تفسیر نمونہ- جلد 7
گروہ بندی تفسیر قرآن
مصنف آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


تفسیر نمونہ جلد ۰ہفتم

تفسیرنمونه ، آیه الله العظمی مکارم شیرازی (مدظله العالی) کی ۱۵ ساله زحمات کا نتیجه ہے جس کو معظم له نے اہل قلم کی ایک جماعت کی مدد سے فارسی زبان میں تحریر فرمایا ، اس کا اردو اور عربی زبان میں ترجمه ہو کر شایع ہوچکا ہے.

تعداد جلد: ۱۵جلد

زبان: اردو

مترجم : مولانا سید صفدر حسین نجفی (رح)

تاریخ اشاعت: ربیع الثانی ۱۴۱۷هجری


قوم یہود کے بارے میں آخری بات

”نتقنا“ کی اصل ”نتق“ (بروزن ”قلع“) ہے جس کے معنی کسی چیز کو کسی جگہ سے اکھیڑ کر کسی دوسری جگہ پھینک دیتے ہیں ، جن عورتوں کے ہاں زیادہ بچے ہوتے ہیں انھیں بھی ”ناتق“ کہتے، کیونکہ وہ بچے کو اپنے رحم سے آسانی کے ساتھ جدا کرکے باہر ڈال دیتی ہے ۔

یہودیوں کی سرگزشت جو اس سورہ میں بیان کی گئی ہے یہ آیت اس سلسلہ کی آخری کڑی ہے، اس میں یہودیوں کی ایک اور سرگزشت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، یہ ایک ایسی سرگزشت ہے جس میں ایک درسِ عبرت ہے اور ایک عہدوپیمان کا ذکر بھی ارشاد ہوتا ہے: اور اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے پہاڑ کو ان کے سرکے اوپر قرار دیا اس طرح جیسے ایک سائبان سایہ فگن ہو( وَإِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ کَاٴَنَّهُ ظُلَّةٌ ) ۔

”اور اس طرح کہ انھیں لگتا تھا جیسے وہ ان کے سرپر گرپڑے گا“ وہ دیکھ کر سراسیمہ اور پریشان ہوگئے اور گڑاگڑانے لگے( وَظَنُّوا اٴَنَّهُ وَاقِعٌ بِهِمْ ) ۔

اس حال میں ہم نے ان سے کہا: ”ہم نے جو احکام تمھیں دیئے ہیں انھیں مضبوطی سے تھام لو“( خُذُوا مَا آتَیْنَاکُمْ بِقُوَّةٍ ) ۔

”اور جو کچھ ان احکام میں آیا ہے اسے ذہن نشین کرلو تاکہ پرہیزگار ہوجاؤ“ خدا کی سزا سے ڈرو اور اس (کتاب) میں ہم نے تم سے عہد وپیمان لئے ہیں ان پر عمل کرو( وَاذْکُرُوا مَا فِیهِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ )

یہ آیت، نیز سورہ بقرہ کی آیت ۶۳ تھوڑے سے فرق کےساتھ ایک ہی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں جسے مشہور مفسّر علامہ طبرسی نے اپنی کتاب ”مجمع البیان“ میں ابنِ زید کے حوالے سے بیان کیا ہے، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب حضرت موسیٰ(علیه السلام) کوہِ طور سے پلٹ رہے تھے اور توریت کے احکام ان کے ساتھ تھے، انھوں نے جب اپنی قوم کو ان کی ذمہ داریوں اور حلال وحرام کے قوانین سے آگاہ کیا تو ان لوگوں نے یہ خیال کیا کہ ان تمام احکام پر عمل کرنا ایک بہت بڑا مشکل کام ہے، چنانچہ انھوں نے مخالفت پر کمر باندھی، اس موقع پر ایک پہاڑ سے ایک بہت بڑی چٹان الگ ہوکر ہَوا میں بلند ہوئی اور ان کے سروں پر آکر ٹھہر گئی، اس وقت وہ لوگ اتے خوفزدہ ہوگئے کہ انھوں نے حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے سامنے گڑگڑانا شروع کردیا، حضرت موسیٰ(علیه السلام) نے اسی حال میں فرمایا: اگر تم ان عمل کرنے کا عہد کرلو تو یہ خطرہ تم سے دور ہوجائے گا، یہ سنتے ہی انھوں نے قبول کرلیا اور سجدے میں گڑپڑے اور وہ بلا ان سے دور ہوگئی ۔

یہاں پر دو سوال پیدا ہوتے ہیں جنھیں ہم نے سورہ بقرہ کی تفسیر میں ذکر کیا ہے اور ان کا جواب بھی دیا ہے، یہاں پر ان کا خلاصہ پیش کرتے ہیں ۔

پہلا سوال:

کیا اس طرح کسی سے عہد لینا درست ہے؟ کیا اس میں جبر کا پہلو نہیں ہے؟

جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس میں جبر کا پہلو ضرور ہے لیکن یہ بات بھی مسلّم ہے کہ جب ان سے خطرہ دور ہوگیا تو اختیار پلٹ آیا یعنی وہ باقی راستہ اپنی مرضی اور اختیار کے ساتھ طے کرسکتے تھے ۔

اس کے علاوہ ایک جواب اور بھی دیا جاسکتا ہے کہ عقائد کے معاملے میں جبر واکراہ لا یعنی چیز ہے لیکن جو امور انسان کے فعل وعمل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان میں نوعِ بشر کی خیر وسعادت ہے ان میں جبر واکراہ کرنے میں کیا حرج ہے، اگر کسی کو نشہ پینے سے جبراً روکا جائے یا اسے کسی خطرناک راستے پر چلنے سے جبراً روک دیا جائے تو کیا یہ کوئی بُری بات ہے؟

دوسرا سوال:

پہاڑ ان کے سروں پر کس طرح ٹھہرا رہا؟

جواب یہ ہے کہ بعض مفسّرین کا خیال ہے کہ حکمِ خدا کی وجہ سے کوہِ طور اپنی جگہ سے جدا ہوکر ان کے سروں پر سائبان کی طرح سایہ فگن ہوگیا تھا ۔

بعض کا کہنا ہے کہ ایک شدید زلزلے کی وجہ سے پہاڑ اس طرح ہلا اور ٹیڑھا ہوگیا کہ جو لوگ اس پہاڑ کے دامن میں تھے ان کے سروں پر پہاڑ کی چوٹی کا سایہ پڑنے لگا ۔

یہ احتمال بھی پایا جاتا ہے کہ اس پہاڑ سے ایک بہت بڑا پتھر الگ ہوکر ذار سی دیر کے لئے ان کے سروں پر ٹھہرا اور اس کے بعد وہ وہاں سے گذر گیا اور طرف گِر گیا ۔

بہرحال اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ ایک خارقِ عادت اور غیر معمولی بات تھی، طبیعت کو اس میں کوئی دخل نہیں تھا ۔

ایک دوسری بات جو اس آیت میں قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ خدا نے یہ نہیں کہا کہ وہ پہاڑ ان کے سروں پر سائبان بن گیا بلکہ یہ فرمایا کہ: گویا سائبان بن گیا (کاٴنّه ظلة ) ۔

یہ تعبیر یا تو اس وجہ سے ہے کہ اگر کسی کو اوپر سائبان بنایا جاتا ہے تو وہ اس کی حفاظت کے لئے بربنائے محبّت بنایا جاتا ہے، جبکہ یہ سائبان بعنوان تہدید وخوف بنایا گیا تھا، اور یا اس وجہ سے یہ


.

آیات ۱۷۲،۱۷۳،۱۷۴

۱۷۲( وَإِذْ اٴَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِی آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَاٴَشْهَدَهُمْ عَلیٰ اٴَنفُسِهِمْ اٴَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلیٰ شَهِدْنَا اٴَنْ تَقُولُوا یَوْمَ الْقِیَامَةِ إِنَّا کُنَّا عَنْ هٰذَا غَافِلِینَ ) .

۱۷۳( اٴَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا اٴَشْرَکَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا ذُرِّیَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ اٴَفَتُهْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ ) .

۱۷۴( وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ وَلَعَلَّهُمْ یَرْجِعُونَ ) .

ترجمہ

۱۷۲ ۔ اُ س وقت کو یاد کرو جب تمھارے پروردگار نے اولادِ آدم کی صلب سے ان کی ذریت کو لیا اور اُنھیں اُن کے اپنے نفسوں پر گواہ بنادیا (اور پھر اُن سے سوال کیا) کیا میں تمھارا پروردگار نہیں ہوں ۔ اُنھوں نے کہا ہاں ہم گواہی دیتے ہیں ۔ (خدا نے ایسا کیوں کیا) اس لئے کہ وہ قیامت کے دِن یہ عذر پیش نہ کریں کہ ہمیں معلوم نہ تھا (اور توحید اور خدا کو جاننے کے فطری عہدسے بے خبر تھے) ۔

۱۷۳ ۔ یا تم یہ نہ کہو کہ ہمارے آباء واجداد تو بُت پرستی کرتے تھے اور ہم بھی تو اُن ہی کی اولاد تھے (لہٰذا اُن کی پیروی کرنے کے علاوہ ہمارے لئے اور کوئی راستہ نہ تھا) جو کچھ باطل پرستوں نے کیا، کیا ہمیں اُس پر سزا دیتا ہے اور ہلاک کرتا ہے ۔

۱۷۴ ۔ اور ہم اپنی آیات کو اس لئے کھول کر بیان کرتے ہیں کہ شاید وہ حق کی طرف لوٹ آئیں (اور یہ جان لیں کہ توحید کی آواز کی رُوح کی گہرائیوں میں اوّل دِن سے موجود تھی) ۔

پہلا عہد وپیمان اور عالمِ ذر

مذکورہ بالا آیات اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں کہ توحید کا اقرار ایک فطری تقاضا ہے اور ہر انسانی روح کی گہرائیوں میں خدا کے وجود کی گواہی موجود ہے ۔ اسی بناپر جو بحث وتمحیص اس سورہ کی گزشتہ آیات میں توحید استدلالی کے بارے میں کی گئی ہے یہ اُن کی تمکیل کرتی ہے ۔

اگرچہ اس پہلی آیت کی تفسیر کرتے وقت مختلف مفسّرین کے درمیان زوروشور سے بحثیں ہوئی ہیں اور اس آیت کے متعلق مختلف طرح کی احادیث بھی ملتی ہیں ، تاہم ہماری کوشش یہ ہوگی کہ اوّل اس آیت کی اجمالی تفسیر کریں پھر مفسرین کی اہم ترین مباحث کا تذکرہ کریں اور آخر میں ان تمام مباحث کی روشنی میں محتاط انداز سے اپنا استدلالی نقطہ نظر پیش کریں ۔

اس آیت میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے مخاطب ہے، پہلے فرمایا گیا ہے: اس وقت کو یاد کرو جب تمھارے پروردگار نے اولادِ آدم کی صلب سے اُن کی ذرّیت کو لیا اور پھر انھیں ظاہر کیا اور انھیں خود اُن کا گواہ بناکر اُن سے پوچھا کہ کیا میں تمھارا پروردگارنہیں ہوں تو اُنھوں نے پوچھا کہ کیا میں تمھار پروردگار نہیں ہوں تو اُنھوں نے کہا ہم شہادت دیتے ہیں کہ تو ہمارا پروردگار ہے( وَإِذْ اٴَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِی آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَاٴَشْهَدَهُمْ عَلیٰ اٴَنفُسِهِمْ اٴَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلیٰ شَهِدْنَا ) ۔

لفظ ”ذریة“ لغت میں علماء کے مطابق ”چھوتی اور کم سن اولاد“ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لیکن اکثر اوقات”تمام اولاد“ کو کہتے ہیں ۔ بعض اوقات مفرد اور بعض اوقات جمع کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، لیکن درحقیقت یہ لفظ جمع کا مفہوم رکھتا ہے ۔

اس لفظ کے مادہ کے بارے میں مختلف آراء ملتی ہیں بعض اسے ”ذرء“ (بروزن ”زرع“) پیدائش وآفرینش کے معنی میں لیتے ہیں ، اس بناپر ”ذریة“ کا اصل مطلب ”مخلوق“ اور ”پیدا شدہ“ہے ۔

اور بعض اسے ”ذر“ (بروزن ”شر“) کے مادہ سے سمجھتے ہیں جس کا معنی ہے بہت چھوٹے موجودات جیسے گردوغبار کے ذرّات اور بہت ہی چھوٹی چیونٹیاں ، انسانی اولاد بھی ابتداء میں بہت ہی چھوٹے سے ذرّے (نطفہ) سے زندگی کا آغاز کرتی ہے اس لئے اسے ”ذریت“ کہتے ہیں ، تیسرا ”ذور“ (بروزن ”مرو“) کے مادہ سے پراگندہ اور منتشر ہونے کے معنی لیا گیا ہے اور انسان کی اولاد کو ”ذریة“ اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ پایہ تکمیل کو پہنچنے میں زمین میں چاروں طرف پھیل جاتی ہے ۔

اس کے بعد مسئلہ توحید کے سلسلے میں سوال وجواب اور اولادِ آدم سے عہدوپیمان لینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے: یہ کام خدا نے اس لئے انجام دیا تاکہ قیامت کے دن وہیہ نہ کہیں کہ ہم تو اس حقیقت توحید وخدا شناسی سے ناآشنا تھے( اٴَنْ تَقُولُوا یَوْمَ الْقِیَامَةِ إِنَّا کُنَّا عَنْ هٰذَا غَافِلِینَ ) ۔

خدا نے اُن لوگوں سے جو وعدہ لیا تھا اس میں سے ایک اور بھی مقصد پوشیدہ تھا، جس کا دوسری آیت میں اشارہ ملتا ہے ۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: یہ عہد وپیمان ہم نے اس لئے لیا تھا تاکہ وہ یہ نہ کہیں کہ ”ہمارے آباء واجداد چونکہ ہم سے پہلے بُت پرست تھے اور ہم بھی کیونکہ اُنہی کی اولاد تھے اس لئے ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ ہم ان کی پیروی کرتے تو کیا خدا ہمیں ان لوگوں کے باعث سزا دیتا ہے جنھوں نے بیہودہ کام کیا( اٴَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا اٴَشْرَکَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا ذُرِّیَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ اٴَفَتُهْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ ) ۔

ہاں ہم اپنی آیات اس لئے کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ اچھی طرح سمجھ لیں کہ توحید کا نُور اور روشنی ابتداء ہی سے ان روح میں موجود تھی، شاید وہ ان حقائق کی طرف توجہ کرتے ہوئے حق کی طرف پلٹ آئیں( وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ وَلَعَلَّهُمْ یَرْجِعُونَ )

عالم ذر کے بارے میں فیصلے کن بحث

جیسا کہ ہم پڑھا ہے کہ زیر نظر آیات میں الله تعالیٰ کے ساتھ اولاد آدم کے عہد وپیمان کا تذکرہ موجود ہے، وہ عہد وپیمان جو آدم کی اولاد سے سربستہ طریقے سے لیا گیا لیکن اس عہد وپیمان کی تفصیلات آیت کے متن میں نہیں ہیں ۔

ان آیات سے متعلق اسلامی کتب مصادر میں جو مختلف طرح کی روایات موجود ہیں مفسرین نے اُن کو بنیاد بناکر کئی نظریے قائم کئے ہیں جن میں زیادہ اہم دو نظریات جو درج ذیل ہیں :

۱ ۔ جس وقت حضرت آدم(علیه السلام) پیدا ہوئے تو آخری بشر تک ان کی اولاد ذرّات کی شکل میں ان کی پشت سے باہر نکلی (اور بعض روایات کے مطابق یہ ذرّات آدم کی مٹّی سے نکلے) وہ بات سُننے اور جواب دینے کی حد تک کافی عقل وشعور کے حامل تھے تو اُس وقت خدا اُن سے مخاطب ہوا:

( اٴلستُ بربّکم )

”کیا میں تمھارا پروردگار نہیں ہوں “

( بلیٰ شهدنا )

”جی ہاں ہم اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں “

پھریہ سب ذرّ ات آدم کی پشت (یا آدم کی مٹی) کی طرف واپس لوٹ گئے، اس بناء پر اس عالم کو عالم ذر اور اس پیمان کو پیمان الست کہتے ہیں ، اس لئے کہ مذکورہ پیمان ایک پیمان تشریعی انسانوں اور اُن کے پروردگار کے درمیان ایک خودآگاہی کی قرارداد تھی ۔

۲ ۔ اس عالم اور اس پیمان سے مراد وی ”عالم استعداد“ اور ”پیمان فطرت“ اور عہدِتکوین ہے، اس طرح سے کہ باپوں کی پشت اور ماؤں کے رحم سے ”نطفہ“ کی صورت میں اولاد آدم کے خروج کے وقت جبکہ اُن کی حیثیت ذرّات سے زیادہ نہ تھی تو خدا نے توحید کی گواہی کے لئے انھیں استعداد اور اہلیت عنایت کی، پھر ان کی سرشت اور فطرت میں یہ خدائی راز ایک اندرونی ذاتی حس کے طورپر انھیں ودیعت کیا اور اسے ایک جانی پہچانی حقیقت کے طور پر شعور میں رکھا ۔

یہی وجہ ہے کہ تمام انسان رُوح توحید سے شناسائی کے حامل ہیں اور خدا نے جو اُن سے سوال کیا تھا وہ تکوین وآفرینش کی زبان میں تھا اور اُنھوں نے جو جواب دیا تھا وہ بھی اسی زبان میں تھا ۔

ایسا انداز روز مرّہ کی گفتگو میں بھی بکثرت ملتا ہے، مثلاً ہم کہتے: ”رخسار کا رنگ اندرونی راز کی نشاندہی کرتا ہے“ یا ہم کہتے ہیں کہ ”کسی کی آنکھوں کا بند ہونا یہ بتاتا ہے کہ وہ رات سویا نہیں “ ایک عرب ادیب کہتا تھا:

سل الارض من شق انهارک وغرس اشجارک واینع ثمارک فإن لم تجبک حوراً اٴجابتک اعتباراً

اُس زمین سے پوچھو کس نے تیرے ردیاؤں کے راستے بنائے، کس نے تیرے درختوں کو بویا اور تیرے پھلوں کو پکایا، اگر زمین نے عام زبان سے جواب نہ دیا تو زبانِ حال سے جواب دے گی ۔

قرآن مجید میں بھی زبانِ حال میں گفتگو کرنے کا اسلوب بعض آیات میں آیا ہے مثلاً:

( فَقَالَ لَهَا وَلِلْاٴَرْضِ اِئْتِیَا طَوْعًا اٴَوْ کَرْهًا قَالَتَا اٴَتَیْنَا طَائِعِین )

خدا نے زمین وآسمان سے فرمایا: اپنی رضا ورغبت سے یا مجبوراً آؤ اور فرمانبرداری کرو، تو اُنھوں نے کہا: ہم تیری اطاعت کرتے ہوئے اپنی رضایت ورغبت سے آتے ہیں (حم سجدہ/ ۱۱)

ان آیات کی تفسیر کے بارے میں یہ دو مشہور نظریات کا خلاصہ تھا، لیکن پہلی تفسیر پر مندرجہ ذیل اعتراضات بھی کئے جاتے ہیں :

۱ ۔ آیات کے متن میں اولادِ آدم کی پشت سے ذرّات کے خارج ہونے کے بارے میں گفتگو ہے نہ کہ خود آدم سے (من بنی آدم/ من ظهورهم ذریّتهم ) جبکہ پہلی تفسیر خود آدم کی مٹّی سے نکلنے کی بات کرتی ہے ۔

۲ ۔ اگر یہ عہد وپیمان کافی خود آگاہی اور عقل وشعور سے لیا گیا تھا تو پھر کس طرح سب کے سب اسے بھول گئے ہیں ، کسی شخص کے دل میں بھی اس کی یاد نہیں ہے، جبکہ اس کا فاصلہ ہمارے زمانے کی نسبت اس جہان اور دوسرے جہان اور قیامت سے زیادہ نہیں ہے، حالانکہ قرآن مجید کی کئی آیات میں ہم پڑھتے ہیں کہ بنی نوع انسان (قطع نظر اس سے کہ وہ جنتی ہوں یا جہنمی) قیامت میں دُنیا کے حالات کو نہیں بھولیں گے اور وہ انھیں بہت اچھی طرح یاد ہوں گے تو عالم ذر کے بارے میں یہ فرماموشی کسی طرح بھی قابل توجیہ نہیں ہے ۔

۳ ۔ اس عہدو پیمان کا کیا مقصد تھا ۔ کیا یہ مقصود تھا کہ عہدوپیمان کرنے والا اس قسم کے عہدوپیمان کو یاد کرکے راہ حق میں قدم اٹھائیں اور خدا شناسی کے سوا کسی اور راستے پر نہ چلیں تو کہنا چاہیے کہ یہ مقصد تو کسی طرح بھی اس عہدوپیمان سے حاصل نہیں ہوتا، کیونکہ سب اسے بھول چکے ہیں اور اصلاح کے مطابق کے بہتر ”لا“ پر ہوئے ہوئے اور اس ہدف اور مقصد کے بغیر یہ پیمان لغو اور فضول نظر آتا ہے ۔

۴ ۔ اس قسم کے جہان کے وجود کا اعتقاد حقیقت میں ایک قسم کے تناسخ کے قبول کرنے کے متبادل ہے کیونکہ اس تفسیر کے مطابق یخ قبول کرنا پڑے گا کہ روحِ انسانی موجودہ پیدائش سے پہلے اس جہان میں قدم رکھ چکی ہے اور کم یا طویل دور طے کرنے کے بعد اس جہاں سے واپس چلی گئی ہے، تو اس طرح تناسخ کے بہت سے اعتراضات اس کی طرف متوجہ ہوں گے ۔

لیکن اگر ہم دوسری تفسیر کو قبول کرلیں تو ان میں سے کوئی اعتراض متوجہ نہیں ہوگا، کیونکہ اس صورت میں سوال وجواب اور مذکورہ عہدوپیمان ایک فطری پیمان ہوگا جس کے آثار اب بھی ہر شخص کو اپنی روح کے اندر نظر آتے ہیں ، یہاں تک کہ متاخرین ماہرین نفسیات کی تحقیقات کے مطابق ”حس مذہبی“ ہونا ہود آگاہ انسان کے بنیادی نفسیاتی احساسات میں سے ایک ہے اور یہی وجہ ہے جو انسان کو طول تاریخ میں خدا شناسی کی طرف رہنمائی کرتی رہی ہے اور اس فطرت کے ہوتے ہوئے کبھی بھی انسان یہ عذر کرسکتا کہ ہمارے آباء واجداد تو بت پرست تھے( فِطْرَةَ اللهِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا ) (روم/ ۳۰)

دوسری تفسیر پر صرف ایک اہم اعتراض کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس میں سوال وجواب اپنے اندر منشا کا پہلو لے لیں گے لیکن جس چیز کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے، اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ تعبیریں عربی زبان اور دیگر زبانوں میں موجود ہیں تو پھر اس پر کوئی بھی اعتراض نہیں ہوسکتا اور یہ تفسیر تمام تفاسیر کی نسبت زیادہ قریب نظر آتی ہے ۔

عالم ذر اور اسلامی روایات

شیعہ اور سنّی کے مختلف کُتب ومصادر میں عالم ذر کے بارے میں بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں جو پہلی نظر میں ایک مسلسل روایت کے حصّے معلوم ہوتی ہیں ، مثلاً تفسیر برہان میں ۳۷ روایات اور تفسیر نورالثقلین میں ۳۰ روایات مذکورہ بالا آیات کی ذیل میں نقل ہوئی ہیں اور جن میں بعض مشترک اور بعض مختلف ہیں اور جن روایاتمیں تفاوت وفرق پایا جاتا ہے اُن کا مجموعہ شاید چالیس سے زیادہ ہو۔

لیکن اگر صحیح طریقے سے ان روایات کی درجہ بندی اور تجزیہ وتحلیل کی جائے، نیز ان کے مضامین اور اسناد کی جانچ پڑتال کی جائے تو ہم دیکھیں کہ ان پر ایک معتبر روایت کی حیثیت سے (چہ جائیکہ متواتر روایت کی حیثیت میں ) بھی بھروسہ اور اعتاد نہیں کیا جاسکتا (غور کیجئے) ۔

ان میں سے بہت سی روایات تو ”زرارہ“ سے ہیں کچھ ”صالح بن سہل“ سے، کچھ ”جابر“ اور کچھ ”عبدالله بن سنان“ سے ہیں ، ظاہر ہے کہ جب ایک ہی شخص ایک مضمون کی کئی روایات نقل کرے تو وہ سب ایک ہی روایات شمار ہوں گی اور نتیجتاً مندرجہ بالا روایات کی تعداد اس کثیر عددد سے جوشروع میں نظر آتا تھا گرجائے گی اور شاید دس سے لے کر بیس روایات سے تجاوز نہ کرے یہ تو سند کے لحاظ سے ہے ۔

لیکن مضمون اور دلالت کے لحاظ سے ان روایات کے مفاہیم مکمّل طور سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں ، بعض پہلی اور بعض دوسری تفسیر سے موافقت رکھتے ہیں اور بعض مفاہیم ان میں سے کسی سے بھی مطابقت نہیں رکھتے، مثلاً وہ روایات جو ”زرارہ“ سے نقل کی ہیں ۔ اور محل بحث آیات کے ذیل میں تفسیر برہان میں ۳ ۔ ۴ ۔ ۸ ۔ ۱۱ ۔ اور ۲۹ شمارہ میں نقل ہوئی ہیں ، وہ پہلی تفسیر کے ساتھ مواقف ہیں اور وہ جو عبدالله بن سنان سے تفسیر برہان میں ۷ اور ۱۲ کے شمارہ کے تحت ذکر ہوئی ہیں وہ دوسری تفسیر کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔

ان روایات میں سے بعض مبہم ہیں ۔

جن سوائے کنایہ کی شکل اور اصطلاح کے مطابق ”سمبولیک“ کی شکل میں کوئی مفہوم نہیں مثلاً اٹھارہ اور تیئسویں روایت جو ”ابوسعید خدری“ اور ”عبدالله کلبی“ سے اسی تفسیر میں نقل ہوئی ہے ۔

کچھ مذکورہ روایات میں صرف بنی آدم کی ارواح کی طرف اشارہ ہوا ہے (مثلاً مفضل کی روایت جس کا شمارہ ۲۰ میں ذکر ہوا ہے)

علاوہ ازیں اوپر والی روایات میں سے بعض سند معتبر کی حامل ہیں اور بعض سند کے بغیر ہیں ۔

اُن روایات کے دوسرے سے متعارض ہونے کی وجہ سے ان پر ایک معتبر دستاویز کے لحاظ سے اعتماد اور بھروسہ نہیں کیا جاسکتا، یا کم ازکم جیسا کہ بزرگ علماء نے اس ضمن میں کہا ہے کہ ان روایات کے علم وفہم کو صاحبانِ روایات کے سپرد کرنا چاہیے اور وہ ان کے متعلق مناسب قسم کے فیصلے کرلیں ۔

تو اس صورت میں ہم ہیں اور اُن روایات کا متن، جو قرآن میں آئی ہیں اور جیسا کہ ہ کہہ چکے ہیں کہ دوسری تفسیر آیات کے زیادہ قریب ہے اوراگر ہماری بحث میں تفسیر اور تشریح کی اجازت ہوتی تو ہم تمام حوالہ جات اور روایات کا شرح وبسط سے ذکرکرتے اور ہر ایک میں بحث وتمحیص کرتے تاکہ جو کچھ ہم اوپر بیان کیا ہے اور زیادہ واضح ہوجاتا، لیکن دلچسپی لینے والے حضرات تفسیر ”نورالثقلین“ ، ”برہان“اور ”بحارالانوار“ کی طرف رجوع کرکے گذشتہ بحث کی بنیاد پر روایات کی درجہ بندی اور اسناد کی تحقیق کرسکتے ہیں ۔


آیات ۱۷۵،۱۷۶،۱۷۷،۱۷۸

۱۷۵( وَاتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاٴَ الَّذِی آتَیْنَاهُ آیَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْهَا فَاٴَتْبَعَهُ الشَّیْطَانُ فَکَانَ مِنَ الْغَاوِینَ ) .

۱۷۶( وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَکِنَّهُ اٴَخْلَدَ إِلَی الْاٴَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَمَثَلُهُ کَمَثَلِ الْکَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اٴَوْ تَتْرُکْهُ یَلْهَثْ ذٰلِکَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا فَاقْصُصْ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَکَّرُونَ ) .

۱۷۷( سَاءَ مَثَلًا الْقَوْمُ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا وَاٴَنفُسَهُمْ کَانُوا یَظْلِمُونَ ) .

۱۷۸( مَنْ یَهْدِ اللهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِی وَمَنْ یُضْلِلْ فَاٴُوْلٰئِکَ هُمَ الْخَاسِرُونَ ) .

ترجمہ

۱۷۵ ۔ اور اُن کے لئے اُس شخص کی سرگزشت پھو کہ جسے ہم نے اپنی آیات دیں ، لیکن (بالآخر) وہ ان کے (حکم) سے نکل گیا اور شیطان نے اُس پر غلبہ پالیا اور وہ گمراہوں میں سے ہوگیا ۔

۱۷۶ ۔ اور اگر ہم چاہتے تو اس (مقام) کو ان آیات (اور علوم ودانش) کے ساتھ اُوپر لے جاتے (لیکن جبر کرکرناہماری سنّت کے خلاف ہے لہٰذا ہم نے اُسے اُس کی حالت پر چھوڑدیا) لیکن وہ پستی کی طرف مائل ہوا اور اس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی کی اور وہ (باؤلے) کتّے کی مانند ہے کہ اگر اُس پر حملہ کردیا تو اپنا منھ کھول دیتا ہے اور زبان باہر نکال دیتا ہے اور اگر اُسے اُس کے حال پر چھوڑدیا جائے تو پھر بھی یہی کام کرتاہے گویا دُنیاپرستی کا اتنا پیاسا ہے کہ کبھی سیراب نہیں ہوتا) یہ اُس گروہ کی مانند ہے کہ جس نے ہماری آیات کو جھٹلایا، یہ کہانیاں (اُن سے) بیان کرو، شاید وہ غور وفکر کریں (اور ہوش میں آجائیں ) ۔

۱۷۷ ۔ کتنی بُری مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں لیکن وہ تو خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں ۔

۱۷۸ ۔ وہ جسے خدا خدا کرے (حقیقی) ہدایت پانے والا وہی ہے اور انھیں (اُن کے اعمالوں کی وجہ سے) گمراہ کرے اور وہ (واقعی) خسارے میں ہیں ۔

ایک عالم جو فرعونوں کا خدمتگار ہے

اس آیت میں بنی اسرائیل کے ایک اور واقعہ کی طرف اشارہ ہوا ہے جو اُن لوگوں کے لئے ایک مثال اور نمونہ ہے جو اس قسم کی صفات رکھتے ہیں ۔

جیسا کہ ہم ان آیات کی تفسیر کے دوران میں پڑھیں گے مفسرین نے اس شخص کے بارے میں جس کے متعلق یہ آیات نازل ہوئی ہیں ، متعدد شکوک کا اظہار کیا ہے لیکن یہ درست ہے کہ آیت کا مفہوم دیگر آیات کی طرح کہ جو اگرچہ خاص حالات میں نازل ہوئیں ، کلی اور عمومی ہے ۔

پہلی آیت میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: اُس شخص کا واقعہ جسے ہم نے اپنی آیات دی تھیں لیکن بالآخر وہ ان سے بھٹک گیا اور شیطانی وسوسوں میں گرفتار ہوکر گمراہوں کے زمرے میں داخل ہوگیا، ان سے بیان کرو( وَاتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاٴَ الَّذِی آتَیْنَاهُ آیَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْهَا فَاٴَتْبَعَهُ الشَّیْطَانُ فَکَانَ مِنَ الْغَاوِینَ ) ۔

یہ آیت واضح طور پر کسی ایسے شخص کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جو پہلے مومنین کی صف میں شامل تھا اور آیات وعلوم الٰہی پر ایمان رکھتا تھا، پھر وہ اس راستہ سے بھٹک گیا اس بناء پر شیطان نے اُسے وسوسہ میں ڈالا اور اُس کا انجام گمراہی اور بدبختی تک جاپہنچا ۔

”انسلخ“ مادہ ”انسلاخ“ سے ہے جو اصل میں چمڑے سے باہر آنے معنی میں ہے، یہ لفظ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے آیات خداوندی اور علوم الٰہی نے ابتداء میں اس کا اس طرح احاطہ کیا ہوا تھا کہ وہ اس کے بدن کے چمڑے کی طرح ہوگئے تھے مگر اچانک وہ اس چمڑے کے محیط سے باہر نکل آیا اور اس نے ایک تیز چکّر کھاتے ہوئے اپنا راستہ مکمل طورپر بدل لیا ۔

فاٴتبعه الشیطان “ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شیطان پہلے تو اس سے اپنی اُمید منقطع کرچکا تھا کیونکہ وہ مکمل طورپر حق کے راستے پر گامزن تھا، لیکن مذکورہ انحراف کے بعد شیطان نے تیزی سے اس کا پیچھا کیا اور اس کی تاک میں لگا رہا اور اس کے دِل میں وسوسے ڈالنے لگا اور آخرکار اسے گمراہ، شقی اور بدبخت لوگوں کی سف میں لاکھڑا کیا(۱)

بعد والی آیت اس بات کی اس طرح تکمیل ہے کہ ”اگر ہم (خدا) چاہتے تو اسے جبراً حق کی راہ پر قائم رکھ سکتے تھے اور اِن آیات وعلوم کے ذریعہ اسے بلند مقام دے سکتے تھے( وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا ) لیکن یہ مسلّم ہے کہ جس پروردگار کی سنّت انسان کو ارادہ وفیصلہ کی آزادی واختیار دیتا ہے افراد کو جبراً حق کی راہ پر چلانا اس کی اس سنّت سے مناسبت نہیں رکھتا اور یہ بات کسی کی شخصیت وعظمت کی نشانی نہیں بن سکتی، لہٰذا بِلاتوقف مزید ارشاد فرماتا ہے: ہم نے اسے اس کے اختیار پر چھوڑدیا اور وہ بجائے اس کے کہ اپنے علوم ودانش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہر روز بلند مقام کی طرف بڑھتا، پستی کی طرف جھکا اور ہواوہوس کی پیروی کی وجہ سے اپنے تنزّل کی جانب مائل ہوا( وَلَکِنَّهُ اٴَخْلَدَ إِلَی الْاٴَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ ) ۔

”اخلد“ ”اخلاد“ کے مادہ سے ہے، جس کا مطلب ہے ”کسی جگہ دائمی سکونت اختیار کرنا“ اس بناء پر ”اٴَخْلَدَ إِلَی الْاٴَرْضِ “ کا معنی ہے کہ ہمیشہ کے لئے زمین سے چمٹ گیا جو یہاں کنایہ ہے اور اس مادّی دنیا کی چمک دمک اور غیرشرعی لذّات اور آسائشوں کے لئے استعمال ہوا ہے ۔

اس کے بعد اس شخص کو کتّے سے تشبیہ دی ہے، ایسا کتّا جو اپنی زبان پیاسے جانوروں کی طرح ہمیشہ باہر نکالے رکھتا ہے، ارشادِ ربّانی ہے: وہ کتّے کی طرح ہے ۔ اگر اس پر حملہ کرو تو اس کا منھ کھلا ہوا ہے اور زبان باہر نکلی ہے اور اگر اسے اس کی حالت پر چھوڑدیں تو بھی اسی طرح رہتا ہے( فَمَثَلُهُ کَمَثَلِ الْکَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اٴَوْ تَتْرُکْهُ یَلْهَثْ )

اس نے لذّت پرستی کی شدّت اور اس مادی دُنیا کی بے تحاشا محبّت سے مغلوب ہوکر ایک لامحدود اور ختم نہ ہونے والی پیاس کی حالت اپنا رکھی ہے کہ ہمیشہ وہ دنیا پرستی کے پیچھے لگارہتا ہے، کسی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ ایک بیمار کی طرح، باؤلے کتّے کی مانند کہ جس پر باؤلے پن کی وجہ سے پیاس کی ایک جھوٹی کیفیت طاری رہتی ہے اور کسی وقت بھی سیراب نہیں ہوتا، یہی حالت اُن دنیا پستوں اور پست ہمّت ہواوس کے پچاریوں کی ہے جنھیں دُنیا کی آسائشیں میسّر ہوں لیکن اُن کی نیّت سیر نہیں ہوتی ۔

مزید ارشاد ہوتا ہے کہ یہ مثال کسی مخصوص شخص کے ساتھ منسوب نہیں بلکہ یہ ان تمام گروہوں کی مثال ہے جو آیات خدا کو جھٹلاتے ہیں( ذٰلِکَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا ) ۔

یہ واقعات ان کے سامنے بیان کرو ہوسکتا ہے کہ وہ ان پر سوچ بچار کریں اور صحیح راستے کا یقین کرلیں( فَاقْصُصْ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَکَّرُونَ ) ۔

دُنیا پرست اور منحرف عالم بلعم باعوراجیسا کہ آپ نے دیکھا اوپر والی آیات میں کسی کا نام نہیں لیا گیا بلکہ ایک عالم کے متعلق گفتگو ہوئی ہے جو پہلے حق کے راستے پر گامزن تھا اور گوئی ا س کے بارے میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا ہے کہ کسی دِن یہ حق سے منحرف ہوجائے گا لیکن آخرکار دُنیاپرستی اور خواہشات نفسانی نے اُس پر ایسا غلبہ پایا اور اُسے پستیوں میں دھکیل دیا کہ وہ گمراہوں اور شیطان کے پیروکار کی صف میں جاکھڑا ہوا ۔

بہت سی روایات اور مفسرین کے کلمات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد بلعم باعور نامی ایک شخص تھا جو حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے زمانہ میں رہتا تھا اور بنی اسرائیل کے نامی گرامی علماء میں اس کا شمار ہوتا تھا یہاں تک کہ حضرت موسیٰ(علیه السلام) اُس سے ایک بڑے مبلغ کی حیثیت کام لیتے تھے اور وہ اس درجے پر فائز تھا کہ اس کی دُعا بارگاہ خداوندی میں شرف قبولیت پاتی تھی، لیکن وہ فرعون کی ظاہری شان وشوکت اور اُس کے وعدوں سے اتنا متاثر ہُوا کہ راہ حق سے بھٹک گیا لہٰذا اس کی تمام قدرومنزلت جاتی رہی ، حتّیٰ کہ وہ حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے مخالفین کی صف میں شامل ہوا ۔(۲)

باقی رہا یہ احتمال کہ یہ شخص امیہ ابن ابی الصلت ہے جو زمانہ جاہلیت کا مشہور شاعر ہے جوپہلے گذشتہ کتبِ آسمانی آگاہی رکھنے کی وجہ سے آخری پیغمبر کے ظہور کے انتظار میں تھا، لیکن پھر وہ یہ سوچنے لگا کہ ہوسکتا ہے کہیں وہ خود ہی پیغمبر ہے ۔ اس لئے اس نے بعثتِ پیغمبر کے بعد رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے حسد کو مخالفت کی بنیاد بنایا ۔

یہ بھی احتمال پیش کیا گیا ہے کہ اس سے مشہور راہب ابوعامر مراد ہے، جو زمانہ جاہلیت میں لوگوں کو پیغمبر اسلام کے ظہور کی خوشخبری دیتا تھا لیکن پیغمبر کے ظہور کے بعد اس نے مخالفت کی راہ اپنائی، تو یہ دونوں احتمال حقیقت سے دُور نظر آتے ہیں ۔

کیونکہ ”واتل“ ”نباء“ اور ”فاقصص القصص“ کے الفاظ نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ واقعہ پیغمبر اسلام کے ہمعصر افراد سے متعلق نہیں تھا بلکہ یہ گذشتہ اقوام کی سرگزشت ہے، علاوہ ازیں سورہ اعراف ان سورتوں میں سے ہے جو مکّہ میں نازل ہوئی ہیں اور ابوعامر راہب اور امیہ بن ابوصلت کا تعلق مدینہ سے ہے ۔

تفسیر المنار میں پیغمبر اسلام سے روایت ہے کہ بنی اسرائیل میں بلعم باعور کی مثال اس امّت میں امیّہ بن ابی الصلت ایسی ہے ۔(۳)

____________________

۱۔ ”اتبعہ“ اور ”تبعہ“ ”لحقہ وادرکہ“ (اس سے ملحق ہوا اور اسے پالیا) کے معنی میں آیا ہے ۔

۲۔موجودہ تورات میں بھی بلعم باعور کے ماجرا کی تفصیل آئی ہے لیکن اس فرق کے ساتھ کہ تورات آ!رکار اسے انحراف سے بری الذمہ قرار دیتی ہے، مزید تفصیل کے لئے سفر اعداد کے باب ۲۲ سے رجوع کریں ۔

۳۔المنار، ج۹، ص۱۱۴.


اسی طرح امام باقر علیہ السلام سے نقل ہوا ہے، آپ(علیه السلام) نے فرمایا:

الاصل فی ذٰلک بلعم، ثمّ ضربه اللّٰه مثلا لکل موثر هواه علی هدی اللّٰه من اهل القبلة

اصل آیت بلعم کے بارے میں ہے اس کے بعد خدا نے اسے ایک مثال کے طورپر ایسے اشخاص کے لئے کیا ہے جنھوں نے اس امّت میں ہوس پرستی کو خداپرستی اور خدا کی ہدایت پر مقدم گردانا ہے(۱)

اصولی طور پر انسانی معاشروں میں اتنا خطرہ کسی چیز سے نہیں جتنا ان علماء سے ہوتا ہے جو اپنے علم وافکار کو اپنے زمانے کے فرعونوں اور جابروں کے اختیار میں دے دیتے ہیں اور ہوس پرستی اور مادی دنیا کی شان وشوکت (وخلاد الی الارض ) سے مرعوب ہوکر اپنا تمام سرمایہ فکر ونظر طاغوتوں کے قبضے میں دے دیتے ہیں اور وہ بھی عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے اس قسم کے افراد سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں ، یہ امر صرف حضرت موسیٰ(علیه السلام) یا باقی انبیاء کے زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے کہ زمانہ پیغمبر سے لے کر اب تک یہ سلسلہ جاری ہے، کہ بلعم باعور، ابوعامر اور امیہ بن ابوالصلت جیسے عالم اپنے علم ودانش اور اجتماعی اثر ورسوخ کو درہم ودینار یا مقام ومنزلت کے عوض بیچ دیتے یا پھر کینہ وحسد کی بناء پر منافقین، دشمنانِ حق، فرعونوں ، بنی اُمیّہ اور بنی عباس جیسے طاغوتوں کے اختیار میں دیئے ہیں ۔

مذکورہ بالا آیات میں علماء کے اس گروہ کی کچھ نشانیاں بیان ہوئی ہیں جن کے ذریعے انھیں پہچانا جاسکتا ہے، وہ ایسے مادہ پرست ہیں جنھوں نے دنیا کی محبّت میں خدا کو بھلادیا ہے، وہ اتنے کم ظرف ہیں کہ بارگاہِ خداوندی اور خلقِ خدا کی نظر میں بلند مقام حاصل کرنے کی بجائے ذلّت کی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں ، اپنی اسی کم ظرفی کی وجہ سے سب کچھ کھو بیٹھتے ہیں ، وہ شیطان کے شدید وسوسوں میں گھرے ہوئے ہیں اور انھیں آسانی سے خریدا اور بیچا جاسکتا ہے، وہ بیمار اور باؤلے کتّوں کی مانند ہیں جو کبھی سیراب نہیں ہوتے، انہی وجوہ کی بناء پر انھوں نے حق کو چھوڑدیا ہے اور بے راہ روی اختیار کرلی ہے وہ گمراہوں کے پیشوا ہیں ، ایسے افراد کی پہچان لازمی ہے تاکہ سختی سے ان کے شر سے محفوظ رہا جاسکے ۔

بعد والی دونوں ایات میں بلعم اور دنیا پرست علماء کی سرگزشت سے ایک کلی اور عمومی نتیجہ اخذ کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے: کیا بُری مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات سے انکار کرتے ہیں اور کیسا بُرا انجام اور ذلّت اُن کے انتظار میں ہے( سَاءَ مَثَلًا الْقَوْمُ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا ) ۔ لیکن وہ ہم پر ظلم وستم نہیں کرتے تھے بلکہ خود اپنے اوپر ستم روا رکھتے تھے( وَاٴَنفُسَهُمْ کَانُوا یَظْلِمُونَ ) ۔ اور اس سے زیادہ ظلم کیا ہوگا کہ معنوی علم ودانش کا سرمایہ ح۔جو خود ان کے معاشرے کی سربلندی کا باعث بن سکتا تھا، صاحبِ زر اور صاحبِ اقتدار کے اختیار میں دے دیتے ہیں اور سستے داموں اُسے فروخت کرکے بالآخر اپنے آپ کو اور معاشرے کو پستی میں دھکیل دیتے ہیں ۔

لیکن اس قسم کی لغزشوں اور شیطانی دام وفریب سے خبردارد رہو کیونکہ ان سے رہائی خدا کی توفیق اور ہدایت کے بغیر ممکن نہیں ، جال اور پھندا بڑا ہی سخت ہے مگر یہ کہ رحمتِ الٰہی مددگار ہو۔

”جسے خداہدایت دے اور اپنی رحمت کو اس کا مددگار بنادے تو حقیقتاً وہی ہدایت پانے والا ہے“

( مَنْ یَهْدِ اللهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِی )

”اور جس خص کو خدا اس کے (بُرے) اعمال کے نتیجہ میں اپس کے حال پر چھوڑدے یا کامیابی اور موافقت کے ذرائع شیطانی وسوسوں کے مقابلہ میں اُس سے چھین لے تو وہ واقعی زیانکار اور خسارے میں ہے ۔

( وَمَنْ یُضْلِلْ فَاٴُوْلٰئِکَ هُمَ الْخَاسِرُونَ )

بارہا ہم نے کہا ہے کہ ہدایتِ الٰہی اور کمراہی نہ جبری پہلو رکھتی ہے اور نہ ہی بغیر کسی وجہ اور حساب وکتاب کے ہے، ان دونوں سے مراد وسائل ہدایت فراہم کرنا یا اس قسم کے ذرائع کو روک لینا ہے، وہ بھی انسان کے گذشتہ اچھے بُرے یا اعمال کی وجہ سے جو اس نے انجام دیئے ہیں ، بہرحال آخری پختہ ارادہ خود انسان کا اپنا ہوتا ہے، اس بناء پر زیرنظر آیت ان گذشتہ آیات سے مکمل مطابقت رکھتی ہے جو ارادہ کی آزادی کی تائید کرتی ہیں اور ان کے درمیان اختلاف نہیں ۔


آیات ۱۷۹،۱۸۰،۱۸۱،

۱۷۹( وَلَقَدْ ذَرَاٴْنَا لِجَهَنَّمَ کَثِیرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لَایَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ اٴَعْیُنٌ لَایُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَایَسْمَعُونَ بِهَا اٴُوْلٰئِکَ کَالْاٴَنْعَامِ بَلْ هُمْ اٴَضَلُّ اٴُوْلٰئِکَ هُمَ الْغَافِلُونَ ) .

۱۸۰( وَلِلّٰهِ الْاٴَسْمَاءُ الْحُسْنَی فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِینَ یُلْحِدُونَ فِی اٴَسْمَائِهِ سَیُجْزَوْنَ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) .

۱۸۱( وَمِمَّنْ خَلَقْنَا اٴُمَّةٌ یَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ یَعْدِلُونَ ) .

ترجمہ

۱۷۹ ۔ یقیناً جن وانس کے بہت سے گروہوں کو ہم نے جہنم کے لئے پیدا کیا ہے وہ ایسے دل (اور ایسی عقل ) رکھتے ہیں کہ جن سے (وہ سوچتے نہیں اور) سمجھتے نہیں اور ایسی آنکھیں رکھتے ہیں کہ جن سے و دیکھتے نہیں اور ایسے کان رکھتے ہیں کہ جن سے وہ سنتے نہیں ، وہ چوپاؤں کی طرح ہیں ۔ بلکہ وہ زیاد ہگمراہ ہیں (اور) وہ غافل ہیں (کیونکہ ہدایت کے تمام تر اسباب میسّر ہونے کے باوجود گمراہ ہیں ) ۔

۱۸۰ ۔ خدا کے بہترین نام ہیں ۔ اسے انہی ناموں پُکاروں اور انھیں چھوڑدو جو خدا کے ناموں میں تحریف کرتے ہیں ۔ (اور یہ نام اس کے غیر کے لئے رکھتے ہیں اور اس کے لئے شریک کے قائل ہیں ) وہ عنقریب اپنے کردہ (بُرے) اعمال کی سزا پائیں گے ۔

۱۸۱ ۔ اور جنھیں ہم نے پیدا کیا ہے ان میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو حق کی تبلیغ کرتا ہے ۔

دوزخیوں کی نشانیاں

یہ آیات اس بحث کی تکمیل کرتی ہیں جو گذشتہ آیات میں دنیا پرست علماء اور اسی طرح ہدایت اور گمراہی کے عوامل ضمن میں گزری ہے ۔ ان آیات میں لوگوں کو دو حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر ایک گروہ کی صفات کی وضاحت کی گئی ہے اور وہ ہیں دوزخیوں کا گروہ اور بہشتیوں کا گروہ۔

اوّل دوزخیوں کے لئے پیدا کیا( وَلَقَدْ ذَرَاٴْنَا لِجَهَنَّمَ کَثِیرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ ) ۔

”‘( ذَرَاٴْنَا ) ‘ ‘ ”ذرء“ (بروزن زرع) یہاں خلقت وآفرینش کے معنی میں ہے ۔ لیکن در اصل پراگندہ اور منتشر کرنے کے معنی آٰا ہے جیسا کہ قرآن میں آیا ہے ۔

( تذروه الریاح )

”ہوائیں اسے پراگندہ کرتی ہیں “ (سورہ کہف/ ۴۵)

اور چونکہ موجودات کی پیدائش روئے زمین میں ان کے انتشارار اور پھیلنے کا سبب ہے لہٰذا یہ لفظ خلقت وآفرینش کے معنی بھی آیا ہے ۔

بہرحال یہاں جو اہم اعتراض سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ یہاں کیونکر یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم نے بہت سے جن وانس کو دوزخ کے لئے پیدا کیا ۔ جبکہ ایک اور مقام پر ہے کہ:

( وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلاَّ لِیَعْبُدُونِی ) (سورہ ذاریات/ ۵۶)

اس آیت کے مطابق تمام جن وانس خدا پرستش، ترقی اور فرمانبرداری کے لئے پیدا کئے گئے ۔ اسی لئے تو مذہب جبر کے بعض طرفداروں نے اپنے مذہب کے اثبات کے لئے اس آیت سے استدلال کیا ہے جیسے فخرالدین رازی وغیرہ۔

لیکن اگر آیات قرآن کو ایک دوسرے کی روشنی میں غور سے دیکھا جائے اور سطحی نتائج اخذ کیے جائیں تو اس سوال کا جواب خود آیت میں موجود ہے اور دوسری آیات میں تو اس طرح وضاحت کے ساتھ نظر آتا ہے کہ قارئین کے لئے غلط فہمی کی کوئی گناجائش باقی نہیں رہتی ۔ کیونکہ پہلے تو یہ تشریح اس طرح درست ہے کہ مثلاً ایک بڑھئی کہتا ہے کہ جو لکڑیاں صاف ستھری، مضبوط اور صحیح وسالم ہیں انھیں پہلے مصرف میں لاؤں گا اور جو لکڑیاں خراب اور ٹوٹی پھوٹی ہیں انھیں دوسرے کام میں صرف کروں گا تو ظاہر یہ ہوا کہ بڑھئی کے دو مقاصد ہیں ایک حقیقی اور اصلی اور دوسرا ثانوی ۔ اس کا ہدف تو بہترین دروازے، ان پر خوبصورت نق ونگار ار لکڑی کا دیگر سامان تیار کرنا ہے ۔ اور وہ اپنی تمام تر کوشش اس مقصد کے حصول میں صرف کرے ۔ لیکن جب وہ دیکھے گا کہ کچھ لکڑی ناکارہ ہے اور اس کے کام کی نہیں تو مجبوراً اُسے جلانے کے لئے الگ کردے گا ۔ تو یہ ثانوی ہدف ومقصد ہے نہ کہ اصلی (غور کیجئے گا) ۔

اس مثال میں اور ہمارے زیرِ بحث موضوع میں فرق صرف یہ ہے کہ لکڑیوں کا ایک دوسرے سے فرق اختیاری نہیں ہے ۔ لیکن انسانوں کا فرق خود اعمال سے وابستہ ہے اور اُن کے اختیار میں ہے ۔ اس گفتگو کا بہترین ثبوت ہیں جو جہنمی اور بہشتی گروہ کی ہم مندرجہ بالا آیات میں پڑھتے ہیں ۔ جو نشاندہی کرتی ہیں کہ اس گروہ کا سرچشمہ خود انھی کے اعمال ہیں ۔

دوسرے لفظوں میں خدا نے مختلف آیات میں صریحاً بتایا ہے کہ اُس نے سب کو پاک وپاکیزہ خلق فرمایا ہے اور یہ ان کے اختیار میں ہے کہ وہ چاہیں تو نیکی کے راستے پر چلیں اور ترقی پائیں لیکن ایک گروہ اپنے اعمال کی وجہ سے جہنم کا راستہ اختیار کرتا ہے جو بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے ۔ اور ایک گروہ اپنے اعمال کی بنابر اپنے آپ کو بہشت کے لئے نامزد کرتا ہے ۔ اور اس کا انجام خوش بختی ہے اس کے بعد دوزخی گروہ کی صفات کا خلاصہ تین جملوں میں بیان کیا گیا ہے ۔

پہلا یہ کہ وہ دل تو رکھتے ہیں لیکن ان سے غوررفکر اور ادراک کا کام نہیں لیتے( لَهُمْ قُلُوبٌ لَایَفْقَهُونَ بِهَا ) ۔ یہ بات متعدد مقامات پر کہی جاچکی ہے قرآن کی اصطلاح میں روح فکر اور قوتِ عقل کے معنی میں ہے یعنی اس کے باوجود کہ وہ قوت فکر رکھتے ہیں اور چوپاؤں کی طرح بے شعور نہیں پھر بھی اس فضیلت سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور نہ ہی سوچ بچار کرتے ہیں اور خ۔حوادث کے عوامل ونتائج پر غور نہیں کرتے اور اس عظیم بدبختی کے چنگل سے نجات پانے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو برُوئے کار نہیں لاتے ۔

دوسرا یہ کہ روشن اور حقیقت کو دیکھنے والی آنکھیں تو رکھتے ہیں لیکن حقائق پر نگاہ نہیں ڈالتے اور اندھوں کی طرح ان کے قریب سے گزرجاتے ہیں( وَلَهُمْ اٴَعْیُنٌ لَایُبْصِرُونَ بِهَا ) ۔

تیسرا یہ کہ ”صحیح وسالم کان رکھنے باوجود سچائی کی بات نہیں سنتے اور بہروں کی طرح اپنے آپ کو حرفِ حق سننے سے محروم رکھتے ہیں( وَلَهُمْ آذَانٌ لَایَسْمَعُونَ بِهَا ) ۔

یہ لوگ در حقیقت چوپاؤں کی طرح ہیں کیونکہ چوپاؤں سے انسان کا امتیاز بیدار فکر، چشم بینا اور سننے والے کان کی بناپر ہے افسوس کہ یہ ان سب صلاحیتوں کو گنواچکے ہیں( اٴُوْلٰئِکَ کَالْاٴَنْعَامِ ) ۔ بلکہ وہ چوپاؤں سے بھی زیادہ گمراہ اور پست تر ہیں( بَلْ هُمْ اٴَضَلُّ ) ۔

کیونکہ چوپائے تویہ استعداد اور وسائل نہیں رکھتے لیکن عقل سلیم، دیکھنے والی آنکھ اور سننے والے کان کی بدولت ہر قسم کی ترقی وسعادت کا امکان رکھتے ہیں ۔ چونکہ اُن کا رجحان ہوس پرستی اور ذلّت کی طرف ہوتا ہے اس لئے وہ اپنی عقل اعلیٰ صلاحیتوں سے استفادہ نہیں کرتے اور یہیں سے اُن کی بدبختی شروع ہوجاتی ہے ۔ ”وہ غافل اور بے خبر افراد ہیں “۔ اور اسی لئے وہ بے راہ روی کا شکار ہیں( اٴُوْلٰئِکَ هُمَ الْغَافِلُونَ ) ۔

آبِ حیات کا چشمہ اُن کے پاس ہے پھر بھی وہ پیاس کے مارے فریاد کررہے ہیں بھلائی کے دروازے ان کے سامنے کھلے ہوئے ہیں لیکن ان کی طرف نظر اٹھاکر نہیں دیکھتے ۔

مذکورہ بالا بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی بدبختی کو خود دعوت دیتے ہیں اور گراں قدر عقل، آنکھ اور کان جیسی نعمتوں سے فیض نہیں اٹھاتے ۔ یہ نہیں کہ خدا نے اُنھیں جبری طورپر دوزخیوں کی صف میں شامل کردیا ہے ۔

چوپاؤں کی طرح کیوں ہیں

قرآن ِ مجید میں بے خبر غافلین کو بارہا بے شعور چوپایوں اور حیوانات سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ ہوسکتا ہے مویشیوں سے تشبیہ اس لئے دی گئی ہو کہ وہ صرف کھانے پینے، سونے اور نسی شہوات میں لگے رہتے ہیں ۔ بالکل ان اقوام وملل کی طرح جو پڑفریب نعروں کے ذریعے عدالتِ اجتماعی اور قوانین بشری کا آخری مقصد روٹی، پانی اور ایک آسودہ مادی زندگی کا حصول قرار دیتے ہیں ۔ حضرت علی علیہ السلام ”نہج البلاغہ“ میں اس سلسلے میں ارشاد فرماتے ہیں :

کالبهیمة المربوطة همها علفها والمرسلة شغلها تقممها

مثل بندھے ہوئے جانور کے جو صرف گھاس کی فکر میں ہے یا دوسرے جانور جو چراگاہ میں چھوڑدیئے گئے ہیں اور اِدھر اُدھر بچا کچھا گھاس اٹھالیتے ہیں ۔(۱)

بالفاظ دیگر آسودہ حال اور دولت مند گروہ گھر میں پرورش پانے والی بندھی ہوئی بھیڑ بکریوں کی طرح ہے اور جو گروہ خوشحال نہیں وہ ان مویشیوں کی طرح ہے جو بیابان میں دربدر پانی اور گھاس کے پیچھے پھرتے رہتے ہیں لیکن ان دونوں گروہوں کا مقصد شکم سیری کے سوا کچھ نہیں ۔

جو کچھ اوپر کہا گیا ہے ہوسکتا ہے یہ ایک ہی فرد پر صادق آئے یا ایک قوم وملت پر۔ وہ قومیں جنھوں نے اپنی فکر وسوچ کا ناکارہ کردیا ہے اور وہ غیرمہذّب سرگرمیوں میں مصروف ہیں نہ تو وہ اپنی بدبختی کی اصل بنیادوں پر غور روفکر کرتی ہیں اور نہ اپنی ترقی کی بنیادوں پر سوچ بچار کرتی ہیں ۔ ان کے کان سنتے ہیں نہ آنکھیں دیکھتی ہیں تو یہ بھی دوزخی ہیں نہ صرف قیامت کی دوزخ میں ہوں گے بلکہ وہ اس دنیا میں بھی زندگی کی دوزخ میں گرفتار ہیں ۔

بہد والی آیت میں اہلِ بہشت کی وضع وکیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کی صفات بیان کی گئی ہیں ۔ اوّل دوزخیوں کی سف سےباہر نکالنے کے لئے لوگوں کو خدا کے اسماء حسنیٰ پر گہری توجہ دینے کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے: خدا کے لئے بہترین نام ہیں اسے انہی کے ساتھ پکارُو( وَلِلّٰهِ الْاٴَسْمَاءُ الْحُسْنَی فَادْعُوهُ بِهَا ) ۔

اسماء حسنیٰ سے مراد پروردگار کی مختلف صفات ہیں جو سب اچھی اور سب کی سب حسنیٰ ہیں ۔ہم جانتے ہیں کہ خداوندعالم ہے، قادر ہے، رازق ہے، عادل ہے، جواد ہے، کریم ہے، رحیم ہے اور اسی طرح اس کی اور بھی بہت سی صفات ہیں ۔

خدا کو ان ناموں کے ساتھ پکارنے سے مراد صرف یہ نہیں کہ ان الفاظ کو ہم اپنی زبان پر جاری کرلیں ، مثلاً ہم کہیں یا عالم، یا قادر، یا ”ارحم الراحمین“ بلکہ چاہیے یہ کہ ہم ان صفات کو حتی المقدور اپنے اندر پیدا کریں ۔ خدا کے علم ودانش کا پرتو، اس کی قدرت وتوانائی کی ایک کرن اور اس کی وسیع رحمت کا ایک اہم ذرّہ ہم ہیں اور ہمارے معاشرے میں عمل شکل اختیار کرلے، دوسرے لفظوں میں اس جیسے اوصاف خود میں پیدا کریں اور اس کے اخلاقِ حسنیٰ کو اپنائیں اور اُسے مسعل راہ بنائیں تاکہ اس علم وقدرت اور اسی عدالت ورحمت کے سائے میں ہم اپنے آپ کو اور اس معاشرے کو جس میں زندگی بسرے کررہے ہیں دوزخیوں کی سف سے نکال لیں ۔

اس کے بعد خدا لوگوں کو اس بات سے ڈراتا ہے کہ وہ اُس کے ناموں میں تحریف نہ کریں لہٰذا ارشاد ہوتا ہے: انھیں چھوڑدو جو خدا کے ناموں میں ردّوبدل کرتے ہیں وہ عنقریب اپنے بُرے اعمال کی سزا پائیں گے( وَذَرُوا الَّذِینَ یُلْحِدُونَ فِی اٴَسْمَائِهِ سَیُجْزَوْنَ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) ۔

”الحاد“ اصل میں ”لحد“ (بروزن مہد) اس گڑھے کے معنی میں ہے جو ایک ہی طرف ہو اسی بناپر گڑا جو قبر کی ایک طرف ہو اسے لحد کہتے ہیں ۔ اس کے بعد ہر سا کام کو الحاد کہا جانے لگا جو اعدال اور وسط کی حد سے افراط وتفریط کی طرف مائل ہو۔ شرک وبت پرستی پر بھی اسی وجہ سے الحاد کا اطلاق ہوتا ہے ۔

اسماء خدا میں الحاد سے مراد یہ ہے کہ ہم ان کے ان الفاظ اور مطالب کو تبدیل کردیں یا اسے اوصاف کے ساتھ متصف کریں کہ جو خدا کے شایانِ شان نہ ہو۔ عیسائیوں کی طرح جو تین خداؤں کو مانتے ہیں یا یہ کہ خدا کی صفات کو اس کی مخلوق پر منطبق کریں بت پرستوں کی طرح جو بتوں کے ناموں کو خدا کے نام سے اخذ کرتے تھے مثلاً ایک بت کو ”اللات“ دوسرے کو ”العزیٰ“ اور تیسرے کو ”منات“ کہتے تھے جو بالترتیب ”الله“، ”العزیز“ اور ”المنّان“ سے مشتقتھے ۔ یا مثل عیسائیوں کے جو خدا کا نام عیسیٰ اور روح القدس کودیتے ہیں ۔

یا یہ کہ اس کی صفات میں اس طرح ردّوبدل کریں کہ جس کا نتیجہ مخلوقات سے تشبیہ یا صفات کی تعطیل یا اس قسم کی کوئی چیز ہو یا صرف نامک پر اکتفاء کریں بغیر اس کے کہ ان صفات کو اپنے اُوپر یا اپنے معاشرے پر منطبق کریں ۔

آخری آیت میں دو حصّوں کی طرف کہ جو بہشتی گروہ کی بنیادی صفات ہیں ، اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان میں سے کہ جنھیں ہم نے خلق کیا ہے ایک امّت اور گروہ ایسا ہے جو لوگوں کو حق کی طرف ہدایت کرتا ہے اور حق کے مطابق حکم کرتا ہے( وَمِمَّنْ خَلَقْنَا اٴُمَّةٌ یَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ یَعْدِلُونَ ) ۔

حقیقت یہ ہے کہ ان کے دو واضح پروگرام اور ان کی حکومت حق اور حقیقت کی بنیاد پر قائم ہے ۔

____________________

۱۔ نہج البلاغہ، خط نمبر۴۵.


چند اہم نکات

۱ ۔ اسماء حسنیٰ کیا ہیں :

شیعہ وسنّی کتب وتفسیر میں اسماء حسنیٰ کے سلسلہ میں تفصیلی ملتی ہیں کہ جن کا خلاصہ اور اپنا نکتہ نظر ہم یہاں پر بیان کرتے ہیں

اس میں کوئی شک نہیں کہ ”اسماء حسنیٰ “ کا مطلب ”اچھے نام“ ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ پروردگار کے سب نام اچھے اپنے اندر اچھے مفاہیم ہی رکھتے ہیں تو اس بناپر اس کے سب نام ہی حسنیٰ ہیں ۔ قطع نظر اس کے کہ وہ ذات پاک کی صفات ثبوتیہ میں سے ہوں مثلاً ”عالم وقار“یا یہ کہ ذات مقدس کی صفات سلبیہ میں سے ہوں ۔ جیسا کہ ”قدوس“ یا وہ جو صفات فعل ہیں جو اس کے کسی فعل کی ترجمانی کرتی ہیں مثلاً خالق ، غفور، رحمٰن اور رحیم۔

دوسری طرف اس میں بھی شک نہیں کہ صفات باری تعالیٰ کا احاطہ اور شمار نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کے کمالات اور لامحدود ہیں اور اس کے ہر کمال کے لئے کوئی نام اور صفت ہم انتخاب کرسکتے ہیں ، لیکن جیسا کہ احادیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی صفات میں سے بعض بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں اور ”اسماء حسنیٰ“ جوکہ اُوپر والی آیت میں آئے ہیں شاید ان میں ممتازتر صفات کی طرف اشارہ ہو کیونکہ وہ روایات جو پیغمبر اکرماور آئمہ اہلبیت(علیه السلام) سے ہم تک پہنچی ہیں ان میں بارہا یہ مطلب نظر سے گذرا ہے کہ خدا کے ننانوے نام ہیں اور جو شخص بھی اسے ان ناموں کے ساتھ پکارے اس کی دعا مستجاب ہوگی اور جو انھیں شمار کرے وہ اہل بہشت میں سے ہے ۔

مثلاً وہ روایت جو کتاب توحیدِ صدوق میں امام صادق علیہ السلام نے اپنے آباء واجداد کے حوالہ سے حضرت علی علیہ السلام سے نقل کی ہے کہ پیغمبر نے فرمایا:

”إنّ اللّٰه تبارک وتعالیٰ تسعة وتسعین إسماً، ماٴة الّا واحدة، من اٴحصاها دخل الجنة ...(۱)

”الله تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو انھیں شمار کرے جنت میں داخل ہوگا“

نیز کتاب توحید ہی میں امام علی بن موسی الرضا علیہما السلام سے ان کے اباء واجداد کے حوالے سے حضرت علی علیہ السلام سے نقل ہوا ہے، آپ(علیه السلام) نے فرمایا:

إنّ اللّٰه عزّوجلّ تسعة وتسعین إسماً مَن دَعا اللّٰه بها استجاب له ومن اٴحصاها دخل الجنة... (۲)

”یعنی خدا تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو ان کے ذریعے الله کو پکارے اُس کی دعا مستجاب ہوگی اور جو انھیں شمار کرے جنت میں داخل ہوگا“

صحیح مسلم، بخاری، ترمذی اور اہل سنت کی دیگر کتب احادیث میں بھی یہی مضمون خدا کے ننانوے ناموں کے بارے میں درج ہے اور یہ بھی کہ جو خص خدا کو اُن کے ساتھ پکارے اس کی دعا قبول ہوگی یا جو شخص انھیں شمار کرے وہ اہلِ بہشت میں سے ہوگا(۳) ان میں سے بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ننانوے نام قرآن مجید میں ہیں ، مثلاً وہ روایت جو ابنِ عباس سے منقول ہے کہ پیغمبر نے فرمایا:

للّٰهِ تسعة وتسعون إسماً من اٴحساها دخل الجنة وهی فی القرآن(۴)

الله کے ننانوے نام گننے والا جنت میں جائے گا اور وہ قرآن میں ہیں ۔

اس لئے بعض علماء نے کوشش کی ہے کہ وہ ان ناموں اور صفات کو قرآن مجید سے اخذ کریں لیکن خدا کے جو نام قرآن مجید میں آئے وہ ننانوے سے زیادہ ہیں لہٰذا ہوسکتا ہے کہ اسماء حسنیٰ انھیں کے درمیان ہوں اور یہ درست نہیں کہ ننانوے ناموں کے علاوہ خدا کا اور کوئی نام نہیں ۔

بعض روایات میں یہ ننانوے نام آئے ہیں ، ہم ذیل میں ان میں سے ایک حدیث بیان کرتے ہیں (لیکن یاد رہے کہ ان میں سے بعض نام جس طرح اس روایت میں آئے ہیں اس طرح متن قرآن میں نہیں ہیں لیکن ان کا مضمون ومفہوم قرآن میں موجود ہے)

اور یہ وہ روایت ہے جو ”توحیدِ صدوق“ میں امام صادق علیہ السلام سے ان کے آباء واجداد کے حوالے سے حضرت علی علیہ السلام کے ذریعہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے نقل ہوئی ہے کہ جس میں اس طرف اشارہ فرمانے کے بعد خدا کے ننانوے نام ہیں آپ فرماتے ہیں :

وهی اللّٰه، الالٰه، الواحد، الاحد، الصمد، الاوّل، الاٰخر، السمیع، البصیر، القدیر، القادر، العلی، الاعلیٰ، الباقی، البدیع، الباریء، الاکرم، الباطن، الحی، الحکیم، العلیم، الحلیم، الحفیظ، الحق، الحسیب، الحمید، الحفی، الرب، الرحمان، الرحیم، الذراء، الرازق، الریب، الروٴف، الرائی، السلام، الموٴمن، المهیمن، العزیز، الجبّار، المتکبر، المتکبر، السیدن السبوح، الشهید، الصادق، الصانع، الظاهر، العدل، العفو، الغفور، الغنی، الغیاث، الفاطر، الفرد، الفتاح، الفالق، القدیم، الملک، القدوس، القوی، القریب، القیوم، القابض، الباسط، قاضی الحاجات، المجید، المولیٰ، المنّان، المحیط، المبین، المغیث، المصوّر، الکریم، الکبیر، الکافی، الکاشف الضّر، الموتر، النّور، المهّاب، الناصر، الواسع، الودود، الهادی، الوفی، الوکیل، الوارث، البرّ، الباعث، التوّاب، الجلیل، الجواد، الخبیر، الخالق، خیرالناصرین، الدیّان الشکور، العظیم، اللّطیف، الشافی ۔(۵)

لیکن جو چیز یہاں پر زیادہ اہمیت رکھتی ہے اور خصوصیت کے ساتھ جس کی طرف توجہ دیتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا ان ناموں سے پکارنے یا پررودگار کے اسماء حسنیٰ کو شمار کرنے سے یہ مراد نہیں ہے کہ ان کے معانی ومفاہیم کس طرف توجہ کیے بغیر صرف الفاظ ادا کئے جائیں تو کوئی شخص سعادت مند ہوجائے گا یا اُس کی دعا قبول ہوجائے گی، بلکہ اصل مقصد تو یہ ہے کہ ان اسماء اور صفات پر ایمان رکھتا ہو اور کوشش کرے کہ اپنے وجود میں ان کے مفاہیم کا پرتو یعنی عالم، قادر، رحمان، رحیم، حلیم، غفور، قوی، غنی، رازق، وغیرہ کا مفہوم اپنے وجود میں منعکس کرے، مسلّم ہے کہ ایسا شخص بہشتی بھی ہوجائے گا اور اس کی دعا بھی قبول ہوگی اور ہر خیرونیکی کو پائے گا ۔

جو کچھ ضمناً بیان ہوا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ اگر کچھ روایات اور دعاؤں میں ان ناموں کے علاوہ خدا کے اسماء کا تذکرہ ملتا ہے اور بعض دعاؤں میں خدا کے ناموں کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے، تو ہمارا بیان ان کی منافی نہیں کیونکہ خدا کے اسماء کی کوئی انتہا نہیں اور خدا کی ذات باکمال ولازوال کی طرح وہ غیر محدود ہیں اگرچہ ان میں سے کچھ صفات اور اسماء ممتاز ہیں ۔

بعض اور بھی روایات ہیں مثلاً وہ روایت جو کافی میں امام صادق علیہ السلام سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا:نحن واللّٰه الاسماء الحسنیٰ

خدا کی قسم ہم خدا کے اسماء حسنیٰ ہیں(۶)

تو یہ اس طرف اشارہ ہے کہ صفات خداوندی کا قوی پرتو ہمارے وجود میں منعکس ہوا ہے اور ہماری معرفت اس کی پاک ذات معرفت کے لئے ممد ومعاون ثابت ہوتی ہے، ایسی روایات بھی بطور سطورِ بالا پیش کئے گئے مفہوم سے کوئی تضاد نہیں رکھتیں ۔

یا پھر دوسری احادیث میں درج ہے کہ تمام اسماء حسنیٰ کا خلاصہ ”خالص توحید“ میں ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس کی تمام صفات اس کی یکتا ذات پاک طرف لوٹتی ہیں ۔

فخرالدین رازی اپنی تفسیر میں ایک مطلب کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ایک لحاظ سے قابلِ غور ہے پروردگار کی تما صفات ان دو حقیقتوں کی نشاندہی کرتی ہیں ”اس کی ذات کی ہر چیز سے بے نیازی“ یا ”ہر چیز کی اس کی ذات کی طرف نیازمندی“۔(۷)

۲ ۔ فلاح ونجات پانے گروہ:

جیسا کہ مذکورہ بالا آیات میں بیان کیا گیا ہے کہ بندگان خدا کا ایگ گروہ حق کی طرف دعوت دیتا ہے اور حق کے مطابق حکم کرتا ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس گروہ سے کون لوگ مراد ہیں ان روایات میں جو احادیث اسلام میں آئی ہیں مختلف تعبیریں نظر سے گزرتی ہیں ، بشمول ان کے امیرالمومنین(علیه السلام) سے منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا:

اس سے مراد امت محمد صلی الله علیہ وآلہ سلّم ہے(۸)

یعنی وہ لوگ جو رسولِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ سلّم کے سچّے پیروکار ہیں اور آنحضرت کی تعلیمات میں کسی قسم کے ردّوبدل، تغیّر، بدعت اور انحراف سے کنارہ کش ہیں ۔

اسی بناپر ایک اور حدیث میں رسول اکرمصلی الله علیہ وآلہ سلّم سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:

والذّی نفسی بیده لتفرقن هٰذه الامة، علیٰ ثلاثة وسبعین فرقة کلها فی النار الّا فرقة“ وممن خلقنا امة یهدون بالحق وبه یعدلون“ وهٰذه التی تنجو من هٰذه الامة

قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے یہ امّت تہتّر فرقوں میں بٹ جائے گی کہ جو سب دوزخ میں جائیں گے سوائے ایک فرقے کے کہ جن کی طرف خدا نے آیہ وممن خلقنا امة... میں اشارہ کیا ہے صرف وہی اہلِ نجات ہیں ۔(۹)

ہوسکتا ہے ۷۳ کا عدد کثرت یا بہتات کے لئے استعمال ہوا ہو اور مختلف گروہوں کی طرف اشارہ مطلوب ہو جو اسلام کی پوری تاریخ میں عجیب وغریب عقائد کے ساتھ وقوع پذیر ہوتے رہے اور خوش قسمتی سے ان میں زیادہ تر ختم ہوگئے ہیں اور ”تاریخ عقائد“ کی کتب میں صرف اُن کے نام رہ گئے ہیں ، ایک اور حدیث میں جو اہل سنّت کے منابع میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے ہم پڑھتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے ان مختلف گروہوں کے ضمن میں جو آئندہ امّت اسلامی پیدا ہونے والے تھے ۔ ارشاد فرمایا ہے:

وہ گروہ جو اہلِ نجات ہے وہ میرے شیعہ اور میرے مکتب کے پیروکار ہیں ۔(۱۰)

واضح ہے کہ اوپر والی تمام روایات ایک ہی سچائی و حقیقت کی تصدیق کررہی ہیں ۔اور اس حقیق کے مختلف پہلوؤں کو بیان کررہی ہیں یعنی آیت میں ایک ایسے گروہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو دعوت حق دیتا ہے اور جس کا قول و فعل نظام حکومت اور پروگرام سراسر حق ہے اور وہ سچے اور صحیح اسلام کی راہ میں قدم اٹھاتا ہے اور یہ امر قابل توجہ ہے کہ تمام تضادات کے باوجود جو علمی، نسلی اور لسانی معاملات میں ہوتے ہیں وہ (پھر بھی) ایک ہی امت اور ایک گروہ سے زیادہ نہیں ہیں ۔ کیونکہ قرآن ان کے بارے میں اُمّت (نہ کہ امم) کا لفظ استعمال کرتا ہے ۔

۳ ۔ خدا کا اسم اعظم:

بعض روایات میں کہ جو ”بلعم باعورا“ کے واقعہ سے متعلق ہیں ، جس کا تذکرہ ہوچکا ہے یہ آیا ہے کہ وہ خدا کے ”اسم اعظم“ کو جانتا تھا ۔ اوپر والی آیات کی مناسبت سے جن میں خدا کے اسماء حسنیٰ پر گفتگو ہوئی ہے مناسب ہوگا کہ ہم اس موضوع کی طرف اشارہ کریں ۔

اسم اعظم کے سلسلے میں گونا گوں روایات ملتی ہیں اور ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص اس اسم سے باخبر ہو نہ صرف اس کی دعا قبول ہوتی ہے بلکہ یہ فیض بھی اٹھاتا ہے کہ خدا کے حکم سے عالم طبیعت میں تصرف بھی کرسکتا ہے اور اہم کام انجام دے سکتا ہے ۔

اس بارے میں کہ خدا کے ناموں میں سے اسم اعظم کو نسا ہے بہت سے علماء اسلام نے بحث کی ہے اور زیادہ تر مباحث جس محور کے گرد گھومتی ہیں ، وہ یہ ہے کہ خدا کے ناموں میں سے وہ اس نام کا سراغ لگائیں جو یہ عجیب اور عظیم خاصیت رکھتا ہو۔

لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس بات کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے کہ ہم ایسے نام اور صفات کا پتہ لگائیں کہ جن کے مفہوم کو اپنا نے سے ہم ایسا روحانی کمال حاصل کریں کہ جس سے وہ آثار مرتب ہوں ۔ بالفاظ دیگر اصل مسئلہ ان صفات کو خود میں پیدا کرنا، ان مفاہیم کا واجد ہونا اور ان اوصاف سے متصف ہونا ہے ۔ ورنہ کس طرح ممکن ہے کہ گناہوں سے آلودہ ایک شخص مستجاب الدعوة وغیرہ ہوجائے ۔

اور اگر ہم سنتے ہیں کہ بلعم اسم اعظم کا حامل تھا اور اسے ہاتھ سے کھو بیٹھا تو اس کا مفہوم بھی یہی ہے کہ وہ خود سازی، ایمان کی آگاہی اور پرہیزگاری کی وجہ سے روحانیت کے اس مرتبہ پر فائز ہوگیا تھا کہ اس کی دعا بارگاہ ایزدی میں رد نہیں ہوتی تھی لیکن پھر وہ ان لغزشوں کے نتیجے میں کہ جن سے بہرحال انسان محفوظ نہیں ہے اور ہوس پرستی میں مبتلا ہونے سے، فرعونوں اور طاغوتوں کی خدمت گزاری کی وجہ سے وہ روحانیت و معنویت سے مکمل طور پر ہاتھ دھوبیٹھا اور اس مقام و مرتبہ کو کھوبیٹھا اور اسمِ اعظم کے بھول جانے سے مراد ہوسکتا ہے یہی معنی ہو۔

نیز اگر مرقوم ہے کہ رسولِ اعظم اور ہادیاں بر حق اسم اعظم سے آگاہ تھے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ انہوں نے خدا کے اس عظیم ترین اسم کی حقیقت کو اپنے وجود میں جذب کرلیا تھا اور اس حالت و کیفیت کی وجہ سے خدانے انھیں یہ بلند مقام عطا فرمادیا تھا ۔

____________________

۱، ۲، ۳، ۴۔تفسیر المیزان؛ مجمع البیان اور نور الثقلین آیہ ہٰذا کے ذیل میں

۵۔ المیزان،ج۸، ص۳۷۶ (منقول از توحید صدوق).

۶۔ نور الثقلین، ج۲، ص۱۰۳.

۷۔ تفسیر فخر رازی، ج۱۵، ص۶۶.

۸۔ نور الثقلین، ج۲، ص۱۰۵.

۹۔ مدرک مافوق.

۱۰۔ تفسیر برہان، ج۲، ص۵۳.

بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ اس آیت سے مراد آئمہ اہل بیت(علیه السلام) ہیں ۔ (۱۲)

۱۰۔ نورالثقلین جلد ۲ صفحہ ۱۰۴ و صفحہ ۱۰۵.


آیات ۱۸۲،۱۸۳

۱۸۲( وَالَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَیْثُ لَایَعْلَمُونَ ) .

۱۸۳( وَاٴُمْلِی لَهُمْ إِنَّ کَیْدِی مَتِینٌ ) .

ترجمہ

۱۸۲ ۔ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہم تدریجاً انھیں اس طریقے سے سزادیں گے وہ نہیں جانتے ۔

۱۸۳ ۔ اور انھیں ہم مہلت دیتے ہیں (تاکہ ان کی سزا زیادہ دردناک ہوجائے) کیونکہ میرا منصوبہ قوی (اور حساب و کتاب کے مطابق) ہے (اور کوئی شخص اس سے فرار کی قدرت نہیں رکھتا)

تدریجی سزا

اس بحث کے بعد جو گذشتہ آیات میں دوزخیوں کے بارے میں ہوئی تھی ۔ان دو آیات میں خدا کی طرف سے سزا کا ذکر ہے جو ایک سنت کے طور پر بہت سے سرکش ۔گنہگاروں کودی جاتی ہے اور یہ وہی سزا ہے جسے ”عذاب استدراج“ یا ”تدریجی سزا “کہتے ہیں ۔

”استدراج“ قرآن میں دو مواقع پر آیا ہے ۔ ایک زیر نظر آیت میں اور دوسرا سورہ ”قلم“ کی آیت ۴۴ میں ، دونوں مواقع پر ”استدراج“کا استعمال آیاتِ الٰہی کا انکار کرنے والوں کے لئے ہوا ہے ۔

لغت میں ”استدراج“ کے دومعانی ہیں : ایک یہ کہ کسی چیز کو تدریجاً اور آہستہ آہستہ لینا (کیونکہ یہ لفظ ”درجہ“ سے اخذ کیا ہے جو سیڑھی کے ایک قدم کے معنی میں ہے جس طرح انسان اوپر چڑھنے اور نیچے اتر نے یا عمارت کے نچلے حصّوں سے اوپر کی طرف جاتے ہوئے سیڑھی کے درجوں یا قدموں سے فائدہ اتھاتا ہے اسی طرح جب کسی چیز کو تدریجاً اور مرحلہ بمرحلہ لیں یا گرفتار کریں تو اس عمل کو استدراج کہتے ہیں ) استدراج کا دوسرا معنی ہے لپیٹنا اور تہ کرنا ۔ جس طرح کاغذوں کے ایک پلندے کو لپیٹتے ہیں (ان دونوں معانی ایک کلی اور جامع مفہوم ”انجام تدریجی“) کی ہی ترجمانی کرتے ہیں ۔

استدراج کا معنی واضح ہوجانے کے بعد ہم آیت کی تفسیر کی طرف متوجہ ہوتے ہیں خداوند عالم پہلی آیت میں فرماتا ہے: جنہوں نے ہماری آیات کی تذلیل کی اور انکار کیا تدریجاً اور آہستہ آہستہ اس راستے سے کہ جسے وہ نہیں جانتے ہم سزا کے پھندے میں انھیں گرفتار کرلیں گے اور ان کی زندگی (کی بساط) کو لپیٹ دیں گے( وَالَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَیْثُ لَایَعْلَمُونَ ) ۔ دوسری آیت میں تاکید مطلب کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ اس طرح نہیں کہ جلد بازی میں ایسے افراد کو ہم فوراً سزا دے دیں بلکہ انھیں ہم کافی مہلت اور وقت دیتے ہیں تاکہ وہ واپس سیدھے راستے پر آجائیں اور ہوش میں آجائیں اور جب وہ نہیں سمجھتے تو انھیں گرفتار کرتے ہیں( وَاٴُمْلِی لَهُم ) ۔ کیونکہ جلد بازی اور تیزی کرنا تو ان لوگوں کا کام ہے جو کافی قدرت نہیں رکھتے ۔ اور انھیں ڈر ہوتا ہے کہ موقع ان کے ہاتھ سے نکل نہ جائے ۔ ”لیکن میرا طریقہ کار قوی ہے اور سزا اس طرح منصوبہ کے مطابق ہوتی ہے کہ کسی شخص میں اس سے فرار کی قدرت نہیں “( إِنَّ کَیْدِی مَتِینٌ ) .) ۔ ”متین“ قوی اور شدید کے معنی میں ہے اور اصل میں ”متن“ سے لیا گیا ہے کہ جو اس مضبوط پٹھے کو کہتے ہیں جو پشت پر ہوتا ہے ۔

”کید “اور ”مکر “ہم معانی ہیں اورجس طرح سورہ آلِ عمران کی آیت ۵۴( جلد ۲) میں بیان کیاگیاہے ”مکر“لغت میں چارہ جوئی ، باز رکھنے اور کسی کے مقصد تک پہنچنے کے معنی میں ہے اور ”تکلیف دہ سازشیں “ والا معنی جو آجکل کی فارسی میں پایا جاتا ہے وہ اس کے عربی مفہوم میں نہیں ہے ۔

”استدراجی سزا“ کے بارے میں کہ جس کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ ہوا ہے اور دوسری آیات قرآن اور احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے توضیح یہ ہے کہ خدا گنہگاروں اور منہ زور سرکشوں کو ایک سنت کے مطابق فوراً سزا نہیں دیتا بلکہ نعمتوں کے روازے ان پر کھول دیتا ہے تو وہ زیادہ سرکشی دکھاتے ہیں خدا کی نعمتوں کو ضرورت سے زیادہ اکٹھا کر لیتے ہیں ۔ اس کے دو مقاصد ہوتے ہیں یا تو یہ نعمتیں ان کی اصلاح اور سیدھے راستے پر آنے کا سبب بن جاتی ہیں اور اس موقع پر ان کی سزا دردناک مرحلہ پر پہنچ جاتی ہے کیونکہ جب وہ خدا کی بے شمار نعمتوں اور عنائتوں میں غرق ہوجاتے ہیں تو خدا ان سے وہ تمام نعمتیں چھین لیتا ہے اور زندگی کی بساط لپیٹ دیتا ہے ایسی سزا بہت ہی سخت ہے ۔

البتہ یہ معنی اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ صرف لفظ استدراج میں پنہان نہیں ہے بلکہ (من حیث لا یعلمون) کی شرط کی طرف متوجہ ہونے سے معلوم ہوتا ہے ۔

بہر حال اس آیت میں تمام گنہگاروں کے لئے تنبیہ ہے کہ وہ عذاب الٰہی کی تاخیر کو اپنی پاکیزگی اور راستی یا پروردگار کی کمزوری پر محمول نہ کریں اور وہ عنایات اور نعمتیں جن میں وہ غرق ہیں انھیں خدا سے اپنے تقرب سے تعبیر نہ کریں ۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو کامیابیاں اور نعمتیں انھیں ملتی ہیں ۔ پروردگار کی استدراجی سزا کا پیش خیمہ ہوتی ہیں ۔ خدا انھیں اپنی نعمتوں میں محو کردیتا ہے اور انھیں مہلت دیتا ہے انھیں بلند سے بلندتر کرتا ہے لیکن آخر کار انھیں اس طرح زمین پر پٹختا ہے کہ ان کا نام و نشان تک مٹ جاتا ہے ۔ اور ان کے تمام کاروبار زندگی اور تاریخ کو لپیٹ دیتا ہے ۔

امیرالمومنین حضرت علی (علیه السلام) نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں ۔

انهُ من وسع علیه فی ذات یده فلم یرهُ ذٰلک استدراجاً فقد امن مخوفا

”وہ شخص کہ جسے خدا بے بہا نعمات اور وسائل دے اور وہ اسے استدراجی سزا نہ سمجھے تو وہ خطرے کی نشانی سے غافل ہے ۔“(۱)

نیز حضرت علی (علیه السلام) سے کتاب ”روضہ کافی“ میں نقل ہوا ہے آپ(علیه السلام) نے فرمایا:

”ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں کوئی چیز حق سے زیادہ پوشیدہ اور باطل سے زیادہ ظاہر اور خدا اور اس کے رسول پر جھوٹ بولنے سے زیادہ نہیں ہوگی ۔“

یہاں تک کہ آپ نے فرمایا:

”اس زمانے میں کچھ افراد ایسے ہوں گے کہ صرف قرآن کی ایک آیت سن کر (اس کی تحریف کریں گے) اور خدا کے دین سے نکل جائیں گے اور ہمیشہ وہ ایک حاکم کے دین کی طرف اور ایک شخص کی دوستی سے دوسرے کی دوستی کی طرف اور ایک حکمران کی اطاعت سے دوسرے حکمرانکی اطاعت کی طرف اور ایک کے عہد و پیمان سے دوسرے کی طرف منتقل ہوتے رہیں گے اور آخر کار ایسے راستے سے کہ جس کی طرف ان کی توجہ نہیں ، پروردگار کی استدراجی سزا میں گرفتار ہوجائیں گے ۔“(۲)

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

کم من مغرو ر بما قد انعم اللّٰه علیه و کم من مستدرج یستر اللّٰه علیه و کم من مفتون بثناء الناس علیه .

”کتنے لوگ ایسے ہیں جو پروردگار کی نعمتوں کی وجہ سے مغرور ہوجاتے ہیں اور کتنے گنہگار ایسے ہیں جن کے گناہوں پر خدا نے پردہ ڈال رکھا ہے لیکن و گناہ کو جاری رکھتے ہوئے سزا کی طرف بڑھتے رہتے ہیں اور کتنے ایسے ہیں کہ لوگوں کی خوشامد سے دھوکا کھا جاتے ہیں ۔“(۳)

نیز امام جعفر صادق(علیه السلام) سے مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے ارشاد فرمایا:

ھو العبد یذنب الذنب فتجدد لہ لنعمة معہ تلھیة تلک النعمة عن الاستغفار عن ذٰلک الذنب۔

”اس آیت سے مراد گنہگار بندہ ہے کہ جو گناہ کرتا ہے اور خدا اسے اپنی نعمتیں عطا کرتا ہے (کہ شاید وہ سدھر جائے) لیکن وہ اس نعمت کو اپنی اچھائی کے حساب میں ڈال لیتا ہے اور وہ اسے گناہ سے توبہ کرنے کی بجائے غفلت میں ڈال دیتی ہے ۔“(۴)

نیز اسی امام (علیه السلام) سے کتاب کافی میں اس طرح نقل ہوا ہے:

ان اللّٰه اذا اٴراد بعبد خیراً فاذنب ذنباً اتبعه بنقمة و یذکره الا ستغفار و اذا اٴراد بعبد شراً فاذنب ذنبا اتبعه بنعمة لینسیه الاستغفار و یتمادی بها و هو قوله عزوجل سنستد رجهم من حیث لا یعلمون بالنعم عند المعاصی ۔(۴)

”جب خدا کسی بندے کی خیر چاہتا ہے تو جب وہ گناہ کرتا ہے تو (فوراً) اسے سزادے دیتا ہے تاکہ وہ توبہ کو یاد رکھے اور جب کسی بندے کی برائی (اس کے اعمال کے نتیجہ میں ) چاہتا ہے تو جب وہ گناہ کرتا ہے تو اسے نعمت عطا کرتا ہے تاکہ وہ استغفار کو بھول جائے اور اس (گناہ) کو جاری رکھے ۔“

اور یہ وہی چیز ہے جس کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

( سنستدرجهم من حیث لا یعلمون )

یعنی نعمتوں کے ذریعہ گناہوں کے وقت تریجاً ایسے طریقے سے کہ جسے وہ نہیں جانتے ہم انھیں سزا میں مبتلا کرتے ہیں ۔

____________________

۱۔ نوالثقلین جلد ۲ صفحہ ۱۰۶.

۲۔نورالثقلین جلد ۲ صفحہ ۱۰۶.

۳۔نورالثقلین جلد ۲ صفحہ ۱۰۶.

۴۔تفسیر برہان جلد ۲ صفحہ ۵۳.


آیات ۱۸۴،۱۸۵،۱۸۶

۱۸۴( اٴَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوا مَا بِصَاحِبِهِمْ مِنْ جِنَّةٍ إِنْ هُوَ إِلاَّ نَذِیرٌ مُبِینٌ ) .

۱۸۵( اٴَوَلَمْ یَنظُرُوا فِی مَلَکُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللهُ مِنْ شَیْءٍ وَاٴَنْ عَسیٰ اٴَنْ یَکُونَ قَدْ اقْتَرَبَ اٴَجَلُهُمْ فَبِاٴَیِّ حَدِیثٍ بَعْدَهُ یُؤْمِنُونَ ) .

۱۸۶( مَنْ یُضْلِلْ اللهُ فَلَاهَادِیَ لَهُ وَیَذَرُهُمْ فِی طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُونَ ) .

ترجمہ

۱۸۴ ۔ کیا وہ سوچتے نہیں کہ ان کا ہم نشین (پیغمبر خدا) پر کوئی جنون کے آثار نہیں ہیں (تو پھر وہ کس طرح ایسے بے ہودہ الزام اس پر لگاتے ہیں ) وہ تو صرف ان کو ڈرانے والا ہے (جو لوگوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے) ۔

۱۸۵ ۔ کیا وہ آسمان و زمین کی حکومت میں جسے خدانے پیدا کیا ہے (توجہ سے عبرت کی) نظر نہیں ڈالتے (اور کیا اس میں بھی فکر نہیں کرتے کہ) شاید ان کی زندگی ختم ہونے کے قریب ہے ہے (اگر وہ اس واضح آسمانی کتاب پر ایمان نہ لائے) تو اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے ۔

۱۸۶ ۔ جسے خدا (اس کے برے اعمال کی پاداش میں ) گمراہ کردے تو پھر کوئی اسے ہدایت کرنے والا نہیں اور خدا انھیں ان کی بغاوت اور سرکشی میں چھوڑ دیتا ہے تاکہ وہ سرگرداں رہیں ۔

شان نزول

مفسرین نے بیان کیا ہے کہ جب پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم ابھی مکہ میں تھے تو ایک رات آپ صفا کی پہاڑی پر چڑھ گئے اور لوگوں کو ایک خدا کو ماننے اور اسی کی عبادت کرنے کی دعوت دی ۔ خصوصاً آپ نے تمام قبائل قریش کو پکارا اور انھیں خدا کی سزا سے ڈرایا یہاں تک کہ رات کا کافی حصّہ گزرگیا تو بت پرست کہنے لگے (ان صاحبهم قد جنّ بات لیلا یصوت الی الصباح ) ہمارا ساتھی پاگل ہوگیا ہے شام سے لے کر صبح تک پکارتا رہتا ہے اس موقع پر مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی اور انھیں منھ توڑ جواب دیا گیا ۔

باوجودیکہ اس آیت کی مخصوص شان نزول ہے، پھر بھی اس میں چونکہ پیغمبر کا تعارف اور اس کی تخلیق کا مقصد اور دوسری زندگی کے لئے تیاری کی دعوت ہے یہ گذشتہ مباحث سے تعلق رکھتی ہے جو دوزخی اور بہشتی گروہوں کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں ۔

تہمت تراشیاں اوذر بہانہ سازیاں

اس آیت میں پہلے پیغمبر پر جنون کے الزام کے بارے میں بت پرستوں کی بے بنیاد بات کا خدا تعالیٰ اس طرح جواب دیتا ہے: کیا وہ اپنی سوچ بوجھ سے کام نہیں لیتے تاکہ جان لیں کہ ان کا ہم نشین (پیغمبر) میں کسی قسم کے جنون کے آثار نہیں( اٴَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوا مَا بِصَاحِبِهِمْ مِنْ جِنَّةٍ ) ۔(۱)

اس طرف اشارہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم ان کے درمیان کوئی اجنبی نہ تھے بلکہ ان کی اپنی اصطلاح میں ”صاحب“ یعنی دوست وہمسر تھے ۔چالیس سال سے زیادہ عرصہ سے ان میں آپ کا آنا جانا تھا، ہمیشہ انھوں نے آپ کے فکر وتدبّر کو دیکھا اور ہمیشہ دانشمندی کے آثار آپ میں مشاہدہ کئے، جو شخص اس دعوت سے پہلے معاشرے کے مدبّر ترین لوگوں میں شمار ہوتا تھا ۔ تو کس طرح انھوں نے اچانک اس پر یہ بہتنان لگادیا ۔ اس قسم کا بیہودہ الزام لگانے سے بہتر نہیں تھا کہ وہ سوچتے کہ ہوسکتا ہے وہ درست ہی کہہ رہا ہو اور دعوت حق کے لئے خدا نے ہی اُسے مامور کیا ہو۔ جس طرح اس پر الزام تراشی کے بعد قرآن کہتا ہے: ”وہ فقط واضح ڈارنے والا ہے جو اپنی قوم کو آنے والے خطرات سے خبردار کرتا ہے“( إِنْ هُوَ إِلاَّ نَذِیرٌ مُبِینٌ ) ۔ مذکورہ بالا دوسری آیت میں اس بیان کی تکمیل کے لئے عالمِ ہستی، آسمانوں اور زمین کے مطالعہ کی دعوت دیتا ہے اور کہتا ہے: ”کیا وہ آسمان وزمین کی حکومت اور اُس مخلوق پر جسے خدا نے پیدا کیا ہے راستی کی نظر نہیں ڈالتے( اٴَوَلَمْ یَنظُرُوا فِی مَلَکُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللهُ مِنْ شَیْءٍ ) ۔ تاکہ وہ جان لیں کہ اس وسیع عالم کو بنانا اور اس میں حیرت انگیز نظام قائم کرنا فضول نہیں بلکہ اس کا کوئی مقصد تھا اور پیغمبر جو دعوت حق دیتے ہیں وہ در حقیقت اُسی مقصد خلقت کی تکمیل اور انسان کی تربیت وترقی کے مقصد کی ہی ایک کڑی ہے ۔

”مَلَکُوت“ در اصل ”ملک“ سے بنا ہے، جو حکومت اور مالکیت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور اس میں ”واو“ اور ”ت“ کا اضافہ تاکید اور مبالغہ کے لئے آتا ہے اور عام طور پر عالم ہستی پر خدا کی مکمل حکومت کے لئے بولا جاتا ہے اس عالم ہستی کے بہترین نظام پر نظر ڈالنا جو خدا کے ملک وحکومت کی وسعت رکھتا ہے ایک تو خداپرستی اور حق پر ایمان کو تقویت دیتا ہے ساتھ ہی اس عظیم ومنظم عالم میں ایک اہم مقصد بھی واضح ہوجاتا ہے ۔ دونوں باتیں انسان سے اس بات کا تقاضا کرتی ہیں اور اُسے خدا کے نمائندے اور اس کی رحمت کی جستجو پر ابھارتی ہیں تاکہ انسان اپنے مقصدِ تخلیق کو پورا کرسکے ۔

اس کے بعد اُنھیں خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے فرمایا گیا ہے: کیا انھوں نے اس امر پر غور نہیں کیا کہ ہوسکتا ہے کہ ان کی زندگی کی آخری گھڑیاں آپہنچی ہوں اور اگر آج ایمان نہ لائے اور اس پیغمبر کی دعوت کو قبول نہ کیا اور جو قرآن اس پر نازل ہوا ہے اسے ان واضح نشانیوں کے باوجود تسلیم نہ کیا تو اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے( وَاٴَنْ عَسیٰ اٴَنْ یَکُونَ قَدْ اقْتَرَبَ اٴَجَلُهُمْ فَبِاٴَیِّ حَدِیثٍ بَعْدَهُ یُؤْمِنُونَ ) ۔

یعنی پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ ان کی عمر جاودانی اور دائمی ہو، مہلت کی گھڑیاں تیزی سے گزررہی ہیں ، کوئی نہیں جانتا کہ کل زندہ ہوگا یا نہیں تو پھر ایسے میں آج اور کل کرنا اور مسائل کو پسِ پشت ڈالنا ہرگز دانشمندانہ کام نہیں ہے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر وہ قرآن پر باوجود ان سب نشانیوں کے جو خدا کی طرف سے اس میں ہیں ، ایمان نہ لائے تو کیا اس سے برتر اور بالاتر کتاب کے انتظار میں ہیں ، کیا ممکن ہے کہ وہ کسی دوسری بات اور دعوت پر ایمان لے آئیں گے ۔

جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں زیرِ نظر آیت نے مشرکین کے لئے تمام راستے بند کردیئے ہیں ، ایک طرف سے انھیں رسول الله کی اعلانِ رسالت سے قبل کی عقل ودانش کی متوجہ کیا گیا ہے تاکہ وہ اپ پر جنون کی تہمت لگاکر ان کی دعوت سننے سے فرار نہ کریں ، دوسری طرف سے انھیں نظام خلقت، خالق اور مقصدِ خلقت کی طرف متوجہ کیا گیا ہے، تیسری طرف سے انھیں دنیا کی زندگی کے جلد گزرجانے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے اور چوتھی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ اگر وہ اس طرح کی واضح کتاب پر ایمان نہیں لائے تو کسی چیز پر بھی ایمان نہیں لائیں گے، کیونکہ اس سے بالاتر کا تصوّر نہیں ہوسکتا ۔

آخرکار زیرِ نظر آیات میں سے آخری آیت میں گفتگو کو یوں سمیٹا گیا ہے کہ: جسے خدا اُس کے قبیح اور دائمی بُرے اعمال کی وجہ سے گمراہ کردے اس کے لئے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے اور خداوندعالم انھیں اس طرح طغیان وسرکشی میں چھوڑدے گا تاکہ وہ حیران وسرگرداں رہیں( مَنْ یُضْلِلْ اللهُ فَلَاهَادِیَ لَهُ وَیَذَرُهُمْ فِی طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُونَ ) ۔

____________________

۱۔ جیسا کہ بزرگ اہل لغت نے کہا ہے: ”جنة“ جنون کے معنی میں ہے اور اس کا اصلی معنی پوشش ڈھاپنا اور حائل ہونا ہے گویا جنون کے وقت ایک پردہ عقل کے اوپر پڑجاتا ہے (مزید وضاحت کے لئے جلد پنجم) نمونہ صفحہ ۲۵۷ کی طرف رجوع فرمائیں ۔


آیت ۱۸۷

۱۸۷( یَسْاٴَلُونَکَ عَنْ السَّاعَةِ اٴَیَّانَ مُرْسَاهَا، قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّی لَایُجَلِّیهَا لِوَقْتِهَا إِلاَّ هُوَ ثَقُلَتْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ لَاتَاٴْتِیکُمْ إِلاَّ بَغْتَةً یَسْاٴَلُونَکَ کَاٴَنَّکَ حَفِیٌّ عَنْهَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللهِ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُونَ ) .

ترجمہ

۱۸۷ ۔ تجھ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب واقع ہوگی، کہہ دو : اس کا علم میرے پروردگار کو ہے اور اس کے علاوہ کوئی اس وقت کو واضح نہیں کرسکتا (لیکن قیامت کا قیام) آسمانوں اور زمین (تک) میں سخت (اہمیت کا حامل) ہے اور وہ تمھارے تعاقب میں نہیں آئے گی مگر یہ کہ اچانک اور ناگہانی طور پر (پھر وہ) تجھ سے یوں سوال کرتے ہیں گویا تو اس کے وقوع پذیر ہونے کے زمانے سے باخبر ہے ۔ کہہ دو: اس کا علم صرف خدا کے پاس ہے لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے ۔

قیامت کب برپا ہوگی؟

جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے(۱) قریش نے چند آدمیوں کو مامور کیا کہ وہ نجران جائیں اور یہودی علماء سے ملیں (کیونکہ عیسائی کے علاوہ نجران میں یہودی بھی آباد تھے) ان کے ذمہ لگایا گیا کہ وہ ان سے پیچیدہ قسم کے سوالات پوچھ آئیں تاکہ وہ سوالات پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلّم کی خدمت میں پیش کئے جاسکیں (ان کا گمان تھا کہ رسولِ خدا ان کے جواب نہ دے پائیں گے) ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ قیامت کب برپا ہوگی ۔

جب انھوں نے یہ سوال رسول الله سے کیا تو زیرِ نظر آیت کے ذریعے اُنھیں جواب دیا گیا(۲)

تفسیر

اگرچہ آیت کے لئے مخصوص شان نزول بیان کی گئی ہے تاہم یہ قبل کی آیات سے واضح طور سے وابستہ ہے کیونکہ گذشتہ آیات میں مسئلہ قیامت کا ذکر تھا اور ساتھ اس کے لئے تیاری کو لازم وملزوم قرار دیا گیا ہے، فطری طور پر ایسی بحث کے بعد بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قیامت کب آئے گی لہٰذا قرآن کہتا ہے: تجھ سے ساعت (روزقیامت) کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب آئے گی( یَسْاٴَلُونَکَ عَنْ السَّاعَةِ اٴَیَّانَ مُرْسَاهَا ) ۔

لفظ ”ساعت“ اگرچہ ”دنیا سے جانے کے آخری وقت“ کے مفہوم میں بھی آتا ہے لیکن زیادہ تر اور بقول بعض ہمیشہ قرآن مجید میں ”قیام قیامت“ کے معنی میں استعمال ہوا ہے، خاص طور پر اس سلسلے میں تاکید کرنے والے کچھ قرائن بھی ہیں جن کا ہم اس بحث کے ضمن میں ذکر کریں گے: مثلاً شانِ نزول کا جملہ ”متیٰ تقوم الساعة“ (یعنی قیامت کب برپا ہوگی) ۔

لفظ ”ایّان“، ”متی“ کے مساوی ہے اور زمانے کے بارے میں سوال کے لئے ہے ۔

”مرسیٰ“ اصطلاح کے مطابق مصدر میمی ہے ”آرساء“ کا ہم معنی ہے اور کسی چیز کے اثبات یا وقوع کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ اسی لئے مستحکم اور ثابت پہاڑوں کو جبال راسیات کہا جاتا ہے ۔ لہٰذا ”اٴَیَّانَ مُرْسَاهَا “کا مفہوم ہے ”قیامت کس زمانے میں وقوع پذیر اور ثابت ہوگی“۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اے پیغمبر! اس سوال کے جواب میں صراحت سے کہہ دو کہ یہ علم صرف پروردگار کے پاس ہے اور اس کے علاوہ کوئی اس وقت کا ظاہر نہیں کرسکتا( قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّی لَایُجَلِّیهَا لِوَقْتِهَا إِلاَّ هُوَ ) ۔

لیکن سربستہ طور پر اس کی دو نشانیاں ہیں ۔ پہلے فرمایا گیا ہے: قیامت کا برپا ہونا آسمانوں اور زمین میں ایک سخت معاملہ ہے( ثَقُلَتْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ ) ۔اس سے سنگین اور سخت حادثہ اور کونسا ہوسکتا ہے کیونکہ آستانہ قیامت میں تمام آسمانی کرات ریزہ ریزہ ہوکر گرپڑیں گے، آفتاب بے نور ہوجائے گا، ماہتاب تاریک ہوجائے گا، ستارے اپنی روشنی سے محروم ہوجائیں گے اور ذرّارت عالم ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں گے ۔ ان میں سے جو کچھ بچے گا اس سے ایک نیا جہان معرضِ وجود میں آئے گا ۔(۳)

پھر ارشاد ہوتا ہے: تجھ سے یوں پوچھتے ہیں گویا تو قیامت کے زمانہ وقوع سے باخبر ہے( یَسْاٴَلُونَکَ کَاٴَنَّکَ حَفِیٌّ عَنْهَا ) ۔(۴)

مزید ارشاد ہوتا ہے: ان کے جواب میں ”کہو کہ یہ علم صرف خدا کے پاس ہے لیکن بہت سے لوگ اس حقیقت سے آگاہی نہیں رکھتے“ کہ یہ علم اس ذاتِ پاک سے مخصوص ہے لہٰذا پے درپے اس کے متعلق سوال کرتے ہیں( قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللهِ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُونَ ) ۔

ہوسکتا ہے یہ سوال کیاجائے کہ یہ علم ذاتِ خدا سے کیوں مخصوص ہے اور کیوں کسی کو یہاں تک کہ انبیاء کو بھی اس سے آگاہ نہیں کیا گیا ۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وقوعِ قیامت سے عدم آگاہی سے اس کے عظیم موقع کے ناگہانی ہونے کا مقصد حاصل ہوتا ہے تاکہ لوگ کسی وقت بھی قیامت کو دور نہ سمجھیں اور ہمیشہ اس کے انتظار میں رہیں اور اس طرح سے اس موقع پر اپنے آپ کو نجات دلانے کے لئے تیار رہیں ۔ یہ عدم آگاہی تربیت نفوس، ذمہ داریوں کی طرف متوجہ ہونے اور گناہ سے پرہیز کرنے کے لئے مثبت اور واضح طور پر موثر ہے ۔

____________________

۱۔ تفسیر برہان: ج۲، ص۵۴.

۲۔ بعض مفسرین (مثلاً مرحوم طبرسی) نے اس آیت کی شانِ نزول کے بارے میں ذکر کی ہے کہ وہ خدمت پیغمبر میں آئے اور انھوں نے قیامت کے متعلق سوال کیا لیکن سہ سورت چونکہ مکّہ میں نازل ہوئی ہے اور وہاں پیغمبر اکرم کا یہودیوں سے سابقہ نہیں پڑتا تھا لہٰذا یہ بات بعید معلوم ہوتی ہے ۔

۳۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس جملے مراد یہ ہے کہ قیامت کے بارے میں جاننا اور آگاہی حاصل کرنا اہلِ آسمان وزمین کے لئے ثقیل اور بوجھل ہے ۔ لیکن حق وہی ہے جو اوپر بیان کیا جاچکا ہے کیونکہ لفظ ”علم“ اور ”اھل“ کو محذوف مانن آیت کے ظاہر کے خلاف ہے ۔

۴۔ ”حفی“ اصل میں ایسے شخص کو کہتے ہیں جو پے درپے کسی چیز سےمتعلق سوال کرے اور اصرار سے اس کے پیچھے پڑا رہے اور چونکہ سوال میں اصرار انسان کے علم میں پیش رفت کا باعث ہوتا ہے اس لئے کبھی یہ لفظ ”عالم“ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔


آیت ۱۸۸

۱۸۸( قُلْ لَااٴَمْلِکُ لِنَفْسِی نَفْعًا وَلَاضَرًّا إِلاَّ مَا شَاءَ اللهُ وَلَوْ کُنتُ اٴَعْلَمُ الْغَیْبَ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَا مَسَّنِی السُّوءُ إِنْ اٴَنَا إِلاَّ نَذِیرٌ وَبَشِیرٌ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ) .

ترجمہ

۱۸۸ ۔ کہہ دو: میں اپنے نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں مگر جو کچھ خدا چاہے (اور پوشیدہ و غیب اسرار سے بھی باخبر نہیں ہوں مگر وہ کہ جس کا خدا ارادہ کرے) اور اگر میں غیب سے باخبر ہوتا تو اپنے لئے بہت سے منافع فراہم کرلیتا اور مجھے کوئی برائی (اور نقصان) نہ پہنچتا ۔ میں تو صرف ایمان لانے والوں کے لئے (عذاب الٰہی سے) ڈرانے والا اور (اس کی عظیم جزاؤں کی) خوشخبری دینے والا ہوں ۔

شان نزول

بعض مفسرین نے مثلاً مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں نقل کیا ہے کہ اہل مکہ نے پیغمبر اسلام سے کہا کہ اگر تم خدا سے ارتباط رکھتے ہو تو کیا تمہارا پروردگار آئندہ اجناس کی قیمتوں میں ہونے والی کمی بیشی سے باخبر نہیں کرتا تا کہ اس طرح سے تم اپنے فائدے میں جو کچھ ہو اسے مہیا کرلو اور جو کچھ تمھارے نقصان میں ہو اس سے بچ جاؤ یا پھر وہ تمھیں مختلف علاقوں کی خشک سالی یا سیرابی سے آگاہ نہیں کرتا تاکہ خشک سالی کے دوران پر برکت زمینوں کی طرف کوچ کرجاؤ اس موقع پر زیر نظر آیت نازل ہوئی ۔

پوشیدہ اسرار صرف خدا جانتا ہے

اس آیت کے لئے بھی اگر چہ ایک خاص شان نزول مذکورہے تا ہم گذشتہ آیت سے اس کا ارتباط واضح ہے کیونکہ گذشتہ آیت میں اس سلسلے میں تھی کہ قیامت کے برپا ہونے کا وقت خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا اور زیر نظر آیت میں علم غیب کی خدا کے علاوہ کسی کے لئے کاملاً نفی کی گئی ہے ۔

پہلے جملے میں پیغمبر اکرم کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے: ان سے کہہ دو کہ اپنے بارے میں میں کسی نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں مگر وہ کہ جو خدا چاہے( قُلْ لَااٴَمْلِکُ لِنَفْسِی نَفْعًا وَلَاضَرًّا إِلاَّ مَا شَاءَ اللهُ ) ۔

اس میں شک نہیں کہ ہر شخص اپنے لئے نفع حاصل کرسکتا ہے یا ضرر اپنے سے دور کرسکتا ہے لیکن اس کے باوجود جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مندرجہ بالا آیت میں مطلقاً ہر بشر کی اس قدرت کی نفی کی گئی ہے اور یہ اس لئے ہے کہ درحقیقت انسان اپنے کاموں کے لئے اپنی طرف سے کوئی قدرت و طاقت نہیں رکھتا بلکہ تمام قدرتیں خدا کی طرف سے ہیں اور وہی ہے جس نے یہ قدرتیں انسانی اختیار میں دی ہیں ۔

دوسرے لفظوں میں تمام قدرتوں کا مالک اور عالم ہستی میں بالذات صاحب اختیار صرف خدا کی ذات پاک ہے اور باقی سب یہاں تک کہ انبیاء اور ملائکہ بھی اسی سے قدرت حاصل کرتے اور ان کی مالکیت اور قادریت بالغیر ہے الاماشاء اللہ (مگر وہ جو خدا چاہے اور میرے اختیار میں دے دے) یہ بھی اسی مطلب پر گواہ ہے ۔

قرآن مجید کی اور بہت سی آیات میں بھی نفع و نقصان اور سودوزیاں کی غیر خدا سے مالکیت کی نفی کی گئی ہے ۔ اسی بناء پر بتوں اور جو کچھ غیر خدا ہے اس کی پرستش سے منع کیا گیا ہے ۔

سورہ فرقان آیہ ۳ میں ہے ۔

( وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً لَایَخْلُقُونَ شَیْئًا وَهُمْ یُخْلَقُونَ وَلَایَمْلِکُونَ لِاٴَنفُسِهِمْ ضَرًّا وَلَانَفْعًا )

انہوں نے خدا کے علاوہ اپنے لئے معبود قرار دے رکھے ہیں ، ایسے معبود جو کوئی چیز پیدا نہیں کرسکتے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں اور اپنے بارے میں سودوزیاں پر اختیار نہیں رکھتے (چہ جائیکہ دوسروں کے بارے میں کچھ کرنے پر قادر ہوں ) ۔

ہر مسلمان خدا کے علاوہ کسی کو بھی خالق، رازق اور نفع و نقصان کا مالک نہیں سمجھتا ۔ اسی لئے اگر وہ کسی سے کوئی چیز مانگتا بھی ہے تو یہ حقیقت اس کی نظر میں ہوتی ہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ خدا کی طرف سے ہے (غور کیجئے گا) ۔

یہاں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جو لوگ انبیاء اور آئمہ کو کسی بھی کام میں وسیلہ قرار دینے کی نفی میں اس آیت کو دستاویز کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اسے ایک قسم کا شرک سمجھتے ہیں در اصل اشتباہ کا شکار ہیں ، انھوں نے تصور کرلیا ہے کہ پیغمبر اور امام سے توسل کا مفہوم یہ ہے کہ انھیں خدا کے مقابلے میں مستقل اور سودوزیاں کا مالک سمجھا جائے حالانکہ اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ پیغمبر اور امام خود سے کچھ نہیں رکھتے بلکہ جو کچھ چاہتے ہیں خدا سے چاہتے ہیں اس حالت میں ان سے توسل یا شفاعت و سفارش چاہنا تو عین توحید اور عین اخلاص ہے ۔ ”الاماشاء اللہ“ میں قرآن نے اسی مفہوم کی طرف اشارہ کیا ہے نیز ”( من ذالّذی یشفع عندهٓ الّا باذنه ) “ میں ”الا باذنہ“ بھی اسی طرف اشارہ ہے ۔

اس بناء پر دو گروہ توسل کے معاملے میں اشتباہ میں اشتباہ کا شکار ہیں ۔ ایک وہ جو پیغمبر یا امام کے لئے خدا کے مقابلے میں بالذات قدرت اور مستقل دستگاہ کے قائل ہیں اور یہ ایک قسم کا شرک اور بت پرستی ہے اور دوسرے وہ جو انبیاء اور آئمہ سے قدرت بالغیر کی نفی کرتے ہیں اور یہ بھی صریح آیات قرآن سے انحراف ہے ۔ راہِ حق یہ ہے کہ انبیاء اور آئمہ حکم خدا سے اس کے ہاں شفاعت کرتے ہیں اور متوسل ہونے والے کی مشکل کا حل خدا سے چاہتے ہیں ۔

یہ بات بیان کرنے کے بعد قرآن نے ایک اور اہم مسئلے کی نشاندہی کی ہے، یہ مسئلہ در اصل ایک گروہ نے پیغمبر اکرم سے پوچھا تھا جس کے جواب میں قرآن کہتا ہے: ان سے کہہ دو کہ میں غیب اور پوشیدہ اسرار سے آگاہ نہیں ہوں کیونکہ اگر اسرار نہاں سے آگاہ ہوتا تو اپنے لئے بہت سے منافع مہیا کرلیتا اور مجھے کسی قسم کا کوئی نقصان نہ پہنچتا( وَلَوْ کُنتُ اٴَعْلَمُ الْغَیْبَ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَا مَسَّنِی السُّوءُ ) (۱) کیونکہ جو شخص تمام مخفی اسرار سے آگاہ ہو وہ ان چیزوں کوانتخاب کرسکتا ہے جو اس کے لئے نفع بخش ہیں اور جن سے اس کا نقصان ہوسکتا ہے اس سے پرہیز کرے گا ۔

اس کے بعد اپنی رسالت کے حقیقی مقام کو ایک مختصر اور صریح جملے میں بیان فرماتا ہے: میں صرف ایمان لانے والوں کو ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں( إِنْ اٴَنَا إِلاَّ نَذِیرٌ وَبَشِیرٌ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ) ۔

____________________

۱ ۔در حقیقت زیر نظر آیت میں ”ولا اعلم بالغیب“ کا جملہ محذوف ہے اور بعد والا جملہ اس پر گواہ ہے.


کیا پیغمبر غیب نہیں جانتے تھے؟

کچھ لوگ جن کا مطالعہ محدود ہے اور جو کسی ایک آیت کو فقط سطحی طورپر دیکھتے ہیں اور دوسری آیاتِ قرآن کو نگاہ میں نہیں رکھتے بلکہ خود اسی آیت میں موجود تمام قرائن پر توجہ نہیں دیتے، فیصلہ کردیتے ہیں ۔ مندرجہ بالا آیت کو بھی ایسے لوگوں نے انبیاء کرام(علیه السلام) سے علم غیب کی مطقاً نفی کی دلیل سمجھا ہے ۔ حالانکہ یہ آیت پیغمبر سے علم بالذات ومستقل کی نفی کرتی ہے جب کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر شخص اپنے بارے میں اور دوسروں کے بارے میں نفع ونقصان کا مالک ہے ۔

لہٰذا قبل کا جملہ گواہ ہے کہ سود وزیاں کی مالکیت کی نفی یا علم غیب کی نفی سے نفی مطلق مراد نہیں ہے بلکہ ہدف نفی استقلال ہے، دوسرے لفظوں میں پیغمبر اپنی طرف سے کچھ نہیں جانتے تھے بلکہ جو کچھ خدا نے غیب اور اسرار نہاں سے انھیں عطا کیا تھا وہ اسے جانتے تھے، جیسا کہ سورہ جن کی آیت ۲۶ اور ۲۷ میں ہے:

( عَالِمُ الْغَیْبِ فَلَایُظْهِرُ عَلیٰ غَیْبِهِ اٴَحَدًا، إِلاَّ مَنْ ارْتَضَی مِنْ رَسُولٍ )

خدا تمام امورِ غیب سے آگاہ ہے اور وہ کسی کو اپنے علم غیب سے آگاہ نہیں کرتا مگر ان رسولوں کو جن سے وہ راضی ہے ۔

اصول طور پر مقام رہبری کی تکمیل کے لئے اور بالخصوص ایک عالمی قیادت کے لئے تمام مادی وروحانی امور میں ، بہت سے مسائل سے آگاہی ضروری ہے ۔ قیادت کے اس مرتبے کے لئے بہت سے ایسے امور سے واقفیت ضروری ہے جو دوسرے لوگوں سے پوشیدہ ہیں ۔ ایسے رہبر کے لئے نہ صرف احکام وقوانین کا علم ضروری ہے بلکہ جہان ہستی کے اسرار، انسانی عمارت کے امور اور ماضی ومستقبل کے حوادث کا علم کچھ خدا تعالیٰ اپنے بھیجے ہوئے نمائندوں کوعطا کرتا اور اگر نہ کرے تو ان کی رہبری کی تکمیل نہیں ہوتی ۔

باالفاظ دیگر کہا جاسکتا ہے کہ اگر وہ اسرارِ غیب سے بالکل آگاہ نہ ہوں تو ان کے اقدامات اور گفتگو زمان ومکان میں محدود ہوکر رہ جائیں گے اور ان کا قول وعمل ایک دور اور ایک ماحول میں مقید ہوجائے گا لیکن اگر وہ اسرارِ غیب میں سے ایک حصّہ پر مطلع ہوں تو وہ پروگراموں کی اس طرح تشکیل دیں گے کہ وہ آنے والے اور دوسرے حالات ومقتضیات میں موجود لوگوں کے لئے بھی مفید اور کافی وافی ہوں گے ۔

”غیب کی آگاہی“ کے سلسلے میں مزید توضیح تفسیر نمونہ جلد ۵ صفحہ ۲۰۶ پر ملاحظہ کیجئے ۔


آیات ۱۸۹،۱۹۰،۱۹۱،۱۹۲،۱۹۳

۱۸۹( هُوَ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْکُنَ إِلَیْهَا فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیفًا فَمَرَّتْ بِهِ فَلَمَّا اٴَثْقَلَتْ دَعَوَا اللهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَیْتَنَا صَالِحًا لَنَکُونَنَّ مِنَ الشَّاکِرِینَ ) .

۱۹۰( فَلَمَّا آتَاهُمَا صَالِحًا جَعَلَالَهُ شُرَکَاءَ فِیمَا آتَاهُمَا فَتَعَالَی اللهُ عَمَّا یُشْرِکُونَ ) .

۱۹۱( اٴَیُشْرِکُونَ مَا لَایَخْلُقُ شَیْئًا وَهُمْ یُخْلَقُونَ ) .

۱۹۲( وَلَایَسْتَطِیعُونَ لَهُمْ نَصْرًا وَلَااٴَنفُسَهُمْ یَنصُرُونَ ) .

۱۹۳( وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَی الْهُدیٰ لَایَتَّبِعُوکُمْ سَوَاءٌ عَلَیْکُمْ اٴَدَعَوْتُمُوهُمْ اٴَمْ اٴَنْتُمْ صَامِتُونَ ) .

ترجمہ

۱۸۹ ۔وہ خدا وہ ہے کہ جس نے تمھیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا ہے اور اس کی بیوی کو اس کی جنس (اور نوع) سے قرار دیا ہے تاکہ اس سے سکون حاصل کرے ۔ اس کے بعد وہ اس سے نزدیک ہوا تو وہ ایک ہلکے سے (بوجھ کے ساتھ) حاملہ ہوگئی کہ جس کے ہوتے ہوئے وہ اپنے پروردگار سے دعا کی (کہ انھیں نیک اور صالح فرزند عطا کرے اور عرض کیا) کہ اگر تو نے ہمیں نیک فرزند عطا کیا تو ہم شکرگزاروں میں سے ہوں گے ۔

۱۹۰ ۔پس جب اس نے انھیں نیک بیٹا عطا دیا (تو انھوں نے دوسرے موجودات کو اس میں موثر سمجھا اور) خدا نے انھیں جو نعمت بخشی تھی اس کے لئے شرکاء کے قائل ہوگئے اور جسے اس کا شریک قرار دیا جائے خدا اس سے برتر ہے ۔

۱۹۱ ۔کیا ایسے موجودات کو اس کا شریک قرار دیتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود مخلوق ہیں ۔

۱۹۲ ۔اور نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں ۔

۱۹۳ ۔اور جب انھیں ہدایت کی طرف دعوت دو تو تمھاری پیروی نہیں کرتے ۔ ان کے لئے اس میں کوئی فرق نہیں ، چاہے انھیں دعوت دو یا خاموش رہو۔

ایک عظیم نعمت کا کفران

ان آیات میں مشرکین کے حالات اور طرزِ فکر کے ایک اور پہلو اور ان کے اشتباہ کا جواب دیا گیا ہے ۔ گذشتہ آیت میں سود وزیاں اور علم غیب سے آگاہی کو خدا میں منحصر قرار دیا گیا ہے اور در حقیقت خدا تعالےٰ کی توحید افعالی کی طرف اشارہ کیا گیا تھا، ، اب یہ آیات گذشتہ آیات کے مضمون کی تکمیل شمار ہوتی ہیں کیونکہ یہ بھی خدا کی توحیدِ افعالی کی طرف اشارہ ہے ۔

پہلے ارشاد ہوتا ہے: وہ خدا وہ ہے کہ جس نے تمھیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا اور اس کی بیوی کو اس کی جنس سے قرار دیا تاکہ اس سے سکون حاصل کرے( هُوَ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْکُنَ إِلَیْهَا ) ۔

یہ دونوں ایک دوسرے کے پہلو می آرام بخش زندگی گزار رہے تھے ”لیکن جب شوہر نے اپنی بیوی سے جنسی ارتباط کیا تو وہ ہلکے سے بوجھ سے حاملہ ہوگئی، ابتداء میں تو اس حمل سے کوئی مشکل پیدا نہ ہوئی اور حاملہ ہونے کے باوجود اپنے دوسرے کاموں کو جاری رکھے ہوئے تھی( فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیفًا فَمَرَّتْ بِهِ ) ۔(۱)

لیکن جوں جوں روز وشب گزرے حمل کا بوجھ بڑھتا گیا یہاں تک کہ اس نے بہت بوجھ محسوس کیا( فَلَمَّا اٴَثْقَلَتْ ) ۔ اس وقت وہ دونوں ایک فرزند کے انتظار میں تھے اور ان آرزو تھی کہ خدا انھیں نیک فرزند عطا فرمائے لہٰذا وہ بارگاہ الٰہی کی طرف متوجہ ہوئے اور انھوں نے اپنے پروردگار کو اس طرح پکارا: بارالٰہا! اگر تونے ہمیں صالح اور نیک فذزند عطا کیا تو ہم شکرگزار میں سے ہوں گے( دَعَوَا اللهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَیْتَنَا صَالِحًا لَنَکُونَنَّ مِنَ الشَّاکِرِینَ ) ۔لیکن جب خدا نے انھی صحیح وسالم اور باصلاحیت فرزند عطا کیا تو وہ اس نعمت کی عنایت میں خدا کے شرکاء کے قائل ہوگئے لیکن خدا ان کے شرک سے برتر وبالاتر ہے( فَلَمَّا آتَاهُمَا صَالِحًا جَعَلَالَهُ شُرَکَاءَ فِیمَا آتَاهُمَا فَتَعَالَی اللهُ عَمَّا یُشْرِکُونَ ) ۔

____________________

۱۔”تغشاها “ ”تغشیٰ “ کے مادہ سے ہے اور اس کا معنی ہے ڈھاپنا اور چھپانا ۔ یہ لفظ عربی زبان میں مباشرت کے لئے ایک لطیف اشارہ ہے ۔


ایک اہم سوال کا جواب

مندرجہ بالا آیات میں جن میاں بیوی کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے وہ کون ہیں ؟ اس سلسلے میں مفسّرین میں بہت اختلاف ہے ۔

کیا نفس واحدہ اور اس کی بیوی سے مراد آدم اور حوّا ہیں ، جبکہ آدم نبی تھے اور حوّا ایک اچھی باایمان خاتون تھی؟ کیا یہ ممکن ہے کہ وہ راہِ توحید سے منحرف ہوکر راہِ شرک پر چل پڑے ہوں ۔

اور اگر آدم کے علاوہ کوئی اور مراد ہے اور تمام انسانوں کے لئے ہے تو فقط ”واحدة“ سے یہ بات کیسے مناسبت رکھتی ہے؟

اس سے قطع نظر یہاں کس عمل یا فکر ونظر کو شرک قرار دیا گیا ہے ۔؟

ان باتوں کا جواب پیش خدمت ہے:

ان آیات کی تفسیر میں ہمارے سامنے دو راستے ہیں ، اس سلسلے میں مفسرین کی جو مختلف باتیں سامنے آئی ہیں شاید ان سب کی بنیاد انہی سے سمجھ میں آجائے ۔

۱ ۔ پہلا راستہ یہ ہے کہ ”واحد“ سے مراد آیت میں ”واحد شخصی“ ہے، جیسا کہ بعض دوسری آیات میں بھی ہے ۔ مثلاً سورہ نساء کی پہلی آیت میں بھی ایسا ہی ہے(۱)

”نفس واحدہ“ قرآنِ مجید میں پانچ مقامات پر آیا ہے، ایک زیر بحث آیت میں ، دوسرا سورہ نساء کی پہلی آیت میں ، تیسرا انعام آیہ ۹۸ میں چوتھا لقمان آیہ ۲۸ میں اور پانچواں زمر آیہ ۶ میں ۔ ان میں سے بعض مقامات کا ہماری موجودہ بحث سے متعلق نہیں ہے البتہ بعض مقامات زیرِ بحث آیت کے مشابہ ہیں لہٰذا ”واحد شخصی“ کا مطلب یہ ہوگا کہ یہاں پر مختصر طور پر حضرت آدم(علیه السلام) اور ان کی بیوی کی طرف اشارہ ہے ۔

مسلّم ہے کہ اس صورت میں شرک سے مراد غیر خدا کی پرستش اور پروردگار کے علاوہ کسی کی الوہیت کا اعتقاد نہیں بلکہ ممکن ہے کہ اس سے مراد بیٹے کی طرف ایک طرح میلان ہو کہ کبھی بعض میلانات بھی خدا سے غافل کردیتے ہیں ۔

۲ ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ”واحد“ سے مراد یہاں ”واحد نوعی“ ہے یعنی خدا نے تم سب کو ایک ہی نوع سے پیدا کیا ہے اور تمھاری بیویوں کو بھی تمھاری جنس میں سے قرار دیا ہے ۔

اس صورت میں دونوں آیات اور بعد والی آیات نوعِ انسانی کی طرف اشارہ ہیں یعنی انسان بچے کی پیدائش کے انتظار کے دنوں میں تو بہت دستِ دعا بلند کرتے ہیں اور خدا سے نیک اور قابل اولاد کی خواہش کرتے اور ان لوگوں کی طرح جو مشکل اور خطرے کے وقت تو پورے خلوص سے بارگاہِ خداوندی کی طرف جاتے ہیں اور اس سے عہد کرتے ہیں کہ وہ حاجات پوری ہونے اور مشکلات حل ہونے کے بعد شکرگزار رہیں گے لیکن جب بچہ پیدا ہوجاتا ہے یا ان کی مشکل حل ہوجاتی ہے تو تمام عہدوپیمان فراموش کردیتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ ہمار بیٹا اگر صحیح وسالم اور خبصورت ہے تو ماں باپ پر گیا ہے اور قانونِ وراثت کا تقاضا تھا، کبھی کہتے ہیں کہ ہماری غذا، طریقہ اور دیگر امور اور حالات سازگار اور اچھے تھے لہٰذا یہ انہی کا نتیجہ ہے اور کبھی ان بتوں کا رخ کرتے ہیں کہ جن کی پرستش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے بچّے پر انہی کی نظرِ کرم تھی ۔ اسی طرح باتیں کرتے ہیں اور خلقتِ الٰہی کے تمام نقوش نظر انداز کردیتے ہیں ، یہ لوگ اس نعمت کی علت وسبب عوامل طبیعی کو قرار دیتے ہیں یا پھر اسے اپنے بیہودہ معبودوں کا کرشمہ شمار کرتے ہیں ۔(۲)

مندرجہ بالا آیات میں کچھ ایسے قرائن موجود ہیں جو دوسر ی تفسیر سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں مثلاً:

۱ ۔ آیات کی تعبیریں ایسے میاں بیوی کی حالت بیان کرتی ہیں جو پہلے سے کسی معاشرے میں رہتے تھے اور اچھی بری اولاد کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے ۔ لہٰذا انھوں نے اپنے خدا سے اچھی اولاد کا تقاضا کیا اور اگر آیات آدم وحوّا سے متعلق ہوتیں تو ان کے ہاں تو ابھی بچہ ہی نہیں ہوا تھا اور ابھی صالح وغیر صالح اور اچھے برے کا وجود ہی نہ تھا کہ وہ خدا سے اپنے لئے اچھے بیٹے کی درخواست کرتے ۔

۲ ۔ دوسری بات یہ ہے کہ دوسری آیت اور اس کے بعد والی آیات میں سب جمع کی ضمیریں ہیں ، یہ چیز بتاتی ہے کہ تثنیہ کی ضمیر سے مراد دو گروہ تھے نہ کہ دو شخص۔

۳ ۔ تیسری بات یہ ہے کہ بعد کی آیات نشاندہی کرتی ہیں کہ ان آیات میں شرک سے مراد بت پرستی ہے نہ کہ اولاد کی محبت وغیرہ اور یہ بات حضرت آدم(علیه السلام) اور ان کی زوجہ کے لئے روا نہیں ہے ۔

ان قرائن کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ اُوپر والی آیت نوعِ انسانی اور شوہروں اور بیویوں کے بارے میں گفتگو کررہی ہے ۔ جیسا کہ ہم ا س تفسیر کی تیسری جلد صفحہ ۱۸۲ ( اردو ترجمہ) میں اشارہ کر آئے ہیں ، انسان کی بیوی کا انسان سے پیدا ہونے کا یہ معنی نہیں کہ اس کے لئے مرد کے بدن کا کوئی حصّہ الگ ہوکر بیوی بن گیا ہے(جیسا کہ بعض جعلی اور اسرائیلی روایت میں ہے کہ حوّا، آدم(علیه السلام) کی بائیں پسلی سے پیدا ہوئی ہیں ) بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کی بیوی اس کی نوع سے ہے جیسا کہ سورہ روم کی آیہ ۲۱ میں ہے:

( وَمِنْ آیَاتِهِ اٴَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ اٴَنفُسِکُمْ اٴَزْوَاجًا لِتَسْکُنُوا إِلَیْهَا )

قدرتِ خدا کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہم نے تمھاری بیویاں نوع سے پیدا کی ہیں تاکہ ان سے سکون حاصل کرو۔

____________________

۱۔ تفسیر نمونہ، ج۳، ص۱۸۱ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں ۔

۲۔ بعض مفسرین نے ابتدائے آیت کو حضرت آدم(علیه السلام) کے لئے اور ذیل آیت کو اولادِ آدم کے لئے قرار دیا ہے جو آیت کے ظاہری مفہوم سے کسی طرح سے بھی مطابقت نہیں رکھتا اور اصطلاح کے مطابق حذف اور تقدیر یا ضمیر کا مرجع کے غیر کی طرف پلٹانے کا محتاج ہے.


ایک مشہور اور جعلی روایت

اہل سنّت کی بعض کتب میں اور کچھ غیر معتبر کتب میں مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں ایک حدیث نقل کی گئی ہے جو انبیاء(علیه السلام) کے بارے میں اسلامی عقائد سے کسی لحاظ سے بھی مناسبت نہیں رکھتی اور وہ یہ ہے:

سمرہ بن جندب، پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے حوالے سے بیان کرتا ہے:

لمّا ولدت حوّاء طاف بها ابلیس وکان لایعیش لها ولد فقال سمیه عبدالحارث فعاش وکان ذٰلک من وحی الشیطان واٴمره.

یعنی جب حوّا کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو شیطان اس کے چکر لگانے لگا اور اس سے پہلے حوّا کا کوئی بچہ زندہ نہیں رہتا تھا، شیطان نے حوّا سے کہا: اس کا نام عبدالحارث رکھو (کیونکہ حارث شیطان کے ناموں میں سے ہے لہٰذا عبدالحارث کا معنی ہے شیطان کا بندہ) حوّا نے ایسا کیا اور وہ بچہ زندہ رہ گیا اور ایسا شیطان کی وحی اور حکم سے ہوا ۔(۱)

اسی مضمون کی بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ حضرت آدم(علیه السلام) بھی اس بات پر راضی ہوگئے تھے ۔

اس روایت کا راوی چاہے مشہور گذّاب سمرہ بن جندب یا کعب الاحبار اور وہب بن منبہ جیسے افراد جو یہودیوں کے مشہور لوگوں میں سے تھے اور پھر مسلمان ہوگئے اور بعض علماء اسلام کے نظریے کے مطابق تورات اور بنی اسرائیل کی خرافات یہی دونوں مسلمانوں میں لائے، بہرحال جو بھی ہو رایات کا مضمون خود ہی اس کے بطلان کی دلیل ہے کیونکہ آدم(علیه السلام) جو خلیفة الله اور خدا کے عظیم پیغمبر تھے اور علم الاسماء کے حامل تھے ۔ اگرچہ وہ ترک اولیٰ کی وجہ سے جنت سے زمین پر آئے تاہم وہ ایسی شخصیت نہ تھے کہ شرکِ کی راہ انتخاب کرتے اور اپنے بیٹے کا نام ”بندہ شیطان“ رکھتے، ایسا کام توصرف کسی بت پرست، جاہل، نادان اور بے خبر ہی کے شایانِ شان ہوسکتا ہے ۔

سا سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ مذکورہ روایت میں شیطان کا معجزہ اور کرامت بیان کی گئی ہے کہ اس بچّے کا نام جب اُس کے نام پر رکھا گیا تو گذشتہ تمام بچوں کے برخلاف زندہ رہا ۔

بہت افسوس کی بات ہے کہ بعض گذشتہ مفسرین ایسی روایات سے اتنے متاثر ہوئے کہ انھیں تفسیر کے طورپر بیان کردیا ۔ بہرکیف یہ روایت چونکہ قرآن کے بھی خلاف ہے اور عقل کے بھی لہٰذا اسے کسی ردّی کی ٹوکری میں پھینک دینا چاہیے ۔

اس واقعہ کے بعد قرآن بت پرستی کی دوبارہ سخت الفاظ میں مذمّت کرتا ہے، ارشاد ہوتا ہے: کیا یہ لوگ کچھ ایسے موجودات کوخدا کا شریک قرار دیتے ہیں جو کوئی چیز پیدا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے بلکہ وہ خود اس کی مخلوق ہیں( اٴَیُشْرِکُونَ مَا لَایَخْلُقُ شَیْئًا وَهُمْ یُخْلَقُونَ ) ۔ علاوہ ازیں یہ جعلی معبود پیدا اپنے بچاریوں کی کسی بھی مشکل میں مدد نہیں کرسکتے یہاں تک کہ وہ مشکلات میں خود اپنی مدد نہیں کرسکتے( وَلَایَسْتَطِیعُونَ لَهُمْ نَصْرًا وَلَااٴَنفُسَهُمْ یَنصُرُونَ ) ۔

یہ معبود ایسے ہوتے ہیں کہ ”اگر تم انھیں ہدایت کرنا چاہو تو وہ تمھاری پیروی نہیں کریں گے یہاں تک کہ اس کا شعور بھی نہیں رکھتے“( وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَی الْهُدیٰ لَایَتَّبِعُوکُمْ ) ۔ جو ہادیوں کی پکار اور ندا کو بھی نہیں سنتے اور وہ دوسروں کی ہدایت کیسے کرسکتے ہیں ۔

بعض مفسرین نے اس آیت کی تفسیر کے کے لئے ایک اور احتمال ذکر کیا ہے اور یہ کہ ”ھُمْ “کی ضمیر بت پرستوں اور مشرکوں کے لئے ہے یعنی ان میں سے ایک گروہ اس قدر ہٹ دھرم اور متعصّب ہے کہ انھیں جتنی بھی توحید کی دعوت دی جائے وہ اسے تسلیم اور قبول نہیں کرتے ۔

یہ احتمال بھی ہے کہ مراد یہ ہو کہ اگر تم ان سے ہدایت کا تقاضا کرو تو اس کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوگا، بہرحال ”تمھارے لئے برابر ہے کہ انھیں دعوت حق دو یا خاموش رہو، دونوں صورتوں میں ہٹ دھرم بت پرست اپنے رویّے سے دست بردار نہیں ہوں گے( سَوَاءٌ عَلَیْکُمْ اٴَدَعَوْتُمُوهُمْ اٴَمْ اٴَنْتُمْ صَامِتُونَ ) ۔

دوسرے احتمال کے مطابق اس جملے کا معنی یہ ہے کہ: تمھارے لئے برابر ہے، چاہے بتوں سے کسی چیز کا تقاضا کرو چُپ رہو دونوں صورتوں میں نتیجہ منفی ہے کیونکہ بت کسی کی تقدیر میں کوئی اثر نہیں رکھتے اور کسی کی خواہش پوری کرسکتے ۔

فخرالدین رازی اس آیت کی تفسیرز میں لکھتے ہیں :

مشرکین جب کسی مشکل میں پھنس جاتے تھے تو بتوں کے سامنے فریاد کرتے اور جب انھیں کوئی مشکل درپیش نہ ہوتی تو خاموش رہتے، قرآن ان سےکہتا ہے: چاہے ان کے سامنے تضرع وزاری کرو یا چُی رہو، دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔

____________________

۱۔ المنار، ج۹، بحوالہ مسند احمد.


