یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


کتاب کانام: وصال امام زمان (عج)

مصنف: سید تقی عباس رضوی قمی کلکتہ


امام زمانہ (عج):

وارث کرامات پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم -----------------------------------------...ا لکرامةا لمحمد یّة

وارث شجاعت امام علی ـ --------------------------------------وَ القُوَّ ةا لمُرتَضْو یّةّة

وارث مکارم امام حسن ـ ---------------------------------------وَ المکارم ا لحَسنیّةّة

وارث عزم امام حسین ـ ----------------------------------------وَ ا لعَزا ئم ا لحُسینیّةّة

وارث عبادت امام سجاد ـ --------------------------------------والعبادةا لسجادیة

وارث علوم امام محمد باقر ـ -----------------------------------وَ ا لعلوم ا لباقریة

وارث امامت امام جعفر صادق ـ -------------------------------وَ الأمامة ا لصادقیّة

وارث اخلاق امام موسی کاظم ـ --------------------------------وَ الأخلاق ا لکاظمیّة

وارث معارف و کمال امام رضا (ع) -------------------------وَ ا لمعارف ا لرّضویّة

وارث سخاوت امام محمد تقی ـ --------------------------------وَ ا لجُود ا لتقویّة

وارث مقامات امام علی نقی ـ ----------------------------------وَ ا لمقامات النقویّة

وارث لشکر امام حسن عسکری (ع) -------------------------وَ ا لعساکر ا لعسکریّة اَ لَّذِ یْ فَاقَ َ

الأنا مَ کَرَامَةً وَ فَضْلاً (٥)

امام زمانہ (عج) وہ ہیں جو اپنے کرامات اور فضائل کے لحاظ سے تمام مخلوقات پر فوقیت رکھتے ہیں لہذا:

اسی سے سلسلۂ صبح و شام قائم ہے

ہمیں بھی ناز ہے اپنا امام (عج) قائم ہے

امام صادق ـنے فرمایا:لو کان حبُّک صادقاً لَاَطَعْتَهُ اِنَّ اَلْمُحِبَّ لِمَنْ یُحِبُّ مُطِیْع (٦)

اگر تمہاری محبت سچی ہوتی تو تم محبوب کی اطاعت کرتے کیونکہ محب اپنے محبوب اور ہر عاشق اپنے معشوق کی رضامندی اور اسکے فرمان کا مطیع ہوتا ہے یہ قول ایک ایسے کا مل انسان کاہے جس نے اپنی زندگی کاایک ایک لمحہ اپنے محبوب کی رضامیں صرف کیا اورجاتے جاتے دنیا کو ایسا پیغام دیا جسے قیامت تک دنیا بھلا نہیں سکتی اور ساتھ ساتھ اپنے محبوں کو شہادت سے پہلے یہ سمجھاگئے کہ دیکھو: "کُوْنُوْا لَنَا زَیْنَا وَلٰاتَکُوْنُوا عَلَیْنَا شَیْناً "(٧) تم ہمارے لئے باعث زینت اور باعث فخر بننا، ننگ و عار کا باعث نہ بننا۔ لیکن ہم جب اپنی قوم کے حالات پر نظر ڈالیں تو یہ صاف دیکھنے کو ملتا ہے کہ دریائے نیل سا موجیں مارتا ہوا آج کا ہمارا معاشرہ اور اس کے بے بہرہ لوگ بجائے ترقی کے تنزلی کی راہ پر گامزن ہیں ،واقعا ًکتنے نادان اور بے فہم ہیں لوگ!! ایک طرف یہ دعویٰ بھی ہے کہ ":اِنِّیْ سِلْم لِمَنْ سَالَمَکُمْ وَ حَرََب لِمَنْ حٰارَبَکُم ْ "(٨) اور دوسری طرف دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ بدلتے ہوئے زمانے کے ساتھ ہم ایسے بدل گئے ہیں کہ ہمارا یہ دعویٰ اب دعویٰ نہیں بلکہ ایک فریب ہے کیوں !!

اس لئے کہ آج ہم جس پر آشوب زمانے میں زندگی کے مراحل طے کررہے ہیں نہ تو اس زمانے میں مولائے کائنات ـ کی امامت ہے نہ ہی امام حسن اور امام حسین کی امامت بلکہ اگر چہ ہمارے سارے امام معصوم ـ ہیں ، اور سب مساوی طور پر لائق صداحتر ام ہیں لیکن اس وقت حقیقت میں دیکھا جائے تو ہمارا سب سے گہرا رشتہ اس امام سے ہے جس کی امامت میں ہم زندگی بسر کررہے ہیں جس کے وجود بابرکت سے کائنات کانظام باقی ہے، ہماری ایک ایک سانس اسی کی رہین منت ہے ،ہم شیعیان حیدر کرار آج جہاں بھی جس جگہ بھی اس کائنات کے کسی گوشے میں صحیح و سالم ہیں تو یہ اسی کے وجود بابرکت کی دین ہے ۔ امام زمانہ اپنے خط میں فرماتے ہیں کہ :

"اِ نَّا غَیْرُ مُهْمِلِیْنَ لِمُرَاعَاتِکُمْ وَلا نَاسِیْنَ لِذِکْرِکُمْ وَلَوْلا ذٰلِکَ لنُزّلَِ بِکُم الأوائُ واصْطَلَمَکُم الأَعْدائُ" (٩)

ہم تمہاری حفاظت میں کوتاہی نہیں کرتے اور نہ ہی تمہاری یاد سے غافل ہوتے ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو مشکلات تم پر ٹوٹ پڑتیں اور دشمن تمہیں کچل ڈالتے۔ غوروفکر کامقام ہے کہ جس قوم کا ایسا ہادی او ررہبر ہو جو غیبت میں رہنے کے باوجود ان کی نگہداری او رحفاظت کرے،وہ اپنے ہادی و رہبر سے غافل!!!

لیکن سچ تو یہ ہے کہ غیبت، خداکی ایک مصلحت ہے ورنہ کریم ابن کریم ہمیشہ ہم لوگوں کے درمیان ہیں اور یہ توہمارے ناشائستہ اعمال نے ہمارے اور ان کے درمیان پردہ ڈا ل دیا ہے ، ہم ایسے بدکردار ہیں کہ امام ـکے اس قول کے برعکس سبب زینت بننے کے بجائے باعث ذلت بن گئے ہیں ۔

ہمیں تو اپنے معاشرہ سے لیکر دنیا کے گوشہ گوشہ میں ایک ہی دستور اور ایک ہی رسم دیکھنے کو ملی کہ عاشق انپے معشوق کے وصال کی خاطر اپنی جان ، ،دولت وحکومت،اپنا قیمتی وقت اوراپنا ایک ایک لمحہ اس پر نچھاور کردیتا ہے ۔

لیکن ہم ہیں کہ اپنے محبوب کے دیدار کی خواہش تک نہیں کرتے وصال محبوب تو دور کی بات ہے نہ جانے ہم پر کیسی غفلت طاری ہے کہ ہم ظلمتوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں غرق ہوتے چلے جارہے ہیں ۔

ہمارا محبوب اپنے عاشق کے وصال کے لئے ہمیشہ بے قرار ہے اس لئے ہمیں یہ چاہئے کہ اپنے اعمال وکردار کی اصلاح کریں تاکہ ہمارے ناشائستہ اعمال و بدکردار ی ہماری شخصی زندگی میں رکاوٹ نہ بنیں اور جب آنے والا آئے تو ہمیں دیکھ کر فخر کرے کہ واقعا ًیہ ہمارے عاشق ہیں اور یہی ہمارے شیعہ بھی ہیں ۔

ہمارا یہ فریضہ ہے کہ روزانہ کم از کم ایک دفعہ خلوص دل سے امام (عج)کے ظہور کی دعا کریں ۔

ہمیں روزانہ کم از کم ایک مرتبہ تو صمیم قلب سے امام (عج)کی خدمت اقدس میں سلام بھیجنا چاہئے ہمیں روزانہ امام (عج)کی سلامتی کے لئے صدقہ دینا چاہیئے اور بارگاہ رب العزت میں اپنے ہاتھوں کو بلند کرکے دعا ء کرنا چاہیئے کہ اے پالنے والے منجی عالم بشریت ،یوسف زہرا کے ظہور میں تعجیل فرمااور ہمیں انکے اعوان وا نصار میں قرار دے۔

آمین

____________________

(١) سورۂ مائدہ٣٥

(٢) غرر الحکم جلد ١صفحہ ١٠٨

(٣) اصول کافی جلد٢ صفحہ٣٠٠

(٤) بحار الانوار جلد ٧٨ صفحہ ١٨٣

(٥) وسیلة الخادم الی المخدوم (شرح صلوات چہاردہ معصوم صفحہ ٢٧٨(

(٦) وسائل الشیعہ ج١٥/ص٣٠٨ (باب وجوب اجتناب معاصی(، امالی شیخ صدوق ص٤٨٩، روضة الواعظین ج٢/ص٤١٨، بحار الانوار ج٦٧/ص١٥، بحار الانوار ج٤٧/ص٢٤، فلاح السائل ص١٥٨، المناقب ج٤،ص٢٧٥

(٧) وسائل الشیعہ ج١٢/ص٨، بحار الانوار ج٦٥/ص١٥١، بحار الانوار ج ٦٨/ص٢٨٦، اعلام الدین ص١٤٣، امالی شیخ صدوق ص٤٠٠، امالی شیخ طوسی ص ٤٠٠

(٨) زیارت جامعہ (مصباح الکفعمی ص٥٠٥( ، زیارت عاشورا (مصباح المتھجد ص٧٧٤ (

(٩) الاحتجاج ج٢/ص٤٩٥، بحار الانوار ج ٥٣/ص٢٧٤، الخرائج ج٢/٩٠٢


امام عصر (عج) کاوجود مبارک اور علماء اہل سنت

عالم اسلام کے تمام فرقے اس بات پر متفق ہیں کہ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارہویں جانشین جنہیں دنیا حضرت مہدی (عج)کے نام سے جانتی ہے وہی قائم و منتظر ہیں جنکے ظہور کے بعد دنیا میں عدل و انصاف کا پرچم لہرائے گا اور باطل نیست و نابود ہو جائے گا

مشہور سنی عالم علامہ ابن حجر مکی نے یوں بیان کیا ہے : امام عصر کی عمر مبارک آپکے والد امام حسن عسکری ـ کے انتقال کے وقت پانچ سال تھی لیکن اس عمر میں خدا وند متعال نے حضرت کو کمال، علم اورحکمت کا سرچشمہ بنا دیا تھا آپکا نام قائم اور منتظر بھی ہے آپ پوشیدہ ہو گئے او ر معلوم نہ ہو سکا کہ کہاں تشریف لے گئے شیعوں کے قول کے مطابق آپ ہی مھدی موعود (عج) ہیں ۔(۱)

علامہ محمد ابن طلحہ شافعی نے لکھا ہے : حضرت امام حسن عسکری (ع)کے خدا داد شرف کے لئے یہ بات کافی ہے کہ خدا وند عالم نے امام مہدی (عج)کو انکے نسب میں رکھا اور انکے صلب سے پیدا کرکے انکی اولاد میں سے قرار دیا ۔(۲)

علامہ ابن خلقان نے لکھا ہے کہ: شیعوں کے اعتقاد کے مطابق آپ ہی بارہ اماموں میں سے بارہویں بزرگ ہیں اور آپ ہی حجت کے لقب سے مشہور ہیں شیعہ حضرات انکے ظہور کے منتظر ہیں ۔(۳)

علامہ سبط ابن الجوزی نے لکھا ہے کہ: آپ کی کنیت ابو عبداللہ و ابوالقاسم ہے اور آپ کے القاب الخلف الحجة ، صاحب الزمان ، القائم المنتظراور الباقی ہیں ۔(۴)

علامہ قطب ربانی شیخ عبد الوہاب شعرانی بیان کرتے ہیں کہ: امام مہدی آخرالزمان حضرت امام حسن عسکری ـکے فرزند ہیں جو کہ پندرہ شعبان المعظم ٢٥٥ھ میں متولد ہوئے اور وہ قائم رہیں گے یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ ـسے ملاقات کریں گے۔(۵)

علامہ شیخ سلیمان قندوزی نے لکھا ہے کہ: شیخ محدث فقیہ ابو عبد اللہ محمد ابن یوسف ابن محمد کنجی شافعی اپنی کتاب البیان فی اخبار صاحب الزمان میں بیان کرتے ہیں کہ امام مہدی (عج) خلف امام حسن عسکری ـاپنے زمانہ غیبت سے اب تک زندہ اور موجود ہیں ۔(۶)

علامہ ابن صبا غ ما لکی نے لکھا ہے کہ: گیارہویں امام ـکے سوائے ایک فرزند محمد الحجةالمہدی کے اور کو ئی فرزند نہیں تھاحضرت اپنے پدر بزرگوار کی رحلت کے وقت پانچ برس کے تھے اور خدا وند متعال نے آپکو حکمت کا معدن قرار دیا تھا آپ حضرت یحییٰ ـ پیغمبر کی طرح عہد طفلی ہی میں درجۂ امامت پر فائز ہو ئے حضرت عیسیٰ ـ کی طرح ہیں جنھوں نے بچپنے میں گہوارہ کے اندر مقام نبوت کو حاصل کر لیا تھا، وضاحت کے ساتھ یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ تمام پیغمبروں اور پیشواؤں اور بالخصوص پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے صاحب السیف القائم اور العبد الصالح فرماکر آپکی توصیف فرمائی ہے۔(۷)

شارح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید معتزلی:نے امام علی بن ابی طالب ـکے اس کلام کی تشریح کرتے ہوئے بیان کیا کہ آنحضرت ـ جو یہ فرمایاہے: (بنا یختم لا بکم (یہ قول امام مہدی (عج)کی طرف اشارہ ہے جو آخری زمانے میں ظہور کریں گے ۔ اور اکثر محدثوں اور بزرگوں کا نظریہ ہے کہ وہ اولاد جناب فاطمہ زہرا میں سے ہیں اور اسے معتزلہ اور اسکے پیروکاروں نے نے بھی قبول کیا اور اپنی کتابوں میں لکھا ہے اور اسے صریحا ً بیان بھی کیا ہے اور ہمارے اساتید اور بزرگوں نے بھی اسے قبول کیا ہے ۔(۸)

سچ تو یہ ہے کہ خالق ارض وسما نے ایک لمحہ کے لئے بھی اس کائنات کو اپنی حجت یعنی امام و خلیفہ سے خالی نہیں رکھاہے کیوں کہ اگر ایسا ہو گیا تو دنیا کا نظام درہم وبرہم ہو جائیگا جیسا کہ اس بات کی وضاحت امام جعفر صادق (ع) کی یہ حدیث کر رہی ہے کہ :

لَوْ بَقِیَتِ الْاَرْضُ بِغَیْرِامامٍ لَسَا خَتْ ۔

اگر زمین حجت خدا سے خالی ہو گئی تو فنا ہو جائیگی ۔(۹)

اسکے علاوہ خود امام زمانہ ایک توقیع میں فرماتے ہیں کہ :

اِنّ الارْضَ لا تَخْلُو مِنْ حُجّةٍ ا مّاظاهراًوَامّامَغْمُوراً

آپ (عج) نے فرمایا : زمین کبھی بھی حجت خدا سے نہ خالی تھی اور نہ رہے گی چاہے اسکی حجت ظاہر ہو یا پنہان(۱۰)

بحر نور کے چند قطرات

١( رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :دنیا ختم نہیں ہوگی مگر یہ کہ ایک شخص میرے اہلبیت میں سے (مہدی (عج)( میری امت پر حکومت نہ کر لے ۔(۱۱)

٢( رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : میرے بعد میری نسل سے بارہ نجیب و شریف صاحب حدیث اور علم آئیں گے ان میں سے آخری حق کو قائم کرنے والا ہوگا اور وہ دنیا کو اس طرح عدل سے بھر دے گا جس طرح ظلم سے بھری ہوگی۔(۱۲)

٣(امام سجاد ـنے فرمایا : اے ہمارے شیعو!جنت تمہارے ہی لئے ہے چاہے تمھیں جلدی ملے یا دیر سے مگر تمھیں ہی ملنی ہے لیکن اسکے درجات کو حاصل کرنے کی

کو ششیں کرو ۔(۱۳)

٤(امام جعفر صادق ـنے فرمایا : تم میں سے ہر ایک کے لئے ضروری ہے کہ امام عصر ـکے ظہور کے لیے زمینہ فراہم کرے چاہے ایک تیرہی سہی چونکہ خداوند عالم اس کی نیت کے خلوص کو دیکھتے ہوئے اسکی عمر اتنی طولانی کردیگا کہ اسے امام ـ اپنے اعوان و انصار میں ظہور کے وقت شامل کرلیں ۔(۱۴)

٥(امام جعفر صادق ـنے فرمایا : ہمارے شیعوں کی پہچان اول وقت نماز کے کی پابندی سے ہے(۱۵)

٦(امام رضا ـنے اپنے جد بزرگوار سے نقل کیا ہے کہ:میری امت کا بہترین عمل ظہور امام کا انتظار ہے۔(۱۶)

٧( اما م حسن عسکری ـنے فرمایا: میرے بیٹے کے ظہورکاوقت معین کرنے والے جھوٹے ہیں اور دوسری جگہ فرمایا میرا فرزند میرے بعد امام اور حجت ہے اسکی معرفت کے بغیر موت جاہلیت کی موت ہے(۱۷)

٨(امام عصر ـنے فرما یا :ملعونُ ملعونُ مَنْ اخَّرَ الْغدٰاةَ اِلی انْ تَنْقَضی النْجُوُم ۔ملعون ہے ملعون ہے وہ شخص جونماز میں اتنی تاخیر کرے کہ تارے نظرآنے لگیں اور ملعون ہے وہ شخص جو نماز( مغرب (میں اتنی تاخیر کرے جبکہ تمام ستارے غائب ہوجائیں ۔(۱۸)

٩(امام عصر نے فرما یا:

اناخاتَمُ الاوصیائِ و بی َیدْفَعُ الله ُ عزَّ وَ جلَّ البلاٰئَ عَنْ اهلی و شیعتی

میں آخری جانشین و وصی ہوں خدا وند عالم ہماری وجہ سے ہماری پیروی کرنے والوں اورہمارے شیعوں سے بلاؤں کو دور رکھتا ہے۔(۱۹)

١٠( امام ـنے فرمایا : لَیسَ بَیْنَ اللہِ عزَّوَجلَّ وَ بَےْنَ اَحَدٍقِرابَة وَمَنْ اَنْکَرَنیِ فَلَیْسَ مِنّی وَ سَبِیْلُہُ سَبیْلُ ابنِ نوُحٍ۔

