسم کی صحت کا انتظام کیا جاتا ہے۔

کیمیا وہ علم ہے جس میں چیزوں کے اجزائ اور ان کی مقدار دریافت کی جاتی ہے۔

فلکیات ان معلومات کا نام ہے جن کا تعلق آسمانوں ستاروں اور گردش و کشش سے ہے۔

سائنس اس علم کا نام ہے جس میں کائنات کی نئ نئ معلومات حاصل کر کے اس سے تازہ ایجادات کا سلیقہ سکھایا جاتا ہے۔

ظاہر ہے کہ ان علوم کا مذہب سے صرف اتنا ہی تعلق ہو سکتا ہے کہ ان سے جب کائنات کی وسعت ، عظمت ، ترتیب تنظیم کا علم ہوگا تو انسان یہ سوچے گا کہ جب صنعت اتنی مستحکم و مضبوط ہے تو صانع کیسا ہوگا جب مخلوق کا یہ علم ہے تو خالق کا کیا مرتبہ ہوگا اور یہ بات اسی وقت ہو سکتی ہے جب اسے مخلوق کی اہمیت کا انداز ہو جائے گا ورنہ معمولی صنعت سے صانع کی معمولی لیاقت ہی کا اندازہ ہو سکتا ہے اور بس !۔

وہ علوم جن کو مذہب نے حرام و ناجائز قرار دے دیا ہے ان میں سے علم نجوم ، سحر ، قیافہ ، کہانت وغیرہ ہیں۔

علم نجوم وہ علم ہے جس میں ستاروں کی گردش اور ان کی کیفیت کے ذریعہ سے مستقبل کے حالات کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

علم سحر وہ علم ہے جس میں دوسروں کے ذہن پر قابو پا لر طرح طرح کی حیرت انگیز باتوں کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

علم قیافہ و کہانت وہ علم ہے جس میں جسم کی ساخت یا دوسرے آثار کو دیکھ کر کسی کے کردار ، نسب یا مستقبل کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

ظاہر ہے کہ ان علوم میں کوئی استحکام یا مضبوطی نہیں ہے ایک کی بنیاد صرف ایک تخمینہ پر ہے جس پر کوئی دلیل بھی قائم نہیں ہوتی۔ اس لئے اسلام ایسے علوم پر وقت ضائع کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا، اسلام کا منشا یہ ہے کہ انسان ان علوم کے حاصل کرنے میں وقت صرف کرے جن کے طالبیں قوت و استحکام ہو یا وہ انسانی معاژرے کے لئے مفید و منفت بخش ہوں۔

اسلام سے براہ راست تعلق واکے علوم میں علم وقف ، تفسیر ، حدیث ، اصول فقہ ، کلام ، رجال ، جال ، درایت وغیرہ ہیں۔ ان علوم کا مذہب سے قریبی تعلق اس لئے ہے کہ مذہب کا مقصد انسانی زندگی کو منظم اور انسانی قلب و دماغ کو مطمعئن بنانا ہے۔ چاہے علوم تنظیم زندگی اور تسکین قلب سے قریبی رابطہ رکھتے ہیں۔ ان میں انسان کو یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کا پیدا کرنے والا کون ہے ؟ اس کے احکامات و تعلیمات کیا ہیں ؟ نجات کا ذریعہ کیا ہے ؟ اصول و قوانین کے پرکھنے کا وسیلہ کیا ہے ؟ اور ظاہر ہے کہ ان باتوں کے معلوم ہونے کے بعد دل میں جذبہ سکون پیدا نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ جیسا کہ ان علوم تعریف اور ان کے مقصد سے واضح ہوتا ہے۔

علوم فقہ ۔ وہ علم ہے جس میں شریعت کے عملی احکام کو باقاعدہ دلیلوں کے ذریعہ دریافت کیا جاتا ہے۔

علم تفسیر ۔ وہ علم ہے جس میں قرآن کے مشکل پیچیدہ اور پوشیدہ مطالب کے رخ سے نقاب اٹھائی جاتی ہے۔

علم حدیث ۔ وہ علم ہے جس میں کسی معصوم کے بیان کی نوعیت پر گفتگو کی جاتی ہے۔

اصول فقہ ۔ وہ علم ہے جس میں قرآن و حدیث و عقل وغیرہ سے احکام اخذ کرنے کے قوانین ق قواعد بتائے جاتے ہیں۔

کلام ۔ وہ علم ہے جس میں باطل خیالات کو روک کے صحیح عقائد کو مضبوط بنایا جاتا ہے۔

رجال ۔ وہ علم ہے جس میں حدیث بیان کرنے والے کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

درایت ۔ وہ علم ہے جس میں حدیث کی عقل حشیت پر گفتگو کر کے اس کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

اسلامی علوم کی تاریخ گواہ ہے کہ ان کی سرپرستی ہمیشہ ائمہ معصومین علیہم السلام نے کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر علم میں پہلی کا شرف صرف ان کی چاہنے والے شیعوں کو حاصل ہے۔ خود ائمہ معصومین علیہم السلام نے بھی ان علوم میں بے مشل و نظیر کتابیں تالیف فرمائی ہیں۔ علم فقہ میں امام رضاؐ ۔ علم تفسیر میں تفسیر امام عسکریؐ ۔ علم حدیث میں مجموعہ امیر المومنینؐ ۔ علم اصول فقہ میں مباحش الفاظ امام جعفر صادق ۔ علم کلام میں نہجح البلاغہ اور احتجاجات ائمہؐ ۔ علم و روایت کے لئے تعارض احادیث کے فیصلے آج بھی شمع راہ بنے ہوئے ہیں۔

چاہنے والوں کی علمی دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ امام جعفر صادق کے نوشا گرد مسجد کوفہ میں ایک ایک جماعت کو درس دیا کرتے تھے اور آپ کے اصحاب نے چار سو کتابیں مخلتف علوم میں تالیف کی ہیں۔

دینی علوم کے علاوہ دیگر علوم میں بھی ائمہؐ معصومین کے خدمات شہرا آفاق ہیں۔ چنانچہ علم طب میں طب الرضاؐ ۔ طب الائمہ قغیرہ ۔ علم نجوم میں ارشادات امیر المومنینؐ ۔ فلسفہ امام جعفر صادقؐ کے منظر ے ، ادب میں نہجح البلاغہ وغیرہ جیسے مجموعے یاد گار کی حیشیت رکھتے ہیں۔ حدیہ ہے کہ علم کیمیا (کیمسٹری) جس پر آج کی ترقیوں کا دارومدار ہے اس کے موجد بھی جابر بن حیان ہیں جو امام جعفر صادقؐ کے مخصوص شاگرد تھے اور جنھوں نے اپنی کتابیں اس بات کا اعتراف قرار بھی کیا ہے۔

اسلامی علوم کی تاریخ سے شیعوں کے کارنامے نکال لینے کے بعد تاریخ اتنی ہی بھونڈی اور بھدی شکل اختیار کر لیتی ہے جتنی غزوات رسولؐ اکرم سے حضرت علیؐ کا نام الگ کر دینے کے بعد۔

ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے آباؤ اجداد کے کارناموں کو زندہ رکھیں، ان کی یادگاروں کی بقا کا انتظام کریں۔ ان کی محنتوں کو ضائع اور برباد نہ ہونے دیں اور یاسا طرز عمل اختیار کریں جسے دیکھنے کے بعد دنیا کو یہ کہنا پڑے کہ یہ انھیں بزرگوں کے خلف ہیں جنھوں نے علوم دین کی اشاعت میں دن رات ایک کر دئے تھے۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

قسم ۔ علوم ۔ تعلق ۔ خطرات ۔ فلسفہ ۔ منطق ۔ طب ۔ کیمیا ۔ فلکیات ۔ سائنس ۔ گردش ۔ کشش ۔ سلیقہ ۔ وسعت ۔ ترتیب ۔ ،سکحم ۔ ،خلوق ۔ صانع ۔ اہمیت ۔ صنعت ۔ علم نجوم ۔ سحر ۔


سترہواں سبق

مسلمان حکومتیں

جب حضورسرؐ دو کائنات کا سن چالیس برس کا ہوا تو آپ نے خدا کا حکم پا کر اپنی رسالت کا علان کیا۔ رسالت کے معنی ہیں پیغمبری۔ یعنی آپ نے قوم کو یہ سمجھایا کہ میں خدا کی طرف سے پیغام پہنچانے آیا ہوں۔ میرا پیغام یہ ہے کہ خدا کو ایک مانو ، میری پیغمبری پر ایمان لے آؤ۔ قیامت پر یقین رکھو اور اپنے پرانے رسم و رواج کو چھوڑ کر خدا وند عالم کے احکام پر عمل کرو۔ اسی میں تمہارے دین و دنیا کی بہتری اور اسی میں تمہاری زندگی کا سدھار ہے۔ آپ کی پوری زندگی اسی پیغام کو پھیلانے میں صرف ہو گئی۔ اس سلسلہ میں آپ پر حملے بھی ہوئے پتھر بھی برسے ، کانٹے بھی بچھائے گئے۔ لیکن آپ نے تمام مصیبتوں کا مقابلہ کر کے لوگوں کو خدائی پیغام سے آشنا بنایا۔ شروع میں نہیں بلکہ اس قوت بھی جب آپ کا پیغام دوسرے ملکوں تک پہونچ چکا تھا اور وہاں کے لوگ داخل اسلام ہو چکے تھے۔ آپ کی زندگی کی سادگی برقرار تھی کیونکہ آپ کا مقصد کوئی حکومت قائم کرنا نہیں تھا بلکہ آپ صرف اس درد دل کا اظہار کرنا چاہتے تھے جو قدرت نے آپ کی فطرت میں رکھ دیا تھا۔ آپ اپنے عمل سے برادری اور برابری کے جذبات پیدا کرنا چاہتے تھے عرب کے سب سے بڑے قبیلے کے سب سے بڑے انسان کا عام لوگوں کے مکمع میں بیٹھ جانا اور ان کے ساتھ برابر کا برتاؤ کرنا خود بتا رہا ہے کہ اصلاح کرنے والے کے ذہن میں اصلاح کی تڑپ ہے حکومت کی خواہش نہیں ہے۔

۲۳ برس کی مسلسل تبلیغ کے بعد جب آپ دنیا سے جانے لگے تو ارشاد قدرت ہوا کہ ابھی قوم مزید اصلاح کی محتاج ہے۔ اصلاح کا تعلق صرف عرب کے چند آدمیوں سے نہیں ہے۔ بلکہ تمہارے پیغام کو عام ہونا چاہئے اور تمہاری اصلاح کے سائے میں تمام آفاق کو سمٹ جانا چاہئے۔ اس لئے اپنی جگہ علیؐ کو مصلح امت کی حیشیت سے متعارف کرا کر آؤ۔ چنانچہ آپ نے اس حکم کے بعد غدیر خم کے میدان میں یہ کجلا علان کیا کہ جس کا میں حاکم ہوں اس کے یہ علیؐ بھی حاکم ہیں۔ اس لئے آپ نے بادشاہ کا لفظ نہیں استعمال کیا بلکہ مقصد کو واضح فرمایا کہ جس پر بھی خدا کی طرف سے میری اطاعت سے فرض ہے ، اس پر علیؐ کی اطاعت بھی فرض ہے۔ اس اعلان میں حضرت علیؐ کی مذہبی حکومت کا علان ہوا تھا ۔ چنانچہ تاریخ گواہ ہے کہ حضرت علیؐ نے اپنے چار سالہ دور حکومت میں وہ انداز قطعاً نہیں اختیار کیا جو دنیا کے حاکموں کا ہوا کرتا ہے اور نہ آپ نے حکم خدا کے خلاف کبھی کوئی حکم کسی کو دیا۔

رسولؐ اکرم کی زندگی میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نے دنیا کی نظروں میں حضورؐ کا وقار دیکھا تھا ، اسلام کا لہراتا ہوا پرچم دیکھا تھا اور اسی بنیاد پر اسلام سےدلچسپی ظاہر کرنے لگے تھے۔ وہ اس راز کو نہ سمجھ سکتے تھے کہ رسولؐ اکرم اس عظمت کے بعد بھی حکم خدا کے علاوہ ۔۔۔۔اپنا کوئی حکم نافذ نہیں کرتے ان لوگوں کے ذہن میں صرف یہ بات تھی کہ حکومت و اقتدار کا اس سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ کہ مسلمانوں کی وہنمائی کا کاروبار سنبھال لیا جائے۔ چنانچہ آپ کی وفات کے فوراً بعد ہی یہ کاروبار شروع ہو گیا اور سادے لباس والی پولیس کی طرح مسلمان حکم تاج رہنمائی سر پر رکھ کر تخت حکومت پر جلوہ گر ہو گئے۔ حالات کے نتیجہ میں کردار میں دورندی پیدا ہو گئی اور حکومت و رہنمائی کو یکجا کرنے کی ناکام کوشش ہونے لگی۔ اب ایک طرف پھٹا ہوا کرتا پہنا جاتا اور دوسری طرف لوگوں سے حکومت کا اقرار لینے لے لئے گھر جلانا ، گرفتار کرنا ، جائداد ضبط کرنا ، اور اس قسم کے دوسرے کام بھی کئے جاتے ۔ حکومت کی اسی دبی ہوئی خواہش اسلام کی تبلیغ کے نام پر چڑھایوں کی دعوت دی اور اب ہر پڑوسی ملک مسلمانوں سے مرعوب رہنے لگا۔ حکومتیں قائم ہونے لگی۔ تخت و تاج کی دوڑ شروع ہو گئی اور حضرت علیؐ کی چند سالہ مختصر حکومت کے خاتمے کے بعد پھٹے ہوئے کرتے اتر گئے اور دربار حکومت کے دروازوں پر ریسمی پردے نظر آنے لگے۔ دبی ہوئی خواہش ابھر کر سامنے آ گئی اور اسلام کی ظاہری سادگی بھی رخصت ہو گئی۔ ظاہر ہے کہ اگر حضرتؐ علیؐ اور ان کے چند ساتھیوں کی کڑی تنقید کا خطرہ ہوتا تو یہ سادگی روزِ اوّل ہی سے غائب ہو جاتی لیکن اس وقت حکومت کے خواہشمندوں کی جرائت کمزور تھی۔ اور اب اس میں پوری طاقت آ چکی تھی۔

اسلامی مملکت کے ساتھ بنوامیہ کا یہی کھیل تھا جس نے اسلامی حکومت کا نیا تصویر پیدا کر دیا اور آج ہر وہ ملک جس میں ریڈیو سے اذان ہو جاتی ہو یا جس کے جھنڈے پر لا الٰہ اللہ لکھ دیا جاتا ہو اسے اسلامی ملک کہا جاتا ہے۔ چاہے اس کے حکمرانوں کا طرز عمل کیسا ہی کیوں نہ ہو اور اس کے اندر شراب و زنا کی گرم بازاری کتنی شدید کیوں نہ ہو۔ اب اسلامی حکومت سے مراد ایسی ہی حکومتیں ہوتی ہیں جن میں مسلمانوں کو حکومت کرنے کا اختیار حاصل ہو۔ حالانکہ انکو صحیح لفظوں میں مسلمان حکومت کہنا چاہیئے۔ ان حکومتوں کا سلسلہ ایشیا سے افریقہ تک پھیلا ہوا ہے البتہ ایران میں بحمد اللہ اسلامی حکومت قائم ہو چکی ہے خدا کرے دوسرے مسلمان ملکوں میں بھی اسلامی حکومتیں قائم ہو جایں۔

افریقہ

یہ ایک برا عظم ہے جس میں بہت سے ملک پائے جاتے ہیں۔ لیکن بعض ملک اپنی شہرت کی وجہ سے خود اپنا مستقل ذک رکھتے ہیں۔ افریقہ سے اسلام کا تعلق بہت پرانا ہی جناب اسمٰعیلؐ کی ولدہ جناب ہاجرہ افریقہ کی رہنے والی تھیں۔ جناب فضہ اور جناب قنبرٌ افریقہ کے باشندے تھے۔ رسولؐ خدا کے مُؤذن بلال افریقی تھے۔ مسلمانوں کی پہلی ہجرت افریقہ کی طرف ہوئی تھی جب کہ انھیں بادشاہ جشنجاشی نے پناہ دی تھی۔ رسولؐ اللہ کے ایک فرزند ابراہیم کی والدہ جناب ماریہ قبطیہ افریقہ کی رہنے والی تھیں۔ جناب اُم امین جنھوں نے رسولؐ اکرم کو گودی میں پالا تھا یہ بھی افریقہ کی تھیں۔ ان کے ایک بیٹے ایمن جنگ خیبر میں شہید ہوئے تھے۔ اور ایک اسامہ بن زید تھے جنھیں رسولؐ اکرم نے اپنے آخری وقت میں ایک اسیے لشکر کا سردار بنایا تھا جس میں بنی ہاشم کے علاوہ سب جوان بوڑھے اور سن رسیدہ لوگ شامل تھے۔ امام محمد تقی علیہ السلام کی والدہ بھی افریقہ سے تعلق رکھتی تھیں۔

انڈونیشیا

مسلمانوں کی دو بڑی حکومتوں میں سے ایک انڈونیشیا ہے یہاں کسی دور میں شیعہ کا بھی چرچا تھا۔ لیکن اب وہ دور ختم ہو چکا ہے علمائ دین توجہ دے رہے ہیں۔ امید ہے کہ تھوڑے ہی عرصہ میں وہاں شیعت پھر متعارف ہو جائے گی۔ انڈونیشیا سے ہر سال سب سے زیادہ مسلمان فریضہ حج کی ادائگی کے لئے آتے ہیں اور مشہور ہے کہ وہاں اس وقت تک کسی لڑکے کی شادی نہیں ہوتی جب تک وہ حج کے فریضہ کو ادا نہیں کر لیتا۔

افغانستان

یہ ایک پہاڑی ملک ہے یہاں کے بادشندے پٹھان کہے جاتے ہیں۔ انھیں لوگوں نے ہندوستان پر چڑھائی کر کے ہند و افغانستان کو ایک رشتہ میں جوڑنا چاہا تھا۔ مغل سلطنت کا بانی بابر بھی کابل ہی سے آیا تھا۔ افغانستان میں شیعوں کی کافی آبادی ہے۔ لیکن حکومت کی سختیوں کی بنا پر عموماً عسرت و تنگ دستی اور تقیہ کی زندگی گزاری جاتی ہے۔ مرکز علم قم میں افغانستانی طُلاب کی ایک بڑی تعداد مشغول تحصیل علم ہے۔

