تفسیر نمونہ- جلد 8
گروہ بندی تفسیر قرآن
مصنف آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


تفسیر نمونہ جلد ۰ہشتم

تفسیرنمونه ، آیه الله العظمی مکارم شیرازی (مدظله العالی) کی ۱۵ ساله زحمات کا نتیجه ہے جس کو معظم له نے اہل قلم کی ایک جماعت کی مدد سے فارسی زبان میں تحریر فرمایا ، اس کا اردو اور عربی زبان میں ترجمه ہو کر شایع ہوچکا ہے.

تعداد جلد: ۱۵جلد

زبان: اردو

مترجم : مولانا سید صفدر حسین نجفی (رح)

تاریخ اشاعت: ربیع الثانی ۱۴۱۷هجری


مصارف زکوٰة اور اس کی تفصیلات

ا س سلسلے میں تاریخ اسلام میں دو دور نمایاں دکھائی دیتے ہیں ایک مکہ کے قیام کا زمانہ جس میں رسول اکرم او رمسلمانوں کی توجہ افراد کی تعلیم و تربیت اورتبلیغ پر لگی ہوئی تھی ۔

دوسرا مدینہ منورہ کا ہے جس میں رسول الہ نے حکومت ِ اسلامی کی تشکیل اور تعلیمات اسلامی کو اس صالح حکومت کے ذریعے عملی صورت دینے اور جاری کرنے کا بیڑا اٹھایا ۔

اس میں شک نہیں کہ حکومت کی تشکیل کے وقت ایک ابتدائی او رنہایت ضروری مسئلہ بیت المال کی تشکیل ہے تاکہ اس کے ذریعے حکومت کی اتقصادی ضروریات پوری ہوتی رہیں او ریہ وہ بنیادی ضروریات ہیں جن کا ہر ایک حکومت کو سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

البتہ جیساکہ ہم انشاء الہ اس کے بعد اشارہ کریں گے کہ زکوٰة کا حکم پہلے مکہ مکرمہ میں بھی نازل ہوا تھا ۔ لیکن اس میں زکوٰة کی رقم کا بیت المال میں جمع کرنا واجب نہ تھا ۔ بلکہ لوگ اسے خود ادا کرتے تھے ۔ لیکن مدینہ منورہ میں اسے جمع کرنے اور مرکزیت دینے کا حکم خدا وند عالم کی طرف سے سورہ توبہ کی آیت ۱۰۳ میں نازل ہوا۔

زیر بحث آیت جس کے بارے میں یہ تسلیم شدہ ہے کہ وہ زکوٰة حاصل کرنے کو واجب قرار دینے والی آیت کے بعد ہے ( اگر چہ قرآن میں اس کا ذکر پہلے بھی کیا گیا ہے ) زکوٰة کے مختلف مصارف بیان کرتی ہے ۔

قابل توجہ یہ ہے کہ اس آیت کے شروع میں لفظ ” انما “ ہے وجو حصر پر دلالت کرتا ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض خود غرض اور جاہل یہ امید رکھتے تھے کہ وہ استحقاق کے بغیر زکوٰة میں سے کچھ حصہ وصول کرلیں مگر لفظ” انما“ نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ پہلے کی دوآیتوں سے یہی معنی نکلتے ہیں کہ بعض لوگ رسول اللہ پر اعتراض کرتے تھے کہ آپ زکوٰة کا کچھ حصہ ہمارے اختیار میں کیوں نہیں دیتے؟ یہاں تک کہ وہ محرورمی کی صورت میں آگ بگولہ ہو جاتے لیکن اس کے ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ۔

بہر حال مندر جہ بالاآیت واضح طور پر زکوٰة کے واقعی او رذحقیقی مصارف بیا ن کرکے تمام بے جا توقعات کو ختم کرہی ہے اور ان مصارف کی آٹھ قسمیں مقرر کرتی ہے :

( إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاکِینِ ) ۔

” عاملین “ زکوٰة جمع کرنے والے( وَالْعَامِلِینَ عَلَیْهَا ) ۔

یہ جماعت اس عملہ اور کار کنان کی ہے جو زکوٰة جمع کرتے اور اسلامی بیت المال کا انتظام و انصرام کرتے ہیں ۔ جو کچھ ان کو دیا جاتا ہے وہ در حقیقت ان کی مزدوری ہے ۔

”مولفة قلوبھم “ یعنی وہ لوگ جس میں اسلام کی ترقی کے لئے کوئی مضبوط روحانی جذبہ نہیں ہے لیکن مالی تشویق کے ذریعے ان کی تالیف ِ قلوب ہوسکتی ہے ان کی محبت حاصل کی جا سکتی ہے ۔ ”( وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ ) “ کی مزید توضیح بعد میں آئے گی ۔( وَفِی الرِّقَابِ ) ۔

یعنی زکوٰة کا ایک حصہ ایک حصہ غلامی کے خلاف جہاد کرنے او را سکے خلاف انسانیت کام کو ختم کرنے کے لئے مخصوص کیا گیا ہے ۔ نیز جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ غلاموں کے بارے میں اسلام کا پروگرام ان کی تدریجی آزادی ہے ۔ جس کا آخری نتیجہ تمام غلاموں کو آزادی دلانا ہے ۔ بغیر اس کے کہ معاشرے کی طرف سے کوئی ناپسند یدہ ردِّ عمل کیاجائے یہ بھی اسی پروگرام کا ایک حصہ ہے کہ زکوٰة کا ایک حصہ اس مقصد کے لئے مختص کیا جا تا ہے ۔( وَالْغَارِمِینَ )

( وَفِی سَبِیلِ اللهِ ) ۔

جیسا کہ ہم مذکورہ آیت کے آخر میں اشارہ کریں گے کہ اس سے مراد تمام راستے ہیں جن سے دین الہٰی کو وسعت ملتی ہو اور تقویت ملتی ہو، مثلاً جہاد اور تبلیغ وغیرہ۔

( وَاِبْنِ السَّبِیلِ ) ۔

۱ ۔ فقراء : سب سے پہلے واضح کرتی ہے ” صدقات و زکوٰة فقیروں کے لئے “ ۲ ۔ مساکین ۳ ۔ ۴ ۔ ۵ ۔ غلاموں کو آزاد کرنے والے کے لئے ۶ ۔ ایسے قرض داروں کے قرض کی ادائیگی جو کسی جرم و خطا کے بغیر قرض کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور اسے ادا رکر نے کی طاقت نہیں رکھتے ۷ ۔ خدا کے راستے میں ۸ ۔ وہ جو سفر میں محتاج ہو جائیں

یعنی ایسے مسافر جو کسی وجہ سے راستے میں رہ جائیں اور منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے حسب ضرورت زاد راہ اور سواری رکھتے ہوں ۔

اگر چہ وہ فقیر اور نادار نہ ہوں ۔ مگر وہ چوری ، بیماری یامال گم ہونے یا کسی اور سبب سے اس حالت میں مبتلا ہوں ۔ اس قسم کے افراد کو زکوٰة سے اس قدر رقم دی جائے کہ وہ اطمنان سے منزل ِ مقصود تک پہنچ سکیں ۔

آیت کے آخر میں تاکید کے عنوان سے گذشتہ مصارف کے بارے میں فرمایا گیا ہے یہ اللہ کی طرف سے فرض ہے( فَرِیضَةً مِنْ اللهِ ) ۔

اس میں شک نہیں کہ یہ فریضہ انتہائی جچا تلا ہے جو فر اور معاشرے دونوں کی بہتری کے لئے جامع ہے کیونکہ خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے( وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ ) ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ ”فقیر “ او ر” مسکین “ میں فرق :

مفسرین میں اس امر کے متعلق اختلاف ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ فقیر او رمسکین کا ایک ہی مفہوم ہے ۔ اس لئے تاکدی کے طور پر مذکورہ بالا آیت میں دو الفاظ آئے ہیں ۔ اس بنا پر مصارف زکوٰة سات ہیں ۔ بعض کا خیال ہے کہ دولوں الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں ۔

اکثر مفسرین اور فقہا نے دوسرے احتمال کو مانا ہے اور اس نظر یہ کے طرفداروں نے بھی ان دونوں لفظوں کے بارے میں بہت کچھ کہا ہے لیکن جو زیادہ قرین نظر معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ فقیر وہ شخص ہے جو زندگی کو تنگی ترشی سے گذارتا ہو با وجود اس کے کہ کوئی کام کاج بھی کرتا ہو او رکبھی کسی سے سوال نہ کرتا ہو لیکن مسکین وہ شخص ہے جو زیادہ ضرورت مند ہو او رکوئی کام بھی نہ کرسکتا ہو اس لئے ہر ایک سے سوال کرتا ہو۔

شاید یہ بات مسکین کی بنیادی معنی سے لی گئی ہے یہ لفظ ” سکون “ کے مادہ سے ہے ۔ یعنی اس قسم کا فرد شدید ناداری کی وجہ سے زمین پر بے حس و حرکت پڑا ہے ۔ دوسرے یہ کہ ان دونوں لفظوں کے استعمال کو قرآن ِ مجید میں دیکھنے سے اسی معنی کی تائید ہو تی ہے چنانچہ ہم سورہ بلد کی آیت ۱۶ میں پڑھتے ہیں :۔( اَو مِسْکِیْناً ذَا مَتْرَبَة ) یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلائے۔

سورہ نساء کی آیت ۸ میں ہے :۔”( و اذا خضر القسمة اولوا القربیٰ و الیتامیٰ والمساکین فار زقوهم )

جس وقت رشتہ دار ، یتیم اور مسکین ورثے کے وقت موجود ہو تو اس میں سے کچھ نہ کچھ انھیں دے دو۔

اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ مساکین سے مراد سوالی ہیں جو کبھی کبھی ایسے موقع پر آنکلتے ہیں ۔

سورہ قلم کی آیت ۲۴ میں ہے :۔( ان لا ید خلنها الیوم علیکم مسکین )

آج کوئی مسکین تمہاری کھیتی باڑی کے احاطہ میں داخل نہ ہونے پائے ۔

جو سوال کرنے والوں کی طرف اشارہ ہے ۔ اسی طرح ” اطعام مسکین “ یا ” طعام مسکین “ کی تعبیر قرآن مجید کی بہت سی آیا ت میں ہے جو نشاندہی کرتی ہے کہ مساکین وہ بھوکے لوگ ہیں جوکھانے کے ایک وعدہ تک کہ محتاج ہیں ۔

جبکہ فقیر کا لفظ جن جن آیات قرآنی میں آیا ہے ان سے بخوبی یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ لفظ ان آبرو مند لوگوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جو نادار تو ہیں مگر کسی کے سامنے دست ِ سوال دراز نہیں کرتے۔

مثلاً سورہ بقرہ کی آیت ۲۷۳ میں ہے :۔

( للفقرآء الذین احصروا فی سبیل الله لا یسطتیعون ضربا ً فی الارض یحسبهم الجاهل اغنیآء من التعفف ) ۔

ایسے فقیروں پر خرچ کرنا چاہئیے جو خدا کے راستے میں گرفتار ہوئے ہیں اور اپنی ظاہری حالت ایسی اچھی رکھتے ہیں کہ جاہل ان کی عزت ِ نفس کو دیکھ کر یہ سمجھتا ہے کہ وہ مالدار اور خوشحال ہیں ۔

ان تمام چیزوں سے قطع نظر کرتے ہوئے اس روایت میں جو محمد بن مسلم نے حضرت امام صادق علیہ السلام یا امام محمد باقر علیہ السلام نے نقل کی ہے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ حضرت- سے ” فقیر“ او ر” مسکین “ کے بارے میں سوال کیا گیا ، تو آپ نے فرمایا:الفقیر الذی لایسئل و المسکین الذی هو اجهد منه الذی یسئل ۔

فقیر وہ ہے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتا ہے او رمسکین کی حالت اس سے زیادہ سخت ہوتی ہے وہ ایسا شخص ہے جو لوگوں سے سوال کرتا ہے اور مانگتا ہے ۔(۱)

یہی مضمون ایک دوسری حدیث میں ابو بصیر کے ذریعے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے او رہر دو احادیث مفہوم مذکورہ بالا کی تصریح کرتی ہیں ۔

البتہ کچھ قرائن اس کے خلاف بھی گواہی دیتے ہیں لیکن اگر تمام قرائن پیش نظر رکھیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ حق وہی ہے جو اوپر بیان کیا جا چکا ہے ۔

۲ ۔ کیا زکوٰة آٹھ حصوں میں برابر تقسیم کی جائےگی ؟

بعض مفسرین اور فقہا کا یہ نظریہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ زکوٰة کا مال آٹھ حصوں میں مساوی مساوی تقسیم کیا جائے اور ہر ایک حصہ اپنے ہی مصرف میں خرچ کیا جائے مگر یہ کہ مالِ زکوٰة کی مقدار اتنی کم ہو کہ وہ آٹھ حصوں میں نہ باٹا جا سکے ۔ لیکن فقہاء کی بہت بڑی اکثریت اس نظر یہ کی حامی ہے کہ مندر جہ بالا آٹھ اصناف ایسی ہیں کہ جن میں زکوٰة کو صرف کیا جا سکتا ہے لیکن ان میں تقسیم کرنا واجب نہیں ہے ۔

حضرت رسول اکرم ، آئمہ اطہار - او ران کے اصحاب کی سیرت قطعی بھی اسی معنی کی تائید کرتی ہے علاوہ ازیں چونکہ اسلامی مالیات میں سے ایک مالیہ ہے اور اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ اسے رعا یا سے وصول کرے اور اس کے نفاذ کا مقصد بھی یہی ہے کہ اس سے اسلامی معاشرے کی گوناگوں ضروریات پوری ہوں اس لئے فطرتاً اس کے مصرف کی کیفیت آٹھوں مصارف میں سے ایک طرف اجتماعی ضروریات سے وابستہ ہے اور دوسری طرف اسلامی حکومت کی فکرو نظر سے ۔

۳ ۔زکوٰة کس وقت وجب ہوئی تھی ؟

قرآن کی مختلف آیات مثلاً اعراف ۱۵۶ ، نمل ۳ ، لقمان ۴ ، سورہ حم السجدہ آیت ۷ سے جو سب کی سب مکی ہیں ، یہ معلوم ہوتا ہے کہ وجوب زکوٰة کا حکم مکہ مکرمہ میں نازل ہوا او رمسلمان اس اسلامی فرض کی بجا آوری کے پابند تھے لیکن جب رسول اللہ مدینہ منورہ میں تشریف لائے اور اسلامی حکومت کی بنیادرکھی تو فطری طور پر بیت المال کے قیام کی ضرورت پڑی چنانچہ خدا وند عالم کی طرف سے آپ کو حکم ملا کہ آپ مسلمانوں سے خود زکوٰة وصول کریں ( نہ کہ وہ خود اپنے رائے اور مرضی سے اسے صرف کریں )آیہ شریفہ :۔( خذ من اموالهم صدقه )

ان کے مال سے زکوٰة لو( توبہ ۔ ۱۰۳) اسی مو قع پر نازل ہوئی۔

اور مشہور یہ ہے کہ یہ حکم ہجرت کے دوسرے سال میں آیاتھا اس کے بعد زکوٰة کے مصارف جز یاتی تفصیل کے ساتھ اس آیت میں نازل ہوئے جس پر ہم بحث کررہے ہیں ۔ یعنی سورہ توبہ کی آیت ۶۰ او ریہ کوئی تعجب کی با ت نہیں ہے کہ زکوٰة لینے کاحکم آیت ۱۰۳ میں آیا ہے اور ا س کے مصارف کا تذکرہ ہجرت کے نویں سال آیت ۶۰ میں ہوا ہے ۔

کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ آیات قرآن کو جمع ترتیب ، تاریخ نزول ِ قرآن کے مطابق نہیں ہے بلکہ حکم رسول سے ہر ایک آیت مناسب مقام پر رکھی گئی ہے ۔

۴ ۔ ”( مولفة قلبهم ) “ سے مراد کون لوگ ہیں ؟

جو کچھ ” مولفة قلوبھم “ کی تعبیر سے سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ مصارف زکوٰة میں سے کچھ روپیہ ان اشخاص پر خرچ کیا جاتا ہے کی تالیف قلب مقصود ہوتی ہے لیکن کیا ان سے مراد وہ کا فر او رغیر مسلم، ہیں جن کو جہاد میں مدد پر آمادہ کرنے کے لئے زکوٰة دی جاتی ہے ؟ یا اس میں ضعف الایمان مسلمان بھی شامل ہیں ؟

جس طرح ہم فقہی مباحث میں کہہ چکے ہیں کہ یہ آیت اور اسی طرح چند ایک روایات جو اس سلسلے میں ہیں ایک وسیع مفہوم رکھتی ہیں ۔ اور یہ ان تمام لوگوں کے بارے میں ہیں جن کو مال دینے سے اسلام او راہل اسلام کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور اس کے صرف کافروں کے لئے ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔

۵ ۔ اسلام میں زکوٰة کی اہمیت اور اثر :۔

اس امر کے پیش نظر کے اسلام صرف اخلاقی یا فلسفی اور اعتقادی مکتب ِ فکر کی صورت میں ظاہر نہیں ہوا ۔ بلکہ وہ ایک ایسے جامع دستور و آئین کے طور پر ظہور میں آیا ہے جس میں تمام مادی اور روحانی ضروریات کا خیال رکھا گیا ہے ۔

نیز جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اسلام نے پیغمبر کے عہد سے ہی حکومت کی بنیاد رکھی، اسی طرح السام محروم لوگوں کی حمایت اور طبقاتی فاصلوں سے جنگ آزمائی پر خاص توجہ دیتا ہے تو اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ بیت المال او رزکوٰة کی کس قدر اہمیت ہے ۔ کیونکہ زکوٰة بیت المال کی آمدنی کا ایک سر چشمہ ہے اور یہ اس سلسلے میں اہم ترین کردار کرنے والے امور میں سے ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ ہر معاشرے میں ایسے بیکار ، بیمار، یتیم ، لاوارث اور محتاج و معذور افراد ہوتے ہیں کن کی امداد کرنا از بس ضروری ہے ۔

نیز دشمن کے حملے کے وقت سرفروش مجاہدین کی ضرورت ہے جن کے اخراجات حکومت بر داشت کرتی ہے ۔ اسی طرح اسلامی حکومت کے ملازمین عدلیہ ، نشر و اشاعت کے وسیلوں او ر دینی مراکز میں سے بھی ہر ایک کےلئے سرمایے کی ضرورت پڑتی ہے جو منظم اور اطمنان بخش مالی وسائل کے بغیر نہیں چل سکتے ۔

اسی بنا پر اسلام میں زکوٰة جو مالی وسائل کی ایک قسم ہے اور جو آمدنی ، تولید مال اور منجمد دولت پر لاگو مالیات میں شمار ہوتی ہے ، ایک خاص اہمیت کی حامل ہے ۔ یہاں تک کہ یہ اہم ترین عبادت کے ہم پلہ قرار پائی ہے اور بہت سے مواقع پر اس کا ذکر نماز کے ساتھ ہوا ہے ۔ حد یہ ہے کہ زکوٰة کو قبولیت ِ نماز کی شرط قرار دیا گیا ہے ۔ حتیٰ کہ روایات ِ اسلامی حکومت کسی شخص یا چند افراد سے زکوٰة کا مطالبہ کرے اور وہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور زکوٰة دینے سے انکار کردیں تو وہ شمار ہوں گے اور ان پر پند و نصا ئح کا کوئی اثر نہ ہو تو ان کے خلاف فوجی کارروائی کرنا بھی جائز ہے ۔

چنانچہ ایک روایت میں حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :۔

من منع قیراطاً من الرکوٰة فلیس هو بموٴمن ، ولا مسلم ، ولا کرامة

جو شخص مال زکوٰة سے ایک قیراط( جو کہ چار رتی دانوں کے برابر وزن ہے ) نہ دے تو وہ مومن ہے اور نہ مسلمان اور نہ اس کی کوئی قدر و قیمت ہے ۔(۲)

قابل توجہ امر یہ ہے کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں زکوٰة کی حدود ار اس کی مقدار ایسی حکمت کے ساتھ مقرر کی گئی ہے کہ اگر تمام مسلمان مالِ زکوٰة کی صحیح او رمکمل ادائیگی کریں تو اسلامی حکومت میں کوئی شخص فقیر او رنادار نہیں رہے گا ۔چنانچہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

ولو ان الناس ادوا زکوٰة اموالهم مابقی مسلم فقیرا محتاجا و ان الناس مافتقروا، ولا احتاجوا ولاجاعوا ، ولا عروا ، الا بذنوب الاغنیآء

اگر تمام لوگ اپنے اپنے مال کی زکوٰة دیں تو کوئی مسلمان فقیر و محتاج نہ رہے گا اور لوگ مالداروں کے گناہوں کی وجہ سے ہی فقیر ، محتاج او ربھوکے ننگے ہوتے ہیں ۔(۳)

نیز روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰة کی ادائیگی اصل ملکیت کی حفاظت اور اس کی بنیادوں کی مضبوطی کا سبب ہے ۔

اسی طرح اگر لوگ اس اہم بنیادی اسلامی فریضة کو بھلادیں تو مختلف گروہوں کے درمیان اس قدر دوری ہو جائے گی کہ اہل ثروت کا مال خطرے میں پڑ جائے گا

حضرت موسی بن جعفر - فرماتے ہیں :حصنوا اموالکم بالزکوٰة اپنے مال کی زکوٰة دے کر محفوظ کرلو ۔(۴)

یہی مضمون حضرت پیغمبر اکرم اور امیر المومنین علیہ السلام سے بھی دوسری احادیث میں منقول ہے ۔ مزید معلوم مات کے لئے وسائل الشیعہ کی چھٹی جلد کے ابواب ایک ، تین ، چار، او رپانچ کی طرف رجوع فر مائیے ۔

۶ ۔ ”لام “ اور ”فی “کا فرق:۔ آخری نکتہ جس کی طرف توجہ ضروری ہے کہ آیت میں چار گروہوں کے ساتھ لفظ ”لام “ لگایا گیا ہے

____________________

۱ ۔ وسائل الشیوہ جلد ۶ ص ۱۴۴ ابواب مستحقین زکوٰة باب ۱ حدیث ۲۔

۲۔ وسائل الشیعہ ج۶ ، ص۲۰ باب ۴ حدیث ۹ ۔

۳۔ وسائل الشیعہ ج ۶ ص۴ ( باب ۱ حدیث ۶ ابواب زکوٰة )

۴۔ وسائل ج۶ ص ۶ ( باب ۱ حدیث ۱۱ ابواب زکوٰة )


( إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاکِینِ وَالْعَامِلِینَ عَلَیْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبهُمْ ) ۔

یہ عام طور پر ملکیت کی نشانی ہے ۔

دوسرے چار گروہوں کے لئے لفظ ” فی “ آیا ہے( وَفِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِینَ وَفِی سَبِیلِ اللهِ وَاِبْنِ السَّبِیلِ ) ۔یہ ” فی “ زیادہ مصرف کے بیان کے لئے ہے ۔(۱)

مفسرین میں اس اختلاف تعبیر کی تفسیر میں اختلاف ہے ۔ بعض کا نظریہ ہے کہ پہلے چار گروہ زکوٰة کے مالک ہیں اور دوسرے چار گروہ مالک نہیں صرف جائز ہے کہ زکوٰة ان پر صرف کی جائے ۔

بعض کا نظریہ یہ ہے کہ تعبیر کا یہ اختلاف ایک اور نکتہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ دوسرے چار گروہ زیادہ مستحق ہیں کیونکہ لفظ ” فی “ ظرفیت کے بیان کےلئے ہے ۔ یعنی یہ چار زکوٰة کے ظرف ہیں اور زکوٰة ان کی مظروف ہے جبکہ پہلے گروہ ایسے نہیں ہیں لیکن ہم نے یہاں ایک اور احتمال کو انتخاب کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ چھ گروہ فقراء، مساکین ، عاملین ، مولفہ قلوبھم ، غارمین اور ابن سبیل جن کا ذک رفی کے بغیر ہے ۔ بر ابر ہیں اور ایک دوسرے پر عطف ہیں اور دوسرے دو گرہ جو کہ ” فی الرقاب“ اور ” فی سبیل اللہ “ ہیں اور جو لفظ ” فی “ کے ساتھ ہیں وہ ایک مخصوص شکل رکھتے ہیں ۔ شاید یہ تعبیر کا فرق اس لحاظ سے وہ کہ چھ گروہ تو مالک زکوٰة ہو سکتے ہیں اور خود اور خود انھیں زکوٰة دی جا سکتی ہے ( یہاں تک کہ ایسے مقروض لوگ جو اپنا قرض ادا نہ کر سکیں البتہ اس صورت میں جبکہ یہ اطمنان ہو کہ وہ اسے اپنے قرض کی ادائیگی خرچ کریں گے ) لیکن باقی دونوں زکوٰة کے مالک نہیں ہوں گے ۔ اور نہ خود انھیں دی جائے گی بلکہ ان کے لئے خرچ کی جائے گی ۔ مثلاً غلاموں کو مالِ زکوٰة سے خرید کر آزاد کیا جائے ۔ واضح ہے کہاس طرح زکوٰة کے مالک نہیں ہوں گے ۔ ۔ اسی طرح وہ مواقع کہ جو” فی سبیل اللہ “کے مفہوم میں آتے ہیں ۔ مثلاجہاد کا سازو سامان اور اسلحہ مہیا کرنا یا مسجد بنانا او ردینی مراکز قام ئم ۔ اس قسم کے امور میں کوئی بھی زکوٰة کا مالک نہیں ہے بلکہ وہ اس کے مصرف ہیں ۔ غرضیکہ تعبیر کا یہ فر ق اس بات کو بخوبی واضح کرتا ہے کہ قرآنی تعبیرات کس قدر جچی تلی ہیں ۔

____________________

۱۔ خیال رہے کہ دومقامات پر ”فی “ صراحت کے ساتھ ہے اور دو جگہ مجرور” فی “ پر عطف ہے ۔ جیسے ”لام “ کا ایک جگہ پر ذکر ہے اور باقی اسی پر عطف ہے۔


آیت ۶۱

۶۱ ۔( وَمِنْهمْ الَّذِینَ یُؤْذُونَ النَّبِیَّ وَیَقُولُونَ هُوَ اٴُذُنٌ قُلْ اٴُذُنُ خَیْرٍ لَکُمْ یُؤْمِنُ بِاللهِ وَیُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِینَ وَرَحْمَةٌ لِلَّذِینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَالَّذِینَ یُؤْذُونَ رَسُولَ اللهِ لَهُمْ عَذَابٌ اٴَلِیم ) ۔

ترجمہ

۶۱ ۔ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو پیغمبر کو تکلیف پہنچاتے ہیں او رکہتے ہیں کہ آپ خوش باور اور ہمہ تن گوش ہیں ۔ کہہ دو کہ اس کا خوش فہم ہونا تمہارے فائدے میں ہے ( لیکن جان لو) وہ خدا پر ایمان رکھتا ہے اور ( صرف )مومنین کی تصدیق کرتا ہے اور تم میں سے ان لوگوں کے لئے رحمت ہے جو ایمان لائے ہیں ۔ جو لوگ اللہ کے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں ان کے لئے درد ناک عذاب ہے ۔

یہ خوبی ہے عیب نہیں

آیت مذکورہ کی کئی ایک شانِ نزول بیان کی گئی ہےں جو ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ آیت منافقین کے ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے یہ لوگ ایک دوسرے کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت رسول اکرم کے متلعق نازیبا اور ناپسند یدہ باتیں کر رہے تھے ۔ ان میں سے ایک نے کہا ” ایسا کرو “ کیونکہ ہمیں یہ خوف ہے کہ کہیں یہ باتیں محمد کے کان تک نہ پہنچ جائیں او رکہیں وہ ہمیں بر ابھلا نہ کہے ( اور لوگوں کو ہمارے خلاف نہ ابھارے ) ان میں سے ایک نے جس کا نام”جلاس “ تھا کہا کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے ہم جو چاہیں گے اور اگر اس کے کانوں تک یہ بات پہنچ گئی تو ہم اس کے پاس جا ئیں گے اور انکا ر کردیں گے اور وہ ہماری بات قبول کرلیں گے کیونکہ محمد خوش باور اور قول کو تسلیم کرنے والا ہے او رجو شخص جو بات بھی کہے اسے قبول کرلیتا ہے ۔ اس وقت آیتِ بالا نازل ہوئی او راس کے ذریعے انھیں جواب دیا گیا ۔

تفسیر

اس آیت میں جیسا کہ اس کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے ایک یا کئی افراد کے بارے میں گفتگو ہے جو پیغمبر اکرم کو اپنی باتوں سے تکلیف پہنچا تے تھے اور کہتے تھے کہ وہ خوش باور اور قول کا اعتبار کرنے والا ہے( وَمِنْهمْ الَّذِینَ یُؤْذُونَ النَّبِیَّ وَیَقُولُونَ هُوَ اٴُذُنٌ ) ۔

” اذن “ اصل میں کان کے معنی میں ہے ان لوگوں کو جو دوسروں کی باتیں بڑی توجہ سے سنتے ہیں اور اصطلاحاً ( فارسی میں ) انھیں ” گوشی “ کہتے ہیں ان کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے ۔(۱)

وہ لوگ حقیقت میں رسول اکرم کی ایک خوبی کو جس کا ایک رہبر میں ہو نا نہایت ضروری ہے ، ایک برائی کے لباس میں پیش کرتے تھے اور وہ اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ ایک محبوب رہبر کے لئے ضروری ہے کہ انتہائی لطف و محبت کا مظاہرہ کرے اور جہاں تک ممکن ہو لوگوں کو عذر اور معذرت کو قبول کرے اور ان کے عیب چھپائے ۔

مگر وہاں نہیں جہا ں اس کا برا اثر پڑے ۔ اسی لئے قرآن اس کے فوراً بعد فرمایا ہے کہ ان سے کہہ دو کہ اگر پیغمبر تمہاری باتوں کی طرف کان دھرتا ہے اور تمہارے عذر قبول کرتا ہے اور تمہارے گمان میں ہمہ تن گوش او رجلدی اعتماد کرنے والاہے ، تویہ بات تمہارے فائدے میں ہے( قُلْ اٴُذُنُ خَیْرٍ لَکُمْ ) ۔کیونکہ اس طرح وہ تمہاری عزت و آبرو کی حفاظت کرتا ہے او رتمہارے وقار کو ٹھیس نہیں لگا تا او رتمہارے خیالات و جذبات کو مجروح نہیں کرتا اور اس طریقے سے تمہاری محبت ، اتحاد اور وحدت کے لئے کوشاں ہے ۔

کیونکہ اگر وہ فوراً پردہ اٹھا دیتا اور جھوٹوں کو ذلیل و رسوا کرتا تو تمہارے لئے بڑی کٹھن صورت حال ہوتی ۔ علاوہ ازیں اگر ایک جماعت کے عزت و آبروختم ہو جاتی تو پھر اس کے لئے توبہ اور باز گشت کا راستہ بند ہوجاتا ۔ اور و ہ گنہ گار لوگ جو ہدایت کے قابل تھے بد کاروں کی صف میں جاکھڑے ہوتے اور پیغمبر کے پاس سے دور ہوتے جاتے ۔

ایک ہمدرد اور مہر بان قائد کو جبکہ وہ پختہ کار اور دانا بھی ہے ، ان سب باتوں کو سمجھنا چاہئیے لیکن ایسی بہت سی چیزوں کو زبان پر نہیں لانا چاہئیے تاکہ وہ افراد جو تربیت کی اہلیت رکھتے ہیں انکی تربیت ہو جائے اور ا س کے مکتب سے نہ بھاگیں اور لوگوں کے اسرار بھی ظاہر نہ ہوں ۔ اس کا آیت کے معنی میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ خدا عیب جوئی کرنے والوں کے جواب میں کہتا ہے :

” ایسا نہیں ہے کہ وہ سب کی باتوں کو قابل اعتنا سمجھتا ہے بلکہ سمجھتا ہے بلکہ وہ ایسی باتوں پر کان دھرتا ہے جو تمہارے فائدے میں ہوں یعنی خداکی وحی کو سنتا ہے ، مفید تجویز پر کان دھرتا ہے او رلوگوں کی عذر خواہی ایسے مواقع پر قبول کرتا ہے جبکہ وہ ان کے اور معاشرے کے مفاد میں ہو“(۲)

اس کے بعد اس وجہ سے کہ عیب جوئی کرنے والے کہیں اس بات سے ناجائز فائدہ نہ اٹھا ئیں اور اسے سند قرار نہ دے لیں یہ اضافہ فرماتا ہے : وہ خدا او راس کے احکامات پر ایمان رکھتا ہے اور سچے مومنوں کیباتوں پر کان دھرتا ہے ، انھیں قبول کرتا او ران پر اقدام کرتاہے( یُؤْمِنُ بِاللهِ وَیُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِینَ ) ۔

یعنی حقیقت میں پیغمبر دو قسم کے پروگرام رکھتے ہیں ایک ظاہرکی مھافظت اور پر دہ دری سے اجتناب اور دوسرا عمل کا مرحلہ ۔ پہلے مرحلے میں آپ سب کی باتوں کو سنتے ہیں اور بظاہر انکار نہیں ۔ لیکن عمل کے مقام میں ان کی توجہ صرف احکاماتِ خدا اور سچے مومنین کی تجاویز او رباتوں کی طرف ہوتی ہے اور حقیقت پسند قائد کو ایسا ہی ہو نا چاہئیے ۔ کیونکہ معاشرے کے مفادات کا تحفظ اس طریقے کے بغیر ممکن نہیں اس لئے خدا وندِ عالم بلا فاصلہ فرماتاہے : وہ تم میں سے مومنین کےلئے رحمت ہے( وَرَحْمَةٌ لِلَّذِینَ آمَنُوا مِنْکُمْ ) ۔