امام ـ نے فرمایا:خداوندعز وجل سے نہ کسی کی رشتہ داری ہے اور نہ ہی قرابت داری؛جو بھی میرا انکار کرے وہ مجھ سے نہیں ہے اسکی راہ پسر نوح ـ کی راہ ہے(۲۰)

ہمارا ایک اہم وظیفہ یہ ہے کہ ہم اپنے آئمۂ معصومین کو اس طرح پہچانیں جسطرح پہچاننے کاحق ہے اور وہ جیسے ہیں انھیں ویسا ہی جانیں نا یہ کہ صرف اور صرف انکی پیروی اور محبت کا جھوٹا اور زبانی دعوی ہو چونکہ ہمیں اس منزل پر امام علی (ع) کی وہ حدیث یاد آرہی ہے جسمیں آپ ـ نے فرمایا ؛میرے بارے میں دو طرح کے لو گ ہلاک ہو جائیں گے !حد سے آگے بڑھ جانے والا دوست اور غلط بیانی اور افترا پر دازی کرنے والا دشمن ۔(۲۱)

امام عصر نے ایک خط جناب شیخ مفید کے پاس ارسال کیا تھا اس میں آپ ـ نے فرمایا: میرے شیعوں کو چاہیے کہ ایسا کام کریں کہ لوگ انکے عمل و کردار کو دیکھ کر ہم سے نزدیک ہوں اور اہل بیت اطہار سے محبت کریں ایسا نہ ہو کہ ہم سے نزدیک

ہو نے کے بجائے ا ن کے عمل و کردار اور گفتار کی وجہ سے ہم سے کنارہ کشی اختیار کرنے لگیں اور ہماری محبت سے اجتناب کریں !لہذا اس بات پر غورو فکر ہر فرد شیعہ پر ضروری اور واجب ہے ۔

اس امر کی طرف چھٹے امام حضرت جعفر صادق ـنے بھی اشارہ کیا ہے آپ ـنے فرمایا :میرے شیعوں ! میرے لئے باعث زینت بننا ذلت و عار کا باعث نہ بننا! اس کا سبب یہ ہے کہ اہل بیت رسول کا سراپا وجود دنیاکے لئے اسوہ حسنہ اور نمونۂ عمل ہے اگر انکی پیروی کرنے والے بد کردار اور بد چلن ہوں گے تو دوسری قوم و ملت کے لوگ اہل بیت سے نزدیک ہونے کے بجائے ان سے دوری اختیار کریں گے ۔

امام محمد باقر ـنے یہ واضح کیا ہے کہ اگر کو ئی ہمارے شیعوں کوپہچاننا چاہے تو ان کی پہچان یہ ہے کہ وہ سب خدا کی اطاعت کرتے ہیں ۔(۲۲)

یا امام جعفر صادق ـ کی اس حدیث کوملاحظہ کریں جسمیں آپ ـ نے اور واضح طور پر بیان کردیا ہے کہ ہمارے شیعہ :اہل رکوع و سجود اور سعی کرنے والے ہیں ان کے اندر امانت داری اور وفاداری پائی جاتی ہے وہ ایسے زاہد اور عابد ہیں کہ شبانہ روز میں ٥١ رکعت نماز اداکرتے ہیں اور راتوں کو بیدار اور دنوں کو روزہ رکھنے والے ہیں نیزاپنے اموال سے زکات اداکرنے والے ہیں ، ساتھ ہی ساتھ وہ سب خانۂ خدا کا حج اور حرام خدا سے اجتنا ب کرنے والے ہیں ۔(۲۳)

دوسری جگہ آپ ـنے فرمایا:اگر کو ئی صرف زبانی دعوی کرے کہ ہم ہی اہل بیت کے حقیقی شیعہ ہیں لیکن عمل کے میدان میں ہمارے فرمان کی مخالفت کررہا ہو تو وہ ہم میں سے نہیں ہے گویا امام ـ یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ !ہمارے اصل شیعہ وہ ہیں جو زبانی دعوی کے ساتھ ساتھ ہمارے نقش قدم پر چل رہے ہوں ۔(۲۴)

نور کی ولادت

آسمان ولایت کا آخری سورج شہر سامرا کے اس وحشتناک ماحول میں جاسوسوں او ر حکومت عباسی کے چاپلوسوں کی آنکھوں سے دورصبح جمعہ ٢٥٥ھ کو امام حسن عسکری ـ کے گھر میں طلوع ہوا(۲۵) اس نے اپنی ولادت کے چند لمحہ بعد خدا کی و حدانیت ا ور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نبوت کی گواہی دی اور ساتویں دن اپنے والد کی آغوش میں اس آیة شریفہ کی تلاوت کی:

( وَ نُر یدُأَنْ نَمُنَّ عَلٰی الَّذینَ اسْتُضعِفُوا فی الْاَرضِ وَنَجْعَلَهُم اَئِمَّةً وَ نَجْعَلَهُمْ الْوارِثینَ ) (۲۶)

پیغمبر کی وصیّت و بشارت اور احادیث کے مطابق انکا نام(محمد ( عج) رکّھا گیا تاکہ صرف چہرہ پر نورہی سے ہی نہیں جو رسول اللہ سے سب سے زیادہ شباہت رکھتا ہے بلکہ نام اور کردار سے بھی آخری پیغمبر الہیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یاد باقی رہے اور تمام جہات سے اپنے جد خاتم انبیاء کا آئینہ ہو ۔ اسی وجہ سے آپ کی کنیّت بھی ابوالقاسم رکھی گئی اگر چہ بعض دوسری مناسبتوں کی وجہ سے آپ کی کنیّت ابو جعفر ، ابوعبداللہ،اور ابوصالح ہے۔

امام زمانہ کے مشہور ترین القاب مہدی ،قائم ،منتظر صاحب العصر ،صاحب الامر ، صاحب الزمان،بقیّةاللّٰہ ، حجة اللہ ، منصور، خلف الصالح، موعود ، ہیں جوکہ حدیث، دعا اور تاریخ کی کتابوں میں ذکر ہوئے ہیں ۔

آپ کے فضیلت مآب پدر گرامی ـ

امام عصر کے والدماجدحضرت ابو محمد امام حسن عسکری ـ ہیں جنہوں نے اپنی بابرکت زندگی کی دو دہایوں میں سوائے تلخی اور سختی کے کچھ نہیں دیکھا اور حکومت عبّاسی کے خلاف آشکاریا مخفی طریقہ سے جہاد کرنے کے باعث ہمیشہ قید یا سخت پہرے میں رہے۔

آپ ـ کی با عزت عمر کے تیسویں سال میں آپ کے اپنے پہلے اور آخری فرزند کی ولادت ہوئی اس وقت آپ نے خدا کے حتمی وعدے کو پور ا ہوتے دیکھ کر شادمانی کے عالم میں اپنے اصحاب سے یوں فرمایا: ستمگروں نے سوچا تھا کہ مجھے قتل کردیں تا کہ یہ نسل منقطع ہوجائے ،لیکن انھوں نے قدرت خدا کو کیاپایا۔(۲۷)

امام مھدی (عج)کی ولادت کے بعد امام حسن عسکری ـکی زندگی کیحسّاس ترین دور کا آغاز ہوگیاآپ نے تمام سختیوں اور جاسوسوں کے دبائو کے با وجود نہایت عقلمندی کے ساتھ بہترین راستے کے ذریعے اور اپنے امانت دار اصحاب کی مدد سے تمام شیعیان اہل بیت کو حضرت قائم (عج)کی ولادت سے با خبر کیا اور مختلف مناسبتوں میں امام کے چہرہ انورکو پہچنوایا۔

امام زمانہ (عج) کی والدہ گرامی

امام زمانہ کی والدہ گرامی روم کے دو عظیم اور معروف خاندان سے تھیں آپ قیصر روم کے بیٹے(یشوع(کی صاحبزادی تھیں اور آپکی والدہ بھی حضرت عیسیٰ کے وصی حضرت شمعون کی اولاد میں سے تھیں ۔

آپ کی امام حسن عسکری ـ سے شادی ایک حیرت انگیز واقعہ ہے جب قیصر کے خاندان کی ایک بزرگ شخصیت کے بیٹے سے آپکی شادی کے مراسم انجام نہ پاسکے توآپ نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خواب میں دیکھا او ر اسلام قبول کر نے کا افتخارحاصل کیا اور ایک جنگ میں رومی اسیروں کے ساتھ آپ عبّاسی حکومت کے مرکز بغداد پہنچیں وہاں امام ہادی ـکے حکم سے آپ بشر بن سلیمان کے ذریعے خریدی گئیں اور پھرامام ہیکے گھر میں آپ کے فرزند ارجمندامام حسن عسکری ـ کے ساتھ آپکا نکاح ہوا ۔

آپکا نام نرجس، سوسن، ریحانہ، اور صقیل ،ذکر کیا گیاہے(۲۸) عفّت، ایمان ، پاکیزگی ، نیک اخلاق، اور حسنِ رفتار کی ایسی مالک تھیں کہ ''حکیمہ خاتون ''امام کی بیٹی ،امام کی بہن اورامام کی پھوپھی ہونے کے باوجود آپ کا احترام کرتی تھیں ۔

امام ہادی ـنے ہمیشہ انہیں اچھے القاب سے یاد کیا ۔ اس سے بڑھ کر امام علی ـ امام صادق ،اور اما م محمد تقی نے آپکوخِیَرَةْ الْأِمائِ (کنیزوں میں سے چنی ہوئی(اور َسیدَِةُالاِْمائ ِ (کنیزوں کی سردار ( سے یاد کیا ہے۔

امام زمانہ کی والدہ پر حمل کے دوران کسی قسم کے آثار ظاہر نہیں ہوئے۔ فقط آخری شب تھی کہ امام حسن عسکری ـنے حضرت حکیمہ سے درخواست کی ''اے پھوپھی جان ! آج ہمارے یہاں ٹھہرجائیے کیونکہ خدائے عزّ وجل آج رات آپ کواپنے ولی اور حجت کی ولادت کے ذریعے شاد فرمائے گا'' اس طرح ١٥،شعبان ٢٥٥ہ میں امام زمانہ (عج) کی ولادت ہوئی۔(۲۹)

____________________

(۱) صواعق محرقہ ص ١٢٤نقل از تاریخ ائمہ

(۲) مطالب السئول ص ٢٢٩

(۳) دفیات الاعیان جلد ٢ ص ٤٥١

(۴) تذکرة الخواص ص ٢٠٤

(۵) الجواہر جلد ٢ ص ٢٢٨

(۶) ینابیع المودة ص ٣٩٣

(۷) الفصول المہمّہ صفحہ ٢٩١

(۸) حضرت مہدی (عج)از ظہورتا پیروزی ص ٠٩ا

(۹) اصول کافی جلد١ ص ١٧٩

(۱۰) کما ل الدین جلد ٢صفحہ ٥١١حدیث٤٢ و شرح چہل حدیث از امام مھدی صفحہ ١٥

(۱۱) الغیبة طوسی ص١٨٢

(۱۲) کافی ج١/٥٣٣،٥٣٤ اور صحیح مسلم حدیث اثنا عشر خلیفہ میں ملاحظہ ہو۔

(۱۳) بحارالانوار ج٧٤ ص٣٠٨

(۱۴) غیبت نعمانی ص٢١٩بحارالانوار ج ٥٢ ص٣٦٦

(۱۵) مستدرک الوسائل ج٦، ص٥٧٨ و کمال الدین

(۱۶) مواعظ امام جعفر صادق ـ بہ نعمان ''افضل الاعمال انتظار الفرج من الله '' بحار ٧٥/٢٠٨، کشف الغمہ ٢/٢٠٧

(۱۷) بحار الانوار ج٢٥، ص١٥٧

(۱۸الغیبة شیخ طوسی صفحہ ٢٧١ حدیث٢٣٦ وسائل الشیعة ج٤ ص٢٠١ و شرح چہل حدیث از امام مھدی ص٢٣ح٩

(۱۹) الغیبة طوسی ص٢٤٢ ح ٢١٥و شرح چہل حدیث از امام مھدی

(۲۰) کمال الدین ص٤٨٤ ح٣و شرح چہل

(۲۱) نہج البلاغہ قصار ٤٦٩

(۲۲) اصول کافی ج٢ص٣٧

(۲۳) وسائل الشیعہ جلد ١٥ صفحہ٢٤٧و شرح چہل حدیث از امام مھدی صفحہ ٩٣

(۲۴) وسائل الشیعہ ج١٥، ص٢٤٧ و شرح چہل حدیث از امام مھدی صفحہ ٩٣ و کمال الدین ص٤٨٤

(۲۵) بحار الانوار ج٥١، ص٣ و ٤

(۲۶) سورۂ قصص آیہ ٥

(۲۷) بحارالانوار ج ٥١/ص٤

(۲۸) منتخب الاثر ص٣٢٠

(۲۹) منتخب الاثر ص ص٣٢٣ (امام زمان (عج) کی والدہ کا انتقال ٢٥٨ھ میں ہو(


آغاز امامت

گیارہویں امام اٹھائیس سال کی عمر میں ظالم اور ستمگر عباسی خلیفہ معتمد کے زہر ہلاہل سے درجہ شہادت پہ فا ئز ہوئے ۔اُسوقت امام مھدی (عج)پانچ سال کے تھے۔(۱)

کم سنی میں حضرت مھدی (عج)کی امامت کا آغاز ،اعجاز الٰھٰی اور قدرت خداکا ایک روشن نمونہ ہے۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے اورتاریخ میں اس کی روشن مثالیں موجود ہیں جو سب کے لیے قابل قبول بھی ہیں ۔ جیسا کے قرانِ کریم حضرت یحییٰ (ع)کے بارے میں فرماتا ہے( وَاتَیْنَا هُ الْحُکْمَ صَبِیَّا ) ( ہم نے بچپنے میں انہیں نبوت اور حاکمیت عطا کی۔(۲) اور حضرت عیسیٰ ـکے بارے میں آپکے گہوارہ میں تکلم کو نقل کرتا ہے :( قَالَ اِنّی عَبْدُاللّٰهِ اٰتَانِیَ الْکِتَا بَ وَ جَعَلَنِی نَبِیّا ) کہا میں خدا کا بندہ ہوں اور اس نے مجھے کتاب عطا کی ہے اور مجھے پیغمبر بنایاہے۔(۳)

غیبت صغریٰ

وہ دلیلیں جواِس بات کا سبب بنیں کہ امام زمانہ ـ کی ولادت دشمنوں اور مخالفوں سے مخفی رہے ، وہی آپکی غیبت کا بھی سبب بنیں ۔امام زمانہ (عج)کو روایات میں حضرتِ موسیٰ ـسے تشبیہ دی گئی ہے(۴) جسطرح سے فرعون انھیں ختم کرنے کے لیے اس زمانہ کی تمام حاملہ عورتوں کواور شیرخوار بچوں کو قتل کررہا تھا اور سارے نو مولودلڑکوں کو ذبح کردیتا تھا اسی طرح عباسی حکمراں اپنی حکومت کو بچانے کے لیے اور آخری وصی کے پیدا نہ ہونے کے لیے( کہ جو سارے ستمگروں اور خطاکاروں کو صفحہ ہستی سے نابود کردیت( ہر قسم کا قدم اُٹھانے کے لئے تیّار تھے۔

حضرت ِمھدی نے ٢٦٠ھ میں اپنے کمرے سے باہر آکر اپنے چچا (جعفر کذّاب ( کو ہٹا کر اپنے والد ماجد کی نماز جنازہ پڑھائی(۵) اور اس طرح اپنی امامت کا اعلان کیا اِس عمل سے حکومت عباسی سرگرم ہوگئی اور آپکو شہید کرنے کے لیے کمر بستہ ہوگئی۔ خداوند عالم نے اپنی قدرت مطلقہ کے ذریعے آغازِامامت سے اپنی آخری حجت کو غیبت کے پردوں میں چھپادیاتاکہ اسے قتل ہونے سے بچالے( وَ یُریدُنَ لِیُطْفِئُوا نُورَاللّهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَاللّهُ مُتِمَّ نُو رِهِ وَ لَوْ کَرِهَ الْکا فِرُوْنَ ) وہ چاہتے ہیں نور خدا کو اپنے منہ سے پھونک کر خاموش کردیں حالانکہ خداوندعالم اپنے نور کو کامل کریگا اگرچہ کافروں کو یہ بات ناپسند ہی کیوں نہ ہو۔(۶)

سرداب کی داستاں

سامرّا میں امام علی نقی (ع)اور امام حسنِ عسکری ـ کی مقدس بارگاہ کے جوار میں ایک تہہ خانہ ہے جو سرداب مقدس کے نام سے مشہورہے اس سرداب مقدس کو تین امامِ ہادی امامِ حسن عسکری اور امامِ زمانہ کے نماز پڑھنے کی وجہ سے اہمیت حاصل ہے ۔لیکن افسوس، بعض مصنفین اور اہل سنّت کے مورخین نے امامِ زمانہ (عج)کی وہاں سے غیبت کی جھوٹی داستان کو اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے اور شیعوں پر الزام لگایا کہ انکا یہ عقیدہ ہے کہ امامِ زمانہ سرداب سے ظہور کریں گے اسطرح وہ سب شیعوں کا مذاق اڑاتے ہیں اوراُن پر اعتراض کرتے ہیں(۷)

اس بے احترامی کے جواب میں شیعہ علماء نے بھی استدلال اور تحقیق کے ساتھ اس بات کا انکار کیا ہے ہم یہاں پر صرف علاّمہ امینی کے جواب پر اکتفا کریں گے آپاپنی کتاب '' الغدیر'' میں فرماتے ہیں : ''اور سرداب کی تہمت ایک قبیح تہمت ہے '' شیعہ اصلاً اس بات کے معتقد نہیں ہیں کہ امام زمانہ نے سرداب میں غیبت اختیار کی اور نہ ہی شیعوں نے امام (عج)کو غیبت میں بھیجا ہے اور نہ ہی وہ اس بات کے معتقد ہیں کہ امام معصوم سرداب سے ظہور کریں گے بلکہ روایات کی بنا پرسے شیعوں کا یہ عقیدہ ہے کہ آنحضرت مکّہ معظمہ میں کعبہ سے ظہور فرمائیں گے اس سلسلے میں کوئی بھی شیعہ سرداب سے ظہور کا قائل نہیں ہے کاش کہ سرداب کے قصّہ کو گڑھنے والے سبھی لوگ اس فاحش جھوٹ سے متعلق ایک نظریہ پر متحد ہوجاتے تا کہ جھوٹ پکڑے جانے پر انکی رسوائی نہ ہوتی اور ایسا نہ ہوتا کہ ان میں سے ایک سرداب کو حلّہ میں بتائے دوسرا بغداد میں کوئی اور سامرّا میں حتی ان میں سے کوئی لا علمی کا اظہار کرے۔(۸)