آیات ۱۹۴،۱۹۵

۱۹۴( إِنَّ الَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ عِبَادٌ اٴَمْثَالُکُمْ فَادْعُوهُمْ فَلْیَسْتَجِیبُوا لَکُمْ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ ) .

۱۹۵( اٴَلَهُمْ اٴَرْجُلٌ یَمْشُونَ بِهَا اٴَمْ لَهُمْ اٴَیْدٍ یَبْطِشُونَ بِهَا اٴَمْ لَهُمْ اٴَعْیُنٌ یُبْصِرُونَ بِهَا اٴَمْ لَهُمْ آذَانٌ یَسْمَعُونَ بِهَا قُلْ ادْعُوا شُرَکَائَکُمْ ثُمَّ کِیدُونِی فَلَاتُنظِرُونِِ ) .

ترجمہ

۱۹۴ ۔ جنھیں وہ خدا کے علاوہ پکارتے ہیں (اور جن کی پرستش کرتے ہیں ) تمھاری طرح کے بندے میں ، اگر سچّے ہو تو انھیں پکارو تو انھیں چاہیے کہ وہ تمھیں جواب دیں (اور تمھارے تقاضوں کو پورا کریں ) ۔

۱۹۵ ۔ کیا وہ (کم ازکم خود تمھاری طرح) پاؤں رکھتے ہیں کہ جن کے ساتھ چلیں پھریں یا ہاتھ رکھتے ہیں کہ جن چیز اٹھا سکیں (اور کوئی کام انجام دے سکیں ) یا کیا وہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھ سکیں یا ان کے کان ہیں کہ ان سے سن سکیں (نہیں ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ) کہہ دو: (اب جبکہ ایسا ہے تو) ان بتوں کو جنھیں تم نے خدا کا شریک بنارکھا ہے، (میرے برخلاف) انھیں پکارو اور میرے خلاف سازش اور مکروفریب کرو اور لحظہ بھر کی مہلت نہ دو (تاکہ تمھیں معلوم ہوجائے کہ ان سے کچھ بھی نہیں ہوسکتا) ۔

تفسیر

ان دونوں آیات میں توحید کی بحث اور شرک سے مقابلہ جاری ہے اور اس سلسلے میں گذشتہ بحث کی ان میں تکمیل ہوئی ہے، ان میں عبادت میں شرک اور غیر خدا کی پرستش کو احمقانہ اور عقل ومنطق سے عاری کام قرار دیا گیا ہے، ان روایات کے مضمون سے واضح ہوتا ہے کہ چار دلیلوں سے بت پرستوں کی منطق باطل ہوجاتی ہے ۔

قرآن مختلف طرح کے استدلال سے اس مسئلہ پر بحث کرتا ہے اور ہر وقت اس پر ایک نئی برہان پیش کرتا ہے، اس کا راز یہ ہے کہ شرک ایمان کا اور انفرادی واجتماعی سعادت کا بدترین دشمن ہے اور چونکہ افکارِ بشر کی مختلف جڑیں اور شاخیں ہیں اور ہر دور میں شرک ایک نئی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور انسانی معاشروں کو خطرے سے دوچار کردیتا ہے لہٰذا قرآن اس کی خبیث جڑوں اور شاخوں کو کاٹنے کے لئے ہر موقع پر فائدہ اٹھاتا ہے ۔

یہاں ارشاد فرمایا گیاہے: جنھیں تم خدا کے علاوہ پکارتے ہو اور جن کی عبادت کرتے ہو اور جن سے مدد طلب کرتے ہو وہ تمھاری طرح کے بندے میں( إِنَّ الَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ عِبَادٌ اٴَمْثَالُکُمْ ) ۔ لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ انسان ایسی چیز کے سامنے سجدہ ریزہو جو خود اس جیسی ہے اور اپنی تقدیر اور سرنوشت اس کے ہاتھ میں سمجھ لے ۔ دوسرے لفظوں میں آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر غور کرو تو دیکھو گے کہ وہ جسم بھی رکھتے ہیں ، زمان ومکان کی زنجیر میں اسیر ہیں ، قوانینِ طبیعت کے بھی محکوم ہیں اور زندگی اور دیگر توانائیوں کے لحاظ سے بھی محدود ہیں خلاصہ یہ ہے کہ وہ تم سے کوئی امتیاز نہیں رکھتے، تم نے صرف وہم خیال سے ان کے لئے امتیاز گھڑ رکھا ہے ۔

آیت میں بت پرستوں کے معبودوں کو ”عباد“ کہا گیا ہے جو ”عبد“ کی جمع ہے اور جس کا معنی ہے ”بندہ“ جبکہ ”عبد“ زندہ موجود کو کہا جاتا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی کئی ایک تفاسیر کی گئی ہیں

پہلی: یہ کہ ممکن ہے یہاں ان معبودوں کی طرف اشارہ ہو جو انسانوں میں سے ہیں جیسے عیسائیوں کے لئے عیسیٰ، عرب بت پرستوں کے لئے فرشتے وغیرہ۔

دوسری: تفسیر یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اس توہم کی وجہ جووہ بتوں کے متعلق رکھتے تھے، یہ کہا گیا ہو کہ فرض کریں کہ وہ عقل وشعور بھی رکھتے ہیں (پھر بھی وہ) تم سے برتر موجود تو نہیں ہیں ۔

تیسری: یہ کہ ”عبد“ لغت میں بعض اوقات ایسے موجود کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جو دوسرے کے زیرِ تسلط اور زیر فرمان ہو اور اس کے سامنے خاضع ہو چاہے وہ عقل وشعور نہ رکھتا ہو۔ جیسے ایسی سڑک کو ”معبد“ (بروزن مقدم) کہتے ہیں جس پرز ہمیشہ آمد روفت رہتی ہے

مزید فرمایا گیا ہے: تم سوچتے ہو کہ وہ قدرت وشعور رکھتے ہیں تو ”انھیں پکارکر دیکھو کیا وہ تمھیں جواب دیتے ہیں ، اگر تم سچ کہتے ہو( فَادْعُوهُمْ فَلْیَسْتَجِیبُوا لَکُمْ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ ) ۔

ان کی منطق کو باطل کرنے کے لئے یہ دوسری دلیل بیان کی گئی ہے کہ ان کا موت کا سا سکوت وخاموشی ان کے بے ارزش ہونے اور کسی چیز پر ان کی قدرت نہ ہونے کی نشانی ہے ۔

پھر مزید واضح کیا گیا ہے کہ’ حتّیٰ کہ وہ اپنے عبادت گزاروں سے زیادہ پست اور عاجز ہیں ”اچھی طرح دیکھ لو کہ کیا وہ کم از کم تمھاری طرح پاؤں رکھتے ہیں کہ جن سے چل پھرسکیں “( اٴَلَهُمْ اٴَرْجُلٌ یَمْشُونَ بِهَا ) ۔ ”یا کیا وہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ جن سے کوئی پکڑ سکیں اور کوئی کام کرسکیں( اٴَمْ لَهُمْ اٴَیْدٍ یَبْطِشُونَ بِهَا )

”یا کیا وہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ جن سے دیکھ سکیں( اٴَمْ لَهُمْ اٴَعْیُنٌ یُبْصِرُونَ بِهَا ) ۔ ”یا کیا پھر وہ کان رکھتے ہیں کہ جن سے سن سکیں “( اٴَمْ لَهُمْ آذَانٌ یَسْمَعُونَ بِهَا ) ۔ وہ تو اس قدر ضعیف ہیں کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کے لئے تمھاری مدد کے محتاج ہیں اور خود اپنے وجود کی حفاظت کے لئے کمک محتاج ہیں ، نہ وہ دیکھنے والی آنکھ رکھتے ہیں نہ سننے والے کان اور نہ کوئی اور قوتِ حس ان کے پاس ہے ۔

آیت کے آخر میں چوتھا استدلال یوں پیش کیا گیا ہے: اے پیغمبر! ان سے کہو کہ یہ معبود جنھیں تم نے خدا کا شریک قرار دے رکھا ہے انھیں میرے برخلاف بلاؤ اور تم سب ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر جتنی کرسکو میرے خلاف سازش کرلو اور اس کام میں کسی قسم کی تاخیر روا نہ رکھو پھر دیکھتے ہیں کہ اس کے باوجود تم کیا کرسکتے ہو (قُلْ ادْعُوا شُرَکَائَکُمْ ثُمَّ کِیدُونِی فَلَاتُنظِرُونِ)یعنی اگر میں جھوٹ بولتا ہوں اور وہ مقربان خدا ہیں اور میں نے ان کے حریم احترام میں جسارت کی ہے تو پھروہ مجھ پر غضب کیوں نہیں کرتے اور تم اور وہ مل کر مجھ پر کوئی اثر نہیں کرپاتے ۔ لہٰذا جان لو کہ یہ غیر موثر موجودات ہیں کہ جنھیں تمھارے توہشمات نے قوت بخشی ہے ۔


آیات ۱۹۶،۱۹۷،۱۹۸

۱۹۶( إِنَّ وَلِیِّی اللهُ الَّذِی نَزَّلَ الْکِتَابَ وَهُوَ یَتَوَلَّی الصَّالِحِینَ ) .

۱۹۷( وَالَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَایَسْتَطِیعُونَ نَصْرَکُمْ وَلَااٴَنفُسَهُمْ یَنصُرُونَ ) .

۱۹۸( وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَی الْهُدیٰ لَایَسْمَعُوا وَتَرَاهُمْ یَنظُرُونَ إِلَیْکَ وَهُمْ لَایُبْصِرُونَ ) .

ترجمہ

۱۹۶ ۔ (لیکن) میرا ولی اور سرپرست وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ سب نیکوں اور صالحین کا سرپرست ہے ۔

۱۹۷ ۔ اور جنھیں تم اس کے علاوہ پکارتے ہو وہ تمھاری مدد نہیں کرسکتے اور (حتّیٰ کہ) اپنی بھی مدد نہیں کرسکتے ۔

۱۹۸ ۔ اور اگر ان سے ہدایت چاہو تو وہ تمھاری باتوں کو نہیں سنتے اور تم دیکھوگے کہ (وہ اپنی مصنوعی آنکھوں سے) تمھیں دیکھ رہے ہیں لیکن درحقیقت وہ نہیں دیکھ سکتے ۔

بے وقعت ’معبود‘

گذشتہ آیت میں تھا کہ تم اور تمھارے بت مجھے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔ زیر بحث پہلی آیت میں اس دلیل کی طرف اشارہ کرتے ارشاد ہوا ہے، میرا ولی، سرپرست اور بھروسہ خدا ہے جس نے مجھ پر یہ آسمانی کتاب نازل کی ہے (ا( ِٕنَّ وَلِیِّی اللهُ الَّذِی نَزَّلَ الْکِتَاب ) ۔ نہ صرف بلکہ وہ تمام صالح اور شائستہ لوگوں کی حمایت اور سرپرستی کرتا ہے اور اپنا لطف و عنایت ان کے شامل حال کرتا ہے( وَهُوَ یَتَوَلَّی الصَّالِحِینَ ) ۔

اس کے بعد پھر تاکیداً بت پرستی کے بطلان پر دلائل دیتے ہوئے قرآن کہتا ہے: خدا کے علاوہ تم جن معبودوں کو پکار تے ہو ان سے کچھ بھی نہی ہوسکتا، وہ تمہاری مدد نہیں کرسکتے اور نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں( وَالَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَایَسْتَطِیعُونَ نَصْرَکُمْ وَلَااٴَنفُسَهُمْ یَنصُرُونَ ) ۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ”اگر مشکلات میں ان سے ہدایت اور راہنمائی چاہو تو یہاں تک کہ وہ تمہاری بات بھی نہیں سن سکتے( وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَی الْهُدیٰ لَایَسْمَعُوا ) ۔“

حتیّٰ کہ اپنی مصنوعی آنکھوں سے، جن سے گویا تیری طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں در حقیقت کچھ نہیں دیکھ پاتے( وَتَرَاهُمْ یَنظُرُونَ إِلَیْکَ وَهُمَ لایُبْصِرُونَ ) .

ہم پہلے بھی اشارہ کر آئے ہیں کہ آخری آیت ممکن ہے بتوں کی طرف اشارہ ہو یا بت پرستوں کی طرف پہلی صورت میں اس کا مفہوم وہی ہے جو بیان کیا جاچکا ہے اور دوسری صورت میں اس کی تفسیر یہ ہوگی کہ اگر تم مسلمان ان ہٹ دھرم مشرکوں اور بت پرستوں کو صحیح توحیدی راستے کی طرف دعوت دو تو وہ تمہاری یہ دعوت قبول نہیں کریں گے ۔ وہ اپنی آنکھوں سے تمہاری طرف دیکھتے تو ہیں اور صدق و حقیقت کی نشانیاں بھی انھیں تم میں نظر آتی ہیں لیکن پھر بھی وہ حقائق کو نہیں دیکھ پاتے ۔

آخری دو آیات کا مضمون گذشتہ آیات میں بھی آیا ہے اور یہ تکرار زیادہ سے زیادہ تاکید کے لئے ہے تاکہ بت پرستی کا مقابلہ کیا جائے اور مشرکین کی فکر اور روح سے اس کی ریشہ کشی کی جائے ۔


آیات ۱۹۹،۲۰۰،۲۰۱،۲۰۲،۲۰۳

۱۹۹( خُذْ الْعَفْوَ وَاٴْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاٴَعْرِضْ عَنْ الْجَاهِلِینَ ) .

۲۰۰( وَإِمَّا یَنزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللهِ إِنَّهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ ) .

۲۰۱( إِنَّ الَّذِینَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِنَ الشَّیْطَانِ تَذَکَّرُوا فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ ) .

۲۰۲( وَإِخْوَانُهُمْ یَمُدُّونَهُمْ فِی الغَیِّ ثُمَّ لَایُقْصِرُونَ ) .

۲۰۳( وَإِذَا لَمْ تَاٴْتِهِمْ بِآیَةٍ قَالُوا لَوْلَااجْتَبَیْتَهَا قُلْ إِنَّمَا اٴَتَّبِعُ مَا یُوحیٰ إِلَیَّ مِنْ رَبِّی هٰذَا بَصَائِرُ مِنْ رَبِّکُمْ وَهُدًی وَرَحْمَةٌ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ) .

ترجمہ

۱۹۹ ۔ ان سے نرمی بر تو اور ان کا عذر قبول کرلو اور نیکیوں کی طرف دعوت دو اور جاہلوں سے رخ موڑلو (اور ان سے لڑائی جھگڑا نہ کرو) ۔

۲۰۰ ۔ اور جب شیطانی وسوسہ تجھ تک پہنچے تو خدا کی پناہ لو کیونکہ وہ سننے والا اور جاننے والا ہے ۔

۲۰۱ ۔ پرہیزگار جب شیطانی وسوسوں میں گرفتار ہوں تو (خدا اور اس کی جزا و سزا کی) یاد اور ذکر میں مصروف ہوجاتے ہیں (اور اس کی یاد ہی کے زیر سایہ وہ راہ حق دیکھتے ہیں ) پس وہ بیسنا ہوجاتے ہیں ۔

۲۰۲ ۔ (جو پرہیز گار نہیں ) ان کے بھائی (یعنی شیاطین) انھیں ہمیشہ گمراہی میں آگے بڑھاتے رہتے ہیں اور پھر اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے ۔

۲۰۳ ۔ اور جب (نزول وحی میں تاخیر ہوجائے اور) تو ان کے لئے کوئی آیت نہ لے آئے تو کہتے ہیں تو خود سے (اپنی طرف سے) اسے کیوں نہیں چن لیتا ۔ کہہ دو کہ میں صرف اس چیز کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر ووحی ہوتی ہے یہ تیرے پروردگار کی طرف سے ایمان لانے والوں کے لئے بینائی کا وسیلہ اور ہدایت و رحمت کا ذریعہ اور سبب ہے ۔

شیطانی وسوسے

ان آیات میں تبلیغ اور لوگوں کی رہبری و پیشوائی کی شرائط جاذب نظر طریقے سے اور جچے تلے انداز میں بیاں کی گئی ہیں ۔ ان آیات کا مفہوم گذشتہ آیات سے بھی مناسبت رکھتا ہے جو کہ مشرکین کے لئے تبلیغ کے طور پر ہی تھیں ۔

پہلی آیت میں رسول خدا سے خطاب کی صورت میں رہبروں اور مبلغوں کے فرائض کے تین حصوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: لوگوں سے سخت گیری نہ کرو اور ان سے نرمی برتو، ان کے عذر قبول کرو اور وہ جتنی قدرت رکھتے ہیں ان سے اس سے زیادہ خواہش نہ کرو( خُذْ الْعَفْوَ ) ۔

”عفو“ بعض اوقات کسی چیز کی اضافی مقدار کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، کبھی ”حدوسط“ کے مفہوم کے لئے آتا ہے، کبھی خطا کاروں کے عذر قبول کرنے اور انھیں بخش دینے کا معنی دینا ہے اور کبھی کاموں کو آسان سمجھنے کامفہوم لئے ہوتا ہے ۔

آیات کے قرائن نشاندہی کرتے ہیں کہ زیر نظر آیت بعض مفسرین کے قول کے برخلاف مالی مسائل اور لوگوں کے مال سے اضافی مقدار لینے سے کوئی ربط نہیں رکھتی بلکہ یہاں اس کے لئے مناسب مفہوم آسان سمجھنا، درگزر کرنا اور حدّوسط انتخاب کرنا ہی ہے ۔(۱)

واضح ہے کہ رہبر اور مبلغ اگر سخت گیر شخص ہوتو بہت جلد لوگ اس کے گردا گرد سے منتشر ہوجائیں گے اور دلوں میں اس کا نفوذ ختم ہوجائے گا ۔ جیسا کہ قرآن مجید کہتا ہے:

( وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِک )

اگر تم سخت گیر، بد اخلاق اور سنگدل ہوتے تو مسلم ہے کہ لوگ تمھارے ارد گرد پراگندہ ہوجاتے ۔ (آل عمران۔ ۱۵۹)

اس کے بعد دوسرا حکم دیا گیا ہے: لوگوں کو نیک کاموں کا اور وہ کہ جنہیں عقل و خرد شائستہ قرار دے اور خدا ان کی نیکی اور اچھائی کے طور پر تعارف کروائے ، حکم دو( وَاٴْمُرْ بِالْعُرْفِ ) ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ سخت گیری نہ کرنے مطلب ”سب اچھا“ اور خوشامد نہیں بلکہ رہبر اور مبلغ کو چاہیے کہ وہ حقائق پیش کرے اور لوگوں کو حق کی دعوت دے اور کوئی چیز فروگذاشت نہ کرے ۔

تیسرے مرحلے میں جاہلوں کے مقابلے میں تحمل وبردباری کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جاہلوں سے رُخ موڑلو اور ان سے لڑو جھگڑو نہیں( وَاٴَعْرِضْ عَنْ الْجَاهِلِینَ ) ۔

جب کسی رہبر اور مبلغ کو ہٹ دھرم متعصب، جاہل اور کوتاہ فکر اور پست اخلاق افراد کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو گالیاں سننا پڑتی ہیں تہمتیں لگتی ہیں ، اس کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں اور اس پر پتھر پھینکے جاتے ہیں ایسی صورت حال میں کامیابی کا طریقہ یہ نہیں کہ جاہلوں سے دست وگریباں ہوا جائے بلکہ بہترین راہ تحمل، حوصلہ اور چشم پوشی ہے اور تجربہ شاہد ہے کہ جاہلوں کی بیداری اور ان کے غضب، حس اور تعصّب کی آگ خاموش کرنے کے لئے یہ بہترین طریقہ ہے ۔

بعد والی آیت میں ایک اور حکم دیا گیا ہے جس میں در حقیقت رہبروں اور مبلغوں کے لئے ان کی چوتھی ذمہ داری بیان کی گئی ہے اور وہ یہ کہ مقام ومنزلت، مال ودولت اور خواہشات وشہوت وغیرہ کی صورت میں شیطانی وسوسے ہمیشہ ان کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں ، شیطان اور شیطان صفت لوگ ان وسوسوں کے ذریعے انھیں ان کے راستے سے منحرف کرنے کے درپے رہتے ہیں ۔ قرآن حکم دیتا ہے: اگر شیطانی وسوسوے تیرا رخ کریں تو اپنے آپ کو خدا کی پناہ میں دے دے، خود کو اُ س کے سپرد کردے اور اسی کے لطف سے مدد طلب کر کیونکہ وہ تیری بات سنتا ہے، تیرے اسرارِ نہاں سے آگاہ ہے اور شیطانوں کے وسوسوں سے باخبر ہے (وَإِمَّا یَنزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللهِ إِنَّہُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ) ۔(۲)

____________________

۱۔ لفظ ”عفو “ کی مزید و وضاحت کے لئے تفسیر نمون جلد دوم (ص ۷۳۔ ۷۴ اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں ۔

۲۔ ”یَنزَغَنَّکَ “ کا”نزَغَ “ (بروزن ”نزَعَ“) ہے، اس کامعنی ہے کسی کام میں خرابی پیدا کرنا یا اس کی تحریک دین.


جامع اخلاقی ترین آیت

امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے:قرآن مجید میں کوئی آیت اخلاقی مسائل میں اس آیت سے زیادہ جامع نہیں ہے ۔(۱)

بعض علماء نے اس حدیث کی تفسیر میں کہا ہے کہ قوائے انسانی کے اصول تین ہیں : عقل، غضب اور شہوت اور اخلاقی فضائل بھی تین حصّوں میں ہیں :

۱ ۔ فضائل عقلی:

جن کا نام ”حکمت“ ہے اور آیت میں ”وَاٴْمُرْ بِالْعُرْفِ “ میں ان کا خلاصہ کیا گیا ہے (یعنی نیک اور شائستہ کاموں کا حکم دے)

۲ ۔ فضائل جنسی:

جو کہ طغیان اور شہوت کے مقابلے میں ہیں ، انھیں ”عفّت“ کہتے ہیں اور زیرِ بحث آیت میں ”خذ العفو“ میں ان کی تلخیص کی گئی ہے ۔

۳ ۔ قوتِ غضبیہ کے مقابلے میں نفس پر کنٹرول کو ”شجاعت“ کہتے ہیں ، اس کی طرف اشارہ ”( وَاٴَعْرِضْ عَنْ الْجَاهِلِینَ ) “ میں کیا گیا ہے ۔

مندرجہ بالا حدیث کی تشریح چاہے اس صورت میں کی جائے جیسے مفسرین نے کی ہے یا رہبر کی شرائط کی صورت میں جیسے ہم نے بیان کیا ہے، بہرحال اس سے یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ زیر نظر آیت میں مختصر اور اچھے انداز میں اخلاقی اور اجتماعی حوالے سے ایک جامع، وسیع اور ہمہ گیر پرورگرام پیش کیا گیا ہے، اس طرح سے کہ اس میں تمام مثبت اصلاحی امور اور انسانی فضائل مل سکتے ہیں ، بعض مفسّرین کے بقول اس آیت میں جچے تلے انداز میں جس طرح سے معانی کی وسعت وگہرائی سمودی گئی ہے وہ اعجازِ قرآن کی مظہر ہے ۔

اس نکتے کی طرف توجہ ضر وری ہے کہ آیت میں مخاطب اگرچہ پیغمبر اکرم ہیں لیکن آیت ساری امت اور تمام رہبروں اور مبلغوں کے بارے میں ہے ۔

اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں مقام علم عصمت کے خلاف کوئی مطلب موجود نہیں ہے کیونکہ پیغمبر اور معصوم ہستیوں کو بھی وساوسِ شیطانی کے مقابلے میں اپنے آپ کو سپردِ خدا کرنا چاہیے اور وساوسِ شیاطین کے مقابلے میں کوئی بھی خدا کے لطف اور حمایت سے بے نیاز نہیں ، یہاں تک کہ معصومین بھی ۔

بعض روایات میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم نے اس کے بارے میں جبرئیل سے وضاحت چاہی (کہ لوگوں سے کس طرح سے نرمی برتی جائے اور سخت گیری نہ کی جائے) ۔

جبئیل نے کہا: میں تو نہیں جانتا، لازم ہے کہ میں سے سوال کروں جو جانتا ہے ۔

اس کے بعد جبرئیل دوبارہ نازل ہوئے اور کہا:

یا محمد انّ اللّٰه یاٴمرک اٴن تعفوا عمّن ظلمک وتعطی عمّن حرمک وتصل من قطعک

یا محمد!خدا آپ کو حکم دیتا ہے کہ جنھوں نے آپ پر ظلم کیا ہے (جب آپ میں قدرت آجائے) تو ان سے انتقام نہ لیں اور درگزکردیں ، جنھوں نے آپ کو محروم کیا ہے انھیں عطا کریں اور جنھوں نے آپ سے قطع رحمی کی ہے ان سے رحمی کریں(۲)

ایک اور حدیث میں ہے:جب یہ آیت نازل ہوئی اور پیغمبرخدا کوحکم دیا گیا کہ جاہلوں کے مقابلے میں تحمل کیجئے، تو پیغمبر نے عرض کیا: پروردگار! خشم وغضب کے ہوتے ہوئے کیسے تحمل کیا جاسکتا ہے؟

اس پر دوسری آیت نازل ہوئی اور پیغمبر کو حکم دیا گیا کہ ایسے موقع پر اپنے آپ کو خدا کے سپرد کردیں(۳)

روی عن جدنا الامام جعفر الصادق رضی اللّٰه عنه ....

یعنی ہمارے جد امام جعفر صادق رضی الله عنہ سے یوں نقل کیا گیا ہے....

اس نکتے کا ذکر بھی مناسب ہے کہ دوسری آیت بعینہ سورہ حٰم السجدہ کی آیت ۳۶ ہے صرف فرق اتنا ہے کہ ”انّہ سمیع علیم“ کی جگہ وہاں پر ”انه هو السمیع العلیم “ ہے ۔

بعد والی آیت میں پشیطانی وسوسوں پر غلبے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: شیطان وسوسے جب پرہیزگار لوگوں کو گھیر لیتے ہیں تو وہ خدا کو یاد کرلیتے ہیں ، اس کی لامتناہی نعمات کا ذکر کرتے ہیں اور گناہوں کے بُرے نتائج اور دود عذاب کو یاد کرتے ہیں تو اس وقت وسوسوں کے تاریک بادل اطرافِ قلب سے چھٹ جاتے ہیں اور وہ راہ حق کو دیکھتے ہیں اور اُسے ہی انتخاب کرلیتے ہیں( إِنَّ الَّذِینَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِنَ الشَّیْطَانِ تَذَکَّرُوا فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ ) ۔

”طائف“ کا معنی ہے ”طواف کرنے والا“ گویا شیطانی وسوسے طواف کرنے والے کی طرح انسانی روح اور فکر کے مسلسل چکر لگاتے رہتے ہیں تاکہ نفوذ کرنے اور اندر جانے کا کوئی راستہ پالیں ۔ ایسے موقع پر اگر انسان خدا کو یاد کرے اور گناہوں کے برے نتائج پر نظر کرے تو انھیں دور کرکے رہائی حاصل کرلیتا ہے ورنہ آخر کاران وسوسوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے ۔

اصولی طور پر ہر شخص ایمان کے ہر عمر میں کبھی نہ کبھی شیطانی وسوسوں میں گرفتار رہتا ہے اور کبھی یوں محسوس کرتا ہے کہ خود اس کے اندر کوئی سخت محرک قوت پیدا ہوگئی ہے جو اسے گناہ کی طرف دعوت دے رہی ہے ۔ مسلم ہے کہ یہ وسوسے اور تحریکیں جوانی میں زیادہ ہوتی ہیں اور اسی طرح گناہ کے ماحول میں بہت زیادہ ہوتی ہیں ۔ جیسے آجکل کے آلودہ معاشرں اور ماحول کہ جن میں فساد اخلاقی کے مراکز بہت زیادہ ہیں ، ہر طرف بے قید و بند آزادی میسر ہے، نشرو اشاعت کے ادارے زیادہ تر شیطان کی خدمت میں مصروف ہیں اور شیطانی وسوسوں کی اشاعت کررہے ہیں ۔ ایسے حالات میں راہ نجات کا صرف اور صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ ہے ”تقویٰ“ کی جس کی طرف زیر بحث آیت میں اشارہ ہوا ہے، اس کے بعد مراقبت ہے اور آخر میں اپنی طرف توجہ کرنا، خدا سے پناہ مانگتا، اس کے الطاف و نعمات کو یاد کرنا اور خطا کاروں کے دردناک عذاب کو یاد کرنا ہے ۔

روایات میں بارہا شیطانی وساوس کو دور کرنے کے لئے ذکر خدا کی گہری تاثیر کا تذکرہ ہوا ہے ۔ یہاں تک کہ بہت سے صاحب ایمان علماء اور شخصیات ہمیشہ شیطانی وسوسوں سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے مراقبت کے ذریعے اپنا دفاع کرتے تھے ۔ (مراقبت علم اخلاق میں ایک تفصیلی موضوع ہے) ۔ اصولی طور پر نفس اور شیطان کے وسوسے بیماری کے جراثیم کی طرح ہیں جو ہر کسی میں مجود ہوتے ہیں لیکن وہ کمزور اور ناتوان گوشوں اور جسموں کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ وہاں نفوذ کریں لیکن جن کا جسم صحیح یالم، قوی اور طاقت ورہے وہ ان جراثیم کے اثرات سے خود کو بچالیتے ہیں ”( اذاهم مبصرون )

(یعنی یاد خدا کے وقت ان کی آنکھیں بینا ہوجاتی ہیں اور وہ حق کو دیکھ لیتے ہیں ) یہ جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ شیطانی وسوسے انسان کی باطنی نگاہ پر پردہ ڈال دیتے ہیں اور حالت یہ ہووجاتی ہے کہ راہ اور چاہ کی، دوست اور دشمن کی اور نیک اور بد کی پہنچان نہیں رہتی لیکن خدا کی یاد انسان کو بینائی اور روشنی بخشتی ہے اور اسے حقائق کی شناخت کی قدرت عطا کرتی ہے ۔ ایسی شناخت اور معرفت کے جس کے ذریعے انسان وسوسوں کے چنگل سے نجات پالیتا ہے ۔

خلاصہ یہ کہ پرہیزگار ذکر خدا کے سائے میں شیطانی وسوسوں سے رہائی حاصل کرتے ہیں لیکن یہ اس حالت میں ہے کہ جب گناہ آلودہ افراد جو شیطان کے بھائی ہیں اس کے دام اور جال میں گرفتار ہوں ۔ اگلی آیت میں قرآن اس بارے میں کہتا ہے: ان پر آپ نے جملے جاری رکھتے ہیں( وَإِخْوَانُهُمْ یَمُدُّونَهُمْ فِی الغَیِّ ثُمَّ لَایُقْصِرُونَ ) ۔

”اخوان“ شیاطین کے لئے کنایہ ہے اور ”ہم“ کی ضمیر مشرکوں اور گناہگاروں کے لئے ہے ۔ جیسا کہ سورہ اسراء کی آیت ۲۷ میں ہے:( إِنَّ الْمُبَذِّرِینَ کَانُوا إِخْوَانَ الشَّیَاطِینِ )

فضول خرچی کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں

”یمدونهم“” امداد“ کے مادہ سے ہے ۔ اس کا معنی ہے مددینا، دوام بخشنا اور اضافہ کرنا ۔ یعنی وہ اس راہ کی طرف ہمیشہ اور مسلسل انھیں کھینچتے رہتے ہیں اور آگے بڑھاتے رہتے ہیں ۔

” لا یقصرون “ کا معنی ہے کہ شیاطین انھیں گمراہ کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کرتے ۔

اس کے بعد مشرکوں اور گنہگاروں کی ایک جماعت کی حالت بیان کرتا ہے ۔ یہ لوگ منطق و استدلال سے دور ہیں فرمایا گیا ہے: جب ان کے سامنے قرآن کی آیات پڑھو تو وہ ان کی تکذیب کرتے ہیں اور جب ان کے لئے کوئی آیت نہ لاؤ اور نزولِ وحی میں تاخیر ہوجائے تو کہتے ہیں کہ ان آیات کا کیا بنا، اپنی طرف سے کیوں نہیں بنالیتے ہیں ، یہ سب خدا کی وحی تھوڑی ہیں( وَإِذَا لَمْ تَاٴْتِهِمْ بِآیَةٍ قَالُوا لَوْلَااجْتَبَیْتَهَا ) (۴) ۔لیکن ان سے ”کہہ دو کہ میں تو صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی ہوتی ہے اور جو کچھ خدا نازل کرتا ہے اس کے سوا کچھ نہیں کہتا“( قُلْ إِنَّمَا اٴَتَّبِعُ مَا یُوحیٰ إِلَیَّ مِنْ رَبِّی ) ۔

یہ قرآن اور اس کی نورانی آیات پروردگار کی طرف سے بینائی اور بیداری کا ذریعہ ہیں کہ جو ہر آمادہ انسان کو بصارت، روشنی اور نور عطا کرتی ہیں( هٰذَا بَصَائِرُ مِنْ رَبِّکُمْ ) ۔ ”اور با ایمان اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے افراد کے لئے سرمایہ ہدایت اور رحمت ہے ۔“

اس آیت سے ضمنی طور پر واضح ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم کی تمام گفتار اور کردار کا سرچشمہ وحی آسمانی تھی اور جو لوگ اس بات کے خلاف کچھ کہتے ہیں وہ در اصل قرآن سے ناواقف ہیں ۔

____________________

۱۔ مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں

۲۔ مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں

۳۔ المنار کے مولف نے جلد ۹ صفحہ۵۳۸ پر یہ حدیث اس عنوان کے تحت درج کی ہے:

۴۔ ”اجتناء“ ”جبایت“ سے ہے ۔ اس کا معنی ہے حوض یا اس قسم کی چیز میں پانی جمع کرنا ۔ اس لئے حوض کو ”جابیة“ کہا جاتا ہے ۔ خراج کی جمع آوری کو بھی ”جبایت“ کہتے ہیں ۔ بعد ازاں کسی چیز کو انتخاب کے لئے جمع کرنے کو ”اجتباء“ کہا جانے لگا ۔ ” لو لا اجتبیتہا “ کا معنی ہے تو نے کیوں انتخاب نہیں کیا ۔


آیات ۲۰۴،۲۰۵،۲۰۶

۲۰۴( وَإِذَا قُرِءَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَاٴَنصِتُوا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ ) .

۲۰۵( وَاذْکُرْ رَبَّکَ فِی نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَخِیفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَاتَکُنْ مِنَ الْغَافِلِینَ ) .

۲۰۶( إِنَّ الَّذِینَ عِنْدَ رَبِّکَ لَایَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَیُسَبِّحُونَهُ وَلَهُ یَسْجُدُونَ ) .

ترجمہ

۲۰۴ ۔ جب قرآن پڑھا جائے تو کان دھر کر سنو اور خاموش رہوتا کہ رحمت خدا تمھارے شامل حال ہو۔

۲۰۵ ۔ اپنے پروردگار کو اپنے دل میں تضرع اور خوف سے آہستہ اور آرام سے صبح و شام یاد کرو اور غافلیں میں سے نہ ہو جاؤ۔

۲۰۶ ۔ وہ جو (مقام قرب میں ) تیرے پروردگار کے نزدیک ہیں کسی حالت میں اس کی عبادت کے بارے میں تکبر نہیں کرتے، اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اس کے لئے سجدہ ریز ہوتے ہیں ۔

تلاوتِ قرآن ہو رہی ہو تو خاموش رہو

اس سورة (اعراف) کا آغاز عظمتِ قرآن کے بیان سے ہوا ہے اور قرآن ہی کے بارے میں اس کی آخری آیات گفتگو کررہی ہیں ۔

بعض مفسّرین نے زیر بحث آیات میں سے پہلی کے بارے میں کئی ایک شان نزول ذکر کی ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ابن عباس اور دیگر لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمان ابتداء میں کبھی کبھی نماز میں باتیں کرلیتے تھے ۔ کبھی یوں ہوتا کہ جماعت ہو رہی ہوتی اور نیا آنے والا پوچھ لیتا کہ کتنی رکعتیں ادا ہوچکی ہیں اور وہ جواب دیتے کہ اتنی رکعتیں ادا ہوچکی ہیں ۔ اسی صورتِ حال کے پیش نظریہ آیت نازل ہوئی اور اس کام سے منع کیا گیا ۔

نیز زہری سے منقول ہے کہ جب پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم قرآن کی تلاوت کررہے ہوتے تو ایک انصاری نوجوان بلند آواز سے قرآن پڑھتا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس کام سے روکا گیا ۔

بہر صورت قرآن مندرجہ بالا آیت میں حکم دیتا ہے: جب قرآن کی تلاوت ہورہی ہو تو توجہ سے اسے سنو اور خاموش رہو، شاید رحمتِ خدا تمھارے شاملِ حال ہو( وَإِذَا قُرِءَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَاٴَنصِتُوا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ ) ۔

( وَاٴَنصِتُوا ) “ ”( انصاب ) “ کے مادہ سے ہے ۔ اس کا معنی ہے کان دھر کر خاموشی سے سننا ۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا خاموشی اور سننے کا یہ حکم تمام مواقع کے لئے ہے کہ جب قرآن کی تلاوت ہورہی ہو یا صرف حالت نماز کے لئے ہے جبکہ امام جماعت قرات کررہا ہو۔ اس سلسلے میں مفسّرین میں بہت اختلاف ہے ۔ اس ضمن میں حدیث و تفسیر کی کتابوں میں مختلف احادیث نقل کی گئی ہیں ۔

ظاہر آیت سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے یہ ہے کہ حکم عمومی ہے اور سب کے لئے ہے اور کسی معین حالت سے مخصوص نہیں ہے لیکن متعدد روایات جو ہادیاں اسلام سے نقل ہوئی ہیں سے معلوم ہوتا ہے اور علماء نے بھی جس امر پر اجماع و اتفاق کیا ہے یہ ہے کہ تمام اوقات میں استماع اور تلاوت کا سننا واحب نہیں ہے بلکہ یہ ایک مستحب حکم ہے ۔ یعنی بہتر اور مستحب یہ ہے کہ جہاں کہیں اور جس حالت میں کوئی تلاوت قرآن کررہا ہو دوسرے سننے والے احترام قرآن میں سکوت اور خاموشی اختیار کریں اور کان لگا کر خدا کا پیغام سنیں اور اپنی زندگی میں اس سے سبق حاصل کریں کیونکہ قرآن صرف پڑھنے کی کتاب نہیں بلکے سمجھنے اور اس کے بعد عمل کرنے کی کتاب ہے ۔ اس مستحب حکم کی اس قدر تاکید کی گئی ہے کہ بعض روایات میں اسے واجب سے تعبیر کیا گیا ہے ۔

ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا:

یحب الانصات للقرآن فی الصلٰوة و فی غیرهاو اذا قرء عندک القراٰن وجب علیک الانصات والا ستماع

تجھ پر واجب ہے کہ نماز کے علاوہ بھی تلاوت قرآن ہورہی ہو تو خاموشی اختیار کرے اور اسے سنے اور جب تیرے سامنے قرآن پڑھا جائے تو ضروری ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے اور کان دھر کے اسے سنا جائے ۔(۱)

یہاں تک کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر امام جماعت قرات میں مشغول ہو اور کوئی دوسرا آدمی کسی آیت کی تلاوت کرنے لگے تو مستحب ہے کہ امام خاموش ہوجائے یہاں تک کہ وہ آیت ختم کرے پھر امام قرات کی تکمیل کرے جیسا کہ امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے:

حضرت علی علیہ السلام نماز صبح میں مشغول تھے اور (ایک تاریک دل منافق) ”ابن کوا“ آپ(علیه السلام) کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا اچانک اس نے نماز میں اس آیت کی تلاوت کی:

( و لقد اوحیٰٓ الیک والی الذین من قبلک لئن اشرکت لیحبطن عملک و لتکونن من الخاسرین ) ۔(۲)

(اس آیت کی تلاوت سے اس کا مقصد یہ تھا کہ بطور کنایہ حضرت علی (علیه السلام) پر احتمالی طور پر میدان صفین میں حکمیت قبول کرنے پر اعتراض کرے) ۔

لیکن امام نے اس حالت میں بھی احترام قرآن میں سکوت اختیار کیا یہاں تک کہ اس نے آیت ختم کی اس کے بعد امام(علیه السلام) اپنی نماز کی قرات کی طرف لوٹے ۔ ”ابن کوا“ نے دوبارہ وہی کام امام نے پھر سکوت اختیار کیا ۔ ”ابن کوا“ نے تیسری مرتبہ آیت کا تکرار کیا اور حضرت علی (علیه السلام)نے پھر سے احترام قرآن میں سکوت فرمایا ۔ اس کے بعد آپ نے اس آیت کی تلاوت کی :( فاصبرانّ وعد اللّٰه حق ولا یستخفنک الّذین لا یوٴمنون )

(یہ اس طرف اشارہ تھا کہ خدا کا دردناک عذاب منافقین اور بے ایمان لوگوں کے انتظار میں ہے اور ان کے مقابلے میں تحمل اور حوصلہ مندی کا ثبوت دو) ۔آخر کار امام نے سورت کو تمام کیا اور رکوع میں گئے ۔(۳)

اس ساری بحث سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کی آیات کو سنتے وقت استماع اور سکوت بہت ہی مناسب اور اچھا کام ہے لیکن ایسا کلی طور پر واجب نہیں اور شاید اجماع اورروایات کے علاوہ ”( لعلکم ترحمون ) “ (شاید رحمت خدا تمھارے شاملِ حال ہو) بھی اس حکم کے مستحب ہونے کی طرف اشارہ ہو۔

صرف ایک ہی مقام پر یہ حکم الٰہی واجب ہے اور وہ نماز جماعت کا موقع ہے کہ جہاں ماموم سے حمد اور سورة کی قرات کے سقوط کی دلیل سمجھاہے ۔

منجملہ ان روایات کے جو اس حکم پر دلالت کرتی ہیں ایک حدیث ہے جو امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے جس میں آپ(علیه السلام) نے فرمایا ہے:و اذا قرء القرآن فی الفریضة خلف الامام فاستمعواله و انصتوا لعلکم ترحمون

اور جب قرآن نمازِ واجب میں پڑھا جارہا ہو اور تم پیش نماز کے پیچھے ہو تو کان دھر کر سنو اور خاموش رہو۔ شاید رحمت خدا تمھارے شامل حال ہو۔(۴)

رہا سوال لفظ ”لعل“ (شاید)کے بارے میں جو ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے ۔ تو پہلے بھی اشارہ کیا جاچکا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ رحمت خدا تمھارے شامل حال ہونے کے لئے صرف یہ کافی نہیں کہ بس تم سکوت اختیار کرو اور اسے کان دھر کے سنو بلکہ اس کی اور بھی شرائط ہیں کہ جن میں سے ایک اس پر عمل کرنا ہے ۔

اس نکتے کا ذکر بھی برمحل ہے کہ مشہور فقیہ ”فاضل مقداد“ نے کتاب ”کنز العرفان“ میں اس آیت کی ایک اور تفسیر بیان کی ہے اور وہ یہ کہ اس سے مراد آیات قرآن کا سننا، ان کے مفاہیم کو سمجھنا اور اس کے معجزہ ہونے کا کھوج لگانا ہے ۔

یہ تفسیر شاید اس بناء پر کی گئی ہوکہ اس سے پہلے کی آیت میں مشرکین کے متعلق گفتگو تھی کہ وہ نزول قرآن کے بارے میں بہانہ جوئی کرتے تھے، لہٰذا قرآن ان سے کہتا ہے: خاموش رہو اور کان لگا کر سنو تاکہ حقیقت کو پاسکو۔(۵)

اس میں کوئی مانع نہیں کہ مندرجہ بالا آیت کا مفہوم اس قدر وسیع سمجھا جائے کہ اس میں مسلمان اور کافر سب سے خطاب ہو۔ غیر مسلمان سنیں تو سکوت اختیار کریں اور اس میں غور و فکر کریں تاکہ ایمان لے آئیں اور خدا کی رحمت ان کے شامل حال ہو اور مسلمان بھی کان دھریں ، اس کے مفاہیم کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں تاکہ رحمت الٰہی انھیں اپنے جلوہ میں لے لے کیونکہ قرآن سب کے لئے ایمان ،علم اور عل کی کتاب ہے اور یہ کسی ایک گروہ کے لئے مخصوص نہیں ہے ۔

اگلی آیت میں مندرجہ بالا حکم کی تکمیل کے لئے پیغمبر کو حکم دیا گیا ہے (البتہ یہ ایک عمومی حکم ہے اگر چہ روئے سخن پیغمبر کی طرف ہے جیسا کہ قرآن حکیم میں دیگر مقامات پر بھی ایسا ہوا ہے): اپنے پروردگار کو اپنے دل میں تضرع وزاری اور خوف کے ساتھ یاد کرو( وَاذْکُرْ رَبَّکَ فِی نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَخِیفَة ) ۔(۶)

مزید ارشاد ہوتا ہے: اور آہستہ ، آرام اور سکون کے ساتھ اس کا نام زبان پر لاؤ ( وَدُونَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ ) ۔اور ہمیشہ صبح و شام یہ کام جاری رکھو( بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ) ۔

”اصال“”اصیل“ کی جمع ہے جو غروب اور شام کے قریب کا معنی دیتا ہے ۔

اور یاد خدا سے غافل اور بے خبر لوگوں میں سے ہرگز نہ ہوجا( وَلَاتَکُنْ مِنَ الْغَافِلِینَ ) ۔

ہر حالت میں ، ہر روز صبح و شام خدا کی یاد دولوں کی بیداری کا سب ہے اور غفلت کے تاریک بادلوں کو انسان سے دور رکھنے کا ذریعہ ہے ۔ یاد خدا باران بہار کی طرح ہے کہ اس کی پھوار جب دل پر پڑتی ہے تو بیداری، توجہ، احساسِ ذمہ داری، روشن بینی اور ہر قسم کے مثبت اور اصلاحی عمل کے پھول اُگاتی ہے ۔

اس کے بعد سورة کو اس گفتگو پر ختم کیا گیا ہے کہ نہ صرف تمھیں ہی ہر حالت میں یاد خدا میں رہنا چاہیے بلکہ مقرب بارگاہ پروردگار فرشتے اور وہ جو مقام َ قرب میں تیرے پروردگار کے قریب ہیں کسی وقت بھی اس کی عبادت کرنے پر تکبر نہیں کرتے اور مسلسل اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس کی پاک ذات کو ہر اس چیز سے منزہ سمجھتے ہیں جو اس کے مقام و منزلت کے لائق نہیں اور اس کی بارگاہ میں سجدہ ریز رہتے ہیں( إِنَّ الَّذِینَ عِنْدَ رَبِّکَ لَایَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَیُسَبِّحُونَهُ وَلَهُ یَسْجُدُونَ ) ۔

”عند ربک“ یعنی وہ جو تیرے پروردگار کے پاس ہیں ، یہ قربِ مکانی کے معنی نیں ہے کیونکہ خدا کا کوئی مکان نہیں ہے بلکہ قربِ مقام کی طرف اشارہ ہے یعنی وہ اس حیثیت ومقام کے باوجود بندگی، سجدہ اور تسبیح میں کوتاہی نہیں کرتے لہٰذا تم بھی کوتاہی نہ کرو۔

اس آیت کی تلاوت کے وقت سجدہ کرنا مستحب ہے لیکن بعض ال سنّت مثلاً ابوحنیفہ کے پیروکار اسے واجب شمار کرتے ہیں ۔

بارالٰہا! ہمارے دل کو اپنی یاد کے نور سے روشن کردے، وہی روشنی جس کے سائے میں ہم اپنا راستہ حقیقت کی طرف کھول سکیں اور اس نور سے پرچمِ حق لہرائے، ظالموں سے برسرِپیکار رہنے اور ذمہ داریوں کو سمجھنے اور اپنے ذمہ پیغاموں کو پہنچانے میں مدد لیں ۔

سورہ اعراف کی تفسیر اختتام کو پہنچی

____________________

۱۔ تفسیر برہان جلد ۲ ص ۵۷.

۲۔آیت کا مفہوم یہ ہے:

۳۔تفسیر برہان جلد ۲ ص ۵۶.

۴۔تفسیر برہان جلد ۲ ص ۵۷.

۵۔ کنز العرفان جلد اول ص ۱۹۵.

۶۔ ”تضرع“”ضرع“کے مادہ سے ”پستان“ کے معنی میں ہے اس شخص کے کام کو بھی ”تضرع“کہتے ہیں جو انگلیوں کی پوروں سے دودھ دو ہے ۔ بعد ازاں یہ لفظ اظہار خضوع اور تواضع کے لئے استعمال ہونے لگا ۔


سورہ انفال

سورہ انفال کے مختلف اور اہم مباحث

سورہ انفال کی پچھتر آیات میں نہایت اہم مباحث موجود ہیں :

۱ ۔ پہلے اسلام کے اہم مالی مسائل کے کچھ حصّوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، انفال اور غنائم بھی ان میں شامل ہیں کہ جن سے بیت المال کا ایک بڑا حصّہ تشکیل پاتا ہے۔

۲ ۔ دوسرے مباحث میں حقیقی مومنین کی صفات اور امتیازات کا ذکر ہے، جنگ بدر کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جو کہ دشمنوں کے ساتھ مسلمانوں کا مسلح ٹکراؤ تھا، اس جنگ کے عجیب وغریب اور حیرت انگیز حوادث کا ذکر کیا گیا ہے۔

۳ ۔ سورہ کا ایک اہم حصّہ مسلمانوں پر دشمن کے پیہم حملوں کے مقابلے میں احکامِ جہاد پر مشتمل ہے، اس میں مسلمانوں کی اس سلسلے میں ذمہ داریاں بیان کی گئی ہیں ۔

۴ ۔ اس میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے حالات اور ہجرت کی تاریخی رات کا واقعہ بیان ہوا ہے جسے ”لیلة المبیت“ کہتے ہیں ۔

۵ ۔ اسلام سے پہلے مشرکین کی کیفیت اور ان کی خرافات کا بھی تذکرہ ہے

۶ ۔ ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کی کمزوری اور ناتوانی کی کیفیت اور اس کے اسلام کے زیر سایہ ان کی تقویت کا ذکر بھی اس میں موجود ہے۔

۷ ۔ خمس کا حکم اور اس کی تقسیم کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔

۸ ۔بیان کیا گیا ہے کہ ہر دور میں ہر مقام پر جہاد کے لئے جنگی، سیاسی اور اجتماعی تیاری ضروری ہے۔

۹ ۔ظاہری افرادی کمی ہے باوجود معنوی اور روحانی طاقت کے حوالے سے دشمن پر مسلمانوں کی برتری کا ذکر بھی اس میں موجود ہے۔

۱۰ ۔جنگی قیدیوں کے بارے میں احکام اور ان سے سلوک کے بارے میں بھی گفتگو کی گئی ہے۔

۱۱ ۔ہجرت کرنے والوں اور ہجرت نہ کرنے والوں کے بارے میں بات کی گئی ہے۔

۱۲ ۔منافقوں سے مبارزہ ومقابلہ بھی اس میں موجود ہے اور ان کی پہچان کا طریقہ بھی بتایا گیا ہے۔

۱۳ ۔آخر میں اخلاقی، اجتماعی اور دیگر اصلاحی حوالے سے متعدد مسائل بیان کئے گئے ہیں ۔

ان تمام امور کے پیشِ نظر مقامِ تعجب نہیں اگر کچھ روایات میں اس سورہ کی تلاوت کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے، مثلاً امام صادق علیہ السلام سے مروی ایک روایت میں ہے آپ(علیه السلام) نے فرمایا:

من قرء الانفال وبرائة فی کلّ شهر لم یدخله نفاق ابداً وکان من شیعة اٴمیرالمومنین (ع) حقاً ویاٴکل یوم القیامة من موائد الجنة معهم حتی یفرغ الناس من الحساب -

جو شخص ہر ماہ سورہ انفال اور برائت کی تلاوت کرے اس کے وجود میں ہر گز روحِ نفاق داخل نہیں ہوگی اور وہ حقیقی طور پر امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کاپیرو ہوگا اور قیامت کے دن ان کے ساتھ بیٹھ کر جنت کے کھانوں میں سے کھائے گا یہاں تک کہ لوگ اپنے حساب سے فارغ ہوجائیں گے(۱)

جیسا کہ پہلے بھی اشارہ ہوا ہے، قرآن کی سورتوں کے فضائل اور عظیم ثواب کہ جن کا تلاوت کرنے والوں کے لئے وعدہ کیا گیا ہے فقط الفاظ پڑھنے سے ہاتھ نہیں آئیں گے بلکہ پڑھنا تو مقدمہ ہے غور وفکر کرنے کا اور غورو فکر وسیلہ ہے سمجھنے کا اور سمجھنا تمہید ہے عمل کرنے کی اور چونکہ سورہ انفال اور سورہ برائت میں منافقین اور سچّے مومنین کی صفات بیان کی گئی ہیں تو جو افراددونوں سورتوں کو پڑھیں اور اپنی زندگی میں ان کی ہدایت پر عمل پیرا ہوں ان کے وجود میں کبھی بھی روحِ نفاق داخل نہیں ہوسکتی، اسی طرح چونکہ ان دونوں سورتوں میں سچّے مجاہدین کی صفات بیان کی گئی ہیں اور سرورِ مجاہدین حضرت علی علیہ السلام کی فداکاریوں کا کچھ ذکر ہے تو جو افراد ان دونوں سورتوں کے مفاہیم کا ادراک کرلیں اور انھیں اپنے اوپر نافذ کرلیں یقیناً وہ امیرالمومنین علیہ السلام کے سچّے شیعوں میں سے ہوجائیں گے۔

____________________

۱۔ تفسیر مجمع البیان، مذکورہ آیت کے ذیل میں -


آیت ۱

( بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ )

۱-( یَسْاٴَلُونَکَ عَنْ الْاٴَنْفَالِ قُلْ الْاٴَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللهَ وَاٴَصْلِحُوا ذَاتَ بَیْنِکُمْ وَاٴَطِیعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ )

ترجمہ

۱ ۔ تم اس انفال (غنائم اور ہر وہ مال جس کا مالک مشخص نہ ہو) کے بارے میں سوال کرتے ہیں ، کہہ دو: انفال خدا اور رسول سے مخصوص ہے پس خدا (کے حکم کی مخالفت) سے بچو اور پرہیز کرو اور جو بھائی آپس میں لڑے ہوئے ہیں ان میں صلح کراؤ اور خدا اور اس کے پیغمبر کی اطاعت کرو، اگر ایمان رکھتے ہو۔

شان نزول

ابن عباس سے منقول ہے کہ رسول اللہ نے جنگ بدر کے روز مجاہدین اسلام کی تشویق کے لئے کچھ انعامات مقرر کیے اور مثلاً فرمایا کہ جو فلاں دشمن کو قید کرکے میرے پاس لائے گا اسے یہ انعام دوں گا۔ ان میں پہلے ہی روح ایمان و جہاد موجود تھی اوپر سے یہ تشویق بھی، نتیجہ یہ ہوا کہ جو ان سپاہی بڑے افتخار سے مقابلے کے لئے آگے بڑھے اور اپنے مقصد کی طرف لپکے۔بوڑھے سن رسیدہ افراد جھنڈوں تلے موجود رہے۔ جب جنگ ختم ہوئی تو نوجوان اپنے پر افتخار انعامات کے لئے بارگاہ پیغمبر کی طرف بڑھے۔ بوڑھے ان سے کہنے لگے کہ اس میں ہمارا بھی حصّہ ہے کیونکہ ہم تمھارے لئے پناہ اور سہارے کا کام کررہے تھے اور تمھارے لئے جوش و خروش کا باعث تھے۔ اگر تمہارا معاملہ سخت ہوجاتا تو اور تمھیں پیچھے ہٹنا پڑتا تو یقیناً تم ہماری طرف آتے۔ اس موقع پر دو انصاریوں میں تو تکار بھی ہوگئی اور انہوں نے جنگی غنائم کے بارے میں بحث کی۔

اس اثناء میں زیر نظر آیت نازل ہوئی جس میں صراحت کے ساتھ بتلایا گیا کہ غنائم کا تعلق پیغمبر سے ہے وہ جیسے چاہیں انھیں تقسیم فرمائیں ۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے بھی مساوی طور پر سب سپاہیوں میں غنائم تقسیم کردیے اور برادران دینی میں صلح و مصالحت کا حکم دیا۔

تفسیر

جیسا کہ ہم شانِ نزول میں پڑھ چکے ہیں کہ اوپر والی آیت جنگ ”بدر“ کے بعد نازل ہوئی اور جنگی مال غنیمت کے سلسلہ میں بات کررہی ہے اور ایک قانون کلی کے طور پر ایک وسیع اسلامی حکم کو بیان کررہی ہے۔ خدا تعالیٰ پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے ”تجھ سے انفال کے بارے میں سوال کرتے ہیں “۔”( یَسْاٴَلُونَکَ عَنْ الْاٴَنْفَالِ ) “۔

”کہہ دے کہ انفال خدا اور پیغمبر کے ساتھ مخصوص ہیں “۔ ”( قُلْ الْاٴَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُولِ ) “ ۔ اس بناء پر ”تقویٰ اختیار کرو اور اپنے درمیان اصلاح کرو اور وہ بھائی کہ جن کا باہمی جھگڑا ہوگیا ہے ان میں صلح و آتشی کراؤ“ ۔ ”( فَاتَّقُوا اللهَ وَاٴَصْلِحُوا ذَاتَ بَیْنِکُمْ ) “ ۔ ”اور خدا اور اس کے پیغمبر کی اطاعت کرو اگر تم ایمان رکھتے ہو“۔ ”( وَاٴَطِیعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ ) “ ۔ یعنی ایمان صرف زبانی کلامی نہیں بلکہ ایمان کی جلوہ گاہ زندگی کے تمام مسائل میں فرمان خدا و پیغمبر کی بے قید و بند اطاعت کرنا ہے نہ صرف جنگی غنائم میں بلکہ ہر چیز میں ان کے فرمان پر کان دھرنا اور ان کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیے۔

انفال کیا ہے؟

”انفال“ اصل میں ”نفل“ (بروزن ”نفع“)کے مادہ سے ہے اور اس کا فعل ہے زیادتی اور اضافہ۔ مستحب نمازوں کو بھی ”نافلة“ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ واجبات پر اضافہ ہیں ۔ ”نوہ“ کو بھی ”نافلة“ اسی لئے کہتے ہیں چونکہ وہ اولاد میں اضافہ ہوتا ہے۔”نوفل“ ایسے شخص کو کہتے ہیں جو زیادہ بخشش کرتا ہو۔

جنگی غنائم کو انفال کہا جاتا ہے یا تو یہ اس بناء پر ہے کہ یہ اموال کا ایک اضافی سلسلہ ہے جو مالک کے بغیر رہ جاتا ہے اور جنگ کرنے والوں کے ہاتھ آتا ہے جب کہ اس کا کوئی متعیّن مالک نہیں ہوتا اور یا یہ اس لحاظ سے ہے کہ فوجی دشمن پر کامیابی حاصل کرنے کے لئے جنگ کرتے ہیں نہ کہ مال غنیمت کے لئے۔ اس بناء پر غنیمت ایک اضافی چیز ہے جو اُن کے ہاتھ آجاتی ہے۔

چند قابل توجہ نکات

۱۔ مندرجہ بالا آیت اگر چہ جنگی غنائم کے بارے میں ہے لیکن اس کا مفہوم کلی اور عمومی ہے اور یہ حکم تمام اضافی اموال، جن کا مالک مخصوص نہ ہو، کے بارے میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہ اہلِ بیت(علیه السلام) سے منقول روایات میں انفال کا ایک وسیع مفہوم بیان کیا گیا ہے۔ معتبر روایات میں ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

انها ما آخذ من دار الحرب من غیر قتال کالّذی انجلی عنها اهلها وهو المسمیٰ فیئاً ومیراث من لاوارث له، وقطائع الملوک إذا لم تکن مغضوبة والآجام، وبطون الا ودیعة، والمات، فإنّها لِلّٰه ولِرسوله وبعده لمن قام مقامه، یصرفهه حیث یشاء من صالحه ومصالح عیاله

انفال ان اموال کوکہتے ہیں جو دار الحرب سے جنگ کے بغیر حاصل ہوں ، اسی طرح وہ زمین جس کے رہنے والے اسے چھوڑکر ہجرت کرگئے ہوں ، اسے ”فیء“ کا نام دیا گیا ہے اور اس شخص کی میراث جس کا کوئی وارث نہ ہو اور وہ سرزمین تنگ راستے اور غیر آباد زمینیں یہ سب خدا اور پیغمبر کا مال ہیں اور پیغمبر کے بعد اس کا ہے جو ان کا قائم مقام ہو اور وہ اسے ہراس راہ میں کہ جس میں وہ اپنی اور ان لوگوں کی کہ جن کی وہ کفالت کرتا ہے مصلحت دیکھے صرف کرے گا۔(۱)

اگرچہ تمام جنگی غنائم کا مندرجہ بالا حدیث میں ذکر نہیں آیا لیکن ایک اور حدیث جو امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے اُس میں ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا:ان غائم بدر کانت للنّبی خاصّة فقسمها بینهم تفضلاً منه -

جنگ بدر کا مالِ غنیمت سے مخصوص تھا لیکن آپ نے بخشش کے طور پر لشکرِ اسلام میں تقسیم کردیا(۲)

جو کچھ بیان کیا جاچکا ہے اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ انفال کے مفہوم میں نہ صرف غنائم جنگی شامل ہیں بلکہ ہر وہ مال انفال ہے جس کا کوئی مخصوص مالک نہ ہو او رایسے تمام اموال خدا، پیغمبر اور ان کے قائم مقام سے تعلق رکھتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں اسلامی حکومت سے تعلق رکھتے ہیں اور تمام مسلمانوں کے مفاد میں صرف ہوتے ہیں ۔

البتہ جنگی غنائم اور جو منقولہ اموال جنگ میں لشکرِ اسلام کے ہاتھ آئیں ان کے بارے میں قانون اسلام جس کی ہم اس سورہ میں کریں گے یہ ہے کہ پانچ حصّوں میں چار غازیوں کو دیئے جائیں گے اور یہ ان کی تشویق اور زحمات کی کچھ تلافی کے لئے ہے، ایک حصّہ خمس کے طور پر رکھ دیا جائے گا، اس خمس کے مصارف کے بارے میں آیت ۴۱ کے ذیل میں اشارہ کیا جائے گا، اسی طرح سے غنائم بھی انفال کے عمومی مفہوم میں شامل ہیں اور دراصل حکومت اسلامی کی ملکیت ہیں اور پانچ میں سے چار حصّے جو غازیوں کو بخشے گئے ہیں وہ عطیہ اور تفضّل کے طور پر ہے (غور کیجئے گا)۔

۲ ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ خیال پیدا ہو کہ زیر نظر آیت کہ جس کے مفہوم میں جنگی غنائم بھی شامل ہیں اسی سورہ کی آیت ۴۱ کے خلاف ہے جس میں کہا گیا ہے کہ غنائم کا صرف پانچواں حصّہ (یعنی خمس) خدا، پیغمبر اوردیگر مصارف کے لئے ہے کیونکہ اس کا مفہوم تو یہ ہے کہ باقی چار حصّے جنگی سپاہیوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔

لیکن سطور بالا میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ جنگی غنائم در اصل سب خدا اور رسول سے متعلق ہیں اور یہ ایک قسم کی بخشش اور تفضّل ہے کہ ان کے چار حصّے جنگی سپاہیوں کو دے دیئے گئے ہیں ، بہ الفاظ دیگر حکومتِ اسلامی منقولہ غنائم میں سے اپنے حق کے چار حصّے مجاہدین پر صرف کرتی ہے۔ اس مفہوم کے پیش نظر دونوں آیات میں کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوتا۔

یہاں سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ خمس والی آیت جیسا کہ بعض مفسّرین کا خیال ہے آیہ انفال کی ناسخ نہیں ہے بلکہ دونوں اپنی قوّت سے باقی ہیں ۔

۳ ۔ جیسا کہ ہم شانِ نزول میں پڑھ چکے ہیں کہ بعض مسلمانوں کے درمیان جنگی غنائم کے بارے میں جھگڑا ہوگیا تھا۔ اس جھگڑے کو ختم کرنے کے لئے اوّل تو غنیمت کے مسئلے کی جڑ ہی کاٹ دی گئی اور مالِ غنیمت کو مکمل طور پر پیغمبر کے اختیار اور ملکیت میں قرار دے دیا گیا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے درمیان اور ان افراد کے درمیان جن میں جھگڑا ہوا تھا، دوسروں کوصلح ومصالحت کروانے کا حکم دیا گیا۔

اصولی طور پر ”اصلاح ذات البین“ افہام وتفہیم، دشمنیوں اور کدورتوں کا خاتمہ اور نفرت کو محبت اور دشمنی کو دوستی میں تبدیل کرنا اسلام کا ایک اہم ترین پروگرام ہے۔

”ذات“ کا معنی کسی چیز کی خلقت، بنیاد اور اساس ”بین“حالت ارتباط کو اور دوشخصوں یا چیزوں کے درمیان پیوند قائم کرنے اور انھیں آپس میں ملانے کو کہتے ہیں ، اس بناپر کا ”اصلاح ذات البین“مطلب ہے ارتباط کی بنیاد کی اصلاح، پیوند اور جوڑ کی تقویت اور پختگی اور درمیان میں سے تفرقہ ونفاق کے عوامل واسباب کا خاتمہ۔

تعلیماتِ اسلامی میں اس بات کو اس قدر اہمیت دی گئی ہے کہ اسے بلند ترین عبادات میں سے قرار دیا گیا ہے۔ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنی وصیوں میں جبکہ آپ(علیه السلام) بسترِ شہادت پر تھے، اپنے فرزند انِ گرامی سے فرمایا:إنّی سمعت جدکما رسول اللّٰه (ص) یقول: اصلاح ذات البین افضل من عامة الصلوٰة والصیام -

میں نے تمھارے نانا رسول الله کو یہ کہتے ہوئے سنا: لوگوں کے درمیان اصلاحِ رابطہ مختلف قسم کی مستحب نمازوں اور روزوں سے برتر وافضل ہے۔(۱)

کتاب کافی میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے، آپ(علیه السلام) نے فرمایا:

صدقة یحبّها اللّٰه بین الناس إذا تفاسدوا وتقارب بینهم إذا تباعدو -

وہ عطیہ اور بخشش جسے خدا دوست رکھتا ہے وہ لوگوں کے درمیان صلح ومصالحت کروانا ہے جب وہ فسا کی طرف مائل ہوں اور انھیں ایک دوسرے کے قریب کرنا ہے جب کہ وہ ایک دوسرے سے دُور ہوں ۔(۲)

نیز اسی کتاب میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے اپنے صحابی ”مفضل“ سے فرمایا:

إذا راٴیت بین إثنین من شیعتنا منازعة فافتدها من مالی -

جب ہمارے شیعوں میں سے دوافراد میں جھگڑا دیکھو (جو مالی امور سے متعلق ہو) تو میرے مال میں سے تاوان اور فدیہ ادا کرو (اور ان کی صلح کروادو۔(۳)

اسی بناپر ایک اور روایت میں ہے کہ مفضل نے ایک دن شیعوں میں سے دوآدمیوں کو میراث کے معاملے میں جھگڑتے ہوئے دیکھا تو انھیں اپنے گھر بلایا، ان میں چار سو درہم کا اختلاف تھا، وہ مفضل نے انھیں دے دیئے اور ان کا جھگڑا ختم کروادیا، اس کے بعد ان سے کہا کہ تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ میرا مال نہیں تھا، بلکہ امام(علیه السلام) نے مجھے حکم دے رکھا ہے کہ ایسے موقع پر مالِ امام سے استفادہ کرتے ہوئے اصحاب کے درمیان صلح ومصالحت کروادوں ۔(۴)

اجتماعی معاملات میں اس قدر تاکیدیں کیوں کی گئی ہیں ، تھوڑا غوروفکر کیا جائے تو اس کا سبب واضح ہوجاتا ہے۔ کسی قوم کے عظمت، طاقت قدرت اور سربلندی باہمی افہام وتفہیم اور ایک دوسرے سے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ چھوٹے چھوٹے اختلافات کی اصلاح نہ ہو تو عدو۔اوت ودشمنی کی جڑ آہستہ آہستہ دلوں میں اتر جاتی ہے اور ایک متحد قوم کو پراکندہ کرکے رکھ دیتی ہے۔

آسیب زدہ، ضعیف وناتواں اور زبوں حال گروہ ہر حادثے اور ہر دشمن کے مقابلے میں سخت خطرے سے دوچار ہوگا بلکہ اسی جمعیت میں تو نماز، روزہ جیسے اصول مسائل یا خود وجوِ قرآن بھی خطرے میں پڑجائے گا۔ اسی بناپر اصلاح ذات البین کے بعض مراحل شرعاً واجب ہیں حتّیٰ کہ انھیں انجام دینے کے لئے بیت المال کے وسائل سے استفادہ کرنا جائز ہے اور بعض دوسرے مراحل جو مسلمانوں کی سرنوشت کے حوالے سے زیادہ اہم نہیں مستحبّ موکد ہیں ۔

____________________

۱ ۔ نہج البلاغہ-

۲۔ اصولِ کافی، باب اصلاح ذات البین، حدیث۱و۲-

۳۔ اصولِ کافی، باب اصلاح ذات البین، حدیث۱و۲-

۴۔ مدرک قبل-


آیات ۲،۳،۴،

۲-( إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ إِذَا ذُکِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ آیاتُهُ زَادَتْهُمْ إِیمَانًَا وَعَلیٰ رَبِّهِمْ یَتَوَکَّلُونَ ) -

۳-( الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ یُنفِقُونَ ) -

۴-( اٴُوْلٰئِکَ هُمَ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ کَرِیمٌ ) -

ترجمہ

۲ ۔ مومن صرف وہ لوگ ہیں کہ جب خدا کا نام لیا جائے تو ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیات پڑھی جائیں تو ان کا ایمان زیادہ ہوجائے اور وہ صرف اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں ۔

۳ ۔ وہ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔

۴ ۔ حقیقی مومن وہ ہیں کہ جن کے لئے ان کے پروردگار کے پاپس (بے حد) درجات ہیں اور ان کے لئے مغفرت وبخشش ہے اور بے نقص اور بے عیب روزی ہے۔

مومن کی پانچ خصوصیات

گذشتہ آیت میں مسلمانوں کے درمیان غنائم پر ہونے والی بحث کی مناست سے تقویٰ اور ایمان کی بات آگئی تھی۔ اس کی گفتگو کی تکمیل کے لئے زیر نظر آیات میں سچّے اور حقیقی مومنین کی اور پرمعنی عبارتوں میں بیان کی گئی ہیں ۔ ان آیات میں خدا تعالیٰ نے مومنین کی پانچ امتیازی صفات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جن میں سے تین روحانی اور معنوی پہلو رکھتی ہیں اور دوعلمی پہلو رکھتی ہیں ۔

پہلے حصّے میں :احساسِ ذمہ داری،ایمان کا تکامل اور تقاضا، اور توکل شامل ہیں ۔

دوسرے حصّے میں : خدا سے ارتباط اور خلقِ خدا سے تعلق اور ربط شامل ہیں ۔

پہلے ارشاد ہوتا ہے: مومنین صرف وہ لوگ ہیں کہ جب بھی خدا کانام لیاجائے تو ان کے دل احساسِ مسئولیت سے اس کی بارگاہ میں دھڑکنے لگتے ہیں( إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ إِذَا ذُکِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ ) ۔

”وجل“ خوف اور ڈر کی اس کیفیت کو کہتے ہیں جو انسان کو دو میں سے کسی ایک وجہ سے لاحق ہوتی ہے اور وہ یہ کہ انسان میں ذمہ داریوں کے ادراک کے ساتھ یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اُس نے خدا کی طرف سے عائد کردہ لازمی فرائض کو ادا نہیں کیا اور یا یہ کہ انسان کی توجہ خدا کے لامتناہی وجود اور پرہیبت وعظمت مقام کی طرف ہوجاتی ہے۔

اس کی وضاحت یہ ہے کہ کبھی انسان کسی بزرگ شخصیت کو گزرتے دیکھ کر جو واقعاً ہر لحاظ سے باعظمت ہو اس کے مقام سے اس قدر متاثر ہوتا ہے کہ اور اپنے دل میں اس قدرخوف اور وحشت محسوس کرتا ہے کہ بات کرتے ہوئے اس کی زبان میں لکنت پیدا ہوجاتی ہے یہاں تک کہ بعض اوقات وہ اپنی بات بھول جاتا ہے اگرچہ وہ بزرگ شخص اس سے اور دیگر سب سے انتہائی محبّت اور لگاو رکھتا ہو اور ڈرنے والے سے کوئی غلطی بھی سرزد نہ ہوئی ہو اور اس قسم کا عمل عظمت کے ادراک کا عکس العمل ہے۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے:

( لَوْ اٴَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْآنَ عَلیٰ جَبَلٍ لَرَاٴَیْتَهُ خَاشِعًا مُتَصَدِّعًا مِنْ خَشْیَةِ اللهِ )

یہ قرآن اگر ہم پہاڑ پر نازل کرتے تو وہ خوفِ خدا سے پھٹ جاتا۔( حشر/ ۲۱)

نیز یہ بھی ارشاد ہے:( إِنَّمَا یَخْشَی اللهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ )

خدا سے صرف علماء اور عظمت الٰہی سے آگاہ لوگ ہی ڈرتے ہیں ۔(فاطر/ ۲۸)

لہٰذا آگاہی وعلم اور خوف کے درمیان ہمیشہ کا تعلق ہے، اس بناپر یہ اشتباہ ہوگا اگر ہم خوف کا سرچشمہ صرف ذمہ داریوں کی عدم ادائیگی کو سمجھیں ۔

اس کے بعد ان کی دوسری صفت بیان کی گئی ہے: وہ راہِ تکامل میں مسلسل آگے بڑھتے رہتے ہیں اور ایک لحظ بھی آرام نہیں کرتے ”اور جب ان کے سامنے آیاتِ خدا پڑھی جائیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے“( وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ آیاتُهُ زَادَتْهُمْ إِیمَانًَا ) ۔

رشد ونمو اور تکامل وارتقاء تمام زندہ موجودات کی خاصیت ہے جس میں نمو اور تکامل نہ ہو تو وہ مردہ ہے یا موت کے کنارے پہنچ چکا ہے۔ سچّے اور زندہ مومنین یہ ایمان رکھتے ہیں کہ جن کی ہستی کا نوبہار پودا آیاتِ خدا کی آبیاری سے سدا شاداب رہتا ہے تازہ یہ تازہ پھل وپھول پیدا کرتا ہے، وہ زندہ نُما مُردوں کی طرح ایک ہی جگہ اور حالت کا شکار نہیں رہتے اور اُکتادینے والی ایک ہی موت کی سی کیفیت میں نہیں رہتے۔ ہر نیا دن آتا ہے تو ان کی فکر، ایمان اور صفات بھی تازہ ہوتی ہیں ۔

ان کی تیسری نمایاں صفت یہ ہے کہ وہ صرف اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں اور اسی پر توکل کرتے ہیں( وَعَلیٰ رَبِّهِمْ یَتَوَکَّلُونَ ) ۔

ان کا افقِ فکر اس قدر بلند ہے کہ وہ کمزور اور ناتواں مخلوق پر بھروسہ کرنے سے انکار کردیتے ہیں چاہے وہ مخلوق ظاہر میں کتنی ہی عظمت رکھتی ہو اور پانی سرچشمہ سے لیتے ہیں اور وہ جو کچھ چاہتے ہیں اور طلب کرتے ہیں عالم ہستی کے بے کراں سمندر ذاتِ پاک پروردگار سے چاہتے ہیں ۔ ان کی روحِ عظیم ہے اور ان کی سطح فکر بلند ہے اور ان کا سہارا صرف خدا ہے۔

اشتباہ نہ ہو کہ توکّل کا مفہوم جیسا کہ بعض تحریف کرنے والوں نے خیال کیا ہے کہ یہ نہیں کہ عالمِ اسباب سے آنکھیں بند کرلی جائیں ، ہاتھ پر ہاتھ دھرکے بیٹھ جایا جائے اور گوشہ نشین ہوجایا جائے بلکہ اس کا مفہوم ہے خود سازی، بلند نظری اور ایرا غیرا سے عدم وابستگی اور محتاط نظری۔ جہانِ طبیعت اور عالم ہستی کے اسباب سے استفادہ کرنا عین توکّل برخدا ہے ۔چونکہ ان اسباب کی تاثیر منشائے ایزدی اور ارادہ الٰہی کے مطابق ہی ہے۔

سچّے مومنین کی ان تین قسم کی روحانی صفات کو بیان کرنے کے بعد قرآن کہتا ہے کہ وہ احساس مسئولیت اور عظمت پروردگار کے احساس کے تحت اور اسی طرح بڑھتے ہوئے ایمان اور توکّل کی بدولت وہ عملاً دو محکم رشتوں کے حامل ہیں ۔ ایک ان کا خدا سے مستحکم رابطہ اور دوسرا بندگانِ خدا کے لئے خرچ کرتے ہیں( الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ یُنفِقُونَ ) ۔

”نماز پڑھنے“ کی بجائے ”قیام نماز“ کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ وہ نہ صرف نماز پڑھتے ہیں بلکہ وہ اس طرح سے عمل کرتے ہیں کہ پروردگار سے یہ رابطہ اسی طرح ہر جگہ قائم رہتا ہے۔

”مِمَّا رَزَقْنَاھُمْ“ (اور ہم نے جو انھیں روزی دی ہے) یہ تعبیر ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے جو تمام ترمادی ومعنوی سرمائے پر محیط ہے وہ نہ صرف اپنے اموال سے بلکہ اپنے علم و دانش سے، اپنے ہوش وفکر، اپنے مقام وحیثیت سے اور اپنے اثر ورسوخ بھی اور ان تمام نعمات سے جو اُن کے اختیار میں ہیں بندگانِ خدا کی خدمت کرتے ہیں ۔

محل بحث آخری آیت میں اس طرح سچّے مومنین کے بلند مقام ومرتبہ اور فراواں اجر وثواب کو بیا ن کیا گیا ہے۔

پہلے ارشاد ہوتا ہے: حقیقی مومنین صرف وہی ہیں( اٴُوْلٰئِکَ هُمَ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا ) ۔

اس کے بعد ان کے لئے تین اہم جزائیں بیان کی گئی ہیں :

۱ ۔ وہ اپنے پروردگار کے ہاں اہم درجات کے حامل ہیں( لَهُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ ) ۔وہ درجات کہ جن کی مقدار معیّن نہیں اور یہی ابہام ان کے غیر معمولی اور بے حد وحساب ہونے پر دلالت کرتا ہے۔(۱)

۲ ۔ علاوہ ازیں اس کی مغفرت، رحمت اور بخشش ان کے شامل حال ہوگی( وَمَغْفِرَةٌ ) ۔

۳ ۔ اور رزقِ کریم ان کے انتظار میں( وَرِزْقٌ کَرِیمٌ ) ۔ یعنی بے حد وحساب، بے عیب عظیم اور دائمی نعمات ان کی انتظار میں ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم مسلمان جو اسلام کا دم بھر تے ہیں اور اپنے آپ کو اسلام اور قرآن کا طلبگار سمجھتے ہیں بعض اوقات نادانی کی وجہ سے اپنی پسماندگی کا ذمہ اسلام اور قرآن پر ڈال دیتے ہیں ۔ لیکن اگر ہم صرف انہی چند آیات کو کہ جن میں سچّے مومنین کی صفات بیان کی گئی ہیں اپنی زندگی میں اپنالیں یہ ضعف وکمزوری، زبوں حالی اور اِدھر اُدھر سے وابستگی کو ایمان وتوکّل کے زیر سایہ ترک کردیں ، ہر نئے دن میں ایمان اور علم کے نئے مرحلے کی طرف قدم بڑھائیں ، ایمان کے سائے میں اپنے معاشرے کی پیش رفت کے لئے صرف کردیں ، تو کیا پھر بھی ہماری یہی حالت ہوگی جو آج ہے؟

اس امر کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ایمان کے کئی مرحلے اور درجے ہیں بعض مراحل میں ہوسکتا ہے کہ ایمان اس قدر کمزور ہو کہ عملاً دکھائی نہ دے اور بہت سی آلودگیاں بھی انسان کے ساتھ ہوں لیکن ایک حقیقی راسخ اور محکم ایمان کے نہایت پست مرحلے اور درجے پر ہے۔


آیات ۵،۶

۵-( کَمَا اٴَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْ بَیْتِکَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِیقًا مِنَ الْمُؤْمِنِینَ لَکَارِهُونَ )

۶-( یُجَادِلُونَکَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ کَاٴَنَّمَا یُسَاقُونَ إِلَی الْمَوْتِ وَهُمْ یَنظُرُونَ )

ترجمہ

۵ ۔ (بدر کے مالِ غنیمت سے متعلق تم میں سے بعض ناکواری) اسی طرح ہے کہ جیسے خدا نے تجھے تیرے گھر سے حق کے ساتھ باہر (میدان بدر کی طرف) نکالا جبکہ مومنین کا ایک گروہ اسے پسند نہیں کرتا تھا (لیکن اس کا انجام ایک واضح کامیابی تھا)۔

۶ ۔ اگرچہ وہ جانتے تھے کہ یہ فرمانِ خدا ہے پھر بھی وہ تجھ سے مجادلہ کرتے تھے (اور خوف وہراس نے انھیں یوں گھیر رکھا تھا) گویا انھیں موت کی طرف لے جایا رہا ہے اور (گویا وہ اسے اپنی آنکھ سے) دیکھ رہے ہیں ۔

تفسیر

اس سورہ کی پہلی آیت میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ نئے مسلمانوں میں کچھ لوگ جنگ بدر کے غنائم کی تقسیم کی کیقیت سے ناراض تھے یہاں تک کہ زیر بحث آیات میں بھی خداوندعالم انھیں کہتا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ کوئی چیز تمھیں اچھی نہ لگے چاہے تمھاری مصلحت اسی میں ہو جیسا کہ خود جنگ بدر تم میں سے بعض کو ناپسند تھی کہ جس کے مالِ غنیمت کے بارے میں اب تم گفتگو کررہے ہو لیکن تم نے دیکھا کہ آخرکار وہ مسلمانوں کے لئے درخشاں نتائج کی حامل ہوئی لہٰذا احکام الٰہی کو اپنی کوتاہ نظر سے نہ دیکھو بلکہ ان کے سامنے سرتسلیم خم کرو اور ان کے اصلی نتائج سے فائدہ اٹھاؤ۔

پہلی آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے : غنائمِ بدر پر کچھ افراد کی یہ ناگواری ایسے ہی ہے جیسے خدا نے تجھے تیرے گھر اور مقام مدینہ سے حق کے ساتھ باہر نکالا جبکہ کچھ مومنین اس سے کراہت کررہے تھے اور اسے ناپسند کرتے تھے( کَمَا اٴَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْ بَیْتِکَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِیقًا مِنَ الْمُؤْمِنِینَ لَکَارِهُونَ ) ۔

”بِالْحَقِّ“ اس طرف اشارہ ہے کہ خروج کا یہ حکم الٰہی اور پیغامِ آسمانی کے مطابق دیا گیا تھا کہ جس کا نتیجہ اسلامی معاشرے کے حق میں تھا۔

یہ ظاہر بین اور کم حوصلہ لوگ بدر کی طرف جاتے ہوئے راستے میں اس فرمانِ حق کے بارے میں مسلسل تجھ سے مجادلہ اور گفتگو کرتے رہے اگرچہ وہ جانتے تھے کہ یہ حکم خدا ہے پھر بھی اعتراض سے باز نہیں آتے تھے( یُجَادِلُونَکَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ ) ۔ اور انھیں خوف وہراس نے یوں گھیر رکھا تھا جیسے انھیں موت کی طرف دھکیلا جارہا ہو اور گویا وہ اپنی موت اور نابودی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں( کَاٴَنَّمَا یُسَاقُونَ إِلَی الْمَوْتِ وَهُمْ یَنظُرُونَ ) ۔

بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ وہ کس قدر غلط فہمی کا شکار تھے اور بلاوجہ خوف وہراس میں گرفتار تھے اور جنگ بدر مسلمانوں کے لئے کیسی درخشاں کامیابی لے کر آئی تو یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود انھوں نے جنگ بدر کے بعد مالِ غنیمت کے سلسلے میں زبان اعتراض کیوں دراز کی ہے۔

ضمنی طور پر ”( فَرِیقًا مِنَ الْمُؤْمِنِینَ ) “ کی تعبیر سے واضح ہوتا ہے کہ اوّل تو یہ جھگڑا اور گفتگو منافقت اور بے ایمانی کی وجہ سے نہ تھی بلکہ ایمان کی کمزوری اور اسلامی مسائل کے بارے میں کافی دانش وبینش نہ ہونے کی وجہ سے تھی۔

دوسری بات یہ کہ صرف چند افراد ہی ایسی فکر رکھتے تھے اورمسلمانوں کی اکثریت جو سچّے مجاہدوں پر مشتمل تھی فرمانِ پیغمبر اور ان کے اوامر کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوئے تھی۔


آیات ۷،۸

۷-( وَإِذْ یَعِدُکُمْ اللهُ إِحْدیٰ الطَّائِفَتَیْنِ اٴَنَّهَا لَکُمْ وَتَوَدُّونَ اٴَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَةِ تَکُونُ لَکُمْ وَیُرِیدُ اللهُ اٴَنْ یُحِقَّ الْحَقَّ بِکَلِمَاتِهِ وَیَقْطَعَ دَابِرَ الْکَافِرِینَ ) -

۸-( لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ کَرِهَ الْمُجْرِمُونَ ) -

ترجمہ

۷ ۔ اور وہ وقت یاد کرو جب خدا نے تم سے وعدہ کیا کہ قریش کے تجارتی قافلے اور (ان کا لشکر، ان) دوگروہوں میں سے تمھارے لئے ایک ہوگا (اور تم اس پر کامیاب ہوجاؤگے) لیکن خدا چاہتا ہے کہ اپنے کلمات سے حق کو تقویت دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے (لہٰذا لشکر قریش سے تمھاری مڈبھیڑ کروادی)

۸ ۔ تاکہ حقثابت ہوجائے اور باطل ختم ہوجائے اگرچہ مجرم اسے ناپسند کرتے ہوں اور اس سے کراہت کرتے ہوں ۔

اسلام اور کفر کا پہلا تصادم۔

جنگ بدر

گذشتہ آیات میں جنگِ بدر کی طرف اشارہ ہوچکا ہے لہٰذا قرآن مجید بحث کو جنگ بدر کے واقعہ کی طرف کھینچ لایا ہے۔ زیر بحث آیات اور آئندہ کی کچھ آیات اس سلسلے کے بعض نہایت حسّاس پہلووں کی وضاحت کی گئی ہے جن میں سے ہر کوئی اپنے اندر تعلیم وتربیت کی ایک دنیا لئے ہوئے ہے، یہ اس لئے ہے تاکہ مسلمان ان حقائق کو کہ جن کا کچھ تجربہ وہ کرچکے ہیں ہمیشہ کے لئے دلنشین کرلیں اور ہمیشہ ان سے سبق حاصل کرتے رہیں ۔

زیرِ نظر آیات اور آئندہ کی آیات کی توضیح وتفسیر سے پہلے اس اسلامی جہاد کا مختصر خاکہ پیش کردینا ضروری ہے کہ جو سخت ترین اور خون آشام دشمنوں کی پہلی مسلح جنگ یہ اس لئے ہے تاکہ ان آیات میں جو باریک نکتے اور اشارات آئے ہیں وہ مکمل طور پر واضح ہوسکیں ۔

مورخین، محدّثین اور مفسّرین نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ یہ ہے:

جنگ بدر کی ابتدا یہاں سے ہوئی کہ مکہ والوں کا ایک اہم تجارتی قافلہ شام سے مکہ کی طرف واپس جارہا تھا، اس قافلے کو مدینہ کی طرف گزرنا تھا۔ اہلِ مکہ کا سردار ابوسفیان قافلہ کا سالار تھا۔ اس کے پاس پچاس ہزار دینار کا مال تجارت تھا۔ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے اپنے اصحاب کو اس عظیم فاقلے کی طرف تیزی سے کوچھ کا حکم دیا کہ جس کے پاس دشمن کا ایک بڑا سرمایہ تھا تاکہ اس سرمائے کو ضبط کرکے دشمن کی اقتصادی قوت کو سخت ضرب لگائی جائے تاکہ اس کا نقصان دشمن کی فوج کو پہنچے۔

پیغمبر اور ان کے اصحاب ایسا کرنے کا حق رکھتے تھے کیونک مسلمان مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرکے آئے تو اہل مکّہ نے ان کے بہت سے اموال پر قبضہ کرلیا تھا جس سے مسلمانوں کو سخت نقصان اٹھانا پڑا لہٰذا وہ حق رکھتے تھے کہ اس نقصان کی تلافی کریں ۔

اس سے قطع نظر بھی اہل مکہ نے گذشتہ تیرہ برس میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور مسلمانوں سے جو سلوک روا رکھا اس سے بات ثابت ہوچکی تھی وہ مسلمانوں کو ضرب لگانے اور نقصان پہنچانے کے لئے کوئی موقع ہاتھ سے نہیں گنوائیں گے یہاں تک کہ وہ خود پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو قتل کرنے پر تُل گئے تھے۔ ایسا دشمن پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے ہجرت مدینہ کی وجہ سے بے کار نہیں بیٹھ سکتا تھا، واضح تھا کہ وہ قاطع ترین ضرب لگانے کے لئے اپنی قوت مجتمع کرتا۔ پس عقل ومنطق کا تقاضا تھا کہ پیش بندی کے طور پر ان کے تجارتی قافلے کو گھیر کر اس کے اتنے بڑے سرمائے کو ضبط کرلیا تھا تاکہ اُس پر ضرب پڑے اور اپنی فوجی اور اقتصادی بناید مضبوط کی جاتی۔ ایسے اقدامات آج بھی اور گذشتہ ادوار میں بھی عام دنیا میں فوجی طریق کار کا حصّہ رہے ہیں ۔ جو لوگ ان پہلووں کو نظر انداز کرکے قافلے کی طرف پیغمبر کی پیش قدمی کو ایک طر ح کی غارت گری کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں یا تو وہ حالات سے آگاہ نہیں اور اسلام کے تاریخی کے بنیادی سے بے خبر ہیں اور یا ان کے کچھ مخصوص مقاصد ہیں جن کے تحت وہ واقعات وحقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں ۔

بہرحال ایک طرف ابوسفیان کو مدینہ میں اس کے دوستوں کے ذریعے اس امر کی اطلاع مل گئی اور دوسری طرف اُس نے اہلِ مکہ کو صورت حال کی اطلاع کے لئے ایک تیز رفتار قاصد روانہ کردیا کیونکہ شام کی طرف جاتے ہوئے بھی اسے اس تجارتی قافلے کی راہ میں رکاوٹ کا ندیشہ تھا۔

قاصد ابوسفیان کی نصیحت کے مطابق اس حالت میں مکہ میں داخل ہوا کہ اس نے اپنے اونٹ کی ناک کو چیر دیا تھا تھا اس کے کان کاٹ دیئے تھے، خون ہیجان انگیز طریقے سے اونٹ سے بہہ رہا تھا، قاصد نے اپنی قمیص کو دونوں طرف سے پھاڑدیا تھا اور اونٹ کی پشت کی طرف منھ کرکے بیٹھا ہوا تھا تاکہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرسکے ۔ مکہ میں داخل ہوتے ہی اس نے چیخنا چلّانا شروع کردیا:

اے کامیاب وکامران لوگو! اپنے قافلے کی خبر لو، اپنے کارواں کی مدد کرو، جلدی کرو، لیکن مجھے امید نہیں کہ تم وقت پر پہنچ سکو، محمد اور تمھارے دین سے نکل جانے والے افراد کقافلے پر حملے کے لئے نکل چکے ہیں ۔

اس موقع پر پیغمبر کی پھوپھی عاتکہ بنت عبدالمطلب کا ایک عجیب وغریب خواب بھی مکہ میں زبان زد عام تھا اور لوگوں کے ہیجان میں اضافہ کررہا تھا۔ خواب کا ماجرا یہ تھا کہ عاتکہ نے تین روز قبل خواب میں دیکھا کہ: ایک شخص پکار رہا ہے کہ لوگو! اپنی قتل گاہ کی طرف جلدی چلو۔ اس کے بعد وہ منادی کوہ ابوقبیس کی چوٹی پر چڑھ گیا۔ اس نے پتھر کی ایک بڑی چٹان کو حرکت دی تو وہ چٹان ریزہ ریزہ ہوگئی اور اس کا ایک ایک ٹکڑا قریش کے ایک ایک گھر میں جا پڑا اور مکہ کے درّے سے خون کا سیلاب جاری ہوگیا۔

عاتکہ وحشت زدہ ہوکی خواب سے بیدار ہوئی اور اپنے بھائی عبّاس کو سنایا۔ اس طرح خواب لوگوں تک پہنچا تو وہ وحشت وپریشانی میں ڈوب گئے۔ ابوجہل نے خواب سنا تو بولا: یہ عورت دوسرا پیغمبر ہے اولاد عبدالمطلب میں ظاہر ہوا ہے۔ لات وعزیٰ کی قسم ہم تین دن مہلت دیتے ہیں اگر اتنے عرصے میں اس خواب کی تعبیر ظاہر نہ ہوئی تو ہم آپس میں ایک تحریر لکھ کر اس پر دستخط کریں گے کہ بنی ہاشم قبائل عرب میں سے سب سے زیادہ جھوٹے ہیں ، تیسرا دن ہوا توابوسفیان کا قاصد آپہنچا، اُس کی پکار نے تمام اہل مکہ کو ہلاک رکھ دیا اور چونکہ تمام اہلِ مکہ کا اس قافلے میں حصّہ میں تھا سب فوراً جمع ہوگئے۔ ابوجہل کی کمان میں ایک لشکر تیار ہوا۔ اس میں ۹۵۰ جنگجو تھے جن میں سے بعض ان کے بڑے اور مشہور سردار بہادر تھے، ۷۰۰ اونٹ تھے اور ۱۰۰ گھوڑے تھے۔ لشکر مدینہ کی طرف روانہ ہوگیا۔

پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم ۳۱۳/ افراد کے ساتھ جن میں تقریباً تمام مجاہدین اسلام تھے سرزمین بدر کے پاس پہنچ گئے تھے، یہ مقام مکہ اور مدینہ کے راستے میں ہے۔ یہاں آپ کو قریش کے لشکر کی روانگی کی خبر ملی۔ اس وقت آپ نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ کیا ابوسفیان کے قافلے کا تعاقب کیا جائے اور قافلے کے مال پر قبضہ کیا جائے یا لشکر کے مقابلے کے لئے تیار ہوا جائے۔ ایک گروہ نے دشمن کے لشکر کا مقابلہ کرنے کو ترجیح دی جبکہ دوسرے گروہ نے اس تجویز کو ناپسند کیا اور قافلے کے تعاقب کو ترجیح دی۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ ہم مدینہ سے مکہ کی فوج کا مقابلہ کرنے کے ارادے سے نہیں نکلےتھے اور ہم نے لشکر کے مقابلے کے لئے جنگی تیاری نہیں کی تھی جبکہ وہ ہماری طرف پوری تیاری سے آرہا ہے۔

اس اختلاف رائے اور تردّد میں اس وقت اضافہ ہوگیا جب انھیں معلوم ہوا کہ دشمن کی تعداد مسلمانوں کی تعداد سے تقریباً تین گُنا ہے اور ان کا سازوسامان بھی مسلمانوں سے کئی گُنا زیادہ ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے پہلے گروہ کے نظریے کو پسند فرمایا اور حکم دیا کہ دشمن کی فوج پر حملے کی تیاری کی جائے۔

جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو دشمن کو یقین نہ آیا کہ مسلمان اس قدر سازوسامان کے ساتھ میدان میں آئے ہوں گے۔ ان کا خیال تھا کہ سپاہ اسلام کا اہم حصّہ کسی مقام پر چھپا ہوا ہے تاکہ وہ غفلت میں کسی وقت ان پر حملہ کردے لہٰذا انھوں نے ایک شخص کو تحقیقات کے لئے بھیجا۔ انھیں جلدی معلوم ہوگیا کہ مسلمانوں کی جمعیت یہی ہے جسے وہ دیکھ رہے ہیں ۔

دوسری طرف جیسا کہ ہم نے کہاہے مسلمانوں کا ایک گروہ وحشت وخوف غرق تھا۔ اس کا اصرار تھا کہ اتنی بڑی فوج کہ جس سے مسلمانوں کا کوئی موازنہ نہیں ، خلاف مصلحت ہے لیکن پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے خدا کے وعدے سے انھیں جوش دلایا اور انھیں جنگ پر اُبھارا۔ آپ نے فرمایا کہ خدا نے مجھے وعدہ دیا ہے کہ دو گروہوں میں سے ایک پر تمھیں کامیابی حاصل ہوگی قریش کے قافلے پر یا لشکرِ قریش پر اور خدا کے وعدہ کے خلاف نہیں ہوسکتا۔ خدا کی قسم ابوجہل اور کئی سردارانِ قریش کے مقامِ قتل کو گویا میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں ۔

اس کے بعد آپ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ بدر(۱) کے کنویں کے قریب پڑاو ڈالیں ۔

اس ہنگامے میں ابوسفیان اپنا قافلہ خطرے کے علاقے سے نکال لے گیا۔ اصل راستے سے ہٹ کر دریائے احمر کے ساحل کی طرف سے وہ تیزی سے مکہ پہنچ گیا۔ اس کے ایک مقاصد کے ذریعے لشکر کو پیغام بھیجا:

خدا نے تمھارا قافلہ بچالیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ان حالات میں محمد کا مقابلہ کرنا ضروری نہیں کیونکہ اس کے اتنے دشمن ہیں جو اس کا حساب چکالیں گے۔

لشکر کے کمانڈر ابوجہل نے اس تجویز کو قبول نہ کیا۔ اُس نے اپنے بڑے بتوں لات اور عزیٰ کی قسم کھائی کہ نہ صرف ان کا مقابلہ کریں گے بلکہ مدینہ کے اندر تک ان کا تعاقب کریں گے یا انھیں قید کرلیں گے اور مکہ میں سے آئیں گے تاک ہاس کامیابی کا شہرہ تمام قبائلِ عرب کے کانوں تک پہنچ جائے۔

ماحول پُر ہیبت اور وحشت ناک تھا۔ لشکرِ ریش کے پاس فراوان جنگی سازوسامان تھا۔ یہاں تک کہ حوصلہ بڑھانے کے لئے وہ گانے بجانے والی عورتوں کو بھی ساتھ لائے تھے۔ وہ اپے سامنے ایسے حریف کو دیکھ رہے تھے کہ انھیں یقین نہیں آتا تھا کہ ان حالات میں وہ میدان جنگ میں قدم رکھے گا۔

پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم دیکھ رہے تھے کہ ممکن ہے آپ کے اصحاب خوف ووحشت کی وجہ سے آرام سے نہ سوسکیں اور پھر کل دن کو تھکے ہوئے جسم اور روح کے ساتھ دشمن کے مقابل ہوں لہٰذا خدا کے وعدے کے مطابق اُن سے فرمایا:

تمھاری تعداد کم ہو تو غم نہ کرو۔ آسمانی فرشتوں کی ایک عظیم جماعت تمھاری مدد کے لئے آئے گی۔

آپ نے انھیں خدائی وعدے کے مطابق اگلے روز فتح کی پوری تسلی دے کر مطمئن کردیا اور وہ رات آرام سے سوگئے۔

دوسری مشکل جس سے مجاہدین کوپریشانی تھی وہ میدانِ بدر کی کیفیت تھی۔ ان کی طرف زمین نرم تھی اور اس میں پاوں دھنس جاتے تھے۔ رات یہ ہوا کہ خوب بارش ہوئی۔ اس کے پانی سے مجاہدین نے وضو کیا، غسل کیا اور تازہ دم ہوگئے۔ ان کے نیچے کی زمین بھی اس سے سخت ہوگئی۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ دشمن کی طرف اتنی زیادہ بارش ہوئی کہ وہ پریشان ہوگئے۔

دشمن کے لشکر گاہ سے مسلمان جاسوس کی طرف ایک نئی خبر موصول ہوئی اور جلد ہی مسلمانوں میں پھیل گئی۔ خبر یہ تھی کہ فوج قریش اپنے تمام وسائل کے باوجود خوفزدہ ہے۔ گویا وحشت کا ایک لشکر خدا نے ان کے دلوں کی طرزمین پر اپتار دیا تھا۔

اگلے روز چھوٹا سا اسلامی لشکر بڑے ولولے کے ساتھ دشمن کے سامنے صف آراء ہوا۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے پہلے انھیں صلح کی تجویز پیش کی تاکہ عذر اور بہانہ باقی نہ رہے، آپ نے ایک نمائندے کے ہاتھ پیغام بھیجا کہ میں نہیں چاہتا کہ تم وہ پہلا گروہ بن جاو کہ جس پر ہم حملہ آور ہوں ۔

بعض سردارانِ قریش چاہتے تھے کہ یہ صلح ہاتھ جو ان کی طرف بڑھایا گیا ہے اسے تھام لیں اور صلح کرلیں لیکن پھر ابوجہل مانع ہوا۔

آخرکار جنگ شروع شروع ہوئی۔ اس زمانے کے طریقے کے مطابق پہلے ایک نکلا۔ اِدھر لشکرِ اسلام میں رسول الله کے چچا ہمزہ اور حضرت علی(علیه السلام) جو جوان ترین افراد تھے میدان میں نکلے۔ مجاہدین اسلام میں چند بہادر بھی اس جنگ میں شریک ہوئے۔ ان جوانوں نے اپنے حریفوں کے پیکر پر سخت ضربیں لگائیں اور کاری وار کیے اور ان کے قدم اکھیڑ دیئے۔ دشمن کا جذبہ اور کمزور پڑگیا۔ یہ دیکھا توابوجہل نے عمومی حملے کا حکم دے دیا۔

ابوجہل پہلے ہی حکم دے چکا تھا کہ اصحابِ پیغمبر میں سے جو اہل مدینہ میں سے ہیں انھی قتل کردو، مہاجرین مکہ کو اسیر کرلو۔ مقصد یہ تھا کہ پراپیگنڈا کے لئے انھیں مکہ لے جائیں ۔

یہ لمحات بڑے حسّاس تھے۔ رسول الله نے حکم دیا کہ جمعیت کی کثرت پر نظر نہ کریں اور صرف اپنے مدمقابل پر نگاہ رکھیں ۔ دانتوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر پیسیں ، باتیں کم کریں ، خدا سے مدد طلب کریں ، حکمِ پیغمبر سے کہیں رتی بھر سرتابی نہ کریں اور مکمل کامیابی کی اُمید رکھیں ۔

رسول الله نے دستِ دعا آسمان کی طرف بلند کئے اور عرض کیا:

____________________

۱۔ تفسیر نور الثقلین، ج۴، ص۱۲۱، اور تفسیر مجمع البیان، ج۴، ص۵۲۱تا۵۲۳ (اختصار کے ساتھ کہیں کہیں وضاحت بھی کی گئی ہے)۔


تفسیر

جنگ بدر کی کچھ کیفیت بیان ہوچکی ہے۔ اب ہم زیرِ نظر آیت کی تفسیر کی جانب لوٹتے ہیں ، پہلی آیت میں جنگ بدر میں اجمالی طور پر کامیابی کے خدائی وعدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ وقت یاد کرو جب خدا نے تم سے وعدہ کیا کہ دو گروہوں میں سے ایک (قریش کا تجارتی قافلہ یا لشکرِ قریش ) تمھارے قبضے میں دے گا( وَإِذْ یَعِدُکُمْ اللهُ إِحْدیٰ الطَّائِفَتَیْنِ اٴَنَّهَا لَکُمْ ) ۔ لیکن تم جنگ کی مصیبت ، اس سے تلف ہونے والے جان ومال اور اس سے پیدا ہونے والی پریشانیوں کی وجہ سے چاہتے تھے کہ قافلہ تمھارے قبضے میں آجائے نہ کہ لشکرِ قریش( وَتَوَدُّونَ اٴَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَةِ تَکُونُ لَکُمْ ) ۔

روایات میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے ان سے فرمایا:احدی الطائفتین لکم امّا العیر وامّا النفیر -”عیر“ کا معنی ہے ”لشکر“ لیکن جیسا کہ آپ آیت میں ملاحظہ کررہے ہیں کہ ”لشکر“ کے لئے ”ذات الشوکة“ اور ”قافلہ“ ”غیر ذات الشوکة“آیا ہے۔

یہ تعبیر ایک لطیف نکتے کی حامل ہے کیونکہ ”شوکة“کہ جو قدرت وشدّت کے معنی میں ہے دراصل ”شوک“ سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے ”کاٹنا“ بعد ازاں یہ لفظ فوجیوں کے نیزوں کی انیوں کے لئے استعمال ہونے لگا اور پھر ہر قسم کے ہتھیاروں کو ”شوکة“کہا جانے لگا۔

لہٰذا ”ذات الشوکة“مسلح فوج کے معنی میں ہے اور ”غیر ذات الشوکة“غیر مسلح قافلے کے مفہوم میں ہے۔ اب اگر اس میں کچھ مسلح بھی تھے تو مسلم ہے کہ وہ زیادہ نہ تھے۔

مفہوم یہ ہوا کہ: تم میں سے ایک گروہ آرام طلبی کے لئے یا مادّی مفاد کے لئے چاہتا تھا کہ مالِ تجارت کی طرف جایا جائے نہ کہ مسلح فوج کا سامنا کیا جائے حالانکہ اختتامِ جنگ نے ثابت کردیا کہ ان کی حقیقی مصلحت اس میں تھی کہ وہ دشمن کی فوجی طاقت کو درہم وبرہم کردیں تاکہ آئندہ کی کامیابیوں کی راہ ہموار ہوجائے لہٰذا اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے : خدا چاہتا ہے کہ اس طرح سے اپنے کلمات سے حق کو ثابت کرے اور دینِ اسلام کو تقویت دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے( وَیُرِیدُ اللهُ اٴَنْ یُحِقَّ الْحَقَّ بِکَلِمَاتِهِ وَیَقْطَعَ دَابِرَ الْکَافِرِینَ ) ۔(۱) لہٰذا یہ تم مسلمانوں کے لئے بہت بڑا درسِ عبرت تھا کہ مختلف حوادث میں ہمیشہ دور اندیشی سے کام لو، مستقبل کی تعمیر کرو، کوتاہ اندیش نہ بنو اور صرف آج کی فکر میں نہ رہو اگرچہ دور اندیشی اور انجامِ کار پر نظر رکھنے میں ایک وسیع اور ہمہ گیر کامیابی ہے جبکہ دوسری کامیابی ایک سطحی اور وقتی کامیابی ہے۔

یہ صرف اس زمانے کے مسلمانوں کے لئے درس عبرت نہیں ہے بلکہ آج کے مسلمانوں کو بھی اس آسمانی تعلیم سے الہام لینا چاہیے۔ مشکلات، پریشانیوں اور طاقت فرسا مصیبتوں کی وجہ سے اصولی روگرام سے چشم پوشی کرکے غیر اصولی، معمولی اور کم وقت طلب کاموں کے پیچھے ہرگز نہیں جانا چاہیے۔

اگلی آیت میں زیادہ واضح طور پر اس مطلب سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اس پروگرام کا (مسلمانوں کی میدان بدر میں فوجِ دشمن سے مڈبھیڑ کا) اصلی ہدف اور مقصد یہ تھا کہ حق یعنی توحید، اسلام، عدالت اور انسانی آزادی خرافات قیدوبند اور مظالم کے چنگل سے آزاد ہوجائے اور باطل یعنی شرک، کفر، بے ایمانی، ظلم اور فساد ختم ہوجائے اگرچہ مجرم مشرکین اور مشرک مجرمین اسے پسند نہ کریں( لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ کَرِهَ الْمُجْرِمُونَ )

کیا یہ آیت گذشتہ آیت کے مفہوم کی تاکید کرتی ہے جیسا کہ پہلی نظر میں دکھائی دیتا ہے یا اس کوئی نیا مفہوم ہے اس سلسلے میں بعض مفسّرین نے مثلاً فخر الدین رازی نے ”تفسیر کبیر“ میں اور صاحب المنار نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ لفظ ”حق“ گذشتہ آیت میں جنگ بدر میں مسلمانوں کی کامیابی کیطرف اشارہ ہے لیکن یہی لفظ دوسری آیت میں اسلام اور قرآن کی اس کامیابی کی طرف اشارہ ہے جو جنگ بدر میں فوجی کامیابی کے نتیجہ میں حاصل ہوئی ہے۔ اس طرح سے فوجی کامیابی ان خاص حالات میں ہدف ، مقصد اور مکتب کی کامیابی کی تمہید تھی۔

یہ احتمال بھی ہے کہ پہلیآیت خدا کے (تشریعی) ارادے کی طرف اشارہ ہو (جوپیغمبر کے فرمان کی صورت میں ظاہر ہوا تھا) اور دوسری آیت میں اس حکم اور فرمان کے نتیجے کی طرف اشارہ ہو (غور کیجئے گا)

آخرکار لشکر قریش مقامِ بدر تک آپہنچا ۔ انھوں نے اپنے غلام پانی لانے کے لئے کنویں کی طرف بھیجے، اصحابِ پیغمبر نے انھیں پکڑلیا اور ان سے حالات معلوم کرنے کے لئے انھیں خدمت پیغمبر میں لئے آئے، حضرت نے ان سے پوچھا تم کون ہو؟ انھوں نے کہا: ہم قریش کے غلام ہیں ۔ فرمایا: لشکر کی تعداد کیا ہے؟ انھوں نے کہا: ہمیں اس کا پتہ نہیں ۔ فرمایا: ہر روز کتنے اونٹ کھانے کے لئے نحر کرتے ہیں ؟ انھوں نے کہا: نو سے دس تک۔ فرمایا: ان کی تعداد ۹ سوسے لے کر ایک ہزار تک ہے (ایک اونٹ ایک سو فوجی کی خوراک ہے)۔

____________________

۱۔ ”بدر“ در اصل قبیلہ جہینیہ کے ایک شخص کا نام تھا اس مقام پ کنواں کھودا تھا اس کے بعد وہ سرزمینِ بدر اور کنواں چاہِ بدر کے نام سے مشہور ہوگیا۔


آیات ۹،۱۰،۱۱،۱۲،۱۳،۱۴

۹-( إِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اٴَنِّی مُمِدُّکُمْ بِاٴَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِکَةِ مُرْدِفِینَ )

۱۰-( وَمَا جَعَلَهُ اللهُ إِلاَّ بُشْریٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِ قُلُوبُکُمْ وَمَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِنْدِ اللهِ إِنَّ اللهَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ )

۱۱-( إِذْ یُغَشِّیکُمْ النُّعَاسَ اٴَمَنَةً مِنْهُ وَیُنَزِّلُ عَلَیْکُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِیُطَهِّرَکُمْ بِهِ وَیُذْهِبَ عَنکُمْ رِجْزَ الشَّیْطَانِ وَلِیَرْبِطَ عَلیٰ قُلُوبِکُمْ وَیُثَبِّتَ بِهِ الْاٴَقْدَامَ )

۱۲-( إِذْ یُوحِی رَبُّکَ إِلَی الْمَلَائِکَةِ اٴَنِّی مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِینَ آمَنُوا سَاٴُلْقِی فِی قُلُوبِ الَّذِینَ کَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْاٴَعْنَاقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ کُلَّ بَنَانٍ )

۱۳-( ذٰلِکَ بِاٴَنَّهُمْ شَاقُّوا اللهَ وَرَسُولَهُ وَمَنْ یُشَاقِقْ اللهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ اللهَ شَدِیدُ الْعِقَابِ )

۱۴-( ذَلِکُمْ فَذُوقُوهُ وَاٴَنَّ لِلْکَافِرِینَ عَذَابَ النَّارِ )

ترجمہ

۹ ۔ وہ وقت یاد کرو (جب انتہائی پریشانی کے عالم میں میدانِ بدر میں ) اپنے پروردگا سے تم مدد چاہ رہے تھے اور اس نے تمھاری خواہش کو پورا کردیا (اور کہا) کہ میں تمھاری ایک ہزار فرشتوں سے مدد کروں گا جو ایک دوسرے کے پیچھے آرہے ہوں گے۔

۱۰ ۔ لیکن خدا نے یہ صرف تمھاری خوشی اور اطمینانِ قلب کے لئے کیا ورنہ بغیر خدا کی جانب کے کامیابی نہیں ہے خدا توانا اور حکیم ہے۔

۱۱ ۔ وہ وقت یاد کرو جب اونگھ نے جو کہ آرام اور سکون کا سبب تھی خدا کی طرف سے تمھیں گھیر لیا اور آسمان کی طرف سے تم پر پانی نازل کیا تاکہ اس سے وہ تمھیں پاک کرے اور شیطانی پلیدی تم سے دُور کرے اور تمھارے دلوں کو مضبوط کرے اور تمھیں ثابت قدم بنادے۔

۱۲ ۔ وہ وقت یاد کرو جب تیرے پروردگار نے فرشتوں کو وحی کی کہ میں تمھارے ساتھ ہوں ، جو لوگ ایمان لائے ہیں انھیں ثابت قدم رکھو، میں جلد ہی کافروں کے دل میں خوف اور وحشت ڈال دوں گا۔ ضربیں (دشمنوں کے سروں ) گردنوں کے اُوپر لگاو اور اُن کے ہاتھ پاوں بے کار کردو۔

۱۳ ۔ یہ اس بناء پر ہے کہ انھوں نے خدا اور اس کے پیغمبر سے دشمنی کی ہے اور جو بھی خدا اور اس کے پیغمبر سے دشمنی کرے گا (وہ سخت سزا پائے گا کہ) خدا شدید العقاب ہے۔

۱۴ ۔ یہ (دنیاوی سزا) چکھو اور کافروں کے لئے تو (جہنم کی) آگ کی سزا (دوسرے جہان میں ) ہوگی۔

بدر کے تربیتی درس

یہ آیات جنگ بدر کے حسّاس مواقع کی طرف اشارہ کرتی ہیں ، اس خطرناک موقع پر خدا نے مسلمانوں کو جن کو طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا تھا ان میں ان کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ ان میں اطاعت اور شکرگزاری کا جذبہ ابھارا جائے اور ان کے سامنے آئندہ کی کامیابیوں کا راستہ کھول دیا جائے۔

پہلے فرشتوں کی مدد کا ذکر ہے، ارشاد ہوتا ہے: وہ وقت یاد کرو جب دشمن کی کثرتِ تعداد اور ان کے زیادہ جنگی سازوسامان سے وحشت واضطراب کے باعث تم نے خدا کی پناہ لی اور دستِ حاجت اس کی طرف دراز کیا اور اس سے مدد کی درخواست کی( إِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ ) ۔

کچھ روایات میں آیا ہے کہ خدا سے استغاثہ اور مدد طلب کرنے میں رسول الله بھی مسلمانوں کے ساتھ ہم آواز تھے آپ نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کررکھے تھے اور کہہ رہے تھے:

( اللّٰهمّ انجز لی ماوعدتنی اللّٰهمّ ان تهلک هٰذه العصابة لاتعبد فی الارض ) -

خدایا! مجھ سے جو تو نے وعدہ کیا تھا اُسے پورا کردے ۔ پروردگار! اگر مومنین کا یہ گروہ مارا گیا تو زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔

آپ نے اس تسغاثہ اور دعا کو اتنا طول دیا کہ عبا آپ کے دوش مبارک سے گرگئی۔(۱)

اس وقت خدا نے تمھاری دعا اور درخواست کو قبول کرلیا اور فرمایا کہ میں ایک ہزار فرشتوں سے تمھاری نصرت کروں گا جوایک دوسرے کے پیچھے آرہے ہوں گے( فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اٴَنِّی مُمِدُّکُمْ بِاٴَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِکَةِ مُرْدِفِینَ ) ۔ ”مردفین“ کا مادہ ”ارداف“ ہے، اس کا معنی میں یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہ ایک ہزار کا دستہ تھا اور دیگر دستے اس کے پیچھے تھے۔ اس طرح سے سورہ آل عمران کی آیہ ۱۲۴ بھی اس مفہوم پر منطبق ہوجاتی ہے جس میں ہے کہ پیغمبر نے مومنین سے کہا:

کیا یہ کافی نہیں ہے کہ خدا نے تمھاری تین ہزار فرشتوں کے ساتھ مدد کی۔

لیکن ظاہر یہ ہے کہ جنگ بدر میں فرشتوں کی تعداد ایک ہزار تھی اور ”مردفین‘ ‘ اس ایک ہزار کی صفت ہے، سورہ آل عمران کی آیت مسلمانوں سے ایک خدا ئی وعدہ تھا کہ اگر ضرورت پڑھی تو خدا مزید تمھاری مدد کے لئے بیجے گا۔

اس کے بعد کہ کہیں یہ خیال پیدا ہو کہ کامیابی فرشتوں یا اِن جیسوں کے ہاتھ میں ہے، فرمایا گیا ہے: خدا نے ایسا صرف بشارت کے طور پر اور تمھارے اطمینانِ قلب کے لئے کیا( وَمَا جَعَلَهُ اللهُ إِلاَّ بُشْریٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِ قُلُوبُکُمْ ) ۔ ورنہ کامیابی تو صرف خدا کی طرف سے ہے اور ان ظاہری اور باطنی اسباب کے اوپر اس کا ارادہ مشیت ہے( وَمَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِنْدِ اللهِ ) ۔ کیونکہ ایسا خدا قادر وقوی ہے کہ کوئی بھی اس کے اراد ہ اور مشیّت کے سامن نہیں ٹھہرسکتا اور ایسا حکیم ودانا ہے کہ اس کی مدد اصل افراد کے علاوہ کو نہیں پہنچتی (إ( نَّ اللهَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ ) ۔

کیا فرشتوں نے جنگ گی تھی؟

مفسّرین کے درمیان اس سلسلے میں بہت اختلاف ہے۔

بعض کا نظریہ ہے کہ فرشتے یاقاعدہ معرکہ جنگ میں شریک ہوئے اور انھوں نے ایسے ہتھیاروں سے دشمن کے لشکر پر حملہ کیا جو انہی سے مخصوص تھے۔ انھوں نے ان میں سے کچھ افراد کو ڈھیر کردیا۔ اس سلسلے میں ان مفسّرین نے کچھ زیادہ روایات بھی نقل کی ہیں ۔

کچھ قرائن ایسے بھی ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ دوسرے گروہ کا نظریہ حقیقت کے زیادہ قریب ہے جو کہتے ہیں کہ فرشتے صرف مومنین کی دلجوئی اور روحانی تقویت کے لئے نازل ہوئے تھے ۔ کیونکہ:

۱ ۔ ہم مندرجہ بالا آیت میں پڑھ چکے ہیں کہ فرمایا گیا ہے : یہ سب کچھ تمھارے اطمینانِ قلب کے لئے تھا تاکہ اس پشت پناہی کے احساس سے بہتر طور پر جنگ کرسکو، نہ یہ کہ فرشتوں نے جنگ کے لئے قدم بڑھایا۔

۲ ۔ اگر فرشتوں نے بہادرانہ جنگ سے دشمن کے سپاہیوں کو چت کردیا تو مجاہدین بدر کی کونسی فضیلت باقی رہ جاتی ہے جو روایات میں بڑے زور وشور سے بیان کی گئی ہے۔

۳ ۔ بدر میں شدمن کے مقتولین کی تعداد ستر( ۷۰) افراد ہے۔ اس میں ایک بڑا حصّہ حضرت علی علیہ السلام کی تلوار سے قتل ہوا اور باقی دیگر مجاہدینِ اسلام کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ ان مجاہدین میں سے بیشتر کے نام تاریخ میں مذکور ہیں اس بناء پر فرشتوں کے لئے کونسے باقی رہ جاتے ہیں اور انھوں نے کتنے افراد قتل کئے۔

اس کے بعد خداتعالیٰ مومنین کو اپن یدوسری نعمت باد دلاتے ہوئے فرماتا ہے: وہ وقت یاد کرو جب تمھیں اونگھ نے گھیر لیا جو خدا کی طرف سے تمھارے جسم وروح کے لئے باعثِ سکون تھی( إِذْ یُغَشِّیکُمْ النُّعَاسَ اٴَمَنَةً مِنْهُ ) ۔”یغشی“”غشیان“ کے مادہ سے ہے، اس کا معنی ہے ڈھاپنا اور احاطہ کرنا۔ گویا نیند ایک پردے کی طرح ان پر ڈال دی گئی اور اس نے انھیں ڈھانپ لیا۔

”نعاس“ نیند کی ابتدا (اونگھ) یا تھوڑی اور ہلکی سی آرام بخش نیند کو کہا جاتا ہے اور شاید اس طرف اشارہ ہے کہ عین استراحت کے باوجود اس طرح گہری نیند تم پر مسلط نہیں ہوئی کہ دشمن موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تم پر شبخون مارے۔ اس طرح مسلمانوں نے ا س پُر اضطراب رات میں اس عظیم نعمت سے فائدہ اٹھایا جس نے اگلے روز میدان جنگ میں ان کی بڑی مدد کی۔

تیسری نعمت جو اس میدان میں تمھیں عطا کی گئی یہ تھی کہ آسمان سے تم پر پانی برسا( وَیُنَزِّلُ عَلَیْکُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً ) ۔ تاکہ اس کے ذریعے تمھیں پاک کرے اور شیطانی نجاست تم سے دور کرے( لِیُطَهِّرَکُمْ بِهِ وَیُذْهِبَ عَنکُمْ رِجْزَ الشَّیْطَانِ ) ۔

یہ نجاست ہوسکتا ہے شیطانی وسوسے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس شب بعض کے مجنب ہوجانے کی وجہ سے جسمانی ناپاکی ہو یا ممکن ہے دونوں قسموں کی نجاست ہو۔

بہرحال اس حیات بخش پانی نے جو بدر کے اطراف کے گھڑوں میں جمع ہوگیا تھا۔ دشمن نے کنویں اپنے قبضے لے رکھے تھے اور مسلمانوں کو طہارت اور پینے کے لئے پانی کی سخت ضرورت تھی۔ اس حالت میں بارش کے اس پانی نے ان سب نجاستوں کو دھوڈالا اور انھیں بہالے گیا۔

علاوہ ازیں خدا چاہتا تھا کہ اس نعمت کے ذریعے تمھارے لوں کو محکم کردے( وَلِیَرْبِطَ عَلیٰ قُلُوبِکُمْ ) ۔ نیز چاہتا تھا کہ یہ ریتلی زمین جس میں تمھارے پاوں دھنس جاتے تھے اور پھسل جاتے تھے بارش کے برسنے کی وجہ سے مضبوط ہوجائے تاکہ تمھارے قدم مضبوط ہوجائیں( وَیُثَبِّتَ بِهِ الْاٴَقْدَامَ ) ۔

ثابت قدمی سے مراد روح کی تقویت اور جوش وولولہ میں اضافہ ہو یا ہوسکتا ہے دونوں چیزیں مراد ہوں ۔

مجاہدینِ بدر پر پروردگار کی نعمتوں میں سے ایک نعمت وہ خوف وہراس تھا جو دشمنوں کے دلوں میں ڈال دیا گیا تھا جس نے ان کے حوصلوں کو متزلزل کررکھا تھا، اس سلسلے میں ارشاد ہوتا ہے: وہ وقت یاد کرو جب خدا نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی کہ میں تمھارے ساتھ ہوں اور تم اہلِ ایمان کو تقویت دو اور انھیں ثابت قدم رکھو( إِذْ یُوحِی رَبُّکَ إِلَی الْمَلَائِکَةِ اٴَنِّی مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِینَ آمَنُوا ) ۔ اور عنقریب میں کافروں کے دلوں میں خوف اور وحشت ڈال دوں گا

( سَاٴُلْقِی فِی قُلُوبِ الَّذِینَ کَفَرُوا الرُّعْبَ ) ۔

واقعاً یہ عجیب وغریب بات تھی کہ تواریخ کے مطابق مسلمانوں کے چھوٹے سے لشکر کے مقابلے قریش کی طاقتور فوج نفسیاتی طور پر اس قدر شکست خوردہ ہوچکی تھی کہ ان میں سے ایک گروہ مسلمانوں سے جنگ کرنے سے ڈرتا تھا، بعض اوقات وہ دل میں سوچتے کہ یہ عام انسان نہیں ہیں ، بعض کہتے کہ یہ موت کو اپنے اونٹوں پر لادکر مدینہ سے تمھارے لئے سوغات لائے ہیں ۔

اس میں شک نہیں کہ دشمن کے دل میں یہ خوف ڈالنا کہ جو کامیابی کے عوامل میں سے ایک موثر عامل ہے، بلاوجہ نہ تھا۔ مسلمانوں کی وہ پامردی، ان کی نماز جماعت، ان کے حرارت بخش شعار اور سچّے مومنین کا اظہارِ وفاداری، سب کچھ اپنی تاثیر مرتب کررہا تھا۔

سعد بن معاذ انصار کے نمائندہ کے طور پر خدمتِ پیغمبر میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے: میرے ماں باپ آپ پر قربان، اے الله کے رسول! ہم آپ پر ایمان لائے اور ہم نے آپ کی نبوت کو گواہی دی ہے کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں خدا کی طرف سے ہے، آپ جو بھی حکم دینا چاہیں دیجئے اور ہمارے مال میں جو کچھ آپ چاہیں لے لیں ، خدا کی قسم اگر آپ ہمیں حکم دیں کہ اس دریا (دریائے احمر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جو وہاں سے قریب تھا) کود پڑو تو ہم کو پڑیں گے، ہماری یہ آرزو ہے کہ خدا ہمیں توفیق دے کہ ایسی خدمت کریں جو آپ کی آنکھ کی روشنی کا باعث ہو۔

جی ہاں ، ایسی گفتگو جو دوست اور دشمن میں پھیل جاتی تھی، اس استقامت کے علاوہ جو وہ پہلے ہی مکہ میں مسلمان مردوں اور عورتوں میں دیکھ چکے تھے۔ سب باتیں اکھٹی ہوگئیں اور اس سے دشمن وحشت زدہ ہوگیا۔

دشمن کی طرف سخت آندھی چل رہی تھی، اُن پر موسلا دھار بارش برس رہی تھی، عاتکہ کے وحشت ناک خواب کا بھی مکہ میں چرچا ہوچکا تھا، یہ اور دوسرے عوامل مل کر انھیں خوفزدہ کئے ہوئے تھے، اس کے بعد الله تعالیٰ نے میدانِ بدر میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے ذریعے مسلمانوں کو جو پیغام دیا تھا وہ انھیں یاد دلایا جارہا ہے اور وہ یہ کہ: مشرکین سے جنگ کرتے وقت غیرموثر ضربوں سے پرہیز کرو اور انھیں ضائع نہ کرو بلکہ دشمن پر کاری ضربیں لگاو ”گردن سے اُوپر ان کے مغز اور سر پر ضرب لگاو“( فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْاٴَعْنَاقِ ) ۔ ”اور ان کے ہاتھ پاوں بیکا رکردو“( وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ کُلَّ بَنَانٍ ) ۔

”بَنَانٍ“ ”بَنَانة“ کی جمع ہے، اس کا معنی ہے ہاتھ پاؤں کی انگلی کی پور، خود انگلی کو بھی ”بَنَانة“ کہتے ہیں ۔ زیر بحث آیات میں ہوسکتا ہے ہاتھ پاؤں کے لئے کنایہ کے طور پر یہ لفظ آیا ہو اور یا پھر اپنے اصل معنی میں ہو، کیونکہ اگر ہاتھ کی انگلیاں کٹ جائیں اور بے کار ہوجائیں تو انسان ہتھیار اٹھانے کے قابل نہیں رہتا اور اگر ہاتھ کٹ جائیں تو چلنے کی طاقت نہیں رہتی۔

یہ احتمال بھی ہے کہ اگر حملہ آور دشمن پیادہ ہو تو اسکے سر کو نشانہ ن بناو اور اگر سوار ہو تو اس کے ہاتھ پاوں کو۔

جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیا جاچکا ہے کہ بعض اس جملے کو ملائکہ سے خطاب سمجھتے ہیں لیکن قرائن نشاندہی کرتے ہیں کہ اس میں مخاطب مسلمان ہی ہیں اور اگر فرشتے بھی مخاطب ہوں تو ہوسکتا ہے کہ دماغ اور ہاتھ پاوں پر ضرب لگانے سے مراد یہ ہو کہ ان پر اسیا خوف طاری کرو کہ کام کرتے ہوئے ان کے پاوں ہل جائیں اور سر نیچے جھک جائیں (البتہ یہ تفسیرظاہر عبارت کے خلاف ہے اور ملائکہ کے جنگ نہ کرنے کے بارے میں قرائن بیان کئے جاچکے ہیں اسی کوثابت سمجھنا چاہیے)۔

ان تمام باتوں کے بعد اس بنا پر کوئی ان سخت فرامین اور سرکوبی کرنے والے ان لازمی وقطعی احکام کو آئین جوانمردی اور رحم وانصاف کے خلاف تصور نہ کرے فرمایا گیا ہے: وہ اس چیز کے مسحتق ہیں کیونکہ وہ خدا اور اس کے پیغمبر کے سامنے عداوت، دشمنی، نافرانی اور سرکشی پر اُتر آئے ہیں( ذٰلِکَ بِاٴَنَّهُمْ شَاقُّوا اللهَ وَرَسُولَهُ ) ۔

”شَاقُّوا“”شقاق“ کے مادہ سے ہے، اس کا معنی ہے شگاف اور جدائی اور چونکہ مخالف دشمن اور معصیت کار اپنی صف جدا کرلیتا ہے لہٰذا اس عمل کو ”شقاق“ کہتے ہیں اور جو شخص بھی خدا اور پیغمبر کی مخالفت کے دروازے سے داخل ہوگا وہ دنیا وآخرت میں دردناک سزا میں گرفتار ہوگا کیونکہ (جس طرح اس کی رحمت وسیع اور لامتناہی ہے) اس کی سزا بھی شدید اور دردناک ہے (وَمَنْ یُشَاقِقْ اللهَ وَرَسُولَہُ فَإِنَّ اللهَ شَدِیدُ الْعِقَابِ)۔

اس کے بعد اس امر کی تاکید کے لئے ارشاد ہوتا ہے: اس دنیا کی سزا کا مزہ چکھو، میدان جنگ میں کاری ضربوں ، قتل، قید او شکست کی سزا بھگتو اور دوسرے جہاں کی سزا کے منتظر رہو (کیونکہ جہنم کی) آگ کا عذاب کافروں کے انتظار میں ہے( ذَلِکُمْ فَذُوقُوهُ وَاٴَنَّ لِلْکَافِرِینَ عَذَابَ النَّارِ ) ۔

____________________

۱۔ مجمع البیان، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں -


آیات ۱۵،۱۶،۱۷،۱۸

۱۵-( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا لَقِیتُمْ الَّذِینَ کَفَرُوا زَحْفًا فَلَاتُوَلُّوهُمَ الْاٴَدْبَارَ )

۱۶-( وَمَنْ یُوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ إِلاَّ مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ اٴَوْ مُتَحَیِّزًا إِلیٰ فِئَةٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنْ اللهِ وَمَاٴْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیرُ )

۱۷-( فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَکِنَّ اللهَ قَتَلَهُمْ وَمَا رَمَیْتَ إِذْ رَمَیْتَ وَلَکِنَّ اللهَ رَمَی وَلِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِینَ مِنْهُ بَلَاءً حَسَنًا إِنَّ اللهَ سَمِیعٌ عَلِیمٌ )

۱۸-( ذَلِکُمْ وَاٴَنَّ اللهَ مُوهِنُ کَیْدِ الْکَافِرِینَ )

ترجمہ

۱۵ ۔ اے ایمان والو! جب میدانِ جنگ میں کافروں کا سامنا کرو تو ان سے پشت نہ پھیرو۔

۱۶ ۔ اور جو شخص اس وقت ان سے پیٹھ پھیرے گا مگر یہ کہ اس کا مقصد میدان سے پلٹ کر نیا حملہ کرنا یا (مجاہدین کے) گروہ سے ملنا ہو، تو (ایسا شخص) غضبِ پروردگار میں گرفتار ہوگا اور اس کی قرارگاہ جہنم ہے اور یہ کیسی بُری جگہ ہے۔

۱۷ ۔ یہ تم نہ تھے جنھوں نے انھیں قتل کیا بلکہ خدا نے انھیں قتل کیا ہے اور (اے پیغمبر!) یہ تُو نہ تھا(کہ جس نے اُن کے چہروں پر مٹی پھینکی) بلکہ خدا نے پھینکی تھی اور خدا چاہتا تھا کہ وہ مومنین کو اس طرح سے آزمالے اور خدا سننے والا اور جاننے والا ہے۔

۱۸ ۔ مومنین اور کافرین کی سرنوشت یہی تھی جو تم نے دیکھ لی اور خدا کفار کی سازشوں کو کمزور کرنے والا ہے۔

جہاد سے فرار ممنو ع ہے

جیسا کہ گذشتہ آیات کی تفاسیر میں اشارہ ہوچکا ہے کہ جنگ بدر کی کامیابی اور خدا کی اور بہت سی نعمتیں جو اس نے مسلمانوں پر اس واقعہ میں کی تھی تاکہ وہ گذشتہ اور آئندہ کے حوالے سے ان سے سبق حاصل کریں لہٰذا زیرِ نظر آیات میں روئے سخن مومنین کی طرف کرتے ہوئے ان سے ایک عمومی جنگی اصول اور حکم نصیحت اور تاکید کے طور پر بیان کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: اے وہ لوگو! جو ایمان لاچکے ہو جب بھی میدان جنگ میں کافروں سے تمھارا آمنا سامنا ہو تو انھیں پشت نہ دکھاو اور راہِ فرار اختیار نہ کرو( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا لَقِیتُمْ الَّذِینَ کَفَرُوا زَحْفًا فَلَاتُوَلُّوهُمَ الْاٴَدْبَارَ ) ۔

( لَقِیتُمْ ) “ ”لَقِاء “ کے مادہ سے اجتماع اور روبرو ہونے کے معنی میں ہے لیکن اکثر مواقع پر میدانِ جنگ میں آمنا سامنا ہونے کے معنی میں آیا ہے۔

”زحف“ اصل میں کسی چیز کی طرف حرکت کرنے کے معنی میں ہے اس طرح سے کہ پاوں زمین کی طرف کھنچے چلے جائیں جیسے بچہ ٹھیک طرح سے چلنے پھرنے سے پہلے چلنے کی کوشش کرتا ہے یا جیسے اونٹ جب تھک جاتا ہے تو اپنے پاوں زمین پر کھینچتا ہے، بعدازاں کثیر تعداد والے لشکر کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہونے لگا کیونکہ دُور سے یوں لگتا ہے جیسے زمین پر لڑکھڑاتا ہوا آگے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

مندرجہ بالا آیت میں لف ”رحف“ اس طرف اشارہ ہے کہ اگرچہ دشمن کی تعداد سازوسامان کے لحاظ سے تم سے بڑھ کر ہو اور تم اقلیّت میں ہو پھر بھی تمھیں میدانِ جنگ سے فرار نہیں کرنا چاہیے جیسے میدانِ بدر سے دشمنوں کی تعداد تم سے کئی گُنا زیادہ تھی اور تے نے ثابت قدمی دکھائی اور بالآخر کامیاب ہوگئے۔ اصولی طور پر جنگ سے بھاگنا اسلام میں ایک بہت بڑا گناہ شمار ہوتا ہے۔ قرآن کی بعض آیات پر توجہ کی جائے تو زیادہ سے زیادہ ان میں یہ بات اس امر سے مشروط ہے کہ دشمن کا لشکر زیادہ سے زیادہ دوگنا ہو، اس کے بارے میں اسی سورہ کی آیت ۶۵ و ۶۶ کے ذیل میں انشاء الله بحث کی جائے گی۔

اسی بناپر اگلی آیت میں بعض مواقع کے استثناء کے ساتھ میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیرنے والوں کے بارے میں کہا گیا ہے: جو لوگ دشمن سے جنگ کرتے وقت ان سے پشت پھیر لیں مگر یہ کہ یہ کنارہ کشی جنگی چال کے لئے ہو یا مسلمان گروہ سے مل کر نئے حملے کے لئے ہو، تو ایسے لوگ الله کے غضب میں گرفتار ہوں گے( وَمَنْ یُوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ إِلاَّ مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ اٴَوْ مُتَحَیِّزًا إِلیٰ فِئَةٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنْ اللهِ ) ۔

جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ فرار کے معاملے میں اس آیت میں دواستثنائی صورتیں بیان کی گئی ہیں جو ظاہری طور پر فرار ہیں لیکن دراصل مقابلے اور جہاد کی صورتیں ہیں ۔

پہلی صورت کو ”( مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ ) “ کہا گیا ہے۔ ”متحرف“ ”تحرف“ کے مادہ سے ہے اس کا معنی ہے درمیان سے اطراف کی طرف ہٹنا، اس سے مراد یہ ہے کہ سپاہی ایک جنگی تکنیک کے طور پر دشمن کے مقابلے سے بھاگ کھڑے ہوں اور ایک طرف ہٹ جائیں تاکہ اُسے اپنے کھینچ لائیں اور اسے غفلت میں دال کر اس کے پیکر پر اچانک ضرب لگائیں اور ایا جنگ اور بھاگنے کے تکنیک سے دشمن کو تھکادیں کیونکہ جنگ میں کبھی حملہ کیا جاتا ہے اور کبھی نئے حملے کے لئے پیچھے ہٹ آنا پڑتا ہے عرب کے بقول: ”الحرب کروفر؛یعنی جنگ جھپٹنے اور پلٹنے کا نام ہے“۔

دوسری صورت یہ ہے کہ سپاہی میدان میں اپنے کو اکیلا پائے اور یگر فوجی سپاہیوں سے ملنے کے لئے پیچھے ہٹ آئے اور ان سے مل جانے کے بعد حملہ شروع کرے۔

بہرحال میدان سے بھاگنے کی حرمت کی خشک صورت میں تفسیر نہیں کی جانی چاہئے کہ جس سے جنگی حکمتِ عملی اور تدابیر ہی ختم ہوجائیں کیونکہ جنگی تدایر بہت سی کامیابیوں کا سرچشمہ ہوتی ہیں ۔

آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: جنگ سے بھاگ جانے والے نہ صرف غضب الٰہی کا شکار ہوں گے بلکہ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیسی بُری جگہ ہے( وَمَاٴْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیرُ ) ۔

”باء“ ”بواء“ کے مادہ سے مراجعت اور جگہ لینے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لیکن اس کے اصلی معنی ہیں کسی مقام یا مکان کو صاف وشفّاف اور ہموار کرنا چونکہ انسان جب کوئی مکان لیتا ہے تواپنی جگہ صاف اور ہموار کرتا ہے لہٰذا یہ لفظ اس مفہوم میں ایا ہے اور اسی طرح چونکہ انسان رہائش گاہ کی طرف پلٹ کر آتا ہے لہٰذا بازگشت اور لوٹ آنے کے معنی میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے، مندرجہ بالا آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ پروردگار کا مسلسل اور دائمی غضب ان کے شاملِ حال رہے گا گویا انھوں نے غضب الٰہی میں گھر بنالیا ہے۔

”ماویٰ“ اصل میں ”پناہگاہ“ کے معنی میں ہے اور یہ جو مندرجہ بالا آیت میں ہے کہ جہاد سے بھاگنے والوں کا ”ماویٰ“ جہنم ہے تو یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے بھاگ کر اپنے لئے کوئی پناہگاہ ڈھونڈتے ہیں تاکہ ہلاکت سے محفوظ رہیں ، لیکن (ان کی خواہش کے) برعکس ان کی پناہگاہ جہنم ہوگی، نہ صرف دوسرے جہان میں بلکہ وہ اس جہان میں بھی ذلّت، بدبختی، شکست اور محرومیت کی جلانے والی جہنم کی پناہگاہ میں ہوں گے۔

اسی لئے کتاب ”عیون الاخبار“ میں ہے کہ امام علی بن موسی الرضا علیہمالسلام کے ایک صحابی نے بہت سے احکام فلسفے کے بارے میں پوچھا،اس سلسلے میں آپ(علیه السلام) نے تحریر فرمایا:

جہاد سے فرار کو خدا نے اس لئے حرام قرار دیا ہے کیونکہ یہ دین کی کمزوری اور تنزّلی کا سبب اور انبیاء، آئمہ اور عادل پیشواوں کے پرورگرام کی تحقیر وتذلیل کا باعث ہوتا ہے۔، نیز اس کے سبب مسلمان دشمن پر کامیابی حاصل نہیں کرپاتے اور دشمن کو توحیدِ پروردگار، اجرائے عدالت اور ترک ظلم وفساد کے دعوت کی مخالفت پر سزا نہیں دے سکتے اور اس کے سبب دشمن مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ جسور اور بے باک ہوجائیں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کے ہاتھوں قتل ہوں گے اور قید ہوں گے اور آخر کار الله کا دین سفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔(۱)

حضرت علی علیہ السلام کو جو بہت سے امتیازات حاصل تھے اور آپ(علیه السلام) کبھی کبھار دوسروں کی تشویق کے لئے جن کی طرف اشارہ کرتے تھے ان میں سے ایک میدانِ جنگ سے فرار نہ کرنا بھی تھا۔ آپ(علیه السلام) فرماتے ہیں :

( انّی لم افر من الزحف قط ولم یبرزنی اٴحد الّا سقیت الارض من دمه ) -

(حالانکہ میں نے پوری زندگی میں بہت سی جنگو ں میں شرکت کی ہے لیکن) میں نے دشمن کی فوج کے سامنے کبھی فرار نہیں کیا اور کوئی شخص میدانِ جنگ میں میرے سامنے نہیں آیا مگر یہ کہ میں نے اس کے خون سے زمین کو سیراب کردیا۔(۲)

تعجب کی بات ہے کہ بعض اہل سنّت مفسّرین اس بات پر مصر ہیں کہ زیر بحث آیت کا حکم جنگ بدر سے مخصوص تھا اور یہ تہدید وسرزنش جو جہاد سے فرار کرنے والوں کے بارے میں ہے صرف بندر کے مجاہدین سے مربوط ہے حالانکہ نہ صرف آیت کے لئے اختصاص کی کوئی دلیل موجود نہیں بلکہ آیت کا مفہوم تمام جنگ کرنے والوں اور تمام مجاہدین کے لئے عمومی ہے، نیز آیات وروایات کے قرائن بھی اسی امر کی تائید کرتے ہیں (البتہ اس اسلامی حکم کی کچھ شرائط ہیں جن کا تذکرہ اسی سورہ کی آئندہ آیات میں آئے گا)