اس مقام پر یہ سوال ہوسکتا ہے کہ ہم چند آیات میں پڑھتے ہیں کہ پیغمبر رحمة للعالمین ہیں ( سورہ انبیاء ۱۰۷ ) لیکن مذکورہ آیت کہتی ہے کہ آپ صرف مومنین کے لئے رحمت ہیں ۔ کیا وہ عمومیت اس تخصیص کے ساتھ منا سبت رکھتی ہے ؟ مگر ایک نکتہ کی طرف توجہ دینے دے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے او روہ یہ ہے کہ رحمت کے کئی درجات او رمراتب ہیں جن میں ایک مرتبہ قابلیت اور استعداد ہے اور دوسرا مرتبہ فعلیت ہے ۔ مثلاً بارش اللہ کی رحمت ہے یعنی یہ قابلیت اور اہلیت اس کے سب قطروں میں پائی جاتی ہے کہ وہ خیر و برکت ، نشو ونما اور حیات کا سبب بنیں ۔ لیکن یہ تسلیم شدہ ہے کہ اس رحمت کے آثار کا ظہور صرف انہی زمینوں پر ہوتا ہے جو اس کے قابل ہوں اس وجہ سے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ بارش کے سب قطرے” رحمت “ ہیں اور یہ کہنا بھی درست ہے کہ بارش کے یہ قطرے اہل اور قابل زمینوں کے لئے باعث رحمت ہیں ۔ پہلا جملہ اہلیت اور قابلیت کی طرف اور دوسرا جملہ وجود اور فعلیت کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ اسی طرح حضرت پیغمبر اکرم قابلیت اور استعداد کی رو سے تمام جہانوں کے لئے رحمت ہیں لیکن آپ عملی طور پر مومنین کے لئے مخصوص ہیں ۔

اب یہاں پر ایک چیز باقی رہ جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ لوگ رسول اللہ کو اپنی باتوں سے اذیت و تکلیف پہنچاتے ہیں اور ان کی عیب جوئی کرتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ سزا سے بچ جائیں گے یہ ٹھیک ہے کہ حضرت رسول اکرم ان کے بارے میں ایک ذ مہ داری رکھتے ہیں کہ ان کے ساتھ بزرگانہ اور فرخدانہ بر تاو کریں اور انھیں رسوا نہ کریں ۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ اپنے اعمال کی سز انہ پائیں گے ۔لہٰذا آیت کے آخر میں قرآن فرماتاہے : وہ لوگ جو رسولِ خدا

کو اذیت و تکلیف پہنچاتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے( وَالَّذِینَ یُؤْذُونَ رَسُولَ اللهِ لَهُمْ عَذَابٌ اٴَلِیم ) ۔

____________________

۱۔ ار دو میں اسے ” ہمہ تن گوش “ بھی کہا جاتاہے ۔ ( مترجم )

۲۔ در حقیقت تفسیر اول کی بنا پر ” اذن خیر“ جوکہ مضاف مضاف الیہ ہے ، صفت موصوف کی طرف اضافت کی قسم سے ہے اور دوسری تفسیر کی بنا پر وصف کی طرف اجافت کے قبیل سے ہے ۔ پہلے احتمال کی بنا پر عبارت کے معنی اس طرح ہوں گے ” وہ تمہارے لئے بات کو قبول کرنے والا اور اچھا سخن پذیر ہے اور دوسرے احتمال کی بنا پر اس کا مفہوم یہ ہے ” وہ اچھی باتوں کو تمہارے فائدے اور نفع کے لئے سنتا ہے “۔


آیات ۶۲،۶۳

۶۲ ۔( یَحْلِفُونَ بِاللهِ لَکُمْ لِیُرْضُوکُمْ وَاللهُ وَرَسُولُهُ اٴَحَقُّ اٴَنْ یُرْضُوهُ إِنْ کَانُوا مُؤْمِنِینَ ) ۔

۶۳ ۔( اٴَلَمْ یَعْلَمُوا اٴَنَّهُ مَنْ یُحَادِدْ اللهَ وَرَسُولَهُ فَاٴَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیهَا ذَلِکَ الْخِزْیُ الْعَظِیمُ ) ۔

ترجمہ

۶۲ ۔ وہ تمہارے سامنے خدا کی قسم کھاتے ہیں تاکہ تمہیں کو رکھیں حالانکہ زیادہ مناسب با ت یہ ہے کہ وہ خدا اور اس کے رسول کو راضی کریں اگر (وہ سچ کہتے ہیں اور ) ایمان رکھتے ہیں ۔

۶۳ ۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ جو شخص خدا اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی کرے ، اس کے لئے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا یہ ایک بڑی رسوائی کی بات ہے ۔

شانِ نزول

بعض مفسرین کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ زیر نظر دونوں آیتیں گذشتہ آیت کی تکمیل کرتی ہیں او ریہ طبعا ً اور فطرتاً اسی سلسلے میں نازل ہوئی ہیں ۔لیکن مفسرین کی ایک او رجماعت نے ان دونوں آیات کے بارے میں ایک اور شانِ نزول نقل کی ہے او روہ یہ ہے کہ جب جنگِ تبوک کی مخالفت کرنے والوں اور پیچھے رہ جانے والوں کی مذمت میں آیات نازل ہوئیں تو منافقوں میں سے ایک نے کہا: خد اکی قسم ! یہ لوگ ہمارے بزرگ اور اشراف ہیں او رجو کچھ محمد ان کے بارے میں کہتا ہے سچ ہے تو پھر یہ چوپایوں سے بھی گئے گذرے ہیں ۔

ایک مسلمان نے یہ بات سن کر کہا : خدا کی قسم ! جو کچھ آنحضرت کہتے ہیں وہ حق ہے او رتو چوپائے سے بھی بد تر ہے ۔ جب یہ بات رسول اکرم کے پاس پہنچی تو آپ نے کسی کو اس منافق کو بلانے کے لئے بھیجا اور اس سے پوچھا کہ تونے یہ بات کیوں کہی ہے ؟ تو اس نے قسم کھا کر کہا : میں نے یہ بات نہیں کہی۔

وہ مرد مومن جو اس کے خلاف تھا اسی نے یہ بات جا کر حضور سے کہی تھی اس نے دعا کی :۔ تو خود سچے کی تصدیق او رجھوٹے کی تکذیب فرما۔

اس وقت یہ آیات ِ مندرجہ بالانازل ہوئیں اور دددھ کا دودھ او رپانی کا پانی کردیا۔

منافقین کی ایک نشانی

منافقین کی ایک اور کھلی نشانی اور عمل بد یہ ہے جس کی طرف قرآن اشارہ کررہا ہے کہ وہ اپنی بد کرداری کو چھپانے کے لئے اپنی بہت سی کرتوتوں کا انکار کر دیتے ہیں او رچاہتے ہیں اور چاہتے تھے کہ جھوٹ موٹ قسموں کے ذریعے لوگوں کو دھوکا دیتے رہیں اور انھیں اپنے آپ سے راضی رکھیں ۔

مندرجہ بالا آیتوں میں ایک طرف قرآن اس بر عمل سے پر دہ اٹھا کر ان کو ذلیل کرتا ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کو بت ادیتا ہے کہ وہ ان کی جھوٹی قسموں میں نہ آئیں ۔ پہلے کہتا ہے : وہ تمہارے سامنے خدا کی قسم کھاتے ہیں تاکہ تمہیں خو ش رکھیں( یَحْلِفُونَ بِاللهِ لَکُمْ لِیُرْضُوکُمْ ) ۔

ظاہر ہے کہ ان قسموں سے ان کا مقصد حقیقت بیان کرنا نہیں ہے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ مکرو فریب سے حقیقت کا چہرہ تماہری نظروں میں مسخ کردیں او راپنا مقصد حاصل کرلیں ۔ اگر ان کا نصب العین او رمقصد یہ ہوتا کہ واقعاً سچے مومنین کو اپنے سے راضی کریں تو اس سے زیادہ ضروری یہ تھا کہ وہ خدا اور اس کے پیغمبر کو راضی کرلیں ۔حالانکہ انھوں اپنے کردار او رعمل سے خدا و رسول کو سخت ناراض کیا ہے ۔ لہٰذا قرآن کہتا ہے : اگر وہ سچ کہتے ہیں اور ایماندار ہیں تو مناسب یہ ہے کہ وہ خدا اور پیغمبر کو راضی کریں( وَاللهُ وَرَسُولُهُ اٴَحَقُّ اٴَنْ یُرْضُوهُ إِنْ کَانُوا مُؤْمِنِینَ ) ۔

قابل غور امر یہ ہے کہ اس جملے میں چونکہ خدا اور اس کے رسول کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے تو قاعدے کے لحاظ سے میر کو تثنیہ ہو نا چاہئیے لیکن اس کے باوجود ضمیر ” واحد “ استعمال ہو ئی ہے ( مراد یر ضوہ کی ضمیر ہے ) حقیقت میں اس تعبیر کا اشارہ اس طرف ہے کہ پیغمبر کی رضا اور خدا کی رضا جدا جدا نہیں ہے اور رسول اسی چیز کو پسند کرتے ہیں جسے خدا وند عالم پسند کرتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ ” توحید افعالی “ کی طرف اشارہ ہے ۔ کیونکہ رسول اللہ خدا کے مقابلے میں اپنی طرف سے استقلال نہیں رکھتے ۔ ان کی خو شی او رنا راضی سب خدا کے لئے ہے ۔ ان کا سب کچھ اس کے لئے اور اس کی راہ میں ہے ۔

چند ایک روایات میں ہے کہ پیغمبر اکرم کے زمانے میں ایک شخص نے اثنائے گفتگو میں یوں کہا :

من اطاع الله ورسوله فقد فازو من عصا هما فقد غوی

جس نے خدا اور اس کے پیغمبر کی اطاعت کی وہ کامیاب ہوا اور جس نے ان دونوں کی مخالفت کی وہ گمراہ ہوا

جب پیغمبر نے یہ بات سنی کہ اس نے خدا اور پیغمبر کو ایک درجے میں رکھا ہے اور تثنیہ کی ضمیر استعمال کی ہے تو آپ پریشان ہوگئے اور فرمایا :بئس الخطیب انت هلا قلت من عصی الله و رسوله

تم برے خطیب ہو تم نے اس طرح کیوں نہیں کہا کہ جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کرے ( بلکہ تم نے تثنیہ کی ضمیر استعمال کی ہے اور کہا ہے کہ جو ان دونوں کو حکم نہ مانے )۔(۱)

اس کے بعد کی آیت میں قرآن ایسے منافقوں کو سخت دھمکی دیتا ہے او رکہتا ہے :” کیا وہ نہیں جانتے کہ جو خدا اور اس کے رسول کی مخالفت اور دشمنی کرے اس کے لئے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا( اٴَلَمْ یَعْلَمُوا اٴَنَّهُ مَنْ یُحَادِدْ اللهَ وَرَسُولَهُ فَاٴَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیهَا ) ۔اس کے بعد تاکید کے طور پر فرماتا ہے : یہ بڑی ذلت ورسوائی ہے( ذَلِکَ الْخِزْیُ الْعَظِیمُ ) ۔

” یحادو“ محادة “ کے مادہ سے ہے اور ” حد“ کی اصل سے ہے جو کنارہ ، طرف اور کسی چیز کی انتہا کے معنی میں آتا ہے ۔ چونکہ مخالفت اور دشمن افراد ایک دوسرے کے مد مقابل ہوتے ہیں اس لئے یہ ” محادہ “ کا مادہ عداوت اور دشمنی کا مفہوم رکھتا ہے جیسا کہ ہم روز مرہ کی گفتگو میں لفظ ” ظرفیت “ مخالفت اور دشمنی کے معنی میں بولتے ہیں ۔

____________________

۱۔تفسیر ابو الفتح رازی ، آیہ مذکورہ کے ذیل میں ۔


آیات ۶۴،۶۵،۶۶

۶۴ ۔( یَحْذَرُ الْمُنَافِقُونَ اٴَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُورَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِی قُوبِهمْ قُلْ اسْتَهْزِئُوا إِنَّ اللهَ مُخْرِجٌ مَا تَحْذَرُونَ ) ۔

۶۵ ۔( وَلَئِنْ سَاٴَلْتَهُمْ لَیَقُولُنَّ إِنَّمَا کُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ اٴَبِاللهِ وَآیَاتِهِ وَرَسُولِهِ کُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ ) ۔

۶۶ ۔( لاَتَعْتَذِرُوا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ إِیمَانِکُمْ إِنْ نَعْفُ عَنْ طَائِفَةٍ مِنْکُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً بِاٴَنَّهُمْ کَانُوا مُجْرِمِینَ ) ۔

ترجمہ

۶۴ ۔ منافقین اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں کوئی آیت کے خلاف نازل نہ ہوجائے جو ان کے دلوں کے بھید وں کی انھیں خبر دے دے ۔ کہہ دیجئے کہ ٓا ستہزاء اورمذاق کرلو ۔ جس کا تمہیں ڈر ہے خدا اسے ظاہر کرے گا ۔

۶۵ ۔ اگر تم ان سے پوچھو ( کہ تم یہ برے کام کیوں کرتے ہو) تو وہ کہتے ہیں کہ ہم مذاق کرتے ہیں تو کہہ دو کہ کیاتم خدا ، اس کی آیات اور اس کے پیغمبر کامذاق اڑاتے ہو ؟

۶۶ ۔ ( کہہ دو) معذرت نہ کرو( کیونکہ وہ فضول ہے اس لئے کہ ) تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے ہو ۔ اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو ( توبہ کرنے کی وجہ سے معاف کر دیں تو دوسرے گروہ کو عذاب میں مبتلا کریں گے کیونکہ وہ مجرم تھے ۔

شان نزول

مذکورہ بالا آیتوں کی مختلف شان ِ نزول نقل ہو ئی ہےں ان سب کا تعلق جنگ تبوک کے بعد منافقوں کی حرکتوں اور شرارتوں سے ہے ۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ منافقوں کی ایک جماعت نے خفیہ میٹنگ میں حضرت رسول اکرم کے قتل کی سازش کی ۔ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ جنگ ِ تبوک سے واپسی پرراستے کی ایک گھاٹی میں چپکے سے صورت بدل ک گھات میں رہیں گے اور جب رسول اللہ اپنی اونٹنی پرگذریں گے تو اونٹنی کو بد کائیں گے اور رسول اللہ کو قتل کردیں گے۔ خدا نے اپنے پیغمبر کو اس سازش کو اطلاع کردی ۔

آپ نے حکم دیا کہ مسلمانوں کا ایک گروہ نگرانی کرے اور ان لوگوں کو تتر بتر کردے جب حضرت رسول اکرم اس گھاٹی پر پہنچے تو آپ کی اونٹنی کی مہار حضرت عمار کے ہاتھ میں تھی اور حذیفہ اسے پیچھے سے ہانک رہے تھے ۔ رسول اللہ نے حذیفہ سے فرمایا کہ ان کی سواریوں کے منہ پر ( چابک)مارو اور انھیں بھگا دو ۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا ۔ جب آپ گھاٹی سے صحیح سلامت نکل آئے تو حضر نے حذیفہ سے فرمایا تونے انھیں پہنچا نا نہیں ؟ تو اس نے عرض کیا ” نہیں میں نے تو ان میں سے کسی کو نہیں پہچانا ۔ اس کے بعد حضرت پیغمبر ان سب کے نام گنوائے ۔ حذیفہ نے عرض کیا جب صور ت حال یہ ہے تو آپ ایک گروہ کو کیوں یہ حکم نہیں دیتے کہ وہ جاکر انھیں قتل کردے ۔ آپ نے فرمایا : میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ عرب یہ کہیں کہ محمد اپنے ساتھیوں پر کامیاب ہو گیا تو انھیں قتل کرنا شروع کردیا ۔

یہ شان ِ نزول حضرت امام محمد باقر - سے نقل ہوئی ہے اور حدیث و تفسیر کی بہت سی کتابوں میں آئی ہے ۔

ایک دوسری شان ِ نزول یہ لکھی ہےکہ جب منافقوں نے جنگ تبوک میں دشمن کے مقابلے میں حضرت کی جگہ دکھی تو مذاق کے طور پر کہنے لگے کہ یہ شخص گمان کرتا ہے کہ شام کے محل اور شامیوں کے مضبوط قلعے فتح کرے گا ، یہ تو قطعی طور پر محال ہے ۔

خداوند عالم نے اپنے پیغمبر کو اس واقعہ کی خبر دی تو آپ نے حکم دیا کہ اس گروہ کا راستہ بند کردیا جائے اس کے بعد آپ نے ا نھیں بلا یا اور لعنت ملا مت کی اور فرمایا کہ تم نے لوگوں سے یہ باتیں کی ہیں انھوں نے معافی مانگی کہ اس سے ہمارا کوئی خاص مقصد نہ تھا ہم تو مذاق کررہے تھے اور اس با ت پر قسم کھائی ۔

منافقین کا خطر نا ک پرگرام

گذشتہ آیات سے اس بات کا اندازہ ہوتاہے کہ منافق کس طرح قوت کے اسباب کو کمزوری کے ذرائع سمجھتے تھے اور مسلمانوں میں تفرقہ اور اختلاف ڈالنے کےلئے پروپیکنڈے کرتے تھے ۔ جن آیات پربحث کی جارہی ہے ان میں ان کے منصوبوں اور طریق کار کے ایک اور حصے کی طرف اشارہ ہے پہلی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا پیغمبر اکرم کو منافقوں کی سازشوں سے بچا نے کے لئے بعض اوقات ان کے اسرار سے پردہ اٹھادیتا ہے اور ان سے مسلمانوں کی جماعت کو آگاہ کردیتا تھا تاکہ وہ چوکنے ہو جائیں اور ان کے دھوکے میں نہ آئیں اور وہ بھی اپنی حیثیت کی طرف متوجہ رہیں اور اپنے دست و پا سمیٹ کر رکھیں ۔ اس وجہ سے منافق اکثر اوقات خوف زدہ او رحیران و پریشان رہتے تھے ۔ چنانچہ قرآن ان کی اس حالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :

منا فق ڈرتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی ایسی سورت نازل نہ ہوجائے جو اس سے انھیں ( مسلمانوں کو) اگاہ کردے

( یَحْذَرُ الْمُنَافِقُونَ اٴَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُورَةٌ تُنَبِّئُهُم ْ بِمَا فِی قُوبِهمْ ) ۔

لیکن عجیب بات یہ ہے کہ وہ پھ ربھی انتہائی دشمنی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے پیغمبر کے کاموں کا مذاق ۱ ڑانے سے باز نہیں آتے تمسخر اڑانے کا سلسلہ ترک نہیں کرتے لہٰذا خدا اس آیت کے آخرمیں اپنے پیغمبر سے فرماتا ہے : ان سے کہہ دو تم سے جتنا ہو سکے مذاق اڑاو، لیکن جان لو کہ جس چیز کاتمہیں خوف ہے خدا اسے ظاہر کردے گا اور تمہیں ذلیل و رسوا کرکے رہے گا( قُلْ اسْتَهْزِئُوا إِنَّ اللهَ مُخْرِجٌ مَا تَحْذَرُونَ ) ۔

البتہ استہزؤا “ ( ہنسی مذاق اڑاو) تہدید کی قبیل سے فعل امر ہے جیسے انسان اپنے دشمن سے کہتاہے ۔ جس قدر دکھ تکلیف تو پہنچا سکتا ہے پہنچا لے ہم ا س کاایک ہی مرتبہ جواب دیں گے ۔ اس قسم کی باتیں دھمکی کے موقع پر کی جاتی ہیں ۔ضمنی طور پر توجہ دیجئے تو اوپر والی آیت سے معلوم ہو تا ہے کہ منافق دل میں پیغمبر کی دعوت کی سچائی کو اچھی طرح جانتے تھے اور خدا سے آنحضرت کے ارتباط سے وہ خوب واقف تھے ۔ لیکن اس کے باوجود ہٹ دھرمین اور دشمنی کی وجہ سے ان کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی بجائے مخالفت کرتے تھے ۔ اسی وجہ سے قرآن کہتا ہے : منافقوں کواس بات کا ڈر تھا کہ کہیں ان کے خلاف قرآنی آیا ت نازل ہوں اور ان کے دلوں میں چھپے ہو ئے رازوں کو طشت ازبام کردیں ۔

اس نکتہ کی طرف توجہ ضروری ہے کہ ”( تنزل علیهم ) “ کامطلب یہ نہیں ہے کہ اس قسم کی آیتیں منافقین پرنازل ہوتی تھیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ وہ ان کے بارے اور ان کے خلاف تھیں اگر چہ حضرت رسول اکرم پر نازل ہوتی تھیں ۔

خدا اس کے بعد میں آنے والی آیت میں منا فقین کے ایک اور منصوبہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :۔

” اگر ان سے پوچھو کہ تم نے اس قسم کی غلط بات کیوں کی ہے اور اس قسم کی غلط حرکت کیوں کی ہے ؟ تو کہتے ہیں کہ ہم دل لگی او رہنسی مذاق کرتے تھے او راس سے ہماری کوئی غرض نہ تھی( وَلَئِنْ سَاٴَلْتَهُمْ لَیَقُولُنَّ إِنَّمَا کُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ ) ۔(۱)

اصل میں یہ ایک انوکھی راہ فرار تھی ۔ سوچ سمجھ کر سازشیں کرتے تھے اور زہریلی باتیں اس ارادے سے کرتے کہ ان کارازظاہر نہ ہو اور ان کا منحوس مقصد پورا ہوگیا تو اپنی دلی مراد پالیں گے اور اگر بھانڈا پھوٹ گیا تو اپنے آپ کو ہنسی مذاق کے پر دے میں چھپا لیں گے اور جھوٹ موٹ بہانہ بازیا ں کرکے رسول اکرم اور لوگوں کی طرف سے سزا اور رد عمل سے بچ جائیں گے ۔

اس زنے کے منافق بلکہ ہر زمانے کے منافقوں کے منصوبے ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں اس طریقے سے وہ بہت سے فائدے اٹھا تے ہیں بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جن مقاصد کے وہ سختی سے پابند ہو تے ہیں انھیں عام مذاق اور دل لگی کے لباس میں پیش کرتے ہیں اگر اپنا مقصد پالیا تو کیا کہنے ورنہ مذاق اور خوش طبعی کے بہانے سزا کے چنگل سے بچ جاتے ہیں ۔

لیکن قرآن ابھی یقینی سزا دینے کا اعلان کرتا ہے اور رسالتِ مآب کو حکم دیتا ہے کہ ان سے کہہ دو کیا تم خدا ، اس کی آیتوں اور ا س کے رسول کا مذاق اڑاتے ہو اور اس سے استہزا اور دل لگی کرتے ہو( قُلْ اٴَبِاللهِ وَآیَاتِهِ وَرَسُولِهِ کُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ ) ۔یعنی کیا ہر ایک سے مذاق کیا جاسکتا ہے ، یہاں تک کہ خدا ، پیغمبر اور آیات قرآن کے ساتھ بھی ؟ کیا پختہ ترین اسلامی اصول بھی ہنسی مذاق کے لائق ہیں ؟ کیا حضرت رسول کرام کی اونٹنی ک وبد کانا اور بھگا نا اور اس خطر نا ک گھاٹی میں پیغمبر کا گرنا ۔ ایسی چیزیں ہیں جن کو مذاق کے پردے میں چھپا یا جا سکے ؟

یا آیات خداوند ی کا مذاق اڑانا اور پیغمبر کی آئندہ کامیابیوں کی پیش گوئیوں پر پھبتیاں کسنا بھی مزاح سمجھا جا سکتا ہے یہ سب باتیں گواہی دیتی ہیں کہ وہ خطر ناک ارادے رکھتے تھے جنھیں ان پردوں میں چھپا نا چاہئیے تھے۔

اس کے بعد خدا وند عالم نے اپنے پیغمبر کو حکم یدا ہے ہ منافقوں سے صراحت کے ساتھ کہہ دو کہ ” ان فضول اور جھوٹے حیلے بہانوں سے باز آجاو “( لاَتَعْتَذِرُوا ) ۔

” کیونکہ تم نے ایما ن کے بعد کفر کی راہ اختیار کرلی ہے( قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ إِیمَانِکُمْ ) ۔

اس بات سے پتہ چلتاہے کہ مذکورہ بالا گروہ سے منافقوں کی صف میں نہ تھا بلکہ یہ لوگ کمزور ایمان رکھنے والوں کی صف میں تھے لیکن مندرجہ بالا واقعہ کے بعد انھوں نے کفر کا راستہ اختیار کرلیا ۔

مندرجہ بالا جملے کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ جماعت اس سے پہلے بھی منافقوں کے صف میں داخل تھی لیکن کیونکہ ان سے ظاہر بظاہر کوئی غلطی نہیں ہوئی تھی اس لئے پیغمبر اور مسلمانوں کافرض تھا کہ وہ ان سے مومنوں کا سا سلوک کریں لیکن جب جنگِ تبوک کے واقعہ کے بعد ہٹا اور انکا کفر و نفاق ظاہر ہوگیا تو انھیں اس امر سے خبر دار کیا گیا کہ تم آئندہ مومنین کی صف میں شمار نہ ہوگے۔ آخر کار آیت کو اس جملے پر ختم کیا گیا ہے : اگر ہم تم سے ایک جماعت کو بخش دیں تو دوسرے گروہ کو اس بنا پر کہ وہ مجرم ہے سزا دیں گے( إِنْ نَعْفُ عَنْ طَائِفَةٍ مِنْکُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً بِاٴَنَّهُمْ کَانُوا مُجْرِمِینَ ) ۔یہ جو کہا گیا ہے کہ ہم ایک گروہ کو ان کے جرم و خطا کی پاداش میں سزا دیں گے یہ اس بات کی دلیل ہے ایسے لو گ قابل معافی ہیں جنھوں نے گناہ او رجرم کی نشانیوں کوتوبہ کے پانی سے دھو ڈالا ہے ۔ آئندہ آیات مثلاً آیات مثلاً آیہ ۷۴ میں بھی اس بات کا قرینہ پایا جاتا ہے ۔ اس آیت کے ضمن میں بہت سی روایتیں ہیں جو اس امر کی حخایت کرتی ہیں کہ ان منافقوں میں سے جن کا ذکر اوپر کی آیات میں ہو چکا ہے بعض اپنے کئے پر پشمان ہو ئے اور انھوں نے توبہ کی ۔ لیکن کچھ دوسرے منافقو اپنے طریقے پر ڈٹے رہے۔ مزید وضاحت کے لئے تفسیر نور الثقلین جلد ۲ صفحہ ۲۳۹ ملاحظہ فرمائیے ۔

____________________

۱۔ ”خوض “( بر وزن” حوض “ ) جیسا کہ کتب لغت میں ہے ، آہستہ آہستہ پانی میں داخل ہونے کے معنی میں ہے بعد ازں بطور کنایہ مختلف کاموں میں داخل ہونے کے معنی میں بولا جانے لگا لیکن قرآن میں زیادہ تر بر کام شروع کرنے یا قبیح او ربری باتوں کا سلسلہ شروع کرنے کے مفہوم میں آیا ہے ۔


آیات ۶۷،۶۸،۶۹،۷۰

۶۷ ۔( الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ بَعْضهُمْ مِنْ بَعْضٍ یَاٴْمُرُونَ بِالْمُنْکَرِ وَیَنْهَوْنَ عَنْ الْمَعْرُوفِ وَیَقْبِضُونَ اٴَیْدِیَهُمْ نَسُوا اللهَ فَنَسِیهُمْ إِنَّ الْمُنَافِقِینَ هُمْ الْفَاسِقُونَ ) ۔

۶۸ ۔( وَعَدَ اللهُ الْمُنَافِقِینَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْکُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِینَ فِیهَا هِیَ حَسْبُهُمْ وَلَعَنَهُمْ اللهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُقِیمٌ ) ۔

۶۹ ۔( کالّذین مِنْ قَبْلِکُمْ کانوا ٓ اشدّ منکم قوة و اکثر اموالا و اولاداً فاستمعوا بخلاقهم فاستمتعتم بخلاقکم کما استمتع الذین من قبلکم بِخَلَاقِهِمْ وَخُضْتُمْ کَالَّذِی خَاضُوا اٴُوْلَئِکَ حَبِطَتْ اٴَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ وَاٴُوْلَئِکَ هُمْ الْخَاسِرُونَ ) ۔

۷۰ ۔( اٴَلَمْ یَاٴْتِهِمْ نَبَاٴُ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَقَوْمِ إِبْرَاهِیمَ وَاٴَصْحَابِ مَدْیَنَ وَالْمُؤْتَفِکَاتِ اٴَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالبَیِّنَاتِ فَمَا کَانَ اللهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَلَکِنْ کَانُوا اٴَنفُسَهُمْ یَظْلِمُونَ ) ۔

ترجمہ

۶۷ ۔ منا فق مرد اور عورتیں سب ایک ہی گروہ سے ہیں وہ برے کاموں کا حکم دیتے ہیں اور اچھے کوموں سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کو ( سخاوت اور بخشش سے ) باندھ لیتے ہیں انھوں نے خدا کو فراموش کردیا ہے اور خدا نے ان کو بھلا دیا ہے ( اس نے اپنے رحمت ان سے منقطع کرلی ہے ) یقینا منافق فاسق ہیں ۔

۶۸ ۔ خدا نے منافق مردوں اور عورتوں اور کافروں کے لئے جہنم کی آگ کا وعدہ کیا ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔ وہی ان کے لئے کافی ہے اور خدا نے انھیں اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اور ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب ہے ۔

۶۹ ۔ ( تم منافق لوگ ) ان افراد کی طرح ہو جو تم سے پہلے تھے ( اور انھوں نے نفاق کا راستہ اختیار کیا تھا ) وہ تم سے زیادہ طاقت ور تھے اور مال اور اولاد کے لحاظ سے تم سسے بڑ چڑھ کر تھے ۔ انھوں نے ( دنیا میں ہواو ہوس او رگناہ کے ذریعے ) اپنے حصے سے استفادہ کیا ۔ تم نے بھی ( اسی طرح ) اپنے حصے سے استفادہ کیا ہے جیسا کہ انھوں نے استفادہ کیا تھا تم ( کفر ، نفاق او رمومنین کا مذاق اڑانے میں ) مگن ہو جسیے وہ مگن تھے ( لیکن آخر کار ) ان کے اعمال دنیا اور آخرت میں ملیامیٹ ہ وگئے اور وہ خسارہ میں ہیں ۔

۷۰ ۔ کیا انھیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے ۔ قومِ نوح ۔، عاد ثمود اور براہیم کی قوم اور اصحاب مدیَن ( قوم ِ شعیب ) اور وہ شہر جو تہ و بالا ہوئے تھے ( قوم ِ لوط) کہ جن کے پیغمبر ان کی طرف روشن اور واضح دلیلوں کے ساتھ آئے تھے ( لیکن انھو ں نے پیغمبروں کی کوئی بات نہ مانی )خدا نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انھوں خود اپنے آپ پر ظلم کیا۔

منافقوں کی نشانیاں

ان آیتوں میں بھی اسی طرح منافقین کے چال چلن او رنشانیوں کے بارے میں بحث ہے ۔

پہلی زیر بحث آیت میں خدا وند عالم ایک امر کلی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور وہ یہ کہ ہو سکتا ہے کہ نفاق کی روح مختلف شکلوں میں ظاہر ہو او رمختلف چہروں میں دکھائی ددے ہوسکتا ہے شروع شروع میں متوجہ نہ کرے ۔ خاص طور پرہو سکتا ہے کہ روحِ نفاق کا اظہار ایک مرد کی نسبت ایک عورت میں مختلف طرح سے ہو ۔ لیکن نفاق کے چہروں کے تغیر و تبدل سے دھو کا نہیں کھا نا چاہئیے بلکہ غور وفکر کرنے سے بخوبی یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ وہ سارے صفات کے ایک ہی سلسلے میں جو ان کے قدر مشترک سمجھی جاتی ہے ، شریک ہیں ۔ اس لئے قرآن کہتا ہے : منافق مرد او رمنافق عورتیں ایک ہی قماش کے ہیں( الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ بَعْضهُمْ مِنْ بَعْضٍ ) ۔

اس کے بعد ان کی پانچ صفات کا ذکر فرمایا گیا ہے :

پہلی اور دوسری صفت یہ ہے کہ وہ لوگوں کو برائیوں پر ابھار تے ہیں اور نیکیوں سے روکتے ہیں( یَاٴْمُرُونَ بِالْمُنْکَرِ وَیَنْهَوْنَ عَنْ الْمَعْرُوفِ ) ۔

یعنی بالکل سچے مومنین کے الٹ جو ہمیشہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے طریقے سے معاشرے کی اصلاح اور اسے نجاست اور گناہ سے پاک کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ منافق ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ ہر جگہ پرفساد پھیل جائے اور معروف اور نیکی معاشرے سے خم ہو جائے تاکہ وہ اس قسم کے ماحول میں اپنے برے مقصد بہتر طریقے سے حاصل کرسکیں ۔

تیسیری صفت یہ ہے کہ وہ دینے والا ہاتھ نہیں رکھتے بلکہ اپنے ہاتھوں کو باندھے ہوئے ہیں نہ وہ راہ خد امیں خرچ کرتے ہیں اور نہ محروم اور بے کس لوگوں کی مدد کے لئے آگے بڑھتے ہیں ۔ یہاں تک کہ ان کے رشتہ داراور دوست آشنا بھی ان کی مالی مد د سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے( وَیَقْبِضُونَ اٴَیْدِیَهُمْ ) ۔

واضح ہے کہ چونکہ وہ آخرت پر اور نفاق کے نتیجے اور جز اپر یمان نہیں رکھتے۔ اس لئے مال خرچ کرنے میں بہت ہی بخیل ہیں ۔ اگر چہ وہ اپنے برے اغراض و مقاصد تک پہنچنے کے لئے زیادہ مال خرچ کرتے ہیں یا ریا کاری اور دکھاوے کے طور پر سخاوت اور بخشش کرتے ہیں لیکن وہ خدا کے نام خلوص ِ دل سے کبھی کوئی نیک کام نہیں کرتے ۔

چوتھی صفت یہ ہے کہ ان کے تمام کام ، گفتار اور کردار بتاتے ہیں کہ وہ خدا کو بھول چکے ہیں ، نیز ان کے طرز زندگی سے معلوم ہوتا ہے کہ ” خد انے بھی ان کو اپنی بر کات ، توفیقات، اور نعمات سے فراموش کردیا ہے “ اور ان دونوں فراموشیوں کے آثار ان کی زندگی سے آشکار ہیں( نَسُوا اللهَ فَنَسِیهُم ) ۔

واضح ہے کہ” نسیان “کی نسبت خدا کی طرف واقعی اور حقیقی بھلادینے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ان کے ساتھ بھال دینے والے شخص کا سا سکوک کرتاہے ۔ یعنی انھیں اپنی رحمت اور توفیق سے دور رکھتا ہے ۔

یہ معاملہ روز مرہ کی زندگیوں میں بھی پایا جاتا ہے مثلا ً ہم کہتے ہیں کہ چونکہ تو اپنی ذمہہ داری کو بھول چکا ہے لہٰذا ہم بی مزدوری او ربدلے کے وقت تجھے بھول جائیں گے یعنی مزدوری اور بدلہ نہیں دیں گے یہی مفہوم روایاتِ اہل بیت - میں بار ہا بیان ہوا ہے ۔(۱)

