تفسیر نمونہ- جلد 4
گروہ بندی تفسیر قرآن
مصنف آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


کتاب : تفسیرنمونه جلد چہارم

مصنف : آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی


تفسیرنمونه ، آیه الله العظمی مکارم شیرازی (مدظله العالی) کی ۱۵ ساله زحمات کا نتیجه ہے جس کو معظم له نے اہل قلم کی ایک جماعت کی مدد سے فارسی زبان میں تحریر فرمایا ، اس کا اردو اور عربی زبان میں ترجمه ہو کر شایع ہوچکا ہے.

تعداد جلد: ۱۵جلد

زبان: اردو

مترجم : مولانا سید صفدر حسین نجفی (رح)

قطع: وزيرى

تاریخ اشاعت: ربیع الثانی ۱۴۱۷هجری


بیداری تیار رہنے اور خطرے کے مقابلے میں چوکس

”حذر“ بروزن ” خضر“بیداری تیار رہنے اور خطرے کے مقابلے میں چوکس اور مستعد رہنے کے معنی میں ہے ” بعض اوقات یہ لفظ اس وسیلہ اور ذریعہ کے معنی میں بھی آتا ہے جس کی مدد سے خطرے کا مقابلہ کیا جاسکے ۔ ”ثبات“ ثبہ( بروزن گنہ ) کی جمع ہے ۔ غیر منظم اور منتشر دستوں کے میں لیا گیا ہے ۔ قرآن مجید مندرجہ بالا آیت میں تمام مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے انھیں اجتماع اور وجود کے تحفظ کے لئے دو احکام اور ہدایات دیتا ہے

پہلے کہتا ہے اے وہ لوگو! جو ایمان لاچکے ہو، بڑی باریک بینی سے دشمنوں اور ان کے جاسوسوں پر نظر رکھے رہو ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم ان کی طرف سے غافل ہو کر کسی خطرے سے دو چار ہو جاو( یا ایھا الذین امنوا خذو اخذرکم ) اس کے بعد حکم دیتا ہے کہ دشمن سے مقابلہ کرنے کے لئے مختلف طریقوں اور تکنیکوں ( TECHNIQUES )سے استفادہ کرو اور متعدد دستوں کی صورت میں یا اکھٹے ہو کر دشمن کو زیر کرکے نکل پڑو

( فَانفِرُوا ثُبَاتٍ اٴَوْ انفِرُوا جَمِیعًا ) جہاں مختلف دستوں اور بکھری ہوئی ٹولیوں کی صورت میں حرکت کرنا ضروری ہو وہاں اس طریقے سے آگے بڑھو اور جہاں یہ امر لازمی ہو کہ سب ایک متحد لشکر کی صورت میں دشمن کے مقابلے پر نکلیں ، وہاں اجتماعیت سے غفلت نہ ہو تو ۔۔۔بعض مفسرین نے مندرجہ بالا آیت میں ” حذر“ کی تفسیر صرف اسلحہ کی معنی میں کی ہے حالانکہ حذر کے وسیع معنی ہیں اور اس کا مفہوم اسلحہ تک محدود نہیں ہے ۔ علاوہ ازیں خود اسی سورہ کی آیہ ۱۰۲ میں واضح دلیل موجود ہے جہاں حذر اسلحہ سے مختلف معنی میں استعمال ہوا ہے جہاں خدا فرماتا ہے :

( ان تضعوا اسلحتکم و خذو حذرکم )

کوئی حرج نہیں کہ ضرورت کے وقت نماز کے موقع پر میدان جنگ میں اپنے ہتھیار زمین پر رکھ دو ۔ لیکن حذر یعنی نگرانی اور آمادگی پر مستعد رہو ۔

یہ آیت جامع ہے اور اپنے اندر تمام پہلو لئے ہوئے ہے ۔ تمام مسلمانوں کے لئے اس میں ہر عہد اور ہر دور کے مطابق حکم موجود ہے ۔

کہ اپنی امنیت کی حفاظت اور اپنی سر حدوں کے دفاع کے لئے ہمیشہ مستعد رہو ۔ اور ایک قسم کی مادی و معنوی آمادگی ہمیشہ تمہاری جمعیت پر غالب و حاکم رہے ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ” حذر“کا معنی اس قدر وسیع ہے کہ جو ہر قسم کے مادی روحانی اور معنوی وسیلہ اور ذریعہ کو اپنے اندر سمو ئے ہوئے ہے ۔ ان باتوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ وقت اور ہر زمانے میں دشمن کی حیثیت، اس کے ہتھیاروں اور جنگی طو طریقوں سے باخبر ہوں اور اپنی تیار ی کے معیار کے ساتھ دشمن کے اسلحہ کی تعداداورکار کردگی کو جانتے ہوں ۔ کیونکہ یہ تمام مذکورہ باتیں دشمن کی طرف سے خطرہ کی پیش بندی اور ” حذر“ کے مفہوم کو سمجھنے میں موثر ہیں ۔

دوسری طرف اپنے دفاع کے لئے ہر طرح کی مادی اور روحانی تیاری ناگزیر ہے ، یہ تیاری تعلیمی ، اقتصادی اور افرادی وقوت کو فراہمی کے حوالے سے بھی مکمل ہونا چاہئیے ۔ اسی طرح جدید اسلحہ کی فراہمی اور اس کے استعمال کے طور طریقوں سے آگاہی بھی ضروری ہے ۔

یہ امر مسلم ہے کہ مسلمانوں نے اگر صرف اسی ایک آیت کو اپنی زندگی پر منطبق کرلیا ہوتا تو اپنی تمام تاریخ میں کبھی شکست اور ناکامی کا منہ نہ دیکھتے ۔ جیسا کہ اوپ والی آیت میں اشارہ ہے کہ جنگ کے مختلف طور طریقوں سے استفادہ کرتے ہوئے کبھی جمود اور دقیانوسیت کا شکار نہ ہونا ، بلکہ وقت اور مقام کے تقاضوں اوردشمن کی حیثیت دیکھتے ہوئے قدم اٹھانا چاہئیے ۔ جہاں دشمن کی حالت اس قسم کی ہے کہ وہاں مختلف دستوں کی صورت میں اس کی طرف پیش قدمی کرنا چاہئیے تو اس طریقے سے استفادہ کرو اور دشمن کے مقابلہ میں ہر دستہ کی مخصوص حکمت عملہ ہو اور جہاں ضرورت ہو کہ سب منظم ہو کر ایک حکمت عملی کے مطابق حملہ کریں تو وہاں ایک ہی صف میں کھڑے ہوجائیں ۔ یہاں واضح ہو جاتا ہے کہ بعض افراد جو اصرار کرتے ہیں کہ اپنی اجتماعی جنگوں میں سب مسلمان ایک ہی طریقہ کو اپنا ئیں اور ان کی تکنیکوں میں کسی قسم کا فرق نہیں ہو نا چاہئیے ، ان کا مولف درست نہیں ۔ ویسے بھی یہ بات منطبق اور تجربے کے خلاف ہے اور اسلامی تعلیمات کی روح کے منافی ہے اور شاید او پر والی آیت اس پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہو ۔ حقیقی مقاصد و اہداف کے حصول کے لئے یہ ایک اہم کلیہ ہے ۔

ضمنی طور پر ” جمیعاً“ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کے مقابلہ کے لئے تمام مسلمان بغیر کسی استثناء کے شر کت کریں

اور یہ حکم کسی معین دستہ سے مخصوص نہیں ہے ۔


آیات ۷۲،۷۳

۷۲۔( وَإِنَّ مِنْکُمْ لَمَنْ لَیُبَطِّئَنَّ فَإِنْ اٴَصَابَتْکُمْ مُصِیبَةٌ قَالَ قَدْ اٴَنْعَمَ اللهُ عَلَیَّ إِذْ لَمْ اٴَکُنْ مَعَهُمْ شَهِیدًا ) ۔

۷۳۔( وَلَئِنْ اٴَصَابَکُمْ فَضْلٌ مِنَ اللهِ لَیَقُولَنَّ کَاٴَنْ لَمْ تَکُنْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَهُ مَوَدَّةٌ یَالَیْتَنِی کُنتُ مَعَهُمْ فَاٴَفُوزَ فَوْزًا عَظِیمًا ) ۔

ترجمہ

۷۲۔ تمہارے درمیان کچھ( منافق)لوگ ہیں کہ وہ خود بھی کاہل ہیں اور دوسروں کو بھی سست بناتے ہیں اگر کوئی مصیبت آپہنچے تو وہ کہتے ہیں کہ خدا نے ہم پر احسان کیا کہ ہم مجاہدین کے ساتھ نہیں تھے کہ ہم (اس مصیبت) کو دیکھتے ۔

۷۳۔ اگر کوئی مالِ غنیمت تمہیں مل جائے تو ٹھیک ،حالانکہ تم میں اور ان میں کوئی مودت و دوستی نہیں ۔ پھر بھی وہ بالکل اس طرح سے کہتے ہیں : کاش ! ہم بھی ان کے ساتھ ہوتے اور نجات اور عظیم کامیابی سے ہمکنار ہوتے ۔

دشمن کے مقابلہ میں جہاد

دشمن کے مقابلہ میں جہاد اور تیاری کے عمومی حکم کے بعد کہ جو گذشتہ آیت میں بیان ہوا ہے ، اس آیت میں منافقین کی ایک جماعت کی حالت بتاتے ہوئے اللہ فرماتا ہے : یہ دو چہروں والے افراد جو تمہارے درمیان ہیں پوری کوشش کرتے ہیں کہ حق کی راہ میں لڑنے والوں کی صفوں میں شریک ہونے سے بچ جائیں ۔

( وَإِنَّ مِنْکُمْ )

۱ یہ بات توجہ طلب ہے کہ اوپر والی آیت میں خطاب مومنین سے ہے لیکن بات منافقین سے کہی جارہی ہے ، باوجود اس کے کہ ” منکم “ کی تعبیر کےس اتھ انھیں مومنین کا جزو شمار کیا ہے ۔ یہ اس بنا پر ہے کہ منافقین ہمیشہ مومنین کے درمیان ہی رہتے تھے اور ظاہراً انہی میں شمار ہوتے تھے ۔

( لَمَنْ لَیُبَطِّئَن )

۲لیبطئن مادہ بطئو( بر وزن قطب) چلنے میں کاہلی اور سستی کے معنی میں ہے اور اہل لغت اور مفسرین کی ایک جماعت کے بقول لازم اور متعدی دونوں معنی رکھتا ہے یعنی چلنے میں بھی کاہل اور سست ہیں اور دوسروں کو بھی اس کام میں شریک کرتے ہیں شاید اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ باب تفصیل میں ہے لہٰذا صرف متعدی و الا معنی رکھتا ہے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کبھی اپنے آپ کو اور کبھی دوسرو ں کو کاہلی اور سستی پر ابھارتا ہے ؟

لیکن جب مجاہدین میدان جنگ سے واپس آتے ہیں یا میدان جنگ کی خبریں انھیں ملتی ہیں اگر مسلمانوں کو شکست یا شہادت نصیب ہوئی ہو تو مسرت و انبساط سے کہتے ہیں کہ خدانے ہمیں کتنی بڑی نعمت دی ہے ۔ ہم یہ دلخراش منظر دیکھنے کے لئے ان کے ساتھ نہیں تھے ۔

( فَإِنْ اٴَصَابَتْکُمْ مُصِیبَةٌ قَالَ قَدْ اٴَنْعَمَ اللهُ عَلَیَّ إِذْ لَمْ اٴَکُنْ مَعَهُمْ شَهِیدًا ) ۔

لیکن اگر انھیں یہ خبر ملے کہ حقیقی مومنین کامیاب ہوگئے ہیں اور نتیجے میں مال غنیمت ان کے ہاتھ لگا ہے تو یہ منچلے بیگانوں کی طرح حسرت و یاس سے کہتے ہیں کہ کاش ہم بھی مجاہدین کے ساتھ ہوتے اور ہمیں بھی بڑا حصہ ( مال غنیمت کا)ملتا۔ جیسے مومنین سے تو ان کا کوئی ربط ہی نہ ہو ۔

( وَلَئِنْ اٴَصَابَکُمْ فَضْلٌ مِنَ اللهِ لَیَقُولَنَّ کَاٴَنْ لَمْ تَکُنْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَهُ مَوَدَّةٌ یَالَیْتَنِی کُنتُ مَعَهُمْ فَاٴَفُوزَ فَوْزًا عَظِیمًا ) ۔

اگر چہ اوپر والی آیت میں مال غنیمت کا ذکر نہیں ہوا۔ لیکن واضح ہے کہ جو راہ خدا میں شہادت کو ایک بلا اور مصیبت تصور کرتا ہے اور شہادت کا شعور نہ رکھنے کو خد اکی نعمت تصور کرتا ہے ، اس کے نزدیک صرف مادی اور جنگی غنائم کا حصول عظیم کامیابی اور فتح ہے ۔ یہ دو رخے افراد جن کے متعلق افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہر معاشرے میں تھے اور ہیں ، وہ حقیقی مومنین کی کامیابیوں اور شکستوں سے اپنے قیافے فورا ً بدل لیتے ہیں ۔ غم و آلام میں کبھی ان کا ساتھ نہیں دیتے، مصیبت او رمشکل میں ان کے ہم قدم نہیں ہوتے لیکن اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کامیابیوں اور کامرانیوں کی صورت میں انھیں ( مال غنیمت) ملے اور حقیقی مومنین جیسے امتیازات انھیں حاصل ہوں ۔


آیت ۷۴

۷۴۔( فَلْیُقَاتِلْ فِی سَبِیلِ اللهِ الَّذِینَ یَشْرُونَ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا بِالْآخِرَةِ وَمَنْ یُقَاتِلْ فِی سَبِیلِ اللهِ فَیُقْتَلْ اٴَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیهِ اٴَجْرًا عَظِیمًا ) ۔

ترجمہ

۷۴۔ وہ لوگ جنھوں نے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے بیچی ہے انھیں چاہئیے کہ خدا کی راہ میں جنگ کریں اور جو شخص راہ ِ خدا میں جنگ کرے اورقتل ہو جائے یا غالب آجائے تو ہم اسے اجر عظیم دیں گے ۔

تفسیر

مومنین کو جہاد کے لئے آمادہ کرنا

گذشتہ آیات میں منافقین کو مومنین کی صفوں سے جدا کرکے دکھا یا گیا ہے اس آیت میں اور اس کے بعد آنے والی چند آیات میں صاحب ایمان افراد کو اثر انگیز دلائل کے ساتھ راہ خدا میں جہاد کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ اس طرف بھی توجہ کرنی چاہئیے کہ یہ آیات ایک ایسے زمناے میں نازل ہوئی ہیں جب طرح طرح کے اندرونی او ربیرونی دشمن اہل ِ اسلام کو ڈرا دھمکا رہے تھے ایسے میں ان آیات کی اہمیت زیادہ واضح ہو جاتی ہے جن میں مسلمانوں کی روحِ جہاد کو ابھارا گیا ہے ۔ آیت کی ابتدامیں خدا فرماتا ہے : راہ خدا میں وہ افراد جنگ کریں جو دنیا کی پست مادی زندگی کا دوسرے جہان کی ابدی اور جاودان زندگی سے تبادلہ کرنے کو تیار ہیں ۔

( فَلْیُقَاتِلْ فِی سَبِیلِ اللهِ الَّذِینَ یَشْرُونَ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا بِالْآخِرَةِ )

یعنی صرف وہ لو گ حقیقی مجاہدین کہلاسکتے ہیں جو اس بات کے لئے آمادہ ہوں اور انھوں نے بجا طور پر یہ جان لیا ہو کہ مادی دنیا کی زندگی جیساکہ لفظ دنیا ( بمعنی پست تر) سے ظاہر ہوتا ہے ہمیشہ رہنے والی زندگی کے لئے باعزت موت کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی لیکن جو لوگ مادی زندگی کو گراں بہا و انسانی مقدس اہداف و مقاصد سے بالاتر سمجھتے ہیں وہ کبھی اچھے مجاہد نہیں ہو سکتے ۔ اس کے بعد آیت کے ذیل میں فرماتا ہے : ” ایسے مجاہدین کا انجام واضح ہے کیونکہ وہ شہید ہو جائیں گے یا دشمن کو تباہ کردیں گے اور ان پر غالب آجائیں گے اور دونوں صورتوں میں ہم انھیں اجر عظیم دیں گے “

( وَمَنْ یُقَاتِلْ فِی سَبِیلِ اللهِ فَیُقْتَلْ اٴَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیهِ اٴَجْرًا عَظِیمًا )

یہ مسلم ہے کہ ایسے جانبازوں کی لغت میں شکست کا وجود نہیں ہے وہ دونوں صورتوں میں اپنے آپ کو کامیاب سمجھتے ہیں یہی ایک جذبہ اس امر کے لئے کافی ہے کہ دشمن ان کے لئے کامیابی کے وسائل فراہم کرے ۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلمانوں کو ایسے دشمنوں پر تیزی سے غلبہ حاصل ہوا جو تعدا، ساز و سامان او رجنگی تیاریوں کے لحاظ سے ان کے مقابلے میں کئی گنا بالادستی رکھتے تھے ۔ اس کا محرک یہی ناقابلِ شکست جذبہ تھا۔ یہاں تک کہ غیر مسلم علماء جنھوں نے رسول اللہ کے زمانے اور آپ کے بعد اسلام او ر مسلمانوں تیز رفتار کامیابیوں پر بحث کی ہے انھوں نے بھی اس جذبے کو ان کی پیش رفت کا محرک قرار دیا ہے ۔

مغرب کا ایک مشہور مورخ رقمطراز ہے ۔(۱)

” نئے مذہب کی بر کت اور جن انعامات کا آخرت میں وعدہ کیا گیا تھا، ان کی وجہ سے وہ موت سے بالکل نہیں ڈرتے تھے اور دوسرے جہان کو چھوڑ کر اس زندگی کی نظر میں کوئی حقیقت نہ تھی ، لہٰذا وہ اس زندگی سے محبت کرنے سے اجتناب کرتے تھے ۔ “

قابل توجہ بات یہ ہے کہ اوپر والی آیت میں قرآن کی دوسری بہت سی آیات کی طرح اس جہاد کو مقدس قرار دیا گیا ہے جو”فی سبیل الله “ یعنی خدا کی راہ میں ہو، بندگان خدا کی نجات کا ذریعہ ہو، اصول حق و انصاف کی خاطر ہو اور پاکیزگی و تقویٰ کے لئے ہو، نہ کہ وہ جنگیں جو توسیع پسندی م تعصب اور استعمار و سامراجی مقاصد کے لئے لڑی جائیں ۔

____________________

۱تاریخ تمدن اسلام و عرب گوستان و لبون صفحہ ۱۵۵۔


آیت ۷۵

۷۵( وَمَا لَکُمْ لاَتُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ وَالْمُسْتَضْعَفِینَ مِنْ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِینَ یَقُولُونَ رَبَّنَا اٴَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اٴَهْلُهَا وَاجْعَل لَنَا مِنْ لَدُنْکَ وَلِیًّا وَاجْعَل لَنَا مِنْ لَدُنْکَ نَصِیرًا ) ۔

ترجمہ

۷۵۔کیوں تم خدا کی راہ میں مردوں عورتوں اور بچوں کے لئے کہ ( جو ستمگروں کے ہاتھوں ) کمزور کردئیے گئے ہیں جنگ نہیں کرتے وہ ( ستم زدہ ) افراد جو کہتے ہیں کہ خدا یا ہمیں اس شہر ( مکہ) سے نکال لے جہاں کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنی طرف سے ایک سر پرست بھیج اور ہمارے لئے اپنی طرف سے کوئی مدد گار بھیج ۔

تفسیر

انسانی جذبوں کو مظلوموں کی مدد کے لئے ابھارا گیا ہے

گذشتہ آیت میں مومنین کو جہاد کی دعوت دی گئی ہے لیکن خدا و قیامت پر ایمان اور سودوزیاں کے استدلال کا سہارالیا گیا ہے ۔ اس آیت میں انسانی جذبات و احساسات کی بنیاد پر جہاد کی طرف دعوت دیتے ہوئے کہتا ہے : کیوں تم راہ خدا میں اور مظلوم و بیکس مردوں ، عورتوں اور بچوں کے لئے جو ستم گروں کے چنگل میں گرفتار ہیں جنگ نہیں کرتے کیا تمہارے انسانی جذبات اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ خاموش بیٹھے رہو اور ان رقت انگیز مناظر کو دیکھتے رہو

( وَمَا لَکُمْ لاَتُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ وَالْمُسْتَضْعَفِینَ مِنْ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَان ) ۱)

اس کے بعد مومنین کے احساسات کو ولولہ انگیز بنانے کے لئے کہتا ہے : یہ مستضعفین وہی لوگ ہیں جو گھٹے ہوئے ماحول میں گرفتار ہو چکے ہیں اور ہر جگہ سے ناامید ہو چکے ہیں لہٰذا دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے ہوئے خدا سے در خواست کرتے ہیں کہ وہ اس ظلم و ستم کے ماحول سے انھیں نجات دے ۔

( الَّذِینَ یَقُولُونَ رَبَّنَا اٴَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اٴَهْلُهَا )

نیز اپنے خدا سے یہ تقاضا بھی کرتے ہیں کہ وہ ایک ولی و سر پرست ان کی حمایت کے لئے بھیج دے ۔

( وَاجْعَل لَنَا مِنْ لَدُنْکَ وَلِیًّا ) اور کہتے ہیں : ہمارے لئے کوئی یاور و مدد گار بھیج( وَاجْعَل لَنَا مِنْ لَدُنْکَ نَصِیرًا )

حقیقت میں اوپر والی آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ خدا نے ان کی دعا کوقبول لیا ہے اور اس عظیم انسانی پیغام ِ رسالت کو تمہارے ذمہ قرار دیا ہے اور تم خد اکی طرف سے ” ولی و نصیر“ موجود ان کی حمایت اور نجات کے لئے معین کئے گئے ہو ۔

لہٰذا ایسانہیں ہونا چاہئیے کہ تم اس موقع اور اعلیٰ حیثیت کو اپنے ہاتھ سے گنوا بیٹھو ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ اسلامی جہاد کے دو ہدف

جہاد اسلامی جیسا کہ پہلے بھی اشارہ ہوا ہے ، مال و متال ، مقام و مرتبہ وسائل اور دوسرے ممالک کے خام مال پر قبضہ کے لئے نہیں ہے اور نہ ہی منڈیاں تلاش کرنے یا عقیدہ اور سیاست ٹھونسنے کے لئے ہے بلکہ صرف اصولِ فضیلت و ایمان کی نشر و اشاعت اور محکوم ، ستم رسیدہ مردوں ، عورتوں اور محروم و مظلوم بچوں کے دفاع کے لئے ہے ۔ اس طرح جہاد کے دو جامع ہدفاور مقاصد ہیں جن کی طرف مندرجہ بالا آیت میں اشارہ ہوا ہے ایک ” خدا کی ہدف“ اور دوسرا” انسانی ہدف“ یہ دونوں حقیقت میں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں اور ان کی باز گشت ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔

۲۔ معاشرے میں آزادیِ فکر و نظر

اسلام کی نگاہ میں وہ معاشرہ اور ماحول زندگی بسر کرنے کے قابل ہے جس میں آزادانہ اپنے صحیح عقیدے کے مطابق عمل کیا جاسکے، باقی رہا وہ ماحول یا معاشرہ جس میں گلا گھونٹ دیا جائے اور یہاں تک کہ انسان اتنا آزاد بھی نہ ہوکہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہہ سکے ، اس میں زندگی نہیں گذاری جا سکتی ، جہاں صاحبِ ایمان افراد یہ آرزو کرتے ہوں کہ وہ ایسے ماحول سے باہر چلے جائیں کیونکہ ایسے ماحول میں صرف ستمگر کی بالا دستی ہوتی ہے ۔

قابل توجہ امر یہ ے کہ ” مکہ “ نہایت مقدس شہر اور مہاجرین کا اصل وطن تھا اس کے باوجود اس کی پر آشوب اور گھٹن زدہ کیفیت اس بات کا سبب بنی کہ وہ خدا سے در خواست کریں کہ وہ وہاں سے باہر نکل جائیں ۔

۳۔ یاور سے پہلے رہبر

مندرجہ بالاآیت میں ہے کہ وہ مسلمان جو دشمن کے چنگل میں گرفتار تھے انھون نے پہلے تو اپنی نجات کے لئے خدا کی طرف سے ولی بھیجے جانے کا تقاضا کیا اور پھر ظالموں کے چنگل سے چھٹکاراحاصل کرنے کے لئے نصیر اور مدد گارکی آرزوکی ۔ کیونکہ ہر چیز سے پہلے قابل اور درد مند ” رہبر“ اور سر پرست کا وجود ضروری ہے اور اس کے بعد یار و مددگار کی اور کافی تعداد میں افراد کی ضرورت ہے لہٰذا یہ یاور و مدد گار جتنے بھی ہوں ایک صحیح رہبر کے بغیر بے سود ہیں ۔

۴۔ بار گاہ الہٰی میں دستِ نیاز

صاحبِ ایمان افراد ہرچیز خدا سے چاہتے ہیں اور وہ دستِ نیاز اس کے علاوہ کسی کے آگے نہیں دراز کرتے ، یہاں تک کہ اگر وہ ولی و مدد گار کا تقاضا کریں تب بھی اسی سے ( مدد) چاہتے ہیں ۔

____________________

۱ مستضعف اور ضعیف میں واضح فرق ہے ضعیف وہ ہے جو ناتمام ہو اور مستضعف وہ ہے جو دوسروں کے ظلم و ستم کے باعث کمزور ہو گیا ہو چاہے یہ کمزوری فکری اور ثقافتی اعتبار سے ہو یا اخلاقی نقطہ نظر سے یا اقتصادی حوالے سے یا سیاسی اور اجتماعی نقطہ نظر سے اس طرح یہ ایک جامع تعبیر ہے کہ جو ہر طرح کے استعمار زدہ اور ستم رسیدہ کے لئے استعمال ہوا ہے


آیت ۷۶

۷۶۔( الَّذِینَ آمَنُوا یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ وَالَّذِینَ کَفَرُوا یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ الطَّاغُوتِ فَقَاتِلُوا اٴَوْلِیَاءَ الشَّیْطَانِ إِنَّ کَیْدَ الشَّیْطَانِ کَانَ ضَعِیفًا ) ۔

ترجمہ

جو صاحبِ ایمان ہیں وہ راہِ خدا میں جنگ کرتے ہیں اورجو کافر ہیں وہ طاغوت ( اور فسادی لوگوں ) کی راہ میں لڑتے ہیں لہٰذا تم ان شیطان کے دوستوں سے جنگ کرو ( اور ان سے ڈرو نہیں ) کیونکہ شیطان کا مکرو فریب( اس کی طاقت کی طرح ) ضعیف و کمزور ہے ۔

تفسیر

پھر اس آیت میں مجاہدین کو شجاعت پر ابھارا گیا ہے اور انھیں دشمن کے ساتھ مبارزہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔

اس کے علاوہ مجاہدین کی صفوں اور اہداف و مقاصد کو مشخص و ممتاز کرنے کے لئے اس طرح فرماتا ہے :

” صاحبِ ایمان افراد خدا کی راہ میں اس کے لئے جو خدا کے بندوں کے لئے سود مند ہے جنگ کرتے ہیں ، لیکن بے ایمان افراد طاغوت یعنی تباہ کرنے والی طاقتوں کی راہ میں ( جنگ کرتے ہیں )“

( الَّذِینَ آمَنُوا یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ وَالَّذِینَ کَفَرُوا یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ الطَّاغُوتِ )

یعنی بہر حال ان کی زندگی کے دن مبارزہ اور مقابلہ سے خالی نہیں ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ ایک گروہ حق کی راہ میں اور دوسرا باطل اور شیطان کی راہ میں برسر پیکار ہے ۔ اس کے بعد کہتا ہے : شیطان کے ساتھیوں سے جنگ کرواور ان سے ڈرو نہیں( فَقَاتِلُوا اٴَوْلِیَاءَ الشَّیْطَان ) ۔

طاغوت، فسادی قووتیں اور ظالم طاقتیں ظاہراً جتنی بھی بڑی اور قوی نظر آئیں لیکن باطن میں زبوں حال اور ناتواں ہیں ۔

ان کے ظاہری سازو سامان ، تیاری اور آراستہ و پیراستہ ہونے سے نہ ڈرو ۔ کیونکہ ان کا باطن کھوکھلا ہے اور ان کے منصوبے اور سازشین ان کی طاقت اور توانائی کی طرح ناقص و کمزور ہیں ۔ کیونکہ خدا ئے لایزل کی قدرت پر ان کا تکیہ نہیں ہے بلکہ وہ شیطانی طاقتوں پر بھروسہ کئے ہوئے ہیں (إِنَّ کَیْدَ الشَّیْطَانِ کَانَ ضَعِیفًا) ۔اس کمزوری اور ناتوانی کی دلیل واضح ہے کیونکہ ایک طرف سے صاحب ِ ایمان افراد اہداف اور حقائق کی راہ میں قدم آگے بڑھاتے ہیں کہ قانونِ آفرینش سے ہم آہنگ اور ہم صا ہیں اور ابدی و جاودانی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں وہ انسانوں کو آزاد کرنے اور ظلم و ستم کے مظاہر کو ختم کرنے کے لئے بر سر پیکار ہیں جبکہ طاغوت کے طرفدار استعماری اور لوٹ مار کری والی قوتیں ناپائیدار شہوت کی راہ میں چلنے والے جن کا اثر معاشرے کی تباہی اور قانونِ آفرینش کے بر خلاف ہے ، سعی و کوشش کرتے ہیں ۔ دوسری طرف سے صاحبِ ایمان افراد روحانی قوتوں پر بھروسہ کرکے مطمئن ہیں کہ وہ ان کی کامیابی کے ضامن ہیں اور وہ انھیں قوت بخشیں گے ۔ جبکہ بے ایمان لوگوں کو کوئی مستحکم سہارا نہیں ہے ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس آیت میں طاغوت کا شیطان سے مکمل ربط بیان ہواہے کہ کس طرح طاغوت شیطان صفت مختلف طاقتوں سے مدد حاصل کرتا ہے یہاں تک کہ خدا کہتا ہے کہ طاغوت کے ساتھی وہی شیطان کے دوست ہیں ۔ سورہ اعراف آیہ ۲۷ میں یہی مضمون آیا ہے :

( انا جعلنا الشیاطین اولیاء للذین لایومنون )

ہم نے شیاطین کو بے ایمان افراد کا سر پرست بنا دیا ہے ۔


آیت ۷۷

۷۷۔( اٴَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِینَ قِیلَ لَهُمْ کُفُّوا اٴَیْدِیَکُمْ وَاٴَقِیمُوا الصَّلاَةَ وَآتُوا الزَّکَاةَ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْهِمْ الْقِتَالُ إِذَا فَرِیقٌ مِنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَةِ اللهِ اٴَوْ اٴَشَدَّ خَشْیَةً وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ کَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ لَوْلاَاٴَخَّرْتَنَا إِلَی اٴَجَلٍ قَرِیبٍ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیلٌ وَالْآخِرَةُ خَیْرٌ لِمَنْ اتَّقَی وَلاَتُظْلَمُونَ فَتِیلًا ) ۔

ترجمہ

۷۷۔ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں ( مکہ میں ) کہا گیا کہ ( وقتی طور پر) جہاد سے دستبردار ہو جاو اور نماز قائم کرو اور زکوٰة ادا کرو( مگر وہ اس حکم سے رنجیدہ اور غیر مطمئن تھے ) لیکن جس وقت ( مدینہ میں ) انھیں جہاد کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے ایسے ڈرتاتھا جس طرح خدا سے ڈرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ وہ کہنے لگے پر وردگار! تونے ہم پر جہاد کیوں فرض کیا ہے کیوں یہ حکم دینے میں تاخیر نہیں کی ۔ ان سے کہہ دو زندگانیِ دنیا کاسرمایہ ناچیز اور کم تر ہے اور جو پر ہیز گار ہو اس کی آخرت بہتر ہے اور تم پر چھوٹے سے چھوٹا ظلم بھی نہیں ہوگا۔

شان ِ نزول

مفسرین کی ایک جماعت مثلاً عظیم مفسر طوسی مولف” تبیان “ او ر،ولفین ” تفسیر قرطبی“ اور ” المنار“ ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی ایک جماعت جب مکہ میں مقیم تھی اور مشرکین کی طرف سے اس پر ظلم و ستم توڑے جارہے تھے اس جماعت کے افراد پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم قبول ِ اسلام سے پہلے محترم اور معزز تھے لیکن قبول اسلام کے بعد ہماری حالت دگر گوں ہ وگئی اور ہم وہ عزت اور احترام کھو بیٹھے ہیں ہمیں دشمن نے اذیت اور مصیبت میں مبتلا کردیا ہے ۔

اگر آپ اجازت دیں تو ہم دشمنوں سے جنگ کریں تاکہ اپنا وقار اور مرتبہ دوبارہ بحال کرسکیں ۔ اس روز پیغمبر نے فرمایا ابھی مجھے جنگ کرنے کا حکم نہیں ہے لیکن جب مسلمان مدینہ میں جابسے اور مقابلے کے لئے زمین ہموارہو گئی، جہاد کاحکم نازل ہوا تو ان میں سے بعض جو پہلے لڑنے کے لئے تلے بیٹھے تھے اب میدان جہاد میں کانے سے کترانے لگے اور اس دن کا جوش و ولولہ ٹھنڈا پڑگیا تھا۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی او رمسلمانوں میں جذبہ شجاعت بیدار کرنے کے لئے اور جہاد سے گریز کرنے والے افراد کو ملامت کرتے ہوئے حقائق بیان کیے ۔

وہ جو صرف باتیں کرنا جانتے ہیں

قرآن یہاں کہتا ہے ، اس گروہ کی حالت واقعاً تعجب خیز ہے جو ایک نامناسب موقع پر بڑی گرم جوشی اور شور و غوغا سے تقاضا کرتا تھا کہ انھیں جہاد کی اجازت دی جائے انھیں حکم دیا گیا کہ ابھی اپنی حفاظت اورتعمیر کا کام کریں ، نماز پڑھیں ، اپنی تعدادبڑھائیں اور زکوٰة دیتے رہیں لیکن جب ہر لحاظ سے فضا ہموار ہو گئی اور جہاد کاحکم نازل ہوا تو ان پرخوف طاری ہو گیا اور وہ اس حکم کے سامنے زبانِ اعتراض دراز کرنے لگے ۔

( اٴَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِینَ قِیلَ لَهُمْ کُفُّوا اٴَیْدِیَکُمْ وَاٴَقِیمُوا الصَّلاَةَ وَآتُوا الزَّکَاةَ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْهِمْ الْقِتَالُ إِذَا فَرِیقٌ مِنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَةِ اللهِ اٴَوْ اٴَشَدَّ خَشْیَةً )

وہ اعتراض میں صراحت کے ساتھ کہتے تھے خدا یا تونے اتنا جلدی جہاد کا حکم نازل کر دیا کیا اچھا ہوتااگر اس حکم کو تاخیر میں ڈال دیتا یا یہ پیغام ِ رسالت آئندہ کی نسلوں کے ذمہ ڈال دیا جا تا۔(۱)

( وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ کَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ لَوْلاَاٴَخَّرْتَنَا إِلَی اٴَجَلٍ قَرِیبٍ )

قرآن اس قسم کے افراد کو دو طرح کے جواب دیتا ہے ، پہلا جواب یہ ہے کہ جو( یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَةِ اللهِ اٴَوْ اٴَشَدَّ خَشْیَةً ) کی عبارت کے دوران دیا جاچکا ہے ۔ یعنی وہ لوگ بجائے اس کے کہ خدائے قاہر سے ڈریں کمزور اور ناتواں انسانوں سے خوف زدہ ہیں بلکہ وہ ان نحیف و ناتواں لوگوں سے خدا کی نسبت زیادہ ڈرتے ہیں دوسرا یہ کہ ایسے افراد کہا جائے کہ فرض کروں چند دن جہاد نہ کرنے کی وجہ سے آرام و سکون حاصل کرلو گے ، پھر بھی یہ زندگی فانی اور بے قیمت ہے لیکن ابدی اور دائمی جہاں تو پرہیز گار لوگوں کے لئے زیادہ قدر و قیمت رکھتا ہے ، خصوصاً جب انھیں مکمل طور پر عوض اور اجر مل جائے گا معمولی سے معمولی ظلم بھی ان پر نہیں ہوگا..

( قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیلٌ وَالْآخِرَةُ خَیْرٌ لِمَنْ اتَّقَی وَلاَتُظْلَمُونَ فَتِیلًا ) ۔(۲)

____________________

۱-بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے حضرت مہدی (علیه السلام) کے قیام کے بارے میں کچھ باتیں سن رکھی تھیں ۔ لہٰذا ان میں سے بعض اس انتظار میں تھے کہ جہاد کا معاملہ قیامِ مہدی (علیه السلام) کے زمانے سے مخصوص ہو جائے ۔ ( نور الثقلین جلد اول ص۵۱۸)

۲-فتیل ایک باریک دھاگہ ہے جو کھجور کے دانے کے درمیان شگاف میں ہوتا ہے جس طرح کہ اس کی تفصیل تیسری جلد میں گزر چکی ہے ۔


چند اہم نکات

۱ ۔ صرف نماز اور زکوٰة کا تذکرہ کیوں ؟

سب سے پہلے یہ سوال ہوتا ہے کہ تمام احکام ِ سلام میں صرف نماز اور زکوٰة کا کیوں ذکر ہوا ہے حالانکہ احکام اسلامی انہی دو میں منحصر نہےں ہیں ۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ نماز خدا سے وابستہ ہونے اور زکوٰة مخلوق خدا سے رشتہ استوار کرنے کی رمز ہے ۔

لہٰذا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو حکم دیا جائے کہ خدا سے محکم و ابستگی اور بند گانِ خدا سے مضبوط رشتہ استوار کرکے اپنے جسم و جان اور اجتماع و معاشرے کو جہاد کے لئے آمادہ کریں ۔ اصطلاح کے مطابق اپنی تربیت کریں ۔ یہ بات مسلم ہے کہ کسی قسم کا جہاد افراد کی روحانی اور جسمانی آمادگی مستحکم رشتوں کے بغیر شکست سے ہمکنار ہو جائے گا۔ مسلمان نماز اور عبادت خدا کے سایے میں اپنے ایمان کو محکم اور اپنے راحانی جذبہ کی پر ورش کرتا ہے اور ہر قسم کے ایثار اور قربانی کے لئے آمادہ ہوتا ہے اور زکوٰة کے ذریعے اجتماعی فاصلوں کو مٹا تا ہے ۔ زکوٰة ہی کے ذریعے آزمودہ کار افراد اور جنگی سازو سامان مہیا کرنے کے لئے ایک اقتصادی معاونت کرتا ہے اور حکم جہاد کے صادر ہونے پر دشمن سے مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہو جاتا ہے ۔

۲۔ مکہ میں حکم زکوٰة

ہم جانتے ہیں کہ زکوٰة کا قانون مدینہ میں نازل ہوا اور مکہ میں مسلمانوں پر زکوٰة واجب نہیں ہوئی تھی اس کے باوجود یہ کیسے ممکن ہے کہ مندروجہ بالا آیت میں مکہ کے مسلمانوں کی حالت و کیفیت بیان کی جارہی ہو ۔ شیخ طوسی مرحوم نے اس سوال کا جواب تفسیر” تبیان “ میں دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ مندرجہ بالاآیت میں زکوٰة سے مراد مستحب زکوٰة تھی ۔ جوکہ مکہ میں نافذ تھی ۔ یعنی قرآن مسلمانوں کو ( حتی مکہ میں بھی ) حاجت مندوں کی مالی امداد نو مسلم افرادکے لئے ضرورات مہیا کرنے کی طرف راغب کرتا ہے ۔

۳۔ مکہ اور مدینہ میں مختلف لائحہ عمل

مندرجہ بالا آیت میں ضمنی طور پر ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ مکہ میں مسلمانوں کا ایک لائحہ عمل تھا اور مدینہ میں دوسرا۔ مکہ کا تیرہ سالہ قیام مسلمانوں کے انسان سازی کا تھا ۔ پیغمبر اکرم نے شب و روز مسلسل کوشش کی کہ انھیں بت پرستی اور زمانہ جاہلیت کے بیہودہ عناصر سے نجات دلا کر اس قسم کے انسان بنائیں جو زندگی کے بڑے حادثات کا مقابلہ کرتے ہوئے استقامت ، پا مردی اور ایثار کا مظاہرہ کریں اگر مکہ کے قیام کے زمانے میں یہ چیز موجود نہ ہوتی تو مدینہ کے مسلمانوں کو اتنی حیران کن اور پے در پے کامیابیاں نصیب نہ ہوتیں ۔ مکہ کے قیام کا دور مسلمانوں کی تعلیم و تربیت اور تجربہ حاصل کر نے کا دور ہے ۔ اس بنیاد پر قرآن کی ایک سو چودہ سورتوں میں سے تقریباً نوّے سورتیں مکہ میں نازل ہوئیں ۔ ان میں سے زیادہ تر سورتیں عقیدہ، مکتب اور نظر یات کا منبع تھیں لیکن مدینہ کا زمانہ تشکیل حکومت اور ایک مکمل معاشرے کی بنیادیں استوار کرنے کا دور تھا ۔ اس لئے نہ تو مکہ میں جہاد واجب تھا اور نہ ہی زکوٰة ۔ کیونکہ جہاد اسلامی حکومت کے فرائض میں سے ہے جیساکہ بیت المال کی تشکیل بھی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔


آیات ۷۸،۷۹

۷۸۔( اٴَیْنَمَا تَکُونُوا یُدْرِکُّمْ الْمَوْتُ وَلَوْ کُنتُمْ فِی بُرُوجٍ مُشَیَّدَةٍ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَقُولُوا هَذِهِ مِنْ عِنْدِ اللهِ وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَقُولُوا هَذِهِ مِنْ عِنْدِکَ قُلْ کُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللهِ فَمَالِ هَؤُلاَءِ الْقَوْمِ لاَیَکَادُونَ یَفْقَهُونَ حَدِیثًا ) ۔

۷۹۔( مَا اٴَصَابَکَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنْ اللهِ وَمَا اٴَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِکَ وَاٴَرْسَلْنَاکَ لِلنَّاسِ رَسُولًا وَکَفَی بِاللهِ شَهِیدًا ) ۔

ترجمہ

۷۸۔ تم جہاں کہیں بھی رہو ، موت تمھیں پالے گی اگر چہ محکم بوجوں میں جار ہو او راگر انھیں ( منافقین کو ) حسنہ ( اور کامیابی) حاصل ہو تو کہتے ہیں کہ خدا کی طرف سے ہے اور سیئہ( اور شکست) سے دوچار ہوں تو کہتے ہیں یہ تمہاری طرف سے ہے کہہ دو کہ سب اللہ کی طرف سے ہیں ۔ پس یہ گروہ کیوں تیار نہیں ہوتا کہ حقائق کا ادراک کرے ۔

۷۹۔ جو نیکیاں تجھ پر پہنچتی ہیں وہ خدا کی طرف سے ہیں اور جو برائی تجھے پہنچتی ہے وہ خود تیری طرف سے ہے اور ہم نے تجھے لوگوں کے لئے رسول بناکر بھبیجا ہے اور اس بارے میں خدا کی گواہی کافی ہے ۔

تفسیر

گذشتہ اور بعد کی آیات پر غور کریں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں آیات بھی منافقین سے متعلق ہیں جو مسلمانوں کی صفوں میں رہتے تھے جیساکہ آیات میں ہے کہ وہ میدانِ جہاد میں شر کت کرنے سے ڈرتے تھے اور جب جہاد کا حکم صادر ہواتو انھیں تکلیف ہوئی ۔ قرآن ان کے اس طرزِ فکر کا دو طرح سے جواب دے رہا ہے پہلا جواب تو وہی تھا جو گذشتہ آیت کے آخر میں گزر چکا ہے( قل متاع الدنیا قلیل و الاخرة خیر لمن اتقی ) ” کہہ دو کہ دنیا وی زندگی بہت کم ہے لیکن پر ہیز گاروں کے لئے دوسرے جہان میں اس کا صلہ موجود ہے “۔

دوسرا جواب جو زیر بحث ہے کہ موت سے فرار اختیار کرنا تمہارے لئے مفید نہیں ” حالانکہ تم جہاں کہیں بھی ہو موت سے تم کو مفر نہیں آخر ایک تمھیں اس کا نوالہ بننا ہے یہاں تک کہ تم مضبوط گنبدوں میں کیوں نہ چھپ جاو” پس وہ موت جسے ضرور آنا ہے اور جس سے چھٹکارا ممکن نہیں ہے کیون نہ اسے اصلاح اور سچائی کے لئے قبول کیا جائے جیسے جہاد کی صورت میں بجائے اس کے کہ بے کار اور لا حاصل موت قبول کی جائے ۔( اٴَیْنَمَا تَکُونُوا یُدْرِکُّمْ الْمَوْتُ وَلَوْ کُنتُمْ فِی بُرُوجٍ مُشَیَّدَةٍ ) ۔یہ امر قابل توجہ ہے کہ قرآن کی متعدد آیات مثلاً حجر کی آیة ۹۹ ۔ اور مدثر کی آیت ۴۸ ۔ میں موت کو ” یقین “ سے تعبیر کیا گیا ہے یہ اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہر قوم اور گروہ جو بھی عقیدہ رکھتا ہو وہ ہر چیز کا انکار کرسکتا ہے مگر اس حقیقت کا انکار نہیں کر سکتا کہ زندگی ایک دن ختم ہونے والی ہے وہ افرد جو زندگی سے عشق کرتے ہیں اور وہ جو سمجھتے ہیں کہ موت ہمیشہ کے لئے نیست و نابود ہونے کانام ہے اور اس کا نام لیتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں یہ آیات انھیں تنبیہ کرتی ہیں اور زیر بحث آیت میں ۔ یدرککم ۔ کے مفہوم سے انھیں متوجہ کیا گیا ہے کہ عالم ہستی کی اس حقیقت سے فرار اختیار کرنا ایک نامناسب فعل ہے کیونکہ ۔یدرککم ۔ کے مادہ کا معنی یہ ہے کہ کوئی کسی چیز سے فرار حاصل کرے اور وہ اس کے پیچھے دوڑے ۔ سورہ جمعہ کی آیت ۸ میں بھی یہ حقیقت زیادہ کھل کربیان کی گئی ہے :

قل ان الموت الذی تفرون منہ ملاقیکم کہیے کہ موت جس سے تم بھاگتے ہو وہ ضرور تمہارے سامنے آئے گی ۔

جب یہ حقیقت مد نظر ہو تو کیا یہ عقل مندی ہے کہ انسان میدان جہاد میں جانے اور قابل فخر مرتبے پر فائز ہونے کی بجائے اس سے کنارہ کش ہ وکر گھر میں آرام کرتا رہے فرض کرلیں کہ جہاد سے کنارہ کش ہو کر وہ زندگی کے چند روز اور گذار لے اور وہی کام دہراتا رہے جو پہلے کرتا رہا ہے ۔راہ خدا میں جہاد کرنے والوں کے اجر و ثواب سے بے بہرہ ہو جائے تو کیا یہ عقل اور منطق کے مطابق صحیح ہے اصولی طور پر موت ایک عظیم حقیقت ہے اور موت کے استقبال کے لئے افتخار کے ساتھ آمادہ ہونا چاہئیے ۔دوسرا نکتہ جس پر توجہ کرنا چاہئیے یہ ہے کہ درج بالا آیت میں کہا گیا ہے کہ کوئی چیز یہاں تک کہ محکم برج ( بروج مشیدہ)(۱) بھی موت سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتا اور اس کی وجہ واضح یت اور وہ یہ کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ موت وجود انسانی سے باہر نفوذ کرتی ہے ۔ عملی طور پر موت کا سر چشمہ انسان کے اندر ہے ، کیونکہ بدن کے مختلف کل پر زوں ( اعضاء) کی استعداد یقینا محدود ہے ایک دن وہ ختم ہو جاتے ہیں ۔البتہ غیر طبیعی موت انسان کی تلاش میں باہر سے آتی ہے لیکن طبعی موت اس کے اندر سے آتی ہے ۔ مضبوط گنبد اور بھاری قلعے بھی اس کا راستہ نہیں روک سکتے ۔یہ بجا ہے کہ مضبوط قلعے بعض اوقات غیر طبعی موت سے بچا لیتے ہیں ۔ مگر پھر بھی موت سے مکمل نجات نہیں دلاسکتے اورچند دنوں بعد طبعی موت انسان کو آلیتی ہے ۔

____________________

۱ - مشیدہ ۔ در اصل مادہ شید ( بر وزن شیر) سے ہے اور گچ اور دوسرے محکم مواد کے معنی میں ہے جنھیں کسی بنیاد کے استحکام کے لئے استعمال کرتے ہیں چونکہ اس زمانہ میں عام طور پر مضبوط بنیاد کے لئے محکم ترین مادہ گچ اور چونا تھا لہٰذا زیادہ تر اس مفہوم میں بولا جاتا تھا۔ لہٰذا بروج مشیدہ محکم قلعوں کے معنی میں ہے اور دیکھنے میں مشیدہ مرتفع اور بلند کے معنی میں آتا ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ چوناسے استفادہ کئے بغیر کسی طرح بھی بلند و بالا عمارت کی بنیادیں استوار نہیں ہوسکتیں ۔


کامرانیوں اور شکستوں کا سر چشمہ

قرآن اس آیت کے ذیل میں منافقین کی کچھ اور بے بنیاد باتوں اور باطل خیالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے :وہ جب بھی کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں اور نیکیاں اور حسنات ان کے ہاتھ آتی ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے یعنی ہم اس قابل تھے کہ خدا نے ہمیں یہ شفقتیں اور نعمتیں عطا کی ہیں ۔

( وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَقُولُوا هَذِهِ مِنْ عِنْدِ اللهِ )

لیکن جب انھیں شکست کا سامنا ہو یا میدان جنگ میں کوئی مشکل لاحق ہو تو کہتے ہیں کہ یہ پیغمبر کی غلط تدبیر اور ان کی جنگی حکمت عملی کے خام ہونے کی وجہ سے تھا اس ضمن میں وہ جنگ احد کی شکست کا حوالہ دیتے ہیں ۔

( وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَقُولُوا هَذِهِ مِنْ عِنْدِکَ )

بعض مفسرین کا احتمال ہے کہ درج بالا آیت یہودیوں کے بارے میں ہے اور ” حسنہ“ اور ” سیئة“ سے مراد سارے اچھے اور برے حوادث و واقعات ہیں کیونکہ یہودی پیغمبر کے ظہور کے وقت اپنی زندگی کے اچھے حوادث کی نسبت خدا کی طرف دیتے تھے اور برے حوادث کو پیغمبر سے منسوب کردیتے تھے لیکن اس آیت کا ربط پہلے اور بعد کی ان آیات سے ہے جو منافقین کے بارے میں نشاندہی کرتی ہیں یہ آیت بھی زیادہ تر انہی سے مربوط ہے بہر حال قرآن انھیں جواب دیتا ہے کہ ایک موحد اور بالغ نظر خدا پرست کی نگاہ میں یہ تمام حوادث کامیابیاں اور شکستیں خدا کی طرف سے ہیں جولوگوں کی قابلیت اور اہلیت کے مطابق دی جاتی ہے ۔( قُلْ کُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللهِ )

اور آیت کے آخر میں اعتراض کے طور پر ان منافقین کی زندگی کے مختلف پہلووں کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ لوگ فکر اور غور نہیں کرتے” پس کیوں یہ لوگ حقائق کاادراک کرنے کو تیار نہیں ہوتے“

( فَمَالِ هَؤُلاَءِ الْقَوْمِ لاَیَکَادُونَ یَفْقَهُونَ حَدِیثًا ) ۔

اس کے بعد اگلی آیت میں اس طرح ارشاد ہوتا ہے کہ تمام نیکیاں ، کامیابیاں اور حسنات جو تمہیں ملتی ہیں وہ خدا کی طرف سے ہیں اور جو برائیاں اور شکستیں تمھیں در پیش ہوتی ہیں اور وہ خود تمہاری طرف سے ہیں ۔

( مَا اٴَصَابَکَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنْ اللهِ وَمَا اٴَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِکَ )

اور آیت کے آخر میں ان لوگوں کو جو اپنی شکستوں اور ناکامیوں کی نسبت پیغمبر سے دیتے ہیں اور اصطلاحاً پیغمبرکی وجہ سے سمجھتے تھے انھیں جواب دیا گیا ۔ ۔ پیغمبر سے ارشاد ہوتا ہے : ” اور ہم نے تجھے لوگوں کے لئے اپنا پیامبرقرار دیاہے اور خدا اس پر گواہ ہے اور اس کی گواہی کافی ہے “۔تو کایہ ممکن ہے کہ خدا کابھیجا ہوا لوگوں شکست، ناکامی او ربرائی کا سبب ہو؟( وَاٴَرْسَلْنَاکَ لِلنَّاسِ رَسُولًا وَکَفَی بِاللهِ شَهِیدًا ) ۔

ایک اہم سوال کا جواب

ان دو آیات کا مطالعہ جو قرآن میں آگے پیچھے مربوط ہیں ذہن میں ایک سوال پیدا کرتا ہے کہ کیوں پہلی آیت میں تمام نیکیوں اور برائیوں (حسنات و سیئات ) کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے جب کہ دوسری آیت میں صرف نیکیوں کو خدا کی طرف اور برائیوں اور سیئات کو لوگوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے ۔ یقینا یہاں کوئی نکتہ پوشیدہ ہے ورنہ کیسے ممکن ہے کہ دو آیات جو کہ یکے بعد دیگرے آئی ہیں ان میں ایسا واضح اختلاف ہے ان دونو ں آیات پر غور و فکر کرنے سے چند نکات واضح ہوتے ہیں جن میں سے ہر ایک سوال کا علیحدہ جواب بن سکتا ہے ۔

۱۔ اگر سیئات اور برائیوں کا تجزیہ کیا جائے تو یہ دوپہلو رکھتی ہیں ۔ ایک مثبت پہلو اور ایک منفی پہلو ۔ یہی منفی پہلو ہے جو انھیں برائی کی شکل و صورت دیتا ہے اور انھیں نسبتی زبان یا مقابلتاً نقصان کی صورت میں پیش کرتا ہے ۔

اس سلسلے میں ایک مثال پیش کی جاتی ہے ۔

جو شخص گرم سر و ہتھیار کے ذریعہ کسی مسلمان کو قتل کردے ، مسلم ہے کہ وہ ایک برائی کا مرتکب ہوا ہے اب ہم اس برے کام کے عوامل پر غور و فکر کرتے ہیں ۔ ان عوامل میں انسان کی طاقت م اس کی فکر ، سرد یا گرم ہتھیار کی طاقت ، صحیح نشانہ، مناسب وقت سے استفادہ کرنا اور گولی کی تاثیر اور طاقت وغیرہ نظر آتے ہیں جو تمام واقعہ کے مثبت پہلو ہیں ۔ کیونکہ یہ سب مفید اور سود مندہ سکتے ہیں اور اگر انھیں بر مخل استعمال کیا جائے تو بڑی بڑی مشکلات کے موقع پر کام آتے ہیں صرف ایک منفی پہلو اس واقعہ کا یہ ہے کہ یہ تمام صلاحتیں اور توانائیاں بے محل استعمال ہوئی ہیں مثلاً بجائے اس کے کہ ان کے ذریعے ایک خطر ناک درنسدے کو مارا جاتا یا ایک جفا کار ظالم کو قتل پر انھیں استعمال کیا جاتا، ایک بے گناہ انسان کو نشانہ بنایا گیا بس یہی پہلو ،منفی ہے کہ ان صلاحیتوں کو برائی کے طور پر کام لایا گیا ، ورنہ نہ تو اچھے نشانے کی صلاحیت انسان کے لئے بری چیز ہے اور نہ ہی گولی او ربارود کا استعمال برا ہے ، یہ سب صلاحیت کو استعمال کرنے کے ذرائع ہیں اور اپنی جگہ بہت فوائد کے حامل ہیں ۔

لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ پہلی آیت میں تمام حسنات اور سیئات کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ قدرت کے تمام ذرائع ، یہاں تک کہ وہ صلاحتیں کہ جن سے غلط فوائد حاصل کئے گئے ، خدا کی طرف سے ہیں اور اصلاحی اور مثبت اجراء کا سر چشمہ وہی ہیں اور اگر دوسری آیت میں سیئات کی نسبت لوگوں کی طرف دی گئی ہے تو واقعہ کے انھی منفی پہلووں اور خدا کی عنایات اور صلاحیتوں سے غلط فائدہ اٹھانے والوں کی طرف اشارہ ہے یہ بالکل اسی مثال کی طرح ہے کہ ایک شخص اپنے بیٹے کو ایک اچھا گھر بنانے کے لئے سرمایہ دے لیکن وہ اسے منشیات، فساد ، تباہ کاری میں صرف کردے اس میں شک نہیں ہے کہ سرمایہ کے لئے وہ اپنے باپ کا مقروض ہے لیکن سرمایے کے غلط استعمال کے لئے وہ خود ذمہ دار ہے ۔

۲۔ ممکن ہے کہ آیہ مبارکہ ” الامر بین الامرین “ کے مسئلہ کی طرف اشارہ کرتی ہو جس کی طرف خبر اور تفویض کی بحث میں اشارہ ہوا ہے کہ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام حوادث دنیا، یہاں تک ہمارے اعمال و افعال چاہے اچھے ہوں یا برے ، نیک ہوں یا بد ایک طرح سے خدا سے مربوط ہیں کیونکہ وہی جس نے ہمیں طاقت دی ہے اور اختیار و ارادہ کی آزادی ہمیں بخشی ہے لہٰذا ہم جو کچھ اختیار کرتے ہیں اور ارادے کی آزادی کے ساتھ انتخاب کرتے ہیں وہ مشیت الہٰی کے برخلاف نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے اعمال ہم سے نسبت رکھتے ہیں اور ان کا سر چشمہ ہمارا وجود ہے کیونکہ عمل کے تعین کرنے کا عامل و سبب ہمارا ارادہ و اختیار ہے اور اسی بناپر ہم اپنے اعمال کے بارے میں جوابدہ ہیں اور خدا کی طرف ہمارے اعمال کی اسناد و نسبت، جیسا کہ اشارہ ہوا ہے ہماری ذمہ داری اور جوابدہی کو سلب نہیں کرتی اور عقیدہ جبر کا موجب اور سبب نہیں بنتی۔ لہٰذ ا خدا جہاں فرماتا ہے کہ ” حسنات و سیئات“ میری طرف سے ہیں تو وہاں اشارہ کرتا ہے کہ تمام چیزوں کی نسبت خدا کی اس فاعلیت ( اختیار) کی طرف ہے اور جہاں فرماتا ہے سیئات تمہاری طرف سے ہیں تو وہاں ہماری فاعلیت اور ہمارے ارادہ و اختیار کی طرف اشارہ ہے ، اور حقیق میں دو آیات کا مجموعہ” الامر بین الامرین “ کے مسئلہ کو ثابت کرتا ہے ( یہ نکتہ غور طلب ہے )

۳۔ ایک اور تفسیر جو ان آیات کے لئے موجود ہے اور اہل بیت (علیه السلام) کی روایات میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا ہے وہ یہ ہے کہ ” سیئات“ سے مراد اعمال کی سزا و مجازات اور گناہوں کے عقوبات و نتائج ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ یہ سزائیں خدا کی طرف سے ہیں لیکن چونکہ یہ بندوں کے اعمال و افعال کا نتیجہ ہیں ۔ اس بناپر بعض اوقات ان کی نسبت بندوں کی طرف دی جاتی ہے اور بعض اوقات خدا کی طرف، اور دونوں صحیح ہیں ۔ مثلا یہ دونوں طرح سے صحیح و درست ہے کہ کہا جائے کہ قاضی چور کا ہاتھ کاٹتا ہے یا یہ کہ چور خود اپنے ہاتھ کو کاٹتا ہے ۔


آیات ۸۰،۸۱

۸۰۔( مَنْ یُطِعْ الرَّسُولَ فَقَدْ اٴَطَاعَ اللهَ وَمَنْ تَوَلَّی فَمَا اٴَرْسَلْنَاکَ عَلَیْهِمْ حَفِیظًا ) ۔

۸۱۔( وَیَقُولُونَ طَاعَةٌ فَإِذَا بَرَزُوا مِنْ عِنْدِکَ بَیَّتَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ غَیْرَ الَّذِی تَقُولُ وَاللهُ یَکْتُبُ مَا یُبَیِّتُونَ فَاٴَعْرِضْ عَنْهُمْ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ وَکَفَی بِاللهِ وَکِیلًا ) ۔

ترجمہ

۸۰۔جس شخص نے پیغمبر کی اطا عت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور جو گر دانی کرے تو تم اس کے جواب دِہ نہیں ہو ۔

۸۱۔وہ تیرے سامنے کہتے ہیں کہ ہم فر ما نبردار ہیں لیکن جب وہ تمھاری بز م سے باہرجاتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ تمھاری گفتگو کے بر خلاف رات کو خفیہ میٹنگیں تشکیل دیتا ہے جو کچھ وہ ان میٹنگوں میں کہتے ہیں خدا اسے لکھتا ہے ۔

ان کی پر واہ نہ کرو (اور ان کے منصوبوں اور سا زشوں سے نہ ڈرو)اور خدا پر تو کل کرو اور کافی ہے کہ وہ تمھارا مدد گاراور حفاظت کرنے والا ہو ۔

تفسیر

اس آیت میں لوگو ں اور ان کے ”حسنات“اور ” سیئات“کے مقا بلہ میں رسول کی حیثیت بیان گئی ہے ۔خدا پہلے فر ماتا ہے کہ جو شخص پیغمبر کی اطاعت کرے اس نے خدا کی اطاعت کی ۔

( مَنْ یُطِعْ الرَّسُولَ فَقَدْ اٴَطَاعَ اللهَ )

لہٰذا خدا کی اطاعت پیغمبر کی اطاعت ہے جدا نہیں ہو سکتی کیونکہ پیغمبر کوئی قدم خدا کی مشیت کے خلاف نہیں اٹھاتا اس کی گفتار ، کردار، اعمال سب خدا کے فرمان کے مطابق ہیں ۔

اس کے بعد فرماتا ہے : اگر کچھ لوگ اعراض اور رو گردانی کرتے ہیں اور وہ تمہارے احکام کے خلاف کھڑے ہوجاتے ہیں تو تم ان کے اعمال کے جواب دہ نہیں ہو اور یہ تمہارا کام نہیں کہ ان سے تکرار کرو یا نافرمانی کر نے سے انھیں جبراً روکو ۔ تمہارا فرض تبلیغ رسالت امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور گمراہ وبے خبر لوگوں کی رہنمائی کرنا

( وَمَنْ تَوَلَّی فَمَا اٴَرْسَلْنَاکَ عَلَیْهِمْ حَفِیظًا ) ۔

غور کرنا چاہئیے کہ لفظ ” حفیظ“ اس لحاظ سے کہ وہ شخص ہے کہ جو ہمیشہ کسی چیز کی نگرانی پر مامور ہو ۔ لہٰذا آیت کا معنی و مفہوم یہ ہو گا کہ پیغمبر کی ذمہ داری رہبری کرنا، دعوت حق دینا، فتنہ اور مفاسد کا مقابلہ کرنا ہے لیکن اگر کچھ لوگ مخالفت پر کمر بستہ ہو ں تو پیغمبر ان کی کجروی کے لئے جوابدہ نہیں ہیں کہ ہر جگہ موجود ہوں اور ہر گناہ و معصیت کا طاقت اور جبر سے مقابلہ کریں اور مروّج طریقوں سے بھی وہ اس طرح کی قدرت نہیں رکھتے ۔ اس بنا پر احد جیسی جنگ کے حوادث بھی شاید آیت کے پیش نظر ہوں کہ پیغمبر کا فرض تھا کہ فنون ِ حرب کے لحاظ سے زیادہ گہرائی اور غور و خوض سے جنگی حکمتِ عملی تیار کرتا اور دشمن کے شر سے مسلمانوں کو محفوظ رکھتا، اور یہ بات مسلم ہے کہ ان احکام و ضوابط میں پیغمبر کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے ۔ لیکن اگر کچھ لوگوں نے پیغمبر کے احکام کی حکم عدولی کی اور اس سبب سے وہ شکست سے دو چار ہو ئے تو اس کی جواب دہی ان سے منسوب ہو گی نہ کہ پیغمبرسے ۔ غور کرنا چاہئیے کہ یہ آیت قرآن کی واضح ترین آیات میں سے ہے جو سنتِ پیغمبر کے حجت ہونے اور آپ کی احادیث کو قبول کرنے کے لئے دلیل ہے ، لہٰذا کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں قرآن کو قبول کرتا ہوں لیکن پیغمبر کی حدیث اور سنت کو قبول نہیں کرتا۔ کیونکہ درج بالا آیت میں صراحت کے ساتھ آیا ہے کہ پیغمبر کی حدیث اور سنت کی اطاعت فرمانِ خدا کی اطاعت ہے ۔

جب ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر نے حدیث ثقلین کے مطابق جو کہ مشہور مآخذ اور کتب اسلامی میں مذکور ہے چاہے وہ کتب شیعہ ہوں یا کتب اہل سنت، صراحت کے ساتھ اہل بیت علیہم السلام کو سند اور حجت قرار دیا ہے اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اہل بیت (علیه السلام) کے فرمان کی اطاعت بھی فرمانِ خدا کی اطاعت سے الگ نہیں ہے اور کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں قرآن کو تو قبول کرتا ہوں لیکن اہل بیت(علیه السلام) کے فرامین کو نہیں مانتا کیونکہ یہ بات درج بالا آیت اور اس کے مشابہ آیات کے برخلاف ہے ۔

اسی لئے بہت سی روایات جو تفسیر بر ہان میں اس آیت کے ضمن میں آئی ہےں میں ہم پڑھتے ہیں کہ خدا نے درج بالا آیت کے مطابق امر و نہی کا حق اپنے پیغمبر کو دیا ہے اور پیغمبر نے یہ حق حضرت علی علیہ السلام اور ائمہ اہل بیت (علیه السلام) کو دیا ہے لہٰذا لوگوں کا فرض ہے کہ وہ ان کے امر و نہی سے رو گردانی نہ کریں کیونکہ ان کا امر و نہی ہمیشہ خدا کی طرف سے ہے نہ کہ خود ان کی طرف سے ( تفسیر برہان جلد اول صفحہ ۳۹۶) اس کے ساتھ دوسری آیت میں منافقین کے ایک گروہ یا کمزور ایمان والے کچھ لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ” وہ لوگ جس وقت مسلمانوں کی صفوں میں پیغمبر کے پاس کھڑے ہوتے ہیں تو اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے یا کسی ضرر سے اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے لئے دوسروں کے ہم آواز ہوتے اور فرمانِ پیغمبر کی اطاعت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم جان و دل سے پیغمبر کی پیروی کرنے کو تیار ہیں( وَیَقُولُونَ طَاعَة )

لیکن جب لوگ بزم رسالت سے نکلتے ہیں تو وہ منافقین اور کمزور ایمان والے افراد اپنے عہد و پیمان کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں اور خفیہ اجتماعات میں پیغمبر کے ارشادات کے خلاف پروگرام بناتے ہیں

( فَإِذَا بَرَزُوا مِنْ عِنْدِکَ بَیَّتَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ غَیْرَ الَّذِی تَقُولُ )

اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقین پیغمبر کے زمانہ میں نچلے نہیں بیٹھے تھے ، بلکہ وہ رات کو خفیہ اجتماعات میں ایک دوسرے سے مشورہ کرتے تھے اور پیغمبر اکرم کے لائحہ عمل میں رخنہ اندازیاں کرتے تھے ، لیکن خدا اپنے رسول کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان سے منہ پھیر لیں اور ان کی سازشوں سے گھبرائیں نہیں اور اپنے لائحہ عمل کے لئے ان پر انحصار نہ کریں ۔ بلکہ فقط خدا پر بھروسہ رکھیں خدا جو سب سے زیادہ مدد اور حفاظت کرنے والا ہے ۔

( فَاٴَعْرِضْ عَنْهُمْ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ وَکَفَی بِاللهِ وَکِیلًا ) ۔


آیت ۸۲

۸۲( اٴَفَلاَیَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللهِ لَوَجَدُوا فِیهِ اخْتِلاَفًا کَثِیرًا ) ۔

ترجمہ

۸۲۔ کیا قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے کہ اگر وہ غیر خدا کی طرف سے ہوتا تو اس میں وہ اختلافات پاتے ۔

تفسیر

اعجاز قرآن کی زندہ مثال

ان سر زنشوں کے بعد جو گزشتہ آیات میں منافقین کو کی گئی تھیں یہاں انھیں اور دوسرے تمام ان لوگوں کی طرف جو قرآن کی حقانیت میں شک و تردد کرتے ہیں اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کیا یہ لوگ قرآن کی مخصوص وضع و کیفیت پر غور و فکر نہیں کرتے اور اس کے نتائج کو نہیں دیکھتے ، قرآن اگر خدا کے علاوہ کسی اور کی طرف سے نازل ہوتا تو یقینا اس میں انھیں بہت سے تفاوت و اختلافات ملتے ا ب جب کہ اس میں کسی قسم کا کوئی اختلاف اور تناقض نہیں ہے تو جان لینا چاہئیے کہ وہ خدا ہی کی طرف سے نازل ہوا ہے ۔

( اٴَفَلاَیَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللهِ لَوَجَدُوا فِیهِ اخْتِلاَفًا کَثِیرًا ) ۔

”تدبر“ اصل میں مادہ دبر( بر وزن ابر) پشت سر اور کسی چیز کی عاقبت و انجام کے معنی میں ہے اس بنا پر تدبیر سے مراد نتائج ، عواقت اور کسی چیز کے آگے پیچھے دیکھنا ہے ۔ تفکر سے اس کا فرق یہ ہے کہ تفکر کا ربط کسی وموجود کے علل اور خصوصیات کے مطالعہ سے ہے لیکن ”تدبیر“ اس کے عواقب و نتائج کے مطالعے اور جائز سے مربوط ہے ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اصولِ دین اور ایسے مسائل مثلاً پیغمبر کے دعوے کی سچائی اور قرآن کی حقانیت کے بارے میں تحقیق و مطالعہ کریں اور اندھی تقلید اور بغیر سوچے سمجھے فیصلوں سے اجتناب کریں ۔

۲۔ بعض لوگوں کے خیال کے برعکس قرآن سب لوگوں کے لئے قابل فہم و ادراک ہے کیونکہ اگر وہ قابل فہم و ادراک نہ ہوتا تو اس میں تدبر و فکر کرنے کا حکم نہ دیا جاتا۔

۳۔ قرآن کی حقانیت کی ایک اور دلیل اور یہ کہ وہ خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے یہ ہے کہ سارے قرآن میں تضاد اور اختلاف نہیں ہے ۔ اس حقیقت کے ادراک کے لیے حسبِ ذیل وضاحت کی طرف توجہ کریں ۔

” ہر شخص کی کیفیات اور نظر یات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں بعض استثنائی حالتیں چھوڑ کر عام حالات میں قانون تکامل و ارتقاء انسان اور اس کے افکار و نظر یات پر بھی موثر حاوی ہے ہمیشہ دن مہینے اور سال بدلنے سے لوگوں کی زبان ، فکر اور گفتار بھی بدلتی رہتی ہے اگر غور سے دیکھیں تو ایک لکھنے والے شخص کی تحریریں کبھی بھی ایک جیسی نہیں ہوتیں بلکہ ایک ہی کتاب کی ابتدا اور انتہا میں فرق ہوتا ہے خصوصاً اگر کوئی شخص عظیم حوادثسے گزرے اور حوادث بھی ایسے جو ایک فکری، اجتماعی ، نظر یاتی عقائدی انقلاب کی بنیاد بن جائیں تو وہ جتنا بھی کوشش کرے کہ اپنی گفتار کو ایک جیسا اور ایک طرز پر رکھے اور اسے اپنی گزشتہ باتوں سے مربوط کرلے وہ ایسا نہیں کرسکتا۔ خصوصاً اگر وہ ان پڑھ اور پس ماندہ ماحول میں پروان چڑھا ہو“۔

”لیکن قرآن جو ۲۲ سال کی مدت میں لوگوں کے تربیتی تقاضوں اور ضروریات کے مطابق بالکل مختلف حالات اور مواقع پر نازل ہوا، ایسی کتاب ہے جو مکمل طور پر مختلف موضوعات کو چھیڑتی ہے اور عام کتب کی طرح اس میں صرف ایک اجتماعی، سیاسی ، فلسفیانہ، حقوقِ انسانی یا تاریخی موضوع سے بحث نہیں ہے بلکہ قرآن کبھی توحید اور اسرار آفرینش کے بارے میں اور کبھی احکام قوانین اور آداب و سنن کے متعلق اور کسی وقت گذشتہ عبادات اوربندوں کے خدا سے رابطے کے بارے میں گفتگو کرتا ہے ۔ ڈاکٹر گوستان دلبون کے بقول قرآن جوکہ مسلمانوں کی آسمانی کتاب ہے صرف تعلیمات اور احکام مذہبی پر منحصر نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے لئے سیاسی، اجتماعی اور معاشرتی احکام کو بھی بیان کرتی ہے ایسی خصوصیات کی حامل کتاب کے لئے عام طور پر یہ ممکن نہیں کہ وہ تضاد، تناقض اور تضاد بیانی سے مبرا ہو ۔ لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ ان تمام جہات کے باوجود اس کی تمام آیات ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں اور ہر قسم کے تضاد، اختلافات، ناموزونیت سے خالی ہے تو ہم بہت بہتر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کتاب افکار انسانی کی تخلیق نہیں ہوسکتی ۔ بلکہ خدا کی طرف سے ہے ۔ جیسا کہ قرآن خود اس حقیقت کو درج بالا آیت میں بیان کرتا ہے ۔“(۱)

____________________

۱ - کتاب قرآن و آخرین پیغمبر ص ۳۰۹ تالیف ناصر مکارم


آیت ۸۳

۸۳۔( وَإِذَا جَائَهُمْ اٴَمْرٌ مِنَ الْاٴَمْنِ اٴَوْ الْخَوْفِ اٴَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَی الرَّسُولِ وَإِلَی اٴُوْلِی الْاٴَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِینَ یَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلاَفَضْلُ اللهِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُهُ لاَتَّبَعْتُمْ الشَّیْطَانَ إِلاَّ قَلِیلً ) ۔

ترجمہ

۸۳۔ اور جب کامیابی یا شکست کی خبر انہیں ملے تو وہ ( تحقیق کے بغیر) اسے مشہور کر دیتے ہیں لیکن اگر وہ پیغمبر اور صاحبان امر کی طر ف( جو تشخیص کی کافی اہلیت و قدرت رکھتے ہیں ) پلٹا دیں تو مسائل کی تہہ سے آگاہ ہو جائیں اور خدا کا فضل اور رحمت شاملِ حال نہ ہوتی تو سوائے قلیل گروہ کے سب کے سب شیطان کی پیروی کرنے لگتے ۔

تفسیر

افواہیں پھیلانا

اس آیت میں منافقین اور ضعیف الایمان لوگوں کے ایک اور منفی عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب انھیں مسلمانوں کی فتح یا شکست کے متعلق خبریں پہنچتی ہیں تو وہ تحقیق کے بغیر انھیں لوگوں میں پھیلاتے ہیں جب کہ بیشتر یہ خبریں بے بنیاد ہوتی ہیں اور دشمنوں کی جانب سے خاص مقاصد کے لئے گھڑی جاتی ہیں ، ان کا شہرت پانا مسلمانوں کے لئے ضرر رساں ہوتا ہے

( وَإِذَا جَائَهُمْ اٴَمْرٌ مِنَ الْاٴَمْنِ اٴَوْ الْخَوْفِ اٴَذَاعُوا بِهِ )

حالانکہ ان کی ذمہ داری ہے کہ اس قسم کی خبریں سب سے پہلے اپنے رہبروں اور پیشواوں کے سامنے رکھیں اور ان کی وسیع اطلاعات اور گہری فکر سے استفارہ کریں اور بلا وجہ نہ تو مسلمانوں کو اچھے نتائج کے غرور میں مبتلا کریں جو خیالی کامیابیوں سے پیدا ہوتے ہیں اور نہ شکست کی جھوٹی خبروں سے ان کی ہمتوں کو پست کریں ۔

( وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَی الرَّسُولِ وَإِلَی اٴُوْلِی الْاٴَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِینَ یَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ )

” یستنبطونہ“ اصل میں نبط ( بر وزن فقط) کے مادے سے ہے اس سے مرادوہ پہلا پانی ہے جو کنویں سے نکالتے اور زمین کی تہہ سے حاصل کرتے ہیں اسی بناپر ہر حقیقت کے مختلف دلائل وشواہد سے استفادہ کرنے اور موجود مدارک سے استخراج کرنے کو ” استنباط“ کہا جاتا ہے چاہے یہ کام فقہی مسائل میں ہو یا فلسفانہ ، سیاسی اور علمی مسائل میں جو تشخیص کی قدرت رکھتے ہوں ، اور مختلف مسائل پر کافی دسترس رکھتے ہوں اور جو حقائق کو بے بنیاد افواہوں سے اور صحٰح مطالب کو غلط امر سے الگ کرکے لوگوں تک پہچائیں ، اس طرح کے لوگوں میں پہلا درجہ پیغمبراکرم اور آپ کے جانشین ائمہ اہل بیت(علیه السلام) کا ہے اور دوسرے درجہ میں ایسے علماء ہیں جو ان مسائل میں صاحبِ نظر ہیں ۔ جیسا کہ تفسیر نور الثقلین میں اس آیت کے ضمن میں امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے آپ(علیه السلام) نے فرمایا:

” ھم الائمہ“ یعنی اس آیت سے مراد آئمہ اہلِ بیت ہیں ۔

اور اس مضمون کی دوسری روایات بھی نقل ہوئی ہیں ممکن ہے اس طرح کی روایات پر لوگ اعتراض کریں کہ رسول اللہ تو آیت کے نزول کے وقت موجود تھے لیکن آئمہ اہل بیت (علیه السلام) کو منصبِ امامت نہیں ملا تھا اس اعتراض کا جواب واضح ہے کیونکہ یہ آیت پیغمبر اکرم کے زمانے کے ساتھ تو مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ آیت تو ایک مکمل قانون ، تمام ادوار اور زمانوں کے لئے ہے جو دشمنوں اور نادان مسلمانو کی طرف سے مسلمانوں کے درمیان غلط خبروں کی اشاعت کے لئے بیان کیا گیا ہے ۔

غلط خبریں اور افواہیں پھیلانے کے نقصانات

مختلف معاشروں کو جو بڑے مسائل در پیش ہوتے ہیں اور جو معاشروں سے اجتماعی فکر ، افہام و تفہیم اور ہم آہنگی کو ختم کر دیتے ہیں ان کا سبب جھوٹی خبریں گھڑنا اور ان کی نشر و اشاعت ہے اس طرح سے کہ بعض اوقات ایک منافق ایک غلط خبر گھڑ لیتا ہے وہ چند افراد تک پہنچاتا ہے اور وہ بلا تحقیق اس کی نشر و اشاعت کرنے لگتے ہیں اور شاید کچھ اس میں اپنی طرف سے اضافے بھی کرتے ہیں اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ کافی حد تک لوگوں کی فکری توانائی ضائع کر دیتے ہیں اور لوگوں کو اس طرف مشغول کرکے انھیں اضطراب اور پریشانی میں مبتلا کردیتے ہیں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس طرح کی خبریں لوگوں کے اعتماد کو متزلزل کردیتی ہیں اور معاشرے کو اہم فرائض کی انجام دہی سے سست روا اور متردد کردیتی ہیں ۔ اگر چہ وہ گروہ اور معاشرے جن میں جبر ہے اور ان کے گلے گھونٹ دیئے گئے ہیں ان میں بی جھوٹی خبریں گھڑنا اور ان کی نشر و اشاعت کرنا ایک قسم کے مقابل؛ے یا انتقام جوئی کے زمرے میں آتا ہے لیکن صحیح معاشروں میں غلط خبروں کی نشر و اشاعت بہت زیادہ نقصان دہ ہے ۔ اگر اس قسم کی خبریں قابل، مشیتاور مفید افراد کے متعلق ہوں تو وہ انھیں خدمات اور کار نامے انجام دینے کے معاملے میں دلِ سرد اور سست کردیتی ہیں اور بعض اوقات ان کی برس ہا برس کی حیثیت کو بر باد کردیتی ہیں ۔ ولوگوں کو ان کے وجود کے فوائد سے محروم کردیتی ہیں ۔ اسی بنا پر اسلام صراحت کے ساتھ جھوٹی خبریں گھڑنے کے عمل سے جنگ کرتا ہے اور جعل سازی، جھوٹ اور تہمت گوئی اور اس کی نشر و اشاعت بھی ممنوع قرار دیتا ہے ۔ درج بالا آیت اس کا ایک نمونہ ہے ۔

اس کے بعد آیت کے آخر میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر فضل و رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی اور پر وردگار کے مقرر شدہ رہنماوں کے ذریعے تم اس قسم کی جھوٹی خبروں اور ان کے برے نتائج سے چھٹکارہ حاصل نہ کرتے تو تم میں سے بہت سے لوگ شیطانی راستوں پر چل پڑتے اور قلیل افراد ایسے رہ جاتے جو شیطان کی پیروی سے اجتناب کرتے( وَلَوْلاَفَضْلُ اللهِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُهُ لاَتَّبَعْتُمْ الشَّیْطَانَ إِلاَّ قَلِیلً ) ۔

یعنی پیغمبر اور صاحب نظر و اہل بصیرت علماء ہی جو غلط مشتہر ہونے والی خبروں کے وسوسو ں سے بچ سکتے ہیں لیکن معاشرے کی اکثریت اگر صحیح رہبری سے محروم رہ جائے تو من گھڑت خبروں اور ان کے ضرررساں اثرات سے نہیں بچ سکتی۔(۱)

____________________

۱- جو کچھ ہم نے کہا اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ” الاقلیلاً“ ” اتبعھم “ کی ضمیر سے ” مستثنیٰ ہے اور آیت میں کسی قسم کی تقدیم و تاخیر نہیں ہے

(غور کیجئے گا) ۔


آیت ۸۴

۸۴۔( فَقَاتِلْ فِی سَبِیلِ اللهِ لاَتُکَلَّفُ إِلاَّ نَفْسَکَ وَحَرِّضْ الْمُؤْمِنِینَ عَسَی اللهُ اٴَنْ یَکُفَّ بَاٴْسَ الَّذِینَ کَفَرُوا وَاللهُ اٴَشَدُّ بَاٴْسًا وَاٴَشَدُّ تَنکِیلًا ) ۔

ترجمہ

۸۴۔راہ خدا میں جنگ کرو ۔ تم صرف اپنی ذمہ داری کے جواب وہ ہو او رمومنین کو ( اس کام کا )شوق دلاو۔امید ہے کہ خدا کافروں کی قوت کو روک دے

( چاہے تم اکیلے ہی میدان میں چلے جاو) خدا کی قدرت بہت زیادہ ہے اور اس کی سزا دردناک ہے ۔

شان ِ نزول

تفسیر مجمع البیان ، قرطبی اور روح المعانی میں اس آیت کی شانِ نزول کے بارے میں اس طرح منقول ہے :

جس وقت ابو سفیان اور قریش کا لشکر فتح و کامیابی کے ساتھ میدان ِ احد سے پلٹا تو ابو سفیان نے پیغمبر سے معاہدہ کیا کہ بدر صغریٰ کے موقع پر ( یعنی ماہِ ذی القعدہ میں جو بازار بدر کی زمین پر لگتا تھا) دوبارہ ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے ۔

جب مقررہ وقت آیا تو پیغمبر اکرم نے مسلمانوں کو مذکورہ مقام کی طرف جانے کی دعوت دی لیکن مسلمانوں کی ایک جماعت جو جنگ احد کی شکست کی تلخی کو ابھی تک نہیں بھولی تھی اس نے شدت کے ساتھ جانے کی مخالفت کی اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہو ئی اور رسول اللہ نے مسلمانوں کو دوبارہ چلنے کی دعوت دی تو اس موقع پر صرف ستر آدمی پیغمبر کے ہم رکاب ہو کر اس مقام پر پہنچے ۔ لیکن ابو سفیان ( جو مسلمانوں کا سامنا کرنے سے خوف زدہ تھا) مقابلہ کرنے نہ آیا اور پیغمبر اکرم اپنے اصحاب کے ساتھ صحیح و سلامت مدینہ لوٹ آئے ۔

ہر شخص اپنے فرائض کا جوابدہ ہے

جہاد سے متعلق آیات کے بعد اس آیت میں ایک بہت بڑا حکم پیغمبر کو دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ ان کی ذمہ داری ہے کہ اکیلے دشمن کے مقابلہ میں کھڑے ہو جائیں ۔ چاہے ایک شخص بھی میدان میں ان کا ہم قدم نہ ہو ۔ کیونکہ وہ صرف اپنی ذمہ داری کے لئے جوابدہ ہیں اور وہ دوسرے لوگوں کے بارے میں شوق دلانے اور دعوتِ جہاد دینے کے علاوہ ان کی کوئی مسئولیت نہیں ہے ۔

( فَقَاتِلْ فِی سَبِیلِ اللهِ لاَتُکَلَّفُ إِلاَّ نَفْسَکَ وَحَرِّضْ الْمُؤْمِنِینَ )

حقیقت میں یہ آیت ایک اہم اجتماعی حکم خصوصاً رہبروں کے متعلق اپنے اندر سموئے ہوئے ہے وہ یہ ہے کہ انھیں اپنے کام میں اس قدر پختہ عزم ، ثابت قدم اور اٹل ہونا چاہئیے کہ اگر کوئی شخص بھی ان کی دعوت پ ر” لبیک “ نہ کہے تب بھی وہ اپنے مقدس مقصد اور منزل کے حصول کی جدو جہد سے دستبردار نہ ہوں ۔ دوسروں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کی دعوت دینے کے باوجود اپنے لائحہ عمل کو دوسروں کی مرضی پر نہ چھوڑ یں ۔ کوئی رہبر بھی جب تک ایسے عزم ِ صمیم کا حامل نہ ہو وہ رہبری کے اہل نہیں اور نہ ہی وہ اپنے مقاصد کے حصول کی صلاحیت رکھتا ہے خصوصاً خدا کے مقرر شدہ رہبر و رہنما بلند عزم و حوصلہ اور کردار کے مالک ہوتے ہیں کیونکہ انھیں خدا کی ذات پر تکیہ ہوتا ہے وہ خدا کہ جو تمام تونائیوں اور طاقتوں کا سر چشمہ ہے ۔

لہٰذا اس حکم کے بعد خدا فرماتا ہے : امید ہے کہ خدا تیری سعی و کوشش کے ذریعے دشمنوں کی قدرت و طاقت کو ختم کردے گاچاہے ان کے مد مقابل تو اکیلا ہی کیوں نہ ہو ۔ کوینکہ اس کی قدرت تمام قدرتوں سے مافوق اور اس کی سزا تمام عذابوں سے بڑھ کر ہے ۔

( عَسَی اللهُ اٴَنْ یَکُفَّ بَاٴْسَ الَّذِینَ کَفَرُوا وَاللهُ اٴَشَدُّ بَاٴْسًا وَاٴَشَدُّ تَنکِیلًا ) ۔(۱)

____________________

۱-باٴس کے معنی لغت لغت میں قوت، استحکام اور شجاعت ہے اور تنکیل مادہ نکول سے خوف کے مارے رک جانے کے معنی میں ہے اور اصل نکل

( بر وزن اکل ) کو جانور کی لگام کے معنی میں لیا گیا ہے اسی بناپر تنکیل جو کہ بات کا مصدر ہے ایسے کام کی انجام دہی کے مقصد میں آتا ہے کہ مقابل کی طرف جسے مشاہدہ کرنے کے ساتھ خلاف ورزی سے لوٹ آئے اور یہ وہی عذاب ہے کہ جو تم ستم گروں سے دوسرے لوگوں کی عبرت کا باعث بنتا ہے ۔


کلام خدا میں ” عسی ٰ“ اور ” لعل “ کے معنی

لفظ ” عسیٰ “ عربی لغت میں شائد کے معنی میں ردد کا مفہوم بھی دیتا ہے اور ” لعل“ پر امید ہونے ، انتظار اور ایسے امر کی توقع کے معنی میں آتا ہے آئندہ جنکے وجود کا یقین نہ ہو بلکہ احتمال ہو ۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کے الفاظ انسانوں کی گفتگو میں آنا تو فطری اور عین طبعی ہے کیونکہ انسان تمام مسائل سے آگاہ نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ اس کی صلاحیت و قدرت بھی محدود ہے اور وہ جو کچھ کرے اس کے انجام کو اپنی مرضی کے تابع نہیں کرسکتا۔ لیکن وہ خدا جو ماضی ، حال اور مستقبل سے مکمل طو رپر باخبر ہے اور جو کرنا چاہے اس کا اختیار رکھتا ہے اس کے لئے ”جہالت “ی ا” بے اختیار“ ہونے کے الفاظ استعمال کرنے کا تصور بھی نہیں ہو سکتا اس لئے بہت سے علماء یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس قسم کے الفاظ جو اس کے کلام میں استعمال ہوں وہ اپنے اصل معنی میں استعمال نہیں ہوتے بلکہ ان کے کچھ اور معنی نکلتے ہیں مثلاً” عسی ٰ“ وعدہ کے معنی اور ” لعل “ طلب کے معنی میں ہے ۔

لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ الفاظ کلام خدا میں بھی اپنے وہی اصلی معانی رکھتے ہیں اور ان کا لازمہ جہالت اور عدم اختیار نہیں ہے بلکہ یہ الفاظ ایسے مواقع پر استعمال ہوتے ہیں کہ جہاں مقصد تک پہنچنے کے لئے کئی ایک مقامات کی ضرورت ہوتی ہے تو جس وقت ان میں سے ایک یا کئی مقدمات حاصل ہو جائیں تو پھر بھی اس مقصد کے موجود ہونے کا قطعی اور یقینی حکم نہیں لگا یا جا سکتا بلکہ چاہیئے کہ اسے احتمالی حکم کے طور پر بیان کیا جائے ۔

مثلاً قرآن کہتا ہے :۔( واذا قرء القراٰن فاستمعو ا له و انصتوا لعلکم ترحمون )

جب قرآن پڑھا جائے تو کا دھرکے سنو اور خاموش رہو ، امید ہے کہ خدا کی رحمت تمہارے شامل حال ہو ۔ (اعراف، ۲۰۴)

واضح ہے کہ صرف قرآن کی آیات کو کان دھر نے کے سننے سے خدا کی رحمت انسان کے شامل حال نہیں ہوتی بلکہ یہ تو ایک مقدمہ ہے اس کے علاوہ بھی دیگر لوازم ہیں جن میں ان آیات کا فہم و ادراک اور اس کے بعد ان احکام پر عمل در آمد جو ان آیات میں موجود ہیں بھی شامل ہیں ۔ لہٰذا اس قسم کے مواقع پر ایک مقدمہ کے موجود ہونے سے نتیجہ کے حصول کا قطعی اور یقینی حکم نہیں لگا یا جا سکتا بلکہ اس ے ایک احتمالی حکم کے طور پر بیان کرنا ہو گا دوسرے لفظوں میں کلامِ خدا میں اس قسم کی تعبیرات تو بیدار کرنے اور سننے والے کو اس طرف متوجہ کرنے کے لئے ہیں اس کا م کے علاوہ کچھ اور شرائط و مقدمات بھی مقصد تک پہنچنے کے لئے ضروری ہیں مثلاً اسی مثال میں خدا کی رحمت کا شعور حاصل کرنے کے لئے قرآن کو غور سے سننے کے ساتھ اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے ۔

زیر بحث آیت پر بھی یہ گفتگو مکمل طور پر صادق آتی ہے کیونکہ کفار کی طاقت صرف مومنین کو دعوت جہاد دینے اور انھیں شوق جہاد دینے سے ختم نہیں ہوسکتی بلکہ اس کے ساتھ جہاد کے باقی لائحہ عمل پر عملدر آمد بھی ضروری ہے تاکہ اصل مقصد حاصل ہو سکے اس بنا پر ضروری نہیں ہے کہ الفاظ جب خدا کے کلام میں آئیں تو ان کے حقیقی معنی سے صرف نظر کر لیا جائے ۔(۱)

____________________

۱ -راغب نے کتاب مفردات میں اس قسم کے الفاظ( عسیٰ وغیرہ ) کی تفسیر میں ایک دوسرا احتمال بھی بیان کیا ہے اور وہ یہ کہ ان سے مخاطب اور سننے والے کو امید دلانا مقصود ہے ۔ نہ کہ کہنے والے کی امید بیان کرنا اور واضح تر الفاظ میں جب خدا کہتا ہے ” عسی و لعل “ تو اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ میں امید رکھتا ہوں بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ تم امید رکھو ۔


آیت ۸۵

۸۵۔( مَنْ یَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَکُنْ لَهُ نَصِیبٌ مِنْهَا وَمَنْ یَشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَکُنْ لَهُ کِفْلٌ مِنْهَاوَکَانَ اللهُ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ مُقِیتًا )

ترجمہ

۸۵۔جو شخص نیک کام کی تحریک دے اس میں اس کا حصہ ہوگا اور جو برے کام کے لئے ابھارے گا تو اس میں سے ( بھی ) اسے حصہ ملے گا۔ اور خدا ہر چیز کا حساب کرتا اور اسے محفوظ رکھتا ہے ۔

تفسیر

اچھے یا برے کام کی تحریک دلانے کا نتیجہ

جیساکہ گذ شتہ آیت کی تفسیر میں اشارہ ہوچکا ہے قرآن کہتا ہے کہ ہر شخص پہلے مرحلہ میں اپنے کام کا جوابدہ ہے نہ کہ دوسروں کا۔ لیکن اس بنا پر کہ اس سے غلط فائدہ اٹھایا جائے اس آیت میں کہتا ہے : یہ درست ہے کہ ہر شخص اپنے فعل کا جوابدہ ہے لیکن جو شخص دوسرے کو نیک کام پر ابھارے تو اس کا حصہ ملے گا اور جو شخص دوسرے کو کسی برے کام پر اکسائے تو اس کا حصہ ( بھی) اس میں ہوگا

( مَنْ یَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَکُنْ لَهُ نَصِیبٌ مِنْهَا وَمَنْ یَشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَکُنْ لَهُ کِفْلٌ مِنْهَا )

اس بناپر ہر شخص کااپنے اعمال کاجوابدہ ہونے کے معنی یہ نہیں کہ وہ دوسروں کو دعوتِ حق دینے اور فساد کا مقابلہ کرنے سے آنکھیں بند کرلے اور اسلام کی روحِ اجتماعیت کو مجرح کرتے ہوئے تجردد انفرادیت کے ذریعے معاشرے سے بیگانگی کا راستہ اختیار کرے ۔ شفاعت اصل میں مادہ شفع ( بر وزن نفع) سے جفت کے معنی میں ہے اس بناپر ایک چیز کا دوسری میں منضم و مدغم ہوجانا شفاعت کہلاتا ہے البتہ کبھی کبھار یہ راہنمائی اور ارشاد و ہدایت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ( جس طرح درج بالا آیت میں ہے ) تو اس وقت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا معنی دیتا ہے ( شفاعت سیئہ اس کے بر عکس یعنی امر بالمنکر و نہی عن المعروف ہے )لیکن اگر گنہ گاروں کو ان کے انجام سے نجات دینے کا موقع ہو تو یہ ایسے گنہ گار افراد کی مدد کرنے کے معنی میں آتا ہے جو شفاعت کے لئے اہلیت اور لیاقت رکھتے ہوں ، دوسرے الفاظ میں شفاعت کبھی تو عمل کی انجام دہی سے پہلے ہوتی ہے جو رہنمائی کے معنی میں ہے اور کبھی عمل کی انجام دہی کے بعد ہوتی ہے ۔

جہاں عمل کے نتائج سے نجات دینے کے معنی میں ہے بہر حال دونوں طرح سے ایک چیز دوسری کے لئے ضمیمہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ضمناً توجہ رہے کہ آیت اگر چہ ایک کلی مفہوم کی حامل ہے ، نیک اور بد ہر طرح کی دعوت کا مفہوم اس میں شامل ہے لیکن چونکہ یہ جہاد کی آیات کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہے لہٰذا شفاعت حسنہ سے پیغمبر اکرم کی طرف سے تشویق جہاد مراد ہے اور شفاعتِ سیئہ سے منافقین کی طرف شوق جہاد دلانا مراد ہے اور ان میں سے ہر ایک اپنے کام کا نتیجہ بھگتے گا یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ لفظ شفاعت کی تعبیراس موقع پر جہاں ( نیکیوں اور برائیوں کی طرف ) رہبری کے بارے میں گفتگو ہوری ہے ۔ ممکن ہے اس نکتہ کی طرف اشارہ ہو کہ رہبر کی گفتگو ( چاہے خیر کا راستہ بتانے والا رہبر ہو یا شر کا سبق دینے والا ) دوسروں پر اسی صورت میں اثر کرے گی جب وہ اپنے لئے دوسروں کی طرح امتیاز نہ برتے بلکہ اپنے آپ کو دوسروں کا ہم دوش اور ساتھی قرار دے ۔ یہ ایسا طریقہ ہے ، جو اجتماعی اور معاشرتی مقاصد میں بڑا موثر ہوتا ہے ۔ اگر قرآن میں بعض مواقع پرمثلاسورہ شعراء، اعراف، ہود ، نمل، عنکبوت میں ہم دیکھتے ہیں کہ خدا نے انبیاء و مرسلین کو جو امتوں کی ہدایت اور رہبری کے لئے بھیجے گئے ہیں ” اخو ھم “ یا ” اخاھم“یعنی ان کا بھائی کہا ہے ، تو وہ بھی اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے ۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ قرآن شفاعت حسنہ یعنی اچھے کام کی طرف راغب کرنے والوں کے بارے میں کہتا ہے کہ ترغیب دینے والوں کو ” نصیب “ ملے گا ۔ جب کہ ”شفاعت سیئہ“ کے ضمن میں کہتا ہے کہ اسے” کفل “ میسرآئے گا ۔ یہ تعبیر کا اختلاف اس وجہ سے ہے کہ ” نصیب “ کے معنی ہیں مفید اور زیادہ سود مند اور” کفل “کے معنی ہیں پست اور بری چیز ۔(۱)

یہ آیت اسلام کے بنیادی اجتماعی مسائل کی ایک منطق کو واضح کرتی ہے ۔ آیت صراحت سے کہتی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے اعمال کے معاملے میں ترغیب دینے اور رہنمائی کے عمل میں شریک ہیں اس بنا پر جب بھی کوئی بات یا عمل بلکہ انسان کی خاموشی بھی اگر کسی گروہ کے نیک یا برے عمل کی ترغیب کا باعث بنے تو ترغیب دینے والا اس کام کے نتائج کے قابل ذکر حصہ کا ذمہ دار ہو گا ۔ لیکن اس سے اصل کام کرنے والے کا حصہ کم نہیں ہو جائے گا ۔

ایک حدیث میں پیغمبر اکرم سے منقول ہے :

من امر بمعروف او نھی عن المنکر او دل علی خیر او اشار بہ فھو شریک و من امر بسوء او دل علیہ او اشار بہ فھو شریک ۔

جو شخص کسی اچھے کام کا حکم دے یا برے کام سے روکے یا لوگوں کے لئے عمل خیر کی رہنمائی کرے یا ترغیب دلانے کے لئے کوئی ایسے اسباب فراہم کرے وہ اس عمل میں شریک اور حصہ دار ہے اور اسی طرح جو شخص کسی برے کام کی دعوت دے یا اس کی رہنمائی کرے اور ترغیب وہ بھی اس کام میں شریک ہوگا اس حدیث میں تین مرحلوں میں لوگوں کو نیک یا بد کام کی دعوت دینے کا ذکر ہوا ہے ۔

۱۔ مرحلہ حکم

۲۔ مرحلہ دلالت

۳۔ مرحلہ ارشارہ

یہ تینوں ترتیب دار قوی ، متوسط اور کمزور مرحلے ہیں اس طرح ہر قسم کی دخل اندازی کسی نیک یا برے کام پر ابھارنے کا سبب بنتی ہے اور دخل اندازی کرنے والا اسی نسبت سے اس کے نتائج اور فوائد میں شریک ہوگا۔

اس اسلامی منطق کے مطابق صرف گناہ کرنے والے ہی گنہگار نہیں ہیں بلکہ وہ اشخاص جو کسی کام کی تبلیغ کے مختلف ذرائع استعمال کرکے حالات پیدا کریں ۔ یہاں تک کہ ذراسی ترغیب دلانے والے کا ایک لفظ بھی اسے گناہ کرنے والوں میں شام ل کرلیتا ہے اسی طرح وہ لوگ جو خیرات اور نیکی اور نیکیوں کے راستے میں اس قسم کا کام کرتے ہیں وہ بھی اس کا اجر حاصل کرتے ہیں ۔

چند نیک روایات جو اس آیت کی تفسیر میں آئی ہیں سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ شفا عت حسنہ یا سیئہ کے معنی میں سے ایک کسی کے حق میں اچھی یا بری دعا کرنا بھی ہے جو کہ بارگاہ ِ خدا وندی میں ایک قسم کی شفا عت ہے ۔ امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا :

( من دعا لاخیه الملم بظهر الغیب استجیب له و قال له الملک فلک مثلاه فذلک النصیب ) ۔

جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے لئے اس کے پس پشت دعا کرے تو وہ قبول ہو گی اور خدا کا فرشتہ اس سے کہے گا اس سے دوگناہ تمہارے لئے بھی ہے اور آیت میں نصیب سے مراد یہی ہے ۔ ( تفسیر صافی آیہ مذکور کے ذیل میں )

یہ تفسیر گذشتہ تفسیر سے اختلاف نہیں رکھتی بلکہ شفاعت کے معنی میں وسعت ہے یعنی جو مسلمان کسی دوسرے کی کسی طرح کی مدد کرے وہ چاہے نیکی کی ترغیب کی صورت میں ہو یا بار گاہ خدا وندی میں دعا کی شکل میں ہو یا کسی اور طرح سے اس کے نتیجہ میں شریک ہو گا ۔ یہ بات اسلامی پروگراموں کی روحِ اجتماعیت کو اجا گر کرتی ہے اور مسلمانوں کو شخصی اور فقط ذاتی حیثیت سے زندگی گزارنے سے منع کرتی ہے ۔

یہ امر اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ انسان دوسروں کی طرف توجہ اور ان کی بہتری کی کو ششوں سے لا تعلق نہیں رہ سکتا اور اس سے اس کا ذاتی مفاد خطر ے میں نہیں پڑتا ۔ بلکہ وہ اس کے نتائج میں شریک ہوتا ہے آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : خدا توانا اور صاحبِ قدرت ہے اور تمہارے اعمال کی حفاظت کرتا اور حساب رکھتا ہے اور حسنات و سیئات کے نتیجے میں مناسب جزا و سزا دے گا( وکان الله علی ٰ کل شیء مقیتاً ) خیال رہے کہ ” مقیت“ اصل میں قوت کے مادہ سے ہے جس کے معنی اس غذا کے ہیں جو انسان کی جان کی حفاظت کرتی ہے اس بنا پر ” مقیت“ جو باب افعال کا اسم فاعل ہے اس شخص کے معنی میں ہے جو دوسروں کو روزی دیتا ہے ، چونکہ ایسا شخص اس کی زندگی کا محافظ ہوتا ہے اس لئے لفظ ” مقیت “ محافظ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ نیز وہ شخص جو روزی دیتا ہو یقینا اس پر قدرت اور طاقت بھی رکھتا ہے اسی بنا پر یہ لفظ مقتدر کے معنی میں بھی آتا ہے ، ایسا شخص یقینا اپنے زیر کفالت لوگوں کا حساب بھی رکھتا ہے اسی وجہ سے یہ لفظ حسیب کے معنی میں بھی آیا ہے ۔ او پر والی آیت میں ممکن ہے کہ لفظ” مقیت“ سے یہ تمام مفاہیم مراد لئے گئے ہوں ۔

____________________

۱کفل ( بر وزن طفل ) اصل میں جانور کی پشت کا عقبی اور آخری حصہ ہے جس پر سوار ہونا تکلیف اور سختی کا باعث ہے اس لئے ہر قسم کے گناہ اور برے حصہ کو کفل کہتے ہیں اور ایسے کام کو بھی جس میں بوجھ اور زحمت ہو، کفالت کہتے ہیں ۔


آیت ۸۶

۸۶۔( وَإِذَا حُیِّیتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوا بِاٴَحْسَنَ مِنْهَا اٴَوْ رُدُّوهَا إِنَّ اللهَ کَانَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ حَسِیبًا ) ۔

ترجمہ

۸۶۔ جس وقت کوئی شخص تمہیں تحیہ( اور سلام ) کہے تو اس کا جواب بہتر انداز سے دویا ( کم از کم ) اسی طرح کا جواب دو، خدا ہر چیز کا حساب رکھتا ہے ۔

تفسیر

احترام ِ محبت

اگر چہ بعض مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ اس آیت کاتعلق گذشتہ آیات کے ساتھ اس لحاظ سے ہے کہ گذشتہ آیات کی مباحث جہاد سے متعلق تھیں اور اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ اگر دشمن دوستی اور مصالحت چاہیں تو تم بھی مناسب جواب دو لیکن واضح ہے کہ یہ تعلق اس سے مانع نہیں کہ ایک کلی اور عمومی حکم تما م تحیات اور نوازشات کے اظہار سے متعلق ہو جو مختلف افراد کی طرف سے ہو ۔ آیت کی ابتدا میں آیا ہے کہ جب کوئی شخص تمہیں تحیہ کہے تو اس کا جواب بہتر طریقہ سے دو یا کم از کم اس کے مساوی جواب دو ۔

( وَإِذَا حُیِّیتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوا بِاٴَحْسَنَ مِنْهَا اٴَوْ رُدُّوهَا )

تحیت لغت میں حیات کے مادہ سے دوسرے کے لئے حیات و زندگی کی دعا کرنے کے معنی میں ہے چاہے یہ دعا ” سلام علیک “ کی صورت میں ہو

( خدا تجھے سلامت رکھے ) یا حیاک اللہ ( خدا تجھے زندہ رکھے ) یا اس قسم کے اور الفاظ سے ہو لیکن عام طور پر یہ ہر قسم کے اظہار محبت کے لئے ہے جو لوگ الفاظ کے ذریعہ ایک دوسرے سے کرتے ہیں جس کا واضح ترین اظہار سلام کرنا ہے لیکن کچھ روایات اور تفاسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ عملی اظہار محبت بھی مفہوم ِ تحیت میں شامل ہے تفسیر علی بن ابراہیم میں امام محمد باقر اور امام صادق (علیه السلام) سے منقول ہے :

( المراد بالتحیة فی الایة السلام و غیره من البر )

آیت میں محبت سے مراد سلام اور ہر قسم کی نیکی کرنا ہے ۔

کتاب مناقب کی ایک روایت میں ہے :

ایک کنیز نے پھول کی ایک شاخ امام حسن علیہ السلام کی خد مت میں پیش کی تو اس کے جواب میں امام (علیه السلام) نے اسے آزاد کردیا۔ جب آپ (علیه السلام) سے اس کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا کہ خدا نے ہمیں یہی حسن سلوک سکھاتے ہوئے فرمایا :

( وَإِذَا حُیِّیتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوا بِاٴَحْسَنَ مِنْهَا )

اس کے بعد مزید فرمایا : بہتر تحیہ وہی اس کا آزاد کرناتھا۔

اس سے معلوم ہوا کہ آیت ایک کلی حکم اور ہر قسم کے اظہار محبت کا جواب دینے کے سلسلہ میں ہے چاہے وہ زبانی ہو یا عملی ۔ آیت کے آخر میں اس لئے کہ لوگ جان لیں کہ تحیات ان کے جوابات اور ان کی بر تری و مساوات ، جس قدر اور جیسے ہوں ، خدا سے پوشیدہ پنہاں نہیں ہیں ۔ فرماتا ہے : خدا تمام چیزوں کے حساب سے آگاہ ہے

( إِنَّ اللهَ کَانَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ حَسِیبًا ) ۔

سلام عظیم اسلامی تحیہ ہے

جہان تک ہمیں معلوم ہے دنیا کی تمام ملل و اقوام کے افراد جب ایک دوسرے سے ملا قات کرتے ہیں تو ایک دوسرے سے اظہار محبت کے لئے کچھ تحیہ پیش کرتے ہیں جو بعض اوقات لفظی ہوتا ہے اور کبھی عملی بھی ۔ عمل عموماً تحیت کی علامت ہوتا ہے ۔ اسلام میں بھی ” سلام “ ایک واضح ترین تحیت ہے اور اوپر والی آیت میں جیسا کہ اشارہ ہو چک ہے تحیہ اگر چہ ایک وسیع معنی رکھتا ہے تاہم اس کا ایک واضح اظہار سلام کرنا ہے ۔ لہٰذا اس آیت کے مطابق تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ سلام کا عالی تر یا کم از کم مساوی جواب دیں ۔

آیاتِ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ سلام تحیت کی ایک قسم ہے سورہ نو کی آیة ۶۱ میں ہے :

( فاذا دخلتم بیوتاً فسلموا علی انفسکم تحیة من عند الله مبارکة طبیة )

جب تم کہیں داخل ہو تو ایک دوسرے پر تحیت الہٰی بھیجو ، وہ تحیہ جو مبارک اور پاکیزہ ہے ۔

اس آیت میں سلام کو مبارک اور پاکیزہ خد ائی تحیہ کہہ کر پکارا گیا ہے اور ضمنی طور پر اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ سلام ٌ علیکم کا معنی اصل میں سلام اللہ علیکم ہے ” یعنی پروردگار کا تم پر سلام ہو “ یا خدا تمہیں سلامت رکھے ۔ اسی سبب سلام کرنا ایک قسم کا دوستی ، صلح اور جنگ نہ کرنے کا اعلان ہے ۔ قرآن کی کچھ آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اہل بہشت کا تحیہ بھی سلام ہے ۔

( اولئک یجزون الغرفة بما صبروا و یلقون فیها تحیة و سلاماً ) (فرقان۔ ۷۵)

” اہل بہشت اپنی استقامت اور صبر کی وجہ سے بہشت کے انعامات اور بلند مقامات سے بہر یاب ہوں گے اور انھیں تحیہ و سلام سے نوازا جائے گا“۔

سورہ ابراہیم کی آیہ ۲۳ اور سورہ یونس کی آیہ ۱۰ میں بھی اہل بہشت کے بارے میں ہے : تحیتھم فیھا سلام ” ان کا تحیہ بہشت میں سلام ہے ۔“

آیاتِ قرآں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ تحیت بمعنی سلام (یا اس کے مفہوم کا کچھ متبادل ) گذشتہ اقوام میں بھی مروج تھا جیسا کہ سورہ ذاریات کی آیہ ۲۵ میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) کے واقعہ میں آیا ہے کہ جب قوم ِ لوط (علیه السلام) کو سزا دینے والے فرشتے بھیس بدل کر حضرت ابراہیم

(علیه السلام) کے پاس آئے تو آپ (علیه السلام) پر سلام کہا اور آپ(علیه السلام) نے بھی ان کے سلا م کا جواب دیا ۔اذ دخلوا علیه فقالوا سلاماً ْقال سلام قوم منکرون

زمانہ جاہلیت کے عربی اشعار سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ تحیت سلام کے ذریعہ اس زمانہ میں بھی تھی ۔(۱)

یہ شعر زمانہ جاہلیت کے توبہ نامی شاعر کے ہیں ۔

جب ہم غیر جانبدار انہ طور پر اس اسلامی تحیت کا مختلف اقوام کی تحیت کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں تو اس کی قدر و قیمت ہم پر زیادہ واضح ہو جاتی ہے ۔ اسلامی تحیت خدا کی طرف توجہ بھی ہے مخاطب کے لئے سلامتی کی دعا بھی اور صلح و امن کا اعلام بھی ہے ۔ اسلامی روایات میں سلام کے متعلق بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے یہاں تک کہ پیغمبر اکرم سے منقول ہے :من بدء بالکلام قبل السلام فلاتجیبوه

جو شخص سلام سے پہلے گفتگو شروع کردے اس کا جواب نہ دو ۔ (اصول کافی جلد ۲ باب تسلیم ) ۔

اور امام صادق علیہ السلام سے بھی منقول ہے کہ خدا فرماتا ہے :

البخیل من یخیل بالسلام بخیل وہ ہے جو سلام کرنے میں بخل سے کام لے ۔ (اصول کافی جلد ۲ باب تسلیم) ۔

دوسری حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے :

ان الله عزو جل یحب افشاء السلام

افشاء سلام سلام عام کرنے والے کو خدا دوست رکھتا ہے ۔ ( اصول کافی جلد ۲ باب تسلیم) ۔

افشاء سلام سے مراد مختلف افراد کو سلام کرنا ہے ۔ احادیث میں سلام کے بارے میں بہت سے آداب بیان ہوئے ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ سلام کے بارے میں بہت سے آداب بیان ہوئے ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ سلام صرف ان افراد سے مخصوص نہیں ہے جن سے انسان خصوصی شنا سائی رکھتا ہو جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ پیغمبراکرم سے سوال ہوا :

کونسا عمل بہتر ہے تو آپ (علیه السلام) نے فرمایا:”تطعم الطعام و تقمرء السلام علی من عرفت و من لم تعرف“

کھانا کھلاو اور سلام کرو اس شخص کو جسے تم جانتے ہو یا نہیں جاتے۔(۲)

احادیث میں بھی آیا ہے کہ سوار پیادہ کو اور پیش قیمت سواری والا کم قیمت سواری والوں کو سلام کریں گویا یہ حکم ایسے تکبر کا مقابلہ کرنے کے لئے ہے جو دولت، ثروت اور مخصوص مادی حیثیت سے پیدا ہو تا ہے ۔

یہ بات آج کل دیکھنے میں آتی ہے کہ لوگ آداب و سلام کو نچے طبقہ کی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور انھوں نے اسے استعمار، استعباد اور بت پرستی کی شکل دے رکھی ہے اگرہم پیغمبر اکرم کی سیرت کا مطالعہ کریں تو معلوم ہو گا کہ آپ تمام لوگوں کو یہاں تک کہ بچوں کو بھی سلام کرتے تھے ۔ البتہ یہ بحث اس حکم سے اختلاف نہیں رکھتی جو بعض روایات میں آیا ہے کہ بچے جو عمر کے لحاظ سے چھوٹے ہوتے ہیں وہ اپنے بڑوں کو سلام کریں کیونکہ ادب کا تقاضا یہی ہے اس بات کا طبقاتی تفاوت او رمادی حیثیت کے اختلاف سے کوئی تعلق نہیں ۔

چند روایات میں حکم ہے کہ سودخور، فاسق ، کجرو اور منحرف وغیرہ پر سلام نہ کرو ۔ یہ بھی فساد اور برائی کے خلاف ایک طرح کا اقدام ہے ہاں البتہ ایسے لوگوں سے واقفیت پیدا کرنے کے لئے یا رابطے کے لئے تاکہ انھیں خدا ئی نافرمانی سے بچنے کی دعوت دی جاسکے، سلام کرنے کی اجازت ہے ” تحیت باحسن“ سے مراد یہ ہے کہ سلام کی دوسری عبارات مثلاً و رحمة اللہ یا و رحمة اللہ وبرکاتہ کو ساتھ ملا نا ۔

تفسیر در المنثور میں ہے :

ایک شخص نے پیغمبر اکرم سے عرض کیا : السلام علیک۔ تو آپ نے فرمایا ” و علیک السلام و رحمة اللہ “ دوسرے نے عرض کیا” السلام علیک ورحمة اللہ “ تو آپ نے فرمایا” وعلیک السلام و رحمة اللہ و بر کاتہ“ تیسرے شخص نے کہا” السلام علیک و رحمة اللہ و بر کاتہ“ تو پیغمبر نے فرمایا” و علیک “ جب اس نے سوال کیا کہ آپ نے مجھے مختصر جواب کیوں دیا ہے تو فرمایا ۔” قرآن کہتا ہے تحیہ کا جواب زیادہ بہتر طریقہ سے دولیکن تونے کوئی چیز باقی نہیں رکھی ۔“

حقیقت میں پیغمبر نے پہلے اور دوسرے شخص کے جواب میں احسن طریقہ پر تحیہ کیا ہے لیکن تیسرے شخص کے بارے میں مساوی طریقہ اختیار کیا ہے کیونکہ ” وعلیک “ کا مفہوم ہے کہ جو کچھ تونے کہا وہ تیرے لئے بھی ہو ۔ ( در المنثورجلد ۲ صفحہ ۸)

____________________

۱-ولو ان لیلی الاخیلیة سلمت، علی ودونی جندل و صفایح : لسلمت تسلیم البشاشة او زقا الیما صدی من جانب الزبر صالح

۲ ۔تفسیر فی ظلال ذیل آیہ مذکورہ۔


آیت ۸۷

۸۷۔( اللهُ لاَإِلَهَ إِلاَّ هُوَ لَیَجْمَعَنَّکُمْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ لاَرَیْبَ فِیهِ وَمَنْ اٴَصْدَقُ مِنْ اللهِ حَدِیثًا ) ۔

ترجمہ

۸۷۔ وہ خدا جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، تم سب کو یقینی طور پر قیامت کے دن کہ جس میں کوئی شک نہیں جمع کرے گا اور کون ہے جو خدا سے زیادہ سچا ہو ۔

تفسیر

درج بالاآیت گذشتہ آیات کی تکمیل اور بعد میں آنے والی آیات کا مقدمہ ہے کیونکہ گذشتہ آیت میں ” تحیت“ کے حکم کے بعد فرمایا ہے کہ خدا تمہارے اعمال کا حساب رکھتا ہے اس آیت میں مسئلہ قیامت اور روز قیامت ہونے والی عام عدالت کا ذکر ہے اور اسے مسئلہ توحید اور خدا کی یکتائی کے مسئلہ کے ساتھ یکجا کر دیا گیا ہے جو کہ ایمان کا ایک اور رکن ہے ۔ فرماتا ہے کوئی معبود اس کے علاوہ نہیں ہے اور لازمی طور پر تمہیں قیامت کے دن اکٹھا مبعوث کرے گا وہی قیامت کا دن کہ جس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے

( اللهُ لاَإِلَهَ إِلاَّ هُوَ لَیَجْمَعَنَّکُمْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ لاَرَیْبَ فِیهِ )

” یجمعنکم “کا لفظ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ تمام افراد کے لئے روز محشر ایک ہی ہو گا ۔ جیسا کہ سورہ مریم کے آخر میں آیة ۹۳ سے لے لیکر ۹۵ تک اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ خدا کے تمام بندے چاہے وہ اہل زمیں ہو ں یا دوسرے کرات کے رہنے والے ، سب ایک ہی دن مبعوث ہو ں گے ۔

( لاریب فیه ) “ ( اس میں کوئی شک و شبہ نہیں )قیامت کے آنے کے بارے میں اس آیت میں اور قرآن کی دوسری آیات میں یہ تعبیر ان قطعی اور مسلم دلائل کی طرف اشارہ ہے جو اس دن قیامت کی خبر دیتے ہیں مثلا قانون تکامل ، تخلیق کا حکمت و فلسفہ اور قانون عدالت پ روردگار معاد کی بحث میں ان کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے آخر میں اس مطلب کی تاکید کے لئے فرماتا ہے کون ہے جو خدا سے زیادہ سچا ہے( وَمَنْ اٴَصْدَقُ مِنْ اللهِ حَدِیثًا ) ۔

لہٰذا وہ جس کا وعدہ روز قیامت یا اس کے علاوہ کسی چیز کے بارے میں کرتا ہے اس پر شک نہیں کرنا چاہئیے ۔ کیونکہ جھوٹ کا سر چشمہ جہالت ہے یا کمزوری اور ضرورت مندی ہے لیکن وہ خدا جو سب سے زیادہ جانتے والا ہے اور سب سے بے نیاز ہے ، وہ سب سے زیادہ سچا ہے اور اصولی طور پر جھوٹ اس کے لئے کوئی مفہوم نہیں رکھتا ۔


آیت ۸۸

۸۸۔( فَما لَکُمْ فِی الْمُنافِقینَ فِئَتَیْنِ وَ اللَّهُ اٴَرْکَسَهُمْ بِما کَسَبُوا اٴَ تُریدُونَ اٴَنْ تَهْدُوا مَنْ اٴَضَلَّ اللَّهُ وَ مَنْ یُضْلِلِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ سَبیلاً ) ۔

ترجمہ

۸۸۔ منافقین کے بارے میں تم دو گروہ کیوں ہوگئے ہو ، کچھ ان سے جنگ کرنے کو ممنوع اور کچھ جائز سمجھتے ہو حالانکہ خدا نے ان کے اعمال کی بنا پر ان کے افکار پلٹ کر رکھ دئیے ہیں کیا تم چاہتے ہو ایسے اشخاص کو جنہیں خدا نے ( ان کے برے اعمال کی وجہ سے ) گمراہ رکھا ہے ہدایت کرو، حالانکہ جسے خدا گمراہ رکھے اس کے لئے تمہیں کوئی راستہ نہیں ملے گا ۔

شان نزول

بعض مفسر ین نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ مکہ کے کچھ لوگ بظاہر مسلمان تھے لیکن حقیقت میں منافقین کی صفت میں سے تھے اسی لئے وہ مدینہ کی طرف ہجرت کرنا نہیں چاہتے تھے اور عملی طور پر بت پرستوں کی خیر خواہ او رمدد گار تھے، لیکن آخر کارمکہ کو چھوڑ نے پر مجبور ہو گئے ( تاکہ وہ مدینہ کے قریب آجائیں اور شاید اپنی خصوصی حیثیت کی وجہ سے جاسوسی کے مقصد کے لئے انھوں نے ہجرت کی ہو)اور وہ خوش تھے کہ انھیں مسلمان اپنے میں سے سمجھتے ہیں لہٰذا ان کا خیال تھا کہ مدینہ میں داخل ہو نا ان کے لئے قدرتی طور پر کو ئی مشکل پید انہیں کرے گا ،مسلمانوں کو اس بات کا پتہ چل گیا لیکن بہت جلد منافقین سے سلوک کے بارے میں مسلمانوں میں اختلافرائے پیدا ہو گیا ایک گروہ کا نظریہ تھا کہ ان کو دھتکا ر دیا جائے کیونکہ حقیقت میں یہ دشمنان اسلام کے مدد گار ہیں لیکن کچھ مسلمان ظاہر بین اور سادہ لوح تھے وہ اس کے مخالف تھے اور کہتے تھے کہ ہم کس طرح ایسے لوگوں سے محاذ آرائی کریں جو تو حید اور رسالت کی گواہی دیتے ہیں اور صرف ہجرت نہ کرنے کے جرم میں ان کے خون کو مباح اور حلال قرار دیں ۔ اس پر درج بالا آیت نازل ہو ئی جس میں دوسرے گروہ کو اس غلط فہمی پر علامت کی گئی اور پھر ان کی رہنمائی بھی کی گئی ۔(۱)

تفسیر

مندرجہ بالا شانِ نزول کی طرف توجہ کرنے سے اس آیت اور بعد والی آیت کا منافقین سے متعلق گذشتہ آیات سے ربط مکمل طور پر واضح ہوتا ہے آیت کی ابتدا میں میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے : منافقین کے بارے میں کیوں بٹ گئے ہو اور تم میں سے ہر ایک جدا فیصلہ کرتا ہے ۔( فما لکم فی المنافقین فئتین ) ۔(۲)

یعنی یہ افرادجو ہجرت نہ کرنے اور مشرکین کے شریک کا ر رہنے اور مجاہدین ِ اسلام کی صف میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے اپنے نفاق کو ظاہر کر چکے ہیں ان کے اعمال اور انجام کے بارے میں کسی کو شک و شبہ نہیں ہونا چاہئیے ۔ یہ بات مسلم ہے کہ یہ لوگ اول درجہ کے منافقین ہیں تو پھر بعض لوگ کیوں ان کے اظہار توحید اور خدا پر ایمان لانے کے دعوی ٰ سے دھکا کھاتے ہیں اور ان کی شفاعت و شفارش کرتے ہیں جبکہ گذشتہ آیات میں بتا یا جا چکا ہے کہ ( من یشفع شفاعة سیئة یکن لہ کفل منھا )اوراس طرح وہ اپنے آپ کو ان کے برے انجام میں کیوں شریک کرتے ہیں ۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے ۔ منافقین کے اس گروہ سے ان کے برے اور شرمناک اعمال کی وجہ سے خدا نے اپنی حمایت اور توفیق منقطع کر لی ہے اور منصوبے مکمل طور پر ناکام کردیئے ہیں اور ان کی حالت ایسی ہے جسیے کوئی شخص پاوں پر کھڑا ہونے کی بجائے سر کے بل کھڑا ہو( والله ارکسهم بما کسبوا ) (۳)

ضمنی طورپر ” بما کسبوا “ معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت ، سعادت ، اور نجات کے راستے سے ہٹ جانا انسان کے خود اس کے اعمال کا نتیجہ ہے اور اگر اس عمل کو خدا سے نسبت دی جائے تو وہ اس وجہ سے ہے کہ خدا حکیم ہے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق سزا دیتا ہے اور لیا قت و اہلیت کی مناسبت سے اسے جزا بھی دے گا ۔ آیت کے آخر میں سادہ لوح افراد کو ، جو منافقین کے اس گروہ کی حمایت کرتے ہیں خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے : کیا تم چاہتے ہوکہ ان لوگوں کو جنھیں خد انے ان کے برے اعمال کی وجہ سے ہدایت سے محروم کردیا ہے ہدایت کرو حالانکہ یہ لوگ ہدایت کے قابل نہیں ہیں

( اٴَ تُریدُونَ اٴَنْ تَهْدُوا مَنْ اٴَضَلَّ اللَّهُ وَ مَنْ یُضْلِلِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ سَبیلاً ) ۔

کیونکہ یہ تو خدا کی انمٹ سنت ہے کہ کسی شخص کے اعمال کے اثرات اس سے جبر نہیں ہو ں گے تو تم یہ توقع کیوں رکھتے ہو کہ وہ افراد جن کی نیت صحیح نہیں اور جن کے دلوں میں نفاق بھرا ہوا ہے او رجو عملاًخدا کے دشمنوں کی حمایت کرتے ہیں انھیں ہدایت نصیب ہوگی یہ تو بے جا اور غیر منطقی توقع ہے ۔(۴)

_____________________

۱-اس آیت میں اور بعد والی آیات کی اور بھی شان نزول بیان کی گئی ہے انہی میں سے بعض میں اس کو جنگ احد کے واقعہ سے مربوط سمجھا گیا ہے حالانکہ بعد والی آیات، جو ہجرت کی طرف اشارہ کرتی ہیں اس سے مربوط نہیں بلکہ اسی شانِ نزول کے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں جس ذکر اوپر ہوا ہے ۔

۲۔ اوپر والے جملے میں حقیقتاً او رلفظ مخفی ہے جو بقیہ جملہ پر توجہ کرنے سے واضح ہوتا ہے اور اصل جملہ یوں بنتا ہےفما لکم تفرقتم فی المنافقین فئتین ۔

۳ارکسهم رکس (بر وزن مکث) کے مادہ سے کسی چیز کو اوندھا کرنے کے معنی میں ہے اور بعض پھیر نے کے بھی معنی لیتے ہیں ۔

۴ ۔ اس تفسیر کی پہلی جلد میں ہدایت و ضلالت کے بارے میں مفصل بحث آچکی ہے ۔


آیت ۸۹

۸۹۔( وَدُّوا لَوْ تَکْفُرُونَ کَما کَفَرُوا فَتَکُونُونَ سَواء ً فَلا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ اٴَوْلِیاء َ حَتَّی یُهاجِرُوا فی سَبیلِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوهُمْ وَ اقْتُلُوهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ وَ لا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَ لا نَصیراً ) ۔

ترجمہ

۸۹۔ یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی ان کی طرح کا فر ہو جاواور پھر وہ اور تم ایک دوسرے کے برابر ہو جاو۔ پس ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناو۔ مگر یہ کہ ( وہ توبہ کریں اور) خدا کی راہ میں ہجرت کریں ۔ لیکن وہ لوگ جو کام سے منہ موڑلیں

اور تمہارے خلاف اقدامات جاریرکھیں ) انہیں جہاں پاو قید کرلو اور (ضروری ہو تو ) انھیں قتل کرو اور ان میں سے کسی کو دوست او رمدد گار نہ بناو۔

تفسیر

گذشتہ آیت ان منافقین کے بارے میں تھی جن کی حمایت میں کچھ سادہ لوح مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے تھے او ران کی سفارش کرتے تھے جبکہ قرآن نے انہیں اسلام سے بیگانہ قرار دے دیا اور اب اس آیت میں فرماتا ہے : ان کے اندر اس قدر جہالت اور تاریکی ہ کہ نہ صرف وہ خود کافرہیں بلکہ چاہتے ہیں کہ تم بھی ان کی طرح کافر ہو جاوتاکہ ایک دوسرے کے مساوی ہو جاو ۔( وَدُّوا لَوْ تَکْفُرُونَ کَما کَفَرُوا فَتَکُونُونَ سَواء ً )

اس وجہ سے وہ تو عام کفار سے بھی بد تر ہیں ۔ کیونکہ عام کافر دوسروں کے عقائد باطل کرنے کے در پے رہتے ہیں کیونکہ وہ ایسے ہیں ۔ اس لئے مسلمانوں کو چاہےئے کہ ان میں سے کسی کو دوست نہ بنائیں

( فَلا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ اٴَوْلِیاء ) َ)

مگر یہ کہ وہ اپنے اعمال سے با ز آجائیں اور نفاق اور تخریب کا ری سے دستبردارہو جائیں اور اس کا ثبوت اور نشانی یہ ہے کہ وہ کفر اور نفاق کے مرکز سے اسلام کے مرکز ( مکہ سے مدینہ ) کی طرف ہجرت کریں( حَتَّی یُهاجِرُوا فی سَبیلِ اللَّهِ ) ۔

لیکن اگر وہ ہجرت کے لئے تیار نہ ہوں تو پھر سمجھ لو کہ وہ کفر و نفاق سے دستبردار نہیں ہوئے اور ان کا مسلمان کہلانا صرف جاسوسی اور تخریب کاری کی غرض سے ہے اور اس صورت میں وہ تمہیں جہاں بھی مل جائیں انہیں قید کرلو یا اگر ضروری ہو تو انھیں قتل کردو( فَإِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوهُمْ وَ اقْتُلُوهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ وَ لا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَ لا نَصیراً ) ۔

درج بالا آیت میں منافقین کے اس گروہ کے بارے میں جو سخت احکام آئے ہیں اس وجہ سے ہیں کہ ایک زندہ معاشرے کی تشکیل کے لئے جو اصلاح کے راستے پر چلتا ہے ایسے دوست نما خطرناک دشمن سے چھٹکارا حاصل کرنے کا اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ اسلام غیر مسلم افراد ( مثلاً یہود و نصاریٰ ) چند شرائط کے ساتھ صلح کی اجازت دے دیتا ہے اور ان سے کوئی تعرض نہ کرنے کے لئے تیار ہے مگر منافقین کے اس گروہ کے بارے میں اس قدر شدت سے کام لیتا ہے ۔ بظاہر وہ مسلمان ہیں پھر انہیں قید کرنے بلکہ بوقت ضرورت ان کے قتل کا حکم دیتا ہے ۔ اس امرکی اس کے علاوہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ ایسے افراد اسلام کے پردے میں اسلام کو ایسی گزند پہنچا سکتے ہیں جیسی کوئی دشمن نہیں پہنچا سکتا ۔

ایک سوال

ممکن ہے کہا جائے کہ پیغمبر اکرم کا منافقین کے بارے میں یہ رویہ تھا کہ آپ کبھی ان کے قتل کاحکم نہیں دیتے تھے کہ دشمن کہیں آپ کو اپنے اصحاب کے قتل میں ملوث نہ کریں یا کچھ لوگ اس سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ذاتی دشمنوں کو منافق کہہ کر ان سے نہ الجھیں اور انھیں قتل نہ کردیں ۔

جواب

توجہ رہے کہ پیغمبر اکرم کا یہ رویہ صرف مدینہ کے منافقین اور ان جیسے لوگوں کے بارے میں تھا جو بظاہر مسلمان تھے، لیکن وہ لوگ جو مکہ کے منافقین کی طرح واضح طور پر اسلام دشمنوں سے ملے ہوئے تھے وہ اس حکم میں شامل نہیں تھے ۔


آیت ۹۰

۹۰۔إ( ِلاَّ الَّذینَ یَصِلُونَ إِلی قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَهُمْ میثاقٌ اٴَوْ جاؤُکُمْ حَصِرَتْ صُدُورُهُمْ اٴَنْ یُقاتِلُوکُمْ اٴَوْ یُقاتِلُوا قَوْمَهُمْ وَ لَوْ شاء َ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْکُمْ فَلَقاتَلُوکُمْ فَإِنِ اعْتَزَلُوکُمْ فَلَمْ یُقاتِلُوکُمْ وَ اٴَلْقَوْا إِلَیْکُمُ السَّلَمَ فَما جَعَلَ اللَّهُ لَکُمْ عَلَیْهِمْ سَبیلاً ) ۔

ترجمہ

۹۰مگر وہ لوگ جنہوں نے تمہارے ہم پیمان لوگوں سے عہد و پیمان باندھا ہے یا وہ جو تمہای طرف آتے ہیں اور تم سے جنگ کرنے یا اپنی قوم سے جنگ کرنے سے عاجز ہیں ( نہ تم سے جنگ کرنا چاہتے ہیں او رنہ اپنی قوم سے لڑ نے کی طاقت رکھتے ہیں ) اور اگر خدا چاہے تو انھیں تم پر مسلط کردے تاکہ وہ تم سے جنگ کریں ( اب جبکہ )انہوں نے صلح کی پیشکش کی ہے تو خدا تمہیں اجازت نہیں دیتا کہ ان سے تعرض کرو ۔

شان ِنزول

مختلف روایات سے جو آیت کی شانِ نزول کے بارے میں آئی ہیں اور مفسرین نے ہر قسم کی تفاسیر میں انھیں نقل کیا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قبائل عرب میں دو قبیلے ” بنی حمزہ“ اور ” اشجع “ نام کے تھے ان میں سے پہلے قبیلے نے مسلمانوں کے ساتھ جنگ نہ کرنے کا عہد کیا تھا اور قبیلہ اشجع نے بھی بنی حمزہ سے ایسا معاہدہ کر رکھا تھا ۔ بعض مسلمان بنی حمزہ کی طاقت اور عہد شکنی سے خوفزدہ تھے لہٰذا انھوں نے پیغمبر اکرم کو تجویز پیش کی کہ اس سے پہلے کہ وہ حملہ آور ہوں مسلمان ان پر حملہ کردیں ۔ پیغمبر اکرم نے فرمایا:

( کلا فانهم ابر العرب بالوالدین ولو صلهم للرحم اوفاهم بالعهد )

نہیں کبھی یہ کام نہ کریں کیونکہ وہ تمام قبائل عرب میں اپنے ماں باپ کے ساتھ بہتر سلوک کر نے والے ہیں اپنے عزیز و اقارب پر سب سے زیادہ مہر بان ہیں اور بہترایفائے عہد کر نے والے ہیں ۔

کچھ عرصہ بعد مسلمانوں کو اطلاع ملی کی اشجع قبیلہ کے سات سو افردا مسعود بن وجیلہ کی سرکرد گی میں مدینہ کے قریب پہنچ چکے ہیں پیغمبر اکرم نے اپنے نمائندے ان کے پاس بھیجے کہ وہ کس مقصد کے لئے آئے ہیں انھوں نے جواب دیا کہ ہم محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کرنے کرنے کے لئے آئے ہیں جب پیغمبر اکرم کو یہ معلوم ہوا تو حکم دیا کہ بہت سی مقدار میں کھجوریں تحفہ کے طوران کے پاس لے جاو اس کے بعد حضور نے ان سے ملا قات کی تو انھوں نے کہا کہ ایک طرف ہم آپ کے دشمنوں سے مقابلے کی سکت نہیں رکھتے کیونکہ ہماری تعداد کم ہے اور دوسری طرف نہ آپ سے مقابلے کی ہم طاقت رکھتے ہیں نہ آپ سے ہم لڑنا چاہتے ہیں ۔

کیونکہ ہماری سکونت آپ کے قریب نہیں ہے لہٰذا ہم اس لئے آئے ہیں کہ آپ سے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کریں ۔ اس موقع پر درج بالاآیات نازل ہوئیں جن میں اس ضمن میں مسلمانوں کو ضروری احکام جاری کئے گئے ۔ چند ایک روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کا ایک حصہ قبیلہ ” بنی مدلج “ کے باےر میں نازل ہوا ہے وہ لوگ پیغمبر اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے کہا کہ ہم نہ تو آپ کے ہم نواہیں اور نہ ہی آپ کے مخالف کوئی قدم اٹھائیں گے ۔

پیغمبر اکرم نے ان سے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کرلیا ۔

تفسیر صلح کی پیش کش کا استقبال ان منافقین کے لئے جو دشمنان اسلام کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اس سخت حکم کے بعد زیر نظر آیت میں حکم دیتا ہے کہ اس قانون سے دو گروہ مستثنیٰ ہیں :

۱۔ جو تمہارے کسی ہم پیمان کے ساتھ مربوط ہیں اور انھوں نے اس سے معاہدہ کررکھا ہے

(إ( ِلاَّ الَّذینَ یَصِلُونَ إِلی قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَهُمْ میثاقٌ ) ۔

۲۔ وہ اپنی مخصوص حالت کی وجہ سے ایسے حالات سے دو چار ہیں کہ نہ تو وہ تمہارے ساتھ مقابلے کی طاقت رکھتے ہیں نہ تمہارا ساتھ دے سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے قبیلہ سے ٹکرانے کی حوصلہ رکھتے ہیں( اٴَوْ جاؤُکُمْ حَصِرَتْ صُدُورُهُمْ اٴَنْ یُقاتِلُوکُمْ اٴَوْ یُقاتِلُوا قَوْمَهُمْ ) ۔

ظاہر ہے کہ پہلے گروہ کو معاہدہ کے احترام کی وجہ سے اس قانون سے مستثنیٰ ہو نا چاہئیے اور دوسرا گروہ بھی اگر چہ مقدور نہیں ہے اسے چاہئیے کہ حق کی تلاش کے بعد اپنا رشتہ جوڑ لے ۔ لیکن چونکہ وہ غیر جانبدار رہنے کا اعلام کرتا ہے لہٰذا اس پر اعتراض کرنا عدل او رمردانگی کے اصولوں کے خلاف ہے اس کے بعد اس بنا پر کہ مسلمان اپنی شاندار کامیابیوں پر مغرور نہ ہو جائیں اور انھیں اپنی لشکری قوت او رمہارت کا مرہونِ منت سمجھیں اس غیر جانبدار گروہ کے مقابلہ میں ان کے انسانی جذبات کو تحریک دیتے ہوئے فرماتا ہے : اگر خدا چاہے تو ان ( کمزور) لوگوں کو تم پر مسلط کرسکتا ہے تاکہ وہ تم سے بر سر پیکار ہوں ۔( وَ لَوْ شاء َ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْکُمْ فَلَقاتَلُوکُمْ ) ۔

