عصرِ  غَیبتِ امامؑ میں  ہماری    ذمہ  داریاں
گروہ بندی امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
مصنف الحاج محمد تقی الموسوی الاصفہانی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


عصرِ غَیبتِ امامؑ میں

ہماری ذمہ داریاں

مصنف

الحاج محمد تقی الموسوی الاصفہانی

مترجم

عامر حسین شہانی


زیر سرپرستی حضرت قائم آلِ محمد عجل اللہ فرجہ الشریف

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔

نام کتاب:۔ عصرِ غَیبتِ امام ؑ میں ہماری ذمہ داریاں

تالیف:۔ الحاج محمد تقی الموسوی الاصفہانی

مترجم:۔ عامر حسین شہانی

تصحیح:۔ سید غیور زیدی

ترتیب و تدوین:۔ سید محمدحسن عسکری

پروف ریڈنگ :۔ ملک اختر عباس اعوان

تاریخ اشاعت:۔ دسمبر ۲۰۱۷

تعداد :۔ ۱۰۰۰

ناشر:۔ شہانی ڈاٹ نیٹ ، جامعۃ الکوثر اسلام آباد

موبائل:۰۳۱۴۵۷۸۸۱۱۲


فہرست

انتساب ۶

عرضِ مترجم ۷

مقدمۃ المرکز ۱۱

پہلا حصہ ۱۹

مقدمہ مصنف ۲۰

عصرِ غَیبتِ امامؑ میں ہماری ذمہ داریاں ۲۲

۱۔ پہلا عمل:۔ ۲۴

امام کی جدائی اور مظلومیت پر غمگین ہونا:۔ ۲۴

۲ ۔ دوسرا عمل:۔ ۲۴

انتظار ظہور:۔ ۲۴

۳۔ تیسراعمل:۔ ۲۵

امام ؑ کی جدائی اور مصیبت میں گریہ کرنا: ۲۵

۴ ۔ چوتھا عمل:۔ ۲۶

سر تسلیم خم کرنا اور ظہورکی باتوں میں عجلت سے پرہیز کرنا: ۲۶

۵ ۔ پانچواں عمل:۔ ۲۸

امامؑ کی طرف اپنے اموال ہدیہ کرنا: ۲۸

۶ ۔ چھٹا عمل:۔ ۳۰

سلامتی امام ؑ کے لیے صدقہ دینا: ۳۰


۷ ۔ ساتواں عمل:۔ ۳۰

صفات امام ؑکی معرفت حاصل کرنا : ۳۰

۸ ۔ آٹھواں عمل:۔ ۳۰

اللہ تعالی سے معرفت امام ؑ طلب کرنا: ۳۰

۹ ۔ نواں عمل:۔ ۳۱

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے اس دعا کو باقائدہ پڑھا جائے۔ ۳۱

۱۰ ۔ دسواں عمل:۔ ۳۲

۱۱ ۔ گیارہوں عمل:۔ ۳۲

۱۲ ۔ بارہوں عمل:۔ ۳۲

۱۳ ۔ تیرہواں عمل:۔ ۳۲

۱۴ ۔ چودہواں عمل:۔ ۳۳

اپنی مشکلات میں امام ؑ سے توسل کرنا ۳۳

۱۵ ۔ پندرہواں عمل:۔ ۳۳

امام کو اپنی دعاؤں میں اپنا شفیع قرار دینا: ۳۳

۱۶ ۔ سولہواں عمل:۔ ۳۴

اپنے دین پر ثابت قدم رہنا اور دیگر ادیان کی پیروی سے اجتناب کرنا۔ ۳۴

۱۷ ۔ سترہواں عمل:۔ ۳۷

۱۸ ۔ اٹھارواں عمل:۔ ۳۹

امام ؑ کی ذات مبارک پہ صلوات بھیجنا۔ ۳۹

۱۹ ۔ انیسواں عمل:۔ ۳۹


اما م علیہ السلام کے فضائل و مناقب بیان کرنا۔ ۳۹

۲۰ ۔ بیسواں عمل:۔ ۴۰

امام ؑ کے جمال مبارک کو حقیقت میں دیکھنے کا اشتیاق رکھنا: ۴۰

۲۱ ۔ اکیسواں عمل:۔ ۴۰

لوگوں کو امامؑ اور ان کے آباء طاہرین کی معرفت اورخدمت کی دعوت دینا۔ ۴۰

۲۲ ۔ بائیسواں عمل:۔ ۴۱

اذیت پر صبر کرنا: ۴۱

۲۳ ۔ تیئیسواں عمل:۔ ۴۱

اعمال صالحہ کا ہدیہ: ۴۱

۲۴ ۔ چوبیسواں عمل:۔ ۴۲

امامؑ کی زیارت بجا لانا: ۴۲

۲۵ ۔ پچیسواں عمل:۔ ۴۲

امام ؑ کے جلد از جلد ظہور کی دعا کرنا اور امام ؑ کے لیے اللہ سے فتح و نصرت طلب کرنا۔ ۴۲

فصل اول ۴۴

بعض دعائیں اور زیارات ۴۴

دوسری دعا:۔ ۴۵

تیسری دعا:۔ ۴۵

چوتھی دعا:۔ ۵۱

وہ صلوات پڑھنا کہ جو جمال الاسبوع میں اور بحار الانوار میں وارد ہوئی ہے ۵۱

پانچویں دعا:۔ ۵۵


زیارت: ۵۶

دعا عہد صغیر: ۶۱

نماز صاحب الزمان عجل اللہ فرجہ الشریف: ۶۲

فصل دوم ۶۴

دعا برائے تعجیل ظہور امام مہدی (عجل اللہ فرجہ الشریف) کے فوائد ۶۴

پہلا فائدہ: ۶۴

دوسرا فائدہ: ۶۵

تیسرا فائدہ: ۶۶

چوتھا فائدہ: ۶۶

پانچواں فائدہ: ۶۶

چھٹا فائدہ: ۶۷

ساتواں فائدہ: ۶۷

آٹھواں فائدہ: ۶۸

نواں فائدہ: ۶۸

دسواں فائدہ: ۶۹

گیارہواں فائدہ: ۶۹

بارہواں فائدہ: ۷۰

تیرہواں فائدہ: ۷۰

چودہواں فائدہ: ۷۰

غیبت امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے بارے میں بارہ احادیث ۷۳


توفیق پروردگار کے ساتھ اور وہی میرے لیے کافی ہے۔ ۷۳

پہلی حدیث:۔ ۷۴

دوسری حدیث:۔ ۷۴

تیسری حدیث:۔ ۷۵

چوتھی حدیث:۔ ۷۶

پانچویں حدیث:۔ ۷۶

چھٹی حدیث:۔ ۷۷

ساتویں حدیث:۔ ۷۷

آٹھویں حدیث:۔ ۷۸

نویں حدیث:۔ ۷۸

دسویں حدیث:۔ ۷۹

گیارہویں حدیث:۔ ۸۱

بارہویں حدیث:۔ ۸۲

فصل سوم ۸۳

پانچ علامات ظہور ۸۳

عریضہ بحضور حضرت صاحب الزمان عجل اللہ فرجہ الشریف:۔ ۸۴

عریضہ بحضور حضرت صاحب الزمان عجل اللہ فرجہ الشریف ۸۵

دوسراحصہ ۸۷

۲۶ ۔ چھبیسواں عمل:۔ ۸۹

۲۷ ۔ ستائیسواں عمل: ۹۲


۲۸ ۔ اٹھائیسواں عمل:۔ ۹۳

۲۹ ۔ انتیسواں عمل:۔ ۹۵

امامؑ کے لیے محبت و دوستی کا اظہار کرنا۔ ۹۵

۳۰ ۔ تیسواں عمل: ۔ ۹۶

امام ؑ کے انصار اور ان کےخادموں کے لیےدعا کرنا۔ ۹۶

۳۱ ۔ اکتیسواں عمل: ۹۶

امام ؑ کے دشمنوں پر لعنت کرے۔ ۹۶

۳۲ ۔ بتیسواں عمل:۔ ۹۶

اللہ سے توسل کرنا ۔ ۹۶

۳۳ ۔ تینتیسواں عمل:۔ ۹۷

امام ؑ کے لیے دعا کرتے وقت آواز بلندکرنا: ۹۷

۳۴ ۔ چونتیسواں عمل:۔ ۹۷

آپؑ کے اعوان وانصار پر صلوات بھیجنا۔ ۹۷

۳۵ ۔ پینتیسواں عمل :۔ ۹۷

امام ؑ کی نیابت میں خانہ کعبہ کا طواف بجا لانا۔ ۹۷

۳۶ ۔ چھتیسواں عمل:۔ ۹۸

امام ؑ کی نیابت میں حج بجا لانا۔ ۹۸

۳۷ ۔ سینتیسواں عمل:۔ ۹۸

امام ؑ کی نیابت میں حج کرنے کے لیے نائب بھیجے۔ ۹۸

۳۸ ۔ اڑھتیسواں عمل:۔ ۹۸


روزانہ کی بنیاد پر یا ہر ممکن وقت میں امام ؑ سے تجدید عہد و تجدید بیعت کرنا۔ ۹۸

۳۹ ۔ انتالیسواں عمل:۔ ۱۰۱

۴۰ ۔ چالیسواں عمل:۔ ۱۰۱

۴۱ ۔ اکتالیسواں عمل:۔ ۱۰۲

غیبت کبری کےدوران جو شخص امام کی نیابت خاصہ کا دعوی کرے اسے جھٹلانا۔ ۱۰۲

۴۲ ۔ بیالیسواں عمل:۔ ۱۰۲

امام کے ظہور کا وقت معین نہ کرنا۔ ۱۰۲

۴۳ ۔ تینتالیسواں عمل:۔ ۱۰۴

دشمنوں سے تقیہ کرنا: ۱۰۴

۴۴ ۔ چوالیسواں عمل:۔ ۱۰۷

گناہوں سے حقیقی توبہ کرنا: ۱۰۷

۴۵ ۔ پینتالیسواں عمل:۔ ۱۰۹

۴۶ ۔ چھیالیسواں عمل:۔ ۱۰۹

لوگوں کو امام ؑ سے محبت کی دعوت دینا۔ ۱۰۹

۴۷ ۔ سینتالیسواں عمل:۔ ۱۱۰

خلاصہ: ۱۱۶

۴۸ ۔ اڑتالیسواں عمل:۔ ۱۱۶

حضرت صاحب الزمان ؑ کی نصرت پر اتفاق اور اجتماع کرنا۔ ۱۱۶

۴۹ ۔ انچاسواں عمل:۔ ۱۱۷

اپنے واجب مالی حقوق زکوٰۃ ،خمس اور سھم امام ؑ کی ادائیگی کا اہتمام کریں ۔ ۱۱۷


نوٹ:۔ ۱۱۷

۵۰ ۔ پچاسواں عمل:۔ ۱۲۲

المرابطہ ۱۲۲

پہلی قسم: ۱۲۲

دوسری قسم:۔ ۱۲۴

۵۱ ۔ اکیاونواں عمل:۔ ۱۲۶

اپنے اندر صفات حمیدہ اور اخلاق کریمہ پیدا کریں ۔ ۱۲۶

۵۲ ۔ باون واں عمل:۔ ۱۲۸

جمعہ کے دن امام عجل اللہ فرجہ الشریف سے متعلقہ دعا ء ندبہ پڑھنا۔ ۱۲۸

۵۳ ۔ ترپن واں عمل:۔ ۱۲۸

۵۴ ۔ چون واں عمل:۔ ۱۳۰

فصل چہارم ۱۳۶

حضرت صاحب العصرعجل اللہ فرجہ الشریف کی صفات و خصوصیات کی معرفت ۱۳۶

پہلی خصوصیت: ۱۳۶

دوسری خصوصیت: ۱۳۷

تیسری خصوصیت: ۱۳۷

چوتھی خصوصیت: ۱۳۸

پانچویں خصوصیت: ۱۳۸

چھٹی خصوصیت : ۱۳۹

ساتویں خصوصیت: ۱۳۹


آٹھویں خصوصیت: ۱۳۹

نویں خصوصیت: ۱۴۰

دسویں خصوصیت : ۱۴۰

گیارہویں خصوصیت: ۱۴۰

بارہویں خصوصیت: ۱۴۱

تیرہویں خصوصیت: ۱۴۱

چودہویں خصوصیت: ۱۴۱

پندرہویں خصوصیت: ۱۴۲

سولہویں خصوصیت: ۱۴۲

سترہویں خصوصیت : ۱۴۲

اٹھارویں خصوصیت: ۱۴۳

انیسویں خصوصیت: ۱۴۳

بیسویں خصوصیت: ۱۴۴

فصل پنجم ۱۴۶

دعاء عہد (مشہور) ۱۴۶

شیعوں کے نام امام زمانہ کا کھلا خط ۱۴۹



انتساب

اپنے پیارے ماں باپ کے نام

جن کی پر خلوص دعائیں ہر قدم پر

میرے لیے کامیابی کی نوید ہیں۔


عرضِ مترجم

ہادئ ِ دوراں ، حجت خدا ،صاحب العصر والزماں ، منجئِ عالمِ بشریت حضرت امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کی ذات والا صفات ناصرف اس دنیا میں موجود ہے بلکہ کسی نا کسی ذریعہ سے ان کی ذات بابرکت اہل دنیا کے لیے ہدایت و رہنمائی کا سبب بھی ہے۔دنیا کے اختتام اورقیامِ قیامت سے قبل اللہ تعالی کی طرف سے اس آخری حجت اور بقیۃ اللہ کا ظہور ِ پر نور واقع ہوگا اور آپ دنیا سے ظلم و جور کا خاتمہ کرکے اسے عدل و انصاف اور امن و آشتی کا گہوارہ بنادیں گے۔آپ ؑ پوری دنیا میں اسلام کا نفاذ فرمائیں گے اور یوں آپ ؑکے زمانہ میں دینِ الہی دنیا کے تمام ادیان پر غالب آجائے گا۔

آخری زمانہ میں امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور کے بارے میں ناصرف تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے بلکہ دنیا کے تمام مذاہب میں کسی نا کسی طرح یہ عقیدہ موجود ہے۔ پوری دنیا ایک ایسے منجی اور مسیحا کے انتظار میں ہے جو دنیا سے ظلم و جور کا خاتمہ کرکے اسے عدل و انصاف سے بھر دے گا۔


مذہب شیعہ خیرالبریہ کے عقیدہ کے مطابق امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف نا صرف پیدا ہوچکے ہیں بلکہ اس دنیا میں ہمارے درمیان موجود ہیں اور خدائی حکم کے بعد باقاعدہ ظہور فرمائیں گے۔متعدد روایات میں امام ؑ کے ظہور کے لیے باقاعدہ تیار رہنے کی تاکید کرتے ہوئے زمانہ ء غیبت میں عوام کی زمہ داریاں بیان کی گئی ہیں ۔

کچھ عرصہ قبل ہم چند دوستوں نے مل کر امام ِ زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے موضوع پر کچھ نا کچھ کام کرنے کا فیصلہ کیا۔یوں ہم نے سب سے پہلے مھدویت کے موضوع پر میسر تمام کتابوں کی فہرست تیار کی اور ان میں بیان کیے گئے موضوعات کی ایک فہرست تیار کی۔بعد میں ان موضوعات کو تقسیم کرکے ان پر مفصل مقالات لکھنے شروع کیے۔مقالاجات لکھنے کے دوران ہم نے دیکھا کہ مھدویت کے موضوع پراردو میں بہت کم کتابیں موجود ہیں ۔ لہذا ہم نے فیصلہ کیا کہ اب مھدویت کے موضوع پر مختلف کتابوں کا عربی سے اردو میں ترجمہ کریں گے۔یہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔

میں سب سے پہلے استاد بزرگوار علامہ محمد علی فاضل دام ظلہ کا بہت شکر گزار ہوں جنہوں نے ابتداء میں ترجمہ کے حوالے سے میری کافی رہنمائی فرمائی۔اسی طرح اپنے شفیق استادِ ذی قدر علامہ ظفر عباس شہانی کا ممنون ہوں کہ انہوں نے اپنی مقبول عام ویبسائٹ شہانی ڈاٹ نیٹ کے توسط سے اس کتاب کی نشر و اشاعت کو ممکن بنایا۔میں شکر گزار ہوں ادیب و شاعرِ اہلبیت جناب سید


غیور زیدی کا جنہوں نے اس کتاب کی تصحیح کے لیے اپنا قیمتی وقت دیااور اپنے دوست شعیب حسین ہاشمی کا کہ جنہوں نے اس بہترین کام کی تشویق دلائی۔میں شکر گزار ہوں اپنے مباحثی اور بہترین دوست ملک اختر عباس اعوان کا جنہوں نے کمپوزنگ اور پروف ریڈنگ کے سلسلے میں خصوصی تعاون فرمایااور برادر عزیز سیدمحمد حسن عسکری کا جنہوں نے ترتیب وتدوین اور پبلشنگ کے مراحل میں تعاون فرمایا ۔اللہ تعالیٰ ان سب حضرات کو اجر عظیم عطاء فرمائے۔آمین

میں امید کرتاہوں کہ یہ کتاب منتظرانِ مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے لیے ایک بہترین کتاب قرار پائے گی اور ہم سب اس کتاب میں مذکور عصرِ غیبت میں اپنی ذمہ داریوں پہ عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں گے۔

خدا وند متعال سے دعا ہے کہ وہ امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل فرمائے اور ہمیں ان کے حقیقی منتظرین اور سچے شیعوں میں سے قرار دے اورعصرِ غیبت میں ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور ان پر عمل پیرا ہو کر ظہورِ امام کے لیے تیار ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

عامر حسین شہانی

متعلم علومِ محمد و آل محمدعلیھم السلام جامعۃ الکوثر اسلام آباد



مقدمۃ المرکز

الحمد لله رب العالمین و صلی الله علی سیدنا محمد و آله الطاهرین

امام مہدی منتظرعجل اللہ فرجہ الشریف پر اعتقاد رکھنا ان امور میں سےہے جن پر مسلمانوں کے درمیان اجماع قائم ہے۔بلکہ یہ ان ضروریات و بدیہات میں سے ہے کہ جن میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔

رسول خدا ﷺسے مروی صحیح اور متواتر احادیث کے مطابق اللہ تعالی آخری زمانے میں خاندان اہل بیت میں سے ایک مرد کو بھیجے گا کہ جو زمین کو اس طرح عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی اور یہ بھی مروی ہے کہ ان کا ظہور اس قدر حتمی ہے کہ جس کے برخلاف نہیں ہو سکتا۔حتی کہ اگر دنیا کی زندگی میں سے ایک دن بھی بچ گیا تو خدا اسے اتنا طویل کر دےگا کہ اس میں حضرت کاظہور ہوجائے گا۔

حضرت ؑ کے ظہور کی بابت بھلا ایسا کیوں نہ ہو ۔ کیااللہ کے اس وعدہ کے برخلاف ہو سکتا ہے کہ جو اس نے اپنے دین کو تمام ادیان پہ غالب کرنے کے لیے


کیا ہے۔چاہے مشرکین کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔؟ اور اللہ نے جو وعدہ کیا ہے کہ وہ مستضعفین (کمزور کر دیئے گئے) مومنین کو زمین پر خلافت دے گا اور انھیں اپنے اس پسندیدہ دین پر ثابت قدم رکھے گا اورانھیں خوف کے بعدامن سے نوازے گاتاکہ وہ اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔تو پھر بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا کا یہ وعدہ پورا نہ ہو۔؟

تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ امام مھدی ، اہل بیت میں سے ہیں اور اولاد فاطمہ میں سے ہیں اورامامیہ اور بہت سے اہل سنت علماء کا اس بات پر بھی اجماع ہے کہ وہ امام حسین ؑکی اولاد میں سے ہونگے۔اسی طرح اس بات پر بھی امامیہ اور کچھ اہل سنت علماء کا اجماع ہے کہ وہ امام حسن عسکریؑ کی اولاد میں سے ہونگے۔اسی طرح انہوں نے امامؑ کے اسم مبارک اور ان کی صفات اور کامل شخصیت کو بھی ثابت کیا ہے۔

تمام اہل علم جانتے ہیں کہ امامیہ اور بعض اہل سنت علماء کا عقیدہ ہے کہ امام مھدیؑ پیدا ہوچکے ہیں اور اس وقت زندہ ہیں اور رزق پاتے ہیں لیکن نظروں سے غائب ہیں اور یہ امت اس بات سے کیسے انکار کرتی ہے کہ اللہ تعالی کچھ وقت کے لیے اپنی حجت کو چھپا لے؟ اور امت اس بات سے کیسےانکاری ہو سکتی ہے کہ اللہ اپنی حجت کو وہی شان دے جو اس نے حضرت یوسف کو دی کہ وہ ان کے بازاروں میں چلتے بھی ہوں ،ان کے درمیان رہتے بھی ہوں لیکن لوگ انہیں


پہچانتے بھی نہ ہوں یہاں تک کہ اللہ تعالی اپنے اذن سے انہیں امام کی پہچان اسی طرح کرادے جس طرح اس نے یوسفؑ کے لیے اذن دیا تھا۔

قَالُوْا ءَ اِنَّكَ لَاَنْتَ يُوْسُفُ قَالَ اَنَا يُوْسُفُ وَهذَا اَخِيْ (۱)

ترجمہ: وہ کہنے لگے : کیا واقعی آپ یوسف ہیں ؟ کہا: میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے،

کیا رسولﷺ اپنی امت میں دو گراں قدر چیزیں کتاب خدا اوراپنی عترت چھوڑ کر نہیں گئے؟

کیا نبی ﷺنے یہ نہیں فرمایا کہ یہ دونوں کبھی جدا نہ ہونگے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں ؟

کیا رسول ﷺ نے یہ نہیں بتایا تھا کہ میرے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے جو سب کے سب قریش سے ہوں گے؟

کیا یہ نہیں بتایا کہ ان کے خلفاء کی تعداد حضرت موسی ؑ کے نقیبوں کی تعداد کے برابر ہوگی؟ اور جب اللہ تعالی نے انسانی اعضاء کو بھی یونہی خالی نہیں چھوڑا اور قلب کو ان کا امام مقرر کیا تاکہ وہ جن امور میں شک کریں انھیں اس

____________________

۱:- سورۃ یوسف :۰۹ اور استدلال یہاں سے لیا:الکافی ج۱ ص۳۳۷


قلب کی طرف پلٹا کر یقین حاصل کریں اور شک کو باطل کریں۔تو پھریہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ اللہ تعالی اس پوری مخلوق کو حیرت وسرگردانی اور شکوک و شبہات و اختلافات کی حالت میں تنہا چھوڑ دے اور ان کے لیے کوئی ایسا امام مقرر نہ کرے کہ جس کی طرف اپنے شکوک کو پلٹا کر دور کر سکیں ؟(۱)

اور اس کا یہ قول حق ہے کہ:

فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَٰكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ

” حقیقتاً آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہوتے ہیں۔ “(۲)

اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے بارے میں شیعہ عقیدہ جوکہ مضبوط عقلی و نقلی دلائل پر قائم ہے، اس عقیدے کو ان لوگوں کے عقیدے پر بہت بڑی ترجیح حاصل ہے جو کہتےہیں کہ امام مہدیؑ ابھی تک پیدا ہی نہیں ہوئے۔

____________________

۱:- مومن طاق کا عمرو بن عبید کے ساتھ مناظرہ۔ کمال الدین ج۱ ص۲۰۷ ح۲۳

۲:- سورۃالحج:۴۶


ہر صاحب عقل اس کا اقرار کر ے گا جبکہ صادق و مصدق نبیؐ کا یہ قول بھی گواہ ہے :

مَنْ ماتَ وَ لَمْ يَعْرِفْ إمامَ زَمانِهِ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّة

"جو بھی اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مر گیا وہ جاہلیت کی موت مرا ہے۔"(۱)

اس بات کی طرف خصوصی توجہ رہے کہ ایک زندہ امام کی موجودگی کااحساس عقیدہ مذہب کو ایسی بے نیازی اور حیات جاوداں عطا کرتا ہے کہ جو صاحبان عقل و بصیرت سے مخفی نہیں ہے۔(۲)

____________________

۱:- ایک مشہور حدیث ہے کہ جسے طرفین کے علماء نے اپنی احادیث کی بڑی کتابوں میں مختلف تعبیرات کے ساتھ نقل کیا ہےکہ جن کا مضمون ایک ہی ہے۔بطور مثال:مسند احمدج۳ ص۴۴۷ و ج۴ ص۹۶، المعجم الکبیر للطبرانی ج۱۲ ص۳۳۷ اور ج۱۹ ص۳۳۵ اور ج۲۰ ص۸۶، طبقات ابن سعد ج۵ ص۱۴۴، مصنف ابن ابی شیبہ ج۸ ص۵۹۸ ح۴۲۔اسی طرح تفاسیرمیں آیۃ یوم ندعوا کل اناس بامامھم کی تفسیر دیکھیے۔فردوس دیلمی ج۵ ص۵۲۸ ح۸۹۸۲

۲:- دیکھیے مستشرق فرانسی فیلسوف ھنری کاربون کے علامہ طباطبائی کے ساتھ مباحث کتاب الشمس الساطعہ میں


اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایک مومن کو جب یہ احساس ہو کہ اس کا امام اس کے ساتھ ہے اور جس طرح میں دیکھتا ہوں وہ بھی دیکھ رہے ہیں اور جس طرح میں ان کے جلدی ظہور کا انتظارکر رہا ہوں وہ بھی کر رہے ہیں تویہ احساس اسے ثبات قدم اور دوگنی طاقت عطا کرتا ہے۔ اور وہ اس کے ذریعے بہت زیادہ کوشش اور سخت مشقت سے کام لیتے ہوئے اپنا تزکیہ نفس کرتا ہےاور اپنے نفس کو صبر سے کام لینے اور امام سے گہرا تعلق قائم کرنے پر آمادہ کرتاہے تاکہ اس کاشمار بھی ظہور مھدیؑ کے حقیقی منتظرین میں سے قرار پائے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اگر امامؑ کے شیعوں کے دل اپنے امامؑ سے کئے گئے عہد کو پورا کرنے کے لیے جمع ہوجائیں تو ملاقات ِامامؑ کی برکت سے محروم نہیں رہیں گے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ امامؑ سے ہماری ملاقات میں رکاوٹ ہمارے اپنے وہ اعمال ہیں کہ جو امامؑ کو ناپسند ہیں۔(۱)

کوئی اس بات میں شک نہ کرے کہ امامؑ غائب (جوکہ صرف نام کی حد تک غائب ہیں ورنہ حقیقت میں تو حاضر ہیں) کی طرف سےاپنے شیعوں کے لیے ثبات قدم اور ان کے مذہب کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کی جارہی ہے۔جیسا کہ کوئی اس بات میں شک نہیں کرتا کہ سورج اگر بادلوں کی اوٹ میں بھی چلا جائے تب بھی اس کی ضرورت و اہمیت باقی رہتی ہےاور اس کا فائدہ پہنچتا رہتا ہے ایسا

____________________

۱:- دیکھیے احتجاج طبرسی ج۲ ص۳۲۵، بحارالانوار ج۵۳ ص۱۷۷


کیسے نہ ہو اس لیے کہ اگر امام ؑ کی خصوصی توجہ اور دعا نہ ہوتی تو دشمن ان کے شیعوں کو ختم کرچکے ہوتے۔ لہذا شیعوں میں سے کوئی اس بات میں شک نہیں کرتا کہ ان کا امامؑ اہل زمین کے لیے امان ہیں ایسے ہی جیسے ستارے آسمان والوں کے لیے امان ہیں۔(۱)

آئمہ معصومینؑ سے مروی کثیر روایات میں شیعوں کا اپنے امامؑ سے ربط و تعلق بیان کیا گیا ہے۔بعض روایات کے مطابق آپؑ ایام حج میں تشریف لاتے ہیں اور لوگوں کو دیکھتے اور پہچانتے ہیں جبکہ لوگ بھی آپؑ کو دیکھتے تو ہیں لیکن پہچانتے نہیں۔(۲)

امام ؑکی بابت یہ بھی مروی ہے کہ امامؑ مومنین کی محفلوں وغیرہ میں جاتے ہیں اور ان کے درمیان چلتےپھرتے ہیں۔(۳)

اسی طرح بہت سی روایات انتظارکی فضیلت اور ظہور فرج کے لیے کثرت دعا کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں بے شک اسی میں شیعوں کے لیے کشائش ہے۔

____________________

۱:- نبیؐ نے فرمایا:ستارے آسمان والوں کے لیے امان ہیں اور میرے اہل بیتؑ زمین والوں کے لیے امان ہیں۔ علل الشرئع ج۱ ص۱۲۳، کمال الدین ج۱ ص۲۰۵ ح۱۷-۱۹

۲:- وسائل الشیعہ ج۱۱ ص۱۳۵،بحارالانوار ج۵۲ ص۱۵۲

۳:- الکافی للکلینی ج۱ ص۳۳۷ ح۴


مرکزالدراسات التخصصۃ فی امام المہدیؑ نے امامؑ سے مربوط مختلف پروگرامز پہ کام کرنے کا مشن اٹھا رکھا ہے۔چاہے وہ طباعت و نشر کتب سے متعلق ہوں یا امامؑ کے بارے میں علمی مجالس و محافل کا انعقاد کرنا اور انھیں کتابی صورت میں شائع کرنا اور نیٹ پہ پھیلانا وغیرہ۔یہ مرکز امام مہدیؑ کےبارے میں مختلف کتابیں نشر کرتا رہتا ہے تاکہ عقیدہ مہدویت کو پروان چڑھائیں اور مکتب تشیع کی سر بلندی کا باعث بنیں۔ خدا سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قوت دے اورہماری کوششوں میں برکت ڈالے اور اس کے لیے اپنا عمل خالص کرنے کی توفیق دے۔الحمد للہ رب العالمین۔

یہ کتاب الحاج محمد تقی موسوی الاصفہانی کی تالیف ہے۔اس کتاب کی تحقیق و ترتیب میں ہم نے سید البطحاء کے مدرسہ امام مہدیؑ پر اعتماد کیا اور بعض جگہوں پر ضرورت کے مطابق اضافات بھی شامل کیے ہیں۔اور اللہ ہی سے توفیق کے طالب ہیں۔

السید محمد القبانجی

مرکزالدراسات التخصصۃ

فی امام مھدی

نجف اشرف


پہلا حصہ


مقدمہ مصنف

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على خاتم المرسلين وآله المعصومين، ولاسيما إمام زماننا خاتم الوصيّين، ولعنة الله على أعدائهم أجمعين أبد الآبدين.