نوّا ب خاص

غیبت صغریٰ کی کل مدّت ٦٩سال ہے جو ٣٢٩ھجری تک جاری رہی(۹) حضرت مہدی (عج) اگرچہ تمام دشمنوں کی نظروں سے مخفی تھے، لیکن آپکے اصحاب میں چار افراد ایسے تھے جو ہمیشہ آپ سے رابطہ رکھتے تھے اورلوگوں کے سوالات اور انکی مشکلات کے جواب امام زمانہ سے دریافت کرنے کے بعد لوگوں تک پہنچاتے تھے۔

١(جناب عثمان بن سعید عمری:آپ گیارہ سال کی عمر سے امام علی نقی ـ کی خدمت میں تھے بعد میں آپ نے لوگوں پر ظاہر کرنے کے لیے روغن فروشی کا شغل اختیار کیا اور اس طرح حکومت متوکل کے اس گھٹن والے دور میں حاکم کے جاسوسوں کی نگاہوں سے بچ کر شیعوں تک معارف الھی پہنچانے کی ذمّہ داری لے لی آپ پہلے ہی سے دو اماموں کے وکیل اور نائب تھے اور امام مھدی (عج)کے بھی نائب اوّل منتخب ہوئے ۔ ٣٠٠ھ میں آپکا انتقال ہوا اور آپ بغداد میں دفن ہوئے۔(۱۰)

٢(جناب محمد بن عثمان عمری:والد کے انتقال کے بعد آپکو امام زمانہ کی نیابت کا شرف حاصل ہوا آپ نے فقہ وحدیث میں بہت سی کتابیں لکھی ہیں ۔ بارہا امام زمانہ نے آپ کی تائید فرمائی ہے ۔حضرت مھدی (عج) آپکے بارے میں فرماتے ہیں (انَّهُ ثِقَتی وَ کِتَا بُهُ کِتا بی ((۱۱) وہ ہماری طرف سے مورد اطمینان ہے اور انکے مکتوبات میرے مکتوبات ہیں ۔ اواخر جمادی الاول ٣٠٥ھ میں آپ نے اس دارِفانی سے رحلت فرمائی۔

٣( جناب حسین ابن روح نو بختی: جناب محمد بن عثمان نے اپنے انتقال سے چند دن قبل امام زمانہ (عج) کے حکم سے آپکو سفیر اور نائب بنایا اہل علم حضرات کے درمیان آپ صاحب مقام منزلت پر فائز تھے آپ فضیلت و تقوا میں مشہور تھے آپ کے مناظرات آپکے کثرتِ علم پر دلالت کرتے ہیں آپکا ارادہ اسقدر مستحکم اور مصمم ہوتا کہ آپکے ہم عصر علماء کا کہنا تھاکہ اگر دشمن انکے ٹکڑے ٹکڑے بھی کردیں تب بھی وہ انھیں امام زمانہ کا پتہ نہیں بتائیں گے۔(۱۲) آپ اکّیس سال تک نیابت کے عظیم عہدہ پر فائز رہے اور ٣٢٦ھ میں آپ نے رحلت فرما ئی آپکی قبر مطہر بغداد میں ہے۔(۱۳)

٤( جناب علی ابن محمد سیمری: آپکی عظمت اور مقام کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے کہ اس زمانے کے عظیم عالم دین جناب محمد بن یعقوب کلینی اپنے علم ، تقوا اور اصول کافی جیسی بے نظیر کتاب کے باوجود اس مقام تک نہ پہنچ سکے اور یہ افتخار صرف آپکو حاصل ہوا کہ آپکی وفات سے چھ دن پہلے امام زمانہ (عج) نے ایک خط میں آپکے انتقال کی پیشین گوئی فرمائی تھی اور مسلمانوں کو غیبت کبریٰ کے آغاز کی اطّلاع دی تھی(۱۴) پندرہ شعبان ٣٢٩ھ میں آپ نے وفات پائی۔(۱۵)

غیبت کبریٰ

٦٩سالہ غیبت صغریٰ آنحضرت کی غیبت کبریٰ کے لیے ایک مقدمہ تھی ۔ ایک چھوٹی مدّت کی غیبت اس لیے تھی تا کہ لوگ طولانی غیبت کے لئے آمادہ ہوجائیں ۔ غیبت کبریٰ کواب تک گیارہ صدیاں گذر چکی ہیں اس غیبت اور غیبت صغریٰ کے درمیان کئی اعتبار سے فرق ہے:

١( اِسکا زمانہ اُسکے زمانے سے کافی طولانی ہے ۔

٢( کوئی بھی فقیہہ اما م (عج) کا نائب خاص نہیں ہے۔

٣( فقیہہ جامع الشرائط جنکی خصوصیات کوامام صادق، امام عسکری اور امام زمانہ نے اپنی احادیث میں بیان فرمایا ہے(۱۶) زمانہ ٔ غیبت میں امام زمانہ (عج) کے نائب عام اور والی حکومت اسلامی کے عہدہ دار ہیں ۔ انہی کے کاندھوں پراسلام اور مسلمین کی طرف سے دفاع کرنے، الہٰی حدود واحکام کو جاری کرنے اور مسلمانوں کے تمام معاشرتی اور اقتصادی امور کی عالمی رہبری کی ذمّہ داری ہے ۔

٤( اِس غیبت کا اختتام تب ہوگا جب لوگوں کے اندرایک عالمی حکومت کی تشکیل کے لیئے زمینہ فراہم کرنے کی آمادگی پیدا ہوجائے گی۔

٥( غیبت کبریٰ کی مدّت کو خدا وندعالم کے علاوہ کوئی نہیں جانتا اور کسی بھی حدیث میں اس کی مدّت کو بیان نہیں کیا گیا ہے اس طرح روایت کے مطابق ظہورکے وقت کو معین کرنے والا شخص جھوٹا ہے۔(۱۷)

غیبت کی بعض حکمتیں

امام امانہ (عج) کی غیبت خدا وند کریم کے حکیمانہ ار ادہ پر منحصر ہے اور نظام ہستی کے اسرار میں سے ہے(۱۸) لیکن اسکے ساتھ ساتھ بعض احادیث میں حکمت ِغیبت کا ذکر ہواہے جنہیں ہم یہاں ذکر کررہے ہیں ۔

١( سنّت الھی: امام صادق (ع) فرماتے ہیں '' وہ سنّتیں جو پیغمبروں کی غیبت کے لیئے وارد ہوئی ہیں وہ تمام کی تمام ہمارے قائم اہل بیت کے لیے وجود میں آئینگی''(۱۹)

٢( امام (عج)کی جان کا تحفظ : امام صادق (ع) ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں '' اُنہیں اپنے قتل ہونے کاخوف ہے ''۔(۲۰)

٣( لوگوں کی آزمائش:پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں : '' مہدی (عج)کی غیبت کے زمانے میں صرف ان افراد کا اعتقاد ثابت اور مستحکم ہوگا جنکے دلوں کا امتحان خداوندِعالم نے لیا ہو۔(۲۱)

٤( لوگوں کے گناہ اور اُنکا تیارنہ ہونا : ''امام زمانہ (عج) نے خود کو اس سورج سے تشبیہ دیتے دی ہے جسے بادلوں نے گھیر رکّھا ہو ''(۲۲) جب وجود امام زمان کی خاصیّت سورج کی طرح روشنی پہنچانا اور فیض عطا کرنا ہے تو وہ بادل جس نے اُس خورشید کو گھیر رکّھا ہے لوگوں کے گناہ اور ناقدری کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے۔

خصوصیات غیبت

معصومین کی احادیث میں اس سلسلے میں وضاحت کی گئی ہے کہ امام زمانہ کی غیبت کیسی ہے اور اس کی کیا خصوصیتیں ہیں ملاحظہ ہوں !

١( آپ کی مثال اس سورج کی ہے جسے بادلوں نے ڈھانپ رکّھا ہو''کماَ يَنتَفِعُونَ باِلشَّمسِ اِذٰا سَترَهاٰ سحاَبُ'' (۲۳)

٢( لوگ آپ (عج) کو دیکھتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں :''یَجْعَلُ اللّٰهُ بَیْنَهُ وَ بَیْنَ الْخَلْقِ حِجَاباً یَرَوْنهَ ُوَلَا یَعْرِفوُنَهَُ'' (۲۴)

٣( آپ ہر سال مراسم حج میں شریک ہوتے ہیں عرفات میں تشریف لاتے ہیں اور مومنین کی دعا پر آمین کہتے ہیں :''و اِنّهُ لِیَحْضُرَ الموسمَ َ فی کلِّ سَنّةٍ وَ یَقِفُ بعرفَةَ فَیْؤَّ مَنْ علیٰ دُعائِ المُؤمنِ'' (۲۵)

٤( اگر چہ آپ (عج)کا نازنین پیکر لوگوں کی نظروں سے غائب ہے لیکن آپ کی یاد اُنکے دلوں سے نہیں جاتی ہے :''اِن غاٰبَ َعنِ الناّٰسِ شَخصُهُ فی حاٰلِ هُدنَةٍ َلم یَغِب عَنهُم مَثبُوتُ عِلمِه'' ۔(۲۶)

٥( بہت سے چاہنے والوں نے آپ کی زیارت کرنے کی توفیق حاصل کی ہے۔(۲۷)

٦( آپ کی کوئی خاص جگہ نہیں ہے اکثرصحرا اور نامعلوم شہر کے اطراف میں زندگی گذارتے ہیں ۔

٧( آپ ظالموں سے دور تمام لوگوں کی طرح نا معلوم طریقہ سے کسی خاص جگہ میں رہتے ہیں ۔ اور لوگوں ہی کی طرح غذا لباس اور آرام کی ضرورت آپ کو بھی ہوتی ہے ۔

٨( آپ لوگوں کی مجلس میں شرکت کرتے ہیں اُنکے فرش عزا پر قدم رنجہ فرماتے ہیں اُنکے کوچہ وبازار سے گذرتے ہیں ۔

٩( حکمت الہی یہ ہے کہ اگر امام زمانہ کسی جگہ حاضر ہوں تو آپ کا جسم اطہر لوگ نہ دیکھ سکیں ۔امام رضا (ع) فرماتے ہیں''لاَ یرُیٰ جِسمُهُ (۲۸) اور امام صادق فرماتے ہیں''یَغِیبُ عَنکُم شَخصُهُ'' لیکن کبھی حکمت الہی اس میں ہوتی ہے کہ دیکھا جائے لیکن پہچانا نہ جاسکے ۔محمد بن عثمان عمری فرماتے ہیں :''یرَیٰ الناَّسَ وَیعَرِفهُم وَیرَونهَ ُوَلاَ یَعرِفوُ نَهُ'' ۔(۲۹)

اخلاقی فضیلتیں

چونکہ امام زمانہ تمام عظیم الشان پیغمبروں اور اولیا ء الٰھٰی کے وارث ہیں لہذا آپ (عج) تمام انبیاء واولیاء کے صفات جمال وکمال کا گلدستہ ہیں آپ (عج) پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اوصاف و کمالات کی تجلّی گاہ ہیں تو امیرالمومنین ـ کی حیرت انگیز خصوصیات کا آئینہ اور جناب فاطمہ زہرا او ر انکے معصوم فرزندوں کے فضائل ومکارم کا ''پرتو'' ہیں ۔

بعض ان خصوصیات کی طرف اشارہ کرناہمارے دلوں کے نور میں اضافہ کرے گا :

١( وسیع علم: امیرالمومنین ـ آپ کے بارے میں فرماتے ہیں : ''هْوَ اَکْثَرْکْمْ عِلْماً ''وہ تم میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہے ۔(۳۰) امام باقر ـفرماتے ہیں :خداوند کریم کی کتاب کا علم اور اسکے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنّت ہمارے مہدی کے دل میں اْسی طرح رشد کرے گی جس طرح سے سبزہ بہترین شکل میں زمین سے اُگتا ہے ۔ پس جس نے بھی آپ کو دیکھا وہ اسطرح سے کہے سلام ہو آپ پر اے اہل بیت ِرحمت و نبوّت اور اے مخزن علم اور جایگاہ رسالت!(۳۱)

٢(زھد، اور دنیا سے بے رغبتی: امام رض (عج)آپکے بارے میں فرماتے ہیں''وَماَ لباٰسُ القاٰئمَ اِلّا الغَلِیظُ وَ ما طعاٰمُه ِالّا الجَشَبُ'' ہمارے قائم کا لباس کچھ نہیں سوائے کھردرے کپڑے کے اور ان کی غذا کچھ نہیں سواے سوکھے کھانے کے۔(۳۲)

٣(لوگوں کے درمیان عدالت پھیلانا: امام باقر (عج)حضرت مہدی کے لیے ارشاد فرماتے ہیں ''یَعدِلُ فی خَلقِ الرَّحمنِ اَلبرِِّمِنھُم وَالفاٰجرِ''وہ لوگوں کے درمیان عدالت سے کام لیں گے چاہے وہ پرہیزگار ہوں یا بد کردار۔(۳۳)

٤( سنّت پیغمبر پر عمل: پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں : ''وہ مجھ سے ہیں ان کا نام میرا نام ہے خداوند عالم مجھے اور میرے دین کو اسکے ذریعہ حفظ کریگا اور وہ میری سنّت اور میرے طریقوں پر عمل کرے گا''۔(۳۴)

٥(جود وسخاوت: پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں : '' ایک شخص ان کے پاس آئے گا اور کہے گا اے مہدی (عج) مجھے کچھ عطا فرمائیے ! پس امام زمانہ اْسکے دامن میں اتنا مال ڈالیں گے جتنا وہ اٹھا سکے ''۔(۳۵)

٦(دعا وعبادت : وہ مخصوص نمازیں اور فراوان دعائیں جو امام زمانہ کی طرف سے ہم تک پہنچی ہیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آپ ان دعائوں اور نمازوں کے پابند ہیں بیشک یہ سب خدا کی بندگی کی نشانی اور اس سے تقرب کا قوی ذریعہ ہیں ۔

٧( شجاعت وصلابت: بیشک دنیا کے تمام مشرکوں اور مستکبروں سے آمنے سامنے کا مقابلہ کرنے اور دنیا کی طاغوتی قدرتوں کی ناک مٹی میں رگڑنے کے لیئے بے نظیر شجاعت اور بے بدیل صلابت کی ضرورت ہے کوئی ایسا ہونا چاہیے جو امام حسین ـ کی طرح جنگ کا مرد میدان ہوحضرت علی ـ کی طرح اسکی پشت پر زرہ ہو، اور رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرح جنگ میں جہاں اپنے عزم مستحکم سے کفر کو پیٹھ دکھا نے پر مجبور کر دے۔

٨( صبر و تحمل : ہر انسان کے صبر و استقامت کا اندازہ اسکی مصیبتیں اور مشکلات دیکھ کر کیا جاتا ہے یقیناًامام زمانہ کی مصیبت و بلا اتنی صدیوں سے جاری ہے کہ ہرگزکسی بھی دوسرے انسان کے لئے قابل قیاس نہیں ہے کیونکہ صرف کثرت بلا اور طول زمان ہی سب سے بڑی مصیبت نہیں ہے جو عظیم صبرو تحمل چاہتی ہے بلکہ انسانوں کی ذمہ داری بھی صبرو تحمل کا مطالبہ ہے حضرت مہدی (عج)زمانے کے امام ، تمام مومنیں کے والی ،دونوں عالم کی حجت اور دنیا بھر کے شیعوں کے باپ اور سرپرست ہیں ۔

____________________

(۱) زندگانی امام حسن عسکری (عج) و ارشاد ص٣٨٣

(۲) سورہ مریم آیہ ١٢

(۳) سورہ مریم آیہ ٣٠

(۴) منتخب الاثر ص٣٠١

(۵) ینابیع المودہ ص٤٦١، کمال الدین (بعض کتابوں میں ذکر ہوا ہے کہ 'ابوعینی بن متوکل نے بھی معتمد عباسی کے حکم سے امام (عج)کی نماز جنازہ پڑھائی۔

(۶) سورہ صف آیہ ٨

(۷) اعتراض کرنے والوں میں سویدی، ابن حجر، ابن تیمیہ، اور عبد اللہ فصیمی شامل ہیں تفصیلات کے لئے حیات الامام المہدی (عج) قرشی مراجعہ کیا جائے۔

(۸) الغدیر ج٣، ص٣٠٩

(۹) منتخب الاثر ص٣٥٨

(۱۰) حیات الامام المہدی (عج) قرشی ، ص١٢١۔١٢٣ ، بحار الانوار ج٥١، ص٣٤٤

(۱۱) تنقیح المقال ج٣، ص١٤٩

(۱۲) مراقد المعارف ج١/ص٢٥

(۱۳) منتخب الاثر ص٣٩٣

(۱۴) بحارالانوار ج٥١/ص٣٦١

(۱۵) بحارالانوار ج٥١/ص٣٦٠

(۱۶) وسائل الشیعہ کتاب القضائ، ولایت فقیہ اور کتاب البیع امام خمینی مراجع کریں

(۱۷) منتخب الاثر ص٤٠٠

(۱۸) کمال الدین ج٢/ص٤٨٢

(۱۹) کمال الدین ج٢/ص٣٤٥

(۲۰) کمال الدین ج٢/ص٤٨١، '' یخاف علی نفسہ الذبح''

(۲۱) منتخب الاثر ص١٠١

(۲۲) احتجاج ص٢٦٢، بحارالانوار ج٥٢، ص٩٢

(۲۳) ینابیع المودہ ص٤٧٧

(۲۴) کمال الدین ج٢/ص٣٥١

(۲۵) منتخب الاثر ص٢٧٧

(۲۶) منتخب الاثر ص٢٧٢

(۲۷) بحارالانوار، نجم الثاقب، جنة المأوی، دارالسلام و عبقری الحسان میں ایسے واقعات نقل ہوئے ہیں ۔

(۲۸) بحارالانوار ج٥١، ص٣٣

(۲۹) بحارالانوار ج٥١، ص٣٢

(۳۰) غیبت نعمانی، منتخب الاثر ص٣٠٩

(۳۱) کمال الدین ، منتخب الاثر ص٣٠٩

(۳۲) غیبت نعمانی، منتخب الاثر ص٣٠٧

(۳۳) منتخب الاثر ص٣١٠

(۳۴) منتخب الاثر و غیبت نعمانی

(۳۵) کنزالعمال ج٦/ص٣٩، ینابیع المودہ ص٤٣١


طولانی عمر

ولادت امام زمانہ کو اب تک ١١٧٠سال گذر چکے ہیں اور یہ طولانی عمر ممکن ہے دسیوں سیکڑوں بلکہ ہزاروں سال تک چلتی رہے۔ اسکے باوجود یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے کیونکہ :