پانچویں صفت یہ ہے کہ یہ منافق فاسق ہوتے ہیں اور طاعت ِخدا وندی کے دائرے سے خارج ہیں( إِنَّ الْمُنَافِقِینَ هُمْ الْفَاسِقُونَ ) ۔

جو چکھ مندرجہ بالا آیت میں منافقین کی مشترکہ صفات کے بارے میں کہا جاچکا ہے وہ ہرزمانے میں دیکھا جاتا ہے ہمارے زمانے کے منافق اپنے خود ساختہ نئے اور جدید چہروں کے باوجود مذکورہ اصولوں کی رو سے گذشتہ صدیوں کے منافقوں کی طرح ہیں وہ برائی اور فساد کی طرف ابھارتے ہیں اور اچھے کاموں سے روکتے ہیں بخیل اور کنجوس بھی ہیں اور اپنی زندگی کے تمام پہلو وں میں خدا کو بھول چکے ہیں وہ قانون شکن اور فاسق بھی ہیں اور نرالی بات یہ ہے کہ ان تمام خوبیوں کے باوجودخدا پر ایمان اور دینی اصولوں اور اسلامی بنیادوں پریقین ِ محکم کا دعویٰ بھی کرتے ہیں اس کے بعد آیت میں ان کی سخت اور دردناک سزا اس مختصر سے جملے میں بیان کی گئی ہے : خدا منافق مردوں ، منافق عورتوں ، تمام کافروں اور بے ایمان افراد کے لئے جہنم کی آگ کا وعدہ کرتا ہے( وَعَدَ اللهُ الْمُنَافِقِینَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْکُفَّارَ نَارَ جَهَنَّم ) ۔

وہ جلانے والی آگ کہ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے( خَالِدِینَ فِیهَا )

اور یہی ایک سزاجو طرح طرح کے عذاب لئے ہوئے ہے ان کے ئے کافی ہے( هِیَ حَسْبُهُمْ ) ۔

دوسروں لفظوں میں انھیں کسی سزا کی ضرورت نہیں کیونکہ جہنم میں ہر قسم کا جسمانی اور روحانی عذاب موجود ہے ۔

اور آیت کے آخر میں یہ اضافہ کیا گیا ہے کہ ” خد انے انھیں اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اور ہمیشہ کا عذاب ان کے نصیب میں ہے “( وَلَعَنَهُمْ اللهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُقِیمٌ ) ۔

بلکہ یہ خدا سے دوری خود عظیم ترین عذاب اور دردناک ترین سزا شمار ہوتی ہے ۔

تاریخ کا ذکر اور درس عبرت اس آیت میں منافقین کی جماعت کو بیدار کرنے کےلئے ان کے چہرے کے سامنے تاریخ کا آئینہ رکھ دیا گیا ہے اور ان کی زندگی کا گذشتہ باغی منافقوں سے مقابلہ اور موازنہ کرکے موثر درسِ عبرت دیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہےکہ ” تم گذشتہ منافقوں کی طرف ہو اور اسی برے راستے او ربدسر نوشت کے پیچھے پڑے ہوئے ہو( کالّذین مِنْ قَبْلِکُمْ ) ۔انہی لوگوں کی طرح جو قوت و طاقت میں تم جیسے زیادہ اور مال و دولت کی رو سے تم سے بہت آگے تھے( کانوا ٓ اشدّ منکم قوة و اکثر اموالاً و اولاداً ) ۔

دنیا میں و ہ اپنے حصہ میں سے شہوت ِ نفسانی ، گندگی، گناہ ، فتنہ فساد اور تباہ کاریوں سے بہرہ ور ہوتے ہوئے۔ تم بھی جو اس امت کے منافق ہو گزرے ہوئے منافقین کی طرح ہی حصہ دار ہو( فاستمعوا بخلاقهم فاستمتعتم بخلاقکم کما استمتع الذین من قبلکم بِخَلَاقِهِمْ ) ۔

”خلاق“ لغت میں نصیب اور حصہ کے معنی میں ہے جیسا کہ راغب مفردات میں کہتا ہے یہ ”خلق“ سے لیا گیا ہے ( یعنی اس جہت سے انسان اپنا نصیب اپنے خلق و خو کے مطابق اس دنیا میں حاصل کرتا ہے ) اس کے بعد فرما گیاہے : تم کفر و نفاق میں اور مومنین کا مذاق اڑاے میں مگن ہو جیسا کہ ان امور میں وہ لوگ ڈوبے ہوئے تھے( وَخُضْتُمْ کَالَّذِی خَاضُوا ) ۔(۲)

آخر میں عہد پیغمبر کے منافقوں اور دنیا کے سب منافقوں کو بیدار کرنے کے لئےگزرے ہوئے منافقین کا انجام دو جملوں میں بیان کیا گیا ہے ۔

پہلا یہ کہ وہ ایسے لوگ ہیں جن کے دنیا و آخرت میں سب اعمال تباہ و بر باد ہوئے ہیں اور بر باد ہوں گے اور انھیں اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں ملے گا( اٴُوْلَئِکَ حَبِطَتْ اٴَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ ) ۔

دوسرا یہ کہ وہ اصلی اور حقیقی نقصان اٹھانے والے ہیں( وَاٴُوْلَئِکَ هُمْ الْخَاسِرُونَ ) ۔

ممکن ہے کہ وہ اپنے منافقہ عمل سے وقتی اور عارضی محدود فائدے حاصل کریں لیکن اگر ہم صحیح طور پر توجہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ وہ اس طریقے سے نہ دنیا میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور نہ آخرت میں انھیں کوئی فائدہ ہوگا۔

جیسا کہ اقوام گذشتہ کی تاریخ اس حقیقت کو واضح کررہی ہے کہ کس طرنفاق کی بد بختیان ان سے وابستہ ہو کر رہ گئیں اور انھیں زوال اور نیستی کی طرف لے گئیں اور ان کے برے انجام او ربری عاقبت نے عالم ِ آخرت میں ان کی بد بختی ظاہر اور واضح کردی ۔ جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ باوجود تما م وسائل او رمال اولاد کے ہوتے ہوئے کامیابی تک نہ پہنچ سکے اور ان کے سب اعمال بے بنیاد ہونے کی وجہ سے اور نفاق کے زیر اثر نابود ہو گئےتو پھر تم جو کہ قوت اور طاقت کے لحاظ سے کمتر ہوا اس قسم کی بد قسمتی او ربد انجامی میں اور بھی بر طرح سے پھنسو گے ۔

اس کے بعد خدا وند عالم پیغمبر اسلام کی طرف بات کا رخ موڑتے ہوئے استفہام انکاری کے طور پر یوں فرماتا ہے :

کیا منافقوں کا یہ گروہ گذشتہ امتوں قوم نوح ، عاد، ثمود اور قوم ابراہیم اور اصحاب مدیَن ( قوم شعیب )اور قوم لوط کے ویران و برباد شہروں کے حال سے باخبر نہیں ہے “( اٴَلَمْ یَاٴْتِهِمْ نَبَاٴُ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَقَوْمِ إِبْرَاهِیمَ وَاٴَصْحَابِ مَدْیَنَ وَالْمُؤْتَفِکَاتِ ) ۔(۳)

یہ قومیں جن کا ایک عرصہ تک دنیا کے اہم حصوں پر اقتدار تھا ۔ ان میں سے ہر ایک تباہ کاری ، نافرمانی ، سر کشی ، بے انصافی، طرح طرح کے ظلم و ستم اور فساد کی وجہ سے کسی نہ کسی عذاب ِ الہٰی میں گرفتار ہوئی ۔

قوم نوح طوفان کی تباہ کن موجوں سے اور قوم ِ عاد ( قوم ہود) نیز اور وحشت ناک آندھیوں کے ذریعے، قوم ثمود ( قوم صالح ) ویران گر زلزلوں سے ، قوم ابراہیم گوناگں نعمتوں کی محرومی سے ، اصحاب مدین ( قوم شعیب) آگ کے بر سانے والے بادل سے اور قوم لوط اپنے شہروں کے زیرو زبر ہونے سے تباہ و برباد ہوئی۔ صرف ان کے بے جان جسم او ربوسیدہ ہڈیاں مٹی کے نیچے یا پانی کی موجوں میں باقی رہ گئیں ۔

یہ وہ دل دہلانے والے واقعات ہیں جن کامطالعہ اور آگاہی ہر اس انسان کو جو ذرا سا بھی احساس رکھتا ہے جھنجوڑ کر رکھ دیتے ہیں ۔

اگر چہ خد انے کبھی بھی انھیں اپنے لطف و کرم سے محروم نہیں رکھا اور ان کے نبیوں کو واضح دلیلوں کے ساتھ ان کی ہدایت کے لئے بھیجا( اٴَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالبَیِّنَاتِ ) ۔لیکن انھوں نے ان خدا رسیدہ بزرگوں کے کسی موعظہ اور نصیحت پر کان نہ دھرے اور مخلوق ِ خدا کی نصیحت و ہدایت کی راہ میں ان کی ناقابل ِ برداشت تکلیفوں کو ذرہ برابر اہمیت نہ دی۔ اس بنا پر خدانے کبھی ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انھوں نے خود اپنے آپ پر ظلم و جور روا رکھا ۔( فَمَا کَانَ اللهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَلَکِنْ کَانُوا اٴَنفُسَهُمْ یَظْلِمُونَ ) ۔

____________________

۱تفسیر نور الثقلین جلد ۲ ص ۲۳۹، ۲۴۰ ملاحظہ فرمائیں ۔

۲۔ ”کالذی خاضوا “ در اصل ” کالذی خاضوا فیہ “ ہے یا دوسرے لفظوں میں آج کل کے منافقین کے فعل کی تشبیہ گذرے ہوئے منافقین کے فعل سے ہے جیسے کہ گذشتہ جملے میں ان کے نعمات الہٰی سے راہ شہوت و خواہشات میں فائدہ اٹھانے کو گذرے ہوے منافقوں کے طرز عمل سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ اس بنا پر یہ ایک شخص سے تشبیہ نہیں ہے کہ ہم مجبورہو کر”الذی “ کو ”الذین “ ( یعنی مفرد کی جمع ) کے معنی میں لیں بلکہ عمل کو عمل سے تشبیہ دی گئی ہے ۔

۳۔موٴتفکات “ ”اتفاک “ کے مادہ سے انقلاب ، تبدیلی اور زیر و زبر ہ ونے کے معنی میں ہے ۔ یہ قوم لوط کے شہروں کی طرف اشارہ ہے جو زلزلہ کی وجہ سے تباہ و برباد ہو گئے تھے ۔


آیات ۷۱،۷۲

۷۱ ۔( وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ اٴَوْلِیَاءُ بَعْضٍ یَاٴْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْهَوْنَ عَنْ الْمُنکَرِ وَیُقِیمُونَ الصَّلَاةَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَیُطِیعُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ اٴُوْلَئِکَ سَیَرْحَمُهُمْ اللهُ إِنَّ اللهَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ ) ۔

۷۲ ۔( وَعَدَ اللهُ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِهَا الْاٴَنْهَارُ خَالِدِینَ فِیهَا وَمَسَاکِنَ طَیِّبَةً فِی جَنَّاتِ عَدْنٍ وَرِضْوَانٌ مِنْ اللهِ اٴَکْبَرُ ذَلِکَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ ) ۔

ترجمہ

۷۱ ۔ ایماندار مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے ولی (دوست اور مدد گار) ہیں وہ اچھے کاموں کا حکم دیتے ہیں اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔نماز قائم کرتے ہیں اور زکویٰةدیتے ہیں اور خدا و رسول کی اطاعت کرتے ہیں ۔ خدا عنقریب ان پر رحمت کرے گا بے شک خدا تواناوحکیم ہے۔

۷۲ ۔ خدا مومن مردوں اور عورتوں سے ایسے جنت کے باغوں کا وعدہ کیا ہوا ہے جن کے ( درختوں کے )نیچے نہریں جاری ہیں وہ ہمیشہ ان ہی میں رہیں گے اور عدن کی جنتوں میں ( ان کے لئے ) پاکیزہ مساکن ہیں اور خدا کی رضا ( اور خشنودی ان سب سے ) برتر و بہتر ہے اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔

سچے مومنوں کی نشانیاں

گذشتہ آیتوں میں منافق مردوں اور عورتوں کی مشترکہ علامتیں بیان کی گئیں تھیں ۔ جن کا خلاصہ پانچ حصوں میں ہوتا ہے ۔

۱ ۔ بری چیزوں کا حکم دینا ،

۲ ۔ اچھی چیزوں سے روکنا ،

۳ ۔ کنجوسی اور بخیلی ،

۴ ۔ خدا کو بھول جانا اور

۵ ۔ حکم خدا کی نافرمانی ۔

ان آیات میں مومن مردوں اور عورتوں کی نشانیاں بتائی گئی ہیں اور وہ بھی پانچ حصوں ہی میں ہیں او ربالکل منافقوں کی صفات کے مقابلے میں ہیں آیت یہاں سے شروع ہوتی ہے :۔

” ایماندار مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے دوست ولی اور مدد گارہیں( وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ اٴَوْلِیَاءُ بَعْضٍ ) “۔

قابل توجہ یہ بات ہے کہ منافقین کے لئے لفظ ” اولیاء“ نہیں آیا بلکہ ”( بعضهم من بعض ) “ ہے جو بظاہ رہر غرض و غایت کی وحدت اور صفات و کردار کی یکسانیت کی دلیل دکھائی دیتا ہے یہ اس طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ اگر چہ منافق ایک ہی صفت میں ہیں اور ان کے مختلف گروہ ایک ہی قسم کے منصوبوں اور پروگراموں میں مصروف ہیں پھر بھی ان میں محبت، مودت او رولایت کی روح موجود نہیں ۔ جب ان کی شخصی اغراض خطرے میں پڑجاتی ہیں تو وہ اپنے دوستوں کے ساتھ بھی بے ایمانی کرتے ہیں ۔ اسی بنا پر سورہ حشر کی آیت ۱۴ میں پڑھتے ہیں :۔”( تحسبهم جمیعاً و قلوبهم شتیٰ )

تم انھیں متفق اور متحد سمجھتے ہو ، حالانکہ ان کے دل پراکندہ اور مختلف ہیں

خدا وند عالم اس حقیقت کو بیان کرنے کے بعد مومنین کی صفات کی جز ئیات کی تشریح کرتا ہے ۔

۱ ۔ پہلے فرماتا ہے : وہ لوگوں کی نیکی کی طرف بلاتے ہیں( یَاٴْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ ) ۔

۲ ۔لوگوں کو بد ی ، برائی اور گناہ سے روکتے ہیں( وَیَنْهَوْنَ عَنْ الْمُنکَرِ ) ۔

۳ ۔ وہ منافقوں کے بر خلاف جنھوں نے خدا کو بھلا رکھاتھا” نماز قائم کرتے ہیں “ اور خدا کو یاد کرتے ہیں اور ا س کی عبادت اور ذکر سے دل کو روشن اور عقل کو بیدار اور خبر دار کئے ہوئے ہیں( وَیُقِیمُونَ الصَّلَاةَ ) ۔

۴ ۔ وہ منافقوں کے بر خلاف جو کنجوس اور بخیل لو گ تھے ، اپنے مال کا ایک حصہ راہ ِ خدا میں اور خلق خدا کی فلاح و بہبودی او رمعاشرے کی تشکیل نوکے لئے خرچ کرتے ہیں( وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ ) ۔

۵ ۔ منافق، فاسق اور سر کش ہیں اور خداوند علام کے حکم کی پیروی نہیں کرتے لیکن مومن خدا اور اس کے رسول کے حکم کی اطاعت کرتے ہیں

( وَیُطِیعُونَ اللهَ وَرَسُولَههه ) ۔

اس آیت کے آخر میں خدا وند عالم نتیجے اور بدلے کے طور پرمومنوں کے پہلے امتیاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : خدا عنقریب ان پر اپنی رحمت نازل کرے گا( اٴُوْلَئِکَ سَیَرْحَمُهُمْ الله ) ۔

لفظ ”رحمت “ جس کا ایک مقام پر ذکر ہو اہے ایک بہت وسیع مفہوم کھتا ہے جو دین و دنیا کی ہر قسم کی خیر و برکت اور نیکی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے ۔ یہ لفظ اصل میں منافقین کی حالت کی ضد ہے یعنی خدا نے ان پر لنعت کی ہے اور انھیں اپنی رحمت سے دور کردیا ہے ۔

بے شک مومنین سے خدا کا وعدہ ِ رحمت یقینی اور اطمینان بخش ہے کیونکہ وہ قدرت رکھتا ہے اور دانا وحکیم بھی ہے نہ وہ کسی سبب کے بغیروعدہ کرتا ہے اورنہ ہی جب وعدہ کرتا ہے تو ا س کے پورا کرنے سے عاجز ہے( إِنَّ اللهَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ ) ۔

بعد والی آیت خدا کی اس وسیع رحمت کے ایک حصہ کی جو ایماندار لوگوں کے لئے ہے ۔ تشریح کرتی ہے ۔ اس میں اس رحمت کے مادی اور روحانی دونوں پہلو وں کاتذکرہہے ۔ شروع میں فرماتا ہے : خد اایمان دار مردوں اور عورتوں سے ایسے بہشت کے باغوں کا وعدہ کرتا ہے جن درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں( وَعَدَ اللهُ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِهَا الْاٴَنْهَارُ ) ۔

اس عظیم نعمت کی خصوصیاتمیں سے ایک یہ ہے کہ زوال ، فنا اور جدائی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہمیشہ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے( خَالِدِینَ فِیهَا ) ۔

ان پر اللہ کا دوسرا احسان یہ ہو گا کہ خدا انھیں بہشت ِ عدن کے مرکز میں پاکیزہ مسکن اور شاندارمکان عطافرمائے گا( وَمَسَاکِنَ طَیِّبَةً فِی جَنَّاتِ عَدْنٍ ) ۔

لغت میں ”عدن“ کے معنی مکان او رجگہ میں ٹھہرنے اور زندگی گذارنے کے ہیں ۔ اس لئے ” معدن “ کسی خاص مواد کی بقاء کی جگہ کے معنی میں بولا جاتا ہے اس بنا پر”عدن “ کامفہوم و مطلب خلود (ہمیشگی) کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے لیکن کیونکہ گذشتہ جملہ میں خلود کی طرف اشارہ کیا جاچکا ہے تو اس لیئے معلوم ہوتا ہے کہ ” جنات ِ عدن “ پروردگار کی بہشت کا ایک خا ص مقام ہے ۔جو دیگر سب بہشتوں سے ممتاز ہے ۔

اسلامی حدیثوں اور مفسرین کی تفسیر میں یہ امتیاز مختلف شکلوں میں بیان ہو اہے چنانچہ پیغمبر اسلام کی ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا :عدن دار الله التی لم ترها عین ولم یخطر عی قلب بشر، لا یسکنها غیر ثلاثة النبیین و الصدیقین و الشهدآء

”عدن خدا کاوہ گھرجسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ اس خیال کسی دل و دماغ میں آیا ہے اور اس میں صرف تین گروہ سکونت پذیر ہو ں گے ۔ انبیاء صدیقین ( وہ جنھوں نے انبیاء کی تصدیق کی ہے اور ان کی حمایت کی ہے ) اور شہداء “۔(۱)

کتاب خصال ئل میں حضرت رسول اکرم سے اس طرح مروی ہے :۔

من سره ان یحیا حیاتی و یموت مماتی ویسکن جنتی التی و اعدنی الله ربی ، جنات عدن فلیوال عبی بن ابی طالب علیه السلام و ذریته علیهم السلام من بعد ه ۔

”جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس زندگی مجھ جیسیاور موت بھی مجھ جیسی ہو تو اسے چاہئیے کہ و ہ علی بن ابی طالب اور ان کی اولاد سے محبت کرے“۔(۳)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ جنات عدن بہشت بریں کے ایسے باغات ہیں جن میں رسالت مآب اور ان کے خاص پیروکاروں کی ایک جماعت مقیم ہوگی ۔

یہ مضمون ایک اورحدیث میں حضرت علی علیہ السلام سے بھی منقول ہے کہ جنات عدن پیغمبر اسلام کی قیام کا مقام ہے ۔

اس کے بعد خداوند عالم ان کی روحانی نعمتوں اور جزا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : خدا کی رضا اور خوشنودی جو ان سچے مومنوں کی نصیب ہوگی سب سے بر تر اور عظیم ہے( وَرِضْوَانٌ مِنْ اللهِ اٴَکْبَرُ ) ۔

کوئی اس روحانی لذت اور خوشی کے احساس کی جسے ایک انسان خدا کی طرف متوجہ ہونے سے پاتا ہے ، تعریف و توصیف نہیں کرسکتا ۔ بعض مفسرین کے قول کے مطابق اس روحانی لذت کا ایک گوشہ سب بہشتوں اور ان کی گونا گون نعمتوں اور بے پایاں آسائشوں سے برتراور بالا تر ہے ۔ البتہ ہم اس دنیا کے قفس میں اور اس کی محدود زندگی میں اس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتے۔ چہ جائیکہ اس عظیم روحانی اور معنوی نعمت کوسمجھ سکیں ۔

البتہ اس دنیا کے روحانی او رماد ی فرق کی ایک د ھندلی سی تصویر کھینچ سکتے ہیں مثلاً جو لذت مسلسل فراق و جدائی کے بعد ایک مخلص او رمہر بان دوست کی ملاقت سے ملتی ہے یا ایک خاص روحانی خوشی جو لگاتار کئی ماہ و سال صرف کرنے کے بعد کسی پیچیدہ مسئلہ کے حل ہونے سے حاصل ہو۔ وہ کسی مادی غذا او رمادی لذتوں سے کوئی نسبت نہیں رکھتا۔

یہاں ایک بات یہ بھی واضح ہوجاتی ہے کہ وہ لوگ جو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن مومنین او رنیک لوگوں کی جزا او رثواب بیان کرتے وقت صرف مادی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے او رمعنوی جذبات کا اس میں کوئی ذکر اور خبر نہیں ہے وہ اشتباہ اورغلط بیانی سے کام لیتے ہیں ۔ کیونکہ مندرجہ بالا جملے میں خدا کی رضا جو خصوصیت کےساتھ لفظ ” نکرہ “ کے ساتھ بیان کی گئی ہے ، خدا وندعالم کی خوشنودی کے ایک خاص گوشے کی طرف اشارہ کرتی ہے اور یہ بہشت کی تمام مادی نعمتوں سے افضل و اعلیٰ ہے اور یہ چیز اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ معنوی جزا کس قدر قیمتی اور اہم ہے ۔

البتہ اس کی برتری کاسبب واضح اور روشن ہے کیونکہ حقیقت میں روح ایک گوہر کی مانند ہے او رجسم صدف کی طرح ہے ، روج حاکم ہے او رجسم محکوم ، روح کا ارتقاء اصلی اور بنیادی مقصد ہے جب کہ جسم کی تکمیل وسیلہ اور ذریعہ ہے ۔ اسی بنا پر روح کی تمام شعائیں جسم سے زیادہ وسیع ہیں اور روحانی لذتوں کا قیاس جسمانی لذتوں پر نہیں کیا جاسکتا۔ جس طرح روحانی مصیبتیں اور تکالیفیں جسمانی آلام ومصائب کے مقابلے میں بدر جہاددردناک ہیں ۔

آیت کے آخر میں تمام مادی اور روحانی نعمتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے :یہ بہت ہی بڑی کامیابی ہے( ذَلِکَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ ) ۔

____________________

۱۔ مجمع البیان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔

۲ ۔ نور الثقلین ج ص ۲۴۱ بحوالہ کتاب خصال ۔


آیت ۷۳

۷۳ ۔( یَااٴَیّهَا النَّبِیُّ جَا هد الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِینَ وَاغْلُظْ عَلَیْهِمْ وَمَاٴْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیرُ ) ۔

ترجمہ

۷۳ ۔ اے پیغمبر! کافروں اور منافقوں کے ساتھ جہاد کرو، ان پر سختی کرو، ان کا ٹھکانا جہنم ہے او ران کا انجام کیسا برا ہے ۔

کافروں اور منافقوں سے جنگ

آخر کا اس آیت میں کافروں او رمنافقوں کے مقابلے میں شدت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اے پیغمبر ! کفار ومنافقین کے ساتھ جہاد کرو( یَااٴَیّهَا النَّبِیُّ جَا هد الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِینَ ) ۔” اور ان کے مقابلے میں سخت اور شدید طریقہ اختیار کرو “( وَاغْلُظْ عَلَیْهِمْ ) ۔

یہ تو ان کی بنیادی سزا ہے اور آخرت میں ان کے رہنے کی جگہ دوزخ ہے ۔ جو بد ترین انجام اور برا ٹھکانا ہے( وَمَاٴْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیرُ ) ۔

البتہ کافروں کے مقابلے میں جہاد کا طور طریقہ تو بالکل واضح ہے اور وہ ہر پہلو سے جہاد ہے ۔ خصوصاً مسلح جہاد ۔ لیکن منافقوں سے جہاد کے طریقوں میں اختلاف ہے ۔ کیونکہ یہ بات مسلم ہے کہ رسول اکرم منافقوں سے مسلح جہاد نہیں کرتے تھے ۔ کیونکہ منافق وہ شخص ہے جو ظاہری طور پر مسلمانوں میں صف میں ہو اور بظاہر تمام آثار اسلام ک اپابند ہو۔ اگر چہ باطنی طور پر اسلامی احکام کی خلاف ورزی کرتا ہو۔ چنانچہ ہم بہت سے لوگوں کو جانتے ہیں کہ وہ ایمان ِ حقیقی نہیں رکھتے لیکن کیونکہ وہ اپنے کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اس لئے ہم ان سے غیر مسلموں کا سا بر تو نہیں کرسکتے۔ بنا بریں جس طرح اسلامی روایات اورمفسرین کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے منافقوں سے جہاد کرنے سے مراد اور طرح کی جنگ ہے جو مسلح جنگ کے علا و ہ ہے ۔ مثلاً مذمت ، سر زنش ،تہدید اور انھیں رسوا کرنا ۔ شاید ”( و اغلظ علیهم ) “ اسی طرف اشارہ کرتا ہے ۔

ہاں آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ جب تک منافقوں کی حقیقت اور ان کے خفیہ منصوبے منظر عام پر نہ آجائیں ان کے بارے میں مسلمانوں سے متعلق احکام پر عمل کیا جائے گا ۔ لیکن جب ان کی حالت اچھی طرح معلوم ہو جائے تو پھر ان پر کفار حربی کا حکم لاگو ہوجائے گا اور اس صورت میں ان سے مسلح جنگ بھی کی جا سکتی ہے ۔ لیکن جو بات اس احتمال کو کمزور کرتی ہے وہ ہے کہ اس حالت میں ” منافق“ کے لفظ کا اطلاق اس پر درست نہیں ہے ۔ بلکہ اب وہ کافر حربی کی صف میں ہے جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ منافق وہ ہے جس کا ظاہر اسلام ہو اور باطن کفر ۔


آیت ۷۴

۷۴ ۔( یَحْلِفُونَ بِاللهِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُوا کَلِمَةَ الْکُفْرِ وَکَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَهَمُّوا بِمَا لَمْ یَنَالُوا وَمَا نَقَمُوا إِلاَّ اٴَنْ اٴَغْنَاهُمْ اللهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنْ یَتُوبُوا یَکُنْ خَیْرًا لهُمْ وَإِنْ یَتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمْ اللهُ عَذَابًا اٴَلِیمًا فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ وَمَا لَهُمْ فِی الْاٴَرْضِ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَنَصِیر ) ۔

ترجمہ

۷۴ ۔منافق خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ( پیغمبر کے پس پشت) انھوں نے ( تکلیف وہ )باتیں نہیں کیں ۔ حالانکہ یقینا انھوں نے کفر آمیز باتیں کی ہیں او راسلام لانے کے بعد وہ کافر ہو گئے اور انھوں نے ( ایک خطر ناک کام کا) ارادہ کیا تھا جسے وہ نہ کرسکے وہ صرف اس بات کا انتقام لے رہے ہیں کہ خدا اور اس کے رسول نے صرف اپنے فضل ( اور کرم ) سے بے نیاز کردیا ہے ( اس کے باوجود ) اگر وہ تو بہ کرلیں تو ان کے لئے بہتر ہے ، اور اگر وہ منہ موڑتے ہیں تو خدا انھیں دنیا و آخرت میں دردناک سزا دے گا اور وہ روئے زمین پر نہ کوئی ولی و حامی رکھتے ہیں اور نہ ہی یار و مدد گار ۔

شان ِ نزول

اس آیت کی شان ، نزول کے بارے میں مختلف روایتیں نقل ہوئی ہیں جو سب کی سب یہ ظاہر کرتی ہیں کہ بعض منافقوں سے اسلام اور پیغمبر کے بارے میں تکلیف دہ باتیں کی تھیں اور اپنے راز فاش ہونے کے بعد انھوں نے جھوٹی قسم کھائی تھی کہ ہم نے کچھ نہیں کہا۔ غرض انھوں نے اسلام کے خلاف جو سکیم بنائی تھی وہ ناکام ہوگئی ۔ ان کی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ منافقوں میں سے جلاس نامی ایک شخص نے جنگ ِ تبوک کے موقع پر نبی اکرم کے بعض خطبے سن کر ان کا سختی سے انکار کردیا تھا اور آپ کو جھٹلا یا تھا ۔

مدینہ میں آنے کے بعد ایک شخص عامربن قیس جس نے یہ باتیں سنی تھیں ، پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوا او راجلاس کی باتیں بیان کیں ، لیکن جب وہ خود مدینہ میں آیاتو اس نے اس کے بارے میں صاف انکار کردیا۔ اس پر حضرت رسالتمآب نے دونوں کو حکم دیا کہ وہ مسجد میں منبر کے پاس کھڑے ہوکر قسم کھائیں کہ وہ جھوٹ نہیں بول رہے ۔ دونوں نے قسم کھائی ۔ مگر عامر نے عرض کیا کہ اے خدا ! اپنے پیغمبر پر آیت نازل فرما!اور جو شخص سچا ہے اس کی سچائی کو ظاہر کردے اور اس پر پیغمبر او رمومنین نے آمین کہی جبرئیل نازل ہوئے اور مندرجہ بالاآیت پیغمبر کی خدمت میں لائے جس وقت ” فان یتوبوا یک خیرا ً لھم “( اگر وہ توبہ کرلیں تو ان کے لئے بہتر ہے ) کا جملہ آیاتو ” جلاس “ نے کہا: اے خداکے رسول ! پروردگار نے مجھ سے چاہی ہے اور میں گناہ پر پچھتا رہا ہوں اور توبہ کرتا ہوں ۔ حضور نے اس کی توبہ قبول کرلی۔

نیز جیسا کہ ہم پہلے اشارہ کرچکے ہیں مفسرین نے نقل کیا ہے کہ منافقوں کے ایک گروہ کو پکاارادہ کیا ہو اتھا کہ جنگ تبوک سے واپسی پر راستے میں ایک درّے سے گذرتے ہوئے پیغمبر کی اونٹنی کو بد کائیں گے تاکی پیغمبر اکرم پہاڑ کے اوپر سے درّے میں گر جائیں ، لیکن آنحضرت وحی کے ذریعے اس واقعہ سے آگاہ ہو گئے اور ان کی سازش کو نقش بر آب کرکے رکھ دیا ۔ ناقہ کی مہار عمار کے ہاتھ میں دی اور ” حذیفہ “ پیچھے سے ناقہ کو ہانک رہے تھے تاکہ سواری پورے طور قابو میں رہے ۔ یہاں تک کہ آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ دوسرے راستے سے آئیں تا کہ منافق نہ لوگوں کے ہجوم میں چھپ سکیں او رنہ اپنی سازش پر عمل کر سکیں ۔ جس وقت آپ نے اس رات کی تاریکی میں کچھ لوگوں کی اپنے پیچھے درّے سے آنے کی آواز سنی تو آپ اپنے بعض ساتھیوں کو حکم دیا کہ وہ فوراً ان منافقوں کو پلٹا دیں و ہ تقریبا ً بارہ یا پندرہ افراد تھے اور ان میں سے بعض نے اپنے منہ چھپا رکھے تھے ۔ جن انھوں نے کہ ہم اپنے منصوبہ کو عملی جامعہ نہیں پہنا سکے تو وہ چھپ گئے لیکن پیغمبر نے انھیں پہچان لیا اور ایک ایک کرکے سب کے نام اپنے صحابہ کرام کو گنوائے ۔ ۱

لیکن جیسا کہ ہم دیکھیں گے کہ یہ آیت منافقوں کے کار ناموں کی طرف اشارہ کررہی ہے ایک ان کی نامناسب گفتگو اور دوسرا ان کی ناکام سازش اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں شانِ نزل ایک ساتھ صحیح ہیں ۔

____________________

۱۔ اقتباس از تفسیر مجمع البیان ، تفسیر المنار، تفسیر روح المعانی اور دیگر تفاسیر ۔


خطر ناک سازش

اس آیت کا گذشتہ آیا تک ساتھ تعلق بخوبی واضح ہے کیونکہ یہ سب آیتیں منافقوں کے بارے میں ہیں البتہ اس آیت میں ان کے ایک اور عمل سے پردہ اٹھا لیا گیا ہے کہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے راز فاش ہورہے ہیں تو واقعات کا انکار کردیتے ہیں یہاں تک کہ اپنی بات سچ ثابت کرنے کے لئے جھوٹی قسمیں کھالیتے ہیں ۔

پہلے خدا فرماتا ہے : منافقین قسم کھاتے ہیں کہ انھوں نے اس قسم کی باتیں پیغمبر کے بارے میں نہیں کہیں( یَحْلِفُونَ بِاللهِ مَا قَالُوا ) ۔

حالانکہ انھوں نے یقینی طور پرکفر آمیز باتیں کی ہیں( وَلَقَدْ قَالُوا کَلِمَةَ الْکُفْرِ ) ۔اس طرح انھوں نے اسلام قبول کرنے اور اس کا اظہا رکرنے کے بعد کفر کا راستہ اختیار کیا( وَکَفَر بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ ) ۔البتہ وہ پہلے بھی مسلمان نہیں تھے کہ اب کافر ہو گئے ہیں بلکہ صرف ظاہری طور پر ہی مسلمان تھے ۔ جسے انھوں نے کفر کا اظہار کرکے توڑ ڈالا ۔ اس ظاہری اور دکھلاوے کے اسلام کو بھی انھو ں ے کفر کا اظہار کرکے درہم بر ہم کردیا ہے اس سے بھی بڑھ کر وہ خطرناک ارادہ لئے ہوئے تھے جن تک نہیں پہنچ سکے( وَهَمُّوا بِمَا لَمْ یَنَالُوا ) ۔