ایران

ایران ایک سردو پُر بہار ملک ہے۔ جس کی تہذیب اسلام کے پہلے بھی مشہور تھی۔ یہاں کے لوگ سرخ و سفید اوع خوبصورت ہوتے ہیں۔ رسول اکرمؐ کے انتقال کے بعد جب مسلمانوں کو دوسرے ممالک پر قبضہ کرنے کا شوق ہوا تو سب سے پہلے ایران ہی پر چڑھائی ہوئی مسلمانوں کو لوٹ مار سے دلچسپی زیادہ تھی اور اسلام کی تبلیغ سے کم۔ اس لئے ان لوگوں نے وہاں کے مقامی باشندوں کو ذلیل کرنے کی ٹھان لی اور اس طرح ایرانیوں کے دل میں اسلام کی طرف سے نفرت کا جذبہ پیدا ہو گیا۔ اور وہ مسلمانوں سے انتقام کی سوچنے لگے۔لیکن اہل بیتؐرسولؐ کے بروقت اقدام سے یہ طوفان رک گیا۔ حضرت علیؐ نے وہاں کی شہزادی شہر بانو کا عقد اپنے فرزند امام حسینؐسے کر کے ایرانیوں کے وقار کو بچا لیا اور اس طرٖ عجم کے دل میں اہلبیتؐ کا اژر و رسوخ قائم ہو گیا جو تمام انقلابات کے بعد آج بھی باقی ہے۔ اور روئے زمین پر یہ ایک ایسا ملک ہے جس کی اذان میں عَلِیٌّ وَّ لِیُّ اللہ کہا جاتا ہے۔ایران کا دارالحکومت طہران ہے جس سے ٹھوڑے فاصلے پر قم ہے جو امام رضاؐ کی بہن جناب فاطمہؐ کا مزار ہونے کے علاوہ عظیم علمی مرکز ہے۔ قم میں کم از کم ۲۵ ہزار طلاب علم دین حاصل کرتے ہیں۔ طہران میں امام زادہ عبد العظیم کا روضہ ہے اور طہران سے ایک ہزار کیلو میٹر کے فاصلے پر متہد مقدس خراسان میں امام رضاؐ کا مزار مقدس ہے۔

ایران نے علم دین کی بے پناہ خدمت کی ہے۔ اہلبیتؐ اور شیعہ دونوں فرقوں کے بڑے بڑے علمائ و محدثین تقریباً سب ایرانی تھے شیعوں کی حدیث کی چار بنیادی کتابوں کے موئلف سب ایرانی ہی تھے اور کتابوں کے موئلف خراسان کے تھے۔ ایک طہران کے اور ایک قم کے رہبر انقلاب اسلامی آقائے خمینی کی قیادت میں یہاں اسلامی انقلاب آ چکا ہے۔

اردن

شام اور سعودی عرب کے درمیان ایک چھوٹی سی حکومت ہے۔ اس کا خاص شہر اور دارالحکومت عمان ہے۔ یہاں کے لوگ کافی شرخ و سید اور صحت مند ہوتے ہیں۔ زبان عربی ہے یہاں کا بادشاہ اگرچہ ہاشمی خاندان کا ہوتا ہے لیکن شیعیت یہاں بالکل نہ ہونے کے برابر ہے۔

بحرین

کسی زمانے میں شیعیت کا مرکز تھا۔ حاصب کتاب خدائق یہیں کے رہنے والے تھے۔ شیخ بہار الدین علیہ الرحمہ کے والد نے اپنے فرزند کو وصیت کی تھی کہ اگر دنیا درکار ہو تو ہندوستان جاؤ اور اگر دین درکار ہو تو بحرین جاؤ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک زمانے میں یہاں سچے اسلام کا اثر تھا۔ مگر اب وہ بات نہیں ہے۔

پاکستان

مسلمانوں کی چند عظیم حکومتوں میں سے ایک ہے یہاں کی آبادی تقریباً ڈھائی کروڑ ہے۔ ۱۹۴۷ ؁ میں ہندوستان سے الگ ہو کر مستقل حکومت کی شکل میں آیا ہے۔۔۔۔۔۔اس کے کچھ مرکز ی علامتے ہیں۔۔۔ پاکستان کے مشہور شہر لاہور کراچی راولپینڈی، پیشاور ، حیدرآباد وغیرہ ہیں۔ لاہور شیعوں کے لئے ایک مرکزی حیشیت رکھتا ہے۔ یہوں سے دس بارہ رسالے ہر مہینے شائع ہوتے ہیں۔ کتابوں کی اشاعت اور اس کے مطالعہ کا شوق عام ہے۔ کراچی میں بھی عزاخانوں کی کثرت ہے۔ لیکن مجالس کے علاوہ وہ مذہبی شغف نظر نہیں آتا جو لاہور میں دکھائی دیتا ہے۔ اسلامآباد اس کا دارالحکومت ہے۔ پاکستان میں ایک شیعہ علاقہ کورم ایجنسی بھی ہے۔ جہاں کے لوگ انتہائی بہادور ہوتے ہیں۔ ہلتستان کا ولاقہ بھی اچھا علاقہ ہے۔ خوبانی کی پیداوار بکثرت ہے۔ لوگ نیک نفس اور با عمل ہوتے ہیں۔ سندھ کا علاقہ بھی مذہبیات کے لئے اچھا علاقہ ہے۔ اگرچہ علم دین کا ذوق کم ہے۔

ترکی

ایران کے مغرب میں نہایت ہی مشہور و معروف اور قدیم روایات کا حامل ملک ہے۔ ترک ایک زمانے میں مشرقی یورپ پر بھی قابض تھے۔ لیکن پہلی جنگ عظیم کے بعد ان کا قبضہ ختم ہو گیا۔ بنی عباس کے خاطمہ کے بعد سے انھوں نے اپنے یہاں خلافت کا رواج باقی رکھا تھا۔ ان کا ہر بادشاہ خلیفتہ المسلمین کہا جاتا تھا۔ لیکن ۱۹۲۳ ؁ میں یہ خواب ٹوٹ گیا اور وہاں جمہوریت قائم ہو گئی۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے بھی کافی زور مارا تھا۔ لیکن اس خلافت میں باقی رہنے کی صلاحیت ہی نہیں تھی۔ اس لئے مردے کو کون زندہ کرتا ؟

تیونس

مصر کے مغرب میں یہ چھوٹا سا ملک ہے جو یوں تو کافی زرخیز ہے لیکن ترقی کی رفتار میں بہت پیچھے ہے۔

الجزائر

یہ علاقہ تیونس کے مغرب میں ہے۔ معدنیات میں کافی شہرت رکھتا ہے۔ پیداوار بھی اچھی ہوتی ہے۔ کسی زمانہ میں علمی چرچا بھی تھا۔ لیکن سناٹا ہے۔

دوبئی

ایک چھوٹا سا علاقہ ہے جو تجارتی عتبار سے شہرت رکھتا ہے۔ مسلم علاقہ ہے اگر چہ مملک آزادی نہیں ہے۔

زنجبار

مشرقی افریقہ کا ایک مسلمان ملک ہے۔ یہاں بھی شیعوں کی آبادی پائی جاتی ہے اور واعظین و مبلغین کا ایک سلسلہ لگا رہتا ہے۔ تجارت پیشہ لوگ آباد ہیں جو خدا کے فضل سے خوش حال بھی ہیں اور یہ مالی خوشحالی ان کے شرعی حقوق کی ادائیگی کا نتیجہ ہے۔

سعودی عرب

عرب ایک ایسا ریگستانی علاقہ ہے جس میں دور دور تک ہر طرف سرخ ذروں کا سمندر موجیں مارتا رہتا ہے۔ آب و گیاہ کا نام و نشان تک مشکل سے ملتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود دنیا کو ہدایت کی شعاعین اسی سر زمین سے ملی ہیں۔ اسلام یہیں سے پھیلا ہے ، رسول اکرمؐ اور ان کے اہلبیت حضرت علیؐ و فاطمہؐ و حسنؐ و حسینؐ یہیں پیدا ہوئے ہیں۔ عالم قبلہ خانہ کعبہ اسی زمین پر ہے۔ یہاں کے مشہور شہر یہ ہیں۔

مکہ

یہاں اللہ کا گھر کعبہ ہے۔جسے جناب ابراہیمؐ و اسمعٰیلؐ نے تعمیر کیا تھا۔ یہ بظاہر تو ایک چھوٹا سا مکان ہے لیکن اپنی عظمت کے اعتبار سے سارے عالم کے سجدہ کرنے کے قابل ہے۔ کعبہ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ عظمت خدا کے حکم سے ملتی ہے۔ حکم خدا کے بعد اینٹ اور گارے کو نہیں دیکھا جاتا۔ کعبہ ہی کا ایک شرف یہ بھی ہے کہ اس میں کائنات کے امیر اور رسول اکرمؐ کے وزیر حضرت علیؐ کی ولادت ہوئی ہے۔ اس کے ایک گوشہ میں ایک پتھر نصب ہے جسے حجر اسود کہا جاتا ہے۔ اس پتھر نے امام زین العابدین کی امامت کی گواہی دی تھی۔ اس کے قریب زمزم کا چشمہ ہے جو جناب اسمعٰیلؐ کے پیاس میں ایڑیاں رگڑنے سے جاری ہوا۔ کعبہ کا غلاف ہمیشہ سیاہ رہتا ہے۔

کعبہ کے گرد مسجد الحرام ہے اور مسجد کے باہر صفا و مروہ دو پہاڑیاں ہیں جن کے درمیان زمانہ حج میں سات مرتبہ سعی کی جاتی ہے۔

مکہ میں جناب خدیجہؐ ، حضرت عبد المطلبؐ ، حضرت ابو طالبؐ اور رسول اکرمؐ کے دوسرے بزرگوں کی قبریں ہیں۔ اس قبرستان کو جنت العلیٰ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مکہ کے باہر عرفات کا میدان ہے۔ جہاں حاجی حضرات ۹/ ذی الحجہ کو ذوال سے غروب تک قیام کرتے ہیں اور عرفات کے قریب مشعر الحرام ہے جہاں نویں ذی الحجہ کا دن گذار کر رات بسر کی جاتی ہے۔ مشعر سے متصل منیٰ کا میدان ہے جہاں جناب ابراہیم نے اپنے فرزند اسمعٰیلؐ کی قربانی پیش کی تھی اور اس کی یاد میں ہر حاجی ایک جانور ذبح کرتا ہے۔ منیٰ کے میدان میں وہ تینوں شیطان بھی ہیں۔ جنھیں جمرات کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور جن کو پتھر مارنا ہر حاجی کا فض ہے۔

مدینہ

عرب کا دوسرا بڑا اور مقدس شہر ہے۔ یہاں ہجرت کے بعد رسولؐ نے پناہ لی تھی۔ یہیں سے اسلام کو فروع نصیب ہوا تھا۔ اور یہیں حضورؐ سر دو کائنات کا روضہ مبارک ہے۔ یہاں ایک قبرستان بھی ہے جسے جنتالبقیع کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس قبرستان میں جناب فاطمہ زہراؐ ، امام حسنؐ ، امام زین العابدینؐ ، امام محمد باقرؐ اور امام جعفر صادقؐ کی قبریں ہیں۔ اسی سے ملا ہوا یہودیوں کا قبرستان "حش کو کب" تھا جسے بقیع کے مزارات مقدس کو منہدم کرنے کے بعد اسی قبرستان میں شامل کر لیا گیا ہے۔

مدینہ کے اطراف میں اسلام کی پہلی مسجد " مسجد قبا" ہے اور احد کا میدان بھی ہے۔ جہاں اکثر مسلمان حضرت رسولؐ کو چھوڑ کر پہاڑ پر بھاگ گئے تھے اور آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے تھے۔ اسی میدان میں جناب حمزہ کی قبر بھی ہے۔

مدینہ سے کچھ دور غدیر خم ہے جہاں رسول اکرمؐ نے آخری حج کی واپسی پر حضرت علیؐ کی خلافت کا اعلان کیا تھا۔ اور یہیں سے چند منزلوں کے فاصلہ پر فدک کا علاقہ ہے جسے حضور نے اپنی بیٹی جناب فاطمہ زہراؐ کو ہبہ کر دیا تھا جو آپ کے انتقال کے بعد جناب فاطمہؐ سے چھین لیا گیا۔

جدہ اور طائف بھی عرب کے بڑے شہر ہیں۔ جدہ ساحلی کی وجہ سے تجارتی مرکز ہے اور طائف ایک پر پہار علاقہ ہے۔ انگور کی پیداوار بکثرت سے ہے عرب کے کئے طائف شملہ اور نینی تال کا لطف رکھتا ہے اور ریاض وہاں کا دارالسلطنت ہے۔

سوڈان

مصر کے جنوب میں ایک آزاد مسلمان ملک ہے یہاں بھی وہی دریائے نیل بہتا ہے جو مصر میں ہے اور جس کا ذکر قرآن مجید میں ملتا ہے۔

شام

اسلامی تاریخ کا بڑا قدیم ملک ہے۔ رسول اکرمؐ کے انتقال کے بعد اس ملک پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا تھا۔ خلیفہ دوم نے اپنے دور حکومت میں معاویہ کو اس کا گورنر بنا دیا تھا۔ خلیفہ سوم کے دور یں گورنری کے حدود میں اور وسعت ہو گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاویہ نے اقدار کے نشہ میں آ کر حضرت علیؐ کی خلافت کو ماننے سے انکار کر دیا اور جب یہ دیکھا کہ حضرت علیؐ کی حکومت مستحکم ہو رہی ہے تو آپ کے خلاف خون عثمان کے بدلے کا ہنگامہ کھڑا کر کے آپ کے اقدار کو کمزور بنانا چاہا حضرت علیؐ کی شہادت بھی معاویہ ہی کی حکومت کا نتیجہ تھی۔ ۴۱ ؁ میں معاویہ سے امام حسنؐ کی صلح ہوئی جس میں یہ طے ہو گیا کہ حضرت علیؐ پر سب و ثتم کا سلسلہ بند کر دیا جائےگا۔لیکن ایسا کچھ نہ ہوا اور معاویہ نے ہر شرط صلح کی خلاف ورزی کر کے آخر وقت میں یزید جیسے شرابی و بدکار کو اپنا جانشین بنا دیا۔ جس کے نتیجہ میں کربلا کا حادثہ مدینہ کی تاراجی اور حرم خدا کی بے حرمتی منظر عام پر آ گئی

معاویہ کی حکومت بنی امیہ کے اقدار کی ابتدا تھی جس کا سلسلہ ۹۲ سال تک جاری رہا۔ بنی امیہ کے سلاطین کے ہاتھوں امام زین العابدینؐ اور امام مسمد باقرؐ کی شہادت ہوئی۔ شام کا دارا الحکومت دمشو ہے۔ جہاں یزید نے امام حسینؐ کے گھر والوں کو گرفتار کرا کے طلب کیا تھا اور ان کی تشبیر کرائی تھی۔ اسی دمشق میں معاویہ یا یزید کی قبروں کا صحیح پتہ تک نہیں ملتا۔ جبکہ مظلوم کا ماتم کرنے والی بہن کا مزار آج بھی موجود ہے

صومالیہ

افریقہ میں زنجبار جیسی ایک چھوٹی سی حکومت ہے جہاں شیعوں کا بھی وجود پایا جاتا ہے۔

عراق

دور حاضر کا ایک اہم اسلامی ملک ہے۔ یہاں دو مشہور دریا دجلہ و فرات بہتے ہیں۔ اس کا بندرگاہ بصرہ اور دارالحکومت بغداد ہے۔ فی الحال یہاں بے دین حکومت ہے۔ مشہور مقامات یہ ہیں

نجف

یہاں امیر المومنین حضرت علیؐ کا روضہ ہے اور وہ عظیم علمی درسگاہ بھی تھی جسے حوزہ علمیہ کہا جاتا تھا اور جس کی بنیاد ایک ہزار سال پہلے شیخ طوسی نے رکھی تھی۔ جب بغداد میں شیعوں کے قتل عام کے بعد آپ کو بغداد چھوڑ دینے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔

حضرت علیؐ کے پہلو میں جناب نوحؐ اور جناب آدم کی بھی قبریں ہیں۔ نجف میں دنیا کا سب سے بڑا قبرستان وادی اسلام ہے۔ جہاں ہر سال تقریباً ۱۵ ہزار معیتین دفن ہوتی ہیں۔ اس قبرستان کی خصوصیت یہ ہے کہ مومنین کی تمام روحیں مرنے کے بعد یہیں جمع ہوتی ہیں۔ یہیں جناب ہودؐ و صالحؐ پیغمبر کی بھی قبریں ہیں۔

کوفہ

وہ قدیم شہر ہے جو اسلام کے ابتدائی دور میں چھاؤنی کی حیشیت رکھتا تھا۔ حضرت علیؐ نے اسے دارالحکومت قرار دے دیا تھا۔ اس لئے یہ عراق و ایران کا درمیانی مرکزی علاقہ بھی تھا اور ساحل پر بھی واقع تھا جہاں دو عظیم مسجدیں ہیں۔ مسجد کوفہ، مسجد سہلہ۔ حضرت علیؐ کیشہادت اسی مسجد کقفہ کی محراب میں ہوئی تھی۔ کوفہ ہی میں جناب یونسؐ جناب مسلمؐ ، جناب ہانیؐ ، جناب مختار ، جناب میثم و جناب کمیلؐ بن زیاد وغیرہ کی قبریں ہیں۔

کربلا

رقبہ کے اعتبار سے بہت چھوٹا اور عظمت کے اعتبار سے کونین سے بالاتر شہر ہے۔ یہیں اسلام کی آخری فیصلہ کن لڑائی ہوئی تھی جس میں امام حسینؐ اپنے انصار اور اصحاب و اعزا سمیت شہید ہوئے تھے یہاں دو عظیم الشان روضے ہیں۔ کربلا سے تھوڑے فاصلہ پر مسیب میں جناب مسلمؐ کے دونوں فرزندوں کے روضے ہیں۔ جو دنیائے انسانیت میں مظلومیت کے مینارے کی حیشیت رکھتے ہیں۔