لہٰذا ہمیشہ کامیابیوں پر اپنے خدا کو نہ بھولو او رکسی جہت بھی اپنی طاقت پر غور نہ کرو ۔ نیز کمزور لوگوں کو معاف کرنے کو اپنے نقصان میں نہ سمجھو ۔ آیت کے آخر میں دوبارہ آخری گروہ کے لئے تاکید زیادہ واضح انداز میں کرتے ہوئے کہتا ہے : اگر وہ تم سے جنگ نہ کریں اور صلح و مصالحت کی پیش کش کریں تو خدا تمہیں ان سے جنگ کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ تمہارا فرض ہے کہ جو ہاتھ صلح کے لئے تمہاری طرف بڑھے اسے مضبوطی سے تھا م لو( فَإِنِ اعْتَزَلُوکُمْ فَلَمْ یُقاتِلُوکُمْ وَ اٴَلْقَوْا إِلَیْکُمُ السَّلَمَ فَما جَعَلَ اللَّهُ لَکُمْ عَلَیْهِمْ سَبیلاً ) ۔

قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ قرآن اس آیت میں اور چند دوسری آیات میں صلح کی پیش کش کو ” القاء سلام “ ”صلح پھینکا“قرار دیتا ہے ۔ ممکن ہے یہ اس معنی کی طرف اشارہ ہو کہ طرفین نزاع، صلح سے پہلے عموماً ایک دوسرے سے علیحدہ ہوتے کاتے ہیں یہاں تک صلح کی پیش کش کو بھی بڑے محتاط ہ وکر دیکھتے ہیں گویا ایک دوسرے سے فاصلہ پرہتے ہوئے اس پیش کش کو ایک دوسرے کی طرف پھینکتے ہیں ۔


آیت ۹۱

۹۱۔( سَتَجِدُونَ آخَرینَ یُریدُونَ اٴَنْ یَاٴْمَنُوکُمْ وَ یَاٴْمَنُوا قَوْمَهُمْ کُلَّما رُدُّوا إِلَی الْفِتْنَةِ اٴُرْکِسُوا فیها فَإِنْ لَمْ یَعْتَزِلُوکُمْ وَ یُلْقُوا إِلَیْکُمُ السَّلَمَ وَ یَکُفُّوا اٴَیْدِیَهُمْ فَخُذُوهُمْ وَ اقْتُلُوهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَ اٴُولئِکُمْ جَعَلْنا لَکُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطاناً مُبینا ) ۔

ترجمہ

۹۱۔ بہت جلد تم ایسے لوگوں سے ملوگے جو چاہتے ہیں کہ تمہاری طرف سے بھی امان میں ہوں اور اپنی قوم کی طرف سے بھی مامون ہوں (یہ مشرک ہیں لہٰذا تمہارے سامنے ایمان کا دعوی ٰ کرتے ہیں ) لیکن جس وقت وہ فتنہ ( اور بت پرستی) کی طرف پلٹ جاتے ہیں تو وہ سر کے بل اس میں ڈوب جاتے ہیں اگر وہ تم سے الجھنے سے کنارہ کش نہ ہوئے اور انھوں نے صلح کی پیش کش نہ کی اور تم سے دستبردار نہ ہوئے تو انھیں جہاں کہیں پاو قید کرلو( یا) انھیں قتل کردو اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جن پر ہم نے تمہارا واضح تسلط قرار دیا ہے ۔

شانِ نزول

در ج بالا آیت کے لئے مختلف شانِ نزول منقول ہو ئے ہیں زیادہ مشہور ان میں سے یہ ہے کہ اہل مکہ میں سے کچھ لوگ پیغمبر اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دھو کے بازی اور چالبازی کے طور پر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا ۔ لیکن جب بھی وہ قریش اور ان کے بتوں کے سامنے جاتے تو ان کے بتوں کی عبادت اور پرستش شروع کردیتے ۔ اس طرح وہ چاہتے تھے کہ وہ اسلام اور قریش دونوں سے محفوظ رہیں ، دونوں طرف سے فائدہ اٹھائیں اور کسی سے انھیں نقصان نہ پہنچے اصطلاح کے مطابق دونوں گروہوں سے دو طرفہ تعلقات استوار رکھیں ۔ اس پر زیر نظر آیت نازل ہوئی جس میں اس گروہ کے خلاف سخت کار روائی کا حکم دیا گیا۔

طرفین سے ساز باز رکھنے والوں کی سزا

مشرکین کے درمیان آزادی سے کام کرنا چاہتے ہیں ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے انھوں نے دھوکے اور خیانت کی راہ اختیار کر رکھی ہے وہ دونوں گروہوں سے ہم قدم اور ہم فکر ہونے کا اظہار کرتے ہیں( سَتَجِدُونَ آخَرینَ یُریدُونَ اٴَنْ یَاٴْمَنُوکُمْ وَ یَاٴْمَنُوا قَوْمَهُمْ )

اسی وجہ سے جب فتنہ سازی اور بت پرستی کا موقع ان کے ہاتھ آتا ہے تو ان کے سارے پروگرام الٹے ہوجاتے ہیں اور سر کے بل بت پرستی میں ڈوب جاتے ہیں( کُلَّما رُدُّوا إِلَی الْفِتْنَةِ اٴُرْکِسُوا فیها ) ۔

یہ پہلے گروہ کے بالکل بر عکس ہیں کیونکہ ان کی کوشش یہ تھی کہ یہ مسلمانوں سے بر سر پیکار نہ ہوں جب کہ ان کی کوشش یہ تھی کہ مسلمانوں سے الجھتے رہیں وہ صلح کی پیش کش کرتے تھے جبکہ یہ مسلمانوں سے بر سر پیکار تھے وہ مسلمانوں کو تکلیف نہیں پہنچاتے تھے لیکن یہ ظلم و جور سے اجتناب نہیں کرتے تھے ۔ یہ تینوں فرق جن کی طرف( فَإِنْ لَمْ یَعْتَزِلُوکُمْ وَ یُلْقُوا إِلَیْکُمُ السَّلَمَ وَ یَکُفُّوا اٴَیْدِیَهُمْ ) ۔

میں اشارہ ہوا ہے اس امر کا سبب ہیں کہ ان کے بارے میں حکم پچھلے گروہ سے مکمل طور پر مختلف حکم ہو ۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ انھیں جہاں کہیں پائیں اسیر کرلیں اور مقابلہ کرنے کی صورت میں قتل کردیں( فَخُذُوهُمْ وَ اقْتُلُوهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ )

لہٰذا ان کے لئے کافی اتمام حجت کیا گیا ہے وہاں آیت کے آخر میں یہ بھی فرمایا گیا ہے : وہ ایسے لوگ ہیں کہ ہم نے واضح طور پر ان پر تمہارا تسلط قائم کیا ہے ۔

( وَ اٴُولئِکُمْ جَعَلْنا لَکُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطاناً مُبینا ) ۔

زیر بحث آیت میں جس تسلط کی طرف اشارہ ہے ہوسکتا ہے یہ تسلط منطقی لحاظ سے ہو ۔ کیونکہ مسلمانوں کی منطق مشرکین کی منطق پر غالب تھی یا یہ بھی ہوسکتا ہے ظاہری اور خارجی لحاظ سے ہو کیونکہ جس وقت یہ آیات نازل ہو ئیں اس وقت مسلمان بہت ھد تک طاقت ور ہو چکے تھے ۔

درج بالا آیت میں ”ثقفتموهم “ کی تعبیر ممکن ہے ایک دقیق نکتے کی طرف اشارہ ہے ۔ کیونکہ یہ لفظ ثقافت کے مادہ سے ہے اور اس کا معنی ہے کسی چیز کا مشکل سے اور مہارت سے ہا تھ آنا اور ”وجدتموهم “ وجدان کے مادہ سے صرف ہاتھ آنے کے معنی میں ہے ان دونوں کا مفہوم مختلف ہے گویا منافقین کا یہ گروہ ( جودوغلہ ہے ) دونوں سے تعلقات رکھتا ہے یہ منافقین کا خطر ناک ترین گروہ ہے ممکن نہیں کہ انھیں آسانی سے پہچان لیا جائے اور وہ کسی جال میں پھنس جائے لہٰذا فرماتا ہے : مہارت اور مشکل سے ان پر قبضہ کر لو تو انھیں خد اکا حکم سنا و یہ اس طرف اشارہ ہے کہ انھیں گرفتار کرنا کٹھن اور مشکل کام ہے ۔


آیت ۹۲

۹۲۔( وَ ما کانَ لِمُؤْمِنٍ اٴَنْ یَقْتُلَ مُؤْمِناً إِلاَّ خَطَاٴً وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَاٴً فَتَحْریرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَ دِیَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلی اٴَهْلِهِ إِلاَّ اٴَنْ یَصَّدَّقُوا فَإِنْ کانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَکُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْریرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَ إِنْ کانَ مِنْ قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَهُمْ میثاقٌ فَدِیَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلی اٴَهْلِهِ وَ تَحْریرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیامُ شَهْرَیْنِ مُتَتابِعَیْنِ تَوْبَةً مِنَ اللَّهِ وَ کانَ اللَّهُ عَلیماً حَکیماً )

ترجمہ

۹۲۔ کسی صاحب ایمان فرد کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی صاحب ایمان کو قتل کرے مگر یہ کہ یہ کام غلطی اور اشتباہ میں اس سے سرزد ہو جائے اور پھر جس نے کسی مومن کو غلطی سے قتل کیا ہے اسے چاہے کہ وہ غلام آزاد کرے اور خون بہا بخش دیں اور اگر مقتول ایسے گروہ سے ہے تو تمہارے دشمن ہیں ( اور کافر ہیں ) لیکن قاتل خود مومن تھا تو چاہئیے ( کہ صرف) ایک غلام آزاد کرے( اور خونبہا ادا کرنا ضروری نہیں ہے ) اور اگر ایسے گروہ میں سے ہے جن کے ساتھ تمہارامعاہدہ ہو چکا ہے تو چاہئیے کہ اس کا خون بہا اس کے اہل خانہ کو دے اور ایک غلام ( بھی ) آزاد کرے اور جو شخص( غلام کے آزاد کرنے پر ) دسترس نہیں رکھتا، وہ مسلسل روزے رکھے ۔ یہ ( ایک قسم کی تخفیف اور ) اللہ کے حضور توبہ ہے اور خدا دانا و حکیم ہے ۔

شانِ نزول

مکہ کے ایک بت پرست حارث بن یزید نے ” ابو جہل“ کی مدد سے ایک مسلمان ” عیاس بن ابی ربیعہ “ کو اسلام کی طرف مائل ہونے کی پاداش میں ایک عرصہ تک شکنجہ ظلم میں جکڑے رکھا۔ مسلمانو ں کی مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد ” عیاش“ نے بھی مدینہ کی طرف ہجرت کی اور مسلمانوں میں شامل ہو گیا۔ اتفاقاًایک دن مدینہ کے قریب ایک محلہ میں اس کا سامنا اسے آزار دینے والے حارث بن یزید سے ہوگیا عیاش نے موقع غنیمت جان کر ھارث کو قتل کردیا اس کا خیال تھا کہ اس نے ایک دشمن کو قتل کیا ہے حالانکہ اس کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ حارث توبہ کرکے مسلمان ہو چکا تھا اور پیغمبر اکرم کی خدمت میں حاضر ہونے جارہا تھا یہ واقعہ آنحضرت سے عرض کیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی اور اس قتل کے بارے میں جو خطا سے اور اشتباہ میں ہو گیا حکم بیان ہوکیا گیا

قتل اشتباہ کے احکام

دشمنوں کو منافقین کہہ کر قتل نہ کر دیں یا لاپرواہی سے کسی بے گناہ کا خون نہ بہا دیں ۔ اس آیت میں اور بعد والی آیت میں قتل اشتباہ اور قتل عمد کے احکام بیان ہوئے تاکہ قتل جو اسلام کے نذدیک نہایت سنگین معاملہ ہے اس کے بارے میں تمام لازمی پہلو وں کو ملحوظ نظر رکھا جائے ۔

اس آیت کی ابتدا میں کہ جس میں قتل اشتباہ کا ذکر ہے فرماتا ہے : کسی مومن کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ کسی صاحب ایمان شخص کو قتل کرے مگر یہ کہ اشتباہ میں ایسا ہو جائے (وَ ما کانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَقْتُلَ مُؤْمِناً إِلاَّ خَطَا) ۔ حقیقت میں یہ تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اصولی طور پر کوئی مومن یہ نہیں چاہتا کہ اپنے ہاتھ کسی بے گناہ کے خون سے رنگین کرے، کیونکہ حریم ایمان میں تمام افراد ایک جسم کے اعضاء کی طرح ہیں کیا یہ ہو سکتا ہے کہ بدن انسانی کا ایک عضو دوسرے عضو کو سوائے اشتباہ کے کاٹ دے یا اسے کوئی آزار دی جائے ۔ اس سبب سے جو اس قسم کے کام میں مشغول ہیں ان کا ایمان صحیح نہیں ہے اور حقیقت میں وہ ایمان سے بے بہرہ ہیں ۔الاّ خطا ( مگر غلطی سے) کے الفاظ اس معنی میں نہیں کہ انھیں اجازت ہے کہ شک کی بناپر قتل جیسا عمل کریں کیونکہ شک و شبہ میں انسان دور تک نہیں دیکھ نہیں دیکھ سکتا او رکوئی شخص شک کی حالت میں اپنے اشتباہ کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔ مقصد یہ ہے کہ مومنین شک و شبہ کی حالت کے علاوہ ایسا گناہ کبیرہ نہیں کرسکتے ۔

اس کے بعد قتل اشتباہ کا جر مانہ اور کفارہ تین مراحل میں بیان کیا گیا ہے :۔

پہلی صورت یہ ہے کہ ” بے گناہ شخص جو شک اور شبہ میں قتل ہو گیا ہو، اگر وہ مسلمان خاندان سے تعلق رکھتا ہو تو اس صورت میں قاتل کے لئے دو حکم ہیں ۔ ایک غلام آزاد کرے اور دوسرا یہ کہ مقتول کا خون بہا مقتول کے وارثوں کو ادا کرے ۔( وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَاٴً فَتَحْریرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَ دِیَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلی اٴَهْلِهِ ) ۔

مگر یہ کہ مقتول کے وارث دیت کو اپنی رضا اور رغبت سے چھوڑ دیں ( ا( ِٕلاَّ اٴَنْ یَصَّدَّقُوا ) ۔

دوسری صورت یہ پء کپ مقتول ایسے خاندان سے وابستہ ہو جو مسلمانوں سے دشمنی رکھتا ہو، تو اس صورت میں قتل اشتباہ کا کفارہ صرف غلام آزاد کرنا ہے اور ایسے گروہ کو دیت دینا ضروری نہیں کہ جو مالی طور پر مسلمانوں کے خلاف مضبوط ہو جائے ۔

اس کے علاوہ اسلام ایسے شخص کو اپنے خاندان سے ربط رکھنے سے منع کرتا ہے جس کے خاندان میں سب کے سب اسلام کے دشمن ہوں اس بنا پر یہ نقصان کی تلافی کا مقام نہیں ہے( فَإِنْ کانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَکُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْریرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ )

تیسری صورت یہ ہے کہ مقتول کا خاندان ایسے کفار میں سے ہو جنھوں نے مسلمانوں سے معاہدہ کر رکھا ہو ۔ اس صورت میں معاہدہ کے احترام میں ایک غلام آزاد کرنے کے علاوہ مسلمان اس کا خون بہا اس کے پس ماندگان کو دیں( وَ إِنْ کانَ مِنْ قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَهُمْ میثاقٌ فَدِیَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلی اٴَهْلِهِ وَ تَحْریرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ ) ۔

اس بارے میں مفسرین میں اختلاف ہے کہ کیا مقتول اس صورت میں پہلی دونوں صورتوں کی طرح مرد مومن ہوگا یا یہ حکم کافر اور ذمی کے لئے بھی ہے لیکن بظاہر آیات اور روایات جو اس آیت کی تفسیر میں آئی ہیں ان کے مطابق اس سے مراد بھی ” مقتول مومن “ ہی ہے او رکیا اس قسم کے مسلمان مقتول کی دیت کا فر وارث کو دی جاسکتی ہے جبکہ کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا۔ آیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ دیت اس کے ورثہ کو دی جائے گی چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہوں یہ مسلمان کے ساتھ ان کے معاہدے کی بنیاد پر ہے ۔ لیکن چونکہ کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا لہٰذا بعض مفسرین کا یہنظر یہ ہے کہ اوپر والے جملے سے مراد یہ ہے کہ اس کی دیت و خون بہا صرف اس کے مسلمانوں کو دیا جائے نہ کہ کفار وارثوں کو بعض روایات میں بھی اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن( من قوم بینکم و بینهم میثاق ) ( ایسے گروہ سے جو تمہارے ساتھ معاہدہ کرتے ( غور کیجئے گا ) ۔

آیت کے آخر میں ان لوگوں کے بارے میں میں جو غلام آزاد کرنے کے بارے میں دسترس نہیں رکھتے ( یعنی مالی طور پر استطاعت نہیں رکھتے یا آزاد کرنے کے لئے غلام ملتا ہی نہ ہو موجودہ زمانے کی طرح ۔ فرماتا ہے ایسے افراد کو چاہئیے کہ وہ مسلسل دو ماہ روزے رکھے( فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیامُ شَهْرَیْنِ مُتَتابِعَیْن )

آخر میں کہتا ہے: یہ غلام آزاد کرنے کی بجائے دو ماہ روزے رکھنے کا حکم ایک قسم کی تخفیف اور خدا کے حضور تو بہ ہے یا یہ کہ جو کچھ قتل اشتباہ کے کفارہ کے طور پر کہا گیا ہے اس سب کو خدا سے توبہ قرار دیا گیا ہے او رخدا ہمیشہ ہر چیز سے باخبر ہے اور اس کے تمام احکام حکمت کے مطابق ہیں

( تَوْبَةً مِنَ اللَّهِ وَ کانَ اللَّهُ عَلیماً حَکیما ) ۔

چند اہم نکات

۱ -خسارے کی تلافی کے لئے احکام

۱۔ یہاں قتل اشتباہ کی تلافی کے لئے تین موضوع بیان کئے گئے ہیں جن میں سے ہر ایک ایک طرح سے خسارے اورنقصان کی تلافی ہے جو اس عمل کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ پہلا غلام آزادکرنا ہے اصل میں ایک اجتماعی خسارے( ایک اہل ایمان کا قتل کی تلافی ہے دوسرا دیت کا ادا کرنا ہے جو اصل میں ایک طرح سے اقتصادی خسارے کی تلافی ہے جو کہ ایک شخص کے قتل ہونے سے ایک خاندان کو ہوتا ہے ورنہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ دیت ( خون بہا ) کبھی بھی ایک انسان کے خون کی حقیقی قیمت نہیں ہوسکتی کیونکہ ایک بے گناہ انسان کو خون ہر طرح سے زیادہ قیمتی ہے بلکہ خاندان کے اقتصادی خسارے کی ایک طرح سے تلافی ہے ۔

اور تیسرا داماہ مسلسل روزے رکھنے کا مسئلہ ہے جو کہ اخلاقی اور روحانی خسارے کی تلافی ہے ، جو غلطی سے قتل کرنے والے کو کرنا ہوتی ہے ۔ البتہ خیال رکھنا چاہئیے کہ مسلسل دو ماہ روزے رکھنا ان لوگوں کی ذمہ داری ہے جو کہ ایک با ایمان غلام کو آزاد نہیں کرسکتے تو روزے رکھنا ہوں گے لیکن غور کرناچاہئیے کہ غلام آزاد کرنا ایک طرح کی عبارت شمار ہوتا ہے لہٰذا اس عبادت کا اثر آزاد کرنے والے کی روح پر ضرورہو گا ۔

۲۔ مسلمانوں میں دیت سے صرف نظر

جس مقام پر مقتول کے پس ماندگان مسلمان ہو ں وہاں”الا ان یصدقوا“ مگر یہ کہ وہ دیت سے صرف نظر کرلیں ) کا ذکر آیاہے لیکن جس مقام پر وہ مسلمان نہ ہوں وہاں یہ بات نہیں ۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے کیونکہ پہلے موقع پر اس کا م کی کوئی بنیاد ہے لیکن دوسری جگہ اس قسم کی بنیاد نہیں ہے اس کے علاوہ جہاں تک ہو سکے مسلمانو کو ایسے موقع پر غیر مسلموں کے احسان کا زیر بار نہیں ہونا چاہئیے ۔

۳۔ غیر مسلموں کے لئے دیت کا پہلے تذکرہ

قابل توجہ امر یہ ہے کہ پہلی صورت میں جبکہ پس ماندگان مسلمان ہوں پہلے ” ایک غلام آزاد کرے ‘ ‘ اورپھر ” دیت “ کا ذکر ہے ۔ جبکہ تیسری صورت میں جبکہ وہ مسلمان نہیں ہیں پہلے دیت کا تذکرہ ہے شاید تعبیر کا یہ اختلاف اس طرف اشارہ کرتا ہوکہ مسلمانوں کے معاملے میں دیت کی تاخیر کا زیادہ تر منفی ردّ عمل نہیں ہوتا جبکہ غیر مسلموں کے معاملے میں ہر چیز سے پہلے دیت ادا ہونا چاہئیے تاکہ نزاع اور جھگڑے کی آگ ٹھنڈی ہو سکے اور دشمن اسے معاہدے کی خلاف ورزی پرمحمول نہ کریں ۔

۴۔ اسلامی پیمانوں کی طبعی بنیاد

یہ آیت دیت کی مقدار نہیں بتائی گئی اور اس کی تفصیل سنت کے مطابق مقرر ہوتی ہے ۔ جس کی رو سے پوری دیت ہزار مثقال سونا یا ایک سو اونٹ ، یا دوسو گائیں ، اور اگر وارث راضی ہوں تو ان جانوروں کی قیمت ہے ( البتہ سونے یا بعض جانوروں کی دیت کے طور پر تعین اسلامی اصول کے مطابق ہے اور اسلام نے اپنے پیمانے اور میزان طبعی امور میں سے مقرر کئے ہیں نہ کہ بناوٹی مصنوئی اور وقتی طریقوں سے جو کہ زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ تبدیل ہو جاتے ہیں ۔

۵۔ غلطی کی سزا؟

ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ یہ اعتراض کریں کہ ” غلطی“ کی سزا نہیں ہوتی ،تو اسلام اس کو اتنی اہمیت کیوں دیتا ہے ، حالانکہ اس غلطی کا مرتکب کسی گناہ کا مرتکب نہیں ہوا ۔ اس کا جواب واضح ہے کیونکہ خون کا مسئلہ کوئی معمولی نہیں ہوتا۔ لہٰذا اسلام اس سخت حکم کے ذریعے چاہتا ہے کہ لوگ نہایت محتاط رہیں تاکہ کسی قسم کا قتل یہاں تک کہ اشتباہ اور غلطی سے بھی ان سے سرزدنہ ہو ۔ کیونکہ بہت سی غلطیاں بھی قابل گرفت ہیں علاوہ از یں اس لئے بھی کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ قتل اشتباہ کے دعویٰ سے اپنے آپ کو بری الذمہ نہیں سمجھا جاسکتا آیت کا آخری جملہ (توبة من الله )ممکن ہے اسی مر کی طرف اشارہ ہو کہ عام طور پر اشتباہات کا مرکز پوری کو شش اور غورکرنا ہوتا ہے لہٰذا اہم معاملات میں ( مثلاً قتل نفس) کے سلسلے میں اس طرح تلافی ہونا چاہئیے کہ خدا سے تو بہ ان کے مرتکب ہونے والوں کے شامل حال ہو جائے ۔


آیت ۹۳

۹۳۔( وَ مَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِناً مُتَعَمِّداً فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ خالِداً فیها وَ غَضِبَ اللَّهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهُ وَ اٴَعَدَّ لَهُ عَذاباً عَظیماً ) ۔

ترجمہ

۹۳۔جو شخص کسی صاحب ایمان کو جان بوجھ کر قتل کردے تو اس کی سزا جہنم ہے کہ جس میں وہ ہمیشہ کے لئے رہے گا اور خدا اس پر غضب نازل کرتا ہے اور اسے اپنی رحمت سے محروم کردیتا ہے اور اس کے لئے اس نے عذاب عظیم مہیا کررکھا ہے ۔

شانِ نزول

مقیس بن صبا بہ کنانی ایک مسلمان تھا اس نے اپنے مقتول بھائی کی لاش محلہ” بنی نجار“ میں دیکھی ۔ اس نے پیغمبر اکرم کی خدمت میں آکر یہ واقعہ بیان کیا رسول اکرم نے اسے قیس بن ہلا ل مہزی کے ساتھ نبی نجار کے سرداروں کے پاس بھیجا اور حکم دیاکہ اگر وہ ہشام کے قاتل کو پہچانتے ہیں تو اسے اس کے بھائی مقیس کے حوالے کر دیں اور اگر نہیں پہچانتے تو اس کا خون بہا اور دیت ادا کریں وہ چونکہ ہشام کے قاتل کو نہیں پہچانتے تھے لہٰذا انھوں نے مقتول کی دیت ادا کردی اور اس نے بھی قبول کرلی اور قبیس بن ہلال کی معیت میں مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔

اثنائے راہ میں زمانہ جاہلیت کے باقی رہنے والے افکار ے قبیس کے جذبات کو ابھارا اور وہ اپنے آپ سے کہنے لگا کہ دیت قبول کرنا شکست اور ذلت کا باعث ہے لہٰذا اپنے ہم سفر کو جو قبیلہ بنی نجار میں سے اپنے بھائی کے خون کے بدلے قتل کردیا او رمکہ کی طرف بھاگ گیا او راسلام سے بھی کنارہ کش ہو گیا ۔ پیغمبراکرم نے بھی اس خیانت کے بدلے اس کا خون مباح قرار دیا اور اوپر والی آیت اسی مناسبت سے نازل ہوئی جس میں قتل عمد( جان بوجھ کر قتل ) کی سزا بیان ہوئی ہے ۔

قتل عمد کی سزا

قتل اشتباہ کی سزا بیان کرنے کے بعد اس آیت میں اس شخص کی سزا بیان ہوئی ہے جو جان بوجھ کر کسی با ایمان شخص کو قتل کردے ۔ چونکہ انسان کشی ایک بہت بڑا جرم ہے اور گناہ کبیرہ ہے اور اگر اسے روکا نہ جائے اور اس کا مقابلہ نہ کیا جائے تو امن و امان جو ایک صحیح معاشرے کی اہم ترین شرائط میں سے ہے بالکل ختم ہو جائے گا ۔ قرآن نے مختلف آیات میں اسے اہمیت دی ہے یہاں تک کہ ایک انسان کا قتل روئے زمین کے تمام لوگوں کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے :( من قتل نفساً بغیر نفس اوفساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعاً )

جو شخص کسی نفس کو (اگر وہ قاتل نہ ہو یا زمین پرفساد نہ پھیلائے ) قتل کردے گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا ہے ۔

اسی لئے زیربحث آیت میں ان لوگوں کے لئے جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کردیں ۔ چار سزائیں اور آخرت کے شدید عذاب کا ( علاوہ قصاص کے جو دنیا وی سزا ہے ) ذکر ہوا ہے ۔

۱۔ خلود یعنی ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنا( وَ مَنْ یقْتُلْ مُؤْمِناً مُتَعَمِّداً فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ خالِداً فیها ) ۔

۲۔ خشم و غضب الہٰی (و غضب الله علیه ) ۔

۳۔ رحمتِ خدا وندی سے محرومی (لعنه ) ۔

۴۔ عذاب عظیم میں مبتلا کیا جانا( وَ لَعَنَهُ وَ اٴَعَدَّ لَهُ عَذاباً عَظیماً ) ۔

اس طرح قتل عمد کے لئے اس قدر سخت ترین سزا کا ذکر ہوا ہے جس قدر سخت سزا قرآن میں کسی اور چیز کے متعلق بیان نہیں ہوئی اس کے علاوہ قتل عمد کی دنیاوی سزا وہی قصاص ہے جس کی تفصیل جلد اول میں سورہ بقرہ آیت ۱۷۹ کے ذیل میں بیان ہو چکی ہے ۔

کیا انسانی قتل ابدی سزا کا موجب ہے

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ” خلود“ یعنی ہمیشہ کے لئے سزا تو ان لوگوں کو ملے گی جو ایمان لائے بغیر دنیا سے رخصت ہو جائیں جبکہ قتل عمد کرنے والوں کے لئے ممکن ہے کہ وہ ایمان رکھتے ہوں اور یہاں تک امکان ہے کہ وہ پشمان ہو کر اس گناہ عظیم سے ( جو ان سے سرزد ہو چکا ہے ) حقیقی توبہ کرلیں اور گذشتہ گناہ کی جس قدر ممکن ہو تلافی کرلیں ۔

۱۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ آیت میں مومن کے قتل سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص کو ایمان لانے کی وجہ سے قتل کرے یا اس کے قتل کو جائز اور مباح قرار دے ۔ جان لینا چاہئیے کہ اس طرح کا قتل ، قاتل کے کفر کا ثبوت ہے اور اس کا لازمہ ابدی اور ہمیشہ کا عذاب ہے ۔

اسی مفہوم کی ایک حدیث حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے ۔(۱)

۲۔ یہ احتمال بھی ہے کہ صاحب ایمان او ربے گناہ افراد کو قتل کرنے کی وجہ سے انسان بے ایمان ہو کر دنیا سے رخصت ہو اور اسے توبہ کی بھی توفیق نصیب نہ ہو اور اسی وجہ سے وہ ابدی او رہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہوجائے ۔

۳۔ یہ بھی ممکن ہے کہ خلود سے مراد اس آیت میں بہت طویل عذاب ہو نہ کہ ہمیشہ کا عذاب۔

یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوسکتا ہے کہ اصولی طور پر کیا قتل عمد قابل ِ تو بہ ہے ؟

بعض مفسرین اس سوال کا جواب نفی میں دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قتل عمد درج بالاآیت کے مطابق بنیادی طور پر قابلِ توجہ نہیں ہے اور چندایک روایات میں بھی جو آیت کے ذیل میں آئی ہے اس معنی کی طرف اشارہ موجود ہے کہ ” لا توبة لہ“ ( اس کی کوئی توبہ نہیں ) لیکن تعلیمات اسلام کی روح اور عظیم ہادیانِ حق کی روایات اور توبہ کے فلسفہ( جو تربیت کی بنیاد اور آیندہ کی زندگی میں گناہ سے محفوظ رہنا ہے ) سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی گناہ ایسا نہیں جو قابلِ توبہ نہ ہو ۔ اگر چہ گناہوں سے توبہ کی بہت سخت اور سنگین شرائط ہیں ۔

قرآن مجید کہتا ہے :

( ان الله لایغفر ان یشرک به و یغفر ما دون ذٰلک لمن یشاء ) ( نساء: ۴۸)

خدا صرف شرک کے گناہ کو نہیں بخشتا لیکن اس کے علاوہ جس کے لئے چاہتا اور مصلحت سمجھتا ہے ، اسے بخش دیتا ہے ۔

یہاں تک کہ اس آیت کے ذیل میں پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ یہ آیت شفاعت اور گناہوں سے بخشش کے متعلق ہے ورنہ تو شرک کا گناہ بھی توبہ کرنے اور توحید و اسلام کی طرف پلٹ آنے سے قابل ِ بخشش ہے جیسا کہ صدر اسلام کے اکثر مسلمان ابتدا میں مشرک تھے اور پھر انھوں نے توبہ کی اور خدا نے ان کے گناہوں کو بخش دیا ۔ اس وجہ سے صرف شرک ایسا گناہ ہے کہ جو توبہ کئے بغیر بخشا نہیں جاسکتا۔ لیکن توبہ کرنے سے تمام گناہ یہاں تک کہ شرک بھی قال ِ بخشش ہے جیسا کہ سورہ زمر کی آیہ ۵۳ اور ۵۴ میں ہے :

( ان اللّه یغفر الذنوب جمیعاً انه هو الغفورالرحیمو انیبوا الیٰ ربکم و اسلموا له ) ۔

خدا تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے کیونکہ وہ بخشنے والا او رمہر بان ہے خد اکی طرف پلٹ آو اور توبہ کرلو اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرلو ۔

بعض مفسرین نے جو یہ کہا ہے کہ توبہ کے سایہ میں تمام گناہوں کی بخشش سے متعلق آیات، اصطلاح کے مطابق جو آیات عام تخصیص کے زمرے میں آئی ہیں ، صحیح نہیں ہے ۔ کیونکہ ان آیات کی زبان جوکہ گناہ گاروں کو جہاں مناعی کرتی ہیں اور مختلف تاکید ات کے ساتھ ہیں ۔ قابل تخصیص نہیں ہے اور اصطلاح کے مطابق تخصیص سے انکار نہیں کرتی ہیں ۔ علاوہ از ین اگر واقعاًوہ شخص جس سے قتل عمد سر زد ہوا ہے مکمل طور پر ہمیشہ کے لئے خدا کی بخشش سے مایوس ہ وجائے ( یہاں تک کہ اپنے برے عمل کی بار بار معافی مانگے اور بہت سے نیک اعمال سے برائی کی تلافی بھی کرے) پھر بھی ہمیشہ کی لعنت اور عذاب میں مبتلا رہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ وہ اپنی باقی ماندہ عمر میں خدا کی عبادت زیادہ کرے ، برے اعمال سے توبہ کرے اور یہاں تک کہ انسانوں کے بار بار قتل سے توبہ کرے ۔ یہ امر جو تعلیمات انبیاء کی روح کے منافی ہے کیونکہ وہ تو نوع بشر کی ہر مر حلہ میں تربیت کے لئے آئے ہیں تاریخ اسلام میں ہے کہ پیغمبراکرم نے خطر ناک قسم کے گناہ گاروں مثلاً حمزہ بن عبد المطلب کے وحشی قاتل تک کو معاف کردیا اور اور اس کی توبہ قبول کرلی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ شرک اور ایمان کی مختلف حالتوں میں قتل اتنا مختلف سمجھا جائے کہ ایک حالت میں تو بخشا جائے اور دوسری حالت میں قابل بخشش نہ ہو ۔ اصولی طور پر جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ ہم کسی گناہ کو شرک سے بڑھ کر نہیں سمجھتے اور ہم جاتنے ہیں کہ یہ گناہ بھی توبہ اور قبول اسلام سے بخشا جا سکتا ہے ۔ اب کس طرح باور کرسکتے ہیں کہ قتل گناہ حقیقی توبہ کے ذریعے بھی قابل بخشش نہ ہو ۔

ہم نے جواوپر کہا ہے اس سے کوئی اشتباہ نہ ہو اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ قتل عمد معمولی اور کم اہمیت کا حامل ہے یا اس سے توبہ بہت آسان ہے بلکہ اس کے برعکس اس گناہ سے حقیقی توبہ بہت ہی مشکل ہے اور یہ اس عمل کی تلافی کی محتاج ہے اور یہ تلافی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔(۲)

____________________

۱- کافی تفسیر عیاشی میں اس آیت کے ذیل میں امام صادق سے اس طرح منقول ہے کہ آپ نے فرمایامن قتل مومناً علی دینه فذٰلک المتعمد الذی قال الله تعالیٰ عز و جل فی کتابه وَ اٴَعَدَّ لَهُ عَذاباً عَظیماً ۔

۲ - روایات میں بے گناہ صاحب ایمان افراد کے قتل کی اہمیت کے بارے میں ایسی تعبیرات بیان ہوئی ہیں جو انسان کو جھنجوڑ دیتی ہیں ایک حدیث میں پیغمبر اکرم سے منقول ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا:” لزوال الدنیا اهون علی الله من قتل امرء مسلم“

” دنیا کا زوال اور ختم ہو جانا خدا کے ہاں ایک مرد مسلمان کے قتل ہونے سے کمتر ہے “ نیز فرماتے ہیں :” لو ان رجلا قتل بالمشرق و آخر رضی بالمغرب لا شرک فی دمه“

اگر ایک شخص مشرق میں قتل ہو جائے اور دوسرا مغرب میں ہو اور اس راضی ہو تو وہ اس کے خون میں شریک ہے “ ( المنارج ۵ ص ۲۶۱)


قتل کی اقسام

فقہی کتب میں فقہانے قصاص و دیت کے باب میں اسلامی روایات سے استفادہ کرتے ہوئے قتل کو تین قسموں میں تقسیم کیا ہے :۔” قتل عمد“ ”قتل شبیہ عمد“ ” اور قتل اشتباہ “۔

قتل عمد

یہ قتل وہ ہوتا ہے جس میں پہلے سے پختہ ارادہ اور ذرائع قتل کو بروئے کار لایا جاتا ہے ( مثلاً کوئی شخص کسی کو قتل کرنے کے ارادے سے کسی ہتھیار، لکڑی ، پتھریا ہاتھ سے کام لے ) ۔

قتل شبیہ عمد

یہ وہ قتل ہے جس میں قتل کا رادہ نہ ہو لیکن مقتول کے خلاف ایسے اقدام کے لئے جائیں کہ بے خبری میں نوبت اس کے قتل تک پہنچ جائے ۔ مثلاً کسی کو قتل کے ارادے سے مار پیٹا جائے مگر یہ مار پیٹ اتفاقاً اس کے قتل کا سبب بن جائے ۔

قتل اشتباہ

یہ وہ قتل ہے جس میں قتل کا رادہ شامل نہ ہو مقتول کے خلاف کوئی اقدام کرنے کا ارادہ ہو بلکہ یہ ایسا قتل ہے جیسے ارادہ کسی جانور کو شکار کرنے کا ہو مگر غلطی سے تیر انسان کو جالگے اور وہ قتل ہو جائے ۔

ان میں سے ہر قسم کے تفصیلی احکام ہیں جو مکتبِ فقہ میں موجود ہیں ۔


آیت ۹۴

۹۴۔( یا اٴَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا إِذا ضَرَبْتُمْ فی سَبیلِ اللَّهِ فَتَبَیَّنُوا وَ لا تَقُولُوا لِمَنْ اٴَلْقی إِلَیْکُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِناً تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیاةِ الدُّنْیا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغانِمُ کَثیرَةٌ کَذلِکَ کُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَیْکُمْ فَتَبَیَّنُوا إِنَّ اللَّهَ کانَ بِما تَعْمَلُونَ خَبیراً ) ۔

ترجمہ

۹۴۔اے ایمان لانے والو! جس وقت تم راہِ خدا میں قدم اٹھاتے ہو ( اور جہاد کے لئے آمادہ ہوتے ہو) تو تحقیق کرواور اس شخص کو جو صلح اور اسلام کا اظہار کرتا ہے اسے ( فقط اس بناپر ) یہ نہ کہو کہ تو مسلمان ( مومن ) نہیں کہ دنیائے ناپائیدار کا سر مایہ ( او رمال غنیمت) حاصل کر سکو ۔ کیونکہ خدا کے ہاں (تمہارے لئے ) بڑی بڑی غنیمتیں ( موجود) ہیں تم پہلے ایسے ہی تھے اور خدا نے تم پر احسان کیا( اور تمہاری ہدایت کی ) اس بناپر ( اس عظیم شکرانے کے طورپر)تحقیق کرو، جو کچھ تم عمل کرتے ہو خدا اس سے آگاہ ہے ۔

شان ِنزول

درج بالاآیت کے بارے میں کئی ایک شان ِ نزول اسلامی روایات اور تفاسیر میں آئی ہیں جو کم و بیش ایک دوسرے سے مما ثلت رکھتی ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ پیغمبر اکرم نے جنگِ خیبر سے واپسی کے بعد اسامہ بن زید کو مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ ان یہودیوں کی طرف بھیجا جو فدک کی ایک بستی میں رہتے تھے تاکہ انھیں اسلام یاشرائط ذمہ قبول کرنے کی دعوت دی جائے ۔ ایک یہودی مرد جسے لشکراسلام کے آنے کی خبر ہو ئی تو اس نے اپنے مال اور اولاد کے ساتھ ایک پہاڑ کے دامن میں پناہ لی ۔ پھر خود مسلمانوں کے استقبال کے لئے دوڑآیا۔ اسامہ بن زید نے سوچا کہ یہ یہودی جان او رمال کے خوف سے قبول اسلام کررہا ہے اور دلی طور پر مسلمان نہیں اس پر حملہ کرکے اسے قتل کردیا او راس کا مال اسباب ( بھیڑ بکریوں ) پر بطور غنیمت قبضہ کرلیا۔ جب یہ خبر پیغمبر کو ملی تو آپ اس واقعہ پر نہایت بر ہم او ررنجیدہ ہوئے اور فرمایا تو نے ایک مسلمان کو قتل کردیا اسامہ پریشان ہو کر کہنے لگا اس شخص نے جان و مال کی حفاظت کے لئے قبول اسلام کیا تھا پیغمبر نے کہا تم اس کے باطن سے آگاہ نہیں تھے تمہیں کیا معلوم شاید وہ حقیقی طور پر مسلمان ہوا ہو تو اس موقع پر اوپر والی آیت نال ہوئی او رمسلمانوں کو تنبیہ کی کہ جنگی غنائم کی وجہ سے کبھی ایسے لوگوں کو مت جھٹلاو جو قبولِ اسلام کرتے ہیں بلکہ جو شخص بھی قبولِ اسلام کرے اس کی بات کو مان لینا چاہئیے۔

تفسیر

گذشتہ آیات میں بے گناہ افراد کی جان کی حفاظت کے سلسلہ میں ضروری تاکیدات ہو چکیں اب اس آیت میں ان بے گناہ افراد کی جان کی حفاظت کے لئے ایک احتیاطی حکم جو ممکن ہے تہمت کی زد میں آجائیں بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : اے ایمان لانے والو! جس وقت جہاد کی راہ میں قدم اٹھاو تو تحقیق اورجستجوکرلو اور ایسے لوگوں کو جو قبول اسلام کریں نہ کہو کہ تم مسلمان نہیں ہو( یا اٴَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا إِذا ضَرَبْتُمْ فی سَبیلِ اللَّهِ فَتَبَیَّنُوا وَ لا تَقُولُوا لِمَنْ اٴَلْقی إِلَیْکُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِناً ) ۔

اور حکم دیتا ہے کہ جو لوگ ایمان کا قرار کرتے ہیں انھیں خندہ پیشانی سے قبول کرلو او ران کے قبول اسلام کے بارے میں ہر قسم کیک بد گمانی اور سوءِ ظن سے صرف نظر کر لو اس کے بعد مزید کہتا ہے : کہیں ایسا نہ ہو کہ جہانِ ناپائیدار کی ان نعمتوں کے لئے قبول اسلام کرنے والوں کو تہمت دو اور انھیں ایک دشمن سمجھ کر قتل کردو او ران کا مال و اسباب بطور غنیمت لے لو( تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیاةِ الدُّنْیا ) (۱)

جبکہ ہمیشہ رہنے والی گراں بہا غنیمتیں تو خداکے پاس ہیں( فَعِنْدَ اللَّهِ مَغانِمُ کَثیرَةٌ )

اگر پہلے تم ایسے ہی تھے اور زمانہ جاہلیت میں تمہاری جنگیں غارت گری کی بناپر ہوتی تھیں( کَذلِکَ کُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ ) ۔(۲)

لیکن اب اسلام کے سائے میں اور اس احسان کی وجہ سے جو خدا نے تم پر کیا ہے ، اس کیفیت سے نجات پا چکے ہو اس بناپر اس عظیم نعمت کے شکرانے کے طور پر تمہارے لئے لازم ہے کہ تمام امور میں تحقیق کرو( فَمَنَّ اللَّهُ عَلَیْکُمْ فَتَبَیَّنُوا ) اور یہ بات جان لو کہ خدا تمہارے اعمال اور نیتوں سے آگاہ ہے( إِنَّ اللَّهَ کانَ بِما تَعْمَلُونَ خَبیراً ) ۔

اسلامی جہاد مادی پہلو نہیں رکھتادرج بالاآیت میں بڑے واضح طور پر یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ کسی مسلمان کو نہیں چاہئیے کہ وہ مادی مفاد حاصل کرنے کے لئے میدان ِ جہاد میں قدم رکھے اس لئے اسے کہا گیا ہے کہ دشمن کی طرف سے پہلی مرتبہ ہی اظہار ایمان کو مان لے اور اس کی صلح کی پیش رفت کا جواب دے ، چاہے کتنی ہی مادی نعمتوں سے محروم ہوناپڑے ۔ کیونکہ اسلامی جہاد کا مقصد توسع پسندی او رمالِ غنیمت جمع کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد اور ہدف نوعِ انسانی کو انسانوں کی غلامی اور زور وزر کے خداوں کی بندگی سے نجات دلانا ہے ۔اور جس وقت امید کی یہ راہ نظر آئے تو فوراً اپنا لینی چاہیئے مندر جہ بالا آیت میں آیا ہے : تم بھی ایک دن اسی طرح پست افکار رکھتے تھے اور مادی فوائد کے لئے لوگوں کا خون بہاتے تھے لیکن آج وہ صورتِ حال بالکل بدل چکی ہے ۔علاوہ ازیں تم خود دائرہ اسلام میں داخل ہوتے وقت سوائے اظہار ایمان کے کیا کرتے تھے اس قانون سے دوسروں کے بارے میں کیوں اجتناب کرتے ہوجس سے تم خود مستفید ہوتے رہے ہو ۔

ایک سوال اور اس کا جواب

اس آیت کے مضمون پر توجہ کرتے ہوئے ہو سکتا ہے یہ اعتراض پیدا ہوگیا ہو کہ اسلام لوگوں کو اس دین سے وابستہ ہونے کے ظاہری دعووں کو قبول کرکے اسلامی ماحول میں ” منافقین “ کے داخل ہونے کے مواقع فراہم کرتا ہے ۔ اس لائحہ عمل سے ممکن ہے بہت سے لوگ غلط فائدہ اٹھائیں اور اسلام کی آڑ میں جاسوسی اور غیر اسلامی اعمال و افعال کے مرتکب ہوں ۔شاید دنیا میں کوئی ایسا قانون نہ ہو جس میں غلط فائدہ اٹھانے والوں کے لئے گنجائش نہ ہو ۔ اہم بات یہ ہے کہ قانون کو واضح مصلحتوں کا حامل ہو نا چاہئیے اب اگر اس بناپر کہا جائیے کہ قبولِ اسلام کرنے والے کی جب تک دلی کیفیت کا پتہ نہ لگایا جائے اس کے دعوے کو قبول نہ کیا جائے تو اس سے بہت سے مفاسد پیدا ہو جائیں گے جن کا نقصان کہیں زیادہ ہے اور انسانی فطرت و عواطف کے اصول نیست و نابود ہو جائیں گے کیونکہ جو شخص کسی دوسرے سے کوئی گلہ اور شکایت ، کینہ اور حسد رکھتا ہو، وہ اسے تہمت لگا سکتا ہے کہ اس کا اسلام دکھاوے کا ہے اور اس کے دل کی گہرائیوں سے ہم آہنگ نہیں اس طرح بہت سے بے گناہ قتل کردئے جائیں گے اس کے علاوہ ہر دین اور مذہب کی طرف مائل اور راغب ہونے کی ابتدا میں ایسے افراد بھی موجود ہوتے ہیں جو بھول پن میں ، رکھ رکھاو کے لئے اور ظاہرہی طو ر پر مائل ہو تے ہیں لیکن وقت کے گذرنے کے ساتھ ساتھ اور اس دین سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ان کے ایمان محکم اور مضبوط ہو جاتے ہیں اور ایمان کی جڑیں ان کے دلوں میں راسخ ہو جاتی ہیں اس وجہ سے ایسے لوگوں کو دھتکارا نہیں جاسکتا ۔

____________________

۱”عرض“ ( بر وزن مرض ) کا معنی ہے ایسی چیز جو ثبات اور پائیداری نہ رکھتی ہو ۔ اس بنا پر عوض الحیوة الدنیا کا معنی ہے دنیاوی زندگی کا سرمایہ جو بغیر استثناء کے سب ناپائیدار ہے ۔

۲ اس جملہ کی تفسیر میں ایک اور احتمال بھی بتا یا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ تم خود بھی اسلام لانے کی ابتدا میں یہی کیفیت رکھتے تھے یعنی زبان سے اسلام کی حقانیت کی گواہی دیتے تھے اور وہ تم سے قبول کرلی گئی جبکہ تمہارے دل میں چھپی ہوئی بات کسی پر واضح نہیں تھی ۔


آیت ۹۵

۹۵۔( لا یَسْتَوِی الْقاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنینَ غَیْرُ اٴُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجاهِدُونَ فی سَبیلِ اللَّهِ بِاٴَمْوالِهِمْ وَ اٴَنْفُسِهِمْ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجاهِدینَ بِاٴَمْوالِهِمْ وَ اٴَنْفُسِهِمْ عَلَی الْقاعِدینَ دَرَجَةً وَ کُلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنی وَ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجاهِدینَ عَلَی الْقاعِدینَ اٴَجْراً عَظیماً ) ۔

۹۶۔( دَرَجاتٍ مِنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَ رَحْمَةً وَ کانَ اللَّهُ غَفُوراً رَحیماً ) ۔

ترجمہ

۹۵۔ وہ صاحب ایمان جو بغیر بیماری اور تکلیف کے جہاد سے دستبردار ہو گئے اور وہ مجاہد جنھوں نے اپنے مال اور جان کے ذریعے جہاد میں حصہ لیا برابر نہیں ہیں ۔ خدا نے ان مجاہدوں کو جنھوں نے جان اور مال سے جہاد کیا ہے بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت او ربر تری دی ہے ان دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کو ( ان کے نیک اعمال پر ) خدا نیک جزا کا وعدہ کرتا ہے او ر مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت اور اجر عظیم بخشتا ہے ۔

۹۶۔ خدا کی طرف سے (اہم ) درجات اور بخشش و ررحمت( انھیں نصیب ہوگی ) اور( اگر ان سے کچھ لغزشیں ہوئی ہیں )تو خدا بخشنے والا اور مہر بان ہے ۔

تفسیر

گذشتہ آیات میں جہاد کے متعلق گفتگو ہو تھی یہ دو آیات مجاہدین اور غیر مجاہدین کا تقابل او رموازنہ کرتی ہیں ۔ خدا کہتا ہے : وہ ایمان کہ جو میدان جہاد میں شرکت کرنے سے اجتناب کرتے ہیں جبکہ انھیں اسی خاص بیماری بھی لاحق نہیں کہ جو انھیں میدان جہاد میں شر کت کرنے سے مانع ہو کبھی ان مجاہدین کے ہم پلہ او ربرابر نہیں ہو سکتے جو راہ خدا میں اور اعلائے کلمہ حق کے لئے اپنی جان و مال سے جہاد کرتے ہیں( لا یَسْتَوِی الْقاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنینَ غَیْرُ اٴُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجاهِدُونَ فی سَبیلِ اللَّهِ بِاٴَمْوالِهِمْ وَ اٴَنْفُسِهِمْ )

واضح ہے کہ ” قاعدون“ سے مراد یہاں وہ افراد ہیں جنھوں نے اصول ِ ایمان پر ایمان رکھنے کے باوجود ہمت اور جوانمردی نہ دکھانے کی وجہ سے جہاد میں شرکت نہیں کی ۔ اگر چہ ان کے لئے یہ جہاد واجب عینی نہیں تھا کیونکہ اگر ان کے لئے واجب ہوتا تو قرآن ان کے بارے میں ایسے نرم اور ملائم لہجے میں بات نہ کرتا او را ٓیت کے آخر میں ان سے بدلے اور جزا کا وعدہ نہ کرتا اس وجہ سے جب یہ صورتحال ہو کہ جہاد واجب عینی نہ ہو” مجاہدین “ قاعدین “ کے مقابلے میں واضح طور پر برتر ہیں بہر حال اس آیت میں وہ لوگ شامل نہیں ہیں جو نفاق یا دشمنی کی وجہ سے جہاد میں شریک نہیں ہوئے

ضمنی طور پر یہ خیال رکھنا چاہیئے کہ ” غیر اولی الضرر“کی تعبیر ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے ، جو ان تمام افراد کو ( جہاد سے ) مستثنیٰ قرار دیتی ہے جوکسی عضو کے نقص ، بیماری یا بہت زیادہ کمزوروی اور ضعف وغیرہ کے سبب جہاد میں شرکت کی سکت نہیں رکھتے اس کے بعد پھر مجاہدین کی بر تری اور فضیلت کو صراحت اور فصاحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :

خدا ان مجاہدین کو جو جان و مال سے اس کی راہ میں جنگ کرتے ہیں ، ان لوگوں پر عظیم فضیلت بخشتا ہے جو میدان جہاد میں شرکت سے اجتناب او رکنارہ کشی کرتے ہیں( فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجاهِدینَ بِاٴَمْوالِهِمْ وَ اٴَنْفُسِهِمْ عَلَی الْقاعِدینَ دَرَجَةً ) (۱)

لیکن باوجود اس کے جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ مجاہدین کے گروہ کے مد مقابل وہ افراد ہیں جن پر جہاد ” واجب عینی “ نہیں تھا ۔ یا وہ بیماری، ناتوانی یا د یگر علل کی وجوہ سے میدان جہاد میں شرکت کی سکت نہیں رکھتے تھے ۔ لہٰذا اس وجہ سے کہ ان کی صالح نیت ایمان او رنیک اعمال نظرانداز نہ ہوں انھیں بھی خوشخبری دیتے ہوئے فرماتا ہے : دونوں گروہوں ( مجاہدین وغیر مجاہدین ) سے اچھائی کا وعدہ کیا گیا ہے( وَ کُلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنی ) لیکن واضح ہے کہ وہ اچھائی کا وعدہ دونوں سے کیا گیا ہے اس میں بہت زیادہ فرق ہے حقیقت میں قرآن اس بیان کے ذریعے نشاندہی کرتا ہے کہ ہر نیک کام کا حصہ اپنی جگہ پر محفوظ ہے اور بھولنے والا نہیں ۔ خصوصاًجبکہ بحث جہاد سے کنارہ کش ہونے والے ایسے افراد کے متعلق ہے جو جہاد میں شرکت کرنا چاہتے ہیں اور اسے ایک بہت بڑی سعادت اور مقصد سمجھتے تھے لیکن چونکہ یہ واجب عینی نہ تھا اس بناپر وہ ایک بڑی سعادت سے محروم رہ گئے اس کے باوجود وہ جتنا لگاو اس کام ( جہاد) سے رکھتے ہیں اس قدر جزا پائیں گے اس طرح( اولی الضرر) افراد بھی جو ( بیماری یا کسی عضو کے ناقص ہونے کی وجہ سے میدانِ جہاد میں شریک نہیں ہوئے ) مکمل طور پر اس سے لگاو رکھتے تھے وہ بھی مجاہدین کی جزا او ربدلے میں سے قابلِ ذکر حصہ پائیں گے ۔

جیسا کہ پیغمبر اکرم سے ایک حدیث میں منقول ہے کہ آپ نے لشکر اسلام سے فرمایا:

لقد خلفتم فی المدینة اقواماً ماسرتم سیراً ولاقطعتم وادیاً الاکانوا معکم و هم الذین صحت نیانهم و نصحت جیوهم وهوت افئدتهم الیٰ الجهادو قد منعهم عن المسیر ضرر اوغیره

مدینہ میں تم کچھ لوگوں کو اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو کہ جو اس راہ میں قدم قدم پر تمہارے ساتھ تھے ( اور خدا ئی اجر اور صلے میں شریک تھے ) وہ ایسے لوگ ہیں جن کی نیت پاک ہے اور وہ بہت زیادہ خیر خواہی کرنے والے ہیں اور ان کے دل جہاد کے مشتاق تھے مگر کچھ مجبور یوں مثلاً بیماری اور نقص وغیرہ نے انھیں اس کام سے روک دیا ہے ۔(۲)

لیکن چونکہ اسلام میں جہاد کی اہمیت اس سے بھی کہیں زیادہ ہے لہٰذا دوبارہ مجاہدین کا ذکر کرتے ہوئے تاکید کرتا ہے :

خدا نے مجاہدین کو قاعدین پر اجر عظیم بخشا ہے( وَ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجاهِدینَ عَلَی الْقاعِدینَ اٴَجْراً عَظیماً ) ) ۔

بعد از آں آیت میں ” اجر عظیم “ کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو خدا کی طرف سے اہم درجات اور اس کی بخشش و رحمت ہے( دَرَجاتٍ مِنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَ رَحْمَةً )

اور اگر اس دوران میں کچھ افراد فرائض کی انجام دہی کرتے کرتے ہوئے کچھ لغزشوں کے مرتکب ہوتے ہیں اور اپنے کئے پر پشمان ہیں تو خدانے انسے بھی بخشش ونجات کا وعدہ کیا ہے ۔ لہٰذا آیت کے آخر میں فرماتا ہے( وَ کانَ اللَّهُ غَفُوراً رَحیماً ) ۔

____________________

۱-درجہ کا لفظ بطور نکرہ آیا ہے جیساکہ کتب ادب میں ہے کہ ایسے موقع پر نکرہ وظمت و اہمیت ظاہر کرنے کے لئے ہوتا ہے گویا اس قدر انکا درجہ بلند ہے جو مکمل طور پر پہچانا نہیں جاتا اور یہ اس طرح ہے کہ جب کسی چیز کی بہت زیادہ قدر و قیمت بیان کرنی ہو تو کہا جا تا ہے کہ ا س کی قیمت کو ئی نہیں جانتا۔

۲۔ تفسیر صافی، زیر نظر آیت کے ذیل میں ۔


چند اہم نکات

بلاغت کا ایک پہلو

۱۔ اوپر والی آیت میں تین مرتبہ مجاہدین کا نام آیا ہے پہلی دفعہ مجاہدین کا ذکر ہدف و مقصد اور وسیلہ و ذریعہ کے ساتھ ہوا ہے ( المجاہدین فی سبیل اللہ باموالھم ) اور دوسری دفعہ صرف وسیلہ جہاد کا ذکر ہوا ہے لیکن ہدف و مقصد کا تذکرہ نہیں ہے ( المجاہدین ماموالھم و انفسھم ) اور تیسرے مرحلے میں صرف مجاہدین کا نام آیتا ہے ( المجاہدین ) اور یہ بلاغت کلام کا ایک واضح نکتہ ہے کہ جب سننے والا مرحلہ بہ مرحلہ موضوع سے زیادہ آشنا ہوتاچلا جاتا ہے تو اس کی قیود او رمشخصات کو کم کرتے چلے جاتے ہیں اور آشنائی و شنا سائی کا معاملہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ صرف ایک اشارے ہی سے تما م چیزیں معلوم ہوجاتی ہیں ۔

”درجة“ ” درجات“

۲۔ آیت میں پہلے تو مجاہدین کی قاعدین پر فضیلت وبر تری کے لئے لفظ” درجة“ اور استعمال کیاگیا ہے جبکہ دوسری آیت میں جمع کی صورت میں لفظ” درجات“ استعمال ہوا ہے ظاہراً ان دوتعبیروں میں کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ پہلی تعبیر میں مجاہدین کے مقصد کی اپنے غیر پر اصل فضیلت کا تذکرہ ہے لیکن دوسری طرف تعبیر میں اس برتری کی تفصیل بیان کی گئی ہے اس لئے رحمت و مغفرت کا ذکربھی ساتھ ہے ۔ دوسرے الفاظ میں ان دونوں میں اجمال اور تفصیل والافرق ہے ضمنی طور پر ”درجات “ کی تعبیر سے یہ معنی بھی لیا جاسکتا ہے کہ سب مجاہدین ایک درجہ اور پایہ کے نہیں ہیں اور ان کے خلوص، جانثاری اور تکالیف برداشتکرنے کے لحاظ سے ان کے معنوی اور دنیاوی مقامات بھی مختلف ہیں کیونکہ یہ بات تو طے ہے کہ تمام مجاہدین جو ایک ہی صف میں دشمن کے مقابل کھڑے ہوتے ہیں نہ وہ ایک جتنا جہاد کرتے ہیں اور نہ ہی ایک جیسا خلوص رکھتے ہیں ۔ اسی بناپر ہر ایک اپنے عمل اور نیت کی مناسبت سے جزا اور صلہ پائے گا۔

جہاد کی انتہائی تاکید

جہادعالم آب وگل کا ایک عمومی قانون ہے اور دنیا میں جو بھی چیز ہے چاہے وہ نباتات میں سے ہو یا حیوانات میں سے ۔

جہاد کے ذریعہ اپنا راستہ صاف کرتی ہے تاکہ اپنے مطلوبہ کمالات تک پہنچ جائے مثلاً ہم درخت کی جڑیں دیکھیں تووہ قوت اور غذا حاصل کرنے کے لئے ہر قوت فعال اور متحرک رہتی ہیں اگروہ یہ فعالیت اور سعی چھوڑدیں تو ان کے لئے زندہ رہنا ممکن نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ زمین میں اگر انھیں رکا وٹیں در پیش ہوں تو اگر ان میں اتنی طاقت ہو تو وہ ان میں سوراخ کرکے آگے بڑھ جاتی ہیں تعجب اس بات پر ہے کہ یہ لطیف اور نازک جڑین بعض اوقات فولادی اوزاروں کی طرح اپنے راستے میں آنے والی رکاوٹوں سے ٹکراجاتی ہیں اور اگر یہ جڑیں کمزور ہو ں تو بھی راستہ بدل کر رکاوٹ عبور کرلیتی ہیں ۔

اگر ہم اپنے جسم کو دیکھیں تو اس کے اندر بھی رات دن بلکہ سوتے جاگتے ایک عجیب و غریب قسم کی جنگ جاری رہتی ہے یہ جنگ ہمارے خون کے سفید جرثوموں اور حملہ آور دشمن کے درمیان جاری رہتی ہے اگر ایک لمحے کے لئے بھی یہ جنگ رک جائے اور جسم کی حفاظت کرنے والے یہ محافظ جنگ سے دستبردار ہو جائیں تو طرح طرح کے مو ذی امراض ہمارے جسم کو گھیر لیں او رہماری سلامتی کو خطرہ لاحق ہو جائے ۔

بالکل یہی صورت انسانی معاشروں ، قوموں او رملتوں کی ہے وہ لوگ جو ہمیشہ جہاد اور نگہبانی کی حالت میں رہتے ہیں ہمیشہ زندہ او رکامران رہتے ہیں اور وہ لوگ جو سوچتے ہیں کہ عیش و عشرت میں وقت گذارا جائے اور جو انفراد سطح پر زندہ رہنا چاہتے ہیں وہ جلد بدیر مٹ جا تے ہیں او ران کی جگہ زندہ او رمجاہد قوم لے لیتی ہے یہی وجہ ہے کہ رسول خدا فرماتے ہیں :

فمن ترک الجهاد البسه ذلا و فقرا فی معیشة و محقاً فی دینه انّ الله اعزامتی بسنابک خیلها و مراکز و ماحها ۔(۱)

” جو شخص جہاد کو ترک کردیتا ہے خدا اسے ذلت کا لباس پہنا دیتا ہے اور فقر و فاقہ اس کی زندگی پر اور تاریکی و سیاہی اس کے دین پر منحوس سائے کی طرف چھا جاتی ہے ۔ خدا وند عالم میری امت کو گھوڑوں کے سموں کے ذریعے جوجہاد میں آگے جاتے ہیں اور نیزوں کی انیوں کے وسیلے سے عزت بخشتا ہے ۔“

رسول خدا ایک اور موقع پر فرما تے ہیں :

اغزوا تورثوا ابنآ ء کم مجداً ۔(۲)

” جہاد کرو تاکہ عظمت اپنی اولاد کو ورثے میں دے جاو“۔

حضرت علی امیر المومنین (علیه السلام)خطبہ جہاد میں اس طرح فرماتے ہیں :

فان الجهاد باب من ابواب الجنة فتحه الله لخاصة اولیائه وهو لباس التقوی و درع اللّه المعینة و جنة الوثیقه فمن ترکه رغبة عنه البسه الله ثوب الذل و شمه البلاء و دیث الصغار و القماء ة (۳)

” جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جسے خد انے اپنے مخصوص دوستوں کے لئے کھول رکھا ہے ، جہاد تقویٰ کا پر فضیلت لباس ہے ، جہاد خدا کی ناقابل شکست زرہ ہے ، جہاد پروردگار عالم کی سپر اور ڈھال ہے ، جو شخص جہاد کو تر ک کردیتا ہے خدا اس کے جسم پر ذلت اور مصیبت کا لباس پہنا دیتا ہے اور اسے لوگوں کی نگاہ میں ذلیل و خوار کردیتا ہے “۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جہاد صرف مسلح جنگ وجدال کا نام نہیں بلکہ جہاد میں ہر وہ کوشش اور شامل ہے جو خدا ئی مقدس اہداف و مقاصد کے حصول میں مدد گار ثابت ہو ۔ جہاد کا مفہوم دفاعی او رمسلح جنگوں کے علاوہ علمی ، منطقی ، اقتصادی اور سیاسی مقابلوں پربھی محیط ہے ۔

____________________

۱ ۔وسائل کتاب جہاد ابواب جہاد العددویناسبہ باب یکم حدیث ( ۱۶۰)

۲ ۔وسائل کتاب جہاد ابواب جہاد العددویناسبہ باب یکم حدیث ( ۱۶۰)

۳ ۔ نہج ا؛لبلاغة خطبہ ۲۷۔


آیات ۹۷،۹۸،۹۹

۹۷ ۔إ( ِنَّ الَّذینَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلائِکَةُ ظالِمی اٴَنْفُسِهِمْ قالُوا فیمَ کُنْتُمْ قالُوا کُنَّا مُسْتَضْعَفینَ فِی الْاٴَرْضِ قالُوا اٴَ لَمْ تَکُنْ اٴَرْضُ اللَّهِ واسِعَةً فَتُهاجِرُوا فیها فَاٴُولئِکَ مَاٴْواهُمْ جَهَنَّمُ وَ ساء َتْ مَصیراً ) ۔

۹۸۔ا( ِٕلاَّ الْمُسْتَضْعَفینَ مِنَ الرِّجالِ وَ النِّساء ِ وَ الْوِلْدانِ لا یَسْتَطیعُونَ حیلَةً وَ لا یَهْتَدُونَ سَبیلاً ) ۔

۹۹۔( فَاٴُولئِکَ عَسَی اللَّهُ اٴَنْ یَعْفُوَ عَنْهُمْ وَ کانَ اللَّهُ عَفُوًّا غَفُوراً ) ۔

ترجمہ

۹۷۔وہ لوگ کہ جن کی روح ( قابض ارواح) فرشتوں نے قبض کی جب کہ وہ اوپر ظلم کرچکے تھے اور ان سے کہا کہ تم کس حالت میں تھے ( او رمسلمان ہونے کے باوجود کفار کی صف میں کیوں کھڑے ہوئے) تو انھوں نے کہا کہ ہم اپنی سر زمین پر انتشار اور دباو میں تھے تو ان ( فرشتوں ) نے کہا تو کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم ہجرت کرجاتے پس ان ( کے پاس کوئی عذر و معذرت نہیں تھی اور ان ) کے رہنے کی جگہ جہنم ہے اور ان کا انجام برا ہے ۔

۹۸۔ مگر ایسے مرد ، عورتیں اور بچے جو واقعاً دباو او رجبر کا شکار تھے کہ جن کے پاس ( اس آلود ہ ماحول سے نجات پانے کے لئے )نہ کوئی چارہ نہ تھا اور نہ کوئی راہ ۔

۹۹۔ممکن ہے خدا انھیں عفو کے قابل قرار دے اور خدا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے ۔

شانِ نزول

جنگ بدر کی ابتدا سے قبل سر داران قریش نے یہ خطر ناک اعلان کیا تھا کہ مکہ کے تمام رہنے والے جو میدان جنگ میں شرکت کرنا چاہتے ہیں ، مسلمانوں سے جنگ کرنے لئے نکل کھڑے ہو ں اور جو اس کام کی مخالفت کرے گا اس کا گھر ویران کردیاجائے گا اور اس کامال ضبط کرلیا جائے گا اس دھمکی کے بعد کچھ افراد جو بظاہر ایمان لاچکے تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھیں گھر اور مال و متاع انتہائی عزیز تھا وہ ہجرت کے لئے تیار نہ ہوئے او ربت پرستوں کے ساتھ میدان جنگ کی طرف چل پڑے میدان جنگ میں انھوں نے مشرکین کا ساتھ دیا وہ مسلمانوں کی کم تعداد کو دیکھ کر شک و شبے میں مبتلا ہو گئے اورآخر کار میدانِ جنگ میں قتل ہو گئے درج بالا آیت اسی ضمن میں نازل ہو ئی جس میں ان کا عبرت ناک انجام بیان کیا گیا ہے ۔

تفسیر

جہادسے متعلق مباحث کے بعد ان آیات میں ایسے لوگوں کے عبرت ناک انجام کی طرف اشارہ کیا گیا جو اسلام کا دم بھر تے تھے لیکن انھوں نے اسلام کے اہم لائحہ حمل یعنی ” ہجرت“ کو حملاً نظر انداز کئے رکھا جس کے نتیجے میں وہ خطر ناک وادیوں میں پہنچ گئے او رمشرکین کی صفوں میں شامل ہوکر انھوں نے جانیں گنوادیں قرآن کہتا ہے : وہ لوگ کہ ( قبض روح کرنے والے ) فرشتوں نے جن کی روح اس حالت میں قبض کی کہ جب انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کررکھا تھا انھوں نے ان سے پوچھا کہ اگر تم لوگ مسلمان تھے تو پھر کفار کی صفوں میں شامل ہو کر تم نے مسلمانوں سے کیوں جنگ کی (ا( ِٕنَّ الَّذینَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلائِکَةُ ظالِمی اٴَنْفُسِهِمْ قالُوا فیمَ کُنْتُمْ ) ۔

وہ جواب میں معذرت خواہی سے کہتے ہیں : ہم اپنے ماحول میں جبر اور دباو میں تھے اس لئے ہم فرمان الہٰی پر عمل کی طاقت نہیں رکھتے تھے( قالُوا کُنَّا مُسْتَضْعَفینَ فِی الْاٴَرْضِ ) ۔

لیکن ان کی یہ معذرت قابل ِ قبول نہ ہوگی اور فوراً وہ خدا کے فرشتوں سے یہ جواب نسیں گے کہ کیا پروردگار کی زمین وسیع و عریض نہ تھی کہ تم ہجرت کرتے اور اپنے آپ کو اس آلودہ اور گھٹے ہوئے ماحول سے نکال کر لے جاتے( قالُوا اٴَ لَمْ تَکُنْ اٴَرْضُ اللَّهِ واسِعَةً فَتُهاجِرُوا فیها )

آخر میں اس کے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : اس قسم کے لوگ جنھوں نے بیکار عذر داری اور ذاتی مصلحت اندیشوں کے سبب ہجرت نیہں کی اورانھوں نے اس گھٹے ہوئے ماحول میں زندگی گذارنے کو ترجیح دی ہے ان کا ٹھکا نہ جہنم ہے اور وہ بہت برا انجام ہے( فَاٴُولئِکَ مَاٴْواهُمْ جَهَنَّمُ وَ سائَتْ مَصیراً ) ۔

بعد والی آیت میں مستضعفین ، حقیقی کمزور اور عاجز افراد ( نہ کہ جھوٹے مستضعفین ) کے استثناء کے ساتھ فرماتا ہے : وہ مرد عورتیں اور بچے جو اس گھٹن زدہ ماحول سے نکلنے کا وئی راستہ نہیں پاتے وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ یہ لوگ حقیقتاً معذور ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ خدا ناقابل حمل ذمہ داری لاگو کردے( إِلاَّ الْمُسْتَضْعَفینَ مِنَ الرِّجالِ وَ النِّساء ِ وَ الْوِلْدانِ لا یَسْتَطیعُونَ حیلَةً وَ لا یَهْتَدُونَ سَبیلاً ) ۔

آخری آیت میں فرماتا ہے : ہوسکتا ہے عفو خداوندی ان کے شامل حال ہو اور خدا ہمیشہ سے معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے( فَاٴُولئِکَ عَسَی اللَّهُ اٴَنْ یَعْفُوَ عَنْهُمْ وَ کانَ اللَّهُ عَفُوًّا غَفُوراً ) ۔

یہ بھی سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ اگر یہ افراد حقیقتاً معذور ہیں تو پھر کیوں نہیں فرماتا کہ خدا حتماً او ریقینا انھیں بخش دے گا وہ تو کہتا ہے ” عسیٰ “

( شاید ) اس سوال کا جواب وہی ہے جو اس سورہ کی آیت ۸۴ کے ذیل میں بیان ہو چکا ہے کہ اس طرح کی تعبیروں سے مراد کیا ہے ۔ اس آیت میں مذکورحکم چند شرائط کے ساتھ آیا ہے جن پر غور کرنے ضرورت ہے ۔

خدا اس قسم کے افراد سے عفو کرتا ہے جنھوں نے موقع ملنے پر ہجرت کے عمل سے تھوڑی سی کوتا ہی بھی نہ کی ہو ۔ اصطلاح کے مطابق اس کام کے ضمن میں کوئی کسر نہ چھوڑی ہو اور اب بھ موقع ملتے ہی ہجرت کرنے پر آمادہ اور تیار ہوں ۔

چند اہم نکات

۱۔ روح کی استقامت

اس آیت میں موت کی بجائے” توفیّٰ“ کا لفظ حقیقت میں اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ موت کا معنی نابود او رفنا ہونا نہیں ہے بلکہ ایک قسم کی” فرشتوں کی ایک جماعت اور روح انسانی کو پالینا“ ہے یعنی وہ اس کی روح کو جوکہ اس کے وجود کا سب سے بنیادی حصہ ہے نکال کر ایک دوسرے جہان میں لے جاتے ہیں ایسی تعبیر جو قرآن میں بار ہا آئی ہے در اصل قرآن مجید کا اس امر کی طرف ایک واضح ترین اشارہ ہے کہ موت کے بعد باقی رہتی ہے اس کی تفصیل مختلف آیات میں مناسب موقع پر آتی رہے گی یہ جواب ان لوگوں کے لئے ہے جو کہتے ہیں کہ قرآن نے روح کا کہیں ذکر نہیں کیا۔

۲۔ روح قبض کرنے والے ، ایک یا ایک ست زائد فرشتے

قرآن میں کئی ایک مقامات ( ۱۲ مقامات) ہیں جن میں ”توفیّٰ“(۱)

اور موت کا تذکرہ ہے اس کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ روح قبض کرنے کے لئے ایک ہی فرشتہ متعین نہیں کیا گیا بلکہ بہت سے فرشتوں کے ذہ یہ کام ہے جو لوگوں کی ارواح کو اس جہاں سے دوسرے جہان میں لیجانے پر مامور ہیں ۔ درج بالا آیت میں فرشتوں کا ذکر جمع کے صیغے( الملائکہ ) کے ساتھ آیا ہے ۔

یہ بھی اس امر کا گواہ ہے سورہ انعام کی آیت ۶۱ میں ہے :

( حتی اذا جاء احدکم الموت توفته رسلنا )

” جب تم میں سے کسی ایک کی موت کا وقت آتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے ( فرشتے) اس کی روح قبض کرتے ہیں “۔

اب اگر ہم دیکھیں کہ بعض آیات میں یہ امر ملک الموت( موت کا فرشتہ) سے منسوب کیا گیا ہے(۲)

تو وہ اس مفہوم میں ہے کہ وہ ان تمام فرشتوں کو سر دار ہے جو ارواح قبض روح کرنے پر مامور ہیں اور اسی فرشتے کو احادیث میں ” عزرائیل“ کے نام سے یا کیا گیا ہے اس بناپر جب لوگ سوال کرتے ہیں کہ ایک فرشتہ کس طرح ایک ہی وقت میں تمام مقامات پر حاضر ہو کر انسانوں کی روح قبض کرتا ہے تو اس کا جواب اس بیان سے واضح ہوجاتا ہے ۔

اس کے علاوہ اگر فرض کریں کہ اور فرشتے نہیں ہیں اور صرف ایک فرشتہ ہے پھر بھی کوئی مشکل پید انہیں ہوتی کیونکہ اس کا اکیلا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا دائرہ کا ر بہت وسیع ہے کیونکہ ایک ایسا وجود جو مادے سے نہ بنا ہو اس کا میں مادی اشیاء کی نسبت وسیع احاطہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے جیسا کہ ایک حدیث میں ملک الموت کے بارے میں امام صادق (علیه السلام) سے منقول ہے کہ جب پیغمبر اکرم نے ملک الموت سے اس جہان پر احاطہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا:

مالدنیا کلها عندی فیما سخرها الله لی ومکنتی علیها الاکلدرهم فی کف الرجل یقبله کیف یشائ

یہ جہاں اور جو کچھ اس میں ہے اس تسلط اور احاطہ کے لحاظ سے جو خدا نے مجھے بخشا ہے میرے نزدیک اس درہم ( روپیہ) کی مانند ہے جو کسی شخص کے ہاتھ میں ہو کر کہ جس طرح چاہے الٹ پھیر کردے ۔(۳)

بعض آیات میں روح قبض کرنے کا تعلق خداسے وابستہ کیا گیا ہے ۔ مثلاً

( الله یتوفی الانفس حین موتها )

” خدا موت کے وقت جانوں کو قبض کرتا ہے “ ( سورہ زمر ۴۲)

یہ گذشتہ آیات سے متضاد نہیں کیونکہ جن معاملات میں کام واسطوں کے ذریعے ہوتے ہیں وہاں بعض اوقات کاک کی نسبت وسیلوں کی طرف دی جاتی ہے او رکبھی اس طرف کہ جا اسباب اور وسیلے پیدا کرتا ہے دونوں نسبتیں صحیح ہیں بہتر نظریہ یہ ہے کہ دنیا کے بہت سے حوادث کی نسبت قرآن مجید میں فرشتوں کی طرف دی گئی ہے جو خدا کی جانب سے عالم ہستی میں مامور ہیں ۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ فرشتہ ایک وسیع معنی رکھتا ہے اور اس مفہوم میں عاقل مجرد موجودات سے لے کر طبعی توانائیاں تک شامل ہیں ۔

۳۔ مستضعف کون ہے ؟

آیات قرآن اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو افراد فکری ، جسمانی یا اقتصادی طور پر اتنے ضعیف او رکمزور ہوں کہ حق و باطل میں تمیز نہ کر سکیں یا جو با وجود صحیح عقیدہ کھنے کے جسمانی یا مالی طور پر کمزوری کے باعث یا معاشرے کی نارواپابندیوں کے سبب اپنے فرائض ادا نہ کرسکتے ہوں اور نہ ہی ہجرت کے قابل ہوں انھیں مستضعف کہتے ہیں ۔ حضرت علی (علیه السلام) سے منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا:

ولا یقع اسم الاستضعاف علی من بلغة الحجة فسمعتها اذنه ووعا ها قلبه ۔

” وہ شخص مستضعف نہیں ہے جس پر حجت تمام ہو چکی ہو اس نے حق کو سنا ہو اور اس کے ذہن نے اس کا ادراک کیا ہو“۔(۴)

امام موسی ٰ بن جعفر (علیه السلام) سے پوچھا گیا: مستضعف کون ہے ؟ امام نے اس سوال کے جواب میں تحریر فرمایا:

الضعیف من لم ترفع له حجة ولم یعرف الاختلاف فاذا عرف الاختلاف فلیس بضعیف ۔

مستضعف وہ شخص ہے جس تک حجت اور دلیل نہ پہنچی ہو او روہ ( مذاہب اور عقائد کے بارے میں ) موجود اختلاف کو نہ سمجھ سکا ہو (جوکہ محرک تحریک ہے)اور اس چیز کو سمجھ چکا ہو وہ مستضعف نہیں ہے “۔( نور الثقلین جلد اول صفحہ ۵۳۹)

واضح ہے کہ اوپر والی دونوں احادیث میں مستضعف فکری اور عقیدہ کے لحاظ سے ہے لیکن زیر بحث آیت میں او راسی سورہ کی آیہ ۷۵ میں جو بیان ہو چکی ہے مستضعف سے مراد عملی مستضعف ہے یعنی وہ شخص جس نے حق کی تشخیص کرلی ہو لیکن ماحول کا جبر اور گھٹن اسے عمل کی اجازت نہ دیتا ہو ۔

____________________

۱”توفیّ“ کے معنی کے سلسلہ میں تفسیر نمونہ جلد دوم صفحہ ۳۴۱ کی طرف مراجعہ فرمائیں اردو ترجمہ

۲۔سورہ سجدہ آیت ۱۱

۳ ۔تفسیر برہان جلد ۲ صفحہ ۲۹۱ آیت ۱ سورہ اسرا کے ذیل میں ۔

۴ ۔نو ر الثقلین جلد اول صفحہ ۵۳۶۔


آیت ۱۰۰

۱۰۰۔( وَ مَنْ یُهاجِرْ فی سَبیلِ اللَّهِ یَجِدْ فِی الْاٴَرْضِ مُراغَماً کَثیراً وَ سَعَةً وَ مَنْ یَخْرُجْ مِنْ بَیْتِهِ مُهاجِراً إِلَی اللَّهِ وَ رَسُولِهِ ثُمَّ یُدْرِکْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اٴَجْرُهُ عَلَی اللَّهِ وَ کانَ اللَّهُ غَفُوراً رَحیماً ) ۔

ترجمہ

۱۰۰۔ اور جو شخص راہ خدا میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بہت سے اور وسیع امن کے خطے پالے گا او رجو شخص اپنے شہر سے خدا اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرے پھر اسے موت آجائے تو اس کا اجر و ثواب خد اپر ہے اور خدا بخشنے والا او رمہر بان ہے ۔

تفسیر

ہجرت. اسلام کا ایک اصلاحی حکم

جو لوگ ہجرت کے فریضہ سے کوتاہی کرکے طرح طرح کی ذلتوں او ربد بختیوں کا شکار ہو جاتء ہیں ان کے تذکرے کے بعداس آیت میں قطعی طور پر ہجرت کی اہمیت کے سلسلہ میں دو حصوں میں بحث ہوئی ہے ۔

سب سے پہلے دنیا وی زندگی میں ہجرت کے ثمرات اور بر کات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : ( جو لوگ خدا کی راہ میں اور خدا کے لئے ہجرت کرتے ہیں انھیں خدا کے اس وسیع جہاں میں امن کی بہت سی اور وسیع جگہیں میسر آئیں گی جن میں رہ کر وہ حق کو فروغ دیں گے اور مخالفین کو زیر کرسکیں گے

( وَ مَنْ یُهاجِرْ فی سَبیلِ اللَّهِ یَجِدْ فِی الْاٴَرْضِ مُراغَماً کَثیراً وَ سَعَةً ) ۔

غو رکرنا چاہئیے کہ ” مراغم“ رغام ( بر وزن کلام ) کے مادہ سے بمعنی” خاک اور مٹی“ لیا گیا ہے ۔ ارغام کا کعنی ہے کسی کو مٹی میں رگیدنا اور ذلیل کرنا او رمراغم اسم مفعول بھی ہے اور اسم مکان بھی ۔ لیکن زیر نظر آیت میں اسم مکان کے معنی میں آیا ہے یعنی وہ مکان جہاں حق کا اجر اکر سکتے ہیں اور اگر کوئی شخص عناد کی وجہ سے حق کی مخالفت کرے تو اسے مغلوب کرکے اسے گھٹنے ٹیکنےپر مجبور کرسکتے ہیں ۔ اس کے بعد ہجرت کے معنوی اور آخروی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : اگر کچھ لوگ ہجرت کے ارادہ سے اپنے گھر اور وطن سے خدا اور پیغمبر کی طرف ہجرت کریں اور ہجرت کے مقام تک پہنچنے سے پہلے انھیں موت آجائے تو ان کا اجر اور ثواب خدا کے ذمہ ہے اور خدا ان کے گناہوں کو بخش دے گا( وَ مَنْ یَخْرُجْ مِنْ بَیْتِهِ مُهاجِراً إِلَی اللَّهِ وَ رَسُولِهِ ثُمَّ یُدْرِکْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اٴَجْرُهُ عَلَی اللَّهِ وَ کانَ اللَّهُ غَفُوراً رَحیماً ) ۔

اس وجہ سے ہجرت کرنے والے ہر صورت میں ایک عظیم کامیابی حاصل کریں گے چاہے وہ اپنی منزل پر پہنچ جائیں اور حریت و آزادی کے ساتھ اپنے فرائض کی ادائیگی سے بہرہ ور ہوں اور منزل مقصود تک پہنچ جائیں اور چاہے وہ ایسا نہ کرسکیں اور اپنی جان اس راہ میں قربان کردیں ۔ اس کے باوجود ہر قسم کا اجر و ثواب خدا ہی کے ذمہ ہے ، لیکن یہاں خصوصیت کے ساتھ اس بات کا تذکرہ ہے ”فقد وقع اجره علی الله “ یعنی اس کا اجر خدا پر لازم ہو چکا ہے ، یہ امر ہجرت کرنے والوں کے اجر و ثواب کی انتہائی عظمت و اہمیت کا مظہر ہے ۔

اسلام اور ہجرت

اس آیت اور قرآن کی بہت سی دوسری آیات کے مطابق اسلام صراحت کے ساتھ حکم دیتا ہے کہ انسان اگر کسی ماحول میں کچھ عوامل و اسباب کی بناپر ذمہ داری نبھا نہ سکے تو دوسرے ماحول او رمقام امن کی طرف ہجرت کرے کیونکہ جہاں ہستی کے باوجود

نتواں مرد بہ ذلت کہ درینجا زادم

( یعنی اس وجہ سے ذلت کے ساتھ کسی جگہ نہیں مرنا چاہےئے کہ یہ میری جائے پیدا ئش ہے )

اور اس حکم کی علت او رسبب واضح ہے کیونکہ انسان کسی خاص مقام کا پابند نہیں ہے وہ کسی معین مقام او رماحول سے وابستہ اور اس میں محدود نہیں ہے اس طرح انسان کا اپنی جائے پیدائش او راس کے ماحول او رعلاقے سے انتہائی لگاو اسلام کے نقطہ نظر سے مسلمانوں کی ہجرت سے مانع نہیں ہوسکتے یہی وجہ ہے کہ صدر اسلام میں یہ تمام وابستگیاں اسلام کی حفاظت اور ترقی کے لئے منقطع کر ہی گئیں ایک مغربی مورخ کے بقول

قبیلہ او رخاندان و ہ اکیلا درخت سے جو صحرامیں اگتا ہے اور کوئی شخص اس کی پناہ اور سائے کے بغیر زندگی بسر نہیں کرسکتا لیکن محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ہجرت کے ذریعے اس درخت کو جس نے ان کے خاندان کے لئے گوشت او رلہو سے پرورش پائی تھی اپنے پروردگار کے لئے کاٹ دیا

( اور قریش سے اپنا رابطہ ختم کردیا ) ۔ ( محمد خاتم پیامبران جلد اوّل ) ۔

علاوہ ازیں تمام زندہ موجودات میں یہ بات مشترک ہے کہ جب وہ اپنے وجود کو خطرے میں دیکھتے ہیں تو ہجرت کا راستہ اختیار کرتے ہیں اس سے پہلے سے لوگوں نے کسی علاقے کے گرافیائی حالات کے متغیر ہونے کے بعد اپنی زندگی کی بقا کے لیے اپنے وطن اور جائے پیدائش سے دوسرے علاقوں کی طرف کوچ کیا ہے نہ صرف انسان بلکہ جانداروں میں بہت سی ایسی انواع ہیں جو مہاجر کے طور پر پہچانی گئی ہیں ۔ مثلاًبعض ہجرت کرنے والے پرندے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی زندگی کی بقا کے لئے بعض اوقات پورے کرہ ارض کی سیر کرتے ہیں اور ان میں سے بعض تو قطب شمالی سے قطب جنوبی تک کا سفر طے کرتے ہیں اور اس طرح اپنی زندگی کی بقا کے لئے تقریباً ۱۸ ہزار کلو میٹر تک پرواز کرتے ہیں اور یہ چیز اس بات کا ثبوت ہے کہ ہجرت حیات و زیست کو رواں دواں رکھنے کے قوانین میں سے ہے تو کیا ممکن ہے کہ انسان ایک پرندے سے بھی کم تر ہے ؟ یا یہ ہوسکتا ہے کہ جب مقدس مقاصد و اہداف اور حیات معنوی جن کی قدر و قیمت مادی زندگی سے کہیں زیادہ ہے ، خطرے میں پڑجائیں تو انسان اس عذر کی بناپر کہ یہ میری جائے پیدا ئش ہے اپنے اہداف و مقاصد کو چھوڑ دے اپنے آپ کو طرح طرح کی ذلت و خواری ، محرومی اور غلامی کے سپرد کر دے ، یا یہ کہ وہ اس عمومی قانون حیات کے مطابق اس علاقے سے ہجرت کرجانے او رکسی ایسی جگہ منتقل ہو جائے جو اس کی مادی و روحانی نشو ونما اور رشد کے لئے مناسب ہو ۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ وہ ہجرت جو اپنی حفاظت کی بجائے دین اسلام کے تحفظ کے لئے ہوئی مسلمانوں کی تاریخ کی ابتداہے اور یہ ہجرت ہمارے تمام سیاسی ،تبلیغی اور معاشرتی معاملات کے لئے بنیاد فراہم کرتی ہے باقی رہا یہ سوال کہ ہجرت ِ پیغمبر اکرم کا سال اسلام کی تاریخ کے ابتداکے طور پر کیوں منتخب ہوا ہے ۔

تو یہ بات بھی قابل توجہ ہے ہم جانتے ہیں کہ ہر قوم و ملت کی اپنی ایک تاریخی ابتداہوتی ہے ، عیسائیوں نے اپنی تاریخ کی ابتدا حضرت مسیح (علیه السلام)کے سال پیدائش سے شمار کی ہے اسلام میں باوجودیکہ بہت سے اہم واقعات تھے ۔ مثلاً ولادت پیغمبر اسلام ، آپ کی بعثت ، فتح مکہ اور رحلت پیغمبراکرم ، پھر بھی ان میں سے کوئی واقعہ منتخب نہیں ہوااور صرف ہجرتِ رسولِ خدا تاریخ کی ابتدا کا عنوان ٹھہری ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ خلیفہ دوم کے وقت جب اسلام طبعی طورپر وسعت حاصل کر چکا تھا مسلمانوں کو ایسی ابتدا ئے تاریخ کے تعین کی فکر لاحق ہوئی جو عمومی لحاظ سے سب کے لئے یکسان ہو ۔ بہت ردد قد کے بعد حضرت علی (علیه السلام) کے نظریہ کو قبول کرلیا گیا، حضرت علی (علیه السلام) نے ابتدائے تاریخ کے لئے ہجرت کا انتخاب کیا۔(۱)

حقیقت میں بھی ایسا ہی ہونا چاہئیے تھا کیونکہ ہجرت وہ روشن قدم تھا جسے اسلام میں عملی جامہ پہنایا گیا اور جو تاریخ اسلام کی فصلِ نوکا آغاز بنا مسلمان جب تک مکہ میں تھے اپنی تعلیم و تربیت کےابتدائی دور سے گذرہے تھے ظاہراً وہاں وہ کسی قسم کی اجتماعی اور سیا سی طاقت نہ تھے لیکن ہجرت کے فوراً بعد اسلامی حکومت کی تشکیل ہوئی اور بڑی تیزی کے ساتھ ہر شعبہ زندگی میں ترقی ہوئی اور اگر مسلمان فرمان رسالت کے مطابق اس طرح ہجرت نہ کرتے تونہ صرف یہ کہ اسلام مکہ کے دائرے سے باہر نہ نکلنا بلکہ ممکن تھا کہ وہیں خاموش اور دفن ہو جاتا۔

واضح ہے کہ ہجرت کوئی ایسا حکم نہیں کہ جو زبان ِ پیغمبر اکرم کے ساتھ مخصوص ہو بلکہ ہر عہد اور زمانہ میں کسی جگہ بھی ایسے حالات ہوں تو مسلمانوں کی ذمہ داری فریضہ ہے کہ وہ ہجرت کریں ۔

بنیادی طور پر قرآن ہجرت کو آزادی اور سکون کے حصول کا ذریعہ سمجھتا ہے ۔ جیسا کہ زیر بحث آیت میں صراحت کے ساتھ آیا ہے ۔ سورہ نحل آیة ۴۱ میں بھی یہ حقیقت ایک اور طریقے سے بیان ہوئی ہے :

( و الذین هاجروا فی الله من بعد ماظلموا النبو ئنهم فی الدنیا حسنة )

اور وہ لوگ جن پر ظلم کئے گئے اور اس کے بعد انھوں نے راہِ خدا میں ہجرت اختیار کی وہ دنیا میں پاکیزہ مقام حاصل کریں گے ۔

اس نکتہ کاتذکرہ بھی ضروری ہے کہ ہجرت اسلام کی نگاہ میں صرف مکانی اور خارجی ہجرت نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ اس ہجرت سے پہلے اندر اور باطن سے ہجرت کا آغاز ہو اور اس ہجرت سے مراد ہجرت اور دوری ہے ان چیزوں سے کہ جو انسان کی اصالت ، اس کے مرتبے اور اعزاز سے ٹکراتی ہوں یہ ہجرت اس لئے ہے کہ تاکہ اس کے زیر اثر انسان خارجی اور مکانی ہجرت کے لئے آمادہ ہوسکے اور یہ ہجرت ضروری ہے تاکہ اگر ہجرت مکانی کی ضرورت پڑے تو اس باطنی ہجرت کے زیر اثر انسان راہِ خدا میں ہجرت کرنے والوں کے ساتھ شامل ہو سکے اصولی طور پر روحِ ہجرت وہی ظلمت سے نور، کفر سے ایمان اور گناہ و نافرمانی سے اطاعتِ خدا وندی کے لئے دیوانہ وار نکل پڑنا ہے اسی لئے ہم احادیث میں پڑھتے ہیں کہ وہ مہاجرین جنھوں نے جسمانی طور پر ہجرت کی مگر روحانی ہجرت نہیں کی وہ مہاجرین کی صفوں میں شمار نہیں ہوتے اس کے مقابلے میں وہ لو گ جنھیں مکانی ہجرت کی ضرورت نہیں تھیں لیکن وہ باطنی طور پر ہجرت میں شامل تھے وہ مہاجرین کے زمرے میں داخل ہوگئے ۔ امیر المومنین حضرت علی (علیه السلام) فرماتے ہیں :۔

ویقول الرجل هاجرت، له یهاجر، انما المهاجرون الذین یهجرون السیئات و لم یاٴتو ابها

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے ہجرت کی ہے حالانکہ حقیقت میں انھوں نے ہجرت نہیں حقیقی ہجرت کرنے والے وہ ہیں جو گناہوں سے ہجرت اختیار کرتے ہیں اور ان کے مرتکب نہیں ہوتے ۔( سفینة البحار ( ہجر)

پیغمبراکرم نے فرمایا:

من من قو بدینه من ارض الیٰ الارض و ان کان شبراً من الارض استوجب الجنة و کان رفیق محمد و ابراهیم علیهم السلام

جو شخص اپنے دین کی حفاظت کے لئے ایک سر زمین سے دوسری سر زمین کی طرف ایک بالشت برابر ہجرت کرے تو وہ جنت کا مستحق ہوجاتا ہے اور محمد و ابراہیم علیہہم السلام کیک رفاقت اور جانشینی اسے نصیب ہو گی( کیونکہ یہ دونوں عظیم پیغمبر عالمِ ہستی میں ہجرت کرنیوالوں کے پیشوا اور رہنما تھے )(نو ر الثقلین ،جلد اول صفحہ ۵۴۱) ۔

____________________

۱۔تاریخ طبری جلد دوم ص۱۱۲۔


آیت ۱۰۱

۱۰۱۔( وَ إِذا ضَرَبْتُمْ فِی الْاٴَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُناحٌ اٴَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ اٴَنْ یَفْتِنَکُمُ الَّذینَ کَفَرُوا إِنَّ الْکافِرینَ کانُوا لَکُمْ عَدُوًّا مُبیناً ) ۔

ترجمہ

۱۰۱۔ اور جس وقت سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ نماز میں قصر کرو، اگر تمہیں کافروں کے فتنے کا ڈر ہو ، کیونکہ کافر تمہارے واضح دشمن ہیں ۔

تفسیر

نماز ِ مُسافر

گذشتہ آیات” جہاد“ اور” ہجرت“ کے بارے میں بحث کررہی تھیں ۔ اب اس میں ” نماز مسافر“کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب سفر کرو تو کوئی حرج نہیں کہ نماز کو کم اور قصر کرلو، اگر کفارہ کی طرف سے تمہیں خدشہ ہو کیونکہ کافر تمہارے واضح دشمن ہیں( وَ إِذا ضَرَبْتُمْ فِی الْاٴَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُناحٌ اٴَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ اٴَنْ یَفْتِنَکُمُ الَّذینَ کَفَرُوا إِنَّ الْکافِرینَ کانُوا لَکُمْ عَدُوًّا مُبیناً ) ۔

اس آیت میں سفر کو ”ضرب فی الارض“سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ مسافر سفر کرتے وقت زمین کو اپنے پاوں تلے روندتا ہے ۔(۱)

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں نماز قصر کا مسئلہ دشمن کے خطرے کے ساتھ مشروط ہے جبکہ ہم فقہی مباحث میں پڑھتے ہیں کہ نماز قصر ایک عمومی حکم ہے اور اس میں پر خطر اور پر امن سفروں میں کوئی فرق نہیں ہے شیعہ او رہل سنت کی طرف سے کئی ایک روایات جو نماز قصر کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں وہ بھی اس عمومیت کی تائید کرتی ہیں ۔(۲)

اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے قصر والے حکم کو خوف سے مربوط کرنا مندرجہ ذیل چند وجوہ میں سے کسی ایک کی بنا پر ہو ۔

الف: یہ پابندی اور شرط اسلام کے ابتدائی دنوں کی صورتِ حال سے متعلق ہے اور اصطلاح کے مطابق قید غالبی ہے یعنی غالباًان کے سفر خوف و خطر سے بھر پور ہوتے تھے اور جیسا کہ علم اصول میں کہا جا چکا ہے کہ قیود غالبی کا مفہوم نہیں ہوتا جیسا کہ :۔”( وربائبکم الاتی فی حجورکم ) “ تمہاری بیوی کی وہ لڑکیاں جو تمہاری گود میں پلی بڑھی ہیں تم پر حرام ہیں ۔ ( نساء۔ ۳۲)

اس آیت میں بھی یہی مسئلہ در پیش ہے کیونکہ بیوی کی بیٹیاں محارم میں داخل ہیں چاہے وہ اس کی گود میں رہی ہوں یا نہ رہی ہوں غالبا ًجو طلاق یافتہ عورتیں دوسرا شوہر کرتی ہیں وہ جوان ہوتی ہیں اور چھوٹے بچے ان کے ساتھ ہوتے ہیں جو دوسرے شوہر کی گود میں پلتے ہیں اس لئے فی حجورکم (تمہاری گود میں ) کی قید اس آیت میں آئی ہے ۔

ب:۔ بعض مفسرین کا یہ نظر یہ ہے کہ نماز قصر کا مسئلہ پہلے تو خوف کے وقت سے متعلق تھا ( اوپر والی آیت کے مطابق) پھر اس حکم نے وسعت پیدا کی اور یہ تمام مواقع کے لئے عمومیت اختیا رکرگیا۔

ج:۔ ممکن ہے یہ پابندی تاکید پہلو رکھتی ہو یعنی نماز قصر مسافر کے لئے ہر جگہ لازم اور واجب ہے لیکن جب دشمن کا خدشہ ہو تو پھر اس کی زیادہ تاکید ہے ۔ بہرحال اس میں شک و شبہ نہیں کہ آیت کی تفسیر میں آنے والی بہت سی اسلامی روایات کی طرف دھیان دیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نماز مسافر حالتِ خوف سے مخصوص نہیں ہے اسی لئے تو پیغمبر اکرم بھی سفر کی حالت میں یہاں تک کہ مراسم ِ حج میں ( منیٰ کی سر زمین میں ) نماز قصر پڑھتے تھے ۔

ایک سوال جو پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت میں بیان ہوا ہے ” لاجناح علیکم “( تم پر کوئی گناہ نہیں ہے )اور قطعیت کے ساتھ یہ نہیں کہا گیا کہ بس نماز قصر ہی پڑھو تو ایسے میں کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ نماز قصر واجب عینی ہے ، واجب ِ تخییری نہیں ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ بالکل یہی سوال رہبران اسلام سے ہوا اور انھوں نے دو نکات کی طرف اشارہ کیا :

پہلا نکتہ یہ کہ ” لاجناح“ ( تم پر کوئی گناہ نہیں ) کی تعبیر خود قرآن مجید میں بعض مواقع پر وجوب کے معنی میں استعمال ہوئی ہے ، مثل....:

( ان الصفا و المروة من شعائر الله فمن حج البیت او اعتمر فلاجناح علیه ان یطوف بهما ) ( البقرہ: ۱۵۸)

صفا اور مروہ خدا کی شعائر اور نشانیوں میں سے ہیں لہٰذا جو شخص حج و عمرہ ادا کرے اس کے لئے کوئی حرج نہیں کہ ان دونوں کا طواف کرے ( صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا حج و عمرہ دونوں میں واجب ہے اسی لئے تو پیغمبر اکرم اور تمام مسلمان یہ عمل کرتے تھے ۔ بالکل یہی مضمون ایک روایت میں امام باقر علیہ السلام سے نقل ہو اہے ۔(۳)

دوسرے الفاظ میں ” لاجناح“ کی تعبیر زیر بحث آیت میں اور نیز آیت حج میں حرمت کے وہم کی نفی کے لئے ہے ، کیونکہ اسلام کی ابتداء میں صفا مروہ(پہاڑیوں )کے اوپر بت رکھے ہوئے تھے بعض مسلمانوں کا خیال تھا صفا او رمروہ کے درمیان سعی کرنا بت پرستوں کے آداب میں سے ہے حالانکہ ایسانہیں تھا لہٰذا خدا اس غلط فہمی کی نفی کے لئے فرماتا ہے ” کہ کوئی حرج نہیں کہ صفا او رمروہ کے درمیان سعی کرو“ اسی طرح مسار کے ذکر میں احتمال ہے کہ بعض لوگ یہ خیال کریں کہ سفر میں نماز کو قصر کرنا ایک گناہ ہے لہٰذا لاجناح کی تعبیر کے ساتھ اس غلط فہمی کو دور کیا گیا ہے ۔

دوسرا نکتہ کہ جس کی طرف بعض روایات میں بھی اشارہ ہواہے یہ ہے کہ سفر میں نماز کو قصر کرنا ایک قسم کی خدا کی طرف سے رعایت ہے لہٰذا ادب اور احترام کا تقاضا ہے کہ انسان اس تخفیف کو رد نہ کرے اور اس کی طرف سے بے اعتنائی نہ برتے ، اہل سنت کی

____________________.

____________________.

____________________.

مہیا کررکھا ہے ( ان اللہ اعد للکافرین عذاباً مھیناً)


چند اہم نکات

۱۔ نماز خوف ہر دور میں ہوسکتی ہے

واضح ہے کہ یہاں پیغمبر اکرم کے مسلمانوں کے درمیان نماز خوف کے موقع پر موجود ہونے سے یہ مراد نہیں کہ یہ نماز ذاتِ پیغمبراکرم کے وجود سے مشروط ہے بلکہ مراد سر فروشوں اور مجاہدین کے درمیان نماز باجماعت اداکرنے کے لئے امام ، پیشوا اور رہنما کا وجود ہے ۔ اسی لئے تو حضرت علی (علیه السلام) اور حضرت امام حسین (علیه السلام) نے بھی نماز خو ف ادا کی تھی یہاں تک بعض اسلامی لشکروں کے کمانڈروں ( مثلاً حضرت حذیفہ یمانی ) نے اسی اسلامی عمل کو ضرور کے وقت انجام دیا ۔(۴)

۲۔ دوران نمازِ خوف مسلح رہنے کے حکم میں فرق

آیت میں پہلے گروہ کو حکم ہوتا ہے کہ نماز خوف کے وقت ان کے پاس ہتھیار ہونے چاہئیں ۔ لیکن دوسرے گروہ سے کہتا ہے کہ دفاعی ساز و سامان( مثلا زرہ) اور ہتھیاروں کو زمین پر بالکل نہ رکھیں ممکن ہے کہ ان دونوں دستوں کا فرق اس وجہ سے ہو کہ پہلے گروہ کے نماز کو اداکرتے وقت دشمن ابھی تک اس لائحہ عمل سے بے خبر ہو لہٰذ ااس میں حملے کا احتمال بہت کم ہے لیکن دوسرے دستہ کے وقت جبکہ دشمن ادائیگی نماز پر متوجہ ہو جاتا ہے تو حملے کا احتمال بہت زیادہ ہے ۔

۳۔ مال و متاع کی حفاظت

مال و متاع کی حفاظت سے مراد یہ ہے کہ اپنی حفاظت کے علاوہ دوسرے جنگی وسائل اور سفر کے ساز و سامان غذائی ذخیرے اور جو حیوانات تمہارے ساتھ ہیں ان کی نگرانی بھی تمہیں کرنا ہے ۔

۴۔ نماز با جماعت کی اہمیت

ہم جانتے ہیں کہ نماز با جماعت اسلام میں واجب نہیں ہے لیکن بہت زیادہ تاکیدی مستحبات میں ہے اور اوپر والی آیت اس کی ایک زندہ نشانی ہے اس اسلامی لائحہ عمل کی تاکید یہاں تک ہے کہ میدانِ جنگ میں بھی اس طریقے کی انجام دہی کے لئے نماز خوف سے استفادہ کیا جا سکتا ہے یہ امر اصل نماز او رجماعت دونوں کی اہمیت ظاہر کرتا ہے نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقی مجاہدین اپنے ہدف اور مقصد سے کس قدر وابستہ ہوتے ہیں نیز اس کام سے دشمنوں پربھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان میدانِ جنگ میں بھی اپنی ذمہ داریاں

____________________......

____________________.....

____________________.

قبیلہ بنی ابیرق نسبتاً ایک مشہور قبیلہ تھا اس قبیلہ کے تین بھائی ، بشر ، بشیر، مبشرنامی تھے ، بشیر ایک مسلمان رفاعہ کے گھر میں داخل ہوا اور تلوارہ ، زرہ او رکچھ خوراک چوری کر لیں ، اس کے بھتیجے” قتادہ“ نے جو مجاہدین بدر میں سے تھا یہ واقعہ پیغمبر اکرم کی خدمت میں بیان کیا لیکن ان تین بھائیوں نے اپنے ایک پڑوسی صاحبِ ایمان مسلمان لبید پر اس معاملے میں تہمت لگائی ،لبید اس ناروا تہمت سے بہت زیادہ برہم ہوا اور تلوار نکال کر اس کے پاس آیا اور چیخ کر کہا : تم مجھ پر چوری کی تہمت لگاتے ہو، حالانکہ اس الزام کے زیادہ اہل تم ہو اورتم وہی منافق ہو جو پیغمبر خدا کی ہجو کہتے تھے اور پھر ہجو کے اشعار کو قریش سے منسوب کردیتے تھے یا تو اس تہمت کو جو تم نے مجھ پر لگائی ہے ثابت کرو ورنہ میں اپنی تلوار تمہیں گھونپ دوں گا چور کے بھائی نے جب یہ صورتحال دیکھی تو لبید سے نرمی کا سلوک کیا لیکن جب انھیں یہ خبر ملکی کہ واقعہ قتادہ کے ذریعے پیغمبر اکرم کے گوش گزار ہو چکا ہے تو وہ اپنے قبیلے کے ایک خطیب کے پاس گئے کہ وہ چند افراد کے ساتھ پیغمبر اکرم نے ( ظاہر پر عمل کرنے کے فریضہ) کے مطابق اس گروہ کی شہادت کو قبول کرلیا اور قتادہ کو سزا کا مستحق قرار دیا ، قتادہ جو بے گناہ تھا اس سے بہت پریشان ہو ا اور اپنے چچا کے پاس لوٹ کر گیا اور بہت زیادہ افسوس کے ساتھ واقعہ بیان کیا تو اس کے چچا نے اس کی دلجوئی کی اور کہا کہ پریشان نہ ہو خدا ہمارا نگہبان ہے اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہو ئیں اور اس بے گناہ شخص کو بری الذمہ قرار دیا اور حقیقی خیانت کرنے والوں کی شدید سر زنش کی ۔

اس آیت کی ایک اور شانِ نزول ( بھی ) نقل ہوئی کہ ایک انصاری کی زرہ کسی جنگ میں چوری ہو گئی ۔ شک بنی ابیرق قبیلہ کے ایک شخص پر تھا ۔چور کو جب خطرہ نظر آیا تو اس نے وہ زرہ تو یک یہودی کے گھر میں پھینک دی اور اپنے قبیلہ والوں سے کہا کہ پیغمبر اکرم کے سامنے اس کی صفائی دیں اور کہیں کہ زرہ تو یہودی کے گھر میں ہے اس لئے وہ بر ی الذمہ ہے ۔

پیغمبر اکرم نے جب یہ صورت حال دیکھی تو ظاہری طور پر اسے بر الذمہ قرار دیا اور یہودی کے خلاف فیصلہ دیا اس پر مندر جہ بالا آیات نازل ہوئیں اور حقیقیت کو واضح کیا۔

____________________

۱مفردات راغب مادہ ”ضرب“

۲مزید اطلاع کے لئے وسائل الشیعہ جلد پنجم اور سنن بیہقی جلد ۳ ص ۱۳۴ وغیرہ کی طرف رجوع کریں ۔

۳ نور الثقلین جلد اول ص۵۴۲۔

۴ کنز العرفان جلد اول صفحہ۱۹۱۔


خیانت کرنے والوں کی حمایت نہ کرو

خدا ان آیات میں پہلے تو پیغمبر اکرم کو وصیت کرتا ہے کہ اس آسمانی کتاب کو بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے اصول جاری ہوں :ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تم پر نازل کی ہے تاکہ اس کے ذریعے خدا نے تجھے جو علم دیا ہے لوگوں کے درمیان فیصلے کرو ۔

( إِنَّا اٴَنْزَلْنا إِلَیْکَ الْکِتابَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِما اٴَراکَ اللَّهُ )

اس کے بعد کہتاہے کہ کبھی بھی خیانت کر نے والوں کی حمایت نہ کرو( وَ لا تَکُنْ لِلْخائِنینَ خَصیماً ) ۔

اگر چہ بظاہر روئے شخن پیغمبر اکرم کی طرف ہے لیکن اس میں شک و شبہ نہیں کہ یہ ایک عمومی حکم ہے جو تمام قاضیوں اور فیصلہ کرنے والوں کے لئے ہے اس بنا پر اس قسم کے خطاب کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ ممکن ہے کہ اس قسم کا معاملہ پیغمبر اکرم کے ساتھ پیش آیا ہے کیونکہ اس مذکورہ حکم کا تعلق تمام افراد سے ہے ۔

بعد والی آیت میں پیغمبر اکرم کو بار گاہ ِ خدا وندی سے طلب مغفرت کے لئے کہا گیا ہے( وَ اسْتَغْفِرِ اللَّهَ ) کیونکہ خدا بخشنے والا اور مہر بان ہے( إِنَّ اللَّهَ کانَ غَفُوراً رَحیماً ) ۔

یہ کہ یہاں استغفار کس لئے ہے اس میں کئی احتمال ہیں :

پہلا یہ کہ استغفار اس ترک اولیٰ کی بنا پر ہے جو فیصلہ میں جلدی کرنے کی وجہ سے آیات کی شانِ نزول کے بارے میں آیا ہے یعنی اگر چہ وہی اعتراف کی نوعیت اور طرفین کی گواہی تمہارے فیصلہ کرنے کے لئے کافی تھی لیکن بہتریہ تھا کہ پھر بھی اس معاملے میں مزیدتحقیق کی جاتی ۔

دوسرا یہ کہ پیغمبر اکرم نے اسی شانِ نزول کے متعلق اسلام کے قضائی قوانین میں مطابق فیصلہ کیا اور چونکہ خیانت کرنے والوں کی سند اور ثبوت ظاہری طور پر زیادہ مستحکم تھے لہٰذا انھیں حق بجانب قرار دیا گیا پھر حق کے سامنے آجانے اور حق داروں کو حق مل جانے کے بعد حکم دیتا ہے کہ خدا سے مغفرت طلب کرو نہ کہ اس بنا پر کہ کوئی گناہ سر زد ہوا ہے بلکہ اس وجہ سے کہ بعض لوگوں کی سازش کی وجہ سے ایک مسلمان کا حق سلب ہو رہا تھا

( یعنی استغفارحکم واقعی ہے نہ کہ حکم ظاہری)

یہ احتمال بھی بیان ہوا ہے کہ یہاں استغفار کا حکم طرفین دعویٰ کو دیا گیا ہے جنہوں نے دعویٰ پیش کیا اور پھر اس سلسلے میں کئی غلط گواہیاں دیں ۔ پیغمبر اکرم سے ایک حدیث میں منقول ہوا ہے آپ نے فرمایا:

انما انا بشر و انکم تختصمون الیٰ و لعل بعضکم یکون الحن بحجة من بعض فاقضی بخومااسمع فمن قضیت له من حق اخیه مشیئا فلا یاخذه فانما اقطع له و قطعة من النار ۔

میں تمہاری طرح ایک بشر ہوں ( ظاہری امور میں فیصلے کرنے پر مامور ہوں ) شاید تم میں سے بعض وہی دلیل بیان کرتے وقت بعض دوسروں سے زیادہ قوی ہوں اور میں بھی اسی دلیل کی بنا پر فیصلہ کروں گا با وجود اس کے جان لو کہ میرا فیصلہ جو طرفین کے دلائل کے سامنے آنے پر صادر ہوتا ہے وہ واقعی حق کو نہیں بدل سکتا لہٰذا اگر میں کسی کے حق میں (ظاہر کے مطابق) فیصلہ کردوں اور دوسرے کا حق اسے دے دوں تو میں جہنم کی آگ کا ایک ٹکڑا اسے دے رہاہوں اسے چاہئیے کہ وہ اس سے بچے او رنہ لے ۔(۱)

معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبراکرم کا فریضہ یہ ہے کہ وہ ظاہر کے مطابق اور دعویٰ کرنے والے طرفین کے دلائل کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کریں ۔ البتہ اس قسم کے فیصلوں سے عام طور پر حق دار کو حق مل جاتا ہے لیکن پھر بھی ممکن ہے کہ بعض اوقات ظاہراًدلیل اور گواہوں کی گواہی واقع کے مطابق نہ ہوتو یہاں خیال کرنا چاہئیے کہ فیصلہ کرنے والے کا حکم واقع کو نہیں بدل سکتا اور اس سے حق ، باطل اورباطل حق نہیں ہوسکتا۔

____________________

۱- المنار ،ج۵ ص ۳۹۴منقول از صحیح بخاری و صحیح مسلم ۔

اس حدیث ۲

۲- پہلی احتمال اور شان نزول والی روایات اور اس روایت کا ظہور قواعد مذہب کے خلاف ہے کیونکہ آنحضرت منصوص قرآن ترک اولیٰ سے بھی معصوم تھے

(مترجم )


آیات ۱۰۷،۱۰۸،۱۰۹

۱۰۷۔( وَ لا تُجادِلْ عَنِ الَّذینَ یَخْتانُونَ اٴَنْفُسَهُمْ إِنَّ اللَّهَ لا یُحِبُّ مَنْ کانَ خَوَّاناً اٴَثیماً ) ۔

۱۰۸۔( یَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَ لا یَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ إِذْ یُبَیِّتُونَ ما لا یَرْضی مِنَ الْقَوْلِ وَ کانَ اللَّهُ بِما یَعْمَلُونَ مُحیطاً )

۱۰۹۔( ها اٴَنْتُمْ هؤُلاء ِ جادَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا فَمَنْ یُجادِلُ اللَّهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیامَةِ اٴَمْ مَنْ یَکُونُ عَلَیْهِمْ وَکیلاً ) ۔

ترجمہ

۱۰۷۔ اور جنہوں نے اپنے آپ سے خیانت کی ہے ان کا دفاع نہ کرو، کیونکہ خدا خیانت کرنے والے گنہ گاروں کو دوست نہیں رکھتا۔

۱۰۸۔ وہ اپنے برے کاموں کو لوگوں سے چھپا تے ہیں لیکن خدا سے نہیں چھپا تے اور رات کی مجالس میں ایسی باتیں کرتے تھے جن سے خدا راضٰ نہ تھا ان کے ساتھ تھا اور وہ جو عمل کرتے ہیں خدا اس پر محیط ہے ۔

۱۰۹۔جی ہاں تم تو وہی ہو جنہوں نے اس جہان کی زندگی میں ان کو بچا یا لیکن کون ہے جو خدا کے سامنے قیامت کے دن ان کا دفاع کرے گا یا کون ہے جو ان کا وکیل اور حامی ہوگا۔

تفسیر

خیانت کرنے والوں کی حمایت نہ کرنے کے احکامات کے بعد ان آیا ت میں اس سلسلہ کو یوں جاری رکھا گیا ہے : کسی وقت بھی خیانت کرنے والوں کی اور ان کی جو اپنے آپ سے خیانت کرتے ہیں حمایت نہ کرو ۔(وَ لا تُجادِلْ عَنِ الَّذینَ یَخْتانُونَ اٴَنْفُسَهُمْ ) ۔یونکہ خدا خیانت کرنے والے گنہ گاروں کو پسند نہیں کرتا

( إِنَّ اللَّهَ لا یُحِبُّ مَنْ کانَ خَوَّاناً اٴَثیماً ) ۔

قابل توجہ امر یہ ہے کہ خدا اس آیت میں فر ماتا ہے : وہ لوگ جو اپنے آپ سے خیانت کرتے ہیں ۔ حالانکہ ہم آیت کی شانِ نزول کے مطابق جانتے ہیں کہ انھوں نے دوسروں سے خیانت کی تھی یہ اسی لطیف معنی کی طرف اشارہ ہے کہ جس کی قرآن نے با رہا یا دہانی کرائی ہے کہ انسان سے جو بھی عمل سر زد ہو اس کے اچھے یا برے آثار معنوی ہوں یا مادی ہرایک سے پہلے خود اس پر اثر انداز ہوں جیسا کہ دوسرے مقام پر فرماتا ہے :

( ان احسنتم احسنتم لانفسکم و ان اساٴتم فلها )

اگر نیک کام کرتے ہو تو اپنے نفسوس کے لئے کرتے ہو اور اگر برائی کرو تو بھی اپنے نفس کے لئے ہے ۔ ( بنی اسرائیل ۔ ۷)

یا یہ ایک اور نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ جس کی قرآن تائید کرتا ہے اور وہ یہ کہ تمام افراد ایک جسم کے مختلف اعضاء کی طرح ہیں اگر ایک کسی دوسرے کوکوئی تکلیف پہچانا ہے تو اس طرح خود اپنے آپ کو نقصان پہنچا تا ہے ۔ بعینہ اس شخص کی طرح جو اپنے ہا تھ سے اپنے منہ پر تھپیڑے مارے ۔ ایک اور نکتہ یہ ہے کہ آیت ان افراد کے بارے میں نہیں کہ جو مثلاً ایک ہی دفعہ خیانت کے مرتکب ہو ئے ہیں اور پھر اس پر پشمان ہو گئے ہوں کیونکہ ایسے اشخاص کے بارے میں سختی نہیں بلکہ نرمی برتنی چاہئیے ۔ آیت تو ان افراد کے بارے میں ہے جن کی زندگی کا لائحہ عمل ہی خیانت ہے ” یختاتون “ کے قرینہ سے جو کہ فعل مضارع ہے اور ہمیشگی پر دلالت کرتا ہے اور ” خوّان“ کے قرینہ سے بھی جو کہ مبالغہ کا صیغہ ہے اور کا معنی ہے ” بہت خیانت کرنے والا“ ۔” اَثیم ٌ“کا معنی ” گنہ گار“ ہے یہ ”خوّان “کی تاکید کے طور پر ذکر ہوا ہے ۔ گذشتہ آیت میں بھی اسے خائن قرار دیا گیا ہے اور خائن اسم فاعل ہے اور وصفی معنی رکھتا ہے نیز تکرار عمل کی علامت ہے ۔ پھر ایسے خیانت کاروں کی سر زنش کرتے ہوئے کہتا ہے انھیں شرم آتی ہے کہ ان کے اعمال کا باطن لوگوں کے سامنے ظاہر ہو لیکن وہ خدا سے تو شرم نہیں کرتے( یَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَ لا یَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ ) ۔

وہ خدا جو پر جگہ ان کے ساتھ ہے او رجس وقت رات کی تاریکی میں وہ خیانت کار سازشیں او رمنصوبے بناتے تھے اور وہ باتیں کرتے ہیں جن سے خدا راضی نہیں وہ ( خدا) ان کے ساتھ تھا اور وہ ان کے تمام اعمال پر محیط ہے( وَ هُوَ مَعَهُمْ إِذْ یُبَیِّتُونَ ما لا یَرْضی مِنَ الْقَوْلِ وَ کانَ اللَّهُ بِما یَعْمَلُونَ مُحیطاً ) ۔

اس کے بعد روئے سخن چور کے قبیلے کے ان افراد کی طرف ہے جنہوں نے اس کا دفاع کیا تھا ۔ خدا انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے تعجب ہے کہ تم اس جہان کی زندگی میں تو ان کا دفاع کرتے ہو ، لیکن کون ہے جو قیامت کے دن ان کا دفاع کرے یا وکیل بن کر ان کے کام آئے او ران کی مصیبتوں اور ابتلاوں کو ختم کرے( ها اٴَنْتُمْ هؤُلاء ِ جادَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا فَمَنْ یُجادِلُ اللَّهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیامَةِ اٴَمْ مَنْ یَکُونُ عَلَیْهِمْ وَکیلاً ) ۔

اس وجہ سے تمہاری طرف سے ان کا دفاع معمولی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ دائمی زندگی میں خدا کے سامنے ان کا کوئی دفاع کرنے والا نہیں ہے ۔

حقیقت میں اوپر والی تین آیات میں پہلے تو پیغمبر اسلام اور سب قاضیوں کو حق کی وصیت کی گئی ہے کہ وہ مکمل طور پر نگرانی اور دھیان رکھیں کہ کچھ لوگ حیلہ سازی اور جھوٹے گواہوں کے ذریعے دوسروں کے حقوق پائمال نہ کریں پھر خیانت کر نے والوں او ربعد میں ان کا دفاع کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اس جہان اور دوسرے جہان میں اپنے اعمال کے برے نتائج پر نظر رکھیں ۔

اور یہ بلاغت قرآن کا ایک راز ہے کہ ہر واقعہ میں چاہے وہ ظاہراًجتنا معمولی اور چھوٹا ہو وہ ایک ذرہ بھر یا تھوڑے سے اناج کے گرد گھومتا ہو ۔ یا اس میں ایک یہودی اور دشمن اسلام کا ہاتھ ہو اس کے تمام پہلو وں پر کھوج اور تحقیق کرتے ہوئے پوری توجہ دلاتا ہے اور ہر موقع پر خطرہ سے آگاہ کرتا ہے ، خدا کے عظیم پیغمبر سے لے کر کہ جس کا دامن عصمت کی بناپر ہر قسم کے گناہ سے پاک ہے ، خیانت پیشہ گنہگار افراد اور ان لوگوں تک جو رشتہ داری کے تعصبات کی وجہ سسے اس قسم کے افراد کا دفاع کرتے ہیں ہر ایک پر اس کی مناسبت سے بحث کرتا ہے ۔


آیات ۱۱۰،۱۱۱،۱۱۲

۱۱۰۔( وَ مَنْ یَعْمَلْ سُوء اً اٴَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللَّهَ یَجِدِ اللَّهَ غَفُوراً رَحیماً ) ۔

۱۱۱۔( وَ مَنْ یَکْسِبْ إِثْماً فَإِنَّما یَکْسِبُهُ عَلی نَفْسِهِ وَ کانَ اللَّهُ عَلیماً حَکیماً ) ۔

۱۱۲۔( وَ مَنْ یَکْسِبْ خَطیئَةً اٴَوْ إِثْماً ثُمَّ یَرْمِ بِهِ بَریئاً فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتاناً وَ إِثْماً مُبیناً ) ۔

ترجمہ

۱۱۰۔ جو شخص کوئی بر اکام کرے یا اپنے اوپر ظلم کرے پھر خدا سے مغفرت طلب کرے تو وہ خد اکو بخشنے والا اور مہربان پائے گا۔

۱۱۱۔ اور جو کسی گناہ کا مرتکب ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو نقصان پہنچا تا ہے او رخدا دانا وحکیم ہے ۔

۱۱۲۔ جو شخص غلطی یا گناہ کا مرتکب ہو پھر بے گناہ پر الزام دھرے اس نے بہتان اور واضح گناہ کو بوجھ اپنے کندھوں پر لاد لیا ہے ۔

جو کسی مومن مرد یا عورت پر بہتان باندھے

ان تین آیات میں خیانت او رتہمت سے متعلق بحث کے بعد جو گذشتہ آیات میں ہوچکی ہے تین مجموعی احکامات بیان ہوئے ہیں ۔

۱۔ پہلے تو اس حقیقت کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ تو بہ کی راہ بد کار لوگوں کے لئے بہر حال کھلی ہے اور جو شخص اپنے اوپر یا کسی دوسرے پ رظلم کرے اور بعد میں حقیقتاً پشیمان ہو اور خدا سے مغفرت طلب کرے او روہ اس کی تلافی کی کوشش بھی کرے تو خدا کو بخشنے والا او رمہر بان پائے گا۔

( وَ مَنْ یَعْمَلْ سُوء اً اٴَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللَّهَ یَجِدِ اللَّهَ غَفُوراً رَحیماً ) ۔

غور کرناچاہئیے کہ آیت میں دو چیزیں بیان ہوئی ہیں ایک ”سوء“ اور دوسری کسی پرظلم ۔ قرینہ مقابلہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے اور ” سوء“ کے اصل معنی” دوسرے کو نقصان پہچانا) سے اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ ہر قسم کا گناہ جس سے انسان دوسرے کو نقصان پہنچائے یا اپنے کو) وہ حقیقی توبہ اور تلافی کی صورت میں قابلِ بخشش ہے ۔

ضمنی طور پر “ یجد اللہ غفوراً رحیماً“ ( خدا کو بخشنے والا ، مہربان پائے گا ) سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی توبہ یہ اثر رکھتی ہے کہ انسان اپنے نفس کے اندر ہی اس کا نتیجہ پالیتا ہے ایک طرف خدا کے غفور ہونے کے تصور سے گناہ کا پریشان کن اثر زائل ہو جاتا ہے اور دوسری طرف وہ محسوس کرتا ہے کہ معصیت کے سبب وہ رحمت و الطاف الہٰی سے دور ہو گیا تھااور اب اس کی اہمیت کی وجہ سے دوریاں ختم ہو گئی ہیں او روہ خدا کے نزدیک ہو گیا ہے ۔

۲۔ دوسری آیت اس حقیقت کی وضاحت ہے کہ جس کا اجمال گذشتہ آیات میں ہو چکا ہے او روہ یہ ہے کہ ” انسان جس گناہ کا مرتکب ہوتا ہے نتیجة اس سے اپنے آپ کو ضرور نقصان میں مبتلا کرلیتا ہے( وَ مَنْ یَکْسِبْ إِثْماً فَإِنَّما یَکْسِبُهُ عَلی نَفْسِهِ ) ۔ اور آیت کے آخر میں فرماتاہے کہ خدا عالم ہے اور بندوں کے اعمال سے باخبر ہے اور وہ حکیم و دانا بھی ہے اور ہر شخص کو اس کے استحقاق کے مطابق سزا و جزا دیتا ہے( وَ کانَ اللَّهُ عَلیماً حَکیماً ) ۔

اس طرح گناہ اگر چہ ظاہر میں مختلف ہیں کبھی بھی کسی گناہ کا نقصان دوسروں کو پہنچتا ہے او رکبھی اس کا نقصان اپنے آپ کو ہوتا ہے ۔ لیکن اس کا حقیقی اور آخری نتیجہ بہر حال خود انسان کے اپنی طرف لوٹتا اور گناہ کے برے اثرات سب سے پہلے خود انسان کی روح اور نفس میں ظاہر ہوتے ہیں(۱)

۳۔ آخری آیت میں بے گناہ افراد پر تہمت لگانے کے گناہ کی شدت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ” جو شخص خطا یا گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اور اسے کسی بے گناہ کے سر تھوپتا ہے اس نے بہتان باندھا ہے اور واضح گناہ کا ارتکاب کیا ہے

( وَ مَنْ یَکْسِبْ خَطیئَةً اٴَوْ إِثْماً ثُمَّ یَرْمِ بِهِ بَریئاً فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتاناً وَ إِثْماً مُبیناً ) ۔

اس آیت میں وہ گناہ کہ جن کا انسان مرتکب ہوا ہو اور پھر انھیں دوسرے کے سر تھوپ دے ان کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں ۔ ایک خطیئة اور دوسرا” اثم “ ان دونوں کے درمیان فرق کے سلسلہ میں مفسرین اور اہل لغت ،میں بہت اختلاف ہے جو معنی زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ” خطیئة“خطا“ سے ہے جو در اصل ان گناہوں اور لغزشوں کے معنی میں ہے جو انسان سے قصدارادہ کے بغیر سر زد ہو جائیں اور بعض اوقات ان کا کفارہ اور تاوان ادا کرنا پڑتا ہے ۔ لیکن بتدریج خطیئةکے معنی میں وسعت پید ا ہو گئی اور وہ ہر گناہ کے بارے میں استعما ل ہونے لگا چاہے وہ عمداً ہو یا بھول کر ۔ کیونکہ کسی قسم کا گناہ ( چاہے وہ عمداً ہو یا بھول کر ) انسان کی روحِ سلیم کے لئے مناسب نہیں ہے اور اگر اس سے سر زد ہو جائے تو حقیقت میں ایک قسم کی لغزش او رخطاہے جو اس کے مقام و مرتبے کے منافی ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ خطیئہ کاایک وسیع مفہوم ہے جس میں عمدی اور غیر عمدی گناہ دونوں شامل ہیں ۔ لیکن اثم عموماً عمدی او راختیاری گناہوں کے لئے بولا جاتا ہے ۔ در اصل اثم ایسی چیز کے معنی میں ہے جو انسان کو کسی کام سے باز رکھے اور چونکہ گناہ انسان کو بھلائی کے اور اچھے کاموں سے دور رکھتے ہیں لہٰذا انھیں ” ا ثم “ کہا جاتا ہے ۔

ضمناً توجہ کرنی چاہئیے کہ آیت میں تہمت کے بارے میں ایک لطیف تعبیر استعمال کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ گناہ کو تیر کی طرح قرار دیا گیا ہے اور دوسرے کی طرف اس کی نسبت دینے کو تیر ہدف کی طرف چھوڑنے کی طرح قرار دے کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے جس طرح کسی کی طرف تیر پھینکنا ممکن ہے اسے ختم کردے ، اسی طرح گناہ کے تیر کو بھی ایسے شخص کی طرف چھوڑنا جو گناہ کا مرتکب نہیں ہوا ممکن ہے کہ اس کی عزت اور آبرو کو بر باد کردے جو در اصل اس کے قتل کی طرح ہے ۔ واضح ہے اس عمل کا بوجھ ہمیشہ کے لئے ایسے شخص کے کندھے پر باقی رہے گا جس نے تہمت لگائی ہے اور” احتمل “ ( اپنے کندھے پر اٹھا تاہے ) یہ لفظ بھی اس ذمہ داری کی اہمیت او را س کے ہمیشہ قائم رہنے کی طرف اشارہ ہے ۔

جرم تہمت کسی بے گناہ پر تہمت باندھنا بد ترین افعال میں سے ہے کہ جس کی اسلام نے شدت سے مذمت کی ہے ، زیر نظر آیت اور متعدد اسلامی روایات جو اس ضمن میں ملتی ہیں اس کے لئے اسلام کا نظریہ واضح کرتی ہیں ۔ امام صادق (علیه السلام) ایک حکیم و دانا سے نقل کرتے ہیں :البهتان علیالبریٴ اثقل من جبال راسیات

بے گناہ پربہتان باندھنا عظیم پہاڑوں سے بھی زیاہ سنگین ہے ۔(۲)

بے گناہ افراد پر بہتان باندھنا روح ایمان کے منافی ہے جیسا کہ امام صادق (علیه السلام) سے منقول ہے :۔

اذا اتهم المومن اخاه انماث الایمانفی قلبه کم ینماث الملح فی السماء

جو شخص اپنے مومن بھائی پر تہمت ،لگا تا ہے تو ایمان اس کے دل میں اس طرح گھل جاتا ہے جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے ۔۳

حقیقت میں بہتان اور تہمت، جھوٹ کی بدترین اقسام میں سے ہے کہ کیونکہ اس میں جھوٹ کے عظیم مفاسد اور غیبت کے نقصانات بھی شامل ہیں اور یہ ظلم و ستم کی بد ترین قسم بھی ہے اس لئے پیغمبر اسلام سے منقول ہے ، آپنے فرمایا:

من بهت مومنة او قال فیهما مالیس فیه اقامه الله تعالیٰ یوم القیامة علی قل من نار حتی یخرج مماقاله

جو کسی مومن مرد یا عورت پر بہتان باندھے یاان کے بارے میں کوئی ایسی بات کہے جو ان میں نہ ہو تو خد اوند عالم اسے قیامت کے دن آپ کے ایک ٹیلے پر کھڑا کردے گا ۔ یہاں تک کہ وہ اس بات سے بری الذمہ ہو جائے جو اس نے کہی ہے ۔(۴)

حقیقت میں اس گھٹیا او ربز دلانہ کام کے رائج ہونے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ معاشرے کا نظم و نسق اور اجتماعی او رانصاف برباد ہو جاتاہے حق اور باطل آپس میں غلط ملط ہو جاتے ہیں بے گناہ افراد گرفتار ِ بلا ہو جاتے ہیں گنہ گار افراد بچے رہتے ہیں اور باہمی اعتماد ختم ہو کر رہ جاتا ہے ۔

____________________

۱- شعلہ اول نصیبِ دامن ” آتش زنہ“ است۔ ۔۔این سزائے آں کہ بوسد آستانِ ظلم را۔ ۔۔ آگ کا پہلا شعلہ جلانے والے کے دامن کو جلاتا ہے ۔ آستانہ ظلم پربوسہ دینے کی یہی سزا ہے ۔

۲ -سفینة البحار، جلد اول مادہ” بھت“

۳ - اصول کافی جلد ۲ ص ۲۶۹ باب التھمة و سوء الظن

۴ - سفینة البحار جلد اوّل صفحہ ۱۱۱


آیت ۱۱۳

۱۱۳۔( وَ لَوْ لا فَضْلُ اللَّهِ عَلَیْکَ وَ رَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طائِفَةٌ مِنْهُمْ اٴَنْ یُضِلُّوکَ وَ ما یُضِلُّونَ إِلاَّ اٴَنْفُسَهُمْ وَ ما یَضُرُّونَکَ مِنْ شَیْء ٍ وَ اٴَنْزَلَ اللَّهُ عَلَیْکَ الْکِتابَ وَ الْحِکْمَةَ وَ عَلَّمَکَ ما لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ وَ کانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَیْکَ عَظیماً ) ۔

ترجمہ

۱۱۳۔ اگر خدا کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شاملِ حال نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ پختہ ارادہ کرچکا تھا وہ تمہیں گمراہ کردے، لیکن وہ اپنے سوا کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے اور وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور خدا نے کتاب و حکمت تم پر نازل کی اور تمہیں اس چیز کی تعلیم دی جو تم نہیں جانتے تھے اور تم پر خدا کا عظیم فضل تھا۔

اگر خدا کا فضل و رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتا تو

یہ آیت بنی ابیرق کے حادثہ کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ قبل کی چند آیات کی شان نزول میں اس کی نشاندہی کی جاچکی ہے ۔

آیت کہتی ہے : اگر خدا کا فضل و رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتا تو ( منافقین یا ان جیسے ) بعض لوگ مصمم ارادہ کرچکے تھے کہ تمہیں راہِ حق و عدالت سے منحرف کردیں لیکن لطفِ الہٰی تمہارے شامل حال رہا او راس نے تمہاری حفاظت کی( ولولا فضل الله علیک و رحمته لهمت طائفة منهم ای یضلوک ) ۔

وہ چاہتے تھے کہ ایک بے گناہ شخص پر تہمت لگائیں او رپھر پیغمبر کو اس واقعے میں ملوث کریں تاکہ اس طرح ایک پیغمبر اکرم کی اجتماعی اور معنوی حیثیت کو نقصان پہنچے اور دوسرا ایک بے گناہ مسلمان کے ذریعے اپنی بڑی اغراض پوری کرسکیں ۔ لیکن وہ خدا جو اپنے پیغمبر کا محافظ ہے اس نے ان کے منصوبوں کو نقش بر آب کردیا ۔

بعض نے اس آیت کی ایک اور شانِ نزول بھی ذکر کی ہے ، وہ یہ ہے کہ :

قبیلہ بنی ثقیف کا یک وفد پیغمبر اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا او ر کہنے لگا: ہم دو شرطوں کے ساتھ آپ کی بیعت کے لئے تیار ہیں پہلی یہ کہ ہم اپنے بت اپنے ہاتھ سے نہیں توڑیں گے اور دوسری یہ کہ ہمیں اجازت دیں کہ ہم مزید ایک سال تک عزیٰ بت کی پر ستش کرتے رہیں ۔

خد اتعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ ان تجاویز کے لئے کوئی میلان ظاہر نہ کریں ۔

اسی ضمن میں مندرجہ بالا آیت نازل ہو ئی جس میں پیغمبر اکرم سے کہا گیا کہ لطف ِ خدا آپ کو ان وسوسوں سے محفوظ کھے گا۔

اس کے بعد قرآن کہتا ہے : یہ لوگ صرف اپنے آپ کو گمراہ کرتے ہیں اور آپ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے( وما یضلون الا انفسهم و ما یضرونک من شیء ) ۔

آخر میں گمراہی ، خطا اور گناہ سے پیغمبر کے محفوظ رہنے اور پیغمبر کی معنویت کی علت بیان کی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : آپ پر خدا نے کتاب و حکمت نازل کی او رجو آپ نہیں جانتے تھے آپ کو اس کی تعلیم دی( وانزل الله علیک الکتاب و الحکمة و علمک مالم تکن تعلم ) ۔

بعد از اں فرماتا ہے : آپ پر اللہ کا بہت ہی زیادہ فضل و کرم تھا( وکان فضل الله علیک عظیماً )

انبیاء کا چشمہ عصمت

مندرجہ بالاآیت ان آیات میں سے ہے جو نبی کے خطا ، اشتباہ اور گناہ سے محفوظ ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں ارشاد ہوتا ہے : اگر خدا کی امداد تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو وہ تمہیں گمراہ کردیتے لیکن امداد الہٰی کی وجہ سے وہ تمہیں گمراہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتے اور اس سلسلے میں تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔

اس طرح سے در اصل خدا تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو خطا اور گناہ سے محفوظ رکھا ہے تاکہ :

.....پیغمبر امت کے لئے نمونہ عمل بن سکے او رنیکیوں اور بھلائیوں کے لئے امت کے واسطے ایک معیار قرار پا سکے ۔

..... ایک عظیم رہبر کی حیثیت سے لغزشوں کے المناک انجام اور نتیجے سے محفوظ رہ سکے ۔ یوں امت بھی اطاعتِ پیغمبر میں سر گردانی سے مامون رہے اور اطاعت و عدم اطاعت کے تضاد کا شکار نہ ہوجائے۔

..... لوگوں کو پیغمبر پر کامل اعتماد ہو سکے کیونکہ کامل اعتماد خدائی رہبری کی پہلی شرط ہے ۔