ہوسکتاہے کہ ان کا یہ ارادہ ” لیلة العقبة “ پیغمبر کو شہید کرنے کاہو جس کی تشریح شان نزول میں ہوچکی ہے یا ان کے تمام کاموں کی طرف اشارہ ہو جنہیں وہ اسلامی معاشرے کے تباہ و برباد کرنے اور فساد و نفاق پید اکرنے اور پھوٹ ڈالنے کے لئے انجام دیتے تھے لیکن انھیں کبھی بھی کامیابی کا منہ دیکھنا نصیب نہیں ہوا ۔

یہ امر قابل ِ توجہ ہے کہ مختلف حوادث میں مسلمانوں کی تیاری اور بیداری کے سبب منافق او ران کے منصوبے پہچانے جاتے تھے ۔ مسلمان ہمیشہ ان کی تاک میں لگے رہتے تھے تاکہ ان سے کوئی بات سنیں او را س کی پیش بندی اور ضروری کار وائی کےلئے حضور کی خدمت میں عرض کردیں ۔ یہ بیداری او ربر محل اقدامات اور ان کے ساتھ ساتھ نزول آیات او رخدا کی تصدیق منافقوں کی رسوائی او ران کی سازشوں کی ناکامی کا سبب بنتی تھی ۔

بعد والے جملہ میں اس لئے کہ منافقوں کے کرتوت او رنمک حرامی کا گھٹیا اور برائی پوری طرح واضح ہو جائے ، مزید فرمایا گیاہے :۔ اصل میں انھوں نے پیغمبر سے کوئی غلب کام نہیں دیکھا تھا نہ اسلام انھیں کوئی نقصان پہنچایا تھا بلکہ اس کے برعکس وہ حکومت اسلامی کے سایہ میں طرح طرح کی مادی اور روحانی نعمتوں سے بہرور ہو ئے تھے ۔ اس بنا پر وہ اصل میں ان نعمتوں کاانتقام لے رہے تھے جو خدا اور اس کے پیغمبر نے اپنے فضل و کرم سے انھیں استغنا ء کی حد تک دی تھیں( وَمَا نَقَمُوا إِلاَّ اٴَنْ اٴَغْنَاهُمْ اللهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِه ) ۔(۱)

اس میں شک نہیں کہ خدا کے فضل اور رسول ِاکرم کی انتہائی مہر بانی سے انھیں بے نیاز کردیان ، پھر ان کی ضرورتوں اور حاجتوں کا پورا کرنا کوئی ایسی چیز نہ تھی جو منافقوں کو اس پر ابھارے کہ وہ اس اچھے برتاو ک اانتقام لیں بلکہ چاہیئے تو یہ تھا کہ وہ حق شناسی اور شکر گذاری سے کام لیتے لیکن ان بے وفا اور کمینے لوگوں نے خدمت و نعمت کا جواب جرم اور زیادتی سے دیا ۔ یہ بڑی خوب صورت او ربہترین تعبیر ہے جو بہت سی باتوں اور تحریروں میں استعمال ہوتی ہے جیسے ایک شخص کی ہم نے سالہاسال تک کی خدمت کی ہواور اس کے بعد وہ خیانت کرے اس موقع پر کہتے ہیں کہ ہمارا گناہ صرف یہ ہے کہ ہم نے تجھے پناہ دی ، تیری حفاظت کی او ربہت زیادہ محبت کی ۔

اس کے بعد جیسا کہ قرآن کی سیرت ہے ، لوٹ آنے ج اراستہ ان کے لئے کھلا رکھتے ہوئے کہتا ہے : اگر وہ توبہ کرلیں تو ان کے لئے بہتر ہے( فان یتوبوا یک خیرا ً لهم ) ۔

یہ اسلام کی حقیقت بینی ، تربیت کے اہتمام او رہرقسم کی سختی او رنا مناسب سلوک کے خلاف جنگ کی نشانی ہے ۔ یہاں تک کہ ان منافقوں کے لئے جنھوں نے رسول اللہ کو ختم کرنے کی کوشش کی اور کفر آمیز باتیں کیں اور تکلیف وہ توہیں کی نہ صرف صلح اور توبہ کی راہ کھلی رکھی ہے بلکہ انھیں توبہ کی دعوت دے رہاہے ۔ یہ اصل میں اسلام کا حقیقی چہرہ ہے لیکن وہ لوگ کتنے ہیں جو اسلام کے اس خوبصورت اور حقیقی چہرے کا تعارف دباو اور سختی کے دین کے ساتھ کراتے ہیں ۔

کیا آج کی دنیا میں کوئی مہربان اور نرم خو حکومت مل سکتی ہے جو اپنے خلاف سازش کرنے والوں کے ساتھ ایسی مہر بانی اور محبت کرنے کو تیار ہے جیسا کہ ہم شان ِ نزول میں پڑھ چکے ہیں کہ نفاق انگیز منصوبہ بنانے والوں میں ایک نے یہ بات سن کر توبہ کرلی اور پیغمبر نے اس کی توبہ قبول کرلی ۔

اس کے با وجود اس بنا پر کہ کہیں وہ لوگ اس نرمی کو کمزوری پر محمول نہ کریں انھیں تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر ”وہ اپنی روش باز نہ آئے اور توبہ سے منہ نہ پھیر لیا تو خداانھیں دنیا و آخرت میں دردناک سزادے گا( وَإِنْ یَتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمْ اللهُ عَذَابًا اٴَلِیمًا فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ ) ۔

اگر وہ یہ سوچتے ہیں کہ ہو سکتا ہے خدا کی سزا کے مقابلے میں کوئی ان کی مدد کرے گا تو وہ انتہائی غلطی پر ہیں کیونکہ وہ روئے زمین پر کسی اپنا ولی ، سر پرست او ریار و مدد گار نہ بنائیں گے( وَمَا لَهُمْ فِی الْاٴَرْضِ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَنَصِیر ) ۔

البتہ ان کی ااخرت کی سزا اور عذاب تو واضح ہے باقی رہا انکے لئے دنیاوی عذاب تو وہ رسوائی ، خواری او ربد بختی وغیرہ ہے ۔

____________________

۱۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ مندرجہ بالا جملے میں اگر چہ خدا اور پیغمبردونوں کے فضل کے متعلق ذکر ہے :” من فضلہ “ لیکن اس میں ضمیر واحد استعمال ہوئی ہے نہ کہ تثنیہ کی شکل میں ۔ اس تعبیر کا سبب وہی ہے جس کی طرف ہم گذشتہ چند آیتوں میں اشارہ کرچکے ہیں ۔ اس قسم کی تعبیر یں حقیقت ِ توحید کو ثابت کرنے کےلئے ہیں اور یہ کہ تمام کام اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور اگر حضرت رسول اکرم کام کرتے ہیں تو وہ کوئی کام کرتے ہیں تووہ بھی اس کے حکم سے ہے اور ان کاکام اس کے ارادے او رمشیت سے الگ نہیں ہے ۔


آیات ۷۵،۷۶،۷۷،۷۸،

۷۵ ۔( وَمِنْهُمْ مَنْ عَاهَدَ اللهَ لَئِنْ آتَانَا مِنْ فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَکُونَنَّ مِنْ الصَّالِحِینَ ) ۔

۷۶ ۔( فَلَمَّا آتَاهُمْ مِنْ فَضْلِهِ بَخِلُوا بِهِ وَتَوَلَّوا وَهُمْ مُعْرِضُونَ )

۷۷ ۔( فَاٴَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِی قُلُوبِهِمْ إِلَی یَوْمِ یَلْقَوْنَهُ بِمَا اٴَخْلَفُوا اللهَ مَا وَعَدُوهُ وَبِمَا کَانُوا یَکْذِبُونَ )

۷۷ ۔( اٴَلَمْ یَعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ وَاٴَنَّ اللهَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ ) ۔

ترجمہ

۷۵ ۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے میں جنھوں نے خدا سے وعدہ کیا ہے کہ اگر خدا ہمیں اپنے فضل و کرم سے رزق دے تو ہم یقینا صدقہ دیں گے اور شکر گذاروں میں سے ہوں گے ۔

۷۶ ۔ لیکن جب اس نے اپنے فضل سے انھیں بخش دیا تو انھوں نے بخل کیا او رنافرمانی کی اور وہ رو گرداں ہو گئے۔

۷۷ ۔ اس عمل نے ان کے دلوں میں نفاق ( کی روح ) کو اس دن تک کے لئے جب وہ خدا کے سامنے ہوں گے ۔

۷۸ ۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ خدا ان کے بھیدوں او رسر گوشیوں کو جانتا ہے خدا سب چھپی ہوئی باتو ں سے آگاہ ہے ۔

شان نزول

مفسرین میں مشہور ہے کہ یہ آیتیں ایک انصاری ثعلبہ بن حاطب کے بارے میں نازل ہوئی وہ ایک غریب آدمی تھا ۔ روزانہ مسجد میں آیا کرتا تھا کہ اصرار تھا کہ رسول اکرم دعا فرمائیں کہ خدا اس کو مالامال کردے ۔حضور نے اس سے فرمایا:۔قلیل توٴدی شکره خیر من کثیر لاتطیقه

مال کی تھوڑی مقدار کا تو شکر ادا رکر سکے اس مال کی کثرت سے بہتر ہے جس کا تو شکرنہ ادانہ کرسکے ،کیا یہ بہتر نہیں کہ خدا کے پیغمبر کی پیروری کرے اور سادہ زندگی بسر کرے۔

لیکن ثعلبہ مطالبہ کررہا اور آخر کار اس نے پیغمبر اکرم سے عرض کیا کہ میں آپ کو اس خدا کی قسم دیتا ہوں جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ۔ اگر خدا نے مجھے دولت عطافرمائی تو میں اس کے تمام حقوق ادا کروں گا ، چنانچہ آپ نے اس کے لئے دعا فرمائی۔

ایک روایت کے مطابق زیا دہ وقت نہیں گذرا تھا کہ ان کا ایک چچا زاد بھائی جو بہت مال دار تھا ، فوت ہو گیا اور اسے بہت سی دولت ملی ۔

ایک اور روایت میں ہے کہ اس نے ایک بھیڑ خریدی جس سے اتنی نسل بھی کہ جس کی دیکھ بھال مدینہ میں نہیں ہو سکتی تھی ۔ اس لے انھیں مدینہ کے آس پاس کی آبادیوں میں لے گیا او رمادی زندگی میں اس قدر مصروف او رمگن ہو گیا کہ نما جماعت تو کیا جمعہ کی نماز میں بھی نہیں آتا تھا ایک مدت کے بعد رسول اکرم نے زکوٰة وصول کرنے والے خادم کو اس کے پاس زکوٰة لینے کے لئے بھیجا لیکن اس کم ظرف کنجوس نے نہ صرف خد ائی حق کی ادائیگی میں پس و پیش کیا بلکہ شروع پربھی اعتراض کیا او رکہا کہ یہ حکم جزیہ کی طرح ہے یعنی ہم اس لئے مسلمان ہوئے تھے کہ جزیہ سے بچ جائیں ۔اب زکوٰة دینے کی شکل میں ہم میں اور غیروں مسلموں میں کون سا فرق باقی رہ جاتاہے ۔ حالانکہ اس نے نہ جزیہ کا مطلب سمجھا تھا اور نہ زکوٰة کا اور اگر اس نے سمجھا تھاتو دینا پرستی اسے حقیقت کے بیان اور اظہارحق کی اجازت نہیں دیتی تھی ۔ غرض جب حضرت رسول ِ اکرم نے اس کی باتیں سنیں تو فرمایا :۔

یا ویح ثعلبه ! یا ویح ثعلبه!

”وائے ہو ثعلبہ پر ہلاکت ہوثعلبہ پر “اس وقت مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں

ان آیتوں کے لئے بھی شانِ نزول منقول ہیں جو کم و بیش ثعلبہ کی داستان سے ملتی جلتی ہیں ۔ مذکورہ شانِ نزول اور آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ شخص یا اشخاص پہلے منافقوں کی صف میں شامل نہ تھے لیکن اس قسم کی اعمال او رکردار کی وجہ سے ان کی ساتھ مل گئے۔

منافق کم ظرف ہوتے ہیں

در اصل یہ آیتیں منافقوں کی ایک بڑی صفت کی نشاندہی کرتی ہیں اور وہ یہ ہے کہ وہ بے بس ، ناتواں او رفقیر و پریشانی کے وقت تو اس طرح ایمان کا دم بھرتے ہیں کہ کوئی شخص یہ باورہی نہیں کرسکتا کہ وہ کسی دن منافقوں کی صف میں جاکھڑے ہو ں گے ۔ یہاں تک کہ وہ ان لوگوں کی جو وسیع ذرایع آمدنی اور وسائل رکھتے ہیں اس بات پر مذت کرتے ہیں کہ وہ اپنی وسائل سے محروم لوگوں کو کیوں فائدہ نہیں پہنچا تے۔ لیکن جب وہ خود صاحب ِ ثروت ہو جاتے ہیں تو اپنے ہاتھ سمیٹ لیتے ہیں اور دنیا پرستی میں ایسے ڈوب جاتے ہیں کہ خدا کے ساتھ کئے ہوئے سب وعدوں کو بھول جاتے ہیں یعنی ان کی شخصیت بالکل بدل جاتی ہے اور ان کی سوچ میں یکسر تغیر آجاتا ہے ۔

اور یہی وہ کم ظرفی ہے جس کا نتیجہ دنیا پرستی ، کنجوسی اور خود غرضی ہے ۔یوں روح نفاق ان کو اس طرح سے جکڑ لیتی ہے کہ ان کےلئے واپسی کا کوئی راستہ بھی نہیں چھوڑ تی ۔

پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے : بعض منافقین ایسے ہیں جنھوں نے خدا کے ساتھ عہد و پیمان باندھا کہ اگر وہ اپنے فضل و کرم سے ہمیں کچھ عطا فرمائے گا تو ہم یقینا ضرورت مندوں کی مدد کریں گے ۔ اور نیکوں میں سے ہوجائیں گے ۔( وَمِنْهُمْ مَنْ عَاهَدَ اللهَ لَئِنْ آتَانَا مِنْ فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَکُونَنَّ مِنْ الصَّالِحِین )

لیکن یہ باتیں وہ اس زمانے میں کیا کرتے تھے جب ان کا ہاتھ خالی تھامگر وقت خدا نے اپنے فضل کرم سے انھیں مالا مال کردیا تو انھوں نے بخل کیا اور نافرماں اور روگرداں ہو گئے( فَلَمَّا آتَاهُمْ مِنْ فَضْلِهِ بَخِلُوا بِهِ وَتَوَلَّوا وَهُمْ مُعْرِضُونَ ) ۔

اس پیمان اور بخل کا یہ نتیجہ نکلا کہ روح ِ نفاق دائمی طور پر مضبوطی کے ساتھ ان کے دل میں راسخ ہو گئی اور اب وہ تا قیامت اور اس کے وقت تک جب وہ خدا سے ملیں گے باقی رہے گی( فَاٴَعْقَبهُمْ نِفَاقًا فِی قُلُوبهِمْ إِلَی یَوْمِ یَلْقَوْنَهُ ) ۔اور یہ اس وجہ سے ہے کہ انھوں نے جو وعدہ خدا وند عالم سے کیا تھا اس کی خلاف ورزی کی اس لئے کہ ہمیشہ جھوٹ بولتے رہے( بِمَا اٴَخْلَفُوا اللهَ مَا وَعَدُوهُ وَبِمَا کَانُوا یَکْذِبُونَ ) ۔

آخر میں ان کی مذمت کو سر زنش کے طور پر کہا گیا ہے کہ کیا وہ نہیں جانتے کہ خدا انے بھیدوں کو جانتا ہے اور ان کی سر گوشیوں کو سنتا ہے اور وہ خدا سن سے غائب اور چھپے ہوئے امور کو جانتا ہے( اٴَلَمْ یَعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ وَاٴَنَّ اللهَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ ) ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ ”( فَاٴَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِی قُلُوبِهِمْ ) “سے بخوبی روشن ہے کہ بہت سے گناہوں اور برائیاں یہاں تک کہ کفر و نفاق ایک دوسرے کی علت اور معلوم ہیں کیونکہ مندرجہ بالا جملہ صراحت کے ساتھ بتاتاہے کہ ان کا بخل اور وعدہ شکنی اس بات کا سبب بنی ہے کہ نفاق ان کے دلوں میں طرح طرح کی سازشوں اور فتنوں کا بیج بوئے ۔ یہی صورت دوسرے گناہوں اور غلط کاموں کی ہے ۔ اس لئے بعض کتب میں ہے کہ کبھی کبھی بڑے گناہوں کی وجہ سے انسان دنیا سے بے ایمان ہو کر اٹھتا ہے ۔

۲ ۔ ” یوم یلقونہ“ جس کی ضمیر ” خد اکی طرف لوٹتی ہے ، سے مراد قیامت کا دن ہے کیونکہ ”لقآء الله “ اور اسی قسم کی دوسری تعبیریں عام طور پر قرآن میں قیامت ہی کے بارے میں آئی ہیں یہ درست ہے کہ موت واقع ہونے کے ساتھ ہی عمل کا دور شروع ختم ہو جاتا ہے اور اچھے برے کاموں کا نامہ عمل بند ہ وجاتا ہے لیکن ان کے آثار اسی طرح قیامت تک باقی رہیں گے ۔

البتہ بعض مفسریں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ” یلقونہ“ کی ضمیر بخل کی طرف لوٹ تی ہے یعنی جب تک وہ اپنے بخل کا نتیجہ دیکھیں گے سز ا پائیں گے۔

اسی طرح یہ احتمال بھی ہے کہ پروردگار کی ملاقات سے مراد موت کا لمحہ ہے مگر یہ سب احتمالات آیت کے ظاہری مفہوم کے خلاف ہیں اور ظاہری مفہوم وہی ہے جو ہم لکھ چکے ہیں ۔

اس چیز کے بارے میں کہ پروردگار عالم کی ملاقات سے کیا مراد ہے ۔ سورہ بقرہ کی آیت ۴۶ کے ضمن میں جلد اوّل ( ص ۱۸۳ اردو ترجمہ ) میں ہم نے بحث کی ہے اسے ملاحظہ کیجئے ۔

۳ ۔ زیر نظر آیتوں سے یہ بھی معلوم ہوتوتا ہے کہوعدہ توڑنا اور جھوٹ بولنا منافقوں کی صفاست ہیں اور یہ منافق ہی ہیں جو خدا کے ساتھ اپنے وعدوں کی بڑی تاکید کے ساتھ باندھتے ہیں پھر انھیں پاوں کے نیچے روند ڈالتے ہیں یہاں تک کہ اپنے پروردگار سے جھوٹ بولتے ہیں ۔

ایک مشہور حدیث جو رسول اکرم سے منقول ہے بھی اس حقیقت کی تائید کرتی ہے ۔ حضور نے فرمایا :

للمنافق ثلاث علامات اذا حدث کذب و اذا وعده خلف و اذا ائتمن خان

منافق کی تین علامتیں ہیں ۔ ۱ جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے ۔ ۲ جب وعدہ کرتا ہے تو اسے پورا نہیں کرتا ۔

۳ ۔ جب اس کے پاس امانترکھیں تو اس میں خیانت کرتا ہے ۔(۱)

یہ بات قابل توجہ ہے کہ مذکورہ بالا داستان ( ثعلبہ کا واواقعہ) میں تینوں نشانیاں پائی جاتی ہیں ۔ اس نے جھوٹ بولا ، وعدہ توڑا اور اس مال میں سے جو خدا نے اپنی امانت کے طور پر دی اتھا خیانت بھی کی ۔

مندرجہ بالا حدیث زیادہ تاکید کے ساتھ کتاب کافی میں حضرت امام جعفر صادق - ذریعے حضرت رسول اکرم سے مروی ہے ، آپ فرماتے ہیں :۔

ثلاث من کن فیه کان منافقاً و ان صام و صلی وزعم انه مسلم من اذاائتمن خان اذا حدث کذب و اذا وعد اخلف

جس شخص میں یہ تین چیزیں ہوں وہ منافق ہے چاہے وہ روزہ اور نماز کا پابند ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھے۔ ۱ ۔ امانت میں خیانت کرے ۔ ۲ ۔ بات کرے تو جھوٹ بولے اور ۳ ۔ وعدہ کرکے پھر جائے ۔(۱)

ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ کبھی کبھی ایسے گناہ بعض ایماندار لوگوں سے بھی ہوں مگر پھر وہ توبہ کرلیں ۔ لیکن ان گناہوں کا تسلسل اور ہمیشگی روح، نفاق او رمنافقت کی نشانی ہے ۔

۴ ۔ اس نکتہ کو ذہن نشین کرنا بھی ضروری ہے کہ جو کچھ ہم نے مندرجہ بالا آیتوں میں پڑھا ہے وہ صرف ایک گذرے ہوئے زمانہ سے متعلق تاریخی واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی اخلاقی اور اجتماعی حقیقت کا بیان ہے جس کے بے شمار نمونے ہر زمانے اور ہرمعاشرے میں کسی استثناء کے بغیر پائے جاتے ہیں ۔

اگر ہم اپنے آس پاس نگاہ ڈالیں ( یہاں تک کہ ہم اپنے آپ کو دیکھیں ) تو ”ثعلبہ بن ھاطب“ کے اعمال اور اس کی سوچ کے نمونے ہمیں مختلف مذہبی چہروں میں ملیں گے۔ کتنے ایسے لوگ ہیں جو عام حالات یا گربت میں پکے او رمخلص مومنین کی صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں تمام مذہبی پرگراموں میں شرکت کرتے ہیں ، ہر اصلاحی پرچم کے نیچے ماتم کرتے ہیں اور حق و صداقت کی آواز بلند کرنے والے کا ساتھ دیتے ہیں ، نیک کام کرنے کی تڑپ رکھتے ہیں ہر فساد اور برائی کا مقابلہ کرنے کے لئے آواز بلند کرتے ہیں ۔ لیکن جب دن بدلتے ہیں اور صاحب ثروت ہوجاتا ہیں ،کوئی عہدہ یامقام انھیں حاصل ہو جاتا ہے تو اچانک ان کا چہرہ بدل جاتا ہے خدا ور دین کے بارے میں ان کا شور اور عشق سوزاں مدھم پڑجاتا ہے اور اب وہ اصلاحی اور تربیتی پرگروموں میں نظر نہیں آتے۔ نہ حق کے لئے گر یبان چاک کرتے ہیں اور نہ اب وہ باطل کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں ۔

پہلے جب ان کی حیثیت نہ تھی اور نہ معاشرے میں انھیں کوئی مقام حاصل تھا تو خدا او رمخلوق ِ خدا کے ساتھ طرح طرح کے وعدے کرتے تھے کہ اگر کسی دن ہمیں وسائل مل گئے اور ہم کسی مقام پر پہنچ گئے تو یہ کردیں گے اور وہ کردیں گے ۔ یہاں تک کہ وہ صاحب ِ ثروت و اقتدار پر اپنے فرائض انجام نہ دینے پرہزاروں اعتراض کرتے تھے لیکن جس روز جب خود ان کی حالت بدلی تو سب عہدو پیمان بھول گئے اور سب اعتراضات اور نکتہ چینیاں برف کی طرح پانی ہو گئیں ۔

بے شک یہ کم ظرفی منافقوں کی ایک واضح صفت ہے ۔ نفاق ، دوزخی شخصیت اور دوغلہ پن کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ۔ اس قسم کے لوگوں کی تاریخِ حیات، شخصیت کی دورنگی اور دورخی کا بہترین نمونہ ہے ۔ اصولی طور پر صاحب ِ ظرف انسان میں دوغلہ پن نہیں پایا جاتا۔ نیز اس میں شک نہیں کہ ایمان کی طرح نفاق کے بھی کئی مراحل نہیں ۔ بعض لوگوں کی روح میں یہ بری عادت اس طرح راسخ ہو جاتی ہے کہ ان کے دل میں خدا پر ایمان کی طرح نفاق کے بھی کئی مراحل ہیں ۔ بعض لوگوں کی روح یہ بری عادت اس طرح راسخ ہو جاتی ہے کہ ان کے دل میں خدا پر ایمنا کوئی اثر باقی نہیں رہتا اگر چہ وہ اپنے آپ کو مومنین کی صف میں شامل سمجھتے ہیں ۔

جو شخص ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے جبکہ ظاہراً وہ سچا ہے کیا وہ دو پہلو اور دو چہرے رکھنے والا منافق نہیں ہے ۔ جو شخص ظاہری طور پر امین ہے اور ای وجہ سے لوگ اس کا اعتبار کرتے ہیں اور اپنی امانتیں اس کے سپرد کرتے ہیں لیکن در حقیقت وہ ان میں خیانت کرتا ہے کیا و ہ دوزخی شخصیت کا حامل نہیں ہے اسی طرح وہ لوگ عہد و پیمان باندھتے ہیں لیکن کبھی اس کی پاسداری نہیں کرتے ۔ کیا ان کا یہ عمل منافقوں کا سا نہیں ہے ؟

انسانی معاشروں کےلئے ایک عظیم ترین مصیبت اور پس ماندگی کا ایک عامل ایسے منافقوں کا وجود ہے اگر ہم آنکھیں بند نہ کرلیں اور اپنے آپ سے جھوٹ نہ بولیں تو ایسے بہت سے ثعلبہ صفت منافقین ہمیں اپنے گرد و پیش اور اسلامی معاشروں میں نظر آئیں گے ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ ان سب عیوب، ننگ و عار اور اسلامی تعلیمات کی روح سے دوری کے باوجود ہم اپنی پس ماندگی کاگناہ اسلام کی گردن پر ڈالتے ہیں ۔

____________________

۱ مجمع البیان ۔ زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔

۲۔سفینة البحار ج ۲ ص ۶۰۷۔


آیات ۷۹،۸۰

۷۹ ۔( الَّذِینَ یَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِینَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ فِی الصَّدَقَاتِ وَالَّذِینَ لاَیَجِدُونَ إِلاَّ جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُونَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللهُ مِنْهُمْ وَلَهمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ ) ۔

۸۰ ۔( اسْتَغْفِرْ لَهُمْ اٴَوْ لاَتَسْتَغْفِرْلَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِر لَهمْ سَبْعِینَ مَرَّةً فَلَنْ یَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ ذَلِکَ بِاٴَنَّهُمْ کَفَرُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَاللهُ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِینَ ) ۔

ترجمہ

۷۹ ۔ جو لوگ عبادت گذر مومین کے صدقات کی عیب جوئی کرتے ہیں اور ان کا تمسخر اڑاتے ہیں جو ( تھوڑٰی سی ) مقدار سے زیادہ کی دسترس نہیں رکھتے خدا کا مذاق اڑاتا ہے ( انھیں مذاق اڑانے والوں کی سزا دیتا ہے ) اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے ۔

۸۰ ۔ ان کے لئے استغفارکرویا نہ کرو( یہاں تک کہ ) اگر ان کے لئے ستر مرتبہ استغفار کروہ تو خدا انھیں ہر گز نہیں بخشے گا کیونکہ انھوں نے خدا اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے اور خدا فاسقوں کے گروہ کو ہدایت نہیں کرے گا ۔

شان ِ نزول

ان آیات کی شان ِ نزول کے ضمن میں حدیث اور تفسری کی کتابوں میں روایات نقل ہوئی ہیں ۔ ان تمام روایات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ نے رادہ کررکھا تھا کہ دشمن کے مقابلے کےلئے ( احتمالاً جنگ تبوک کے لئے ) لشکر اسلام کو تیار کریں ۔ اس لئے آپ کو لوگوں کے تعاون کی ضرورت تھی ۔جب آپ نے اپنے نظریے کا اظہار کیا تو جو لوگ توانائی رکھتے تھے انھوں نے زکوٰة یابلا عوض مدد کے طور پر لشکر اسلام کی قابل قدر خدمت کی ۔

جو مسلمان مزدور پیشہ تھے ان کی آمدنی تھوڑی تھی ۔ ان میں سے ابو عقیل انصاری یا سالم بن عمیر انصاری نے رات کے وقت کنوئیں سے پانی نکال کر اضافی طور پر مزدوری کی اور اس طرح دومن۔ ۱

کھجور جمع کیں ۔ ان میں سے ایک من اپنے گھر رکھ دیں اور ایک من خدمتِ پیغمبر میں لے آئے ۔ اس طرح انھوں نے ایک عظیم اسلامی مقصد کے لئے بظاہر معمولی سی خدمت انجام دی ۔ اسی طرح اور مزدور پیشہ مسلمانوں نے لشکر اسلام کی خدمت کی ۔

عیب جو منافقین ان دونوں گرہوں پر اعتراض کرتے تھے جن لوگوں نے زیادہ خد مت کی تھی انھیں ریا ر کہتے تھے اور جنھوں نے ظاہراً تھوڑی مدد کی تھی ان تمسخر اڑاتے تھے کہ کیا اسلام کو اس قسم کی مدد کی ضرورت ہے ؟

اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور انھیں سخت دھمکی دی گئی اور عذابِ الٰہی سے ڈرایا گیا۔

____________________

۱۔ یہ ایران کے مرجہ اوزان کے لحاظ سے ہے ۔ ایرانی من ہمارے ہاں کی نسبت کم مقدار کاہوتا ہے (مترجم )


منافقین کی ایک اور غلط حرکت

ان آیات میں منافقین کی ایک عمومی صفت کی طرف اشارہ ہوا وہ یہ کہ وہ ہٹ دھرم ، بہانہ جو ، اور معترض او رکام بگاڑنے والے ہوتے ہیں ، غیر مناسب جوڑ توڑ سے ہر مثبت کام کی تحقیر کرتے ہیں اور اسے برا کرکے پیش کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو نیک کام کی انجام دہی میں سست کریں اور دوسرا ان کے افکار و نظر یات میں بد گمانی کے بیج بوئیں تاکہ اس طرح معاشرے میں اصلاحی او رمفید کاموں کا سلسلہ بند ہو جائے ۔

قرآن مجیدشدت سے ان کی اس غیر انسانی روش کی مذمت کرتا ہے او رمسلمانوں کو اس سے آگاہ کرتا ہے تاکہ لوگ ایسی بد گمانیوں کا شکار نہ ہوں اور منافقین کو بھی معلوم ہو جائے کہ اسلامی معاشرے میں ان کی سازشیں رنگ نہیں لاسکتیں ۔

ارشاد ہوتا ہے : وہ جونیک مومنین کے صدقات اور صدقِ دل سے کی گئی امداد میں سے عیب ڈھونڈھتے ہیں اور خصوصاً جوان نادار اہل ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں جو تھوڑی سی مدد کے علاوہ طاقت نہیں رکھتے خدا ان کا مذاق اڑاتا ہے اور دردناک عذاب ان کے انتظار میں ہے( الَّذِینَ یَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِینَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ فِی الصَّدَقَاتِ وَالَّذِینَ لاَیَجِدُونَ إِلاَّ جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُونَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللهُ مِنْهُمْ وَلَهمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ ) ۔

”یلزون “ ”لمز“( بر وزن” طنز“)کے مادہ سے عیب جوئی کے معنی میں ہے اور ” مطوعین “ مادہ ”طوع“ ( بروزن” موج “) سے اطاعت کے معنی میں ہے لیکن عام طور پر یہ لفظ نیک لوگوں کےلئے اور ان کے لئے استعمال ہوتا ہے جو واجبات کے علاوہ مستحبات بھی بجا لاتے ہوں ۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ منافق کچھ لوگوں کی عیب جوئی کرتے تھے اور کچھ کا مذاق اڑاتے تھے ۔ واضح ہے مذاق ان افراد کا اڑاتے تھے کہ جو لشکر اسلام کی صرف تھوڑی سی امداد کی طاقت رکھتے تھے اور یقینا عیب جوئی ان فراد کی کرتے تھے جو ان کے بر عکس بہت زیادہ امداد کرتے تھے ۔ زیادہ امداد کرنے والوں کو ریا کاری کاالزام دیتے تھے او رکم امداد کرسکنے والوں کی تحقیر کرتے تھے ۔

بعد والی آیت میں ان منافقین کی سزا کے بارے میں بہت تاکید آئی ہے اور انھیں آخری وارننگ دی گئی ہے ،۔ روئے سخن پیغمبر کی طرف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے :

ان کے لئے استغفار کرو یا نہ کرو یہاں تک کہ ستر مرتبہ بھی ان کے لئے استغفار اور طلب ِ بخشش کرو تو بھی انھیں ہرگز نہیں بخشے گا (اسْتَغْفِرْ لَهُمْ اٴَوْ لاَتَسْتَغْفِرْلَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِر لَهمْ سَبْعِینَ مَرَّةً فَلَنْ یَغْفِرَ اللهُ لَهُم

کیونکہ انھوں نے خدا اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے اور کفر کی راہ اختیار کی ہے اور اسی کفر نے انھیں نفاق کی پستی اور برے انجام سے دوچار کیا ہے (ذَلِکَ بِاٴَنَّهُمْ کَفَرُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ

اور واضح ہے کہ خدا کی ہدایت ایسے لوگوں کی میسر آئے گی جو حق طلبی کی راہ میں قدم اٹھاتے ہیں اور حقیقت کے متلاشی ہیں ۔ لیکن خدا فاسق ، گنہگار اور منافق افراد کو ہدایت نہیں کرتا( وَاللهُ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِینَ ) ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ کام کی اہمیت کیفیت سے ہے کمیت سے نہیں :۔

آیات ِ قرآنی کو دیکھتے ہوئے یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ اسلام کسی مقام پر بھی ”کثرتِ عمل“ پربھروسہ نہیں کرتابلکہ اس سے ہر جگہ ”کیفیت عمل “کو اہمیت دی ہے ۔ اسلا م کی نظر میں خلوص اور پاک نیت کی بہت زیادہ قیمت ہے ۔ مندرجہ بالا قرآن کی اس منطق کا ایک نمونہ ہیں ۔

جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ ایک مسلمان کار کن ایک چھوٹ سے کام کےلئے رات بھر نہیں سویا ۔ اس کا دل عشق خدا ، اخلاص او راحساس مسئولیت سے معمور تھا ۔ اسی لئے وہ اسلامی معاشرے کی مشکلات کے حل کے لئے کام میں لگا رہا اور اس طرح اس نے اسلامی فوج کے لئے ایک من کھجور مہیا کی ۔ اس نے حساس لمحات میں اسلام کی جو خدمت کی قرآن نے اسے بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور جو لوگ ایسے بظاہر چھوٹے اور در حقیقت بڑے اعمال کی تحقیر کرتے ہیں ان کی سخت مذمت کی ہے قرآن کہتا ہے :