اس کے بعد اس بناء پر کہ مسلمان جنگ بدر کی کامیابی پر مغرور نہ ہوں اور صرف اپنی جسمانی قوت وطاقت پر بھروسہ نہ کرنے لگ جائیں بلکہ ہمیشہ اپنے قلب وروح کو یادِ الٰہی اور نصرتِ خدا سے گرم اور روشن رکھیں ، ارشاد فرمایا گیا ہے: میدان بندر یہ تم نے دشمن کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انھیں قتل کیا ہے( فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَکِنَّ اللهَ قَتَلَهُمْ ) ۔

اور اے پیغمبر! ان کے چہروں پر تونے مٹی اور ریت نہیں پھینکی بلکہ خدا نے پھینکی ہے (وَمَا رَمَیْتَ إِذْ رَمَیْتَ وَلَکِنَّ اللهَ رَمیٰ)۔

اسلامی روایات میں ہے اور مفسّرین نے بیان کیا ہے کہ روزِ بدر رسول الله نے حضرت علی(علیه السلام) سے فرمایا:

زمین سے مٹی اور سنگریزوں کی ایک مٹھی بھر کے مجھے دے دو۔

حضرت علی(علیه السلام) نے ایسا ہی کیا اور رسولِ خدا نے اسے مشرکین کی طرف پھینک دیا اور فرمایا:

شاهت الوجوه “تمھارے منھ قبیح اور سیاہ ہوجائیں ۔

لکھا ہے کہ معجزانہ طور پر وہ گردو غبار اور سنگریزے دشمنوں کی آنکھوں میں جاپڑے اور وہ سب وحشت زدہ ہوگئے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ظاہراً یہ سب کام رسول الله نے اور مجاہدینِ بدر نے انجام دیئے لیکن یہ جو کہا گیا ہے کہ تم نے یہ کام نہیں کیا، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ:

اوّل تو وہ جسمانی ، روحانی اور ایمانی طاقت کہ جو اس سارے معاملے ک سرچشمہ تھی، تمھیں خدا کی طرف سے بخشی گئی تھی اور تم نے اس راستے میں خدا کی بخشی ہوئی طاقت سے قدم اٹھایا۔

دوم یہ کہ میدان بدر میں پر اعجاز حوادث ظاہر ہوئے کہ جن کی طرف پہلے اشارہ کیا جا چکا ہے، یہی مجاہدین اسلام کی روحانی تقویت اور دشمنوں کی نفسیانی شکست کا سبب بنے، یہ غیر معمولی امور اور اثرات خدا کی طرف سے ہی تھے۔

در حقیقت یہ آیت اس نظریے کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ:

لا جبر ولا تفویض بل امرٌبین الامرین

یعنی: نہ جبر ہے اور نہ تفویض اور مکمل سپردگی بلکہ معاملہ ان دونوں کے درمیان ہے۔

جیسے دشمنوں کو قتل کرنے کی نسبت مسلمانوں کی طرف دی گئی اور مٹی پھینکنے کی نسبت پیغمبر کی طرف دی گئی ہے اور ساتھ ہی ان سے یہ نسبت سلب بھی کرلی گئی ہے (غور کیجئے گا)

اس میں شک نہیں کہ اسی عبارتوں میں کوئی تناقض نہیں بلکہ مقصدیہ ہے کہ یہ کام بھی ہے اور خدا کا کام بھی -- تمہارا اس وجہ سے کہ تمھارے ارادے سے انجام پایا ہے اور خدا کا اس لئے کہ قوت اور مدد اس کی طرف سے ہے۔ لہٰذا وہ لوگ جو خیال کرتے ہیں کہ یہ آیت نظریہ جبر کی دلیل ہے ان کا جواب خود نفس آیت میں پنہاں ہے۔

”وحدت وجود“ کے نظریے کے قائل جو افراد اس آیت کو اپنے نظریے کی دستاویز کے طور پر پیش کرتے ہیں ، ان کا جواب بھی خود آیت میں لطیف انداز میں موجود ہے کیونکہ اگر خدا اور مخلوق ایک ہی ہیں تو پھر ایک شکل میں فعل کی نسبت ان کے لئے ثابت اور دوسری صورت میں نہیں کی جاسکتی ۔ یہ نفی و اثبات خود خالق و مخلوق کے تعدد کی دلیل ہے اور اگر اپنی فکر کو پہلے سے کیے گئے نادرست اور تعصب آمیز فیصلوں سے خالی کرلیا جائے تو ہم دیکھیں گے کہ اس آیت کا کسی بھی انحرافی اور ٹیڑھے مکتب اور نظریے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ مکتب واسطہ اور ”امربین الامرین“ کی طرف اشارہ کرتی ہے اور وہ بھی ایک ترتیبی مقصد کے لئے یعنی آثار غرور ختم کرننے کے لئے جو عموماً کامیابیوں کے بعد انسانوں کو دامن گیر ہوجاتے ہیں ۔

آیت کے آخر میں ایک اور اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ میدان بدر مسلمانوں کے لئے ایک آزمائش کا میدان تھا اور خدا چاہتا تھا کہ مومنین کو اپنی طرف سے اس کامیابی کے ذریعے آزمائے (وَلِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِینَ مِنْہُ بَلَاءً حَسَنًا )۔

”بلآء“ در اصل آزمائش کرنے کے معنی میں ہے البتہ آزمائش کبھی نعمتوں کے ذریعے ہوتی ہے جسے ”بلآء حسن“ کہتے ہیں اور کبھی مصیبتوں اور سختیوں کے ذریعے ہوتی ہے جسے ”بلاء سیٴ “ کہتے ہیں جیسا کہ بنی اسرائیل کے بارے میں ہے:

( وَبَلَوْنَاهُمْ بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّیِّئَاتِ ) ”انھیں ہم نے نعمتوں اور مصیبتوں کے ذریعے آزمایا“ ۔(اعراف۔ ۱۶۸)

خدا چاہتا تھا کہ طاقتور دشمن سے پہلے مسلح تصادم میں مسلمانوں کو کامیابی کا لطف عطا کرے تاکہ وہ آئندہ کے لئے پر امید اور پر حوصلہ ہوسکیں ۔

آزمائش کی صورت میں یہ الہٰی نعمت سب کے لئے تھی اور انھیں اس کامیابی سے کبھی منفی نتیجہ نہیں لینا چاہیے اور غرور و تکبر میں گرفتار نہیں ہونا چاہیے کہ کہیں وہ دشمن کو معمولی سمجھنے لگیں اور خودسازی اور تیاری کا عمل چھوڑدیں اور لطفِ پروردگار پر بھروسہ کرنے میں غفلت کرنے لگیں ۔ لہٰذا آیت کو اس جملے پر تمام کیا گیا ہے: خدا سننے والا بھی ہے اور جاننے والا بھی( إِنَّ اللهَ سَمِیعٌ عَلِیمٌ ) ۔ یعنی خدا نے پیغمبر اور مومنین کی صدائے استغاثہ سنی اور وہ ان کی صدقِ نیت و اخلاص نیت اور پامردی و استقامت کے مطابق ہی ان سے سلوک کرے گا۔ مخلص اور مجاہد مومن آخر کار کامیاب ہوں گے اور دکھاوا کرنے والے ریاکار اور صرف باتیں کرنے ں الے بے عمل شکست کھا جائیں گے۔

بعد والی آیت میں اس امر کی تاکید اور اظہار عمومیت کے لئے فرمایا گیا ہے:مومنین اور کافرین کا انجام وہی تھا جو تم نے سن لیا ہے( ذَلِکُمْ ) ۔(۳)

اس کے بعد علت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: اللہ کفار کی سازشوں کو مومنین کے مقابلے میں کمزور کردیتا ہے تاکہ انھیں اور ان کے پروگراموں کو کوئی نقصان اور زدنہ پہنچا سکیں( وَاٴَنَّ اللهَ مُوهِنُ کَیْدِ الْکَافِرِینَ ) ۔

____________________

۱۔ نور الثقلین، ج۲، ص۱۳۸-

۲۔ نور الثقلین، ج۲، ص۱۳۹-

۳۔ یہ جملہ در حقیقت یہ ہے:ذٰلکم الذی سمعتم هوحال المومنین و الکافرین -


آیت ۱۹

۱۹-( إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَائَکُمْ الْفَتْحُ وَإِنْ تَنتَهُوا فَهُوَ خَیْرٌ لَکُمْ وَإِنْ تَعُودُوا نَعُدْ وَلَنْ تُغْنِیَ عَنکُمْ فِئَتُکُمْ شَیْئًا وَلَوْ کَثُرَتْ وَاٴَنَّ اللهَ مَعَ الْمُؤْمِنِینَ ) ۔

ترجمہ

۱۹ ۔ اگر تم فتح و کامرانی چاہتے ہو تو وہ تمہاری طرف آئی ہے اور اگر مخالفت سے اجتناب کرو تو تمھارے لئے بہتر ہے اور اگر لوٹ آؤ تو ہم بھی پلٹ آئیں گے (اور اگر اپنی مخالفتیں جاری رکھو گے تو ہم تمھیں دشمن کے سامنے کریں گے) اور تمہاری جمیعت چاہے کتنی زیادہ کیوں نہ ہو وہ تمھیں (خدائی مدد سے ) بے نیاز نہیں کرسکتی اور خدا مومنین کے ساتھ ہے۔

تفسیر

اس سلسلے مین کہ مندر جہ بالا آیت میں رُوئے سخن کن افراد کی طرف ہے، مفسّرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض کا نظریہ ہے کہ اس میں مشرکین مخاطب ہیں کیونکہ وہ میدانِ بدر کی طرف آنے سے پہلے خانہ کعبہ کے پاس گئے انھیں زعم تھا کہ وہ حق پر ہیں ، اس لئے وہ غرور میں مبتلا تھے، خانہ کعبہ کے پردے کو پکڑکر کہنے لگے:

( اللّٰهمّ انصر علی الجندین واهدی الفئتین واکرم الحزبین )

خدایا! ان دو لشکروں میں سے جو برتر، ہدایت یافتہ تر اور معززتر ہے اُسے کامیابی عطا کرنا۔(۱)

نیز منقول ہے کہ ابوجہل نے اپنی دعا میں کہا:

خداوندا! ہمار دین پُرانااور قدیمی ہے لیکن محمد کا دین تازہ اور خام ہے ان دونوں میں سے جو بھی تیرے نزدیک محبوب تر ہے اس کے پیروکاروں کو کامیابی عطاکر۔(۲)

لہٰذا۔ جنگ بندر کے اختتام پر مندرجہ بالا آیت نال ہوئی اور اُن سے کہا گیا: اگر تم فتح وکامرانی اور دینِ حق کے خواہاں ہو تو محمد کا دین کامیاب ہو اور اس کی حقانیت تم پر واضح اور آشکار ہوگئی( إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَائَکُمْ الْفَتْحُ ) ۔

اور اگر دینِ شرک سے اور فرمانِ خدا کی مخالفت سے ہاتھ اٹھالو تو یہ بات تمھارے فائدے میں ہے(وَإِنْ تَنتَھُوا فَھُوَ خَیْرٌ لَکُمْ)۔ اور اگر تم مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لئے لوٹ اوگے تو ہم بھی تمھاری طرف پلٹ آئیں گے اور مسلمانوں کو کامیاب کریں گے اور تمھیں مغلو کردیں گے( وَإِنْ تَعُودُوا نَعُدْ ) ۔

اور اپنی تداد کی زیادتی پر ہرگز غرور نہ کرو کیونکہ ”تمھاری جمعیت کتنی بھی زیادہ کیوں نہ ہو تمھیں بے نیاز نہیں کرسکتی( وَلَنْ تُغْنِیَ عَنکُمْ فِئَتُکُمْ شَیْئًا وَلَوْ کَثُرَتْ ) ۔ اور خدا مومنین کے ساتھ ہے( وَاٴَنَّ اللهَ مَعَ الْمُؤْمِنِینَ ) ۔

لیکن اس تفسیر کو ایک بات دُور کردیتی ہے اور وہ یہ کہ قبل وبعد کی تمام آیات کا روئے سخن مومنین کی طرف ہے اور آیات کے درمیان معنوی تعلق ہے، لہٰذا ان کے درمیان صرف ایک آیت روئے سخن کفار کی طرف یہ بات بعید نظر آتی ہے لہٰذا بعض مفسّرین نے اس میں مومنین کو مخاطب سمجھا ہے، اس لحاظ سے بہترین تفسیر یہ بنتی ہے کہ بعض نئے اور ضعیف الایمان مسلمانوں کے درمیان جنگی اموالِ غنیمت کی تقسیم کے بارے میں جھگڑا ہوگیا تو یہ آیت نازل ہوئیں اور انھیں سرزنش کی اور اموالِ غنیمت پورے کے پورے پیغمبر کے اختیار اور ملکیت میں دے دیئے، آپ نے بھی مساوی طور پرانھیں تمام مسلمانوں میں تقسیم کردیا، اس کے بعد مومنین کی تربیت کے لئے انھیں جنگ بدر کے واقعات یاد دلائے گئے ہیں کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے انھیں ایک طاقتور دشمن کے مقابلے میں کامیابی عطا کی۔

یہ آیت بھی اسی مطلب کی طرف اشارہ کررہی ہے کہ اگر تم مسلمانوں نے خدا سے فتح وکامیابی کا تقاضا کیا تو خدا نے تمھاری دعا کو قبول کرلیا اور تم کامیاب ہوگئے۔

اور اگر پیغمبر کے سامنے اعتراض کرنے اور باتیں بنانے سے بچو تو یہ تمھارے فائدے میں ہے اور اگر تم اپنی لسی اعتراض آیز روش کی طرف پلٹ گئے تو ہم بھی پلٹ جائیں گے اور تمھیں دشمن کے جنگل میں تنہا چھوڑ دیں گے اور تمھاری جمعیت چاہے کتنی زیادہ کیوں نہ ہو خدائی مدد کے بغیر کوئی کام نہیں کرسکے گی اور خداتعالیٰ سچّے اور اپنے فرمان کے مطایع مومنین اور اپنے پیغمبر کے ساتھ رہے۔

چونکہ خصوصاً آئندہ چند آیات بھی مسلمانوں کو ان کی چند مخالفتوں کی وجہ سے ملامت کررہی ہیں اور گذشتہ آیات میں بھی ہم نے ایسا ہی دیکھا ہے نیز آیات میں ربط بھی واضح ہے لہٰذا دوسری تفسیر زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے۔

____________________

۱۔ تفسیر صافی، آیہ زیر بحث کے ضمن میں اور تفسیر کبیر از فخرالدین رازی، ج۵، ص۱۴۲-

۲۔ تفسیر مجمع البیان اور دیگر تفاسیر ، اسی آیت کے ذیل میں -


آیات ۲۰،۲۱،۲۲،۲۳

۲۰-( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اٴَطِیعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ وَلَاتَوَلَّوْا عَنْهُ وَاٴَنْتُمْ تَسْمَعُونَ )

۲۱-( وَلَاتَکُونُوا کَالَّذِینَ قَالُوا سَمِعْنَا وَهُمْ لَایَسْمَعُونَ )

۲۲- ا( ِٕنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللهِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِینَ لَایَعْقِلُونَ )

۲۳-( وَلَوْ عَلِمَ اللهُ فِیهِمْ خَیْرًا لَاٴَسْمَعَهُمْ وَلَوْ اٴَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا وَهُمْ مُعْرِضُونَ )

ترجمہ

۲۰ ۔ اے ایمان لانے والو!خدا اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو اور روگردانی نہ کرو جبکہ تم اس کی باتیں سنتے ہو۔

۲۱ ۔ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاو جو کہتے تھے ہم نے سنا ہے لیکن درحقیقت وہ سنتے نہ تھے۔

۲۲ ۔ زمین پر چلنے والوں میں سے خدا کے نزدیک بد ترین وہ گونگے اور بہرے افراد ہیں جو عقل وفکر نہیں رکھتے۔

۲۳ ۔ اور اگر خدا ان میں کوئی بھلائی جانتا (تو حق بات) ان کے کانوں تک پہچاتا لیکن (تن کی وجودہ حالت میں ) اگر حق ان کے کانوں تک پہنچاتا ہے تو وہ مخالفت کرتے ہیں اور روگردان ہوتے ہیں ۔

سننے والے بہرے

یہ آیات گذشتہ مباحث کے تسلسل میں آئی ہیں ، اور یہ مسلمانوں کو جنگ، صلح اوردیگر تمام امور میں پیغمبرِ خدا کی مکمل اطاعت کی دعوت کے سلسلے میں ہیں ۔ آیات کہ لب ولہجہ نشاندہی کرتا ہے کہ اس سلسلے میں بعض مومنین نے اپنے فرض میں کوتاہی کی تھی۔ لہٰذا پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: اے ایمان والو! الله اور اس کے رسول کی اطاعت کرو( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اٴَطِیعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ ) ۔

دوبارہ تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: اور اس کے حکم کی اطاعت سے کبھی روگردانی نہ کرو جب تک تم اس کی باتیں اور اوامر ونواہی سنتے ہو( وَلَاتَوَلَّوْا عَنْهُ وَاٴَنْتُمْ تَسْمَعُونَ ) ۔

اس میں شک نہیں کہ حکم خدا کی اطاعت سب پر لازم ہے چاہے کوئی مومن ہو یا کافر لیکن چونکہ پیغمبر کے مخاطب اور ان کے تربیتی پروگراموں میں شرکت کرنے والے مومنین تھے لہٰذا یہاں رُوئے سخن ان کی طرف ہے۔

اسی سلسلے کی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے اگلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: ان لوگوں کی مانند نہ ہوجاو جو کہتے تھے کہ ہم نے سنا لیکن در حقیقت وہ نہیں سنتے تھے( وَلَاتَکُونُوا کَالَّذِینَ قَالُوا سَمِعْنَا وَهُمْ لَایَسْمَعُونَ ) ۔

یہ بہت عمدہ اور جاذب نظر تعبیر ہے جو قرآن نے ایسے لوگوں کے بارے میں استعمال کی ہے جو جانتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے، سنتے ہیں مگر اثر نہیں لیتے اور ظاہراً مومنین کی سف میں شامل ہیں لیکن مطیعِ فرمان نہیں ہیں ، فرمایا گیا ہے کہ وہ سننے والے کان رکھتے ہیں ، الفاظ اور باتیں سنتے ہیں اور ان کے معانی بھی سمجھتے ہیں لیکن چونکہ ان کے مطابق عمل نہیں کرتے تو گویا بالکل بہرے ہیں چونکہ یہ سب کچھ تو عمل کے لئے تمہید ہے اور جب عمل نہیں تو تمہید بے فائدہ ہے۔

اس سلسلے میں کہ یہ کون لوگ تھے جن کی یہ صفت قرآن بیان کررہا ہے اور مسلمانوں کو ہوش میں رہنا چاہیے کہ وہ ان جیسے نہ بن جائیں بعض کا خیال ہے کہ اس سے مراد وہ منافق ہیں جو مسلمانوں کی صفوں میں گھسے ہوئے ہوئے تھے، بعض کہتے ہیں کہ یہودیوں کے ایک گروہ کی طرف اشارہ ہے اور بعض نے اسے مشرکینِ عرب کی طرف اشارہ سمجھا ہے لیکن کوئی مانع نہیں کہ آیت کے مفہوم میں ان تینوں گروہوں کے وہ افراد شامل ہوں جو عمل کے بغیر باتیں کرنے والے ہوں ۔

گفتار عمل کے بغیر اور سننا تاثیر کے بغیر انسانی معاشروں کے لئے ایک بہت بڑی مصیبت ہے اور بہت سی بدبختیوں کا سرچشمہ ہے لہٰذا دوبارہ اگلی آیت میں بھی یہ سلسلہ کلام جاری ہے اور ایک دوسرے خوبصورت انداز میں فرمایا گیا ہے: زمین پر چلنے والوں میں سے خدا کے نزدیک بد بترین وہ ہیں جو نہ سننے والے کان رکھتے ہیں نہ بولنے والی زبان اور نہ ہی عقل وادراک، وہ بہرے، گونگے اور بے عقل ہیں( إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللهِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِینَ لَایَعْقِلُونَ ) ۔(۱)

قرآن چونکہ ایک کتابِ عمل ہے کوئی رسمی کتاب نہیں لہٰذا وہ ہر جگہ نتائج کا سہارا لیتی ہے اور اصولی طور پر ہر بے خاصیت موجود کو معدوم سمجھتی ہے،ہر بے حرکت وبے اثر زندہ کومردہ قرار دیتی ہے اور انسان کا ہر عضو جو اس کی ہدایت وسعادت کے راستے میں کارآمد نہ ہو اسے نہ ہونے کے برابر شمار کرتی ہے۔ اس آیت میں بھی ان اشخاص کو ظاہراً صحیح وسالم کان رکھتے ہیں لیکن ان کان آیات خدا، کلامِ حق اور سعادت بخش پروگراموں کو سننے پر آمادہ نہیں ، انھیں بہرہ قرار دیتی ہے اور اسی طرح جو لوگ صحیح وسالم زبان رکھتے ہیں لیکن مہر سکوت ان کی زبان پر لگی ہوئی ہے نہ حق کا دفاع کرتے ہیں ، نہ ظلم وفساد کا مقابلہ کرتے ہیں ، نہ جاہل کو ارشاد کرتے ہیں ، نہ امر بالمعروف کرتے ہیں ، نہ نہی عن المنکر کرتے ہیں اور نہ ہی راہِ حق کی طرف دعوت دیتے ہیں بلکہ اس عظیم خدائی نعت کو صاحبان زور روز کی چاپلوسی یا تحریفِ حق اور تقویتِ باطل میں استعمال کرتے ہیں ، ایسے افراد کو گونگا شمار کرتی ہے اور وہ ہوش وعقل کی نعمت سے بہرہ مند تو ہوتے ہی لیکن صحیح غور وفکر نہیں کرتے انھیں دیوانوں میں شمار کرتی ہے۔

اگلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: خدا تمھیں حق کی دعوت دینے میں کوئی مضائقہ نہیں جانتا، اگر وہ مائل ہوتے اور خدا اس لحاظ سے ان میں خیر وبھلائی دیکھتا تو جیسے بھی ہوتا ان تک حق بات پہنچاتا( وَلَوْ عَلِمَ اللهُ فِیهِمْ خَیْرًا لَاٴَسْمَعَهُمْ ) ۔

کچھ روایات میں آیا ہے کہ ہٹ دھرم بت پرستوں کی ایک جماعت پیغمبرخدا کے پاس آئی، یہ لوگ کہنے لگے: ہمارے جد بزرگ قصی بن کلاب کو زندہ کردو اور وہ تمھاری نبوت کی گواہی دے تو ہم سب تسلیم کرلیں گے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں فرمایا گیا ہے کہ اگر یہ لوگ یہی بات حقیقت کے طور پر کہتے تو خدا یہ کام معجز نمائی کے طور پر انجام دے دیتا لیکن یہ جھوٹ بولتے ہیں اور ان کا ہدف قبولِ حق سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے اور اگر اس حالت میں خدا ان کی درخواست قبول کرلے اور حق بات اس سے زیادہ ان کے کانوں تک پہنچائے یا ان کے جد قصی بن کلاب کو زندہ کردے اور یہ اس کی گواہی سُن لیں پھر بھی یہ روگردانی کریں گے اعراض کئے رہیں گے( وَلَوْ اٴَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا وَهُمْ مُعْرِضُونَ ) ۔

یہ جملے ایسے لوگوں کے بارے میں ہیں جنھوں نے بارہا حق کی باتیں سنی ہیں اور قرآن کی روح پرور آیات اُن کے کانوں تک پہنچی ہیں اور انھوں نے ا ن کے مضامین ومفاہیم کو سمجھا ہے مگر پھر بھی تعصب اور ہٹ دھر می سے کام لیتے ہوئے ان کا انکار کرتے ہیں ، ایسے افراد اپنے اعمال کی وجہ سے ہدایت کا صلاحیت گنوا بیٹھے ہیں اور اب خدا اور اس کے پیغمبر کو ان سے کوئی سرورکار نہیں ۔

یہ آیت ایسے جبری مذہب کے پیروکاروں کے لئے دندان شکن جواب ہے، یہ آیت نشاندہی کرتی ہے کہ تمام سعادتوں کا سرچشمہ خود انسان ہے اور خدا کوبھی لوگوں کی اہلیت کے لحاظ سے ہی ان سے سلوک کرتا ہے۔

____________________

۱۔ ”صم “ ”اٴصم “ کی جمع ہے، اس کے معنی ہیں ”بہرے“ ”بکم “ ”اٴبکم “ کی جمع ہے، اس کے معنی ”گونگے“-


دو اہم نکات

۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ: بعض اوقات بعض نکتہ چین اس آیت سے اپنے لئے ایک پریشا کن مطلب اخذ کرتے ہیں ، وہ یہ منطق پیدا کرتے ہیں کہ اس آیت میں قرآن کہتا ہے: ”اگر خدا ان میں کوئی اچھائی دیکھے تو ان تک حق پہنچادے“ اور ”اگر ان حق ان تک پہنچادے تو وہ روگردانی کرتے ہیں “۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ”اگر خدا ان میں کوئی خیر دیکھے تو وہ روگردانی کریں گے“۔

یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں کیونکہ گفتگو کے پہلے حصّے میں جو یہ آیا ہے کہ ”حق کو ان کے کانوں تک پہنچائے گا“ اس کے بارے میں انھیں اشتباہ ہوا ہے، اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ اس سلسلے میں آمادکی رکھتے ہوں تو حق کو ان کے کانوں تک پہنچائے گا، لیکن گفتگو کے دوسرے حصّے میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر اسباب فراہم نہ ہونے کی صورت میں یہ کام کرے تو وہ روگردانی کریں گے۔

لہٰذا یہ جملہ مندرجہ بالا آیت میں دو مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے اور اس سے مذکورہ منطقی قیاس نہیں کیا جاسکتا(۱) (غور کیجئے گا)۔

یہ بالکل اس طرح ہے کہ کوئی کہے کہ: اگر میں جانتا کہ فلاں شخص میری دعوت کو قبول کرلے گا تو میں اسے دعوت دیتا لیکن اس وقت حالات ایسے ہیں کہ اگر میں اسے دعوت دوں تو وہ قبول نہیں کرے گا لہٰذا میں اسے دعوت نہیں دوں گا۔

۲ ۔ حق بات سننے کے مختلف مراحل: بعض اوقات انسان صرف الفاظ اور عبارات کو سنتا ہے لیکن ان کے مفہوم پر غور وفکر نیہں کرتا، کچھ ایسے حاالات بھی ہیں کہ جو اس قدر سننے پر تیار نہیں ہیں جیسا کہ قرآن کہتا ہے:

( وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لَاتَسْمَعُوا لِهٰذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِیهِ لَعَلَّکُمْ تَغْلِبُونَ )

کفار کہتے ہیں کہ اس قرآن کی طرف کان نہ دھرو اور شور مچاو شایدتم کامیاب ہوجاو تاکہ کوئی شخص حق بات نہ سُن سکے۔(حٰم سجدہ/ ۲۶)

کبھی انسان گفتگو اور الفاظ سننے کو تو تیار ہوتا ہے لیکن پھر بھی عمل کا ارادہ اور عزم نہیں کرتا، جیسے منافقین ہیں کہ جن کی طرف سورہ محمد آیت ۱۶ میں فرمایا گیا ہے:

( وَمِنْهُمْ مَنْ یَسْتَمِعُ إِلَیْکَ حَتَّی إِذَا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِکَ قَالُوا لِلَّذِینَ اٴُوتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا )

ان میں سے بعض ایسے منافق ہیں جو تمھاری باتیں کان دھر کے سنتے ہیں لیکن جب وہ تیرے پاس سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں تو انکار یا استہزاء کے طور پر آگاہ اور باخبر لوگوں سے کہتے ہیں یہ کیا بات تھی جو محمد کہہ رہا تھا۔

بعض اوقات ان کی کیفیت کچھ ایسی ہوجاتی ہے کہ اگر وہ کسی بات کو توجہ سے سنیں بھی تو حق بات کا ادراک نہیں کرپاتے ان سے نیک وبد کی تمیز کی حس ہی سلب ہوجاتی ہے اور یہ خطناک ترین مرحلہ ہے۔

قرآن ان تینوں گروہوں کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ درحقیقت بہرے ہیں کیونکہ حقیقی سننے والا تو وہ ہے جو توجہ سے سنتا بھی ہے، سمجھتا ہے، سوچتا ہے اور از رُوئے اخلاص عمل کا بھی مصمم ارادہ رکھتا ہے۔

آج بھی کتنے لوگ ہیں جو آیاتِ قرآن سنتے وقت (بغیر تشبیہ کے، جیسے موسیقی کی آوازیں سن رہے ہوں ) احساس کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی زبان سے شور ہیجان کی کیفیت کے مظہر جملے نکلتے ہیں لیکن ان کی ساری ہمت بس یہی ہوتی ہے اور عمل میں کورے ہوتے ہیں اور یہ کیفیت مقصدِ قرآن سے میل نہیں کھاتی۔

____________________

۱۔ منطقی اصلاح کے مطابق مذکورہ قیاس میں ”حد وسط“ موجود نہیں ہے کیونکہ پہلے جملے میں ”لاٴَسْمَعَهُمْ حالکونهم یعلم فیهم خیراً “ ہے اور دوسرے جملے میں ”لاسمعهم حالکونهم لایعلم فیهم خیرا “ہے لہٰذا مندرجہ بالا دو جملوں میں حدِ وسط موجود نہیں ہے کہ اس سے قیاس کی تشکیل کی جاسکے اور یہ دونوں جملے ایک دوسرے مختلف اور الگ الگ ہیں (غور کیجئے گا)۔


آیات ۲۴،۲۵،۲۶

۲۴-( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اسْتَجِیبُوا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیکُمْ وَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ یَحُولُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَاٴَنَّهُ إِلَیْهِ تُحْشَرُونَ )

۲۵-( وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَاتُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْکُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ شَدِیدُ الْعِقَابِ )

۲۶-( وَاذْکُرُوا إِذْ اٴَنْتُمْ قَلِیلٌ مُسْتَضْعَفُونَ فِی الْاٴَرْضِ تَخَافُونَ اٴَنْ یَتَخَطَّفَکُمْ النَّاسُ فَآوَاکُمْ وَاٴَیَّدَکُمْ بِنَصْرِهِ وَرَزَقَکُمْ مِنَ الطَّیِّبَاتِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ )

ترجمہ

۲۴ ۔ اے ایمان والو! خدا اور پیغمبر کی دعوت قبول کرو، جب وہ تمھیں ایسی چیز کی طرف پکارے جو تمھاری زندگی کا سبب ہے اور جان لو کہ خدا انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور یہ کہ تم سب (قیامت) میں اس کے پاس محشور ہوگے۔

۲۵ ۔ اور اس فتنے سے درو جو صرف تمھارے ظالموں کو نہیں پہنچے کا (بلکہ سب کو گھیرلے گا کیونکہ دوسروں نے خاموشی اختیار کی تھی) اور جان لو کہ خدا شدید العقاب ہے۔

۲۶ ۔ اور وہ وقت یاد کرو جب رُوئے زمین پر ایک مختصر، چھوٹا اور کمزور گروہ تھے یہاں تک کہ تم ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمھیں کو نہ لے جائیں لیکن اس نے تمھیں پناہ دی، تمھاری مدد کی اور تمھیں پاکیزہ رزق سے بہرہ مند کیا تاکہ اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔

دعوت، زندگی کی طرف

گذشتہ آیات میں مسلمانوں کو علم، عمل، اطاعت اور تسلیم کی طرف دعوت دی گئی تھی، ان آیات میں اسی ہدف کو ایک اور انداز سے حاصل کیا گیا ہے۔

پہلے ارشاد ہوتا ہے: اے ایمان والو! خدا اور اُس کے پیغمبر کی دعوت کو قبول کرو، جب وہ تمھیں ایسی چیز کی طرف دعوت دیتا ہے جو تمھیں زندہ کرتی ہے( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اسْتَجِیبُوا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیکُمْ ) ۔

مندرجہ بالا آیت صراحت سے کہتی ہے کہ دعوتِ اسلام در اصل زندگی اور حیات کی طرف دعوت ہے، حیاتِ روحانی، حیاتِ مادّی، حیاتِ ثقافتی، حیاتِ اقتصادی، حیاتِ سیاسی، حقیقی مفہوم کے ساتھ حیاتِ اخلاقی اور حیاتِ اجتماعی غرض اسلام کی دعوت ہر لحاظ سے اور ہر پہلو سے حیات ہے۔

یہ مختصر ترین اور جامع ترین تعبیر ہے جو اسلام اور دینِ حق کے بارے میں آئی ہے۔ اگر کوئی پوچھے کہ اسلام کا ہدف اور مقصد کیا ہے اور وہ ہمیں کیا دے سکتا ہے تو ایک ہی مختصر سے جملے میں کہہ سکتے ہیں کہ اس کا ہدف اور مقصد تمام جہاتِ زندگی میں حیات عطا کرنا ہے اور یہی اسلام ہمیں عطا کرتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا طلوع اسلام سے قبل اور دعوتِ قرآن سے پہلے مردہ تھے کہ قرآن انھیں دعوتِ حیات دیتا ہے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جی ہاں ، وہ اس حیات سے محروم تھے کہ جو حیات قرآن عطا کرتا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ حیات کے کئی پہلو اور مراحل ہیں کہ قرآن جن سب کی طرف نشاندہی کرتا ہے۔

”زندگی“ کا مفہوم بعض اوقات سبزہ زار کی حیات کے معنی میں آیا ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

( اعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ یُحْیِ الْاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا )

جان لو کہ خدا زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے۔(حدید/ ۱۷)

کبھی حیاتِ حیوانی کے معنی میں آیا ہے، مثلاً:

( إِنَّ الَّذِی اٴَحْیَاهَا لَمُحْیِی الْمَوْتیٰ )

وہ خدا کہ جس نے اس (زمین) کو زندہ کیا، مردوں کو بھی زندہ کرے گا۔(حم سجدہ/ ۳۹)

کبھی زندگی، فکری، عقلی اور انسانی حیات کا معنی لئے ہوئے ہوتی ہے، مثلاً:( اٴَوَمَنْ کَانَ مَیْتًا فَاٴَحْیَیْنَاه )

وہ شخص جو مردہ اور گمراہ تھا، پس پھر ہم نے اس کی ہدایت کی، کیاوہ گمراہوں کی طرح ہے۔ (انعام/ ۱۲۲)

کبھی دوسرے جہان کی حیاتِ جاودان کے مفہوم میں ہے، مثلاً:( یَالَیْتَنِی قَدَّمْتُ لِحَیَاتِی )

اے کاش!آج (روز قیامت) کی زندگی کے لئے میں نے کوئی چیز آگے بھیجی ہوتی۔(فجر/ ۲۴)

اور کبھی زندگی لامحدود اور لامتناہی علم وتوانائی کے معنی میں ہوتی ہے، جیسا کہ خدا کے بارے میں ہے-

( هُوَ الْحَیِّ الَّذِی لَایَمُوت ) وہ ایسا زندہ ہے کہ جس کے لئے موت نہیں ہے۔

موت کی اقسام کے بارے میں جو کچھ ہم نے کہا ہے اس کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ اگرچہ مادّی اور حیوانی زندگی کے حامل تھے لیکن وہ انسانی، معنوی اور عقلی زندگی سے محروم تھے ، قرآن آیا اور اس نے انھیں حیات اور زندگی کی دعوت دی۔

یہاں سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہوجاتی ہے کہ جو لوگ دین ومذہب کو ایک خشک، بے روح، حدودِ زندگی سے ماوراء اور فکری واجتماعی پروگراموں سے الگ سمجھتے ہیں وہ کس قدر اشتباہ اور غلطی ہیں ۔ ایک سچّا دین وہی ہوسکتا ہے جو زندگی کے تمام شعبوں پہلوں میں حرکت پیدا کرے، روح پھونکے، فکر عطا کرے اور احساس ذمہ داری پیدا کرے، ہمیشگی، اتحاد، ارتقا اور تکامل ایجاد کرے اور تمام معانی کے لحاظ سے حیات آفریں ہو۔

ضمناً یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ جو لوگ اس آیت کی تفسیر صرف جہاد یا ایمان یا قرآن یا بہشت کے ساتھ کرتے ہیں اور ان امور کو حیات کے تنہا عامل کے طور پر پیش کرتے درحقیقت مفہوم آیت کومحدود کردیتے ہیں کیونکہ آیت کے مفہوم میں تویہ سب امور شامل ہیں اور ان سے بڑھ کر ہر چیز، ہر فکر، ہر پروگرام اور ہر حکم جو حیاتِ انسانی کی کوئی صورت پیدا کرے آیت کے مفہوم میں شامل ہے۔

اس کے بعد فرمایا گیا ہے: جان لو کہ خدا انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور یہ کہ تم سب قیامت میں اس کے پاس جمع کئے جاوگے( وَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ یَحُولُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَاٴَنَّهُ إِلَیْهِ تُحْشَرُونَ ) ۔

بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ یہ بندوں سے خدا کے نہایت قربت کی طرف اشارہ ہے گویا وہ خود انسان کی جان اور اس کے اندر موجود ہے، جیسا کہ قرآن کہتا ہے:( نَحْنُ اٴَقْرَبُ إِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیدِ )

ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اُس کے قریب ہیں ۔(ق/ ۱۶)

کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ اشارہ ہے کہ قلوب اور افکار کی گردش خدا کے ہاتھ میں ہے جیسا کہ ہم دعا میں کہتے ہیں :

”یامقلّب القلوب والاٴبصار“

اے وہ کہ قلوب اور افکار کی گردش جس کے ہاتھ میں ہے۔

کبھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر لطفِ خدا نہ ہوتا تو انسان ہرگز حق کی حقانیت اور باطل کے بطلان پر آگاہ نہ ہوپاتا۔

کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب تک لوگوں کو موقع میسّر ہے اطاعتِ الٰہی اور نیک کاموں کی انجام دہی کے لئے کوشش کرتے رہیں کیونکہ خدا انسان اور اس کے درمیان موت کے ذریعے رکاوٹ پیدا کردیتا ہے۔

لیکن ایک عمومی حوالے سے ان تمام تفاسیر کو ایک ہی جامع تفسیر میں جمع کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ کہ خدا ہر جگہ حاضر وناضر ہے اور تمام موجودات پر محیط ہے وہ ان موجودات میں سے نہیں لیکن ان سے ح۔جدا بھی نہیں ۔ موت وحیات،علم وقدرت، امن وسکون اور توفیق وسعادت سب اس کے ہاتھ ہیں اور اس کے قبضہ قدرت میں ہیں ، لہٰذا انسان نہ کوئی چیز اس سے چھپاسکتا ہے، نہ کوئی کام اس کی توفیق کے کرسکتا ہے اور نہ ہی یہ مناسب ہے کہ انسان اس کے علاوہ کسی کی طرف رخ کرے اور اُس کے غیر سے درخواست کرے کیونکہ وہی تمام چیزوں کا مالک ہے اور انسان کے تمام وجود پر محیط ہے۔

اس جملے کا گذشتہ جملے سے ربط اس لحاظ سے ہے کہ اگر پیغمبر زندگی اور حیات کی طرف دعوت دیتا ہے تو ایسی ہستی کا فرستادہ ہے کہ موت وحیات اور ہدایت وعقل سب جس کے قبضہ قدرت میں ہیں لہٰذا اس امر کی تاکید کے لئے ارشاد ہوتا ہے کہ تم نہ صرف آج اس کی قدرت کے احاطہ میں موجود ہو بلکہ جہان میں بھی اسی کی طرف جاوگے یہاں اور وہا ں سب اس کے سامنے موجود ہو۔

صرف ظالم ہی انجامِ بد سے دوچار نہیں ہوں گے

اس کے بعد خدا اور پیغمبر کی حیات بخش دعوت قبول نہ کرنے کے بُرے انجام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: اس فتنے سے بچو جو تم میں سے سرف ظالموں ہی کو نہیں آلے گا بلکہ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا (وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَاتُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْکُمْ خَاصَّةً)۔

لفظ ”فتنہ“ قرآن مجید میں مختلف مواقع پر استعمال ہوا ہے۔ کبھی آزمائش وامتحان کے میں اور کبھی بلا، مصیبت اور عذاب کے معنی میں ۔ اصل میں اس لفظ کا معنی ہے سونے کو کٹھالی میں داخل کرنا تاکہ اس کا کھوٹا کھراپن واضح ہوجائے، بعد ازان یہ لفظ ایسی آزمائشوں میں استعمال ہونے لگا جو انسان کی صفاتِ باطنی کو ظاہر کردیتی ہیں اور اسی طرح ان سزاؤں کے بارے میں استعمال ہونے لگا جو روحِ انسانی کی سفائی یا اس کے گناہ کی تخفیف کا باعث ہوں ۔

زیر بحث آیت میں یہ لفظ اجتماعی مصائب آلام کے مفہوم میں ہے کہ جو سب کو دامنگیر ہوں ، اصلاح کی زبان میں جس میں خشک وتر سب جل جائیں ۔

در حقیقت اجتماعی حوادث کی خاصیت یہی ہے کہ جب معاشرہ اشاعتِ حق اور رسالت کے بارے میں اپنی ذمہ داری میں کوتاہی کرے اور اس کوتاہی کے نتیجے میں قانون شکنیاں ، ہرج ومرج اور بے امنی وغیرہ پیدا ہوجائیں تو نیک وبد سب اس کی آگ میں جلتے ہیں ۔ یہ دراصل خداوندعالم کی طرف سے تمام مسلمانوں کے خطرے کے الارم ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ افرادِ معاشرہ نہ صرف اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ اپنے فرائض ادا کریں بلکہ ان کی ذمہ داری ہے وہ دوسروں کو بھی ان کے فرائض کی انجام دہی پر اُبھاریں کیونکہ اختلاف، انتشار اور عدم اتفاق اجتماعی پروگراموں کی شکست کا باعث ہوتے ہیں اور یہ دھواں سب کی آنکھوں میں پڑے گا۔ میں نہیں کہتا کہ چونکہ میں نے اپنی ذمہ داری نبھالی ہے لہٰذا ددوسروں کی فرض ناشناسی کے بُرے آثار سے بچ جاوں گا کیونکہ اجتماعی معاملات کو شخصی اور انفرادی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ بالکل اس طرح ہے جیسے دشمن کی طاقتور حملہ آور فوج کی تعدا ایک لاکھ ہو۔ اس کا حلہ روکنے کے لئے اگر پچاس ہزار افراد اپنی ذمہ داری بنھائیں تو مسلّم ہے کہ کافی نہیں ہوں گے اور شکست کے بُرے نتائج سے ذمہ دار اور غیر ذمہ دار سبھی دوچار ہوں گے اور جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ اجتماعی اور معاشرتی مسائل کی یہی صورت ہے۔

یہ حقیقت ایک اور طریقے سے بھی واضح کی جاسکتی ہے کہ اور وہ یہ کہ معاشرے کے نیک لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ بُروں کے مقابلے میں ہوکر نہ بیٹھ جائیں اگر انھوں نے سکوت اختیار کیا تو خدا کے ہاں وہ بھی بُروں کے انجام میں شریک قرار پائیں گے۔ جیسا کہ ایک مشہور حدیث میں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا:

انّ اللّٰه عزّوجلّ لایعذّب العامّة بعمل الخاصّة حتّیٰ یروا المنکر بین ظهرانیهم وهم قادون علیٰ اٴن ینکروه فاِذا فعلوا عذّب اللّٰه الخاصّة والعامّة -

خداوندعزوجل عام لوگوں کے عمل کی سزا کسی خاص گروہ نہیں دے گا مگر اس صورت میں کہ جب منکرات اور خداکی نافرمانیاں ان کے درمیان ہورہی ہوں اور وہ ان کے افکار اور ممانعت کی قدرت رکھتے ہوئے سکوت اور خاموشی اختیار کریں ، اس صورت میں خداتعالیٰ اس خاص گروہ کو اور معاشرے کے تمام افراد کو سزادے گا۔(۱)

جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے یہ حکم خدا کی بنیادی اور اُخروی دونوں سزاوں پر صادق آتا ہے اور اسی طرح ایک گروہ یا سب کے اعمال نتائج اور آثار کے سلسلے میں بھی صادق آتا ہے(۲)

آیت کے آخر میں تہدید آمیز لہجے میں کہاگیا ہے : جان لو کہ خدا کا عذاب وعقاب سخت ہے( وَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ شَدِیدُ الْعِقَابِ ) ۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ خدا کا لطف ورحمت انھیں غافل کردے اور خدائی عذاب وسزا کی شدت کو فراموش کردیں اور فتنے انھیں دامنگیر ہوجائیں جیسے اسلامی معاشرے کو دامنگیر ہوئے ہیں اور ان خدائی سنتوں کو بھول جانے کی وجہ سے وہ پیچھے کی طرف اُلٹے پاوں چلے گئے ہوں ۔

اگر ہم اپنے دَور کے اسلامی معاشروں پر ایک نظر ڈالیں توہم دیکھیں گے کہ دشمن کے مقابلے میں وہ پے درپے شکست کہ شکار ہورہے ہیں ۔ استعمار، یہودیت اور صیہونیت ان کے خلاف کامیابی سے مصروف عمل ہے۔ انحطاط، پستی اور علمی پسماندگی کے مفاسد دکھائی دے رہے ہیں ۔ یہ صورتِ حال آیت کی حقیقت اور اس کے مفہوم کی تصویر کشی کررہی ہے کس طرح ان فتنوں نے چھوٹے بڑے، نیک وبد اور عالم وجاہل کو گھیر رکھا ہے اور یہ اسی طرح جاری وساری رہیں گے یہاں تک کہ مسلمانوں میں اجتماعی رُوح بیدار ہوجائے اور ہر کوئی معاشرے میں اپنی اجتماعی ذمہ داری کو قبول کرلے اور اسلام کی طرف سے عائد دو فرائض امر بالمعروف اور نہی عن المنکر قطعی، حتمی اور تخلف ناپذیر صورت اختیار کرلیں ۔

قرآن مسلمانوں کا ہاتھ پکڑکر انھیں ایک مرتبہ پھر ان کی گذشتہ تاریخ کی طرف پلٹاتا ہے اور انھیں سمجھاتا ہے کہ تم کس درجے میں تھے اور اس وقت کس مقام پر کھڑے ہو تاکہ جو درس انھیں گذشتہ آیات میں دیا گیا ہے اس کا اچھی طرح ادراک کرلیں ۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ وقت یاد کرو جب تم ایک چھوٹاسا ناتواں گروہ تھے اور دشمنوں کے چنگل میں پھنسے ہوئے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ تمھیں ضعف وناتوانی کی طرف کھینچ لے جائیں( وَاذْکُرُوا إِذْ اٴَنْتُمْ قَلِیلٌ مُسْتَضْعَفُونَ فِی الْاٴَرْضِ ) ۔ ”اس طرح کہ تم ڈرتے تھے کہ کہیں مشرکین اور مخالفین تمھیں اُچک نہ لیں “( تَخَافُونَ اٴَنْ یَتَخَطَّفَکُمْ النَّاسُ ) ۔

یہ ایک لطیف تعبیر ہے جو اُس دور کے مسلمانوں کی انتہائی کمزوری قوتکی کمی کو واضح کرتی ہے جیسے کوئی چھوٹا سا جسم ہوا میں معلّق ہو کہ دشمن جسے آسانی سے اُچک سکتا ہے، یہ ہجرت سے پہلے مسلمانوں کی کیفیت کی طرف اشارہ ہے جب کہ ان کا دشمن وہاں بہت طاقتور تھا یا پھر ہجرت کے بعد کے دور کی طرف ایران اور روم کی عظیم طاقتوں کے مقابلے میں ان کی حالت کی طرف اشارہ ہے۔

”لیکن خدا نے تمھیں پناہ دی“( فَآوَاکُمْ ) ۔ ”اور اپنی مدد سے تمھیں تقویت دی“( وَاٴَیَّدَکُمْ بِنَصْرِهِ ) ۔ ”اور تمھیں پاکیزہ رزق سے بہرہ مند کیا“( وَرَزَقَکُمْ مِنَ الطَّیِّبَاتِ ) ۔ ”شاید اس کی نعمت کا شکر بجالاو“( لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ ) ۔

____________________

۱۔ تفسیر المنار، ج۹، ص۶۳۸-

۲۔ مفسّرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ ”لا تصیبن“ نفی کا صیغہ ہے یا نہیں کا۔ بعض نے نہی کا قرار دیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ فتنوں سے بچو کیونکہ یہ صرف ظالموں کو اپنی لپیٹ میں نہیں لیں گے اور دیگر نے اسے نفی کا صیغہ سمجھا ہے لیکن چونکہ عربی ادب کے علماء کے نظریے کے مطابق نون تاکید سوائے نہی کے اور جواب قسم کے نہیں آتی لہٰذا جواب قسم قرار دیتے ہیں گویا آیت میں قسم مقدر ہے۔


آیات ۲۷،۲۸

۲۷-( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لَاتَخُونُوا اللهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا اٴَمَانَاتِکُمْ وَاٴَنْتُمْ تَعْلَمُونَ )

۲۸-( وَاعْلَمُوا اٴَنَّمَا اٴَمْوَالُکُمْ وَاٴَوْلَادُکُمْ فِتْنَةٌ وَاٴَنَّ اللهَ عِنْدَهُ اٴَجْرٌ عَظِیمٌ )

ترجمہ

۲۷ ۔ اے ایمان والو! خدا اور رسول سے خیانت نہ کرو (نیز) اپنی مانتوں میں خیانت روا نہ رکھو جب کہ تم متوجہ ہو اور جانتے ہو۔

۲۸ ۔ اور جان لو کہ تمھارے اموال اور اولاد آزمائش کا ذریعہ اور خدا کے ہاں (ان کے لئے) اجر عظیم ہے (جو امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں ۔

شان نزول

مندرجہ بالا آیت کے نزول کے بارے میں کئی ایک روایات ہیں ۔ ان میں سے ایک روایت امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ:

پیغمبر خدا نے حکم دیا کہ بنی قریظہ (جو مدینہ کے یہودیوں میں سے تھے) کا محاصرہ کرلیا جائے، یہ محاصرہ اکیس راتوں تک جاری رہا، لہٰذا وہ صلح کی تجویز پیش کرنے پر مجبور ہوگئے جیسے ان کے بھائی بنی نضیر (جو مدینے کا یہودیوں کا ایک اور گروہ تھا) کے لوگوں نے بھی کیا تھا۔ صلح کی تجویز میں انھوں نے پیش کش کی صداقت مشکوک تھی)اور فرمایا کہ صرف سعد بن معاذ کا فیصلہ قبول کیا جائے۔

انھوں نے تقاضا کیا کہ رسول الله ابولبابہ (آپ کے مدنی صحابی) کو ان کے پاس بھیجا جائے۔

ابولبابہ کا ان سے دوستی کا پرانا رشتہ تھا اور اس کے گھر والے، بیٹے اور مال ومنال ان کے پاس تھے۔

یہ تجویز رسول الله نے قبول فرمالی اور ابولبابہ کو ان کے پاس بھیج دیا۔

انھوں نے ابولبابہ سے مشورہ کیا کہ کیا اس میں مصلحت ہے کہ وہ سعد بن معاذ کی قضاوت قبول کرلیں ۔

ابولبابہ نے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا یعنی اگر قبول کروگے تومارے جاوگے لہٰذا اس تجویز کو قبول نہ کرو۔

وحی خدا کے قاصد جبرئیل نے اس امر کی اطلاع پیغمبرکو دے دی۔

ابولبابہ کہتا ہے: ابھی میں نے ایک قدم بھی نہیں اٹھایا تھا کہ متوجہ ہوا کہ میں نے خدا اور پیغمبر سے خیانت کی ہے۔

اس موقع پر یہ آیات اس کے متعلق نازل ہوئیں ۔

اس وقت ابولبابہ سخت پریشان ہوا یہاں تک کہ اس نے اپنے آپ کو ایک طناب کے ذریعے مسجدِ نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا اور کہا: خدا کی قسم نہ کھاوں گا نہ پانی پیوں گا یہاں تک کہ مرجاوں گا یا یہ کہ خدا میری توبہ قبول کرلے۔

سات شب وروز گزر گئے نہ اُس نے کھایا اور پیا یہاں تک کہ بے ہوش ہوکر زمین پر گرپڑا تو خدا نے اس کی توبہ قبول کرلی۔

یہ خبر مومنین کے ذریعے اسے ملی لیکن اس نے قسم کھائی کہ میں اپنے آپ کو ستون سے نہیں کھولوں گا جب تک پیغمبر خدا آکر خود نہ کھولیں ۔

پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم آئے اور انھوں نے اسے کھو لا۔

ابولبابہ نے کہا:میں اپنی توبہ کی تکمیل کے لئے اس گھر کو چھوڑتا ہوں جس میں مَیں اس گناہ کا مرتکب ہوا تھا اور اپنے تمام مال سے صرفِ نظر کرتا ہوں ۔

پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا :صرف اتنا کافی ہے کہ اپنے مال کا تیسرا حصّہ صدقہ کردے۔(۱)

کتب اہلِ سنّت میں بھی یہی مضمون اس آیت کی شان نزول کے متعلق موجود ہے ۔

گذشتہ آیات چونکہ جنگ بدر سے مربوط تھیں لہٰذا بعض نے اس بات کو بعید سمجھا ہے کہ یہ آیت یہودیوں اور بنی قریظہ سے متعلق ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ ان روایات سے مراد یہ ہے کہ ابولبابہ کا واقعہ آیت کا ایک مصداق قرار پاسکتا ہے نہ یہ کہ یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی ہے۔ ایسا ہی انھوں نے گذشتہ آیات کی شایان نزول سے متعلق بھی کہا ہے۔ مثلاً بعض کتب میں کچھ صحابہ سے منقول ہے کہ فلاں آیت عثمان کے بارے میں نازل ہوئی ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ عثمان کا قتل وفات پیغمبر سے سالہا سال بعد ہوا ہے۔

یہ احتمال بھی ہے کہ آیت تو بنی قریظہ کے واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہو لیکن چونکہ بدر کی آیات سے مناسبت رکھتی تھی لہٰذا پیغمبرِ خدا کے حکم سے ان کے ساتھ رکھ دی گئی ہو۔

خیانت اور اس کا شرچشمہ

پہلی آیت میں خداوندعالم نے روے سخن مسلمانوں کی طرف کرتے ہوئے کہا ہے: اے ایمان والو! خدا اور پیغمبر سے خیانت نہ کرو( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لَاتَخُونُوا اللهَ وَالرَّسُولَ ) ۔

خدا اور رسول سے خیانت یہ ہے کہ مسلمانوں کے فوجی راز دوسروں تک پہنچادیئے جائیں یا دشمنوں کو اپنے ساتھ مقابلے اور جنگ میں تقویت پہنچائی جائے یا واجبات، محرّمات اور خدائی احکام کو بالکل پس پشت ڈال دیا جائے۔ لہٰذا ابن عباس سے منقول ہے کہ جو شخص اسلامی احکام اور پروگراموں میں سے کسی چیز کو ترک کردے وہ اسی قدر خدا اور پیغمبر سے خیانت کا مرتکب ہوا ہے۔

اس کے بعد فرمایا گیا ہے: اپنی امانتوں میں سے خیانت نہ کرو( وَتَخُونُوا اٴَمَانَاتِکُمْ ) ۔(۲)

”امانت“ اگرچہ مالی امانتوں کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن منطق قرآن میں اس کا وسیع مفہوم ہے زندگی کے جو تمام اجتماعی، سیاسی اور اخلاقی پہلوؤں پر محیط ہے۔ اس لئے حدیث میں آیا ہے:

”المجالس بالامانة“

جو باتیں خصوصی نشستوں اور مجالس میں ہوں وہ امانت ہیں ۔

ایک اور حدیث میں ہے:”اذا حدث الرجل بحدیث ثمّ التفت فهو امانة“

جب کوئی شخص کسی سے بات کررہا ہو ، پھر وہ اِدھر واُدھر دیکھے (کہ کہیں کوئی اسے سُن تو نہیں رہا) تویہ بات امانت ہے۔

لہٰذا اسلام کی آب وخاک مسلمانوں کے ہاتھ خدائی امانت ہے، ان کی اولاد بھی امنت ہے اور سب بالاتر قرآن مجید اور اس کی تعلیمات پروردگار کی عظیم امانت ہیں ۔

بعض کا کہنا ہے کہ خدا کی امانت اُس کا دین ہے، رسول کی امانت ان کی سنّت اور مومنین کی امانت ان کا مال واسرار ہیں لیکن مندرجہ بالا آیت میں امانت میں تمام مفاہیم شامل ہیں ۔

بہرحال امانت میں خیانت سب سے زیادہ قابلِ نفرت عمل اور قبیح ترین گناہ ہے۔ جو شخص امانت میں خیانت کرتا ہے در حقیقت وہ منافق ہے جیسا کہ حدیث میں منقول ہے:

”آیة المنافق ثلاث: اذا حدث کذب، واذا وعد اخلف، واذا ائتمن خانَ واذا صام وصلی وزعم انّه مسلم“

منافق کی تین نشانیاں ہیں : جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے توخیانت کرتا ہے۔ ایسا شخص منافق ہے چاہے روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔

اصول طور پر امانت میں خیانت نہ کرنا انسانی فرائض اور حقوق میں سے ہے یعنی اگرچہ صاحبِ امانت مسلمان نہ ہو تب بھی اس کی امانت میں خیانت نہیں کی جاسکتی۔

آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: ہوسکتا ہے تم غلطی سے اور بے خبری میں کسی چیز میں خیانت کر بیٹھو لیکن جان بوجھ کر کبھی ایسا نہ کرنا( وَاٴَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ) ۔

البتہ جو اعمال ابولبابہ کے کام جیسے ہیں انھیں اشتباہ یا بے خبری نہیں کہا جاسکتا بلکہ مال، اولاد اور ذاتی مفاد سے عشق بعض اوقات حساس مواقع پر انسان کی آنکھ اور کان بند کردیتے ہیں اور وہ خدا اور پیغمبر سے خیانت کا مرتکب ہوجاتا ہے۔ در حقیقت جان بوجھ خیانت کرنا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ انسان فوراً باولبابہ کی طرح بیدار ہوکر گذشتہ گناہ کی تلافی کرے۔

اگلی آیت میں مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ ہوشیار رہیں کہیں مادّی امور اور جلد گزر جانے والے شخصی مفادات انسان کی آنکھ اور کان پر پردہ نہ ڈال دیں اور وہ ایسی خیانتوں کا مرتکب نہ ہوجائے جو اس کے معاشرے کی زندگی اور سرنوشت کو خطرے میں ڈال دے۔ ارشاد ہوتا ہے : جان لو کہ تمھارے اموال اور اولاد آزمائش اور امتحان کا ذریعہ ہیں( وَاعْلَمُوا اٴَنَّمَا اٴَمْوَالُکُمْ وَاٴَوْلَادُکُمْ فِتْنَةٌ ) ۔

جیسا کہ پہلے اشارہ کیا جاچکا ہے ایسے مواقع پر ”فتنة“کا معنی ہے ”آزمائش کا ذریعہ“ اور درحقیقت ایمان وکفر اور انسانی قدر وقیمت کے اندازے کے لئے یہ دو چیزیں اہم ترین میزان ہیں ۔ مال واسباب حاصل کرنا، انھیں خرچ کرنا، ان کی حفاظت کرنا اور ان سے لگاو کی کیفیت یہ سب امتحانِ بشر کے میدان ہیں ۔

بہت سے ایسے اشخاص ہیں جو عام عبادات اور دین ومذہب کے ظاہری امور کے لحاظ سے بلکہ بعض اوقات مستحبات کے انجام دہی میں بہت سخت اور پکّے ہیں لیکن جب کوئی مکالی معاملہ بیچ میں آجائے تو سب چیزیں ایک طرف ہوجاتی ہیں اور قوانین الٰہی، مسائل انسانی اور حق وعدالت سب کچھ بھول جاتا ہے۔

اولاد کے بارے میں بھی یہی صورت ہے کہ جو انسان کے دل کا میوہ ہے اور بچّے انسان کی شاخِ حیات کے پھول ہیں ، بہت سے افراد جو بظاہر امور دینی اور مسائلِ انسانی واخلاقی کے پابند ہیں انھیں ہم دیکھتے ہیں کہ جب ان کی اولاد کا معاملہ ہوتا ہے تو گویا ان کے افکار ونظریات پر پردہ پڑجاتا ہے اور وہ ان تمام مسائل کو بھول جاتے ہیں ۔ اُولاد کی محبت کے ہاتھوں حرام کو حلال اور حلال کو حرام شمار کرتے ہیں ۔ اولاد کی آئندہ کی خیالی زندگی کے لئے ہر کام پر تیار ہوجاتے ہیں اور ہرحق کو پاوں تلے روند دیتے ہیں ۔

ہمیں چاہیے کہ امتحان کے ان دونوں میدانوں میں پھسل گئے ہیں اوروہ گر پڑے ہیں ۔ انھوں نے اپنے لئے ابدی نفرین اوردائمی پھٹکار حاصل کی ہے۔

اگر ہم سے بھی کوئی لغزش سرزد ہوجائے تو ابولبابہ کی طرح ہیں ہمیں اس کی تلافی کرنا چاہیے یہاں تک کہ وہ اموال جو ایسی لغزش کا سبب بنے اسے اس راہ میں قربان کردینا چاہیے۔

آیت کے آخر میں ان لوگوں کو جو اِن دونوں میدانوں سے کامیابی کے نکل آئیں انھیں بشارت دی گئی ہے کہ پروردگار کے پاس اجر عظیم اور بہت بڑی جزا ہے( وَاٴَنَّ اللهَ عِنْدَهُ اٴَجْرٌ عَظِیمٌ ) ۔ اولاد کی محبت کتنی ہی عظیم دکھائی دے ار مال دولت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو پھر بھی الله کا اجر اور جزا ان سے برتر، عالی تر اور بزرگ تر ہے۔

یہاں کچھ سوالات سامنے آتے ہیں مثلاً یہ کہ اپنے علمی احاطے کے باوجود خداتعالیٰ لوگوں کو آزمائش کیوں کرتا ہے اور یہ کہ خدا کی آزمائش سب کے لئے کیوں ہے یہاں تک کہ انبیاء ومرسلین کے لئے بھی ہے، نیز یہ کہ خدائی آزمائش کے مواقع کون کون سے ہیں اور ان میں کامیابی کا طریقہ کیا ہے۔ ان سب سوالات کے جوابات تفسیر نمونہ جلد اول ( ۲۷۷ اُردوترجمہ) میں دیئے جاچکے ہیں ۔

____________________

۱۔ نور الثقلین، ج۲، ص۱۴۳-

۲-”خیانت“ کا مطلب یہ ہے کہ اس حق کی ادائیگی کا انسان نے ذمہ لیا ہو۔ یہ در اصل ”امانت“ کی ضد ہے۔


آیت ۲۹

۲۹-( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللهَ یَجْعَلْ لَکُمْ فُرْقَانًا وَیُکَفِّرْ عَنکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ )

ترجمہ

۲۹ ۔ اے ایمان لانے والو! اگر خدا کے حکم کی مخالفت سے ڈرو تو وہ تمھارے لئے حق اور باطل کو الگ الگ کردے گا (اور تمھیں ایسی روشن ضمیری عطا کرے گا جس کے ذریعے تم حق اور باطل میں تمیز کرسکو) اور تمھارے گناہوں کی پردہ پوشی کرے گا اور تمھیں بخش دے اور وہ عظیم فضل وبخشش کا مالک ہے۔

ایمان اور روشن ضمیری

گذشتہ آیات میں ایسے حیات بخش احکام بیان ہوئے جو مادی اور روحانی سعادت کے ضامن ہیں لیکن ان پر تقویٰ اور پرہیزگاری کے بغیر عمل نہیں ہوسکتا لہٰذا اس آیت میں انسانی کردار میں تقویٰ اور اس کے آثار کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ اس آیت میں تقویٰ اور پرہیزگاری کے چار نتائج بین گئے ہیں ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: اے ایمان لانے والو! اگر تقویٰ اختیار کرو اور حکم خدا کی مخالفت سے پرہیز کرو تو وہ تمھیں ایک خاص نورانیت اور روشن ضمیری بخشے گا جس سے تم حق اور باطل کے درمیان اچھی طرح سے امتیاز کرسکوگے۔( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللهَ یَجْعَلْ لَکُمْ فُرْقَانًا ) ۔

”فرقان“ ”فرق“ کے مادّہ سے مبالغہ کا صیغہ ہے اور یہاں ایک ایسی چیزو کے معنی میں جو حق کو باطل سے اچھی طرح جدا کرے۔

یہ مختصر اور پُر معنی لفظ انسان کے لئے ایک اہم ترین حیات ساز مسئلہ بیان کرتا ہے اور وہ یہ کہ جس راستے میں انسان کامیابیوں کی طرف جاتا ہے ہمیشہ پھسلنے کے مقاات آتے ہیں اور بے راہ ورویاں موجود ہوتی ہیں اور اگر انھیں اچھی طرح نہ دیکھے اور نہ پہچانے اور ان سے پرہیز نہ کرے تواس طرح کرے گا کہ اس کانام ونشان تک باقی نہیں رہے گا۔ اس راستے میں اہم ترین مسئلہ حق وباطل، نیک وبد، دوست ودشمن، مفید ونقصان دہ عوامل اور سعادت وبدبختی کی شناخت ہے اگر واقعاً انسان ان حقائق کو اچھی طرح پہنچان لے تو اس کے مقصد تک پہنچنا آسان ہوجائے گا۔

مشکل یہ ہے کہ ایسے بہت سے مواقع پر انسان اشتباہ میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ باطل کو حق، دشمن کو دوست اور بے راہ روی کو شاہراہ سمجھنے لگ جاتا ہے۔

ایسے مواقع پر تیز نظر، قوی ادراک اور بہت زیادہ نورانیت اور روشن بینی درکار ہے۔ زیر نظر آیت کہتی ہے کہ یہ نگاہ اور ادراک تقویٰ کے درخت کا ثمر ہے۔ سوال یہ ہے کہ کس طرح تقویٰ اختیار کرنے سے اور گناہ وسرکشی سے پرہیز کرنے سے انسان میں ایسی نظر اور ادراک پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ بات شاید بعض لوگوں کے لئے مبہم اور غیر واضح ہو لیکن اگر کچھ دقّت نظر سے کام لیا جائے تو ان دونوں باتوں کے درمیان موجود رشتہ واضح ہوجاتا ہے۔

اس کی وضاحت یہ ہے کہ پہلے تو انسانی قوت عاقلہ کے ادراک کے لئے کافی حد تک آماد ہ ہے لیکن حریص، طمع، شہوت، خود پرستی، حسد اور مال، بیوی، اولاد جاہ وحشمت اور مقام ومنصب سے عشق کے پردے سیاہ دھوئیں کی طرح عقل کی آنکھوں پر پڑجاتے ہیں ، یا گاڑھے گردو وغبار کی طرح اردگرد کی فضا کو ڈھانپ دیتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ایسے تاریک ماحول میں انسان حق وباطل کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا لیکن اگر تقویٰ کے پانی سے اس غبار کو دھوڈالا جائے اور درمیان سے یہ سیاہ اور تاریک دھواں خم ہوجائے تو حق کے چہرے کو دیکھنا آسان ہوجائے۔ بقول شاعر:

جمالِ یار ندارد حجاب وپردہ دلی

غبارہ رہ بنشان تا نظر توانی کرد

ترجمہ: یعنی حسنِ یار تو حجاب اور میں نہیں ہے لیکن

ایک اور شاعر نے کہا ہے:

حقیقت سرائی است آراستہ

ہوی وہوس گردبرخاستہ

نبینی کہ ہر جا کہ برخاست گرد

نبیند نظر گرچہ بیناست مرد!

ترجمہ: کیا تو نہیں دیکھتا کہ جہاں گرد پڑی ہو وہاں آنکھ نہیں دیکھتی اگرچہ دیکھنے والا شخص بینا ہو۔

دوسری بات یہ ہے کہ جانتے ہیں کہ ہر کمال جہاں بھی ہے وہ کمالِ حق کا پرتُو ہے اور انسان جس قدر خدا کے زیادہ نزدیک ہوتا ہے اس کمال مطلق کا زیادہ طاقتور پرتُو اس کے وجود پر پڑتا ہے۔ اس حساب سے تمام علوم وفنون کا سرچشمہ اس کا علم ہے اور جب بھی انسان تقویٰ کے ذریعے اور گناہ اور ہو وہوس سے پرہیز کرکے اس سے زیادہ نزدیک ہو اور اپنے وجود کے قطرے کو اس کے وجود ہستی کے بے کنار سمندر سے ملادے تو اس کے علم ودانش سے بہت کچھ پالے گا۔

دوسرے لفظوں میں انسان کا دل آئینے کی طرح ہے اور پروردگار کا وجود ہستی آفتاب عالمتاب کی طرح ہے۔ اب اگر اس آئینے کو ہو وہوس کا زنگ تاریک کردے تواس میں نور کا انعکاس نہیں ہوگا لیکن اگر اسے تقویٰ وپرہیزگاری کے پانی سے صِقل کردیا جائے اور زنگ اتار دیا جائے تو اس آفتاب پرفروغ کا خیرہ کرنے والا نور اس میں منعکس ہوگا اور وہ ہر طرف روشن کردے گا۔

یہی وجہ ہے کہ ہم پوری تاریخ میں پرہزگار مردوں اور عورتوں کے حالات میں روشن ضمیری اور روشن بینی کے ایسے واقعات دیکھتے ہیں جو علم ودانش کے عام طریق سے ہرگز قابلِ اراک نہیں ہیں ۔

وہ بہت سے ایسے حادثات کی بنیاد کو اچھی طرح سے پہچانتے تھے جنھیں اجتماعی مصائب وآلام اور شور وغوغا میں نہیں پہچانا جاسکتا اوروہ دشمنانِ حق کے قابلِ نفرت چہروں کو ہزاروں پُرفریب پردوں کے پیچھے دیکھ لیتے تھے انسانوں کی شناخت، معرفت، ادراک اور بصیرت پر تقویٰ کا عجیب اثر بہت سی روایات میں بیان ہوا ہے اور دیگر آیات میں بھی اس کی تاثیر بیان کی گئی ہے۔

سورہ بقرہ آیت ۲۸۲ میں ہے:( وَاتَّقُوا اللهَ وَیُعَلِّمُکُمْ اللهُ )

تقویٰ اختیار کرو اور الله تمھیں تعلیم دے گا۔

ایک مشہور حدیث میں ہے:”الموٴمن ینظر بنور الله “صاحب ایمان انسان الله کے نور سے دیکھتا ہے۔

نہج الباغہ کے کلمات قصار میں ہے:”اکثر مصارع العقوق تحت بروق المطامع

زیادہ تر عقلوں کو لالچ کی چمک دمک پچھاڑدیتی ہے اور حرص وطمع عقل کی آنکھ کو بیکار کردیتی ہے اور پھر لوگ گرنے اور پھسلنے کی جگہ کو نہیں دیکھ پاتے۔

تیسری بات یہ ہے عقلی تجزیہ وتحلیل کے لحاظ سے بھی تقویٰ اور ادراک کے درمیان تعلق قابلِ فہم ہے۔ مثلاً وہ معاشرے جو ہوا وہوس کے محور پر گردش کرتے ہیں اور ان کے نشر واشاعت کے ادارے اسی ہوا وہوس کی ترویج کے لئے کردار ادا کرتے ہیں ، اخبارات برائیوں اور خرابیوں کو رواج دیتے ہیں ،, ریڈیو سے آلودگی اور انحرافات کی آواز بلند ہوتی ہے اور ٹیلیویژن بھی ہوا وہوس کی خدمت کرتے ہیں ، واضح ہے کہ ایسے معاشرے میں ق وباطل میں اچھائی اور برائی میں تمیز اکثر لوگوں کےلئے بہت ہی مشکل ہے۔ لہٰذا تقویٰ کا فقدان عدمِ تشخیص یا غلط تشخیص کا سرچشمہ ہے۔ یا مثلاً وہ گھرانہ جو تقویٰ سے مرحوم ہے اور اس کے بچّے گندے ماحول میں پرورش پارہے ہیں اور بچپن ہی سے برائی اور بے لگام آزادی کے خوگر ہوچکے ہیں آئندہ جب بڑے ہوں گے تو اچھائی اور برائی میں تمیز ان کے لئے مشکل ہوجائے گی۔

اصولی طور پر اگر یہ صلاحتیں اور قُویٰ بیکار ہوجائیں اور سرمایہ راہِ گناہ میں رائیگاں ہوجائے تو لوگ شعور ادراک کے لحاظسے پست ہوجائیں اور پست افکار کے حامل ہوں گے، چاہے وہ صنعتی اور مادی لحاظ سے ترقی کرجائیں ۔

لہٰذا اچھی طرح دیکھتے ہیں کہ ہر وہ چیز جو تقویٰ کے خلاف ہے ایک طرح کی بے خبری، عدم آگاہی یا غلط تشخیص کا سرچشمہ ہے۔ لہٰذا آج کی اس مشینی دنیا میں ایسے معاشرے موجود جو علم وصنعت کے لحاظ سے بہت آگے پہنچ گئے ہیں لیکن اپنی روز مرّہ کی زندگی میں ایسی وحشتناک بے سروسامانی اور تضادات کا شکار ہیں جو انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں ۔ یہ سب امور قرآن کی اس بات کی عظمت کو واضح کردیتے ہیں ۔

اس طرح توجہ کرتے ہوئے کہ تقویٰ صرف عقلی عملی تقویٰ میں منحصر نہیں ہے بلکہ فکری اور عقلی تقویٰ بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے تو حقیقت زیادہ واضح تر ہوجاتی ہے، بے لگام فکری آزادی کے مقابلے میں فکری تقویٰ کا معنی یہ ہے کہ ہم اپنے مطاعلات میں صحیح مدارک اور حقیقی مطالب تلاش کریں ، کافی تحقیق اور ضروری غور وخوض کے بغیر کسی مسئلے کے بارے میں نظریے اور عقیدے کا اظہار نہ کریں ، جولوگ فکری تقویٰ کوبروئے کار لاتے ہیں بیشک وہ بڑی آسانی سے بے لگام لوگوں کی نسبت صحیح نتائج پہنچ جاتے ہیں لیکن وہ لوگ جو انتخابِ مدارک اور طرزِ استدلال میں بے اصول ہیں ان سے بے حساب غلطیاں اور اشتباہات ہوتے ہیں ۔

باقی رہی وہ اہم بات جس کی طرف یقیناً سنجیدگی سے توجہ کرنا چاہیے اور وہ یہ کہ اسلام کے دیگر اصلاحی اور انسان ساز پروگراموں کی طرح ”تقویٰ“ بھی ہم مسلمانوں کے ہاتھوں تحریف وتغیّر کا شکار ہے، بہت سے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ صاحبِ تقویٰ انسان وہ ہے جو اپنا بدن اور لباس زیادہ دھوتا ہے، تمام لوگوں اور تمام چیزوں کونجس یا مشکوک سمجھے، اجتماعی اور معاشرتی مسائل سے کنارہ کش ہو، کسی سیاہ وسفید کو ہاتھ نہ لگائے اور ہر معاملے میں خاموش رہے۔ پرہیزگاری اور تقویٰ کی ایسی غلط تفسیریں در حقیقت اسلامی معاشروں کے انحطاط کے عوامل میں سے ہیں ، اس قسم کا تقویٰ آگاہی پیدا کرتا ہے نہ روشن ضمیری اور نہ حق وباطل کے درمیان تمیز عطا کرتا ہے۔

اب جبکہ پرہیزگاروں کی پہلی جزا کی وضاحت ہوچکی ہے ہم آیت کے اگلے حصّہ کی تفسیر اور باقی چار جزاوں کو بیان کرتے ہیں ۔

قرآن کہتا ہے حق وباطل میں امیتاز کے علاوہ پرہیزگاری کا نتیجہ یہ بھی ہے کہ ”خدا تمھارے گناہ چھپائے گا اور ان کے آثار تمھارے وجود سے ختم کردے گا( وَیُکَفِّرْ عَنکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ ) ۔ علاوہ ازیں اپنی بخشش بھی تمھارے شامل حال کرے گا( وَیَغْفِرْ لَکُمْ ) ۔اور یہ بہت سی جزائیں اور عنایات تمھارے انتظار میں ہیں جنھیں خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کیونکہ خدا بہت زیادہ فضل وبخشش رکھتا ہے( وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ ) ۔

یہ چار اثرات تقویٰ وپرہیزگاری کے درخت کا ثمر ہیں ، تقویٰ اور ان آثار میں بعض کے درمیان فطری اور طبیعی ربط اس سے مانع نہیں کہ ہم ان سب کی نسبت خدا کی طرف دے دیں کیونکہ ہم اس تفسیر میں بارہا کہہ چکے ہیں کہ ہر موجود ہر اثر خدا کی مشیّت اور ارادے سے ہے لہٰذا اس اثر کی نسبت خدا کی طرف دی بھی جاسکتی ہے اور اس موجود کی طرف بھی۔

یہ کہ ”تکفیر سیئات“ اور ”غفران“ میں کیا فرق ہے، اس سلسلے میں مفسّرین کا نظریہ ہے کہ پہلا دنیا میں پردہ پوشی کی طرف اشارہ ہے اور دوسرا آخرت کی سزا سے نجات حاصل کرنے کی طرف اشارہ ہے، لیکن ایک اور احتمال بھی کہ ”تکفیر سیئات“ گناہوں کے نفسیاتی اور اجتماعی آثار کی طرف اشارہ جو تقویٰ کے ذریعے ختم ہوجاتے ہیں ۔ لیکن ”غفران“ خدا کی بخشش اور سزا سے نجات کی طرف اشارہ ہے۔


آیت ۳۰

۳۰-( وَإِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِینَ کَفَرُوا لِیُثْبِتُوکَ اٴَوْ یَقْتُلُوکَ اٴَوْ یُخْرِجُوکَ وَیَمْکُرُونَ وَیَمْکُرُ اللهُ وَاللهُ خَیْرُ الْمَاکِرِینَ )

ترجمہ

۳۰ ۔ وہ وقت (یاد کرو) جب کافر سازش کررہے تھے کہ تجھے قید کرلیں یا قتل کردیں اور یا (مکہ سے) نکال دیں اور سوچ بچار کررہے تھے (اور پروگرام بنارہے تھے) اور خدا بھی تدبیر کررہا تھا اور خدا بہترین چارہ جو (اور مدبّر) ہے۔

شان نزول

مفسّرین اور محدثین مندرجہ بالاآیت کو ان حوادث کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جن کے نتیجے میں رسول الله کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنا پڑھی، ان حوادث کی مختلف تعبیرات بیان ہوئی ہیں جو سب کی سب ایک ہی حقیقت تک جاپہنچتی ہیں اور وہ یہ کہ خدا نے معجزانہ طور پر پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو ایک ایک عظیم حتمی خطرے کے چنگل سے نجات دی، درّالمنثور میں اس سلسلے میں یہ واقعہ نقل کیا گیا ہے۔

مختلف قبائل سے قریش اور اشراف مکّہ کا ایک گروہ جوع ہوا تاکہ وہ دارالندوة(۱) میں میٹنگ کریں اور انھیں رسول الله کی طرف سے درپیش خطرے پر غور وفکر کریں ۔

(کہتے ہیں ) اثنائے راہ میں انھیں ایک خوش ظاہر بوڑھا شخص ملا جو در اصل شیطان تھا (یا کوئی انسان جو شیطانی روح وفکر کا حامل تھا)۔

انھوں نے اُس سےپوچھا تم کون ہو؟

کہنے لگا: اہلِ نجد کا بڑا بوڑھا ہوں مجھے تمھارے ارادے کی اطلاع ملی تو میں نے چاہا کہ تمھاری میٹنگ میں شرکت کرواور اپنا نظریہ اور خیرخواہی کی رائے پیش کرنے میں دریغ نہ کروں ۔

کہنے لگے: بہت اچھا اندر آجائیے۔

اس طرح وہ بھی دارالندوة میں داخل ہوگیا۔

حاضرین میں سے ایک نے ان کی طرف رُخ کیا اور (پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کہا: اس شخص کے بارے میں کوئی سوچ بچار کرو، کیونکہ بخدا ڈر ہے کہ وہ تم پر کامیاب ہوجائے گا (اور تمھارے دین اور تمھاری عظمت کو خاک میں ملادے گا)۔

ایک نے تجویز پیش کی: اسے قید کردو یہاں تک کہ زندان میں مَرجائے۔

بوڑھے نجدی نے اس تجویز پر اعتراض کیااور کہا: اس میں خطرہ یہ ہے کہ اس کے طرفدار ٹوٹ پڑیں گے اور کسی مناسب وقت اسے قید خانے سے چھڑاکر اس سرزمین سے باہر لے جائیں گے لہٰذا کوئی زیادہ بنیادی بات کرو۔

ایک اور نے کہا: اسے اپنے شہر سے نکال دو تاکہ تمھیں اس سے چھٹکارا مل جائے کیونکہ وہ تمھارے درمیان سے چلا جائے گا تو پھر جو کچھ بھی کرتا پھرے تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا اور پھر وہ دوسروں سے ہی سروکار رکھے گا۔

بوڑھے نجدی نے کہا: والله یہ نظریہ بھی صحیح نہیں ہے، کہا تم اُس کی شریں بیانی، طلاقتِ لسانی اور لوگوں کے دلوں میں اس کا نفوذ کرجانا نہیں دیکھتے؟ اگر ایسا کروگے تو وہ تمام دنیائے عرب کے پاس جائے گا اور وہ اس کے گرد جمع ہوجائیں گے اور وہ پھر وہ ایک انبوہِ کثیر کے ساتھ تمھاری پلٹے گا اور تمھیں تمھارے شہروں سے نکال باہر کرے گا اور بڑوں کو قتل کردے گا۔

مجمع نے کہا: بخدا! یہ سچ کہہ رہا ہے کوئی اور تجویز پیش سوچو۔

ابوجہل ابھی تک خاموش بیٹھا تھا، اُس نے گفتگو شروع کی اور کہا: میرا ایک نظریہ ہے اور اُس کے علاوہ کسی رائے کو صحیح نہیں سمجھتا۔

حاضرین کہنے لگے: وہ کیا ہے؟

کہنے لگا: ہم ہر قبیلے سے ایک بہادر شمشیر زن کا انتخاب کریں اور ان میں سے ہر ایک ہاتھ میں ایک کاٹ دینے والی تلوار دے دیں اور پھر وہ سب مل کر موقع پاتے ہی اُس پر حملہ کریں ۔ جب وہ اس صورت میں قتل ہوگا تو اس کا خون تمام قبائل میں بٹ جائے گا اور میں نہیں سمجھتا کہ بنی ہاشم تمام قبائل سے لڑسکیں گے لہٰذا مجبوراً اس صورت میں خون بہا پر راضی ہوجائیں گے اور یوں ہم بھی اس کے آزار سے نجات پاجالیں گے۔

بوڑھے نجدی نے (خوش ہوکر) کہا: بخدا! صحیح رائے یہی ہے جو اس جواں مرد نے پیش کی ہے میرا بھی اس کے علاوہ کوئی نظریہ نہیں ۔

اس طرح یہتجویز پراتفاق رائے سے پاس ہوگئی اور وہ یہی مصمم ارادہ لے کر وہاں سے اٹھ گئے۔

جبرئیل نازل ہوئے اور پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو حکم ملا کہ وہ رات کو اپنے بستر پر نہ سوئیں ، پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم رات کو غار ثور(۲) کی طرف روانہ ہوگئے اور حمک دے دے گئے کہ علی(علیه السلام) آپ کے بستر پر سوجائیں (تاکہ جو لوگ دروازے کی دراز سے بستر پیغمبر پر نظر رکھے ہوئے ہیں انھیں بستر پر سویا ہوا سمجھیں اور آپ کو خطرے کے علاقہ سے دور نکل جانے کی مہلت جائے)۔

جب صبح ہوئی گھر میں گھس آئے۔ انھوں نے جستجو کی تو حضرت علی(علیه السلام) کو بستر پیغمبر پر دیکھا) اس طرح سے خدا نے ان کی سازش کو نقش بر آب کردیا۔

وہ پکارے: محمد کہاں ہے؟

آپ نے جواب دیا: میں نہیں جانتا۔

وہ آپ کے پاوں کے نشانوں پر چل پڑے یہاں تک کہ پہاڑ (اوراس کی غار) کے پاس پہنچ گئے لیکن (انھوں نے تعجب سے دیکھا کہ مکڑی نے غار کے سامنے جالا تن رکھا ہے۔ ایک نے دوسرے سے کہا کہ اگر وہ اس غار میں ہوتا تو غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا نہ ہوتا۔ اس طرح وہ واپس چلے گئے) پیغمبر تین دن تک غار کے اندر رہے (اور جب دشمن مکہ کے تمام بیابانوں میں آپ کو تلاش کرچکے اور تھک ہاکر مایوس پلٹ گئے تو آپ مدینہ کی طرف چل پڑے(۳)

____________________

۱۔ اشرافِ مکہ کی مشاورتی میٹنگیں اس مقام پر منعقد ہوا کرتی تھیں ۔

۲۔ مکہ کے قریب ایک غار کا نام ہے۔

۳۔ المنار ومجمع البیان، زیر نظر آیت کے ذیل میں بحوالہ درّ المنثور-


ہجرت کی ابتدائی

بعض کا نظریہ ہے کہ یہ آیت اور اس کے بعد کی آیت کی پانچ آیات مکہ میں نازل ہوئی ہیں چونکہ یہ ہجرت پیغمبر کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں لیکن آیت کا طرزِ بیان گواہی دیتا ہے کہ یہ ہجرت کے بعد نازل ہوئی ہے چونکہ اس میں گذشتہ واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ لہٰذا اگرچہ واقعہ ہجرت کی طرف اشارہ کررہی ہے لیکن مسلّماً مدینہ میں نازل ہوئی۔ اس میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور مسلمانوں پر پروردگار کے ایک احسانِ عظیم اور نعمت عظمیٰ کو بیان کیا گیا ہے پہلے فرمایا گیا ہے: وہ وق تیاد کرو جب مشرکین مکہ نے سازش کی کہ تجھے قید کردیں یا قتل کردیں اور یا جلاوطن کردیں( وَإِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِینَ کَفَرُوا لِیُثْبِتُوکَ اٴَوْ یَقْتُلُوکَ اٴَوْ یُخْرِجُوکَ ) ۔

جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیا جاچکا ہے لفظ ”مکر“ عربی زبان میں تدبیر، چارہ جوئی اور منصوبہ بندی کے معنی میں ہے نہ کہ اس مشہور معنی جو آج کل فارسی زبان میں مروّج ہے۔ اسی طرح لفظ ”حیلہ“ بھی لغت میں چارہ جوئی اور تدبیر کے معنی میں ہے لیکن فارسی زبان میں آج کل یہ لفظ خطرناک سازش کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔(۱)

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: وہ منصوبہ بندی، چارہ جوئی اور تدبیر کرتے ہیں اور خدا بھی چارہ جوئی اور تدبیر کرتا ہے اور وہ بہترین منصوبہ ساز اور مدبّر ہے( وَیَمْکُرُونَ وَیَمْکُرُ اللهُ وَاللهُ خَیْرُ الْمَاکِرِینَ ) ۔

اگر ہم ہجرت کے واقعہ پر صحیح غور وفکر کریں تو اس نکتے پر پہنچیں گے کہ وہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو ختم کرنے کے لئے اپنی پوری فکری اور جسمانی صلاحیتیں صرف کر چکہ تھے یہاں تک کے جب رسول خدا ان کے چنگل سے نیکل گئے تو انہوں نے آپ کی گفتاری کے لئے ایک سواونٹوں کا انعام مقرر کیا تھا جو کہ اس دور میں ایک بہت بڑاسرمایا تھا ۔بہت سے لوگوں نے مذہبی تعصب یا اتنا بڑا انعام حاصل کرنے کے لئے اطراف مکہّ کے کوہ بیابان چھان ڈالے تھے ۔یہاں تک کہ غار کے دھانے تک بھی آپہنچے لیکن خدا تعالیٰ نے ایک نہایت معمولی اور چھوٹے سے (مکڑی کی جالے )کے ذریعے ان کی سبب سازشیں نقش بر آپ کردیں ۔

اس طرح توجہ کرتے ہوئے کہ واقعہ ہجرت تاریخ اسلام بلکہ تاریخ انسانیت کی ایک نئے مرحلہ کا آغاز تھا ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ خدا نے عنکبوت کی چند تاروں کے ذریعے تاریخ انسانیت کی راہ کو بدل کے رکھ دیا ۔

یہ بات واقعہ ہجرت میں منحرف نہیں بلکہ تاریخ انبیاء نشاند ہی گرتی ہے کہ خداتعالیٰ متکبر ین کی سر کوب کے لئے ہمیشہ معمولی سے ذرائع کو کام میں لاتا ہے ۔کبھی آندھی کے ذریعے ،کبھی ابابیل جیسے چھوٹے پرندوں کے ذریعے اور کبھی ایسی ہی دیگر چھوٹی چھوٹی چیزوں ذریعے ---- تا کہ خدا کی بے پایان قدرت کے سامنے انسان کی کمزوری اور ناتوانی واضح ہو جائے اورسرکشی کی فکر سے بازرکھے۔

یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ قید ،جلاوطنی اور قتل کی سارشیں صرف متکرین کی طرف پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے خلاف ہی نہیں بلکہ جابر اور سرکش لوگ ہمیشہ مصلحین کی زبان روکنے کے لئے اور معاشرے کے ستم رسیدہ دکھی عوام می ان کا اثر و نفوذ ختم کرنے کے لئے ان تین میں سے کسی نہ کسی حر بے کا سہارا لیتے رہے تھے ۔لیکن جیسے پیغمبر اسلام کے خلاف مشرکین مکہ کے اقوام کا نتیجہ برعکس نکلا اور وہ اسلام کے لئے ترقی اور نئی تحریک کامقدمہ اور تمہید بن گیا ایسے ظالمانہ اقدامات کا عام طور پر الٹا ہی نتیجہ نکلتا رہا۔(۲)

ٍ____________________

۱۔ اردو زبان میں بھی یہ لفظ آج کل اسی معنی میں استعمال ہوتے ہیں (مترجم)۔

۲-یہ بات جاذب نظر ہے کے تفسیر نمونہ کی تالیف کی رفتار پہلے بہت کم تھی لیکن اب جبکہ موجودہ اور ان سے پہلے اور بعد والی آیات کی تفسیر مہ آباد کی جلاوطنی کے دوران کے دوران (معدوم شاہ ایران کی حکومت میں ) لکھی جارہی ہے کام کی رفتار تیز ہوگئی ہے اور بالآخر ساتویں جلد مہ آباد اور انارک کی دو جلاوطنیوں کے دور میں اختتام پذیر ہوئی ہے(مولف)۔

(الحمد لله میں بھی ترجمہ پر اس وقت موفق ہوا ہوں جب کہ بہت سی قومیں میرے خلاف صف آراء ہیں جن میں شیخی جو مرزائیوں کی طرح اسلام کے دشمن ہیں پیش پیش ہیں (مترجم)۔


شان نزول

مفسّرین اور محدثین مندرجہ بالاآیت کو ان حوادث کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جن کے نتیجے میں رسول الله کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنا پڑھی، ان حوادث کی مختلف تعبیرات بیان ہوئی ہیں جو سب کی سب ایک ہی حقیقت تک جاپہنچتی ہیں اور وہ یہ کہ خدا نے معجزانہ طور پر پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو ایک ایک عظیم حتمی خطرے کے چنگل سے نجات دی، درّالمنثور میں اس سلسلے میں یہ واقعہ نقل کیا گیا ہے۔

مختلف قبائل سے قریش اور اشراف مکّہ کا ایک گروہ جوع ہوا تاکہ وہ دارالندوة(۱) میں میٹنگ کریں اور انھیں رسول الله کی طرف سے درپیش خطرے پر غور وفکر کریں ۔

(کہتے ہیں ) اثنائے راہ میں انھیں ایک خوش ظاہر بوڑھا شخص ملا جو در اصل شیطان تھا (یا کوئی انسان جو شیطانی روح وفکر کا حامل تھا)۔

انھوں نے اُس سےپوچھا تم کون ہو؟

کہنے لگا: اہلِ نجد کا بڑا بوڑھا ہوں مجھے تمھارے ارادے کی اطلاع ملی تو میں نے چاہا کہ تمھاری میٹنگ میں شرکت کرواور اپنا نظریہ اور خیرخواہی کی رائے پیش کرنے میں دریغ نہ کروں ۔

کہنے لگے: بہت اچھا اندر آجائیے۔

اس طرح وہ بھی دارالندوة میں داخل ہوگیا۔

حاضرین میں سے ایک نے ان کی طرف رُخ کیا اور (پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کہا: اس شخص کے بارے میں کوئی سوچ بچار کرو، کیونکہ بخدا ڈر ہے کہ وہ تم پر کامیاب ہوجائے گا (اور تمھارے دین اور تمھاری عظمت کو خاک میں ملادے گا)۔

ایک نے تجویز پیش کی: اسے قید کردو یہاں تک کہ زندان میں مَرجائے۔

بوڑھے نجدی نے اس تجویز پر اعتراض کیااور کہا: اس میں خطرہ یہ ہے کہ اس کے طرفدار ٹوٹ پڑیں گے اور کسی مناسب وقت اسے قید خانے سے چھڑاکر اس سرزمین سے باہر لے جائیں گے لہٰذا کوئی زیادہ بنیادی بات کرو۔

ایک اور نے کہا: اسے اپنے شہر سے نکال دو تاکہ تمھیں اس سے چھٹکارا مل جائے کیونکہ وہ تمھارے درمیان سے چلا جائے گا تو پھر جو کچھ بھی کرتا پھرے تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا اور پھر وہ دوسروں سے ہی سروکار رکھے گا۔

بوڑھے نجدی نے کہا: والله یہ نظریہ بھی صحیح نہیں ہے، کہا تم اُس کی شریں بیانی، طلاقتِ لسانی اور لوگوں کے دلوں میں اس کا نفوذ کرجانا نہیں دیکھتے؟ اگر ایسا کروگے تو وہ تمام دنیائے عرب کے پاس جائے گا اور وہ اس کے گرد جمع ہوجائیں گے اور وہ پھر وہ ایک انبوہِ کثیر کے ساتھ تمھاری پلٹے گا اور تمھیں تمھارے شہروں سے نکال باہر کرے گا اور بڑوں کو قتل کردے گا۔

مجمع نے کہا: بخدا! یہ سچ کہہ رہا ہے کوئی اور تجویز پیش سوچو۔

ابوجہل ابھی تک خاموش بیٹھا تھا، اُس نے گفتگو شروع کی اور کہا: میرا ایک نظریہ ہے اور اُس کے علاوہ کسی رائے کو صحیح نہیں سمجھتا۔

حاضرین کہنے لگے: وہ کیا ہے؟

کہنے لگا: ہم ہر قبیلے سے ایک بہادر شمشیر زن کا انتخاب کریں اور ان میں سے ہر ایک ہاتھ میں ایک کاٹ دینے والی تلوار دے دیں اور پھر وہ سب مل کر موقع پاتے ہی اُس پر حملہ کریں ۔ جب وہ اس صورت میں قتل ہوگا تو اس کا خون تمام قبائل میں بٹ جائے گا اور میں نہیں سمجھتا کہ بنی ہاشم تمام قبائل سے لڑسکیں گے لہٰذا مجبوراً اس صورت میں خون بہا پر راضی ہوجائیں گے اور یوں ہم بھی اس کے آزار سے نجات پاجالیں گے۔

بوڑھے نجدی نے (خوش ہوکر) کہا: بخدا! صحیح رائے یہی ہے جو اس جواں مرد نے پیش کی ہے میرا بھی اس کے علاوہ کوئی نظریہ نہیں ۔

اس طرح یہتجویز پراتفاق رائے سے پاس ہوگئی اور وہ یہی مصمم ارادہ لے کر وہاں سے اٹھ گئے۔

جبرئیل نازل ہوئے اور پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو حکم ملا کہ وہ رات کو اپنے بستر پر نہ سوئیں ، پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم رات کو غار ثور(۲) کی طرف روانہ ہوگئے اور حمک دے دے گئے کہ علی(علیه السلام) آپ کے بستر پر سوجائیں (تاکہ جو لوگ دروازے کی دراز سے بستر پیغمبر پر نظر رکھے ہوئے ہیں انھیں بستر پر سویا ہوا سمجھیں اور آپ کو خطرے کے علاقہ سے دور نکل جانے کی مہلت جائے)۔

جب صبح ہوئی گھر میں گھس آئے۔ انھوں نے جستجو کی تو حضرت علی(علیه السلام) کو بستر پیغمبر پر دیکھا) اس طرح سے خدا نے ان کی سازش کو نقش بر آب کردیا۔

وہ پکارے: محمد کہاں ہے؟

آپ نے جواب دیا: میں نہیں جانتا۔

وہ آپ کے پاوں کے نشانوں پر چل پڑے یہاں تک کہ پہاڑ (اوراس کی غار) کے پاس پہنچ گئے لیکن (انھوں نے تعجب سے دیکھا کہ مکڑی نے غار کے سامنے جالا تن رکھا ہے۔ ایک نے دوسرے سے کہا کہ اگر وہ اس غار میں ہوتا تو غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا نہ ہوتا۔ اس طرح وہ واپس چلے گئے) پیغمبر تین دن تک غار کے اندر رہے (اور جب دشمن مکہ کے تمام بیابانوں میں آپ کو تلاش کرچکے اور تھک ہاکر مایوس پلٹ گئے تو آپ مدینہ کی طرف چل پڑے(۳)

____________________

۱۔ اشرافِ مکہ کی مشاورتی میٹنگیں اس مقام پر منعقد ہوا کرتی تھیں ۔

۲۔ مکہ کے قریب ایک غار کا نام ہے۔

۳۔ المنار ومجمع البیان، زیر نظر آیت کے ذیل میں بحوالہ درّ المنثور-


بیہودہ باتیں کرنے والے

گذشتہ آیت میں بیہودہ مشرکین کی عملی منطق کا ایک نمونہ بیان کیا گیا ہے۔ اب زیر نظر آیات میں ان کی فکری منطق کا ایک نمونہ پیش کیا گیا ہے تاکہ واضح ہوجائے کہ نہ وہ سلامت فکری رکھتے ہیں نہ درست روی بلکہ ان کے تمام پروگرام بے بنیاد اور احمقانہ ہیں ۔

پہلی آیت میں قرآن کہتا ہے: جب ہماری آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ہم نے سن لیا ہے (لیکن کوئی اہم بات نہیں ہے) ہم چاہیں تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں( وَإِذَا تُتْلَی عَلَیْهِمْ آیَاتُنَا قَالُوا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَا ) ۔

ان میں کوئی خاص بات نہیں بس گذشتہ لوگوں کے افسانے ہیں( إِنْ هٰذَا إِلاَّ اٴَسَاطِیرُ الْاٴَوَّلِینَ ) ۔

یہ باتیں وہ اس حالت میں کررہے ہیں کہ جب قرآن کے مقابلے کی بارہا فکر کرچکے ہیں اور اس سے عاجز رہ گئے ہیں ۔ وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ان میں قرآن کے مقابلے کی طاقت اور سکت نہیں ہے لیکن تعصب اور کینہ پروری کی وجہ سے یا ان لوگوں کو غفلت میں رکھنے کے لئے کہتے ہیں کہ یہ آیات کوئی اہم نہیں ہیں ، ایسی آیات توہم بھی لاسکتے ہیں لیکن لاکبھی نہیں سکتے، یہ ان کی غلط منطق تھی۔ تاریخ کے جابر لوگوں کی طرح خالی اور بں بنیاد دعووں کے ذریعے ان کی کوشش تھی کہ ان کے اقتدار کے محل چند تک قائم رہیں ہیں ۔

اگلی آیت میں ان کی ایک اور عجیب مطنق بیان کی گئی ہے، فرمایا گیا ہے: وہ وقت (یاد کرو) جب (وہ دستِ دعا بلند کرتے تھے اور) کہتے تھے خداوندا! اگر یہ (دین اور قران) حق ہے اور تیری طرف سے ہے تو آسمان سے ہمارے سروں پر پتھر برسا( وَإِذْ قَالُوا اللهُمَّ إِنْ کَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاٴَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ ) ۔ یا ہمیں کسی دردناک عذاب میں مبتلا کردے( اٴَوْ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اٴَلِیمٍ ) ۔

یہ بات وہ اس لئے کہتے تھے کہ شدید تعصب اور ہٹ دھرمی کی بناء پر ان کا خیال تھا کہ دین اسلام سو فیصد بے بنیاد ہے ورنہ جس شخص کواس کی حقانیت کا احتمال بھی ہو وہ خود پر اس طرح کی پھٹکار نہیں بھیجتا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ شاید مشرکین کے سرکردہ افراد لوگوں کوغفلت میں رکھنے کے لئے کبھی کبھی ایسی باتیں کرتے تھے تاکہ سادہ لوح افراد سمجھیں کہ محمد کا دین بالکل باطل ہے حالانکہ دل سے وہ ایسا نہیں کہتے تھے۔

گویا مشرکین چاہتے تھے کہ یہ کہیں کہ تم گذشتہ انبیاء کے بارے میں کہتے ہو کہ خدا ان کے دشمنوں کو بعض اوقات پتھروں کی بارش برساکر سزا دیتا تھا (جیسے حضرت لوط(علیه السلام) کی قوم کے ساتھ ہوا) تم اگر سچ کہتے ہو تو ایسا کردکھاو۔

مجمع البیان میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے:

رسول الله، غدیر خم میں جب حضرت علی علیہ السلام کو خلافت کے لئے معیّن اور منصوب کرچکے اور فرمایا:

”من کنت مولاه فعلیّ مولاه “جس کسی کا میں مولا ہوں پس اس کا علی بھی مولا ہیں ۔

آپ کا یہ فرمان ہر طرف پھیل گیا۔ ( منافقین میں سے ایک شخص)نعمان بن حارث فہری (تھا، وہ ) پیغمبر اسلام کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا: ہم سے آپ نے کہا کہ ہم توحید کو قبول کریں اور بتوں کی نفی کی شہادت دیں اور آپ کی رسالت کی گواہی دیں اور آپ نے ہمیں جہاں ، حج، روزہ اور زکات کا حکم دیا، ہم نے ان سب کوقبول کرلیا لیکن آپ نے اس پر بس نہ کی اور اس لڑکے (حضرت علی بن ابی طالب) کو خلیفہ بناکر آپ نے کہا ہے کہ”من کنت مولاہ فعلیّ مولاہ“ یہ بات آپ کی طرف سے ہے یا خدا کی طرف سے حکم ہے؟

پیغمبر خدا نے فرمایا: اس خدا کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں یہ خدا کی طرف سے حکم ہے۔

یہ سُن کر نعمان یہ کہتے ہوئے پلٹا:”اللّٰهمّ ان کان هذا هو الحق من عندک فاطر علینا حجارة من السماء

خداوندا! اگر یہ بات تیری طرف سے ہے تو آسمان ہم پر پتھروں کی بارس برسا۔

تھوڑی دیر نہ گذری تھی کہ اس پر ایک پھ۔تھر گرا کہ جس سے وہ مرگیا۔(۱)

یہ حدیث اس بات کے منافی نہیں کہ یہ آیت واقعہ غدیر سے پہلے نازل ہوئی ہو کیونکہ اس آیت کی شان نزول نعمان کا واقعہ نہیں تھا بلکہ نعمان نے اپنے اوپر پھٹکار کے لئے وہ آیت استعمال کی جو پہلے نازل ہوچکی تھی، جیسے ہم قرآن سے استفادہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :”( ربّنا آتنا فی الدنیا حسنة وفی الآخرة حسنة )

(انشاء الله العظیم مندرجہ بالا حدیث کی مزید تشریح اور کتب اہل سنّت سے اس سلسلے میں بہت سے مدارک کا ذکر سورہ معارج کی ابتداء میں ”( سَئَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ ) “ کے ذیل میں آئے گا۔

گذشتہ آیات کے سلسلے میں مخالفین نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم پر دو اعتراضات کئے، ان میں سے ایک کا بطلان تو واضح تھا لہٰذا قرآن نےاس کا جواب نہیں دیا اور وہ یہ تھا کہ انھوں نے کہا: اگر ہم چاہیں تو قرآن کی مثل لاسکتے ہیں ، کہ یہ دعویٰ کھوکھلا اور جھوتا تھا اور اگر ان میں سکت ہوتی تو لائے ہوتے لہٰذا اس بات کے جواب کی ضرورت نہ تھی۔

ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اگر یہ آیات حق ہیں اور خدا کی طرف ہیں تو پھر وہ ہمیں سزا دے اور ہم پر کوئی عذاب نہیں کرے گا جب تک تو ان میں موجود ہے( وَمَا کَانَ اللهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَاٴَنْتَ فِیهِمْ ) ۔در حقیقت تیرا پر برکت وجود۔کہ تو رحمتہ للعالمین ہے ۔ اس سے مانع ہے کہ ان گنہ گاروں پر عذاب نازل ہو اور یہ گذشتہ اقوام کی طرح نابود ہو جائیں کہ جو مختلف ذرائع سے اجتماعی یا انفرادی طور پر نابود ہوجاتے تھے۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے:اسی طرح اگر وہ استغفار کیں (اور اس سے عفو و بخشش کا تقاضا کریں )تو خدا انھیں سزا نہیں دے گا( وَمَا کَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ یَسْتَغْفِرُون ) ۔

اس جملے کی تفسیر میں مفسریں نے کئی ایک احتمالات پیش کیے ہیں ۔بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ بعض مشرکین قبل کی آیت میں مذکور جملہ کہنے کے بعد اپنے کہے پر پشیمان ہوئے اور عرض کیا ؛”غفرانک ربنا

خدایا !ہمیں اگفتگو پر بخش دے۔

اسی سبب سے---حتی کہ پیغمبر خدا کے مکہ سے خروج کے بعد بھی وہ بلا و فنا میں گرفتار نہیں ہوئے۔

بعض کا خیال ہے کہ یہ جملہ مکہ میں باقی رہ جانے والے مومنین کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ہجرت پیغمبر پیغمبر کے بعد مکہ پر عذابنازل نہ ہوا۔

یہ احتمال بھی ہے یہ جملہ ایک شرطیہ جملے کامفہوم رکھتاہو یعنی اگر وہ اپنے کردار پرپشیماں ہوں اور خداوندی کا رخ کریں اور استغفار کریں تو ان سے عذاباور سزا برطرف ہوجائے گا۔

ان تمام امور کے باوجود آیت کی تفسیر میں یہ تمام احتمالات مجموعی طور پر بعید نہیں ہیں یعنی ممکن ہے آیت ان تمام چیزوں کی طرف اشارہ کررہی ہو۔

بہرحال آیت کا مفہوم زمانہ پیغمبرکے ساتھ مخصوص ہے بلکہ تمام لوگوں کے لئے یہ ایک کلی قانون ہو۔

اسی لئے شیعہ کتب میں حضرت علی علیہ السلام سے اور سنّ کتب میں ان کے شاگرد ابن عباس سے ایک مشہور حدیث میں ہے:کان فی الارض امانان من عذاب الله وقد وقع احدهما فدونکم الآخر فتمسکووا به وقرء هذه الآیة -

روئے زمین میں عذابِ الٰہی سے مامون رہنے کے دوذریعے تھے کہ جن میں سے ایک (وجودِ پیغمبر) اٹھا لیا گیا ہے، اب دوسرے (استغفار) سے تمسک رکھو، پھر آپ نے یہ آیت کی تلاوت کی۔(۲)

مندرجہ بالا آیت اور اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ سخت بلاوں اور مصیبت سے امان حاصل کرنے کے لئے لوگوں کے پاس وجودِ پیغمبر ایک موثر ذریعہ ہے اور اس کے بعد استغفار، توبہ اور درگاہِ حق کی طرف رُخ کرنا دوسرا عامل ہے۔

اب دوسرا عامل بھی اٹھ جائے تو دردناک عذاب اور سزائیں طبیعی حوادث کی صورت می ہوتی ہیں ، یا گھروں کو تباہ وویران کردینے والی جنگوں کی شکل میں یا کسی اور صورت میں ، جیسا کہ ہم اب تک ان کی مختلف قسمیں دیکھ چکے ہیں یا سُن چکے ہیں ۔

دعائے کمیل جو حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے ، میں ہے:اللّٰهمّ اغفر لی الذنوب الّتی تنزل البلاء -

خدایا! ہمارے وہ گناہ بخش دے جو نزولِ بلا کا سبب بنتے ہیں ۔

یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ اگر استغفار نہ ہو تو بہت گناہ ایسے ہیں جونزولِ بلا کا سرچشمہ بن جائیں ۔

اس نکتہ کا ذکر بھی ضروری ہے کہ استغفار سے مراد یہ نہیں کہ یہ کہا جائے:

خدایا! ہمیں بخش دےاللّٰهمّ اغفر لی -

ایسے جملوں کا تکرار استغفار کی روح ہے کہ انسان کی طرف سے لوٹ آئے اور اپنے گذشتہ گناہوں کی تلافی کے لئے آمادگی کا اظہار کرے۔

اگلی آیت میں قرآن کہتاہے: یہ عذابِ الٰہی کا استحقاق رکھتے ہیں تو پھر، ”خدا انھیں کیوں عذاب نہ کرے حالانکہ وہ مومنین کےلئے مسجد الحرام میں جانے سے رکاوٹ بنتے ہیں( وَمَا لَهُمْ اٴَلاَّ یُعَذِّبَهُمْ اللهُ وَهُمْ یَصُدُّونَ عَنْ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ) ۔

اس زمانے کی طرف اشارہ ہے کہ جب مسلمان مکہ میں تھے اور مشرکین انھیں حق نہیں دیتے کہ وہ آزادانہ خانہ خداکے پاس نماز جماعت قائم کرسکیں اور مسلمانوں کی طرح طرح کی مزاحمتوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا یا پھر یہ ان رکاوٹوں کی طرف اشارہ ہے جو ان کی طرف سے مومنین کو حج وعمرہ کے مراسم کی ادائیگی میں حائل تھیں ۔

تعجب کی بات ہے کہ برائیوں میں آلودہ مشرکین اپنے آپ کو اس عظیم مرکزِ عبادت کا سرپرست سمجھتے تھے لیکن قرآن مزید کہتا ہے: یہ کبھی بھی اس مقدس مرکز کے سرپرست نہیں تھے( وَمَا کَانُوا اٴَوْلِیَائَهُ ) ۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو خانہ خدا کامتولی اور صاحبِ اختیار فرض کرتے تھے ”صرف وہی لوگ اس کی سرپرستی کا حق رکھتے ہیں جو موحّد اور پرہیزگارہیں “( إِنْ اٴَوْلِیَاؤُهُ إِلاَّ الْمُتَّقُونَ ) ۔ لیکن ان میں سے اکثر واقعیت اور حقیقت سے بے خبر ہیں( وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَهُمْ لَایَعْلَمُونَ ) ۔

اگرچہ یہ مسجدالحرام کے بارے میں بیان کیا گیاہے لیکن در حقیقت تمام مراکز دینی، دینی مساجد اور مذہب اداروں پر محیط ہے، ان کے متولی اور سرپرست پاکیزہ ترین، پرہیزگار اور نہایت فعّال افراد ہونے چاہئیں تاکہ وہ انھیں تعلیم وتربیت اور بیداری وآگاہی کے پاک اور زندہ مراکز بنائیں نہ کہ ایسے مٹھی بھر جانبدار، خودفروش اور الود ہ افراد ہوں جوانھیں تجارتی اڈّہ اور افکار کی خرابی اور حق سے بے گانگی کے مرکز میں تبدیل کردیں ۔

ہمارا نظریہ ہے کہ اگر مسلمان مساجد اور مذہبی مراکز کے بارے میں اسی اسلامی حکم پر عمل کرتے تو آج مسلم معاشروں کی کوئی اور ہی شکل ہوتی۔

زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ مدعی تھے کہ ان کی بھی نماز وعبادت ہے۔ وہ خانہ خدا کے گرد سیٹیاں اور تالیاں بجانے کا احمقانہ کام کرتے تھے اور اسے نماز کا نام دیتے تھے لہٰذا قرآن مزیدکہتا ہے: ان کی نماز خانہ خدا کعبہ کے گرد سیٹیاں اور تالیاں کے سوا اور کچھ نہ تھی( وَمَا کَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ إِلاَّ مُکَاءً وَتَصْدِیَةً ) ۔

تاریخ میں ہے کہ زمانہ جاہلیت میں کچھ ایسے عربی بدو تھے جو طواف کے وقت مادر زاد ننگے ہوجاتے تھے اور سیٹیاں بجاتے، تالیاں پیٹنے اور اسے عبادت کا نام دیتے تھے۔

نیز منقول ہے کہ جب پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم حجر اسودکے پاس شمال کی طرف منھ کرکے کھڑے ہوتے (تاکہ آپ کا رُخ کعبہ اور بیت المقدس دونوں کی طرف ہوجائے) اور نماز ادا فرماتے تو بنی سہم کے دو شخص آنحضرت کے دائی بائیں کھڑے ہوجاتے، ایک چیختا چنگھاڑتا اور دوسرا تالیاں پیٹتا تاکہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی نماز خراب ہوجائے۔

اس کے بعد فرمایا گیا ہے: اب جبکہ تمھارے تمام کام یہاں تک کہ تمھاری نماز وعبادت ایسی احمقانہ، بُری اور شرمناک ہے تو تم سزا کے مستحق ہو ”پس اپنے اس کفر کی وجہ سے عذاب الٰہی کو چکھو“( فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنتُمْ تَکْفُرُونَ ) ۔

جس وقت انسان عربوں کی زمانہ جاہلیت کی تاریخ کی ورق گردانی کرتا ہے اور اس کے ان حصّوں کا مطالعہ کرتا ہے جس کا قرآن میں ذکر ہے تو بڑے تعجب سے دیکھتا ہے کہ ہمارے زمانے میں جو اصطلاحاً فضا اور ایٹم کا بھی زمانہ ہے، کئی ایسے لوگ ہیں جو زمانہ جاہلیت کے اعمال دُہراتے ہیں اور پھر اپنے آپ کو عبادت کرنے والوں کی صف میں خیال کرتے ہیں ، قرانی آیات اور بعض اوقات وہ اشعار جو پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور حضرت علی علیہ السلام کی مدح میں ہیں کو موسیقی کی دُھنوں میں ملاکر رقص کی طرح اپنا سر، گردن اور ہاتھ ہلاتے ہیں ، پھر اسے ان مقدسات کی خدمت میں خراج عقیدت قرار دیتے، یہ اعمال کبھی وجدوسماع کے نام پر، کبھی ذکر وحال کے نام پر اور کبھی دوسرے ناموں پر خانقاہوں اور دیگر مقامات پر انجام پاتے ہیں ، حالانکہ اسلام ان باتوں سے بیزار ہے اور یہ اعمال زمانہء جاہلیت کے اعمال ہی کا نمونہ ہیں ۔

یہاں پر ایک سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ زیر بحث آیت میں ان سے سزا اور عذاب کی (دوشرائط کے ساتھ) نفی کی گئی ہے جب کہ چوتھی آیت میں ان کے لئے عذاب کا ذکر ہے تو کیا یہدونوں آیات آپس میں تضاد نہیں رکھتی ہیں ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ تیسری آیت میں دنیاوی سزاوں کی طرف اشارہ ہے اور چوتھی آیت میں ممکن ہے دوسرے جہان کی سزا کی طرف اشارہ ہو اور یا اس طرف اشارہ ہو کہ یہ گروہ اس دنیا میں سزا کا استحقاق رکھتا ہے اور اس کاسبب ان کے لئے فراہم ہے اور اگر پیغمبر ان کے درمیان سے اٹھ جائیں اور یہ توبہ بھی نہ کریں تو وہ عذاب انھیں دامنگیر ہوگا۔

____________________

۱۔ تفسیر نور الثقلین، ج۲، ص۱۵۱-

۲۔ نج البلاغہ، کلمات قصار-


آیات ۳۶،۳۷

۳۶-( إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا یُنْفِقُونَ اٴَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوا عَنْ سَبِیلِ اللهِ فَسَیُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَکُونُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُونَ وَالَّذِینَ کَفَرُوا إِلیٰ جَهَنَّمَ یُحْشَرُونَ )

۳۷-( لِیَمِیزَ اللهُ الْخَبِیثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَیَجْعَلَ الْخَبِیثَ بَعْضَهُ عَلیٰ بَعْضٍ فَیَرْکُمَهُ جَمِیعًا فَیَجْعَلَهُ فِی جَهَنَّمَ اٴُوْلٰئِکَ هُمَ الْخَاسِرُونَ )

ترجمہ

۳۷ ۔ جو کافر ہوگئے ہیں وہ اپنے اموال لوگوں کو راہِ خدا سے روکنے کے لئے خرچ کرتے ہیں ، وہ ان اموال کو (جنھیں حاصل کرنے کے لئے زحمت اٹھاتے ہیں اس راہ میں ) خرچ کرتے ہیں لیکن یہ ان کے لئے حسرت واندوہ کا سبب ہوگا اور پھر وہ شکست کھاجائیں گے اور (دوسرے جہان میں یہ) کافر سب کے سب جہنم کی طرف جائیں گے۔

۳۷ ۔ (یہ سب کچھ) اس لئے ہے کہ خدا (چاہتا ہے کہ) ناپاک کو پاک سے جدا کردے اور ناپاکوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر متراکم کردے اور دوزخ میں ایک ہی جگہ قرار دے اور یہ ہیں زیاں کار۔

شان نزول

تفسیر علی بن ابراہیم اور بہت سی دوسری تفاسیر میں ہے کہ مندرجہ بالا آیت جنگ بدر کے لئے مکہ کے لوگوں کی مالی امداد کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ جب مشرکین مکہ ابوسفیان کے قاصد کے ذریعے واقعہ سے آگاہ ہوئے تو انھوں نے بہت سا مال واسباب اکھٹا کیا تاکہ اپنے جنگی سپاہیوں کی مددکریں لیکن اخر کار وہ شکست کھاگئے اور مارے گئے اور جہنم کی آگ کی طرف چلے گئے اور اس راہ میں انھوں نے جو کچھ صرف کیا تھا ان کی حسرت واندوہ کا سبب بنا۔

پہلی آیت میں ان کی باقی امداد کی طرف اشارہ ہے جو انھوں نے اسلام کے خلاف مقابلوں میں کی تھی اور اس مسئلے کو ایک عمومی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔

بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت ابوسفیان کی جنگ بدر میں دو ہزار کرائے کے سپاہیوں کی مدد کے بارے میں نازل ہوئی لیکن چونکہ یہ آیات جنگ بدر سے مربوط آیات کے ساتھ آئیں ہیں اس لئے شانِ نزول زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔

تفسیر

آیت کی شانِ نزول میں جو کچھ بھی ہو اس کا مفہوم جامع ہے اور یہ دشمنانِ حق وعدالت کی ان تمام مالی امدادوں کے بارے میں ہے جو وہ اپنے بُرے مقاصد کی پیش رفت کے لئے کرتے تھے، پہلے کہا گیا ہے : کافر اور دشمنِ حق اپنا مال خرچ کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو راہِ حق سے روکیں( إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا یُنْفِقُونَ اٴَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوا عَنْ سَبِیلِ اللهِ ) ۔ لیکن اموال کا یہ صرف کرنا ان کی کامیابی کا باعث نہیں بن سکتا ”عنقریب وہ یہ اموال خرچ کریں گے لیکن انجام کار وہ ان کی حسرت واندوہ کا سبب ہوگا“( فَسَیُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَکُونُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ) ۔ اور پھر وہ اہلِ حق کے ہاتھوں مغلوب ہوں گے( ثُمَّ یُغْلَبُونَ ) ۔

یہ لوگ نہ صرف اس جہان میں حسرت وشکست میں گرفتار ہوں گے بلکہ دوسرے جہان میں یہ کافر اکھٹے ہوکر جہنم میں جائیں گے( وَالَّذِینَ کَفَرُوا إِلیٰ جَهَنَّمَ یُحْشَرُون ) ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شکست کھانے سے پہلی بھی اپنے کام کی بیہودگی کی طرف متوجہ ہوگئے تھے اور چونکہ انھوں نے جواموال خرچ کئے ہیں ان کہ انھیں کافی ووافی نتیجہ میسّر نہیں آیا لہٰذا رنج واندوہ میں گرفتار ہوجاتے ہیں اور یہ ان کی ایک دنیاوی سزا ہے۔

ان کی دوسری سزا ان کے منصوبوں کی شکست ہے کیونکہ کرائے کے فوجی اور مال ودولت کے عشق میں جنگ لڑنے والے مقدس ہدف کی خاطر لڑنے والے صاحبانِ ایمان کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکتے۔

دورِ حاضر میں کے حوادث نے بھی بارہا یہ بات ثابت کی ہے کہ طاقتور حکومتیں جو اپنے فوجیوں کو دولت اور ثروت کا لالچ دے کر اور جنسی خواہشات کی تشویق کے ذریعے چھوٹی سی قوموں کے مقابلے میں جوایمان کی بناء پر جنگ کرتی ہیں ، ذلّت ورسوائی سے مغلوب ہوجاتی ہیں ۔

ان دودنیاوی سزاؤں کے علاوہ انھیں ایک تیسری سزا کا سامنا بھی کرنا پڑے گا، یہ سزا دوسرے جہان میں ہوگی اور وہ غضب الٰہی کے جہنم میں گرفتار ہوں گے۔

۲ ۔ جو کچھ مندرجہ بالا آیت میں ایا ہے ہماری آج کی دنیا میں بھی اس کے بہت سے نمونے ہیں ۔ شیطانی سامراجی قوتیں ، ظلم وفساد کے طرفدار اور بے پردہ وباطل مذاہب کے حامی اپنے اہداف کی پیش رفت اور انسانوں کو راِہ حق سے روکنے کی خاطر مختلف صورتوں میں بہت زیادہ سرمایہ صرف کرتے ہیں ۔

کبھی کرائے کے فوجیوں کی صورت میں ، کبھی ظاہراً انسانی امداد کی شکل میں ہسپتالوں اور اسکولوں کی تعمیر کی صورت میں ، کبھی ثقافتی امداد کے حوالے سے لیکن اصلی مقصد سب کا ایک ہے اور وہ ہے استعمار اور ظلم وستم کی وسعت اور سچّے مومن مجاہدین جنگ بدر کی طرح منظم اور پُرعزم طور پر صف بندی کرلیں تو وہ ان تمام سازشوں کو نقش بر آب کرسکتے ہیں اور ان سرمایوں کی حسرت سے ان کے دلوں کو بھرسکتے ہیں اور آخرکار انھیں دوزخ میں بھیج سکتے ہیں ۔

۳ ۔ بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ یہ دعوتِ پیغمبر کی صداقت کی نشانی ہے کیونکہ اس میں آنے والے واقعات کی خبر دی گئی ہے اِس میں دشمنانِ اسلام کی شکست کی خبر ہے جبکہ انھوں نے کامیابی کے لئے بہت مال ودولت صرف کیا تھا۔

لیکن اگرہم آیت کو آئندہ کے واقعات سے مربوط غیبی خبر نہ سمجھیں تب بھی کم از کم حق وباطل کے بارے میں قرآن نے ایک دقیق اور حساب شدہ مفہوم پیش کیا ہے جو قرآن اور تعلیماتِ اسلام کی عظمت کو واضح کرتا ہے۔

گذشتہ آیت میں دشمنانِ حق کے مالی مصارف کے تین بُرے نتائج کئے گئے ہیں ، اس کے بعد اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے: یہ حسرت، شکست اور بدبختی اس بناپر ہے کہ خدا چاہتا ہے کہ ناپاک کو پاک سے اس جہان میں اور دوسرے جہان میں الگ الگ کردے( لِیَمِیزَ اللهُ الْخَبِیثَ مِنَ الطَّیِّبِ ) ۔

یہ ایک سنّت الٰہی ہے کہ ہمیشہ پاک اور نجس، مخلص اور ریاکار اور جھوٹے مجاہد، خدائی کام اور شیطانی کام، انسانی پروگرام اور ضد انسانیت پروگرام واضح ہوئے بغیر نہیں رہتے آخر پہچانے جاتے ہیں اور جلوہ حق نمایاں ہوکے رہتا ہے البتہ یہ اس صورت میں ہے کہ حق کے طرفدار جنگ بدر کے مسلمانوں کی کافی آگاہی اور جذبہ فداکاری سے شرمسار ہوں ۔

مزید ارشاد ہوتا ہے: خدا اپاک چیزوں کو ایک دوسرے کا ضمیمہ قرار دیتاہے اور سب کو ڈھیر بنادیتا ہے اور جہنم میں قرار دیتا ہے( وَیَجْعَلَ الْخَبِیثَ بَعْضَهُ عَلیٰ بَعْضٍ فَیَرْکُمَهُ جَمِیعًا فَیَجْعَلَهُ فِی جَهَنَّمَ ) ۔

خبیث اور ناپاک جس گروہ سے ہوں اور جس شکل اور لباس میں ہوں اخرکار ایک ہی شکل میں ڈھل جائےں گے اور ان سب کا انجام زیاں کاری ہی ہوگا جیساکہ قرآن کہتا ہے کہ وہ خسارے میں ہیں اور زیاں کار ہیں( اٴُوْلٰئِکَ هُمَ الْخَاسِرُونَ ) ۔


آیات ۳۸،۳۹،۴۰

۳۸-( قُلْ لِلَّذِینَ کَفَرُوا إِنْ یَنتَهُوا یُغْفَرْ لَهُمْ مَا قَدْ سَلَفَ وَإِنْ یَعُودُوا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّةُ الْاٴَوَّلِینَ )

۳۹-( وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّی لَاتَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّهُ لِلّٰهِ فَإِنْ انتَهَوْا فَإِنَّ اللهَ بِمَا یَعْمَلُونَ بَصِیرٌ )

۴۰-( وَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ مَوْلَاکُمْ نِعْمَ الْمَوْلَی وَنِعْمَ النَّصِیرُ )

ترجمہ

۳۸ ۔ وہ لوگ کافر ہوگئے ہیں انھیں کہہ دو کہ اگر وہ مخالفت سے باز آجائیں (اور ایمان لے آئیں ) تو ان کے گذشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے اور وہ سابقہ اعمال کی طرف پلٹ جائیں تو گذشتہ والی خدا کی سنّت ان کے بارے میں جاری ہوگی۔

۳۹ ۔ اور ان کے ساتھ جگ کرو تاکہ (شرک اور سلبِ آزادی کا) فتنہ ختم ہوجائے اور دین (اور عبادت) سب خدا کے ساتھ مخصوص ہوجائے اور وہ (شرک اور فساد کی راہ سے لوٹ آئیں اور غلط اعمال سے) اجتناب کریں تو (خدا انھیں قبول کرے گا) جو کچھ وہ انجام دیتے ہیں خدا اُسے دیکھنے والا ہے۔

۴۰ ۔ اور اگر وہ روگردانی کریں تو جان لوکہ (وہ تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے کیونکہ) خدا تمھار سرپرست ہے وہ بہترین سرپرست اور بہترین مددگار ہے۔

تفسیر

ہم جانتے ہیں کہ قرآن کی روش ہے کہ وہ بشارت اور انذار کو اکھٹا کردیتا ہے یعنی جیسے دشمنانِ حق کو سخت اور دردناک عذاب کی تہدید کرتا ہے اسی رح لوٹ آنے کا راستہ بھی ان کے لئے کُھلا رکھتا ہے۔

محل بحث آیات میں سے پہلی آیت بھی قرآن کے اسی طریقے کے مطابق ہے۔ اس میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو حکم دیا گیا ہے کہ: جو لوگ کافر ہوگئے ہیں ان سے کہہ دو کہ اگر وہ مخالفت، ہٹ دھرمی اور سرکشی سے باز رہیں اور دینِ حق کی طرف پلٹ آئیں تو ان کے گذشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے (قُلْ لِلَّذِینَ کَفَرُوا إِنْ یَنتَھُوا یُغْفَرْ لَھُمْ مَا قَدْ سَلَفَ)۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام قبول کرنے لینے سے گذشتہ دور میں جو کچھ بھی ہوا ہو اُسے بخش دیا جاتا ہے اور یہ بات اسلامی روایات میں ایک عمومی قانون کے طور پر بیان کی گئی ہے جیسے کہا گیا ہے:

”اٴَلاِسْلَام یَجُبُّ مَا قَبْلَهُ“ -اسلام اپنے ماقبل کو چھپا دیتاہے۔

اسی طرح اہلِ سنّت کے طرق سے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے منقول ہے:

انّ السلام یهدم ماکان قبله، وانّ الهجرة تهدم ماکان قبلها وانّ الحج یهدم ما کان قبله “-

اسلام سے پہلے جو کچھ ہوا اسلام اُسے ختم کردیتا ہے اور ہجرت اپنے ماقبل کو مٹادیتی ہے اور اسی طرح خانہ خدا کا حج بھی اپنے ماقبل کو محو کردیتا ہے۔(۱)

مراد یہ ہے کہ اسلام سے پہلے کے غلط اعمال وافعال یہاں تک کہ فرائض وواجبات کا ترک کرنا اسلام قبول کرلینے کی وجہ سے ختم ہوجاتا ہے اور اس قانون کا عطف اور ربط گذشتہ سے نہیں ہے۔ اسی لئے کتبِ فقہِ اسلامی میں ہے کہ مسلمان ہونے والے شخص کے لئے گذشتہ عبادات کی قضا تک ضروری نہیں ہے۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : لیکن اگر وہ اپنی غلط روش سے باز نہ آئیں ”اور اگر وہ سابقہ اعمال کی پلٹ جائیں تو جو خدائی سنّت گذشتہ لوگوں کے لئے رہی ہے ان کے لئے بھی انجام پائے گی“( وَإِنْ یَعُودُوا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّةُ الْاٴَوَّلِینَ ) ۔ اور اس سنّت سے مراد وہی انجام ہے جس سے دشمنانِ حق انبیاء کے مقابلے میں اور خود مشرکینِ مکّہ تک جنگ بدر میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے مقابلے میں دوچار ہوئے ہیں ۔

سورہ غافر کی آیت ۵۱ میں ہے:( إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِینَ آمَنُوا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُومُ الْاٴَشْهَادُ )

ہم اپنے رسولوں کی اور مومنین کی دنیاوی زندگی اور روزِ قیامت کہ جس میں گواہ کھڑے ہوں گے، مدد کریں گے۔

اسی طرح سورہ بنی اسرائیل کی آیت ۷۷ میں ہے:( وَلَاتَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیلًا )

یہ ہماری سنت گذشتہ پیغمبروں کے بارے میں ہے اور یہ سنت کبھی تبدیل نہیں ہوگی۔

گذشتہ آیت میں چونکہ دشمنوں کو حق کی طرف پلٹ آنے کی دعوت دی جاچکی ہے اور ممکن تھا کہ یہ عوت مسلمانوں میں یہ فکر پیدا کردیتی کہ اب جہاد کا دور ختم ہوگیا ہے اور انعطاف اور نرمی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں لہٰذا اس اشتباہ کو دور کرنے کے لئے مزید فرمایا گیا ہے: ان سخت ترین دشمنوں کے ساتھ جنگ کرو اور اس جنگ کو جاری رکھو یہاں تک کہ فتنہ ختم ہوجائے اور سارے کا سارا دین الله کے لئے ہوجائے( وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّی لَاتَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّهُ لِلّٰهِ ) ۔

جیسا کہ ہم سورہ بقرہ کی آیت ۱۹۳ کی تفسیر میں بیان کرچکے ہیں کہ لفظ ”فتنہ“ کا ایک وسیع مفہوم ہے جس میں ہر قسم کے دباو ڈالنے والے اعمال شامل ہیں ، اس لئے کبھی یہ لفظ قرآن میں شرک وبت پرستی کے معنی میں استعمال ہوتاہے جوکہ معاشرے کے لئے بہت سی رکاوٹیں اور دباؤ پیدا کرتی ہے، اسی طرح ایسے دباو کے مفہوم میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے جو دعوتِ اسلام کے پھیلاو کو روکنے کے لئے اور حق طلب لوگوں کی آواز دبانے کے لئے ہو، یہاں تک کہ مومنین کو کفر کی طرف پلٹانے کے لئے ڈالے جانے والے دباو پر بھی ”فتنہ“ کا اطلاق ہوتا ہے۔

مندرجہ بالا آیت میں بعض مفسّرین نے ”فتنہ“ کو شرک کے معنی میں لیا ہے، بعض نے دشمنوں کی مسلمانوں سے فکری واجتماعی آزادی سلب کرنے کی کوششوں کے معنی میں لیا ہے لیکن حق یہ ہے کہ آیت کات مفہوم وسیع ہے، اس سے مراد شرک بھی ہے اور (”وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلّٰہِ“ کے قرینہ سے)دشمنوں کی طرف سے مسلمانوں پر وارد ہونے والے ہر قسم کے دباو بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے۔

____________________

۱۔ صحیح مسلم، طبق نقل المنار، ج۹، ص۶۶۵-


مقصدِ جہاد اور ایک بشارت

مندرجہ بالا آیت مقدس اسلامی جہاد کے مقاصد میں سے دو کی طرف اشارہ کررہی ہے:

۱ ۔بت پرستی کی بساط الٹنا اور بتکدوں کا خاتمہ: کیونکہ جیسے ہم مقاصدِ جہاد کی بحث میں کہہ چکے ہیں کہ دینی آزادی ان اشخاص کے لئے مخصوص ہے جو کسی آسمانی دین کی پیروی کریں اور ان کے لئے عقیدہ اور نظریہ بدلنے کے لئے دباو صحیح نہیں ہے لیکن بت پرستی نہ دین ہے نہ مکتب ومذہب بلکہ بیہودگی، انحراف اور کجروی ہے، حکومت اسلامی کو چاہیے کہ پہلے تو تبلیغ کے ذریعے اور اگر ممکن ہو تو طاقت کے بل پر ہر جگہ سے بت پرستی ختم کرے اور بت خانوں کو برباد کرے۔

۲ ۔ اظہارِ رائے، تبلیغ اور نشر واشاعت کی آزادی: اس کے لئے بھی کہ اسلام اجازت دیتا ہے کہ کچھ لوگ اپنے عمل سے مسلمانوں سے عمل کی آزادی اور نشر واشاعت، تبلیغ اور دعوتِ اسلام کی آزادی میں حائل ہوں تو مسلمانوں کو حق پہنچتا ہے کہ وہ جہادِ آزادی کا راستہ اپنائیں اور منطقی تبلیغ کی آزادی حاصل کریں (مزید تفصیل کے لئے تفسیر نمونہ جلد دوم صفحہ ۲۴ تا ۲۹ اُردو ترجمہ کی طرف رجوع کریں )۔

اہلِ سنّت کی تفاسیر (مثلاً روح البیان) میں اور اہلِ تشیع کی مختلف تفاسیر میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا:

لم یجیء تاٴویل هٰذه الآیة ولو قام قائمنا بعد سیری من یدرکه ما یکون من تاٴویل هٰذه الآیة ولیبلغن دین محمد ما بلغ اللیل حتّیٰ لا یکون مشرک علی ظهر الارض -

اس آیت کی اصل تاویل اور تفسیر ابھی تک ظاہر نہیں ہوئی اور جب ہمار قائم قیام کرے گا تو جو لوگ ان کا زمانہ پائیں گے وہ اس آیت کی تاویل کو دیکھیں گے، خدا کی قسم اس وقت دین محمد ان تمام جگہوں پر پہنچ جائے گا جن پر سکون بخش رات اپنا پردہ ڈالتی ہے، یہاں تک کہ روئے زمین پر کوئی مشرک اور بت پرست باقی نہیں رہے گا۔(۱)

تفسیر المنار کے مولف نے حضرت مہدی(علیه السلام) کے قیام کے بارے میں اپنے مخصوص تعصّب کی بناپر اس حدیث کا انکار کیا ہے، تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ اپنی تفسیر کی تصریحات وہابی مکتب ومذہب کی طرف خصوصی میلان کا اظہار کرتا ہے حالانکہ سخت قسم کے وہابی بھی صراحت کے ساتھ حضرت مہدی(علیه السلام) کے ظہور کو ایک مسلّم امر سمجھتے ہیں اور اس سلسلے میں روایات کو متواتر قرار دیتے ہیں کہ جن کے اصل نقطہ اور اس کے جواب کی طرف بھی ہم اشارہ کریں گے، کتاب ”مصلح بزرگ جہانی“ میں بھی ہم نے تفصیل سے ان مطالب کا ذکر کیا ہے، نیز اگر ظہور مہدی(علیه السلام) سے مربوط کچھ روایات غلط ہیں یا خرافات پر مشتمل ہیں تو اس کی وجہ سے ان سب صحیح اور متواتر روایات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

آیت کے ذیل میں دوبارہ ان کے شدّت عمل کے مقابلے میں دوستی اور محبت کا ہاتھ بڑھایا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے: اگر وہ اپنی راہ وروش سے دستبردار ہوجائیں تو وہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس سے آگاہ ہے اوروہ ان سے اپنے خاص لطف وعنایت کا برتاو کرے گا( فَإِنْ انتَهَوْا فَإِنَّ اللهَ بِمَا یَعْمَلُونَ بَصِیرٌ ) ۔

اور اگر وہ اپنی روگردانی جاری رکھیں اور دعوتِ حق کے سامنے سرتسلیم خم نہ کریں تو جان لو کہ کامیابی تمھارے لئے ہے اور شکست ان کے انتظار میں ہے کیونکہ خدا تمھارا مولیٰ اور سرپرست ہے( وَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ مَوْلَاکُمْ ) ۔ اور وہ بہترین مولیٰ ورہبر اور بہترین ساور ومددگار ہے( نِعْمَ الْمَوْلَی وَنِعْمَ النَّصِیرُ ) ۔

____________________

۱- یہ عبارت تفسیر مجمع البیان میں منقول ہے-


آیت ۴۱

۴۱-( وَاعْلَمُوا اٴَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْءٍ فَاٴَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِی الْقُرْبیٰ وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینِ وَابْنِ السَّبِیلِ إِنْ کُنتُمْ آمَنْتُمْ بِاللهِ وَمَا اٴَنزَلْنَا عَلیٰ عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِ وَاللهُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ )

ترجمہ

۴۱ ۔ اور جان لوکہ جس قسم کی غنیمت تمھیں ملے تو خدا، رسول، ذی القربیٰ، یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کے لئے اس کا پانچواں حصّہ ہے، اگر تم خدا پر اور جو کچھ ہم نے اپنے بندہ پر حق کی باطل سے جدائی کے دن اور (صاحبِ ایمان اور ے ایمان) دو گروہوں کی مڈبھیڑ کے دن (جنگِ بدر کے روز) نازل کیا، ایمان لے آؤ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

پارہ دہم

سورہ انفال کی آیت ۴۱ سے شروع ہوتا ہے

ایک اہم اسلامی حکم ،خمس

سورت کی ابتداء میں ہم نے دیکھا ہے کہ کچھ مسلمانوں نے چنگ بدر کے بعد جنگی غنائم کے سلسلے میں جھگڑا کیا تھا۔ خدا نے مادہ اختلاف کی ریشہ کنی کے لئے غنائم کو مکمل طور پر پیغمبر کے اختیار میں دے دیا تاکہ وہ جیسے مصلحت سمجھیں انھیں صرف کریں اور پیغمبر اکرم نے جنگ میں حصّہ لینے والے غاریوں کے درمیان انھیں مساوی طور پر تقسیم کردیا۔

زیر نظر آیت در حقیقت اسی مسئلہ غنائم کی طرف بازگشت ہے۔ یہ ان آیات کی مناسبت سے ہے جو اس سے قبل جہاد کے بارے میں آئی ہیں اور چونکہ عام طور پر جہاد کا غنائم کے مسئلے سے تعلق ہوتا ہے لہٰذا حکمِ غنائم کو بیان یہاں مناسبت رکھتا ہے (بلکہ جیسا کہ ہم بتائیں گے قرآن یہاں اس حکم کو جنگی غنائم سے بھی بالاتر لے گیا ہے اور ہر طرح کی آمدن کی طرف اشارہ کرتا ہے)۔

آیت کے شروع میں فرمایا گیا ہے: جان لو کہ جیسی غنیمت بھی تمھیں نصیب ہو اس کا پانچواں حصّہ خدا، رسول، ذی القربیٰ (آئمہ اہل بیت) اور (خاندان رسول میں سے) یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے( وَاعْلَمُوا اٴَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْءٍ فَاٴَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِی الْقُرْبیٰ وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینِ وَابْنِ السَّبِیلِ ) ۔

تاکید کے طور پر مزید فرمایا گیا ہے: اگر تم خدا پر اور وہ جو ہم نے اپنے بندے پر (جنگ بدر کے دن) حق کے باطل سے جدا ہونے کے دن جب مومن و کافر ایک دوسرے کے مد مقابل ہوئے تھے نازل کیا، ایمان لائے ہو تو اس حکم پر عمل کرو اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کردو( إِنْ کُنتُمْ آمَنْتُمْ بِاللهِ وَمَا اٴَنزَلْنَا عَلیٰ عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِ ) ۔

یہاں اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے کہ اس آیت میں روئے سخن مومنین کی طرف ہے کیونکہ جہاد اسلامی کے غنائم کے بارے میں بحث ہورہی ہے اور یہ بات واضح ہے کہ مجاہد اسلام مومن ہوتا ہے، اس کے باوجود فرمایا گیا: ”اگر تم خدا اور رسول پر ایمان لائے ہو“۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ اظہار ایمان، ایمان کی علامت نہیں بلکہ میدانِ جہاد میں شرکت بھی ہوسکتا ہے ایمان کامل کی نشانی نہ ہو اور یہ عمل کچھ اور مقاصد کے لئے انجام پارہا ہو۔ مومن کامل وہ شخص ہے جو تمام احکام کے سامنے اور بالخصوص مالی احکام کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہو اور خدائی احکام میں تبعیض کا قائل نہ ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک حکم مان لے اور دوسرے کو چھوڑ دے۔

آیت کے آخر میں خدا کی غیر محدود قدرت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اور خدا ہر چیز پر قادر ہے (وَاللهُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ)۔یعنی باوجودیکہ میدان بدر میں تم ہر لحاظ سے اقلیت میں تھے اور دشمن ظاہراً ہر لحاظ سے برتری رکھتا تھا، قادر و توانا خدا نے انھیں شکست دی اور تمھاری مدد کی یہاں تک کہ تم کامیاب ہوگئے۔

چند اہم نکات

۱۔ حق کی باطل سے جدائی کا دن:

اس آیت میں یوم بدر کو حق کی باطل سے جدائی کا دن (یوم الفرقان) اور کفر کے طرفداروں کی ایمان کے طرفداروں سے مڈبھیڑ کا دن قرار دیا گیا ہے اور اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بدر کا تاریخی دن ایک ایسا دن تھا جس میں پیغمبر اسلام کی حقانیت کی نشانیاں ظاہر ہوئیں کیونکہ آپ نے پہلے سے مسلمانوں سے کامیابی کا وعدہ کررکھا تھا جب کہ ظاہراً اس کی کوئی نشانی موجود نہ تھی۔ ایسے میں کامیابی کے ایسے مختلف غیر متوقع عوامل اکٹھے ہوگئے کہ جنہیں اتفاق قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس بناء پر ان آیات کی صداقت کہ جو رسول اللہ پر ایسے دن نازل ہوئیں ان کی دلیل خود انہی میں پوشیدہ ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ جنگِ بدر کا دن( یوم التقی الجمعان ) در حقیقت مسلمانوں کے لئے ایک عظیم خدائی نعمت کی حیثیت رکھتا تھا۔ ابتداء میں ایک ۔گروہ اس جنگ سے احتراز کرتا تھا لیکن یہی جنگ اور اس میں کامیابی انھیں کئی سال آگے لے گئی اور مسلمانوں کا نام اور شہرت اس کے سبب تمام جزیرہ عرب میں پھیل گئی اور اس نے تمام اہلِ عرب کو نئے دین اور اس کی حیرت انگیز قدرت کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیا۔

ضمناً یہ دن کہ جو امت اسلامی کے لئے بھی ”و انفسنا “ یعنی نفسا نفسی کا دن تھا اسلام کے سچے مومن، جھوٹے دعویداروں سے ممتاز ہوگئے لہٰذا یہ دن ہر لحاظ سے حق کی باطل سے جدائی کا دن تھا۔

۲ ۔ ایک وضاحت :

اس سورہ کی ابتداء میں ہم کہہ چکے ہیں کہ سورہ انفال کی آیت میں کوئی تضاد نہیں ہے اور اس بات کی ضرورت نہیں کہ ہم ایک کو دوسری کا ناسخ سمجھیں کیونکہ آیہ انفال کا تقاضا یہ ہے کہ جنگی غنائم بھی پیغمبر سے متعلق ہیں لیکن رسول اللہ پانچ میں سے چار حصّے جنگجو غاریوں کو بخش دیتے ہیں اور پانچواں حصّہ ان مصارف کے لئے جو آیت میں معین ہوئے ہیں رکھ لیتے ہیں ۔ مزید توضیح کے لئے اسی سورہ کی پہلی آیت کے ذیل میں کی گئی بحث کی طرف رجوع کیجئے۔

۳ ۔ ”ذی القربیٰ“ سے کیا مراد ہے:

اس آیت میں ”ذی القربیٰ“ سے مراد نہ تو سب لوگوں کے رشتہ دار ہیں اور نہ ہی رسول اللہ کے سب رشتہ دار بلکہ آئمہ اہلِ بیت مراد ہیں ۔ اس امر کی دلیل وہ متواتر روایات ہیں جو اہل بیت پیغمبر کے طرق سے نقل ہوئی ہیں ۔(۱) کتب اہل سنت میں بھی اس طرف اشارے موجود ہیں ۔

اس بناء پر وہ لوگ کہ جو خمس کے ایک حصّے کو پیغمبر اسلام کے تمام رشتہ داروں سے متعلق قرار دیتے ہیں انھیں اس سوال کا سامنا کرنا پڑے گا کہ یہ کیسا امتیاز ہے جو اسلام نے پیغمبر کے رشتہ داروں سے متعلق روا رکھا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ اسلام نسل، قوم اور قبیلہ سے بالاتر ہے۔ لیکن اگر اسے آئمہ اہل بیت(علیه السلام) سے مخصوص سمجھیں تو اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ وہ رسول اللہ کے جانشین اور اسلامی حکومت کے رہبر و رہنما تھے اور ہیں تو خمس کا ایک حصّہ ان سے مختص کیے جانے کی علت واضح ہوجاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں خدا کا حصّہ ، پیغمبر کا حصّہ اور ذی القربیٰ کا حصّہ تینوں حصّے حکومت اسلامی کے قائد و رہبر سے تعلق رکھتے ہیں ۔ وہ اپنی سادہ زندگی کا اس سے انتظام کرتا ہے باقی مختلف مخارج کہ جو رہبری امت کا لازمہ ہیں کے لئے صرف کرتا ہے۔ یعنی حقیقت می یہ حصّہ معاشرے اور عوام کی ضرورت کے یے ہے۔

بعض مفسرین اہل سنت ”ذی القربیٰ“ پیغمبر اکرم کے تمام رشتہ داروں کو سمجھتے ہیں ۔ مثلاً المنار کا مولف بھی اسی بات کا قائل ہوا ہے لہٰذا وہ مذکورہ اعتراض کے جواب میں ہاتھ پاؤں مارتا ہے اور پیغمبر خدا کی اسلامی حکومت کے لئے تشریفات اور تکلفات کا قائل ہوا ہے اور رسول اللہ کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم و قبیلہ کو مال کے ذریعے اپنے گرد جمع رکھا۔ واضح ہے کہ اس قسم کی منطق کسی طرح بھی ایک عالمی اسلامی انسانی اور قوم و قبیلہ کے امتیازات سے پاک حکومت سے مناسبت نہیں رکھتی (اس سلسلے میں کچھ مزید توضیح بھی ہے جو آئندہ کی بحثوں میں آئے گی)۔

۴ ۔ ”یتامیٰ و مساکین و ابن السبیل“ سے یہاں کیا مراد ہے:

کیا اس سے مراد صرف بنی ہاشم اور سادات کے یتیم، مسکین اور مسافر ہیں ؟ اگر چہ ظاہر آیت تو مطلق ہے اور اس میں کوئی قید دکھائی نہیں دیتی۔ اس سلسلے میں ہم جو اسے منحصر قرار دیتے ہیں تو اس کی دلیل وہ بہت سی روایات ہیں جو طرق اہل بیت میں وارد ہوئی ہیں ۔ اور ہم جانتے ہیں کہ قرآن میں بہت سے احکام بطور آئے ہیں لیکن ان کی ”شرائط و قیود“ ”سنت“ کے وسیلے سے بیان ہوئی ہیں اور یہ بات زیر بحث آیت میں ہی منحصر نہیں جو تعجب کیا جائے۔

علاوہ ازیں اگر ہم دیکھیں کہ بنی ہاشم کے حاجت مندوں کے لئے زکوٰة مسلمہ طور پر حرام ہے تو چاہیے کہ کسی دوسرے ذریعے سے ان کی احتیاجات پوری کی جائیں ۔ یہی امر اس کا قرینہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں بنی ہاشم کے حاجت مندوں کے لئے مخصوص حکم ہے۔ لہٰذا احادیث میں ہم پڑھتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

جب خدا تعالیٰ نے ہم پر زکوٰة حرام فرمائی تو ہمارے لئے خمس مقرر فرمایا یہی وجہ ہے کہ زکوٰة ہم پر حرام ہے اور خمس حلال ہے۔(۲)

۵ ۔ کیا ”غنائم“ سے مرادفقط جنگی مال غنیمت ہے؟:

دوسرا اہم موضوع جس پر اس آیت کے حوالے سے تحقیق کیا جانا چاہیے اورر در حقیقت جس میں ایک اچھی بحث متمر کز ہے، یہ ہے کہ لفظ غنیمت جو زیر نظر آیت میں آیا ہے کیا فقط جنگی مال غنیمت کے بارے میں ہے یا اس کے مفہوم میں ہر طرح کی آمدنی شامل ہے۔

پہلی صورت میں آیت فقط جنگی غنائم کے خمس کے بارے میں بیان کررہی ہے اور دیگر امور میں خمس کے بارے میں ہمیں صحیح و معتبر سنت اور روایات سے استفادہ کرنا چاہیے اور اس بات میں کوئی امر مانع نہیں کہ قرآن نے جہاد کے مسائل کے ذیل میں خمس کے ایک حصّے کی طرف اشارہ کیا ہے اور دوسرے حصّے کے بارے میں سنت سے وضاحت کی جائے۔

مثلاً قرآن مجید میں ہر روز کی پنجگانہ نماز کا صریحاً ذکر ہے اور اسی طرح واجب نمازوں میں سے طواف کی نمازوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن نماز آیات جس پر شیعہ سنی تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے اس کا ذکر قرآن مجید میں نہیں آیا۔ اور کوئی یہ نہیں کہتا کہ نماز آیات کا چونکہ قرآن میں ذکر نہیں اور اس کا تذکرہ فقط سنت پیغمبر میں آیا ہے لہٰذا اس پر عمل نہیں کیا جانا چاہیے۔

اسی طرح قرآن میں بعض غسلوں کی طرف اشارہ ہوا ہے اور بعض کا ذکر نہیں کیا گیا۔ کیا ان سے صرف نظر کرلیا جائے۔ یہ ایسی منطق ہے جسے کوئی مسلمان قبول نہیں کرتا۔

لہٰذا اس امر میں کوئی اشکال نہیں کہ قرآن خمس کے مواقع میں سے صرف ایک کی طرف اشارہ کرے اور باقی کو سنت پر چھوڑدے۔ فقہ اسلام میں ایسی مثالیں بہت زیادہ ہیں لیکن اس کے باوجود ہمیں دیکھنا چاہیے کہ لفظ غنیمت لغت میں اور عرف میں کیا معنی دیتا ہے۔ کیا واقعاً یہ لفظ جنگی غنائم میں منحصر ہے یا ہر قسم کی آمدنی اس کے مفہوم میں شامل ہے۔ جو کچھ لغت کی کتب سے معلوم ہوتا ہے یہ ہے کہ اس لفظ کی اصل جنگ کے حوالے سے نہیں اور نہ یہ اس چیز ہی کو کہتے ہیں جو دشمن سے ہاتھ لگے بلکہ ہر قسم کی درآمد اور وصولی کو کہتے ہیں ۔ بطور شاہد ہم چند ایک ایسی مشہور لغت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو علماء اور ادباء عرب کی موردِ استناد ہیں ۔

”لسان العرب“ کی جلد ۱۲ میں ہے:

والغنم الفوز بالشیٴ من غیر مشقة ----و الغنم، الغنیمة و الغنم الفیٴ ----- وفی الحدیث الرهن لمن رهنه له غنمه و علیه غرمه، غنمه زیادته و نمآئه و فاضل قیمته----وغنم الشیٴ فاز به---

”غنم“ یعنی مشقت اور زحمت کے بغیر کسی چیز پر دسترس حاصل کرنا۔ نیز”غنم“ ”غنیمت“ اور ”مغنم“فییٴ کے معنی میں ہیں (فییٴ بھی لغت میں ایسی چیزوں کے معنی میں ہے جو زحمت اور اور تکلیف اٹھائے بغیر انسان تک پہنچ جائیں ) اور حدیث میں آیا ہے کہ ”رھن“ اس کے لئے ہے جس نے اسے اپنے پاس رہن رکھا ہے، غنیمت اور اس کے منافع اس کے لئے ہیں اوراس کا نقصان بھی اسی کے لئے ہوگا۔ نیز ”غنم“زیادتی،نمو اور قیمت میں اضافہ کے معنی ہے اور فلاں چیز کو غنیمت کے طور پر لیا یعنی اس تک دسترس حاصل کی۔

”تاج العروس“ جلد ۹ میں ہے:”والغنم الفوز بالشیء بلا مشقة

غنیمت ہر اس جیز کو کہتے ہیں جس پر انسان بغیر مشقت کے دسترس حاصل کرے کتاب ”قاموس“ میں اسی مذکورہ معنی میں ذکر ہوا ہے۔

مفردات راغب میں میں ہے:”غنیمت“ ”غنم“ کی اصل سے گوسفند کے معنی سے لیا گیا ہے۔

راغب کہتا ہے:”ثم استعملوا فی کل مظفور به من جهة العدی وغیره

بعد ازاں یہ لفظ ہر اُس چیز کے لئے استعمال ہونے لگا جو دشمن سے یا غیر دشمن سے حاصل کیا جائے۔

یہاں تک کہ جن لوگوں نے ”غنیمت“ کے معانی میں سے ایک معنی ”جنگی غنائم“ بیان کیا ہے وہ بھی اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ اس کا اصلی معنی ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جو انسان بغیر مشقت کے حاصل کرے۔

عام استعمال میں بھی”غنیمت “ ”غرامت “کے مقابلے میں ذکر ہوتا ہے۔تو جس طرح غرامت کا معنی وسیع ہے اور ہر قسم کے تاوان اور ادائیگی پر محیط ہے اسی طرح غنیمت بھی وسیع معنی رکھتا ہے اور ہرایسی در آمد اور وصولی پر محیط ہے جو قابل ملاحظہ ہو ۔نہج البلاغہ میں بہت سے مواقع پر یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے۔خطبہ ۷۶ میں ہے:اغتنم المهل

مہلتوں اور مواقع کو غنیمت سمجھو۔

خطبہ ۱۲۰ میں ہے:من اخذها لحق و غنم

جو شخص دین خدا پر عمل کرے گا وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے اور فائدے اٹھائے گا ۔

خطبہ ۵۳ میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام مالک اشتر سے فرماتے ہیں :ولا تکونن علیهم سُبُعاً ضاریا تغتنم اٴکلهم

مصر کے لوگوں کے لئے درندے کی طرح نہ ہوجانا کہ انھیں کھا جا نا اپنے لئے غنیمت اور در آمد سمجھنے لگو۔

خطبہ ۴۵ میں عثمان بن خلیف سے فرماتے ہیں :فو الله ما کنزت من دنیاکم تبراً ولا اٴدخرت من غنائمها و فرا

خدا کی قسم میں تمھارے سونے سے ذخیرہ اکٹھا نہیں کیا اور اس کے غنائم اور در آمدات سے زیادہ مال جمع نہیں کیا۔

نیز کلمات قصار کے جملہ ۳۳۱ میں آپ فرماتے ہیں :ان اللهجعل الطاعة غنیمة الا کیاس

خدا نے اطاعت کو عقلمندوں کے لئے غنیمت اور فائدہ قرار دیا۔

خطبہ ۴۱ میں ہے:و اغتنم من استقر ضک فی حال غناک

اگر کوئی شخص تیری تونگری کی حالت تجھ سے قرض چاہے تو اسے غنیمت سمجھ اس قسم کی دیگر تعبیریں بہت زیا دہ ہیں ججو سب کی سب نشاندہی کرتی ہیں کہ لفظ غنیمت جنگی غنائم میں منحرف نہیں ہے۔

باقی رہے مفسرین --------تو بہت سے مفسرین کہ جنہوں نے اس آیت کے بارے میں بحث کی ہے،صراحت کے ساتھ اعتراف کیا ہے کہ ”غنیمت“اصل میں ایک وسیع معنی رکھتی ہے اور اس میں جنگی غنائم اور ان کے علاوہ غنائم اورکلی طور پر ہر وہ چیز شامل ہے جسے انسان زیادہ مشقت کے بغیر حاصل حاصل کرلے۔ یہاں تک کہ جنہوں نے فقہاء اہل سنت کے فتویٰ کی بناء پر آیت کو جنگی غنائم کے ساتھ مخصوص کیا ہے وہ پھر بھی اعتراف کرتے ہیں کہ اس کے اصلی معنی میں یہ قید موجود نہیں ہے بلکہ انہوں نے ایک اور دلیل کی وجہ سے یہ قید لگائی ہے۔

اہلِ سنت کے مشہور مفسر قرطبی اپنی تفسیر میں آیت کے ذیل میں یوں رقم طراز ہے:

جان لو کہ (علماء اہل سنت) کا اس پر اتفاق ہے کہ آیت( و اعلموآ انما غنمتم ) میں غنیمت سے مراد وہ اموال ہیں کہ جو جنگ میں قہر و غلبہ کی وجہ سے لوگوں کو ملیں لیکن توجہ رہے کہ یہ قید جیسا کہ ہم نے کہا ہے اس کے لغوی معنی میں موجود نہیں ہے لیکن عرف شرع میں یہ قید آئی ہے۔(۳)

فخرالدین رازی اپنی تفسیر میں تصریح کرتے ہیں :الغنم الفوز بالشیٴ

غنیمت یہ ہے کہ انسان کسی چیز کے حصول پر کامیاب ہوجائے۔

لغت کے لحاظ سے اس معنی کے ذکر کے بعد کہتے ہیں :

غنیمت کا شرعی معنی (فقہاء اہل سنت کے نظریے کے مطابق) وہی جنگی غنائم ہیں ۔(۴)

نیز تفسیر المنار میں غنیمت کا ایک وسیع معنی ذکر کیا گیا ہے اور اسے جنگی غنائم سے مخصوص نہیں کیا گیا اگر چہ صاحبِ تفسیر کا عقیدہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت کے وسیع معنی کو قید شرعی کی وجہ سے جنگی غنائم ہی میں محدود سمجھنا چاہیے ۔(۵)

مشہور سنی مفسر آلوسی کی تفسیر ”روح المعانی“ میں بھی ہے کہ:

”غنم“ اصل میں ہر قسم کے فائدے اور منفعت کے معنی میں ہے۔(۶)

تفسیر مجمع البیان میں پہلے تو غنیمت کو جنگی غنائم کے ساتھ تفسیر کیا گیا ہے لیکن آیت کی تشریح کے موقع پر لکھا ہے:

قال اصحابنآ ان الخمس واجب فی کل فائدة تحصل للانسان من المکاسب و ارباح التجارات، و فی الکنوز و المعادن و الغوص و غیر ذٰلک مما هومذکور فی الکتب ویمکن ان یستدل علٰی ذٰلک بهٰذه الاٰیة فان فی عرف اللغة یطلق علی جمیع ذٰلک اسم الغنم و الغنیمة ۔(۷)

علماء شیعہ کا یہ نظر یہ ہے کہ خمس ہر اس فائدے پر وواجب ہے جو انسان حاصل کرتا ہے چاہے وہ کسب تجارت کے طریق سے ہو یاخزانہ اور معدنیات سے یا دریا میں غوطہ کے ذریعے سے اور دیگر وہ امور جو کتبِ فقہ میں مذکورہ ہیں اور اس آیت سے بھی اس دعویٰ پر استدلال پیش کیا جاسکتا ہے کیونکہ عرفِ لغت میں ان تمام چیزوں کو غنیمت کہا جاتا ہے۔

حیرانگی کی بات ہے کہ ایک خود غرض شخص جو عوام کے افکار میں سم پاشی کے لئے خاص طور پر مامور ہے اس نے خمس کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے۔ اس میں اس نے تفسیر مجمع البیان کی عبارت میں رسوا کنندہ تحریف کی ہے۔ اس کی عبارت کے پہلے حصّے کو جس میں غنیمت کی تفسیر کے لئے جنگی غنائم کا ذکر کیا گیا ہے بیان کردیا گیا ہے لیکن اس توضیح کو جو اس کے لغوی معنی کی عمومیت کے لئے اور آیت کے معنی کے حوالے سے آخر میں کی گئی ہے اسے بالکل نظر انداز کردیا گیا ہے اور اس عظیم اسلامی مفسر کی طرف ایک جھوٹے مطلب کی نسبت دی گئی ہے۔ گویا اس کے خیال میں تفسیر مجمع البیان صرف اسی کے پاس ہے اور کوئی دوسرا اس کا مطالعہ نہیں کرے گا اور تعجب کی بات یہ ہے کہ اس خیانت کا وہ صرف اسی موقع پر مرتکب نہیں ہوا بلکہ دوسرے مواقع پر بھی جو کچھ اس کے فائدے میں تھا اسے لے لیا ہے کہ اس کے نقصان میں تھا اسے نظر انداز کردیا ہے۔

تفسیر المیزان میں بھی علماء لغت کے کلمات کے حوالے سے تصریح کی گئی ہے کہ ”غنیمت“ ہر قسم کے فائدہ کو کہتے ہیں کہ جو تجارت یا کسب و کار یا جنگ کے ذریعے انسان کے ہاتھ لگے اور زیر نظر آیت کا محل نزول اگر چہ جنگی غنائم ہے تا ہم ہم جانتے ہیں کہ محل نزول آیت کے مفہوم کی عمومیت کو مخصوص نہیں کرسکتا۔(۸)

جو کچھ کہا جا چکا ہے اس تمام سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ:

آیت غنیمت ایک وسیع معنی رکھتی ہے اور ہر قسم کی آمدنی، فائدے اور منفعت پر محیط ہے کیونکہ اس لفظ کا لغوی معنی عام ہے اور اسے کسی خاص معنی میں محدود کرنے کے لئے کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے۔ وہ واحد چیز جس کا بعض اہل سنت مفسرین نے سہارا لیا ہے یہ ہے کہ قبل وبعد کی آیات جہادکے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور یہ امر اس بات کا قرینہ ہے کہ آیتِ غنیمت میں بھی جنگی غنائم کی طرف اشارہ ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ آیتوں کی شانِ نزول اور سیاق وسباق آیت کی عمومیت کو محدود نہیں کرتے، زیادہ واضح الفاظ میں یہ کہاجاسکتاہے کہ اس میں کوئی مانع نہیں کہآیت کا مفہوم عمومی ہو جبکہ اس کا محلِ نزول جنگی غنائم ہوں کہ جو اس کُلّی حکم کا ایک جزوی مصداق ہی، مثلاً سورہ حشر کی آیت ۷ میں ہے:

( مَا آتَاکُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا )

جو کچھ پیغمبر تمھارے لئے لائے اسے لئے لو اور جس سے منع کرے اس سے رک جاو۔

فرامین پیغمبرکی پیروی کے لازمی ہونے کے بارے میں یہ آیت ایک عمومی حکم بیان کررہی ہے حالانکہ اس کا محلِ نزول ایسے اموال ہیں کہ جو دشمنوں سے بغیر جنگ کے مسلمانوں کے ہاتھ لگیں (اور اصطلاح میں اسے ”فییٴ “کہتے ہیں )۔

نیز سورہ بقرہ کی آیت ۱۳۳ میں یہ قانون ایک عمومی صورت میں بیان ہوا ہے:( اتُکَلَّفُ نَفْسٌ إِلاَّ وُسْعَهَا )

کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں دی جاسکتی۔

حالانکہ اس آیت کا محلِ نزول دودھ پلانے والی عورتوں کی اجرت ہے اور نومولود کے باپ کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی طاقت کے مطابق انھیں اجرت دے، تو کیا ایسے خاص موقع پر آیتکا نازل ہوا اس قانون (جس کی طاقت نہ ہو وہ ذمہ داری نہیں ہے) کی عمومیت کم ختم کردیتا ہے؟

خلاصہ یہ ہے کہ آیت جہاد کی آیات کے ضمن میں آئی ہے لیکن کہتی ہے کہ ہر فائدہ جو تمھیں کسی بھی مقام سں حاصل ہو کہ جس میں ایک جنگی مال غنیمت ہے اس کا خمس ادا کرو، خصوصاً لفظ ”ما“ موصولہ ہے اور لفظ ”شیء“ دونوں عام ہیں اور کوئی قید وشرط نہیں رکھتے اس امر کی تائید کرتے ہیں ۔

۶ ۔ کیا نصف خمس کا بنی ہاشم کے لئے مخصوص ہوناترجیح نہیں ہے؟ بعض یہ خیال کرتے ہیں کہ اسلام کا یہ مالیاتی حکم بیس فیصد اموال پر مشتمل ہے اس سے آدھا یعنی دس فیصد سادات اور اولادِ پیغمبرکے ساتھ مخصوص ہے، یہ ایک قسم کا نسلی اور خاندانی امتیاز ہے اور اس میں یوں رشتہ داری کو ترجیح دی گئی ہے اور یہ بات اسلام کی عدالتِ اجتماعی اور اس کے عالمی ہونے کی روح کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتی۔

اس کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ ایسی سوچ رکھتے ہیں انھوں نے اس اسلامی حکم کی شرائط اور خصوصیات کا مطالعہ نہیں کیا کیونکہ اس اعتراض کا مکمل جواب خود انہی شرائط میں پوشیدہ ہے۔

اس کی وضاحت یہ ہے کہ:

پہلی بات تو یہ ہے کہ آدھا خمس جو سادات اور بنی ہاشم سے مربوط ہے وہ ان میں سے صرف حاجتمندوں کو دیا جانا چاہیے وہ بھی ایک سال کی ضروریات کے مطابق اور اس سے زیادہ نہیں ، اس بناء پر صرف وہی افراد اس سے استفادہ کرسکتے ہیں جو بالکل کام نہیں کرسکتے اور بیمار ہیں یا یتیم چھوٹے بچّے ہیں اور یا وہ ہیں جو کسی وجہ سے زندگی کے مخارج کے لحاظ تنگی اور سختی سے دوچار ہیں لہٰذا وہ لوگ جو کام کرنے کی قدرت رکھتے ہیں (بالفعل یا با لقوہ) ان کی ایسی آمدن ہے جو ان کے بارِ زندگی کو چلا سکے تو وہ خمس کے اس حصّے سے ہر گز استعفادہ نہیں کرسکتے اور یہ بات جو بعض عوام میں مشہور ہے کہ سادات خمس لے سکتے ہیں چاہے ان کے گھر کا پر نالا سونے کا ہو۔ در اصل یہ ایک جاہلانہ عوامی بات سے زیادہ قیمت نہیں رکھتی اور اس کی کوئی بنیاد نہیں ۔

دوسری بات یہ ہے کہ سادات اور بنی ہاشم کے فقراء و مساکین حق نہیں رکھتے کہ زکوٰة میں سے کوئی چیز صرف کریں اور اس کی بجائے صرف خمس کے اسی حصّہ سے صرف کرسکتے ہیں ۔(۹)

تیسری بات یہ ہے کہ اگر سہم سادات جو کہ خمس کا آدھا حصّہ ہے موجود سادات کی ضروریات سے زیادہ ہو تو اسے بیت المال میں داخل کرنا ہوگا اور اسے دوسرے مخارج میں صرف کیا جائے گا۔ جیسا کہ اگر سہمِ سادات ان کی کفایت نہ کرے تو بیت المال یا سہم زکوٰة میں سے ان کی ضروریات پوری کی جائیں گی۔

مندرجہ بالا تینوں پہلووں کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ حقیقت میں مادی لحاظ سے سادات اور غیر سادات میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا۔

غیر سادات محتاج اپنے سال بھر کے مخارج زکوٰة سے لے سکتے ہیں لیکن وہ خمس سے محروم ہیں اور سادات میں سے جو محتاج ہیں وہ صرف خمس سے استفادہ کرسکتے ہیں لیکن زکوٰة سے استفادہ کا حق نہیں رکھتے۔

در حقیقت یہاں دو صندوق موجود ہیں ۔ خمس کا صندوق اور زکوٰة کا صندوق۔ ان دو گرہوں میں سے ہر ایک کا حق ہے کہ ان دو میں سے صرف ایک سے استفادہ کرے وہ بھی مساوی مقدار میں یعنی ایک سال کی ضرورت کے برابر (غور کیجیے گا)۔

لیکن جن لوگوں نے ان شرائط اور خصوصیات میں غور نہیں کیا وہ خیال کرتے ہیں کہ سادات کے لئے بیت المال سے زیادہ حصّہ مقرر کیا گیا ہے یا وہ مخصوص امتیاز سے نوازے گئے ہیں ۔

صرف ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ اگر ان دو کے درمیان نتیجہ کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے تو پھر ایسے مختلف پروگرام کا کیا مقصد ہے؟

ایک مطلب پر توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب بھی معلوم ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ خمس اور زکوٰة میں ایک اہم فرق ہے اور وہ یہ کہ زکوٰة ایسے مالیات میں سے ہے جو در اصل عام اسلامی معاشرے کے اموال کا جزء شمار ہوتے ہیں لہٰذا ان کے مصارف بھی عموماً اسی حصّہ میں ہوتے ہیں لیکن خمس ایسے مالیات میں سے ہے جو حکومتِ اسلامی سے مربوط ہیں یعنی اسلامی حکومت چلانے والوں کے مخارج و مصارف اس سے پورے ہوتے ہیں ۔

اس بناء پر سادات کا عمومی اموال (زکوٰة) سے دور ہونا در حقیقت اس لئے ہے کہ اس حصہ سے پیغمبر کے رشتہ داروں کو دور رکھا جائے تاکہ مخالفین کے ہاتھ یہ بہانہ نہ آئے کہ پیغمبر نے اپنے رشتہ داروں کو عمومی اموال پر مسلط کردا ہے۔ لیکن دوسری طرف محتاج سادات کا بھی کسی طرح گزارہ ہونا چاہیے تو اس کا اسلامی قوانین میں یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ اسلامی حکومت کے فنڈسے ان کی ضروریات پوری کردی جائیں نہ کہ عام لوگوں کے فنڈسے ۔ حقیقت میں خمس نہ صرف یہ کہ سادات کے لئے ایک امتیاز نہیں ہے بلکہ انھیں عام لوگوں کے مفاد سے ایک طرف رکھنے کے لئے اور کسی قسم کے بُرے گمان کے پیدا ہونے سے بچنے کے لئے بھی ایک اقدام ہے۔(۱۰)

یہ بات جاذب نظر ہے کہ اس امر کی طرف شیعہ اور سنی کتب میں اشارہ ہوا ہے۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے:

بنی ہاشم کا ایک گروہ وہ پیغمبر کی خدمت میں پہنچا اور تقاضا کیا کہ انھیں چوپایوں کی زکوٰة جمع کرنے پر مامور کریں اور کہا کہ یہ حصّہ جو خدانے زکوٰة جمع کرنے والوں کے لئے معین کیا ہے ہم اس کے زیادہ حقدار ہیں ۔

۶-پیغمبر خدانے فرمایا اے بنی عبدالمطلب:

زکوٰة نہ میرے لئے حلال ہے اور نہ تمھارے لئے لیکن میں تمھیں اس محرومیت کے بدلے شفاعت کا وعدہ کرتا ہوں ۔ تم اس پر جو خدا اور رسول نے تمھارے لئے معین کیا ہے راضی رہو(اور زکوٰة سے سروکار نہ رکھو)۔

وہ کہنے لگے: ہم راضی ہیں ۔(۱۱)

اس حدیث سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ بنی ہاشم اس چیز کو اپنے لئے ایک قسم کی محرومیت سمجھتے تھے اور پیغمبر اسلام نے انھیں اس کے بدلے شفاعت کا وعدہ دیا۔

صحیح مسلم جو اہل سنت کی نہایت مشہور کتاب ہے اس میں سے ایک حدیث کا خلاصہ یہ ہے:

عباس اور ربیعہ بن حارث پیغمبر کی خدمت میں آئے اور انہوں نے تقاضا کیا کہ ان کے بیٹے یعنی عبدالمطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس کو جو دو نوجوان تھے زکوٰة کی جمع آوری پر مامور کیا جائے تاکہ دوسرے لوگوں کی طرح وہ بھی زکوٰة سے حصّے لے سکیں اور اپنی اپنی شادی کے مصارف اس طرح سے فراہم کرسکیں ۔

پیغمبر نے انھیں اس سے روکا اور حکم دیا کہ کسی اور طریقے سے ان کی شادیوں کے اسباب فراہم کیے جائیں محل خمس سے ان کی بیویوں کا حق مہردیا جائے۔(۱۲)

اس حدیث سے بھی کہ جس کی تشریح بڑی طویل ہوتا ہے کہ رسول اللہ اصرار کرتے تھے کے اپنے رشتہ داروں کو زکوٰة (کہ جو عام لوگوں کا مال تھا) لینے سے دور رکھیں ۔

جو کچھ ہم نے کہا ہے اس سے مجموعی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ خمس نہ صرف سادات کے لئے کوئی امتیاز اور خصوصیت شمار نہیں ہوتا بلکہ عمومی مصالح کی حفاظت کے لئے ایک طرح کی محرومی ہے۔

۷ ۔ خدا کے حصّے سے کیا مراد ہے؟:

”لِلّٰہ“ کہہ کر خدا کا حصّہ بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح سے اصل سے اصل مسئلہ خمس کی زیاد اہمیت بیان کی گئی ہے نیز پیغمبر اکرم اور اسلامی حکومت کے رہبر و راہنما کی ولایت و حاکمیت کی تاکید و تثبیت کی گئی ہے۔ یعنی جیسے خدا تعالیٰ نے اپنے لئے ایک حصّہ مقرر کیا ہے اور خود کو اس میں تصرف کا زیادہ حق دار قرار دیا ہے اسی طرح اس نے پیغمبر اور امام مصلحت سمجھیں گے صرف ہوگا اور خدا کو تو کسی حصّے کی ضرورت نہیں ہے۔

____________________

۱۔وسائل الشیعہ جلد ۶ بحث خمس کی طرف رجوع کیجئے۔۲۔وسائل الشیعہ جلد ۶ خمس کی بحث کے ذیل میں اور مجمع البیان زیر نظر آیت کے ذیل میں اہل سنت کے طرق سے نیز اس سلسلے میں منقول روایات کی طرف ہم جلد اشارہ کریں گے۔

۳۔ تفسیر قرطبی جلد ۴ ص ۲۸۴۰-۴۔ تفسیر فخر الدین رازی جلد ۱۵ ص ۱۶۴-۵۔ تفسیر المنار جلد ۱۰ ص ۳۔۸-۶۔تفسیر روح المعانی جلد ۱۰ ص ۲-

۷۔تفسیر مجمع البیان جلد ۴ ص ۵۴۴۔۵۴۳-۸۔المیزان جلد ۹ صفحہ ۸۹-

۹۔ بنی ہاشم ک زکوٰة سے محروم ہونا ایک ایسی مسلم چیز ہے جو حدیث اور فقہ کی بہت سی کتب میں موجود ہے۔ کیا یہ بات باور کی جاسکتی ہے کہ اسلام نے ہاشم کے علاوہ محتاجوں ، یتیموں اور محروموں کے لئے تو فکر کی ہو لیکن بنی ہاشمکے محتاجوں کو ان کا کوئی انتظام کیے بغیر پھوڑدیا ہو۔

۱۰۔ اگر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض روایات میں عبارت آئی ہے:کرامة لهم عن اوساخ الناس تو اس کا مقصد یہ تھا کہ سادات زکوٰة سے جو ایک طرح سے لوگوں کے مال کی میل کچیل ہے، الگ رہیں ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ایک طرف تو سادات کو اس ممنوعیت اور محرومیت پر قانع کیا جائے اور دوسری طرف سے لوگوں کو سمجھایا جائے کہ جتنا ہوسکے بیت المال پر بوجھ نہ بنیں اور زکوٰة ایسے لوگوں کے لئے چھوڑدیں جو شدید ضرورت رکھتے ہیں ۔

۱۱۔ وسائل جلد ۶ ص ۱۸۶-۱۲۔ صحیح مسلم جلد ۲ ص ۷۵۲-


آیات ۴۲،۴۳،۴۴،

۴۲-( إِذْ اٴَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوَی وَالرَّکْبُ اٴَسْفَلَ مِنْکُمْ وَلَوْ تَوَاعَدتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیعَادِ وَلَکِنْ لِیَقْضِیَ اللهُ اٴَمْرًا کَانَ مَفْعُولًا لِیَهْلِکَ مَنْ هَلَکَ عَنْ بَیِّنَةٍ وَیَحْیَا مَنْ حَیَّ عَنْ بَیِّنَةٍ وَإِنَّ اللهَ لَسَمِیعٌ عَلِیمٌ ) ۔

۴۳-( إِذْ یُرِیکَهُمْ اللهُ فِی مَنَامِکَ قَلِیلًا وَلَوْ اٴَرَاکَهُمْ کَثِیرًا لَفَشِلْتُمْ وَلَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاٴَمْرِ وَلَکِنَّ اللهَ سَلَّمَ إِنَّهُ عَلِیمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ) ۔

۴۴-( وَإِذْ یُرِیکُمُوهُمْ إِذْ الْتَقَیْتُمْ فِی اٴَعْیُنِکُمْ قَلِیلًا وَیُقَلِّلُکُمْ فِی اٴَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللهُ اٴَمْرًا کَانَ مَفْعُولًا وَإِلَی اللهِ تُرْجَعُ الْاٴُمُورُ ) ۔

ترجمہ

۴۲ ۔اس وقت تم نچلی طرف تھے اور وہ اوپر کی طرف تھے (اور اس طرح سے دشمن تم پر برتری رکھتا تھا) اور (قریش کا) قافلہ تم سے نچلی طرف تھا اور ان پر دسترس ممکن نہ تھی اور ظاہراً کیفیت ایسی تھی کہ اگر تم ایک دوسرے سے وعدہ کرتے (کہ میدانِ جنگ میں حاضر ہوں گے) تو بالآخر اپنے وعدے میں اختلاف کرتے لیکن (یہ تمام مقدمات) اتمام حجت کے طور پر ہوں اور جو زندہ رہتے ہیں (اور ہدایت حاصل کرتے ہیں ) واضح دلیل کے طور پر ہوں اور خدا سننے والا جاننے والا ہے۔

۴۳ ۔ اس وقت خدا نے عالم خواب میں تمھیں ان کی تعداد کم کرکے دکھائی اور اگر زیادہ کرکے دکھاتا تو مسلماً تم سست ہوجاتے اور (ان سے جنگ شروع کرنے کے سلسلے میں ) تم میں اختلاف پڑجاتا لیکن خدانے (تمھیں ان سب سے) محفوظ رکھا۔ جو کچھ سینوں کے اندر ہے خدا اس سے دانا اور آگاہ ہے۔

۴۴ ۔ اور اس وقت کہ جب تم (میدان جنگ میں ) ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوئے تو انھیں تمہاری نظر میں کم کرکے دکھاتا تھا اور تمھیں (بھی) ان کی نظر میں کم کرکے دکھاتا تھا تاکہ خدا اس کام کو عملی صورت بخشے جسے انجام پانا چاہیے (یہ اس لئے تھا تاکہ تم ڈرو نہیں اور جنگ کے لئے اقدام کرو اور انھیں بھی وحشت نہ ہوتا کہ وہ جنگ کے لئے تیار ہوں اور یوں وہ آخر کار شکست کھاجائیں ) اور تمام کاموں کی بازگشت خدا کی طرف ہے۔

وہ کام جو ہونا چاہیے

اس بات کی مناسبت سے جو ”یوم الفرقان“ (جنگ بدر کے دن) کے متعلق گذشتہ آیت میں آئی ہے اور حو کامیابیاں اس خطرناک صورت حال میں مسلمانوں کو نصیب ہوئی تھیں ، قرآن دوبارہ اِن آیات میں اس جنگ کے بعض پہلو مسلمانوں کو یاد دلاتا ہے تاکہ وہ نعمت فتح کی اہمیت سے زیادہ آگاہ ہوسکیں ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: اس روز تم نچلی طرف اور مدینہ کے قریب تھے اور وہ اوپر کی طرف اور زیادہ دور تھے( إِذْ اٴَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوَی ) ۔

”عدوة “مادہ ”عدو“ (بروزن ”سرو“) سے ہے ”تجاوز کرنا“۔ تا ہم ہر چیز کے حاشیے اور اطراف کو بھی”عدو“ کہتے ہیں کیونکہ حدوسط سے یہ ایک طرف کو تجاوز ہوتا ہے۔ محل بحث آیت میں یہ لفظ طرف اور جانب ہی کے معنی میں آیا ہے۔

لفظ ”دنیا“ مادہ ”دنو“ (بروزن ”علو“) سے ہے۔ یہ ”زیادہ نیچے“ اور ”زیادہ نزدیک“ کے معنی میں آتا ہے اور اس کے بر خلاف ”اقصی“ اور ”قصوٰی“ دور تر کے معنی میں ہے۔

اس میدان میں مسلمان شمال کی جانب تھے۔ یہ طرف مدینہ سے زیادہ قریب تھی۔ دشمن جنوب کی طرف تھا۔ یہ جگہ زیادہ دور تھی۔ یہ احتمال بھی ہے کہ وہ جگہ جسے مسلمانوں نے مجبوری کی حالت میں دشمن سے جنگ کرنے کے لئے منتخب کیا تھا بہت نشیب میں تھی اور دشمن کی جگہ بلند تر تھی۔ یہ صورتِ حال دشمن کے لئے ایک برتری کی حیثیت رکھتی تھی۔

اس کے بعد فرمایا گیا ہے: (قریش اور ابوسفیان کا) وہ قافلہ جس کے تم تعاقب میں تھے وہ زیادہ نشیب میں تھے( وَالرَّکْبُ اٴَسْفَلَ مِنْکُمْ ) ۔

کیونکہ جیسے ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ ابوسفیان کو جب مسلمانوں کی روانگی کا علم ہو ا تو اس نے قافلے کا راستہ بدل لیا اور وہ اپنا راستہ چھوڑ کر دریائے احمر کے کنارے کنارے تیز رفتاری سے چلتے ہوئے مکہ کے نزدیک ہوگیا اور اگر مسلمان قافلے کے راستے سے ہٹ نہ جاتے تو ممکن تھا کہ اس کا تعاقب کرتے اور دشمن کے لشکر سے جنگ کرنے سے رہ جاتے جو کہ آخر کار عظیم فتح و کامرانی کا سبب بنی۔

ان تمام چیزوں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اگر ہم مسلمانوں کی تعداد اور دشمن کے مقابلے میں ان کے جنگی سازو سامان کو دیکھیں تو وہ ہر لحاظ سے کمتر اور ضعیف تر تھا جب کہ مسلمان ٹھہرے ہوئے بھی نشیب کی طرف تھے اور دشمن بلندی کی طرف تھا۔ لہٰذا قرآن مزید کہتا ہے: حالات ایسے تھے کہ اگر پہلے سے تمھیں معلوم ہوتا اور تم چاہتے کہ اس سلسلے میں ایک دوسرے سے وعدہ اور قول و قرار کرتے تو حتماً اس عہد و میعاد میں اختلاف میں گرفتار ہوتے( وَلَوْ تَوَاعَدتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیعَادِ ) کیونکہ تم میں سے بہت سے ظاہری کیفیت اور دشمن کے مقابلے میں اپنی کمزور و حیثیت کے زیر اثر آجاتے اور اس قسم کی جنگ کی اصولاً مخالفت کرتے۔

لیکن خدا تمھیں ایک انجام پانے والے عمل کی طرف لے گیا تاکہ جس کام کو ہنا چاہیے وہ انجام پائے( وَلَکِنْ لِیَقْضِیَ اللهُ اٴَمْرًا کَانَ مَفْعُولًا ) ۔ یہ اس لئے تھا کہ اس غیر متوقع معجزہ نما کامیابی کے ذریعے حق اور باطل میں تمیز ہوسکے”اور وہ جو گمراہ ہوں اتمام حجت کے ساتھ ہوں اور وہ جو راہ حق قبول کریں آگاہی اور واضح دلیل کے ساتھ کریں “(ل( یَهْلِکَ مَنْ هَلَکَ عَنْ بَیِّنَةٍ وَیَحْیَا مَنْ حَیَّ عَنْ بَیِّنَةٍ ) ۔

یہاں ”حیات“ اور ”“ہلاکت سے مراد وہی ”ہدایت “اور ”گمراہی“ ہے کیونکہ بدر کے دن نے کہ جس کا دوسرا نام ”یوم الفرقان“ ہے، واضح طور پر نصرت الٰہی سے سب کو مسلمانوں کی قوت دکھائی اور ثابت کیا کہ یہ گروہ وہ خدا سے راہ و رسم رکھتا ہے اور حق اِس کے ساتھ ہے۔

آخر میں ارشاد ہوتا ہے: خدا سننے اور جاننے والا ہے( وَإِنَّ اللهَ لَسَمِیعٌ عَلِیمٌ ) ۔ یعنی اس نے تمہاری فریاد سنی،تمہاری نیتوں کو جانا اور اسی بناء پر اس نے تمہاری مدد کی یہاں تک کہ تم دشمن پر کامیاب ہوگئے۔

تمام قرائن نشاندہی کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں ایک گروہ کم از کم ایسا تھا کہ اگر اسے دشمن کی طاقت اور اس کی فوج کی کیفیت معلوم ہوتی تو وہ اس جنگ کے لئے تیار نہ ہوتا اگر چہ مخلص مومنین کا ایک گروہ ایسا بھی تھا جس کا ہر طرح کے حوادث میں رسول اللہ کے ارادے کے سامنے سر تسلیم خم تھا۔ اس بناء پر خدانے کچھ ایسے واقعات پیش کیے کہ دونوں گروہ خواہ دشمن کے مقابلے میں نکل آئیں اور اس حیات بخش جنگ کے لئے تیار ہوجائیں ۔

ان واقعات میں سے ایک یہ تھا کہ رسول اللہ نے پہلے سے خواب میں اس جنگ کا منظر دیکھا تھا۔ آپ نے دیکھا تھا۔ آپ نے دیکھا کہ دشمن کی ایک قلیل سی تعداد مسلمانوں کے مقابلے میں آئی ہے۔ یہ در اصل کامیابی کی ایک بشارت تھی آپ نے بعینہ یہ خواب مسلمانوں کے سامنے بیان کردیا۔ یہ بات مسلمانوں کے میدان بدر کی طرف پیش روی کے لئے ان کے جذبے اور عزم کی تقویت کا باعث بنی۔

البتہ پیغمبر اکرم نے یہ خواب صحیح دیکھا تھا کیونکہ دشمن کی قوت اور تعداد اگر چہ ظاہراً بہت زیادہ تھی لیکن باطناً کم، ضعیف اور ناتوان تھی اور ہم جانتے ہیں کہ خواب عام طور پر اشارے اور تعبیر کا پہلو رکھتے ہیں اور ایک صحیح خواب میں کسی مسئلے کا باطنی چہرہ آشکار ہوتا ہے۔

رسول اللہ نے یہ خواب مسلمانوں سے بیان کیا لیکن آخر یہ سوال تو شاید ذہنوں کی گہرائیوں میں باقی رہا ہوگا کہ پیغمبر نے خواب میں ان کا ظاہری چہرہ کیوں نہیں دیکھا اور اسے مسلمانوں سے کیوں بیان نہیں کیا۔

زیر نظر دوسری آیت میں اس نعمت کا فلسفہ بیان کیا گیا ہے جو خدا تعالیٰ نے اس طریقے سے مسلمانوں کو عنایت کی تھی۔ ارشاد ہوتا ہے: اس وقت خدانے خواب میں دشمن کی تعداد تمھیں کم کرکے دکھائی اور اگر انھیں زیادہ کرکے دکھاتا تو یقینا تم لوگ سستی دکھاتے( إِذْ یُرِیکَهُمْ اللهُ فِی مَنَامِکَ قَلِیلًا وَلَوْ اٴَرَاکَهُمْ کَثِیرًا لَفَشِلْتُمْ ) ۔

نہ صرف یہ کے تم سست ہوجاتے بلکہ ”تمہارا معاملہ اختلاف تک جاپہنچتا اور ایک گروہ میدان کی طرف جانے کا موافق ہوتا اور دوسرا مخالف ہوتا“( وَلَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاٴَمْرِ ) ۔

لیکن خدانے تمھیں اس سستی ، اختلاف کلمہ، نزاع اور جھگڑے سے اس خواب کے ذریعے نجات دی اور محفوظ رکھا کہ جس میں ان کے باطنی رخ کی نشاندہی کی گئی تھی نہ کہ ظاہری صورت کی( وَلَکِنَّ اللهَ سَلَّمَ ) ۔ کیونکہ خدا تم سب کی روحانی حالت اور تمھارے باطن سے آگاہ تھا اور جو کچھ سینوں کے اندر ہے وہ اس سے باخبر ہے (ا( ِٕنَّهُ عَلِیمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ) ۔

بعد والی آیت میں جنگ بدر کے ایک اور مرحلے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔یہ مرحلہ پہلے سے مختلف تھا۔

یہ وہ مرحلہ تھا جب رسول اللہ کے حرارت بخش بیانات کے زیر اثر، خدا کے وعدوں کی طرف توجہ کے باعث اور مختلف واقعات کے مشاہدہ سے مثلاً تشنگی دور کرنے کے لئے بر محل باران کا نزول، میدان جنگ کی ریتلی اور سنگریزوں والی زمین کا سخت ہوجانا۔ ان سب امور نے مل کر مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی اور انھیں ایک حقیقی کامیابی کے لئے پر امید کردیا۔ ان جوش اور دلولے کا یہ عالم تھا کہ دشمن کا لشکر کثیر بھی انھیں چھوٹا معلوم ہو رہا تھا۔ اسی لئے فرمایا گیا ہے: اس وقت خدانے آغازِ جنگ میں انھیں تمہاری نگاہ میں کم کردیا( وَإِذْ یُرِیکُمُوهُمْ إِذْ الْتَقَیْتُمْ فِی اٴَعْیُنِکُمْ قَلِیلًا ) ۔ لیکن دشمن چونکہ مسلمانوں کے اس مقام اور جذبے سے آگاہ نہیں تھا اس لئے وہ ان کی ظاہری تعداد ہی کو دیکھتا تھا۔ اسے مسلمان نا چیز دکھائی دیتے تھے یہاں تک کہ اس سے بھی کم معلوم ہوتے تھے جتنے وہ تھے۔ اسی لئے ارشاد ہوتا ہے: اور تمھیں ان کی نگاہ میں کم دکھاتا تھا( وَیُقَلِّلُکُمْ فِی اٴَعْیُنِهِمْ ) یہاں تک کہ ابوجہل کے بارے میں ہے کہ وہ کہتا تھا:

انمآ اصحاب محمد اکلة جزورمحمد کے ساتھی تو صرف ایک اونٹ کی خوراک ہیں ۔

یہ ان کی نہایت کم تعداد کی طرف اشارہ ہے یا اس طرف اشارہ ہے کہ صبح سے لے کر شام تک ان کا کام تمام کریدں گے۔ کیونکہ جنگ بدر سے متعلقہ روایات میں آیا ہے کہ قریش کا لشکر ہر دن دس اونٹ نحر کرتا تھا اور یہ ایک ہزار کے لشکر کی ایک دن کی خوراک تھی۔

بہر حال یہ دونوں امور مسلمانوں کی کامیابی کے لئے بہت موثر تھے کہ ایک طرف سے دشمن ان کی نگاہ میں کم معلوم ہوتے تھے تاکہ اقدامِ جنگ میں انھیں کوئی خوف اور وہم نہ ہو اور دوسری طرف سے مسلمانوں کی تعداد دشمن کو کم دکھائی دیتی تھی تاکہ وہ اس جنگ سے صرفِ نظر نہ کرلیں جس کا انجام ان کی شکست تھی علاوہ ازیں اس سلسلے میں زیادہ طاقت بھی حاصل نہ کریں اور اس گمان میں کہ لشکرِ اسلام کوئی اہمیت نہیں رکھتا، جنگ کے لئے مزید سپلائی حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں ۔ لہٰذا قرآن مندرجہ بالا جملوں کے بعد کہتا ہے: یہ سب کچھ اس بناء پر تھا کہ خدا اس امر کو انجام دے جسے ہر حالت میں متحقق ہونا چاہیے( لِیَقْضِیَ اللهُ اٴَمْرًا کَانَ مَفْعُولًا ) ۔

نہ صرف یہ جنگ اس کے مطابق انجام پائی کہ جو خدا چاہتا تھا بلکہ ”اس جہاں میں تمام کام اور تمام چیزیں اس کے حکم اور ارادے کی طرف بازگشت رکھتی ہیں اور اس کا رادہ تمام چیزوں میں نفوذ رکھتا ہے“( وَإِلَی اللهِ تُرْجَعُ الْاٴُمُورُ ) ۔

سورہ آل عمران کی آیہ ۱۳ جو جنگ بدر کے تیسرے مرحلے کی طرف اشارہ ہے میں ہے کہ دشمن آغاز جنگ اور سپاہ اسلام کی کاری ضربیں کہ جو بجلی کی طرح ان کے سروں پر پڑتی تھیں دیکھ کر پریشاں ہوگئے۔ وہ اس وقت یہ محسوس کرنے لگے کہ جیسے لشکر اسلام میں اضافہ ہوگیا ہے یہاں تک کہ انھیں لگتا تھا جیسے دوگنا ہوگیا ہے۔ اس طرح ان کی ہمت منزلزل ہوگئی جو ان کی شکست کا ایک باعث بنی۔

جو کچھ ہم نے کہا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ نہ تو ان مندرجہ بالا آیات میں کوئی تضاد ہے اور نہ ہی ان کے اور آل عمران کی تیر ہویں آیت کے درمیان کوئی تضاد ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک آیت جنگ کے ایک ایک مرحلے کی طرف اشارہ ہے۔

پہلا مرحلہ __ میدان جنگ میں پہنچنے سے پہلے کا ہے۔ خواب میں رسول اللہ کو ان کی تعداد کم دکھائی گئی۔

دوسرا مرحلہ__سرزمین بدر میں پہنچنے کے وقت کا ہے۔ مسلمان دشمن کے لشکر کی زیادہ تعداد سے آگاہ ہوئے۔ اس سے بعض افراد خوف اور پریشانی میں مبتلا ہوئے۔

تیسرا مرحلہ__جنگ شروع ہونے کے وقت کا ہے۔ پروردگار کے لطف و کرم سے امید افزاء حالات پیدا ہوگئے اور دشمن کی تعداد انھیں کم معلوم ہونے لگی۔ (غور کیجئے گا)


آیات ۴۵،۴۶،۴۷

۴۵-( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا لَقِیتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْکُرُوا اللهَ کَثِیرًا لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ )

۴۶-( وَاٴَطِیعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ وَلَاتَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِیحُکُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِینَ )

۴۷-( وَلَاتَکُونُوا کَالَّذِینَ خَرَجُوا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَرِئَاءَ النَّاسِ وَیَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ وَاللهُ بِمَا یَعْمَلُونَ مُحِیطٌ )

ترجمہ

۴۵ ۔اے ایمان لانے والو ! جب (میدانِ جنگ میں ) کسی گروہ کا سامنا کرو تو ثابت قدم رہو اور خدا کو زیادہ یاد کرو تاکہ فلاح پا جاؤ۔

۴۶ ۔اور خدا اور اس کے رسول (کے فرمان) کی اطاعت کرو اور نزاع (اور جھگڑا) نہ کرو تاکہ (کمزور اور) سست نہ ہوجاؤ اور تمہاری طاقت (اور شوکت و ہیبت ختم نہ ہوجائے اور صبر و استقامت کا مظاہرہ کرو اور خدا صبر و استقامت کرنے والوں کے ساتھ ہے)۔

۴۷ ۔اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اپنے علاقے سے، ہوا پرستی، غرور اور لوگوں کے سامنے خود نمائی کے لئے (میدان بدر کی طرف) نکلے ہیں اور وہ (لوگوں کو) راہ خدا سے روکتے تھے (اور آخر کاران کا انجام شکست اور نابودی تھا) اور جو وہ عمل کرتے ہیں خدا اس پر احاطہ (اور آگاہی) رکھتا ہے۔

جہاد کے بارے میں چھ اور احکام

مفسّرین نے لکھا ہے کہ ابوسفیان جب بڑی چالبازی سے قریش کے تجارتی قافلے کو مسلمان کے علاقے سے صحیح سالم لے کر نکل گیا تو اس نے کسی کو لشکر قریش کی طرف بھیجا جو میدانِ بدر کی طرف عازم تھا اور کہلایا کہ اب تمھیں جنگ کرنے کی ضرورت نہیں رہی لہٰذا واپس آجاؤ۔ لیکن ابوجہل خاص غرور تکبر اور تعصب رکھتا تھا۔اس نے قسم کھائی کہ ہم ہرگز نہیں پلٹیں گے جب تک سرزمین بدر میں نہ جائےں (بدر اس واقعہ سے پہلے اجتماع عرب کا ایک مرکز تھا۔ ہر سال یہاں ایک تجارتی بازار لگتا تھا ) ۔ اس نے کہا کہ ہم تین دن تک وہاں وہاں رہیں گے، اونٹ ذبح کریں گے،خوب کھائیں گے، شراب پئیں گے اور گانے بخانے والے گائیں گے بجائیں گے تاکہ ہماری آواز تمام دنیائے عرب کے کانوں تک پہنچنے اور طاقت ثابت ہوجائے۔

لیکن آخر کار انھیں شکست ہوئی۔ شراب نوشی کی بجائے انہوں نے موت کے گھونٹ پیے اور گانے والوں کی بجائے نوحہ کرنے والی عورتیں ان کے غم میں بیٹھیں ۔

مندرجہ بالا آیات بھی اسی امر کی طرف اشارہ کررہی ہیں اور مسلمانوں کو ایسے کاموں سے منع کرتی ہیں اور گذشتہ احکام کے بعد ان آیات میں جہاد کے بارے میں مزید احکام جاری کیے گئے ہیں ۔ زیر نظر آیات میں کل چھ اہم احکام مسلمانوں کو دیئے گئے ہیں :

۱ ۔ پہلے قرآن کہتا ہے: اے ایمان لانے والو! جب دشمنوں کے کسی گروہ کو میدان جنگ میں اپنے سامنے دیکھو تو ثابت قدم رہو( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا لَقِیتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا ) ۔ یعنی ایمان کا ایک واضح نشانی ہر معاملے میں خصوصاً دشمنانِ حق سے برسرپیکار ہونے کی صورت میں ثابت قدمی ہے۔

۲ ۔ خدا کو بہت زیادہ یاد کرو تاکہ رستگار اور کامیاب ہوجاؤ( وَاذْکُرُوا اللهَ کَثِیرًا لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ ) ۔

اس میں شک نہیں کہ یاد خدا سے مراد صرف لفظی ذکر نہیں ہے بلکہ روح کے اندر خدا کا مشاہدہ ہے اور اس کے بے انتہا علم و قدرت اور وسیع رحمت کو یاد رکھنا ہے۔ خدا کی طرف ایسی توجہ مجاہد سپاہی کی ہمت اور جذبے کو تقویت دیتی ہے اور اس کے سائے میں وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ میدانِ جہاد میں اکیلا نہیں ہے۔ اس کی ایک طاقتور پناہ گاہ اور سہارا ہے کے جس کے مقابلے میں کوئی طاقت کھڑی نہیں ہوسکتی اور اگر وہ مارا بھی گیا تو اسے شہادت جیسی عظیم سعادت حاصل ہوگی اور وہ جوارِ رحمت حق میں رستگار ہوگا اور فلاح پائے گا۔ خلاصہ یہ کہ یاد خدا اسے طاقت، اطمینان اور پامردی عطا کرتی ہے۔

علاوہ ازیں خدا کی یاد اور اس کا عشق اس کے دل سے بیوی، اولاد، مال اور مقام سے لگاؤ کو نکال دیتا ہے اور خدا کی طرف توجہ ان چیزوں کو دل سے باہر نکال دیتی ہے جو مقابلے اور جہاد کے معاملے میں سستی اور کمزوری کا باعث بنتی ہیں ۔

چنانچہ امام سجاد زین العابدین علیہ السلام کے صحیفہ کی مشہور دعا جو اسلام کی سرحدوں کے مسلمان محافظین اور مدافعین کے بارے میں ہے، میں آپخدا کی بارگاہ میں یوں عرض کرتے ہیں :

وانسهم عند لقآئهم العدوذکردنیا هم الخداعة و امح عن قلوبهم خطرات المال الفتون و اجعل الجنة نصب اعینهم

پروردگارا! (اپنی یاد کے سائے میں ) فریب دینے والی دنیا کی یادان محافظ سپاہیوں کے دل سے نکال دے اور رزق برق اموال کی طرف سے ان کے دل پھیردے اور بہشت کو ان کی نگاہِ فکر کے سامنے کردے۔(۱)

۳ ۔ جنگ سے متعلق دووسرا اہم ترین مسئلہ رہبری ہے۔ پیشوا اور رہبر کے حکم کی اطاعت کا ہے۔ یہی وہ اہم معاملہ ہے کہ اگر اس پر عمل نہ کیا جاتا تو جنگ بدر کا انجام مسلمانوں کی مکمل شکست کی صورت میں سامنے آتا۔ اسی لئے دوسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے:خدا اور اس کے رسول کی اطاعت( وَاٴَطِیعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ ) ۔

۴ ۔ اور پراندگی، نزاع اور اختلاف سے پرہیز کرو( وَلَاتَنَازَعُوا ) ۔ کیونکہ دشمن کے سامنے مجاہدین کے ما بین کشمکش, نزاع اور اختلاف کا پہلا اثر جنگ میں سستی، ناتوانی اور کمزوری ہے( فَتَفْشَلُوا ) ۔ اور اس کمزوری کے نتیجے میں تمہاری طاقت، قوت، ہیبت اور عظمت ختم ہوجائے گی( وَتَذْهَبَ رِیحُکُمْ ) ۔

”ریح“ کا معنی ”ہوا“۔ اور یہ جو کہتے ہیں کہ اگر ایک دوسرے سے جھگڑو گے تو سست اور کمزور ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، یہ اس معنی کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ قوت و عظمت اور تمہاری مراد اور مقصود کے موافق جاری نہیں رہیں گے چونکہ موافق ہواؤں کے چلنے کی وجہ سے کشتیاں منزلِ مقصود کی طرف چلتی رہتی ہیں اور اس زمانے میں جب کہ کشتی کو چلانے کے لئے واحد محرک ہوا ہی تھی، اس لحاظ سے یہ مطلب بہت زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔

علاوہ ازیں ہوا کا چلنا جھنڈوں کے ساتھ جھنڈے قائم رہنے کی نشانی ہے جو کہ قدرت و حکومت کی رمز ہے اور مندرجہ بالا تعبیر اس معنی کے لئے کنایہ ہے۔

۵ ۔ اس کے بعد قرآن دشمن کے مقابلے میں اور سخت حوادث کے مقابلے میں استقامت اور صبر کا حکم دیتا ہے اور کہتا ہے: صبر و استقامت اختیار کرو کہ خدا صبرو استقامت کا مظاہر کرنے والوں کے ساتھ ہے( وَاصْبِرُوا إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِینَ ) ۔

پہلے حکم میں ثباتِ قدم کا ذکر ہے اور پانچویں حکم میں صبر و استقامت کا۔ ان میں اس لحاظ سے فرق ہے کہ ثباتِ قدم زیادہ تر جسمانی اور ظاہری پہلو رکھتا ہے جب کہ استقامت اور صبر زیادہ ترنفسیاتی اور باطنی پہلو رکھتا ہے۔

۶ ۔ آخری آیت میں مسلمانوں کو احمقانہ کاموں ، متکبرانہ افعال اور مہمل شورشین کی پیروی سے روکا گیا ہے۔ نیز ابوجہل، اس کے طرزِکار اور اس کے یارو انصار کے انجامِ کار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان افراد کی طرح نہ ہوجانا جو اپنے علاقے سے غرور، ہوا پرستی اور خود نمائی کے لئے نکلتے تھے

( وَلَاتَکُونُوا کَالَّذِینَ خَرَجُوا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَرِئَاءَ النَّاسِ ) ۔ وہی کہ جن کا ہدف اور مقصد لوگوں کو راہِ خدا سے روکنا تھا( وَیَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ ) ۔ ان کا ہدف بھی ناپاک تھا اور اس تک پہنچنے کے اسباب بھی ناپاک تھے اور ہم نے دیکھا کہ آخر کار اتنی قوت اور جنگی سازو سامان کے باوجود انھیں شکست ہوئی۔ عیش و عشرت اور طرب و سرور کی بجائے ان میں سے کچھ خاک و خون میں غلطاں ہوئے اور کچھ ان کے غم میں اشکبار ہوئے۔ اور جو کام یہ لوگ انجام دیتے ہیں خدا ان پر محیط ہے اور ان کے اعمال سے باخبر ہے( وَاللهُ بِمَا یَعْمَلُونَ مُحِیطٌ ) ۔

____________________

۱۔ صحیفہ سجادیہ


آیات ۴۸،۴۹،۵۰،۵۱

۴۸-( وَإِذْ زَیَّنَ لَهُمْ الشَّیْطَانُ اٴَعْمَالَهُمْ وَقَالَ لَاغَالِبَ لَکُمْ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَإِنِّی جَارٌ لَکُمْ فَلَمَّا تَرَائَتْ الْفِئَتَانِ نَکَصَ عَلیٰ عَقِبَیْهِ وَقَالَ إِنِّی بَرِیءٌ مِنْکُمْ إِنِّی اٴَریٰ مَا لَاتَرَوْنَ إِنِّی اٴَخَافُ اللهَ وَاللهُ شَدِیدُ الْعِقَابِ ) -

۴۹-( إِذْ یَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِینَ فِی قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ غَرَّ هٰؤُلَاءِ دِینُهُمْ وَمَنْ یَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ فَإِنَّ اللهَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ ) -

۵۰-( وَلَوْ تَریٰ إِذْ یَتَوَفَّی الَّذِینَ کَفَرُوا الْمَلَائِکَةُ یَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَاٴَدْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِیقِ ) -

۵۱-( ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ اٴَیْدِیکُمْ وَاٴَنَّ اللهَ لَیْسَ بِظَلاَّمٍ لِلْعَبِیدِ ) -

ترجمہ

۴۸ ۔ اور وہ وقت (یاد کرو) جب شیطان نے ان (مشرکین) کے اعمال کو ان کی نظر میں مزین کیا اور کہا کہ لوگوں میں سے کوئی بھی تم پر کامیاب نہیں ہوگا اور میں تمہارا ہمسایہ (اور تمھیں پناہ دینے والا) ہوں لیکن جب اس نے دوگروہوں (مجاہد مسلمانوں اور ان کے حامی فرشتوں ) کو دیکھا تو پیچھے کی طرف پلٹا اور کہا کہ میں تم (دوستوں اور پیرو کاروں ) سے بیزار ہوں ۔ میں ایسی چیز دیکھ رہا ہوں جسے تم نہیں دیکھتے۔ میں خدا سے ڈرتا ہوں اور خدا شدید العقاب ہے۔

۴۹ ۔جس وقت منافقین اور وہ کہ جن کے دلوں میں بیماری تھی کہنے لگے :(مسلمانو ں کے )اس گروہ کو ان کے دین نے مغرورکیا(اورد ھوکا دیا )ہے اور جو شخص خدا پر توکل کرے (کا میاب ہو گاکہ )خدا عزیز و حکیم ہے۔

۵۰ ۔ اور اگر کفار کو دیکھے کہ جب (موت کے) فرشتے ان کی روح نکال رہے ہوتے ہیں اور ان کے چہرے اور پشت پر مار ہے ہوتے ہیں اور (کہتے ہیں کہ) چکھو جلانے والے عذاب کو (ان کی حالت پر تجھے افسوس ہوگا)۔

۵۱ ۔ یہ ان کاموں کے بدلے میں ہے کہ جو آگے بھیج چکے ہو اور خدا اپنے بندوں پر کبھی ظلم و ستم روا نہیں رکھتا۔

مشرک، منافق اور شیطانی وسوسے

ان آیات میں گذشتہ آیات کی مناسبت سے جنگ بدر کے ایک اور منظر کی تصویر کشی کی گئی ہے یا پھر یہ آیات گذشتہ آخری آیت کی مناسب سے ہیں کہ جس میں جنگ بدر میں مشرکین کے شیطانی عمل کے بارے میں گفتگو تھی۔

جیسے مرادان حق کو راہ حق میں پروردگار اور اس کے فرشتوں کی تائید حاصل ہوتی ہے اسی طرح باطل کی طرف میلان رکھنے والے اور بداندیش لوگ شیطانی وسوسوں اور گمراہ کن طاغوتی سائبان کے نیچے رہتے ہیں ۔

بعض گذشتہ آیات میں مجاہدین بدر کے لئے فرشتوں کی حمایت کی کیفیت اور اس کی تفسیر بیان کی جاچکی ہے۔ یہاں زیر بحث پہلی آیت میں مشرکین کے لئے شیطان کی بد انجام حمایت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: اور اس دن شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے سامنے آراستہ کیا اور زینت دی تاکہ وہ اپنی کار گردگی پر خوش، پُر جوش اور پُراُمید ہوں( وَإِذْ زَیَّنَ لَهُمْ الشَّیْطَانُ اٴَعْمَالَهُمْ ) ۔

شیطان کی طرف سے زینت دینا اور آراستہ کرنا اس طرح سے ہے کہ وہ انسان کو شہوات، ہوسنا کیوں اور قبیح و ناپسندیدہ صفات کی تحریک دیتا ہے اور اس طریق سے انسان کے عمل خیال کرتا ہے ”اور انھیں اس طرح سمجھاتا ہے کہ تمہاری اتنی افرادی قوت اور جنگی وسائل کی وجہ سے لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور تم نا قابلِ شکست فوج ہو“( وَقَالَ لَاغَالِبَ لَکُمْ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ ) ۔ ”ہلاوہ ازیں میں تمہارا ہمسایہ ہوں اور تمھارے پاس رہتا ہوں “ اور ایک وفادار اور ہمدرد ہمسائے کی طرح ضرورت کے وقت کسی قسم کی حمایت سے دریغ نہیں کروں گا ( وَإِنِّی جَارٌ لَکُمْ)۔

اس جملے کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ لفظ ”جار“ سے مراد ہمسایہ نہیں ہے بلکہ ایسا شخص مراد ہے جو امان اور پناہ دیتا ہے کیونکہ عربوں کی یہ عادت تھی کہ طاقتور افراد اور قبائل بوقتِ ضرورت اپنے دوستوں کو اپنی پناہ میں لے لیتے تھے اور اس موقع پر اپنے تمام وسائل کے ساتھ اس کا دفاع کرتے تھے۔ شیطان نے اپنے مشرک دوستوں کو امان نامہ دیا۔

لیکن جب دونوں لشکر ایک دوسرے سے ٹکڑائے اور فرشتے لشکر توحید کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے اور اس نے مسلمانوں کی قوت ایمان اور پامردی کا مشاہدہ کیا تو الٹے پاؤں لوٹ گیا اور اس نے پکار کر کہا کہ میں تم سے (یعنی مشرکین سے) بیزار ہوں( فَلَمَّا تَرَائَتْ الْفِئَتَانِ نَکَصَ عَلیٰ عَقِبَیْهِ وَقَالَ إِنِّی بَرِیءٌ مِنْکُمْ ) ۔اس نے اپنے وحشت زدہ فرار کی دودلیلیں پیش کیں پہلی یہ کہ اس نے کہا: میں ایسی چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے( إِنِّی اٴَریٰ مَا لَاتَرَوْنَ ) ۔ میں مسلمانوں کے ان پر جلال با ایمان چہروں پر کامیابی کے واضح آثار دیکھ رہا ہوں ، ان میں الٰہی حمایت، غیبی امداد اور فرشتوں کی کمک کے آثار مشاہدہ کررہا ہوں اور اصولی طور پر جہاں پروردگار کی خاص مدد اور غیبی قوتوں کی کمک کارِ فرما ہو میں وہاں سے فرار ہی اختیار کروں گا۔

دو سری دلیل پیش کرتے ہوئے اس نے کہا کہ ”میں اس منظر میں پروردگار کی دردناک سزا سے ڈرتا ہوں ‘ اور اسے اپنے نزدیک دیکھتا ہوں( إِنِّی اٴَخَافُ اللهَ ) ۔

خدا کی سزا کوئی معمولی سی بات نہیں کہ جس کا سامنا کیا جاسکے بلکہ ”اللہ کی سزا شدید اور سخت ہے“ (وَاللهُ شَدِیدُ الْعِقَابِ)۔

شیطان وسوسے ڈالتا ہے یا بہروپ اختیار کرتا ہے؟

اس سلسلے میں جنگ بدر کے موقع پر شیطان نے مشرکین کے دل میں کیسے نفوذ کیا اور اس نے یہ گفتگو کیونکر کی، متقدمین اور موجودہ مفسّرین میں اختلاف ہے اور تقریباً دو نظریے موجود ہیں :

۱ ۔ بعض کا عقیدہ ہے کہ یہ کام باطنی وسوسوں کی صورت میں انجام پایا۔ شیطان نے اپنے وسوسوں سے اور مشرکین کی شیطانی، منفی اور قبیح صفات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے اعمال ان کی نظر میں پسندیدہ بنادیئے اور انھیں یہ اعتماد دلایا کہ تمھارے پاس ایسی قوت ہے جسے شکست نہیں ہوسکتی اور یوں ایک طرح کی باطنی پناہ گاہ اور سہارا ان کے لئے پیدا کردیا۔

دوسری طرف مسلمانوں کو شدید جہاد اور پر اعجاز واقعات کے سبب کامیابی حاصل ہوئی اور جہاد اور انہی معجزانہ واقعات سے مشرکین کے دلوں سے ان وسوسوں کے آثار ختم ہوگئے اور انہوں نے محسوس کیا کہ شکست ان کے سامنے کھڑی ہے اور ان کے لئے کوئی سہارا اور امان نہیں بلکہ نہایت سخت عذاب اور سزا ان کے انتظار میں ہے۔

۲ ۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ شیطان انسانی شکل میں مجسّم ہوا اور ان کے سامنے ظاہر ہوا۔ ایک روایت جو بہت سی کتب میں نقل ہوئی ہے، میں ہے:

قریش نے جب میدانِ بدر کی طرف جانے کا پختہ ارادہ کرلیا تو وہ بنی کنانہ کے حملے سے ڈرتے تھے کیونکہ ان کے ساتھ ان کا پہلے ہی سے جھگڑا تھا۔ اس موقع پر ابلیس سراقہ بن مالک کی شکل میں ان کے پاس آیا۔ سراقہ بنی کنایہ کا ایک جانا پہنچانا آدمی تھا۔ اس نے انھیں اطمینان دلایا کہ میں تم سے موافق ہوں اور تمھارے ساتھ ہم آہنگ اور کوئی شخص تم پر غالب نہیں ہوگا اور اس نے میدانِ بدر میں شرکت کی۔ لیکن جب اس نے ملائکہ کو نازل ہوتے دیکھا تو پیچھے ہٹ آیا اور بھاگ کھڑا ہوا۔ فوج بھی جو مسلمانوں سے سخت ضربیں کھاچکی تھی ابلیس کی حالت دیکھ کر بھاگ کھڑی ہوئی۔ جب وہ مکہ میں پلٹ کر آئے تو کہنے لگے کہ سراقہ بن مالک قریش کے فرار کا سبب بنا ہے۔ جب یہ بات سراقہ تک پہنچی تو اس نے قسم کھائی کہ مجھے اس بات کی قطعاً کوئی خبر نہیں ہے۔ جب انہوں نے میدانِ بدر میں اس کی مختلف نشانیاں اور کیفیتیں یاد دلانا چاہئیں تو اس نے سب کا انکار کیا اور قسم کھائی کہ ایسی حتماً کوئی بات نہیں ہوئی اور اس نے کہا کہ میں مکہ سے باہر گیا ہی نہیں ۔ اس طرح سے معلوم ہوا کہ وہ شخص سراقہ بن مالک نہیں تھا۔(۱)

پہلی تفسیر کے طرفداروں کی دلیل یہ ہے کہ ابلیس انسانی شکل میں ظاہر نہیں ہوسکتا جب کہ دوسری تفسیر کے طرفدار کہتے ہیں کہ اس کے محال ہونے پر کوئی دلیل میّسر نہیں ہے خصوصاً جب کہ اس کی نظیر یہ ہے کہ پیغمبر اکرم کے ہجرت کے موقع پر ایک بوڑھا نجدی لوگوں کے بھیس میں دارالندوہ میں آیا تھا۔ علاوہ ازیں ظاہری تعبیرات اور باتیں جو مندرجہ بالا آیت میں آئی ہیں ابلیس کے مجسم ہونے کے ساتھ زیادہ مطابقت رکھتی ہیں ۔

بہر حال مندرجہ بالا آیت نشاندہی کرتی ہے کہ خاص طور پر جب کوئی گروہ حق و باطل کی راہ پر گامزن ہو تو خدائی قوتوں اور امداد کا یا شیطانی قوتوں اور امداد کا ایک سلسلہ فعالیت کرتا ہے اور یہ قوتیں اور امداد مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی ہیں ۔ راہ خدا پر چلنے والوں کو یہ امر ہمیشہ نظر میں رکھنا چاہیے۔

بعد والی آیت میں معرکہ بدر میں شریک مشرکوں اور بت پرستوں کی فوج کے طرفداروں کے ایک گروہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: اس وقت منافقین اور وہ کہ جن کے دل میں بیماری تھی کہتے تھے کہ یہ مسلمان اپنے دین پر مغرور ہوگئے ہیں اور اس تھوڑی سی تعداد اور معمولی اسلحہ کے ساتھ انہوں نے کامیابی کے گمان میں یاراہ خدا میں شہادت اور حیات جاوید کے خیال میں اس خطرناک مہم میں قدم رکھا ہے کہ جس کا انجام موت ہے

( إِذْ یَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِینَ فِی قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ غَرَّ هٰؤُلَاءِ دِینُهُمْ ) ۔

لیکن وہ ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے اور الطاف الٰہی اور اس کی غیبی امداد سے آگاہی نہ رکھنے کے سبب اس حقیقت سے باخبر نہیں ہیں کہ ”جو شخص خدا پر توکل کرے اور اپنی تمام قوتوں کو مجتمع کرنے کے بعد خود کو اس کے سپرد کردے تو خدا اس کی مدد کرے گا کیونکہ خدا قادرو قوی ہے کہ کوئی شخص اس کے مقابلے میں کھڑا ہونے کا یار انھیں رکھتا اور وہ ایسا حکیم ہے کہ جس سے ممکن نہیں کہ وہ اپنے دوستوں اور اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کو تمہا چھوڑدے“( وَمَنْ یَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ فَإِنَّ اللهَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ ) ۔

اس سلسلے میں کہ ”منافقین“ اور ”الذین فی قلو بہم مرض“ سے کون سے افراد مراد ہیں ، مفّسرین میں بہت اختلاف ہے لیکن بعید نہیں کہ دونوں عبارتیں منافقین مدینہ کی طرف اشارہ ہوں کیونکہ قرآن مجید منافقین کے بارے میں جن کی تفصیلی حالت سورہ بقرہ کی ابتدائے میں آئی ہے کہتا ہے:

( فِی قُلُوبِهِم مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللّٰه مرضاً )

ان کے دلوں میں بیماری ہے۔ خدا بھی ان کی بیماری میں اضافہ کرتا ہے۔ (بقرہ۔ ۱۰)

یا پھر یہ وہ منافق ہیں جو مکہ میں ظاہراً ایمان لائے تھے لیکن انہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے روگردانی کی تھی اور میدان بدر میں مشرکوں کی صفوں سے وابستہ تھے اور جب انہوں نے لشکر کفر کے مقابلے میں مسلمانوں کی کم تعداد دیکھی تو انھیں تعجب ہوا اور وہ کہنے لگے کہ ان مسلمانوں نے اپنے دین و آئین سے دھوکا کھایا ہے اور جبھی اس میدان میں قدم رکھا ہے۔

بہر حال خدا ان منافقین کی باطنی کیفیت کی خبر دیتا ہے اور ان کے ہم فکر لوگوں کی غلطی واضح کرتا ہے۔

اگلی آیت کفار کی موت اور ان کی بدبخت زندگی کے اختتام کی منظر کشی کرتی ہے۔ پہلے روئے سخن پیغمبر اکرم کی طرف کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: اگر تم کفار کی عبرت انگیز کیفیت کو دیکھتے کہ جب موت کے فرشتے ان کے چہروں اور پشتوں پر مارتے تھے اور انھیں کہتے تھے کہ جلانے والے عذاب کا مزہ چکھو، تو ان کے رقت آمیز انجام سے آگاہ ہوتے( وَلَوْ تَریٰ إِذْ یَتَوَفَّی الَّذِینَ کَفَرُوا الْمَلَائِکَةُ یَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَاٴَدْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِیقِ ) ۔

اگر چہ ”ترٰی“ فعل مضارع ہے لیکن ”لو“ کے ہونے کی وجہ سے ماضی کا معنی دتا ہے۔ اس بناء پر مندرجہ بالا آیت کفار کی گذشتہ کیفیت اور ان کی دردناک موت کی طرف اشارہ ہے۔اس لئے بعض مفّسرین اسے میدان بدر میں فرشتوں کے ہاتھوں ان کی موت کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں اور وہ اس سلسلے میں کچھ ایسی روایات بھی نقل کرتے ہیں جن کی تائید نہیں ہوئی۔ لیکن جیسا کہ ہم بھی اشارہ کرچکے ہیں کہ ایسے قرائن موجود ہیں کہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں سے میدان بدر کی جنگ میں براہِ راست دخل نہیں دیا لہٰذا مذکورہ آیت میں موت کے فرشتوں اور قبضِ روح کے وقت اور اس دردناک سزا کی طرف اشارہ ہے جو دشمنان حق اور بے ایمان گنہ گاروں کو اس وقت ہوگی ۔”عذاب الحریق “ روزِ قیامت کی سزا کی طرف اشارہ ہے کیونکہ قرآن کی دوسری آیات میں مثلاً سورہ حج کی آیہ ۹ اور ۲۲ اور بروج کی آیہ ۱۰ میں بھی یہی معنی آیا ہے۔

اس کے بعد قرآن کہتا ہے: ان سے کہا جائے گا کہ یہ دردناک سزا جو اس وقت چکھ رہے ہو ان امور کی وجہ سے تمھارے ہاتھوں نے اس سے پہلے فراہم کیے ہیں اور اس جہان میں بھیجے ہیں( ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ اٴَیْدِیکُمْ ) ۔

”ہاتھ“ کی تعبیر اس بناء پر ہے کہ انسان عام طور پر اپنے اعمال ہاتھ کی مدد سے انجام دیتا ہے ورنہ مندرجہ بالا آیت تمام جسمانی اور روحانی اعمال پر محیط ہے۔

آیت کے آخر میں مزید ارشاد ہوتا ہے: ”خدا کبھی بھی اپنے بندوں پر ظلم و ستم روا نہیں رکھتا“ اور اس جہان میں یا اس جہان میں جو بھی سزا یا عذاب انھیں دامن گیر ہوگا وہ خود انہی کی طرف سے ہے( وَاٴَنَّ اللهَ لَیْسَ بِظَلاَّمٍ لِلْعَبِیدِ ) ۔

لفظ ”ظلام“ مبالغے کا صیفہ ہے۔ اس کا معنی ہے ”بہت ظلم کرنے والا“۔

اس جگہ اور دوسری جگہوں پر اس لفظ کے استعمال کی وجہ اور اسی طرح ظلم سے متعلق دیگر مباحث ہم نے تفسیر نمونہ جلد سوم صفحہ ۱۴۶ (اردو ترجمہ) پر ذکر کیے ہیں ۔

____________________

۱۔ تفسیر محمع البیان، نور الثقلین اور دیگر تفاسیر، مذکورہ آیت کے ذیل میں ۔


آیات ۵۲،۵۳،۵۴

۵۲-( کَدَاٴْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ کَفَرُوا بِآیَاتِ اللهِ فَاٴَخَذَهُمْ اللهُ بِذُنُوبِهِمْ إِنَّ اللهَ قَوِیٌّ شَدِیدُ الْعِقَابِ ) -

۵۳-( ذٰلِکَ بِاٴَنَّ اللهَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِعْمَةً اٴَنْعَمَهَا عَلیٰ قَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا مَا بِاٴَنفُسِهِمْ وَاٴَنَّ اللهَ سَمِیعٌ عَلِیمٌ ) -

۵۴-( کَدَاٴْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ کَذَّبُوا بِآیَاتِ رَبِّهِمْ فَاٴَهْلَکْنَاهُمْ بِذُنُوبِهِمْ وَاٴَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَکُلٌّ کَانُوا ظَالِمِینَ ) -

ترجمہ

۵۲ ۔ (مشرکین کے اس گروہ کی حالت) فرعون کے رشتہ داروں اور ان سے پہلے والوں کی سی ہے۔ انہوں نے آیاتِ الٰہی کا انکار کیا۔ خدانے بھی انھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے سزادی۔ اللہ قوی ہے اور اس کی سزا سخت ہے۔

۵۳ ۔ یہ اس بناء پر ہے کہ خدا جو نعمت بھی کسی گروہ کو دیتا ہے اسے متغیّر نہیں کرتا مگر یہ گروہ خود اپنے آپ کو متغیّر کریں اور خدا سننے والا اور جاننے والا ہے۔

۵۴ ۔ اور یہ (بالکل) فرعونیون اور ان سے قبل کے لوگوں کی طرح ہیں کہ جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیات کو جھٹلایا اور ہم نے بھی ان کے گناہوں کی وجہ سے انھیں ہلاک کیا اور فرعونیوں کو غرق کیا اور یہ سب ظالم (اور ستمگر) گروہ تھے۔

متغیّر نہ ہونے والی ایک سنت

ان آیات میں دنیا کی اقوام و ملل کے بارے میں خدا تعالیٰ کی ایک دائمی سنت کی طرف اشارہ ہوا ہے تاکہ کہیں یہ خیال نہ ہو کہ جو کچھ میدان بدر مشرکین کے بُرےانجام کے بارے میں بیان ہوا ہے ایک استثنائی اور اختصاصی حکم تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسے اعمال گذشتہ زمانے میں جس سے سرزد ہوئے یا آئندہ جس سے سرزد ہوں گے ایسے ہی نتائج کے حامل ہوئے اور ایسے ہیں نتائج کے حامل ہوں ں گے۔

پہلے قرآن کہتا ہے: مشرکین کے حالات کی کیفیت فرعون کے خاندان اور ان سے پہلے کے لوگوں جیسی ہے( کَدَاٴْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ ) ۔ وہی کہ جنھوں نے آیاتِ خدا کا انکار کیا اور خدا نے انھیں ان کے گناہ کی وجہ سے پکڑا( کَفَرُوا بِآیَاتِ اللهِ فَاٴَخَذَهُمْ اللهُ بِذُنُوبِهِمْ ) ۔ کیونکہ خدا قوی اور صاحبِ قدرت ہے اور اس کا عذاب بھی شدید اور سخت ہے( إِنَّ اللهَ قَوِیٌّ شَدِیدُ الْعِقَابِ ) ۔

اس بناء پر صرف قریش اور مکہ کے مشرکین اور بت پرست ہی نہ تھے جوآیات الٰہی کا انکار ، حق کے مقابلے میں ہٹ دھرمی اور انسانیت کے سچّے رہبروں سے الجھنے کی وجہ سے اپنے گناہوں کے عذاب میں گرفتار ہوئے بلکہ یہ ایک دائمی قانون ہے جو فرعونیوں جیسی طاقتور قوموں اور بہت کمزور قوموں پر بھی محیط ہے۔

اس کے بعد اس مسئلے کی بنیاد کا ذکر کرکے اسے زیادہ واضح کیا گیا ہے، ارشادہوتا ہے: یہ سب کچھ اس بناء پر ہے کہ خدا کسی قوم وملت پر جو نعمت اور عنایت کرتا ہے اسے کبھی دگرگوں نہیں کرتا مگر یہ کہ وہ جمعیت اور قوم خوددگرگوں اور متغیر ہوجائے( ذٰلِکَ بِاٴَنَّ اللهَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِعْمَةً اٴَنْعَمَهَا عَلیٰ قَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا مَا بِاٴَنفُسِهِمْ ) ۔

بالفاظ دیگر خدا کا بے کنار فیض وکرم عمومی اور سب کے لئے ہوتا ہے لیکن وہ لوگوں کی قیادت اور اہلیت کا مناسبت سے ان تک پہنچتا ہے، ابتداء میں خدا اپنی مادی اور روحانی نعمتیں اقوامِ عالم کے شاملِ حال کردیتا ہے اب اگر وہ خدائی نعمتوں کو اپنے تکامل اور ارتقاء کا ذریعہ بنائیں اور راہِ حق میں ان سے مدد حاصل کریں اور ان سے صحیح استفادہ کی صورت میں ان کے لئے شکر ادا کریں تو وہ اپنی نعمتوں کوپائدار کرتا ہے بلکہ اس میں اضافہ کرتا ہے لیکن یہ عنایات اور نعمات اگر طغیان وسرکشی، ظلم وبیداد گری، ترجیح وتبعیض، ناشکری وغرور اور آلودگی وگناہ کا سبب بنیں تو اس صورت میں وہ یہ نعمتیں واپس لے لیتا ہے یا انھیں بلا ومصیبت میں بدل دیتا ہے۔ لہٰذا جو بھی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں در اصل ہماری وجہ سے ہوتی ہیں نعمات الٰہی تو زوال پذیر نہیں ہیں ۔

اس ہدف کے بعد قرآن دوبارہ فرعونیوں اور ان سے پہلے کی طاقتور اقوام کے ایک گروہ کی حالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: نعمتوں کے سلب ہونے اور سخت قسم کے عذابوں کے چنگل میں گرفتار ہونے سے متعلق بت پرستوں کی کیفیت فرعونیوں اور ان سے پہلے کی قوموں جیسی ہے( کَدَاٴْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ ) ۔ ”انھوں نے بھی پروردگار کی ایات کی تکذیب کی“ اور انھیں پاوں تلے روندا جبکہ یہ آیات ان کی ہدایت، تقویت اور سعادت کے لئے نازل ہوئی تھیں( کَذَّبُوا بِآیَاتِ رَبِّهِمْ ) ۔ ”ہم نے بھی ان کے گناہوں کی وجہ سے انھیں ہلاک کردیا کردیا“( فَاٴَهْلَکْنَاهُمْ بِذُنُوبِهِمْ ) ۔ ”اور فرعونیوں کو ہم نے دریا کی موجوں میں غرق کردیا“( وَاٴَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ ) ۔ ”اور یہ قومیں اور ان کے افراد ظالم وستمگر تھے، اپنے لئے بھی ظالم تھے اور دوسروں کے لئے بھی( وَکُلٌّ کَانُوا ظَالِمِینَ ) ۔

ایک سوال اور اس کا جواب

یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ اتنے مختصر سے فاصلے میں ”کداٴب اٰل فرعون ----“ کامختصر سے طرق کے ساتھ تکرار کیوں ہوا ہے؟

اس سوال کے جواب میں اس نکتے کی طرف توجہ کرنا چاہیے کہ اگر چہ حساس اور زندہ میں تکرار اور تاکید ایک اصولِ بلاغت ہے جو فصحاء اور بلغاء کی گفتگو میں ہمیشہ دکھائی دیتا ہے لیکن مندرجہ بالا آیات میں ایک اہم فرق بھی موجود ہے جو عبارت کو صورتِ تکرار سے خارج کردیتا ہے اور وہ یہ کہ پہلی آیت آیات حق کے انکار کے بدلے میں خدائی سزاؤں کی طرف اشارہ کرتی ہے اور اس کے بعد ان کی اس حالت کو فرعونیوں اور ان سے پہلے کی قوموں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جب کہ دوسری آیت میں خداوند تعالیٰ کی نعمتوں اور عنایتوں کے متغیّر ہونے یعنی کامیابیوں ، قدرتوں اور دیگر افتخارات و اعزازات کے خاتمے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کے بعد ان کی حالت کو فرعونیوں اور گذشتہ اقوام سے تشبیہ دی گئی ہے۔

در حقیقت ایک مقام پر گفتگو نعمتوں کے سلب ہونے اور اس سے پیدا ہونے والی سزا کے بارے میں ہے اور دوسرے مقام پر نعمتوں کے متغیّر اور دگرگون ہونے سے متعلق بحث ہے۔

دو اہم نکات

ان آیات میں دو اہم نکات کی طرف اشارہ ہوا ہے جو ہر لحاظ سے توجہ طلب ہیں :

۱ ۔ قوموں کی زندگی اور موت کے عوامل:

تاریخ میں طرح طرح کی قوموں اور ملتوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ کوئی قوم ترقی کے مراحل تیزی سے طے کر گئی کوئی قوم پستی کے سب سے نچلے مرحلے تک پہنچ گئی۔ کوئی گروہ جو ایک دن پراگندہ، درماندہ اور شکست خوردہ تھا دوسرے دن طاقتور اور سربلند تھا اور کوئی گروہ اس کے برعکس کبھی فخر و مباہات کے اعلیٰ ترین مرحلے پر تھا لیکن ذلت و خواری کے گڑھے میں جاگرا۔

بہت سے ایسے اشخاص ہیں جو تاریخ کے مختلف مناظر کے سامنے سے بڑی آسانی سے گزر گئے ہیں اور اس میں انہوں نے ذرّہ بھر غور و فکر نہیں کیا۔ بہت سے لوگ قوموں کی موت و حیات کے اصلی عوامل اور علل کا مطالعہ کرنے کی بجائے کم اہمیت عوامل جن کا کوئی بنیادی کردار نہیں ہوتا یا موہوم، بے ہودہ اور خیالی عوامل ہی کے در پے ہوجاتے ہیں اور سب کچھ انہی کے ذمہ ڈال دیتے ہیں ۔

بہت سے لوگ اپنی بدبختی کا تمام تر ذمہ دار غیروں کی بُری سیاست کو ٹھہراتے ہیں اور کچھ لوگ ان تمام حوادث کو افلاک کی موافق یا مخالف گردش کی نتیجہ سمجھتے ہیں ۔ ایک گروہ قضاؤ قدر کے تحریف شدہ مفہوم سے وابستہ ہے اور قسمت و تقدیر اور اتفاقات کو ہی تمام تلخ و شیریں حوادث کی وجہ قرار دیتا ہے۔

یہ سب کچھ اس بناء پر ہے کہ لوگ حقیقی علل کے ادراک سے گھبراتے اور پریشان ہوتے ہیں ۔

مندرجہ بالا آیات میں قرآن درد اور دوا، کامیابی اور شکست کے عوامل کے اصلی نقطہ پر انگشت رکھتا ہے اور کہتا ہے کہ اصل عامل کی تلاش کے لئے آسمانوں اور زمینوں کو چھان مارنا ضروری نہیں اور نہ اس کے لئے موہوم اور خیالی عوامل کے پیچھے جانے کی ضرورت ہے بلکہ اتنا ہی کافی ہے اپنے ہی وجود، فکر، ہمت، اخلاق اور اجتماعی نظام کی جستجو کی جائے اور اس پر نظر کی جائے۔ جو کچھ ہے اسی جگہ ہے۔

جن اقوام و ملل نے اپنی فکر و نظر کو استعمال کیا، ایک دوسرے کی طرف اتحاد،اتفاق اور برادری کا ہاتھ بڑھایا اور ان کی سعی و کوشش پہیم تھی اور ان کا غزم و ارادہ قوی تھا، ضرورت کے وقت انھوں نے جانبازی اور فداکاری سے کام لیا اور قربانی پیش کی وہ قطعاً اور یقیناً کامیاب وکامران ہوئیں دوسری طرف جب سعی وکوشش کی جگہ رکود وجمود اور سستی وکاہلی نے لے لی، آگاہی کے بجائے وہ بے خبری میں جاپڑے ،عزم وارادہ کے بجائے وہ تردد وبے دلی کا شکار ہوگئے، ان میں بزدلی نے بہادری کی، نفاق نے اتحاد کی تن پروی نے فداکاری کی اور ریاکاری نے خلوص وایمان کی جگہ لے لی تو ان میں سقوط، شکست اور بدحالی کا دُور شروع ہوگیا، درحقیقت ”ذٰلِکَ بِاٴَنَّ اللهَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِعْمَةً اٴَنْعَمَهَا عَلیٰ قَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا مَا بِاٴَنفُسِهِمْ “ میں انسانوں کی زندگی کا بلند ترین قانون بیان کیا گیا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ مکتبِ قرآن معاشروں کی زندگی کے لئے اصیل ترین اور روشن ترین مکتب ہے، یہاں تک کہ ان لوگوں کو جو ایٹم اور خلاء کی دنیا میں داخل ہوکر انسان کو بھول چکے ہیں اور اقتصادی مسائل اور سازو سامان کی تولید کو گردشِ تاریخ کا سبب سمجھتے ہیں جو کہ خود انسان کی پیداوار ہیں ، انھیں بتادیا ہے کہ تم سخت اشتباہ میں ہو، تم نے معلول کو لے لیا ہے اور اصلی علت کو جو خود انسان اور انسانی تغیرات ہیں انھیں فراموش کردیا ہے، تم شاخوں سے چمٹے ہوئے ہو بلکہ ایک ہی شاخ سے اور جڑکو تم نے فراموش کردیا ہے۔

دُور نہ جائیں تاریخ اسلام یا زیادہ صحیح لفظوں میں مسلمانوں کی تاریخ ابتداء میں روشن کامیابیوں اور اس کے بعد تلخ اور دردناک شکستوں کی شاہد ہے۔

پہلی صدیوں میں اسلام بڑی تیزی سے دنیا میں پیشرفت کرتا رہا اور ہر جگہ علم وآزادی کا نور نچھاور کرتا رہا اور اقوامِ عالم کے سروں پر علو دانش کا سایہ کرتا رہا، اس دور میں اسلام قوت آفرین، قدرت بخش، ہلادینے والا اور آباد کرنے والا تھا، ان سے آنکھوں کو خیرہ کردینے والے تمدن کو وجود بخشا، جس کی مثال گذشتہ تاریخ میں نہیں ملتی، لیکن چند صدیوں سے زیادہ عرص نہ گزرا تھا کہ اس کا جوش وخروش ٹھنڈا پڑگیا، تفرقہ وانتشار، پراگندگی، کنارہ کشی، گوشہ نشینی، ضعف وناتوانی اور اس کے نتیجے میں پسماندگی اور شکست نے ان تمام کامیابیوں اور ترقیوں کی جگہ لے لی ، اب حالت یہ ہے کہ دنیا کے مسلمان بنیادی ضرورتوں کے لئے دوسرے کے دستِ نگر ہیں اور مجبور ہیں کہ علم ودانش کے حصول کے لئے اپنی اولاد کو دیار غیر بھیجیں جبکہ ایک وقت وہ تھا کہ مسلمانوں کی یونیورسٹیاں بلند ترین سمجھی جاتی تھیں اور دنیا کی عظیم ترین یونیورسٹیوں کی حیثیت سے اپنے اور بیگانے تمام طالب علموں کے لئے مرکز تھیں ، معاملہ یہاں تک آپہنچا ہے کہ اب نہ صرف یہ کہ مسلمان علم وصنعت اور ٹکنالوجی برآمد نہیں کرتے بلکہ ابتدائی غذائی مواد بھی باہر کے ممالک سے درآمد کرتے ہیں ۔

آج کی سرزمین جو ایک دن مسلمانوں کی عظمت کا مرکز تھی، یہاں تک کہ دوسو سال تک صلیبی فوجیں جس کے لئے لڑتی رہیں اور انھوں نے کئی ملین مقتول اور زخمی دیئے لیکن اسلام کے غازیوں کے ہاتھ سے اسے نہ سکیں ، آج کے مسلمان بڑے آرام سے چھ دن میں ہاتھ سے دے بیٹھے ہیں جبکہ اب اس کی ایک بالشت بھی دشمن سے واپس لینے کے لئے مہینوں اور سالوں تک لڑائی ہوگی اور اس جنگ کا خبر نہیں کیا انجام ہوگا۔

کیا خدا کا یہ وعدہ نہیں کہ:( وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِینَ )

مومنین کی مدد کرنا ہمارے ذمہ ہے۔ (روم/ ۴۷)

کیااس وعدے کی خلاف ورزی ہورہی ہے؟

اور کیا قرآن نہیں کہتا کہ:( وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِینَ )

عزت وسربلندی الله، اس کے رسول اور مومنین کے لئے ہے۔ (منافقون/ ۸)

کیا یہ آیت منسوخ ہوگئی؟

اسی طرح قرآن کہتا ہے:( وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ اٴَنَّ الْاٴَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِی الصَّالِحُونَ )

گذشتہ کتب میں ہم نے لکھ دیا ہے کہ زمین ہمارے صالح بندوں کا ورثہ ہے۔ (انبیاء/ ۱۰۵)

کیا یہ حکم تبدیل ہوگیا ہے؟

کیا (معاذ الله) خدا اپنے وعدوں کو پورا کرنے سے عاجز ہے یا و اپنے وعدوں کو بھول چکا ہے یا انھیں تبدیل کردیا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے ت پھر وہ عظمت، سربلندی اور افتخار کیوں ختم ہوگیا ہے؟

قرآن مجید مندرجہ بالا مختصر سی آیت میں ان تمام سوالوں ان تمام سوالات کا اور ایسے سینکڑوں سوالات کا ایک ہی جواب دیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے دل کی گہرائیوں میں جھانک دیکھو اور اپنے معاشرے میں نگاہ دوڑاو تو تم دیکھ لوگے کہ تغیرات اور تبدیلیاں خود تمھاری طرف سے شورع ہوتی ہیں ، خدا کا لطف ، کرم اور رحمت تو سب کے لئے وسیع ہے، خود تمہی اہلیت اور صلاحیت کھوبیٹھے ہو اور ایسے غم انگیز دنوں تک آپہنچے ہو۔

یہ آیت صرف گذشتہ زمانے کی بات نہیں کرتی کہ ہم کہیں کہ گذشتہ زمانہ تمام تلخیوں اور شیرنیوں کے ساتھ گزر گیا ہے اور اب پلٹ کر نہیں آئے گا اوراس کے متعلق بات کرنا فضول ہے، بلکہ آج اور آئندہ کے زمانے کی بات کرتی ہے کہ اگر خدا کی طرف پھر لوٹ او اور ایمان کے ستون محکم کرلو، اپنے افکار کو بیدار کرلو، اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کو یاد رکھو، ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لو، اپنے پاوں پر کھڑے ہوجاو اور اپنی آواز بلند کرو، جوش وجذبے سے کام لو، قربانی دو، جہد کرو اور تمام امور میں سعی وکوشش سے کام لو، پھر چشمے بہنے لگیں گے، تیرہ تاریک دن کٹ جائیں گے، افقِ درخشاں اور روشن سرنوشت تمھاری سامنے آشکار ہوجائے گی اور اعلیٰ ترین سطح پر عظمت رفتہ پھر سے لوٹ آئے گی۔

آئیے اپنے آپ کو بدلیں ، علماء اور دانشور بات کریں اور لکھیں ، مجاہد جہاد کریں ، تاجر اور مزدور محنت کریں ، جوان زیادہ سے زیادہ علم حاصل کریں اور پاک وپاکیزہ بن جائیں اور پوری محنت سے علم وآگاہی حاصل کریں تاکہ معاشرے کی رگوں میں تازہ خون دوڑنے لگے اور وہ قدرت وطاقت پیدا کریں کہ وہ سخت دشمن جو آج ایک بالشت زمین منت والتماس سے واپس نہیں کرتا تمام زمنین ہاتھ جوڑکر واپس کردے۔

لیکن یہ ایسے حقائق ہیں جن کا کہنا تو آسان ہے مگر انھیں جاننا اور باور کرنا مشکل ہے اور ان پر عمل کرنا تو بہت زیادہ مشکل ہے، پھر بھی نورِ امید کے سائے میں پیش رفت کرنا چاہیے۔

اس نکتے کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ مسئلہ رہبری ورہنمائی قوموں اور ملتوں کی زندگی میں بہت ہی موثر نقش رکھتا ہے اور اسے ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ بیدار قومیں ہمیشہ لائق رہبروں اور رہنماوں کواپنی رہبری کے لئے قبول کرتی ہیں اور نالائق، باتونی اور ظالم لیڈر قوموں کے آہنی ارادے کے سامنے ہمیشہ سرنگوں ہوجاتے ہیں ۔

اسے بھی ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہے کہ ظاہری عوامل واسباب کے ماوراء غیبی مدد اور الطاف الٰہی کا ایک سلسلہ ہے جو باایمان، پُرچوش اور پُرخلوص بندوں کے انتظار میں ہے اور وہ سب کچھ کئے بغیر شرط اور قید کے نہیں ہے بلکہ اس کے لئے اور اہلیت ضروری ہے۔

دو روایات پیش کرکے ہم یہ بحث تمام کرتے ہیں ۔

پہلی یہ کہ امام صادق علیہ السلام منقول ہے:”ما اٴنعم اللّٰه علیٰ عبد بنعمته فسلبها ایّاه حتّیٰ بذنب ذنباً یستحق بذٰلک السلب

خدا کوئی نعمت جو کسی بندے کو دیتا ہے اس سے واپس نہیں لیتا مگر یہ کہ وہ ایسا گناہ کرے جس کی وجہ سے اس نعمت کے سلب ہونے کا مستحق ہوجائے۔(۱)

دوسری حدیث بھی امام صادق علیہ السلام ہی سے منقول ہے:

خدا نے ایک پیغمبر کو مامور کیا کہ وہ اپنی قوم سے یہ بات کہہ دے کہ جو جماعت اور گروہ میری اطاعت کے سائے میں خوشی اور آسائش ہیں ہو وہ لوگ اس حالت کو جو میری رضا کا باعث ہے جب بھی تغیر کریں گے میں بھی جس حالت کو وہ پسند کرتے ہیں اس کے بجائے انھیں اس حالت میں بدل دوں گا جسے وہ ناپسند کرتے ہیں ، اور جو گروہ معصیت وگناہ کی وجہ سے تکلیف وناراحتی میں گرفتار ہو اس کے بعد اپنی اس حالت کی طرف لے جاوں گا جسے وہ دوست رکھتے ہیں اور ان کی حالت بدل دوں گا۔(۲)

۲ ۔ تقدیر، تاریخ یا کوئی اور جبر نہیں ہے:

ایک اور بات جو مندرجہ بالا آیات سے وضاحت کے ساتھ معلوم ہوتی ہے یہ ہے کہ انسان کی پہلی معین شدہ کوئی خاص تقدیر نہیں اور انسان جبرِ تاریخ، جبرِ زمان اور جبرِ ماحول کے زیر اثر ہے بلکہ تاریخ ساز اور انسان کے لئے حیات ساز عامل تغیرات ہیں جو اس کی روش ، اخلاق اور فکر روح میں اس کے اپنے ارادے سے پیدا ہوجاتے ہیں ، اس بناپر پر جو لوگ جبری قضاء وقدر کا اعتقاد رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمام واقعات پروردگار کے جبری ارادے اور مشیت سے ظہور پذیر ہوتے ہیں ، ایسے لوگ مدرجہ بالا آیت سے مغلوب ہوجاتے ہیں ، اسی طرح مادی جبر کے قائل کہ جو انسان کو ناقابلِ تغیر غرائز اور اصل وراثت کے ہاتھوں کھلونا سمجھتے ہیں ، یا جبر ماحول کے قائل کہ جو انسان کو اقتصادی اور تولیدی حالات کا پابند سمجھتے ہیں مکتبِ اسلام کی نظر میں ان کا عقیدہ بے قیمت اور غلط ہے، انسان آزاد ہے اور اپنی سرنوشت اپنے ہاتھ سے لکھتا ہے، آیات مذکورہ بالا کی طرف توجہ کرتے ہوئے انسان اپنی سرنوشت اور تاریخ کی زمام اپنے ہاتھ میں رکھتا اور اپنے لئے افتخار، اعزاز اور کامیابی پیدا کرتا ہے اور وہ خود ہی اپنے آپ کو شکست اور ذلت میں گرفتار کرتا ہے، اس کی باگ ڈور اس کے اپنے ہاتھ میں ہے، جب تک خود انسان کی کیفیت میں تغیر پیدا نہ ہوا اور وہ خودسازی سے کام نہ لے اس کی سرنوشت میں تغیّر پیدا نہیں ہوسکتا۔

____________________

۱۔ تفسیر نور الثقلین، ج۲، ص۱۶۳ بحوالہ اصولِ کافی-

۲۔ تفسیر نور الثقلین، ج۲، ص۱۶۳ بحوالہ اصولِ کافی-


آیات ۵۵،۵۶،۵۷،۵۸،۵۹

۵۵-( إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللهِ الَّذِینَ کَفَرُوا فَهُمْ لَایُؤْمِنُونَ )

۵۶-( اَلَّذِینَ عَاهَدْتَ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِی کُلِّ مَرَّةٍ وَهُمْ لَایَتَّقُونَ )

۵۷-( فَإِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّکَّرُونَ )

۵۸-( وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْبِذْ إِلَیْهِمْ عَلیٰ سَوَاءٍ إِنَّ اللهَ لَایُحِبُّ الْخَائِنِینَ )

۵۹-( وَلَایَحْسَبَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا سَبَقُوا إِنَّهُمْ لَایُعْجِزُونَ )

ترجمہ

۵۵ ۔ خدا کے نزدیک زمین پر چلنے والے بدترین جانور وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کی راہ اختیار کی اور ایمان نہیں لاتے۔

۵۶ ۔ وہ لوگ کہ جن سے تم نے پیمان لیا پھر وہ اپنے عہد کو توڑتے ہیں (اور پیمان شکنی اور خیانت سے) پرہیز نہیں کرتے۔

۵۷ ۔ اگر میدانِ جنگ میں پالو تو ان پر اس طرح حملہ کرو کہ گروہ جوان کے پیچھے ہیں منتشر ہوجائیں اور بکھر جائیں شاید وہ متذکر ہوں (اور عبرت حاصل کریں )۔

۵۸ ۔ اور جس وقت (نشانیاں ظاہر ہونے پر) تجھے کسی گروہ کی خیانت کا خوف ہو (کہ وہ اپنے عہد کو توڑ کر اچانک حملہ کردے گا) تو انھیں عادلانہ طور پر بتلادو (کہ ان کا پیمان لغو ہوگیا ہے) کیونکہ خدا خیانت کرنے کو دوست دوست نہیں رکھتا۔

۵۹ ۔ اور وہ کہ جنھوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے یہ تصور نہ کریں کہ وہ ان اعمال کے ہوتے ہوئے کامیاب ہوجائیں گے) اور وہ ہماری قلم رو کی سزا سے نکل جائیں گے) وہ ہمیں کبھی عاجز نہیں کرسکتے۔

شدّتِ عمل، پیمان شکنوں کے مقابلے میں

یہ آیات دشمنانِ اسلام کے ایک گروہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں جنھوں نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی پوری پُر حوادث تاریخ میں مسلمانوں پر سخت ضربیں لگائیں اور بالآخر اس دردناک انجام کا سامنا کیا۔

یہ گروہ، وہی مدینہ کے یہودی تھے جنھوں نے بارہا رسول الله کے ساتھ عہدوپیمان باندھا اور پھر بزدلانہ طور پر اسے توڑ یا۔

یا آیات ایک مستحکم طریقہ بیان کررہی ہیں جو پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو اس پیمان شکن گروہ کے بارے میں اختیار کرنا چاہیے، ایسا طریقہ کہ جو دوسروں کے لئے باعثِ عبرت ہو اور اس گروہ کے خطرے کو بھی دور کرے۔

پہلے قرآن اس جہاں کے زندہ موجودات میں سے بے وقعت ترین اور گھٹیا ترین وجود کا تعارف کرواتے ہوئے کہتا ہے:زمین پر چلنے والے بدترین لوگ خدا کے نزدیک وہ ہیں جنھوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے اور اسی طرح اس پر چلتے رہتے ہیں اور کسی طرح ایمان نہیں لاتے( إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللهِ الَّذِینَ کَفَرُوا فَهُمْ لَایُؤْمِنُونَ ) ۔

”اَلَّذِینَ کَفَرُوا“ کی تعبیر شاید اس طرف اشارہ ہے کہ مدینہ کے بہت سے یہودی پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے ظہور سے پہلے اپنی کتب کی روشنی میں آپ سے لگاو اور ایمان کا اظہار کرتے تھے بلکہ آپ کے مبلغ اور لوگوں کو آپ کے ظہور کے لئے تیار کرتے تھے لیکن آپ کے ظہور کے بعد چونکہ انھیں اپنے مادی مفادات خطرے میں نظر آئے تو کفر کی طرف جھک گئے اور اس راہ میں انھوں نے ایسی شدّت کا مظاہرہ کیا کہ ان کے ایمان کی کوئی امید باقی نہ رہی جیسا کہ قرآن کہتا ہے: ”( فَهُمْ لَایُؤْمِنُونَ ) “۔

اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: یہ وہی لوگ تھے جن سے تم نے عہد وپیمان باندھا تاکہ کم از کم غیرجانبداری ہی کا لحاظ رکھیں اور مسلمانوں کو آزار وتکلیف پہنچانے کے درپے نہ ہوں اور دشمنانِ اسلام کی مدد نہ کریں لیکن انھوں نے ہر مرتبہ اپنا پیمان توڑدیا( اَلَّذِینَ عَاهَدْتَ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِی کُلِّ مَرَّةٍ ) ۔(۱)

نہ انھیں خدا سے کوئی شرم وحیا آتی تھی اور نہ وہ اس کے فرمان کی مخالفت سے ڈرتے تھے اور نہ ہی وہ انسانی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے کوئی پرواہ کرتے تھے( وَهُمْ لَایَتَّقُونَ ) ۔

”ینقضون“ ”یتقون“فعل مضارع کا صیغہ ہیں اور استمرار پر دلالت کرتے ہیں ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انھوں نے کئی مرتبہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے کئے ہوئے عہد وپیمان توڑے تھے۔

اگلی آیت میں اس پیمان شکن، بے ایمان اور ہٹ دھرم گروہ سے طرزِ سلوک کے بارے میں قرآن کہتا ہے: اگر انھیں میدانِ جنگ میں پاو اور وہ مسلح ہوکر تمھارے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوں تو ان کی ایسے سرکوبی کرو کہ جو گروہ ان کے پیچھے ہوں وہ عبرت حاصل کریں اور منتشر ہوجائیں اور اپنے آپ کو پیش نہ کریں( فَإِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَنْ خَلْفَهُمْ ) ۔”تَثْقَفَنَّهُمْ “ ”ثقف“ (بروزن ”سقف“ کے مادہ سے ہے اس کا مطلب ہے ”کسی چیز کو دقّت سے اور تیزی سے سمجھنا“۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان کی تنقید اور اعتراضات سے تیزی سے اور دقتِ نظر سے آگاہی حاصل کرو اور اس سے پہلے کہ تم پر وہ بے خبری میں کوئی جنگ ٹھونس دیں بجلی کی طرح ان پر جاپڑو۔

”شرد“ ”تشرید“ کے مادہ سے ”حالتِ اضطراب میں منتشر کرنے“ کے معنی میں ہے۔ یعنی ان پر اس طرح سے حملہ کرو کہ دشمنوں اور پیمان شکنوں کے دیگر گروہ منتشر ہوجائیں اور حملہ کرنے کی نہ سوچیں ، یہ حکم اس بناپر ہے کہ دوشرے دشمن بلکہ آئندہ کے دشمن عبرت حاصل کریں اور ججنگ کی طرف بڑھنے سے اجتناب کریں اور اسی طرح جو لوگ مسلمان سے عہد وپیمان رکھتے ہیں یا آئندہ کوئی پیمان باندھیں تو عہد وپیمان توڑنے سے اجتناب کریں اور شاید سب کے سب سمجھ سکیں اور متذکر ہوں( لَعَلَّهُمْ یَذَّکَّرُونَ ) ۔

”اور اگر وہ تیرے سامنے میدان میں نہ آئیں لیکن ان سے ایسے آثار وقرائن ظاہر ہوں کہ وہ پیمان شکنی کے درپے ہیں اور اس بات کا خوف ہو کہ وہ خیانت کریں گے اور بغیر اطلاع کے ایک طرفہ طور پر پیمان توڑدیں گے تو تم پیش قدمی کرو اور انھیں بتاو کہ ان کا پیمان لغو ہوچکا ہے۔( وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْبِذْ إِلَیْهِمْ عَلیٰ سَوَاءٍ )

ایسا نہ ہو کہ ان کا پیمان لغو ہونے کی اطلاع دیئے بغیر ان پر حملہ کردو کیونکہ خدا خیانت کرنے والوں اور ان لوگوں کو جو اپنے پیمان میں خیانت کرتے کی راہ اختیار کریں دوست نہیں رکھتا( إِنَّ اللهَ لَایُحِبُّ الْخَائِنِینَ ) ۔

اگرچہ مندرجہ بالا آیت میں رسول الله کو اجازت دی گئی ہے کہ دشمن کی طرف سے خیانت اور ایمان شکنی کے خوف کے موقع پر ان کے پیمان کو لغو قرار دیں لیکن واضح ہےکہ یہ خوف بغیر دلیل کے نہیں ہوسکتا لہٰذا اس سلسلے میں یہ بات حتمی ہے کہ جب وہ کچھ ایسے اعمال کے مرتکب ہوں جو نشاندہی کریں کے وہ پیمان شکنی،دشمن سے مل کر سازش کرنے اور غفلت کی حالت میں حملہ کرنے کی فکر میں ہیں تو پھر اتے قرائن اور علاات مہیّا ہوجانے پر اس بات کی اجازت ہے کہ پیغمبر ان کے پیمان کے لغو ہوجانے کااعلان کریں ۔

”فَانْبِذْ إِلَیْھِمْ“ ”اِنْبَاذْ “ کے مادہ سے پھینکنے یا اعلان کرنے اور بتانے کے معنی میں ہے یعنی ان کا پیمان ان کی طرف پھینک دو اور لغو قرار دے دو اور اس کے لغو ہونے کی انھیں اطلاع دے دو۔

”علیٰ سواء “ کی تعبیر یا تو اس معنی میں ہے کہ جس طرح انھوں نے اپنے پیمان کو لغوکردیا ہے تم بھی اپنی طرف سے لغو قرار دے دو، یہ ایک عادلانہ اور مساویانہ حکم ہے یا یہ اس معنی میں ہے کہ ایک واضح غیر مخفی اور ہر قسم کے مکر وفریب سے پاک طریقے سے اعلان کردو۔

بہرحال زیرِ نظر آیت جہاں مسلمانوں کو تنبیہ کررہی ہے کہ وہ کوشش کریں کہ پیمان شکن ان پر حملہ آور نہ ہوجائیں وہاں انھیں معاہدوں کی حفاظت کرنے یا عہدو پیمان لغو کرنے کے سلسلے میں انسانی اصولوں کو ملحوظ رکھنے کے بارے میں بھی کہہ رہی ہے۔

زیرِ بحث آخری آیت میں روئے سخن پیمان شکن گروہ کی طرف کرتے ہوئے انھیں تنبیہ کی گئی ہے کہ ”کہیں ایسا نہ ہو کہ کفر اختیار کرنے والے لوگ یہ تصور کریں کہ وہ اپنے خیانت آمیز اعمال کے ذریعے کامیاب ہوگئے ہیں اور ہماری قدرت اور سزا وعذاب کے قلمرو سے نکل گئے ہیں “( وَلَایَحْسَبَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا سَبَقُوا ) ۔ وہ ہمیں ہرگز عاجز نہیں کرسکتے اور ہمارے اجاطہ قدرت سے نہیں نکل سکتے( إِنَّهُمْ لَایُعْجِزُونَ ) ۔

____________________

۱۔ ”من“ ”عاہدت منھم“ میں یا تبعیض کے معنی میں یعنی جزیرہ نمائے عرب کے یہودیوں کے ایک گروہ یا مدینہ کے یہودیوں کے سرداروں سے تم نے پیمان باندھا تھا یا اصلاح کے مطابق ”صلہ“ کے لئے ہے اس کا معنی ”عاہدتھم“ (تونے ان سے عہد یا) ہوگا یہ بھی احتمال ہے کہ یہ جملہ ”اخذ العهد منهم “ (تو نے ان سے عہد لیا) کے معنی ہو۔


آیات ۶۰،۶۱،۶۲،۶۳،۶۴

۶۰-( وَاٴَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللهِ وَعَدُوَّکُمْ وَآخَرِینَ مِنْ دُونِهِمْ لَاتَعْلَمُونَهُمْ اللهُ یَعْلَمُهُمْ وَمَا تُنفِقُوا مِنْ شَیْءٍ فِی سَبِیلِ اللهِ یُوَفَّ إِلَیْکُمْ وَاٴَنْتُمْ لَاتُظْلَمُونَ )

۶۱-( وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ )

۶۲-( وَإِنْ یُرِیدُوا اٴَنْ یَخْدَعُوکَ فَإِنَّ حَسْبَکَ اللهُ هُوَ الَّذِی اٴَیَّدَکَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِینَ )

۶۳-( وَاٴَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ اٴَنفَقْتَ مَا فِی الْاٴَرْضِ جَمِیعًا مَا اٴَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَکِنَّ اللهَ اٴَلَّفَ بَیْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِیزٌ حَکِیمٌ )

۶۴-( یَااٴَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللهُ وَمَنْ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ )

ترجمہ

۶۰ ۔ ان دشمنوں کے مقابلے کے لئے جتنی ”قوت“ ممکن ہوسکے مہیّا کرو اور تیّار رکھو اسی طرح (میدان جنگ کے لئے) طاقتور اور تجربہ کار گھوڑے (بھی تیار رکھو) تاکہ اس سے خدا کے اور اپنے دشمن کو ڈرا سکو اور (اسی طرح) ان کے علاوہ دوسرے گروہ کو کہ جنھیں تم نہیں پہچانتے اور خدا انھیں پہچانتا ہے اور جو کچھ تم راہ خدا میں (اسلامی دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے) خرچ کرو گے تمھیں لوٹا دیا جائے گا اور تم پر ظلم وستم نہیں ہوگا۔

۶۱ ۔ اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی بابِ صلح کی طرف داخل ہو اور خدا پر تکیہ کرو کہ وہ سننے اور جاننے والا ہے۔

۶۲ ۔ اور اگر وہ تمھیں دھوکا دینا چاہیں تو خدا تمھارے لئے کافی ہے اور وہی ہے کہ جس نے تجھے اپنی اور مومنین کی مدد سے تقویت پہنچائی۔

۶۳ ۔ اور ان کے دلوں میں باہم الفت پیدا کردی اور اگر وہ دلوں میں الفت پیدا کرنے کے لئے روئے زمین کی تمام چیزوں کو صرف کردیتے تو ایسا ہرگز نہ کرسکتے لیکن خدا نے ان کے درمیان الفت پیدا کردی وہ توانا اور رحیم ہے۔

۶۴ ۔ اے نبی! خدا اور وہ مومنین جو تیری پیروی کرتے ہیں تیری حمایت کے لئے کافی ہیں ۔

جنگی طاقت میں اضافہ اور اس کا مقصد

اسلامی جہاد کے سلسلے میں گذشتہ احکام کی مناسبت سے زیرِ نظر پہلی آیت میں مسلمانوں کی توجہ زندگی کے لئے ایک بنیادی قانون کی طرف دلائی گئی ہے جو ہر زمانے میں اور ہر وقت نظر میں رہنا چاہیے اور وہ ہے دشمن کے مقابلے میں کافی دفاعی تیاری کا لزوم۔

پہلے قرآن کہتا ہے: اور دشمن کے مقابلے میں جس قدر ممکنہوسکے قوت تیار رکھو( وَاٴَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ ) ۔

یعنی اس انتظار میں نہ رہو کہ جب دشمن تم پر حملہ کرے گا اس وقت اس کے مقابلے میں تیاری کروگے بلکہ پہلی ہی دشمن کے احتمالی حملے کے مقابلے میں کافی تیاری ہونا چاہیے۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اور اسی طرح طاقتور اور آزمودہ کار گھوڑے میدانِ جہاد کے لئے فراہم رکھو( وَمِنْ رِبَاطِ الْخَیْلِ ) ۔

”رباط“ کا معنی ہے ”باندھنا اور پیوند لگانا“ زیادہ تر یہ لفظ کسی جگہ سے کسی جانور کے حفاظت کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، بعدازاں اسی مناسبت سے حفاظت اور نگرانی کرنے کے عمومی معنی استعمال ہونے لگا۔ ”مرابطہ“ سرحدوں کی حفاظت کرنے کو کہتے ہیں ، اسی طرح ہر چیز کی حفاظت کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور جانوروں کے باندھنے اور حفاظت کرنے کی جگہ ”رباط“ کہتے ہیں ، اسی طرح سرائے کو عرب ”رباط“ کہتے ہیں ۔

چند قابلِ توجہ نکات

۱ ۔ ”قوة“ کا مفہوم:

ایک مختصر سے جملے کے ذریعے زیرِ نظر آیت میں اسلامی جہاد، مسلمانوں کی بقاء اور ان کی عظمت وافتخار کی حفاظت کے لئے ایک بنیادی اصول بنایا گیا ہے، آیت کی تعبیر اس قدر وسیع ہے کہ ہر زمان ومکان پر پوری طرح سے منطبق ہوتی ہے۔

”قوة“ کس قدر چھوتا اور پرمعنی لفظ ہے، یہ نہ صرف ہر زمانے کے جنگی وسائل اور جدید اسلحہ پر محیط ہے بلکہ ان تمام توانائیوں اور طاقتوں کا مفہوم بھی لئے ہوئے جو کسی شکل میں دشمن پر کامیابی کے لئے موثر ہیں چاہے وہ مادی قوتیں ہوں یا معنوی۔

جو لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ دشمن پر کامیابی اور اپنی بقا کی حفاظت جنگی ہتھیاروں کی تعداد سے وابستہ ہے وہ انتہائی غلطی پر ہیں کیونکہ ہم نے اپنے زمانے کے انہی میدانوں میں ایس قوموں کو دیکھا ہے جو تھوڑی سی تعداد اور کم اسلحہ سے زیادہ طاقتور اور زیادہ اسلحہ کی مالک قوموں کے مقابلے میں کامیاب ہوئی ہیں ، مثلاً الجزائر کی مسلمان قوم فرانس کی طاقتور حکومت کے مقابلے میں ، لہٰذا ہر زمانے کے نہایت بہترین ہتھیاروں سے ایک قطعی اسلامی فریضے کے طور پر فائدہ اٹھانے کے علاوہ مجاہدین کی ہمت مردانہ اور قوتِ ایمان کو بھی بروئے کار لایا جانا چاہیے جو کہ اہم ترین قوت وطاقت ہے۔

اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی قوتیں بھی ”قوة“ کے مفہوم میں داخل ہیں اور دشمن پر کامیابی کے حصول کے لئے بہت موثر ہیں ۔ ان میں بھی غفلت نہیں برتنا چاہیے۔

یہ امر جاذبِ نظر ہے کہ اسلامی روایات میں لفظ ”قوة“ کی کئی تفاسیر کی گئی ہیں کہ جو اس لفظ کے مفہوم کی وسعت کی ترجمان ہیں ۔ مثلاً بعض روایات میں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ !الہ وسلّم نے فرمایا:

قوت سے مراد تیر ہے۔(۱)

دوسری روایت میں جو تفسیر علی بن ابراہیم آئی ہے اس میں ہے کہ:

”قوة“ سے مراد ہر قسم کااسلحہ ہے۔

ایک اور روایت جو تفسیر عیاشی میں آئی ہے میں ہے:

”قوة“ سے مراد تلوار اور ڈھال ہے۔

ایک اور روایت جو ”من لایحضرہ “ میں آئی ہے میں ہے:”منه الخضاب السواد

آیت میں ”قوة“ سے ایک مصداق سفید بالوں کو سیاہ خضاب کرنا بھی ہے۔

یعنی اسلام نے سن رسیدہ مجاہد کے بالوں کے خضاب تک کو نظر انداز نہیں کیا تاکہ دشمن اس سے مرعوب ہو، یہ بات نشاندہی کرتی ہے کہ زیرِ نظر آیت میں ”قوة“ کا مفہوم کس قدر وسیع ہے۔

اس بناپر وہ لوگ جنھوں نے صرف کچھ روایات دیکھی ہیں اور انھوں نے لفظ ”قوة“ کو صرف ایک مصداق میں محدود سمجھا ہے وہ عجیب اشتباہ میں گرفتار ہوئے ہیں ۔

لیکن افسوس ہے کہ مسلمان ایسے صریح اور واضح فرمان کے باوجود گویا ہر چیز ہاتھ سے دے بیٹھے ہیں ، انھیں دشمنوں کے مقابلے میں نہ تو معنوی اور روحانی قوتیں فراہم کرنے سے کوئی سروکار ہے اور نہ ہی اقتصادی ، سیاسی، ثقافتی اور فوجی قوتیں مہیا کرنے سے دلچشپی، تعجب کی بات یہ ہے کہ اس عظیم غفلت اور ایسے صریح حکم کو پس پشت ڈالنے کے باوجود ہم اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں اور اپنی پسماندگی کا گناہ اسلام کی گردن پر ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اسلام میں پیش رفت اور کامیابی کا دین ہے تو پھر مسلمان کیوں پس ماندہ اور غیر ترقی یافتہ ہیں ۔

ہمارا نظریہ ہے کہ اس عظیم اسلامی حکم ”( وَاٴَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ ) “ کی ہر جگہ ایک عمومی اور عوامی شعار کی حیثیت سے تبلیغ ہو اور چھوٹے بڑے، عالم وجاہل، مولف ومقرر، فوجی اور افسر، کسان اور تاجر یعنی تمام مسلمان اپنی زندگی میں اس پر عمل کریں تو ان کی پسماندگی کی تلافی کے لئے کافی ہے۔

پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو خبر دی کہ یمن میں نیا مشینی ہتھیار تیار ہوا ہے، آپ نے فوراً کسی کو یمن کی طرف بھیجا تاکہ وہ اسے لشکرِ اسلام کے لئے مہیّا کرے۔

جنگ اُحد کے واقعات میں ہے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے جب بت پرستوں کا یہ نعرہ سنا کہ:”اٴعل هبل، اٴعل هبل

یعنی ہبل کی جے، ہبل کی جے۔

تو اس کے مقابلے کے میں مسلمانوں کو اس کی سرکوی کرنے والا اور زیادہ موثر نعرہ سکھایا اور ان سے یہ نعرہ بلند کرنے کو کہا:’‘اللّٰه اٴعلیٰ واٴجل

خدا ہر چیز سے برتر اور بالاتر ہے۔

اور جب بت پرستوں نے یہ نعرہ لگایا کہ:”ان لنا العزّیٰ ولا عزی لکم

ہمارے لئے عزّیٰ بت ہے تمھارے لئے عزّیٰ نہیں ہے۔

تو اس کے مقابلے میں آپ نے مسلمانوں کو اس نعرے کی تعلیم دی:”اللّٰه مولانا ولا مولاکم

خدا ہمارا ولی وسہارا ہے اور تمھارا کوئی سہارا نہیں ۔

یہ چیز نشاندہی کرتی ہے کہ رسول الله اور مسلمانوں دشمن کے مقابلے میں ایک زور دار نعرے کی تاثیر تک سے غافل نہ تھے اور اپنے لئے بہترین نعرے کا انتخاب کرتے تھے۔

اسلام کا ایک اہم فقہی حکم تیراندازی اور گھڑ دوڑ کے مقابلے(۲) کے بارے میں ہے، یہاں تک کہ اس سلسلے میں مالی فتح وشکست تجویز کی گئی ہے اور اس مقابلے کی دعوت دی گئی ہے، دشمن کے مقابلے میں تیار رہنے سے متعلق اسلام کی گہری نظریہ کا یہ ایک نمونہ ہے۔

۲ ۔ ”اسلام“ کے دائمی ہونے کی ایک دلیل:

ایک اور اہم نکتہ مندرجہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے جو کہ دین اسلام کے عالمی ، دائمی اور جاودانی ہونے پر ایک دلیل ہے، اس دین کے مفاہیم، معانی اور مضامین اس طرح پھیلے ہوئے اور وسیع ہیں کہ اتنا طویل زمانہ گزرنے کے باوجود ان میں کہنگی اور فرسودگی کا نشان نظر نہیں آتا۔ ”( وَاٴَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ ) “ کا جملہ ہزار سال پہلے بھی ایک زندہ مفہوم رکھتا تھا اور آج بھی اسی طرح ہے اور دس سال ہزار سال آئندہ بھی اسی طرح زندہ باقی رہے گا کیونکہ جو ہتھیار اور طاقت آئندہ پیدا ہوگی وہ ”قوة“ کے جامع لفظ میں پوشیدہ ہے، ”ما استطعتم“ عام ہے اور ”قوة“ جوکہ نکرہ کی شکل میں آیا ہےاس کی عمومیت کو تقویت دیتا ہے اور ہر قسم کی قوت وطاقت پر محیط ہے۔

۳ ۔ ”قوة“ کے بعد گھوڑوں کے ذکر کا مقصد:

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ لفظ ”قوة“ کے ذکر کے بعد کہ جو اس قسم کا وسیع مفہوم رکھتا ہے تجربہ کار جنگی گھوڑوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

اس سوال کا جواب ایک جملے سے واضح ہوجاتا ہے اور وہ یہ کہ مندرجہ بالا آیت نے جہاں تما م زمانوں کے لئے ایک وسیع حکم یان کیا ہے وہاں ایک خاص حکم رسول الله کے زمانہ اور نزولِ قرآن کے وقت کا بھی بیان کردیا ہے در حقیقت ایک کُلی اور عمومی مفہوم کوایک واضح عملی مثال سے بیان کیا گیا ہے کیونکہ گھوڑا آج کے میدانِ جنگ میں ٹینکوں ، بکتر بند گاڑیوں ، ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے ہوتے ہوئے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا لیکن اُس زمانے میں بہادر وشجاع جنگو سپاہیوں کے لئے یہ ایک چست اور تیز رفتار ذریعہ شمار ہوتا تھا۔

۴-جنگی طاقت میں اضافے کا اصلی مقصد

اس حکم کے بعد قرآن اس موضوع کے منطقی اور انسانی ہدف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مقصد یہ نہیں ہے کہ اصل دنیا کو یا اپنی قوم کو طرح طرح کے تباہ کن اور ویران گر ہتھیاروں سے تباہ وبرباد کردو اور آبادیوں اور زمینوں کو ویران کردو، مقصد یہ نہیں کہ دوسروں کی زمینوں اور مال واسباب کو لوٹو اور یہ بھی مقصد نہیں کہ دنیا میں غلامی اور استعمار کے اصول رائج کردو بلکہ مقصد یہ ہے کہ ”ان وسائل کے ذریعے خدا کے اور اپنے دشمن کو ڈراو“ (تُرْھِبُونَ بِہِ عَدُوَّ اللهِ وَعَدُوَّکُمْ)۔ کیونکہ زیادہ تر دشمن ایسے ہیں کہ جن کے کان منطقی حرف اور انسانی اصول نہیں سنتے وہ قوت وطاقت کی زبان کے سوا دوسری کوئی زبان نہیں سمجھتے۔

اگر مسلمان کمزور ہوں تو تمام تر بوجھ انہی پر ڈالے جائیں گے لیکن اور وہ کافی مقدار میں قوت وطاقت حاصل کرلیں تو پھر حق وعدالت اور استقلال وآزادی کے دشمن پریشان ہوجائیں گے اور اپنی جگہ پر بیٹھ جائیں گے۔

اس وقت جب کہ میں اس آیت کی تفسیر لکھ رہا ہوں فلسطین اور دیگر اسلامی ممالک کے اہم حصّے اسرائیل فوجوں کے زیرِ تسلط آچکے ہیں ۔

حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں جو بزدلانہ حملہ ہوا ہے اس سے ہزارہا خاندان دربدر ہوگئے ہیں ، سینکڑوں قتل ہوئے، آبادیاں وحشتناک ویرانوں میں تبدیل ہوگئی ہیں اس سے اس غم انگیز داستان میں نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔

دنیا کے عام لوگوں کے افکار نے اس پور عمل کی مذت کی ہے یہاں تک کہ اسرائیل کے دوست نے بھی دوسروں ہی کی آواز میں آواز ملائی ہے، اقوام متحدہ نے اپنے فیصلوں کے ذریعے اسرائیل کو یہ سب زمینیں خالی کرنے کا حکم دیا ہے لیکن چند ملین پر مشتمل اس قوم کے کان ان میں سے کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہیں ، ایسا کیوں ہے؟ اس لئے کہ اُن کے پاس طاقت وقوت ہے، اسلحہ ہے، بڑے پیمانے پر جنگی تیاری ہے اور طاقتور حامی ہیں ، اس جارحیت کے لئے انھوں نے سالہا سال سے تیاری کی ہوئی ہے، وہ واحد منطق جس کے ذریعے انھیں جواب دیا جاسکتا ہے، یہی ہے۔

( وَاٴَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ -----تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللهِ وَعَدُوَّکُمْ )

یوں لگتا ہے جیسے یہ آیت ہمارے زمانے میں اور ہماری آج کی کیفیت کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور کہتی ہے کہ اس طرح طقتور بنو کہ دشمن وحشت اور حیرت میں پڑجائے اور غصب شدہ زمینوں کو واپس کردے اور اپنی جگہ پر جاکر بیٹھ جائے۔

یہ جاذبِ توجہ ہے کہ لفظ ”( عَدُوَّ اللهِ ) “ کو ”( عَدُوَّ کُم ) “سے ملاکر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے جہاد اسلامی دفاع میں شخصی اغراض کو کوئی دخل نیہں بلکہ مقصد اسلام کے مکتبِ انسانی کی حفاظت ہے، وہ کہ جن کی تم سے دشمنی خدا سے دشمنی کی شکل میں ہے یعنی جوو حق وعدالت، ایمان وتوحید انسانی پروگراموں سے دشمنی رکھتے ہوں وہ تمھارے حملوں اور تمھاری دفاعی تیاریوں کا ہدف ہوں ۔

درحقیقت یہ تعبیر ”( فی سبیل الله ) “یا ”( جهاد فی سبیل الله ) “ کی تعبیر سے مشابہ ہے جو نشاندہی کرتی ہے کہ اسلامی جہاد اور دفاع نہ تو گذشتہ سلاطین کی کشور کشائی کی مانند ہے اور نہ آج کی سامراجی اور استعماری طاقتوں کی توسیع طلبی کی طرح بلکہ سب کچھ خدا کے لئے، خدا کی راہ میں اور حق وعدالت کے احیاء کے راستے میں ہے۔

پھر مزید فرمایا گیا ہے: ان دشمنوں کے علاوہ جنھیں تم پہچانتے ہو تمھارے اور دشمن بھی ہیں جنھیں تم نہیں پہچانتے اور وہ تمھاری زیادہ جنگی تیاری سے ڈرجائیں گے اور اپنی جگہ پر بیٹھ جائیں گے( وَآخَرِینَ مِنْ دُونِهِمْ لَاتَعْلَمُونَهُمْ ) ۔

____________________

۱۔ تفسیر نور الثقلین، ج۲، ص۱۶۴،۱۶۵-

۲۔ ہمارے ہاں جو ریس وغیرہ مروّج ہے اس کا اسلامی سبق ورمایہ سے دُور کا بھی تعلق نہیں کیونکہ وہاں تو اصل مقابلہ دشمن کے مقابلے میں جنگی مشق کے طور پر ہوتا ہے وہاں پہلے سے دونوں طرف سے یا ایک طرف سے انعام مقرر کیا جاتا ہے کہ جو جیت جائے گا صرف اتنا انعام ملے گا جبکہ مغرب کی شیطانی تہذیب سے آئی ہوئی اس ریس میں تولوگ آپس میں جواء رکھتے ہیں ۔ (مترجم)


دو قابلِ توجہ نکات

۱ ۔ دوسرے دشمن کونسے تھے؟

مفسرین نے دوسرے گروہ سے متعلق کئی احتمالات ذکر کئے ہیں ، بعض نے اسے مدینہ کے یہودیوں کے ایک گروہ کی طرف اشارہ سمجھا ہے کہ جو دشمنی کو چھپائے رکھتے تھے، بعض دوسرے مفسّرین نے مسلمانوں کے آئندہ دشمنوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے جیسا کہ رومی اور ساسانی سلطنتیں تھیں کہ جن سے جنگ کے متعلق ان دنوں مسلمانوں کو احتمال نہ تھا لیکن جو کچھ زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے یہ ہے کہ اس سے مراد منافق ہیں کیونکہ وہ مسلمانوں کی صفوں میں ناشناختہ طور پر موجود تھے اور سپاہِ اسلام کی مکمل تیاری کی صورت میں وہ بھی پریشان ہوجاتے تھے اور اپنے ہاتھ پاوں سمیٹنے لگتے تھے، اس امر کی شاہد سورہ توبہ کی آیت ۱۰۱ ہے جس میں ہے:( وَمِنْ اٴَهْلِ الْمَدِینَةِ مَرَدُوا عَلَی النِّفَاقِ لَاتَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ )

بعض اہلِ مدینہ نفاق اور دوزخی پالیسی میں جسور اور سرکش ہیں کہ جنھیں تم نہیں جانتے لیکن ہم انھیں جانتے ہیں ۔

یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے اسلام کے تمام چھپے ہوئے دشمن مراد ہوں چاہے وہ منافقین ہوں یا غیر منافقین۔

۲ ۔ دورِ حاضر کے لئے ایک حکم:

آیت آج کے مسلمانوں کے لئے بھی اپنے اندر ایک حکم لئے ہوئے ہے اور وہ یہ کہ نہ صرف اپنے ظاہری دشمنوں کو بھی نظر میں رکھو اور جس قدر طاقت وقوت لازمی ہے زیادہ سے زیادہ فراہم کرلو۔

اگر مسلمان فی الحقیقت اس نکتہ کو نظر میں رکھتے تو کبھی طاقتور دشمنوں کے غافلانہ حملوں کا شکار نہ ہوتے۔

آیت کے آخر میں ایک اور اہم موضوع کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ قوت وطاقت، سازوسامان، اسلحہ اور مختلف قسم کے ضروری دفاعی وسائل کے لئے سرمائے کی ضرورت ہے، لہٰذا مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ تمام افراد کے تعاون وہمکاری سے یہ مالی سرمایہ اکھٹا کریں ، فرمایا گیا ہے: جان لو کہ جو کچھ تم راہ خدا میں خرچ کرتے ہو تمھیں پلٹادیا جائے گا( وَمَا تُنفِقُوا مِنْ شَیْءٍ فِی سَبِیلِ اللهِ یُوَفَّ إِلَیْکُمْ ) ۔اور وہ سارے کا سارا تمھیں پہنچے گا اور تم پر کسی قسم کا ظلم نہیں گا( وَاٴَنْتُمْ لَاتُظْلَمُونَ ) ۔

یہ جزا تمھیں اس جہان کی زندگی میں بھی اسلام کی کامیابی اور شوکت وعظمت کی صورت میں ملے گی کیونکہ ایک کمزور قوم کا مالی سرمایہ بھی خطرے میں پڑجائے گا اور وہ اپنے امن وامان، راحت وآرام اور استقلال واستحکام کو بھی ہاتھ سے دے بیٹھے گی، اس بناپر وہ سرمایہ جو اس راہ میں صرف ہوگا وہ ایک راستے سے بالاتر سطح خرچ کرنے والوں کی طرف پلٹ آئے گا، نیز دوسرے جہاں میں رحمتِ پروردگار کے جوار میں عظیم ترین ثواب وجزا تمھارے انتظار میں ہوگی لہٰذا اس صورت میں نہ صرف یہ کہ تم پر ظلم وستم نہیں ہوگا بلکہ تمھیں بہت زیادہ فائدہ اور نفع بھی حاصل ہوگا۔

یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ مندرجہ بالا جملے میں لفظ ”شیء“ استعمال ہوا ہے جو ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے یعنی ہر قسم کی چیز چاہے وہ جان ہو یا مال، قوتِ فکر ہو یا قدرِ منطق یا کوئی بھی دوسرا سرمایہ مسلمانوں کی دفاعی اور فوجی بنیاد کی تقویت کے لئے دشمن کے مقابلے میں خرچ کیا جائے تو وہ خدا سے پوشیدہ نہیں رہے گا اور خدا اسے محفوظ رکھے گا اور بوقتِ ضرورت تمھیں دے گا۔