بغداد

عراق کا دارا الحکومت ہے۔ اسے منصور دوا نقی نے لاکھوں دینار خرچ کر کے آباد کیا تھا۔ یہاں امام زمانہ کے زمانہ غیبت صغریٰ کے چاروں نائبوں کی قبریں ہیں۔ بعض علمائ اعلام کے قبور بھی اسی بغداد میں ہیں۔ بغداد ہی میں وہ دیوار بھی ہے جس کے لئے سادات کے خون کا گارا بنایا گیا تھا۔ بغداد آج کل عراق کا سب سے بڑا تجارتی مرکز اور دارالخلافہ ہے۔

کاظمین

بغداد ہی کا ایک محلہ ہے جو دریائے دجلہ کی وجہ سے بغداد سے الگ ہوتا ہے۔ یہاں امام موسیٰؐ کاظم ، امام محمد تقیؐ کے روضے ہیں اور اسی مناسبت سے اسے کاظمین کہا جاتا ہے۔ بعض علمائ اعلام کی قبریں بھی روضہ کے اندر باہر موجود ہیں۔

سامرہ

ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ جس کی اکثر آبادی اہل سنت کی ہے یہی لوگ یہاں کے روضے کے مجاور ہیں۔ یہاں امام علیؐ نقیؐ امام حسن عسکریؐ کا روضہ ہے، جس میں جناب حکیمہ خاتون اور امام زمانہؐ کی والدہ جناب نرجس کی بھی قنریں ہیں۔ یہیں وہ سرداب غیبت بھی ہے جس سے امام زمانہؐ کی غیبت کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ غیبت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک زمانہ ظلم و جور سے بھر نہ جائے تاکی آپ ظہور فرما کر اسے عدل و انصاف سے بھر دیں۔

مدائن

بغداد سے دس بارہ میل کے فاصلہ پر چھوٹا سا شہر ہے۔ جناب سلمانؐ اسی شہر کے گورنر بنائے گئے تھے۔ یہاں جناب سلمان ، جناب خدیضہ اور جناب جابر کی قبریں ہیں۔ یہیں وہ عظیم الشان طاق کسریٰ بھی ہے جس کے چودہ کنگرے رسول اکرمؐ کی ولادت کے موقع پر خود بخود گر گئے تھے۔

عراق ہی میں جمل ، صفین ، اور نہروان کے میدان ہیں جہاں نفس رسولؐ حضرت علیؐ کے مقابلے میں روضہ رسول عائشہ معاویہ اور خوارج آئے تھے۔

کویت

ڈیڑھ دو لاکھ کی آبادی کا چھوٹا سا ملک ہے۔ تیل کی آمدنی بے حساب اور آبادی کم ہے۔ اس لئے لوگ بےحد مطمئن اور خوشحال ہیں۔ یہاں کی زیادہ آبادی غیر مملکی افراد کی ہے۔ شیعہ بھی بکثرت موجود ہیں اور ہر مذہب کے لوگوں کو مکمل آزادی حاصل ہے۔

لیبیا

مصر کے مغرب میں ایک مختصر سی حکومت ہے۔ یہاں کی آبادی بھی نہایت مختصر ہے۔

لبنان

شام سے ملا ہوا ایک چھوٹا سا ملک ہے شیعوں کی آبادی بھی بکثرت ہے۔ یہاں پر مذہب کے آدمی کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ شیعوں کے چند علمی مراکز بھی یہاں رہ چکے ہیں۔ اشاعت کا بھی ایک اہم مرکز ہے۔ نئی تہذیب کا غلبہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود دیانت کافہ مقدار میں ہے۔

ملیشیا

چھوٹا سا مسلمان ملک ہے۔ ربڑ کی پیداوار زیادہ ہے۔ شروع میں کسی خاص اہمیت کا حامل نہیں تھا۔ لیکن ادھر کچھ عرصہ سے انقلابات کی وجہ سے عالمگیر شہرت کا حامل ہو گیا ہے۔ فی الحال اسلام اور کمیومزن کی کشمکش کا شکار ہے۔

مراقش

الجزائر کے مغرب میں چھوٹا سا مسلمان ملک ہے۔ یہیں سے مسلمانوں بے یورپ پر حملہ کر کے اسپین پر قبضہ کیا تھا۔ اور صدیوں تکوہاں اپنی حکومت جمائے رہے۔ لیکن آخر کار مذہب سے غفلت اور باہمی اختلافات کی بنیاد پر اپنی دیرینہ عظمت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

مصر

برا عظم افریقہ کے شمالی حصے کا سب سے بڑا مسلمان ملک ہے مصر کا دارالحکومت قاہرہ ہے۔ دور قدیم میں یہاں کے بادشاہوں کو فرعون کہا جاتا تھا۔ انھیں فراعنہ میں سے ایک فرعون وہ بھی تھا جس کے گھر میں جناب موسیٰؐ کی پرورش ہوئی تھی اور جس کی حکومت کا نتیجہ آپ ہی نے بڑے ہو کر پلٹا تھا۔

مصر میں ایک بہت بڑی علمی درسگاہ جامعہ الزہر ہے جسے چند صدی قبل ایک فاطمی بادشاہ المعتز باللہ نے قائم کیا تھا۔ لیکن فاطمی حکومت کے زوال کے ساتھ ہی وہاں سے شیعیت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ ادھر چند برس قبل مرحوم شیخ محمود شلتوت شیخ الازہر نے شیعہ فقہ کو داخل کر کے یہ فتویٰ دیدیا تھا کہ شیعہ مجتہد کی تقلید ہر سنی کے لئے جائز ہے۔ اس لئے کہ شیعہ بھی مسلمانوں کا ایک فرقہ ہے۔


اٹھارہواں سبق

مجاہدوں کی زندگی

دنیا میں لڑنے والوں کے قصے بہت ملیں گے۔ دوسرے ملکوں پر چڑھائی کر کے فاتح اعظیم کا لقب لینے والے بہت دکھائی دیں گے۔تیر و تلوار کے بھروسے میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے والے بہت نظر آئیں گے۔ لیکن حق و صداقت کی راہ میں قربانی پیش کرنے والے بہت کم ملیں گے۔ اختیار رکھتے ہوئے صبر کر کے داد شجاعت دینے والے بہت کم دکھائی دیں گے۔ آج آپ کو انھیں مجاہدوں کی زندگی کا حال سنایا جا رہا ہے۔ جو حق و صداقت ، عدل ، و انصاف کی حفاضت میں جان بحق تسلیم ہو گئے۔ جنھوں نے بےپناہ مصائب کا سامنا کیا۔ لیکن باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ سولی پر لٹکا دئے گئے ، لیکن کلمہ حق کی بلندی کا اعلان کرتے رہے۔ ایسے مجاہدین اسلام کی توریخ میں بےشمار ہیں ، لیکن افسوس کہ تاریخ کی کتاب لکھنے والوں نے حکومت کے خوف سے ان کی زندگی کو سامنے نہیں آنے دیا اور نہ ان کے کارناموں کو پوری طرح ہم تک پہنچنے دیا۔ جہاں تک حالات سامنے آ سکے ہیں انھیں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔

مالک بن نویرہ یہ زمین بطحا کے رہنے والے اور اپنے وقت کے بہت بڑے بہادر تھے۔ شاعری اور شہوراری میں خاص شہرت کے مالک تھے۔ لیکن اس کے باوجود جنگجو ، لڑاکو اور حملہ آور نہیں تھے۔ بلکہ نہایت درجہ دیانت دار ، امین تھے۔ رسول اکرمؐ نے انھیں زکوٰۃ وغیرہ وصول کرنے کے لئے مقرر کر دیا تھا اور انھوں نے کافی مقدار میں مال زکوٰۃ جمع بھی کر لیا تھا کہ اچانک حضور کا انتقال ہو گیا۔ مالک مال زکوٰۃ لے کر مدینے آئے تو معلوم ہوا کہ حضورؐ کی جگہ پر ایک صاحب تشریف رکھتے ہیں۔ انھوں نے دبار میں برجتہ کر دیا کہ آپ حکوم رسولؐ کے آگے نہ بڑھئے۔ یہ عہدہ غدیر خم میں علیؐ کو مل چکا ہے اور میں اسلام کی امنت آپ کے سپرد نہیں کر سکتا۔ یہ کہہ کر واپس چلے گئے۔ حکومت نے انھیں باغی قرار دے کر ایک لشکر بھیج دیا۔ لشکر کی سرداری خالد بن ولید کو دی۔ خالد نے سفا کا نہ انداز سے حملہ کر دیا اور مالک کی قوم کو نماز کی حالت میں یہ تیغ کر دیا۔ آخر میں مالک کو بھی شہید کر دیا۔ اور ان کی زوجہ محترمہ سے ناجائز سلوک کیا۔ مالک کلمہ پڑھتے مر گئے۔ لیکن لشکرنے اس کا کوئی خیال نہیں کیا۔ جس پر خلیفہ دوم کو بھی غصہ آ گیا اور انھوں نے کہا کہ میرا بس چل گیا تو میں خالد کو سنگسار کراؤںگا۔ اس لئے کہ مسلمان کو قتل کر کے اس کی زوجہ سے بدکاری کی ہے۔

تاریخ یہ وہ مجاہد تھا جس نے سر کٹا دیا، آبرو لٹا دی ، قوم کی قربانی دیدی لیکن حق کو ہی کہتا رہا۔ جارح فاتح نہیں ہوتا حق پر مرنے والا فاتح و مجاہد ہوتا ہے۔

سعد بن عبادہ

مدینہ کے سرداروں اور رسول اکرمؐ کے انصار میں سے تھے۔ اہل بیت سے بہت زیادہ محبت رکھتے تھے۔ حضرت علیؐ کو رسول اکرمؐ کا خلیفہ برحق سمجھتے تھے۔ رسول خداؐ کے انتقال کے بعد جب مسلمانوں نے آپ کے جنازہ کو چھوڑ کر حکومت کا فیصلہ کرنا شروع کر دیا تو سعد نے بار بار حضرت علیؐ کی طرفداری کی کوشش کی لیکن بعض لوگوں کی پیش قدمی کی بنا پر ناکام رہے اور حکومت اہلبیتؐ کے گھر سے نکل گئی جس کا سعد کے دل پر بےحد اثر ہوا۔ لیکن مصلحت سے خاموش ہو گئے۔ خلیفہ اول کی وفات کے بعدایک دن خلیفہ دوم سے ملاقات ہو گئی۔ انھوں نے کہا سعد ! کیا اب بھی تم انھیں کے ساتھ ہو ؟ سعد نے کہا بیشک اور مجھے تو یہ بات سخت ناپسند ہے کہ میں تمھارے دور حکومت میں ملک کے اندر ہوں خلیفہ دوم نے غیرت دلائی کہ اگر ایسا ہے تو مدینہ چھوڑ دو۔ سعد کو یہ بات سخت ناگوار گزری اور انھوں نے چند دنوں کے بعد مدینہ چھوڑ کر شام کو آباد کر لیا۔ لیکن حکومت کو یہ بات پسند نہ آئی اور ۱۵ ؁ میں خالد بن ولید جیسے خونریز کو بھیج کر سعد کو شہید کرا دیا۔

اتفاق سے ایک دن خالد کی خلیفہ سے ملاقات ہو گئی۔ خلیفہ نے کہا کہ تم سخت نالائق ہو۔ تم نے مالک بن نویرہ کو قتل کیا ہے خالد نے کہا ہاں یہ تو صحیح ہے۔ لیکن میں نے اپنی عداوت کی وجہ سے مالک کو قتل کیا ہے اور آپ کی عداوت کی وجہ سے سعد کو۔ یہ سن کر خلیفہ دوم چپ ہو گئے۔ ان ہی خالد کو سیف اللہ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ سعد ان مجاہدین میں ہیں جنھوں نے تیروں کا نشانہ بننا گوارا کر لیا ، قسم کی سرداری چھوڑ دی ، وطن کو خیرباد کہہ دیا لیکن کسی طاقت سے مروعب نہیں ہوئے اور نی کسی قیمت پر حق کا دامن چھوڑ نے پر آمادہ ہوئے۔

حجر بن عدی

جنگ صفین میں قبیلہ کندہ کے سرداع اور جنگ نہروان میں لشکر علیؐ کے علمبردار تھے۔ جناب حجر کی شخصیت یہ تھی کہ ان کی شہادت کے بارے میں رسولؐ نے پیشگوئی کی تھی۔ اور یہ فرمایا تھا کہ ایسے شہیدوں کے قتل پر خدا اور ملائکہ غضبناک ہوںگے۔ جیسا کہ حضرت عائشہ نے معاویہ سے کہا تھا اور امام حسینؐ نے معاویہ کو کہا تھا کہ تم نے حجر جیسے عبادت گزار افراد کو قتل کیا ہے جو بدعتوں کے مخالف اور راہ خدا میں بےخوف جہاد کرنے والے تھے۔ تم نے ان سے عہدوپیمان بھی کیا لیکن اس کے بعد ظلم و ستم کے ساتھ قتل کرا دیا۔

جناب حجر کی بہادری کا یہ عالم تھا کہ کبھی حکومت وقت سے مرعوب آپ اس کی پرواہ نہ کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حاکم کا خصوصی حکم پہنچا کہ حجر اپنے ساتھیوں سمیت نماز جماعت میں شریک ہوا کریں اور حضرت علیؐ پر سب و شتم سنا کریں۔حجر کے لئے یہ بات انتہائی سخت تھی۔ لیکن کچھ سوچ کر انکار نہ کیا۔ ایک دن مغیرہ نماز کا خطبہ پڑھ رہا تھا۔ اس نے جیسے ہی حضرت علیؐ کی مذمت شروع کی حجر نے کھڑے ہو کر ڈانٹ دیا۔ حجر کا بولنا تھا کہ سارے مجمع کی آواز بلند ہو گئی۔ اور مغیرہ خاموش ہو گیا۔ کوفہ کی گورنری کا عہدہ سے دیا۔ زیاد نے بھی یہی حرکت شروع کر دی اور ایک دن خطبہ میں اتنا طول دیا کہ نماز کا وقت جانے لگا۔ حجر نے ایک خطبہ ختم کر کے نماز قائم کر دی۔ لیکن اس واقعہ کی اطلاع معاویہ کو کر دی۔ اس نے زنجیروں میں جکڑ کر بھیج دینے کا حکم جاری کر دیا۔ گورنر نے حجر کو گرفتار کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ لیکن قبائل کی حماعت کی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکا۔آخر تمام قبائل کو یکجا کر کے کوشش کی اور گرفتار بھی کرا لیا۔

لیکن جناب حجر اپنی شجاعت و مردانگی کی وجہ سے گرفت سے نکل گئے۔ آکر میں حکومت نے محمد بن اشعث کو تین دن کا وقت دے کر اس کام پر مامور کیا اور اس نے خوشامد کر کے حجر کو گرفتار کیا اور طے یہ ہوا کہ زندہ معاویہ کے پاس بھیجے جائیں گے۔ لیکن جب یہ سب مقام عذرا میں جمع کئے گئے تو معاویہ نے چند آدمیوں کو اس حکم کے ساتھ بھیج دیا کہ اگر حجر اور ان کے سارتھی علیؐ سے بےزاری نہ کریں تو انھیں قتل کر دینا وہ لوگ آئے قتل کی تیاریاں ہوئیں۔ لیکن تمام لوگوں نے ایک رات عبادت کی مہلت لی۔ صبح کو سب ایک ایک کر کے شہید کر دئے گئے۔ جناب حجر نے یہ وصیت کر دی کہ میرے جسم سے ہتھکڑی نہ جدا کی جائے اور نہ مجھے غسل دیا جائے بلکہ انھیں کپڑوں میں دفن کر دیا جائے۔

حقیقت میں یہی افراد وہ تھے جنھیں لفظ مجاہد زیب دیتا ہے کہ انھوں نے سر کٹا دئے لیکن نہ عبادت کام ساتھ چھوڑا نہ اہلبیت کا دامن ۔

عمرو بن الحمق خزاعی

یہ رسولؐ اللہ کے مقدس صحابی تھے جن کی سجاوت اور مہمان نوازی کی خبر خود حضورؐ نے دی تھی۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور اسے یہ خبر دی کہ تم لوگ ایک رات میں راستہ بھول جاؤگے۔ ایسے موقع پر بائیںہاتھ کی طرف سفر کرنا۔ کچھ دور چلنے کے بعد ایک شخص سے ملاقات کروگے وہ تم کو اس شرط سے راستہ بتائے گا کہ پہلے اس کے یہاں کھانا کھا لو۔ تم اس سے میرا سلام کہنا چنانچہ لشکر چلا ، راستہ بھولا ، بائیں طرف چلنے پر ایک شخص سے ملاقات ہوئی۔ اس نے وہی شرط بیان کی۔ ان لوگوں نے کھانا کھایا اور اب جو دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ یہ عمرو بن الحمق ہیں۔ یہ لوگ عمرو سے رسولؐ کا سلام کہنا بھول گئے تھے۔ عمرو نے خود ہی سوال کیا کہ کیا تم لوگ رسولؐ کے بھیجے ہوئے ہو اور کیا آخری نبی کا ظہور ہو گیا ہے ؟ لوگوں نے حضرت کی نبوت کی خبر دی۔ عمرو مدینہ آئے اور وہاں اسلام سے مشرف ہوئے۔ عمرو کی خواہش تھی کہ رسول اکرمؐ کے ساتھ قہیں۔ لیکن آپ نے یہ کہہ کر وپس کر دیا کہ جب میرا بھائی علیؐ کوفہ میں آئے تو تم اس کے پاس حاضر ہو جانا چنانچہ جب جناب امیرؐ کوفہ آئے تو عمرو آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ میں کسی مال و دولت یا شہرت کی لالچ میں آپ کے پاس نہیں آیا۔ میں تو صرف اس لئے آیا ہوں کہ آپ سب سے زیادہ فضل و کمال رکھتے ہیں۔ رسولؐ کے بھائی سیدۃالنسا جناب فاطمہؐ کے شوہر ہیں۔ آپ کے خدمات بےشمار ہیں ۔ میں آپ کے پاس اس لئے حاضر ہوا ہوں کہ آپ حکم دیں تو پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہٹا دوں ، سمندروں کا پانی نکالتا رہوں۔ تلوار سے جہاد کرتا رہوں اور دل میں یہی خیال رہے کہ ابھی آپ کا حق ادا نہیں ہو سکا۔ امیر المومنینؐ یہ سن کر بےحد خوش ہوئے اور آپ نے فرمایا کاش میرے دوستوں میں تم ایسے سو آدمی موجود ہوتے۔