آیت میں مسئلہ عصمت کی ایک بنیادی دلیل اجمالی طور پر بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا نے پیغمبر کو علوم تعلیم فرمائے جن کی وجہ سے وہ گناہ اور خطا سے بالکل مامون و محفوظ ہوگئے ہیں کیونکہ علم و دانش ( جب اپنے آخری مرحلے کو پہنچ جائے تو) موجب عصمت ہوتا ہے ، مثلاً ایک ڈاکٹر ایسے پانی کو ہرگز نہیں پی سکتا جس میں ملیریا او ردیگر بیسیوں بیماریوں کے جراثیم موجود ہوں اور جنھیں وہ خود لیبارٹری میں دیکھ چکا ہو او ران کے ہولناک اثرات سے بھی آگاہ ہو یعنی اس کا علم اسے ایسا عمل کرنے سے روکتا ہے جبکہ جہالت میں ممکن ہے وہ ایسا کام کرجاتا۔ اس بنا پر جو شخص وحی الہٰی اور پروردگا رکی تعلیم کے ذریعے مختلف مسائل کے بارے میں مکمل آگاہی رکھتا ہو وہ لغزش و اشتباہ کا شکار ہو تا ہے نہ گمراہی و گناہ میں پڑتا ہے.....یہاں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئیے کہ پیغمبرگناہ نہ کرنے پر مجبور ہے بلکہ پیغمبر کو خدا کی طرف سے علم تو ہوتا ہے لیکن وہ اس سے مجبور نہیں ہو جاتا ۔ یعنی پیغمبر کبھی اپنے علم پر عمل کرنے پر مجبور نہیں ہوتا بلکہ اپنے اختیار سے اس علم پر عمل کرتا ہے جیسے مذکورہ مثال میں ڈاکٹر اس آلودہ پانی کی کیفیت سے آگاہی کے باوجود اسے نہ پینے پر مجبورنہیں ہے بلکہ وہ اپنے ارادے اور اختیار سے اسے نہیں پیتا۔

اور اگر کہاجائے کہ پیغمبر کے لئے یہ فضل الہٰی کیوں ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا رہبری کی اہم اور بھاری ذمہ داری کی بنا پر ہے جو ان کے کندھے پر رکھی گئی ہے اور دوسروں کے دوسش پر نہیں ہے کیونکہ خدا جتنی کسی پر مسولیت اور ذمہ داری ڈالتا ہے اتنی ہی اسے توانائی اور قدرت عطا کرتا ہے

( غور کیجئے گا) ۔


آیت ۱۱۴

۱۱۴( لا خَیْرَ فی کَثیرٍ مِنْ نَجْواهُمْ إِلاَّ مَنْ اٴَمَرَ بِصَدَقَةٍ اٴَوْ مَعْرُوفٍ اٴَوْ إِصْلاحٍ بَیْنَ النَّاسِ وَ مَنْ یَفْعَلْ ذلِکَ ابْتِغاء َ مَرْضاتِ اللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتیهِ اٴَجْراً عَظیماً ) ۔

تر جمہ

۱۱۴۔ ان کی بہت سی سر گوشیوں ( اور خفیہ میٹنگوں ) میں خیر و سود مندی نہیں مگر یہ کہ کوئی شخص( اس طریقے سے ) دوسروں کی مدد، کوئی نیک کام یا لوگوں کے درمیان اصلاح کی کوشش کرے اور جو شخص رضائے الہٰی کے لئے یہ سب کچھ کرے تو اسے ہم عظیم اجر دیں گے ۔

تفسیر

سر گوشیاں

گذشتہ آیات میں بعض منافقین یا ان جیسے لوگوں کے راتوں کے مخفی اور شیطانی جلسوں اور اور میٹنگوں کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ اب اس آیت میں ”نجوی“کے زیر عنوان ذرا تفصیل سے بات کہی گئی ہے ۔

” نجویٰ“ کا معنی صرف کان میں باتیں کرنا یا سر گوشی ہی نہیں بلکہ ہر قسم کی مخفی اور پوشیدہ میٹنگوں کو بھی ” نجویٰ“ کہتے ہیں کیونکہ اصل میں ” نجویٰ “ ” نجوة“ ( بر وزن دفعہ ) کے مادہ سے ہے اور اس کا معنی ہے اونچی زمین ، بلند زمینیں چونکہ اپنے اطراف سے جدا ہوتی ہیں اور خفیہ میٹنگیں اور سر گوشیاں بھی اطراف والوں سے جدا ہوتی ہیں لہٰذا انھیں ” نجویٰ “ کہتے ہیں ۔

بعض کا نظریہ یہ ہے کہ یہ سب الفاظ ” نجات“ کے مادہ سے ہیں جس کا معنی ہے ” رہائی “ اور کیونکہ ایک بلند جگہ سیلاب کے حملے سے نجات ہوتی ہے اور خفیہ میٹنگ اور سر گوشی بھی دوسروں کی اطلاع سے دور ہوتی ہے اس لئے اس کے لئے یہ لفظ استعمال ہوا ہے ۔

بہر حال آیت کہتی ہے : ان کی زیادہ تر کفیہ میٹنگیں جو شیطانی سازشوں او رمنصوبوں کے تحت منعقد ہوتی ہیں ان میں سے کوئی بھلائی اور فائدہ نہیں ہے( لا خَیْرَ فی کَثیرٍ مِنْ نَجْواهُمْ ) ۔

اس کے بعد الئے کہ کہیں یہ گمان نہ ہو کہ ہر طرح کی سر گوشی اور مضفی میٹنگ مذموم و ممنوع ہے ایک کلی قانون میں استثنائی صورت کے مواقع بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : مگر یہ کہ کوئی شخص اس کے ذریعے صدقہ کی وصیت کرتا ہو، دوسروں کی مدد کا اقدام کرتا ہو، نیک کام انجام دیتا ہو، یا لوگوں کے درمیان صلح کرواتا ہو، (إ( ِلاَّ مَنْ اٴَمَرَ بِصَدَقَةٍ اٴَوْ مَعْرُوفٍ اٴَوْ إِصْلاحٍ بَیْنَ النَّاسِ ) ۔

ایسی سر گوشیاں او رمیٹنگیں اگر ریا کاری اور تظاہر کے لئے نہ ہوں بلکہ ان کا مقصد رضائے پروردگار ہو تو خدا ان کے لئے اجرعظیم مقرر فرمائے گا

( وَ مَنْ یَفْعَلْ ذلِکَ ابْتِغاء َ مَرْضاتِ اللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتیهِ اٴَجْراً عَظیماً ) ۔

اصولی طور پر سر گوشیوں ، کانا پھوسیوں اور خفیہ میٹنگوں کو قرآن نے ایک شیطانی عمل قرار دیا ہے :

( انما النجویٰ من الشیطان )

یعنی ۔” نجویٰ ، شیطان کی طرف سے ہے ۔( مجادلہ۔ ۱۰)

اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا عمل عموماً غلط کاموں کے لئے ہوتا ہے چونکہ نیک مفید او رمثبت کاموں کی انجام دہی کے لئے عموماً کوئی خفیہ اور پوشیدہ چیز نہیں ہوتی ہاں التبہ بعض اوقات خلاف معمول حالات کی کی وجہ سے انسان مجبورہوجاتا ہے کہ نیک کاموں کو مثبت طور پر مخفیانہ بجائے یہ استثنائی صورت بار ہا قرآن میں بیان کی گئی ہے مثلاً:

( یا ایها الذین اٰمنوا اذا تنا جیتم فلا تتناجوا بالاثم والعدوان و معصیة الرسول و تناجوا بالبر و التقویٰ )

اے ایمان والو! جب تم سر گوشی یا اخفاء کرو تو گناہ ، ظلم اور پیغمبرکی نافرمانی کے لئے نہ ہو اور صرف نیک کاموں اور پر ہیز گاری کے لئے ، نجویٰ کرو ۔ (مجادلہ۔ ۹)

بنیادی طور پر اگر سر گوشی او رنجویٰ بعض لوگ دوسرے لوگوں کی موجودگی میں کریں تو یہ دوسروں میں سوئے ظن پید اکرنے کا باعث بنتی ہے اور بعض اوقات دوستوں میں بد گمانی پیدا کردیتی ہے ۔ اس لئے بہتر ہے کہ ضرورت کے بغیر یہ طریقہ اختیار نہ کیا جائے اور قرآن اور مذکورہ حکم کا فلسفہ بھی یہی ہے ۔ البتہ کبھی آبروئے انسانی کی حفاظت کے لئے ایسا کرنا ضروری ہوجاتا ہے ۔ مثلاً کسی کی چھپ کر مالی امداد کرنا ، جیسے زیر نظر آیت نے صدقہ کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔

اسی طرح کبھی امربالمعروف اگر کھلے بندوں کیا جائے تو دوسرے کی شرمندگی کا باعث ہوتاہے او رممکن ہے اس طرح سے وہ نصیحت قبول نہ کرے اور اپنے طریقہ کار پر ہٹ دھرمی دکھائے ۔ آیت میں اس کا ذکر ” معروف“ کے حوالے سے کیا گیا ہے ۔

اس کی ایک اور مثال لوگوں کے درمیان صلح و مصالحت کا موقع ہے ۔بعض اوقات مسائل کو علی الاعلان بیان کیا جائے تو اس سے مصالحت میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے ۔ ایسی صورت میں طرفین سے محرمانہ اور رازدارنہ طریقے سے گفتگو کرنا چاہئیے تاکہ مصالحت کا مقصد پایہ تکمیل کو پہنچ سکے ۔

مذکورہ تین مواقع پر او رایسے ہی دیگر مواقع پر ضرورت اس بات کی ہے کہ مثبت کام ” نجویٰ“ کے زیر سایہ انجام دیے جائیں ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ مذکورہ تینوں کام ” صدقہ “ کے مفہوم میں آجاتے ہیں کیونکہ جو شخص امر بالمعروف کرتا ہے وہ علم کی زکوٰة ادا کرتا ہے اور جو صلح و مصالحت کرواتا ہے وہ لوگوں میں موجود اپنے اثر و رسوخ کی زکوٰة دیتا ہے ۔ چنانچہ حضرت علی (علیه السلام) سے منقول ہے :

ان الله فرض علیکم زکوٰة جاهکم کما فرض علیکم زکوٰة ما ملکت ایدیکم ۔

یعنی ۔ خدا نے تم پر فرض اور واجب قرار دیا ہے کہ اپنے اثر و رسوخ اور معاشرت حیثیت کی زکوٰة ادا کرو ۔ جیسا کہ اس نے واجب کیا ہے کہ مال زکوٰة اداکرو ۔

( نور الثقلین ، ج ۱ ،صفحہ۔ ۵۵۰ اور دیگر تفاسیر)

نیز پیغمبر اکرم سے منقول ہے :

الاادلک علی صدقة یحبها الله و رسوله تصلح بین الناس اذا تفاسدوا و تقرب بینهم تباعدوا

یعنی کیا تجھے ایسے صدقہ سے آگاہ کروں جسے خدا اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں ( اور وہ یہ ہے کہ ) جب لوگ ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں تو ان میں صلح کرو اور وہ ایک دوسرے سے دور ہو جائیں تو انھیں نزدیک لاو۔(۱)

____________________

۱ - تفسیر قرطبی، جلد ۳ صفحہ ۱۹۵۵، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔


آیت ۱۱۵

۱۱۵۔( وَ مَنْ یُشاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ ما تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدی وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبیلِ الْمُؤْمِنینَ نُوَلِّهِ ما تَوَلَّی وَ نُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَ ساء َتْ مَصیراً ) ۔

ترجمہ

۱۱۵۔ جو شخص حق واضح ہو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے او رراہِ مومنین کے علاوہ کسی راستے کی پیروی کرے تو ہم اسے اسی راہ پر لئے جاتے ہیں جس پر وہ جارہا ہے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے ۔

شانِ نزول

گذشتہ آیا ت کی شانِ نزول میں ہم کہہ چکے ہیں کہ بشیر بن ابیرق نے ایک مسلمان چوری کرنے کے بعد اس کا الزام ایک بے گناہ شخص پر دھر دیا اور حیلہ سازی سے پیغمبر اکرم کے سامنے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دے دیا ۔ لیکن مذکورہ آیات کے نزول سے وہ رسوا ہوگیا۔ اس رسوائی کے بعد بجائے اس کے کہ توبہ کرتا اور راہِ حق پر لوٹ آتا ، اس نے کفر کا راستہ اختیار کرلیا اور واضح طور پر مسلمانوں سے الگ ہو گیا اس پ رمندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور اس سلسلے میں اسلام کا ایک عمومی حکم بیان کیا۔

تفسیر

جب انسان کسی غلطی کر مرتکب ہوتا ہے تو آگاہی کے بعد اس کے سامنے دوراستے ہوتے ہیں ۔ ایک ہے باز گشت اور توبہ کا راستہ ، جس کے ذریعے گناہ کے اثرات د’ھل جاتے ہیں اور اس تذکرہ گذشتہ چند آیات میں ہو چکا ہے ۔ دوسرا ہے ہٹ دھرمی اور عناد کا راستہ ، جس کے منحوس نتیجے کے بارے میں زیر بحث آیت میں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے :

جو شخص حق آشکار ہونے کے بعد رسول کے سامنے مخالفت اور عناد کا مظاہرہ کرے او رراہ مومنین کو چھوڑ کر دوسری راہ اختیار کرے تو ہم اسے اسی راستے کی طرف کھینچے لئے جائیں گے جس پر وہ جارہا ہے اور روز قیامت ہم اسے جہنم میں ڈالیں گے اور کیسی بری جگہ اس کے انتظار میں ہے

( وَ مَنْ یُشاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ ما تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدی وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبیلِ الْمُؤْمِنینَ نُوَلِّهِ ما تَوَلَّی وَ نُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَ ساء َتْ مَصیراً ) ۔

توجہ رہے کہ ” یشاقق“ ” شقاق“ کے مادہ سے ہے ، اس کا معنی ہے ایسی سوچی سمجھی مخالفت جس میں عداوت و دشمنی ملی ہوئی ہو،

( وَ مَنْ یُشاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ ما تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدی )

(یعنی .....ہدایت اور راہ راست واضح ہو جانے کے بعد )...... یہ جملہ بھی اسی معنی کی تاکید کرتا ہے ۔ درحقیقت اس سے بہتر انجام ایسے لوگوں کے بس میں ہی نہیں ۔ ان کا انجام اس دنیا میں بھی منحوس اور افسوس ناک ہے اور اس جہان میں بھی دردناک ہے ، اس جہان میں اس طرح جیسے قرآن کہتا ہے کہ وہ دن بدن اپنی غلط راہ میں زیادہ راسخ ہوجاتے ہیں وہ بے راہ روی میں جتنا آگے بڑھتے ہیں جادہ حق سے ان کا زاویہ انحراف اتنا ہی بڑھتا جا تا ہے ۔ اور یہ وہ انجام ہے جو انھوں نے اپنے لئے خود اختیار کیا ہے یہ ایسی تعمیر ہے جس کا سنگ بنیاد انھوں نے خود اپنے ہاتھوں سے رکھا ہے لہٰذا اس انجام کے سلسلے میں ان پر کوئی ظلم نہیں کیا گیا ۔ یہ جو ارشاد الہٰی ہے کہ” نولہ ماتولّی“ کے بارے میں ایک اور بے راہ روی میں پیش رفت کرنے کی طرف اشارہ ہے ۔(۱)

نولہ ماتولّی ۔کے بارے میں ایک اور تفسیر بھی ہے اور وہ یہ کہ ” ہم ایسے لوگوں کو انہی جعلی معبودوں کی سر پرستی میں رہنے دیں گے جو انھوں نے اپنے لئے خو د منتخب کررکھے ہیں ”نیز“ نصلہ جھنم“ قیامت میں ان کے انجام کی طرف اشارہ ہے ۔

____________________

۱-اس سلسلے میں تفسیر نمونہ جلد ق ( ار دو ترجمہ ص۱۴۰) میں ” خدا کی طرف سے ہدایت و گمراہی “ کے زیر عنوان تفصیلی گفتگو کی جاچکی ہے ۔


اجماع کی حجیت

فقہ کی چار دلیلوں میں سے ایک اجماع ہے اس کا معنی ہے کہ کسی ایک مسئلے پر اسلامی علماء کا اتفاق رائے ۔

اصول فقہ میں اجماع کی جحیت ثابت کرنے کے لئے مختلف دلیلیں بیان کی گئی ہیں ۔ بعض کے نزدیک ان میں سے ایک زیر بحث آیت بھی ہے ۔ کیونکہ آیت کہتی ہے کہ جو دشمن مومنین کے طریق کے علاوہ کوئی راستہ انتخاب کرے تو وہ دنیا اور آخرت میں بدبخت انجام ہو گا ۔ اس لئے جب مومنین کسی مسئلے میں ایک راہ انتخاب کرلیں تو سب کو چاہئیے کہ اس کی پیروی کریں ۔

لیکن حق یہ ہے کہ زیر نظر آیت کا اجماع کی حجیت سے کوئی تعلق نہیں ( اگر چہ ہم اجماع کی حجیت کے قائل ہیں البتہ اس شرط کے ساتھ کہ زیر اثر بحث مسئلے میں قول معصوم بھی موجود ہے یا معصوم ذاتی طور پر اصحاب اجماع میں موجود ہو، اگر چہ ناشناس طور پر ہی موجود ہو، لیکن ایسے اجماع کی حجیت در اصل سنت اور قول ِ معصوم ہی کی حجیت ہے ۔نہ کہ درج بالا آیت حجیت ِاجماع پر دلیل ہے )

آیت کے حجیت اجماع پر دلیل نہ ہونے کے بارے میں عر ض ہے کہ :

۱۔ جو سزا ئیں آیت میں معین ہوئی ہیں وہ ان لوگوں کے لئے ہیں جو جانتے بوجھتے پیغمبرکی مخالفت کریں اور راہِ مومنین کے علاوہ کوئی راستہ منتخ کریں یعنی یہ دونوں امور جمع ہو ں تو اس کا نتیجہ وہ ہے جو قرآن نے بیان کیا ہے اور یہ وہ مخالفت ہے جو علم و آگاہی سے کی جائے اس صورت ِ حال کا تو حجیت اجماع کے مسئلے سے کوئی ربط نہیں ۔ اور یہ امر انتہا اجماع کو حجت قرار ددیتا ۔

۲۔ دوسر ی بات یہ ہے کہ سبیل المومنین سے مراد راہِ توحید ، خدا پرستی اور اصل اسلام ہے نہ کہ فقہی فتاویٰ اور فروعی احکام جیسا کہ شانِ نزول کے علاوہ آیت کا ظاہر بھی اس حقیقت پر گواہ ہے اور حقیقت میں راہِ مومنین سے ہٹ کر کوئی راہ اپنے کامطلب مخالفت ِ پیغمبر کے علاوہ او رکچھ نہیں دونوں باتوں کی باز گشت ایک ہی مفہوم کی طرف ہے یہی وجہ ہے کہ امام باقر علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں ہے :

جس وقت حضرت امیر المومنین علی (علیه السلام) کوفہ میں تھے کچھ لوگ آپ (علیه السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے انھوں نے درخواست کی : آپ (علیه السلام) ہمارے لئے کسی پیش نماز کا انتخاب کریں ( تاکہ ماہِ رمضان کی مستحب نمازیں جو تراویح کے نام سے مشہور ہیں اور حضرت عمر کے زمانے میں جماعت سے پڑھا کرتے تھے اس پیش نماز کے ساتھ پڑھ سکیں ) امام علیہ السلام نے اس کام سے منع کیا اور ایسی جماعت سے روکا ( کیونکہ نفلی نماز کے لئے جماعت صحیح نہیں ہے ) اپنے امام و پیشوا کا قطعی حکم سننے کے باوجود یہ لوگ ڈھٹائی کا مظاہرہ کرنے لگے انھوں نے دادو فریاد بلند کی : لوگو! آو اس ماہِ رمضان میں آنسو بہاو۔

دوستان ِ علی میں سے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور عرض کرنے لگے : کچھ لوگ آپ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے ۔

آپ نے فرمایا: انھیں ان کے حال پر چھوڑ دو جسے چاہیں منتخب کرلیں اور ا س( غیر مشروع ) جماعت کو بجا لائیں ۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :(نور الثقلین جلد ۱ صفحہ ۵۵۱ ۔)

( وَ مَنْ یُشاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ ما تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدی وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبیلِ الْمُؤْمِنینَ نُوَلِّهِ ما تَوَلَّی وَ نُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَ ساء َتْ مَصیراً ) ۔

ہم نے جو کچھ آیت کی تفسیر کے بارے میں کہا ہے یہ حدیث بھی اس کی تائید کرتی ہے ۔


آیت ۱۱۶

۱۱۶۔ا( ِٕنَّ اللَّهَ لا یَغْفِرُ اٴَنْ یُشْرَکَ بِهِ وَ یَغْفِرُ ما دُونَ ذلِکَ لِمَنْ یَشاء ُ وَ مَنْ یُشْرِکْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالاً بَعیداً ) ۔

ترجمہ

۱۱۶۔ خدا اپنے ساتھ کئے جانے والے شرک کو نہیں بخشتا ( لیکن ) اس سے کم تر کو جسے چاہے ( مناسب سمجھے) بخش دیتا ہے او رجو شخص خدا کے لئے شریک کا قائل ہو، وہ دور کی گمراہی میں جاپڑا ہے ۔

تفسیر

شرک.... ناقابل معافی گناہ

منافقین اور مرتد ین یعنی اسلام قبول کرلینے کے بعد کفر پر پلٹ جانے والوں سے مربوط مباحث کے بعد ، یہاں دوبارہ گناہ شرک کی شدت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسا گناہ ہے جو عفو و بخشش کے قابل نہیں ہے اور اس سے بڑھ کر کسی گناہ کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔

کچھ فرق کے ساتھ یہی مضمون اسی سورہ کی آیت ۴۸ میں گذرچکا ہے ۔

ایسی تکرار تربیتی مسائل میں لازمہ ِ بلاغت ہے کیونکہ بنیادی اور اہم مسائل کی فاصلے سے تکرار ہونا چاہئیے تاکہ وہ نفوس و افکار میں راسخ ہو جائیں ۔

در حقیقت گناہ بھی مختلف بیماریوں کی طرح ہیں جب تک بیماری بد ن کے اصلی مراکز پر حملہ آور ہو کر انھیں نے کار نہیں کردیتی بدن کی دفاعی قوت صحت و بہبود کے لئے کار آمد رہتی ہے لیکن اگر مثال کے طور پر بیماری بدن کے اصلی مرکز یعنی دفاع پر حملہ کردے اور اسے مفلوج کردے تو امید کے در وازے بند ہو جائیں گے اور موت یقین کی صورت میں آکھڑی ہوگی ۔

شرک ایک ایسی ہی بیماری ہے جو روح انسانی کا حساس مرکز بے کار کردیتی ہے اور انسانی جان پر تاریکی و ظلمت کا چھڑکاو کرتی ہے ۔ اس کے ہوتے ہوئے نجات کی کوئی امید نہیں ہے ۔ لیکن اگر حقیقت توحید اور یکتا پرستی جو ہر طرح کی فضیلت، جنبش اور تحریک کا سر چشمہ ہے زندہ ہو تو پھر دیگر گناہوں سے بخشش کی امید کی جا سکتی ہے (إ( ِنَّ اللَّهَ لا یَغْفِرُ اٴَنْ یُشْرَکَ بِهِ وَ یَغْفِرُ ما دُونَ ذلِکَ لِمَنْ یَشاء ُ ) ۔

جیساکہ ہم کہ چکے ہیں یہ آیت اس سورہ میں کچھ فرق کے ساتھ دو مرتبہ آئی ہے تاکہ شرک و بت پرستی کے وہ آثار جو سال ہا سال سے لوگوں کے نفوس کی گہرائیوں میں گھر بناچکے تھے ۔ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائیں اور توحید کے معنوی و مادی آثار ان کے شجرِوجود پر آشکار ہو جائیں البتہ دونوں آیات میں تھوڑا سا فرق ہے یہاں فرمایا گیا ہے( وَ مَنْ یُشْرِکْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالاً بَعیداً ) ۔.....یعنی .جو شخص خدا کے لئے شریک کا قائل ہو وہ دورکی گمراہی میں گرفتار ہے لیکن گذشتہ آیت میں ارشاد ہوا ہے :

( و من یشرک بالله فقد افتری اثماً عظیم ) .......... یعنی جو شخص کسی کو خدا کا شریک بنادے اس نے بہت بڑا جھوٹ اور افتراء باندھا ہے ۔

درحقیقت وہاں جنبہ الہٰی او رخدا شناسی کے لحاظ سے شریک کے عظیم نقصان کی طرف اشارہ ہواہے اور یہاں لوگوں کے لئے اس کے ناقابل تلافی نقصانات بیان ہوئے ہیں وہاں مسئلے کا عملی پہلو مد نظر رکھا گیا ہے او ریہاں اس کے عملی پہلو او رخارجی نتائج کاذکر ہے واضح ہے کہ اصطلاح کے مطابق یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں ۔(۱)

____________________

۱ - اس آیت کے سلسلے میں دیگر وضاحتیں تفسیر نمونہ جلد ۳ میں پیش کی جاچکی ہیں ( دیکھئے ار دو ترجمہ ص۲۹۴)


آیات ۱۱۷،۱۱۸،۱۱۹،۱۲۰،۱۲۱

۱۱۷۔ ا( ِٕنْ یَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ إِلاَّ إِناثاً وَ إِنْ یَدْعُونَ إِلاَّ شَیْطاناً مَریداً ) ۔

۱۱۸۔( لَعَنَهُ اللَّهُ وَ قالَ لَاٴَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبادِکَ نَصیباً مَفْرُوضاً ) ۔

۱۱۹۔( وَ لَاٴُضِلَّنَّهُمْ وَ لَاٴُمَنِّیَنَّهُمْ وَ لَآمُرَنَّهُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ آذانَ الْاٴَنْعامِ وَ لَآمُرَنَّهُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ وَ مَنْ یَتَّخِذِ الشَّیْطانَ وَلِیًّا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْراناً مُبیناً ) ۔

۱۲۰۔( یَعِدُهُمْ وَ یُمَنِّیهِمْ وَ ما یَعِدُهُمُ الشَّیْطانُ إِلاَّ غُرُوراً ) ۔

۱۲۱( اٴُولئِکَ مَاٴْواهُمْ جَهَنَّمُ وَ لا یَجِدُونَ عَنْها مَحیصاً ) ۔

ترجمہ

۱۱۷۔ وہ خدا کو چھوڑ کر صرف بتوں کو پکار تے ہیں جن کو ئی اثر نہیں اور ( یا ) وہ صرف سرکش او رتباہ کار شیطان کو پکارتے ہیں ۔

۱۱۸۔ خدا نے اسے اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اور اس نے کہا ہے کہ میں تیرے بندوں سے ایک معین مقدار لے کر رہوں گا۔

۱۱۹۔ اور میں انھیں گمراہ کروں گا اور آزووں اور تمناوں کے حصول میں سر گرم رکھوں گا اور انھیں حکم دو ں گا کہ وہ ( بت ہودہ اور فضول کام انجام دیں اور ) چوپایوں کے کان چیر دیں اور خدا کی ( پاک ) خلقت کو خراب کردیں ( فطرتِ توحید کو شرک آلودہ کردیں اور وہ لوگ جنھوں نے خدا کی بجائے شیطان کو اپنی ولی چنا ہے انھوں نے واضح نقصان کیا ہے ۔

۱۲۰۔ شیطان ان سے ( جھوٹے ) وعدے کرتا ہے اور انھیں آرزووں میں سر گرم رکھتا ہے اور مکر و فریب کے سوا انھیں کوئی وعدہ نہیں دیتا۔

۱۲۱۔ ( شیطان کے ) ان ( پیرو کاروں ) کے رہنے کی جگہ جہنم ہے اور ان کے لئے کوئی راہِ فرار نہیں ہے ۔

شیطانی سازشیں

پہلی آیت ان مشرکین کی حالت بیان کررہی ہے جن کے منحوس انجام کا تذکرہ گذشتہ آیت میں کیا گیا ہے ۔اس میں در حقیقت ان کی سخت گمراہی کا سبب بیان کیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے : وہ اس قدر کوتاہ فکر ہیں کہ انھوں نے وسیع عالم ہستی کے خالق کو چھوڑ کر ایسے موجودات کے در پر رجوع کرتے ہیں کہ جن کا کچھ مثبت اثر نہیں بلکہ بعض اوقات تو شیطان کی طرح تباہ کار اور گراہ کن بھی ہوتے ہیں ( ا( ِٕنْ یَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ إِلاَّ إِناثاً وَ إِنْ یَدْعُونَ إِلاَّ شَیْطاناً مَریداً ) ۔

یہ امر قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں مشرکین کے معبود دوچیزوں میں منحصر قرار دئے گئے ہیں اول ”اناث“اور دوم ......” شیطان مرید“

”اناث“ جمع ہے ” انثیٰ“ کی جو کہ ” انث“ ( بر وزن ” ادب“ ) مادہ سے ہے ” انثیٰ “ نرم اور قابل انعطاف موجود کے معنی میں استعمال ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ لوہا جب آگ میں نرم ہو جائے تو عرب’ انث الحدید“ کہتے ہیں عورت کو بھی ” اناث“ یا ” مونث“ اسی لئے کہ جاتا ہے کہ وہ زیادہ نرم دل ، لطیف اور انعطاف پذیرصنف ہے ۔

بعض مفسرین کا نظر یہ ہے کہ یہاں قرآن کا اشارہ قبالئل عرب کے مشہور بتوں کی طرف ہے ہر عرب قبیلے نے اپنا ایک بت بنا رکھا تھا سجے نام دیاگیا تھا ” مثلاً اللات جس معنی ہے ” الھہ“ اور یہ ” اللہ “ کا مونث ہے ” عزی“ بھی مونث ہے “ اعز“ کا اسی طرح ” منات“ ” اساف“ اور ” نائلہ “ بھی مونث نام ہیں ۔

بعض دوسرے بزرگ مفسرین کا نظریہ ہے کہ یہاں اناث سے مراد مونث کا مشہور معنی نہیں ہے بلکہ یہ لفظ یہاں اصل لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی اہ ایسے معبودوں کی پرستش کرتے تھے جن کی حیثیت ایک کمزورمخلوق سے زیادہ نہ تھی اور جو آسانی سے انسان کے ہاتھوں ہر شکل میں دُھل جاتے تھے ان کا پورا وجود دوسروں کے رحم و کرم پر جدھر چاہو ادھر مڑجانے والا اور حوادث کے سامنے جھک جانے والا تھا، زیادہ کھلے لفظوں میں وہ نے ارادہ او ربے اختیار معبود تھے جن سے کوئی نفع و نقصان نہ پہنچ سکتا تھا۔

باقی رہا لفظ” مرید“ تو اس کی تشریح کچھ یوں ہے : یہ لفظ لغت کے لحاظ سے ” مرد “ ( بر وزن ” زرد“)کے مادہ سے ہے ، جس کا معنی ہے درختوں کی شاخیں اور پتے جھڑ جانا۔ اسی لئے جس نوجوان کے چہرے پر ابھی بال نہ اگے ہوں اسے” امَرد“ کہا جاتاہے ۔ لہٰذا ” شیطان مرید“ سے مراد شیطان ہے جس کے شجر وجود کی تمام صفات فضیلت گر چکی ہوں اور بھلائی اور طاقت کی کوئی چیز باقی نہ رہی ہو یا پھر لفظ مادہ ” مرود“ ) سے ہے جس کامعنی ہے طغیان اور سر کشی.... یعنی ان کا وجود تباہ اور ویران لانے والا شیطان ہے ۔

درحقیقت قرآن نے ان کے معبودوں کو دو گروپوں میں بیان کیا ہے ایک گروپ وہ ہے جو بے اثر اور بے خاصیت ہے اور دوسرا تباہ کار اور ویران گر ہے اور جو شخص ایسے معبودوں کے سامنے سر جھکائے وہ کھلی گمراہی میں مبتلا ہے ۔

اس کے بعد کی آیا ت میں شیطان کی صفات ، اس کے مقاصد و اہداف اور بنی آدم سے اس کی مخصوص دشمنی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے نیز اس کے لائحہ عمل کے مختلف حصوں کی تشریح کی گئی ہے ارشاد ہوتا ہے : خدا نے اسے اپنے رحمت سے دور کردیا ہے ( لعنہ اللہ) اس کی تمام تباہ کاریوں اوربد بختیوں کی بنیاد در اصل یہی ہے کہ وہ رحمت الہٰی سے دور ہو چکا ہے ،اور یہ دوری اس کے غرور و تکبر کا نتیجہ ہے ، یہ بات واضح ہے کہ ایسا وجودرحمت خدا سے دور ہو کر ہر طرح کی خیر و خوبی سے محروم ہو چکا ہو، وہ دوسروں کی زندگی کے لئے مفیدنہیں ہو سکتا بلکہ نقصان دہ بھی ہوسکتا ہوگا۔

اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ شیطان نے قسم کھارکھی ہے کہ وہ یہ کام سر انجام دے گا:

۱۔ تیرے بندوں سے ایک معین حصہ لوگوں گا( وقال لاتخذن من عبادک نصیباً مفروضا ً ) ۔

وہ جانتا ہے کہ وہ خدا کے سب بندوں کو گمراہ نہیں کرسکتا اور صرف ہوس پرست، ضعیف ایمان والے اور کمزور ارادے کے مالک ہی اس کے سامنے جھکیں گے ۔

۲۔ انھیں گمراہ کروں گا( ولاضلنهم ) ۔

۳۔ انھیں لمبی چوڑی امیدوں اور آرزووں کے سہارے مصروف رکھوں گا( ولامنینهم ) (۱)

۴۔ انھیں فضول اور بیہودہ کاموں کی دعوت دوں گا ان میں سے یہ بھی ہے کہ انھیں حکم دوں گا وہ چوپایوں کے کانوں میں سوراخ کریں یا انھیں کاٹ ڈالیں

( ولامر نهم فلیبتکن اذا ل الانعام ) ۔

یہ زمانہ جاہلیت کے ایک بد ترین عمل کی طرف اشارہ ہے ۔ بت پرستوں میں یہ کام مروج تھا کہ وہ بعض چوپایوں کے کان چیر دیتے یا انھیں قطع کردیتے پھر ان پر سواری کو ممنوع سمجھ لیتے اور ان سے کسی قسم کا کوئی فائدہ نہ اٹھاتے ۔

۵۔ انھیں اس کام پر ابھاروں گا کہ خدا کی پاک خلقت کو بگاڑدیں( ولامرنهم فلیغرن خلق الله ) ۔

یہ جملہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ خد انے انسان کی فطرت اولیٰ میں توحید، یگانہ پرستی او رہر طرح کی پسندیدہ صفت رکھی ہے لیکن شیطانی وسوسے اور ہوا و ہوس اسے اس صحیح راستے سے منحرف کردیتے ہیں اور بے راہ روی کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں اس بات کی شاہد سورہ روم کی آہ ۳۰ ہے ۔

( فا قم وجهک للذین حنیفا فطرة الله التی فطر الناس علیها لا تبدیل لخلق الله ذلک الدین القیم ) ۔

اپنا چہرہ خالص توحیدی آئین کی طرف کولو یہ وہی فطرت ہے کہ جس پر خدا نے شروع سے لوگوں کورکھا ہے یہ آفرینش کبھی تبدیل نہیں ہوسکتی یہی حقیقی اور مستقیم دین ہے ۔

امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے بھی منقول ہے کہ یہاں تغیر سے مراد فطرت توحید اور فرمانِ خدا میں تغیر ہے(۲)

اور یہ ایسا ضرر ہے جو قابل تلافی نہیں شیطان یہ نقصان انسان کی سعادت کی بنیاد کو پہچانتا ہے کیونکہ وہ حقائق کو اوہام میں تبدیل کرکے رکھ دیتا ہے اور اس کے بعد سعدات شقاوت میں بدل جاتی ہے ۔

آخر میں ایک حکم عمومی بیان کیا گیا ہے : جو شخص خد اکی بجائے شیطان کو اپنا سرپرست بنا تا ہے وہ کھلے نقصان کا مرتکب ہواہے( وَ مَنْ یَتَّخِذِ الشَّیْطانَ وَلِیًّا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْراناً مُبیناً ) ۔

اگلی آیت میں گذشتہ گفتگو کی دلیل کے طور پر چند نکات بیان کئے ہیں :

شیطان ہمیشہ ان سے جھوٹے وعدے کرتا رہتا ہے اور انھیں لمبی چوڑی ارزووں میں محو رکھتا ہے لیکن مکرو فریب کے علاوہ کرتا ان کے لئے کچھ بھی نہیں ہے( یَعِدُهُمْ وَ یُمَنِّیهِمْ وَ ما یَعِدُهُمُ الشَّیْطانُ إِلاَّ غُرُوراً ) ۔(۳)

محل بحث آیت میں سے آخری آیت میں شیطان کے پیرو کاروں کے آخری انجام کا تذکرہ ہے ۔ فرمایا گیا ہے ان کا ٹھکا نا جہنم میں ہے اور ان کے لئے بھاگ نکلنے کی کوئی راہ نہیں ہے( اٴُولئِکَ مَاٴْواهُمْ جَهَنَّمُ وَ لا یَجِدُونَ عَنْها مَحیصاً ) ۔(۴)

____________________

۱ اس لفظ کا مادہ ” منی“ ( بر وزن” منع“ ) ہے جو تقدیر اور حساب لگانے کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے بعض اوقات خیالی اندازوں او رموہوم آوازوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے ، نطفہ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ زندہ موجودات کی ابتدا کا حساب اسی سے لگایا جاتا ہے ۔

۲ -

۳ ” غرور“ در اصل کسی چیز کے واضح اور آشکار ر اثر کو کہتے ہیں لیکن یہ لفظ زیادہ تر آثار کے لئے استعمال ہوتا ہے جن کا ظاہر پر فریب اور باطن ناپسند ہو اور ہرایسی چیز کو غرور کہتے ہیں جو انسان کو فریب دے اور راہ حق سے منحرف کردے چاہے وہ مال و ثروت ہو یا مقام و اقتدار۔

۴ ” محیص“ ” حیص“ کے مادہ سے ہے جس کا مطلب ہے عدول کرنا اور نگاہ پیر لینا۔ لہٰذا محیص کا منعی ہو گا عدول کا ذریعہ اور فرار کا وسیلہ۔


آیت ۱۲۲

۱۲۲۔( وَ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِهَا الْاٴَنْهارُ خالِدینَ فیها اٴَبَداً وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا وَ مَنْ اٴَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قیلاً ) ۔

ترجمہ

۱۲۲۔ اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انھوں نے نیک کام سر انجام دئے ہم انھیں عنقریب ان باغات بہشت میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ ہمیشہ کے لئے ان میں رہیں گے اللہ تم سے سچا وعدہ کرتا ہے او رکون ہے جو قول اور اپنے وعدوں میں اللہ سے زیادہ سچا ہو ۔

شانِ نزول

گذشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ جو لوگ شیطان کو اپنا ولی بناتے ہیں وہ واضح طور پر خسارے اور نقصان میں ہیں ، شیطان ان سے جھوٹے وعدے کرتا ہے انھیں آرزووں میں محو رکھتا ہے اور ا س کا وعدہ مکر و فریب کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ ان کے مقابلے میں اس آیت میں اہل ایمان کا انجام بیان کیا گیا ہے کہ : وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انھوں نے نیک اعمال انجام دئیے ہیں وہ بہت جلد فردوسِ بریں کے باغات میں جائیں گے، یہ وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں( وَ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِهَا الْاٴَنْهارُ ) ۔

یہ نعمت دنیاوی نعمتوں کی طرح ناپائیدار نہیں ہے بلکہ ہمیشہ مومنین کو میسر رہے گی( خالِدینَ فیها اٴَبَداً ) ۔

یہ وعدہ شیطان کے جھوٹے وعدوں کی طرح نہیں ہے بلکہ سچا ہے اور خد اکا وعدہ ہے( وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا )

اور یہ واضح ہے کہ خداسے بڑھ کر اپنے قول و قرار کا سچا کوئی نہیں ہوسکتا( وَ مَنْ اٴَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قیلاً ) ۔

کیونکہ وعدہ خلافییا تو عجز و ناتوانی کی وجہ سے ہوتی ہے اور یا جہالت و امتیاج کی بنا پر جو کہ اللہ کی ساحت قدس سے بعید ہے ۔


آیات ۱۲۳،۱۲۴

۱۲۳۔( لَیْسَ بِاٴَمانِیِّکُمْ وَ لا اٴَمانِیِّ اٴَهْلِ الْکِتابِ مَنْ یَعْمَلْ سُوء اً یُجْزَ بِهِ وَ لا یَجِدْ لَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِیًّا وَ لا نَصیراً ) ۔

۱۲۴۔( وَ مَنْ یَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحاتِ مِنْ ذَکَرٍ اٴَوْ اٴُنْثی وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاٴُولئِکَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَ لا یُظْلَمُونَ نَقیراً ) ۔

ترجمہ

۱۲۳۔ تمہاری اور اہل کتاب کی آرزوں سے ( فضیلت و بر تری) نہیں ہوتی ، جو شخص بر اعمل کرے گا اسے سزادی جائے گی اور وہ خدا کے علاوہ کسی کو اپنا ولی و یاور نہیں پائے گا۔

۱۲۴۔ اور جو شخص اعمالِ صالح میں سے کچھ انجام دے ، چاہے مرد یا عورت ، اگر وہ ایمان رکھتا ہے تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہو ں گے اور ان پر تھوڑا سا ظلم بھی ہو گا ۔

شانِ نزول

تفسیر مجمع البیان اور دیگر تفاسیر میں ہے کہ مسلمان او راہل کتاب ایک دوسرے پرفخر کرتے تھے اہل کتاب کہتے کہ ہمارا پیغمبر تمہارے پیغمبر سے پہلے آیا ہے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے مقدم ہے او رمسلمان کہتے کہ ہمارا پیغمبر تمام پیغمبروں کا خاتم ہے اور ا س کی کتاب آخری کتاب ہے اور دیگر آسمانیکتب سے زیادہ کامل و اکمل ہے لہٰذا ہم تم سے زیادہ افضل ہیں ۔

ایک اور روایت میں ہے کہ یہودی کہتے تھے کہ ہم برگزیدہ قوم ہیں اور جنہم کی آگ چند دنوں کے سواہم تک نہیں پہنچے گی( و قالوا لن تمسنا النار الا ایا ماً معدوداة ) ۔( بقرہ ۔ ۸۰)

اور مسلمان کہتے کہ بہترین ہم امت ہیں کیونکہ خدا نے ہمارے بارے میں فرمایاہے :

( کنتم خیر امت اخرجت للناس ) آل عمران ۔ ۱۱۰ ۔

اسی ضمن میں مندر جہ بالا آیت نازل ہوئی او ران دعووں پر خط بطلان کھینچ دیا گیااو ریہ واضح کیا گیا کہ ہر انسان کی قدر و قیمت ان کے اعمال کے مطابق ہو گی ۔

سچے اور جھوٹے امتیازات

ان دو آیت میں اسلام کی ایک بہت ہی اہم اساس کو بیان کیا گیا ہے او ر وہ یہ کہ افراد کی وجودی قدر و قیمت اور جزاو سزا ان کے دعووں اور آرزوں سے مربوط نہیں ہے بلکہ صرف ایمان اور عمل سے وابستہ ہے اسلام کی یہ بنیاد ثابت اور سنت ہے اور غیر متبدل ہے ۔ یہ وہ قانون ہے جس کی نظر میں تمام امتیں یکساں ہیں لہٰذا پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: فضیلت و برتری کا انحصار تمہاری اور اہل کتاب کی آرزووں پر نہیں ہے( لَیْسَ بِاٴَمانِیِّکُمْ وَ لا اٴَمانِیِّ اٴَهْلِ الْکِتابِ ) ۔

اس کے بعد فرمایا گیا ہے : جو شخص کوئی عمل بجا لائے گا وہ اس کے بدلے اپنی سزا پائے گا اور خدا کے علاوہ کسی کو اپناولی و یا ور نہ پائے گا

( مَنْ یَعْمَلْ سُوء اً یُجْزَ بِهِ وَ لا یَجِدْ لَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِیًّا وَ لا نَصیراً ) ۔اور اسی طرح کے لوگ نیک عمل بجالائیں گے اور صاحبِ ایمان ہوں گے وہ مرد ہوں یا عورت جنت میں داخل ہوں گے اور ان پرکوئی ظلم نہیں ہو گا( وَ مَنْ یَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحاتِ مِنْ ذَکَرٍ اٴَوْ اٴُنْثی وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاٴُولئِکَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَ لا یُظْلَمُونَ نَقیراً ) ۔(۱)

اس طرح قرآن نے نہایت سادگی سے بقولے سب کے ہاتھ پر پاک پانی ڈالا ہے او رکسی مذہب سے دعوے کی حد تک خیالی ، اجتماعی یا نسلی وابستگی کو بے فائدہ قرار دیا ہے اور نجات کی بنیاد اس مکتب کے اصولوں پر ایمان لانے اور اس کے پروگراموں پر عمل کرنے ٹھہرایاہے ۔

پہلی آیت کے ذیل میں بنیادی شیعہ کتب میں ایک حدیث منقول ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد بعض مسلمان ایسی وحشت و پریشانی میں مبتلا ہو گئے کہ وہ ڈر کے مارے رونے لگے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ انسان خطا ر ہے اور آخر اس سے گناہ سرزد ہونا ممکن ہی ہے اور اگر کسی قسم کی کوئی معافی اور بخشش نہیں اور تمام برے اعمال کی سزا ملے گی پھر یہ تو بڑا مشکل مرحلہ ہے ۔ لہٰذا انھوں نے پیغمبر اکرم کی خدمت میں عرض کیا کہ اس آیت نے ہمارے لئے تو کوئی صورت نہیں چھوڑی، اس پر پیغمبر اکرم نے فرمایا:

اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بات وہی ہے جو اس آیت میں نازل ہوئی ہے تاہم تمہیں ایسی بشارت دیتا ہوں جو تمہارے لئے قربِ خدا اورنیک اعمال بجا لانے کی تشویق کا سبب بنے گی اور وہ یہ کہ تمہیں جو مصیبتیں پہنچیں گی، تمہارے گناہوں کا کفارہ بنیں گی یہاں تک تمہارے پاوں میں چھبنے والاایک کانٹا بھی ۔(۲)

ایک سوال کاجواب

ارشاد الہٰی ہے :( وَ لا یَجِدْ لَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِیًّا وَ لا نَصیراً ) ۔یعنی وہ اپنے گناہوں کے مقابلہ میں کسی کو اپناسر پرست و یا ور نہیں پائے گا) ممکن ہے بعض لوگ اس سے استدلال کرتے ہوئے کہیں کہ اس جملے سے مسئلہ شفاعت وغیرہ کی بالکل نفی ہو جاتی ہے ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ پہلے بھی ارشاد کیا جاچکا ہے کہ شفاعت کا معنی یہ نہیں ہے کہ شفاعت کرنے والے مثلاً انبیاء آئمہ اور صلحا خدا کے مقابلہ میں کوئی مستقل طاقت رکھتے ہیں بلکہ ان کی شفاعت بھی حکم خدا کے ماتحت ہے اور اس کی جازت او رجس کی شفاعت کی جانا ہے اس کی اہلیت کے بغیر کبھی شفاعت نہیں کریں گے ۔لہٰذا ایسی شفاعت کی بر گشت بالا ٓخر خد اکی طرف ہے اور خدا کی سر پرستی ، نصرت اور مدد کا ایک شعبہ شمار ہوتی ہے ۔

____________________

۱-نقیر کے مفہوم پر اسی سورہ کی آیت ۵۳ میں بحث کی جاچکی ہے ۔

۲- نو ر الثقلین جلد اول ۔ ص۵۵۳۔


آیات ۱۲۵،۱۲۶

۱۲۵۔( وَ مَنْ اٴَحْسَنُ دیناً مِمَّنْ اٴَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ وَ اتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْراهیمَ حَنیفاً وَ اتَّخَذَ اللَّهُ إِبْراهیمَ خَلیلاً ) ۔

۱۲۶۔( وَ لِلَّهِ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْاٴَرْضِ وَ کانَ اللَّهُ بِکُلِّ شَیْء ٍ مُحیطاً ) ۔

ترجمہ

۱۲۵۔ جو اپنے آپ کو خدا کے سپرد کردے اس سے بہتر کس کا دین ہے اور پھر جو نیکو کار بھی ہو اور ابراہیم کے خالص او رپاک دین کا پیرو ہو اور خدا نے ابراہیم کو اپنی دوستی کے لئے منتخب کرلیا ہے ۔

۱۲۶۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب خدا کا ہے او رخدا ہر چیز پر محیط ہے ۔

تفسیر

گذشتہ آیات میں ایمان و عمل کی تاثیر کے بارے میں گفتگو تھی ۔ ان میں بتا یا گیا تھا کہ کسی دین و آئیں سے منسوب ہوجانا ہی کافی نہیں لیکن زیر نظر آیت میں اس بنا پرکہ کہیں گذشتہ بحث سے کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو ۔ دین اسلام کی تمام ادیان پر برتری کا اظہار یوں کیا گیا ہے : کون سا دین اس شخص کے دین سے بہتر ہے جو بار گاہ الہٰی میں سر پا تسلیم ہو او رنیک عمل سے دستبردار نہ ہو او رابراہیم کے پاک اور خالص دین کا پیرو کا ر ہو

( وَ مَنْ اٴَحْسَنُ دیناً مِمَّنْ اٴَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ وَ اتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْراهیمَ حَنیفاً ) ۔

البتہ آیت یہاں استفہامیہ صورت میں ہے لیکن اس کا مقصد یہ ہے کہ سننے والے سے اس حقیقت کا اقرار لیاجائے ۔

اس آیت میں تین چیزوں کو نہترین دین کے مقیاس کے طور پر شمار کیاگیا ہے :۔

پہلی : پورے طور پر خدا کے حضور سپرد گی”( اسلم وجهه لله )(۱)

دوسری : نیکو کاری( وھو محسن)یہاں نیکو کاری سے مراد دل ، زبان اور عمل سے ہر طرح کی نیکی ہے ، تفسیر نور الثقلین میں اس آیت کے ذیل میں پیغمبر اسلام سے ایک حدیث نقل کی گئی ہے جو اس سوال کے جواب میں ہے کہ احسان سے کیا مراد ہے حدیث کے الفاظ یہ ہیں :ان تعبد الله کانّک تراه فان لم تراه فان یراک

(ا س آیت میں )احسان سے مراد یہ ہے کہ جو کام بھی عبادت ِ خدا کے لئے انجام دو وہ اس طرح ہو گویا تم خدا کو دیکھ رہے ہو اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے اور وہ تم پر شاہد و ناظر ہے ۔

تیسری : ابراہیم کے پاک دین و آئین کی پیروی کرنا( وابتع ملة ابراهیم حنیفاً ) ۔(۲)

حنیف اس شخص کو کہتے ہیں جو ادیان باطل چھوڑ کر حق کی طرف مائل ہو اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرے ۔ اس کی تشریح جلد دوم میں کی جا چکی ہے ( ۳۶۹ ار دو ترجمہ )

خلیل کِسے کہتے ہیں ؟

ہو سکتا ہے ” خلیل“ ” خلت“ ( بروزن ” حجت“ ) کے مادہ سے ہو جس کا معنی ہے دوستی ۔ یا پھر ” خلّت“ ( بر وزن” ضربت“) کے مادہ سے ہو جس کا مطلب ہے نیاز و احتیاج۔

مفسرین میں اس سلسلے میں اختلاف ہے کہ زیر نظر آیت میں کون سا معنی آیت کے مفہوم کے زیادہ قریب ہے ۔

بعض کے خیال میں دوسرا معنی حقیقت آیت کے قریب تر کیونکہ ابراہیم اچھی طرح سے محسوس کرتے تھے کہ وہ بلااستثنا تمام چیزوں میں خدا کے محتاج ہیں لیکن اوپ والی آیت کہتی ہے کہ خدا نے خود ابراہیم (علیه السلام) کو یہ مقام دیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد دوستی ہے کیونکہ اگر یہ کہیں کہ خدا نے دوست کی حیثیت سے ابراہیم کو منتخب فرمایا تو یہ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے ۔

دوسری صورت میں مفہوم ہوسکتا ہے کہ خدا نے ابراہیم (علیه السلام) کا انتخاب اپنے محتاج کی حیثیت سے کیا ہے جبکہ باقی تمام مخلوق بھی خدا تعالیٰ کی محتاج اور نیاز مند ہے لہٰذا یہ بات ابراہیم سے مخصوص نہیں ہے ۔ ارشاد الٰہی ہے :

( یا ایهاالناس انتم الفقراء الیٰ الله )

یعنی اے لوگو! تم سب الہ کے محتاج ہو ۔ (فاطر..... ۱۵)

امام جعفر صادق (علیه السلام) سے منقول ایک روایت میں ہے :خدا نے ابراہیم کو اپنا خلیل ( اور دوست) بنایا ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ ان کی دوستی کا محتاج تھا بلکہ یہ اس بنا پر تھا کہ خدا تعالیٰ کے مفید اور اس کی راہ میں کوشش کرنے والے بندے تھے ۔(۳)

یہ روایت بھی اس بات کی شاہد ہے کہ زیر بحث آیت میں خلیل کا مطلب دوست ہی ہے ۔

رہا یہ سوال کی خدا تعالیٰ نے ابراہیم کو یہ مقام کن خصوصیات کی بنا پر عطا فر مایا ہے تو اس سلسلے میں روایات میں کئی ایک وجوہات بیان کی گئی ہیں ۔ جو سب ابراہیم کے انتخاب کی دلیل بن سکتی ہیں ۔ ایک وجہ امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں یوں بیان کی گئی ہے :

انمااتخذ الله ابراهیم خلیلا لانه لم یرد احداً ولم یسئل احداً اقط غیر الله ۔

یعنی خدا تعالیٰ نے ابراہیم کو اپنا خلیل اس لئے بنایا کیونکہ انھوں نے کبھی کسی سوال اور تقاضا کرنے والے کو محرام نہیں کیا اور کبھی کسی سے سوال اور تقاضا نہیں کیا۔(۴)

بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کو یہ مقام زیادہ سجدہ کرنے ، بھوکوں کو کھا نا کھلانے اور رات کی تاریکی میں نماز پڑھنے یا پروردگار کی طاعت کے لئے کوشان رہنے کی وجہ سے حاصل ہوا۔

اگلی آیت میں پروردگار کی مالکیت مطلقہ اور تمام اشیاء پر اس کے احاطے کا تذکرہ ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ خدا کی ملکیت ہے کیونکہ خدا تمام چیزوں پر محیط ہے( وَ لِلَّهِ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْاٴَرْضِ وَ کانَ اللَّهُ بِکُلِّ شَیْء ٍ مُحیطاً ) یہ اس طرف اشارہ ہے کہ خدا نے ابراہیم

(علیه السلام) کو اپنا دوست اس وجہ سے نہیں بنایا کہ خدا کسی چیز کی ضرورت اور احتیاج تھی بلکہ خدا تو سب سے بے نیاز ہے ۔ یہ انتخاب تو ابراہیم (علیه السلام) کی خوبیوں اور بہترین صفات کی وجہ سے ہے ۔

____________________

۱ ”وجہ “ لغت میں چہرے کو کہتے ہیں اور انسان کا چہرہ چونکہ اس کے قلب و روح کا آئینہ ہوتا ہے اور انسان کو خارجی دنیا سے مربوط کرنے والے حواس تقریبا ً سب چہرے میں واقع ہیں اس لئے یہ لفظ کبھی کبھی ذات کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ چنانچہ سورہ قصص آیت ۸۸ میں ہے ” کل شیء ھالک الا وجھہ “ ذات خدا کے علاوہ سب چیزیں ہلاک ہوجائیں گی ۔

۲ - ”ملت“ کا معنی“ ” دین “ ہے لیکن فرق یہ ہے کہ ملت کی اضافت خدا کی طرف نہیں ہوتی مثلا!”ملة اللہ “ نہیں کہتے بلکہ پیغمبر کی طرف اس کی اضافت ہوتی ہے جبکہ لفظ دین کی اضافت اللہ کی طرف بھی ، پیغمبر کی طرف بھی اور دیگر افراد کی طرف بھی ہوتی ہے ۔

۳ - یہ حدیث مجمع البیان میں زیر بحث آیت کے ذیل میں بیا ن کی گئی ہے ۔

۴ ۔تفسیر صافی اور تفسیر بر ہان ج۱ ، ص ۴۱۷، بحوالہ عیون الرضا ۔


آیت ۱۲۷

۱۲۷۔( وَ یَسْتَفْتُونَکَ فِی النِّساء ِ قُلِ اللَّهُ یُفْتیکُمْ فیهِنَّ وَ ما یُتْلی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتابِ فی یَتامَی النِّساء ِ اللاَّتی لا تُؤْتُونَهُنَّ ما کُتِبَ لَهُنَّ وَ تَرْغَبُونَ اٴَنْ تَنْکِحُوهُنَّ وَ الْمُسْتَضْعَفینَ مِنَ الْوِلْدانِ وَ اٴَنْ تَقُومُوا لِلْیَتامی بِالْقِسْطِ وَ ما تَفْعَلُوا مِنْ خَیْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ کانَ بِهِ عَلیماً ) ۔

ترجمہ

۱۲۷۔ تجھ سے عورتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ۔ کہہ دو کہ خدا اس بارے میں تمہیں جواب دیتا ہے او رجو کچھ قرآن میں یتیم عورتوں کے متعلق ، جن کے حقوق تم ادا نہیں کرتے اور ان سے شادی کرلینا چاہتے ہو اور اسی طرح چھوٹے بچوں او رناتوانوں کے متعلق تمہارے لئے بیان ہوا ہے ( اس سلسلے میں خدا کی کچھ وصیتیں ہیں او رخدا یہ بھی سفارش کرتا ہے ) کہ یتیموں کے ساتھ عادلانہ بر تاو کرو او رجو نیکیاں تم انجام دیتے ہو خدا ان سے آگاہ ہے (اور وہ تمہیں ان مناسب بدلہ دے گا ) ۔

حقوق نسواں کے بارے میں مزید گفتگو

زیر نظر آیت میں کچھ لوگوں کے اعتراضات اور سوالات کا جواب دیا گیا ہے جو انھوں نے عورتوں ( خصوصاً یتیم لڑکیوں )کے متعلق کئے تھے ارشاد ہوتا ہے : اے پیغمبر! تم سے عورتوں سے متعلق احکام پوچھتے ہیں ۔ کہو کہ خدا اس سلسلے میں تمہیں جواب دیتا ہے( وَ یَسْتَفْتُونَکَ فِی النِّساء ِ قُلِ اللَّهُ یُفْتیکُمْ فیهِن ) ۔

مزید ار شاد ہوتا ہے وہ یتیم لڑکیاں جن کے مال پرتم قبضہ کرلیتے تھے نہ ان سے شادی کرتے تھے او رنہ ان کا مال ان کے سپرد کرتے تھے تاکہ وہ کسی اور سے شادی کرلیں ۔ قرآن مجید ان کے بارے میں کچھ اور سوالوں کا جواب دیتا ہے اور اس ظالمانہ روش کی برائی کو واضح کرتا ہے

( وَ ما یُتْلی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتابِ فی یَتامَی النِّساء ِ اللاَّتی لا تُؤْتُونَهُنَّ ما کُتِبَ لَهُنَّ وَ تَرْغَبُونَ اٴَنْ تَنْکِحُوهُنَّ ) ۔(۱)

اس کے چھوٹے بچوں کے ابرے میں وصیت کی گئی ہے جو کہ زمانہ جاہلیت کی رسم کے مطابق میراث سے محروم رہتے تھے فرمایا گیا ہے : خد اتمہیں وصیت کرتا ہے کہ تم کمزور بچوں کے حقوق کا لحاظ رکھو( وَ الْمُسْتَضْعَفینَ مِنَ الْوِلْدانِ ) ۔

ایک مربتہ پھر یتیموں کے حقوق کے بارے میں ایک مجموعی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے : خدا تمہیں وصیت کرتا ہے کہ یتیموں سے عدل کرو( وَ اٴَنْ تَقُومُوا لِلْیَتامی بِالْقِسْطِ ) ۔

آخرمیں اس مسئلے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جیسا عمل خصوصاً یتیموں او رکمزوروں سے متعلق تم سے سر از ہو وہ علم خدا کی نظر سے مخفی نہیں رہتا اور اس کی مناسبت جزا ملے گی( وَ ما تَفْعَلُوا مِنْ خَیْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ کانَ بِهِ عَلیماً ) ۔

ضمناً اس طرف بھی توجہ رہے کہ ” تستفتونک“ در اصل ” فتویٰ “ اور ” فتیا“ کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے مشکل مسائل کا جواب دینا لغت میں ا س کی بنیاد چونکہ ” فتیٰ“ ہے جس معنی ہے ” نو جوان “ لہٰذا ممکن ہے پہلے پہل یہ لفظ ان مسائل کے لئے استعمال ہوتا ہو کہ جن کے جوابات جاذب اور تازہ ہوتے ہوں اور بعد ازں ہر طرح کے مسائل کے جواب کے لئے استعمال ہونے لگا ہو ۔

_____________________

۱۔اس جملے کی مذکورہ تفسیر سے واضح ہوتا ہے کہ ” مایتلیٰ “ مبتداء ہے اور ”یفتیکم فیهن “ اس کی خبر ہے جو آیت کے سابق حصے کے قرینہ سے محذوف ہے اور لفظ” ترغبون“ بھی یہاں مقابلہ نہ ہونے کے معنی میں ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ” رغب“ کا مادہ اگر ” عن “ کے ساتھ متعدی ہو تو ہی عدم تما ئل اور اعراض کے معنی دیتا ہے اور اگر ” فی “ کے ساتھ متعدی ہو تو مائل اور و راغب ہونے کے معنی دیتاہے قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ” عن“ مقدر ہے )


آیت ۱۲۸

۱۲۸۔( وَ إِنِ امْرَاٴَةٌ خافَتْ مِنْ بَعْلِها نُشُوزاً اٴَوْ إِعْراضاً فَلا جُناحَ عَلَیْهِما اٴَنْ یُصْلِحا بَیْنَهُما صُلْحاً وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ وَ اٴُحْضِرَتِ الْاٴَنْفُسُ الشُّحَّ وَ إِنْ تُحْسِنُوا وَ تَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ کانَ بِما تَعْمَلُونَ خَبیراً ) ۔

ترجمہ

۱۲۸۔ اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے بارے میں اس بات سے خوف زدہ ہو کہ وہ سر کشی یا اعراض کا مرتکب ہو گا تو کوئی حرج نہیں کہ وہ آپس میں صلح کریں ( اور عورت یا مرد صلح کی خاطر اپنے کچھ حقوق سے صرفِ نظر کرلیں ) اور صلح بہتر ہے اگر چہ یہ لوگ ( حبِّ ذات کی فطرت کے مطابق ایسے مواقع پر) بخل سے کام لیتے ہیں اور اگر نیکی کرو اور پر ہیز گاری اختیار کرو ( اور صلح کی وجہ سے در گذر کردو) تو خدا اس سے آگاہ ہے جو کچھ تم انجام دیتے ہو

( اور تمہیں مناسب جزا دے گا ) ۔

شانِ نزول

بہت سی اسلامی تفاسیر اور کتب احا دیث میں اس آیت کی شانِ نزول یو ں بیان ہوئی ہے :

رافع بن خدیج کی دو بیویاں تھیں ، ایک سن رسیدہ تھی اور دوسری جوان ۔ ( بعض اختلافات کی بنیاد پر) اس نے اپنی سن رسیدہ بیوی کو طلاق دے دی ابھی عدت کی مدت ختم نہ ہوئی تھی کہ رافع نے اس سے کہا: اگر تم چاہوتو میں تم سے مصالحت کرلیتا ہوں البتہ اگر میں نے دوسری بیویکو تجھ پرترجیح دی تو تمہیں صبر کرنا ہوگا اور اگر ایسا نہ چاہو تو پھر عدت کی مدت ختم ہونے تک صبر کرو تاکہ ہم ایک دوسر ے جد اہو جائیں ۔

اس عورت نے پہلی تجویز قبول کرلی، یوں ان کی آپس میں صلح ہو گئی ۔

اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، جس میں اس معاملے کے بارے میں حکم شریعت بیان کیا گیا ہے ۔

صلح بہتر ہے

جیسا کہ اس سورت می چونتیسویں اور پینتیسویں آیات کی تفسیر میں ہم کہہ چکے ہیں (تفسیر نمونہ جلد ۳) کہ ” نشوز“ اصل میں ”نشرز“ کے مادہ سے ہے اور اس کا مطلب ہے ” بلند زمین “ یہ لفظ جب عورت اور مرد کے بارے میں استعمال ہوتا ہے تو کسی سرکشیاور طغیان کا مفہوم دیتا ہے ۔

گذشتہ آیات میں عورت کے ” نشوز“ سے مربوط احکام بیان ہوئے تھے او رزیر نظر آیت میں مرد کے ” نشوز“ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : جب عورت یہ محسوس کرے کہ اس کا شوہر سر کشی اور اعراض کا ارتکاب کررہا ہے توکوئی حرج نہں کہ حریم زوجیت کی حفاظت کے لئے اپنے کچھ حقوق سے صرف نظر کرتے ہوئے صلح کرلے( وَ إِنِ امْرَاٴَةٌ خافَتْ مِنْ بَعْلِها نُشُوزاً اٴَوْ إِعْراضاً فَلا جُناحَ عَلَیْهِما اٴَنْ یُصْلِحا بَیْنَهُما صُلْحا ) ۔

عورت نے چونکہ اپنے حقوق سے اپنی رضا و رغبت سے اعراض کرلیا ہے او جبر و اکراہ والی کوئی بات نہیں ۔ لہٰذا اس کا کوئی گناہ نہیں ۔ اس کے لئے ” لاجناح “ ( کوئی حرج اور گناہ نہیں ) کا استعمال بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے ۔

اس آیت کی شان نزول کی طرف توجہ کرنے سے ضمنی طور پر دو فقہی مسئلے معلوم ہوتے ہیں :

۱۔ دو بیویوں کے لئے ہفتہ بھر کے اوقات کی تقسیم جیسے احکام ، حقوق کے پہلو ہیں نہ کہ حکم کے حوالے سے ۔

اسی لئے عورت یہ حق رکھتی ہے کہ اپنے اراددہ و اختیار سے اپنے اس حق سے جزوی یاکلی طور پر صرفِ نظر کرلے ۔

۲۔ ضروری نہیں کہ صلح کا معاوضہ مال ہی ہو بلکہ صلح کا معاوضہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اپنا حق چھوڑ دیا جائے ۔

بعد ازاں صلح پر تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے : بہر حال صلح بہتر ہے ( و الصلح خیر) یہ ایک چھوٹا سا پر معنی اور مغز جملہ ہے ۔ اس آیت میں جملہ اگر چہ خانگی اختلافاتسے متعلق آیاہے لیکن واضح ہے کہ یہ ایک کلی اور عمومی قانون ہے ۔

جو ہر ایک کے لئے ہر مقام پر ہے صلح و صفائی ، دوستی اور محبت کوہر مقام پر پیش نظر رکھنا چاہئیے ۔ نزاع و کشمکش اور ایک دوسرے سے دوری انسان کی طبع سلیم اور پر سکون زندگی کے برخلاف ہے اس لئے استثنائی صورت میں جہاں ناگزیر ہو اس کے سوا نزوع اور دوری کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہئیے ۔ اسلام کے حکم کے بر عکس بعض مادہ پرستوں کاخیال ہے کہ انسانی زندگی کی پہلی بنیاد دیگر جانوروں کی طرح بقا کی کشمکش اور تنازع ہے اور اسی طرح سے تکامل اور ارتقاء صورت پذیر ہوتا ہے ۔ شاید یہی طرز فکر گذشتہ صدیوں کی بہت سی جنگوں اور خوں ریزوں کا سر چشمہ ہے ۔ حالانکہ انسان اپنی عقل وہوش کے سبب دیگر جانوروں سے مختلف ہے اور اس کی ارتقاء او رتکمیل کاذریعہ تنازع نہیں تعاون ہے ۔(۱)

اصولی طور پر تنازع بقاء کا نظریہ تو جانوروں کے تکامل کے لئے بھی کوئی قابل قبول بنیاد نہیں رکھتا ۔

اس کے بعد بہت سے لڑائی جھگڑو ں اور در گذر نہ کرنے کی بنیاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : لوگ ذاتی طور پر او رحب ذات کی فطرت کے باعث بخل کی موجوں میں پھنس کررہ جاتے ہیں اور ہر شخص کو شش کرتا ہے کہ اپنے حقوق بت کم و کاست وصول کرے اور یہی تمام لڑائی جھگڑوں کی بنیاد ہے (و احضرت الانفس الشح ) ۔

لہٰذا اگر عورت او رمرد اس حقیقت کی طرف توجہ کریں کہ بہت سے اختلافات کا سر چشمہ بخل ہے اور بخل ایک مذموم صفت ہے پھر وہ اپنی اصلاح کی کو شش کریں او ر درگذر کی راہ اختیار کریں تو نہ صرف یہ کہ خانگی اختلافات ختم ہو جائیں گے ۔

بلکہ بہت سے اجتماعی جھگڑے بھی جاتے رہیں گے ۔ اس کے باوجود ، اس بناء پر کہ مرد کہیں اس حکم سے غلط فائدہ نہ اٹھائیں آیت کے آخر میں روئے سخص ان کی طرف کرتے ہوئے انھیں نیکی اور پر ہیز گاری کی وصیت کی گئی ہے اور انھیں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اعمال و کردار پر نگاہ رکھیں اور راہ حق و عدالت سے منحرف نہ ہوں ، کیونکہ خدا ان کے تمام اعمال سے آگاہ ہے ۔

( وَ إِنْ تُحْسِنُوا وَ تَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ کانَ بِما تَعْمَلُونَ خَبیراً ) ۔

____________________

۱-اس سلسلے میں تفسیر نمونہ دوم میں تنازع کے بقاء کے زیر عنوان تفصیلی گفتگوکی جاچکی ہے ( دیکھئے ص۱۴۴ اردو ترجمہ )


آیات ۱۲۹،۱۳۰

۱۲۹۔( وَ لَنْ تَسْتَطیعُوا اٴَنْ تَعْدِلُوا بَیْنَ النِّساء ِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ فَلا تَمیلُوا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوها کَالْمُعَلَّقَةِ وَ إِنْ تُصْلِحُوا وَ تَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ کانَ غَفُوراً رَحیماً ) ۔

۱۳۰۔( وَ إِنْ یَتَفَرَّقا یُغْنِ اللَّهُ کُلاًّ مِنْ سَعَتِهِ وَ کانَ اللَّهُ واسِعاً حَکیماً ) ۔

ترجمہ

۱۲۹۔ اور تم ہر گز یہ استطاعت نہیں رکھتے کہ ( دلی محبت کے اعتبار سے ) عورتوں کے درمیان عدالت کرسکو چاہے جتنی بھی کوشش کرو لیکن اپنا ایمان میلان بالکل ایک طرف نہ رکھو اور دوسری کو معلق نہ چھوڑو اور اگر اصلام اور پرہیز گاری کی راہ اختیار کرو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے ۔

۱۳۰۔ اور اگر ( صلح صفائی کی کوئی صورت نہ ہو اور ) دوسرے سے جدائی ہو جائیں تو خدا جائیں تو خدا وندعالم ان میں سے ہرایک کو اپنے فضل و کرم سے مطمئن کردے گا اور خدا صاحب ِ فضل و کرم اور حکیم ہے ۔

ایک سے زیادہ شادیوں کے لئے عدالت شرط ہے ۔

گذشتہ آیت کے آخر میں جس جملے میں احسان ، تقویٰ او رپر ہیز گاری کا حکم دیا گیا ہے ، وہ شوہروں کے بارے میں ایک طرح کی دھمکی بھی ہے کہ انھیں اپنے بیویوں کے بارے میں راہ ِ عدالت سے تھوڑا سا انحراف بھی نہیں کرنا چاہئیے اس مقام پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ عدالت تو دلی لگائی کے سلسلے میں بھی ممکن نہیں ہے لہٰذا متعدد بیویاں ہونے کی صورت میں کیا جائے

زیر بحث آیت اس سوال کے جواب میں کہتی ہے : محبت کے حوالے سے تو بیویوں کے درمیان عدالت ممکن نہیں چالے اس کے لئے کتنی بھی کوشش کیون کہ جائے۔( وَ لَنْ تَسْتَطیعُوا اٴَنْ تَعْدِلُوا بَیْنَ النِّساء ِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ ) ۔

” ولو حرصتم “ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں کچھ افراد ایسے بھی تھے جو اس سلسلے میں بہت کو شش کرتے تھے ۔شاید اس کی وجہ اسی سورہ کی آیت تھی جس میں فرمایا گیا ہے :( فان خفتم الا تعدلوا فواحدة )

یعنی اگر تم اس بات سے ڈرو کہ تم عدل قائم نہیں کرسکو گے تو ایک ہی پر اکتفاء کرو

یہ واضح ہے کہ ایک آسمانی قانون خلاف فطرت نہیں ہوسکتا اور ممکن نہیں کہ وہ ” تکلیف مالا یطاق“ یعنی ایسی ذمہ داری جس کی انسان میں طاقت نہ ہو ، کاحامل ہو ۔ دل کی محبت کے مختلف عوامل ہوتے ہیں جس میں سے بعض انسانی اختیار سے ماوراء ہیں لہٰذا ان کے بارے میں عدالت کا حکم نہیں دیا گیا ہے لیکن بیویوں سے بر تاو اور ان کے حقوق کا لحاظ رکھنے کے بارے میں انسان پر عدالت کے لئے زور دیا گیا ہے جوکہ انسان کے بس میں ہے ۔

اس بناء پر کہ مرد اس سے غلط فائدہ اٹھائیں اس جملے کے بعد فرمایا گیا ہے : جب کہ تم محبت کے حوالے سے بیویوں کے درمیان مساوات قائم نہیں کرسکتے تو پھر سارا رجحان او رقلبی لگاو تو ایک طرف نہ رکھو کہ جس سے دوسری بالکل معلق ہو کر ہی رہ جائے اور اس کے حقوق عملی طور پر ضائع ہو جائیں( فَلا تَمیلُوا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوها کَالْمُعَلَّقَةِ ) ۔

اس آیت کے آخر میں ان لوگوں کو تنبیہ کی گئی ہے جو اس حکم کے نزول سے قبل اپنی بیویوں کے درمیان عدل میں کوتاہی کرتے تھے: اگر وہ اصلاح او رتقویٰ کی راہ اپنائیں اور گذشتہ رویّے کی تلافی کریں تو خدا اپنی رحمت و بخشش ان کے شامل حال کردے گا( وَ إِنْ تُصْلِحُوا وَ تَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ کانَ غَفُوراً رَحیماً ) ۔

اسلامی روایات میں بیویوں کے درمیان عدالت ملحوظ رکھنے سے متعلق بہت سے مطالب مذکور ہیں جن سے قانون کی اہمیت اور عظمت ظاہر ہوتی ہے ایک حدیث میں ہے کہ حضرت علی (علیه السلام) جو دن کسی ایک بیوی سے تعلق رکھتے تھے ، اس دن وضو بھی دوسری کے گھر نہیں کرتے تھے ۔(۱)

پیغمبر اکرم کے بارے میں بھی ہے کہ آپ بیماری کے عالم میں بھی کسی ایک بیوی کے گھر قیام نہیں کرتے تھے(۲)

معاذبن جبل کے بارے میں منقول ہے کہ اس کی دو بیوبیاں تھیں وہ دونوں طاعون کی بیماری کے باعث اکٹھی مر گئیں ، تو معاذ نے ایک کو دوسرے پہلے دفن کرنے کے لئے قرعہ نکالا تاکہ اس سے کوئی خلاف عدالت کام نہ ہو جائے ۔(۳)

____________________

۱۔تفسیر تبیان ، ج۳ صفحہ۳۵۰۔

۲- تفسیر تبیان ج۳ صفحہ ۳۵۰۔

۳ - تفسیر تبیان ، ج۳ صفحہ ۳۵۰۔


ایک اہم سوال کا جواب

جیسا کہ اس سورہ کی آیت ۳ کے ذیل میں ہم نے یاد دہانی کروائی ہے کہ بعض ناسمجھ لوگ اس آیت کو زیر بحث آیت سے ملا کر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ایک سے زیادہ شاد یاں عدالت سے مشروط ہیں اور عدالت ممکن نہیں ہے کہ ایک سے زیادہ ہوبیویاں کرنا اسلام میں ممنوع ہے ۔

اتفاق کی بات ہے کہ روایات ِ اسلامی سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلا شخص جس نے یہ اعتراض اٹھایا تھا کہ امام جعفر صادق (علیه السلام) کا ہم عصر تھا او رمادہ پرستوں میں سے تھا ۔ اس کانام ابن ابی العوجاء تھا ۔ اس نے یہ سوال اسلام کے ایک مجاہد عالم ہشام بن حکم سے کیا ۔ انھیں اس کا جواب معلوم نہ تھا لہٰذا وہ اپنے وطن جو ظاہراًکوفہ تھا مدینہ سے روانہ ہوئے تاکہ اس سوال کا جواب معلوم کر سکیں وہ امام صادق (علیه السلام) کی خدمت میں پہنچے ۔ حضرت (علیه السلام) کو تعجب ہو ا کہ وہ حج و عمرہ کے دنوں کے بغیر مدینہ کیوں چلے آئے تھے ۔ ہشام نے بیان کیا کہ اس قسم کا سوال پیش آیا ہے ۔

امام (علیه السلام) نے جواب میں فرمایا:

سورہ نساء کی تیسری آیت میں عدالت سے مراد نان نفقہ ( اور حقوقِ زوجیت کا لحاظ رکھنا اور بر تاو ) ہے لیکن آیت ۱۲۹ میں عدالت جسے امر محال شمار کیا گیا ہے ولی لگاو او رمیلان میں عدالت ہے ( اس لئے تعدد ازدواج شرائط اسلامی کے احترام کی صورت میں ممنوع ہے نہ محال) ۔

ہشام سفر سے لوٹ کر آئے او ریہ جواب ابن ابی العوجاء کو پیش کیا تو اس نے قسم کھا کر کہا : یہ جواب خود تمہاری طرف سے نہیں ہے ۔(۱)

واضح ہے کہ اگر اہم دو آیات میں ” عدالت“ کا الگ الگ مفہوم بیان کرتے ہیں تو یہ آیات میں موجود واضح قرینہ کی بناء پر ہے ۔ محل بحث آیت میں صریحاً فرمایا گیا ہے کہ تمام قلبی لگاو ایک بیوی کی طر ف نہ رکھو ۔ لہٰذا دو بیویاں ہونا جائز شمار کیا گیا ہے ۔ زیادہ سے زیادہ اس شرط کے ساتھ عملی طور پر ان میں سے کسی پر ظلم ہو اگر چہ دلی لگاو میں فرق ہو ۔ نیز اسی صورت کی آیت ۳ میں صراحت کے ساتھ ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت دی گئی ہے ۔

پھر بعدکی آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اگر ازدواجی زندگی کوباقی رکھنا طرفین کے لئے مشکل ہو گیا ہے اور ایسی وجوہ پید اہوگئی ہیں کہ جن سے افقِ حیات ان کے لئے تاریک ہوگیا ہے او رکسی طرح مصالحت نہیں ہوسکتی تو وہ مجبورنہیں ہیں کہ ایسی ازدواجی زندگی کو باقی رکھیں اور آخر دم تک خانگی زندان کے ماحول میں تلخ کامی سے رہیں بلکہ وہ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کر سکتے ہیں ۔

ایسے عالم میں انھیں چاہئیے کہ جرات سے اقدام کریں اور آنے والے حالات سے خوف زدہ نہ ہوں کیونکہ اگر وہ ان حالات میں ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں تو خدا وند بزرگ و برتر دونوں کو اپنے فضل و کرم سے مطمئن کرکر دے گا اور امید ہے کہ وہ ان حالات میں ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں تو خدا وند بزرگ و بر تر دونوں کو اپنے فضل و کرم سے مطمئن کردے گا اور امید ہے کہ بہتر جیون ساتھی اور روشن تر زندگی ان کے انتظار میں ہو( وَ إِنْ یَتَفَرَّقا یُغْنِ اللَّهُ کُلاًّ مِنْ سَعَتِهِ ) ۔ کیونکہ خدا کی حکمت آمیز رحمت بہت وسیع ہے( وَ کانَ اللَّهُ واسِعاً حَکیماً ) ۔

____________________

۱ ۔تفسیر بر ہان جلد اول صفحہ ۴۲۰۔


آیات ۱۳۱،۱۳۲،۱۳۳

۱۳۱۔( وَ لِلَّهِ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْاٴَرْضِ وَ لَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذینَ اٴُوتُوا الْکِتابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ إِیَّاکُمْ اٴَنِ اتَّقُوا اللَّهَ وَ إِنْ تَکْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّهِ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْاٴَرْضِ وَ کانَ اللَّهُ غَنِیًّا حَمیداً ) ۔

۱۳۲۔( وَ لِلَّهِ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْاٴَرْضِ وَ کَفی بِاللَّهِ وَکیلاً ) ۔

۱۳۳۔إ( ِنْ یَشَاٴْ یُذْهِبْکُمْ اٴَیُّهَا النَّاسُ وَ یَاٴْتِ بِآخَرینَ وَ کانَ اللَّهُ عَلی ذلِکَ قَدیراً ) ۔

ترجمہ

۱۳۱۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ، اللہ کا ہے او رجنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور تمہیں ہم نے وصیت کی کہ خدا کی ( نافرمانی) سے ڈرو اور پرہیز کرواور اگر کا فر ہو جاو تو ( خدا کا کوئی نقصان نہیں کیونکہ ) جو کچھ آسمانوں او رزمین میں ہے اللہ کا مال ہے اور خدا بے نیاز ہے اور لائق تعریف ہے ۔

۱۳۲۔ اور جو کچھ آسمانوں او رزمین میں ہے خدا کے لئے ہے اور خدا ان کی حفاظت اور نگہبانی کے کافی ہے ۔

۱۳۳۔ اے لوگو! اگر وہ چاہے تو تمہیں یہاں سے لے جائے اور ( تمہاری جگہ ) دوسرے لوگوں کو لے آئے اور خدا اس کام کی طاقت و قدرت رکھتا ہے ۔

۱۳۴۔ جو لوگ دنیا کی جزا اور سزا چاہتے ہیں ( او رمعنوی اور اخروی نتائج کے طلبگار نہیں وہ فہمی میں متلا ہیں کیونکہ )خدا کے پاس تو دنیا و آخرت دونوں کی جزا و ثواب ہے اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے ۔

ایسی لا متناہی ملکیت اور بے پایاں قدرت

گذشتہ آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو چکا ہے کہ اگر حالات مجبور کریں کہ میاں بیوی ایک دوسرے سے جد اہ وجائیں اور ا س کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو تو اس اقدام میں کوئی حرج نہیں اور آیندہ کے حالات سے نہیں ڈرنا چاہئیے ۔ کیونکہ خدا انھیں اپنے فضل و کرم سے مطمئن اور بے نیاز کردے گا۔

زیر نظر آیات میں سلسلہ کلام جاری ہے پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ہمیں انھیں بے نیاز اور مستغنی کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ۔ کیونکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اللہ کی ملکیت ہے( وَ لِلَّهِ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْاٴَرْضِ ) ۔

جوذات ایسی لا متناہی ملکیت اور بے پایاں قدرت رکھتی ہے وہ اپنے بندوں کو بے نیاز کرنے سے عاجز نہیں ہو سکتی ۔

اس کے بعد اس موقع پر اور دیگر مواقع پر ہر پرہیزگاری اختیار کرنے کی تاکید کرتے ہوئے فرما گیا ہے : یہودی و نصاریٰ کو اور ان لوگوں کو جو تم سے پہلے صاحبِ کتاب ہیں اور اسی طرح تمہیں بھی ہم نے وصیت کی ہے کہ پر ہیز گاری اختیار کرو( وَ لَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذینَ اٴُوتُوا الْکِتابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ إِیَّاکُمْ اٴَنِ اتَّقُوا اللَّهَ ) ۔

اس کے بعد روئے سخن مسلمانوں کی طرفکرتے ہوئے فرمایا : تقویٰ اختیار کرنے کا یہ حکم تمہارے فائدے میں ہے اور خدا کو اس کی ضرورت نہیں ہے اور اگر تم رو گردانی کرو، نافرمانی کی راہ اپناو تو خدا کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا ۔

کیونکہ آسمانوں او رزمین میں جو کچھ ہے اسی کی ملکیت ہے اور وہ بے نیاز ہے اور لائق ستائش ہے( وَ إِنْ تَکْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّهِ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْاٴَرْضِ وَ کانَ اللَّهُ غَنِیًّا حَمیداً ) ۔

در اصل حقیقی معنی میں غنی اور بے بیاد تو خدا ہی ہے کیونکہ وہ غنی بالذات ہے اور کسی اور کی بے نیازی اسی کی مدد سے ہے ۔ ورنہ ذاتی طور پر تو سب محتاج اور نیاز مند ہیں اسی طرح وہی بالذات لائق ستا ئش ہے کیونکہ جن کمالا ت کی وجہ سے وہ تعریف و ستائش کے لائق ہے وہ اس کی ذات میں ہیں نہ کہ دوسروں کی کمالات کی طرح کہ جو عاریتاً انھیں دئیے جاتے ہیں اور اور کسی دوسرے کی طرف سے ہیں ۔

بعد والی آیت میں یہ جملہ تیسری مرتبہ آیا ہے کہ آسمانوں او رزمین میں جو کچھ ہے خدا کی ملکیت ہے اور خدا ان حفاظت و نگہبانی اور انتظام و انصرام کرتا ہے( وَ لِلَّهِ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْاٴَرْضِ وَ کَفی بِاللَّهِ وَکیلاً ) ۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنے مختصر سے فاصلے میں ایک مطلب کا تین مرتبہ تکرار کیوں کیا گیا ہے ۔ کیا یہ تکرار صرف تاکید کے لئے ہے یا کچھ اور اشارے بھی اس میں مضمر ہیں ۔آیات میں غور و فکر کیا جائے اور دقت نظر سے کام لیا جائے تو ہر مرتبہ اس بات کے ذکر میں ایک نکتہ دکھائی دیتا ہے ۔

پہلی مرتبہ دونوں میاں بیوی سے عدہ کرتا ہے کہ ایک دوسرے سے الگ ہو جانے کے بعد خدا انھیں بے نیاز کر دے گا ۔ اس موقع پر یہ ظاہر کرنے کے لئے وہ اپنا وعدہ پورا کرنے پر قدرت رکھتا ہے اس نے اپنی زمین و آسمان کی وسعتوں کی ملکیت کا تذکرہ کیا ہے ۔

دوسری مرتبہ تقویٰ و پر ہیز گاری کی وصیت کے بعد یہ ذکر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ واضح کیا جائے کہ اس فرمان کی اطاعت کا خدا کو کوئی فائدہ نہیں ہے یا اس کی مخالفت اس کے لئے ضررساں نہیں ہے ۔ درحقیقت یہ بات اس کے مشابہ ہے جو حضرت امیر المومنین علی (علیه السلام) نے نہج البلاغہ میں خطبہ ہمام کی ابتداء میں فرمایا ہے :

ان الله سبحانه و تعالیٰ خلق الخلق حین خلقتهم غنیا عن طاعتهم اٰمنا من معصیتهم لانه لاتضره معصیة من عصاه و لا تنفعه طاعة من اطاعه

یعنی خدا ئے متعال نے انسانوں کو پیدا کیا جب کہ وہ ان کی طاعت سے بے نیاز تھا اور ان کی نافرمانی سے امان میں تھا کیونکہ نہ تو گنہ گاروں کی نافرمانی اسے نقصان پہنچاتی ہے اور نہ اطاعت کرنے والوں کی طاعت اسے فائدہ پہنچاتی ہے ۔ ( نہج البلاغہ۔ خطبہ ۱۹۲) ۔

تیسری مرتبہ آیة ۱۳۳ میں موجود بحث کے عنوان کے طور پر اس کا تذکرہ ہے ا س کے بعد فرمایا گیا ہے : خدا کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں کہ تمہیں ختم کردے اور تمہاری جگہ زیادہ آمادہ پختہارادے والا گروہ پیدا کردے جو اس کی اطاعت میں زیادہ کوشاں ہو اور خدا ایسا کرنے پر قادر ہے (ا( ِٕنْ یَشَاٴْ یُذْهِبْکُمْ اٴَیُّهَا النَّاسُ وَ یَاٴْتِ بِآخَرینَ وَ کانَ اللَّهُ عَلی ذلِکَ قَدیراً ) ۔

تفسیرتبیان اور مجمع البیان میں پیغمبر اکرم سے منقول ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم نے اپنا ہاتھ سلمان کی پشت پرمارا اور فرمایا:وہ گروہ عجم اور فارس کے یہ لوگ ہیں ۔

حضور کا یہ فرمان در حقیقت ان عظیم خدمات کی پیش گوئی ہے جو ایرانی مسلمانوں نے اسلام کے لئے کیں ہیں ۔

آخری آیت میں ان لوگوں کے بارے میں بیچ میں گفتگو آگئی ہے جو خدا پر ایمان لانے کا دم بھر تے ہیں ، میدان جہاد میں شرکت کرتے ہیں اور احکام اسلام کی پابندی کرتے ہیں مگر ان کا مقصد رضائے الہٰی کا حصول نہیں ہوتا ، بلکہ مادی نتائج مثلاًمالِ غنیمت کا حصول ہوتا ہے ارشاد فرمایا گیا ہے : جو لوگ صرف دنیا کی جزا چاہتے ہیں وہ غلط فہی میں مبتلا ہیں کیونکہ خدا کے پاس تو دنیا و آخرت دونوں کی جزا اور ثواب ہے( مَنْ کانَ یُریدُ ثَوابَ الدُّنْیا فَعِنْدَ اللَّهِ ثَوابُ الدُّنْیا وَ الْآخِرَةِ ) ۔لہٰذا وہ دونوں کی جستجو کیوں نہیں کرتے اور خدا سب کی نیتوں سے آگاہ اور ہر محل و مقام پرا سکی نظرہے اور منافق صفت لوگوں کے اعمال سے باخبر ہے( وَ کانَ اللَّهُ سَمیعاً بَصیراً ) ۔

یہ آیت ایک مرتبہ پھر حقیقت بیان کرتی ہیں کہ اسلام کی نگاہ صرف معنوی اور خروی پہلو و ں پر نہیں بلکہ وہ اپنے پیرو کاروں کے لئے مادی اور روھانی دونوں طرح کی سعادتیں چاہتا ہے ۔


آیت ۱۳۵

۱۳۵۔( یا اٴَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا کُونُوا قَوَّامینَ بِالْقِسْطِ شُهَداء َ لِلَّهِ وَ لَوْ عَلی اٴَنْفُسِکُمْ اٴَوِ الْوالِدَیْنِ وَ الْاٴَقْرَبینَ إِنْ یَکُنْ غَنِیًّا اٴَوْ فَقیراً فَاللَّهُ اٴَوْلی بِهِما فَلا تَتَّبِعُوا الْهَوی اٴَنْ تَعْدِلُوا وَ إِنْ تَلْوُوا اٴَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ کانَ بِما تَعْمَلُونَ خَبیراً ) ۔

ترجمہ

۱۳۵۔ اے ایمان والو! مکمل طور پر عدالت کے ساتھ قیام کرو،خدا کے لئے گواہی دو اگر چہ یہ خود تمہارے لئے یا تمہارے والدین کے لئے اقرباء کے لئے نقصان دی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اگر وہ غنی یا فقیر ہو ں تو خدا حق رکھتا ہے کہ ان کی حمایت کرے اس لئے ہوا و ہوس کی پیروی نہ کرو، اس طرح تو حق سے منحرف ہو جاو گے ۔ اور حق میں تحریف کرو گے یا اس کے اظہارسے اعراض کرو گے تو جو کچھ تم انجام دیتے ہو خدا اس سے آگاہ ہے ۔

عدالت ِاجتماعی

گذشتہ آیات میں خصوصیت سے یتیموں او ربیویوں سے عدالت کے بارے میں احکام تھے اب زیر نظر آیت میں بلا استثناء ایک بنیادی او رکلی قانون کے ذریعے سب اہل ایمان کو اجرائے عدالت کا حکم دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ عدالت قائم کریں اور عدالت سے کام لیں( یا اٴَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا کُونُوا قَوَّامینَ بِالْقِسْطِ ) ۔

توجہ رہے کہ” قوامین “ ” قوام“ کی جمع ہے یہ مبالغے کا صیغہ ہے جس کا معنی ہے ” بہت قیام کرنے والا“ یعنی ہر حالت میں ، ہر کام میں ، ہر مقام پر اور ہر دور میں عدالت کے ساتھ قیام کرو تاکہ عمل تمہارے اخلاق او ر عدالت کا حصہ بن جائے اور اس سے انحراف تمہاری طبیعت ،مزاج اور روح کے خلاف ہو جائے ۔

” قیام“ شاہد یہاں اس بنا پر استعمال کیا گیا ہے کہ انسان کو چاہئیے کہ عام طور پر کام کرنے کے لئے اٹھ کھڑا ہواور کام کے پیچھے لگ جائے اس لئے کسی کام کے قیام کا مطلب یہ ہے کہ اس کام کے لئے عزم راسخ او رمضبوط ارادے سے اقدام کیاجائے ۔ اگر چہ وہ کام حکم قاضی کی مثل قیام و تحرک کا محتاج بھی نہ ہو ۔ نیز ممکن لفظ ”قیام “ کا استعمال اس لحاظ سے ہو کہ عام طور پر قائم اس چیز کو کہتے ہیں کہ جو زمین پر عمودی شکل میں ہو او رکسی طرف بھی تھوڑا سا جھکاو بھی نہ رکھتی ہو یعنی تمہیں عدالت کا جراء اس طرح کرنا چاہئیے کہ تھوڑا سا انحراف بھی نہ ہو ۔

اس کے بعد تاکید کے لئے مسئلہ شہادت کے حوالے سے ارشاد ہوتا ہے : خاص طور پر شہادت اور گواہی کے معاملے میں تما مفادات اوتر تعلقات کو ایک طرف کرکے فقط خدا کے لئے گواہی دو اگر وہ وہ خود تمہاری ذات ،تمہارے ماں باپ اور اعزا و اقرباء کے نقصان میں ہو( شُهَداء َ لِلَّهِ وَ لَوْ عَلی اٴَنْفُسِکُمْ اٴَوِ الْوالِدَیْنِ وَ الْاٴَقْرَبینَ ) ۔

یہ بات تمام معاشروں میں موجود ہے اور خصوصاً زمانہ جاہلیت کا معاشرہ اس کا شکار تھا کہ عام طور پر گواہی دینے والے اپنی محبت و نفرت کے جذبات کے زیر اثر گواہی دیتے اور حق و عدالت کی ان کے ہاں کوئی اہمیت نہ ہوتی ۔ ابن عباس سے منقول ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نو مسلم افراد مدینہ میں آجانے کے بعد بھی رشتہ داری کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے عزیزوں کے نقصان میں گواہی دینے سے احتراز کرتے تھے ۔ مندرجہ بالاآیت اسی ضمن میں نازل ہوئی اور اس کے ذریعے ایسے لوگوں کو تنبیہ کی گئی ۔(۱)

جیسا کہ آیت اشارہ کررہی ہے یہ کام روح ِ ایمان سے مطابقت نہیں رکھتا۔ حقیقی مومن وہی ہے جو حق اور عدالت کے سامنے کسی کا لحاظ نہ کرے یہاں تک کہ اپنے رشتہ داروں کے مفادات کی پرواہ نہ کرے ۔

اس جملے سے ضمنی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ عدالت کو پیش نظر رکھتے ہوئے رشتہ دار ایک دوسرے کے نفع یا نقصان میں گواہی دے سکتے ہیں ( ہاں اس میں اس تہمت کا اندیشہ نہ ہو کہ طرفداری یا تعصب سے کام لیا جارہا ہے ) ۔

اس کے بعد اصولِ عدالت سے انحراف کے کچھ اور عوامل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : نہ دولت مندوں کی دولت شہادت ِ حق سے مانع ہو اور نہ فقیر ، خدا اس کے حالات سے زیادہ آگاہ ہے ۔ پر وردگارکی حمایت کے مقابلے میں اہل ثروت و اہل اقتدار سچی گواہی دینے والے کو نقصان نہیں پہنچاسکتے اور نہ عدالت کے اجراء سے فقیرہی بھوکا رہ سکتا ہے( إِنْ یَکُنْ غَنِیًّا اٴَوْ فَقیراً فَاللَّهُ اٴَوْلی بِهِما ) ۔

دوبارہ تاکید کے طور پر حکم دیا گیا ہے : ہوا و ہوس کی پیروی نہ کرو، مبا دا اجرائے عدالت میں رکاوٹ پیدا ہوجائے( فَلا تَتَّبِعُوا الْهَوی اٴَنْ تَعْدِلُوا ) ۔(۲)

اس جملے سے اچھی طرح معلوم ہوتا جا تاہے کہ ظلم و ستم کا سر چشمہ ہوا پرستی ہے اور اگر کوئی معاشرہ ہوا پرست نہ ہو تو ظلم و ستم وہاں قدم ن ہیں رکھ سکتا۔

دوبارہ قیام عدالت کی اہمیت کے پیش نظر فرماتا ہے : اگر تم حق دار تک اس کا حق پہنچنے میں حائل ہو ئے تو یاحق میں تحریف کی یا حق آشکار ہو جانے کے بعد اس سے اعراض کیا تو خدا تمہارے اعمال سے آگاہ ہے( وَ إِنْ تَلْوُوا ) (۳)

”تلووا“ در اصل تحریف حق اور حق میں تغیر و تبدل کی طرف اشارہ ہے ۔” تعرضوا“ حق کی مطابق حکم کرنے کے اعراض اور منہ موڑنے کے معنی میں ہے ۔ یہی بات امام باقر سے منقول ایک حدیث میں بیان کی گئی ہے ۔ (تفسیر تبیان جلد ۵ صفحہ ۳۵۶)

یہ امر قابل توجہ ہے کہ آیت میں ” خبیر “ کالفظ آیا ہے ” علیم “ کا نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ” خبیر“ عموماً اسے کہتے ہیں جو کسی چیز کی جزئیات اور ذرہ ذرہ سے واقف ہو ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ حق سے تمہارے ذرا سے انحراف سے بھی واقف ہے چاہے تم اسے کسی نہانے سے کرو اور چاہے اسے حق بجانب قرار دے لو اور وہ اس کی سزا بھی دے گا ۔

زیر نظر آیت اجتماعی عدالت کے بارے میں اسلام کی گہری دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے اور ا س کی ہر شکل و صورت کو مکمل طور پر واضح کرتی ہے اس سلسلے میں عدالت اجتماعی کے بارے میں ان چند جملو میں موجودطرح طرح کی تاکید یں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اسلام اس اہم انسانی مسئلے میں کس قدر حساس ہے البتہ یہ امر انتہائی افسوس ناک ہے کہ مسلمانوں کا عمل اور اسلام کے اس بلند پایہ حکم کے درمیان زمین و آسمان کا فاصلہ ہے اور مسلمانوں کی پسماندگی کا ایک عامل ان کا یہ طرز عمل بھی ہے ۔

____________________

۱- المنار جلد ۵ صفحہ ۴۵۵۔

۲ ۔لفظ. تعداد ممکن ہے ” عدالت“ کے مادہ سے ہو یا ”عدول“ کے مادہ سے ہو اگر ” عدالت“ کے مادہ سے ہو تو اس کا معنی یہ ہوگا ”فلا تتبعوا الهوی لان تعدلوا “ ( ہوس پرستی کی راہ نہ اپناو تاکہ تم عدالت کا جر ا کرسکو) اور اگر ” عدول “ کے مادہ سے ہوتو اس کا معنی یوں ہوگا فلا تتبعوا الھوی فی ان تعدلوا( انحراف حق کی راہ میں ہو وہوس کی پیروی نہ کرو) ۔

۳ ۔”تلووا“ مادہ ”لی “ ( بروزن”طی“) سے ہے اس کا معنی ہے ” روکنا“ یا تاخیر ، یہاں در اصل پیچ و تاب دینے کی معنی میں آیاہے ۔اٴَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ کانَ بِما تَعْمَلُونَ خَبیراً ) ۔


آیت ۱۳۶

۱۳۶۔( یا اٴَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ وَ الْکِتابِ الَّذی نَزَّلَ عَلی رَسُولِهِ وَ الْکِتابِ الَّذی اٴَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ وَ مَنْ یَکْفُرْ بِاللَّهِ وَ مَلائِکَتِهِ وَ کُتُبِهِ وَ رُسُلِهِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالاً بَعیداً ) ۔

ترجمہ

۱۳۶۔ اے ایمان لانے والو! ( واقعی ) ایمان لے آو خدا پر ، اس کے پیغمبر پر ، اس کی کتاب پر جو اس پر نازل ہوئی اور ان ( آسمانی) کتب پر جو اس سے پہلے بھیجی گئی ہیں اور جو شخص خدا، اس کے ملائکہ اس کی کتب ، اس کے رسل اور روزِ آخرت کا انکار کرے وہ بہت دور کی گمراہی میں مبتلا ہے ۔

شان ِ نزول

ابن عباس سے منقول ہے کہ یہ آیت اہل کتاب کے بعض سر بر آور دہ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔

اس میں عبد اللہ بن سلام، ، اسد بن کعب اور اس کا بھائی اسید بن کعب اور بعض دوسرے لوگ شامل تھے وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ ابتداء میں خد مت ِ پیغمبر میں حاضر ہوئے او رکہنے لگے کہ ہم آپ پر ، آپ کی کتاب پر ، حضرت موسیٰ پر تورات پر اور عزیر پر ایمان لائے ہیں لیکن ہم باقی آسمانی کتب اور اسی طرح دیگر انبیاء پر ایمان نہیں لائے ۔

مندرجہ بالا آیت اسی سلسلے میں نازل ہوئی جس میں انھیں تعلیم دی گئی کہ انھیں سب پر ایمان لانا چاہئیے ( تفسیر مجمع البیان و المنار )

تفسیر

شان ِ نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت کا روئے سخن اہل کتاب کے بعض مومنین کی طرف ہے جو مخصوص تعصبات کی وجہ سے اسلام قبول کرلینے کے بعد صرف اپنے سابق مذہب او ردین اسلام پر اظہار ایمان کرتے تھے اور باقی انبیاء اور آسمانی کتب کو قبول نہیں کرتے تھے لیکن قرآن انھیں نصیحت کرتا ہے کہ وہ تمام انبیاء اور آسمانی کتب کو باقاعدہ تسلیم کریں کیونکہ سب ایک ہی حقیقت کا تسلسل ہیں ، سب کا ہدف ایک ہی ہے اور سب ایک ہی مبداء کی طرف سے مبعوث ہوئے ہیں ( اگر چہ تعلیم کے درجوں کی مختلف کلاسوں کی طرح مراتب کا فرق موجود ہے اور ہر کوئی گذشتہ دین سے کامل تردین کے ساتھ آیاہے ) اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ ان میں سے بعض کو تو قبول کرلیا جائے اور بعض کو نہ کیا جائے کیا ایک ہی حقیقت کو کئی حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے اور کیا تعصبات حقائق پرپر دہ ڈال سکتے ہیں لہٰذا آیت کہتی ہے :

اے ایمان لانے والو! خدا پر ، اس کے پیغمبر ( رسول اسلام )پر اور جو کتاب اس پر نازل ہو ئی ہے اس پر نیز گذشتہ آسمانی کتب ایمان لے آو( یا اٴَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ وَ الْکِتابِ الَّذی نَزَّلَ عَلی رَسُولِهِ وَ الْکِتابِ الَّذی اٴَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ ) ۔

مذکورہ شانِ نزول سے قطع نظر آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ روئے سخن ان تمام مومنین کی طرف ہو جو ظاہراً اسلام قبول کرچکے ہیں لیکن ابھی تک ایمان کی روح کی گہرائیوں میں نہیں اترا۔ یہاں انھیں دعوت دی جارہی ہے کہ وہ صمیم قلب سے مومن بن جائیں ۔

یہ احتمال بھی ہے کہ روئے سخن ان تمام مومنین کی طرف ہو جو اجمالی طور پر خدا اور پیغمبر پر ایمان لاچکے ہیں لیکن اسلام کی جزئیات اور عقائد کی تفصیلات سے آشنا نہیں ہیں ۔ یہاں قرآن انھیں حکم دیتا ہے کہ حقیقی مومنین کو چاہئیے کہ وہ تمام انبیاء، گذشتہ کتب اور خدا کے فرشتوں پر ایمان لے آئیں ، کیونکہ ان پر ایمان نہ لانے والے کا مطلب حکمت ِ خدا وندی کا انکار ہے کیا یہ ممکن ہے کہ وہ اللہ جو حکیم ہے اس نے گذشتہ انسانوں کو بغیر رہبروں و رہنما کے چھوڑ دیا ہو کہ وہ میدان ِ حیات میں سر گر داں رہیں ۔

یہا ں ایک سوال پیدا ہو تا ہے کہ کیا جن فرشتوں پر ایمان لانے کے لئے کہا گیا ہے ان سے مراد وحی لانے والے فرشتے ہیں کہ جن پر ایمان لانا انبیاء اور کتب آسمانی پر ایمان کے ساتھ لازم و ملزوم ہے یا پھر یہاں تمام فرشتے مراد وحی ہیں کیونکہ جیسے ان میں سے بعض وحی و تشریع کے معاملے میں دخیل ہیں بعض عالم تکوین کی تدبیر پر بھی مامورہیں اور ان پر ایمان لانا حکمت ِ الہٰی پر ایمان لانے کا حصہ ہے ۔

آیت کے آخر میں ان لوگوں کا انجام بیان کیا گیا ہے جو ان حقائق سے غافل ہیں ارشاد ہوتا ہے : جو شخص خدا ، ملائکہ ، کتب الہٰی ، خدا کے فرستادہ انبیاء او ریوم ِ آخرت کا انکار کرے تو وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ہے( وَ مَنْ یَکْفُرْ بِاللَّهِ وَ مَلائِکَتِهِ وَ کُتُبِهِ وَ رُسُلِهِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالاً بَعیداً ) ۔

در حقیقت اس آیت میں پانچ اصولو پر ایمان لانا ضروری قرار دیا گیا ہے او روہ ہیں مبداء، معاد ، آسمانی کتب، انبیاء او رملائکہ ۔

ضلال بعید ( دور کی گمراہی) یہ ایک لطیف تعبیر ہے یعنی ایسے لوگ اس طرح سے دور پھینک دئے گئے ہیں کہ حقیقی شاہراہ کی طرف ان کی واپسی آسانی سے ممکن نہیں ہے ۔


آیات ۱۳۷،۱۳۸،۱۳۹

۱۳۷۔إ( ِنَّ الَّذینَ آمَنُوا ثُمَّ کَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ کَفَرُوا ثُمَّ ازْدادُوا کُفْراً لَمْ یَکُنِ اللَّهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لا لِیَهْدِیَهُمْ سَبیلاً ) ۔

۱۳۸۔( بَشِّرِ الْمُنافِقینَ بِاٴَنَّ لَهُمْ عَذاباً اٴَلیماً ) ۔

۱۳۹۔( الَّذینَ یَتَّخِذُونَ الْکافِرینَ اٴَوْلِیاء َ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنینَ اٴَ یَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمیعاً ) ۔

ترجمہ

۱۳۷۔ وہ لوگ جو ایمان لاکر کافر ہو گئے پھر ایمان لائے اور دوبارہ کافر ہوگئے پھر اپنے کفر میں بڑھ گئے خدا انھیں ہرگز نہیں بخشے گا اور نہ ہی انھیں راہِ راست کی ہدایت کرے گا۔

۱۳۸۔ منافقین کو بشارت دوکہ دردناک عذاب ان کے انتظار میں ہے ۔

۱۳۹۔ جولوگ اہل ایمان کی بجائے کفار کو اپنا دوست چن لیتے ہیں کیا وہ چاہتے ہیں کہ ان سے عزت و آبرو حاصل کریں حالانکہ تمام عزتیں تو خدا کے ساتھ مخصوص ہیں ۔

ہٹ دھرم منافقین کا انجام

گذشتہ آیت میں بتا یا گیا ہے کہ کفارہ درد کی گمراہی میں ہیں اب اسی مناسبت سے زیر نظر آیت میں سلسلہ کلام آگے بڑھتا ہے پہلی آیت میں ایک ایسے گروہ کی طرف اشارہ ہے جو اپنے آپ کو ایک نئی شکل و صورت میں پیش کرتا ہے یہ لوگ ایک دن مومنین کی صف میں ہوتے ہیں ، دوسرے دن کفار کے ساتھ ، اگلے روز پھر اہل ایمان کے ساتھ ہوتے ہیں پھر خطر ناک او رمتعصب کا فروں کی صفوں میں موجود ہوتے ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ وہ بت عیار کی طرح ہرلمحہ ایک نیاروپ اختیار کرتے ہیں ہر روز ایک نئے رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں اور آخر کار کفر اور بے ایمانی کی حالت میں جان دے دیتے ہیں ۔

مندرجہ بالا آیات میں سے پہلی آیت ایسے شخص کے انجام کے بارے میں کہتی ہے : وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد کافر ہ وگئے ، پھر ایمان لائے اور پھر کافر ہو گئے او راپنے کفر میں بڑھ گئے خدا انھیں ہر گز نہیں بخشے گا اور راہِ راست کی ہدایت نہیں کرے گا (ا( ِٕنَّ الَّذینَ آمَنُوا ثُمَّ کَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ کَفَرُوا ثُمَّ ازْدادُوا کُفْراً لَمْ یَکُنِ اللَّهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لا لِیَهْدِیَهُمْ سَبیلاً ) ۔

طرز روش کا یہ تغیّر ، ہر روز رنگ و روپ کی یہ تبدیلی اور تلون مزاجی کا یہ عالم در اصل اسلامی اصولوں کی صحیح طور پر تحقیق نہ کرنے کا نتیجہ ہے او ریا منافقین اور اہل کتاب میں سے متعصب کفار کی سازش ہے تاکہ حقیقی مومنین کو متزلزل کیا جا سکے کیونکہ ان کے زعم میں ان کی یہ آمد و رفت حقیقی مومنین کے ایمان کو ڈانوا ں ڈول کردے گی ۔ جیسا کہ سورہ آل ِ عمران آیة ۷۲ میں گذر چکا ہے ۔

زیر بحث آیت میں ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہ ہونے کے بارے میں کوئی دلیل نہیں ہے آیت کا موضوع ِ سخن صرف وہ لوگ ہیں جو شدت کفر کی حالت میں بالآخراس دنیا سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں ایسے لوگ اپنے ایمان اور عمل کے پیشِ نظر نہ بخشش کے لائق ہیں نہ ہدایت کے مگر یہ کہ وہ اپنے معاملے میں تجدید نظر کرلیں ۔

بعد ازں اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے : ان منافقین کو بشارت دیجئے کہ دردناک عذاب ان کے لئے تیار ہے( بَشِّرِ الْمُنافِقینَ بِاٴَنَّ لَهُمْ عَذاباً اٴَلیماً ) ۔

”عذاب الیم “ کے لئے ”بشارت“ یا تو ان کے لغو اور بے ہودہ افکار نظر یات کا استہزا ہے یا پھر ” بشر“ چہرہ کے معنی سے ہے جو ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے اور ہر اس خبر کو بشارت کہتے ہیں جو انسان کے چہرے پر اثر انداز ہو اور اسے مسرور یا مغموم کردے ۔

آخری آیت میں منا منافقین کی یوں توصیف کی گئی ہے : وہ مومنین کی بجائے کافروں کو اپنی دوست بناتے ہیں( الَّذینَ یَتَّخِذُونَ الْکافِرینَ اٴَوْلِیاء َ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنین ) ۔

پھر بتا یا گیا ہے کہ اس میں ان کا ہدف اور مقصد کیا ہے : کیا وہ اس دوستی کے ذریعہ واقعی کوئی عزت و آبرو حاصل کرنا چاہتے ہیں( اٴَ یَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ ) ۔جبکہ تمام عزتیں خدا کے لئے مخصوص ہیں( فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمیعاً ) ۔ کیونکہ علم کا سر چشمہ ہمیشہ علم و قدرت ہوتا ہے اور جن کی قدرت کی کوئی حیثیت نہ ہو اور ان کا علم بھی ان نکی قدرت جیسا ہو وہ کسی کو کیا صاحب عزت کرسکتے ہیں ۔

یہ آیت تمام مسلمانوں کو تنبیہ کرتی ہے کہ وہ اپنی عزت و آبرو کے لئے چاہے وہ اقتصادی یا ثقافتی پہلو سے ہو یا سیاسی حوالے سےدشمنانِ اسلام کی دوستی تلاش نہ کریں بلکہ ذاتِ الہٰی پر بھروسہ کریں جو تمام عزتوں کا سر چشمہ ہے ۔ دشمنان اسلام کی اپنی بھی کوئی عزت نہیں وہ دوسروں کو کیا دیں گے اور اگر ان کی بظاہر کچھ عزت ہو بھی تو وہ قابل اعتماد نہیں ہیں کیونکہ جب بھی ان کے مفاد کا تقاضا ہوا وہ فوراً اپنے مخلص ترین اتحادیوں کو بھی چھوڑ کر اپنی راہ لیں گے او ران کی یہ حالت ہو گی جیسے کبھی شناسائی نہ تھی ۔ دورِ حاضر کی تاریخ بھی ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے ۔


آیت ۱۴۰

۱۴۰۔( وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْکُمْ فِی الْکِتابِ اٴَنْ إِذا سَمِعْتُمْ آیاتِ اللَّهِ یُکْفَرُ بِها وَ یُسْتَهْزَاٴُ بِها فَلا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّی یَخُوضُوا فی حَدیثٍ غَیْرِهِ إِنَّکُمْ إِذاً مِثْلُهُمْ إِنَّ اللَّهَ جامِعُ الْمُنافِقینَ وَ الْکافِرینَ فی جَهَنَّمَ جَمیعاً ) ۔

ترجمہ

۱۴۰۔ اللہ نے قرآن میں تم پر ( یہ حکم ) نازل کیا ہے کہ جب تم سنو کہ کچھ لوگ آیاتِ الہٰی کا انکار اور استہزا کررہے ہیں تو ان کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ کوئی اور گفتگو نہ کرنے لگیں ورنہ اس صورت میں تم بھی ان جیسے ہو جاو گے ۔ خدا منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں جمع کردے گا ۔

شان نزول

ابن عباس سے اس آیت کی شان ِ نزول کے بارے میں منقول ہے کہ بعض منافقین یہودی علماء کی بیٹھکوں میں جابیٹھتے تھے ۔ ان میٹنگوں میں آیاتِ قرآنی کا مذاق اڑا یا جاتا تھا ۔ اسی سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی جس میں ان کام کا برا انجام بتایا گیا ۔

بری مجلس میں نہ بیٹھو

سورہ انعام قرآن حکیم کی مکی سورتوں میں سے ہے کہ اس کی آیت ۶۸ میں صراحت میں سے پیغمبر اکرم کو حکم دیا گیا ہے کہ :

اگر آپ دیکھیں کہ کچھ لوگ قرآنی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں او رناپسند یدہ باتیں کہتے ہیں تو ان سے اعراض کیجئے ۔

یہ بات مسلم ہے کہ یہ حکم نبی کریم سے مخصوص نہیں بلکہ ایک عمومی حکم ہے البتہ اس میں خطاب پیغمبر سے کیا گیا ہے اس کا فلسفہ بھی بالکل واضح ہے کیونکہ یہ ایسے کاموں سے مقابلے کی ایک منفی صورت ہے زیر بحث آیت میں اس اسلامی حکم کی تاکید کی گئی ہے اور مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ : قرآن میں تمہیں پہلے حکم دیا گیا ہے کہ جب سنو کہ کچھ لوگ آیات قرانی سے کفر کرتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں تو اس وقت تک ان کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ اس کام سے صرفِ نظر کرکے دوسرا کام شروع نہ کریں( وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْکُمْ فِی الْکِتابِ اٴَنْ إِذا سَمِعْتُمْ آیاتِ اللَّهِ یُکْفَرُ بِها وَ یُسْتَهْزَاٴُ بِها فَلا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّی یَخُوضُوا فی حَدیثٍ غَیْرِهِ ) ۔

اس کے بعد اس کام کا نتیجہ بیان کیا گیا ہے : اگر تم ایسی مجلس میں شر کت کرو گے تو ان جیسے ہو جاو گے اور تمہارا انجام بھی ان جیسا ہو گا

( ا( ِٕنَّکُمْ إِذاً مِثْلُهُمْ ) ۔

تاکید مزید کے لئے فرمایا گیا ہے : ایسی میٹنگوں میں شر کت روحِ نفاق کی علامت ہے اور خدا منافقین اور کفار کو جہنم میں جمع کردے گا

( إِنَّ اللَّهَ جامِعُ الْمُنافِقینَ وَ الْکافِرینَ فی جَهَنَّمَ جَمیعاً ) ۔

چند اہم نکات

۱۔ مجلس گناہ میں شرکت ارتکابِ گناہ کی مانند ہے اگر چہ شریک ہونے والا خاموش ہی بیٹھا رہے کیونکہ ایسی خاموشی ایک طرح کی رضا مندی اور عملی تائید ہے ۔

۲۔ نہی عن المنکر ”مثبت“ صورت میں ممکن نہ ہوتو کم از کم ”منفی “ صورت میں ہی انجام دینا چاہیئے ا س طرح سے کہ انسان گناہ کے ماحول اور گناہ کی مجلس سے ہی دور ہے ۔

۳۔ جولوگ سکو ت اور ایسی مجالس میں شریک ہوکر عملی طور پر گناہگاروں کی تشویق کا باعث بنتے ہیں ان کی سزا بھی ارتکاب گناہ کرنے والوں کی طرح ہے ۔

۴۔ کفار کے ساتھ اس صورت میں نشست و بر خاست جبکہ وہ آیات ِ خدا وندی کی توہیں نہ کریں اور ان سے کوئی خطرہ بھی نہ ہو ممنوع نہیں ہے کیونکہ” حتی ٰ یخوضوا فی حدیث غیرہ“ کے جملہ سے ظاہر ہو تا ہے کہ یہ کام مباح ہے ۔

۵۔ ایسے گنہ گاروں سے اچھا بر تاو نفاق کی علامت ہے کیونکہ حقیقی مسلمان کسی ایسی مجلس میں ہرگز شر کت نہیں کر سکتا کہ ایک حقیقی مسلمان ایسی مجلس میں ہو او ر نہ اعتراض کرے اور نہ اظہار ناپسندیدگی کے لئے محفل کو چھوڑ ے ۔


آیت ۱۴۱

۱۴۱۔( الَّذینَ یَتَرَبَّصُونَ بِکُمْ فَإِنْ کانَ لَکُمْ فَتْحٌ مِنَ اللَّهِ قالُوا اٴَ لَمْ نَکُنْ مَعَکُمْ وَ إِنْ کانَ لِلْکافِرینَ نَصیبٌ قالُوا اٴَ لَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْکُمْ وَ نَمْنَعْکُمْ مِنَ الْمُؤْمِنینَ فَاللَّهُ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیامَةِ وَ لَنْ یَجْعَلَ اللَّهُ لِلْکافِرینَ عَلَی الْمُؤْمِنینَ سَبیلاً ) ۔

ترجمہ

منافقین وہ ہیں جو ہمیشہ منتظر رہتے ہیں اور تمہارے نگران رہتے ہیں اگر تو تمہیں فتح و کامیابی نصیب ہو سکے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے (لہٰذاہم افتخار ، اعزاز او رمالِ غنیمت میں تمہارے شریک ہیں ) اور کفار کامیاب ہوجائیں تو انھیں کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ کامیابی میں شریک ہیں ) خدا تمہارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا اور اس نے ہر گز مومنین پر کافروں کے غلبے کی راہ نہیں بنائی ۔

تفسیر

منافقین کی صفات

زیر نظر آیت اور اس کے بعد کی کچھ آیت میں منافقین کی صفات اور ان کے افکار پریشان کا تذکرہ ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : منافق وہ ہیں جو ہمیشہ یہ چاہتے ہیں کہ ہر پیش آنے والے واقعہ سے مفاد اٹھائیں اگر تو تمہیں کامیابی حاصل ہو جائے تو فوراً اہل ایمان کی صفوں میں آکھڑا ہوتے ہیں او ر کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے کیا بھاری امداد اس کامیابی میں تمہارے کام نہیں آئی لہٰذا ہم بھی ان تمام فوائد میں او رمادی و معنوی منافع میں تمہارے شریک اور حصہ دار ہیں( الَّذینَ یَتَرَبَّصُونَ بِکُمْ فَإِنْ کانَ لَکُمْ فَتْحٌ مِنَ اللَّهِ قالُوا اٴَ لَمْ نَکُنْ مَعَکُمْ ) ۔لیکن اگر کامیابی اسلام کے دشمنوں کو ہوئی تو فوراً اپنے کو ان کے قریب کرلیتے ہیں اور اس پر اپنی خوشی کا اظہار کرے ہیں او رکہتے ہیں : یہ ہم ہی تھے جو تمہیں مسلمانوں سے جنگ کرنے اور ان کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کی ترغیب دیتے تھے اس لئے ہم بھی تمہارے ان کامیابیوں میں حصہ دار ہیں( وَ إِنْ کانَ لِلْکافِرینَ نَصیبٌ قالُوا اٴَ لَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْکُمْ وَ نَمْنَعْکُمْ مِنَ الْمُؤْمِنینَ ) ۔(۱) اس طرح یہ لوگ اپنے موقع پر ستی کے ذریعے چاہتے ہیں کہ مومنین کی کامیابی کی صورت میں افتخار و اعزاز پائیں یہاں تک کہ مال ِ غنیمت میں بھی حصہ دار بنیں اور ان پر احسان جتلائیں اور دوسری طرف کفار کی کامیابی پربھی خوش ہوتے ہیں انھیں کفر میں پختہ تر کرتے ہیں مسلمانوں کے خلاف ان کے حق میں جا سوسی کرتے ہیں اور ان کی کامیابی کی راہ ہموارکرتے ہیں گویا وہ ” رفیق قافلہ “ بھی ہیں اور شریک راہزن “ بھی “ وہ اپنی زندگی اسی دوسرے کھیل میں گزار دیتے ہیں ۔ قرآن ایک مختصر سے جملے میں ایسے لوگوں کا انجام بیان کرتے ہوئے کہتا ہے : آخر کار ایک دن آہی جائے گا جب پر دے اٹھ جائیں گے اور ان کے برے چہروں سے نقاب پلٹ دئیے جائیں گے ہاں ” قیامت کے دن تمہارے درمیان خدا فیصلہ کرے گا “( فَاللَّهُ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیامَةِ ) ۔لہٰذا حقیقی مومنین کو چاہئیے کہ ان سے مرعوب نہ ہوں ۔

آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے : کبھی خدا مومنین پر کافروں کے تسلط کی را ہ نہیں بناتا( وَ لَنْ یَجْعَلَ اللَّهُ لِلْکافِرینَ عَلَی الْمُؤْمِنینَ سَبیلاً ) ۔کیا اس جملے سے مراد یہ ہے کہ منطق و استدلال کے لحاظ سے کفارکبھی مومنین پر غلبہ نہیں پائیں گے یااس سے فوجی کامیابی یا ایسی کوئی او رکامیابی مراد ہے اس سلسلے میں ہم بعض پہلووں کا جائزہ لیتے ہیں ۔

لفظ ” سبیل “ اصطلاح کے مطابق ” نکرہ سیاق نفی میں “ کے قبیل سے ہے جو کہ عمومیت کے معنی دیتا ہے لہٰذا آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف منطق و استدلال سے بلکہ سیاسی ، فوجی ثقافتی ، اقتصادی غرض کسی لحاظ سے بھی کفار اہل ایمان پر غالب نہیں آئیں گے آج مختلف میدانوں میں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ کفارمسلمانوں پر غالب ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے بیشتر مسلمان حقیقی مومن نہیں ہیں ۔ آج مسلمان ایمان کے تقاضے، اپنی ذمہ داریاں ، اپنا حقیقی طرز عمل اور اسلامی افکار سب کچھ فراموش کرچکے ہیں نہ ان میں اتحاد اور اخوت اسلامی کی کوئی خبر ہے نہ حقیقی معنی میں جہاد کرتے ہیں اور نہ وہ علم و آگہی کے حامل ہیں ، حالانکہ اسلام نے ان سب پر حصولِ علم لمحہ دلادت سے لے کر لحظہ موت تک لازم قرار دے رکھا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ ایسی زندگی بسر کررہے ہیں ۔

بعض فقہا نے حقوق اور حکم کے حوالے سے مختلف مسائل میں مومنین پر کفار کے عدم تسلط کے لئے اس آیت سے استدلال کیا ہے ۔ آیت کی عمومیت کے پیش نظر یہ بات زیادہ بعید نظر آتی ( غور کیجئے گا) ۔

یہ امر قابل غور ہے کہ اس آیت میں مسلمانوں کی کامیابی کے لئے ” فتح“ کا لفظ استعمال ہوا ہے جبکہ کفار کی کامیابی کے لئے ” نصیب “ استعمال ہواہے یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اگر کفار کو کچھ کامیابیاں نصیب ہوں تو وہ محدود ، وقتی اورنا پائیدار ہوں گی آخری فتح تو اہل ایمان ہی کو حاصل ہو گی ۔

____________________

۱”استحوذ“کا مادہ ” حوذ“ ہے یہ رانوں کے پچھلے حصے کو کہتے ہیں ۔ سار بان جب اونٹ کو نیز چلانا چاہتا ہے تو اس کے پیچھے ہوکراس کی رانوں اور پشت پر مارتا ہے لہٰذا ”استحوذ“ چالانے اور متحرک کرنے کے حوالے سے تسلط و غلبہ کا مفہوم دیتا ہے ۔ مندرجہ بالاآیت بھی اسی معنی میں ہے ۔


آیات ۱۴۲،۱۴۳

۱۴۲۔إ( ِنَّ الْمُنافِقینَ یُخادِعُونَ اللَّهَ وَ هُوَ خادِعُهُمْ وَ إِذا قامُوا إِلَی الصَّلاةِ قامُوا کُسالی یُراؤُنَ النَّاسَ وَ لا یَذْکُرُونَ اللَّهَ إِلاَّ قَلیلاً ) ۔

۱۴۳۔( مُذَبْذَبینَ بَیْنَ ذلِکَ لا إِلی هؤُلاء ِ وَ لا إِلی هؤُلاء ِ وَ مَنْ یُضْلِلِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ سَبیلاً ) ۔

ترجمہ

۱۴۲۔ منافقین اللہ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں حالانکہ وہ انھیں دھوکا دیتا ہے ( یعنی ان کا فریب باطل کردیتا ہے )اور جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو وہ سستی او رکسالت کے ساتھ ، لوگوں کے سامنے ریاکاری کرتے ہیں اور خدا کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا سا۔

۱۴۳۔ وہ بے ہدف افراد ہیں نہ ان کی طرف مائل ہیں نہ ان کی طرف ( نہ اہل ایمان کی صف میں ہیں نہ کافروں کی قطار میں ) اور جسے خدا گمراہ کردے اس کے لئے تمہیں کوئی راہ نہ ملے گی ۔

تفسیر

منافقین کی پانچ صفات

۱۔ وہ اپنے منحوس مقا صد کی تکمیل کے لئے دھو کا او رفریب دہی کی راہ اختیار کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ چاہتے ہیں کہ خدا کو بھی دھوکا دے دیں ۔ حالانکہ جب وہ ایسا کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں خود فریب میں مبتلا ہوتے ہیں کیو نکہ وہ ناچیز اور حقیر سرمایے کے حصول کے لالچ میں اپنا وجود اور انسانیت کا عظیم سرمایہ اپنے ہاتھ سے دے بیٹھے ہیں( إِنَّ الْمُنافِقینَ یُخادِعُونَ اللَّهَ وَ هُوَ خادِعُهُمْ ) ۔

مندرجہ بالا تفسیر”وهو خادعهم “ کی واو سے معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہاں واو حالیہ ہے ۔

بعض بزرگوں سے ایک قصّہ منقول ہے ، ایک بزرگ پیشہ وروں سے کہتے تھے : ”ڈرو، کہیں غریب مسافر تمہیں دھوکا نہ دے دیں “

کسی نے کہا: وہ انجان اور سادہ لوح ہوتے ہیں او ر ہم انھیں دھوکا دے سکتے ہیں ۔

بزرگ نے کہا: میرا مقصد بھی یہی ہے کہ اس طرح دھوکا دے کر تم ناچیز سرمایہ تو حاصل کربیٹھے ہو اور ایمان کا عظم س رمایہ گنوا بیٹھے ہو ۔

۲۔ وہ خدا سے دور ہیں ، اس سے راز و نیاز کی لذت سے محروم ہیں لہٰذا” جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو سر تا پا کسالت، سستی او ربے حالی میں غرق ہوتے ہیں( وَ إِذا قامُوا إِلَی الصَّلاةِ قامُوا کُسالی ) ۔

۳۔ وہ چونکہ خدا اور اس کے عظیم وعدوں پر ایمان نہیں رکھتے لہٰذا اگر کوئی عبادت یا کوئی نیک کام انجام بھی دیتے ہیں تو وہ بھی ریا کاری کے لئے نہ کہ خدا کے لئے( یُراؤُنَ النَّاسَ ) ۔

۴۔وہ اگر کوئی ذکر بھی کرتے ہیں یا خدا کو یاد کرتے ہیں تو صمیم قلب سے نہیں او رنہ آگاہی و بیداری سے اور اگر ہوبھی تو بہت کم( وَ لا یَذْکُرُونَ اللَّهَ إِلاَّ قَلیلاً )

۵۔ یہ لوگ سر گرداں اور بے ہدف جیتے ہیں ان کے پاس نہ زندگی کا کوئی پروگرام ہے نہ کوئی واضح راستہ ، نہ وہ مومنین میں سے ہیں او رنہ کفار میں سے( مُذَبْذَبینَ بَیْنَ ذلِکَ لا إِلی هؤُلاء ِ وَ لا إِلی هؤُلاء ) ِ ) ۔

توجہ رہے کہ ” مذبذب“ اسم مفعول ہے اس کا مادہ ” ذبذب“ ہے یہ ایک مخصوص صدا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔

جب کوئی چیز آویزاں ہوں ہوا کی موجیں اسے حرکت دیں تو جو آواز اس ٹکراو سے پیدا ہوتی ہے اسے ” ذبذب“ کہتے ہیں ، بعد ازاں یہ لفظ متحرک اشیاء سر گرداں اور بے ہدف لوگوں کے لئے بھی استعمال ہونے والی یہ لطیف ترین تعبیر ہے ۔ ضمناً یہ تعبیر اس مطلب کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے او روہ یہ ہے کہ ایسانہیں کہ منافقین کو پہچانا نہ جا سکے بلکہ ان یہ تذبذب ایک خاص آہنگسے ہم رنگ ہوتا ہے جس کی طررف توجہ کرنے سے وہ پہچانے جاتے ہیں ۔

اس تعبیر سے یہ حقیقت بھی معلوم ہوتی ہے کہ منافقین ایک معلق اور آویزاں جسم کی طرح ہیں اور ذاتی طور پر ان کے بس میں کچھ نہیں یہ تو مختلف ہوائیں چلتی ہیں جو انھیں ادھر آدھر کو ہوا کا رخ ہو ان کی حرکت بھی ادر کو ہوتی ہے ۔

آیت کے آخرمیں ان کا انجام اس طرح بیان کیا گیا ہے : وہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال کے باعث اللہ نے اپنا دستِ حمایت ان سے اٹھا لیا او رانھیں بے راہ رویوں میں گمراہ چھوڑ دیا ہے اور ” جسے خدا گمراہ کردے اس کے لئے تمہیں کبھی راہ ِ نجات نہیں ملے گی “( وَ مَنْ یُضْلِلِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ سَبیلاً ) ۔

خدا کے گمراہ کرنے سے متعلق او ریہ کہ اس سے اختیار اور ارادے کی نفی نہیں ہوتی...... تفسیر نمونہ جلد اول سورہ بقرہ آیت ۲۶ کے ذیل میں بحث کی جاچکی ہے ۔


آیات ۱۴۴،۱۴۵

۱۴۴۔( یا اٴَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا الْکافِرینَ اٴَوْلِیاء َ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنینَ اٴَ تُریدُونَ اٴَنْ تَجْعَلُوا لِلَّهِ عَلَیْکُمْ سُلْطاناً مُبیناً ) ۔

۱۴۵۔( إِنَّ الْمُنافِقینَ فِی الدَّرْکِ الْاٴَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصیراً ) ۔

۱۴۶۔( إِلاَّ الَّذینَ تابُوا وَ اٴَصْلَحُوا وَ اعْتَصَمُوا بِاللَّهِ وَ اٴَخْلَصُوا دینَهُمْ لِلَّهِ فَاٴُولئِکَ مَعَ الْمُؤْمِنینَ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللَّهُ الْمُؤْمِنینَ اٴَجْراً عَظیماً ) ۔

ترجمہ

۱۴۴۔اے ایمان والو! مومنین کو چھوڑ کر کفار کو اپنا ولی او رسہارا نہ بناو کیا تم چاہتے ہو کہ ( ایسا کرکے ) اپنے خلاف بار گاہ الہٰی میں ایک واضح دلیل قائم کرلو ۔

۱۴۵۔ ( کیونکہ ) منافقین تو دوزخ کے سب سے نچلے در جے میں ہیں اور تمہیں ان کا ہر گز کوئی مدد گار نہیں ملے گا( لہٰذا دشمنان خدا کی دوستی سے پرہیز کرو کیونکہ یہ انفاق کی علامت ہے ) ۔

۴۶ٍ۔ مگر وہ جو تو بہ کرلیں اور اصلاح و تلافی کرلیں اور خدا( کے لطف کے دامن) سے وابستہ ہو جائیں او راپنے آپ کو خدا کے لئے خالص کرلیں وہ مومنین کے ساتھ ہو ں گے اور خدا اہل ِ ایمان کو اجر عظیم عطا کرے گا۔

مومنین کو تنبیہ

گذشتہ آیا ت میں منافقوں اورکافروں کی کچھ صفات کی نشاندہی کی گئی تھی ۔ ان آیات میں پہلے تو مومنین کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ مومنین کی بجائے کافروں ( اور منافقوں ) کو اپنا سہارا اور ولی نہ سمجھیں( یا اٴَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا الْکافِرینَ اٴَوْلِیاء َ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنینَ ) ۔کیونکہ یہ قانوں شکنی اور خدا سے شرک کے مترادف ہے اور عدالت ِ الہٰی کے قانون کے مطابق اس کی بہت سخت سزا ہے اسی لئے فرماتا ہے : کیا تم چاہتے ہو کہ بار گاہ الہٰی میں اپنے خلاف ایک دلیل قائم کرلو( اٴَ تُریدُونَ اٴَنْ تَجْعَلُوا لِلَّهِ عَلَیْکُمْ سُلْطاناً مُبیناً ) ۔(۱) بعد والی آیت میں ان منا فقین کی حالت واضح کی گئی ہے جن کی دوستی کا طوق غافل مسلمانوں نے اپنے گردن میں ڈال رکھا ہے ۔ یاپھر انھی کی حالت بیان کی گئی ہے جو اظہار اسلام کے باوجود انفاق کی راہ اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ ار شاد ہوتا ہے : منافقین دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے اور تمہیں ان کا کوئی مدد گار دکھائی نہ دے گا( إِنَّ الْمُنافِقینَ فِی الدَّرْکِ الْاٴَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصیراً ) ۔(۲)

اس آیت سے اچھی طرح معلوم ہوتا جاتا ہے کہ اسلام کی نظر میں نفاق کفر کی بد ترین اقسام میں سے ہے او رمنافق خدا سے سب سے زیادہ دورہیں اسلئے ان کا ٹھکا نا جہنم کابد ترین اور پست ترین طبقہ ہے اور ایسا ہونا بھی چاہئیے کیونکہ انسانی معاشرے کو منافقین سے جو خطرات لاحق ہوتے ہیں ان کا کسی اور خطرے سے موازنہ نہیں کیا جاسکے گا۔ اظہار ایمان کیوجہ سے جو مقام اور تحفظ انھیں حاصل ہوتا ہے وہ اسے بے دفاع افراد کے خلاف بزدالانہ طریقے سے استعمال کرتے ہیں اور پشت کی جانب سے خنجر گھونپتے ہیں یہ بات مسلم ہے کہ جو بز دل اور خطر ناک دشمن دوستی کے روپ میں حلہ آور ہو وہ اس سے کہیں بد تر ہے جو کھلے بندوں دشمنی کا اعلان کرے اور اپنے آپ کو واضح طور پر پیش کرے ۔ در اصل نفاق کا راستہ گھٹیا ، پست ، بزدل ، بے وقعت اور ہر لحاظ سے آلودہ افراد ہی اختیار کر سکتے ہیں ۔

یہ بات واضح کرنے کے لئے کہ ایسے افراد بھی جو اس قدر آلودہ گناہ ہیں چاہیں تو خدا کی طرف لوٹ آئیں اور اپنی اصلاح کرلیں ، مزید فرمایا: مگر یہ کہ ایسے لوگ توبہ کریں ، اپنے اعمال کی اصلاح کریں ( گذشتہ اعمال کی تلافی کریں )، لطف الہٰی سے متمسک ہوں اور اپنا دین و ایمان اللہ کے لئے خالص کریں( إِلاَّ الَّذینَ تابُوا وَ اٴَصْلَحُوا وَ اعْتَصَمُوا بِاللَّهِ وَ اٴَخْلَصُوا دینَهُمْ لِلَّهِ ) ۔ایسے لوگ آخر کار نجات یافتہ ہوسکتے ہیں او رمومنین کے ساتھی بن سکتے ہیں( فَاٴُولئِکَ مَعَ الْمُؤْمِنینَ ) اور خدا تمام صاحبان ِ ایمان کو اجر عظیم اور جزائے جزیل سے نوازے گا( وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللَّهُ الْمُؤْمِنینَ اٴَجْراً عَظیماً ) ۔یہ امر قابل توجہ ہے کہ آیت میں فرمایا گیا ہے کہ یہ مومنین کے ہمراہ ہوں گے یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ثابت قدم مومنین کامقام ان سے بر تر ہو گا وہ اصل ہیں اور یہ فرع یہ تو سچے مومنین کے پر تو سے نور حاصل کریں گے ۔

دوسری بات جو قابل غور ہے یہ ہے کہ منافقین کا انجام بیان کرنے کے لئے انھیں دوزخ کا پست ترین طبقہ قرار دیا گیا ہے جب کہ مومنین کے بارے میں ” اجر عظیم “ کی بشارت دی گئی ہے جس کی کوئی حد اور انتہا نہیں ہے اور اس اجر کی عظمت لطفِ الہٰی سے وابستہ ہے ۔

____________________

۱” سلطان “ کا مادہ ” سلاطہ “ ( بر وزن ” مقالہ “) ہے جس کا معنی ہے دوسرے کو مقہور و مغلوب کرنے کی قدرت خود لفظ ” سلطان “ اسم مصدر کا معنی رکھتا ہے اور ہر قسم کے تسلط کے لئے استعمال ہوتا ہے اسی بناپر ” دلیل “ کو بھی ” سلطان“ کہا جاتا ہے جوکہ ایک انسان کے دوسرے پر غلبہ کا باعث بنتی ہے بعض اوقات صاحبان ِ قدرت کو بھی” سلطان“دلیل و حجت“ کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔

۲” درک“ ( بر وزن ”مرگ“) دریا کی گہرائی کے گہرے ترین مقام کو کہتے ہیں نیز رسیوں کو گرہ دے کر دریامیں ڈالا جائے تو آخری رسی جو گہرائی تک پہنچے اسے درک ( بر وزن ”فلک“) کہتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب الفاظ کسی چیزکو پہچاننے اور اس تک پہنچ جانے کا مفہوم دیتے ہیں بعض اوقات تہہ خانے کی سیڑھیوں کو بھی ”درک “ کہتے ہیں جب کہ چھت کی طرف جانے والی سیڑھ یوں کو”درجہ“ کہتے ہیں ۔