أما بعد، فيقول غريق الآمال والأماني (محمد تقي بن عبد الرزاق الموسوي الاصفهاني) _ عفى الله عنهما _ لإخوانه في الإيمان:

لقد جمعت في هذا الكتاب المختصر جملة من الأعمال بعنوانها وظيفة المؤمنين في زمان غيبة صاحب الزمان صلوات الله عليه أي حضرة الحجة ابن الحسن بن علي بن محمد بن علي بن موسى بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب عليهم السلام.

وهي أربع وخمسون أمراً يليق بالمؤمنين المواظبة عليها والعمل بها.وسمّيته بـوظيفة الأنام في زمن غيبة الإمام

ومن الله التوفيق.

امیدوں اور آرزؤں میں ڈوبا ہوا (محمد تقی بن عبد الرزاق بن محمد بن موسی الاصفہانیٰ) اپنے مومن بھائیوں سے کہتا ہے:


"میں نے صاحب الزمان حضرت حجۃ ابن الحسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی ابن ابی طالب علیھم السلام کے زمانہ غیبت میں مومنین کی ذمہ داریوں کے عنوان سے اس مختصر کتاب میں کچھ اعمال جمع کئے ہیں۔ یہ کل چون (۵۴)اعمال پر مشتمل ہیں۔مومنین کو چاہیے کہ انہیں پابندی سے انجام دیتے رہیں۔

میں نے اس کتاب کا نا م "وظیفۃ الانام فی عصر غیبۃ الامام" (عصرِ غیبتِ امامؑ میں ہماری ذمہ داریاں ) رکھا ہے اور میں اللہ ہی سے توفیق طلب کرتا ہوں۔


عصرِ غَیبتِ امامؑ میں ہماری ذمہ داریاں



۱۔ پہلا عمل:۔

امام کی جدائی اور مظلومیت پر غمگین ہونا:۔

جیسا کہ الکافی میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے:

نَفَسُ اَلْمَهْمُومِ لَنَا اَلْمُغْتَمِّ لِظُلْمِنَا تَسْبِيحٌ

"ہماری مظلومیت پر غمگین شخص کا سانس لینا تسبیح شمار ہوتا ہے۔"(۱)

۲ ۔ دوسرا عمل:۔

انتظار ظہور:۔

کتاب کمال الدین میں حضرت امام محمد تقی علیہ السلام سے مروی ہے:

إِنَّ اَلْقَائِمَ مِنَّا هُوَ اَلْمَهْدِيُّ اَلَّذِي يَجِبُ أَنْ يُنْتَظَرَ فِي غَيْبَتِهِ وَ يُطَاعَ فِي ظُهُورِهِ وَ هُوَ اَلثَّالِثُ مِنْ وُلْدِي ۔۔۔

"بے شک قائم ہم میں سے ہیں اور وہ مہدیؑ ہیں کہ جن کی غیبت کے دوران ان کا انتظارکرنا اور ظہور کے بعد ان کی اطاعت کرنا واجب ہے اور وہ میری اولاد میں سے تیسرے ہیں۔۔۔"(۲)

____________________

۱:- الکافی ج۲ ص۲۲۶ ح۱۶

۲:- کمال الدین ج۲ ص۳۳۷ ح۱ بحوالہ بحارالانوار ج۵۱ ص۱۵۷ ح۱


اسی طرح امیرالمومنین امام علی علیہ السلام سے مروی ہے:

أَفْضَلُ اَلْعِبَادِةِ اَلصَّبْرُ وَ اِنْتِظَارُ اَلْفَرَجِ

"صبر کرنا اور ظہور کا انتظار کرنا افضل عبادت ہے۔"(۱)

ایک اور حدیث میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے:

مَنْ مَاتَ مِنْكُمْ وَ هُوَ مُنْتَظِرٌ لِهَذَا اَلْأَمْرِ كَمَنْ هُوَ مَعَ اَلْقَائِمِ فِي فُسْطَاطِهِ

"تم میں سے جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ ظہور مہدی ؑ کا منتظر ہو تو وہ ایسے ہی ہے جیسے قائم کے ساتھ ان کے خیمہ میں ہو۔"(۲)

میں نے اس موضوع کو تفصیل کےساتھ کتاب مکیال المکارم میں ذکر کیا ہے۔(۳)

۳۔ تیسراعمل:۔

امام ؑ کی جدائی اور مصیبت میں گریہ کرنا:

کتاب کمال الدین میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے:

____________________

۱:- تحف العقول ص۲۰۱

۲:- بحار الانوار ج۵۲ ص۱۲۷ ح۱۸

۳:- مکیال المکارم ج۲ ص۱۴۱


وَ اَللَّهِ لَيَغِيبَنَّ إِمَامُكُمْ سِنِيناً مِنْ دَهْرِكُمْ وَ لَتُمَحَّصُنَّ حَتَّى يُقَالَ مَاتَ قُتِلَ او هَلَكَ بِأَيِّ وَادٍ سَلَكَ وَ لَتَدْمَعَنَّ عَلَيْهِ عُيُونُ اَلْمُؤْمِنِينَ

"خدا کی قسم تمہارا امام کئی سال تک غائب رہے گا۔یہاں تک کہ کہا جائے گا کہ کیا وہ مر گیا یا ہلاک ہوگیا ؟ یا پھر کس وادی میں چلاگیا ہے۔ اور یقینا مومنین کی آنکھیں ان پر آنسو بہائیں گی۔"(۱)

اور حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے مروی ہے کہ فرمایا:

مَنْ تَذَكَّرَ مُصَابَنَاوَ بَكَى لِمَااُرْتُكِبَ مِنَّا كَانَ مَعَنَا فِي دَرَجَتِنَا يَوْمَ اَلْقِيَامَةِ

"جو ہمارے مصائب یاد کرے اورہم پر ہونے والے مظالم یاد کرکے گریہ کرے تو بروز قیامت ہمارے ساتھ بلند درجہ پر ہوگا۔"(۲)

۴ ۔ چوتھا عمل:۔

سر تسلیم خم کرنا اور ظہورکی باتوں میں عجلت سے پرہیز کرنا:

یعنی ظہور امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے معاملے میں اس طرح کی باتیں نہ کرنا کہ (ظہور کیوں نہیں ہورہا؟ آخرکس لیے؟) بلکہ جوکچھ ان کی

____________________

۱:- کمال الدین ج۲ ص۳۴۷ ح۳۵

۲:- امالی الصدوق المجلس ۱۸ ح۴ بحوالہ بحارالانوار ج۴۴ ص۲۷۸ ح۱


طرف سے پہنچا ہے اس پر سر تسلیم خم کرے اور اسے حکمت کے عین مطابق سمجھے۔

کتاب کمال الدین میں حضرت امام محمد تقی علیہ السلام سے مروی ہے :

"میرے بعد میرا بیٹا علیؑ (نقی)امام ہے۔ان کا حکم میرا حکم اور ان کا قول میرا قول ہے۔اوران کی اطاعت میری اطاعت ہے اور ان کے بعد ان کا بیٹا حسن ؑ(عسکری) امام ہے۔ان کا حکم ان کے باپ کا حکم اور ان کا قول ان کے باپ کا قول ہےاور ان کی اطاعت ان کے باپ کی اطاعت ہے۔"

پھر امام خاموش ہوگئے ۔

راوی کہتا ہے میں نے پوچھا :"اے فرزند رسولؐ پھر حسنؑ (عسکری)کے بعد کون امام ؑ ہونگے؟ "تو امام ؑ نے شدید گریہ کرنے کے بعد فرمایا:

"بےشک حسنؑ (عسکری) کے بعدان کا بیٹا جوکہ حق کوقائم کرنے والا ہے ، ان کا انتظار کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا انھیں قائم کیوں کہتے ہیں؟ تو فرمایا کیونکہ وہ اس وقت قیام کریں گے جب ان کا ذکر مٹ چکا ہوگا اور ان کی امامت کا اقرار کرنے والوں میں سے اکثر مرتد ہوجائیں گے۔اور پھر میں نے پوچھا انہیں منتظر کیوں کہتے ہیں ؟ فرمایا: کیونکہ ان کے لیے ایسی غیبت ہوگی کہ جس کے دن کثیر اور مدت طویل ہوگی۔پس مخلص لوگ ان کے ظہور کا انتظار کریں گے اور شک میں پڑنے والے انکار کریں گےاور منکرین ان کے ذکر کا مذاق اڑائیں گے اور وقت معین کرنے والے ان کی غیبت کو جھٹلائیں گے۔اور ظہور میں عجلت کے


طلبگار اس غیبت میں ہلاک ہوجائیں گے اور سرتسلیم خم کرنے والے زمانہ غیبت میں نجات پائیں گے۔"(۱)

۵ ۔ پانچواں عمل:۔

امامؑ کی طرف اپنے اموال ہدیہ کرنا:

جیسا کہ کتاب الکافی میں حضرت امام جعفر صادق ؑ سے مروی ہے کہ فرمایا:

"کوئی چیز اللہ کو اس درہم سے زیادہ پسند نہیں جو امام کی طرف بھیجا جائے اوراللہ اس کے لیے جنت میں احد کی پہاڑی کے برابر وہ درہم قرار دے گا۔پھر فرمایا اللہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے :

مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً (۲)

کوئی ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے تاکہ اللہ اسے کئی گنا زیادہ دے؟

قَالَ هُوَ وَ اَللَّهِ فِي صِلَةِ اَلْإِمَامِ خَاصَّةً

____________________

۱:- کمال الدین ج۲ ص۳۷۸، کفایۃ الاثر ص۲۷۹، بحارالانوار ج۵۱ ص ۱۵۷ ح۵۲

۲:- سورۃ البقرۃ :۲۴۵


فرمایا: خداکی قسم یہ اجر امام کی طرف بھیجے گئے مال کے ساتھ خاص ہے۔"(۱)

بہر کیف اب جبکہ ہمارےامام ؑ غائب ہیں تو مومن کو چاہیے کہ وہ جو مال امام کو ہدیہ کرنا چاہتا ہے اسے ان کاموں میں استعمال کرے جن میں امام ؑ کی رضا ہو۔جیسے وہ امام ؑ کے سچے محبت کرنے والے صالح لوگوں پر خرچ کرے۔

جیساکہ بحارالانوار میں کامل الزیارات کے حوالے سے مروی ہے کہ حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا:

مَنْ لَمْ يَقْدِرْ أَنْ يَزُورَنَا فَلْيَزُرْ صَالِحِي [مَوَالِينَا، يُكْتَبْ لَهُ ثَوَابُ زِيَارَتِنَا، وَ مَنْ لَمْ يَقْدِرْ عَلَى صِلَتِنَا فَلْيَصِلْ صَالِحِي] مَوَالِينَا ، يُكْتَبْ لَهُ ثَوَابُ صِلَتِنَا

فرمایا :

" جو ہماری زیارت پر قادر نہیں وہ ہمارے صالح محبین کی زیارت کرے تو اس کے لیے ہماری زیارت کا ثواب لکھا جائے گا اور جو ہمیں ہدیہ دینے پرقادر نہیں و ہ ہمارےصالح محبین کو ہدیہ عطا کرے تو اس کے لیے ہمیں ہدیہ پہنچانے کا ثواب لکھا جائے گا۔"(۲)

____________________

۱:- الکافی ج۱ ص۴۵۱ ح۲

۲:- بحارالانوار ج۱۰۲ ص۲۹۰ ح۱، کامل الزیارات ص۳۱۹


۶ ۔ چھٹا عمل:۔

سلامتی امام ؑ کے لیے صدقہ دینا:

اس حوالے سے کتاب النجم الثاقب میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔(۱)

۷ ۔ ساتواں عمل:۔

صفات امام ؑکی معرفت حاصل کرنا :

ہر حال میں ان کی نصرت کا پختہ ارادہ رکھنا اور ان کی جدائی میں گریہ کناں اور غمگین رہنا۔ یہ بھی کتاب النجم الثاقب میں تفصیل سے مذکور ہے۔(۲)

۸ ۔ آٹھواں عمل:۔

اللہ تعالی سے معرفت امام ؑ طلب کرنا:

معرفت امام کے حصول کے لیے الکافی اور کتاب کمال الدین میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی یہ دعا پڑھی جائے:

اَللَّهُمَّ عَرِّفْنِي نَفْسَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي نَفْسَكَ لَمْ أَعْرِفْ نَبِيَّكَ اَللَّهُمَّ عَرِّفْنِي رَسُولَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي رَسُولَكَ لَمْ

____________________

۱:- النجم الثاقب ص۴۴۲

۲:- النجم الثاقب ص۴۲۴


أَعْرِفْ حُجَّتَكَ اَللَّهُمَّ عَرِّفْنِي حُجَّتَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي حُجَّتَكَ ضَلَلْتُ عَنْ دِينِي (۱)

ترجمہ:

"اے اللہ مجھے اپنی معرفت عطا فرما بے شک اگر تو نے مجھے اپنی معرفت عطا نہ فرمائی تو میں تیرے نبی کی معرفت حاصل نہیں کر پاؤں گااوراے ا للہ مجھے اپنے نبی کی معرفت عطا فرما بے شک اگر تو نے مجھے اپنے نبی کی معرفت عطا نہ فرمائی تو میں تیری حجت کی معرفت سے محروم رہوں گا۔ اور اے اللہ مجھے اپنی حجت کی معرفت عطا فرما بے شک اگر تو نے مجھے اپنی حجت کی معرفت عطا نہ فرمائی تو میں اپنے دین سے گمراہ ہو جاؤں گا۔"

۹ ۔ نواں عمل:۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے اس دعا کو باقائدہ پڑھا جائے۔

جیسا کہ کتاب کمال الدین میں بھی موجود ہے۔وہ دعا یہ ہے:

"يَا اَللَّهُ يَا رَحْمَنُ يَا رَحِيمُ يَا مُقَلِّبَ اَلْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ " (۲)

____________________

۱:- الکافی ۱/۲۷۲ ح۵،کمال الدین ۲/۴۴۲ ح۲۴،بحارالانوار۵۲/۱۴۶ ح۷۰

۲:- کمال الدین ۲/۳۵۲ ح۴۹


۱۰ ۔ دسواں عمل:۔

اپنی استظاعت کے مطابق امام ؑ کی نیابت میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو کچھ عطاء کرنا۔

اس حوالے سے بھی النجم الثاقب میں تفصیل مذکور ہے۔(۱)

۱۱ ۔ گیارہوں عمل:۔

ان کا نام مبارک نہ لیا جائے۔

اور یہ وہی نام ہے جو رسول خدا ﷺکا نام ہےلہذا امام ؑ کو ان القاب سے پکارا جائے مثلا القائم ، المنتظر،الحجۃ ،المھدی ،الامام ، الغائب وغیرہ

۱۲ ۔ بارہوں عمل:۔

ان کا نام سن کر احتراما کھڑے ہوجانا خصوصا جب لقب القائم ذکر کیا جائے تو کھڑے ہوجانا۔(۲)

۱۳ ۔ تیرہواں عمل:۔

امام ؑکے ساتھ جہاد میں شامل ہونے کے لیے سامان تیار رکھنا۔

____________________

۱:- النجم الثاقب ص۴۴۴

۲:- النجم الثاقب ۴۴۴


جیسا کہ بحارالانوار میں غیبت نعمانی سے نقل کیا گیا ہے کہ امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا:

لِيُعِدَّنَّ أَحَدُكُمْ لِخُرُوجِ اَلْقَائِمِ وَ لَوْ سَهْماً فَإِنَّ اَللَّهَ إِذَا عَلِمَ ذَلِكَ مِنْ نِيَّتِهِ رَجَوْتُ لِأَنْ يُنْسِئَ فِي عُمُرِهِ حَتَّى يُدْرِكَهُ (۱)

"اگر تم میں سے کوئی ظہور قائم کے لیے کچھ (سامان ) تیار کر رکھے چاہے ایک تیر ہی کیوں نہ ہو تو جب اللہ اس کی یہ نیت دیکھے گا تو مجھے امید ہے کہ اسے اتنی زندگی دے دے حتی کہ وہ امام ؑ کو پا لے۔"

۱۴ ۔ چودہواں عمل:۔

اپنی مشکلات میں امام ؑ سے توسل کرنا

توسل کرنا اور استغاثہ کے خطوط و عریضے امام ؑ کے حضور بھیجنا۔جیسا کہ بحارالانوار میں وارد ہوا ہے۔

۱۵ ۔ پندرہواں عمل:۔

امام کو اپنی دعاؤں میں اپنا شفیع قرار دینا:

____________________

۱:- بحارالانوار ۵۲/۳۶۶ ح۱۴۷، غیبۃ النعمانی ص۳۲۰ ح۱۰


اپنی دعاؤں میں اللہ تعالی کو امام ؑ کی قسم اور ان کا واسطہ دینا اور اپنی حاجات کی برآوری کے لیے انھیں اللہ کی بارگاہ میں اپنا شفیع قرار دینا۔جیساکہ کمال الدین میں مذکور ہے۔(۱)

۱۶ ۔ سولہواں عمل:۔

اپنے دین پر ثابت قدم رہنا اور دیگر ادیان کی پیروی سے اجتناب کرنا۔

یہ اس لیے کیونکہ امام ؑ کا ظہور اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک سفیانی کا خروج اور آسمانی چیخ بلند نہ ہو اور یہ بہت سی روایات میں وارد ہوا ہے کہ:

اُسْكُنُوا مَا سَكَنَتِ اَلسَّمَاءُ مِنَ اَلنِّدَاءِ وَ اَلْأَرْضُ مِنَ اَلْخَسْفِ بِالْجَيْشِ (۲)

"اس وقت تک انتظار کرو جب تک آسمان سے ندا بلند نہ ہو اور خسف بیداء کا واقعہ رونما نہ ہو جائے۔"

اوربحارالانوار میں غیبۃ الطوسی سے نقل کیا گیا ہے کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:

يُنَادُونَ فِي رَجَبٍ ثَلاَثَةَ أَصْوَاتٍ مِنَ اَلسَّمَاءِ صَوْتاً مِنْهَا أَلاٰ لَعْنَةُ اَللّٰهِ عَلَى اَلظّٰالِمِينَ وَ اَلصَّوْتُ اَلثَّانِي أَزِفَتِ اَلْآزِفَةُ يَا مَعْشَرَ اَلْمُؤْمِنِينَ وَ اَلصَّوْتُ

____________________

۱:- کمال الدین ص۴۹۳ ح۱۸

۲:- امالی الطوسی و معانی الاخبار ۲۶۶،بحوالہ بحارالانوار ۵۲/۱۸۹ ح۱۶,۱۷


اَلثَّالِثُ يَرَوْنَ بَدَناً بَارِزاً نَحْوَ عَيْنِ اَلشَّمْسِ هَذَا أَمِيرُ اَلْمُؤْمِنِينَ قَدْ كَرَّ فِي هَلاَكِ اَلظَّالِمِينَ (۱)

ماہ رجب میں آسمان سے تین آوازیں آئیں گی جن میں سے

پہلی آواز یوں آئے گی:

"آگاہ رہو کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔"

اور دوسری آواز آئے گی:

"آنے والی گھڑی قریب آہی گئی ہے اے گروہ مومنین"

اور تیسری آواز یوں آئے گی:

")جب لوگ سورج کی طرح چمکتا ایک نورانی جسم دیکھیں گے تب آواز آئے گی کہ) یہ امیرالمومنین ہیں اور ظالموں کو ہلاک کرنے کے لیے لوٹ آئے ہیں۔"

ایک اور حدیث میں ہے کہ:

ان جبرائیل ینادی فی لیلة الثالث والعشرین من شهررمضان نداء یسمعه جمیع الخلائق :

ان الحق مع علی وشیعته ۔(۲)

____________________

۱:- غیبۃ الطوسی ۲۶۸ اور ان سے بحارالانوار ۵۲/۲۸۹ ح۲۸

۲:- الارشاد ۲/ ۳۷۱


"تیئیس رمضان کی شب جبرائیل ایک ایسی ندا دے گا جسے تمام مخلوقات سنیں گی کہ "بے شک حق علیؑ اور ان کے شیعوں کے ساتھ ہے "۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ آسمانی منادی ندا دے گا جسے تمام مخلوقات سنیں گی کہ :

"الا ان حجة الله قد ظهر عند بیت الله فاتبعوه" (۱)

"آگاہ ہوجاؤ کہ حجت خدا کا خانہ کعبہ میں ظہور ہوگیا ہے پس ان کی اتباع کرو۔"

اور کتاب کمال الدین میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ :

"أَوَّلُ مَنْ يُبَايِعُ اَلْقَائِمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ جَبْرَئِيلُ يَنْزِلُ فِي صُورَةِ طَيْرٍ أَبْيَضَ فَيُبَايِعُهُ ثُمَّ يَضَعُ رِجْلاً عَلَى بَيْتِ اَللَّهِ اَلْحَرَامِ وَ رِجْلاً عَلَى بَيْتِ اَلْمَقْدِسِ ثُمَّ يُنَادِي بِصَوْتٍ طَلِقٍ تَسْمَعُهُ اَلْخَلاَئِقُ أَتىٰ أَمْرُ اَللّٰهِ فَلاٰ تَسْتَعْجِلُوهُ " (۲)

" سب سے پہلے جو قائم کی بیعت کریں گے وہ جبرائیل ہوں گے جو ایک سفید پرندے کی شکل میں نازل ہوں گے اور امام کی بیعت کریں گے پھر اپنا ایک قدم بیت اللہ اور دوسرا بیت المقدس پر رکھ کر ایسی واضح اور بلند آواز سے ندا

____________________

۱:- کمال الدین ۳۷۲ ح۵

۲:- کمال الدین ۲/۶۷۱ ح۱۹


دینگے کہ جسے تمام مخلوقات سنیں گی کہ: خدا کا امرآگیا ہے پس اب جلدی نہ کرو۔"

اور ایک اور حدیث میں ہے کہ:

"فَيَبْعَثُ اَللَّهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى رِيحاً فَتُنَادِي بِكُلِّ وَادٍ هَذَا اَلْمَهْدِيُّ يَقْضِي بِقَضَاءِ دَاوُدَ وَ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِمَا اَلسَّلاَمُ وَ لاَ يُرِيدُ عَلَيْهِ بَيِّنَةً" (۱)

پس اللہ تعالی ایک ایسی ہوا بھیجے گا کہ جو ہروادی میں یوں نداء دے گی:

"یہ مہدی ؑ ہیں ،یہ داؤد اور سلیمان کی طرح فیصلے کریں گے کہ انہیں گواہوں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔"

۱۷ ۔ سترہواں عمل:۔

کتاب کمال الدین میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپؑ نے فرمایا:

يَأْتِي عَلَى اَلنَّاسِ زَمَانٌ يَغِيبُ عَنْهُمْ إِمَامُهُمْ فَيَا طُوبَى لِلثَّابِتِينَ عَلَى أَمْرِنَا فِي ذَلِكَ اَلزَّمَانِ إِنَّ أَدْنَى مَا يَكُونُ لَهُمْ مِنَ اَلثَّوَابِ أَنْ يُنَادِيَهُمُ اَلْبَارِئُ جَلَّ جَلاَلُهُ فَيَقُولَ عِبَادِي وَ إِمَائِي آمَنْتُمْ بِسِرِّي وَ صَدَّقْتُمْ بِغَيْبِي فَأَبْشِرُوا بِحُسْنِ اَلثَّوَابِ مِنِّي فَأَنْتُمْ عِبَادِي وَ إِمَائِي حَقّاً مِنْكُمْ أَتَقَبَّلُ وَ

____________________

۱:- کمال الدین ۲/۶۷۱ ح۱۹


عَنْكُمْ أَعْفُو وَ لَكُمْ أَغْفِرُ وَ بِكُمْ أَسْقِي عِبَادِيَ اَلْغَيْثَ وَ أَدْفَعُ عَنْهُمُ اَلْبَلاَءَ وَ لَوْلاَكُمْ لَأَنْزَلْتُ عَلَيْهِمْ عَذَابِي قَالَ جَابِرٌ فَقُلْتُ يَا اِبْنَ رَسُولِ اَللَّهِ فَمَا أَفْضَلُ مَا يَسْتَعْمِلُهُ اَلْمُؤْمِنُ فِي ذَلِكَ اَلزَّمَانِ قَالَ حِفْظُ اَللِّسَانِ وَ لُزُومُ اَلْبَيْتِ (۱)

"لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں ان کا امامؑ ان سے غائب ہو گا۔پس پاکیزگی ہے ان لوگوں کے لیے جو اس زمانے میں ہمارے امر پر ثابت قدم رہیں۔ان کے لیے کم ازکم اجر یہ ہے کہ اللہ جل شانہ انہیں فرمائے گا کہ اے میرے بندو! تم میرے راز پر ایمان لائے اور میرے غیب کی تصدیق کی پس میری طرف سے بہترین ثواب پہ خوش ہوجاؤ۔تم میرے حقیقی بندے ہو۔میں تمہارے اعمال قبول کرتا ہوں ، تم سے عفو درگزر کرتا ہوں اور تمہیں بخش دیتا ہوں اورتمہاری وجہ سے اپنے بندوں کو بارش سے سیراب کرتا ہوں اور ان سے بلاؤں کو دور کرتا ہوں اور اگر تم نہ ہوتے تومیں ان پر عذاب نازل کرتا۔"

جابر کہتے ہیں میں نے پوچھا:

اے فرزند رسول ؐ! اس زمانے میں مومن کے لیے بہترین عمل کیاہے؟

____________________

۱:- کمال الدین ۱/۳۳۰ ح۱۵


فرمایا:

"اپنی زبان کی حفاظت کرنا اور گھر میں رہنا۔"

یعنی سوائے ضرورت کے عام معاشرے سے دور رہے کیونکہ معاشرے کی ضروریات اسے امام ؑ کی یاد سے غافل کر دیں گی۔

۱۸ ۔ اٹھارواں عمل:۔

امام ؑ کی ذات مبارک پہ صلوات بھیجنا۔

آگے چل کر ہم امام ؑ کی ذات پر ہدیہ کے لیے صلوات کے کچھ مروی طریقے ذکر کریں گے۔انشاء اللہ تعالی

۱۹ ۔ انیسواں عمل:۔

اما م علیہ السلام کے فضائل و مناقب بیان کرنا۔

یہ عمل اس لیے انجام دینا ہے کیونکہ امام علیہ السلام ہم تک پہنچنے والی اللہ تعالی کی نعمتوں کا سبب ہیں ۔جیسا کہ مصنف نے اپنی کتاب مکیال المکارم میں اس امر کی وضاحت کی ہے۔پس وہ ذات جو خدائی نعمتوں کے وصول کا ذریعہ ہے اس لائق ہے کہ اس کے فضائل و کمالات کا ذکر کیا جائے۔

جیسا کہ کتاب مکارم الاخلاق میں امام زین العابدین علیہ السلام سے منقول رسالۃ الحقوق میں صاحب معروف کا حق بیان کیا گیا ہے۔


۲۰ ۔ بیسواں عمل:۔

امام ؑ کے جمال مبارک کو حقیقت میں دیکھنے کا اشتیاق رکھنا:

جیسا کہ امیرالمومنین ؑ کے بارے میں ہے کہ آپ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرکے اور ان سے ملاقات کے اشتیاق کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:

"وهو لَمْ يُولَدْ بَعْدُ "

"وہ ابھی تک پیدا نہیں ہوئے۔"(۱)

۲۱ ۔ اکیسواں عمل:۔

لوگوں کو امامؑ اور ان کے آباء طاہرین کی معرفت اورخدمت کی دعوت دینا۔

الکافی میں سلمان بن خالد سے مروی ہے کہ میں نے امامؑ سے عرض کیا کہ میرے گھر والے میری بات مانتے ہیں کیا میں انہیں اس امر کی دعوت دوں ؟

فرمایا: ہاں بے شک اللہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے:

"يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ" (۲)

____________________

۱:- غیبۃ النعمانی ۲۱۴، بحارالانوار۵۱/۱۱۵ ح۱۴

۲:- سورۃ تحریم ۶،الکافی ۲/۲۱۱ ح۱


"اے ایمان والو! خود کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔"

۲۲ ۔ بائیسواں عمل:۔

اذیت پر صبر کرنا:

سختیوں،امام ؑ کے دشمن کی جانب سے جھٹلائے جانے ، اذیت پہنچائے جانے اور ان کی طرف سے ملامت پر صبر کرنا۔

کتاب کمال الدین میں سیدالشہداء سے مروی ہے کہ فرمایا:

"آگاہ ہو جاؤ کہ زمانہ غیبت میں اذیتوں اور جھٹلائے جانے پر صبر کرنے والا رسول خدا ﷺکے ساتھ مل کر تلوار سے جہاد کرنے والے کے برابر ہے۔"(۱)

۲۳ ۔ تیئیسواں عمل:۔

اعمال صالحہ کا ہدیہ:

امام علیہ السلام کی خدمت میں اعمال صالحہ کا ثواب ہدیہ کرنا جیسے تلاوت قرآن وغیرہ۔

____________________

۱:- کمال الدین ۱/۳۱۷ ح۳


۲۴ ۔ چوبیسواں عمل:۔

امامؑ کی زیارت بجا لانا:

یہ آخری دو عمل فقط امام زمانہ ؑ کے ساتھ ہی مختص نہیں بلکہ یہ تمام آئمہؑ کی شان میں وارد ہوئے ہیں۔

۲۵ ۔ پچیسواں عمل:۔

امام ؑ کے جلد از جلد ظہور کی دعا کرنا اور امام ؑ کے لیے اللہ سے فتح و نصرت طلب کرنا۔

اس عمل کے بہت زیادہ فوائد ہیں۔یہ سب اعمال میں نے آئمہ کی روایات سے اپنی فارسی کتاب "ابواب الجنات آداب الجمعات" میں جمع کیے ہیں اور عربی کتاب مکیال المکارم کے باب فوائد الدعاء للقائم میں ذکرکیے ہیں۔

الاحتجاج میں حضرت امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف سے مروی ایک توقیع مبارک میں نقل ہے کہ فرمایا:

وَ أَكْثِرُوا اَلدُّعَاءَ بِتَعْجِيلِ اَلْفَرَجِ فَإِنَّ ذَلِكَ فَرَجُكُمْ (۱)

“ظہور میں تعجیل کے لیے کثرت سے دعا کیا کرو کیونکہ اس میں تمہارے لیے کشائش ہے۔”

____________________

۱:- الاحتجاج ۲/۲۸۴


اور حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام سے مروی ہے کہ فرمایا:

وَ اَللَّهِ لَيَغِيبَنَّ غَيْبَةً لاَ يَنْجُو فِيهَا مِنَ اَلْهَلَكَةِ إِلاَّ مَنْ ثَبَّتَهُ اَللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَى اَلْقَوْلِ بِإِمَامَتِهِ وَ وَفَّقَهُ فِيهَا لِلدُّعَاءِ بِتَعْجِيلِ فَرَجِهِ (۱)

"خدا کی قسم وہ اتنا عرصہ غائب رہیں گے کہ جس میں ہلاکت سے صرف وہی بچے گا جسے اللہ تعالی ان کی امامت پر ثابت قدم رکھے گا۔اور اسے تعجیل فرج کی دعا کی توفیق عطا فرمائے گا۔"

____________________

۱:- کمال الدین ۲/۳۴۸ ضمن حدیث ۱


فصل اول

بعض دعائیں اور زیارات

آئمہ معصومین ؑ سے امام مہدی ؑ سے مختص بہت سی دعائیں واردہوئی ہیں ۔اس مختصر کتاب میں ان میں سے پانچ دعائیں ذکر کرنےکی سعادت حاصل کرتے ہیں۔

پہلی دعا:۔

الفقیہ میں امام محمد تقی علیہ السلام سے روایت ہے کہ فرمایا:

فرض نماز سے فارغ ہونے کے بعد یوں کہو:

"رَضَيْتُ باللهَ رَبّاً وَبالإسلام دِيناً وَبِالقُرآنِ كِتاباً وَبعَليّ عَلَيه السلام وَليّاً والحَسَنِ وَالحُسينِ وعَليّ بن الحُسين وَمُحمّدِ بنِ عليّ وَجَعفَرِ بنِ مُحمّدٍ وَمُوسى بنِ جعفر وعَليّ بنِ موسى وَمُحمّدِ بن عَليّ، وَعليّ بنِ مُحمّدٍ وَالحَسنِ بن عليّ وَالحُجّةِ بنِ الحَسَنِ بنِ عَلِيّ عَلَيهِم السلامُ أئمَةً. اَللهمّ وَليَّكَ الحُجّةَ فاحفَظهُ مِنْ بَينِ يَديهِ وَمِن خَلفِهِ وَعَن يَمينِه وَعَنْ شِمالِهِ وَمِن فَوقهِ وَمِن تَحتِهِ وامدُد لهُ في عُمره وَاجْعَلهُ القائِمَ بِاَمرِكَ المُنْتصِرَ لِدينِكَ وأرِه ما يُحِبُّ وَتقِرُّ بهِ عَيْنُهُ في نَفْسِهِ وَذُرّيتِهِ وَفي أهلِهِ وَمالِه وَفي شيعَتِه


وَفي عَدوِه وَأرِهم منهُ ما يَحذَرونَ وأَرهِ فيهِم ما يُحِبَ وَتقرُّ بهِ عينُهُ واشفِ بِهِ صُدورَنا وَصدُورَ قَومٍ مُؤمنين " (۱)

دوسری دعا:۔

مکارم الاخلاق میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ یہ دعا ہر فریضہ نماز کے بعد پڑھی جائے:

اللّهمَّ صَلّ عَلَى مُحمّدٍ وآلِ مُحَمّدٍ، اللّهُمّ إنَّ رَسولَكَ الصادِقَ المُصدَّقَ الأمينَ صَلَواتُكَ عَليهِ وَآلِه قالَ: إنَّك قُلتَ تَباركْتَ وَتَعالَيْتَ ما تَردّدَتُ في شَيءٍ أنا فاعِلُه كتَردّدي في قَبضِ روحِ عَبديَ المُؤمِن يكرهُ المَوتَ واَنا أكْرهُ مَساءَتَهُ.