صلح امام حسنؐ کے بعد جب مغیرہ نے کوفہ میں امیرالمومنینؐ پرسب وشتم کرنا شروع کیا تو عمرو جیسے حضرات نے ٹوکا اور باآخر اسے کوفہ چھوڑ دینا پڑا۔ اس کی جگہ زیاد آیا۔ اس نے کافی ڈرایا دھمکایا۔ لیکن ان حضرات پر کوئیاثر نہ ہوا۔ آپ کوفہ سے موصل چلے گئے۔ معاویہ نے وہاں کے حاکم کو فرمان بھیجا۔ آپ وہاں سے حصراؤں کی طرف نکل گئے اور آخر میں ایک غار میں جا چھپے۔ جہاں سانپ کے کاٹنے کی وجہ سے انتقال فرما گئے۔ عامل موصل نے آپ کی لاش کا سر غصہ میں کاٹ لیا اور اسے زیاد کے پاس بھیج دیا۔ زیاد نے اس سر کو معاویہ کے پاس بطور تحفہ روانہ کر دیا۔ اسلامی تاریخ میں یہ اپنے انداز کا پہلا واقعہ ہے۔

مالک اشتر

ہمت کا پہاڑ ، ارادوں کی چٹان ، علم کا سمندر ، میدان کا مجاہد ، تلوار کا دھنی ، حق کا محافظ ، منبر کا خطیب ، مالک بن حارث اشتر جس کی تعریف کے لئےحضرت علیؐ کا ایک فقرہ کافی تھا۔ ایک غیر معصوم انسان کی اس سے بڑی تعریف اور کیا ہو سکتی ہے۔کہ اسے معصوم امام اپنا جیسا کہہ دے۔ آپ کی بہادری کا عالم یہ تھا کہ کسی نہتے آدمی پر حملہ نہیں کرتے تھے اور یہ کہا کرتے تھے کہ ایسے آدمی کو اپنا مقابل سمجھتے ہوئے شرم آتی ہے۔ جمل کی مشہور لڑائی میں آپ کا یہ عالم تھا کہ لشکر مخالف کا ہر سپاہی آپ کے نام سے کانپ رہا تھا۔ آپ اونٹ کے قریب پہنچ گئے تھے اور ایک ایک سپاہی کو یہ تیغ کر رہے تھے۔ آخر حضرت علیؐ نے فرمایا کہ یہ لوگ اونٹ ہی پر قربان ہو رہے ہیں ، اور بلا وجہ اپنی جان دے رہے ہیں لہذا بہتر یہ ہے کہ اس اونٹ کو گرا دیا جائے تاکہ دوسروں کی جان ضائع نہ ہو۔ یہ کہہ کر آپ نے مالک کو بلایا اور اس مشکل کام پر ان کو مامور کیا۔

صفین کی جنگ میں جب معاویہ کے لشکر نے نہر پر قبضہ کر لیا اور حضرت علیؐ کے سپاہیوں کو پانی دینے سے انکار کر دیا تو آپ نے فوج کے آخری دستے میں مالک ہی کو روانہ کیا تھا۔ مالک نے وہاں پہنچتے ہی گھاٹ دشمن سے چھین لیا۔ یہ اور بات ہے کہ علیؐ والے کسی کو پانی سے محروم نہیں کرتے۔

صفین کے میدان میں ان میں معاویہ کی طرف سے ایسے ایسے لمبے تڑنگے آدمی آئے تھے جیسے آدمی کبھی میدان میں نہیں دیکھے گئے تھے۔ لیکن حضرت مالک نے سب کو دو دو ہاتھ میں ان کی اصلی منزل تک پہنچا دیا۔

صفین کی آخری رات جسے لیلتہ الہریر کہا جاتا ہے۔ جس میں ابن عباس مالک اشتر اور جناب امیر تینوں حضرات میدان ان جنگ میں آ گئے تھے، مالک فوج کو اس طرح آگے بڑھا رہے جیسے کوئی پر سکون جگہ پر جا رہا ہو۔ رات اور دن لڑائی ہوتی رہی اور مالک تن تنہا پوری فوج کی سربراہی کرتے رہے یہاں تک کہ جب فوج تھک گئی تو خود آگے بڑھے اور معاویہ صلح کا شور مچا دیا۔ مجبوراً جناب امیرؐ نے مالک کو واپس بلا لیا۔ ورنہ شامیوں کا نام ونشان تک نہ ملتا۔ حقیقاً مجاہد کی شان بھی یہی ہونی چاہئے کہ جنگ کے ولولوں میں بھی اپنے آقا کا حکم نہ بھول جائے۔

محمد بن ابی بکر مصر کے گورنر تھے۔ مصر والوں نے ان کے خلاف بغاوت شروع کی تو جناب امیرؐ نے اشتر کو روانہ کیا۔ معاویہ کو اس کی اطلاع ہو گئی۔ اس نے ایک شخص کو الغام کی لالچ دے کر اسے قتل مالک پر تیار کیا۔ اس نے راستہ میں اپنے گھر مدعو کر کے فرطِ مسرت سے خطبہ پڑھا۔ اور اعلان کیا کہ علیؐ کے دو ہاتھ تھے۔ ایک اعمار یاسر، کومیں نے صفین میں کاٹ دیا اور ایک مالک اشتر ، آج کٹ گیا۔

محمد بن ابی بکر

جناب اسمائ بنت عمیس ایک بڑی دیندار اور محب ، اہلبیت خاتون تھیں۔ یہ پہلے جناب جعفر طیار کی زوجیت میں رہیں ان کی شہادت کے بعد ابو بکر کی زوجیت میں آئیں۔ وہیں ایک فرزند کی ولادت ہوئی جس کا نام محمد پڑا۔ فرزند کو ماں کی طرف سے نجابت و شرافت اور محبت اہلبیتؐ جیسی دولتیں ملیں۔ باپ کی وجہ سے حکومت و ریاست کے عہدہ کے ملنے کا امکان تھا لیکن محمد نے ان سب پر ٹھوکر مار دی اور کبھی مسلمانوں کے درمیان یہ نہیں کہا کہ میرا باپ اسلامی حکومت کا بادشاہ تھا۔ بلکہ اس تذکرہ کو اپنے لئے باعث تکلیف سمجھتے تھے۔ البتہ اس پر فخر کرتے رہے کہ میری پرورش مولاؐ کی کود میں ہوئی ہے محمد کے کردار کی بلندی کا یہ عالم تھا کہ جب مصر کے گورنر نے سخت مظالم شروع کئے اور مصر والوں نے مدینہ آ کر گورنر کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تو خلیفہ نے یہی سوال کیا کہ پھر کسی کو گورنر بنایا جائے تو لوگوں نے بالاتفاق ساتھ محمد کے قتل کا فرمان بھی جاری ہو گیا جس کے کھل جانے پر حکومت ہی کا خاتمہ ہو گیا۔ محمد کے کردار کی سب سے بڑی تعریف یہ ہے کہ انھوں نے نہ اپنے باپ کی پرواہ کی نہ بہن کی۔ ابتدا میں باپ کے مذہب سے الگ رہے اور آکر میں بہن کے مقابلے میں جنگ جمل میں آئے۔ حضرت علیؐ نے اپنے دور حکومت میں انھیں مصر کا گورنر بنا دیا تھا۔ لیکن معاویہ نے ایک فوج بھیج کر محمد کو قتل کرا دیا۔ قتل کے بعد آپ کی لاش گدھے کی کھال میں رکھ کر جلا دی گئی جس کا اثر حضرت عائشہ پر یہ ہوا کہ انھوں نے بھنا ہوا گوشت کھانا چھوڑ دیا اور بھائی کے قاتل کے لئے برابر بد دعا کرتی رہیں۔

رشید ہجری

امیرالمومنینؐ کے خاص با ایمان اصحاب میں تھے۔ حضرت نے انھیں آئندہ آنے والی آفتوں سے باخبر کر دیا تھا صاحب کرامت ایسے تھے کہ ایک مرتبہ حکومت سے خوف سے ابو اراکہ نامی شخص کے یہاں چلے گئے۔ اس نے اندر آکر فریاد کی کہ میرے تمام مصاجوں نے دیکھ لیا ہے۔ اگر وہ شکایت کر دیں گے تو میں بھی قتل ہو جاؤںگا۔ رشید نے فرمایا مجھے کسی نے نہیں دیکھا ہے۔ ابواراکہ نے اصرار کیا اور پھر باہر نکل کر لوگوں سے دریافت کیا۔ سب نے کسی کے اندر جانے سے انکار کیا۔ گھبرا کر دربار حکومت میں آئے وہاں بادشاہ نے بھی رشید کی کسی خبر سے انکار کیا۔ حیران بیٹھے تھے کہ دیکھا رشید آ رہے ہیں۔ بادشاہ نے ان کا بےحد احترام کیا اور پھر بات کر کے رخصت کر دیا۔ ابواراکہ کو تعجب ہوا پوچھا یہ کون بزرگ تھے ؟ بادشاہ نے کہا ایک شامی بزرگ تھے۔ ایک کام سے آئے تھے۔ ابواراکہ دنگ رہ گیا۔ گھر آ کر دیکھا تو رشید موجود تھے۔ انھوں نے فرمایا ہم دوستداران اہلبیت ہیں ہمارے لئے تعجب نہ کرو۔

امیرالمومنینؐ نے رشید سے کہہ دیا تھا کہ میری محبت میں تمہارے ہاتھ پاؤں اور تمہاری زبان کاٹی جائیگی۔ رشید بہت خوش تھے۔ چنانچہ ان کی بیٹی کا بیان ہے کہ بادشاہ نے انھیں بلاکر حکم دیا کہ علیؐ سے بیزاری کرو۔ رشید نے انکار کر دیا۔ اس نے کہا کہ میں تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ کر قتل کر دوںگا۔ رشید نے کہا کہ میرے ہاتھ پاؤں کٹیںگے میری زبان قطع ہوگی۔ بادشاہ نے کہا میں زبان قطع نہ کروںگا تاکہ تمہارے مولا کی بات غلط ہو جائے۔ یہ کہہ کر جلاد کو حکم دیا۔ اس نے ہاتھ پاؤں کاٹ کر انھیں سر راہ ڈال دیا۔ لوگوں نے اٹھا کر گھر پہنچا دیا۔ بیٹی نے پوچھا کبیا حال ہے ؟ فرمایا مجھے کوئی تکلیف نہیں ہے۔ ذرا جلدی قلم دوات لے آؤ اور لوگوں کو جمع کرو ، مولا کی کچھ حدیثیں لکھوا دوں۔ رشید نے یہ کام شروع کیا اور ابن زیاد کو خبر ہوئی۔ اس نے جلاد کو حکم دیا کہ زبان بھی کاٹ دے جلاد قریب آیا۔ رشید نے یہ کہہ کر زبان نکال دی کہ میرے مولا کی بات غلط نہیں ہو سکتی۔

یہ ہیں اسلام کے وہ باہمت سپاہی جن پر اسلام کی تاریخ قیامت تک فخر کرتی رہےگی۔

میثم بن ییحیٰ تمار یہ شروع میں ایک عورت کے غلام تھے۔ حضرت علیؐ علیہا السلام نے انھیں خرید کر آزاد کر دیا تھا۔ عرب میں آزاد ہو جانے کے بعد بھی نہ ہوتے تھے لیکن خراب برتاؤ کیا جاتا تھا۔ ان کے نزدیک غلام آدمی بھی نہ ہوتے تھے لیکن مولاؐ نے میثم کو آزاد کرنے کے بعد اتنا بلند بنا دیا کہ میثن آپ کے رازدار بن گئے۔ بہت سی راز کی باتیں جو دوسروں کو نہیں بتائی جا سکتی تھیں وہ آپ نے میثم کو بتا دی تھیں۔ چنانچہ خود ان کے صاحبزادے صالح کا بیان ہے کہ ایک دن کچھ لوگ کشتی کا سفر کر رہے تھے اچانک ایک تیز آندھی آئی۔ لوگ پریشان ہونے لگے تو میثم نے فرمایا کہ تم لوگ اپنی اپنی کچتیوں کو باندھ لو۔ اس لئے کہ ابھی ابھی معاویہ نے انتقال کیا ہے۔ ایک ہفتہ کے بعد جب شام سے قاصد آیا تو معلوم ہوا کہ معاویہ کی موت ٹھیک اسی وقت ہوئی تھی۔

جناب امیرؐ نے میثم کو یہ بھی بتا دیا تھا کہ تمہیں فلاں درخت پر سولی دی جائے گی۔ میثم کے شوق شہادت کا یہ عالم تھا کہ اس خبر کے بعد سے برابر اس درخت کے پاس جایا کرتے تھے ، اس میں پانی ڈالتے تھے ، اس کے نیچے نماز پڑھا کرتے تھے۔ ایک دن ایک شخص نے پوچھا کہ کیا تم یہاں کوئی مکان خریدنا چاہتے ہو ؟ میثم نے کہا نہیں بلکہ میں تمہارا ہمسایہ بنوںگا۔ ذرا اس دن کا خیال رکھنا زندگی کے آخری زمانے میں میثم حج کے لئے گئے۔ حج سے فارغ ہو کر مدینے گئے۔ جناب ام سلمہ کے دروازے پر پہنچے۔ آپ نے پوچھا تم کون ہو ؟ میثم نے کہا ایک مرد عراقی ہوں۔ پوچھا تمہارا نام کیا ہے ؟ کہا حضرت علیؐ کا غلام میثم جناب ام سلمہ نے کہا سبحان اللا میں نے اکثر رسول اکرمؐ کو تمہارے بارے میں علیؐ سے وصیت کرتے سنا ہے۔ اس کے بعد امام حسینؐ کے بارے میں سوال کیا۔ معلوم ہوا ایک باغ میں تزریف فرما ہیں ۔ میثم نے کہا اب میرے پاس وقت نہیں ہے۔ جب حضرتؐ آئیں تو میرا سلام کہہ دیجئے گا اور کہیئے گا کہ اب خدا کے یہاں ملاقات ہوگی۔ یہ کہہ کر کوفہ واپس آئے تو ابن زیاد نے گرفتار کرا کے طلب کیا۔ پوچھا تمہارا رب کہاں ہے؟ میثم نے کہا ظالموں کی تاک میں ہے اور تو بھی ایک ظالم ہے۔ کہا سنا ہے کہ تم علیؐ کے مخصوص آدمی ہو ؟ میثم نے کہا بےشک۔ کہا تمہارے آقا نے تمہارے بارے میں کیا بیان کیا ہے ؟ میثم نے کہا مولاؐ نے فرمایا ہے کہ تمہیں سولی دی جائے گی۔ ابن زیاد نے کہا میں اس کی مخالفت کروںگا۔ میثم نے کہا یہ باممکن ہے یہ مولاؐ کو رسول اکرمؐ نے بتایا ہے۔ ابن زیاد کو آخر کار میثم کو سولی دینا پری۔ میثم نے تختہ دار سے آواز دی۔ کوفہ والوں آؤ میرے مولاؐ کی حدیث سنو۔ اب اس کے بعد وقت نہ ملےگا۔ ابن زیاد کو یہ سن کر چکر آ گیا۔ اس نے میثم کی زبان پر لجام چڑھوا دی۔ یہ تاریخ اسلام کا پہلا واقعہ تھا۔ میثم شہید ہو گئے۔ لیکن لاش تختہ دار ہی پر رہی۔ رات کے وقت کچھ لوگ انھیں سولی سمیت اٹھانے گئے اور لے جاکر دفن کر دیا۔ صبح کے وقت تلاش کی گئی تو سولی کی لکڑی مل گئی لیکن لاش نہیں مل سکی۔ مجاہد ین راہ حق کے یہی کارنامے ہیں جنھوں نے ان کے ذکر کو آج تک زندہ رکھا ہے۔

مختار وہ حق آگاہ مجاہد جس پر امیرالمومنینؐ کو اعتماد اور امام حسینؐ کو بھروسہ تھا۔ جس کے بارے میں امام زین العابدینؐ ، امام محمد باقرؐ ، امام جعفر صادقؐ نے خیر کی دعائیں کی ہیں جس کے جوش محبت کا یہ عالم تھا کہ جب جناب مسلمؐ امام حسینؐ کے سفیر بن کر کوفہ آئے تو مختار ہی کے یہاں قیام کیا۔ مگر حکومت اسے برداشت نہ کر سکی۔ لہذا مختار کو قید خانے میں بند کر دیا گیا۔ میثم سے قید خانے میں ملاقات ہوئی۔ انھوں نے مختار کو تسلی دی کہ میں شہید ہو جاؤں گا لیکن تم زندہ ہو گے۔ تمہارے حوالے قدرت کا ایک بڑا کام ہے۔ مختار قید میں رہے اور جب امام حسینؐ کی شہادت کے بعد اسیروں کو کوفہ میں لایا گیا تو مختار کو بھی دربار ابن زیاد میں پیش کیا گیا۔ لیکن انھوں نے بادشاہ کو سلام کرنے سے انکار کر دیا اور صاف کہہ دیا کہ حسینؐ کے علاوہ میرا کوئی امیر نہیں ہے۔ اسی دربار میں مختار کو امام حسینؐ کی چہادت کی خبر ملی۔ اب مختار کے لئے ایک ایک لحمہ دو بھر ہو رہا تھا۔ یہاں تک کہ انھیں رہائی اور انھوں نے خون امامؐ کے انتقال کی آواز بلند کی۔ دشمنان اہلبیتؐ نے پوری قوت سے اس تحریک کی مخالفت کی۔ مختار کا جوش بڑھتا ہی گہا ادھر سلیمان بن صرد بھی اس تحریک میں آ گئے۔ اور مختار کو مالک اشتر کے فرزند ابراہیم جیسا سپاہی ہاتھ آ گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چند ہی دنوں کے اندر لاتعداد قاتلان امام حسینؐ کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ جناب مختار نے سب کو گرفتار کرایا اور جس نے جو ظلم کیا تھا اس کو وسی ہی سزا دی۔ مختار کا یہ عمل اتنا قیمتی تھا کہ امام زینالعابدینؐ نے انھیں سلام کہلوایا اور جب مختار کی طرف سے بھیجے ہوئے سر حضرتؐ کے پاس پہنچے تو کربلا کے واقعہ کے بعد سے پہلی مرتبہ مسکرائے۔