” دردناک عذاب ان کے انتظار میں ہے “

اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ ایک صحیح معاشرے میں مشکلات کے وقت سب لوگوں کو احساس ذمہ داری کا ثبوت دیان چاہئیے ۔ ان مواقع پر صرف اہل اقتدار ثروت کی طرف نہیں دیکھنا چاہئیے کیونکہ اسلام کا تعلق سب سے ہے اور سب کو چاہئیے کہ اس کی حفاظت کے لئے دل و جان سے کوشش کریں ۔

اہم بات یہ ہے کہ ہر شخص اپنی طاقت کے حساب سے دریغ نہ کرے مسئلہ زیادہ اورکم نہیں بلکہ احساس ِ ذمہ داری اور اخلاص کا ہے ۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ ایک حدیث میں ہے کہ پیغمبر اکرم سے سوال ہوا:ای الصدقة افضل

کونسا صدقہ افضل ہے ۔

آپ نے فرمایا:جهد المقل

کم آمدنی والے اشخاص کی توانائی کی مقدار

۲ ۔ منا فقین کی صفات ہر دور میں ایک جیسی ہیں :

مندرجہ بالا آیات میں زمانہ پیغمبر کے منافقین کے بارے میں ہم نے جو صفت پڑھی ہے۔

صفات کی طرح اسی زمانہ کے منافقین سے مخصوص نہیں ہے ۔یہ صفت ہر دور کے منافقین کی پست صفات میں سے ایک ہے وہ اپنی بد نیتی کے مخصوص مزاج کے ساتھ کوشش کرتے ہیں کہ ہر مثبت کو غلظ انداز میں پیش کر کے بے اثر کردیں ۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر نیک شخص کی کسی نہ کسی طرح حو صلہ شکنی کریں ار اسے کارِ خیر کی انجام دہی میں سست کردیں ۔ یہاں تک کہ وہ کم آمدنی والے افراد کی خدمت کی اہمیت کو کم کرکے پیش کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کو مجروح کرنے اور ان کی توہین کرنے کےلئے ان کے کام کا تمسخر اڑاتے ہیں وہ یہ سب کچھ اس لئے کرتے ہیں تاکہ تمام مثبت کار کردگیاں ختم ہو جائیں اور وہ اپنے برے مقصد میں کامیاب ہوجائیں ۔

آگاہ او ربیدار مغز مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر زمانے میں ان کی قبیح سازش کی طرف متوجہ رہیں ۔ ان کے بالکل بر عکس قدم اٹھائیں معاشرے کی خدمت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں اور ایسی خدمت جو ظاہراً چھوٹی ہوں لیکن خلوص دل سے انجام پائی ہوں ان کی زیادہ قدر دانی کریں تاکہ چھوٹا بڑا اپنے کام میں شوق ق ذوق او ردلجمعی سے مگن رہے ۔ نیز سب مسلمانوں کو منافقین کی اس تباہ کن سازش سے آگاہ کرنا چاہےئے تاکہ وہ ہمت نہ ہاریں ۔

۳ ۔ ”( سخر الله منهم ) “ کامفہوم :

اس کا لفظی معنی ہے ” خدا ان سے تمسخر کرتا ہے “ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا بھی ان جیسے کام انجام دیتا ہے بلکہ جیسا کہ مفسرین نے کہا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ استہزاء کرنے والوں کو سزا دے گایا ان سے ایسا سلوک کرے گا کہ تمسخر اڑانےوالوں کی طرح ان کی تحقیر و تذلیل ہو۔

۴ ۔ ”سبعین “ سے مراد:

اس میں شک نہیں کہ ” سبعین “ ( ستر ) کاعدد زیرنظر آیت میں کثرت کے لئے ہے نہ کہ تعداد کے لئے ۔ دوسرے لفظوں میں آیت کامفہوم یہ ہے کہ ان کے لئے جتنی بھی استغفار کریں خدا انھیں نہیں بخشے گا ۔یہ بالکل ایسے ہے جیسے ایک شخص دوسرے سے کہے کہ اگر تم سو مرتبہ بھی اصرار کرو تو میں قبول نہیں کروں گا اس بات ک ایہ مطلب نہیں کہ اگر ایک سو ایک مرتبہ اصرار کرو تو پھر قبول کرلوں گا بلکہ مراد یہ ہے کہ بالکل قبول نہیں کروں گا ۔

ایسی تعبیر فی الحقیقت تاکید مطلب کے لئے ہوتی ہے اسی لئے سورہ منافقون آیہ ۶ میں یہ بات نفی مطلق کی صورت میں ذکر ہوئی ہے ، جہاں فرمایا گیا ہے :( سوآء علیهم استغفرت لهم ام لم تستغفر لهم لن یغفر الله لهم )

اس میں کوئی فرق نہیں کہ تم ان کے لئے مغفرت طلب کرو یانہ کرو خداانھیں ہر گز نہیں بخشے گا۔

اس بات پر ایک اور شاید وہ علت ہے جو آیت کے ذیل میں ذکر ہوئی ہے اور وہ یہ کہ ” انھوں ن خدا اور اس کے رسول سے کفر کیا ہے اور خدا فاسقوں کو ہدایت نہیں کرتا“

واضح ہے کہ ایسے افراد کے لئے جتنی استغفار اور طلب بخشش کی جائے ان کی نجات کا سبب نہیں ہو سکتی۔

تعجب کی بات ہے کہ اہل سنت کی طرق سے منقول متعدد روایات میں ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ نے فرمایا :لا ید ن فی الاستغفار لهم علی سبعین مرة : رجاء منه ان یغفر الله لهم ، فنزلت: سوآء علیهم استغفرت لهم ام لم تستغفر لهم لن یغفر الله لهم ۔

خدا کی قسم ! میں ان کے لئے ستر مرتبہ سے بھی زیادہ استغفار کروں گا اور اس امید پر کہ خدا انھیں بخش دے اور اس وقت ( سورہ منافقوں کی ) یہ آیت نازل ہوئی( جس میں خدا تعا لیٰ فرماتا ہے )

کچھ فرق نہیں چاہے ان کے لئے استغفار کرو چاہے نہ کرو خدا انھیں ہر گز نہیں بخشے گا ۔(۱)

مندرجہ بالا روایت کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ نے مندرجہ بالا آیت میں ستر کے عدد سے تعداد مراد لی لہٰذا فرماتا ہے کہ ” میں ان کے لئے ستر سے زیادہ مرتبہ استغفار کروں گا ۔“

حالانکہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں زیر بحث آیت خصوصاً اس علت کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے جو اس کے ذیل میں آئی ہے ہمیں وضاحت سے سمجھاتی ہے کہ ستر عدد کثرت کے مفہوم میں آیا ہے اور یہ نفی مطلق کے لئے کنایہ ہے اور اس میں تاکید مضمر ہے لہٰذا مذکورہ بالا روایات چونکہ قرآن کے مخالفت ہیں لہٰذا ہر گز قابل قبول نہیں ہیں خصوصاً جبکہ ہماری نظر میں ان کی اسناد بھی معتبر نہیں ہیں ۔

مذکرہ بالا روایات کی واحد توجیہ یہ کی جاسکتی ہے ( اگر چہ خلافِ ظاہر ہے ) کہ رسول اللہ مندرجہ بالا آیات کے نزول سے پہلے یہ جملہ فرمایا کرتے تھے اور جب یہ آیات نازل ہوئیں تو آپ نے ان کے لئے استغفار کرنے سے صرفِ نظر کر لیا ۔

اس بارے میں ایک اور روایت نقل ہ وئی ہے اور ممکن ہے کہ مذکورہ بالاروایات بنیاد یہی روایت ہو جو ” نقل المعنی “ کی وجہ سے غلط ملط ہو گئی ہو ۔ روایت یہ ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا :

لوعلمت انه لو زدت علی السبعین مرة غفر لهم لفعلت

اگر مجھے معلوم ہو کہ میرے ستر بار سے زیادہ استغفار کرنے سے خدا انھیں بخش دے گا تو میں ایسا کرتا ۔

اس کا مفہوم ( خصوصاً لفظ ”لو“ کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو امتناع کے لئے ہے ) یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ خدا انھیں نہیں بخشے گا لیکن میرا دل بندگان خدا کی ہدایت او ران کی نجات کے شوق سے اس قدرلبریز ہے کہ اگر بالفرض ستر مرتبہ سے زیادہ مرتبہ استغفار کرنے سے ان کی نجات ہو سکتی تو میں ایسا ہی کرتا۔

بہر حال مندرجہ بالا آیت کا مفہوم واضح ہے اور جو حدیث ان کے بر خلاف ہو اس کی یا توجیہ و تاویل کرنا پڑے گی یا اسے پھینک دینا ہوگا ۔

____________________

۱۔اسی مضمون کی متعدد روایات تفسیر طبرسی ج۱۰ ص ۱۳۸ پر جمع کی گئی ہیں ۔


آیات ۸۱،۸۲،۸۳

۸۱ ۔( فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللهِ وَکَرِهُوا اٴَنْ یُجَاهِدُوا بِاٴَمْوَالِهِمْ وَاٴَنفُسِهِمْ فِی سَبِیلِ اللهِ وَقَالُوا لاَتَنفِرُوا فِی الْحَرِّ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اٴَشَدُّ حَرًّا لَوْ کَانُوا یَفْقَهُونَ ) ۔

۸۲ ۔( فَلْیَضْحَکُوا قَلِیلًا وَلْیَبْکُوا کَثِیرًا جَزَاءً بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ ) ۔

۸۳ ۔( فَإِنْ رَجَعَکَ اللهُ إِلَی طَائِفَةٍ مِنْهُمْ فَاسْتَاٴْذَنُوکَ لِلْخُرُوجِ فَقُلْ لَنْ تَخْرُجُوا مَعِی اٴَبَدًا وَلَنْ تُقَاتِلُوا مَعِی عَدُوًّا إِنَّکُمْ رَضِیتُمْ بِالْقُعُودِ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوا مَعَ الْخَالِفِینَ ) ۔

ترجمہ

۸۱ ۔ ( جنگ تبوک سے ) کنارہ کشی کرنے والے جو رسول خدا کی مخالفت سے خوش ہیں اور وہ راہ خدا میں اپنے اموال او رجان سے جہاد کرنے کو ناپسند کرتے تھے ( اور ایک دوسرے سے او رمومنین سے ) کہتے ہیں کہ اس موسم گرما میں ( میدان کی طرف ) حرکت نہ کریں انھیں کہہ دو کہ جہنم کی آگ اس سے بھی زیادہ گرم ہے ، اگر تم میں سمجھ ہے ۔

۸۲ انھیں چاہئیے کہ تھوڑا ہنسیں اور زیادہ روئیں یہ ان کا ر کردگیوں کی جزا ہے جو و ہ کرتے تھے ۔

۸۳ ۔ جب خدا تجھے ان کے کسی گروہ کی طرف پلٹائے اور وہ تجھ سے ( میدان ِ جہاد کی طرف ) خروج کی اجازت چاہیں تو ان سے کہہ کہ تم کبھی میرے ساتھ خروج نہیں کروگے او رمیری معیت میں کبھی دشمن کے ساتھ جنگ نہیں کروگے ۔

منافقین کی ایک اور غلط حرکت

ان آیات میں بھی منافقین کے افکار و اعمال ک اذخر جاری ہے تاکہ مسلمان واضح طور پر اس گروہ کو ہیچان لیں اور ان کے غلط منصوبوں اور سازشوں کا شکار نہ ہوں ۔

پہلے فرمایا گیا ہے : وہ جنھوں نے (تبوک میں ) جہاد میں شرکت نہیں کی اور بے ہودہ بہانے کرکے اپنے گھروں میں بیٹھے رہے اوراپنے گمان میں انھوں نے میدانِ جنگ میں خطرات پر سلامتی کو دی ترجیح دی ، وہ رسول خدا کے خلاف اس عمل پر خوش( فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللهِ ) ۔

اور راہ خدا میں مال و جان سے جہاد کرنے او رمجاہدین کے عظیم اعزازات و افتخار ات حاصل کرنے کا ناپسند کرتے ہیں( وَکَرِهُوا اٴَنْ یُجَاهِدُوا بِاٴَمْوَالِهِمْ وَاٴَنفُسِهِمْ فِی سَبِیلِ اللهِ ) ۔

انھوں نے میدان جہاد میں شر کت نہ کرنے پر قناعت نہیں کی بلکہ وہ شیطانی وسوسوں سے دوسروں کو بھی بددل کرنے یا پھر نے کی کوشش میں تھے ۔ انھوں نے دوسروں سے کہا :موسم گرما کی اس جلادینے دالی گرمیں میں میدان جنگ کی طرف نہ جاو( وَقَالُوا لاَتَنفِرُوا فِی الْحَرِّ ) ۔

در حقیقت وہ ایک تو مسلمانوں کے ارادوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں او ردوسرا اپنے جرم میں بہت سے افراد کو شریک کرنا چاہتے تھے ۔ اس کے بعد قرآن پیغمبر اکرم کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے کہتا ہے کہ انھیں دو توک الفاظ میں اور تنبیہ کرتے ہوئے ” کہہ دو کہ دوزخ کی جلادینے والی آگ اس سے بھی زیادہ گرم ہے اگر تم سمجھو( قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اٴَشَدُّ حَرًّا لَوْ کَانُوا یَفْقَهُونَ ) ۔

لیکن وہ کمزور ایمان اور ناسمجھی کی وجہ سے توجہ نہیں کرتے کہ کیسی جلانے والی آگ ان کے انتظار میں ہے ، ایسی آگ کہ جس کی چھوٹی سی چنگاری دنیا کی ہر قسم کی آگ سے زیادہ جلادینے والی ہے ۔

بع دکی دو آیتیں اس طرف اشارہ کرتی ہیں کہ وہ اس گمان میں ہیں کہ انھیں کامیابی حاصل ہو گئی ہے ، جہاد سے دور رہنے والے او رمجاہدین کے حوصلے پست کرنے سے وہ اپنے ہدف کو پہنچ گئے لہٰذا وہ قہقہے لگاتے ہیں جیسا کہ ہر دور کے منافقین کرتے رہے ہیں لیکن قرآن انھیں خطرے سے ڈراتے ہوئے کہتا ہے : انھیں تھوڑا ہنسنا چاہئیے اور زیادہ رونا چاہئیے( فَلْیَضْحَکُوا قَلِیلًا وَلْیَبْکُوا کَثِیراً ) ۔

ہاں انھیں رونا چاہئیے اپنے تاریک مستقبل پراور ان دردناک سزاوں پر جو ان کے انتظار میں ہیں انھیں رونا چاہئیے اس بنا پر کہ وہ واپسی کے راستے کے تمام پلو ں کو بر باد کرچکے ہیں ۔ انھیں رونا چاہئیے کہ وہ اپنی تمام تر استعداد اور زندگانی کا سرمایہ دے کر اپنے لئے رسوائی او ربد بختی خرید چکے ہیں ۔

آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے ۔ یہ ان کے اعمال کی سزا ہے جو وہ انجام دیتے تھے( جَزَاءً بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ ) ۔

ہم نے جو کچھ کہا اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ اس جہان میں ہنسیں کم اورروئیں زیادہ ۔ کیونکہ آگے ان کے لئے ایسی دردناک سزا ہے کہ اگر اس سے آگاہ ہو جائیں تو بہت روئیں اور ہسیں بہت کم۔

لیکن بعض مفسرین نے اس جملے کے معنی کے متعلق ایک او راحتمال بھی ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ جتنا بھی ہسیں دیان کی عمر اتنی تھوڑی ہے کہ وہ پھر بھی کم ہے اور آخرت میں وہ اتنا روئیں گے کہ دنیاوی گریہ و زاری اس کے مقابلے میں بہت حقیر ہے ۔

لیکب پہلی تفسیر ظاہر آیت سے اور تقریر و تحریر میں استعمال ہونے والی اس سے مشابہ تعبیرات سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے خصوصاً جب کہ دوسری تفسیر کا لازمہ یہ ہے کہ صیغہ امر اخبار کے معنی میں ہو اور یہ خلافِ ظاہر ہے ۔

ایک مشہور حدیث میں کہ جسے بہت سے مفسرین نے پیغمبر اکرم سے نقل کیا ہے ،آپ نے فرماتے ہیں :

لاتعلمون ما اعلم لضحکتم قلیلا و لبکیتم کثیراً

اگر اسے جو ( قیامت کی ہولناک سزاوں کے متعلق )جانتا ہوں تم بھی جانتے تو ہنستے کم اور روتے زیادہ ۔

یہ حدیث بھی پہلے معنی پ رایک شاہد ہے ( غور کیجئے گا )۔

زیر بحث آخری آیت میں منافقین کی ایک او رسچی سمجھی خطر ناک روش کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ جب کسی غلط کام کو ظاہر بظاہر انجام دیتے ہیں تو اپنی برات کے لئے تلافی کرنے کے عذم ک ااظہار کرتے ہیں اور اس طرح اپنی بدعات اور خلافِ اسلام حرکات کو چھپانے کی کو شش کرتے ہیں ۔ آیت کہتی ہے: جس وقت خدا تجھے ان کے کسی گروہ کی طرف پلٹا ئے اور وہ تجھ سے جہاد کے دوسرے میدان میں شرکت کی اجازت چاہیں تو ان سے کہہ دو کہ تم میرے ساتھ کبھی میدان جہاد میں شرکت نہ کر سکو گے اور میری معیت میں کبھی کسی دشمن سے نہیں لڑو گے( فَإِنْ رَجَعَکَ اللهُ إِلَی طَائِفَةٍ مِنْهُمْ فَاسْتَاٴْذَنُوکَ لِلْخُرُوجِ فَقُلْ لَنْ تَخْرُجُوا مَعِی اٴَبَدًا وَلَنْ تُقَاتِلُوا مَعِی عَدُوًّا ) ۔

یعنی رسول اللہ انھیں ہمیشہ کے لئے مایوس کردیں اور واضح کردیں کہ ان کی حنارنگ نہیں لائے گی اور کبھی کوئی ان کے فریب میں نہیں آئے گا اورکیا ہی اچھا ہوکہ وہ مکرو فریب کہ یہ جال کہیں اور لے جائیں کیونکہ یہاں اب کوئی ان کے دام فریب میں نہیں آئے گا۔

اس نکتہ کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ” طآئفة منھم “ ( ان میں سے ایک گروہ )کے الفاظ نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ سب ایسا کرنے کو تیار نہ تھے اور دوسرے جہاد میں شرکت پر آمادگی کا اظہار سے سب نے نہیں کیا تھا ۔ شاید اس کی جہ یہ تھی کہ ان میں سے بعض اس قدر رسوا اور شرمندہ تھے کہ وہ اس رسول اللہ کی خدمت میں پیش ہو کر اپنی یہ تجویز ہی پیش نہیں کرسکتے تھے ۔

اس کے بعد ان کی پیش کش قبول نہ کرنے کی دلیل یوں بیان کی گئی ہے : میدانِ جہاد سے کنارہ کشی کرنے اور گھروں میں بیٹھ رہنے پر تم پہلے بھی راضی ہو چکے ہو پھر اب بھی منہ موڑنے والوں کے ساتھ مل جاو اور ان کے ساتھ گھروں میں بیٹھ جاو( إِنَّکُمْ رَضِیتُمْ بِالْقُعُودِ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوا مَعَ الْخَالِفِینَ ) ۔

چند توجہ طلب نکات

۱ ۔ دوسرے جہاد میں شرکت کی حقیقت:

اس میں شک نہیں کہ اگر یہ منافقین جہاد سے ایک مرتبہ منہ موڑنے کے بعد پشمان ہوتے ، توبہ کرلیتے اور اپنے سابقہ گناہوں کی تلافی کے لئے دوسرے جہاد میں شرکت کی پیش کش کرتے تو خدا تعالیٰ ان کی پیش کش قبول کرلیتا اور رسول اللہ ان کی درخواست رد نہ کرتے۔ اس بنا پر معلوم ہوتا ہے کہ پیش کش بھی ایک طرح کی شیطنت اور منافقت تھی ۔ در اصل یہ اپنے مکر وہ چہرے کو چھپانے اور سابقہ اعمال جاری رکھنے کی ایک تکنیک تھی ۔

۲ ۔لفظ ”خالف“ کا مفہوم :

یہ لفظ ’ متخلف“ کے معنی میں ہے جو کہ ایسے اشخاص کی طرف اشارہ ہے کہ جوعذرو معذرت کے ساتھ یا بغیرکسی عذرکے میدان جہاد میں شرکت نہیں کرتے تھے ۔

بعض نے یہ بھی کہا کہ ”خالف“ مخالفت کے معنی میں ہے جو اس طرف اشارہ ہے کہ تم بھی چلے جاو اور مخالفوں کے ہم آواز بن جاو اس لفظ کا ایک مفہوم ” فاسد“ بھی بیان کیا گیا ہے کیونکہ ”خلوف“ -”-فساد “کے معنی میں ہے اور ” خالف“ لغت میں ”فاسد“ کے معنی میں آیا ہے ۔

یہ احتمال بھی موجود ہے کہ مندرجہ بالاآیت میں اس لفظ سے تمام مذکورہ معانی مراد ہوں کیونکہ منافقین اور ان کے ساتھی ان تمام صفات رذیلہ کے حامل تھے ۔

۳ ۔ دور حاضر میں ہماری ذمہ داری او رمنافقین کی روش:

اس امت کی ہم دوابرہ یاد دہانی ضروری سمجھتے ہیں کہ دور حاضر کے مسلمان بھی اپنے معاشرے کے منافقین جو گذشتہ ادوارکے منافقین کی روش پر گمامزن ہیں کے بارے میں رسول اللہ کے اسی محکم طریقے کی پیروی کریں اور ایک دفعہ ان کے دام ِفریب میں آنے کے بعد دوسر مرتبہ ان سے دھو کا نہ کھائیں اور ان کے مگر مچھ کے آنسوو ں کو کوئی اہمیت نہ دیں کیونکہ :” کیونکہ ایک مسلمان ایک ہی جال میں دو مرتبہ نہیں پھنستا“۔


آیات ۸۴،۸۵

۸۴ ۔( وَلاَتُصَلِّ عَلَی اٴَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ اٴَبَدًا وَلاَتَقُمْ عَلَی قَبْرِهِ إِنّهُمْ کَفَرُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ ) ۔

۸۵ ۔( وَلاَتُعْجِبْکَ اٴَمْوَالهُمْ وَاٴَوْلَادُهُمْ إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ اٴَنْ یُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَتَزْهَقَ اٴَنفُسُهُمْ وَهُمْ کَافِرُونَ ) ۔

ترجمہ

۸۴ ۔ ان میں سے جو بھی مر جائے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھو اور اس کی قبر پر( دعا اور طلب ِ بخشش کے لئے ) کھڑا نہ ہو کیونکہ انھوں خدا اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور جب وہ دنیا سے گئے ہیں تو فاسق تھے ۔

۸۵ ۔ ان کے اموال اور اولاد تیرے لیے باعث تعجب نہ ہو ں (کیونکہ یہ ان کے لیے نعمت نہیں بلکہ )خدا چاہتا ہے کہ ان کے ذریعے انھیں دنیا میں عذاب کرے اور ان کی روحیں اس حالت میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں ۔

منافقین کے بارے میں زیادہ اقدام

جب منافقین نے کھلے بندوں جہاد سے منہ موڑ کر خود پردے چاک کردئے اور ان کامعاملہ واضح ہو گیا تو خدا تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ وہ زیادہ صریح اور زیادہ مستحکم طریقے سے اقدام کریں تاکہ دوسروں کے دماغ سے ہمیشہ کےلئے نفاق او رمنافق سازی کی فکر نکل جائے او رمنافقین بھی جان لیں کہ اسلامی معاشرے میں ان کے لئے کوئی جگہ او رمقام باقی نہیں رہا ۔

لہٰذا قرآن فرماتا ہے ۔( منافقین میں سے ) جو کوئی بی مر جائے اس کی نامز کبھی نہ پڑھو( ولا تصل علی احد منهم مات ابداً ) ۔ اور کبھی بھی اس کی قبر کے پاس طلب بخشش کے لئے کھڑا نہ ہو( ولا تقم علی قبره ) ۔

فی الحقیقت یہ منافقین سے ایک قسم کی منفی اور موثر جنگ ہے کیونکہ ان وجوہ سے پاک کرنے کا حکم نہیں دے سکتے تھے لیکن انھیں کافی حد تک بے اعتبار کرنے ، کنارہ کش کرنے اور اسلامی معاشرے سے نکال باہر پھینکنے کے لئے مقابلے کے ایسے منفی طریقے بہت موثر تھے ۔

ہم جانتے ہیں کہ ایک سچا مومن زندگی میں بھی محترم ہے موت کے بعد بھی اس لئے اسلام نے اس کے غسل ، کفن اور دفن کا حکم دیا ہے تاکہ اسے زیادہ اور خاص احترامات کے ساتھ سپرد ِ خاک کیا جائے یہاں تک کہ اسے دفن کرنے کے بعد اس کی قبر کے پاس آکر اس کے احتمالی گناہوں اور لغزشوں کی خدا سے بخشش طلب کرنے کا حکم دیاگیا ہے ۔

اب یہ مراسم اگر کسی شخص کے لئے انجام نہ دئے جائیں تو یہ گویا اسے اسلامی معاشرے سے باہر نکال کر پھینکنے کے مترادف ہے اور اگر اس شخص کو مسترد کردینے والی شخصیت پیغمبر اکرم کی ہو رو اس مسترد شدہ شخص کے مقام پر ایک سخت ضرب ہو گی ۔ در حقیقت یہ سردجنگ اور مقابلے کا ایک چچا تلا طریقہ ہے۔ دور حاضر میں بھی منافقین کے بارے میں مسلمانوں کو ایسے طریقوں سے کام لینا چا ہئیے یعنی جب تک کچھ افراد اظہار اسلام کرتے ہیں اور ظواہر اسلام کے پابند ہیں تو ان سے ایک مسلمان جیسا سلوک کیا جائے اگر چہ ان کا باطن کچھ اور ہو ۔ لیکن اگر وہ خود پردے چاک کردیں اور اپنا نفاق ظاہر کردیں تو پھر ان سے اسلام سے بیگانہ افراد کا سا سلوک کرنا چاہیئے ۔

آیت کے آخر میں ایک بار پھر اس حکم کی دلیل واضح کی گئی ہے او ر فرمایا گیا ہے : ” یہ حکم اس بنا پر ہے کہ انھوں نے خدا اور اس کے رسول سے کفر اختیار کیا ہے “( إِنّهُمْ کَفَرُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ ) ۔” اور جب یہ لوگ دنیا سے گئے ہیں تو فاسق اور فرمان ِ خدا کے مخالف تھے “ وہ نہ اپنے کئے پر پشیمان ہو ئے او رنہ ہی توبہ کے پانی سے انھو ں نے اپنا گناہ آلودہ دامن دھو یا ہے( وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ ) ۔

مککن ہے اس مقام پر مسلمانوں سے یہ سوال کیا جائے کہ اگر منافقین سچ مچ رحمت الہٰی سے اس قدر ہیں اور مسلمانوں کو چاہئیے کہ ان سے محبت او رلگاو رکھیں تو پھر خدا نے ان سے اس قدر اظہار محبت کیوں کیا ہے اور یہ سب مال اور اولاد ( اقتصادی اور افرادی قوت) انھیں کیوں دی ہے ۔

اگلی آیت میں روئے سخں پیغمبر کی طرف کرتے ہوئے خدا تعالیٰ نے اسی سوال کا جواب دیا ہے : ان کے اموال و اولاد تمہیں کبھی بھی معلوم نہ ہوں( وَلاَتُعْجِبْکَ اٴَمْوَالهُمْ وَاٴَوْلَادُهُمْ ) ۔کیونکہ ظاہر بین لوگانھیں خوش بختی کی علامت سمجھتے ہیں لیکن ” خدا چاہتا ہے کہ انھیں ان کے ذریعے دنیا میں سزا دے اور ول حالت ِ کفر میں مریں( إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ اٴَنْ یُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَتَزْهَقَ اٴَنفُسُهُمْ وَهُمْ کَافِرُونَ ) ۔

اس آیت کی نظیر اسی سورہ کی آیہ ۵۵ بھی ہے یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اقتصادی اور افرادی وسائل غیر صالح افراد کے ہاتھ میں ہوں تو نہ صرف سعادت بخش نہیں ہیں بلکہ اکثر اوقات دردِ سر ، مصیبت اور بد بختی کا سبب بھی ہیں کیونکہ ایسے نہ اپنے مال کو بر محل صرف کرتے ہیں کہ ان سے مفید اور اصلاحی نفع حاصل کر سکیں اور نہ ہی ان کی اولادصحیح راہ پر چلنے والی ، صاحب ایمان اور تربیت یافتہ ہوتی ہے کہ جو ان کی آنکھوں کا نور بن سکے اور ان کی زندگی کی مشکلات حل کر سکے ان کے اموال زیادہ تر ہلا ک کردینے والی سر کش ہوا و ہوس کے لئے فتنہ و فساد پید اکرنے کے لئے اور ظلم کے ستونوں کو مستحکم کرنے کے لئے صرف ہوتے ہیں ۔ یہ در اصل خدا فراموشی اور زندگی کے بنیادی مسائل سے غفلت کے سبب ہے ان کی اولادبھی ظالموں اور فاسدلوگوں کی خدمت میں لگ جاتی ہے اورآخر کار مصیبت ہی کا باعث ہوتی ہے ۔

البتہ جو لوگ دولت اور افرادی قوت کو بنیاد ی چیز خیال کرتے ہیں اور ان کے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ اسے کس طرح صرف کرنا چاہیئے دور سے تو ان کی زندگی بڑی دلفریب معلوم ہوتی ہے لیکن اگر ان کی اصل زندگی کو ہم قریب سے دیکھیں اور اس حقیقت کی طرف بھی توجہ رکھیں کہ ان وسائل سے کس طرح استفادہ کیا جانا مقصود ہے تو ہم تصدیق کریں گے کہ وہ خوش بخت لوگ نہیں ہیں ۔

چند قابل توجہ نکات

۱ ۔ شان نزول کی اختلافی روایات:

پہلی آیت کی شانِ نزول کے بارے میں تعدد روایات وارد ہوئیں ہیں جو باہم اختلاف رکھتی ہیں ۔

ان میں سے کچھ روایات سے معلوم ہوتاہے کہ جب مشہو رمنافق عبد اللہ بن ابی مرگیا تو پیغمبر نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر دعا کی ۔ یہاں تک کہ اپنا پیراہن کفن کے طور اسے پہنا یا توآیت نازل ہوئی اور پیغمبر اکرم کو ایسے عمل کی تکرار سے روکا گیا ۔

جب کہ دوسری روایات سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ رسول اللہ اس کی نماز جنازہ پڑھنا چاہتے تھے کہ جبرئیل نازل ہوئے اور آپ کے سامنے اس آیت کی تلاوت کی اور آپ کو اس کا م سے منع کیا۔

کچھ اور روایات سے ظاہر ہوتا ہے نہ تو رسول اللہ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی او رنہ ہی آپ ایسا کوئی ارادہ رکھتے تھے بلکہ عبد اللہ کے خاندان کی تشویق کے لئے صرف اپنا پیراہن کفن کے طور بھیجاجب لوگوں نے پوچھاکہ آپ نے یہ کام کیوں کیا ہے جبکہ وہ بے ایمان شخص ہے تو آپ نے فرمایا : میرا پیراہن اس لئے کے عذاب الہٰی سے نجات کا باعث نہیں ہو گا لیکن مجھے امید ہے کہ اس عمل کی وجہ سے بہت سے لوگ مسلمان ہوجائیں گے ۔

اور ایسا ہی ہوا کہ اس واقعہ کے بعد قبیلہ خزرج کے بہت سے افراد مسلمان ہو گئے

یہ روایات چونکہ آپس میں بہت اختلاف رکھتی ہیں اس لئے ہم ان سے شانِ نزول کی حیثیت سے صرف نظر کرتے ہیں خصوصاً جبکہ بعض مفسرین کے بقول عبد اللہ بن ابی کی موت ۹ ھئمیں واقع ہوئی او رزیر نظر آیات تقریباً ۸ ھء میں نازل ہو ئیں ۔ ( المیزان جلد ۹ ۳۸۵) ۔

لیکن جو بات قابل انکار نہیں ہے وہ یہ ہے کہ آیت کے لب و لہجہ سے یوں لگتا ہے کہ رسول الہ اس کے نزول سے پہلے منافقیین کی نماز جنازہ پڑھتے تھے اور ان کی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تھے کیونکہ وہ ظاہراً مسلمان تھے ۔

۲ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد بھی منافقین کی نماز جنازہ پڑھتے تھے مگر صرف چار تکبیرریں کہتے تھے یعنی آخری تکبیر جو میت پردعا کرنے سے مربوط ہے اس سے صرف نظر کرلیتے تھے ۔

یہ روایت اس صورت میں قابل قبول ہو سکتی ہے کہ محل آیت میں ” لاتصل “ کا معنی ”دعا نہ کرو “ لیا جائے ۔ لیکن اگر اس کا مطلب ہے ” نماز نہ پڑھو “ تو پھر یہ روایت مخالف ِ قرآن ہے اس لئے قابل قبول نہیں ہے ۔

اس بات کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ” لاتصل “ کا ظاہری معنی ” نماز نہ پڑھو“ ہی ہے لہٰذا ہم اسلامی حکم کی رو سے ایسے افراد کی نماز جنازہ نہیں پڑھ سکتے جن کا نفاق ظاہر ہو اور ایک ایک مہم روایت کی وجہ سے ہم مندرجہ بالا آیت سے دست بردار نہیں ہو سکتے ۔

مگر اس آیت کے نزول کے بعد یہ طریقہ بالکل متروک ہوگیا ۔

۲ ۔ مومنین کی قبروں کے پاس کھڑے ہونا اور دعا کرنا :

زیر بحث آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مومنین کی قبروں کے پاس کھڑے ہونا اور ان کے لئے دعا کرنا جائز ہے آیت میں نہی منافقین کے ساتھ مخصوص ہے

اس بنا پر آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ مومنین کی قبور کی زیارت کرنا یعنی ان کی قبروں کے پاس کھڑے ہونا اور دعا کرنا جائز ہے ۔

البتہ زیر بحث آیت مومنین کی قبور سے متوسل ہو نے اور ان کی برکت سے خدا سے کسی حاجت کا تقا ضا کرنے کے مسئلے میں خاموش ہے اگرچہ اس امر کا جائز ہو روایات ِ اسلامی کی نظر سے مسلم ہے ۔


آیات ۸۶،۸۷،۸۸،۸۹

۸۶ ۔( وَإِذَا اٴُنزِلَتْ سُورَةٌ اٴَنْ آمِنُوا بِاللهِ وَجَاهِدُوا مَعَ رَسُولِهِ اسْتَاٴْذَنَکَ اٴُوْلُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَقَالُوا ذَرْنَا نَکُنْ مَعَ الْقَاعِدِینَ ) ۔