اللّهمّ فَصَلِّ على مُحمّدٍ وَآلِ مُحمّدٍ وَعَجّل لِوَليِّكَ الفَرجَ وَالراحَةَ وَالنصرَ والكَرامةَ والعافيةَ ولا تَسُؤني في نَفْسي وَلا في أَحدٍ مِن أَحِبَّتي(۲)

تیسری دعا:۔

جمال الاسبوع میں امام رضا علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ حضر ت حجت عجل اللہ فرجہ الشریف کے لیے یہ دعا فرماتے تھے۔ اور اس دعا کا کوئی وقت

____________________

۱:- من لا یحضرہ الفقیہ :۱؛/۳۸۱

۲:- مکارم الاخلاق: ۲۸۴


مقرر نہیں ہے بلکہ کسی بھی وقت پڑھی جا سکتی ہے۔اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ یہ دعا پڑھتے وقت مجھے فراموش نہیں کریں گے۔

اَللّهمَّ صَلِ عَلى مُحمّدٍ وَآل مُحمّد وادفَع عَنْ وَليِّكَ وَخَليفَتِكَ وَحُجَّتِكَ على خَلْقِكَ وَلِسانِكَ المُعَبِّرِ عَنْكَ بإذْنِكَ الناطِقِ بِحكمَتِكَ وَعَينِكَ الناظِرةِ في بَريّتِكَ وَشاهِدكَ على عبادك الجَحجاح المجاهد المُجتَهد عَبْدِكَ العائِذِ بِكَ.

اللّهمّ وَاَعِذْهُ مِنُ شَرِّ ما خَلَقْتَ وَذَرأت وَبرأتَ وَأنشأتَ وَصَوَّرتَ، وَاحفظهُ مِنْ بَينِ يَديهِ وَمِن خَلفِهِ وَعَن يَمينِهِ وَعَنْ شِمالِهِ وَمِنْ فَوْقِهِ وَمِنْ تَحتِهِ بِحِفْظِكَ الّذي لا يضيع مَنْ حَفِظْتَهُ بِهِ وَاحفَظْ فِيهِ رِسولَكَ وَوَصيّ رَسولَكَ وَآباءَه ائِمّتَكَ وَدَعائِمَ دِينِكَ صَلَواتُكَ عَلَيْهِم اَجْمَعِينَ، وَاجْعَلْهُ في وَديعَتكَ الَّتي لا تَضيعُ وَفي جِوارِكَ الّذي لا يُخْفَرُ وفي مَنْعِكَ وَعِزِّكَ الّذي لا يُقْهَرُ.

اللّهمَّ وَآمِنْهُ بِأِمانِكَ الوَثيقِ الَّذي لا يُخْذَلُ مَن اَمِنْتَهُ بِهِ وَاجْعَلْهُ في كَنَفِكَ الّذي لا يُضامُ مَن كانَ فيهِ، وَانْصُرهُ بِنَصرِكَ العَزيزِ وَاَيِّدْهُ بِجُنْدِكَ الغالِبِ وَقَوِّهِ بِقُوَّتِكَ وَأَرْدِفْهُ بِمَلائِكَتِكَ.

اللّهُمَّ والِ مَنْ والاهُ وَعادِ مَنْ عاداهُ وألْبِسْهُ دِرعَكَ الحَصِينَةَ وحُفَّهُ بِالمَلائكَةِ حَفّاً.


اللّهُمَّ وبَلِغْهُ اَفْضَلَ ما بَلَّغْتَ القائِمينَ بِقِسْطِكَ مِنْ أتباعِ النَّبيِيّنَ.

اللّهُمَّ اشْعَبْ بِهِ الصَّدْعَ وَارْتُقْ بِهِ الفَتْقَ وَأَمِتْ بِهِ الجَوْرَ وَأَظهِرْ بِهِ العَدْلَ وَزَيِّنْ بِطُولِ بَقائِهِ الأرْضَ، وَاَيِّدْهُ بِالنصْرِ وَانصُرْهُ بِالرُعْبِ وَافْتَحْ لَهُ فَتَحاً يَسيْراً، وَاجْعَلْ لَهُ مِن لَدُنْكَ عَلى عَدُوِّكَ وَعَدُوِّهِ سُلطاناً نَصِيُراً.

اللّهمَّ اجْعَلْهُ القائِمَ المنتظر وَالإِمامَ الَّذي بِهِ تُنْتَصَرُ وَأيِّدْهُ بِنَصرٍ عَزيزٍ وَفتحٍ قَريبٍ وَوَرِّثْهُ مَشارِقَ الأرْضِ وَمغارِبَها اللآتِي بارَكْتَ فيها وَأحْيِ بِهِ سُنَّةَ نَبيِّكَ صَلَواتُكَ عَلَيهِ وَآلِهِ حَتّى لا يَسْتَخْفِيَ بِشَيءٍ مِنَ الحَقِّ مَخافَةَ أحدٍ مِنَ الخَلْق، وَقَوِّ ناصَرَهُ وَاخْذُلْ خاذِلَهُ وَدَمْدِمْ عَلى مَن نَصَبَ لَهُ وَدَمِّرْ على مَنْ غَشَّهُ.

اللّهُمَّ وَاقْتُل بِهِ جَبابِرَةَ الكُفْرِ وَعُمَدَهُ وَدَعائِمَهُ وَالقُوّامَ بِهِ وَاقصِمْ بِهِ رُؤُوسَ الضَّلالَةِ وَشارِعَةَ البِدْعَةِ وَمُمِيتَةَ السُّنَّةِ وَمُقوِّيةَ الباطل وَأذلِلْ بِهِ الجَبّارِينَ وَأَبِرْ بِه الكافِرينَ وَالمُنافِقينَ وَجَمِيعَ المُلحِدِينَ حَيْثُ كانُوا وَأينَ كانوا مِنْ مَشارِقِ الأرْضِ وَمَغارِبِها وَبرِّها وَبَحْرِها وَسَهْلِها وَجَبلِها حَتّى لا تَدَعَ مِنْهُمْ دَيّاراً أوَلا تُبقيَ لَهُمْ آثاراً.

اَللّهُمَّ وَطَهِّرْ مِنْهُمْ بِلَادَكَ وَاشْفِ مِنهُمْ عِبادَكَ وَاَعِزَّ بِهِ المُؤمنينَ وَاَحْي بِهِ سُنَنَ المُرسَلينَ وَدارِسَ حِكَمِ النَّبِيّن وَجَدِّد بِهِ ما مُحِيَ


مِن دِينِكَ وَبُدِّلَ مِن حُكْمِكَ حَتَى تُعِيدَ دِينَكَ بِهِ وَعَلى يَدَيهِ غَضّاً جَديداً صَحِيحاً مَحْضاً لا عِوَجَ فيهِ وَلا بِدْعَةَ مَعَهُ حَتّى تُنِيرَ بعَدْلِهِ ظُلَمَ الجَورِ وَتُطفيءَ بِهِ نِيرانَ الكُفرِ وَتُظهِرَ بِهِ مَعاقِدَ الحَقِ وَمجَهُولَ العَدْلِ وَتوضِحَ بِهِ مُشكِلاتِ الحُكْمِ.

اَللّهمَّ وَإِنّهُ عَبدُكَ الّذِي اسْتَخلَصْتَهُ لِنَفسِكَ وَاصْطفَيتَهُ مِنْ خَلْقِكَ واصْطَفَيتَهُ على عِبادِك وَائْتَمَنْتَهُ عَلَى غيبِكَ وَعَصَمتَهُ مِنَ الذّنوبِ وبرّأْتَهُ مِنَ العُيُوبِ وَطَهَّرتَهُ مِنَ الرِّجْسِ وَصَرَفتَهُ عَنِ الدّنَس وَسَلَّمْتَهُ مِنَ الرّيْبِ.

اَللّهُمَ فَاِنّا نَشْهَدُ لَهُ يَوْمَ القِيامَةِ وَيَومَ حُلُولِ الطَّامّةِ اَنَّهُ لَمْ يُذْنِبْ ذَنْباً وَلَمْ يَأتِ حُوباً وَلَمْ يَرتَكِبْ لَكَ مَعصِيةً وَلَمْ يُضيِّعْ لَكَ طاعَةً وَلَم يَهْتِكْ لَكَ حُرْمَةً وَلَمْ يُبدِّلْ لَكَ فَرِيضَةً ولَمْ يُغيَرْ لَكَ شَرِيعةً وَإنّهُ الإمامُ التَقِيُ الهادِيُ المَهْديُ الطاهِرُ التَّقي الوَفِيُ الرَضِيُ الزكِيُ.

اللَّهمَ فَصَلِّ عَلَيْهِ وَعَلى آبائِهِ وَاَعطِهِ فِي نَفسِهِ وَوَلدِهِ وَاَهْلِهِ وَذُرِّيَّتِهِ وَاُمَّتِهِ وَجَميعِ رَعِيَّتِه ما تُقِرُّ بِهِ عَينَهُ وَتُسِرُّ بِهِ نَفسَهُ وَتُجْمِعُ لَهُ مُلْكَ المَمْلَكاتِ كُلِّها قَرِيبها وَبَعِيدهَا وَعَزِيزِها وَذَلِيلِها حَتّى يَجْرِيَ حُكْمُهُ عَلى كُلِّ حُكْمٍ وَيَغْلِبَ بِحَقِّهِ عَلَى كُلِّ باطِلِ.


اللّهُمَ وَاسْلُكْ بِنا عَلى يَدَيْهِ مِنْهاجَ الْهدَى وَالْمَحَجَّةَ العُظْمى وَالطَريقَةَ الوُسْطى الَّتي يَرجِعُ اِلَيها الغالِي وَيَلحَقُ بها التّالِي.

اللّهُمّ وَقَوِّنا عَلَى طاعَتِهِ وَثَبِّتْنا عَلَى مُشايَعَتِهِ وَامْنُنْ عَلَينا بِمُتابَعَتِهِ وَاجْعَلْنا فِي حِزْبِهِ القَوّامِينَ بأَمرِه الصَّابِرِينَ مَعَهُ الطَّالِبِينَ رِضَاكَ بِمُناصَحَتِهِ حَتّى تَحْشُرَنا يَوْمَ القِيامَةِ فِي اَنْصَارِه وَاَعْوانِهِ وَمُقَوِّيّة سُلْطَانِهِ.

اللّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحِمّدٍ وَآلِ مُحَمّد وَاجْعَلْ ذلِكَ كُلَّهُ مِنَّا لَكَ خالِصاً مِنْ كُلِ شَكٍ وَشُبْهَةٍ وَرِياءٍ وَسُمْعَةٍ حَتّى لانعْتَمِدَ بِهِ غَيْرَكَ وَلا نَطْلُبَ بِهِ اِلاّ وَجْهَكَ وَحتّى تُحِلَّناَ مَحِلَّهُ وَتَجْعَلنا فِي الجَنّةِ مَعَهُ وَلَا تَبْتَلِنا فِي أمْرِه بِالسَّأمَةِ وَالكَسَلِ وَالفَتَرةِ وَالفَشَلِ، وَاجْعَلْنا ممَّن تَنْتَصِرُ بِهِ لِدينكَ وَتُعِزُّ بِهِ نَصرَ وَليِّكَ وَلا تَسْتَبْدِلْ بِنا غيْرَنا فَإنَّ اسْتِبْدالَكَ بنا غَيْرَنا عَلَيْكَ يَسير وَهُوَ عَلَيْنا كَبِيرْ اِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيء قَدِيرٌ.

اللّهُمَّ وَصَلِّ على وُلاةِ عُهودهِ وبَلِّغْهُم آمالَهُمْ وَزِدْ في آجالِهِمْ وَانْصُرْهُمْ وَتَمِّمْ لَهُ ما اَسْنَدْتَ اِلَيهِمْ مِنْ اَمْرِ دينِكَ وَاجعَلْنا لَهُم اَعْواناً وَعَلى دِينِكَ أنصاراً وَصلِّ عَلى آبائِهِ الطّاهِرِينَ الأئِمَّةِ الرَّاشدِيْنَ.

اللّهُمَّ فَاِنَّهُمْ مَعادِنُ كَلِماتِكَ وَخزّانُ عِلْمِكَ وَوُلاةُ اَمْرِكَ وَخالِصَتُكَ مِنْ عِبادِكَ وَخِيَرتِكَ مِنْ خَلْقِكَ واَوْلِيائِكَ وَسَلائِلِ أوْليائِكَ وَصَفوَتِكَ وَاَولاَدِ اصْفِيَائِكَ صَلَواتُكَ وَرَحمتُكَ وبَركاتُكَ عَلَيْهِمْ اَجْمَعينَ.


اللّهُمّ وَشُركاؤُهُ في أَمْرِهِ وَمُعاوِنُوهُ عَلى طاعتِكَ الذينَ جَعَلتَهُمْ حِصْنَهُ وسِلاحَهُ وَمفزَعَهُ واُنسَهُ الذّينَ سَلَوْا عَنِ الأَهْلِ وَالاَوْلاد وتَجافَوا الوَطنَ وَعَطَّلُوا الوَثيرَ مِنَ الْمِهادِ قَدْ رَفَضُوا تِجاراتِهِم وَاَضَرُّوا بِمعايِشِهِمْ وفُقِدُوا في اَندِيَتِهِمْ بغيْرِ غَيبةٍ عَن مِصرِهم وحالَفُوا البَعيدَ مِمَّنْ عاضَدَهُم عَلى اَمْرِهِمْ وَخالَفُوا القَريبَ مِمَنْ صَدَّ عَن وِجْهَتِهِمْ وَائتَلَفْوا بَعْدَ التَّدابُر وَالتقاطُعِ في دَهْرِهِمْ وَقطَعُوا الأسبابَ المُتَّصِلَةِ بِعاجِلِ حُطامٍ مِنَ الدّنيا، فَاجعَلْهُم اللَهُمَّ في حِرْزِكَ وَفي ظِلّ كَنَفِكَ وَرُدَّ عَنْهُمْ بَأسَ مَن قَصَدَ اِلَيْهِمْ بِالْعَداوَةِ مِنْ خَلْفِكَ وَاَجْزِلْ لَهُمْ مِنْ دَعْوَتِكَ مِن كِفايَتِكَ وَمعُونَتِكَ لَهُمْ وَتُايِيدِكَ وَنَصْرِك ايّاهُمْ ما تُعينُهُمْ بِهِ عَلى طاعَتِكَ وَاَزْهِقْ بِحَقّهِمْ باطِلَ مَن أرادَ اِطْفاءَ نوُرِكَ وصلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَاملَأْ بِهِمْ كُلَّ أفُقٍ مِنَ الآفاقِ وَقُطرٍ منَ الأقْطارِ قِسْطاً وَعَدْلاً وَرَحْمَةً وَفَضْلاً وَاشْكُرْ لَهُمْ على حَسَبِ كَرَمِكَ وَجُودِكَ وما مَنَنْتَ بِهِ على القائِمينَ بالْقِسْطِ مِنْ عِبادِكَ وادَّخِرْ

لَهُمْ مِنْ ثَوابِكَ ماتَرفَعُ لَهُمْ بِهِ الدَّرَجاتِ اِنَّكَ تَفْعَلُ ما تَشاءُ وتَحْكُمُ ما تُرِيدْ آمِينَ رَبَّ العالَمِين(۱)

____________________

۱:- جمال الاسبوع: ص۵۱۳


چوتھی دعا:۔

وہ صلوات پڑھنا کہ جو جمال الاسبوع میں اور بحار الانوار میں وارد ہوئی ہے

اور یہ دعا اور صلوات دونوں پر مشتمل ہے:

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ وَخَاتَمِ النَّبِيِّينَ وَحُجَّةِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ‏الْمُنْتَجَبِ فِي الْمِيثَاقِ الْمُصْطَفَى فِي الظِّلاَلِ الْمُطَهَّرِ مِنْ كُلِّ آفَةٍ الْبَرِي‏ءِ مِنْ كُلِّ عَيْبٍ‏ الْمُؤَمَّلِ لِلنَّجَاةِ الْمُرْتَجَى لِلشَّفَاعَةِ الْمُفَوَّضِ إِلَيْهِ دِينُ اللَّهِ.

‏اللَّهُمَّ شَرِّفْ بُنْيَانَهُ وَعَظِّمْ بُرْهَانَهُ وَأَفْلِجْ حُجَّتَهُ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ‏ وَأَضِئْ نُورَهُ وَبَيِّضْ وَجْهَهُ وَأَعْطِهِ الْفَضْلَ وَالْفَضِيلَةَ وَالْمَنْزِلَةَ وَالْوَسِيلَةَ وَالدَّرَجَةَ الرَّفِيعَةَ وَابْعَثْهُ مَقَاماً مَحْمُوداً يَغْبِطُهُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ‏.

وَصَلِّ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِينَ وَقَائِدِ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ وَسَيِّدِ الْوَصِيِّينَ وَحُجَّةِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‏.

وَصَلِّ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ إِمَامِ الْمُؤْمِنِينَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِينَ وَحُجَّةِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.

‏وَصَلِّ عَلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ إِمَامِ الْمُؤْمِنِينَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِينَ وَحُجَّةِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‏.


وَصَلِّ عَلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ إِمَامِ الْمُؤْمِنِينَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِينَ وَحُجَّةِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‏.

وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ إِمَامِ الْمُؤْمِنِينَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِينَ وَحُجَّةِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.

‏وَصَلِّ عَلَى جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ إِمَامِ الْمُؤْمِنِينَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِينَ وَحُجَّةِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.

‏ وَصَلِّ عَلَى مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ إِمَامِ الْمُؤْمِنِينَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِينَ وَحُجَّةِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‏.

وَصَلِّ عَلَى عَلِيِّ بْنِ مُوسَى إِمَامِ الْمُؤْمِنِينَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِينَ وَحُجَّةِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.

‏وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ إِمَامِ الْمُؤْمِنِينَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِينَ وَحُجَّةِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‏.

وَصَلِّ عَلَى عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ إِمَامِ الْمُؤْمِنِينَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِينَ وَحُجَّةِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‏.

وَصَلِّ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ إِمَامِ الْمُؤْمِنِينَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِينَ وَحُجَّةِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‏.


وَصَلِّ عَلَى الْخَلَفِ الْهَادِي الْمَهْدِيِّ إِمَامِ الْمُؤْمِنِينَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِينَ وَحُجَّةِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‏.

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ الْأَئِمَّةِ الْهَادِينَ الْعُلَمَاءِ الصَّادِقِينَ الْأَبْرَارِ الْمُتَّقِينَ دَعَائِمِ دِينِكَ ‏وَأَرْكَانِ تَوْحِيدِكَ وَتَرَاجِمَةِ وَحْيِكَ وَحُجَجِكَ عَلَى خَلْقِكَ وَخُلَفَائِكَ فِي أَرْضِكَ ‏الَّذِينَ اخْتَرْتَهُمْ لِنَفْسِكَ وَاصْطَفَيْتَهُمْ عَلَى عِبَادِكَ وَارْتَضَيْتَهُمْ لِدِينِكَ ‏وَخَصَصْتَهُمْ بِمَعْرِفَتِكَ وَجَلَّلْتَهُمْ بِكَرَامَتِكَ وَغَشَّيْتَهُمْ بِرَحْمَتِكَ‏ وَرَبَّيْتَهُمْ بِنِعْمَتِكَ وَغَذَّيْتَهُمْ بِحِكْمَتِكَ وَأَلْبَسْتَهُمْ نُورَكَ ‏وَرَفَعْتَهُمْ فِي مَلَكُوتِكَ وَحَفَفْتَهُمْ بِمَلاَئِكَتِكَ وَشَرَّفْتَهُمْ بِنَبِيِّكَ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ‏.

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَيْهِمْ صَلاَةً زَاكِيَةً نَامِيَةً كَثِيرَةً دَائِمَةً طَيِّبَةً لاَ يُحِيطُ بِهَا إِلاَّ أَنْتَ وَلاَ يَسَعُهَا إِلاَّ عِلْمُكَ وَلاَ يُحْصِيهَا أَحَدٌ غَيْرُكَ.

‏ اللَّهُمَّ وَصَلِّ عَلَى وَلِيِّكَ الْمُحْيِي سُنَّتَكَ الْقَائِمِ بِأَمْرِكَ الدَّاعِي إِلَيْكَ الدَّلِيلِ عَلَيْكَ‏، حُجَّتِكَ عَلَى خَلْقِكَ وَخَلِيفَتِكَ فِي أَرْضِكَ وَشَاهِدِكَ عَلَى عِبَادِكَ.

‏ اللَّهُمَّ أَعِزَّ نَصْرَهُ وَمُدَّ فِي عُمْرِهِ وَزَيِّنِ الْأَرْضَ بِطُولِ بَقَائِهِ.

‏ اللَّهُمَّ اكْفِهِ بَغْيَ الْحَاسِدِينَ وَأَعِذْهُ مِنْ شَرِّ الْكَائِدِينَ وَازْجُرْ عَنْهُ إِرَادَةَ الظَّالِمِينَ وَخَلِّصْهُ مِنْ أَيْدِي الْجَبَّارِينَ‏.


اللَّهُمَّ أَعْطِهِ فِي نَفْسِهِ وَذُرِّيَّتِهِ وَشِيعَتِهِ وَرَعِيَّتِهِ وَخَاصَّتِهِ وَعَامَّتِهِ وَعَدُوِّهِ‏ وَجَمِيعِ أَهْلِ الدُّنْيَا مَا تُقِرُّ بِهِ عَيْنَهُ وَتَسُرُّ بِهِ نَفْسَهُ ‏وَبَلِّغْهُ أَفْضَلَ مَا أَمَّلَهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَدِيرٌ.

اللَّهُمَّ جَدِّدْ بِهِ مَا امْتَحَى (مُحِيَ) مِنْ دِينِكَ وَأَحْيِ بِهِ مَا بُدِّلَ مِنْ كِتَابِكَ‏ وَأَظْهِرْ بِهِ مَا غُيِّرَ مِنْ حُكْمِكَ حَتَّى يَعُودَ دِينُكَ بِهِ وَعَلَى يَدَيْهِ غَضّاً جَدِيداً خَالِصاً مُخْلَصاً لاَ شَكَّ فِيهِ وَلاَ شُبْهَةَ مَعَهُ وَلاَ بَاطِلَ عِنْدَهُ وَلاَ بِدْعَةَ لَدَيْهِ‏.

اللَّهُمَّ نَوِّرْ بِنُورِهِ كُلَّ ظُلْمَةٍ وَهُدَّ بِرُكْنِهِ كُلَّ بِدْعَةٍ وَاهْدِمْ بِعِزِّهِ كُلَّ ضَلاَلَةٍ وَاقْصِمْ بِهِ كُلَّ جَبَّارٍ وَأَخْمِدْ بِسَيْفِهِ كُلَّ نَارٍ وَأَهْلِكْ بِعَدْلِهِ جَوْرَ كُلِّ جَائِرٍ وَأَجْرِ حُكْمَهُ عَلَى كُلِّ حُكْمٍ وَأَذِلَّ بِسُلْطَانِهِ كُلَّ سُلْطَانٍ.

‏اللَّهُمَّ أَذِلَّ كُلَّ مَنْ نَاوَاهُ وَأَهْلِكْ كُلَّ مَنْ عَادَاهُ وَامْكُرْ بِمَنْ كَادَهُ ‏وَاسْتَأْصِلْ مَنْ جَحَدَهُ حَقَّهُ وَاسْتَهَانَ بِأَمْرِهِ وَسَعَى فِي إِطْفَاءِ نُورِهِ وَأَرَادَ إِخْمَادَ ذِكْرِهِ.

‏اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى وَعَلِيٍّ الْمُرْتَضَى‏ وَفَاطِمَةَ الزَّهْرَاءِ وَالْحَسَنِ الرِّضَا وَالْحُسَيْنِ الْمُصَفَّى ‏وَجَمِيعِ الْأَوْصِيَاءِ مَصَابِيحِ الدُّجَى وَأَعْلاَمِ الْهُدَى‏ وَمَنَارِ التُّقَى وَالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى وَالْحَبْلِ الْمَتِينِ وَالصِّرَاطِ الْمُسْتَقِيمِ.


وَصَلِّ عَلَى وَلِيِّكَ وَوُلاَةِ عَهْدِكَ وَالْأَئِمَّةِ مِنْ وُلْدِهِ وَمُدَّ فِي أَعْمَارِهِمْ ‏وَزِدْ فِي آجَالِهِمْ وَبَلِّغْهُمْ أَقْصَى آمَالِهِمْ دِيناً وَدُنْيَا وَآخِرَةً إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَدِير (۱)

پانچویں دعا:۔

وہ دعا کہ جسے النجم الثاقب میں ہر وقت خصوصا ماہ رمضان مبارک اور باالخصوص تئیسویں کی شب میں پڑھنے کے لیےذکر کیا گیا ہے:

اللّهُمّ كُنْ لِوَلِيِّكَ القائِمِ بِأمرِكَ الحُجَّةِ بْنِ الحَسَنِ المهْدِيّ عَلَيه وَعَلَى آبائِهِ أفضَلُ الصَّلَواةِ والسَّلامِ فِي هذِهِ السَّاعَةِ وَفِي كُلِّ سَاعَةٍ وَلِيّاً وَحافِظاً وَقَائِداً وَنَاصِراً وَدَلِيلاً وَمُؤَيِّداً حَتّى تُسْكِنَهُ أرْضَكَ طَوْعاً وَتُمَتِّعَهُ فِيها طَولاً وَعَرْضاً وَتَجْعَلَهُ وَذُرِّيَتَهُ مِنَ الأئِمَّةِ الوارِثينَ.

اللَّهُمَّ انْصُرْهُ وَانْتَصِرْ بِهِ وَاجْعَلِ النَصْرَ مِنْكَ لَهُ وَعَلَى يَدِهِ وَاجْعَلِ النَّصْرَ لَهُ وَالفَتحَ عَلى وَجْهِهِ وَلاَ تُوَجِّهِ الأمرَ إلَى غَيْرِهِ.