آیت ۱۴۷

۱۴۷۔( ما یَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذابِکُمْ إِنْ شَکَرْتُمْ وَ آمَنْتُمْ وَ کانَ اللَّهُ شاکِراً عَلیماً ) ۔

ترجمہ

خداتمھیں عذاب دے کرکیا کرے گا اگر تم شکر ادا کرو(اور نعمتوں کو مناسب طریقے سے استعمال کرو) اور ایمان لے آو، خدا شکر گذار( قدر دان) اور آگاہ ہے ( ان کے اعمال او رنیتوں کو جانتا ہے او رجو اچھا ہے اسے اچھی جزا دے گا) ۔

خدا کی سزا انتقامی نہیں

گذشتہ آیات میں کافروں او رمنافقوں کے لئے سخت سزاوں کا ذکر تھا۔ اب اس آیت میں ایک اہم حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے او روہ یہ کہ خدا کی طرف سے دردناک سزائیں اس بنا پر نہیں ہیں کہ وہ چاہتا ہے کہ گنہ گار بندوں سے انتقام لے یا اپنی قدرت کا مظاہرہ کرے یا ان کی نافرمانی اور عصیان سے اسے کوئی نقصان پہنچا ہے جس کی تلافی کرنا چاہتا ہے کیونکہ یہ سب چیزیں تو کسی نقص او رکمی کا مظہر ہیں جبکہ خدا کی ذات ہر نقص او رکمی سے مبرا ہے بلکہ یہ سب سزائیں خو د انسانوں کے برے افکار و اعمال کا رد عمل اور نتیجہ ہیں ، اسی لئے فرماتا ہے : اگر تم شکر گذاری کرو اور ایمان لے آو تو خدا کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ تمہیں سزا دے( ما یفعل الله بعذابکم ان شکر تم و امنتم ) ۔

شکر کا مفہوم یہ ہے کہ ہرنعمت کو اس طریقے سے استعمال کیا جائے جس کے لئے وہ بنائی گئی ہے اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مندرجہ بالاجملے سے مراد یہ ہے کہ اگر تم ایمان لے آو اور عمل ِ صالح کرو، نعمات ِ الہٰی کو مناسب طور پر استعمال کرو اور ان سے غلط فائدہ نہ ا ٹھاو تو بلا شبہ تھوڑیسی سزا بھی تمہارے دامن کو نہ چھوئے گی ۔

تاکید مزید کے لئے کہتا ہے : خدا تمہارے اعمال اور نیتوں سے آگاہ ہے اور تمہارے نیک اعمال کے بدلے میں وہ بھی شاکر اور جزا دینے والا ہے( وکان الله شاکرا ً علیماً ) ۔

زیر نظر آیت میں ” شکر “ کو ” ایمان“ پر مقدم رکھاگیا ہے یہ اس بناء پر ہے کہ انسان جب تک اس کی نعمتوں کو پہچان نہ لے اور شکر گذاری کے مقام تک نہ پہنچ جائے اس وقت تک خود اسے نہیں پہچان سکتا ۔ کیونکہ اس کی نعمتیں اس کی معرفت کا ذریعہ ہیں ۔ اسلامی عقائد کی کتب میں بھی ” وجوب معفرت الہٰی“ کے لئے بعض لوگ ” وجوب شکر منعم“ کی دلیل پیش کرتے ہیں ، اور وہ کہتے ہیں کہ شکر گذاری انسانی فطرت ہے اور نعمتیں بخشنے والے کا شکر ادا کرنے واجب ہے لہٰذا اس نعتمیں عطا کرنے والے کی معرفت بھی واجب ہے ( گور کیجئے گا ) ۔


آیات ۱۴۸،۱۴۹

۱۴۸۔( لا یُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوء ِ مِنَ الْقَوْلِ إِلاَّ مَنْ ظُلِمَ وَ کانَ اللَّهُ سَمیعاً عَلیماً ) ۔

۱۴۹۔( إِنْ تُبْدُوا خَیْراً اٴَوْ تُخْفُوهُ اٴَوْ تَعْفُوا عَنْ سُوء ٍ فَإِنَّ اللَّهَ کانَ عَفُوًّا قَدیراً ) ۔

ترجمہ

۱۴۸۔ خدا پسند نہیں کرتا کہ کوئی شخص بری باتیں کہے مگر یہ کہ جو ظلم و ستم سے مجبور ہو اور خدا سننے والا او رجاننے والا ہے ۔

۱۴۹۔ ( لیکن ) اگر نیکیوں کو آشکار کرو یا مخفی رکھو یا برائیوں سے صرف نظر رکھو( تو تمہیں اس کی جزا دی جائے گی ) خدا بخشنے والا اور قادر و توانا ہے (اورانتقام کی قدرت کے باوجود عفو و در گذر کرتا ہے ) ۔

اسلام کے چند اخلاقی احکام

ان دو آیتوں میں اسلام کے کچھ اخلاقی احکام بیان ہو ئے ہیں پہلے فرمایا گیا ہے : خدا پسند نہیں کرتا کہ بد گوئی کی جائے یا بعض لوگوں کے عیب اور برے کام بر ملا بیان کئے جائیں( لا یُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوء ِ مِنَ الْقَوْلِ ) ۔

کیونکہ خدا خود ستار العیوب ہے وہ پسند نہیں کرتا کہ لوگوں کی پر دہ دری کی جائے اور لوگوں کے عیب فاش کئے جائیں اور ان کی عزت و آبروبر باد کی جائے ۔ علاوہ ازیں ہم جانتے ہیں کہ ہر انسان کے عام طور پر کچھ نہ کچھ کمزور اور مخفی پہلو ہوتے ہیں اگر یہ عیب ظاہر ہو جائیں تو پورے معاشرے میں بد اعتمادی کی ایک ایسی فضا پیدا ہ وجائے کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا مشکل ہو جائے لہٰذا اجتماعی رشتوں کا استحکام اور بشری تقاجوں کو ملحوظ نظر رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ کسی صحیح مقصد کے بغیر کسی کے مخفی او رکمزور پہلو وں کا اظہار نہ ہو ۔

ضمناً توجہ رہے کہ ” سوء“ سے مراد ہ رطرح کی برائیاور قباحت ہے اور ” جہر“ ، ” من القول “ سے مراد ہر قسم کا لفظی اظہار ہے ، چاہے وہ شکایت کی صورت میں ہو یا چغلی کی ۔ یہی وجہ ہے کہ جن آیات سے غیبت کی حرمت کے بارے میں استدلال کیا گیا ہے ان میں زیر نظر آیت بھی شامل ہے لیکن آیت کا مفہوم غیبت میں منحصر نہیں بلکہ اس میں ہر طرح کی بد گوئی کی ممانعت کی گئی ہے ۔

اس کے بعد بد گوئی کی استثنائی صورت بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : مگر وہ شخص جو ظلم و ستم کے ہاتھو مجبور ہو( إِلاَّ مَنْ ظُلِمَ ) ۔

ایسے لوگ حق رکھتے ہیں کہ اپنے دفاع کے لئے ظالم کے ظلم کی شکایت کریں یا واضح طور پر ظلم و ستم کی مذمت کریں اور ان پر تنقید کریں اور جب تک اپناحق نہ لے لیں ظلم و ستم کا زالہ نہ کریں اس وقت تک چین سے نہ بیٹھیں ۔

در حقیقت یہ استثناء اس لئے ہے کہ کہیں مندرجہ بالا حکم سے ظالم اور ستمگر غلط فائدہ اٹھائیں یا یہ کہ حکم ظلم و ستم کے سامنے ہتھیار ڈال دینے کا بہانہ نہ بن جائے۔

واضح ہے کہ ایسے مواقع پر صف ظالم کے ظلم اور مظلوم کے دفاع سے مربوط باتوں پر ہی اکتفاء کیا جانا چاہئیے ۔

آیت کے آخر میں قرآن اپنی روش کے مطابق کہ کہیں کوئی مظلوم بن کر اس استثناء سے سوءِ استفادہ نہ کرے اور بلا وجہ لوگوں کے عیب بیان کرتا پھر ے، فرماتا ہے : باتوں کو سنتا او رنیتوں سے واقف ہے( وَ کانَ اللَّهُ سَمیعاً عَلیماً ) ۔

بعد والی آیت میں ا س حکم کے نقطہ کے مقابل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، فرمایا : اگرلوگوں کی نیکیوں کو ظاہر کرو یا پوشیدہ رکھو تو اس میں کوئی حرج نہیں ( جبکہ برائیاں استثنائی مواقع کے علاوہ مطلقاً چھپائی جانا چاہئیں )نیز اگر برائیوں کے مقابلے میں لوگوں سے عفو و بخشش کی راہ اپنا و تو بہتر ہے کیونکہ در حقیقت یہ الہٰی طرز عمل ہے کہ جو ہر قسم کے انتقام کی قدرت رکھنے کے باوجود اپنے اہل بندوں کے ابرے عفو و بخشش سے کام لیتا ہے

(إ( ِنْ تُبْدُوا خَیْراً اٴَوْ تُخْفُوهُ اٴَوْ تَعْفُوا عَنْ سُوء ٍ فَإِنَّ اللَّهَ کانَ عَفُوًّا قَدیراً ) ۔

دوسری آیت در اصل دو پہلو ں سے پہلی آیت کا نقطہ مقابل قرار دی جاسکتی ہے پہلا یہ کہ برائیوں کے اظہار کے مقابلے نیکیوں کا اظہار اور دوسرا جن پر ظلم و ستم ہو ا ان کی طرف سے عفو و بخشش۔

ظالم سے در گذر اس کی تقویت کا سبب نہیں ؟

یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ کیا ستم گر سے در گذر حقیقت میں اس کے ظلم کی تائید نہیں اور کیا یہ کام ایسے ظلم کے باری رہنے کے لئے تشویق و ترغیب کا باعث نہیں ہو گا او رکیا یہ عمل مظلوموں کے ذہنوں کو سلادینے والا نہیں ہے اور کیا منفی رد عمل پیدا نہیں کرے گا؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ عفو و در گذر کا اپنا محل و مقام ہے اور اظہار حق اور ظلم کے مقابلے کا موقع جدا ہے ۔ اسی لئے احکامِ اسلامی میں ایک طرف ہے :”( لاتظلمون ولاتظلمون ) “” نہ ظلم کرواور نہ ظلم گوارا کرو“ (بقرہ.... ۲۷۹) اور یہ بھی کہ :۔”کونا للظالم خصما وللمظلوم عونا “یعنی ظالم کے دشمن بنو، اور مظلوم کے ساتھی ۔(۱)

نیز یہ بھی کہ :۔( فقاتلوا التی تبعی حتی تفیء الیٰ امر الله )

یعنی ظالموں سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ حکم خدا کے سامنے سر نگوں ہو جائیں ۔ ( حجرات ۹)

اور دوسری طرف عفو و در گذر اور بخشش کا حکم دیا گیا :( و ان تعفوا قرب للتقوی )

اور اگر معاف کر دو تو یہ تقویٰ کے زیادہ قریب تر ہے ۔ ( بقرہ ۲۳۷)

یہ بھی فرمایا کہ :( ولیعفوا ولیصفحوا الاتحبون ان یغفر الله لکم )

یعنی معاف کردو اور در گذر سے کام لو، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ خدا تمہیں بخش دے ۔

ہو سکتا ہے کہ بعض کوتاہ نظر لوگوں کو ابتداء میں ان احکام میں تفاوت اور تضاد نظر آئے لیکن اسلامی مصادر او رکتب میں موجودہ احادیث کی طرف توجہ کی جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عفو و در گذر کا اپنا مقام ہے اور ظلم کی سرکوبی کے لئے مقابلے کا ایک الگ موقع و محل ہے ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ عفو و در گذر اس موقع کے لئے ہے جہاں قدرت اور دشمن پر کامیابی حاصل ہو اور دشمن آخری شکست سے دو چار ہو جائے یعنی جہاں دشمن کی طرف سے کوئی نیاخطرہ محسوس نہ ہوتا ہو ۔ اس موقع پر عفو و در گذر ایک طرح سے اصلاحی اور تربیتی اقدام ہے اور یہ طرز عمل دشمن کو اپنے عمل پر نظر ثانی پر آمادہ کرے گا، تاریخ اسلام میں ایسے بہت سے مواقع کا تذکرہ موجود ہے حضرت امیر المومنین (علیه السلام) یہ فرمان اس نقطہ نظر پر شاہد ہے ، آپ نے فرمایا:”اذا قدرت علی عدوک فاجعل العفو عنه شکراً للقدرة علیه “جب دشمن پر کامیابی حاصل کرلو تو عفو و بخشش کو اس کا میابی کی زکوٰة اور شکر کا ذریعہ قرار دو ۔(۲)

دوسری طرف ایسے مواقع جہاں دشمن کا خطرہ ابھی باقی ہو اور احتمال ہو کہ در گذر کرنا اسے جرات دے گا اور اس کی حوصلہ افزائی کرے گا یا یہ کہ عفو و بخشش یہاں ظلم کی تائید شمار ہو گی تو اسلام ایسی بخشش او رمعافی کی کبھی اجازت نہیں دیتا اور ایسے مواقع پر رہبرانِ اسلام نے کبھی عفو وبخشش کی راہ نہیں اپنائی ۔

____________________

۱۔نہج البلاغہ، وصیت نامہ نمبر ۴۸۔۲۔ نہج البلاغة کلمات قصار، کلمہ ۱۰۔


آیات ۱۵۰،۱۵۱،۱۵۲

۱۵۰۔( إ ِنَّ الَّذِینَ یَکْفُرُونَ بِاللهِ وَرُسُلِهِ وَیُرِیدُونَ اٴَنْ یُفَرِّقُوا بَیْنَ اللهِ وَرُسُلِهِ وَیَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَکْفُرُ بِبَعْضٍ وَیُرِیدُونَ اٴَن ْیَتَّخِذُوا بَیْنَ ذَلِکَ سَبِیلًا ) ۔

۱۵۱۔( اٴُوْلَئِکَ هُمْ الْکَافِرُونَ حَقًّا وَاٴَعْتَدْنَا لِلْکَافِرِینَ عَذَابًا مُهِینًا ) ۔

۱۵۲ ۔( وَالَّذِینَ آمَنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ وَلَمْ یُفَرِّقُوا بَیْنَ اٴَحَدٍ مِنْهُمْ اٴُوْلَئِکَ سَوْفَ یُؤْتِیهِمْ اٴُجُورَهُمْ وَکَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِیمًا ) ۔

ترجمہ

۱۵۰۔ جو لوگ خدا اور پیغمبر وں کا انکار کرتے ہیں اور ان میں تبعیض اور فرق روا رکھنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان رکھتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان دو کے درمیان کوئی راہ منتخب کریں ۔

۱۵۱۔ وہ پکے کافر ہیں اور کفار کے لئے ہم نے ذلت آمیز سزا فراہم کر رکھی ہے ۔

۱۵۲۔ (لیکن ) وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں اور ان سے کسی کے درمیان فرق روا نہیں رکھتے انھیں عنقریب جزا دیں گے ، خدا بخش نے والا اور مہر بان ہے ۔

انبیا ء میں فرق نہیں ہے

آیات میں کفار اور مومنین کی حالت بیان کی گئی ہے اور ان کے انجام کاتذکرہ ہے یہ آیات گذشتہ کی تکمیل کرتی ہیں جن میں منافقین کا ذکر تھا۔

پہلے تو ان لوگوں کا تذکرہ ہے جو انبیاء الٰہی میں فرق روارکھتے ہیں ۔بعض کوحق پر سمجھتے ہیں اور بعض کو باطل پر ۔ارشاد ہوتاہے :وہ لوگ جو خدااور اس کے پیغمبر وں کے کافر اور منکر ہیں اور چاہتے ہیں کہ خدااور اس کے پیغمبروں میں فرق روا رکھیں اور کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض پر تو ایمان رکھتے ہیں اگر چہ بعض کو قبو ل نہیں کرتے ۔اپنے گمان میں وہ چاہتے ہیں کہ اس کے درمیان کی کو ئی راہ نکالیں یہی حقیقی کا فرہیں

( إ ِنَّ الَّذِینَ یَکْفُرُونَ بِاللهِ وَرُسُلِهِ وَیُرِیدُونَ اٴَنْ یُفَرِّقُوا بَیْنَ اللهِ وَرُسُلِهِ وَیَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَکْفُرُ بِبَعْضٍ وَیُرِیدُونَ اٴَن یَتَّخِذُوا بَیْنَ ذَلِکَ سَبِیلًا اٴُوْلَئِکَ هُمْ الْکَافِرُونَ حَقاًّ )

یہ جملہ در اصل یہودیوں اور عیسائیوں کی حالت بیان کرہا ہے یہودی حضرت عیسی کو نہیں مانتے اور یہودی اور عیسائی دونوں حضر ت پیغمبراسلام کو نہیں مانتے حالانکہ ان کی اپنی کتابوں کے مطابق ان پیغمبروں کی نبوت ثابت شدہ ہے ۔ حقائق کو قبول کرنے میں اس تبیض کا سر چشمہ ہواہوس اور جاہلانہ تعصبات ہیں اور بعض اوقات بے وجہ کاحسد اور تنگ نظری سد راہ ہوتی ہے یہ طرز عمل در اصل خدا پر اور انبیاء پر ایمان نہ لانے کی نشاندہی ہے کیونکہ ایمان یہ نہیں ہے کہ جو کھچہ اپنی طبیعت اور میلان کے مطابق ہو اسے تسلیم کرلیا جائے اور جو مزاج اور ہوس کے خلاف ہو اسے رد کردیا جائے یہ تو ایک طرح کی نفس پر ستی ہے نہ کہ خدا پرستی ۔حقیقی ایمان تو یہ ہے کہ انسان حقیقت کو قبول کرلے چاہے اس کے میلان طبع کے خلاف ہی کیوں نہ ہو لہذا قرآن ایسے افراد کو مندرجہ بالاآیت میں کافر قرار دیتاہے اگر چہ وہ خدا پر اور بعض انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں( إ ِنَّ الَّذِینَ یَکْفُرُونَ بِاللهِ وَرُسُلِه ) -

اس لیے جن چیزوں پر وہ اظہار ایمان کرتے ہیں اسے بھی بے وقعت قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس ایمان کا سر چشمہ جستجو ئے حق نہیں ہے ۔

آخر میں انھیں سرزنش کرتے ہوئے کہتا ہے : ہم نے کفار کے لیے ذلت آمیز اور رسواکن عذاب تیار کررکھا ہے( وَاٴَعْتَدْنَا لِلْکَافِرِینَ عَذَابًا مُهِینًا )

اس میں عذاب کو ---مہین (ذلت آمیز )قرار دیا گیا ہے ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہوکہ انھوں نے انبیا ء میں تبعیض اور فرق روا رکھ کے در اصل ان میں سے بعض کی تو ہین کی ہے لہٰذاان کی سزاان کے عمل کی مناسبت سے ہونا چاہیے ۔

گناہ اور سزامیں تناسب

سزا بعض اوقات ،عذاب الیم ، کی شکل میں ہوتی ہے مثلا کوڑے لگانا اور بدنی تکلیف پہنچانا ، بعض اوقات رسواکن ہوتی ہے ، مثلاکسی کے لباس پر کیچڑ ڈالنا وغیرہ ۔ کبھی شور وشین سے مملوعذاب عظیم کی صورت میں ،مثلا کچھ لوگوں کی موجودگی میں سزادینااور بعض ا وقات سزا کا اثر کاوجود انسانی پرگہرا ہوتا ہے اور ایک مدت تک باقی رہتا ہے جسے عذاب شدید کہتے ہیں ۔مثلا طویل المد ت قید بامشقت اور دیگر سزائیں ۔

واضح ہے کہ عذاب کی ان میں سے کوئی بھی نوعیت گناہ کی نوعیت کی مناسبت سے ہے اسی لیے بہت سی آیات قرآنی میں ظالموں کی سزا ،عذاب الیم ، قرار دی گئی ہے کیونکہ بندگان خداپر درناک ظلم کرنے سے یہی سزامناسبت رکھتی ہے جن کا گناہ توہین آمیز ہے ان کی سزا بھی ذلت آمیز ہے۔اس طرح جو لوگ بڑے اور شدید گناہ کرتے ہیں اس کی سزا بھی اسی قسم کی ہوتی ہے ۔

مندرجہ بالامثا لوں کا مقصد مطلب کو ذہن نشین کرانا ہے ورنہ اس جہان کی سزاؤں کاقیاس اس جہان کی سزاؤں پر نہیں کیا جاسکتا۔

اس کے بعد مومنین کی کیفیت اور انجام کاذکر ہے ،فرمایا :وہ لوگ جو خدااور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور اس طرح کے سامنے اپنے جذبئہ تسلیم اور خلوص کا اظہار کرتے ہیں اور وہ ہر طرح کے نا رواتعصب کے مقابلے میں اپنے قیام کاثبوت دیتے ہیں خدا بہت جلد انھیں جزا دے گا( وَالَّذِینَ آمَنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ وَلَمْ یُفَرِّقُوا بَیْنَ اٴَحَدٍ مِنْهُمْ اٴُوْلَئِکَ سَوْفَ یُؤْتِیهِمْ اٴُجُورَهُمْ وَ ) البتہ پیغمبروں پر ایمان لانا اور عملاانھیں تسلیم کرلینا اس بات کے منافی نہیں کہ ان میں سے بعض سے افضل مانا جائے کیونکہ ان کی ماموریت اور ذمہ داریوں کے فرق کے لحاظ سے انکے مراتب میں فرق یقینی ہے ۔مقصد یہاں یہ ہے کہ انبیاء پر ایمان لانے اور انھیں تسلیم کرنے میں ہم کوئی فرق نہ کریں ۔آیت کے آخر میں اس مطلب کی طرف اشارہ ہے کہ اگر یہ مومنین پہلے ایسے تعصبات اور تفریق کے قائل رہے ہیں ، یا دوسرے گناہوں کے مرتکب رہے ہیں تو اب اگر وہ اپنے ایمان کو خالص کرکے خداکی طرف لوٹ آئیں تو خدا انھیں بخش دے گا اورخداہمیشہ بخشنے والا اور مہربان ہے( وَکَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِیمًا ) ۔

یہ بات قابل غور ہے کہ زیر نظر آیات میں انبیاء میں تبعیض و تفریق کے قائل لوگوں کو حقیقی کفار قرار دیاگیا ہے لیکن جو سب پر ایمان لائے ہیں انھیں حقیقی مومن نہیں کہا گیا بلکہ صرف مومن کہا گیا ہے شاید فرق اس بنا پر ہو کہ حقیقی مومن وہ ہیں جو ایمان کے علاوہ عمل کہ لحاظ سے بھی بالکل پاک اور صالح ہوں اس بات کی شاہد وہ آیات ہیں جو سورئہ انفال کی ابتداء میں آئی ہیں جن میں خدا پر ایمان لانے کے بعد مومنین کی صفات میں ایک مثبت اور زندہ سلسلہ اعمال بیان کیا گیا ہے اس میں اخلاقی اجتماعی اور ایما نی ر شد کے علاوہ نماز زکاةاور توکل بر خداکی صفات بھی شامل ہیں اور اس کے بعد فرماتا ہے :( اٴُوْلَئِکَ هُمْ الْمُؤْمِنُونَ حَقّاً )

یہ ہیں پکے اور حقیقی مومن ۔ (انفال۔۔۔۔۔ ۴)


آیات ۱۵۳،۱۵۴

۱۵۳۔( یَسْاٴَلُکَ اٴَهْلُ الْکِتَابِ اٴَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ کِتَابًا مِنْ السَّمَاءِ فَقَدْ سَاٴَلُوا مُوسَی اٴَکْبَرَ مِنْ ذَلِکَ فَقَالُوا اٴَرِنَا اللهَ جَهْرَةً فَاٴَخَذَتْهُمْ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَتْهُمْ الْبَیِّنَاتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذَلِکَ وَآتَیْنَا مُوسَی سُلْطَانًا مُبِینًا ) ۔

۱۵۴۔( وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمْ الطُّورَ بِمِیثَاقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمْ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُلْنَا لَهُمْ لاَتَعْدُوا فِی السَّبْتِ وَاٴَخَذْنَا مِنْهُمْمِیثَاقًا غَلِیظًا )

ترجمہ

۱۵۳۔ اہل کتاب تم سے تقاضا کرتے ہیں کہ ایک ہی مرتبہ آسمان سے ایک کتاب ان پر نازل کردو حالانکہ یہ تو ایک بہانہ ہی ہے انہوں نے موسی سے اس بھی بہت بڑا سوال کیاتھااور کہاتھاکہ ہمیں ظاہر بظاہر خدا دکھادے اسی ظلم کی وجہ سے بجلی نے آ لیاتھا پھر ٓانہوں نے ان واضح دلائل کہ جو ان کے لیے آئے تھے( سامری کے ) گوسالہ کو خداکے طور پر )منتخب کرلیا فھر بھی ہم نے انھیں معاف کردیااور موسی کو ہم واضح برتری عطا کی ۔

۱۵۴۔اور ہم نے کوہ طور ان کے اوپر غلبہ کیا اور اسی حالت میں ان سے احد پیمان لیا اور ان سے کہا کہ توبہ کے طور پر بیت المقدس کے دروازہ سے خضوع کے ساتھ آؤ نیز ہم نے ان سے کہا کہ ہفتے کہ روز تجاوز نہ کرو (اور کاروبار سے ہاتھ کھینچ لو) ان تمام باتوں کے بارے میں ہم نے ان سے محکم احدوپیمان لی

شان نزول

تفسیر تبیان ،مجمع البیان اور روحالمعانی میں ان آیات کی شان نزول میں لکھا ہے کہ کچھ یہودی پیغمبر اسلام کی خدمت آئے اور کہنے لگے کہ اگر تم آللہ کہ پیغمبر ہو تو اپنی آسمانی کتاب ایک ہی دفعہ ہمارے سامنے پیش کرو جیسا کہ موسی تورات کو اکٹھا لے کر آئے تھے ۔

یہودیوں کی بہانہ سازی

آیات میں پہلے اہل کتاب (یہودیوں )کے تقاضہ کا تذکرہ ہے ۔فرمایا اہل کتاب تم سے تقاضہ کرتے ہیں کہ یکجا ایک کتاب آسمان سے ان پر نازل کرو( یَسْاٴَلُکَ اٴَهْلُ الْکِتَابِ اٴَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ کِتَابًا مِنْ السَّمَاءِ ) ۔

اس میں شک نہیں کہ ان کی اس فرمایش میں حسن نیت شامل نہ تھی کیونکہ کتب آسمانی کہ نزول کامقصد ارشادہدایت اور تربیت ہے بعضاوقات یہ ہد ف آسمانی کتب کے یکجا نازل ہونے سے حاصل ہوتا ہے اور بعض اوقات اس کی تدریجی تنزیل اس مقصد کے لیے زیادہ مدگار ہوتی ہے لہذا انھیں چاہیے کہ وہ پیغمبر سے دلیل کا مطالبہ کریں اور اعلی وارفع تعلیم کی فرمایش کریں نہ یہ کہ آسمانی کتب کے نزول کی کیفیت معین کریں لہٰذا اس کے بعد خدانے ان کے عدم حسن نیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اور اپنے پیغمبر کی تسلی کے لیے یہودیوں کی سابقہ ہٹ دھرمی ، عناد اور بہانہ جوئی کا تذکرہ کیاہے جووہ اپنے عظیم پیغمبر حضرت موسی بن عمران سے کرتے رہے تھے فرمایا :انھوں نے موسی سے اس بڑی اور زیادہ عجیب چیزوں کی خواہش کی تھی اور کہا تھاکہ ہمیں ظاہر بظاہر خدادکھا دے( فقد سالو ا موسی اکبر من ذالک فقالو ا ارناالله جهرة ) ۔

یہ عجیب و غریب اور غیرمنطقی فرمائش تھی جس سے بت پرستو ں کا عقیدہ ظاہر ہوتا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ وہ خدا کو جسم میں اور محدود دیکھنے کا تقاضہ کر ہے تھے اور بلاشبہ اس کی وجہ ہٹ دھرمی اورعناد تھی ان کے اسی ظلم کے باعث صاعقئہ آسمانی نے انھیں آلیا( فاخذتهم الصعقة بظلمهم ) ۔اس کے بعد ان کے ایک اور برے عمل کی طرف اشارہ کیا گیاہے اور وہ ہے -”گوسالہ پرستی “۔ فرمایا :انھوں نے ان معجزات اور واضح دلائل کو دیکھنے اور جاننے کے باجود بچھڑے کو اپنا معبو د قرار دے دیا( ثم اتخذو االمجل من بعد ما جاء تهم البینات ) ۔

ان تمام چیزوں کے باوجود اس لیے کہ صحیح راستے کی طرف لوٹ آئیں اور ہٹ دھرمی اور عناد کی سواری سے اتر پڑیں ارشاد فرمایا :پھر بھی ہم نے انھیں بخش دیا اور موسی کو برتری عطا کی اور وا ضح حکومت بخشی ۔نیز سامری اور بچھڑا پرستو ں کی بساط الٹ دی( فعفونا عن ذالک واتینا موسی سلطا نا مبینا ) ۔

وہ پھر بھی خواب غفلت سے بیدار نہ ہوئے اور مرکب غرور سے نیچے نہ اترے اسی لیے ہم نے کوہ طور کو ان کے سروں پر متحرک کردیااوراسی حالت میں ان سے پیمان لیا اور ان سے کہا کہ اپنے گناہوں کی توبہ کے طور پر بیت المقدس کے دروازے سے خضوع خشوع کے ساتھ داخل ہوجاؤ نیز انھیں تاکید کی کہ ہفتے کے روز کسب کار سے دست کش ہوجاؤ اور تجاوز کی راہ نہ لو نیز اس دن دریائی مچھلیو ں کاشکار نہ کرو کہ جو اس دن حرام ہے اور ان تمام چیزوں کے بارے میں ہم نے ان سے سخت عہدوپیمان لیا “ لیکن انھوں نے ان میں سے کسی بھی تاکید ی عہد کو پورا نہیں کیا-(۱)

( ورفعنافوقهم الطور بمیثا قهم وقلنا لهم ادخلو االبا ب سجدا وقلنا لهم لا تعد وا فی السبت واخذا نا منه میثاقا غلیظا ) ۔

تو کیا یہ لوگ اس تاریک ماضی کے ہوتے ہوئے تم سے اپنے اس تقاضے میں سچے ہو سکتے ہیں ؟ اگر یہ سچ کہتے ہیں تو پھر اپنی آسمانی کتب میں آخری پیغمبر کی صریح نشانیوں کے بارے میں عمل کیوں نہیں کرتے اور انھو ں نے تمھارے بارے میں ان کھلی نشانیوں سے چشم پو شی کیوں اختیار کر رکھی ہے

دواہم نکات

۱۔اگر یہ کہا جائے کہ یہ اعمال تو پہلے یہودیوں سے مربوط تھے پیغمبر اسلام کے معاصر یہودیوں سے کیا واسط ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کے اعمال پر معترض نہیں تھے بلکہ موافق نظر یئے کا اظہار کرتے تھے اس لیے سب ایک ہی صفت میں قرار پاتے ہیں ۔

۲۔مندر جہ بالا آیات میں جو یہ آیا ہے یہودی مدعی تھے کہ تورات یکبارگی نازل ہوئی ہے تو یہ کوئی مسلم بات نہیں ہے شاید اس توہم کا سبب وہ دس فرامین جنھیں دس وصیتیں کہا جاتا ہے جو کہ اکٹھی تختیوں کی صورت میں حضرت موسی پر نازل ہوئے تھے جبکہ تورات کے دیگر احکام کے یکجا نازل ہونے کے بارے میں کوئی دلیل ہمارے پاس نہیں ہے ۔

____________________

۱۔کوہ طور کے یہودیوں کے سروں پر مسلط ہونے کے بارے میں اور یہ کہ ایسا زلزلے کے زیر اثر تھا یا کسی اور عامل کی وجہ سے اور اسی طرح یہودیوں کے سابقہ برے اعمال کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد اول میں بحث کی جاچکی ہے ۔(صفحہ ۲۳۴ اودو ترجمہ دیکھیے)


آیات ۱۵۵،۱۵۶،۱۵۷،۱۵۸

۱۵۵۔( فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِیثَاقَهُمْ وَکُفْرِهِمْ بِآیَاتِ اللهِ وَقَتْلِهِمْ الْاٴَنْبِیَاءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللهُ عَلَیْهَا بِکُفْرِهِمْ فَلاَیُؤْمِنُونَ إِلاَّ قَلِیلًا ) ۔

۱۵۶۔( وَبِکُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَی مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیمًا ) ۔

۱۵۷۔( وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیحَ عِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُولَ اللهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَکِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِینَ اخْتَلَفُوا فِیهِ لَفِی شَکٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ یَقِینًا ) ۔

۱۵۸۔( بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَیْهِ وَکَانَ اللهُ عَزِیزًا حَکِیمًا ) ۔

تر جمہ

۱۵۵۔وہ اس بنا پر کہ انھوں نے اپنا عہد تو ڑدیا ، آایات الہی کاانکار ، انبیاء کا قتل کیا اور وہ (بطور تمسخر )کہتے تھے کہ ہمارے دلوں پر پردہ ڈال دیا گیا ہے

(اور ہم انبیا ء کی باتو ں کو سمجھ نہیں پاتے )،( لہٰذا وہ بارگاہ الہی سے دھتکار ے گئے) جی ہاں !خدا نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے لہٰذا تھو ڑے سے لوگوں کے علاوہ باقی ایمان نہیں لائیں گے (اور یہ وہ ہیں جو راہ حق پر چلتے ہیں اور ہٹ دھرمی نہیں کرتے )

۱۵۶۔نیز ان کے کفر کے باعث اور اس عظیم تہمت کی وجہ سے جو انھوں نے مریم پر لگائی ہے ۔

۱۵۷۔ اور ان کا کہنا کہ ہم نے عیسی بن مریم پیغمبر خدا کو قتل کردیا حالانکہ نہ انھوں نے اسے قتل کیا ہے اور نہ سولی پر لٹکایا ہے مگر یہ کہ معاملہ ان پر مشتبہ ہوگیا اور جنھوں نے اس کے قتل کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ اس کے متعلق شک میں ہیں اور اس کا علم نہیں رکھتے اورر صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں اور انھوں نے یقینا اسے قتل نہیں کیا ۔

۱۵۸۔ بلکہ خدا اسے اپنی طرف لے گیا اور خداتوانا و حکیم ہے ۔

یہودیوں کی کچھ اور کار ستانیاں

ان آیات میں بنی اسرا ئیل کی کچھ اور کارستانیو ں ، قانو ن شکنیوں ، عداوتوں اور انبیا ءِ الہٰی سے دشمنیوں کاذکر کیا گیا ہے ۔پہلی آیت میں ان میں سے ایک گروہ کی پیمان شکنی ، کفر اور قتل انبیا ء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرفایا گیا ہے :ہم نے انھیں پیمان شکنی کی وجہ سے اپنی رحمت سے دور کردیا یا اپنی بعض پاکیزہ نعمتوں کو ان پر حرام قرار دے دیا( فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِیثَاقَهُم ) (۱)

اس عہد شکنی کے بعد انھوں نے آیات الہی کا انکار کیا اور مخالفت کا راستہ اختیار کیا( وکفرهم بایات الله ) اور انھوں نے اسی پر اکتفانہ کیا بلکہ ایک اور بڑے جرم کی طرف ہاتھ بڑھایا اور وہ یہ کہ راہ حق کے ہادیوں یعنی انبیاء کو بلا جواز قتل کیا( و قتلهم الاانبیا ء بغیر حق ) ۔

وہ خلاف حق اعمال میں اس قدر جسارت مند اور بے باک تھے کہ انبیا ء کی گفتگو کا مذاق اڑاتے تھے اور انھیں صراحت سے کہتے تھے : ہمارے دلوں پر تو پردہ ڈال دیا گیاہے جو تمہا ری دعوت کو سننے اور اسے قبول کرنے میں حائل ہے( و قو لهم قلو بنا غلف ) ۔یہاں قرآن مجید مزید کہتا ہے : جی ہا ں !ان کے دلوں پر واقعی مہر لگادی گئی ہے ، اب کو ئی حق بات ان میں جاگزیں نہیں ہو سکتی لیکن اس کا عامل ان کا اپنا کفر اور بے ایمانی ہے اس لیے تھوڑے سے افراد جو ایسی ہٹ دھرمیوں میں نہیں پڑے وہی ایمان لائیں گے با قی نہیں( بل طبع الله علیها بکفر هم فلا یو منون الا قلیلا ) ۔

ان کی قانون شکیناں صرف یہیں تک محدود نہیں ہیں وہ کفر کی راہ میں اتنے تیز دو ڑتے ہیں کہ انھوں نے مریم جیسی پاک دامن خاتون اور خداکے ایک عظیم پیغمبر کی والدہ جو حکم خدا سے بغیر شوہر کے حاملہ ہوگئی تھی ، پر بہت بڑی تہمت لگائی( وبکفر هم و قلو لهم علی مریم بهتانا عظیما ) ۔ یہا ں تک وہ قتل انبیا ء پر فخر کرتے تھے اور کہتے تھے ہم نے مریم عیسی بن مریم اللہ کے رسو ل کو قتل کردیا( وقلولهم انا قتلنا المسیح عیسی بن مریم رسو ل الله ) ۔شاید مسیح کو رسول اللہ تمسخر اور استہزاء کے طور پر کہتے تھے ۔وہ قتل عیسی کے بارے میں اپنے دعوے میں جھوٹے تھے انھوں نے ہر گز مسیح کو قتل نہیں کیا اور نہ سولی پر لٹکایا ، بلکہ ایک اور شخص کو جو ان سے مشا بہت رکھتا تھا اشتباہ میں سولی پر لٹکادیا( وماقتلو ه وماصلبو ه الکن شبه لهم ) ۔

اس کے بعد قرآن کہتا ہے : مسیح کےء بارے میں اختلاف کرنے والے خود شک میں تھے اور اپنی کہی بات پر ایمان نہیں رکھتے تھے وہ صرف تخمینے اور انداز ے کی پیروی کرتے( وان الذین اختلفم فیه لفی شک منه مالهم به من علم الااتباع الظن ) ۔اس بارے میں انھوں نے کس بات میں اختلاف کیا مفسرین میں اختلاف ہے بعض نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ انھوں نے اختلاف حضرت مسیح کی اصل حیثیت اور مقام کے بارے میں کیا تھا ایک گروہ جناب مسیح کو خدا کا بیٹا کہتا تھا اور بعض یہودیوں کی طرح انھیں پیغمبرہی نہیں سمجھتے تھے اور یہ سب کے سب اشتباہ میں تھے ۔یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے قتل کی کیفیت کے بارے میں اختلاف ہو بعض کہتے ہیں کہ وہ قتل ہو گئے ہیں اور بعض کہتے کہ وہ قتل نہیں ہوئے اور ان میں سے کوئی بھی اپنی بات پر مطمئن نہیں تھا ۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حضرت عیسی کے قتل کے مدعی انھیں نہ پہچاننے کی وجہ سے شک میں ہوں اور وہ یہ ہے کہ جسے انھوں نے قتل کیا تھا وہ مسیح ہی تھے یاان کی جگہ کوئی اور شخص تھا ۔

اس پر قرآن تاکید ا کہتا ہے انھوں نے قطعا اسے قتل نہیں کیا بلکہ خدا اسے اپنی طرف اٹھالے گیا اور خداقادر و حکیم ہے( وما قتلو ه یقینا بل رفعه الله وکان الیه وکان لله عزیزا حکیما ) ۔مسیح قتل نہیں ہو ئے

زیر نظر آیت میں قرآن کہتا ہے : مسیح قتل نہیں ہے اور نہ سولی پر چڑھے بلکہ معاملہ ان پر مشتبہ ہوگیا اور انھوں نے خیال کیا کہ انھیں سو لی پر لٹکادیا ہے حالانکہ یقینا انھوں نے انھیں قتل نہیں کیا ۔

مو جو دہ چاروں اناجیل (متی ، لوقا ،مرقس اور یوحنا)میں حضرت مسیح کو سو لی پر لٹکائے جانے اور ان کے قتل کا ذکر ہے ۔یہ بات چاروں انجیلوں کے آخری حصوں میں تشریح و تفصیل سے بیان کی گئی ہے ۔ آج کے عام مسیحیوں کا بھی یہی عقیدا ہے بلکہ ایک لحاظ سے تو قتل مسیح اور انھیں مصلوب کیاجانا موجودہ مسیحیت کے اہم ترین بنیادی مسائل میں سے ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ موجودہ عیسائی حضرت مسیح کو ایسا پیغمبر نہیں مانتے جو مخلوق کی ہدایت ،تربیت اور ارشاد کے لیے آیا ہو بلکہ وہ انھیں خدا کا بیٹااور تین خداؤں میں سے ایک کہتے ہیں جس کا اس دنیا میں آنے کا اصلی ہدف ہی خداہونا ہے اور اپنی قربانی کے عوض نوع بشر کے گناہو ں کاسوداکرنا ہے ۔ عیسا ئی کہتے ہیں کہ وہ ااس لیے آئے تاکہ ہمارے گناہوں کا فدیہ بن جائیں وہ سولی چڑھے اور قتل ہوئے تاکہ نوع بشر کے گناہوں کو دھوڈالیں اور عالمین کو سزا سے نجات دلائیں ۔اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ راہ نجات مسیح سے رشتہ جوڑنے اور ان کے مصلوب ہونے کاعقیدہ رکھنے میں منحصر ہے یہی وجہ ہے کہ وہ مسیحیت کو” مذہب ِ نجات “ یا ” مذہب خدا“ کہتے ہیں اور مسیح کو ” ناجی“ یا ”فادی“ کہتے ہیں یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائی صلیب کا نشان بہت ذیادہ استعمال کرتے ہیں ، اور صلیب ان کا شعار ہے اسی کی وجہ ان کا یہی عقیدہ ہے ۔

یہ تھا حضرت مسیح کی سر نوشت کے بارے میں عیسائیوں کے عقیدے کا خلاصہ ، لیکن کوئی مسلمان بھی اس میں شک نہیں رکھتا کہ یہ عقیدہ باطل ہے اس کی وجوہات یہ ہیں ۔

۱۔حضرت مسیح دیگر انبیا کی طرح ایک پیغمبر تھے نہ وہ خدا تھے نہ خدا کے بیٹے ۔ خدا یکتا و یگانہ ہے اس کا کوئی شبیہ ونظیر مثل و مانند اور بیوی بیٹا نہیں ہے ۔

۲۔گناہوں کا فدیہ بننا بالکل غیر منطقی بات ہے ہر شخص اپنے اعمال کا جوابدہ اور راہ نجات خود انسان کااپنا ایمان اور عمل صالح ہے ۔

۳۔گناہوگار کے فدیہ کا عقیدہ فساد تباہی اور آلودگی کی ترغیب و تشو یق کرتا ہے یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ قرآ ن خصوصیت سے مسیح کے مصلوب نہ ہونے کاذکر کرتا ہے حالانکہ ظاہراً ایک معمولی سی بات نظر آتی ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ فد یے اور امت کے گناہ خریدنے کے بے ہودہ اور فضول عقیدے کی سختی سے سر کوبی کی جائے اور عیسائیو ں کو اس خرافاتی عقیدے سے نکالا جائے تاکہ وہ نجات کے لیے اپنے اعمال کو دورست کریں نہ کہ عقیدئہ صلیب کا سہارا لیں ۔

۴۔بہت سے قرآ ئن ایسے موجود ہیں جو حضرت عیسی کو صلیب دئیے جانے کے عقیدے کی کمزوری پر دلالت کرتے ہیں ،مثلاً :۔

ا۔ہم جانتے ہیں کہ موجودہ چاروں انجیل جو حضرت عیسی کے مصلوب ہونے کا ذکر کرتی ہیں سب کی سب حضرت عیسی کے بعد ان کے شاگردوں یا شاگردوں کے شاگردوں کے ذریعے لکھی گئی ہیں اور اس بات کا مسیحی مورخ بھی اعتراف کرتے ہیں ۔

نیز ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جناب مسیح کے شاگرد دشمنو ں کے حملے کے وقت بھاگ گئے تھے اور اناجیل بھی اس بات کی گواہ ہیں ۱” اس وقت تمام شاگرد انھیں چھوڑ کر بھاگ گئے “ انجیل متی باب ۲۶ جملہ ۵۷) لہٰذا انھوں نے مسیح کے مصلوب ہونے کے بارے میں عوام میں گردش کرتی ہوئی افواہ یا شہرت سنی اور وہیں سے یہ بات حاصل کی اور جیسا کہ بعد میں بیان کیا جائے گا کہ حالات ایسے پیش آئے کہ مسیح کی جگہ دوسرا شخص اشتباہ میں پکڑلیا گیا

ب۔دوسرا عامل جو یہ امکان ظاہر کرتا ہے کہ حضرت عیسی کی بجائے اشتباہ میں دوسرا شخص پکڑا گیا ہویہ ہے کہ شہر کے باہر جستیمانی باغ میں جو لوگ جناب عیسی کو گرفتار کرنے کے لیے گئے وہ رومی لشکر کا ایک دستہ تھا یہ لوگ چھاؤنی میں اپنی فوجی ذمہ دایوں میں مشغول تھے یہ لوگ نہ یہودیوں کو پہچانتے تھے نہ وہاں کی زبان اور آداب ورسوم جانتے تھے اور نہ ہی یہ لوگ حضرت عیسی کو ان کے شاگرد وں میں سے پہچان سکتے تھے ۔

ج۔اناجیل کے مطابق حملہ رات کے قت حضرت عیسی کی رہائش گا ہ پر ہو ا اس صورت میں تو اور بھی آسان ہے کہ تاریکی میں اصل انسان نکل جائے اور کوئی دوسرا اس کی بجائے گرفتار ہوجائے ۔

د۔تمام انجیلوں کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ گرفتار شدہ شخص نے دی حاکم پیلاطس کے سامنے خاموشی اختیار کی اوراس کی گفتگو کے جواب میں اپنے دفاع کے لیے بہت کم ہی کچھ کہا ۔یہ بات بہت بعید ہے کہ حضرت عیسی اپنے آپ کو خطرے میں دیکھیں اور اپنے بیان ِ رسا قوت گویائی اور شجاعت و شہامت کے باوجود اپنا دفاع نہ کریں ۔

تو کیا اس سے یہ احتمال پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی شخص ان کی جگہ پکڑا گیا ہو اور وحشت و اضطراب کا ایسا شکار ہوا ہوکہ اپنے دفاع میں کچھ کہہ بھی نہ سکا ہو ۔ قوی احتمال یہ ہے کہ وہ اسخر یوطی یہودی اس واقعے کے بعد دیکھا نہیں گیا اور اناجیل ہی کے مطابق اس نے خودکشی کرلی تھی(۲)

ر۔جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ حضرت مسیح کے شاگرد انا جیل کی شہادت کے مطابق خطرہ محسوس کرتے ہی بھاگ کھڑے ہوئے ۔ ظاہر ہے کہ دوسرے دوست احباب بھی اس دن چھپ گئے ہوں گے اور دور سے حالات پر نظر رکھے ہوں گے ۔لہٰذا گرفتار شدہ شخص رومی فوجیوں کے محاصرے میں تھا اور اس کے دوستوں میں سے کوئی اس کے گرد موجود نہیں تھا ۔اس لیے کون سے تعجب کی بات ہے کہ اشتباہ ہوگیا ہو۔

س۔ اناجیل میں ہے کہ جس شخص کو تختہ دار پر لٹکانے کا حکم دیا گیا اس نے تختہ دار پر خدا سے شکایت کی ۔تونے مجھے کیوں تنہا چھوڑ دیا اور کیوں مجھے قتل ہونے کے لیے دشمن کے ہاتھ میں دے دیا(۳)

لہٰذا اگر حضرت مسیح دنیا میں اس لیے آئے تھے کہ وہ سولی پر لٹکائے جائیں اور نوع ِ انسانی کے گناہوں کا فدیہ ہوجائیں تو پھر ایسی ناروا باتیں انھیں نہیں کرانا چاہیے تھیں ۔ یہ جملہ واضح طور پر نشاندہی کرتا ہے کہ وہ شخص نہایت کمزور ، ڈرپوک اور عاجز و ناتواں تھا اسی لیے ایسی باتیں کرہا تھا اور نہ مسیح ہوتے ایسی باتیں ہرگز نہ کرتے ۔(۴)

س۔ مسیحوں کے نزدیک قابل ِ قبول چار انجیلوں کے علاوہ موجود ہ بعض اناجیل مثلاً انجیل بر نا با میں واضح طور پر حضرت عیسی کے مصلوب ہونے کی نفی کی گئی ہے(۵)

یہا ں تک کہ بعض محققین کا یہ نظریہ ہے کہ عیسی نام کے دو شخص تھے ایک عیسی کو سولی دی گئی تھی اور دوسرے کو نہیں دی گئی تھی اور دوسرے کو نہیں دی گئی تھی اور دونوں میں پانچ سو سال کا فاصلہ تھا ۔(۶)

جو کچھ بیا ن کیا گیا ہے ، یہ قرائن مجوعی طور پر حضرت مسیح کے قتل اور صلیب دیئے جانے کے بارے میں قرآن کے دعوی اشتبا ہ کو واضح کرتے ہیں ۔

____________________

۱”فبما نقضهم “ قواعد ادب کے اعتبار سے جار مجرور ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اس کا کوئی عامل ہو ممکن ہے اس کا عامل ”لعناهم “(ہم نے ان پر نعمت کی )محذوف مقدر ہے یا ”حرمنا علیهم -“( ہم نے ان پر حرام کردیا)ہو جوآیة ۱۶۰میں ہے اس بنا پر جو کچھ درمیانی کلام میں آیا ہے وہ جملئہ معتر ضہ کی حیثیت رکھتا ہے جو ایسے مواقع پر کلام کی خوبی اور زیبائی کاباعث ہوتا ہے

۲ ۔انجیل متی باب ۲۷جملہ ۶۔

۳ ”-عیسی نے بلند آواز سے پکار کرکہا - ایلی ؛ ایلی ؛ لما سبقتنی یعنی -الہی؛ الہی ؛ تو نے کیوں مجھے چھوڑ دیا (متی باب ۲۷ ،جملہ ۴۶۔ ۴۷)

۴ ۔مند رجہ بالا چند قرآئن کے لیے کتاب ” قہرمان صلیب “ سے استفادہ کیاگیا ہے ۔

۵ ۔تفسیر المنا ر ج ۶ صفحہ ۳۴۔

۶ ۔المیزان ج ۳صفحہ ۲۴۵۔


آیت ۱۵۹

۱۵۹۔( وَإِنْ مِنْ اٴَهْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَیَوْمَ الْقِیَامَةِ یَکُونُ عَلَیْهِمْ شَهِیدًا ) ۔

ترجمہ

۱۵۹۔کوئی اہل کتاب ایسا نہیں جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے گا اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہو گا ۔

تفسیر

مند رجہ بالاآیت کی تفسیر کے بارے میں دواحتمال ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک قابل ِ ملا حظہ ہے :۔

۱۔آیت کہتی :کوئی اہل کتاب نہیں مگر یہ کہ وہ مسیح پر ” اپنی موت “ سے ایمان لے آئے گا( وَإِنْ مِنْ اٴَهْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ) ۔

اور یہ وقت وہ ہوگا جب انسان موت کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے ۔ اس وقت اس کا رابطہ اس جہان سے کمزور پڑجاتا ہے اور بعد والے جہان سے قوی ہوجاتا ہے ، پردے اس کی آنکھوں کے سامنے سے اٹھ جاتے ہیں ، بہت سے حقائق اسے نظر آنے لگتے ہیں اور وہ ان کے بارے میں آگاہی حاصل کرلیتا ہے ۔ اس موقع پر اس کی حقیقت میں آنکھیں مقام ِ مسیح کو دیکھتی ہیں اس کے سامنے سر تسلیم خم کر لیتی ہیں ۔ جو اس کے منکر تھے اب مومن ہوجاتے ہیں اور اسے خدا سمجھتے تھے اب اپنے اشتباہ کوجان لیتے ہیں ۔یہ ایما ن فرعو ن اور دیگر ایسے لوگوں کا سا ایمان ہے جو عذاب میں گرفتار ہوجاتے ہیں اور اپنی بربادی کاسامان اپنی آنکھوں سے د یکھ لیتے ہیں ۔ پھر اظہار ایمان کرتے ہیں ایسا ایمان انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا لہذا کس قدر اچھا ہے ک بجائے اس کے کہ وہ ایسے حساس لمحے پر ایمان انھیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتا ابھی ایمان لے آئیں اور مومن بن جائیں جب ایمان ان کے لیے فائدہ مند بھی ہے ۔

اس تفسیر کے مطابق ” قبل موتہ “ کی ضمیر اہل ِ کتاب کے بارے میں ہے ۔

۲۔ دوسر ی تفسیر کے مطابق تمام اہل کتاب حضرت مسیح پر ”ان کی موت “ سے پہلے ایمان لے آئیں گے ۔ یہودی ان کی نبوت قبول کر لیں گے اور عیسائی ان کی الو ہیت کے عقیدے سے دور کش ہوجائیں گے یہ اس وقت ہو گا جب اسلامی روایات کے مطابق حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے موقع پر حضرت عیسی آسمان سے اتریں گے اور ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے یہودو نصاریٰ بھی انھیں دیکھیں گے اور ان پر اور حضرت مہدی علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے ۔

واضح رہے کہ حضرت مسیح کا دین گذشتہ زمانے سے تعلق رکھتا ہے اور اب ان کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ دین ِاسلام کی پیروی کریں جس کے جاری اور نافذ کرنے والے حضرت مہدی علیہ اسلا م ہوں گے ۔

اس تفسیر کے مطابق ” قبل موتہ “ کی ضمیر کا تعلق حضرت مسیح سے ہے نہ کہ اہل کتاب سے بہت سی اسلامی کتب میں یہ حدیث پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ سلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا :کیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم واما مکم منکم ۔اس وقت تمہا را کیا حال ہوگا جب فرزند ِ مریم تم میں نازل ہوگا اور تمہارا امام وپیشواخود تم میں سے ہوگا ۔(۱)

علی بن ابرا ہیم کی تفسیر میں شہربن حوشب سے منقول ہے :۔

ایک دن حجاج نے کہا : قرآن میں ایک اایت ہے جس نے مجھے تھکا دیا ہے اور میں اس کے معنی میں ڈوبا رہتا ہوں ۔

شہر نے کہا : کون سی آیت ہے ، اے امیر !؟

حجاج نے کہا : وان من اھل الکتاب --کیونکہ میں یہودیوں اور عیسائیوں کو قتل کرتا ہوں لیکن ایسے ایمان کی کوئی نشانی ان میں نہیں دیکھتا ۔

شہر نے کہا :” تم آیت کی یہ تفسیر صحیح نہیں کرتے ہو “

حجاج بولا : کیسے ؟ آیت کی صحیح تفسیر کیا ہے ؟

شہر نے جواب دیا : مراد یہ ہے کہ حضرت عیسی اس دنیا کے ختم ہونے سے پہلے اتریں گے اور کو ئی یہودی یا غیر یہودی ایسا باقی نہیں رہے گا جوحضرت عیسی کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے عیسی ٰ ، حضرت مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے ۔

حجاج نے یہ بات سنی تو کہنے لگا : ”وائے ہو تم پر ، یہ تفسیر کہاں سے لائے ہو ؟“

شہر نے کہا : محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب علیہم السلام سے میں نے یہ تفسیر سنی ہے ۔

حجاج کہنے لگا :۔والله جئت بها من عین صافیه (یعنی ۔۔۔بخدا صا ف وشفاف سر چشمہ سے لایا ہے )۔(۲)

آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : قیامت کے دن حضرت مسیح ان پر گواہ ہوں گے( وَیَوْمَ الْقِیَامَةِ یَکُونُ عَلَیْهِمْ شَهِیدًا ) ۔حضرت مسیح کی ان کے خلاف گواہی سے مراد یہ ہے کہ وہ گواہی دیں گے کہ میں نے تبلیغ رسالت کی اور انھیں کبھی اپنی الوہیت کی دعوت نہیں دی بلکہ پروردگار کی ربوبیت کی دعوت دی ۔

ایک سوال اور اس کا جواب

یہاں پر سوال سامنے آتا ہے کہ سورة ِ مائدہ کی آیت ۱۱۷ کے مطابق حضرت مسیح قیامت کے دن اپنی گواہی اپنی اس زندگی کے دوران کے بارے میں دیں گے جب وہ اپنی امت میں موجود تھے لیکن اس کے بعد کی ذمہ داری قبول نہیں کریں گے ۱ تفسیر برہا ن جلد ۱ صفحہ ۴۲۶ ،جیسا کہ ارشاد الہی ہے :۔

( وکنت علیهم شهید اما دمت فیهم فلما توفیتنی کنت الرقیب علیهم وانت علی کل شئی شهید ) ۔

یعنی ۔۔۔۔۔۔(حضرت عیسی کہیں گے ) جب تک میں ان کے درمیان تھا تو ان پر شا ہد اور ناظر تھا لیکن جب تونے ان میں سے مجھے اٹھا لیا تو تو ان پر نگران ہے اور تو ہر چیز پر شاہد گواہ ہے ۔

لیکن زیر بحث آیت میں ہے کہ حضرت مسیح قیامت کے دن ان سب کے بارے میں گواہی دیں گے چاہے وہ ان کے زمانے میں تھے یا نہیں تھے ۔

دونو ں آیات پر غور و خوض کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زیر بحث آیت حضرت مسیح کی طرف سے تبلیغ رسالت اور الو ہیت کی نفی کے بارے میں گوا ہی سے متعلق ہے جبکہ سورہ ِ مائدہ کی آیت ۱۱۷ ن کے عمل کے بارے میں گواہی سے مربوط ہے ۔س کی وضاحت یہ ہے کہ زیر بحث آیت کہتی ہے کہ حضرت عیسی ان تمام لوگوں کے خلاف گواہی دیں گے جنھوں نے ان کی الوہیت کا عیقدہ رکھا ، چاہے وہ آپ کے زمانے میں تھے یا اس کے بعد اور کہیں گے کہ میں نے ہرگز ایسی کسی چیز کی دعوت نہیں دی تھی ۔لیکن سورہ مائدہ کی آیت ۱۱۷ کہتی ہے کہ وہ کہیں گے کہ میں نے انھیں صحیح اور کافی ووافی تبلیغ ِ رسالت کی جب تک میں ان کے درمیان موجود تھا تو عملاًان کے انحراف کو روکتا رہا لیکن میرے بعد یہ ہوا کہ وہ میری الوہیت کے قائل ہوگئے اور انھوں نے انحراف کا راستہ اختیا ر کیا ان دونوں میں ان کے درمیان نہ تھا کہ ان کے اعمال کا گواہ بنوں اور یہ کہ انھیں اس روکتا -

____________________

۱۔تفسیر المیزان کے مطابق یہ حدیث مسند احمد ، صیح بخاری ، صیح مسلم اور سنن بہقی میں موجو د ہے ۔ ۲ ۔تفسیر برہان جلد ۱ صفحہ ۴۲۶۔


آیات ۱۶۰،۱۶۱،۱۶۲،

۱۶۰۔( فَبِظُلْمٍ مِنْ الَّذِینَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبَاتٍ اٴُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیلِ اللهِ کَثِیرًا )

۱۶۱۔( وَاٴَخْذِهِمْ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ وَاٴَکْلِهِمْ اٴَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَاٴَعْتَدْنَا لِلْکَافِرِینَ مِنهُمْ عَذَابًا اٴَلِیمًا ) ۔

۱۶۲( لَکِنْ الرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالْمُؤْمِنُونَ یُؤْمِنُونَ بِمَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ وَمَا اٴُنزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَالْمُقِیمِینَ الصَّلاَةَ وَالْمُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَالْمُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ اٴُوْلَئِکَ سَنُؤْتِیهِمْ اٴَجْرًا عَظِیمً )

ترجمہ

۱۶۰۔اس ظلم کی وجہ سے جو یہودیوں نے کیا نیز راہ سے خدا سے بہت زیادہ روکنے کی بناپر کچھ پاکیزہ چیزیں جو ان پر حلال تھیں ہم نے حرام قرار دے دیں ۔

۱۶۱۔ اور( اسی طرح ) ان کی سودخوری (بھی ) ، جبکہ ابھیں اس سے منع کردیاگیا اور باطل طریقے سے لوگوں کا مال کھانے کی وجہ سے اور ان میں سے کافروں کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے

۱۶۲۔لیکن ان میں وہ لوگ جو علم میں راسخ ہیں اور وہ جو ایمان لائے ہیں ، ان تمام چیزوں پر جو تم پر نازل ہوئی ہیں ان پر جو تم سے پہلے نازل ہوچکی ہیں ایمان لاچکے ہیں اور وہ جو نماز قائم کرتے اور زکوة ادا کرتے ہیں اور وہ جو خدا اور روز قیامت پر ایمان لائے ہیں ہم جلد ہی ان سب کو اجر عظیم دیں گے ۔

یہودیوں میں سے صالح اور غیر صالح افراد کا انجام

گذشتہ آیت میں یہودیوں کی قانون شکنی کے چند نمونوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔مند رجہ بالا آیات میں ان کے کچھ اور ناشائتہ اعمال کا ذکر کرنے کے بعد ان سزاؤں کاتذکرہ ہے جو ان کے اعمال کی وجہ سے دنیا اور آخرت میں ان کے دامن گیر ہوئیں اور ہوں گی ۔

پہلے ارشاد فرمایا : اس ظلم وستم کی وجہ سے جو یہودیو ں نے کیا اور لوگوں کو راہ ِ خدا سے باز رکھنے کی وجہ سے کچھ پاک وپاکیزہ چیزیں ہم نے ان پر حرام کردیں اور انھیں ان سے استفادہ سے محروم کردیا( فَبِظُلْمٍ مِنْ الَّذِینَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبَاتٍ اٴُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیلِ اللهِ کَثِیرًا )

نیز اس بنا پر کہ وہ سودکھاتے تھے حالانکہ انھیں اس سے منع کیا گیا تھا اوراسی طرح لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے ان کے یہی کام ان کی اس محرومیت کا سبب بنے (واخذھم الربوا و قد نھو ا عنہ واکلھم اموال النا س بالباطل )۔

اس دنیا وی سزا کے علاوہ ہم انھیں اخروی سزاؤ ں میں بتلا کریں گے اور ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے( وَاٴَعْتَدْنَا لِلْکَافِرِینَ مِنْهُمْ عَذَابًا اٴَلِیمًا ) ۔

چند اہم نکا ت

۱۔ یہودیوں کے لیے طیّبا ت کی حرمت :

طیبا ت کی حرمت سے مراد وہی ہے جس کی طرف سورہ انعام آیة ۱۴۶ میں اشارہ ہوا ہے ، جہاں فرمایا گیا ہے :

ہم نے یہودیو ں کے ظلم وستم کی وجہ سے ہر جانور جس کا سم پھٹا ہوا نہ ہو ان پر حر ام قرار دے دیا ۔ نیز گائے اور بھیڑ بکری کی چربی بھی کہ جس سے انھیں لگاؤتھا ان پر حرام کردی مگر اس کا وہ حصّہ جو جانور کی پشت یا آنتوں کے اطراف میں ہو یا ہڈی کے ساتھ ملا ہوا ہو ۔

لہٰذ ا مذکورہ حرمت تحریم تشر یعی وقانونی تھی ، تحریم تکوینی نہ تھی ۔ یعنی یہ نعمتیں طبعی اور فطری طور پر تو ان کے پاس تھیں ، لیکن شرعاً انھیں ان کے کھانے سے روک دیا گیا تھا ۔

موجو دہ تورات کے سفر لا دیا ن کی گیارہویں فصل میں ان میں سے کچھ چیز وں کی حرمت کا ذکر موجود ہے لیکن یہ بات اس میں نہیں کہ حرمت سزا کے طور پر تھی ۔(۱)

۲۔ کیا یہ حرمت عمومی تھی ؟

یہ حرمت ظالم لوگو ں کے لیے ہی تھی سب کے لیے ۔۔۔۔۔اس سلسلے میں مند رجہ بالا آیت اور سورہ انعام کی آیت ۱۴۶ کے ظاہری مفہوم ظالموں کے لیے تو یہ حرمت سزا کے طور پر تھی جبکہ نیک لوگ جو کم تعدا د میں تھے ان کے لیے آزمائش اور انضبا ط کے پہلوسے تھی ۔

بعض مفسیرین کا خیال ہے کہ یہ تحریم فقط ستمگروں کے لیے تھی اور بعض روایات میں بھی اس طرف اشارہ کیا گیا ہے تفسیر برہان میں سورئہ ِ انعا م کی آیت ۱۴۶ کے ذیل میں امام صادق سے منقو ل ہے ، آپ نے فرمایا :

بنی اسرائیل کے حکام اور رؤ سا فقیرا ور نادار لوگوں کو پر ندوں کے گوشت اور جانور کی چربی کھانے سے روکتے تھے ۔ خدا نے ان کے اس ظلم وستم کی وجہ سے ان چیز وں کو خود ان پر حرام قرا ر دے دیا ۔

۳۔ سود کی حرمت قبل از اسلام سے ہے :

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سود کی حرمت اسلام ہی سے امخصو ص نہیں ہے ۔ بلکہ یہ گذشتہ قو موں میں بھی حرام تھا اگر چہ موجودہ تحریف شدہ تورات میں اس کی حرمت برادان دینی میں حرا م شمار کی گئی ہے ۔(۲)

یہودیو ں میں سے اہل ایمان

زیر نظر آیات میں سے آخری آیت میں ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ ہوا ہے جس کا قرآن نے بارہا اظہا ر کیا ہے اور وہ یہ کہ قرآن اگر یہودیوں کی مذمت کرتا ہے تو نسلی اور گروہی جھگڑے کے حوالے سے نہیں ہے ۔ اسلام کسی قوم وقبیلے کی مذمت قوم اور قبیلے کی وجہ سے نہیں کرتا بلکہ اس مذمت کا ہدف صرف آلودئہ گنا ہ اور منحرف لوگ ہوتے ہیں اسی لیے اس آیت میں یہودیوں میں سے صاحب ِ ایمان اور پاک دامن افراد کو مستثنی قرار دیا گیا ہے اور ان کی تعریف کی گئی ہے اور انھیں اجر عظیم کی بشا رت دی گئی ہے قرآن کہتا ہے لیکن یہودیوں میں سے وہ لگ جو علم ودانش میں راسخ ہیں خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ تم پر نازل ہوا ہے اور جو کچھ تم سے پہلے نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان لے ائیں ہیں ہم بہت جلد انھیں اجر عظیم سے نوا زیں گے( لَکِنْ الرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالْمُؤْمِنُونَ یُؤْمِنُونَ بِمَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ وَمَا اٴُنزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَالْمُقِیمِینَ الصَّلاَةَ وَالْمُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَالْمُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ اٴُوْلَئِکَ سَنُؤْتِیهِمْ اٴَجْرًا عَظِیمًا ) ۔(۳)

۳۔”راسخون فی علم “ کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد دوم ص ۲۵۵ (اردو ترجمہ ) میں تفصیلی وضاحت کی جاچکی ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ یہودیوں کے بڑے لوگوں میں ایک جماعت اسلام کے ظہور اور اس کی حقا نیت کو دیکھتے ہوئے دائرہ اسلام میں داخل ہوگئی اور دل وجان سے اس کی حمایت کی یہ لوگ پیغمبر اسلام اور باقی مسلمانوں کے لیے قابل احترا م قرار پائے

____________________

۱۔تفسیر نمو نہ جلد سوم کی طرف رجوع کیجیے (دیکھیے ۲۹ اردو ترجمہ )

۲ ۔تفسیر برہان ج ۱ ص ۵۵۹۔

۳ ۔تو را ت ، سفر تثنیہ فصل ۲۳ جملہ ۲۰۰۱۹ برادارانِ دینی سے ظاہر اً اولاد حضرت اسماعیل مراد ہے (متر جم )


آیات ۱۶۳،۱۶۴،۱۶۵،۱۶۶

۱۶۳۔ إ( ِنَّا اٴَوْحَیْنَا إِلَیْکَ کَمَا اٴَوْحَیْنَا إِلَی نُوحٍ وَالنَّبِیِّینَ مِنْ بَعْدِهِ وَاٴَوْحَیْنَا إِلَی إِبْرَاهِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالْاٴَسْبَاطِ وَعِیسَی وَاٴَیُّوبَ وَیُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَیْمَانَ وَآتَیْنَا دَاوُودَ زَبُورًا )

۱۶۴۔( وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْکَ وَکَلَّمَ اللهُ مُوسَی تَکْلِیمًا )

۱۶۵۔( رُسُلًا مُبَشِّرِینَ وَمُنذِرِینَ لِاٴَلاَّ یَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَی اللهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَکَانَ اللهُ عَزِیزًا حَکِیمًا )

۱۶۶۔( لَکِنْ اللهُ یَشْهَدُ بِمَا اٴَنزَلَ إِلَیْکَ اٴَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ وَالْمَلاَئِکَةُ یَشْهَدُونَ وَکَفَی بِاللهِ شَهِیدًا )

تر جمہ

۱۶۳۔ہم نے تم پر وحی کی جس طرح کہ نوح اور اس کے بعد والے انبیا ء پر وحی کی تھی نیز ابراہیم ، اسما عیل ، اسحاق ،یعقو ب ، (بنی اسرا ئیل میں سے ) اسباط ، عیسیٰ ، ایوب ، یونس ، ہارون اور سلیما ن پر وحی اور (جیسے ) داؤد کو ہم نے زبوردی ۔

۱۶۴۔اور وہ پیغمبر جن کی سر گذشت ہم تھیں پہلے بیان کر چکے ہیں اور وہ پیغمبر کہ جن کا قصّہ ہم نے بیان نہیں کیا اور خدا نے مو سیٰ سے کلام کیا ۔

۱۶۵۔وہ پیغمبر کہ جو خو شخبری دینے والے اور ڈارنے والے تھے تاکہ لوگوں کے لیے ان پیغمبر وں کے بعد خدا پر کوئی حجت باقی نہ رہے ( اور سب پر اتمام ِ حجت ہوجائے ) اور خدا توانا و حکیم ہے ۔

۱۶۶۔ لیکن خدا گواہی دیتا ہے کہ جو کچھ تجھ پر نازل ہوا ہے وہ اس نے اپنے علم کی رو سے نازل کیا ہے اور فرشتے (بھی ) گواہی دیتے ہیں اگر چہ خدا کی گواہی کافی ہے ۔

تفسیر

گذشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ یہودی انبیا ء میں فرق کرتے تھے بعض کی تصدیق کرتے تھے اور بعض کی تر دید کرتے تھے ۔ زیر نظر آیات میں دوبارہ انھیں جواب دیا گیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے : ہم نے تجھ پر وحی نازل کی جس طرح نوح اور اس کے بعد والے انبیا ء پر وحی بھیجی اور جیسے ابراہیم ، اسماعیل ، اسحاق ، یعقوب ، وہ پیغمبر جو اولاد یعقوب میں سے تھے ، عیسی ، ایوب ، یونس ، ہارون اور سلیما ن پر وحی نازل کی تھی اور داؤد کو زبور دی تھی

( إِنَّا اٴَوْحَیْنَا إِلَیْکَ کَمَا اٴَوْحَیْنَا إِلَی نُوحٍ وَالنَّبِیِّینَ مِنْ بَعْدِهِ وَاٴَوْحَیْنَا إِلَی إِبْرَاهِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالْاٴَسْبَاطِ وَعِیسَی وَاٴَیُّوبَ وَیُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَیْمَانَ وَآتَیْنَا دَاوُودَ زَبُورًا ) لہٰذا ان بزرگ انبیا ء میں کیوں تفریق کرتے ہو جب کہ سب کے سب ایک ہی راستے کے مسافر ہیں ۔

یہ بھی ممکن ہے کہ اس آیت کے مخاطب عرب کے مشرکین اور بت پرست ہوں جو پیغمبر اسلام پر نزول ِ وحی پر تعجب کرتے تھے ، آیت کہتی ہے کہ اس میں کون سی تعجب کی بات ہے ، کیا پہلے پیغمبروں پر وحی نازل نہیں ہوئی ۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : وہ انبیاء جن پر وحی نازل ہوئی وہ یہی نہیں تھے بلکہ دوسرے پیغمبر کہ جن کاذکر تم سے پہلے کیا جاچکا ہے اور وہ پیغمبر کہ جن کا قصہ ابھی تک بیان نہیں ہوا ۔ سب کی یہی ماموریت تھی اور ان پر بھی وحی نازل ہو تی رہی( ورسلا قد قصصنا هم علیک من قبل و رسلا لم نقصصهم علیک ) اور اس سے بالا تر یہ کہ خدا نے موسی ٰ سے کلام کیا( وکلمه الله موسیٰ تکلیماً ) ۔

لہٰذا رشتہ وحی تو ہمیشہ سے نوع ِ بشر میں تھا اور کیسے ممکن ہے کہ ہم نوعِ انسانی کو بغیر را ہبر ورا ہنما کے چھو ڑ دیں ، اور پھر ان کے لیے جو ابدہی اور ذمہ داری کے قائل ہوں ؟ لہٰذا ہم نے ” ان پیغمبروں کو بشارت دینے والا اور ڈرانے والا قرار دیا تاکہ خدا کی رحمت اور ثواب کا لوگوں کو امید وار بنائیں اور اس کی سزاؤں سے ڈارائیں تاکہ اس طرح ان پر اتمام حجت ہو جائے اور ان کے پاس کوئی بہانہ نہ رہے “( رُسُلًا مُبَشِّرِینَ وَمُنذِرِینَ لِاٴَلاَّ یَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَی اللهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ )

خدانے ان رہبرو ں کو بھیجنے کا پروگرام نہایت باریک بینی سے منظم اور جاری کیا ہے ایسا کیوں نہ ہو جبکہ ” وہ تمام چیزوں پر توانائی رکھتا ہے اور حکیم (بھی ) ہے “( وکا ن الله عزیزاً حکیما ) اس کی حکمت سبب بنتی ہے کہ یہ کام عملی صورت اختیار کرے او راس کی قد رت راہ ہموار کرتی ہے کیونکہ ایک صیح پر وگرام اگر انجام پذیر نہ ہوتو اس کی وجہ یا عدم حکمت ہوگی یاعدم قدرت ۔۔۔۔حالانکہ ان میں سے کوئی بھی نقص خدا کی ذات پاک میں نہیں ہے ۔

آیت کے آخر میں پیغمبر اکرم کی دلجوئی اور تسلی کے لیے کہتا ہے( لکن الله بشهد بما انزل الیک )

البتہ اس مقصد کے لیے تمہارا انتخاب بلا وجہ نہیں تھا بلکہ تمہاری اصلیت کو جانتے ہوئے اس نے یہ آیات تم پر نازل کی ہیں( انزله بعلمه ) ۔

ممکن ہے یہ جملہ ایک اور مفہوم کا بھی حامل ہوا ور وہ یہ کہ جو کچھ تم پر نازل ہواہے اس کاسر چشمہ علم الہی کا دریائے بے کنار ہے اور اس کے مضامین شاہد ہیں کہ ان کاسرچشمہ علم الہی ہے اس لیے تمھارے دعوی کی صداقت کی گواہی خود متن ِ آیات میں ثبت ہے اور کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں ہے کیسے ممکن ہے جس شخص نے کسی کے سامنے زانوئے تلمذ طے نہیں کیا وہ علم الہٰی کے بغیر ایک ایسی کتا ب لے کر آئے جو اعلی ٰ ترین تعلیمات ، فلسفوف، قوانین ، اخلاقی احکام اور اجتماعی پروگرام پر مشتمل ہو ۔

آخر میں مزید فرماتا ہے : نہ صرف خدا تمھاری حقانیت کی گواہی دیتا ہے بلکہ فرشتگا ن الہی بھی گواہی دیتے ہیں ، اگر چہ خدا کی گواہی کافی ہے( والملٰئکة یشهدون وکفٰی بالله شهیداً )

چند اہم نکات

۱۔اسلام تمام ادیان کی خوبیوں کا امتزاج ہے :

بعض مفسّرین ” انا اوحینا الیک کما اوحینا -الخ“ کے جملے سے استفا دہ کرتے ہیں کہ قرآن چاہتا ہے کہ پیغمبر سے یہ نکتہ کہے کہ تمھا رے دین میں تمام خصوصیات اور امتیا زات جمع ہیں جو گذشتہ ادیان میں تھے ۔۔۔۔۔۔۔گو یا

آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہاداری

یعنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو خوبیا ں ان سب میں الگ الگ ہیں وہ تجھ اکیلے میں ہیں

بعض روا یات اہل بیت میں بھی اس طرف اشارہ کیا گیا ہے اور مفسیرین نے بھی در اصل انھیں روایات سے یہ نکتہ اخذ کیا ہے ۔(۱)

۲ -آسمانی کتب کی اقسام :

مند جہ بالا آیت میں ہے کہ زبور آسمانی کتب میں ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ د کو دی تھی ۔ یہ بات اس امر کے منافی نہیں جو مسلم اور مشہور ہے کہ نئی شریعت کے حامل اور صا حب کتاب الو العزم پیغمبر پا نچ سے زیادہ نہیں ہیں ۔ کیونکہ جیسا کہ آیات قرآنی اور روایات ِ اسلام سے معلوم ہوتا ہے ۔ پیغمبر انِ الہی پر نازل ہونے والی

آسمانی کتب دو طرح کی ہیں

پہلی قسم

۔ ان کتب کی ہے جن میں احکام ِ تشریعی تھے اور جو نئی شریعت کا اعلان کرتی تھیں اور وہ پانچ سے زیادہ نہیں ہیں جو کہ پا نچ اولو العزم پیغمبروں پر نازل ہو ئیں ۔

دو سر ی قسم

۔ان کتب کی ہے جن میں کوئی نئے احکام نہیں ہوتے تھے بلکہ ان میں پند و نصائح ، رہنمائی ، و صّیتیں اور دعائیں ہوتی تھیں ۔ زبور بھی اسی طرح کی کتاب ہے ۔” مزا میر داؤد “ یا ” زبور داؤد “ جو کہ عہد قدیم کی کتب میں شمار ہوتی ہے اس حقیقت پر شاہد ہے اگر چہ یہ کتاب بھی عہد قدیم وجدید کی دیگر کتب کی طرح تحریف و تغّیر سے محفوظ نہیں رہی لیکن پھر بھی کہا جا سکتا ہے کہ کسی حد تک وہ اپنی شکل وصورت میں باقی ہے یہ کتاب ایک سو پچاس فصلوں پر مشتمل ہے جن میں ہر ایک کو مزمور کہتے ہیں اس کی تمام فصلیں پند و نصائح اور دعا ومنا جات پر مشتمل ہیں ۔

حضرت ابوزر سے ایک روایت میں منقو ل ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے پوچھا کہ انبیا ء کی تعداد کتنی ہے ؟ تو آپ نے فرفایا :

ایک لاکھ چوبیس ہزار ۔

میں نے عرض کیا : ان میں سے رسو ل کتنے تھے ؟

آپ نے فرمایا : تین سوتیر ہ ، اور باقی صرف نبی تھے ۔

ابوزر کہتے ہیں میں نے پوچھا : آسمانی کتابیں جو ان پر نازل ہوئیں وہ کتنی تھیں

آپ نے فرمایا : وہ ایک سو چار کتابیں ہیں جن میں سے دس کتابیں آدم پر ، پچاس کتابیں شیث پر ، تیس کتابیں ادریس پر اور دس کتابیں ابرا ہیم پر

(جوکل ۱۰۰ سو ہوئیں ) اور تورات ، انجیل ، زبور اور قرآن مجید ۔(مجمع البیان ج ۱۰ صفحہ ۴۷۶)

۳۔ اسباط سے کیا مرا د ہے :

اسباط جمع ہے سبط (بروزن سَبَد ) کی جس کا مطلب ہے ، بنی اسرائیل کے قبائل ، لیکن یہاں مقصود وہ پیغمبر ہیں جو ان قبائل میں مبعو ث ہوئے تھے۔(۲)

۴۔ انبیا ء پر نزول وحی کی کیفیّت :

۔ انبیاء پر نزول ِ وحی کی کیفیّت مختلف تھی ۔کبھی نزول وحی کے فرشتے کے ذریعے وحی آتی ، کبھی دل میں الہام کے ذریعے سے اور کبھی آواز سنائی دیتی ۔ اس طرح کہ خدا تعالیٰ فضا میں یا اجسام میں صوتی لہریں پیدا کر دیتا اور اس طرح سے اپنے پیغمبر سے گفتگوکرتا ، ان میں سے کہ جنھیں واضح طور پر یہ امتیاز حاصل ہو ا ایک حضرت موسیٰ بن عمران تھے جو کبھی شجرہ وادی ِ ایمن سے صوتی لہریں سنتے اور کبھی کوہ طو ر سے انھیں آواز سنائی دیتی ۔ اس لیے حضرت موسی ٰ کو کلیم اللہ کا لقب دیا گیا ہے ۔ مندر جہ بالا آیات میں حضرت موسیٰ کا جدا گانہ تذکرہ شاید ان کے اسی امتیاز کی وجہ سے ہو ۔

____________________

۱۔تفسیر صافی ص ۱۳۹، تفسیر برہان ج ۱ ص ، ۴۲ اور تفسیر نور الثقیلن ج ۱ص۵۷۳کی طرف رجوع فرمائیں ۔

۲ ۔” اسباط “ کے بارے میں تفصیلی وضاحت ، تفسیر نمونہ جلد اوّل میں کی جاچکی ہے ( دیکھیے اردو ترجمہ۲۴۴


آیات ۱۶۷،۱۶۸،۱۶۹

۱۶۷۔( إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِیلِ اللهِ قَدْ ضَلُّوا ضَلاَلًا بَعِیدًا )

۱۶۸۔( إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا وَظَلَمُوا لَمْ یَکُنْ اللهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَلاَلِیَهْدِیَهُمْ طَرِیقًا )

۱۶۹۔( إِلاَّ طَرِیقَ جَهَنَّمَ خَالِدِینَ فِیهَا اٴَبَدًا وَکَانَ ذَلِکَ عَلَی اللهِ یَسِیرا )

ترجمہ

۱۶۷۔ جو لوگ کا فر ہوگئے ہیں اور انھوں نے لوگوں کو راہ خدا سے روکاہے وہ دور درازکی گمراہی میں مبتلا ہیں ۔

۱۶۸۔ جن لوگو ں نے کفر اختیار کیا اور( اپنے اوپر اور دوسرں پر ) ظلم کیا خدا انھیں ہرگز نہیں بخشے گا اورانھیں کسی راستے کی ہدایت نہیں کرے گا ۔

۱۶۹۔ مگر جہنم کے راستے کی کہ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ کلام خدا کے لیے آسان ہے۔

تفسیر

گذشتہ آیات میں بے ایمان افراد اوراہل ایمان کے بارے میں متعد مباحث گزرچکے ہیں ۔ ان آیات میں ایک اور گروہ کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے بدترین قسم کا کفر انتخا ب کررکھا ہے ۔ انھوں نے اپنی گمرا ہی پر ہی اکتفا کیا بلکہ دوسروں کوبھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اوپر ظلم وستم روا سمجھتے ہیں اور دوسروں پر بھی کیونکر نہ وہ خود راہِ ہدایت پر چلتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی راہ ِ ہدایت پر نہ چلیں

لہذا پہلی آیت میں فرمایا گیا : جو لوگ کافر ہوگئے ہیں اور لوگوں کے راہِ خدا میں قدم اٹھانے میں حائل ہوتے ہیں وہ بہت دور کی گمراہی کا شکار ہیں( إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِیلِ اللهِ قَدْ ضَلُّوا ضَلاَلًا بَعِیدًا )

یہ لوگ جادئہ ِحق سے اس لیے دورترین ہیں ، کیونکہ یہ ضلالت وگمراہی کے مبلّغ ہیں اور بہت بعید نظر آتا ہے کہ ایسے لوگ اس راہ سے دست بردار ہوجائیں کہ جس کی طرف وہ خود دعوت دیتے ہیں ۔ انھوں نے اپنے کفر کے ساتھ ہٹ دھرمی اور عناد کو بھی ملا لیا ہے اور بے راہ روی کی طرف قدم اٹھایا ہے کہ جو راہِ حق سے بہت دور ہے ۔

اگلی آیت میں مزید کہتا ہے : جو لوگ کافر ہوگئے ہیں اور انھوں نے ظلم کیا ہے ( انھوں نے حق پر ظلم کیا ہے کہ جو چیز اس کے شایان ِ شان تھی اسے انجام نہیں دیا اور اپنے اوپر بھی ظلم کیا ہے کہ خود کوسعادت سے محروم کردیا ہے اور گمراہی میں جاپڑے ہیں ۔ نیزدوسروں پر بھی ظلم کیا ہے انھیں راہِ حق سے روکا ہے ) ایسے ا فراد کو پروردگار کی مغفر ت میسّر نہیں آئے گی اور خدا انھیں راہِ جہنم کے علاوہ کسی اور راستے کی راہنمائی نہیں کرے گا

( إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا وَظَلَمُوا لَمْ یَکُنْ اللهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَلاَلِیَهْدِیَهُمْ طَرِیقًا إِلاَّ طَرِیقَ جَهَنَّمَ ) اور همیشه کے لیے جهنم میں رهیں گے( ( خا لدین فیها ابدا ً ) انھیں جاننا چاہیے کہ خدا تہد ید اور دھمکی عمل پذیر ہو کے رہے گی کیونکہ خدا کے لیے یہ کام آسان ہے اور وہ اس پر قدرت رکھتا ہے( وکان ذلک علی الله یسیراً )

جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مند رجہ بالا آیات ایسے کفاراور ان کی سزا کے بارے میں خاص تاکید کرتی ہیں ایک طرف ان کی گمرا ہی کو ضلال بعید کہاگیا ہے اور دوسری طرف ” لم یکن اللہ “ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں بخش دینا مقامِ خدا وندی کے لائق نہیں ہے اور تیسری طرف خلو د اور ” ابد ا“ سے اس پر مزید تاکید کی گئی ہے یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ وہ خود گمراہ ہونے کے علاوہ دوسروں کوگمراہ کرنے میں کوشاں رہتے تھے اور اس پر ان کی جوابدہی بہت عظیم ہو گئی تھی ۔


آیت ۱۷۰

۱۷۰۔( یَااٴَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَائَکُمْ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِنْ رَبِّکُمْ فَآمِنُوا خَیْرًا لَکُمْ وَإِنْ تَکْ ُوا فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَکَانَ اللهُ عَلِیمًا حَکِیمًا )

ترجمہ

۱۷۰۔ اے لوگو ! (جس ) پیغمبر (کے انتظار میں تم تھے وہ ) پروردگار کی طرف سے حق کے (پروگرام کے ساتھ ) تمھارے پاس آگیا ہے اس پر ایمان لے آؤ کہ اس میں تمھارا فائدہ ہے اور اگر کافر ہوجاؤ (تو خدا کا کوئی نقصان نہیں کیو نکہ ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ خدا کے لیے ہے اور اللہ دانا اور حکیم ہے ۔

اے اہل کتاب : اپنے دین میں غلو (اور زیادہ روی ) نہ کرو

گذشتہ آیات میں غیر مومن افراد کا انجام بیان کیاگیا ہے ۔ اب اس آیت میں ایمان کی طرف دعوت دی گئی اور اس کے نتیجے کا ذکر کیاگیا ہے اور مختلف تعبیرات جو انسان میں اشتیاق پیدا کریں اس میں سب موجود ہیں تمام لوگوں کو اس بلند مقصد کی تر غیب دی گئی ہے ۔

پہلے فرمایا گیا ہے : اے لوگو ! وہی پیغمبر کہ جس کے تم منتظر تھے اورجس کے بارے میں گذشتہ آسمانی کتب میں نشاندہی کی جاچکی ہے وہ دین حق لے کر تمھاری طرف آچکا ہے( یَااٴَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَائَکُمْ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ ) (۱) (۲)

اس کے بعد فرمایا : اگر پیغمبر اس ذات کی طرف سے آیا ہے جس نے تمھاری پرورش وتربیت اپنے ذمہ لے رکھی ہے( من ربکمه ) ۔ پھر مزید فرمایا : اگر ایمان لے آؤ تو تمہارے فائدے میں ہے اس سے تم دوسرے کی خدمت نہیں کروگے بلکہ یہ خود تمھاری اپنی خدمت ہوگی( فا منوا خیرا ً لکم ) اور آخرمیں فرمایا : یہ خیال نہ کرو کہ اگر تم نے راہِ کفر اختیار کی تو اس سے خدا کو کوئی نقصان ہوگا ، ایسا نہیں ہے کیونکہ خدا ان تمام چیزوں کا مالک ہے جو آسمانوں اور زمینوں میں ہیں( وَإِنْ تَکْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ ) علا وہ از یں چونکہ خدا عالم اور حکیم ہے اس نے جو احکام تمھیں دیئے ہیں ، اور جو پروگرام تر تیب دیئے ہیں سب میں حکمت اور مصلحتیں پو شدہ ہیں اور تمھارے فائدے میں ہیں( وکان الله علیماً حکیما ً ) لہٰذا اگر اس نے انبیا ء اورپروگرام بھیجے ہیں تو یہ اس لیے نہیں کہ اسے ضرورت تھی بلکہ اس کے علم وحکمت کا تقاضا ہے ۔ اس لیے ان تمام پہلوؤ ں کی طرف توجہ رکھتے ہوئے کیا یہ مناسب ہے کہ تم راہِ ایمان کو چھوڑ کر راہِ کفر پر گامز ن ہو جا ؤ –

____________________

۱۔ظا ہراً ”الرسول“ کی الف لام عہد کی اور اس پیغمبر کی طرف اشارہ ہے جس کے وہ انتظا ر میں تھے نہ صرف یہود ونصاریٰ بلکہ مشرکین بھی کیو نکہ وہ اہل کتاب سے اس ضمن میں کچھ مطالب سن چکے تھے اور وہ بھی منتظر تھے ۔

۲۔طرق اہل بیت سے منقو ل بعض روایات میں حق کی تفسیر ” ولایت حضرت علی “ سے کی گئی ہے اور جیسا کہ بارہا کہا جا چکا ہے ایسی تفسیر میں واضح مصدا ق کو بیا ن کیا جاتا ہے ، ورنہ آیت اس معنی میں منحصر نہیں ہوتی ۔


آیت ۱۷۱

۱۷۱۔( یَااٴَهْلَ الْکِتَابِ لاَتَغْلُوا فِی دِینِکُمْ وَلاَتَقُولُوا عَلَی اللهِ إِلاَّ الْحَقَّ إِنَّمَا الْمَسِیحُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُولُ اللهِ وَکَلِمَتُهُ اٴَلْقَاهَا إِلَی مَرْیَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ فَآمِنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ وَلاَتَقُولُوا ثَلاَثَةٌ انتَهُوا خَیْرًا لَکُمْ إِنَّمَا اللهُ إِلَهٌ وَاحِدٌ سُبْحَانَهُ اٴَنْ یَکُونَ لَهُ وَلَدٌ لَهُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْاٴَرْضِ وَکَفَی بِاللهِ وَکِیلًا ) ۔

ترجمہ

۱۷۱۔ اے اہل کتاب : اپنے دین میں غلو (اور زیادہ روی ) نہ کرو اور حق کے سوا خدا کے بارے میں کچھ نہ کہو ۔ مسیح عیسٰی بن مریم صرف خدا کے فرستادہ اور اس کا کلمہ (اور مخلوق ) ہیں کہ جنھیں اس نے مریم کی طرف القا کیا اور وہ اس کی طرف سے (شائتہ ) روح تھے ۔ اس لیے خدا اور اس کے پیغمبر وں پر ایمان لے آؤ اور نہ یہ کہو کہ وہ منّزہ ہے کہ اس کاکوئی بیٹا ہو (بلکہ ) جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اس کا ہے اور ان کی تد بیر و سرپر ستی کے لیے خدا کا کافی ہے ۔

خیالی تثلیث

اس آیت میں اور اس کے بعد والی آیت میں کفار اور اہل کتاب کے بارے میں جاری مباحث کے حوالے سے مسیحی معا شرے کے اہم ترین انحراف کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ ہے تثلیث یا تین خدا ؤ ں کا مسئلہ ۔ مختصر سے استدلالی جملو ں کے ساتھ انھیں اس عظیم انحراف کے انجام بد سے ڈرایا گیا ہے ۔

پہلے انھیں خطرے سے آگاہ کرتے ہو ئے کہتا ہے : اپنے دین میں غلو کی راہ نہ چلو اور حق کے علاوہ خدا کے بارے میں کچھ نہ کہو( یا اهل الکتاب لا تغلو ا فی دینکم ولا تقو لو ا علی الله الا الحق ) ۔

آسمانی ادیان سے انحراف میں ایک ہم ترین بات یہ ہے کہ لوگوں نے پشیوا ؤ ں اور راہنما ؤ ں کے کے بارے میں غلو سے کام لیا ۔ انسان چو نکہ اپنے آپ سے لگاؤ رکھتا ہے لہذا وہ چاہتا ہے کہ اپنے رہبروں کو بھی ان کے اصل مقام سے بلند تر بنا کر پیش کرے تاکہ اس طرح اس کی اپنی عظمت میں اضافہ ہو ۔ بعض اوقات لوگ اس ہولناک بھنو ر میں اس لیے پھنس جاتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پیشواؤ ں کے بارے میں غلوان سے عشق اور لگاؤ کی نشانی ہے غلو کا سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ وہ مذہب کی اصلی بنیاد یعنی خدا پر ستی اور تو حید کو خراب کردیتا ہے اسی لیے غالیو ں کے بارے میں اسلام کا روّیہ نہایت شدید اور سخت ہے اور عقائد وفقہ کی کتب میں غالیو ں کو کفار کی بدترین قسم قرار دیا گیا ہے ۔

تثلیث اور الوہیّت ِ مسیح کا ابطال

اس سلسلے میں چند نکات پیش خدمت ہیں :۔

۱۔عیسٰی مریم کے بیٹے ہیں : قرآن حکیم میں عیسٰی کا نام ان کی والدہ کے نام کے ساتھ سولہ مرتبہ آیا ہے (انما المسیح عیسی ابن مریمہ )یعنی عیسی صرف مریم کے بیٹے ہیں یہ بات کی نشاندہی ہے کہ مسیح بھی دیگر انسانوں کیطرح رحم مادر میں رہے اور ان پر بھی جنین کا دور گذرا وہ دیگر انسانوں کی طرح پیدا ہوئے ، دودھ پیا اور آغوش ِ مادر میں پر ورش پائی یعنی تمام بشری صفا ت ان میں موجود تھیں ۔ لہذا کیسے ممکن ہے کہ ایسا شخص جو قوانین طبیعت اور عالم مادہ کا متمول ومحکوم ہو اوہ خدائے ازلی و ابدی بن جائے ۔

خصو صاً لفظ ” انما “ جو زیر بحث آیت میں آیا ہے وہ اس وہم کا جواب ہے اگر عیسی کا باپ نہیں تو اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ خدا کا بیٹا ہے بلکہ وہ صرف مریم کا بیٹا ہے ۔

۲۔ عیسی خدا کے رسو ل ہیں :عیسی خدا کے فرستادہ اور رسول ہیں (رسول اللہ )عیسی کا یہ مقام اور حیثیت بھی ان کی الوہیت سے مناسبت نہیں رکھتا

یہ بات قابل ِ توجہ ہے کہ حضرت عیسی کی مختلف باتیں جن میں سے کچھ اناجیل موجود ہ میں بھی ہیں ، سب انسانی ہداہت کے لیے ان کی نبوّت و رسالت کی حکایت کرتی ہیں نہ کہ ان کی الوہیّت اور خدائی کی ۔

۳۔ عیسی خداکا کلمہ ہیں :عیسی خدا کا کلمہ ہیں جو مریم کی طرف القا ء ہوا( وکلمة القا ها الی مریمه ) قرآن کی چند آیات میں عیسی کو کلمہ کہا گیا ہے یہ تعبیر مسیح کے مخلوق ہونے کی طرف اشارے کے لیے ہے جیسے ہمارے کلمات ، ہماری مخلوق اور ایجاد ہیں ، اسی طرح عالم آفرنیش کے موجودات بھی خدا کی مخلوق ہیں ۔ نیز جیسے ہمارے کلمات ہمارے اندر ونی اسرار کا مظہر ہوتے ہیں اور ہمارے جذبات و صفات کے تر جمان ہوتے ہیں اسی طرح مخلوقا ت ِ عالم بھی خدا کی صفات جمال وجلال کو واضح کرتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آیات قرآنی میں متعدد مقامات پر تمام مخلوقات کے لیے لفظ ” کلمة “ استعمال کیا گیا ہے (مثلاًکہف ۱۰۹،اور لقمان ۲۹ ) البتہ یہ کلمات آپس میں مختلف ہیں ۔ بعض بہت اہم اور بلند ہیں اور بعض نسبتاً معمولی اور کم تر ہیں ۔ حضرت عیسی آفرنیش کے لحاظ سے خصو صیت کے ساتھ مقام ِ رسالت کے علاوہ یہ امتیاز بھی رکھتے تھے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا کئے گیئے ۔

۴۔ عیسی روح ہیں :۔حضرت عیسی روح ہیں ، جنھیں خدا نے پیدا کیا ہے ( ورح منہ) یہ تعبیر قرآن حکیم میں حضرت آدم کے بارے میں بھی آئی ہے ۔ ایک معنی کے لحاظ سے تمام نوع ِ انسانی کے بارے میں ہے یہ اس روح کی عظمت کی طرف اشارہ ہے جیسے خدا نے دیگر انسانوں میں عموماً اور حضرت مسیح اور باقی انبیا ء میں خصوصیت سے پیدا کیا ۔

بعض لوگوں نے حضرت مسیح کے بارے میں اس تعبیر سے غلط فائدہ اٹھانے کوشش کی ہے انھوں نے کہا ہے کہ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ عیسی خدا کا جز ء ہیں ” منہ “ اس کیلیے دلیل ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسے مواقع پر ” من “ تبعیض کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اصطلا ح کے مطابق یہ ” من “ نشو یہ ہے جو کسی چیز کی پیدائش کا سر چشمہ اور منشاء بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے ۔

یہ امر لائق توجہ ہے کہ تواریخ میں ہے کہ ہارون رشید کا ایک عیسائی طبیب تھا اس نے ایک روز علی بن حسین واقدی سے مناظرہ کیا ، واقدی علماء اسلام میں سے تھا ۔

طبیب نے کہا : تمھاری آسمانی کتاب میں ایک آیت ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح خدا کا جز و ہیں پھر اس نے زیر بحث آیت کی تلا وت کی

واقدی نے فوراً قرآن کی یہ آیت تلاوت کی :( وسخر لکم مافی السموات وما فی الارض جمیعاً من )

یعنی ۔۔۔جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب تمھارے لیے مسخر کیا گیا ہے اور یہ سب اس کی طرف سے ہے ۔(۱)

اور مزید کہا :

اگر ” من “ جزو بتانے کے لیے ہے تو پھر اس آیت کے مطابق آسمانوں وزمین کے تمام مو جودات خدا کاجزو ہیں ۔

یہ بات سن کر عیسائی طبیب فوراً مسلمان ہوگیا ۔ ہارون رشید اس واقعے سے بہت خوش ہوا اور اس نے واقدی کو انعام دیا ۔(۲)

علاوہ از یں یہ امر تعجب خیز ہے کہ عیسائی حضرت والد کے بغیر حضرت عیسی کی ولادت کو ان کی الو ہیت کی دلیل قرار دیتے ہیں حالانکہ وہ بھول جاتے ہیں کہ حضرت آدم ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے اس مخصو ص خلقت کو کو ئی بھی ان کی الوہیت کی دلیل نہیں سمجھتا ۔

اس بیان کے بعد قرآن کہتا ہے : اب جبکہ ایسا ہے تو خدائے یگانہ اور اس کے پیغمبر وں پر ایمان لے آؤ اور یہ نہ کہوکہ تین خدا ہیں اور اگر اس بات سے اجتناب کرو تو اس میں تمھارا ہی فائدہ ہے( فامنو اباالله ورسله ولا تقو لو ا ثلا ثة انتهوا خیراً لکم ) ۔

دوبارہ تاکید کی گئی ہے کہ خدا ہی معبو د یکتا ہے( انماالله اله واحد ) یعنی تم اس بات کو مانتے ہو کہ تثلیث کے ہوتے ہوئے بھی خدا اکیلا اور یگانہ ہے ۔حالانکہ اگر اس کا بیٹا ہوتو وہ اس کا شبیہ ہوگا ، تو پھر یکتائی کاکوئی معنی نہیں رہے گا ۔ کیسے ممکن ہے کہ خدا کاکوئی بیٹا ہو جبکہ وہ بیوی اور بیٹے کی احتیاج کے نقص : اور جسم اور عوارض جسم کے نقص سے مبّرا و منّزہ ہے( سبحانه ان یکون له ولد )

علاوہ از یں وہ ان تمام چیزوں کامالک ہے جو آسمان وزمین میں ہیں اس کی مخلوق ہیں اور وہ ان کا خالق ہے اور مسیح بھی ان کی مخلوق میں سے ایک ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ ان کے لیے ایک استشنائی حالت کا قائل ہوا جائے ۔ کیا ممکن ہے کہ مملوک و مخلوق اپنے خالق ومالک کا بیٹا بن جائے

( له مافی السمٰوٰات ومافی لارض ) خدا صرف ان کا خالق ومالک ہے بلکہ ان کا مدبر ،محافظ ، رزّاق اور سر پر ست بھی ہے( وکفیٰ باالله وکیلا ) اصولی طور پر وہ خدا جو ازلی و ابدی ہے اور ازل تا ابد تمام مخلو قات کی سر پر ستی اپنے ذمّہ لیے ہوئے ہے اسے بیٹے کی کیا ضرورت ہے ،کیا وہ ہماری طرح ہے کہ اپنی موت کے بعد جا نشینی کے لیے بیٹے کی خواہش رکھتا ہو ۔

تثلیث ۔۔۔۔۔عیسائیّت کی سب سے بڑی کجروی عیسائیت جن انحرافات اور کجرویوں کا شکار ہے ان میں سے تثلیث سے بدتر کوئی نہیں ۔ وہ تصریح سے کہتے ہیں کہ خداتین ہیں اور یہ بھی کہ اس کے باوجود وہ ایک اور یکتا ہے یعنی وہ وحدت کو بھی سمجھے ہیں اور تثلیث کوبھی ۔اس بات نے عیسائیت کے محققّین کے لیے ایک بہت بڑی مشکل پیدا کردی ہے اگر خدا کی یکتائی کو مجازی اور تثلیث کو حقیقی سمجھتے تو بھی ایک بات تھی اور اگر توحید کو حقیقی مان لیتے اور تثلیث کو مجازی ، پھر بھی معاملہ آسان تھا لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ دونوں کو حقیقی اور واقعی سمجھتے ہیں ۔

اس آخری دور میں عیسائیوں کی طرف سے بے خبر لوگوں کو بعض تبلیغی تصانیف دی گئی جن میں انھوں نے تثلیث مجازی کا ذکر کیا ہے یہ اصل میں ریاکاری ہے جو مسیحیت کے اصلی منابع وکتب اور ان کے علماء کے حقیقی عقائد سے مطابقت نہیں رکھتی ۔یہ وہ مقام ہے جہاں مسیحی ایک غیر معقو ل مطلب سے دوچار ہیں ۔کیونکہ ۱ ۔ ۲ کو ابجد پڑھنے والا بچہ بھی قبول نہیں کرسکتا ۔ اسی لیے تو وہ عموماً کہتے رہتے ہیں کہ اس مسئلے کا تعلق میزانِ عقل سے نہیں بلکہ جذئبہ عبادت اوردل سے ہے ۔

یہیں سے منطق و عقل سے مذہب کی لاتعلقی کامعاملہ شروع ہوتا اور مسیحیت کو اس خطرناک وادی میں کھنیچ لے جاتا ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ مذہب عقلی پہلونہیں رکھتا بلکہ وہ صرف قلبی و تعبدی پہلو رکھتا ہے یہاں سے علم اور مذہب کی بے گانگی سامنے آتی ہے اور موجودہ مسیحیت کی منطق سے دونوں کا تضاد واضح ہوتا ہے ۔ کیونکہ علم کہتا ہے کہ تین کاعدد ہر گز ایک کے عدد کے مساوی نہیں ہے لیکن موجودہ مسیحیت کہتی ہے کہ مساوی ہے ۔

___________________

۱جاثیہ ۱۳ (القرآن )

۲ تفسیر المنار جلد ۶ صفحہ ۸۴

۳ ۔صوفیوں کے نظر یہ وحدت الوجود سے مراد وحدت موجود ہے وہ کہتے ہیں کہ ہستی بس ایک ہے جو مختلف چیزوں میں ظاہر ہوتی ہے اور وہ ہستی ایک خدا ہے ۔


تثلیث کے بارے میں چند اہم نکات

۱ ۔ اناجیل میں عقیدئہ تثلیث نہیں ہے :

موجودہ کسی انجیل میں بھی مسئلہ تثلیث کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہے اسی لیے عیسائی محققین کا نظریہ ہے کہ تثلیث کاسر چشمہ اناجیل میں مخفی اور غیر واضح ہے ۔

ایک امر یکی مصنف مسڑباکس کہتا ہے :

لیکن مسئلہ تثلیث عہد عتیق اور عہد جدید میں مخفی اور غیر واضح ہے۔ ۱ قا موس مقدس ص ۳۴۵ طبع بیروت

جیسا کہ بعض موئر خین لکھا ہے مسئلہ تثلیث تقریباً تیسری صدی کے بعد عیسائیوں میں پیدا ہوا ، یہ ایک بدعت ہے جو ایک طرف سے غلو کی بناپر اور دوسری طرف سے عیسائیوں کے دیگر اقوام سے میل جول کی بنا پر حقیقی مسیحیت میں داخل ہوگئی ۔

بعض نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ عیسائیوں کی تثلیث اصولی طور پر ہندؤوں کی سہ گانہ پر ستی جیسے” ثالوث ہندی “ کہتے ہیں سے لی گئی ہے ۔ ۱ بیسویں صدی کے دائرة المعارف (فرید وجدی )مادہ ثالوث کی طرف رجوع کریں ،ہندؤوں کے تین خدابرہما ، قیشنو اور سیفاتھے ۔

۲۔ عقیدئہ ِ تثلیث خلا ف عقل ہے :

تثلیث خصوصاً تثلیث در وحدت (یعنی ۔ایک ہوتے ہوئے تین )ایک ایسا مطلب ہے جو بالکل نامعقو ل اور ہدایت عقلی کے خلاف ہے اور ہم جانتے ہیں کہ دین کبھی عقل وعلم سے جدا نہیں ہوسکتا ۔حقیقی علم حقیقی مذہب سے ہمیشہ ہم آہنگ ہوتا اور یہ دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہوتے ہیں یہ بات کہ مذہب کو عبد ہونے کے ناقے قبول کرلیا جائے بہت ہی غلط ہے کیونکہ اگر کسی مذہب کے اصول قبول کرنے میں عقل کو ایک طرف رکھ دیا جائے اور عبد ہونے کے حوالے سے ہی اسے قبول کرلیا جائے تو پھر اس مذہب اور دیگر مذاہب میں کوئی فرق باقی نہیں رہے گا ۔ اس موقع پر پھر کون سی دلیل ہے کہ کہا جائے کہ انسان کو خدا پرست ہونا چاہیے نہ کہ بت پرست اور یونہی پھر کیوں آخرمسیحی اپنے مذہب کی تبلیغ کریں ، لیکن دوسرے مذاہب نہ کریں اور وہ کون سی خصوصیات ہیں جو وہ مسیحیت کے لیے سمجھتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ لوگ اس کی طرف آئیں یہ سب سوالات اس بات کی دلیل ہیں کہ مذہب کو منطق کے ذریعے پہچانا جائے اور یہ بات اس دعویٰ کے بالکل خلاف ہے کہ جس کے مطابق وہ مسئلہ تثلیث میں مذہب کو عقل سے جدا کرتے ہیں ۔ بہر حال مذہب کی بنیا د وں کو تو ڑنے لے لیے اس سے بدتر کوئی بات نہیں کہ ہم کہیں کہ مذہب عقلی و منطقی پہلو نہیں رکھتابلکہ عہد ہونے کے حولے سے اختیار کیا جاتا ہے ۔

۳۔ خدا ہر لحاظ سے یکتا ہے :

توحیدکی بحث میں بہت سی دلیلیں پیش کی گئی ہیں جو ذاتِ خدا کی یکتائی اور یگانگی کو ثابت کرتی ہیں اور ہر طرح کی دوگانگی ،سہ گانگی یاتعدد کی نفی کرتی ہیں ۔ خدا ایک ہی ہے جو لا متنا ہی وجود ہے ، جوعلم ، قدرت اور توانائی کے لحاظ سے ازلی وابدی اور غیر محدود ہے ہم جانتے ہیں کہ لا متنا ہی وجود میں تعدد اور دوگانگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا ۔ کیونکہ اگر دو کولا متنا ہی فرض کریں تو دونوں ہی محدود ہوں گے کیونکہ پہلا وجود دوسرے کی قدرت وتوانائی اور ہتی کا فاقد ہے اور دوسرا وجود اسی طرح پہلے وجود اور اس کے امتیاز ات و خصوصیات کا فاقد ہے یعنی پہلے وجود کا اپنا وجود اور امتیاز ات ہیں اور دوسرے کا اپنا وجود اور امتیازات اس بنا پر پہلا وجود بھی محدود ہوگا اور دوسرا بھی ۔واضح تر الفاظ میں اگر دووجود تمام جہات سے لا متنا ہی فرض کریے جائیں تو یقینا پہلا ”لا متناہی “ وجود جب دوسرے ”لامتناہی“ وجود کی حد تک پہنچے گا تو وہ تمام ہوجائے گا اور دوسرا ” لامتناہی “ وجود جب پہلے ” لامتناہی “ وجود کی حد تک پہنچے گا تو وہ بھی تمام ہو جائے گا ۔ لہذا دونوں محدود اور متناہی ہوں گے ۔ اس کا نیتجہ یہ ہے کہ وہ ذاتِ خدا جو ایک لامتناہی وجود ہے اس میں ہر گز تعدد نہیں ہوسکتا ۔ اسی لیے اگر ہم یہ اعتقاد رکھیں کہ ذاتِ خدا تین اقنو م یاتین ذاتوں سے مرکب ہے تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ تینوں محدود ہوں نہ کہ غیر محدود اور لامتناہی ۔علاوہ ازیں ہر مرکب اپنے اجزاء کا محتا ج ہے اور اس کا ودجود ان کے وجود کا معلول ہے ذات ِ خدا بھی تر کیب ما ننے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ محتاج اور معلو ل ہو حالانکہ ہم جا نتے ہیں کہ بے نیاز ہے اور عالم ِ ہستی کی پہلی عّلت ہے ۔

۴۔ خدا انسانی لباس میں کیونکر ممکن ہے :

ان سب باتوں سے قطع نظر یہ کیونکر ممکن ہے کہ ذات خدا انسانی روپ میں ظاہر ہوا اور اسے جسم ، مکان ،غذا اور لبا س وغیرہ کی احیتاز پیدا ہوجائے ،خدائے ازلی وابدی کو ایک انسان کے جسم میں محدود کرنا ااور اسے مادر ِ رحم میں جنین کی حالت میں سمجھنا بدترین تہمتوں میں سے ہیں جو ذات ِ مقدسِ الہیٰ سے وابستہ کی جائیں ۔اسی طرح خدا کی طرف بیٹے کی نسبت دینا ایک غیر منطقی اور بالکل نا معقول بات ہے کیونکہ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ خدا کے لیے مختلف عوارض جسمانی کا قائل ہواجائے یہی وجہ ہے کہ جس شخص نے مسیحیت کے ماحول میں پرورش پائی اورر بچپن سے اسے ان موہوم اور غلط تعلیمات کی عادت نہیں ہے وہ فطرت وعقل کے خلاف یہ باتیں سن کر کڑھنے لگتا ہے خود عیسائی ” باپ خدا “ اور ” بیٹاخدا“ جیسی باتیں سن کر اس لیے پریشان نہیں ہوتا کیونکہ وہ بچپن سے ان غلط مفاہیم سے مانوس ہو چکا ہوتا ہے ۔

۵۔ پر فریب تشبیہیں :

اس دور میں دیکھا جاتا ہے کہ بعض مسحیی مبلّغین بے خبر لوگوں کو غافل رکھنے کیلیے پر فریب مثالوں کا سہارا لیتے ہیں ۔ مثلاً وحدت در تثلیث (یعنی تین ہوتے ہوئے ایک ) کو کرّہ آفتاب ، اس کانور اور اس کی حرارت سے تشبیہ دیتے ہیں یعنی یہ تین چیزیں ہیں اس کے باوجود ایک حقیقت ہیں ۔اسی طرح وہ اسے ایسے وجود سے تشبیہ دیتے ہیں جس کا عکس تین آیئنو ں میں پڑ رہا ہو باوجود یکہ وہ ایک ہی وجود ہے پھر بھی تین وجود نظر آتے ہیں ۔ اسی طرح وہ مثلث کی مثال دیتے ہیں جس کے تین زاویے ہوتے ہیں لیکن اگر ان زاویوں کو اندر کو بڑھائیں تو ایک ہی نقطے تک جا پہچنتے ہیں ۔

تھوڑے سے غور وفکر سے واضح ہوجاتا ہے کہ ان مثالوں کا زیر بحث مسئلے سے کوئی ربط نہیں ۔ مسلّم ہے کہ کرہ آفتاب اور اس کانور دوچیزیں ہیں نور قرمزی رنگ سے مافوق لہروں کو کہتے ہیں وہ سائنسی نقطہ نظر سے حرارت سے مختلف ہے جو کہ امواج ِ مادونِ قرمز ہیں اگر انھیں ایک کہا جا ئے تو یہ غلط فہمی اور مجاز سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا ۔

اس زیادہ واضح جسم اور آئینو ں کی مثال ہے کیونکہ جو عکس آئینوں میں پڑتا ہے وہ انعکاس ِ نور کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں اور مسلّم ہے کہ ورشنی کا انعکاس خود جسم کے علاوہ چیز ہے اس لیے انھیں ایک چیز نہیں کہا جاسکتا اور جس نے بھی کسی سکول میں طبیعا ت (( PHYSISCS کی پہلی کتاب پڑھی ہو وہ یہ بات جانتا ہے ۔

مثلث والی مثال بھی ایسی ہے ،مثلث کے زاویے یقینا متعدد ہوتے ہیں اور مثلث کے اندرونی طرف بڑھتے جانے سے زاویے جب ایک نقطے میں بدل جاتے ہیں تو اس کا مثلث سے کوئی تعلق نہیں ۔

باعث تعجب ہے کہ بعض مشرقی عیسائی توحید در تثلیث کے نظرئیے کو صوفیا(۳)

کی وحدت ِ وجود کی منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ کہے بغیر واضح ہے کہ اگر کوئی شخص وحدت ِ وجود کے غلط اور انحرافی عقیدے کو قبول بھی کرے تو بھی اسے چاہیے کہ اس عالم کے تمام موجودات کو ذات ِخدا کا جزو سمجھے بلکہ اس کا عین تصّور کرے اس لیے اس میں سے تثلیث کا تو کوئی مطلب نہیں نکلتا بلکہ چھوٹے سے لے کر بڑے تک تمام موجودات اس کا جزو یا مظہر قرار پائیں گی ۔ لہٰذا مسیحیت کی تثلیث کا وحدت ِ وجود سے کوئی ربط نہیں اگر اپنے مقام پر صو فیوں کے وحدت الوجود کا نظریہ بھی باطل ہوچکا ہے ۔

۶۔ایک اور اشتباہ :۔

بعض اورقات کچھ عیسائی کہتے ہیں کہ ہم جو عیسی کو ابن اللہ کہتے ہیں تو اسی طرح ہے ، جیسے تم امام حسین کو ثاراللہ وابن ثارہ (خون خدا اور فرزند خون خدا )کہتے ہو یا بعض روایات میں حضرت علی کو ” ید اللہ “ (اللہ کا ہا تھ کہا گیاہے )۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو یہ ایک بہت بڑا اشتباہ ہے کہ بعض نے ” ثار“ کا معنی خون کیا ہے کیونکہ لفظ” ثار“ عربی میں کھبی بھی ”خون “ کے معنی میں نہیں آیا بلکہ اس کا معنی ہے ” خون بہا“ عربی میں خون کے لیے ” دم “ کا لفظ استعمال ہوتا ہے اس لیے ”ثاراللہ “ کا مطلب ہے ”اے وہ شخص جس کا خون بہا اللہ سے تعلق رکھتا ہے اور وہی تیراخونبہالے گا “ یعنی تو کسی ایک خاندان سے تعلق نہیں رکھتا کہ تیرا خون بہا اس خاندان کا سر براہ لے اور نہ ہی تو کسی ایک قبیلے سے تعلق رکھتا ہے کہ سربراہ ِ قبیلہ تیرا خون بہالے ، تو عالم ِ انسانیت سے تعلق رکھتا ہے کہ اور تیرا تعلق تو عالم ِ، ہستی اور خدا کی ذات پاک سے ہے ۔ لہٰذا تیرا خون بہا اسے لینا چاہیے ، اسی طرح تو علی ابن ِ ابی طالب کا بیٹا ہے جو شہید راہ ِ خدا تھے اور ان کا خون بہا بھی خدا ہی کو لینا چاہیے ۔دوسرا یہ کہ اگر کسی عبادت میں مردانِ خدا کے لیے ” ید اللہ “ یا اسی طرح کا کوئی لفظ آیا ہے تو یہ تشبیہ کنایہ اور مجاز کے طور پر ہے ۔ کیا کوئی حقیقی عیسائی اس بات پر تیار ہے کہ مسیح کے لیے ابن اللہ کہنے کو ایک طرح کا مجاز اور کنایہ قرار دے ۔ مسلماً اایسا نہیں ہے کیونکہ مسیحیت کی اصلی کتب اور مصادر میں انھیں خدا کا حقیقی بیٹا قرار دیا گیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ صفت مسیح کے ساتھ مخصوص ہے کسی اور کے لیے ایسا نہیں ہے ۔یہ جو عیسائیوں کی بعض سطحی تبلیغاتی تحریروں میں نظر آتا ہے کہ وہ ” ابن اللہ “ کوکنایہ اور تشبیہ قرار دیتے ہیں یہ زیادہ تر عوام کو فریب دینے کے لیے ہے اس کی وضاحت کے لیے مند رجہ ذیل عبارت کی طرف توجہ کریں ۔ یہ عبارت قاموس کتاب مقدس کے مو لف نے لفظ ” خدا“ کے ضمن میں تحریر کی ہے :

اور ” ابن اللہ “ ہما رے نجات دہندہ اور فدیہ بننے والے کا ایک لقب ہے جو اس کے علاوہ سی اور کے لیے نہیں بولا جا سکتا ، مگر ایسے مقام پر کہ جہاں قرائن سے معلوم ہوکہ مقصد خدا کا حقیقی بیٹا ہے ( قاموس مقدس ص ۲۴۵ ،طبع بیروت )


آیات ۱۷۲،۱۷۳

۱۷۲۔( لَنْ یَسْتَنکِفَ الْمَسِیحُ اٴَنْ یَکُونَ عَبْدًا لِلَّهِ وَلاَالْمَلاَئِکَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَنْ یَسْتَنکِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَیَسْتَکْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ إِلَیْهِ جَمِیعًا ) ۔

۱۷۳۔( فَاٴَمَّا الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَیُوَفِّیهِمْ اٴُجُورَهُمْ وَیَزِیدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ وَاٴَمَّا الَّذِینَ اسْتَنکَفُوا وَاسْتَکْبَرُوا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اٴَلِیمًا وَلاَیَجِدُونَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللهِ وَلِیًّا وَلاَنَصِیر )

ترجمہ

۱۷۲۔ مسیح اس سے ہرگز پہلو تہی اور انکار نہیں کرتا کہ وہ اللہ کا بندہ ہو اور نہ اس کے مقّرب فرشتے (اس کاانکار کرتے ہیں ) اور جو اس کی عبودیت اور بندگی سے پہلو تہی کرے اور تکبر کرے ، بہت جلد وہ ان سب کو اپنی طرف محشور کرے گا (انھیں قیامت میں اٹھا ئے گا ) ۔

۱۷۳۔ باقی رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال انجام دیے ان کی پوری اجزاانھیں دے گا اور اپنے فضل وبخشش سے انھیں مزید دے گا ۔ لیکن جنھو ں نے پہلو تہی کی تکبر کیا انھیں دردناک سزادے گا اور وہ خدا کے علاوہ اپنے لیے کوئی سر پر ست اور یا ور مددگا ر نہیں پا ئیں گے ۔

شانِ نز ول

بعض مفسرین نے ان آیات اکے سلسلے میں ایک شانِ نزول روایت یہ ہے :

نجرا ن کے کچھ عیسائی پیغمبر اسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انھوں نے عرض کیا : ۔

آپ ہمارے پیشوا پر کیو ں تنقید کرتے ہیں ؟

پیغمبر اسلا منے فرفایا : میں نے ان پر کون ساعیب لگایا ہے ؟

وہ کہنے لگے :۔ آپ کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسو ل ہیں ۔

اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور انھیں جواب دیا گیا ۔

عیسیٰ خدا کے بندے ہیں

اگر چہ زیر نظر آیات کی مخصوص شانِ نزول ہے اس کے باوجود وہ گذشتہ آیات سے مربوط ہیں جن میں الوہیت مسیح کی نفی اور مسئلہ تثلیث کا ابطال کیا گیا ہے ۔

پہلے تو ایک اور پہلو سے الو ہیت مسیح کی نفی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : تم عیسی کی الو ہیت کاکیسے عقیدہ رکھتے ہو جبکہ نہ عیسی پروردگار سے پہلو تہی کرتے ہیں نہ خدا کے مقّرب فرشتے اس سے پہلو تہی کرتے ہیں( لن یستنکف المسیح ان یکون عبداً الله ولا الملئکة المقربون ) مسلّم ہے کہ جو شخص خود عبادت کرنے والا ہو اس کے معبود ہونے کا کوئی معنی نہیں ہے ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی اپنی ہی عبادت کرے یا یہ کہ عابد ومعبود اور بندہ وخدا یک ہی ہوں ۔

یہ بات قابل ِ تو جہ ہے کہ امام علی بن موسیٰ رضا سے ایک احدیث مروی ہے آپ نے کجروعیسائیوں کو جو حضرت عیسی کی الوہیت کے مدعی تھے مغلو ب کرنے کے لیے ان کے ایک بزرگ جا ثلیق سے فرمایا : عیسی کی باقی با تیں تو اچھی ہیں ان میں صرف ایک عیب تھا اور وہ یہ کہ وہ زیادہ عبادت نہیں کرتے تھے ۔

وہ عیسائی جنھجلااٹھا اور امام سے کہنے لگا : آپ کتنی غلط بات کہہ رہے ہیں ۔ اس بات پر تو اتفاق ہے کہ وہ سب سے زیادہ عبادت گذارتھے ۔

امام نے فوراً فرما یا : وہ کس کی عبادت اکرتے تھے ؟ کیا خداکے علاوہ کسی کی عبادت کرتے تھے ؟ لہذا خود تیر ے اعتراف کے مطابق وہ خدا کے بندے ، مخلوق اور اس کی عبادت کرنے والے تھے ، نہ کہ معبود اور خدا تھے ۔

وہ عیسائی خاموش ہوگیا اور کوئی جوا ب نہ دے سکا۔ ۱ منا قب ابن شہر آشوب ج ۴ ص ۳۵۲

اس کے بعد قرآن مزید یہ کہتا ہے : جو لوگ پروردگار کی عبادت اور بندگی سے پہلو تہی کریں اور اس کی وجہ تکّبر ہوتو خدا ان سب کوقیامت کے دن حاضر کرے گا اور ہر ایک کومناسب سزادے گا( وَمَنْ یَسْتَنکِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَیَسْتَکْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ إِلَیْهِ جَمِیعًا )

اس دن اہل ایمان اور نیک عمل کرنے والوں کو ان کی مکمل جزا دے گا اور اپنے فضل و رحمت سے اس پر اضافہ کرے گا اور جنھوں نے بندگی سے انکار کیا اور راہِ تکبّر اختیار کی وہ دردناک عذاب میں گرفتار ہوں گے اور خدا کے سواانھیں کوئی سر پرست ، حامی اور مد گار نہیں ملے گا( فَاٴَمَّا الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَیُوَفِّیهِمْ اٴُجُورَهُمْ وَیَزِیدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ وَاٴَمَّا الَّذِینَ اسْتَنکَفُوا وَاسْتَکْبَرُوا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اٴَلِیمًا وَلاَیَجِدُونَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللهِ وَلِیًّا وَلاَنَصِیر ) ۔

دو اہم نکات

۱۔ استنکفو ا اور استکبرو ا :

استنکاف کا معنی ہے کسی چیز سے امتنا ع اور کسی سے پر ے ہٹ جانا ۔ اس لیے یہ لفظ ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے لیکن اِستکبروا کہہ کر اسے محدود کردیا گیا ہے کیونکہ خدا کی بندگی سے پہلو تہی اور امتناع کھبی جہل ونادانی کی وجہ سے ہوتا ہے اور کبھی تکبّر ، خود بینی اور سر کشی کی بناپر ، اگر چہ یہ دونوں برے ہیں لیکن دوسرا کئی گنا بد تر ہے ۔

۲۔ ملا ئکہ انکا رِ عبادت نہیں کرتے :

ملا ئکہ کے انکار عبادت نہ کرنے کا تذکرہ یا تو اس لیے ہے کہ عیسائی تین معبودوں کے قائل تھے (باپ ،بیٹا ، اور روح القدس ، یا دوسر ے لفظوں میں باپ خدا ،بیٹا خدا اور دونوں کے درمیا ن واسطہ ) اس لیے اس آیت میں قرآن چاہتا ہے کہ دوسرے معبودوں یعنی مسیح اور روح القدس فرشتہ ہر دو کی نفی کی جائے تاکہ ذات پروردگار کی توحید ثابت اہوجائے یا پھر یہ اس بنا ء بناپر ہے کہ آیت میں عیسائیوں کے شرک کاجواب دیتے ہوئے عرب بت پر ستوں کے شرک کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جو فرشتوں کو خداکی اولا د اور پر وردگار کا جز و سمجھتے تھے یہ انھیں بھی ایک جواب ہے۔

ملا ئکہ کے بارے میں ان دونوں بیانات کی طرف توجہ کرنے سے اس بحث کی گنجائش نہیں رہتی کہ کیا زیر نظر آیت انبیا ء پر ملا ئکہ کی افضلیت پر دلالت اکڑتی ہے یا نہیں ، کیونکہ آیت تو تثلیث کے تیسرے اقنو م یا مشرکین عرب کے معبودوں کی نفی کے لیے ہے نہ کہ ملا ئکہ کی مسیح پر فضیلت بیان کرنے کے لیے ہے ۔


آیات ۱۷۴،۱۷۵

۱۷۴۔( یَااٴَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَائَکُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَاٴَنزَلْنَا إِلَیْکُمْ نُورًا مُبِینًا )

۱۷۵۔( فَاٴَمَّا الَّذِینَ آمَنُوا بِاللهِ وَاعْتَصَمُوا بِهِ فَسَیُدْخِلُهُمْ فِی رَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ وَیَهْدِیهِمْ إِلَیْهِ صِرَاطًا مُسْتَقِیمًا )

تر جمہ

۱۷۴۔ اے لوگو ! تمھارے پروردگا کی طرف سے تمھارے لیے واضح دلیل آئی اور ہم نے واضح نرتمھاری طرف بھیجا ۔

۱۷۵۔ رہے وہ لوگ جو خدا پر ایمان لے آئے اور اس (آسمانی کتاب ) سے وابستہ ہوئے بہت جلد ان سب کو اپنی رحمت اور فضل میں داخل کردے گا اور اپنی طرف سید ھے راستے کی ہدا یت کرے گا ۔

نو رِ مبین

سابقہ آیات میں توحید اور تعلیماتِ انبیا ء سے اہل کتاب کے انحراف کی بحث تھی ۔ اب ان دوآیتوں میں آخری بات کہی گئی ہے اور راہِ نجا ت کو مشخص و معیّن کردیا گیا ہے پہلے تو اس عالم کے تمام لوگوں کو مخا طب کرتے ہوئے کہتا ہے : اے لوگو ! تمھا رے پر وردگار کی طرف سے تمھارے پاس ایک پیغمبر آیا ہے کہ جس کے پاس واضح دلائل و براہین موجود ہے اور اسی طرح اس کے ساتھ ایک نور ِ آشکار بھیجا گیا ہے جس کا نام قرآن ہے جو تمھا ری راہِ سعادت کو روشن کرتا ہے( یَااٴَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَائَکُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَاٴَنزَلْنَا إِلَیْکُمْ نُورًا مُبِینًا ) ۔

بعض علماء کے نظریئے کے مطابق ” برہان “ ۔”برہ “ (بروزن ” فرح “ ) کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے سفید ہو نا اور چونکہ واضح استدلا ل سننے والے کے لیے حق کے چہرے کو آشکار ، نورانی اور سفید کردیتا ہے لہذا سے برہا ن کہا جاتا ہے ۔

جیسا کہ بعض مفسّرین کہتے ہیں اور قرائن بھی گواہی دیتے ہیں کہ زیر نظر آیت میں برہان سے مراد پیغمبر اسلام کی ذات ِ بابرکت ہے اور نور سے مراد قرآن مجید ہے جبکہ دوسری آیات میں اسے نور سے تعبیر کیا گیا ہے ۔

تفسیر نور الثقلین ، علی بن ابراہیم اور مجمع البیان میں طرق اہل بیت سے کئی ایک احادیث نقل کی گئی جن میں کہا گیا ہے کہ لفظ برہان پیغمبر اکرم کے لیے ہے اور نور سے مراد حضرت علی ہیں ۔ یہ تفسیر کے منافی نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے کہ نور کا یہاں وسیع مفہوم ہو ، جس میں قرآن بھی شامل ہو اور امیر المو منین علی بھی جو کہ قرآن کے محافظ ، مفسّر اور مدافع ہیں ۔

بعد والی آیت میں اس برہان اور نور کی پیروی کے نتیجے کا ذکر ہے : باقی رہے وہ جو خداپر ایمان لائے اور انھوں نے اس آسمانی کتاب سے تمسک کیا ، بہت جلد وہ انھیں اپنی وسیع رحمت میں داخل کرے گا اور پنے فضل و رحمت سے ان کی جزامیں اضافہ کرے گا اور انھیں صراط ِ مستقیم اور راہِ راست کی طرف ہدایت کرے گا( فَاٴَمَّا الَّذِینَ آمَنُوا بِاللهِ وَاعْتَصَمُوا بِهِ فَسَیُدْخِلُهُمْ فِی رَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ وَیَهْدِیهِمْ إِلَیْهِ صِرَاطًا مُسْتَقِیمًا ) ۔(۱)

____________________

۱۔صراط مستقیم کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد اوّل میں سورئہ حمد کی تفسیر کے ضمن میں تفصیل سے گفتگوکی جا چکی ہے (اردوترجمہ ص ۷۳)


آیت ۱۷۶

۱۷۶۔( َسْتَفْتُونَکَ قُلْ اللهُ یُفْتِیکُمْ فِی الْکَلاَلَةِ إِنْ امْرُؤٌ هَلَکَ لَیْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ اٴُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَکَ وَهُوَ یَرِثُهَا إِنْ لَمْ یَکُنْ لَهَا وَلَدٌ فَإِنْ کَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَکَ وَإِنْ کَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاٴُنثَیَیْنِ یُبَیِّنُ اللهُ لَکُمْ اٴَنْ تَضِلُّوا وَاللهُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ )

ترجمہ

۱۷۶۔تجھ سے (بہن بھایئوں کی مراث کے بارے میں ) سوال کرتے ہیں ۔ان سے کہہ دو کہ خدا تمھارے لیے کلالہ (بہن بھائی ) کاحکم بیان کرتا ہے ۔ اگر ایک مرد مرجائے جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی بہن ہوتو وہ ا س کے چھوڑے ہوئے مال سے آدھا (بطور میراث ) لے گی اور (اگر بہن مرجائے اوراس کا وارث صرف ایک بھائی ہو تو ) وہ اس بہن کاسارا مال میراث میں لے گا ۔ اس صورت میں کہ (متوفّی کی)کوئی اولاد نہ ہو اور اگر (متوفّی کی) دو بہنیں باقی ہو ں تو وہ مال کا دو تہائی لیں گی اور اگر بہن بھائی اکٹھے ہوں تو (تما م مال اسطرح سے تقسیم کریں گے کہ ) ہر مذکر کے لیے مئونث کے حصے سے دوگنا ہوگا ۔ خدا تمہارے لیے (اپنے احکام )بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجا ؤ اور خدا تمام چیزوں کو جانتا ہے

شانِ نزول

بہت سے مفسرین جابر بن عبداللہ انصاری سے اس آیت کی شانِ نزول اس طرح نقل کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں : میں بہت سخت بیمار ہوگیا تھا تو پیغمبر میری عبادت کے لیے تشریف لائے اور وہیں وضو کیا اور اپنے وضو کا پانی مجھ پر چھڑ کا ۔میں چونکہ موت کی فکر میں تھا ، پیغمبر سے عر ض کیا : میر ی وارث فقط میری بہنیں ہیں ، ان کی میراث کس طرح ہو گی ؟

اس پر یہ آیت نازل ہوئی ،جسے آیت فرائض کہتے ہیں ۔

بعض کے نظریئے کے مطابق احکام ِ اسلام کے بارے میں پیغمبر اکرم پر نازل ہونے والی یہ آخری آیت ہے ۔(۱)

بہن بھائی کی میراث کے چند احکام

زیر نظر آیت میں بھا ئی بہنوں کی میراث کی مقدار بیان کی گئی ہے ۔جیساکہ اس سورہ کے اوائل میں آیت ۱۲ کی تفسیر میں ہم کہہ چکے ہیں کہ بہنوں اور بھایئوں کی میراث کے بارے میں قرآن حکیم میں دو آییتں ہیں ۔ ایک وہی آیت ۱۲ دوسری یہ آیت جو سورئہ نسا ء کی آخری آیت ہے اگر چہ دونوں آیات میراث کی مقدار کے بارے میں مختلف ہیں لیکن جیسا کہ سورہ کی ابتداء میں بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ ان میں ہر ایک بہنوں اور بھایئوں کی الگ الگ قسم کے بارے میں ہے ۔آیت ۱۲ مادری بہن بھایئوں کے بارے میں ہے لیکن زیر بحث آیت پدری مادری یاصرف پدری بہن بھایئوں کے بارے میں ہے ۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ عام طور پر کبھی تو کچھ لوگ متوفی سے بالواسطہ ربط رکھتے ہیں ۔ ان کی میراث کی مقدار اسی واسطے سے ہوتی ہے یعنی مادری بہن بھائی ماں کے حصّے کے حساب سے لیتے ہیں جو کہ ایک تہائی ہے اور پدری یا مادری پدری بہن بھائی باپ کی میراث والا حصہ لیتے ہیں جو کہ دوتہائی ہے ۔ آیت ۱۲ چو نکہ بہن بھایئوں کی میراث کے متعلق ایک تہائی حصے کے بارے میں ہے اس لیے یہ ان کے بارے میں ہے جو صرف ماں کی طرف سے متوفی کے ساتھ مربوط ہیں جبکہ زیر بحث آیت دو تہا ئی حصے کے بارے میں ہے لیکن یہ ان بہن بھایئوں سے متعلق ہے جو ماں باپ دونوں سے مربوط ہیں ۔ علاوہ ازیں آئمہ اہل بیت سے مروی روایات جو اس سلسلے میں وارد ہوئی ہیں وہ بھی اس حقیقت کو ثابت کرتی ہیں بہرحال اب اگر ایک تہائی یا دوتہائی میراث بھائی یا بہن سے متعلق ہے باقی ماندہ مال قانون ِ اسلام کے مطابق دیگر ورثہ میں تقسیم ہو گا اب جبکہ یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ان دونوں آیات میں کوئی اختلاف نہیں ہم ان احکام کی تفسیر شروع کرتے ہیں جو اس آیت میں آئے ہیں ۔

تو جہ ہے کہ یہ آیت کلا لہ (بہن بھائی ) کے بارے میں سوال کے جواب کے طور پر نازل اہوئی ہے ۔(۲)

اسی لیے فرمایا گیا ہے : تم سے اس بارے میں سوال کرتے ہیں تو کہہ دو کہ خدا کلالہ (بھائی بہن ) کے بارے میں تمھارے لیے حکم بیان کرتا ہے( یستفتو نک قل الله یفتیکم فی الکلالة ) اس کے بعد چند احکام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔

بہن بھائی کی میراث کے چند احکام

۱۔ جب کوئی مرد دنیا سے چلا جائے ، اس کی کوئی اولاد نہ ہو فقط ایک بہن ہو تو اس کی آدھی میراث اس ایک بہن کو ملے گی( ان امرؤ اهلک لیس له ولد وله اخت فلها نصف ماتر ک ) ۔

۲۔ اگر کوئی عورت مرجائے ،اس کی اولاد نہ ہو اس کا بس ایک بھائی ہو ( جو پدری ہو یا مادری پد ری ہو ) تو اس کی ساری میراث اس کے اس اکیلے بھائی کو ملے گی( وهو یرثها ان الم یکن لها ولد ) ۔

۳۔ اگر کوئی شخص دنیا سے چلا جا ئے اور دو بہنیں پیچھے چھوڑجائے تو وہ اس کی دوتہائی میراث لیں گی( فان کا نتا اثنیتن فلها الثثان مما تر ک ) ۔

۴۔ اگر مرنے والے شخص کی چند بہنیں اور چند بھائی ہوں (جو دو سے زیادہ ہوں ) تو وہ اس کی تمام میراث آپس میں تقسیم کرینگے اس طرح سے کہ ہر بھائی کا حصہ ایک بہن سے دوگنا ہوگا( وان کانو ا اخوا ة رجا لا ونساء فللذکر مثل حظ الا نثیین ) ۔

آیت کے آخرمیں فرماتا ہے : خدا یہ حقائق تم سے بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجا ؤ اور سعا دت کی راہ پالو اور (یقینا) جس راستے کی خدا نشاندہی کرتا ہے وہی صیحح اور حقیقی راستہ ہے (کیو نکہ ) وہ ہر چیز سے دانا ہے( یبین الله لکم ان تضلوا والله بکل شئی علیم ) ۔(۳)

یہ بات بنا کہے نہ رہ جائے کہ زیر نظر آیت میں بہن بھایئوں کی میراث اس صورت میں بیان کی گئی ہے جبکہ اولاد نہ ہو اور ماں باپ کے ہونے یا نہ ہونے کے متعلق اس میں کوئی بات نہیں آئی ۔ لیکن اس سورہ کی ابتدائی آیات کے مطابق ماں باپ ہمیشہ اولاد کے یعنی میراث کے پہلے طبقے کے ہم پلہ قرار پا تے ہیں اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ آیت اس مقام کے لیے ہے جب نہ اولاد ہو اور نہ ماں باپ ۔

____________________

۱۔تفسیر صافی ، مذکورہ آیت کے ذیل میں ۔

۲۔کلالة کے لغوی معنی کیا ہیں اور یہ کہ بہن بھایئوں کو کلالة کیوں کہتے ہیں -اس کے بارے میں سورہ نساء آیت ۱۲ کے ذیل میں تفصیلی بحث کی جا چکی ہے ( ۲۱۷ اردو ترجمہ جلد ۳)