واٴنتم لاتظلمون “ کے جملہ کی تفسیر میں بعض مفسّرین نے یہ احتمال بھی بیان کیا ہے کہ اس کا عطف ”ترھبون“ پر ہے یعنی اگر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے کافی توانائی فراہم کولو تو وہ تم پر حملہ کرنے سے گھبرائیں گے اور تم پر ظلم کرنے کی قدرت ان میں نہیں ہوگی لہٰذا تم پر ظلم وستم نہیں ہوگا۔

جہادِ اسلامی کا مقصداور اس کے ارکان دوسرا نکتہ جو وزیر بحث آیت سے معلوم ہوتا ہے اور بہت سے سوالات اورمعترضین اور بے خبر لوگوں کے اعتراضات کاجواب ہوسکتا ہے وہ اسلامی جہاد کی صورت، ہدف اور پرگرام ہے، آیت واضح طور پر کہتی ہے کہ مقصد یہ نہیں ہے کہ انسانوں کو قتل کردو اور نہ ہدف یہ ہے کہ دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالو بلکہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں اصل ہدف یہ ہے دشمن ڈریں اور وہ تم پر زیادتی نہ کریں ، زبردستی کوئی بات نہ منوائیں ، نیز تمھاری ساری کوشش کا نتیجہ خدا اور حق وعدالت کے دشمنوں کے شر کو کم کرنا ہو۔

کیا مخالفین جہاد اسلامی کے بارے میں قرآن کی اس صراحت کو نہیں سنتے کہ جو اِس آیت میں موجود ہے۔ یہ لوگ پے درپے اسلامی قانون پر حملہ کرتے ہیں ، کبھی کہتے ہیں کہ اسلام تلوار کا دین ہے ، کبھی کہتے ہیں کہ اسلام اپنے عقیدے اور نظریے کو ٹھونسنے کے لئے ہتھیاروں کو ذریعہ بناتا ہے اور کبھی پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی تاریخ کو کشور کشائی کرنے والوں سے تشبیہ دیتے ہیں ، ہمارے نظریے کے مطابق پر ایسے سب اعتراضات کا جواب یہ ہے کہ وہ قرآن کی طرف پلٹیں اور اس پروگرام کے اصلی ہدف پر غور وفکر کریں تاکہ ان پر تمام چیزیں واضح ہوجائیں ۔

صلح کے آمادگی گذشتہ آیت میں اگرچہ اسلامی جہاد کے مقصد کو کافی حد تک نمایاں کرتی ہے تاکہ بعد والی آیت کہ جو دشمن سے صلح کے بارے میں بحث کرتی ہے اس حقیق تکو واضح کررہی ہے ، فرمایا گیا ہے: اگر وہ صلح کی طرف میلان ظاہر کریں تو تم بھی ان کا ہاتھ جھٹک نہ دو اور آما دگی ظاہر کرو( وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا ) ۔

مندرجہ جملے کی تفسیر میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ اگر وہ صلح کی طرف پَر پھیلائیں تو تم بھی اس کی طرف پَر پھیلاو کیونکہ ”جَنَحُوا“ ”جنوح“کے مادہ سے مائل ہونے کے معنی میں بھی آیا ہے اور پرندوں کے پروں کو بھی ”جناح“ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا ہر پر وبال ایک طرف مائل ہو تا ہے۔اس احتمال کے پیش نظرآیت کی تفسیر کے لئے اصل لغت سے بھی استفادہ ہوسکتا ہے اور اس لفظ کے ثانوی مفہوم سے بھی۔

چونکہ عام طور پر پیمانِ صلح پر دستخط کرتے وقت لوگ تردد میں گرفتار ہوجاتے ہیں لہٰذا پیغمبر اکرم کو حکم دیا گیا ہے کہ صلح کی تجویز قبول کرنے میں شک وتردد کو اپنے راہ نہ دو اگر اس کی شرائط منطقی، عاقلانہ اور عدلانہ ہوں تو انھیں قبول کرلو ”اور خدا پر توئکل کرو کیونکہ خدا تمھاری گفتگو بھی سنتا ہے اور تمھاری نیتوں سے بھی آگاہ ہے( وَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ ) ۔

لیکن اس کے باوجود رسول الله اور مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ ہوسکتا ہے صلح کی تجاویز میں مکر وفریب بروئے کار لایا گیا ہو اور صلح کو دشمن اچانک حملے کے لئے مقدمہ کے طور پر استعمال کریں یاان کا مقصد جنگ میں تاخیر کرنے سے ، زیادہ قوت فراہم کرنا ہو تاہم اس امر سے پریشان نہ ہو کیونکہ خدا تمھارے کام کی کفایت کرے گا اور وہ ہر حالت میں تمھارا پشتی بان ہے( وَإِنْ یُرِیدُوا اٴَنْ یَخْدَعُوکَ فَإِنَّ حَسْبَکَ اللهُ ) ۔ تمھاری سابقہ زندگی بھی اس حقیقت پر گواہ ہے کیونکہ ”وہی ہے جس نے اپنی مدد سے اور پاک دل مومنین کی مدد سے تمھاری تقویت کی تھی( هُوَ الَّذِی اٴَیَّدَکَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِینَ ) ۔ انھوں نے بارہا تمھارے لئے عظیم خطرے پیدا کئے اور ایسی خطرناک سازشیں کی کہ عام طریقے سے انھیں ناکام بنانا ممکن نہیں تھا لیکن اس نے ان تمام مواقع پر تمھاری حفاظت کی، علاوہ ازیں یہ مخلص مومنین کہ جو تمھارے گردو پیش تھے کسی قسم کی فداکاری سے دریغ نہیں کرتے، پہلے یہ بکھرے ہوئے اور ایک دوسرے کے دشمن تھے خدا نے ان پر نورِ ہدیات کا چھڑکاو کیا ”اور ان کے دلوں کے اندر الفت پیدا کی( وَاٴَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِهِمْ ) ۔

سالہا سال سے مدینہ میں اوس اور خزرج قبائل میں خونریزی جاری تھی اور ان کے بغض وعداوت سے بھر ہوئے تھے، حالت یہ تھی کہ کسی شخص کو یہ یقین نہ تھا کہ وہ کسی روز ایک دوسرے کی طرف دوستی اور محبت کا ہاتھ بڑھائیں گے اور ایک ہی صف میں شامل ہوں گے لیکن قادر متعال خدا نے اسلام کے پرتو اور نزولِ قرآن کے سائے میں یہ کام انجام دیا، اوس وخزرج کو جو انصار میں سے تھے انہی کے درمیان ایسی کشمکش نہ تھی بلکہ رسول الله کے مہاجر اصحاب جو مکہ سے آئے تھے وہ بھی اسلام سے پہلے ایک دوسرے سے الفت اور دوستی نہیں رکھتے تھے اور اکثر ان کے سینے ایک دوسرے کے لئے کینے سے بھرے رہتے تھے لیکن خدا تعالیٰ نے ان سب کینوں کو دھوڈالا اور اس طرح ختم کردیا کہ بدر کے تین سو تیرہ مجاہدین کہ جن میں تقریباً اسی مہاجرین اور باقی انصار تھے اگرچہ ایک چھوٹا سا گروہ تھے لیکن وہ ایک جسم کی مانند ہوگئے اور ایک طاقتور اور متحد لشکر بن گئے کہ جس نے اپنے نہایت قوی دشمن کو شکست سے دوچار کردیا۔

اس کے بعد مزید ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس الفت اور دلوں کے رشتے قائم کرنا معمول کے مادی طریقوں سے ممکن نہ تھا ”اگر وہ تمام کچھ جو روئے زمین میں ہے تم خرچ کردیتے تو ان کے دلوں میں الفت ومبّت پیدا نہ کرسکتے( لَوْ اٴَنفَقْتَ مَا فِی الْاٴَرْضِ جَمِیعًا مَا اٴَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوبِهِمْ ) ۔

لیکن یہ خدا ہی تھا جس نے ان کے درمیان ایمان کی وجہ سے اور ایمان کے ذریعے الفت پیدا کردی( وَلَکِنَّ اللهَ اٴَلَّفَ بَیْنَهُمْ ) ۔

وہ لوگ جو ہٹ دھرم اور کینہ پرور افراد خصوصاً جاہل قوموں اور زمانہ جاہلیت کے سے لوگوں کی روحانی اور جذباتی کیفیت سے آشنا ہیں ، جانتے ہیں کہ ایسے کینوں اور عداوتوں کو نہ تو مال ودولت سے دھویا جاسکتا ہے اور نہ جاہ ومقام سے، انھیں خاموش کرنے اور دبانے کی ایک راہ ہے اور وہ ہے انتقام، وہی انتقام جو لہرادار آواز کی صورت میں دُہرایا جائے گا اور ہر مرتبہ اس کا قبیح چہرہ زیادہ ہولناک ہوگا اور اس کا دامن زیادہ وسیع ہوتا چلا جائے گا، واحد چیز جو ان راسخ اور جڑ پکڑ لینے والے کینوں کو ختم کرسکتی ہے وہ افکار، خیالات اور نفوس میں پیدا ہونے والا ایک انقلاب ہے، ایسا انقلاب جو شخصیتوں کو تبدیل کردے، طرزِ افکار بدل دے اور جس سے لوگ اپنی سطح سے بہت بالا ہوجائیں اس طرح سے گذشتہ اعمال ان کی نظر میں پست، حقیر اور احمقانہ ہوجائیں اور اس کے بعد وہ اپنے وجود گی گہرائیوں کے نہاں خانے سے کینہ، قساوت، انتقام جوئی، قبائلی تعصبّات وغیرہ کی سیاہ غلاظت کو نکال باہر پھینکیں اور یہ ایسا کام ہے جو روپئے پیسے اور دولت وثروت سے نہیں ہوسکتا بلکہ صرف حقیقی ایمان وتوحید کے ذریعے ہی سے ایسا ممکن ہے۔

اور آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: خدا عزیز وحیکم ہے (إِنَّہُ عَزِیزٌ حَکِیمٌ)۔ اس کی عزت کا تقاضا ہے کہ کوئی اس کے سامنے ٹھہرنے کی تاب نہیں رکھتا اور اس کی حکمت سبب بنتی ہے کہ اس کے تمام کام حساب وکتاب کے تابع ہوں ، اسی لئے حساب شدہ پروگرام نے پراگندہ دلوں کو متحد کردیا اور انھیں پیغمبر سے منسلک کردیا تاکہ آپ ان کے ذریعے اسلام کا نورِ ہدایت پوری دنیا میں پھیلادیں ۔

دو توجہ طلب نکات

۱ ۔ آیت کا مفہوم عمومی ہے:

بعض مفسرین نے مندرجہ بالا آیت کو صرف اوس وخزرج کے اختلافات کے خاتمے کی طرف اشارہ سمجھا ہے کہ جو انصار میں سے تھے لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ مہاجرین وانصار ایک ہی صف میں رسول الله کی نصرت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے واضح ہوتا ہے کہ آیت کا مفہوم وسیع ہے، شاید انھوں نے سمجھا ہے کہ صرف اوس وخزرج کے درمیان قبائلی اختلاف تھا، حالانکہ اختلافات ہزار گناہ تھے اور اجتماعی شگاف موجود تھے، امیر اور غریب کے درمیان اختلاف اور اِس قبیلے اور اُس قبیلے کے چھوٹے بڑے سردار کے درمیان اختلاف، یہ شگاف اسلام کے سائے میں پُر ہوئے اور ان کے آثار محو ہوئے، اس طرح سے قرآن ایک دوسری جگہ فرماتا ہے:

( وَاذْکُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَیْکُمْ إِذْ کُنْتُمْ اٴَعْدَاءً فَاٴَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِکُمْ فَاٴَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا )

خدا کی اس عظیم نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمھارے دلوں میں الفت وحبت پیدا کی اور اس کی نعمت کے سائے میں تم ایک دوسرے کے بھائی گئے۔ (آل عمران/ ۱۰۳)

۲ ۔ یہ قانون دائمی ہے:

یہ قانون صرف پہلے مسلمانوں کے ساتھ مربوط نہیں تھا آج جب کہ اسلام اسی کروڑ مسلمانوں پر سایہ فگن ہے اور وہ مختلف نسلوں اور قوموں اور مختلف گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں کوئی حلقہ اتصال انھیں متحد نہیں کرسکتا سوائے ایمان وتوحید کے حلقے سے مال وثروت، مادی تشویق، سیمینار، کانفرنسیں تنہا کوئی کام نہیں کرسکتیں ، وہ شعلہ دل میں بھڑکنا چاہیے جو پہلے مسلمانوں کے دل میں تھا، نصرت وکامیابی بھی صرف اسی اسلامی اخوت کی راہ سے ممکن ہے۔

زیرِ بحث آخری آیت میں رسول الله کی پاک ہمّت اور جذبے کی تقویت کے لئے ان کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہوتا ہے: ”اے پیغمبر! خدا اور یہ مومنین کہ جنھوں نے تمھاری پیروی کی ہے تمھاری حمایت کے لئے کافی ہیں “ اور ان کی مدد س تم اپنے مقصد کو پالوگے( یَااٴَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللهُ وَمَنْ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ ) ۔

بعض مفسّرین نے نقل کیا ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب بنی قریظہ اور بنی نضیر کے یہودی قبائل نے رسول الله سے کہا کہ ہم آپ کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کو اور آپ کی پیروی کرنے کو تیار ہیں (اور ہم آپ کی مدد بھی کریں گے)۔

اس آیت نے آپ کو متنبہ کیا کہ ان پر اعتماد اور بھروسہ نہ کیجئے بلکہ صرف خدا اور مومنین کا اپنا سہارا قرار دیجئے۔(۱)

حافظ ابو نعیم جو مشہور علماء اہل سنّت میں سے ہیں کتاب ”فضائل الصحابہ“ میں اپنس سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی ابن ابی طالب کی شان میں نازل ہوئی اور وہ لفظ مومنین سے مراد حضرت علی(علیه السلام) ہیں ۔(۲)

ہم نے بارہا کہاہے کہ ایسی تفاسیر اور شانِ نزول آیت کو منحصر اور محدود نہیں کرتیں بلکہ مراد یہ ہے کہ حضرت علی(علیه السلام) جیسے شخصیت کہ جو صف اوّل مومنین میں ہیں مسلمانوں کے درمیان پیغمبر خدا کا پہلا سہارا ہیں اگرچہ دوسرے مومنین بھی رسول الله کے یارو مددگار ہیں ۔

____________________

۱۔ تفسیر تبیان، ج۵، ص۱۵۲-

۲۔ الغدیر، ج۲، ص۵۱-


آیات ۶۵،۶۶

۶۵-( یَااٴَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضْ الْمُؤْمِنِینَ عَلَی الْقِتَالِ إِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ یَغْلِبُوا مِائَتَیْنِ وَإِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ مِائَةٌ یَغْلِبُوا اٴَلْفًا مِنَ الَّذِینَ کَفَرُوا بِاٴَنَّهُمْ قَوْمٌ لَایَفْقَهُونَ )

۶۶-( الْآنَ خَفَّفَ اللهُ عَنکُمْ وَعَلِمَ اٴَنَّ فِیکُمْ ضَعْفًا فَإِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ مِائَةٌ صَابِرَةٌ یَغْلِبُوا مِائَتَیْنِ وَإِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ اٴَلْفٌ یَغْلِبُوا اٴَلْفَیْنِ بِإِذْنِ اللهِ وَاللهُ مَعَ الصَّابِرِینَ )

ترجمہ

۶۵ ۔ اے پیغمبر! مومنین کو (دشمن سے) جنگ کرنے کی تحریک کیجئے، اگر تم میں سے صبر واستقامت کرنے والے بیس افراد ہوں تو وہ سو افراد پر غالب آجائیں گے اور سو افراد ہوں تو کافروں میں سے ایک ہزار پر کامیابی حاصل کریں گے کیونکہ وہ ایسی قوم ہیں جو سمجھتے نہیں ۔

۶۶ ۔ اب اس وقت خدا نے تمھیں تخفیف دی ہے اور جان لیا ہے کہ تم میں کمزوری ہے اس بناپر جب تم میں سے سو افراد با استقامت اور صابر ہوں تو دو سو افراد پر کامیاب ہوں گے اور اگر ایک ہزار ہوں توحکمِ خدا سے دوہزار پر غالب آئیں گے اور خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

برابر کی قوت کے انتظار میں نہ رہو

پہلے دو آیات میں اسلامی جہاد کے متعلق اور فوجی احکام کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔

پہلی آیت میں رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو حکم دیا گیا ہے کہ: اے پیغمبر! مسلمانوں کو دشمن سے جہاد کرنے کی ترغیب دیجئے اور تحریک کیجئے( یَااٴَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضْ الْمُؤْمِنِینَ عَلَی الْقِتَالِ ) ۔

فوجی سپاہی جس قدر بھی تیار ہوں پھر بھی جنگ شروع ہونے سے پہلے ان کی روحانی تقویت درکار ہوتی ہے یعنی ذمہ داری کا احساس اجاگر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ چیز ساری دنیا کی آگاہ اور تربیت یافتہ فوجوں میں بھی ہوتی ہے کہ کمانڈر اور فوج کے افسر میدانِ جنگ کی طرف جانے سے پہلے یا میدانِ جنگ میں حملہ شروع کرنے سے پہلے مناسب مطالب کے ذکر سے ان کی جنگی جذبے کو ابھارتے ہیں اور شکست کے خطرے سے ڈراتے ہیں ۔

البتہ مادی اور ان جیسے مکاتب فکر میں تشویق وترغیب کا دامن محدو ہوتا ہے لیکن آسمانی مکاتب ومذاہب میں بہت ہی زیادہ وسیع ہے، فرمان الٰہی کی طرف توجہ، خدا پر ایمان کی تاثیر اور شہدائے راہِ حق کے مقام کی یاد اور فضیلت وبے احساب ثواب جو ان کے انتظار میں ہے نیز معنوی افتخار واعزاز اور احسانات وعنایات جو میدان جنگ میں دشمن پر کامیابی میں موجود ہیں نمازیوں میں بہادری استقامت اور پامردی کی روح پھونکنے کا بہترین ذریعہ ہیں ، اسلامی جنگوں میں بعض اوقات قرآن مجید کی چند آیات کی تلاوت مجاہدینِ اسلام کو اس طرح سے آادہ کردیتی تھیں کہ وہ برق اسا ہوجاتے اور عشق وجنون اور جذبے کی کامل تصویر بن جاتے۔

بہرحال آیت کا یہ حصّہ جہاد کی زیادہ سے زیادہ تبلیغ اور مجاہدین کے جذبہ کی تقویت کی اہمیت کو ایک اسلامی حکم کے طور پر واضح کرتا ہے۔

اس کے بعد آیت ایک دوسرا حکم دیتی ہے اور کہتی ہے کہ اگر تم میں سے بیس افراد صاحبِ استقامت ہوں تو وہ دو سو افراد پر غلبہ حاصل کرلیں گے اور اگر تم میں سے سو افراد ہوں تو ہزار کافروں پر غالب آئیں گے( إِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ یَغْلِبُوا مِائَتَیْنِ وَإِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ مِائَةٌ یَغْلِبُوا اٴَلْفًا مِنَ الَّذِینَ کَفَرُوا ) ۔ آیت اگرچہ ایک شخص کے دس افراد پر غالب آنے کے متعلق خبر کی صورت میں ہے لیکن بعد والی آیت کہتی ہے:”( الْآنَ خَفَّفَ اللهُ عَنکُمْ )

اب سے تم پر اس ذمہ داری میں تخفیف کردی گئی ہے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس سے مراد فرض اور حکم کا تعین ہے نہ کہ صرف ایک عام سی خبر ہے۔

لہٰذا مسلمان اس بات کے منتظر نہ رہیں کہ فوج کی تعداد دشمن کی فوج کے مساوی ہوجائے بلکہ یہاں تک کہ ان کی تعداد اگر دشمن کا دسواں حصّہ ہو تو بھی جہاد ان پر فرض ہے اس کے بعد اس حکم کی علت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: یہ اس بناء پر ہے تمھارے بے ایمان دشمن ایسے ہیں جو سمجھتے ہی نہیں( بِاٴَنَّهُمْ قَوْمٌ لَایَفْقَهُونَ ) ۔

یہ تاویل ابتداء میں عجیب وغریب نظر آتی ہے کہ علم وآگاہی اور کامیابی کے درمیان یا عدم آگہی اور شکست کے درمیان کیا ربط ہے لیکن فی الحقیقت ان دونوں کے درمیان بہت ہی نزدیکی اور مستحکم رابطہ ہے کیونکہ مومنین اپنے راستے کو اچھی طرح پہچانتے ہیں ن اپنی خلقت کے ہدف کا ادراک رکھتے ہیں اور اس جہان میں جہاد کے مثبت نتائج اور دوسرے جہان میں جو زیادہ ثواب مجاہدین کے انتظار میں ہے اس سے باخبر ہیں ۔

وہ جانتے ہیں کہ کس لئے لڑرہے ہیں اور کس لئے برسرِپیکار ہیں اور کس مقدس مقصد کے لئے فداکاری کررہے ہیں اور اگر اس راہ میں قربان اور شہید ہوجائیں تو ان کا حساب کتاب کس کے ہاتھ میں ہے، یہ واضح راستہ اور یہ آگاہی انھیں صبرو استقامت اور پامردی سکھاتی ہے، لیکن بے ایمان اور بت پرست ٹھیک طور پر نہیں جانتے کہ وہ کس لئے جنگ کررہے ہیں اور کس کے لئے لڑرہے ہیں اور اگر اس راہ میں مارے جائیں تو ان کے خون کی تلافی کون کرے گا، صرف ایک عادت اور اندھی تقلید یا خشک اور بے منطق تعصب کی وجہ سے اس مکتب کے پیچھے ہوئے ہیں راستے کی یہ تاریکی، ہدف سے ناآگاہی اور جنگ کے انجام اور نتیجے سے بے خبری اُن کے اعصاب کو کمزور کردیتی ہے، ان کے توانائی اور استقامت کو لے جاتی ہے اور ان کا کمزورسا وجود رہ جاتا ہے۔

لیکن مذکورہ بالا سنگین حکم کے بعد خداتعالیٰ کئی درجے تخفیف دیتا ہے اور کہتا ہے: اسی وقت خدا نے تمھیں تخفیف دی اور اس نے تمھارے درمیان کمزور اور سُست افراد موجود ہیں( الْآنَ خَفَّفَ اللهُ عَنکُمْ وَعَلِمَ اٴَنَّ فِیکُمْ ضَعْفًا ) ۔

اس کے بعد قرآن کہتا ہے کہ ان حالات میں اگر تم میں سے سو صبر واستقامت والے مجاہد ہوں تو وہ دو سو افراد پر غالب آئیں گے اور اگر ہزار آدمی ہوں تو دو ہزار پر حکمِ خدا سے کامیاب ہوں گے( فَإِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ مِائَةٌ صَابِرَةٌ یَغْلِبُوا مِائَتَیْنِ وَإِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ اٴَلْفٌ یَغْلِبُوا اٴَلْفَیْنِ بِإِذْنِ اللهِ ) ۔ لیکن یہ بات کسی حالت میں فراموش نہ کریں کہ ”خدا صابرین کے ساتھ ہے( وَاللهُ مَعَ الصَّابِرِینَ ) ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ کیا پہلی آیت منسوخ ہوچکی ہے؟

جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ پہلی آیت مسلمانوں کو حکم دے رہی ہے کہ اگر دشمن کا لشکر دس گناہ بھی زیادہ ہو تو ان کے مقابلے منھ نہ پھیریں جب کہ دوسری آیت میں یہ نسبت گھٹا کر دوگنا کردی گئی ہے، اس ظاہری اختلاف کے سبب بنا کہ مفسّرین نے پہل آیت کے حکم کو دوسری آیت کے حکم سے منسوخ سمجھا یا پہلی کو مستحب حکم اور دوسری کو واجب حکم قرار دیا یعنی اگر دشمنوں کی تعداد مسلمانوں کی تعداد سے دوگنی ہو تو مسلمان پر فرض ہے کہ میدانِ جنگ سے پیچھے نہ ہٹیں اور اگر دشمن اس سے زیادہ ہوں یہاں تک کہ دس گنا ہوں تو پھر جہاد سے ہاتھ اٹھا سکتے ہیں اور بچ سکتے ہیں لیکن بہتر ہے کہ پھر بھی جہاد سے دستبردار نہ ہوں ۔

لیکن بعض مفسّرین کا نظریہ ہے کہ ظاہری اختلاف جو آیات کے درمیان نظر آرہا ہے نسخ کی دلیل ہے نہ استحباب کی بلکہ ان دو احکام میں سے ہر ایک کا مقام الگ الگ ہے، جب مسلمان ضعیف وکمزور ہوں اور ان میں نئے، ناتجربہ کار اور غیر آزمودہ افراد ہوں کہ جن کی ابھی صحیح تربیت اور اصلاح نہیں ہوئی تو پھر مقیاس کا معیار دوگنا ہے لیکن اگر تربیت یافتہ، تجربہ کار اور قوی ایمان والے افراد مجاہدین بدر کے سے موجود ہوں تو پھر یہ نسبت دس گناہ تک جا پہنچی ہے۔

اس بناء پر یہ دونوں حکم جو دوالگ آیات میں مذکورہ ہیں دو مختلف گروہوں سے متعلق ہیں اور ان کا مختلف حالات سے تعلق ہے، اس لئے یہاں نسخ والی کوئی بات نہیں اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض روایات میں نسخ کی تعبیر موجود ہے تو ہمیں توجہ رکھنا چاہیے کہ لفظ ”نسخ“ روایات کی زبان میں ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جس میں ”تخصیص“ بھی شامل ہے۔

۲ ۔ قوتوں کے موازنہ کی داستان:

مندرجہ بالا آیات بہرحال اس مسلّم حکم کی حامل ہیں کہ مسلمان کبھی دشمن سے ظاہری قوتوں کی برابری کے انتظار میں نہ رہیں بلکہ کبھی اپنے سے دوگنا اور کبھی دس گناہ دشمن کے مقابلے میں بھی اٹھ کھڑے ہوں اور تعداد کی کمی کے بہانے دشمن کے مقابلے سے فرار اختیار کریں ۔

یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ بہت سی اسلامی جنگوں میں قوتوں کا توازن دشمن کے مفاد میں نظر آتا ہے مسلمان عموماً کم تعداد میں ہوتے تھے، جنگیں جو رسول الله کے زمانے میں ہوئیں مثلاً بدر، اور احزاب وغیرہ کی جنگیں بلکہ جنگِ موتہ میں تو مسلمان کی تعداد تین ہزار تھی اور دشمن کے لشکر کی جو کم از کم تعداد لکھی گئی وہ ڈیڑھ لاکھ تھی، یہ صورت صرف رسول الله کے دور ہی نہ تھی بلکہ وہ جنگیں جوآپ کے بعد پیش آئیں یہ فرق حیرت انگیز صورت میں موجود تھا، مثلاً ساسانی فوج سے جنگ کے موقع پر اسلام کی آزادی بخش لشکر کی تعداد پچاس ہزار تھی جبکہ خسروپرویز کے لشکر کی تعداد پانچ لاکھ تھی ، جنگ یرموک جوکہ لشکرِ اسلام کی رومی فوج کے خلاف بہت بڑی جنگ تھی کے بارے میں مورخین نے نقل کیا ہے کہ ہرقل کا لشکر تقریباً دولاکھ افراد پر مشتمل تھا لسکن مسلمان فوج کی تعداد چویس ہزار سے زیادہ نہ تھی اور زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ لکھا ہے کہ دشمن کے جو لوگ اس جنگ میں ہلاک ہوئے وہ ستر ہزار افراد سے زیادہ تھے۔

اس میں شک نہیں ک ظاہری موازنہ اور قوتوں کی برتری کامیابی کے عوامل میں سے ایک لیکن پھر کونسی چیز سبب بنتی تھی کہ اتنا عظیم فرق جو صاف نظر آتا تھا اس کے باوجود مسلمان کامیاب رہتے، اس اہم سوال کا جواب قرآن نے ان آیات میں تین تعبیروں میں دیا ہے، ایک جگہ فرمایا گیا ہے ”عشرون صابرون“ یعنی بیس صاحبِ استقامت اور صبر کرنے والے اور ”مائة صابرة“ایک سو با استقامت یعنی استقامت اور پامردی جو شجر ایمان کا ثمر ہے اس بات کا سبب بنتی ہے کہ ایک آدمی دس افراد کے مقابلے میں کھڑا ہوجائے، ڈٹا رہے اور کامیابی حاصل کرے۔

دوسری جگہ قرآن کہتا ہے: ”باٴنّهم لایفقهون “ یعنی اپنے ہدف سے ا ن کیعدم آگہی اور تمھارا اپنے مقدس مقصد سے باخبر ہونا تعداد کی کمی کو تلافی کردیتا ہے۔

ایک اور جگہ پر ہے: ”اذن اللّٰه “ یعنی خدائی امداد ، غیبی اور معنوی نصرتیں اور الله کا لطف ورحمت ان صاحبِ ایمان اور بااستقامت لوگوں کے شامل حال ہیں ۔

آج بھی مسلمان طاقتور دشمنوں کے مقابلے میں کھڑے ہیں لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ بہت سے جنگی میدانوں میں مسلمانوں کی تعداد دشمنوں سے کہیں زیادہ ہے لیکن پھر بھی کامیابی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے اور آج کے مسلمانوں کی حالت پہلے زمانے کے مسلمانوں سے یکسر برعکس ہے۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یا اس بناپر ہے کہ مسلمانوں میں آج کافی آگاہی اور علم نہیں ہے، فساد اور مادی زرق برق کے عوامل کے مقابلے میں وہ صبر و استقامت کی روح گنوا بیٹھے ہیں ، گناہ آلودہ ہونے کی وجہ سے خدائی حمایت بھی ان سے سلب ہوچکی ہے، نتیجتاً وہ اس انجام کو پہنچ گئے ہیں ۔

لیکن پھر بھی لوٹ آنے کا راستہ کھلا ہے اور ہمیں توقع اور انتظار ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ مندرجہ بالا آیات کا مفہوم ایک دفعہ پھر مسلمانوں میں زندہ ہو اور وہ اپنی موجودہ ذلّت بارکیفیت سے نکل آئیں ۔

۳ ۔ دو آیتوں میں مثال کا فرق:

یہ بات توجہ طلب ہے کہ پہلی آیت کہ جس میں گفتگو ایک اور دس کی نسبت کے بارے میں ہے مثال کے لئے ”عشرون “ یعنی بیس اور ”ماٴتین “ یعنی دو سو کے الفظ استعمال ہوئے ہیں لیکن دوسری آیت میں جہاں دوگناہ کی نسبت بیان ہوئی ہے مثال کے لئے ایک سو افراد دوسو کے مقابلے میں اور ایک ہزار کا دستہ دو ہزار کے مقابلے میں کہا گیا ہے۔

مثال کا یہ فرق گویا اس حقیقت کو بیان کرنے کے لئے ہے کہ قوی ارادے والے اہلِ ایمان بیس افراد کا بھی ایک لشکر بناکر سکتے ہیں لیکن کمزور افراد اتنی کم تعداد کا لشکر مہیّا نہیں کرسکتے بلکہ انھیں اس سے کئی گنا زیادہ افراد سے لشکر بنانے کی ضرورت پڑے گی۔


آیات ۶۷،۶۸،۶۹،۷۰،۷۱

۶۷-( مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اٴَنْ یَکُونَ لَهُ اٴَسْریٰ حَتَّی یُثْخِنَ فِی الْاٴَرْضِ تُرِیدُونَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللهُ یُرِیدُ الْآخِرَةَ وَاللهُ عَزِیزٌ حَکِیمٌ )

۶۸-( لَوْلَاکِتَابٌ مِنْ اللهِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا اٴَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ )

۶۹-( فَکُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَیِّبًا وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ )

۷۰-( یَااٴَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِمَنْ فِی اٴَیْدِیکُمْ مِنَ الْاٴَسْریٰ إِنْ یَعْلَمْ اللهُ فِی قُلُوبِکُمْ خَیْرًا یُؤْتِکُمْ خَیْرًا مِمَّا اٴُخِذَ مِنْکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ )

۷۱-( وَإِنْ یُرِیدُوا خِیَانَتَکَ فَقَدْ خَانُوا اللهَ مِنْ قَبْلُ فَاٴَمْکَنَ مِنْهُمْ وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ )

ترجمہ

۶۷ ۔ کوئی پیغمبر یہ حق نہیں رکھتا ہے وہ (دشمنوں کے افراد ) قیدی بنائے تاکہ ان پر کامیابی حاصل کرے (اور زمین پر مستحکم قدم جمالے) تم لوگ تو ناپائیدار دنیا کی متاع چاہتے ہو (اور چاہتے ہو کہ زیادہ سے زیادہ قیدی بنالو اور مال لے کر انھیں آزاد کرو) لیکن خدا (تمھارے لئے) آخرت چاہتا ہے اور خدا قادر وحکیم ہے۔

۶۸ ۔ اگر پہلے سے خدا کا حکم نہ ہوتا (کہ تبلیغ کے بغیر کسی اُمت کو سزا نہ دے) تو (اسیر بنانے کا) کام تم نے کیا اُس پر تمھیں بہت بڑی سزا دیتا۔

۶۹ ۔ اب جو کچھ مالِ غنیمت تم لے چکے ہو اس میں سے حلال وپاکیزہ کھالو اور خدا سے ڈرو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

۷۰ ۔ اے نبی! تمھارے پاس جو قیدی ہیں ان سے کہدو کہ اگر خدا تمھارے دلوں میں کوئی اچھائی دیکھے گا (اورز تمھاری نیتیں نیک اور پاکیزہ ہوں ) تو جو کچھ تم سے لیا ہے اس سے بہتر تمھیں دے گا اور تمھیں بخش دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

۷۱ ۔ اور اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہیں تو (یہ کوئی نئی بات نہیں ) انھوں نے اس سے پہلے (بھی) خیانت خدا سے خیانت کی ہے اور خدا نے (تمھیں ) ان پر کامیابی دی اور خدا دانا وحکیم ہے۔

جنگی قیدی

گذشتہ آیات میں جہاد اور دشمن سے جنگ کرنے کے متعلق احکام کے اہم حصّے یان ہوئے ہیں ، اب زیرِ بحث آیات میں جنگی قیدیوں کے بارے میں کچھ احکام ذکر کرکے اس جاری بحث کی تکمیل کی گئی ہے، کیونکہ جنگوں میں عموماً قیدیوں اور اسیروں کا مسئلہ پیش آیا ہے، جنگی قیدیوں سے انسانی حوالوں سے سلوک اور اسی طرح مقاصدِ جہاد بہت اہم موضوعات ہیں ، اس سلسلے میں سب سے پہلے جو مطلب بیان ہوا ہے اس کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے: کوئی نبی یہ حق نہیں رکھتا کہ اس کے پاس جنگی قیدی ہوں تاکہ وہ زمین میں اپنے پاوں خوب محکم کرسکے اور دشمن کے پیکر پر کاری اور اطمینان بخش ضربیں لگاسکے( مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اٴَنْ یَکُونَ لَهُ اٴَسْریٰ حَتَّی یُثْخِنَ فِی الْاٴَرْضِ ) ۔

”یثخن“ ”ثخن“ (بروزن ”شکن“) کے مادہ سے ضخامت، سختی اور سنگینی کے معنی میں آیا ہے۔

بعد ازاں اسی منسابت سے کامیابی، واضح غلبہ، قوت، قدرت اور شدّت کے مفہوم میں بولا جانے لگا، بعض مفسّرین نے ”حَتَّی یُثْخِنَ فِی الْاٴَرْضِ “ کو دشمن کو قتل کرنے میں مبالغہ اور شدّت کے معنی میں لیا ہے اور کہا ہے کہ اس جملے کا معنی یہ ہے کہ جنگی قیدی بنانے کا عمل دشمن کے بہت سے افراد قتل کرنے کے بعد ہو لیکن ”فِی الْاٴَرْضِ “ (زمین میں ) کو نظر میں رکھتے ہوئے اور اس لفظ کی اصل کا لحاظ رکھتے ہوئے کہ جو شدت وسختی کے معنی میں ہے، واضح ہوجاتا ہے کہ اس جملے کا حقیقی معنی یہ نہیں ہے بلکہ اس سے اصل مراد دشمن پر مکمل فوقیت حاصل کرنا، قوت وقدرت کا مظاہرہ کرنا اور اپنے تسلط کو مستحکم بنانا ہے لیکن چونکہ بعض اوقات دشمن کی سرکوبی اور اُسے قتل وغارت کرنا مسلمانوں کے مقام کے استحکام کا سبب بنتا ہے لہٰذا اس جملے کا ایک مصداق خاص حالات میں دشمن کو قتل کرنا بھی ہوسکتا ہے نہ یہ کہ اس جملے کا اصلی مفہوم ہے۔

بہرحال محلِ بحث آیت مسلمانوں کو ایک حساس جنگی نکتے کی طرف متوجہ کرتی ہے اور وہ یہ کہ مسلمان کبھی بھی دشمنوں کی مکمل شکست کے بغیر انھیں قیدی بنانے کی فکر میں نہ پڑیں کیونکہ جیسا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے بعض نئے مسلمان میدانِ بدر میں اس کوشش میں تھے کہ جتنا ممکن ہو دشمنوں کو قید کیا جائے کیونکہ اس زمانے کی جنگوں کے رواج کے مطابق جنگ ختم ہونے پر ایک اہم رقم ”فدیہ“ یا ”خدا“ کے نام پر لے کر انھیں آزاد کردیا جاتا تھا۔

ہوسکتا ہے یہ کام بعض مواقع پر اچھا شمار ہو لیکن دشمن کی شکست کے بارے میں مکمل اطمینان کرلینے سے پہلے یہ کام خطرناک ہے کیونکہ قیدیوں کو پکڑنے اور ان کے ہاتھ باندھنے میں مشغول ہونا اور انھیں کسی مناسب جگہ کی طرف منتقل کرنا بہت سے مواقع پر مجاہدین کو جنگ کے اصل مقصد سے باز رکھتا ہے اور بشا اوقات توزخم خوردہ دشمن کے ئلے راہ ہموار کرتا ہ کہ وہ اپنے حملوں میں شدت پیدا کرے اور مجاہدین کو شکست دے دے جیسا کہ جنگ اُحد کے واقعہ میں غنائم کی جمع آوری نے مسلمانوں کے ایک گروہ کو اپنی طرف مشغول رکھا اور دشمن نے موقع غنیمت پاکر ان پر کاری اور آخری ضرب لگائی۔

لہٰذا قیدی بنانا صرف اسی صورت میں جائز ہے کہ جب دشمن پر کامیابی کے حصول کے بارے میں کامل اطمینان ہو ورنہ قفاطع، تباہ کن اور پے درپے حملوں سے حملہ آور دشمن کی طاقت کو بیکار جائے، لیکن اطمینان حاصل ہوجانے کے بعد انسانی ہدف ضروری قرار دیتا ہے کہ قتل کرنے سے ہاتھ اٹھا لیا جائے اور انھیں قید کرلینے پر اکتفا کی جائے، یہ دونوں اہم فوجی اور انسانی نکات زیر نظر آیت کی مختصر سی عبارت میں بیان ہوئے ہیں ۔

اس کے بعد قرآن اس گروہ کو جس نے اس حکم کے خلاف عمل کیا موردِ ملامت قرار دیتے ہوئے کہتا ہے: تم صرف مادی امور کی فکر میں ہو اور دنیا کی ناپائیدار متاع چاہتے ہو حالانکہ خدا تمھارے لئے عالمِ جاوداں اور دائمی سعادت چاہتا ہے( تُرِیدُونَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللهُ یُرِیدُ الْآخِرَةَ ) ۔

”عرض“ کا معنی ہے ”ناپائیدار امور“ اور چونکہ اس دنیا کے مادی سرمائے پائیدار نہیں ہیں لہٰذا انھیں ”( عَرَضَ الدُّنْیَا ) “ کہا جاتا ہے۔

البتہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں جنگی قیدیوں کے مادی پہلووں کی طرف توجہ اور اصلی اہداف ومقاصد سے غفلت یعنی دشمن پر کامیابی حاصل کرنا نہ صرف سعادت اور اُخروی جزا پر ضرب لگاتی ہے بلکہ اس جہان کی زندگی، سربلندی، عزت اور آرام کے لئے بھی نقصاندہ ہے، حقیقت میں یہ اصلی مقاصد اس جہان کے پائیدار امور میں شمار ہوتے ہیں اور دوسرے لفظوں میں وقتی اور جلدی گزر جانے والے منافع کے لئے آئندہ کے لئے دائمی منافع کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔

آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ یہ حکم اصل میں عزت وکامیابی اور حکمت وتدبیر کامل ہے چونکہ یہ خدا کی طرف سے صادر ہوتا ہے ”اور خدا عزیز وحکیم ہے( وَاللهُ عَزِیزٌ حَکِیمٌ ) ۔

اگلی آیت میں دوبارہ انلوگوں کو سرزنش کرتے ہوئے کہ جو وقتی اور مادی مفادات کے لئے اہم اجتماعی مصالح کو خطرے میں ڈالتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اگر خدا کا فرمان سابق نہ ہوتا تو تمھیں ان قیدیوں کو قیدی بنانے پر بہت بڑی سزا اور عذاب سے دوچار ہونا پڑتا( لَوْلَاکِتَابٌ مِنْ اللهِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا اٴَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ ) ۔ ”( لَوْلَاکِتَابٌ مِنْ اللهِ سَبَقَ ) “ کے بارے میں مفسّرین نے مختلف احتمالات ذکر کئے ہیں لیکن جو چیزی پوری آیت کی تفسیر کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہے یہ ہے کہ اگر یہ نہ ہوتا کہ خدا نے پہلے سے مقرر کیا ہوا ہے کہ جب تک کوئی حکم وہ پیغمبر کے ذریعے اپنے بندوں سے بیان نہ کرے انھیں سزا نہیں دے گا، تمھیں اس بناء پر کہ تم مادی منافع کے حصول کے لئے قیدی بنانے کے پیچھے لگ گئے اور لشکرِ اسلام کی حیثیت اور اس کی مکمل کامیابی کو خطرے میں ڈال دیا تو سخت سزا دیتا لیکن جیسا کہ قرآن کی دوسری آیات میں تصریح ہوئی ہے کہ پروردگار کی سنت یہ ہے کہ وہ پہلے احکام بیان کرتا ہے پھر ان احکام کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دیتا ہے مثلاً:( وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِینَ حَتَّی نَبْعَثَ رَسُولًا ) (بنی اسرائیل/ ۱۵)

چند قابلِ توجہ نکات

۱ ۔ ایک وضاحت:

جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں مندرجہ بالا آیات کا ظہور جنگی قیدی بنانے کے بارے میں ہے نہ کہ جنگ کے بعد ”فدیہ“ لینے کے مسئلہ سے اس کا تعلق ہے اسی طرح سے بہت سے اعتراضات جو اس آیت کی تفسیر سمجھنے کے سلسلے میں کچھ مفسّرین کی نظر میں پیدا ہوئے خود بخود حل ہوجاتے ہیں ۔

نیز ملامت اور سرزنش ان لوگوں کی گئی ہے جو مکمل کامیابی سے پہلے مادی اغراض کی وجہ سے قیدی بنانے میں مشغول ہوگئے تھے اور اس کا رسول الله کی ذات اور مقاصدِ جہاد کی تکمیل میں مصروف مومنین سے کوئی نہیں ہے، لہٰذا ایسی یحثیں کہ آیا پیغمبر اس موقع پر گناہ کے مرتکب ہوئے تھے اور وہ گناہ آپ کے مقامِ عصمت سے کیسے مناسبت رکھتا ہے، سب بے محل ہیں ۔

اسی طرح وہ احادیث جو آیت کی تفسیر کے سلسلے میں اہلِ سنت کی بعض کتب(۱) میں آئی ہیں جن میں ہے کہ آیت کا ربط رسول الله اور مسلمانوں کی طرف سے خدا کی اجازت سے پہلے جنگ بدر کے بعد جنگی قیدیوں سے فدیہ لینے سے ہے، بے بنیاد ہیں ، ان روایات میں ہے کہ وہ واحد شخص جو فدیہ لینے کے مخالف تھا اور جنگی قیدیوں کے قتل کا حامی تھا عمر یا سعد بن معاذ کے سوا اس سے نجات نہ پاتا، ایسی روایات کا آیت کی تفسیر سے قطعاً کوئی تعلق نہیں خصوصاً جبکہ ان روایات کا من گھڑت ہونا بالکل واضح ہے کیونکہ عمر یا سعد بن معاذ کا پیغمبر اکرم کےمقام سے بھی بالاتر قرار دیا گیا ہے۔

۲ ۔ جنگی قیدیوں سے فدیہ لینے کا مسئلہ:

مندرجہ بالا آیت جنگی قیدیوں سے جب کہ اسلامی معاشرے کی مصلحت ضروری قرار دے فدیہ لینے کے خلاف نہیں ہے بلکہ کہتی ہیں کہ مجاہدین کو اس مقصد کے لئے قیدی بنانے کے لئے ہاتھ نہیں بڑھانا چاہیے، اس بناپر یہ آیت سورہ محمد کی آیت ۴ سے ہر لحاظ سے موافقت رکھتی ہیں جہاں فرمایا گیا ہے:

( فَإِذا لَقِیتُمْ الَّذِینَ کَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّی إِذَا اٴَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً )

جس وقت کافروں (اور ان دشمنوں سے جو تمھارے لئے زندہ رہنے کے حق قائل نہیں ہیں ) سے میدان جنگ میں آمنا سامنا ہو تو ان کی گردنوں پرضربیں لگاو یہاں تک کہ غلبہ حاصل کرلو پھر اس وقت انھیں قتل نہ کرو انھیں باندھ لو قیدی بنالو اس کے بعد انھیں فدیہ لے کر یا بغیر فدیہ لئے آزاد کردو۔

لیکن یہاں ایک نکتے کی طرف توجہ کرنا چاہیے کہ اگر جنگی قیدیوں میں خطرناک قسم کے افراد موجود ہوں کہ جن کی آزادی دوبارہ جنگ کی آگ بھڑک اٹھنے اور مسلمانوں کی کامیابی کے خطرے میں پڑجانے کا سبب ہو تو پھر مسلمان حق رکھتے ہیں کہ ایسے افراد کو ختم کردیں ، اس امر کی دلیل خود آیت میں ”یثخن“ اور ”( اٴَثْخَنتُمُوهُمْ ) “ میں چھپی ہوئی ہے۔

اسی بناپر چند ایک روایات میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے حکم دیا کہ جنگ بدر کے قیدیوں میں سے دو افراد عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث کو قتل کردیا جائے اور ان سے کسی قسم کا فدیہ قبول نہ کیا جائے۔(۲)

۳ ۔ نظریہ جبر کی نفی:

مندرجہ بالا آیات میں دوبارہ انسان کے ارادے کی آزادی کے مسئلہ اور نظریہ جبر کی نفی پر تاکید نظر آتی ہے کیونکہ فرمایا گیا ہے کہ خدا تمھارے لئے ہمیشہ کا گھر چاہتا ہے حالانکہ تم میں سے اگر گروہ وقتی مادی مفادات کی قید میں پھنسا ہوا ہے۔

بعد والی آیت میں جنگی قیدیوں سے متعلق ایک اور مسئلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ ہے فدیہ لینے کا مسئلہ۔

جیسا کہ بعض روایات میں جو زیرِ بحث آیات کی شان نزول کے بارے میں وارد ہوئی ہیں ان میں ہے کہ جنگ بدر کے خاتمے پر جب جنگی قیدی بنالئے گئے اور پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے یہ حکم دیا کہ قیدیوں میں سے د خطرناک افراد عقبہ اور نضر کو قتل کردیا جائے تو اس پر انصار گھبرائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ حکم تمام قیدیوں کے متعلق جاری ہوجائے (اور وہ فدیہ لینے سے محروم ہوجائیں ) لہٰذا انھوں نے رول الله کی خدمت میں عرض کیا: ہم نے ستر آدمیوں کو قتل کیا ہے اور ستر ہی کو قیدی بنایا ہے اور یہ آپ کے قبیلے میں سے ہیں ، یہ ہمیں بخش دیجئے تاکہ ہم ان کی آزادی کے بدلے فدیہ لے سکیں ۔

(رسول الله اس کے لئے وحی آسمانی کے منتظر تھے) اس موقع پر زیر بحث آیات نازل ہوئیں اور قیدیوں کی آزادی کے بدلے میں فدیہ لینے کی اجازت دی گئی ہے(۳)

تعجب کی بات یہ ہے کہ رسول الله کا داماد(۴) ابوالعاص بھی ان قدیوں میں تھا، رسول کی بیٹی(۵) یعنی زینب جو ابوالعاص کی بیوی تھی نے جو گلوبند جناب خریجہ نے ان کی شادی کے وقت انھیں دیا تھا فدیہ کے طور پر رسول الله کے پاس بھیجا، جب پیغمبر اکرم صلی الله علیہ آلہ وسلّم کی نگاہ گلوبند پر پڑی تو جناب خریجہ جیسی فداکار اور مجاہدہ خانتون کی یادیں ان کی آنکھوں کےسامنے مجسم ہوگئیں ، آپ نے فرمایا: خدا کی رحمت ہو خدیجہ پر، یہ وہ گلوبند ہے جو اس نے میری بیتی زینب کو جہیز میں دیا تھا(اور بعض دوسری روایات کے مطابق جناب خریجہ کے احترام میں آپ نے گلوبند قبول کرنے سے احراز کیا اور حقوقِ مسلمین کو پیش نظر کرتے ہوئے اس میں ان کی موافقت حاصل کی(۶)

اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلّم نے ابوالعاص کو اس شرط پر آزاد کردیا کہ وہ زینب کو (جو اسلام سے پہلے ابوالعاص کی زوجیت میں تھیں ) مدینہ پیغمبر کے پاس بھیج دے، اس نے بھی اس شرط کو قبول کرلیا اور بعد میں اسے پورا بھی کیا۔(۷)

بہرحال مندرجہ بالا آیت مسلمانوں کے یہ اجازت دیتی ہے وہ اس جنگی غنیمت (یعنی وہ رقم جو وہ قیدیوں سے رہائی کے بدلے لیتے تھے) سے استفادہ کریں اور ارشاد ہوتا ہے: جو کچھ تم نے غنیمت میں لیا ہے اس میں سے حلال اور پاکیزہ کھالو اور اس سے فائدہ اٹھاو( فَکُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَیِّبًا ) ۔

ممکن ہے اس جملے کا یہ ایک وسیع معنی ہو اور یہ فدیہ کے علاوہ دیگر غنائم کے بارے میں بھی ہو۔

اس کے بعد انھیں حکم دیا گیا ہے کہ تقویٰ اختیار کرو اور فرمانِ خدا کی مخالفت سے پر ہیز کرو( وَاتَّقُوا اللهَ ) ۔

اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ایسے غنائم کا مباح ہونا اس بات کا سبب نہیں بننا چاہیے کہ مجاہدین کا ہدف جہاد کے میدان میں ہدف مالِ غنیمت جمع کرنا یا فدیہ حاصل کرنا ہوجائے اور اگر پہلے ان کے دل میں ایسے پست خیالات تھے تو انھیں دل سے نکال دیں نیز اس سلسلے میں جو کچھ ہوچکا ہے اس کے عفو بخشش کا وعدہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: خدا غفور ورحیم ہے( إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔

کیا فدیہ لینا ایک منطقی اور عادلانہ کام ہے؟

یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قیدیوں کو آزاد کرنے کے بدلے فدیہ لینا اصولِ عدالت سے کس طرح مطابقت رکھتا ہے اور کیا ایسا کام انسان فروشی کے مترادف نہیں ؟

لیکن تھوڑے سے غور وفکر سے واضح ہوجاتا ہے کہ فدیہ حقیقت میں ایک قسم کا تاوانِ جنگ ہے کیونکہ ہر جنگ میں بہت سا اقتصادی سرمایہ اور انسانی قوتیں ختم ہوجاتی ہیں ، حق کے لئے جنگ کرنے سے لوگ یہ حق رکھتے ہیں کہ جنگ ختم ہونے کے بعد دشمن سے اپنے جنگی خسارے کی تلافی کروائیں اور اس کا طریقہ یہ فدیہ لینا بھی ہے۔

نیز اس طرف توجہ کی جائے کہ ان دنوں مالدار قیدیوں کے لئے فدیہ کی رقم چار ہزار درہم اور باقیوں کے لئے ایک ہزار درہم مقرر ہوئی تھی، تو معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح سے قریش سے جو کل مال حاصل کیا گیا وہ کوئی اتنا زیادہ نہیں تھا کہ ان کا مالی اور جانی نقصانات کی تلافی کرسکتا تھا جو اسلامی لشکر کو اٹھانا پڑا تھا۔

علاوہ ازیں جب مسلمان قریش کے دباو سے تنگ آکر مدینہ ہجرت کر آئے تھے ان کا بہت سا مال مکہ میں دشمنوں کے ہاتھ میں باقی رہ گیا تھا، اس لحاظ سے بھی مسلمانوں کو حق پہنچتا تھا کہ وہ ان اموال کی تلافی کریں ۔

اس نکتہ کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ م۔فدیہ لینا کوئی لازمی بھی نہیں اور اسلامی کومت اگر مصلحت سمجھے تو جنگی قیدیوں کا تبادلہ کرسکتی ہے یہ کوئی چیز لئے بغیر ہی آزاد کرسکتی ہے جیسا کہ سورہ محمد کی آیت ۴ میں اس طرف اشارہ ہوا ہے، اس کی تفسیر انشاء الله آئے گی۔

ایک اور اہم مسئلہ جنگی قیدیوں کے حوالے سے، ان کی اصلاح، تربیت اور ہدایت ہے، ہوسکتا ہے یہ امر مادی مکاتب میں پیش نہ آتا ہو لیکن وہ جہاد کہ جو انسانوں کی آزادی، اصلاح اور حق وعدالت کے رواج دینے کے لئے ہو حتمی طور پر اسے اہمیت دیتا ہے۔

اسی لئے زیر نظر چوتھی آیت میں رسول الله کو حکم دیا گیا ہے کہ قیدیوں کو دل خوش کن بیان کے ذریعے ایمان اور اصلاحِ احوال کی دعوت دیں اور انھیں تشویق دلائیں ، ارشاد ہوتا ہے: اے پیغمبر! ان قیدیوں کو جو تمھارے ہاتھ میں ہیں کہہ دو! اگر خدا تمھارے دلوں میں خیر ونیکی جان لے تو تمھیں اس سے بہتر عطا کرے جو تم نے لیا ہے( یَااٴَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِمَنْ فِی اٴَیْدِیکُمْ مِنَ الْاٴَسْریٰ إِنْ یَعْلَمْ اللهُ فِی قُلُوبِکُمْ خَیْرًا یُؤْتِکُمْ خَیْرًا مِمَّا اٴُخِذَ مِنْکُمْ ) ۔

”ا( ِٕنْ یَعْلَمْ اللهُ فِی قُلُوبِکُمْ خَیْرًا ) “ میں ”خَیْرًا“ سے مراد وہی ایمان اور اسلام قبول کرنا ہے اور بعد میں آنے والے لفظ ”خَیْرًا“ سے مراد مادی اور معنوی جزا اور احسان کے علاوہ اس نے تمھارے لئے ایک اور لطف وکرم کیا ہے اور گناہ کہ جن کے تم اسلام قبول کرنے سے پہلے گذشتہ زمانے میں مرتکب ہوئے تھے انھیں بخش دے گا اور خدا بخشنے والا اور مہربان ہے( وَیَغْفِرْ لَکُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔

اور چونکہ یہ ممکن تھا کہ قیدی اس پروگرام سے غلط فائدہ اٹھائیں اور خیانت اور انتقام کے ارادہ سے اظہارِ اسلام کرتے ہوئے مسلمانوں کی صفوں میں گھس آئیں لہٰذا اگلی آیت میں قرآن انھیں بھی خطرے سے خبردار کرتا ہے اور مسلمانوں کو تنبیہ کرتا ہے اور کہتا ہے: اگر وہ چاہیں کہ تجھ سے خیانت کریں تو کوئی نئی بات نہیں ہے انھوں نے اس سے پہلے بھی خدا سے خیانت کی ہے( وَإِنْ یُرِیدُوا خِیَانَتَکَ فَقَدْ خَانُوا اللهَ مِنْ قَبْلُ ) ۔

اس سے بالاتر خیانت کیا ہوگی کہ انھوں نے ندائے فطرت کو سنا اَن سنا کردیا، حکم عقل کو پسِ پشت ڈال دیا، خدا کے لئے شریک شبیہ کے قائل ہوئے اور بت پرستی کے بیہودہ مذہب کو انھوں نے توحید پرستی کا جانشین قرار دے لیا لیکن انھیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ”خدا نے تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ان پر فتح وکامیابی بخشی“( فَاٴَمْکَنَ مِنْهُمْ ) ۔ آئندہ بھی اگر وہ خیانت کی راہ پر چلے توکامیاب نہیں ہوں گے پھر بھی وہ شکست ہی سے دوچار ہوں گے، خدا ان کی نیتوں سے آگاہ ہے اور جو احکام اس نے قیدیوں کے بارے میں دیئے ہیں وہ حکمت کے مطابق ہیں کیونکہ ”خدا علیم وحکیم ہے“( وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ ) ۔

شیعہ اور سنی تفاسیر میں مندرجہ بالا آیات کے ذیل میں منقول ہے:

انصار کے کچھ آدمیوں نے رسول الله سے اجازت چاہی کہ آپ کے چچا عباس جو قیدیوں میں سے تھے سے آپ کے احترام میں فدیہ نہ لیا جائے لیکن پیغمبر نے فرمایا:”واللّٰه لاتذرون منه درهماً

خدا کی قسم ا س کے ایک درہم سے بھی صرفِ نظر نہ کرو (یعنی اگر یہ فدیہ لینا خدائی قانون ہے تو اسے سب پر یہاں تک کہ میرے چچا پر بھی جاری ہونا چاہیے، اس کے اور دوسروں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے)۔

پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلّم، عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اپنی طرف سے اور اپنے بھتیجے (عقیل بن ابی طالب) کی طرف سے آپ کو فدیہ ادا کرنا چاہیے۔

عباس (جو مال سے بڑا لگاو رکھتے تھے) کہنے لگے: اے محمد! کیا تم چاہتے ہو کہ مجھے ایسا فقیر اور محتاج کردو کہ میں اہل قریش کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلاوں ۔

رسول الله نے فرمایا: اس مال میں سے فدیہ ادا کریں جو آپ نے اپنی بیوی امّ الفضل کے پاس رکھا تھا اور اس سے کہا تھا کہ اگر میدان میں جنگ میں مارا جاوں تو اس مال اپنے اور اپنی اولاد کے مصارف کے لئے سمجھنا۔

عباس یہ بات سن کر متعجب ہوئے اور کہنے لگے: آپ کویہ بات کس نے بتائی (حالانکہ یہ تو بالکل محرمانہ تھی)؟

رسول الله نے فرمایا: جبریل نے ، خدا کی طرف سے۔

عباس بولے: اس کس قسم جس کی محمد قسم کھاتا ہے کہ میرے اور میری بیوی کے علاوہ اس راہ سے کوئی آگاہ نہ تھا۔

اس کے بعد وہ پکار اٹھے: ”اٴشهد اٴنّک رسول اللّٰه “ (یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ الله کے رسول ہیں )۔

اور یوں وہ مسلمان ہوگئے۔

اس کے بعد بدر کے تمام قدید مکہ لوٹ گئے لیکن عباس، عقیل اور نوفل مدینہ میں ہی رہ گئے کیونکہ انھوں نے اسلام قبول کرلیا تھا، مندرجہ بالا آیات میں ان کی کیفیت کی طرف اشارہ کیا گا ہے۔(۸)

عباس کے اسلام لانے کے بارے میں بعض توایخ میں ہے اسلام قبول کرلینے کے بعد وہ مکہ کی طرف پلٹ گئے اور خط کے ذریعے رسول الله کو سازش سے باخبررکھتے تھے، پھر آٹھ ہجری سے پہلے فتح مکہ کے سال مدینہ کی طرف ہجرت کرآئے۔

کتاب قرب الاسناد میں امام محمد باقر علیہ السلام کے واسطے سے ان کے والد امام سجاد علیہ السلام سے منقول ہے:

ایک روز رسول الله کے پاس بڑی مقدار میں مال لایا گیا، آپ نے عباس کی طرف رُخ کیا اور ارشاد فرمایا:

اپنی عبا پھیلادو اور اس مال میں کچھ لے لو۔

عباس نے ایسا کیا۔

پھر رسول الله نے فرمایا:

یہ اسی میں سے ہے کہ جس کے بارے میں الله فرماتا ہے، پھر آپ نے آیہیَااٴَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِمَنْ فِی اٴَیْدِیکُمْ --- کی تلاوت فرمائی۔ (تفسیر نور الثقلین، ج ۲ ،ص ۱۶۸)

یہ گویا اس امر کی طرف اشارہ تھا کہ جو مال تم سے لیا گیا تھا اُس کی تلافی کے بارے میں اس طرح خدا کا وعدہ اب پورا ہوگیا ہے۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول الله اس کوشش میں تھے کہ جو قیدی مسلمان ہوگئے ہیں انھیں احسن طریقے سے تشویق کی جائے اور جو مال انھوں نے دیئے ان کی بہتر طور پر تلافی کی جائے۔

____________________

۱۔ تفسیر المنار، ج۱۰، ص۹۰؛ تفسیر المعانی، ج۱۰، ص۱۳۲ ؛اور تفسیر رازی، ج۱۵، ص۱۹۸-

۲۔ تفسیرنور الثقلین، ج۲، ص۱۳۵-

۳۔ تفسیرنور الثقلین، ج۲، ۱۳۶ بحوالہ تفسیر علی بن ابراہیم -

۴۔ ظاہری طور پرجناب خریجہ کی بہن کی بیٹی جو رسول الله کی لے پالک تھیں کا شوہر۔(مترجم)

۵۔ لے پالک بیٹی مراد ہے مترجم۔

۶۔ جیسا کہ کامل بن اثیر جلد۲،ص۱۳۴ پر ہے۔”فلما راٴها رسول الله (ص) رق لها رقة شدیدة وقال ان راٴیتم ان تطلقوا لها اٴسیرها، وتردوا علیها الذی لها فافعلوا، فاطلقوا لها اسیرها وردّوا القلادة -

۷۔ تفسیر المیزان، ج۹، ص۱۴۱-

۸۔ زیر بحث آیت کے ذیل میں تفسیر نور الثقلین، روضة الکافی، تفسیر قرطبی اور تفسر المنار کی طرف رجوع کیجئے۔


آیات ۷۲،۷۳،۷۴،۷۵

۷۲ -( إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا بِاٴَمْوَالِهِمْ وَاٴَنفُسِهِمْ فِی سَبِیلِ اللهِ وَالَّذِینَ آوَوا وَنَصَرُوا اٴُوْلٰئِکَ بَعْضُهُمْ اٴَوْلِیَاءُ بَعْضٍ وَالَّذِینَ آمَنُوا وَلَمْ یُهَاجَرُوا مَا لَکُمْ مِنْ وَلَایَتِهِمْ مِنْ شَیْءٍ حَتَّی یُهَاجِرُوا وَإِنْ اسْتَنصَرُوکُمْ فِی الدِّینِ فَعَلَیْکُمْ النَّصْرُ إِلاَّ عَلیٰ قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَهُمْ مِیثَاقٌ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ )

۷۳-( وَالَّذِینَ کَفَرُوا بَعْضُهُمْ اٴَوْلِیَاءُ بَعْضٍ إِلاَّ تَفْعَلُوهُ تَکُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاٴَرْضِ وَفَسَادٌ کَبِیرٌ )

۷۴-( وَالَّذِینَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِی سَبِیلِ اللهِ وَالَّذِینَ آوَوا وَنَصَرُوا اٴُوْلٰئِکَ هُمَ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ کَرِیمٌ )

۷۵-( وَالَّذِینَ آمَنُوا مِنْ بَعْدُ وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا مَعَکُمْ فَاٴُوْلٰئِکَ مِنْکُمْ وَاٴُوْلُوا الْاٴَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اٴَوْلَی بِبَعْضٍ فِی کِتَابِ اللهِ إِنَّ اللهَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ )

ترجمہ

۷۲ ۔ جوایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کیا اور وہ کہ جنھوں نے پناہ دی اور مدد کی ایک دوسرے کے اولیاء (دوست، جوابدہ اور دفاع کرنے والے) ہیں اور جو ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت نہیں کی تم ان کے بارے میں کسی قسم کی ولایت (تعہد اور جوابدہی) نہیں رکھتے جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں اور (صرف اس صورت میں کہ) جب وہ تم سے (اپنے) دین (کی حفاظت) کے لئے مدد طلب کریں (تو پھر تم پر لازم ہے کہ ان کی مدد کرو مگر ایسے گروہ کے خلاف نہیں کہ جس کے ساتھ تمھارا (جنگ نہ کرنے کا) معاہدہ ہو اور جو کچھ تم عمل کرتے ہو خدا اسے دیکھتا ہے۔

۷۳ ۔ وہ جو کافر ہوگئے ہیں ایک دوسرے کے اولیاء (دوست اور پشت پناہ) ہیں اگر تم (اس حکم کو) انجام نہ دو تو زمین میں فتنہ فساد برپا ہوجائے گا۔

۷۴ ۔ اور وہ جو ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور راہ خدا میں جہاد کیا اور وہ جنھوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی حقیقی مومن ہیں ، ان کے لئے بخشش (اور خدا کی رحمت) اور مناسب رزق ہے۔

۷۵ ۔ اور جو بعد میں ایمان لائے اور ہجرت نہیں کی اور تمھارے سات شامل ہوکر جہاد کیا وہ تم میں سے ہیں اور رشتہ دار ایک دوسرے کے ساتھ (غیروں کی نسبت) خدا کے مقرر کردہ احکام میں زیادہ حق دار ہیں ، خدا تمام چیزوں کو جانتا ہے۔

چا رمختلف گروہ

یہ آیات سورہ انفال کا آخری حصّہ ہیں ، ان میں مہاجرین وانصار اور مسلمان کے دوسرے گروہوں کے ماقام ومرتبے کا ذکر ہے نیز جہاد اور مجاہدین کے بارے میں جاری بحث کی بھی ان آیات میں تکمیل ہوتی ہے۔

ان آیات میں مختلف رشتوں کے حوالے سے اسلامی معاشرے کا نظام بیان کیا گیا ہے کیونکہ جنگ اور صلح کا پروگرام دوسرے عمومی پروگراموں کی طرح صحیح اجتماعی اور معاشرتی رشتوں کو ملحوظ رکھے بغیر نہیں بن سکتے۔

ان آیات میں پانچ گروہوں کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے، ان میں سے چار مسلمان ہیں اور ایک گروہ غیر مسلموں کا ہے۔ مسلمانوں کے چار گروہ ہیں :

۱ ۔ مہاجرین اوّلین-

۲ ۔ انصار، اہل مدینہ سے یار وانصار-

۳ ۔ وہ جو ایمان تو لے لائے لیکن انھوں نے ہجرت نہ کی-

۴ ۔ وہ جو بعد میں ایمان لائے اور مہاجرین سے آملے-

زیر بحث پہلی آیت میں کہا گیا ہے : وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اپنے مال وجان سے راہِ خدا میں جہاد کیا اور وہ لوگ کہ جنھوں نے پناہ یاور مدد کی وہ ایک دوسرے کے اولیاء ، ہم پیمان اور ایک دوسرے کا دفاع اور محافظت کرنے والے ہیں( إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا بِاٴَمْوَالِهِمْ وَاٴَنفُسِهِمْ فِی سَبِیلِ اللهِ وَالَّذِینَ آوَوا وَنَصَرُوا اٴُوْلٰئِکَ بَعْضُهُمْ اٴَوْلِیَاءُ بَعْضٍ ) ۔

آیت کے اس حصّے میں پہلے اور دوسرے گروہ کی طرف اشارہ ہوا ہے، یعنی وہ مومنین جو مکہ میں ایمان لائے اور اس کے بعد انھوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اوروہ مومنین جو مدینہ رسول الله پر ایمان لائے اور آپ کی اور مہاجرین کی مدد کی اور حمایت کے لئے اٹھ کھڑے ، ان کا ایک دوسرے کے اولیاء، حامی اور متعہد کے طور پر تعارف کرایا گیا ہے۔

یہ بات جالبِ توجّہہے کہ پہلے گروہ کی چار صفات بیان کی گئی ہیں ، پہلی ایمان، دوسری ہجرت، تیسری مالی واقتصادی جہاد (مکہ میں موجود اپنے مال سے صرف نظر کرتے ہوئے یا جنگ بدر میں اپنے مال کی پرواہ نہ کرنے کی صورت میں ) اور چوتھی اپنے خون اور جان کے ساتھ راہِ خدا میں جہاد کرنا۔

انصار کے دو وسف بیان ہوئے ہیں : پہلا ”ایواء“ (پناہ دینا) اور دوسرا مددکرنا۔

نیز ”( بَعْضُهُمْ اٴَوْلِیَاءُ بَعْضٍ ) “ کے جملے کے ذریعے سب کوایک دوسرے کے بارے میں جوابدہ قرار دیا گیا ہے۔

حقیقت میں یہ دونوں گروہ اسلامی معاشرے کے تانے بانے کی بنیادی اجزاء کی حیثیت رکھتے تھے، ایک تانے کی اور دوسرا بانے کی حیثیت کا حامل تھا، ان میں کوئی بھی دوسرے سے بے نیاز نہ تھا۔

اس کے بعد تیسرے گروہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: وہ جو ایمان لائے لیکن انھوں نے ہجرت نہیں کی اور تمھارے نئے معاشرے سے وابستہ نہیں ہوئے ان کے بارے میں تم کوئی ذمہ داری، جوابدہی اور ولایت نہیں رکھتے جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں( وَالَّذِینَ آمَنُوا وَلَمْ یُهَاجَرُوا مَا لَکُمْ مِنْ وَلَایَتِهِمْ مِنْ شَیْءٍ حَتَّی یُهَاجِرُوا ) ۔

البتہ اگلے میں اس گروہ کی حمایت اور مسئولیت سے متعلق ایک استثنائی حکم دیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: جس وقت یہ لوگ (غیر مہاجر مومنین) تم سے اپنے دین وآئین کی حفاظت کے لئے مدد طلب کریں (یعنی دشمنوں کے شدید دباو میں گھرے ہوں ) تو تم پر لازم ہے کہ ان کی مدد کے لئے فوراً جاو

( وَإِنْ اسْتَنصَرُوکُمْ فِی الدِّینِ فَعَلَیْکُمْ النَّصْرُ ) ۔ مگر اس وقت کہ جب ان کے مخالف وہ لوگ ہوں کہ تمھارے اور ان کے درمیان لڑائی نہ کرنے کا عہدوپیمان موجود نہ ہو( إِلاَّ عَلیٰ قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَهُمْ مِیثَاقٌ ) ۔

دوسرے لفظوں میں ان کا دفاع اس صورت میں لازم ہے جب وہ مشترک دشمن کے مقابل ہوں جنھوں نے تم سے معاہدہ کررکھا ہے تو پھر معاہدے کا احترام اس بدحال گروہ کے دفاع کی نسبت زیادہ ضروری ہے۔

آیت کے آخر میں ان ذمہ داریوں کی حدود کوملحوظ نظر رکھنے اوران فرامین کی انجام دہی میں دقتِ نظر سے کام لینے کے لئے کہا گیا ہے: جو کچھ تم انجام دیتے ہو خدا اس سے بصیر وبینا ہے( وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ ) ۔

وہ تمھارے تمام اعمال کو دیکھتا ہے اور تمھاری تمام تر سعی وکاوش اور احساسِ ذمہ داری سے آگاہ ہے، اسی طرح اس عظیم ذمہ داری کے بارے میں بے اعتنائی، سستی ، تساہل اور عدم احساس سے بھی باخبر ہے۔

دوسری طرف آیت میں اسلامی معاشرے کے مدمقابل یعنی کفر اور اسلام کے معاشرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: وہ جو کافر ہوگئے ہیں ان میں سے بعض دوسرے بعض کے اولیاء اور سرپرست ہیں( وَالَّذِینَ کَفَرُوا بَعْضُهُمْ اٴَوْلِیَاءُ بَعْضٍ ) ۔ یعنی ان کا تعلق اور پیوند خود انھیں کے ساتھ ہے اور تمھیں کہ ان سے کوئی تعلق قائم کرو اور ان کی حمایت کرو یا انھیں اپنی حمایت کی دعوت دو، نہ انھیں پناہ دو اور ن ان سے پناہ لو، خلاصہ یہ کہ اسلامی معاشرے کے تاروپودا اور تانے بانے میں انھیں دخیل نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی تم ان کے معاشرے کے تاروپود میں دخل دو۔

اس کے بعد مسلمانوں کو تنبیہ کی کی گئی ہے کہ اگر تم نے اس اسلامی حکم کو نظر انداز کردیا توزمین میں اور تمھارے معاشرے کے گردو پیش میں عظیم فتنہ وفساد بپا ہوگا( إِلاَّ تَفْعَلُوهُ تَکُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاٴَرْضِ وَفَسَادٌ کَبِیرٌ ) ۔

اس سے بڑھ کر فتنہ وفساد کیا ہوگا کہ تمھاری کامیابی کے نقوش محو ہوجائیں گے اور تمھارے معاشرے میں دشمنوں کی سازیں کارگر ہوں گی اور دینِ حق وعدالت کی راہ کو دُور کردینے کے لئے ان منحوس اور بدبخت منصوبے بے موثر ہونے لگیں گے۔

اگلی آیت میں دوبارہ مہاجرین وانصار کے مقام کی اہمیت اور اسلامی معاشرے کے اہداف کی پیش رفت میں ان کا کردار کے احترام کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ جو ایمان لائے ہیں اور انھوں نے ہجرت کی ہے اور راہِ خدا میں جہاد کیا ہے اور وہ کہ جنھوں نے پناہ دی اورمدد کی ہے وہی حقیقی اور سچّے مومن ہیں( وَالَّذِینَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِی سَبِیلِ اللهِ وَالَّذِینَ آوَوا وَنَصَرُوا اٴُوْلٰئِکَ هُمَ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا ) ۔ کیونکہ ان میں سے ہر ایک اسلام کے سخت، دشوار اور غربت کے دنوں میں دینِ خدا اور رسول الله کی مدد کے لئے کسی نہ کسی صورت میں آگے بڑھا ہے اور ”انھیں اس عظیم فداکاری کی وجہ سے بخشش اور شائس رزق نصیب ہوگا“( لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ کَرِیمٌ ) ۔ وہ خدا کی بارگاہ میں اور دوسرے جہان میں بھی عظیم نعمات سے بہرہ ور ہوں گے اور اِس جہان میں بھی نفع نفع ، عظمت، سربلندی، کامیابی، امن وامان اور اطمینان کا شائستہ حصّہ حاصل کریں ۔

آخری آیت میں مسلمانوں کے چوتھے گروہ یعنی ”بعد کے مہاجرین“ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ جو اس کے بعد ایمان لے آئیں اور ہجرت کریں اور تمھارے ساتھ شریکِ جہاد ہوں وہ بھی تم میں سے ہیں( وَالَّذِینَ آمَنُوا مِنْ بَعْدُ وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا مَعَکُمْ فَاٴُوْلٰئِکَ مِنْکُمْ ) ۔ یعنی اسلامی معاشرے کے دائرہ کا تنگ یا کسی گروہ پر منحصر نہیں ہے بلکہ اس کے دروازے آئندہ کے تمام مومنین، مہاجرین اور مجاہدین کے لئے بھی کھلے ہوئے ہیں ، پہلے مہاجرین اگرچہ ایک خاص مقام ومرتبہ رکھتے ہیں لیکن یہ برتری اس معنی میں نہیں کہ آئندہ کے مومنین اور مہاجرین جو اسلام کے نفوذ اور پیش رفت کے وقت اس کی طرف جھکے اور اس سے آملے ہیں وہ اسلامی معاشرے کی بُن وبافت کا جز نہیں ہیں ۔

آیت کے آخر میں رشتہ داروں اور عزیزوں کی ایک دوسرے کےلئے ولایت واولویت کے متعلق تھی اور اس آخری آیت میں خداتعالیٰ تاکید کرتا ہے کہ یہ ولایت واولویت رشتہ داروں کے لئے قوی اور زیادہ جامع صورت میں ہے کیونکہ مسلمان رشتہ دار ایمان وہجرت کی میراث کے علاوہ رشتہ داری کی ولایت بھی رکھتے ہیں( وَاٴُوْلُوا الْاٴَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اٴَوْلَی بِبَعْضٍ فِی کِتَابِ اللهِ ) ۔

اسی بناپر وہ ایک دوسرے کی میراث لیتے ہیں جب کہ رشتہ داروں کے علاوہ دسرے شریکِ میراث نہیں ہوتے۔

لہٰذا آخری آیت صرف میراث کا حکم بیان نہیں کرتی بلکہ ایک وسیع معنی کی حامل ہے کہ جس کا ایک جزء میراث بھی ہے، اگر ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی روایات اور تمام فقہی کتب میں احکامِ ارث کے لئے اس آیت اور سورہ اجزاب کی اس سے ملتی جلتی آیت سے استدلال ہوا ہے تو یہ اس امر کی دلیل نہیں کہ یہ آیت مسئلہ ارث میں منحصر ہے بلکہ ہوسکتا ہے کہ آیت ایک عمومی قانون یان کررہی ہو جس کا ایک اہم حصّہ میراث بھی ہے۔

اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ رسول الله کی جانشینی کے مسئلہ میں کہ مالی میراث میں داخل نہیں ہے بعض اسلامی روایات میں سے اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے نیز غسل میت وغیرہ کے مسائل میں بھی رشتہ داروں کی اولویت کے لئے اسی آیت سے استدلال کیا گیا ہے۔

جو کچھ سطورِ بالا میں کیا گیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ جو بعض مفسّرین نے اصرار کیا ہے کہ یہ آیت صرف میراث کے بارے میں ہے، بے وجہ اور بے دلیل ہے، اگر ہم اس آیت کی تفسیر کرنا چاہیں تو اس کا صرف یہی طریقہ ہے کہ اسے گذشتہ آیت میں مہاجرین وانصار کے مابین بیان شدہ ”ولایت مطلقہ“ سے ایک استثناء سمجھیں اور کہیں کہ آخری آیت کہتی ہے کہ مسلمانوں کی عمومی ولایت میں ایک دوسرے کی میراث لینا شامل نہیں ہے۔

باقی رہا یہ احتمال کہ گذشتہ آیات کے بارے میں بھی ہے اور اس کے بعد آخری آیت نے اس حکم کو نسخ کردیا ہے یہ بہت بعید نظر آتا ہے کیونکہ ان آیات کا مفہوم کے اعتبار سے اور معنوی لحاظ سے آپس میں ارتباط یہاں تک کہ لفظی مشابہت بھی بہت نشاندہی کرتی ہے کہ یہ سب کی سب ایک ساتھ نازل ہوئی ہیں اور اس لحاظ سے یہ ناسخ ومنسوخ نہیں ہوسکتیں ۔

بہرحال آیات کے مفہوم کے ساتھ زیادہ مطابق وہی تفسیر رکھتی ہے جو ہم نے ابتداء میں ذکر کی ہے۔

آیت کے آخری جملہ میں جو کہ سورہ انفال کا آخری جملہ ہے فرمایا گیا ہے: خدا ہر چیز کوجانتا ہے( إِنَّ اللهَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ ) ۔

انفال ، جنگی غنائم، نظامِ جہاد، صلح، جنگی قیدی اور ہجرت وغیرہ سے مربوط تمام احکام جو اس سورہ میں نازل ہوئے ہیں سب دقیق منصوبہ بندی اور حساب وکتاب کے ماتحت ہیں جوکہ انسانی معاشرے ، بشری تقاضوں اور ہر پہلو سے ان مصالح سے مطابقت رکھتے ہیں ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ ہجرت اور جہاد: تاریخ اسلام کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ طاقتور دشمن کے مقابلے میں اسلام کی کامیابی کے لئے ہجرت اور جہاد دو بنیادی عوامل تھے، ہجرت نہ توتی تو اسلام مکہ کے گھُٹے ہوئے ماحول میں ختم ہوکر رہ جاتا اور جہاد نہ ہوتا تو اسلام کو کبھی رشد اور نشو ونما حاصل نہ ہوتی۔

ہجرت نے اسلام کو مخصوص علاقائی صورت سے نکال سے عالمی دین کی شکل دی اور جہاد نے مسلمانوں کو یہ بات سکھائی کہ اگر انھوں نے طاقت کا سہارا نہ لیا تو وہ دشمن جو منطق، حرفِ حسابی ارو سنجیدہ بات کے پابند نہیں ہیں ان کے لئے کسی قسم کے حق کے قائل نہیں ہوں گے۔

آج بھی اسلام کو سرحدوں کی بندش سے نجات دلانے اور ان مختلف رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے کہ جنھیں ہر طرف دشمنوں نے کھڑا کررکھا ہے ہجرت اور جہاد کو زنمدہ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔

ہجرت مسلمانوں کی آواز کو پوری کے کانوں تک پہنچائے گی اور آمادہ لوں ، اصلاحی قوتوں اور حق وعدالت کی پیاسی قوموں کو ان کی طرف مائل کردے گی، جبکہ جہاد انھیں حرکت اور حیات بخشے گا اور ہٹ دھرم دشمنوں کو کہ جن کے کانوں کو طاقت کی آواز کے علاوہ کچھ سنائی نہیں دیتا اپنے راستے سے ہٹادے گا۔

اسلام اور ہجرتیں

مکہ کے مسلمانوں کی حبشہ کی طرف ہجرت سے ایک تو جزیرہ عرب سے باہر اسلام کا بیج چھڑکا اور ساتھ ہی ساتھ جو پہلے معدودے چند مسلمان تھے اور دشمن کے سخت دباو میں تھے ان کے لئے اس نے ایک مورچے کا کام بھی دیا۔

پھر رسول الله اور پہلے مسلمانوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی، یہ مہاجرین جنھیں بعض اوقات مہاجرینِ بدر بھی کہتے ہیں تاریخ اسلام میں بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ بظاہر تو یہ ایک بالکل تاریک مستقبل کی طرف چل پڑے تھے اور درحقیقت انھوں نے خدا کے لئے تمام مادی سرمائے سے آنکھیں بند کرلی تھیں ، مہاجرین کہ جنھیں مہاجرینِ اوّلین سے تعبیر کیا جاتا ہے انھوں نے در حقیقت اسلام کے پُرشکوہ محل کی بنیاد کی پہلی اینٹ رکھی، قرآن ان کے لئے ایک مخصوص عظمت کا قائل ہے کیونکہ وہ تمام مسلمانوں کی نسبت زیادہ با ایثار سمجھے جاتے ہیں ۔

ایک اور ہجرت صلح حدیبیہ کے بعد نسبتاً امن وامان کے ماحول میں ہوئی کچھ مسلمانوں نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔بعض اوقات ان تمام مسلمانوں کی ہجرت شمار کیا جاتا ہے اور اسے ”ہجرت ثانیہ“ کا نام دیا جاتا ہے۔

فتح مکہ کے بعد پہلے کی سی ہجرت کا سلسلہ ختم ہوگیا یعنی مکہ سے مدینہ کی طرف آنا ختم ہوگیا اب مکہ ایک اسلامی شہر میں تبدیل ہوچکا تھا اور رسول الله سے یہ جو حدیث نقل ہوئی ہے کہ:”لاهجرة بعد الفتح “یعنی ، فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے۔یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے۔

لیکن اس گفتگو کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ اسلام نے ہجرت کی آئندہ کے لئے بالکل نفی کردی ہے جیسا کہ بعض نے خیال کر رکھا ہے بلکہ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی نفی کی گئی ہے ورنہ جب بھی مسلمانوں کے لئے پہلے مسلمانوں کے سے حالات پیدا ہوں ان کے لئے قانونِ ہجرت اپنی قوت کے ساتھ باقی ہے اور جب تک اسلام کا پوری دنیا پر قبضہ نہیں ہوجاتا یہ قانون برقرار دہے گا۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج کے مسلمان اس اہم اسلامی بنیاد کو بھلادینے کی وجہ سے زیادہ تر اپنے محیط میں بند ہیں جبکہ مسیحی مبلغ، گمراہ فرقوں کے نمائندے اور سامراجب مذاہب کے مبلغ مشرق ومغرب اور شمال وجنوب کی طرف ہجرت کرتے ہیں یہاں تک کہ یہ لوگ وحشی اور آدم خور قبائل میں جاتے ہیں بلکہ قطبِ شمال اور قطبِ جنوبی کے علاقوں میں جاتے ہیں ، درحقیقت یہ حکم تو مسلمانوں کے لئے تھا اور اس پر عمل دوسرے کررہے ہیں ۔

زیادہ تر تعجب کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے بڑے بڑے شہروں کے اطراف میں بہت سے ایسے دیہات ہیں جو بعض اوقات چند میلوں کے فاصلے پر ہونے کے باوجود اسلامی مسائل سے بے خبر ہیں اور بعض تو ایسے کہ انھوں نے کبھی اسلامی مبلغ کی صورت تک نہیں دیکھی، اسی لئے ان کا ماحول فساد کے جراثیم اور جعلی وسامراجب مذاہب کے لئے آمادہ اور تیار ہے، نہ جانے آج کے مسلمانوں نے جو مہاجرینِ اوّلین کے وراث ہیں خدا کے سامنے اس کیفیت کے لئے کیا جواب سوچ رکھا ہے۔

حالیہ دنوں میں اگرچہ اس سلسلے میں کچھ حرکت نظر آنے لگی ہے لیکن یہ ہرگز کافی ووافی نہیں ہے۔

بہرحال تاریخ اور مسلمانوں کی سرنوشت میں ہجرت کا موضوع اور اس کے نقوش اس سے کہیں زیادہ اہم ہیں کہ اس اختصار سے اس کے تمام پہلووں کا مطالعہ اور تحقیق ہوسکے۔

(تفسیر نمونہ جلد چہارم سورہ نساء آیت نمبر ۱۰۰ پر بھی اس سلسلے میں ہم کچھ باتیں کر آئے ہیں ، آئندہ بھی انشاء الله متعلقہ آیات کے ذیل میں پھر گفتگو کریں گے)

۲ ۔ صحابہ کے بارے میں مبالغہ: قرآن مہاجرینِ اوّلین کے بارے میں جس احترام اور اہمیت کا قائل ہے اس سے ہمارے کچھ اہلِ سنّت بھائیوں نے یہ مطلب نکالنا چاہیے کہ وہ حضرات آخر عمر تک کسی غلطی اور خلافِ شریعت امر کے مرتکب نہیں ہوئے، لہٰذا ان کے خیال میں بلاچون وچرا سب کو بلا استثناء محترم سمجھنا چاہیے، پھر قرآن نے بیعت رضوان وغیرہ کے واقعہ میں ان کی جو تعریف وستائش کی ہے اس کے وجہ سے وہ اس احترام میں صحابہ کو شامل سمجھتے ہیں اور عملی طور پر وہ صحابہ کو ان کے اعمال وکردار کو مدّنظر رکھے بغیر استثنائی انسان شمار کرتے ہیں اور اس طرح انھوں نے ان کے کردار پر کسی قسم کی تنقید اور بحث وتمحیص کے اپنے حق کوسلب کرلیا ہے ان میں سے المنار کے مولف مشہور مفسّر نے زیر بحث آیات کے ذیل میں شیعوں پر سخت حملہ کیا ہے کہ وہ بعض مہاجرین اوّلین پر کیوں انگلی رکھتے ہیں اور ان پر کیوں تنقید کرتے ہیں ، ان کے خیال میں شیعہ اس طرف متوجہ نہیں

نہیں کہ صحابہ کے بارے میں ایسا نظریہ رکھنا روحِ اسلام اور تاریخ اسلام سے بہت متضاد ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ صحابہ، خصوصاً مہاجرینِ اوّلین بڑی عزت واحترام کے حامل ہیں لیکن یہ احترام اس وقت ہے جب تک وہ صحیح راستے پر گامزن رہے اور انھوں نے فداکاری کی، لیکن جس روز سے صحابہ کا ایک گروہ اسلام کے حقیقی راستے سے ہٹ گیا مسلّماً ان کے بارے میں قرآن کا دوسرا فیصلہ ہوگا۔

مثلاً ہم طلحہ اور زبیر کو کیسے بری الذمہ قرار دے سکتے ہیں جنھوں نے بیعت توڑی، ایسے امام کی مخالفت کی جو اس کے علاوہ کہ رسول الله کے ارشادات کے مطابق پیشوا تھا بلکہ تمام مسلمانوں حتّیٰ کہ خود ان کی طرف سے منتخب ہوا تھا، ہم کیسے ان کے دامن سے ان ستر ہزار مسلمانوں کا خون دھوسکتے ہیں جو جنگ جمل میں مارے گئے، جو شخص کسی ایک گناہ کا خون بہادے وہ بھی دربارِ الٰہی میں کوئی عذر پیش نہیں کرسکے گا چاہے کوئی بھی ہو چہ جائیکہ اتنی کثیر تعداد کا خون۔

کیا اصولی طور پر جنگ جمل کے میدان میں حضرت علی علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو اور دوسری طرف طلحہ وزبیر اور دوسرے صحابہ جو ان کے ساتھ تھے طرفین کو بیک وقت حق پر قرار دیا جاسکتا ہے؟ کیا کوئی منطق اور عقل اس واضح تضاد کو قبول کرسکتی ہے؟ کیا ہم ایسا کرسکتے ہیں کہ تقدّس صحابہ کے نام پر آنکھیں بند گرلیں اور انھیں ہر قانون سے بالاتر سمجھ لیں ، رسول الله کے بعد تمام تر تاریخِ اسلام فراموش کردیں اور اسلامی ضابطہ ”( انّ اکرمکم عند اللّٰه اتقاکم ) “ (الله کے نزدیک زیادہ محترم وہ ہے جو زیادہ متقی ہے) کو پامال کردیں ؟ یہ کیسا غیر منطقی فیصلہ ہے؟

اصولی طور پر اس امر میں کیا مانع اور رکاوٹ ہے کہ ایک شخص یا چند اشخاص ایک دن بہشتیوں کی صف میں کھڑے ہوں اور حق کے طرفدار ہوں اور دوسرے دن دوزخیوں اور حق دشمنوں کی صف میں شامل ہوجائیں ؟

کیا سب لوگ معصوم ہیں ؟ کیا ہم نے ایسی تبدیلیاں اور اختلافاتِ نظر لوگوں کے حالات میں اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھے؟ کیا ”واقعہ ردّہ“ رسول الله کے زمانے میں رونما نہیں ہوا جبکہ اصحاب پیغمبر میں سے کچھ لوگ مرتد ہوگئے تھے؟ کیا یہ واقعہ شیعہ سنی کتب میں منقول نہیں ہے؟ کیا یہ مرتد ہونے والے صحابہ کی صف میں شامل نہیں تھے؟

زیادہ تعجب انگیز بات یہ ہے اس تضاد اور عجیب کشمکش سے بچنے کے لئے بعض نے ”اجتہاد“ کو دستاویز بنارکھا ہے، وہ کہتے ہیں طلحہ، زبیر، معاویہ، ان کے ساتھی اور ان جیسے افراد مجتہد تھے، ان سے اشتباہ اور غلطی تو ہوئی ہے لیکن ان سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا بلکہ ان اعمال کے بدلے میں وہ خدا سے اجر وثواب پائیں گے۔

واقعاً کیسی رسوا کنند منطق ہے، کیا جانشینِ پیغمبر کے خلاف قیام کرنا، عہدوپیمان توڑنا اور ہزاروں بے گناہوں کا خون بہانا وہ بھی جاہ طلبی اور مال ومقام کے حصول کے لئے ایسا پیچیدہ اور نامعلوم معاملہ ہے کہ جس کی قباحت اور برائی سے کوئی شخص با خبر نہیں ؟ کیا اتنے بے گناہوں کا خون بہانے پر بھی خدا کے ہاں سے اجر وثواب ملے گا؟

اگر اس طرح سے ہم چاہیں کہ کچھ صحابہ کو جو ایسے جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں بری الذمہ قرار دیں تو یقیناً دنیا می کوئی گنہگار باقی نہیں رہے گا اور اس منطق کے ذریعے ہم تمام قاتل اور ظالم افراد کو بری الذمہ قرار دے سکتے ہیں ۔

صابہ کے ایسے بے سوچے سمجھے فاع سے حقیقت اسلام پر حرف آتا ہے لہٰذا اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ سب کے لئے خصوصاً اصحابِ پیغمبر کے لئے ہم عزت واحترام کے قائل تو ہوں مگر اس دن تک جب تک وہ حق وعدالت اور اسلامی مشن سے منحرف نہ ہوں ۔

۳ ۔ میراث، اسلامی نظام قانون میں : جیسا کہ سورہ نساء کی تفسیر میں ہم اشارہ کرچکے ہیں زمانہ جاہلیت میں عربوں کے ہان میراث کے تین طریقے تھے، ایک نسب کا طریقہ (ان کے ہاں نسب صرف اولادِ مذکورہ کے لئے تھا، چھوٹے بچّے اور عورتیں میراث سے محروم رہتے تھے) دوسرا ان کے ہاں متبنیٰ (بے پالک) کا طریقے تھے تیسرا طریق عہدو پیمان کا تھا جسے ”ولاء“ کہا جاتا تھا۔(۱)

ابتدائے اسلام میں جبکہ ابھی میراث کا قانون نازل نہیں ہوا تھا اسی طریقے پر عمل ہوتا تھا یک جلد ہی اس کی جگہ ”اخوتِ اسلامی‘’‘ نے لے لی اور صرف مہاجرین وانصار جنھوں نے ایک دوسرے سے پیمانِ اخوت باندھ رکھا تھا ایک دوسرے کی میراث لیتے تھے، ایک عرصے کے بعد جب اسلام میں زیادہ وسعت پیدا ہوگی تومیراث نسبی اور سببی رشتہ داروں کی طرف منتقل ہوگی اور میراث کے بارے میں اخوتِ اسلامی کا حکم منسوخ ہوگیا اور میراث کا !ری اور اصلی قانون نازل ہوا کہ جس کی طرف مندرجہ بالا آیات اور سورہ احزاب کی آیہ ۶ میں ارشاد ہوا ہے، سورہ احزاب کی آیت ۶ میں ہے:( وَاٴُوْلُو الْاٴَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اٴَوْلَی بِبَعْضٍ فِی کِتَابِ اللهِ )

یہ سب چیزیں تاریخی لحاظ سے مسلم ہیں لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں لفظ ”( وَاٴُوْلُوا الْاٴَرْحَام ) “ جو محل بحث آیات میں آیا ہے مسئلہ میراث ہی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ ایک وسیع معنی کے لئے کہ میراث جس کا ایک جزء ہے۔(۲)

مختلف احتمالات ذکرکئے ہیں لیکن جو چیز مفہومِ آیت سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے یہ ہے کہ ”فتنہ“ سے مراد اختلاف وانتشار اور مسلمانوں کے عقائد کی بنیادوں کو دشمنوں کے وسوسوں کے زیرِ اثر متزلزل ہونا ہے اور ”فساد“ کے مفہوم میں ہر طرح کی بے سروسامانی اور معاشرے کے مختلف نظاموں کی خرابی شامل ہے خصوصاً بے گناہوں کے خون بہہ جانے اور بدامنی وغیرہ کے مفہوم میں شامل ہے۔

در حقیقت قرآن مجید مسلمانوں کو تنبیہ کررہا ہے کہ اگر وہ آپس میں ارتباط وتعاون اور برادری کے رشتے کو محکم اور مضبوط نہیں بنائیں گے اور دشمنوں سے تعلق اور ہمکاری ترک نہیں کریں گے تو دن بدن ان کی صفوں میں اختلاف وانتشار زیادہ ہوگا، دشمنوں کا نفوذ اسلامی معاشرے میں زیادہ ہوگا اور ان کے تباہ کن وسوسوں سے ایمان کی بنیادیں کمزور اور متزلزل ہوجائیں گی اور اس طرح سے انھیں ایک عظیم فتنہ آلے گا۔

اسی طرح محکم ومضبوط معاشرتی ارتباط اور رشتے نہ ہونے کے باعث اور ان کی صفوں میں دشمنوں کی رخنہ انندازی کے سبب طرح طرح کے مفاسد، بدامنی، خون ریزی، مال واولاد کی تباہی اور معاشرے کی بے سروسامانی کا سامانا کرنا پڑے گا اور فسادِ کبیر تمام جگہوں پر چھاجائے گا۔

پروردگارا!ہمارے اسلامی معاشرے کو بیداری عطا فرما۔

مسلمانوں کو دشمنوں کے ساتھ ربط، تعلق اور ہمکاری کے خطرات سے آگاہ فرما۔

اور خود آگاہی اور وحدتِ کلمہ کے سائے میں ہمار ے معاشرے کو ”فتنہ وفساد“ سے پاک کردے۔

____________________

۱۔ ولاء کے طریقے سے میراث کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد سوم صفحہ۲۶۶ پر تفصیل سے بحث کی جاچکی ہے۔

۲۔ میراث کے بارے میں بھی تفسیر نمونہ جلد سوم صغحہ۲۰۹ سے ۲۲۳ تک تفصیلی بحث کی جاچکی ہے۔


سورہ برائت

سورہ توبہ کے بارے میں چند اہم نکات

اس سورہ کی تفسیر شروع کرنے سے پہلے ان نکات کی طرف توجہ ضروری ہے:

۱ ۔ سورہ کا نام:

مفسّرین نے اس سورہ کے کئی نام ذکر کیے ہیں جن کی تعداد دس سے زیادہ ہے ۔ ان میں سے زیادہ مشہور یہ ہیں : برائت، توبہ اور فاضحہ۔

ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک واضح دلیل ہے ۔ ”برائت“ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس کی ابتداء پیمان شکن مشرکین سے خدا کی برائت اور بیزاری سے ہوتی ہے ۔

اسے ”توبہ“ اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں توبہ کے متعلق بہت گفتگو کی گئی ہے ۔

اس کا نام ”فاضحہ“ اس جہت سے ہے کہ اس کی مختلف آیات منافقین کی رسوائی، فضاحت اور ان کے اعمال سے پردہ اٹھانے کا سبب بنیں ۔

۲ ۔ مختصر تاریخِ نزول:

مدینہ میں رسول اللہ پر نازل ہونے والی یہ آخری سورہ ہے یا آخری سورتوں میں سے ہے اور جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں اس کی ۱۲۹ آیات ہیں ۔

اس کے نزول کی ابتداء ۹/ ہجری قمری میں بیان کی جاتی ہے ۔ سورہ کی آیات کا مطالعہ نشاندہی کرتا ہے کہ اس کا کچھ حصّہ جنگِ تبوک سے پہلے، کچھ جنگ کی تیاری کے وقت اور کچھ جنگ سے واپسی پر نازل ہوا ۔

شروع سے لے کر آیت ۲۸ تک کا حصّہ مراسم حج کا موقع آنے سے پہلے نازل ہوا اور جیسا کہ انشاء اللہ اس کی تشریح میں آئے گا اس کی ابتدائی آیات جو باقی ماندہ مشرکین سے متعلق تھیں مراسمِ حج میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے توسط سے لوگوں کو پہنچائی گئیں اور آپ(ع) نے ان کی تبلیغ فرمائی ۔

۳ ۔ مضامین و مشتملات:

یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب اسلام جزیرہ عرب میں اوج و بلندی حاصل کرچکا تھا اور مشرکین آخری شکست کھا چکے تھے ۔ اس لیے اس کے مضامین خاص اہمیت کے حامل ہیں اور اس میں حساس اور بلند امور زیر بحث آئے ہیں ۔

اس کے اہم حصّے بچے کھچے مشرکین اور بت پرستوں کے بارے میں ہیں ۔ ان سے رابطہ توڑنے کا حکم دیا گیا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ ان کے جو معاہدے تھے انہیں لغو قرار دینے کے سلسلے میں گفتگو ہے کیونکہ وہ بار بار اپنے معاہدوں کو توڑچکے تھے ۔ یہ احکام اس لیے ہیں تاکہ باقی ماندہ بت پرستی اسلامی ماحول سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے ۔

نیز اسلام نے چونکہ وسعت پیدا کرلی تھی اور دوشمنوں کی صفیں تتربتر ہوچکی تھیں لہٰذا کچھ لوگوں نے اپنے چہرے بدل لیے اور مسلمانوں کی صفوں میں داخل ہوگئے تاکہ وہ موقع ہاتھ آتے ہی اسلام پر ضرب کاری لگائیں ۔ اسی صورت حال کے پیش نظر اس سورة کا دوسرا اہم حصّہ منافقین اور ان کی سرنوشت کے بارے میں ہے ۔ اس میں مسلمانوں کو شدت سے متنبہ کیا گیا ہے اور منافقین کی نشانیاں گنوائی گئی ہیں ۔

اس سورہ کا ایک اور حصّہ راہِ خدا میں جہاد کے بارے میں ہے کیونکہ اس حساس موقع پر اس حیات بخش امر سے غافل رہنا مسلمانوں کے ضعف، پسماندگی یا شکست کا باعث ہوسکتا تھا ۔

ایک اور اہم حصّہ اس سورہ کا گذشتہ مباحث کی تکمیل کے حوالے سے ہے ۔ اس میں ان کے حقیقت توحید سے انحراف کے بارے میں گفتگو ہے اور ان کے علماء نے رہبری اور ہدایت کے فریضے سے جو رخ پھیر رکھا ہے اس سے متعلق ہے ۔

نیز کچھ آیات میں جہاد سے مربوط مباحث کی مناسبت سے مسلمانوں کو اتحاد اور اپنی صفوں کو مجتمع کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ کمزور دل اور سست قسم کے افراد جو مختلف بہانوں سے فریضہ جہاد سے کتراتے تھے انہیں شدید سرزنش اور ملامت کی گئی ہے اور اس کے برعکس پہلے مہاجرین اور دیگر سچے مومنین کی مدح و ثنا کی گئی ہے ۔

اسلامی معاشرہ اس وقت وسعت اختیار کرچکا تھا اور بھی کئی امور کی اصلاح کی ضرورت تھی اسی مناسبت سے اس سورہ میں زکوٰة سے متعلق بحث بھی ہے ۔ ذخیرہ اندوزی، ارتکازِ دولت اور خزانہ سازی سے پرہیز کا حکم دیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ تحصیلِ علم کے لازمی ہونے کا ذکر ہے اور جاہل و نادان افراد کے لیے وجوبِ تعلیم کی یاددھانی کروائی گئی ہے ۔

مندرجہ بالا مباحث کے علاوہ کچھ اور مباحث بھی ہیں مثلاً رسول اللہ کی ہجرت کا واقعہ، حرام مہنیوں کا مسئلہ جن میں جنگ کرنے کی ممانعت ہے، اقلیتوں سے جزیہ لینے کا معاملہ اور اس قسم کے دیگر مسائل کسی مناسبت سے بیان ہوئے ہیں ۔

۴ ۔ سورہ کی ابتداء میں ”بسم اللہ“ کیوں نہیں ہے؟:

جس کیفیت میں سورہ شروع ہورہی ہے وہ خود اس سوال کا جواب ہے ۔ در حقیقت اس سورہ کا آغاز پیمان شکن دشمنوں سے اعلان جنگ اور اظہار بیزاری کے ساتھ ہوا ہے اور ان کے خلاف ایک محکم اور سخت روش اختیار کی گئی ہے اور اس گروہ کے بارے میں خدا کے غیض و غضب کو بیان کیا گیا ہے ۔ لہٰذا یہ صورت حال ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ سے مناسبت نہیں رکھتی جو صلح، دوستی، محبت،خدا کی رحمانیت و رحمیت کا اظہار ہے ۔ یہ بات ایک روایت میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے ۔(۱)

بعض حضرات کا نظریہ ہے کہ یہ سورت در حقیقت سورہ انفال کا تسلسل ہے کیونکہ سورہ انفال میں عہد و پیمان کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے اور اس سورہ میں پیمان شکنوں کے معاہدوں کو لغو قرار دینے کی بات کی گئی ہے لہٰذا ان دو کے درمیان ”بسم اللہ“ نہیں آئی ۔ اس سلسلے میں امام صادق علیہ السلام سے ایک روایت بھی منقول ہے ۔(۲)

۱ ۔ مرحوم طبرسی حضرت علی علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں :

لم تنزل بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم علیٰ راٴس سورة برآئة، لانّ بسم اللّٰه للاٴمان و الرحمة و نزلت برآئة لرفع الاٴمان و السیف فیه

اس سورہ کی ابتداء میںبسم الله الرحمن الرحیم کے نازل نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ بسم اللہ امان ورحمت کے لیے ہے اور یہ سورہ امان کے خاتمے اور تلوار اٹھانے کے لیے ہے ۔

۲ ۔ مرحوم طبرسی نے امام صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے:”الانفال و برآئة واحدة

انفال اور برائت ایک ہی سورہ ہے ۔

اس میں کوئی ما نع نہیں کہ ”بسم اللہ“ کے ترک کرنے کی دونوں علتیں ہوں جن میں سے ایک کی طرف پہلی روایت میں اور دوسری کی طرف دوسری روایت میں اشارہ ہوا ہے ۔

۵ ۔سورہ کی فضیلت اور تعمیری اثرات:

اسلامی روایات میں اس سورہ ا نفال کی تلاوت کو خاص اہمیت دی گئی ہے ۔ان میں سے ایک روایات حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے آپ(ع) نے فرمایا :

من قرء برآئة والاٴنفال فی کلّ شهر لم یدخله نفاق اٴبداً وکان من شیعة اٴمیرالمومنین حقّاً

جو شخص ہر ماہ انفال اور برائت پڑھے اس میں روحِ نفاق داخل نہیں ہوگی اور وہ امیرالمومنین کے حقیقی شیعوں میں سے ہوگا ۔

ہم نے بارہا کہا ہے کہ روایات میں مختلف سورتوں کو پڑھنے کی جو بہت زیادہ اہمیت بیان کی گئی ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ سوچ بچار کیے بغیر اور عمل کے بغیر بس پڑھ لینے ہی سے غیرمعمولی آثار مرتب ہوجائیں گے، مثلاً جو شخص برائت اور انفال کے الفاظ ان کے تھوڑے بہت معانی اور مفہوم سمجھے بغیر پڑھے یہ نہیں ہے کہ وہ نفاق سے دُور اور حقیقی شیعوں کی صف میں شامل ہوجائے گا بلکہ در حقیقت یہ روایت فر اور معاشرے کے لئے سورة کے تعمیری، اصلاحی اور تربیتی مضامین کے اثر کی طرف اشارہ ہے کہ جو معنی سمجھے بغیر اور عمل کے لئے آمادگی کے بغیر ممکن نہیں ہے ان دونوں سورتوں میں حقیقی مسلمانوں اور منافقوں کی صفوں اور ان کی زندگی کے اصلی خطوط کو واضح کیا گیا ہے اور جو عمل کے مردِ میدان ہیں نہ کہ باتوں کے ان راستے کو مکمل طور واضح کیا گیا ہے اس بناپر ان کی تلاوت ان کے مضامین سمجھنے اور عملی زندگی میں انھیں اپنانے پر ہی غیرمعمولی اثر پیدا کرسکتی ہے ۔

اور جو لوگ قرآن اور اس کی نورانی آیات کو ایک جادو اور منتر کی طرح سمجھتے ہیں درحقیقت وہ اس تربیت کنندہ اور انسان ساز کتاب سے بیگانہ اور ناواقف ہیں ۔

جن مختلف نکات کی طرف اس سورة میں اشارہ ہوا ہے ان کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:

سورہ برائت اور سورہ توحید ستر ہزار ملائکہ کی معیّت میں مجھ پر نازل ہوئیں اور ان میں سے ہر ایک دونوں سورتوں کی اہمیت کے بارے میں وصیّت کرتا تھا ۔

۶ ۔ ایک حقیقت جسے چھپانے کی کوشش ہوتی ہے:

تقریباً تمام مفسِّرین اورمورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جب یہ سورت ابتدائی آیات کے ساتھ تازل ہوئی اور اس میں ان معاہدوں کو لغو قرار دیا گیا ہے جو مشرکین نے رسول الله سے کررکھے تھے تو پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے اس فرمان کی تبلیغ کے لئے یہ سورة حضرت ابوبکر کو دی تاکہ وہ حج کے موقع پر مکہ جاکر عوام کے سامنے پڑھیں ، بعدازان یہ سورة آپ نے اُن سے لے کر حضرت علی علیہ السلام کو دے دی اور حضرت علی علیہ السلام اس تبلیغ پر مامور ہوئے اور انھوں نے مراسمِ حج تمام لوگوں کے سامنے ابلاغِ رسالت کی ۔

اس واقعہ کی اگرچہ مختلف جزئیات اور شاخیں بیان کی گئی ہیں لیکن اگر ہم ذیل کے چند نکات کی طرف توجہ کریں تو ہم حقیقت واضح ہوجائے گی:

۱ ۔ احمد بن حنبل کی روایت:

اہل سنت کے مشہور امام احمد بن حنبل اپنی کتاب ”مسند “میں ابن عباس سے نقل کرتے ہیں :

رسول الله نے فلاں شخص (مراد حضرت ابوبکر ہیں جیسا کہ آئندہ روایات میں واضح ہوگا) کو بھیجا اور اسے سورہ توبہ دی (تاکہ حج کے موقع پر وہ اسے لوگوں تک پہنچائے) پھر علی(ع) کو اس کے پیچھے بھیجا اور وہ سورہ اس سے لے لی اور فرمایا:

لاتذهب بها اللا رجل منّی واٴنا منه

اس سورہ کی تبلیغ صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ۔(۱)

۲ ۔ احمد بن حنبل کی ایک اور روایت:

اسی کتاب میں انس بن مالک سے منقول ہے:

رسول الله نے ابوبکر کو سورہ برائت کے ساتھ بھیجا لیکن جب وہ ”ذی الحلیفہ“ (جس کا دوسرا نام مسجد شجرہ ہے جو مدینہ سے ایک فرسخ پر واقع ہے) پہنچے تو فرمایا:”لاتبلغها الا اٴنا اٴو رجل اهل بیتی فبعث بها مع علی

اس سورہ کا ابلاغ سوائے میرے یا اس شخص کے جو میرے اہلِ بیت میں سے ہو کوئی نہیں کرسکتا، پھر آپ نے وہ سورہ علیٰ کو دے کر بھیجا ۔(۲)

۳ ۔ ایک مزید روایت:

اسی کتاب میں ایک اور سند کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ جب رسول الله نے سورہ برائت ان کے ساتھ بھیجی تو آپ نے عرض کیا: میں خطیب نہیں ہوں ۔

سول الله نے فرمایا: اس کے بغیر چارہ نہیں کہ میں اسے لے کر جاوں یا تم۔

حضرت علی علیہ السلام نے کہا: جب معاملہ اس طرح ہے تو پھر میں لے کر جاتا ہوں ۔

اس پر رسول الله نے فرمایا:”انطلق فانّ الله یثبت لسانک ویهدی قلبک

جاوخدا تمھاری زبان کو ثابت رکھے گا اور دل کو ہدایت کرے گا ۔

پھر رسول الله نے اپنا ہاتھ علی(ع) کے منھ پر رکھا (تاکہ اس کی برکت سے ان کی زبان گویا اور فصیح ہو)(۳)

۴ ۔ خصائص نسائی کی روایت:

اہل سنت کے مشہور امام نسائی اپنی کتاب ”خصائص“ میں زید بن سبیعسے ایک روایت نقل کرتے ہیں جو حضرت علی علیہ السلام کے حوالے سے بیان کرتے ہیں :

رسول الله نے سورہ برائت ابوبکر کے سے ساتھ اہلِ مکہ کی طرف بھیجی پھر انھیں (حضرت علی(ع) اُن کے پیچھے بھیجا اور کہا: ا س سے خط لے لو، علی(ع) نے راستے میں ابوبکر کو جالیا اور ان سے خط لے لیا، ابوبکر محزون ومغموم واپس ہوئے اور پیغمبر سے عرض کی: ”اٴنزل فیّ شیء “ (کیا میرے بارے میں کوئی آیت نازل ہوئی ہے کہ آپ نے مجھے معزول کردیا ہے؟)

رسول الله نے فرمایا: نہیں اور مزید فرمایاکہ:”الآ انّیٰ امرت اٴن اٴبلغه اٴنا اٴو رجل من اٴهل بیتی

(مگر یہ کہ مجھے مامور کیا گیا ہے کہ میں خود تبلیغ کروں یا میرے اہل بیت میں سے کوئی مرد تبلیغ کرے ۔(۴)

۵ ۔ نسائی کی ایک اور روایت:

نسائی نے خصائص میں اور سند کے ساتھ عبدالله بن ارقم سے یوں نقل کیا ہے:

رسول الله نے سورہ برائت حضرت ابوبکر کے ساتھ بھیجی جب وہ کچھ راستہ طے کرچکا تو علی(ع) کو بھیجا اور انھوں نے ابوبکر سے سورت لے لی اور اسے اپنے ساتھ (مکہ کی طرف) لے گئے اورابوبکر نے اپنے دل میں ایک طرح کی پریشانی محسوس کی (اور خدمتِ پیغمبر میں پہنچے تو) رسول الله نے فرمایا:”لاودّی عنّی الّا اٴنا ورجلٌ منّی(۵)

۶ ۔ ابک کثیر کی روایت:

مشہور عالم ابن کثیر اپنی تفسیر میں احمد بن حنبل سے اور وہ حنش سے اور وہ حضرت علی علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں :

جس وقت سورہ برائت کی دس آیات رسو ل الله پر نازل ہوئیں تو آپ نے ابوبکر کو بلایا اور انھیں آیات کی تلاوت کے لئے اہلِ مکہ کی طرف بھیجا، پھر آپ نے کسی کو بھیج کومجھے بلوایا اور فرمایا ابوبکر کے پیچھے جاو اور جہاں کہیں بھی اس سے جا ملو اس سے خط لے لو---- ابوبکر، پیغمبر کی طرف آئے اور پوچھا کہ کیا میرے بارے میں کوئی چیز نازل ہوئی ہے؟ پیغمبر نے فرمایا: نہیں ”ولٰکن جبرئیل جائنی فقال لن یوٴدی الّا اٴنت اٴو رجل منک “ (لیکن جبرئیل میرے پاس آئے ہیں اور انھوں نے کہا ہے کہ یہ ذمہ داری آپ )یا وہ مرد جو آپ سے ہے کے علاوہ کوئی اور ادا نہیں کرسکتا) ۔(۷)

۷ ۔ ابن کثیر کی ایک اور روایت:

بعینہ یہی مضمون ابن کثیر نے زید بن یسیغ سے بھی نقل کیا ہے ۔(۸)

۸ ۔ ایک روایت مزید:

اہلِ سنت کے اسی عالم (ابن کثیر) ہی نے اس حدیث کو دوسری سند سے حضرت ابوجعفر محمد(ع) بن علی(ع) بن حسین(ع) بن علی(ع) (امام باقر(ع) سے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے ۔(۹)

۹ ۔ علامہ ابن اثیر کی روایت:

اہلِ سنت کے ایک اور عالم علامہ ابن اثیر نے ”جامع الاصول“ میں ترمذی کی وساطت سے انس بن مالک سے نقل کیا ہے:

رسول الله نے سورہ برائت ابوبکر کے ساتھ روانہ کی، پھر انھیں بلایا اور فرمایا:

لاینبغی لاٴحدٍ اٴن یبلغ هٰذه الّا رجل من اهلی، فدعا علیّاً فاٴعطاه ایّاه

کسی کے لئے مناسب نہیں کہ اس سورہ کی تبلیغ کرے مگر وہ شخص جو میر ے اہل بیت میں سے ہو۔

۱۰ ۔ محب الدین طبری کی روایت:

اہل سنّت کے عالم محب الدین طبری اپنی کتاب ”ذخائر العقبیٰ“ میں ابو سعید یا ابوہریرہ سے نقل کرتے ہیں :

رسول الله نے ابوبکر کو امر حج کی نظارت پر مامور کیا، جس وقت وہ ضجنان کے مقام پر پہنچے تو علی(ع) کے اونٹ کی آواز سنی اور انھیں پہچان لیا اور سمجھ لیا کہ وہ انہی کی تلاش میں آئے ہیں اور کہا کہ آپ کس لئے آئے ہیں ؟ انھوں نے کہا: خیریت ہے، رسول الله نے سورہ برائت کو میرے ساتھ بھیجا ہے، اس وقت ابوبکر واپس آگئے (اور پیغام رسانی کی اس تبدیلی کا اظہار کیا) تو رسول الله نے فرمایا:”لایبلغ عنّی غیری اٴو رجل منّی یعنی علیّاً

میری طرف سے میرے علاوہ کوئی تبلیغ نہیں کرسکتا مگر وہ شخص جو مجھ سے ہے آپ کی مراد علی(ع) تھے ۔(۱۰)

دوسری روایت میں تصریح ہوئی ہے کہ رسول الله نے اپنا اونٹ حضرت علی علیہ السلام کو دیا تاکہ اس پر سوار ہوکر آپ مکہ جائیں اور اس دعوت کی تبلیغ کریں ، اثنائے راہ میں جب ابوبکر نے اونٹ کی سنی تو پہچان لیا ۔

یہ روایات اور مندرجہ بالا حدیث در اصل ایک ہی مطلب پیش کرتی ہیں اور وہ یہ کہ اونٹ خود پیغمبر اکر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کا تھا جو اس موقع پر حضرت علی علیہ السلام کو دیا گیا تھا کیونکہ ان کی ذمہ داری نہایت اہم تھی ۔

اہل سنت کی دوسری بہت سی کتب میں یہ حدیث بعض اوقات مسند اور گاہے مرسل نقل ہوئی ہے، اور یہ ایسی حدیث ہے جس کی اصل میں کسی نے اعتراض نہیں کیا ۔

بعض روایات کے مطابق جو طرق اہل سنت سے وارد ہوئی ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ حضرت ابوبکر جب ان آیات کی تبلیغ کے منصب سے معزول ہوئے تو ”امیر لحاج “ کی حیثیت سے مکہ آئے اور وہ حج کے معاملے پر نگران تھے ۔

____________________

۱۔ مسند احمد ، ج۱، ص۲۳۱، طبع مصر-

۲۔ مسند احمد ، ج۳، ص۲۱۲، طبع مصر-

۳۔ مسند احمد بن جنل، ج۱، ص۱۵۰-

۴۔ خصائص نسائی، ص۲۸-

۵۔ خصائص نسائی، ص۲۸-

۶۔ تفسیر ابن کثیر ج۲، ص۳۲۲-

۷۔ تفسیر ابن کثیر ج۲، ص۳۲۲-

۸۔ تفسیر ابن کثیر ج۲، ص۳۲۲-

۹۔ جامع الاصول، ج۹، ص۴۷۵-

۱۰۔ ذخائر العقبیٰ، ص۶۹-


توضیح اور تحقیق

یہ حدیث حضرت علی علیہ السلام کی ایک عظیم فضیلت ثابت کرتی ہے، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس قسم کی دوسری احادیث کی طرح یہ بھی سردمہری کا شگار ہوگئی ہے، بعض لوگوں کی کوشش ہے کہ اس کی قیمت بالکل گرادیں یا اس کی اہمیت کم کردیں ، اس کے لئے انھوں نے اِدھر اُدھر بہت ہاتھ پاوں مارے ہیں ، مثلاً:

۱ ۔ کبھی مولف المنار کی طرح احادیث میں صرف وہ حصّہ بیان کی گیا ہے جس میں مراسمِ حج پر حضرت ابوبکر کی نظارت سے گفتگو ہے لیکن حضرت ابوبکر سے سورہ برائت لینے کے بارے میں اور وہ گفتگو جو رسول الله نے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں کی ہے سے متعلق خاموشی اختیار کی ہے حالانکہ ان احادیث میں سے اگر بعض اس بارے میں خاموش ہیں تو یہ بات اس امر کی دلیل نہیں بنتی کہ جو احادیث اس سلسلے میں بحث کرتی ہیں ان سب کو نظر انداز کردیا جائے، تحقیقی روش کا تقاضا ہے کہ وہ تمام احادیث پر توجہ دیں چاہے وہ ان کے میلان اور پہلے سے کئے گئے فیصلے کے برخلاف کیوں نہ ہوں ۔

۲ ۔ کبھی کچھ حضرات ان میں سے بعض احادیث کی سند کو ضعیف قرار دیتے ہیں مثلاً وہ حدیث جو سماک اور حنش تک جا پہنچی ہے (اس سلسلے میں بھی مفسّر مذکور کا نام بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے) حالانکہ اس حدیث کے ایک یاد دہی کے طریق سے سند تو نہیں اور اس کے راوی سماک اور حنش پر ہی منحصر نہیں بلکہ یہ حدیث متعدد طرقف سے ان کی معتبر کتب میں آئی ہے ۔

۳ ۔ کبھی بعض لوگ متنِ حدیث کے بارے میں تعجب انگیز توجیہیں کرتے ہیں مثلاً کہتے ہیں اگر رسول الله نے سورہ کی تبلیغ کا حکم حضرت علی(ع) کو دیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ عربوں یہ رسم تھی کہ معاہدے کو لغو قرار دینے کا اعلان خود متعلقہ شخص کرے یا اس کے خاندان کاکوئی فرد۔

حالانکہ اوّل تو متعدد طرقِ حدیث میں تصریح ہوئی ہے کہ رسول الله نے فرمایا کہ جبرئیل میرے لئے یہ حکم لے کر آیا ہے کہ یا مجھے یہ حکم دیا گیا ہے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس حدیث کے بعض طرق میں جو سطور بالا میں ذکر ہوئے ہیں ہم پڑھتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:اگر تم یہ کام نہ کرو تو پھر مجھے خود یہ کام کرنا پڑے گا ۔

تو کیا پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے چچا آپ کے رشتہ داروں میں سے کوئی اور مسلمانوں میں موجود نہیں تھا کہ اگر علی(ع) نہ جاتے تو پھر خود پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم ہی یہ اقدام کرتے ۔

تیسری بات یہ ہے کہ خود اس امر کے لئے کہ یہ عربوں کی رسم تھی کہ انھوں نے کسی قسم کا کوئی مدرک، حوالہ یا دلیل پیش نہیں کی ۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ حدیث میں توجیہ کے لئے اپنے میلان کے مطابق تخمینے قائم کئے ہیں ۔

چوتھی بات یہ ہے کہ اس حدیث کے بعض معتبر طرق میں ہے:”لایذهببها الّا رجل منّی واٴنا منه

اسے کوئی نہیں لے جاسکتا مگر میں یا جو مرد مجھ سے ہو۔

یہ اور اس جیسے اور جملے جو متنِ روایات میں موجود ہیں نشاندہی کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم ، حضرت علی علیہ السلام کو اپنی طرح اور اپنے آپ کو ان کی طرح جانتے تھے (جیسا کہ آیہ مباہلہ میں آیا ہے)

جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر تعصبات اور پہلے سے کئے گئے فیصلے اور ذہنوں میں بٹھائے گئے عقائد ایک طرف کردیئے جائیں تو رسول الله نے اس مقام سے تمام صحابہ پر علی(ع) کی فضیلت وبرتری کو مشخص ومعیّن کیا ہے ”وانّ هٰذا الّا بلاغ “۔


آیات ۱،۲

۱( بَرَائَةٌ مِنْ اللهِ وَرَسُولِهِ إِلَی الَّذِینَ عَاهَدتُّمْ مِنَ الْمُشْرِکِینَ )

۲( فَسِیحُوا فِی الْاٴَرْضِ اٴَرْبَعَةَ اٴَشْهُرٍ وَاعْلَمُوا اٴَنَّکُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللهِ وَاٴَنَّ اللهَ مُخْزِی الْکَافِرِینَ )

ترجمہ

۱ ۔ خدا اور اس کے رسول کا یہ اعلانِ بیزاری ان مشرکین کے لئے ہے جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا ۔

۲ ۔ اس کے باوجود چار ماہ (تک تمھیں مہلت ہے کہ) زمین میں (آزادانہ) چلو پھرو (اور جہاں چاہو جاو اور جو چاہو سوچ بچار کرو) اور جان لو کہ تم خدا کو عاجز وناتواں نہیں کرسکتے (اور اس کی قدرت سے فرار نہیں کرسکتے اور یہ بھی جان لو کہ) خدا کافروں کو ذلیل وخوار کرنے والا ہے ۔

مشرکین کے معاہدے لغو ہوجاتے ہیں

دعوتِ اسلام کے گرد وپیش مختلف گروہ موجود تھے جن میں سے ہر ایک کے ساتھ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم اس کے حالات مدنظر رکھ کر سلوک کرتے تھے ۔

ایک گروہ ایسا تھا کہ جس کا پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے کوئی پیمان نہ تھا اور رسول الله کا بھی اس سے کوئی عہد وپیمان نہ تھا ۔

کچھ دوسرے گروہوں نے حدیبیہ وغیرہ میں رسول الله سے دشمنی کا ترک کرنے کا پیمان باندھ لیا تھا، ان معاہدوں میں سے بعض تو معیہ مدت کے حامل تھے اور بعض کی کوئی مدت نہ تھی ۔

اس دوران بعض قبائل کہ جنھوں نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے پیمان باندھا تھا یک طرفہ طور پر بغیر کسی جواز اور وجہ کے اسلام دشمنوں سے واضح طور پر تعاون کرکے اپنے معاہدے توڑدیئے تھے یا رسول اسلام کو ختم کرنے کے درپے ہوگئے تھے، مثلاً بنی نضیر اور بنی قریظہ کے یہودیوں نے یہی طرزِ عمل اختیار کرلیا تھا، رسول الله نے بھی ان کے مقابلے میں شدّت عمل کا رویہ کا اختیار کرلیا تھا اور ان تمام کو مدینہ سے نکال باہر کیا لیکن کچھ معاہدے ایسے تھے جو ابھی تک پوری طرح باقی تھے چاہے وہ محدودیت والے ہوں یا بغیر مدت کے تعین کے ۔

زیرِ نظر پہلی آیت تمام بت پرستوں کے لئے اعلان کرتی ہے کہ ان کا مسلمانوں سے جو معاہدہ ہے وہ لغو ہوگیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: خدا اور اس کے پیغمبر کا یہ اعلانِ بیزاری ان مشرکین سے ہے کہ جن کے ساتھ عہد وپیمان باندھا تھا( بَرَائَةٌ مِنْ اللهِ وَرَسُولِهِ إِلَی الَّذِینَ عَاهَدتُّمْ مِنَ الْمُشْرِکِینَ ) ۔

اس کے بعد انھیں چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ اس مدت میں سوچ بچار کرلیں اور اپنی کیفیت کو واضح کرلیں اور چاہ ماہ بعد یا تو بت پرستی کے مذہب سے دستبردار ہوجائیں یا جنگ کے لئے تیار ہوجائیں ، فرمایا گیا ہے: ”چار ماہ آزادانہ طور پر زمین پر جہاں چاہو چلو پھر“ لیکن اس کے بعد حالات مختلف ہوجائیں گے( فَسِیحُوا فِی الْاٴَرْضِ اٴَرْبَعَةَ اٴَشْهُرٍ ) ۔(۱)

”لیکن یہ جان لو کہ تم خدا کو ناتواں اور عاجز نہیں کرسکتے اور نہ اس کی قدرت کی قلمرو سے نکل سکتے ہو“( وَاعْلَمُوا اٴَنَّکُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللهِ ) ۔

نیز یہ بھی جان لوکہ بالآخر خد کو کفار مشرکین اور بت پرستوں کو ذلیل وخوار اور رسوا کرے گا“( وَاٴَنَّ اللهَ مُخْزِی الْکَافِرِینَ ) ۔

____________________

۱۔ ”سیحوا“ ”سیاحت“ کے مادہ سے ہے اس کا معنی ہے اطمینان سے چلنا پھرنا اور گردش کرنا ۔


چند قابلِ توجہ نکات

۱ ۔ کیا یک طرفہ طور پر معاہدہ کالعدم کردیا صحیح ہے؟

ہم جانتے ہیں کہ اسلام میں ایفائے عہد اور معاہدوں کی پابندی کو خاص اہمیت دی گئی ہے، ان حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم یہ حکم دے رہا ہے کہ مشرکین سے کیا گیا معاہدہ یکطرفہ طور پر فسخ ہوگیا ہے ۔

ذیل کے امور کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے:

پہلی بات تو یہ ہے کہ جیسے اسی سورہ کی آیت ۷ اور ۸ میں تصریح ہوئی ہے کہ بلاوجہ اور بلاوجہ تمہید معاہدوں کو اسی طرح لغو قرار نہیں دیا گیا تھا بلکہ ان کی طرف معاہدہ توڑنے کے واضح قرائن اور نشانیاں موجود تھیں اور وہ اس بات پر تیار تھے کہ طاقت حاصل ہونے کی صورت میں مسلمانوں سے کئے گئے معاہدوں کی ذرّہ بھر پرواہ کئے بغیر ان پر کاری ضرب لگائیں ۔

یہ بات بالکل منطقی ہے کہ اگر انسان دیکھے گا کہ دشمن اپنے آپ کو عہد شکنی کے لئے تیار کررہا ہے اور اس کے اعمال میں ایسی کافی علامات اور قرآئن نظر آرہے ہوں تو اس سے پہلے کہ وہ غفلت میں پکڑا جائے معاہدے کی منسوخی کا اعلان کرکے اس کے مقابلے میں کھڑا ہوجائے گا ۔

دوسری بات یہ ہے کہ جو معاہدے خاص حالات میں کسی قوم یا ملت پر ٹھونسے اور وہ انھیں قول کرنے پر مجبور ہو تو کیا حرج ہے کہ طاقت حاصل ہونے کے بعد ایسے معاہدے یک طرف طور پر لغو کردے ۔

بت پرستی کوئی دین تھا نہ کوئی عاقلانہ فکر بلکہ ایک بیہودہ، موہوم اور خطرناک روش تھی کہ جسے آخرکار معاشرے سے ختم کیا جانا تھا، اب اگر بت پرستوں کی طاقت ابتداء میں جزیرہ عرب میں اس قدر تھی کہ پیغمبر اسلام مجبور تھے کہ ان سے صلح اور عہد وپیمان کریں تو یہ اس امر کی دلیل نہیں کہ طاقت کے حصول کے بعد ہوئے عہد وپیمان کو جو منطق، عقل اور درایت کے خلاف ہیں وہ قائم رہیں ، یہ بالکل اس طرح ہے کہ طاقت کے ایک عظیم مصلح گاو پرستوں ں میں ظاہر ہو اور اس طریقے کو ختم کرنے کے لئے وسیع تبلیغات شروع کرے اور جب دباؤ میں ہو تو مجبوراً ان سے ترکِ مخاصمت اور ترک جنگ کا معاہدہ کرے لیکن جب اس کے کافی پیروکار ہوجائیں تو قیام کرے اور کہنہ افکار کو صاف کرنے کے لئے فعّالیت کرے اور اپنے معاہدے کے منسوخ ہونے کا اعلان کردے ۔

اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کم صرف مشرکین کے ساتھ مخصوص تھا اور اہلِ کتاب یا دیگر قوّتیں جو جزیرہ عرب کے اطراف میں آباد تھیں ان سے کئے گئے معاہدوں کا رسول الله کی آخر عمر تک احترام کیاگیا ۔

علاوہ ازیں ہم دیکھتے ہیں کہ مشرکین کے معاہدوں کو غفلت کی حالت میں منسوخ نہیں کردیا گیا بلکہ انھیں چار مہینوں کی مہلت دی گئی اور حجاز کے عوامی اجتماع کے مرکز میں عید قربان کے دن خانہ کعبہ کے پاس اس امر سے تمام لوگوں کو باخبر کیا گیا تاکہ انھیں غوروفکر کرنے کے لئے زیادہ سے مہلت اور موقع مل جائے اور شاید اس طرح وہ اس ے بیہودہ مذہب سے دستبردار ہوجائیں جو پس ماندگی، طراکندگی، جہالت اور خباثت کا سبب ہے، خداتعالیٰ ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ انھیں غفلت میں رکھے اور ان سے فکرونظر کی مہلت سلب کرلے یہاں تک کہ اگر وہ اسلام قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوں تو انھیں اپنے دفاع کے لئے قوت وطاقت مہیا کرنے کے لئے کافی وقت دیاجائے تاکہ وہ ایک عادلانہ جنگ میں گرفتار نہ ہوجائیں ۔

اگر پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم تربیت اور اصولِ انسانی کو ملحوظ نہ رکھتے تو چار ماہ کی مہلت دے کر کبھی دشمن کو بیدار نہ کرتے اور جنگی طاقت مہیا کرنے اور تیاری کے لئے انھیں کافی وقت نہ دیتے بلکہ کسی ایک دن یک طرفہ طور پر معاہدہ توڑکر بغیر کسی تمہید کے ان پر حملہ کرکے ان کی بساط اُلٹ دیتے ۔

اسی بناپر ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے بت پرستوں نے ان چار ماہ کی مہلت سے فائدہ اٹھایا اور اسلامی تعلیمات کا زیادہ مطالعہ کرکے آغوش اسلام میں آگئے ۔

۲ ۔ یہ چار مہینے کب سے شروع ہوئے؟

اس سوال کے جواب میں مفسّرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن جو کچھ مندرجہ بالا آیات سے ظاہر ہوتا ہے یہ ہے کہ ان کی ابتداء اس وقت ہوئی جب سے یہ اعلان عام لوگوں کے سامنے پڑھا گیا اور ہم جانتے ہیں کہ یہ عید قربان کے روز دس ذ الحجہ کو پڑھا گیا تھا، اس بناپر اس کی مدت اگلے سال کے ماہ ربیع الثانی کی دس تاریخ کو ختم ہوئی تھی، امام صادق علیہ السلام سے جو روایت نقل ہوئی ہے وہ بھی اس مطلب کی تائید کرتی ہے ۔(۱)

____________________

۱۔ تفسیرز برہان، ج۲، ص۱۰۳-


آیات ۳،۴

۳( وَاٴَذَانٌ مِنْ اللهِ وَرَسُولِهِ إِلَی النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاٴَکْبَرِ اٴَنَّ اللهَ بَرِیءٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ وَرَسُولُهُ فَإِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَکُمْ وَإِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوا اٴَنَّکُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللهِ وَبَشِّرِ الَّذِینَ کَفَرُوا بِعَذَابٍ اٴَلِیمٍ )

۴( إِلاَّ الَّذِینَ عَاهَدتُّمْ مِنَ الْمُشْرِکِینَ ثُمَّ لَمْ یَنقُصُوکُمْ شَیْئًا وَلَمْ یُظَاهِرُوا عَلَیْکُمْ اٴَحَدًا فَاٴَتِمُّوا إِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلیٰ مُدَّتِهِمْ إِنَّ اللهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِینَ )

ترجمہ

۳ ۔ یہ آگاہی ہے خدا اوراس کے پیغمبر کی طرف سے (تمام) لوگوں کو حجِ اکبر (عید قربان) کے دن کہ خدا اور اس کا رسول مشرکین سے بے آزار ہے، ان حالات میں اگر توبہ کرو تو تمھارے نفع میں ہے اور اگر روگردانی کرو تو جان لو کہ تم خدا کو ناتواں اورعاجز نہیں کرسکتے (اور اس کی قدرت کی قلمرو سے نہیں نکل سکتے) اور کافروں کو دردناک سزا اور عذاب کی خوشخبری دے ۔

۴ ۔ مگر مشرکین میں سے وہ لوگ جن سے تم نے معاہدہ کیا ہے اور اس میں ان سے کوئی فروگذاشت نہیں ہوئی اور تمھارے خلاف انھوں نے کسی کو تقویت نہیں پہنچائی ان کا معاہدہ اس کی مدت ختم ہونے تک محترم شمار کرو کیونکہ خد اپرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے ۔

جن کا معاہدہ قابلِ احترام ہے

ان آیات میں مشرکین کے معاہدوں کے منسوخ ہونے کی بات بہت زیادہ تاکید کے سات دہرا گئی ہے، یہاں تک کہ قرآن انھیں آگاہ کرنے کی تاریخ بھی معین کرتے ہوئے کہتا ہے: یہ آگاہی خدا اور اس کے رسول کی طرف سے تمام لوگوں کو حجِ اکبر کے دن کہ خدا اور اس کا رسول مشرکین سے بیزار ہیں( وَاٴَذَانٌ مِنْ اللهِ وَرَسُولِهِ إِلَی النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاٴَکْبَرِ اٴَنَّ اللهَ بَرِیءٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ وَرَسُولُهُ ) ۔(۱)

در حقیقت خدا چاہتا ہے کہ سرزمین مکہ میں اس عظیم دن میں عمومی اعلان کے ذریعے دشمن کے لئے بہانہ جوئی کے تمام راستے بند کردے اور بدگوئی کرنے والوں اور فسادیوں کی زبان کاٹ د ے تاکہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمیں غفلت میں رکھا گا اور ہم پر بزدلانہ حملہ کردیا گیا ہے ۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ ”إِلَی الْمُشْرِکِینَ“ کے بجائے ”إِلَی النَّاسِ“ کی تعبیر استعمال ہوئی ہے، یہ نشاندہی کرتی ہے کہ ضروری تھا کہ وہ تمام لوگوں جو اس دن مکہ میں تھے یہ پیغام سن لیں کہ مشرکین کے علاوہ دوسرے بھی اس امر پر گواہ ہوں ۔

اس کے بعد روئے سخن خود مشرکین کی طرف کرتے ہوئے تشویق وتہدید کے ذریعے ان کی ہدایت کی کوشش کی گئی ہے ۔

پہلے ارشاد ہوتا ہے: اگر توبہ کرلو اور خدا کی طرف پلٹ او اور بت پرستی کے مذہب سے دستبردار ہوجاو تو تمھارے فائدے میں ہے( فَإِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَکُمْ ) یعنی دینِ توحید کو قبول کرنا تمھارے لئے، تمھارے معاشرے کے لئے اور تمھاری دنیا وآخرت کے لئے فائدہ مند ہے اور اگر اچھی طرح سوچ بچار کرلو تو اس کے سائے میں تمھاری تمام بے سرد و سامانیاں ختم ہوجائیں گی اور یہ نہیں کہ اس میں خدا اور اس کے رسول کا کوئی فائدہ ہے ۔

اس کے بعد متعصب اور ہٹ دھرم مخالفین کو تنبیہ کے طور پر کہا گیا ہے: اگر اس فرمان سے جو خود نہیں نکل سکتے( وَإِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوا اٴَنَّکُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللهِ ) اور اس آیت کے آخر میں ان لوگوں کو جو مقابلے کی سرتوڑ کوشش کرتے ہیں خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے: بت پرست کافروں کو دردناک عذاب کی بشارت دے( وَبَشِّرِ الَّذِینَ کَفَرُوا بِعَذَابٍ اٴَلِیمٍ )

جیسا کہ پہلے اشارہ کیا جاچکا ہے یہ ان مشرکین کے معاہدوں کو یک طرف طور پر منسوخ کیا گیا تھا جن سے معاہدہ شکنی پر آمادگی کی نشانیاں ظاہر ہوچکی تھیں ، لہٰذا بعد والی آیت میں ایک گروہ کو مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: مگر مشرکین کا وہ گروہ کہ جس سے تم نے معاہدہ کیا ہے اور اس نے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی اور اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی اور نہ ہی تمھارے کسی مخالف کو انھوں نے تقویت پہنچائی ہے( إِلاَّ الَّذِینَ عَاهَدتُّمْ مِنَ الْمُشْرِکِینَ ثُمَّ لَمْ یَنقُصُوکُمْ شَیْئًا وَلَمْ یُظَاهِرُوا عَلَیْکُمْ اٴَحَدًا ) ۔ ”معاہدے کی مدت کو تمام ہونے تک اس گروہ کے ساتھ ایفا کرو“( فَاٴَتِمُّوا إِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلیٰ مُدَّتِهِمْ ) ”کیونکہ خدا پرہیزگاروں کو اور انھیں جو ہر قسم کی پیمان شکنی اور تجاوز سے اجتناب کرتے ہیں دوست رکھتا ہے“( إِنَّ اللهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِینَ ) ۔

چند قابلِ توجہ نکات

۱ ۔ حج اکبر کونسا دن ہے؟

بعض مفسّرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ حج اکبر سے مراد کونسا دن ہے اور بہت سی روایات جو اہل بیت(ع) سے اور اہل سنت کے طرق سے منقول ہیں ، سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے دسویں ذی الحجہ اور عید قربان کا دن مراد ہے، دوسرے لفظوں میں ”یوم النحر“ (قربانی کا دن) مراد ہے ۔

چار ماہ کی مدت کا ربیع الثانی کی دس تاریخ کوختم ہونا اس کے مطابق جو اسلامی منابع اور کتب میں آیا ہے اس پر ایک اور دلیل ہے، علاوہ ازیں عید قربان کے دن اصل میں اعمال حج کا اصلی اور بنیادی حصّہ ختم ہوجاتا ہے، اس بناپر اسے روز حج کہا جاسکتا ہے ۔

باقی رہا یہ کہ اسے ”اکبر“ کیوں کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سال تمام گروہ چاہے وہ مسلمان ہوں یا بت پرست (پرانے رواج کے مطابق) سب نے مراسمِ حج میں شرکت کی تھی لیکن یہ کام اس کے بعد بالکل موقوف ہوگیا ۔

مندرجہ بالا تفسیر جو کہ اسلامی روایات میں آئی ہے(۲) اس کے علاوہ ایک اور تفسیر بھی ہے اور وہ یہ کہ اس سے مراد مراسمِ حج ہیں مراسمِ عمرہ کے مقابلے میں کہ جسے ”حج اصغر“ کہا جاتا ہے ۔

کچھ روایات میں یہ تفسیر بھی بیان ہوئی ہے اور کوئی مانع نہیں کہ ”حج اکبر“ کہنے کی دونوں وجوہ ہوں(۳)

۲ ۔ اس روز جن چار چیزوں کا اعلان کیا گیا:

قرآن نے خدا کی مشرکین سے بیزاری کو اگرچہ اجمالی طور پر بیان کیا لیکن اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کو حکم دیا گیا تھا کہ لوگوں میں یہ چار اعلانات کردیں :

۱ ۔ مشرکین کے ساتھ معاہدے منسوخ ہوگئے ہیں ۔

۲ ۔ مشرکین آئندہ سال مراسم حج میں کرنے کا حق نہیں رکھتے ۔

۳ ۔ ننگے لوگوں کا طوان کرنا ممنوع ہے (یہ کام اس وقت مشرکین میں رائج تھا) ۔

۴ ۔ خانہ خدا میں مشرکین کا داخلہ ممنوع ہے ۔(۴)