اللَّهُمَّ اَظْهِرْ بِهِ دِينَكَ وَسُنَّةَ نَبِيّكَ حَتَّى لاَيَسْتَخْفِيَ بِشَيءٍ مِنَ الحَقِّ مَخافَةَ أَحَدٍ مِنَ الخَلْقِ.

____________________

۱:- جمال الاسبوع: ۵۰۰، بحارالانوار: ۹۴/۲۰۸۱، النجم الثاقب:۴۳۴


اللَّهُمَّ إنّي أرْغَبُ إِلَيكَ فِي دَولَةٍ كَرِيمةٍ تُعِزُّ بِهَا الإسلاَمَ وأهلَهُ وَتُذِلّ بها النِّفاقَ وَأهلَهُ وَتَجْعَلُنا فِيها مِنَ الدُعَاةِ إلى طَاعَتِكَ وَالقَادَةِ إلَى سَبِيلِكَ وَآتِنا فِي الدُّنيا حَسَنة وَفِي الآخِرَةِ حَسَنةً وَقِنا عَذَابَ النَّارِ واجْمَعْ لَنَا خَيرَ الدَّارَيْنِ واقْضِ عَنّا جَمِيعَ مَا تُحِبُّ فِيهِما وَاجْعَلْ لَنَا فِي ذلِكَ الخِيَرَةَ بِرَحمَتِكَ وَمَنِّكَ فِي عَافِيةٍ آمين رَبَّ العَالَمِينَ وَزِدْنا مِن فَضْلِكَ وَيَدِكَ الملْأى فَإنَّ كُلّ مُعْطٍ يَنقُصُ مِنْ مُلْكِهِ وَعَطَاؤُكِ يَزِيدُ فِي مُلْكِكَ ۔

زیارت:

احتجاج میں وارد ہوا ہے کہ حضرت صاحب الامر ؑ نے اپنی ایک توقیع میں محمد بن عبد اللہ بن جعفر الحمیری سے فرمایا:

"جب تم ہمارے ذریعے خدا اور ہماری طرف متوجہ ہونا چاہو تو اسی طرح کہو جس طرح اللہ تعالی نے فرمایا ہے:

سَلاَمٌ عَلَى آلِ يس السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا دَاعِيَ اللَّهِ وَرَبَّانِيَّ آيَاتِهِ

السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا بَابَ اللَّهِ وَدَيَّانَ دِينِهِ‏

السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا خَلِيفَةَ اللَّهِ وَنَاصِرَ حَقِّهِ

السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا حُجَّةَ اللَّهِ وَدَلِيلَ إِرَادَتِهِ‏

السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا تَالِيَ كِتَابِ اللَّهِ وَتَرْجُمَانَهُ


السَّلاَمُ عَلَيْكَ فِي آنَاءِ لَيْلِكَ وَأَطْرَافِ نَهَارِكَ

‏السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا بَقِيَّةَ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ

السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا مِيثَاقَ اللَّهِ الَّذِي أَخَذَهُ وَوَكَّدَهُ

‏السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا وَعْدَ اللَّهِ الَّذِي ضَمِنَهُ‏

السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْعَلَمُ الْمَنْصُوبُ وَالْعِلْمُ الْمَصْبُوبُ وَالْغَوْثُ وَالرَّحْمَةُ الْوَاسِعَةُ وَعْداً غَيْرَ مَكْذُوبٍ‏

السَّلاَمُ عَلَيْكَ حِينَ تَقُومُ

السَّلاَمُ عَلَيْكَ حِينَ تَقْعُدُ

السَّلاَمُ عَلَيْكَ حِينَ تَقْرَأُ وَتُبَيِّنُ‏

السَّلاَمُ عَلَيْكَ حِينَ تُصَلِّي وَتَقْنُتُ

السَّلاَمُ عَلَيْكَ حِينَ تَرْكَعُ وَتَسْجُدُ

السَّلاَمُ عَلَيْكَ حِينَ تُهَلِّلُ وَتُكَبِّرُ

السَّلاَمُ عَلَيْكَ حِينَ تَحْمَدُ وَتَسْتَغْفِرُ

السَّلاَمُ عَلَيْكَ حِينَ تُصْبِحُ وَتُمْسِي

السَّلاَمُ عَلَيْكَ فِي اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى

‏السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْإِمَامُ الْمَأْمُونُ

السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْمُقَدَّمُ الْمَأْمُولُ

السَّلاَمُ عَلَيْكَ بِجَوَامِعِ السَّلاَمِ‏


أُشْهِدُكَ يَا مَوْلاَيَ أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ‏ وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ لاَ حَبِيبَ إِلاَّ هُوَ وَأَهْلُهُ.

وَأُشْهِدُكَ يَا مَوْلاَيَ أَنَّ عَلِيّاً أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ حُجَّتُهُ، ‏وَالْحَسَنَ حُجَّتُهُ، وَالْحُسَيْنَ حُجَّتُهُ، وَعَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ حُجَّتُهُ، ‏وَمُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ حُجَّتُهُ، وَجَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ حُجَّتُهُ، وَمُوسَى بْنَ جَعْفَرٍ حُجَّتُهُ، وَعَلِيَّ بْنَ مُوسَى حُجَّتُهُ، ‏وَمُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ حُجَّتُهُ، وَعَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ حُجَّتُهُ، وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ حُجَّتُهُ.

‏وَأَشْهَدُ أَنَّكَ حُجَّةُ اللَّهِ، أَنْتُمْ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَأَنَّ رَجْعَتَكُمْ حَقٌّ لاَ رَيْبَ فِيهَا يَوْمَ لاَ يَنْفَعُ نَفْساً إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْراً وَأَنَّ الْمَوْتَ حَقٌّ وَأَنَّ نَاكِراً وَنَكِيراً حَقٌّ.

وَأَشْهَدُ أَنَّ النَّشْرَ حَقٌّ وَالْبَعْثَ حَقٌ‏ وَأَنَّ الصِّرَاطَ حَقٌّ وَالْمِرْصَادَ حَقٌّ وَالْمِيزَانَ حَقٌّ وَالْحَشْرَ حَقٌ ‏وَالْحِسَابَ حَقٌّ وَالْجَنَّةَ وَالنَّارَ حَقٌّ وَالْوَعْدَ وَالْوَعِيدَ بِهِمَا حَقٌ.

‏يَا مَوْلاَيَ، شَقِيَ مَنْ خَالَفَكُمْ وَسَعِدَ مَنْ أَطَاعَكُمْ فَاشْهَدْ عَلَى مَا أَشْهَدْتُكَ عَلَيْهِ ‏وَأَنَا وَلِيٌّ لَكَ بَرِي‏ءٌ مِنْ عَدُوِّكَ فَالْحَقُّ مَا رَضِيتُمُوهُ وَالْبَاطِلُ مَا أَسْخَطْتُمُوهُ‏ وَالْمَعْرُوفُ مَا أَمَرْتُمْ بِهِ وَالْمُنْكَرُ مَا نَهَيْتُمْ عَنْهُ فَنَفْسِي مُؤْمِنَةٌ بِاللَّهِ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِرَسُولِهِ‏ وَبِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَبِكُمْ يَا مَوْلاَيَ أَوَّلِكُمْ وَآخِرِكُمْ وَنُصْرَتِي مُعَدَّةٌ لَكُمْ وَمَوَدَّتِي خَالِصَةٌ لَكُمْ آمِينَ آمِينَ


اور پھر زیارت کے بعد یہ دعا پڑھے:

اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ نَبِيِّ رَحْمَتِكَ وَكَلِمَةِ نُورِكَ‏ وَأَنْ تَمْلَأَ قَلْبِي نُورَ الْيَقِينِ وَصَدْرِي نُورَ الْإِيمَانِ وَفِكْرِي نُورَ النِّيَّاتِ وَعَزْمِي نُورَ الْعِلْمِ‏ وَقُوَّتِي نُورَ الْعَمَلِ وَلِسَانِي نُورَ الصِّدْقِ وَدِينِي نُورَ الْبَصَائِرِ مِنْ عِنْدِكَ ‏وَبَصَرِي نُورَ الضِّيَاءِ وَسَمْعِي نُورَ الْحِكْمَةِ وَمَوَدَّتِي نُورَ الْمُوَالاَةِ لِمُحَمَّدٍ وَآلِهِ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ حَتَّى أَلْقَاكَ وَقَدْ وَفَيْتُ بِعَهْدِكَ وَمِيثَاقِكَ فيسعني رَحْمَتُكَ يَا وَلِيُّ يَا حَمِيدُ.

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ حُجَّتِكَ فِي أَرْضِكَ وَخَلِيفَتِكَ فِي بِلاَدِكَ وَالدَّاعِي إِلَى سَبِيلِكَ ‏وَالْقَائِمِ بِقِسْطِكَ وَالثَّائِرِ بِأَمْرِكَ وَلِيِّ الْمُؤْمِنِينَ وَبَوَارِ الْكَافِرِينَ وَمُجَلِّي الظُّلْمَةِ وَمُنِيرِ الْحَقِّ وَالنَّاطِقِ بِالْحِكْمَةِ وَالصِّدْقِ وَكَلِمَتِكَ التَّامَّةِ فِي أَرْضِكَ الْمُرْتَقِبِ الْخَائِفِ وَالْوَلِيِّ النَّاصِحِ ‏سَفِينَةِ النَّجَاةِ وَعَلَمِ الْهُدَى وَنُورِ أَبْصَارِ الْوَرَى وَخَيْرِ مَنْ تَقَمَّصَ وَارْتَدَى‏ وَمُجَلِّي الْعَمَى (الْغَمَّاءِ) الَّذِي يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلاً وَقِسْطاً كَمَا مُلِئَتْ ظُلْماً وَجَوْراً إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَدِيرٌ.

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى وَلِيِّكَ وَابْنِ أَوْلِيَائِكَ الَّذِينَ فَرَضْتَ طَاعَتَهُمْ وَأَوْجَبْتَ حَقَّهُمْ وَأَذْهَبْتَ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهَّرْتَهُمْ تَطْهِيرا.


اًاللَّهُمَّ انْصُرْهُ وَانْتَصِرْ بِهِ لِدِينِكَ وَانْصُرْ بِهِ أَوْلِيَاءَكَ وَأَوْلِيَاءَهُ وَشِيعَتَهُ وَأَنْصَارَهُ وَاجْعَلْنَا مِنْهُمُ.

‏اللَّهُمَّ أَعِذْهُ مِنْ شَرِّ كُلِّ بَاغٍ وَطَاغٍ وَمِنْ شَرِّ جَمِيعِ خَلْقِكَ ‏وَاحْفَظْهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَاحْرُسْهُ وَامْنَعْهُ مِنْ أَنْ يُوصَلَ إِلَيْهِ بِسُوءٍ وَاحْفَظْ فِيهِ رَسُولَكَ وَآلَ رَسُولِكَ وَأَظْهِرْ بِهِ الْعَدْلَ وَأَيِّدْهُ بِالنَّصْرِ وَانْصُرْ نَاصِرِيهِ وَاخْذُلْ خَاذِلِيهِ وَاقْصِمْ قَاصِمِيهِ وَاقْصِمْ بِهِ جَبَابِرَةَ الْكُفْرِ وَاقْتُلْ بِهِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَجَمِيعَ الْمُلْحِدِينَ حَيْثُ كَانُوا مِنْ مَشَارِقِ الْأَرْضِ وَمَغَارِبِهَا بَرِّهَا وَبَحْرِهَا وَامْلَأْ بِهِ الْأَرْضَ عَدْلاً وَأَظْهِرْ بِهِ دِينَ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَاجْعَلْنِي اللَّهُمَّ مِنْ أَنْصَارِهِ وَأَعْوَانِهِ وَأَتْبَاعِهِ وَشِيعَتِهِ ‏وَأَرِنِي فِي آلِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ مَا يَأْمُلُونَ وَفِي عَدُوِّهِمْ مَا يَحْذَرُونَ ‏إِلَهَ الْحَقِّ آمِينَ يَا ذَا الْجَلاَلِ وَالْإِكْرَامِ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ "


دعا عہد صغیر:

یہ دعا روزانہ نماز صبح کے بعد اما م عجل اللہ فرجہ الشریف کی زیارت کے اعتبار سے پڑھنی چاہیے جوکہ بحار اور زادالمعاد میں یوں وارد ہوئی ہے:

اَللَّهُمَّ بَلِّغْ مَوْلاَيَ صَاحِبَ الزَّمَانِ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ عَنْ جَمِيعِ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ‏فِي مَشَارِقِ الْأَرْضِ وَمَغَارِبِهَا وَبَرِّهَا وَبَحْرِهَا وَسَهْلِهَا وَجَبَلِهَا حَيِّهِمْ وَمَيِّتِهِمْ‏ وَعَنْ وَالِدَيَّ وَوُلْدِي وَعَنِّي مِنَ الصَّلَوَاتِ وَالتَّحِيَّاتِ زِنَةَ عَرْشِ اللَّهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ ‏وَمُنْتَهَى رِضَاهُ وَعَدَدَ مَا أَحْصَاهُ كِتَابُهُ وَأَحَاطَ بِهِ عِلْمُهُ.

‏ اللَّهُمَّ (إِنِّي) أُجَدِّدُ لَهُ فِي هَذَا الْيَوْمِ وَفِي كُلِّ يَوْمٍ عَهْداً وَعَقْداً وَبَيْعَةً فِي رَقَبَتِي.

‏ اللَّهُمَّ كَمَا شَرَّفْتَنِي بِهَذَا التَّشْرِيفِ وَفَضَّلْتَنِي بِهَذِهِ الْفَضِيلَةِ وَخَصَصْتَنِي بِهَذِهِ النِّعْمَةِ فَصَلِّ عَلَى مَوْلاَيَ وَسَيِّدِي صَاحِبِ الزَّمَانِ وَاجْعَلْنِي مِنْ أَنْصَارِهِ وَأَشْيَاعِهِ وَالذَّابِّينَ عَنْهُ‏ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُسْتَشْهَدِينَ بَيْنَ يَدَيْهِ طَائِعاً غَيْرَ مُكْرَهٍ فِي الصَّفِّ الَّذِي نَعَتَّ أَهْلَهُ فِي كِتَابِكَ‏ فَقُلْتَ صَفّاً كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ عَلَى طَاعَتِكَ وَطَاعَةِ رَسُولِكَ وَآلِهِ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ.اللَّهُمَّ هَذِهِ بَيْعَةٌ لَهُ فِي عُنُقِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ(۱)

____________________

۱:- زاد المعاد: ص۳۲۲


نماز صاحب الزمان عجل اللہ فرجہ الشریف:

کتاب جمال الاسبوع وغیر ہ میں وارد ہوا ہے کہ بارگاہ خداوندی میں یہ دو رکعت نماز ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد اور اخلاص کی تلاوت کرنی ہے اورالحمدمیں إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ

کا(۱۰۰)سو مرتبہ تکرار کرنا ہے۔

ایک اور روایت میں ہے کہ اس نماز کے بعد نبیﷺ پر صلوات پڑھے۔

اور سید ابن طاؤس کی روایت کے مطابق اس کے بعد یہ دعا(۱) پڑھے:

اللَّهُمَّ عَظُمَ الْبَلاَءُ وَبَرِحَ الْخَفَاءُ وَانْكَشَفَ الْغِطَاءُ وَضَاقَتِ الْأَرْضُ ومُنعت السَّمَاءُ وَإِلَيْكَ يَا رَبِّ الْمُشْتَكَى وَعَلَيْكَ الْمُعَوَّلُ فِي الشِّدَّةِ وَالرَّخَاءِ.

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ الَّذِينَ أَمَرْتَنَا بِطَاعَتِهِمْ وَعَجِّلِ اللَّهُمَّ فَرَجَهُمْ بِقَائِمِهِمْ وَأَظْهِرْ إِعْزَازَهُ ‏يَا مُحَمَّدُ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا مُحَمَّدُ اكْفِيَانِي فَإِنَّكُمَا كَافِيَايَ، ‏يَا مُحَمَّدُ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا مُحَمَّدُ انْصُرَانِي فَإِنَّكُمَا نَاصِرَايَ‏، يَا مُحَمَّدُ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا مُحَمَّدُ احْفَظَانِي فَإِنَّكُمَا حَافِظَايَ، ‏يَا مَوْلاَيَ يَا صَاحِبَ الزَّمَانِ

____________________

۱:- ایک روایۃ میں ہے کہ حضرت صاحب الامرؑ نے یہ دعا کسی کو تعلیم فرمائی تو اس کی برکت سے وہ قتل ہونے سے بچ گیا۔(مؤلف)


يَا مَوْلاَيَ يَا صَاحِبَ الزَّمَانِ يَا مَوْلاَيَ يَا صَاحِبَ الزَّمَانِ‏ الْغَوْثَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ أَدْرِكْنِي أَدْرِكْنِي أَدْرِكْنِي الْأَمَانَ الْأَمَانَ الْأَمَانَ(۱)

____________________

۱:- جمال الاسبوع:۲۸۰، بحارالانوار:۹۱/۱۹۰


فصل دوم

دعا برائے تعجیل ظہور امام مہدی (عجل اللہ فرجہ الشریف) کے فوائد

یہاں ہم حضرت صاحب الزمان ؑ کے ظہور میں تعجیل کے لیے دعا کرنے کے فوائد ذکر کرتے ہیں۔

یہ فوائد مختلف آیات و روایات سے جمع کیے گئے ہیں جوکہ بہت زیادہ ہیں لیکن ہم یہاں صرف چودہ فوائد ذکر کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔

پہلا فائدہ:

اس سے عمر طولانی ہوتی ہے۔ جیساکہ اس کتاب میں مذکور دوسری دعا میں وارد ہوا ہے جو کہ امام صادق ؑ سے مروی ہے کہ یہ دعا ہر فریضہ نماز کے بعد پڑھی جانی چاہیے۔(۱)

____________________

۱:- مکارم الاخلاق ۲۸۹۔۔۔۔اسی کتاب میں گزر چکی ہے۔


دوسرا فائدہ:

امام عجل اللہ فرجہ الشریف کا حق ادا کرنے کے طریقوں میں سے ایک یہ ہے کہ ان کے ظہور میں تعجیل کے لیے دعا کی جائے۔ جیسا کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے منقول ہے کہ:

وَ قَضَاءُ حُقُوقِ اَلْإِخْوَانِ أَشْرَفُ أَعْمَالِ اَلْمُتَّقِينَ (۱)

"اپنے بھائیوں کے حقوق ادا کرنا متقین کے بہترین اعمال میں سے ہے۔"

بے شک اما م عجل اللہ فرجہ الشریف سردار ہیں اور تمام مومنین سے افضل ہیں۔پس ان کا حق ادا کرنا اعمال خیرمیں سے اہم ترین اور افضل ترین عمل ہے۔

____________________

۱:- بحارالانوار ۷۴/۲۲۹ ضمن حدیث ۲۵


تیسرا فائدہ:

دعا رسول خدا کی شفاعت کے حصول کا سبب ہے جیسا کہ آپﷺ سے روایت کیا گیا ہے۔(۱) اور بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ یہ حضرت حجت ؑکی شفاعت کے حصول کا سبب ہے۔

چوتھا فائدہ:

امام ؑ کے لیے دعا کرنے والے کو اللہ امام ؑ کا مددگار قرار دیتا ہے۔کیونکہ مدد و نصرت کی اقسام میں سے ایک قسم دعا کرنا ہے۔اور ان کی نصرت اللہ تعالی کی نصرت ہے۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ :

" وَلَيَنْصُرَنَّ اللّـٰهُ مَنْ يَّنْصُرُه " (۲)

"اوراللہ اس کی ضرور مدد فرمائے گا جو ان کی مدد کرے گا۔"

پانچواں فائدہ:

اس سے امام عجل اللہ فرجہ الشریف مسرور ہوتے ہیں۔

____________________

۱:- الخصال ۱۹۶ ج۱ فرمایا: میں چار لوگوں کی بروز قیامت شفاعت کروں گا چاہے وہ تمام اہل زمین کے گناہ لے کے آئیں۔میرے اہلبیتؑ کی مدد کرنے والا،وقت ضرورت ان کی حاجات پوری کرنے والا،اپنےدل و زبان سے ان سے محبت کرنے والا اور اپنے ہاتھ سے ان کا دفاع کرنے والا۔

۲:- سورۃ حج ۴۰


الکافی میں امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے:

"وَ مَا عُبِدَ اَللَّهُ بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَى اَللَّهِ مِنْ إِدْخَالِ اَلسُّرُورِ عَلَى اَلْمُؤْمِنِ " (۱)

"اللہ تعالی کو کوئی عبادت اتنی زیادہ پسند نہیں جتنا مومن کو مسرور کرنا پسند ہے۔"

چھٹا فائدہ:

اس دعا کی بدولت حضرت حجت عجل اللہ فرجہ الشریف بھی اس دعا کرنے والے کے لیے دعا فرماتے ہیں۔ یہ بات بہت سی روایات میں موجود ہے۔(۲)

ساتواں فائدہ:

حضرت حجت عجل اللہ فرجہ الشریف کے لیے دعا کرنے سے تمام مومنین کے لیے دعا کرنے کا ثواب حاصل ہوتا ہے۔کیونکہ ان کے ظہور کا فائدہ ناصرف تمام مومنین کو ہوگا بلکہ آسمانوں اور زمینوں میں موجود تمام مخلوقات کوبھی اس کا فائدہ پہنچے گا۔جیسا کہ میں نے اپنی کتاب مکیال المکارم(۳) میں بہت سی

____________________

۱:- الکافی ۲/۱۸۸ ج ۲

۲:- مھیج الدعوات ص۳۶۰:(اور جو میری اتباع کریں انہیں اپنے دین کی نصرت کے لیے مؤید قرار دے اور انہیں اپنی راہ میں مجاہد قرار دے اور جو مجھ پر اور ان پربرائی کا ارادہ کرے اس کے خلاف ان کی مدد فرما۔۔

۳:- مکیال المکارم ۱/۳۷۷ الباب الخامس


روایات ذکر کرکے واضح کیا ہے لہذا اگر آپ اس نیت کے ساتھ ان کے لیے دعا کریں گے توآپ نے گویا تمام مخلوقات کے لیے دعا کی ہے۔

آٹھواں فائدہ:

یہ امام عجل اللہ فرجہ الشریف کے لیے اظہار محبت کا ایک ذریعہ ہے کیونکہ آپ اولاد رسول ؐ ہیں اور ان کے قربیٰ میں سے ہیں پس ان کے لیے دعا کرنا اور محبت کا اظہار کرنا دراصل اجر رسالت ادا کرنا ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

"قُلْ لَّآ اَسْاَلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِى الْقُرْبٰى " (۱)

"کہہ دیجیے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت پر کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ میرےاقرباءسے محبت کرو۔"

نواں فائدہ:

دعا کرنے والے سے زمانہ غیبت میں بلائیں دور ہوتی ہیں۔(۲)

____________________

۱:- سورۃ شوری:۲۳

۲:- الکافی ۲/۵۰۷ ح۲،(آدمی کا اپنے بھائی کے لیے دعا کرنا غیب کو ظاہر کرتا ہے رزق کو کھینچ لاتا ہے اور بلائیں دور کرتا ہے۔)


دسواں فائدہ:

ظہور امامؑ میں تعجیل کی دعا کرنا اللہ و رسول ﷺاور کتاب خدا کی تعظیم کرنا ہےکہ وہ ظہور کے بعد اسی پر عمل پیرا ہونگے اور یہ دین خدا کی تعظیم ہے اس لیے کہ وہ ظہور کے بعد اس دین کو تمام ادیان پر غالب کریں گے اور اس میں تمام مسلمانوں کی تعظیم ہے کہ وہ انہیں کفار سے نجات دلائیں گے اور یہ سب جنت میں داخل ہونے کا سبب ہے جیسا کہ رسول خدا ؐ سے کتاب خصال میں مروی ہے۔(۱)

گیارہواں فائدہ:

تعجیل فرج کے لیے دعا کرنے سے مظلوم کی مدد کرنے کا ثواب حاصل ہوتا ہے۔اور یہ عمل بروز قیامت پل صراط کو آسانی سے عبور کرنے کا سبب ہے۔جیسا کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے مروی ہے۔(۲)

____________________

۱:- الخصال ص۲۸ ح۱۰۰، (حاملین قرآن اہل جنت کے جانے پہچانے ہیں۔

۲:- اس کی تفصیل مکیال المکارم ۱/۴۳۹ میں موجود ہے۔الصحیفۃ السجادیہ ص۳۲۳ دعا۱۴۷


بارہواں فائدہ:

تعجیل فرج کی دعا کرنے والے کو حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے ساتھ مل کر جہاد کرنے کا ثواب عطاء ہوتا ہے۔(۱)

تیرہواں فائدہ:

اس سے وہ اجر حاصل ہوتاہے کہ جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور وہ سیدالشہداء کے خون کا انتقام لینے میں کامیابی کا ثواب ہے۔کیونکہ حضرت حجت ؑسیدالشہداءؑ کے خون کا انتقام لیں گے۔پس جتنا آپ تعجیل ظہور کی دعا کریں گے اتنا آپ ان کے اس عمل میں شریک ہوں گے۔

چودہواں فائدہ:

ایک روایت جوکہ کتاب کمال الدین میں احمد بن اسحاق سے وارد ہوئی ہے کہ :

____________________

۱:- مجمع البیان ۹/۲۳۸۔حارث بن مغیرہ کہتا ہے ہم ابو جعفر ؑ کے پاس تھے فرمایا:جو کوئی تم میں سے اس امر کی معرفت رکھتا ہے اور اس کا منتظر ہے وہ قائم کے ساتھ جہاد کرنے والوں میں شمار ہوگا۔پھر فرمایا:بلکہ رسول خداؐ کے ساتھ جہاد شمارہوگا۔پھر تیسری بار فرمایا: بلکہ اللہ کی قسم وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے رسولؐ کے خیمے میں شہادت پائی ہو۔


میں ابو محمد الحسن بن علی ؑ کی خدمت میں شرفیاب ہوا اور جاننا چاہتا تھاکہ ان کے بعد امام کون ہوں گےتو انہوں نے خود ہی ابتداءکرتے ہوئے فرمایا:

"اے احمدبن اسحاق اللہ نے جب سے آدم کو خلق فرمایا تب سے زمین کو خالی نہیں چھوڑا۔ اور وہ مخلوق پر اپنی حجت کے قیام تک زمین کو خالی نہیں چھوڑے گا۔وہ ان کے ذریعے زمین والوں سے بلائیں دور کرتا ہے۔اور ان کی برکت سے بارشیں نازل ہوتی ہیں۔اور ان کی وجہ سے زمین کی برکات ظاہر ہوں گی۔راوی کہتا ہے میں نے کہا: اے فرزند رسول ؐ!تو پھر آپ کے بعد امام اور خلیفہ کون ہیں ؟ تو امامؑ جلدی سے اٹھے اور گھر کے اندر تشریف لے گئے اور جب باہر تشریف لائے تو ان کے ہاتھ میں ایک تین سالہ بچہ تھا کہ جس کا چہرہ چودہویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا۔ پھر امامؑ نے فرمایا: اےاحمد بن اسحاق! اگر اللہ اور اس کی حجتوں کے سامنے تیری فضیلت نہ ہوتی تو تجھے اپنے اس بچے کی زیارت نہ کراتا ۔اس کا نام اور کنیت رسول خداؐ والی ہے۔اور یہ زمین کو عدل و انصاف سے ایسے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری پڑی ہوگی ۔

اےاحمد بن اسحاق ان کی مثال اس امت میں خضر ؑ اور ذوالقرنین کے جیسی ہے۔خدا کی قسم یہ اتنا عرصہ غائب رہیں گےکہ اس میں کوئی نجات نہیں پائے گا سوائے اس کے کہ جس کو اللہ ان کی امامت پر ثابت قدم فرمائے گااور ان کے ظہور میں تعجیل کے لیے دعا کرنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔ "


پھراحمد بن اسحاق نے کہا : اے ہمارے مولا کوئی علامت ہے کہ جس سے میرا دل مطمئن ہو جائے۔

اس وقت وہ بچہ فصیح عربی میں یوں گویا ہوا:

"میں اللہ کی زمین میں اس کا ذخیرہ (بقیۃ اللہ) ہوں اور اس کے دشمنوں سے انتقام لینے والا ہوں۔اے احمد بن اسحاق آنکھوں سے دیکھنے کے بعد کوئی نشانی طلب نہ کرو۔"(۱)

____________________

۱:- کمال الدین ۲/۳۴۸


غیبت امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے بارے میں بارہ احادیث

توفیق پروردگار کے ساتھ اور وہی میرے لیے کافی ہے۔

اس مقام پر مؤلف کتاب ھذا بندہ گناہگار و خطاکار محمد تقی بن عبدالرزاق مناسب بلکہ لازم سمجھتا ہے کہ امام ؑ کی غیبت سے متعلقہ آئمہ اہل بیتؑ کی بارہ احادیث نقل کرے تاکہ یہ ہر خاص و عام کے لیے مکمل نفع بخش ہوں اور اس حقیر کے لیے ذخیرہ آخرت قرار پائیں۔یہ احادیث شیخ صدوق ؒ(۱) کی کتاب کمال الدین وتمام النعمۃ سے نقل کر رہا ہوں۔اور پر امید ہوں کہ یہ عمل حضرت حجت ؑ کی خدمت اقدس میں پیش ہو۔ان شاء اللہ تعالی۔

____________________

۱:- ان کا نام محمد بن علی بن الحسین بن موسیٰ بن بابویہ قمی تھا۔ان کی ولادت کی بشارت خود حضرت حجت نے دی تھی۔وفات ۳۸۱ ھجری میں ہوئی۔ان کی قبر اطراف تہران میں ہے۔ان کی عظمت بیان کی محتاج نہیں۔انہوں نے تقریبا تین سو کتابیں لکھیں۔


پہلی حدیث:۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"مہدیؑ میری اولاد میں سے ہیں۔ان کا نام میرا نام اور ان کی کنیت میری کنیت ہے۔وہ لوگوں میں سےسب سے زیادہ خلق و خلق میں میرے مشابہ ہیں۔ان کے لیے ایک ایسی غیبت ہوگی کہ جس پر حیرانی و سرگردانی میں امتیں گمراہ ہوجائیں گی۔پھر وہ شہاب ثاقب کی طرح ظاہر ہوں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے یوں بھر دیں گے جس طرح پہلے وہ ظلم و جور سے بھری پڑی ہوگی۔"(۱)