۳”ان تضلوا “ یہا ں“ ان لا تضلوا“ کے معنی میں ہے یعنی لفظ ”لا “ مقدّر ہے ۔ ایسی تعبیرات قرآن میں اور عربی زبان میں بہت ملتی ہیں ۔


سورةُ المَائدة

آیت ۱

( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ )

۱۔( یا اٴَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا اٴَوْفُوا بِالْعُقُودِ اٴُحِلَّتْ لَکُمْ بَهیمَةُ الْاٴَنْعامِ إِلاَّ ما یُتْلی عَلَیْکُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اٴَنْتُمْ حُرُمٌ إِنَّ اللَّهَ یَحْکُمُ ما یُریدُ ) ۔

ترجمہ

شروع اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے

۱۔ اپنے عہد و پیمان اور قول و قرار پورے کرو، چو پائے ( اور چوپایوں کے جنین ) تمہارے لئے حلال کردئے گئے ہیں مگر وہ جوتم سے بیان کئے جائیں گے

( ان کے سوا جن کی استثناء کی جائے گی ) اور احرام کے وقت شکار کو حلال نہ سمجھو اور خدا جو چاہتا ہے ( اور مصلحت دیکھتا ہے ) حکم کرتا ہے ۔

ایفائے عہدضروری ہے

جیسا کہ اسلامی روایات اور بڑے مفسرین کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے ، سورة پیغمبر اکرم پر نازل ہونے والی آخری سورت ہے ( یا آخری سورتوں میں سے ہے ) تفسری عیاشی میں امام محمد باقر (علیه السلام) سے منقول ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (علیه السلام) نے فرمایا: ” سورہ مائدہ رحلت ِ پیغمبر سے دو یا تین ماہ پہلے نازل ہوئی ۔(۱)

توجہ رہے کہ اس سورہ میں وضو ، تیمم وغیرہ کے احکام اس کے آخری ہونے کے منافی نہیں ہیں کیونکہ ایسے بہت سے احکام تکرار و تاکید کا پہلو رکھتے ہیں ۔ لہٰذاایسے بعض احکام سورہ نساء میں بھی ہیں ۔

یہ جو بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ سورہ ناسخ ہے منسوخ نہیں ، یہ بھی اسی امر کی طرف اشارہ ہے ۔

یہ بات اس بات کی منافی نہیں جو اس تفسیر کی دوسری جلد میں سورہ بقرہ کی آیت ۲۸۱ کے ذیل میں کی گئی ہے ۔ وہاں اس آیت کے نارے میں کہاگیا ہے کہ روایات کے مطابق مذکورہ آیت پیغمبر پر نازل ہونے والی آخری آیت ہے ۔ یہاں گفتگو سورہ کے بارے میں ہے اور وہاں بات ایک آیت کے متعلق تھی ۔

اس سورہ میں اس کے خاص موقع کے وجہ سے مفاہیم اسلامی بیان کیے گئے ہیں دین سے متعلق آخری پروگراموں کا تذکرہ ہے ۔ اس میں امت کی رہبری اور پیغمبر اسلام کی جانشینی کا ذکر ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس سورہ کا آغاز عہد و پیمان کے لازمی ایفا کے حکم سے ہوتا ہے ۔

پہلے جملے میں فرمایا گیا ہے : اے ایمان والو: اپنے عہد و پیمان کے ساتھ ساتھ وفا کرو( یا اٴَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا اٴَوْفُوا بِالْعُقُودِ ) ۔یہ اس لئے ہے تاکہ اہل ایمان کے لئے پیمانوں اور وعدوں کا ایفا ضروری قرار دیا جائے جو وہ خدا سے پہلے باند چکے ہیں یا جن کے متعلق اس سورہ میں اشارہ ہوا ہے یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی مسافر اپنے رشتہ داروں اور پیروکاروں سے وداع ہوتے ہوئے آخری لمحوں میں تاکید کرتا ہے کہ میری وصیتوں اور نصیحتوں کو بھول نہ جانا اور جو قول و قرار تم نے میرے ساتھ نابدھے ہیں ان کے وفا دار رہنا ۔

توجہ رہے کہ ” عقود “ ” عقد “ کی جمع ہے ” عقد “ در اصل ایک محکم چیز کے اطراف کو جمع کرنے کے معنی میں ہے اسی مناسبت سے رسی کے دوسروں کو یا دو رسیوں کو ایک دوسرے سے گرہ لگا نے کو ” عقد “ کہتے ہیں بعد ازں اس حسی معنی سے معنوی مفہوم پیدا ہوگیا اور ہر قسم کے عہد و پیمان کو ” عقد“ کہا جانے لگا ۔ البتہ بعض فقہا نے تصریح کی ہے کہ عہد کی نسبت عقد کا مفہوم محدودہے کیونکہ عقدایسے پیمان کو کہتے ہیں جو بہت مستحکم ہو نہ کہ ہ رعہد و پیمان کو ۔لہٰذا اگر بعض روایات میں اور مفسرین کی بعض تحروں میں عقد اور عہد ایک ہی مفہوم میں آئے تو یہ ہماری بیان کردہ بات کے منافی نہیں ہے کیونکہ مقصد ان دو الفاظ کی اجمالی تفسیروں کا بیان کرنا تھا نہ کہ اس کی جزئیات کا تذکرہ منظور تھا ۔

اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ اصطلاح کے مطابق” العقود“ ” جمع محلی بہ الف لام “ ہے جو عمومیت کے لئے ہوتی ہے اور جملہ بھی بالکل مطلق ہے لہٰذا مندر جہ بالا آیت ہر طرح کے عہد و پیمان کے وفا کرنے کے واجب ہونے کی دلیل ہے ۔

چاہے یہ محکم عہد و پیمان انسان کا انسان کے ساتھ ہو یا انسان کا خدا کے ساتھ ہو۔ اس طرح یہ تمام خدا ئی اور انسانی اور سیاسی ، اقتصادی، اجتماعی ، تجارتی ، ازدواجی وغیرہ عہد و پیمان پر محیط ہے اور اس کا ایک مکمل وسیع مفہوم ہے ، اس کی نظر تمام انسانی پہلووں پر ہے ، چاہے ان کا تعلق عقیدے سے ہو یا عمل سے، وہ فطری عہد و پیمان ہو یا توحیدی، اور چاہے ان کا تعلق ان معاہدوں سے ہو جو لوگ زندگی کے مختلف مسائل میں ایک دوسرے سے کرتے ہیں ۔

تفسیر روح المعانی میں راغب کے حوالے سے منقول ہے کہ وضع و کیفیت کے لحاظ سے طرفین میں ہونے والے عقد کی تین قسمیں ہں ۔ کبھی عقد خدا اور بندے کے درمیان ہوتا ہے کبھی انسان اور اس کے نفس کے مابین ہوتا ہے او رکبھی عقد انسان دوسرے انسانوں سے باندھتا ہے ۔ ( تفسیر روح المعانی، زیر بحث آیت کے ذیل میں ) ۔

( البتہ عقد کی یہ تینوں قسمیں طرفین کے مابین میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ جہاں انسان خود اپنے ساتھ عہد و پیمان باندھتا ہے وہاں وہ اپنے آپ کو دو اشخاص کی طرف فرض کرتا ہے ) ۔

بہر حال آیت کا مفہوم اس قدر وسیع ہے کہ اس میں وہ عہد و پیمان بھی آجاتے ہیں جو مسلمان غیر مسلموں سے باندھتے ہیں ۔

____________________

۱ ۔ تفسیر بر ہان جلد اول صفحہ ۴۳۰۔


چنداہم نکات

۱۔ ایک فقہی قاعدہ :

یہ آیت ان آیات میں سے ہے جو حقوقِ اسلام سے بحث کرتی ہیں ۔ فقہی مباحث میں اول سے آخر تک اس سے استدلال کیا جاتا ہے اس سے ایک اہم فقہی قاعدہ معلوم ہوتا ہے جسے ” اصالة اللزوم والعقود“کہتے ہیں یعنی ہر قسم کا عہد و پیمان جو کچھ چیزوں کے بارے میں ہو یا دو افراد کے درمیان کچھ کاموں کے متعلق ہو، اس کا اجزاء اور اس پر عمل کرنا ضروری اور لازمی ہے ۔

یہاں تک ک جیسے محققین کہتے ہیں کہ مختلف قسم کے معاملات، شراکتیں ، کارو بار اور قرا دادیں جو ہمارے زمانے میں موجود ہیں اور سابقہ دور میں نہیں تھیں یا آنے والے دور میں عقلاء میں معرض وجوہ میں آئیں گی اور صحیح اصولوں کی بنیاد پر ہوں گی، یہ قاعدہ سب پر محیط ہے اور یہ آیت سب کے بارے میں ہے ( البتہ ان کلی ضوابط کو مد نظر رکھتے ہوئے جن کا اسلام معاہدوں کے بارے میں حکم دیتا ہے ) ۔

اس آیت میں ایک فقہی قاعدہ کے طور پر استدلال کرنا اس امر کی دلیل نہیں کہ وہ پیمان ِ الہٰی جو خدا اور بندوں کے درمیان باندھے گئے ہیں یا وہ مسائل جو رہبری اور امت کی قیادت سے مربوط ہیں کہ جن کا پیمان پیغمبر کے ذریعے لوگوں سے لیا گیا ہے اس میں شامل نہیں بلکہ آیت ایک وسیع مفہوم کی حامل ہے جس میں یہ تمام امور شامل ہیں ۔

اس نکتہ کا ذکر بھی ضروری ہے کہ دو طرفہ عہد و پیمان کی وفا اور تکمیل اس وقت تک ضروری ہے جب تک کوئی ایک طرف سے توڑ نہ دے لیکن اگر ایک طرف سے اسے توڑ دیاجائے تو پھر دوسری طرف یہ لازم نہیں ہوگا کہ وہ اسے وفا کرے، اور ایسا معاملہ عقد و پیمان کے مفہوم سے ساقط ہو جاتا ہے ۔

۲۔ ایفائے عہد کی اہمیت:

عہد و پیمان کی وفا کا مسئلہ جو زیر بحث آیت میں بیان ہوا ہے ،اجتماعی زندگی کا سب سے بنیادی مسئلہ ہے اور اس کے بغیر کوئی اجتماعی ہم کاری اور تعلق ممکن نہیں ہے اور اگر انسان اسے ہاتھ سے دے بیٹھے تو اجتماعی زندگی اور اس کے ثمرات کو عملی طور پر کھو بیٹھتا ہے ۔ اسی بنا پر اسلامی مصادر او رکتب میں اس کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔ شاید بہت کم کوئی اور چیز ہو جسے اس قدر وسعت سے بیان کیا گیا ہو کیونکہ اس کے بغیر تو معاشرہ ہر ج مرج اور عدم اطمینان کا شکار ہو جائے گا، جو نوع انسانی کے لئے سب سے بڑی اجتماعی مصیبت ہے ۔

نہج البلاغہ میں مالک اشتر کے نام اپنے فرمان میں حضرت امیر المومنین (علیه السلام) فرماتے ہیں :

فانه لیس من فرائض الله شیء الناس اشد علیه اجتماعا مع تفرق اهوائهم و تشتت ارائهم من تعظیم الوفا بالعقود، و قد لزم ذٰلک المشرکوں فیها بینهم دون المسلمین لما استوبلوا من عواقب الغدر ۔

دنیا بھر کے لوگوں میں تمام تر اختلافات کے باوجود ایفائے عہد کی طرح کسی اور امر پر اتفاق نہیں ہے ۔ اسی لئے تو زمانہ جاہلیت کے بت پرست بھی اپنے عہد و پیمان کا احترام کرتے تھے ۔ کیونکہ وہ عہد شکنی کے درد ناک انجام کو جان چکے تھے ۔(۲)

امیر المومنین (علیه السلام) ہی سے منقول ہے ، آپ (علیه السلام) نے فرمایا:

ان الله لایقبل الا العمل الصالح ولا یقبل الله الا الوفاء بالشروط و العهود ۔

خدا اپنے بندوں سے عمل صالح کے علاوہ کسی چیز کو قبول نہیں کرتا اور ( اسی طرح ) خدا شرائط اور عہد و پیمان کے ( بارے میں بھی) ایفاء کے علاوہ کچھ قبول نہیں کرتا ۔ (سفینة البحار، ج ۲ صفحہ ۲۹۴ ۔ )

پیغمبر اکرم سے منقول ہے ، آپ نے فرمایا:لادین لمن لا عهد له (بحار جلد ۱۶ صفحہ ۱۴۴) ۔

جو شخص اپنے عہد و پیمان کا وفا دار نہیں اس کا کوئی دین نہیں ۔

لہٰذا ایفائے عہد ایک ایسی بات ہے جس میں افرادِ انسانی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے چاہے طرف مقابل مسلمان ہو یا کوئی غیر مسلم۔ اصطالح کے مطابق یہ انسانی حقوق میں سے ہے نہ کہ برادرونِ دینی کے حقوق میں سے ۔

ایک حدیث میں حضرت امام صادق (علیه السلام) سے منقول ہے ، آپ نے فرمایا :

ثلاث لم یجعل الله عز وجل لا حد فیهن رخصة ، اداء الامانة الیٰ البر و الفاجر، و الوفاء بالعهد للبر والفاجر، و بر الوالدین برین کانا او فاجرین ۔

تین چیزیں ایسی ہیں جن کی مخالفت کی خدا نے کسی شخص کو اجازت نہیں دی

۱ ۔ امانت کی ادائیگی، ہر شخص کو چاہے وہ نیک ہو یا بد

۲ ۔ ایفائے عہد ہر کسی سے چاہے وہ اچھا ہو یا برا اور (اصول کافی جلد ۲ صفحہ ۱۶۲) ماں باپ سے حسن سلوک ، چاہے وہ اچھے ہو ں یا برے۔

یہاں تک کہ ایک رویت میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے منقول ہے :

اگر کوئی شخص اشارے سے بھی کوئی عہد اپنے ذمے لے لے تو اسے وفا کرنا چاہئیے۔

اس روایت کا متن یہ ہے :اذا اومی احد من المسلمین اواشار الیٰ احد من المشرکین فنزل علی ٰ ذٰلک فهو فی امان ۔(۳)

عہد و پیمان کے بارے میں حکم پر گفتگو ہو چکی جو کہ تمام احکام اور خدائی پیمانوں پر محیط ہے اس کے بعد احکام ِ اسلام کا ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے ان میں سے پہلا حکم کچھ جانوروں کے گوشت کے حلال ہونے کے بارے میں ہے ، فرمایا گیا ہے : چو پائے( اور ان کے جنین ) تمہارے لئے حلال کئے گئے ہیں

( اٴُحِلَّتْ لَکُمْ بَهیمَةُ الْاٴَنْعامِ ) ۔

”انعام “جمع ہے” نعم “کی جس کا معنی ہے اونٹ ، گائے اور گوسفند ۔(۴)

” بھیمة “ کا مادہ ”بھمة“ ( بر وزن” بھمة “ ) ہے ۔ اس کا معنی ہے ” محکم اور سخت پتھر“ اور ہر چیز جس کا ادراک مشکل ہو اسے ” مبہم “ کہتے ہیں اور وہ تمام جانور جو بول چال نہیں سکتے انھیں بھیمة کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی آواز میں ابہام ہوتا ہے ۔ لیکن عام طور پر یہ لفظ چوپایوں کے بارے میں استعمال ہوتا ہے اور اس میں درندے اور پرندے شامل نہیں ہوتے چونکہ حیوانات کے جنین ( جو مادہ جانور کے پیٹ میں ہوتے ہیں ) بھی ایک قسم کا ابہام رکھتے ہیں اس لئے انھیں بھی ” بھبیمة“ کہا جاتا ہے ۔

اس بنابر” بھیمة الانعام “کا حلال ہونا یا تو تمام چو پایوں کے لئے ہے ( البتہ وہ جانور مستثنیٰ ہیں جن کا ذکر بعد کی آیت میں آئے گا) یا ان بچوں کے حلال ہونے کے معنی میں ہے جو حلال گوشت جانوروں کے شکم میں ہوں ( وہ بچے کہ جن کی خلقت پوری ہوگئی ہے اور کھال او ربال ان پر اگ آئے ہیں ۔(۵)

کچھ جانوروں کے حلال ہونے کے بارے میں پہلے سے مشخص تھا مثلاً اونٹ، گائے اور گوسفند ، لہٰذا ممکن ہے کہ اس آیت میں ان کی جنین کی حلیت کی طرف اشارہ ہو لیکن جو بات آیت کے معنی سے زیادہ قریب نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے یعنی ایسے جانوروں کے حلال ہونے کے بارے میں بھی ہے اور ان کی جنین کے حلال ہونے سے متعلق بھی ہے اور اگر ایسے جانوروں کا حکم پہلے سے بھی معلوم تھا تب بھی یہاں مستثنیٰ قرار دیئے جانے والے جانوروں کے حکم سے پہلے مقدمے کے طور پر اس حکم کا تکرار کیا گیا ہے ۔ اس جملے کی تفسیر کے بارے میں جو کچھ ہم کہہ چکے ہیں اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس حکم کا ربط ایفائے عہد کے لازمی ہونے سے اس بنا پر تھا کہ ایفائے عہد ایک کلی بنیاد ہے ۔ یہ کلی بنیاد احکام الہٰی پراس لحاظ سے ایک تاکید ہے کہ احکام الہٰی بھی خدا کے بندوں سے عہد و پیمان کی ایک قسم ہے اس کے بعد پھر کچھ احکام بیان کیے گئے ہیں جن میں بعض جانوروں کے حلال ہونے کا ذکر ہے اور بعض جانوروں کے گوشت کے حرام ہونے کا ذکر ہے ۔

پھر آیت میں چوپایوں کے گوشت کی حرمت کے بارے میں دو استثنائی حکم ہیں : ان جانوروں کے گوشت کو استثناء کرنا حرام ہے جن کی تحریم عنقریب تمہارے لئے بیان کی جائے گی( إِلاَّ ما یُتْلی عَلَیْکُم ) ( یعنی حج کے مناسک یا عمرہ کے مناسک انجام دینے کے لئے باندھے گئے احرام کی حالت میں شکار کرنا حرام ہے )( إِلاَّ ما یُتْلی عَلَیْکُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اٴَنْتُمْ حُرُمٌ ) ۔(۶)

آیت کے آخر میں فرماتا ہے : خدا جو حکم چاہتا ہے ، صادرکرتا ہے یعنی ۔ خدا چونکہ ہر چیز سے آگاہ ہے اور ہر چیز کا مالک ہے لہٰذا جو حکم بندوں کی مصلحت میں ہو اور حکمت اس کی متقاضی ہو اسے جاری کردیتا ہے( إِنَّ اللَّهَ یَحْکُمُ ما یُریدُ ) ۔

____________________

۱ -نہج البلاغہ، حضرت علی (علیه السلام) کے خطوط میں سے خط نمبر ۵۳۔

۲ -مستدرک الوسائل ج۲ ص ۲۵۰۔

۳ - ” نعم “ اگر مفرد کی صورت میں استعمال ہو تو” اونٹ“ کا معنی دیتا ہے لیکن جمع کی شکل میں ہو تو اونٹ، گائے اور گوسفند بھی اس کے مفہوم میں آجاتے ہیں ( مفردات راغب ، مادہ ” نعم “ “ ) ۔

۴ -اگر ”بھیمة“کا معنی آیت میں ” حیوانات“ ہو تو ” انعام “ کے ساتھ اس کی اضافت ، اضافت بیانیہ کہلائے گی اوراگر ” جنین “ کے معنی میں ہو تو اس کی اضافت ، اضافت لامیہ ہو گی ۔

۵ ۔ البتہ ” الا مایتلی علیکم “ جملہ استثنائیہ ہے اور ” غیر محلی الصید “ کم کی ضمیر سے حال ہے جو معنی کے لحاظ سے استثناء کا نتیجہ دیتا ہے ۔


آیت ۲

۲۔( یا اٴَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا لا تُحِلُّوا شَعائِرَ اللَّهِ وَ لاَ الشَّهْرَ الْحَرامَ وَ لاَ الْهَدْیَ وَ لاَ الْقَلائِدَ وَ لاَ آمِّینَ الْبَیْتَ الْحَرامَ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنْ رَبِّهِمْ وَ رِضْواناً وَ إِذا حَلَلْتُمْ فَاصْطادُوا وَ لا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ اٴَنْ صَدُّوکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ اٴَنْ تَعْتَدُوا وَ تَعاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوی وَ لا تَعاوَنُوا عَلَی الْإِثْمِ وَ الْعُدْوانِ وَ اتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدیدُ الْعِقابِ ) ۔

ترجمہ

۲۔ اے ایمان والو! شعائر خدا وندی ( او رمراسم حج کو محترم سمجھو اور ان کی مخالفت) کو حلال قرار نہ دو اور نہ ہی حرام مہینہ کو او رنہ بغیر نشانی والی قربانیوں کو اورنہ نشانیوں والی کو اور نہ وہ جنھیں خانہ خدا کے قصد سے پر وردگار کے فضل اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے لاتے ہو اور تم حالت ِ احرام سے نکل جاو تو پھر شکار کرنا تمہارے لئے کوئی منع نہیں ہے او روہ گروہ جو مسجد الحرام کی طرف ( حدیبیہ کے سال ) تمہارے آنے میں حائل ہوا تھا ۔

اس کی دشمنی تمہیں تجاوز پر نہ ابھارے اور( ہمیشہ)نیکی اور پرہیز گاری کی راہ میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور( ہر گز) گناہ اور تجاوزکی راہ ساتھ نہ دو اور خدا سے ڈرو جس کی سزا سخت ہے ۔

ایک آیت میں آٹھ احکام

اس آیت میں چند اہم اسلامی احکام بیان ہوئے ہیں یہ پیغمبراکرم پر نازل ہونے والے آخری احکامات میں سے ہیں یہ سب کے سب یا ان میں سے زیادہ تر حج اور خانہ خدا کی زیارت سے مربوط ہیں احکام یہ ہیں :

۱۔ سب سے پہلے ایمان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ شعائر خدا وندی کو نہ تو ڑو او ران کی حرمت کا خیال رکھو (۔( یا اٴَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا لا تُحِلُّوا شَعائِرَ اللَّهِ ) ۔

اس سلسلے میں مفسرین میں بہت اختلاف ہے کہ شعائراللہ سے کیا مراد ہے لیکن آیت کے دوسرے حصوں سے اس کی مناسبت اور اس کے سالِ نزول

( دس ہجری ) جو پیغمبر اکرم کے حجة الوداع کا سال تھا ، کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شعائراللہ سے کیا مراد مناسک حج اور حج کا پر گرام ہے، مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سب کا احترام کریں اس تفسیر کا شاہد یہ ہے کہ قرآن میں لفظ شعائر عام طور پر مراسم حض کے بارے میں استعمال ہوا ہے ۔(۱)

۲۔ حرام مہینوں کا احترام کرو اور ان مہینوں میں جنگ و جدال سے احتراز کرو( وَ لاَ الشَّهْرَ الْحَرامَ ) ۔

۳۔ وہ قربانیان جو حج کے لئے لاتے ہو چاہے وہ نشانی کے( هَدْی ) (۲)

ہوں یا نشانی والی( قلائد ) (۳)

جاتے ہیں اور ان ہ رکوئی علامت اور نشانی لگادی جاتی ہے ۔

ہوں ، انھیں حلال نہ سمجھو او رانھیں رہنے دو کہ وہ قربان گاہ تک پہنچ جائیں اوروہاں قربان ہوں( وَلا الهدی وَ لاَ الْقَلائِدَ ) ۔

۴۔ خانہ خدا کے تمام زائرین کو ان کو ان عظیم اسلامی مراسم کے لئے پوری آزادی ہونا چاہئیے اور اس سلسلے میں افراد، قبائل ،خاندانوں کا کوئی امتیاز نہیں ہونا چاہئیے اس لئے جو لوگ خدا کی خوشنودی اور رضا حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں ، حتی کہ جو تجارتی فائدے کے لئے زیارتِ بیت اللہ کے قصد سےآتے ہیں ان سے بھی کوئی مزاحمت نہ کی جائے چاہے وہ تمہارے دوست ہوں یا دشمن ، بس اتنا کافی ہے کہ وہ مسلمان ہیں خانہ خدا کے زائر ہیں ۔یہی ان کے مامون و محفوظ ہونے کے کافی ہے( وَ لاَ آمِّینَ الْبَیْتَ الْحَرامَ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنْ رَبِّهِمْ وَ رِضْواناً ) ۔

بعض مفسرین اور فقہا کا نظریہ ہے کہ جملہ عام ہے یہاں تک غیر مسلموں پر بھی محیط ہے یعنی اگر مشرکین بھی خانہ خدا کی زیارت کے قصد سے آئیں تو ان کی بھی مزاحمت نہ کی جائے۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ سورہ توبہ جس کے متعلق مشہورہے کہ نوہجری میں نازل ہو ئی اس کی آیة ۲۸ میں مشرکین کے مسجد الحرام کی طرف آنے سے منع کیا گیا ہے اور سورہ مائدہ پیغمبر اکرم کی آخری عمر دس ہجری میں نازل ہوئی اور شیعہ سنی روایات کے مطابق ا س کا کوئی بھی حکم منسوخ نہیں ہوالہٰذا یہ تفسیر صحیح نہیں ہے اور حق یہی ہے کہ یہ حکم مسلمانوں سے مخصوص ہے ۔

۵۔ ششکار کی حرمت زمانہ احرام کے لئے ہے اس لئے فرمایاگیا ہے : جب حج یا عمرہ کے احرام سے نکل جاو تو پھر شکار کرنا تمہارے لئے جائز ہے( وَ إِذا حَلَلْتُمْ فَاصْطادُوا ) ۔

۶۔ زمانہ جاہلیت کے بت پرست ( حدیبیہ کے موقع پر ) خانہ خدا کی زیارت میں تم سے مزاحم ہو ئے اور انھوں نے تمہیں خانہ خدا کی زیارت کے مناسک انجام نہیں دینے دئیے۔ اس واقعہ کو اس بات کا سبب نہیں بنا چاہئیے کہ ان کے اسلام لے آنے کے بعد پرانی دشمنی کو زندہ کرو اور خانہ خدا کی زیارت میں ان کے لئے رکاوٹ بنو( وَ لا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ اٴَنْ صَدُّوکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ اٴَنْ تَعْتَدُوا ) ۔(۴)

یہ حکم اگر چہ خدا کی زیارت کے بارے میں نازل ہوا ہے لیکن حقیقت میں اس سے ایک عمومی قانون معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کو کینہ پرور نہیں ہونا چاہئیے اور جو حوادث گذشتہ دور میں گزر چکے ہوں انھیں اپنے ذہن پر سوار نہیں کرلینا چاہئیے اور ان کے انتقام کے در پے نہیں ہونا چاہیئے۔

دیکھا جائے تو ہ رمعاشرے کے نفاق اور تفرقہ بازی کے علل و اسباب میں سے ایک یہی وجہ ہے کہ اسلامی حکم جو کہ اس وقت نازل ہوا جبکہ پیغمبر اسلام کی حیات کا آفتاب آستانہ غروب پر تھا، مسلمانوں کے درمیان نفاق کی آگ بھڑکنے سے روکنے کے لئے نازل ہوا ۔ اس سے اس کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے ۔

۷۔ اس کے بعد بحث کی تکمیل کے لئے فرمایا گیا ہے : بجائے اس کے کہ تم اپنے پرانے دشمن اور موجود ہ دوستوں سے انتقام کے لئے ایک ہو جاو۔ تمہیں چاہئیے کہ نیکی اور تقویٰ کی راہ میں ایک دوسرے سے دستِ تعاون بڑھاو۔ نہ یہ کہ گناہ اور تجاوز میں ایک دوسرے سے تعاون کرنے لگو( وَ تَعاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوی وَ لا تَعاوَنُوا عَلَی الْإِثْمِ وَ الْعُدْوانِ ) ۔

۸۔ آیت کے آخر میں گذشتہ احکام کو محکم کرنے کے لئے اور ان کی تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے : پر ہیز گاری اختیار کرو اور حکم ِ خدا کی نافرمانی سے بچو ۔ کیونکہ خدا کا عذاب اور اس کی سزائیں بڑی سخت ہیں( وَ اتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدیدُ الْعِقابِ ) ۔

نیکی میں ساتھ دینا ضروری ہے

زیر نظر آیت میں تعاون کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے وہ اسلامی احکام کی ایک عمومی بنیاد ہے جو تمام اجتماعی اور سیاسی مسائل کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔ اس کے مطابق تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نیک اور اچھے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کریں اور ایک دوسرے کا ساتھ دیں لیکن باطل مقاصد، غلط، اعمال اور ظلم و ستم میں میں تعاون اورہم کاری بالکل ممنوع ہے ، چاہے ان کا مرتکب قریبی دوست یا سگا بھائی کیوں نہ ہو۔

یہ اسلامی قانون بالکل اس قانون کے برعکس ہے جو زمانہ جاہلیت کے عرب میں بلکہ آج کے دور جاہلیت میں بھی رائج و حاکم ہے جاہلیت کا قانون یہ ہے کہ( انصر اخاک ظالما او مظلوماً ) یعنی اپنے بھائی ( یا دوست اور ہم پیمان ) کی حمایت او رمدد کرو، چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم ۔

اس زمانے میں اگر ایک قبیلے کے کچھ لوگ کسی دوسرے قبیلے کے بعض افراد پر حملہ کرتے تھے تو قبیلہ کے باقی افراد ان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوتے اور اس تحقیق کی زحمت نہ کرتے کہ حملہ عادلانہ تھا یا ظالمانہ۔ یہ قانون بین الاقوامی سطح پر آج بھی حکم فرما ہے اور اکثر ایک معاہدے میں منسلک ممالک یا جن کے مفادات مشترک ہیں اہم عالمی معاملات میں ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں اور قانون عدالت کا بالکل پاس نہیں کرتے اور ظالم و مظلوم کو ایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں دیکھتے۔ اسلام نے اس قانون ِ جاہلیت پر خطِ تنسیخ کھنیچ دیا ہے اسلام کا حکم ہے کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے سے تعاون اور ہمکاری صرف نیک ، اچھے کاموں میں کرنا چاہئیے نہ کہ گناہ ، تعّد ی اور ظلم میں ۔

یہ بات جالبِ نظر ہے کہ ”بر “ اور تقویٰ “ دونوں الفاظ مندرجہ بالا آیت میں ایک ساتھ آئے ہیں ان میں سے ایک لفظ اثباتی پہلو رکھتا ہے جو کہ مفید افعال و اعمال کی طرف اشارہ ہے اور دوسرا لفظ نفی کا پہلو رکھتا ہے جو کہ غلط کاموں سے رک جانے کی طرف اشارہ ہے ۔ گو یا تعاون و ہم کاری نیکیوں کی طرف دعوت دینے میں بھی ہونا چاہئے او ربرائیوں کا مقابلہ کرنے میں بھی ۔

فقہ اسلامی میں اس قانون سے حقوق سے متعلق مسائل معلوم کئے جاتے ہیں ۔ اسی کی مدد سے چند ایک ایسے معاملات اور تجارتی معاہدوں کو حرام قرار دیا گیا ہے کہ جو گناہ کی کمک او رمدد کا پہلو رکھتے ہیں ۔ مثلاً شراب ساز ی کے کار خانے کے لئے انگور بیچنا یا حق و عدالت کے دشمنوں کے ہاتھ ہتھیار بیچنا یا کام کی کسی جگہ کو غیر شر عی اور خلافِ شریعت معاملات او رکا رو بار کے کرائے پر دینا( البتہ ان احکام کے بارے میں کچھ شرائط ہیں جو فقہی کتب میں بیان کی گئی ہیں ) ۔

اگر اسلامی بنیاد تمام معاشروں میں فراہم ہو جائے اور لوگ شخصی ، نسلی اور قرابتی تعلق کو پیش نظر رکھے بغیر ان لوگوں کو ساتھ دیں جو مثبت اور اصلاحی کاموں کے لئے قدم بڑھاتے ہیں اور ظالم اور تجاوز کرنے والے لوگ چاہے کسی طبقے سے ہوں ان کا ساتھ نہ دیں تو بہت سی اجتماعی خرابیاں اور مشکلیں دور ہا جائیں ۔ اسی طرح اگر دنیا کی حکومتیں بین الاقوامی سطح پر ظالم اور تجاوز کرنے والے شخص یا حکومت سے تعاون نہ کریں تو تعدی، تجاوز، زیادتی ، استعمار اور استشمار دنیا سے ختم ہو جائیں ۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں سے بعض حکومتیں تجاوز کرنے والوں اور ستم گروں کی حمایت کرنے لگتی ہیں اور ان سے مفادات رکھنے والے کھلے بندوں انھیں حمایت کا یقین دلاتے ہیں لہٰذا موجودہ حالات میں بہتری کی توقع نہیں کی جانا چاہئیے۔

اسلامی روایات میں اس سلسلے میں بہت تاکید کی گئی ہے ۔ نمونے کے طور پر ہم چند ایک روایات کا تذکرہ کرتے ہیں ۔

۱۔ پیغمبر اکرم سے منقول ہے ، آپ نے فرمایا :

اذا کان یوم القیامة نادی مناد این الظلمة ؟ و اعوان الظلمة ؟ و اشباه الظلمة ؟ حتیٰ من برء لهم قلما و لاق لهم دواتاً، قال ، فیجتمعون فی تابوت من حدید ثم یرمی بهم فی جهنم ۔(۵)

جب قیامت بپا ہوگی تو منادی ندا کرے گا :

کہاں ہیں ظالم ؟

کہاں ہیں ظالموں کے مدد گار؟

کہاں ہیں وہ لوگ جنھوں نے اپنے آپ کو ظالموں سے مشابہ بنایا تھا؟

حتیٰ کہ ان لوگوں کو بھی پکارا جائے گا جنھوں نے ان ظالموں کے لئے قلم تراشایاں ان کی دوات میں صوف ڈالا ان سب کولوہے کے ایک صندوق میں ڈا ل کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔(۶)

۲۔ صفوان جمال ، امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے ۔ وہ کہتے ہیں : میں آپ (علیه السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ (علیه السلام) نے فرمایا: تمہارے تمام کام اچھے ہیں سوائے ایک کام کے ۔

میں نے عرض کیا : آپ پر قربان جاوں وہ کونساکام ہے ؟

امام (علیه السلام) نے فرمایا: تو اپنے اونٹ اس شخص ( یعنی ہارون )کو کرایہ پر دیتا ہے ۔

میں نے عرض کیا : بخدا عیاشی، ہوس بازی اور حرام شکار کے لئے تو کرایہ پر نہیں دیتا، صرف اس ( مکہ کے ) سفر کے لئے دیتا ہوں ۔ پھر میں خود بھی اونٹوں کے ساتھ نہیں جاتا اپنے کسی بیٹے یا کسی اور شخص کو ان کے ساتھ بھیجتا ہوں ۔

امام (علیه السلام) نے فرمایا: صفوان : کیا ان سے کرایہ لیتے ہو؟

میں نے عرض کیا: جی ہاں ۔

آپ (علیه السلام) نے فرمایا: کیا تم چاہتے ہوں کہ وہ اس وقت تک زندہ رہیں اور اپنے منصب پر باقی رہیں جبتک تمہارا کرایہ ادا نہ کریں ۔

میں نے کہا: جی ہاں ۔

آپ نے فرمایا: جو ان کی بقاء کی خواہش رکھے وہ انہی میں سے ہے اور جوان میں سے ہو وہ جہنم کی آگ میں جائے گا ۔

صفوان کہتے ہیں : میں فوراً گیا اوراپنے تمام اونٹ بیچ ڈالے ہیں ۔

یہ خبر ہاروں کو ہوئی تو اس نے مجھے بلوابھیجا اور مجھ سے کہنے لگا: صفوان! میں نے سنا ہے کہ تم نے اپنے اونٹ بیچ ڈالے ہیں ۔

میں نے کہا : میں بوڑھا ہو گیا ہوں ، میرے بیٹے اور دوسرے لوگ ان کی صحیح دیکھا بھال نہیں کرسکتے۔

ہاروں بولا: یہ بات نہیں ، میں جانتا ہوں تمہیں کسی شخص نے اس کاحکم دیا ہے ، ہاں موسیٰ بن جعفر (علیه السلام) نے تمہیں یہ حکم دیا ہے ۔

میں نے کہا: میرا موسیٰ (علیه السلام) بن جعفر (علیه السلام) سے کیا واسطہ؟

ہارون بولا : چھوڑو اس بات کو ، واللہ تمہاری گذشتہ نیکیاں نہ ہوتیں تو میں تمہاری گردن اڑانے کا حکم دیتا ۔(۷)

یاعلی کفر بالله علی العظیم من هذٰه الامة عشرة وبایع السلاح من اهل الحرب ۔

اے علی ! اس امت کے دس گروہ خدا کے منکر ہو گئے ہیں اور ایک وہ ہے جو اسلام کے دشمنوں کے ہاتھ ہتھیار بیچتا ہے جبکہ وہ مسلمانوں سے حالتِ جنگ میں ہوں ۔(۸)

____________________

۱- بقرہ ۱۵۸ اور حج ۳۲، ۳۶۔

۲ ” ھدی “ جو ” ہدیة“ کی جمع ہے ،اس کا مطلب ہے وہ چاپائے جو قربانی کے طور پر خانہ خدا کے لئے ” اھداء“ کئے جاتے ہیں ۔

۳ ”قلائد “ جو ” قلادہ “ کی جمع ہے ، اس کا معنی ہے وہ چیز جو انسان یا کسی جانور کے گلے میں ڈالی جائے یہاں اس سے مراد وہ چوپائے ہیں کو مراسم حج میں قربانی کے لئے لائے

۴ ۔ اہل لغت اور مفسرین کے کلمات سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے یہ ہے کہ ” جَرم“ ( بروزن ”گرم“) اصل میں درخت سے غیر مناسب پھل توڑنے کے معنی میں ہے بعد ازاں یہ لفظ ہر اس کام کے لئے استعمال ہونے لگا جو ناخوش آیندہ ہو نیز ناپسند یدہ کام کے لئے کسی کو اکسانے کے مفہوم میں بھی بولا جانے لگا ۔ اس لئے یہاں” لایجرمنکم “ ” لا یحسلنکم ، ‘ کے معنی میں ہے یعنی ” تمہیں غلط کام پر نہ اکسائے “۔

۵ ۔“ لیقہ“ عربی زبان میں کپڑے کے اس ٹکڑے یاریشم کی روٹی کو کہتے ہیں ، جودوات میں ڈالی جاتی ہے ، تاکہ وہ اپنے اندر سیاہی کو جذب کرلے اور اسے بہہ جانے سے روکے۔ ۶ - وسائل الشیعہ، جلد ۱۲ صفحہ ۱۳۱۔

۷ - و سائل الشیعہ جلد ۱۲ صفحہ ۱۳۲۔ ۸ - وسائل الشیعہ جلد ۱۲ صفحہ ۷۱۔


آیت ۳

۳۔( حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزیرِ وَ ما اٴُهِلَّ لِغَیْرِ اللَّهِ بِهِ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطیحَةُ وَ ما اٴَکَلَ السَّبُعُ إِلاَّ ما ذَکَّیْتُمْ وَ ما ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اٴَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْاٴَزْلامِ ذلِکُمْ فِسْقٌ الْیَوْمَ یَئِسَ الَّذینَ کَفَرُوا مِنْ دینِکُمْ فَلا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ الْیَوْمَ اٴَکْمَلْتُ لَکُمْ دینَکُمْ وَ اٴَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتی وَ رَضیتُ لَکُمُ الْإِسْلامَ دیناً فَمَنِ اضْطُرَّ فی مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجانِفٍ لِإِثْمٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحیمٌ ) ۔

ترجمہ

۳۔ مردار کا گوشت ، خون ، سورکا گوشت، وہ جانور جو غیر خدا کے نام پر ذبح ہوں ، وہ جانور جن کا گلا گھونٹ دیاجائے اور تشدد کر کے انھیں مار دیا جائے ۔ وہ جانور جو بلندی سے گر کر مر جائےں ، وہ جانور جو دوسرے جانور کے سنیگ مارنے سے مر جائیں اور درندہ جانور کے شکار کا باقی ماندہ مگر یہ کہ ( بر موقع اس جانور کے پاس جاپہنچیں اور ) اسے ذبح کرلیں او روہ جانور جو کسی بت کے اوپر ( یا اس کے سامنے ) ذبح کیے جائیں ( سب کے سب ) تم پر حرام ہیں اور (اسی طرح ) قسمت آزمائی کے لئے مخصوص تیر کی لکڑیوں سے جانور کا گوشت تقسیم کرنا ۔ یہ تمام اعمال فسق او رگناہ ہیں ۔ آج کے دن کفار تمہارے دین ( کے زوال ) سے مایوس ہو گئے ہیں لہٰذا ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ( میری مخالفت سے ) ڈرو۔ آج کے روز میں تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کردیا او راپنی نعمت تم پر تمام کردی اور اسلام کو تمہارے لئے ( ہمیشہ رہنے والے ) دین کی طور پر قبول کرلیا لیکن وہ لوگ کہ بھوک کی حالت میں جن کا ہاتھ کسی اور کھانے تک نہ پہنچے اور وہ گناہ کی طرف مائل بھی نہ ہوں ( تو ان کے لئے کوئی حرج نہیں کہ وہ ممنوع گوشت میں سے کھالیں ) خدا بخشنے والا اور مہر بان ہے ۔

تفسیر

اس سورہ کی ابتداء میں چوپایوں کا گوشت حلال ہونے کا تذکرہ ہے اور ساتھ ہی یہ فرمایا گیا تھا کہ اس سلسلے میں جن کے بارے میں استثناء ہے ان کا ذکر بعد میں آئے گا ۔

زیر بحث آیت میں در اصل وہی استثنائی حکم ہے جس کے بارے میں وعدہ کیا گیا تھا ۔ اس میں گیارہ چیزوں کے حرام ہونے کا ذکر ہے ان میں سے بعض کے حرام ہونے کا حکم قرآن کی بعض دیگر آیات میں بھی آیا ہے یہاں ان کا تکرار تاکید کے طور پر ہے ۔

۱۔ پہلے فرماتا ہے : مردار تم پر حرام کیا گیا ہے( حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَةُ ) ۔

۲۔ اسی طرح خون بھی حرام ہے( وَ الدَّمُ ) ۔

۳۔سور کا گوشت بھی حرام ہے( وَ لَحْمُ الْخِنْزیرِ ) ۔

۴۔ اور وہ جانور جو زمانہ جاہلیت کی رسم کے مطابق بتوں کے نام پر اور اصولی طور پر غیر خدا کے نام پر ذبح کئے جائیں ، ان کا گوشت بھی حرام ہے( وَ ما اٴُهِلَّ لِغَیْرِ اللَّهِ بِهِ ) ۔

ان چاروں چیزوں کی تحریم اور اس کے فلسفہ کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد اوّل میں ہم کافی بحث کرچکے ہیں ( اردو ترجمہ ص ۴۱۴) ۔

۵۔ نیز جانور بھی کہ جن کا گلا گھونٹ دیا جائے ، حرام ہیں ، چاہے خود بخود ایسا ہو یا پھندے کے سبب ہو یا کوئی انسان ایسا کام انجام دے ( جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں رواج تھا کہ بعض اوقات کسی جانور کو دو لکڑیوں یا درخت کی دو شاخوں میں سختی سے دبا تے تھے یہاں تک کہ وہ مر جاتا تھا اورپھر اس کا گوشت استعمال کرتے تھے )( وَ الْمُنْخَنِقَةُ ) ۔

بعض روایات میں ہے کہ خاص طور پر مجوسی ایسا کرتے تھے کہ جانور کا گلا گھونٹ کر مارتے اس کے بعد اس کا گوشت کھاتے لہٰذا ممکن ہے کہ آیت کا ان کے اس طریقے کی طرف بھی اشارہ ہو۔(۱)

۶۔ اور وہ جانور بھی حرام ہیں جو تشدد اور مار پیٹ سے مر جائیں یا بیماری کی وجہ سے مر جائیں( وَ الْمَوْقُوذَةُ ) ۔(۲)

تفسیر قرطبی میں ہے کہ عربوں میں رواج تھا کہ وہ بعض جانوروں کو بتوں کی خاطر اس قدر مارتے کہ وہ مر جاتے ، اور وہ اسے ایک طرح کی عبادت سمجھتے تھے۔(۳)

۷۔ اور وہ جانور بھی حرام ہیں جو بلندی سے گر مر جائیں( وَ الْمُتَرَدِّیَةُ ) ۔

۸۔ نیزوہ جانور جو سینگ مارنے سے مر جائیں ان کا گوشت بھی حرام ہے( وَ النَّطیحَةُ ) ۔

۹۔ اور وہ جانور بھی حرام ہیں جو درندوں کے حملے کی وجہ سے مرجائیں( وَ ما اٴَکَلَ السَّبُعُ ) ۔

ان آخر والے پانچ قسم کے جانوروں کے گوشت کی حرمت کا ایک فلسفہ ممکن ہے یہ ہو کہ ان سے کافی مقدار میں خون نہیں نکلتا ۔ کیونکہ جب تک گردن کی اصلی رگیں نہ کاٹی جائیں اس وقت تک خون کی کافی مقدار نہیں نکلتی اورہم جانتے ہیں کہ خون طرح طرح کے جراثیم کا مرکز ہوتا ہے اور جانور کے مرتے ہی سب سے پہلے خون میں بد بو پیدا ہوتی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ایسے گوشت میں ایک طرح کا زہر یلا پن زیادہ ہوتا ہے ۔ علاوہ ازیں ذبح کرنے میں خدا کا نام لیا جاتا ہے اور قبلہ رو ہو کر ذبح کیا جاتا ہے اس طرح سے جو معنوی پہلو پیدا ہوتا ہے وہ مذکورہ بالا صورتوں میں نہیں ہے ۔

لیکن جانور کے مرنے سے پہلے ان تک پہنچ جائیں اور آداب اسلامی کے مطابق اسے ذبح کرلیں اور اس کا خون کافی مقدار میں نکل آئے تو وہ حلال ہو جائے گا ۔ اسی لئے مندرجہ بالا مواقع کی حرمت کے بعد فرمایا گیا ہے :( إِلاَّ ما ذَکَّیْتُمْ ) ۔

بعض مفسرین نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ استثناء صرف آخری قسم یعنی ”وما اکل السبع “کے بارے میں ، لیکن اکثر مفسرین کا نظر یہ یہ ہے کہ تمام قسموں کے بارے میں ہے اور یہی بات زیادہ قرین ِ حقیقت ہے ۔

ممکن ہے سوال کیا جائے کہ جب تک آیت کی ابتداء میں ” میتة“کہہ دیا گیا ہے تو پھر ان مواقع کا ذکر کیوں کیا گیا ہے اور کیا یہ سب ” میتہ“ کے مفہوم میں داخل نہیں ہیں ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ فقہی اور شرعی لحاظ سے ” میتة “ کا ایک وسیع مفہوم ہے اس لحاظ سے جوبھی حیوان شرعی طریقے سے ذبح نہ ہووہ اس کے مفہوم میں داخل ہے لیکن لغت میں عموماً ” میتة “ اس جانور کو کہتے ہیں جو خود بخود مر جائے اس لئے مندرجہ بالا مواقع ” میتة “ کے لغوی معنی میں داخل نہیں ہیں اور نہیں تو کم از کم اس کا احتمال ہے کہ واخل نہ ہوں ۔لہٰذا ان کی صراحت کی ضرورت تھی ۔

۱۰۔ زمانہ جاہلیت میں بت پرستوں نے کچھ پتھر خانہ کعبہ کے گرد نصب کررکھے تھے ان کی کوئی خاص شکل و صورت نہ تھی ۔ انھیں ” نصب “ کہتے تھے ۔ ان کے سامنے قربانی کرتے تھے اور قربانی کاخون ان پر مَل دیتے تھے ان کے اور دیگر بتوں کے درمیان فرق یہ تھا کہ دیگر بتوں کی کوئی مخصوص شکل ہوتی تھی لیکن ” نصب “ کو کوئی صورت نہ ہوتی تھی ۔ اسلام نے زیر نظر آیت میں ایسی قربانی کے گوشت کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے( وَ ما ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ ) ۔واضح ہے کہ ایسے گوشت کی حرمت اخلاقی اور معنوی پہلو رکھتی ہے نہ کہ مادی اور جسمانی ۔ در حقیت یہ ”وما اھل لغیر اللہ بہ “ کی اقسام میں سے ہے۔

۱۱۔ جانوروں کی ایک اور طرح کی حرمت بھی زیر نظر آیت میں آئی ہے اور وہ ہے قسمت آزمائی کے طور پر ذبح ہونے والے جانور۔ ہوتا یہ تھا کہ دس آدمی آپس میں شرط لگاتے تھے اور ایک جانور خرید کر اسے ذبح کر دیتے تھے پھر تیر کی دس لکڑیاں جن میں سے سات پر ” کامیاب “ او رتین پر ” ناکام “ لکھا ہوتا تھا ایک مخصوص تھیلے میں رکھ دیتے تھے پھر قرعہ اندازی کی صورت میں ان دس آدمیوں میں سے ایک ایک کے نام پر تیر باہر نکالتے جن سات لکڑیوں پر ” کامیاب لکھا ہوتا وہ جس جس کے نام نکلتیں اسے دے دیتے اور وہ گوشت کا ایک حصہ اٹھا لیتا اور اسے اس کے بدلے کچھ نہ دیتا پڑتا ۔ دوسری طرف وہ تین افراد جن کے نام ” ناکام “ والی لکڑیاں نکلتیں ان میں سے ہر ایک کے لئے لازمی ہوتا کہ وہ اس جانور کی ایک تہائی قیمت ادا کرے ، جبکہ گوشت کا بھی اسے کوئی حصہ نہ ملتا ۔ان لکڑیوں کو ” ازلام “ کہتے ہیں ۔ ” ازلام “ ” زلم “ ( بر وزن ” قلم “ ) کی جمع ہے اسلام نے ایسے گوشت کا کھانا حرام قرار دے دیا ہے ۔ یہ حرمت اس بناپر نہیں کہ اصل گوشت حرام ہے بلکہ اس لئے کہ قمار بازی اور قسمت آز مائی ( لاٹری وغیرہ ) کاپہلو لئے ہو ہے قرآن فرماتا ہے :( وَ اٴَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْاٴَزْلامِ ) ۔

واضح ہے کہ قمار بازی وغیرہ کی حرمت جانوروں کے گوشت سے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ ہرجگہ اور ہر صورت میں قمار بازی ممنوع ہے اور اس کے مفہوم میں تمام نقصان دہ امور، بے مقصد کام او ربیہودہ پرگرام شامل ہیں آخر میں ان احکام ِ حرمت کی تاکید کے لئے فرمایاگیا ہے : یہ تمام احکام فسق ہیں اور طاعت پر وردگار کی حدود سے خارج ہیں( ذلِکُمْ فِسْقٌ ) ۔(۴)

____________________

۱۔ وسائل الشیعہ، جلد ۱۶ صفحہ ۲۷۳۔

۲ ” موقوذة “ کا مادہ ہے ” وقذ“ ( بر وزن ” نقص“) یہ ایسی سخت مار پیٹ کے معنی میں ہے کہ جو موت تک پہنچادے یا سخت بیماری جو جانور کو موت کے کنارے لے جائے بعض اوقات ایسا تشدد اور ایسی بیماری کو بھی ” وقذ“ کہتے ہیں جو موت تک نہ پہچائے بہر حال اس آیت میں پہلا معنی ہی مراد ہے ۔

۳ تفسیر قرطبی، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔

۴ ”’ ذٰلکم “اگر چہ اسم اشارہ مفرد ہے کہ جس میں خطاب جمع کے صیغے سے کیا گیا ہے اور قاعدةً اسے مفرد کی طرف لوٹنا چاہئیے لیکن ہم جانتے ہیں کہ مفرد اشارہ اس مجموعے کے لئے جو مفرد فرض کیا گیا ہو، کوئی اشکال نہیں رکھتا ۔


گوشت کے استعمال میں اعتدال

مندرجہ بالا تمام بحث سے اور دیگر اسلامی مصادر ے معلوم ہوتا ہے کہ گوشت سے استفادہ کے بارے میں اسلام کی روش اس کے دیگر احکام کی طرح اعتدال پرمبنی ہے۔ نہ زمانہ جاہلیت کی طرح ہے کہ وہ تو گوہ، مردار، خون و غیرہ سب کھاجاتے تھے، نہ آج کے بہت سے مغربی ممالک کی طرح ہے جہاں کے لوگ کیکڑآ اور کٹیرے مکوڑے تک کھانے سے نہیں کتراتے اور نہ ہی اسلام کا طریقہ ہندوؤں کا ساہے جنھوں نے گوشت کھانا مطلقاً ممنوع قرار دے رکھاہے بلکہ ان جانوروں کا گوشت کھانا حلال قراردیاہے جن کی غذا پاک ہے اور جو باعث تنفر نہیں ہیں اور افراط و تفریط کے راستے پر خط بطلان کھینچ دیاہے اور مختلف قسم کا گوشت کھانے کے لیے شرائط معین کردی ہیں جو اس طرح ہیں :

۱۔ جن جانوروں کا گوشت استعمال کیاجاسکتاہے انھیں گھاس خور ہونا چاہیے کیونکہ گوشت خور جانوروں کا گوشت مردار اور گندگی سے آلودہ گوشت کھانے کے نتیجے میں عموماً صحیح سالم نہیں رہتا اور طرح طرح کی بیماریوں کا سبب بن جاتاہے۔ اس کے برعکس گھاس کھانے والے چوپائے عام طور پر صحصح اور پاک چیزوں سے استفادہ کرتے ہیں ۔

علاوہ ازیں جیسا کہ سورہ بقرہ آیہ ۷۲ کی تفسیر میں کہاجاچکاہے کہ ہر جانور کی صفات اس کے گوشت کے ذریعے اسے کھانے والے تک منتقل ہوجاتی ہیں ۔

اس لیے درندوں کا گوشت کھانے سے انسان میں قساوت اور درندگی کی صفت کو تقویت پہنچے گی اسی لیے اسلام نے نجاست خور جانوروں کو بھی حرام قرار دیاہے۔

۲۔ وہ جانور جن کے گوشت سے استفادہ کیا جائے وہ قابل نفرت نہ ہوں ۔

۳۔ ایسے جانور بھی نہ ہوں جو انسانی روح یا جسم کے لیے نقصان اور ضرر کا باعث ہوں ۔

۴۔ ایسے جانور جو شرک اور بت پرستی و غیرہ کی راہ میں قربان کیے جائیں چونکہ وہ روحانی اور معنوی لحاظ سے ناپاک ہیں اس لیے انھیں حرام قرار دیاگیاہے۔

۵۔ اسلام میں کچھ احکام جانوروں کو ذبح کرنے کے طریقے کے بارے میں بھی ہیں ۔ ان میں سے ہر حکم کے اپنے فوائد یا اخلاقی اثرات ہیں ۔

مندرجہ بالا احکام کے بعد زیر بحث آیت میں دو معنی خیز جُملے نظر آتے ہیں پہلے فرمایاگیاہے: آج کے دن کافر تمہارے دین سے مایوس ہوگئے ہیں لہٰذا اب ان سے نہ ڈرو اور صرف میری مخالفت سے ڈرو( الْیَوْمَ یَئِسَ الَّذینَ کَفَرُوا مِنْ دینِکُمْ فَلا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ ) ۔

اس کے بعد ارشاد ہوتاہے: آج کے دن میں نے تمھارے دین اور آئین کو کامل کردیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی اور اسلام کو تمھارے دین کے طور پر قبول کرلیا( الْیَوْمَ اٴَکْمَلْتُ لَکُمْ دینَکُمْ وَ اٴَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتی وَ رَضیتُ لَکُمُ الْإِسْلامَ دیناً ) ۔

دین کس روز اپنے کمال کو پہنچا

یہاں ایک اہم بحث سامنے آتی ہے۔ وہ یہ کہ ”الیوم“ (یعنی آج کا دن) ،جس کا مندرجہ بالا آیت کے دو جملوں میں ذکر ہے، کو سا دن ہے؟ یعنی وہ کون سا دن ہے جس میں یہ چار پہلو جمع ہوگئے۔

۱۔ کفار اس روز مایوس ہوگئے

۲۔ دین اس دن مکمل ہوگیا ۔

۳۔ نعمت الٰہی تمام ہوگئی اور

۴۔ خداوند عالم نے دین اسلام کو پورے عالم کے لوگوں کے لیے آخری دین کے طور پر قبول کرلیا ۔

مفسرین میں اس سلسلے میں بہت اختلاف ہے لیکن جس بات میں کوئی اختلاف نہیں وہ یہ ہے کہ ایسا دن پیغمبر اسلام- کی زندگی میں بہت اہم ہونا چاہیے اور یہ کہ یہ کوئی عام سا اور معمولی دن نہیں ہوسکتا کیونکہ اتنی اہمیت کسی عام دن کو حاصل نہیں ہوسکتی ۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ایک روایات میں آیاہے کہ بعض یہودیوں اور عیسائیوں نے یہ آیت سن کر کہا کہ ایسی آیت اگر ہماری آسمانی کتب میں ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیتے۔(۱)

ہمیں چاہیے کہ ہم قرائن، نشانیوں ، آیت اور سورة کے نزول کی تاریخ ، پیغمبر اسلام کی زندگی کی تاریخ اور مخالف اسلامی منابع کی روایات سے اس اہم دن کو تلاش کریں ۔ کیا اس سے مراد وہ دن کو تلاش کریں ۔ کیا اس سے مراد وہ دن ہے جس دن حلال و حرام گوشت کے بارے میں مندرجہ بالا احکام نازل ہوئے تھے۔ قطعاً ایسا نہیں ہے۔ ان احکام کا نزول اتنی اہمیت کا حامل نہیں ہے اور نہ ہی یہ تکمیل دین کا باعث ہے۔ یہ پیغمبر اسلام پرنازل ہونے والے آخری احکام بھی نہ تھے کیونکہ اس صورت کے آخر میں کچھ اور احکام بھی دکھائی دیتے ہیں اور پھر ان احکام کا نزول کفار کی ناامیدی کا سبب بھی نہیں ہوسکتا ۔ وہ بات جو کفّار کی مایوسی کا سبب بن سکتی ہے، وہ اسلام کے مستقبل کے لیے کوئی محکم بنیاد اور سہارا ہونا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں ایسے احکام کا نزول کفّار کے جذبات پر اثر انداز نہیں ہوسکتا کہ ایک طرح کا گوشت حرام ہو اور دوسری طرح کا حلال۔اس سے ان میں کوئی خاص حسّاسیّت پیدا نہیں ہوسکتی ۔

کیا اس سے مراد پیغمبر اکرم کے حجة الوداع کے عرفہ کا دن ہے(جیسا کہ مفسّرین کے ایک گروہ نے احتمال بھی ظاہر کیاہے)؟

اس سؤال کا جواب بھے نفی میں ہے کیونکہ مذکورہ بالا نشانیاں اس دن پر بھی منطبق نہیں ہوسکتیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دن کوئی واقعہ نمودار نہیں ہوا کہ جو کفار کی مایوسی کا باعث ہوسکے۔ اگر اس سے مراد مسلمانوں کا عظیم اجتماع ہے تو وہ روز عرفہ سے پہلے بھی مکّہ میں خدمت پیغمبر میں تھا اور اگر اس دن مذکورہ بالا احکام کا نزول مراد ہے تو بھی جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ، کفّار کے لیے کوئی گھبرانے والی بات نہ تھی ۔

تو کیا اس سے فتح مکہ کا دن مراد ہے( جیسا کہ بعض کا خیال ہے)، جب کہ اس سورہ کے نزول کا زمانہ فتح مکّہ سے بہت ہی بعد کا ہے۔

یا کیا سورة بر ات کی آیات کے نزول کا دن ہے؟ تو وہ بھی اس سُورہ کے نزول سے کافی مُدّت پہلے تھا ۔

سب سے زیادہ عجیب احتمال یہ ہے جو بعض نے ظاہر کیا ہے کہ اس دن سے مراد ظہور اسلام یا بعثتِ پیغمبر کا دن ہے ، جبکہ ان دونوں کا اس آیہ کے نزول کے دن سے کوئی ربط نہیں ہے اور ان کے در میان ایک طویل مُدّت حائل ہے۔

لہٰذا مذکورہ بالا چھ احتمالات میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو آیت سے آہنگ اور مفہوم سے مناسبت رکھتاہو۔

(اس آیت کے سلسلے میں ایک اور احتمال بھی ہے جو تمام شیعہ مفسرّین نے اپنی کتب میں پیش کیاہے ، متعدد روایات بھی اس کی تائید کرتی ہیں ۔ نیز آیت کے مضامین اور آہنگ بھی اس سے مناسبت رکھتاہے اور وہ یہ کہ اس سے مراد غدیر خم کا دن ہے، جس روز پیغمبر اسلام نے امیر المؤمنین حضرت علی کو با قاعدہ اپنی جانشینی کے لیے مقرر کیاتھا ۔ یہی وہ روز تھا جب کفار مایوسیوں کے سمندر میں ڈوب گئے۔ کیونکہ انھیں توقع تھی کہ دین اسلام کا قیام بس ایک شخص سے مربوط ہے اور پیغمبر اسلام کے بعد صورتِ حال پھر پُرانی ڈگر پر لوٹ آئے گی لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ ایک ایسا شخص، پیغمبر کی جانشینی کے لیے منتخب ہواہے جو علم تقویٰ اور قدرت و عدالت کے لحاظ سے پیغمبر اسلام کے بعد بے نظیر ہے اور آنحضرت نے لوگوں سے اس کی بیعت لے لی ہے تو وہ اسلام کے بارے میں یاس و ناامیدی کا شکار ہوگئے وہ سمجھ گئے کہ اس دین کی جڑیں مضبوط اور پائیدار ہیں ۔ یہ وہ دن تھا جب دین اپنی تکمیل کو پہنچ گیا ۔ کیونکہ جانشینِ پیغمبر کے تعیّن اور مسلمانوں کا مستقبل واضح ہوئے بغیر یہ آخری تکمیل کو نہیں پہنچ سکتاتھا ۔

یہ وہ دن تھا جب نعمتِ الٰہی علی(علیه السلام) جیسے لائق رہبر کے تعیّن کے ذریعے لوگوں کے مستقبل کے لیے تمام ہوگئی ۔ اسی دن اسلام اپنے پروگرام کی تکمیل کے ذریعے آخری دین کے طور پرخدا کی طرف سے پسندیدہ قرار پایا ۔

لہٰذا اس میں چاروں مذکورہ پہلو موجود تھے۔

علاوہ ازیں ذیل کے قرائن بھی اس تفسیر کی تائید کرتے ہیں ۔(۲)

اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ روایات اہلسنّت کے مطابق اور حتی کہ بعض شیعہ روایات کی بناء پر جیسا کہ کلینی نے اپنی مشہور کتاب کافی میں نقل کیاہے) رسول اکرم کی وفات بارہ ربیع الاوّل کو ہوئی تھی ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ زیر نظر آیت کے نزول کا دن ٹھیک اٹھارہ ذی الحجہ ہے۔(۳)

ب۔ بہت سی روایات جو مشہور شیعہ سنی طرق سے منقول ہیں صریحاً یہ مطلب بر آمد ہوتا ہے کہ زیر بحث آیہ شریفہ غدیر خم کے روز اور ولایت علی (علیه السلام) کے اعلان کے بعد نازل ہوئی ان میں سے چند ایک یہ ہیں ۔

۱۔ مشہور سنی عالم ابن جریر طبری کتاب ولایت میں معروف صحابی زید بن ارقم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت غدیر خم کے دن حضرت علی (علیه السلام) کے بارے میں نازل ہوئی ۔

۲۔ حافظ ابو نعیم اصفہانی اپنی کتاب ” مانزل من القرآن فی علی (علیه السلام) “ میں مشہور صحابی ابو سعید خدری سے نقل کرتے ہیں :۔

پیغمبر خدا نے غدیر خم کے دن لوگوں سے حضرت علی(علیه السلام) کا تعارف ان کی ولایت کے حوالے سے کروایااور لوگ ابھی منتشر نہیں ہوئے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی :( الیوم اکملت لکم دینکم )

اس موقع پر رسول اللہ فر مایا:الله اکبر علی اکمال الدین و اتمام النعمة و رضی الرب برسالتی وبالولایة لعلی ( ع ) من بعدی، ثم قال من کنت مولاه فعلی مولاه، اللهم وال من والاه و عاد من عاداه و انصر من نصره و اخذل من خذله ۔

یعنی اللہ اکبر دین کی تکمیل اور نعمت تمام ہونے پر اور پروردگار کے میری رسالت کے بعد آپ نے فرمایا:

جس شخص کا میں مولا ہوں ، اس کا علی(علیه السلام) مولا ہے ، خدا یا : اسے دوست رکھ ، جو علی کو دوست رکھے اور اسے دشمن رکھ جو علی (علیه السلام) سے دشمنی کرے۔ جو اس کی مدد کر اور جو اسے چھوڑ دے تو بھی اسے چھوڑ دے ۔

۳۔ خطیب بغدادی اپنی تاریخ میں ابو ہریرہ سے نقل کرتے ہیں وہ پیغمبر اکرم سے نقل کرتے ہیں :

واقعہ غدیر خم ، ولایت ِ علی (علیه السلام) کے عہد و پیمان اور عمر کے ”بخٍ بخٍ یا بن ابی طالب اصبحت مولای و مولا کل مسلم “ (۴)

کہنے کے بعد آیة اکملت لکم دینکم نازل ہوئی(۵)

کتاب نفیس الغدیر میں مذکورہ تین روایات کے علاوہ اس سلسلے میں مزید تیرہ روایات نقل کی گئی ہیں ۔

کتاب احقاق الحق میں تفسیر ابن کثیر جلد ۲ صفحہ ۱۴ اور مقتل خوارزمی صفحہ ۴۷ کے حوالے سے پیغمبر اکرم سے منقول ہے کہ یہ آیت واقعہ غدیر کے بارے میں نازل ہوئی ۔

تفسیر بُرہان اور تفسیر نور الثقلین میں بھی مختلف طرق سے اس سلسلے میں دس روایات نقل ہوئی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتاہے کہ یہ آیت حضرت علی(علیه السلام) کے بارے میں یا غدیر خم کے دن کے بارے میں نازل ہوئی ۔

ان سب روایات کو نقل کرنے کے لیے ایک علیحدہ کتاب کی ضرورت ہے۔(۶)

علامہ سیّد شرف الدین مرحوم کتاب المراجعات میں لکھتے ہیں :

امام صادق(علیه السلام) اور امام باقر سے منقول صحیح روایات میں مذکور ہے کہ یہ آیت غدیر کے دن نازل ہوئی اہل سنت نے بھی رسول اللہ سے اس سلسلے میں مختلف اسناد سے چھ روایات نقل کی ہیں جو اس بات کی صراحت کرتی ہیں کہ یہ آیت اس واقعہ کے ضمن میں نازل ہوئی ۔(۷)

جو کچھ ہم نے مندرجہ بالاسطور میں کہاہے اس سے واضح ہوجاتاہے کہ زیر منظر آیت کے واقعہ غدیر کے سلسلے میں نازل ہونے کے بارے میں موجود روایات ایسی نہیں ہیں کہ انھیں خبر واحد کہاجاسکے اور ان کی بعض اسناد کو ضعیف قرار دے کر ان سے آنکھیں بند کرلی جائیں ۔ اگر یہ روایات متواتر نہ ہوں تو کم از کم مستفیض ہیں اور مشہور اسلامی منابع اور کتب میں منقول ہیں ۔ اگرچہ بعض متعصب سنی حضرات چونکہ ان روایات کو اپنے ذوق کے خلاف پاتے ہیں لہٰذا انھیں مجہول اور غلط قرار دیتے ہیں ۔ مثلاً آلوسی نے تفسیر روح المعانی میں صرف ایک سند کو ضعیف قرار دے کر کوشش کی ہے کہ باقی روایات کو بھی نظر انداز کردے یا مثلاً تفسیر المنار کے مؤلف آیت کی ایک عام تفسیر کرکے آگے بڑھ گئے ہیں ۔ یہاں تک کہ انھوں نے ان روایات کی طرف ذراسا اشارہ بھی نہیں کیا ۔ شاید وہ اس مخمصے میں تھے کہ اگر روایات کا ذکر کرکے انھیں ضعیف قرار دیں تو خلاف انصاف ہوگا اور اگر قبول کرلیں تو خلافِ ذوق ہوگا ۔

ایک جالبِ نظر نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا چاہیے یہ ہے کہ قرآن حکیم سُورةِ نور آیہ ۵۵ میں کہتاہے۔

( وَعَدَ اللَّهُ الَّذینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاٴَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذینَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَهُمْ دینَهُمُ الَّذِی ارْتَضی لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اٴَمْناً ) ۔

تم میں سے وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہیں اور انھوں نے اعمال صالح انجام دیئے ہیں خدانے ان سے وعدہ کیا ہے کہ انھیں روئے زمین پر خلیفہ بنادے گا ۔ جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو اس نے خلیفہ بنایا ہے (نیز یہ وعدہ بھی کیاہے کہ) جس دین کو ان کے لیے پسند کیاہے اسے محکم و مستقر کریگااور خوف کے بعد انھیں امن دے گا ۔

اس آیت میں خدا تعالیٰ فرماتاہے کہ جو دین ان کے لیے ”پسندّ کیاہے اسے روئے زمین پر مستقر اور محکم کرے گا ۔ یہ بات پیش نظر رکھتے ہوئے کہ سُورہ نور، سورہ مائدہ سے پہلے نازل ہوئی ہے اور”رضیت“”لکم الاسلام دیناً “ کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جو زیر بحث آیت میں ولایتِ علی کے بارے میں نازل ہواہے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اسلام اس صُورت میں روئے زمین پر مستحکم ہوسکتاہے جب”ولایت“ کے ساتھ منسلک اور توام ہو۔ کیونکہ یہ وہی اسلام ہے جسے خدا نے ”پسند “ کیا ہے اور اس کے استقرار و استحکام کا وعدہ کیاہے۔ واضح تر الفاظ میں اسلام اسی صورت میں عالمگیر ہوسکتا ہے جب وہ ولایت اہل بیت(علیه السلام) کے مسئلے سے جدا نہ ہو۔

سورہ نور کی مذکورہ آیت اور زیر بحث آیت کو منضم کرنے سے جو دوسرا مطلب سامنے آتاہے یہ ہے کہ سُورہ نور کی آیت میں با ایمان افراد سے تین وعدے کیے گئے ہیں ۔

پہلا ۔ روئے زمین پر خلافت

دوسرا ۔ عبادت پروردگار کے لیے امن و امان اور

تیسرا ۔ اس دین کا استحکام کہ جو خدا کا پسندیدہ ہے۔

یہ تین وعدے غدیر خم کے روز آیہ الیوم اکملت لکم دینکمکے نزول کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچے، کیونکہ ایمان و عمل صالح کا کامل نمونہ یعنی علی(علیه السلام)، رسول اللہ کی جانشینی کے لیے منصوب اور مقرّر ہوئے اور ”الیوم بئس الذین کفروا من دینکم “ کے ذریعہ مسلمانوں کو نسبتاً امن نصیب ہوا نیز ”و رضیت لکم الاسلام دیناً “ کے ذریعے پروردگار کا پسندیدہ دین مسلمانوں میں مستحکم ہوا ۔

البتہ یہ تفسیر ان روایات کے منافی نہیں جن میں کہا گیاہے کہ سُورہ نور کی یہ آیت حضرت مہدی کی شان میں نازل ہوئی ہے کیونکہ”امنوا منکم“ کا ایک وسیع مفہوم ہے جس کا ایک نمونہ غدیر خم کے دن انجام پایا اور پھر ایک وسیع تر سطح پر حضرت مہدی(علیه السلام) کے قیام کے وقت انجام پائے گا ۔ اس بناپر ”الارض“ آیت میں تمام کرّہ زمین کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کا بھی ایک عمومی مفہوم ہے۔ یعنی تمام زمین کے لیے بھے ہوسکتاہے اور اس کے ایک حصِّے کے لیے بھی ، جیسا کہ قرآن میں مختلف مواقع پر اس لفظ کے استعمال سے معلوم ہوتاہے کہ بعض اوقات یہ زمین کے ایک حصِّے کے لیے ہے اور بعض اوقات پورے کرّہ ارض کے لیے (غور کیجیئے گا)

____________________

۱- تفسیر المنار ج۶ ص۱۵۵

۲۔ تفسیر فخر الدین رازی، تفسیر روح المعانی اور تفسیر المنار میں اس آیت کے ذیل میں منقول ہے، کہ اس آیت کے نزول کے بعد پیغمبر اکرم اکیاسی دن سے زیادہ زندہ نہیں رہے۔

۳- البتہ یہ اس صُورت میں ہے جب خود روز وفات پیغمبر اور روز غدیر کو شمار نہ کیاجائے۔ نیز تین مہینوں میں یکے بعد دیگری ہر مہینہ ۲۹ دن کا ہو اور ایسا ہونا بالکل ممکن ہے نیز اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ روز غدیر سے پہلے اور بعد تاریخ اسلام میں کوئی ایسا اہم واقعہ رونما نہیں ہوا جس پر مندرجہ بالا تاریخ منطبق ہوسکے۔ اس لیے حتماً غدیر کے علاوہ اس سے کوئی اور دن مراد نہیں ۔

۴- حضرت عمر کی اس بات کا مطلب ہے : کیا کہنے اے فرزند ابو طا؛لب ! آپ میرے اور ہر مسلماکے مولا ہوگئے۔

۵-ان تین روایات کو علامہ امینی مرحوم نے تمام خصوصیات کے ساتھ”الغدیر“کی جلد اول میں ص۲۴۰تا ۲۳۲میں نقل کیاہے اور کتاب الحق ج۶ص۳۵۳ میں اس آیت کا واقعہ غدیر میں نازل ہونا ابوھریرہ سے دو طرق کے ساتھ اور ابو سعید خدری سے کٹی طرق سے نقل کیاگیاہے۔

۶- تفسیر بُرہان جلد اوّل اور تفسیر نور الثقلین جلد اوّل میں زیر بحث آیت کے ذیل میں رجوع کریں ۔

۷- المراجعات جلد چہارم صفحہ ۳۰


ایک اہم سوال اور اس کا جواب

آیت کے سلسلے میں صرف ایک سوال اب باقی رہ جاتاہے اور وہ یہ ہے کہ اوّل تو مذکورہ بالا اسناد اور آیہ ”( یا ایها الرّسول بلغ ما انزل الیک ) “ کے ذیل میں پیش کی جانے والی اسناد کے مطابق دونوں آیات واقعہ غدیر سے مربوط ہیں تو پھر ان دونوں کے در میان فاصلہ کیوں رکھا گیاہے۔ ایک سُورہ مائدہ کی تیسری آیت ہے اور دوسری آیت کا نمبر ۶۷ ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ آیت کا یہ حِصّہ جو واقعہ غدیر سے مربوط ہے، ایسے مطالب سے منسلک کیا گیا ہے جو حلال و حرام گوشت کے بارے میں ہیں اور ان دونوں کے در میان کوئی مناسبت نظر نہیں آتی ۔(۱)

اس کا جواب یہ ہے:

اوّلا ۔ ہم جانتے ہیں کہ قرآنی آیتیں اور اسی طرح سورتیں تاریخِ نزول کے مطابق جمع نہیں کی گئیں بلکہ مدینہ میں نازل ہونے والی بہت سی سورتیں میں مکّی آیات ہیں اور اس کے برعکس مکّی سُورتیں میں مدنی آیتیں موجود ہیں ۔

اس حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان دو آیات کا ایک دوسرے سے الگ ہوجانا کوئی تعجّب کی بات نہیں ہے (البتہ ہر صُورت کی آیات کو فرمان پیغمبر کے تحت رکھا گیاہے) ہاں البتہ آیات اگر تاریخِ نزول کے مطابق جمع کی گئی ہوتیں پھر یہ فاصلہ ہوتا تو اعتراض کیا جاسکتا تھا ۔

ثانیا ۔ ممکن ہے کہ غدیر سے مربوط آیت کو حلال و حرام غذاؤں سے متعلق آیت میں تحریف ، حذف اور تغیّر سے محفوظ رکھنے کے لیے ہو اکثر ایسا ہوتاہے کہ ایک نفیس چیز کو محفوظ رکھنے کیلیے عام سی چیزوں میں ملا دیا جاتاہے تا کہ اس کی طرف کم توجہ ہو (منور کیجیے گا) ۔

وہ حوادث جو رسول اللہ کی زندگی کے آخری لمحات میں رونما ہوئے اور بعض افراد نے آپ کی طرف سے وصیّت نامہ لکھے جانے کی صریح مخالفت کی ۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ (نعوذ باللہ) حتّٰی کہ رسولِ خداکے بارے میں کہا گیا کہ انھیں ہذیان ہوگیاہے۔اور وہ یہ سب باتیں ہماری کے عالم میں کررہے ہیں ۔ رسول اللہ کو ایسی ایسی ناموزوں تہمتیں لگائی گئیں ۔ اس واقعے کی تفصیل اسلامی دنیا کی مشہور کتب میں موجود ہے اور سنی شیعہ دونوں کی اہم کتب میں یہ واقعہ مذکور۲ ہے۔

اسی طرح یہ روایات کتاب صحیح مسلم جز ۲ میں آخری وصیّوں کے زیر عنوان صفحہ ۱۴ پر موجود ہے۔

علاوہ ازیں دیگر کتب میں بھی یہ روایات موجود ہے۔ سیّد شرف الدین مرحوم نے المراجعات میں ”رزیہ یوم الخمیس“ کے زیر عنوان یہ روایات نقل کی ہیں ۔

یہ واقعہ اس سلسلے میں شاہد ناطق ہے کہ بعض لوگ مسئلہ خلافت اور رسول اللہ جانشینی کے معاملے میں بہت حسّاس تھے اور وہ اس کے انکار کے لیے ہر انتہائی قدم اٹھانے کو تیّار تھے۔

تو کیا ایسے حالات میں ضروری نہیں تھا کہ خلافت سے مربوط اسناد کی حفاظت کی جاتی اور انھیں آنے والے لوگوں تک بحفاظت پہنچانے کا احترام کیا جاتا اور اسے عام مطالب کے ساتھ ملاکر بیان کیا جاتا تا کہ زیادہ سخت مخالفین کی ان پر کم توجہ ہو۔

علاوہ ازیں جیسا کہ ہم جان چکے ہیں کہ اس بات سے متعلق کہ ”الیوم اکملت لکم دینکم“ کے غدیر اور پیغمبر اکرم کی جانشینی کے متعلق نزول سے مربُوط اسناد صرف شیعہ کتب میں موجود نہیں ہیں کہ ان پر کوئی اعتراض ہو بلکہ اہل سنّت کی بہت سی کتب میں بھی یہ روایات موجود ہیں ۔ ان میں یہ حدیث مختلف طرق سے تین مشہور صحابہ سے بھی منقول ہے۔

اضطراری کیفیّت میں حرام گوشت کا حُکم

آیت کے آخر میں پھر حرام گوشت سے مربوط مسائل کا ذکر ہے یہاں اضطراری صُورت کے لیے حکم بیان کیا گیا ہے: اور جو لوگ بھوک کی حالت میں حرام گوشت کھانے پر مجبور ہوجائیں جبکہ وہ گناہ کی طرف رغبت نہ رکھتے ہوں تو پھر یہ ان کے لیے حلال ہے کیونکہ خدا بخشنے والا اور مہربان ہے اور ضرورت کے وقت وہ اپنے بندوں کو مشقت میں نہیں ڈالتا اور نہ انھیں اس پر سزا دیتاہے( فمن اضطر فی مخمصة غیر متجائف فان الله غفور رحیم ) ۔

”مخمصة“ کا مادہ ”خمص“ (بر وزن ”لمس“)ہے جس کا معنی ہے دھنں جانا ۔ یہ لفظ سخت بھوک کیلیے بھی استعمال ہوتاہے۔ جبکہ بھوک شکم کے دھنں جانے کا باعث ہوچاہے قحط کے زمانے میں ہویا کوئی انفرادی طور پر اس مشکل صورتِ حال سے دوچار ہوجائے۔

”غیر متجائف لا ثم“کا معنی ہے” گناہ کی طرف میلان یا رغبت نہ رکھتا ہو“ یہ اضطرار کے مفہوم کی تاکید کے طور پر آیاہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ ضرورت کے وقت حرام گوشت کھانے میں تیزی نہ دکھائے اور اسے حلال نہ سمجھنے لگے یا یہ کہ اضطرار کی بنیاد اس نے خود فراہم نہ کی ہو اور یا یہ کہ کسی ایسے سفر میں اس مشکل سے دوچار نہ ہوا ہو، جو اس نے فعل حرام انجام دینے کے لیے اختیار کیا ہو یہ بھی ممکن ہے کہ اس عبادت سے یہ تمام معانی مراد ہوں ۔

اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ جلد اول صفحہ ۴۱۳ و صفحہ ۴۱۴ ( اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں ۔

____________________

۱ - یہ رسول تفسیر المنار میں اس آیت سے مربوط مباحث میں اشارتاً مذکور ہے (جلد ۶ ص۴۶۶)

۲ - یہ حدیث اہل سنت کی مشہور ترین کتاب صحیح بخاری میں کئی مقامات پر نازل ہوئی ہے ان میں سے کتاب المرضی جزء ۴ میں ، کتاب العلم جزء اول صفحہ ۲۲ پر۔ کتاب الجہاد، باب جوائز و قدس صفحہ ۱۱۸ جز ۲ میں بہی موجود ہے۔


آیت ۴

( یَسْئَلُونَکَ ما ذا اٴُحِلَّ لَهُمْ قُلْ اٴُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّباتُ وَ ما عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوارِحِ مُکَلِّبینَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللَّهُ فَکُلُوا مِمَّا اٴَمْسَکْنَ عَلَیْکُمْ وَ اذْکُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَیْهِ وَ اتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَریعُ الْحِسابِ ) (۴)

ترجمہ

۴۔ تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کون سی چیزیں حلال کی گئی ہیں ، کہہ دو کہ پاکیزہ چیزیں تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں ، نیز ان شکاری جانوروں کا شکار (بھی تمھارے لیے حلال ہے) جنھیں تم نے وہ کچھ سکھا یا جس کی خدا نے تھیں تعلیم دی تھی ۔ بس جو کچھ یہ جانور تمھارے لیے(شکار کرتے ہیں اور) روک رکھتے ہیں وہ کھا لو اور (جب جانور کو شکار کے لیے چھوڑو (تو) اس پر خدا کا نام لیا کرو اور خدا سے ڈرو کیونکہ خدا جلد حساب لینے والاہے۔

شان نزول

اس آیت کے بارے میں کئی ایک شانِ نزول ذکر کی گئی ہیں ان میں سے زیادہ مناسب یہ ہے کہ زید الخیر اور عدی بن حاتم جو صحابی رسول تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ہم کچھ لوگ ہیں جو شکاری کُتّوں اور بازوں کی مدد سے شکار کرتے ہیں ، اور ہمارے شکاری کُتے حلال جنگلی جانوروں کو پکڑ لیتے ہیں ان میں سے بعض تو زندہ ہمارے ہاتھ لگ جاتے ہیں اور ہم انھیں ذبح کر لیتے ہیں لیکن ان میں سے بعض کُتّوں کی وجہ سے مارے جاتے ہیں اور ہمیں انھیں ذبح کرنے کا موقع نہیں ملتاہم جانتے ہیں کہ خدا نے مردار کا گوشت حرام قرار دیا ہے اب ہماری کیا ذمہ داری ہے؟

اسی سلسلے میں زیر نظر آیت نازل ہوئی اور انھیں جواب دیا گیا ۔(۱)

حلال شکار

گذشتہ دو آیات میں حرام و حلال گوشت کے بارے میں احکام بیان ہوچکے ہیں یہاں ان میں سے کچھ مزید احکام تذکرہ ہے اس سلسلے میں ایک سوال کے جواب میں فرمایا گیا ہے: تم سے کھانے والی چیزوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں( بسئلوئک ماذا احل لهم ) پھر پیغمبر اکرم سے فرمایا گیاہے: پہلے تو ان سے کہو کہ ہر پاکیزہ چیز تمھارے لیے حلال ہے( قُلْ اٴُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبات ) یعنی اسلام نے جو کچھ حرام قرار دیا ہے وہ ناپاک ہے اور جنائث کے زمرے میں آتاہے اور قوانین الٰہی کسی ایسی چیز کو کبھی حرام قرار نہیں دیتے جو پاکیزہ ہو اور فطری طور پر نوع بشر کے فائدے اور نفع کے لیے پیدا کی گئی ہو لہٰذا حقیقی شریعت قوانین تکوین سے ہمیشہ ہم آہنگ ہوتی ہے۔

پھر شکار کے بارے میں فرمایا گیاہے : تمہارے سدھا ئے ہوئے یعنی جنھیں تم نے وہ کچھ سکھا یا ہے جس کی خدا نے تعلیم دی ہے ان شکاری جانوروں کا شکار تمھارے لیے حلال ہے( وَ ما عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوارِحِ مُکَلِّبینَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللَّهُ ) ۔(۲)

”جوارح“ اصل میں ”جرح“ سے لیا گیا ہے جو کبھی ”کسب“ اور ”کام“ کے معنی میں آتاہے اور کبھی ”زخم“ کے معنی میں ۔ اسی لیے شکاری جانوروں کو چاہے وہ پرندے ہوں یا کوئی اور جانور”جارحہ“ کہتے ہیں ”جارحہ“ کی جمع”جوارح“ ہے۔ یعنی وہ جانور جو اپنے شکار کو زخم لگاتے ہیں یا وہ جانور جو اپنے مالک کے لیے کسب کرتے ہیں ۔

بدن کے اعضا کو بھی جوارح اسی لیے کہاجاتاہے کہ انسان ان کے ذریعے کسی کام کو انجام دیتاہے اور اکتساب کرتاہے۔

اس لیے”( وَ ما عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوارِح ) “ ان تمام جانوروں کے لیے ہے جنھیں شکار کرنے کی تربیّت دی جاتی ہے۔لیکن ساتھ ”مکلبین“ بھے ہے جو ”کلب“ کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے”کتّا“۔ ”مکلبین“ شکاری کتوں کی تربیّت کرنے والوں کو کہتے ہےں ۔ اس طرح یہ تعبیر جملے کو شکاری کتّوں سے مخصوص کردیتی ہے۔ اس لیے یہ آیت شکاری کُتّوں کے علاوہ باز و غیرہ سے کیے گئے شکار کے بارے میں نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ شیعہ فقہ میں صرف شکاری کتوں کے علاوہ باز وغیرہ سے کئے گئے شکار کے بارے میں نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ شیعہ فقہ میں صرف شکاری کتوں سے کیا جانیوالا شکار جائز ہے، اگر اہل سنت کے بعض مفسرین سب کو جائز سمجھتے ہیں اور ” مکلبین “ کا مفہوم وسیع قرار دیتے ہیں کہ جو کتوں سے شکار کرنے والوں کے لئے مخصوص نہیں ۔ لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ، اس لفظ کا اصلی مادہ اسے شکاری کتوں کی تر بیت سے مخصوص کردیتا ہے ۔ البتہ اگر دوسرے شکاری جانور کو بے بس کردیں لیکن اسے مرنے سے پہلے آدابِ شرعی کے مطابق ذبح کرلیا جائے تو وہ حلال ہے ۔

( تعلّمونهن مما علّمکم الله ) ۔ میں چند نکات

۱۔ ایسے جانوروں کی تعلیم و تربیّت اور مسلسل ہو، اگر وہ اپنی تعلیم بُھول جائیں اور آوارہ کتوں کی طرح کسی جانور کو چیر پھاڑ دیں تو اس شکار کا گوشت حلال نہیں ہوگا کیونکہ”( تعلمونهن ) “ فعل مضارع ہے اور مضارع استمرار پر دلالت کرتاہے۔

۲۔ کتے کی تعلیم و تربیت صحیح اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے یہ بات ”( مما علمکم الله ) “ کے مفہوم ہے مطابقت رکھتی ہے۔

۳۔ تمام علوم کا سرچشمہ خدا ہے چاہے وہ عالم اور چھوٹے چھوٹے امور کا علم ہو یا اہم ایسکی تعلیم کے بغیر ہم کوئی علم نہیں رکھتے۔

ضمنی طور پر یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ شکاری کتوں کی تعلیم سے مراد یہ ہے کہ ان کی تربیّت اس طرح سے ہونی چاہیے کہ وہ مالکوں کے حکم سے چل پُریں اور ان کے روکنے سے رُک جائیں ۔

اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ جس جانور کو کُتے شکار کرتے ہیں اگر وہ زندہ ہاتھ آجائے تو اسے آداب اسلامی کے مطابق ذبح کیا جانا چاہیے، لیکن شکاری کے پہنچنے سے پہلے اس کی جان نکل جائے تو وہ حلال ہے اگرچہ اسے ذبح نہیں بھی کیا گیا ۔

اس کے بعد ایسے شکار کی حیلت کی شرائط میں سے دو کا ذکر کیا گیاہے: اس شکار کو جسے شکاری کُتے تمھارے لیے روکے رکھیں ، کھالو( فَکُلُوا مِمَّا اٴَمْسَکْنَ عَلَیْکُمْ ) اس سے ظاہر ہوتاہے کہ اگر شکاری کُتے اس بات کے عادی ہوں کہ اپنے شکار کا کچھ حصّہ کھا لیتے ہیں اور کچھ چھوڑ دیتے ہوں تو ایسا شکار حلال نہیں ہے اور وہ ”و ما اکل السبع“ کے زُمرے میں داخل ہوجاتاہے جس کا گذشتہ آیت میں ذکر ہے۔ حقیقت میں ایسا کُتا نہ تو تعلیم یافتہ ہے اور نہ اس سے جو کچھ بچا رکھا ہے وہ ”علیکم“ (تمہارے لیے) کا مصداق ہے۔

بعض فقہا اس شرط کے قائل نہیں ہیں وہ اس سلسلے میں چند روایات سے استناد کرتے ہیں جو کُتب احادیث میں موجود ہیں بہر حال اس پر تفصیلی بحث فقہی کُتب میں موجود ہے۔

خلاصہ یہ کہ ان کی ایسے تربیّت ہونا چاہیے کہ وہ اپنا شکار کھائیں نہیں ۔

دوسری شرط یہ ہے کہ جب شکاری کُتے کو چھوڑا جائے تو خدا کا نام لیا جائے( وَ اذْکُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَیْهِ )

آخر میں ان تمام احکام کا احترام کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے: خدا سے ڈرو کیونکہ وہ سریع الحساب ہے( وَ اتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَریعُ الْحِساب ) ۔(۳)

____________________

۱- تفسیر قرطبی ج۳، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔۲- اس جملے کے ابتدائ میں حذف و تقدیر موجود ہے”فکلوا مما مسکن علیکم“ سے معلوم ہوتاہے کہ اصل میں ”وصید ما علمتم“ہے (غور کیجیئے گا) ۔۳ -سریع الحساب (جلدی حساب لینے والا) کی تشریح تفسیر نمونہ جلد دوم صفحہ ۴۵ (اُردو ترجمہ) پر گذر چکی ہے۔


آیت ۵

( الْیَوْمَ اٴُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّباتُ وَ طَعامُ الَّذینَ اٴُوتُوا الْکِتابَ حِلٌّ لَکُمْ وَ طَعامُکُمْ حِلٌّ لَهُمْ وَ الْمُحْصَناتُ مِنَ الْمُؤْمِناتِ وَ الْمُحْصَناتُ مِنَ الَّذینَ اٴُوتُوا الْکِتابَ مِنْ قَبْلِکُمْ إِذا آتَیْتُمُوهُنَّ اٴُجُورَهُنَّ مُحْصِنینَ غَیْرَ مُسافِحینَ وَ لا مُتَّخِذی اٴَخْدانٍ وَ مَنْ یَکْفُرْ بِالْإیمانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَ هُوَ فِی الْآخِرَةِ مِنَ الْخاسِرینَ ) (۵)

ترجمہ

۵۔ آج کے دن پاکیزہ چیزیں تمھارے لیے حلال ہوگئی ہیں اور (اسی طرح) اہلِ کتاب کا کھانا تمھارے لیے حلال ہے ہیں جبکہ ان کا حق مہر ادا کر دو اور پاک دامن رہو نیز پوشیدہ طور پر اور غیر شرعی طریقے سے یاری نہ لگاؤ ، اور جو شخص اس چیز سے کفر اختیار کرے کہ جس پر ایمان لانا چاہیے، اس کے اعمال باطل اور بے اثر ہوجاتے ہی اور آخرت میں وہ زیان کاروں میں سے ہوگا ۔

اہل کتاب کا کھانا کھانا اور ان میں شادی بیاہ کرنا

یہ آیت گذشتہ آیات کے مباحث کی تکمیل کرتی ہے، پہلے فرمایا: آج کے دن سے پاکیزہ چیزیں تمھارے لیے حلال ہوگئی ہیں اور اہل کتاب کے کھانے تمھارے لیے اور تمھارے کھانے ان کے لیے حلال ہیں( الْیَوْمَ اٴُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّباتُ وَ طَعامُ الَّذینَ اٴُوتُوا الْکِتابَ حِلٌّ لَکُمْ وَ طَعامُکُمْ حِلٌّ لَهُمْ ) ۔

یہاں چند مطالب توجّہ طلب ہیں ۔

۱۔ ”( الْیَوْمَ ) “ (آج کا دن) سے مراد بعض مفسّرین کے مطابق عرفہ کا دن ہے اور بعض اسے فتح خیبر کا دن کہتے ہیں لیکن بعید نہیں کہ یہ یوم غدیر ہو کہ جب اسلام کو کفار پر مکمل کامیابی حاصل ہوئی تھی( اس بات کی وضاحت ہم عنقریب کریں گے) ۔

۲۔ طیبات تو اس دن سے پہلے بھی حلال تھے یہاں ان کی حلّت کا ذکر اہلِ کتاب کے کھانے کے بارے میں آنیوالے حکم کی تمہید کے طور پر ہے۔

۳۔ اہل ِ کتاب کا طعام جسے آیت میں حلال قرار دیا گیا ہے اس سے کیا مراد ہے؟ اس سلسلے میں زیادہ تر مفسرین اور علماءِ اہلِ سنت کا نظریہ یہ ہے کہ اس میں ہر طرح کا کھانا شامل ہے، چاہے ان جانوروں کا گوشت ہو جو ان کے ہاتھ سے ذبح ہوئے ہوں ۔

یا اس کے علاوہ کچھ ہو۔ لیکن شیعہ فقہاء اور مفسرین کی قطعی اکثریت کا یہ نظریہ ہے کہ اس سے مراد ان کے ہاتھوں ذبح شدہ جانوروں کے گوشت کے علاوہ ہے۔ چند شیعہ علماء پہلے نظریہ کے پیرو ہیں ۔

ائمہ اہل بیت(علیه السلام) سے منقول متعدد روایات بھی اس مطلب کی تائید کرتی ہیں کہ آیت میں طعام سے مراد اہلِ کتاب کے ذبیحہ کے علاوہ ہے۔

تفسیر علی بن ابراہیم میں امام صادق علیہ السلام سے زیر نظر آیت کے بارے میں منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا:”عنی بطعامهم هٰهنا الحبوب و الفاکهة غیر الذبائح التی یذبحون فانهم لا یذکرون اسم الله علیها

اہل کتاب کے طعام سے مراد دانے اور میوے ہیں نہ کہ ان کے ذبح کیے ہوئے جانور، کیونکہ وہ ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتے۔(۱)

دوسری متعدد روایات جو وسائل الشیعہ جلد ۱۶ ابواب اطعمہ و اشربہ کے باب ۵۱ صفحہ ۱،۲ پر مذکور ہیں نیز گذشتہ آیات میں وقت نظر سے معلوم ہوتاہے کہ اہلِ کتاب کے ذبح شدہ جانوروں کے علاوہ ان سے کھانا پینا حقیقت کے زیادہ نزدیک ہے، کیونکہ جیسا کہ امام صادق علیہ السلام نے مذکورہ روایت میں نشاندہی فرمائی ہے کہ اہل کتاب ذبح کرنے میں زیادہ تر اسلامی شرائط کو ملحوظ نہیں رکھتے نہ وہ خدا کا نام لیتے ہیں اور نہ جانور کو رو بقبلہ ذبح کرتے ہیں ، اسی لیے باقی شرائط بھی پوری نہیں کرتے تو کیسے ممکن ہے کہ گذشتہ آیات میں تو ایسا جانور صریحاً حرام قرار دیا گیا ہو اور اس آیت میں اسے حلال شمار کرلیاگیاہو۔

یہاں چند سوالات سامنے آتے ہیں :

پہلا سوال: اگر طعام سے مراد گوشت کے علاوہ دوسرے کھانے ہیں تو وہ تو پہلے بھی حلال تھے کیا اس آیت کے نزول سے قبل گندم اور ایسی دیگر اجناس اہلِ کتاب سے خرید نا ممنوع تھا، حالانکہ مسلمانوں اور ان کے در میان ہمیشہ کار و بار رہتا تھا ۔

آیت کی تفسیر میں ایک بنیادی نقطے کی طرف توجّہ کرنے سے اس سوال کا جواب مل جاتاہے اور وہ یہ کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب اسلام پورے جزیرہ عرب پر غالب آچکاتھا ۔ اور پورے جزیرةِ عرب میں اس کا وجود مسلّم ہوچکا تھا اب دشمنان اسلام مسلمانوں کو شکست دینے سے مایوس ہوچکے تھے اس موقع پر ان حد بندیوں کو برطرف کیا جانا چاہیے تھا جو پہلے کفار سے مسلمانوں کی معاشرت کے بارے میں تھیں ، پہلے ان کے ہاں آنا جانا، انھیں مہمان بلانا، ان کے ہاں بطور مہمان جانا ممنوع تھا ۔ لہٰذا اس آیت نے بتایا کہ اب کے بعد جبکہ تم اپنی حیثیت اور مقام منوا چکے ہو اور ان سے تمھیں کوئی خطرہ نہیں رہا ان سے معاشرتی حد بندیوں میں کمی کر دی گئی ہے لہٰذا اب تم ان کے مہمان بن سکتے ہو اور انھیں بھے اپنے ہاں دعوت دے سکتے ہو اسی طرح ان میں شادی بھی کرسکتے ہو (لیکن ان سب امور کی اپنی اپنی شرائط ہیں جن کی طرف اشارہ کیا جائے گا) ۔

یہ بات بغیر کہے نہ رہ جائے کہ جو لوگ اہل کتاب کو پاک نہیں سمجھتے وہ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ کھانا اس صورت میں کھایا جا سکتاہے جب غذا و غیرہ مرطوب نہ ہو یا مرطوب ہو تو ان کا ہاتھ اسے نہ لگاہو، لیکن ایسے محققین جو اہلِ کتاب کی طہارت کے قائل ہیں کہتے ہیں کہ اگر ان کا کھانا ان کے ذبیحہ سے تیار نہ کیا گیا ہو اور نجاست عرضی کا یقین بھی نہ ہو ( مثلاً شراب یا آب جو و غیرہ سے نجس نہ ہوا ہو) تو پھر ان کے ساتھ کھانا کھایا جاسکتاہے۔

خلاصہ یہ کہ زیر بحث آیت کا مقصد در اصل اہلِ کتاب سے معاشرت کے سلسلے میں گذشتہ حد بندیوں کو برطرف کرناہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ فرمایا گیا ہے کہ تمھارا کھانا بھی ان کے لیے حلال ہے یعنی انھیں اپنے ہاں مہمان بلانے میں بھی کوئی حرج نہیں نیز اس کے فوراً بعد اہل کتاب کی عورتوں سی شادی کرنے کے بارے میں بھی حکم بیان کیا گیاہے۔

یہ امر واضح ہے کہ ایک حکومت اپنے پیروکاروں کو ایسا حکم دے سکتی ہے جب وہ اپنے ماحول پر پوری طرح سے کنٹرول حاصل کرلے اور اسے دشمن کا کوئی خوف نہ رہے ایسی صُورتِ حال در اصل یوم غدیر پر پیدا ہوچکی تھی ۔ بعض کے نزدیک یہ حجة الوداع کا روزِ عرفہ تھا یا فتح خیبر کے بعد کا موقع تھا اگرچہ غدیر خم کا دن اس بات کیلیے ہر لحاظ سے زیادہ سازگار معلوم ہوتاہے۔

دوسرا سوال: جو تفسیر المنار میں زیر بحث آیت کی تفسیر کے ضمن میں آیاہے یہ ہے کہ صاحب تفسیر کے مطابق لفظ”طعام“ بہت سی قرآنی آیات میں ہر قسم کی غذا کے لیے آیاہے یہاں تک کہ گوشت بھی اس میں شامل ہے اب کیسے ممکن ہے کہ زیر بحث آیت میں اسے غلّات اور میوہ جات و غیرہ میں محدود کردیاجائے۔ موصوف اس کے بعد لکھتے ہیں کہ میں نے یہ اعتراض ایک ایسی مجلس میں پیش کیا جس میں کچھ شیعہ علماء بھی موجود تھے( اور کسی کے پاس اس کا جواب نہیں تھا) ۔

ہمارے نقطہ نظر کے مطابق اس اعتراض کا جواب بھی واضح ہے ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ لفظ”طعام“ کا ایک وسیع مفہوم ہے لیکن گذشتہ آیات جن میں مخلف طرح کے گوشت کے بارے میں بحث ہے اور خصوصاً ان جانوروں کو حرام قراردیا گیا ہے جنھیں ذبح کرتے وقت خدا کا نام نہیں لیا گیا، وہ اسم وسیع مفہوم کی تخصیص کرتی ہیں اور اسے ایسے گوشت کے علاوہ میں محدود کردیتی ہیں ۔

ہم جانتے ہیں کہ ہر عام اور مطلق قابِل تخصیص ہے اور اسے بعض شرائط کا پابند کیا جاسکتاہے ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اہل کتاب ذبیچہ پر نامِ خدا لینے کے پابند نہیں ہیں اور اس کے علاوہ وہ دیگر شرائط کا بھی لحاظ نہیں رکھتے جو سنت سے ثابت ہیں ۔

تیسرا سوال: کتاب کنز العرفان میں اس آیت کی تفسیر میں ایک اور اشکال کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ”طیبات“ کا ایک وسیع مفہوم ہے اور اصطلاح کے مطابق عام ہے لیکن ”( طَعامُ الَّذینَ اٴُوتُوا الْکِتابَ ) “ خاص ہے اور عموماً عام کے بعد خاص کے ذکر میں کوئی نکتہ ہونا چاہیے مگر یہاں کوئی واضح نکتہ نہیں ہے اسکے بعد مصنّف اس اُمیّد کا اظہار کرتا ہے کہ خدا اس کی اس علمی مشکل کو حل کردے۔(۲)

مندرجہ بالاسطور میں اس سلسلے میں جو کچھ بیان کیا جاچکاہے اسے پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس سوال کا جواب بھی معلوم ہوجاتا ہے اور وہ یہ کہ طیّبات کے حلال ہونے کا ذکر اہلِ کتاب سے میل جوں پر عائد پابندی ختم کرنے کے لیے مقدمہ و تمہید کے طور پر آیا ہے حقیقت میں آیت کہتی ہے کہ ہر پاکیزہ چیز تمھارے لیے حلال ہے اسی وجہ سے اہلِ کتاب کا (پاکیزہ) کھانا بھی تمھارے لیے حلال ہے اور ان سے معاشرت کے بارے میں جو پابندیاں پہلے عائد تھیں آج تمہیں میسر کا میابیوں کے باعث کم کردی گئی ہیں (غور کیجیے گا) ۔

غیر مُسلم عورتوں سے شادی

اہل کتاب کے کھانے کی حلیت کا حکم دینے کے بعد آیت میں پاکدامن مسلمان اور پاکدامن اہلِ کتاب عورتوں سے شادی بیاہ کے بارے میں فرمایا گیاہے: تمھارے لیے مسلمان اور اہلِ کتاب پاکدامن عورتیں حلال ہیں اور تم ان سے شادی کرسکتے ہو بشرطیکہ ان کا حق مہر انھیں ادا کردو( وَ الْمُحْصَناتُ مِنَ الْمُؤْمِناتِ وَ الْمُحْصَناتُ مِنَ الَّذینَ اٴُوتُوا الْکِتابَ مِنْ قَبْلِکُمْ إِذا آتَیْتُمُوهُنَّ اٴُجُورَهُنَّ ) اور یہ بھی شرط ہے کہ شادی مشروع اور جائز طریقے سے ہونہ کہ کُھلے بندوں زنا ہو یا مخفی طور پر یاری لگاتے پھرو( مُحْصِنینَ غَیْرَ مُسافِحینَ وَ لا مُتَّخِذی اٴَخْدانٍ ) ۔(۳)

در حقیقت آیت کا یہ حصّہ بھی غیر مسلم عورتوں سے مسلمانوں کی شادی بیاہ کے سلسلے میں پابندیوں میں کمی کے لیے ہے۔ اس میں اہلِ کتاب عورتوں سے مسلمان مردوں کی شادی کو مشروط طور پر جائز قرار دیا گیاہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ کیا اہلِ کتاب عورتوں سے ہر طرح کی دائمی و موقت شادی جائز ہے یا صرف ازدواج موقت یعنی متعہ جائز ہے فقہائے اسلام میں اس سلسلے میں اختلاف ہے علمائے اہل سنت ان دو طرح کی تزویج میں فرق کی قائل نہیں ان کا نظریہ ہے کہ مندرجہ بالا آتی عمومیّت کی حامل ہے لیکن بعض شیعہ فقہاء کے نزدیک یہ آیت صرف موقت ازدواج کی اجازت دیتی ہے۔ آئمہ اہلِ بیت علیہم السلام سے منقول بعض روایات بھے اس نظرئیے کی تائید کرتی ہیں اور آیت میں بھی بعض ایسے قرائن موجود ہیں جنھیں اس نظریئے پر شاد ہد قرار دیا جاسکتاہے۔

پہلا قرینہ یہ ہے کہ فرمایا گیاہے: ا( ِٕذا آتَیْتُمُوهُنَّ اٴُجُورَهُنّ ) بشرطیکہ ان کی اُجرت انھیں ادا کرو یہ درست ہے کہ ”اجر“ عقد دائمی اور عقد موقت دونوں کے حق مِہر کے لیے استعمال ہوتاہے لیکن زیادہ تر ازدواج موقت کیلیے استعمال ہوتاہے یعنی زیادہ تر اسی سے مناسبت رکھتاہے۔

دوسرا قرینہ یہ ہے کہ فرمایا گیاہے :( غَیْرَ مُسافِحینَ وَ لا مُتَّخِذی اٴَخْدان ) ۔زنا اور پوشیدہ طور پر غیر شرعی یاری دوستی کے طور پر نہ ہو-یہ تعبیر بھے موقت ازدواج سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے کیونکہ دائمی شادی زنا اور پوشیدہ دوستی سے کوئی مشابہت نہیں رکھتی کہ اس سے منع کیا جاتا لیکن بعض اوقات نادان اور بے خبر لوگ ازدواجِ موقت کو زنا یا پوشیدہ دوستی سے تشبیہ دیتے ہیں ۔اس سب باتوں سے قطع نظریہ تعبیرات سورةِ نساء کی آیت ۲۵ میں دکھائی دیتی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وہ آیت ازدواجِ موقت کے بارے میں ہے۔ان تمام امور کے با وجود بعض فقہا اہلِ کتب سے مطلق ازدواج کو جائز سمجھتے ہیں اور مذکورہ قرآئن کو آیت کی تخصیص کے لیے کافی نہیں سمجھتے اور اس سلسلے میں بعض روایات سے بھی استدلال کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں زیادہ تفصیل فقہی کتب میں دیکھی جاسکتی ہے۔یہ بات بنا کہے نہ رہ جائے کہ آج جبکہ زمانہ جاہلیّت کی بہت سی رسمیں زندہ ہوچکی ہیں یہ نظریہ بھی وجود میں آچکاہے کہ غیر شادی شدہ افراد کیلیے عورت یا مرد سے دوستانہ تعلّقات میں نہ صرف مخفی صورت میں بلکہ کُھلے بندوں بھی کوئی حرج نہیں ۔در حقیقت آج کی دنیا نے گناہ اور جنسی بے راہ روی میں زمانہ جاہلیّت سے بھی قدم آگے بڑھالیا ہے کیونکہ اس دور میں تو مخفی تعلقات کو جائز سمجھا جاتا تھا لیکن آج علی الاعلان ایسی دوستی کو جائز قرار دیا جاتاہے یہاں تک کہ انتہائی بے شرمی سے اس پر فخر بھی کیاجاتاہے یہ رسوا کن رسم جو واضح اور شرمناک بدکاری ہے مغرب کی طرف سے مشرق کے لینے منحوس سوغات ہے ہی بہت سی بدبختیوں اور جرائم کا سرچشمہ ہے۔

اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ اہل کتاب کے طعام کے بارے میں (مذکورہ شرائط کے ساتھ) اجازت دی گئی ہے کہ ان سے کھانا کھایا بھی جاسکتاہےاور انھیں کھلایا بھی جاسکتاہے، لیکن شادی بیاہ کے سلسلے میں صرف ان سے رشتہ لینا جائز ہے، مسلمان عورتوں کے لیے کسی طرح کوئی اجازت نہیں کہ وہ اہلِ کتاب کے مردوں سے شادی کریں ۔ اس کا فلسفہ کہے بغیر واضح ہے کہ عورتیں نسبتاً نرم دل ہوتی ہیں اور ممکن ہے کہ برخلاف مرد کے عورت بہت جلد اپنے شوہر کا عقیدہ قبول کرلے۔

مندرجہ بالا سہولتیں جو کہ اہلِ کتاب سے معاشرت اور ان کی عورتوں سے ازدواج کرنے۔ کے بارے میں ہیں جن سے ممکن ہے کہ بعض لوگ غلط فائدہ اٹھائیں اور شعوری یا غیر شعوری طور پر ان کی طرف کھنچے چلے جائیں ، لہٰذا آیت کے آخر میں مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ جو شخص ان چیزوں سے کفر اختیار کرے کہ جن پر ایمان لانا چاہیے اور مؤمنین کا راستہ چھوڑ کر کفّار کی راہ اختیار کرلے اس کے اعمال برباد ہوجائیں گے اور آخرت میں وہ زیاں کاروں میں سے ہوگا( وَ مَنْ یَکْفُرْ بِالْإیمانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَ هُوَ فِی الْآخِرَةِ مِنَ الْخاسِرین ) ۔

یہ اس طرف اشارہ ہے کہ مذکورہ سہولتیں تمام تمھارے زندگی کی کشائش و آرام کے علاوہ اس چیز کا باعث بننا چاہیں کہ تم ان بے گانوں میں اثر و نفوذ پیدا کر و نہ یہ کہ تم ان کے زیر اثر ہوجاؤ اور اپنے دین سے دستبردار ہوجاؤ، کیونکہ اس صُورت میں تمھارے سزا بہت سخت ہوگی ۔(۴) آیت کے اس حِصّے کی تفسیر کے سلسلے میں چند روایات اور مذکورہ شانِ نزول کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ احتمال بھی ہے کہ اس آیت کے نزول اور اہلِ کتاب کے ساتھ کھانے اور ان کی عورتوں کی حلیّت کے بعد بھی بعض مسلمان اسے ناپسند کرتے تھے لہٰذا قرآن نے انھیں تنبیہ کی کہ اگر انھیں خدا کے نازل کردہ احکام پر اعتراض ہے اور وہ اس کا انکار کرتے ہیں تو ان کے اعمال برباد ہوجائیں گے اور وہ خسارے میں رہیں گے۔

____________________

۱- وسائل الشیعہ ، جلد ۱۶ صفحہ ۲۹۱ ۲ - کنز العرفان، جلد۲ صفحہ ۳۱۲

۳ - جیسا کہ اس تفسیر کی جلد ۳ میں سورہ نساء کی آیت ۲۵ کے ذیل میں وضاحت کی جاچکی ہے کہ ”اخذان“، ”الخذن“ (بر وزن ”اذن“) سے دوست اور رفیق کے معنی میں ہے لیکن عام طور پر جنس مخالف سے غیر شرعی طور پر پوشیدہ دوستی کے لیے استعمال ہوتاہے۔

۴ - حبط اور احباط کے لیے تفسیر نمونہ جلد دوم سورہ قرہ آیة ۲۱۷ کے ذیل میں ص۶۶(اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں ) ۔


آیت ۶

( یا اٴَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا إِذا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَکُمْ وَ اٴَیْدِیَکُمْ إِلَی الْمَرافِقِ وَ امْسَحُوا بِرُؤُسِکُمْ وَ اٴَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْنِ وَ إِنْ کُنْتُمْ جُنُباً فَاطَّهَّرُوا وَ إِنْ کُنْتُمْ مَرْضی اٴَوْ عَلی سَفَرٍ اٴَوْ جاء َ اٴَحَدٌ مِنْکُمْ مِنَ الْغائِطِ اٴَوْ لامَسْتُمُ النِّساء َ فَلَمْ تَجِدُوا ماء ً فَتَیَمَّمُوا صَعیداً طَیِّباً فَامْسَحُوا بِوُجُوهِکُمْ وَ اٴَیْدیکُمْ مِنْهُ ما یُریدُ اللَّهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِنْ حَرَجٍ وَ لکِنْ یُریدُ لِیُطَهِّرَکُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ ) (۶)

ترجمہ

۶۔ اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہو تو اپنے چہرے اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھولو اور سراور پاؤں کا مفصّل (یا ابھری ہوئی جگہ تک) مسح کرو اور اگر حالتِ جنب میں ہو تو غسل کرو اور اگر بیمار ہو یا مسافر ہو یا تم میں سے کوئی (قضائے حاجت کی) پست جگہ سے آیاہے یا عورتوں سے (مباشرت کیلیے)لمس کیا ہو اور (غسل یا وضو کیلیے) پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو اور اس (مٹی) سے چہرے کے اوپر (پیشانی بہ) اور ہاتھوں پر مسح کرو۔ خدا نہیں چاہتا کہ تمھارے لیے مشکل پیدا کرے بلکہ وہ چاہتاہے کہ تمھیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کرے شاید تم اس کا شکر ادا کرو۔

جسم اور رُوح کی پاکیزگی

گذشتہ آیات میں جسمانی پاکیزگی اور مادی نعمات کے بارے میں بحثیں تھیں ۔ زیر نظر آیت میں روحانی پاکیزگی سے متعلق گفتگو ہے اس میں ان امور کا تذکرہ ہے جو روحانی طہارت کا باعث ہیں ۔ اس میں وضو، غسل اور تیمم کے احکام ہیں اور روح کی صفائی کا باعث ہیں پہلے تو اہل ایمان سے خطاب کرتے ہوئے احکامِ وضو بیان کیے گئے ہیں : اے ایمان والو! جب نماز کے لیے کھڑے ہوجاؤ،(۱)

تو اپنے چہرے اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوؤ اور سرکے ایک ایک حِصّے کا اور اسی طرح پاؤں کا مفصل (یا ابھری ہوئی جگہ تک) مسح کرو( یا اٴَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا إِذا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَکُمْ وَ اٴَیْدِیَکُمْ إِلَی الْمَرافِقِ وَ امْسَحُوا بِرُؤُسِکُمْ وَ اٴَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْنِ ) ۔

آیت میں وضو میں دھونے کے لیے چہرے کی حُدود کا ذکر نہیں ، لیکن روایات ِ اہلِ بیت(علیه السلام) میں رسول اللہ کے وضو کرنیکا طریقہ تفصیل سے بیان کیا گیاہے۔

در اصل یہ ”وجہ“ (چہرے) کے اس معنی کی وضاحت ہے جو عرف عام میں اس سے سمجھا جاتا ہے کیونکہ وجہ (چہرہ) وہی حِصّہ ہے جس کا انسان سے ملتے ہی”مواجہ“ (سامنا) ہوتاہے۔

۲۔ ہاتھ کی حد جو وضو میں دھوئی جانی چاہیے کہنی تک بیان ہوئی ہے کیونکہ ”مرفق“ کی جمع ہے جس کا معنی ہے ”کہنی“۔ جب کہا جائے کہ ہاتھ دھولو تو ممکن ہے ذہن میں یہ آئے کہ انھیں کلائی تک دھونا ہے کیونکہ عام طور پر یہی مقدار دھوئی جاتی ہے اس وہم کو دور کرنے کے لیے فرمایا گیاہے: کہنیوں تک دھوؤ (الی المرافق) اس سے واضح ہوجاتاہے کہ ”الٰی“ اس آیت میں فقط دھونے کی حد بیان کرنے کے لیے ہے نہ کہ کیفیت بیان کرنے کے لیے جیسا کہ بعض کو اس سے یہی گمان ہوا ہے ان کا خیال ہے کہ آیت کہتی ہے کہ ہاتھ کو انگلیوں کے سروں سے لے کر کہنی تک دھونا چاہیے (جیسا کہ اہل سنت کے ایک طبقے میں رائج ہے) ۔

اس کی وضاحت یہ ہے کہ یہ بالکل اس طرح ہے کہ انسان کسی کا دیگر سے کہے کہ کمرے کی دیوار کو نیچے سے لے کر ایک میڑ اوپر تک رنگ کردو تو واضح ہے کہ مقصد یہ نہیں کہ دیوار کو نیچے سے اوپر کی طرف رنگ کرو بلکہ مراد یہ ہے کہ اتنی مقدار کو رنگ کرو اس سے زیادہ یا کم نہ ہو، اس لیے یہاں آیت میں بھی صرف ہاتھ کی وہ مقدار مقصود ہے جسے دھوناچاہیے۔ رہی ایسی کیفیت تو وہ سنتِ پیغمبر میں ہے جو ان کے اہل بیت(علیه السلام) کے وسیلے سے ہم تک پہنچی ہے اس کے مطابق کہنیوں سے لے کرانگلیوں کے سروں تک دھونا چاہیے۔

توجہ رہے کہ کہنی کو بھی وضو میں ساتھ دھونا چاہیے کیونکہ ایسے مواقع پر اصطلاح کے مطابق”غایت مغیا میں داخل ہے“ یعنی حد بھی حکم محدود میں شامل ہے۔(۲)

۴۔ ”ارجلکم“”برء وسکم“کے ہم پہلو آیاہے یہ اس بات پر شاہد ہے کہ پاؤں کا بھی مسح کیاجائے نہ کہ اسے دھو یا جائے۔ ”ارجلکم“کی لام پر زبر اس وجہ سے ہے کہ اس کا عطف ”برء وسکم“کے ساتھ ہے نہ کہ یہ ”وجوہکم “ پر عطف ہے۔(۳)

۵۔ ”کعب“ نعت میں پاؤں کے اوپر کی ابھری ہوئی جگہ اور مفصل کے معنی میں آیاہے یعنی وہ مقام جہاں پاؤں کی بڈی سے پنڈلی کہ ہڈی مل جاتی ہے۔(۴)

____________________

۱ آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے منقول متعدد روایات میں ہے کہ قمتم (تم کھڑے ہو) سے مراد ہے نیند سے اٹھنا ۔ آیت کے مشتملات اور تمام حصوں پر غور کرنے سے بھی اس معنی کی تائید ہوتی ہے کیونکہ بعد میں تیمم کا حکم بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے؛اوجاء احد منکم من الغائط (یا کوئی تم میں سے قضائے حاجت سے لوٹے) ۔اگر آیت کا خطاب اصطلاحاً بے وضو افراد سے ہوتا تو اس جُملے کا عطف اور وہ بھی ”او“ کے ذریعے آیت کے ظاہری مفہوم سے مناسبت نہیں رکھتا تھا کیونکہ وہ بھی بے وضو کے عنوان میں داخل ہے لیکن اگر آےت کے آغاز میں خطاب نیند سے اٹھنے والے لوگوں سے ہے اور اصطلاح کے مطابق صرف نیند کا حدث بیان کیاگیاہے تو پھر اس جملے کا مفہوم بھی مکمل ہوگا (غور کیجیے گا) ۔

۲۔ کلمہ ”ب“ جو ”برء وسکم“میں ہے بعض روایات کے مطابق اور بعض اہلِ لغت کی تصریح کے مطابق تبعیض کے لیے ہے یعنی کچھ حِصّے کے مفہوم میں ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ سرکے کچھ حِصّے کا مسح کرو جسے ہماری اصطلاح میں سرکے اگلے حِصّے سے محدود کیا گیا ہے اور اس کے لیے سرکے چوتھائی یا کچھ کم حِصّے پر ہاتھ سے مسح کیاجاتاہے اس لیے جو اہل سنت کے بعض گروہوں میں مروّج ہے کہ وہ پورے سرکا یہاں تک کہ کانوں کا بھی مسح کرتے ہیں وہ آیت کے مفہوم سے مناسبت نہیں رکھتا ۔

۴ قاموس میں ”کعب“ کے تین معنی مذکور ہیں ۔ ۱۔ پشت پاکی ابھری ہوئی جگہ، ۲۔ مفصل اور ۳۔ ٹخنے جو پاؤں کے دو طرف ہیں لیکن صفت میں جو وضاحت کی گئی ہے اس میں یہ بات مسلّم ہے کہ اس سے ٹخنے مراد نہیں ، لیکن اس بات میں فقہا میں اتفاق نہیں کہ آیا یہ پاؤں پر کی ابھری ہوئی جگہ ہے یا پاؤں اور پنڈلی کا جوڑ (مفصل) بہرحال احتیاط یہی ہے کہ جوڑتک ہی مسح کیاجائے۔


اس کے بعد غسل کے بارے میں حکم ہے ، فرمایا گیاہے: اگر مجنب ہو تو غسل کرو( و ان کنتم جنباً فاطهروا ) واضح ہے کہ ”فاطہروا“سے مراد پورے جسم کا دھونا ہے کیونکہ اگر کسی مخصوص حصِّے کا دھونا مطلوب ہوتا تو اس کا نام لیا جانا ضروری تھا اس لیے جب یہ فرماتاہے کہ اپنے آپ کو دھولو تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ سارے بدن کو دھولو۔ اس کی نظیر سُورةِ نساء آیة ۴۳ میں بھی موجود ہے، جہاں فرمایاگیاہے:( حتی تغتسلوا )

جیسا کہ تفسیر نمونہ جلد ۲ میں سُورةِ نسآء آیة ۴۳ کے ضمن میں نشاندہی کی جاچکی ہے کہ لفظ ”جنب“ مصدر ہے جو اسم فاعل کے معنی میں آیاہے در اصل اس کا مطلب ہے”دور ہونے والا“ اس کی وجہ یہ ہے کہ مجنب کو اس حالت میں نماز کی ادائیگی، مسجد میں توقف اور اس طرح کے دیگر کاموں سے دوری اختیار کرنا چاہیے۔ اور لفظ ”جنب“ مفرد، جمع، مذکر اور مونث سب کے لیے بولاجاتاہے”جار جنب“ کا اطلاق دور کے ہمسایوں پر بھی اسی مناسبت سے ہے۔

قرآن مندرجہ بالا آیت میں کہتاہے: نماز کے وقت مجنب ہوجاؤ تو غسل کرو، ممکن ہے اس سے یہ بھی اخذ کیاجاسکے کہ غسلِ جنابت، وضو کا بھی جانشین ہے۔

اس کے بعد تیمم کا حکم بیان کیاگیاہے: اگر نیندسے اُٹھے ہو اور نماز کا ارادہ رکھتے ہو اور بیمار یا مسافر ہو یا قضائے حاجت سے لوٹے ہو یا عورتوں سے جنبی ملاپ کرچکے ہو اور پانی تک تمھارے رسائی نہیں ہے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو( وَ إِنْ کُنْتُمْ مَرْضی اٴَوْ عَلی سَفَرٍ اٴَوْ جاء َ اٴَحَدٌ مِنْکُمْ مِنَ الْغائِطِ اٴَوْ لامَسْتُمُ النِّساء َ فَلَمْ تَجِدُوا ماء ً فَتَیَمَّمُوا صَعیداً طَیِّباً ) ۔

یہ نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ ”( اٴَوْ جاء َ اٴَحَدٌ مِنْکُمْ مِنَ الْغائِطِ ) “ اور ”( اٴَوْ لامَسْتُمُ النِّساء َ ) “کا عطف جیسا کہ اشارہ کیاجاچکا ہے آیت کی ابتداء یعنی ”( إِذا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلاةِ ) “پر ہے ۔ حقیقت میں آیت کی ابتداء میں نیند کے مسئلے کی طرف اشارہ ہے اور آیت کے ذیل میں دو مزید چیزوں کی طرف اشارہ ہواہے کہ جو وضو یا غسل کا سبب بنیتی ہیں اگر ان دونوں جملوں کا عطف ”علی سفر“پر کریں تو آیت میں کئی ایک اشکالات پیدا ہوں گے مثلاً قضائے حاجت سے لوٹنا ، بیماری اور مسافرت کے مقابل پر نہیں ہوسکتا لہٰذا ہم مجبور ہیں کہ ”اور“ کو ”واو“ کے معنی میں لیں (جیسا کہ بہت سے مفسرین نہ کہا ہے) اور یہ ظاہر کے بالکل خلاف ہے علاوہ ازیں یہ اشکال بھی ہے کہ وضو واجب کرنے والے امور میں سے صرف قضائے حاجت کا ذکر کرنا اس صورت میں بلا وجہ ہوگا، اگر اس طرح سے ہو جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں تو ان دونوں میں سے کوئی اعتراض لاحق نہ ہوگا(غور کیجیے گا) ۔

(بہت سے مفسرین کی طرح اگر چہ ہم بھی جلد ۳ میں نساء ۴۳ میں ”اور“ کو واو کے معنی میں ذکر کرچکے ہیں لیکن جو کچھ بیان کیاگیا ہے وہ زیادہ قرینِ نظر ہے) ۔

دوسری قابلِ توجہ یہ بات یہ ہے کہ اس آیت میں مسئلہ جنابت کا دو مرتبہ ذکر آیاہے ممکن ہے یہ تاکید کے لیے ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ ”جنب“ جنابت اور نیند میں احتلام کے معنی میں ہو اور ”او لٰمستم النساء“ سے جنبی ملاپ والی جنابت سے کنایہ ہو نیز اگر ”قیام“ سے مراد ”نیند سے اٹھنا“ لیا جائے جیسا کہ روایات اہل بیت(علیه السلام) میں ہے اور محود آیت میں اس کا قرینہ موجود ہے تو یہ خود مسئلہ جنابت کے بارے میں کی گئی تفسیر پر شاہد ہوگا(غور کیجیے گا) ۔

اس کے بعد تیمم کا طریقہ بیان کیاگیاہے: اس کے ذریعے اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرو( فَامْسَحُوا بِوُجُوهِکُمْ وَ اٴَیْدیکُمْ مِنْه ) ۔

واضح ہے کہ یہاں یہ مراد نہیں کہ کچھ مٹی اٹھا لیں اور اسے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مل لیں بلکہ مراد یہ ہے کہ پاک مٹی پر ہاتھ مارنے کے بعد چہرے اور ہاتھوں کا مسح کریں ، لیکن بعض فقہاء نے لفظ ”منہ“ کی وجہ سے کہاہے کہ چاہے تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو غبار ہاتھ پر لگا ہونا چاہیے۔(۱)

اب ”صَعیداً طَیِّباً“ کی تفسیر باقی رہ گئی ہے بہت سے علما ء ِ لغت نے ”صَعید“کے دو معانی ذکر کیے ہیں ایک مٹی اور دوسرا وہ چیزیں جنھوں نے کرةِارض کی سطح کو ڈھانپ رکھاہے چاہے وہ مٹی ہو، ریت ہو یا پتھر و غیرہ۔ یہی بات فقہاء مین اس اختلاف نظر کا باعث بن گئی ہے کہ تیمم کس چیز پر جائز ہے، کیا صرف مٹی پر تیمم جائز ہے یا پتھر اور سنگریزوں پر بھی ہوجاتاہے لیکن ”صَعید“کے اصل لغوی معنی کی طرف توجہ کرتے ہوئے یعنی ”صعود اور اوپر ہونا“ دوسرا مفہوم ہی زیادہ قرین ذہن ہے۔

”طیب“ ایسی چیزوں کو کہا جاتاہے جو انسان کی طبیعت اور مزاج کے موافق ہوں ، قرآن میں یہ لفظ بہت سی چیزوں کے ساتھ استعمال ہواہے، مثلاً : البلد الطیب، مساکن طیبة، ریح طیب، حیاة طیبة، و غیرہ۔ ہر پاکیزہ چیز کو بھی طیّب کہتے ہیں کیونکہ انسان کی طبیعت ذاتی طور پر ناپاک چیزوں سے نفرت کرتی ہے یہاں سے واضح ہوجاتا ہے کہ تیمم کی مٹی پاک پاکیزہ ہونا چاہیے۔

ہادیانِ اسلام سے منقول روایات میں خصوصاً اس بات کا تذکرہ ہے، ایک روایت میں ہے:

نهی امیر المؤمنین ان تیمم الرجل بتراب من اثر الطریق ۔

یعنی حضرت امیر المؤمنین (علیه السلام) نے گندی مٹی سے جو سُرکوں پر پڑی ہوتی ہے، تیمم کرنے سے منع فرمایاہے۔(۲)

توجہ رہے کہ قرآن و حدیث میں توتیمم اسی مخصوص اسلامی ذمّہ داری کے مفہوم میں آیاہے جس کی وضاحت کی جاچکی ہے لیکن لغت میں اس کا معنی ہے”قصد کرنا“ در حقیقت قرآن کہتاہے کہ جب تیمم کرنا چاہو تو زمین کے کسی پاک حِصّے کا قصد کرو یعنی تیمم کے لیے زمین میں سے مختلف حصوں میں سے ایسا حِصّہ منتخب کرو جو ”صعید“ کے مفہوم سے ہم آہنگ ہو جو ”صعود“ کے مادہ سے ہے زمین کے اوپر والا حصّہ جہاں بارش پڑتی ہو، سورج کی روشنی پڑتی ہو اور جس سے ہوائیں ٹکراتی ہوں ایسی مٹی جو ہاتھوں اور پاؤں سے روندی نہیں جاتی، ایسی مٹی سے استفادہ نہ صرف صحّت کے لیے مضر نہیں بلکہ جیسا کہ ہم تیسری جلد میں سورہ ِ نساء کی آیت ۴۳ کے ضمن میں بیان کرچکے ہیں ، سائنس وانوں کی گواہی کے مطابق جراثیم کش اثرات کا بھی حامل ہے۔

____________________

۱ - احکام تیمم اور اس اسلامی حکم کا فلسفہ، اور یہ کہ ایسا کرنا نہ صرف صحت کے منافی نہیں بلکہ صحّت مندی کا پہلو مندی کا پہلو رکھتا ہے، اسی طرح لفظ ”غائط“ کا مفہوم اور اس طرح کے دیگر مسائل کی تفصیل کے لیے تفسیر نمونہ جلد ۳ سورہ نسآء کی آیت ۴۳ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔

۲ وسائل الشیعہ ج۲ صفحہ ۹۶۹۔


وضو اور تیمم کا فلسفہ

تیمم کے فلسفے کے بارے میں تو تیسری جلد میں کافی بحث ہوچکی ہے۔ باقی رہا وضو کا فلسفہ تو اس میں شک نہیں کہ وضو میں دو واضح فائدے ہیں :

ایک فائدہ صحت کے حوالے سے ہے اور دوسرا فائدہ اخلاقی اور روحانی اعتبار سے ہے۔

صحت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ایک دن میں پانچ مرتبہ یا کم از کم تین مرتبہ چہرے اور ہاتھوں کے دھونا، بدن کی نظافت اور پاکیزگی میں اہم کردار ادا کرتاہے۔ سراور پاؤں کے مسح کی شرط کہ جس میں ضروری ہے کہ پانی ہالوں یا بدن کے چمڑے کو مَس کرے بھی اس چیز کا سبب بنتاہے کہ یہ اعضاء بھی پاک صاف رکھے جائیں اور جیسا کہ نسل کے فلسفہ میں ہم وواضح کریں گے، پانی کا بدن کے چمڑے کو مس کرنا سمپاتھیک ( sympathetic )اور پیرا سمپاتھیک( parasympathetic )اعصاب معتدل رکھنے میں بہت مؤثر ہے۔

اخلاقی و روحانی حوالے سے دیکھا جائے تو چونکہ یہ کام قصد قربت سے اور خدا کے لیے کیا جاتاہے لہٰذا تربیتی اثرات کا حامل ہے خصوصاً جب کہ کنایةً اس کا مفہوم یہ ہے کہ میں سر سے لے کر پاؤں تک تیری اطاعت کے لیے حاضر ہوں ۔ اس اخلاقی اور معنوی پہلو کی موید وہ روایت ہے جو امام علی بن موسٰی رضا علیہما السلام سے منقول ہے، آپ (علیه السلام) نے فرمایا:

انما امر الوضوء و بدء به لان یکون العبد طاهراً اذا قام بین یدی الجبار، عند مناجاته ایاه، مطیعاً له فیما امره، تقیًا من الادناس و النجاسة، مع ما فیه من ذهاب الکسل، و طرد النعاس و تزکیة الفؤاد للقیام بین یدی الجبار ۔

و ضو کا حکم اس لیے دیا گیا ہے اور عبادت کی ابتداء اس سے اس لیے کی گئی ہے تا کہ بندے جب بارگاہ الٰہی میں کھڑے ہوں اور مناجات کریں تو پاک و پاکیزہ ہوں ، اس کے احکام پر کار بند رہیں اور آلودگیوں اور نجاستوں سے دور رہیں ۔ اس کے علاوہ وضو کے سبب سے نیند اور سُستی کے اثرات انسان سے دور ہوجاتے ہیں نیز یہ اس لیے ہے تا کہ دل درگاہِ خداوندی میں کھڑے ہونے کے لیے روشنی اور پاکیزگی حاصل کرلے۔(۱)

____________________

۱ - وسائل الشیعہ جلد ۱ صفحہ


غُسل کا فلسفہ

بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ حالت جنب کے لیے اسلام غسل کا حکم کیوں دیتاہے جبکہ ایک خاص حصّہ آلودہ ہوتاہے۔ پیشاب کرنے اور مَنی خارج ہونے میں کیا فرق ہے؟ جب کہ ایک میں تو فقط اس جگہ کو دھونے کا حکم ہے اور دوسرے میں سارے بدن کو دھونے کا ۔

اس سوال کا ایک جواب اجمالی ہے اور دوسرا تفصیلی ۔

اجمالی جواب یہ ہے کہ اخراج منی پیشاب اور دیگر فضلات کی طرح کسی ایک حِصّے کا عمل نہیں ہے کیونکہ اس کا اثر سارے بدن پر ہوتاہے۔ بدن کے تمام فلیے اس کے اخراج کے بعد ایک خاص سُستی میں ڈوب جاتے ہیں جو کہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ کام سارے بدن کے اعضاء پر اثر انداز ہوتاہے اس کی وضاحت کچھ یوں ہے:

سائنس دانوں اور ڈاکٹروں کی تحقیق کے مطابق انسانی جسم میں نباتی اعصاب کے دو سلسلے ہیں جو بدن کی تمام فعالیت کو کنٹرول کرتے ہیں ایک سمپاتھیک اور دوسرا پیرا سمپاتھیک سارے انسانی بدن میں اور اس کی مشینریوں میں یہ سلسلے پھیلے ہوئے ہیں ۔ سمپاتھےک ( sympathetic ) اعصاب کی ذمہ داری ہے ”تیز کرنا“ اور بدن مختلف مشینریوں کو فعالیت پرا بھار نا اور پیرا سمپاتھیک( parasympathetic )کا کام ہے ان کی فعالیت کو سست کرنا ۔ در حقیقت ان میں ایک گاڑی کے لیے گیس یا پٹرول کی حیثیت رکھتاہے اور دوسرا بر یک کا کام کرتا ہے ان دو طرح کے نباتی اعصاب کی فعالیت کے اعتدال سے جسم کا کارخانہ معتدل طور پر کام کرتا رہتاہے۔

بعض اوقات انسانی بدن میں اس طرح کے حوادث نمودار ہوتے ہیں جو اس اعتدال کو درہم برہم کردیتے ہیں ۔ جنسی لذّت کا عروج پر پہنچنا( climax ) بھی ایسے حوادث میں سے ہے جو عام طور پر منی کے اخراج کی صورت میں ظہور پذیر ہوتاہے اس موقع پر پیرا سمپاتھیک( parasympathetic ) کا سلسلہ سمپاتھیک ( sympathetic ) اعصاب پر سبقت حاصل کرلیتاہے اور اعتدال منفی شکل میں بدل جاتاہے۔

یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ سمپاتھیک( sympathetic ) اعصاب کو کام پر ا بھار نے اور بدن کے اعتدال کو واپس لانے کے لیے بدن سے پانی کا مَس کرنا بھی مؤثر ہے اور چونکہ جنسی لذت کا عروج ( climax )تمام اعضائے بدن پر حسی طور پر اثر انداز ہوتاہے اور اعصاب کے ان دونوں سلسلوں کا اعتدال سارے بدن میں ٹوٹ جاتاہے لہٰذا حکم دیا گیاہے کہ جنسی ملاپ یا اخراج منی کے بعد سارے بدن کو پانی سے دھویا جائے تا کہ اس کا حیات بخش اثر پورے جسم میں اعصاب کے اعتدال کے بحالی کی صورت میں ظاہر ہو۔

امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے منقول ہے، آپ(علیه السلام) نے فرمایا:

ان الجنابةخارجة من کل جسد فلذٰلک وجب علیه تطهیر جسده کله

جنابت سارے بدن سے خارج ہوتی ہے لہٰذا پورے بدن کو دھویا جائے۔ (وسائل الشیعہ ج ۱ ص ۴۶۶)

یہ روایت بھی گویا اسی امر کی طرف اشارہ ہے۔

البتہ غسل کا بس یہی فائدہ نہیں بلکہ یہ غسل ایک طرح کی عبادت بھی ہے جس کے اخلاقی اثرات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا اسی لیے قصد قربت اور فرمانِ خدا کی اطاعت کی نیّت بغیر ایسا غسل صحیح نہیں ہے۔ در حقیقت جنسی ملاپ اور اخراج منی کے وقت روح بھی متاثر ہوتی ہے اور جسم بھی ۔ روح مادی شہوات کی طرف کھینچتی ہے اور جسم سستی کا شکار ہوتاہے۔ جسم کو چونکہ قصد قربت سے دھویا جاتاہے لہٰذا یہ ایک طرح سے غُسِل روح بھی ہے۔ اس طرح سے روح خدا اور معنویت کی طرف مائل ہوتی ہے اور جسم پاکیزگی، نشاط اور فعالیت کی طرف۔

ان تمام باتوں سے قطع نظر، زندگی بھر غسلِ جنابت کا وجوب بدن کی نگہداشت اور صحت کی حفاظت کے لیے ایک لازمی اور ضروری اسلامی حکم ہے۔ کیونکہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اپنی نظافت اور سُترائی سے غافل رہتے ہیں لیکن یہ اسلامی حکم مختلف وقتی فاصلوں پر انھیں نہانے اور بدن کو پاک رکھنے پر ابھارتاہے۔ یہ امر گذشتہ زمانے کے لوگوں سے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ خود ہمارے زمانے میں بھی ایسے بہت سے لوگ ہیں جو جسم کی نظافت اور صفائی سے مختلف وجوہ کی بناپر غافل رہتے ہیں (البتہ یہ حکم کُلی اور عمومی ہے یہاں تک کہ اس شخص کے لیے بھی ہے جس نے ابھی تازہ غسل کیاہے)