تفسیر ”مجمع البیان“ میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے اُس سال مراسم حج میں خطبہ پڑھا اور فرمایا: (لایطوفن بالبیت عریان ولا یحجن البیت مشرک ومن کان له فهو الیٰ مدته ومن لم یکن له مدة فمدته اربعة اٴشهر ) ”آج کے بعد کوئی برہنہ خانہ خدا کا طواف نہیں کرسکتا اور کوئی بت پرست مراسم حج میں شریک نہیں ہونے کا حق نہیں رکھتا، وہ لوگ جن کا پیغمبر سے کیا ہوا معاہدہ اپنی مدت پر باقی رکھتا ہے وہ معاہدہ اپنی معیّنہ مدت تک قابل احترام ہے، وہ لوگ جن کے معاہدوں کی میعاد ختم ہوچکی ہے ان کے لئے چار ماہ کی مہلت ہے“۔

بعض دوسری روایات میں چوتھے موضوع یعنی بت پرستوں کے خانہ کعبہ میں داخل نہ ہوسکنے کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔

۳ ۔ کن کا معاہدہ وقتی تھا؟

مورخین اور بعض مفسّرین کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی کنانہ کے ایک گروہ سے ترکِ مخاصمت اور ترکِ جنگ کے معاہدے کی مدت میں نو ماہ باقی تھے اور چونکہ وہ پیمان کے وفادار رہے تھے اور انھوں نے دشمنانِ اسلام کی مدد نہیں تھی لہٰذا رسول الله نے بھی معاہدے کی مدت ختم ہونے تک اُسے نبھایا ۔(۵)

بعض دوسرے علماء نے قبیلہ بنی خزاعہ کوبھی اس گروہ کا حصّہ قرار دیا ہے کہ جس کا عہد وپیمان ایک مدت کے لئے تھا ۔(۶)

____________________

۱۔ ”وَاٴَذَانٌ ----“ کے جملہ کا عطف ”بَرَائَةٌ مِنْ اللهِ “ پر ہے، اس جملے کی ترکیب میں اور احتمالات بھی ہیں لیکن جو کچھ ہم نے کہا ہے وہ زیادہ ظاہر ہے ۔

۲۔ تفسیر نور الثقلین میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(ع) نے فرمایا:

انّما سمّی الاکبر لانّها کانت سنة حج فیها المسلمون والمشرکون ولم یحج المشرکون بعد تلک السنة “(ج۱، ص۱۸۴)

۳۔ اسی تفسیر میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(ع) نے فرمایا:”هو یوم النحر و الاصغر العمرة “(ج۲، ص۱۸۶)

۴۔ بعض روایات میں چوتھا اعلان یہ بیان گیا ہے کہ مشرکین بہشت میں داخل نہیں ہوں گے ۔

۵۔ تفسیر مجمع البیان، ج۵، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں -

۶۔ تفسیر المنار، ج۱۰، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں –


آیات ۵،۶

۵( فَإِذَا انسَلَخَ الْاٴَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِینَ حَیْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ فَإِنْ تَابُوا وَاٴَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوْا الزَّکَاةَ فَخَلُّوا سَبِیلَهُمْ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ )

۶( وَإِنْ اٴَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ اسْتَجَارَکَ فَاٴَجِرْهُ حَتَّی یَسْمَعَ کَلَامَ اللهِ ثُمَّ اٴَبْلِغْهُ مَاٴْمَنَهُ ذٰلِکَ بِاٴَنَّهُمْ قَوْمٌ لَایَعْلَمُونَ )

ترجمہ

۵ ۔ جب حرام مہینے ختم ہوجائیں تو مشرکین کو جہاں کہیں پاو قتل کردو اور انھیں قید کرلو اور ان کا محاصرہ کرو اور ہر کمین گاہ میں ان کی راہ میں بیٹھ جاو اور جب وہ توبہ کرلیں ، نماز قائم کریں اور زکات ادا کریں تو انھیں چھوڑ دو کیونکہ خدا بخشنے والا اور مہربان ہے ۔

۶ ۔ اور اگر مشرک تم سے پناہ چاہے تو اسے پناہ دو تاکہ وہ الله کا کلام سن سکے (اور اس میں غور وفکر کرسکے) پھر اسے اس کی امن کی جگہ تک پہنچادو کیونکہ وہ بے علم اور ناگاہ گروہ ہے ۔

شدّت عمل اور سختی ساتھ ساتھ

یہاں مشرکین کے لئے دی گئی چار ماہ کی مہلت ختم ہونے کے بعد مسلمانوں کی ذمہ داری بیان کی گئی ہے اور مشرکین کے بارے میں سخت ترین حکم صادر ہوا ہے ارشاد ہوتا ہے: جب حرام مہینے ختم ہوجائیں تومشرکین کو جہاں پاو قتل کردو( فَإِذَا انسَلَخَ الْاٴَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِینَ حَیْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ ) ۔(۱)

اس کے بعد حکم دیا گیا ہے: ”انھیں قتل کردو“( وَخُذُوهُمْ ) ”اور ان کا محاصذرہ کرلو“( وَاحْصُرُوهُمْ ) ۔ ”اور ہر جگہ ان کی کمین میں بیٹھ جاو اور ان کے راستے مسدود کردو“( وَاقْعُدُوا لَهُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ ) ۔(۲)

یہاں ان کے بارے میں چار سخت احکام نظر آتے ہیں :

۱ ۔ ان کے راستے مسدود کردو۔

۲ ۔ ان کا محاصرہ کرلو۔

۳ ۔ انھیں قید کرلو اور۔

۴ ۔ انھیں قتل کردو۔

ظاہراً معلوم ہوتا ہے کہ چاروں امور ایک حکم تخییری صورت میں نہیں ہیں بلکہ گرد وپیش، زمان ومکان اور لوگوں کے حالات واوضاع دیکھ کر فیصلہ کیا جانا چاہیے اور ان امور میں سے جو مناسب سمجھا جائے اس پر عمل کیا جانا چاہیے اور اگر قتل کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ کار نہ ہو تو انھیں قتل کرنا جائز ہے ۔

یہ شدید طرزِ عمل اس بناپر ہے کہ اسلام کا منصوبہ یہ ہے کہ روئے زمین پر بت پرستی کی جڑ اکھاڑ پھینکی جائے اور جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں کہ آزادی مذہب کا معاملہ یعنی دوسرے مذہب کے پیروکاروں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہ کرنا آسمانی ادیان اور اہلِ کتاب یعنی یہود ونصاریٰ وغیرہ پر منحصر ہے اور اس میں شامل نہیں ہے کیونکہ بت پرستی کوئی دین و مذہب نہیں کہ جس کا احترام کیا جائے بلکہ یہ تو پستی، بیہودگی، کجروی اور بیماری ہے جسے ہر حالت میں اور ہر قیمت پر جڑ سے نکال پھینکنا چاہیے ۔

لیکن یہ شدّت وسختی اس معنی میں نہیں کہ ان کے لئے لوٹ آنے کا راستہ ہی بند کردیا جائے بلکہ وہ جس حالت میں اور جس وقت چاہیں اپنی جہت اور نظریہ بدل سکتے ہیں لہٰذا فوراً ہی مزید حکم دیا گیا ہے: اگر وہ توبہ کریں ، حق کی طرف پلٹ آئیں ، نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں تو انھیں چھوڑ دو اور ان سے مزاحمت نہ کرو( فَإِنْ تَابُوا وَاٴَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوْا الزَّکَاةَ فَخَلُّوا سَبِیلَهُمْ ) ۔ اور اس صورت میں پھر وہ باقی مسلمانوں سے بالکل مختلف نہیں ہیں اور تمام احکام و حقوق میں ان کے ساتھ شریک ہیں کیونکہ ”خدا بخشنے والا اور مہربان ہے“ اور جو کوئی اس کی طرف پلٹ آئے وہ اسے اپنے رحمت سے نہیں دھتکارتا( إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔

ایک اور حکم کے ذریعے اگلی آیت میں اس موضوع کی تکمیل کی گئی ہے تاکہ اس میں کوئی شک وشبہ باقی نہ رہ جائے کہ اس حکم سے اسلام کا ہدف توحید اور حق وعدالت کے دین کو عام کرنا ہے نہ کہ استعمار اور استثمار اور دوسروں کے اموال اور زمینوں پر قبضہ کرنا لہٰذا فرمایا گیا ہے: اگر کوئی بت پرست تم سے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دو تاکہ وہ خدا کی بات سنے( وَإِنْ اٴَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ اسْتَجَارَکَ فَاٴَجِرْهُ حَتَّی یَسْمَعَ کَلَامَ اللهِ ) یعنی ان سے انتہائی نرمی کا سلوک کرو اور اسے سوچ بچار کا موقع دو تاکہ وہ آزادنہ طور پر تمھاری دعوت کے مختلف پہلووں کا مطالعہ کرے اب اگر اس کے دل میں نورِ ہدایت چمکا تو اسے قبول کرلے گا، مزید فرمایا گیا ہے: ”مدتِ مطالعہ ختم ہونے پر اسے اس کی جائے امان تک پہنچادو“ تاکہ اثنائے راہ میں کوئی اس سے معترض نہ ہو( ثُمَّ اٴَبْلِغْهُ مَاٴْمَنَهُ ) ۔

آخر میں اس اصلاحی حکم کی علت یوں بیان کی گئی ہے: یہ اس لئے کہ وہ بے خبر اور لاعلم گروہ ہے( ذٰلِکَ بِاٴَنَّهُمْ قَوْمٌ لَایَعْلَمُونَ ) ۔

اس بنا پر اگر علم وآگہی کے حصول کے دروازے ان پر کھل جائیں تو یہ امید ہوسکتی ہے کہ وہ بت پرستی سے جو کہ جہالت ونادانی کی پیداوار ہے نکل آئیں اور خدا اور توحید کی راہ پر گامزن ہوجائیں جو کہ علم ودانش کا تقاضا ہے ۔

شیعہ وسنی کتب میں نقول ہے:

جب بت پرستوں کے معاہدے منسوخ ہونے کا اعلان ہوگیا تو ایک بت پرست نے حضرت علی علیہ السلام سے کہا: اے فرزندِ ابوطالب! اگر یہ چار مہینے گزرجانے کے بعد ہم میں سے کوئی شخص پیغمبر سے ملاقات کرنا چاہے اور ان کے سامنے کچھ مسائل پیش کرے یا خدا کا کلام سُنے تو کیا وہ امان میں ہے؟

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: ہاں کیونکہ خدا فرماتا ہے:( وَإِنْ اٴَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ اسْتَجَارَکَ فَاٴَجِرْهُ ) (۳)

اس طرح سے پہلی آیت سے جو بہت زیادہ سخت معلوم ہوتی ہے دوسری آیت کے نرمی کے ساتھ مل کر ایک اعتدال کی صورت پیش کرتی ہے تربیت کا طریقہ یہی ہے کہ ہمیشہ سختی اور نرمی کو باہم ملایا جاتا ہے تاکہ اس سے ایک شفا بخش معجون تیار کی جائے ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ ”اشھر حرم“ سے یہاں کیا مراد ہے؟

اگرچہ بعض مفسّرین نے یہاں پر بہت کچھ کہا ہے لیکن گذشتہ آیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ظاہری مفہوم یہ نکلتا ہے کہ یہ وہی مہلت کے چار مہینے ہیں جو مشرکین کے لئے مقرر کئے گئے ہیں جن کی ابتداء دس ذی الحجہ ۹ ھ سے ہوتی ہے اور انتہا ۱۰/ ربیع الثانی ۱۰ ھ کو ہوتی ہے ، بہت سے محققین نے اسی تفسیر کو اپنایا ہے اور زیادہ اہمیت کی بات اس ضمن میں یہ ہے کہ کئی ایک روایات میں بھی اس کی تصریح ہوئی ہے ۔(۴)

۲ ۔ کیا نماز اور زکوٰة قبولیتِ اسلام کی شرط ہے؟

مندرجہ بالا ٰآات سے پہلی نظر میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بت پرستوں کی توبہ کی قبولیت کے لئے نماز اور زکوٰة ادا کرنا بھی ضروری ہے، اسی بناپر اہلِ سنت کے بعض فقہاء نے نماز اور زکوٰة ترک کرنے کو کفر کی دلیل سمجھا ہے ۔

لیکن یہ حق ہے کہ ان دو عظیم اسلامی احکام کے ذکر کا مقصد یہ ہے کہ وہ تمام مواقع جہاں اسلام کا دعویٰ مشکوک نظر آئے جیسے اُس زمانے میں بت پرستوں کے معاملے میں عام طور پر ایسا ہی تھا، وہاں ان دو عظیم فرائض کی انجام دہی کو ان کے اسلام کی نشانی سمجھا جائے ۔

یا ہوسکتا ہے کہ مراد ہو کہ نماز اور زکوٰة کو دو خدائی قوانین کے طور پر قبول کریں اور ان کے سامنے سرجھکائیں اور انھیں باقاعدہ تسلیم کریں اگرچہ عملی طور پر وہ کوتاہی کرتے ہوں ، یہ مفہوم اس لئے سمجھا گیا ہے کیونکہ ہمارے پاس بہت سے دلائل موجود ہیں کہ انسان صرف نماز اور زکوٰة ترک کرنے سے کفار کی صف میں شمار نہیں کیا جاسکتا اگرچہ اس کا اسلام بہت ہی ناقص ہوتا ہے ۔

البتہ اگر زکوٰة اسلامی حکومت کے خلاف قیام کے طور پر ہو تو وہ سببِ کفر ہے لیکن یہ ایک الگ بحث ہے جو ہمارے زیرِ بحث موضوع سے مربوط نہیں ہے ۔

۳ ۔ ایمان علم کا ثمر ہے

مندرجہ بالا آیات سے یہ نکتہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بے ایمانی کا اہم عامل جہالت ہے اور ایمان کا بنیادی سرچشمہ علم وآگہی ہے لہٰذا لوگوں کی ہدایت کے لئے ضروری ہے کہ انھیں مطالعہ اور غورو فکر کے کافی وسائل مہیا کئے جائیں تاکہ وہ راہ حق کو سمجھ سکیں نہ یہ کہ اندھا دھند اور کورانہ تقلید میں اسلام قبول کریں ۔

____________________

۱۔ ”انسلخ“ مادہ ”انسلاخ“ سے باہر جانے کے معنی میں ہے اور اس کی اصل ”سلخ الشاة“ یعنی ”اس نے بکری کا چمڑا اتارا ہے“۔

۲۔ ”مرصد“ ”رصد“ کے مادہ سے راہ یا کمین گاہ کے معنی میں ہے ۔

۳۔ تفسیر برہان، ج۲، ص۱۰۶، اور تفسیر فخر الدین رازی، ج۵، ص۲۲۶-

۴۔ تفسیر نور الثقلین، ج۲، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں اس ضمن میں چند احادیث نکل گئی ہیں ۔


آیات ۷،۸،۹،۱۰

۷( کَیْفَ یَکُونُ لِلْمُشْرِکِینَ عَهْدٌ عِنْدَ اللهِ وَعِنْدَ رَسُولِهِ إِلاَّ الَّذِینَ عَاهَدْتُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَا اسْتَقَامُوا لَکُمْ فَاسْتَقِیمُوا لَهُمْ إِنَّ اللهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِینَ )

۸( کَیْفَ وَإِنْ یَظْهَرُوا عَلَیْکُمْ لَایَرْقُبُوا فِیکُمْ إِلًّا وَلَاذِمَّةً یُرْضُونَکُمْ بِاٴَفْوَاهِهِمْ وَتَاٴْبیٰ قُلُوبُهُمْ وَاٴَکْثَرُهُمْ فَاسِقُونَ )

۹( اشْتَرَوْا بِآیَاتِ اللهِ ثَمَنًا قَلِیلًا فَصَدُّوا عَنْ سَبِیلِهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ )

۱۰( لَایَرْقُبُونَ فِی مُؤْمِنٍ إِلًّا وَلَاذِمَّةً وَاٴُوْلٰئِکَ هُمَ الْمُعْتَدُونَ )

ترجمہ

۷ ۔ مشرکین کے لئے اور اس کے رسول کے ہاں کس طرح عہدو پیمان ہوگا (جبکہ وہ بارہا اپنا معاہدہ توڑنے کے لئے تیار ہوگئے ہیں ) مگر وہ کہ جن کے ساتھ تم نے مسجد الحرام کے پاس معاہدہ کیا ہے (یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے معاہدے کو محترم سمجھا ہے) جب تک وہ تمھارے ساتھ وفادار ہیں تم بھی وفاداری کرو کیونکہ خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے ۔

۸ ۔ کس طرح (ان کے معاہدے کی کوئی قدر وقیمت ہو) حالانکہ اگر وہ تم پر غالب آجائیں تو نہ تم سے رشتہ داری کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ عہد وپیمان کا، اپنی زبان سے تو تمھیں خوش رکھتے ہیں لیکن ان کے دل انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر نادان ہیں ۔

۹ ۔ انھوں نے خدا کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ ڈالا اور (لوگوں کو) اس کی راہ سے منحرف کردیا، وہ بُرے اعمال بجالاتے تھے ۔

۱۰ ۔ (نہ صرف تمھارے بارے میں بلکہ) ہر با ایمان شخص کے بارے میں وہ رشتہ داری اور عہد وپیمان کا لحاظ نہیں رکھتے اور وہ تجاوز کرنے والے ہیں ۔

حد سے بڑھ جانے والے پیمان

جیسا کہ آپ گذشتہ آیات میں دیکھ چکے ہیں کہ ایک خاص گروہ کے علاوہ اسلام نے تمام مشرکین اور بت پرستوں کے معاہدوں کو فسخ کردیا، انھیں صرف چار ماہ کی مہلت دی گئی تاکہ وہ اپنا ارادہ واضح کرلیں ، اب ان محل بحث آیات میں اس کام کی علت بیان کی گئی ہے، پہلے استفہامِ انکاری کے طور پر قرآن کہتا ہے: کیسے ممکن ہے کہ خدا اور اس کے رسول کے ہاں مشرکوں کا کوئی پیمان ہو (کَیْفَ یَکُونُ لِلْمُشْرِکِینَ عَھْدٌ عِنْدَ اللهِ وَعِنْدَ رَسُولِہِ) یعنی وہ ان اعمال اور ایسے غلط افعال کے ہوتے ہوئے یہ توقع نہ رکھیں کہ پیغمبر یک طرفہ طور پر ان کے معاہدوں کی پابندی کریں گے، اس کے بعد فوراً ایک گروہ جو ان کے غلط کردار اور پیمان شکنی میں شریک نہیں کو مستثنیٰ کرتے ہوئے کہا گیاہے : مگر وہ لوگ کہ جن کے ساتھ تم نے مسجد الحرام کے پاس عہد کیا( إِلاَّ الَّذِینَ عَاهَدْتُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ) ”جب تک یہ لوگ تمھارے ساتھ کئے گئے اپنے معاہدے کے وفادار ہیں تو تم بھی عہد نبھاو( فَمَا اسْتَقَامُوا لَکُمْ فَاسْتَقِیمُوا ) کیونکہ خدا پیہیزگاروں اور ان لوگوں کو جو ہر قسم کی پیمان شکنی سے اجتناب کرتے ہیں دوست رکھتا ہےں( لَهُمْ إِنَّ اللهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِینَ ) ۔

اگلی آیت میں یہی بات زیادہ صراحت اور تاکید سے بیان ہوئی ہے اور دوبارہ استفہام انکاری کی صورت میں کہا گیا ہے، کیسے ممکن ہے کہ ان کے پیمان کا احترام کیا جائے حالانکہ اگر وہ آپ پر غالب آجائیں تو نہ تو تم سے کسی رشتہ داری کا لحاظ کریں گے اور نہ عہد وپیمان کا پاس کریں گے( کَیْفَ وَإِنْ یَظْهَرُوا عَلَیْکُمْ لَایَرْقُبُوا فِیکُمْ إِلًّا وَلَاذِمَّةً ) ۔

”الّ“ رشتہ داری اور عزیز داری کے معنی میں ہے، بعض نے اس کا معنی ”عہد و پیمان“ بیان کیا ہے، پہلی صورت میں مراد یہ ہے کہ قریش اگرچہ رسول الله اور کچھ مسلمانوں کے رشتہ دار تھے لیکن جب وہ خود اس بات کی درّہ بھر پرواہ بھی نہیں کرتے اور رشتہ داری کا احترام نہیں کرتے تو پھر کیسے یہ توقع رکھتے ہیں کہ رسول الله اور مسلمان ان کا لحاظ کریں اور دوسری صورت میں لفظ ”ذمّہ“ کی تاکید ہے کہ جو عہدو پیمان کے معنی میں شمار ہوتا ہے ۔

راغب کتاب مفردات میں اس لفظ کی اصل ”الیل“ بمعنی درخشندگی اور روشنائی قرار دیتا ہے کیونکہ مستحکم معاہدے اور نزدیک کی رشتہ داریاں خاص درخشندگی کی حامل ہوتی ہے ۔

اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: ان کی دلنشیں باتوں اور بظاہر خبوبصورت الفاظ سے کبھی دھوکا نہ کھانا کیونکہ ”وہ چاہتے ہیں کہ تمھیں اپنے منھ سے راضی کریں لیکن ان کے دل اس کا انکار کرتے ہیں( یُرْضُونَکُمْ بِاٴَفْوَاهِهِمْ وَتَاٴْبیٰ قُلُوبُهُمْ ) ۔ ان کے دل کینہ، انتقام جوئی، سنگدلی، عہد شکنی اور رشتہ داری سے بے اعتنائی سے معمور ہیں اگرچہ وہ اپنی زبان سے دوستی اور مجبت کا اظہار کرتے ہیں ۔

آیت کے آخر میں اس امر کی بنیاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے: اور ان میں سے زیادہ تر فاسق اور نافران ہیں( وَاٴَکْثَرُهُمْ فَاسِقُونَ ) ۔

اگلی آیت میں ان کے فسق اور نافرمانی کی اس طرح وضاحت کی گئی ہے: انھوں نے آیاتِ خدا کا کم قیمت پر سودا کیا ہے اور اپنے وقتی مادی اور حقیر مفادات کے لئے لوگوں کو راہِ خدا سے باز رکھا ہے (اشْتَرَوْا بِآیَاتِ اللهِ ثَمَنًا قَلِیلًا فَصَدُّوا عَنْ سَبِیلِہِ) ۔

ایک روایت میں اس طرح آیا ہے کہ ابوسفیان نے ایک کھانا تیار کیا اور کچھ لوگوں کو دعوت دی تاکہ اس طریقے سے رسول الله کے خلاف ان کی عداوت کو ابھار سکے ۔

بعض مفسّرین نے مندرجہ بالا آیت کو اس واقعے کی طرف اشارہ سمجھا لیکن ظاہر یہ ہے کہ ایک وسیع مفہوم ہے جس میں یہ واقعہ اور ان بت پرستوں کے دیگر واقعات بھی شامل ہیں کہ جنھوں نے اپنے وقتی مفادات کا حفاظت کے لئے آیاتِ خدا سے آنکھیں پھیرلی تھیں ۔

بعد میں مزید فرمایا گیا ہے: مشرک کیسا بُرا عمل بجالاتے ہیں (إِنَّھُمْ سَاءَ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ) ۔ انھوں نے خود کو بھی سعادت ہدایت اور خوش بختی سے محروم کیا اور دوسروں کے لئے بھی سدِّراہ ہوئے اور اس سے بدتر کونسا عمل ہوگا کہ انسان اپنے گناہ کا بوجھ بھی اپنے دوش پر لے لے اور دوسروں کے گناہوں کا وزن بھی خود ہی اٹھالے ۔

زیرِ نظر آخری آیت میں گذشتہ گفتگو کی پھر تاکید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے: یہ مشرک ایسے ہیں کہ اگر ان کے ہاتھ پہنچ سکیں تو کسی صاحبِ ایمان شخص کے بارے میں یہ رشتہ داری اور پیمان کا تھوڑا سا پاس نہیں کریں گے( لَایَرْقُبُونَ فِی مُؤْمِنٍ إِلًّا وَلَاذِمَّةً ) ۔

”کیونکہ اصولی طور پر یہ لوگ تجاوز اور زیادتی کرنے والے ہیں( وَاٴُوْلٰئِکَ هُمَ الْمُعْتَدُونَ ) ۔ صرف تمھارے بارے میں ہی ان کا یہ رویہ نہیں بلکہ جس شخص پر بھی ان کا بس چلے گا یہ دستِ تجاوز دراز کریں گے ۔

مندرجہ بالا آیت کا مضمون اگرچہ گذشتہ آیات کی بحث کی تاکید معلوم ہوتا ہے لیکن پھر بھی ایک فرق اور اضافہ موجود ہے اور وہ یہ کہ گذشتہ آیات میں گفتگو پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے اصحاب اور ان مسلمانوں کے بارے میں تھی جو آپ کے گرد وپیش تھے لیکن اس آیت میں ہر صاحبِ ایمان شخص کے بارے میں بات ہورہی ہے، یعنی صرف تم ان کی نگاہ میں کوئی خصوصیت نہیں رکھتے بلکہ جو شخص مومن ہو اور آئینِ توحید کا پیرو ہو یہ اس کے سخت دشمن ہیں اور پھر کسی چیز کا لحاظ نہیں کرتے لہٰذا اصل میں ایمان اور حق کے دشمن ہیں اور یہ ایسا ہی ہے جیسے قرآن بعض گذشتہ اقوام کے بارے میں کہتا ہے:( وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلاَّ اٴَنْ یُؤْمِنُوا بِاللهِ الْعَزِیزِ الْحَمِیدِ )

”وہ صرف اس بناپر مومنین پر سختی کرتے تھے کہ وہ عزیز وحمید خدا پر ایمان رکھتے ہیں “(بروج/ ۸)

دو اہم نکات

۱ ۔ ”( إِلاَّ الَّذِینَ عَاهَدْتُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ) “ سے کون مراد ہیں ؟

اس جملے میں معاہدے فسخ کرنے کے اعلان سے ایک گروہ کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، اس سے کونسا گروہ مراد ہے، اس سلسلے میں مفسّرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن گذشتہ آیات کی طرف توجہ کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے وہی قبائل مراد ہیں جو اپنے عہدوپیمان کے وفادار رہے یعنی بنوضمرہ اور بنو خزیمہ وغیرہ سے جیسے قبائل۔

درحقیقت یہ جملہ گذشتہ آیات کی تاکید کی حیثیت رکھتا ہے یعنی مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ بیدار رہیں اور ان گروہوں کا معاملہ ان سے مختلف رکھیں جن کے معاہدے فسخ ہوگئے ہیں ۔

ریا یہ سوال کہ جو کہا گیا ہے کہ ”جنھوں نے مسجد الحرام کے پاس معاہدہ کیا ہے“ اس سے کیا مراد ہے؟

ممکن ہے کہ یہ اس بناپر ہو کہ صلح حدیبیہ کے وقت مسلمانوں نے مشرکین مکہ کے ساتھ سرزمین حدیبیہ پر جو معاہدہ کیا تھا اس میں مشرکین عرب میں سے دوسرے گروہ بھی شامل ہوگئے تھے مثلاً وہ قبائل جن کی طرف سطور بالا میں اشارہ ہوا ہے اور یہ مقام مکہ سے پندرہ میل کے فاصلہ پر ہے اور یہ معاہدہ ۶/ ہجری میں ہوا مشرکین نے اس معاہدے کے ذریعے مسلمانوں سے ترک مخاصمت کا عہد کیا لیکن مشرکین قریش نے اپنا معاہدہ توڑدیا اور پھر فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوگئے جبکہ ان سے وابستہ دوسرے گروہ مسلمان تو ہوئے مگر معاہدہ بھی نہ توڑا اور چونکہ سرزمین مکہ اپنے اطراف میں ایک وسیع علاقہ پر مشتمل ہے جس کا نصف قطر تقریباً ۴۸ میل بنتا ہے لہٰذا یہ تمام علاقے مسجد الحرام کا جزء سمجھے جاتے ہیں چنانچہ سورہ بقرہ کی آیہ ۱۹۶ میں حج تمتع اور اس کے احکام کے بارے میں فرمایا گیا ہے:

( ذٰلِکَ لِمَنْ لَمْ یَکُنْ اٴَهْلُهُ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ )

”یہ احکام اس شخص سے مربوط ہیں کہ جس کا گھر اور گھر والے مسجد الحرام کے پاس نہ ہوں “

روایات اور فقہا کے فتاویٰ کے تصریح کے مطابق حج تمتع کے حکام ان لوگوں کے لئے ہیں کہ جن کا فاصلہ مکہ سے ۴۸ میل سے زیادہ ہو، اس بناپر کوئی مانع نہیں کہ صلح حدیبیہ جو مکہ سے ۱۵ میل کے فاصلے پر انجام پائی ”عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ“ کے عنوان سے ذکر ہو۔

رہی وہ بات جو بعض مفسرین نے کہی ہے کہ مندرجہ بالا استثناء مشرکینِ قریش سے مربوط ہے اور قرآن مجید نے ان کے معاہدے کو جو انھوں نے حدیبیہ میں کیا تھا محترم شمار کیا ہے، درست نظر نہیں آتی کیونکہ پہلے مشرکین قریش کی معاہدہ قطعی اور مسلم تھی، اگر وہ پیمان شکن نہیں تھے تو پھر کون پیمان شکن تھا ۔

دوسری بات یہ ہے کہ حدیبیہ کا واقعہ ہجرت کے چھٹے سال کا ہے جبکہ مشرکینِ قریش نے آٹھویں سال فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا اس لئے مندرجہ آیات جو ہجرت کے نویں سال میں نازل ہوئیں وہ ان کے متعلق نہیں ہوسکتیں ۔

۲ ۔ کیا پیمان شکنی کے ارادے پر ہی ایمان لغو کردیا گیا؟

جیسا کہ پہلے بھی کہا جاچکا ہے کہ مندرجہ بالا آیات سے یہ مراد نہیں ہے انھوں نے صرف پیمان شکنی کا ارادہ ہی کیا تھا اور جب مسلمانوں کو طاقت وقدرت حاصل ہوگئی تو مشرکین کا پیمان شکنی کا ارادہ ہی معاہدے کے لغو قرار دیئے جانے کا جواز بن گیا وہ بارہا اپنے اسی طرز فکر کا عملی مظاہرہ کرچکے تھے کہ جب بھی انھیں موقع ملے گا تو وہ معاہدے کی طرف توجہ کئے بغیر مسلمانوں پر ضربِ کاری لگائیں گے اور یہی صورت حال معاہدے کو لغو کرنے کے لئے کافی ہے ۔


آیات ۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵،

۱۱( فَإِنْ تَابُوا وَاٴَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوْا الزَّکَاةَ فَإِخْوَانُکُمْ فِی الدِّینِ وَنُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ )

۱۲( وَإِنْ نَکَثُوا اٴَیْمَانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِی دِینِکُمْ فَقَاتِلُوا اٴَئِمَّةَ الْکُفْرِ إِنَّهُمْ لَااٴَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنتَهُونَ )

۱۳( اٴَلَاتُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَکَثُوا اٴَیْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُمْ بَدَئُوکُمْ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ اٴَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللهُ اٴَحَقُّ اٴَنْ تَخْشَوْهُ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ )

۱۴( قَاتِلُوهُمْ یُعَذِّبْهُمْ اللهُ بِاٴَیْدِیکُمْ وَیُخْزِهِمْ وَیَنْصُرْکُمْ عَلَیْهِمْ وَیَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِینَ )

۱۵( وَیُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوبِهِمْ وَیَتُوبُ اللهُ عَلیٰ مَنْ یَشَاءُ وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ )

ترجمہ

۱۱ ۔ اگر وہ توبہ کریں ، نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں تو تمھارے دینی بھائی ہیں اور ہم اپنی آیات کی تشریح ایسے لوگوں کے لئے کرتے ہیں جو جانتے ہیں ۔

۱۲ ۔ اور اگر وہ معاہدے کے بعد عہدو پیمان کو توڑدیں اور تمھارے دین پر طعن وطنز کریں تو آئمہ کفر سے جنگ کرو اس لئے کہ ان کا کوئی عہدو پیمان نہیں ، شاید وہ دستبردار ہوجائیں ۔

۱۳ ۔ کیا اس گروہ کے ساتھ کہ جس نے اپنا عہدو پیمان توڑدیا ہے اور جو (شہر سے) پیغمبرکے اخراج کا پختہ ارادہ کرچکے ہیں تم جنگ نہیں کرتے ہو حالانکہ پہلے انھوں نے (تم سے جنگ کی )ابتداء کی تھی، کیا ان سے ڈرتے ہو جبکہ خدا زیادہ سزاوار ہے کہ اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔

۱۴ ۔ ان سے جنگ کرو کہ خدا انھیں تمھارے ہاتھوں سزا دینا چاہتا ہے اور انھیں رسوا کرے گا اور مومنین کے ایک گروہ کے سینہ کو شفا بخشے گا (اور ان کے دل پر مرہم رکھے گا)

۱۵ ۔ اور ان کے دلوں ں کے غیظ وغضب کو لے جائے گا اور خدا جس شخص کی چاہتا ہے (اور اسے اہل سمجھتا ہے) توبہ قبول کرلیتا ہے اور خدا عالم وحکیم ہے ۔

دشمن سے جنگ کرنے سے کیوں ڈرتے ہو

فصاحت وبلاغت کے فنون میں سے ایک یہ ہے کہ زیادہ اہمیت رکھنے والے مطالب کی تاکید کے لئے اور انھیں دل میں اتارنے کے لئے تکرار کی جاتی ہے، چونکہ اسلامی ماحول میں بت پرستی کے پیکر پر آخری ضرب لگانے اور اس کے بچے کچھے آثار ختم کرنے کا معاملہ بہت ہی اہم تھا، اس لئے گذشتہ مطالب کو قرآن مجید میں مندرجہ بالا آیات میں نئے انداز سے بیان کیا گیا ہے، ان میں نئے نکات بھی موجود ہیں جو صورتِ تکرار سے بات کو نکال لیتے ہیں اگرچہ یہ تکرار درست ہی کیوں نہ ہو۔

پہلے ارشاد ہوتا ہے: اگر مشرکین توبہ کرلیں ، نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں( فَإِنْ تَابُوا وَاٴَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوْا الزَّکَاةَ فَإِخْوَانُکُمْ فِی الدِّینِ ) ۔

آیت کے آخر میں مزید کہا گیا ہے: ہم ان لوگوں کے لئے اپنی آیات کی تشریح کرتے ہیں جو علم وآگہی رکھتے ہیں( وَنُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ) ۔

گذشتہ آیات میں اس بارے میں گفتگو تھی کہ اگر وہ توبہ کریں اور نماز اور زکوٰة کے اسلامی فرائض بجالائیں تو ان سے مزاحمت نہ کرو۔”( فَخَلُّوا سَبِیلَهُم )

لیکن بیان فرمایا گیا ہے: وہ تمھارے دینی بھائی ہیں یعنی دیگر مسلمانوں اور ان کے درمیان احترام ومحبت کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں جیسا کہ بھائیوں کے درمیان فرق نہیں ہوتا ۔

یہ بات مشرکین کی روح، فکر اور جذبات کو اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرنے کے لئے بہت موثر ہے کہ ایک مرحلے میں مزاحمت نہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور دوسرے مرحلے میں ان کے بارے میں ایک بھائی کے سے حقوق کی سفارش کی گئی ہے ۔

لیکن اگر وہ اسی طرح اپنی عہد شکنی جاری رکھیں اور اپنے معاہدے روند ڈالیں اور تمھارے دین کی مذّمت کریں اور اپنا غلط پراپیگنڈہ جاری رکھیں تو پھر تم اس کافر گروہ کے پیشواوں سے جنگ کرو( وَإِنْ نَکَثُوا اٴَیْمَانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِی دِینِکُمْ فَقَاتِلُوا اٴَئِمَّةَ الْکُفْرِ ) ۔ کیونکہ اب ان کے عہد وپیمان کی کچھ بھی قدر وقیمت نہیں ہے( إِنَّهُمْ لَااٴَیْمَانَ لَهُمْ ) ۔

یہ درست ہے کہ انھوں نے تم سے دشمنی ترک کرنے کا معاہدہ کررکھا ہے لیکن وہ یہ معاہدہ باربار توڑسکتے ہیں اور آئندہ بھی اسے توڑنے کو تیار ہیں لہٰذا اس صورت میں اس معاہدے کا کوئی اعتبار اور قیمت نہیں ہے ، یہ اس لئے ہے تاکہ وہ اس شدّت عمل پر نظر رکھیں اور اس طرف بھی توجہ دیں کہ بازگشت کا راستہ کھلا ہوا ہے،وہ اپنے کئے پر نادم ہوں اور اس سے دستبردار ہوجائیں( لَعَلَّهُمْ یَنتَهُونَ ) ۔

اس سے اگلی آیت میں مسلمانوں میں تحریک پیدا کرنے کے لئے اور اس حیات بخش حکم کے سلسلے میں ان کی روح اور فکر سے ہر طرح کی سستی اور خوف وتردد دور کرنے کے لئے فرمایا گیا ہے: تم ان لوگوں سے جنگ کیوں نہیں کرتے جنھوں نے اپنے معاہدے توڑدیئے ہیں اور انھوں نے پیغمبر کو اپنی سرزمین سے نکال دینے کا پختہ ارادہ کرلیا ہے( اٴَلَاتُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَکَثُوا اٴَیْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ ) ۔

تم نے جنگ کی اور معاہدے کولغو قرار دینے کی ابتداء نہیں کی کہ تم پریشان اور ناراحت ہو بلکہ ”جنگ اور پیمان شکنی کی ابتداء تو انھو ں نے کی ہے“( وَهُمْ بَدَئُوکُمْ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ ) ۔

اور اگر تم میں سے بعض کا جنگ سے تردد خوف وہراس کی وجہ سے ہے تو بالکل بے جا ہے ”کیا تم ان بے ایمان افراد سے ڈرتے ہو حالانکہ خدا زیادہ سزاوار ہے کہ اس سے اور اس کی مخالفت سے ڈرو، اگر تم سچ مچ ایمان رکھتے ہو“( اٴَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللهُ اٴَحَقُّ اٴَنْ تَخْشَوْهُ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ ) ۔

اگلی آیت میں مسلمانوں سے یقینی کامیابی کا وعدہ کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: ان سے جنگ کرو کہ خدا انھیں تمھارے ہاتھوں سزا دے گا( قَاتِلُوهُمْ یُعَذِّبْهُمْ اللهُ بِاٴَیْدِیکُمْ ) ۔ نہ صرف سزا دے گا بلکہ ”انھیں رسوا اور ذلیل وخوا کرے گا“( وَیُخْزِهِمْ ) اور تمھیں ان پر کامیاب کرے گا( وَیَنْصُرْکُمْ عَلَیْهِمْ ) ۔ اور اس طرح سے مومنین کے ایک گروہ کے دلوں کو شفا بخشے گا جو اس سنگدل گروہ کے دباو اور سخت مصیبت میں تھا اور اس راہ میں قربانیاں دے چکا تھا ”اور ان کے دل کے زخموں پر اس طرح سے مرہم رکھے“( وَیَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِینَ )

بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ ”قوم مومنین“ سے مراد بنی خزاعہ کے مومنین کا ایک گروہ ہے جن پر قبیلہ بن بکر کے بت پرستوں کے ایک گروہ نے بزدلانہ حملہ کیا تھا اور غفلت میں انھیں نقصان پہنچایا تھا ۔

بعض کہتے ہیں کہ یمن کے ایک گروہ کی طرف اشارہ ہے جنھوں نے اسلام قبول کرلیا تھا لیکن جب مکہ میں آئے توبت پرستوں کی طرف سے ان پر ظلم وستم ڈھایا گیا ہے ۔

بعید نہیں کہ یہ عبارت ان تمام لوگوں کے بارے میں ہو جو کسی طرح بھی بت پرستوں کی طرف سے ظلم وایذاء کا ہدف بنے اور بت پرستوں نے جن کے دلوں کا خون کیا ۔

اگلی آیت میں مزید کہا گیا ہے کہ تمھاری کامیابی اور ان کی شکست کے ذریعے ”مومنین کے دلوں کا غیظ وغضب ٹھنڈا کرے گا“( وَیُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوبِهِمْ ) ۔ ہوسکتا ہے یہ جملہ گذشتہ جملے ”وَیَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِینَ“ کی تاکید کے طور پر ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مختلف ہو اور گذشتہ جملہ اس طرف اشارہ ہو کہ اسلام کی کامیابی کے ذریعے وہ دل جو سالہا سال سے اسلام اور رسولِ اسلام کے لئے تڑپتے تھے، ناراحت، پریشان اور بیمار تھے وہ اچھے ہوجائیں گے اور دوسرا جملہ اس طرف اشارہ ہو کہ وہ دل جو عزیز واقرباء کو کھودینے اور طرح طرح کے آزار اور ظلم سہنے کی وجہ سے ناراحتی اور بے ارامی میں تھے، سنگدل دشمنوں کے مارے جانے سے راحت وآرام حاصل کریں گے ۔

آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: خدا جس شخص کو چاہتا ہے (اور مصلحت دیکھتا ہے) اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے (وَیَتُوبُ اللهُ عَلیٰ مَنْ یَشَاءُ)ن اور خدا توبہ کرنے والوں کی نیتوں سے آگاہ ہے اور اُس نے ان کے لئے اور پیمان شکنوں کے بارے میں جو احکام دیئے ہیں وہ حکیمانہ اور بامصلحت ہیں( وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ )

ضمنی طور پر آخری جملے میں اس طرف اشارہ ہے کہ ممکن ہے آئندہ ان میں سے بعض درِ توبہ داخل ہوجائیں لہٰذا متوجہ رہیں کہ خدا ان کی توبہ قبول کرے گا اور ان کے بارے میں شدّتِ عمل جائز نہیں ہے، نیز یہ ایک بشارت ہے کہ آئندہ اس قسم کے افراد مسلمانوں کی طرف آئیں گے اور ان کی روحانی آمادگی کی وجہ سے خدا کی توفیق ان کے شاملِ حال ہوگی ۔

بعض مفسّرین نے آخری آیات کو کاملاً قرآن کی ترغیب کی خبروں میں سے قرار دیا ہے اور انھیں رسول الله کی دعوت کی صداقت کی نشانی سمجھا ہے کیونکہ ان میں جو کچھ قرآن نے بیان کیا ہے ویسا ہی عملاً ہوا ہے ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ عہد شکن گروہ کونسا ہے؟

اس گروہ سے کون افراد مرادہیں ، اس سلسلے میں مفسّرین میں اختلاف ہے، بعض اسے یہودیوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ، بعض ان قوموں کی طرف اشارہ قرار دیتے ہیں جو بعد ازاں مسلمانوں سے برسرِ پیکار ہوئیں مثلاً ایران اور روم کی حکومتیں ، بعض یہاں کفارِ قریش مراد لیتے ہیں اور بعض نے ان افراد کی طرف اشارہ سمجھا ہے جو مسلمان ہوکر مرتد ہوگئے ۔

لیکن آیات کا ظاہر واضح گواہی دیتا ہے کہ موضوع سخن مشرکین اور بت پرستوں کا وہی گروہ ہے جس نے اس وقت بظاہر مسلمانوں سے دشمنی ترک کرنے کا عہد وپیمان کررکھا تھا لیکن عملی طور پر اپنے معاہدے توڑچکا تھا اور یہ اطراف مکہ یا حجاز کے باقی علاقوں کے مشرکین کا گروہ تھا ۔

یہ احتمال کہ اس سے یہودی مراد ہوں بہت بعید ہے کیونکہ ان آیات کی تمام مباحث مشرکین کے گرد گھومتی ہیں ۔

اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ اس سے مراد قبیلہ قریش ہو کیونکہ قریش اور ان کے سرغنہ ابوسفیان نے ۸/ ہجری میں فتح مکہ کے بعد ظاہراً اسلام قبول کرلیا تھا جبکہ زیرِ بحث سورت ۹/ ہجری میں نازل ہوئی ہے ۔

نیز یہ احتمال بھی آیات کے مفہوم سے بہت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران اور روم کی حکومتیں مراد ہوں کیونکہ آیات ایک موجود معاملے اور جنگ کے متعلق گفتگو کررہی ہیں نہ کہ آئندہ کے کسی معاملے یا لڑائی جھگڑے کے متعلق، علاوہ ازیں انھوں نے رسول الله کو وطن سے بھی نہیں نکالا تھا ۔

نیز یہ احتمال بھی بعید ہے کہ اس سے مراد مرتدین ہوں کیونکہ اس وقت تاریخ مرتدین کے کسی طاقتور گروہ کی نشاندہی نہیں کرتی کہ جس سے مسلمان جنگ کرنا چاہتے ہوں ، علاوہ ازیں ”ایمان“ (جو ”یمین“ کی جمع ہے) اور اسی طرح لفظ ”عہد“ ظاہراً ترکِ مخاصمت کے پیمان کے معنی میں ہے نہ کہ اسلام قبول کرنے میں (غور کیجئے گا) ۔

لہٰذا اگر بعض اسلامی روایات میں یہ آیت جنگ جمل کی آگ بھڑکانے والوں (ناکثین) اور ان جیسوں پر منطبق کی گئی ہے تو وہ اس بناپر نہیں کہ یہ آیات ان کے بارے میں نازل ہوئی ہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ آیت کی روح اور اس کا حکم ناکثین اور ان سے مسابہت رکھنے والے ایسے گروہوں پر صادق آتا ہے جو ان کے بعد ہوں گے ۔

صرف ایک سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ اگر اس سے مراد وہ معاہدہ شکن بت پرست لوگ ہیں کہ جن کے متعلق گذشتہ آیات میں گفتگو ہوئی ہے تو یہاں کہا گیا ہے کہ : ”وَإِنْ نَکَثُوا اٴَیْمَانَهُمْ “ (یعنی اگر وہ اپنے معاہدوں کو توڑدیں ) حالانکہ انھوں نے تو عملاً اپنے عہد وپیمان توڑدیئے تھے ۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ جملے سے مراد یہ ہے کہ اگر وہ عہد شکنی جاری رکھیں اور اپنے کلام سے دستبردار نہ ہوں تو پھر تمھیں ان سے جنگ کرنا چاہیے، جیسے ہم ”اهدنا الصراط المستقیم “ کا جملہ ”إِنْ تَابُوا “ کے مدمقابل ہے یعنی معاملہ دو حالتوں سے خالی نہیں ہے، یا وہ توبہ کریں گے اور شرک وبت پرستی سے دستبردار ہوجائیں گے اور راہِ خدا پر آجائیں گے یا یہ کہ وہ اپنے طور طریقے جاری رکھیں گے، پہلی صورت میں وہ تمھارے بھائی ہیں جبکہ دوسری صورت میں تمھیں ان سے جنگ کرنا چاہیے ۔

۲ ۔ کفر کے پیشواوں سے جنگ:

یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں یہ نہیں کہا گیا کہ کافروں سے جنگ کرو بلکہ فرمایا گیا ہے کہ ان کے لیڈروں اور پیشواوں کے ساتھ جہاد کرنے کے لئے اُٹھ کھڑے ہو، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ عامة الناس تو اپنے لیڈروں اور زعماء کے پیروکار ہوتے ہیں لہٰذا نشانہ ہمیشہ پیشواوں کو ہونا چاہیے، تمھیں گمراہی، ضلالت اور ظلم وفساد کے سرچشموں کو بند کرنا چاہیے اور ایسے درہتوں کی جڑوں کو کاٹنا چاہیے، جب تک وہ خود موجود ہیں ان کے پیروکاروں سے مقابلے اور جنگ کا کوئی فائدہ نہیں ۔

تعجب کی بات ہے کہ بعض نے اس تعبیر سے سردارانِ قریش کی طرف اشارہ سمجھا ہے حالانکہ ان میں سے کچھ تو جنگ بدر میں مارے گئے تھے اور (ابوسفیان جیسے) باقی رہ گئے تھے وہ فتح مکہ کے بعد ظاہراً اسلام لے آئے تھے اور جب یہ آیت نازل ہوئی تو وہ مسلمانوں کی صفوں میں شامل تھے لہٰذا اس وقت ان سے مقابلے کا کوئی مفہوم نہ تھا ۔

آج بھی قرآن کا یہ اہم حم اپنی پوری قوت سے باقی ہے کہ ظلم وفساد اور استعمار واستثمار کو ختم کرنے کے لئے ان کے سرغنوں اور پیشواوں کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہونا چاہیے اور عام لوگوں کے مقابلے میں قیام کا کوئی فائدہ نہیں (غور کیجئے گا)

۴ ۔ ”( إِخْوَانُکُمْ فِی الدِّین ) “ کا مفہوم:

مندرجہ بالا آیت میں یہ ایک لطیف ترین تعبیر ہے جسے ایک معاشرے کے افراد میں مساوات کے لئے بیان کیا جاسکتا ہے اور یہ محبت و مہربانی کا محکم ترین رشتہ ہے کیونکہ واضح ترین اور نزدیک ترین رشتہ جو انسانوں میں مکمل مساوات کا حامل ہے وہ دو بھائیوں کارشتہ ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے طبقاتی شگافوں اور قومی ونسلی بتوں نے اس اسلامی اخوت کو ختم کردیا ہے جو تمام دشمنوں کے لئے رشک اور حسد کا باعث تھا، کل کے بھائی آج ایک دشمن دوسرے دشمن سے نہیں کرتا، ہماری موجودہ پسماندگی کے اسرار میں سے ایک یہ صورتحال بھی ہے ۔

۴ ۔ ”( اٴَتَخْشَوْنَهُمْ ) “ کا مفہوم:

اس کا مطلب ہے ”کیا تم ان سے ڈرتے ہو“ اس سے اجمالی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جو جہاد کے اس حکم سے ڈرتا تھا یا تو دشمن کی طاقت اور قوت سے خوفزدہ تھا یا پھر پیمان شکنی کے گناہ سے ڈرتا تھا ۔

قرآن انھیں صراحت سے جواب دیتا ہے کہ تمھیں ان کمزور انسانوں سے نہیں ڈرنا چاہیے بلکہ حکمِ پروردگار کی نافرمانی سے ڈرنا چاہیے، علاوہ ازیں اپنی پیمان شکنی سے ڈرنا بے جا ہے کیونکہ انھو ں نے پہلے ہی خود اس کے مفدمات فراہم کردیئے ہیں اور اس سلسلے میں انہی نے پیش قدمی ہے ۔

۵ ۔ ”( هَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ ) “ کا مطلب:

اس کا معنی ہے ”انھوں نے پیغمبر کو نکلانے کا ارادہ کیا“ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے کیا مراد ہے؟ ظاہراً یہ ہجرت کے موقع رسو الله کو مکہ کی طرف نکالے جانے کی طرف اشارہ ہے کہ وہ پہلے ہی ارادہ رکھتے تھے اس کے بعد ان کا ارادہ بدل گیا اور پھر انھوں نے آپ گو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا لیکن الله کے حکم سے رسول الله اسی رات مکہ سے نکل آئے، بہرحال اس معاملے کا ذکر ان کی پیمان شکنی کے طور پر نہیں بلکہ بت پرستوں کے جرائم میں سے ایک ہولناک ارادے کی وضاحت کے طور پر ہے کہ جس میں قریش بھی شریک تھے اور دوسرے قبائل بھی ورنہ بت پرستوں کی عہد شکنی تو دوسرے طرق سے واضح ہوچکی تھی ۔

۶ ۔ ایک غلط استدلال:

ایک تعجب خیز بات یہ ہے کہ جبری مکتبِ فکر کے پیروکاروں نے ”قَاتِلُوهُمْ یُعَذِّبْهُمْ اللهُ بِاٴَیْدِیکُمْ ---“ سے اپنے نظریہ کے لئے استدلال کیا حالانکہ ہم اپنا ذہن تعصّبات سے خالی کرلیں تو مندرجہ بالا آیت ان کے مقصود پر ذرّہ بھر بھی دلالت نہیں کرتی اور اس کی صورت بالکل ایسی ہے جیسے ہم کسی کام کے لئے اپنے ایک دوست کے پاس جائیں اور کہیں کہ ہمیں امید ہے کہ خدا اس کام کی اصلاح تمھارے ہاتھ سے کردے گا، اس بات کا یہ مفہوم نہیں کہ تم یہ کام کرنے میں مجبور ہو بلکہ مراد یہ ہے کہ خدا نے اسے تمھارے اختیار میں رکھا ہے اور تمھیں پاک نیّت دی ہے کہ جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تم ارادے کی آزادی سے یہ کام انجام دے سکتے ہو۔


آیت ۱۶

۱۶( اٴَمْ حَسِبْتُمْ اٴَنْ تُتْرَکُوا وَلَمَّا یَعْلَمْ اللهُ الَّذِینَ جَاهَدُوا مِنْکُمْ وَلَمْ یَتَّخِذُوا مِنْ دُونِ اللهِ وَلَارَسُولِهِ وَلَاالْمُؤْمِنِینَ وَلِیجَةً وَاللهُ خَبِیرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ

) ترجمہ

۱۶ ۔ کیا تم یہ گمان رکھتے ہو کہ تمھیں (تمھاری حالت پر) چھوڑ دیا جائے گا جب کہ ابھی جہاد کرنے والے اور خدا اور اس کے رسول کو چھوڑ کر محرم راز بنانے والے ایک دوسرے سے جدا ممتاز نہیں ہوئے (تمھاری آزمائش ہونا چاہیے تاکہ تمھاری صفیں ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں ) اور جوکچھ تم کرتے ہو خدا اس سے آگاہ ہے ۔

تفسیر

اس آیت مسلمانوں کو ایک اور طریقے سے جہاد کی تشویق وترغیب دلاکر انھیں اس سلسلے میں ان کی اہم ذمہ داری کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ تمھیں یہ تصور نہیں کرنا چاہیے کہ صرف ایمان کا دعویٰ کرلینے سے تمام چیزیں درست نہیں اور ٹھیک ہوجاتی ہیں بلکہ صدقِ نیت، گفتار کی درستی اور ایمان کی حقیقت دشمنوں سے جنگ کرکے واضح ہوتی ہے، جنگ بھی ایسی جو ہر قسم کے نفاق سے پاک مخلصانہ طور پر ہو۔

پہلے فرمایا گیا ہے: کیا تم گمان کرتے ہو کہ تمھیں تمھاری حالت پر چھوڑدیا جائے گا اور تم میدانِ آزمائش میں سے نہیں گزروگے جب کہ ابھی تم میں سے مجاہدین اور وہ لوگ جنھوں نے خدا، رسول اور مومنین کوچھوڑکر کسی اور کو محرم راز بنالیا ہے ایک دوسرے سے مشخص اور ممتاز نہیں ہوئے( اٴَمْ حَسِبْتُمْ اٴَنْ تُتْرَکُوا وَلَمَّا یَعْلَمْ اللهُ الَّذِینَ جَاهَدُوا مِنْکُمْ وَلَمْ یَتَّخِذُوا مِنْ دُونِ اللهِ وَلَارَسُولِهِ وَلَاالْمُؤْمِنِینَ وَلِیجَةً ) ۔(۱)

”وَلِیجَة“ مادہ ”ولوج“ سے داخل ہونے کے معنی میں ہے اور ایسے اشخاص کے لئے استعمال ہوتا ہے جو کسی انسان کا محرم راز ہو اور اس کے کاموں کو چلانے والا ہو، اس کا معنی تقریباً ”بطانة“ جیسا ہے ۔

در حقیقت مندرجہ بالا جملہ مسلمانوں سے دومطالب گوش گزار کرتا ہے اور وہ یہ کہ صرف اظہار ایمان سے کام ٹھیک نہیں ہوتے اور افراد کی شخصیت واضح نہیں ہوتی بلکہ اس سلسلے میں دوطرح سے لوگوں کی آزمائش کی جاتی ہے:

ایک تو راہ خدا میں شرک وبت پرستی کے آثار مٹانے کے لئے جہاد کرنا اور دوسرا منافقوں اور دشمنوں سے ہر طرح کا رابطہ اور ہمکاری ترک کرنا کہ جس میں سے پہلا کام ہے خارجی دشمنوں کا باہر نکالنا ہے اور دوسراہے داخل دشمنوں کو باہر نکالنا ۔

( وَلَمَّا یَعْلَمْ اللهُ ) “ (حالانکہ ابھی تک خدا نہیں ) اس جملے کی نظیر دوسری آیاتِ قرآنی میں بھی نظر آتی ہے ، در اصل اس کا معنی ہے ”ابھی تک ثابت نہیں ہوا“ اور ایسی تعبیر عموماً تاکید کے مواقع میں استعمال ہوتی ہے ورنہ دلائل عقلی اور بہت سی آیات کے مطابق خدا تو ایسی تمام چیزوں سے آگاہ تھا، آگاہ ہے اور آگاہ رہے گا ۔

یہ آیت در حقیقت سورہ عنکبوت کی پہلی آیت جیسی ہے جہاں فرمایا گیا ہے:

( اٴَحَسِبَ النَّاسُ اٴَنْ یُتْرَکُوا اٴَنْ یَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَایُفْتَنُونَ )

کیا لوگ گمان کرتے ہیں کہ انھیں ان کی حالت پر چھوڑدیا جائے گا اور ان کی آزمائش نہیں ہوگی ۔

نیز سورہ آل عمران کی تفسیر میں ہم کہہ چکے ہیں کہ خدا کی آزمائشیں کوئی انجانی چیز جاننے کے لئے نہیں ہیں بلکہ تربیت ، فروغ استعداد اور انسان کی اندرونی صلاحیتوں اور اسرار کو ابھارنے اور آشکار کرنے کے لئے ہیں ۔

آیت کے آخر میں خطرے سے خبردار کرتے ہوئے اور تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: جو کام بھی تم انجام دیتے ہو خدا اُس سے باخبر ہے (وَاللهُ خَبِیرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ) ۔ مبادا کچھ لوگ یہ خیال کربیٹھیں کہ خدا منافقین اور دشمنوں سے ان کے خفیہ روابط سے بے خبر ہے، ایسا نہیں ہے بلکہ وہ سب چیزوں کو اچھی طرح سے جانتا ہے اور اس کے مطابق اپنے بندوں سے سلوک کرے گا ۔

آیت کے طرزِ بیان سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت مسلمانوں کے اسلامی ماحول میں کچھ لوگ نووارد تھے اور نفسیاتی طور پر وہ جہاد کے لئے تیار نہیں تھے، یہ گفتگو ان کے بار ے میں ہے ورنہ سچّے مجاہدین توبارہا جہاد کے میدانوں میں اپنی کیفیت واضح کرچکے تھے ۔

____________________

۱۔”اٴم“ حرف عطف ہے، اس کے ذریعہ ایک استفہامی جملے کو دوسرے استفہامی جملے سے ملاتے ہیں اور اس طرح سے وہ استفہام کا معنی دیتا ہے البتہ وہ ہمیشہ دوسرے استفہام کے پیچھے ہوتا ہے، مندرجہ بالا آیت میں اس کا عطف ”الا تقاتلو ---“ کے جملے پر ہے جو آیہ۱۳ میں گزرا ہے ۔


آیات ۱۷،۱۸

۱۷( مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِینَ اٴَنْ یَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللهِ شَاهِدِینَ عَلیٰ اٴَنفُسِهِمْ بِالْکُفْرِ اٴُوْلٰئِکَ حَبِطَتْ اٴَعْمَالُهُمْ وَفِی النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ

) ۱۸ ا( ِٕنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللهِ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَاٴَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَی الزَّکَاةَ وَلَمْ یَخْشَ إِلاَّ اللهَ فَعَسیٰ اٴُوْلٰئِکَ اٴَنْ یَکُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِینَ )

ترجمہ

۱۷ ۔ مشرکین یہ حق نہیں رکھتے کہ وہ خدا کی مسجدوں کوآباد کریں حالانکہ اپنے کفر کے ذریعے وہ اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں انہی کے اعمال نابود (اور بے قیمت) ہوگئے ہیں اور وہ (جہنم کی) آگ میں ہمیشہ رہیں گے ۔

۱۸ ۔ الله کی مساجد کو صرف وہ شخص آباد کرتا ہے جو خدا اور قیامت کے دن پر ایمان لایا ہے، نماز قائم کرتا ہے، زکوٰة ادا کرتا ہے اور خدا کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا، ہوسکتا ہے ایسا گروہ نجات پاجائے ۔

مسجدیں آباد رکھنا ہر کسی کے بس میں نہیں

جب مشرکین سے معاہدہ فسخ ہونے کا اور ان سے جہاد کرنے کا حکم ملا تو اس کے بعد بعض لوگوں میں جو ممکنہ باتیں زیرِ بحث آسکتی تھیں ان میں سے ایک سوال یہ بھی ممکن تھا کہ اس عظیم گروہ کو ہم کیوں دھتکار دیں اور انھیں مراسم حج کی ادائیگی کے لئے مسجد الحرام میں قدم رکھنے کی اجازت کیوں نہ دیں حالانکہ ان میں ان کی شرکت ہر لحاظ سے رونق کا سبب ہے، بعض لوگوں کا خیال تھا کہ مسجد الحرام کی عمارت میں رونق کی صورت میں ان کی طرف سے ایک اہم امداد حاصل ہے اور معنوی آبادی کے طور پر بھی ان کی طرف سے ایک کمک حاصل تھی کیونکہ خانہ کعبہ کے گرد ان کی جمعیت زیادہ ہے، مندرجہ بالا آیات میں سے ایسے بیہودہ اور بے بنیاد افکار کا جواب دیتی ہیں ، پہلی ہی آیت میں تصریح کی گئی ہے: مشرکین یہ حق نہیں رکھتے کہ وہ الله کی مساجد کو اباد کریں جبکہ وہ صراحت سے اپنے کفر کی گواہی دیتے ہیں( مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِینَ اٴَنْ یَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللهِ شَاهِدِینَ عَلیٰ اٴَنفُسِهِمْ بِالْکُفْرِ ) ۔

ان کا اپنے کفر کی گواہی دینا ان کی باتوں سے بھی آشکار ہے اور ان کے اعمال سے بھی، یہاں تک کہ ان کا طرزِ عبادت اور ان کے مراسمِ حج بھی اس امر پر شاہد ہیں ۔

اس کے بعد اس حکم کی دلیل اور فلسفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے ان لوگوں کے اعمال نیست ونابود اور برباد ہوجائیں گے اور خدا کی درگاہ میں کوئی قدر وقیمت نہیں رکھتے( اٴُوْلٰئِکَ حَبِطَتْ اٴَعْمَالُهُمْ ) ۔

اسی بناپر وہ ہمیشہ کے لئے جہنم کی آگ میں رہیں گے( وَفِی النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ ) ۔

ان حالات میں نہ تو مسجد الحرام وغیرہ کی آبادی اور تعمیر کے لئے ان کی کوششیں کوئی قدر وقیمت رکھتی ہیں اور نہ ہی خانہ کعبہ کے اطراف میں ان کا اژدہام کوئی حیثیت رکھتا ہے ۔

خدا پاک اور منزہ ہے اور اس کے گھر کو بھی پاک وپاکیزہ ہونا چاہیے اور غلیظ اور گندے لوگوں کا ہاتھ خانہ خدا اور مسجد سے بالکل دور ہونا چاہیے ۔

اگلی آیت میں اس گفتگو کی تکمیل کے لئے مساجد اور مراکز عبادت کو آباد کرنے والوں کے لئے پانچ اہم شرائط بیان کی گئی ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے: صرف وہ لوگ الله کی مساجد کو آباد کرتے ہیں جو خدا اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں( إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللهِ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ ) ۔ اس میں پہلی اور دوسری شرط کی طرف اشارہ ہے، یہ شرائط اعتقادی اور بنیادی پہلو رکھتی ہیں ، جب تک یہ دونوں نہ ہوں انسان سے کوئی بھی پاک، شائستہ اور خالص عمل سرزد نہیں ہوسکتا بلکہ اگر ظاہراً شائستہ ہو بھی تو باطن طرح طرح کی ناپاک اغراض سے آلودہ ہوگا ۔

اس کے بعد تیسری اور چوتھی شرط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:( وَاٴَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَی الزَّکَاةَ ) یعنی خدا اور روزِ جزا پر اس کا ایمان فقط دعویٰ کی حد تک اور زبانی نہ ہو بلکہ وہ اپنے پاک اعمال کے ذریعے اس کی تاکید کرے، اس کا خدا سے رشتہ بھی مستحکم ہو اور نماز کو صحیح طریقے سے انجام دے، مخلوق خدا سے بھی اس کا تعلق ہو اور زکوٰة ادا کرے ۔

آخر میں آخری شرط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: اور خدا کے علاوہ کسی سے نہ ڈرے( وَلَمْ یَخْشَ إِلاَّ اللهَ ) ۔

اس کا دل عشقِ خدا سے معمور ہو اور صرف اس کے فرمان کے سامنے احساسِ ذمہ داری رکھتا ہو اور اس کے مقابلے میں کمزور بندوں کو اس سے بہت چھوٹا سمجھتا ہو کہ وہ اس کی سرنوشت، اس کے معاشرے، اس کے مستقبل، اس کی کامیابی، اس کی پیش رفت اور آخر میں اس کے مرکزِ عبادت کی آبادی میں کوئی تاثیر رکھتے ہوں ۔

آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: یہ گروہ جو ایسی صفات کا حامل ہے ہوسکتا ہے کہ ہدایت پالے اور اپنے مقصد تک پہنچ جائے اور مساجدِ خدا کی تعمیر اور آبادی کے لئے کوشش کرے اور اس کے عظیم نتائج سے بہرہ ور ہو( فَعَسیٰ اٴُوْلٰئِکَ اٴَنْ یَکُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِینَ ) ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ مساجد کی آبادی سے کیا مراد ہے؟

کیا مساجد کی آبادی سے مراد ان کی تاسیس وتعمیر ہے یا ان میں اجتماع کرنا اور ان کے اجتماعات میں شرکت مراد ہے؟ اس آیت کو عُمران مساجد کی آیت کہتے ہیں ، بعض مفسّرین نے اس کی تفسیر کے سلسلے میں ان دو میں سے صرف ایک کو انتخاب کیا ہے حالانکہ اس لفظ کا وسیع ہے جس میں یہ تمام امور شامل ہیں ۔

مشرکین اور بت پرست نہ تو مساجد میں شرکت کا حق رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کی تعمیر کا بلکہ یہ تمام امور مسلمانوں کے ہاتھوں انجام پانا چاہییں ۔

ان آیات سے ضمنی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو نہیں چاہیے کہ وہ مساجد کی تعمیر کے لئے مشرکین کی بلکہ غیرمسلموں میں سے کسی کی بھی مدد حاصل کریں کیونکہ پہلی آیت اگرچہ مشرکین کے بارے میں گفتگو کرتی ہے لیکن دوسری آیت کہ جو لفظ ”إِنَّمَا“ سے شروع ہوتی ہے مسجدوں کی تعمیر کو مسلمانوں کے ساتھ مخصوص کردیتی ہے ۔

یہاں سے واضح ہوجاتا ہے کہ مساجد کے متولی اور نگران بھی پاکیزہ ترین افراد میں سے منتخب ہونے چاہییں نہ کہ ناپاک اور بُرے لوگ مال وروت، مقام ومنصب یا معاشرے میں اثر ورسوخ کی وجہ سے منتخب ہوجائیں جیسا کہ متاسفانہ بعض علاقوں میں رائج ہے کہ ایسے لوگ ان مراکزِ عبادت اور اسلامی اجتماعات کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں ، تمام ناپاک ہاتھوں کو ان تمام مقدس مراکز سے منقطع کیا جانا چاہیے، جس دن سے جابر حکمرانوں ، گناہ آلود سرمایہ داروں اور بدکرداروں نے مساجد اور اسلامی مراکز کی تعمیر میں ہاتھ ڈالا ہے اس دن سے ان کی روحانیت اور اصلاحی پروگرام مسخ ہوگئے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اب کیسی بہت سی مساجد نے مسجدِ ضرار کی صورت اختیار کرلی ہے ۔

۲ ۔ عمل صالح کا سرچشمہ صرف ایمان ہے:

ہوسکتا ہے بعض لوگ یہ سوچتے ہوں کہ اس میں کیا حرج ہے کہ غیرمسلموں کے سرمائے سے ان مراکز کی تعمیر اور آبادی کے لئے فائدہ اٹھالیا جائے لیکن جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس بنیادی نکتے کی طرف توجہ نہیں کرتے کہ اسلام ہر مقام پر عمل صالح کو شجر ایمان کا ثمر شمار کرتا ہے، عمل ہمیشہ انسان کی نیت اور عقیدے کا سایہ ہے اور وہ ہمیشہ اس شکل وصورت اور رنگ وڈھنگ کو اپناتا ہے، ناپاک نیتوں سے ممکن نہیں کہ پاک عمل وجود میں آئے اور اس کا نتیجہ اور ثمر مفید صورت میں نکلے کیونکہ عمل نیت کی بازگشت ہے ۔

۳ ۔ بہادر محافظ:

( وَلَمْ یَخْشَ إِلاَّ اللهَ ) “ (خدا کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا) یہ جملہ نشاندہی کرتا ہے کہ مساجد کی تعمیر، آبادی اور نگہداری شجاعت وبہادری کے بغیر ممکن نہیں ہے، یہ مقدس اسلامی مراکز انسان سازی کے مراکز اور تربیت کی اعلیٰ درسگاہوں میں اسی صورت میں تبدیل ہوں گے جب ان کے بانی اور محافظ اور شجاع ہوں گے کہ جو خدا کے علاوہ کسی سے نہ ڈرتے ہوں ، کسی مقام ومرتبہ اور قوت سے متاثر نہ نہیں ہوں گے کہ جو ان میں خدائی پروگراموں کے علاوہ کوئی کام نہیں ہونے دیں گے ۔

۴ ۔ کیا اس سے صرف مسجد الحرام مراد ہے؟

بعض مفسّرین نے مندرجہ آیات کو مسجدالحرام سے مخصوص قرار دیا ہے جبکہ آیت کے الفاظ عام ہیں اور ایسی تشخیص کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں ہے اگرچہ مسجد الحرام جو کہ عظیم ترین اسلامی مسجد ہے اس کا مصداقِ اوّل ہے اور جب یہ آیت نازل ہوئی تھی زیادہ تر یہی مسجد محلِ نظر تھی لیکن یہ بات تخصیصِ آیات کی دلیل نہیں بن سکتی ۔

۵ ۔ تعمیر مساجد کی اہمیت

مسجد بنانے کی اہمیت کے بارے میں اہلِ بیتِ رسول علیہم السلام سے اور اہل سنّت کے طرق سے بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں ، ان سے تعمیر مسجد کی بے حد اہمیت ظاہر ہوتی ہے، پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:”مَن بَنیٰ مَسْجِداً وَلَو کَمَفْحَصِ قطَاة بَنَی اللهُ لَهُ بَیْتاً فِی الْجَنَّةِ

جو شخص کوئی مسجد بنائے اگرچہ پرندے کے گھونسلے کے برابر ہو تو خدا جنت میں اس کے لئے ایک گھر بنائے گا ۔(۱)

ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلم سے منقول ہے:

من اٴسرج فی مسجد سراجاً لم تزل الملائکة وحملة العرش یستغفرون له مادام فی ذلک المسجد ضوئه

جو شخص مسجد میں چراغ روشن کرے جب تک اس چراغ کی روشنی رہے گی فرشتے اور حاملینِ عرشِ الٰہی اس کے لئے استغفار اور دعائے خیر کرتے رہیں گے ۔(۲)

لیکن آج کے زمانے میں جس چیز کی زیادہ ضرورت ہے وہ مساجد کی معنوی آبادی اور تعمیر ہے، دوسرے لفظوں میں جتنی ہم مسجد کو اہمیت دیتے ہیں اس سے زیادہ اہلِ مسجد، نگران مسجد اور محافظین مسجد کو اہمیت دینا چاہیے، ہر طرف سے اسلامی تحریک مسجد سے اٹھنا چاہیے، مسجد کو تہذیب نفس اور لوگوں کی آکاہی وبیداری کے لئے استعمال ہونا چاہیے، ماحول کو پاکیزہ بنانے اور ورثہ اسلامی کے دفاع کے لئے مسلمانوں کو آمادہ کرنے کا مرکز مسجد کو ہونا چاہیے ۔

خصوصیت سے اس طرف توجہ کرنا چاہیے کہ مسجد صاحبِ ایمان نوجوانوں کے لئے مرکز بنے نہ یہ کہ صرف آگے بیٹھنے والوں اور بیکار لوگوں کا مرکز بنی رہے، مسجد معاشرے کے فعال ترین طبقوں کا مرکز ہونا چاہیے نہ کہ ناکارہ اور خوابیدہ افراد کا مرکز۔

____________________

۱۔ یہ حدیث کتاب وسائل کے باب ۸ میں ہے جوکہ احکامِ مساجد کے ابواب میں سے ہے اور اسی طرح المنار جلد۱۰، ص۲۱۳ پر ابن عباس سے منقول ہے ۔

۲۔ کتاب کنز العرفان، ج۱، ص۱۰۸، بحوالہ کتاب محاسن، ص۵۷-


آیات ۱۹،۲۰،۲۱،۲۲

۱۹( اٴَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِی سَبِیلِ اللهِ لَایَسْتَوُونَ عِنْدَ اللهِ وَاللهُ لَایَهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ )

۲۰( الَّذِینَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِی سَبِیلِ اللهِ بِاٴَمْوَالِهِمْ وَاٴَنفُسِهِمْ اٴَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللهِ وَاٴُوْلٰئِکَ هُمَ الْفَائِزُونَ )

۲۱( یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَهُمْ فِیهَا نَعِیمٌ مُقِیمٌ )

۲۲( خَالِدِینَ فِیهَا اٴَبَدًا إِنَّ اللهَ عِنْدَهُ اٴَجْرٌ عَظِیمٌ )

ترجمہ

۱۹ ۔ کیا حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد الحرام کو آباد کرنے کا عمل اس شخص (کے عمل) کی طرح قرار پاسکتا ہے جو خدا اور روزِ جزا پر ایمان لایا ہے اور اس نے اُس کی راہ میں جہاد کیا ہے، (یہ دونوں ) خدا کے ہاں ہرگز برابر نہیں ہیں اور خدا ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں کرتا ۔

۲۰ ۔ وہ جو ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اپنے مال وجان سے راہِ خدا میں جہاد کیا، خدا کے ہاں ان کا مقام ومنزلت بلند ہے اور وہ عظیم نعمت پر فائز ہیں ۔

۲۱ ۔ پروردگار انھیں اپنی طرف سے رحمت، خوشنودی اور ایسے باغات بہشت کی بشارت دیتا ہے جن میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں ۔

۲۲ ۔ وہ ہمیشہ ان باغوں میں (اور ان نعمتوں میں گھرے) رہیں گے کیونکہ خدا کے ہاں عظیم اجر وثواب ہے ۔

شان نزول

مندرجہ بالا آیات کے شان نزول کے بارے میں شیعہ اور سُنی کتب میں مختلف روایات نقل ہوئی ہیں ، ان میں سے جو زیادہ صحیح نظر آتی ہے اسے ذیل میں درج کیا جاتا ہے ۔

اہل سنّت کے مشہور عالم حاکم ابوالقاسم حسکانی نقل کرتے ہیں کہ شیبہ اور عباس میں سے ہر ایک دوسرے پر افتخار کررہے تھے اس سلسلے میں ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کررہے تھے کہ حضرت علی علیہ السلام ان کے پاس سے گزرے اور کہا کہ کس چیز پر فخرومباہات کررہے ہو، عباس نے کہا مجھے ایسا امتیاز حاصل ہے کہ جو کسی کے پاس نہیں اور وہ ہے خانہ خدا کے حاجیوں کو پانی پلانا ۔

شیبہ نے کہا کہ میں مسجد الحرام کو تعمیر کرنے والا ہوں اور (خانہ کعبہ کا کلید دار ہوں ) ۔

حضرت علی(ع) نے کہا: مجھ شرم آتی ہے کہ میں کم سن ہونے کے باوجود تم ایسا افتخار اور امتیاز رکھتا ہوں کہ جو تم نہیں رکھتے ۔

انھوں نے پوچھا: وہ کونسا افتخار اور امتیاز ہے؟

آپ(ع) نے فرمایا: میں نے تلوار سے جہاد کیا یہاں تک کہ تم خدا اور رسول پر ایمان لے آئے ۔

عباس غصّے میں آکر کھڑے ہوگئے اور دامن کو کھینچتے ہوئے رسول الله کی تلاش میں نکلے، (آپ ملے تو آپ سے شکایت کے طور پر) کہنے لگے: کیا آپ دیکھتے نہیں کہ علی مجھ سے اس قسم کی بات کرتا ہے ۔

رسول الله نے فرمایا: علی کو بلاو۔

جب حضرت علی علیہ السلام بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے تو آنحضرت نے فرمایا: تم نے اپنے چچا (عباس) سے کوئی ایسی بات کیوں کی ہے ۔

حضرت علی(ع) نے عرض کیا: یا رسول الله! اگر مجھ سے انھیں تکلیف پہنچی ہے تو میں نے تو ایک حقیقت بیان کی تھی، کوئی حق بات پر ناراض ہوتا ہو تو اور کوئی خوش ہوتا ہو تو ہو۔

اس موقع پر جبرئیل نازل ہوئے اور کہا: یا محمد! آپ کے پروردگار نے آپ پر سلام بھیجا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیات ان کے سامنے پڑھیے( اٴَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَاجِّ وَ ) (کیا حاجیوں کو سیراب کرنا اور مسجد الحرام کی آبادی خدا اور روزِ جزا پر ایمان لانے اور راہِ خدا میں جہاد کرنے کی مانند قرار دیتے ہو یہ ہرگز ایک دوسرے کے مساوی نہیں ہیں ۔(۱)

یہی روایت مضمون کے تھوڑے اختلاف کے ساتھ اہل سنّت کی بہت سی کتب میں منقول ہے، مثلاً تفسیر طبری، ثعلبی، اصحابِ النزول واحدی، تفسیر بغدادی ، معالم التنزیل علامہ بغوی، مناقب ابن مغازلی، جامع الاصول ابن اثیر، تفسیر فخر رازی اور دیگر کتب۔(۲)

بہرحال مندرجہ بالا حدیث مشہور ومعروف احادیث میں سے ہے یہاں تک کہ متعصب افراد نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے، ہم ان آیات کی تفسیر مکمل کرکے دوبارہ اس کے بارے میں گفتگو کریں گے ۔

معیارِ فضیلت

ان آیات کی اگرچہ مخصوص شان نزول ہے تاہم یہ گذشتہ آیات کی بھی تکمیل کرتی ہیں اور ایسی شان مثالیں قرآن مجید میں بہت سی ہیں ۔

پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: کیا خانہ خدا کے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد الحرام کی تعمیر کرنے کو اس شخص کے کام طرح قرار دیتے ہو جو خدا اور روزِ جزا پر ایمان رکھتا ہے اور روہِ خدا میں جہاد کرتا ہے، یہ دونوں خدا کے ہاں کسی طرح بھی برابر اور یکساں نہیں ہیں اور خدا ظالم وستمگر کو ہدایت نہیں کرتا( اٴَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِی سَبِیلِ اللهِ لَایَسْتَوُونَ عِنْدَ اللهِ وَاللهُ لَایَهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ ) ۔

”سقایة“ مصدر بھی ہے جس کا معنی پانی دینا اور اس وسیلے اور پیمانے کے معنی میں بھی ہے جس سے پانی پلاتے ہیں (جیسا کہ سورہ یوسف آیہ ۷۰ میں آیا ہے) نیز یہ بڑے برتن یا حوض کے معنی میں بھی آیا ہے کہ جس میں پانی ڈالتے ہیں ، مسجد الحرام میں زمزم اور خانہ کعبہ کے درمیان ایک جگہ ہے جو ”سقایة العباس“ کے نام سے مشہور ہے وہ یہاں ایک بڑا برتن رکھ دیتے تھے کہ جس میں سے حاجی پانی لیتے تھے ۔

تواریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ اسلام سے پہلے ”سقایة الحاج“ کا منصب خانہ کعبہ کی کلید برداری کے منصب کے ہم پلّہ تھا اور اہم ترین منصب شمار ہوتا تھا ۔

ایّام حج میں حاجیوں کو پانی کی شدید ضرورت ہوتی ہے جبکہ وہ سرزمین بھی ایسی ہے جہاں خشک اور جلادینے والی گرمی ہے جہاں پانی کم ہے اور سال کے زیادہ تر دنوں میں جہا گرم ہوا چلتی رہتی ہے، اس سے ”سقایة الحاج“ کے منصب کی خاص اہمیت واضح ہوجاتی ہے اور جو شخص اس معاملے کا سرپرست ہوتا وہ فطری طور پر مقام وحیثیت کا حامل ہوتا کیونکہ حاجیوں کی خدمت ایک زندہ خدمت شمار ہوتی تھی ۔

اسی طرح مسجد الحرام کی کلید برداری کا منصب رکھنے والے اور اس کی تعمیر وآبادی کی خدمت انجام دینے والے شخص یا اشخاص کا بے حد احترام کیا جاتا تھا کیونکہ زمانہ جاہلیت میں بھی مسجد الحرام کو مقدس ترین اور عظیم ترین مذہبی مرکز کی حیثیت حاصل تھی ۔

ان تمام چیزو ں کے باوجود قرآن مجید کہتا ہے کہ خدا پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا ان تمام کاموں سے برتر اور بالاتر ہے ۔

اگلی آیت میں تاکید اور توضیح کے طور پر فرمایا گیا ہے: جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انھوں نے ہجرت کی ہے اور اپنے مال وجان سے راہِ خدا میں جہاد کرچکے ہیں وہ بارگاہ خداوندی میں برتر اور عظیم تر مقام رکھتے ہیں( الَّذِینَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِی سَبِیلِ اللهِ بِاٴَمْوَالِهِمْ وَاٴَنفُسِهِمْ اٴَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللهِ وَاٴُوْلٰئِکَ هُمَ الْفَائِزُونَ ) ۔

اگلی آیت میں خدا ان تین اہم کاموں (ایمان، ہجرت اور جہاد) کے بدلے میں ان کے لئے تین اہم انعام بیان کرتا ہے:

۱ ۔ انھیں اپنی وسیع رحمت کی بشارت دیتا ہے( یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ ) ۔

۲ ۔ انھیں اپنی رضامندی اور خوشنودی سے بہرہ مند کرتا ہے( وَرِضْوَانٍ ) ۔

۳ ۔ جنت کے ایسے باغات ان کے اختیار میں دے دیتا ہے کہ جن کی نعمتیں دائمی ہیں( وَجَنَّاتٍ لَهُمْ فِیهَا نَعِیمٌ مُقِیمٌ ) ۔

اگلی آیت میں زیادہ تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے: وہ ہمیشہ کے لئے ان میں رہیں گے( خَالِدِینَ فِیهَا اٴَبَدًا ) ۔ کیونکہ خدا کے پاس عظیم واجر وثواب ہے کہ جو وہ بندوں کے اعمال کے بدلے میں انھیں بخشے گا( إِنَّ اللهَ عِنْدَهُ اٴَجْرٌ عَظِیمٌ ) ۔

دو اہم نکات

۱ ۔ تحریف تاریخ:

جیسا کہ ہم مندرجہ بالا آیات کی شان نزول میں پڑھ چکے ہیں ، اس روایت کے مطابق کہ جو بہت سی مشہور تین کتب اہلِ سنّت میں منقول ہوئی ہے یہ آیات حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں اور ان کے فضائل میں نازل ہوئی ہیں اگرچہ ان کا مفہوم عام اور وسیع ہے (اور ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ شان نزول آیات کے مفہوم شان نزول آیات کی مفہوم کومحدود نہیں کرتی) لیکن بعض مفسّرین اہل سنت نہیں چاہتے کہ علی کے لیے جاذب نظر فضائل ثابت ہوں حالا نکہ وہ آپ کو اپنا چوتھا عظیم پیشوا مانتے ہیں ، گویا وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر وہ ان مدارک ومآخذ کے سامنے کھڑے ہوجائیں اور اس بات پر ہر طرف سے ان کا دائرہ تنگ کردیں کہ کس بنا پر تم دوسروں کو حضرت علی(ع) پرمقدم سمجھتے ہو، لہٰذا اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ تاریخی حقائق سے چشم پوشی کرلیتے ہیں اور جتنا ان سے ممکن ہو ایسی احادیث پر سند کے حوالے سے اعتراضات کرتے ہیں اور اگر سند میں دست اندازی کی کوئی گنجائش نظر نہ آئے تو کوشش کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس کی دلالت کو مخدوش کردیں ، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسے تعصبات ہمارے اس زمانے تک جاری ہیں یہاں تک کہ ان کے بعض روشن فکر علماء بھی ان سے بچ نہیں سکے ۔

میں بھول نہیں سکتا وہ گفتگو جو میری ایک اہل سنّت عالم سے ہوئی، جب بات چیت کے دوران اس قسم کی احادیث پر گفتگو چل نکلی تو انھوں نے ایک عجیب بات کہی، انھوں نے کہا: میرا نظریہ ہے کہ شیعہ اپنے مذہب کے تمام اصول وفروع ہمارے منابع، مدارک اور کتب سے ثابت کرسکتے ہیں کیونکہ ان میں مذہب شیعہ کے لئے کافی مقدار میں احادیث موجود ہیں جو ان کے نفع میں ہیں ۔

لیکن اس بنا پر کہ وہ ان تمام منابع ومدارک سے بالکل نجات حاصل کرلیں کہنے لگے: میرا نظریہ ہے کہ ہمارے سابقہ لوگ خوش باور افراد تھے اور جن احادیث کو وہ سن لیتے تھے اپنی کتب میں نقل کردیتے تھے، اب ان تمام چیزوں کو جو وہ لکھ گئے ہیں ہم آسانی سے قبول نہیں کرسکتے (واضح رہے کہ ان کی گفتگو ان کی کتب صحاح، مسانیدِ معتبرہ اور درجہ اوّل کے بارے میں بھی تھی) ۔

میں نے ان سے کہا: یہ محققانہ طریقہ نہیں کہ انسان کسی مذہب کو پہلے سے وراثتاً قبول کرے اور اس کے بعد ہر وہ حدیث جو اس مذہب کے مطابق ہو اسے صحیح سمجھے اور جو حدیث اس سے تطبیق نہ کرے اسے یقین سابق کی خوش باوری خیال کرلے چاہے وہ معتبر حدیث ہی کیوں نہ ہو، کیا ہی اچھا ہو کہ اس طرزِ فکر کی بجائے آپ دوسری راہ انتخاب کرلیں ، پہلے اپنے آپ کو ہر قسم کے موروثی عقائد سے پاک کرلیں پھر منطقی مدارک کو سامنے رکھ کر صحیح عقیدے کو اختیار کریں ۔

آپ اچھی طرح سے ملاحظہ فرمارہے ہیں کہ کیوں اور کس بناپر ان مشہور ومعروف احادیث کو جو حضرت علی علیہ السلام کے بلند وبرتر مقام کے بارے میں ہیں اور دوسروں پر ان کی برتری ثابت کرتی ہیں کے بارے میں اس طرح سے سرد مہری اختیار کی جاتی ہے بلکہ ان پر اعتراضات کی بوچھار کی جاتی ہے اور بعض اوقات تو انھیں بالکل نظر انداز کردیا جاتا ہے اور ان کے متعلق سرے سے بات ہی نہیں کی جاتی جیسے اس قسم کی احادیث اصلاً موجود ہی نہ ہوں ۔

مندرجہ بالا گفتگو کی روشنی میں اب ہم مشہور مفسّر صاحب المنار کی گفتگو بیان کرتے ہیں ، انھوں نے زیرِ نظر آیات کی شانِ نزول کے بارے میں مذکورہ روایت کو بالکل نظرانداز کردیا ہے اور اس کی بجائے ایک اور روایت جو آیات کے مضمون پر بالکل منطبق نہیں ہوتی اور جسے ایک مخالفِ قرآن روایت کے باعث پھینک دینا چاہیے تھا معتبر جانا ہے، یہ روایت وہ ہے جسے انھوں نے نعمان بن بشیر سے نقل کیا ہے ۔

نعمان کہتا ہے کہ میں منبر رسول کے پاس چند صحابہ کےساتھ بیٹھا ہوا تھا، ان میں سے ایک کہنے لگا: میں اسلام لانے کے بعد کسی عمل کو اس سے بلند وبرتر نہیں سمجھتا کہ خانہ خدا کے حاجیوں کو سیراب کروں ۔

دوسرا کہنے لگا: مسجد الحرام کی تعمیر اور اسے آباد کرنا ہر عمل سے بلند تر ہے ۔

حضرت عمر نے انھیں یہ گفتگو کرنے سے منع کیا اور کہا:- رسولِ خدا کے منبر کے پاس اپنی آواز بلند نہ کرو۔

یہ جمعہ کا دن تھا ۔

حضرت عمر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: لیکن جب میں نمازِ جمعہ پڑھ لوں گا تو رسولِ الله کے پاس جاوں گا اور ان سے تمھارے اس مسئلہ کے بارے میں سوال کروں گا جس کے متعلق تم اختلاف کررہے ہو۔

(نماز کے بعد حضرت عمر، رسول الله کے پاس گئے اور سوال کیا) تو اس موقع پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں ۔(۱)

حالانکہ یہ روایت مختلف جہات سے زیرِ بحث آیات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی اور ہم جانتے ہیں کہ جو روایت خلافِ قرآن ہو اسے دور پھینک دینا چاہیے، مذکورہ روایت کے ضمن میں مندرجہ ذیل پہلو قابلِ غور ہیں :

الف: مندرجہ بالا آیات میں جہاد، سقایة الحاج اور تعمیر مسجد الحرام میں موازنہ نہیں ہوا بلکہ بلکہ موازنہ میں ایک طرف سقایة الحاج اور تعمیر مسجد الحرام ہے اور دوسری طرف خدا اور روزِ جزا پر ایمان اور جہاد ہے، یہ چیز نشاندہی کرتی ہے کہ کچھ افراد ان اعمال کا جو وہ زمانہ جاہلیت میں انجام دے چکے تھے ایمان اور جہاد کا موازنہ تعمیر مسجد الحرام اور سقایة الحاج سے ہے ۔

ب: دوسری بات یہ ہے کہ ”( وَاللهُ لَایَهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ ) “ کا جملہ نشاندہی کرتا ہے کہ پہلے گروہ کے اعمال ظلم سے ملے ہوئے تھے اور یہ اس صورت میں ہوگا جب وہ حالتِ شرک میں واقع ہوئے ہوں کیونکہ قرآن کہتا ہے:( اِنَّ الشِّرکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ ) یقیناً شرک بہت بڑا ظلم ہے ۔(لقمان/ ۱۳)

ج: زیرِ بحث دوسری آیت کہتی ہے: وہ افراد جو ایمان لائے اور انھوں نے جہاد کیا وہ بلند مقام رکھتے ہیں ، اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ افارد ان لوگوں سے جو ایمان، ہجرت اور جہاد نہیں رکھتے برتر ہیں ، اور یہ صورت نعمان والی روایت سے مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ اس روایت کے مطابق گفتگو کرنے والے سب مومن اور مسلمان تھے اور شاید وہ ہجرت اور جہاد کے مرحلے میں شریک ہوچکے تھے ۔

د: گذشتہ آیات میں مساجد کی آبادی کے سلسلے میں مشرکین کے اقدام کرنے کے متعلق گفتگو تھی( مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِینَ اٴَنْ یَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللهِ ) جبکہ زیرِ بحث آیات جو ان کے بعد آئی ہیں اسی موضوع کو جاری رکھے ہوئے ہیں یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ ان آیات کا موضوع بحث حالتِ شرک میں تعمیر مسجد الحرام اور سقایة الحاج ہے، یہ بات نعمان والی روایت کے مطابق نہیں ہے ۔

ان تمام دلائل کے مقابلے میں جو بات کہی جاسکتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ ”اٴعظم درجة “ کی تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ عمل کے موازنہ اور مقابلہ میں شریک طرفین اچھے افراد ہیں اگرچہ ان میں سے ایک دوسرے سے بہتر ہے ۔

لیکن اس کا جواب واضح ہے کیونکہ افعل التفضیل (صفت تفصیلی) زیادہ تر ایسے مواقع پر استعمال ہوتی ہے کہ جب موازنہ کی ایک طرف واجد فضیلت اور دوسری طرف صفر ہو مثلاً اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کہتے ہیں کہ دیر سے پہنچنا اس سے بہتر ہے، یا یہ کہ ہم قرآن میں پڑھتے ہیں :( وَالصُّلْحُ خَیْرٌ )

صلح جنگ سے بہتر ہے ۔(نساء/ ۱۲۸)

اس کا مطلب یہ نہیں کہ جنگ کوئی اچھی چیز ہے ۔

یا اسی طرح قرآن میں ہے:( وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَیْرٌ مِنْ مُشْرِکٍ )

بندہ مومن مشرک سے بہتر ہے ۔(بقرہ/ ۲۲۱)

تو کیا بت پرست بھی کوئی خیر اور فضیلت رکھتا ہے ۔

اسی طرح سورہ توبہ آیہ ۱۰۸ میں ہے:( لَمَسْجِدٌ اٴُسِّسَ عَلَی التَّقْوَی مِنْ اٴَوَّلِ یَوْمٍ اٴَحَقُّ اٴَنْ تَقُومَ فِیهِ )

وہ مسجد کہ جس کی بنیاد پر تقویٰ پر رکھی گئی ہے (مسجد ضرار سے جسے منافقین نے تفرقہ ڈالنے کے لئے بنایا تھا) عبادت کے لئے زیادہ حق رکھتی ہے اور زیادہ شائستہ ہے ۔

حالانکہ ہمیں معلوم ہے کہ مسجد ضرار میں عبادت کرنے میں کوئی شائستگی نہیں ہے، اس قسم کی تعبیریں قرآن مجید، کلماتِ عرب اور دوسری زبانوں میں بہت زیادہ ہیں ، جو کچھ کہا گیا ہے اس تمام گفتگو سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ نعمان بن بشیر والی روایت چونکہ قرآن کے مضمون کے برخلاف ہے لہٰذا پھینک دینا چاہیے اور جو ظاہری آیات کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے وہی مشہور حدیث ہے جو بحث کی ابتداء میں شانِ نزول کے زیرِ عنوان ہم نے بیان کی ہے اور یہ اسلام کے عظیم پیشوا حضرت علی علیہ السلام کے لئے ایک فضیلت ہے ۔

خدا تعالیٰ ہم سب کو حق کی اور ایسے رہنماوں کی پیروی پر ثابت قدم رکھے اور کھلی آنکھ اور کان عطا فرمائے اور تعصب سے دُور فکر عنایت کرے ۔

۲ ۔ مقامِ رضوان کیا ہے؟

مندرجہ بالا آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مقام رضوان ان عظیم نعمات اور مقامات میں سے ہے جو خدا تعالیٰ مومنین اور مجاہدین کو بخشتا ہے، یہ مقام باغاتِ بہشت، جنت کی جاوداں نعمتوں اور پروردگار کی وسیع رحمت سے الگ الگ چیز ہے اس مسئلے کی مزید تشریح انشاء الله اسی سورت کی آیہ ۷۲ کے ذیل میں آئے گی جس میں فرمایا گیا ہے:

( وَرِضْوَانٌ مِنْ اللهِ اٴَکْبَرُ )

____________________

۱۔ تفسیر مجمع البیان، زیر بحث آیات کے ذیل میں -

۲۔ حدیث کی مزید وضاحت کے لئے اور اس کے مدارک کے مشخصات کے بارے میں احقاق الحق جلد۳، ص۱۲۲تا۱۲۷ کی طرف رجوع فرمائیں ۔

۳۔ تفسیر المنار، ج۱۰، ص۲۱-


آیات ۲۳،۲۴

۲۳( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لَاتَتَّخِذُوا آبَائَکُمْ وَإِخْوَانَکُمْ اٴَوْلِیَاءَ إِنْ اسْتَحَبُّوا الْکُفْرَ عَلَی الْإِیمَانِ وَمَنْ یَتَوَلَّهُمْ مِنْکُمْ فَاٴُوْلٰئِکَ هُمْ الظَّالِمُونَ )

۲۴( قُلْ إِنْ کَانَ آبَاؤُکُمْ وَاٴَبْنَاؤُکُمْ وَإِخْوَانُکُمْ وَاٴَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیرَتُکُمْ وَاٴَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَهَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَهَا اٴَحَبَّ إِلَیْکُمْ مِنْ اللهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِی سَبِیلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّی یَاٴْتِیَ اللهُ بِاٴَمْرِهِ وَاللهُ لَایَهْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِینَ )

ترجمہ

۲۳ ۔ اے ایمان والو! جس وقت تمھارے باپ اور بھائی کفر کو ایمان پر ترجیح دیں تو انھیں اپنا ولی (اور دوست، یاور اور سہارا) قرار نہ دو اور جو انھیں اپنا ولی قرار دیں وہ ستمگر ہیں ۔

۲۴ ۔کہہ دو : اگر تمھارے آباواجداد ، اولاد، بھائی، ازواج اور تمھارا قبیلہ اور وہ اموال جو تمھارے ہاتھ لگے ہیں اور وہ تجارت جس کے مندا پڑجانے کا تمھیں ڈر ہے وہ تمھارے پسندیدہ گھر تمھاری نظر میں خدا، اس کے پیغمبر اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تم پھر انتظار کرو کہ خدا تم پر اپنا عذاب نازل کرے اورخدا نافرمانوں کو ہدایت نہیں کرتا ۔

ہدف اور خدا پر ہر چیز قربان ہے ۔

آخری وسوسہ اور بہانہ جو بت پرستوں کے مقابلے میں حکم جنگ کے بارے میں ہوسکتا ہے اور بعض تفاسیر کے مطابق پیدا ہوا، یہ تھا کہ وہ سوچتے تھے کہ ایک طرف مشرکین اور بت پرستوں کے درمیان ان کے قریبی عزیز اور وابستہ لوگ موجود تھے ۔ کبھی باپ مسلمان ہوجاتا اور بیٹا مشرک رہ جاتا اور کبھی برعکس اولاد راہِ خدا پر چل نکلتی اور باپ اسی طرح شرک تاریکی میں رہ جاتا، یونہی بھائیوں ، میان بیوی اور خاندان کے بارے میں صورت تھی، اب اگر تمام مشرکین کے ساتھ جنگ کرنا مقصود ہوتا تو پھر اس کا تقاضا یہ ہوتا کہ اپنے رشتہ داروں اور قوم وقبیلہ کو بھول جائیں ۔

دوسری طرف ان کا زیادہ تر سرمایہ اور تجارت مشرکین کے ہاتھ میں تھا لہٰذا وہ مکہ آتے جاتے اور اس کی ترقی کے لئے کام کرتے ۔

تیسری بات یہ تھی کہ مکہ میں ان کے گھر تھے جو اچھی حالت میں نسبتاً آباد تھے کہ جو ہوسکتا تھا کہ مشرکین سے جنگ کی صورت میں ویران ہوجائیں یا ممکن تھا کہ مراسم حج سے مشرکین کے معطل ہوجانے کی وجہ سے ان کی کوئی قدر وقیمت نہ رہتی اور وہ بے سود ہوجاتے ۔

مندرجہ بالا آیت کی نظر ایسے اشخاص ہی کی طرف ہے اور دو ٹوک انداز میں انھیں صریح جواب دیتی ہیں ، پہلے فرمایا گیا ہے: اے ایمان والو! جب تمھارے باپ اور بھائی کفر کوایمان پر مقدم رکھیں تو انھیں اپنا دوست، مددگار ولی اور سرپرست قرار نہ دو( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لَاتَتَّخِذُوا آبَائَکُمْ وَإِخْوَانَکُمْ اٴَوْلِیَاءَ إِنْ اسْتَحَبُّوا الْکُفْرَ عَلَی الْإِیمَانِ ) ۔

پھر تاکید کے طور پر مزید کہا گیا ہے: تم میں سے جو لوگ مدد اور دوستی کے لئے ان کا انتخاب کریں وہ ستمگر ہیں( وَمَنْ یَتَوَلَّهُمْ مِنْکُمْ فَاٴُوْلٰئِکَ هُمْ الظَّالِمُونَ ) ۔

اس سے بڑھ کر ظلم کیا ہوگا کہ انسان حق سے بیگانوں اور حق کے دشمنوں سے دوستی رکھ کر اپنے اوپر، اس معاشرے پر جس میں وہ رہتا ہے اور خدا کے بھیجے ہوئے رسول پر ظلم کرے ۔

اگلی آیت میں اس امر کی انتہائی اہمیت کے پیش نظر اس کی تشریح تاکید اور تہدید کی صورت میں کی گئی ہے، روئے سخن پیغمبر کی طرف کرتے ہوئے فرمایا گیاہے: ان سے کہہ دو اگر تمھارے باپ، اولاد، بھائی، ازواج، خاندان اور قبیلہ اور تمھارے جمع کردہ اموال اور تجارت جس کے مندا پڑجانے تمھیں خوف ہے اور اچھے امکانات جو تمھیں پسند ہیں تمھاری نظر میں خدا، اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو کہ خدا کی طرف سے سزا اور عذاب تمھیں آلے( قُلْ إِنْ کَانَ آبَاؤُکُمْ وَاٴَبْنَاؤُکُمْ وَإِخْوَانُکُمْ وَاٴَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیرَتُکُمْ وَاٴَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَهَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَهَا اٴَحَبَّ إِلَیْکُمْ مِنْ اللهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِی سَبِیلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّی یَاٴْتِیَ اللهُ بِاٴَمْرِهِ ) ۔

ان امور کو رضائے الٰہی اور جہاد پر ترجیح دینا چونکہ ایک قسم کی نافرمانی اور واضح فسق ہے اور مادی زندگی کے زرق وبرق سے دلبستگی رکھنے والے ہدایت الٰہی کی اہلیت نہیں رکھتے لہٰذا آیت کے آخر میں مزید ارشاد ہوتا ہے: خدا فاسق گروہ کو ہدایت نہیں کرتا( وَاللهُ لَایَهْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِینَ ) ۔

تفسیر علی بن ابراہیم قمی میں اس طرح منقول ہے:

( لما اذن امیرالمومنین ان لا یدخل المسجد الحرام مشرک بعد ذٰلک جزعت قریش جزعاً شدیداً وقالوا ذهبت تجارتنا، وضعت عیالنا، وخرجت دورنا، فانزل الله فی ذٰلک ( یا محمد ) إِنْ کَانَ آبَائُکُمْ )

جب حضرت امیر المومنین علی(ع) نے (مراسم حج کے دوران) اعلان کیا کہ اس کے بعد کوئی مشرک مسجد الحرام میں داخلے کا حق نہیں رکھتا تو قریش (کے مومنین) نے فریان بلند کی اور کہنے لگے: ہماری تجارت ختم ہوگئی اور ہمارے اہل وعیال تباہ ہوگئے اور ہمارے گھر ویران ہوگئے، اس پر آیت ننازل ہوئی ”( إِنْ کَانَ آبَائُکُمْ )

مندرجہ بالا آیات میں اصلی سچّے ایمان کوشرک ونفاق سے آلودہ کو الگ الگ کرکے دکھایا گیا ہے اور حقیقی مومنین اور ضعیف الایمان افراد کے درمیان حد فاصل مقرر کردی گئی ہے اور صراحت سے کہا گیا ہے کہ ہشت پہلو مادی زندگی کا سرمایہ کہ جس کے چار حصّے نزدیکی رشتہ داروں (ماں باپ، اولاد، بہن بھائیوں اور میان بیوی) سے مربوط ہیں ، ایک حصّہ گروہ اجتماعی اور عشیرہ وقبیلہ سے، ایک حصّہ جمع کردہ اموال سے، ایک حصّہ اچھے مکانوں سے مربوط ہے انسان کی نظر میں خدا، رسول، جہاد اور فرمانِ خدا کی اطاعت سے بڑھ کر قیمتی اور گراں بہا ہے یہاں تک کہ وہ ان چیزوں کو دین پر قربان کرنے کو تیار نہیں تو معلوم ہوتا ہے اس میں حقیقی اور کامل ایمان پیدا نہیں ہوا ۔

حقیقتِ ایمان ور وح ایمان اپنی تمام قدروں کے ساتھ اسی دن روشن ہوگی جس روز ایسی فداکاری اور قربانی میں کوئی شک وشبہ نہ رہے ۔

علاوہ ازیں جو لوگ ایسے ایثار وفداکاری پر آمادہ نہیں ہیں درحقیقت اپنے اوپر معاشرے پر ظلم کرتے ہیں یہاں تک کہ جس چیز سے وہ ڈرتے ہیں اسی میں جاکریں گے کیونکہ جو قوم تاریخ کے ایسے لمحوں اور مقامات پر ایسی فداکاریوں کے لئے تیار نہیں ہے جلد یا دیر اسے شکست سے دوچار ہونا پڑے گا اور وہی عزیز واقارب اور مال ودولت جن سے دلبستگی کی وجہ سے حہاد سے اجتناب کرتے ہیں خطرے میں پڑجائیں گے اور دشمن کے جنگل میں نیست ونابود ہوجائیں گے ۔

قابل توجہ نکات

۱ ۔ ہدف عزیز تر ہو:

جو کچھ آیاتِ بالا میں فرمایا گیا ہے اس کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ عزیز واقارب سے دوستی اور محبت کے رشتے توڑلیے جائیں اور اقتصادی سرمائے کی پرواہ نہ کی جائے اور نہ یہاں انسانی جذبات کو ترک پر ابھارا گیا ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ جب زندگی میں دوراہا آجائے تو بیوی، اولاد، مال ودولت، مقام ومنزلت، گھر اور گھرانے کے عشق کو حکمِ خدا کے اجراء اور جہاد کی طرف رغبت سے مانع نہیں ہوچاہیے اور ان چیزوں کو انسان کے مقدس ہدف اور مقصد میں حائل نہیں ہوچاہیے ۔

لہٰذا اگر دوراہاے پر نہ کھڑا ہو اور ان دونوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا مرحلہ نہ ہو تو پھر دونوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے ۔

سورہ لقمان کی آیہ ۱۵ میں بت پرست ماں باپ کے میں ہے:

( وَإِنْ جَاهَدَاکَ عَلی اٴَنْ تُشْرِکَ بِی مَا لَیْسَ لَکَ بِهِ عِلْمٌ فَلَاتُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوفًا )

اگر وہ اصرار کریں کہ تو جس چیز کو خدا کا شریک نہیں جانتا اسے خدا کا شریک قرار دے تو ہرگز ان کی اطاعت نہ کرنا لیکن دنیاوی زندگی میں ان سے اچھا سلوک کرو۔

۲ ۔ ”( فَتَرَبَّصُوا حَتَّی یَاٴْتِیَ اللهُ بِاٴَمْرِهِ ) “کا ایک اور مفہوم :

اس کی ایک تو تفسیر وہی ہے جو ہم اوپر بیان کرچکے ہیں یعنی خدا کی طرف سے ایسے لوگوں کے لئے تہدید ہے جو اپنے مادی مفاد کو رضائے الٰہی پر مقدم شمار کرتے ہیں اور چونکہ یہ تہدید اجمالی طور پر بیان کی ہوئی ہے لہٰذا اس کا اثر بیشتر اور زیادہ وحشت انگیز ہے اور یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے انسان اپنے کسی ماتحت سے کہے کہ اگر تو نے اپنی ذمہ داری میں کوتاہی کی تو میں بھی اپنا کام کروں گا ۔

اس جملے کی تفسیر میں ایک اور احتمال بھی ہے اور وہ یہ کہ خدا کہتا ہے کہ اگر تم اس قسم کے ایثار کے لئے تیار نہ ہوئے تو خدا اپنے پیغمبر کی فتح وکامرانی کا حکم اس راستے سے دے گا جسے وہ جانتا ہے اور جس طریقے سے اس نے ارادہ کیا ہے اس کی مدد کرے گا، جیسے سورہ مائدہ کی آیت ۵۴ میں ہے:

( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا مَنْ یَرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِینِهِ فَسَوْفَ یَاٴْتِی اللهُ بِقَوْمٍ یُحِبُّهُمْ وَیُحِبُّونَهُ )

اے ایمان والو! تم میں سے جوشخص اپنے دین سے مرتد ہوجائے وہ خدا کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا کیونکہ خدا عنقریب ایک گروہ لائے گا جو خدا سے محبت کرتا ہے اور خدا بھی اس گروہ سے محبت کرتا ہے ۔

۳ ۔ ماضی اور حال میں اس حکم کی کیفیت:

ہوسکتا ہے کچھ لوگ یہ خیال کریں کہ جو کچھ ابا آیت میں بیان ہوا ہے وہ پہلے مسلمانوں سے مخصوص ہے اور اس کا تعلق گذشتہ تاریخ سے ہے حالانکہ یہ بہت بڑا اشتباہ ہے، یہ آیات گذشتہ، آج اور آئندہ سب ادوار کے مسلمانوں پر محیط ہیں ، اگر وہ جہاد اور فداکاری کے لئے محکم ایمان نہ رکھتے ہوں ، تیار نہ ہوں ، ضرورت کے وقت ہجرت پر تیار نہ ہوں اور اپنے مادی مفاد کو رضائے الٰہی پر مقدم سمجھیں اور بیوی، اولاد، مال ودولت اور عیشِ حیات سے زیادہ دلبستگی کی وجہ سے ایثار وقربانی سے کوئی تعلق نہ رکھتے ہوں تو ان کا مستقبل تاریک ہے نہ صرف مستقبل بلکہ اُن کا حال بھی خطرے میں ہے اور ان کا سب گذشتہ افتخار، میراث اور امتیاز ختم ہوجائے گا، ان کی زندگی کے منابع اور مراکز دوسروں کے ہاتھ لگ جائیں گے اور ان کے لئے زندگی کا کوئی مفہوم نہیں ہوگا کیونکہ زندگی ایمان اور ایمان کے زیر سایہ جہاد سے عبارت ہے ۔

مندرجہ بالا آیات کی ایک شعار کے طور پر تمام مسلمانوں بچوں اور نوجوانوں کو تعلیم دی جانا چاہیے اور ان میں فداکاری، مبارزہ اور ایمان کی روح زندہ ہونا چاہیے، انھیں چاہیے کہ وہ اپنی میراث کی حفاظت کریں ۔


آیات ۲۵،۲۶،۲۷

۲۵( لَقَدْ نَصَرَکُمْ اللهُ فِی مَوَاطِنَ کَثِیرَةٍ وَیَوْمَ حُنَیْنٍ إِذْ اٴَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْئًا وَضَاقَتْ عَلَیْکُمْ الْاٴَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُدْبِرِینَ )

۲۶( ثُمَّ اٴَنزَلَ اللهُ سَکِینَتَهُ عَلیٰ رَسُولِهِ وَعَلَی الْمُؤْمِنِینَ وَاٴَنزَلَ جُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ الَّذِینَ کَفَرُوا وَذٰلِکَ جَزَاءُ الْکَافِرِینَ )

۲۷( ثُمَّ یَتُوبُ اللهُ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ عَلیٰ مَنْ یَشَاءُ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ )

ترجمہ

۲۵ ۔ خدا نے بہت سے میدانوں میں تمھاری مدد کی (اور تم دشمن پر کامیاب ہوئے) اور حنین کے دن (بھی مدد کی) جبکہ تمھارے لشکر کی کثرتِ تعداد نے تمھیں گھمنڈ میں ڈال دیا لیکن (اس کثرت نے) تمھاری کوئی مشکل حل نہ کی اوز مین پوری وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی پھر تو (دشمن کو) پشت دکھاکر بھاگ کھڑے ہوئے ۔

۲۶ ۔ پھر خدا نے اپنی ”سکینة“ اپنے رسول اور مومنین پر نازل کی اور ایسے لشکر بھیجے جنھیں تم نہیں دیکھتے تھے اور کافروں کو عذاب دیا اور یہ ہے کافروں کی جزا ۔

۲۷ ۔ پھر خدا جس شخص کی چاہے (اور اسے اہل دیکھے) توبہ قبول کرتا ہے اور خدا بخشنے والا اور مہربان ہے ۔

صرف کثرت کسی کام کی نہیں

گذشتہ آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ خدا تعالیٰ مسلمانوں کو راہِ خدا میں شرک وبت پرستی کی جڑ اکھاڑ پھینکنے کے لئے ہر قسم کی فداکاری کی دعوت دیتا ہے اور وہ اشخاص کہ جن کی روح کو بیوی اولاد، قوم وقبیلہ اور مال وثروت کی محبت نے اس طرح گھیر رکھا ہے کہ فداکاری اور جہادکے لئے تیار نہیں ہیں انھیں شدید خطرے کا الارم دیتا ہے ۔

اس کے بعد محل بحث آیات میں ایک اہم مسئلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ہر رہبر ورہنما کو چاہیے کہ وہ حسّاس مواقع پر اپنے پیروکاروں کو اس کی طرف متوجہ کرے اور وہ یہ ہے کہ اگر مال واولاد کا عشق ضعیف الاعتقاد گروہ کے کچھ افراد کو مشرکین کے خلاف جہاد کے لئے پیش قدمی سے روکے تو سچّے مومنین کا گروہ اس امر سے پریشان نہ ہو کیونکہ جب ان کی تعداد کم تھی (مثلاً جنگ بدر میں ) ان دنوں خدا نے انھیں تنہا نہیں چھوڑا اور نہ اُس دن جس روز ان کی جمعیت زیادہ تھی (مثلاً جنگِ جنین کے میدان میں ) اور کثرتِ تعداد نے ان کے درد کا مداوا نہ کیا بلکہ ہر حالت میں خدا کی مدد ان کی کامیابی کا سبب بنی، اسی لئے پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: خدا نے بہت سے مقامات پر تمھاری مدد کی( لَقَدْ نَصَرَکُمْ اللهُ فِی مَوَاطِنَ کَثِیرَةٍ ) ۔

”مواطن“ ”موطن“ کی جمع ہے، اس کا معنی ہے ایسی جگہ جسے انسان دائمی طور پر یا وقتی طور اقامت کے لئے منتخب کرے لیکن اس کے معانی میں سے ایک جنگ کا میدان بھی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جنگی فوجی تھوڑی یا زیادہ مدت کے لئے وہاں قیام کرتے ہیں ۔

مزید فرمایا گیا ہے: اور جنین کے دن تمھاری مدد کی جب اپنی زیادہ جمعیت کی وجہ سے تم اترانے لگے تھے( وَیَوْمَ حُنَیْنٍ إِذْ اٴَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ ) ۔

اس جنگ میں لشکرِ اسلام کی تعداد بارہ ہزار تھی، بعض نے دس یا آٹھ ہزار لیکن مشہور اور صحیح روایات بارہ ہزار کی تائید کرتی ہیں اور اُس وقت تک کسی اسلامی جنگ میں اتنی کثیر تعداد نے شرکت نہیں کی تھی چنانچہ بعض مسلمانوں نے غرور کے انداز میں کہا: ”لن نغلب الیوم“ یعنی اتنی فوج کے ہوتے ہوئے ہم ہرگز شکست نہیں کھائیں گے، لیکن جیسا کہ انشاء الله ہم جنگ حنین کی تفصیل میں بتائیں گے کہ لشکر کی یہ تعداد جس میں ایک گروہ نئے مسلمانوں کا تھا اور جن کی ابھی تربیت نہیں ہوئی تھی لشکر کے فرار اور ابتدائی شکست کا سبب بنا مگر آخر کار انھیں لطفِ خداوندی کے سبب نجات ملی اس ابتدائی شکست کے بارے میں قرآن مزید کہتا ہے: زمین اپنی پوری وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوئی( وَضَاقَتْ عَلَیْکُمْ الْاٴَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ) ۔ پھر تم دشمن کو پشت دکھاکر بھاگ کھڑے ہوئے( ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُدْبِرِینَ ) ۔

ایسے موقع پر جب کہ مسلمان فوج سرزمینِ جنین پر تتر بتر ہوچکی تھی اور چند ایک افراد کے سوا پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم ان کے بھاگ جانے کی وجہ سے سخت ناراحت تھے ”خدا نے اپنے رسول اور مومنین پر اپنی طرف سے سکون واطمینان نازل کیا“( ثُمَّ اٴَنزَلَ اللهُ سَکِینَتَهُ عَلیٰ رَسُولِهِ وَعَلَی الْمُؤْمِنِینَ ) ۔ اور اسی طرح تمھاری تقویت اور مدد کے لئے ایسے لشکر بھیجے جنھیں تم نہیں دیکھتے تھے( وَاٴَنزَلَ جُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا ) ۔

جیسا کہ ہم جنگ بدر سے مربوط آیات کے ذیل میں کہہ چکے ہیں کہ اس غیر مرئی خدائی لشکر کا نزول صرف مسلمانوں کی تقویتِ روح اور ثبات قدم کے لئے تھا ورنہ فرشتوں اور غیبی طاقتوں نے کوئی جنگ نہیں کی تھی ۔(۱)

آخر میں جنگ حنین کا اصلی نتیجہ بیان کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: خدا نے بے ایمان اور بت پرست لوگوں کو سزادی دی (کچھ لوگ مارے گئے کچھ گرفتار ہوگئے اور کچھ بھاگ کر مسلمانوں کی دسترس سے نکل گئے)( وَعَذَّبَ الَّذِینَ کَفَرُوا ) ۔ اور بے ایمان لوگوں کی یہی سزا ہے( وَذٰلِکَ جَزَاءُ الْکَافِرِینَ ) ۔

اس کے باوجود کافر قیدیوں اور بھگوڑوں کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا گیا کہ اگر وہ مائل ہوں تو خدا کی طرف پلٹ آئیں اور دین حق قبول کرلیں لہٰذا آخری زیرِ بحث آیت میں ارشاد ہوتا ہے: پھر اس واقعہ کے بعد خدا جس کے لئے چاہے (اور جسے واقعی توبہ کے لئے تیار دیکھے اور اہل پائے) اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے( ثُمَّ یَتُوبُ اللهُ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ عَلیٰ مَنْ یَشَاءُ )

”یتوب“ جو فعل مضارع ہے اور استمرار پر دلالت کرتا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ توبہ اور باز گشت کے دروازے اسی طرح ان کے سامنے کھلے ہیں کیونکہ ”خدا بخشنے والا اور مہربان ہے“ وہ کبھی توبہ کے دروازے کسی پر بند نہیں کرتا اور اپنی وسیع رحمت سے کسی کو ناامید نہیں کرتا( وَاللهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔

____________________

۱۔ مزید وضاحت کے لئے اسی جلد میں سورہ انفال کی آیہ ۹ تا ۱۲ کے ذیل میں دیکھئے ۔


قابل توجہ نکات

۱ ۔ جنگ حنین، ایک عبرت انگیز معرکہ:

”حنین“ شہر طائف کے قریب ایک علاقے کا نام ہے، یہ جنگ چونکہ اس زمین پر لڑی گئی لہٰذا غزوہ حنین کے نام سے مشہور ہوگئی، قرآن میں اسے ”یومِ حنین“ سے تعبیر کیا گیا ہے، اس جنگ کو ”غزوہ اوطاس“ اور ”غزوہ ہوازن“ بھی کہتے ہیں (”اوطاس“ اسی علاقے کی زمین کا نام ہے اور ”ہوازن“ ایک قبیلے کا نام ہے جو اس جنگ میں مسلمانوں کے خلاف برسرِپیکار تھا) ۔

کامل ابن اثیر نے لکھا ہے کہ اس جنگ کی ابتداء یوں ہوئی کہ ”ہوازن“ جو بہت بڑا قبیلہ تھا اسے فتح مکہ کی خبر ہوئی تو اس کے سردار مالک بن عوف نے افراد کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ ممکن ہے فتح مکہ کے بعد محمد ان سے جنگ کے لئے اٹھ کھڑا ہو، وہ کہنے لگے کہ مصلحت اس میں ہے کہ اس سے قبل کہ وہ ہم سے جنگ کرے ہمیں قدم آگے بڑھانا چاہیے ۔

رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو یہ اطلاع پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ سرزمین ”ہوازن“ کی طرف چلنے کو تیار ہوجائیں ۔(۱)

اس جنگ کے مواقع اور کلیات میں مورخین کے درمیان تقریباً اختلاف نہیں ہے لیکن اس کی تفصیلات کے بارے میں طرح طرح کی روایات نظر آتی ہیں جو ایک دوسرے سے پوری طرح مطابقت نہیں رکھتیں ، جو کچھ ہم ذیل میں اختصار سے درج کررہے ہیں اور اپنا مال، اولاد اور عورتیں بھی اپنے ساتھ لے آئے تاکہ مسلمانوں سے جنگ کرتے وقت کسی دماغ میں بھاگنے کا خیال نہ آئے، اس طرح سے وہ سرزمین اوطاس میں وارد ہوئے ۔

پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے لشکر اسلام کا بڑا علم باندھ کر علی(ع) کے ہاتھ میں دیا اور وہ تمام افراد جو فتح مکہ کے موقع پر اسلامی فوج کے کسی دستے کے کمانڈر تھے، آنحضرت کے حکم سے اسی پرچم کے نیچے حنین کے میدان کی طرف روانہ ہوئے ۔

رسول الله کو اطلاع ملی کہ صفوان بن امیہ کے پاس ایک بڑی مقدار میں زرہیں ہیں ، آپ نے کسی کو اس کے پاس بھیجا اور اس سے زرہیں عاریتاً طلب کیں ، صفوان نے پوچھا : واقعاً عاریتاً ہیں یا غصب کے طور پر۔

رسول الله نے فرمایا: یہ عاریتاً ہیں اور ہم ان کے ضامن ہیں کہ صحیح وسالم واپس کریں گے ۔

صفوان نے زرہیں عاریتاً پیغمبر اکرم کو دے دیں اور خود بھی آنحضرت کے ساتھ چلا ۔

فوج میں دو ہزار ایسے افراد تھے جنھوں نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا تھا، ان کے علاوہ دس ہزار وہ مجاہدینِ اسلام تھے جو پیغمبر اکرم کے ساتھ فتح مکہ کے لئے آئے تھے، یہ تعداد مجموعتاً بارہ ہزار بنتی ہے، یہ سب میدانِ جنگ کی طرف چل پڑے ۔

مالک بن عوف ایک مردِ جری اور ہمت وحوصلے والا انسان تھا، اس نے اپنے قبیلے کو حکم دیا کہ اپنی تلواروں کے نیام توڑ ڈالیں اور پہاڑ کی غاروں میں ، درّوں کے اطراف میں اور درختوں کے درمیان لشکرِ اسلام کے راستے میں کمین گاہیں بنائیں اور جب اوّل صبح کی تاریکی میں مسلمان وہاں پہنچیں تو اچانک اور ایک ہی بار ان پر حملہ کردیں اور اسے فنا کردیں ۔

اس نے مزید کہا: محمد کا ابھی تک جنگجو لوگوں سے سامنا نہیں ہوا کہ وہ شکست کا مزہ چکھتا ۔

رسول الله اپنے اصحاب کے ہمراہ نماز صبح پڑھ چکے تو آپ نے حکم دیا کہ سرزمینِ حنین کی طرف چل پڑیں ، اس موقع پر اچانک لشکرِ ہوازن نے ہر طرف سے مسلمانوں پر تیروں کی بوچھار کردی، وہ دستہ جو مقدمہ لشکر میں تھا (اور جس میں مکہ کے نئے نئے مسلمان بھی تھے) بھاگ کھڑا ہوا، اس کے سبب باقی ماندہ لشکر بھی پریشان ہوکر بھاگ کھڑا ہوا ۔

خداتعالیٰ نے اس موقع پر دشمن کے ساتھ انھیں ان کی حالت پر چھوڑدیا اور وقتی طور پر ان کی نصرت سے ہاتھ اُٹھالیا کیونکہ مسلمان اپنی کثرتِ تعداد پر مغرور تھے لہٰذا ان میں شکست کے آثار آشکار ہوئے، لیکن حضرت علی(ع) جو لشکر اسلام کے علمبردار تھے وہ مٹھی بھر افراد سمیت دشمن کے مقابلے میں ڈتے رہے اور اسی طرح جنگ جاری رکھے رہے ۔

اس وقت پیغمبر اکرم قلبِ لشکر میں تھے، رسول الله کے چچا عباس بنی ہاشم کے چند افراد کے ساتھ آپ کے گرد حلقہ باندھے ہوئے تھے، یہ کل افراد نو سے زیادہ نہ تھے دسویں اُم ایمن کے فرزند تھے، مقدمہ لشکر کے سپاہی فرار کے موقع پر رسول الله کے پاس سے گزرے تو آنحضرت نے عباس کو جن کی آواز بلند اور زور تھی کو حکم دیا کہ اس ٹیلے پر جو قریب ہے چڑھ جائیں اور مسلمانوں کو پکاریں :

یا معشر المهاجرین والاٴنصار! یا اصحاب سورة البقرة! یا اهل بیعت الشجرة! الیٰ این تفرون هٰذا رسول الله -

اے مہاجرین وانصار!، اے سورہ بقرہ کے ساتھیو!، اے درخت کے نیچے بیعت کرنے والو! کہابھاگے جارہے ہو؟ رسول الله تو یہاں ہیں ۔

مسلمانوں نے جب عباس کی آواز سنی تو پلٹ آئے اور کہنے لگے: لبیّک! لبیّک!