دوسری حدیث:۔

امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیھما السلام نےفرمایا:

اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں کہ میں امیرالمومنین ؑ کی خدمت میں شرف یاب ہوا تو دیکھا کہ آپؑ کسی فکر میں ڈوبے ہوئے زمین کرید رہے تھے۔میں نے عرض کیا:

"اے ا میرالمومنین ؑ میں نے آج تک آپ کو اس قدر فکر مند نہیں پایا کیا دنیا کی کوئی فکر لاحق ہے؟"

____________________

۱:- کمال الدین ۱/۲۸۶ ح۱ اور ۴


فرمایا:

"نہیں خدا کی قسم میں نے اس دنیا سے ایک دن بھی لگاؤ نہیں رکھا۔میں تو اس مولودؑ کے بارے سوچ رہا ہوں جو میری نسل سے ہوں گے اور میرے بعد گیارہویں فرد ہوں گے۔وہ مہدیؑ ہیں جو زمین کو عدل و انصاف سے یوں بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری پڑی ہوگی۔ان کے لیے ایک ایسی غیبت ہوگی کہ جس میں کچھ اقوام گمراہ ہوجائیں گی اور کچھ ہدایت پائیں گی۔"

میں نے عرض کیا : "یا امیرالمومنین ؑ کیا ایسا ہوگا؟"

فرمایا :

"ہاں یہ ہو کر رہے گا۔"(۱)

تیسری حدیث:۔

حضرت امام حسن مجتبی ٰعلیہ السلام نےفرمایا:

"ہم اہل بیت ؑ میں سے کوئی ایسا نہیں جس کے گلے میں طاغوت کے ساتھ مصلحت کا طوق نہ ہو سوائے ہمارے قائم ؑ کے جو روح اللہ عیسی ابن مریم کو نماز پڑھائیں گے۔اللہ تعالی ان کی ولادت کو مخفی رکھے گا۔اور ان پہ غیبت کا پردہ

____________________

۱:- کمال الدین ۱/۲۸۹ ح۱


ڈال دے گا۔تاکہ جب وہ ظہور کریں تو ان کی گردن پہ کسی کی بیعت کا طوق نہ ہو۔وہ میرے بھائی حسینؑ ابن سیدۃ النساء ؑ کی اولاد میں سے نویں ہونگے۔اللہ ان کی غیبت میں ان کی عمر کو طول دے گا۔پھر اپنی قدرت سے انہیں ایک چالیس سالہ جوان کی مانند ظاہر فرمائے گا۔"(۱)

چوتھی حدیث:۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:

"ا س امت کا قائم میری اولاد میں سے میرےنویں فرزند ہو ں گے۔اور وہ صاحب ٖغیبت ہوں گے۔ان کی میراث تقسیم کی جائے گی جبکہ وہ زندہ ہوں گے۔"(۲)

پانچویں حدیث:۔

حضرت امام ذین العابدین علیہ السلام نے فرمایا :

آپ ؑ نے ابو خالد کابلی سے فرمایا:

"۔۔۔پھر اس کے ولئ خدا اور رسول خداؐ کے اوصیاء میں سے بارہویں کے لیے ایک طویل غیبت کا زمانہ ہوگا۔اے ابو خالد! ان کی ٖغیبت کے زمانہ میں

____________________

۱:- کمال الدین ۱/۳۱۶ ح۲

۲:- کمال الدین ۱/۳۱۷ ح۲


وہ لوگ جو ان کی امامت کے قائل اور ان کے ظہور کے منتظر ہوں گے وہ تمام زمانے کے لوگوں سے افضل ہوں گے۔کیونکہ اللہ انہیں علم و معرفت سے نوازے گا اور ان کے نزدیک غیبت بھی مشاہدہ کی طرح ہوگی۔ان کا مقام ان مجاہدین کے برابر ہوگا جنہوں نے رسول خداؐ کی اقتداء میں تلوار سے جہاد کیا۔یہی لوگ حقیقتا ہمارے مخلص اور سچے شیعہ ہوں گے۔وہ لوگوں کو دین خدا کی طرف ظاہرا اور پوشیدہ طور پر دعوت دیں گے۔"(۱)

چھٹی حدیث:۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:

"وہ مہدی ؑ عترت میں سے ہوں گے،ان کے لیے ایسی غیبت اور حیرت و سرگردانی ہو گی کہ جس میں کچھ اقوام گمراہ ہو جائیں گی اور کچھ ہدایت پائیں گی۔"(۲)

ساتویں حدیث:۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

عبد اللہ ابن ابی یعفور روایت کرتے ہیں کہ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا:

"جس نے میرے آباء و اولاد میں سے تمام آئمہ کا اقرار کیا اور مہدی ؑ کا انکار کیا تو یہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے تمام انبیاء ؑکا اقرار کیا اور محمد ؐ کا انکار کیا۔"

____________________

۱:- کمال الدین ۱/۳۲۰ ح۲

۲:- کمال الدین ۱/۳۳۰ ح۱۴


میں نے عرض کیا اے میرے آقا!آپ کی اولاد میں سے مہدیؑ کون ہوں گے؟

فرمایا:

" ہماری نسل سے ساتویں پشت سے پانچویں ہوں گے۔وہ تمہاری نظروں سے غائب رہیں گے اور تمہارے لیے ان کا نام لینا جائز نہ ہوگا۔"(۱)

آٹھویں حدیث:۔

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا:

"جب ساتویں کی اولاد سے پانچویں غائب ہو جائیں تو خدا کے لیے تم اپنے دین کی حفاظت کرنا کوئی تمہیں دین سے برگشتہ نہ کرے۔اے میرے فرزند! اس صاحب امر کے لیے غیبت ضروری ہے۔یہاں تک کہ وہ لوگ بھی اس سے پلٹ جائیں جو کہا کرتے تھے کہ یہ اللہ کی طرف سے مخلوق کے لیے آزمائش ہے۔"(۲)

نویں حدیث:۔

حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا:

____________________

۱:- کمال الدین ۱/۳۳۷ ح۱۲

۲:- کمال الدین ۱/۳۳۸ ح۱


حضرت امام علی رضاؑ ؑ سے پوچھا گیا کہ اے فرزند رسول ؐ آپ اہل بیت ؑ میں سے قائمؑ کون ہے؟

فرمایا:

"میری اولاد میں سے چوتھا ، سیدۃ النساء کا فرزند ہوگا۔اللہ ان کے ذریعے زمین کو ہر ظلم و ستم سے پاک و پاکیزہ کر دے گا۔لوگ ان کی ولادت میں شک کریں گے۔وہ اپنے ظہور سے پہلے غیبت میں رہیں گے۔پس جب وہ ظہور کریں گے تو زمین ان کے نور سے چمک اٹھے گی۔اور وہ لوگوں کے درمیان میزان عدل قائم کریں گے پھر کوئی کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ان کے لیے فاصلے سمٹ جائیں گے اور ان کا کوئی سایہ نہ ہوگا۔اور ان کے لیے آسمان سے ایک منادی ندا دے گا کہ جسے تمام اہل زمین سنیں گے کہ:

"آگاہ ہوجاؤکہ حجت خداؑ بیت اللہ میں ظہور فرما چکے ہیں پس ان کی اتباع کرو۔حق ان کے ساتھ ہے اور ان میں ہے۔"(۱)

دسویں حدیث:۔

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام نے فرمایا :

____________________

۱:- کمال الدین ۳۷۱ ح۵


آپؑ سےحضرت عبدالعظیم حسنی نے عرض کیا: میں سمجھتا ہوں اہل بیتؑ محمد ؐ ؐمیں سے آپ ہی وہ قائم ہیں جو زمین کو عدل و انصاف سے یوں بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری پڑی ہوگی۔

امام ؑ نے فرمایا:

"اے ابوالقاسم! ہم میں سے ہرایک امام اللہ کی طرف سے قائم ہے اور دین خدا کی طرف ہدایت کرنے والا ہے۔لیکن وہ قائم ؑ جو زمین کو کافروں اور منکروں سے پاک کرے گا اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا وہ امام ہوگا کہ جس کی ولادت لوگوں سے مخفی ہوگی۔ وہ لوگوں کی نظروں سے غائب ہوں گے اور ان پر ان کا نام لینا حرام ہوگا۔ان کا نام و کنیت وہی رسول اللہ ؐ والی ہو گی۔ ان کے لیے فاصلے سمٹ جائیں گے ،ہر سختی اور مشکل ان کے لیے آسان ہوجائےگی۔ اور اہل بدر کی تعداد کے برابر ۳۱۳ اصحاب زمین کے کونے کونے سے ان کے لیے جمع ہوجائیں گے۔ اور یہ اللہ کا ارشاد ہے کہ :

اَيْنَ مَا تَكُـوْنُـوْا يَاْتِ بِكُمُ اللّـٰهُ جَـمِيْعًا ۚ اِنَّ اللّـٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (۱)

____________________

۱:- سورۃ بقرۃ :۱۴۸


پس جب یہ اہل اخلاص ان کے لیے جمع ہوجائیں گے تو اللہ اپنے امر کوظاہرکردے گا۔اور جب دس ہزار کا لشکر جمع ہو جائے گا تو اللہ کے حکم سے خروج کریں گے۔اور وہ اس وقت تک دشمنان خدا کو قتل کریں گے جب تک اللہ راضی نہ ہو جائے۔

عبد العظیم کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا :مولا یہ کیسے پتا چلے گا کہ اللہ راضی ہوگیا ہے؟

فرمایا:

اللہ ان کے دل میں رحم ڈال دے گا اور جب وہ مدینہ میں داخل ہوں گے تو لات و عزی کو نکال کر جلا دیں گے۔"

مصنف : میرے نزدیک لات سے مراد پہلا ظالم اور عزی سے مراد دوسرا ظالم ہے۔

گیارہویں حدیث:۔

حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا:

"میرے بعد میرا بیٹا حسن(عسکری) امام ہوگا۔اور ان کے بعد کیا ہی امامت ہوگی ۔ میں نے پوچھا میں آپ پر قربان جاؤں وہ کیوں؟

فرمایا :


کیونکہ تم انہیں نہیں دیکھ پاؤ گے۔اور تمہارے لیے ان کانام لینا جائز نہ ہوگا۔میں نے عرض کیا ہم کیسے ان کا تذکرہ کریں۔ فرمایا: یوں کہو حجت آلؑ محمدؐ۔"(۱)

بارہویں حدیث:۔

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا:

حضرت امام حسن عسکری ؑ سے احمد بن اسحاق نے پوچھا: ان میں خضر و ذوالقرنین کی کون سی سنت ہوگی؟

فرمایا: "اے احمد ! لمبی غیبت۔ عرض کیا : فرزند رسول ؐ !کیا ان کی غیبت بہت طولانی ہوگی؟ فرمایا:ہاں قسم بخدا،یہاں تک کہ اس امر پرایمان رکھنے والوں میں سے اکثر اپنی بات سے پھر جائیں گے۔اور فقط وہی بچے گا جس سے اللہ نے ان کی ولایت کا عہد لے رکھا ہےاور اس کےدل میں ایمان جاگزیں کیا ہےاور اپنی روح سے اس کی تائید کی ہے۔"(۲)

____________________

۱:- کمال الدین ۲/۳۸۱ ح۵

۲:- یہ حدیث فوائد دعا میں چودہویں فائدہ میں ذکر کی گئی حدیث کا ابتدائی حصہ ہے۔


فصل سوم

پانچ علامات ظہور

حضرت امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کا ظہور کسی وقت کے ساتھ معین اور خاص نہیں ہے۔غیبت نعمانی میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے ابو بصیر سے فرمایا:

إِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ لاَ نُوَقِّتُ وَ قَدْ قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ كَذَبَ اَلْوَقَّاتُونَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّ قُدَّامَ هَذَا اَلْأَمْرِ خَمْسَ عَلاَمَاتٍ أُولاَهُنَّ اَلنِّدَاءُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَ خُرُوجُ اَلسُّفْيَانِيِّ وَ خُرُوجُ اَلْخُرَاسَانِيِّ وَ قَتْلُ اَلنَّفْسِ اَلزَّكِيَّةِ وَ خَسْفٌ بِالْبَيْدَاءِ

"ہم اہل بیت ؑ وقت مقرر نہیں کر رہے۔ حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: کذب الوقاتون۔ ظہور کا وقت مقرر کرنے والے جھوٹے ہیں۔اے ابو محمد اس امر (ظہور) کی پانچ علامتیں ہیں:


ان میں سے پہلی ماہ رمضان میں آسمانی نداء کا آنا ،دوسری سفیانی کا خروج، تیسری خراسانی کا خروج، چوتھی نفس زکیہ کا قتل اور پانچویں خسف بیداء یعنی وادی بیداء کا دھنسنا۔"(۱)

عریضہ بحضور حضرت صاحب الزمان عجل اللہ فرجہ الشریف:۔

یہاں پر ہم بحار الانوار سے وہ عریضۃ نقل کر رہے ہیں کہ جسے حضرت حجت کی بارگاہ میں بھیجا جاتا ہے۔

یہ عریضہ لکھ کر کسی پاک مٹی میں ڈال کر کسی نہر یا پانی کے چشمہ میں ڈالا جائے اور ڈالتے وقت یہ کہیں

يَا سَيّدي يا أبا القاسم يا حُسين بن رُوْح سَلام عَلَيكَ اَشهدُ أَنَّ وفاتَكَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَاَنَكَ حيٌّ عِندَ اللهِ مرزوقٌ وقَد خاطَبتُكَ في حَياتِكَ الّتي لَكَ عَندَ اللهِ عَزَّ وجَلّ وهَذهِ رُقعَتي وحاجَتي إلى مَولاَنا عَليهِ السَلام فَسَلّمها اِليهِ فأنْتَ الثِقة الاَمينِ .

____________________

۱:- غیبۃ النعمانی ص۲۸۹ ح۶


عریضہ بحضور حضرت صاحب الزمان عجل اللہ فرجہ الشریف

بسم الله الرحمن الرحيم كَتَبْتُ إلَيْكَ يا مَولاَيَ صَلَواتُ الله عَلَيكَ مُسْتَغِيثاً وشَكَوتُ ما نَزلَ بِي مُستَجِيراً باللهِ عَزَّ وجَلّ ثمَّ بِكَ من أمرٍ قَد دَهَمَني واَشغَلَ قَلبَي وأطالَ فِكْري وسَلَبَني بَعضَ لُبّي وَغَيّر خَطِيرَ نِعمَةِ اللهِ عِنْدِي أسلَمَني عِندَ تَخيّلِ وُرُودِه الخَليلُ وَتَبرَّأَ مِنّي عِنَدَ تَرائي إقْبالِهِ اِليَّ الحِمِيمُ وعَجَزَتْ عَن دِفَاعِهِ حِيلَتي وَخَانَني في تَحَمُّلِهِ صَبْرِي وَقوَّتي فَلَجَأتُ فِيهِ إلَيكَ وَتَوَكَّلْتُ في المسْألةِ لِلّهِ جَلَّ ثَنَاؤهُ عَلَيهِ وعَلَيكَ وفي دِفَاعِهِ عَنّي عِلماً بِمَكَانِكَ مِنَ اللهِ رَبِّ العَالَمِينَ وَلِيّ التَّدْبِيرِ وَمَالِكِ الأُمورِ وَاثِقاً بِكَ في المسارَعَةِ فِي الشّفَاعَةِ إِلَيهِ جَلَّ ثناؤهُ في اَمْري مُتَيقِّناً لاِجَابَتِهِ تَبَاركَ وَتَعالى إيّاكَ بِاِعْطَاءِ سُؤْلي واَنتَ يا مَولايَ جَدِيرٌ بِتَحْقِيقِ ظَنّي وَتَصْدِيقِ اَمَلِي فِيكَ في أَمْرِ (یہاں اپنی حاجت لکھیں)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مِمّا لاَ طَاقةَ لِي بِحَمْلِهِ ولا صَبْرَ لِي عَلَيهِ وَاِن كُنتُ مُستَحِقّاً لَهُ وَلأضعَافِهِ بقَبيحِ أَفعَالِي وَتَفريطي فِي الواجِباتِ الّتي لِلّهِ عَزَّ وجَلَّ عَلَيّ فأغِثْني يا مَولاَيَ صَلَواتُ اللهِ عَلَيكَ عِندَ اللَهفِ وَقَدِّمِ المسْألةَ للهِ عَزَّ وجَلَّ في اَمْرِي قَبلَ حُلولِ التَلَفِ وشِماتَةِ الأعداءِ فَبِكَ بُسِطَتِ النِعْمَةُ عَلَيَّ وَاسْأَلِ اللهَ جَلَ جَلاَلُهُ لِي نَصْراً عَزيزاً وفَتْحاً قَريباً فِيهِ بلُوغُ الآمالِ وَخَيرُ المبَادِي وَخَواتِيمُ الاعمَالِ وَالأمنُ مِنَ المخَاوفِ كُلِّها فِي كُلِّ حَالٍ إنّهُ جَلَّ ثناؤهُ لِما يَشَاءُ فعّالٌ وَهُو حَسبي وَنِعمَ الوكِيلُ في المبدءِ وَالمآل



دوسراحصہ


الحمدلله رب العالمین والصلاة والسلام علی خاتم المرسلین خیرالخلق اجمعین محمد وآله المعصومین ولا سیما امام زماننا خاتم الوصیین ولعنة الله علی اعدائهم و ظالمیهم الی یوم الدین اما بعد

گناہوں اور آرزؤں کے سمندر میں ڈوبا ہوا (محمد تقی بن عبدالرزاق الموسوی الاصفہانی) عفی اللہ عنھما انے مومن بھائیوں سے مخاطب ہے کہ:

یہ میری کتاب (زمانہ غیبت امام میں ہماری ذمہ داریاں ) کا دوسرا حصہ ہے کہ جس میں وہ اعمال جمع کیے ہیں کہ جنہیں امام عصر ؑ کے زمانہ غیبت میں مومنین کو پابندی سے بجا لانا چاہیے۔

یہ اعمال جوکہ چون (۵۴) کی تعداد تک پہنچتے ہیں ، مکتب امامیہ کی معتبر کتب سے جمع کیے گئے ہیں۔کتاب کے پہلے حصہ میں پچیس اعمال ذکر کیے گئے تھے ۔

اب یہاں باقی اعمال ذکر کرنے کا شرف حاصل کرتے ہیں۔


۲۶ ۔ چھبیسواں عمل:۔

علماء کو چاہیے کہ وہ اپنا علم ظاہر کریں اور مخالفین کی طرف سے کیے گئے شبہات کے جواب میں لاعلم لوگوں کی رہنمائی کریں تاکہ وہ گمراہ نہ ہوجائیں۔اور اگر وہ حیرت و پریشانی میں مبتلا ہوں تو انہیں اس سے نجات دیں۔یہ کام بطور خاص اس زمانہ میں نہایت اہمیت کا حامل ہے اور علماء پر واجب ہے ۔

تفسیر امام حسن عسکریؑ میں وارد ہوا ہے کہ امام محمد تقی ؑ نے فرمایا:

وہ یتیمان آل محمد کہ جو اپنے امام ؑ سے جدا کر دیئےگئے اور اپنی جہالت کی وجہ سے حیرت و سرگرانی میں پڑے ہوئےہوں،شیاطین کے ہاتھوں میں جکڑے ہوئے اور ہمارے دشمن ناصبیوں کے ہاتھوں قید ہوں تو جن لوگوں نے ان کی کفالت کی اور انہیں ان مشکلات سے نکالا،انہیں اس حیرت و سرگردانی سے باہر لایا،خدا کی حجتوں اور آئمہؑ کی دلیل کے ذریعہ شیاطین اور ناصبیوں کے وسوسے رد کرتےہوئے ان کے قہر سے نجات دلائی تو انہیں اللہ کے ہاں باقی بندوں سے بلند مقام دیا جائے گا۔ان کی فضیلت آسمان کی زمین پر اور اس کی وسعت،کرسی اور حجابات پر فضیلت سے بھی زیادہ ہوگی۔انہیں ایک عابد پر ایسے


ہی فضیلت حاصل ہوگی جس طرح چودہویں کے چاند کو باقی تمام ستاروں پر فضیلت حاصل ہوتی ہے۔"(۱)

امام علی نقی ؑ سے روایات ہے کہ فرمایا:

"اگر تمہارے قائم کی غیبت کے بعد ایسے علماء باقی نہ رہتے جو ان کی طرف بلانے والے، رہنمائی کرنے والے،اللہ کی حجتوں کے ذریعے ان کے دین کا دفاع کرنے والے،خدا کے کمزور بندوں کو ابلیس کی چالوں اور ناصبیوں کے شکار سے بچانے والےہیں تو پھر ہر شخص خدا کے دین سے مرتد ہوجاتا۔لیکن یہ ایسے لوگ ہیں کہ جو کمزور شیعوں کے دلوں کو ایسے سنبھالے رکھتے ہیں کہ جیسے کشتی والا سواروں کو سنبھالے رکھتا ہے۔یہی لوگ اللہ کےہاں افضل ہیں۔"(۲)

اصول کافی میں معاویہ بن عمار روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام صادق ؑ سے عرض کیا:

"ایک شخص آپ کی حدیث روایت کرتا ہے اور اسے لوگوں میں پھیلاتا ہے اور اسے لوگوں کے دلوں میں اور آپ کے شیعوں کے دلوں میں

____________________

۱:- تفسیرالامام حسن عسکری ؑ:۱۱۶

۲:- تفسیرالامام حسن عسکری ؑ:۱۱۶


پیوست کرتا ہے ،جبکہ آپ کے شیعوں میں ایک عبادت گزار ہے کہ جس کے پاس یہ روایت نہیں ہے ۔تو ان دونو ں میں سے کون افضل ہے؟

امام نے فرمایا:

ہماری حدیث روایت کرنا کہ جس سے ہمارے شیعوں کے دل (ا یمان ) کو مضبوط کیا جائے ہزار عابد (کی عبادت)سے افضل ہے۔"(۱)

پس ان احادیث اور ان جیسی دوسری احادیث کی روشنی میں عالم پر واجب ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق اپنا علم ظاہر کرے۔باالخصوص اس زمانے میں کہ جس میں بدعتیں پھوٹ رہی ہیں۔

اصول کافی میں رسول خداؐ سے مروی ہے:

"جب میری امت میں بدعتیں پھوٹنے لگیں تو عالم کو چاہیے کہ اپنا علم ظاہر کرے اور جو ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی لعنت ہے۔"(۲)

کتاب الفتن میں بحارالانوار سے نقل کرتے ہوئے رسول خدا ؐ سے مروی ہے کہ آپ نے امیرالمومنین ؑ سے فرمایا:

____________________

۱:- الکافی ۱/۳۳

۲:- الکافی ۱/۵۴


"اے علی ؑ! اگر خدا تیرے ذریعے کسی ایک آدمی کی ہدایت کر دے تو یہ تیرے لئے ہر اس چیز سے بہتر ہے کہ جس پر سورج کی روشنی پڑ تی ہے۔"(۱)

۲۷ ۔ ستائیسواں عمل:

ہر شخص کو چاہیے کہ اپنی استطاعت کے مطابق امام عصر ؑ کے حقوق ادا کرے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرے۔

بحار الانوار میں مروی ہے کہ امام جعفر صادق ؑ سے پوچھا گیا:

"کیا قائم کی ولادت ہوچکی ہے؟"

فرمایا:

نہیں ، اگر میں انہیں پاتا توساری زندگی ان کی خدمت کرتا رہتا۔"(۲)

مصنف :اے مومنو ! زرا سوچیے!امام صادق ؑ کتنی زیادہ ان کی قدر و منزلت بیان فرما رہے ہیں۔پس اگر آپ امام ؑ کے خادم نہیں بن سکتے تو کم از کم اپنے گناہوں کے ذریعے دن رات انہیں غمگین تو نہ کیجئے۔اگر آپ شہد نہیں دےسکتے تو زہر بھی تو نہ دیں ۔

____________________

۱:- البحار ۸

۲:- بحارالانوار ۵۱/۱۴۸ ح۲۲


۲۸ ۔ اٹھائیسواں عمل:۔

دعا کرنے والے کو چاہیے کہ اپنے لیے دعا کرنے سے پہلے اللہ سے امام ؑ کے ظہور میں تعجیل کے لیے دعا کرے اور پھر اپنے لیے دعا کرے۔ایک تو امامؑ کی محبت اور ان کے حقوق کی ادائیگی بھی اس چیز کا تقاضہ کرتی ہے اور اس کے علاوہ صحیفہ سجادیہ میں موجود دعاء عرفہ میں بھی یہ چیز واضح ہے۔ اسی طرح بعض دیگر احادیث سے بھی اس امر کی جانب رہنمائی ملتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ امام ؑ کے ظہور میں تعجیل کے لیے دعا کرنے سے اسی (۸۰) سے زائد دنیوی و اخروی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

یہ تمام فوائد اپنے مصادر و ادلۃ سمیت میں نے اپنی کتاب "ابواب الجنات " اور " مکیال المکارم"(۱) میں ذکر کیے ہیں۔اوربعض اس کتاب میں بھی گزر چکے ہیں۔

یہ بات طبیعی اور فکری ہے کہ ایک عقل مند شخص یہ فوائداس دعا پر بھی حاصل کرنا چاہتا ہے کہ جس کے قبول ہونے یا نہ ہونے کا علم بھی نہیں۔ جبکہ امام ؑ کی خاطر دعا کرنا اس کی اپنی دعا کی قبولیت کا سبب بنے گا ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

____________________

۱:- مکیال المکارم ج۱ ص ۳۷۷ باب۵


جیسا کہ آداب دعا میں دعا سے پہلے محمد وآل محمد ؑ پر صلوات بھیجنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ یہ اپنے بعد والی دعا کی قبولیت کا سبب بنتا ہے۔(۱)

____________________

۱:- الکافی /۲۴۹۱ باب صلوات ح۱۔(امام صادقؑ:دعا اس وقت تک پردے میں چھپی رہتی ہے جب تک محمد و آل محمد پر صلوات نہ پڑھی جائے۔


۲۹ ۔ انتیسواں عمل:۔

امامؑ کے لیے محبت و دوستی کا اظہار کرنا۔

غایۃ المرام میں مروی ہے کہ رسول خدا ؐ حدیث معراج میں فرماتے ہیں کہ اللہ نے آپؑ سے فرمایا:

"اے محمد ؐ ! کیا آپ انہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔پھر فرمایا آگے بڑھیئے۔پس میں آگے بڑھا تو اچانک علی ؑ ابن بی طالبؑ ،اور حسنؑ ،حسین ؑ،محمد بن علی ؑ ،جعفر بن محمدؑ ،موسی بن جعفرؑ ،علی ابن موسیؑ،محمد بن علیؑ، علی بن محمدؑ،حسن بن علی ؑ اور حجت قائمؑ کو دیکھا کہ ان کے درمیان کوکب دری کی طرح چمک رہے تھے۔

میں نے پوچھا اے پروردگار یہ کون ہیں؟

فرمایا:

یہ آئمہ حق ہیں اور یہ قائم ؑ ہیں کہ جو میرے حلال کو حلال اور میرے حرام کو حرام کرنے والے ہیں۔(۱) اور میرے دشمنوں سےانتقام لیں گے۔

اے محمدؐ ان سے محبت کیجئے ۔بے شک میں بھی ان سے محبت کرتا ہوں اور جو ان سے محبت کرے اس سے بھی محبت کرتا ہوں۔"(۲)

____________________

۱:- یعنی تمام احکام کو ظاہر کریں گے حتی کہ تقیہ کے بغیر عمل کریں گے۔

۲:- غایۃ المرام :۱۸۹ ح۱۰۵ اور ص۲۵۶ ح۲۴


مصنف : امام ؑ کی محبت کابطور خاص حکم دینے سے(جبکہ تمام آئمہ ؑ سے محبت واجب ہے) یہ پتا چلتاہے کہ ان کی محبت میں اللہ کے اس حکم کے پیچھے کوئی خاص اور معین خصوصیت ہے۔اور ان کے وجود مبارک میں ایسی صفات ہیں جو اس تخصیص کا تقاضا کرتی ہیں۔

۳۰ ۔ تیسواں عمل: ۔

امام ؑ کے انصار اور ان کےخادموں کے لیےدعا کرنا۔

جیسا کہ یونس بن عبد الرحمٰن کی دعا میں آیا ہے کہ جو پہلے گزر چکی ہے۔(۱)

۳۱ ۔ اکتیسواں عمل:

امام ؑ کے دشمنوں پر لعنت کرے۔

جیسا کہ بہت سی روایات سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔اور امام ؑ سے وارد ہونے والی دعا میں بھی یہی ظاہر ہوتا ہے۔(۲)

۳۲ ۔ بتیسواں عمل:۔

اللہ سے توسل کرنا ۔

____________________

۱:- جمال الاسبوع ص۳۱۳

۲:- الاحتجاج : ۲/۳۱۶


تاکہ وہ ہمیں امام ؑ کے انصار میں سے قرار دے۔جیسا کہ دعا عہد وغیرہ میں وارد ہوا ہے۔

۳۳ ۔ تینتیسواں عمل:۔

امام ؑ کے لیے دعا کرتے وقت آواز بلندکرنا:

امام ؑ کے لیے دعا کرتے وقت آواز بلند کرے بالخصوص عام محافل و مجالس میں ۔ اس میں ایک تو شعائر اللہ کی تعظیم ہے اور اس کے ساتھ امام صادقؑ سے مروی دعا ندبہ کے بعض فقرات سے اس کا مستحب ہونا ظاہر ہوتا ہے۔(۱)

۳۴ ۔ چونتیسواں عمل:۔

آپؑ کے اعوان وانصار پر صلوات بھیجنا۔

یہ بھی ان کے لیے دعا ہی کی ایک صورت ہے۔صحیفہ سجادیہ کی دعا عرفہ اور بعض دیگر مقامات میں یہی و ارد ہوا ہے۔