مذکورہ بالا تینوں وجہ مجموعی طور پر واضح کرتی ہیں کہ نیند یا بیداری کی حالت میں اخراج منی اور جنسی ملاپ کی صورت میں اگرچہ منی خارج نہ ہو سارے بدن کو کیوں لازمی طور پر دھونا چاہیے۔

آیت کے آخر میں یہ بات واضح کرنے کے لیے کہ مذکورہ احکام میں کوئی سختی نہیں ہے بلکہ وہ سارے احکام مصلحتوں اور حکمتوں کی بناپر نافذ کیے گئے ہیں ، فرمایا گیاہے: خدا نہیں چاہتا کہ تمھیں مشقت اور زحمت میں ڈال دے بلکہ وہ چاہتاہے کہ تمھیں پاک و پاکیزہ رکھے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردے تا کہ تم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو( ما یُریدُ اللَّهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِنْ حَرَجٍ وَ لکِنْ یُریدُ لِیُطَهِّرَکُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ ) ۔

در اصل اس جملے میں اس حقیقت کی تاکید کی گئی ہے کہ تمام خدائی احکام اور اسلامی پروگرام لوگوں کی خاطر اور انہی کے فائدے میں ہیں اور ان سے کچھ اور مقصود نہیں ، خدا چاہتاہے کہ ان احکام کے ذریعے لوگوں کو روحانی اور جسمانی طور پر پاکیزہ رکھے۔

ضمناً اس طرف بھی توجہ رہے کہ خدا نہیں چاہتا کہ تمھارے دوش پر کوئی طاقت فرسا اور مشکل ذمہ داری ڈال دے یہ بات اگرچہ غسل، وضو اور تیمم سے مربوط احکام کے ضمن میں آئی ہے لیکن یہ ایک عمومی قانونی بھی بیان کررہی ہے کہ احکام الٰہی کسی موقع پر بھی طاقت فرسا اور قُوّت سے بڑھ کر نہیں ہیں ۔اس لیے جب کوئی حکم یا ذمہ داری کسی کے لیے سخت مشکل اور ناقابل برداشت ہوجائے تو اس کے پیشِ نظر وہ اس سے ساقط ہو جاتی ہے۔ مثلاً اگر کسی بوڑھے مرد یا بوڑھی عورت کے لیے روزہ رکھنا باعثِ مشقت ہوجائے تو اسی آیت کی بناپر ان پر واجب نہیں رہتا ۔یہ بات فراموش نہیں کی جانا چاہیے کہ بعض احکام ذاتی طور پر مشکل ہیں اور اہم مقاصد اور مصلحتوں کے پیش نظر ایسی مشکلات کو برداشت کرنا چاہیے۔ مثلاً دشمنانِ حق کے خلاف جہاد ۔اس آیت سے فِقہ اسلام میں ایک بنیادی اصول ”قاعده لاحرج --“ حاصل کیا گیاہے اور فقہاء بہت سے مواقع پر احکام کے استنباط میں اس سے استناد کرتے ہیں ۔

۱۔ لمبائی میں چہرے کی حد بالوں کے اگنے کی جگہ سے لے کر ٹھوڑی تک ہے اور چوڑائی میں وہ حِصِہ جو در میانی انگلی اور انگو ٹھے کے در میان آجائے۔

۲ -سیبویہ عربی لغت کا مشہول ماہر اور علم نحو کا عالم تھا وہ کہتاہے کہ جہاں کہیں لفظ ”الی“ کا مابعد اور ماقبل ایک جنس سے ہوں تو ما بعد قبل کے حکم میں ہوتاہے اور اگر وہ جنسوں سے ہوں تو پھر خارج ہوتاہے( مثلاً اگر کہا جائے کہ دن کی آخری گھڑی تک روزہ رکھو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آخری گھڑی میں بھی روزہ رکھو اور اگر کہاجائے کہ ابتدائے رات تک روزہ رکھو تو اس کا معنی یہ ہے کہ ابتدائے رات حکم میں داخل نہیں ہے) ۔ (المنارج۶ ص۲۲۳)

۳ اس میں شک نہیں کہ ”وجوہکم “اور”ارجلکم“ میں بہت فاصلہ ہے لہٰذا اس پر عطف کرنا بہت بعید نظر آتاہے۔ علاوہ ازیں بہت سے قاریوں نے ’ارجلکم“ کو امام کی زیر کے ساتھ پُرھاہے۔


آیت ۷

۷۔( وَ اذْکُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَیْکُمْ وَ میثاقَهُ الَّذی واثَقَکُمْ بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنا وَ اٴَطَعْنا وَ اتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ عَلیمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ ) ۔

ترجمہ

۷۔ اپنے اور پر خدا کی نعمت کو یاد کرو اور اس عہد و پیمان کو (بھی یاد کرو) جو اس نے تم سے لیا ہے۔ اس وقت جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی اور خدا (کی نافرمانی) سے ڈرو، کیونکہ خدا سینوں کے اندر کے حالات سے آگاہ ہے۔

خدا سے باندھے گئے پیمان

گذشتہ آیت میں چند احکامِ اسلامی اور نعماتِ الٰہی کی تکمیل کا ذکر تھا ۔ اسی بحث کی مناسبت سے اس آیت میں مسلمانوں کو دوبارہ خدا کی لا متناہی نعمات کی اہمیّت کی طرف توجّہ دلائی گئی ہے ان نعمات میں سب سے اہم ایمان، اسلام اور ہدایت کی نعمت ہے، ارشاد فرمایا گیاہے: خدا کی نعمتوں کو یاد رکھو( وَ اذْکُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَیْکُم ) یہاں لفظ ”نعمت“ مفرد صورت میں ہے لیکن یہ جنس کے معنی میں ہے اور جنس یہاں عمومیّت کا مفہوم رکھتی ہے لہٰذا اس سے مراد تمام تر نعمتیں ہیں ۔

البتہ یہ احتمال بھی ہے کہ خصوصیّت سے یہاں نعمتِ اسلام مراد ہو جس کی طرف گذشتہ آیت میں اشارہ کیا گیا ہے، جہاں فرمایا گیاہے: ولیتم نعمتہ علیکماور اس سے بڑھ کر کون سی نعمت ہوسکتی ہے۔ اسلام ہی کے زیر سایہ مسلمانوں کو تمام تر نعمتیں ، افتخارات اور وسائل نصیب ہوئے۔ وہ لوگ جو پہلے بالکل منتشر ، جاہل، گمراہ، خوں خوار، فاسد اور مفسد تھے۔ اسلام نے انھیں اتحاد اور دانائی عطا کی اور وہ مادی و روحانی نعمتوں سے ملامال ہوگئے۔

اس کے بعد وہ عہد و پیمان جوانھوں نے خدا سے باندھا ہے اس کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیاہے: اور میثاقِ الٰہی کو فراموش نہ کرو جبکہ اس وقت تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی( وَ میثاقَهُ الَّذی واثَقَکُمْ بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنا وَ اٴَطَعْنا ) ۔

اس بارے میں کہ اس پیمان سے کون سا پیمان مراد ہے دو احتمالات پیش کیے گئے ہیں ۔

پہلا وہ پیمان کہ جو مسلمانوں نے آغازِ اسلام میں حدبیہ کے موقع پر باندھا تھا یا حجة الوداع یا عقبہ میں باندھا تھا یا پھر وہ پیمان جو ہر مسلمان نے اسلام قبول کرتے ہی بالواسطہ طور پر خدا سے باندھا تھا ۔

دوسرا: وہ پیمان جو فطری طور پر ہر شخص اپنے خدا سے باندھ چکا ہے اسی کو بعض اوقات ”عالم ذر“ کہتے ہیں ۔

اس کی وضاحت یہ ہے کہ خدا نے انسان کو اس کی خِلقت کے وقت قابلِ نظر صلاحیتیں اور بے شمار نعمتیں عطاکیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے انسان کو اسرار آفرینش اور اس کے ذریعے پروردگار کی معرفت کی استعداد بخشتی ہے۔ اسی طرح اس نے عقل و شعور سے نوازا، جس کے ذریعے انسان پیغمبروں کو پہچانتاہے اور ان کے احکام پر عمل کرتاہے۔

یہ صلاحیتیں عطا فرما کر خدانے عملاً انسان سے یہ عہد لیا کہ وہ انھیں معطل اور باطل نہیں کر چھوڑے گا، بلکہ ان سے صحیح طور پر استفادہ کرے گا اور انسان بھی یہ صلاحیتیں حاصل کرکے بزبانِ حال پکار اٹہا کہ سمعنا و اطعنا ہم نے سنا اور اطاعت کی ۔

یہ عہد و پیمان زیادہ وسیع ، زیادہ پائیدار اور زیادہ عمومی ہے جو خدا نے اپنے بندوں سے لیاہے یہ وہی پیمان ہے جس کی طرف حضرت علی(علیه السلام) نے نہج البلاغہ کے پہلے خطبے میں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:لیستادوهم میثاق فطرته

انبیاء اس لیے بھیجے گئے کہ وہ لوگوں کو پیمانِ فطرت پورا کرنے کی دعوت دیں ۔

واضح ہے کہ یہ وسیع پیمان تمام دینی مسائل پر بھی محیط ہے۔(۱)

کوئی مانع نہیں کہ یہ آیت تمام تکوینی اور تشریعی عہد و پیمان (جو خدا نے بحکم فطرت لیے ہیں یا رسول اللہ نے مسلمانوں سے مختلف موقعوں پر لیے ہیں ) کی طرف اشارہ ہو۔

یہاں سے واضح ہوگیا کہ وہ حدیث جس میں ہے کہ میثاق سے مراد وہ عہد و پیمان ہے جو رسول اللہ نے حجة الوداع میں ولایت علی(علیه السلام) کے سلسلے میں لیا تھا وہ ہمارے مذکورہ بیان سے پورسی مناسبت رکھتاہے کیونکہ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ مختلف آیات کے ذیل میں آنیوالی احادیث کسی ایک روشن اور واضح مصداق کی طرف اشارہ کرتی ہیں نہ یہ کہ مفہوم آیات ان میں منحصر ہے۔

ضمناً توجہ رہے کہ ”میثاق“ اصل میں ”وثاقہ“ کے مادہ سے ہے جو طناب و غیرہ سے کسی چیز کو باندھنے کے معنی میں ہے بعد ازاں ہر اس کام کو کہاجانے لگا جو اطمینانِ خاطر کا سبب بنے۔ عہد و پیمان چونکہ ایک گرہ کی مانند ہے جو دو افراد یا دو گروہوں کے در میان بندھ جاتاہے اور ان کے اطمینان کا باعث بنتاہے اس لیے اسے میثاق کہتے ہیں ۔

آیت کے آخر میں تاکید کے طور پر فرمایا گیاہے: پرہیزگاری اختیار کرو کہ خدا سینوں کے اندر کے اسرار سے آگاہ ہے( وَ اتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ عَلیمٌ بِذاتِ الصُّدُور ) ۔(۲)

”ذات الصدور “ مرکّب ہے۔ ”ذات“ عین اور حقیقت کے معنی میں ہے اور ”صدور“ ، ”صدر“ کی جمع ہے جس کا معنی ہے سینہ، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ خدا ان باریک ترین اسرار سے باخبر ہے جو انسان کی روح کی گہرائیوں میں چھپے ہوتے ہیں اور انھیں اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔ عواطف، احساسات اور نیتوں کو دل اور اندرونِ سینہ سے کیوں نسبت دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں جلد اوّل صفحہ ۱۰۰ ( اُردو ترجمہ ) میں تفصیل سے بحث کی جاچکی ہے۔

____________________

۱- اس بارے میں مزید تشریح اور یہ کہ اسے ”عالم ذر“ کیوں کہتے ہیں انشاء اللہ اعراف ۱۷۲کے ذیل میں ملاحظہ کیجیے گا ۔

۲ تفسیر برہان ج۱ صفحہ


آیات ۸،۹،۱۰

۸۔( یا اٴَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا کُونُوا قَوَّامینَ لِلَّهِ شُهَداء َ بِالْقِسْطِ وَ لا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلی اٴَلاَّ تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ اٴَقْرَبُ لِلتَّقْوی وَ اتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبیرٌ بِما تَعْمَلُونَ ) ۔

۹۔( وَعَدَ اللَّهُ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَ اٴَجْرٌ عَظیمٌ ) ۔

۱۰۔( وَ الَّذینَ کَفَرُوا وَ کَذَّبُوا بِآیاتِنا اٴُولئِکَ اٴَصْحابُ الْجَحیمِ ) ۔

ترجمہ

۸۔اے ایمان والو! ہمیشہ خُدا کے لیے قیام کرو اور عادلانہ گواہی دو اور کسی گر وہ کی دشمنی تمھیں ترکِ عدالت کی طرف نہ لے جائے۔ عدل کرو کہ وہ پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو کہ جو کچھ تم کرتے ہو خُدا اس سے آگاہ ہے۔

۹۔ خدا نے ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں سے بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیاہے۔

۱۰۔ اور جو لوگ کافر ہوگئے ہیں اور ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں وہ اہلِ جہنم ہیں ۔

قیامِ عدالت کا تاکیدی حکم

پہلی آیت قیامِ عدالت کی دعوت دیتی ہے۔ ایسی ہی دعوت کچھ فرق کے ساتھ سُورہ نسآء آیة ۱۳۵ میں گذر چکی ہے۔

پہلے تو صاحب ایمان افراد کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیاہے : اے ایمان والو! ہمیشہ خدا کے لیے قیام کرو اور عادلانہ گواہی دو( یا اٴَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا کُونُوا قَوَّامینَ لِلَّهِ شُهَداء َ بِالْقِسْطِ ) ۔

اس کے بعد عدالت سے انحراف کے ایک عمومی سبب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ قومی عداوتیں اور شخصی معاملات کہیں تمہیں اجرائے عدالت سے روک نہ دیں اور کہیں دوسروں کے حقوق پر تجاوز کا سب نہ بن جائیں کیونکہ عدالت ان تمام چیزوں سے بالاتر ہے( وَ لا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلی اٴَلاَّ تَعْدِلُوا ) ۔

مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر دوبارہ عدالت ہی کا حکم دیا گیا ہے : عدالت اختیار کرو کہ وہ پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے( اعْدِلُوا هُوَ اٴَقْرَبُ لِلتَّقْوی ) ۔

عدالت چونکہ تقویٰ و پرہیزگاری کا بہترین رکن ہے لہٰذا تیسری مرتبہ بطور تاکید فرمایا گیاہے: خدا سے ڈرو کیونکہ خدا تمھارے تمام اعمال سے آگاہ ہے( وَ اتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبیرٌ بِما تَعْمَلُون ) ۔

اس آیت میں اور سُورہ نساء کی آیت ۱۳۵ میں چند پہلوؤں میں فرق ہے ، جو یہ ہیں :

۱۔ سورہ نسآء میں عدالت کے قیام اور خدا کے لیے گواہی دینے کی دعوت دی گئی ہے لیکن یہاں خدا کے لیے قیام اور حق و عداوت کی گواہی دینے کی دعوت دی گئی ہے یہ فرق شاید اس لے ہو کہ سُورہ نسآء میں ہدف یہ تھا کہ گواہیاں خدا کے لیے دی جائیں نہ کہ اقرباء اعزا اور وابستگان کے لیے، لیکن یہاں چونکہ گفتگو دشمن کے متعلق ہے ۔ لہذا عدل و قسط پر مبنی گواہی کی بات کی گئی ہے یعنی ظلم و ستم پر مبنی گواہی نہ ہو۔

۲۔ سورہ نسآء میں عدالت سے انحراف کا ایک سبب بیان کیا گیاہے اور یہاں دوسرا سبب مذکور ہے دہاں بلا وجہ محبت میں افراد اور یہاں بلا وجہ بغض میں افراط کی طرف اشارہ ہے۔

لیکن سورہ نسآء کی اس بات میں دونوں جمع ہیں کہ( فلا تتبعوا الهویٰ ان تعدلوا ) یعنی ترک عدالت سے ہوا و ہوس کی پیروی نہ کروبلکہ ہوا و ہوس کی پیروی ظلم و ستم کا وسیع منبع ہے کیونکہ ظلم و ستم بعض اوقات ہواپرستی کی وجہ سے اور شخصی مفادات کے تحفظ کے لیے ہوتاہے نہ کہ دوستی اور دشمنی کی بناپر، لہٰذا عدالت سے انحراف کی اصل بنیاد ہوا و ہوس کی پیروی ہے جس کے بارے میں پیغمبر اکرم اور حضرت امیر المؤمنین(علیه السلام) نے فرمایاہے:

اما اتباع الهویٰ فیسد عن الحق

ہوا پرستی تمھیں حق سے باز رکھے گی ۔(۱)

اسلام میں بہت کم مسائل عدالت جیسی اہمیّت کے حامل ہیں کیونکہ مسئلہ عدل، مسئلہ توحید کی طرح اسلام کے تمام اصول و فروع کی بنیاد ہے، جیسے اعتقادی، عملی، انفرادی، اجتماعی، اخلاقی اور حقوق کے بارے میں کوئی بھی مسئلہ حقیقت توحید سے جدا نہیں اس طرح ان میں کوئی بھی روحِ عدل سے خالی نہیں ملے گا ۔

یہی وجہ ہے کہ تعجّب کا مقام نہیں کہ عدل اصول ِ دین میں سے ہوا ور مسلمانوں کی فکری عمارت کی ایک بنیاد کے طور پر پہچانا جائے۔ اگرچہ عدالت جو کہ اصول دین کا حِصّہ ہے صفات الہیہ میں سے ہے اور خدا شناسی جو کہ اصولِ دین میں سے ایک ہے میں عدالت بھی شامل ہے لیکن اسے ممتاز اور جدا رکھنا بہت معنی خیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے اجتماعی مباحث میں عدالت سے بڑھ کر کسی اصل سے کام نہیں لیاگیا ۔ مندرجہ ذیل احادیث اس کی اہمیّت واضح کرنے کے لیے کافی ہیں ۔

۱۔ پیغمبر اسلام فرماتے ہیں :ایاکم و الظلم فان الظلم عند الله هو الظلمات یوم القیٰمة

ظلم سے بچو کیونکہ ہر عمل روز قیامت اپنی مناسب شکل میں مجسم ہوگااور ظلم ظلمت و تاریکی کی صُورت میں مجسم ہوگا اور تاریکی کا پردہ ظالموں کو گھیرے ہوئے ہوگا ۔(۲)

اور ہم جانتے ہیں کہ ہر خیر و برکت نور میں ہے اور ظلمت ہر عدم اور فقدان کا سرچشمہ ہے۔

۲۔رسول اللہ سے منقول ہےبالعدل قامت السمٰوٰت و الارض

آسمان اور زمین عدل کی بنیاد پر قائم ہیں ۔(۳)

عدالت کے بارے یہ بات واضح ترین ممکن تعبیر ہے۔ یعنی نہ صرف یہ کہ نوعِ بشر کی یہ محدود زندگی اس کُرّہ خاکی میں عدالت کے بغیر برپا نہیں ہوسکتی بلکہ تمام جہانِ ہستی اور آسمان و زمین سب کا قیام عدالت کی وجہ سے ، توانائیوں کے اعتدال کے باعث اور ہر چیز کے اپنے مقام و محل پر ہونے کے سبب سے ہے اور اگر یہ لحظہ بھر کے لیے اور سوئی کی نوک کے برابر اس اصول سے منحرف ہوجائیں تو تباہ برباد ہوجائیں ۔ اس سے ملتی جُلتی ایک اور حدیث میں فرمایا گیاہے:

الملک یبقی مع الکفر و لا یبقی مع الظلم

حکومتیں کُفر سے تو ممکن ہے باقی رہ جائیں ، لیکن ظالم ہوں تو انھیں دوام حاصل نہیں ہوسکتا ۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ظلم ایک ایسی چیز ہے جس کا اثر اس دنیا میں جلدی ظاہر ہوجاتاہے آج کی دنیا میں جنگیں ، اضطراب، بے اطمینانی سیاسی افراتفری، نیز اجتماعی، اخلاقی اور اقتصادی بحران اس حقیقت کو اچھے طریقے سے ثابت کررہے ہیں ۔

جس چیز کی طرف پوری توجّہ رہنا چاہیے وہ یہ ہے کہ اسلام عدالت کی فقط نصیحت نہیں کرتا بلکہ اس کی نظر میں زیادہ اہم عدالت کا رائج ہونا ہے ان آیات و روایات کا فقط بر سرِ منبر پڑھنا، کتابوں میں لکھنا یا تقاریر میں سنانا معاشرے میں موجود نا انصافیوں ، برائیوں اور خرابیوں کا علاج نہیں بلکہ ان احکام کی عظمت اس دن واضح ہوگی جب یہ مسلمانوں کی زندگی میں جاری و ساری ہوجائیں گے۔

اگلی آیت میں خصوصی احکام کی تاکید اور تکمیل کے لیے سنت قرآن کے مطابق کلی قانون اور اصول کی نشاندہی کی گئی ہے ایمان لانے والوں سے خدا بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کرتاہے( وَعَدَ اللَّهُ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَ اٴَجْرٌ عَظیم ) اور جو اللہ اور اسکی نشانیو نکو جھٹلاتے ہیں وہ اہلِ دوزخ ہیں( وَ الَّذینَ کَفَرُوا وَ کَذَّبُوا بِآیاتِنا اٴُولئِکَ اٴَصْحابُ الْجَحیم )

یہ بات قابل توجہ ہے کہ بخشش اور اجر عظیم کا ذکر اس آیت میں خدا تعالیٰ کے وعدہ کے طور پر آیا ہے اور فرمایاگیاہے:

وعد اللہ یعنی اللہ کا وعدہ ہے لیکن دوزخ کی سزا کا ذکر عمل کے نتیجہ کی صورت میں ہے، فرمایا گیاہے: جن لوگوں کے ایسے اعمال ہوں گے ان کا انجام بھی ایسا ہی ہوگا یہ در حقیقت دارِ آخرت کی جزا میں خدا کے فضل و رحمت کی طرف اشارہ ہے جو کسی طرح بھے انسان کے ناچیز اعمال کے برابر نہیں ہے جیسا کہ وہاں کی سزا بھی انتقامی پہلو نہیں رکھتی ۔ بلکہ خود آدمی کے اعمال کا نتیجہ ہے۔

ضمناً یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ ”اٴَصْحابُ الْجَحیم “میں ”اصحاب“ کا معنی ہے یار و انصار جو ہمیشہ ساتھ دینے والے ہوتے ہیں ۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے دوزخ کے ساتھی ہیں لیکن تنہا یہ آیت دوزخ میں ہمیشہ رہنے کی دلیل نہیں بن سکتی جیسا کہ تفسیر تبیان ، مجمع البیان اور تفسیر فخر الدین رازی میں آیاہے کیونکہ اس میں قیام ہوسکتاہے دائمی ہوا اور یہ بھی ممکن ہے کہ طویل مُدّت کے لیے ہو اور اس کے بعد نہ ہو جیسا کہ حضرت نوح(علیه السلام) کی کشتی میں سوار ہونے والوں کے لیے قرآن میں ”اٴَصْحابُ السفینه “(کشتی کے ساتھی) کہا گیاہے اور اس میں قیام بھی دائمی نہ تھا ۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ کفار دوزخ میں رہیں گے لیکن زیر نظر آیت میں اس کے بارے میں گفتگو نہیں ہے بلکہ یہ بات دیگر آیات سے معلوم ہوتی ہے۔

الْجَحیم“مادہ ”جحم“(بر وزن ”فہم“) سے ہے اس کا معنی ہے ”شدت سے آگ بھڑک“جہنم کو اسی وجہ سے ”جحیم“ کہا گیا ہے۔ دنیا کی جلانے والی وسیع آگ کو بھی کبھی ”جحیم“ کہتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم(علیه السلام) کے واقعہ میں ہے کہ نمرود نے یوں کہا:( فالقوه فی الجحیم )

پس اے بھڑکتی آگ میں ڈال دو (الصٰفٰت۔ ۹۷)

____________________

۱ یہ حدیث کتاب سفینة البحار میں مادہ ”ہویٰ“کے ذیل میں پیغمبر اکرم سے منقول ہے اور نہج البلاغہ کے خطبہ ۴۲ میں حضرت علی(علیه السلام) سے نقل ہوئی ہے۔

عدالت ایک اہم اسلامی حُکم ہے ۲ سفینة البحارمادہ”ظلم“ ۳ -تفسیر صافی سورہ رحمن آیة ۸ کے ذیل میں ۔


آیت ۱۱

۱۱۔( یا اٴَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا اذْکُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَیْکُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ اٴَنْ یَبْسُطُوا إِلَیْکُمْ اٴَیْدِیَهُمْ فَکَفَّ اٴَیْدِیَهُمْ عَنْکُمْ وَ اتَّقُوا اللَّهَ وَ عَلَی اللَّهِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُونَ )

ترجمہ

۱۱۔ اے ایمان والو! و ہ نعمت یاد رکو جو خدا نے تمھیں جبکہ (دشمن کی) ایک جماعت نے ارادہ کر رکھا تھا کہ تم پر ہاتھ اٹھائے ( اور تمھیں ختم کردے) لیکن خدا نے ان کا ہاتھ تم سے روک دیا، خدا سے ڈرو اور مومنین کو چاہیے کہ وہ صرف خدا پر ہی توکّل (اور بھروسہ) کریں ۔

تفسیر

گذشتہ چند آیات میں نعمات الٰہی کے ذکر کے بعد اس آیت میں پھر روئے سخن مسلمانوں کی طرف ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کچھ اور نعمتیں مسلمانوں کو یاد دلائی ہیں تا کہ ان کے شکر انے کے طور پر فرمانِ خدا کی اطاعت کرین اور عدالت کے قیام کی کوشش کریں ۔

فرمایا گیا ہے: اے ایمان لے آنے والو! خدا کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب ایک گروہ مصمم ارادہ کرچکا تھا کہ تمھاری طرف ہاتھ بڑھائے اور تمھیں ختم کردے لیکن خدا نے ان کا شر تم سے دُور کردیا( یا اٴَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا اذْکُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَیْکُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ اٴَنْ یَبْسُطُوا إِلَیْکُمْ اٴَیْدِیَهُمْ فَکَفَّ اٴَیْدِیَهُمْ عَنْکُمْ ) ۔

خداوند عالم آیاتِ قرآنی میں مسلمانوں کو بار بار اپنی گوناگوں نعمات اور الطاف یاد دلاتاہے تا کہ ان میں روحِ ایمان کو محکم کرے، ان میں شکر گذاری کا احساس اجاگر کرے اور مشکلات کے مقابلے میں انھیں ثباتِ قدم پر ابھارے۔ ایسی آیات میں سے ایک زیر نظر آیت بھے ہے۔ رہا یہ سوال کہ یہ آیت کون سے واقعہ کی طرف اشارہ کررہی ہے، اسی سلسلے میں مفسرین میں ا ختلاف ہے بعض سمجھتے ہیں کہ یہ نبی نضیر کے یہودیوں کا خطرہ برطرف کرنے کی طرف اشارہ ہے، جنھوں نے مدینہ میں رسول(علیه السلام) خدا اور مسلمانوں کو ختم کرنے کی سازش کی تھی ۔

بعض مفسرین اے”بطن نخل“ کے واقعہ کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جو حدیبیہ کے موقع پر ہجرت کے چھٹے برس واقع ہوا ۔ ہوا یہ کہ خالد بن ولید کی سرکردگی میں مشرکین مکہ کی ایک جماعت نے پروگرام بنایا کہ نمازِ عصر کے دوران میں مسلمان پر حملہ کردیں ۔ پیغمبر اکرم اس سازش سے آگاہ ہوگئے۔ آپ نے نماز کو مختصر کر کے نمازِ خوف میں تبدیل کردیا ۔ اس طرح ان کی سازش نقش بر آب ہوگئی ۔

بعض اسے رسول اللہ اور مسلمانوں کی حادثات سے معمور زندگی کے دیگر حوادث کی طرف اشارہ قرار دیتے ہیں ۔

بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ آیت ان تمام حوادث کی طرف اشارہ کر رہی ہے جو پوری تاریخ اسلام میں وقوع پذیر ہوتے رہے۔ آیت میں لفظ ”قوم“ نکرہ ہے اور وحدت پر دلالت ہے، اگر اس سے صرف نظر کرلیں تویہ تفسیر دیگر تفاسیر سے بہتر ہے۔

بہر حال آیت مسلمانوں کی توجہ ان فطرات کی طرف دلارہی ہے جن میں ممکن تھا کہ ان کا نام ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹ جاتاہے۔ آیت تنبیہ کررہی ہے کہ ان نعمتوں کی قدردانی کرتے ہوئے تقویٰ اختیار کرو،خدا پر بھروسہ رکھو اور جان لو کہ اگر تم پرہیزگار رہے تو زندگی میں اکیلے نہیں رہو گے اور وہ دستِ غیب جو ہمیشہ تمھارا محافظ رہاہے آئندہ بھے حمایت کرتارہے گا( وَ اتَّقُوا اللَّهَ وَ عَلَی اللَّهِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ) ۔

واضح ہے کہ توکّل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے کام خدا پر چھوڑنے کے بہانے ذمّہ داریوں سے صرف نظر کرلے یا حوادث کے سامنے سر جُھکالے بلکہ مقصد یہ ہے کہ اپنی پوری صلاحیّت اور توانائی کو بروئے کار لانے کے با وجود اس طرف متوجہ رہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ خود اس کی اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ کسی دوسری ذات کی طرف سے ہے۔ اس طرح غرور اور خود پرستی کا احساس اپنے دل سے نکال دے نیز اس بات سے نہ ڈرے کہ مشکلات و حوادث بہت زیادہ اور شدید ہیں ، مایوس نہ ہو اور جان لے کہ اس کے پاس ایک ایسا سہارا ہے جس کی قدرت تمام قدرتوں سے بالاتر ہے۔

ضمناً یہ امر بھی لائقِ توجہ ہے کہ آیت میں پہلے تقویٰ کا حکم دیا گیا ہے پھر توکّل کی طرف اشارہ ہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ خدا کی حمایت پرہیزگاروں کے شامل حال ہے۔

توجہ رہے کہ ”تقویٰ-“ ”وقایہ“کے مادہ سے ہے۔ اس کا مطلب ہے۔ اپنا بچاؤ اور فساد اور برائی سے اجتناب کرنا ۔


آیت ۱۲

۱۲۔( وَ لَقَدْ اٴَخَذَ اللَّهُ میثاقَ بَنی إِسْرائیلَ وَ بَعَثْنا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقیباً وَ قالَ اللَّهُ إِنِّی مَعَکُمْ لَئِنْ اٴَقَمْتُمُ الصَّلاةَ وَ آتَیْتُمُ الزَّکاةَ وَ آمَنْتُمْ بِرُسُلی وَ عَزَّرْتُمُوهُمْ وَ اٴَقْرَضْتُمُ اللَّهَ قَرْضاً حَسَناً لَاٴُکَفِّرَنَّ عَنْکُمْ سَیِّئاتِکُمْ وَ لَاٴُدْخِلَنَّکُمْ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِهَا الْاٴَنْهارُ فَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذلِکَ مِنْکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَواء َ السَّبیل ) -

ترجمہ

۱۲۔خدا نے بنی اسرائیل سے پیمان لیا اور ان میں سے بارہ رہبر اور سرپرست ہم نے مبعوث کیے اور خُدا نے (انھیں ) کہا کہ میں تمھارے ساتھ ہوں اگر تم نماز قائم کرو، زکٰوة ادا کرو، میرے رسولوں پر ایمان لے آؤ اور ان کی مدد کرو اور خدا کو قرض حسنہ دو(اس کی راہ میں ضرورت مندوں کی مدد کرو) تو تمھارے گناہوں کو چھپادوں گا (بخش دوں گا) اور تمھیں باغات جنت میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں داخل کروں گا لیکن جو شخص اس کے بعد بھی کافر ہوجائے تو وہ راہ ِ راست سے منحرف ہوگیاہے۔

پیمان شکنی کے باعث انھیں اپنی رحمت سے دور کردیا

اس سُورہ کی ابتداء میں ایفائے عہد کے مسئلہ کی طرف اشارہ ہوچکاہے۔ مختلف طریقوں سے اس کی تکرار بھی کی گئی ہے۔

مندرجہ بالا آیت بھی اسی مناسبت سے ہے شاید یہ پَے در پَے سب تاکیدیں جو ایفائے عہد کے بارے میں اور پیمان شکنی کی مذمّت کے لیے ہیں ، پیمان ِ غدیر کی اہمیّت واضح کرنے کے لیے ہوں جن کا ذکر آیہ ۶۷ میں آئے گا ۔

زیر بحث آیت کی ابتداء میں ہے: ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ وہ ہمارے احکام پر عمل کریں اور اس پیمان کے بعد ہم نے ان کے لیے بارہ رہبر اور سرپرست بھیجے تا کہ ان میں سے ہر ایک بنی اسرائسل کے بارہ گروہوں میں سے ایک ایک کی سرپرستی کرے( وَ لَقَدْ اٴَخَذَ اللَّهُ میثاقَ بَنی إِسْرائیلَ وَ بَعَثْنا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقیباً ) ۔

”نقیب“ کا مادہ ہے ”نقب“ (بر وزن ”نقد“)جو بڑے سوراخوں اور خصوصاً زیر زمین راستوں کا معنی دیتاہے۔ کسی گروہ کے سر براہ اور رہبر کو اس لیے نقیب کہتے ہیں کہ وہ اس گروہ کے اسرار سے آگاہ ہوتاہے گویا اس نے بیچ میں ایک نقب لگائی ہے جس کی وجہ سے وہ اس گروہ کی وضع اور حالات سے آگاہ ہوگیاہے بعض اوقات ”نقیب“ ایسے شخص کو کہا جاتاہے جو کسی گروہ کا سردار نہیں ہوتا اور صرف ان کی پہچان کا ذریعہ ہوتاہے ۔ فضائل کو بھی مناقب اسی لیے کہتے ہیں کہ ان سے آگاہی بھی جستجو اور تحقیق کرکے ہی حاصل کی جاتی ہے۔

بعض مفسرین نے زیر بحث آیت میں ”نقیب“ کا معنی آگاہ اور اسرار سے مطلع ہی کیا ہے لیکن یہ بہت بعید نظر آتاہے کیونکہ تاریخ و حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ نقبائے بنی اسرائیل میں سے ہر ایک اپنے گروہ اور قبیلے کا سرپرست تھا تفسیر روح المعانی میں ابن عباس سے منقول ہے:انهم کانوا وزراء و صاروا انبیاء بعد ذلک

یعنی نقبائے بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وزیر تھے جو بعد میں منصب نبوّت پر فائز ہوئے۔(۱)

پیغمبر اسلام کے حالات میں مرقوم ہے کہ آپ نے شب عقبہ کو حکم دیا کہ نقبائے بنی اسرائیل کی تعداد کے مطابق اپنے میں سے بارہ نقیب منتخب کرو۔ مسلماً ان کی ذمہ داری بھی یہ تھی کہ اس گر وہ کی رہبری کریں ۔(۲)

یہ امر جاذبِ نظر ہے کہ طُرق اہل سنت سے بہت سی روایات ایسی وارد ہوئی ہیں جن میں پیغمبر اسلام کے بارہ خلفاء اور جانشینوں کی طرف اشارہ کیا گیاہے اور ان کی تعداد کا تعارف نقبائے بنی اسرائیل کے تعداد کے حوالے سے کروایا گیاہے۔ ان میں سے بعض روایات ذیل میں درج کی جاتی ہیں ۔

۱۔ اہل سنت کے مشہور امام احمد بن حنبل اپنی مسند میں مسروق سے نقل کرتے ہیں وہ کہتاہے: میں نے عبد اللہ بن مسعود سے سوال کیا کہ اس اُمّت پرکتنے افراد حکومت کریں گے تو ابن مسعود نے جواب دیا:

لقد سئلنا رسول الله فقال اثنی عشر کعدة نقباء بنی اسرائیل

ہم نے پیغمبر خدا سے یہی مسئلہ پوچھا تھا، انھوں نے جواب میں فرمایا کہ بارہ افراد نقبائے بنی اسرائیل کی تعداد کے مطابق۔(۳)

۲۔ تاریخ ابن عساکر میں ابن مسعود سے منقول ہے وہ کہتے ہیں : میں نے پیغمبر اسلام سے سوال کیا کہ اس اُمّت پر کتنے خلفاء حکومت کریں گے، تو آپ نے فرمایا:ان عدة الخلفاء بعدی عدة نقباء موسیٰ میرے بعد کے خلفاء کی تعداد نقبائے موسیٰ کی تعداد کے برابر ہے۔(۴)

۳۔ منتخب کنز الاعمال میں جابر بن سمرہ سے منقول ہے: نقبائے بنی اسرائیل کی تعداد کے برابر بارہ خلفاء اس امت پر حکومت کریں گے۔(۵) ایسی حدیث ینابیع المودة صفحہ ۴۴۵ اور البدایہ و النہایہ جلد ۶ صفحہ ۲۴۷ پر بھی منقول ہے۔

اس کے بعد بنی اسرائیل سے خدا کے وعدہ کی یوں وضاحت کرتاہے: خدا نے ان سے کہا کہ میں تمھارے ساتھ ہوں گا اور تمھاری حمایت کروں گا (و قال اللہ انی معکم) لیکن اس کے لیے چند شرائط ہیں :

۱۔ بشرطیکہ تم نماز قائم کرو( لَئِنْ اٴَقَمْتُمُ الصَّلاةَ ) ،

۲۔ اور اپنی زکٰوة ادا کرو( وَ آتَیْتُمُ الزَّکاةَ ) ، )

۳۔ میرے پیغمبروں پر ایمان لے آؤ اور ان کی مدد کرو( وَ آمَنْتُمْ بِرُسُلی وَ عَزَّرْتُمُوهُمْ ) (۶)

۴۔ اور اس کے علاوہ مستحب مصارف اور انفاق جو خدا کو قرضِ حسنہ دینے کے مترادف ہیں سے احتراز نہ کرو( وَ اٴَقْرَضْتُمُ اللَّهَ قَرْضاً حَسَناً ) اگر اس عہد و پیمان پر عمل کرو تو میں تمھارے گذشتہ گناہ بخش دوں گا( لَاٴُکَفِّرَنَّ عَنْکُمْ سَیِّئاتِکُمْ ) اور تمھیں ان باغاتِ بہشت میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں( وَ لَاٴُدْخِلَنَّکُمْ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِهَا الْاٴَنْهارُ ) لیکن جو لوگ کفر، انکار اور عصیان کی راہ اپنائیں ، مسلم ہے کہ وہ صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے ہیں( فَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذلِکَ مِنْکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَواء َ السَّبیل ) ۔اس بارے میں کہ قرآن مجید میں انفاق کے لیے خدا کو قرض دینے کی تعبیر کیوں استعمال کی گئی ہے، ضروری وضاحت تفسیر نمونہ ج ۲ ص ۱۲۹ پر (اُردو ترجمہ میں ) کی جاچکی ہے۔

ایک سوال یہاں باقی رہ گیاہے اور وہ یہ کہ یہاں نماز اور زکٰوة کا ذکر حضرت موسٰی(علیه السلام) پر ایمان لانے کے ذکرسے کیوں مقدم کیا گیاہے جبکہ ان پر ایمان لانا عمل سے پہلے ضروری تھا ۔بعض مفسرین نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ ”رسل“ سے مراد یہاں پر وہ انبیاء ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد آئے تھے نہ کہ خود حضرت موسٰی(علیه السلام) ۔ لہذا یہ حکم آئندہ سے متعلق تھا اس لیے نماز و زکٰوة کے عبد ہوسکتاہے۔

یہ احتمال بھی ہے کہ ”رسل“ سے مراد نقبائے بنی اسرائیل ہی ہوں جن کے متعلق بنی اسرائیل سے عہد وفا لیا جا چُکاتھا (تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ بعض قدیم مفسرین نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ نقبائے بنی اسرائیل خدا کے رسول تھے اور یہ احتمال ہماری مندرجہ بالا آیت کی تائید کرتاہے) ۔

____________________

۱ تفسیر روح المعانی جلد ۶ صفحہ ۴۸۲ سفینة البحار (نقب) ۳ مسند احمد ج۱ ص۳۹۸ طبع مصر ۱۳۱۳۔ ۴ فیض القدیر شرح جامع الصغیر ج۲ ص۴۵۹۔

۵ منتخب کنز العمال در حاشیہ مسند احمد ج۵ ص۳۱۲۔

۶ ”عزرتموہم“کا مادہ”تعزیر“ ہے جو منع کرنے اور مدد دینے کے معنی میں ہے بعض اسلامی سزاؤں کو اسی لیے تعزیر کہتے ہیں کہ حقیقت میں وہ گنہ گار کی مدد ہے اور اسے گناہ سے باز رکھنے کی تدبیر ہے یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ اسلامی سزائیں انتقامی پہلو نہیں رکھتیں بکلہ تربیتی پہلو رکھتی ہیں اسی لیے ان کا نام تعزیر رکھا گیاہے۔


آیت ۱۳

۱۳۔( فَبِما نَقْضِهِمْ میثاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَ جَعَلْنا قُلُوبَهُمْ قاسِیَةً یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ عَنْ مَواضِعِهِ وَ نَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُکِّرُوا بِهِ وَ لا تَزالُ تَطَّلِعُ عَلی خائِنَةٍ مِنْهُمْ إِلاَّ قَلیلاً مِنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ إِنَّ اللَّهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنین ) -

ترجمہ

۱۲۔ پس ہم نے ان کی پیمان شکنی کے باعث انھیں اپنی رحمت سے دور کردیا اور ان کے دلوں کو سخت کردیا (یہاں تک کہ) وہ (خدا کے) کلام میں تحریف کرتے تھے اور اس کے کچھ حِصّے کی جو ہم نے انھیں تعلیم دی تھی، اسے انھوں نے فراموش کردیا اور تمھیں ہر وقت ان کی کسی (نئی) خیانت کی خبر ملے گی مگر ان میں سے ایک چھوٹا سا گروہ (ایسا نہیں ہے) پھر بھی ان سے در گذر کرو اور صرف نظر کرو کیونکہ خدا نیک لوگوں کو پسند کرتاہے۔

گذشتہ آیت میں بنی اسرائیل سے خدا تعالیٰ کے پیمان لینے کا ذکر ہے ۔ اب اس آیت میں ان کی پیمان شکنی اور اس کے انجام کا تذکرہ ہے، فرمایا گیا ہے: انھوں نے چونکہ اپنا عہد توڑ ڈالا لہٰذا ہم نے انھیں دھکیل کر اپنی رحمت سے دور کردیا اور ان کے دلوں کو سخت کردیا( فَبِما نَقْضِهِمْ میثاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ ) (۱)

( وَ جَعَلْنا قُلُوبَهُمْ قاسِیَةً ) (۲) ۔

در حقیقت انھیں یہ دو سزائیں عہد شکنی کے جرم میں دی گئی ہیں وہ رحمت الٰہی سے بھی دورہوگئے ہوں گے اور ان کے افکار و قلوب بھی پتھر ہو گئے ہیں اور میلان و انعطاف کے قابل نہیں رہے ۔

اس کے بعد آثار قساوت کی اس طرح تشریح کی گئی ہے : وہ کلمات کی تحریف کرتے ہیں اور انھیں ان کے اصلی مقام سے بدل دیتے ہیں( یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ عَنْ مَواضِعِهِ ) ۔

اور جو کچھ ان سے کہا گیا تھا اس کا ایک حصہ فراموش کر دیتے ہیں( وَ نَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُکِّرُوا بِهِ ) ۔

بعید نہیں کہ جو حصہ انھوں نے بھلا دیا وہ پیغمبر اسلام کی نشانیاں اور آثار ہوں جن کی طرف قرآن کی دیگر آیات میں اشارہ ہوا ہے ۔

ممکن ہے یہ اس طرف اشارہ ہو جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ایک طویل عرصے تک تورات مفقود رہی پھر چند یہودی علماء نے اسے لکھا ، فطری امر ہے کہ اس کا بہت ساحصہ تو نابود ہو گیا اور کچھ میں تحریف کردی گئی یا فراموش ہو گیا ۔ لہٰذا یہودیوں کے ہاتھ جو کچھ لگا وہ کتاب موسیٰ کا کچھ تھا جس میں بہت سے خرافات ملادئے گئے تھے اور انھوں نے یہ حصہ بھی بھلا ڈالا ۔

اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے : ہمیں ہر روز ان کی ایک نئی خیانت کا پتہ چلتا ہے ہاں البتہ ان میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو ان جرائم سے کنارہ کش ہے لیکن وہ اقلیت میں ہے( وَ لا تَزالُ تَطَّلِعُ عَلی خائِنَةٍ مِنْهُمْ إِلاَّ قَلیلاً مِنْهُمْ ) (۳) ۔

آخر میں پیغمبر اکرم کو حکم دیا گیا ہے کہ ان سے صرف نظر کرلیں اور چشم پوشی کریں کیونکہ خدا نیک لوگوں کو پسند کرتا ہے( فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ إِنَّ اللَّهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنین ) ۔ آیت کے اس حصے سے کیا مراد ہے کہ اس صالح اور نیک اقلیت کے گذشتہ گناہوں سے صرف نظر کریں یا غیر صالح اکثریت کے گناہوں سے ۔ آیت کا ظاہر دوسرے مفہوم کو تقویت دیتا ہے کیونکہ صالح اقلیت نے تو کوئی خیانت نہیں کی کہ جس سے عفو وبخشش کی جائے ۔ مسلم ہے کہ یہاں در گذر اور عفو ان کا تکالیف سے متعلق ہے جو انھوں نے ذات پیغمبر کو پہنچا ئی تھیں اور یہ معافی اسلام کے ہدف اور اصول سے متعلق نہیں ہے کیونکہ ان میں تو معافی کوئی معنی نہیں ۔

____________________

۱ ”لعن “ لغت میں دھنکار نے اور دور کرنے کے معنی میں ہے اور جب یہ لفظ خدا کے حوالے سے ہو تو اس کا معنی ہے”رحمت سے محروم کرنا“

۲ لفظ ”قاسیة--“ ”قساوت“ کے مادہ سے ہے، اور سخت پتھروں کے لیے استعمال ہوتاہے اسی مناسبت سے جو لوگ حقائق سے رغبت اور میلان کا کوئی اظہار نہ کریں ، ان کے لیے بھی استعمال ہوتاہے۔

۳” خائنة “ اگر چہ اسم فاعل ہے لیکن یہاں مصدری معنی میں استعمال ہوا ہے اور” خیانت“ کا معنی دیتا ہے ، عربی ادب میں اسم فاعل مصدری معنی میں آتا رہتا ہے ۔ مثلاً عافیة و خاطیة اور یہ احتمال بھی ہے کہ ” خائنة“ گروہ کی صفت ہو جو مقدر ہے ۔


یہودیوں کی تحریف

وہ تمام آیات جو قرآن مجید میں یہودیوں کی تحریفات کے بارے میں آئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی آسمانی کتاب میں کیسا کیسا تغیر و تبدل کرتے تھے ۔

بعض اوقات وہ تحریف معنوی کا ارتکاب کرتے تھے یعنی اپنی آسمانی کتاب کی آیات کی حقیقی معافی کے خلاف تفسیر کرتے تھے الفاظ نہں بدلتے تھے معافی بدل دیتے تھے ۔

کبھی تحریف لفظی کا ارتکاب کرتے تھے ۔ استہزاء و مسخرہ پن کرتے ہوئے” سمعا و اطعنا“ ( ہم نے سنا اور اطاعت کی )کہنے کے بجائے ”سمعنَا و عصینا “ ( ہم نے سنا اور مخالفت کی ) کہتے تھے ۔

بعض اوقات وہ آیات کا کچھ حصہ چھپادیتے ۔ جو کچھ ان کے مزاح کے مطابق ہوتا اسے ظاہر کرتے اور جو مخالف ہوتا اسے مخفی رکھتے ۔ یہاں تک کہ بعض اوقات آسمانی کتاب سامنے ہوتے ہوئے بھی اس کے ایک حصے پر ہاتھ رکھ دیتے تھے تاکہ دوسری طرف والا غافل رہے اور اسے پڑھ نہ سکے۔ جیسا کہ سورہ مائدہ کی آیہ ۴۱ کے ذیل میں ابن صوریا کے ذکر میں آئے گا ۔

کیا خدا کسی کو سنگدل بنا تا ہے

زیر بحث آیت میں ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ایک گروہ کی سندگدلی کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے ہم جانتے ہیں کہ سنگدلی اور عدم انعطاف حق سے انحراف اورگناہوں کا سر چشمہ بن جاتا ہے یہاں سوال ابھرتا ہے کہ جب اس کام کا فاعل خدا ہے تو ایسے اشخاص اپنے اعمال کے جواب وہ کیسے ہو سکتے ہیں اور کیا یہ ایک طرح سے جبر و اکراہ نہیں ؟

قرآن کی مختلف آیات، یہاں تک کہ زیر نظر آیت میں بھی غور و فکر کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بہت سے مواقع پر لوگ اپنے برے اعمال کے باعث خدا تعالیٰ کے لطف اور ہدایت سے محروم ہو جاتے ہیں در حقیقت ان کا عمل ہی ان کے فکری و اخلاقی انحراف کی بنیاد بنتا ہے اور وہ اپنے ان اعمال کے نتائج سے کسی طور بھی کنارہ کش نہیں ہوسکتے لیکن ہر سبب کا اثر چونکہ خدا کی طرف سے ہے لہٰذا قرآن میں ایسے آثار کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے ، جیسے زیر نظر آیت میں ہے : انھوں نے چونکہ پیمان شکنی کی لہٰذا ہم نے ان کے دلوں کو سخت او رناقابلِ انعطاف بنادیا ۔ سورہ ابراہیم آیت ۲۷ میں ہے( ویُضل الله الظالمینَ ) ۔

اور خدا ظالموں کو گمراہ کرتا ہے ۔

اسی طرح سورہ توبہ آیت ۷۷ میں بعض عہد شکنی کرنے والوں کے بارے میں ہے :

( فاعقبتم نفاقا فی قلوبهم الیٰ یوم یلقونه بما اختلفوا الله ما وعدوه بما کانوں یکذبون ) ۔

ان کی پیمان شکنی اور جھوٹ کی وجہ سے خدا نے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا ۔

اس طرح کی تعبیرات قرآن میں بہت ہیں ۔

واضح ہے کہ یہ برے آثار جن کا سرچشمہ خود انسان کا عمل ہے انسان کے اختیار اور ارادہ کی آزادی کے منافی ہر گز نہیں ہیں کیونکہ اس کی بنیادخود اسن نے فراہم کی ہے اور اس نے جان بوجھ کر اس وادی میں قدم رکھا ہے اور یہ اس کے اعمال کا قہری نتیجہ ہے ۔

اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص جان بوجھ کر شراب پئے اور جب وہ مست ہو جائے اورجرائم کرنے لگے تو یہ ٹھیک ہے کہ نشے کی حالت میں وہ خود اختیار نہیں رکھتا لیکن چونکہ اس نے اس کے اسباب خود پیدا کیے ہیں اور وہ جانتا ہے کہ نشے کی حالت میں اس سے ایسے افعال سر زد ہو سکتے ہیں کہ لہٰذا وہ اپنے افعال کا جواب وہ ہے اس طرح ایسے مواقع پر اگر کہا جائے کہ چونکہ انھوں نے شراب پی ہے اور ہم نے ان کی عقل ختم کردی ہے اور ان کے اعمال کی وجہ سے ہم نے جرائم میں مبتلا کردیا ہے کیا اس بات میں کو ئی اشکال اور جبر کا پہلو ہے ؟

خلاصہ یہ ہے کہ تمام ہدایتیں اور گمراہیاں جنہیں قرآن میں خدا کی طرف منسوب کیا گیا ہے یقینا یہ خود انسان کے خود وہ افعال کی وجہ سے ہے اور انہی کے باعث وہ ہدایت کرے اور دوسرے کو گمراہ کردے ۔(۱)

____________________

۱ -تفسیر نمونہ جلد اوّل ص ۱۴۰( اردو ترجمہ ) میں اس بارے میں مزید توضیح کی جاچکی ہے ۔


آیت ۱۴

۱۴۔( وَمِنْ الَّذِینَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَی اٴَخَذْنَا مِیثَاقَهُمْ فَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُکِّرُوا بِهِ فَاٴَغْرَیْنَا بَیْنَهُمْ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ وَسَوْفَ یُنَبِّئُهُمْ اللهُ بِمَا کَانُوا یَصْنَعُونَ ) ۔

ترجمہ

۱۴۔اور لوگ ( مسیح کی دوستی اور ) نصرانیت کا دعویٰ رکھتے ہیں ، ان سے ( بھی ) ہم نے عہد و پیمان لیا ، لیکن ان لوگوں نے بھی اس چیز کا ایک حصہ فراموش کردیا جو انھیں دی گئی تھی لہٰذا ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لئے عداوت ڈال دی اور جو کچھ انھوں نے انجام دیا عنقریب خدا انھیں اس کے ( نتائج کے ) بارے میں آگاہ کرے گا ۔

دائمی دشمن

گذشتہ آیت میں بنی اسرائیل کی عہد شکنی سے متعلق گفتگو تھی اب اس آیت میں نصاریٰ کی پیمان شکنی کا تذکرہ ہے ۔ ار شاد فرمایا گیا ہے : دعوائے نصرانیت کرنے والوں کی ایک جماعت جس سے ہم نے عہد و فا لیا تھا پیمان شکنی کی مرتکب ہوئی انھیں جو احکام دئے گئے تھے ان کا ایک حصہ انھوں نے فراموش کردیا( وَمِنْ الَّذِینَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَی اٴَخَذْنَا مِیثَاقَهُمْ فَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُکِّرُوا بِهِ ) ۔

ہاں انھوں نے بھی خد اسے پیمان باندھا تھا کہ وہ حقیقت توحید سے منحرف نہیں ہوں گے اور احکام الہٰی کو فراموش نہیں کریں گے اور آخری پیغمبر کی نشانیاں نہیں چھپائیں گے لیکن انھوں نے بھی یہودیوں کا سا طرز عمل اختیار کرلیا ۔ فرق یہ ہے کہ قرآن یہودیوں کے بارے میں کہتا ہے کہ ان کی قلیل تعداد پاک اور حق شناس تھی لیکن نصاریٰ کے بارے میں کہتا ہے کہ ان میں سے ایک گروہ منحرف ہوگیا اس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسائیوں کی نسبت یہودیوں کی نسبت میں سے منحرف ہونے والے زیادہ تھے۔

موجودہ اناجیل کی تاریخ کہتی ہے کہ یہ ساری انجیلیں حضرت مسیح (علیه السلام) کے کئی سال بعد بعض عیسائیوں نے لکھی تھیں یہی وجہ ہے کہ ان میں واضح تناقضات موجود ہیں ۔ یہ چیز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ انجیل کی آیات کا ایک اہم حصہ بھول چکے تھے موجودہ اناجیل میں واضح طور پر خرافات موجود ہیں مثلاً حضرت مسیح (علیه السلام) کی شراب خوری(۱)

کا ذکر ہے جو کہ عقل کے بھی خلاف ہے اور خود موجودہ تورات و انجیل کی بعض آیات کے بھی خلاف ہے ۔ اسی طرح مریم مجدلیہ کا قصہ بھی ہے ۔(۲)

ضمناً توجہ رہے کہ ” نصاریٰ“ ”نصرانی“کی جمع ہے ، عیسائیوں کو اس نام سے کیوں موسوم کیا گیا ہے اس سلسلے میں مختلف احتمالات پیش کئے جاتے ہیں :

پہلا یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیه السلام) نے بچپن ناصرہ شہر میں گزارا ۔

دوسرا یہ کہ لفظ نصران سے لیا گیا ہو ۔ یہ ایک بستی کا نام ہے جس سے نصاریٰ خاص لگاو رکھتے تھے ۔

تیسرا ی ہکہ جب حضرت مسیح (علیه السلام) نے لوگوں میں سے یاروانصار طلب کیے تو انھوں نے آپ کی دعوت قبول کرلی جیسا کہ قرآن میں ہے:

( کماقال عیسیٰ ابن مریم للحواریین من انصاری الیٰ الله قال الحواریون نحن انصار الله ) ۔

جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا کہ کون اللہ کے لئے میری نصرت کرنے والا ہوگا، تو حواریوں نے کہا کہ ہم انصار ِ خدا ہیں ۔ (صف ۱۴)

چونکہ ان سے بعض ایسے بھی تھے جو اپنے کہنے کے مطابق عمل نہ کرتے تھے اور صرف دعویٰ کی حد تک حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے یارو انصار تھے لہٰذا قرآن زیر بحث آیت میں کہتا ہے( ومن الذین قالوا انا نصاریٰ ) (ان لوگوں میں سے جو موجود کہتے تھے کہ ہم عیسیٰ کے مدد گار ہیں لیکن وہ اس دعویٰ میں سچے نہ تھے) ۔

اس کے بعد قرآن عیسائیوں کے اعمال کے بارے میں کہتا ہے کہ ان کے اعمال کے نتیجے میں ہم قیامت تک کے لئے ان میں دشمنی ڈال دی

( فَاٴَغْرَیْنَا بَیْنَهُمْ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ ) ۔

ان کے لئے دوسری سزا کہ جس کی طرف آیت کے آخری حصے میں اشارہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ : عنقریب خدا انھیں ان کے اعمال کے نتائج کی خبر دے گا اور وہ عملی طور پر اسے اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے ( وَسَوْفَ یُنَبِّئُہُمْ اللهُ بِمَا کَانُوا یَصْنَعُونَ ) ۔

____________________

۱۔انجیل یو حنا، باب ۲، جملہ ۲ تا ۱۲۔

۲۔ انجیل لوقا، باب ۷، جملہ ۳۶ تا ۴۷۔


چند اہم نکات

۱۔ ” اغوینا“ کا مفہوم :

یہ لفظ ” اغراء“ کے مادہ سے ہے اس کا معنی ہے کسی چیز سے چمٹا دینا اور جو ڑ دینا ۔ بعد ازاں کسی کام کا شوق دلانے اور اس پر اکسا نے کے مفہوم میں استعمال ہو نے لگا کیونکہ یہ بات لوگوں کے معین اسباب سے مربوط ہونے کا سبب بنتی ہے ۔ لہٰذا آیت کا مفہوم یہ ہے کہ نصاریٰ کی عہد شکنی اور غلط کاریاں اس بات کا سبب بنیں کہ ان میں عداوت و دشمنی اور نفاق و اختلاف پیدا کر دیا جائے ( کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اسبابِ تکوینی کے آثار کی نسبت خدا کی طرف دی جاتی ہے ) آج بھی عیسائی حکومتوں کے درمیان بے شمار کشمکش موجود ہیں جن کی بنا پر اب تک دو عالمی جنگیں ہوچکی ہیں ان میں گروہ بند یاں اور عداوت و دشمنی آج بھی جاری و ساری ہے ۔ علاوہ ازیں عیسائیوں کے مختلف مذاہب میں اختلافات اور عداوتیں اس قدرہیں کہ آج بھی وہ ایک دوسرے کا کشت و خون جاری رکھے ہوئے ہیں ۔

بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ یہاں مراد یہود و نصاریٰ کے درمیان دشمنی ہے جو رہتی دنیا تک جاری رہے گی لیکن آیت کا ظاہری مفہوم عیسائیوں کے مابین عداوت ہی کی تائید کرتا ہے ۔(۱)

شاید اس بات کی یاد دہانی کی ضرورت نہ ہو کہ دردناک انجام عیسائیوں ہی میں منحصر نہیں اگر مسلمان ان کا طریقہ اپنا ئیں گے تو وہ بھی اس نتیجے سے دو چار ہو ں گے۔

۲۔ ”عداوت “اور” بغضاء“کا مفہوم :

”عداوت“ ” عدو“ کے مادہ سے تجاوز کرنے کے معنی میں ہے ، اور ” بغضاء“ بعض “ کے مادہ سے کسی چیز سے نفرت کرنے کے معنی میں ہے ان دونوں الفاظ میں یہ فرق ہو کہ ” بغض“ زیادہ تر قلبی پہلو رکھتا ہے جب کہ ” عداوت“ عملی پہلو رکھتی ہے یا کم از کم عملی اور قلبی دونوں پہلو رکھتی ہے ۔

۳۔ کیا یہودیت اور عیسائیت ہمیشہ موجود رہیں گی ؟ :

زیر بحث آیت میں یوں لگتا ہے جیسے نصاریٰ ایک مذہب کے پیرو کار ہونے کے حوالے سے زیادہ یہودو نصاریٰ دونوں )رہتی دنیا تک موجود رہیں گے۔ یہاں سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی روایات سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مہدی (علیه السلام) کے ظہور کے بعد پورے عالم میں ایک سے زیادہدین نہی ہو گا اور وہ دین اسلام ہے تو ان دو باتوں کو کیسے جمع کیا جاسکتا ہے ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے کہ عیسائیت ( عیسا ئیت اور یہودیت) ایک بہت ہی کمزور اقلیت کے طور حضرت مہدی (علیه السلام) کے دور میں بھی باقی رہ جائے کیونکہ یہ بات تو واضح ہے کہ اس دور میں بھی انسانوں سے ارادہ کی آزادی نہیں چھینی جائے گی اگر چہ دنیا کی قطعی اکثریت دین حق کو پالے گی اور اسے قبول کرلے گی ۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ پوری دنیاپر ایک اسلامی حکومت ہی ہو گی ۔

____________________

۱ ۔ اس بنا پر ” بینھم “ کی ضمیر نصاریٰ کی طرف ہی لوٹے گی کہ جن کا ذکر آیت کی ابتداء میں ہوچکا ہے ۔


آیات ۱۵،۱۶

۱۵۔( یَااٴَهْلَ الْکِتَابِ قَدْ جَائَکُمْ رَسُولُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیرًا مِمَّا کُنْتُمْ تُخْفُونَ مِنْ الْکِتَابِ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیرٍ قَدْ جَائَکُمْ مِنْ اللهِ نُورٌ وَکِتَابٌ مُبِینٌ ) ۔

۱۶۔( یَهْدِی بِهِ اللهُ مَنْ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلاَمِ وَیُخْرِجُهُمْ مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ بِإِذْنِهِ وَیَهْدِیهِمْ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ) ۔

ترجمہ

۱۵۔ اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارا رسول آیاہے جو آسمانی کتاب کے ان بہت سے حقائق کو واضح کرے گا جنہیں تم چھپاتے تھے او ربہت سی چیزوں سے ( جن کی عملاً ضرورت نہیں ) صرفِ نظر کرلے گا ۔ خدا کی طرف سے تمہارے پاس نور اور واضح کتاب آئی ہے ۔

۱۶۔ جو لوگ اس کی خوشنودی کی پیروی کرتے ہیں خدا انھیں سلامتی کے راستوں کی ہدایت کرے گا اور اپنے حکم سے تاریکیوں سے نکال کر انہیں روشنی میں لیجائے گا انہیں راہِ راست کی ہدایت کرے گا ۔

تفسیر

گذشتہ آیات میں یہودو نصاریٰ اور ان کی عہد شکنیوں کے بارے میں گفتگو تھی ۔ اب ان آیات میں ان سے بلا واسطہ خطاب کے ذریعے انھیں اسلام کی طرف دعوت دی گئی ہے جس نے ان کے آسمانی دین کو خرافات سے پاک کیا اور انھیں اس راہِ راست کی ہدایت کی جارہی ہے جو پر قسم کے انحراف اور کجروی سے دور ہے ۔

پہلے فرمایاگیا ہے : اے کتاب ! ہمارا بھیجا ہوا تمہاری طرف آیاہے تاکہ آسمانی کتب کے وہ بہت سے حقائق آشکارکرے جنہیں تم نے چھپا رکھا تھا جب کہ بہت سی ایسی چیزیں جنھیں ذکر کرنے کی ضرورت نہیں اور جو گذشتہ ادوار سے مربوط ہیں ان سے صرف نظر کرے۔

( یَااٴَهْلَ الْکِتَابِ قَدْ جَائَکُمْ رَسُولُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیرًا مِمَّا کُنْتُمْ تُخْفُونَ مِنْ الْکِتَابِ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیرٍ ) ۔

اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب نے بہت سے حقائق چھپارکھے تھے لیکن پیغمبراسلام نے صرف وہ باتیں بیان کیں جن کی اس وقت لوگوں کو احتیاج تھی ۔ مثلاً حقیقت ِ توحید، انبیاء کی طرف نارواء نسبتیں جو کتب عہدین میں ان کی طرف دی گئی تھیں ، سود اور شراب کی حرمت اور اس طرح کے دیگر امور لیکن ان امور سے صرف نظر کرلیا جن کا تعلق گذشتہ امتوں اور زمانوں سے تھا اور موجودہ اقوام کے لئے ان کے بیان کا کوئی فائدہ نہ تھا ۔

اس کے بعد قرآن مجیدکی نصیحت و عظمت اور نوع بشرکی ہدایت و تربیت کے لئے اس کے گہرے اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ خدا کی جانب سے تمہارے پاس نور اور واضح کتا ب آئی ہے( قَدْ جَائَکُمْ مِنْ اللهِ نُورٌ وَکِتَابٌ مُبِینٌ ) ۔ وہ نور آیا ہے کہ جس کے ذریعے خدا ان لوگوں کو سلامتی کے راستوں کی ہدایت کرتا ہے جو اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے در پے ہیں( یَهْدِی بِهِ اللهُ مَنْ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلاَمِ ) ۔

علاوہ ازیں انھیں طرح طرح کی ظلمتوں یعنی شرک، جہالت، پراکندی اور نفاق جیسی تاریکیوں سے توحید، علم اور اتحاد کے نور کی طرف رہبری کرتا ہے( وَیُخْرِجُهُمْ مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ بِإِذْنِهِ وَیَهْدِیهِمْ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ) ۔

پہلی آیت میں نور سے کیا مراد ہے ؟ بعض مفسرین کے نزدیک اس سے مراد پیغمبر اسلام کی ذات ہے اور بعض کے نزدیک قرآن مجید ۔ قرآن مجید مختلف آٰات میں قرآن کو نور سے تشبیہ دی گئی ہے یہ بات اس چیز کی نشاندہی کرتی ہے کہ زیر نظر آیت میں نور سے مراد قرآن حکیم ہی ہے ۔ اس بناء پر ” کتاب مبین“ اس پر لطف ِ تو ضیحی ہے ۔ سورہ اعراف آیت ۱۵۷ میں ہے :( فالذین اٰمنوا به و عزروه نصروه و اتبعوا النور الذی انزل معه اولئک هم المفلحون ) ۔

وہ لوگ جو پیغمبر پر ایمان لے آئے ہیں اور انھوں نے اس کی عظمت کو تسلیم کرلیا ہے اور ان کی مدد کی ہے اور اس نور کی پیروی کی ہے جو اس کے ساتھ نازل ہوا ہے ، اہل نجات اور کامیاب ہیں ۔

سورہ تغابن آیہ ۸ میں ہے( فامنوا بالله و رسله و النور الذی انزلنا )

خدا ، اس کے پیغمبر اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے، ایمان لے آو۔

اسی طرح متعدد دیگر آیات بھی ہیں لیکن لفظ نور کا اطلاق پیغمبر اسلام، کی ذات پر قرآن میں نظر نہیں آتا ۔

علاوہ ازیں بعد والی آیت میں ” بہ “ کی ضمیر مفرد ہے اس سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ نور او رکتاب مبین ایک ہی حقیقت ہیں ۔

البتہ متعدد روایات میں نور سے امیر المومنین (علیه السلام) یا تمام آئمہ اہل بیت (علیه السلام) مراد لئے گئے ہیں لیکن واضح ہے کہ یہ آیات کے مختلف بطون کے حوالے سے ایک بطن کی تفسیر کی طرح ہے ۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن کے ظاہری معانی کے علاوہ کچھ باطنی مفاہیم بھی ہیں جنھیں ” بطون ِ قرآن“ کہا جاتا ہے یہ جو ہم نے کہا ہے کہ واضح ہے کہ یہ تفسیربطون قرآن سے مربوط ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت آئمہ موجود نہیں تھے کہ اہل کتاب کو ان پر ایمان لانے کی دعوت دی جاتی ۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ دوسری آیت رضائے الہٰی کے حصول کے لئے قدم بڑھا نے والوں کو نوید سناتی ہے کہ قرآن کے سائے میں انھیں تین عظیم نعمتیں دی جائیں گی ۔

پہلی نعمت سلامتی کی شاہراہ کی ہدایت ہے یہ سلامتی در حقیقت ، فرد، معاشرے ، روح ،خاندان اور اخلاق کی سلامتی ہے ( اور یہ سلامتی عملی پہلو رکھتی ہے ) ۔

دوسری نعمت کفر اور بے دینی کی ظلمتوں سے نکال کر نور ایمان کی طرف لے جانا ہے ( یہ اعتقادی پہلو رکھتی ہے ) ۔

تیسری نعمت ان تمام چیزوں کو مختصر ترین اور نزدیک ترین راستے سے انجام دینا ہے ، جسے ” صراط مستقیم “ کہتے ہیں ۔

لیکن یہ سب نعمتیں ان لوگوں کو نصیب ہوں گی جو تسلیم اور حق گوئی کے در وازے سے داخل ہوں گے اور ” من اتبع رضوانہ“ کے مصداق ہوں گے۔ منافقین اور ہٹ دھرم افراد جو حق سے دشمنی رکھتے ہیں انھیں اس سے کوئی فائدہ نصیب نہیں ہوگا، جیسا کہ قرآن کی دیگر آیات گواہی دیتی ہیں ۔

نیز ان سب آثار کا سر چشمہ خدا کا حتمی ارادہ ہے جس کی طرف لفظ” باذنہ“ سے اشارہ کیا گیا ہے ۔


آیت ۱۷

۱۷۔( لَقَدْ کَفَرَ الَّذِینَ قَالُوا إِنَّ اللهَ هُوَ الْمَسِیحُ ابْنُ مَرْیَمَ قُلْ فَمَنْ یَمْلِکُ مِنْ اللهِ شَیْئًا إِنْ اٴَرَادَ اٴَنْ یُهْلِکَ الْمَسِیحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَاٴُمَّهُ وَمَنْ فِی الْاٴَرْضِ جَمِیعًا وَلِلَّهِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَمَا بَیْنَهُمَا یخْلُقُ مَا یَشَاءُ وَاللهُ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ) ۔

ترجمہ

۱۷۔ یقینا جنھوں نے کہا کہ مسیح بن مریم خدا ہے وہ کافر ہوگئے ہیں ، کہہ دو اگر خدا چاہے کہ مسیح بن مریم ، اس کی ماں اور روئے زمین پر موجود تمام لوگوں کو ہلاک کردے تو اسے کوروک سکتاہے ( ہاں ) آسمانوں زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ، ان کی حکومت خدا ہی کے لئے ہے جو وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔

کیسے ممکن ہے کہ مسیح (علیه السلام) خدا ہو؟۔

گذشتہ مباحث کی تکمیل کے لئے اس آیت میں حضرت مسیح (علیه السلام) کی الوہیت کے دعویٰ پر شدید حملہ کیا گیا ہے اور اسے ایک واضح کفر قرار دیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : یہ امر مسلم ہے کہ جن لوگوں نے کہا ہے کہ مسیح بن مریم خدا ہے وہ کافر ہوگئے ہیں اور در حقیقت انھوں نے خدا کا انکار کیا ہے

( لَقَدْ کَفَرَ الَّذِینَ قَالُوا إِنَّ اللهَ هُوَ الْمَسِیحُ ابْنُ مَرْیَمَ ) ۔

اس جملے کا مفہوم واضح ہونے کے لئے ہمیں جاننا چاہئیے کہ عیسائی خدا کے بارے میں بے بنیاد دعوے کرتے ہیں ۔

پہلا وہ تین خدا وں کو عقیدہ رکھتے ہیں جسے سورہ نساء کی آیہ ۱۷۰ میں باطل قرار دیا گیا ہے :

( لا تقولوا ثلاثة انتهوا خیراً لکم انما الله اله واحد )

یعنی یہ نہ کہوکہ تین خدا ہیں ،اس عقیدے سے باز آجاو۔ یہی تمہارے حق میں بہتر ہے ، معبود تو فقط تنہا خدا ہے ۔(۱)

دوسرا وہ عالم ہستی پیدا کرنے والے کو ان تین میں سے ایک خدا شمار کرتے ہیں اور ” باپ خدا “(۲)

نیز یہ بھی ہے :

خد ایعنی جو خود بخود وجود میں آیا تمام مخلوقات کے خالق اور ساری کائنات کے مالک کا نام اور وہ ایک لامتناہی اور ازلی روح ہے جو اپنے وجود حکمت قدرت اور عدالت میں انواعِ مختلف کے ساتھ ایسا ہے جس میں تغیرو تبدل نہیں ہے ۔ ( قاموس کتاب مقدس ص ۳۴۴)

کہتے ہیں ۔ سورہ مائدہ ۷۳ میں قرآنِ مجید نے اس عقدے کو بھی باطل قرار دیا ہے :

( لقد کفرو الذین قالوا ان الله ثالث ثلاثة و ما من الٰه الاالٰه واحد )

یعنی کافر کہتے ہیں کہ خدا تین میں سے تیسرا ہے ۔ جب کہ ایک اکیلے معبود کے علاوہ کوئی معبود نہیں ۔(۳)

تیسرا وہ کہتے ہیں کہ تینوں خدا تعداد حقیقی کے باوجود ایک ہیں اس عقیدے کو وہ ” وحدت در تثلیث“ بھی کہتے ہیں اس بات کی طرف زیر نظر آیت میں اشارہ کیا گیا ہے وہ کہتے ہیں کہ خدا مسیح بن مریم ہے او رمسیح بن مریم خدا ہے اور دونوں روح القدس سے مل کر تین متعدد ذاتیں ہونے کے باوجود ایک ہیں ۔

سہ گانہ تثلیث کے تمام پہلو جن میں سے ہر ایک عیسائیت کا عظیم ترین انحراف ہے ، قرآن کی ایک ہی آیت میں باطل قرار دئے گئے ہیں ۔عقیدے تثلیث کے بطلان کے بارے میں تفصیلی وضاحت اسی جلد میں سورہ نساء کی آیہ ۱۷۱ کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں ۔ہم نے جو کچھ مندرجہ بالا سطروں میں کہا ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ فخر الدین رازی او ربعض دیگر مفسرین کو اس آیت کے سمجھنے میں یہ جو اشکال ہوا ہے کہ کوئی عیسائی بھی صراحت سے خدا اور مسیح کے اتحاد کے عقیدہ کا اظہار نہیں کرتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ انھیں مسیحیت کی کتب پر کافی احاطہ نہیں ہے کیونکہ موجودہ عیسائی کتب میں ” وحدت در تثلیث“ کا مسئلہ بالوضاحت پیش کیا گیا ہے ۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسی کتابیں اس زمانے میں ان مفسرین کے ہاتھ نہ لگی ہوں ۔اس کے بعدعقیدہ الوہیت کے بطلان کے لئے قر آن کہتا ہے : اگر خدا چاہے کہ مسیح ، اس کی والدہ اور زمین میں بسنے والے تمام لوگوں کو ہلاک کردے تو کون اسے روک سکتا ہے( قُلْ فَمَنْ یَمْلِکُ مِنْ اللهِ شَیْئًا إِنْ اٴَرَادَ اٴَنْ یُهْلِکَ الْمَسِیحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَاٴُمَّهُ وَمَنْ فِی الْاٴَرْضِ جَمِیعًا ) ۔

یہ اس طرف اشارہ ہے کہ حضرت مسیح (علیه السلام) اور ان کی والدہ مریم دیگر انسانوں کی طرح انسان ہونے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ اس بناپر مخلوق ہونے کے لحاظ سے وہ دیگر مخلوقات کی طرح ہیں لہٰذا نابودی ان کے لئے بھی ہے اور وہ چیز جس کے لئے نیستی کا تصور ہوسکے کس طرح ممکن ہے کہ وہ ازلی و ابدی خدا ہو۔دوسرے لفظوں میں اگرمسیح (علیه السلام) خدا ہو تو خالق کائنات اسے ہلاک نہیں کر سکتا اور اس طرح اس کی قدرت محدود ہو جائے گی اور ایسی ہستی خدا نہیں ہوسکتی کیونکہ خدا کی قدرت اس کی ذات کی طرح غیر محدود ہے ( غور کیجئے گا) ۔

آیت میں ” مسیح بن مریم “ کے الفاظ کا تکرار ہے شاید اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو کہ تم خود معترف ہو کہ مسیح (علیه السلام) مریم کے فرزند تھے اور وہ ماں کے بطن سے پیدا ہوئے ان پر ایک مرحلہ حالتِ جنین کا گذرا، پھر وہ نو زائیدہ بچے کی حالت میں رہے اور انھوں نے تدریجاً پرورش پائی اور بڑے ہوئے۔ تو کیا یہ ممکن ہے کہ خدا ایک چھوٹے سے محیط مثلاً شکم مادر میں رہے اس میں یہ تمام تغیرات اور تحویلات پیدا ہوں نیز جنین اور شیر خوارگی کے عالم میں وہ ماں کا محتاج ہو۔

یہ امر قابل توجہ ہے کہ زیر بحث آیت میں حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے ذکر کے ساتھ خصویت سے ان کی والدہ کے نام کے ساتھ لفظ ” وامہ“ آیا ہے یوں مادر عیسیٰ (علیه السلام) کو دنیا کے دیگر لوگوں سے ممتاز کیا گیا ہے ، ممکن ہے یہ تعبیر اس بنا پر ہو کہ عیسائی پو جا پاٹ کیوقت ان کی والدہ کی پرستش بھی کرتے ہیں اور اس وقت کے کلیسا وں میں دیگر مجسموں کے علاوہ جناب مریم کا مجسمہ بھی ہوتا ہے جس کی وہ تعظیم اور پر ورش کرتے ہیں ۔ سورہ مائدہ کی آیت ۱۱۶ میں بھی اس مطلب کی طرف اشارہ کیاگیا ہے ۔

( و اذقال الله یا عیسیٰ بن مریم اٴ انت قلت للناس اتخذونی و امی الهین من دون الله )

روزقیامت جب خدا کہے گا : اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کو چھوڑ کر میر او رمیری والدہ کی پرستش کرو۔جولوگ بغیر باپ کے پیدا ہونے کو مسیح (علیه السلام) کی الوہیت کی دلیل سمجھتے ہیں ، آیت کے آخر میں انھیں جواب دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ سب خدا کے قبضہ قدرت میں ہے وہ جیسی مخلوق چاہے پیدا کرتا ہے ( تو چاہے تو کسی کو بغیر ماں باپ کے پیدا کرے جیسے اس نے حضرت آدم(علیه السلام) کو پیدا کیا ، وہ چاہے تو ماں باپ کے توسط سے پیدا کرے ۔

جیسے عام انسانوں کو پیدا کرتا ہے اور وہ چاہے تو کسی کو صرف ماں کے توسط سے پیدا کرے جیسے اس نے حضرت مسیح (علیه السلام) کو پیدا کیا ہے خلقت کو یہ تنوع کسی اورچیزکا نہیں بلکہ اس کی قدرت کی دلیل ) اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے( وَلِلَّهِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَمَا بَیْنَهُمَا یخْلُقُ مَا یَشَاءُ وَاللهُ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ) ۔

____________________

۱۔ اس آیت کی تفسیر اس جلد کی ابتداء میں گذر چکی ہے ۔

۲۔ عیسائی کتب میں ہے :

باپ خدا بیٹے کے واسطے سے پوری کائنات کا خالق ہے ( قاموس کتاب مقدس ص ۳۴۵)

۳ ۔ اس کی تفسیر انشاء اللہ عنقریب آئے گی ۔


آیت ۱۸

۱۸۔( وَقَالَتْ الْیَهُودُ وَالنَّصَارَی نَحْنُ اٴَبْنَاءُ اللهِ وَاٴَحِبَّاؤُهُ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُکُمْ بِذُنُوبِکُمْ بَلْ اٴَنْتُمْ بَشَرٌ مِمَّنْ خَلَقَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَشَاءُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَشَاءُ وَلِلَّهِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَمَا بَیْنَهُمَا وَإِلَیْهِ الْمَصِیر )

ترجمہ

۱۸۔ یہودو نصاریٰ کہتے تھے کہ ہم خدا کے بیٹے ہیں اور اس کے ( خاص) دوست ہیں ( ان سے ) کہہ دو کہ پھر بھی وہ تمہیں تمہارے گناہوں کی سزا کیوں دیتا ہے بلکہ اس کی مخلوقات میں سے انسان ہو وہ جسے چاہتا ہے ( اور اہل پاتا ہے ) اسے بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ( اور مستحق سمجھتا ہے ؟) اسے سزا دیتا ہے ۔ آسمانوں اور زمین کی حکومت او رجو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کے لئے اور تمام موجودات کی باز گشت اسی کی طرف ہے ۔

اے اہل کتاب: ہمارا رسول تمہاری طرف آگیا ہے

اس آیت میں گذشتہ مباحث کی تکمیل کی گئی ہے ، یہود و نصاریٰ کی بے بنیاد دعووں اور موہوم امتیازات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے دوست ہیں( وَقَالَتْ الْیَهُودُ وَالنَّصَارَی نَحْنُ اٴَبْنَاءُ اللهِ وَاٴَحِبَّاؤُهُ ) ۔

وہ اپنے بارے میں صرف اسی امتیاز کے قائل نہیں بلکہ آیات قرآنی میں بار ہا ان کے اس قسم کے دعووں کا ذکر کیا گیاہے سورہ بقرہ آیت ۱۱۱ میں ان کے دعویٰ کا بھی ذکر ہے کہ ان کے علاوہ کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا او ریہ کہ جنت یہود و نصاریٰ ہی سے مخصوص ہے ۔ سورہ بقرہ کی آیت ۸۰ میں یہودیوں کے اس دعویٰ کا ذکر کیا گیا ہے کہ جہنم کی آگ چند دن کے سوا ان تک نہیں پہنچے گی ۔اس دعویٰ کے ذکر کے بعد ان کی سر زنش کی گئی ہے ۔

مندرجہ بالا آیت میں ان کے اس موہوم دعویٰ کا تذکرہ ہے کہ وہ خدا کے بیٹے اور خاص دوست ہیں ۔

اس میں شک نہیں کہ وہ اپنے آپ کو خدا کا حقیقی بیٹا نہیں سمجھتے تھے عیسائی صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا حقیقی بیٹا سمجھتے ہیں اور بالتصریح اپنے اس عقیدے کا اظہار کرتے ہیں ۔(۱)

وہ بات اپنے لئے اس مفہوم میں استعمال کرتے تھے کہ وہ خدا سے خاص ربط رکھتے ہیں اور جو شخص بھی ان کی نسل میں سے ہے یا ان کے گروہ میں داخل ہو جاتا ہے وہ اعمال صالح کے بغیر خود بخود خدا کے دوستوں اور فرزندوں میں شمار ہو جاتا ہے ۔(۲)

ہم جانتے ہیں کہ قرآن ان تمام موہوم امتیازات سے جنگ کرتا ہے او رہر شخص کا امتیاز صرف ایمان ، عمل صالح اور ا س کی پر ہیز گاری میں سمجھتا ہے اسی لئے زیر نظر آیت میں اس دعویٰ کے بطلان کے لئے فرمایا گیا ہے : ان سے کہیے کہ اگر ایسا ہے تو پھر وہ تمہیں تمہارے گناہوں کی سزا کیوں دیتا ہے( قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُکُمْ بِذُنُوبِکُمْ ) ۔

یعنی تم خود اعتراف کرتے ہو کہ تمہیں تھوڑی سی مدت کے لئے سزا دے گا گناہ گاروں والی جو یہ سزا تمہیں ملے گی اس بات کی دلیل ہے کہ تمہارا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے کہ تم خدا سے خا ص تعلق رکھتے ہو بلکہ اپنے آپ کو خدا کا بیٹا شمار کرتے ہو۔ علاوہ ازیں تمہاری تاریخ شاہد ہے کہ خود اسی دنیا میں تم کئی سزاوں اور عذابوں میں مبتلاہوئے ہو۔ یہ تمہارے دعویٰ کے بطلان پر دوسری دلیل ہے ۔

اس مفہوم کی تاکیدکے لئے مزید ارشاد ہوتا ہے : تم مخلوقاتِ خدا میں سے دیگر انسانوں جیسے انسان ہو( بَلْ اٴَنْتُمْ بَشَرٌ مِمَّنْ خَلَق ) ۔

یہ سب کے لئے قانون عام ہے کہ خدا جسے چاہتا ہے ( اور اہل سمجھتا ہے ) بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ( اور مستحق پاتاہے ) ۔ سزا دیتا ہے( یَغْفِرُ لِمَنْ یَشَاءُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَشَاءُ ) ۔

علاوہ ازیں سب خدا کی مخلوق، اس کے بندے او رمملوک ہیں لہٰذا کسی کو خدا کا بیٹا کہنا منطقی اور اصولی بات نہیں ہے( وَلِلَّهِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَمَا بَیْنَهُمَا ) ۔اور آخرکار ساری مخلوق نے اسی کی طرف لوٹ جانا ہے( وَإِلَیْهِ الْمَصِیر ) ۔

یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ یہودو نصاریٰ نے کہاں ” خدا کے بیٹے“ ہونے کا دعویٰ کیا ہے ( چاہے یہاں بیٹا حقیقی میں نہیں مجازی معنی میں ہی ہو)؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ موجودہ اناجیل میں یہ بات بار ہا دکھائی دیتی ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ انجیل یوحنا باب ۸ جملہ ۴۱ کے بعد درج کی گئی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیه السلام) نے یہودیوں سے کہا :

” تم اپنے باپ والے کام کرتے ہو“۔

یہودیوں نے جواب دیا :

ہم زنا سے پیدا نہیں ہوئے ، ہمارا ایک باپ ہے جو کہ خدا ہے ۔

عیسیٰ (علیه السلام) نے ان سے کہا:

اگرخدا تمہارا باپ ہوتا تو تم مجھے دوست رکھتے۔

روایات اسلامی میں بھی ابن عباس سے ایک حدیث مروی ہے :

پیغمبر اسلام نے یہودیوں کی ایک جماعت کو دین اسلام کی دعوت دی اور انھیں خدا کے عذاب سے ڈرایا تو وہ کہنے لگے تم ہمیں خدا کے عذاب سے کیسے ڈراتے ہو جب کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے دوست ہیں ۔(۳)

تفسیرمجمع البیان میں زیر بحث آیت کے ذیل میں اس حدیث سے ملتی جلتی ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ : پیغمبر خدا نے خدا کے عذاب سے ڈرایا تو ایک گروہ کہنے لگا ہمیں تہدید نہ کرو او رنہ ڈراو کیونکہ ہم تو خدا کے بیٹے اور اس کے دوست ہیں اگر وہ ہم پر ناراض بھی ہو تو اس کی یہ ناراضگی ایسی ہے جیسے کوئی انسان اپنے بیٹے پرناراض ہوتا ہے ( یعنی بہت جلد اس کا غصہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے ) ۔

____________________

۱۔ ” خد اکا بیٹا“ یہ لفظ ہمارے منجی ( نجات دینے والے ) اور فادی( فدیہ بنے والے ) کا ایک لقب ہے جو کسی دوسرے پر نہیں بولا جاسکتا مگر ایسے مقام پر کہ قرآن سے معلوم ہو کہ مقصد خدا کا حقیقی بیٹا نہیں ۔ ( قاموس کتاب مقدس /ص ۳۴۵)

۲۔کچھ عرصہ ہوا ہمارے علاقے میں کچھ افراد نے لوگوں کو عیسائی بنانے کے لئے خاص تبلیغات شروع کررکھی تھیں اور وہ اپنے آپ کو ” خدا کے بیٹے “ کہتے تھے ۔

۳ ۔تفسیر مجمع البیان فخر رازی جلد ۱۱ ص ۱۹۲۔


آیت ۱۹

۱۹۔( یَااٴَهْلَ الْکِتَابِ قَدْ جَائَکُمْ رَسُولُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ عَلَی فَتْرَةٍ مِنْ الرُّسُلِ اٴَنْ تَقُولُوا مَا جَائَنَا مِنْ بَشِیرٍ وَلاَنَذِیرٍ فَقَدْ جَائَکُمْ بَشِیرٌ وَنَذِیرٌ وَاللهُ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ) ۔

ترجمہ

۱۹۔ اے اہل کتاب: ہمارا رسول تمہاری طرف آگیا ہے اور وہ پیغمبروں کے درمیانی عرصے اور فاصلے کے بعد تمہارے لئے حقائق بیان کرتا ہے کہ مبادا( روز قیامت) کہو کہ ہمارے پاس نہ بشارت دینے والا آیا ہے نہ ڈرانے والا( لہٰذا اب ) بشارت دینے والا اور ڈرانے والا ( پیغمبر) تمہارے پاس آگیا ہے اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔

تفسیر

اس آیت میں پھر روئے سخن اہل کتاب کی طرف ہے : اے اہل کتاب ! اے یہوو نصاریٰ ! ہمارا پیغمبر تمہاری طرف آیا ہے اور اس دور میں جب انبیاء الہٰی کے درمیان فاصلہ اور وقفہ ہو چکا ہے اس نے تمہارے سامنے حقائق بیان کئے ہیں ۔ ایسا نہ ہو کہ تم کہو کہ خدا کی طرف سے ہماری طرف کوئی بشارت دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا( یَااٴَهْلَ الْکِتَابِ قَدْ جَائَکُمْ رَسُولُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ عَلَی فَتْرَةٍ مِنْ الرُّسُلِ اٴَنْ تَقُولُوا مَا جَائَنَا مِنْ بَشِیرٍ وَلاَنَذِیرٍ ) ۔

”بشیر اور نذیر“ یعنی پیغمبر اسلام جنہوں نے صاحب ایمان او رنیک افراد کو خدا کی رحمت و جزا کی بشارت دی او ربے ایمان، گنہ گار اور آلودہ افراد کو عذاب ِ الہٰی سے ڈرا یا ایسا پیغمبر تمہاری طرف آگیا ہے( فَقَدْ جَائَکُمْ بَشِیرٌ وَنَذِیرٌ ) ۔

” فترت“ در اصل سکون و اطمنان کے معنی میں ہے ۔ دو حرکات، دو کوششوں اور دو انقلابات کے درمیانی فاصلے کو بھی ” فترت“ کہتے ہیں ۔

حضرت موسیٰ (علیه السلام) اور حضرت مسیح (علیه السلام) کے درمیانی انبیاء مرسلین موجود تھے لیکن حضرت مسیح (علیه السلام) اور پیغمبر اسلام کے درمیان یہ صورت نہیں تھی قرآن نے اس دور کانام ” فترت رسل “ رکھا ہے او رہم جانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ اور بعثتِ پیغمبرکے درمیان تقریباً چھ سو سال کا فاصلہ تھا(۱)

____________________

۱۔بعض ان دو عظیم پیغمبروں کے درمیانی عرصے کو چھ سوسال سے کم سمجھتے اور بعض زیادہ۔ کچھ کے بقول حضرت مسیح (علیه السلام) کی ولادت اور پیغمبر اسلام کی ہجرت کے درمیان رومی سالوں کے حساب سے چھ سو اکیس سال اور ایک سو بچانوے دن کا فاصلہ ہے ۔( تفسیر الفتوح رازی ج۴ ص ۱۵۴ کے حاشیہ پر مر حوم شعرانی کی تحریر)


ایک سوال اور اس کا جواب

ممکن ہے کہ اس مقام پر کہا جائے کہ ہمارے عقیدے کے مطابق تو انسانی معاشرہ ایک لحظہ کے لئے بھی خدا ئی نمائندے اور ا س کے بھیجے ہو ئے افراد سے خالی نہیں ہوسکتا لہٰذا ” فترت“ کا ایسا دور کیونکر ہو سکتا ہے ۔

تو جہ رہے کہ قرآن کہتا ہے :”علی فترة من الرسل “ یعنی اس دور میں رسول نہیں تھا ۔ یہ بات اس کے خلاف نہیں کہ اس دور میں اوصیاء موجود ہوں ۔

بہتر الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ ” رسول “ ان ہستیوں کو کہتے ہیں جو وسیع و عریض تبلیغات پر مامور تھے ۔ لوگوں کو بشارتیں اور نزارتین دیتے تھے ، معاشروں کا سکوت توڑتے تھے اور اپنی آواز تمام لوگوں کے کانوں تک پہنچاتے تھے ۔ لیکن سب کے سب اوصیاء ایسی ماموریت اور ذمہ داری نہ رکھتے تھے یہاں تک کہ ممکن ہے وہ بعض اجتماعی عوامل کی وجہ سے پوشیدہ طور لوگوں میں زندگی گزارتے ہوں ۔ حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں ایک بیان میں فرماتے ہیں ۔

اللهم لاتخلوا الارض من قائم لله بحجة اما ظاهراً مشهوراً اوخائفاً مغموراً لئلا تبطل حجج الله وبیناته یحفظ الله بهم حججه و بینا ته حتی یودعو ها نظرائهم ویزرعوها فی قلوب اشباههم ۔

ہاں روئے زمین ایسے شخص کے وجود سے ہر گز خالی نہیں ہوتی جو حجت ِ خدا کے ساتھ قیام کرے ، وہ آشکار او رمشہور ہو یا مخفی اور نہ پہچانا ہو تاکہ خدا ئی احکام ، دلائل او رنشانیاں ختم نہ ہو جائیں ( اور وہ لانھیں تحریف اور دستبردسے محفوظ رکھیں ) خدا ن کے ذریعے اپنے دلائل اور نشانیوں کی حفاظت کرتا ہے تاکہ وہ انھیں اپنے جیسے افراد تک پہنچا دیں ، آہستہ آہستہ خرافات، شیطانی وسوسے، تحریفات اور تعلیماتِ الہٰی سے بے خبری پھیلی رہے گی ایسے میں ممکن ہے کہ کچھ لوگ ذمہ داریوں سے فرار کے لئے ایسی صورت کو بہانہ بنائیں تو اس صورت میں خدا آسمانی جوانمردوں کے ذریعے اس بہانے کو منقطع کردیتا ہے ۔(۱)

آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے( وَاللهُ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیر ) ۔یعنی پیغمبروں کو بھیجنا اور ان کے جانشینوں کو دعوت حق کی نشر و اشاعت کے لئے بھیجنااس کے قدرت کے سامنے آسان سا کام ہے ۔

____________________

۱ ۔نہج البلاغہ کلمات قصار، کلمہ ۱۴۷۔


آیات ۲۰،۲۱،۲۲،۲۳،۲۴،۲۵

۲۰۔( وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِهِ یَاقَوْمِ اذْکُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَیْکُمْ إِذْ جَعَلَ فِیکُمْ اٴَنْبِیَاءَ وَجَعَلَکُمْ مُلُوکًا وَآتَاکُمْ مَا لَمْ یُؤْتِ اٴَحَدًا مِنْ الْعَالَمِینَ ) ۔

۲۱۔( یَاقَوْمِ ادْخُلُوا الْاٴَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِی کَتَبَ اللهُ لَکُمْ وَلاَتَرْتَدُّوا عَلَی اٴَدْبَارِکُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَاسِرِین ) ۔

۲۲۔( قَالُوا یَامُوسَی إِنَّ فِیهَا قَوْمًا جَبَّارِینَ وَإِنَّا لَنْ نَدْخُلَهَا حَتَّی یَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِنْ یَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِنَّا دَاخِلُونَ ) ۔

۲۳۔( قَالَ رَجُلاَنِ مِنْ الَّذِینَ یَخَافُونَ اٴَنْعَمَ اللهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوا عَلَیْهِمْ الْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّکُمْ غَالِبُونَ وَعَلَی اللهِ فَتَوَکَّلُوا إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ ) ۔

۲۴۔( قَالُوا یَامُوسَی إِنَّا لَنْ نَدْخُلَهَا اٴَبَدًا مَا دَامُوا فِیهَا فَاذْهَبْ اٴَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلاَإِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ ( ۲۴ ) قَالَ رَبِّ إِنِّی لاَاٴَمْلِکُ إِلاَّ نَفْسِی وَاٴَخِی فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِینَ ) ۔

۲۵۔( قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اٴَرْبَعِینَ سَنَةً یَتِیهُونَ فِی الْاٴَرْضِ فَلاَتَاٴْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفَاسِقِینَ ) ۔

ترجمہ

۲۰۔وہ وقت یاد کرو ) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : اے قوم ! تم پر خدا نے جو نعمت کی ہے اسے یاد رکھو، جب اس نے تمہارے انبیاء مقرر کئے ( اور فرعونی استعمار کی زنجیر توڑدی) اور تمہیں خود اپنا مختا ر بنادیا او رتمہیں ایسی کئی چیزیں بخشیں جو عالمین میں سے کسی کو نہیں دیں ۔

۲۱۔ اے قوم ! سر زمین مقدس میں داخل ہو جاو جسے خدا نے تمہارے لئے مقرر کیا ہے اور اپنے پچھلے پاوں نہ لوٹ جاو ( اور پیچھے نہ ہٹو ) کہ خسارے میں رہو گے ۔

۲۲۔ وہ کہنے لگے : اے موسیٰ ! اس سر زمین میں ظالم رہتے ہیں جب تک وہ نکل نہ جائیں ہم اس میں ہر گز داخل نہ ہوں گے ، وہ نکل جائیں تو ہم اس میں داخل ہوجائیں گے۔

۲۳۔ ان لوگوں میں سے دو شخص دو خدا سے ڈرتے تھے اور خدا نے ( عقل، ایمان اور شجاعت کی صورت میں ) انھیں اپنی نعمت سے نوازا تھا کہنے لگے: ان کے شہر کے دروازے میں داخل ہوجاو، جب تم داخل ہو گئے تو کامیاب ہو جاو گے اور خدا پر توکل کرو اگر ایمان رکھتے ہو ۔

۲۴۔ بنی اسرائیل کہنے لگے: اے موسیٰ ! جب تک وہ اس میں ہیں ہم ہر گز وہاں نہیں جائیں گے تو اور تیرا پر وردگار جائے اور ( ان سے ) جنگ کرے، ہم تو ییں بیٹھیں گے ۔

۲۵۔ موسیٰ نے کہا: پر وردگارا ! میرا تو بس اپنے پر اور اپنے بھائی پر بس چلتا ہے ، میرے اور اس کے گنہ گار جماعت کے درمیان جدائی ڈال دے۔

۲۶۔خدا نے موسیٰ سے فرمایا : یہ سر زمین چالیس سال تک ان کے لئے ممنوع ہے ( اور یہاس تک نہیں پہنچ سکیں گے ) اورہمیشہ زمیں میں سر گرداں رہیں گے اور اس گنہ گار جمیعت ( کے انجام ) کے بارے میں غمگین نہ ہو۔

بنی اسرائیل اور سر زمین ِ مقدس

ان آیات میں یہودیوں میں روحِ حق شناسی بیدار کرنے ،گذشتہ خطاوں کے بارے میں ان کے شعور کو دعوت دینے اور انھیں ان خطاوں تلافی پر ابھارا نے کے لئے فرمایا گیا ہے : وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے پیرو کاروں سے کہاکہ خدا نے تمہیں جو نعمتیں بخشی ہیں انھیں فراموش نہ کرو( وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِهِ یَاقَوْمِ اذْکُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَیْکُم ) ۔

واضح ہے کہ ” نعمةاللہ “ کا مفہوم پروردگار کی تمام نعمات پر محیط ہے ۔ لیکن یہاں ان کے تین کی طرف اشارہ کیا گیاہے ۔

پہلی یہ کہ بہت سے انبیاء اور رہبران ان میں پیدا ہوئے یہ در اصل ان کے لئے سب سے بڑی نعمت تھی (إ( ِذْ جَعَلَ فِیکُمْ اٴَنْبِیَاء ) یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ صرف حضرت موسیٰ بن عمران کے زمانے میں ستر سے زیادہ پیغمبر تھے ۔ وہ تمام ستر افراد جو حضرت موسی ٰ علیہ السلام کے ہمراہ کوہ طور پر گئے تھے، انبیاء کے زمرے میں آتے ہیں ۔ اسی نعمت کی برکت سے وہ شرک، بت پرستی اور گوسالہ پرستی جیسی ہولناک مصیبتوں سے رہا ہوئے اور انھوں نے طرح طرح کے خرافات موہومات، قباحتوں اور نجاستوں سے نجات حاصل کی ۔ یہ ان کے لئے عظیم ترین نعمت تھی ۔

ایک عظیم مادی نعمت تھی جو اپنے مقام پر روحانی نعمتوں کے لئے ایک مقدمہ بھی ہے ۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : تمہاری جان و مال اور زندگی کا اختیار خود تمہارے ہاتھ میں دے دیا( وَجَعَلَکُمْ مُلُوکًا ) یعنی خدا نے تم سب کو یہ مقام عطا کیا ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ آیت سے مراد ہی کچھ ہے جو ہم نے سطور بالا میں کہا ہے ۔ علاوہ ازیں ” ملک“ ( بر وزن” الف“ ) لغت میں بادشاہ او رصاحب اقتدار کے معنی میں بھی آتا ہے ۔(۱)

در منثور میں پیغمبر اکرم سے منقول ہے :

کانت بنو اسرائیل اذاکان لاحد هم کادم و دابة و امراٴة کتب ملکاً

بنی اسرائیل میں سے جس شخص کے پاس غلام ، گھوڑا اور بیوی ہوتی اسے ملک کہتے۔(۲)

آیت کے آخر میں کلی طور پر ان اہم نعمتوں کاذکر ہے جو اس زمانے میں کسی اور کو نہیں دی گئی تھی ، تمہیں ایسی چیزیں دی گئیں جو عالمین میں سے کسی کو نہیں دی گئی تھیں( وَآتَاکُمْ مَا لَمْ یُؤْتِ اٴَحَدًا مِنْ الْعَالَمِینَ ) ۔

ایسی طرح طرح کی بہت زیادہ نعمتیں تھیں ان میں سے یہ بھی تھیں کہ انھیں معجزانہ طور پر فرعون سے نجات ملی ، ان کے لئے دریا شق ہوا اور امَن و سلویٰ جیسی خاص غذا انھیں مسیر آئی ۔ اس کی تفصیل سورہ بقرہ آیت ۵۷ کے ذیل میں جلد اول ( ص ۲۱۴ ، اور دو ترجمہ ) میں گذر چکی ہے ۔

اس کے بعد سر زمین مقدس میں بنی اسرائیل کے حدود کے بارے میں یوں بیان کیا گیا ہے : موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تم سر زمین مقدس میں جسے خدا نے تمہارے لئے مقرر کیا ہے داخل ہو جاو، اس سلسلے میں مشکلات سے نہ ڈرو، دا کاری سے منہ نہ موڑو او راگر تم نے اس حکم سے پیٹھ پھیری تو خسارے میں رہو گے

( یَاقَوْمِ ادْخُلُوا الْاٴَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِی کَتَبَ اللهُ لَکُمْ وَلاَتَرْتَدُّوا عَلَی اٴَدْبَارِکُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَاسِرِین ) ۔

آیت میں ارض مقدسہ سے کیا مراد ہے ، اس سلسلے میں مفسرین نے بہت کچھ کہا ہے ، بعض بیت المقدس کہتے ہیں کچھ اردن یا فلسطین کانام لیتے ہیں اور بعض سر زمین طور سمجھتے ہیں ، لیکن بعید نہیں کہ اس سے مراد منطقہ شامات ہو، جس میں تمام مذکورہ علاقے شامل ہیں کیونکہ تاریخ شاہد ہے کہ یہ سارا علاقہ انبیاء الہٰی کا گہوارہ، عظیم ادیان کے ظہور کی سر زمین اور طویل تاریخ میں توحید، خدا پرستی اور تعلیماتِ انبیاء کی نشر و اشاعت کا مرکز رہا ہے لہٰذا اسے سر زمین مقدس کہا گیا ہے اگر چہ بعض اوقات خاص بیت المقدس کو بھی ارض مقدس کہا جاتا ہے ۔

( کتب الله علیکم ) “ سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے یہ فیصلہ کر رکھا تھا کہ نبی اسرائیل سر زمین مقدس میں امن و سکون اور خوشحالی کی زندگی بسر کریں ( اس شرط کے ساتھ کہ اسے شرک اور بت پرستی سے پاک رکھیں اور خود بھی انبیاء کی تعلیم سے منحرف نہ ہوں ) لیکن وہ اگر اس حکم پر کار بند نہ رہے تو انھیں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پرے گا ۔ لہٰذا اگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس آیت کی مخاطب نبی اسرائیل کی ایک نسل اس سر زمین میں داخل نہ ہوسکی اور چالیس سال تک بیا بان میں س رگرداں رہی اور ان کی اگلی نسل کو یہ توفیق ملی تو یہ بات ”( کتب الله لکم ) “ ( خدا نے تمہارے لئے مقرر کیا ہے ) کے مفہوم کے منافی نہیں ہے کیونکہ یہ بات چند شرائط سے مشروط تھی جنہیں انھوں نے پورا نہیں کیا ۔ جیسا کہ بعد والی آیت سے معلوم ہوتا ہے ۔

بنی اسرائیل نے اس حکم پر حضرت موسیٰ (علیه السلام) کو وہی جواب دیا جو ایسے موقع پر کمزور ، بزدل اور جاہل لوگ دیا کرتے ہیں ۔ ایسے لوگ چاہتے ہیں کہ تمام کامیابیاں انھیں اتفاقاً اور معجزانہ طور پر ہی حاصل ہو جائیں یعنی لقمہ بھی کوئی اٹھاکر ان کے منہ میں ڈال دے ، وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے: آپ جانتے ہیں کہ اس علاقے میں ایک جابر اور جنگجوگروہ رہتا ہے جب تک وہ اسے خالی کرکے باہر نہ چلاجائے ہم تو اس علاقے میں قدم تک نہیں رکھیں گے ۔ اسی صورت میں ہم آپ کی اطاعت کریں گے اور سر زمین ِ مقدس میں داخل ہو ں گے۔

( قَالُوا یَامُوسَی إِنَّ فِیهَا قَوْمًا جَبَّارِین َوَإِنَّا لَنْ نَدْخُلَهَا حَتَّی یَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِنْ یَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِنَّا دَاخِلُونَ ) ۔(۳)

بنی اسرائیل کا یہ جواب اچھی طرح نشاندہی کرتا ہے کہ طویل فرعونی استعمار نے ان کی نسلوں پر کیسا منحوس اثر چھوڑا تھا ۔ لفظ” لن “ جو دائمی نفی پر دلالت کرتا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ سر زمین مقدس کی آزادی کے لئے مقابلے سے کس قدر خوفزدہ تھے ۔

چاہیے تو یہ تھاکہ بنی اسرائیل سعی و کوشش کرتے، جہاد و قربانی کے جذبے سے کام لیتے اور سر زمینِ مقدس پر قبضہ کرلیتے اگر فرض کریں کہ سنت الہٰی کے بر خلاف بغیر کسی اقدام کے ان کے تمام دشمن معجزانہ طور پر نوبود ہو جاتے اور بغیر کوئی تکلیف اٹھائے وہ وسیع علاقے کے وارث بن جاتے تو اس کا نظام چلانے اور ا س کی حفاظت میں بھی ناکام رہتے ۔ بغیر زحمت سے حاصل کی ہوئیہ چیز کی حفاظت سے انھیں سرو کار ہو سکتا تھا نہ وہ اس کے لئے تیار ہوتے اور نہ اہل ۔جیساکہ تواریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آیت میں قوم ِ جبار سے مراد قوم عمالقہ(۴)

ہے یہ لوگ سخت جان اور بلند قامت تھے ۔ یہاں تک کہ ان کی بلند قامت تھے ۔ یہاں تک کہ ان کی بلند قامت کے بارے میں بہت مبالغے ہوئے اور افسانے تراشے گئے۔ اس سلسلے میں مضحکہ خیز باتیں گھڑی گئیں جن کے لئے کوئی عملی دلیل نہیں ہے ۔

خصوصاً ” عوج“ کے بارے میں خرافات سے معمور ایسی کہانیاں تاریخوں میں ملتی ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے افسانے جن میں سے بعض اسلامی کتب میں بھی آگئے ہیں ، در اصل نبی اسرائیل کے گھڑے ہوئے ہیں انھیں عام طور پر ” اسرائیلیات“ کہا جاتا ہے ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ خود موجودہ تورات کے متن میں ایسے افسانے دکھائی دیتے ہیں ۔ سفر اعداد کی تیرہویں فصل کے آخر میں ہے ۔

اس زمین کے بارے میں جس کے تجسس میں (نبی اسرائیل کے جاسوس) لگے ہوئے تھے انھوں نے آکر ایک بری خبر دی ۔ وہ کہنے لگے کہ جس زمین کے بارے میں ہم تجسس کرنے گئے ہوئے تھے جب ہم اس کے نزدیک سے گزرے تو دیکھا کہ و ہ ایسی زمین ہے جو اپنے رہنے والوں کو تلف کردیتی ہے اور اس میں ہم نے جتنے لوگوں کو دیکھا سب بلند قامت تھے ۔ وہاں ہم نے بلند قد والوں یعنی اولاد عناق جو بلند قامت ہیں و دیکھا ہے ہمیں ایسا لگا جیسے ٹڈی دل ہیں اور خود ان کی نگاہوں میں بھی ہم ایسے ہیں تھے۔

اس کے بعد قرآن کہتا ہے : اس وقت اہل ایمان میں سے دو افراد ایسے تھے جن کے دل میں خوفِ خدا تھا اور اس بنا پر انھیں عظیم نعمتیں مسیر تھیں ان میں اتقامت و شجاعت بھی تھی، وہ دوراندیش بھی تھے اور اجتماعی اور فوجی نقطہ نظر سے بھی بصیرت رکھتے تھے انھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دفاعی تجویز کی حمایت کی اور بنی اسرائیل سے کہنے لگے: تم شہر کے در وازےسے داخل ہو جاو اور اگر تم داخل ہو گئے تو کامیاب ہو جاو گے( قَالَ رَجُلاَنِ مِنْ الَّذِینَ یَخَافُونَ اٴَنْعَمَ اللهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوا عَلَیْهِمْ الْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّکُمْ غَالِبُونَ ) ۔

لیکن ہر صورت میں تمہیں روح ایمان سے مدد حاصل کرنا چاہئیے خدا پر بھروسہ کرو تاکہ اس مقصد کو پالو( وَعَلَی اللهِ فَتَوَکَّلُوا إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ ) ۔

اس بارے میں کہ یہ دوا آدمی کون تھے ؟ اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ یوشع بن نون اور کالب بن یوحنا ( یوفنہ بھی لکھتے ہیں ) تھے جو بنی اسرائیل کے نقیبوں میں سے تھے کہ جن کی طرف پہلے بھی اشارہ کیا جاچکا ہے ۔(۵)

من الذین یخافونکی تفسیر میں بھی کئی احتمالات پیش کئے گئے ہیں لیکن واضح ہے کہ ظاہری مفہوم یہ ہے کہ وہ دونوں مرد ایسے تھے جو خدا سے ڈر تے تھے اسی لئے تو انھیں غیر خدا کا کوئی خوف نہ تھا ۔

انعم الله علیهما خدا نے ان پر فراوان نعمت کییہ جملہ مندرجہ بالا مفہوم کا شاہد ہے کیونکہ اس سے بڑی نعمت اور کیا ہو گی کہ انسان صرف اللہ سے ڈرے نہ کہ اس کے غیر سے ۔

یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ یہ دو شخص کیسے جانتے تھے کہ اگر بنی اسرائیل اچانک حملہ کرکے شہر میں داخل ہو جائیں تو عمالقہ شکست کھاجائیں گے ۔

شاید یہ اس لئے ہو کہ وہ موسیٰ (علیه السلام) بن عمران کے وعدہ فتح و نصرت پر اعتمادرکھتے تھے اور اس کے علاوہ وہ ہ بھی جانتے تھے کہ تمام جنگوں کا ایک یہ اصول ہے کہ اگر حملہ آور فوج اپنے دشمن کے اصلی مرکز پرجاپہنچے یعنی اس کے گھر میں جاکر لڑے، تو عام طور پر کامیاب ہوجاتی ہے ۔ ۶

فوا لله ماغزی قوم فی عقر دار هم الاذلوا بخداجس قوم پر بھی اس کے گھر میں حملہ کیا گیا ،وہ ذلیل ہوئی ۔ (خطبہ۔ ۲۷)

علاوہ از ایں جیساکہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ عمالقہ ایک تنومند اور قوی ہیکل قوم تھی ( البتہ ان کے بارے میں افسانوی پہلووں کا ہم نے انکار کیا ہے ) اور ایسی قوم بیابانی جنگ میں اپنی مہارت کا بہتر مظاہرہ کرسکتی ہے لیکن شہر کے گلی کوچوں میں ویسا نہیں لڑسکتی ۔ ان سب باتوں سے قطع نظر جیسا کہ کہا جاتا ہے وہ لوگ تنومند اور قوی ہیکل ہو نے کے باوجود ڈر پوک تھے اور اچانک حملے سے جلدی مرعوب ہو جاتے ۔ ان تمام امور کے باعث ان دو افراد نے بنی اسرائیل کی کامیابی کی ضمانت دی تھی ۔ مگر بنی اسرائیل نے یہ تجویز قبول نہ کی اور ضعف و کمزوری جو ان کی روح پر قبضہ کرچکی تھی، کے باعث انھوں نے صراحت سے حضرت موسیٰ (علیه السلام) سے کہا: جب تک وہ لوگ اس سر زمین میں ہیں ہم ہر گز داخل نہیں ہو ں گے ، تم اور تمہارا پر وردگار جس نے تم سے کامیابی کا وعدہ کیا ہے ، جاو اور عمالقہ سے جنگ کرو اور جب کامیاب ہو جاو تو ہمیں بنا دیان ہم یہیں بیٹھے ہیں( قَالُوا یَامُوسَی إِنَّا لَنْ نَدْخُلَهَا اٴَبَدًا مَا دَامُوا فِیهَا فَاذْهَبْ اٴَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلاَإِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ )

یہ آیت نشاندہی کرتی ہے کہ نبی اسرائیل نے اپنے پیغمبرکے سامنے جسارت کی انتہا کردی تھی، کیونکہ پہلے تو انھوں نے لفظ ” لن“ اور ” ابدا“ استعمال کرکے اپنی صریح مخالفت کااظہار کیکا اور پھر یہ کہا کہ تم اور تمہارا پر ور دگارجاو اور جنگ کرو، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں انھوں نے حضرت موسیٰ (علیه السلام) اور ان کے وعدوں کی تحقیر کی یہاں تک کہ خدا کے ان دو بندوں کی تجویز کی بھی پر واہ نہیں کی اور شاید انھیں تو کوئی مختصر سا جواب تک نہیں دیا ۔

یہ امر قابل توجہ ہے کہ موجودہ تورات میں بھی اس داستان کے بعض اہم حصے موجود ہیں ۔ یہ واقعہ سر اعداد باب ۱۴ میں ہے ،جہاں مذکورہ ہے :

تمام بنی اسرائیل موسیٰ اور ہارون پر معترض ہو ئے اور سب انھیں کہنے لگے کہ کاش ہم سر زمین مصر ہیں میں مر گئے ہو تے یا پھر کسی جنگل بیابان میں مر جاتے۔ خدا اس زمین میں ہمیں کیوں لے آیا ہے کہ جہاں ہم تلوار زنی کاشکار ہو جائیں اور ہمار ی عورتیں اور بچے لوٹ کا مال بن جا ئیں پس موسیٰ اور ہارون بنی اسرائیل عوامل کے سامنے منہ کے بل گر پڑے اور یو شع بن نون اور کالیب بن یفتہ جو زمین کے متجسسین میں سے تھے انھوں نے اپنا گریبان چاک کرلیا ۔

اگلی آیت میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ان لوگوں سے بالکل مایوس ہو گئے اور انھوں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دئے اور ان سے علیحدگی کے لئے یوں تقاضا کیا : پر ور دگاررا ! میرا صرف اپنے آپ پر اور اپنے بھائی پر بس چلتا ہے : خدا یا ! ہمارے اور اس فاسق و سر کش گروہ میں جدائی ڈال دے تاکہ وہ اپنے اعمال کا نتیجہ دیکھ لیں اور ان کی اصلاح ہو جائے( قَالَ رَبِّ إِنِّی لاَاٴَمْلِکُ إِلاَّ نَفْسِی وَاٴَخِی فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِینَ ) ۔

البتہ نبی اسرائیل نے جو کام کیا تھا یعنی اپنے پیغمبر کے حکم صریح کی نافرمانی وہ کفر کی حد تک پہنچی ہو تھی اور اگر قرآن نے انھیں فاسق کا لقب دیا ہے تو اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ ” فاسق“ ایک وسیع معنی رکھتاہے اور اس میں ہر طرح کی عبودیت اور خدا کی بندگی سے خارج ہونے کا مفہوم شامل ہے اسی لئے شیطان کے بارے میں ہے :( ففسق عن امر ربه )

وہ فرمان خدا کے مقابلے ،میں فاسق ہو گیا اور اس نے مخالفت کی ۔ (کہف ۵۰)

اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ گذشتہ آیات میں ” من الذین یخافون“ سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل میں اقلیت میں کچھ افراد ایسے بھی تھے جو خدا سے ڈرتے تھے ۔ یوشع اور کالیب ایسے ہی افراد میں سے تھے لیکن یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) اپنا اور اپنے بھائی ہارون (علیه السلام) ہی کا نام لیتے ہیں اور ان دونوں کی طرف اشارہ نہیں کرتے۔ شاید یہ اس لئے ہو کہ حضرت ہارون (علیه السلام) ایک تو حضرت موسیٰ (علیه السلام) کے جانشین تھے اور دوسرا یہ کہ حضرت مویسٰ (علیه السلام) کے بعد نبی اسرائیل میں سب سے زیادہ افضل تھے لہٰذا خصوصیت سے ان کا نام لیا گیا ہے ۔

آخر کار حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی اور بنی اسرائیل اپنے ان برے اعمال کے انجام سے دو چار ہو ئی ۔ خداکی طرف سے حضرت موسیٰ (علیه السلام) کو وحی ہوئی : یہ لوگ اس مقدس سر زمین سے چالیس سال تک محروم رہیں گے جو طرح طرح کی مادی اور روحانی نعمات سے مالا مال ہے( قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اٴَرْبَعِینَ سَنَةً ) ۔علاوہ ازیں ان چالس سالوں میں انھیں اس بیابان میں سر گرداں رہنا ہو گا( یَتِیهُونَ فِی الْاٴَرْض ) ۔(۷)

اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا گیا ہے : اس قوم کے سر پر جو کچھ بھی آئے وہ صحیح ہے ، ان کے اس انجام پر کبھی غمگین نہ ہونا( فَلاَتَاٴْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفَاسِقِینَ ) ۔

آخری جملہ شاید اس لئے ہو کہ جب بنی اسرائیل کے لئے یہ فرمان صادر ہوا کہ وہ چالیس سال تک سزا کے طور پر بیابان میں سر گرداں رہیں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دل میں جذبہ مہربانی پیدا ہوا اور شاید انھوں نے در گاہ خدا وندی میں ان کے لئے عفوو در گذر کی در خواست بھی کی ہو جیسا کہ موجودہ تورات میں بھی ہے لیکن انھیں فوراً جواب دیا گیا کہ وہ اس سزا کے مستحق ہیں نہ کہ عفو و در گذر کے ، کیونکہ جیسا کہ قرآن میں ہے کہ وہ فاسق اور سر کش لوگ تھے اور جو ایسے ہوں ان کے لئے یہ انجام حتمی ہے ۔

توجہ رہے کہ ان کے لئے چالیس سال کی یہ محرومیت انتقامی جذبے سے نہ تھی( جیسا کہ خدا کی طرف سے کوئی سزابھی ایسی نہیں ہوتی بلکہ یا اصلاح کے لئے ہوتی ہے اور یا عمل کا نتیجہ)در حقیقت اس کا ایک فلسفہ تھا اور وہ یہ کہ بنی اسرائیل ایک طویل عرصے تک فر عونی استعمار کی ضربیں جھیل چکے تھے ۔ اس عرصے میں حقارت آمیز رسومات، اپنے مقام کی عدم شناخت اور احساسات ِ ذلت کا شکار ہو چکے تھے اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے عظیم رہبر کی سر پرستی میں اس تھوڑے سے عر صے میں اپنی روح کو ان خامیوں سے پا ک نہیں کر سکتے تھے اور وہ ایک ہی جست میں افتخار، قدرت اور سر بلندی کی نئی زندگی کے لئے تیار نہیں ہو پاتے تھے ۔ حضرت موسیٰ (علیه السلام) نے انھیں مقدس سر زمین کے حصول کے لئے جہاد آزادی کا جو حکم دیا تھا اس پر عمل نہ کرنے کے لئے انھوں نے جو کچھ کہا وہ اس حقیقت کی واضح دلیل ہے لہٰذا ضروری تھا کہ وہ ایک طویل مدت وسیع بیابانوں میں سر گرداں رہیں اور اس طرح ان کی ناتواں اور غلامانہ ذہنیت کی حامل موجودہ کمزور نسل آہستہ آہستہ ختم ہو جائے اور نئی نسل حریت و آزادی کے ماحول میں اور خدائی تعلیمات کی آغوش میں پر وان چڑھے تاکہ وہ اس قسم کے جہاد کے لئے اقدام کر سکے اور اس طرح سے اس سر زمین پر حق کی حکمرانی قائم ہو سکے۔

____________________

۱۔کتب لغت میں ہے : الملک من کان لہ الملک و الملک ھو مایملکہ الانسان و یتصرف بہ ۔ او ۔ العظمة و السلطة ۔مَلِک وہ شخص ہے جو مِلک رکھتا ہو اور مِلک ان سب چیزوں کو کہتے ہیں جس کا انسان مالک ہو اور ان میں تصرف کرے ۔

۲ ۔ المیزان جلد ۵ ص ۳۱۹ ، تفسیر طبرسی ج۶ ص ۱۰۸ میں بھی یہ روایت نقل ہے ۔

۳ توجہ رہے کہ لفظ ”جبار“ اصل میں مادہ ” جبر “ سے ہے اس کامعنی ہے کہ کسی چیز کی قوت سے اور زبر دستی اصلاح کرنا، اسی لئے ٹوٹی ہوئے ہڈی باندھنے کو ” جبر“ کہتے ہیں ۔ بعد ا زاں ایک طرف ہر طرح کی اصلاح اور دوسری طرف ہر طرح کے تسلط اور غلبہ کے مفہوم میں استعمال ہونے لگا خدا کو بھی جبار اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ تمام چیزوں پر تلسط رکھتا ہے یا ہر محتاج کی اصلاح کرتا ہے ۔

۴ عمالقہ ، سام کی اولاد میں سے ایک قوم تھی یہ لوگ جزیرہ نمائے عرب کے شمال میں صحرائے سینا کے نزدیک رہتے تھے وہ مصر پر حملہ آور ہوئے اور مدتوں اس پر قابض رہے ان کی حکومت کا عرصہ تقریباً ۵۰۰ سال تھا ( ۲۲۱۳ ق م سے لے کر ۱۷۰۳ ق م تک ) ۔ ( دائرة المعارف فرید وجدی ج۶ ص ۲۳۲ طبع سوم )

۵ ۔ موجودہ تورات کے سفر تثنیہ باب اول سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان افراد کے نام یوشع اور کالب تھے ۔

۶ ۔ نہج البلاغہ میں بھی خطبہ جہاد میں اس جنگی حکمت ِ عملی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ امیر المومنین (علیه السلام) فرماتے ہیں ۔

۷ ۔”یتھون “ کا مادہ ” تیہ“ ہے جس کا معنی ہے سر گردانی ۔ بعد ازاں ” تیہ“ اس بیا بان کا نام ہو گیا جس میں بنی اسرائیل سر گر داں رہے۔ جیسا کہ ہم تفسیرنمونہ جلد اول ( ص ۲۱۳، ار دو ترجمہ)بیان کرچکے ہیں یہ صحرا، صحرائے سینا کا ایک حصہ ہے ۔


آیات ۲۷،۲۸،۲۹

۲۷۔( وَاتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاٴَ ابْنَیْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اٴَحَدِهِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنْ الْآخَرِ قَالَ لَاٴَقْتُلَنَّکَ قَالَ إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللهُ مِنْ الْمُتَّقِینَ ) ۔

۲۸۔( لَئِنْ بَسَطتَ إِلَیَّ یَدَکَ لِتَقْتُلَنِی مَا اٴَنَا بِبَاسِطٍ یَدِی إِلَیْکَ لِاٴَقْتُلَکَ إِنِّی اٴَخَافُ اللهَ رَبَّ الْعَالَمِینَ ) ۔

۲۹۔( إِنِّی اٴُرِیدُ اٴَنْ تَبُوءَ بِإِثْمِی وَإِثْمِکَ فَتَکُونَ مِنْ اٴَصْحَابِ النَّارِ وَذَلِکَ جَزَاءُ الظَّالِمِینَ ) ۔

ترجمہ

۲۷۔ آدم کے دو بیٹوں کا قصہ حق کے ساتھ ان کے سامنے پڑھیے جبکہ ان میں سے ہر ایک نے( پر وردگار کے) تقرب کے لئے کام کیا مگر وہ ایک کا ( عمل )تو قبول ہوگیا لیکن دوسرے سے قبول نہ کیا گیا ( وہ بھائی جس کا عمل قبول نہیں ہوا تھا دوسرے بھائی سے ) کہنے لگا : خدا کی قسم میں تجھے قتل کر دوں گا ۔ (دوسرے بھائی نے کہا: ( میں نے کونسا گناہ کیا ہے ، کیونکہ ) خدا تو صرف پر ہیز گاروں سے قبول کرتا ہے ۔

۲۸۔ اگر تو میرے قتل کے لئے ہاتھ بڑھائے تو میں تو تجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ نہیں بڑھاوں گا،کیونکہ میں عالمین کے پروردگارسے ڈرتا ہوں ۔

۲۹۔ میں تو چاہتا ہوں کہ ( تو یہ عمل انجام دے کر ) میرا اور اپنا بوجھ اٹھائے ہو ئے لوٹے اور ( دونوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ) تو جہنمیوں میں سے ہو جائے اور ستمگر وں کی یہی سزا ہے ۔

روئے زمین پر پہلا قتل

ان آیات میں حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں کا ذکر ہے ان میں سے ایک کے ہاتھوں دوسرے کے قتل کے بارے میں داستان بیان کی گئی ہے ۔ ان آیات کا گذشتہ آیات سے شاید یہ ربط ہو کہ بنی اسرائیل کے بہت سے غلط اعمال کا سبب حسد تھا ان آیات کے ذریعے خدا تعالیٰ انھیں متوجہ کر رہا ہے کہ حسد کا انجام کتنا ناگوار ہولناک ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کہ وجہ سے ایک بھائی اپنے بھائی کے خون سے بھی ہاتھ رنگین کرلیتا ہے پہلے فرمایا: اے پیغمبر! انھیں آدم کے بیٹوں کا حقیقی قصہ سنا دیجئے( وَاتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاٴَ ابْنَیْ آدَمَ بِالْحَقِّ ) ۔

” بالحق“ ممکن ہے اس طرف اشارہ ہو کہ مذکورہ سر گذشت عہد قدیم ( تورات) میں بڑی خرافات کی آمیزش کے ساتھ بیان کیا گئی ہے لیکن قرآن میں اس حقیقت و واقعیت کو بیان کیا گیا ہے ۔

اس میں شک نہیں کہ یہاں ” آدم “ سے مراد ہی مشہور آدم ہیں جو موجودہ نسل انسانی کے پہلے باپ ہیں اور یہ جو بعض نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ اس سے مراد آدم بنی اسرائیل میں سے ایک فرد تھا، بالکل بے بنیاد ہے کیونکہ یہ لفظ قرآن مجید میں بار ہا اس معنی میں استعمال ہوا ہے کہ اور اگر یہاں کو ئی معنی مراد ہوتا تو ضروری تھا کہ ا س کے لئے کوئی قرینہ ہوتا باقی رہی آیت” من اجل ذٰلک“ کہ جس کی تفسیر عنقریب آئے گی جیسا کہ ہم وضاحت کریں گی ہر گز اس معنی کے لئے قرینہ قرار نہیں پا سکتی ۔اس کے بعد واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : جب ہر ایک نے تقربِ پر وردگار کے لئے ایک کام انجام دیا تو ایک کا عمل تو قبول کرلیا گیا لیکن دوسرے کا قبول نہ ہوا( إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اٴَحَدِهِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنْ الْآخَرِ ) ۔

اسی وجہ سے جس کا عمل قبول نہ ہوا تھا اس نے دوسرے بھائی کا قتل کی دھمکی دی اور قسم کھا کر کہا کہ میں تجھے قتل کر دوں گا( قَالَ لَاٴَقْتُلَنَّک ) ۔لیکن دوسرے بھائی نے اسے نصیحت کی اور کہا کہ اگر یہ واقعہ پیش آیا تو اس میں میرا کوئی گناہ نہیں ہے بلکہ اعتراض تو تجھ پر ہونا چاہئیے کیونکہ تیرے عمل میں تقویٰ شامل نہیں تھا اور خدا تو صرف پر ہیز گاروں کا عمل قبول کرتا ہے ( قَالَ إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللهُ مِنْ الْمُتَّقِینَ) ۔مزید کہا کہ حتی اگر تم اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہناو اور میرے قتل کے لئے ہاتھ بڑھاوتو میں ہر گز ایسا نہیں کروں گا اور تمہارے قتل کے لئے ہاتھ نہیں بڑھاوں گا ۔

( لَئِنْ بَسَطتَ إِلَیَّ یَدَکَ لِتَقْتُلَنِی مَا اٴَنَا بِبَاسِطٍ یَدِی إِلَیْکَ لِاٴَقْتُلَکَ ) ۔

کیونکہ میں تو خدا سے ڈرتا ہوں اور ایسے گناہ سے ہر گز اپنے ہاتھ آلودہ نہیں کروں گا ۔( إِنِّی اٴَخَافُ اللهَ رَبَّ الْعَالَمِینَ ) ۔

علاوہ ازیں میں نہیں چاہتا کہ دوسرے کے گناہ کا بوجھ اپنے گردن پر لادلوں بلکہ میں تو چاہتا ہوں کہ تم ہی میرے اپنے گناہ کا بار اپنے کندھے پر اٹھا لو

( کیونکہ اگر واقعاً تم اپنے اس دھمکی کو عملی جامہ پہناو تو میرے گذشتہ گناہوں کا بوجھ بھی تمہارے کندھوں پر آپڑے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ تم مجھ سے حقِ حیات چھینو گے توتوان بھی تمہی کو دینا ہو گا اور چونکہ تمہارے پاس کوئی عمل صالح نہیں ہے لہٰذا میرے گناہ تمہیں اپنے کندھوں پر اٹھا نا ہوں گے ۔( إِنِّی اٴُرِیدُ اٴَنْ تَبُوءَ بِإِثْمِی وَإِثْمِکَ ) ۔(۱)

اور مسلم ہے کہ یہ بوجھ اٹھا کر تم جہنمیوں میں سے ہو جاو گے اور ستمگروں کی یہی سزا ہے( فَتَکُونَ مِنْ اٴَصْحَابِ النَّارِ وَذَلِکَ جَزَاءُ الظَّالِمِینَ ) ۔

____________________

۱” تبوء“ مادہ ” بواء“ سے ہے اور اس کا معنی ہے ” باز گشت“


چند اہم نکات

۱ آدم کے بیٹوں کے نام -:

قرآن مجید میں حضرت آدم (علیه السلام) کے بیٹوں کے نام نہیں لیا گیا ہے،نہ اس جگہ اور نہ کسی اور مقام پر لیکن اسلامی روایات کے مطابق ایک نام ہابیل ہے اور دوسرے کا قابیل ۔ موجودہ تورات کے سفر تکوین کے چوتھے باب میں ایک نام قائن مذکور ہے اور دوسرے کا ہابیل۔ جیسا کہ مشہور مفسر ابو الفتح رازی کہتے ہیں ہر ایک کے نام میں چند لغوی پہلو ہیں ۔

پہلے کانام ” ہابیل ، ” ہابل“ یا ” ہابن“ تھا اور دوسرے کا نام ” قابیل“ ، ”قابن“ یا ”قبن“ تھا ۔ بہر حال اسلامی روایات اورتورات کے متن میں قابیل کے نام کے بارے میں اختلاف لغت کی طرف بازگشت ہے اور یہ کوئی اہم بات نہیں ہے ۔

تعجب کی بات ہے کہ ایک عیسائی عالم نے اس امر کو قرآن پر اعتراض کی بنیاد بنا لیا ہے کہ قرآن نے ” قائن “ کو ” قابیل“ کیوں کہا ہے حالانکہ اول تو یہ اختلافِ لغت ہے اور لغت میں ناموں کے بارے میں بہت زیادہ اختلاف ہے مثلاً تورات ” ابراہیم “ کو ” ابراہام “ لکھتی ہے اور قرآن اسے ” ابراہیم“ لکھتا ہے ۔ ثانیاً بنیادی طو ر پر ” ہابیل “ اور ” قابیل “ کے نام قرآن میں مذکور ہی نہیں یہ اسماء تو اسلامی روایات میں آئے ہیں ۔(۱)

۲۔ ” قربان “ کامفہوم:

ہم جانتے ہیں کہ ” قربان “ ایسی چیز کوکہتے ہیں جو تقرب الہٰی کا باعث بنے مگر جو کام ان دونوں بھائیوں نے انجام دیا اس کا قرآن میں تذکرہ موجود نہیں ہے۔ بعض اسلامی رویات اور تورات کے سفر تکوین باب چہارم میں جو کچھ مذکورہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہابیل کے پاس چونکہ پالتو جانور تھے اس نے ان میں سے ایک بہترین پلا ہوا مینڈھا منتخب کیا ۔ قابیل کسان تھا اس نے گندم کا گھٹیا حصہ یا گھٹیا آٹا اس کے منتخب کیا ۔

۳ ۔ قبولیت کی دلیل کیا تھی :

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فرزندان آدم (علیه السلام) کو کیسے پتہ چلا کہ ایک کا عمل بار گاہ ایزدی میں قبول ہو گیا ہے ۔اور دوسرے کا رد کردیا گیا ہے ۔ قرآن میں اس کی بھی وضاحت نہیں ہے البتہ بعض اسلامی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دونوں اپنی مہار شدہ چیزیں پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے قبولیت کے اظہار کے طور پر بجلی نے ہابیل کی قربانی کھا لیا اور اسے جلا دیا لیکن دوسری اپنی جگہ پر باقی رہی اور یہ نشانی پہلے سے مروج تھی ۔

بعض دوسرے مفسرین کا خیال ہے کہ ایک عملی کی قبولیت دوسرے کا ردّ حضرت آدم (علیه السلام) کو وحی کے ذیعے بتا یا گیا اور اس کے وجہ سوائے اس کے کہ کچھ نہ تھی کہ ہابیل ایک باصفا، باکردار اور راہ خدا میں سب کچھ کر گزرنے والا شخص تھا جبکہ قابیل تاریک دل ، حاسد اور ہٹ دھرم تھا، قرآن نے دونوں بھائیوں کی جو گفتگو بیان کی ہے اس سے ان کی راحانی کیفیت اچھی طرح سے واضح ہوجاتی ہے۔

۴۔ ظلم کا پہلا سر چشمہ حسد ہے :

ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے جہانِ انسانیت میں اختلاف ، قتل تجاوز اور ظلم کا پہلا سر چزمہ حسد ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اخلاقی رذالت کے حوالے سے حسد کا مقام کس قدر پست ہے ۔ بہت سے اجتماعی اور معاشرتی امور پر اس کے گہرے منفی اثرات بھی اس سے ظاہر ہوتے ہیں ۔

____________________

۱ ۔ علامہ شیخ محمد جواد بلاغی نے اس سلسلے میں ایک رسالہ ” الاکاذیب الاعاجیب“ ( تعجب انگیز جھوٹ) کے نام سے لکھا ہے جس میں مذکورہ جھوٹ کی طرح کے لئی جھوٹ بتائے گئے ہیں اس رسالے کا فارسی ترجمہ چھپ چکا ہے ۔مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔


آیات ۳۰،۳۱

۳۰۔( فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ اٴَخِیهِ فَقَتَلَهُ فَاٴَصْبَحَ مِنْ الْخَاسِرِینَ ) ۔

۳۱۔( فَبَعَثَ اللهُ غُرَابًا یَبْحَثُ فِی الْاٴَرْضِ لِیُرِیَهُ کَیْفَ یُوَارِی سَوْاٴَةَ اٴَخِیهِ قَالَ یَاوَیْلَتَا اٴَعَجَزْتُ اٴَنْ اٴَکُونَ مِثْلَ هَذَا الْغُرَابِ فَاٴُوَارِیَ سَوْاٴَةَ اٴَخِی فَاٴَصْبَحَ مِنْ النَّادِمِینَ ) ۔

ترجمہ

۳۰۔ نفس سر کش نے آہستہ آہستہ اسے بھائی کے قتل کے لئے پختہ کردیا اور اس نے است قتل کردیا، اور وہ زیان کا روں میں سے ہو گیا ۔

۳۱۔ اس کے بعد خدا نے ایک کوّا بھیجا جو زمین میں کوشش کرتا( اور اسے کھودتا) تاکہ وہ اسے بتائے کہ اپنے بھائی کا جسم زمین میں کسیے دفنائے۔ تو وہ کہنے لگا وائے ہو مجھ پر کہ میں اس کواّ ے جیسا ( بھی ) نہیں ہو سکتا کہ اپنے بھائی کو دفن کرتا اور آخرکار وہ ( رسوائی کے خوف اور وجدان کے دباو سے اپنے کام پر ) پشیمان ہوا ۔

ظلم پر پَردہ پوشی

ان آیات میں حضرت آدم (علیه السلام) کے بیٹوں کا واقعہ ، ایک بھائی کا دوسرے کے ہاتھوں قتل اور قتل کے بعد کے حالات بیان کئےگئے ہیں ، پہلے فرمایا سر کش نفس نے بھائی کے قتل کے لئے اسے پختہ کردیا اور اس نے اسے قتل کردیا( فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ اٴَخِیهِ فَقَتَلَهُ ) ۔

”طوع“ کا معنی ہے کسی چیز کا رام اور مطیع ہونا ۔ اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہابیل کا عمل قبول ہونے کے بعد قابیل کے دل میں ایک طوفان پیدا ہو گیا ایک طرف دل میں ہر وقت حسد سے ذاتی تنفر اسے جرم سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ۔ لیکن آخر کار سر کش نفس آہستہ آہستہ روکنے والے عوامل پر غالب آگیا اور اس نے اس کے بیدا ر وجدان کو رام کرلیا اور اسے جکڑ دیا اور بھائی کو قتل کرنے پر آمادہ کرلیا“ طوعت“ ایک چھوٹا سا لفظ ہے لیکن اس کے سارے مفہوم کی طرف بھر پور اشارہ کرتا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کسی کو ایک ہی لمحے میں رام نہیں کیا جاسکتا بلکہ ایسا تدریجی طور پر کئی طرح کی کشمکش کے بعد عمل میں آتا ہے ۔

اس کے بعد فرمایا گیا ہے : اس کام کے نتیجے میں وہ زیان کاروں میں سے ہو گیا( فَاٴَصْبَحَ مِنْ الْخَاسِرِینَ ) ۔

اس سے بڑھ کراور کیا خسارہ ہو گا کہ اس نے وجدان کا عذاب ، خدا کی طرف سے سزا اور قیامت تک کے لئے اپنے نام پر ننگ و عار خرید لی ۔

” اصبح “ سے بعض نے یہ استفادہ کیا ہے کہ یہ قتل رات کے وقت ہوا حالانکہ یہ لفظ لغت ِ عرب میں رات یا دن کے لئے مخصوص نہیں ہے بلکہ کسی چیز کے واقع ہونے پر دلالت کرتا ہے ، مثلاً سورہ آلِ عمران آیہ ۱۰۳ میں ہے :”( فاصبحتم بنعمته اخواناً“ )