۸۷ ۔( رَضُوا بِاٴَنْ یَکُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطُبِعَ عَلَی قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لاَیَفْقهُونَ ) ۔

۸۸ ۔( لَکِنْ الرَّسُولُ وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَهُ جَاهَدُوا بِاٴَمْوَالِهِمْ وَاٴَنفُسِهِمْ وَاٴُوْلَئِکَ لهُمْ الْخَیْرَاتُ وَاٴُوْلَئِکَ هُمْ الْمُفْلِحُونَ ) ۔

۸۹ ۔( اٴَعَدَّ اللهُ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِهَا الْاٴَنْهَارُ خَالِدِینَ فِیهَا ذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ ) ۔

ترجمہ

۸۶ ۔ اور جب کوئی سورت نازل ہو کہ خدا پر ایمان لے آواور اس کے رسول کے ساتھ مل کر جہاد کرو تو ان ( منافقین ) میں سے جو توانائی رکھتے ہیں تجھ سے اجازت چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بیٹھ رہنے والوں ( جن پر جہاد معاف ہے ) کے ساتھ چھوڑ دیجئے۔

۸۷ ۔ وہ اس بات پر راضی ہیں کہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہوں اور ان کے دلوں پ رمہر لگادی گئی ہے لہٰذا وہ نہیں سمجھے۔

۸۸ ۔ لیکن رسول اور وہ افراد جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں انھوں نے اپنے مال او رجان کے ساتھ جہاد کیا ہے اور سب نیکیاں ان کے لئے اور وہی کامیاب ہیں ۔

۸۹ ۔ الہ نے ان کے لئے جنت کے باغات تیار کر رکھے ہیں کن درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ اس میں ہمیشہ کے لئے رہیں گے اور یہ بہت بڑی اور عظیم کامیابی ہے ۔

پست ہمت افراد اور سچے مومنین

ان آیات میں بھی منافقین کے بارے میں گفتگو ہے البتہ یہاں ان کی بد کاریوں کا سچے مومنین کے نیک کاموں سے موازنہ کیا گیا ہے اور اس سے ان کا انحراف اور بے چارگی زیادہ واضح ہوتی ہے ۔

پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے : جس وقت کو ئی سورت جہاد کے بارے میں نازل ہوتی ہے اور لو گوں کو خدا پر ایمان لانے کی دعوت دیتی ہے ( یعنی کہتی ہے کہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہو اور اسے مستحکم کرو) اور پیغمبر کے سامل کر جہاد کرو تو ایسے موقع پر صاحب ِ قدرت منافقین کہ جو جسمانی اور مالی طور پر میدان جنگ میں شر کت کی استعداد رکھتے ہیں تجھ سے اجازت چاہتے ہیں کہ میدان ِ جہاد میں شر کت نہ کریں او رکہتے ہیں کہ ہمیں بیٹھ رہنے والوں (کہ جہاد میں شرکت سے معذور رہیں ) کے ساتھ رہنے دیجئے( وَإِذَا اٴُنزِلَتْ سُورَةٌ اٴَنْ آمِنُوا بِاللهِ وَجَاهِدُوا مَعَ رَسُولِهِ اسْتَاٴْذَنَکَ اٴُوْلُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَقَالُوا ذَرْنَا نَکُنْ مَعَ الْقَاعِدِینَ ) ۔

”طول “ ( بروزن ”قول“) مالی وسائل کے معنی میں آیا ہے اس بنا پر ” اولوا الطول“ سے مراد وہ افراد ہیں جو میدان ِ جنگ میں شرکت کے لئے کافی مادی طاقت رکھتے تھے ۔ مگر اس کے باوجود وہ چاہتے تھے کہ ان ناتوان افراد کے ساتھ رہ جائیں جو جنگ میں شرکت کے لئے مالی او رجسمانی طور پر کافی طاقت نہیں رکھتے تھے ۔

اس لفظ کی اصل ”طول“ ( بروزن ”پول “) ہے جوکہ ”عرض“ کی ضد ہے اوران دونوں معانی کی آپس میں مناسبت واضح ہے ۔ کیونکہ مالی اور جسمانی توانائی ایک طرح سے طاقت اور قدرت کی کششِ دوام اور طول کو ظاہر کرتی ہے ۔

اگلی آیت میں قرآن ان کی اس جملے کے ذریعے مذمت و ملامت کرتا ہے وہ چاہتے ہیں کہ پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ رہیں( رَضُوا بِاٴَنْ یَکُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ ) ۔

جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیاہے ”خوالف“ ”خالفة“ کی جمع ہے اس کا مادہ ” خلف “ ہے جس کا منعی ہے پشت سر۔ اسی بنا پر عورتوں کو جو مردوں کے کے گھر سے باہر چلے جانے کے بعد گھر میں باقی رہ جاتی ہیں ” خالفہ “ کہا جاتا ہے ۔ زیر بحث آیت میں ” خوالف “ سے مراد تمام لوگ ہیں جو کسی وجہ سے میدا ن جنگ میں شرکت کرنے سے معذور ہیں چاہے وہ عورتیں ہوں یا بوڑھے مرد، بیمار ہوں یا بچے ۔

بعض احادیث میں جو اس آیت کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں وہ بھی اس مار کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : گناہ اور نفاق کے زیر اثر وہ اس مر حلہ تک پہنچ گئے ہیں کہ ان کے دلوں پر مہر لگی ہوئی ہے اسی بنا پر وہ کچھ نہیں سمجھتے( وَطُبِعَ عَلَی قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لاَیَفْقهُونَ ) ۔

سورہ بقرہ کی ابتدا میں ہم نے دل پر مہر لگانے کے مفہوم پر بحث کی ہے ۔ ( تفسیر نمونہ جلد اول ص ۱۰۰ ( اردو ترجمہ )

اگلی آیت میں اس کے مد مقابل گروہ کی صفات و خصوصیات کا ذکر ہے جو کہ بالکل منافقین کی صفات و خصوصیات کے بر عکس ہیں ۔

ار شاد ہوتا ہے : ؛لیکن رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں انھوں نے اپنے جان و مال سے راہ خدا میں جہاد کیا ہے( لَکِنْ الرَّسُولُ وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَهُ جَاهَدُوا بِاٴَمْوَالِهِمْ وَاٴَنفُسِهِمْ ) ۔

اور ان کا انجام کار یہ ہوا کہ طرح طرح کی سعادتین ، کامیابیاں او ردونوں جہانوں کی مادی و روحانی خیرات انھیں نصیب ہوئیں( وَاٴُوْلَئِکَ لهُمْ الْخَیْرَاتُ ) اور یہی لوگ کامیاب ہیں( وَاٴُوْلَئِکَ هُمْ الْمُفْلِحُونَ ) ۔

لفظ ” الخیرات “ جمع کا صیغہ ہے جس پر ” الف لام “ بھی ہے اور اس سے عمومیت کا استفادہ ہوتا ہے یہ ایک ایسی جامع تعبیر ہے کہ جو ہر قسم کی کامیابی ، نعمت او رخیر کا مفہوم لئے ہوئے ہے چاہے وہ مادی ہو یا روحانی ۔

علم معانی بیا ن میں جو قواعد بیان ہوئے ہیں ان کے مطابق ان دونوں جملوں کی تعبیرات گواہی دیتی ہیں کہ کامیاب صرف یہی لوگ ہیں اور اسی طرح جو ہ رقسم کی خیرو سعادت کا استحقاق رکھتے ہیں صرف یہی لوگ ہیں ، وہی جو اپنے پورے وجود اور وسائل کے ساتھ جہاد کرتے ہیں ۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ایمان او رجہاد اکھٹے ہو جائیں تو پھر ہر طرح کی خیرو برکت اس کے ساتھ ہو گی اور ان دونوں کے بغیر نہ کوئی راستہ فلاح کی طرف جاتا ہے نہ ہی مادی و معنوی نعمات میں کوئی حصہ ملتا ہے ۔

یہ نکتہ بھی لائق توجہ ہے کہ ان دونوں گروہوں کی صفات کے تقابل سے معلوم ہو تا ہے کہ منافق فقدانِ ایمان اور گناہ میں بہت زیادہ آلودگی کی وجہ سے نادان اور جاہل ہیں اور اسی بنا پر عالی ہمتی سے محروم ہیں جو کہ فہم ، شعور اور آگہی کی پیدا وار ہے وہ اس بات پر راضی ہیں کہ بیماروں اور بچوں کے ساتھ رہ جائیں اور میدانِ جہاد میں شرکت کے فضائل اور افتخارات کے باوجود اس کا انکار کردیں ۔ جب کہ ان کے مقابلے میں اہل ایمان ایسی روشن نگاہی، فہم وادراک اور عالی ہمتی رکھتے ہیں کہ مشکلات سے نجات کی راہ تمام تر وسائل کے ساتھ جہاد میں شرکت میں سمجھتے ہیں ۔

یہ وہی عظیم درس ہے جو قرآن نے اپنی بہت ہی آیات میں ہمیں دیا ہے اور پھر بھی ہم اس سے غافل ہیں ۔

زیر بحث آیت میں دوسرے گروہ کی کچھ اخروری جزاوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : خدا نے ان کے لئے باغاتِ بہشت تیا ر کررکھے ہیں جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری کی گئی ہیں( اٴَعَدَّ اللهُ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِهَا الْاٴَنْهَارُ ) ۔تاکیداً فرمایا گیا ہے کہ یہ نعمت اور عنا یات عاریتاً اور فنا پذیر نہیں ہے بلکہ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے( خَالِدِینَ فِیهَا ) ۔ اور یہ عظیم کامیابی ہے( ذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ ) ۔

”اعدلھم “ ( خدا نے ان کے لئے تیار کیا ہے ) یہ تعبیر موضوع کی اہمیت کی دلیل ہے اور اس احترام کی نشانی ہے جو اس گروہ کو خدا کے نزدیک حاصل ہے یعنی اس نے پیلے سے یہ نعمات و عنا یات ان کے لئے تیار کرکھی ہیں ۔


آیت ۹۰

۹۰ ۔( وَجَاءَ الْمُعَذِّرُونَ مِنْ الْاٴَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَقَعَدَ الَّذِینَ کَذَبُوا اللهَ وَرَسُولَهُ سَیُصِیبُ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ ) ۔

ترجمہ

۹۰ ۔ اور اعراب میں سے معذور لوگ ( تیرے پاس ) آئے ہیں کہ انھیں جہاد سے تخلف کی اجازت دی جائے لیکن وہ لوگ جنھوں نے خدا اور اس کے پیغمبر کے ساتھ جھوٹ بولا ہے ( بغیر کسی عذر کے اپنے گھرمیں ) بیٹھ گئے ہیں ۔ عنقریب ان لوگوں کو جو کافر ہو گئے ہیں ( اور معذور نہیں تھے ) اور درد ناک عذاب پہنچے گا ۔

تفسیر

گذشتہ مباحث بہانہ جو اور عذر تراش منافقین کے بارے میں تھیں اسی مناسبت سے اس آیت میں جہاد میں پیچھے رہ جانے والے دو گروہوں کی کیفیت کی طرف اشارہ ہواہے ۔

پہلا گروہ وہ ہے جس نے بغیر کسی عذر کے سر کشی کے طور پر اس عظیم ذمہ داری سے رو گردانی کی ہے ۔

پہلے فرمایا گیا ہے : بادیہ نشین اعراب کا ایک گروہ جو میدان جہاد میں شرکت سے معذور تھا تیرے پاس آیا ہے تاکہ اسے اجازت دی جائے اور معاف رکھا جائے( وَجَاءَ الْمُعَذِّرُونَ مِنْ الْاٴَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ ) ۔

ان کے مقابلے میں وہ لوگ ہیں جنھوں نے خدا اور اس کے رسول کے سامنے جھوٹ بولا ہے اور بغیر کسی عذر کے اپنے گھر میں بیٹھ گئے ہیں اور میدان میں نہیں گئے( وَقَعَدَ الَّذِینَ کَذَبُوا اللهَ وَرَسُولَهُ ) ۔

آیت کے آخر میں دوسرے گروہ کو شدت کے ساتھ تہدید کی گئی ہے ارشاد ہوتا ہے : ان میں سے جو کافر ہوا ہے عنقریب وہ دردناک عذاب میں گرفتار ہو گا( سَیُصِیبُ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ ) ۔

جو کچھ ہم نے آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے یہی مفہوم آیت میں موجود قرائن سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے کیونکہ ایک طرف ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے مد مقابل قرار دئیے گئے ہیں اور دوسری طرف لفظ ” منھم “ نشاندہی کرتا ہے کہ یہ دونوں گروہ تمام کے تمام کافر نہیں تھے ان میں دو قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ ”معذرون “ حقیقی معذور تھے ۔

لیکن اس تفسیر کے مقابلے میں اس آیت کی دو اور تفسیریں بھی کی گئی ہیں :

پہلی یہ کہ ” معذرون“ سے مراد وہ لوگ ہیں جو جہا د سے فرار کے لئے فضول ، بے ہودہ ار جھوٹے بہانے تراشتے تھے ، اور دوسرے گروہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو عذر تراشی کی بھی زحمت نہیں دیتے تھے اور جہاد کے بارے میں کھل کے حکم خدا کی نافرمانی کرتے تھے چاہے وہ سچے ہوں یا جھوٹے۔

مگر قرائن نشاندہی کرتے ہیں کہ ’معذرون “ میراد حقیقی معذور ہی ہیں ۔


آیات ۹۱،۹۲،۹۳

۹۱ ۔( لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَاءِ وَلاَعَلَی الْمَرْضَی وَلاَعَلَی الَّذِینَ لاَیَجِدُونَ مَا یُنفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُوا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ مَا عَلَی الْمُحْسِنِینَ مِنْ سَبِیلٍ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔

۹۲ ۔( وَلاَعَلَی الَّذِینَ إِذَا مَا اٴَتَوْکَ لِتَحْمِلهُمْ قُلْتَ لاَاٴَجِدُ مَا اٴَحْمِلُکُمْ عَلَیْهِ تَوَلَّوا وَاٴَعْیُنُهُمْ تَفِیضُ مِنْ الدَّمْعِ حَزَنًا اٴَلاَّ یَجِدُوا مَا یُنفِقُونَ ) ۔

۹۳ ۔( إِنَّمَا السَّبِیلُ عَلَی الَّذِینَ یَسْتَاٴْذِنُونَکَ وَهُمْ اٴَغْنِیَاءُ رَضُوا بِاٴَنْ یَکُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطَبَعَ اللهُ عَلَی قُلُوبِهِمْ َهُمْ لاَیَعْلَمُونَ ) ۔

ترجمہ

۹۱ ۔ ضعفاء ، بیمار اور وہ جو ( جہاد کی راہ میں ) خرچ کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں رکھتے ان پر کوئی اعتراض نہیں ( کہ انھوں نے میدانِ جہاد میں شرکت نہیں ہے جب وہ خڈا اور اس کے رسول سے خیرخواہی کریں ( اور جو کچھ طاقت رکھتے ہیں اس سے دریغ نہ کریں کیونکہ ) کیونکہ نیکو کار لوگوں سے مواخذہ نہیں ہو سکتااور خدا بخشنے والا اور مہر بان ہے ۔

۹۲ ۔ نیز ان پر بھی اعتراض نہیں ہو جو جب تیرے پاس آئے کہ تو انھیں ( میدان جہاد کے لئے ) مرکب پر سوار کرے تو تونے کہا کہ میرے پاس سواری نہیں ہے کہ جس پر تمہیں سوار کرو ں تو وہ ( تیرے پاس سے)اس حالت میں لوٹے کہ ان کی آنکھیں اشک بار تھیں کیونکہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے وہ راہ خدا میں خرچ کرتے۔

۹۳ ۔ موخذہ کی راہ ان کے لئے کھلی ہے جو تجھ سے اجازت چاہتے ہیں جب کہ وہ بے نیاز ہیں (اور کافی وسائل رکھتے ہیں ) وہ پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ رہ جانے پر راضی ہو گئے ہیں اور خدا نے ان کے دلوں پرمہر لگادی ہے ۔ لہٰذا وہ کچھ نہیں جانتے۔

شان نزول

پہلی آیت کے بارے میں منقول ہے کہ پیغمبر اکرم کے مخلص اصحاب میں سے ایک نے آپ سے عرض کیا :

میں ایک بوڑھا ، نابینا اور عاجز شخص ہوں یہاں تک کہ میرے پاس کوئی ایسا شخص بھی نہیں جو میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے میدان جہاد میں لے جائے تو کیا میں جہاد میں شرکت نہ کروں تو معذورہوں ؟

پیغمبر اکرم خاموش رہے تو پھر پہلی آیت نازل ہوئی جس میں ایسے افراد کو اجازت دی گئی ہے

اس شانِ نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ نابینا افراد تک پیغمبر اکرم کو اطلاع دئے بغیرجہاد میں شرکت سے پہلو تہی نہیں کرتے تھے اور اس احتمال کی بنا پر کہ شاید ان کا وجود اس حالت میں بھی مجاہدین کی تشویق یا کثرت ِ لشکر کے لئے مفید ہو وہ رسول اللہ سے اپنی ذمہ داری کے بارے میں پوچھتے تھے ۔

دوسری آ یت کے بارے میں بھی روایات میں ہے کہ غریب انصار سے سات افراد رسول اللہ کی خدمت میں حاضرہوئے اور تقاضا کیا کہ انھیں جہاد میں شرکت کے لئے وسائل مہیا کئے جائیں لیکن چونکہ پیغمبر اکرم کے پاس انھیں مہیا کرنے کے لئے وسائل نہ تھے تو آپ نے انھیں نفی میں جواب دیا۔ وہ اشک آلودہ نگاہوں سے آپ کی بار گاہ سے گئے او ربعد میں ” بکاون“ ( رونے والے ) کے نام سے مشہور ہوئے ۔

وہ معذور جو عشق جہاد میں آنسو بہاتے تھے

تمام گروہوں کی کیفیت واضح کرنے کے لئے ان آیات میں جہاد میں شرکت کے لحاظ سے ان کے معذور ہونے ی انہ ہونے کے بارے میں ایک واضح تقسیم بند کی گئی ہے ۔ ان میں پانچ گروہوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ ان میں سے چار تو واقعاً معذور ہیں اورایک گروہ منافق اور غیر معذور ہے ۔

پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے : وہ لوگ جو ضعیف و ناتوان ہیں (بڑھاپے کے سبب بینائی نہ ہونے کے باعث یا ایسی کسی اور وجہ سے )اسی طرح بیمار اور وہ لوگ جن کے پاس میدان جہاد میں شرکت کے لئے وسائل نہیں ہے ان پرکوئی اعتراض نہیں کہ وہ اس واجب اسلامی پروگرام میں شرکت نہ کریں

( لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَاءِ وَلاَعَلَی الْمَرْضَی وَلاَعَلَی الَّذِینَ لاَیَجِدُونَ مَا یُنفِقُونَ حَرَجٌ ) ۔

ان تین گروہوں کے لئے ہر قانون میں معافی ہے اور عقل و منطق بھی اس کی تائید کرتی ہے اور مسلم ہے کہ اسلامی قوانین کسی مقام پربھی عقل و منطق سے جدانہیں ہیں ۔

لفظ ”حرج “اصل میں کسی چیز کے مرکز اجتماع کے معنی میں ہے اور چونکہ اجتماع اور جمیعت کا تنگی ضیق ِ مکان اور جگہ کی تنگی سے تعلق ہے لہٰذا یہ لفظتنگی ، ناراضی اور مسئولیت کے معنی میں آیا ہے ۔ زیربحث آیت میں یہ لفظ آخری معنی یعنی مسئولیت، جوابدہی اور ذمہ داری کے معنی میں آیا ہے ۔

اس کے بعد ان کی معافی کے حکم کے لئے ایک اہم شرط بیان کی گئی ہے ، ارشاد ہوتا ہے : یہ اس صورت میں ہے کہ وہ خدااور اس کے رسول کے لئے کسی مخلصانہ خیر خواہی سے دریغ نہ کریں( إِذَا نَصَحُوا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ ) ۔یعنی اگرچہ وہ ہتھیار ہاتھ میں لیکرمیدان جنگ میں نہیں جاسکتے ۔ لیکن وہ یہ تو کرسکتے ہیں کہ اپنی گفتار وہ عمل سے مجاہدین کے شوق کو ابھاریں اور جہاد کے ثمرات و نتائج شمار کرکے ان کے جذبات کو تقویت پہنچائیں اور اس کے برعکس جتنا ہو سکے دشمن کے دلوں کو کمزور کریں اور ان کی شکست کے مقدمات کی فراہمی میں کوتا ہی نہ کریں ۔ یہ مفہوم اس لئے ہے کہ کیونکہ لفظ ” نصح “ جو اصل میں اخلاص کے معنی میں ہے ایک جامع لفظ ہے ۔ اس میں ہر قسم کی خیر خواہی اور مخلصانہ اقدام کا مفہوم پنہاں ہے اور چونکہ یہاں جہاد کا معاملہ در پیش ہے لہٰذا اس سے مراد ایسی کو ششیں ہیں جو اس سلسلے میں درکار ہیں ۔

بعد میں اس امر کی دلیل بیان کرتے ہوئے کہاگیا ہے :ایسے افراد نیک لوگ ہیں اور نیکوکاروں کے لئے ملامت، سر زنش ، سزا اور مواخذہ کا کوئی راستہ نہیں ہے( مَا عَلَی الْمُحْسِنِینَ مِنْ سَبِیلٍ ) ۔

آیت کے آخرمیں خدا تعالیٰ کی دوعظیم صفات بیان کی گئی ہیں یہ بھی دراصل ان تین گروہوں خی معافی کی ایک دلیل کے طور پر بیان ہو ئی ہیں ارشاد ہوتا ہے : خدا غفور اور رحیم ہے( وَاللهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔

”غفور “ ”غفران“ کے مادہ سے مستور او رپوشیدہ کرنے کے معنی میں ہے یعنی خدا اس صفت کے تقاضا کی بنا پر معذور او رناتواں افراد کے کام پر پردہ ڈال دیتاہے اور ان کے عذر قبول کرلیتا ہے ۔

اور خدا کا ”رحیم“ ہونا مقتضی ہے کہ وہ شاق او رمشکل ذمہ داری کسی پر نہ ڈالے او راسے معاف رکے یہ لوگ اگر میدانِ جہاد میں حاضر ہونے پر مجبور ہوتے تھے یہ امر خدا کی غفوریت اور رحمیت سے مناسبت نہ رکھتا۔ یعنی غٖور و رحیم خدا انھیں یقینا معاف رکھے گا ۔

چند ایک روایات جو مفسرین نے اس آیت کے ذیل میں نقل کی ہیں ، ان سے اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ معذور لوگوں کو نہ صرف یہ کہ اس ذمہ داری سے رخصت دی گئی ہے اور ان سے سزا بر طرف کردی گئی ہے بلکہ میدان جہاد میں شرکت کے لئے انھیں جو قدر اشتیاق ہے اس کے حساب سے وہ جز اثواب اور اعزازات میں بھی مجاہدین کے ساتھ شریک ہیں جیسا کہ پیغمبر اکرم سے منقول ایک حدیث میں بھی ہے کہ جس وقت آپ جنگِ تبوک سے واپس آئے اورمدینے کے قریب پہنچے تو فرمایا :

اس شہر میں تم کچھ ایسے افراد کو چھوڑ گئے تھے جو تمام راستے میں تمہارے ساتھ ساتھ جو قدم تم نے اٹھا او رجو مال تم نے اس راہ میں خرچ کیا اور جس زمین سے تم گذرے وہ تمہارے ہمراہ تھے ۔

صحابہ نے عرض کیا :

یا رسول اللہ ! وہ جس طرحہمارے ساتھ تھے جب کہ وہ مدینہ میں تھے ۔

رسول اللہ نے فرمایا :

اس بنا پر کہ وہ کسی عذر کی وجہ سے جہاد میں شرکت نہیں کرسکے ( لیکن ان کے دل ہمارے ساتھ تھے )۔(۱)

اس کے بعد چوتھے گروہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جسے جہاد میں شرکت سے معافی دی گئی ہے ، فرمایا گیا ہے : اسی طرح اس گروہ پر بھی کوئی اعتراض نہیں جو تیرے پاس آیا تو انھیں میدانِ جہاد میں شرکت کے لئے سواری فراہم کردے اور تونے کہا کہ میرے پاس کوئی سواری نہیں کہ جس پر تمہیں سوار کرتوں تو مجبوراً وہ تیرے پاس سے اس حالت میں گئے کہ ان کی آنکھیں اشکبار تھیں اور یہ آنسو اس غم میں تھے کہ ان کے پاس راہ خدا میں خرچ کرنے کےلئے کچھ نہ تھا( وَلاَعَلَی الَّذِینَ إِذَا مَا اٴَتَوْکَ لِتَحْمِلهُمْ قُلْتَ لاَاٴَجِدُ مَا اٴَحْمِلُکُمْ عَلَیْهِ تَوَلَّوا وَاٴَعْیُنُهُمْ تَفِیضُ مِنْ الدَّمْعِ حَزَنًا اٴَلاَّ یَجِدُوا مَا یُنفِقُونَ ) ۔

”تفیض “ ”فیضان “ کے مادہ سے ہے اس کا معنی ہے پر ہونے کے نتیجہ میں گرنا ۔ جب انسان کو تکلیف ہوتی ہے اگر اس کی تکلیف او دکھ زیادہ شدید نہ ہو تو آنکھیں آنسووں سے پر ہو جاتی ہیں لیکن آنسوجاری نہیں ہوتے لیکن اگر دکھ اور تکلیف شدید ہو جائے تو اشک رواں ہوجاتے ہیں ۔

یہ صورت نشاندہی کرتی ہے کہ یہ اصحاب ِ پیغمبر جہاد کے اس قدر مشتاق اور عاشق تھے کہ نہ صرف معافی مل جانے پر خوش نہ تھے بلکہ اس طرح آنسو بہارے تھے جیسے ان کا کوئی بہترین عزیز اور دوست کھو گیا ہو۔

البتہ اس میں شک نہیں کہ یہ چوتھا گروہ تیسرے سے علٰیحدہ نہیں جس کا ذکر گذشتہ آیت میں ہوا ہے لیکن اس کا ایک خاص امتیاز ہے اور اس گروہ کی قدر دانی کے لئے مستقل ایک آیت میں ان کی کیفیت کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔

ان کا امتیاز یہ تھا کہ !

۱ ۔ انھوں اس پر قناعت نہیں کی کہ ان کے پاس جہاد میں شرکت کے وسائل نہیں تو بیٹھ رہیں بلکہ وہ رسول کے پاس آئے اور سواری کے لئے ان سے اصرار کیا۔

۲ ۔ جب رسول اللہ نے انھیں نفی میں جواب دیا تو نہ صرف یہ کہ معافی ملنے پر وہ خوش نہیں ہوئے بلکہ بہت دکھی او رپریشان ہوئے ۔

ان دو وجوہ کی بناء پر خدا تعالیٰ نے ان کا خاص طور پر الگ سے ذکر کیا ہے ۔

آخری آیت میں پانچویں گروہ کی حالت بیان کی گئی ہے یعنی وہ کہ جن کے پاس بار گاہ الہٰی کے لئے کوئی عذر نہیں تھا ، فرما یا گیا ہے : مواخذہ اور سزا کی راہ صرف ان لوگوں کے سامنے کھلی ہے جو تجھ سے اجازت چاہتے ہیں کہ جہاد میں شرکت نہ کریں جب کہ اس کا م کے لئے ان کے پاس کافی اور ضروری وسائل موجود ہیں اور وہ بالکل بے نیاد ہیں( إِنَّمَا السَّبِیلُ عَلَی الَّذِینَ یَسْتَاٴْذِنُونَکَ وَهُمْ اٴَغْنِیَاءُ ) ۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : ان کے لئے یہ ننگ و عار کافی ہے کہ وہ اس بات پر راضی ہیں کہ ناتواں ، بیمار او رمعذور افراد کے ساتھ مدینہ میں رہ جائیں اور جہاد میں شرکت کے اعزاز سے محروم رہیں( رَضُوا بِاٴَنْ یَکُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ ) ۔

اور یہ سز ابھی ان کے لئے کافی ہے کہ خدا نے ان کے برے اعمال کی وجہ سے فکر و ادراک کی قدرت ان سے چھین لی او ران کے دلوں پر مہر لگادی اور اس بناء پر وہ کچھ نہیں جانتے( وَطَبَعَ اللهُ عَلَی قُلُوبِهِمْ َهُمْ لاَیَعْلَمُونَ ) ۔

____________________

۱۔المیزان جلد ۹ صفحة ۳۸۶ بحوالہ در المنثور۔


چندقابل توجہ نکات

۱-مجاہدین کا جذبہ و شہادت:

ان آیات سے مجاہدین اسلام کے قوی اور عالی جذبے کا اظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح ان کے دلوں میں جہاد و شہادت کا عشق موجزن تھا وہ اس اعزاز کو ہر اعزاز پرمقدم سمجھتے تھے ۔ اسی سے اس وقت اسلام کی تیز رفتار پیش رفت اور اس وقت ہماری پسماندگی کی اہم عوامل سامنے آتے ہیں ۔

ہم کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ جہاد میں شرکت سے معافی پرجن کی آنکھوں میں بر سات کی جھڑیا لگ جاتی ہیں ان کے ان لوگوں کے برابر ہو جائیں جو جہاد میں شر کت نہ کرنے کے لئے بہانے تراشتے ہیں ۔

اگر ایمان کی وہی روح آج بھی زندہ ہو جائے ، عشق اور جذبہ شہادت دلوں میں پھر سے موجزن ہو جائے تو آج بھی کامیابی اور پیش رفت اسی طرح سے ہو جیسے آغاز اسلام میں تھی بدبختی یہی ہے کہ ہم نے فقط اسلام کا ظاہری لباس پہن رکھا ہے ، اور اسلام ہمارے وجود کی گہرائیوں میں نہیں اترا۔ پھر بھی ہم اپنے آپ کو آغاز اسلام کے مسلمانوں کی طرح کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں ۔

۲ ۔ جہا کے کئی مراحل ہیں :

زیر بحث آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص کو مجاہدین کی ہمکاری سے مکمل طور پر معافی نہیں مل سکتی۔ یہاں تک کہ ج وافراد بیمار ہیں یا نابینا ہیں یا فطری طور پر ہتھیار اٹھانے اور میدان ِ جہاد میں شرکت کی طاقت نہیں رکھتےانھیں بھی چاہئیے کہ وہ زبان سے یا کسی اور طرح سے تبلیغ کے ذریعے مجاہدین کو شوق دلائیں اور ان کی معاونت کریں ایسے لوگوں کو بھی اپنی ذمہ داری کو فراموش نہیں کرنا چاہئیے او ربالکل ایسے امور سے کنارہ کش نہیں ہو نا چاہیئے۔

در حقیقت جہاد کے کئی مرحلے ہیں اور اس کے ایک مرحلے سے معذور ہونا دوسرے مراحل سے معذور ہونے کی دلیل نہیں ہے ۔

۳ ۔ ایک وسیع قانون کا سر چشمہ :

” ما علی المحسنین من سبیل “ ( نیکو کاروں سے مواخذہ کی کوئی راہ نہیں )یہ جملہ فقہی مباحث میں ایک وسیع قانون کا سر چشمہ ہے اس قانون سے علماء نے بہت سے احکام اخذکئے ہیں ۔

مثلاً اگر کسی امین شخص کے ہاتھ سے کوئی امانت بغیر کسی افراط و تفریط کے تلف ہو جائے تو ایسا شخص نقصان کا ذمہ دار نہیں ہو سکتا۔ اس سلسلے میں دیگر دلائل کے علاوہ اس آیت کو بھی پیش کیا جاتا ہے ۔

البتہ اس میں شک نہیں کہ یہ آیت مجاہدین کے بارے میں ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ آیت کا کسی ایک واقعہ کے بارے میں ہونا اس کی عمومیت کو ختم نہیں کرتا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی ایک مسئلہ کے بارے میں ہونا اسے ہر گز اسی میں محدود نہیں کرتا ۔


آیات ۹۴،۹۵،۹۶

۹۴ ۔( یَعْتَذِرُونَ إِلَیْکُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَیْهِمْ قُلْ لاَتَعْتَذِرُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَکُمْ قَدْ نَبَّاٴَنَا اللهُ مِنْ اٴَخْبَارِکُمْ وَسَیَرَی اللهُ عَمَلَکُمْ وَرَسُولُهُ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَی عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ) ۔

۹۵ ۔( سَیَحْلِفُونَ بِاللهِ لَکُمْ إِذَا انقَلَبْتُمْ إِلَیهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ فَاٴَعْرِضُوا عَنْهُمْ إِنّهُمْ رِجْسٌ وَمَاٴْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ ) ۔

۹۶ ۔( یَحْلِفُونَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنهُمْ فَإِنَّ اللهَ لاَیَرْضَی عَنْ الْقَوْمِ الْفَاسِقِینَ ) ۔

ترجمہ

۹۴ ۔ جس وقت تم ان کی طرف ( جنھوں نے جہاد سے تخلف کیا ہے ) لوٹ کر آئے تو تم سے عذر خواہی کریں گے کہہ دو کہ معذرت نہ کرو ہم ہر گز تم پر ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ اللہ نے ہمیں تمہاری خبروں سے آگاہ کیا ہے اور خدا اور اس کا رسول تمہارے اعمال دیکھتا ہے پھر تم اس کی طرف پلٹ جاو گے جو پنہاں اور آشکار سے آگا ہ ہے اور تمہیں اس سے آگاہ کرے گا (اور اس کی جزا دیگا ) جو کچھ تم انجام دیتے تھے ۔

۹۵ ۔ جب تم ان کی طر ف لوٹ کر گئے تو وہ تمہارے لئے قسم کھائیں گے ان سے اعراض( اور صرف ِ نظر) کرو ۔ تم ان سے اعراض کرو ( اور منہ پھیر لو)کیونکہ وہ پلید ہیں اور ان کے رہنے کی جگہ جہنم ہے ، ان کے اعمال کی سزا میں جو وہ انجام دیتے تھے ۔

۹۶ ۔ قسم کھا کے تم سے چاہتے ہیں کہ ان سے راضی ہو جاو اگر تم ان سے راضی ہو جاو تو خدا فاسقین کے گروہ سے راضی نہیں ہوگا ۔