۳۵ ۔ پینتیسواں عمل :۔

امام ؑ کی نیابت میں خانہ کعبہ کا طواف بجا لانا۔

____________________

۱:- عبارت یہ ہے: دعا و استغاثہ کے وقت آواز بلند کرو۔


کتاب مکیال المکارم میں اس کی دلیل بیان کی ہے۔(۱) یہاں اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے ذکر نہیں کر رہا۔

۳۶ ۔ چھتیسواں عمل:۔

امام ؑ کی نیابت میں حج بجا لانا۔

۳۷ ۔ سینتیسواں عمل:۔

امام ؑ کی نیابت میں حج کرنے کے لیے نائب بھیجے۔

اس کی دلیل وہی ہے جو پہلے خرائج(۲) میں حدیث مروی ہے۔اسے میں نے مکیال المکارم(۳) میں ذکر کیا ہے اور یہ النجم الثاقب(۴) میں بھی موجود ہے۔

۳۸ ۔ اڑھتیسواں عمل:۔

روزانہ کی بنیاد پر یا ہر ممکن وقت میں امام ؑ سے تجدید عہد و تجدید بیعت کرنا۔

جان لیجئے کہ اہل لغت کے ہاں بیعت کا معنی یہ ہے: کسی کام پر عہد اور اتفاق کرنا۔

____________________

۱:- مکیال المکارم ۲/۲۱۶

۲:- الخرائج والجرائح : ۷۳

۳:- مکیال المکارم : ۲/۲۱۵

۴:- النجم الثاقب: ص۷۷۴ (فارسی)


امام ؑ کے ساتھ عہد اور بیعت کا معنی یہ ہے کہ :

مومن اپنی زبان سے اقرار کرے اور دل سے پختہ عزم کرے کہ وہ امام ؑ کی مکمل اطاعت کرے گاار وہ جب بھی ظہور فرمائیں گے ان کی نصرت و مدد کرے گا۔

دعا عہد صغیر جو پیچھے گزر چکی ہے اور دعا عہد کبیر جو آگے آئے گی ان دونوں میں بیعت کا یہی معنی ظاہر ہوتا ہے۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کسی شخص کے ہاتھ پر ہاتھ رکھنا اس عنوان سے کہ یہ امامؑ کی بیعت ہے تو یہ ایک گمراہ کن بدعت ہے کیونکہ یہ طریقہ قرآن و روایات معصومین ؑ میں سے کسی میں بھی بیان نہیں ہوا ہے۔ ہاں اہل عرب میں یہ بات مشہور تھی کہ ایک شخص اپنا ہاتھ دوسرے کہ ہاتھ پر رکھ کر اس کے ساتھ واضح صورت میں عہد و بیعت کا اظہار کرتا تھا۔

بعض احادیث میں وارد ہوا ہے کہ رسول خدا ؐ نے بیعت کے مقام پر مصافہ کیا۔ پھر اپنامبارک ہاتھ پانی کے ایک برتن میں ڈال کرنکال لیا اور پھر مسلمان عورتوں کو حکم دیا کہ وہ اس برتن میں اپنا ہاتھ ڈالیں ۔ لیکن یہ کام اس بات کی دلیل نہیں بن سکتا کہ بیعت کی یہ شکل و صوارت ہر زمانے حتی امام ؑ کی غیبت کے زمانےمیں بھی جائز ہے۔بلکہ بعض احادیث سے ظاہر ہوتاہے کہ جہاں امام یا نبی سے بیعت کرنا ممکن نہ ہو وہاں زبانی اقرار اور دل سے عزم کرنے


پر اکتفاء کرنا واجب ہے۔اس مسئلہ میں ایک مفصل حدیث موجود ہے جسے علماء نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے۔

انہی میں سے ایک تفسیر البرہان میں امام محمد باقرؑ سے مروی ہے کہ رسول خداؐ نے امیرالمومنینؑ کو اپنا خلیفہ بنانے کے بعد ان کے بہت سے فضائل بیان کیے اور پھر فرمایا:

"اے لوگو! تم اس سے زیادہ ہو کہ میرے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ سکو(بیعت کر سکو) اور اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہاری زبانوں سے علیؑ کے امیرالمومنین ہونے کا اور ان کے بعد آنے والے آئمہ کا اقرار لوں کہ جو مجھ سے ہیں اور ان(علیؑ) سے ہیں۔جیسا کہ میں نے تمہیں بتا دیا کہ میری زریت علی ؑ کی صلب سے ہے۔پس تم سب یوں کہو: آپؐ نے امیرالمومنین علیؑ اور ان کی اولاد سے آنے والے آئمہؑ کے بارے میں ہمارے اور آپؐ کے رب کا جو حکم پہنچا دیا ہے ہم نے اسے سنا،اطاعت کی اور اس پر راضی ہیں اور سر تسلیم کرتے ہیں۔۔۔الخ

پس اگر امام کی بیعت کے عنوان سے کسی غیر امام کے ہاتھ پر ہاتھ رکھنا جائز ہوتا تو پھر رسولؐ لوگوں کو حکم دیتے کہ ہر گروہ اکابرین صحابہ میں سے کسی ایک کہ ہاتھ پہ ہاتھ رکھے ۔ جیسے سلمان ،ابوزر وغیرہ۔پس جب ایسا نہیں ہوا تو یہ عمل خود نبی و امام کے زمانہ ظہور کےعلاوہ صحیح نہیں۔جہاد کی طرح کہ جو امام ؑ کے زمانہ ظہور کے ساتھ مختص ہے۔


اس کے علاوہ یہ بھی مد نظر رہے کہ کسی کتاب کی کسی روایت میں یہ بات وارد نہیں ہوئی کہ آئمہؑ کے زمانہ میں کچھ مسلمانوں نے آئمہ ؑ کے بڑے صحابہ میں سے کسی کے ہاتھ بیعت کی ہواس عنوان سے کہ خود آئمہ ؑ نے ان کے بارے یہ حکم دیا ہےاور ہم اس معاملے میں ان سے مدد لے رہے ہیں۔

۳۹ ۔ انتالیسواں عمل:۔

بعض فقہاء مثلا محدث شیخ حر عاملی نے وسائل الشیعہ میں لکھا ہے کہ :

امام مہدیؑ کی نیابت میں آئمہ معصومین کی قبورکی زیارت کرنا مستحب ہے۔(۱)

۴۰ ۔ چالیسواں عمل:۔

اصول کافی میں مفضل سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق سے سنا کہ وہ فرما رہے تھے:

"اس صاحب امر کی دوٖغیبتیں ہیں۔ان میں سے ایک اپنے اہل کی طرف پلٹ جائے گی۔اور دوسری کے بارے میں کہا جائے گا کہ وہ ہلاک ہوگئے یا کس وادی میں چلے گئے۔میں نے عرض کیا: جب ایسا ہو تو ہم کیا کریں؟ فرمایا:

____________________

۱:- وسائل الشیعہ ج۱۰ ص۴۶۴ ح۱


جب کوئی مدعی اس بات کا دعوی کرےتو اس سے ایسے سوال کرو کہ جس کا جواب ان جیسی شخصیت دے سکتی ہو۔"(۱)

مصنف:یعنی ہم اس سے ایسے امور کے بارے سوال کریں کہ جن پر لوگوں کا علم نہیں پہنچ سکتا۔مثلا ماں کے رحم میں جنین کے بارے کہ مذکر ہے یا مؤنث ہے؟ اور کس وقت ولادت ہوگی؟ اور ان چیزوں کے بارے میں کہ جنہیں آپ اپنے دلوں میں چھپائے رکھتے ہیں کہ جنہیں صرف اللہ جانتا ہے۔اور حیوانات و جمادات کے ساتھ کلام کرنا۔اور ان کا گواہی دینا کہ یہ سچا ہےاور اس امر میں برحق ہے۔جیسا کہ ایسی چیزیں آئمہ سے کئی بار صادر ہوئی ہیں۔اور کتابوں میں تفصیل سے مذکور ہیں۔

۴۱ ۔ اکتالیسواں عمل:۔

غیبت کبری کےدوران جو شخص امام کی نیابت خاصہ کا دعوی کرے اسے جھٹلانا۔

یہی بات کمال الدین اور احتجاج میں امامؑ کی توقیع شریف میں مذکور ہے۔

۴۲ ۔ بیالیسواں عمل:۔

امام کے ظہور کا وقت معین نہ کرنا۔

____________________

۱:- الکافی ج۱ ص۳۴۰


جو شخص ایسا کرے اسے جھٹلانا اور اسے کذاب (جھوٹا) کا نام دینا۔امام صادق ؑ کی صحیح حدیث میں ہے کہ آپ نے محمد بن مسلم سے فرمایا:

"لوگوں میں سے جوشخص تمہارے سامنے کسی چیز کا وقت معین کرے تو اس کوجھٹلانے سے مت گھبراؤ کیونکہ ہم کسی کے لیے وقت معین نہیں کرتے۔"(۱)

ایک اور حدیث میں فضیل سے رویت ہے کہ انھوں نے فرمایا:

میں نے امام باقر سے عر ض کیا : کیا اس امر (ظہور مہدیؑ ) کا کوئی وقت معین ہے؟

تو امام نے فرمایا:

وقت معین کرنے والے جھوٹے ہیں۔ وقت معین کرنے والے جھوٹے ہیں۔ وقت معین کرنے والے جھوٹے ہیں۔(۲)

اور کمال الدین میں امام رضا ؑ سے مروی ہے کہ فرمایا: مجھے میرے باپ نے ،انہوں نے اپنےباپ سے، انہو ں نے اپنے آباء سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول خدا ؐ سے پوچھا گیا کہ اے رسول خداؐ۔ آپ کی زریت میں سے قائم کب ظہور فرمائیں گے؟ تو فرمایا: ان کی مثال اس گھڑی کی سی ہے جس کے بارے اللہ نے فرمایا:

____________________

۱:- الغیبۃ الطوسی ۲۶۲ اورانہوں نے بحارالانوار ۵۲/۱۰۴ ح۸ سے

۲:- الغیبۃ الطوسی ۲۶۲


لا يُجَلِّيها لِوَقْتِها إِلاَّ هُوَ ثَقُلَتْ فِي السَّماواتِ وَالأْرْضِ لا تَأْتِيكُمْ إِلاَّ بَغْتَة

"وہی اس کو بروقت ظاہر کردے گا یہ قیامت زمین و آسمان دونوں کے لیے گراں ہے اور تمہارے پاس اچانک آنے والی ہے"۔(۱)

۴۳ ۔ تینتالیسواں عمل:۔

دشمنوں سے تقیہ کرنا:

واجب تقیہ یہ ہے کہ جب بندہ مومن کو عقلا اپنی جان یا اپنے مال یا اپنی عزت پر کسی ضرر اور نقصان کا خوف ہو تو وہ حق کو ظاہر کرنے سے خود کو روک لے۔ بلکہ اگر اپنی جان،مال یا عزت کی حفاظت کے لیے اپنی زبان سے مخالفوں کی موافقت بھی کرنی پڑے تو یہ بھی کر دینی چاہیے۔لیکن ضروری ہے کہ اس کا دل اس کی اس زبانی بات کے مخالف ہو۔

کمال الدین میں امام رضا ؑ سےمروی ہے کہ فرمایا:

"جس کے پاس پرہیزگاری نہیں اس کا دین نہیں اور جس کے پاس تقیہ نہیں اس کا ایمان نہیں ۔تم میں سے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ صاحب عزت وہ ہے جو سب سے زیادہ تقیہ پر عمل پیرا ہو"۔

پوچھاگیا : اے فرزند رسولؐ : کس وقت تک تقیہ کریں؟

فرمایا:

____________________

۱:- کمال الدین ۲/۳۷۳ اور آیۃ سورۃ اعراف ۱۸۷


"وقت معلوم کے دن تک۔اور یہ وہ دن ہے کہ جس میں ہم اہل بیتؑ کے قائم ظہور فرمائیں گے۔پس جس نے ظہور قائمؑ سے پہلے تقیہ ترک کر دیا تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔"(۱)

تقیہ کے وجوب پربہت سی روایات موجود ہیں۔ اور جو میں نے تقیہ کا معنی پیش کیا یہ وہی معنی ہے جو کتاب الاحتجاج کے اسی باب میں امیرالمومنینؑ کی حدیث میں مذکور ہے۔ امام ؑ نے اس حدیث میں تقیہ پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ تقیہ ترک کرنے میں تمہاری ذلت ہے اور تمہارے اور مومنین کے خون بہے جانے کا سبب ہے۔۔۔۔الخ(۲)

خصال میں شیخ صدوق نے سند صحیح کے ذریعے امام باقر ؑ سے روایت کی ہے کہ امیر المومنینؑ نے فرمایا:

"دنیا کی مضبوطی چار چیزوں سے ہے:(۳)

۱۔اس عالم سے جو بولنے والا اور اپنے علم پر عمل کرنے والا ہو۔

____________________

۱:- کمال الدین ۲/۳۷۱

۲:- امیر المومنین کی ایک طویل حدیث ہے کہ جس سے ہم نے اپنی ضرورت کا مطلب لیا ہے۔ فرمایا: بچو اس وقت سے کہ تم تقیہ ترک کر دو کہ جس کا میں نےتمہیں حکم دیا تھا کہ اس سے تمہارا اور تمہارے بھائیوں کا خون بہے گا۔۔۔الاحتجاج طبرسی۱/۳۵۵

[۳:- یعنی دین اسلام کا قیام ان چار چیزوں پر موقوف ہے۔


۲۔اس غنی سے جو دینداروں پر فضل کرنے میں کنجوسی نہیں کرتا۔

۳۔ اس فقیر سے کہ جو اپنی دنیا کے بدلے اپنی آخرت نہیں بیچتا۔

۴۔اس جاہل سے جو علم حاصل کرنے میں تکبر نہیں کرتا۔

پس جب عالم اپنا علم چھپانے لگے،غنی اپنے مال میں کنجوسی کرنے لگے ،فقیر اپنی آخرت کو دنیا کے بدلے بیچ ڈالے،اور جاہل طلب علم سے تکبر کرنے لگے تو دنیا پیچھے کی جانب پلٹ جائے گی۔پھر تمہیں مال کی کثرت اور قوم کا مختلف ٹکڑوں میں بکھرا ہونا تعجب میں نہ ڈالے۔

پوچھا گیا:

اے میرالمومنین ؑ اس زمانے میں زندگی کیسے گزاریں ؟

فرمایا:

ظاہر میں ان کے ساتھ مل کر رہو لیکن باطن میں ان کے مخالف رہو۔ آدمی جو کچھ کماتا ہے اسے وہی ملتا ہے اور جس کے ساتھ محبت کرتا ہے وہ اسی کے ساتھ محشور ہوگا۔اس کے ساتھ اللہ کی طرف سے فرج(کشائش) کا انتطار کرو۔(۱)

____________________

۱:- الخصال ص۱۹۷ ح۵


اس باب میں بہت سی روایات ہیں جن میں سے کچھ میں نے اپنی کتاب مکیال المکارم(۱) میں ذکر کی ہیں۔

۴۴ ۔ چوالیسواں عمل:۔

گناہوں سے حقیقی توبہ کرنا:

اگرچہ درست ہے کہ حرام اعمال سے توبہ کرنا ہر زمانے میں واجب ہے لیکن اس زمانے (زمانہ غیبت) میں اس کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کیونکہ حضرت صاحب الامر ؑ کی غیبت اور اس کے طولانی ہونے کے اسباب میں سے ایک سبب ہمارے بہت بڑے اور کثیر گناہ ہیں۔پس یہ گناہ ظہور میں رکاوٹ کا باعث ہیں۔ جیسا کہ بحارالانوار میں امیر المومنین ؑ سے روایت ہے اور اسی طرح امام ؑ کی ایک توقیع مبارک کہ جواحتجاج میں مروی ہے کہ فرمایا:

"ہمیں ان سے کوئی چیز روکے ہوئے نہیں ہے سوائے ہم تک پہنچنے والے (وہ اعمال) کہ جنہیں ہم ناپسند کرتے ہیں اور ان سے ان اعمال کا سر زدہونا پسند نہیں کرتے ۔"(۲)

____________________

۱:- مکیال المکارم ۲/۲۸۴

۲:- الاحتجاج ۲/۳۲۵ اور انہوں نے بحارالانوار ۵۳/۱۷۷ سے


تو بہ یہ ہے کہ اپنے گزشتہ گناہوں پر پشیمان ہو کر مستقبل میں انہیں ترک کرنے کا عزم کرنا۔ اس کی علامت یہ ہے کہ جو واجبات چھوڑے ہیں (انہیں ادا کرکے)ان سے اپنا ذمہ بری کرانا،اور اپنے ذمے لوگوں کے جو حقوق باقی ہوں انہیں ادا کرنا اور گناہوں کی وجہ سے اپنے بدن پر بڑھے ہوئے گوشت کو ختم کرنا اور عبادت کی اس قدر مشقت برداشت کرنا کہ گناہوں کی لذت بھول جائے۔اور یہ چھ کام انجام دینے سے توبہ کامل ہوجاتی ہےاور ویسی توبہ بن جاتی ہے کہ جیسی امیرالمومنینؑ سے متعدد کتابوں میں بیان ہوئی ہے۔

پس اپنے نفس کو خبر دار کرو اوریہ نہ کہو کہ بالفرض اگر میں توبہ کر بھی لوں پھر بھی بہت سے لوگ توبہ نہیں کر یں گے پس امام ؑ کی غیبت جوں کی توں باقی رہے گی۔ پس تمام لوگوں کے گناہ امام ؑکی غیبت کو بڑھاتے ہیں اور ظہور میں تاخیر کا سبب ہیں۔

تو میں جواب میں کہتا ہوں کہ : اگر ساری مخلوق امامؑ کے ظہور میں تاخیر کا سبب ہے تو آپ اپنے نفس کی طرف دیکھیں کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ تونہیں ہے مجھے خوف ہے کہ کہیں آپ بھی ویسے ہی شمار نہ ہونے لگیں جیسے ہارون رشید نے امام موسی کاظم ؑ ،مامون نے امام رضاؑ کو اور متوکل نے امام علی نقی ؑ کو سامرء میں قید کیے رکھا۔


۴۵ ۔ پینتالیسواں عمل:۔

روضۃ الکافی میں امام صادقؑ سے مروی ہے کہ فرمایا: "جب تم میں سے کوئی قائم ؑ کی تمنا کرے تو اسے چاہیے کہ عافیت میں تمنا کرے کیونکہ اللہ تعالی نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رحمت بنا کر بھیجا تھا اور قائم ؑ کو انتقام لینے والا بنا کر بھیجے گا۔"(۱)

مصنف:یعنی ہم اللہ سے دعا کریں کہ ہم امامؑ سے اس حال میں ملاقات کریں کہ ہم مومن ہوں اور آخری زمانے کی گمراہیوں سے عافیت میں ہوں تاکہ ہم امام ؑ کے انتقام کا نشانہ نہ بن جائیں۔

۴۶ ۔ چھیالیسواں عمل:۔

لوگوں کو امام ؑ سے محبت کی دعوت دینا۔

مومن کو چاہیے کہ لوگوں کو امام ؑ سے محبت کی دعوت دے۔ ان کے سامنے امام ؑ کے لوگوں پر احسان ، ان کی برکات ،ان کے وجود کے فائدے ،اور ان کی لوگوں سے محبت جیسی باتیں بیان کرکے انہیں امامؑ سے محبت کی طرف

____________________

۱:- الکافی ۸/۲۳۳ ح۳۰۶


بلائے اور انہیں ان اعمال کی تشویق دلائے کہ جن سے امامؑ کی محبت حاصل کی جاتی ہے۔

۴۷ ۔ سینتالیسواں عمل:۔

امام ؑ کا زمانہ غیبت طویل ہونے کی وجہ سے دل سخت نہ کریں بلکہ مولا کی یاد سے دلوں کو نرم و تروتازہ رکھیں۔اللہ رب العالمین نے قرآن کی سورہ حدید میں فرمایا ہے:

أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَما نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتابَ مِنْ قَبْلُ فَطالَ عَلَيْهِمُ الأْمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فاسِقُون

"کیا مومنین کے لیے ابھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل ذکر خدا سے اور نازل ہونے والے حق سے نرم ہو جائیں اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی پھر ایک طویل مدت ان پر گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئےاور ان میں سے بہت سے لوگ فاسق ہیں۔"(۱)

اور برہان میں امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے(۲) کہ آپ نے فرمایا: یہ آیۃ

____________________

۱:- سورۃ حدید :۱۶

۲:- البرہان ۴/۲۹۱ ،ج۱


وَلا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتابَ مِنْ قَبْلُ فَطالَ عَلَيْهِمُ الأْمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فاسِقُون

(ان لوگوں کی طرح نہ ہونا کہ جنہیں اس سے پہلے کتاب دی گئی پھر ان پر مدت طویل ہوگئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اوران میں سے اکثر فاسق ہیں )

زمانہ غیبت کے لوگوں کے لیے نازل ہوئی ہے۔

پھر فرمایا:

اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الأْرْضَ بَعْدَ مَوْتِها

جان لو کہ اللہ زمین کو مردہ ہونے کے بعد پھر زندہ کرے گا۔

امام محمد باقر ؑ نے "زمین کے مردہ ہونے " کا معنی بیان کرتے ہوئے فرمایا: اس سے مراد اہل زمین کا کفرہے اور کافر مردہ ہوتاہے۔اللہ اسے قائم کے ذریعے زندہ کرے گا۔پس وہ زمین میں عدل قائم فرمائیں گے پس زمین زندہ ہو جائےگی اور اہل زمین بھی مردہ ہونے کے بعد زندہ ہو جائیں گے۔(۱)

اور کمال الدین میں امیرالمومنین ؑ سے صحیح سند کے ساتھ روایت ہے کہ فرمایا:

"ہمارے قائم کے لیے ایسی غیبت ہے کہ جس کی مدت طویل ہے گویا میں دیکھ رہا ہوں شیعہ ان کی غیبت میں ریوڑ کی طرح سرگرداں ہیں ۔وہ چراگاہ کی

____________________

۱:- البرہان ۴/۲۹۱ ،ج۴


تلاش میں ہیں مگر وہ اسےنہیں پاتے مگر جو اپنے دین پر ثابت قدم رہ جائیں اور امام ؑ کی غیبت سے تنگ دل نہ ہوں تو ایسے لوگ قیامت کے دن میرے ساتھ میرےہم درجہ ہوں گے۔"(۱)

مصنف: اے صاحب الزمان ؑ کے منتظر مومنین ! ا س عظیم بشارت پر تمہارے دل مسرور اور تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہونی چاہیں کیونکہ یہ تمام بشارتوں میں سب سے عظیم بشارت ہے۔ اور کوشش کرو کہ تمہارے دل نرم رہیں اور امامؑ زمانہ کی غیبت کے زمانہ میں تنگ دل نہ ہوں ۔

اگر آپ یہ اعتراض کریں کہ دل کی نرمی وسختی تو ہمارے اختیار میں نہیں۔تو میں بھی یہ بات تسلیم کرتا ہوں لیکن اس کے مقدمات اور اسباب تو آپ کے اختیار میں ہیں۔ یعنی آپ ایسے اعمال بجا لاسکتے ہیں کہ جن سے آپ کے دل صاف ہو جائیں اور ایسے اعمال بھی کر سکتے ہیں جن سے آپ کے دل سخت ہو جائیں ۔پس اگر آپ دل کی سختی سے ڈرتے ہیں تو وہ اعمال ترک کر دیں جو قساوت قلبی کا باعث بنتے ہیں اور وہ اعمال پابندی سے انجام دیں جو دلوں کو صاف اورنرم کریں ۔ جیساکہ صاحب مجمع البیان نے مذکورہ آیۃ کی تفسیر میں فرمایا : پس ان کے دل سخت ہوگئے اور ان کا خشوع زائل ہوگیا اور وہ گناہوں کے عادی بن گئے۔(۲)

____________________

۱:- کمال الدین ۱/۳۰۳ ،ج۱۴

۲:- مجمع البیان ۹/۲۳۸


امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ فرمایا: اللہ تعالی گناہ پر اتنا عذاب نہیں دے گا جتنی سزا قساوت قلبی پر دے گا۔(۱)

یہاں پر میں اپنی اور اپنے بھائیوں کی نصیحت کے لیے چند امور ذکر کروں گا کہ جنہیں میں نے کتب حدیث میں دیکھا ہے اور اللہ ہی سے توفیق کا طالب ہوں۔

وہ امور کہ جن سے دل نرم اور رقیق بن جاتا ہے:

۱ حضرت بقیۃ اللہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ذکر اور ان کی صفات ،ان کے فضائل و خصائل پر مشتمل مجالس میں حاضر ہونا اور اہل بیت ؑ کے وعظ و نصیحت پر مشتمل مجالس میں شرکت ،اور قرآن کی مجالس میں شرکت کرنا بشرطیکہ آیات قرآنی کے معانی میں غور کیا جائے۔

۲ زیارت قبور

۳ موت کو کثرت سے یاد کرنا

۴ یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھنا ،ان سے محبت کرنا اور ان پر احسان کرنا۔

وہ امور جو قساوت قلبی کا باعث ہیں:

۱ ذکر خدا کو ترک کرنا۔

____________________

۱:- تحف العقول :۲۹۶ (وما ضرب عبد بعقوبة اعظم من قساوت القلب )


۲ حرام طعام کھانا۔

۳ اہل دنیا کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور ان سے کثرت سے ملاقات کرنا۔

۴ پیٹ بھر کر کھانا۔

۵ بہت زیادہ ہنسنا

۶ کھانے پینے کے بارے میں بہت سوچنا۔

۷ ان چیزوں کے بارے بہت زیادہ گفتگو کرنا کہ جو آخرت میں کوئی فائدہ نہیں رکھتیں۔

۸ لمبی امیدیں رکھنا ۔

۹ اول وقت میں نماز ادا نہ کرنا۔

۱۰ فاسقوں اور معصیت کاروں کے ساتھ بیٹھنا اور میل جول رکھنا ۔

۱۱ ایسی باتیں غور سے سننا کہ جو آخرت میں کسی کام کی نہیں۔

۱۲ لہو و لعب کی خاطر شکار پہ جانا۔

۱۳ دنیوی امور میں ریاست کی زمہ داری لینا،سر پرستی کرنا۔

۱۴ بے حیائی کے مقامات پر جانا۔

۱۵ عورتوں کے ساتھ میل جول رکھنا۔

۱۶ دنیوی اموال کی کثرت ۔

۱۷ توبہ ترک کرنا۔

۱۸ موسیقی سننا۔


۱۹ نشہ آور چیزیں اور حرام مشروب کا پینا شراب وغیرہ۔

۲۰ اہل علم کی محفلوں کو ترک کرنا۔یعنی ایسی مجالس میں حاضر نہ ہونا کہ جو دلوں کو پاک صاف اور نرم کرتی ہیں۔ جن میں احکام دین بیان کیے جاتے ہوں اور آئمہ طاہرین کی احادیث اور ان کے مواعظ حسنہ بیان کیے جاتے ہوں۔اسی طرح حضرت صاحب الزمان ؑ کے خصائل بیان کیے جاتے ہوں۔ قرآنی آیات پڑھی جاتی ہوں۔خصوصا ایسی محفل کہ جس میں احادیث بیان کرنے والا خود ان پر عمل پیرا بھی ہوں۔کیونکہ اس کے قول سے سننے والے کے دل پر ایک خاص اثر ہوتا ہے۔ جیسا کہ

امام رضا ؑ سے روایت ہے کہ فرمایا:

"جو شخص ایسی مجلس میں بیٹھے کہ جس میں ہمارے امر کو زندہ کیاجاتا ہو تو اس کا دل اس دن مردہ نہیں ہوگا جس دن لوگوں کے دل مردہ ہوجائیں گے۔"(۱)

____________________

۱:- امالی الصدوق ۶۸/المجلس ۱۷ ح۴، بحارالانوار ۴۴/۲۷۸ ح۱


خلاصہ:

اپنی قساوت قلبی ختم کرکے اپنے دلوں کو نرم کریں ۔کہیں معاملہ یہاں تک نہ پہنچ جائے کہ آپ کے دل پر کوئی وعظ و نصیحت اثر ہی نہ کرے اور پھر رحمت خدا سے محروم رہ جائیں۔

۴۸ ۔ اڑتالیسواں عمل:۔

حضرت صاحب الزمان ؑ کی نصرت پر اتفاق اور اجتماع کرنا۔

یعنی مومنین کے دل آپس میں امام ؑ کی نصرت پر متفق ہوں اور ان کی نصرت پر ایک دوسرے سے عہد و پیمان باندھیں اور اس عہد کو پورا کرنے کا تہیہ کریں ۔

جیسا کہ شیخ مفید کو امام ؑ کی لکھی گئی ایک توقیع مبارکہ میں بیان ہوا ہے۔یہ وہ آخری توقیع ہے جسے شیخ الجلیل احمد بن ابی طالب الطبرسی نے کتاب الاحتجاج میں ذکر کیا ہے۔ اس میں مذکور ہے کہ :

اگر ہمارے شیعوں کو اللہ اطاعت کی توفیق دے اور ان کے دل ہمارے ساتھ اپنے عہد کو پورا کرنے کے لیے جمع ہو جائیں تو ہماری ملاقات میں کوئی تاخیر نہ ہوتی اور وہ جلد ہماری زیارت کی سعادت حاصل کرتے۔(۱)

____________________

۱:- الاحتجاج ۲/۳۲۵


۴۹ ۔ انچاسواں عمل:۔

اپنے واجب مالی حقوق زکوٰۃ ،خمس اور سھم امام ؑ کی ادائیگی کا اہتمام کریں ۔

اگرچہ یہ کام ہر زمانے میں واجب ہے لیکن غیبت امام ؑ کے زمانہ میں اس کا ایک خاص اثر ہے اور اس بارے میں خصوصی حکم فرمایا گیا ہے۔

مذکورہ توقیع میں ہی امام ؑ فرماتے ہیں :

"اور ہم آپ سے عہد کرتے ہیں ۔۔۔کہ آپ کے دینی بھائیوں میں سے جو بھی تقوی اختیار کرے گا اور اپنے زمے واجب حقوق کو ان کے مستحقین تک پہنچائے گا تو وہ فتنہ باطلہ اور گمراہی کی تاریکیوں سے امان میں رہے گا ااور جو شخص اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے مستحقین کو ان کا حق پہنچانے سے بخل کرے گا تو وہ دنیا و آخرت میں خسارے میں رہے گا۔(۱)