سچ ہے کہ محبت ہو تو ایسا ہو کہ اپنے عمل سے روتے ہوئے امام کو ہنسا دے تاریخ اسلام ان مجاہدوں پر ناز کرتی رہےگی اور انھیں کے کارناموں کو اسلام کی تاریخ کہا جائے گا۔

(نوٹ :۔ مجاہدین اسلام کی زندگی کے واقعات اس طرح پڑھائے جائیں کہ ذہن نشین ہو جائین۔)

ان لفظ کے معنی بتاؤ :۔

مجاہد ۔ بطحا ۔ شہسواری ۔ جنگجو ۔ دیانتدار ۔ امین ۔ برجستہ ۔ سلوک ۔ سنگسار ۔ جارح ۔ باغی ۔ عداوت ۔ خلیفہ ۔ غضب ۔ عامل ۔ ،موصل ۔ چٹان ۔ دھنی ۔ خطیب ۔ تہ تیغ ۔ صفین ۔ لیلتہ الہریر ۔ کمان ۔ کرامت ۔ سفیر ۔ تسلی ۔ نجابت ۔ تکتہ دار ۔ لاتعداد ۔ محب ۔ حق آگاہ ۔ لجام ۔ لحمہ۔


انیسواں سبق

خطوط نویسی

آدمی کی زندگی کے ليے خط و کتابت بڑی ضروری چیز ہے۔ ایک جگہ کا رہنے والا دوسری جگہ کے آدمی تک اپنی بات پہنچانے اور دوسرے کے حالات معلوم کرنے کے لئے خط ہی کا سہارا لیتا ہے۔ آج کے زمانے میں جب کوئی شہر دوسرے شہر سے یا کوئی ملک دوسرے ملک سے الگ رہ کر زندگی نہیں گزار سکتا۔ اور دو مقامات کے درمیان آمدورفت کے لئے مالی دشواریوں کے علاوہ بھی دوسری مشکلات کا سامنا کرنا پرتا ہے۔ تو خط ہی کو معلومات کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔

خط و کتابت دیکھنے میں تو بڑی معمولی چیز ہے۔ ہر شخص کسی نہ کسی کو خط لکھتا ہی رہتا ہے لیکن صحیح طریقہ پر خط لکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ہم آپ کے سامنے چند نمونے پیش کرتے ہیں جن سے اس بات کا صحیح زندازہ ہو جائے گا اور خط لکھنے کا ڈھنگ بھی معلوم ہو جائےگا۔

باپ کا خط بیٹے کے نام

نئی دہلی

یکم جنوری ۱۹۸۸ ؁

نور نظر سلمہ ،۔۔۔۔۔۔۔دعائیں

تمہارا خط ملا۔ یہ دیکھ کر بےحد خوشی ہوئی کہ تم نے اپنے امتحان میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کئے ہیں۔ تمہارا انعام رکھا ہوا ہے۔ جب کوئی جانے والا ملےگا بھیج دیا جائے گا یا میں خود ہی لے کر آؤںگا لیکن یہ یاد رہے کہ آدمی کو انعام کی خاطر محنت نہیں کرنی چاہیئے۔ یہ لالچی آدمی کا کام ہے اور لالچ بہت بری بلا ہے۔ تم نے سنا ہوگا کہ طمع میں تین حرف ہیں اور تینوں خالی ( بےنقطہ) ہیں۔

اچھے آدمی کی صفت یہ ہے کہ وہ علم کو اللہ کی خوشنودی اور بندوں کی خدمت کے لئے حاصل کرے جس علم میں اللہ کی خوشنودی نہ ہو وہ آخرت کے لئے بیکار اور جس علم سے بندوں کی خدمت نہ کی جا سکے وہ دنیا و آخرت دونوں کیلیےبےسودہر اور ہاں دیکھو آج کل کے لڑکے جب کچھ پڑھ لیتے ہیں تو وہ خدا و رسولؐ کو بھول جاتے ہیں۔ نماز روزے سے کوئی سروکار نہیں رکھتے تمہیں میری نصیحت یہ ہے کہ خبردار ایسی کوئی بات نہ ہونے پائے انسان کی انسانیت اسی وقت تک باقی رہتی ہے جب تک وہ خدا و رسولؐ کی اطاعت کرتا ہے۔ اس کے بعد تو انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا ہے۔ نماز ہمیشہ جماعت سے پڑھا کرو۔ مجلسوں میں ضرور شرکت کیا کرو وہاں دین کی اچھی اچھی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ائمہ معصومینؐ کی زندگی معلوم ہوتی ہے۔ ان کے کردار کا تذکرہ ہوتا ہے اور انھیں باتوں سے انسان کا کردار بنتا ہے۔ گھر میں سب کو دعا کہہ دینا۔ اپنے ماسٹر صاحب کو بھی دعا کہہ دینا۔ ان کا احترام تمہارا فرض ہے۔

دعاگو

محسن

بیٹے کا خط باپ کے نام

کانپور

۸/ جنوری ۱۹۸۸ ؁

والد ماجددام ظلکم سلامٌ علیکم

آپ کا گرامی نامہ ملا۔ آپ نے جس قدر مسرت کا اظہار فرمایا ہے وہ قابل فخر ہے اور ظاہر ہے میری کامیابی پر آپ خوش نہ ہوںگے تو کون خوش ہوگا ؟ یہ سن کر تو آپ کو بہرحال خوشی ہوگی کہ میں روز صبح کو ایک چوتھائی پارہ قرآن مع ترجمہ کے پڑھتا ہوں۔ دل یہی چاہتا ہے کہ وقت مل جائے تو زیادہ پڑھوں لیکن اسکول کی وجہ سے زیادہ وقت نہیں ملتا۔

میں نماز باجماعت ادا کرتا ہوں۔ میرے نزدیک وہ نماز بالکل بےمزہ ہے جس میں اللہ کے گھر کو چھوڑ کر اپنے گھر کی آبادی کی فکر کی جائے۔ مجلسوں میں ضرور جاتا ہوں۔ اس میں کام کی باتیں معلوم ہوتی ہیں میں برابر کوشش کرتا ہوں کہ آپ کی ہر نصیحت پر عمل کرتا رہوں۔

اس سال کا امتحان بہت سخت قسم کا ہے۔ مضامین بھی مشکل ہیں۔ محنت تو کر ہی رہا ہوں لیکن میرا عقیدہ یہ ہے کہ آپ حضرات کی دعا کے بغیر کوئی کام انجام کو نہیں پہنچ سکتا۔ والدہ صاحبہ سے بھی سلام کے بعد دعا کے لئے فرمائش کر دیجئے گا۔ تمام بزرگوں کو سلام اور چھوٹوں کو دعا کہہ دیجئےگا۔ فقط والسلام

آپ کا جاوید

استاد کا خط شاگرد کے نام

الہآباد

۷/ جون ۱۹۸۸؁

عزیزی سلمہ دعائیں

جب سے تم گئے ہو آج تک تم نے کوئی خط نہیں بھیجا یہ آج کل کے لڑکوں کی بہت بڑی عادت ہے کہ اسکول سے نکلنے کے بعد ہی اپنے استاد کو بھول جاتے ہیں۔ انھیں یہ خیال نہیں رہےا ہے کہ وہ جس علم پر ناز کر رہے ہیں وہ اسی استاد کا دیا ہوا صدقہ ہے۔ مجھے تم سے یہ امید ہرگز نہ تھی ہو سکتا ہے تم کسی مصیبت میں گرفتار ہو گئے ہو اس لئے خط نہ لکھا ہو۔ لیکن اس کی بھی اطلاع تو کرنی ہی چاہئے تھی۔ خیر اب فوراً اپنے آنے کی اطلاع کرو۔ جولائی کا مہینا قریب ہے۔ اسکول کھلنے والے ہیں۔ اس سال داخلہ میں بڑی دشواریاں ہوں گی۔ اس لئے کہ اسکول کے منتظمین نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ صرف انھیں لڑکوں کا داخلہ کریں گے جو کم سے کم سکنڈ ڈویژن سے پاس ہوں گے۔ تم تو ماشائ اللہ فرسٹ پاس ہو تمہارا تو داخلہ ہو ہی جائےگا۔ لیکن آیئندہ کافی محنت کی ضرورت ہے۔ اس لئے کہ اب آئے دن ملک کا تعلیمی معیار اونچا ہوتا جا رہا ہے۔ خدا کرے تم ہمیشہ ترقی کرتے ہو۔ اپنے گھر والوں سے سلام و دعا کہہ دینا۔

دعاگو

کاظم

شاگرد کا خط استاد کے نام

فتحپور

۱۵/جون۱۹۸۸؁

بندہ پرور سلام مسنون

آپ کا خط کیا ملا میں شرم سے گڑ گیا۔ میری نالائقی کی کوئی انتہا نہیں ہے کہ میں نے اپنے کاموں میں پھنس کر آپ کو خط نہ لکھا۔ جبکہ تمام کاموں کی انجام دہی اسی علم کے سہارے ہو رہی ہے جو آپ کا صدقہ ہے۔ خدا کی قسم میرا جیسا آدمی انسان کہے جانے کے قابل نہیں ہے انسان وہی ہوتا ہے جو ہمیشہ اپنے محسن کو یاد رکھے احسان فراموش انسان نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن حضور آپ خود انصاف فرمائیں کہ والد ماجدہ دام ظلمہا کی مسلسل بیماری ، والدہ صاحبہ کی ضعیفی اور کمزوری نے گھر کے سارے کام میرے ذمہ کر دئے تھے۔ کھانا بھی الٹا سیدھا میں ہی پکاتا تھا۔ کپڑے بھی میں ہی دھوتا تھا۔ ایک نوکر تھا وہ بھی چلا گیا آج کل نوکر کھنے کی کسی میں صلاحت ہے۔ پھر آپ کو یہ سن کر خوشی بھی ہو گی کہ میں کسی محنت مزدوری کو عیب نہیں سمجھتا۔ میں ہمت مردانہ رکھتا ہوں جہاں قلم چلا سکتا ہوں وہیں کدال و پھاوڑا بھی چلا سکتا ہوں اور آپ کی دعا شامل حال رہی تو انشائ اللہ آپ مجھے ایک عملی انسان پائیںگے۔ اساتذہ کرام سے سلام عرض کریں ساتھیوں کو بھی سلام۔

آپ کا کمترین خادم

عظیم

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔

خطوط نویسی ۔ سلمہ ۔ سروکار ۔ دعاگو ۔ ماجد ۔ دام ظلکم ۔ سلام علیکم ۔ والسلام ۔ عزیزی ۔ بندہ پرور ۔ مسنون ۔ احسان فراموش ۔ دام ظلہ ۔ ہمت مردانہ ۔ انشائ اللہ ۔ اساتذہ ۔ کرام۔


بیسواں سبق

اسلامی انقلاب

انقلاب لانے کے لئے قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے شہیدوں کے خون کی دھاروں سے انقلاب کی تاریخ لکھی جاتی ہے اور یہی خون قوم و ملت کی رگوں میں عزم و حوصلہ بن کر دوڑتا رہتا ہے اسلام الہیٰ انقلابی مذہب ہے اس نے دور جاہلیت میں عربوں کے مازج اور سماج میں اس درجہ تبدیلی پیدا کی کہ جانوروں کا مزاج رکھنے والے عزلوں کو انسانی خوبیوں کا خوگر بنایا۔ جنگجو قوموں کو صلح و آشتی کا درس دے کر میدان جنگ کے بجائے امن و امان کی چاردیواری یا قبائلی طاقتوں کی بنیاد پر کمزوروں کو ظلم کا نشانہ بنایا تھا انھیں عزلوں کا دوست بنا دیا مسلمان بھائی بھائی کا نعرہ نہیں لگوایا بلکہ واقعی بھائی بنا دیا۔

ظلم کو اسلام کبھی برداشت نہیں کرتا یہی وجہ ہے کہ وہ تمام برائیوں کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔ اور نظام عدل کے نفاذیں کو شاں کی صدا دنیا کے گوشہ گوشہ میں گونجنے لگے اور دنیا ایک خدا کے فرمان کے سایہ میں آ جائے۔ علمائ اسلام نے اس سلسلہ میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے انھوں نے بتا دیا ہے کہ خدا پر بھروسہ کرنے والا اور خدا کو سب سے بڑی طاقت ماننے والا کسی سے مرعوب نہیں ہوتا بلکہ وہ یہ جانتا ہے کہ وہ مومن ہے لہذا سر بلند ہو کر رہےگا۔ لیکن اس اسلامی انقلاب کی راہ میں دو عظیم خطرات کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے سب سے بڑا خطرہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اسلام کے لباس میں اسلام کے دشمن ہوتے ہیں وہ لوگوں کو اسلام کلی آواز پر کان لگانے سے توکتے ہیں اور حق کی بات ماننے سے باز رکھتے ہیں۔ دوسرے وہ غیر اسلامی طاقتیں ہوتی ہیں جو مسلمانوں کو غلام بنا کر رکھنا چاہتی ہیں ایران کے اسلامی انقلاب کی راہ میں یہ دونوں طاقتیں رکاوٹ بنی رہیں لیکن انقلابی مجاہدین نے سردھڑ کی بازی لگا کر اسلامی ماحول و تہذیب کے نفاذ کی کوشش کی اور ۱۱/ فروری ۱۹۷۹ ؁ کو رہبر انقلاب اسلامی آیتہ اللہ العظمی آقائے خمینی مدظلہ کی قیادت میں ایرانی قوم کا ہر پیروں جواب ، خوردوکاں عزم و حوصلہ کی چٹان بن کر میدان میں اتر آیا اور پچاس سالہ پہلوی ظالم دبے دین حکومت کا جو اپنی گردنوں سے اتار پھینکا اس کے لئے جام شہادت پینے والوں کا تانتا بندھ گیا۔ جس نے بالآخر جابرانہ تسلط کو ہمیشہ کے لئے نیست و نابود کر دیا اور اسلامی حکومت قائم ہو گئی اور رہبر انقلاب نے اعلان کر دیا کہ ہم نہ مشرق کے غلام ہو سکتے ہیں اور نہ مغرب کے نہ امریکہ کے حامی ہیں نہ روس کے بلکہ ہم صرف خدا کے بندے ہیں اور وہی ہمارا حاکم و مالک ہے ملک کے اندر رہنے والے اسلام کے دشمنوں نے اور اسلام کا نام مٹانے کی سازش کرنے والی بڑی طاقتوں نے جب اپنا چراغ گل ہوتے ہوئے دیکھا تو تشددر بربریت کے تمام حربے استعمال کئے قید و بند قتل و خون کے ذریعہ لوگوں کے اسلامی جذبات کو مردہ کرنا چاہا لیکن حق کے سپاہیوں نے ہر تکلیف کو برداشت کر کے اسلامی حکومت کی جڑوں کو مضبوط کر دیا ایران میں اسلامی انقلاب کو پنپتا دیکھ کر اسلام دشمن طاقتوں نے عراق کو ایران کے خلاف ابھارا اور عراق کی ظالم جابر نام مسلمان حکومت نے اپنے کو بڑی طاقتوں کے ہاتھوں بیچ دیا اور اس کی خواہش کے مطابق اسلام کو مٹانے کی ٹھان لی شورش اور دہشت گردی کے ذریعہ لوگوں کی زبانوں پر تالے لگانے کی کوشش کی اسلام دشمن بعث پارٹی کا حاکم یہ چاہتا تھا کہ میرے احکام کا نام اسلام رکھ دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ اس کو اسلام کا ایک سچا پیروکار کیسے برداشت کر سکتا تھا چنانچہ حق پسند و حق آگاہ مجاہد آیتہ اللہ العظمی شہید اسید باقر ایصدر کی دوربین نگاہوں نے اس کو محسوس کیا اور اسلامی انقلاب کی حمایت اور بعثی حکومت کی مخالفت میں تحریک چلائی حالات نامساعد تھے۔ مگر فریضہ کی ادائگی ان حالات میں ان کے ليے واجب تھی اتحاد بین المسلمین کے ذریعہ عراق میں استحکام کی کوشش کی پہلے جابجا مختلف شہروں میں ان کے حامی شہید ہوتے رہے جن کی تعداد بارہ ہزار تک ہینچی آخر میں خود شہید خامس آقائے باقر الصدر مع اپنی بہن بنت الہدے کے شہید ہوئے رات کے سناٹے میں فوجی پہرہ میں نجف اثرف کے مشہور قبرستانوادی السلام کے کسی غیر معلوم مقام پر دفن کر دئے گئے وقت آئے گا جب عراق میں اسلامی انقلاب آئے گا اور شہید خامس کی قبر کا نسان بھی ظاہر ہوگا۔

عراق کی بعثی حکومت نے ایران پر جازحانہ حملہ کر دیا ایران کے بڑے بڑے علاقہ پر قبضہ کر لیا مگر پاسداران انقلاب کی مسلسل جدوجہد نے ایران کی زمین کو ظالموں سے خالی کرا لیا ہے اور اب اسلامی انقلاب عراق کے دروازوں پر دستک دے رہا ہے اسلامی انقلاب سے وابستہ چند حضرات کا تذکرہ ہم کو ضرور جاننا چاہئے۔