١( وہ خدائے عظیم جس نے انسان کو عدم سے خلق کیا اور ہر چیز کی ایجاد اور اسکی بقاء صرف اس پر منحصر ہے :( اِنَّماٰ اَمرُهُ اِذٰا اَرادَ شَیئاً اَن یقوُلَ لَهُ کُن فیَکُونَ ) (۱) وہ قدرت رکھتا ہے کہ اپنی مخلوق میں سے کسی ایک کو چند ہزار سال تک زندہ رکّھے۔

قران مجیدمیں حضرت یونس ـکے بارے میں آیا ہے کہ اگر وہ تسبیح پروردگار نہ کرتے تو خداوند عالم انہیں روز قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں زندہ رکھتا ۔(۲)

٢(تاریخی کتابوں میں ایسے متعدد افراد کے تذکرے ہیں جنہوں نے سیکڑوں سال تک بغیر کسی مرض اورتکلیف کے زندگی گذاری ہے توریت میں آیا ہے کہ ''ذوالقرنین ''نے تین ہزار سال تک کی عمر پائی ۔(۳) قران کریم نے بھی حضرت نوح (ع) کی عمر کو طوفان کے آنے سے پہلے٩٥٠سال بتایا ہے۔(۴)

٣(عقلی اعتبار سے کسی موجود کی عمر کو کسی حد کے ذریعے محدود و معین نہیں کیا جا سکتا ہے بلکہ جو بھی حد معین کی جائے اُس سے زیادہ کا امکان باقی رہتا ہے مثلاًایک شخص کی عمر اگر ممکن ہے ١٠٠ سال ، ١٥٠ سال یا ٢٠٠ سال معین کی جائے تو اس سے زیادہ عمر بھی ممکن ہے اور یہ تدریجی سلسلہ اگر چندہزار سال تک بھی پہنچ جائے اُسوقت بھی نا ممکن نہیں کہا جا سکتا ہے ۔

٤(آج کل سائنس کے ذریعے ثابت ہوگیا ہے کہ اگر انسان کے وجودی عناصر کی ضروریات مناسب مقدار میں اُس تک پہنچتی رہیں اور ہمیشہ بیماری سے روک تھام ہو توانسانوں کی عمر میں حیرت انگیز طور پر اضافہ ہوجائیگالہذا کوئی حرج نہیں ہے کہ امام زمانہ اپنے اُس خدادادعلم کی وجہ سے عام انسانوں سے زیادہ عمر کریں ۔

انتظار

آخر کار غیبت کے یہ تلخ ایّام تمام ہوجائیں گے اور ظہور کا وہ جا نفزا موسم پورے خطۂ ارض پر چھا جائیگا اس وقت اسلام اور توحید کا پرچم ہر طرف لہرائے گا۔ اس نکتہ نظر سے جو بھی امام زمانہ پر اعتقاد رکھتا ہے اور اس نے آپ کی ولایت پر باقی رہنے اور اطاعت کرنے کی قسم کھائی ہے وہ ہمیشہ امام کے ظہور کا منتظر رہے گااور کبھی بھی خود کو اور معاشرہ کو ظہور کے لئے تیار کرنے میں اپنی کوشش وجد و جہد سے نہیں تھکے گا۔ حدیثوں میں وارد ہوا ہے کہ امام مہدی (عج)کاانتظار کرنا گویا راہ خدا میں جہاد کرنے کے برابر ہے بلکہ گویا اُس شخص کو رسول خدا کے سامنے شہادت نصیب ہوئی ہو(۵) انتظار کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں اور آنے والے کل کا انتظار کرتے رہیں بلکہ انحرافات اور بدعتوں کے خلاف اعتراض اور قیام کریں اور ایک روشن اسلامی مستقبل کے لیے زمینہ فراہم کریں ۔

منتظرین کی صفات

١( معرفت امام اور اُسکی امامت کا اعتقاد: جب تک امام زمانہ کو نہ پہچانیں اور اُنکی امامت کے معتقد نہ ہوں انتظاربے معنیٰ ہے اور یہ معرفت و اعتقاد ،منتظروں کی خاص اور لازم صفت ہے کیونکہ یہ دونوں انتظار کے اہم رکن میں سے ہیں جیسا کہ امام سجّاد ـ کے کلام میں پایا جاتا ہے''اِنَّ اَهلَ زَمانِ غَیبَتِه َالقاٰئلوُنَ باِماٰمته ِ َالمُنتَظِرُونَ لِظُهُورِهِ اَفضلُ اَهلِ کُلِّ زَماٰن'' (۶) بیشک حضرت مہدی (عج) کی غیبت کے زمانے میں وہ لوگ، جو ان کی امامت کے قائل ہوں اور ظہور کی آس لیے ان امام کے انتظار میں زندگی بسر کر رہے ہوں ، وہ ہر زمانے کے لوگوں سے برتر ہیں ۔

٢( تقوا اور حسن سیرت: اسلام میں پرہیزگاری اور تقوا کے علاوہ کرامت و بزرگی کا کوئی بھی معیار نہیں ہے( اِنَّ اَکرَمَکُم ِعندَ اللهِ اَتقیٰکُم ) (۷) اور اسی طرح ایمان کی پختگی اور اُسکی قیمت حسن اخلاق اور نیک سیرت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے''اَفضَلُکُم اِیماناً اَحسَنَکُم اخلاٰقاً'' لہذا یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ کو ئی اس دائرہ سے خارج ہو تقوا اور نیک رفتاری سے بے بہرہ ہو اوراُسے انتظار کی فضیلت وکرامت حاصل ہوجائے۔امام صادق ـ فرماتے ہیں''مَن َسرَّاَن َیکوُنَ مِن اَصحاٰبِ القاٰئمِ َفلیَنتَظِر وَ لیَعمَل باِلوَرعِ وَ محاٰسنِ الاخلاقِ وَهُوَ مُنتَظِرِ'' (۸) جو کوئی یہ چاہتا ہے کہ قائم کے اصحاب و انصار میں سے ہو تو اُسے چاہیے کہ انتظار کرے اور ساتھ ہی ساتھ تقوا ،اور حسن اخلاق کی بنیاد پر دوسروں سے خوش رفتاری کرے اس حال میں کہ اُسکی آنکھیں ظہورکی منتظرہوں ۔

٣( فرمان قبول کرنا : جو کوئی اپنے امام معصوم کا منتظر ہو اور زندگی کے تمام مراحل میں ان کی رہبری کا معتقد ہو وہ ان کی اطاعت کو واجب سمجھے گا اور زمان غیبت میں ان امام فرمان کی اطاعت کرگا اور خود کو آمادہ کرے گا تاکہ ظہور امام کے وقت آنحضرت کی بے چوں چرا اطاعت کر ے امام صادق ـ فرماتے ہیں ''طْوْ بیٰ لِشَیَعْةِقاٰئِمَنَا الْمْنْتَظِرینَ لِظْهْوْرِ ه ِوَالْمْطیعینَ لَهْ فی ظْهْوْرِهِ'' (۹) زہے نصیب ہمارے قائم کے شیعہ کہ ان کی غیبت میں ان کا انتطار میں جیتے ہیں اور وقت ظہور ان کے مطیع ہیں ۔

٤( امام (عج)کے دوستوں سے دوستی انکے دشمنوں سے دشمنی:ہر انسان کے لیے دوستی کو پرکھنے کا سب سے عمدہ ذریعہ یہ ہے کہ اُسکے دوست اور دشمن کو پہچانے۔

دوست کے دشمن اور دشمن کے دوست کو کبھی دوست نہیں کہا جاتا ہے اُسی طرح سے دوست کے دوست اور دشمن کے دشمن کو بھی دشمن نہیں سمجھتے ہیں یہ بات فطری ہے کہ ہر انسان اپنے محبوب کے چاہنے والوں کا دوست اور اُسکے دشمنوں کا دشمن ہوتا ہے۔

یقیناًامام زمانہ کے منتظر بھی آپکے دوستوں کے دوست اور آپکے دشمنوں کے دشمن ہیں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے پیں'' طْوْ بیٰ لِمَنْ اَدْ رَکَ قَائِمَ اَهْلَ بَیْتی وَ هْوَ یَاتَمّْ بِهِ فی غَیْبَتِهِ قَبْلَ قِیَا مِهِ وَ لْیَتَوَلّٰی اَوْلِیَائَهْ وَ یْعَا دی اَعْدٰائَهْ'' (۱۰) زہے نصیب وہ افراد جنہوں نے میرے قائم اہل بیت کو درک کیا اور ان کی غیبت کے زمانے میں قیام سے پہلے ان کی پیروی کی ان کے دوستوں کو دوست رکّھااور انکے دشمنوں کو دشمن قرار دیا۔

ظہور سے پہلے کی علامتیں

حضرت مہدی (عج)کے ظہور کی اہمیّت کو مدّ نظر رکھتے ہوئے اور اشتباہات اور سوئے استفادہ سے روک تھام کے لیے خداوند عالم نے ظہور سے پہلے چند علامتیں مقرر فرمائیں ہیں اِن علامتوں کو ہم دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں :

١( قطعی علامتیں

٢( غیر قطعی علامتیں

قطعی علامتیں وہ ہیں جن کے سلسلے میں متواتر روایتیں وارد ہوئی ہیں اور اْنکے واقع ہونے کی تاکید بھی کی گئی ہے مانند خروج سفیانی اور قتل نفسِ زکیّہ۔(۱۱)

غیر قطعی علامتیں وہ ہیں جن کے سلسلے میں متواتر روایت نہیں پائی جاتی ہے یا معصوم کے توسط سے اْنکا حتماً واقع ہونا نہیں پایا جاتا ہے ۔ مانند پانچ دفعہ چاند گہن اورپندرہ دفعہ سورج گہن ۔(۱۲)

علامات ظہور پر ایک اجمالی نظر

بہت سی ایسی روایتیں ہیں جن میں علامات ظہور کا تذکرہ ہے جن کے مطابق امام زمانہ (عج) کا اس وقت ظہور ہو گا جب دنیا ظلم و جور سے بھر جائیگی ''کَمٰا مُلِئَتُ ظُلْماًوَجَوْراً ''(۱۳)

امام صادق ـنے اپنے ایک صحابی سے علامات ظہور بیان فرمائی ہیں جنہیں ہم مختصر طور پر بیان کر رہے ہیں :

امام زمانہ کے ظہور کی علامتیں :

٭خروج دجّال ۔

٭ نفس زکیہ کا قتل ۔

٭سید حسنی کا خروج ۔

٭١٥ /ماہ مبارک رمضان کو سورج و چاند گرہن لگنا۔

٭سفیانی کا خروج ۔

٭ندائے آسمانی ۔

٭ظہوراس وقت ہوگا جب دنیا ظلم وجور سے لبریز ہو جائیگی ۔

٭اہل باطل اہل حق پر سبقت لیں گے۔

٭سود خوری عام ہو جائیگی۔

٭زنا عام ہوجائیگا۔

٭چھوٹے بڑوں کی عزّت نہیں کریں گے ۔

٭راہ خیر پر چلنے والوں کی تعداد کم اور را ہ شر پر چلنے والوں کی تعداد زیادہ ہو جائیگی ۔

٭مکّاری اور چاپلوسی زیادہ ہوجائیگی۔

٭ لوگ آشکار جوا کھلیں گے اور شراب پئیں گے۔

٭ لوگوں کوقرآن کے حقائق سننا گراں گذرے گا ۔

٭ اگر کوئی امر بالمعروف ونہی عن المنکرکرنے والاہوگا تو اسے لوگ نصیحت کریں گے

کہ یہ تمہارا کام نہیں ہے !

٭ مسجدوں میں ا ن لوگوں کی بھیڑ ہوگی جنکے دلوں میں ذّرہ برابر خدا کا خوف نہ ہوگا ٭ لوگ دولت اور دولتمند افراد کے آگے سر تسلیم خم کریں گے۔

٭ لوگ اپنے مال کو راہ خدا میں صرف کرنے کے بجائے راہ شر میں خرچ کرناشرف

سمجھیں گے !

٭ ایسے لوگ پیدا ہوجائیں گے جو ایک روز گناہ کبیرہ انجام نہ دیں گے تو پریشان و

مضطرب رہیں گے !

٭ لوگوں کی مدد صورت دیکھ کر کی جائیگی۔

٭ تنگ دست اور نیاز مندوں کی مددمیں سفارش چلے گی!

٭ لوگوں کے نزدیک وقت نماز کی کوئی اہمیت نہ ہو گی !(۱۴)

علامات ظہور کے سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ اِن علامتوں میں سے کسی بھی علامت کا نہ پایا جانا اس بات کی نشانی نہیں ہوگا کہ ظہور میں تأخیر ہوسکتی ہے کیونکہ ''خداوند متعال ظہور کے مقدمات کو تنہا ایک شب میں پورا کردیگا''اور اس امر کا لازمہ یہ ہے کے ہم ہمیشہ منتظر رہیں اور اپنے آپ کو ہمیشہ آمادہ رکھیں ۔

____________________

(۱) یس ٣٦، آیہ ٨٢

(۲) صافات ، آیہ ١٤٤

(۳) منتخب الاثر ص٢٧٦

(۴) عنکبوت آیہ ١٤

(۵) بحارالانوار ج٥٢/ص١٢٦

(۶) بحارالانوار ج٥٢/ص٢٢١،ح٤

(۷) سورہ حجرات آیہ ١٣

(۸) بحارالانوار ج٥٢/ص١٤٠،ح٥٠

(۹) بحارالانوار ج٥٢/ص١٥٠،ح٧٦

(۱۰) بحارالانوار ج٥١/ص٧٢

(۱۱) منتخب الاثر ، ص٤٣٩

(۱۲) منتخب الاثر ، ص٤٤٠

(۱۳) بحار الانوار ج ٥١/ص٣٠ (باب ٢، اسمائہ و القابہ ( بحار الانوار ج ٥١/ص٣٣ (باب٣، النھی عن التسمیہ(

(۱۴) بحار الانوار ج ٥١/ص٥٢،ص٢٥٦۔٢٦٠ حدیث ١٤٧


ظہور

١( امام زمانہ خانہ کعبہ کے نزدیک مسجدالحرام میں اپنے عالمی قیام کا آغاز کریں گے

٢( ٣١٣ افراد امام زمانہ کی بیعت کے لیے خانہ کعبہ میں اکٹھا ہونگے۔

٣( حضرت عیسیٰ ـچوتھے آسمان سے نازل ہونگے اور امام زمانہ کی اقتدا میں نماز ادا کرینگے۔

٤( امام مہدی (عج)کے انصار دنیا کے کونے کونے سے مکہ کی سمت روانہ ہونگے اور آپکی قیادت میں عراق کی طرف کوچ کریں گے۔

٥( لشکر سفیانی ''بیداء ''نامی علاقہ میں زمین میں دھنس جائیگا اور اسلام پوری دنیا میں پھیل جائے گا۔

٦( آپ کوفہ کو اپنا دارالحکومت قرار دینگے۔(۱)

ظہور کے بعد کا منظر

امام مہدی (عج)کے ظہور کے بعد کا زمانہ مختلف زاویوں سے روایات معصومین میں پایا جاتا ہے:

١(دنیاپراسلام کی حاکمیت ہوگی: امام صادق (ع) فرماتے ہیں (جب ہمارا قائم قیام کرے گا اْسوقت کوئی سرزمین باقی نہیں بچے گی مگر یہ کہ اْس جگہ سے خدا کی وحدت اور نبوتِ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ندا آئیگی۔

٢( حدود الٰٰھٰی کا مکمل طور پر نفاذہوگا: امام کاظم ـسورہ حدید کی ١٧ویں آیت کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں ''یہ جو خدا نے فرمایا کہ وہ زمین کو اْسکے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کریگا اِسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ زمین کو بارش کے ذریعے زندہ کریگا بلکہ خداوند عالم ایسے لوگوں کا انتخاب کریگا جو زمین کو عدالت الٰھی کے ذریعے زندہ کریں گے''۔

٣(معارف قرانی کو زندہ کیا جائیگا : امام علی ـ انقلاب حضرت مہدی کی تفصیلات میں ارشاد فرماتے ہیں ''ایسے زمانہ میں جب کہ لوگ قران کی اپنی خواہشوں کے مطابق توجیہ کریں گے وہ اْنکی فکروں کو قران کی طرف موڑ دیں گے اوراْنکو قرانی کے حقا یق سے آشنا کریں گے پس وہ تمھیں سمجھائیں گے کہ کس طرح سے کتاب و سنّت اور اسکے مفاہیم جو بھلائے جا چکے تھے اْسے دوبارہ زندہ کیا جائے۔''

٤(ستمگروں کی نابودی اور عدالت کی برقراری:رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں ''مہدی میرے بیٹوں میں سے ہے وہ غیبت اختیار کرے گاجس وقت ظہور کریگا زمین کو عدل و داد سے بھردیگا جس طرح ظلم وستم سے بھری ہوگی''۔

٥(تجدید اسلام: امام باقر ـ فرماتے ہیں ''جو کام پیغمبر اکرم نے انجام دیئے ہیں وہ بھی انجام دیں گے پچھلی بنیادوں کوٹھیک اسی طرح ہلادیں گے جس طرح رسولِ خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جاہلیّت کی بنیاد ہلادی تھی اور اسلام کو دوبارہ از سر نو شروع کریں گے''۔

٦(لوگوں کے درمیان علم اپنے کمال کو پہنچے گا : امام صادق (ع) فرماتے ہیں ''علم ستائیس حرفوں پر مشتمل ہے اور تمام وہ معارف جو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر لیکر آئے تھے صرف دو حرف تھے جسوقت ہمارا قائم قیام کریگا بقیہ پچیس حروف کو لوگوں کے سامنے پیش کرے گا''۔

٧(عقل رشد کر ے گی: امام باقر (ع)فرماتے ہیں :'' جس وقت ہمارا قائم قیام کرے گا خدا وند آپ کے دست مبارک کواپنے بندوں کے سروں پہ قرار دے گا جس سے اْنکی اور اْنکی فکری رشد بھی پایۂ کمال کو پہنچ جائے گی''۔