نعمت خدا کی وجہ سے تم میں سے ایک دوسرے کے بھائی بن گئے ۔

امام صادق علیہ السلام سے منقول بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قابیل نے جب اپنے بھائی کو قتل کردیا تو اس کی لاش اس نے صحرا میں ڈال رکھی تھی اور اسے نہیں معلوم تھا کہ اسے کیا کرنا چاہیئے زیادہ دیر نہ گذری کہ درندے ہابیل کے جسم کی طرف آنے لگے ۔ قابیل ضمیر کے شدید دباو کا شکار تھا بھائی کے جسم کو بچانے کے لئے وہ لاش کو ایک مدت تک کندھے پر لئے بھرتا رہا، کچھ پرندوں نے پھربھی اسے گھیر رکھا تھا اور وہ اس انتظار میں تھے کہ وہ کب اسے زمین پر پھینکتا ہے تاکہ وہ لاش پر جھپٹ پڑیں ۔(۱)

جیسا کہ قرآن مجید کہتا ہے کہ اس موقع پر خدا تعالیٰ نے ایک کوّا بھیجا ۔ مقصد یہ تھا کہ وہ زمین کھودے اور اس میں دورے مردہ کوّء کا جسم چھپادے یا اپنے کھانے کی چیزوں کو زمین میں چھپا دے جیسا کہ کوّے کی عادت ہے تاکہ قابیل سمجھ سکے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کس طرح سپرد خاک کرے

( فَبَعَثَ اللهُ غُرَابًا یَبْحَثُ فِی الْاٴَرْضِ لِیُرِیَهُ کَیْفَ یُوَارِی سَوْاٴَةَ اٴَخِیهِ ) ۔(۲)

البتہ اس بات میں کوئی تعجب نہیں کہ انسان کوئی چیز کسی پرندے سے سیکھے کیونکہ تاریخ اور تجربہ شاہد ہیں کہ بہت سے جانور طبعی طور پر معلومات رکھتے ہیں کہ انسان نے اپنی پوری تاریخ میں جانوروں سے بہت کچھ سیکھا ہے یہاں تک کہ میڈیل کی بعض کتب میں ہے کہ انسان اپنی بعض طبّی معلومات میں حیوانات کا مرہونن منت ہے ۔

اس کے بعد قرآن مجید مزید کہتا ہے : اس وقت قابیل اپنی غفلت اور جہالت سے پریشان ہو گیا اور چیخ اٹھا کہ وائے ہو مجھ پر ، کیا میں اس کوّے سے بھی زیادہ ناتواں اور عاجز ہوں ، مجھ سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ میں اس کی طرح اپنے بھائی کا جسم دفن کروں( قَالَ یَاوَیْلَتَا اٴَعَجَزْتُ اٴَنْ اٴَکُونَ مِثْلَ هَذَا الْغُرَابِ فَاٴُوَارِیَ سَوْاٴَةَ اٴَخِی ) بہر حال وہ اپنے کئے پر نادم و پشمان ہو اجیسا کہ قرآن کہتا ہے :( فَاٴَصْبَحَ مِنْ النَّادِمِینَ ) ۔

کیا اس کی پشمانی اس بناپر تھی کہ اس کا گھٹیا اور برا عمل آخر کار اس کے ماں باپ پر احتمالی طور پر دوسرے بھائی تھے ان پر آشکار ہو جائے گا اور وہ اسے بہت سر زنش کریں گے یا کیا یہ پشمانی ا س بنا پر تھی کہ کیوں میں ایک مدت تک بھائی کی لاش کندھے پر لیے پھر تا رہا اور اسے دفن نہ کیا اور یا پھر یہ ندامت اس وجہ سے تھی کہ اصول طور پر انسان ہر برا کام انجام دے لینے کے بعد اپنے دل میں ہر طرح کی پریشانی اورندامت محسوس کرتا ہے لیکن واضح ہے کہ اس کی ندامت کی جو بھی وجہ ہو وہ اس کے گناہ سے توبہ کی دلیل نہیں ہے کیونکہ توبہ یہ ہے کہ ندامت خوف خدا کے باعث اور عمل کے برا ہونے کے احساس کی بنا پر ہو اور یہ احساس اسے اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ آیندہ ہر گز ایسا کام نہیں کرے گا ۔ قرآن میں قابیل کی ایسی کسی توبہ کی نشاندہی نہیں کی گئی ۔ بلکہ شاید اگلی آیت میں ایسی توبہ کے نہ ہونے کی طرف اشارہ ہے ۔

پیغمبر اسلام سے ایک حدیث منقول ہے ، آپ نے فرمایا:

لاتقتل نفس ظلماً الا کان علی ابن آدم الاولیٰ کفل من دمها لانه کان اول من سن القتل “۔(۳)

جس کسی انسان کا بھی خون بہا یا جاتا ہے اس کی جوابدہی کا ایک حصہ قابیل کے ذمہ ہوتا ہے کہ جس نے انسان کشی کی اس بری سنت کی دنیا میں بنیاد رکھی تھی ۔

اس حدیث سے ضمنا ً یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ ہر بری اور منحوس سنت جو دنیا میں باقی ہے اس کی سزا کا ایک حصہ اس شخص کے کندھے پر ہے جو اس کی بنیاد رکھتا ہے ۔

اس میں شک نہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں کا یہ واقعہ ایک حقیقی واقعہ ہے اس کے علاوہ کہ آیات قرآن اور اسلامی روایات کا ظاہری مفہوم اس کی واقعیت کو ثابت کرتا ہے کہ اس کے ” بالحق“ کی تعبیر بھی جو ان آیات میں آئی ہے اس بات پر شاہد ہے جو لوگ ان آیات میں بیان کئے گئے واقعہ کو تشبیہ، کنایہ یا علامتی( symbolic )داستان سمجھتے ہیں ، بغیر دلیل کے ایسا کرتے ہیں ۔

اس کے باوجود اس بات میں کوئی مضائقہ نہیں کہ یہ حقیقی واقعی اس جنگ کے لئے نمونہ کے طور پر بیان کیا گیا ہو جو ہمیشہ سے مردانِ پاکباز ، صالح و مقبولِ بار گاہِ خدا انسانوں اور آلودہ، منحرف، کینہ پرور، حاسد ا ور ناجائز ہٹ دھرمی کرنے والوں کے درمیان جاری رہی ہے ۔ وہ لوگ کتنے پاکیزہ اور عظیم ہیں جنہوں نے ایسے برے لوگوں کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کیا ۔

آخر کار یہ برے لوگ اپنے شرمناک اور برے اعمال کے انجام سے آگاہ ہو جاتے ہیں اور ان پر پر دہ ڈالنے اور انھیں دفن کرنے کے در پے ہو جاتے ہیں اس موقع پر ان کی آرزوئیں ان کی مدد کو لپکتی ہیں ۔ کوّا ان آرزوں کا مظہر ہے جو جلدی سے پہنتا ہے اور انھیں ان کے جرائم پر پر دہ پوشی کی دعوت دیتا ہے ۔ لیکن آخرکار خسارے، نقصان اور حسرت کے سوال کچھ نصیب نہیں ہوتا ۔

____________________

۱ ۔ مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔

۲” یبحث“ ” بحث“کے مادہ سے ہے جیسا کہ مجمع البیان میں ہے در اصل یہ لفظ مٹی میں سے کسی چیز کو تلاش کرنے کے معنی میں ہے بعد ازں یہ لفظ ہر طرح کی جستجو حتیٰ کہ عقلی و فکری مباحث کے لئے بھی استعمال ہونے لگا اور ”سواٴة “ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کو پسند نہ آئے اس لئے کبھی شرمگاہ تک کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے ضمناً توجہ رہے کہ ” لیریة“ کا فاعل ممکن ہے خدا ہو، یعنی خدا چاہتا تھا کہ ہابیل کا احترام ملحوظ رہے اور اس کے لئے قابیل کو اسے دفن کرنے کا طریقہ سکھائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا فاعل وہی کوّا ہو جس نے حکم خدا سے یہ کام انجام دیا ۔

۳ تفسیر فی ظلال جلد ۲ صفحہ ۷۰۳۔ زیربحث آیت کے ذیل میں ، بحوالہ مسند احمد حنبل۔


آیت ۳۲

۳۲۔( مِنْ اٴَجْلِ ذَلِکَ کَتَبْنَا عَلَی بَنِی إِسْرَائِیلَ اٴَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اٴَوْ فَسَادٍ فِی الْاٴَرْضِ فَکَاٴَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا وَمَنْ اٴَحْیَاهَا فَکَاٴَنَّمَا اٴَحْیَا النَّاسَ جَمِیعًا وَلَقَدْ جَائَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ کَثِیرًا مِنْهُمْ بَعْدَ ذَلِکَ فِی الْاٴَرْضِ لَمُسْرِفُونَ ) ۔

ترجمہ

۲۳۔ اس بنا پر ہم نے بنی اسرائیل کے لئے یہ قرار دیا کہ جو شخص کسی انسان کو بغیر اس کے کہ وہ ارتکاب قتل کرے اور روئے زمین پر فساد بھیلائے ، قتل کرد ے تو یہ اس طرح ہے گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جوکسی ایک انسان کو قتل سے بچا لے تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی بخشی ہے اور ہمارے رسول واضح دلائل کے ساتھ بنی اسرائیل کی طرف آئے پھر بھی ان میں سے بہت سے لوگوں نے روئے زمین پر ظلم اور تجاوز کیا ۔

انسانی رشتہ

حضرت آدم (علیه السلام)کے بیٹوں کا ذکر کرنے کے بعد اس آیت میں ایک عمومی نتیجہ بیان کیا گیا ہے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے : اس بناء پر ہم نے بنی اسرائیل کے لئے یہ قرار دیا کہ جب کوئی انسان کسی شخص کو ارتکابِ قتل اور زمین پر فسادپھیلانے کے جرم کے بغیر قتل کردے تو ایسے ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا او رجو کسی انسان کو موت سے بچا لے ، ایسے ہے گو یا اس نے تمام انسانوں کو موت سے بچا لیا( مِنْ اٴَجْلِ ذَلِکَ کَتَبْنَا عَلَی بَنِی إِسْرَائِیلَ اٴَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اٴَوْ فَسَادٍ فِی الْاٴَرْضِ فَکَاٴَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا وَمَنْ اٴَحْیَاهَا فَکَاٴَنَّمَا اٴَحْیَا النَّاسَ جَمِیعًا ) ۔(۱)

یہاں یہ اہم سوال سامنے آتا ہے کہ ایک انسان کا قتل سب انسانوں کے قتل کے برابر کیسے ہوسکتا ہے اور اسی طرح ایک انسان کو بچا لینا سب کی نجات کیسے قرار پا سکتا ہے ۔

مفسرین نے بہت سے جوابات دیے ہیں تفسیر تبیان میں چھ جواب ہیں ، مجمع البیان میں پانچ اور کنز العر فان میں چار جواب دئے گئے ہیں ان میں سے بعض جوابات تو آیت کے معنی سے بہت دور ہو گئے ہیں ۔

بہر حال مذکورہ سوال کا جواب یہ ہے کہ قرآن اس آیت میں ایک اجتماعی اور تربیتی حقیقت بیان کرتا ہے ۔ در حقیقت جو شخص کسی بے گناہ کے خون میں ہاتھ رنگتا ہے وہ اس بات پر تیار ہو تا ہے کہ وہ اس مقتول جیسے دیگر بے گناہ انسانوں پر بھی حملہ کرکے انھیں قتل کردے وہ حقیقت میں ایک درندہ ہے جس کی غذا بے گناہ انسان ہیں ہم جانتے ہیں کہ اس لحاظ سے بے گناہ انسانوں میں کوئی فرق نہیں ۔ اسی طرح جو شخص بھی انسانی جذبے او رانسان دوستی کی بنیاد پر ایک انسان کو موت سے نجات دیتا ہے وہ اس بات پر تیار ہوتا ہے کہ ایسا سلوک ہر انسان کے ساتھ کرے۔ وہ بے گناہ انسانوں کی نجات سے لگاو رکھتا ہے ۔اس لحاظ سے اس کی نگاہ میں اس انسان میں اور اس انسان میں کوئی فرق نہیں اور قرآن جو یہ کہتا ہے : فکانم)( یعنی یہ ایسے ہے گویا ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک آدمی کی موت یا حیات اگر چہ پورے معاشرے میں مو ت یا حیات کے برابر نہیں لیکن اس سے شباہت ضرور رکھتی ہے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ انسانی معاشرے در حقیقت ایک ہی اکائی ہے اس کے افراد ایک جسم کے اعضاء کی طرح ہیں ، جو تکلیف اس پیکر کے ایک عضو کو پہنچتی ہے اس کا اثر کم و بیش تمام اعضاء پر ظاہر ہوتا ہے ، معاشرہ افراد سے بنتا ہے ایک فرد کی نابودی سے پورے معاشرے کو نقصاب پہنچتا ہے ایک فرد کا فقدان اس کے وجود کے اثرات کی مناسبت سے معاشرے کے ایک حصے کا فقدان ہے یوں یہ نقصان پورے معاشے کو متاثر کرتا ہے ۔ اسی طرح ایک نفس کی زندگی اس جسم کے باقی اعضاء کی زندگی کا سبب ہے کیونکہ ہر کوئی اپنے وجود کی حیثیت کے اعتبار سے انسانی معاشرے کی عظیم عمارت میں اس کی ضرورت و احتیاج کو پورا کرتا ہے ، کوئی زیادہ کردار ادا کرتا ہے اور کوئی کم۔

یہ جو بعض روایات میں ہے کہ ایسے انسان کی سزا قیامت میں ایک شخص کی سی ہے جس نے تمام انسانوں کو قتل کیا ہو، در اصل یہ بھی اسی مذکورہ مفہوم کی طرف اشارہ ہے نہ کہ ایک انسان ہر لحاظ سے تمام بنی نوعِ انسان کے برابر ہے اسی لئے ان روایات میں یہ بھی ہے کہ اگر کوئی بہت سے افراد کو قتل کرے تو سزا بھی اسی نسبت سے بڑھ جائے گی ۔

اس آیت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن کی نظر میں ایک انسان کی موت یا حیات کسی قدر اہمیت رکھتی ہے اور اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ آیات ایسے ماحول میں نازل ہو ئیں جس میں انسانی خون کی کوئی قیمت نہ تھی ، اس کی عظمت اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے ۔

یہ قابل توجہ ہے کہ متعدد روایات میں یہ بیان ہوئی ہے کہ آیت ظاہری طور پر اگر چہ مادی موت وحیات کے بارے میں ہے لیکن اس سے زیادہ اہم معنوی موت و حیات ہے یعنی کسی شخص کو گمراہ کرنا یا کسی شخص کو گمراہی سے نجات دلانا ۔

کسی نے امام صادق علیہ السلام سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ (علیه السلام) نے فرمایا:

من حرق او غرق ثم سکت ثم قال تاٴویلها الاعظم ان دعا ها فاستجاب له

یعنی قتل کرنے اور موت سے نجات دینے سے آیت میں مراد جلنے سے نجات یا غرق ہونے سے بچا نا وغیرہ ہے ۔

پھر امام کچھ خاموش ہو گئے ، کچھ توقف کے بعد مزید فرمایا:

آیت کی سب سے بڑی تاویل اور سب سے بڑا مفہوم یہ ہے کہ دوسرے کو راہ حق کی طرف دعوت دی جائے یا باطل کی طرف اور وہ یہ دعوت قبول کرلے ۔(۲)

دوسرا سوال جو آیت کے بارے میں باقی رہ جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اس میں خصوصیت سے بنی اسرائیل کا نام کیوں لیا گیا ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ مذکورہ حکم نہیں سے مخصوص نہیں ہے ۔

اس کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ بنی اسرائیل کا ذکر اس لئے ہے کہ ان میں ایسے قتل بہت ہوئے جن کا جذبہ محرکہ حسد او رجاہ طلبی تھا ۔ دور حاضر میں بھی بہت سا قتل و خون انہی کے ہاتھوں ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ خدائی حکم سب سے پہلے ان کے بارے میں آیا ۔

آیت کے آخر میں بنی اسرائیل کی قانون شکنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فر مایا گیا ہے : ہمارے پیغمبر روشن دلائل کے ساتھ ان کی ہدایت کے لئے آئے لیکن ان میں سے بہت سوں نے قوانین ِ الہٰی کو توڑ دیا اور تجاوز کا راستہ اختیار کیا( وَلَقَدْ جَائَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ کَثِیرًا مِنْهُمْ بَعْدَ ذَلِکَ فِی الْاٴَرْضِ لَمُسْرِفُونَ ) ۔

توجہ رہے کہ ”اسراف“ لغت میں وسیع مفہوم رکھتا ہے جس میں حد سے ایسا تجاوز بھی شامل ہے اگر چہ اکثر اوقات مصاف و اخرجات میں تجاوز کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔

____________________

۱ ۔ ”اجل“ (بروزن ” نخل “ در اصل ” جرم “ کے معنی میں ۔ بعد ازاں ہراس کام کو اجل کہا جانے لگا جس کا انجام ناگوار ہو اور اب زیادہ تر تعلیل او رکسی چیز کی علت بیان کرنے کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے ۔

۲ ۔ تفسیر نو ر الثقلین ج۱ صفحة ۶۲۰۔ اسی مضمون کی اور روایات بھی موجود ہیں ۔


آیات ۳۳،۳۴

۳۳۔( إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِینَ یُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاٴَرْضِ فَسَادًا اٴَنْ یُقَتَّلُوا اٴَوْ یُصَلَّبُوا اٴَوْ تُقَطَّعَ اٴَیْدِیهِمْ وَاٴَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلاَفٍ اٴَوْ یُنفَوْا مِنْ الْاٴَرْضِ ذَلِکَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنیَا وَلَهُمْ فِی الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیمٌ ) ۔

۳۴۔( إِلاَّ الَّذِینَ تَابُوا مِنْ قَبْلِ اٴَنْ تَقْدِرُوا عَلَیْهِمْ فَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔

ترجمہ

۳۳۔جو لوگ خدا اور پیغمبر سے جنگ کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور روئے زمین پر فساد بر پا کرتے ہیں ( اور ڈرا دھمکا کر لوگوں کو جان و مال اور ناموس پر حملہ کرتے ہیں ) ان کی سزا یہ ہے کہ انھیں قتل کردیا جائے یا سولی پر لٹکا دیا جائے یا ان کے دائیں ہاتھ اور بائیں پاوں ( کی چار انگلیوں ) کو کاٹ دی اجائے اور یا انھیں انکی زمین سے جلا وطن کر دیا جائے یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بہت سخت عذاب ہے ۔

۳۴۔ مگر وہ جو ان پر تمہارے ہاتھ ڈالنے سے پہلے توبہ کرلیں اور جان لو کہ ( خدا ان کی توبہ قبول کرلے گا کیونکہ ) خدا بخشنے والااور مہر بان ہے ۔

شان ِ نزول

اس آیت کی شان ِ نزول کے بارے میں منقول ہے کہ مشر کین کی ایک جماعت خدمت ِ پیغمبر میں پہنچی اور یہ لوگ مسلمان ہو گئے لیکن مدینہ کی آب و ہوا انھیں راس نہ آئی ان کے رنگ زرد ہو گئے اور وہ بیمار پڑ گئے ۔ پیغمبر اسلام نے ان کی صحت کے پیش نظر حکم دیا کہ وہ مدینہ سے باہر ایک صحت افزائی صحرائی علاقے میں چلے جائیں ، جس میں زکوٰة کے اونٹوں کو چرایا جاتا تھا، تاکہ اونٹنیوں کا تازہ دودھ بھی انھیں میسر آسکے۔ وہ صحت مند ہو گئے لیکن پیغمبر اکرم کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے انھوں نے مسلمان چرواہوں کے ہاتھ پاوں کاٹ دئیے ، ان کی آنکھیں نکال لیں ، انھیں قتل کرنا شروع کردیا، زکوٰة کے اونٹ لوٹ لئے اور اسلام سے خارج ہو گئے۔ پیغمبر اکرم نے حکم دیا کہ انھیں گرفتار کرلیا جائے اور جو سلوک انھوں نے مسلمان چر واہوں سے کیا ہے قصاص کے طور پر وہی ان سے کیا جائے ۔ آنکھیں نکال لی گئیں ہاتھ پاوں کاٹ ڈالے گئے اور انھیں قتل کر دیا گیا تاکہ دوسرے لوگ اس سے عبرت حاصل کریں اور ایسے انسانیت کش افعال کا ارتکاب نہ کریں زیر نظر آیت ایسے ہی لوگو ں کے بارے میں نازل ہو ئی جس میں ان کے بارے میں حکم ِ شریعت بیان کیا گیا ہے(۱)

لوگوں کی جان و مال پر حملہ کرنے والوں کی سزا

یہ آیت حقیقت میں قتلِ نفس کے بارے میں جاری بحث کی تکمیل کرتی ہے اس میں مسلمانوں کے خلاف مسلح ہو کر دھمکیاں دیتے ہوئے بلکہ انھیں قتل کرکے ان کا مال و اسباب لوٹنے والوں کی نہایت سخت سزا بیان کی گئی ہے ارشاد ہو تا ہے : جو لوگ خدا اور پیغمبر کے خلاف جنگ کے لئے اٹھ کھڑا ہو تے ہیں اور زمین میں فساد بر پا کرتے ہیں یہ ہے کہ ان چار سزاون میں سے کوئی ایک ان پر جاری کی جائے:

پہلی یہ کہ وہ قتل کردئے جائیں ۔

دوسری یہ کہ انھیں سولی پر لٹکا دیا جائے ۔

تیسری یہ کہ ان کے الٹے ہاتھ پاوں کاٹ دئے جائیں ۔

اور چوتھی یہ کہ وہ جس علاقے میں رہتے ہوں انھیں اس سے جلا وطن کر دیا جائے(إ( ِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِینَ یُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاٴَرْضِ فَسَادًا اٴَنْ یُقَتَّلُوا اٴَوْ یُصَلَّبُوا اٴَوْ تُقَطَّعَ اٴَیْدِیهِمْ وَاٴَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلاَفٍ اٴَوْ یُنفَوْا مِنْ الْاٴَرْضِ ) ۔

چند اہم نکات

۱۔ خدا اور رسول سے جنگ کرنے سے کیا مراد ہے ؟

جیسا کہ روایت ِاہل بیت علیہم السلام میں آیا ہے اور کم و بیش آیت کی شانِ نزول بھی اس کی گواہی دیتی ہے ، خدا اور رسول سے جنگ کرنے سے مراد یہ ہے کہ کوئی ڈرادھمکا کر مسلح ہو کر لوگوں کے جان و مال پر حملہ آور ہو چاہے تو چوروں ڈاکووں کی طرح شہروں سے باہر ایسا کرے یا شہر کے اندر۔ اس بناپر وپ بد معاش لٹیرے جو لوگوں کے جان و مال او رناموس پر حملہ کرتے ہیں اب اس حکم میں شامل ہیں ۔

ضمناً توجہ رہے کہ اس آیت میں بند گان خدا کے ساتھ جنگ کرنے کو خدا کے ساتھ جنگ قرار دیا گیا ہے ۔ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ اسلام کی نظر میں انسانوں کے حقوق اور ان کے امن و سکون کی کس قدر اہمیت ہے ۔

۲۔ ہاتھ پاوں کاٹنے کا کیا مطلب ہے ؟

جیسا کہ روایت اہل بیت علیہم السلام میں آیا ہے کہ کم و بیش آیت کی شانِ نزول بھی اس کی گواہی دیتی ہے ، خدا اور رسول سے جنگ کرنے سے مراد ہے کہ کوئی ڈرادھمکا کر مسلح ہو کر لوگوں کے جان و مال پر حملہ آور ہوچاہے تو چوروں ڈاکووں کی طرح شہروں سے باہر ایسا کرے یا شہر کے اندر ۔ اس بنا پر وہ بد معاش لٹیرے جو لوگوں کے جان و مال او رناموس پر حملہ کرتے ہیں سب اس حکم میں شامل ہیں ۔

ضمناً توجہ رہے کہ اس آیت میں بندگانِ خدا کے ساتھ جنگ کو خدا سے جنگ قرار دیا گیا ہے ۔ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ اسلام کی نظر میں انسانوں کے حقوق اور ان کے امن و سکون کی کس قدر اہمیت ہے۔

جیسا کہ فقہی کتب میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ہاتھ پاوں کا ٹنے سے مراد اتنی ہی مقدار ہے جو چوری کے بارے میں بیان ہوئی ہے یعنی ہاتھ پاوں کی صرف چار انگلیاں کاٹنا ۔(۲)

۳۔ کیا چاروں سزائیں اختیاری ہیں :

زیر نظر آیت میں چار سزائیں بیان ہوئی ہیں ۔ اس سلسلے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سزائیں اختیاری حیثیت رکھتی ہیں یعنی حکومت اسلامی ان میں سے جس شخص کے لئے مناسب سمجھے جاری کرے یا جرم کی مناسبت سے ان میں سے سزا اختیار کی جائے گی یعنی اگر حملہ آوروں ( ڈاکووں ) نے بے گناہ لوگوں کوقتل کیا ہے تو ان کے لئے قتل والی سزا انتخاب ہو گی اور اگر مسلح ہو کر لوگوں کو ڈرا دھمکاکر ان کا مال لوٹا ہے تو ان کی انگلیاں کاٹی جائیں گی اور اگر انھوں نے قتل بھی کیا ہے اور مال بھی چرایا ہے تو انھیں قتل کیا جائے گا اور لوگوں کی عبرت کے لئے ان کی لاشیں کچھ عرصے کے لئے سولی پر لٹکائی جائیں گی اور لوگوں کے خلاف ہتھیار لے کرنکلے ہیں لیکن انھوں نے خون نہیں بہایا اور چوری بھی نہیں کی تو انھیں دوسرے شہر کی طرف جلا وطن کیا جائے گا ۔

اس میں شک نہیں کہ دوسرا معنی حقیقت سے زیادہ قریب ہے اور یہی مفہوم آیمہ اہل بیت علیہم السلام سے منقول چند احادیث میں بھی آیا ہے ۔(۳)

یہ صحیح ہے کہ کچھ احادیث میں اس سلسلے میں حکومتِ اسلامی کو اختیار حاصل ہونے کی طرف بھی اشارہ ہوا ہے لیکن جن احادیث کی پہلے بات کی گئی ہے ان کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اختیار سے مراد یہ نہیں ہے کہ حکومت اسلامی ان چار میں سے خودہی کوئی سزا منتخب کرے اور جرم کی کیفیت کو پیش نظر نہ رکھے کیونکہ یہ بہت بعیدہے کہ قتل اور سولی دیئے جانے کو جلا وطنی کا ہم پلہ قرار دیا جائے یہ سب ایک ہی سطح پر نہیں ہو سکتے۔

اتفاق کی بات ہے کہ آج کی دنیا میں جرائم اور سزا کے بہت سے قوانین میں بھی یہ بات صریح طور پر دیکھی جاتی ہے کہ ایک قسم کے جرم کے لئے متعدد سزائیں مقر کی جاتی ہیں مثلاً بعض جرائم کے لئے قانون میں تین سے لے کر دس تک قید معین کی جاتی ہے اور قاضی کا ہاتھ اس سلسلے میں کھلا رکھا جاتا ہے اس کا مفہوم یہ نہیں ہو تا کہ جج اپنی مرضی سے قید کی مدت کا تعین کرے بلکہ مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ سزا کی مدت جرم کے خفیف یا شدید ہونے کے حوالے سے معین کرے اور مناسب سزا کا انتخاب کرے۔

اس اہم اسلامی قانون میں بھی حملہ آوروں کے لئے سزا کی کیفیت مختلف بیان کی گئی ہے کیونکہ جرم کی کیفیت بھی اس سلسلے میں مختلف ہوتی ہے اور سب حملہ آور یقینا ایک جیسے نہیں ہوتے۔

کہے بغیر واضح ہے کہ اسلام نے حملہ آوروں کی بارے میں اتنی شدید سزا اس لئے مقرر کی ہے تاکہ بے گناہوں کے خون ، جان و مال اور ناموس کی ہٹ دھرم، منہ زور ، اوباش اورفسادی لوگوں کے حملوں اور تجاوزات سے حفاظت کی جائے۔(۴)

آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : یہ رسوائی اور سزا تو ان کے لئے دنیا میں ہے لیکن صرف اسی سزا پر اکتفا نہیں کی جائے گی بلکہ آخرت میں بھی انھیں سخت سزا دی جائے گی( ذَلِکَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنیَا وَلَهُمْ فِی الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیمٌ ) ۔اس جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی حدود اور سزائیں اگر دنیا میں جاری ہو جائیں تو وہ آخرت کی سزاوں سے مانع نہیں ہیں ۔

اس کے بعد اس بناء پر کہ لوٹ آنے کا راستہ ایسے خطر ناک مجروموں پر بھی بند نہ کیا جائے اور اگر وہ مائل بہ اصلاح ہو جائیں تو ان کے تلافی اور تجدید نظر کا راستہ کھلا رکھا جائے ، ارشاد ہوتا ہے : مگر وہ لوگ کہ جو قابو آنے سے پہلے تو بہ کرلیں تو عفوِ الہٰی ان کے شامل حال ہو گا اور جان لوکہ خدا غفور و رحیم ہے ۔

( إِلاَّ الَّذِینَ تَابُوا مِنْ قَبْلِ اٴَنْ تَقْدِرُوا عَلَیْهِمْ فَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔

اس جملے سے معلوم ہوتا کہ اس سلسلے میں انھیں صرف اس صورت میں سزا نہیں ملے گی کہ اگر وہ پکڑے جانے سے پہلے اپنے ارادے سے اور رغبت سے اس جرم سے صرفِ نظر کرلیں اور پشمان ہو جائیں ۔

یہاں شاید یاد دہانی کی ضرورت نہ ہو کہ ان کی توبہ اس کا سبب نہیں بنے گی کہ اگر انھوں نے قتل کیا ہے یا چوری کیا ہے تو اس کی سزا انھیں نہیں ملے گی بلکہ صرف اسلحہ اٹھا کر لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کی سزا بر طرف ہو جائے گی ۔ دوسرے لفظوں میں صرف حقوق اللہ میں ان کی سزا توبہ کی صورت میں ساقط ہو جائے گی، لیکن حقوق الناس میں صاحبانِ حق کی رضا کے بغیر ساقط نہیں ہو گی( غور کیجئے گا ) ۔

اس کا تیسرا مفہوم یہ ہے کہ محارب کی سزا عام قاتل یا چور سے زیادہ سخت اور شدید تر ہے لیکن توبہ کرنے سے محارب والی سزا اس سے بر طرف ہو جائے گی ۔ باقی رہی چور ، غاصب یا عام قاتل والی سزا تو و ہ اسے ملے گی ۔

ممکن ہے یہاں یہ سوال کیا جائے کہ توبہ تو ایک باطنی امر ہے اسے کس طرح ثابت کیا جائے گااس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ یہ بات ثابت کرنے کے بہت سے راستے ہیں مثلاً دو عادل گواہی دیں کہ فلاں مجلس میں انھوں نے اس کی توبہ سنی ہے اور اس نے بغیر کسی دباو کے اپنی رضا و رغبت سے توبہ کی ہے ۔ مثلاً وہ اپنی زندگی کی روش اور طور طریقہ اس طرح سے بد ل لے کہ اس سے توبہ کے آثار ظاہر ہوں

____________________

۱۔ تفسیر المنار ج۶ صفحہ ۳۵۳ اور تفسیر قرطبی ج۳ صفحہ ۲۱۴۵۔

۲۔ کنزل العرفان فی فقہ القرآن ج۲ صفحہ ۳۵۲۔

۳-نور الثقلین جلد ۱ صفحہ ۶۲۲۔

۴ ۔ سطوربالا میں جو احکام بیان کئے گئے ہیں وہ اجمال اور خلاصہ کے طور پر اس اسلامی قانون کی تفصیل اور شرائط کا مطالعہ فقہی کتب میں کیا جانا چاہئیے۔


آیت ۳۵

۳۵۔( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَابْتَغُوا إِلَیْهِ الْوَسِیلَةَ وَجَاهِدُوا فِی سَبِیلِهِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ ) ۔

ترجمہ

۳۵۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور قرب خدا کا وسیلہ تلاش کرو اور راہ خدا میں جہاد کرو تاکہ فلاح اور نجات پاجاو۔

توسل کی حقیقت

اس آیت میں روئے سخن اہل ایمان کی طرف ہے اور نجات کے لئے انھیں تین حکم دیئے گئے ہیں پہلے فرمایا گیا ہے ۔

اے ایمان والو! تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کر( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ ) ۔

اس کے بعد حکم دیا گیا ہے تقرب الہٰی کا وسیلہ اختیار کرو( وَابْتَغُوا إِلَیْهِ الْوَسِیلَةَ ) آخر میں راہ خدا میں جہاد کا حکم دیا گیا ہے ( وَجَاہِدُوا فِی سَبِیلِہِ)ان سب احکام پر عمل کا نتیجہ ہو گا کہ تم نجات پا جاو گے( لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ ) ۔

اس آیت میں جس موضوع کو زیر بحث لایا جانا چاہئیے وہ اس میں اہل ایمان کو وسیلہ تلاش کرنے کے لئے دیا جانے والا حکم ہے ۔

” وسیلہ “ قرب حاصل کرنے کو کہتے ہیں یا اس چیز کو کہتے ہیں جو لگاو اور رضا و رغبت سے دوسرا کا قرب حاصل کرنے کا باعث بنے لہٰذا آیت میں لفظ ”وسیلہ “ ایک وسیع مفہوم کو حامل ہے اس کے مفہوم میں ہر وہ کام اور چیز شامل ہے جو پر ور دگار کی بار گاہِ مقدس سے قریب ہونے کا باعث ہو اس میں اہم ترین خدا اور پیغمبر اکرم پر ایمان لانا او رجہاد کرنا، ،نیز نماز، زکوٰة،روزہ اور خانہ خدا کا حج ، اسی طرح صلہ رحمی، راہ خدا میں پنہاں ویا آشکار خرچ کرنا اور ایسا اچھا اور نیک کام اس کے مفہوم میں داخل ہے ہے جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں فرمایا ہے :

ان افضل ماتو سل به المتوسلون الیٰ الله سبحانه و تعالیٰ الایمان به و برسله والجهاد فی سبیله فانه ذروة الاسلام، وکلمة الاخلاص فانها الفطرة و اقام الصلوٰة فانها الملة و ایتاء الزکوٰة فانها فریضة واجبة و صوم شهر رمضان فانه جنة من العقات وحج البیت و اعتماره فانهما ینتفیان و یرحضان الذنب، وصلة الرحم فانها مثراة فی المال و مغساة فی الاجل، و صدقه السر فانها تکفر الخطینة و صدقة العلانیة فانها تدفع میّة السوء و صنائع المعروف فانها تقی مصارع الهوان ۔

یعنی بہترین چیز اجس کے ذریعے اور وسیلے سے تقرب ِ الہٰی حاصل ہو سکتا ہے وہ خدا اور اس کے پیغمبر پر ایمان لانا اور جہاد کرنا ہے کہ جو ہسارِ اسلام کی چوٹی ہے اسی طرح جملہ اخلاص ( لاالہ الااللہ ) کہ جو وہی فطرتِ توحید ہے اور نما ز قائم کرنا کہ جو آئین اسلام ہے اور زکوٰة کہ جو واجب فریضہ ہے او رماہ رمضان کے روزے کہ جو گناہ اور عذاب ِ خدا کے سامنے سپر ہیں اور حج و عمرہ کہ جو فقرو فاقہ اور پریشانی کو دور کرتے ہیں اور گناہوں کو دھو ڈالتے ہیں اور صلہ رحمی کہ جو مال و ثروت کو زیادہ اور زندگی کو طویل کرتا ہے اور مخفی طور پر خرچ کرنا کہ جو گناہوں کی تلافی کا باعث بنتا ہے اور ظاہری طور پر خرچ کرنا کہ جو ناگہانی اور بری موت کو دور کرتا ہے اور نیک کہ جو انسان کو ذلت و خواری کے گڑھے میں گرنے سے بچا تے ہیں ( سب تقرب الہٰی کا وسیلہ ہیں )

یہ یاد وہانی ضروری ہے یہاں یہ مقصد ہر گز نہیں کہ کوئی چیز ذات ِ پیغمبر یا امام سے مستقل طور پر مانگی جائے بلکہ مراد اعمال ِ صالح بجا لانا ہے پیغمبر و امما کی پیروی کرنا ہے ، ان کی شفاعت کا حصول ہے یا پھر ان کے مقام و مکتب کا واسطہ دینا ہے ( جوکہ خود ایک قسم کا احترام ہے اور اس سے واسطہ دینے والے کی نظر میں ان کی حیثیت و مقام کی اہمیت ظاہر ہو تی ہے اور یہ بھی ایک قسم کی خدا کی عبادت ہے ) اور اس ذریعے خدا سے مانگا جائے تو اس میں کوئی بوئے شرک نہیں اور نہ ہی یہ قرآن کی دوسری آیات کے خلاف ہے اور نہ ہی یہ زیر بحث آیت کے عمومی مفہوم سے متجا وز ہے ( غور کیجئے گا) ۔

انبیاء، آئمہ اور خدا کے نیک بندوں کی شفاعت بھی کہ جو صراحت ِ قرآنی کے مطابق تقرب ِ الہٰی کا ذریعہ ہے وسیلہ کے وسیع مفہوم میں داخل ہے ۔ اسی طرح پیغمبر اور امام کی پیروی بھی بار گاہ ِ الہٰی کی قربت کا موجب ہیں یہاں تک کہ خدا کو انبیاء، آئمہ اور صالحین کے مرتبہ و مقام کا واسطہ بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے کیونکہ ان کا ذکر در اصل ان کے مقام او رمکتب کو اہمیت دینے کے مترادف ہے ۔

جن لوگوں نے زیر نظر آیت کو ان کے مفاہیم میں سے کسی ایک کے ساتھ مخصوص قرار دیا ہے ان کے پاس در حقیقت اس تخصیص کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے کہ کیونکہ جیسے ہم کہہ چکے ہیں لغوی مفہوم کے لحاظ سے ہر چیز جو تقرب کا سبب بنے ” وسیلہ “ ہے ۔

قرآن اور توسل

قرآن کی دیگر آیات سے بھی اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ کسی نیک انسان کے مقام کو بار گاہ ِ وسیلہ قرار دینا اور اس کی وجہ سے خدا سے کوئی چیز طلب کرنا کسی طرح بھی ممنوع نہیں ہے اور یہ توحید کے منافی نہیں ہے سورہ نساء آیت ۶۴ میں ہے :( ولو انهم اذظلموا انفسهم جاؤ ک فاستغفروا الله و استغفر لهم الرسول لوجدوا الله تواباً رحیما ) ۔

اور جب ان لوگوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا ( اور گناہ کے مرتکب ہو ئے ) اگر تمہارے پاس آجاتے اور خدا سے مغفرت طلب کرتے او رتم بھی ان کے لئے طلب مغرفت کرتے تو خدا کو توبہ قبول کرنے والا اور رحیم و مہر بان پاتے۔

نیز سورہ یوسف آیہ ۹۷ میں ہے کہ برا درانِ یوسف نے اپنے باپ سے در خواست کی کہ وہ بار گاہ خدا وندی میں ان کے لئے استغفا ر کریں اور حضرت یعقوب(علیه السلام) نے بھی ان کی اس درخواست کو منظور کرلیا ۔

سورہ توبہ آیت ۱۱۴ میں بھی حضرت ابراہیم (علیه السلام) کے بارے میں ہے کہ انھوں نے اپنے باپ(۱)

کے لئے طلب مغفرت کی یہ امر بھی دوسرے لوگوں کے لئے انبیاء کی دعا کے موثر ہو نے کی تائید کرتا ہے اسی طرح قرآن کی دیگر متعدد روایات سے بھی اس بات کی تائید ہو تی ہے ۔

____________________

۱۔ یہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کے چچا کی کی طرف اشارہ ہے جنہیں وہ اپنے باپ کے بمنزلہ سمجھتے تھے ( مترجم ) ۔


روایات ِ اسلامی اور توسل

بہت سی شیعہ سنی روایات سے بھی یہ بات واضح ہو تی ہے کہ توسل کے مذکورہ مفہوم میں کوئی اشکام نہیں ہے بلکہ یہ ایک اچھا طریقہ شمار ہوتا ہے ۔ ایسی روایات بہت زیادہ ہیں اور بہت سی کتب میں مذکورہیں ۔ ہم نمونہ کے طور پر اہل سنت کی کتب سے چند روایات نقل کرتے ہیں :

۱۔ کتاب ” وفاء الوفا“ اہل سنت کے ایک مشہور عالم سمبودی کی تالیف ہے اس کتاب میں ہے :

بار گاہ خدا میں رسول اللہ اور ان کے مقام و مرتبہ کے وسیلے سے آپ کی والادت سے پہلے ، آپ کی ولادت کے بعد ،آپ کی رحلت کے بعد ، عالم برزخ کے دوران میں اور قیامت کے دن ، شفا عت طلب کرنا جائز ہے ۔

اس کے بعد وہ اس روایت کو نقل کرتے ہیں جس میں ہے کہ حضرت آدم(علیه السلام) نے پیغمبر اسلام کو وسیلہ قرار دیا چونکہ آپ پیغمبراسلام کے آئندہ پیدا ہونے کے بارے میں جانتے تھے۔ حضرت آدم (علیه السلام) نے بارگاہِ الہٰی میں یوں عرض کیا:”یارب اسئلک بحق محمد لما غفرت لی

خدا وند!بحق محمد تجھ سے در خواست کرتا ہوں کہ مجھے بخش دے(۱)

اس کے بعد صاحب ” وفا ء الوفاء“ نے ایک اور حدیث ، راویانِ حدیث کی ایک جماعت جس میں نسائی اور ترمذی جیسے مشاہیر علماء شامل ہیں کے حوالے سے پیغمبر اکرم کی زندگی کے دوران میں توسل کے جواز کے بارے میں بطور شاہد نقل ہے حدیث کا خلاصہ یہ ہے :

ایک نابینا نے پیغمبر اکرم سے اپنی بیماری سے شفا کے لئے دعا کی درخواست کی تو پیغمبر اکرم نے اسے حکم دیا کہ اس طرح دعا کرو۔”اللهم انی اسئلک و اتوجه الیک بنبیک محمد نبی الرحمة یا محمد انی توجهت بک الیٰ ربی فی حاجتی لتقضی لی اللهم شفعه فی “

یعنی خدا یا ! میں تجھ سے تیرے پیغمبر جو نبی رحمت ہے کے صدقے میں سوال کرتا ہوں اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ، اے محمد! میں آپ کے وسیلے سے اپنی حاجت روائی کے لئے اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہوتا ہوں خدا یا! انھیں میرا شفیع قرار دے ۔(۲)

اس کے بعد صاحب الوفاء الوفاء نے آنحضرت کی وفات کے بعد آپ سے توسل کے جواز میں یہ روایت نقل کی ہے :

حضرت عثمان کے زمانے میں ایک حاجت مند پیغمبراکرم کی قبر کے پاس آیا اور نماز پڑھ کر اس نے اس طرح دعا کی :

”اللهم انی اسئلک و اتوجه الیک بنبینا محمد نبی الرحمة یا محمد انی اتوجه بک الیٰ ربک ان تقضی حاجتی “

یعنی خدا وندا ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور اپنے پیغمبر جو نبی ِ رحمت کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ۔ اے محمد ! میں آپ کے پر وردگار کی طرف متوجہ ہوتا ہوں تاکہ میری مشکل آسان ہو جائے۔

اس کے بعد لکھتے ہیں کہ فوراً اس کی مشکل حل ہو گئی ۔(۳)

۲۔ کتاب ”التوصل الیٰ الحقیقة التوسل“ کا مولف نے جو توسل کے بارے میں بہت سخت گیر ہے ، ۲۶ احادیثمختلف کتب اور مصادر سے نقل کی ہیں جن سے توسل کا جواز ظاہر ہوتا ہے اگر چہ موصوف نے ان احادیث کی اسناد میں کیڑے نکالنے کی کوشش کی ہے لیکن واضح ہے کہ روایات جب بہت زیادہ ہوں اور حد تواتر تک پہنچ جائیں تو پھر سند حدیث میں کوئی خدشہ اور ردو قدح کی گنجائش باقی نہیں رہتی اور توسل و وسیلہ کے بارے میں منابع اسلامی میں مذکورہ روایات حد تواتر سے بھی زیادہ ہیں ۔

ان میں سے ایک روایت صواعق میں اہل سنت کے مشہور امام شافعی سے نقل کی گئی ہے وہ اہل بیت ِ رسول سے متوسل ہونے کے بارے میں کہتے ہیں :

آل النبی ذریعتی وهم الیه وسیلتی

ارجو بهم اعطی عنداً بید الیمین صحیفتی

اہل بیت رسول میرا وسیلہ ہیں ۔

وہ اس کی بار گاہ میں میرے تقرب کا ذریعہ ہیں

میں امید کرتا ہوں کہ ان کے ذریعے سے کل قیامت کے دن میر انامہ اعمال میرے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔(۴)

نیز بیہقی سے صاحب ِ صواعق نے نقل کیا ہے کہ خلیفہ دوم کی خلافت کے زمانے میں ایک مرتبہ قحط پڑگیا ، حضرت بلاچند صحابہ کے ساتھ پیغمبراکرم کی قبر انور کے پاس آئے اور یوں کہنے لگے :

” یا رسول الله استسق لامتک فانهم قد هلکوا

یعنی اے رسول خدا ! اپنی امت کے لئے اپنے خدا سے بارانِ رحمت طلب کیجئے کیونکہ ممکن ہے کہ وہ ہلاک ہو جائے۔(۵)

یہاں تک کہ ابن حجر سے کتاب” الخیرات الحسان “ میں منقول ہے کہ امام شافعی جن دنوں بغداد میں تھے امام ابو حنیفہ کی زیارت کے لئے گئے اور اپنی حاجات کے لئے ان سے متوسل ہو ئے ۔(۶)

نیز صحیح دارمی میں ابو الجوزاء سے منقول ہے :

ایک سال مدینہ میں سخت قحط پڑا تو بعض لوگوں نے حضرت عائشہ سے شکایت کی ، انھوں نے کہا: قبر پیغمبر کے اوپر چھت میں ایک سوراک کریں تاکہ قبر پیغمبر کی بر کت سے خدا کی طرف سے بارش نازل ہو، ان لوگوں نے ایسا کیا تو بہت زیادہ بارش برسی ۔

تفسیر آلوسی میں مندرجہ بالا احادیث میں سے متعدد نقل کی گئی ہیں اس کے بعد ان کاتفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے حتی کہ ان احادیث کے بارے میں سخت رویہ اختیار کیا گیا ہے آخر میں مجبوراً صاحب مقامِ پیغمبر سے متوسل ہونے سے نہیں روکتا ، خواہ حیات پیغمبروں میں ہو یا آپ کی رحلت کے بعد ۔

پھر مزید تفصیلی بحث کے بعد کہا ہے ۔

خدا کی بار گاہ میں رسول اللہ کے علاوہ کسی اور سے متوسل ہونے میں بھی کوئی حرج نہیں بشرطیکہ جسے وسیلہ بنایا جائے وہ بار گاہ الہٰی میں مقام و منزلت رکھتا ہو۔(۷)

رہیں شیعہ کتب تو ان میں یہ بات اتنی واضح ہے کہ کوئی حدیث نقل کرنے کی ضرورت ہی نہیں ۔

____________________

۱ ۔ وفا ء الوفاء جلد ۳ صفحہ ۱۳۷۱، کتاب ” التوصل الیٰ الحقیة التوسل“ میں بھی بیہقی کی ” دلائل النبوة“ کے حوالے سے یہ روایت مذکورہے ۔

۲ ۔ وفا ء الوفاء، صفحہ ۱۳۷۳۔

۳ وفا ء الوفاء صفحہ ۱۳۷۳۔

۴ ۔ التوصل صفحہ ۳۲۹۔

۵ ۔ التوصل صفحہ ۲۵۳۔

۶ ۔ التوصل صفحہ ۳۳۱ ۔

۷ ۔ روح المعانی جلد ۴ ، صفحہ ۱۱۴، ۱۱۵۔


چند قابل توجہ باتیں

۱۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ توسل سے مراد یہ نہیں کہ کوئی شخص پیغمبر یا آئمہ (علیه السلام) سے حاجت طلب کرے بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان کے مقام و منزلت کو بار گاہ ِ خدا میں رابطے کا وسیلہ قرار دے یہ در حقیقت خدا کی طرف ہی توجہ کرنا ہے کوینکہ پیغمبر کا احترام بھی اس بنا پر ہے کہ وہ خدا کے بھیجے ہوئے تھے اور انھوں اسی راہ میں قدم بڑھا یا ہے ہمیں ایسے لوگوں پر تعجب ہوتا ہے کہ جو اس قسم کے توسل کو شرک کی ایک قسم خیال کرتے ہیں حالانکہ شرک تو یہ ہے کہ خدا کی صفات اور افعال میں کسی کو خدا کا شریک سمجھا جائے لیکن ایساتوسل جس کا ہم نے ذکر کیا ہے کسی طرح سے بھی شرک سے مشابہ نہیں ہے ۔

۲۔ بعض لوگ چاہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم اور آئمہ کی حیات اور وفات میں فرق کریں حالانکہ مذکورہ روایات میں سے اکثر وفات کے بعد کے زمانے سے مربوط ہیں سے قطع نظر بھی ایک مسلمان کی نظر میں انبیاء اور آئمہ علیہم السلام وفات کے بعد بر زخ میں ایسی حیات رکھتے ہیں جیسی قرآن نے شہداء کے بارے میں بیان کی ہے اور کہا ہے : انھیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں ۔( آل عمران ۱۶۹)

۳۔ بعض پیغمبراکرم سے دعا کی درخواست کرنے اور خدا کو ان کے مقام کی قسم دینے میں بھی فرق پر اصرار کرتے ہیں وہ دعا کی درخواست کو جائز سمجھتے ہیں اور اس کے علاوہ کو ممنوع سمجھتے ہیں حالانکہ منطقی طور پر ان میں کوئی فرق نہیں ۔

۴۔ اہل سنت کے بعض مولفین اور علماء خصوصاً وہابی حضرات بڑی ہٹ دھرمی سے توسل کے سلسلے میں وارد ہونے والی روایات کو ضعیف ثابت کرنے کے در پے رہتے ہیں ۔ وہ فضول اور بے اعتراضا ت کے ذریعے انھیں طاق نسیان کردیا چاہتے ہیں ۔ ان کی بحث اس طرح سے ہوتی ہے کہ ایک غیر جانب دار شخص محسوس کرتا ہے کہ عقیدہ انھوں نے پہلے بنا لیا ہے اور پھر اپنے عقیدے کو رویات ِ اسلامی پر ٹھونسنا چاہتے ہیں اور جو کچھ ان کے عقیدے کے خلاف ہے اسے راستے سے ہٹا دینا چاہتے ہیں حالانکہ ایک محقق ایسی غیر منطقی اور تعصب آمیز بحث کو ہر گز قبول نہیں کرسکتا ۔

۵۔جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں توسل والی روایات حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں یعنی اس قدر زیادہ ہیں کہ ہمیں اسناد کی تحقیق سے بے نیاز کردیتی ہیں ۔ علاہو ازیں ان میں صحیح روایات بھی بہت سی ہیں لہٰذا بعض دیگرکی اسناد میں ردو قدح کی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔

۶۔ جو کچھ ہم نے کہا ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ وہ رویات جو اس آیہ کے ذیل میں وارد ہوئی ہیں اور ان میں ہے کہ پیغمبر اکرم لوگوں سے فرماتے تھے کہ خدا سے میرے لئے وسیلہ کی دعا کرو ۔ یاکتاب کافی میں حضرت علی (علیه السلام) کا یہ فرمان کہ ” وسیلہ “ جنت میں بالاترین مقام ہے ایسی روایات آیت کی مذکورہ بالا تفسیر کے منافی نہیں کیونکہ جیسے ہم نے بار ہا نشاندہی کی ہے ، وسیلہ میں تقرب ِ پر وردگار کا ہر مفہوم شامل ہے اور خدا سے پیغمبر اکرم کا تقرب اور جنت میں بلند ترین درجہ اس کا ایک مقام ہے ۔


آیات ۳۶،۳۷

۳۶۔( إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْ اٴَنَّ لَهُمْ مَا فِی الْاٴَرْضِ جَمِیعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِیَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ ) ۔

۳۷۔( یُرِیدُونَ اٴَنْ یَخْرُجُوا مِنْ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخَارِجِینَ مِنْهَا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُقِیمٌ ) ۔

ترجمہ

۳۶۔جو لوگ کافر ہو گئے ہیں ، اگر روئے زمین میں جو کچھ ہے اس کے برابر ان کے پاس ہو اور وہ روز قیامت سزا سے نجات کے لئے فدیہ کے طور پر دے دیں تو بھی ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہو گا ۔

۳۷۔ وہ ہمیشہ چاہیں گے کہ آگ سے نکل آئیں لیکن وہ اس سے نکل نہ پائیں گے ، اور ان کے لئے پائیدارعذاب ہوگا ۔

تفسیر

گذشتہ آیت میں مومنی کو تقویٰ ، راہ جہاد اور وسیلہ تلاش کرنے کا حکم دیا گیا تھا اب ان دو آیات میں گذشتہ حکم کا سبب بیان کرنے کے حوالے سے بے ایمان اور آلودہ گناہ افراد کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے : جو لوگ کافر ہو گئے ہیں اگر چہ روئے زمین میں ہے اس جتنا سر مایہ رکھتے ہوں اور اسے روز قیامت سے سزا سے نجات کے لئے دے دیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا او ران کے لئے دردناک عذاب ہو گا ( ا( ِٕنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْ اٴَنَّ لَهُمْ مَا فِی الْاٴَرْضِ جَمِیعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِیَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ ) ۔

یہی مضمون سورہ رعد آیہ ۴۷ میں بھی ہے ۔ اس سے خدائی سزا کے بارے میں انتہائی تاکید ظاہر ہو تی ہے اور یہ کسی بھی سرما ئے اور طاقت کے ذریعےاس سے رہائی حاصل نہیں کی جاسکتی چاہے وہ سرمایہ ساری زمین کے برابر یا اس سے بھی زیادہ کیوں نہ ہو، نجات فقط ایمان، تقویٰ ، جہاد اور عمل ہی سے حاصل ہو سکتی ہے ۔

اس کے بعد اس سزا کے دائمی ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : وہ ہمیشہ چاہیں گے کہ جہنم کی آگ سے باہر نکل آئیں لیکن نکل نہ سکیں گے اور ان کی سزا باقی اور برقرار رہے گی( یُرِیدُونَ اٴَنْ یَخْرُجُوا مِنْ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخَارِجِینَ مِنْهَا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُقِیمٌ ) ۔

دائمی سزا اور کفارکے دوزخ میں ہمیشہ رہنے کی بحث انشاء اللہ سورہ ہود آیہ ۱۰۸ کے ذیل میں آئے گی ۔


آیات ۳۸،۳۹،۴۰

۳۸۔( وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا اٴَیْدِیَهُمَا جَزَاءً بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِنْ اللهِ وَاللهُ عَزِیزٌ حَکِیمٌ ) ۔

۳۹۔( فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَاٴَصْلَحَ فَإِنَّ اللهَ یَتُوبُ عَلَیْهِ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔

۴۰۔( اٴَلَمْ تَعْلَمْ اٴَنَّ اللهَ لَهُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ یُعَذِّبُ مَنْ یَشَاءُ وَیَغْفِرُ لِمَنْ یَشَاءُ وَاللهُ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ) ۔

ترجمہ

۳۸۔چور مرد اور چور عورت کا ہاتھ اس کے انجام دئیے گئے عمل کی پاداش میں خدائی سزا کے طور پر کاٹ دو، خدا توانا اور حکیم ہے ۔

۳۹۔لیکن جو شخص ظلم کرنے کے بعد توبہ ، اصلاح اور تلافی کرلے توخدا اس کی توبہ قبول کرلے گا ، کیونکہ خدا بخشنے والا مہر بان ہے ۔

۴۰۔کیا تمہیں معلوم نہیں کہ خدا آسمانوں اور زمین ک امالک اور حکمران ہے جسے چاہتا ہے ( اور مستحق سمجھتا ہے ) سزا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ( او راہل سمجھتا ہے ) بخش دیتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے ۔

چور کی سزا

قبل از ایں چند آیات میں ” محارب “ یعنی ڈرادھمکا کر علی الاعلان مسلح ہو کر لوگوں کی جان و مال او رناموس کے خلاف حملہ کرنے والے شخص کے بارے میں احکام بیان ہوئے ہیں ۔ اسی مناسبت کی بنا پر ان آیات میں چور کہ جو مخفی طور پر لوگوں کا مال لے جاتا ہے ، کے بارے میں حکم بیان ہوا ہے ۔

پہلے فرمایا گیا ہے : چورمرد اور عورت کا ہاتھ کاٹ دو( وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا اٴَیْدِیَهُمَا ) ۔

یہاں چور مرد کو چور عورت پر مقدم رکھا گیا ہے چونکہ چوری کے سلسلے میں اصلی عامل زیادہ تر مرد ہوتے ہیں لیکن ارتکاب ِ زنا کے موقع پر زیادہ اہم عامل اور محرک بے لگام عورتین ہوتی ہیں ۔

اس کے بعد فرمایا گیا ہے : یہ سزا ان کے اعمال پر ہے جو انھوں نے انجام دئیے ہیں اوریہ خداکی طرف سے عذاب ہے( جَزَاءً بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِنْ اللهِ ) ۔

اس جملہ میں در حقیقت اس طرف اشارہ ہے کہ اول تویہ سزا ان کے اکام کا نتیجہ ہے اور ایسی چیز ہے جو انھوں نے خود اپنے لئے خرید ی ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ ایک طرح سے پیش بندی اور حق و عدالت کی طرف باز گشت سے کیونکر ” نکال “کا معنی ہے ایسی سزا جو پیش بندی کے لئے ترک گناہ کے مقصد کے لئے ہو۔ در اصل اس لفظ کا معنی ہے ” لگام “ بعدازاں ہر ا سکام کے لئے استعمال ہو نے لگا جو انحراف اور کج روی سے روکے ۔

آیت کے آخر میں اس لئے منادہ یہ وہم ہو کہ مذکورہ سزا عادلانہ نہیں ، فرمایا گیا ہے : خدا قادر و توانا ہے لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ وہ کسی سے انتقام لے اور حکیم بھی ہے اس لئے وہ کسی کو بلا وجہ نہیں دے( وَاللهُ عَزِیزٌ حَکِیمٌ ) ۔

بعد والی آیت میں ان کے لئے لوٹ آنے کا راستہ کھولتے ہوئے فرماتا ہے : اس ظلم کے بعد جو شخص توبہ کرلے اور اصلاح و تلافی کو راہ اپنائے خدا اسے بخش دے گا کیونکہ وہ بخشنے والا مہر بان ہے( فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَاٴَصْلَحَ فَإِنَّ اللهَ یَتُوبُ عَلَیْهِ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔

کیا توبہ کرنے سے صرف اس کا گناہ بخشا جائے گا یا چوری کی سزا ( ہاتھ کاٹنا) بھی ساقط ہو جائے گی ۔ اس سلسلے میں ہمارے فقہاء میں یہی مشہور ہے کہ اگر وہ اسلامی عدالت میں چوری ثابت ہوجانے سے پہلے کرلے تو چوری کی حد بھی بر طرف ہ وجائے گی لیکن جب دو عادل گواہوں کے ذریعے اس کا جرم ثابت ہوجائے تو پھر تو بہ سے حد ساقط نہیں ہو گی ۔

در اصل حقیقی توبہ جس کی طرف آیت میں اشارہ کیا گیا ہے وہ ہے جو عدالت میں ثبوت جرم سے پہلے انجام پائے ورنہ تو ہر چیز چور جب اپنے آپ کو سزا کے سامنے پائے گا اظہار توبہ کرے گا اور اس طرح تو کسی پر سزا جاری ہی نہ ہوگی ۔ دوسرے لفظوں میں ” اخباری توبہ “وہ ہے جو شرعی عدالت میں جرم ثابت ہونے سے پہلے انجا م پائے ورنہ ” اضطراری توبہ “ ہو گی اور اضطراری توبہ تو ایسی ہے جسے عذاب الہٰی یا آثار موت دیکھ کر کی جائے اور ایسی توبہ کی کوئی قیمت نہیں ۔

چوروں کے بارے میں توبہ کا حکم بیان کرنے کے بعد روئے سخن اسلام کے عظیم پیغمبر کی طرف کیا گیا ہے ، فرمایا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ خدا آسمانوں اور زمین کا مالک ہے ا ور جس طرح مناسب سمجھتا ہے ان میں تصرف کرتا ہے ، جس شخص کو سزا کا مستحق سمجھتا ہے سزا دیتاہے اور جسے بخشش کے لائق سمجھتا ہے بخش دیتاہے اور وہ ہر چیزپر قدرت رکھتا ہے( اٴَلَمْ تَعْلَمْ اٴَنَّ اللهَ لَهُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ یُعَذِّبُ مَنْ یَشَاءُ وَیَغْفِرُ لِمَنْ یَشَاءُ وَاللهُ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ) ۔

چند اہم نکات

۱۔ چور کو سزا دینے کی شرائط:

دیگر احکام کی طرح اس حکم میں قرآن نے بنیادی بات بیان کی ہے اس کی تفصیل سنت ِ پیغمبر پر چھوڑدی ہے ، روایاتِ اسلامی سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ہاتھ کاٹنے کی اس اسلامی حد کے اجراء کے لئے بہت سی شرائط ہیں جن کے بغیر اسے جاری کرنا جائز نہیں ہے ان میں سے کچھ شرائط ہیں :

۱) چوری کیاہو امال کم از کم ایک چوتھائی دینار کی مالیت کا ہونا چاہئیے۔(۱)

۲) مال محفوظ جگہ سے مثلاً گر، دوکان یا اندر کی جیب سے چوری کیا جائے ۔

۳) چوری قحط سالی کے زمانے میں جبکہ لوگ بھوک زدہ ہو تے ہیں او ر انھیں کوئی راہ سجھائی نہیں دیتی ، نہ ہوئی ہو۔

۴) چور عاقل و بالغ ہو اور ا س نے حالت ِ اختیار میں یہ کام کیا ہو۔

۵)باپ کا بیٹے کے مال سے چوری کرنا یا ایک شریک کا شرکت والے مال سے چوری کرنا اس حکم میں نہیں آتا ۔

۶)باغ کے درختوں سے بھل کی چوری کو بھی اس حکم سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے ۔

۷) ہر وہ موقع جہاں چور کے لئے اشتباہ کا احتمال ہو کہ اس نے دوسرے کے مال کو اشتباہ سے اپنا مال سمجھتے ہوئے لیا ہے ، بھی اس حکم سے مستثنیٰ ہو گا ۔

کچھ اور شرائط بھی ہیں جن کی تفصیل فقہی کتب میں آئی ہے ۔

اشتباہ نہ ہو کہ مذکورہ شرائط کی صورت ہی میں چوری حرام ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ مذکورہ حد کا اجراء ان شرائط سے مخصوص ہے ورنہ چوری تو ہر شکل و صورت ، ہر مقدار، اور ہر کیفیت سے اسلام میں حرام ہے ۔

۲۔ ہاتھ کاٹنے کی مقدار :

روایات اہل بیت علیہم السلام سے استفادہ کرتے ہوئے ہمارے فقہا میں مشہور یہی ہے کہ دائیں ہاتھ کی صرف چار انگلیان کاٹی جائیں نہ کہ اس سے زیادہ۔ اگر چہ فقہاء اہل سنت اس سے زیادہ کے قائل ہیں ۔

۳۔ کیا یہ سخت سزا ہے ؟ :

مخالفین ِ اسلام اور کچھ ناواقف مسلمانوں کی طرف سے بارہا یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ اسلامی سزا بہت سخت ہے اور اگرآج کی دنیا میں یہ سزا نافذ ہو جائے تو بہت سے ہاتھ کٹ جائیں ، علاوہ ازیں اس حکم کے اجراء سے ایک شخص نہ صرف اپنے بدن کے ایک اہم حصے سے محروم ہو جائے گا بلکہ ساری عمر کے لئے لوگوں کی انگشت نمائی کاشکار ہو جائے گا ۔

اس سوال کے جواب میں ان حقائق کی طرف توجہ کرنا چاہئیے ۔

۱) جیسا کہ ہم نے اس حکم کی شرائط میں کہا ہے کہ یہ حکم ہر چور کے لئے نہیں ہے ، بلکہ چوروں کے ایک خطر ناک گروہ کے لئے ہے ۔

۲) اس جرم کے ثبوت کے لئے اسلام میں چونکہ خاص شرائط معین ہیں لہٰذا اس سے بہت کم لوگوں پر یہ سزا جاری ہو گی ۔

۳) کم معلومات رکھنے والے لوگ جو بہت سے اعتراضات اسلامی قوانین پر کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک حکم کو مستقل طور پر دوسرے تمام احکام سے الگ کرکے بحث کرتے ہیں ۔ بالفاظ دیگر وہ اس حکم کو سوفی صد غیر اسلامی معاشرے میں فرض کرتے ہیں لیکن اگر ہم توجہ رکھیں کہ اسلام صرف اسی ایک حکم کا نام نہیں بلکہ وہ احکام کے ایک مجموعے کا نام ہے اور اگر یہ تمام احکام کسی معاشرے پر حکمران ہوں تو عدالت ِ اجتماعی وجود میں آجائے ، فقر و تندستی کے خلاد جنگ کی جائے، تعلیم و تربیت صحیح ہو اور آداب و اخلاق ، آگاہی، بیداری اورتقویٰ کا دور دورہ ہو۔ اس سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ اس حکم کے زیر اثر آنے والے لوگوں کی تعدا کس قدر کم ہوگی ۔

کہیں اشتباہ نہ ہو، مقصد یہ نہیں کہ آج کے مختلف معاشروں میں یہ حکم جاری نہ ہو بلکہ مراد یہ ہے کہ فیصلہ اور قضاوت کرتے وقت ان تمام پہلو وں کو نظر میں رکھنا چاہئیے۔

خلاصہ یہ کہ حکومت ِ اسلامی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے تمام افراد کو بنیادی ضروریات مہیا کرے ، انھیں ضروری تعلیم دلائے اور ان کی اخلاقی تربیت کرے واضح ہے کہ پھر ایسے ماحول میں غلط کار افراد بہت کم ہوں گے ۔

۴) اگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ چور زیادہ ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا حکم جاری نہیں ہوا لہٰذا جس علاقے میں اسلامی حکم جار ی ہوتا ہے ( مثلاً سعودی عرب میں گذشتہ سالوں میں یہ حکم جاری ہوتا تھا) وہاں بہت اچھا امن و امان ہو تا ہے ۔

خانہ خدا کے بہت سے زائرین سوٹ کیس ، بٹوے اور تھیلے حجاز کے گلی کوچوں میں پڑے دیکھتے ہیں انھیں کوئی شخص ہاتھ لگانے کی جرات نہیں کرتا یہاں تک کہ گمشدہ چیزوں کے ادارے کے مامورین آتے ہیں اور انھیں اس ادارے میں لے جاتے ہیں او رمالک نشانی بتا کر لے جاتے ہیں اسی طرح رات کو بغیر در وازوں کے اکثر دکانیں کھلی پڑی رہتی ہیں او رکوئی ان میں چوری نہیں کرتا ۔

یہ امر قابل توجہ ہے کہ اسلامی حکم اگر صدیوں تک جاری ہوتا رہا اور اس کی پناہ میں صدر اسلام کے مسلمان امن امان کی زندگی بسر کرتے رہے لیکن صد یوں میں گنتی کے صرف چند افراد پر یہ حکم جاری ہوا ۔

ایک ملت کی صد یوں کی زندگی کے لئے چند غلط کار افراد کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں تو کیا یہ کوئی زیادہ قیمت ہے ۔

۴۔ ایک اعتراض کا جواب :

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایک چوتھائی دینار کی چوری پر حد کا اجراء کیا مسلمان کی جان کے بارے میں اعتراضات کے اسلامی احکام کے منافی نہیں کیونکہ اسلام تو مسلمان کے لئے ہر قسم کی گزند سے محفوظ رہنے کا قائل ہے اور ایک انسان کی چار انگلیان کاٹنے کی دیت اسلام نے بہت زیادہ معین کی ہے ۔

جیساکہ بعض تواریخ سے معلوم ہوتا ہے ، اتفاقاً یہی سوال اسلام کے ایک عظیم عالم مرحوم سید مرتضیٰ علم الھدیٰ سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے ہوا تھا ، سائل نے شعر کی صورت میں اپنا سوال یوں پیش کیا :

ید بخمس مئین عجد و دیت ما بالها قطعت فی ربع دینار

یعنی وہ ہاتھ جس کی دیت پانچ سو دینار ہے ۔

(توجہ رہے کہ پانچسو دینار پانچ انگلیاں کاٹنے پر ہے ، لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں فقہائے اہل بہت (علیه السلام) کے نزدیک چوری میں چار انگلیاں کاٹی جاتی ہیں ) ۔

ایک چوتھائی دینار کے بدلے کیوں کاٹا جاتا ہے ۔

سید مرتضیٰ نے اس کے جواب میں یہ شعر ارشاد فرمایا:عز الامانة اغلا ها و ارخصها ذل الخیانة فانهم حکمة الباری

یعنی امانت کی عزت نے اس ہاتھ کو گراں قیمت بنادیا تھا لیکن خیانت کی ذلت نے اس کی قیمت گرادی ۔ تم ذرا حکمت ِ الہٰی کو سمجھو۔(۲)

____________________

۱۔دینار سے مراد سکہ دار سونے کا ایک مثقال ِ شرعی اور مثقال شرعی برابر ہے ۱۸ چنے کے دانوں کے یعنی عام مثقال کا ۴/۳حصہ

۲۔ تفسیر آلوسی جلد ۲ صفحہ ۶ پر بھی یہ واقعہ منقول ہے لیکن وہاں سید م


آیات ۴۱،۴۲

۴۱۔( یَااٴَیُّهَا الرَّسُولُ لاَیَحْزُنْکَ الَّذِینَ یُسَارِعُونَ فِی الْکُفْرِ مِنْ الَّذِینَ قَالُوا آمَنَّا بِاٴَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوبُهُمْ وَمِنْ الَّذِینَ هَادُوا سَمَّاعُونَ لِلْکَذِبِ سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِینَ لَمْ یَاٴْتُوکَ یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِهِ یَقُولُونَ إِنْ اٴُوتِیتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ وَإِنْ لَمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوا وَمَنْ یُرِدْ اللهُ فِتْنَتَهُ فَلَنْ تَمْلِکَ لَهُ مِنْ اللهِ شَیْئًا اٴُوْلَئِکَ الَّذِینَ لَمْ یُرِدْ اللهُ اٴَنْ یُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَلَهُمْ فِی الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیمٌ ) ۔

۴۲۔( سَمَّاعُونَ لِلْکَذِبِ اٴَکَّالُونَ لِلسُّحْتِ فَإِنْ جَائُوکَ فَاحْکُمْ بَیْنَهُمْ اٴَوْ اٴَعْرِضْ عَنْهُمْ وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَضُرُّوکَ شَیْئًا وَإِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ إِنَّ اللهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَ ) ۔

ترجمہ

۴۱۔ اے ( خدا کے ) رسول! وہ لوگ جو زبان سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور ان کے دل ایمان نہیں لائے اور وہ راہ کفرِ کفر میں ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہیں ، تم ان کے بارے میں غم نہ کرو اور یونہی یہودیوں کے بارے میں ( جو اسی راہ پر چلتے ہیں ) وہ زیادہ آپ کی باتیں سنتے ہیں تاکہ تمہاری تکذیب کے لئے کوئی بات ہاتھ آجائے وہ دوسرے لوگوں کے جاسوس ہیں جو لوگ خود تمہارے پاس نہیں آئے وہ باتوں کو ان کی جگہ سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اگر ( جو ہم چاہتے ہیں ) تمہیں دیں ( او رمحمد تمہاری خواہش کے مطابق فیصلہ کریں ) تو اسے قبول کرلو، ورنہ دوری اختیار کرو( اور اس پر عمل نہ کرو )اور جسے خدا ( اس کے پے در پے گناہوں کی وجہ سے )سزا دینا چاہے تو کوئی اسے بچا نہیں سکتا وہ ایسے لوگ ہیں کہ خدا ان کے دلوں کی پاکی نہیں چاہتا ۔ انھیں دنیا میں رسوائی نصیب ہو گی اور آخرت میں وہ عذاب عظیم سے دو چار ہو ں گے ۔

۴۲۔ وہ تمہاری باتیں بہت غور سے سنتے ہیں تاکہ انھیں جھٹلائیں وہ مال حرام زیادہ کھاتے ہیں ۔ اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو ان کے درمیان قضاوت کرو یا ( اگر مصلحت ہو ) تو انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دو اور اگر ان سے صرف نظر کرلو تو وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچاسکتے اور ار ان کے درمیان فیصلہ کرو تو عدالت سے کام لو کہ خدا عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔

شان نزول

اس آیت کی شان ِ نزول کے بارے میں متعدد روایات ہیں ان میں سے زیادہ واضح روایت وہ ہے جو امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل ہو ئی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے :

خیبر کے یہودیوں کے ایک بڑے آدمی نے جو شادی شدہ تھا ایک شوہر دار عورت سے خلاف عفت کام کیا وہ عورت بھی خیبر کے ایک بڑے خاندان سے تعلق رکھتی تھی ۔

تورات میں اس سلسلہ میں سنگساری کا حکم تھا، یہودی اس کے اجراء میں پریشان تھے اور ایسے حل کی تلاش میں تھے جس میں دونوں کی معافی ہو جائے اور اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو احکام ِ الہٰی ک اپابند بھی کہیں ۔

انھوں نے اپنے ہم مذہب اہل مدینہ کو پیغام بھیجا کہ وہ اس حادثہ کے بارے میں پیغمبر اسلام سے حکم در یافت کریں ( تاکہ اگر اسلام میں اس سے کوئی آسان حکم ہو تو اسے انتخاب کر لیا جائے ورنہ اس سے بھی صرف ِ نظر کرلیا جائے اور شاید اس طرح سے وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ پیغمبر اسلام کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائیں اور اپنے آپ کو مسلمانوں کا دوست ظاہر کریں ) ۔

اسی مقصد کے لئے مدینہ کے برے یہودی پیغمبر اسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آنحضرت نے فرمایئا : میں جو حکم کروں گا اسے قبول کروگے؟

وہ کہنے لگے : ہم اسی لئے آپ کے پاس آئے ہیں ۔

اس موقع پر زنا ئے محصنہ کا ارتکاب کرنے الوں کے لئے سنگسار کئے جانے کا حکم نازل ہوا لیکن انھوں نے اسے قبول نہ کیا ( اور عذر یہ پیش کیا کہ ہمارے مذہب میں تو ایسا حکم نہیں آیا) ۔

پیغمبر اسلام نے مزید فرمایا : یہ وہی حکم ہے جو تمہاری تورات میں بھی آیا ہے کیا تم اس بات سے اتفاق کرتے ہو کہ میں تم میں سے ایک شخص کو فیصلے کے لئے بلاوں او رجو کچھ وہ تورات سے بیان کرے اسے قبول کرلوں ۔

وہ کہنے لگے : جی ہاں ۔

پیغمبر اسلام نے فرمایا :ابن صریا جو کہ فدک میں رہتا ہے ، کیسا عالم ہے ؟

وہ بولے ؛ وہ تو تورات کا سب سے بڑا عالم ہے ۔

کسی کو اسے لینے کے لئے بھیجا گیا جب وہ آنحضرت کی خدمت میں پہنچا تو آپ نے اس سے فرمایا: تمجھے اس خدائے یکتا کی قسم دیتاہوں جس نے تورات کو موسیٰ (علیه السلام) پر نازل کیا ، تمہارے لئے دریا شگاف کیا، تمہارے دشمن فرعون کو غرق کیا اور تمہیں بیابا ن میں اپنی نعمتوں سے نوازکہو کیا ایسے موقع پر تورات میں تمہارے لئے سنگسار کرنے کا حکم نازل ہواہے یا نہیں ؟

وہ کہنے لگا: آپ نے مجھے ایسی قسم دی ہے کہ میں مجبور ہو گیا ہوں کہ کہوں جی ہاں ! ایسا ہی حکم تورات میں موجود ہے ۔پیغمبر اسلام نے فرمایا: پھر اس کے حکم کے اجراء کی مخالفت کیوں کرتے ہو؟

وہ بولا : حقیقت یہ ہے کہ ہم گذشتہ زمانے میں یہ حد عام افراد پر تو جاری کر دیتے تھے لیکن دولتمندوں او ربڑے لوگوں پر نہیں کرتے تھے یہی وجہ تھی کہ ہمارے معاشرے کے خوش حال طبقوں میں یہ گناہ رائج ہو گیا ۔ یہاں تک کہ ہمارے ایک سر دار کا چچا زاد بھائی اس قبیح عمل کا مر تکب ہوا اور حسب معمول اسے سزا دی گئی ۔ اسی اثنا میں ایک عام آدمی اس کا مرتکب ہوا ۔ جب اسے سنگسار کرنے لگے تو اس کے رشتہ داروں نے اعتراض کیا او رکہنے لگے یہ حکم جاری ہو نا تو پھر دونوں پر ہو، اس صورت ِ حال کے پیش نظر ہم بیٹھ گئے اور سنگسار کے قانون کی جگہ ایک آسان قانون بنا لیا اور وہ یہ تھا کہ ہر ایک کو چالیس کوڑے لگائے جائیں اور ان کا منہ کالا کر کے اور سواری پر بٹھا کر انھیں گلی کوچوں میں پھرایا جائے۔

اس وقت پیغمبر اکرم نے حکم دیا کہ اس مرد اور عورت کو مسجد کے سامنے سنگسار کیا جائے۔(۱)

پھر آپ نے فرمایا: خدا یا! میں پہلا شخص ہوں جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا، جبکہ یہودی اسے ختم کرچکے تھے ۔

اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہو ئیں اور اس وقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔

____________________

۱۔ بیہقی نے اپنی سنن جلد ۸ صفحہ ۲۴۶ میں جو روایت نقل کی ہے ۔ اس کے مطابق علماء ِ یہود جب پیغمبر اس

دوست اور دشمن کے درمیان فیصلہ زیر نظر آیات اور بعد کی چند آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے قاضی حق رکھتے ہیں کہ مخصوص شرائط کے ساتھ غیر مسلموں کے مقدمات کابھی فیصلہ کریں ، تفصیل آیات کے ذیل میں بیان کی جائے گی ۔


زیر نظر آیات میں سے پہلی آیت یا ایھا الرسول ( اے بھیجے ہوئے)سے شروع ہوتی ہے ۔ قرآن میں یہ تعبیر صرف دو جگہ پر نظر آتی ہے ایک اس مقام پر اور ایک اسی سورہ کی آیہ ۶۷ میں جہاں ولایت و خلافت کے مسئلے پر گفتگو کی گئی ہے ، معاملہ چونکہ اہم ہے اور دشمن کا خوف بھی ہے لہٰذا چاہتا ہے کہ پیغمبرمیں احساس مسئولیت کو اور متحرک کرے اور ان کے ارادے کو تقویت پہنچائے یہ کہتے ہوئے کہ تو صاحب ِ رسالت ہے اور رسالت بھی ہماری اس لئے حکم بیان کرنے میں استقامت اور مامردی سے کام لو۔

اس کے بعد پیغمبر کی دلجوئی اور تسلی کےلئے بعد والے حکم کی تمہید کے طور پر فرمایا گیا ہے ۔ جو لوگ زبان سے ایمان کے دعویدار ہیں اور ان کا دل ہرگز ایمان نہیں لایا اور کفر میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہیں وہ تمہارے غم و اندوہ کا سبب نہ بنیں ( کیونکہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے )

( لاَیَحْزُنْکَ الَّذِینَ یُسَارِعُونَ فِی الْکُفْرِ مِنْ الَّذِینَ قَالُوا آمَنَّا بِاٴَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوبُهُمْ )

بعض کا نظریہ ہے کہ”یُسَارِعُونَ فِی الْکُفْر“ ِ ” یُسَارِعُونَ اِلیٰ الْکُفْرِ“میں فرق ہے کیونکہ پہلا جملہ ایسے لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے جو کافر ہیں اور کفر کے اندر غوطہ زن ہیں اور کفر کے آخری مرحلہ تک پہنچنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں کوشان ہیں لیکن دوسرا جلہ ایسے لوگوں کے بارے میں ہے جو باہر سے کفر کی چار دیواری کی طرف حر کت میں ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت کررہے ہیں ۔(۱)

منافقین اور داخلی دشمنوں کی کارستانیوں پر ان کی حوصلہ شکنی کے بعد خارجی دشمنوں اور یہودیوں کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ہ وتا ہے : اسی طرح یہودیوں میں سے بھی جو لوگ اس راہ پر چل رہے ہیں وہ بھی تمہارے لئے حزن و ملال کا باعث نہ ہوں( وَمِنْ الَّذِینَ هَادُوا ) ۔

اس کے بعد ان منافقانہ افعال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : وہ تمہاری باتوں کو بڑے غور سے سنتے ہیں لیکن ان کی یہ توجہ اطاعت کے لئے نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ انھیں تمہاری تکذیب کے لئے اور تم پر افترا باندھنے کے لئے کوئی عذر ہاتھ آجائے( سَمَّاعُونَ لِلْکَذِبِ ) ۔

اس جملے کی ایک اور تفسیر بھی ہے اور وہ یہ کہ : وہ اپنے گذشتہ لوگوں کے جھوٹ اور افتراء کی طرف زیادہ کان دھرتے ہیں ، لیکن بات قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔(۲)

ان کی ایک اور صفت یہ ہے کہ یہ نہ صرف جھوٹ باندھنے کے لئے تمہاری مجلس میں آتے ہیں بلکہ جو لوگ تمہارے پاس نہیں آتے ان کے جاسوس کا کردار بھی ادا کرتے ہیں( سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِینَ لَمْ یَاٴْتُوکَ ) ۔

دوسری تفسیر کے مطابق وہ اپنے گروہ کے حکم پر کان دھرتے ہیں ان کا طریقہ یہ ہے کہ اگر تم میں سے کوئی حکم اپنی منشاء کے مطابق سن لیں تو اسے قبول کرلیتے ہیں اور اگر کوئی حکم ان کے میلانِ طبع کے خلاف ہے تو اس کی مخالفت کرتے ہیں لہٰذا وہ اپنے بڑون کافرمان سنتے ہیں اور ان کی اطاعت کرتے ہیں نہ کہ تمہاری ۔ ان حالات میں ان کی مخالفت تمہارے لئے باعث ِ غم اندوہ نہیں ہونا چاہئیے ، کیونکہ وہ ابتداء سے ہی تمہارے پاس قبولِ حق کی غرض سے نہیں آئے ۔ ان کی صفات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ کلام ِ الہٰی میں تحریف کرتے ہیں ( چاہے تحریف ِ لفظی ہو یا تحریف معنوی) جس حکم کو وہ اپنے مفاد اور ہواو ہوس کے خلاف سمجھتے ہیں اس کی کوئی توجیہ کرلیتے ہیں یا سے بالکل مسترد کردیتے ہیں ۔

( یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِهِ ) ۔(۳)

زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ تمہارے پاس آنے سے پہلے ہی پختہ ارادہ کرلیتے ہیں ۔ ان کے بڑوں نے انھیں حکم دیا ہے کہ اگر محمد کوئی حکم ہماری خواہش کے مطابق دے تو اسے قبول کرلو اور اگر ہماری خواہش کے خلاف ہو تو اس سے دور رہو( یَقُولُونَ إِنْ اٴُوتِیتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ وَإِنْ لَمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوا ) ۔

وہ اس طرح سے گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اپنے ان افکار و نظر یات میں اتنے پختہ ہیں کہ بغیر کسی سوچ بچار اور تحقیق و مطالعہ کے جو کچھ بھی ان کے تحریف شدہ مطالب کے خلاف ہو اسے رد کردیتے ہیں اس طرح ان کی ہدایت کی کوئی امید نہیں اور خدا چاہتا ہے کہ اس ذریعے سے سزا دے کر انھیں رسوا کرے اور جس کی سزا اور رسوائی کا خدا ارادہ کرلے تو تم ہر گز اس کا دفاع نہیں کر سکتے۔( وَمَنْ یُرِدْ اللهُ فِتْنَتَهُ فَلَنْ تَمْلِکَ لَهُ مِنْ اللهِ شَیْئًا ) ۔

وہ اس قدر آلودہ ہیں کہ ان کی آلودگی دھلنے کے قابل نہیں ہے وہ ایسے لوگ ہیں کہ خدا ان کے دلوں کو پاک نہیں کرنا چاہتا( اٴُوْلَئِکَ الَّذِینَ لَمْ یُرِدْ اللهُ اٴَنْ یُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ ) ۔

کیونکہ خدا کا کام ہمیشہ حکمت آمیز ہوتا ہے اور وہ لوگ جو اپنے ارادے سے زندگی کا ایک حصہ کجروی میں گزار چکے ہیں اور نفاق ، جھوٹ، مخالفتِ حق اور قوانین ِ الہٰی میں تحریف کا جرم کرچکے ہیں ان کے لئے پلٹنا عادتاً ممکن نہیں ہے ۔

اور آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : وہ اس دنیا میں میں بھی رسوا ہوں گے اور آخرت میں بھی انھیں عذاب عظیم ہوگا ۔( لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَلَهُمْ فِی الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیمٌ ) ۔

دوسری آیت میں قرآن دوبارہ تاکید کرتا ہے کہ ان کے سننے والے کان تو تمہاری بات سن کر اس کی تکذیب کرنے کے لئے ہیں ( یا پھر وہ اپنے بڑوں کے جھوٹ سننے کے لئے گوش ِ شنوا رکھتے ہیں )( سَمَّاعُونَ لِلْکَذِبِ ) ۔یہ جملہ تاکید کے طور پر ہے اور اس بری صفت کے اثبات کے لئے تکرار ہے ۔

اس کے علاوہ وہ ناحق ، حرام اور رشوت زیادہ کھاتے ہیں( اٴَکَّالُونَ لِلسُّحْت ) (۴) ۔

اس کے بعد پیغمبر اکرم کو اختیار دیا گیا ہے کہ اگر ایسے لوگ فیصلہ حاصلہ کرنے کے لئے ان کی طرف رجوع کریں تو وہ احکام ِ اسلام کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ کرسکتے ہیں اور یہ بھی کہ ان سے منہ پھیر بھی سکتے ہیں( فَإِنْ جَائُوکَ فَاحْکُمْ بَیْنَهُمْ اٴَوْ اٴَعْرِضْ عَنْهُمْ ) ۔

البتہ یہاں یہ مراد نہیں کہ پیغمبر اکرم کسی ذاتی میلان کی بنیاد پر کوئی راستہ اپنالیں بلکہ مراد یہ ہے کہ حالات و اوضاع کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگر مصلحت ہو تو حکم جاری کریں ورنہ صرفِ نظر کرلیں ۔

روح ِ پیغمبر کی تقویت کے لئے مزید فرمایا گیا ہے : اگر مصلحت اس میں ہو کہ ان سے منہ پھیر لو تو وہ تمہیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے( وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَضُرُّوکَ شَیْئًا ) ۔

اور اگر ان کے درمیا ن فیصلہ کرنا چاہو تو یقینا تمہیں اصولِ عدالت کو ملحوظ رکھنا چاہئیے کیونکہ خدا، حق، انصاف اور عدالت کے مطابق فیصلہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے( وَإِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ إِنَّ اللهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَ ) ۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت ِ اسلامی کو آج بھی یہ اختیار ہے کہ وہ غیر مسلموں کے بارے میں احکام ِ اسلام کے مطابق فیصلہ کردے یا فیصلہ کرنے سے اعراض کرے ۔ اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے ۔

بعض کا نظر یہ ہے کہ اسلامی ماحول میں جو شخص بھی زندگی بسر کرتا ہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم ، حقوق اور جزا و سزا کے اسلامی قوانین سب کے بارے میں یکساں ہیں ۔ اس بناپر مندرجہ بالاآیت کا حکم یا تو منسوخ ہو چکا ہے یا غیر ذمی کفار سے مخصوص ہے ( یعنی وہ کفار جو ایک اقلیت کے طور پر اسلامی ملک میں زندگی بسر نہیں کرتے لیکن مسلمانوں کے ساتھ معاہدوں میں شریک ہیں اور ان سے میل جول رکھتے ہیں )

بعض دیگر حضرات کا نظریہ ہے کہ اسلامی حکومت اس وقت بھی غیر مسلموں کے بارے میں یہ اختیار رکھتی ہے کہ وہ حالات و اوضاع کو ملحوظ رکھتے ہوئے مصلحت سمجھے تو ان کے بارے میں احکامِ اسلام کے مطابق فیصلہ کرے اور یا انھیں ان کے اپنے قوانین کی طرف رجوع کرنے کی اجازتدے دے ( تفصیلی مطالعہ اور تحقیق کے لئے فقہی کتب میں قضاوت کی بحث سے رجوع کریں )

لام کی خدمت میں آئے تھے تو اس عورت اور مرد کو بھی ساتھ لائے تھے ۔

____________________

۱ ۔ المنار ج۶ صفحہ۲۸۸۔

۲ ۔ پہلی صورت میں ” للکذب“ کی لام ” لام تعلیل “ ہے اور دوسری صورت میں ” لام تعدیہ “ ہے ۔

۳ ۔ تحریف کی کیفیت اور اقسام کے بارے میں اسی سورہ کی آیت ۱۳ کے ذیل میں بحث ہو چکی ہے ۔

۴ ۔ ”سحت“ ( بر وزن جفت“ در اصل درخت کے چھلکے اتارنے اور شدید بھوک کے معنی میں ہے بعد ازاں ناجائز مال اور خصوصاً رشوت کے لئے بولاجانے لگا کیونکہ ایسا مال معاشرے سے تازگی، پاکیز گی اور برکت چھین لیتا ہے جیسے درخت سے چھلکے اتاردئیے جائیں تو اس پر پذمردگی چھا جاتی ہے اور وہ خشک ہو جاتا ہے اس بنا ہر ” سحت“ کا ایک وسیع معنی ہے اگر بعض روایات میں اس کا کوئی خاص مصداق بیان کیا گیا ہے تو وہ اختصاص کی دلیل نہیں ہے ۔


آیت ۴۳

۴۳۔( وَکَیْفَ یُحَکِّمُونَکَ وَعِنْدَهُمْ التَّوْرَاةُ فِیهَا حُکْمُ اللهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْ بَعْدِ ذَلِکَ وَمَا اٴُوْلَئِکَ بِالْمُؤْمِنِینَ ) ۔

ترجمہ

۴۳۔وہ کس طرح تجھے فیصلہ کرنے کے لئے بلاتے ہیں جبکہ ان کے پاس تورات ہے اور اس میں خدا کا حکم موجود ہے ( اور پھر ) فیصلہ کے بعد انھوں نے چاہا کہ تجھ سے منہ پھیر لیں اور وہ مومن نہیں ہیں ۔

تفسیر

گذشتہ آیت میں پیغمبر اکرم سے یہودیوں کے فیصلہ طلب کرنے کا ذکر تھا یہ آیت بھی اسی معاملے کے بارے میں ہے ۔ یہاں تعجب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : وہ کس طرح تجھے فیصلہ کے لئے بلاتے ہیں جب کہ تورات ان کے پاس ہے اور اس میں خدا حکم بھی آچکا ہے( وَکَیْفَ یُحَکِّمُونَکَ وَعِنْدَهُمْ التَّوْرَاةُ فِیهَا حُکْمُ اللهِ ) ۔

یاد رہے کہ زنا محصنہ کے مرتکب مرد عورت کو سنگسار کرنے کا مذکورہ حکم موجودہ تورات کے سفر تثنیہ فصل بائیس میں موجود ہے ۔ تعجب اس بات پر ہے کہ وہ تو تورات کو ایک منسوخ کتاب مانتے اور دین اسلام کو باطل سمجھتے ہیں اس کے باوجود وہ تورات کے ان احکام کو چھوڑ کر جو انکی طبیعت کے مطابق نہیں ہیں ایسے حکم کی تلاش کرتے ہیں جو اصولی طور پر ان کے موافق نہیں ہے ۔ اس سے بھی بڑ کر تعجب کی بات یہ ہے کہ تجھے فیصلہ کرنے کے لئے منتخب کرلینے کے بعد تیرا حکم قبول نہیں کرتے کہ حکم تورات کے مطابق ہے کیونکہ یہ حکم ان کے میلان اور رغبت کے خلاف ہے( ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْ بَعْدِ ذَلِکَ ) حقیقت یہ ہے کہ وہ ایمان ہی نہیں رکھتے ورنہ احکام ِ خدا کے ساتھ ایسا کھیل نہ کھیلتے( وَمَا اٴُوْلَئِکَ بِالْمُؤْمِنِینَ ) ۔ممکن ہے یہ اعتراض کیا جائے کہ مندرجہ بالا آیت یہ کیونکہ کہتی ہے کہ حکم خدا تورات میں مذکورہے حالانکہ قرآنی آیات اور تاریخی اسناد سے معلوم ہوتا ہے کہ تورات تحریف شدہ کتاب ہے اور یہی تحریف شدہ کتاب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں تھی ۔ اس سلسلے میں توجہ رہے کہ اول توہم تمام تورات کو تحریف شدہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کے کچھ حصے کو واقع کے مطابق جانتے ہیں اور اتفاق کی بات ہے کہ زیر بحث حکم غیر تحریف شدہ احکام میں سے ہے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ تورات جو کچھ بھی تھی یہودیوں کے نزدیک تو آسمانی کتاب تھی جو تحریف شدہ نہیں سمجھی جاتی تھی لہٰذا ان حالات میں کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ وہ اس پر عمل نہ کریں ۔


آیت ۴۴

۴۴۔ إ( ِنَّا اٴَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِیهَا هُدًی وَنُورٌ یَحْکُمُ بِهَا النَّبِیُّونَ الَّذِینَ اٴَسْلَمُوا لِلَّذِینَ هَادُوا وَالرَّبَّانِیُّونَ وَالْاٴَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ کِتَابِ اللهِ وَکَانُوا عَلَیْهِ شُهَدَاءَ فَلاَتَخْشَوْا النَّاسَ وَاخْشَوْنِی وَلاَتَشْتَرُوا بِآیَاتِی ثَمَنًا قَلِیلًا وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ فَاٴُوْلَئِکَ هُمْ الْکَافِرُونَ ) ۔

ترجمہ ۔

۴۴۔ ہم نے تورات کو نازل کیا کہ جس میں ہدایت اور نور تھا اور انبیاء کہ جو حکم خدا کے سامنے تسلیم تھے اس کے مطابق یہودیوں میں فیصلہ کرتے تھے اور (اسی طرح)علماء بھی اس کتاب کے مطابق حکم کرتے تھے کہ جو ان کے سپرد تھی اور وہ اس پر گواہ تھے اس بنا پرت(آیات الہٰی کے مطابق فیصلہ کرنے کے بارے میں ) لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو او رمیری آیات معلوم قیمت پر نہ بیچو او رجو لوگ خدا کے نال کردہ احکام کے مطابق حکم نہیں کرتے وہ کافر ہیں ۔

ہم نے تورات نازل کی

زیر نظر اور آئندہ آیت گذشتہ بحث کی تکمیل کرتی ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیه السلام) کی آسمانی کتاب کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور نور ہ ، ہدایت حق کی طرف راہنمائی کے لئے اور نور جہل و نادانی کی تاریکیوں کو دور کرنے کے لئے( إِنَّا اٴَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِیهَا هُدًی وَنُورٌ ) ۔

اس بنا پر وہ پیغمبر ان ِ خدا جو حکم خدا کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہو ئے تھے اور نزول تورات کے بعد مصروف کارتھے، سب یہودیوں کے لئے اس کے مطابق حکم کرتے تھے( یَحْکُمُ بِهَا النَّبِیُّونَ الَّذِینَ اٴَسْلَمُوا لِلَّذِینَ هَادُوا ) ۔

صرف وہی ایسانہ کرتے تھے بلکہ ” یہودیوں کے بزرگ علماء اور صاحب ِ ایمان پاکباز داشور اس آسمانی کتاب کے ہی مطابق فیصلہ کرتے تھے جو ان کے سپرد کی گئی تھی اور وہ اس پر گواہ تھے( وَالرَّبَّانِیُّونَ وَالْاٴَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ کِتَابِ اللهِ وَکَانُوا عَلَیْهِ شُهَدَاءَ ) ۔(۱)

یہاں روئے سخن اہل کتاب کے ان علماء کی طرف ہے جو اس زمانے میں موجود تھے ار شاد ہوتا ہے : لوگوں سے نہ ڈرو اور خدا کے حقیقی احکام بیان کرو اور چاہے تو یہ کہ میر مخالفت سے ڈرو کیونکہ اگر تم نے حق کو چھپا یا تو تمہیں سزادی جائے گی( فَلاَتَخْشَوْا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ ) ۔اور اسی طرح آیاتِ خدا کو کم قیمت پرنہ بیچو( وَلاَتَشْتَرُوا بِآیَاتِی ثَمَنًا قَلِیلًا ) ۔

در اصل حق کو چھپا نے کی وجہ یا لوگوں کا خوف ہے یا پھر ذاتی مفاد کا حصول بہر حال جو کچھ بھی ہو ضعف ایمان کی دلیل او رمقام ِ انسانیت کی نفی ہے اور مندجہ بالا جملوں میں دونوں کی طرف اشارہ کیاگیا ہے۔

ایسے اشخاص کے بارے میں آیت کے آخر میں قطعی فیصلہ صادر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے :

جو لوگ احکام ِ خدا کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں( وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ فَاٴُوْلَئِکَ هُمْ الْکَافِرُونَ ) ۔

واضح ہے کہ حکم خدا کی مطابق فیصلہ نہ کرنے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ خاموش رہا جائے اور بالکل کوئی فیصلہ نہ کیا جائے اور اپنی خاموشی سے لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیا جائے اور یہ بھی کہ بات کی جائے اور حکم خدا کے خلاف فیصلہ دیاجائے ۔

یہ بھی واضح ہے کہ کفر کے لئی مراتب اور مختلف درجات ہیں اور یہ اصل وجود خدا کے انکار سے شروع ہو تا ہے اور اس کی نافرمانی اور معصیت تک جا پہنچتا ہے ۔ کیونکہ ایمان ِ کامل انسان کو حکم ِ خدا کے مطابق عمل کرنے کی دعوت دیتا ہے اور وہ جو عمل نہیں کرتے ان کا ایمان کا مل نہیں ہے ۔

یہ آیت ہر امت کے علماء اور داشنوروں پر عائد ہو نے والی بھاری ذمہ داری ار جوابدہی کو واضح کرتی ہے ۔ آیت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے گرد رونما ہونے والے معاشرتی طوفان اور حوادث کا مقابلہ کریں ۔ کجرویوں کے خلاف فیصلہ کن انداز میں ڈٹ جائیں اور کسی سے خوف نہ کھائیں ۔

____________________

۱۔ ”ربانی “ کے معنی اور اس کے اصلی مادہ کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد دوم ص ۳۸۷ ( اردو ترجمہ ) میں بحث کی جاچکی ہے نیز ” احبار “ ” حبر “ ( بر وزن “ فکر )کی جمع ہے اور اسی طرح بر وزن ” ابر “ ہو تو اس کا منعی ہے ” نیک اثر “ بعد ازاں یہ لفظ ایسے علماء کے بارے میں استعمال ہو نے لگا جو معاشرے میں اچھا اور نیک اثر رکھتے ہوں دوات کی سیاہی کو بھی ”حبر “ اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ نیک آثار رکھتی ہے ۔


آیت ۴۵

۴۵۔( وَکَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیهَا اٴَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَالْاٴَنفَ بِالْاٴَنفِ وَالْاٴُذُنَ بِالْاٴُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ کَفَّارَةٌ لَهُ وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ فَاٴُوْلَئِکَ هُمْ الظَّالِمُونَ ) ۔

ترجمہ

۴۵۔ اور ہم نے اس ( تورات) میں ان( بنی اسرائیل )کے لئے مقرر کردیا تھا کہ جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان ہے اور ہر زخم کے لئے قصاص ہے اور اگر کو ئی ( قصاص سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ) اسے بخش دے تو یہ اس کے گناہوں کا کفارہ شمار ہوگا اور جو شخص خدا کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کرے وہ تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں ۔

قصاص اور در گذر

اس آیت میں ان حدودِ الہٰی کا ایک حصہ بیان کیا گیا ہے جو تورات میں ہیں ، فرمایا گیا ہے : ہم نے تورات میں قانون ِ قصاص مقرر کیا ہے کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر کسی بے گناہ کو قتل کردے تو مقتول کے اولیاء قاتل کو اس کے بدلے قتل کر سکتے ہیں( وَکَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیهَا اٴَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ ) ۔

اور اگر کوئی دوسرے کی آنکھ کو نقصان پہنچائے اور اسے ختم کردے تو وہ اس کی آنکھ نکال سکتا ہے( وَالْعَیْنَ بِالْعَیْنِ ) ۔نیز کان کاٹنے کے بدلے مد مقابل کا کان کاٹا جا سکتا ہے( وَالْاٴُذُنَ بِالْاٴُذُنِ ) ۔

اسی طرح کسی کی ناک کاٹنے کے بدلے جائز ہے کہ مجرم کی ناک کاٹی جائے( وَالْاٴَنفَ بِالْاٴَنفِ ) ۔

اور اگر کوئی کسی کا دانت توڑ دے تو وہ بھی اس کادانت توڑ سکتا ہے( وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ ) ۔

اسی طرح جو بھی کسی کو کوئی زخم لگائے تو وہ اس کے بدلے قصاص لے سکتا ہے( وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ ) ۔

لہٰذا حکم ِ قصاص بغیر کسی نسلی ، طبقاتی ، اجتماعی ، قبائلی اور شخصی امتیاز کے جاری ہو گا اور اس سلسلے میں کسی کے لئے بھی کسی پہلو سے کوئی فرق اور تبعیض نہیں ہے ( البتہ دیگر اسلامی احکام کی طرذح اس حکم کی بھی کچھ شرائط ہیں جو فقہی کتب میں موجود ہیں کیونکہ یہ حکم بنی اسرائیل سے مخصوص نہیں ہے اسلام میں بھی اس کی نظیر موجود ہے جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیہ ۱۷۸ میں مذکورہ ہے کہ جو آیہ قصاص ہے ) ۔

ناروا امتیازات اور تفریقات جو اس زمانے میں مروج تھیں انھیں یہ آیت ختم کرتی ہے جیساکہ بعض تفاسیر سے معلوم ہوتا ہے اس زمانے میں یہودِ مدینہ کے دو گروہوں میں ایک عجیب عدم مساوات موجود تھی اور وہ یہ کہ بنی نضیر کو کائی شخص بنی قریظہ کے کسی شخص کو قتل کردیتا ہے تو اس سے قصاص نہ لیا جاتا لیکن اس کے بر عکس بنی قریظہ کا کوئی شخص بنی نضیر کے کسی شخص کو قتل کردیتا تو وہ اس کے بدلے قتل کیا جا تا ۔

جب مدینہ میں اسلام آیا تو نبی قریظہ نے اس بارے میں پیغمبر اسلام سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا: خون کسی کا ہو کوئی فرق نہیں ۔

اس پر بنی نضیر اعتراض کرنے لگے اور کہنے لگے :

آپ ہما را مقام نیچے لے آئے ہیں اور اسے پست کردیا ہے ۔

زیر نظر آیت اسی ضمن میں نازل ہو ئی اور انھیں بتا یا گیا کہ نہ صرف اسلام میں بلکہ یہودیوں کے دین میں بھی مساوات کا یہ قانون موجود ہے(۱)

لیکن اس بنا پر کہ کہیں یہ گمان نہ ہو کہ خدا نے قصاص کو لازمی قرار دیا ہے اور مقابلہ بمثل کی دعوت دی ہے ، مزید فرمایا گیا ہے ، : اگر کوئی اپنے حق سے در گذر کرے اور عفو و بخشش سے کام لے تو یہ اس کے گناہوں کا کفارہ شمار ہو گا اور جس طرح اس نے در گذر سے کام لیا ہے خدا اس سے در گذر کرے گا

( فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ کَفَّارَةٌ لَهُ وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ فَاٴُوْلَئِکَ هُمْ الظَّالِمُونَ ) (۲)

گویا قصاص ایک صدقہ و عطیہ ہے جو مجرم کو بخش دیا گیا ہے یہاں ” تصدق“ کی تعبیر اور خدا کی طرف سے ” تصدق“ کرنے والے کو عفو کا وعدہ ، یہ سب کچھ عفو و در گذر کا شوق پیدا کرنے کے لئے ہے ۔ کیونکہ اس میں شک نہیں کہ قصاص کے ذریعے کھوئی ہوئی چیز تو ہاتھ میں نہیں آسکتی یہ تو فقط وقتی سکون ن و اطمنان دیتا ہے لیکن خدا کی طرف سے عفو و بخشش کا وعدہ در اصل ایک دوسری صورت میں اس کی تلافی ہے جو وہ ہاتھ سے دے بیٹھا ہے اور اس طرح سے اس کی پریشانی ختم ہو جاتی ہے اور یہ ایسے لوگوں کے لئے عمدہ اور بہترین تشویق ہے ۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے ، آپ (علیه السلام)نے فرمایا:

جو شخص معاف کردیتا ہے ، خدا بھی اسی طرح کے گناہ معاف کردیتا ہے ۔(۳)

یہ جملہ در حقیقت ان لوگوں کے لئے ایک دندان شکن جواب ہے جو قانون قصاص کو غیر عادلانہ سمجھتے ہیں اور اسے ایک آدم کش قانون قرار دیتے ہیں ۔ پوری آیت پر غو ر و خوض سے معلوم ہوتا ہے کہ قصاص کی اجازت مجر موں کو خوف زدہ کرنے کے لئے ہے تاکہ بے گناہ لوگ ان کے اقدامِ ِ جرم سے مامون رہیں لیکن اس کے باوجود عفو و باز گشت کا راستہ بھی کھلا رکھا گیا ہے ۔ خوف و امید کی یہ کیفیت پیدا کوتے ہوئے اسلام چاہتا ہے کہ ظلم و زیادی کو بھی رو کے اور جتنا ہو سکے او رمناسب ہو خون کو خون سے پاک کرنے کی پیش بندی بھی کرے۔

آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : اور جو لوگ خدا کے حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ ظالم ہیں( وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ فَاٴُوْلَئِکَ هُمْ الظَّالِمُون ) ۔

اس سے بڑ ھ کر کیا ظلم ہو گا کہ ہم جھوٹے احساسات اور جذبات سے مغلوب ہو کر قاتل سے اس بہانے سے صرفِ نظر کرلیں کہ خون کو خون سے نہ دھو یا جائے اور قاتلوں کے ہاتھ دوسرے لوگوں کو قتل کرنے کے لئے کھلے چھوڑ دیں ، اور اس طرح سے بے گناہوں پر ظلم و ستم کریں ۔

توجہ رہے کہ موجودہ تورات میں بھی سفر خروج کی اکیسویں فصل میں ہے کہ :

اور اگر دوسرے کو اذیت پہنچائی گئی ہو تو اس وقت جان کے عوض جان دی جائے ۔ آنکھ کے عوض آنکھ ، دانت کے بدلے دانت ، ہاتھ کے بدلے ہاتھ اور پاوں کے بدلے پاوں اور خلانے کے بدلے جلایا جائے ، زخم کے عوض زخم اور تھپڑ کے بدلے تھپڑ۔(۴)

____________________

۱۔تفسیر قرطبی جلد ۳ صفحہ ۲۱۸۸۔

۲۔ بہت سے مفسرین نے یہ آیت کے بارے میں ایک اور احتمال بھی پیش کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ” لہ“ کی ضمیر مجرم کے بارے میں ہے اس طرح آیت کا معنی یہ ہو گا : جو شخص اپنے حق سے درگذر کرے تو اس سے جان کا قصاص بر طرف ہوجائے گا اور یہ اس کے عمل کا کفارہ شمار ہو گا لیکن آیت کا ظہور وہی ہے جو ذکر ہو چکا ہے ۔

۳۔نو ر الثقلین ج ۱ ص ۶۳۷۔

۴ ۔سفر خروج ۔ جملہ ۲۳، ۲۴ اور ۲۵۔


آیت ۴۶

۴۶۔( وَقَفَّیْنَا عَلَی آثَارِهِمْ بِعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنْ التَّوْرَاةِ وَآتَیْنَاهُ الْإِنجِیلَ فِیهِ هُدًی وَنُورٌ وَمُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنْ التَّوْرَاةِ وَهُدًی وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِینَ ) ۔

ترجمہ

۴۶۔ اور ان ( گذشتہ انبیاء) کے بعد ہم نے عیسیٰ کو مقرر کیا تاکہ اس سے پہلے جو تورات میں بھیجا گیا تھا اس کی تصدیق کرے اور ہم نے اسے انجیل دی کہ جس میں ہدایت او رنور تھا( اور اس کی یہ آسمانی کتاب بھی ) تورات کی تصدیق کرتی تھی جو اس سے پہلے تھے اور متقیوں کے لئے ہدایت او رموعظہ ہے ۔

تفسیر

تورات سے مربوط آیات کے بعد یہ آیت انجیل کی کیفیت بیان کررہی ہے ارشاد ہوتا ہے : گذشتہ رہبروں اور پیغمبروں کے بعد ہم نے مسیح کو مبعوث کیا جب کہ اس کی نشانیاں بالکل ان نشانیوں کے مطابق تھیں جو تورات نے بیان کی تھیں( وَقَفَّیْنَا عَلَی آثَارِهِمْ بِعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنْ التَّوْرَاةِ ) ۔

اس جملہ کی ایک اور بھی تفسیر ہے اور وہ یہ ہے کہ : حضرت مسیح (علیه السلام) نے تورات کی حقانیت کا اعتراف کیا کہ جو حضرت موسیٰ بن عمران پرنازل ہ وئی تھی جیسے تمام آسمانی پیغمبر اپنے سے پہلے انبیاء کی حقانیت کے معترف تھے ۔

اس کے بعد فرمایا گیا ہے : ہم نے اسے انجیل سونپی کہ جس میں ہدایت اور نور تھا( وَآتَیْنَاهُ الْإِنجِیلَ فِیهِ هُدًی وَنُورٌ ) ۔

قرآن مجید میں تورات ، انجیل اور قرآن تینوں کو نور کہا گیا ہے ۔ تورات کے بارے میں ہے :

( انا انزلنا التوراة فیها هدی و نور ) ( مائدہ۔ ۴۴)

انجیل کے بارے میں تو مندرجہ بالا آیت شاہد ہے اور قرآن کے بارے میں ہے :

( وَ قَد جاء کم من الله نور و کتاب مبین ) “ ( مائدہ ۔ ۱۵)

در حقیقت جیسے تمام موجودات ِ عالم اپنی زندگی کے تسلسل کے لئے نور کے سخت محتاج ہیں ۔ اسی طرح خدا کے دین اور آسمانی کتب کے احکام و قوانین انسانوں کے رشد و تکامل اور ارتقاء کے لئے باگریز ہیں ۔ اصولی طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ تمام توائیوں اور ھرکات اور زیبائیوں کا سر چشمہ نور ہے اور نور نہ ہوتو خاموشی اور موت تمام جگہوں پر چھا جائے ۔اسی طرح پیغمبروں کی تعلیمات نہ ہوں تو تمام انفرادی و اجتماعی انسانی قدریں موت کی نیند سو جائیں اور اس نمونے ہم مادی معاشروں میں واضح طو ر پر دیکھ سکتے ہیں ۔

قرآن نے کئی ایک مقامات پر تورات اور انجیل کو آسمانی کتاب کے عنوان سے یاد کیا ہے اور بتا یا ہے کہ یہ دونوں کتابیں اصل میں خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہیں اور اس میں کوئی شک بھی نہیں لیکن یہ بھی مسلم ہے کہ اپنے پیغمبروں کے بعد یہ دونوں آسمانی کتابیں تحریف کی نذر ہو گئیں کچھ حقائق ان میں سے کم کر دئے گئے اور کچھ اورکتب نے ان کی جگہ لے لی ۔ جن میں کچھ حصہ اصلی کتب کا بھی تھا ۔(۱)

لہٰذانور کا اطلاق اصلی تورات اور انجیل پر ہوتا ہے ۔ تحریف شدہ کتب پر نہیں ۔

دوبارہ بطور تاکید فرمایا گیا ہے کہ : نہ صرف یہ کہ عیسیٰ بن مریم ، تورات کی تصدیق کرتے تھے بلکہ ان کی آسمانی کتاب انجیل بھی تورات کی صداقت پر گواہ تھی( وَمُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنْ التَّوْرَاةِ ) ۔

آخر میں ارشاد ہو تا ہے : یہ آسمانی کتاب پرہیز گاروں کے لئے ہدایت اور وعظ و نصیحت کا سر مایہ ہے( وَهُدًی وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِینَ ) ۔یہ تعبیر بھی ویسی ہی ہے جیسی سورہ بقرہ کی ابتداء میں قرآن کے بارے میں آئی ہے ۔ جہاں فرمایا گیا ہے :( هدی للمتقین ) یعنی قرآن پرہیز گاروں کے لئے ہدایت کا ذریعہ ہے ۔

نہ صرف قرآن بلکہ تمام آسمانی کتب اسی طرح پرہیز گاروں کے ہدایت کا ذریعہ ہیں ۔ پرہیز گاروں سے مراد وہ لوگ ہیں جو حق کی تلاش میں رہتے ہیں اور اسے قبول کرنے کے لئے آمادہ و تیار رہتے ہیں ۔ واضح ہے کہ جو لوگ ہت دھرمی اور دشمنی کی بنا پر اپنے دل کادریچہ حق کے سامنے بند کرلیتے ہیں وہ کسی بھی حقیقت سے بہرہ مند نہیں ہوسکتے۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ زیر بحث آیت میں پہلے انجیل کے بارے میں ” فیہ ھدیً“ کہا گیا ہے اور بعد میں بطور مطلق ” ھدیً“ کہا گیا ہے ۔ تعبیر کا یہ فرق ممکن ہے اس بنا پر ہو کہ انجیل اور دوسری آسمانی کتب میں ہر شخص کے لئے بلا استثناء ہدایت کے دلائل موجود ہیں لیکن پرہیزگاروں کے لئے کہ جو اس میں دقت نظر کرتے ہیں وہ ہدایت تربیت، تکامل اور ارتقاء کا باعث ہے ۔

____________________

۱۔ تورات اور انجیل میں تحریف اور اس کی تاریخی اسناد کے بارے میں زیادہ وضاحت کے لئے کتاب ”الھدی الیٰ دین المصطفیٰ “ اور ” انیس الاعلام“ کی طرف رجوع فرمائیں ۔


آیت ۴۷

۴۷۔( وَلْیَحْکُمْ اٴَهْلُ الْإِنجِیلِ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ فِیهِ وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ فَاٴُوْلَئِکَ هُمْ الْفَاسِقُونَ ) ۔

ترجمہ ۴۷۔ ہم نے اہل انجیل ( پیروان ِ مسیح ) سے کہا کہ جوکچھ خدا نے اس میں نازل کیا ہے وہ اس کے مطابق حکم کریں اور جو لوگ اس کے مطابق حکم نہیں کرتے جو خدا نے نازل کیا ہے ، وہ فاسق ہیں ۔

وہ جو قانونِ الہٰی کے مطابق حکم نہیں کرتے

گذشتہ آیات میں انجیل کے نازل ہونے کا ذکر ہے ۔ اب اس آیت میں فرمایا گیا ہے : ہم نے اہل انجیل کو حکم دیا کہ جو کچھ خدا نے اس میں نازل کیا ہے اس کے مطابق حکم اور فیصلہ کریں( وَلْیَحْکُمْ اٴَهْلُ الْإِنجِیلِ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ فِیهِ ) ۔

اس میں شک نہیں کہ اس جملے سے یہ مراد نیں کہ قرآن عیسائیوں کو یہ حکم دے رہا ہے کہ انھیں اس وقت انجیل کے احکام پر عمل کرنا چاہئیے کیونکہ یہ بات تو قرآن سے مناسبت نہیں رکھتی کہ جو نئے آئیں اور دین کا اعلان کررہا ہے ، پرانے دین کو منسوخ کررہا ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ ہم نے عیسیٰ پر انجیل نازل کرنے کے بعد اس کے پیروکاروں کا حکم دیا تھا کہ وہ اس پر عمل کریں اور ا س کے مطابق فیصلے کریں ۔(۱) اس آیت کے آخر میں بطور تاکید فرماتا ہے : جو لوگ حکم ِ خدا کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ فاسق ہیں( وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ فَاٴُوْلَئِکَ هُمْ الْفَاسِقُونَ ) ۔یہ امر قابل توجہ ہے کہ ان آیات میں ایک مقام پر انہی افراد کو ” کافر “ کہا گیا ہے ۔ دوسرے مقام پر ” ظالم “ قراردیا گیا ہے اور تیسرے مقام پر ” فاسق“ کہا گیا ہے ۔ تعبیر میں یہ فرق ممکن ہے اس بنا پر ہو کہ ہر حکم تین پہلو رکھتا ہے ۔ ایک طرف سے وہ قانون بنانے والے ( خدا ) پر منتہی ہوتا ہے دوسری طرف قانون جاری کرنے والے ( حاکم و قاضی) تک پہنچتا ہے اور تیسری طرف اس شخص کہ جس پر قانون جاری ہورہا ہے ( محکوم) تک پہنچتا ہے ۔ گویا ہر تعبیر تین میں سے ایک پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے کیونکہ جو شخص خدا کے ایک حکم کے خلاف فیصلہ کرتا ہے وہ ایک ظرف سے قانون ِ الہٰی کو پاون تلے روند کر ” کفر“ اختیار کرتا ہے ۔ دوسری طرف ایک بے گناہ انسان پر” ظلم “کرتا ہے اور تیسری طرف وہ اپنی ذمہ داری اور مسئولیت کی سر حد سے انحراف کرکے ” فاسق“ بن جاتا ہے جیسا کہ کہا جا چکا ہے کہ فسق کا معنی بندگی اور مسئولیت کی سر حد سے تجاوز ہے ۔

____________________

۱در حقیقت اسی طرح جیسے بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ ”قلنا“ یہاں مقدر ہے اور آیت کا مفہوم ہے ”و قلنا لیحکم اهل الانجیل


آیت ۴۸

۴۸۔( وَاٴَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنْ الْکِتَابِ وَمُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْکُمْ بَیْنَهُمْ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ وَلاَتَتَّبِعْ اٴَهْوَائَهُمْ عَمَّا جَائَکَ مِنْ الْحَقِّ لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَجَعَلَکُمْ اٴُمَّةً وَاحِدَةً وَلَکِنْ لِیَبْلُوَکُمْ فِی مَا آتَاکُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرَاتِ إِلَی اللهِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیعًا فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ فِیهِ تَخْتَلِفُونَ ) ۔

ترجمہ

۴۸۔ اور اس کتاب کو ہم نے حق کے ساتھ تم پر نازل کیا جبکہ یہ گذشتہ کتب کی تصدیق کرتی ہے اور ان کی محافظ و نگہبان ہے لہٰذا خد انے جو احکام نازل کئے ہیں ان کے مطابق حکم کرو اور ان کے ہواو ہوس کی پیروی نہ کرو اور احکام الہٰی سے منہ نہ پھیرو۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے واضح آئیں اور طریقہ مقرر کردیا ہے ۔ اگر چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت قرار دیتا لیکن خدا چاہتا ہے کہ اس نے جو کچھ تمہیں بخشا ہے اس میں تمہیں آزمائے ( اور تمہاری صلاحیتیوں کی نشو ونما کرے ) اس لئے تم کو شش کرو اور نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاو ۔ تم سب کی باز گشت خدا کی طرف ہے اور جس میں تم نے اختلاف کیا ہے وہ تمہیں اس کی خبر دیتا ہے ۔

قرآن کے مقام و مرتبے کا تذکرہ ہے

گذشتہ انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد اس آیت میں قرآن کے مقام و مرتبے کا تذکرہ ہے ” مھیمن “ در اصل ایسی چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز کی محافظ، شاہد، امین اور نگہدار ہو۔ قرآن چونکہ گذشتہ آسمانی کتب کے اصولوں کی مکمل حفاظت و نگہداری کرتا ہے اور ان کی تکمیل کرتا ہے لہٰذا اسے ” مھیمن “ قرار دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے ہم نے اس آسمانی کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا ہے ، جبکہ یہ گذشتہ کتب کی تصدیق کرتا ہے ( اور اس کی نشانیاں اور علامات اس کے مطابق ہیں جو گذشتہ کتب نے بتائی ہیں ) اور یہ ان کا محافظ و نگہبان ہے( وَاٴَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنْ الْکِتَابِ وَمُهَیْمِنًا عَلَیْهِ ) ۔

بنیادی طور پر تمام آسمانی کتابیں اصول ِ مسائل میں ہم آہنگ ہیں اور سب کا ہدف و مقصدایک ہی ہے یعنی سب انسانی تربیت، ارتقاء اور تکامل کے در پے ہیں اگر چہ فروعی مسائل میں تکامل و ارتقاء کے تدریجی قانون کے مطابق مختلف ہیں اور ہر نیا دین بالاتر مرحلے کی طرف قدم بڑھا تا ہے اور جامع ترین پروگرام پیش کرتا ہے ۔

”ِّ( مُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ ) “کے بعد”( مهَیْمِنًا عَلَیْهِ ) “ کا ذکر جو تم پر نازل ہو ئے ہیں( فَاحْکُمْ بَیْنَهُمْ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ ) ۔یہ جملہ فاء تفریح کے ساتھ آیا ہے جو گذشتہ ادیان کے احکام کی نسبت احکام اسلام کی جامعیت کا نتیجہ ہے ۔ یہ حکم گذشتہ آیات کے اس حکم کی منافی نہیں کہ جن میں پیغمبر کویہ بتا دیا گیا ہے کہ ان کے درمیان خود فیصلہ کریں یا انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیں ۔ کیونکہ یہ آیت کہتی ہے کہ جب اہل کتاب کے درمیان فیصلہ کرنا چاہو تو قرآن کے احکام کے مطابق فیصلہ کرو ۔

پھر مزید فرما یا گیا ہے کہ جو لوگ چاہتے ہیں کہ احکام الہٰی کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال لیں ، تم ان کے ہواو ہوس اور خواہشات کی اتباع نہ کرو ۔ اور حق میں سے جو کچھ تم پرنازل ہوا ہے اس سے منہ نہ پھیرو( وَلاَتَتَّبِعْ اٴَهْوَائَهُمْ عَمَّا جَائَکَ مِنْ الْحَقِّ ) ۔

بحث کی تکمیل کے لئے فرما یا گیا ہے : تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے دین ، شریعت ، طریقہ اور واضح راستے کا تعین کردیا ہے( لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا ) ۔”شرع“ اور ” شریعة“ اس راستے کو کہتے ہیں جو پانی کی طرف جاتا ہو اور وہاں کا کر ختم ہو تا ہو اور دین کو شریعت اس لئے کہتے ہیں کہ وہ حقائق اور ایسی تعلیمات تک پہنچا تا ہے جو پاکیزگی ، طہارت اور انسانی زندگی کا سر مایہ ہیں ” نھج“ اور” منھاج “ واضح راستے کو کہتے ہیں راغب مفردات میں ابن عباس سے نقل کیا ہے :

” شرعة “ اور ” منھاج “ میں یہ فرق ہے کہ ” شرعة“ اسے کہا جا تا ہے جو قرآن میں وارد ہوا ہے اور منہاج سے مرادوہ امور ہیں جو سنت ِ پیغمبر میں وارد ہو ئے ہیں ۔

یہ فرق اگر چہ جاذب ِ نظر ہے لیکن اس کے لئے کوئی قطعی دلیل ہمارے پاس نہیں ہے ۔(۱)

لیکن ہمارے پاس اس فرق کے لئے بھی کوئی واضح دلیل نہیں کیونکہ یہ دونوں الفاظ بہت سے مواقع پر ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔

اس کے بعد فرمایا گیا ہے : خدا میں یہ طاقت تھی کہ وہ تمام لوگوں کو ایک ہی امت قرار دے دیتااور سب کو ایک ہی دین کا پیرو بنا دیتا لیکن یہ بات تدریجی تکامل کے قانون اور مختلف تربیتی مراحل کے اصول سے مناسبت نہیں رکھتی تھی( وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَجَعَلَکُمْ اٴُمَّةً وَاحِدَةً وَلَکِنْ لِیَبْلُوَکُمْ فِی مَا آتَاکُمْ ) ۔

لِیَبْلُوَکُمْ فِی مَا آتَاکُمْ ۔یعنی تاکہ تمہیں ان چیزوں کے متعلق آزمائے جو تمہیں دی گئی ہیں ۔

یہ جملہ اسی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی طرف ہم اشارہ کرچکے ہیں اور وہ یہ کہ خدا نے وجود انسانی میں مختلف قسم کی استعدادیں اور صلاحیتیں پیدا کی ہیں اور وہ آزمائشوں کے ذریعے اور تعلیمات ِ انبیاء کے ذریعے لوگوں کی تربیت اور پرورش کرتا ہے ۔ اسی لئے ایک مرحلہ طے کرنے کے بعد انھیں بالاتر مرحلے میں لے جاتا ہے ایک دور کے ختم ہ ونے پر دوسرے پیغمبر کے ذریعے بالاتر دور میں لے جاتا ہے بالاتر تمام اقوام و ملل کو مخاطب کرکے دعوت دیتا ہے کہ بجائے اس کے کہ اپنی توانائیاں اختلافات و مشاجرات میں صرف کرو، نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرو( فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرَاتِ ) کیونکہ سب کی باز گشت خدا کی طرف ہے اور وہی روز قیامت ان چیزوں سے آگاہ کرے گا ، جن میں تم اختلاف کرتے ہو( إِلَی اللهِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیعًا فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ فِیهِ تَخْتَلِفُونَ ) ۔

____________________

۱۔ بعض بذرگ مفسرین کا نظر یہ ہے کہ دین اور شریعت کے درمیان فر ق یہ ہے کہ دین توحید اور دیگر اصول سے عبارت ہے جو تمام مذاہب میں مشترک ہیں اسی لئے دین ہمیشہ ایک ہی رہا ہے لیکن شریعت ایسے قوانین ، احکام کو کہا جاتا ہے جو ان مذاہب میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔


آیات ۴۹،۵۰

۴۹۔( وَاٴَنْ احْکُمْ بَیْنَهُمْ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ وَلاَتَتَّبِعْ اٴَهْوَائَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ اٴَنْ یَفْتِنُوکَ عَنْ بَعْضِ مَا اٴَنزَلَ اللهُ إِلَیْکَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اٴَنَّمَا یُرِیدُ اللهُ اٴَنْ یُصِیبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ وَإِنَّ کَثِیرًا مِنْ النَّاسِ لَفَاسِقُونَ ) ۔

۵۰۔( اٴَفَحُکْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُونَ وَمَنْ اٴَحْسَنُ مِنْ اللهِ حُکْمًا لِقَوْمٍ یُوقِنُونَ ) ۔

ترجمہ

۴۹۔ اور ان ( اہل کتاب) کے درمیان تمھیں اس کے مطابق حکم کرنا چاہئیے جو خدا نے نازل کیا ہے اور ان کی ہوا و ہوس کی پیروی نہ کرو اور اس سے بچو کہکہیں تمہیں وہ بعض ایسے احکام سے منحرف کردیں جو تم پر نازل ہوئے ہیں اور اگر وہ ( تمہارے کام اور فیصلے سے ) رو گردانی کریں تو جان لو کہ خدا چاہتا ہے کہ ان کے کچھ گناہوں کے بدلے انھیں سزا دے اور بہت سے لوگ فاسق ہیں ۔

۵۰۔ کیا وہ ( تم سے ) زمانہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں اور اہل ایمان کے لئے خدا سے بہتر حکم کون کر سکتا ہے ۔

شانِ نزول

بعض مفسرین نے اس پہلی آیت کی شان ِ نزول میں ابن عباس سے نقل کیا ہے :

یہودیوں کے بڑوں کی ایک جما عت نے آپس میں سازش کی او رکہا کہ محمد کے پاس جاتے ہیں ۔ شاید اسے ہم اس کے دین سے منحرف کردیں ۔ یہ طے کرکے وہ پیغمبر اسلام کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم یہودیوں کے علماء اور اشراف ہیں ، اگر ہم آپ کی پیروی کرلیں تو مسلم ہے کہ باقی یہودی ہماری اقتداء کریں گے لیکن ہمارے اور ایک گروہ کے درمیان ایک نزاع ہے ( ایک شخص کے قتل یا کسی اور بات کے بارے میں ) اگر اس جھگڑے میں آپ ہمارے فائدے میں فیصلہ کردیں تو ہم آپ پر ایمنا لے آئیں گے ۔

اس پرپیغمبر اسلام نے ایسے ( غیر عادلانہ ) فیصلے سے منہ موڑ لیا ۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی ۔ ( تفسیر المنار ۔ج ۶ ص ۴۲۱ ۔) ۔

تفسیر

اس آیت میں خدا تعالیٰ دوبارہ اپنے پیغمبرکو تاکید کرتا ہے کہ اہل کتاب کے درمیان حکم ِ خدا کے مطابق فیصلہ کریں ، اور ان کی ہوا وہوس کے سامنے سر تسلیم خم نہ کریں ۔( وَاٴَنْ احْکُمْ بَیْنَهُمْ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ وَلاَتَتَّبِعْ اٴَهْوَائَهُمْ ) ۔

اس حکم کی تکراریا تو ان مطالب کی وجہ سے ہے جو آیت کے ذیل میں آئے ہیں یا اس بناپر کہ اس فیصلے کا موضوع گذشتہ آیات کے فیصلے کے موضوع سے مختلف ہے ۔ گذشتہ آیات میں موضوع زنا ئے محصنہ اور یہاں موضوع قتل یا کوئی اور جھگڑا تھا ۔

اس کے بعد پیغمبر کو متوجہ کیا گیا ہے کہ انھوں نے سازش کی ہے کہ تمھیں آئیں حق و عدالت سے روگرداں کردیں تم ہوشیار اور آگاہ رہو( وَاحْذَرهُمْ اٴَنْ یَفْتِنُوکَ عَنْ بَعْضِ مَا اٴَنزَلَ اللهُ إِلَیْکَ ) ۔

اور اگر اہل کتاب تمہارے عادلانہ فیصلے کے سامنے سر نہیں جھکاتے تو جان لو کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ان کے گناہوں نے ان کا دامن پکڑ رکھا ہے اور اس سے توفیق سلب ہو چکی ہے اور خدا چاہتا ہے کہ ان کے بعض گناہوں کی وجہ سے انھیں سزا دے( فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اٴَنَّمَا یُرِیدُ اللهُ اٴَنْ یُصِیبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ ) ۔

تمام گناہوں کی بجائے بعض گناہوں کا ذکر ممکن ہے اس بنا پر ہو کہ تمام گناہوں کی سزا اس دنیا میں انجام نہیں پاتی صرف کچھ سزا انسان کو ملتی ہے اور باقی معاملہ دوسرے جہان کے سپرد ہوجاتا ہے۔

انھیں کون سی سزا دامن گیر ہوئی ، اس کی آیت میں کوئی صراحت نہیں ہے لیکن احتمال ہے کہ اسی انجام کی طرف اشارہ ہے ، جس سے مدینہ میں یہودی دو چار ہوئے ۔ وہ اپنی پے در پے خیانتوں کے باعث اپنا گھربار چھوڑ کر مدینہ سے باہر چلے جانے پرمجبورہوئے یایہ کہ سلبِ توفیق ان کے لئے ایک سزا شمار ہوئی ہو۔ دوسرے لفظوں میں پیہم گناہ اور ہٹ دھرمی کی سزا عادلانہ احکام سے محرومی اور بے راہ و سرگردان زندگی کی صورت میں انھیں ملی ہو۔

آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : اگر یہ لوگ راہ ِ باطل میں ڈٹے ہو ئے ہیں تو تم پرشان نہ ہونا کیونکہ بہت سے لوگ فاسق ہیں( وَإِنَّ کَثِیرًا مِنْ النَّاسِ لَفَاسِقُونَ ) ۔

ایک سوال اور اس کا جواب

ہوسکتا ہے یہ اعتراض کیا جائے کہ زیر بحث آیت اس امر پر دلیل ہے کہ پیغمبر بھی حق سے انحراف کرسکتے ہیں لہٰذا خدا انھیں تنبیہ کررہا ہے تو کیا یہ بات انبیاء کے معصوم ہو نے کے مقام سے مناسبت رکھتی ہے ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ معصوم ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ پیغمبراور امام کے لئے گناہ محال ہے ورنہ ان کے لئے ایسی عصمت میں تو کوئی فضیلت نہ ہوگی بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ گناہ کی طاقت رکھنے کے باوجود گناہ کے مرتکب نہیں ہوتے۔اگر چہ یہ مرتکب نہ ہوناتذکرات ِ الہٰی کی وجہ سے ہی ہو ۔ دوسرے لفظوں میں خدائی تو جہات گناہ سے پیغمبر کے محفوظ رہنے کا ایک عامل ہے ۔

انبیاء اور آئمہ کے مقام عصمت کے بارے میں تفصیلی بحث انشاء اللہ آیت تطہیر ( احزاب۔ ۲۳) کے ذیل میں آئے گی ۔

بعد والی آیت میں استفہام انکارتی کے طور پر فرمایا گیا ہے : کیا یہ لوگ آسمانی کتب کی پیروی کے مدعی ہیں ،توقع رکھتے ہیں کہ تم زمانہ جاہلیت کے احکام کی طرح اور تبعیض و امتیاز برتتے ہو ئے ان کے درمیان قضاوت کرو( اٴَفَحُکْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُونَ ) ۔

حالانکہ اہل ایمان کے لئے حکم ِ خدا سے بہتر اور بالا تر کوئی فیصلہ نہیں ہے( وَمَنْ اٴَحْسَنُ مِنْ اللهِ حُکْمًا لِقَوْمٍ یُوقِنُونَ ) ۔

جیسا کہ ہم گذشتہ آیات کے ذیل میں کہہ چکے ہیں کہ یہودیوں کے مختلف قبائل میں بھی عجیب و غریب امتیازات تھے۔ مثلاً اگر بنی قریظہ کا کوئی شخص بنی نضیر کے کسی شخص کو قتل کردیتا تو قصاص لیا جاتا تھا ۔ لیکن اس کے برعکس بنی نضیر کا کوئی شخص بنی قریظہ کے کسی شخص کو قتل کردیتا تو قصاص نہ لیا جاتا یا یہ کہ دیت اور خون بہا عام دیت سے دو گنا لیتے تھے ۔ قرآن کہتا ہے کہ ایسے امتیازار زمانہ جاہلیت کی نشانیاں ہیں ۔ جبکہ خدا ئی احکام کی نظر میں بند گانِ خدا میں کوئی امتیاز نہیں ۔ کافی میں امیر المومنین علیہ السلام سے منقول ہے ، آپ (علیه السلام) نے فرمایا :

الحکم حکمان حکم الله و حکم الجاهلیة فمن اخطاٴ حکم الله حکم بحکم الجاهلیة

حکم صرف دو طرح کے ہیں ۔ اللہ کا حکم یا جاہلیت کا حکم ۔ اور جو خدا کا حکم چھوڑ دے، اس نے جاہلیت کا حکم اختیار کرلیا ۔ ( نوالثقلین جلد ۱ ص ۶۴۰)


آیات ۵۱،۵۲،۵۳

۵۱۔( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَتَّخِذُوا الْیَهُودَ وَالنَّصَارَی اٴَوْلِیَاءَ بَعْضههُمْ اٴَوْلِیَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ یَتَوَهَُمْ مِنْکُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللهَ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ ) ۔

۵۲۔( فَتَرَی الَّذِینَ فِی قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ یُسَارِعُونَ فِیهِم یَقُولُونَ نَخْشَی اٴَنْ تُصِیبَنَا دَائِرَةٌ فَعَسَی اللهُ اٴَنْ یَاٴْتِیَ بِالْفَتْحِ اٴَوْ اٴَمْرٍ مِنْ عِنْدِهِ فَیُصْبِحُوا عَلَی مَا اٴَسَرُّوا فِی اٴَنفُسِهِمْ نَادِمِینَ ) ۔

۵۳۔( وَیَقُولُ الَّذِینَ آمَنُوا اٴَهَؤُلاَءِ الَّذِینَ اٴَقْسَمُوا بِاللهِ جَهْدَ اٴَیْمَانِهِمْ إِنَّهُمْ لَمَعَکُمْ حَبِطَتْ اٴَعْمَالُهُمْ فَاٴَصْبَحُوا خَاسِرِینَ ) ۔

ترجمہ

۵۱۔اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو اپنا سہارا نہ بناو وہ تو ایک دوسرے کے لئے سہارا ہیں اور جو ان پر بھروسہ کرتے ہیں وہ انھی میں سے ہیں اور خدا ظالم قوم کو ہدایت نہیں کرتا ۔

۵۲۔ تم ایسے لوگوں کو دیکھتے ہو جن کے دلوں میں بیماری ہے جو ( ایک دوسرے کی دوستی میں ) ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں ڈرہے کہ کوئی حادثہ پیش نہ آئے( کہ جس میں ہمیں ان کی مدد کی ضرورت پڑے) شاید خدا کی طرف سے کوئی او رکامیابی یا واقعہ ( مسلمانوں کے فائدے میں ) رونما ہوجائے اور یہ لوگ اپنے دلوں میں جو کچھ چھپائے ہوئے ہیں اس پر پشمان ہیں ۔

۵۳۔ اور وہ جو ایما ن لائے ہیں کہتے ہیں کیا یہ وہی ( منافق) ہیں جو بڑی تاکید سے قسم کھاتے ہیں کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں ( ان کا معاملہ یہاں تک کیوں آپہنچا کہ) ان کے اعمال نابود ہو گئے اور وہ خسارے میں جا پڑے۔

شان نزول

بہت سے مفسرین نے نقل کیا ہے کہ جنگ ِ بدر کے بعد عبادہ بن صامت خزرجی پیغمبر اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: یہودیوں میں کچھ میرے ہم پیمان ہیں جو تعداد میں بہت ہیں اور طاقت ور ہیں ، اب جبکہ وہ ہمیں جنگ کی دھمکی دے رہے ہیں اور مسلمانوں کا معاملہ غیر مسلموں سے الگ ہو گیا ہے تو میں ان کی دوستی اور عہد و پیمان سے برات کا اظہار کرتا ہوں او رمیرا ہم پیمان صرف خدا اور اس کا رسول ہے ۔

عبداللہ بن ابی کہنے لگا : میں تو یہودیوں کی ہم پیمانی سے برات نہیں کرتا کیونکہ میں مشکل حوادث سے ڈرتا ہوں اور مجھے ان لوگوں کی ضرورت ہے ۔

اس پرپیغمبر اکرم نے فرمایا : یہودیوں کی دوستی کے سلسلہ میں مجھے جس بات کا ڈر عبادہ کے بارے میں تھا وہی تیرے متعلق بھی ہے ( اور اس دوستی اور ہم پیمانی کاخطرہ اس کی نسبت تیرے لئے بہت زیادہ ہے ) ۔

عبد اللہ کہنے لگا : اگر ایسی بات ہے تو میں بھی قبول کرتا ہوں اور ان سے رابطہ منقطع کرلیتا ہوں ۔

اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور مسلمانوں کو یہودو نصاریٰ سے دوستی کرنے سے ڈرا یاگیا ۔

تفسیر

مندر جہ بالا آیات مسلمانوں کو یہودو نصاریٰ کی دوستی اور ہم کاری سے شدت کے ساتھ ڈرائی ہیں ۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے : اے ایمان والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا سہارا اور ہم پیمان نہ بناو(یعنی خدا پر ایمان کا تقاضا ہے کہ مادی مفاد کے لئے ان سے ہم کاری اور دوستی نہ کرو) یَا( اٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَتَّخِذُوا الْیَهُودَ وَالنَّصَارَی اٴَوْلِیَاءَ ) ۔

” اولیاء “ ”ولی “ کی جمع ہے اور” ولایت“ کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے دو چیزوں کے درمیان بہت زیادہ قرب ، نزدیکی اور دوستی ۔ نیز اس میں ہم پیمان ہونے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے لیکن آیت کی شان ِ نزول اور باقی موجودی قرائن کو مد نظر رکھا جائے تو پھر اس سے مراد یہاں معنی نہیں کہ مسلمان یہود و نصاریٰ سے کوئی تجارتی اور سماجی رابطہ نہ رکھیں بلکہ مراد یہ ہے کہ ان سے عہد و پیمان نہ کریں ار دشمنوں کے مقابلے میں ان کی دوستی پر بھروسہ نہ کریں ۔

عہد و پیمان کا مسئلہ اس زمانے میں عربوں میں بہت رائج تھا اور اسے ” ولاء “ سے تعبیر کرتے تھے ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہاں ” اہل کتاب “ نہیں کہا گیا بلکہ یہود و نصاریٰ کہا گیا ہے ۔ شاید یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اگر وہ اپنی آسمانی کتاب پر عمل کرتے تو پھر تمہارے اچھے ہم پیمان ہوتے لیکن ایک دوسرے سے ان کا اتحاد آسمانی کتاب کی رو سے نہیں ہے بلکہ سیاسی اور نسلی اغراض پر مبنی ہے ۔

اس کے بعد ایک مختصر سے جملے سے اس نہی کی دلیل بیان فرمائی گئی ہے :

ان دونوں گروہوں میں سے ہر ایک اپنے ہم مسلک لوگوں کے دوست اور ہم پیمان ہیں( بَعْضههُمْ اٴَوْلِیَاءُ بَعْضٍ ) ۔یعنی جب تک ان کے اپنے اور ان کے دوستو ں کے مفادات بیچ میں ہیں وہ تمہاری طرف ہر گز متوجہ نہیں ہوں گے۔ لہٰذا تم میں سے جو کوئی بھی ان سے دوستی کرے اور عہد و پیمان باندھے وہ اجتماعی او رمذہبی تقسیم کے لحاظ سے انھی کا جزء شمار ہو گا( وَمَنْ یَتَوَهَُمْ مِنْکُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ) ۔

اور اس میں شک نہیں کہ خدا ایسے ظالم افراد کو جو اپنے ساتھ اور اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ خیانت کریں اور دشمنوں پر بھروسہ کریں ، ہدایت نہیں کرے گا( إِنَّ اللهَ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ ) ۔

بعد والی آیت میں ان بہانہ تراشیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو بیمار فکر اراد غیر سے اپنے غیر شرعی روابط کے لئے پیش کرتے ہیں ، ارشاد ہوتا ہے : جن جن کے دلوں میں بیماری ہے وہ اصرار کرتے ہیں کہ انھیں اپنے لئے سہارا سمجھیں اور انھیں اپنا ہم پیمان بنائیں اور ان کا عذر یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم ڈرتے ہیں کہ قدرت طاقت ان کے ہاتھ میں آجائے اور پھر ہم مصیبت میں گرفتار ہو جائیں( فَتَرَی الَّذِینَ فِی قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ یُسَارِعُونَ فِیهِم یَقُولُونَ نَخْشَی اٴَنْ تُصِیبَنَا دَائِرَةٌ ) ۔(۱)

قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے : جیسے انھیں اس بات کا احتمال ہے کہ کسی دن طاقت یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاتھ آجائے گی اسی طرح انھیں یہ خیال بھی آنا چاہئیے کہ آخر کار ہو سکتا ہے کہ خدا مسلمانوں کو کامیاب کرے اور قدرت و طاقت ان کے ہاتھ آجائے او ریہ منافق اپنے دلوں میں جو کچھ چھپائے ہوئے ہیں اس پر پشمان ہیں( فَعَسَی اللهُ اٴَنْ یَاٴْتِیَ بِالْفَتْحِ اٴَوْ اٴَمْرٍ مِنْ عِنْدِهِ فَیُصْبِحُوا عَلَی مَا اٴَسَرُّوا فِی اٴَنفُسِهِمْ نَادِمِینَ ) ۔

اس آیت میں در حقیقت انھیں دو طرح سے جواب دیا گیا ہے : پہلا یہ کہ ایسے خیالات بیماردلوں سے اٹھتے ہیں اور ان لوگوں کے دلوں سے کہ جن کا ایمان متزلزل ہے اور وہ خدا کے بارے میں بد گمانی رکھتے ہیں ورنہ کوئی صاحب ایمان ایسے خیالات کو اپنے دل میں راہ نہیں دیتا اور دوسرا یہ کہ فرض کریں کہ ان کی کامیابی کا احتمال ہو بھی تو کیا مسلمانوں کی کامیابی کا احتمال نہیں ہے ؟

جو کچھ بیان کیا گیا ہے ، اس کی بنا پر ” عسیٰ “ کا مفہوم ہے ” احتمال “ اور ” امید“ اس سے اس لفظ کا ہر جگہ استعمال ہونے والا اصلی معنی بر قرار رہتا ہے ۔ لیکن عام طور پر مفسرین نے یہاں خدا کی طرف سے مسلمانوں کے لئے قطعی وعدہ مراد لیا ہے جو کہ لفظ ”عسیٰ “ کے ظاہری مفہوم سے مناسبت نہیں رکھتا ۔

لفظ ” فتح“ کے بعد ” او امر من عندہ“کے جملے سے مراد یہ ہے کہ ممکن ہے مسلمان آئندہ زمانے میں اپنے دشمنوں پرجنگ اور اس میں کامیابی کی وجہ سے غالب آجائیں یاجنگ کے بغیر ان میں اتنی قدرت پیدا ہو جائے کہ دشمن جنگ کئے بغیر گھٹنے ٹیک دے دوسرے لفظوں میں لفظ ” فتح“ مسلمانوں کی فوجی کامیابیوں کی طرف اشارہ ہے اور” امر من عندہ “اجتماعی ، اقتصادی اور دیگر کامیابیوں کی طرف اشارہ ہے ۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ خدا یہ احتمال بیان کررہا ہے اور وہ آئندہ کی وضع و کیفیت سے آگاہ ہے لہٰذا یہ آیت مسلمانوں کی فوجی ، اجتماعی اور اقتصادی کامیابیوں کی طرف اشارہ ہی سمجھی جائے گی ۔

آخری آیت میں منافقین کے انجام ِ کار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : جب سچے مسلمانوں کو فتح و کامرانی نصیب ہو جائےاور منافقین کا معاملہ الم نشرح ہو جائے تو ” مومنین تعجب سے کہیں گے کہ کیا یہ منافق لوگ وہی نہیں ہیں کہ دعویٰ کرتے تھے اور قَسمیں کھاتے تھے کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں اب ان کا یہ انجام کیوں ہوا ہے “( وَیَقُولُ الَّذِینَ آمَنُوا اٴَهَؤُلاَءِ الَّذِینَ اٴَقْسَمُوا بِاللهِ جَهْدَ اٴَیْمَانِهِمْ إِنَّهُمْ لَمَعَکُمْ ) ۔(۲)

اور اسی نفاق کی وجہ سے ان کے تمام اعمال باطل اور نابود ہو گئے کیونکہ ان کا سر چشمہ پاک اور خالص نیک نہ تھی اور ” اسی بناپر وہ اس جہان میں بھی اور دوسرے جہ ان بھی خسارے میں ہیں “( حَبِطَتْ اٴَعْمَالُهُمْ فَاٴَصْبَحُوا خَاسِرِینَ ) ۔

در اصل آخری جملہ سوالِ مقدرکے جواب کی طرح ہے گویا کوئی پوچھتا ہے کہ ان کا انجام کار کیا ہو گیا تو ان کے جواب میں کہا گیا ہے کہ ان کے اعمال بالکل بر باد ہو گئے ہیں اور انھیں خسارا اٹھانا پڑا ہے ۔ یعنی انھوں نے نیک اعمال ِ خلوص سے بھی انجام دئے ہوں لیکن آخر کار انھوں نے چونکہ نفاق اور شرک اختیار کیا ہے لہٰذا ان کے اعمال بر باد ہو گئے ہیں جیساکہ تفسیر نمونہ جلد دوم ( ص ۶۶ اردو ترجمہ ) سورہ بقرہ آیہ ۲۱۷ کے ذیل میں بیان کیا جاچکا ہے ۔

غیروں پہ تکیہ

شانَ نزول میں تو عبادہ بن صامت اور عبد اللہ بن ابی کی گفتگو آئی ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ یہ آیات صرف دوتاریخی شخصیتوں کے مابین ہونے والی گفتگو کے حوالے ہی سے نہیں دیکھی جاسکتیں بلکہ وہ دونوں دو معاشرتی مکاتب ِ فکر کی نمائندگی کررہے ہیں ۔ ایک مکتب کہتا ہے کہ دشمن سے الگ رہنا چاہئیے اور اپنی مہار اس کے ہاتھ میں نہیں دیا چاہئیے اور اس کی امداد پر اطمنان نہیں کرنا چاہئیے ۔ جبکہ دوسرا مکتبِ فکر کہتا ہے کہ اس ہنگامہ خیز دنیا میں ہر شخص اور ہر قوم کو ایک سہارے کی ضرورت ہے ۔ بعض اوقات مصلحت کا تقاضا ہوتا ہے کہ غیروں میں سے کسی کو سہارا بنا لیا جائے اور غیروں کی دوستی بھی قدر وقیمت کی حامل ہے اور ایک دن وہ ثمر بخش ثابت ہوگی ۔

قرآن دوسرے مکتب کی شدت سے سر کوبی کرتا ہے او رمسلمانوں کو اس طرز فکر سے تاکید اً ڈراتا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض مسلمان یہ عظیم خدائی حکم بھلا چکے ہیں اور غیروں میں سے بعض پر تکیہ کئے بیٹھے ہیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کی بہت سی بد بختیوں کا سر چشمہ یہی چیز ہے ۔

اُندلس اس کی زندہ نشانی ہے ۔ کل کے اندلس اور آج کے اسپانیہ میں مسلمانوں نے کیسے اپنی قوت و طاقت کے بل پر ایک درخشان تمدن کی بنیاد رکھی اور پھر غیروں پر بھروسہ کرکے اس سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اس کی دوسری دلیل عظیم عثمانی بادشاہت ہے جو تھوڑی ہی مدت میں گرمیوں میں پگھل جانے والی برف کی طرف بہہ گئی ۔

دور حاضر میں اس مکتب سے منحرف ہونے سے مسلمانوں نے جو کاری ضربیں کھائی ہیں وہ بھی کم نہیں ہیں لیکن تعجب ہے کہ ہم اب بھی کیوں بیدار نہیں ہوتے۔

غیر بہر حال غیرہی ہے ۔ مشترک مفادات کی خاطر اگر کوئی غیر چند قدم ہمارے ساتھ چلے بھی تو آخر کار حساس لمحاتمیں نہ صرف یہ کہ وہ ساتھ چھوڑدے گا بلکہ ہم پر کاری جربیں بھی لگائے گا ۔ چاہئیے یہ کہ آج کا مسلمان اس قرآنی صدا پر سب سے زیادہ کان دھرے اور اپنی طاقت کے علاوہ کسی پر بھروسہ نہ کرے۔ پیغمبر اسلام اس بات کا اس قدر خیال رکھتے تھے کہ جنگ ِ احد کے موقع پر جب بہت سے یہودی مشرکین کے خلاف جنگ کے لئے آپ سے آملے تو آپ نے دوران ِ راہ ہی انھیں واپس کردیا اور ان کی مدد قبول نہ فرمائی ۔ حالانکہ یہ تعداد جنگ احد میں ایک موثر کر دار ادا کرسکتی تھی آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ اس لئے کہ کچھ بعید نہ تھا کہ وہ جنگ کے حساس لمحات میں دشمن سے مل جاتے اور بچے کھچے لشکر اسلام کو بھی ختم کردیتے۔

____________________

۱۔ ”دائرة“ کا مادہ ” دور“ ہے اس کا معنی ہے ایسی چیز جو گردش میں ہو اور چونکہ تاریخ میں حکومت و سلطنت ہمیشہ گردش میں رہی ہے ، اس لئے اسے دائرة کہتے ہیں ۔ اسی طرح مختلف حوادث زندگی میں جو افراد کے گرد جمع رہتے ہیں انھیں ”دائرة “ کہا جاتا ہے ۔

۲ ۔مندرجہ بالا آیت میں ” ھٰؤلاء“ مبتدا ہے اور ” الذین اقسمو ا باللہ “ ا سکی خبر ہے اور ” جھد ایمانھم“ مفعول مطلق ہے ۔


آیت ۵۴

۵۴۔( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا مَنْ یَرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِینِهِ فَسَوْفَ یَاٴْتِی اللهُ بِقَوْمٍ یُحِبُّهُمْ وَیُحِبُّونَهُ اٴَذِلَّةٍ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ اٴَعِزَّةٍ عَلَی الْکَافِرِینَ یُجَاهِدُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ وَلاَیَخَافُونَ لَوْمَةَ لاَئِمٍ ذَلِکَ فَضْلُ اللهِ یُؤْتِیهِ مَنْ یَشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ ) ۔

ترجمہ

۵۴۔اے ایمان والو! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے گا ( وہ خدا کا کوئی نقصان نہیں کرے گا ) خدا آئندہ ایک ایسا گروہ لے آئے گا جسے وہ دوست رکھتا ہے اور وہ لوگ ( بھی) اسے دوست رکھتے ہیں ۔ جو مومنین کے سامنے متواضع اور کفارے کے مقابلے میں طاقت ور ہیں وہ راہِ خدا میں جہاد کرہیں اور سر زنش کرنے والوں کی سر زنش سے نہیں ڈرتے۔ یہ خدا کا فضل و کرم ہے ، وہ جسے چاہتا ہے ( اور اہل سمجھتا ہے ) عطا کرتا ہے اور ( خدا کا فضل) وسیع ہے ، اور خدا جاننے والا ہے ۔

وہی ذات ہے جس کا دائرہ فضل و کرم بہت وسیع ہے

منافقین کے بارے میں بحث کے بعد مرتدین کے سلسلے میں گفتگو ہے کہ قرآن کی پیشین گوئی کے مطابق اس دین سے خارج ہو جائیں گے لیکن خدا ، اس کے دین نیز مسلمانوں اور اسلامی معاشرے کی تیز رفتار پیش رفت کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ۔ کیونکہ خدا آئندہ اس دین کی حمایت کے لئے ایک اور گروہ کو مبعوث کرے گا( یااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا مَنْ یَرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِینِهِ فَسَوْفَ یَاٴْتِی اللهُ بِقَوْمٍ ) ۔

اس کے بعد ان لوگوں کی جو یہ عظیم کار رسالت انجام دیں گے ، یہ صفات بیان فرمائی گئی ہیں :

پہلی ) یہ کہ وہ خدا کے عاشق ہوں گے اور اس کی خشنودی کے سوا انھیں کوئی فکر دامن گیر نہ ہوگی” خدا انھیں پسند کرتا ہے اور وہ خدا سے محبت کرتے ہیں “( یُحِبُّهُمْ وَیُحِبُّونَهُ ) ۔

دوسری ۔ اور تیسری) صفت ان لوگوں کی یہ ہے کہ وہ مومنین کے لئے منکسر المزاج اور مہر بان ہیں جبکہ دشمنوں اور ستم گروں کے مقابلے میں مضبوط ، سخت اور طاقت ور ہیں( اٴَذِلَّةٍ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ اٴَعِزَّةٍ عَلَی الْکَافِرِینَ ) ۔

چوتھی ) صفت ان کی یہ ہے کہ راہِ خدا میں جہاد کرنا ان کے مسلسل پروگرام میں شامل ہے( یُجَاهِدُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ ) ۔

پانچویں ) خصوصیت ان کی یہ ہے کہ وہ فرمانِ الہٰی کی انجام دفاع ِ حق کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے( وَلاَیَخَافُونَ لَوْمَةَ لاَئِمٍ ) ۔

در حقیقت وہ جسمانی طاقت کے علاوہ ایسا عزم رکھتے ہیں کہ غلط رسومات کو توڑنے اور انحراف کرنے والی اکثریت کو خاطر میں نہیں لاتے کثرت کے زعم میں دوسروں کا مذاق اڑانے والوں کی پرواہ نہیں کرتے۔

ہم ایسے بہت سے افراد کو جانتے ہیں کہ جو ممتاز صفات کے حامل ہیں لیکن معاشرے کی خلاف ، عوام کے افکار و نظر یات اور منحرف اکثریت کے سامنے بہت محتاط ہو جاتے ہیں اور ان کے سامنے بزدلی اور کم ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ان کے مقابلے میں بہت جلد میدان سے ہٹ جاتے ہیں حالانکہ ایک مصلح اور رہبر اور اس کے افکار کی تبلیغ وترویج کے لئے میدان میں اترنے والوں کے لئے ہر چیز سے پہلے شہامت و جرات کی ضرورت ہے ۔ عوام او رماحول سے ڈرجانے سے اصلاح نہیں ہو سکتی اور ان سے خوفزدہ ہو نا بلند روحانی امتیاز کے منافی ہے ۔

آخرمیں فرمایا گیا ہے : ان امتیازات و خصوصیات کا حصول( انسانی کوشش کے علاوہ ) خدا کے فضل وکرم کامرہونِ منت ہے وہ جسے چاہتا ہے اور اہل پاتا ہے عطا کرتا ہے( ذَلِکَ فَضْلُ اللهِ یُؤْتِیهِ مَنْ یَشَاءُ ) ۔

وہی ذات ہے جس کا دائرہ فضل و کرم بہت وسیع ہے اور جو اس کی لیاقت او راہلیت رکھتے ہیں ، ان سے آگاہ ہے( وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ ) ۔

اس سلسلے میں کہ مندرجہ بالاآیت کن یاورانِ اسلام کی طرف اشارہ کررہی ہے اور خدا تعالیٰ یہاں کن افراد کی خصوصیات بیان فرمارہا ہے روایات ِ اسلامی اور اقوال مفسرین میں اس سلسلے میں بڑی بحث کی گئی ہے ۔ تاہم شیعہ سنی طرق سے وارد ہونے والی بہت سی روایات میں ہے کہ آیت حضرت علی (علیه السلام) کے بارے میں فتح خیبر پر یا ناکثین ، قاصطین اور مارقین سے ان کی جنگ کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے ۔(۱)

اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ لشکر اسلام کے بعض کمانڈر جب خیبر کو فتح نہ کر سکے تو اس کے بعد ایک رات پیغمبر اسلام نے مرکز فوج میں ان کی طرف رخ کرکے فرمایا:

لاعطین الرایة غداً رجلا ً، یحب الله ورسوله ویحبه الله ورسوله ، کراراً،غیر فرار، لایرجع حتی یفتح الله علی یده ۔

بخداکل عَلم ایسے مرد کو دوں گا جو خدا اور رسول سے محبت رکھتا ہے اور خدا اور رسول بھی اس سے محبت رکھتے ہیں وہ بڑھ بڑھ کر دشمنوں پر حملہ کرنے والا ہے اور کبھی پشت نہیں دکھاتا اور وہ اس میدان سے اس وقت تک پلٹ کر نہیں آئے گا، جب تک خدا اس کے ہاتھ سے مسلمانوں کو فتح نصیب نہیں کردےتا ۔(۲)

ایک اور روایت میں ہے کہ جب پیغمبر اکرم نے لوگوں نے اس بارے میں سوال کیا تو آپ نے سلمان کے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا:

اس سے یہ ، اس کے یار و انصار اور ہم وطن لوگ مراد ہیں ۔

اس طرح آپنے اہل ایران کے اسلام لانے اور اسلام کی پیش رفت کے لئے ان کی ثمر بخش کاوشوں اور جستجو کی پیش گوئی فرمائی ہے ۔ اس کے بعد آپ نے مزید فرمایا:

” لوکان الذین معلقاً بالثریا لتنا وله رجال من ابناء الفارس“

اگر دین ثریا پر جا ٹھہرتا اور آسمانوں میں جاپہنچتا تو بھی فارس کے لوگ اسے دستیاب کرلیتے۔(۳)

لیکن ابن عبد البر نے استیعاب جلد ۲ ص ۵۷۷ میں یہ عبارت نقل کی ہے :”لو کان الدین عند الثریا لنا له سلیمان

ایک اور روایت میں ” دین “ کی جگہ ” علم “ کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔

بعض اور روایات میں ہے کہ آیت حضرت مہدی علیہ السلام کے یارو انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اپنی پوری طاقت سے ان لوگوں کے مقابلے میں قیام کریں گے جو دین حق و عدالت سے مرتد ہو جائیں گے اور وہ دنیا کو ایمان و عدل سے معمور کردیں گے ۔

اس میں شک نہیں کہ یہ روایات جو اس آیت کی تفسیر کے بارے میں مروی ہیں باہم کوئی تضاد نہیں رکھتیں کیونکہ یہ قرآن کی سیرت کے مطابق ایک کلی اور جامع مفہوم بیان کرتی ہے اور اس کے اہم مصادیق میں حضرت علی علیہ السلام ، سلمان فارسی اور وہ لوگ شامل ہیں جو اس پرگرام کے مطابق چلیں گے چاہے روایات میں ان کا ذکر نہ بھی ہو۔

لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس آیت کے بارے میں بھی قومی تعصبات کے باعث جو لوگ اہلیت نہیں رکھتے تھے اور آیت میں مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں نہ تھی انھیں بھی آیت کا مصداق ٹھہرا یا گیا اور انھیں بھی شانِ نزول کا عنوان بنا لیا گیا یہاں تک کہ ابو موسیٰ اشعری کو بھی آیت کے مصادیق میں شمار کرلیا گیا جس نے اپنی بے مثال تاریخی حماقت سے اسلام کو ہلاکت کے گڑھے تک پہنچا دیا اور علمدارِ اسلام حضرت علیہ السلام کو ۴ ایک سخت تنگ موڑ پر پہنچا دیا ۔ اس جلد کے آخری حصے کی اصلاح کا کام میں نے مکہ مکرمہ میں جوار خانہ خدا میں انجام دیا جب کہ وہاں عمرہ کے پر شکوہ مراسم بھی انجام پارہے تھے ۔ اس وقت میرےہ ہاتھ میں درد تھا اور قلم تک پکڑنا بھی مشکل ہو رہا تھا ۔ ایسے میں مَیں نے محسوس کیا کہ وہی تعصبات جوعلمی کتب میں دکھائی دیتے ہیں آج بھی شدید پیمانے پر یہاں عوام میں بلکہ ان علماء میں دکھائی دیتے ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے کوئی ہاتھ درمیان میں کام کررہا ہے تاکہ مسلمان کبھی متحد نہ ہوں ۔ یہاں تک کہ یہ تعصب تاریخ اسلام سے پہلے کے ایام تک بھی جاپہنچا ہے ۔ خانہ کعبہ کے نزدیک جس شاہراہ کانام اس وقت شارع ابو سفیان ہے وہ شارع ابراہیم الخلیل جو بانی مکہ کے نام پر ہے سے زیادہ شکوہ مند ہے ۔

آج یہا ں مسلمانوں کی طرف” شرک “ کی نسبت دینا ایک متعصب گروہ کے لئے پانی کا گلاس پینے کے برابر ہے ، ادھر آپ نے اپنے جسم کو حرکت دی ادھر ” مشرک “ کی صدا بلند ہو نے لگی ۔ گویا اسلام ان کے گھر کی باندی ہے او روہی قرآن کے متولی ہیں اور بس ۔ او ردوسروں کا اسلام و کفران کی پسند اور ناپسند پر منحصر ہے کہ ایک لفظ کے ساتھ جسے چاہیں مشرک اور جسے چاہیں مسلمان کہہ دیں ۔

حالانکہ مندرجہ بالا آیات کے ذیل میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ جب اسلام کی غربت کا درد ہو گا ۔ خدا تعالیٰ سلمان جیسے بزرگ عظمت ِ دین کے لئے بھیجے گا اور یہ پیغمبر کی دی ہوئی بشارت ہے ۔

تعجب کی بات ہے کہ مسئلہ توحید جسے وحدت مسلمین کی بنیاد ہو نا چاہئیے۔ آج مسلمانوں کی صفوں میں انتشار اور انھیں مشرک و کافر قرار دینے کے لئے دستاویز بن چکا ہے ۔ یہا ں تک کہ ایک آگاہ شخص نے ان کے بعض متعصبین سے کہا تھا:

ذرا دیکھو! ہمارا او ر تمہارا معاملہ کہا تک جا پہنچا ہے کہ اسرائیل ہم پر مسلط ہو جائے تو تم میں سے کچھ لوگ خوش ہوں گے اور اگر تمہاری سر کوبی کرے تو ہم میں سے بعض لوگ خوشی منائیں گے ۔ کیا یہی وہ ( اسرائیل اور ا س کے سر پرست) نہیں چاہتے؟

انصاف کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئیے ۔ ان کے بعض علماء سے جو میں نے متعدد بار ملاقات کی ہے اس سے یہ واضح ہوا ہے کہ اکثر بافہم اور سمجھدار حضرات اس کیفیت پر پریشان ہیں ۔ ایک مرتبہ ایک یمنی عالم حدود ِ شرک کے بارے میں بحث کے سلسلے میں بہت سے بزرگ مدرسین ِ حرم کے سامنے کہنے لگے:

اہل قبلہ کو شرک کی نسبت دینا بڑا گناہ ہے جسے گذشتہ لو گ زیادہ اہمیت دیتے ہیں ۔ یہ کیا ہے کہ نافہم لوگ ہر وقت لوگوں پر شرک کی تہمت لگاتے رہتے ہیں کیا وہ یہ نہیں جانتے کہ اس طرح اپنے اوپر کتنی بڑی ذمہ داری لے رہے ہیں ۔

____________________

۱۔ یاد رہے کہ ناکثین جنگ جمل کی آگ بھڑکانے والوں کو ، قاسطین معاویہ کی فوج کو ، اور مارقین خوارج کو کہا جاتا ہے ۔

۲ ۔ تفسیر برہان اور نور الثقلین میں آئمہ اہلبیت علیہم السلام سے اس بارے میں کئی ایک روایات نقل کی گئی ہیں ۔ اہل سنت کے علماء میں سے ثعلبی نے ان روایات کو نقل کیا ہے (کتاب احقاق الحق ج۳ ، ص ۲۰۰ کی طرف رجوع فرمائیں ) ۔

۳ ۔ مجمع البیان جلد ۳ ص ۲۰۸، نور الثقلین جلد ۱ ص ۶۴۲۔ ابو نعیم اصفہانی نے حلیة المتقین جلد ۶ ص ۶۴ میں حدیث کی یہ عبارت نقل کی ہے :”لوکان العلم منوطاًً بالثریا لتنا وله رجال من ابناء الفارس“

۴ ۔ تفسیر طبری جلد ششم صفحہ ۱۸۴۔ لیکن بعض روایات میں صرف ابو موسیٰ کی قوم کا نام آیا ہے جوکہ اہل یمن کی طرف اشارہ ہے ۔ جنہوں نے نہایت حساس موقع پر اسلام کی مدد کی اور ابو موسیٰ اس میں شامل نہیں ہے جبکہ حضرت سلمان کے بارے میں جو روایات ہیں ان کے مطابقوہ خود اور ان کی قوم اس آیت کی مصداق ہیں ۔


آیت ۵۵

۵۵۔( إِنَّمَا وَلِیُّکُمْ اللهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاَةَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَهُمْ رَاکِعُونَ ) ۔

ترجمہ

۵۵۔ تمہارا سر پرست اور رہبر صرف خدا ، اس کا پیغمبر اور وہ ہیں جو ایمان لائے ہیں ، انھوں نے نماز قائم کی ہے اور حالت رکوع میں زکوٰة ادا کی ہے ۔

آیہ ولایت

تفسیر مجمع البیان اور دوسری کتب میں عبد اللہ ابن عباس سے منقول ہے :

ایک روز میں چاہِ زمزم کے پاس بیٹھا تھا اور لوگوں کو ارشادات ِ رسول سنا رہا تھا کہ اچانک ایک شخص قریب آیا ۔ اس کے سر پر عمامہ تھا ۔ اس نے اپنا چہرہ چھپا رکھا تھا ۔ جب پیغمبر اسلام سے کوئی حدیث نقل کرتا تو وہ بھی ” قال رسول اللہ “ کہہ کر دوسری حدیث ِ رسول بیان کردیتا ۔

ابن عباس نے اس شخص کو قسم دی کہ وہ تعارف کروائے تو اس نے اپنے چہرے سے نقاب الٹ دی اور پکار کر کہا اے لوگو!

جو شخص مجھے نہں جانتا وہ جان لے کہ میں ابو ذر غفاری ہوں ۔ ان کا نوں سے میں نے خود رسول اللہ سے سنا ہے اور اگر میں جھوٹ بولوں تو میرے دونوں کان بہرے ہو جائیں ، رسول اللہ نے فرمایا:

” علی قائد البررة و قاتل الکفرة منصور من نصر و مخذول من خذله“

یعنی علی نیک اور پاک لوگوں کے قائد ہیں اور کفار کے قاتل ہیں جو ان کی نصرت و مدد کرے خدا اس کی مدد کرے گا اور جو شخص ان کی نصرت و مدد سے ہاتھ کھینچ لے خدا بھی اس کی مدد سے ہاتھ کھینچ لے گا ۔

اس کے بعد ابو ذر نے مزید کہا:

اے لوگو! ایک میں رسول خدا کے ساتھ مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک سائل مسجد میں داخل ہوا اور لوگوں سے مدد طلب کی لیکن کسی نے اسے کچھ نہ دیا تو اس نے اپنا ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرکے کہا: خدا یا گواہ رہنا کہ میں نے تیرے رسول کی مسجد میں مدد طلب کی ہے، لیکن کسی نے مجھے جواب تک نہیں دیا ۔ ایسی حالت میں جبکہ حضرت علی (علیه السلام) رکوع میں تھے اپنے دائیں ہاتھ کی چھنگلی سے اشارہ کیا ۔ سائل قریب آیا اور انگوٹھی آپ کے ہاتھ سے اتار لی پیغمبر خدا نے جو حالت ِ نماز میں تھے اس واقعہ کو دیکھا ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو سر آسمان کی طرف بلند کیا اور اس طرح کہا:

خدا یا ! میرے بھائی موسیٰ نے تجھ سے سوال کیا تھا کہ ان کی روح کو وسعت دے اور ان کے کام ان پر آسان کردے اور ان کی زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ ان گفتار کو سمجھ سکیں ۔ نیز موسیٰ نے سوال کیا کہ ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور یار و مدد گار قرار دے اور ان کے ذریعے ان کی قوت میں اضافہ فرمااور انھبیں ان کے کاموں میں شریک کردے خدا وند ! میں محمد تیرا رسول اور بر گزیدہ ہوں میرے سینہ کو کھول دے ، میرے کام کو مجھ پر آسان کردے اور میرے خاندان میں سے علی کو میرا وزیر بنادے تاکہ اس کی وجہ سے میری کمر مضبوط اور قوی ہو جائے۔

ابو ذر کہتے ہیں :

ابھی پیغمبر خدا کی دعا ختم نہیں ہوئی تھی کہ جبرائیل نازل ہو ئے اور رسول اللہ سے کہا:

پڑھیے!

حضور نے فرمایا :

کیا پڑھوں ؟

تو جبرائیل نے کہا:

پڑھئیے( انما ولیکم الله و رسوله و الذین اٰمنو )

یہ شان نزول ( جیسا کہ بیان کیا جائے گا ) تفصیلات کے کچھ اختلافات کے ساتھ مختلف طرق سے نقل ہو ئی ہے البتہ اصل اور بنیاد سب روایات کی ایک ہی ہے ۔

آیت لفظ ” انما“ سے شروع ہوتی ہے

یہ آیت لفظ ” انما“ سے شروع ہوتی ہے ۔ یہ لفظ لغتِ عرب میں حصر و انحصار کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : تمہارے ولی ، سر پرست اور تمہارے امور میں حق تصرف رکھنے والی تین ہستیاں ہیں ۔ خدا ، اس کا رسول اور وہ جو ایمان لائے ، نماز قائم کی او رحالت ِ رکوع میں زکوٰة دیتے ہیں

( إِنَّمَا وَلِیُّکُمْ اللهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاَةَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَهُمْ رَاکِعُونَ ) ۔

اس میں شک نہیں کہ لفظ” رکوع“اس آیت میں نماز کے رکوع کے معنی میں ہے نہ کہ خضوع و خشوع کے معنی میں کیونکہ عرفِ شریعت اور اصطلاح ِ قرآن میں جب رکوع کہا جائے تو اسی مشہور معنی میں یعنی نماز کے رکوع کے معنی میں ہوگا ۔

نیز آیت کے شان ِ نزول اور متعدد روایات جو حضرت علی (علیه السلام) کے حالت ِ رکوع میں انگوٹھی عطا فر مانے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں کہ جھنیں ہم تفصیل سے ذکر کریں گے کے علاوہ ” یقیمون الصلٰوة “ بھی اس بات پر شاہد ہے ۔ قرآن میں کوئی ایسی مثال نہیں ہے کہ جس میں یہ ہو کہ زکوٰة خضوع سے ادا کرو بلکہ زکوٰة کو خلوص نیت سے اور احسان جتلائے بغیر ادا کرنا چاہئیے۔

اسی طرح اس میں بھی شک نہیں کہ لفظ ” ولی “ اس آیت میں دوست یا مدد گار کے معنی میں نہیں ہے کیونکہ دوستی اور مدد کرنے کے معنی میں ولایت نماز پڑھنے والوں اور حالت ِ رکوع میں زکوٰة ادا کرنے والوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ وہ تو ایک عمومی حکم ہے جو تمام مسلمانوں پر محیط ہے ۔ تمام مسلمانو ں کو چاہئیے کہ وہ ایک دوسرے سے دوستی رکھیں اور ایک دوسرے کی مدد کریں ۔ یہاں تک وہ بھی جن پر زکوٰة واجب نہیں ہے او رجن کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں کہ جس پر زکوٰة ادا کریں چہ جائیکہ وہ حالت رکوع میں زکوٰة ادا کریں انھیں بھی چاہئیے کہ ایک دوسے کے دوست اور مدد گار ہوں ۔

یہاں اسے واضح ہو جاتا ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں ” ولی“سے مراد ولایت بمعنی سر پرستی ، تصرف اور مادی و روحانی رہبری اور قیادت ہے خصوصاً جبکہ یہ ولایت ِ الہٰی اور ولایت پیغمبر کے ہم پلہ قرار پائی ہے اور تینوں کو ایک ہی لفظ کے تحت بیان کیا گیا ہے ۔

اس طرح سے یہ آیت ان آیات میں سے ہے جو حضرت علی (علیه السلام) کی امامت و ولایت پر نص ِ قرآنی کی حیثیت سے دلالت کرتی ہیں ۔

اس موقع سے متعلق کچھ اہم بحثیں ہیں جن پرہم علیحدہ علیحدہ تحقیق کرتے ہیں ۔

احادیث ، مفسرین اور مورخین کی شہادت

جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ بہت سے اسلامی کتب او راہل سنت کے منابع میں اس ضمن میں متعدد رویات موجود ہیں کہ یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے ان میں سے بعض روایات میں حالتِ رکوع میں انگوٹھی دینے کی طرف بھی اشارہ ہے ۔ جب کہ بعض میں اس کا تذکرہ نہیں ہے ۔ بلکہ اس آیت کے حضرت علی (علیه السلام) کی شان میں نازل ہونے کا ہی مذکور ہے ۔

اس روایت کو ابن عباس ، عمار ابن یاسر ، عبد اللہ بن سلام ، سلمہ بن کہیل ، انس بن مالک ، عتبہ بن حکیم ، عبد اللہ ابی ، عبد اللہ بن غالب ، جابر بن عبد اللہ انصاری اور ابو ذر غفاری نے بیان کیا ہے ۔(۱)

ان مذکورہ دس افراد کے علاوہ اہل سنت کی کتب میں یہ روایت خود حضرت علی (علیه السلام) سے بھی نقل ہو ئی ہے ۔(۲)

یہ امر قابل توجہ ہے کہ کتاب غایة المرام میں اس بارے میں ۲۴ احادیث کتب اہل سنت سے اور ۱۹/ احادیث طرق ِ شیعہ سے نقل کی گئی ہیں ۔(۳)

مشہور کتب جن میں یہ حدیث نقل ہو ئی ہے تیس سے متجاوز ہیں جو کہ سب اہل سنت کے منابع و مصاد میں سے ہیں ، ان میں سے یہ بھی ہیں :

۱۔ ذخائرہ العقبیٰ ص ۸۸ از محب الدین طبری ۔

۲۔ تفسیر فتح القدیر ج۲ ص ۵۰ از علامہ قاضی شوکانی ۔

۳۔ جامع الاصول ج ص ۴۷۸۔

۴۔ اسباب النزول ص ۱۴۸۔ از واحدی ۔

۵۔ لباب النقول ۹۰ از سیوطی

۶۔ تذکرة ص ۱۸ از سبط جوزی

۷۔ نور الابصار ص ۱۰۵ از شبلنجی

۸۔ تفسیر طبری ص ۱۶۵ ۔

۹۔ الکافی الشاف ص ۵۶ از ابن حجر عسقلانی ۔

۱۰۔مفاتیح الغیب ج۳ ص ۴۳۱ از رازی ۔

۱۱۔ در المنثور ج۲ ص ۳۹۳ از سیوطی ۔

۱۲۔ کنزالعمال ج۶ ص ۳۹۱۔

۱۳۔ مسند ابن مردویہ۔

۱۴۔ مسند ابن الشیخ۔

۱۵۔ صحیح نسائی ۔

۱۶۔ الجمع بین الصحاح الستہ۔

ان کے علاوہ اور بھی بہت سی کتب میں اس ضمن میں احادیث موجود ہیں ۔(۴)

ان حالات میں کیسے ہو سکتا ہے کہ ان تمام احادیث کی پر واہ نہ کی جائے جب کہ دیگر آیات کی شانِ نزول کے لئے ایک یا دو روایاتپر قناعت کرلی جاتی ہے لیکن شاید تعصب اجازت نہیں دیتا کہ اس آیت کی شان نزول کے لئے ان سب روایات اور ان سب علمماء کی گواہیوں کی طرف توجہ دی جائے۔

اگر بنا یہ ہو کہ کسی آیت کے سلسلے میں اس قدر روایات کی بھی پر واہ نہ کی جائے تو پھر ہمیں قرآنی آیات کی تفسیر میں کسی بھی روایت کی طرف توجہ نہیں کرنا چاہئیے، کیونکہ بہت کم آیات ایسی ہیں جن کی شان ِ نزول میں اس قدر روایات وارد ہوئی ہوں ۔

یہ مسئلہ اس قدر واضح و آشکارتھا کہ زمانہ پیغمبر کے مشہور شاعر حسّان بن ثابت نے حضرت علی (علیه السلام) کی شان میں روایت کے مضمون کو اپنے اشعار میں یوں بیان کیا ہے :

فانت الذی اعطیت اذکنت راکعاً زکاتاً فدتک النفس یا خیر راکع فانزل فیک اللہ خیر ولایة و بینھا فی محکمات الشرایع ۔

یعنی آپ وہ ہیں کہ جنھوں نے حالتِ رکوع میں زکوٰة دی ۔ آپ پر جان فدا ہو۔ اے بہترین رکوع کرنے والے ۔

اور اس کے بعد خدا نے بہترین ولایت آپ کے بارے میں نازل کی اور قرآنِ مجید میں اسے ثبت کردیا ۔ ۵

____________________

۱۔ احقاق الحق ج۲ ص ۳۹۹ تا ۴۱۰ سے رجوع کریں ۔

۲۔ المراجعات ص ۱۵۵۔

۳ ۔ منہاج البراعہ ج۲ ص ۳۵۰۔

۴ ۔مزید تفصیل کے لئے احقاق الحق ج۲ ، الغدیر ج۲اور المراجعات کی طرف رجوع کریں ۔

۵ ۔حسان بن ثابت کے اشعار ھتوڑے بہت فرق کے ساتھ بہت سی کتب میں نقل ہو ئے ہیں ۔ ان میں تفسیر روح المعانی از شہاب الدین محمود آلوسی اور کفایة الطالب از گنجی شافعی وغیرہ شامل ہیں ۔


اعتراضات کا جواب

بعض متعصب اہل سنت نے اس آیت کے حضرت علی (علیه السلام) کی شان میں نازل ہو نے سے انکار کیا ہے اور اسی طرح ” ولایت“ کی تفسیر سر پرستی، تصرف اور امامت کرنے پر بھی اعتراض کیا ہے ۔ ان میں سے اہم اعتراضات پر ہم یہاں تحقیق کرتے ہیں ۔

۱۔ ” الذین “ جمع کا صیغہ ہے :

ایک اعتراض یہ ہے کہ آیت میں ” الذین “ جمع کا صیغہ ہے لہٰذا اس آیت کو ایک شخص پر کیسے منطبق کیا جاسکتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں آیت کہتی ہے کہ تمہارے ” ولی “ و ہ اشخاص ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالتِ رکوع میں زکوٰة دیتے ہیں ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ عربی ادبیات میں ایسا بارہا دکھائی دیتا ہے کہ مفرد کے لئے جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے ۔

مثالیں ملاحظہ ہوں :

آیہ مباہلہ میں لفظ” نسائنا “ جمع کی صورت میں ہے جب کہ اس سے مراد جناب فاطمہ زہرا(علیه السلام) ہیں جیسا کہ اس ضمن میں مروی متعدد شانِ نزول شان ِ گواہی دیتی ہیں ۔

آیہ مباہلہ ہی میں لفظ ” انفسنا“ جمع کی صورت میں ہے جبکہ مباہلہ کےلئے جانے والوں میں رسول اللہ کے علاوہ صرف حضرت علی (علیه السلام) تھے ۔

جنگ احد کے ایک واقعہ کے سلسلے میں سورہ آل ِ عمران آیہ ۱۷۲ میں ہے :

( الذین قال لهم الناس ان الناس قد جمعوا لکم فاخشوهم فزادهم ایماناً )

تیسری جلد میں اس آیہ کی تفسیر میں ہم ذکر کرچکے ہیں کہ بعض مفسرین نے اس کی شانِ نزول کی نقل کی ہے ، جس میں ” الذین “ سے ایک ہی شخص نعیم بن مسعود مراد لیا گیا ہے ۔

سورہ مائدہ کی آیہ ۵۲ میں ہے”( یقولون نخشی ان تصیبنا دائرة )

اس میں بھی جمع کے صیغے ہیں ۔ حالانکہ یہ آیت عبد اللہ ابن ابی کے بارے میں وارد ہوئی ہے ۔ جس کی تفسرگزر چکی ہے ۔

علاوہ ازیں : ممتنحہ ۔ آیہ منافقون آیہ ۸ بقرہ آیہ ۲۱۵ ، ۲۷۴ ، وغیرہ

میں ایسی تعبیرات موجودہیں جو جمع کی شکل میں ہیں ، لیکن ان کی شانِ نزول کے مطابق ان سے ایک ہی شخص مراد تھا ۔

ایسی تعبیرات یا تو اس شخص کی حیثیت اور مقام کی اہمیت اور اس کے کام کے نقش ِ موثر واضح کرنے کے لئے ہوتی ہیں یا اس لئے کہ حکم کو کلی صورت میں پیش کیا جائے اگر چہ اس کامصداق ایک ہی فرد ہو۔

خدا کہ جو اکیلا ہے اس کے لئے قرآن مجید میں بہت سی آیات میں جمع کی ضمیر تعظیم کے طور پر ہی استعمال ہوئی ہے ۔

البتہ اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کہ بغیر قرینہ کے خلاف ظاہر مفرد کے لئے جمع کا استعمال جائز نہیں ہے لیکن آیت کی شان ِ نزول میں وارد ہونے والی تمام روایات ہمارے پاس واضح قرینہ کے طور پر موجود ہیں جب کہ دوسرے مواقع پر اس سے کم قرینہ پر بھی قناعت کرلی جاتی ہے ۔

۲۔ حالت رکوع میں زکوٰة ؟

فخر الدین رازی اور بعض دوسرے متعصبین نے اعتراض کیا ہے کہ حضرت علی(علیه السلام) تو نماز میں مخصوص توجہ رکھتے تھے اور پر وردگار سے مناجات میں مستغرق رہتے تھے یہاں تک کہ مشہور ہے کہ ایک مرتبہ حالتِ نماز میں تیر کا پھل آپ کے پاوں سے نکالا گیا اور آپ متوجہ نہیں ہوئے تو پھر کیسے ممکن ہے کہ آپ نے سائل کی آواز سن لی اور اس کی طرف متوجہ ہو گئے ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ اعتراض کرنے والے اس نکتہ سے غافل ہیں کہ سائل کی آواز سننا اور اس کی مدد کرنا اپنی طرف متوجہ ہونا نہیں ہے کہ بلکہ عین خدا کی طرف توجہ ہے ۔ حضرت علی (علیه السلام) حالت نمازمیں اپنے آپ سے غافل تھے نہ کہ خدا سے ۔ اور ہم جانتے ہیں کہ مخلوقِ خدا سے غفلت اور بیگانگی در اصل خدا سے غفلت اور بے گانگی ہے ۔ زیادہ واضح لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حالت نماز میں زکوٰة دینا عبادت کے اندر عبادت ہے نہ کہ عبادت کے دورون ایک عمل مباح کی انجام دہی ۔ ایک اور عبارت میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ بات جو روح ِ عبادت سے مناسبت نہیں رکھتی یہ ہے کہ کو ئی شخص عبادت کے دوران مادی اور شخصی زندگی سے مربوط ہو جائے ۔ لیکن ان امور کی طرف متوجہ ہو نا جو رضائے الہٰی کا ذریعہ ہیں روح ِ عبادت کے لئے ساز گار ہیں عبادت کے لئے بلند مرتبے کا باعث ہیں ۔

اس نکتہ کا ذکر بھی ضروری ہے کہ خدا کی طرف توجہ اور استغراق کا یہ مطلب نہیں کہ انسان بے اختیار ہو کر اپنا احساس کھو بیٹھے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے مقصد و ارادہ سے اپنی توہ ایسی ہر چیز سے پھیر لیتا ہے جو راہ خدا میں اور خدا کے لئے نہیں ہے ۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ فخرالدین رازی کا تعصب یہاں تک آپہنچا ہے کہ اس نے سائل کو حضرت علی (علیه السلام) کے اشارہ کرنے کو کہ وہ خود آکر انگشتری اتار لے ” فعل کثیر“ قرار دیا ہے جو ان کی نظر میں نماز میں درست نہیں ۔ حالانکہ وہ نماز میں ایسے کام انجام دینا جائز سمجھتے ہیں جو اشارہ سے کئی درجہ زیادہ ہیں اور اس کے باوجود وہ نماز کے لئے نقصان وہ نہیں ہیں ۔ یہاں تک کہ حشرات الارض مثلاً سانپ یابچھوکو مارنا ، بچے کواٹھا نا اور بٹھانا یہاں تک کہ شیر خوار بچے کو دودھ پلانے کو تووہ نماز میں فعل کثیر نہیں سمجھتے پھر ایک اشارہ فعل کثیر کس طرح ہو گیا لیکن جب کسی کی دانش مندی طوفانِ تعصب میں پھنس جاتی ہے تو پھر ایسے تعصبات اس کے لئے باعث ِ تعجب نہیں رہتے۔

۳۔ لفظ ”ولی “ کا مفہوم :

آیت پر ایک اور اعتراض لفظ ” ولی “ کے معنی کے بارے میں کیا گیا ہے اور اس سے مراد” دوست اور مدد کرنے والا“ لیا گیا ہے نہ کہ ” متصرف ، سرپرست اور صاحب اختیار“۔

اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ ہم آیت کی تفسیر کے بارے میں اوپر ذکر کرچکے ہیں کہ لفظ ”ولی “ سے یہاں دوست اور مدد کرنے والا مراد نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ صفت تو تمام مومنین کے لئے ثابت ہے نہ کہ ان مخصوص مومنین کے لئے جو آیت کے مطابق نماز قائم کریں اور حالت ِ رکوع میں زکوٰة دیں ۔ دوسرے لفظوں میں دوستی اور مدد کا ایک عام حکم ہے ، جب کہ آیت ایک خصوصی حکم بیان کررہی ہے اسی لئے تو ایمان کا ذکر کرنے کے بعد خا ص صفات بیان کی جارہی ہیں کہ جو ایک شخص کے ساتھ مخصوص ہیں ۔

۴۔ حضرت علی (علیه السلام) پرواجب زکوٰة :

کہاجاتا ہے کہ حضرت علی (علیه السلام) پر کو ن سی زکوٰة واجب تھی جب کہ وہ مالِ دنیا میں سے اپنے لئے کچھ فراہم ہی نہ کرتے تھے اور اگر اس سے مراد مستحب صدقہ ہے تو اسے زکوٰة نہیں کہا جاسکتا ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ :

اول تو تواریخ گواہی دیتی ہیں کہ حضرت علی (علیه السلام) نے اپنے ہاتھ سے بہت سامال کمایا تھا اور اسے راہ خدا میں صرف کردیا تھا ۔ یہاں تک کہ مرقوم ہے کہ آپ نے ایک ہزار غلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے آزاد کرایا ۔ علاوہ ازیں آپ کو مختلف جنگو ں کے مال غنیمت میں سے بھی بہت کچھ ملا تھا ۔ لہٰذا کچھ ایسا مال یا کوئی چھوٹا سا کھجوروں کا باغ جس کی زکوٰة ادا کرنا آپ پر واجب ہو اس ہو نا کوئی ایسی اہم بات نہیں ہے ۔ نیز ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ زکوٰة فوراً ادا کرنے کے وجوب کی فوریت ” عرفی فوریت “ ہے جو نماز پڑھتے ہوئے ادا کرنے کے منافی نہیں ہے ۔

دوم یہ کہ مستحب زکوٰة کو قرآن مجید میں بہت مرتبہ زکوٰة کہا گیا ہے بہت سی مکی سورتوں میں یہ لفظ زکوٰة آیا ہے جس سے مراد مستحب زکوٰة ہی ہے کیونکہ یہ بات مسلم ہے کہ واجب زکوٰة کا حکم پیغمبر اسلام کی ہجرت ِ مدینہ کے بعد نازل ہوا( نمل ۔ ۳ ، روم۔ ۲۹ ، لقمان۔ ۴ ، فصلت۔ ۶ وغیرہ) ۔

۵۔ آیت میں ”ولایت بالفعل “کا ذکر ہے :

اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر ہم حضرت علی (علیه السلام) کی خلافت ِ بلا فصل پر ایمان بھی آئیں تب بھی یہ بات قبول کرنا پڑے گی کہ اس تعلق زمانہ پیغمبر کے بعد سے ہے لہٰذا حضرت علی (علیه السلام) نزول آیت کے وقت ولی نہ تھے ۔ دوسرے لفظوں میں اس وقت ان کے لئے ” ولایت بالقوة “ تھی ” ولایت بالفعل“ نہ تھی جب کہ آیت ظاہراً ” ولایت بالفعل“کا ذکر کررہی ہے ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ روز مرہ کی گفتگو میں ایسی والی تعبیرات بہت دکھائی دیتی ہیں ۔ لوگوں کے لئے ایسے الفاظ بولے جاتے ہیں جو وہ ” بالقوة“ ہیں مثلاً انسان اپنی زندگی میں وصیت کرتا ہے او رکسی شخص کو اپنے بچوں کے لئے وصی اور قیم معین کرتا ہے اور اسی وقت سے ” وصی “ اور قیم “ کے الفاظ اس شخص کے لئے بولے جانے لگتے ہیں جب کہ وصیت کرنے والا ابھی زندہ ہوتا ہے ۔

شیعہ سنی طرق سے پیغمبر اکرم سے جو روایات حضرت علی (علیه السلام) کے بارے میں مروی ہیں ان میں ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے انہیں ” میرے وصی“ اور میرے خلیفہ “ کہہ کر خطاب کیا جب کہ ایسا زمانہ پیغمبر میں نہ تھا ۔

قرآن مجید میں بھی ایسی تعبیرات دکھائی دیتی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت زکریا (علیه السلام) کے بارے میں ہے کہ انھوں نے خدا سے یہ در خواست کی

( هب لی من لدنک ولیاً یرثنی و یرث من اٰل یعقوب ) “ ( مریم ۔ ۵)

حالانکہ مسلم ہے کہ ”ولی “ سے یہاں مراد ” سرپرست “ ہے جو ان کی وفات کے بعد ہو گا ۔

بہت سے لوگ اپنے جانشین اپنی زندگی میں معین کرتے ہیں اور اسی وقت سے اسے جانشین کہنے لگتے ہیں حالانکہ وہ ” بالقوة “ ہی ہوتے ہیں ” بالفعل “ نہیں ۔

۶۔ حضرت علی (علیه السلام) نے اس آیت سے خود استدلال کیوں نہیں کیا؟

کہا جاتا ہے کہ حضرت علی (علیه السلام) نے اس واضح دلیل سے خود استدلال کیوں نہیں کیا ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ جیساکہ آیت کے شان، نزول کے بارے میں وارد شدہ روایات کی بحث کے ضمن میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ یہ حدیث متعدد کتب میں خود حضرت علی (علیه السلام)سے بھی نقل ہوئی ہے جیسا کہ مسند ابن مردویہ ، مسند ابی شیخ اور کنز العمال میں سے یہ بات در حقیقت اس آیت سے آپ کااستدلا ل ہی ہے ۔

کتاب ِ نفیس ” الغدیر“ میں کتاب سلیم بن قیس ہلالی سے ایک مفصل حدیث نقل کی گئی ہے جس کے مطابق حضرت علی (علیه السلام) نے میدان صفین میں کچھ لوگوں کی موجودگی میں اپنی حقانیت پر دلائل پیش کئے ان میں سے ایک استدلال اسی آیت سے تھا ۔(۱)

غایة المرام مین ابو ذر سے منقول ہے :

حضرت علی (علیه السلام) نے شوریٰ کے دن بی اس آیت سے استدلال کیا تھا ۔(۲)

۷۔ قبل اور بعد کی آیات سے آیہ ولایت کا ربط :

یہ بھی کہاجاتا ہے کہ قبل اور بعد کی آیات سے ولایت و امامت والی تفسیر مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ ان میں ولایت دوستی کے معنی میں آئی ہے ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ہم بار ہا کہہ چکے ہیں کہ قرآنی آیات چونکہ تدریجا ً اور مختلف واقعات میں نازل ہوئی ہیں لہٰذا ان کا تعلق ان حوادث اور واقعات سے ہے جن کے سلسلے میں وہ نازل ہو ئی ہیں نہ یہ کہ ایک سورت کی آیات یا یکے بعد دیگرے آنے والی آیات ہمیشہ ایک دوسرے سے مربوط ہیں یا مفہوم و معنی کے اعتبار سے ہمیشہ نزدیکی تعلق رکھتی ہے ۔ لہٰذا اکثر ایسا ہو تا ہے کہ دو آیات ایک دوسرے کے بعد نازل ہوئی ہیں ۔لیکن ان کا تعلق دو مختلف واقعات سے ہے ۔ مختلف واقعات سے تعلق رکھنے کی وجہ سے دونوں معافی و مفہوم کے لحاظ سے ایک دوسرے سے بالکل جد اہیں ۔

جیسا کہ شان ِ نزول شاہد ہے کہ آیت”( انما ولیکم الله ) “ حضرت علی علیہ السلام کے حالت ِ رکوع میں زکوٰة دینے کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس سے قبل او ربعد کی آیات جیسا کہ ہم پڑھ چکے ہیں او رپڑھیں گے دوسرے واقعات کے سلسلے میں نازل ہوئی ہیں لہٰذا ان کے ایک دوسرے سے تعلق کی بات کا زیادہ سہارا نہیں لیا جاسکتا ۔

علاوہ ازیں اتفاق کی بات ہے کہ زیر بحث آیت گذشتہ اور پیوستہ آیات سے مناسبت بھی رکھتی ہے کیونکہ دوسری آیات میں ولایت بمعنی دوستی او رمددکے گفتگو ہے جبکہ زیر بحث آیت میں ولایت رہبری اور سر پرستی کے مفہوم میں ہے اور اس میں شک نہیں کہ ولی ، سر پرست او رمتصرف اپنے پیروکاروں کا دوست اور یاور و مدد گار بھی ہوتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں دوست اور مدد گار ہونا ولایت مطلقہ کے کوائف اور اوصاف میں سے ہے ۔

۸۔ ایسی قیمتی انگوٹھی کہاں سے آئی تھی ؟ :

کہا جاتا ہے کہ ایسی گراں قیمت انگوٹھی جو تاریخ نے بیان کی ہے حضرت علی (علیه السلام) سے لائے تھے ؟ علاوہ ازیں ایسی غیر معمولی قیمت کی انگوٹھی پہنا اسراف بھی ہے ، تو کیا یہ بات اس کی دلیل نہیں کہ مذکورہ تفسیر صحیح نہیں ہے ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اس نگوٹھی کی قیمت کے بارے میں جو مبالغے کئے گئے ہیں وہ بالکل بے بنیاد ہیں اور اس کے بہت قیمتی ہونے کی ہمارے پاس کوئی قابل قبول دلیل ہیں ہے۔ یہ جو ایک ضعیف روایت(۳)

میں اس کی قیمت خراج شام کے برابر بیان کی گئی ہے ۔ حقیقت سے زیادہ ایک افسانے سے مشابہت رکھتی ہے اور شایداس اہم واقعے کی اہمیت ختم کرنے کے لئے اسے گھڑ اگیا ہے ۔ صحیح اور معتبر روایات جو آیت کی شان ِ نزول کے بارے میں بیان ہوئی ہیں ۔ ان میں ایسے کسی افسانے کا کوئی ذکر نہیں لہٰذا ایسی باتوں سے ایک تاریخی واقعے اور حقیقت پر پردہ نہیں ڈالا جاسکتا ۔

____________________

۱-الغدیر جلد ۱ ص ۱۹۶۔

۲۔ منقول از منہاج البراعة جلد ۲ ص ۳۶۳۔

۳۔ یہ ضعیف روایت بطور مرسل تفسیر برہان ج۱ ص ۴۸۵پر مذکورہے ۔


آیت ۵۶

۵۶۔( وَمَنْ یَتَوَلَّ اللهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِینَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللهِ هُمْ الْغَالِبُونَ )

ترجمہ

۵۶۔اور جو لوگ اللہ ، اس کے پیغمبر اور صاحبان ِ ایمان کی ولایت قبول کرلیں ( وہ کامیاب ہیں کیونکہ ) خدا کی حزب اور پارٹی ہیں کامیاب ہے ۔

تفسیر

یہ آیت گذشتہ آیت کے مضمون کی تکمیل کرتی ہے اور اسی کے ہدف کی تاکید و تعقیب کرتی ہے او رمسلمانوں کو بتاتی ہے کہ جنھوں نے خدا، اس کے رسول اور ان صاحبان ِ ایمان کی ولایت، سر پرستی او ررہبری کو قبول کرلیا ہے کہ جنکی طرف گذشتہ آیت میں اشارہ کیا جا چکا ہے وہ کامیاب ہوں گے کیونکہ وہ حزبِ خدا میں داخل ہو جائیں گے اور حزب ِ خداکامیاب و کامران ہے( وَمَنْ یَتَوَلَّ اللهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِینَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللهِ هُمْ الْغَالِبُونَ ) ۔

اس آیت میں ” ولایت “کے اس معنی پر ایک اور قرینہ موجود ہے جس کا ذکر گذشتہ آیت کے ذیل میں کیا گیا ہے یعنی ” ولایت “ بمعنی ” سر پرستی ، تصرف اور رہبری “ کیونکہ ” حزبب اللہ “ اور اس کا غلبہ حکومتِ اسلامی سے مربوط ہے نہ کہ ایک عام او رمعمول کی دوستی سے اور یہ خود اس بات پر دلیل ہے کہ آیت میں ” ولایت“ سر پرستی ، حکومت نیز اسلام اور مسلمانوں کی باھ دوڑ ہاتھ میں لینے کے معنی میں ہے کیونکہ ” حزب اللہ “ کے مفہوم میں ایک طرح کی تشکیل ، وابستگی اور مشترک اہداف و مقاصد کی تکمیل کے لئے ایک اجتماع کا تصور پوشیدہ ہے ۔

توجہ رہے کہ ” الذین اٰمنوا “ سے اس آیت میں تمام صاحب ِ ایمان مرادنہیں ہیں بلکہ اس سے مراد وہی شخص ہے جس کی طرف معین اوصاف کے ساتھ گذشتہ آیت میں اشارہ ہو چکا ہے ۔

یہاں ایک سوال پیدا ہو تا ہے کہ کیا آیت میں حزب اللہ کی کامیابی سے مراد صرف معنوی کامیابی ہے یا س میں ہر طرح کی معنوی و مادی کامیابی شامل ہے ۔

اس میں شک نہیں کہ آیت کا اطلاق حز ب اللہ کی عام محاذوں پرمطلق کامیابی کی دلیل ہے ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اگر کوئی جمیعت حزب اللہ میں شامل ہویعنی ایمان ِ محکم ، تقویٰ ، عمل صالح، اتحاد ، کامل باہمی اعتماد ، آگاہی اور علم رکھتا ہواور کافی تیاری کئے ہوئے ہو توبلا تردید وہ تمام معاملات میں کامیاب ہو گا ۔ آج اگر ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کو ایسی کامیابی میسر نہیں ہے تو اس کا سبب واضح ہے کیونکہ حز اللہ کی مذکورہ شرائط میں سے زیادہ تر آج مسلمانوں میں نہیں پائی جاتیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جو توانائیں اور صلاحتیں دشمن کو شکست دینے کے لئے استعمال ہو نا چاہییں ، زیادہ تر ایک دوسرے کو کمزور کرنے پر صرف ہورہی ہیں ۔

سورہ مجادلہ آیہ ۲ میں بھی حزب اللہ کی کچھ صفات بیان ہوئی ہیں جس کی تعبیر انشاء اللہ متعلقہ مقام پر آئے گی ۔


آیات ۵۷،۵۸

۵۷۔( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَتَّخِذُوا الَّذِینَ اتَّخَذُوا دِینَکُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِنْ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَالْکُفَّارَ اٴَوْلِیَاءَ وَاتَّقُوا اللهَ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ ) ۔

۵۸۔( وَإِذَا نَادَیْتُمْ إِلَی الصَّلاَةِ اتَّخَذُوهَا هُزُوًا وَلَعِبًا ذَلِکَ بِاٴَنَّهُمْ قَوْمٌ لاَیَعْقِلُونَ ) ۔

ترجمہ

۵۷۔اے ایمان والو! اہل کتاب اور مشرکین میں سے ان لوگوں کو اپنی دوست اور سہارا نہ سمجھو جو تمہارے دین کا مذاق اڑاتے ہیں اور اسے کھیل کود سمجھتے ہیں اور اگرایمان دار ہو تو خدا سے ڈرو۔

۵۸۔ جب ( تم اذان کہتے ہواو رلوگوں کو ) نماز کے لئے پکارتے ہو تو وہ لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں او راسے کھیل تماشہ سمجھتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایسا گروہ ہیں جو عقل و ادراک نہیں رکھتے ۔

شان نزول

تفسیر مجمع البیان ، تفسیر ابو الفتوح رازی اور تفسیر فخر الدین رازی میں منقول ہے :

رفاعہ اور سوید مشرکین میں سے تھے ۔ انھوں نے اظہار اسلام کیا او رپھر وہ منافقین کے ہم کاروں میں داخل ہو گئے ۔ بعض مسلمامن ان دونوں سے میل جول رکھتے تھے اور اظہار دوستی کرتے تھے اس پر مندرجہ بالاآیت نازل ہوئیں اور انھیں اس راہ و رسم کے خطرے سے آگاہ کیا گیا تاکہ وہ اس عمل سے پرہیز کریں ۔

یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس آیت میں ولایت بمعنی دوستی ہے نہ کہ ولایت بمعنی سر پرستی و تصرف جو کہ گذشتہ آیات میں تھی ، کیونکہ اس آی کی شانِ نزول ان آیات سے مختلف ہے ۔ لہٰذا انھیں ایک دوسرے کے لئے قرینہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔

دوسری آیت جو پہلی کا ضمیمہ ہے ، اس کی شان ِ نزول یہ منقول ہے :

یہودیوں کا ایک گروہ اور کچھ عیسائی جب موذن کی اذان کی آواز سنتے او رنماز کے لئے مسلمانوں کا قیام دیکھتے تو تمسخر او راستہزا شروع کردیتے ۔ لہٰذاقرآن مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے دوستی کرنے سے پرہیز کاحکم دیتا ہے ۔

تفسیر

اس آیت میں خدا وند عالم دوبارہ مومنین کو حکم دے رہا ہے کہ منافقوں اور دشمنوں کی دوستی سے بچو ، البتہ ان کے جذبات و میلانات کو متحرک کرنے کے لئے یوں فرماتا ہے : اے ایمان والو! جو لوگ تمہارے دین کا مذاق اڑاتے ہیں اور اسے کھیل کود سمجھتے ہیں وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین و منافقین میں سے ان میں سے کسی کو بھی دوست نہ بناو( یَااٴَیُهَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَتَّخِذُوا الَّذِینَ اتَّخَذُوا دِینَکُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِنْ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَالْکُفَّارَ اٴَوْلِیَاءَ ) ۔

آیت کے آخر میں( وَاتَّقُوا اللهَ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ ) ۔فرماکر تاکید کی گئی ہے کہ تقویٰ او رایمان سے ایسے لوگوں کی دوستی مناسبت نہیں رکھتی ۔

توجہ رہے کہ ” ھزو“(بروزن ”قفل “) کا معنی ہے ” تمسخر آمیز باتیں یا حرکات جو کسی چیز کے بے وقعت ظاہر کرنے کے لئے کی جائیں ” جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے استہزاء ایسے مذاق کو کہتے ہیں جو کسی عدم موجود گی میں اور پس پشت کیا جائے اگر چہ کبھی کبھار کسی کے سامنے اس کا تمسخر اڑانے پربھی یہ لفظ بطور نادر بولا جاتا ہے ۔ ”لعب “ عام طور پر ایسے کاموں کوکہا جاتا ہے جن کے انجام دینے میں کوئی تصحیح غرض کار فرمانہ ہو یا جو بالکل بغیر ہدف اور مقصد کے انجام پائیں ، نہ بچوں کے کھیل کود کوبھی ” لعب “ اسی بنا پر کہتے ہیں ۔

گذشتہ آیت میں منافقین اور اہل کتاب کی ایک جماعت سے دوستی کرنے سے روکا گیا ہے کیونکہ وہ لوگ احکام اسلام کا مذاق اڑاتے تھے ۔ اب اگلی آیت میں شاہد کے طور پر ان کے ایک عمل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ : جب تم مسلمانوں کو نماز کی دعوت دیتے ہوتو وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور اسے کھیل کود سمجھتے ہیں( وَإِذَا نَادَیْتُمْ إِلَی الصَّلاَةِ اتَّخَذُوهَا هُزُوًا وَلَعِبًا ) (۱) ۔

اس کے بعد ان کے عمل کی علت بیان کی گئی ہے : ایسا اس لئے ہے کہ وہ ایک نادان گروہ ہے اور حقائق کا ادراک کرنے کی منزل سے دور ہے( ذَلِکَ بِاٴَنَّهُمْ قَوْمٌ لاَیَعْقِلُونَ ) ۔

اذان اسلام کا عظیم شعار ہے

ہر دور میں ملت کا کوئی ایسا شعار ہوتا ہے جو وہ اپنے لوگوں کے احساسات و جذبات کو ابھار کر انھیں ذمہ داریوں کی طرف دعوت دینے کے لئے استعمال کرتی ہے اور یہ بات دورحاضر میں زیادہ وسعت سے دکھائی دیتی ہے ۔

گذشتہ او رموجودہ زمانے میں عیسائی ناقوس کی ناموزوں آواز کے ذریعے اپنے پیروں کاروں کو کلیسا کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔ لیکن اسلام میں اس دعوت کے لئے اذان کو اپنا لیا گیا ہے جو صدائے ناقوس سے کئی درجے موثر اور دلآویز ہے ۔ اس اسلامی شعار کی جاذبیت اور کشش اتنی زیادہ ہے کہ صاحب ”المنار“ کے بقول جب متعصب عیسائی بھی اسے سنتے ہیں تو سننے والوں پر اس کی گہری تاثیر کا اعتراف کرتے ہیں اس کے بعد موصوف نے نقل کیا ہے کہ مصر کے ایک شہر میں کچھ عیسائیوں کو لوگوں نے دیکھا ہے کہ وہ مسلمانوں کی اذان کے وقت اس سرودِ آسمانی کو سننے کےلئے جمع ہو تے ہیں ۔

اس سے بہتر شعار کون سا ہوگا ، جس کی ابتداء خدائے بزرگ و بر تر کے نام سے ہوتی ہے ، جو خالق ِ عالم وحدانیت اور اس کے پیغمبرکی رسالت کے اعلان کے ساتھ بلند ہوتا ہے او رکامیابی ، فلاح، نیک عمل اور یادِ خدا پر اختتام پذیر ہوتا ہے ۔ یہ شعار اللہ کے نام سے شروع ہوتا ہے اور اللہ ہی کے نام پر تمام ہو تا ہے ۔ اس میں موزوں جملے ، مختصر عبارات ، واضح محتویات اور اصلاح کنندہ اور آگہی عطا کرنے والا مضمون ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامی روایات میں اذان کہنے کےلئے بہت تاکید کی گئی ہے اس سلسلے میں پیغمبر اکرم سے ایک مشہور حدیث منقول ہے ، جس میں آپ نے فرمایا :

روز قیامت اذان کہنے والے دوسروں سے سر اور گردن کی مقدار کے برابر بلند تر ہو ں گے ۔

یہ بلندی در حقیقت وہی مقام ِ رہبری ہے اور دوسروں کو خدا کی طرف او رنماز جیسی عبادت کی طرف دعوت دینے کے سبب سے ہے۔

اسلامی شہروں میں وقت نماز جب اذان کے نغمے گلدستہ اذان سے گونجتے ہیں تو ان کی آواز سچے مسلمانوں کے لئے پیام آزادی اور استقلال و عظمت کی حیات بخش نسیم کی مانند ہوتی ہے ۔ یہ آواز بد خواہوں کے تن بدن میں رعشہ اور اضطراب ڈال دیتی ہے ۔ یہ صدا بقائے اسلام کی ایک رمز ہے انگلستان کے ایک مشہور شخص کا ایک اعتراف اس پر گواہ ہے ۔ وہ عیسائیوں کے ایک گروہ سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے ۔

جب تک محمد کانام گلدستہ ہائے اذان سے بلند ہورہا ہے ، خانہ کعبہ اپنی جگہ پر قائم ہے اور قرآن مسلمانوں کا رہنما اور پیشوا ہے ، اس وقت تک ممکن نہیں ہے کہ اسلامی سر زمینوں پر ہماری سیاست کی بنیادیں استوار ہو سکیں ۔(۲)

لیکن بعض بے چارے اور بینوا مسلمانوں کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ انھوں نھے اس عظیم اسلامی شعار کو ترک کرکے اس کی جگہ فضول سے پروگرام رکھ دئیے ہیں جب کہ اسلامی شعار ان کے دین اور ثقافت کے قیام کی صدیوں پر حاوی تاریخ کی سند ہے۔ خدا ایسے افراد کی ہدایت کرے اور انھیں مسلمانوں کی صفوں میں پلٹا دے ۔

واضح ہے کہ جیسے اذان کا باطن اور ا س کے مفاہیم خوبصورت ہیں اسی طرح اسے ادا بھی اچھی آواز میں کرناچاہئیے اور اس کے باطنی حسن کو نامر غوب طریقے سے ظاہر کرکے پامال نہیں کردینا چاہئیے ۔

اذان وحی کے ذریعے پہنچی اہل سنت کے طرقسے منقول کئی ایک روایات میں اذان کی تشریع کے بارے میں عجیب و غریب باتیں منقول ہیں جو منطق اسلام سے مطابقت نہیں رکھتیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے :۔

پیغمبر خدا سے اصحاب نے درخواست کی کہ وقت ِ نماز بتانے کے لئے کوئی نشانی ہو نا چاہئیے ۔ اس پر آپ نے اپنے صحابہ سے مشورہ کیا ۔

ہر ایک نے کوئی نہ کوئی تجویز پیش کی ۔ کسی نے کہا مخصوص علم لہرانا چاہئیے ، کسی نے کہا آگ روشن کرنا چاہئیے اور کسی نے کہا ناقوس بجا نا چاہئیے ۔ لیکن رسول اللہ نے ان میں سے کوئی بات قبول نہ کی ۔ یہاں تک کہ عبد اللہ ابن زید اور عمر بن خطاب نے خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص انھیں حکم دے رہا ہے کہ نماز کو وقت بتانے کے لئے اذان کہیں اور اس نے ان دونوں کو اذان سکھائی اور رسول اللہ نے اسے قبول کرلیا ۔(۳)

یہ جعلی روایت پیغمبر اکرم کی توہیں معلوم ہوتی ہے کہ جس کے مطابق آپ وحی پر انحصار کرنے کی بجائے کچھ افراد کے خوابوں کا سہارا لیتے تھے اور کچھ لوگوں کے خوابوں کی بنیاد پر اپنے دین کے احکام پیش کرتے تھے ۔

در حقیقت ایسا نہیں ہے بلکہ جیساکہ روایات ِ اہل بیت (علیه السلام) میں ہے کہ اذان پیغمبر اسلام کو وحی کے ذریعے تعلیم دی گئی تھی امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب جبرئیل اذان لے کر آئے تو پیغمبر خدا کا سر حضرت علی (علیه السلام) کی گود میں تھا اور جبرئیل نے آپ کو اذان و اقامت بتائیں ۔ جب رسول اللہ نے اپنا سر اٹھا یا تو حضرت علی (علیه السلام) سے پوچھا :

کیا تم نے جبرئیل کی اذان کی آواز سنی ہے ۔

حضرت علی (علیه السلام) نے کہا :

جی ہاں

رسول اللہ نے پھر پوچھا :

کیا اسے یاد کرلیا ہے ؟

حضرت علی (علیه السلام) نے کہا:

جی ہاں

پیغمبر خدا نے فرمایا :

بلال ( جن کی آواز اچھی تھی ) کو بلا اور اسے اذان و اقامت سکھادو۔

حضرت علی (علیه السلام) نے بلال کو بلا کر اسے اذان و اقامت سکھا دی ۔ (وسائل ، ج ۴ ص ۶۱۲) ۔

اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لئے کتاب ” النص و الاجہاد“ ص ۱۲۸ کی طرف رجوع کریں ۔

____________________

۱۔ مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ ” اتخذوھا “ کی ضمیر نما زکی طرف لوٹتی ہے یا اذان کی طرف۔ جو شان نزول اس سلسلے میں ذکر کی گئی ہیں ان میں بھی یہ دونوں احتمالات موجود ہیں ، کیونکہ منافقین او رکفاراذان کی روح پروندا کا مذاق بھی اڑاتے تھے اور نماز کا بھی ۔ لیکن آیت کا ظہور زیادہ تر اس احتمال کی تائید کرتا ہے کہ یہ ضمیر ”صلوٰة “ کی طرف لوٹتی ہے ۔

۲۔یہ الفاظ گلاوسٹون کے ہیں جو اپنے زمانے میں انگریزوں کا پہلے درجہ کا سیاستدان تھا ۔

۳-تفسیر قرطبی ۔


آیات ۵۹،۶۰

۵۹۔( قُلْ یَااٴَهْلَ الْکِتَابِ هَلْ تَنقِمُونَ مِنَّا إِلاَّ اٴَنْ آمَنَّا بِاللهِ وَمَا اٴُنزِلَ إِلَیْنَا وَمَا اٴُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ وَاٴَنَّ اٴَکْثَرَکُمْ فَاسِقُونَ ) ۔

۶۰۔( قُلْ هَلْ اٴُنَبِّئُکُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَلِکَ مَثُوبَةً عِنْدَ اللهِ مَنْ لَعَنَهُ اللهُ وَغَضِبَ عَلَیْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمْ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِیرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ اٴُوْلَئِکَ شَرٌّ مَکَانًا وَاٴَضَلُّ عَنْ سَوَاءِ السَّبِیلِ ) ۔

ترجمہ

۵۹۔ کہہ دو: اے ایک کتاب ! کیا تم ہم پر اعتراض کرتے ہو( مگر ہم نے کیا کیا ہے ) سوائے اس کے کہ ہم خدا ئے یکتا پر ، جو کچھ اس نے ہم پر نازل کیا ہے اس پر اور جو کچھ اس سے پہلے نازل ہوچکا ہے اس پر ایمان لائے ہیں اور یہ اس بنا پر ہے کہ تم میں سے اکثر راہ ِ حق سے منحرف ہو گئے ہیں ( لہٰذا حق تمھیں اچھا نہیں لگتا ) ۔

۶۰ ۔ کہہ دو : کیا میں تمھیں ایسے لوگوں کے بارے میں آگاہ کروں جن کا ٹھکا نا اور جز اس سے بد تر ہے وہ لوگ کہ جنھیں خدا نے اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اور ان پر اپنا غضب نازل کیا ہے ( اور انھیں مسخ کردیا ہے )اور ان میں سے بندر اور خنزیر بنائے اور جنھوں نے بت پرستی کی ہے ان کا ٹھکانا برا ہے اور وہ راہِ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں ۔

شان نزول

عبد اللہ بن عباس سے منقول ہے :

کچھ یہودی رسول اللہ کے پاس آئے اور در خواست کی کہ اپنے عقائد انھیں بتائیں ۔

رسول اللہ نے فرمایا : میں خدائے بزرگ و یگانہ پر ایمان رکھتا ہوں اور جو کچھ ابراہیم ، اسماعیل ، اسحاق، یعقوب ، موسیٰ، عیسیٰ اور دوسرے پیغمبران ِ خد اپر نازل ہوا ہے اسے حق سمجھتا ہوں اور ان میں تفریق نہیں کرتا ۔

وہ کہنے لگے : ہم عیسی کو نہیں مانتے اور اس کی نبوت کو قبول نہیں کرتے ۔

انھوں نے مزید کہا : ہم کسی دین کو تمہارے دین سے بد تر نہیں سمجھتے ۔

اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور انھیں جواب دیا ۔

عیسائی او ریہودی علماء انھیں گناہ آمیز باتوں او رمال ِ حرام

پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ اہل کتاب سے پوچھئیے اور کہئیے کہ ہم سے کون سا کام سرزد ہواہے کہ ہم تم میں عیب نکالتے ہو اور ہم پرتنقید کرتے ہو، سوائے اس کے کہ ہم خدائے یگانہ پر ایمان لائے ہیں اور جو ہم پر اور گذشتہ انبیاء پر نازل ہوا ہے اس کے سامنے ہم سر تسلیم خم کرتے ہیں ۔( قُلْ یَااٴَهْلَ الْکِتَابِ هَلْ تَنقِمُونَ مِنَّا إِلاَّ اٴَنْ آمَنَّا بِاللهِ وَمَا اٴُنزِلَ إِلَیْنَا وَمَا اٴُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ ) ۔(۱)

یہ آیت یہودیوں کی بے محل ضد، ہٹ دھرمی اور تعصبات کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ وہ لوگ اپنے اور اپنے تحریف شدہ دین کے خلاف کسی کی کچھ وقعت کے قائل نہیں تھے اور ا سی شدید تعصب کی بنا پر حق ان کی نظر میں باطل اور باطل ان کی نگاہ میں حق بن چکا ہے ۔

آیت کے آخر میں ایک جملہ جو در حقیقت پہلے جملے کی علت اور سبب ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے : اگر تم توحید ِ خالص او رتمام آسمانی کتب کے سامنے سر تسلیم خم کرنے پر ہم اعتراض کرتے ہوتو اس کی وجہ یہ ہے کہ تم میں سے اکثر فسق اور گناہ سے آلودہ ہو چکے ہیں اور اگر کچھ لوگ پاکیزگی اور حق کا راستہ اپناتے ہیں تو یہ تمہاری نظر میں عیب ہے( وَاٴَنَّ اٴَکْثَرَکُمْ فَاسِقُونَ ) ۔

فسق و گناہ سے آلودہ انسانوں کی کثرت سے تشکیل پانے والے آلودہ ماحول میں اصولی طور پر حق و باطل کا معیار اس قدر دگر گون ہ وجاتا ہے کہ اس میں پاکیزہ عقیدہ اور صالح کو برا سمجھا جانے لگتا ہے اور اسے ہدفِ تنقید بنا یا جا تا ہے اور غلط عقائد و اعمال کو اچھا سمجھا جا تا ہے او رانہیں بنظر تحسین دیکھا جاتا ہے ۔ یہ مسخ شدہ فکر کی خاصیت ہے ۔ جب کوئی گناہ میں ڈوب جاتا ہے اور اس کا عادی ہو جاتا ہے تو اس کی یہی حالت ہو جاتی ہے ۔

توجہ رہے کہ پہلے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے کہ آیت تمام اہل کتاب پر تنقید نہیں کررہی بلکہ صالح او رنیک اقلیت کا حساب لفظ” اکثر“ استعمال کرکے الگ کردیا گیا ہے ۔

دوسری آیت میں اہل کتاب کے تحریف شدہ عقائد ، غلط اعمال اور جو سزائیں انہیں دامن گیر ہوئیں ان کا موازنہ سچے مومنین اور مسلمین کی حالت و کیفیت سے کیاگیا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ ان دونوں گروہوں میں سے کو ن سا تنقید اور سر زنش کا مستحق ہے ۔ یہ در اصل متعصب او رہٹ دھرم افراد کو متوجہ کرنے کے لئے ایک منطقی جواب ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ! اے پیغمبر ! ان سے کہہ دو کیا خدا ئے یکتا اور آسمانی کتب پر ایمان لانا باعث ِ سر زنش اور وجہ ِ اعتراض ہے یا پھر خو د ان کے برے اعمال جن کے سبب وہ خدائی سزا وں میں گرفتار ہو ئے ہیں ۔انہیں کہہ دو : کیا میں تمھیں ان لوگوں کے بارے میں آگاہ کروں جن جن کا معاملہ بار گاہ الٰہی میں اس سے بد تر ہے( قُلْ هَلْ اٴُنَبِّئُکُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَلِکَ مَثُوبَةً عِنْدَ اللهِ ) ۔(۲)

اس میں شک نہیں کہ خدا تعالیٰ اور آسمانی کتاب پر ایمان لانا کوئی بری بات نہیں ہے ۔ یہ جو زیر نظر آیت میں اس کا موازنہ اہل کتاب کے اعمال و افکار سے کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ” ان میں سے بد تر کون ہے “ در حقیقت ایک کنایہ ہے ، جیسے اگر کوئی ناپاک شخص کسی پاکیزہ انسا ن پر تنقید کرے تو وہ جواب میں کہتا ہے کہ پاکدامن بد تر ہیں یا گناہ سے آلودہ لوگ۔

اس کے بعد اس مطلب کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : وہ لوگ جو اپنے اعمال کی وجہ سے پر وردگار کی آفت اور غضب کا شکار ہو ئے ہیں انہیں بندر اور خنزیر کی شکل میں مسخ کردیا گیا ہے اور وہ کہ جنہوں نے طاغوت اور بت کی پرستش کی ہے یقینا ایسے لوگوں کی دنیا میں حیثیت و مقام اور آخرت میں ٹھکانا بد تر ہوگا اور وہ راہ راست اور جادہ مستقیم سے بہت گمراہ ہیں( مَنْ لَعَنَهُ اللهُ وَغَضِبَ عَلَیْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمْ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِیرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ اٴُوْلَئِکَ شَرٌّ مَکَانًا وَاٴَضَلُّ عَنْ سَوَاءِ السَّبِیل ) ۔(۳)

مسخ اور بعض انسانوں کے چہروں کے متغیر ہونے کے بارے میں او ریہ مسخ سے مراد جسمانی چہرے کا تغیر ہے یا فکری و اخلاقی چہرے کی تبدیلی ، اس سلسلے میں انشاء سورہ اعراف آیہ ۱۶۳ کے ذیل میں تفصیلی گفتگو کی جائے گی ۔

____________________

۱۔”تنقموت“ مادہ ” نقمت“ سے ہے یہ در اصل کسی چیز کا انکار کرنے کے معنی میں ہے چاہے وہ انکار زبان سے ہو یا عمل سے اور سز ادینے کے ذریعے سے ہو۔

۲ ۔ ”مثوبة “اور ”ثواب “ در اصل پہلی حالت کی طرف رجوع کرنے اور پلٹنے کے معنی میں ہے یہ لفظ ہر طرح کی جزا اور سر زنش کے لئے بھی بولا جاتا ہے لیکن زیادہ تر اچھی چیز کے لئے استعمال ہوتاہے بعض اوقات سزا کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے ۔ مندرجہ بالا آیت میں یہ لفظ انجام یا جزا و سزا کے معنی میں ہے ۔

۳ ۔ ”سواء “ لغت میں مساوات ، اعتدال اور برابری کے معنی میں ہے اور یہ جو آیت ِ بالا میں جادہ مستقیم کو سواء السبیل کہا گیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہر طرف سے برابر ، مساوی او رہموار ہے ۔ اور معتدل ، منظم اور انحراف سے خالی روش اور طریقے کو سیدھا راستہ کہا جاتا ہے ۔ ضمناً توجہ رہے کہ ” عبد الطاغوت“ کا عطف ” من لعنہ اللہ “ اور ” عبد“ فعل ماضی ہے اور عبد کی جمع نہیں ہے جیسا کہ بعض نے احتمال ظاہر کیا ہے ۔ اور اہل کتاب کی طرف طاغوت کی پرستش کی نسبت یہودیوں کی گوسالہ پرستی کی طرف اشارہ ہے یا منحرف اور کجرو پیشوا وں کے سامنے بے چون و چرا سر تسلیم خم کرنے کی طرف اشارہ ہے ۔


آیات ۶۱،۶۲،۶۳

۶۱۔( وَإِذَا جَائُوکُمْ قَالُوا آمَنَّا وَقَدْ دَخَلُوا بِالْکُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوا بِهِ وَاللهُ اٴَعْلَمُ بِمَا کَانُوا یَکْتُمُونَ ) ۔

۶۲۔( وَتَرَی کَثِیرًا مِنْهُمْ یُسَارِعُونَ فِی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاٴَکْلِهِمْ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) ۔

۶۳۔( لَوْلاَیَنْهَاهُمْ الرَّبَّانِیُّونَ وَالْاٴَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمْ الْإِثْمَ وَاٴَکْلِهِمْ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا کَانُوا یَصْنَعُونَ ) ۔

ترجمہ

۶۱۔ اور جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں( لیکن ) وہ کفر کے ساتھ داخل ہو تے ہیں اور کفر کے ساتھ ہی نکل جاتے ہیں اور جو کچھ وہ چھپائے ہوئے ہیں خدا اس سے آگاہ ہے ۔

۶۲۔ تم ان میں سے بہت سوں کو دیکھو گے کہ وہ گناہ ، تجاوز اور مال ِ حرام کھانے میں ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہیں جو کام وہ انجام دیتے ہیں کس قدر بر اہے ۔

۶۳۔ عیسائی او ریہودی علماء انھیں گناہ آمیز باتوں او رمال ِ حرام کھانے سے کیوں منع نہیں کرتے۔ کس قدر برا ہے وہ عمل جو وہ انجام دیتے ہیں ۔

پہلی آیت میں اہل کتاب منافقین کے بارے میں بحث مکمل کرتے ہوئے اور ان کے چہروں سے نفاق کے پردے ہٹا تے ہوئے مسلمانو ں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ : جس وقت وہ تمھارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں لیکن کفر سے معمور دل کے ساتھ آتے ہیں اور اسی حالت میں تمہارے پا سے اٹھ جاتے ہیں اور منطقی استدلال اور تمہاری باتیں ان کے دل پر کچھ اثر نہیں کرتیں( وَإِذَا جَائُوکُمْ قَالُوا آمَنَّا وَقَدْ دَخَلُوا بِالْکُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوا بِهِ ) ۔

لہٰذا وہ ظاہر اً حمایت حق میں باتیں کرتے ہیں ، اظہار ایمان کرتے ہیں اور تمہاری باتوں کی ریا کارانہ پذیرائی کرتے ہیں ، اس سے تمہیں دھوکا نہ ہو ۔

آیت کے آخر میں انھیں خطرے سے آگاہ کرتا ہے کہ ان تمام پر دہ پوشیوں کے باجود جو کچھ تم چھپاتے ہو خدا اس سے آگاہ اور با خبر ہے( وَاللهُ اٴَعْلَمُ بِمَا کَانُوا یَکْتُمُونَ ) ۔

بعد والی آیت میں ان کے نفاق کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے : تم ان میں سے بہت سوں کو دیکھو کے کہ گناہ ، ظلم اور حرام خوری کی راہ میں ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہیں( وَتَرَی کَثِیرًا مِنْهُمْ یُسَارِعُونَ فِی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاٴَکْلِهِمْ السُّحْتَ ) ۔(۱)

یعنی گناہ اور ظلم کے راستے میں یوں قدم بڑھا تے ہیں گویا باعث ِ فخر اہداف کی طرف بڑھ رہے ہیں اور بغیر کسی شرم کے کوشش کرتے ہیں کہ ایک دوسرے پر سبقت لے جائیں ۔

توجہ رہے کہ لفظ” اثم “ کفر کے معنی میں بھی آیا ہے او رہر قسم کے گناہ کے مفہوم میں بھی آیا ہے ۔ لیکن یہاں ” عدوان “ کے مقابلے میں آیا ہے ۔ لہٰذا بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیا ن کیا ہے : ایسے گناہ جن کا نقصان صرف کرنے والے ہی کو پہنچے بخلاف” عدوان “ کے جس کا نقصان دوسروں کو پہنچتا ہے ۔

یہ احتمال بھی بیان کیا گیا ہے کہ ” عدوان“ کا ذکر ” اثم “ کے بعد اصلاح کے مطابق خا ص کے بعد عام کاذکر ہے اور ان کے بعد حرام کھانے کا تذکرہ ” ذکر اخص“ کے طور پر ہے ۔ اس طرح پہلے تو ان کی ہر قسم کے گناہ کی بنا ء پر مذمت کی گئی ہے اس کے بعد اہمیت کی وجہ سے دو عظیم گناہوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ یعنی ایک ظلم و ستم اور دوسرا حرام خوری چاہے وہ رشوت کی صورت میں ہو یا کسی اور صورت میں ۔

مختصریہ کہ قرآن اہل کتاب کے ان منافق افراد کو آشکار کرتا ہے اور ان کی مذمت کرتا ہے جو بڑی لا پر واہی سے ہر طرض کا گناہ سرانجام دیتے ہیں ، خصوصاً ظلم و ستم کرتے ہیں اور بالخصوص نا جائز مال کھاتے ہیں مثلاً رشوت اور سود کھاتے ہیں ۔

آیت کے آخر میں ان کے اعمال کی برائی تاکیداً ظاہرکرنے کے لئے فرمایا گیا ہے : یہ لوگ کیسا برا قبیح عمل انجام دیتے ہیں( لَبِئْسَ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) ۔

” کانو ا یعملون “ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان اعمال کو وہ اتفاقیہ نہیں بجا لاتے بلکہ وہ ان پرڈٹے رہتے ہیں او ربار بار ان کا ارتکاب کرتے ہیں ۔

تیسری آیت میں ان کا علماء پر حملہ کیا گیا ہے جو اپنی خاموشی کے ذریعے انھیں گناہ کا شوق دلاتے تھے ،ارشاد ہوتاہے : عیسائی اور یہودی علماء انھیں گناہ آلودہ باتوں اور حرام خوری سے کیوں نہیں روکتے( لَوْلاَیَنْهَاهُمْ الرَّبَّانِیُّونَ وَالْاٴَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمْ الْإِثْمَ وَاٴَکْلِهِمْ السُّحْتَ ) ۔

جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے ” ربانیوں “ ربانی “ کی جمع ہے اور یہ لفظ”رب “ سے لیا گیا ہے اس کا مطلب ہے ایسے علماء جو لوگوں کی خدا کی طرف دعوت دیتے ہیں ، لیکن زیادہ تر یہ لفظ عیسائی مذہبی علماء کے لئے استعمال ہوتا ہے ” احبار“ ” حبر “ ( بر وزن ” ابر “ کی جمع ہے ۔ اس کا مطلب ہے ایسے علماء جو معاشرے پر اچھا اثر مرتب کریں ، لیکن زیادہ تر یہ لفظ یہودی مذہبی علماء کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔

ضمناً سوال پیدا ہوتا ہے کہ گذشتہ آیت میں لفظ” عدوان “ تھا لیکن اس آیت میں نہیں ہے ، بعض نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ ” اثم “ایسا وسیع مفہوم جس میں ”عدوان “ بھی داخل ہے ۔

اس آیت میں گذشتہ آیت کے بر خلاف ” قولھم الاثم “ آیا ہے ۔ یہ تعبیر ممکن ہے اس طرف اشارہ ہو کہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو آلودہ باتوں سے بھی روکیں اور اعمال گناہ ۔ یا پھر قول یہاں اعتقاد کے معنی میں ہے یعنی علماء ایک فاسد معاشرے کی اصلاح کے لئے پہلے ان کے غلط افکار اور عقائد کی اصلاح کریں کیونکہ جب تک افکار نظر یات میں انقلاب نہیں آتا ہے یہ توقع نہیں کیا جاسکتی ہے کہ ان کے عمل میں کوئی گہری اصلاح ہو سکے۔ اس طرح سے آیت فاسد اور برے معاشرے کی اصلاح کے لئے علماء کو نشاندہی کرتی ہے کہ کام فکری انقلاب سے شروع کیا جائے۔

جیسے اصلی گناہ گاروں کی مذمت کی گئی ہے آیت کے آخر میں خاموش رہنے والے اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر ترک کر دینے والے علماء کی بھی مذمت کی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : کتنا برا ہے وہ کام جو یہ انجام دیتے ہیں( لَبِئْسَ مَا کَانُوا یَصْنَعُونَ ) ۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ جو لوگ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی عظیم ذمہ داری کو پورا نہیں کرتے خا ص طو رپر علماء اور دانشمندان کا انجام بھی اصلی گناہ گاروں کا سا ہو گا ۔ در حقیقت یہ لوگ ان کے جرم میں شریک شمار ہو ں گے ۔

مشہورمفسرابن عباس سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں :

اپنی ذمہ داریوں کی پیمان نہ کرنے والے اور خاموش رہنے والے علماء کی مذمت میں یہ سخت ترین آیت ہے ۔

واضح ہے کہ یہ حکم خاموش رہنے والے یہودی اور عیسائی علماء سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ان تمام صاحبان ِ فکر و نظر ، راہبروں او رعلماء کے بارے میں ہے جو لوگوں کو گناہ سے آلودہ ہوتا دیکھیں اور انھیں ظلم و ستم کی راہ پر تیز گام پائیں او رخاموش بیٹھے رہیں ، کیونکہ خدا کا حکم تو سب کے لئے برابر ہے ۔

امیر المومنین حضرت علی (علیه السلام) نے اپنے ایک خطبے میں ارشاد فرمایا :

گذشتہ قومیں اس بناء پر ہلاک او رنابود ہو گئیں کہ وہ گناہ کی مرتکب ہوتی تھیں اور ان کے علماء سکوت اختیارکرلیتے تھے اور نہی عن المنکر نہیں کرتے تھے ۔ اس حالت میں ان پر خدا کا عذاب ، سزائیں اور مصیبتیں نازل ہوتی تھیں ۔ پس اے لوگو! تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیا کرو تاکہ تمہارا بھی وہی انجام نہ ہو۔(۲)

یہی مضمون نہج البلاغہ کے خطبہ قاصعہ( خطبہ ۱۹۲) میں بھی ہے ، آپ نے فرمایا :

فان الله سبحانه لم یلعن القراٰن الماضی بین ایدیکم الالترکهم الامر بالمعروف و النهی عن المنکر فلعن السفها ء لرکوب المعاصی و الحکماء لترک التناهی “۔

گذشتہ زمانے کے لوگوں کو خدا تعالیٰ نے صرف اس لئے اپنی رحمت سے دور کردیا کہ انھوں نے امر المعروف او رنہی عن المنکر کو ترک کردیا ۔ اس نے عوام کو گناہ کے ارتکاب اور علماء کو نہی عن المنکر ترک کرنے پر اپنی لعنت کا حق دار قرار دیا اور انھیں اپنی رحمت سے دور کردیا ۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ گذشتہ آیت میں عام لوگوں کے بارے میں لفظ ”یعملون “ آیا ہے اور زیر نظر آیت میں علماء کے لئے ” یصنعون“ استعمال ہوا ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ ” یصنعون “ صنع“ کے مادہ سے ہے ۔ اس کا مطلب ہے ایسے کام جو بڑی توجہ او رمہارت سے انجام دئیے جائیں جب کہ ” یعملون “” عمل “کے مادہ سے ہے اور ہر کام کے لئے بولا جاتا ہے اگر نادان لوگ اور عوال برے کام انجام دیتے ہیں تو ان میں سے کچھ نادانی اور بے خبر ی کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں لیکن علماء اور دانشور جو اپنی ذمہ داری پر عمل نہیں کرتے تو واضح ہے کہ وہ جانتے ہوئے اور ماہرانہ طور پر غلط کام انجام دیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے عالم کے لئے جاہل سے زیادہ سخت سزا ہے ۔

____________________

۱۔”سحت“ کے معنی کے بارے میں اس سورہ کی آیہ ۴۲ کے ذیل میں ” یسارعون“ کے بارے میں اسی سورہ کی آیہ ۴۱ کے ذیل میں اور ” اثم “ کے متعلق سورہ بقرہ آیہ ۲۱۹ کے ذیل میں جلد دوم میں بحث کی جاچکی ہے ۔

۲۔ نور الثقلین جلد ۱ ص ۶۴۹ ۔


آیت ۶۴

۶۴۔( وَقَالَتْ الْیَهُودُ یَدُ اللهِ مَغْلُولَةٌ غُلَّتْ اٴَیْدِیهِمْ وَلُعِنُوا بِمَا قَالُوا بَلْ یَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ یُنفِقُ کَیْفَ یَشَاءُ وَلَیَزِیدَنَّ کَثِیرًا مِنْهُمْ مَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ طُغْیَانًا وَکُفْرًا وَاٴَلْقَیْنَا بَیْنَهُمْ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ کُلَّمَا اٴَوْقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ اٴَطْفَاٴَهَا اللهُ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاٴَرْضِ فَسَادًا وَاللهُ لاَیُحِبُّ الْمُفْسِدِینَ ) ۔

ترجمہ

۶۴۔ اور یہودی کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ تو زنجیرسے بندھا ہو اہے ۔ انہی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور وہ اس بات کی وجہ سے رحمت ِ الہٰی سے دور ہیں جب کہ اس ( کی قدرت) کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں وہ جس طرح سے چاہے ( بخشتا اور )خرچ کرتا ہے اور یہ آیات جو تجھ پر تیرے پر وردگار کی نازل ہوئی ہیں ان میں سے بہت سوں کے طغیان او رکفر کو بڑھادیتی ہیں اور ان کے درمیان ہم نے قیامت تک کے لئے دشمنی اور عداوت ڈال دی ہے او رجب بھی انھوں نے جنگ کی آگ روشن کی خدا نے اسے خاموش کردیا او روہ زمین میں فساد کے لئے کوشاں رہتے ہیں اور خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ۔

اس آیت میں یہودیوں کی ناروا اور گناہ آلودہ باتوں کی ایک مثال کی گئی ہے کہ جب کہ گذشتہ آیت میں کلی طو ر پر ان کی ایسی باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا تھا ۔ اس کی وضاحت کچھ اس طرح ہے کہ تاریخ نشاندہی کرتی ہے کہ یہودی ایک زمانے میں اوج قدرت میں تھے ۔ اس وقت کم اہم آباد دنیا کے ایک حصے پر ان کی حکومت تھی ۔ حضرت داود علیہ السلام اور حضرت سلیمان بن داود (علیه السلام) کے زمانے کو بطور نمونہ پیش کیا جاسکتا ہے ۔ بعد میں بھی زور و شور سے ان کی قدرت و طاقت موجودی لیکن ظہورِ اسلام کے ساتھ ہی خصوصاً حجاز میں ان کی قدرت کا آفتاب ڈوب گیا ۔ بنی نضیر ، بنی قریظہ اور خیبر کے یہودیوں سے پیغمبر اکرم کی جنگوں کے باعث وہ انتہائی کمزور ہو گئے ۔ اس موقع پر ان میں سے بعض نے اپنی گذشتہ قدرت و عظمت کو مد نظر رکھتے ہوئے استہزاء اور مذاق کے طور پ رکہا کہ خدا کا ہاتھ تو زنجیر سے بندھا ہوا ہے اور وہ ہم پر بخشش و نوازش نہیں کرتا( بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ بات کہنے والا فخاس بن عازذورا تھا جوبنی قینقاع کا سر دار تھا او ربعض نے نباش بن قیس کا نام لکھا ہے ) چونکہ دوسرے بھی اس کی گفتگو سے راضی تھے لہٰذا قرآن نے اس بات کی ان سب کی طرف نسبت دی ہے اور فرمایا ہے یہودیوں نے کہا کہ خدا کا ہاتھ زنجیر سے بندھا ہو اہے( وَقَالَتْ الْیَهُودُ یَدُ اللهِ مَغْلُولَةٌ ) ۔

توجہ رہے کہ ”ید “ عربی زبان میں کئی معانی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس کا ایک معنی ” ہاتھ “ ہے ۔ دوسرا” نعمت “ ، تیسرا ” قدرت“ چوتھا”سلطنت و حکومت “اور پانچواں ” تسلط“ ہے ۔ البتہ اس کا حقیقی معنی ” ہاتھ “ ہی ہے او رچونکہ انسان اہم ترین کام ہاتھ سے انجام دیتا ہے لہٰذا یہ لفظ کنایہ کے طور پر دوسرے معانی بھی استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فارسی میں ” دست “بھی اسی طرح مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔

طریق اہل بیت سے مروی بعض روایات میں ہے کہ یہ بات یہودیوں کے مسئلہ قضا و قدر اور سر نوشت و تفویض کے بارے میں عقیدے کی طرف اشارہ ہے ، ان کا نظر یہ تھا کہ ابتدائے خلق میں خدا نے تمام امور کا تعین کردیا ہے اور جسے انجام پانا چاہے وہ گویا انجام پا چکا ہے اور خدا بھی اس میں تبدیلی نہیں کرسکتا ۔ ۱

البتہ آیت میں ” بل یداہ مبسوطتان “ بھی ہے جیسا کہ آگے آئے گا ، یہ عبارت پہلے معنی کی تائید کرتی ہے ، البتہ دوسرا معنی بھی پہلے معنی کی طرف ہی ایک راستہ ہے کیونکہ جب ان کی زندگی درہم بر ہم ہو گئی اور ان کے اقبال کا ستارہ ڈوب گیا تو ان کا خیال تھا کہ یہ ان کی تقدیر میں تھا جسے بدلا نہیں جاسکتا کیونکہ یہ انجام تو شروع سے معین ہو چکا ہے اور عملی طور پر خدا کا ہاتھ بند ہوا ہے ۔

خدا تعالیٰ ان کے جواب میں پہلے تو اس عقیدے کی مذمت کرتا ہے ، فرما یا گیا ہے : ان کے ہاتھ زنجیر سے بندھے ہوں اور اس ناروا بات کی وجہ سے وہ رحمت سے دور ہوں( غُلَّتْ اٴَیْدِیهِمْ وَلُعِنُوا بِمَا قَالُوا ) ۔

اس کے بعد اس غلط عقیدے کے بطلان کےلئے ارشاد ہوتا ہے : خدا کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے اور جس پر چاہتاہے لطف و عنایت کرتا ہے ( بَلْ یَدَاہُ مَبْسُوطَتَانِ یُنفِقُ کَیْفَ یَشَاءُ ) ۔اس کام میں کوئی مجبوری نہ ہو وہ عوامل ِطبعی و فطری کے جبر کا محکوم ہے اور نہ وہ جبر تاریخی کاپابندہے بلکہ اس کا رادہ ہر چیز سے بالاتر اور ہر چیز میں نافذ ہے ۔

یہ امر قابل توجہ ہے کہ یہودیوں نے لفظ ” ید “ مفرد استعمال کیا ہے لیکن خدا نے ” ید “ کو تثنیہ کے طور پر استعمال کیا ہے ، فرماتا ہے : اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں ۔ یہ دراصل تاکید ِ مطلب بھی ہے اور خدا تعالیٰ کے انتہائی جود بخشش کے لئے لطیف کنایہ بھی ۔ کیونکہ جو ذات زیادہ سخی ہو دونوں ہاتھ بخشش کرتی ہے ۔ علاوہ ازیں دو ہاتھوں کا ذکر قدرت ِ کاملہ کے لئے بھی کنایہ ہو سکتا ہے اور شاید یہ مادی و معنوی یا دینوی و اخروی نعمتوں کی طرف بھی اشارہ ہو۔

پھر ارشاد ہوتا ہے : یہاں تک کہ ان کی گفتار اور عقائد سے پر دہ کشائی کرنے والی یہ آیات ان پر مثبت اثر مرتب کرنے کی بجائے اور انہیں غلط راستے سے باز رکھنے کی بجائے ان میں سے بہت سوں کو ہٹ دھرمی کے چکر میں ڈال دیتی ہیں اور ان کا طغیان و کفر مزید بڑھ جاتا ہے( وَلَیَزِیدَنَّ کَثِیرًا مِنْهُمْ مَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ طُغْیَانًا وَکُفْرًا ) ۔

”عداوت“ اور ” بغضاء “ سے یہا ں کیا مراد ہے ، اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے لیکن اگر ہم یہودیوں کی موجودہ صورتِ حال سے قطع نظر کرلیں اور تاریخ میں ان کی در بدر اور پراگندی کی زندگی کو ملحوظ ِ نظر رکھیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ اس خاص تاریخی کیفیت کا ایک اہم عامل ان میں اتحاد، عزم اور ارادے کی پختگی کا فقدان تھا کیونکہ اگر ان میں اتحاد اور عزم صمیم ہوتا تو اتنی طویل تاریخ میں وہ اس طرح سے در بدر ، منتشر او ربدبخت نہ رہتے۔

اسی سورہ آیہ ۱۴ کے ذیل میں اہل کتاب کے درمیان دائمی عداوت و دشمنی کے مسئلہ پر ہم نے مزید ضاحت کی ہے ۔

آیت کے آخر میں آتش ِ جنگ بھڑ کانے کےلئے یہودیوں کی کوششوں اور خدا کی طرف سے مسلمانوں کو اس نابود کرنے والی آگ سے رہائی اور لطف و رکم کے بارے میں اشارہ ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : جب انھوں نے آتشِ جنگ بھڑ کائی تو خدا نے اسے خاموش کردیا اور تمھیں اس سے محفوظ رکھا( وَاٴَلْقَیْنَا بَیْنَهُمْ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ کُلَّمَا اٴَوْقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ اٴَطْفَاٴَهَا اللهُ ) ۔یہ حقیقت میں پیغمبر اسلام کی پر دعا اعجاز زندگی کا ایک نکتہ ہے ۔ کیونک یہودی حجاز کے تمام لوگوں کی نسبت زیادہ طاقتور او رجنگی امور سے زیادہ آشنا تھے ۔ ان کے پاس نہایت محکم قلعے تھے ۔ علاوہ ازیں ان کے پاس مالی وسائل بھی بہت تھے جن سے وہ جنگوں میں کام لیتے تھے ۔ یہاں تک کہ قریش ان کی مدد حاصل کرنے میں کوشش کرتے تھے ۔ اوس و خزرج میں سے ہر قبیلہ ان سے پیمان دوستی اور جنگی معاہدے کی کوشش کرتا تھا ۔ اس کے باوجود ان کی طاقت کا زعم اس طرح ٹوٹا کہ کوئی اس کے بارے میں سوچ بھی نہ سکتا تھا ۔ بنی نضٰر ، بنی قریظہ او ربنی قینقا ع کے یہودی خاص حالات کی وجہ سے جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے خیبر کے قلعوں میں رہنے والے اور فدک یہودیوں نے ہتھیار ڈال دیے ۔ یہاں تک کہ حجاز کے بیابانوں میں رہنے والے یہودیوں نے بھی عظمت اسلام کے سامنے گھٹنے ٹیک دئے ۔ نہ صرف یہ کہ وہ مشرکین کی مدد نہ کر سکے بلکہ خود بھی مقابلے سے کنارہ کش ہو گئے ۔ قرآن مزید کہتا ہے : وہ ہمیشہ روئے زمین میں فتنہ فساد کے بیج بونے کی کوشش کرتے ہیں (وَیَسْعَوْنَ فِی الْاٴَرْضِ فَسَادًا ) ۔ جب کہ خدا فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔( وَاللهُ لاَیُحِبُّ الْمُفْسِدِینَ ) ۔

اس بنا پر قرآن ان پر بھی کبھی نسلی اور خاندانی حولاے سے کوئی اعتراض نہیں کرتا بلکہ قرآن کی تنقید اور سر زنش کا معیار او رنمونہ وہ اعمال ہیں جو ہر شخص اور گروہ انجام دیتا ہے ۔ بعد کی آیات میں ہم دیکھیں گے کہ ان تمام چیزوں کے باوجود قرآن نے ان کے لئے راہ ِ حق کی طرف لوٹ آنے کی راہ کھلی رکھی ہے ۔

____________________

۱۔تفسیر نور الثقلین ج ۱ ص ۶۴۹، تفسیر بر ہان جلد۱ ص ۴۸۶۔


آیات ۶۵،۶۶

۶۵۔( وَلَوْ اٴَنَّ اٴَهْلَ الْکِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَکَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّئَاتِهِمْ وَلَاٴَدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِیمِ ) ۔

۶۶۔( وَلَوْ اٴَنَّهُمْ اٴَقَامُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِیلَ وَمَا اٴُنزِلَ إِلَیْهِمْ مِنْ رَبِّهِمْ لَاٴَکَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اٴَرْجُلِهِمْ مِنْهُمْ اٴُمَّةٌ مُقْتَصِدَةٌ وَکَثِیرٌ مِنْهُمْ سَاءَ مَا یَعْمَلُونَ ) ۔

ترجمہ

۶۵۔ اور اگر اہل کتاب ایمان لائے اور انھوں نے تقویٰ اختیار کیا تو ہم ان کے گناہ بخش دیں گے اور انھیں نعمات سے معمور باغات بہشت میں داخل کردیں گے ۔

۶۶۔ اور اگر وہ تورات ، انجیل او رجو کچھ ان کے پر وردگار کی طرف سے ( قرآن کی صورت میں ) نازل ہوا ہے اسے قائم رکھیں آسمان او رزمین سے رزق کھائیں گے ۔ اس میں سے کچھ لوگ میانہ رو ہیں ۔ لیکن ان میں سے اکثر برے اعمال انجام دیتے ہیں ۔

اور اگر اہل کتاب ایمان لائے اور انھوں نے تقویٰ اختیار کیا تو

گذشتہ آیات میں اہل کتاب کے طور طریقوں اور طرز عمل پر تنقید کی گئی ہے ۔ اب ان دو آیا ت میں تربیتی اصول کے مطابق خدا تعالیٰ اہل کتاب میں سے منحر فین کو راہ ِ راست پر لانے ، انھیں حقیقی راستے کی نشاندہی کرنے اور ان میں سے اقلیت جو ان کے غلب افعال میں ہم قدم نہ تھی کی تعریف کرنے کے لئے کہتا ہے : اگر اہل کتاب ایمان لے آئیں اور تقویٰ اختیار کرلیں تو ہم ان کے گذشتہ گناہوں پر پر دہ ڈال دیں گے اور ان سے صرف ِ نظر کرلیں گے ۔( وَلَوْ اٴَنَّ اٴَهْلَ الْکِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَکَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّئَاتِهِمْ ) ۔نہ صرف ان کے گناہ بخش دیں گے بلکہ انھیں طرح طرح کی نعمتوں سے پرباغات ِ جنت میں داخل کریں گے( وَلَاٴَدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِیم ) ۔یہ تو معنوی او راخروی نعمتوں کے بارے میں ہے ۔ اس کے بعد ایمان و تقویٰ کے گہرے اثر حتی مادی زندگی میں اس کے اثر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اگر وہ تورات اور انجیل کو قائم رکھیں اور زندگی کے دستور العمل کے طور پر انھیں اپنی آنکھوں کے سامنے رکھیں او رجو کچھ پر ور دگار کی طرف سے ان پر نازل ہوا ہے اس سب پر عمل کریں چاہے وہ گذشتہ آسمانی کتب ہوں یا قرآن اور ان میں تفریق و تعصب کر راہ نہ دیں تو آسمان و زمین کی نعمتیں انھیں گھیر لیں گی( وَلَوْ اٴَنَّهُمْ اٴَقَامُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِیلَ وَمَا اٴُنزِلَ إِلَیْهِمْ مِنْ رَبِّهِمْ لَاٴَکَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اٴَرْجُلِهِمْ ) ۔

اس میں شک نہیں کہ تورات اور انجیل کو قائم اور بر پا رکھنے سے مراد ان کا وہ حقیقی حصہ ہے جو اس زمانے میں ان کے پاس موجود تھا نہ ان کے تحریف شدہ حصے جو کم و بیش قرائن سے پہنچا نے جاتے تھے اور ” وما انزل الیھم من ربھم “ سے مراد تمام آسمانی کتب اور خدائی احکام ہیں کیونکہ یہ جملہ مطلق ہے اور در حقیقت اس طرف اشارہ ہے کہ قومی تعصبات کو دینی او رالٰہی مسائل کے ساتھ نہیں ملانا چاہےئے ۔ یہاں عربوں اور یہودیوں کی آسمانی کتب کی بات نہیں ۔ اصل بات تو خدا ئی احکام کی ہے ۔ یہ کہہ کر قرآن چاہتا ہے کہ جس قدر ہو سکے ان کے تعصب کو کم کیا جائے اور ان کے قلب و روح کی گہرائیوں میں بات اثر کرسکے۔ اسی لئے تمام ضمیریں انھیں کی طرف لوٹتی ہیں (الیهم ، من ربهم ، من فوقهم ، من تحت ارجلهم )یہ سب کچھ اس بنا پر ہے کہ تاکہ وہ ہٹ دھرمی کی سواری اتر پڑیں اور یہ تصور نہ کریں کہ قرآن کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہودیوں نے عربوں کے سامنے سر جھا دیا بلکہ اس کا مطلب تو خدائے عظیم کے سامنے جھکا نا ہے ۔

اس میں شک نہیں کہ تورات و انجیل کے احکام کو قائم، کرنے سے مراد ان کے اصول پر عمل کرنا ہے کیونکہ جیسے ہم بار ہا کہہ چکے ہیں کہ تعلیمات ِ انبیاء کے اصول تمام جگہ ایک جیسے ہیں اور ان کے درمیان صرف کامل و اکمل کا فرق ہے او ریہ بات اس کے منافی نہیں کہ گذشتہ دین کے بعض احکام بعد والے دین کے بعض احکام کے ذریعے منسوخ ہو جا ئیں ۔

مختصر یہ کہ مندرجہ بالا آیت ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور د ے رہی ہے کہ آسمانی تعلیمات کی پیروری صرف بعد از موت کی زندگی کے اسباب مہیا کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ انسانوں کی تمام مادی زندگی کے لئے بھی مفید ہے ۔ یہ پیروی جماعتوں او رگروہوں کی صفوں کو منظم کرتی ہے ، تونائیوں کومجتمع کرتی ہے ،نعمتوں کو با بر کت کرتی ہے ، وسائل کو وسعت دیتی ہے ، زندگی کو خوش حال بناتی ہے اور امن و امان میں پیدا کرتی ہے ۔

ان عظیم مادی مسائل او ر فراوان انسانی توانائیوں پر ایک نظر ڈالی جائے کہ جو آج کی دنیا ئے انسانیت میں تعلیمات ِ انبیاء سے انحراف کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں تو ہم دیکھیں گے کہ سب تباہ کن ہتھیار وں ، بے سبب کشمکشوں اور ویران کن مساعی پر صرف ہورہی ہیں ۔آج دنیا کی جتنی دولت اور وسائل دنیا کی تباہی کے لئے استعمال ہو رہے ہیں وہ اصلاح و فلاح کے لئے استعمال ہونے والے مسائل سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ۔ آج کس قدر دماغی صلاحتیں جو جنگی ہتھیاروں کی تیاری اور استعماری و سامراجی مقاصد کے لئے استعمال ہورہی ہیں ۔ جو وسائل و ذرائع ، صلاحتیں ، اور توانائیاں فضول اور بے کار صرف ہورہی ہیں ان کی نوع ِ انسانی کس قدر ضرورت مند اور محتاج ہے ۔ یہ سب نہ ہوتا تو دنیا آج خو ب صورت ، زیبا او ررہنے کے قابل ہو تی ۔

ضمنی طور پر توجہ رہے کہ ” من فوقھم “ اور ” من تحت ارجلھم “ سے مراد یہ ہے کہ آسمان و زمین کی تمام نعمتیں انھیں گھیر لیں گی ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ اس بات کے لئے کنایہ ہو کہ یہ نعمات عمومیت رکھتی ہیں ۔ جیسا کہ عربی اور غیر عربی ادب میں کہا جاتا ہے کہ ” فلان شخص سر تا پا نعمتوں میں ڈوبا ہو اہے “ یعنی ہر طرف سے نعمتیں اسے گھیرے ہوئے ہیں ۔

یہ آیت یہودیوں کی اس گفتگو کا جواب بھی ہے کہ جو گذشتہ آیات میں ہم بڑھ چکے ہیں ۔ یعنی اگر تم دیکھتے ہوکہ خد اکی نعمتیں تم سے منقطع ہو چکی ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ ذات مقدس ِ خدا میں بخل آگیا ہے ۔ او راس کا ہاتھ بندھا ہوا ہے ، بلکہ یہ تو تمہارے اعمال ہی ہیں جو تمہاری مادی او رمعنوی زندگی میں منعکس ہو ئے ہیں او رتمہارے اعمال ہی نے تمہاری ہر طرح کی زندگی کو تاریک کردیا ہے اور جب تک تم نہیں پلٹو گے یہ تاریکیاں بھی نہیں پلٹیں گی ۔

آیت کے آخر میں ان میں سے ایک نیک اقلیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے : اگر چہ ان میں سے زیادہ تر تو بد کار ہی ہیں لیکن پھر بھی کچھ میانہ رو اور معتدل افراد ان میں موجود ہیں ( جن کا معاملہ خد اکے نزدیک اور مخلوق خدا کے نزدیک دوسروں سے مختلف ہے( مِنْهُمْ اٴُمَّةٌ مُقْتَصِدَةٌ وَکَثِیرٌ مِنهُمْ سَاءَ مَا یَعْمَلُونَ ) ۔

اہل کتاب میں سے نیک اور صالح اقلیت کے بارے میں سورہ اعراف آیہ ۱۵۹ اور ۱۸۱ اور سورہ آل ِ عمران آیہ ۷۵ میں بھی ایسی تعبیر دکھائی دیتی ہے ۔


فہرست

بیداری تیار رہنے اور خطرے کے مقابلے میں چوکس ۵

آیات ۷۲،۷۳ ۷

دشمن کے مقابلہ میں جہاد ۷

آیت ۷۴ ۹

تفسیر ۹

مومنین کو جہاد کے لئے آمادہ کرنا ۹

آیت ۷۵ ۱۱

تفسیر ۱۱

انسانی جذبوں کو مظلوموں کی مدد کے لئے ابھارا گیا ہے ۱۱

چند اہم نکات ۱۲

۱ ۔ اسلامی جہاد کے دو ہدف ۱۲

۲ ۔ معاشرے میں آزادیِ فکر و نظر ۱۲

۳ ۔ یاور سے پہلے رہبر ۱۲

۴ ۔ بار گاہ الہٰی میں دستِ نیاز ۱۳

آیت ۷۶ ۱۴

تفسیر ۱۴

آیت ۷۷ ۱۶

شان ِ نزول ۱۶


وہ جو صرف باتیں کرنا جانتے ہیں ۱۶

چند اہم نکات ۱۸

۱ ۔ صرف نماز اور زکوٰة کا تذکرہ کیوں ؟ ۱۸

۲ ۔ مکہ میں حکم زکوٰة ۱۸

۳ ۔ مکہ اور مدینہ میں مختلف لائحہ عمل ۱۸

آیات ۷۸،۷۹ ۲۰

تفسیر ۲۰

کامرانیوں اور شکستوں کا سر چشمہ ۲۲

ایک اہم سوال کا جواب ۲۳

آیات ۸۰،۸۱ ۲۵

تفسیر ۲۵

آیت ۸۲ ۲۸

تفسیر ۲۸

اعجاز قرآن کی زندہ مثال ۲۸

چند اہم نکات ۲۸

آیت ۸۳ ۳۰

تفسیر ۳۰

افواہیں پھیلانا ۳۰

غلط خبریں اور افواہیں پھیلانے کے نقصانات ۳۱

آیت ۸۴ ۳۳


شان ِ نزول ۳۳

ہر شخص اپنے فرائض کا جوابدہ ہے ۳۳

کلام خدا میں ” عسی ٰ“ اور ” لعل “ کے معنی ۳۵

آیت ۸۵ ۳۷

تفسیر ۳۷

اچھے یا برے کام کی تحریک دلانے کا نتیجہ ۳۷

آیت ۸۶ ۴۱

تفسیر ۴۱

احترام ِ محبت ۴۱

سلام عظیم اسلامی تحیہ ہے ۴۲

آیت ۸۷ ۴۶

تفسیر ۴۶

آیت ۸۸ ۴۷

شان نزول ۴۷

تفسیر ۴۷

آیت ۸۹ ۵۰

تفسیر ۵۰

ایک سوال ۵۱

جواب ۵۱

آیت ۹۰ ۵۲


شان ِنزول ۵۲

آیت ۹۱ ۵۵

شانِ نزول ۵۵

طرفین سے ساز باز رکھنے والوں کی سزا ۵۵

آیت ۹۲ ۵۷

شانِ نزول ۵۷

قتل اشتباہ کے احکام ۵۸

چند اہم نکات ۶۰

۱ -خسارے کی تلافی کے لئے احکام ۶۰

۲ ۔ مسلمانوں میں دیت سے صرف نظر ۶۰

۳ ۔ غیر مسلموں کے لئے دیت کا پہلے تذکرہ ۶۰

۴ ۔ اسلامی پیمانوں کی طبعی بنیاد ۶۱

۵ ۔ غلطی کی سزا؟ ۶۱

آیت ۹۳ ۶۲

شانِ نزول ۶۲

قتل عمد کی سزا ۶۲

کیا انسانی قتل ابدی سزا کا موجب ہے ۶۳

قتل کی اقسام ۶۶

قتل عمد ۶۶

قتل شبیہ عمد ۶۶


قتل اشتباہ ۶۶

آیت ۹۴ ۶۷

شان ِنزول ۶۷

تفسیر ۶۸

ایک سوال اور اس کا جواب ۶۹

آیت ۹۵ ۷۰

تفسیر ۷۰

چند اہم نکات ۷۳

بلاغت کا ایک پہلو ۷۳

”درجة“ ” درجات“ ۷۳

جہاد کی انتہائی تاکید ۷۳

آیات ۹۷،۹۸،۹۹ ۷۶

شانِ نزول ۷۶

تفسیر ۷۷

چند اہم نکات ۷۸

۱۔ روح کی استقامت ۷۸

۲ ۔ روح قبض کرنے والے ، ایک یا ایک ست زائد فرشتے ۷۸

۳ ۔ مستضعف کون ہے ؟ ۸۰

آیت ۱۰۰ ۸۱

تفسیر ۸۱


ہجرت. اسلام کا ایک اصلاحی حکم ۸۱

اسلام اور ہجرت ۸۲

آیت ۱۰۱ ۸۶

تفسیر ۸۶

نماز ِ مُسافر ۸۶

چند اہم نکات ۸۹

۱۔ نماز خوف ہر دور میں ہوسکتی ہے ۸۹

۲ ۔ دوران نمازِ خوف مسلح رہنے کے حکم میں فرق ۸۹

۳ ۔ مال و متاع کی حفاظت ۸۹

۴ ۔ نماز با جماعت کی اہمیت ۸۹

خیانت کرنے والوں کی حمایت نہ کرو ۹۲

آیات ۱۰۷،۱۰۸،۱۰۹ ۹۴

تفسیر ۹۴

آیات ۱۱۰،۱۱۱،۱۱۲ ۹۷

جو کسی مومن مرد یا عورت پر بہتان باندھے ۹۷

آیت ۱۱۳ ۱۰۱

اگر خدا کا فضل و رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتا تو ۱۰۱

انبیاء کا چشمہ عصمت ۱۰۲

آیت ۱۱۴ ۱۰۴

تفسیر ۱۰۴


سر گوشیاں ۱۰۴

آیت ۱۱۵ ۱۰۷

شانِ نزول ۱۰۷

تفسیر ۱۰۷

اجماع کی حجیت ۱۰۹

آیت ۱۱۶ ۱۱۱

تفسیر ۱۱۱

شرک.... ناقابل معافی گناہ ۱۱۱

آیات ۱۱۷،۱۱۸،۱۱۹،۱۲۰،۱۲۱ ۱۱۳

شیطانی سازشیں ۱۱۳

آیت ۱۲۲ ۱۱۷

شانِ نزول ۱۱۷

آیات ۱۲۳،۱۲۴ ۱۱۸

شانِ نزول ۱۱۸

سچے اور جھوٹے امتیازات ۱۱۸

ایک سوال کاجواب ۱۱۹

آیات ۱۲۵،۱۲۶ ۱۲۱

تفسیر ۱۲۱

خلیل کِسے کہتے ہیں ؟ ۱۲۲

آیت ۱۲۷ ۱۲۴


حقوق نسواں کے بارے میں مزید گفتگو ۱۲۴

آیت ۱۲۸ ۱۲۶

شانِ نزول ۱۲۶

صلح بہتر ہے ۱۲۶

آیات ۱۲۹،۱۳۰ ۱۲۹

ایک سے زیادہ شادیوں کے لئے عدالت شرط ہے ۔ ۱۲۹

ایک اہم سوال کا جواب ۱۳۱

آیات ۱۳۱،۱۳۲،۱۳۳ ۱۳۳

ایسی لا متناہی ملکیت اور بے پایاں قدرت ۱۳۳

آیت ۱۳۵ ۱۳۶

عدالت ِاجتماعی ۱۳۶

آیت ۱۳۶ ۱۳۹

شان ِ نزول ۱۳۹

تفسیر ۱۳۹

آیات ۱۳۷،۱۳۸،۱۳۹ ۱۴۱

ہٹ دھرم منافقین کا انجام ۱۴۱

آیت ۱۴۰ ۱۴۳

شان نزول ۱۴۳

بری مجلس میں نہ بیٹھو ۱۴۳

چند اہم نکات ۱۴۴


آیت ۱۴۱ ۱۴۵

تفسیر ۱۴۵

منافقین کی صفات ۱۴۵

آیات ۱۴۲،۱۴۳ ۱۴۷

تفسیر ۱۴۷

منافقین کی پانچ صفات ۱۴۷

آیات ۱۴۴،۱۴۵ ۱۴۹

مومنین کو تنبیہ ۱۴۹

آیت ۱۴۷ ۱۵۱

خدا کی سزا انتقامی نہیں ۱۵۱

آیات ۱۴۸،۱۴۹ ۱۵۲

اسلام کے چند اخلاقی احکام ۱۵۲

ظالم سے در گذر اس کی تقویت کا سبب نہیں ؟ ۱۵۳

آیات ۱۵۰،۱۵۱،۱۵۲ ۱۵۵

انبیا ء میں فرق نہیں ہے ۱۵۵

گناہ اور سزامیں تناسب ۱۵۶

آیات ۱۵۳،۱۵۴ ۱۵۸

شان نزول ۱۵۸

یہودیوں کی بہانہ سازی ۱۵۸

دواہم نکات ۱۶۰


آیات ۱۵۵،۱۵۶،۱۵۷،۱۵۸ ۱۶۱

یہودیوں کی کچھ اور کار ستانیاں ۱۶۱

آیت ۱۵۹ ۱۶۷

تفسیر ۱۶۷

ایک سوال اور اس کا جواب ۱۶۹

آیات ۱۶۰،۱۶۱،۱۶۲، ۱۷۰

یہودیوں میں سے صالح اور غیر صالح افراد کا انجام ۱۷۰

چند اہم نکا ت ۱۷۱

۱۔ یہودیوں کے لیے طیّبا ت کی حرمت : ۱۷۱

۲ ۔ کیا یہ حرمت عمومی تھی ؟ ۱۷۱

۳ ۔ سود کی حرمت قبل از اسلام سے ہے : ۱۷۱

یہودیو ں میں سے اہل ایمان ۱۷۲

آیات ۱۶۳،۱۶۴،۱۶۵،۱۶۶ ۱۷۳

تفسیر ۱۷۳

چند اہم نکات ۱۷۵

۱۔اسلام تمام ادیان کی خوبیوں کا امتزاج ہے : ۱۷۵

۲ -آسمانی کتب کی اقسام : ۱۷۵

پہلی قسم ۱۷۵

دو سر ی قسم ۱۷۶

۳ ۔ اسباط سے کیا مرا د ہے : ۱۷۶


۴ ۔ انبیا ء پر نزول وحی کی کیفیّت : ۱۷۶

آیات ۱۶۷،۱۶۸،۱۶۹ ۱۷۸

تفسیر ۱۷۸

آیت ۱۷۰ ۱۸۰

اے اہل کتاب : اپنے دین میں غلو (اور زیادہ روی ) نہ کرو ۱۸۰

آیت ۱۷۱ ۱۸۲

خیالی تثلیث ۱۸۲

تثلیث اور الوہیّت ِ مسیح کا ابطال ۱۸۳

تثلیث کے بارے میں چند اہم نکات ۱۸۷

۱ ۔ اناجیل میں عقیدئہ تثلیث نہیں ہے : ۱۸۷

۲ ۔ عقیدئہ ِ تثلیث خلا ف عقل ہے : ۱۸۷

۳ ۔ خدا ہر لحاظ سے یکتا ہے : ۱۸۸

۴ ۔ خدا انسانی لباس میں کیونکر ممکن ہے : ۱۸۸

۵ ۔ پر فریب تشبیہیں : ۱۸۹

۶ ۔ایک اور اشتباہ :۔ ۱۹۰

آیات ۱۷۲،۱۷۳ ۱۹۱

شانِ نز ول ۱۹۱

عیسیٰ خدا کے بندے ہیں ۱۹۱

دو اہم نکات ۱۹۲

۱ ۔ استنکفو ا اور استکبرو ا : ۱۹۲


۲ ۔ ملا ئکہ انکا رِ عبادت نہیں کرتے : ۱۹۳

آیات ۱۷۴،۱۷۵ ۱۹۴

نو رِ مبین ۱۹۴

آیت ۱۷۶ ۱۹۶

شانِ نزول ۱۹۶

بہن بھائی کی میراث کے چند احکام ۱۹۶

بہن بھائی کی میراث کے چند احکام ۱۹۷

سورةُ المَائدة ۱۹۹

آیت ۱ ۱۹۹

ایفائے عہدضروری ہے ۱۹۹

چنداہم نکات ۲۰۲

۱۔ ایک فقہی قاعدہ : ۲۰۲

۲ ۔ ایفائے عہد کی اہمیت: ۲۰۲

آیت ۲ ۲۰۶

ایک آیت میں آٹھ احکام ۲۰۶

نیکی میں ساتھ دینا ضروری ہے ۲۰۸

آیت ۳ ۲۱۲

تفسیر ۲۱۲

گوشت کے استعمال میں اعتدال ۲۱۶

دین کس روز اپنے کمال کو پہنچا ۲۱۷


ایک اہم سوال اور اس کا جواب ۲۲۳

اضطراری کیفیّت میں حرام گوشت کا حُکم ۲۲۴

آیت ۴ ۲۲۶

شان نزول ۲۲۶

حلال شکار ۲۲۶

( تعلّمونهن مما علّمکم الله ) ۔ میں چند نکات ۲۲۷

آیت ۵ ۲۲۹

اہل کتاب کا کھانا کھانا اور ان میں شادی بیاہ کرنا ۲۲۹

غیر مُسلم عورتوں سے شادی ۲۳۲

آیت ۶ ۲۳۵

جسم اور رُوح کی پاکیزگی ۲۳۵

وضو اور تیمم کا فلسفہ ۲۴۱

غُسل کا فلسفہ ۲۴۲

آیت ۷ ۲۴۵

خدا سے باندھے گئے پیمان ۲۴۵

آیات ۸،۹،۱۰ ۲۴۸

قیامِ عدالت کا تاکیدی حکم ۲۴۸

آیت ۱۱ ۲۵۲

تفسیر ۲۵۲

آیت ۱۲ ۲۵۴


پیمان شکنی کے باعث انھیں اپنی رحمت سے دور کردیا ۲۵۴

آیت ۱۳ ۲۵۷

یہودیوں کی تحریف ۲۵۹

کیا خدا کسی کو سنگدل بنا تا ہے ۲۵۹

آیت ۱۴ ۲۶۱

دائمی دشمن ۲۶۱

چند اہم نکات ۲۶۳

۱ ۔ ” اغوینا“ کا مفہوم : ۲۶۳

۲ ۔ ”عداوت “اور” بغضاء“کا مفہوم : ۲۶۳

۳ ۔ کیا یہودیت اور عیسائیت ہمیشہ موجود رہیں گی ؟ : ۲۶۳

آیات ۱۵،۱۶ ۲۶۵

تفسیر ۲۶۵

آیت ۱۷ ۲۶۸

کیسے ممکن ہے کہ مسیح (علیه السلام) خدا ہو؟۔ ۲۶۸

آیت ۱۸ ۲۷۱

اے اہل کتاب: ہمارا رسول تمہاری طرف آگیا ہے ۲۷۱

آیت ۱۹ ۲۷۴

تفسیر ۲۷۴

ایک سوال اور اس کا جواب ۲۷۵

آیات ۲۰،۲۱،۲۲،۲۳،۲۴،۲۵ ۲۷۶


بنی اسرائیل اور سر زمین ِ مقدس ۲۷۷

آیات ۲۷،۲۸،۲۹ ۲۸۵

روئے زمین پر پہلا قتل ۲۸۵

چند اہم نکات ۲۸۷

۱ آدم کے بیٹوں کے نام -: ۲۸۷

۲ ۔ ” قربان “ کامفہوم: ۲۸۷

۳ ۔ قبولیت کی دلیل کیا تھی : ۲۸۷

۴ ۔ ظلم کا پہلا سر چشمہ حسد ہے : ۲۸۸

آیات ۳۰،۳۱ ۲۸۹

ظلم پر پَردہ پوشی ۲۸۹

آیت ۳۲ ۲۹۳

انسانی رشتہ ۲۹۳

آیات ۳۳،۳۴ ۲۹۶

شان ِ نزول ۲۹۶

لوگوں کی جان و مال پر حملہ کرنے والوں کی سزا ۲۹۷

چند اہم نکات ۲۹۷

۱ ۔ خدا اور رسول سے جنگ کرنے سے کیا مراد ہے ؟ ۲۹۷

۲ ۔ ہاتھ پاوں کاٹنے کا کیا مطلب ہے ؟ ۲۹۷

۳ ۔ کیا چاروں سزائیں اختیاری ہیں : ۲۹۸

آیت ۳۵ ۳۰۱


توسل کی حقیقت ۳۰۱

قرآن اور توسل ۳۰۳

روایات ِ اسلامی اور توسل ۳۰۴

چند قابل توجہ باتیں ۳۰۷

آیات ۳۶،۳۷ ۳۰۹

تفسیر ۳۰۹

آیات ۳۸،۳۹،۴۰ ۳۱۰

چور کی سزا ۳۱۰

چند اہم نکات ۳۱۱

۱۔ چور کو سزا دینے کی شرائط: ۳۱۲

۲ ۔ ہاتھ کاٹنے کی مقدار : ۳۱۲

۳ ۔ کیا یہ سخت سزا ہے ؟ : ۳۱۲

۴ ۔ ایک اعتراض کا جواب : ۳۱۴

آیات ۴۱،۴۲ ۳۱۵

شان نزول ۳۱۵

آیت ۴۳ ۳۲۲

تفسیر ۳۲۲

آیت ۴۴ ۳۲۳

ہم نے تورات نازل کی ۳۲۳

آیت ۴۵ ۳۲۵


قصاص اور در گذر ۳۲۵

آیت ۴۶ ۳۲۸

تفسیر ۳۲۸

آیت ۴۷ ۳۳۰

وہ جو قانونِ الہٰی کے مطابق حکم نہیں کرتے ۳۳۰

آیت ۴۸ ۳۳۱

قرآن کے مقام و مرتبے کا تذکرہ ہے ۳۳۱

آیات ۴۹،۵۰ ۳۳۴

شانِ نزول ۳۳۴

تفسیر ۳۳۴

ایک سوال اور اس کا جواب ۳۳۵

آیات ۵۱،۵۲،۵۳ ۳۳۷

شان نزول ۳۳۷

تفسیر ۳۳۸

غیروں پہ تکیہ ۳۴۰

آیت ۵۴ ۳۴۲

آیت ۵۵ ۳۴۷

آیہ ولایت ۳۴۷

آیت لفظ ” انما“ سے شروع ہوتی ہے ۳۴۸

احادیث ، مفسرین اور مورخین کی شہادت ۳۴۹


اعتراضات کا جواب ۳۵۲

۱ ۔ ” الذین “ جمع کا صیغہ ہے : ۳۵۲

۲ ۔ حالت رکوع میں زکوٰة ؟ ۳۵۳

۳ ۔ لفظ ”ولی “ کا مفہوم : ۳۵۴

۴ ۔ حضرت علی (علیه السلام) پرواجب زکوٰة : ۳۵۴

۵ ۔ آیت میں ”ولایت بالفعل “کا ذکر ہے : ۳۵۵

۶ ۔ حضرت علی (علیه السلام) نے اس آیت سے خود استدلال کیوں نہیں کیا؟ ۳۵۶

۷ ۔ قبل اور بعد کی آیات سے آیہ ولایت کا ربط : ۳۵۶

۸ ۔ ایسی قیمتی انگوٹھی کہاں سے آئی تھی ؟ : ۳۵۷

آیت ۵۶ ۳۵۸

تفسیر ۳۵۸

آیات ۵۷،۵۸ ۳۶۰

شان نزول ۳۶۰

تفسیر ۳۶۰

اذان اسلام کا عظیم شعار ہے ۳۶۱

آیات ۵۹،۶۰ ۳۶۵

شان نزول ۳۶۵

عیسائی او ریہودی علماء انھیں گناہ آمیز باتوں او رمال ِ حرام ۳۶۵

آیات ۶۱،۶۲،۶۳ ۳۶۸

آیت ۶۴ ۳۷۲


آیات ۶۵،۶۶ ۳۷۶

اور اگر اہل کتاب ایمان لائے اور انھوں نے تقویٰ اختیار کیا تو ۳۷۶