نوٹ:۔

کسی شخص پر عائد ہونے والے مالی حقوق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ ہر سال رقم کی ایک خاص مقدارامام زمانہؑ کے لیے ہدیہ کرے۔ اور یہ واجب سھم امام ؑ سے ہٹ کر ہے۔کیونکہ سھم امام تو کچھ خاص اشیاء پر خاص صورتوں میں واجب ہوتا ہے کہ جن کی ذکرفقہی کتابوں میں موجود ہے۔لیکن اپنے مال میں

____________________

۱:- البحار ۹۶/۲۱۶، البرہان ۱/۲۹۷


سے ایک خاص رقم امام کے لیے سالانہ ہدیہ کرنے کی کوئی خاص شرط نہیں ہے بلکہ یہ ہر کسی کے لیے ہے چاہے فقیر ہو یا امیر ، ہر حا ل میں واجب ہے کہ سالانہ امام ؑ کی خدمت میں کچھ ہدیہ کرے۔

بحارالانوار اور البرہان میں مفضل سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:

میں ایک دن امام صادق ؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرےپاس کوئی چیز تھی جسے امام ؑ کے سامنے رکھ دیا ۔ تو انہوں نے پوچھا : یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: یہ آپ کے چاہنے والوں کی طرف سے ہدیہ ہے۔ تو آپ نے فرمایا: اے مفضل ! میں اسے قبول کرتا ہوں لیکن اس لیے نہیں کہ مجھے اسکی ضرورت ہے بلکہ فقط اس لیے کہ اس سے ان کا تزکیہ ہوگا۔ پھر فرمایا: میں نے اپنے پدر گرامی سے سنا کہ فرمایا: جس شخص پر سال گزر جائے اور اس کے مال میں سے کم یا زیادہ کچھ بھی ہم تک نہ پہنچے تو اللہ بروز قیامت اس کی طرف نظر (رحمت )نہیں فرمائے گا مگر یہ کہ اللہ اسے معاف کر دے۔ پھر فرمایا: اے مفضل! یہ وہ فریضہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں ہمارے شیعوں پر فرض کیا ہے۔

ارشاد ہوا:

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّـٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ۚ


"تم ہرگز نیکی کو نہیں پا سکتے یہاں تک کہ اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے خرچ نہ کرو۔"(۱)

ایک اور حدیث میں آیۃ شریفہ "وَالَّـذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّـٰهُ بِهٓ اَنْ يُّوْصَلَ " کی تفسیر میں فرمایا: "یہ امام ؑ کا صلہ (ہدیہ)ہے کہ جو ہر سال دینا ہوتا ہے چاہے کم ہو یا زیادہ۔ پھر فرمایا: اوراس سے ہم کچھ نہیں چاہتے سوائے یہ کہ تمہارا تزکیہ ہو۔"(۲)

ایک اور حدیث میں فرمایا:

"اپنے اموال میں سے آل محمد علیہم السلام کے لیے صلہ(ہدیہ ) کو ترک نہ کرو۔جو ٖغنی ہو وہ اپنی حیثیت کے مطابق اور جو نادار ہو وہ اپنی حیثیت کے مطابق دے۔اور جو چاہتاہے کہ اللہ اس کی حاجات پوری کرے تو وہ اپنی سب سے ضروری چیزوں میں سے آل محمد اور ان کے شیعوں کو ہدیہ کرے۔"(۳)

اور فقیہ میں امام جعفر صادق ؑسے روایت ہے کہ :

____________________

۱:- بحارالانوار ۹۶/۲۱۶ البرہان ۱/۲۹۷ اور آیۃ سورہ آل عمران:۹۲

۲:- بحارالانوار ۹۶/۲۱۶ ح۵ البرہان ۲/۲۸۹ اورآیہ سورہ رعد:۲۱

۳:- بحارالانوار ۹۶/۲۱۶ ح۶


"ایک درھم جو امام تک پہنچایا جائے وہ ان دس لاکھ درہموں سے بہتر ہے کہ جو راہ خدا میں کسی اور کو دیئے جائیں۔"(۱)

مصنف:اور یہ سچے خوابوں میں سے ایک ہے کہ میں نے ایک رات عالم خواب میں ایک جلیل القدر شخصیت کو دیکھا جس نے کہا: بندہ مومن اپنے مال میں سے جوچیز زمانہ غیبت میں امام کے لیے خرچ کرتا ہے اس کا ثواب زمان حضور میں بھیجی گئی چیز کے مقابل ایک ہزار ایک مرتبہ زیادہ ہوتا ہے۔

اکیاونویں عمل میں بھی اسی کی تائید میں حدیث آئے گی۔

یاد رہے کہ اس زمانے میں جبکہ امام ؑ پردہ غیبت میں ہیں ،ضروری ہے کہ مومن امام کے لیے جو ہدیہ پیش کرتا ہے اسے ان امور میں صرف کرے جو امام ؑ کے پسندید ہ ہوں۔مثلا امام سے متعلقہ لکھی گئی کتابوں کی طباعت میں صرف کرے۔یا ان مجالس میں صرف کرے جہاں امام ؑ کے فضائل و اخلاق بیان کیے جاتے ہوں یاامام ؑ کے چاہنے والوں کو امام کی طرف سے بطور ہدیہ پیش کرے۔ اسی طرح اہم کو غیر اہم پر ترجیح دے۔واللہ العالم۔

اسی طرح یہ بھی حقوق مالیہ میں سے ہے کہ بندہ صلہ رحمی کرے ،اپنے پڑوسیوں کی مدد کرے حتی کہ انہیں گھر کی ضروری چیزیں عاریۃ دے مثلا برتن

____________________

۱:- من لا یحضرہ الفقیہ ۲/۷۲


اور چراغ وغیرہ اور اگر وہ کم قیمت چیزوں کی ضرورت محسوس کریں جیسے نمک وغیرہ تو ایسی چیزیں بھی انہیں ہدیہ کر دے۔


۵۰ ۔ پچاسواں عمل:۔

المرابطہ

مرابطہ کی دو قسمیں ہیں:

پہلی قسم:

یہ قسم فقہاء نے کتاب الجہاد میں ذکر کی ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ سرحد کے قریب کسی وادی میں ٹھہرے اور کفار کے شہروں کے قریب اپنی سواری باندھے تاکہ اگر کفار مسلمانوں پر حملہ کرنے نکلیں تو اس کی مسلمانوں کو اطلاع دے۔یا اگر کفار مسلمانوں پر تجاوز و زیادتی کریں تو وہ مسلمانوں کا دفاع کرے۔یہ عمل مستحب مؤکد ہے چاہے زمانہ حضور ہو یا زمانہ غیبت ہو۔جیسا کہ علامہ نے ارشاد میں اور شہید نے الروضہ میں ذکر کیا ہے۔ اور رسول خدا ؐ سے روایت ہے کہ فرمایا: "

ہر مرنے والے کا عمل رک جاتا ہے سوائے راہ خدا میں مرابطہ کرنے والے کے۔کیونکہ اس کا عمل قیامت تک نمو پاتا ہے۔اور وہ قبر کی آزمائش (عذاب) سے محفوظ رہتا ہے۔"(۱)

____________________

۱:- المنتہیٰ ۲/۹۰۲


ایک اور روایت میں جو جواہر اور منتہیٰ میں وارد ہوئی ہے ،حضور فرماتے ہیں:

"ایک رات راہ خدا میں گھوڑا لے کر (مرابطہ کرنا) ایک مہینے کے روزوں اور نمازوں سے بہتر ہے۔"(۱)

مرابطہ کی اس قسم کی دو شرائط ہیں:

۱ کسی ایسے علاقہ یا مقام پر وقوف کیا جائے (سرحدی علاقہ) کہ جہاں سے اسلامی شہروں کی حفاظت کی جائے۔ رسول خداؐ نے یہ کام (ملک کے) اطراف سے شروع کیا (جہاں سے دشمن کے حملہ کا خطرہ ہوتا ہے)۔اسی لیے فقہاء نے کہا: اگر بندہ اس جگہ ٹھہرنے پر قادر نہیں تو اسے چاہیے کہ کسی اور شخص کو اپنی نیابت میں وہاں ٹھہرائے۔

۲ مرابطہ کی کم از کم مدت تین دن ہے۔ جیسا کہ ارشاد وغیرہ میں مذکور ہے اور زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے۔ لیکن اگر کوئی چالیس دن سے زیادہ ٹھہرے تو وہ مجاہدین میں سے شمار ہوگااور راہ خدا میں جہاد کرنے والے کا ثواب ملے گا۔

____________________

۱:- جواہر الکلام: مجلد الحج والجہاد ص۵۵۵، المنتہیٰ: ۲/۹۰۲


دوسری قسم:۔

مرابطہ یعنی اپنا گھوڑا (سواری) اور تلوار (اسلحہ) تیا ررکھے تاکہ ظہور امام ؑ کی صورت میں ان کی نصرت کر نے کی قوت و استعداد حاصل کرے۔ مرابطہ کی اس قسم کا کوئی وقت اور مقام معین نہیں ہے۔ روضۃ الکافی میں ابو عبداللہ الجعفی سے مروی ہے کہ : مجھ سے ابو جعفر بن علیؑ نے فرمایا: تمہارے پاس کتنے گھوڑے ہیں؟ میں نے کہا چالیس۔ فرمایا لیکن ہمارا مرابطہ پورے زمانے کا ہے۔ پس جو شخص ہماری خاطر ایک گھوڑا تیار رکھے تو اسے اس کے وزن اور جو کچھ اس کے پاس ہوگا اس کے وزن کےبرابر (اجر ملے گا) اور جو ہمارے لیے اسلحہ تیار رکھے (نصرت کے لیے) تو اسے اس کے وزن کے برابر اجر ملے گا۔ پس ایک مرتبہ سے دو سری مرتبہ ،تیسری مرتبہ اور چوتھی مرتبہ (جنگی تیاری) سے مت گھبراؤ اور بے صبری مت کرو۔ کیونکہ ہماری اور تمہاری مثال اس نبی کی سی ہے جو بنی اسرائیل کے پاس موجود ہو۔ پس اللہ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ اپنی قوم کو جنگ کے لیے تیار کرو میں تمہاری نصرت کروں گا ۔ پس انہوں نے قوم کو پہاڑوں کی چوٹیوں اور دیگر مقامات سے اکٹھا کیا۔ پھر ان کی طرف رخ کیا پھر (جنگ ہوئی) اور انہوں نے تلواروں اور نیزوں سے لڑائی کی حتی کہ شکست کھا گئے۔ پھر اللہ نے ان کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کو جنگ کی طرف بلاؤ۔ پھر انہوں نے بلایا تو قوم نے کہا: آپ نے نصرت کا وعدہ کیا تھا مگر نصرت کیوں نہ


کی؟تو اللہ نے وحی فرمائی کہ : یا تو یہ جنگ کا راستہ اختیار کریں یاپھر جہنم کا۔ تو نبی نے کہا : اے رب مجھے جہنم کی نسبت جنگ پسند ہے۔پس پھر قوم کو بلایا تو اس میں سے اہل بدر کی تعداد کے برابر ۳۱۳ نے جواب دیااور حامی بھرلی۔پس پھر نبی ان کے ساتھ ہوئے اور تلواروں اور نیزوں سے لڑائی ہوئی اور اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی۔(۱)

علامہ مجلسی نے اس کی تشریح میں فرمایا کہ: رِبَاطُنَا رِبَاطُ اَلدَّهْرِ ۔ ہمارا مرابطہ پورے زمانے کامرابطہ ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارے شیعوں کو چاہیے کہ وہ خود کو امام حق کی اطاعت کے لیے آمادہ رکھیں اور ان کے ظہور کے منتظر رہیں اور ان کی نصرت کے لیے مستعد رہیں۔

اسی طرح امام ؑکے قول۔۔۔۔۔کہ اسے اس کے وزن جتنا ثواب ملے گا۔۔۔الخ کی تشریح میں فرمایا:کہ اس شخص کو اس سواری کے وزن کے دوگنا برابر ہر روز سونا اور چاندی صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔(۲) والله العالم

اسی مورد میں اور بھی روایات موجود ہیں جنہیں میں نے اپنی کتاب مکیال المکارم کے جزء ثانی میں درج کیاہے۔

____________________

۱:- روضۃ الکافی :ص۳۸۱

۲:-مکیال المکارم: ۲/۳۹۷


۵۱ ۔ اکیاونواں عمل:۔

اپنے اندر صفات حمیدہ اور اخلاق کریمہ پیدا کریں ۔

شرعی واجبات و عبادات بجا لائیں ۔ خود کو گناہوں سے محفوظ رکھیں کہ شریعت نے گناہوں سے روکا ہے۔یہ اس لیے کہ کیونکہ ان امور کی زمانہ غیبت میں رعایت کرنا زمانہ حضور سے زیادہ مشکل ہے۔کیونکہ اس زمانے میں فتنے زیادہ ہیں ، ملحدوں ،شک ڈالنے والوں اور مومنین کو گمراہ کرنے والوں کی کثرت ہے۔ اسی لیے حدیث نبوی ؐ میں ہے کہ نبیﷺ نے امام علی علیہ السلام سے فرمایا:

"اے علی علیہ السلام !لوگوں میں سب سے باعظمت ایمان رکھنے والے اورسب سے زیادہ یقین رکھنے والے لوگ وہ ہیں جو آخری زمانے میں ہوں گے کہ وہ ابھی نبی ؐ سے ملحق نہیں ہوئے تھےکہ نبی ؐ ان کے درمیان سے اٹھا لیے گئے تو وہ سفیدی پر سیاہی کے ساتھ ایما ن لائے۔(۱) ۔(سفیدی پر سیاہی اشارہ ہے کاغذوغیرہ پر لکھی ہوئی تحریروں کی طرف۔یعنی ان لوگوں نے آنکھوں سے نبی ﷺ کو نہیں دیکھا بلکہ ان کے بارے میں جو کچھ لکھا ہوا پڑھا اس پر ایمان لے آئے۔)

اسی طرح بحارالانوار میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ فرمایا:

"جو شخص چاہتا ہے کہ وہ حضرت قائم عجل اللہ فرجہ الشریف کے اصحاب میں سے قرار پائے تو اسے چاہیے کہ انتظار کرے اور حالت انتظار میں

____________________

۱:- کمال الدین ۱/۲۸۸ ح۸


تقوی اور حسن اخلاق کا دامن تھامے رکھے ۔پس اگر قائم ؑ کے قیام کے وقت وہ زندہ نہ ہوا تو اسے وہی اجر ملے گا جو قائمؑ کے ساتھی کو ملے گا۔(۱)

اور کافی میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ فرمایا:

"تم میں سے جو شخص دشمن سے چھپ کر فریضہ نماز کو اپنےوقت پر ادا کرے گا اور مکمل کرلے تو اللہ تعالی اس کے پچیس فریضہ نمازوں کا ثواب لکھے گا۔اوراگر کوئی مومن نافلہ نمازکو اپنے وقت پر اداکرے تو اللہ اس کے لیے دس نافلہ نمازوں کاثواب لکھے گا۔اور تم میں سے جو کوئی ایک نیکی بجالائے تو اللہ اس کے لیے دس نیکیوں کا ثواب لکھے گا۔اور اگر کوئی مومن اپنے اعمال اچھے طریقے سے انجام دے تو اللہ اس کی نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کر دیتا ہے۔اسی طرح جو شخص تقیہ کے ذریعے اپنے دین ،اپنے امام ،اور اپنی جان کی حفاظت کرے تو اسے کئی گنا زیادہ اجر عطا کرتا ہے ۔بے شک اللہ عزوجل کریم ہے۔"(۲)

اگر آپ کہیں کہ اس زمانہ میں جبکہ ہمارے امام غائب ہیں تو ہم کس طرح تقیہ کے ذریعے ان کی حفاظت کر سکتے ہیں ؟ تو جوابا عرض ہے کہ بہت سے ایسے مواقع پیش آتے ہیں کہ جن میں تقیہ واجب ہوتا ہے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ دشمن لوگ امام ؑکی بے ادبی کرتے ہیں اور ان کے لیے پست الفاظ استعمال

____________________

۱:- بحارالانوار ۵۲/۱۳۰

۲:- الکافی :۱/۳۳۳


کرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو انہیں نہیں کہنی چاہیں ۔ایسے مواقع پہ تقیہ کی مخالفت کرنے والے(تقیہ چھوڑنے والے) در اصل اما مؑ کی اس توہین کا سبب بن رہے ہوتے ہیں ۔

جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

وَلَا تَسُبُّوا الَّـذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ فَـيَسُبُّوا اللّـٰهَ عَدْوًا بِغَيْـرِ عِلْمٍ "

جو غیر اللہ کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو ورنہ وہ جواباً اللہ کو لاعلمی اور دشمنی کی بنا پر گالیاں دیں گے۔"(۱)

اس باب میں بہت سی روایات موجود ہیں ۔

۵۲ ۔ باون واں عمل:۔

جمعہ کے دن امام عجل اللہ فرجہ الشریف سے متعلقہ دعا ء ندبہ پڑھنا۔

اسی طرح یہی دعا عید غدیر ،عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے موقع پر خشوع وخضوع سے پڑھی جائے۔جیسا کہ زاد المعاد میں روایت موجود ہے۔(۲)

۵۳ ۔ ترپن واں عمل:۔

یوم جمعہ میں خود کو امامؑ کا مہمان قرار دیتے ہوئے وہ زیار ت پڑھنا کہ سید ابن طاوس نے کتاب جمال الاسبوع میں ذکر کیا ہے۔

____________________

۱:- سورۃ انعام:۱۰۸

۲:- زادالمعاد:۴۳۸


السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا حُجَّةَ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ،

السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا عَيْنَ اللَّهِ فِي خَلْقِهِ،

‏السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا نُورَ اللَّهِ الَّذِي يَهْتَدِي بِهِ الْمُهْتَدُونَ وَيُفَرَّجُ بِهِ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ‏،

السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْمُهَذَّبُ الْخَائِفُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْوَلِيُّ النَّاصِحُ،

‏السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا سَفِينَةَ النَّجَاةِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا عَيْنَ الْحَيَاةِ.

السَّلاَمُ عَلَيْكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ وَعَلَى آلِ بَيْتِكَ الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ.

السَّلاَمُ عَلَيْكَ عَجَّلَ اللَّهُ لَكَ مَا وَعَدَكَ مِنَ النَّصْرِ وَظُهُورِ الْأَمْرِ.

السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا مَوْلاَيَ أَنَا مَوْلاَكَ عَارِفٌ بِأُولاَكَ وَأُخْرَاكَ.أَتَقَرَّبُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى بِكَ وَبِآلِ بَيْتِكَ وَأَنْتَظِرُ ظُهُورَكَ وَظُهُورَ الْحَقِّ عَلَى يَدَيْكَ، ‏وَأَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ يَجْعَلَنِي مِنَ الْمُنْتَظِرِينَ لَكَ وَالتَّابِعِينَ وَالنَّاصِرِينَ لَكَ عَلَى أَعْدَائِكَ وَالْمُسْتَشْهَدِينَ بَيْنَ يَدَيْكَ فِي جُمْلَةِ أَوْلِيَائِكَ‏.

يَا مَوْلاَيَ يَا صَاحِبَ الزَّمَانِ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَعَلَى آلِ بَيْتِكَ‏ هَذَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَهُوَ يَوْمُكَ الْمُتَوَقَّعُ فِيهِ ظُهُورُكَ وَالْفَرَجُ فِيهِ لِلْمُؤْمِنِينَ عَلَى يَدَيْكَ وَقَتْلُ الْكَافِرِينَ بِسَيْفِكَ ‏وَأَنَا يَا مَوْلاَيَ فِيهِ ضَيْفُكَ وَجَارُكَ وَأَنْتَ يَا


مَوْلاَيَ كَرِيمٌ مِنْ أَوْلاَدِ الْكِرَامِ وَمَأْمُورٌ بِالضِّيَافَةِ وَالْإِجَارَةِ فَأَضِفْنِي وَأَجِرْنِي صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ الطَّاهِرِينَ(۱)

۵۴ ۔ چون واں عمل:۔

کمال الدین اور جمال الاسبوع میں صحیح و معتبر روایت میں ہے کہ شیخ عثمان بن سعید العمری نے یہ دعا تلاوت کرنے کا حکم دیا ہے اور فرمایا: شیعوں پر واجب ہے کہ امام ؑ کی غیبت کے زمانہ میں اس دعا کی تلاوت کریں ۔

مصنف:یہ وہ جلیل القدر شخصیت ہیں جو غیبت صغریٰ میں امام ؑ کے نواب اربعہ میں سے پہلے نائب ہیں۔پس وہ جو کچھ فرماتے ہیں وہ سب امام ؑ زمان ؑ سے بیان ہواہوتا ہے۔میری روح ان پر فدا ہو۔پس بنا ء پر ایں آپ جب بھی اپنے اندر حسن توجہ حاصل کریں تو یہ دعا تلاوت کریں اور اس میں کوتاہی نہ کریں۔خصوصا سید ابن طاوس جمال الاسبوع میں فرماتے ہیں:

"کہ جو کچھ ہم نے ذکر کیا کہ نماز عصر کے بعد یہ دعا پڑھو تو اگر آپ کے لیے اس وقت پڑھنا مشکل ہو تو پھر بھی اس دعا کو ترک کرنے سے بچو۔یہ چیز ہم نے اللہ کے اس خاص فضل سے جانی ہے جس کے ساتھ اس نے ہمیں خاص کیا۔پس آپ اس پر اعتماد رکھیں۔"

____________________

۱:- جمال الاسبوع:۳۷


اس عبارت سے پتا چلتا ہے کہ اس طرح کا امر حضرت صاحب العصر ؑ کی جانب سے سید رحمہ اللہ کی طرف صادر ہوا ہے۔ا ور یہ بات سید کے مقام سے بعید بھی نہیں۔

اور وہ دعا یہ ہے:

اللَّهُمَّ عَرِّفْنِي نَفْسَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي نَفْسَكَ لَمْ أَعْرِفْ رَسُولَكَ‏.اللَّهُمَّ عَرِّفْنِي رَسُولَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي رَسُولَكَ لَمْ أَعْرِفْ حُجَّتَكَ.اللَّهُمَّ عَرِّفْنِي حُجَّتَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي حُجَّتَكَ ضَلَلْتُ عَنْ دِينِي.اللَّهُمَّ لاَ تُمِتْنِي مِيتَةً جَاهِلِيَّةً وَلاَ تُزِغْ قَلْبِي بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنِي.اللَّهُمَّ فَكَمَا هَدَيْتَنِي لِوِلاَيَةِ مَنْ فَرَضْتَ عَلَيَّ طَاعَتَهُ مِنْ وِلاَيَةِ وُلاَةِ أَمْرِكَ بَعْدَ رَسُولِكَ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ ‏حَتَّى وَالَيْتُ وُلاَةَ أَمْرِكَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَالْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ وَعَلِيّاً وَمُحَمَّداً وَجَعْفَراً وَمُوسَى وَعَلِيّاً وَمُحَمَّداً وَعَلِيّاً وَالْحَسَنَ وَالْحُجَّةَ الْقَائِمَ الْمَهْدِيَّ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ.اللَّهُمَّ فَثَبِّتْنِي عَلَى دِينِكَ وَاسْتَعْمِلْنِي بِطَاعَتِكَ وَلَيِّنْ قَلْبِي لِوَلِيِّ أَمْرِكَ وَعَافِنِي مِمَّا امْتَحَنْتَ بِهِ خَلْقَكَ ‏وَثَبِّتْنِي عَلَى طَاعَةِ وَلِيِّ أَمْرِكَ الَّذِي سَتَرْتَهُ عَنْ خَلْقِكَ وَبِإِذْنِكَ غَابَ عَنْ بَرِيَّتِكَ وَأَمْرَكَ يَنْتَظِرُ وَأَنْتَ الْعَالِمُ غَيْرُ الْمُعَلَّمِ بِالْوَقْتِ الَّذِي فِيهِ صَلاَحُ أَمْرِ وَلِيِّكَ فِي الْإِذْنِ لَهُ بِإِظْهَارِ أَمْرِهِ وَكَشْفِ سِتْرِهِ‏ فَصَبِّرْنِي عَلَى ذَلِكَ حَتَّى لاَ أُحِبَّ تَعْجِيلَ مَا أَخَّرْتَ وَلاَ تَأْخِيرَ مَا عَجَّلْتَ وَلاَ كَشْفَ مَا سَتَرْتَ وَلاَ


الْبَحْثَ عَمَّا كَتَمْتَ ‏وَلاَ أُنَازِعَكَ فِي تَدْبِيرِكَ وَلاَ أَقُولَ لِمَ وَكَيْفَ وَمَا بَالُ وَلِيِّ الْأَمْرِ لاَ يَظْهَرُ وَقَدِ امْتَلَأَتِ الْأَرْضُ مِنَ الْجَوْرِ وَأُفَوِّضُ أُمُورِي كُلَّهَا إِلَيْكَ‏.اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ تُرِيَنِي وَلِيَّ أَمْرِكَ ظَاهِراً نَافِذَ الْأَمْرِ مَعَ عِلْمِي بِأَنَّ لَكَ السُّلْطَانَ وَالْقُدْرَةَ وَالْبُرْهَانَ وَالْحُجَّةَ وَالْمَشِيَّةَ وَالْحَوْلَ وَالْقُوَّةَ فَافْعَلْ ذَلِكَ بِي وَبِجَمِيعِ الْمُؤْمِنِينَ‏ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَى وَلِيِّ أَمْرِكَ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ ظَاهِرَ الْمَقَالَةِ وَاضِحَ الدَّلاَلَةِ هَادِياً مِنَ الضَّلاَلَةِ شَافِياً مِنَ الْجَهَالَةِ أَبْرِزْ يَا رَبِّ مُشَاهَدَتَهُ وَثَبِّتْ قَوَاعِدَهُ‏ وَاجْعَلْنَا مِمَّنْ تَقَرُّ عَيْنُهُ بِرُؤْيَتِهِ وَأَقِمْنَا بِخِدْمَتِهِ وَتَوَفَّنَا عَلَى مِلَّتِهِ وَاحْشُرْنَا فِي زُمْرَتِهِ.اللَّهُمَّ أَعِذْهُ مِنْ شَرِّ جَمِيعِ مَا خَلَقْتَ وَذَرَأْتَ وَبَرَأْتَ وَأَنْشَأْتَ وَصَوَّرْتَ‏ وَاحْفَظْهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ (وَمِنْ فَوْقِهِ وَمِنْ تَحْتِهِ) بِحِفْظِكَ الَّذِي لاَ يَضِيعُ مَنْ حَفِظْتَهُ بِهِ وَاحْفَظْ فِيهِ رَسُولَكَ وَوَصِيَّ رَسُولِكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ السَّلاَمُ.اللَّهُمَّ وَمُدَّ فِي عُمْرِهِ وَزِدْ فِي أَجَلِهِ وَأَعِنْهُ عَلَى مَا وَلَّيْتَهُ وَاسْتَرْعَيْتَهُ وَزِدْ فِي كَرَامَتِكَ لَهُ ‏فَإِنَّهُ الْهَادِي الْمَهْدِيُّ وَالْقَائِمُ الْمُهْتَدِي وَالطَّاهِرُ التَّقِيُّ الزَّكِيُّ النَّقِيُّ الرَّضِيُّ الْمَرْضِيُّ الصَّابِرُ الشَّكُورُ الْمُجْتَهِدُ.اللَّهُمَّ وَلاَ تَسْلُبْنَا الْيَقِينَ لِطُولِ الْأَمَدِ فِي غَيْبَتِهِ وَانْقِطَاعِ خَبَرِهِ عَنَّا وَلاَ تُنْسِنَا ذِكْرَهُ وَانْتِظَارَهُ وَالْإِيمَانَ بِهِ وَقُوَّةَ الْيَقِينِ فِي ظُهُورِهِ وَالدُّعَاءَ لَهُ وَالصَّلاَةَ عَلَيْهِ‏ حَتَّى لاَ يُقَنِّطَنَا طُولُ غَيْبَتِهِ مِنْ قِيَامِهِ ‏وَيَكُونَ يَقِينُنَا فِي ذَلِكَ كَيَقِينِنَا فِي قِيَامِ رَسُولِكَ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَمَا جَاءَ بِهِ مِنْ وَحْيِكَ وَتَنْزِيلِكَ‏ فَقَوِّ قُلُوبَنَا


عَلَى الْإِيمَانِ بِهِ حَتَّى تَسْلُكَ بِنَا عَلَى يَدَيْهِ مِنْهَاجَ الْهُدَى وَالْمَحَجَّةَ الْعُظْمَى وَالطَّرِيقَةَ الْوُسْطَى‏ وَقَوِّنَا عَلَى طَاعَتِهِ وَثَبِّتْنَا عَلَى مُتَابَعَتِهِ (مُشَايَعَتِهِ) وَاجْعَلْنَا فِي حِزْبِهِ وَأَعْوَانِهِ وَأَنْصَارِهِ وَالرَّاضِينَ بِفِعْلِهِ‏ وَلاَ تَسْلُبْنَا ذَلِكَ فِي حَيَاتِنَا وَلاَ عِنْدَ وَفَاتِنَا حَتَّى تَتَوَفَّانَا وَنَحْنُ عَلَى ذَلِكَ لاَ شَاكِّينَ وَلاَ نَاكِثِينَ وَلاَ مُرْتَابِينَ وَلاَ مُكَذِّبِينَ.اللَّهُمَّ عَجِّلْ فَرَجَهُ وَأَيِّدْهُ بِالنَّصْرِ وَانْصُرْ نَاصِرِيهِ وَاخْذُلْ خَاذِلِيهِ وَدَمْدِمْ عَلَى مَنْ نَصَبَ لَهُ وَكَذَّبَ بِهِ ‏وَأَظْهِرْ بِهِ الْحَقَّ وَأَمِتْ بِهِ الْجَوْرَ وَاسْتَنْقِذْ بِهِ عِبَادَكَ الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الذُّلِ‏ وَانْعَشْ بِهِ الْبِلاَدَ وَاقْتُلْ بِهِ جَبَابِرَةَ الْكُفْرِ وَاقْصِمْ بِهِ رُؤُوسَ الضَّلاَلَةِ وَذَلِّلْ بِهِ الْجَبَّارِينَ وَالْكَافِرِينَ وَأَبِرْ بِهِ الْمُنَافِقِينَ وَالنَّاكِثِينَ‏ وَجَمِيعَ الْمُخَالِفِينَ وَالْمُلْحِدِينَ فِي مَشَارِقِ الْأَرْضِ وَمَغَارِبِهَاوَبَرِّهَا وَبَحْرِهَا وَسَهْلِهَا وَجَبَلِهَا حَتَّى لاَ تَدَعَ مِنْهُمْ دَيَّاراً وَلاَ تُبْقِيَ لَهُمْ آثَاراً طَهِّرْ مِنْهُمْ بِلاَدَكَ وَاشْفِ مِنْهُمْ صُدُورَ عِبَادِكَ وَجَدِّدْ بِهِ مَا امْتَحَى مِنْ دِينِكَ وَأَصْلِحْ بِهِ مَا بُدِّلَ مِنْ حُكْمِكَ وَغُيِّرَ مِنْ سُنَّتِكَ‏حَتَّى يَعُودَ دِينُكَ بِهِ وَعَلَى يَدَيْهِ غَضّاً جَدِيداً صَحِيحاً لاَ عِوَجَ فِيهِ‏ وَلاَ بِدْعَةَ مَعَهُ حَتَّى تُطْفِئَ بِعَدْلِهِ نِيرَانَ الْكَافِرِينَ فَإِنَّهُ عَبْدُكَ الَّذِي اسْتَخْلَصْتَهُ لِنَفْسِكَ وَارْتَضَيْتَهُ لِنَصْرِ دِينِكَ ‏وَاصْطَفَيْتَهُ بِعِلْمِكَ وَعَصَمْتَهُ مِنَ الذُّنُوبِ وَبَرَّأْتَهُ مِنَ الْعُيُوبِ‏ وَأَطْلَعْتَهُ عَلَى الْغُيُوبِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ وَطَهَّرْتَهُ مِنَ الرِّجْسِ وَنَقَّيْتَهُ مِنَ الدَّنَسِ‏.اللَّهُمَّ فَصَلِّ عَلَيْهِ


وَعَلَى آبَائِهِ الْأَئِمَّةِ الطَّاهِرِينَ وَعَلَى شِيعَتِهِ الْمُنْتَجَبِينَ وَبَلِّغْهُمْ مِنْ آمَالِهِمْ مَا يَأْمُلُونَ‏ وَاجْعَلْ ذَلِكَ مِنَّا خَالِصاً مِنْ كُلِّ شَكٍّ وَشُبْهَةٍ وَرِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ حَتَّى لاَ نُرِيدَ بِهِ غَيْرَكَ وَلاَ نَطْلُبَ بِهِ إِلاَّ وَجْهَكَ.اللَّهُمَّ إِنَّا نَشْكُو إِلَيْكَ فَقْدَ نَبِيِّنَا وَغَيْبَةَ إِمَامِنَا (وَلِيِّنَا) وَشِدَّةَ الزَّمَانِ عَلَيْنَا وَوُقُوعَ الْفِتَنِ بِنَا وَتَظَاهُرَ الْأَعْدَاءِ عَلَيْنَا وَكَثْرَةَ عَدُوِّنَا وَقِلَّةَ عَدَدِنَا.