آقائے خمینی رحمتہ اللہ علیہ

آپ کا نام روح اللہ ہے۔ ۲۰ جمادی الشانیہ ۱۳۲۰ ؁ کو ایران کے شہر خمین میں پیدا ہوئے۔ ۵ ماہ کی عمر میں آپ کے واکد سید مصطف؁ٰ شہید ہو گئے تھے۔ آپ کی پرورش آپ کی والدہ اور آپ کے بڑے بھائی سید مرتضیٰ نے کی۔ آپ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی اولاد میں ہیں بچپن خمین میں گزارا۔ ۱۲۳۰ ؁ کو ۱۹ سال کی عمر میں شہر اراک کا سفر برائے تحصیل علم کیا۔ ۱۳۴۰ ؁ میں اراک سے قم تشریف لائے۔ آپ اسلامی انقلاب لانے کے لئے ہمیشہ کو شاں رہے اور ایران کی ظالم اسلام کشی حکومت سے نبردآز ما رہے۔ ۱۲ محرم ۱۳۸۳ ؁ کو جب نماز شب پڑھنے جا رہے تھے گرفتار کر لئے گئے۔ آپ کی گفرتاری نے پورے ملک میں زلزلہ پیدا کر دیا۔ لوگ اسلامی انقلاب کی حمایت میں منظم ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے اور حکومت کی گرفت ملک پر کمزور ہونا شروع ہو گئی۔ کمزور حکومت نے ظلم کا سہارا لیا۔ مگر ہر ظلم اسلامی انقلاب کی حمایت اور حکومت کی مخالفت کا سبب بتا گیا۔ ۸ ماہ کی نظر بندی اور دو ماہ کی جیل کے بعد رہا کئے گئے۔ رہائی کے بعد ۲ ذی الحجہ ۱۳۸۳ ؁ مطابق ۲۶ فروری ۱۹۴۳ ؁ کو قم کی مسجد میں آپ کی تاریخی تقریر ہوئی۔ ۱۳ اگست ۱۹۲۳ ؁ کو آپ جلا وطن کئے گئے۔ دو سال ترکی میں مقیم رہے۔ ترکی سےعراق تشریف لائے۔ ۱۲ سال عراق میں قیام فرمایا۔ جب عراقی حکومت نے آپ کو عراق چھوڑنے پر مجبور کیا اور کویت نے اجازت نہیں دی تو آپ فرانس تشریف لے گئے۔ آپ کہیں بھی رہے مگر اسلامی انقلاب کو مہیز کرتے رہےآپ کی تقریروں کے کیسٹ پورے ملک کو جگاتے رہے اور آپ کے شاگرد آپ کے پروگرام کو عملی جامہ پہناتے رہے اسی راہ میں آپ کے فرزند مصطفےٰ خمینی کی جان گئی آخر کار شاہ ایران چھوڑ کر بھاگا اور آپ ۱۴ سال کے بعد ۳/ ربیع الاول ۱۳۹۹ ؁ کو ایران تشریف لائے اور آپ کی بے نظیر قیادت میں اسلامی انقلاب مشکل ترین مرحلوں سے گزر کر روز بروز بحمد اللہ مستحکم ہوتا گیا اور اس کے اثرات دوسرے ملکوں میں بھی نظر آنے لگے۔

بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اسلامی انقلاب اور خمینی ایک کردار کے دو نام ہیں۔ آپ سے پہلے آیتہ اللہ میرزا شیرازی اور آیتہ اللہ سید حسن مدرس ، آیتہ اللہ فضل اللہ نوری وغیرہ اسلامی انقلاب کے لئے اپنے اپنے عہد میں کوشاں رہے۔ مگر یہ شرف خدا نے آپ کے مقدر میں لکھا تھا کہ آپ کے شاگرد گاؤں گاؤں جا کر ایک ایک فرد کو بیدار کریں اور آپ علمائ کو منظم کریں، ملک میں پھیلے ہوئے دینی مدرسوں کو تبلیغ کا پلیٹ فارم بنائیں اور مسجد سے اسلامی انقلاب کو سڑکوں اور گلیوں میں پھیلائیں۔ خدا وند عالم نے آپ کو غیر معمولی قوت فکر اور اعتماد و اطمینان عطا کیا تھا۔ جس کے باعث آپ کے سامنے ہی اسلامی انقلاب کا میاب ہوا اور سخت ترین آزمائشوں سے کامیابی کے ساتھ گزرا۔ افسوس عزم و حوصلہ کا یہ آفتاب ۴/ جون ۱۹۸۹ ؁ کو ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا مگر اس ی روشنی آج بھی عالم اسلام کو منور کئے ہے۔

آقائے خامنہ ای مدظلہ

آپ کا اسم گرامی علی ہے ۱۳۳۹ ؁ میں مشہد مقدس کے علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد آیتہ اللہ سید جواد خامنہ ای اور دادا آیتہ اللہ سید حسین خامنہ ای اپنے زمانہ میں زہدو تقویٰ اور علم و فضیلت میں مشہور تھے چنانچے ایسے علمی گھرانے میں آنکھ کھولنے والے ذی شرف فرزند نے تحصیل علم دین کو اپنا بنیادی ہدف قرار دیا۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی اور ان کی خصوصی توجہ اور اپنی غیر معمولی ذہانیت کی بنا پر جلد ہی حوزہ علمیہ میں رائج سطحو خارج کے نامور اساتذہ کے دروس میں شرکت کرنے لگے ۱۹۵۶ ؁ میں زیارات مشاہدہ مقدسہ غرض سے عراق کا سفر کیا اور باب مدینہ العلم پر حاضری کے ساتھ ساتھ آیات عظام آقائے محسن حکیم ، آقائے خوئی ، آقائے شاہرودی ، آقائے بجنوری وغیرہ کے دروس میں شرکت کی۔ آپ وہاں مستقل قیام کرنا چاہتے تھے لیکن والد کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے دوسرے ہی سال واپس آنا پڑا۔

۱۹۵۸ ؁ میں آپ نے حوزہ علمیہ قم کی پاکیزہ فضا میں سکونت اختیار کی ، اور آیات عظام آقائے بروجردی ، رہبر انقلاب امام خمینی اور آیتہ اللہ حائری کے دروس میں حاضری دی۔ یہی وہ زمانہ تھا جب رہبر انقلاب امام خمینی نے اپنے انقلابی دروس سے حوزہ علمیہ قم کو ایک نئی زندگی عطا کی تھی۔

۱۹۲۳ ؁ میں جس وقت مدرسہ فیضیہ سے اس عظیم اسلامی تحریک کا آغاز ہوا ، آیتہ اللہ خامنہای بھی ان چند خوش نصیب افراد میں شامل تھے جنھوں نے رہبع انقلاب کی درد مندانہ آواز پر لبیک کہتے ہوئے ان کے قدم بہ قدم چلنے کا عہد کیا اور اس سلسلہ میں اسیری اور جلا وطن کی شدید مشکلات برداشت کیں۔ امام خمینی نے کئی مقامات پر آپ کو اپنا معتمد خاص قرار دیا اور مختلف مقامات پر ستائشی کلمات سے حوصلہ افزائی فرمائی۔

۱۹۷۷ ؁ کی انقلابی سرگرمیوں میں پیش رہنے کے جرم میں آپ کو قید اور پھر جلا وطن ہونا پڑا لیکن وہاں بھی آپ نے شیعہ سنی انقلابوں کو متحد و ہم آہنگ کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔

رہبر انقلاب کے حکم سے پیرس میں ایک انقلاب کو نسل تشکیل دی گئی ، جس کا مقصد آیندہ حکومت کا ڈھانچہ تیار کرنا تھا۔ آیتہ اللہ خامنہ ای کو امام خمینی کے خسصوصی حکم سے اس کو نسل کا رکن بنایا گیا۔ ۱۹۷۹ ؁ میں آپ نے اسلامی جمہوری پارٹی کی بنیاد رکھی، جس کو انقلاب کے بعد پہلے عمعمی الکیشن میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی۔ ۱۹۷۹ ؁ میں اسلامی انقلابی فوج کی سرپرستی فرمائی۔ آیتہ اللہ طالقانی کے انتقال کے کچھ دنوں بعد امام خمینی کے خصوصی حکم سے تہران میں نماز جمعہ کی امامت کی ذمہداری قبول فرمائی۔

۱۹۸۱ ؁ میں تہران کے عوام کی نمایندگی میں اسلامی پارلمینٹ کی رکنیت حاصل کی۔ ۲۷/ جون ۱۹۸۱ ؁ کو مسجد ابوذر میں نماز کے بعد تقریر فرماتے ہوئے منافقین کے حملہ کا نشانہ بنے ، اور اکتوبر ۱۹۸۱ ؁ میں ۹۸ فیصد ووٹوں کی بھاری اکثریت سے اسلامی جمہوریہ ایران کے تیسرے صدر منتخب ہوئے۔

آپ کی صدارت کا آغاز ایسے ہنگامی حالات میں ہوا کہ اسلامی انقلاب بڑے حساس دور سے گزر رہا تھا۔ ۸ سال کا میاب صدارت کے بعد جس نے اسلامی جمہوریہ ایران کو ایک باوقار اسلامی حکومت کی شکل عطا کی تھی، ابھی آپ کے دورہ صدارت کی تکمیل میں کچھ عرصہ باقی تھا کہ اسلامی انقلاب کے بانی یعنی امام خمینی کے المناک سانحہ ارتحال کی وجہ سے جو خلا واقع ہوا اس کو پر کرنے کے لئے علمائ اسلام کی مجلس خبرگان نامی کمیٹی نے آپ کا انتخاب کیا اور آپ نے اپنی بے پناہ للھیت خلوص اور بے نظیر صلاحیتوں کی بنیاد پر یہ ذمہداری اس انداز میں سنبھال لی کہ آج اسلامی جمہوریہ ایران آپ کی عظیم الشان قیادت کے نتیجہ میں پورے عالم اسلام کی زینت بنا ہوا ہے۔

آقائے باقر الصدر

۵/ ذیقعدہ ۱۳۵۳ ؁ مطابق ۲/ مارچ ۱۹۳۵ ؁ کو کاظمین میں پیدا ہوئے " ظالم بعثی " ( کمیونسٹ) حکومت کے ہاتھوں ۴/ اپریل ۱۹۸۰ ؁ کو گرفتار کر کے بغداد لائے گئے اور ۹/ اپریل ۱۹۸۰ ؁ کو اپنی بہن بنت الھدیٰ کے ساتھ عصر حاضر کے یزید صدام کے ہاتھوں اذیت ناک طور پر شہید کئے گئے اور نجف اثرف کے مشہور و معروف قبرستان وادی السلام کے کسی غیر معمولی مقام پر عالم غربت میں دفن کئے گئے۔

آپ آیتہ اللہ العظمیٰ آقائے محسن حکیم کے معتمد اور آیتہ اللہ العظمیٰ آقائے سید ابق القاسم خوئی کے شاگرد شید تھے۔ کم عمر میں درجہ اجتہاد پر فائز ہوئے اور پچیس سال کی عمر میں دوسروں کو درس اجتہاد دینے لگے۔ فقہ و اصول فقہ ، فلسفہ و منطق ، معاشیات ، اسلامیات پر آپ کی فکر انگیز ستائیس تصنیفیں موجود ہیں۔ جنھوں نے بعض علم کے بند دروازوں کو کھولا ہے۔

شاگردوں کی کثرت اور ان سے غیر معمولی محبت آپ کا امتیاز تھی۔

عراق جو صدیوں سے عالم تشیع کا علمی مرکز تھا جب کمیونسٹ حکمومت کے قیام کے بعد الحاد زدہ ہونے لگا تو سب سے پہلے آقائے حکمی نے گاؤں گاؤں دینی تعلیم کا بندوبست کر کے عراق کو الحاد سے بچانا چاہا اور آقائے صدر کو ان امور کا نگراں مقرر کیا۔ بعثی حکومت نے پہلا جوابی وار آقائے حکیم پر کیا۔ اور حوزہ علمیہ اثرف کو ویران کیا۔ آدوسرا وار آقائے صدر پر کیا جو آپ کی شہادت پر ختم ہوا۔ تیسرا وار پورے ملک کے علمائ اور مومنین پر کیا جن کی بڑی تعداد شہید ہو گئی یا آج بھی قیدو بند کی اذیتناک زندگی بسر کر رہی ہے۔ اور ایک بڑی تعداد جلاوطن ہو گئی جو آقائے باقر الحکیم جو آقائے صدر کے شاگرد اور آقائے حکیم کے فرزند میں کی قیادت میں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے تعاون کے ذریعہ عراق میں اسلامی انقلاب لانے کی جان توڑ کوشش کر رہے ہیں۔

آج شہید خامس آقائے صدر موجود نہیں ہیں مگر تصانیف کے ذریعہ ان کا علم زندہ ہے۔ شاگردوں کے ذریعہ ان کی فکر اور ان کا کردار زندہ ہے۔ لبنان ، عراق میں جس دن انشائ اللہ انقلاب آئے گا وہ دن شہید صدر کی زندگی جاوید کا ایک ممتاز پرنور دن ہوگا۔

آقائے مرتضیٰ مطہری

۱۹۱۹ ؁ میں صوبہ خوراسان کے فریمان گاؤں میں پیدا ہوئے آپ کے والد ماجد نہایت متقی تھے جن کے تقویٰ پر خود آپ فخر کرتے تھے۔ ۱۹۳۱ ؁ میں مشہور مقدس تعلیم کے لئے آئے ۱۹ سال کی عمر میں قم منتقل ہوئے جہاں آقائے منتظری اور شہید مطہی نہ صرف ہم درس تھے بلکہ ایک ہی حجرہ میں ساتھ رہتے بھی تھے۔

اسلامی انقلاب میں ۱۹۲۳ ؁ سے سرگرمی سے حصہ لیا۔ قید وبند اور حکومت کی طرف سے عائد کردہ یا دوسری پابندیوں کا شکار ہوتے رہے اور ۱۹۷۶ ؁ میں اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھوں شہید ہوئے اور روضہ معصومہ قم میں دفن ہوئے۔

آپ کی مشہور زمانہ کتاب عدل الہیٰ ہے جس سے آپ کی علمی صلاحیتوں کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ آپ بہترین مقرر بھی تھے اور صاحب تصانیف کثیرہ بھی۔ لیکن ب بلاند پایہ مفکر ہونے کے باوجود تقریر و تحیرر میں ہمیشہ ان چیزوں کو پیش کرتے تھے جن کی ضرورت ہوتی تھی چنانچہ آپ نے بچوں کے لئے اخلاقی کہا نیاں بھی لکھیں اور صاحبان فکر کے لئے گرانقدر تصاینف بھی چھوڑی ہیں۔ آپ نے مکیونزم اور مغربی فلسفہ پر اسلام کی علمی برتری ثابت کرنے میں پوری عمر بسر کی۔ اور ساری زندگی اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو نہ صرف اسلام سے روشناس کرایا۔ بلکہ اسلام کا گرویدہ بناتے رہے۔ ۵۷ سال کی عمر میں اگرچہ آپ کا چراغ حیات گل کر دیا گیا۔ لیکن آپ نے جو اسلامی ، اخلاقی چراغ روشن کئے ہیں وہ زمانہ کو عہد ظہور آنے تک پرنور بناتے رہیں گے۔

آقائے بہشتی

محمد حسینی بہشتی ۱۳۴۹ ؁ میں صفہان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد پیش نماز تھے آپ کا ضاندان علمی اور مذہبی خاندان تھا۔ چار سال کی عمر میں تعلیم شروع ہوئی ۱۳۶۷ ؁ میں قم کے حوزہ علمیہ میں داخل ہوئے جو آقائے بروجردی کا زمانہ تھا۔ حوزہ علمیہ کی تعلیم کے ساتھ تہران یونیورسٹی میں بھی تعلیم حصل کرتے رہے۔ ۱۳۷۹ ؁ مٰں پی ایچ ڈی کیا۔ ۱۳۸۳ ؁ میں آقائے خمینی کی قیادت میں چلنے والی تحریک (اسلامی انقلاب میں شریک ہو گئے ۱۳۸۵ ؁ میں آقائے بروجردی کی طرف سے جرمنی میں تبلیغ کے لئے تشریف لے گئے اور ۱۳۹۱ ؁ میں تہران واپس ہوئے۔ اسلامی انقلاب لانے کے لئے جو پہلی اعلیٰ کمیٹی قائم ہوئی آقائے بہشتی اس کے ممبر تھے۔ جس کے دوسرے ممبر شہید مطہری آقائے رفسنجانی اور شہید باہنر وغیرہ تھے۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد آپ دستور ساز امبلی کے ممبر منتخب ہوئے اور چیف جسٹس بھی مقرر ہوئے۔ آپ مادری زبان کے علاوہ انگریزی جرمنی عربی کے بہترین نمونہ تھے۔ آپ کا محبوب ترین مشغلہ دین سے ناواقف تعلیم یافتہ افراد کو مکمل مذہبی بنانا تھا۔

آپ کی شہادت اس بم کے دھماکے میں ہوئی جس میں ایک ساتھ ایران کے بہتر دماغ شہید ہوئے۔ آقائے بہشتی کردار سازی کے باہر ترین افراد میں سے تھے۔ آپ ہی نے حزب جمہوری اسلامی نامی جماعت قائم کی۔ اور اتنے باصلاحیت افراد پیدا کئے کہ تقریباً سو صاحبان بصیرت افراد کی شہادت کے باوجود آج بھی ایرانی حکومت مستحکم ہے اور اسلامی انقلاب کا سفر اندرون ملک و بیرون ملک جاری ہے۔ غدار بنی صدر نے جب ایران اور اسلامی انقلاب کو بدترین حالات سے دو چار کر دیا تھا تو آقائے بہشتی اور شہید رجائی ہی وہ لوگ تھے جنھوں نے اسلامی ابقلاب کی حفاظت کی اور اسکو اپنی جان دے کر نئی زندگی بخشی۔