٨( امن وآسایش ہوگی: صحف ادریس سے نقل ہوا ہے کہ ''قائم آلِ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ظہور کے زمانے میں زمین کو امن بخشا جائے گا ایک دوسرے کو نقصان پہنچانا اور ایک دوسرے سے ڈرنا کاملاً محو ہوجائے گا امیرالمومنین ـ فرماتے ہیں ''اْس زمانے میں ایک عورت عراق سے تنہا شام تک پیدل سفر کرے گی اور کوئی چیز اْسے ہراساں نہیں کرے گی''۔(۲)

٩(لوگوں کے درمیان آپس میں محبت و یکجہتی ہوگی: امیرالمومنین ـ فرماتے ہیں ''لَوْ َقدْ قاَمَ قاَئِمَنَا لَذَ ھَبَتِ الْشَّحْنائَ منِْ قْلْوْ بِ ا لْعِبَا د'' اگر ہمارا قائم قیام کرے توبندوں کے دلوں سے بغض و حسد ،کینہ و دشمنی ختم ہوجائیں گے۔(۳)

١٠(زمین گناہ سے پاک ہوگی: امام صادق (ع) ظہور امام کے بعد لوگوں کا حال بیان کرتے ہیں :''وَ لَا یَعْصُوْ نَ اللّٰهَ عَزَّ وَ جَلَّ فی اَرَضِهِ'' زمین پر خدا کی نا فرمانی نہیں کی جائیگی۔(۴)

زمانہ ٔ غیبت میں ہمارے فرائض

ہم نے امام کے ظہور کے لئے خود کو آمادہ نہ کر کے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال لیا ہے زمانہ غیبت میں ہمارے فرائض تو یہ ہیں کہ ہمیں ہر لمحہ اپنے امام (عج)کے ظہور کی دعا کرنی چاہیے اور ہر دعا میں اللہ کو امام (عج) کا واسطہ قرار دینا چاہئے اورامام (عج)کی جدائی پرگریہ و زاری کرنی چاہئے ، جیسا کہ امام جعفر صادق ـسے مروی ہے کہ: آپ نے فرمایا :خدا کی قسم!! تمہاراا مام ایک طولانی مدت تک ضرور غیبت اختیار کریگا اور تمھیں ضرور آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا ۔(۵) لیکن انکے لئے مومنین کی آنکھیں یقینا اشک بار رہیں گی ۔

امام علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ کیا قائم آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ولادت ہو چکی ہے ؟

تو آپ نے فرمایا کہ اگر میں ان کے زمانے میں ہو تا تو ساری عمر انکی خدمت میں گزار دیتا ۔(۶)

٭امام زمانہ فرماتے ہیں کہ: غیبت کبری کے زمانے میں پیش آنے والے مسائل و مشکلات کے حل کے لیئے ہماری حدیثوں کو بیان کرنے والے راویوں (فقہا ( کی طرف رجوع کرو کیونکہ وہ ہماری طرف سے تم پر حجت ہیں جس طرح میں اللہ کی طرف سے تم پر حجت ہوں ۔(۷) اس حدیث سے یہ اہم نکتہ نکلتا ہے کہ زمانہ ٔ غیبت میں تمام لوگوں پر فقہاو مجتہدین کی تقلید واجب ہے ۔

٭خدا کی بارگا ہ میں ہر وقت یہ دعا کر ناچاہیئے کہ اے اللہ اے رحمن اے رحیم اے دلوں کو دگر گون کرنے والے تو اپنے دین پر ہمیں ثابت قدم رکھ اور اپنے حجت کی معرفت عطافرما۔

٭زمانۂ غیبت میں امام پر درود بھیجنا، انکی سلامتی کے لئے صدقے دیناامام علیہ السلام کی نیابت میں حج کرنا، امام علیہ السلام کے فراق اور آپکی مظلومیت پر غمگین رہنا بھی ہماری ذمہ داری میں شامل ہے۔

٭ امام جعفر صادق ـسے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: جو شخص ہمارے لیئے رنجیدہ اور ہماری مظلومیت پہ غمگین ہو اسکی ہر سانس تسبیح کا ثواب رکھتی ہے ۔(۸)

آنحضرت کے ظہور کے ساتھ ہی اسلام کی جہانی عدالت نیز آپ کی حکومت قائم ہو گی اور تمام انسان صلح و صفائی ، برادری و برابری کے ساتھ ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو زندگی بسر کریں گے جنگ و جدال ، ظلم و جور ،دروغ گوئی وفضول گوئی اوربھوک وغیرہ انسانی معاشرہسے دور ہوجائیں گے اور پو رے عالم میں بس امن کا پرچم لہرائے گا اور ہر طرف حق و حقّانیت کے چراغ روشن ہو نگے اور باطل نیست ونابود ہو کر رہ جائے گا اور سب کی زبان پر ایک ہی نعرہ ہو گا:جائَ ( الْحقْ وَ زَهقَ الباطل انَ الباطل کان زهوقا )

____________________

(۱) بحار الانوار ج ٥٢/ص ٢٣٧

(۲) بحار الانوار ج ٥٢/ص ٣١٦

(۳) بحار الانوار ج ٥٢/ص٣١٦

(۴) کافی ج١/ص٣٣٣

(۵) کمال الدین ج٢/ص٣٤٢

(۶) بحار الانوار ج ٥١/ص٤٨

(۷) کمال الدین و تمام النعمہ شیخ صدوق

(۸) اصول کافی ج٢/ص٢٢٦


بعض اہم دعائیں اور زیارتیں

زیارت امام عصر

ہر مومن کو چاہئے کہ اپنے امام (عج)کا شب و روز انتظار کرے اور اس زیارت کو پڑھنے کے بعددعا کرے کہ خدا وند عالم جلد پردہ غیبت اٹھا دے ۔

بِسْم الله الرّحْمٰنِ الرَّحیم

السَّلام ُ عَلیکَ یَا صَاحِبَ الْعَصْرِ وَالزَّمَانِ السَّلامُ عَلیکَ یَا خَلِیْفَةَ الرَّحْمٰنِ السَّلامُ عَلیکَ یَا امامَ الاِنْسِ وَالجَانِّ السَّلامُ عَلیکَ یَامَظْهَرَ الْاِیْمٰانِ السَّلامُ عَلیکَ یَا شَرِیْکَ الْقُرْآنِ السَّلامُ عَلیک یَا اِمامَ زَمَانِنَا هٰذا عَجَّلَ اللّهُ تَعٰالیٰ فَرَجَکَ وَسَهَّلَ اللّهُ مَخْرَجَکَ اَلسَّلامُ عَلیکَ وَ رَحْمَةُ اللّهِ وَبَرکَاتُه

ترجمہ:اے سارے زمانے کے مالک آپ پر ہمارا سلام ہو ،اے خلیفۂ خدا آپ پر ہمارا سلام ہو اے جن و انس کے امام برحق آپ پر ہمارا سلام ہو، اے مطلع ایمان کے خزینہ آپ پر ہمارا سلام ہو،اے شریک قرآن آپ پر ہمارا سلام ہو ،اے ہمارے امام زمانہ (عج) آپ پر ہمارا سلام ہو،خدا آپ کے ظہورمیں جلدی کرے اور پردۂ غیبت سے تشریف لانے کو آسان قرار دے۔

انہی میں سے ایک دعا جو ''امام زمانہ سے استغاثہ '' کے نام سے مشہور ہے اسے مرحوم ''سید علی خان'' کتاب ''کلم الطیب'' میں ذکر فرماتے ہیں ۔یہ ایک استغاثہ ہے امام زمانہ کے نام جہاں کہیں بھی ہو دو رکعت نماز حمد اور دلخواہ سورے کے ساتھ ادا کریں اْسکے بعد قبلہ رو کھڑے ہوکر زیر آسمان پڑھے:

بِسْم الله الرّحْمٰنِ الرَّحیم

''سَلامُ اللّهِ الْکَامِلُ التاّمُّ الْشّٰامِلُ الْعٰامُّ وَ صَلَوٰاتُهُ الدّٰائِمَةُ وَ بَرَکَاتُهُ الْقٰائِمَةُ التّٰامَّةُ عَلٰی حْجَّةِ الْلّٰهِ وَ وَلِیِّهِ فِی اَرْضِهِ وَ بِلاٰدِهِ وَ خَلِیْفَتِهِ عَلٰی خَلْقِهِ وَ عِبٰادِهِ وَ سْلٰالَةِ النّْبْوَّةِ وَ بَقِیَّةِ الْعِتْرَةِ وَ الصَّفْوَةِ صٰاحِبِ الزَّمٰانِ وَ مُظْهِرِ الِْایْمٰانِ وَمُلَقِّنِ اَحْکٰامِ الْقُرآنِ وَ مُطَهِّرِ الْاَرْضِ وَ نٰاشِرِ الْعَدْلِ فِی الطُّوْلِ وَ الْعَرْضِ وَ الْحُجَّةِ الْقٰائِمِ الْمَهْدِیِّ الْاِمٰامِ الْمُنْتَظَرِ الْمَرْضِیِّ وَ ابْنِ الْأَئِمَّةِ الطّٰاهِرینَ الْوَصِیِّ بْنِ الْآَوْصِیٰائِ الْمَرْضِیِّینَ الْهٰادِی الْمَعْصُوْمِ ابْنِ الْآَئِمَّةِ الْهُدٰاةِ الْمَعْصُوْمینَ السَّلٰامُ عَلَیْکَ یٰا مُعِزَّ الْمُؤْمِنینَ الْمُسْتَضْعَفینَ السَّلٰامُ عَلَیْکَ یٰا مُذِلَّ الْکٰافِرینَ الْمُتَکَبِّرینَ الظّٰالِمینَ السَّلٰامُ عَلَیْکَ یٰا مُوْلٰایَ یٰا صٰاحِبَ الزَّمٰانِ السَّلاٰمُ عَلَیْکَ یَا بْنَ رَسْوْلِ اللّٰهِ السَّلاٰمُ عَلَیْکَ یَا بْنَ اَمیرِالْمُؤْ مِنینَ السَّلاٰمُ عَلَیْکَ یَا بْنَ فٰاطِمَةَ الزَّهْرآَئِ سَیِّدَةِ نِسٰائِ الْعٰالَمینَ السَّلاٰمُ عَلَیْکَ یَا بْنَ الْأَئِمَّةِ الْحُجَجِ الْمَعْصُومینَ وَ الْأِمٰامِ علٰی الْخَلْقِ اَجْمَعینَ السَّلاٰمُ عَلَیْکَ یٰا مَوْلاٰیَ سَلاٰمَ مُخْلِصٍ لَکَ فی الْوِلاٰیَةِ اَشْهَدُاَنَّکَ الْأِمٰامُ الْمَهْدِیُّ قَوْلاًوَ فِعْلاً وَ اَنْتَ الَّذی تَمْلَأُ الْاَرْضَ قِسَطاً وَ عَدْلاًبَعْدَ مٰا مُلِئَتْ ظُلْماًوَ جَوْراً فَعَجَّلَ اللّٰهُ فَرَجَکَ وَ سَهَّلَ مَخْرَجَکَ وَ قَرَّبَ زَمٰانَکَ وَ کَثَّرَ اَنْصٰارَکَ وَ اَعْوٰانَکَ وَ اَنْجَزَلَکَ مٰا وَعَدَکَ فَهُوَ اَصْدَقُ الْقٰائِلینَ وَ نُریدُ اَنْ نَمُنَّ علٰی الَّذینَ اسْتُضْعِفُو ا فی الْأَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ أَئِمَةً وَ نَجْعَلَهُمْ الْوٰارِثینَ یٰا مَوْلاٰیَ یٰا صٰاحِبَ الزَّمٰانِ یَا بْنَ رَسُولِ اللّٰهِ حٰاجَتی کَذٰا وَ کَذٰا (کذا کذا کی جگه حاجت بیان کریں ( فَاشْفَعْ لی فی نَجٰاحِهٰا فَقَدْ تَوَجَّهْتُ اِلَیْکَ بِحٰاجَتی لِعِلْمی اََنَّ لَکَ عِنْدَ اللّٰهِ شَفٰاعَةً مَقْبُولَةً وَ مَقٰاماًمَحْمُوْداًفَبِحَقِّ مَنِ اخْتَصَّکُمْ بِاَمْرِهِ وَارْتَضٰاکُمْ لِسِرِّهِ وَ بِالشَّانِ الَّذی لَکُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَهُ سَلِ اللّٰهَ تَعٰالیٰ فی نُجْحِ طَلِبَتی وَ اِجٰابَةِ دَعْوَتی وَ کَشْفِ کُرْ بَتی)

پھر خدا سے اپنی حاجت طلب کرے انشا ء اللہ بہت جلد پوری ہوگی ۔ مرحوم محدث قمّی کتاب مفاتیح الجنان میں فرماتے ہیں کہ بہتر یہ ہے کہ رکعت اوّل میں سورہ حمد کے بعد سورہ (فتح (اور رکعت دوّم میں سورہ حمد کے بعد (اذا جاء نصراللہ ( پڑھے۔

دعائے عہد

اس دعا کی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہے جو لوگ امام (عج) کے دیدار کے مشتاق ہیں وہ چالیس روز تک مسلسل نماز فجر کے بعد اسکی تلاوت فرمائیں ۔

چالیس دنوں کی خصوصیات:

ایک بات قابل توجہ ہے کہ نہ صرف اس دعا کو پڑھنے کی تاکید چالیس روز تک ہے بلکہ بہت سے دوسرے مقامات پر ان چالیس روز کی بہت اہمیت ذکر ہوئی ہے۔جیسا کہ مرحوم کلینی نقل کرتے ہیں : ''ما اجمل عبد ذکر اللّٰه اربعین صباحاً الّا زَهَّدَهُ فی الدنیا واَثْبَتَ الحکمةَ فی قلبه (۱) ترجمہ: اس سے اچھا بندہ کون ہوگا جو خدا کا ذکر چالیس صبح تک کرے اور خدا اسکو زاہد قرار دے اور اسکے قلب میں حکمت راسخ فرمائے ۔

علامہ مجلسی جناب قطب راوندی کی کتاب لب اللباب سے نقل کرتے ہیں کہ:

من اخلص العبادة لِلّٰه اربعین صباحاً ینابیع الحکمة من قلبه علی لسانه (۲)

ترجمہ: جو کوئی چالیس روز تک خلوص کے ساتھ خدا کی عبادت انجام دے تو حکمت کا چشمہ اسکے قلب سے پھوٹ کر زبان پر جاری ہوجائے گا۔

اسی طرح حضرت موسی ـ کے ساتھ ہوا کہ انہوں نے کتاب خدا اور احکامات الہی کے حصول کے لیئے چالیس دنوں تک کھانا پینا ترک کیا ۔(۳)

معرفت اور عبودیت کے درجات اور منازل کو طے کرنے کے لیئے ضروری ہے کہ اس طرح سے قدم بہ قدم بڑھے تاکہ کسی نتیجہ تک پہنچ سکے اسکے برعکس گناہوں اور معصیت کے بارے میں چالیس دنوں کا تذکرہ ہے۔

جیسا کہ امام موسی کاظم ـ سے نقل ہوا ہے کہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:''من اشرب الخمر لم یحتسب له صلا ته اربعین یوماً '' (۴)

ترجمہ: جو کوئی شراب نوشی کرے تو چالیس دن تک اسکی نماز قبول نہیں ہوگی۔

ان تمام روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کسی مقصد کے حصول کے لیئے چالیس دن تک کوئی عمل انجام دینا خاص اہمیت رکھتا ہے۔جس طرح دعائوں کا اثرچالیس دن میں ظاہر ہوتا ہے اسی طرح گناہوں کا اثر چالیس دن تک باقی رہتا ہے ۔

مرحوم مجلسی نے متعدد واسطوں سے اس دعا کو اپنی کتاب بحارالانوار میں مختلف مقامات پر نقل کیا ہے۔ ان میں سید ابن طائوس کی مصباح الزائر اور محمد بن علی جبعی کی مجموعہ جباعی ہے اور اسکے علاوہ بلد الامین،مصباح کفعمی اور کتاب عتیق سے بھی اسے نقل کیا ہے(۵)

اَللّهُمَّ رَبَّ النُّورِ الْعَظِیمِ وَرَبَّ الْکُرْسِیِّ الرَّفِیعِ وَرَبَّ الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ وَمُنْزِلَ التَّوْراةِ وَالاِِْنْجِیلِ وَالزَّبُورِ وَرَبَّ الظِّلِّ وَالْحَرُورِ وَمُنْزِلَ الْقُرْآنِ الْعَظِیمِ وَرَبَّ الْمَلائِکَةِ الْمُقَرَّبِینَ وَالاََْنْبِیائِ وَالْمُرْسَلِینَ اللّهُمَّ ِنِّی َسَْلُکَ بِاسْمِکَ الْکَرِیمِ وَبِنُورِ وَجْهِکَ الْمُنِیرِ وَمُلْکِکَ الْقَدِیمِ یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ َسَْلُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی َشْرَقَتْ بِهِ السَّمَاواتُ وَالاََْرَضُونَ وَبِاسْمِکَ الَّذِی یَصْلَحُ بِهِ الاََْوَّلُونَ وَالاَْخِرُونَ یَا حَیّاً قَبْلَ کُلِّ حَیٍّ وَیَا حَیّاً بَعْدَ کُلِّ حَیٍّ وَیَا حَیّاً حِینَ لاَ حَیَّ یَا مُحْیِیَ الْمَوْتی وَمُمِیتَ الاََْحْیائِ یَا حَیُّ لاَ ِلهَ ِلاَّ َنْتَ اللّهُمَّ بَلِّغْ مَوْلانَا الاِِْمامَ الْهادِیَ الْمَهْدِیَّ الْقائِمَ بَِمْرِکَ صَلَواتُ اللّهِ عَلَیْهِ وَعَلَی آبائِهِ الطَّاهِرِینَ عَنْ جَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ فِی مَشارِقِ الاََْرْضِ وَمَغارِبِها سَهْلِها وَجَبَلِها وَبَرِّها وَبَحْرِها وَعَنِّی وَعَنْ وَالِدَیَّ مِنَ الصَّلَواتِ زِنَةَ عَرْشِ اللّهِ وَمِدادَ کَلِماتِهِ وَمَا

َحْصاهُ عِلْمُهُ وََحاطَ بِهِ کِتابُهُ اللّهُمَّ ِنِّی ُجَدِّدُ لَهُ فِی صَبِیحَةِ یَوْمِی هذَا وَمَا عِشْتُ مِنْ َیَّامِی عَهْداً وَعَقْداً وَبَیْعَةً لَهُ فِی عُنُقِی لاَ َحُولُ عَنْه وَلاَ َزُولُ َبَداً اللّهُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ َنْصارِهِ وََعْوانِهِ وَالذَّابِّینَ عَنْهُ والْمُسارِعِینَ ِلَیْهِ فِی قَضائِ حوَائِجِهِ وَا لْمُمْتَثِلِینَ لاََِوامِرِهِ وَالْمُحامِینَ عَنْهُ وَالسَّابِقِینَ ِلی ِرادَتِهِ وَالْمُسْتَشْهَدِینَ بَیْنَ یَدَیْهِ