خصوصاً لوٹ آنے میں انصار نے پیش قدمی اور فوجِ دشمن پر ہر طرف سے سخت حملہ کیا اور نصرتِ الٰہی سے پیش قدمی جاری رکھی یہاں تک کہ قبیلہ ہوازن وحشت زدہ ہو کر ہر طرف بکھر گیا، مسلمان مسلسل ان کا تعاقب کررہے تھے، لشکرِ دشمن میں سے تقریباً ایک سو افراد مارے گئے، ان کے اموال غنیمت کے طور پر مسلمانوں کے ہاتھ لگے اور کچھ ان میں سے قیدی بنا لئے گئے ۔(۲)

لکھا ہے کہ اس تاریخی واقعہ کے آخر میں قبیلہ ہوازن کے نمائندے رسول الله کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرلیا، پیغمبر اکرم نے ان سے بہت محبت والفت فرمائی، یہاں تک کہ ان کے سربراہ مالک بن عوف نے بھی اسلام قبول کرلیا، آپ نے اس کا مال اور قیدی اسے واپس کردیئے اور اس کے قبیلہ کے مسلمانوں کی سرداری بھی اس کے سپرد کردی ۔

درحقیقت ابتدا میں مسلمانوں کی شکست کا اہم عامل غرور وتکبر جو کثرت فوج کی وجہ سے ان میں پیدا ہوگیا تھا، اس کے علاوہ دو ہزار نئے مسلمانوں کا وجود تھا جن میں سے بعض فطری طور پر منافق تھے، کچھ ان میں مالِ غنیمت کے حصول کے لئے شامل ہوگئے تھے اور بعض بغیر کسی مقصد کے ان میں شامل ہوگئے تھے ۔

____________________

۱۔ کامل ابن اثیر، ج۲، ص۲۶۱-

۲۔ مجمع البیان، ج۵، ص۱۷تا ۱۹-


۲ ۔ بھاگنے والے کون تھے؟

اس بات پر تقریباً اتفاق ہے کہ میدان حنین میں میں سے اکثریت ابتداء میں بھاگ گئی تھی جو باقی رہ گئے تھے ان کی تعداد ایک روایت کے مطابق دس تھی اور بعض نے تو ان کی تعداد چار بیان کی ہے، بعض نے زیادہ سے سو افراد لکھے ہیں ۔

بعض مشہور روایات کے مطابق چونکہ خلفاء بھی بھاگ جانے والوں میں سے تھے لہٰذا بعض اہل سنّت مفسّرین نے کوشش کی ہے کہ اس فرار کو ایک فطری طور پر پیش کیا جائے، المنار کے مولف لکھتے ہیں :

جب دشمن کی طرف سے مسلمانوں پر تیروں کی سخت بوچھار کی تو جو لوگ مکہ سے مسلمانوں کے ساتھ مل گئے تھے اور جن میں منافقین اور ضعیف الایمان بھی تھے اور جو مالِ غنیمت کے لئے آگئے تھے وہ بھاگ کھڑے ہوئے اور انھوں نے میدان میں پشت دکھائی تو باقی لشکر بھی فطری طور پر مضطرب اور پریشان ہوگیا وہ بھی معمول کے مطابق نہ کہ خوف وہراس سے، بھاگ کھڑے ہوئے اور یہ ایک فطری بات ہے کہ اگر ایک گروہ فرار ہوجائے تو باقی بے سوچے متزلزل ہوجاتے ہیں لہٰذا ان کا فرار ہونا پیغمبر کی مدد ترک کرنے اور انھیں دشمن کے ہاتھ میں چھوڑجانے کے طور پر نہیں تھا کہ وہ خدا کے غضب کے مستحق ہوں ۔(۱)

ہم اس بات کی تشریح نہیں کرتے اور اس کا فیصلہ پڑھنے والوں پر چھوڑتے ہیں ۔

اس امر کا ذکر ضروری ہے کہ صحیح بخاری جو اہل سنّت کی معتبر ترین کتب میں سے ہے میں اس میدان میں مسلمانوں کی شکست اور فرار سے متعلق گفتگو میں منقول ہے:فاذا عمر بن الخطاب فی الناس، وقلت ماشاٴن الناس، قال امر الله، ثم تراجع الناس الیٰ رسول الله

اچانک عمر بن خطاب لوگوں کے درمیان تھے میں نے کہا لوگوں نے کیا کیا ہے تو انھوں نے کہا الله کی مرضی ایسی تھی، پھر لوگ پیغمبر کی طرف پلٹ آئے ۔(۲)

لیکن اگر ہم اپنے پہلے سے کئے گئے فیصلوں کو چھوڑدیں اور قرآن کی طرف توجہ دیں تو ہم دیکھیں گے کہ قرآن بھاگنے والوں میں کسی گروہ بندی اور تفریق کا قائل نہیں بلکہ کی مساوی مذمت کررہا ہے کہ جو بھاگ گئے تھے، ہم نہیں سمجھتے کہ ان دو جملوں میں کیا فرق ہے جن میں سے ایک یہ مندرجہ بالا آیات میں ہے:”( ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُدْبِرِینَ )

پھر تم پشت پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے ۔

اور دوسرا جملہ کہ سورہ انفال آیہ ۱۶ میں گزرا ہے جہاں فرمایا گیا ہے:

( وَمَنْ یُوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ إِلاَّ مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ اٴَوْ مُتَحَیِّزًا إِلیٰ فِئَةٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنْ اللهِ )

جو شخص دشمن سے پشت پھیرے وہ غضبِ پروردگار میں گرفتار ہوگا مگر وہ دشمن پر حملہ کرنے کی غرض سے یا مجاہدین کے گروہ کے ساتھ آملنے کے لئے اپنی جگہ بدل لے ۔

لہٰذا اگر ان دو آیات کو دوسرے کے ساتھ رکھ کر دیکھیں تو ثابت ہوگا کہ اس دن چند ایک مسلمانوں کے سوا باقی تمام ایک عظیم گناہ کے مرتکب ہوئے تھے زیادہ سے زیادہ یہ کہ بعد میں انھوں نے توبہ کرلی اور پلٹ آئے ۔

____________________

۱، ۲۔ تفسیر المنار، ج۱۰، ص۲۶۲، ۲۶۳، ۲۶۵-


۳ ۔ ایمان واطمینان

”سکینة“ در اصل ”سکون “ کے مادہ سے ہے، یہ ایک طرح کے اطمینان وسکون کی حالت کے معنی میں ہے کہ جو انسان سے ہر طرح کا شک وشبہ اور خوف ووحشت دور کرے اور اسے سخت اور دشوار حوادث کے مقابلے میں ثابت قدم رکھے ۔”سکینة“ کا ایمان کے ساتھ قریبی تعلق ہے یعنی یہ ایمان سے پیدا ہوتی ہےن صاحبانِ ایمان جب خدا کی بے پایاں قدرت کو باد کرتے ہیں اور اس کے لطف ورحمت پر نظرکرتے ہیں تو اُمید کی ایک لہر ان کے دل میں پیدا ہوجاتی ہے ۔ اور یہ جو ”سکینة“ کو بعض روایات میں ”ایمان“ کہا گیا ہے(۲) اور بعض روایات میں ”انسان(۱) کی شکل وصورت میں نسیم بہشت“ مراد لیا گیا ہے تو ا ن سب کی باز گشت اسی معنی کی طرف ہے ۔

قرآن مجید کی سورہ فتح آیہ ۴ میں ہے:( هُوَ الَّذِی اٴَنْزَلَ السَّکِینَةَ فِی قُلُوبِ الْمُؤْمِنِینَ لِیَزْدَادُوا إِیمَانًا مَعَ إِیمَانِهِمْ )

وہ ذات وہ ہے جس نے مومنین کے دلوں میں سکینةکو نازل کیاتاکہ ان کے ایمان میں ایمان کا اضافہ ہو۔

بہرحال یہ غیر معمولی نفسیاتی کیفیت ایک خدائی اور آسمانی نعمت ہے جس کے باعث مشکل ترین حوادث بھی برداشت کرلیتا ہے اور اطمینان وثبات قدم کی ایک دنیا اپنے اندر محسوس کرتا ہے ۔

یہ امر جاذب توجہ ہے کہ قرآن محل بحث آیات میں یہ نہیں کہتا کہ ”( ثمّ اٴنزل الله سکینة علی رسوله وعلیکم ) “ (پھر خدا نے اپنے رسول اور تم پر سکینة نازل کی) حالانکہ اس سے پہلے تمام جملوں میں ”کم“ کا لفظ خطاب کے لئے آیا ہے جبکہ یہاں ”علی المومنین “ کہا گیا ہے جو اس طرف اشارہ ہے کہ منافقین اور وہ جو میدان جہاد میں طالب دنیا تھے اس سکینہ اور اطمینان میں ان کا کوئی حصّہ نہیں تھا اور یہ نعمت صرف صاحبانِ ایمان کو نصیب ہوئی ۔

روایت میں ہے کہ یہ نسیم جنّت انبیاء اور خدا کے رسولوں کے ساتھ ہوا کرتی تھی(۳) یہی وجہ ہے کہ ایسے حوادث کے موقع پر جن میں کسی شخص کو خود پر کنٹرول نہیں رہتا ان کی روح مطمئن ہوتی ہے اور ان کا عزم راسخ، آہنی اور غیر متزلزل ہوتا ہے ۔میدان حنین میں پیغمبر اکرم پر سکینةکا نزول جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں اس اضطراب کو رفع کرنے کے لئے تھا جو آپ کو ان لوگوں کے بھاگ جانے کی وجہ سے تھا ورنہ آنحضرت تو اس معرکہ میں مظبوط پہاڑ کی طرح ڈٹے ہوئے تھا اور اس طرح حضرت نے مسلمانوں کا ایک چھوٹا سا گروہ ثابت قدم تھا ۔

____________________

۱۔ تفسیر برہان، ج۲، ص۱۱۴-۲۔ تفسیر نور الثقلین، ج۲، ص۲۰۱-

۳۔ تفسیر برہان، ج۲، ص۱۲۱-


۴ ۔ ”مواطن کثیرة“ کا مفہوم:

مندرجہ بالا آیت میں ہے کہ ”( مواطن کثیرة ) “(بہت سے میدانوں ) میں خداتعالیٰ نے مسلمانوں کی نصرت کی ۔

وہ جنگیں کہ جن میں رسول الله موجود تھے اور شریک جنگ ہوئے اور وہ جنگیں جن میں آپ شامل تو تھے لیکن خود آپ نے جنگ نہیں کی اور اسی طرح وہ جنگ میں لشکر جس میں لشکرِ اسلام دشمن کے آمنے سامنے ہوا مگر آپ اس میں موجود نہیں تھے ان کی تعداد کے بارے میں مورخین میں اختلاف ہے لیکن بعض روایات جو طرقِ اہل بیت سے ہم تک پہنچی ہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعداد اسّی( ۸۰) ہے ۔

کافی میں منقول ہے کہ ایک عباسی خلیفہ کے بدن میں زہر سرایت کرگیا تھا اس نے نذر مانی کہ اگر وہ اس سے بچ گیا تو کثیر مال فقراء کو دے گا، جب وہ صحت یاب ہوگیا تو وہ فقہاء جو اس کے گرد پیش تھے انھوں نے مال کے مبلغ میں اختلاف کیا لیکن کسی کے پاس کوئی واضح مدرک اور دلیل نہ تھی، آخرکار انھوں نے نویں امام حضرت محمد بن علی النقی علیہماالسلام سے سوال کیا، آپ نے جواب میں فرمایا کہ کثیر سے مراد اسّی ( ۸۰) ہے، جب اس کی علت پوچھی گئی تو آپ نے زیرِ نظر آیت آیت کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ ہم نے اسلام وکفر کی جنگوں کی تعداد شمار کی کہ جن میں مسلمان کامیاب ہوئے ہیں تو ان کی تعداد اسّی بنی ہے ۔(۱)

۵ ۔ ایک سبق:

ایک نکتہ جس کی طرف آج کے مسلمانوں کو ضرور توجہ کرنا چاہیے یہ ہے کہ حنین جیسے حوادث سے سبق حاصل کریں اور جان لیں کہ کثرتِ تعداد اور انبوہِ جمعیت کبھی بھی ان کا غرور اور فریب کا سبب نہ بنے کیونکہ صرف زیادہ جمعیت سے کام نہیں بنتا، اہم مسئلہ تو تربیت یافتہ مومنین اور عزمِ راسخ رکھنے والے افراد کا ہے چاہے ان کی تعداد مختصر ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ ایک چھوٹے سے گروہ نے جنگ حنین میں سرنوشت بدل کے رکھ دی جب کہ غیر آزمودہ، غیر تربیت یافتہ کثیر تعداد شکست وہزیمت کا سبب بن چکی تھی ۔

اہم بات یہ ہے کہ افراد میں ایمان، استقامت اور ایثار کی روح کو پروان چڑھنا چاہیے تاکہ ان کے دل خدائی سکینة کے مرکز قرار پائیں اور وہ زندگی کے سخت ترین طوفانوں میں بھی پہاڑ کی طرح سے جمے رہیں اور مطمئن اور پرسکون ہوں ۔

____________________

۱۔ تفسیرنور الثقلین، ج۲، ص۱۹۷-


آیت ۲۸

۲۸( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِکُونَ نَجَسٌ فَلَایَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا وَإِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیکُمْ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ إِنْ شَاءَ إِنَّ اللهَ عَلِیمٌ حَکِیمٌ )

ترجمہ

۲۸ ۔ اے ایمان والو! مشرک ناپاک ہیں لہٰذا اس سال کے بعد وہ مسجد الحرام کے قریب نہیں جاسکتے اور اگر فقر وفاقہ سے ڈرتے ہو تو خدا اپنے فضل سے چاہے گا تمھیں بے نیاز کردے گا، خدا دانا اور حکیم ہے ۔

مشرکین کو مسجد میں داخلے کا حق نہیں

ہم کہہ چکے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے ۹ ھء مراسم حج میں مکہ کے لوگوں تک جو چار احکام پہنچائے ان میں سے ایک یہ تھا کہ آئندہ سال کوئی مشرک مسجد الحرام میں داخل ہونے اور خانہ کعبہ کے گرد طواف کرنے کا حق نہیں رکھتا، مندرجہ بالا آیت اس امر اور اس کے فلسفے کی طرف اشارہ کرتی ہے، پہلے ارشاد ہوتا ہے: اے ایمان والو! مشرکین ناپاک ہیں لہٰذا اس سال کے بعد انھیں مسجد الحرام کے قریب نہیں آنا چاہیے( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِکُونَ نَجَسٌ فَلَایَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا ) ۔

کیا یہ آیت مشرکین کے نجس ہونے پر فقہی مفہوم کے لحاظ سے دلیل ہے یا نہیں ، اس سلسلے میں فقہاء اور مفسّرین میں اختلاف ہے ۔

آیت کے معنی کی تحقیق کے لئے ضروری ہے کہ پہلے لفظ ”نجس“ (بروزن ”ہوس“) پر بحث کی جائے، یہ لفظ مصدری معنی رکھتا ہے اور تاکید ومبالغہ کے طور پر صفت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔

راغب نے مفردات میں اس لفظ کے معنی کے سلسلے میں لکھا ہے کہ ”نجاست“ اور ”نجس“ ہر قسم کی ناپاکی کے معنی میں ہے اور وہ دو طرح کی ہوتی ہے ایک حسّی اور دوسری باطنی ۔

طبرسی ”مجمع البیان“ میں کہتے ہیں کہ ہر وہ چیز کہ جس سے انسان کی طبیعت متنفر ہو اسے ”نجس“ کہا جاتا ہے ۔

اس لئے یہ لفظ بہت سے ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے جہاں اس کا ظاہری نجاست اور آلودگی کا مفہوم نہیں ہوتا، مثلاً ایسی تکلیف اور درد کہ جس کا علاج دیر میں ہو عرب اسے ”نجس“ کہتے ہیں ، پست اور شریر اشخاص کے لئے بھی یہی لفظ بولا جاتا ہے، بڑھاپے اور بدن کی کہنگی وفرسوگی کو بھی ”نجس“ کہتے ہیں ۔

اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ مندرجہ بالا آیت سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ مشرکین کو نجس اس لئے کہا گیا ہے کہ ان کا جسم پلید ہے جیسے خون، پیشاب اور شراب نجس ہوتے ہیں یا یہ کہ بت پرستی کا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے ان میں ایک قسم کی باطنی پلیدگی ہے، اس طرح سے کفار کی نجاست ثابت کرنے کے لئے اس آیت سے استدلال نہیں کیا جاسکتا اور اس کے لئے ہمیں دوسری ادلّہ تلاش کرنا پڑ یں گی ۔

اس کے بعد ان کوتاہ فکر افراد کو جواب دیا گیا ہے جو یہ اظہار کرتے تھے کہ اگر مشرکین کا مسجد الحرام میں آنا جانا بند ہوگیا تو ہمارا کاروبار اور تجارت بند ہوجائے گی اور ہم فقیر ہوکر رہ جائیں گے، ارشاد ہوتا ہے: فقر وفاقہ سے ڈرتے ہو تو اگر خدا نے چاہا تو عنقریب تمھیں اپنے فضل وکرم کے ذریعہ بے نیاز کردے گا( وَإِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیکُمْ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ ) ۔

اور ایسا ہی ہوا کہ اُس نے مسلمانوں کو بہترین طور پر بے نیاز کردیا اور زمانہ پیغمبر ہی میں اسلام کے پھیلاو اور وسعت سے خانہ خدا کے زائرین کا ایک سیلاب مکہ کی طرف اُمڈ آیا اور آج تک اسی طرح جاری وساری ہے ، مکہ جو جغرافیائی لحاظ سے نامناسب ترین حالات سے دوچار ہے، جو چند خشک اور سنگلاخ بے آب وگیاہ پہاڑوں کے درمیان موجود ہے، اس کے باوجود ایک بہت ہی آباد شہر ہے اور تجارت کا اہم مرکز ہے ۔

آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: خدا علیم و حکیم ہے( إِنَّ اللهَ عَلِیمٌ حَکِیمٌ ) اور وہ جو بھی کم دیتا ہے حکمت کے مطابق ہوتا ہے اور وہ نتائج سے مکمل طور پر آگاہ اور باخبر ہے ۔


آیت ۲۹

۲۹( قَاتِلُوا الَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَابِالْیَوْمِ الْآخِرِ وَلَایُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَلَایَدِینُونَ دِینَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ حَتَّی یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ )

ترجمہ

۲۹ ۔ اہلِ کتاب میں سے وہ لوگ جو نہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ روز جزا پر اور نہ اسے حرام سمجھتے جسے الله اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اور نہ دینِ حق قبول کرتے ہیں ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ خضوع وتسلیم کے ساتھ جزیہ دینے لگیں ۔

اہلِ کتاب کے بارے میں ہماری ذمہ داری

گذشتہ آیات میں بت پرستوں سے متعلق مسلمانوں کی ذمہ داری یبان کی گئی ہے، زیر بحث آیت اور آئندہ آیات میں اہلِ کتاب کے بارے میں مسلمانوں کی ذمہ داری کو واضح کیا گیا ہے، ان آیات میں در حقیقت اسلام کے ایسے احکام ہیں جو مسلمانوں اور مشرکین کے بارے میں اسلامی احکام کا حد وسط ہیں کیونکہ اہلِ کتاب ایک آسمانی دین کی پیروی کی وجہ سے مسلمانوں سے مشابہت رکھتے ہیں لیکن ایک پہلو سے مشرکین کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں اسی بناپر اسلام انھیں قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا حالانکہ جو بت پرست کے مقابلے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے ان کے لئے یہ اجازت دیتا تھا کیونکہ پروگرام یہ ہے کہ روئے زمین سے بت پرستی کی بیخ کنی کی جائے، لیکن اہلِ کتاب کو اس صورت میں مسلمانوں کے قریب آنے کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اس بات کے لئے تیار ہوں کہ وہ پُرامن مذہبی اقلیت کے طور پر مسلمانوں کے ساتھ مصالحت آمیز زندگی بسر کریں ، اسلام کا احترام کریں ، مسلمانوں کے خلاف تحریکیں نہ چلائیں اور مخالفِ اسلام پراپیگنڈا نہ کریں ، پُرامن بقائے باہمی کا اصول تسلیم کرنے کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ حکومت اسلامی کو جزیہ کی ادائیگی کریں جو ان سے ہر شخص پر ایک طرح کا ٹیکس ہے اور یہ سالانہ ایک مختصر سی رقم بنتی ہے، اس کی حدود وشرائط انشاء الله آئندہ مباحث میں بیان کی جائیں گی، ورنہ دوسری صورت میں اسلام ان سے جنگ کی اجازت دیتا ہے ۔

اس شدت عمل کی دلیل زیرِ بحث آیت کے تین جملوں میں واضح کی گئی ہے ۔

پہلے فرمایا گیا ہے: جو لوگ خدا اروزِ جزا پر ایمان نہیں رکھتے ان سے جنگ کرو( قَاتِلُوا الَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَابِالْیَوْمِ الْآخِرِ ) ۔

مگر یہ سوال ہے کہ یہود ونصاریٰ جیسے اہل کتاب کسی طرح خدا اور روزِ جزا پر ایمان نہیں رکھتے حالانکہ ظاہراً ہم دیکھتے ہیں وہ خدا کو بھی مانتے ہیں اور قیامت کو بھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ایمان خرافات اور بے بنیاد عقائد سے مملو ہے ۔

ان کے مبداء اور حقیقتِ توحید کے بارے میں ایمان کے سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ یہودیوں کا ایک گروہ، جیسا کہ بعد کی آیات میں آئے گا حضرت عزیر(ع) کو خدا کا بیٹا جانتے تھے اور عیسائی عموماً حضرت مسیح(ع) کو الوہیت اور تثلیث پر ایمان رکھتے ہیں ۔

دوسری بات یہ ہے کہ جیسا کہ آئندہ آیات میں اشارہ کیا گیا ہے وہ ”شرک فی العبادة“ میں گرفتار تھے اور علی طور پر اپنے مذہبی علماء اور پیشواوں کی پرستش کرتے تھے، گناہوں کی بخشش جو خدا کے ساتھ مخصوص ہے وہ ان سے چاہتے تھے اور خدائی احکام میں تحریف کرنے کے بعد تحریف شدہ احکام کو باقاعدہ مانتے تھے ۔

باقی رہا معا وقیامت کے بارے میں ان کا ایمان تو وہ تحریف شدہ ایمان تھاکیونکہ معاد کو وہ معادِ روحانی میں منحصر سمجھتے تھے جیسا کہ ان کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے، لہٰذا مبداء اور معاد دونوں پر ایمان ان کا ایمان مخدوش ہے ۔

اس کے بعد ان کی دوسری صفت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ محرماتِ خداوندی کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور جسے خدا اور اس کا پیغمبر حرام کرچکے تھے اُسے حرام شمار نہیں کرتے تھے( وَلَایُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ ) ۔

ہوسکتا ہے کہ ”رسولہ“ (اس کا رسول) سے مراد حضرت موسیٰ(ع) یا حضرت عیسیٰ(ع) کے دین میں حرام دیئے گئے ہیں ان کا ارتکاب کرتے ہیں ، نہ صرف یہ کہ ان کا ارتکاب کرتے بلکہ بعض اوقات انھیں حلال قرار دیتے ہیں ، یہ بھی ممکن ہے کہ ”رسولہ“ سے مراد پیغمبر اسلام ہوں یعنی یہ جو ان کے خلاف جہاد کا حکم دیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے جو کچھ خدا نے پیغمبر اسلام کے ذریعے حرام کیا ہے اس کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتے اور ہر قسم کے گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں ۔

یہ احتمال زیادہ قرینِ نظر ہے اور اس کی شاہد اسی سورت کی آیت ۳۳ ہے جس کی عنقریب تفسیر بیان کی جائے گی، جس میں فرمایا گیا ہے:( هُوَ الَّذِی اٴَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدیٰ وَدِینِ الْحَقِّ )

وہ خدا وہ جس نے اپنے رسول کو دینِ حق کی ہدایت کے لئے بھیجا ۔

علاوہ ازین قرآن مجید میں جہاں لفظ ”رسولہ“ بطور مطلق بولا جائے وہاں اس سے مراد پیغمبر اسلام ہوتے ہیں ، اس سے قطع نظر اگر مراد انہی کا پیغمبر ہوتا تو پھر مفرد کی صورت میں نہ کہتا بلکہ تثنیہ یا جمع کی صورت میں کہتا کیونکہ ان کا اپنا رسول تھا یا رسل تھے جیسا کہ سورہ یونس کی آیہ ۱۳ میں آیا ہے:( وَجَائَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنَاتِ )

یعنی: ان کے رسول اُن کے لئے واضح دلائل لائے تھے ۔

ایسی تعبیر قرآن کی دیگر آیات میں بھی دکھائی دیتی ہے ۔

ممکن ہے کہا جائے کہ اس صورت میں یہ آیت توضیحِ واضیحات میں سے ہوگی کیونکہ واضح ہے کہ غیرمسلم دینِ اسلام کے تمام محرمات کو قبول نہیں کرتے لیکن توجہ کرنا چاہیے کہ ان صفات کو بیان کرنے کا مقصد ان کے خلاف جہاد کے جائز ہونے کی علت بیان کرنا ہے، یعنی ان سے جہاد اس لئے جائز ہے کہ وہ محرماتِ اسلامی کو قبول نہیں کرتے اور بہت سے گناہوں میں آلودہ ہیں لہٰذا اگر وہ جنگ اور مقابلے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور ایک پُرامن اقلیت بن کر نہ رہیں تو پھر ان سے جنگ کی جاسکتی ہے ۔

آخر میں ان کی تیسری صفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے : وہ پورے طور پر دینِ حق قبول نہیں کرتے (وَلَایَدِینُونَ دِینَ الْحَقِّ) ۔ اس جملے کے بارے میں گذشتہ دونوں احتمالات ہیں لیکن ظاہر یہ ہے کہ ”دین حق“ سے مراد ”دین اسلام“ ہی ہے کہ جس کی طرف چند آیات کے بعد اشارہ کیا گیا ہے ۔

محرمات اسلامی پر اعتقاد نہ رکھنے کی بات کرکے اس بات کا پیمان خاص کے بعد عام بات بیان کرنے کی طرح ہے یعنی پہلے بہت سے محرمات میں ان کے آلودہ ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ یہ آلودگی خصویت سے چھپنے والی ہے ۔

اس کے بعد قرآن کہتا ہے کہ در اصل یہ لوگ دین حق کے سامنے سرنگوں ہی نہیں ہیں یعنی ان کے ادیان راہِ حقیقی سے منحرف ہوچکے ہیں ، وہ بہت سے حقائق فراموش کرچکے ہیں اور ان کی بجائے اپنے دین میں بہت سے خرافات شامل کرچکے ہیں ، لہٰذا یا تو وہ ارتقائی اور کامل تر انقلابِ اسلام کو قبول کرلیں اور اپنی مذہبی فکر کی نئی دنیا بنالیں اور یا کم از کم پُرامن اقلیت کے طور پر مسلمانوں کے ساتھ رہیں اور صلح آمیز شرائط زندگی قبول کرلیں ۔

یہ تین اوصاف جو در حقیقت ان سے جہاد کے جواز بیان کرنے کے لئے ہیں ، ان کے بعد فرمایا گیا ہے: یہ حکم ان کے بارے میں ہے جو اہلِ کتاب ہیں( مِنَ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ ) ۔

اصطلاح کے مطابق لفظ ”من“ یہاں بیانیہ ہے نہ کہ تبعیضیہ، دوسرے لفظوں میں قرآن کہتا ہے کہ (افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ) تمام گذشتہ آسمانی کتب کے پیروکار ان مذہبی انحرافات میں گرفتار ہیں اور یہ حکم ان سب کے بارے میں ہے ۔

اس کے بعد ان کے اور بت پرستوں کے درمیان فرق ایک ہی جملے میں بیان کردیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: جب تک جزیہ ادا نہ کرنے لگ جائیں یہ جنگ جاری رہے گی( حَتَّی یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ ) ۔

”جزیة“ ”جزاء “کے ماد ہ سے ہے اس سے مراد وہ مال ہے جو اُن غیرمسلموں سے لیا جائے جو حکومت اسلامی کی پناہ میں رہیں ، اس کا یہ نام اس لئے رکھا گیا ہے کہ وہ یہ مال اپنی جان ومال کی حفاظت کے بدلے جزاء کے طور پر حکومت اسلامی کو دیتے ہیں ، اس لفظ کا یہ مفہوم راغب نے مفردات میں بیان کیا ہے ۔

”صاغر“ ”صغر“ (بروزن ”پسر“) کے مادہ سے ہے اور یہ ایسے شخص کو کہتے ہیں جو اپنے چھوٹے ہونے پر راضی ہو اور مندرجہ بالا آیت میں اس سے مراد یہ ہے کہ جزیہ ادا کرنا دین اسلام اور قرآن کے سامنے اظہارِ خضوع کے طور پر ہو۔ دوسرے لفظوں میں یہ پُرامن بقائے باہمی کی علامت اور حاکم اکثریت کے سامنے ایک صلح مند محترم اقلیت کی حیثیت کی نشانی کے طور پر ہے ۔

یہ جو بعض مفسرین نے اس کی تفسیر اہلِ کتاب کی تحقیر وتوہین کے طور پر کی ہے وہ نہ تو لفظ کے لغوی مفہوم سے ظاہر ہوتی ہے اور نہ ہی تعلیماتِ اسلامی کی روح سے یہ بات مطابقت رکھتی ہے اور نہ ہی مذہبی اقلیتوں سے سلوک کے بارے میں دیگر احکام جو ہم تک پہنچے ہیں ان سے مناسبت رکھتی ہے ۔

ایک اور قابلِ توجہ نکتہ یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں اگرچہ شرائط کی طرف ایک اجمالی اشارہ ہے کیونکہ اس سے ایسی شرائط معلوم ہوتی ہیں مثلاً وہ اسلامی معاشرے میں خلافِ اسلام تعلیمات اور پراپیگنڈا نہیں کریں گے، مسلمان کے دشمنوں کا ساتھ نہیں دیں گے اور مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہیں کریں گے کیونکہ ایسے کام خضوع، تسلیم اور ہمکاری ک مفہوم سے مطابقت نہیں رکھتے ۔

جزیہ کیا چیز ہے؟

جزیہ یہ ایک طرح کا اسلامی ٹیکس ہے جو افراد سے متعلق ہوتا ہے نہ کہ اموال اور زمینوں سے دوسرے لفظوں میں جزیہ فی کس سالانہ ٹیکس ہے ۔

بعض لوگوں کا نظریہ ہے کہ اس لفظ کی اصل غیر عربی ہے اور قدیم فارسی لفظ ”کزیت“ سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے ایسا ٹیکس جو فوج کی تقویت کے لئے لیا جائے لیکن بہت سے علماء کا نظریہ ہے کہ یہ خالص عربی لفظ ہے اور جیسا کہ ہم پہلے نقل کرچکے ہیں کہ ”جزاء“ کے مادہ سے اس مناسب سے لیا گیا ہے کہ مذکورہ مالیہ اس تحفظ اور امنیت کا جزاء اور بدل ہے جو اسلامی حکومت مذہبی اقلیتوں کو فراہم کرتی ہے ۔

جزیہ اسلام سے پہلے بھی تھا، بعض کا نظریہ ہے کہ سب سے ساسانی شاہ نوشیرواں نے جزیہ وصول کیا لیکن اگر اس بات کو درست نہ بھی سمجھا جائے تب بھی کم از کم یہ بات مسلم ہے کہ نوشیرواں وہ شخص تھا جس نے اپنی قوم سے جزیہ لیا تھا اور وہ ہر اس شخص سے جو حکومت کا کارندہ نہیں تھا اور اُس کی عمر بیس سے پچاس سال تک تھی ۱۳۲،۸،۶ یا ۴ درہم کے فرق سے فی نفر ٹیکس وصول کیا کرتا تھا ۔

ان مالیات کا فلسفہ یہ لکھا گیا ہے کہ کسی ملک کے وجود، آزادی اور امن کی خفاظت اس ملک کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے لہٰذا جب ایک گروہ اس فریضے کی انجام دہی کے لئے قیام کرے اور دوسرا گروہ کسب وکار میں مشغول ہونے کی وجہ سے مجاہدین کی صف میں شامل نہیں ہوسکتا تو پھر کسب وکار میں مشغول گروہ کا فریضہ ہے کہ وہ فوج اور محافظانِ امن وامان کے اخراجات فی کس سالانہ ٹیکس کی صورت میں ادا کرے، ہمارے پاس ایسے قرائن موجود ہیں جو قبل از اسلام اور بعد از ظہورِ اسلام کے ادوار میں جزیہ کے بارے میں اس فلسفہ کی تاکید کرتے ہیں ۔

نوشیرواں کے زمانہ میں جزیہ دینے والوں میں (بیس سے پچاس سال تک کا) سن وسال کا مذکورہ معیار ہماری اس بات کا شاہد ہے کہ کیونکہ اس عمر کے افراد درحقیقت عمر کے اس گروپ سے مربوط تھے جو ہتھیار اٹھانے اور امن وامان اور ملک کے استقلال کی حفاظت میں شریک ہونے کی طاقت رکھتا تھا لیکن کاروبار میں مشغول ہونے کی وجہ سے وہ لوگ اس کے بجائے جزیہ دیتے تھے ۔

دوسرا گروہ یہ ہے کہ اسلام میں جزیہ مسلمانوں پر نہیں ہے کیونکہ سب پر جہاد واجب ہے اور ضرورت کے وقت سب کو میدانِ جنگ میں دشمن کے مقابلے میں جانا پڑے گا لیکن مذہبی اقلیتوں کے لئے چونکہ جہاد میں شرکت کرنا معاف ہے لہٰذا اس کے بجائے انھیں جزیہ دینا چاہیے تاکہ اس طرح وہ اسلامی ملک کی سالمیت کی حفاظت میں شریک ہوں جس میں وہ آرام سے زندگی بسر کرتے ہیں نیز مذہبی اقلیتوں کے بچوں ، عورتوں بوڑھوں اور نابیناوں کو جزیہ معاف ہے، یہ بھی اسی امر کی ایک اور دلیل ہے ۔

سطورِ بالا میں جو کچھ کہا گیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے جزیہ صرف ایک قسم کی مالی امداد ہے جو اہلِ کتاب اس ذمہ داری کے بدلے میں دیتے ہیں جو مسلمان ان کی جان ومال کی حفاظت کے طور پر ادا کرتے ہیں ، لہٰذا جو لوگ جزیہ کو ایک قسم کا ”حق تسخیر“ شمار کرتے ہیں وہ اس کی روح اور فلسفے کی طرف توجہ نہیں رکھتے، ان لوگوں نے اس حقیقت کی طرف توجہ نہیں کی کہ اہلِ کتاب جب اہل ذمہ کی شکل میں ہوں تو حکومتِ اسلامی کی ذمہ داری ہے کہ انھیں ہر قسم کے تعرض اور آزار سے محفوظ رکھے، نیز اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ وہ جزیہ ادا کرنے کے بدلے میں آرام اور چین کی زندگی گزارتے ہیں اس کے علاوہ ان پر میدان جنگ میں شرکت اور دفاعی وحفاظتی ذمہ داریاں نہیں ہوتیں اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ حکومت اسلامی کے بارے میں مسلمانوں کی نسبت ان کی ذمہ داری کس قدر کم ہے، یعنی وہ سال بھر میں معمولی سی رقم ادا کرکے اسلامی حکومت کی تمام خوبیوں سے استفادہ کرتے ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ اس سلسلے میں برابر کے شریک ہوتے ہیں جبکہ حوادث وخطرات کا سامنا انھیں نہیں کرنا پڑ تا ۔

اس فلسفے میں تائید کرنے والے واضح دلائل میں سے ایک یہ ہے کہ ان عہدناموں میں جو اسلامی حکومت کے دوران مسلمانوں اور اہلِ کتاب کے مابین ہوتے تھے اس امر کی تصریح موجود ہے کہ اہلِ کتاب کی ذمہ داری ہوگی وہ جزیہ ادا کریں اور اس کے بدلے میں مسلمانوں کا فرض ہوگا کہ وہ ان کی حفاظت کریں یہاں تک کہ اگر کوئی بیرونی دمن ان کے مقابلے کے لئے اٹھ کھڑا ہو اور انھیں آزار پہنچانے کے درپے ہو تو اسلامی حکومت اہلِ کتاب کا دفاع کرے گی ۔

ایسے عہدنامے بہت سے موجود ہیں ، ان میں سے ایک کو ہم بطور نمونہ ذیل میں بیان کرتے ہیں ، یہ عہدنامہ خالدبن ولید نے اطرافِ فرات کے عیسائیوں سے کیا تھا، عہدنامے کا متن یہ ہے:

هٰذا کتاب من خالد بن ولید لصلوبا ابن نسطونا وموقه انّی عاهدتک علی الجزیة والمنعة، فلک الذمة والمنعة، وما منعناکم ففلنا الجزیة والّا، کتب سنة اثنیٰ عشرة فی صفر “-(۱)

میں تم سے معاہدہ کرتا ہوں جزیہ اور دفاع پر کہ جس کے مقابلے میں تم ہماری حمایت آجاوگے اور جب تک ہم تمھاری حمایت کرتے رہیں گے ہم جزیہ لینے کا حق رکھتے ہیں ۔

یہ عہدنامہ ۱۲ ھ ماہ صفر میں لکھا گیا ۔

یہ امر جاذب نظر ہے کہ تاریخ میں ہے کہ جزیہ کی مقدار معین نہیں تھی اور اس کی مقدار کا تعین جزیہ دینے والوں کی طاقت کو دیکھ کر کیا جاتا تھا اور یہ مقدار کبھی کبھی تو ایک دینار سالانہ سے زیادہ نہیں ہوتی تھی، یہاں تک کہ بعض اوقات عہد ناموں میں یہ شرط ہوتی تھی کہ جزیہ دینے والوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی طاقت کے مطابق جزیہ دیں ، جو کچھ کہا جاچکا ہے اس تمام سے طرح طرح کے اعتراضات اور زہرافشانیاں جو اس اسلامی حکم کے سلسلے میں کی گئی ہیں ختم ہوجائیں گی اور اس سے ثابت ہوجائے گا یہ ایک عادلانہ اور منطقی حکم ہے ۔

____________________

۱-یہ خط ہے خالد بن ولید کی طرف سے صلوبا (عیسائیوں کے سردار) اور اس کی قوم کے لئے ۔


آیات ۳۰،۳۱،۳۲،۳۳

۳۰( وَقَالَتْ الْیَهُودُ عُزَیْرٌ ابْنُ اللهِ وَقَالَتْ النَّصَاریٰ الْمَسِیحُ ابْنُ اللهِ ذٰلِکَ قَوْلُهُمْ بِاٴَفْوَاهِهِمْ یُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ قَبْلُ قَاتَلَهُمْ اللهُ اٴَنَّی یُؤْفَکُونَ )

۳۱( اتَّخَذُوا اٴَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اٴَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ وَالْمَسِیحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَمَا اٴُمِرُوا إِلاَّ لِیَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا لَاإِلَهَ إِلاَّ هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا یُشْرِکُونَ )

۳۲( یُرِیدُونَ اٴَنْ یُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِاٴَفْوَاهِهِمْ وَیَاٴْبَی اللهُ إِلاَّ اٴَنْ یُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ کَرِهَ الْکَافِرُونَ )

۳۳( هُوَ الَّذِی اٴَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدیٰ وَدِینِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهُ عَلَی الدِّینِ کُلِّهِ وَلَوْ کَرِهَ الْمُشْرِکُونَ )

ترجمہ

۳۰ ۔ یہودیوں نے کہا کہ عزیر خدا بیٹا ہے اور عیسائیوں نے کہاکہ مسیح الله کا بیٹا ہے، یہ بات جو وہ اپنی زبان سے کہتے ہیں ایسی ہے جو گذشتہ کافروں کی بات کے مشابہ ہے، ان پر خدا کی لعنت ہو، وہ کس طرح سے جھوٹ بولتے ہیں ۔

۳۱ ۔ وہ خدا کے مقابلے میں علماء اور راہبوں (تارکین دنیا) کو ہی معبود قرار دیتے ہیں اور اسی طرح مریم کے بیٹے مسیح کو حالانکہ انھیں حکم دیا گیاہے کہ ایک ہی معبود جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں ، وہ اس سے پاک ومنزہ ہے کہ جسے اس کا شریک قرار دیتے ہیں ۔

۳۲ ۔ وہ چاہتے ہیں کہ اپنی آنکھوں سے نور خدا کو بجھادیں لیکن خدا اس کے علاوہ کچھ نہیں چاہتا کہ وہ اپنے نور کو کامل کرے اگرچہ کافر اسے ناپسند کرتے ہیں ۔

۳۳ ۔ وہ وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غلبہ دے اگرچہ مشرک ناپسند کرتے ہیں ۔

اہل کتاب کی بت پرستی

گذشتہ آیات میں مشرکین کے سلسلے میں بحث تھی ۔ یہ بتایا گیا تھا کہ ان کا معاہدہ منسوخ ہوچکا ہے اور کہا گیا تھا کہ ضروری ہے کہ مذہبِ بت پرستی کی بساط الٹ دی جائے ۔ پھر اہلِ کتاب کی کیفیت کی طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ وہ چند شرائط کے ماتحت مسلمانوں کے ساتھ مصالحت آمیز زندگی بسر کرسکتے ہیں اور اگر یہ صورت نہ ہو تو پھر ان کے ساتھ جنگ کا حکم دیا گیا تھا ۔

زیرِ بحث آیات میں اہلِ کتاب خصوصاً یہود ونصاریٰ کی مشرکین اور بت پرستوں سے جو مشابہت پائی جاتی ہے اسے بیان کیا گیا ہے تاکہ واضح ہوجائے کہ اگر اہلِ کتاب کے بارے میں بھی کسی حد تک سخت گیری عمل میں لائی گئی ہے تو وہ بھی توحید سے ان کے انحراف، ایک طرح سے ”عقیدہ میں شرک“ اور ایک لحاظ سے ”عبادت میں شرک“ کی وجہ سے ہے ۔

پہلے ارشاد ہوتا ہے: یہودیوں نے کہا ہے عزیر خدا کا بیٹا ہے (وَقَالَتْ الْیَھُودُ عُزَیْرٌ ابْنُ اللهِ) اور عیسائیوں نے کہا کہ مسیح خدا بیٹا ہے( وَقَالَتْ النَّصَاریٰ الْمَسِیحُ ابْنُ اللهِ ) ۔

یہ ایسی بات ہے جو وہ صرف زبان سے کہتے ہیں جبکہ اس میں کوئی حقیقت نہیں( ذٰلِکَ قَوْلُهُمْ بِاٴَفْوَاهِهِمْ ) ۔ ان کی گفتگو گذشتہ مشرکین کی گفتار سے مشاہت رکھتی ہے( یُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ قَبْلُ ) ۔ خدا انھیں قتل کرے، اپنی لعنت میں گرفتار کرے اور اپنی رحمت سے دور کرے، وہ کس طرح کا جھوٹ بولتے ہیں اور حقائق میں تحریف کرتے ہیں( قَاتَلَهُمْ اللهُ اٴَنَّی یُؤْفَکُونَ ) ۔

چند قابل توجہ نکات

۱ ۔ عزیر کون ہیں ؟

عربی زبان میں ”عزیر“ انہی کو کہا جاتا ہے جو یہودیوں کی لغت میں ”عزرا“ کہلاتے ہیں ، عرب چونکہ جب غیر زبان کا کوئی نام اپناتے ہیں تو عام طور پر اس میں تبدیلی کردیتے ہیں ، خصوصاً اظہار محبت کے لئے اسے صیغہ تصغیر میں بدل لیتے ہیں ، ”عزرا“ کو بھی ”عزیر“ میں تبدیل کیا گیا ہے ہے جیسا کہ ”عیسیٰ“ کے اصل نام کو جو دراصل ”یسوع“ تھا اور ”یحییٰ“ کو جوکہ ”یوحنا“ تھا بدل دیا ۔(۱)

بہرحال عزیر یا عزرا یہودیوں کی تاریخ میں ایک خاص حیثیت رکھتے ہیں یہاں تک کہ ان میں سے بعض ملت وقوم کی بنیا اور اس کی جمعیت کی تاریخ کی درخشنگی کی نسبت ان کی طرف دیتے ہیں ، درحقیقت حضرت عزیر نے اس دین کی بڑی خدمت کی ہے کیونکہ بخت النصر کے واقعہ میں جو بابل کا بادشاہ تھا یہودیوں کی کیفیت اس کے ہاتھوں درہم برہم ہوگئی، ان کے شہر بخت النصر کی فوج کے ہاتھ آگئے، ان کا عبادت خانہ ویران ہوگیا اور ان کی کتاب تورات جلادی گئی ۔

ان کے مرد قتل کردیئے گئے اور ان کی عورتیں اور بچے قید کرکے بابل کی طرف منتقل کردیئے گئے اور وہ تقریباً ایک سو سال وہیں رہے ۔

پھر جب ایران کے بادشاہ کورش نے بابل فتح کیا تو عزرا جو اس وقت کے یہودیوں کے ایک سردار اور بزرگ تھے اس کے پاس آئے اور اسے ان کے بارے میں سفارش کی، کورس نے ان سے موافقت کی کہ یہودی اپنے شہروں کی طرف پلٹ جائیں اور نئے سرے سے تورات لکھی جائے، اسی بناپر ان کا حد سے زیادہ احترام کرتے ہیں ۔(۲)

اسی امر کے سبب یہودیوں کے ایک گروہ نے انھیں ”ابن الله“ (الله کا بیٹا) کا لقب دیا، اگرچہ بعض روایات سے مثلاً احتجاج طبرسی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ لقب حضرت عزیر کے احترام کے طور پر استعمال کرتے تھے لیکن اسی روایت میں ہے کہ جب پیغمبر اسلام نے ان سے پوچھا کہ اگر تم نے حضرت عزیر کا ان عظیم خدمات کی وجہ سے کرتے ہو اور اس بناء پر انھیں اس نام سے پکارتے ہو تو پھر یہ لقب حضرت موسیٰ کو کیوں نہیں دیتے جبکہ انھوں نے حضرت عزیر کی نسبت تمھاری بہت زیادہ خدمت کی ہے تو وہ اس کا کوئی جواب نے دے سکے اور نہ ہی اس کا کوئی جواب تھا ۔(۳)

بہرحال اس نام سے بعض لوگوں کے اذہان میں احترام سے بالاتر صورت ہوگئی اور جیسا کہ عوام کی روش ہے کہ اس سے اپنی فطرت کے مطابق حقیقی مفہوم لیتے تھے اور انھیں واقعاً خدا کا بیٹا خیال کرتے تھے کیونکہ ایک تو حضرت عزیر نے انھیں دربدر کی زندگی سے نجات دی تھی اور دوسرا تورات لکھ کر ان کے دین کو ایک نئی زندگی بخشی تھی، البتہ ان سب کا یہ عقیدہ نہ تھا لیکن قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک گروہ خصوصیت سے جو پیغمبر اسلام کے زمانے میں تھا کی یہی طرز فکر تھی یہی وجہ ہے کہ کسی تاریخ میں یہ نہیں ہے کہ انھوں نے زیرِ بحث آیت کو سن کر اس سے انکار کیا ہو یا انھوں نے کوئی آواز بلند کی ہو اگر ایسا نہ ہوتا تو یقیناً وہ کوئی ردِّ عمل ظاہر کرتے ۔

جو کچھ ہم نے کہا ہے اس سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے کہ آج یہودیوں میں ایسا عقیدہ موجود نہیں ہے اور کوئی شخص حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا نہیں سمجھتا تو پھر قرآن نے کیوں اس کی نسبت ان کی طرف دی ہے؟

اس کی وضاحت یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ تمام یہودی ایسا عقیدہ رکھتے ہوں البتہ یہ مسلم ہے کہ آیات قرآن نزول کے وقت یہودیوں میں ایسے عقائد رکھنے والے موجود تھے، اس کی دلیل یہ ہے کہ کبھی کسی نے مذکورہ نسبت کا انکار نہیں کیا صرف روایات کے مطابق اس کی توجیہ کی جاتی تھی اور حضرت عزیر کو ابن الله کہنے کو ایک طرح کا احترام قرار دیتے تھے ۔ اس لئے کہ جب پیغمبر اسلام نے یہ اعتراض کیا کہ کیا پھر ایسا ہی احترام حضرت موسیٰ کے بارے میں کیوں نہیں کرتے تو وہ جواب سے عاجز ہوجاتے تھے ۔

بہرکیف جب کسی عقیدے کی نسبت کسی قوک کی طرف دی جائے توضروری نہیں کہ اس کے تمام افراد اس سے متفق ہوں بلکہ اگر ایک قابلِ توجہ تعداد ایسا عقیدہ رکھتی ہو تو کافی ہے ۔

____________________

۱۔ جیساکہ عربی مباحث میں آیا ہے کہ تصغیر سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز کو چھوٹی نوع کو بیان کرنے کے لئے اس کے اصل صیغہ سے ایک خاص صیغہ بنایا جاتا ے مثلاً ”رجل“ (مرد) کی تصغیر ”رجیل“ (چھوٹا مرد) ہے البتہ بعض اوقات اس کا لفظ استعمال چھوٹے ہونے کے لحاظ سے نہیں ہوتا بلکہ اس شخص یا چیز سے اظہار محبت کے لئے ہوتا ہے جیساکہ انسان اپنے بیٹے سے اظہار محبت کرتا ہے ۔

۲۔ المیزان، ج۹، ص۲۵۳ اور المنار، ج۱۰، ص۳۲۲.

۳۔ نور الثقلین، ج۲، ص۲۰۵


۲ ۔ مسیح(ع) خدا کے بیٹے نہ تھے

عیسائیوں کے بارے میں کوئی شک نہیں کہ وہ حضرت عیسی(ع) کو خدا کا حقیقی بیٹا سمجھتے تھے اور اس کا نام صرف احترام کے طور پر نہیں بلکہ حقیقی معنی میں ان پر اطلاق کرتے ہیں اور صراحت سے اپنی کتابوں میں کہتے ہیں کہ مسیح کے علاوہ اس کا حقیقی معنی کسی اور پر اطلاق جائز نہیں اور جیسا کہ ہم (جلد دوم صفحہ ۱۷۶ تا ۱۸۴ اردو ترجمہ میں ) کہہ چکے ہیں کہ حضرت مسیح(ع) نے کبھی اس قسم کا دعویٰ نہیں کیا ، وہ تو اپنا تعارف صرف خدا کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہونے کی حیثیت سے کرواتے تھے اور اصولاً اس کی کوئی وجہ نہیں کہ باپ بیٹے کا رابطہ جو کہ عالم مادہ اور عالم ممکنات کے ساتھ مربوط ہے وہ خدا اور کسی شخص کے درمیان موجود ہو۔

۳ ۔ یہ خرافات دوسروں سے اخذ کئے گئے

مندرجہ بالا آیت میں قرآن مجید کہتا ہے کہ وہ ان کجرویوں میں گذشتہ بت پرستوں کی طرح ہیں اور ان سے شاہت رکھتے ہیں ۔

وہ بعض خداوں کو باپ اور بعض کو خدا کا بیٹا یہاں تک کہ بعض کو ماں خدا اور بیوی خدا جانتے تھے، ہندوستان، چین اور قدیم مصر کے بت پرستوں کے اصولِ عقائد میں ایسے ہی افکار دکھائی دیتے ہیں ، یہی افکار بعد ازاں یہودیوں اور عیسائیوں میں داخل ہوگئے تو گویا انھوں نے ان میں بت پرستوں ہی کی تقلید کی ہے ۔

دورِ حاضر میں بعض محققین اس فکر میں ہیں کہ عہدین (تورات، انجیل اور ان سے متعلق کتب) کے مندرجہات کا بدھ مذہب اور برہمنوں سے موازنہ کیا جائے اور ان کتب کے مضامین کی جڑیں اُن کے عقائد میں تلاش کی جائیں اور یہ بات دیکھی جاسکتی ہے کہ انجیل اور تورات کے بہت سے معارف بدھ مذہب اور برہمنوں کے خرافات پر منطبق ہوتے ہیں یہاں تک کہ بہت سے واقعات وحکایات جو انجیل میں ہیں بعینہ وہی ہیں کہ جو ان دو مذہب میں نظر آتے ہیں ۔

۴ ۔ ”( قاتلهم الله ) “ کا مفہوم

”قاتلھم الله“ گرچہ اصل میں اس معنی میں ہے کہ خدا ان سے جنگ کرے یا خدا انھیں قتل کردے لیکن جیسا کہ طبرسی نے ”مجمع البیان“ میں ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ یہ جملہ لعنت سے کنایہ ہے یعنی خدا انھیں اپنی رحمت سے دُور رکھے ۔

اگلی آیت میں (اعتقادی شرک کے مقابلے میں ) ان کے عملی شرک کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، دوسروں لفظوں میں ”شرک درعبادت“ کی نشاندہی کی گئی ہے، ارشاد ہوتا ہے: یہود ونصاریٰ نے پروردگار کے مقابلے میں اپن علماء اور راہبوں کو اپنا خدا قرار دیا( اتَّخَذُوا اٴَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اٴَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ ) ۔ نیزمسیح ابن مریم کو بھی مرتبہ الوہیت پر فائز مانا( وَالْمَسِیحَ ابْنَ مَرْیَمَ ) ۔

اٴحبار “ ”حبر“ کی جمع ہیں اور ”رهبان “”راهب “ کی جمع ہے ”حبر“ عالم ودانشمند کو کہتے ہیں اور راہب ایسے شخص کو کہتے ہیں جس نے ترکِ دنیا کے طور پر دیر گرجے میں سکونت اختیار کررکھی ہو اور مشغول عبادت رہتا ہو۔

کیا یہود ونصاریٰ اپنے پیشواوں کی عبادت کرتے تھے

اس میں شک نہیں ہے کہ یہود ونصاریٰ اپنے علماء اور راہبوں کو سجدہ نہیں کرتے تھے اور نہ ان کے لئے نماز، روزہ یا دیگر عبادات انجام دیتے تھے لیکن چونکہ انھوں نے غیرمشروط طور پر اپنے آپ کو ان کی اطاعت میں دے رکھا تھا یہاں تک کہ حکمِ خدا کے خلاف بھی جو احکام وہ دیتے تھے انھیں واجب العمل سمجھتے تھے ۔ اس اندھی اور غیر منطقی پیروی کو خدا نے عبادت سے تعبیر کیا ہے ۔

امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں یہ معنی بیان کیا گیا ہے ۔ انھوں نے فرمایا:

اٴما والله ماصا موالهم ولاصلوا ولٰکنهم احلوا لهم حراما وحرموا علیهم حلالاً فاتبعوهم وعبدوهم من حیث لایشعرون .

خدا کی قسم! وہ (یہود ونصاریٰ) اپنے پیشواوں کے لئے روزہ نماز نہیں بجالاتے لیکن ان کے پیشواوں نے ان کے لئے حرام کو حلال اور حلال کو حرام کیا اور انھوں نے اسے قبول کرلیا، ان کی پیروی کی اور توجہ کئے بغیر ان کی پرستش کی ۔(۱) ایک اور حدیث میں ہے:

عدی بن حاتم کہتا ہے: میں رسول الله کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ صلیب میری گردن میں تھی ۔ آپ نے مجھ سے فرمایا:

اے عدی! یہ بت اپنی گردن سے اتاردو۔

میں نے ایسا ہی کیا، پھر میں آپ کے مزید قریب گیا تو میں نے سُنا کہ آپ یہ آیت تلاوت کررہے تھے:

اتَّخَذُوا اٴَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ ....

جب آپ نے آیت تمام کی تو میں نے عرض کیا: ہم کبھی اپنے پیشواوں کی پرستش نہیں کرتے، آپ نے فرمایا:

کیا ایسا نہیں ہے کہ وہ حلالِ خدا کو حرام اور حرامِ خدا کو حلال کرتے ہیں اور تم ان کی پیروی کرتے ہو؟

میں نے کہا: ہاں ایسا ہی ہے، اس پر آپ نے فرمایا:یہی ان کی عبادت ہے ۔(۲)

اس امر کی دلیل واضح ہے کہ کیونکہ قانون بنانا خدا کا کام ہے اور اس کے علاوہ کوئی حق نہیں رکھتا کہ کوئی چیز لوگوں کے لئے حلال یا حرام کرے اور اسے قانون قرار دے، جو کام لوگ کرسکتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ وہ قوانین کو کشف کریں اور جہاں ضرورت ہو مصادیق پر ان کی تطبیق کریں ۔

اس لئے اگر کوئی شخص قوانین الٰہی کے خلاف قانون بنائے اور کوئی اسے باقاعدہ مان لے اور بلا چون وچرا اسے قبول کرلے تو گویا وہ غیر خدا کے لئے خدا کے مقام کا قائل ہوا ہے اور یہ ایک طرح کا عملی شرک اوربت پرستی ہے اور دوسرے لفظوں میں غیر خدا کی عبادت ہے ۔

قرائن سے نتیجہ نکلتا ہے کہ یہود ونصاریٰ اپنے پیشواوں کے لئے اس قسم کے اختیارات کے قائل تھے کہ وہ بعض اوقات قوانینِ الٰہی میں جہاں مصلحت دیکھیں تبدیلی کردیں اور اب بھی گناہ بخشنے کا طریقہ عیسائیوں میں رائج ہے ۔ وہ پادری کے سامنے گناہ کا اعتراف کرلیں تو وہ کہتا ہے: میں نے بخش دیا ۔(۳)

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ عیسائی کی طرف سے حضرت عیسی(ع) کی پرستش اور یہودیوں کی طرف سے اپنے پیشواوں کی پرستش کی نوعیت میں فرق ہے، عیسائی حقیقتاً حضرت مسیح(ع) کو خدا کا بیٹا سمجھتے تھے جبکہ یہودی اپنے پیشواوں کی غیرمشروط اطاعت کی وجہ سے ان کی عبادت کرتے تھے ۔ لہٰذا مندرجہ بالا آیت نے بھی اس فرق کو ملحوظ رکھا ہے اور ان کا حساب ایک دوسرے سے الگ رکھا ہے ۔ آیت کہتی ہے:( اتَّخَذُوا اٴَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اٴَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ )

پھر حضرت مسیح(ع) کا ذکر جدا کیا گیا ہے:( وَالْمَسِیحَ ابْنَ مَرْیَمَ )

یہ صورت نشاندہی کرتی ہے کہ قرآنی تعبیرات میں ہر طرح کی باریکیوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے ۔

آخر میں اس معاملے کی تاکید کی گئی ہے کہ یہ سب انسان پرستیاں بدعت اور جعلی مسائل میں سے ہیں اور کبھی بھی ان کا حکم نہیں دیا گیا کہ اپنے لئے ایک خدا بنالو بلکہ انھیں حکم دیا گیا ہے کہ صرف ایک تنہا خدا کی پرستش کرو( وَمَا اٴُمِرُوا إِلاَّ لِیَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا ) ۔ وہ معبود کہ جس کے علاوہ کوئی بھی پرستش کے لائق نہیں( لَاإِلَهَ إِلاَّ هُوَ ) ۔ وہ معبود جو منزہ ہے اس سے جسے اس کا شریک قرار دیتے ہیں( سُبْحَانَهُ عَمَّا یُشْرِکُونَ ) ۔

____________________

۱۔ مجمع البیان، زیر نظر آیت کے ذیل میں اور نور الثقلین، ج۲، ص۲۰۹.

۲۔ مجمع البیان مذکورہ آیت کے ذیل میں

۳۔ تفسیر نمونہ جلد دوم میں اہلِ کتاب کی انسان پرستی کے بار ے میں ہم نے کچھ وضاحتیں کی ہیں (دیکھئے: صفحہ۳۸۹، اردو ترجمہ).


ایک اصلاحی درس

قران مجید مندرجہ بالا آیت میں اپنے پیروکاروں کو ایک بہت ہی قیمتی درس دیتا ہے اور توحید کا ایک اعلیٰ ترین مفہوم اس سلسلے میں دلنشین کرواتا ہے اور کہتا ہے کہ کوئی مسلمان یہ حق نہیں رکھتا کہ کسی انسان کی بلاشرط اطاعت قبول کرلے کیونکہ یہ کام اس کی پرستش کے مساوی ہے، تمام اطاعتیں اطاعتِ الٰہی میں محدود ہونا چاہئیں اور حکم انسانی کی پیروی اس وقت تک ہی جائز ہے جب تک قوانینِ خداوندی کے مخالفت نہ ہو چاہے حکم دینے والا انسان کیسا ہی کیوں نہ ہو اور کتنا ہی بلند مقام کیوں نہ رکھتا ہو۔

ایسا اس لئے ہے کہ بلاشرط اطاعت عبادت کے مساوی ہے اور بت پرستی اور عبودیت کی ایک شکل ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے مسلمان اس اہم اسلامی حکم سے دور ہونے اور انسانی بت بنالینے کی وجہ سے تفرقہ بازی، پراگندگی، استعمار اور استثمار کا شکار ہوگئے ہیں ، جب تک یہ بت نہیں توڑے جائیں گے اور انھیں دور نہ کیا جائے گا اس وقت تک بے سروسامانیاں اور پریشانیاں برطرف نہیں ہوسکتیں ۔

اصولی طور پر ایسی بت پرستی زمانہ جاہلیت کی بت پرستی کہ جس میں پتھر اور لکڑی کے سامنے سجدہ کیا جاتا تھا سے زیادہ خطرناک ہے ۔ کیونکہ وہ بے روح بت اپنے پجاریوں کا کبھی استعمال نہیں کرتے تھے، لیکن انسان جب بتوں کی جگہ لیتے ہیں تو وہ اپنی خود غرضی کی بناء پر اپنے پیروکاروں کو اپنی قید کی زنجیروں میں جکڑ لیتے ہیں اور انھیں ہر طرح کی پستی اور بدبختی میں مبتلا کرتے ہیں ۔

زیرِ بحث آیات میں سے تیسری میں قرآن نے یہودیوں اور عیسائیوں یا تمام مخالفینِ اسلام یہاں تک کہ مشرکین کی بھی جان توڑ اور بے نتیجہ کوششوں کو ایک جاذب نظر تشبیہ کے پیرائے میں بیان کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ چاہتے ہیں کہ اپنی پھونکوں سے نورِ خدا کو خاموش کردیں لیکن خدا کا ارادہ ہے کہ اس نورِ الٰہی کو اس طرح وسیع اور کامل کردے یہاں تک کہ وہ تمام دنیا پر چھاجائے اور تمام لوگ اس کے سائے سے مستفید ہوں اگرچہ کافروں کو یہ ناپسند ہے( یُرِیدُونَ اٴَنْ یُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِاٴَفْوَاهِهِمْ وَیَاٴْبَی اللهُ إِلاَّ اٴَنْ یُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ کَرِهَ الْکَافِرُونَ ) ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ نور سے تشبیہ:

اس آیت میں دینِ خدا، قرآن اور تعلیمات اسلامی کو نور اور روشنی سے تشبیہ دی گئی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ نور زندگی، حرکت، نشو ونما اور روئے زمین پر آبادیکا سرچشمہ اور ہر قسم کے حُسن وزیبائی کا منشاء ہے ۔

اسلام بھی تحرک آفرین دین ہے اور انسانی معاشرے کوو تکامل و ارتقا کی راہ میں آگے لے جاتا ہے اور ہر خیر ووبرکت کا منبع ہے، دشمنوں کی کاوشوں کو بھی پھونکوں سے تشبیہ دی گئی ہے اور یہ بات کس قدر مضحکہ خیز ہے کہ انسان نورِ آفتاب کی طرح روشنی کو پھونکوں سے بجھانے کی کوشش کرے اور ان کی کوششوں کے حقیر اور ناچیز ہونے کی تصویر کشی کے لئے اس سے عمدہ اور رساتر تعبیر نظر نہیں آتی، درحقیقت حضرتِ حق کے لئے بے پایاں ارادے اور لامتناہی قدرت کے مقابلے میں عاجز وناتواں مخلوق کی کوششیں اس سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں ۔

۲ ۔ نور خدا کو بجھانے کی مساعی کا دو مرتبہ ذکر:

نورِ خدا کو بجھانے کی کوششوں کا ذکر قرآن میں دو مواقع پر آیا ہے ۔ ایک زیرِ بحث آیت میں اور دوسرا سورہ صف کی آیہ ۱۸ میں ، دونوں مقامات پر یہ بات دشمنانِ اسلام کی مساعی پر تنقید کے طور پر ہے لیکن ان دونوں آیات میں تھوڑا سا فرق نظر آتا ہے، زیر بحث آیت میں ہے: ”یریدون اٴن یطفئوا “ جبکہ سورہ صف میں ہے: ”یریدون لیطفئوا

تعبیر کا یہ فرق یقیناً کسی نکتے کی طرف اشارہ ہے، مفردات میں راغب ان دونوں تعبیرات کے فرق کی وضاحت کے سلسلے میں کہتا ہے کہ پہلی آیت میں بغیر مقدمہ ووسیلہ کے بجھانے کی طرف اشارہ ہے لیکن دوسری آیت میں مقدمات واسباب کے ذریعے بجھانے کی طرف اشارہ ہے، یعنی وہ اسباب کے بغیر یا پورے وسائل کے ساتھ نورِ حق کو بجھانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

۳ ۔ ”( یاٴبیٰ ) “ کا مفہوم:

یاٴبیٰ“ مادہ ”اباء “ سے ہے اس کا مطلب ہے سختی سے کسی چیز سے روکنا اور منع کرنا، یہ تعبیر دینِ اسلام کی تکمیل اور پیش رفت کے لئے پروردگار کے حتمی ارادے اور مشیت کا ثبوت دیتی ہے اور اس دین کے مستقبل کے بارے میں تمام مسلمانوں کو ایک ولولہ اور امید دلاتی ہے، اگر مسلمان واقعی اور حقیقی مسلمان ہوں ۔

اسلام کی عالمگیر حکومت

آخرکار زیرِ بحث آیت میں مسلمانوں کو اسلام کے عالمگیر ہونے کی بشارت دی گئی ہے، گذشتہ آیت کی بحث جس کا مقصد یہ ہے کہ دشمنانِ اسلام کی جان توڑ کوششیں بارآور نہیں ہوں گی، اس کی تکمیل کرتے ہوئے صراحت سے فرمایا گیا ہے: وہ ایسی ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر کامیابی اور غلبہ دے اگرچہ مشرکین اسے پسند نہیں کرتے( هُوَ الَّذِی اٴَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدیٰ وَدِینِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهُ عَلَی الدِّینِ کُلِّهِ وَلَوْ کَرِهَ الْمُشْرِکُونَ ) ۔

ہدایت سے مراد روشن دلائل اور واضح براہین ہیں جو دین اسلام میں موجود ہیں اور دینِ حق سے مراد یہی دین ہے جس کے لئے اصول اور فروع حق ہیں ، مختصر یہ ہے کہ اس کی تاریخ، اس کے مدارک اور اس کا حاصل سب حق ہے اور بلاشبہ وہ دین جس کے مضامین بھی حق ہیں اور جس کے دلائل، مدارک اور تاریخ سب روشن ہیں اسے آخرکار تمام ادیان پر غالب اور کامیاب ہونا چاہیے ۔

رفتارِ زمانہ، علم کی پیشرفت اور روابط کی آسانی کے ساتھ ساتھ زہریلے پراپیگنڈا کا پردہ ہٹتا جائے گا اور حقائق کا چہرہ آشکار ہوتا چلا جائے گا اور مخالفین حق اس کی راہ میں جو رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں وہ سب ختم ہوجائیں گی، یوں دینِ حق تمام جگہوں پر محیط ہوجائے گاچاہے حق کے دشمن نہ چاہیں اور چاہے اپنی مذموم حرکتوں سے باز نہ آئیں کیونکہ ان کی حرکتیں راہِ تاریخ کے خلاف ہیں اور سننِ آفرینش کی ضد ہیں ۔

چند قابل توجہ نکات

۱ ۔ ہدایت اور دینِ حق سے کیا مراد ہے؟

یہ مندرجہ بالا آیت میں قرآن کہتا ہے: ”( اٴَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدیٰ وَدِینِ الْحَقِّ ) “ یہ گویا تمام ادیانِ عالم پر اسلام کی کامیابی کی دلیل کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جب پیغمبر اسلام کی دعوت کا مضمون اور متن مبنی بر ہدایت ہے اور عقل ہر مقام پر اس کی گواہی دے گی، نیز جب اصول وفروع حق کے موافق اور حق کے خواہاں ہیں تو ایسا دین فطری طور پر تمام ادیان پر کامیابی حاصل کرے گا ۔

ہندوستان کے ایک دانشور کے بارے میں مرقوم ہے کہ وہ یک مدت تک مختلف عالمی ادیان کا مطالعہ کرتا رہا اور ان کے بارے میں اس نے تحقیق کی اور آخرکار بہت زیادہ مطالعہ کرنے کے اس نے اسلام قبول کرلیا اور انگریزی زبان میں ایک کتاب لکھی جس کا عنوان تھا: ”میں مسلمان کیوں ہوا“ اس میں اس نے تمام ادیان کے مقابلے میں اسلام کی خوبیاں واضح کی ہیں ، اہم ترین امور جنھوں نے اس کی توجہ جذب کی ان میں سے ایک کے بارے میں وہ کہتا ہے:

اسلام وہ واحد دین ہے جس کی تاریخ ثابت وبرقرار اور محفوظ ہے ۔

وہ تعجب کرتا ہے کہ یورپ نے ایک ایسا دین کیونکر اپنا رکھا ہے کہ جس میں اس کے لانے والے کو ایک انسان کے مقام سے بالاتر جاکر اسے اپنا خدا قرار دے لیا ہے جبکہ اس کی کوئی مستند اور قابلِ قبول تاریخ نہیں ہے ۔(۱)

وہ لوگ جنھوں نے اپنے سابقہ دین کو ترک کرکے اسلام قبول کیا ہے اگر ان کے اظہارات اور خیالات کا مطالعہ اور تحقیق کی جائے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اس دین کی انتہائی سادگی، اس کے مبنی بردلائل احکام، اس کے اصول وفروع کے استحکام اور اس کے پیش کردہ انسانی قوانین سے متاثر ہوئے ہیں اور انھوں نے دیکھا ہے کہ اس کے قوانین ومسائل ہر قسم کی بیہودگی سے پاک ہیں اور ان میں ”حق“ و ”ہدایت“ کا نور جلوہ گر ہے ۔

____________________

۱۔ المنار، ج۱۰، ص۳۸۹.


۲ ۔ منطقی غلبہ یا طاقت کا غلبہ:

اس سلسلہ میں کہ اسلام کس طرح تمام ادیان پر غلبہ حاصل کرے گا اور کامیاب ہوگا اور یہ کامیابی کس صورت میں ہوگی مفسّرین میں اختلاف ہے ۔

بعض اسے صرف منطقی واستدلالی کامیابی سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسا ہوچکا ہے کیونکہ منطق واستدلال کی نظر سے موجودہ ادیان کا اسلام سے کوئی موازنہ اور مقابلہ نہیں ہے ۔

لیکن لفظ ’اظہار“ جس کا مادہ ”( لِیُظْهِرَهُ عَلَی الدِّینِ ) ....“ میں بھی استعمال ہوا ہے، اگر اس کا قرآن کے دیگر مواقع پر مطالعہ کیا جائے اور جہاں جہاں یہ مادہ استعمال ہواہے اس کی تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ مادہ زیادہ ترجسمانی غلبہ اور ظاہری قدرت کے لئے آتا ہے، جیساکہ اصحابِ کہف کے واقعہ میں ہے:( إِنَّهُمْ إِنْ یَظْهَرُوا عَلَیْکُمْ یَرْجُمُوکُمْ )

اگر وہ (دقیانوس اور اس کا لشکر) تم پر غلبہ حاصل کرلیں تو تمھیں سنگسار کریں گے ۔(کہف/ ۲۰)

نیز مشرکین کے بارے میں ہے:( کَیْفَ وَإِنْ یَظْهَرُوا عَلَیْکُمْ لَایَرْقُبُوا فِیکُمْ إِلًّا وَلَاذِمَّةً )

جب وہ تم پر غالب آجاتے ہیں تو رشتہ داری، قرابت اور عہدہ پیمان کا لحاظ نہیں کرتے ۔(توبہ/ ۸)

بدیہی امر ہے کہ ایسے مواقع پر غلبہ منطقی نہیں ہوتا بلکہ عملی اور عینی ہوتا ہے ۔

بہرحال زیادہ صحیح یہ ہے کہ مذکورہ غلبہ اورکامیابی کو ہر قسم کا غلبہ سمجھا جائے کیونکہ یہ معنی مفہوم قرآن سے بھی زیادہ مطابقت رکھتا ہے کیونکہ وہاں مطلق طور پر غلبہ کا ذکر ہے یعنی ایک دن ایسا آئے گا جب اسلام منطق واستدلال کے لحاظ سے بھی اور ظاہری نفوذ اور حکومت کے حوالے سے بھی تمام ادیان عالم پر کامیابی حاصل کرے گا اور سب اس کے تحت شعاع اور زیرِ نگین ہوں گے ۔

۳ ۔ قرآن اور قیامِ مہدی(ع):

مندرجہ بالا آیت جو بعینہ انہی الفاظ کے ساتھ سورہ صف میں بھی آئی ہے اور کچھ فرق کے ساتھ اس کا تکرار سورہ فتح میں بھی ہوا ہے ایک اہم واقعہ کی خبر دیتی ہے، جس کی اہمیت اس تکرار کا سبب بنی ہے اور جو اسلام کے عالمگیر ہونے کی خبر دیتی ہے ۔

اگرچہ بعض مفسّرین نے زیرِ بحث آیت میں کامیابی کوایک علاقے کی اور محدود کامیابی کے معنی میں لیا ہے کہ جو رسول الله کے زمانے میں یا آپ کے بعد مسلمانوں کو حاصل ہوئی تھی لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ آیت میں کسی قسم کی قید اور شرط نہیں ہے اور یہ ہر لحاظ سے مطلق ہے لہٰذا کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس کے معنی کو محدود کریا جائے، آیت کا مفہوم اسلام کی تمام پہلووں سے تمام ادیانِ عالم پر کامیابی کی خبر دیتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرکار اسلام تمام کرہ زمین پر محیط ہوجائے گا اور تمام عالم پر کامیاب ہوگا ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ابھی تک ایسا نہیں ہوپایا ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ خدا یہ حتمی وعدہ تدریجاً اور آہستہ آہستہ عملی شکل اختیار کررہا ہے، دنیا میں اسلام کی تیز رفتار ترقی، یورپ کے مختلف ممالک میں اسے باقاعدہ تسلیم کرلیا جانا، امریکہ اور افریقہ میں اس کا نفوذ، بہت سے دانشوروں اور غیر دانشوروں کا قبولِ اسلام اور اس کے دیگر عوامل نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلام عالمی ہونے کی طرف قدم بڑھا رہا ہے، البتہ مختلف روایات جو منابع اسلامی میں وارد ہوئی ہیں ان کے مطابق اس پرورگرام کا تکامل اس وقت ہوگا جب حضرت مہدی علیہ السلام ظہور کریں گے اور اسلام کے عالمی پرورگرام کو تحقق بخشیں گے اور عالمی طور پر اسے نافذ کریں گے ۔

مرحوم طبرسی ”مجمع البیان“ میں امام محمد باقر علیہ السلام سے اس آیت کی تفسیر میں آپ(ع) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :

ان ذٰلک یوکن عند خرج المهدی فلایبقیٰ اٴحداً الّا اٴقر بمحمد (ص) اس آیت میں جو وعدہ کیا گیا ہے مہدی آلِ محمد کے ظہور کے وقت صورت پذیر ہوگا، اس دن کوئی خص روئے زمین میں نہیں ہوگا مگر یہ کہ وہ حضرت محمد کی حقانیت کا اقرار کرے گا ۔

نیز اسی تفسیر میں پیغمبر اسلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:”لایبقیٰ علیٰ ظهر الاٴرض بیت مدر ولا وبرالا ادخله کلمة الاسلام “

دنیا میں کوئی بھی گھر جو پتھر اور مٹی کا، چادر اور خیمے کا اور اُون اور بالوں سے بنا ہو باقی نہیں رہے گا مگر یہ کہ خدا نامِ اسلام اس میں داخل کردے گا ۔

نیز صدوق کی کتاب اکمال الدین میں امام صادق علیہ السلام سے اس کی آیت کی تفسیر میں یوں منقول ہے:

واللّٰه ما نزل تاویلها بعد ولا ینزل تاٴویلها حتّیٰ یخرج القائم فاذا خرج القائم لم یبق کافر باللّٰه العظیم (نورالثقلین،ج ۲ ،ص ۲۱۱)

خدا کی قسم اس آیت کے مضمون نے عملی صورت اختیار نہیں کی اور ایسا صرف اس زمانے میں ہوگا جب ”قائم“خروج کریں گے اور جب وہ قیام کریں گے تو ساری دنیا میں کوئی ایسا شخص باقی نہیں رہے گا جو خدا کا انکار کرے ۔

اسی مضمون کی اور احادیث بھی پیشوایان اسلام سے نقل ہوئی ہیں اور بعض مفسرین نے بھی اس آیت کے ذیل میں یہی تفسیر ذکر کی ہے لیکن یہ امر تعجب خیز ہے کہ المنار کے مولف نے نہ صرف یہ کہ اس تفسیر کو قبول نہیں کیا بلکہ حضرت مہدی (ع) کے بارے میں احادیث چونکہ زیر نظرآیت سے مناسبت رکھتی ہے اس لئے اس نے ان پر بحث تو کی ہے لیکن شیعوں سے اپنے مخصوص تعصب کی بنا ء بزدلانہ حملوں کے لئے کوئی دقیق فروگذاشت نہیں کیا اور حضرت مہدی (ع) سے مربوط احادیث کا سرے سے انکار کرتے ہوئے انہیں متضاد اور غیر قابل قبول قرار دے دیا ہے، اس کے گمان میں وجود مہدی (ع) کا عقیدہ صرف شیعوں سے یا جو شیعوں کی طرف ہیں انہی سے مربوط ہے، ان سب باتوں ست قطع نظر اس نے وجود مہدی(ع) کے عقیدے کو پسماندگی اور تنزل کا ایک عامل قرار دے دیا ہے ۔

اس صورت حال پیش نظر ہم مجبور ہیں کہ کچھ اختصارسے ظہور مہدی (ع) سے مربوط روایات کا ذکر کریں ، نیز السامی معاشرے کی ترقی اور ظلم وجور کے خلاف قیام میں اس عقیدے کے اثرات پر بحث کریں تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ جب ایک دروازے سے تعصب داخل ہوتا ہے تو علم ودانش دوسرے دروازے سے بھاگ جاتے ہیں ، اس بحث سے یہ بھی معلوم ہوگا کہ مذکورہ مفسر اگرچہ اسلامی مسائل میں بہت معلومات رکھتاہے لیکن تعصب کے اس کمزور پہلو کی وجہ سے اس نے واضح حقائق کو کس طرح الٹی نظر سے دیکھا ہے ۔


ظہور مہدی (ع) اور اسلامی روایات

اگر چہ سنی شیعہ علما ء نے بہت سی کتب میں قیام مہدی (ع) سے متعلق احادیث لکھی ہیں لیکن ہماری نظر میں کوئی چیز اس خط سے بڑھ کر گویا اور جچی تلی نہیں ہیں جو چند علماء حجاز نے ایک سائل کے جواب میں لکھا ہے لہٰذا ہم اس کا بعینہ ترجمہ قارئین محترم کی خدمت میں پیش کرتے ہیں لیکن پہلے ہم یہ بات یاد دلا دیں کہ قیام مہدی(ع) سے مربوط روایات ایسی ہیں کہ کسی اسلامی محقق نے چاہے وہ کسی گروہ اور مذہب کا پیرو کار ہو ان کے تواتر کا انکار نہیں کیا ۔ اب تک اس سلسلے میں بہت زیادہ کتابیں لکھی جاچکی ہیں اور ان کے مولفین نے بالاتفاق عالمی مصلح یعنی حضرت مہدی (ع) سے مربوط احادیث کی صحت کو قبول کیا ہے ۔صرف معدودے چند افراد مثلا ابن خلدون اور احمد امین مصری نے ان اخبار و روایات کے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے صدور کے بارے میں شک و تردید کی ہے، البتہ ہمارے پاس ایسے قرائن موجود ہیں کہ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کام ابھارنے والی چیز ان اخبار کا ضعف نہیں تھا بلکہ ان کا خیال تھا کہ حضرت مہدی(ع) سے مربوط روایات ایسے مسائل پر مشتمل ہیں جن پر آسانی سے یقین نہیں کیا جاسکتایا اس بنا پر کہ وہ صحیح اور غیر صحیح روایات کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کر سکتے تھے یا انہیں ان کی تفسیر نہیں مل سکی، بہرحال ضروری ہے کہ پہلے اس مسائل میں اس جواب کو پیش کیا جائے جو”رابطہ عالم اسلامی“ کی طرف سے سامنے آیا ہے، جب کہ”رابطہ عالم اسلامی“عالم اسلام کے انتہائی سخت گیر افراد، یعنی وہابیوں پر مشتمل ہے، اس سے واضح ہوجائے گا کہ ظہور مہدی (ع) کا معاملہ ایسا ہے جس پر سب مسلمانوں کا اتفاق ہے،ہمارے نظرےے کے مطابق اس چھوٹے سے رسالہ میں ضروری مدارک کو اس طرح سے جمع کردیا گیا ہے کہ کسی شخص کو ان کے انکار کی جرات نہیں ہے اور اگر سخت گیر وہابی حضرات نے اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیا ہے تو اس کی بھی وجہ اس کے ناقابل انکار مدارک ہی ہیں ۔

تقریبا ایک سال پہلے ابو محمد نامی ایک شخص نے کینیا سے ”رابطہ عالم اسلامی“ سے مہدی (ع) منتظر کے بارے میں سوال کیا، رابطہ کے سربراہ محمد الصالح القزاز نے اس کے جواب میں ضمنا تصریح کی ہے کہ ابن تیمیہ جو مذہب وہابی کابانی ہے نے بھی ظہور مہدی (ع) سے مربوط احادیث کو قبول کیا ہے ۔

مذکورہ رسالے کا متن حجاز کے دورحاضر کے پانچ مشہور علماء نے تیار کیا ہے، اس رسالے میں حضرت مہدی (ع) کے نام کی وضاحت کی گئی ہے اوران کے ظہور کا مقام مکہ بیان کیا گیا ہے، اس کے بعد لکھا گیا ہے:

دنیا میں فتنہ وفساد کے ظہور اور کفر وظلم کے پھیل جانے پر خدا وند عالم اس (مہدی (ع) کے ذریعے دنیا کو عدل و انصاف سے اس طرح معمور کردے گا جس طرح وہ ظلم وجور سے بھری ہوگی ۔

وہ ان بارہ خلفاء راشدین میں سے آخری ہے جن کے متعلق پیغمبر نے کتب صحاح میں خبر دی ہے ۔

مہدی (ع) سے مربوط احادیث بہت سے صحابہ نے پیغمبر سے نقل کی ہیں ان صحابہ میں سے عثمان بن عفان، علی ابن ابی طالب، طلحہ ابن عبیداللہ، عبدالرحمن ابن عوف، قرة بن اساس مزنی،عبداللہ ابن حارث، ابوہریرہ،حذیفہ بن یمان، جابر ابن عبداللہ ، ابو امامہ، عبداللہ ابن عمر، انس ابن مالک، عمران ابن حصین اور ام سلمہ شامل ہیں ۔

یہ افراد ان صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے روایات مہدی (ع) کو نقل کیا ہے اور ان کے علاوہ بھی بہت افراد موجود ہیں ۔

خود صحابہ سے بھی بہت سی باتیں منقول ہیں کہ جن میں ظہور مہدی(ع) سے متعلق گفتگو کی گئی ہے کہ جنہیں احادیث پیغمبر کے ہم پلہ قرار دیا جاسکتا ہے کیوں کہ یہ مسئلہ ایسے مسائل میں سے نہیں ہے کہ جس کے بارے میں اجتہاد کے ذریعے کچھ کہا جا سکے(لہٰذا ظاہر ہے کہ یہ باتیں بھی انھوں نے پیغمبر سے سن کر کی ہیں ) ۔

مزید لکھا ہے:

مذکورہ بالا احادیث جو پیغمبر سے نقل ہوئی ہے اور صحابہ کی گواہی جو یہاں حدیث کا حکم رکھتی ہے بہت سی مشہور اسلامی کتب اور احادیث کی بنیاد کتب میں آئی ہے چاہے وہ سنن و معاجم ہوں یا مسانید، ان میں سے سنن ابو داود، سنن ترمزی، ابن عمرو الدانی ، مسند احمد ،ابن یعلی وبزاز، صحیح حاکم، معاجم طبرانی کبیر ومتوسط، رویانی و دار قطنی اور ابو نعیم نے اخبار المہدی میں ، خطیب نے تاریخ بغداد میں اور ابن مساکر نے تاریخ دمشق میں اور ان کے علاوہ دیگر علماء کی کتب میں یہ روایات موجود ہیں ۔

اس کے بعد مزید لکھا ہے:

بعض علماء اسلام نے اس سلسلے میں مخصوص کتب تالیف کی ہیں جن میں ابو نعیم کی ”اخبار المہدی“ ، ابن حجر ہیثمی کی ”القول المختصر فی علامات المهدی المنتظر “،شوکانی کی”التوضیح فی تواتر ما جاء فی المنتظر والدجال والمسیح “، ادریس عراقی کی”المهدی “ اور ابو العباس ابن عبدالمومن کی”الوهم المکنون فی الرد علی ابن خلدون “ شامل ہیں ۔

اور آخری شخص جس نے اس سلسلے میں مفصل بحث کی ہے وہ اسلامی یونیور سٹی مدینہ کا سربراہ ہے جن نے مذکورہ یونیورسٹی کے مجلہ کے چند شماروں میں اس مسئلے پر بحث کی ہے ۔

مزید لکھا ہے:

قدیم اور جدید بزرگان اور علماء اسلام کی ایک جماعت نے بھی اپنی تحریروں میں تصریح کی ہے کہ مہدی کے سلسلے میں احادیث حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں (اور وہ کسی طرح سے قابل انکار نہیں ہیں )ان میں سے السخاوی نے کتاب”فتح المغیث“ میں ، محمد ابن احمد سفاوینی نے ”شرح العقیدہ “ میں ، ابوالحسن الابری نے”مناقب شافعی“ میں ، ابن تیمیہ نے”کتاب فتاواش“ میں ، سیوطی نے”الحاوی“ میں ، ادریس عراقی نے مہدی (ع) کے بارے میں اپنی تالیف میں ،شوکانی نے ”التوضیح فی تواتر ماجاء فی المنتظر“ میں ، محمد جعفر کنانی نے ”نظم التناثر“ میں اور ابو العباس ابن عبدالمومن نے” الوھم المکنون “ میں تصریح کی ہے ۔

اس بحث کے آخر میں لکھا گیا ہے:

صرف ابن خلدون ہے جس نے چاہا ہے کہ مہدی (ع) سے مربوط احادیث پر ایک بے بنیاد اور جعلی حدیث کے سہارے اعتراض کرے اور وہ جعلی حدیث ہے:لا مهدی الا عیسی ٰ(مہدی عیسیٰ کے علاوہ کوئی نہیں )لیکن بزرگ ائمہ اور علماء اسلام نے اس کے قول کو رد کیا ہے ۔خصوصا ابن عبدالمومن نے تو اس کے نظریے کے خلاف ایک خصوصی کتاب لکھی ہے کہ جو تیس سال پہلے مشرق ومغرب میں پھیل چکی ہے ۔

حفاظ احادیث اور بزرگ علماء حدیث نے بھی تصریح کی ہے کہ مہدی (ع) کے بارے میں روایات ”صحیح“ اور ”حسن“ احادیث پر مشتمل ہیں اور ان کا مجموعہ متواتر ہے اس لئے ظہور مہدی کا اعتقاد رکھنا (ہرمسلمان پر واجب ہے) اور یہ اہل سنت والجماعت کے عقائد کا جز شمار ہوتا ہے اور سوائے نادان، جاہل یا بدعتی افراد کے اس کا کوئی انکار نہیں کرتا ۔

انتظار ظہور مہدی (ع) کے تربیت کنندہ اثرات

گذشتہ بحث میں ہم جان چکے ہیں کہ یہ عقیدہ اسلامی تعلیمات میں کوئی وارداتی پہلو نہیں رکھتا بلکہ ان بہت زیادہ قطعی ویقینی امور میں سے ہے جو بانی اسلام سے بالذات لئے گئے ہیں اور سب اسلامی مکاتب ومذاہب اس سلسلے میں متفق ہیں اور اس کے بارے میں احادیث متواتر ہیں ۔

اب ہم موجودہ اسلامی معاشروں کی کیفیت میں اس انتظار کے اثرات کی طرف آتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا اس قسم کے ظہورپر ایمان انسان کو خواب و خیال کی دنیا میں لے جاتا ہے کہ جس سے وہ اپنی موجودہ حیثیت سے غافل ہوجاتا ہے اور ہر قسم کے حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے یا یہ کہ واقعا یہ عقیدہ ایک قسم کے قیام اور فرد اور معاشرے کی تربیت کی دعوت ہے؟

کیا یہ عقیدہ تحرک کا باعث ہے یا جمود کا؟

اور کیا یہ عقیدہ مسئولیت ذمہ داری کا احساس ابھارتا ہے یا ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے سے فرار کا باعث بنتا ہے؟

خلاصہ یہ کہ کیا یہ فکری صلاحیتوں کو شل کردینے والی چیز ہے یا بیدار کرنے والی؟

ان سوالات کی وضاحت ورتحقیق سے پہلے ایک نکتے کہ طرف پوری توجہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ بہت زیادہ اصلاح کنندہ قانون اور اعلیٰ ترین مفاہیم جب جاہل، نالائق اور غلط فائدہ اٹھانے والے افراد کے ہاتھ چڑھ جائیں تو ہوسکتا ہے کہ وہ انہیں اس طرح مسخ کردیں کہ وہ اصلی مقصد کے بالکل خلاف نتیجہ پیدا کریں اور وہ ان کے ہدف سے الٹ راہ پر چل نکلیں ، ایسے امور کی بہت سی مثالیں اور نمونے موجود ہیں اور مسئلہ انتظار کے ساتھ بھی جیسا کہ ہم دیکھیں گے یہی سلوک ہوا ہے ۔

بہرحال ہر قسم کے اشتباہ سے بچنے کے لئے ہم بقول”باید آب را ازسرچشمہ گرفت“(یعنی پانی خودسر چشمہ سے حاصل کرنا چاہیے)اس موضوع کو بھی سر چشمہ سے حاصل کرتے ہیں تاکہ راستے کی نہروں اور کھایوں کی آلود گی سے بچایا جاسکے، یعنی ہم ”انتظار“ کی بحث میں براہ راست اسلام کے اصلی متون کو تلاش کریں گے اور ان مختلف روایات پر بحث کریں گے جو مختلف لب ولہجہ میں مسئلہ انتظارکی تاکید کرتی ہیں تاکہ اصلہ مقصد اور ہدف تک پہنچ سکیں ۔

اب نہایت غور سے ان چند روایات کی طرف توجہ کیجئے:

۱ ۔ کسی امام صادق علیہ السلام سے پوچھا:

آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو ہادیان برحق کی ولایت رکھاہے اور حکومت حق کے ظہور کے انتظار میں رہتا ہے اور اسی حالت میں دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے ۔

امام (ع) نے جواب میں فرمایا:

ھوبمنزلة من کان مع القائم فی فسطاطہ۔ ثم سکت ھنیئة ۔ ثم قال: ھوکمن کان مع رسول اللّٰہ۔

وہ اس شخص کی طرح ہے جو اس رہبر انقلاب کے خیمے میں (اس کی فوج کے سپاہیوں میں )ہو ۔

پھر آپ(ع) نے کچھ توقف کیا، پھر فرمایا:

اسی شخص کی طرح ہے جو پیغمبر اسلام کے ساتھ (ان کے معرکوں میں )شریک ہو۔(۱)

بعینہ یہی مضمون بہت سی روایات میں مختلف تعبیرات کے ساتھ منقول ہے ۔

۲ ۔بعض روایات میں یہ عبارت آئی ہے:بمنزلة الضارب بسیفه فی سبیل اللّٰه

یعنی ،وہ اس شخص کی طرح ہے جو راہ خدا میں شمشیر زن ہو۔

۳ ۔بعض روایات میں عبارت یوں ہے:کمن قارع مع رسول اللّٰه بسیفه ۔

یعنی، وہ اس شخص کی طرح ہے جو رسول خدا کے ساتھ ہو کر دشمن کے دفاع پر تلوار مارے ۔

۴ ۔ بعض دیگر روایات میں ہے:بمنزلة من کان قائدا تحت لواء القائم ۔

یعنی وہ اس شخص کی طرح ہے جو قائم(مہدی)کے پرچم تلے ہو۔

۵ ۔ بعض دوسری روایات میں ہے:بمنزلة المجاهد بین یدی رسول الله ۔

یعنی، وہ اس شخص کی طرح ہے جو رسول اللہ کی موجود گی میں جہاد کرے ۔

۶ ۔ بعض روایاتم یں ہے:بمنزلة من استشهد مع رسول اللّٰه ۔

یعنی، وہ اس شخص کی طرح ہے جوپیغمبر کی معیت میں شہید ہو۔

ان چھ روایات میں ظہور مہدی (ع) کے انتظار کے بارے میں سات تشبیہیں آئی ہیں ، ان سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ایک طرف ان کا رابطہ اور مشابہت مسئلہ انتظار سے ہے اور دوسری طر ف اس انتظار کا تعلق دشمن کے ساتھ جہاد اور مقابلے کی آخری صورت سے ہے (غور کیجئے گا ) ۔

۷ ۔ کئی ایک روایات میں ایسی حکومت کے انتظار کو بلند ترین عبادات میں سے شمار کیا گیا ہے، یہ مضمون رسول اللہ سے مروی بعض احادیث میں اور امیر المومنین حضرت علی (ع) کے بعض فرمودات میں نقل ہوا ہے ۔

ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے فرمایاہے:افضل اعمال امتی انتظار الفرج من اللّٰه عزوجل ۔

میری امت کے افضل ترین اعمال میں سے ظہور کا انتظار کرنا ہے ۔(۲)

ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم سے منقول ہے:افضل العبادة انتظار الفرج ۔

زیادہ فضیلت والی عبادت ظہور کا انتظار کرنا ہے ۔(۳)

یہ حدیث یہاں عمومی مفہوم رکھتی ہے، ”انتظار فرج“ کو یہاں چاہے وسیع معنی میں لیں یا عظیم عالمی مصلح کے ظہور کا انتظارسمجھیں ، دونوں صورتوں میں زیر بحث موضوع کے حوالے سے انتظار کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے ۔

یہ تمام تعبیریں اس بات کی ترجمانی کرتی ہیں کہ ایسے انقلاب کا انتظار ہمیشہ وسیع اور ہمہ گیر جہاد سے منسلک ہوتا ، اس بات کو نظر میں رکھنا چاہئے تاکہ انتظار کا مفہوم سمجھ کر ہم ان سب تعبیروں سے ایک نتیجہ اخذ کو سکیں ۔

____________________

۱-بحار الانوار،ج۱۳،ص۱۳۶(چاپ قدیم)بحوالہ محاسن برقی ۔

۲۔ بحارالانوار ، ج ۱۳،ص ۱۳۷،بحوالہ کافی ۔

۳۔ بحارالانوار ، ج ۱۳،ص ۱۳۶،بحوالہ کافی ۔


انتظار کا مفہوم

لفظ”انتظار“ ایسے شخص کی کیفیت پر بولا جاتا ہے جو موجودہ حالت سے پریشان ہو اور اس سے بہتر کیفیت کے ایجاد کرنے میں لگا ہو ، مثلا وہ بیمار جو صحت کے انتظار میں یا وہ باپ جو سفر پر گئے ہوئے بیٹے کے انتظار میں ، بیمار بیماری پر پریشان اور دکھی ہوتا ہے اور باپ بیٹے کے فراق میں پریشان ہوتا ہے ، دونوں بہتر حالت کی کوشش میں ہوتے ہیں ، اسی طرح وہ تاجر جو کاروبار کی بدحالی پر پریشان ہو اور اقتصادی بحران کے خاتمے کے انتظار میں ہو، ایسے تاجر کی دو ھالتیں ہوتی ہیں ایک موجودہ حالت پر پریشانی اور ناپسندیدگی اور دوسرا بہتر حالت کے لئے کوشش ۔

اس بنا پر حضرت مہدی(ع) کی عادلانہ حکومت اور عالمی مصلح کے قیام کا انتظار بھی دو عناصر کا مرکب ہے، ۱ ۔ ”نفی“ کا عنصر اور دوسرا”اثبات“ کا عنصر، منفی عنصر جوجودہ حالت کی نا پسندیدگی ہے اورمثبت عنصر بہتر اور اچھی حالت کی آرزو ہے ۔

اب اگر یہ دونوں پہلو روح انسانی میں اتر جائیں تو دو قسم کے وسیع اعمال کا سرچشمہ بن جائیں گے، ان دو قسم کے اعمال میں ایک طرف تو ظلم و فساد کے عوامل سے ہر طرح کا تعلق ترک کرنا ہے یہاں تک کہ ان سے مقابلہ اور جنگ کرنا ہے اور دوسری طرف خود سازی، اپنی مدد آپ اور عوام کی واحد عالمی حکومت کی تشکیل کے لئے جسمانی اور روحانی طور پر تیاری کرنا ہے، اور اگر ہم اچھی طرح غور کریں تو دیکھیں گے کہ اس کے دونوں حصے اصلاح کن ، تربیت کنندہ اور تحرک، آگاہی اور بیداری کے عوامل ہیں ۔

”انتظار“ کے حقیقی اور اصلی مفہوم کی طرف توجہ کریں تو مندرجہ بالا متعددروایات میں جو انتظار کی جزا اور نتیجہ بتایا گیا ہے وہ اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے اور سمجھ آتا ہے کہ کس طرح حقیقی انتظار کرنے والے کبھی ان لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جو مہدی (ع) کے کیمپ میں یا ان کے پرچم کے نیچے یا اس شخص کی طرح قرار پاتے ہیں جو راہ خدامیں تلوار چلائے یا جو اپنے خون میں غلطاں ہو اور یا جو شہید ہوجائے، کیا یہ حق و عدالت کی راہ کے مختلف مراحل اور مجاہدہ کے مخلتف درجات کی طرف اشارہ نہیں ہے کہ جو مختلف لوگوں کو ان کی تیاری اور انتظار کے درجے کی مناسبت سے حاصل ہوتے ہیں ، یعنی جس طرح راہ خدا کے مجاہدین کی فداکاری اور اس کے نتیجہ و اثر کے مختلف درجے ہوتے ہیں اسی طرح انتظار کے خودسازی اور آمادگی کے بھی بالکل مختلف درجے ہوتے ہیں ”مقدمات“ اور نتائج کے لحاظ سے ان کی ایک دوسرے سے مشابہت ہوتی ہے دونوں جہاد ہیں ، دونوں کے لئے تیاری اور خود سازی کی ضرورت ہے، جو شخص ایسی حکومت کے قائد کے کیمپ میں ہوں یعنی ایک عالمی حکومت کے فوجی مرکز میں ہو وہ ایک غافل اور جاہل شخص نہیں ہوسکتا اور نہ وہ لاابالی پن کا مظاہرہ کرسکتا ہے، ایسے مرکز میں ہرکوئی نہیں آسکتا، یہ جگہ تو ان افراد کے لئے ہے جو حقیقتاً اس حیثیت، مقام اور اہمیت کی لیاقت اور صلاحیت رکھتے ہیں ۔

اسی طرح جس شخص کے ہاتھ میں ہتھیار ہو اور وہ اس قائد انقلاب کے سامنے اس کی صلح و آشتی اور عادلانہ حکومت کے مخالفین سے جنگ کرے تو اس میں روحانی اور فکری جنگی لحاظ سے پوری آمادگی اور تیاری ہونا چاہئے ۔

ظہور مہدی(ع) کے انتظار کے حقیقی اثرات سے مزید آگاہی کے لئے حسب ذیل وضاحت کی طرف توجہ کریں :

انتظار۔ یعنی بھرپور تیاری میں اگر ظالم اور ستمگر ہوں تو کیسے ممکن ہے اس شخص کا انتظار کروں کہ جس کی تلوار ستمگروں کے خون سے سیراب ہوگی، میں اگر گناہ آلود اور ناپاک ہوں تو میں کیوں کر ایسا انقلاب کا منتظر ہوں گا جس کا پہلا شعلہ ناپاک لوگوں کے دامن کو لپکے گا، وہ لشکر جو ایک عظیم جہاد کے انتظار میں ہے وہ اپنے سپاہیوں کی جنگی تربیت کو آخری حد تک پہنچائے گا اوران میں انقلاب کی روح پھونک دے گا اور کمزوری کے ہر نقطے کی اصلاح کرے گا ۔

کیوں کہانتظار کی کیفیت ہمیشہ اس ہدف اور مقصد کے مطابق ہوتی ہے جس کے ہم انتظار میں ہوتے ہیں ۔

ایک عام مسافر کے آنے کا انتظار ۔

ایک بہت ہی عزیز دوست کے لوٹ آنے کا انتظار۔

درخت سے پھلوں کے اتارنے کے موسم کا انتظار۔

فصل کی کٹائی کے سمے کا انتظار۔

ان میں سے ہر انتظار میں ایک طرح کی آمادہ گی اور تیاری شامل ہوتی ہے ۔

مہمان کے لئے گھر کو تیار کرنا پڑتا ہے، اس کی پذیرائی اور خدمت کے ذرائع مہیا کرنا پڑتے ہیں ۔

پھل اتارنے اور فصل کاٹنے کے لئے ضروری سازوسامان، درانتی اور متعلقہ مشین وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے جو فراہم کرنا پڑتی ہے ۔

اب غور کریں کہ وہ جو ایک عظیم عالمی مصلح کے قیام کا انتظار کررہے ہیں وہ درحقیقت صورت حال کو یکسر پلٹ دینے والے انقلاب اور ایک تحول کا انتظار کررہے ہیں کہ جو پوری انسانی تاریخ میں سب سے بڑا اور سب سے بنیادی انسانی انقلاب ہوگا ۔

وہ انقلاب کہ جو گذشتہ انقلابوں کے برعکس علاقائی نہیں ہوگا بلکہ ہمہ گیر اور سب کے لئے ہوگا اور انسانی زندگی کے تمام پہلوو-ں پر محیط ہوگا ۔

وہ انقلاب سیاسی ، ثقافتی، اقتصادی اور اخلاقی ہر حوالے سے انقلاب ہوگا ۔

پہلا فلسفہ: انسان سازی

اس قسم کا تحول ہر چیز سے پہلے آمادہ اور تیار عنصر کا محتاج اور انسانی قدروقیمت کا حامل ہے، اسے ایسے انسانوں کی ضرورت ہے جو پوری دنیام ین وسیع اصلاحات کابھاری بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا سکیں ۔

پہلی منزل میں اس عظیم پروگرام کو عملی شکل دینے میں تعاون کرنے کی فکر اور آگاہی کی سطح بلند کرنے کی ضرورت ہے اور روحانی فکری آمادگی کو بڑھانے کی ضرورت ہے ۔

تنگ نظری، کوتاہ بینی، کج فکری، حسد،بچگانہ اور غیر عقلانہ اختلافات اور ہر قسم کا نفاق و انتشار حقیقی انتظار کرنے والوں کے شایان شان نہیں ۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ حقیقی انتظار کرنے والا اس قسم کے اہم پروگرام کا فقط تماشائی ہرگز نہیں ہوسکتا، اسے چاہئے کہ وہ ابھی سے حتمی طور پر انقلابیوں کی صف میں شامل ہوجائے، اس انقلاب کے نتائج پر ایمان اسے ہر گزاجازت نہیں دیتا کہ وہ مخالفین کی صف میں کھڑا ہو، دوسری طرف موافقین کی صف میں کھڑا ہونے کے لئے بھی پاک اعمال، پاکہزہ روح، کافی دلیری اور آگاہی کی ضرورت ہے ۔

میں اگر فاسد، خراب اور نادرست ہوں تو ایسے نظام کے ایام کو کیسے یاد کرسکتا ہوں جس میں فاسد، خراب اور نادرست افراد کی کوئی حیثیت نہ ہوگی بلکہ وہ تو اس میں ٹھکرا دئےے جائیں گے اور قابل نفرت ہوں گے ۔

کیا یہ انتظار فکر وروح اور جسم وجان کی پاکیزگی کے لئے کافی نہیں ۔

وہ لشکر جو آزادی بخش جہاد کے انتظار میں وقت گزار رہاہے یقینا مکمل طور پر آمادہ اور تیار ہوگا، وہ ہتھیار جو ایسے میدان جنگ کے لئے مناسب اور ضروری ہے اسے مہیا رکھے گا، ایسا لشکر ضرور مورچہ بند رہے گا، اپنے افراد کی تیاریوں میں اضافہ کرتا رہے گا اور اپنے فوجیوں کے دلوں کو مضبوط کرے گا اور ایسے جہاد اور مقابلے کے لئے اپنے ہر سپاہی کے دل میں عشق اور شوق زندہ رکھے گا، جو لشکر اس طرح سے تیار نہ ہو وہ کبھی منتظر نہیں رہ سکتااور اگر تیار رہنے کا دعویٰ کرے توجھوٹ ہے ۔

ایک عالمی مصلح اور مربی کا انتظار تمام جہانوں کی مکمل فکری، اخلاقی، مادی اور روحانی اصلاح کی آمادگی کا مفہوم رکھتا ہے، اب آپ سوچئے کہ ایسی آمادگی اور انتظار کس قدر انسان ساز اور تربیت کنندہ ہے ۔

تمام روئے زمین کے اصلاح اور تمام مظالم اور خرابیوں کا خاتمہ کوئی مزاق نہیں اور نہ یہ کوئی آسان کام ہے، ایسے عظیم مقصد کی تیاری اس کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہئے، یعنی تیاری بھی اس پروگرام کی گہرائی اور گیرائی کے مطابق ہوناچاہے، ایسے انقلاب کو پایہ تکمیل تک پہونچانے کے لئے عظیم مصمم اردوں والے، بہت قوی اور شکت ناپذیر، انتہائی باز، بلند نظر، پوری طرح تیار اور گہری نگاہ رکھنے والے لوگوں کی ضرورت ہے ۔

ایسے مقصد کے لئے خودسازی اور اپنی عمیق ترین تربیت کی ضرورت ہے، ایسے ہدف کے لئے بہت سے اخلاقی، فکری اور اجتماعی منصبوں پر عمل درآمدانہ گزیر ہے ۔

یہ ہے حقیقی انتظار کا مفہوم تو کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ ایسا انتظار انسان ساز اور اصلاح کنندہ نہیں ہے؟

دوسرا فلسفہ :اجتماعی کاوشیں

سچے انتظارکرنے والوں کی ساتھ ساتھ یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ فقط اپنی اصلاح نہ کریں بلکہ ایک دوسرے کے حالات پر بھی نظر رکھیں اور اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ دوسروں کی اصلاح کی بھی کوشش کریں کیوں نکہ جس عظیم اور بھاری پروگرام کی تکمیل کے وہ منتظر ہیں انفرادی نہیں بلکہ ایساپروگرام ہے جس میں تمام عناصرانقلاب کو شرکت کرنا ہوگی لہٰذا کام گروہی اور اجتماعی صورت میں ہونا چاہیے مساعی اور کاوشیں ہم آہنگ ہونا چاہئیں ،اس ہم آہنگی کی گہرای اور وسعت اس عالمی انقلاب کے پروگرام کی عظمت کے مطابق ہونا چاہیے کہ جس کا وہ انتظار کر رہے ہیں ۔

ایک اجتماعی اور وسیع جنگ کے میدان میں کوئی شخص دوسروں کے حال سے غافل نہیں رہ سکتا بلکہ اس کی ذمہ داری ہے،کہ کمزوری کا کوئی نقطہ اسے جہاں نظر آئے اس کی اصلاح کرے اور جو بھی نقصان زدہ جگہ ہو اس کی مرمت کرے اور کمزور حصے کو تقویت پہنچائے کیوں کہ میدان جنگ میں موجود تمام مجاہدین کی فعال اور ہم آہنگ شرکت کے بغیر ایسے پروگرام کو عملی شکل دینا ممکن نہیں ہے ۔

لہٰذاحقیقی انتظار کرنے والے نہ صرف اپنی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ دوسروں کی بھی اصلاح کریں ۔

یہ ہے ایک عالمی مصلح کے قیام کے انتظار کا ایک اور تعمیری اور تربیتی اثر اور یہ ہے فلسفہ ان تمام فضیلتوں کا جو ایک سچے انتظار کرنے والے کے لیے شمار کی گئی ہیں ۔

تیسرا فلسفہ: خراب ماحول کا مقابلہ

حضرت مہدی(ع) کے انتظار کا ایک اور اثر ماحول کے مفاسد میں گھل مل جانا اور برائیوں کے سامنے ہتھیا نہ ڈالنا ہے ۔

اس کی وضاحت یہ ہے کہ جب کوئی برائی عام ہو جاتی ہے اور سب کو گھیر لیتی ہے ،اکثریت یا جماعت کا ایک بڑا حصہ اس کی طرف چلا جاتا ہے تو بعض اوقات نیک لوگ ایک سخت قسم کی نفسیاتی تنگی میں پھنس جاتے ہیں اس گھٹن میں وہ اصلاح سے مایوس ہو جاتے ہیں ،بعض اوقات وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اب پانی سر سے اونچا ہو گیا ہے اور اب اصلاح کی کوئی امید باقی نہیں رہی، اب اپنے آپ کو پاک رکھنے کی کوشش اور جدوجہد فضول ہے ،ممکن ہے ایسی ناامیدی اور مایوسی آہستہ آہستہ انہیں برائی اور ماحول کی ہمرنگی کی طرف کھیچ لے جائے اور وہ اپنے آپ کو ایک صالح اقلیت کے طور پر فاسد اکثریت کے مقابلے میں محفوظ نہ رکھ سکیں اور دوسروں کے رنگ میں نہ رنگے جانے کو رسوائی کا سبب سمجھیں ۔

تنہا جو چیزان میں امید کی روح پھوک سکتی ہے ،انہیں مقابلے اور کھڑے رہنے کی دعوت دے سکتی ہے اور انہیں فاسد ماخول میں گھل مل جانے سے روک سکتی ہے،۔وہ ہے مکمل اصلاح کی امید ۔صرف یہی صورت ہے کہ جس میں وہ اپنی پاکیزگی کی حفاظت کرسکتے ہیں اور دوسروں کی اصلاح کی جد وجہد جاری رکھ سکتے ہیں ۔

ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی قوانین میں بخشش سے مایوسی کو بہے بڑا گناہ شمار کیا گیا ہے ۔ہوسکتا ہے کہ با سمجھ اور بے خبر افرادتعجب کریں کہ رحمت خدا سے مایوسی کو اس قدر اہمیت کیوں دی گئی ہے، یہاں تک کہ بہت سے گناہوں سے اسے بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے ۔ تو اس کا فلسفہ در حقیقت یہی ہے کہ رحمت خدا سے مایوس گنہگار کو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ وہ تلافی کی فکر کرے یا کم از کم گناہ کو جاری رکھنے سے دستبردار ہوجائے اور اس کی منطق یہ ہے کہ اب جب پانی سر سے اونچا ہوگیا ہے تو چاہے ایک قد کے برابر ہو چاہے سو قد کے برابر ہو ۔وہ سوچتا ہے کہ میں دنیا میں رسوا ہوچکا ہوں ، اب دنیا کا غم فضول ہے ۔ سیاہی سے بڑھ کر کوئی رنگ نہیں ، آخر جہنم ہے، میں تو ابھی سے اسے اپنے لئے خرید چکا ہوں ، اب دوسری کسی چیز سے کیاڈروں ، اسی طرح کی دیگر باتیں اسے گناہ کے راستے پر باقی رکھتی ہیں ۔

مگر۔ جب اس کے لئے امید کا دریچہ کھلا ہو، عفو الٰہی کی امید ہو اور موجود کیفیت کے بدل جانے کی توقع ہو، تو اس کی زندگی میں ایک طرح کا میدان پیدا ہوگا جو اسے راہ گناہ سے لوٹ آنے اور پاکیزگی و اصلاح کی طرف واپسی کی دعوت دے گا، یہی وجہ ہے کہ فاسد افراد کی اصلاح کے لئے امید کو ہمیشہ ایک موثر تربیتی عامل سمجھا گیا ہے، اسی طرح وہ نیک افراد جو خراب ماحول میں گفتار ہیں ، امید کے بغیر اپنے آپ کو محفوظ نہیں رکھ سکتے ۔

خلاصہ یہ کہ دنیا جس قدر فاسد اور خراب ہوگی مصلح کے ظہور کے انتظار میں امید بڑھے گی جومعتقدین پر زایدہ روحانی اثر ڈالے گی، برائی اور خرابی کے طاقتور موجوں کے مقابلے میں یہ امید ان کی حفاظت کرے گی اور وہ نہ صرف ماحول کے دامن فساد کی وسعت سے مایوس نہیں ہوں گے بلکہ

وعدہ وصل چوں شد نزدیکآتش عشق تیز تر گردد

یعنی ۔ وعدہ وصل کا لمحہ جوں جوں نزدیک آیا، آتش عشق تیز تر ہوگئی ۔

اس کے مطابق مقصد انہیں قریب تر نظر آئے گا اور بربرائی جنگ کرنے میں ان کی کوشش یا اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی جدوجہد میں اضافہ ہوگا اور مزید شوق و ولولہ پیدا ہوگا ۔

گذشتہ مباحث سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ انتظار جمود کا باعث صرف اس صورت میں بنتا ہے جب اس کے مفہوم کو مسخ کردیا جائے یا اس میں تحریف کردی جائے جیسا کہ مخالفین کے ایک گروہ نے اس میں تحریف کردی ہے اور موافقین کے ایک گروہ نے اسے مسخ کردیا ہے لیکن اگر اس کے حقیقی مفہوم میں افراد اور معاشرہ اس پر عمل کرے تو انتظار تربیت، خود سازی، تحرک اور امید کا ایک اہم عامل اور داعی ثابت ہوگا ۔

قیام مہدی(ع) کے بارے میں واضح مدارک میں سے ایک یہ آیت ہے:

وعد اللّٰه الذین اٰمنوا منکم وعملوا الصالحٰت لیستخلفنهم فی الارض ۔

ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں سے خدا نے وعدہ کیا ہے کہ روئے زمین کی حکومت ان کے قبضے میں دے ۔

اس آیت کے ذیل میں اسلام کے ہادیوں سے منقول ہے کہ:هو القائم واصحابه ۔

( یعنی یہ جن سے خدا نے وعدہ کیا ہے )وہ قائم(حضرت مہدی(ع) اور آپ کے اصحاب ہیں ۔(۱)

ایک اور حدیث میں ہے:نزلت فی المهدی(ع) ۔

یعنی ۔ یہ آیت حضرت مہدی(ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے ۔

اس آیت میں حضرت مہدی (ع) اور ان کے یاروانصار کا تعرف اس عنوان سے کروایا گیا ہے:

الذین آمنوا منکم وعملوا الصٰلحٰت .

یعنی ۔ وہ جو تم میں سے ایمان لے آئے اور انھوں نے نیک عمل کئے ۔

لہٰذا اس عالم انقلاب کا قائم ہونا اور عالم وجود میں آنا ایک مستحکم ایمان کے بغیر جو ہر قسم کے ضعف ، کمزوری اور ناتوانی کو دور کردے کے بغیر ممکن نہیں ، نیز نیک اعمال جو اصلاح عالم کا راستہ کھول دیں ، کے بغیر بھی ممکن نہیں ، اور وہ لوگ جو اسے پروگرام کے انتظار میں ہیں انہیں اپنی آگاہی، علم اور ایمان کی سطح بھی بلند کرنا ہوگی اور اپنے اعمال کی اصلاح کی کوشش بھی کرنا ہوگی، صرف وہی لوگ ایسی حکومت میں ہم قدم اور ہمکام ہونے کی خوشخبری کے مستحق ہیں ناکہ وہ لوگ جو ظلم وستم کا ساتھ دیں اور نہ ہی وہ جو ایمان اور عمل صالح سے بیگانہ ہوں اور نہ ڈرپوک اور بزدل لوگ جو ایمان کی کمزوری کی وجہ سے ہر چیز سے یہاں تک کہ اپنے سائے سے بھی سکوت اختیار کئے ہوئے ہیں اور ان سے مقابلے کی کچھ بھی کوشش نہیں کرتے ۔

یہ ہے قیام مہدی (ع) کے انتظار کا معاشرے میں تعمیری اور اصلاحی اثر۔

____________________

۱۔بحارالانوارطبع قدیم،ج۱۳،ص۱۴۔


آیات ۳۴،۳۵

۳۴( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّ کَثِیرًا مِنَ الْاٴَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَیَاٴْکُلُونَ اٴَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَیَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ وَالَّذِینَ یَکْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَایُنفِقُونَهَا فِی سَبِیلِ اللهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اٴَلِیمٍ ) ۔

۳۵( یَوْمَ یُحْمَی عَلَیْهَا فِی نَارِ جَهَنَّمَ فَتُکْوَی بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هٰذَا مَا کَنَزْتُمْ لِاٴَنفُسِکُمْ فَذُوقُوا مَا کُنتُمْ تَکْنِزُونَ ) ۔

ترجمہ

۳۴ ۔اے ایمان والوں !(اہل کتاب کے) بہت سے علماء اور راہب لوگوں کا مال باطل طور پر رکھتے ہیں اور (انہیں ) خدا کی راہ سے روکتے ہیں اور وہ جو سونا چاندی کا خزانہ جمع کرکے (اور چھپا کر) رکھتے ہیں اور خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب ناک کی بشارت دے دو۔

۳۵ ۔اس روز کہ جب انہیں آتش جہنم میں گرم کیا جائے گا اور جلایا جائے گا پس ان کے چہروں ، پہلووں اور پشتوں کو داغا جائے گا (اور انہیں کہا جائے گا کہ) یہ وہی چیز ہے کہ جسے تم نے اپنے لئے جمع کیا تھاپس چکھواس چیز کو جسے اپنے لئے تم نے ذخیرہ کیا تھا ۔

کنز اور ذخیرہ اندازی منع ہے

گذشتہ آیات میں یہود ونصاریٰ کے مشرکانہ اعمال کے متعلق گفتگو تھی کہ جو اپنے علماء کے لئے ایک طرح الوہیت کے قائل تھے، زیر بحث آیت کہتی ہے کہ وہ نہ صرف مقام الوہیت نہیں رکھتے بلکہ مخلوق کی رہبری کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے، اس کا مشاہدہ ان کی طرح طرح کی غلط کاریاں ہیں ۔

یہاں روئے سخن مسلمانوں کی طرف کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اہل کتاب کے علماء اور راہب لوگوں کے مال باطل طور رکھتے ہیں اور مخلوق خالق کی راہ سے روکتے ہیں( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّ کَثِیرًا مِنَ الْاٴَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَیَاٴْکُلُونَ اٴَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَیَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ ) ۔

یہ امر جاذب نظر کہ جس طرح قرآن کی سیرت ہے یہاں حکم یہودیوں کے تمام علماء اور راہبوں پر جاری نہیں کیا بلکہ ”کثیرا“ کی تعبیر در حقیقت صالح اور نیک اقلیت کے استثناء کے لئے ہے اور ایسا ہی دیگر آیات قرآن میں بھی نظر آتا ہے کہ جس کی طرف ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں ۔

رہایہ سوال کہ وہ کس طرح لوگوں کا مال فضول بحیر کسی جواز کے اور قرآنی تعبیر کے مطابق باطل طریقے سے رکھتے تھے تو اس سلسلے میں کم و بیش دوسری آیات میں اشارہ ہوا ہے اور کچھ باتیں تواریخ میں بھی آئی ہیں ۔

ایک بات تو یہ تھی کہ وہ حضرت مسیح (ع) اور موسیٰ (ع) کی تعلیمات کے حقائق چھپاتے تھے تاکہ لوگ نئے دین(اسلام) کے گرویدہ نہ ہوں تاکہ ان کے مفادات خطرے میں نہ پڑیں اور ان کے تحفے اور ہدئےے منقطع نہ ہوں جیسا کہ سورہ- بقرہ کی آیات ۴۱،۷۹ اور ۱۷۴ میں اس کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔

دوسری بات یہ تھی کہ لوگون سے رشوت لے کر حق کوباطل اور باطل کو حق قرار دے دیتے تھ، طاقتوروں اور زوروالوں کے فائدے میں باطل فیصلے صادر کرتے تھے جیسا کہ سورہ مائدہ کی آیہ ۴۱ میں اس طرف اشارہ ہوا ہے ۔

ان کی غیر شرعی آمدنی کا ایک اور طریقہ بھی تھااور یہ کہ وہ ”بہشت فروشی“ اور”گناہ بخشی“ کے نام پر لوگوں سے بہت سی رقم وصول کرتے تھے اور بہشت اور بخشش جو صرف خدا کے اختیار میں ہے کا کاروبار کرتے تھے، اس معاملے پر تاریخ مسیحیت میں بہت شور مچا ہے اور جنگ وجدال ہوئے ہیں ۔

باقی رہا ان کا راہ خدا سے لوگوں کو روکنے کا معاملہ تو وہ واضح ہے کیوں کہ وہ آیات الٰہی میں تحریف کرتے تھے یا اپنے مفادات حفاظت کے لئے انہیں چھپاتے تھے بلکہ جس کسی کو بھی اپنے مقام اور مفاد کا مخالف پاتے اسے پر تہمت لگاتے اور ”مذہبی“ تفتیش کی عدالت “قائم کرتے اور بدترین طریقے باز پرس کرتے ، ان کے خلا ف فیصلہ کرتے اور انہیں سزا دیتے ۔

یہ حقیقت ہے کہ اگر انہوں نے یہ اقدام نہ کئے ہوتے اور اپنے پیروں کاروں کو اپنی لالچ اور ہواوہوس پر قربان نہ کرتے تو آج بہت سے گروہ دین حق یعنی اسلام کو دل وجان سے قبول کرچکے ہوتے، لہٰذا یہ بات کھلے بندوں کہی جاسکتی ہے کہ لاکھوں انسان جو کفر کی تاریکی میں باقی رہ گئے ہیں ان کا گناہ انہی کی گردن پر ہے ۔

اس وقت بھی کلیسا اور یہودیوں کے مراکز اسلام کے بارے میں عام لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے کیا کچھ نہیں کرتے اور آج بھی کیسی عجیب وغریب وحشتناک تہمتیں پیغمبر اسلام پر لگانا روا سمجھتے ہیں ۔

یہ کام اتنا وسع اور عام ہے کہ مسیحیوں کے بعض روشن فکر علماء نے صراحت سے اس کا اعتراف کیا ہے کہ گرجے کی اسلام کے خلاف بزدلانہ حملوں کی یہ سنت بھی اس بات کا باعث ہے کہ اہل مغرب ایسے پاک وپاکیزہ دین سے بے خبر ہیں ۔

اس کے بعد قرآن یہود ونصاریٰ کے پیشواوں کی دنیا پرستی کی بحث کی مناسبت سے ذخیرہ اندوز وں کے بارے میں عمومی قانون بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرکے چھپا کر رکھتے ہیں اور انہیں رای خدا میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو( وَالَّذِینَ یَکْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَایُنفِقُونَهَا فِی سَبِیلِ اللهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اٴَلِیمٍ ) ۔

”یکنزون“ کا مادہ ہے”کنز“( بروزن اور بر بر معنی ”گنج“)یعنی خزانے کو” کنز“ کہتے ہیں جو در اصل جمع کرنے اور کسی چیز کے اجزا کو اکٹھا کرنے کے لئے بولا جاتا ہے ۔اسی لئے جس اونٹ پر زیادہ گوشت ہو اسے ”کناز اللحم“ کہتے ہیں ۔ بعد ازاں یہ لفظ جمع کرنے، حفاظت کرنے اور قیمتی اموال واشیاء کو چھپا کررکھنے کے معنی میں بولا جانے لگا ، لہٰذا اس کے مفہوم میں جمع کرنا، حفاظت اور کبھی چھپاکر رکھنا بھی پنہاں ہوتاہے ۔

”ذاھب“ کا معنی ہے”سونا“ اور فضہ“ کا معنی ہے ”چاندی“۔

جیسا کہ طبرسی نے مجع البیان میں نقل کیا ہے، بعض علماء لغت نے ان دو الفاظ کے بارے میں جاذب نظر تعبیر کی ہے اور کہا ہے کہ یہ جو سونے کو ”ذاھب“ کہا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بہت جلد ہاتھوں سے نکل جاتا ہے اور اس کے لئے بقا نہیں ہے (یاد رہے کہ لغت میں ”ذھاب“ کا مادی جانے کے معنی میں ہے) اور یہ جو چاندی کو ”فضة“ کہا گیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جلد ہی پراگندہ اور متفرق ہوجاتی ہے(کیوں کہ”انفضاض“ لغت میں پراگندگی کے میں ہے) ، ایسی دولت وثروت کی کیفیت کو سمجھنے کے لئے ایسا کام ہی کافی ہے ۔

جس دن سے انسانی معاشرے وجود میں آئیں ہیں ، مختلف اجناس مبادلہ کے طور پر لینے کا طریقہ انسانوں رائج تھا، ہر شخص اپنی کھیتی باڑی اور نقدی وغیرہ میں سے ضرورت سے زیادہ اموال کو بیچتا تھا لیکن شروع شروع میں ہمیشہ جنس کا جنس سے تبادلہ ہوتا تھا کیوں کہ پیسہ روپیہ بھی ایجاد نہیں ہوا تھا، جنس کا جنس سے مبادلہ میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تا تھا کیوں کہ بہت سے لوگ ایسے ہوتے تھے جو اپنی ضرورت سے زیادہ مال بیچنا چاہتے تھے لیکن انہیں اس وقت کسی چیز کی ضرورت نہ ہوتی تھی جسے وہ خرید لیتے مگر وہ چاہتے کہ اسے کسی چیز میں تبدیک کرے تاکہ جب چاہیں اس سے اپنی ضرورت کی اجناس فراہم کر سکیں یہاں سے ”کرنسی“کے ایجاد کا مسئلہ پیدا ہوا ۔

چاندی اور اس سے زیادہ اہم سونے کی پیدائش نے اس فکر کوجنم دیا، یوں اس دودھاتوں نے کم قیمت اور زیادہ قیمت کی کرنسی کی شکل اختیار کرلی اور ان کے ذریعے سے تجارت اور معاملات کا کام تیزی سر انجام پانے لگا ۔

اس بنا پر کرنسی کا اصلی فیصلہ وہی کامل تر اور تیز تر اقتصادی مبادلات کے پہیوں کی گردش ہے اور جو لوگ نقدی کو خزانے کی صورت میں چھپالیتے ہیں وہ نہ صرف اقتصادی ٹھہراؤ اور معاشرے کے منافع کے نقصان کا سبب بنتے ہیں بلکہ ان کا عمل کرنسی کے ایجاد کا فیصلہ کے بالکل بر خلاف ہے ۔

مندرجہ بالا آیت نے صراحت سے ذخیرہ اندوزی کو حرام قرار دیا ہے اور مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ اپنے اموال راہ خدا میں اور بندگان خدا کے مفاد کی راہ میں لگائیں اور انہیں جمع کرکے رکھنے ، ذخیرہ کرنے اور گردش سے الگ کرنے سے پرہیز کریں اور اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو انہیں دردناک عذاب کا منتظر رہنا چاہئے، یہ دردناک عذاب صرف قیامت کے دن کی سخت سزا نہیں ہے بلکہ اس دنیا کی وہ سخت سزائیں بھی اس مفہوم میں شامل ہیں جو اقتصادی توازن بر قرار نہ رہنے کی وجہ سے اور طبقاتی اختلافات پیدا ہونے کے باعث پیش آتی ہے ۔

گذشتہ زمانے کے لوگ اگر اس اسلامی حکم کی اہمیت سے آشنا نہیں تھے تو آج ہم پوری طرح اس کی حقیقت سمجھتے ہیں کیوں کہ وہ خرابیاں جو انسان کو دامن گیر ہوئی ہیں خود پرست اور بے خبر لوگوں کی ثروت اندوزی اور ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں ، مصائب وآلام ، جنگیں اور خون ریزیاں جو ظاہر ہورہی ہیں کسی سے ان کی وجہ مخفی نہیں ہے ۔

”کنز“کتنی دولت کو کہتے ہیں ؟

مفسرین کے درمیان زیر بحث آیت کے بارے میں اختلاف ہے کہ کیا ضروریات زندگی سے زیادہ ہر قسم کی ثروت اندازی ”کنز“ شمار ہوتی ہے اور اس آیت کے مطابق حرام ہے یا یہ کہ یہ حکم آغاز اسلام اور حکم زکوٰة کے نزول سے پہلے کے زمانے سے مربوط ہے اور پھر زکوٰة کا حکم نازل ہونے سے ختم ہوگیا ہے؟

یا یہ کہ جو کچھ واجب ہے وہ زکوٰة کی ادائیگی ہے نہ کہ اس کے علاوہ کچھ اور، اس بنا پر جب انسان کوئی مال جمع کرلے اور ہرسال باقاعدگی سے اس کے اسلامی مالیات یعنی زکوٰة ادا کردے تو وہ زیر نظر آیت کی زد میں نہیں آتا ۔

بہت سی روایات میں جو شیعہ اور سنی کتب میں آئی ہیں ان میں تیسری تفسیر ہی نظر آتی ہے، مثلا ایک حدیث میں پیغمبر اکرم سے منقول ہے، آپ نے فرمایا:ای مال ادیت زکوٰته فلیس بکنز ۔

یعنی ۔ جس مال کی تو زکوٰة ادا کردے وہ زکاة نہیں ہے ۔(۱)

نیز رویت ہے کہ جب مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں پر معاملہ سخت ہوگیا اور انہوں نے کہا کہ ہم میں سے کوئی شخص بھی اپنی اولاد کے لئے کوئی چیز بچا کے نہیں رکھ سکتا اور ان کے مستقبل کے لئے کچھ نہیں بنا سکتا، آخرکار انہوں نے پیغمبر اکرم سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا:

ان اللّٰه لم یفرض الزکوٰة الا لیطیب بها مابقی من اموالکم وانما فرض المواریث من اموال تبقی بعدکم ۔

خدا نے زکوٰة کو واجب نہیں کیا مگر اس لئے کہ تمہارے باقی اموال تمہارے لئے پاک ہوجائیں لہٰذا میراث کا قانون ان اموال کے لئے قرار دیا ہے جو تمہارت بعد رہ جائیں گے ۔(۲)

یعنی مال جمع کرنا اگر باکل ممنوع ہوتا تو پھر قانون میراث کا موضوع ہی باقی نہیں رہتا تھا ۔

کتاب امالی شیخ میں بھی پیغمبر اکرم سے یہی مضمون نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا:

جو شخص اپنے مال کی زکوٰة ادا کردے تو اس کا باقی مال کنز نہیں ہے ۔(۳)

منابع اسلامی میں کچھ اور روایات بھی دکھائی دیتی ہیں ظاہرا اور پہلی نظر میں جن کا مضمون مندرجہ تفسیر سے مطابقت نہیں رکھتا ۔

ان میں سے ایک حدیث وہ ہے جو مجمع البیان میں حضرت علی (ع) سے نقل ہوئی ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا:

مازاد علی اربعة اٰلاف فهو کنز ادی زکوٰته او لم یودها وما دونها فهی نفقة فبشرهم بعذاب الیم ۔

جو کچھ چار ہزار (درہم) سے (کہ ظاہراجس سے مراد سال بھر کا خرچ ہے)زیادہ ہو وہ کنز ہے، چاہے اس کی زکوٰة ادا کردی ہو یا نہ کی ہو اور جو کچھ اس سے کم ہو وہ نان نفقہ اور ضروریات زندگی میں شمار ہوگا، ان ثروت اندوزوں کو دردناک عذاب کی بشارت دو۔(۴)

کافی میں معاذ بن کثیر سے منقول ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے امام صادق (ع) سے سنا کہ وہ کہتے تھے :

ہمارے شیعہ اس وقت تو آزاد ہیں کہ جوکچھ ان کے پاس اسے راہ خدا خرچ کرے (اور باقی ان کے لئے حلال )لیکن جب ہمارے قائم قیام کریں گے تو تمام خزانوں اور جمع شدہ ثروتوں کو حرام قرار دیں گے تاکہ وہ سب مال ان کے پاس لے آئیں اور انہیں وہ دشمنوں کے مقابلے میں کام لائیں اور یہی مفہوم ہے اس کلام خدا کا جو وہ اپنی کیاب میں فرماتا ہے:َ( والَّذِینَ یَکْنِزُونَ الذَّهَب َوَالْفِضَّة ) (۵)

جناب ابوذر کے حالات زندگی میں بھی بار باراور بہت سی کتب میں یہ بات منقول ہے کہ وہ یہ آیت شام میں معاویہ کے سامنے صبح وشام پڑھتے تھے بلند آواز میں پکارتے تھے:

بشراهل الکنوز بکی فی الجباه وکی بالجنوب وکی بالظهور ابداً حتیٰ یتردد الحرفی اجوافهم ۔

خزانہ رکھنے والوں کو بشارت دے دو کہ اس مال سے ان کی پیشانیاں ، ان کے پہلو اور ان کی پشتیں داغی جائیں گی یہاں تک کہ گرمی کی سوزش ان کے وجود کے اندر تک پہنچ جائی گے ۔(۶)

نیز حضرت عثمان کے سامنے ابوذر کا اس آیت سے استدلال نشاندہی کرتا ہے کہ ان کا نظریہ تھا کہ یہ آیت مانعین زکوٰة سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کے بارے میں بھی ہے ۔

مندرجہ بالا تمام احادیث کو سامنے رکھا جائے اور آیت کو بھی ساتھ ملاکر دیکھا جائے تو ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ عام حالات میں یعنی ایسے مواقع پر جب معاشرہ ناگوار اور خطرناک حالات دوچار نہ ہو اور لوگ معمول کی زندگی سے بہرور ہوں تو صرف زکوٰة کی ادائیگی کافی ہے اور باقی مال ”کنز“ شمار نہیں ہوگا(البتہ توجہ رہے کہ اصلی طور دوکت کمانے میں اگر اسلامی قوانین کو ملحوظ رکھا جائے تو اس صورت میں حد سے زیادہ مال ومنال جمع نہیں ہوپاتا کیوں کہ اسلام نے اس قدر قیود وشرائط عائد کی ہیں کہ ایسے مال کا حصول عام طور پر ممکن ہی نہیں ہے )لیکن اگر حالات معمول کے مطابق نہ ہوں اور ایسے مواقع ہوں جب اسلامی معاشرے کے مفاد میں یہ واجب اور ضروری ہوتو حکومت اسلامی مال کی جمع آوری پر حد بندی کرسکتی ہے اور اسے محدود کرسکتی ہے(جیسا کہ ہم حضرت علی (ع) کی روایت میں پڑھ چکے ہیں ) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسلامی حکومت عالم اسلام کی بقاء کے پیش نظر تمام جمع شدہ اموال اور ذخائر پیش کرنے کا مطالبہ کردے جیسا کہ امام صادق (ع) کی روایت میں قائم کے زمانے کے بارے میں آیا ہے ۔ اس روایت کی علت کی طرف توجہ کرتے ہوئے وہ باقی زمانوں پر بھی محیط ہوگی کیوں کہ امام (ع) فرماتے ہیں :فلیستعین به علی عدوه

وہ اس سے اپنے دشمن کے خلاف مدد لیں گے ۔

لیکن ہم اس بات کو دہراتے ہیں کہ ایسا صرف اسلامی حکومت کے اختیار میں ہے اور وہی ضروری مواقع پر ایسے اقدامات کرسکتی ہے(غورکیجئے گا) ۔

باقی ابوذر کا واقعہ تو ہوسکتا ہے وہ بھی اسی صورت حال کے پیش نظر ہوکیوں کہ اس وقت کے اسلامی میں اس بات کی شدید غرورت تھی کہ دولت اور سرمایہ مرتکز اور جمع نہ ہو۔ اس وقت ایسا کرنا اسلامی معاشرے کے تحفظ، بقاء اور سالمیت کے خلاف تھا ۔

یا ہوسکتا ہے کہ ابوذر بیت المال کے اموال کے بارے میں کہتے ہوں جو عثمان اور معاویہ کے ہاتھ میں تھے،ہم جانتے ہیں کہ ایسے اموال مستحق اور حاجت مند افراد کے ہوتے ہوئے لمحہ بھر کے لئے بھی جمع نہیں رکھے جاسکتے بلکہ یہ مستحقین تک پہنچنے چاہئیں اور اس مواملے کا زکوٰة کے مسئلے سے کوئی ربط نہیں ہے ۔

خصوصا ان حالات میں جب کہ تمام اسلامی تواریخ جن میں شیعہ سنی سب تاریخیں شامل ہیں گواہی دیتی ہیں کہ حضرت عثمان نے بیت المال میں سے بہت سی دولت اپنے رشتے داروں میں بانٹ دی تھی اور معاویہ نے بیت الامل ہی سے ایک ایسا محل تعمیر کیا تھا جس نے ساسانیوں کے محلات کے افسانوں کو زندہ کردیاتھا، ایسے میں ابوذر کو حق پہنچتا تھاکہ انہیں فرمان الٰہی یاد دلاتے ۔

ابوذر اور اشتراکیت ہم جانتے ہیں کہ تیرے خلیفہ پر کو اعتراضات کئے گئے ہیں ان میں سے ایک ابوذر کی ظالمانہ جلا وطنی ہے، انہیں بری آب وہوا کے مقام ربذہ کی طرف جلا وطن کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں آخرکار یہ عظیم صحابی اور راہ السام کے فداکار مجاہد اس دنیا سے چل بسے، ابوذر،وہ شخص کہ جس کے بارے میں پیغمبر اسلام نے فرمایا:

آسمان نے کسی ایسے شخص پر سایہ نہیں کیا نی زمین نے اسے اٹھایا کو ابوذر سے بڑھ کر سچا ہو۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ عثمان سے ابوذر کا اختلاف مال کی تمنا اور کسی مقام ومنصب کی آرزو کی بنیاد پر نہ تھا کیوں کہ ابوذر پارسا اور آزاد انسان تھے، ان کے اختلاف کا سرچشمہ صرف تیسرے خلیفہ کی بیت المال کے بارے میں فضول خرچی، اپنی قوم اور قبیلہ پر ان کی بے پناہ نوازشات اور اپنے حامیوں پر ان کی بے شمار بخشش تھی ۔

ابوذر مالی مسائل کے بارے میں خصوصا ان کا تعلق بیت الما ل سے ہوتا بہت ہی سخت گیر تھے اور چاہتے تھے کہ تمام اس سلسلے میں پیغمبر اسلام کی روش اپنائے مگر ہم جانتے ہیں کہ خلیفہ سوم کے دور میں صورت حال مختلف تھے ۔

بہرحال اس عظیم صحابی کی صریح اور قطعی باتیں خلیفہ سوم کو ناگوار گزریں ، انہیں نے پہلے تو انہیں شام کی طرف بھیج دیا مگر ابوذر وہاں زیادہ صراحت اور زیادہ قاطعیت سے معاویہ کے کرتوتوں کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے ،یہاں تک کہ ابن عباس کہتے ہیں :

معاویہ نے عثمان کو لکھا: اگر آپ کو شام کی ضرورت ہے تو ابوذر کو واپس بلالیں کیوں کہ اگر وہ یہاں رہ گئے تو یہ علاقہ آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا ۔

عثمان نے خط لکھا اور ابوذر کے حاضر ہونے کا حکم صادر کیا اور بعض تواریخ کے مطابق معاویہ حکم دیا کہ ابوذر کو مدینہ بھیجنے کے لئے ایسے افراد معمور کئے جائیں جو رات دن انہیں مدینہ کی راہ پر چلاتے رہیں اور انہیں لمحہ بھر آرام نہ کرنے دیں ۔

یہاں تک کہ جب ابوذر مدینہ میں پہنچے تو بیمار ہوگئے اور چونکہ ان کا مدینہ میں رہنا بھی کاروبار خلافت کے لئے گوارا نہ تھا لہٰذا انہیں ربذہ کی طرف بھیج دیا گیا اور وہیں ان کی وفات ہوگئی ۔

جو لوگ اس سلسلے میں خلیفہ سوم کا دفاع کرنا چاہتے تھے وہ بعض اوقات ابوذر پر تہمت لگاتے ہیں کہ وہ اشتراکی نظریہ رکھتے تھے اور تمام مال کو اللہ کا مال سمجھتے تھے اور شخصی ملکیت کا انکار کرتے تھے ۔

یہ اتہام نہاےت عجیب ہے ۔ کیاباوجود یکہ قرآن صراحت سے خاص شرائط کے ساتھ تمام شخصی ملکیتوں کو محترم سمجھتاہے اور باوجودیکہ ابوذر رسول اللہ کے نزدیک ترین افراد میں سے تھے اور انہوں نے قرآن کے دامن میں پرورش پائی تھی اور آسمان کے نیچے ان سے زیادہ سچّا کوئی پیدا نہیں ہوا تھا، پھر ان کی طرف ایسی نسبت کس طرح دی جا سکتی ہے ۔

دور دراز کے بادیہ نشین تو اس اسلامی حکم کو جانتے تھے اور انہیں نے تجارت اور میراث وغیرہ سے مربوط آیات سن رکھی تھیں تو پھر کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ پیغمبر اکرم کے نزدیک ترین شاگرد اس حکم سے بے خبر ہوں ۔

کیا اس کے علاوہ کوئی اور بات ہے کہ ہٹ دھرم متعصبین نے خلیفہ سوم کے برائت کے لئے ان پر اس قسم کی تہمت لگائی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر عجیب بات یہ ہے کہ معاویہ کے طرز عمل کے دفاع میں یہ اتہام باندھا ہے، اب بھی کچھ لوگ آنکھ کان بند کرکے اس بات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ۔

جی ہاں ! ابوذر آیات قرآنی سے راہنمائی لے کر خصوصا ”آیہ کنز“ سے ہدایت حاصل کرتے ہوئے یہ نظریہ رکھتے تھے اور صراحت کے ساتھ اس نظرےے کا اظہار کرتے تھے کہ اسلامی بیت المال بعض لوگوں کی خصوصی ملکیت نہیں بننا چاہئے، ان کا نظریہ تھا کہ وہ اموال جن میں محروموں اور حاجت مندوں کا حق ہے اور جنہیں تقویت اسلام کے لئے اور مفاد مسلمین کے لئے صرف ہونا چاہئے وہ کسی کو اپنے تئیں حاتم طائی ثابت کتنے کے لئے یا تعمیر محلات کے افسانوں کو زندہ کرنے کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہئیں ۔

علاوہ ازایں ابوذر یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ جس دور میں مسلمان انتہائی تنگدستی میں مبتلا ہیں ثروت مندوں کو بھی سادہ تریں زندگی پر قناعت کرنا چاہئے اور اپنے مال میں سے انہیں کچھ راہ خدا میں کرچ کرنا چاہئے، اگر ابوذر کا کوئی گناہ تھا تو یہی تھا لیکن رائے مورخین ، بنی امیہ اور چاپلوس اور دین فروش راویوں نے اس مرد مجاہد کا چہری بگاڑنے اور مسخ کرنے کے لئے ایسی ناروا تہمتیں ان پر لگائی ہیں ۔

ابوذر کا دوسرا ”گناہ“ یہ تھا کہ امیرالمومنین (ع) کے ساتھ خاص لگاؤ رکھتے تھے یہ”گناہ“ اکیلا ہی اس بات کے لئے کافی تھا کہ بنی امیہ کے جھوٹے پراپیگنڈہ کرنے والے اپنی شیطانی طاقت ابوذر کی حیثیت کو داغدار کرنے کے لئے صرف کریں لیکن ان کا دامن اس طرح سے پاک تھا اور ان کی سچائی اور اسلامی مسائل سے آگاہی اس قدر واضح اور روشن تھی کہ جس نے ان سب جھوٹون کو ذلیل ورسوا کردیا ۔

ان میں سے عجیب ایک عجیب افتراء جو خلیفہ سوم کو بری کرنے کے لئے ابوذر پر باندھا گیا ہے طبقات ابن سعد میں منقول ہے وہ یہ کہ :

جب ابوذر ربذہ میں تھے اہل کوفہ کاگروہ آپ کے پاس آیا، اس نے کہا: اس شخص(یعنی، عثمان)نے آپ کے ساتھ یہ سب کچھ کیا ہے کیا آپ تیار ہیں کہ پرچم بلند کریں اور ہم اس پرچم تلے اس کے خلاف جنگ کے لئے اٹھ کھڑے ہوں ۔

ابوذر نے کہا: نہیں ، اگر عثمان مجھے مشرق سے مغرب کی طرف بھیج دے، تب بھی میں اس کا تابع فرمان رہوں گا ۔(۷)

ان جعل سازوں نے اس طرف توجہ نہ کی کہ اگروہ خلیفہ کے اتنے ہی تابع فرمان تھے تو پھر ان کی اتنی مزاحمت کیوں کرتے کہ ان کا مدینہ میں رہنا خلیفہ پر گراں ہوجاتا کہ جسے وہ کسی طرح برداشت نہ کرپائے ۔

اس سے زیادہ تعجب انگیز وہ بات ہے جس کی طرف المانر کے مولف نے زیر بحث آیت کے ذیل میں ابوذر کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے، وہ یہ کہ ابوذر کا واقعہ نشاندہی کرتا ہے کہ صحابہ کے زمانے میں خصوصا حضرت عثمان کے دور میں اظہار رائے کی قسم قدر آزادی تھی ، علماء کا کتنا احترام ہوتا تھا اور خلفاء ان سے کتنی محبت کرتے تھے یہاں تک کہ معاویہ جو جرات نہ ہوئی کہ وہ ابوذر سے کچھ کہے بلکہ اپنے لئے حاکم بالا یعنی خلیفہ کو لکھا اور ان سے حکم لیا ۔

واقعا تعصب کیاکچھ نہیں کرتا، کیا ربذہ کی گرم، خشک اور جلادینے والی سرزمین جو موت اور آگ کی سرزمین تھی، کی طرف جلا وطن کرنا وعلماء کے لئے آزادی فکر اور احترام محبت کا نمونہ تھا ؟۔ کیا اس عظیم صحابی کو موت کی وادی میں دھکیل دینا حریت عقیدہ کی دلیل ہے؟ اگر معاویہ عوام کے افکار کے سیلاب کے خوف سے اکیلا ابوذر کے بارے میں کوئی منصوبہ نہ بنا سکا تو یہ اس کی طرف سے ان کے احترام کی علامت ہے؟

اس واقعہ کے عجائبات میں سے ایک یہ ہے کہ خلیفہ کا دفاع کرنے والے کہتے ہیں کہ ابوذر کی جلا وطنی ”مفسدی کو دور کرنے کے لئے مصلحت کے مقدم ہونے“کے قانون کے مطابق ہے کیوں کہ اگرچہ ابوذر کے مدینہ میں رہنے کی بڑی مصلحتیں اور فائدے ےجء اور لوگ ان کے علم ودانش سے بہت فائدہ اٹھا سکتے تھے مگر عثمان کا نظریہ یہ تھا کہ ان کا غیر لچکدار طرز فکر اور اموال کے بارے میں ان کا سخت رویہ مفاسد اور خرابیوں کا سرچشمہ ہے لہٰذا ان کے وجود کے فائدوں سے چشم پوشی کرتے ہوئے انہیں مدینہ سے باہر بھیج دیا اور چونکہ ابوذر اور عثمان دونوں مجتہد تھے لہٰذا یہاں کسی کے عمل پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا ۔(۸)

واقعا ہمیں معلوم نہیں کہ ابوذر کے مدینہ میں رہنے سے کیا خرابی پیدا ہوتی تھی؟ کیا لوگوں کو سنت پیغمبر کی طرف پلٹانا خرابی کا باعث تھا ؟

حضرت ابوذر نے آخر پہلے اوردوسرے خلیفہ کی مالی منصبوبہ بندی جو عثمان کے طرز عمل سے مختلف تھی پر اعتراض کیوں نہیں کیا ۔

تو کیا لوگوں کو صدر اسلام کے مالی لائحہ عمل کی طرف پلٹانا فساد کا باعث تھا؟

کیا ابوذر کو جلا وطن کرنا اور ان کی حق گو زبان منقطع کرنا اصلاح کا سر چشمہ تھا ۔

کیا حضرت عثمان کے طرز عمل سے خصوصا مالی اموار میں ان کے طریق کار سے اتنا عظیم دھماکہ نہیں ہوا جس کی بھینٹ وہ خود بھی چڑھ گئے؟

کیا یہ مفسدہ تھا اور اسے ترک کرنا مصلحت تھا ؟

لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ جب تعصب ایک دروازے داخل ہوتا ہے عقل دوسرے دروازے سے رخصت ہوجاتی ہ، بہرحال اس عظیم صحابی کا طرز عمل کسی منصف مزاج محقق پر پوشیدہ نہیں ہے اور کوئی ایسا منطقی راستہ نہیں کہ خلیفہ سوم کی اس آزار اور تکلیف کے بارے میں برائت ہو سکے جو ان سے حضرت ابوذر کو پہنچی ۔

ارتکاز دولت کی سزا

بعد والی آیت میں ایسے افراد کے لئے دوسرے جہان کی اس سزا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فریاگایاہے:ایک دن ایسا آئے گا کہ یہ سکے جہنم کی جلا دینے والی آگ میں پگھلائے جائیں گے اور پھر ان سے ان کی پیشانی، پہلو اور پشت کو داغا جائے گا( یَوْمَ یُحْمَی عَلَیْهَا فِی نَارِ جَهَنَّمَ فَتُکْوَی بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُم ) ، ایسی حالت میں عذاب کے فرشتے اس سے کہیں گے کہ وہی چیز ہے جس سے تم نے اپنے لئے ذخیرہ کیا تھا اور خزانے کی صورت میں رکھا تھا اورراہ خدا میں محروم لوگوں پر خرچ نہیں کیا تھا( هٰذَا مَا کَنَزْتُمْ لِاٴَنفُسِکُمْ ) ، اب چکھو اسے جسے تم نے اپنے لئے ذخیرہ کیا تھا اور اس کے برے انجام کو پاؤ( فَذُوقُوا مَا کُنتُمْ تَکْنِزُون ) ۔

یہ آیت اس حقیقت کی دوبارہ تاکید کرتی ہے کہ انسانوں کے اعمال فنا نہیں ہوتے اور اسی طرح باقی رہتے ہیں اور وہی دوسرے جہان میں انسانوں کے سامنے مجسم ہوں گے اور اس کے سرور ومسرت یا رنج وتکلیف کا سبب بنیں گے ۔

اس بارے میں کہ مندرجہ بالا آیت میں تمام اعضائے بدن میں سے صرف پیشانی، پشت اور پہلو کا ذکر کیوں کیا گیا ہے،مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن جناب ابوذر سے منقول ہے، وہ کہتے تھے:(حتیٰ یتردد الحر فی احوافهم ) ۔

نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اس بنا پر ہے کہ محرومین کے مقابلے میں وہ ان تین اعضاء سے کام لیتے تھے وہ کبی ان سے مہنہ پھراتے، کبھی بے اعتنائی کے طور پر ان کے سامنے آنے سے کتراتے اور کبھی ان کی طرف پشت پھیرلیتے لہٰذا ان کے بدن کے بدن کے یہ تین حصے اس سیم وزر سے داغے جائیں گے جو انہوں نے جمع کررکھا تھا ۔

اس بحث کے آخر میں مناسب ہے کہ ایک ادبی نکتے کی طرف بھی اشارہ کردیا جائے جو آیت میں موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ آیت میں ہے: یَوْمَ یُحْمَی عَلَیْھَا ۔یعنی اس دن آگ سکو ں کے اوپر ڈالی جائی گی تاکہ وہ گرم اور جلانے کے قابل ہوجائے حالانکہ عام طور پر اس قسم کے مواقع پر لفظ”علیٰ“ استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے:”یحمی الحدید“ ۔یعنی لوہے کو گرم کرتے ہیں ۔ عبارت کی تبدیلی شاید سکوں کی بیت زیادہ جلانے کی طرف اشارہ ہو کیوں کی اگر سکوں کو آگ میں ڈال دیا جائے تو وہ اس قدر سرخ اورگرم نہیں یوتے جتنا کہ وہ آگ کے نیچے گرم ہوتے ہیں ۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ سکوں کو آگ میں ڈالیں گے بلکہ کہتا ہے انہیں ااگ کے نیچے رکھے گے تاکہ وہ اچھی طرح پگھل جائیں اور پھر جلا سکیں اور یہ ایسے سنگدل سرمایہ داروں کو سزا دینے کے لئے نہایت سخت تعبیر ہے ۔

____________________

۱و۲۔المنار،ج۱۰،ص۴۰۴۔

۳۔نورالثقلین،ج۲،ص۲۱۳۔

۴۔ مجمع البیان،آیہ مذکورہ کے ذیل میں اور نورالثقلین، ج۲،ص۲۱۳۔

۵۔ نورالثقلین، ج۲،ص۲۱۳۔

۶۔ نورالثقلین، ج۲،ص۲۱۴،برہان،ج۱،ص۱۲۲۔

۷۔ تفسیر المنار، ج۱۰،ص ۴۰۶.