شانِ نزول

بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیات ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئیں جن کی تعداد اسی سے زیادہ تھی کیونکہ جب آپ جنگ تبوک سے واپس ہو ئے تو آپ نے حکم دیا کہ کوئی شخص ان کے ساتھ نہ بیٹھے او رنہ ان سے گفتگو کرے اور جب انھوں نے اپنے آپ کو معاشرے کے شدید دباو میں دیکھا تو معذرتین کرنے لگے۔ اس پر مندر جہ بالا آیات نازل ہوئیں جن میں ان کی حقیقت واضح ہو گئی ہے ۔

تفسیر

جھوٹی معذرتوں اور قسموں پر اعتبار نہ کرویہ آیات بھی منافقین کے شیطانی اعمال کے بارے میں ہیں یکے بعد دیگرے ان مختلف کاموں سے پر دہ اٹھا یاجارہا ہے اور مسلمانوں کو خبر دار کیا جا رہا ہے کہ وہ ان کے ریاکارانہ اعمال اور ظاہری دل پذیر باتوں سے وھوکا نہ کھائیں ۔

زیر نظر پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے : جب تم ( جنگ ِ تبوک سے ) مدینہ کی طرف لوٹ کر جاو گے تو منافقین تمہارے پیچھے آئیں گے اور معذرت کریں گے( یَعْتَذِرُونَ إِلَیْکُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَیْهِمْ ) ۔

” یعتذرون“ فعل مضارع ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے پیغمبر اکرم او رمسلمانوں کو پہلے ہی سے اس بات سے آگاہ کررکھا تھا کہ بہت جلد منافقین جھوٹ موٹ عذرخواہی کرتے ہوئے ان کے پاس آئیں گے لہٰذا جواب دینے کا طریقہ بھی مسلمانوں کو بتا دیا گیا ۔

پھر پیغمبر اکرم کی طرف مسلمانوں کے رہبر کی حیثیت سے روئے سخن کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے :منافقین سے کہہ دو کہ معذرت نہ کرو ہم ہر گز تمہاری باتوں پر ایمان نہیں لائیں گے( قُلْ لاَتَعْتَذِرُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَکُمْ ) ۔” کیونکہ خدا نے ہمیں تمہاری خبروں سے آگاہ کردیا ہے “۔ لہٰذا ہم تمہاری شیطانی سازشوں سے اچھی طرح باخبر ہیں( قَدْ نَبَّاٴَنَا اللهُ مِنْ اٴَخْبَارِکُمْ ) ۔لیکن اس کے باوجود تمہارے لئے بازگشت اور توبہ کی راہ کھلی ہے ۔ عنقریب خدا اس کا رسول تمہارے اعمال دیکھے گا( وَسَیَرَی اللهُ عَمَلَکُمْ وَرَسُولُهُ ) ۔

آیت کی تفسیر کے ضمن میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس جملے سے توبہ مراد نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ آئندہ بھی خدا اور اس کا رسول

( وحی کے مطابق ) تمہارے اعلام اور سازشوں سے آگاہ ہو ں گے او رانہیں نقش بر آب کردیں گے لہٰذا نہ تم آج کچھ کرسکتے ہو اور نہ کل۔

لیکن پہلی تفسیر ظاہر اایت کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہے ۔

ضمنی طور پر آپ متوجہ رہیں کہ اس جملے کے ابرے میں اور امت کے تمام اعمال اس کے پیغمبر کے سامنے پیش ہونے کے مسئلے کے متعلق ہم اسی سورہ کی آیہ ۱۰۵ کے ذیل میں تفصیل سے بحث کریں گے ۔

بعد میں فرمایا گیا ہے کہ تمہارے تمام اعمال اور تمہاری نیتیں ثبت اور محفوظ ہو جائیں گی ” پھر تم اس کی طرف پلٹ جاو گے جو تمہارے پنہاں اور آشکار امور کو جانتا ہے او روہ تمہیں تمہارے اعمال سے آگاہ کرے گا “۔ او رتمہیں ان کی جزا دے گا( ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَی عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ) ۔

بعد والی آیت میں دوبارہ منافقین کی جھوٹی قسموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے -: و ہ تمہیں فریب دینے کے لئے عنقریب قسم کا سہارالیں گے اور جب ان کی طرف لوٹو گے تو خدا کی قسم کھائیں گے کہ ان سے صرف نظر کرلو اور اگر ان سے کوئی خطا ہو ئی ہے تو انھیں معاد کردو( سَیَحْلِفُونَ بِاللهِ لَکُمْ إِذَا انقَلَبْتُمْ إِلَیهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ ) ۔

درحقیقت وہ ہر دروازے سے داخل ہونے کی کو شش کریں گے ۔ کبھی بہانوں سے اپنے آپ کے بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے ۔ کبھی اعتراف گناہ کریں گے اور عفوو در گزر کا تقاضا کریں گے ۔ وہ سوچتے ہیں کہ شاید کسی طریقے سے تمہارے دلوں میں جگہ پیدا کرلیں ۔

لیکن تم کسی طرح سے بھی ان سے اثر نہ لینا اور ” ان سے منہ پھیر لو“ البتہ ناراضی کے اظہار کے طور پر نہ کہ عفو و بخشش کے طور پر( فَاٴَعْرِضُوا عَنْهُمْ )

وہ اعراض کا تقا ضا کرتے ہیں لیکن در گذر کے معنی میں ۔ تم بھی اعراض کرو مگر انکار کے معنی میں ۔ یہ دونوں تعبیریں مشابہ ہیں اور بالکل متضاد معانی پیش کرتی ہیں ۔ اس انداز کی لطافت اور خوبصورتی اہل ذوق سے پوشیدہ نہیں ہے ۔

اس کے بعد تاکید ، توضیح او ردلیل کے طور پر فرمایا گیا ہے : کیونکہ وہ لوگ پلید ہیں اور ایسی نجس موجودات سے منہ پھیر نا ہی چاہئیے( إِنّهُمْ رِجْسٌ ) ۔ ۔ اور چونکہ ایسے ہیں لہٰذا ان کے لئے جہنم کے علاوہ کوئی ٹھکانہ نہیں ہو سکتا( وَمَاٴْوَاهُمْ جَهَنَّم ) ۔ کیونکہ جنت میں نیک پا ک لوگوں کی جگہ ہے نہ کہ پلید اور گندے لوگوں کی ۔

لیکن ” یہ سب کچھ اعمال کا نتیجہ ہے جوانھوں نے خود انجام دئیے ہیں( جَزَاءً بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ ) ۔

زیر بحث آخری آیت میں ان کی ایک اور قسم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے او روہ یہ ہے کہ ” وہ اصرار کرکے اور قسم کھا کے چاہتے ہیں کہ تم ان سے راضی اور خوش ہو جاو( یَحْلِفُونَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ ) ۔

پہلی اایت میں جس قسم کا ذکر ہے وہ اس بنا پ رتھی کہ مومنین عملاً انھیں ملامت نہ کریں ۔ لیکن اس آیت میں جس قسم کا تذکرہ ہے وہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ عملی پہلو کے علاوہ مومنین سے دلی طور پر بھی ان سے خوش ہو جائیں ۔

یہ امر قابل توجہ ہے کہ خدا تعالیٰ اس مقام پر یہ نہیں فرماتا ہے کہ ” تم ان سے راضی نہ ہونا “ بلکہ یہاں موجود تعبیر سے تہدید کی بو آتی ہے ، فرما یا گیا ہے : اگر تم ان سے راضی ہو جاو تو خدا فاسقین کی قوم سے کبھی راضی نہیں ہو گا( فَإِنْ تَرْضَوْا عَنهُمْ فَإِنَّ اللهَ لاَیَرْضَی عَنْ الْقَوْمِ الْفَاسِقِینَ ) ۔

اس میں شک کہ دینی اور اخلاقی طور پر وہ مسلمانوں کو خوش نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ وہ اس طرح مسلمانوں کے دل کی ناراضی دور کرنا چاہتے تھے تاکہ آئندہ ان کے عمل سے محفوظ رہیں ۔

لیکن ”( لا یرضیٰ عن القوم الفاسقین ) “کہہ کر خدا تعالیٰ مسلمانوں کو خبر دار کرتا ہے کہ یہ فاسق ہیں لہٰذا مسلمانوں کو ان سے ہر گز راضی نہیں ہو نا چاہئیے۔ یہ فقط ان کی پر فریب چالیں ہیں ۔ لہٰذا بیدار ہوتا کہ ان کے جال میں نہ پھنس جاو۔

کیا ہی اچھا ہوکہ ہر زمانے میں مسلمان منافقین کی شیطانی او رجانی پہچانی سازشوں پر نظر رکھیں تاکہ وہ ان کے سامنے اپنے پرانے پر فریب طریقے استعمال نہ کرسکیں اور اس طرح کہیں وہ اپنے برے مقاصد میں کامیاب نہ ہونے پائیں ۔


آیات ۹۷،۹۸،۹۹

۹۷ ۔( الْاٴَعْرَابُ اٴَشَدُّ کُفْرًا وَنِفَاقًا وَاٴَجْدَرُ اٴَلاَّ یَعْلَمُوا حُدُودَ مَا اٴَنزَلَ اللهُ عَلَی رَسُولِهِ وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ ) ۔

۹۸ ۔( وَمِنْ الْاٴَعْرَابِ مَنْ یَتَّخِذُ مَا یُنفِقُ مَغْرَمًا وَیَتَرَبَّصُ بِکُمْ الدَّوَائِرَ عَلَیْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ وَاللهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ ) ۔

۹۹ ۔( وَمِنْ الْاٴَعْرَابِ مَنْ یُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَیَتَّخِذُ مَا یُنفِقُ قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللهِ وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ اٴَلاَإِنّهَا قُرْبَةٌ لَهُمْ سَیُدْخِلُهُمْ اللهُ فِی رَحْمَتِهِ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔

ترجمہ

۷۹ ۔ بادیہ نشین عربوں کا کفر اور نفاق شدید تر ہے او رجو کچھ خدا نے اپنے پیغمبر پر نازل کیا ہے اس کی حدود ( اور سر حدوں ) کی جہالت کے وہ زیادہ حق دار ہیں اورخدا دانا اور حکیم ہے ۔

۹۸ ۔ (ان)بادیہ نشین عربوں میں سے ( کچھ لوگ ) جو کچھ ( راہ خدا میں ) خرچ کرتے ہیں اسے توان شمار کرتے ہیں اور تمہارے بارے میں دردناک حوادث کی توقع رکھتے ہیں ( حالانکہ) دردناک حوادث ان کے لئے ہیں اور خدا سننے والا او ر دانا ہے ۔

۹۹ ۔ بادیہ نشنین عربوں میں سے ( کچھ اور لوگ ) خدا اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں او رجو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں اسے خدا کے ہاں قرب اور پیغمبر کی دعاوں کا باعث سمجھتے ہیں ۔ آگاہ رہو کہ یہ ان کے تقرب کا باعث ہیں ۔ خدا بہت جلد انھیں اپنی رحمت میں داخل کردے گا کیونکہ خدا بخشنے والا اور مہر بان ہے ۔

سنگ دل اور صاحب ِ ایمان بادیہ نشین

گذشتہ آیات میں منافقین مدینہ کے بارے میں گفتگو تھی ۔ ان آیات میں اسی مناسبت سے بادیہ نشین منافقین کی نشانیوں اور افکار کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ مخلص اور سچے بایہ نشین مومنین کے بارے میں بھی باتی کی گئی ہے ۔

شاید اس وجہ سے کہ مسلمانوں کو خبر دار کیا جائے کہ وہ کہیں یہ خیال نہ کریں کہ منافقین صرف اس شہر میں رہتے ہیں ، بتایا گیا ہے کہ بادیہ نشین منافقین ان سے بھی سخت تر ہیں ۔ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ مسلمانوں پر ان منافقین کی طرف سے بار ہا حملے ہوئے ہیں ۔

لشکر اسلام کی پے در پے فتوحات کے سبب کہیں ایسا نہ ہو کہ اس خطرے کو نظرانداز کردے۔ بہرحال پہلی آیت میں قرآن کہتا ہے : بادیہ نشین اعراب

( تعلیم و تربیت سے دوری اور آیاتِ الہٰی او رپیغمبر کے ارشادات نہ سننے کی وجہ سے ) کفر او رنفاق میں زیادہ سخت ہیں( الْاٴَعْرَابُ اٴَشَدُّ کُفْرًا وَنِفَاقًا ) ۔”اسی وجہ سے وہ ان فرامین و احکام کی حدود کی جہالت کے زیادہ حق دار ہیں جو خدا نے اپنے رسول پر نازل کئے ہیں

( وَاٴَجْدَرُ اٴَلاَّ یَعْلَمُوا حُدُودَ مَا اٴَنزَلَ اللهُ عَلَی رَسُولِهِ ) ۔

”اعراب“ جمع کا معنی رکھنے والے لفظوں میں سے ہے لیکن لغت عرب کے لحاظ سے اس کا مفرد نہیں ہے جیساکہ علماء لغت مثلاًقاموس ، صحاح او رتاج العروس کے مولف اور دوسرے حضرات نے کہا ہے کہ یہ لفظ صرف بادیہ نشین عربوں پر بولا جاتا ہے اور ا س کے مفرد کے لئے یاء نسبت کے ساتھ ” اعرابی“ کی صورت میں بولتے ہیں ۔ اس بناء بہت سے لوگوں کے تصور کے برخلاف ”اعراب“ ” عرب “ کی جمع نہیں ہے ۔

”اجدر“ ” جدار “کے مادہ سے دیوار کے معنی میں ہے بعد ازاں یہ لفظہ رمرتفع او رمناسب چیز کے لئے بولا جانے لگا اس وجہ سے عام طور پر ” اجدر“ زیادہ شائستہ او رمناسب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔

آیت کے آخر میں فرمایاگیا ہے :خدا دانا اور حکیم ہے یعنی اگر بادیہ نشین عربوں کے بارے میں اس قسم کا فیصلہ کرتا ہے تو خاص مناسبت کے سبب ہے کیونکہ ان کا ماحصول ایسی صفات رکھتا ہے( وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ ) ۔لیکناس بناء پر کہ کہیں یہ وہم پیدا نہ ہو کہ تمام باد یہ نشین عرب یا دنیا کے سب بادیہ نشین ان صفات کے حامل ہوتے ہیں ، بعد والی آیت میں ان میں سے دو مختلف گروہوں کی طرف اشارہ کیاگیاہے۔

ار شاد ہوتا ہے : ” ان بادیہ نشین عربوں میں سے ایک گروہ ان لوگوں کاہے جو جب کوئی چیز راہِ خدا میں خرچ کرتے ہیں تو نفاق یا کمزور ایمان کی وجہ سے اسے نقصان اور خسارہ شمار کرتے ہیں “ نہ کہ ایک کامیابی اور سودمند تجارت( وَمِنْ الْاٴَعْرَابِ مَنْ یَتَّخِذُ مَا یُنفِقُ مَغْرَمًا ) ۔(۱)

”غرامت“بھی اسی مناسبت سے استعمال ہوتاہے کہ جوانسان کے لئے لازمی ہوتا اورجب تک ادانہ کرلے وہ اس سے جد انہیں ہوتی۔ عشق شدید کو بھی ”غرام “ کہتے ہیں کیونکہ وہ انسان کی روح میں اس طرح اترتا ہے کہ جدا نہیں ہوتا او ر”مغرم “ اور ” غرامت “ کا ایک ہی معنی ہے ۔

ان کی ایک صفت یہ ہے کہ ” ہمیشہ اس انتظارمیں رہتے ہیں کہ تمہیں مشکلات گیر لیں اور بد بختی او رناکامی تمہیں آلے( وَیَتَرَبَّصُ بِکُمْ الدَّوَائِرَ ) ۔

”دوائر “ ” دآئرہ “ کی جمع ہے اور اس ک امعنی مشہور ہے لیکن وہ سخت اور دردناک حوادث انسان کا احاطہ کرلیتے ہیں عرب انہیں ” دآئرہ“ کہتے ہیں اورجمع کی حالت میں ” دوآئر“ کہتے ہیں ۔

در حقیقت وہ لوگ تنگ نظر ، بخیل اور بہت حاسد ہیں اپنے بخل ہی کی وجہ سے وہ راہ ِ خدا میں ہر طرح کی مالی خدمت کی نقصان شمار کرتے ہیں اور اپنے حسد کی وجہ سے وہ دوسروں کے لئے مشکلات او رمصائب کے انتظار میں رہتے ہیں ۔

مزید فرمایا گیا ہے کہ وہ تمہارے لئے ظہور مشکلات اور نزول ، بلا کا انتظار نہ کریں او رتمہارے ان کی توقع نہ رکھیں ۔ کیونکہ یہ مشکلات، ناکامیاں بد بختیاں صرف اس منا فق ، بے ایمان ، جاہل ، نادان، تنگ نظر اور حاسد گروہ کی تلاش میں ہیں( عَلَیْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ ) ۔(۲)

آخر میں آیت کواس جملے پر ختم کیاگیا ہے کہ ”خدا سننے والا او رجاننے والا ہے( وَاللهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ ) ۔ان کی باتوں کو بھی سنتا ہے او ران کی نیتوں او رمافی الضمیر سے بھی آگاہ ہے ۔

آخری آیت میں دوسرے گروہ یعنی بادیہ نشینوں میں سے مخلص مومنین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : ان بادیہ نشین عربوں میں سے ایک گروہ ان کا ہے جو قیامت پر ایمان رکھتے ہیں( وَمِنْ الْاٴَعْرَابِ مَنْ یُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ ) ۔

اسی بنا پر وہ راہِ خدا میں خرچ کرنے کو بھی نقصان او رزیاں نہیں سمجھتے بلکہ اس جہان میں دوسرے جہان میں خدا کی وسیع جزا اور ثواب کی طرف توجہ کرتے ہوئے اس کا کو قریب ِ الہٰی کا ذریعہ ، پیغمبر کی توجہ اور دعا کا باعث سمجھتے ہیں جوکہ افتخار اور عظیم برکت ہے( وَیَتَّخِذُ مَا یُنفِقُ قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللهِ وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ ) ۔

یہاں خدا تعالیٰ ان کی طرز ِ فکر کی بڑی تاکید سے تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے : آگاہ رہو کہ یقینا ان کا یہ انفاق اور خرچ بار گاہ ِ خدا میں قرب کا باعث ہیں( اٴَلاَإِنّهَا قُرْبَةٌ لَهُمْ ) ۔اور اسی بناء پر ” خدا انھیں بہت جلد اپنی رحمت میں داخل کردے گا( سَیُدْخِلُهُمْ اللهُ فِی رَحْمَتِهِ ) ۔ اگر ان سے کچھ لغزشیں ہو تو ان کے ایمان اور اعمال کی وجہ سے انھیں بخش دے گا ” خدا بخشنے والا اور مہر بان ہے ،( إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔

اس آیت میں جو پے در پے تاکید یں نظر آتی ہیں بہت جالب توجہ ہیں ۔ لفظ ”الا“ اور ”ان “ دونوں تاکید کے لئے ہیں اس کے بعد ” سید خلھم اللہ فی رحمتہ“کاجملہ اور خاص طور پر اس میں لفظ”فی “ رحمت ِ خدا میں غوطہ زن ہونے کا ظاہر کرتا ہے ۔ بعد میں آخری جملہ بھی ” ان “ سے شروع ہوتا ہے اور خدا کی شفقت و مہربانی کی صفات ” غفورا ً رحیم “ کا ذکر کرتاہے یہ یہ سب اس گروہ کے لئے خدا تعالیٰ کے انتہائی لطف و رحمت کا بیان ہے انھوں نے تعلیم و تربیت سے محروم ہونے اور آیات الہٰی اور ارشادات پیغمبر تک کافی رسائی نہ ہونے کے باوجود جان و دل سے اسلام قبول کیا ہے ا ور مالی وسائل نہ رکھنے کے باوجود ( کہ جو ان کی بادیہ نشینی کا لازمہ ہے )وہ راہ خدا میں خرچ کرنے سے دریغ نہیں کرتے ۔ شاید اس بناء پر یہ لوگ شہروں میں رہنے والے اور ہر طرح کے وسائل رکھنے والے افراد کی نسبت قدر دانی کے زیادہ حق دار ہیں ۔

اس نکتہ کی جانب خصوصیت سے توجہ در کار ہے کہ منافق اعراب کے بارے میں ”( علیهم دآئرة السوء ) “ استعمال ہوا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بد بختیاں ان پر محیط ہیں ۔ لیکن باایمن اور فداکار اعراب کے لئے ” فی رحمتہ’“ استعمال ہوا ہے جو ان پر رحمت ِ الہٰی کے محیط ہونے کوبیان کرتا ہے ایک گروہ کو بد بختی نے گھیر رکھا ہے اور دوسرے پر رحمت ِ الہٰی احاطہ کئے ہوئے ہے ۔

____________________

۱۔”مغرم “ جیس اکہ مجمع البیان میں آیا ہے ”غرم “ ( بروزن ”جرم “) کے مادہ سے ہے ۔ در اصل یہ کسی چیز کے لازم ہونے کے معنی میں ة ے بعد ازاں قرض خواہ اور مقروض کو ”غریم “ کہا جاتا ہے ج وایک دوسرے کو نہیں چھوڑتے اور لازمی طور پر ایک دوسرے کو پکڑے ہوئے ہیں ۔

۲۔ یہ جملہ حصر ک امعنی دیتا ہے یعنی برے حوادث پس انھی دامن گیر ہوتے ہیں اور یہ انحصار اس بناء پر ہے کہ ”علیھم “ جو خبر ہے مبتداء سے مقدم ہے ۔


چند اہم نکات

۱ ۔ آبادی کے بڑ ے مراکز:

عظیم معاشروں اور آبادی کے بڑے مراکز کو اسلام جو اہمیت دیتا ہے وہ مندرجہ بالا آیت سے واضح ہوجاتی ہے یہ بات قابل توجہ ہے کہ اسلام ایسے پس ماندہ ماحول سے اٹھا ہے کہ جس سے تمدن کی بو بھی نہ آتی تھی اس کے باوجود وہ تمدن کے اصلاحی عوامل کی خاص اہمیت کا قائل ہے اور ا س کی اس بات پرنظر ہے کہ جو لوگ شہر سے دور افتادہ علاقوں میں زندگی بسر کرتے ہیں وہ ایمان اور مذہبی معلوم مات میں اس لئے پیچھے ہیں کہ ان کے پاس تعلیم و تربیت کے لئے کافی وسائل اور مواقع نہیں ہیں ۔ لہٰذا نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے :

و الزموا السواد الاعظم فان ید الله مع الجماعة

بڑے مراکز سے لازماً وابستہ رہو کیونکہ خدا کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے ۔ ( نہج البلاغہ خطبہ ۱۲۷) ۔

لیکن اس بات کا مفہو م یہ نہیں کہ سب لوگ شہروں کا رخ کرلیں اور دیہات جو شہروں کی آبادی کا باعث ہیں انھیں ویران کردیں بلکہ اس کے برعکس چاہئیے کہ شہروں سے علم ودانش دیہات کی طرف لائی جائے اور دیہات میں تعلیم و تربیت ، دین و ایمان اور بیداری و آگاہی کے فروغ اور تقویت کی کوشش کی جائے۔

اس میں شک نہیں کہ اگر دیہی عوام کو ان کی حالت پرچھوڑ دیا جائےاور انہیں شہری علوم و آداب، کتب آسمانی کی آیات اور پیغمبر خدا اور ہادیان برحق کی تعلیمات سے محروم رکھا جائے تو کفر ونفاق انھیں تیزی سے گھیر لے گا۔

دیہاتی لوگ صحیح تعلیم و تربیت زیادہ قبول کرتے ہیں کیونکہ ان میں صاف دل اور پاک فکر افراد زیادہ ہوتے ہیں جنھیں کسی کا ہاتھ نہیں لگا ہوتا اور ان میں شہری شیطنتیں اورسازشیں کم ہوتی ہیں ۔

۲ ۔ بادیہ نشین شہری :

”اعرابی “ اگر چہ ” بادیہ نشین “ کے معنی میں ہے لیکن اسلامی روایات میں اس کا ایک وسیع تر مفہوم لیا گیا ہے بالفاظ دیگر اس کا اسلامی مفہوم کسی علاقے سے وابستہ نہیں ہے بلکہ طرزِ فکر اور منطقہ فکری سے مربوط ہے جو لوگ اسلامی آداب و سنن اور تعلیم و تربیت سے دور ہیں ، اگر چہ شہر میں رہتے ہوں اعرابی ہیں اور اسلامی آداب و سنن سے آگاہ بادیہ نشین بی اعراب نہیں ہیں ۔

امام جعفر صادق سے منقول ایک مشہور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا :من لم یتفقه منکم فی الدین فهو اعرابی

تم میں سے جو شخص اپنے دین سے آگاہ نہیں ، اعرابی ہے ۔(۱)

یہ فرمان ہماری مندرجہ بالا گفتگو پر ایک واضح گواہ ہے ۔

ایک اور روایت میں ہے :من الکفر التعرب بعد الهجرة ہجرت کے بعد بادیہ نشینی اور تعرب کفر ہے ۔

نیز نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام نے منقول ہے کہ آپ نے اپنے اصحاب میں سے معصیت کا ر لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا ہے :و اعلموآ انکم صرتم بعد الهجرة اعراباً جان لو کہ تم ہجرت کے بعد اعرابی ہو گئے ہو۔ ( نہج البلاغہ خطبہ ص ۱۹۲)

مندرجہ بالا دو احادیث میں اعرابی ہونے کو ہجرت کے بالمقابل بیان کیا گیا ہے ۔ اگر ہم اس طرف توجہ کریں کہ ہجرت کا وسیع مفہوم بھی مکانی اور علاقائی پہلو نہیں رکھتا بلکہ اس کی بنیاد محور کفر سے فکر کو محور ایمان کی طرف منتقل کرنا ہے تو اس سے اعرابی ہونے کا معنی بھی واضح ہو جاتا ہے، اسلامی آداب و سنن سے جاہلیت کے آداب و رسول کی طرف پھر جانا ۔

۳ ۔ قرب ِ الہٰی کا مفہوم :

مندرجہ بالا آیات میں باایمان بادیہ نشین کے بارے میں ہے کہ وہ اپنے نفاق او رراہِ خدا میں خرچ کرنے کو قرب ِ خدا کا سبب سمجھتے ہیں خصوصاً جبکہ لفظ” قربات “ آیا ہے کہ جو کہ جمع اور نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ایک نہیں بلکہ اس میں کئی قرب تلاش کرتے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ قرب ِخدا سے مراد قربت ِ مکان او رمکانی نزدیکی نہیں ہے بلکہ مقام و مرتبہ اورقدر و منزلت کی نزدیکی ہے یعنی اس کی طرف جانا جو کمالِ مطلق ہے اور اس کی صفات ِ جمال و جلال کا سایہ اپنی روح و فکر پر ڈالنا۔

____________________

۱۔ تفسیر نور الثقلین ج۲ صفحہ ۲۵۴۔


آیت ۱۰۰

۱۰۰ ۔( وَالسَّابِقُونَ الْاٴَوَّلُونَ مِنْ الْمُهَاجِرِینَ وَالْاٴَنصَارِ وَالَّذِینَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِیَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَاٴَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِی تَحْتَهَا الْاٴَنْهَارُ خَالِدِینَ فِیهَا اٴَبَدًا ذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ ) ۔

ترجمہ

۱۰۰ ۔مہاجرین و انصار میں سے پیش قدمی کرنےو الوں اور ان کی پیروی کرنے والوں سے خدا خوش ہے اور وہ ( بھی )خدا سے راضی ہیں اور اس نے ان کے لئے باغاتِ بہشت فراہم کئے ہیں کہ جن درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں ۔ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور عظیم کامیابی ہے ۔

سابقین ِ اسلام

مندرجہ بالا آیت کی شان ِ نزول کے بارے میں اگر چہ کئی ایک روایات نقل ہوئی ہیں لیکن جیسا کہ ہم دیکھیں گے ان میں سے کوئی بھی آیت کی شانِ نزول نہیں ہے بلکہ فی الحقیقت اس کے مصداق کا بیان ہے ۔

بہر حال گزشتہ آیات میں کفار اور منافقین کی حالت بیان ہوئی ہے ، ان کے بعد اب زیر نظر آیت میں سچے مسلمانوں کے مختلف گروہوں کی طرف اشارہ کیاگیاہے اور ان تین گروہ بیان کئے گئے اول وہ جو اسلام اور ہجرت میں سبقت کرنے والے تھے( وَالسَّابِقُونَ الْاٴَوَّلُونَ مِنْ الْمُهَاجِرِینَ ) ۔

دوسرے وہ جو رسول اللہ کی نصرت او رمدد کرنے والوں میں پہل کرنے والے اور انصار مدینہ تھے( وَالْاٴَنصَارِ ) ۔

تیسرے وہ جو دونوں گروہوں کے بعد آئے اور انھوں نے ان کے طریقوں کی پیروی کی ، نیک اعمال بجالانے میں ، اسلام قبول کرنے میں ہجرت کرنے میں ، رسول اللہ کے دین کی مدد کرنے میں انھوں نے پہلے دو گرہوں کا ساتھ دیا( وَالَّذِینَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ ) ۔(۱)

ہم نے جوکچھ بیان کیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ ” باحسان “ در اصل اعمال و عقائد کا بیان مقصود ہے کہ جن میں وہ سابقین ِ اسلام کی پیروی کرتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں ”احسان “ ان اعمال کا وصف ہے کہ جن کی اتباع ہوتی ہے لیکن آیت کے معنی میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیاہے ۔ کہ احسان صفت ِ اتباع کی کفیت ہے یعنی وہ اچھے طریقے سے پیروی کرتے ہیں ۔ پہلی صورت میں باقی ”فی “ کے معنی میں ہے جب کہ دوسری صورت میں ” مع“ کے معنی میں ہے البتہ ظاہراً آیت پہلی تفسیر سے مناسبت رکھتی ہے ۔

ان تینوں گروہوں کے ذکر کے بعد فرمایا گیا ہے : خد ابھی ان سے راضی ہے اور وہ بی خدا سے راضی ہیں( رَضِیَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ) ۔

خد اکا ان سے راضی ہونا ان کے ایمان او ران کے انجام کردہ نیک اعمال کی بناء پر ہے اور ان کا خدا سے راضی ہونا خدا کی طرف سے عطا کردہ اچھی جزاوں اور نہایت اہم عنایات کے باعث ہے ۔ دوسرے لفظوں میں جو کچھ خدا ان سے چاہتا تھا انھوں نے انجام دیا ہے اور جو کچھ وہ خدا سے چاہتے تھے خدا نے انھیں عطا فرمایاہے ۔ اس بنا پر خدا نے ان سے راضی ہے اور وہ خدا سے راضی ہےں ۔

گزشتہ جملہ اگر چہ تمام طرح کی مادی و معنوی نعمات پر محیط ہے لیکن تاکید کے طور پر اور اجمال کے بعد تفصیل کے لئے مزید فرمایا گیا ہے خدا نے ان کے لےے باغات بہشت تیار کئے ہیں جن درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں( وَاٴَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِی تَحْتَهَا الْاٴَنْهَارُ ) ۔اور اس نعمت کی خصوصیا ت میں سے ہے کہ یہ دائمی اور جاودانی ہے ” اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے “( خَالِدِینَ فِیهَا اٴَبَدًا ) ۔ اور یہ تمام مادی و معنوی نعمتیں ان کے لئے عظیم کامیابی شمار ہوگی( ذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ ) ۔

اس سے بڑھ کر کیا کامیابی ہ وگی کہ انسان محسوس کرے کہ اسے پیدا کرنے والا معبود مولا اس سے خوش اور راضی ہے اوراس کے کام کی تائید کی ہے اور اسے پسند کیا ہے اور اس سے بڑھ کر کیا کامیابی ہو گی کہ انسان چند روزہ زندگی میں کئے ہوئے محدود اعمال سے غیر متناہی ابدی نعمات حاصل کرے۔

____________________

۱۔ بہت سے مفسرین نے لفظ ” من “ کو ”وَالسَّابِقُونَ الْاٴَوَّلُونَ مِنْ الْمُهَاجِرِینَ وَالْاٴَنصَارِ “میں ” من تبعیضیة“ سمجھا ہے اور ظاہر آیت بھی یہی ہے ۔ کیونکہ آیت میں مہاجرین و انصار میں سبقت کرنے والوں کے بارے میں بات کی گئی ہے نہ کہ مہاجرین و انصار کے بارے میں ۔ درحقیقت باقی و انصار” تابعین “ میں داخل ہیں ۔


چند اہم نکات

۱ ۔ سابقین کا مرتبہ اور اہمیت:

ہر وسیع اجتماعی انقلاب میں جو معاشرے کی ناگفتہ بہ کیفیت کے خلاف آیا ہو کچھ سبقت کرنے والے ہوتے ہیں ۔ انقلاب کی بنیادیں اور اس کی اٹھان انہی کے کندھوں پر ہوتی ہے ۔ درحقیقت انقلاب کے سب سے زیادہ وفادار وہی ہوتے ہیں ۔ کیونکہ ان کا رہبرجب ہر لحاظ سے تنہا ہوتا ہے وہ اس کے گرد جمع ہوتے ہیں اور اگر چہ وہ مختلف حوالوں سے مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اور طرح طرح کے خطروں سے دو چار ہوتے ہیں ، نصرت اور وفا داری سے دست بر دار نہیں ہوتے خاص طور سے آغاز اسلام کی تاریخ نشاندہی کرتی ہے کہ سبقت کرنے والے اور پہلے ایمان لانے والے افراد کو کن کن مشکلات کا سامنا کرناپڑا تھا انھیں کیسے شکنجوں میں جکڑ ا گیا ، تکلیفیں پہنچائی گئیں ، برا بھلاکہا گیا ، تہمتیں لگائی گئی ، زنجیر یں پہنچائی گئیں اور ان میں سے کئی ایک کوقتل کردیا گیا لیکن ان تمام امور کے باوجود جو کچھ ایسے افراد تھے جو آ ہنی ارادہ، عشق سوزاں ، عزمِ راسخ اور ایمان عمیق کے ساتھ اس راہ پر گامزن رہے اور ہر طرح کے خطرات کا خندہ پیشانی سے استقبال کیا ۔