اللّهُمَّ ِنْ حالَ بَیْنِی وَبَیْنَهُ الْمَوْتُ الَّذِی جَعَلْتَهُ عَلَی عِبادِکَ حَتْماً مَقْضِیّاً فََخْرِجْنِی مِنْ قَبْرِی مُؤْتَزِراً کَفَنِی شاهِراً سَیْفِی مُجَرِّداً قَناتِی مُلَبِّیاً دَعْوَةَ الدَّاعِی فِی الْحاضِرِ وَالْبادِی اللّهُمَّ َرِنِی الطَّلْعَةَ الرَّشِیدَةَ وَالْغُرَّةَ الْحَمِیدَةَ وَاکْحَُلْ ناظِرِی بِنَظْرَةِ مِنِّی ِلَیْهِ وَعَجِّلْ فَرَجَهُ وَسَهِّلْ مَخْرَجَهُ وََوْسِعْ مَنْهَجَهُ وَاسْلُکْ بِی مَحَجَّتَهُ وََنْفِذْ َمْرَهُ وَاشْدُدْ َزْرَهُ وَاعْمُرِ اللّهُمَّ بِهِ بِلادَکَ وََحْیِ بِهِ عِبادَکَ فَِنَّکَ قُلْتَ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ َیْدِی النَّاسِ فََظْهِرِ اللّهُمَّ لَنا وَلِیَّکَ وَابْنَ بِنْتِ نَبِیِّکَ الْمُسَمَّی بِاسْمِ رَسُولِکَ صَلَّی اللّٰه عَلَیْهِ وَآلِهِ حَتَّی لاَ یَظْفَرَ بِشَیْئٍ مِنَ الْباطِلِ ِلاَّ مَزَّقَه ُوَیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُحَقِّقَهُ وَاجْعَلْهُ اللّهُمَّ مَفْزَعاً لِمَظْلُومِ عِبادِکَ وَناصِراً لِمَنْ لاَ یَجِدُ لَهُ ناصِراً غَیْرَکَ وَمُجَدِّداً لِمَا عُطِّلَ مِنْ َحْکامِکِتابِکَ وَمُشَیِّداً لِمَا وَرَدَ مِنْ َعْلامِ دِینِکَ وَسُنَنِ نَبِیِّکَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وآلِهِ وَاجْعَلْهُ اللّهُمَّ مِمَّنْ حَصَّنْتَهُ مِنْ بَْسِ الْمُعْتَدِینَ اللّهُمَّ وَسُرَّ نَبِیَّکَ مُحَمَّداً صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وآلِهِ بِرُؤْیَتِهِ وَمَنْ تَبِعَهُ عَلَی دَعْوَتِهِ وَارْحَمِ اسْتِکانَتَنا بَعْدَهُ اللَّهُمَّ اکْشِفْ هذِهِ الْغُمَّةَ عَنْ هذِهِ الاَُْمَّةِ بِحُضُورِهِوَعَجِّلْ لَنا ظُهُورَهُ ِنَّهُمْ یَرَوْنَهُ بَعِیداً وَنَرَاهُ قَرِیباً بِرَحْمَتِکَ یَا َرْحَمَ الرَّاحِمِینَ الْعَجَلَ الْعَجَلَ یَامَوْلایَ یَا صاحِبَ الزَّمانِ

اس آخری فقرے کو اپنے داہنے زانو پر ہاتھ مار کر ٣ دفعہ پڑھے

____________________

(۱) کافی ج٢،ص١٢،باب اخلاص ج٦

(۲) بحار الانوار ج٥٣،ص٣٢٦

۳) بحارالانوار ج٥٣، ص٣٢٦

(۴) کافی ج٦،ص٤٠٦

(۵) بحار الانوار ج٥٣،ص٩٥ اور ج٨٦،ص٢٨٤ اور ج٩٤،ص٤٢ اور ج١٠٢،ص١١١


ماہ شعبان کی منا سبتیں

قال رسول ا لله (صلی الله علیه و آله وسلم ):شعبان شهری رحم الله من اعاننی علیٰ شهری

رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرما یا :(شعبان میرامہینہ ہے خدارحمت کرے ہر اس شخص پر جو اس میں میری مدد کرے )

١ شعبان : آیةاللہ شہرستانی کے بقول شہادت حضرت زینب ۔

٢ شعبان : رمضان کے روزے فرض ہوئے،اور آیۂ کریمہ : (یاایھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام (کا نزول ،اسی مہینے میں رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا غزوہ ٔ بنی مصطلق کے لئے خروج ۔

٣ شعبان :ولادت حضرت امام حسین اور امام حسین کا ٦٠ ھ میں وارد مکہ ہو نا

٤ شعبان :ولادت حضرت عباس ـ ،وفات علی بن محمد سمری چوتھے نائب امام زمانہ (عج) اور امام کی توقیع کا صادرہو نا ۔

٥ شعبان : ایک روایت کے مطابق امام زین العابدینـ کی ولادت۔

٧ شعبان: ولادت جناب قاسم ـ

١١شعبان : ولادت جناب علی اکبر ـاور جناب نوح ـ کی دعا سے طوفان کا ختم ہو ا۔

١٤شعبان : ٢٥٥ ھ میں امام حسن عسکری نے اپنی پھوپی جناب حکیمہ خاتون کو اپنے یہاں دعوت دی اور کہلوایا کہ آج ہمارے یہاں افطار کریں کیونکہ شب نیمۂ شعبان کو خداوندعالم اپنی حجت کو آشکار کرے گا ،اور اسی شب کو رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی امت کی شفاعت کے لئے خدا سے درخواست کیاور خداوند عالم نے تمام امت کی شفاعت انکے نام کر دیا ۔

١٥شعبان المعظم : ولادت امام عصر ٢٥٥ھ ق آج کی شب آب زمزم کی طغیانی بڑھ جا تی ہے اور یہ اتنا زیادہ ہو جا تا ہے کہ ابلنے لگتا ہے لیکن افسوس کہ اس کے دہانے کو بند کر دیا ہے ورنہ سبھی اس کا مشاہدہ کر تے !

١٨شعبان : کو امام حسن عسکری (ع)نے امام عصر کی ولادت کا اپنے اصحاب پر اظہار کیا اور امام (عج) کی امامت کی تصدیق کرتے ہو ئے ان کی امامت کا اعلان عام کر دیا۔اسی روز جناب حکیمہ خاتون امام کی زیارت کے لئے تشریف لائیں ۔

٢١شعبان : ٥٠،دن کے بعد جناب نوح اپنی کشتی سے خارج ہو ئے ۔

٢٧شعبان : قوم عاد پر عذاب الہی کا نزول ۔

٢٨شعبان : سورۂ مبارکہ توبہ کی ١٢٨ویں آیت :(لقد جائکم رسول من انفسکم (کا نزول ہوا یاد رہے کہ یہ آیت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس دار فانی سے کوچ کرنے سے چھ مہینے پہلے نازل ہو ئی ۔روایت میں ہے کہ جو شخص بھی اس آیہ کریمہ کو نماز کے بعد پڑھے تو اسے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شفاعت نصیب ہو گی ۔

٢٩شعبان : سال دوم ہجرت کو ماہ مبارک رمضان کے روزے واجب کئے گئے و شب اول ماہ رمضان میں جناب ابراہیم کے صحف کا نزول ہوا ۔

پندرہویں شعبان کی رات کے مختصر اعمال

شب نیمۂ شعبان کی فضیلت بیان کرنے سے انسان قاصر ہے یہ اتنی با برکت شب ہے کہ امام محمد باقر ـنے فرمایا : شب قدر کے بعد تمام راتوں سے یہ رات افضل ہے کیوں کہ خدا وند متعال اپنافضل و کرم بندوں کو عطا فرماتا ہے اور انکے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے اس رات خدا وند کریم کسی سائل کے سوال کو رد نہیں کرتااس رات کو: لیلةُ البرٰا ت ، لیلة ُ المُبارکہ اور لیلةُ الرَّحمة بھی کہتے ہیں ۔

اس شب میں :

٭ غسل کرنا

٭شب بیداری کرنا

٭دعا و استغفار میں مصروف رہنا

٭زیارت امام حسین ـ

٭دعائے کمیل

٭دعائے توسل

٭دعائے فرج

٭نماز جعفرطیاّر

٭ز یارت آل یٰسین ،زیارت صاحب الامر اور اس دعا کا پڑھنا مستحب ہے :

بسم الله الرحمن الر حیم

اَلْلّٰهُمَّ بِحَقِّ لَیْلَتِنٰا هٰذِهِ وَ مَوْلُودِهٰاوَ حُجَّتِکَ وَمَوْعُوْدِ هَا اَلَّتِیْ قَرَنْتَ اِلیٰ فَضْلِهَافَضْلاً فَتَمَّتْ کَلِمَتُکَ صِدْقاً وَعَدْلاًلامُبَدِّلَ لِکَلِمٰا تِکَ وَلاٰ مُعَقِّبَ لِأیٰاتِکَ نُوْرُکَاَلمُتَاَ لِّقُ وَ ضِیٰآؤُکَ اَلْمُشْرِقُ وَ الْعَلَمُ اَلنّوُرُ فِی طَخْیٰآئِ الدَّیْجُورِ الْغٰآئِبُ الْمَسْتُورُ جَلَّ مَوْلِدُه وَ کَرْمَ مَحْتِدُهُ وَ الْمَلَآئِکَةُشُهَّدُهُ وَ الْلّٰهُ نَاصِرُهُ وَمُؤَیِّدُهُ اِذٰانَ مِیعٰادُهُ وَ المَلاٰئِکَةُ اَمْدٰادُهُ سَیْفُ اللّٰهِ الَّذیْ لاٰ یَنبوُ وَ نُورُهُ الَّذیْ لاٰ یَخْبُو وَ ذُواْلحِلْمِ الّذیْ لاٰیَصْبُومَدٰارُالدَّهْرِ وَ نَوٰامِیسُ العَصرِ وَوَلاٰةُ الأمْرِوَ المُنَزَّلُ عَلَیْهِمْ مٰا یَتَنَزّلُ فِی لَیْلَةِالقَدْرِ وَ اَصْحاٰبُ الحَشْرِ وَ النَّشْرِ تَرٰاجِمَةُ وَحْیِِهِ وَلاٰةُاَمْرِهِ وَنَهْیِهِ اللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلیٰ خَاتِمِهِمْ وَ قآئِمِهِمُ الْمَسْتُورِهِ عَنْ عَوٰا لِمِهِمْ اللّٰهُمَّ وَاَدْرِکْ بِنٰااَیّٰامَهُ وَظُهُورَهُ وَقِیٰامَهُ وَاجْعَلْنٰا مِنْ اَنْصَارِهِ وَاقْرِنْ ثٰارَناَ بِثَارِهِ وَاکْتُبْنَا فِیْ اَعْوٰانِهِ وَخُلَصآئِهِ وَاَحْیِنَا فِیْ دَوْلَتِهِ نَاعِمِیْنَ وَبِصُحْبَتِهِ غَانِمِیْنَ وَ بِحَقِّهِ قٰآئِمِیْنَ وَ مِنْ السُّوئِ سٰالِمِیْنَ یٰااَرْحَمَ الرَّحمِیْنَ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبَّ الْعٰالِمِیْنَ وَصَلَّ اللّٰهُ علیٰ سیَّدِنٰا مُحَمَّدٍخٰا تَمِ النَّبِیّینَ وَالْمُرْسَلِینَ وَ عَلیٰ اَهْلِ بَیْتِهِ الصّٰادِ قِینَ وَ عِتْرَ تِهِ النّٰاطِقِیِنَ وَالْعَنْ جَمِیعَ الظّٰالِمِینَ وَاحْکُمْ بَیْنَنٰاوَبَیْنَهُمْ یٰا اَحْکَمَ اْلحَاکِمِیْنَ

ترجمہ:خدا یا ہماری اس رات اور اس کے مولو اور تیری حجت اور اس کے موعود کا واسطہ کہ جس کے فضل سے مزید فضیلت کو ملایا ہے تو تیرا کلمہ صداقت و عدالت کے اعتبار سے مکمل ہو گیا تیرے کلمات میں کوئی تبدیلی نہیں ہے اور تیری آیتوں میں کوئی تعقیب نہیں ہے تیرا نور روشن ، تیری ضیاء منور اور نور نشانی اس تاریک شب میں وہ امام غائب و پنہان ہے جس کا مولد معظم اور جس کے ظہور کا مقام مکرم ہے اور ملائکہ اس کے گواہ ہیں اور اللہ ناصر اور موید ہے جب کہ اس کے ظہور کا وقت آجائے اور ملائکہ اس مدد گار ہوں وہ خدا کی تلوار ہے جو کند نہیں ہوتی ہے اور اللہ کا نور ہے جو کبھی نہیں بجھتا وہ صاحب حلم ہے جو سبک سر نہیں ہوتا مدار روزگار اور نگہبان زمانہ ہے اورولی امر ہے اور ان پر وہ چیزیں نازل ہوتی ہیں جو شب قدر میں نازل ہوتی ہیں اور وہ صاحبان حشر و نشر ہیں اور اس کی وحی کے ترجمان ہیں اور اس کے امر نہی کے والی ہیں تو خدایا درود نازل فرماامام خاتم اور امام قائم، پر جو دنیا کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں خدایا ہم کو ایام تک پہنچادے ان کے ظہور اور ان کے قیام کے اور ہم کو ان کے انصار میں قرار دے اور ہمارے اقدام کو ان کے انتقام سے ملادے اور ہم کو لکھ دے ان کے مددد گاروں اور مخلصین میں اور ہم کو زندہ رکھ ان کی حکومت میں نعمت کے ساتھ اور ان کی صحبت کے فائدہ کے ساتھ اور ان کے حق کے ساتھ قائم رکھ اور ہر برائی سے محفوظ رکھ اے سب سے بڑے رحم کرنے والے اور حمد عالمین کے رب خدا کے لئے ہے اور درود ہمارے سردار محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خاتم النبیین اور سید مرسلین اور ان کے سچے اہل بیت پراور اور ان کی ناطق عترت پر اور لعنت کر تمام ظالموں پر اور فیصلہ کر ہمارے اور ان کے درمیان اے بہترین حکم کرنے والے۔

اس شب میں ہزار مرتبہ استَغْفِرُاللہ اور ہزار مرتبہ الحمدُ للہ کا پڑھنا بھی ثواب رکھتا ہے اور دو رکعت نماز بھی مستحب ہے جسکی پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ کافرون، دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ توحید اورنماز کے تمام ہونے کے بعد ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ ٣٣ مرتبہ الحمد للہ ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر کو پڑھے ۔

امام جعفر صادق ـنے فرمایا کہ : اس مہینے میں جتنا ہو سکے صدقہ نکالو کیونکہ یہی صدقہ قیامت کے دن کوہ احد کے برابر نظر آئیگا ۔زرارہ سے امام جعفرصادق ـنے فرمایاکہ: اے زرارہ! اس دعا کو محفوظ کرلو:اَلْلَّهُمَّ عَرِّفْنِیْ نَفْسَکَ فَاِنَّکَ اِنْ لَمْ تُعْرِفِّنِیْ نَفْسَکَ لَمْ اَعْرِفْ نَبِیِّکْ اَلْلّٰهُمَّ عَرِّفْنِیْ رَسُوْلَکَ فَاِنَّکَ اِنْ لَمْ تُعَرِفِّنِیْ رَسُوْلَکَ لَمْ اَعْرِفْ حُجَّتَکَ اَلْلّٰهُمَّ عَرِّفنی حُجَّتَکَ فَاِنَّکَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِیْ حُجَّتَکَ ضَلَلْتُ عَنْ دِیْنِی ۔

٭(بار الہا مجھے اپنی معرفت عطافرما اس لیے کہ اگر تو نے مجھے اپنی معرفت نہیں عطاکی تو مجھے تیرے نبی کی معرفت حاصل نہیں ہوسکتی ۔

٭(بار الہا مجھے اپنے رسول کی معرفت عطافرما اگر تو نے مجھے اپنے رسول کی معرفت نہیں عطاکی تو مجھے تیری حجت کی معرفت حاصل نہیں ہو سکتی ۔

٭(بارالہاتو مجھے اپنی حجت کی معرفت عطاکر کیونکہ اگر تونے مجھے اپنی حجت کی معرفت عطا نہیں کی تو میں اپنے دین سے گمراہ ہو جاونگا ۔()

نیمۂ شعبان کی دعا

منقو ل ہے کہ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس شب پر نور ومبارک میں اس دعا کو پڑھا کرتے تھے:

بسم الله الر حمن الر حیم

اَلْلّٰهُمَّ اقْسِمْ لَنٰا مِنْ خَشْیَتِکَ مٰا یَحُولُ بَیْنَنٰا وَ بَیْنَ مَعْصِیْتِکَ وَ مِنْ طٰاعَتِکَ مٰا تُبَلِّغُنٰا بِهِ رِضْوٰانَکَ وَ مِنَ الْیَقیْنِ مٰا یُهَوَّنُ عَلَیْنٰا بِهِ مُصِیْبٰاتِ الدُّنْیاٰ اَلْلّٰهُمَّ اَمْتِعْنٰا بِاَسْمٰاعِنٰا وَ اَبْصٰارِنٰاو قُوُّ تِنٰامَا اَحْیَیْتَنٰا وَاجْعَلْهُ الْوٰارثَ مِنَّا وَاجْعَلْ ثَارَناٰ عَلٰی مَنْ ظَلَمَنٰاوَانْصُرْنٰا عَلٰی مَنْ عٰادٰانٰا وَلاٰ تَجْعَلْ مُصِیْبَتَنٰا فِی دِیْنِنٰا وَلاٰ تَجْعَلِ الدُّنْیٰا اَکْبَرُ هَمِّناٰوَلاٰ مَبْلَغَ عِلْمِنٰا وَلاٰ تُسَلِّطْ عَلَیْنٰا مَنْ لاٰ یَرْحَمُنٰا بِرَحْمَتِکَ یٰااَرْحَمَ الرّٰ احِمِیْنَ

ترجمہ:

(خدایا میرے حصہ میں اپنا خوف قرار دے جومیرے اور تیری معصیت کے درمیان حائل ہو جا ئے اور اپنی اطاعت عطا کر جس سے تیری خوشنودی کو پا جا ؤں اور یقین عطا کر جسکی وجہ سے دنیا کی تمام مصیبتیں آسان ہو جا ئیں خدایا میرے کا نوں میری آنکھوں اور قوتوں کو بہرہ مند کر جب تک تو مجھ کو زندہ رکھے اور اس کو میراث بنادے اور میرا خون اس کی گردن پر قرار دے جو مجھ پر ظلم کرے اور ہماری مدد کر جو ہم سے دشمنی کرے اور ہماری مصیبت ہمارے دین میں نہ قرار دے اور دنیا کو ہمارا سب سے بڑا مقصد نہ قرار دے اور نہ ہمارے علم کا مقصود قرار دے اور نہ مسلط کر ہم پر اس کو جو رحم نہ کرے اپنی رحمت سے اے بہترین رحم کرنے والے رحم کر۔(

ابن بابویہ نے امام حسن مجتبیٰ ـسے روایت کی ہے کہ جبرئیل امین رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پرنازل ہوئے اور فرمایا :اے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی امت کو حکم دیں کہ شب نیمۂ شعبان دس رکعت نماز پڑھے جسکا طریقہ نماز صبح کی طر ح ہے لیکن اس نمازکی ہر رکعت میں سورۂ حمد کے بعد دس مرتبہ سورۂ توحید کو پڑھے اور سلام کے بعد سجدہ میں یہ کہے :

اَللّٰهُمَّ لَکَ سَجَدَ سَوَادِی وَ خَیاٰ لیِ وَ بَیاٰ ضیِ یاٰ عَظِیِمَ کُلِّ عَظِیمِ اغْفِرْلیِ ذَنْبِی الْعَظِیم ِفَاِنَّهُ لَا یَغْفِرُ هُ غَیْرُکَ یاٰ عَظِیْم ۔

جس نے بھی اس عمل کو انجا م دیا خدا وندعالم اسکے اور اسکے والدین کے سترسالہ گناہوں کو معاف کردیگا اوراسکے برابر اعمال حسنہ کا شمار کریگا۔(۱)

١٥شعبان کی شب کے اعمال کافی زیادہ ہیں ہمیں چاہیے کہ صمیم قلب سے جتنی بھی عبادت ممکن ہوسکے انجام دیں گرچہ ایسی راتوں میں انسان ساری رات عبادت الہی میں صرف کرے پھر بھی کم ہے ۔ اس کتاب میں ہم اختصار کی وجہ سے بعض دعائوں کے ذکر پر ہی اکتفا کرتے ہیں تفصیلات کے لئے مندرجہ ذیل کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے:

٭مفاتیح الجنان

٭اقبال الاعمال

٭وقا یع الایام....