اللَّهُمَّ ففرج (فَافْرُجْ) ذَلِكَ عَنَّا بِفَتْحٍ مِنْكَ تُعَجِّلُهُ وَنَصْرٍ مِنْكَ تُعِزُّهُ وَإِمَامِ عَدْلٍ تُظْهِرُهُ إِلَهَ الْحَقِّ آمِينَ.اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ أَنْ تَأْذَنَ لِوَلِيِّكَ فِي إِظْهَارِ عَدْلِكَ فِي عِبَادِكَ وَقَتْلِ أَعْدَائِكَ فِي بِلاَدِكَ ‏حَتَّى لاَ تَدَعَ لِلْجَوْرِ يَا رَبِّ دِعَامَةً إِلاَّ قَصَمْتَهَا وَلاَ بَقِيَّةً إِلاَّ أَفْنَيْتَهَا وَلاَ قُوَّةً إِلاَّ أَوْهَنْتَهَا وَلاَ رُكْناً إِلاَّ هَدَمْتَهُ وَلاَ حَدّاً إِلاَّ فَلَلْتَهُ وَلاَ سِلاَحاً إِلاَّ أَكْلَلْتَهُ ‏وَلاَ رَايَةً إِلاَّ نَكَّسْتَهَا وَلاَ شُجَاعاً إِلاَّ قَتَلْتَهُ وَلاَ جَيْشاً إِلاَّ خَذَلْتَهُ ‏وَارْمِهِمْ يَا رَبِّ بِحَجَرِكَ الدَّامِغِ وَاضْرِبْهُمْ بِسَيْفِكَ الْقَاطِعِ وَبَأْسِكَ الَّذِي لاَ تَرُدُّهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ ‏وَعَذِّبْ أَعْدَاءَكَ وَأَعْدَاءَ وَلِيِّكَ وَأَعْدَاءَ رَسُولِكَ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ بِيَدِ وَلِيِّكَ وَأَيْدِي عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ‏.اللَّهُمَّ اكْفِ وَلِيَّكَ وَحُجَّتَكَ فِي أَرْضِكَ هَوْلَ عَدُوِّهِ وَكَيْدَ مَنْ أَرَادَهُ (كَادَهُ) وَامْكُرْ بِمَنْ مَكَرَ بِهِ ‏وَاجْعَلْ دَائِرَةَ السَّوْءِ عَلَى مَنْ أَرَادَ بِهِ سُوءاً وَاقْطَعْ عَنْهُ مَادَّتَهُمْ وَأَرْعِبْ لَهُ قُلُوبَهُمْ‏ وَزَلْزِلْ أَقْدَامَهُمْ وَخُذْهُمْ جَهْرَةً وَبَغْتَةً وَشَدِّدْ عَلَيْهِمْ عَذَابَكَ وَأَخْزِهِمْ فِي عِبَادِكَ ‏وَالْعَنْهُمْ فِي بِلاَدِكَ وَأَسْكِنْهُمْ أَسْفَلَ نَارِكَ وَأَحِطْ بِهِمْ أَشَدَّ


عَذَابِكَ وَأَصْلِهِمْ نَاراً وَاحْشُ قُبُورَ مَوْتَاهُمْ نَاراً وَأَصْلِهِمْ حَرَّ نَارِكَ فَإِنَّهُمْ أَضَاعُوا الصَّلاَةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ وَأَضَلُّوا عِبَادَكَ وَأَخْرَبُوا بِلاَدَكَ.اللَّهُمَّ وَأَحْيِ بِوَلِيِّكَ الْقُرْآنَ وَأَرِنَا نُورَهُ سَرْمَداً لاَ لَيْلَ فِيهِ وَأَحْيِ بِهِ الْقُلُوبَ الْمَيِّتَةَ وَاشْفِ بِهِ الصُّدُورَ الْوَغِرَةَ (١) وَاجْمَعْ بِهِ الْأَهْوَاءَ الْمُخْتَلِفَةَ عَلَى الْحَقِ‏ وَأَقِمْ بِهِ الْحُدُودَ الْمُعَطَّلَةَ وَالْأَحْكَامَ الْمُهْمَلَةَ حَتَّى لاَ يَبْقَى حَقٌّ إِلاَّ ظَهَرَ وَلاَ عَدْلٌ إِلاَّ زَهَرَ وَاجْعَلْنَا يَا رَبِّ مِنْ أَعْوَانِهِ وَمُقَوِّيَةِ سُلْطَانِهِ‏ وَالْمُؤْتَمِرِينَ لِأَمْرِهِ وَالرَّاضِينَ بِفِعْلِهِ وَالْمُسَلِّمِينَ لِأَحْكَامِهِ وَمِمَّنْ لاَ حَاجَةَ بِهِ إِلَى التَّقِيَّةِ مِنْ خَلْقِكَ‏.وَأَنْتَ يَا رَبِّ الَّذِي تَكْشِفُ الضُّرَّ وَتُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاكَ‏ وَتُنْجِي مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ فَاكْشِفِ الضُّرَّ عَنْ وَلِيِّكَ وَاجْعَلْهُ خَلِيفَةً فِي أَرْضِكَ كَمَا ضَمِنْتَ لَهُ‏.اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلْنِي مِنْ خُصَمَاءِ آلِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ وَلاَ تَجْعَلْنِي مِنْ أَعْدَاءِ آلِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ‏ وَلاَ تَجْعَلْنِي مِنْ أَهْلِ الْحَنَقِ وَالْغَيْظِ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ ‏فَإِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ ذَلِكَ فَأَعِذْنِي وَأَسْتَجِيرُ بِكَ فَأَجِرْنِي.اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِي بِهِمْ فَائِزاً عِنْدَكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ آمِينَ رَبَّ الْعَالَمِينَ ‏.(۱)

____________________

۱:- جمال الاسبوع ؛۵۲۲، کمال الدین :۵۱۲، ح۴۳


فصل چہارم

حضرت صاحب العصرعجل اللہ فرجہ الشریف کی صفات و خصوصیات کی معرفت

اس زمانے میں حضرت صاحب الامر ؑ کی صفات و خصوصیات کی معرفت حاصل کرنا عقلی و نقلی دلائل کی رو سے واجب ہے۔ہم اس مختصر کتاب میں تفصیل سے ذکر نہیں کر سکتے۔ہم یہاں اختصار کے ساتھ فقط بیس خصوصیات ذکر کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ انہیں ہم نے معتبر کتابوں سے حاصل کیا ہے مثلا الکافی،کمال الدین،المحجہ ،بحار الانوار اور النجم الثاقب۔ تاکہ ہر ایک کے لیے صاحب الزما نؑ کی شخصیت واضح ہو جائے۔

وہ صفات یہ ہیں:

پہلی خصوصیت:

حضرت صاحب الامرؑ کا ظہور اور جہاد کے لیے قیام مکہ معظمہ سے شروع ہوگا اور یہ اعلانیہ ظہور ہوگا تاکہ ہر کوئی اس سے مطلع ہو جائے۔(۱)

____________________

۱:- بحار الانوار ۵۲/۲۳۳


دوسری خصوصیت:

حضرت حجتؑ کے ظہور کے وقت آسمان سے ایک منادی ندا دے گا وہ آپ کے نام مبارک، آپ کے والد محترم اور اجداد میں سے سید الشہداء تک کے اسمائے مبارکہ ذکر کرے گا اور اس انداز سے ندا دے گا کہ ہر شخص اسے اپنی زبان میں سنے گا اور اس کی قوت و ہیبت سے ہر سویا ہوا شخص جاگ جائے گا اور کھڑا ہوا شخص بیٹھ جائے گااور ہر بیٹھا ہوا شخص کھڑا ہو جائے گا اور یہ جبرائیل ؑ کی ندا ہوگی۔(۱)

تیسری خصوصیت:

حضرت حجت ؑ جہاں کہیں بھی جائیں گے ایک سفید بادل آپ ؑ پر سایہ کرے گا۔اور اس سے ایک آواز آئے نکلے گی جس میں وہ کہے گا:

"یہی وہ مہدی ؑ ہیں جو خلیفہ الٰہی ہیں پس ان کی پیروی کرو۔"

اور یہ روایت علماء اہل سنت نے بھی نقل کی ہے۔(۲)

____________________

۱:- غیبت نعمانی :۲۵۳، باب ۱۴، ح۱۳

۲:- بیان الشافعی:۵۱۱ باب ۱۵


چوتھی خصوصیت:

آپ ؑ کا نور جمال عالم کو منور کردے گا اور اسکی برکت سے لوگ سورج اور چاند کے نور سے بے نیاز ہو جائیں گے۔(۱)

پانچویں خصوصیت:

آپ ؑ کے ساتھ وہ پتھر بھی برآمد ہوگا کہ جو حضرت موسی ؑ کے ساتھ تھا جب کسی پتھر پر انہوں نے اپنا عصا مارا تھا اور اس سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے تھے۔ پس جب آپ ؑ مکہ سے اپنے اصحاب کے ساتھ حرکت کرنے لگیں گے تو آپ ؑ کا منادی یوں ندا دے گا:

"آگاہ ہو جاؤ کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے ساتھ کھاناپانی اور چارہ نہ لائے پھر وہ پتھر کو ایک اونٹ پر رکھے گا اور جس منزل پر بھی رکیں گے تو وہاں اس پتھر کو نصب کر دیں گے تو اس سے چشمے جاری ہوں گے۔پس جو بھوکا ہوگا وہ سیر ہوجائے گا اور پیاسے سیراب ہو جائیں گے اور اپنی سواریوں کو بھی کھلائیں گے اور سیراب کریں گے۔"(۲)

____________________

۱:- دلائل الامامۃ :۲۴۱

۲:- الکافی ؛ ۱/۲۳۱ ح۳


چھٹی خصوصیت :

آپ ؑ کے پاس حضرت موسی ؑ کا عصا ہوگا جس سے آپ ؑ دشمنوں کو ڈرائیں گے اور وہ ان کے گھوڑوں (سواریوں ) کو نگل لے گا اور حضرت موسی اس عصا سے جو کام لیتے تھے وہی حضرت حجتؑ بھی لیں گے۔(۱)

ساتویں خصوصیت:

جس رات آپؑ مکہ میں ظہور فرمائیں گے اس کی صبح مومنین زمین میں جہاں کہیں بھی ہوں گے جب جاگیں گے تو اپنے سر(تکیہ) کے نیچے ایک ورق پائیں گے جس پر لکھا ہوگا "طاعة معروفة "(۲)

آٹھویں خصوصیت:

امام ؑ اپنی جگہ پر ہوں گے اور پھر بھی دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگ انہیں ایسے دیکھ سکیں گے جیسے امام ؑ ان کے پاس ہوں۔(۳)

____________________

۱:- الکافی: ۱/۲۳۱ ح۱ کمال الدین ۲/۶۵۴،ب۵۷،ح۲۲

۲:- کمال الدین ۲/۶۵۴،ب۵۷،ح۲۲

۳:- الکافی ؛۴/۵۷ ح۳۲۹


نویں خصوصیت:

ظہور امامؑ کےزمانہ کے مومنین و مومنات سے ہر قسم کے امراض ختم ہو جائیں گے۔ پس پورے جہاں میں ان میں سے کوئی بھی مریض نہیں رہے گا۔(۱)

دسویں خصوصیت :

اس زمانے کے تما م فقیر مومنین، غنی ہو جائیں گے۔ پس زمین کے کسی خطے میں کوئی فقیر نہیں رہے گا۔ اور تما م شیعوں کے قرض ادا کر دیئے جائیں گے۔(۲)

گیارہویں خصوصیت:

تمام مومنین ومومنات تما م احکام دینیہ کے عالم بن جائیں گے اوراس معاملے میں کوئی کسی کا محتاج نہ رہے گا۔(۳)

____________________

۱:- الخرائج والجرائح : ۲/۸۳۹ ح۵۴

۲:- مسند احمد:۳/۳۷

۳:- غیبت نعمانی :۲۳۸ ، ب۱۳، ح۳۰


بارہویں خصوصیت:

اس وقت عمریں اس قدر بڑھ جائیں گی کہ بندہ اپنی اولاد میں سے ہزار فرزند دیکھ سکے گا۔

ایک اور روایت میں ہے کہ وہ لوگ جس قدر بڑے ہوتے جائیں گے ساتھ ان کے لباس بھی بڑے ہوتے جائیں گے اور وہ جیسا چاہیں گے لباس اسی رنگ کے ہو جائیں گے۔(۱)

تیرہویں خصوصیت:

تمام شہروں اور راستوں میں امن پھیل جائے گا۔(۲)

چودہویں خصوصیت:

شیعہ و سنی روایت میں متفقہ طور پر یہ ملتا ہے کہ اس زمانے میں پور ی زمین پر امن پھیل جائے گا ۔پس کوئی کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔(۳)

____________________

۱:- دلائل الامامۃ :۲۴۱

۲:- کتاب الفتن ابن حماد؛۲۸۶

۳:- کمال الدین ؛۲/۵۲۵، ب۴۷،ح۱


پندرہویں خصوصیت:

امام زمانہؑ علم باطنی کے ذریعے فیصلہ کریں گے اورتمام کافروں اور منافقوں کو قتل کریں گے۔حتیٰ کہ اگر وہ خود کو آپ ؑ کا صحابی بھی ظاہر کیوں نہ کریں ۔(پھر بھی قتل کر دیئے جائیں گے) اور دین اسلام کو پوری زمین پر پھیلا دیں گے اوراس کے بعد جزیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔اور آپؑ زکوٰ ۃ نہ دینےوالوں کو بھی قتل کر دیں گے۔(۱)

سولہویں خصوصیت:

آپ ؑ تمام بادشاہوں پر فتح حاصل کریں گے اور آپؑ کی حکومت وسیع ہوتی ہوئی پوری زمین پر پھیل جائے گی۔(۲)

سترہویں خصوصیت :

حیوانات میں بھی الفت و محبت پیدا ہوجائے گی حتی وحشی جانور بھی مل جل کر رہنے لگیں گے۔(۳)

____________________

۱:- تفسیر العیاشی :۲/۵۶ ح۴۹ غیبۃ النعمانی:۳۱۹،ب۲۱،ح۸

۲:- غیبۃ النعمانی:۳۱۹،ب۲۱،ح۸

۳:- مختصر بصائر الدرجات:۲۰۱، الاحتجاج:۲/۲۹۰


اٹھارویں خصوصیت:

اگر کوئی کافر یامشرک کسی چٹان کے اندر بھی چھپا ہوگا تو وہ چٹان خود کہے گی : "اے مومن میرے اندر کافر یا مشرک ہے اسے قتل کردو۔پس وہ اسے قتل کر دے گا۔"(۱)

انیسویں خصوصیت:

بعض روایات کے مطابق سفیانی کے لشکر کی تعداد تین لاکھ افراد تک پہنچ جائے گی جنہیں وہ ظہور امام ؑ کے ابتدائی ایام میں امام ؑ کو قتل کرنے کے لیے مدینہ بھیجے گا ۔ پس جب وہ مکہ اور مدینہ کے درمیان موجود صحراء میں پہنچیں گے تو جبرائیل ندا دیں گے کہ اے زمین انہیں دھنسا دے۔ پس زمین ان تمام سمیت دھنس جائے گی اور ان میں سے کوئی بھی نہیں بچے گا سوائے دو یا تین افراد کے۔(۲)

____________________

۱:- تفسیر فرات:۴۸۱ ح۶۲۷

۲:- جامع البیانن ،طبری:۱۵/۱۷


بیسویں خصوصیت:

آپ ؑ کےاعجاز سے مخالفوں میں سے بہت سے افراد زندہ ہو جائیں گے تاکہ آپ ؑ ان سے انتقام لیں۔(۱)

ان امور سے متعلقہ روایات میں نے اپنی کتاب مکیال المکارم میں ذکر کی ہیں۔

____________________

۱:- اثباۃ الھداۃ :۳/۵۶۹، ب۳۲، ح۶۸۱



فصل پنجم

دعاء عہد (مشہور)

کتاب زاد المعاد اور دیگر کتب میں بیان ہوا ہے کہ امام صادق ؑ نے فرمایا:

"جو شخص چالیس دن صبح کے وقت دعاء عہد پڑھے گا تو وہ حضرت قائم ؑ کے انصار میں شامل ہوگا اور اگر ظہور سے پہلے مر جائے تو اللہ تعالیٰ اسے قبر سے نکالے گا تاکہ وہ امام ؑ کی نصرت کر سکے اور اللہ اسے ہر لفظ کے بدلے ایک ہزار نیکی عطا فرمائے گا اور ایک ہزار گناہ معاف فرمائے گا

اور وہ دعا یہ ہے:

اللَّهُمَّ رَبَّ النُّورِ الْعَظِيمِ وَرَبَّ الْكُرْسِيِّ الرَّفِيعِ وَرَبَّ الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالزَّبُورِ وَرَبَّ الظِّلِّ وَالْحَرُورِ وَمُنْزِلَ الْقُرْآنِ (الْفُرْقَانِ) الْعَظِيمِ وَرَبَّ الْمَلاَئِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالْأَنْبِيَاءِ (وَ) الْمُرْسَلِينَ‏.اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَجْهِكَ (بِاسْمِكَ) الْكَرِيمِ وَبِنُورِ وَجْهِكَ الْمُنِيرِ وَمُلْكِكَ الْقَدِيمِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ‏أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ بِهِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرَضُونَ وَبِاسْمِكَ الَّذِي يَصْلَحُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ ‏يَا حَيّاً قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ وَيَا حَيّاً بَعْدَ كُلِّ حَيٍّ وَيَا حَيّاً حِينَ لاَ حَيَ ‏يَا مُحْيِيَ الْمَوْتَى وَمُمِيتَ الْأَحْيَاءِ يَا حَيُّ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ.اللَّهُمَّ بَلِّغْ مَوْلاَنَا الْإِمَامَ الْهَادِيَ الْمَهْدِيَّ الْقَائِمَ بِأَمْرِكَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَعَلَى آبَائِهِ الطَّاهِرِينَ ‏عَنْ جَمِيعِ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ فِي


مَشَارِقِ الْأَرْضِ وَمَغَارِبِهَا سَهْلِهَا وَجَبَلِهَا وَبَرِّهَا وَبَحْرِهَا وَعَنِّي وَعَنْ وَالِدَيَّ مِنَ الصَّلَوَاتِ زِنَةَ عَرْشِ اللَّهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ‏ وَمَا أَحْصَاهُ عِلْمُهُ (كِتَابُهُ) وَأَحَاطَ بِهِ كِتَابُهُ (عِلْمُهُ).اللَّهُمَّ إِنِّي أُجَدِّدُ لَهُ فِي صَبِيحَةِ يَوْمِي هَذَا وَمَا عِشْتُ مِنْ أَيَّامِي عَهْداً وَعَقْداً وَبَيْعَةً لَهُ فِي عُنُقِي‏لاَ أَحُولُ عَنْهَا وَلاَ أَزُولُ أَبَداً.اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ أَنْصَارِهِ وَأَعْوَانِهِ وَالذَّابِّينَ عَنْهُ وَالْمُسَارِعِينَ إِلَيْهِ فِي قَضَاءِ حَوَائِجِهِ (وَالْمُمْتَثِلِينَ لِأَوَامِرِهِ) وَالْمُحَامِينَ عَنْهُ وَالسَّابِقِينَ إِلَى إِرَادَتِهِ وَالْمُسْتَشْهَدِينَ بَيْنَ يَدَيْهِ‏.اللَّهُمَّ إِنْ حَالَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ الْمَوْتُ الَّذِي جَعَلْتَهُ عَلَى عِبَادِكَ حَتْماً مَقْضِيّاً فَأَخْرِجْنِي مِنْ قَبْرِي مُؤْتَزِراً كَفَنِي شَاهِراً سَيْفِي مُجَرِّداً قَنَاتِي مُلَبِّياً دَعْوَةَ الدَّاعِي فِي الْحَاضِرِ وَالْبَادِي ‏اللَّهُمَّ أَرِنِي الطَّلْعَةَ الرَّشِيدَةَ وَالْغُرَّةَ الْحَمِيدَةَ وَاكْحُلْ نَاظِرِي بِنَظْرَةٍ مِنِّي إِلَيْهِ ‏وَعَجِّلْ فَرَجَهُ وَسَهِّلْ مَخْرَجَهُ وَأَوْسِعْ مَنْهَجَهُ وَاسْلُكْ بِي مَحَجَّتَهُ وَأَنْفِذْ أَمْرَهُ وَاشْدُدْ أَزْرَهُ‏ وَاعْمُرِ اللَّهُمَّ بِهِ بِلاَدَكَ وَأَحْيِ بِهِ عِبَادَكَ فَإِنَّكَ قُلْتَ وَقَوْلُكَ الْحَقُ ‏ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ.فَأَظْهِرِ اللَّهُمَّ لَنَا وَلِيَّكَ وَابْنَ بِنْتِ نَبِيِّكَ الْمُسَمَّى بِاسْمِ رَسُولِكَ ‏حَتَّى لاَ يَظْفَرَ بِشَيْ‏ءٍ مِنَ الْبَاطِلِ إِلاَّ مَزَّقَهُ وَيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُحَقِّقَهُ.وَاجْعَلْهُ اللَّهُمَّ مَفْزَعاً لِمَظْلُومِ عِبَادِكَ وَنَاصِراً لِمَنْ لاَ يَجِدُ لَهُ نَاصِراً غَيْرَكَ‏ وَمُجَدِّداً لِمَا عُطِّلَ مِنْ أَحْكَامِ كِتَابِكَ وَمُشَيِّداً لِمَا وَرَدَ مِنْ أَعْلاَمِ دِينِكَ وَسُنَنِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَاجْعَلْهُ اللَّهُمَّ


مِمَّنْ حَصَّنْتَهُ مِنْ بَأْسِ الْمُعْتَدِينَ.اللَّهُمَّ وَسُرَّ نَبِيَّكَ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ بِرُؤْيَتِهِ وَمَنْ تَبِعَهُ عَلَى دَعْوَتِهِ وَارْحَمِ اسْتِكَانَتَنَا بَعْدَهُ‏.اللَّهُمَّ اكْشِفْ هَذِهِ الْغُمَّةَ عَنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ بِحُضُورِهِ وَعَجِّلْ لَنَا ظُهُورَهُ ‏إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعِيداً وَنَرَاهُ قَرِيباً بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ‏.

اس کے بعد تین مرتبہ اپنا ہاتھ دائیں ران پر مارے اور ہر بار یوں پکارے:

الْعَجَلَ الْعَجَلَ يَا مَوْلاَيَ يَا صَاحِبَ الزَّمَانِ(۱)

____________________

۱:- زاد المعاد: ص۲۲۳


شیعوں کے نام امام زمانہ کا کھلا خط

(آخرماہ صفر ۴۱۰ھ میں شیخ مفید علیہ الرحمۃ کی طرف امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کی لکھی گئی ایک توقیع مبارک سے اقتباس)

۔۔۔اور تمہیں آگاہ کرتے ہیں کہ ہمیں اجازت دی گئی ہے کہ تمہیں خط و کتابت کی شرافت اور افتخار سے مفتخر کریں اور پابندی کریں کہ جو کچھ تمہیں لکھ رہے ہیں ہماریے ان دوستوں تک جو تمہاریے نزدیک ہیں، پہنچا دیں۔وہ دوست کہ جنہیں خداوندعالم اپنی اطاعت کے ساتھ عزیز رکھے اور اپنی عنایت و محا فظت کے ساتھ ان کے امور کی کفایت کرے اور ان کی مشکلوں کو برطرف کرے۔

پس تو ان چیزوں کی طرف متوجہ اور آگاہ ہو جن کی ہم یادآوری کریں گے اور ان شاءاللہ جو ہم لکھیں گے انہیں اپنے آس پاس لوگوں تک پہنچانے کی ذمہ داری اداکریں. . اور ان کی جماعت کو ان پر عمل کرنے کی وصیت کریں۔

ہم اگرچہ اس وقت ستمگروں کی پہنچ سے دور ہیں کہ خداوند نے ہماری اور باایمان شیعوں کی اصلاح اس زمانے تک کہ جب تک دنیاکی حکومت فاسقوں کے ہاتھوں میں ہے، اسی میں رکھی ہے اس کے باوجود ہم تمہارے احوال واخبار سے آگاہ ہیں اور تمہارے افعال وکردار میں سے کوئی چیز بھی ہم سے پوشیدہ نہیں ہے۔۔۔


ہم نے تمہاری دیکھ بھال اور سرپرستی میں کوتاہی سے کام نہیں لیا اور تمہارا ذکر فراموش نہیں کیا ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو دشواریاں اور مصیبتیں تم پر ٹوٹ پڑتیں اور دشمن تمہیں ریشہ کن کردیتے۔۔۔

پس اپنے اندر تقوائے الہی کی عادت ڈالو اور ہماری مدد کرو تاکہ تمہیں اس فتنہ سے جو تمہاری طرف بڑھ رہا ہے نجات عطا کریں، ایسا فتنہ وآشوب کہ جس کی اجل آچکی ہو وہ ہلاک ہو جائے گا اور جو کوئی اپنی آرزو تک پہنچ گیا اس سے دور رہے گا۔۔۔

تم میں سے ہر ایک ایسا کام کرے کہ جو اسے ہماری محبت اور دوستی سے نزدیک کرے اور ایسے کام سے اجتناب کرے کہ جو اسے ہماری ناپسندیدگی اور غضب سے قریب کرے اس لئے کہ ہمارا امر بالکل اچانک آن پہنچے گا کہ جس وقت توبہ و بازگشت کا فائدہ نہ ہوگا اور گناہ سے پشیمانی ہمارے عقاب سے نجات نہیں بخشے گی۔

خدا وند تمہیں رشدوہدایت کا راستہ دکھائے اور اپنی رحمت و توفیق کے وسائل آسانی کے ساتھ فراہم کرے۔(۱)

____________________

۱:- احتجاج طبرسی ج۲ ص۴۹۸ ، موعود قرآن ص۱۰۰


اپنے امام کے اس مبارک پیغام کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں اور کم از کم کسی ایک مومن تک پہنچا کر خوشنودئ امام حاصل کریں۔

آخر میں اپنے معزز قارئین سے دعا کی درخواست ہے اور خد اسے امیدوار ہوں کہ وہ مجھے اور میرے دینی بھائیوں کو صاحب الزمان عجل اللہ فرجہ الشریف کے انصار میں سے قرار دے۔

یہ کتاب مولف حقیر محمد تقی بن عبد الرزاق الموسوی الاصفہانی عفی اللہ عنھما کے ہاتھوں مکمل ہوئی۔ ربیع الثانی سنۃ ۱۳۳۲

الحمد لله رب العالمین

بندہ حقیر کو آج اس کتاب کے ترجمہ کی تکمیل کا شرف حاصل ہوا۔

۲۱ جنوری ۲۰۱۷ء بمطابق ۲۲ ربیع الثانی ۱۴۳۸ھ بوقت ۴:۲۲

عامر حسین شہانی

جامعۃ الکوثر اسلام آباد

Email: hussainiaamir۵۱۲@gmail.com

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