آقائے محمد جواد باہنر

اسلامی جمہوریہ ایران کے محروم وزیر اعظم حجتہ الاسلام ڈاکٹر محمد جواد باہر اسلامی انقلاب کی چند اہم ترین شخصیتوں میں سے ایک تھے وہ ۱۹۳۳ ؁ میں ایران کے ایک شہر کرمان میں پیدا ہوئے ان کے والد معمولی تجارت کے ذریعہ اپنی گزر بسر کیا کرتے تھے۔ ابتدائی تعلیم وطن میں حاصل کرنے کے بعد بیس سال کی عمر میں مدرسہ فیضیہ قم میں داخل ہوئے تھے عسرت ق تنگدستی کے عالم میں علم دین حاصل کی اپنی تقریروں میں ظالم حکومت کی نکتہ چینی کیا کرتے تھے۔ ۱۹۲۳ ؁ میں آقائے خمینی کی قیادت میں اسلامی انقلاب کا آغاز ہوا تو تہران چلے آئے اور باقاعدہ اس تحریک سے وابستہ ہو گئے جس کے نتیجہ میں انھیں گرفتار بھی کیا گیا اور تقریروں پر پابندی لگا دی گئی۔ لیکن آقائے خمینی کی مسلسل ہمت افزائی نے ان کو ہمیشہ نئے حوصلے دیئے ۱۹۷۸ ؁ میں وہ حزب جمہوری اسلامی قائم کرنے کی کوشش میں مصروف ہو گئے اور آخری ذمہداری جو انھوں نے اپنے ذمہ لی تھی وہ پورے ملک میں ظالم و جابر حکومت کے خلاف ہڑتال کرانے کی تھی اور یہ ہڑتال اس وقت تک جاری رہی جب تک انقلاب کامیاب نہیں ہو گیا۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد ایران کی اسلامی حکومت کے اہم عہدوں کو ان کے حوالہ کیا گیا اور جس دور میں محمد علی رجائی صدارت کے منصب پر فائز ہوئے اس دور میں ڈاکٹر محمد جواد باہنر کو وزیر اعظم بنایا گیا۔ لیکن آستین کے سانپ نام نہاد مسلمانوں کو بھلا کیسے یہ برداشت ہوتا کہ اسلام کا سچا فدائی اور انقلاب کے صحیح راستہ پر کام کرنے والا ان کے درمیان رہے چنانچہ وزارت عظمیٰ کے کمرہ میں دشمنوں کے رکھے ہوئے بم کے پھٹ جانے سے شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوئے لیکن کے ہمیشہ کے لئے قوم کو درس دے گئے کہ حق کے سپاہی جان کی بازی تو لگا سکتے ہیں لیکن حق کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کر سکتے۔ وہ موت سے ہم کنار ہو جاتے ہیں مگر حقیقی زندگی پا لیتے ہیں۔

آقائے محمد علی رجائی

۱۹۳۳ ؁ میں دین کے ایک گریب مگر مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ چار سال کی عمر میں یتیم ہو گئے۔ زمانہ تعلیم میں روزی کمانا بھی ان کی ذمہ داری بن گئی۔ ان کو اپنے ہاتھ سے بھرے بازار میں کسی کام کے کرنے میں کوئی شرم محسوس نہ ہوتی تھی بلکہ انھوں نے فخر کرتے ہوئے علم اور روزی ساتھ ساتھ حاصل کی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد ریاضی کے معلم ہو گئے مگر اصلی مشغلہ حصول معاش نہ تھا بلکہ اسلامی انقلاب لانے کی جدوجہد میں شریک ہو جانا تھا۔

شاہ ایران کی ظالم حکومت نے ان کو متعدد بار گرفتار کیا۔ جیل میں رکھا اور کئی سال تک ساواک کی ایجاد کردہ ناقابل تحمل تکالیف کو برداشت کرنا پڑا۔ لیکن ان کت عزم و ہمت میں اضافہ ہی ہوتا رہا حومت ہار گئی مگر یہ ہمت نہ ہارے۔

محمد علی رجائی کی ممتاز ترین خصوصیت یہ ہے کہ یہ عالم دین نہ تھے مگر رہبر انقلاب اسلامی آقائے خمینی کے غیر معمولی اور خصوصی اعتماد کے حامل تھے۔ چنانچہ اسلامی انقلاب کامیاب ہونے کے بعد جمہوری اسلامی ایران کے پہلے وزیر اعظم منتخب ہوئے اس وقت کے غدار بنی صدر سے جو اسلامی زنقلاب کو تہس نہس کرنا چاہتا تھا۔ برابر کی ٹکر لی اور باوجود اس کے کہ صدر کے اختیارات زیادہ ہوتے ہیں مگر ایک نہ چلنے دی بلکہ اس کو روپوش ہونے اور زمانہ لباس پہن کر فرار ہونے ہر مجبور کر دیا۔

بنی صدر کے فرار کے بعد آپ جمہوری اسلامی ایران کے صدر منتخب ہوئے مگر اسلام دشمن طاقتیں آپ کی کامیابیوں کو دیکھ کر بوکھلا گئیں اور آپ مع اپنے وزیر اعظم کے بم کے ذریعہ قاتلانہ حملہ کے شکار ہو گئے۔ رہبر انقلاب آپ کے خصوصی سوگوار ہوئے رجائی نہ رہے مگر ان کی امیدیں اور آرزو میں آج بھی پروان چڑھتی جاتی ہیں۔

مولانا سید غلام عسکری تنظیم المکاتب

بجنور ضلع لکھنو کے دیندار خانوادہ میں ۱۹۲۸ ؁ میں پیدا ہوئے والد کا نام سید محمد نقی تھا جو انسپکٹر آف اسکول ہونے کے باوجود بیحد دیندار اور مذہبی تھے ، دیندار اور والدین نے مذہبی ماحول میں تربیت کی ، ملک کی مشہور درسگاہ جامعہ ناظمیہ میں تعلیم حاصل کی اسی زمانہ میں طبیہ کالج لکھنؤ سے امتیازی نمبروں اور امتیازی انعام کے ساتھ سند حاصل کی نجم الملتہ اور مفتی اعظم سے علمی فیوض حاصل کئے اس کے بعد مدرستہ الواعظین میں داخلہ لیا جہاں انھیں فیلسوف اسلام علامہ سید عدیل اختر صاحب طاب ثراہ جیسا عظیم و شفیق استاد و مربی ملا جس نے اپنے علم و عمل کے ذریعہ حق گوئی اور حق نقازی کی مکمل تصویر بنا دیا تھا کہ جس کا اثر ان کی زندگی کے ہر موڑ نظر آتا تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد مدرستہ الواعظیم کی طرف سے دورہ تبلیغ شروع کیا ان کی دوربین مستقبل شناس اور فکر اسلامی سے بھر پور نگاہوں نے ماحول اور سماج کا صحیح تجزیہ کر کے بے دینی لا مذہبیت اور اخلاقی گراوٹ کا بنیادی سبب تلاش کر لیا اور پھر اسلامی فکر کو ہر ذہن تک پہنچا دینا تھا وہ شہر و ملک پر حکومت نہیں بلکہ قلب و ماغ پر اسلامی حکومت کے لئےکوشاں تھے وہ بے مشال خطیب ، بے نظیر صاحب قلم ، لاجواب مقرر اور عالم باعمل شروع کر دیا۔ مدرستہ الواعظین میں بحیشیت سکریٹری عرصہ تک کام کرتے رہے اور اسی زمانہ میں بےدینی کی تباہ کن بیماری کے علاج کے طور پر پہلا اور آکری جامع نسخہ مکاتب کے قیام کی تجویز کی زکل میں قوم کے حوالہ کرنا چاہا قوم نے خوش آمدید کہا۔ چنانچہ ۱۱/ اگست ۱۹۲۸ ؁ ۱۵۳ جمادی الاول ۱۳۸۸ ؁ کو اپنے رفقائ کی مدد سے تنظیم المکاتب کی بنیاد رکھی بستی بستی مکاتب قائم کرنا شروع کئے اس کے لئے سرمایہ فراہم کیا ان کے اخرجات کے کفیل بنے اور اس طرح قوم کو دینداری اور علم دین کی غذا سے بھر پور کر دیا اور آج بحمد اللہ نو سو سے زیادہ مکاتب ملک کے گوشہ گوشہ میں ان کا پیغام پہنچا کر اسلام کی آواز بلند کر رہے ہیں۔

۱۹۸۱ ؁ میں تنظیم المکاتب کے نام سے ایک خالص دینی اصلاحی اخلاقی اخبار بھی جاری کیا جو اپنی نوعیت کا ملک کا واحد پندرہ روز اخبار ہے جس کے لئے کم سے کم ہر شمارہ میں دو مضمون ضرور تحیرر فرماتے تھے۔

مکاتب لے استحکام کے لئے معملات ، مدرسین و پیشنماز گی تربیت کا مختلف مقامات پر انتظام کیا گیا تاکہ بہتر سے بہتر معلم اور پیشنماز تحریک کو آگے بڑھانے میں مددگار ہوں۔

۱۲/ اگست ۱۹۸۳ ؁ میں جامعہ المیہ تنظیم المکاتب کے نام سے ایک اعلیٰ دینی درسگاہ قائم کی جو اپنی خصوصیات کے اعتبار سے ملک کی واحد دینی درسگاہ ہے۔

یو پی ، راجستان کشمیر کا نفرنسوں میں مسلسل تبلیغ پیغام دیتے ہوئے ۹/ مئی ۱۹۸۵ ؁ کو شب جمعہ معین ڈر پونچھ( کشمیر) میں انتقال فرمایا۔ اور اپنے وطن بجنور (لکھنؤ) میں دفن ہوئے۔

سولات

۱ ۔ ایران میں اسلامی انقلاب کب اور کسی کی قیادت میں آیا ؟

۲ ۔ بعث پارٹی کا حاکم کیا چاہتا تھا ؟

۳ ۔ آقائے خمینی کا نام مقام و تاریخ پیدائش لکھئے ؟

۴ ۔ آقائے خمینی کے اسلامی انقلاب کو کس طرح پھیلایا ، اور وہ کب جلا وطن کئے گئے ؟

۵ ۔ آقائے باقر اصدر کی وفات کب اور کیسے ہوئی ؟

۶ ۔ ادارہ تنظیم المکاتب کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں اس کے بانی کا نام بنایئے ؟

۷ ۔ مولانا سید غلام عسکری کی وفات کب اور کہاں ہوئی ؟

۸ ۔ مندرجہ ذیل کے بارے میں مختصر معلومات لکھئے ؟

آقائے خامنہ ای ، آقائے مرتضیٰ مطہری ، آقائے بہشتی ، آقائے محمد جواد باہنر ، آقائے محمد علمی رجائی ، مولانہ سید غلام عسکری۔

الفاظ کے معنی بتایئے :

خوگر ، آشتی ، جنگجو ، قبائلی ، نفاذ ، مرعوب ، بازی لگانا ، قیادت ، پہلوی ، حامی ، تسدو ، بربریت ، شورش ، دہشتگردی ، بعث ، نامساعد ، اتحادبین المسلمین ، استحکام ، پاسداران ، دستک ، نبردآزما ، مہمیز ، جلیل القدر ، روشناس ، منتصغفین ، معتمد ، الحادزدہ ، جلاوطن ، کمیونزم ، گرویدہ ، دستورساز ، اسمبلی ، چیف جسٹس ، حزب ، جمہوری اسلامی ، ساواک۔