۸۔المنار، ج۱۰،ص ۴۰۷۔


آیات ۳۶،۳۷

۳۶( إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِی کِتَابِ اللهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ مِنْهَا اٴَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذٰلِکَ الدِّینُ الْقَیِّمُ فَلَاتَظْلِمُوا فِیهِنَّ اٴَنْفُسَکُمْ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِکِینَ کَافَّةً کَمَا یُقَاتِلُونَکُمْ کَافَّةً وَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ مَعَ الْمُتَّقِینَ )

۳۷( إِنَّمَا النَّسِیءُ زِیَادَةٌ فِی الْکُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِینَ کَفَرُوا یُحِلُّونَهُ عَامًا وَیُحَرِّمُونَهُ عَامًا لِیُوَاطِئُوا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللهُ فَیُحِلُّوا مَا حَرَّمَ اللهُ زُیِّنَ لَهُمْ سُوءُ اٴَعْمَالِهِمْ وَاللهُ لَایَهْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِینَ )

ترجمہ

۳۶ ۔ مہینوں کی تعداد خدا کے نزدیک خدا کی (آفرینش کی)کتاب میں جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے،بارہ ہیں کہ چار مہینے ماہ حرم ہیں (اور ان میں جنگ کرنا ممنوع ہے) یہ (اللہ کا) ثابت وقائم آئین ہے لہٰذا ان مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو (اور ہر قسم کی خوں ریزی سے پرہیز کرو) اور مشرکین کے ساتھ (جنگ کے وقت )سب مل کر جنگ کرو جیسا کہ وہ سب مل کر تم سے جنگ کرتے ہیں اور جان لوں کے خدا پرہیزگاروں کے ساتھ ہے ۔

۳۷ ۔نسیٴ (حرام مہینوں میں تقدم وتاخر )(مشرکین)کے کفر میں زیادتی ہے کہ جس کی وجہ سے کافر گمراہ ہوجاتے ہیں ، ایک سال اسے حلال اور دوسرے سال اسے حرام کردیتے ہیں تاکہ ان مہینوں کی تعداد کے مطابق ہوجائے کہ جنہیں خدا نے حرام کیا ہے(اور ان کے خیال میں چار کا عدد پورا ہوجائے) اور اس طرح سے خدا کے حرام کردہ کو حلال شمار کریں ، ان کے برے اعمال ان کی نظر میں زیبا ہوگئے ہیں اور خدا کافروں کی جماعت کو ہدایت نہیں کرتا ۔

لازمی جنگ بندی

سورہ میں چونکہ مشرکین سے جنگ کے بارے میں تفصیلی مباحث آئی ہیں لہٰذا زیر نظر دو آیات میں بحث کے دوران جنگ اور اسلامی جہاد کے ایک اور قانون کی طرف اشارہ کیا گیاہے اور وہ حرام مہینوں کے احترام کا قانون ۔

پہلے فرمایا گیا ہے : خدا کے ہاں کتاب خلقت میں اس دن سے جب اس نے آسمان اور زمین پیدا کئے مہینوں کی تعداد بارہ ہے( ا( ِٕنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِی کِتَابِ اللهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ )

”کتاب اللّٰہ“کی تعبیر ہوسکتا ہے قرآن مجید یا دیگر آسمانی کتب کی طرف اشارہ ہو لیکن ”ِیَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْض“ کی طرف توجہ کرتے ہوئے زیادہ موزوں یہی لگتا ہے کہ یہ کتاب آفرینش اور کتاب جہان ہستی کی طرف اشارہ ہو، بہرحال جس دن سے نظام شمسی نے موجودہ اختیار کی ہے سال اور مہینے موجود ہیں ، سال عبارت ہے سورج کے گرد زمین کے ایک مکمل دورے سے اور مہینہ عبارت ہے کرہ ماہتاب کے زمین کے گرد ایک مکمل دورے سے اور ہر سال کرہ آفتاب کے ایسے ۱۲ ، دورے ہوتے ہیں ۔

یہ در حقیقت ایک قیمتی طبیعی اور ناقابل تغیر تقویم ہے کہ جو تمام انسانوں کی زندگی کو ایک طبیعی نظام بخشی ہے اور ان کے تاریخی حسابات کو بڑے اچھے طریقے سے منظم کرتی ہے اور یہ نوع انسانی کے لئے خدا کی ایک عظیم نعمت شمار ہوتی ہے جیسا سورہ بقرہ کی آیہ ۸۹ کے ذیل میں تفصیل سے بحث ہوچکی ہے، آیت یوں ہے:

( یسئلونک عن الاهلة قل هی مواقیت للناس والحج )

اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے :”ان بارہ مہینوں میں سے چار حرام ہیں “ کہ جن میں ہر قسم کی جنگ وجدال حرام ہے(منھا اربعة حرم)

بعض مفسرین کے مطابق ان چار مہینوں میں جنگ کی حرمت حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے دور سے ہے اور یہ حرمت زمانہ جاہلیت کے عربوں میں بھی پوری قوت سے ایک سنت کے طور پر موجود تھی اگرچہ میلانات اور ہواوہوس کے مطابق کبھی کبھی وہ ان مہینوں کو آگے پیچھے کرلیتے تھے لیکن اسلام میں یہ ماہ غیر متغیر ہیں ، ان میں تین مہینے یکے بعد دیگر ہیں اور وہ ہیں ذاالقعدة، ذی الحجة اور محرم ۔ ایک ماہ الگ اور وہ رجب ہے، اربوں میں اصلاح میں تین ماہ ”سرد“(یکے بعد دیگرے)اور ایک ماہ”فرد“(اکیلا)ہے ۔

اس نکتے کا ذکر ضروری ہے کہ ان مہینوں میں جنگ کی اس صورت میں سے جب جنگ دشمن کی طرف ٹھونسی ہوئی نہ ہو ورنہ اس میں شک نہیں کہ دوسری صورت میں مسلمانوں کو اٹھ کھڑا ہونا چاہیے اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھے رہنا چاہیے کیوں کہ اس صورت میں ماہ حرام کی حرمت مسلمانوں کی طرف سے زائل نہیں کی گئی بلکہ اسے دشمن کی طرف سے توڑا گیا ہے(جیسا کہ اس کی تفصیل سورہ بقرہ کی آیہ ۱۹۴ میں گزرچکی ہے) ۔

اس کے بعد تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے یہ دین وآئین ثابت، قائم و دائم اور ناقابل تغیر ہے ناکہ غلط وسم جو عربوں میں تھی وہ پائیددار ہے کہ وہ اپنی خواہش اور ہوا وہوس سے اسے آگے پیچھے کردیتے تھے( ذٰلِکَ الدِّینُ الْقَیّم ) ۔

چند ایک روایات(۱) سے معلوم ہوتا ہے کہ چار ماہ جنگ کی یہ حرمت دین ابراہیمی کے علاوہ یہود ونصاریٰ اور باقی آسمانی ادیان میں بھی تھی اور ”ذٰلِکَ الدِّینُ الْقَیّم“)ہوسکتا ہے اس نکتے کی طرف بھی اشارہ ہو یعنی پہلے سے ایک قانون مستقل اور ثابت طور پر موجود تھا ۔

اس کے بعد کہا گیا ہے: ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم روا نہ رکھو اور ان کا احترام زائل نہ کرو اور اپنے تئیں دنیا کی سزاؤں اور آخرت کے عذابوں میں مبتلا نہ کرو( فَلَاتَظْلِمُوا فِیهِنَّ اٴَنْفُسَکُمْ ) ۔

لیکن چونکہ ادھر ممکن ہے کہ ان چار مہینوں میں حرمت جہاد دشمن کے لئے فائدہ اٹھانے کا سبب بنے اور اسے مسلمانوں پر حملے کرنے پر ابھارے لہٰذا اگلے جملے میں مزید فرمایا گیا ہے:مشرکین کے ساتھ سب مل کر جنگ کرو جیسا کہ وہ سب اکٹھے ہوکر تم سے جنگ کرتے ہیں( وَقَاتِلُوا الْمُشْرِکِینَ کَافَّةً کَمَا یُقَاتِلُونَکُمْ کَافَّةً ) ، یعنی باوجودیکہ وہ مشرک ہیں اور شرک وبت پرستی اختلاف و انتشار کا سرچشمہ ہے لیکن وہ ایک ہی صف میں تم سے جنگ کرتے ہیں اور تم موحد یکتا پرست ہو اور توحید ،دین، اتحاد و یک جہتی ہے لہٰذا تم زیادہ حق رکھتے ہو کہ دشمن کے مقابلے میں وحدت کلمہ کی حفاظت کرو اور ایک ہی آہنی دیوار کی طرح دشمن کے مقابلے میں کھڑے ہوجاؤ۔

آخر میں ارشاد ہوتا ہے: اور جا ن لو کہ اگر پرہیزگار بنوگے اور تعلیمات اسلامی کے اصولوں پر پوری طرح سے عمل پیرا ہو گے تو خدا تمہاری کامیابی کی ضمانت دیتا ہے کیوں کہ خدا پرہیزگاروں کے ساتھ ہے( وَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ مَعَ الْمُتَّقِینَ ) ۔

زیر نظر دوسری آیت میں زمانہ جاہلیت کی ایک غلط سنت یعنی مسئلہ نسئی(حرام مہینوں کو آگے پیچھے کردینا ہے)کی طرف اشارہ کیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: حرام مہینوں کو ادل بدل کردیناایساکفر ہے جو ان کے کفر میں زیادتی کا سبب ہے( إِنَّمَا النَّسِیءُ زِیَادَةٌ فِی الْکُفْرِ ) اس عمل کے ذریعے بے ایمان لوگ مزید گمراہی میں مبتلا ہوجاتے ہیں ( یُضَلُّ بِہِ الَّذِینَ کَفَرُوا)وہ ایک سال ایک ماہ کو حلال شمار کرتے ہیں اوردوسرے سال اسی ماہ کو حرام قرار دے لیتے ہیں تاکہ اپنے گمان میں اسے خدا معین کردہ حرام مہینوں کی تعداد پر منطبق کریں یعنی جب ایک حرام مہینے کو حزف کردیتے ہیں تو اس کی جگہ دوسرا مہینہ مقرر کرلیتے ہیں تاکہ چار ماہ کہ تعداد مکمل ہوجائے( یُحِلُّونَهُ عَامًا وَیُحَرِّمُونَهُ عَامًا لِیُوَاطِئُوا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللهُ ) ، حالانکہ اس برے مضحکہ خیز عمل سے حرام مہینوں کی حرمت کا فلسفہ بالکل ختم ہوکر رہ جاتا ہے اور وہ اس طرح حکم خدا کو اپنی خواہشات کا بازیچہ بنا دیتے ہیں اورتعجب کی بات یہ ہے کہ وہ اپنے اس کام پر بڑے خوش اور راضی ہیں کیوں کہ ان کے برے اعمال ان کی نگاہ میں بڑے زیبا ہوچکے ہیں( زُیِّنَ لَهُمْ سُوءُ اٴَعْمَالِهِمْ ) ۔

جیساکہ آگے آئے گا وہ شیطانی وسوسوں سے حرام مہینوں کو ادل بدل کردیتے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ اس کام کو تدبیر زندگی اورمعیشت کے لئے مفید خیال کرتے یا جنگ اور جنگ کی تیاری کے لئے اچھا سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ طویل جنگ بندی سے جنگی مہارت کم ہوجاتی ہے لہٰذا آتش جنگ بھڑکائی جائے ۔

خدا بھی ان لوگوں کو جو ہدایت کی اہلیت نہیں رکھتے ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے اور ان کی ہدایت سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے کیوں کہ خدا کافر گروہ کو ہدایت نہیں کرتا( وَاللهُ لَایَهْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِینَ ) ۔

چند قابل توجہ نکات

۱ ۔ حرام مہینوں کا فلسفہ:

ان چار مہینوں میں جنگ کو حرام قرار دینا طویل المدت جنگوں کے خاتمے کا طریقہ اور صلح و آشتی کی دعوت دینے کا ذریعہ ہے کیوں کہ اگر جنگجو افراد سال میں چار مہینے ہتھیار زمین پر رکھ دے اور تلواروں کی جھنکار اور بموں کے دھماکوں کی آواز خاموش ہوجائے اور غوروفکر کا موقع مل جائے تو جنگ ختم ہوجانے کا احتمال پیدا ہوجاتا ہے ۔

کسی کام کو جاری و ساری رکھنا، اسے چھوڑ کر نئے سرے سے شروع کرنے سے ہمیشہ مختلف ہوتا ہے نیز پہلے کی نسبت کئی درجے زیادہ مشکل ہوتا ہے، ویت نام کی بیس سالہ جنگوں کی وہ کیفیت بھلائی نہیں جاسکتی جب نئے عیسوی سال کی آمد کے موقع پر صرف چوبیس گھنٹے کی جنگ بندی کے لئے کس قدر زحمت اٹھانا پڑتی تھی لیکن اسلام اپنے پیروکاروں کے لئے ہرسال چار ماہ کی جنگ بندی کا اعلان کئے ہوئے ہے اور یہ خود اسلام کی امن پسندی کی ایک نشانی ہے،

لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں اگر دشمن اس اسلامی قانون سے غلط فائدہ اٹھانا چاہے اور حرام مہینوں کی حرمت کو پائمال کردے تو پھر مسلمانوں کا اس کا ویسا ہی جواب دینے کی اجازت دی گئی ہے ۔

۲ ۔ زمانہ جاہلیت میں ”نسئی“کا مفہوم اور فلسفہ:

نسیٴ “ (بروزن کثیر)”نساء “کے مادہ سے تاخیر میں ڈالنے کے معنی میں ہے (اور خود یہ لفظ اسم مصدر یا مصدر ہوسکتا ہے)، وہ لین دین کہ جس میں قیمت کی ادائیگی میں تاخیر کی جائے اسے ”نسیہ“کہتے ہیں ۔

زمانہ جاہلیت میں عرب کبھی کبھی کسی ماہ حرام کو موخر کردیتے تھے یعنی مثلا محرم کے بجائے صفر کا انتخاب کرلیتے تھے، اس کا طریقہ اس طرح تھا کہ بنی کنانہ کا کوئی ایک سردار مراسم حج میں منیٰ کے مقام پر نسبتا ایک بڑے اجتماع میں لوگوں کے تقاضے کے بعد کہتا:

میں ماہ محرم کو اس موخر کرتا ہوں اور اس کے لئے ماہ صفر کا انتخاب کرتا ہوں ۔

ابن عباس سے منقول ہے کہ پہلا شخص جس نے اس طریقے کا آغاز کیا عمرو بن لحی تھا اور بعض کہتے ہیں کہ اس کام کا آغاز کرنے والا قلمس تھا جس کا تعلق بنی کنانہ سے تھا ۔

بعض کے خیال میں ان کی نگاہ میں اس کام کا فلسفہ یہ تھا کہ بعض اوقات مسلسل تین ماہ کی پابندی (یعنی ذی القعدہ،ذی الحجہ اور محرم) انہیں مشکل لگتی تھی اور وہ اسے اپنے خیال میں جذبہ جنگ کی کمزوری کا باعث سمجھتے اور خیال کرتے کہ یہ سپاہیوں کی کارکردگی رک جانے کا سبب ہے کیوں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ غارت گری، خونریزی اور جکگ سے ایک عجیب سا لگاؤ رکھتے تھے اور اصلی طور پر جنگ وجدال ان کی زندگی کا ایک حصہ تھا اور ان کے پے در پے تین ماہ کی جنگ بندی ایک طاقت فرسا امر تھا لہٰذا وہ کوشش کرتے تھے کہ کم از کم ماہ محرم کو ان تین مہینوں سے جدا کرلیں ۔

یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کبھی ماہ ذی الحجہ گرمیوں میں آجاتا رتھا اور اس سے معاملہ ان کے لئے مشکل ہوجاتا تھااور یم جانتے ہیں کہ حج اور اس کے مراسم زمانہ جاہلیت کے عربوں کے لئے عبادت میں منحصر نہ تھے یہ عظیم مراسم حضرت ابراہیم (ع)کے زمانے سے بطوریادگار چلے آرہے تھے، یہ ایک عظیم کانفرنس شمار ہوتی تھی جو ان کی تجارت اور کاروبار کی رونق کا سبب بھی تھی، انہیں اس عظیم اجتماع سے بہت سے فوائد نصیب ہوتے تھے لہٰذا وہ ماہ ذی الحجہ کو اس کی جگہ سے اپنی خواہش اور رغبت کے مطابق تبدیل کردیتے تھے اور اس کی جگہ موسم میں کوئی دوسرا مہینہ مقرر کردیتے تھے اور ہوسکتا ہے کہ دونوں وجوہ صحیح ہوں ، بہرحال یہ عمل سبب بنتا کہ آتش جنگ اسی طرح بھڑکتی رہتی اور حرام مہینوں کا مقصد پامال ہوجاتا، یوں مراسم حج اس کے اور اس کے ہاتھ میں کھلونا اور ان کے مادی مفادات کا ذریعہ بن گئے ۔

قرآن اس کام کو کفر کی زیادتی شمار کرتا ہے کیوں کہ ان کے ”اعتقادی شرک اور کفر“کے علاوہ اس حکم کو ٹھکراکر وہ ”عملی کفر“ کا ارتکاب کرتے تھے خصوصاً جب اس کام کی وجہ سے وہ دو حرام عمل بجالاتے تھے، ایک یہ کہ حرام خدا کو انہوں نے حلال کیا ہوا تھا اور دوسرے یہ کہ حلال خدا کو انہوں نے حرام کررکھا رتھا ۔

۳ ۔ دشمن کے مقابلے میں وحدت کلمہ:

مندرجہ بالا آیات میں قرآن حکم دیتا ہے کہ دشمن سے جنگ کرنے کے موقع پر مسلمان متفق ہوکر ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر ان سے جنگ کریں ، اس حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان سیاسی ،ثقافتی، اقتصادی اور فوجی میدان میں بھی اپنے آپ کو ان کے مقابلے میں تیار کرےں اور وہ صرف ایسی وحدت سے جس کا سرچشمہ توحید اسلامی کی روح ہے، دشمن پر کامیابی حاصل کرسکتے ہیں ۔

یہ وہی حکم ہے جو مدت ہوئی طاق نسیاں ہوچکا ہے اور یہی بات مسلمانوں کے انحطاط اور پسماندگی کی علت ہے ۔

۴ ۔ برے کام کیوں زیبا معلوم ہوتے ہیں :

جب تک انسان برے راستے پر گامزن نہ ہو اس کا وجدان اچھی طرح سے اچھائی اور برائی کی تمیز کر سکتا ہے لیکن جب وہ جان بوجھ کر جادہ گناہ پر چل نکلے اور غلط کاری کی راہ پر قدم رکھ لے تو وجدان کی روشنی مدہم پڑ جاتی ہے اور بات رفتہ رفتہ یہاں تک جاپہنچی ہے کہ گناہ کی قباحت اس لئے آہستہ آہستہ ختم ہوجاتی ہے اور اگر وہ اسے کام جاری رکھے تو آہستہ آہستہ برے کام اس کی نظر میں اچھے اور اچھے کام برے لگنے لگتے ہیں اوراسی بات کی طرف زیر نظر آیات میں اور متعدد دیگر آیات میں اشارہ کیا گیاہے ۔

بعض اوقات”برے اعمال کی تزئین “کی نسبت شیطان کی طرف دی جاتی ہے، مثلا سورہ نحل کی آیہ ۶۳ میں ہے:

( فَزَیَّنَ لَهُمْ الشَّیْطَانُ )

اور کبھی فعل مجہول کی صورت میں ذکر ہوئی ہے، جیسا کہ زیر نظر آیت میں ہے، اس کا فاعل ہوسکتا ہے شیطانی وسوسے ہوں یا پھر سرکش نفس ہو۔

کبھی یہ نسبت”شرکاء“ (یعنی بتوں )کی طرف دی گئی ہے، اس کی مثال سورہ انعام کی آیہ ۱۳۷ ہے یہاں تک کہ کبھی خدا کی طرف بھی نسبت دی گئی ہے، مثلا سورہ نمل کی آیہ ۴ میں ہے:

( إِنَّ الَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اٴَعْمَالَهُمْ )

وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے برے اعمال کو ان کی نظر میں مزین کردیا ۔

ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ اس قسم کے امور کی خدا کی طرف نسبت اس بنا پر ہے کہ یہ چیزیں ان کے عمل کی خاصیت شمار ہوتی ہے اور تمام چیزوں کے خواص اللہ کے ہاتھ میں ہیں ، وہ مسبب الاسباب ہے، نیز ہم کہہ چکے ہیں کہ اس قسم کی نسبتیں انسان کے اختیار اور ارادے کی آزادی سے مختلف نہیں رکھتیں ۔

____________________

۱۔ تفسیر برہان، ج۲،ص ۱۲۲۔


آیات ۳۸،۳۹

۳۸( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا مَا لَکُمْ إِذَا قِیلَ لَکُمْ انفِرُوا فِی سَبِیلِ اللهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَی الْاٴَرْضِ اٴَرَضِیتُمْ بِالْحَیَاةِ الدُّنْیَا مِنَ الْآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا فِی الْآخِرَةِ إِلاَّ قَلِیلٌ )

۳۹( إِلاَّ تَنفِرُوا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اٴَلِیمًا وَیَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ وَلَاتَضُرُّوهُ شَیْئًا وَاللهُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ )

ترجمہ

۳۸ ۔اے ایمان والوں ! جب تمہیں کہا جاتا ہے کہ راہ خدا میں جہاد کرنے کے لئے نکل پڑو تو کیوں زمین پر اپنا بوجھ ڈال دیتے ہو (اور سستی کرتے ہو)، کیا تم آخرت کے بدلے دنیاوی زندگی پر راضی ہوگئے ہو حالانکہ حیات دنیا کی متاع آخرت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں مگر بیت ہی کم۔

۳۹ ۔اگر (میدان جہاد کی طرف)حرکت نہ کرو تو تمہیں دردناک عذاب دے گا اور کسی دوسرے گروہ کو تمہاری جگہ مقرر کردے گا اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔

شان نزول

ابن عباس اور دوسرے صحابہ سے منقول ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں جنگ تبوک کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب پیغمبر اکرم طائف سے مدینہ کی طرف لوٹے اور لوگوں کو رومیوں سے جنگ کرنے پر آمادی کیا ۔

اسلامی روایات میں آیا یے کہ رسول اللہ عام طور پر جنگ کی بنیادی باتیں اور تفصیلات مسلمانوں کے سامنے واضح نہیں کیا کرتے تھے تاکہ اسلام کے فوجی راز دشمنوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں لیکن تبوک کے معاملے کی صورت مختلف تھی لہذا پہلے سے آپ نے انہیں بتایا کہ ہم رومیوں سے جنگ کرنے کے لئے جارہے ہیں کیوں کہ مشرقی روم کی سلطنت سے جنگ مشرکین مکہ یا یہود خیبر سے جنگ کی طرح کوئی آسان کام نہ تھا لہٰذا ضرورت تھی کہ مسلمان اس عظیم مشکل کے لئے پوری طور پر اپنے آپ کو تیار کریں ۔

علاوہ ازیں مدینہ اور سرحد روم کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ تھا مزید برآں گرمی کا موسم تھا اور غلوں اور پھلوں کی فصل کی کٹائی کے دن بھی تھے ۔

یہ تمام امور یکجا ہوگئے تھے، جس کی وجہ سے مسلمانوں کے لئے میدان جنگ کی طرف جانا بہت زیادہ مشکل ہوگا تھا، یہاں تک کہ بعض رسول اللہ کی دعوت پر لبیک کہنے میں متردد تھے اور گنگوں کی کیفیت میں تھے ۔

ان حالات میں مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور قاطع انداز میں سختی کے ساتھ مسلمان کو تنبیہ کی، اس کیفیت کے خطرے سے انہیں خبر دار کیا اور انہیں اس عظیم معرکے کے لئے تیار کیا ۔(۱)

دوبارہ میدان جنگ کی طرف روانگی

جیسا کہ ہم شان نزول میں کہہ چکے ہیں مندرجہ بالاآیات جنگ بتوک کے بارے میں ہیں ۔

تبوک مدینہ اورشام کے درمیان اےک علاقہ ہے جو آجکل سعودی سرحدشمار ہوتا ہے، اس زمانے میں مشرقی روم کے سرحد کے قرےب تھا ،وہ حکومت اس وقت شامات پر قابض تھی ۔(۲)

یہ واقعہ نو ہجری یعنی فتح مکہ سے تقریبا ایک سال بعد رونما ہوا،مقابلہ چونکہ اس وقت کی ایک عالمی سو پر طاقت سے تھا نہ کہ عرب کے کسی چھوٹے بڑے گروہ سے لہٰذا بعض مسلمان اس جنگ میں شرکت سے خوف زدہ تھے، اس صورت حال میں منافقین کے زہریلے پراپیگنڈا اور وسوسوں کے لیے ماحول بالکل سازگار تھا اور وہ بھی مومنین کے دلوں اور جذبات کو کمزور کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کر رہے تھے ۔

پھل اتارنے اورفصل کاٹنے کا موسم تھا، جن لوگوں کی زندگی تھوڑی سی کھتی باڑی اور کچھ جانور پالنے پر بسر ہوتی تھی یہ ان کی قسمت کے اہم دن شمار ہوتے تھے کیونکہ ان کی سال بھر کی گزر بسر انہی چیزوں سے وابستہ تھے ۔

جیسا کہ ہم آئے ہیں مسافت کی دوری اور موسم کی گرمی بھی روکنے والے عوامل کی مزید مدد کرتی تھی، اس موقع پر آسمانی وحی لوگوں کی مدد کے لے آپہنچی اور قرآنی آیات یکے بعد دیگرے نازل ہوئیں اوران منفی عوامل کے سامنے آکھڑی ہوئیں ۔

زیرے بحث پہلی آیت میں قرآن جس قدر ہو سکتی ہے اتنی سختی اور شددت سے جہاد کی دعوت دیتا ہے،کبھی تشویق سے، کبھی سرزنش کے لہجے میں اور کبھی دھمکی کی زبان میں ان سے بات کرتا ہے اور انہیں آمادی کرنے کے لئے ہر راستہ اختیار کرتاہے ۔

پہلے کہتا ہے: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں ، میدان جہاد کی طرف حرکت کرو تو تم سستی کا مظاہرہ کرتے ہو اور بوجھل پن دکھاتے ہو( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا مَا لَکُمْ إِذَا قِیلَ لَکُمْ انفِرُوا فِی سَبِیلِ اللهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَی الْاٴَرْضِ )

” اثَّاقَلْتُم“”ثقل“کے مادہ سے بوجھ کے معنی میں ہے،”( اثَّاقَلْتُم إِلَی الْاٴَرْضِ ) “وطن میں رہ جانے کی خواہش اور میدان جہاد کی طرف حرکت نہ کرنے کے لئے کنایہ ہے یا پھر مادی زرق وبرق دنیا سے چمٹے رہنے کے لئے کنایہ ہے، دونوں صورتوں میں بہرحال مسلمانوں کے ایک گروہ کی یہ حالت تھی، سب ایسے نہ تھے، سچے مسلمانوں اور راہ خدا میں جہاد کے عاشقوں کی یہ حالت نہ تھی ۔

اس کے بعد ملامت آمیز لہجے میں قرآن کہتا ہے: کیا آخرت کی وسیع اور دائمی زندگی کی بجائے اس دنیاوی پست اور نا پائیدار زندگی پر راضی ہوگئے ہو

( اٴَرَضِیتُمْ بِالْحَیَاةِ الدُّنْیَا مِنَ الْآخِرَة ) حالانکہ دنیاوی زندگی کے فوائد اور مال متاع آخرت کی زندگی کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور بہت ہی کم ہے( فَمَا مَتَاعُ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا فِی الْآخِرَةِ إِلاَّ قَلِیل ) ۔

ایک عقل مند انسان ایسے کھاٹے کے سودے پر کیسے تیار ہوسکتا ہے اور کیوں کر وہ ایک نہایت گراں بہا متاع اور سرمایہ چھوڑ کر ایک ناچیز اور بے وقعت متاع کی طرف جاسکتا ہے ۔

اس کے بعد ملامت کی بجائے ایک حقیقی تہدید کا انداز اختیار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے:اگر تم میدان جنگ کی طرف حرکت نہیں کرو گے تو خدا درد ناک عذاب کے ذریعے تمہیں سزا دے گا( إِلاَّ تَنفِرُوا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اٴَلِیمًا ) ۔

اور اگر تم گمان کرتے ہو کہ تمہارے کنارہ کش ہونے اور میدان جہاد سے پشت پھرنے سے اسلام کی پیشرفت رک جائے گی اور آئینہ الٰہی کی چمک ماند پڑ جائے گی تو تم سخت اشتباہ میں ہو کیوں کہ خدا تمہارے بجائے اسے صاحبان ایمان کو لے آئے گا جو عزم صمیم رکھتے ہوں گے اور فرمان خدا کے مطیع ہوں گے( وَیَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ ) ، وہ لوگ کہ جو ہر لحاظ سے تم سے مختلف ہیں ، نہ صرف ان کی شخصیت بلکہ ان کا ایمان، ارادی، دلیری اور فرماں برداری بھی تم سے مختلف ہے لہٰذا ”اس طرح تم خدا اور اس کے پاکیزہ دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے“( وَلَاتَضُرُّوهُ شَیْئًا ) ۔

یہ ایک حقیقت ہے نہ کہ ایک خالی گفتگو یادور دراز کی آرزو کیوں کہ” وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے“اور جب وہ اپنے پاک آئین کی کامیابی کا ارادہ کرے گا تو اس میں کلام نہیں کہ اسے عملی جامہ پہنا دے گا( وَاللهُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیر ) ۔

____________________

۱۔ بیت سے مفسرین مثلا طبرسی نے نمجمع البیان میں ، فخرالدین رازی نے تفسیر کبیر میں اور آلوسی نے روح المعانی میں اس شان نزول کو اجمالی طور پر بیان کیا ہے ۔

۲۔ تبوک کا فاصلہ مدینہ سے ۶۱۰ کلو میٹر اور شام سے ۶۹۲ کلو میٹر بیان کیا جاتا ہے ۔


چند اہم نکات

۱ ۔ جہاد پر سات تاکیدیں :

مندرجہ بالا آیات میں سات طریقوں سے مسئلہ جہاد پر تاکید کی گئی ہے ۔

۱ ۔ اہل ایمان کو اس کے لئے خطاب کیا گیا ہے ۔

۲ ۔ میدان جہاد کی طرف حرکت کا حکم دیا گیا ہے ۔

۳ ۔ ”فی سبیل اللّٰہ“ کی تعبیر استمال کی گئی ہے ۔

۴ ۔ آخرت کے بدلے دنیا کا زکر استفہام انکاری کی سورت میں کیا گیا ہے ۔

۵ ۔ جہاد سے کنارہ کشی پر ”عذاب الالیم“ کی دھمکی دی گئی ہے ۔

۶ ۔ یہ دھمکی بھی دی گئی ہے کہ تمہیں منظر سے ہٹا کر تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے گا ۔

۷ ۔ خدا کی لامتناہی قدرت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور اس بات کی طرف متوجہ کیا گیا ہے ہے تمہاری سستیاں امور الٰہی کی پیشرفت میں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں بلکہ جو نقصان بھی ہوا وہ تم ہی کو دامن گیر ہوگا ۔

۲ ۔ دنیا کی دلبستگی جہاد کے لئے سد راہ ہے:

مندرجہ بالا آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ دنیاوی زندگی سے دل بستگی مجاہدین کو امر جہاد میں سست کردیتی ہے، سچے مجاہدین کو پاکباز، زہدپیشہ اورزرق وبرق دنیا سے بے پرواہ ہوبنا چاہیے، امام علی بن حسین (ع) اسلامی حکومت کی سرحدوں کے محافظین کے لئے کی گئی دعا میں کہتے ہیں :وانسهم عند لقائهم العدو ذکر دنیاهم الخداعة وامح عن قلوبهم خطوات المال الفتون

بارالہا جب وہ دشمن کے مقابل ہوں اس پر فریب دنیا کے ذکر وفکر کو ان سے دور رکھ اور فتنہ انگیز دلکش اموال کی اہمیت ان کے صفحہ دل سے محو کردے (تاکہ تیرے عشق سے لبریز دل کے ساتھ تیرے لئے جنگ کریں ) ۔

یہ حقیقت ہے اگر ہم دنیا وآخرت کی کیفیت کو اچھی طرح پہچانتے ہوں تو ہم جان لےں گے آخرت کے مقابلے میں دنیا اس قدر محدود اور حقیر ہے کہ ان کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ۔ اس سلسلے میں پیغمبر خدا سے ایک حدیث منقول ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے:واللّٰه ماالدنیا فی الآخرة الا لما یجعل احدکم اصبعه فی الیم ثم یرفعها فلینظر بم ترجع

بخدا آخرت کے مقابلے میں دنیا اس طرح ہے کہ تم میں سے ایک شخص اپنی انگلی دریا میں ڈبوئے اور پھر اسے نکال لے اور دیکھئے کہ دریا کا کتناپانی اس کے ساتھ لگا ہوا ہے ۔

۳ ۔ آیت میں کس گروہ کی طرف اشارہ ہے؟

بعض مفسرین نے کہا ہے کہ آیت میں جس گروہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو ایرانی ہیں بعض یہاں یمن کے لوگ مراد لیتے ہیں کہ جن میں سے ہر ایک گروہ نے اسلام کی پیشرفت میں اپنی بے انتہا جرات و استقامت سے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے، بعض ان لوگوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جنہوں نے ان آیات کے نزول کے بعد اسلام قبول کیا اور دل وجان سے اس کی راہ میں فداکاری کی ۔


آیت ۴۰

۴۰( إِلاَّ تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللهُ إِذْ اٴَخْرَجَهُ الَّذِینَ کَفَرُوا ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ هُمَا فِی الْغَارِ إِذْ یَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَاتَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا فَاٴَنزَلَ اللهُ سَکِینَتَهُ عَلَیْهِ وَاٴَیَّدَهُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ کَلِمَةَ الَّذِینَ کَفَرُوا السُّفْلَی وَکَلِمَةُ اللهِ هِیَ الْعُلْیَا وَاللهُ عَزِیزٌ حَکِیمٌ )

ترجمہ

۴۰ ۔ اگر اس کی مدد نہیں کرو گے تو خدا اس کی مدد کرے گا (جیسا کہ اس نے مشکل ترین لمحات میں اسے تنہا نہیں چھوڑا)، اس وقت جب کفار نے انہیں (مکہ سے) نکال دیا جب کہ وہ دو میں سے دوسرے تھے (ان کے ساتھ صرف ایک شخص اور تھا) جب وہ دونوں غار میں تھے تو وہ ہمسفر سے کہہ رہے تھے غم نہ کھاؤ خدا ہمارے ساتھ ہے، تو اس موقع پر خدا نے اپنا سکینہ (اور اطمینان )ان پر بھیجا اور ان کی ایسے لشکروں سے تقویت کی جنہیں تم نہیں دیکھتے تھے اور کافروں کی گفتار(اور ہدف ) کو پست قرار دیا (اور انہیں شکست سے دوچار کیا) اور خدا کی بات (اور اس کا دین ) بلند (اور کامیاب )ہوا اور خدا عزیر وحکیم ہے ۔

حسا س ترین لمحات میں خدا نے اپنے پیغمبر کو تنہا نہیں چھوڑا

جیسا کہ وضاحت کی جاچکی ہے گذشتہ آیات میں جہاد کے مسئلے پر متعدد حوالوں سے تاکید کی گئی، ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ گمان نہ کرو کہ اگر تم جہاد اور پیغمبر کی مدد سے کنارہ کش ہوگئے تو اس کا پروگرام اور اسلام زمین بوس ہوجائے گا، زیر بحث آیت اسی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتی ہے: اگر اس کی مدد کرو گے تو وہ خدا جس نے سخت ترین حالات اور پیچیدہ ترین مواقع پر معجزانہ طور پر اس کی مدد کی ہے قدرت رکھتا ہے کہ پھر اس کی مدد کرے( إِلاَّ تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللهُ ) ۔(۱)

یہ وہ زمانہ تھا جب مشرکین مکہ پیغمبر اکرم کو قتل کرنا کی ایک خطرناک سازش کر چکے تھے، جبکہ سورہ انفعال کی آیہ ۳۰ کے ذیل میں اس کی تفسیر گزر چکی ہے ، تفصیلی غوروخوض اور منصوبہ بندی کے بعدانہوں نے آخری فیصلہ یہ کیا تھا کہ عرب کے مختلف قبائل کے بہت سے شمشیر زن رات کے وقت رسول اللہ کے گھر کا محاصرہ کرلیں اور صبح سب مل کر آنحضرت پر حملہ کریں اور بستر پر ہی تلواروں سے ان کے جسم مبارک کے ٹکڑے ٹکڑے کردیں ۔

پیغمبر اکرم جو حکم خدا سے اس سازش سے آگاہ ہوچکے تھے مکہ سے باہر جانے اور مدینہ کی طرف ہجرت کے لئے تیار ہوئے لیکن ابتدا میں کفر کی دسترس سے محفوظ رہنے کے لئے غار ثور میں پناہ گزیں ہوئے جو مکہ کے جنوب میں مدینہ کے راستے کی مخالف سمت میں تھی، اس سفر میں ابوبکر بھی آنحضرت کے ساتھ تھا ۔

دشمن نے رسول اللہ کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی لیکن مایوس ہوکر پلٹ گئے، رسول اللہ تین راتیں اور دن غار میں ٹھہرے رہے، جب دشمن کے پلٹ جانے کا اطمینان ہوگیا تو رات کے وقت عام راستے سے ہٹ کر مددینہ کی طرف روانہ ہوئے، چند دنوں میں آپ صحیح وسالم مدینہ پہنچ گئے اور اس طرح تاریخ اسلام میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا ۔

مندرجہ بالا آیت اس تاریخی سفر کے ایک حساس ترین موقع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے: خدا نے اپنے پیغمبر کی اس وقت مدد کی جب کافروں نے انہیں نکال باہر کیا( إِذْ اٴَخْرَجَهُ الَّذِینَ کَفَرُوا ) ۔

البتہ کفار کا ارادہ انہیں مکہ سے خارج کرنے کا نہیں تھا بلکہ وہ آپ کو قتل کرنے کا مصمم ارادہ کرچکے تھے لیکن ان کے کام کے نتیجے میں چوں کہ پیغمبر خدا کو مکہ سے باہر نکل جانا پڑا لہٰذا یہ نسبت ان کی طرف دی گئے ہیں ۔

اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: یہ اس حالت میں تھا کہ آپ دو میں سے دوسرے تھے( ثَانِیَ اثْنَیْنِ ) ، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ آپ کے ساتھ صرف ایک ہی شخص تھا یہ چیز اس پر خطر سفر میں آپ کی انتہائی تنہائی کی نشاندہی کرتی ہے، ابوبکر آپ کے ہمسفر تھے، جس وقت ان دونوں نے غار (یعنی غاع ثور ) میں پناہ لی( إِذْ هُمَا فِی الْغَارِ ) ، اس موقع پر پیغمبر کے ساتھی اور ہمسفر کو خوف اور وحشت نے گھیر رکھا تھا اور پیغمبر نے اسے تسلی دی اور کہا غم نہ کھاؤ خدا ہمارے ساتھ ہے( إِذْ یَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَاتَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا ) ، اس وقت اللہ نے سکون اطمینان کی روح آپ پر نازل کی جو حساس اور پر خطر لمحات میں اپنے پیغمبر پر نازل کیا کرتا تھا( فَاٴَنزَلَ اللهُ سَکِینَتَهُ عَلَیْهِ ) ، اور آپ کی ایسے لشکروں سے مدد کی جنہیں تم نہیں دیکھ سکتے تھے،( وَاٴَیَّدَهُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْهَا ) ۔

یہ غیبی لشکر ہوسکتا ہے کہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہو جو خوف وخطر سے بھر پور اس سفر میں پیغمبر کے محافظ ہوں یا ان کی طرف جو بدر، حنین وغیرہ کے میدانوں میں آپ کی مدد کے لئے آئے تھے ۔

____________________

۱۔ادبی نقطہ نظر سے اس جملے میں کچھ محذوف ہے اور اصل میں یہ اس طرتھا”إِلاَّ تَنصُرُو ینَصَرَهُ اللهُ “کیوں کہ فعل ماضی جس کا مفہوم گذشتہ زمانے میں واقع ہوچکا ہو، جزائے شرط نہیں ہوسکتا مگر یہ کہ فعل ماضی ایسا ہے جو مضارع کا معنی دیتا ہو ۔


داستان یار غار

اس سفر میں حضرت ابوبکر کے پیغمبر اکرم کے ساتھ ہونے کے بارے میں جو سر بستہ اشارات مندرجہ بالا آیت میں کئے گئے ہیں اس پر شیعہ اور سنی مفسرین میں بہت سے مباحث پیدا ہوگئی ہیں ۔

اس سلسلے میں بعض نے افراط کی راہ اختیار کی ہے اور بعض نے تفریط کا راستہ اپنایا ہے ۔

فخرالدین رازی نے اپنے مخصوص تعصب کی بناپر اپنی تفسیر میں کوشش کی ہے کہ مندرجہ بالا آیت سے حضرت ابوبکر کی بارہ فضیلتیں ثابت کرے ، اس میں فضائل کی تعدادزیادہ ثابت کرنے کے لئے اس نے زمین و آسمان کے قلابے ملائے ہیں اس تفسیر کی صورت یہ ہوگئی ہے کہ تفصیل بیان کرنا شاید ضیاعِ وقت مصداق ہو۔

جب کہ بعض دوسرے لوگ اصرار کرتے ہیں کہ اس آیت سے حضرت ابوبکر کی متعدد مذمتیں معلوم ہوتی ہیں ۔

پہلے یہ دیکھنا ہے کہ کیا لفظ ”صاحب“ فضیلت کی دلیل ہے؟ ظاہرا ایسا نہیں ہے کویں کہ لغت کے لحاظ سے صاحب کے مطلقامعنی ”ہمنشین“ اور ”ہمسفر“ کے ہیں چاہے ہمنشین و ہمسفر اچھا ہو یا برا، جیسا کہ سورہ کہف کی آیہ ۳۷ میں ان دو افراد کا واقعہ آیا ہے کہ جن میں سے ایک صاحب ایمان اور خدا پرست تھا اور دوسرا بے ایمان اور مشرک تھا، ارشاد ہوتا ہے:قال له صاحبه وهو یحاوره اکفرت بالذی خلقک من تراب

اس ساتھی نے اس سے کہا: کیا تو اس خدا کا انکار کرتا ہے جس نے تھے مٹی سے پیدا کیا ہے؟

بعض یہ بھی اصرار کرتے ہیں کہ ”علیہ“ کی ضمیر جو ””فانزل اللّٰه سکینته علیه “کے جملے میں آئی ہے حضرت ابوبکر کی طرف لوٹتی ہے کیوں کہ پیغمبر اکرم کو سکینة اور اطمینان کی ضرورت نہیں تھی اس لئے اس کا نزول ان کے ہمسفر (ابوبکر) کے لئے تھے، جب کہ بعد والے جملے میں :”وایده بجنودلم تروها (اس کی غیر مرئی لشکر سے مدد کی)، اس کی طرف توجہ کی جائے اور دونوں میں مرجع ضمیر کے ایک ہونے کی طرف توجہ کی جائے تو واضح ہوجاتا ہے کہ ”علیہ“کی ضمیر بھی رسول اللہ کی طرف لوٹتی ہے، نیز یہ اشتباہ ہے کہ ہم تصور کریں کہ سکینة کا تعلق حزن وملال کے مواقع سے ہے کیوں کہ قرآن میں بارہا آیا ہے کہ ”سکینة“ذات پیغمبر پر نازل ہوئی جب آپ سخت اور مشکل حالات سے دوچار ہوئے، ان میں سے ایک واقعہ حنین ہے جس کے بارے میں اسی سورہ کی آیہ ۶ ۲ میں ہم پڑھ چکے ہیں :

ثم انزل اللّٰه سکینتة علی رسوله وعلی المومنین

یعنی ، پھر اللہ نے اپنی سکینة اپنے رسول اور مومنین پر نازل کی ۔

نیز سورہ فتح کی آیہ ۶۲ میں ہے:فانزل اللّٰه سکینته علی رسوله وعلی المومنین

جب کہ ان دونوں آیات سے متعلق حزن وملال اور غم واندوہ کے متعلق کسی قسم کی کوئی گفتگو نہیں ہوئی بلکہ حالات کی پیچیدگی کی بات ہوئی ہے ۔

بہرحال آیات قرآنی نشان دہی کررہی ہیں کہ نزول سکینة سخت مشکلات کے وقت ہوتی تھی اور اس میں شک نہیں کہ غار ثور میں رسول اللہ سخت لمحات میں وقت گزاررہے تھے ۔

زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض کہتے ہیں کہ”بجنود لم تراها “(اس میں اس کی ایسے لشکر سے مدد کی جسے تم نہیں دیکھ سکتے تھے) یہ جملہ ابوبکر کے بارے میں ہے جب کہ اس آیت کی ساری بحث جو کہ خدا کی مدد ونصرت کے محور پر گومتی ہے سب پیغمبر کے بارے میں ہیں اور قرآن چاہتا ہے کہ واضح کرے کہ پیغمبر اکیلے نہیں ہیں اگر اس کی مدد نہ کرو گے تو خدا اس کی مدد کرے گا، لہٰذا جس شخص کے گرد تمام بحث گھومتی ہے اسے چھوڑکر ایسے شخص کی تلاش کیوں کی جائے کہ جس کا ذکر اتباع اور پیروی کے حوالے سے آیا ہے، یہ صورت حال نشاندہی کرتی ہے تعصبات یہاں تک حائل ہو گئے ہیں کہ بعض لوگوں کی توجہ آیت کے معنی کی طرف بھی نہیں گئی ۔


آیات ۴۱،۴۲

۴۱( انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِاٴَمْوَالِکُمْ وَاٴَنفُسِکُمْ فِی سَبِیلِ اللهِ ذَلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنتُمْ تَعْلَمُونَ )

۴۲( لَوْ کَانَ عَرَضًا قَرِیبًا وَسَفَرًا قَاصِدًا لَاتَّبَعُوکَ وَلَکِنْ بَعُدَتْ عَلَیْهِمْ الشُّقَّةُ وَسَیَحْلِفُونَ بِاللهِ لَوْ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَکُمْ یُهْلِکُونَ اٴَنفُسَهُمْ وَاللهُ یَعْلَمُ إِنَّهُمْ لَکَاذِبُونَ )

ترجمہ

۴۱ ۔(سب کے سب میدان جہاد کی طرف )چل پڑو چاہے سبک بار ہو یا سنگین بار اور اپنے اموال اور جانوں کے ساتھ راہ خدا میں جہاد کرو اور اگر جانو تو یہ تمہارے نفع میں ۔

۴۲ ۔(اور ان میں سے ایک گروہ ایسا ہے کہ ) اگر غنائم نزدیک (اور دسترس میں )ہوں اور سفر آسان ہو (تو دنیاوی طمع میں ) تیری پیروی کرتے ہیں لیکن اب جب کہ میدان تبوک کے لئے راستہ ان کے طویل (اور مشقت والا )ہے (تو روگردانی کرتے ہیں ) اور عنقریب قسم کھائےں گے کہ اگر ہم میں طاقت ہوتی توہم تمہارے سال چل پڑتے(لیکن ان اعمال اور ایسے صریح جھوٹوں سے ) اپنے آپ کو ہلاک کرتے ہیں اور خدا جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں ۔

ان پر ور لالچی

ہم کہہ چکے ہیں جنگ تبوک ایک استثنائی کیفیت رکھتی تھی اور اس کے لئے ایسے امور ضروری تھے جو بہت مشکل اور پیچیدہ تھے، اسی بنا پر چند ضعیف الایمان یا منافق افراد اس میدان میں شرکت کرنے سے لیت ولعل کرتے تھے، گذشتہ آیات میں خداتعالیٰ نے ایک گروہ کو سرزنش کی ہے کہ جب جہاد کا فرمان صادر ہوتا ہے تو بوجھل کیوں ہوجاتے ہو(اور سستی کیوں دکھاتے ہو)، نیز فرمایا ہے کہ جہاد کا حکم تمہارے فائدے میں ہے ورنہ خدا ایسا کرسکتا ہے کہ بے ارادہ اور تن پرور افراد کے بجائے شجاع، بہادر، صاحب ایمان اور عزم راسخ والے افراد لے آئے بلکہ یہاں تک کہ ان کے بغیر بھی وہ قدرت رکھتا ہے کہ اپنے پیغمبر کی حفاظت کرے جیسا کہ غار ثور اور لیلة المبیت والے واقعہ میں حفاظت کی ہے ۔

تعجب کی بات ہے کہ مکڑی کے جالے کے چند تار جو غار کے دہانے پر تنے ہوئے تھے اس بات کا سبب بن گئے کہ ہٹ دھرم اور سرکش دشمن کی فکرہی بدل جائے اور وہ غار کے دھانے سے ہی پلٹ آئے اور رسول اللہ صحیح وسالم رہے، جب خدا عنکبوت کے چند تاروں کے ذریعے نوع بشر کی تاریخ کا دھاربدل سکتا ہے تو اسے اس کی اس کی مدد کی کیا ضرورت ہے کہ وہ نازنخرے دکھاتے رہیں ، درحقیقت یہ تمام احکام خودان کی ترقی اور تکامل کے لئے ہے ناکہ خدا کو ان کی حاجت ہے، اس گفتگو کے بعد قرآن دوبارہ مومنین کو جہاد کی طرف ہر پہلو سے دعوت دے رہا ہے اور سستی دکھانے والوں کو سرزنش کررہا ہے ۔

پہلے ارشاد ہوتا ہے: تم سب کے سب میدان جہاد کی طرف چل پڑو چاہے سبک بار ہو چاہے بوجھل( انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا ) ۔

”خفاف“ جمع ہے ”خفیف“ کی اور ”ثقال“ جمع ہے”ثقیل“ کی اور یہ دونوں لفظ ایک جامع مفہوم رکھتے ہیں جس میں انسان کے تمام تر کیفیات اور حالات شامل ہیں ، چاہے انسان جوان ہو یا بوڑھا، مجرد ہو یا شادی شدہ ، اس کے افراد خانہ کم ہوں یا زیادہم غنی ہو یا فقیرابتلا میں ہوں یا مصیبت میں ، اس کی زراعت ،باغ اور تجارت ہو یا نہ ہو، ہرصورت اور ہر حالت میں اور مقام اور ہر حیثیت میں اس پر لازم ہے کہ جب فرمان جہاد صادر ہوبس اسی آزادی بخش دعوت پر لبیک کہے، دوسرے ہر کام سے آنکھیں بند کرلے اور تلوار بکف میدان جنگ کی طرف چل کھڑا ہو۔

یہ جو بعض مفسرین نے ان دوالفاظ کو مندرجہ بالا معانی میں سے فقط ایک میں محدودقرار دیا ہے اس کے لئے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، دراصل ان میں سے ہر لفظ اس وسیع مفہوم کا مصداق ہے ۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: راہ خدا میں مالوں اور جانوں سے جہاد کرو( وَجَاهِدُوا بِاٴَمْوَالِکُمْ وَاٴَنفُسِکُمْ ) ، یعنی ہر پہلو سے جہاد کرو کیوں کہ ایسے طاقتور دشمن کے مقابلے میں جو اس دور کی سپر طاقت سمجھا جاتا ہے، اس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں تھی ۔

لیکن اس بنا پر کہ پھر بھی کسی کو اشتباہ نہ ہوکہ یہ قربانی اور فداکاری خدا کے لئے فائدہ مند ہے، فرمایا گیا ہے : یہ تمہارے فائدے میں ہے، اگر تم جانو( ذَلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنتُمْ تَعْلَمُونَ ) ، یعنی اگر تم جان لو کہ جہاد سربلندی اور عزت کی کلید ہے اور ذلت اور کمزوری کے خاتمے کا ذریعہ ہے، اگر تم جان لو کہ کوئی قوم جہاد کے بغیر دنیا میں حقیقی آزادی اور عدالت تک نہیں پہنچ سکتی اور اگر تم جان لو کہ رضائے خدا، دائمی سعادت اور طرح طرح کی نعمات الٰہی تک پہنچنے کی راہ اسی عمومی مقصد نہضت اور ہمہ پہلو فدا کاری میں ہے، اسکے بعد بحث کا رخ سست ، کاہل اور کمزار ایمان والے افرتد کی طرف موڑا گیا ہے، یہ لوگ اس عظیم معرکے میں شرکت سے بچنے کے لئے طرح طرح کے بہانے بناتے تھے ، اس سلسلے میں رسول اللہ سے فرمایا گیا ہے: اگر مال غنیمت دسترس میں ہوتا اور سفر نزدیک کا ہوتا تو متاع دنیا کے لئے یہ بہت ہی جلدی تیری دعوت پر لبیک کہتے اور اس بچھے ہوئے دسترخوان پر بیٹھنے کے لئے بھگ دوڑ کرتے( لَوْ کَانَ عَرَضًا قَرِیبًا وَسَفَرًا قَاصِدًا لَاتَّبَعُوکَ ) ۔(۱) لیکن اب جب کہ سفر دور کا ہے سستی دکھاتے ہیں اور بہانے بناتے ہیں( وَلَکِنْ بَعُدَتْ عَلَیْهِمْ الشُّقَّةُ ) ۔(۲) تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ صرف بہانے نہیں بناتے بلکہ ”جلدی سے تمہارے پاس آجاتے ہیں اور قسم کھاتے ہیں کہ اگر ہم میں طاقت ہوتی تو آپ کے ساتھ ہم بھی نکلتے“( وَسَیَحْلِفُونَ بِاللهِ لَوْ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَکُم ) ، اور اگر آپ دیکھتے ہی کہ ہم اس معرکے میں آپ کے ساتھ شرکت نہیں کررہے ہیں تو اس کی وجہ یماری معذوری اور عدم قدرت ہے اور ہم مختلف مسائل میں گرفتار ہیں ۔

”ان اعمال اور ان دروغگوئیوں کی وجہ سے درحقیقت وہ اپنے آپ کو ہلاک کردیتے ہیں “( یُهْلِکُونَ اٴَنفُسَهُمْ ) ، لیکن خدا جانتا ہے وہ جھوٹ بولتے ہیں( وَاللهُ یَعْلَمُ إِنَّهُمْ لَکَاذِبُونَ ) ۔

وہ مکمل طور پر طاقت رکھتے ہیں لیکن چوں کہ کام اتنا آسان نہیں ہے بلکہ کٹھن اور مشکل ہے لہٰذا وہ جھوٹی قسموں کا سہارا لیتے ہیں ۔

یہ امر جنگ تبوک اور زمانہ رسول سے مخصوص ننہیں بلکہ ہر معاشرے میں بیکار، سست اور کاہل یا منافقین، لالچی اور ابن الوقت لوگوں کا ایک گروہ ہوتا ہے جو ہمیشہ منتظر رہتا ہے کہ کامیابی اور ثمرات کے لمحات آپہنچیں تو اس وقت پہلی صف میں آکھڑے ہوں گے اور شور مچانے لگےں گے، گریبان چاک کرےں گے، اپنے آپ کو مبارز اور مجاہد اول قرار دیں گے اور اپنا تعارف دلسوز ترین افراد میں سے کروائیں گے تاکہ بغیر زحمت کے دوسروں کی کامیابی کے ثمرات سے بہرہ ور ہوں لیکن یہی مبارز، مجاہد، سینہ چاک اور دلسوز مشکل حوادث کے موقع پر کسی نہ کسی طرف بھاگ کھڑے ہوں گے اور اپنے فرار کے لئے عذر وبہانے تراشیں گے، کوئی خود بیمار ہوگیا ہوگا، کسی کا بیٹا بستر بیماری پر پڑا ہوگا ، کسی کی بیوی وضع حمل میں مبتلا ہوگی، کوئی آنکھیں کمزور ہونے کی بات کرے گا اور کوئی مقدمات کی تیاری میں لگا ہوگا اسی طرح کے بیسیوں بہانے ہوں گے، لیکن بیدار اور روشن دل رہبروں پر لازم ہے کہ ایسے لوگوں کی شناخت شروع میں کروادیں اور اگر یہ لوگ قابل اصلاح نہ ہوں تو انہیں اپنی صفوں ست نکال باہر کریں ۔

____________________

۱۔ ”عرض“ اس عارضی چیز کو کہتے ہیں جو جلد زائل ہوجاتی ہے اور جسے دوا م حاسل نہیں ہوتا، عام طور پر دنیا کی مادی نعمتوں کے لئے یہ لفظ بولا جاتا ہے اور ”قاصد“ سہل وآسان کے معنی میں ہیں کیوں کہ اصل میں یہ لفظ”قصد“ کے مادہ سے ہے اور عموما لوگ اپنے قصد کو آسان مسائل میں سمجھتے ہیں ۔

۲۔ ”شقة“ ایسی سنگلاخ یا دور دراز راہوں کو کہتے ہیں کہ جنہیں عبور کرنے کے لئے بڑی مشقت اور زحمت درکار ہوتی ہے ۔


آیات ۴۳،۴۴،۴۵

۴۳( عَفَا اللهُ عَنْکَ لِمَ اٴَذِنتَ لَهُمْ حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِینَ صَدَقُوا وَتَعْلَمَ الْکَاذِبِینَ )

۴۴( لَایَسْتَاٴْذِنُکَ الَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ اٴَنْ یُجَاهِدُوا بِاٴَمْوَالِهِمْ وَاٴَنفُسِهِمْ وَاللهُ عَلِیمٌ بِالْمُتَّقِینَ )

۴۵( إِنَّمَا یَسْتَاٴْذِنُکَ الَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوبُهُمْ فَهُمْ فِی رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُونَ )

ترجمہ

۴۳ ۔ خدا نے تمہیں بخش دیا کہ تم نے انہیں اجازت کیوں دی، اس سے پہلے کہ جو راست گوہیں تیرے لئے واضح ہوں اور تم جھوٹوں کو پہچان لو۔

۴۴ ۔ وہ جو خدا اور روز جزا پر ایمان رکھتے ہیں تم سے کبھی بھی (راہ خدا میں )اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے سے رخصت نہیں چاہیں گے اور خدا پرہیزگاروں کے ساتھ ہے ۔

۴۵ ۔ صرف وہ لوگ تم سے رخصت چاہیں گے جو خدا اور روز جزا پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک وتردد میں ہیں لہٰذا وہ اپنے تردد میں سرگرداں ہیں ۔

کوشش کرو کہ منافقین کو پہچان لو

مندرجہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقین کا ایک گروہ پیغمبر کے پاس آیا اور طرح طرح کے عذر وبہانے کرنے لگا، یہاں تک کہ قسم کھا کر انہوں نے اجازت چاہی کہ انہیں میدان تبوک میں شرکت سے معذور سمجھیں اور پیغمبر اکرم نے اس گروہ کو اجازت دے دی ۔

زیر بحث پہلی آیت میں خدا وند عالم اپنے پیغمبر کو تنبیہ کے انداز میں کہتا ہے: خدا نے تمہیں بخش دیا کہ تم نے انہیں جہاد میں شرکت سے رخصت کیوں دی( عَفَا اللهُ عَنْکَ لِمَ اٴَذِنتَ لَهُمْ ) ، کیوں ایسا نہ ہونے دیا کہ راست گو لوگ جھوٹوں سے ممتاز ہوجائیں اور تم ان کی کیفیت جان لیتے( حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِینَ صَدَقُوا وَتَعْلَمَ الْکَاذِبِینَ ) ۔

اس بارے میں کہ مذکورہ تنبیہ جس کے ساتھ عفوالٰہی کا ذکر ہے اس بات کی دلیل ہے کیا یہ کوئی غلط کام تھا یاصرف کوئی ترک اولیٰ تھا یا کچھ نہ تھا اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے بعض نے تو ایسی تیزی دکھائی ہے کہ رسول اللہ کے مقام مقدس تک میں جسارت اور بے ادبی کی ہے اور یہاں تک کہ اس آیت کو آپ سے صدور گناہ کے امکان کی دلیل قرار دیا ہے ان لوگوں نے کم از کم اتنا ادب بھی ملحوظ نہیں رکھا جو خود خدائے عظیم اپنے پیغمبر کے بارے میں کیا ہے کہ پہلے ”عفو “ کی بات کی گئی ہے پھر تنبیہ کی گئی ہے اس طرح سے یہ لوگ عجیب گمراہی میں جاپڑے ہیں ۔

انصاف یہ ہے کہ اس آیت میں پیغمبر اکرم سے گناہ کے صدور کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے یہاں تک ظاہر آیت میں بھی ایسی کوئی دلیل نہیں کیوں کہ تمام قرائن نشاندہی کرتے ہیں کہ رسول اللہ چاہے انہیں اجازت دیتے یا نہ دیتے منافقین کا وہ گروہ جنگ تبوک میں شرکت نہ کرتا اور بالفرض شرکت کرتا بھی تو مسلمانوں کے کسی کام نہ آتا بلکہ ان کی مشکلات میں اضافہ ہی کرتا جیسا کہ بعد آیت میں ہے :( لو خرجوا فیکم مازادواکم الّاخبالا )

اگر وہ تمہارے ساتھ چل پڑتے تو شر ، فساد، چغلخوری، سخن چینی اور نفاق پیدا کرنے کے سوا کچھ بھی نہ کرتے ( توبہ: ۴۷)

اس لئے اگر پیغمبر اکرم نے انہیں اجازت دے دی تو مسلمانوں کا کائی مفاد ضائع نہیں ہو، صرف جو بات اس میں موجود تھی وہ یہ تھی جکہ اگر آپ انہیں اجازت نہ دیتے تو ان کی قلعی ذرا پہلے کھل جاتی اور لوگ پہلے ہی ان کی کیفیت سے آشنا ہوجاتے لیکن اس کام سے کوئی ارتکاب گناہ نہیں ہوا، شاید اسے فقط”ترک اولیٰ“ کہا جا سکے اس معنی میں کہ ان حالات میں اور منافقین کے قسم کھانے اور اصرار کرنے کی صورت میں پیغمبر اکرم کی طرف سے انہیں اجازت دینا اگرچہ کوئی برا کام نہ تھا مگر اذن نہ دینا اس سے بہتر تھا تاکہ یہ لوگ جلدی پہچانے جائیں ۔

آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ تنبیہ اور مذکورہ خطاب کنایہ کے طور پر ہو، یہاں تک کہ ادس میں ترک اولیٰ بھی نہیں ہے بلکہ یہاں مراد یہ ہے کہ منافقین میں روح منافقت کو ایک لطیف سرائے میں کنایہ کی صورت میں بیان کیا جائے ۔

اس امر کو اس مثال میں واضح کیا جاسکتا ہے، فرض کیجئے ایک ظالم چاہتا ہے کہ آپ کے بیٹے کے منہ پر طمانچہ رسید کرے، آپ کا ایک دوست اس کا ہاتھ پکڑ لیتا ہت تو آپ کو نہ صرف اس کام پر دکھ نہیں ہوگا بلکہ آپ خوش بھی ہوں گے لیکن آپ ظالم کے باطن کی بدی ثابت کرنے کے لئے آپ غصے کے انداز میں اپنے دوست سے گیں کہ تم نے اسے چھوڑا کیوں نہیں کہ وہ طمانچہ مارتا تاکہ تمام لوگ اس سنگدل کو منافق کو پہچان لیتے، آپ کا مقصد اس بیان سے صرف اس کی سنگدلی اور نفاق کا اثبات ہے جب کہ ظاہرا یہ دفاع کرنے والے دوست کی سرزنش ہے ۔

اور بات جو آیت کی تفسیر میں باقی رہ جاتی ہے یہ ہے کہ کیا رسول اللہ منافقین کو نہیں پہچانتے تھے کہ خدا ئے تعالیٰ کہہ رہا ہے:چاہیئے یہ تھا کہ تم انہیں اجازت نہ دیتے تا کہ ان کی کیفیت تمہارے لئے واضح ہوجاتی ۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ پہلے تو پیغمبر اکرم معمول کے علم کے طریقے سے اس گروہ کی کیفیت سے آشنا نہیں تھے اور علم غیب موضوعات کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے کافی نہیں ہے بلکہ معمول کے مدارک سے ان کی کیفیت واضح ہونا چاہیے ۔

دوسری بات یہ کہ مقصد صرف یہ نہیں تھا کہ پیغمبر جان لیں بلکہ ہوسکتا ہے کہ مقصد یہ ہو کہ تمام مسلمان آگاہ ہوجائیں اگرچہ روی سخن پیغمبر اکرم کی طرف ہے ۔

اس کے بعد مومنین اور منافقین کی نشانیوں کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ جو خدا اور روزآخر ت پر یقین رکھتے ہیں وہ اپنے مالوں اور اپنی جان سے راہ خدا میں کہاد کرنے سے تم سے کبھی رخصت نہیں چاہیں گے( لَایَسْتَاٴْذِنُکَ الَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ اٴَنْ یُجَاهِدُوا بِاٴَمْوَالِهِمْ وَاٴَنفُسِهِمْ ) ۔

بلکہ جب فرمان جہاد صادر ہوگا بغیر لیت ولعل اور سستی کے اس کی طرف بھاگیں گے اور یہی خدا پر ایمان، اس کی طرف سے عائد ذمہ داریوں پر ایمان اور آخرت کی عدالت پر ایمان انہیں اس راہ کی طرف دعوت دیتا ہے ۔

یہ ایمان عذر تراشی اور بہانہ جوئی کی راہ ان کے سامنے بند کردیتا ہے ۔

خدا پرہزگاروں کو اچھی طرح سے پہچانتا ہے اور ان کی نیت اور اعمال سے مکمل طور پر آگاہ ہے( وَاللهُ عَلِیمٌ بِالْمُتَّقِینَ ) ۔

اس کے بعد فرمایا گیا ہے: میدان جہاد میں شرکت نہ کرنے کی اجازت تم سے وہی لوگ طلب کرتے ہیں جو خدا اور روز جزا پر ایمان نہیں رکھتے( إِنَّمَا یَسْتَاٴْذِنُکَ الَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِر ) ، ان کے عدم ایمان ہی پر زور دیتے ہوئے مزید کہا گیا ہے: وہ ایسے لوگ ہیں جن کے دل مضطرب اور تردد میں گرفتار ہیں( وَارْتَابَتْ قُلُوبُهُمْ ) ۔

لہٰذاوہ اس شک اور تردد کی بنا ء پر کبھی قدم آگے بڑھاتے ہیں اور کبھی پلٹ آتے ہیں اور ہمیشہ تحیر وسرگردانی میں رہتے ہیں اور اسی وجہ سے بہانے تراشنے اور پیغمبر سے اجازت حاصل کرنے کے منتظر رہتے ہیں( فَهُمْ فِی رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُون ) ۔

مندرجہ بالا صفات اگر چہ فعل مضارع کی صورت میں ذکر ہوئیں ہیں لیکن ان کا مقصد منافقین اور مومنین کی صفات وحالات بیان کرنا ہے اور اس میں ماضی ، حال اور مستقبل کا کوئی فرق نہیں ۔

بہرحال مومنین اپنے ایمان کے زیر سایہ عزم صمیم اور غیر متزلزل ارادہ رکھتے ہیں ، انہوں نے راستے کو روشنی میں دیکھا ہے، ان کا مقصد واضح اور ہدف متعین ہے ، اسی بنا پر وہ عزم راسخ کے ساتھ بلاتردد سیدھے قدموں سے آگے کی طرف جاتے ہیں اور منافقین کا ہدف چوں کہ تارک اور غیر مشخص ہے وہ ھیرت وسرگردانی میں گرفتار ہیں اور وہ ہمیشہ ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے سے فرار کے لئے بہانے تراشتے رہتے ۔

یہ دونوں نشانیاں صدر اسلام اور میدان تبوک کے مومنین اور منافقین سے مخصوس نہیں ہیں بلکہ آج بھی شچے مومنین کو جھوٹے دعویداروں کی انہیں دو صفات کو دیکھ کر پہچانا جاسکتا ہے، مومن شجاع اور مصمم ارادے والا ہوتا پے اور منافق بزدل، ڈر پوک، متحیر اور بہانہ تراش ہوتا ہے ۔


آیات ۴۶،۴۷،۴۸،

۴۶( وَلَوْ اٴَرَادُوا الْخُرُوجَ لَاٴَعَدُّوا لَهُ عُدَّةً وَلَکِنْ کَرِهَ اللهُ انْبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِیلَ اقْعُدُوا مَعَ الْقَاعِدِینَ )

۴۷( لَوْ خَرَجُوا فِیکُمْ مَا زَادُوکُمْ إِلاَّ خَبَالًا وَلَاٴَوْضَعُوا خِلَالَکُمْ یَبْغُونَکُمْ الْفِتْنَةَ وَفِیکُمْ سَمَّاعُونَ لَهُمْ وَاللهُ عَلِیمٌ بِالظَّالِمِینَ )

۴۸( لَقَدْ ابْتَغَوْا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَقَلَّبُوا لَکَ الْاٴُمُورَ حَتَّی جَاءَ الْحَقُّ وَظَهَرَ اٴَمْرُ اللهِ وَهُمْ کَارِهُونَ )

ترجمہ

۴۶ ۔ اگر وہ (سچ کہتے تھے اور ) چاہتے تھے (کہ میدان جہاد کی طرف) نکلیں تواس کے لئے وسیلہ فراہم کرتے لیکن خدا ان کے نکل پڑنے کو ناپسند کرتا تھا لہٰذا اپنی توفیق ان سے سلب کرلی اور انہیں (اس کام سے) روک لیا اور ان سے کہا گیا کہ قائدین (جو بچوں ، بوڑھوں اور بیماروں پر مشتمل ہیں ) کے ساتھ بیٹھیں رہو۔

۴۷ ۔ اگر تمہارے ساتھ (میدان جہاد کی طرف) نکل پڑتے تو اس طرح وہ شک و تردد کے سوا تمہارے لئے کسی چیز کا اضافہ نی کرتے اور بہت جلدی تمہارے درمیان فتنہ انگیزی کرتے (اور تفرقہ اورنفاق پیدا کرتے) اور تمہارے درمیان (سست اور کمزور) افراد ہیں جو ان کی بات کو زیادہ قبول کرنے والے ہیں اور خدا ظالموں سے باخبر ہے ۔

۴۸ ۔انہوں نے اس سے قبل بھی فتنہ انگیزی کے لئے اقدام کیا ہے اور تمہارے لئے کئی ایک کام دیگر گوں کئے ہیں (اور انہیں خراب کیا ہے) یہاں تک کہ حق آپہنچا اور خدا کا فرمان آشکار ہوا( اور تم کامیاب ہوگئے) جب کہ وہ اسے ناپسند کرتے تھے ۔

تفسیر

ان کا نہ ہونا ہونے سے بہتر تھا

گذشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا:( واللّٰه یعلم انهم لکٰذبون ) ۔اور اللہ جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں ۔

زیر نظر آیات میں اسی بحث کو جاری رکھتے ہوئے ان کے جھوٹ اور افتراء کی یک اور نشانی بیان کی گئی ہے ۔ فرمایا گیا ہے:یہ اگر سچ کہتے ہیں اور جہاد میں شرکت کے لئے تیار ہیں اور صرف تمہارے اذن کے منتظر ہیں تو انہیں چاہیے کہ جہاد کے تمام وسائل ہتھیار، سواری اور جو کچھ ان کی طاقت میں ہیں اسے فراہم کریں ، جب کہ ان میں تو ایسی کوئی آمادگی نظر نہیں آتی( وَلَوْ اٴَرَادُوا الْخُرُوجَ لَاٴَعَدُّوا لَهُ عُدَّةً ) ۔، یہ تارک دل اعر بے ایمان افراد ہیں کہ خدا جن کو جہاد کے پر افتخار میدان میں ناپسند کرتا ہے لہٰذا اس نے اپنی توفیق ان سے سلب کی ہے اور انہیں باہر نکلنے سے باز رکھا ہے( وَلَکِنْ کَرِهَ اللهُ انْبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ ) ۔(۱)

اس بارے میں یہ گفتگو کس طرف سے ہے خدا کی طرف سے یا پیغمبر کی طرف سے یا یہ خود ان کے اپنے نفس اور باطن کی آواز ہے، مفسرین میں اختلاف ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ ایک تکوینی حکم ہے جو ان کے تاریک اور گندے باطن سے اٹھا ہے اور ان کے فاسد عقیدے اور برے اعمال کا تقاضا ہے ۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ مقتضائے حال کو امر یا نہی کی صورت میں لایا جاتا ہے ۔ مندرجہ بالا آیت سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ ہر عمل اور نیت کا ایک اقتضاء ہے جو خوامخواہ انسان کو دامنگیر ہوتا ہے اور تمام لوگ اس کی اہلیت نہیں رکھتے کہ وہ بڑے کاموں اور راہ خدا میں قدم اٹھائیں ، یہ توفیق خدا ایسے نصیب کرتا ہے جن میں نیت کی پاکیزگی، آمادگی اور خلوص ہوتا ہے ۔

بعد والی آیت میں قرآن اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایسے لوگوں کا میدان جہاد میں شریک نہ ہوبا نہ صرف مقام افسوس نہیں بلکہ شاید خوشی کا مقام ہے کیوں کہ وہ نہ فقط یہ کہ کوئی مشکل دور نہیں کرتے بلکہ اس نفاق، بے ایمانی اور اخلاقی انحراف کی روح کی وجہ سے نئی مشکلات کا باعث ہوتے ہیں ۔

در اصل یہاں مسلمانوں کو ایک عظیم درس دیا گیا ہے کہ جب کبھی بھی بڑے لشکر اور زیادہ تعداد کی فکر میں نہ رہیں بلکہ اس فکر میں رہیں کہ مخلص اور با ایمان افراد کا انتخاب کیا جائے چاہے ان کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو۔ مسلمانوں کی لئے کل بھی یہی درس تھا، آج بھی یہی درس ہے اور آئندہ بھی یہی درس ہوگا ۔

پہلے فرمایا گیا ہے: اگر وہ تمہارے ساتھ (تبوک کے) روانہ ہوتے تو ان کا پہلا منحوس اثر یہ ہوتا کہ وہ اضطراب اور شک و تردد کے علاوہ تم میں کسی چیز کا اضافہ نی کرتے( لَوْ خَرَجُوا فِیکُمْ مَا زَادُوکُمْ إِلاَّ خَبَالًا ) ۔

”خبال“ کا معنی ہے ”اضطراب اور تردد“ اور ’خبل“ (بروزن”اجل“) جنون کے معنی میں ہے اور”خبل“ (بروزن”طبل“) اعضاء کے فاسد ہونے کے معنی میں ہے ۔ اس بنا پر اس فاسد باطن جو شک وتردد و بزدلی کی آماجگاہ ہے کے ساتھ اگر وہ میدان میں آجاتے تو سپاہ اسلام میں شکوک و شبہات پیدا کرنے اور فساد پھیلانے کے سوا اور کچھ نہ کرتے ۔ علاوہ ازیں وہ بڑی سرعت سے یہ کوشش کرتے ہیں کہ افراد لشکر میں نفوذ حاصل کریں ، نفاق وتفرقہ پیدا کریں اور اتحاد کے رشتوں کو کاٹ دیں( وَلَاٴَوْضَعُوا خِلَالَکُمْ یَبْغُونَکُمْ الْفِتْنَةَ ) ۔(۲)

اس کے بعد مسلمانوں کو خطرے سے متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ متوجہ رہیں کہ کمزور ایمان والاے افراد تمہارے درمیان موجود ہیں جو ان منافقوں کی باتوں سے جلد متاثر ہوجاتے ہیں( وَفِیکُمْ سَمَّاعُونَ لَهُمْ ) ”سماع “ اس شخص کو کہتے ہیں جس میں پذیرائی اور شنوائی کی حالت زیادہ ہو اورجو تحقیق اور غور وخوض کے بغیر ہر بات کا اعتبار کرلے لہٰذا قوی ایمان مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کمزور گروہ پر نظر رکھیں کہ کہیں وہ گرگ صفت منافقین کا لقمہ نہ بن جائیں ۔

یہ احتمال بھی ہے کہ”سماع“ جاسوس کے معنی میں ہو یعنی تمہارے درمیان کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو منافقین کے لئے جاسوسی کرتے ہیں ۔

آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے :”خدا ستم گروں کو پہچانتا ہے“ وہ جو علی الاعلان اور وہ جو چھپ کر اپنے اوپر یا معارے پر ظلم کرتے ہیں ، اس کی دید گاہ علم سے مخفی نہیں ہیں( وَاللهُ عَلِیمٌ بِالظَّالِمِینَ )

اگلی آیت میں پیغمبر اکرم کو متنبہ کیا گیا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ یہ منافقین سم پاشی اور تخریب کاری میں مشغول ہیں ، یہ پہلے بھی ایسی کاروائیوں کا ارتکاب کرتے رہے ہیں اور ابھی بھی اپنے مقصد کے لئے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں( لَقَدْ ابْتَغَوْا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ ) ۔

یہ جنگ احد کے ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے ۔ جس میں عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی راستے ہی سے پلٹ آئے تھے اور رسول اللہ کی مدد سے انہوں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تھا یا دیگر مواقع کی طرف اشارہ ہے کہ جن میں انہوں نے رسول اللہ کی ذات یا مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیں کہ جن کا ذکر تاریخ اسلام میں موجود ہے ۔

انہوں نے تمہارے بہت سے کام خراب کئے اور سازشیں کیں تاکہ مسلمانوں میں پھوٹ ڈال دیں اور انہیں جہاد سے باز رکھیں اور تمہارے ارد گرد کوئی باقی نہ رہے( وَقَلَّبُوا لَکَ الْاٴُمُورَ ) ، لیکن ان کی سازش اور کوشش کا کوئی اثر نہ ہوا اور ان سب کی سازشیں نقش بر آب ہوگئیں اور ان کا وار خالی گیا”آخر کارفتح حاصل ہوئی اور حق واضح ہوگیا“( حَتَّی جَاءَ الْحَقُّ وَظَهَرَ اٴَمْرُ اللهِ ) ، ” جب کہ وہ تمہاری پیشرفت اور کامیابی کو ناپسند کرتے تھے( وَهُمْ کَارِهُونَ ) ، لیکن پرورگار کے ارادہ اور مشیت کے مقابلے میں بندوں کی خواہش اور ارادہ کچھ بھی اثر نہیں رکھ سکتا، خدا چاہتا تھا کہ تمہیں کامیاب کرے اور تیرے دین کو ساری دنیا تک پہنچائے اور جتنی بھی رکاوٹیں ہوں انہیں راستے سے ہٹا دے، آخر اس نے یہ کام کردکھایا ۔

اہم بات یہ ہے کہ ہم جانیں کہ جو کچھ مندرجہ بالا آیات میں بیان کیا گیا ہے دوسرے مطالب کی طرح پیغمبر اکرم کے زمانے سے مخصوص نہیں ہے، ہرمعاشرے میں ہمیشہ منافقین کا ایک گروہ موجود ہوتا ہے جو کوشش کرتا ہے کہ حساس اور تاریخ ساز لمحات میں زہریلی باتوں کے ذریعے لوگوں کے افکار خراب کردے، وحدت کی روح کا خاتمہ کردے اور ان کے نظریات میں شکوک وشبہات پیدا کردے لیکن اگر معاشرہ بیدار ہو تو مسلم ہے کہ نصرت الٰہی سے ان کی تمام سازشیں اور منصوبہ بندیاں بے اثر ہوجائیں گی اور ان کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے، کیوں کہ اس نے اپنے دوستوں سے کامیابی کا وعدہ کر رکھا ہے، البتہ شرط یہ ہے کہ مسلمان مخلصانہ جہاد کریں اور ہوشیاری کے ساتھ ان کے داخلی دشمنوں پر نظر رکھیں ۔

____________________

۱۔” ثبطھم“”تثبیط“ کے مادہ سے ہے اور یہ انجام کار سے روکنے کے معنی میں ہے ۔

۲ ”اوضعوا“ ”ایضاع“ کے مادہ سے حرکت میں تیزی کے معنی میں ہے اور یہاں سپاہ اسلام میں نفوذ میں تیزی کے مفہوم میں ہے، نیز ”فتنہ“یہاں اختلاف اور تفرقہ کے معنی میں ہیں ۔


آیت ۴۹

۴۹( وَمِنْهُمْ مَنْ یَقُولُ ائْذَنْ لِی وَلَاتَفْتِنِّی اٴَلَافِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوا وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیطَةٌ بِالْکَافِرِینَ ) ۔

ترجمہ

۴۹ ۔ ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ ہمیں اجازت دو( تاکہ ہم جہاد میں شرکت نہ کریں ) اور ہمیں گناہ میں گرفتار نہ کرو آگاہ رہو کہ وہ (ابھی سے )گناہ میں گر چکے ہیں اور جہنم کفار پر محیط ہے ۔

شان نزول

کچھ مفسرین نے نقل کیا ہے کہ جب پیغمبر اسلام مسلمانوں کو جنگ تبوک کے لئے تیار کررہے تھے اور اس کے لئے جانے کی دعوت دے رہے تھے بنی سلمہ قبیلے کا ایک سردار جدّ بن قیس آپ کی خدمت میں آیا ۔یہ منافقین میں سے تھا ۔ اس نے عرض کی: اگر آپ اجازت دیں تو میں اس میدان جنگ میں حاضر نہ ہوں کیوں کہ مجھے عورتوں سے بہت پیار ہے مخصوصا اگر میری نظر رومی لڑکیوں پر جاپڑی تو ہوسکتا ہے میں دل ہار بیٹھوں اور ان پر عاشق ہوجاؤں اور میدان سے ہاتھ کھینچ لوں ۔

اس پر پیغمبر اکرم نے اسے اجازت دے دی ۔ اس موقع پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی جس میں اس شخص کے کردار کی مذمت کی گئی ہے ۔

پیغمبر اسلام نے بنی سلمہ کے ایک گروہ کی طرف رخ کرکے فرمایا : تمہارا سردار اور بڑا کون ہے؟

انہوں نے کہا: جد ّبن قیس، لیکن وہ بخیل اور ڈرپوک شخص ہے ۔

آپ نے فرمایا: بخل سے بڑھ کر کونسا درد ہے، پھر فرمایا-: تمہارا سردار وہ سفید رو جوان بشر بن براء ہے(جو کہ بہت سخی اور کشادہ روا انسان ہے) ۔

بہانہ تراش منافقین

مندرجہ بالا شان نزول نشاندہی کرتی ہے کہ انسان جب چاہے ذمہ داری کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتار پھینکے تو اپنے لئے کسی نہ کسی طرح بہانہ بنا ہی لیتا ہے، جیسے جدّ بن قیس منافق نے میدان جہاد میں شرکت نہ کرنے کا کیا عذر کھڑا کیا تھا اور وہ یہ ہوسکتا ہے کہ خوبصورت رومی لڑکیاں اس کا دل لوٹ لیں اور وہ جنگ نہ کرسکے اور ”اشکال شرعی“ میں گرفتار ہوجائے ۔

جد ّبن قیس جیسا ہی ایک جابر حکمران کے کارندے کا موقف ہے جو کہتا تھا کہ اگر ہم لوگوں پر سختی اور تشدد نہ کریں تو ہم جو تنخواہ لیتے ہیں وہ ”شرعا“ ہمارے لئے اشکال رکھے گی یعنی اس اشکال سے بچنے کے لئے ہمیں مخلوق خدا پر ظلم وستم کرنا چاہیے ۔

بہرحال قرآن یہاں روئے سخن پیغمبر اسلام کی طرف کئے ہوئے اس قسم کے رسوا اور ذلیل بہانہ جو لوگوں کے جواب میں کہتا ہے: ان میں بعض کہتے ہیں کہ ہمیں اجازت دے دیجئے کہ ہم میدان جہادمیں حاضر نہ ہوں اور ہمیں (خوبصورت رومی لڑکیوں کا فریفتہ کرکے) گرفتار گناہ نہ کیجئے( وَمِنْهُمْ مَنْ یَقُولُ ائْذَنْ لِی وَلَاتَفْتِنِّی ) ۔

آیت کی تفسیر اور شان نزول میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ جد بن قیس چاہتا تھا کہ یہ بہانہ کرکے کہ میری بیوی، بچے اور اموال کا کوئی سرپرست نہیں ، جہاد سے بچنا چاہتا تھا ۔ بہرحال قرآن ایسے لوگوں کے جواب میں کہتا ہے: آگاہ رہو کہ وہ ابھی سے فتنہ گناہ اور حکم خداکی مخالفت میں گھر چکے ہیں ، اور جہنم نے کافروں کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہے( اٴَلَافِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوا وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیطَةٌ بِالْکَافِرِینَ ) ، یعنی وہ بے ہودہ معذرتوں کی وجہ سے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بجائے اس کے کہ بعد میں آلودہ گناہ ہوں ، ابھی سے گناہ میں گھرے ہوئے ہیں اور جہنم ان پر محیط ہے، وہ جہاد کی طرف روانگی کے بارے میں خدا اور رسول کے صریح حکم کو پاؤں تلے روند رہے ہیں کہ شاید کہیں شبہ میں گرفتار نہ ہوجائیں ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ منافقوں کی ایک پہچان:

ہر معاشرے میں منافقین کی پہچان کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ان کے طرز استدلال اور عذربہانوں پر غور کیا جائے کہ وہ اپنی لازمی ذمہ داریوں کی انجام دہی کو ترک کرنے کے لئے پیش کرتے ہیں ، ان عذر بہانوں کی کیفیت ان کے باطن کو اچھی طرح واضح کردیتی ہے ، وہ زیادہ تر جزوی، ناچیز، حقیر اور کبھی مضحکہ خیز امور کا سہارا لیتے ہیں تاکہ وہ اہم اورکلی امور کو نظرانداز کردیں اور بزعم خود اہل ایمان کو غافل کرنے کے لئے ان کی سطحی فکر کا سہارا لیتے ہیں ، شرعی مسائل اور خدا اور رسول کے حکم کوبیچ میں کھینچ لاتے ہیں حالانکہ وہ گناہ میں غوطہ زن ہیں شمشیر بکف پیغمبر اکرم اور ان کے دین کے خلاف دوڑ پڑتے ہیں ۔

۲ ۔ ”( وان جهنم لمحیطة بالکٰفرین ) “ کا مفہوم:

اس جملے کی تفسیر کے بارے میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں ۔

بعض کہتے ہیں کہ جہنم کے اسباب وعوامل یعنی گناہوں نے ان کا احاطہ کررکھا ہے ۔

بعض کہتے ہیں کہ یہ آئندہ کے حتمی اور یقینی حوادث کے ذکر کی طرح ہے جنہیں ماضی یا حال کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے یعنی قطعی اور یقینی طور پر جہنم انہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گی ۔

البتہ یہ احتمال بھی ہے کہ اس جملے کی تفسیر اس کے حقیقی معنی کے ساتھ کی جائے اور ہم کہیں کہ اسی وقت جہنم موجود ہے، اس جہان کے باطن میں جہنم موجود ہے اور وہ جہنم میں گھرے ہوئے ہیں اگرچہ ابھی تک اسے تاثیر کا فرمان صادر نہیں ہوا جیسا کہ بہشت بھی اس وقت موجود ہے اور اس جہان کے باطن اور اس کے اندر سب پر محیط ہے، بہشتی چونکہ بہشت سے مناسبت رکھتے ہیں اس لئے اس سے مربوط ہیں اور دوزخی چونکہ دوزخ سے مناسبت رکھتے ہیں اس لئے ان کا دوزخ سے ربط ہوگا ۔(۱)

____________________

۱۔ اس بحث کی ایک مبسوط تشریح ہے ، اس کا مطالعہ آپ کتاب ”معاد وجہان پس از مرگ“ کے باب”بہشت و دوزخ “ میں کرسکتے ہیں ۔


آیات ۵۰،۵۱،۵۲

۵۰( إِنْ تُصِبْکَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِنْ تُصِبْکَ مُصِیبَةٌ یَقُو لُوا قَدْ اٴَخَذْنَا اٴَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَیَتَوَلَّوا وَهُمْ فَرِحُونَ ) ۔

۵۱( قُلْ لَنْ یُصِیبَنَا إِلاَّ مَا کَتَبَ اللهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا وَعَلَی اللهِ فَلْیَتَوَکَّلْ الْمُؤْمِنُونَ ) ۔

۵۲( قُلْ هَلْ تَتَربَّصُونَ بِنَا إِلاَّ إِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِکُمْ اٴَنْ یُصِیبَکُمْ اللهُ بِعَذَابٍ مِنْ عِنْدِهِ اٴَوْ بِاٴَیْدِینَا فَتَرَبَّصُوا إِنَّا مَعَکُمْ مُتَرَبِّصُونَ ) ۔

ترجمہ

۵۰ ۔اگر تجھے کوئی اچھائی پہنچے تو وہ نہیں بری لگتی ہے اور اگر تجھے کوئی مصیبت پہنچے تو کہتے ہیں ہم نے پہلے سے مصمم ارادہ کر رکھا ہے اور وہ خوش و خرم پلٹ جاتے ہیں ۔

۵۱ ۔کہہ دو :کوئی حادثہ ہمارا رخ نہیں کرتا مگر جو کچھ خدا نے ہمارے لے لکھ دیا ہے وہ ہمارا مولیٰ اور سرپرست ہے اور مومنین صرف خدا پر توکل کوتے ہیں ۔

۵۲ ۔کہہ دو: کیا ہمارے بارے میں دونیکیوں میں سے کسی ایک کے علاوہ تمہیں کوئی توقع ہیں (یا تو ہم تم پر کامیاب ہوجائےں گے یا جام شہادت نوش کرےں گے) لیکن ہم توقع رکھتے ہیں کہ خدا کی طرف سے تمہیں (اس جہان میں )یا ہمارے ہاتھ سے(اس جہان میں )عذاب پہنچے گا ،اب جب کہ معاملہ اےسا ہے تو تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں ۔

تفسیر

زیر نظر آیات میں منافین کی ایک صفت اور نشانی کی طرف اشارہ ہوا ہے اور وہ بحث جو گذشتہ اور آئندہ آیات میں منافقین کی نشانیوں کے سلسلہ میں آئی ہے یہ اسی کے ضمن میں ہے ۔

پہلے کہا گیا ہے:۔اگر تجھے کوئی اچھائی پہنچے تو وہ نا راحت ہو جاتے ہیں اور انہیں برا لگتا ہے( إِنْ تُصِبْکَ حَسَنَةٌ تَسُؤْھُمْ ) ۔

یہ ناراحتی اور دکھ ان کی باطنی عداوت اور ایمان کے فقران کی دلیل ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص تھوڑا سا ایمان بھی رکھتا ہو اور وہ پیغمبر خدا یا کسی عام صاحب ایمان شخص کی کامیابی پر رنجیدہ ہو۔

-”لیکن اگر اس مقابلے میں تجھے کوئی مصیبت پہنچے اور تم کسی مشکل میں مبتلا ہو جاؤ تو خوش ہو کر کہتے ہیں کہ ہم تو پہلے سے ایسے حالات کی پیش بینی کر رہے تھے اور ہم نے تو مصمم ارادہ کر رکھا تھا“ اورکو ہلاکت کے اس گڑھے سے بچا چکے تھے( وَإِنْ تُصِبْکَ مُصِیبَةٌ یَقُو لُوا قَدْ اٴَخَذْنَا اٴَمْرَنَا مِنْ قَبْل ) ،”اور جب وہ اپنے گھروں کو پلٹ جاتے ہیں تو تمہاری شکست“مصیبت یا پریشانی پرخوش ہوتے ہیں ( وَیَتَوَلَّوا وَھُمْ فَرِحُونَ) ۔

یہ دل کے اندھے منافقین ہر موقع سے فا ئدہ اٹھاتے ہیں اور اپنی عقل کے بارے میں لاف زنی کرتے ہیں کہ یہ ہماری دانشمندی تھی کہ ہم نے فلاں میدان میں شرکت نہ کی اور وہ مشکلات جو دوسروں کو عقل نہ ہونے جی وجہ سے دامن گیر ہوئی، ہم ان میں مبتلا نہیں ہوئے، ایسی باتیں کرتے ہیں کہ جامے میں پھولے نہیں سماتے، لیکن اے پیغمبر ! تم انہیں دو طرح سے جواب دو، ایسا جواب جو دندان شکن اور منطقی ہے ۔

پہلے ان سے کہو کہ ہمیں کوئی حادثہ پیش نہیں آتا مگر وہ کہ جو خدا نے ہمارے لئے مقرر کیا ہے، وہ خدا جو ہمارا مولا، سرپرست، حکیم اور مہربان ہے اور جو ہماری بھلائی کے کے سوا ہمارے لئے کچھ مقدر نہیں کرتا( قُلْ لَنْ یُصِیبَنَا إِلاَّ مَا کَتَبَ اللهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا ) ، جی ہاں ! اہل ایمان فقط خدا پر توکل رکھتے ہیں( وَعَلَی اللهِ فَلْیَتَوَکَّلْ الْمُؤْمِنُونَ ) ، اہل ایمان صرف اس کے عاشق ہیں ، اسی سے نصرت طلب کرتے ہیں ، اپنی پیشانی اسی کی چوکھٹ پر رکھتے ہیں اور ان کی پناہ گا اس کے علاوہ کوئی نہیں ۔

یہ بہت بڑا اشتباہ ہے کہ جس میں منافقین گرفتار ہیں ، وہ خیال کرتے ہیں وہ اپنی معمولی سی عقل اور ناتواں فکر سے تمام مشکلات اور حوادث کی پیش بینی کرلیتے ہیں اور خدا کے لطف ورحمت سے بے نیاز ہیں ، وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کی تمام ہستی حوادث کے کسی عظیم طوفان کے سامنے ایک تنکے کی مانند ہے یا کسی بیابان میں گرمیوں کی کسی جلادینے والی دوپہر میں پانی کے ایک قطرے کی طرح ہے، اگر لطف الٰہی شامل حال نہ ہو تو کمزور سا انسان کچھ نہیں کرسکتا ۔

”اور اے پیغمبر! تم انہیں جواب دو کہ تم ہمارے بارے میں کیا توقع رکھتے ہو سوائے اس کے کہ دو میں سے ایک سعادت ہمیں نصیب ہوجائے“ یا ہم دشمنوں کو تہس نہس کردیں گے، اور میدان جنگ سے کامیابی کے ساتھ پلٹ آئیں گے اور یا مارے جائیں گے اور عزت وافتخار سے جام شہادت نوش کریں گے ان دو صورتوں میں جو بھی پیش آئے ہمارے لئے افتخار ہے اور ہماری آنکھوں کی روشنی ہے( قُلْ هَلْ تَتَربَّصُونَ بِنَا إِلاَّ إِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِ ) ، لیکن اس کے برعکس ہم تمہارے بارے میں دو میں سے ایک سیاہ دن اور بدبختی کی توقع رکھتے ہیں یا اس جہان میں تم عذاب الٰہی میں مبتلا ہوں گے اور یا ہمارے ہاتھوں تم ذلیل ونابود ہوں گے( وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِکُمْ اٴَنْ یُصِیبَکُمْ اللهُ بِعَذَابٍ مِنْ عِنْدِهِ اٴَوْ بِاٴَیْدِینَا ) ۔

”جب معاملہ اس طرح ہے تو تم بھی منتظر رہو اور ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں “ تم ہماری خوش بختی اور سعادت کا انتظار کرو اور ہم تمہاری بد بختی کے انتظار میں ہیں( فَتَرَبَّصُوا إِنَّا مَعَکُمْ مُتَرَبِّصُونَ ) ۔

چند قابل توجہ نکات

۱ ۔ تقدیر اور ہماری کاوشیں :

اس میں شک نہیں ہماری سرنوشت جس قدر ہمارے کام ، کوشش اور جستجو سے مربوط ہیں وہ تو خود ہمارے ہاتھ میں ہیں ، قرآنی آیات بھی صراحت سے یہ بات بیان کررہی ہیں ۔مثلا( وان لیس للانسان الا ما سعی ) ٰ۔

انسان کے حصے میں اس کی کوشش اور سعی کے سوا کچھ نہیں ۔ ( نجم۔ ۳۹)

اسی طرح یہ بھی ہے:( کل نفس بما کسبت رهینة ) ۔

ہر شخص اپنے اعمال کا گروی ہے ۔ (مدثر۔ ۳۸)

اسی طرح دیگر آیات بھی ہیں (اگر چہ سعی و کوشش کی تاثیر بھی سنن الٰہی کے مطابق اور اس کے فرمان کے تحت ہی ہے) ۔

لیکن ہماری کدوکاوش سے ماورا اور ہماری قدرت سے جو کچھ متجاوز ہے اس میں صرف دست قدرت کافرما ہے اور جو کچھ قانون علت کے تقاضے کے مطابق مقدار ہوا اور انجام پذیر ہوکے رہے گا اور یہ سب کچھ پروردگار کی مشیت، علم اور حکمت کے مطابق انجام پاتا ہے ۔

البتہ صاحب ایمان اور خدا پرست افراد کہ جو اس کے علم وحکمت اور لطف ورحمت پر ایمان رکھتے ہیں ان تمام مقدرات کو ”نظام احسن“ اور بندوں کی مصلحت کے مطابق سمجھتے ہیں ہر شخس اپنی حاصل کردہ اہلیت اور صلاحیتوں کے مطابق مقدر رکھتا ہے ۔

ایک منافق، ڈرپوک، سست مزاج اور منتشر جمعیت کو فنا ہی ہونا ہے اور یہ اس کی حتمی سرنوشت ہے لیکن ایک صاحب ایمان، آگاہ متحد اور عزم صمیم رکھنے والی جمعیت کی سرنوشت کامیابی کے سوا کچھی نہیں ۔

جو کچھ کہا گیا ہے اس واضح ہوجاتا ہے کہ مندرجہ بالا آیات نہ ارادہ اختیار کی آزادی کے منافی ہے اور نہ ہی انسانوں کی جبری سرنوشت اور ان کی کاوشوں کے بے اثر ہونے پر دلیل ہیں ۔

۲ ۔ مومنین کی لغت میں ”شکست“ کا لفظ نہیں :

زیر بحث آخری آیت میں ایک عجیب پختہ اور محکم منطق بیان کی گئی ہے، اسی منطق میں مسلمانوں کی تمام کامیابیوں کا حقیقی راز پنہاں ہے اور اگر پیغمبر اسلام اس کے علاوہ کوئی تعلیم اور حکم نہ بھی رکھتے ہوتے تو یہی ان کے پیروکاروں کی کامیابی کی ضمانت کے لئے کافی تھا، آپ شکست اور ناکامی کا مفہوم ان کے صفحہ روح سے مٹا دیا تھا اور ان پر ثابت کیا تھا کہ تم ہر حالت میں کامیاب ہو، تم مارے جاؤ تو کامیاب ہو اور دشمن کو قتل کردو تب بھی کامیاب ہو، تمہارے سامنے دو راستے ہیں کہ جس راستے پر بھی جاؤ منزل مقصود تک پہنچ جاؤ گے، کجی،الجھنیں اور گرنے کی جگہ تمہارے راستے میں نہیں ، تمہارا ایک راستہ شہادت کی طرف جاتا ہے کہ جو ایک صاحب ایمان انسان کا اوج افتخار ، آخری معراج اور بالا ترین نعمت ہے اس سے بڑھ کر افتخار اور نعمت کا انسان کے لئے تصور ہی نہیں کیا جاسکتا، جو خدا کے ساتھ جان کا سودا کرے اور اس کے بدلے ایک ایسی جاودانی حیات حاصل کرے جو جوار الٰہی میں ناقابل توصیف نعمات سے مالامال ہو۔

دوسرا راستہ دشمن پر کامیابی ہے، اس کی شیطانی طاقت کو درہم برہم کرنا ہے اور انسانی ماحول کو ظالموں ، ستم گروں اور بدکاروں کے شر سے پاک وصاف کرنا ہے اور یہ بھی ایک عظیم فیض اور مسلم افتخار ہے ۔

وہ سپاہی جو اس جذبے سے میدان جنگ میں آتا ہے کبھی فرار اور دشمن کو ہشت دکھانے کی نہیں سوچتا، ایسا سپاہی کسی شخص اور کسی چیز سے نہیں ڈرتا ، خوف ووحشت، اضطراب اورشک وتردد اس کے وجود میں راہ نہیں پاتا ۔ جو لشکر ایسے سپاہیوں پر مشتمل ہوتے ہیں وہ ماقابل شکست ہوتا ہے ۔ ایسا جذبہ صرف تعلیمات اسلامی سے پیدا کیا جاسکتا ہے اور اج بھی اگر صحیح تعلیم وتربیت سے یہ منطق دوبارہ مسلمانوں میں اتاردی جائے تو تمام پسماندگیوں اور شکستوں کی تلافی ہوسکتی ہے ۔

وہ لوگ جو پہلے مسلمانوں کی پیش رفت اور آج کے مسلمانون ی پسماندگی کے علل واسباب کا مطالعہ اور تحقیق کرتے ہیں اور اسے ایک عجیب معمّا سمجھتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ آئیں اور مندرجہ بالا آیت پر تھوڑی سی غوروفکر کریں ، انہیں اس آیت سے واضح جواب مل جائے گا ۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں جب منافقین کی دو شکستوں کے متعلق گفتگو کی گئی ہے تو اس کی الگ الگ تفصیل بیان کی گئی ہے لیکن جب مومنین کی دو کامیابیوں کا ذکر کیا گیا ہے انہیں سربستہ چھوڑ کر گفتگو آگے بڑھا دی گئی ہے گویا یہ دو کامیابیاں ایسی روشن، واضح اور آشکار ہیں کہ جن کی تشریح کی بالکل ضرورت نہیں اور یہ بلاغت کا ایک خوبصورت اور لطیف نکتہ ہے جو مندرجہ بالا آیت میں استعمال کیا گیا ہے ۔

۳ ۔ منافقین کی دائمی صفات:

ہم دوبارہ اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ ان آیات کوتاریخی حوالے سے دیکھنے ساتھ ساتھ ہمیں جاننا چاہیے یہ ہمارے لئے گذشتہ اور آئندہ دور کے لئے ایک درس ہے ۔

عموما کوئی بھی معاشرہ چھوٹے یا بڑے منافقین کے ایک گروہ سے خالی نہیں ہوتا اور ان کی صفات تقریبا ایک جیسی ہوتی ہے اور وہ ایک ہی طرز کے ہوتے ہیں ، یہ لوگ نادان اور بے وقوف ہوتے ہیں اور اس کے باوجود خوپرست اور متکبر ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو بڑا عقلمند اور سمجھدار سمجھتے ہیں ، انہیں ہمیشہ لوگوں کے راحت و آرام میں رنج ہوتا ہے اور وہ ان کی پریشانیوں پر خوشحال اور خندہ زن ہوتے ہیں ، یہ لوگ ہمیشہ فضول خیالات اور شک وتردد میں کھوئے رہتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ ویک قدم آگے بڑھ جاتے ہیں اور ایک پیچھے پٹ جاتے ہیں ، ام کے مقابلے میں سچے مومنین ہیں جو لوگوں کی خوشی میں خوش ہوتے ہیں اوران کے غم میں شریک ہوتے ہیں وہ کبھی اپنے علم اورفہم و فراست پر ناز نہیں کرتے اور کبھی اپنے آپ کو لطف الٰہی سے بے نیاز نہیں سمجھتے، وہ عشق خدا سے لبریز رہتے ہیں اور اس راہ میں کسی حادثے اور مشکل نہیں ڈرتے ۔


آیات ۵۳،۵۴،۵۵

۵۳( قُلْ اٴَنفِقُوا طَوْعًا اٴَوْ کَرْهًا لَنْ یُتَقَبَّلَ مِنْکُمْ إِنَّکُمْ کُنتُمْ قَوْمًا فَاسِقِینَ ) ۔

۵۴( وَمَا مَنَعَهُمْ اٴَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَاتُهُمْ إِلاَّ اٴَنَّهُمْ کَفَرُوا بِاللهِ وَبِرَسُولِهِ وَلَایَاٴْتُونَ الصَّلَاةَ إِلاَّ وَهُمْ کُسَالَی وَلَایُنفِقُونَ إِلاَّ وَهُمْ کَارِهُونَ ) ۔

۵۵( فَلَاتُعْجِبْکَ اٴَمْوَالُهُمْ وَلَااٴَوْلَادُهُمْ إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَتَزْهَقَ اٴَنفُسُهُمْ وَهُمْ کَافِرُونَ ) ۔

ترجمہ

۵۳ ۔کہہ دو کہ تم چاہے میلان اور رغبت سے خرچ کرو چاہے جبرواکراہ سے، تم سے ہرگز قابل قبول کیوں کہ تم فاسق ہو ۔

۵۴ ۔ان کے انفاق اورخرچ کرنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنی مگر یہ کہ وہ خدا اور اس کے پیغمبرکے منکر تھے،نماز نہیں بجالاتے تھے مگر کسالت اور سستی کے ساتھ اور انفاق نہیں کرتے مگر کراہت کے ساتھ۔

۵۵ ۔اور ان کے مال واولاد( کی کثرت )تجھے تعجب میں نہ ڈالے، خدا چاپتا ہے کہ انہیں اس کے ذریعے دنیا کی زندگی میں عذاب کرے اور وہ حالت کفر میں مرجائیں ۔

تفسیر

یہ آیات منافقین کی کچھ اور نشانیوں اور ان کے کام کے انجام کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور انہیں واضح کرتی ہے کہ کس طرح سے ان کے اعمال بے روح اور بے اثر ہیں اور ان سے انہیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا، نیز نیک اعما ل میں سے چونکہ راہ خدا میں خرچ کرنا (یعنی زکٰوة کی ادائیگی اپنے وسیع معنی کے لحاظ سے )اور نماز کا قیام (خالق ومخلوق کے درمیان رشتے کی حیثیت سے )خاص مقام رکھتے ہیں لہٰذا خصوصیت کے ساتھ ان دو حصوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔

پہلے فرمایا گیا ہے: اے پیغمبر! انہیں کہہ دو چاہے ارادہ و اختیار سے راہ خدا میں خرچ کرو اور چاہے کراہت و مجبوری اور شخصی واجتماعی رکھ رکھاؤ کی وجہ سے تم منافقین سے کسی حالت میں کچھ قبول نہیں کیا جائے گا( قُلْ اٴَنفِقُوا طَوْعًا اٴَوْ کَرْهًا لَنْ یُتَقَبَّلَ مِنْکُمْ ) ۔(۱)

واضح ہے کہ ” فسق“ یہاں کوئی عام اور معمولی گناہ نہیں ہے کیوں کہ ہوسکتا ہے کہ انسان کسی گناہ کا مرتکب لیکن اس کے باوجود ایک نیک عمل بھی انجام دے دے بلکہ یہاں مراد اس سے کفر یا نفاق ہے یا ان کے نفاق کاریاکاری سے آلودہ ہونا ہے ۔

اس میں بھی مانع نہیں مندرجہ بالا جملے میں ”فسق“ اپنے وسیع مفہوم کے لحاظ سے دونوں معانی میں ہو جیسا کہ بعد والی آیت بھی اس حصے کی وضاحت کرے گی ۔

اگلی آیت میں ان کے خرچ کئے ہوئے مال کے قابل قبول نہ ہونے کہ دوبارہ وضاحت کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان کے انفاق اور مخارج کے قبول ہونے میں اس کے سوا کوئی امر مانع نہیں کہ وہ خدا اور اس کے پیغمبر کے منکر اور کافر ہیں اور ہر وہ کام جس میں خدا پر ایمان اورتوحید پریقین شامل نہ ہو بارگاہ خداوندی میں قابل قبول نہیں ہے( وَمَا مَنَعَهُمْ اٴَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَاتُهُمْ إِلاَّ اٴَنَّهُمْ کَفَرُوا بِاللهِ وَبِرَسُولِه ) ۔

قرآن نے بارہا اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اعمال صالح کے قبول ہونے شرط ایمان ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی عمل ایمان کی بنا پر سرزد ہو اور ایک مدت کے بعد عمل کرنے والا شخص کفر کی راہ اختیار کرلے تو اس کا عمل حبط، نابود اور بے اثر ہوجائے گا(اس سلسلے میں ہم تفسیر نمونہ جلد ۲ میں تفصیلی بحث کرچکیں ہیں ) (دیکھئے صفحہ ۶۶ اردو ترجمہ) ۔

ان کے انفاق اور مالی اخراجات قبول نہ ہونے کا تذکرہ کرنے کے بعد ان کی عبادات کی کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ نماز بجانہیں لاتے مگر کسالت وناراحتی کے ساتھ اور بوجھ سمجھتے ہوئے( وَلَایَاٴْتُونَ الصَّلَاةَ إِلاَّ وَهُمْ کُسَالَی ) ، جیسا کہ وہ خرچ بھی بس کراہت ومجبوری کے عالم میں کرتے ہیں( وَلَایُنفِقُونَ إِلاَّ وَهُمْ کَارِهُونَ ) ۔

درحقیقت دووجوہ کی بنیاد پر ان کے خرچ شدہ اموال قابل قبول نہیں ہوئے، ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ حالت کفر اور عدم ایمان میں سرزد ہوئے ہیں اور دوسری وجہ ی ہے کراہت اور مجبوری کے عالم میں خرچ کئے گئے ہیں ، اسی طرح ان کی نماز بھی دو وجوہ سے قبول نہیں ہوئی ایک کفر کی وجہ سے اور دوسرا کسالت اور ناپسندیدگی کی حالت میں ادئیگی کے سبب۔

مندرجہ بالا جملوں میں منافقین کی کیفیت ان کے بے ثمر اعمال کے لحاظ سے بیان کی گئی ہے اس کے باوجود ان میں ان کی ایک اور نشانی بھی بیان کی گئی ہے اور وہ یہ کہ حقیقی مومنین کو عبادت میں ان کی خوشی اور نشاط کے سبب اور نیک اعمال سے ان کی رغبت اور خلوص کی بنا پر وہ سرد مہری، بے رغبتی، ناراحتی اور کراہت سے کار خیر انجام دینے کے لئے قدم اٹھاتے ہیں گویا کوئی شخص جبرا ان کا ہاتھ پکڑے انہیں کار خیر کی طرف لیے جارہا ہو۔

واضح ہے کہ پہلے گروہ کے اعمال چونکہ عشق الٰہی کی بنا پر سرزد ہوتے ہیں اور ان میں دلسوزی ہوتی ہے لہٰذا ان اعمال کے آداب و قواعد کا خیا رکھا جاتا ہے لیکن دوسرے گروہ کے اعمال میں چونکہ کراہت، ناپسندیدگی اور بے رغبتی ہوتی ہے لہٰذا وہ ناقص، ٹوٹے پھوٹے اور بے روح ہوتے ہیں ، لہٰذا ان کے اسباب وعلل کا اختلاف ان کی مختلف شکلیں صورتیں اختیار کرنے کا سبب بنتا ہے ۔

آخری آیت میں روئے سخن پےغمبر کی طرف کرتے ہوئے فرمیا گیا ہے:”ان کے مال و اولاد کی کثرت تجھے تعجب میں نہ ڈال دے“ اور تم یہ نہ سوچنے لگ جاؤ کہ اس کے باوجودکہ وہ منافق ہیں انہیں یہ سب نعمات الٰہی کیونکر میسر ہیں( فَلَاتُعْجِبْکَ اٴَمْوَالُهُمْ وَلَااٴَوْلَادُهُمْ ) کیونکہ یہ چیزےں ظاہرا تو ان کے لے نعمات ہیں لیکن حقےقت میں خدا چاہتاہے کہ اس طرح انہیں دنیاوی زندگی میں معذب کرے اور ان چیزوں سے بے انتہادل بستگی کی وجہ سے وہ کفر اور بے ایمانی کی حالت میں مرجائیں( إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَتَزْهَقَ اٴَنفُسُهُمْ وَهُمْ کَافِرُونَ ) ۔

در حقیقت وہ ان اموال واولاد (اقتصادی اور افرادی قوت) کے ذریعے دو راستوں سے معذّب ہوں گے، پہلا تو یہ کہ عام طور پر ایسے افرد کی اولاد غیر صالح ہوتی ہے اورمال بے برکت ہوتا ہے جوکہ دنیاوی زندگی میں ان کے لئے رنج والم کا باعث بنتے ہیں ، کیا یہ بات باعث رنج الم نہیں کہ شب وروز ایسی اولاد کے لئے کوشش کی جائے جو ننگ و عار اور پریشانی کا باعث ہے اور ایسے مال کی حفاظت میں جان جوکھوں میں ڈالی جائے جو گناہ کے راستے سے کمایا ہے، دوسری طرف یہ لوگ چونکہ ان اموال اور اولاد سے لگاؤ رکھتے ہیں اور آخرت کی پر نعمت اور وسیع دنیا اور موت کے بعد کی زندگی پر ایمان نہیں رکھتے لہٰذا اس سب مال متال سے آنکھیں بند کرلینا ان کے لئے مشکل ہے یہاں تک کہ انہیں چیزوں پر ایمان رکھ کر کفر کے ساتھ دنیا سے چلے جاتے ہیں اور سخت ترین حالت میں جان دیتے ہیں ۔

مال و اولاد اگرپاک اور صالح ہوں تو نعمت ہے اور رفاہ وآسائش کا سبب ہے اور اگر ناپاک اور غیر صالح ہو تو رنج وتکلیف اور عذاب الیم ہیں ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ کیا منافقین خوشی سے خرچ کرتے ہیں :

بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ پہلی آیت کے شروع یہ کیسے کہہ دیا گیا ہے کہ چاہے اختیار سے خرچ کرو چاہے مجبوری سے، تم سے قبول نہیں ہوگا جب کہ دوسری آیت کے آخر میں تصریح کی گئی ہے کہ وہ صرف کراہت اور مجبوری کے عالم ہی میں خرچ کرتے ہیں ، کیا یہ دونوں آیتیں ایک دوسرے کے منافی ہیں ؟

ایک مطلب کی طرف متوجہ ہوا جائے تو اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے اور وہ یہ کہ پہلی آیت کی ابتدا درحقیقت ایک ”قضیہ شرطیہ “ کی صورت میں ہے یعنی اگریا اکراہ کی صورت میں خرچ کرو، جس صورت میں بھی ہو قابل قبول نہیں ہوگا اور ہم جانتے ہیں کہ قضیہ شرطیہ وجود شرط کی دلیل نہیں ہے یعنی فرض کریں کہ وہ میل ورغبت اور اختیار وارادہ سے بھی خرچ کریں تو بھی اس کا کوئی فائدہ نہیں چونکہ وہ ایمان نہیں رکھتے ۔

لیکن دوسری آیت میں ”قضیہ خارجیہ“ کو بیان کیا جارہا ہے اور وہ یہ کہ یہ لوگ ہمیشہ اکراہ اور ناپسندیدگی ہی سے خرچ کرتے ہیں (غور کیجئے گا) ۔

۲ ۔ صرف نماز روزہ کافی نہیں :

دوسرا درس جو مندرجہ بالا آیات سے حاصل کیا جاسکتا ہے یہ ہے کہ صرف لوگوں کی نماز، روزہ اور زکٰواة پر فریفتہ نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ منافقین نماز بھی پڑھتے ہیں اور ظاہرا راہ خدا میں خرچ بھی کرتے ہیں بلکہ منافقوں کی نمازوں اور سخاوتوں کو سچے مومنین کے پاک اور مصلحانہ اعمال الگ پہچاننا چاہیے اور اتفاق کی بات ہے کہ غور کرنے اور تحقیق وجستجو سے ظاہرعمل سے بھی عموما پہچان ہوجاتی ہے ۔

حدیث میں ہے :

لا تنظروا الی رکوع الرجل وسجوده فان ذالک شیء اعتاده ولوترکه استوحش ولیکن انظروا الی صدق حدیثه واداء امانته ۔

کسی کے لمبے لمبے رکوع اور سجدوں کو نہ دیکھو کیوں کہ ہوسکتا ہے یہ عادتی عبادت ہو جسے چھوڑنے سے اسے پریشانی ہوتی ہے بلکہ اس کی راست گوئی اور امانت کی ادائیگی پر نظر رکھو کیوں کہ سچائی ، راستی اور امانت کا سرچشمہ ایمان ہے جبکہ عادتی رکوع وسجود کفر ونفاق کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے ۔

اس کے بعد اس کی دلیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: کیوں کہ تم فاسق گروہ ہو ( إِنَّکُمْ کُنتُمْ قَوْمًا فَاسِقِینَ)، تمہاری نیتیں غلط، تمہارے اعمال ناپاک اور تمہارے دل تاریک ہیں اور خدا صرف اس عمل کو قبول کرتا ہے جو پاک وپاکیزہ ہو اور جسے ایک پاکیزہ شخص تقویٰ وپرہیزگاری کے ساتھ انجام دے ۔

____________________

۱۔ ”انفقوا“ اگرچہ صیغہ امر کی شکل میں ہے لیکن مفہوم شرط رکھتا ہے یعنی اگرتم خرچ کرو چاہے اختیار سے یا مجبوری سے تم سے قابل قبول نہیں ہوگا ۔


آیات ۵۶،۵۷

۵۶( وَیَحْلِفُونَ بِاللهِ إِنَّهُمْ لَمِنْکُمْ وَمَا هُمْ مِنْکُمْ وَلَکِنَّهُمْ قَوْمٌ یَفْرَقُونَ ) ۔

۵۷( لَوْ یَجِدُونَ مَلْجَاٴً اٴَوْ مَغَارَاتٍ اٴَوْ مُدَّخَلًا لَوَلَّوْا إِلَیْهِ وَهُمْ یَجْمَحُونَ ) ۔

ترجمہ

۵۶ ۔وہ خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں اور وہ لوگ ہے جو ڈرتے ہیں (اور وحشت زدہ ہیں لہٰذا وہ جھوٹ بولتے ہیں ) ۔

۵۷ ۔اگر انہیں کوئی پانہ گاہ یا غاریں یا کوئی زیر زمین راستہ مل جائے تو وہ اس کی طرف چل پڑلیں حالانکہ وہ تیزی میں بھاگ کھڑے ہوں گے ۔

منافقین کی ایک اور نشانی

مندرجہ بالاآیات میں منافقین کے اعمال اور حاالت کے بارے میں ایک اور نشانی بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے :وہ خدا کی قسم کھاتے ہیں وہ تم میں سے ہیں

( وَیَحْلِفُونَ بِاللهِ إِنَّهُمْ لَمِنْکُمْ ) ، ”حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں اور نا ہی کسی چیز میں تمہارے مواقف ہیں بلکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو بے حد ڈرپوک ہیں “ اور شدت خوف ہی کے باعث اپنے کفر کو چھپاتے ہیں اور ایمان کا اظہار کرتے ہیں کہ کہیں گرفتارِ بلا نہ ہوجائیں( وَمَا هُمْ مِنْکُمْ وَلَکِنَّهُمْ قَوْمٌ یَفْرَقُونَ ) ۔

”یفرقون“ مادہ ”فرق“ (بروزن” شفق“)سے ہے اور اس کا معنی ہے شدت خوف وہراس ، راغب نے ”مفردات“ میں کہا ہے کہ یہ مادہ اصل میں تفرقہ، جدائی اور پراگندگی کے معنی میں ہے، گویا اس طرح ڈرتے ہیں کہ چاہتے ہیں کہ ان کا دل متفرق اور ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے ۔

درحقیقت باطن میں چونکہ ان کا کوئی سہارا نہیں لہٰذا ہمیشہ کے لئے خوف وہراس اور شدید وحشت میں گرفتار ہیں اور اسی خوف ووحشت کی وجہ سے جو کچھ ان کے باطن میں ہے اس کا کبھی اظہار نہیں کرپاتے اور چونکہ خدا سے نہیں ڈرتے اس لئے ہر چیز سے ڈرتے ہیں اور ہمیشہ وحشت زدہ رہتے ہیں جب کہ سچے اور حقیقی مومن ایمان کے سائے میں سکون واطمینان اور ایک خاص شہامت وجرات سے رہتے ہیں ۔

بعد والی آیت میں مومنین سے ان کے شدید بغض، عداوت اور نفرت کو مختصر سی عبارت میں لیکن رسا اور واضح انداز میں بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ ایسے ہیں کہ اگر کوئی پناہ گاہ (مثلاً مستحکم قلعہ) انہیں مل جائے یا پہاڑوں کی غاروں تک جاسکتے ہوں یا انہیں زیر زمین کوئی راستہ مل جائے تو جتنا جلدی ہوسکے اس کی طرف کھڑے ہوں تاکہ وہ تم سے دور ہوکر اپنے کینہ اور عداوت کو ظاہر کرسکیں( لَوْ یَجِدُونَ مَلْجَاٴً اٴَوْ مَغَارَاتٍ اٴَوْ مُدَّخَلًا لَوَلَّوْا إِلَیْهِ وَهُمْ یَجْمَحُونَ ) ۔

”ملجاء“ کا معنی ہے ”پناہ گاہ“ مثلا کوئی مستحکم قلعہ یا اس قسم کی کوئی جگہ۔

”مغارات“ جمع ہے ”مغارہ“ کی جس کا معنی ہے ”غار“ ۔

”مدخل“ کا معنی ہے پوشیدہ اور چھپے ہوئے راستے، مثلا وہ نقب جو زیر زمین لگاتے ہیں اور اس کے کسی جگہ میں داخل ہوجاتے ہیں ۔

”یجمحون“ “جماح“کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے تیزی اور شدت کے ساتھ چلنا کہ جیسے کوئی چیز روک نہ سکے، مثلا سرکش اور موہ زور گھوڑے کا دوڑنا کہ جسے روجا نہ جاسکتا ہو، اسی اسے گھوڑے کو ”جموح“ کہتے ہیں ۔

بہرحال یہ ایک واضح ترین اور نہایت عمدہ تعبیر ہے جو قرآن منافقین کے خوف ووحشت کے بارے میں یا ان کے بغض ونفرت کے سلسلے میں بیان کرتا ہے کہ اگر انہیں پہاڑوں یا زمین پر کوئی راہ فرار مل جائے تو خوف یا دشمنی کی وجہ سے تم سے دور ہوجائیں لیکن چونکہ ان کی قوم وقبیلہ اور مال وثروت تمہارے علاقے میں ہے لہٰذا مجبور ہیں کہ خون جگر پی کر تم میں رہ جائیں ۔


آیات ۵۸،۵۹

۵۸( وَمِنْهُمْ مَنْ یَلْمِزُکَ فِی الصَّدَقَاتِ فَإِنْ اٴُعْطُوا مِنْهَا رَضُوا وَإِنْ لَمْ یُعْطَوْا مِنْهَا إِذَا هُمْ یَسْخَطُونَ ) ۔

۵۹( وَلَوْ اٴَنَّهُمْ رَضُوا مَا آتَاهُمْ اللهُ وَرَسُولُهُ وَقَالُوا حَسْبُنَا اللهُ سَیُؤْتِینَا اللهُ مِنْ فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّا إِلَی اللهِ رَاغِبُونَ ) ۔

ترجمہ

۵۸ ۔ان میں ایسے لوگ ہیں جو غنائم (کی تقسیم)کے بارے میں تم پر اعتراض کرتے ہیں اگر ان میں سے انہیں دے دیں تو راضی ہوجاتے ہیں اور اگر نہ دیں تو ناراض ہوجاتے ہیں (چاہے ان کا حق ہو یا نہ ہو) ۔

۵۹ ۔لیکن اگر وہ اس پر راضی ہوں کہ جو خدا اور اس کا رسول انہیں دیتا ہے اور کہیں کہ خدا ہمارے لئے کافی ہے اور عنقریب خدا اور اس کا رسول اپنے فضل میں سے ہمیں بخشے گا اور ہم صرف اس کی رضا چاہتے ہیں اگر ایسے کریں تو ان کے فائدے میں ہے ۔

شان نزول

تفسیر در منثور صحیح بخاری ، نسائی اور بعض دیگر محدثین سے نقل کیا گیا ہے کہ پیغمبر اکرم کچھ غنائم( یا ان جیسے) اموال کی تقسیم میں مشغول تھے کہ قبیلہ بنی تمیم میں سے ایک شخص ”ذوالخویصرہ “ آپہنچا اور بلند آواز سے پکار کر کہنے لگا : یا رسول اللہ عدل وانصاف سے کام لیں ۔

رسول اللہ نے فرمایا : وائے ہو تجھ پر، اگر میں عدالت نہ کروں تو پھر کون عدالت کرے گا ۔

عمر نے چیخ کر کہا: یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں ۔

رسول اللہ نے فرمایا : اسے اس کی حالت پر چھوڑ دو، اس کے ایسے ساتھی ہیں کہ تم اپنی نماز روزہ ان کے مقابلے میں ناچیز سمجھو گے لیکن اس کے باوجود وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے کہ جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے ۔

اس موقع پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور اس قسم کے افراد کو نصیحت کی گئی ۔

بے منطق خود غرض افراد

مندرجہ بالا پہلی آیت میں منافقین کی ایک اور حالت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ وہ ہرگز اپنے حق پر راضی نہیں ہوتے اور ہمیشہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ بیت المال سے اور عمومی منافع سے جتنا ہوسکے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں ، چاہئے مستحق ہوں یا نہ ہوں ، ان کی دوستی اور دشمنی اسی مہر کے ارد گرد گھومتی ہے، جو شخص ان کی جیب بھر دے اس پر راضی ہیں اورجو شخص دعدالت کو ملحوظ رکھتے ہوئے انہیں دوسرے کا حق نہ دے تو اس سے ناراض ہوجاتے ہیں ، حق وعدالت کا ان کی لغت میں کوئی مفہوم نہیں ہے اور اگر کوئی مفہوم ہے تو ان کی نظر میں عادل وہ شخص ہے جو انہیں زیادہ سے زیادہ دے اور ظالم ان کی نظرمیں وہ شخص ہے جو دوسروں کا حق ان سے لے لے، دوسرے لفظوں میں ان میں ہر طرح کے اجتماعی شعور کا فقدان ہے اور وہ صرف انفرادی حوالے سے سوچتے ہیں اور صرف اپنی ہی مفادات پیش نظر رکھتے ہیں اور وہ تمام چیزوں کو صرف زاوےے سے دیکھتے ہیں ، لہٰذا فرمایا گیاہے:” ان میں سے بعض صدقات کی تقسیم کے معاملے میں تم پر عیب لگاتے اور اعتراض کرتے ہیں “ اور کہتے ہیں کہ آپ نے عدالت کو ملحوظ نظر سے نہیں رکھا( وَمِنْهُمْ مَنْ یَلْمِزُکَ فِی الصَّدَقَاتِ ) ، لیکن حقیقت میں اس طرح ہے کہ وہ اپنے مفادات پر نظر رکھتے ہیں ”اگر انہیں کچھ حصہ دے دیا جائے تو راضی اور خوش ہیں “ اور تمہیں عدالت کرنے والا سمجھتے ہیں چاہے وہ استحقاق نہ رکھتے ہوں( فَإِنْ اٴُعْطُوا مِنْهَا رَضُوا ) ، ”لیکن اگر کوئی چیز انہیں نہ دی جائے تو سیخ پا اور ناراض ہوجاتے ہیں “ اور تم پر بے عدالتی کی تہمت لگاتے ہیں( وَإِنْ لَمْ یُعْطَوْا مِنْهَا إِذَا هُمْ یَسْخَطُونَ ) ، لیکن اگر وہ اپنے حق پر راضہ ہوجائیں اور جو کچھ خدا اور اس کا پیغمبر انہیں دیتا ہے اس پر راضی رہیں اور کہیں کہ یہی ہمارے لئے کافی ہے اگر مزید ضرورت پڑی تو خدا اور پیغمبر اپنے فضل وکرم سے عنقریب ہم پر بخشش کریں گے، ہم صرف اسی کی رضا چاہتے ہیں اور اس سے خواہش کرتے ہیں کہ ہمیں لوگوں کے مال سے بے نیاز کردے اگر وہ ایسے کریں تو ان کے فائدے میں ہے( وَلَوْ اٴَنَّهُمْ رَضُوا مَا آتَاهُمْ اللهُ وَرَسُولُهُ وَقَالُوا حَسْبُنَا اللهُ سَیُؤْتِینَا اللهُ مِنْ فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّا إِلَی اللهِ رَاغِبُون ) ۔

آج کے مسلمان معاشروں میں ایسے لوگ کیا آج کل اسلامی معاشروں میں اس قسم کے لوگ نہیں پائے جاتے؟ کیا تمام لوگ اپنے جائز حق پر قانع ہیں ؟ اور جو انہیں ان کے حق کے مطابق دے کیا سب لوگ اسے عدالت پیشہ سمجھتے ہیں ؟ یقینا ان سوالات کا جواب منفی ہے، انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ابھی بھی بہت سے ایسے افراد ہیں جو حق اور عدالت کا میعار صرف اپنے ذاتی مفادات کو سمجھتے ہیں اور اپنے حقوق پر قناعت نہیں کرتے، اگر کوئی سب کو خصوصامحروم لوگوں کو ان کا جائز حق دینا چاہے تو ایسے افراد شور مچانا شروع کردیتے ہیں لہٰذا ضرورت نہیں کہ منافقین کی پہچان کے لئے صفحات تاریخ ہی کی ورق گردانی کی جائے، ایک نگاہ اپنے گرد وپیش پر ڈال لیں بلکہ ہم اپنے اوپر ہی نظر ڈال لیں تو اپنی اور دوسروں کی کیفیت معلوم ہوجائے گی ۔

پروردگارا: روح ایمان ہم میں زندہ کردے،شیطانی فکر اور نفاق ہم میں سے محو کردے اورہمیں توفیق عطا فرما کہ اپنے آپ کو اس طرح آراستہ کریں کہ صرف اپنے حق پر قناعت کریں نہ دوسروں پر ظلم کریں اور ناہی دوسرے کے حقوق غصب کرنے کو عدالت سمجھیں ، ہمیشہ عدالت خواہاں رہیں اور عدالت کا اجراکریں ۔


فہرست

قوم یہود کے بارے میں آخری بات ۴

پہلا سوال: ۵

دوسرا سوال: ۵

آیات ۱۷۲،۱۷۳،۱۷۴ ۷

پہلا عہد وپیمان اور عالمِ ذر ۷

عالم ذر کے بارے میں فیصلے کن بحث ۹

عالم ذر اور اسلامی روایات ۱۱

ان روایات میں سے بعض مبہم ہیں ۔ ۱۲

آیات ۱۷۵،۱۷۶،۱۷۷،۱۷۸ ۱۴

ایک عالم جو فرعونوں کا خدمتگار ہے ۱۴

آیات ۱۷۹،۱۸۰،۱۸۱، ۲۰

دوزخیوں کی نشانیاں ۲۰

چوپاؤں کی طرح کیوں ہیں ۲۳

چند اہم نکات ۲۶

۱ ۔ اسماء حسنیٰ کیا ہیں : ۲۶

۲ ۔ فلاح ونجات پانے گروہ: ۲۹

۳ ۔ خدا کا اسم اعظم: ۳۰

آیات ۱۸۲،۱۸۳ ۳۲


تدریجی سزا ۳۲

آیات ۱۸۴،۱۸۵،۱۸۶ ۳۶

شان نزول ۳۶

تہمت تراشیاں اوذر بہانہ سازیاں ۳۷

آیت ۱۸۷ ۳۹

قیامت کب برپا ہوگی؟ ۳۹

تفسیر ۳۹

آیت ۱۸۸ ۴۲

شان نزول ۴۲

پوشیدہ اسرار صرف خدا جانتا ہے ۴۲

کیا پیغمبر غیب نہیں جانتے تھے؟ ۴۵

آیات ۱۸۹،۱۹۰،۱۹۱،۱۹۲،۱۹۳ ۴۷

ایک عظیم نعمت کا کفران ۴۷

ایک اہم سوال کا جواب ۴۹

ایک مشہور اور جعلی روایت ۵۲

آیات ۱۹۴،۱۹۵ ۵۴

تفسیر ۵۴

آیات ۱۹۶،۱۹۷،۱۹۸ ۵۷

بے وقعت ’معبود‘ ۵۷

آیات ۱۹۹،۲۰۰،۲۰۱،۲۰۲،۲۰۳ ۵۹


شیطانی وسوسے ۵۹

جامع اخلاقی ترین آیت ۶۲

آیات ۲۰۴،۲۰۵،۲۰۶ ۶۷

تلاوتِ قرآن ہو رہی ہو تو خاموش رہو ۶۷

سورہ انفال ۷۲

سورہ انفال کے مختلف اور اہم مباحث ۷۲

آیت ۱ ۷۴

شان نزول ۷۴

تفسیر ۷۴

انفال کیا ہے؟ ۷۵

چند قابل توجہ نکات ۷۵

آیات ۲،۳،۴، ۷۹

مومن کی پانچ خصوصیات ۷۹

آیات ۵،۶ ۸۳

تفسیر ۸۳

آیات ۷،۸ ۸۵

اسلام اور کفر کا پہلا تصادم۔ ۸۵

جنگ بدر ۸۵

تفسیر ۹۱

آیات ۹،۱۰،۱۱،۱۲،۱۳،۱۴ ۹۴


بدر کے تربیتی درس ۹۵

کیا فرشتوں نے جنگ گی تھی؟ ۹۶

آیات ۱۵،۱۶،۱۷،۱۸ ۱۰۱

جہاد سے فرار ممنو ع ہے ۱۰۱

آیت ۱۹ ۱۰۷

تفسیر ۱۰۷

آیات ۲۰،۲۱،۲۲،۲۳ ۱۰۹

سننے والے بہرے ۱۰۹

دو اہم نکات ۱۱۲

آیات ۲۴،۲۵،۲۶ ۱۱۴

دعوت، زندگی کی طرف ۱۱۴

صرف ظالم ہی انجامِ بد سے دوچار نہیں ہوں گے ۱۱۷

آیات ۲۷،۲۸ ۱۲۱

شان نزول ۱۲۱

خیانت اور اس کا شرچشمہ ۱۲۲

آیت ۲۹ ۱۲۶

ایمان اور روشن ضمیری ۱۲۶

آیت ۳۰ ۱۳۱

شان نزول ۱۳۱

ہجرت کی ابتدائی ۱۳۴


شان نزول ۱۳۶

بیہودہ باتیں کرنے والے ۱۳۹

آیات ۳۶،۳۷ ۱۴۵

شان نزول ۱۴۵

تفسیر ۱۴۵

چند اہم نکات ۱۴۶

آیات ۳۸،۳۹،۴۰ ۱۴۹

تفسیر ۱۴۹

مقصدِ جہاد اور ایک بشارت ۱۵۲

آیت ۴۱ ۱۵۴

پارہ دہم ۱۵۴

ایک اہم اسلامی حکم ،خمس ۱۵۴

چند اہم نکات ۱۵۵

۱۔ حق کی باطل سے جدائی کا دن: ۱۵۵

۲ ۔ ایک وضاحت : ۱۵۶

۳ ۔ ”ذی القربیٰ“ سے کیا مراد ہے: ۱۵۶

۴ ۔ ”یتامیٰ و مساکین و ابن السبیل“ سے یہاں کیا مراد ہے: ۱۵۷

۵ ۔ کیا ”غنائم“ سے مرادفقط جنگی مال غنیمت ہے؟: ۱۵۷

۶-پیغمبر خدانے فرمایا اے بنی عبدالمطلب: ۱۶۴

۷ ۔ خدا کے حصّے سے کیا مراد ہے؟: ۱۶۵


آیات ۴۲،۴۳،۴۴، ۱۶۶

وہ کام جو ہونا چاہیے ۱۶۶

آیات ۴۵،۴۶،۴۷ ۱۷۲

جہاد کے بارے میں چھ اور احکام ۱۷۲

آیات ۴۸،۴۹،۵۰،۵۱ ۱۷۶

مشرک، منافق اور شیطانی وسوسے ۱۷۶

شیطان وسوسے ڈالتا ہے یا بہروپ اختیار کرتا ہے؟ ۱۷۸

آیات ۵۲،۵۳،۵۴ ۱۸۲

متغیّر نہ ہونے والی ایک سنت ۱۸۲

ایک سوال اور اس کا جواب ۱۸۳

دو اہم نکات ۱۸۴

۱ ۔ قوموں کی زندگی اور موت کے عوامل: ۱۸۴

کیا یہ حکم تبدیل ہوگیا ہے؟ ۱۸۷

۲ ۔ تقدیر، تاریخ یا کوئی اور جبر نہیں ہے: ۱۸۸

آیات ۵۵،۵۶،۵۷،۵۸،۵۹ ۱۹۰

شدّتِ عمل، پیمان شکنوں کے مقابلے میں ۱۹۰

آیات ۶۰،۶۱،۶۲،۶۳،۶۴ ۱۹۴

جنگی طاقت میں اضافہ اور اس کا مقصد ۱۹۴

چند قابلِ توجہ نکات ۱۹۵

۱ ۔ ”قوة“ کا مفہوم: ۱۹۵


۲ ۔ ”اسلام“ کے دائمی ہونے کی ایک دلیل: ۱۹۸

۳ ۔ ”قوة“ کے بعد گھوڑوں کے ذکر کا مقصد: ۱۹۸

۴-جنگی طاقت میں اضافے کا اصلی مقصد ۱۹۸

دو قابلِ توجہ نکات ۲۰۱

۱ ۔ دوسرے دشمن کونسے تھے؟ ۲۰۱

۲ ۔ دورِ حاضر کے لئے ایک حکم: ۲۰۱

دو توجہ طلب نکات ۲۰۵

۱ ۔ آیت کا مفہوم عمومی ہے: ۲۰۵

۲ ۔ یہ قانون دائمی ہے: ۲۰۵

آیات ۶۵،۶۶ ۲۰۷

برابر کی قوت کے انتظار میں نہ رہو ۲۰۷

چند اہم نکات ۲۰۹

۱ ۔ کیا پہلی آیت منسوخ ہوچکی ہے؟ ۲۰۹

۲ ۔ قوتوں کے موازنہ کی داستان: ۲۱۰

۳ ۔ دو آیتوں میں مثال کا فرق: ۲۱۱

آیات ۶۷،۶۸،۶۹،۷۰،۷۱ ۲۱۲

جنگی قیدی ۲۱۳

چند قابلِ توجہ نکات ۲۱۵

۱ ۔ ایک وضاحت: ۲۱۵

۲ ۔ جنگی قیدیوں سے فدیہ لینے کا مسئلہ: ۲۱۵


۳ ۔ نظریہ جبر کی نفی: ۲۱۶

کیا فدیہ لینا ایک منطقی اور عادلانہ کام ہے؟ ۲۱۷

آیات ۷۲،۷۳،۷۴،۷۵ ۲۲۲

چا رمختلف گروہ ۲۲۳

چند اہم نکات ۲۲۷

اسلام اور ہجرتیں ۲۲۷

سورہ برائت ۲۳۳

سورہ توبہ کے بارے میں چند اہم نکات ۲۳۳

۱ ۔ سورہ کا نام: ۲۳۳

۲ ۔ مختصر تاریخِ نزول: ۲۳۳

۳ ۔ مضامین و مشتملات: ۲۳۳

۴ ۔ سورہ کی ابتداء میں ”بسم اللہ“ کیوں نہیں ہے؟: ۲۳۵

۵ ۔سورہ کی فضیلت اور تعمیری اثرات: ۲۳۶

۶ ۔ ایک حقیقت جسے چھپانے کی کوشش ہوتی ہے: ۲۳۶

۱ ۔ احمد بن حنبل کی روایت: ۲۳۷

۲ ۔ احمد بن حنبل کی ایک اور روایت: ۲۳۷

۳ ۔ ایک مزید روایت: ۲۳۷

۴ ۔ خصائص نسائی کی روایت: ۲۳۸

۵ ۔ نسائی کی ایک اور روایت: ۲۳۸

۶ ۔ ابک کثیر کی روایت: ۲۳۸


۷ ۔ ابن کثیر کی ایک اور روایت: ۲۳۹

۸ ۔ ایک روایت مزید: ۲۳۹

۹ ۔ علامہ ابن اثیر کی روایت: ۲۳۹

۱۰ ۔ محب الدین طبری کی روایت: ۲۳۹

توضیح اور تحقیق ۲۴۱

آیات ۱،۲ ۲۴۳

مشرکین کے معاہدے لغو ہوجاتے ہیں ۲۴۳

چند قابلِ توجہ نکات ۲۴۵

۱ ۔ کیا یک طرفہ طور پر معاہدہ کالعدم کردیا صحیح ہے؟ ۲۴۵

۲ ۔ یہ چار مہینے کب سے شروع ہوئے؟ ۲۴۶

آیات ۳،۴ ۲۴۷

جن کا معاہدہ قابلِ احترام ہے ۲۴۷

چند قابلِ توجہ نکات ۲۴۸

۱ ۔ حج اکبر کونسا دن ہے؟ ۲۴۸

۲ ۔ اس روز جن چار چیزوں کا اعلان کیا گیا: ۲۴۹

۳ ۔ کن کا معاہدہ وقتی تھا؟ ۲۵۰

آیات ۵،۶ ۲۵۱

شدّت عمل اور سختی ساتھ ساتھ ۲۵۱

چند اہم نکات ۲۵۳

۱ ۔ ”اشھر حرم“ سے یہاں کیا مراد ہے؟ ۲۵۳


۲ ۔ کیا نماز اور زکوٰة قبولیتِ اسلام کی شرط ہے؟ ۲۵۳

۳ ۔ ایمان علم کا ثمر ہے ۲۵۴

آیات ۷،۸،۹،۱۰ ۲۵۵

حد سے بڑھ جانے والے پیمان ۲۵۵

دو اہم نکات ۲۵۸

۱ ۔ ” ( إِلاَّ الَّذِینَ عَاهَدْتُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ) “ سے کون مراد ہیں ؟ ۲۵۸

۲ ۔ کیا پیمان شکنی کے ارادے پر ہی ایمان لغو کردیا گیا؟ ۲۵۹

آیات ۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵، ۲۶۰

دشمن سے جنگ کرنے سے کیوں ڈرتے ہو ۲۶۰

چند اہم نکات ۲۶۳

۱ ۔ عہد شکن گروہ کونسا ہے؟ ۲۶۳

۲ ۔ کفر کے پیشواوں سے جنگ: ۲۶۵

۴ ۔ ” ( إِخْوَانُکُمْ فِی الدِّین ) “ کا مفہوم: ۲۶۵

۴ ۔ ” ( اٴَتَخْشَوْنَهُمْ ) “ کا مفہوم: ۲۶۵

۵ ۔ ” ( هَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ ) “ کا مطلب: ۲۶۶

۶ ۔ ایک غلط استدلال: ۲۶۶

آیت ۱۶ ۲۶۷

تفسیر ۲۶۷

آیات ۱۷،۱۸ ۲۶۹

مسجدیں آباد رکھنا ہر کسی کے بس میں نہیں ۲۶۹


چند اہم نکات ۲۷۱

۱ ۔ مساجد کی آبادی سے کیا مراد ہے؟ ۲۷۱

۲ ۔ عمل صالح کا سرچشمہ صرف ایمان ہے: ۲۷۱

۳ ۔ بہادر محافظ: ۲۷۲

۴ ۔ کیا اس سے صرف مسجد الحرام مراد ہے؟ ۲۷۲

۵ ۔ تعمیر مساجد کی اہمیت ۲۷۲

آیات ۱۹،۲۰،۲۱،۲۲ ۲۷۴

شان نزول ۲۷۴

معیارِ فضیلت ۲۷۵

دو اہم نکات ۲۷۷

۱ ۔ تحریف تاریخ: ۲۷۷

۲ ۔ مقامِ رضوان کیا ہے؟ ۲۸۱

آیات ۲۳،۲۴ ۲۸۲

قابل توجہ نکات ۲۸۴

۱ ۔ ہدف عزیز تر ہو: ۲۸۴

۲ ۔ ” ( فَتَرَبَّصُوا حَتَّی یَاٴْتِیَ اللهُ بِاٴَمْرِهِ ) “کا ایک اور مفہوم : ۲۸۵

۳ ۔ ماضی اور حال میں اس حکم کی کیفیت: ۲۸۵

آیات ۲۵،۲۶،۲۷ ۲۸۷

صرف کثرت کسی کام کی نہیں ۲۸۷

قابل توجہ نکات ۲۹۰


۱ ۔ جنگ حنین، ایک عبرت انگیز معرکہ: ۲۹۰

۲ ۔ بھاگنے والے کون تھے؟ ۲۹۳

۳ ۔ ایمان واطمینان ۲۹۵

۴ ۔ ”مواطن کثیرة“ کا مفہوم: ۲۹۷

۵ ۔ ایک سبق: ۲۹۷

آیت ۲۸ ۲۹۸

مشرکین کو مسجد میں داخلے کا حق نہیں ۲۹۸

آیت ۲۹ ۳۰۰

اہلِ کتاب کے بارے میں ہماری ذمہ داری ۳۰۰

جزیہ کیا چیز ہے؟ ۳۰۳

آیات ۳۰،۳۱،۳۲،۳۳ ۳۰۷

اہل کتاب کی بت پرستی ۳۰۷

چند قابل توجہ نکات ۳۰۸

۱ ۔ عزیر کون ہیں ؟ ۳۰۸

۲ ۔ مسیح(ع) خدا کے بیٹے نہ تھے ۳۱۱

۳ ۔ یہ خرافات دوسروں سے اخذ کئے گئے ۳۱۱

۴ ۔ ” ( قاتلهم الله ) “ کا مفہوم ۳۱۱

کیا یہود ونصاریٰ اپنے پیشواوں کی عبادت کرتے تھے ۳۱۲

ایک اصلاحی درس ۳۱۵

چند اہم نکات ۳۱۵


۱ ۔ نور سے تشبیہ: ۳۱۵

۲ ۔ نور خدا کو بجھانے کی مساعی کا دو مرتبہ ذکر: ۳۱۶

۳ ۔ ” ( یاٴبیٰ ) “ کا مفہوم: ۳۱۶

اسلام کی عالمگیر حکومت ۳۱۶

چند قابل توجہ نکات ۳۱۷

۱ ۔ ہدایت اور دینِ حق سے کیا مراد ہے؟ ۳۱۷

۲ ۔ منطقی غلبہ یا طاقت کا غلبہ: ۳۱۹

۳ ۔ قرآن اور قیامِ مہدی(ع): ۳۱۹

ظہور مہدی (ع) اور اسلامی روایات ۳۲۲

انتظار ظہور مہدی (ع) کے تربیت کنندہ اثرات ۳۲۴

انتظار کا مفہوم ۳۲۸

پہلا فلسفہ: انسان سازی ۳۳۰

دوسرا فلسفہ :اجتماعی کاوشیں ۳۳۱

تیسرا فلسفہ: خراب ماحول کا مقابلہ ۳۳۲

وعدہ وصل چوں شد نزدیکآتش عشق تیز تر گردد ۳۳۳

آیات ۳۴،۳۵ ۳۳۵

کنز اور ذخیرہ اندازی منع ہے ۳۳۵

”ذاھب“ کا معنی ہے”سونا“ اور فضہ“ کا معنی ہے ”چاندی“۔ ۳۳۷

”کنز“کتنی دولت کو کہتے ہیں ؟ ۳۳۸

ارتکاز دولت کی سزا ۳۴۵


آیات ۳۶،۳۷ ۳۴۷

لازمی جنگ بندی ۳۴۷

چند قابل توجہ نکات ۳۵۰

۱ ۔ حرام مہینوں کا فلسفہ: ۳۵۰

۲ ۔ زمانہ جاہلیت میں ”نسئی“کا مفہوم اور فلسفہ: ۳۵۰

۳ ۔ دشمن کے مقابلے میں وحدت کلمہ: ۳۵۱

۴ ۔ برے کام کیوں زیبا معلوم ہوتے ہیں : ۳۵۲

آیات ۳۸،۳۹ ۳۵۳

شان نزول ۳۵۳

دوبارہ میدان جنگ کی طرف روانگی ۳۵۴

چند اہم نکات ۳۵۶

۱ ۔ جہاد پر سات تاکیدیں : ۳۵۶

۲ ۔ دنیا کی دلبستگی جہاد کے لئے سد راہ ہے: ۳۵۶

۳ ۔ آیت میں کس گروہ کی طرف اشارہ ہے؟ ۳۵۷

آیت ۴۰ ۳۵۸

حسا س ترین لمحات میں خدا نے اپنے پیغمبر کو تنہا نہیں چھوڑا ۳۵۸

داستان یار غار ۳۶۰

آیات ۴۱،۴۲ ۳۶۲

ان پر ور لالچی ۳۶۲

آیات ۴۳،۴۴،۴۵ ۳۶۵


کوشش کرو کہ منافقین کو پہچان لو ۳۶۵

آیات ۴۶،۴۷،۴۸، ۳۶۹

تفسیر ۳۶۹

ان کا نہ ہونا ہونے سے بہتر تھا ۳۶۹

آیت ۴۹ ۳۷۳

شان نزول ۳۷۳

بہانہ تراش منافقین ۳۷۳

چند اہم نکات ۳۷۴

۱ ۔ منافقوں کی ایک پہچان: ۳۷۴

۲ ۔ ” ( وان جهنم لمحیطة بالکٰفرین ) “ کا مفہوم: ۳۷۵

آیات ۵۰،۵۱،۵۲ ۳۷۶

تفسیر ۳۷۶

چند قابل توجہ نکات ۳۷۸

۱ ۔ تقدیر اور ہماری کاوشیں : ۳۷۸

۲ ۔ مومنین کی لغت میں ”شکست“ کا لفظ نہیں : ۳۷۹

۳ ۔ منافقین کی دائمی صفات: ۳۸۰

آیات ۵۳،۵۴،۵۵ ۳۸۱

تفسیر ۳۸۱

چند اہم نکات ۳۸۳

۱ ۔ کیا منافقین خوشی سے خرچ کرتے ہیں : ۳۸۳


۲ ۔ صرف نماز روزہ کافی نہیں : ۳۸۴

آیات ۵۶،۵۷ ۳۸۶

منافقین کی ایک اور نشانی ۳۸۶

آیات ۵۸،۵۹ ۳۸۸

شان نزول ۳۸۸

بے منطق خود غرض افراد ۳۸۸