٭صاحب کتاب مفاتیح الجنان نے سید بن طاوس سے نقل کیا ہے کہ سید نے مصباح الزائر میں ایک فصل اعمال سرداب مقدس کے سلسلہ میں لکھی ہے اور اسمیں چھ زیارتیں نقل کی ہیں اور اسکے بعدفرمایا ہے کہ اسی فصل سے دعا ء ندبہ ملحق کی جاتی ہے جس کا پڑھنا مستحب ہے چار عیدوں میں : عیدفطر، عید قربان ،عید غدیر ،اور روز جمعہ اور یہ دعا مفاتیح الجنان میں ہے لہذا مزید معلومات کے لئے آپ رجو ع کر سکتے ہیں ۔

٭روز جمعہ امام عصر ـسے منسوب ہے اور یہ وہی دن ہے جس دن امام ظہور فرمائیں گے لہذا اس دن کی زیارت یہ ہے :

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حیمِ

السَّلامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ اللّٰه ِ فِی اَرْ ضِهِ اَلسلام ُ عَلیکَ یَا عَینَ اللّٰه ِ فِی خَلْقِهِ اَلسلام ُ عَلیکَ یَا نُوْ رَ اللّٰه ِالَّذِی یَهتَدِی بِهِ اَلمُهتَدُوْنَ وَ یُفَرَجُ بِهِ عَنِ المُؤمِنِینَ السلام ُ عَلیکَ اَیُّهَاَالمُهَذَّبُ اَلخَآئِفُ اَلسّلامُ عَلیکَ اَیَّهَا الْوَلِیُّ اَلْنَّاصِحُ اَلسّلامُ عَلَیْکَ یَاسَفِینَةَالنَّجَاةِاَلسّلامُ عَلَیْکَ یَا عَینَ الحَیٰوةِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ صَلّی اللّٰهُ عَلَیْکَ وَ عَلٰی آلِ بَیتِکَ الطَّیَّبِیْن الطَّاهِرِینَ السَّلامُ عَلیکَ عَجَّلَ اللّهُ لَکَ مَا وَعَدَکَ مِنَ النّصْرِوَ ظُهوْرِالأمْر السّلامُ عَلَیْکَ یٰامَوْلایَ أنَا مَوْلاکَ عَارِف بِأُوْلاکَ وَاُخْرٰاکَ اَتَقَرَّبُ اِلیٰ اللّٰهِ تَعٰالیٰ بِکَ وَبِآلِ بَیْتِکَ وَ اَنْتَظِرُ ظُهُوْرَکَ وَ ظُهُوْرَالْحَقِّ عَلیٰ یَدَیْکَ وَ أَسئَلُ اللَّهَ أَنْ یُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَاَنْ یَجْعَلَنِی مِنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ لَکَ وَ اَلتَّابِعِینَ وَاَلنَّاصِرِیْنَ لَکَ عَلیٰ آ عْدآئِکَ وَاَلْمُسْتَشْهِدِینَ بَیْنَ یَدَیْکَ فِیْ جُمْلَةِ اَوْلِیآئِکَ یَا مَوْلایَ یَا صَاحِبَ الزّمانِ صَلَوٰتُ اللّهِ عَلَیْکَ وَ عَلیٰ آلِ بَیْتِکَ هٰذٰایَوْمُ اَلْجُمْعَةِ وَهُویَوْمُکَ اَلْمُتَوَقَّعُ فِیْهِ ظُهُوْرُکَ وَ الْفَرَجُ فِیْهِ لِلْمُؤْمِنِیْنَ عَلیٰ یَدَیْکَ وَ قَتْلُ الْکٰافِرِیْنَ بِسَیْفِکَ وَأنٰا یٰا مَوْلَایَ فِیْهِ ضَیْفُکَ وَ جَارُکَ و َأنْتَ یَامَوْلایَ کَرِیممِنْ أوْلادِالکِرامِ وَ مَامُوْر بِالضّیٰافَةِ وَ الاِْجٰارَةِ فَأضِفْنِیْ وَأجِرْنیِ صَلواَتُ اللّهِ عَلَیْکَ وَعَلیٰ أهلِ بَیْتِکَ الطّاهِرِیْنَ

ترجمہ:

سلام ہو آپ پر اے اللہ کی حجت زمین میں سلام ہو آپ پر اے نمائندہ خدا مخلوق کے درمیان سلام ہو آپ پر اے اللہ کے نور جس سے ہدایت والے ہدایت پا تے ہیں اور اس کے ذریعہ سے مؤمنین کو کشادگی حاصل ہو گی سلام ہو آپ پر اے پا کیزہ اور خوف رکھنے والے سلام ہو آپ پر اے اللہ کے ولی اور نصیحت کرنے والے سلام ہو آپ پر اے کشتی نجات سلام ہو آپ پر اے سر چشمۂ زندگی سلام ہو آپ پر اللہ کا درود ہو آپ پر اور آپ کے اہل بیت طیّبین الطاہرین پرسلام ہو آپ پر خدا وندعالم جلدی کرے سلطنت کے اور نصرت میں جس کا وعدہ کیا ہے ۔

سلام ہوآپ پر اے میرے مولا میں آپ کا دوست ہوں آپ کے اول و آخر (پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے امام زمانہ تک( کا پہچاننے والا ہوں میں آپ کے ذریعہ اور آپ کے اہلبیت کے ذریعہ اللہ سے قریب ہو تا ہوں اور آپ کے ذریعہ سلطنت حق کے ظہور کا انتظار کرتا ہوں اور اللہ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ درود بھیجے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل محمد پر اور مجھے قرار دے آپ کے انتظار کرنے والوں آپ کے تا بعین اور آپ کے دشمنوں کے مقابلہ میں نا صر وں میں قرار دیاور آپ کے ان دوستوں میں جو شہادت کے فیض سے فیضیاب ہوئے قرار دے ۔ اے میرے مو لا ،اے صاحب الزمان (عج)،اللہ کا درود ہو آپ پر آپ کے اہل بیت طاہرین پریہ جمعہ کا دن جو آپ کا دن ہے جس میں آپ کے ظہور کی توقع کی جا تی ہے اور جس میں مؤمنوں کے لئے آپ کے ہا توں پر کا میابی اور کا فروں کا قتل ہو گا آپ کی تلوار سے اور میں اے میرے مو لا اس میں آپ کا مہمان ہوں اور آپکی پناہ میں ہوں اور میرے مولا آپ کریم ہیں اور کریم کی اولاد میں ہیں اور مہمان نوازی اور پناہ کے لئے مامور ہیں تو مجھے اپنی پناہ میں لے لیجئے اللہ کا درود ہو آپ پر اور آپ کے اہل بیت طاہرین پر۔

____________________

(۱) زاد المعاد علامہ مجلسی


امام عصر سے متعلق جوانوں کے لئے سوالات اور انکے جواب

س١ : اس وقت روئے زمین پر حجت خدا کون ہے ؟

ج١: بارہویں امام مہدی (عج)

س٢: امام عصر کب اور کہاں پیدا ہوئے ؟

ج٢: ١٥شعبان المعظم ٢٥٥ ھ ق میں سامرہ میں پیدا ہوئے ۔

س٣: آپ کے والدماجداور والدہ گرامی کا نام کیا ہے ؟

ج٣: والد امام حسن عسکری علیہ السلام اور والدہ نرجس خاتونصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں ۔

س٤: امام عصر کا نام کیا ہے اور کس نے رکھا ہے ؟

ج٤: آپ کااصل نام (م ح م د (ہے او ر یہ نام رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے رکھا ہے ۔

س٥: آپ کی کنیت کیا ہے ؟

ج٥: ابو القاسم ،ابوصالح ،ابو عبداللہ،ابو ابراہیم اور ابوجعفر۔

س٦: آپ کو امامت کے فرائض کب سونپے گئے ؟

ج٦: ٨ربیع الاول ٢٦٠ ھ ق کو ۔

س٧: اس وقت آپ کی عمر مبارک کیا ہے؟

ج٧: اس وقت آپ کی عمر مبارک ١١٧٠سال ہے ۔

س ٨: امام حسن عسکری ـ کی شہادت کے وقت بادشاہ وقت کون تھا ؟

ج٨: معتمد عباسی حکمران وقت تھا ۔

س٩:غیبت کی کتنی قسمیں ہیں ؟

ج٩:غیبت کو دو حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

(غیبت صغری ...غیبت کبری ) تاریخ کے بیان کے مطابق غیبت صغری کی مدت ٢٦٠ سے ٢٣٩ تک اور غیبت کبری کی مدت ٣٢٩ سے نامعلوم مدت تک ۔

س١٠ : امام زمانہ سے متعلق آئمہ معصومین کی کوئی حدیث پیش کریں ؟

ج١٠ : امام (عج)سے متعلق معصومین سے سینکڑوں کی تعداد میں مختلف مضامین کی حدیثیں شیعہ اوراہل سنت حضرات نے اپنی اپنی کتابوں میں نقل کی ہیں لیکن آپ مثال کے طور پر اس حدیث کوملاحظہ فرمائیں جسے علامہ جوادی نے اپنے ترجمہ میں نقل کیا ہے کہ: امام محمد باقر (ع) کا ارشاد گرامی ہے کہ خلوص دل کے ساتھ ظہور قائم کا انتظار کرنے والا شہداء اور صدقین میں شمار ہو تا ہے ،اس لئے کہ ایمان بالغیب سے بڑا کو ئی ایمان نہیں ہے اور یہ انسان کو مجاہد کی صف میں لا کر کھڑا کر دیتا ہے

س١١ : پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کو ئی حدیث ہو تو پیش کریں ؟

ج١١ : پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:''اس خدا کی قسم جس نے مجھے زندگی عطا کی اور پیغمبری سے نوازا ! یہ وہ زمانہ ہوگا جب میرا فرزند قائم ایک طولانی عرصے کے لئے لوگوں کی نظروں سے پو شیدہ ہو جائیگا اس زمانے میں لوگ کہیں گے کہ خدا کو آل محمد کی ضرورت نہیں ہے اسی طرح دوسرا گروہ بھی ان کی امامت اور رہبری میں شک کرئیگا مگر حقیقی مومن مضبوطی کے ساتھ اپنے دین پر باقی رہیں گے اور خود کو ہر طرح کے شکو ک و شبہات سے محفوظ رکھیں گے تا کہ شیطان ان کو نہ بہکا سکے وہ لوگ میرے بھائی ہو نگے

وہ لوگ خوش نصیب ہوں گے جو میرے قائم کی غیبت کے زمانے میں صبر کریں گے اور اسی طرح وہ لوگ بھی خوش نصیب ہوں گے جو اسکی محبت پر ثابت قدم رہیں گے

اسکے علاوہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دوسری حدیث میں ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایاہے کہ:

امام (عج)کے ظہور کا انتظار عبادت ہے میری امت کا بہترین عمل خدا سے امام کے ظہور کی دعا کرنا ہے(۱)

س ١٢: امام زمانہ کا ذکر قرآن مجید میں کتنی مرتبہ ہوا؟

ج١٢: بعض نے قرآن مجید کی ٣٠٠آیتوں کو امام عصر سے متعلق بیان کیا ہے جن میں سے بعض آیتیں امام کے ظہور اور انکے انتظار پر دلالت کرتی ہیں (صحیفة المہدی(

س١٣: کیاامام زمانہ کی شان میں کوئی آیت پیش کر سکتے ہیں :

ج١٣ :جی ہاں ! قرآن مجید میں بہت سی آیتیں انکی شان میں ملیں گی جس پر ہمارے شیعہ مفسرین کا بیان ہے کہ یہ آیات امام عصر کی شان میں نازل ہوئی ہیں لیکن ہم یہاں اہل سنت حضرات کی معتبر کتاب ینابیع المودة سے ایک قرآنی آیت پیش کررہے ہیں جس پر انکا اتفاق ہے کہ یہ آیۂ مبارکہ امام مہدی (عج)کی شان میں نازل ہو ئی ہے الم ذلک الکتاب لا ریب فیہ ھدی للمتقین الذین یومنون بالغیب۔(۲)

اس آیہ مبارکی تفسیر کرتے ہوئے صاحب کتاب نے یوں بیان کیا ہے کہ متقین سے مراد شیعیان حیدر کرار ہیں اور غیب سے مراد جناب امام ولی عصر ارواحنا لہ الفداء ہیں ۔

اور مومن وہ ہے جو غیبت امام زمانہ پر ایمان رکھے۔(۳) آپ اسکی تفصیل دیگر کتابوں جیسے بحا ر الانوار جلد ٥١ ص٥٢ و غایة المرام ص٧١٩ میں دیکھ سکتے ہیں ۔

س١٤: کیا توریت ،زبور اور انجیل میں بھی امام زمانہ کا ذکر ہوا ہے ؟

ج١٤ : جی ہاں صرف انہی کتابوں میں نہیں بلکہ دنیا کے تمام ادیان کی معتبر کتابوں میں امام کا ذکر ہوا ہے یہ اور بات ہے کہ بیان کرنے والے نے اپنی زبان میں بیان کیا ہے۔ توریت میں امام عصرعلیہ السلام کو (ماشع،قیدمو اور شیلو( کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ زبور میں بنام قائم اور انجیل میں بنام مہمید آخر ،جناب ابراہیم کے صحیفہ(صحف ابراہیم (میں بنام صاحب آپ کا تذکرہ آیا ہے۔(۴)

س١٥: کیا امام زمانہ کے اسم مبارک کو بغیر وضو چھو سکتے ہیں ؟

ج١٥: ہرگزنہیں یہ عمل حرام ہے(۵)

س١٦: امام زمانہ کی حکومت کی مدت کیا ہے؟

ج١٦: اس امر میں اختلاف ہے مگر احادیث کے مطابق امام عصر کی حکومت کی مدت ٧،٨،٩،٧ا،٩ا،٣٩،٤٠،٧٠،و٣٠٩سال ذکر ہے۔

س١٧: امام زمانہ کب اور کس دن ظہور کریں گے؟

ج١٧: اس کا علم فقط خدا کے پاس ہے احادیث کے مطابق امام عصر کے ظہورکا دن جمعہ اورروز عاشور ہو گ(۶)

س١٩: امام زمانہ کی غیبت کا سبب کیا ہے؟

ج١٩: آپ کتاب ہذا کا دقت سے مطالعہ کریں تو جواب مل جائے گا۔

س ٢٠: نماز امام زمانہ کے پڑھنے کا کیا طریقہ ہے؟

ج٢٠: یہ نماز بالکل نماز صبح کی طرح دورکعت ہے مگر صرف اس فرق کہ ساتھ کے اس نماز کی ہر رکعت میں آیہ مبارکہ (ایاک نعبد و ایا ک نستعین(کو سو مرتبہ پڑھا جاتا ہے نیز نماز کے تمام ہونے پر دعائے فرج (الھی عظم بلاء و برح الخفائ...( کا پڑھنا بھی وارد ہے مفاتیح الجنان کی طرف رجو ع کریں ۔

س٢١: کیا ہم امام زمانہ کے یاور وانصار میں شمار ہو سکتے ہیں اور اگر ہوسکتے ہیں توکیسے؟

ج٢١: کیوں نہیں سب سے پہلے ہمیں امام عصر کی فرمائشات پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے اس کے علاوہ امام جعفر صادق ـسے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا:

جو بھی چالس صباح(صبح(دعائے عہد کو پڑھے گا تو وہ امام کے یاور انصار میں شمار کیا جائے گا اور اگر ظہور سے پہلے اسے موت آگئی تو خدا وند عالم اسے ظہور کے وقت قبر سے اٹھائے گا تاکہ وہ امام کے یار وانصار کے ہمراہ ہو جائے خدا وند عالم اسکے ہر کلمہ کے عوض اسے ہزار حسنہ عطاکرے گااور اسکے ہزار گناہوں کو معاف کردے گ(۷)

س٢٢:امام زمانہ نے ہمارے لئے کیا فرمایا ہے ؟

ج٢٢:ایسے تو امام عصر نے ہمارے لئے بہت کچھ فرمایا ہے امام کی تقریبا ٨٠ توقیعات میں ہمارے لئے بہت سی چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں لیکن بطور اختصار ایک جملہ کی طرف اشارہ کررہا ہوں کہ امام علیہ السلام نے فرمایا :''اگر تم ہماری طرف متوجہ ہونا چاہو تو (زیارت آل یٰس جو کہ خود امام سے متعلق (کو ضرور پڑھو اور اے میرے شیعو! ہمارے ظہور کی دعائیں خدا سے مانگو''۔

س٢٣: کیا دنیا میں انسان اتنی طولانی عمر بھی گزار سکتا ہے؟!