حصہّ نظم

پہلا سبق

بچوں کی دُعا

اے خدا علم کی روشنی دے ہمیں زندگی دے ہمیں زندگی دے ہمیں

علم آل پسیبہ کا پیغام ہے جہل باطل پر ستوں کا انجام ہے

علم کی روشنی حاصل دو جہاں جہل کی تیرگی الاماں الاماں

تیری سرکار میں ہاتھ پھیلائے ہیں علم کی بھیک لینے کو ہم آئے ہیں

پیرو آلؐ و قد آں بنا دے ہمیں میرے مالک مسلماں بنا دے ہمیں

تیری مرضی ہے کیا یہ پتہ چاہئے علم کا در نہ پایا تو مر جائیں کہیں

بے نیاز عمل ہو نہ جائیں کہیں صبح ہونے کو ہے سو نہ جائیں کہیں

دود دل اور سوز جگر بخش دے جوہو سجدوں کے قابل وہ سربخش دے

روشنی مکتبوں سے نکلتی رہے

حشر تک شمع تنظیم جلتی رہے


دوسرا سبق

اللہ

کس کی ہے یہ زمین کس کے یہ آسماں ہے کار ساز کون پش پردہ جہاں

ہے کون ماورائے حدودِ زمانیت کس کی بلندیوں کے ہے شایان لامکاں

کس نے بنائے ارض و سما ، ماہ و آفتاب کس کے کرم کا فیض ہے تخلیق انس و جاں

کس کی عطا سے ظلمت شب پردہ پوش ہے پر تو سے کس کے ہوتا ہ ے خو رشید ضوفشاں

تنویر کس نے نور کی ہ ے محفل نجوم تکتی ہے کس کی راہ عنایت کو کہکشاں

موجوں کی نظر نے خاک کو انساں بنا دیا کس کی عطا نے بھر دیئے دامان دو جہاں

کس نے کیا ہے نسیت کی ظلمت کو چاک چاک کس نے بسائیں ہمت کی ہر سمت بستیاں

کس نے بشر کو ناخن ارو اک دے دیا الجھائیں کس نے فطرتِ عالم کی گتھیاں

تا بندگی جبین ملائکہ کو کس نے دی کس نے لیا ہے کس کا نوع بشر کا مزاج داں

دل میں مشال عرش ولا جلوہ گر ہے کون

کس کو تلاش کرتی ہے دنیا یہاں وہاں


تیسرا سبق

ہمارا ترانہ

چشم جہاں سے گو ہے رہبر نہاں ہمارا پھر بھی ہے جادہ پیمانہ کارواں ہمارا

ہے پرچم حسینی ظل ردائے زہراؐ ظل ردائے زہراؐ ہے سائباں ہمارا

ہم مجلس امم میں امت ہیں پنجتنؐ کی پنجہ اسی لئے ہے قومی نشاں ہمارا

پروان ہم چڑھے ہیں سائے میں اس علم کے بچپن سے ہ ے مجاہد ہر نوجواں ہمارا

ہم حق کے ہیں سپاہی کام اپنا حق پناہی پندار بادشاہی لے امتحاں ہمارا

کھائے ہیں برچھیاں ہم ہنس ہنس کے نام حق پر ہر زخم ایک گل تھا رن گستاں ہمارا

عباسؐ کا علم جو پیغام دے رہا ہ ے ہم اس کے تر جماں ہیں وہ ترجموں ہمارا

تشنہ لبوں کی خدمت قومی روایت اپنی مشکیزہ سکینہؐ قومی نشاں ہمارا

ہر سال ماہ غم میں ملتا ہے جوش ایماں ہر سال وقت لیتا ہے امتحاں ہمارا

ٹھنڈے ہیں جنکے سینے وہ آگ سے مانگیں پر سوز مستقبل ہے سینہ تپاں ہمارا

کرتی نہیں ہے رحمت تخصیص ملک و ملت سارے جہاں پہ پرچم ہے ضوفشاں ہمارا

لب پر حسینؐ کے جب آیا تھا نام اس کا اس روز سے وطن ہے ہندوستان ہمارا

دشت عراق و یثرب کیوں نہ پانی پانی گنگا پہ آکے اترے جب کارواں ہمارا

آیا نہ راس جس کو آب فرات و دجلہ گنگ و جمن نے سینچا وہ گلستاں ہمارا

کیو نکر نہ اپنی کشتی پہنچے گی تابہ کوثر

عباسؐ کا علم ہے جب باوباں ہمارا


چوتھا سبق

حضرت محمد مصطفےٰ

وہ محمدؐ بشریت یہ ہے احساں جس کا دہر پر سائیہ رحمت ہوا داماں جس کا

وقف احساں رہا کل عالم امکاں جس کا مذہب عقل بنا مسلک عرفاں جس کا

عشق نے جس سے مقامِ عرفا کو پایا

جس کی مقبول عبادت نے خدا کو پایا

جس سے پہلے عملاً قید محن تھا مذہب ایک زنبیل روایات کہن تھا مذہب

ذہن افسردہ انساں کی تھکن تھا مذہب زندگی لاش تھی اور اس کا کفن تھا مذہب

ترک دنیا تھا بزرگی کی سند دنیا میں

کھد رہی تھی بشریت کی لحد دنیا میں

اپنے فرسودہ عقائد پہ اڑی تھیں قومیں اپنی تہذیبوؓ کے بلوں میں گڑی تھیں قومیں

پھینک کر بوجھ سر راہ پڑی تھیں قومیں یعنی تشکیک کی منزل میں کھڑی تھیں قومیں

کہ اٹھی قافلہ سالار جہاں کی آواز

گونجی یثرب کے پہاڑوں میں اذاں کی آواز

دیکھتے دیکھتے انساں کی طبیعت بدلی خاک کسیر ہوئی آگ کی فطرت بدلی

دل بدلنا تھے کہ ترکیب حکومت بدلی انقلاب آ گیا تاریخ سیاست بدلی

جذبہ نو جو اٹھا وقت کے دھار کی طرح

تخت سیلاب بہنے لگے تختے کی طرح


پانچواں سبق

علیؐ

وجہ بقائے و سما ہے علی کی ذات اعلان فتح دین خدا ہے علی کی ذات

ہر دردِ لادوا کی دوا ہے علی کی ذات صدیوں جو کی گئی وہ دعا ہے علی کی ذات

ہمسر کہاں ملے گا کوئی بو تراب کا

یہ ذات معجزہ ہے رسالت مآب کا

پیدا ہوئے تو کعبہ کی بنیاد بن گئے پہلے ہی جبرئیل کے استاد بن گئے

نکلے پئے جہاد تو فولاد بن گئے ہو کر جواں رسول کے داماد بن گئے

معنی کہیں بنے کہیں تحریر بن گئے

قرآن بن گئے کہیں تفسیر بن گئے

فاقوں سے جس نے توڑی ہے دولت کی بربری بخشا ہے بے زروں کو دماغ ابوذری

کرتے تھے ان کے درپہ فرشتے گداگری خیرات اس کے پاؤں کی تاج سکندری

پیاسوں کو جس نے موجئہ کوثر عطا کیا

قطرے کا تھا سوال سمندر عطا کیا

اک بتکدے کو خانہ یزداں بنا دیا مٹی پہ کی نگاہ تو ساں بنا دیا

عزم و عمل سے عقل کو حیراں بنا دیا اک بے زباں کتاب کو قرآن بنا دیا

دنیا کو لا جواب بناتا چلا گیا

ذروں کو آفتاب بناتا چلا گیا


چھٹا سبق

علیؐ کا نام لو

کام کے دو ہاتھ پائے ہیں تو ان سے کام لو حق کا دامن اور باطل کا گریباں تھام لو

خوف دنیا ، شکوہٰ تقدیر ، پستی میں قیام ہے یہی جینا تو پھر جینے کا کیوں الزام لو

نام ہے اسلام میں باطل سے لڑنے کا جہاد یہ کہاں لکھا ہے اپنوں کا گریباں تھام لو

زندگی کے ق افلے کہنے سے یہ رکتے نہیں ہم بھی چلتے ہیں ٹھہر جاؤ ذرا آرام لو

جیسی نسبت دے رہے ہو کچھ تو ہو ویسا عمل نام کو بدنام کرنے کے لئے کیوں نام لو

آ رہی ہے صاف یہ بازارِ محشر سے صدا جیسا سودا لے کے آئے ویسے ہم سے دام لو

الفت آلِ نبیؐ کے ساتھ میں اسلام لو جام لینے آئے ہو تو کیاں شکستہ جام لو

اہلبیتؐ مصطفےؐ ک ے در سے کیا ملتا نہیں روشنی لو ، عزم لو، ایمان لو ، اسلام لو

دست اہلبیتؐ سے کردار اہلبیتؐ سے جو رسول پاکؐ لائے تھے وہی اسلام لو

وہ محمدؐ جن پہ سارے گلشن جنت نثار ہو سکے تو کر کے کوثر سے وضو یہ نام لو

منزل حیدرؐ سمجھ لینا کوؐی آساں نہیں عقل سے سجدے کرو دل سے نظر کا نام لو

ہر مصیبت دور ہوگی حکم سے اللہ کے جب کوئی مشکل نظر آئے علیؐ کا نام لو

فیصلہ احمدؐ پہ چھوڑ و منصب حق کے لئے

نام لیں جس کا محمدؐ تم بھی اس کا نام لو


ساتواں سبق

صبح کی نماز

صف میں ہوا جو نعرہ قد قامت الصلوٰۃ قائم ہوئی نماز اٹھے شاہ کائنات

وہ نور کی صفیں وہ مصلی ملک صفات قدموں سے جن کے ملتی تھی آنکھیں رہ نجات

جلوہ تھا تابہ عرش معلےٰ حسینؐ کا

مصحف کی لوح کہ مصلے ٰ حسینؐ کا

قرآن کھلا ہوا کہ جماعت کی تھی نماز بسم اللہ جیسے آگے ہو یوں تھے شہ جحاز

سطریں تھیں ہا صفیں عقب شاہ سرفراز کرتی تھی خود نماز بھی جن کی ادا پہ ناز

صدقے سحر بیاض پہ بین السطور کی

سب آیتیں تھیں مصحف ناطق کے نور کی

باہر مبکروں کی صدائیں وہ دل پسند کرو بیان عرش تھے سب جن سے بہرمند

ایمان کا نور چہروں پہ تھا چاند سے دو چند خوف خدا سے کانپتے تھے سب کے بند بند

خم گردنیں تھیں سب کی خضوع و خشوع میں

سجدے میں چاند تھے مہ نو تھے رکوع میں

اک صف میں سب محمدؐ و حیدر کے رشتہ دار اٹھارہ نوجواں ہیں اگر کیجئے شمار

پر سب وحید عصر و حق آگاہ و خاکسار پیرو امامؐ پاک کے ، دانائے روزگار

تسبیح ہر طرف یہ افلاک انھیں کی ہے

جس پر درود پڑھتے یہ خاک انھیں کی ہے


آٹھواں سبق

جناب زینبؐ

سلام وصمتِ زہراؐ کی ورثہ دار سلام سلام جرائتِ حیدر کی یادگار سلام

سلام سبطِ نبیؐ کی شریککار سلام سلام مملکت غم کی تاجدار سلام

وقار مریمؐ و حوّا سلام ہو تجھ پر

سلام ثانی زہراؐ سلام ہو تجھ پر

جگر پہ اکبرؐ و اصغرؐ کے داغ اٹھائے ہوئے ضعیف جسم پہ دُرّوں کے زخم کھائے ہوئے

گرانی رسن و طوق آزمائے ہوئے جو درد دل میں تھا اس کو دوا بنائے ہوئے

سوئے دمشق چلی حق کی روشنی لے کر

جو مر چکے ہیں خود ان کی بھی زندگی لے کر

قدم قدم پہ مقاصد کی عظمتوں کا خیال نفس نفس میں بھتھیجے کی زندگی کا سوال

ردا چھینی تو بڑھا اور غفلتوں کا خیال کھلے جو بال ےو نکھرا حسینیت کا جمال

نصیب فتح شہ مشرقین بن کے اٹھی

نہ تھے حسینؐ تو زینب حسینؐ بن کے اٹھی

دلوں پہ ثانی زہراؐ یہ تیرا احسان ہے عطا کیا ہے وہ ّآنسو جو روح ایماں ہے

دیا وہ درد جو ہر درد دل کا درماں ہے ملا وہ زخم انسانیت کا عنواں ہے

یہ کس زباں سے کہوں میرے دل کی دولت ہے

غم حسین ؐ تری دی ہوئی امانت ہے


نواں سبق

کربلا

اہل دل سے کہہ رہی ہے یہ مورخ کی زباں بعد پیغمبرؐ ہوئی تھیں کس طرح سر گوشیاں

چھا گیا تھا ہر طرف کس طرح دولت کا دھواں کیا دبے پاؤں چلے تھے ساز شوں کے کارواں

اب بھی ان مواج میں ڈوبی پڑی ہے کربلا

ہاں ابھیں کی ایک تاریخی کڑی ہے کربلا

کربلا میں ، امر حق کی برتری سے جنگ تھی طاقت نان وشعیر حیدری سے جنگ تھی

عظمتِ دیرینہ پیغمبری سے جنگ تھی جس کا قرآ٘ن میں ہے ذکر اس داوری سے جنگ تھی

کب نفاق ارباب حق سے برسر پیکار تھا

وہ خدا پر آخری لات و مُبل کا وار تھا

کفر نے کاٹا نہیں تھا مصحف ناطق کا سر اصل میں قرآن کو پھینکا گیا تھا پھاڑ کر

حملہ آور ابن حیدرؐ پر نہ تھے ارباب شر ضرب تھی وہ اصل میں اسلام کی بنیاد پر

چند جانبازوں کے جانب رخ نہ تھا آفات کا

دن یہ وہ دراصل دھاوا تھا اندھیری رات کا


دسواں سبق

انقلاب زمانہ

حیوانیت اٹھی ہے تمدّن کے نام پر بے دینی آ گئی ہے تدین کے نام پر

اعمال نیک کرنے کا اب شوق ہی نہیں کیا کیجئے دین کا جب ذوق ہی نہیں

ہر سو نماز روزے کا اڑتا ہے مضحکہ برپا ہے دین و عقل کی دنیا میں تہلکہ

خمس و زکوٰۃ و حج کی طرف دھیان ہی نہیں مذہب کی بات سننے کو اب کان ہی نہیں

چہروں پہ نور ، ہاتھوں میں قرآن نہیں رہا جیسے کہ کوئی صاحب ایماں نہیں رہا

اقدار مذہبی کا پرستار کہہ نہ دے دل میں یہ خوف ہے کوئی دیندار کہہ نہ دے

ہر سو حیا و شرم کا خیمہ اکھٹ گیا پردہ تو سچ ہےعقل پہ مردوں کی پڑ گیا

ہونے کو ہے غروب شرافت کا آفتاب ارباب عقل و ہوش کی مٹی ہوئی خراب

باطل تو ہے کمال پہ حق کو زوال ہے ہے آشکار تجھ پہ جو لوگوں کا حال ہے

آباد میکدے ہیں تو ویران مسجدیں بلکہ ہیں مے فروشی کی دوکان مسجدیں

دعوےٰ یہ ہے کہ شیعہ حیدرؐ ہمیں تو ہیں رہر و براہ بوذرؐ و قنبرؐ ہمیں ہیں

لیکن ثبوت کے لئے گر جا سپہ نیئے عمل دعوےکےکارخانہ میں آ جائے گا خلل

مومن ہوں مومنوں کی مگر شان تو نہیں

اسلام ہو تو ہو مگر ایمان تو نہیں


گیاہرواں سبق

اولاد

دولت کوئی دنیا میں پسر سے نہیں بہتر راحت کوئی آرام جگر سے نہیں بہتر

لذت کوئی پاکیزہ شی سے نہیں بہتر نگہت کوئی بوئے گل تر سے نہیں بہتر

صدموں میں علاج دل مجروح یہی ہے

ریحاں ہے یہی روح یہی روح یہی ہے

یہ وہ ہے عصا پیر جواں رہتا ہے جس سے یہ وہ ہے نگیں نام و شاں رہتا ہے جس سے

وہ شمع ہے پر نور مکاں رہتا ہے جس سے وہ دُو ہے قوی رشتہ جاں رہتا ہے جس سے

کھوتے نہیں یہ مال زر و مال کے بدلے

موتی بھی لٹا دیتے ہیں اس لال کے بدلے

ماں باپ کی آسائش و راحت ہے پسر سے تلخی میں بھی جینے کی حلاوت ہے پسر سے

خوں جسم میں آنکھوں میں بصارت ہے پسر سے ایام ضعیفی میں بھی طاقت ہے پسر سے

آرام جگر تاب و تواں ساتھ ہے اسکے

پھر تا ہے جدھر رشتہ جاں ساتھ ہے اسکے

مالک سے بھرے گھر کے اجڑ جانے کو پوچھو گھر والوں س ے اس تفرقہ پڑ جانے کو پوچھو

ماں باپ سے قسمت کے بگڑ جانے کو پوچھو یعقوبؐ سے یوسفؐ کے بچھڑ جانے کو پوچھو

اللہ دکھائے نہ الم نور تنظیم کا

بہ جاتا ہے آنکھوں سے لہو قلب و جگر کا


ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔

سبق۔ ۱

انجام ۔ تیرگی ۔ پیرو ۔ گرد ۔ در ۔ بےنیاز ۔ سوز ۔ جگر ۔ حشر ۔ شمع ۔ تنظیم

سبق۔ ۲

کارساز ۔ مادرا ۔ حدود ۔ زمانیت ۔ لامکان ۔ تخلیق ۔ ظلمت ۔ پردہپوش ۔ خورشید ۔ ضوفشاں ۔ تنویر ۔ نجوم ۔ کہکشاں ۔ نسیت ۔ ہمت ۔ ناخوناوراک ۔ گتھی ۔ تابندگی ۔ جبین ۔ ملائکہ ۔ عین ۔ نوع بشر ۔ عرش علا ۔ جلوہ گر ۔

سبق۔ ۳

چشم ۔ رہبر ۔ نہاں ۔ جادہ پیما ۔ پرچم ۔ ظل ۔ سائباں ۔ امم ۔ حقپناہی ۔ پندار ۔ ترجماں ۔ پرسوز ۔ تپاں ۔ تحصیص ۔ دشت ۔ راس نہ آنا ۔ گنگ و چمن ۔ بادباں۔

سبق۔ ۴

بشریت ۔ دہر ۔ عالم امکاں ۔ مسلک ۔ عرفاں ۔ عرفا ۔ محسن ۔ زنبیل ۔ روایات ۔ کہن ۔ افسردہ ۔ لحد ۔ فرسودہ ۔ ملبہ ۔ تشکیک ۔ قافلہ سالار ۔ اکسیر ۔ جذبہ نور ۔

سبق۔ ۵

صدیوں ۔ ہمسر ۔ بوتراب ۔ رسالتمآب ۔ فولاد ۔ تحریر ۔ برتری ۔ بےزر ۔ گداگری ۔ خیرات ۔ بتکدہ ۔ یزداں ۔ حیران۔

سبق۔ ۶

گریباں ۔ تقدیر ۔ پستی ۔ محشر ۔ افت ۔ شکتہ ۔ جام ۔ دست ۔ منصب ۔ حق۔

سبق۔ ۷

قد قامت الصلوۃ ۔ کائنات ۔مصحف ۔ لوح ۔مصلےّ ۔سرفراز ۔سحر ۔ بیاض ۔ بین السطور کردبیان ۔ بہرہ مند ۔ دو چند ۔ بند بند ۔ خصوع و خشوع ۔ مہ نو ۔ وحید ۔ عصر ۔ حق آگاہ ۔ خاکسار ۔ دانا ۔ روزگار۔

سبق۔ ۸

ورثہ دار ۔جرائت ۔سبط ۔مملک۔وقار ۔ثانی زہراؐ۔رسن۔طوق۔مقاصد ۔نفس۔نصیب۔روح۔عنوان

سبق۔ ۹

مورخ ۔ سرگوشیاں ۔ سازشوں ۔ امواج ۔ نان ۔ شعیر ۔ دیرینہ ۔ داوری ، ارباب ، پیکار ۔ وار ۔ لذت ۔ ہبل ۔ شر ۔ جانباز ۔ دھاوا ۔

سبق۔ ۱۰

حیوانیت ۔ تدین ۔ ذوق ۔ مضحکہ ۔ تہلکہ ۔ اقدار ۔ پرستار ۔ سو ۔ غروب ۔ زوال ۔ آشکار ۔ میکدے ۔ مے فروشی ۔ خلل۔

سبق۔ ۱۱

شمر ۔ نکہت ۔ مجروح ۔ ریحان ۔ روح ۔ غنچہ ۔ خنداں ۔ رشک ۔ صدر ۔ کاشنہ ۔ جگر بند عصا ۔ پیر ۔ نگین ۔ پرنور ۔ در ، شوکت ۔ ثروت ۔ حشمت ۔ اقبال ۔ سرمایہ ۔ نقد ۔ گوہر ۔ یاقوب ۔ لال ۔ دلبند ۔ آسائش ۔ تلخی ۔ حلاوت ۔ بصارت ۔ تاب وتواں ۔ تفرقہ ۔ الم ۔ لہو ۔ قلب۔


فہرست

ہدایت ۴

پہلا سبق ۵

اسلام ۵

ان الفاظ کے معنی بتاؤ ۔ ۷

سوالات ۷

دوسرا سبق ۸

الٹی گنگا ۸

ان الفاظ کے معنی بتاؤ : ۹

تیسرا سبق ۱۰

ہنس کی چال ۱۰

ان الفاظ کے معنی بتاؤ : ۱۱

چوتھا سبق ۱۲

محنت ۱۲

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :- ۱۳

پانچواں سبق ۱۴

سامان یا اطمینان ۱۴

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔ ۱۵

چھٹا سبق ۱۶

برکت و نحوست ۱۶


ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔ ۱۸

ساتواں سبق ۱۹

چاند کا سفر ۱۹

آٹھواں سبق ۲۱

اللّٰہ والوں کی داستان ۲۱

سوالات ۲۳

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔ ۲۳

نواں سبق ۲۴

حضرت نوح ۲۴

سوالات ۲۵

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔ ۲۵

دسواں سبق ۲۶

جناب ابرائیم ۲۶

سوالات ۲۸

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔ ۲۸

گیارہواں سبق ۲۹

جناب موسیٰ ۲۹

سوالات ۳۱

بارہواں سبق ۳۳

جناب یوسف ۳۳


سوالات ۳۵

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔ ۳۵

تیرہواں سبق ۳۶

حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۳۶

سوالات ۳۸

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔ ۳۸

چودہواں سبق ۳۹

حضرت محمد مصطفےٰ ۳۹

سوالات ۴۲

ان الفاظ کے معنی بتائو : ۴۲

پندرہواں سبق ۴۳

ہماری زبان ۴۳

ان الفاظ کے معنی بتاؤ : ۴۴

سولہواں سبق ۴۵

اسلامی علوم ۴۵

ان الفاظ کے معنی بتاؤ : ۴۷

سترہواں سبق ۴۸

مسلمان حکومتیں ۴۸

افریقہ ۴۹

انڈونیشیا ۵۰


افغانستان ۵۰

ایران ۵۰

اردن ۵۱

بحرین ۵۱

پاکستان ۵۲

ترکی ۵۲

تیونس ۵۲

الجزائر ۵۳

دوبئی ۵۳

زنجبار ۵۳

سعودی عرب ۵۳

مکہ ۵۳

مدینہ ۵۴

سوڈان ۵۵

شام ۵۵

صومالیہ ۵۶

عراق ۵۶

نجف ۵۶

کوفہ ۵۷

کربلا ۵۷


بغداد ۵۷

کاظمین ۵۷

سامرہ ۵۸

مدائن ۵۸

کویت ۵۸

لیبیا ۵۸

لبنان ۵۸

ملیشیا ۵۹

مراقش ۵۹

مصر ۵۹

اٹھارہواں سبق ۶۰

مجاہدوں کی زندگی ۶۰

سعد بن عبادہ ۶۱

حجر بن عدی ۶۱

عمرو بن الحمق خزاعی ۶۲

مالک اشتر ۶۳

محمد بن ابی بکر ۶۴

رشید ہجری ۶۵

ان لفظ کے معنی بتاؤ :۔ ۶۸

انیسواں سبق ۶۹


خطوط نویسی ۶۹

باپ کا خط بیٹے کے نام ۶۹

بیٹے کا خط باپ کے نام ۷۰

استاد کا خط شاگرد کے نام ۷۱

شاگرد کا خط استاد کے نام ۷۱

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔ ۷۲

بیسواں سبق ۷۳

اسلامی انقلاب ۷۳

آقائے خمینی رحمتہ اللہ علیہ ۷۴

آقائے خامنہ ای مدظلہ ۷۶

آقائے باقر الصدر ۷۷

آقائے مرتضیٰ مطہری ۷۸

آقائے بہشتی ۷۹

آقائے محمد جواد باہنر ۷۹

آقائے محمد علی رجائی ۸۰

مولانا سید غلام عسکری تنظیم المکاتب ۸۱

سولات ۸۲

الفاظ کے معنی بتایئے : ۸۳

حصہّ نظم ۸۴

پہلا سبق ۸۴


بچوں کی دُعا ۸۴

دوسرا سبق ۸۵

اللہ ۸۵

تیسرا سبق ۸۶

ہمارا ترانہ ۸۶

چوتھا سبق ۸۷

حضرت محمد مصطفےٰ ۸۷

پانچواں سبق ۸۸

علیؐ ۸۸

چھٹا سبق ۸۹

علیؐ کا نام لو ۸۹

ساتواں سبق ۹۰

صبح کی نماز ۹۰

آٹھواں سبق ۹۱

جناب زینبؐ ۹۱

نواں سبق ۹۲

کربلا ۹۲

دسواں سبق ۹۳

انقلاب زمانہ ۹۳

گیاہرواں سبق ۹۴


اولاد ۹۴

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔ ۹۵