ج٢٣: آپکا سوال مبہم ہے آپ کے سوال کا کیا مقصد ہے ؟کیا آپ امام عصر کی طولانی عمر کے برے میں سوال کرنا چاہتے ہیں ؟اگر آپ کی مرادیہ ہے توملاحظہ فرمائیں اس دنیا میں صرف ہمار ے امام ہی نہیں بلکہ انکے ساتھ کئی لوگ طولانی عمر کے ساتھ زندگی گذار رہے ہیں اور انہیں بھی ہمارے امام کے ظہور کا انتظار ہے جیسے برادران اہلسنت کے عقیدہ کے مطابق اللہ کے نبی حضرت الیاس اور ادریس ابھی تک زندہ ہیں اہل سنت حضرات جناب ادریس کے زندہ ہو نے پر اس آیت مبارکہ:

(و رفعنا ہ مکاناً علی( سے استناد کرتے ہیں(۸)

اہل سنت حضرات اس بات کے قائل بھی ہیں کہ دنیا میں ابھی٤ /نبی زندہ ہیں جو اپنے اپنے امور میں لگے ہوئے ہیں لیکن مراسم حج میں ہر سال شرکت کرتے ہیں شیعوں کے مطابق دو نبی زندہ ہیں جنمیں پہلے جناب عیسیـ اور دوسرے جناب خضر ـ ہیں تو ہمیں یہ سوچنا اور غور کرنا چاہیئے کہ جو خدا اپنے چار نبی کو زندہ رکھ سکتا ہے کیا وہ اپنے محبوب حضرت ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نائب و جانشین اور انکے خلیفہ کو زندہ نہیں رکھ سکتا ! حالانکہ ہمیں تاریخ میں جناب آدم ـسے لیکر حضرت خاتمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تک اور حضرت خاتمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے لیکر اب تک طول عمر کی بہت ساری مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں جیسے یہودیوں کی کتا ب توریت میں ان لو گوں کے نام بیان کئے گئے ہیں جن کی عمر طولانی تھیں جیسے:

(جناب آدم ـ ٩٣٠سال۔

٢( جناب شیث ـ فرزند جناب آدم ـ ٢ا٩سال

٣(جناب لوش ـ فرزند شیث ـ ٩٠٥سال

٤(جناب قنیان ـ فرزندانوش ـ ٠ا٩سال

٥(جناب مہلائیل ـ فرزند قنیان ـ ٨٩٥ سال

٦(جناب یارد ـ فرزند مہلائیل ـ ٩٦٢سال

٧(جناب خنوخ ـ(جناب ادریس ـ کو ہی خنوخ کہتے ہیں جنکی طولانی عمر کا ذکر سورۂ مریم کی٥٧آیت ہے ملاحظہ کریں (فرزند یارد ـ٣٦٥سال دنیا میں رہے پھر اٹھا لئے گئے۔

٨(جناب متو شالح (عج) فرزند خنوخ ـ٩٦٩سال

٩(جناب لمک ـ فرزند متو شالح ـ٧٧٧سال

٠(حضرت نوح (عج) فرزند لمک ـ ٩٥٠سال(۹)

ان اسماء کے ملاحظہ کرنے کے بعد ہمیں پتہ یہ چلتاہے کہ انسان کی عمر توریت کے مطابق فقط ٧٠ سال کی نہیں بلکہ حد اقل ٩٠٠ سال کی ہے اور یہ تو یہودیوں کی کتاب کا بیان ہے اب ہم اپنی مقدس اور محکم کتاب کا مطالعہ کریں کہ اس بارے میں اسکا نظریہ کیاہے ؟قرآن مجیدنے طولانی عمر کا کئی جگہوں پر ذکر کیا ہے جیسے سورۂ انبیآء آیت ٤٤ ، سورۂ صافات آیت ٤٤ا، سورۂ عنکبوت آیت ٤ا،سورۂ قصص آیت ٤٥، سورۂ نسآء ٥٧ا۔(ان آیات کوملاحظہ کرنے سے بات اور واضح ہو جائے گی (

ہم امام جعفر صادق ـکی اس حدیث مبارک پر بات تمام کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:''خدا کے علم میں یہ بات مقدر تھی کہ قائم آل محمد کی عمر طولانی ہو چونکہ وہ جانتا تھا کہ بہت سے لوگ زمانۂ غیبت میں آپکی طولانی عمر پر شک و تردید کریں گے لہذا اس نے ان لو گوں کو زندہ رکھا تاکہ انکی طولانی عمر کے ذریعہ دشمنوں کا جواب اور انھیں قانع کر سکیں ۔

س٢٤: کیا ہم امام زمانہ (عج) سے ملاقات کر سکتے ہیں ؟

ج٢٤: کیوں نہیں لیکن تقوی و طہارت روح کی شرط ہے اگر انسان متقی بن جائے تو یہ امر محال نہیں ہے جیسا کہ خدا وند عالم نے قرآن مجید کے لئے فرمایا:لایمسه الَّا المُطَهَّرُون ۔کہف آیت ا٧ و٨٢(ٹھیک اسی طرح امام مبین کی ملاقات و دیدار بھی ہے متقی اور پرہیز گاروں کے علاوہ ان سے کو ئی نہیں مل سکتا۔

س٢٥: کیا امام زمانہ ہماری حالات سے باخبر ہیں ؟

ج٢٥: روایات کے مطابق ہمارے امام ہمارے تمام حالات کو جانتے ہیں اور ہماری مددبھی کرتے ہیں لیکن ہم انھیں پہچان نہیں پاتے جیسا کہ امام جعفر صادق نے فرمایا:و لو خلت الارض ساعة و احد ة من حجة اللہ لساخت باھلھا و لکن الحجة یعرف الناس و لا یعرفونہ کما کان یوسف یعرف الناس وھم لہ منکرون۔

اور اگر زمین حجت خداسے ایک لحظہ کے لئے بھی خالی ہو گئی تو یہ زمین پر رہنے والوں کو نگل جائے گی حجت خدالوگوں کو جانتے بھی ہیں اور پہچانتے بھی ہیں لیکن لوگ نہیں پہچان پاتے جناب یوسف ـلوگوں کو پہچانتے تھے مگر لوگ انھیں نہیں پہچان پا تے تھے (کتاب الغیبة نعمانی ص٤(

دوسری روایت امام سے جو نقل ہوئی ہے اسکا مضمون اسطرح سے کہ :امام قائم (عج) مراسم حج میں شرکت کرتے ہیں اور لوگوں کو دیکھا کرتے ہیں لیکن لوگ انھیں نہیں دیکھ پاتے اور اگر دیکھتے بھی ہیں تو انھیں پہچان نہیں پاتے(۱۰)

س٢٦: غیبت امام زمانہ میں ہمارے کیا فرائض ہیں ؟

ج٢٦: جواب کے لئے کتاب کا مطالعہ کریں ۔

س٢٧: امام زمانہ کی شان میں کتنی احادیث نقل ہوئی ہیں ؟

ج٢٧: امام (عج)کی شان میں نقل ہو نے والی حدیثوں کی تعداد بہت ہے تقریبا ً٧٠٠ یا اس سے زیادہ اس سلسلے میں آپ بحار ر الانوار جلد ٥١تا ٥٣ و منتخب الاثر صفحہ ٣١تا ٦٠ کی طرف رجوع کریں ۔

س ٢٨: امام زمانہ کے ساتھ کل کتنے لوگ ہو نگے؟

ج٢٨: امام کے ناصرا ن کی تعداد ( ٣١٣(ہو گی ۔

س٢٩: کیا امام زمانہ کے رہنے کی کوئی خاص جگہ ہے ؟

ج٢٩: نہیں کتاب سیمای آفتاب صفحہ ٤٨٢ پر صاحب کتاب نے فرمایاکہ امام عصر کے رہنے کی کوئی خاص جگہ نہیں ہے مگر ہاں امام عصر کے قدم مبارک سے ضیاء حاصل کرنے والی زمینوں میں مکہ ٔ معظمہ ،مدینہ منوّرہ ،نجف اشرف ،کوفعہ ،کربلا ، کاظمین ،سامرہ ، بغداد،مشھد مقدس اور قم المقدسہ شامل ہیں ۔

س٣٠:ان لوگوں کے اسماء بتا ئیں جنہوں نے امام عصر کی زیارت کا شرف حاصل کیا ہے ؟

ج٣٠:علامہ حلی، علامہ بحر العلوم، محمد بن عیسیٰ بحرینی، علی بن مہزیار جن لوگوں نے امام (عج) کی دیدار کا شرف حاصل کیا ہے لیکن ایک صابون فروش کو یہ سعادت نہیں مل پائی!اس بد نصیب شخص کی داستان کوملاحظہ کریں !

بصرہ میں رہنے والا ایک بندۂ مومن جو وہاں عطر فروشی کا کام کیا کرتا تھا خود اپنی زبان سے اس واقعہ کو بیان کرتاہے کہ میں ایک روز اپنی دکان میں بیٹھا تھا کہ اچانک دولوگ آئے اور سدرو کافور کی خریداری میں مشغول ہو گئے لیکن میں انھیں دیکھتے ہی پہچان گیا کہ یہ دونوں ایک اعلی شخصیت کے حامل ہیں اور یہ بصرہ کے رہنے والے نہیں ہیں میں نے احوال پرسی کے بعد ان سے پوچھنا شروع کیا کہ آپ لوگ کہاں سے تشریف لائے ہیں ا ن لوگوں نے پہلے تو نہیں بتایا لیکن میرے بہت اصرا پر ا ن لوگوں نے کہ ہم امام زمانہ (عج) کی طرف سے آئے ہیں اور یہ سدر و کافور خریدنے کی علت یہ ہے کہ امام کے ایک چاہنے والے کا انتقال ہو گیا ہے لہذا اسکے کفن ودفن کا انتظام کرنے نکلے ہیں یہ سن کر اس نے فورا ً اپنی دکان بند کردی اور ان سے سفارش کرنے لگا کہ ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے تاکہ امام (عج) کی زیارت کا شرف حاصل ہو جائے ۔ ا ن لوگوں نے بہت منع کیا لیکن میں نے انکی باتیں نہیں مانیں اور انکے ہمراہ ہوگیا وہ کہتا ہے کہ ہم انکے ساتھ عمّان سمندرکے قریب پہنچے تو نہ کہیں کشتی کا پتہ نہ کہیں کوئی آبادی ! یکا یک میری نظر ان بزرگواروں پر پڑی تو دیکھا کہ وہ یوں ہی پانی پر چلنے لگے !مجھے تعجب ہوا میں ساحل پر ہی یہ سوچ کر کھڑا رہا کہ کہیں غرق نہ ہو جاؤں ! مگر جب ان لوگوں نے مڑکر دیکھا تو آواز دی آؤ کچھ نہیں ہو گا خدا وند عالم کو امام کا واسطہ دے کر پانی پر اپنا قدم رکھدو میں نے ایسا ہی کیا انکے پیچھے پیچھے چلتا رہا لیکن کچھ دور چلنے کہ بعد فضاء کی بدلی ہوئی صورت کو دیکھ کر یہ احساس کیا کہ کہیں بارش نہ ہو جائے ابھی کچھ دیرپانی پر چلا ہی تھا کہ بارش ہو نے لگی!

وہ بیان کرتا ہے کہ میں نے اتفاقاً اسی دن صابون خشک کرنے کی غرض سے اسے دھوپ میں ڈالا تھا ابھی میں اسی کشمکش میں تھا کہ اب تو بارش ہونے لگی اب کیا ہوگا سارا صابون خراب ہو جائے گا !اس فکر نے مجھے پریشان کردیا اور میں اسی صابون کی فکر میں تھاکہ اچانک موجوں نے ساتھ چھوڑ دیا اور میں پانی میں ڈوبنے نے لگا ان لوگوں نے میری مدد کی اور مجھے پانی سے باہر کھینچا اور کہنے لگے کہ تمہارے ڈوبنے کا سبب تمہاری یہ غلط فکر ہے! تم اپنے صابن کی یاد میں ڈوب گئے! انکی رہنمائی پردوبارہ میں نے خدا کو امام کا واسطہ دیا اور امام سے متوسل ہوا تو پہلے کی طرح پھر پانی پر چلنے لگا چلتے چلتے ایک ساحل پر پہنچا تو ایک ایسے خیمہ کو دیکھا جو شجرۂ طور کی مانند نور سے منور تھا اور اس خیمہ سے نور ساطح ہو رہا تھا کچھ ا ور آگے بڑھایہاں تک کے خیمہ کے قریب پہنچ گیا وہ بزرگ جو ہمارے ساتھ تھے انمیں میں سے ایک خیمہ میں داخل ہو ئے کہ امامعلیہ السلام سے میرے لئے اجازت طلب کریں جب وہ اندر تشریف لے گئے تو میں نے اچھی طرح خیمہ کو دیکھا اس میں سے انکی آواز تو آرہی تھی لیکن انکے وجود نازنین کو نہیں دیکھ پایا!انہوں نے امام سے میرے لئے اجازت چاہی لیکن آنحضرت نے فرمایا:

رُدُّہُ فَاِنّہُ رَجُل صَابوُنیّی !!اسے واپس کردو کیونکہ ابھی اسکے دل سے صابن کی محبت ختم نہیں ہو ئی ہے یہ دنیا کے زرق و برق میں کھویا ہوا ہے لہذا اس بارگاہ میں ایسے لوگوں کی ہر گزگنجائش نہیں ہے !(سیمای آفتاب صفحہ٣١٣(

اس واقعہ سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کو خصوصاً شیعیان حیدر کرار اور منتظران امام عصر کو دنیا کی آلودگی سے دامن بچانا چاہیئے اور اپنے گناہ پر نادم ہوکر توبہ اور استغفار کرنا چاہیئے۔

س٣١: نواب اربعہ کہاں دفن ہیں ؟

ج٣١: بغداد میں ۔

س٣٢: نواب اربعہ کے کیا معنی ہیں ،اور انکے نام کیا ہیں ؟

ج٣٢:نواب: نائب کی جمع ہے اور نواب اربعہ کے معنی چار نائب کے ہیں ۔

١( جناب ابو عمرو عثمان بن سعید عمری جو امام عصر کے نائب٢٦٠ہجری قمری تک رہے

٢( جناب ابو جعفرمحمدبن عثمان عمری ٣٠٥ تک...

٣( جناب ابوالقاسم حسین بن روح... ٣٢٦ تک...

٤( جناب ابوالحسن بن علی محمدسمری...٣٢٩ تک...

جیسا کہ تاریخی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ چار بزرگوار زمانہ غیبت صغریٰ میں امام (عج) کے پیغام کوانکے شیعوں تک پہنچایا کرتے تھے اور آج بھی ان میں سے جناب حسین بن روح نوبختی کے توسل سے دنیا اپنا پیغام امام عصر تک پہنچاتی رہتی ہے۔

____________________

(۱) روزگاررہای جلدا ص٣٥٣ ح ٣٥٢

(۲) بقرہ آیہ ١

(۳) ینا بیع المودة صفحہ ٤٤٣

(۴) اقوال الائمہ جلد١ صفحہ٣٢٩

(۵) رسالۂ امام خمینی مسئلہ ٩ا٣

(۶) بحارج٥٢ص٢٧٩و خصال غیبت نعمانی ص٢٨٢

(۷) ص ٩٤١(دعائے ندبہ کے بعد(مفاتیح الجنان،شیخ عباس قمی

(۸) البیان فی اخبار صاحب الزمان ص٤٩ا

(۹) توریت سفر پیدائش باب پنجم آیہ٥،٨،اا،٤ا،٧ا،...ا٣و باب نہم آیہ ٢٩

(۱۰) اصول کافی جلد اص٣٣٩


مآخذ

١۔ قرآن مجید

٢۔ نھج البلاغہ

٣۔ بحار الانوار

٤۔ صحیح بخاری

٥۔ اصول کافی

٦۔ الغیبة طوسی

٧۔ کمال الدین

٨۔ سفینة البحار

٩۔ غرر الحکم

١٠۔ غیبت نعمانیہ

١١۔ وسائل الشیعہ

١٢۔ امالی شیخ صدوق

١٣۔ امالی شیخ طوسی

١٤۔ المناقب

١٥۔ الاحتجاج

١٦۔ صواعق محرمہ

١٧۔ مفاتیح الجنان

١٨۔ وفیان الاعیان

١٩۔ الجواھر

٢٠۔ ینابیع المودہ

٢١۔ مستدرک الوسائل

٢٢۔ منتخب الاثر

٢٣۔ ناپیدا ولی با ما


فہرست

امام زمانہ (عج): ۴

امام عصر (عج) کاوجود مبارک اور علماء اہل سنت ۷

بحر نور کے چند قطرات ۹

نور کی ولادت ۱۱

آپ کے فضیلت مآب پدر گرامی ـ ۱۱

امام زمانہ (عج) کی والدہ گرامی ۱۲

آغاز امامت ۱۵

غیبت صغریٰ ۱۵

سرداب کی داستاں ۱۶

نوّا ب خاص ۱۶

غیبت کبریٰ ۱۷

غیبت کی بعض حکمتیں ۱۸

خصوصیات غیبت ۱۹

اخلاقی فضیلتیں ۱۹

طولانی عمر ۲۳

انتظار ۲۳

منتظرین کی صفات ۲۴

ظہور سے پہلے کی علامتیں ۲۵

علامات ظہور پر ایک اجمالی نظر ۲۶


امام زمانہ کے ظہور کی علامتیں : ۲۶

ظہور ۲۹

ظہور کے بعد کا منظر ۲۹

زمانہ ٔ غیبت میں ہمارے فرائض ۳۰

بعض اہم دعائیں اور زیارتیں ۳۳

زیارت امام عصر ۳۳

دعائے عہد ۳۴

چالیس دنوں کی خصوصیات: ۳۴

ماہ شعبان کی منا سبتیں ۳۷

پندرہویں شعبان کی رات کے مختصر اعمال ۳۸

نیمۂ شعبان کی دعا ۴۰

امام عصر سے متعلق جوانوں کے لئے سوالات اور انکے جواب ۴۴

مآخذ ۵۴