اس سلسلے میں مہاجرین سابقین کا حصہ سب سے زیادہ تھا اور ان کے بعد انصار تھے جنہوں نے پیغمبر اکرم کے لئے اپنا دامن محبت پھیلا دیا اور انھیں مدینے آنے کی دعوت دی اور آپ کے مہاجرین اصحاب کو بھائیوں کی طرف سکونت فراہم کی اور اپنے پورے وجود سے ان کی حمایت کی اور ان کا دفاع کیا یہاں تک کہ انھیں اپنے اوپر ترجیح دی ۔ اگر ہم دیکھتے ہیں کہ زیر نظر آیت میں ان دونوں گروہوں کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے تو وہ اسی وجہ سے ہے لیکن اس کے باوجود جیسا کہ قرآن مجید کی روش ہے اس نے دوسروں کے حصے کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ اور ” تابعین باحسان“ کہہ کر زماہ پیغمبر اور آپ کے بعد کے دور میں بھی اسلام سے وابستہ ہو کرہجرت کرنے والوں یا مہاجرین کو پناہ دینے والوں اور ان کی حمایت کرنے والوں کو یاد کیا ہے او رسب کو عظیم اجرو ثواب کی نوید دی ہے ۔

۲ ۔ تابعین کون لوگ تھے ؟ :

بعض علماء کے مطابق ”تابعین “ اصطلاح ہے جو صرف صحابہ کے شاگردوں کے لئے استعمال ہوتی ہے یعنی وہ افراد جنھوں نے رسول اللہ کو نہیں دیکھا اور وہ آپکے بعد آئے ہیں اور انھوں نے اسلامی علوم وکو وسعت دی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں انھوں نے اپنی اسلامی معلومات بغیر کسی واسطے کے اصحاب ِ پیغمبر سے حاصل کی ہیں ۔

لیکن جیسا کہ ہم سطور بالا میں کہہ چکے ہیں لغت کے لحاظ سے آیت کا مفہوم اس گروہ میں محدود نہیں ہوسکتا بلکہ ”تابعین باحسان“کی تعبیر ان کے لئے ہے جنھوں نے کسی بھی زمانے میں سابقین ِ اسلام کے اہداف و مقاصد کی پیروی ہے ۔اس کی وضاحت یہ ہے کہ بعض لوگوں کی سوچ کے برعکس”ہجرت“ اور ” نصرت“ دونوں اسلام کے اصلاحی اوتر تعمیری مفاہیم ہیں جو زمانہ پیغمبر میں محدود نہیں ہیں بلکہ آج بھی یہ دونوں مفاہیم دوسری صورت میں موجود ہیں ا ور کل ان کا وجود ہوگا ۔ اس بان پر وہ تمام افراد جس کسی نہ کسی طرح ان دونوں پر وگراموں پر عمل پیرا ہوں ” تابعین باحسان“ کے مفہوم میں داخل ہیں ۔

البتہ اہم بات یہ ہے کہ ہمیں توجہ رکھنا چاہئیے کہ قرآن لفظ ”احسان“ ذکر کرکے تاکید کرتا ہے کہ اسلام کے سابقین کی پیروی فقظ لفظی اور بغیر عمل کے ایمان کی صورت میں نہیں ہونا چاہئیے بلکہ ضروری ہے کہ یہ پیروی ایک فکری و عملی اور تمال پہلووں سے ہونا چاہئیے۔

۳ ۔ پہلا مسلمان کون تھا ؟ :

یہاں بہت سے مفسرین نے زیر بحث آیت کی مناسبت سے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اسلام قبول کرنے والاپہلا شخص کون تھا او ریہ عظیم افتخار کس نے حاصل کیا؟

اس وال کے جواب میں سب نے متفقہ طور پر کہا کہ عورتوں میں سے جو خاتون سب سے پہلے مسلمان ہوئیں وہ جناب خدیجہعليه‌السلام تھیں جو پیغمبر اکرم کی وفا دار اور فداکار زوجہ تھیں باقی رہا مردوں میں سے تو تمام شیعہ علماء مفسرین او راہل سنت علماء کے ایک بہت بڑے گروہ نے کہا ہے کہ حضرت علیعليه‌السلام وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مردوں میں سے دعوت ِ پیغمبر پر لبیک کہی ۔ علماء اہل سنت میں اس امر کی اتنی شہرت ہے کہ ان میں سے ایک جماعت نے اس پر جماع و اتفاق کا دعویٰ کیا ہے ۔ ان میں سے حاکم نیشاپوری نے مستدرک علی الصحیحین کتاب معرفت ص ۲۲ پرکہا ہے :

لا اعلم خلافاً بین اصحاب التواریخ ان علی بن ابی طالب رضی اله عنه اولهم اسلاماً و انما اختلفوا فی بلوغه

مورخین میں اس امر پر کوئی اختلاف نہیں کہ علیعليه‌السلام بن ابی طالب اسلام لانے والے پہلے شخص ہیں ۔ اختلاف اسلام قبول کرتے وقت ان کے بلوغ کے بارے میں ہے ۔ (تفسیر قرطبی جلد ۵ صفحہ ۳۰۷۵) ۔

ابن عبد البر ۔ استیعاب ( ج ۲ ص ۴۵۷ ) میں لکھتے ہیں :اتفقوا علی ان خدیجة اول من اٰمن بالله و رسوله و صدقه فیما جآء به ثم علی بعدها

اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ خدیجہ وہ پہلی خاتون نہیں جو خدا اور ا س کے رسول پر ایمان لائیں اور جو کچھ وہ لائے تھے اس کی تصدیق کی ۔ پھر حضرت علیعليه‌السلام نے ان کی کے بعد یہی کام انجام دیا ۔ ( الغدیر جلد ۳ صفحہ ۲۳۷ ، ۲۳۸) ۔

ابو جعفر اسکافی معتزلی لکھتا ہے :قدروی الناس کافة افتخار علی بالسبق الیٰ الاسلام

تما لوگوں نے یہی نقل کیا ہے کہ سبقتِ اسلام کا افتخار علی سے مخصوص ہے ۔ ( الغدیر جلد ۳ صفحہ ۲۳۷ ، ۲۳۸) ۔

قطع نظر اس کے پیغمبر اکرم سے ، خود حضرت علیعليه‌السلام سے اور صحابہ سے اس بارے میں بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں جو حداتواتر تک پہنچی ہوئی ہیں ، ذیل چند روایات ہم نمونہ کے طور پر نقل کرتے ہیں :

۱ ۔ پیغمبر اکرم نے فرمایا:اولکم وارداً علی الحوض اولکم اسلاماً علی بن ابی طالب

پہلا شخص جو حوض کوثر کے کنارے میرے پاس پہنچے گا وہ شخص ہے جو سب سے پہلے اسلام لایا او روہ علی بن ِ ابی طالب ہے۔(۱)

۲ ۔ علماء اہل سنت کے ایک گروہنے پیغمبر اکرم سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت نے حضرت علیعليه‌السلام کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :

ان هٰذا اول من آمن بی و هٰذا اول من یصافحنی و هٰذا الصدیق الاکبر

یہ پہلا شخص ہے جو مجھ پر ایمان لایا او رپہلا شخص ہے جو قیامت میں مجھ سے مصافحہ کرے گا اور یہ صدیق اکبر ہے ۔(۲)

۳ ۔ ابو سعید خدری رسول اکرم سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت نے حضرت علیعليه‌السلام کے دونوں شانوں کے درمیان ہاتھ ما رکر فرمایا :یا علی لک سبغ خصال لایحاجک فیهن احد یوم القیامة : انت اول الموٴمنین بالله ایماناً اوفاهم بعهد الله و اقومهم بامر الله

اے علی ! تم سات ممتاز صفات کے حامل ہو کہ جن کے بارے میں روز قیامت کوئی تم سے حجت بازی نہیں کرسکتا۔ تم وہ پہلے شخص ہو جو خدا پر ایمان لائے اور خدائی پیمانوں کے زیادہ وفا دار ہو او رفرمانِ خد اکی اطاعت میں تم زیادہ قیام کرنے والے ہو ۱

۱ ۔الغدیر میں یہ حدیث حلیة الاولیاء ج ۱ ص ۶۶ کے حوالے سے نقل کی گئی ہے ۔

جیسا کہ ہم نے کہا ہے تاریخ ، تفسیراور حدیث کی کتب میں اس سلسلے میں بہت سی روایات پیغمبر اکرم سے اور دوسروں سے نقل ہوئی ہیں ۔ شائقین مزید توضیح کے لئے الغدیر ( عربی) ج ۳ ص ۲۲۰ تا ص ۲۴۰ او رکتاب احقاق الحق ج ۳ ص ۱۴ ۱ تا ص ۱۲۰ ملاحظہ فر مائیں ۔

یہ امر لائق ِ توجہ ہے کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ایمان اور اسلام میں حضرت علیعليه‌السلام کی سبقت کا سیدھے طریقے سے تو انکار نہیں کرسکے لیکن کچھ واضح البطلان علل کی بنیاد پر ایک طریقے سے انکار کی کوشش کی ہے یا سے کم اہم بنا کر پیش کیا ہے ۔ بعض نے کوشش کی ہے کہ ان کی جگہ حضرت ابو بکر کو پہلا مسلمان قراردیں یہ لوگ کبھی کہتے ہیں کہ علی اس وقت دس سال کے تھے لہٰذا طبعاً نابالغ تھے اس بناء پر ان کا اسلام ایک بچے کے اسلام کی حیثیت سے دشمن کے مقابلے میں مسلمانوں کے محاذ کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا ّ (یہ بات فخر الدین رازی نے اپنی تفسیر میں زیر نظر آیت کے ذیل میں ذکر کی ہے )۔

یہ بات واقعاً عجیب ہے اور حقیقت میں خود پیغمبر خدا پر اعتراض ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ یوم الدار ( دعوت ذی العشیرہ کے موقع پر) رسول اللہ نے اسلام اپنے قبیلے کے سامنے پیش کیا او رکسی نے حضرت علیعليه‌السلام کے سوال اسے قبول نہ کیا ۔ اس وقت حضرت علیعليه‌السلام کھڑے ہوگئے اور اسلام کا اعلان کیا تو آپ نے ان کے اسلام کو قبول کیا ۔ بلکہ یہاں تک اعلان کیا کہ تو میر ابھائی ، میرا وصی اور میر ا خلیفہ ہے ۔

یہ وہ حدیث ہے جو شیعہ سنی حافظانِ حدیث نے کتب ِ صحاح او رمسانید میں نقل کی ہے ۔اسی طرح کئی مورخین ِ اسلام نے اسے نقل کیا ہے یہ نشاندہی کرتی ہے کہ رسول اللہ نے حضرت علیٰ کی اس کم سنی میں نہ صرف ان کا اسلام قبول کیا ہے بلکہ ان کا اپنے بھائی، وصی او رجانشین کی حیثیت سے تعارف بھی کروایا ہے ۔(۳)

کبھی کہتے ہیں کہ عورتوں میں پہلیہ مسلمان خدیجہ تھیں ، مردوں میں پہلے مسلمان ابو بکر تھے او ربچوں میں پہلے مسلمان علی تھے ۔ یوں در اصل وہ اس امر کی اہمیت کم کرنا چاہتے ہیں ( یہ تعبیر مشہور او رمعتصب مفسر مولف المنار نے زیر بحث آیت کے ذیل میں ذکر کی ہے )۔

حالانکہ اول تو جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں حضرت علی علیہ السلام کی اس وقت کم سنی سے اس امر کی اہمیت کم نہیں ہوسکتی خصوصاً جب کہ قرآن حضرت یحییٰ کے بار ے میں کہتا ہے :( و اٰتینا ه الحکم صبیاً ) ۔

ہم نے اسے بچپن کے عالم میں حکم دیا ( مریم ۱۲)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بھی ہے کہ وہ بچپن کے عالم میں بھی بول اٹھے اور جو افراد ان کے بارے میں شک کرتے تھے اس سے کہا :( انی عبد الله ، اٰتانی الکتاب وجعلنی نبیاً )

میں اللہ کا بندہ ہوں مجھے اس نے آسمانی کتاب دی اور مجھے نبی بنا یا ہے ۔ (مریم ۳۰)

ایسی آیات کواگر ہم مذکورہ حدیث سے ملاکر دیکھیں کہ جس میں آپ نے حضرت علیعليه‌السلام کو اپنا وصی ،خلیفہ اورجانشین قراردیا ہےاور واضح ہوجاتاہے کہ صاحب المنار کی متعصبانہ گفتگو کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔دوسری بات یہ ہے کہ یہ امر تاریخی لحاظ سے مسلم نہیں ہے کہ حضرت ابوبکر اسلام لانےوالے تیسرے شخص ہیں بلکہ تاریخ و حدیث کی بہت سی کتب میں ان سے پہلے بہت سے افراد کہ اسلام قبول کرنے کاذکر ہے ۔

یہ بحث ہم اس نکتہ پرختم کرتے ہیں کہ حضرت علیعليه‌السلام نے خود اپنے ارشادات میں اس امر کی طرف اشارہ کیاہے کہ میں پہلامومن پہلامسلمان اور رسول اللہ کے ساتھ پہلا نماز گزارہوں اور اس سے آپ نے اپنے مقام و حیثیت کو واضح کیاہے ، یہ بات آپ سے بہت سی کتب میں منقول ہے ۔

علاوہ ازیں ابن ابی الحدید مشہور عالم ابوجعفر اسکافی معتزلی سے نقل کرتاہے کہ یہ جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ ابوبکر اسلام میں سبقت رکھتے تھے اگر یہ امر صحیح ہے توپھر خود انھوں نے اس سے کسی مقام پر اپنی فضیلت کا استدلال کیوں نہیں کیا اور نہ ہی ان کے حامی کسی صحابی نے ایسا دعویٰ کیا ہے ۔(الغدیر ج ۲ ص ۲۴۰)

۴ ۔ کیا تمام صحابہ نیک اور صالح تھے ؟

اس امر کی طرف ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں کہ علماء اہلسنت عام طور پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ رسول اللہ کے تمام اصحاب پاک ، نیکو کار،صالح ،شائستہ اور اہل جنت تھے۔ زیر بحث آیت کو بعض لوگ اس دعویٰ کی قطعی دلیل قرار دیتے ہیں ۔اسی مناسبت سے ہم بات دوبارہ اس اہم بات کا تجزیہ و تحلیل کرتے ہیں کہ جو سلامی مسائل میں بہت سی خرابیوں اور اختلافات کا سر چشمہ ہے ۔

بہت سے اہل سنت مفسرین زیر نظر آیت کے ذیل میں نقل کرتے ہیں :

حمید بن زیاد کہتاہے کہ میں محمد بن کعب قرظی کے پاس گیا میں نے اس سے کہا کہ رسول اللہ کے اصحاب کے بارے میں تم کیا کہتے ہوکہ اس نے کیا کہا :جمیع اصحاب رسول الله (ص)فی الجنة محسنهم و مسیئهم

یعنی رسول اللہ کے تمام اصحاب جنتی ہیں چاہے وہ نیکوکار ہو یا گناہ گار

میں نے کہا : ” یہ بات تم کہا سے کہہ رہے ہو “؟

اس نے کہا اس آیت کو پڑھو”( والسابقون الاولون من المهاجرین و الانصار )

وہاں تک جہان فرماتا ہےرضی الله عنهم و رضو اعنه

اس نے مزیدکہا ؛ لیکن تا بعین کے بارے میں ایک ہے اور وہ یہ کہ تابعین صحابہ کی صرف نیک کاموں میں پیروی کریں ( تابعین صرف اسی صورت میں اہل نجات ہیں لیکن صحابہ کے لئے ایسی کوئی شرط نہیں )(۴)

لیکن یہ دعویٰ بہت سے دلائل کی بناء پر غیر قابل قبول ہے کیونکہ

اول تو زیر نظر آیت میں مذکورہ حکم تابعین کے بارے میں بھی ہے اور تابعین سے مراد جیساکہ ہم اشارہ کرچکے ہیں وہ تمام لوگ ہیں جو سابقین ِمہاجرین و انصار کی روش اور طریقے کی پیروی کرتے ہیں اس بناء پر تو تمام امت بغیرکسی استثناء کے اہل نجات ہونا چاہئیے ۔

باقی رہا یہ کہ محمد بن کعب والی روایت میں اس بات کا جواب دیا گیا ہے کہ خدا نے تابعین کے لئے ”احسان “ کی شرط عائد کی ہے یعنی وہ صحابہ کے صرف اچھے طور طریقوں کی پیروی کریں نہ کہ ان کے گناہوں کی یہ بات نہایت عجیب مباحث میں سے ہے کیونکہ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ فرع کو اصل سے بڑھادیا جائے صحابہ کے تابعین کے لئے جب اعمال صالح میں پیروی شرط نجات ہے توبطریق اولیٰ یہ شرط خود صحابہ کےلئے بھی ہو نی چاہئیے ۔

باالفاظ دیگر خداتعالیٰ زیر نظر آیت میں کہتا ہے کہ اس کی رضا اور خوشنودی ان تمام مہاجرین و انصار اور ان کے تابعین کےلئے ہے جن کی زندگی کا لائحہ عمل صحیح ہو نہ یہ کہسب مہاجرین و انصار سے وہ راضی ہے چاہے وہ اچھے ہوں یابرے لیکن تا بعین کےلئے اس کی رضا مشروط ہے ۔

دوسرا یہ کہ یہ بات عقل سے سے قطعاً مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ عقل اصحاب پیغمبر کے لئے دوسروں کی نسبت کسی امتیاز کی قائل نہیں ہوئی۔ ابوجہل میں اور ان افراد میں جو آنحضرت کے دین پرایمان لاکر منحرف ہو گئے ہیں کیا فرق ہے ؟وہ اشخاص جو رسول اللہ کے صدیوں بعد دنیا میں آئے اور راہ اسلام میں ان کی فداکاری اور جانبازی پہلے اصحاب ِ رسول سے کمتر نہیں بلکہ ان کاامتیاز یہ ہے کہ انھوں نے پیغمبر اکرم جو دیکھے بغیر پہچانا اور ان پر ایمان لائے کیسے اللہ کی رحمت اور خوشنودی انھیں حاصل نہ ہوگی ۔وہ قرآن جوکہتا ہے کہ تم میں سے زیادہ صاحبِ تکریم خدا کے نزدیک وہ ہے جو زیادہ پر ہیز گار ہے وہ اس غیر منطقی تبعیض اور ترجیح کو کیسے پسند کرسکتا ہے وہ قرآن جواپنی مخلتف آیا ت میں ظالموں او ر فاسقوں پر لعنت کرتا ہے اور انہیں عذاب الٰہی کا مستحق شمار کرتا ہے وہ کس طرح عذاب الہٰی سے صحابہ کی غیر منطقی مصونیت اورتحفظ کی تائید کرسکتا ہے کیا قرآن کی ایسی لعنتیں اور دھکمیاں قابل استناء ہیں اور ایک گروہ ان سے خارج ہے؟ آخر کیوں اور کس لئے ؟

تمام چیزوں سے قطع نظر کیا ایسا فیصلہ صحابہ کو ہر قسم کے گناہ او رنا فرمانی کی اجازت دینے کے مترادف نہیں ہے ؟

تیسرا یہ کہ ایسا فیصلہ اسلامی تاریخ سے کسی طرح بھی مناسبت نہیں رکھتا کیونکہ بہت سے لوگ تھے جو ایک دن انصار و مہاجرین کے ساتھ تھے بعد ازاں اس راستے سے منحرف ہو گئے اور رسول اللہ ان سے خفا و ناراض ہو ئے اور ظاہر ہے کہ رسول اللہ کی ناراضگی غضب ِخدا کا باعث ہے کیا گذشتہ آیا ت میں ہم نے ثعلبہ بن حاطب انصاری کی داستان نہیں پڑھی کہ وہ کس طرح منحرف ہو گیا اور مغضوب پیغمبر ہو گیا ۔زیادہ وضاحت سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر ان لوگوں کی مراد یہ ہے کہ اصحاب رسول سب کے سب کسی قسم کے گناہ کے مرتکب نہیں ہوتے تھے اور ہر معصیت سے معصوم او رپاک تھے تو یہ واضحات کے انکار کے مترادف ہے ۔ اگر مراد یہ ہے کہ انھوں نے گناہ تو کئے ہیں اور غلط اعمال بھی انجام دئے لیکن پھر بھی خدا ان سے راضی ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ خدانے گناہ پر رعایت دی ہے ۔

طلحہ و زبیر کے جو ابتداء میں رسول اللہ کے اصحاب خاص میں سے تھے اور اسی طرح عائشہ جو رسول اللہ کی زوجہ تھیں انہیں جنگ جمل کے سترہ ہزار مقتول مسلمانوں کے خون سے کون بر الذمہ قرار دے سکتا ہے ؟ کیا خدا ان خونریزیوں پر راضی تھا ؟

علیعليه‌السلام کی مخالفت جو خلیفہ رسولتھے فرض کریں کہ ان کی خلافت منصوص نہ تھی ۔مگر کم از کم وہ امت کے اجماع و اتفاق سے توچنے گئے تھے ، ان کے خلاف اور ا ن کے اصحاب ِ با وفا کے خلاف تلوار کھینچنا کیا ایسا عمل تھا ، جس پر خدا راضی تھا ؟حقیقت یہ ہے کہ ” تنزیہ صحابہ “ایک مفروضہ ہے جس کے طرفدارں نے اس بات پر اصرار کرکے اور دباو ڈال کر اس اسلام کے پاکیزہ چہرے کو بگاڑ دیا ہے جو ہر مقام پر شخصیت کی میزان ایمان او ر عمل صالح کو قرار دیتا ہے ۔

آخری بات یہ ہے کہ خدا کی رضا اور خشنود ی جس کا ذکر زیر نظر آیت میں ہے چند امور کے ضمن میں ہے اور وہ ہیں ہجرت نصرت ،ایمان اور عمل صالح ۔تمام صحابہ اور تابعین جب تک ان کے مطابق رہے خدا کی رضا ان کے شامل حال رہی او رجس دن کوئی ان سے دور ہو گیا اس دن وہ رضائے الٰہی سے بھی دور ہو گیا ۔

جوکچھ ہم نے کہا اس سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ مذکور ہ متعصب مفسریعنی مولف المنار نے شیعوں کی اس بات پر جو سر زنش کی ہے وہ تمام صحابہ کی پاکیزگی اور درستی کا اعتقاد نہیں رکھتے اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ۔ شیعوں نے اس کے سوا کوئی گناہ نہیں کیا کہ انھوں نے حکم ِ عقل ، شہادت ِ تاریخ اور قرآن کی گواہی کو قبول کیا ہے اور متعصب افراد کے فضول اور نادرست امتیازات پر کان نہیں دھرا۔

____________________

۱۔ الغدیر میں یہ حدیثمستدرک حاکم ج ۲ ص ۱۳۶، استعاب ج۲ ص۴۵ اوار شرح ابن ابی الحدید ج۳ ص ۳۵۸ سے نقل کی گئی ہے ۔

۲۔ الغدیر ی ہی میں یہ حدیث طبرانی اور بیہقی سے نقل کی گئی ہے نیز بیہقی نے مجمع میں ، حافظ گنجی نے کفایہ اکمال میں اور کنزل العمال میں نقل کی ہے ۔

۳ ۔ یہ حدیث مختلف نقل ہوئی ہے او رجو کچھ ہم نے بیان کیا ہے اسے جعفر اسکافی نے کتاب نہج العثمانیہ میں ،برہان الدین نے نجبا الانبیاء میں ، ابن ایثر کامل میں اور بعض دیگر علماء نے نقل کیا ہے ( مزید وضاحت کے لئے الغدیر ، عربی کی جلد دوم ص۲۷۸تا ۲۸۶ کی طرف رجوع کریں ۔

۴ ۔تفسیر المنار اور تفسیر کبیر از فخر رازی زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔


آیت ۱۰۱

۱۰۱ ۔( وَمِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِنْ الْاٴَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ اٴَهْلِ الْمَدِینَةِ مَرَدُوا عَلَی النِّفَاقِ لاَتَعْلَمهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّونَ إِلَی عَذَابٍ عَظِیم ) ۔

ترجمہ

۱۰۱ ۔بادیہ نشین اعراب جو تمہار ے اطراف میں ہیں ان میں ایک جماعت منافقین کی ہے اور ( خود) اہل مدینہ میں سے ( بھی ) ایک گروہ نفاق کا سخت پابند ہے انھیں تم نہیں پہچانتے اور ہم انہیں پہچانتے ہیں ۔عنقریب ہم انھیں دو مرتبہ عذاب دیں گے ( ایک اجتماعی رسوائی کا عذاب اور دوسرا موت کے وقت کا عذاب ) اس کے بعد ( قیامت میں ) عذابِ عظیم کی طرف بھیجے جائیں گے ۔

تفسیر

قرآن مجید بحث کا رخ دوبارہ منافقین کی طرف موڑ رہا ہے فرمایا گیا ہے : ان لوگوں کے درمیان جو تمہارے شہر ( مدینہ) کے اطراف میں ہیں ایک گروہ منافقین کا موجود ہے( وَمِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِنْ الْاٴَعْرَابِ مُنَافِقُونَ ) ۔

یعنی صرف داخلی منافقین پر توجہ نہ رکھو بلکہ ہوشیا ر رہ کر باہر کے منافقین پر بھی نگاہ رکھو ۔ان کی خطر ناک کار گذاریوں پر نظر رکھو اور ان پر بھی ۔

لفظ ” اعراب “ جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیا جاچکا ہے عام طور بادیہ نشین عروبوں کے لئے بولاجاتا ہے ۔

پھر مزید فرمایا گیا ہے : خود مدینہ میں اور اس شہر کے رہنے والوں میں ایک گروہ ان لوگوں کا ہے کہ جن کا نفاق سرکشی کی حد تک پہنچا ہوا ہے اور وہ اس کے سخت پابند ہیں اور اس میں تجربہ کار ہیں( وَمِنْ اٴَهْلِ الْمَدِینَةِ مَرَدُوا عَلَی النِّفَاقِ ) ۔

” مردودا“ مادہ ”مرد“ ( بر وزن ”سرد“) سے ہے اس کا مطلب ہے مطلق طغیان سر کشی او ربے گانگی ۔ اصل میں یہ ”بر ہنگی“ اور ”تجرد“ کے معنی میں آیا ہے ۔ اسی بنا پر جن لڑکوں کے چہروں پر بال نہ اگے ہوں انھیں ”امرد“ کہتے ہیں ۔” شجرة مرداء “ ایسے درخت کو کہتے ہیں جس پربالکل پتے نہ ہوں اور ”مارد“ ایسے شخص کو کہتے ہیں جو اطاعت حکم سے بالکل نکل گیا ہو۔

بعض مفسرین اور اہل لغت نے اس مادہ کا ایک معنی ”تمرین “ بھی بیان کیا ہے( ” تاج العروس اور” قاموس“میں بھی اس کا ایک معنی ”تمرین “ ذکر ہوا ہے )۔ یہ شاید اس بناء پر ہو کہ کسی چیز سے مطلق تجرد او رمکمل خروج بغیر تمرین کے ممکن ہیں نہیں ۔

بہر حال یہ منافقین حق و حقیقت سے اس قدر عاری اور اپنے کام میں اتنے ماہر ہیں کہ وہ اپنے آپ کو سچے مسلمانوں میں اس طرح شامل رکھتے ہیں کہ کسی کو ان کے منافق ہونے کا پتہ نہیں ۔ داخلی اور خارجی منافقین کے بارے میں تعبیر کا یہ فرق جو زیرنظر آیت میں دکھائی دیتاہے گویا اس نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ داخلی منافق اپنے کام میں زیادہ ماہر ہیں لہٰذا وہ طبعاً زشیادہ خطر ناک ہیں اور مسلمانوں کو چاہئیے کہ ان پر کڑی نظر رکھیں اگر چہ خارجی منافقین سے بھی غافل نہیں رہنا چاہئیے۔

اسی لئے اس کے بعد بلا فاصلہ فرمایا گیا ہے : تم انھیں نہیں پہچانتے لیکن ہم انھیں پہچانتے ہیں( لاَتَعْلَمهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ) ۔البتہ یہ پیغمبر کے عمومی علم کی طرف اشارہ ہے مگر یہ اس بات کے منافی نہیں کہ وحی اور تعلیم الہٰی کے ذریعے آپ ان کے اسرار سے پوری طرح واقف تھے ۔

آیت کے آخر میں اس گروہ کےلئے سزا اور سخت عذاب کو یوں بیان کیا گیا ہے : ہم عنقریب انھیں دو مرتبہ عذاب دیں گے اور اس کے بعد و ہ ایک عذاب عظیم کی طرف بھیجے جائیں گے( سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّونَ إِلَی عَذَابٍ عَظِیم ) ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ” عذاب عظیم “روز قیامت کے عذاب اور سزاوں کی طرف اشارہ ہے لیکن یہ کہ اس سے پہلے دو عذابوں کا جو ذکر ہے اس سے کیامراد ہے اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے او رانھوں نے بہت سے احتمالات ذکر کئے ہیں لیکن زیادہ تر معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک عذاب وہی اجتماعی سزا جو ان کی رسوائی اور ان کے اسرار منکشف ہو جانے کے بعد تمام معاشرتی وقار اور اہمیت کھو جانے کی صورت میں ہو گا اس کا ذکر شاید گذشتہ آیا ت میں موجود ہے اور بعض احادیث میں بھی آیا ہے کہ جب ان لوگوں کا معاملہ خطر ناک مراحل تک پہنچ جا تا تو رسول اللہ ان کا تعارف کروادیتے یہاں تک کہ انھیں مسجد سے بھی نکال دیتے ۔

ان کے لئے دوسری سزا اور عذاب وہی ہے جس کی طرف سورہ انفال کی آیہ ۵۰ میں اشارہ ہو چکا ہے ۔ جہاں فرما یا گیا ہے :( ولو تریٰ اذیتوفی الذین کفروا الملآئکة یضربون وجوههم و ادبار هم ) الخ

اگرتو کافر وں کو اس وقت دیکھے جب موت کے فرشتے ان کی جان لے رہے ہوں کہ کس طرح فرشتے ان کے چہروں اور پشتوں پر ماررہے ہیں او رانھیں سزا دے رہے تو تجھے ان کی حالت پر افسوس ہو گا -

یہ احتمال بھی ہے کہ دوسرا عذاب اندرونی اذیت او رروحانی سزا اور تکلیف کی طرف اشارہ ہو کہ جو مسلمانوں کی ہر طرف سے کامیابی کے زیر اثر انھیں پہنچتی ہے ۔


آیت ۱۰۲

۱۰۲ ۔( وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَیِّئًا عَسَی اللهُ اٴَنْ یَتُوبَ عَلَیْهِمْ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔

ترجمہ

۱۰۲ ۔ اور دوسرے گروہ نے اپنے گناہ کا اعتراف کیا ہے اور صالح اور غیر صالح اعمال کو آپس میں ملادیا ہے امید ہے خدا ان کی توبہ کرلے۔ اللہ غفور و رحیم ہے ۔

شان ِ نزول

زیر نظر آیت کی شان ِ نزول کے بارے میں کئی روایات نقل ہوئی ہیں ان میں سے اکثر میں ابو لبابہ انصاری کانام ملتا ہے ۔ ایک روایت کے مطابق اس نے دو یاکچھ اصحاب پیغمبر کے ساتھ مل کر جنگ تبوک میں شر کت نہ کی لیکن جب ان افراد نے وہ آیات سنیں جو متخلفین کی مذمت میں نازل ہوئی تھیں تو بہت پریشان او رپشیمان ہوئے اور اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں کے ساتھ باندھ دیا۔ رسول اللہ نے ان کے بارے میں استفسار کیا۔ آپ کو بتایا گیا کہ انھوں نے قسم کھائی ہے کہ اپانے آپ کو ستونوں سے نہیں چھڑائیں گے جب تک کہ خود رسول اللہ آکر انھیں نہ چھوڑ دیں ۔رسول اللہ نے فرمایا کہ میں بھی قسم کھاتا ہوں کہ یہ کام نہیں کروں گا مگر یہ کہ خدا مجھے اس کی اجازت دے ۔

اس پر مندرجہ بالا آیت نا زل ہوئی اور خدا نے ان کی توبہ قبول کی ۔ اس پر رسول اللہ نے آکرانھیں مسجد کے ستونوں سے کھول دیا ۔

اس کے شکرانے کے طور پر انھوں نے اپنا سار امال رسول اللہ کی خدمت میں پیش کردیا اور عرض کیا یہ وہی مال و اسباب ہے جس سے دل بستگی کی خاطر ہم نے شریک جہاد ہونے سے گریز کیا تھا ۔ یہ سب کچھ ہم سے قبول کرکے راہِ خدا میں خرچ کیجئے۔

پیغمبر اکرم نے فرمایا :ابھی تک اس کے بارے میں مجھ پرکوئی حکم نازل نہیں ہوا ۔

تھوڑی ہی دیر گذری تھی کہ بعد والی آیت نازل ہوئی او رآپ کو حکم دیا گیا کہ ان کے اموال میں سے کچھ حصہ لے لیں او ربعض روایات کے مطابق تیسرا حصہ قبول کرنے کاحکم ہوا۔

کچھ اور روایات میں ہے کہ مندرجہ بالاآیت ابولبابہ کے بارے میں بنی قریظہ کے واقعہ کے سلسلہ میں ہے قریظہ یہودی تھے انھوں نے ابو لبابہ سے مشورہ کیا کہ کیا ہم پیغمبر کا فیصلہ مان لیں یانہ ۔ اس نے کہا کہ اگر تم نے ان کا فیصلہ مان لیا تو آنحضرتعليه‌السلام تم سب کے سر اڑادیں گے ۔ اس کے بعد ابولبابہ اپنی اس بات پر پشیمان ہو ا اور توبہ کی اور اپنے آپ کو مسجد کے ستون سے باندھ دیا۔ اس کے بعد مندرجہ بالا آیت نازل ہو ئی اور خدا تعالیٰ نے اس کی توبہ قبول کرلی۔(۱)

____________________

۱۔ مجمع البیان اور دیگر تفاسیر ۔


توبہ کرنے والے

گزشتہ آیت میں مدینہ داخلی اور خارجی منافقین کی کیفیت بتائی گئی تھی ان یہاں ایک گناہگار مسلمان گروہ کی طرف اشارہ کیا گیاہے انھوں نے توبہ کی اور اپنے برے اعمال کی تلافی کے لئے اقدام کیا ۔ ارشاد ہوتا ہے : ان میں سے ایک گروہ نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا ہے( وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ ) اور انھوں نے اچھے اور برے اعمال کو آپس میں ملا دیا ہے( خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَیِّئًا ) ۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : امید ہے خدا ان کی توبہ قبول کرلے اور اپنی رحمت ان کی طرف پلٹا دے( عَسَی اللهُ اٴَنْ یَتُوبَ عَلَیْهِمْ ) ۔” کیونکہ خدا بخشنے والا اور مہر بان ہے “ اور وسیع و عریض رحمت کا مالک ہے (ا( ِٕنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔

مندرجہ بالا آیت میں ”عسیٰ“کی تعبیر آئی ہے یہ عموماً کامیابی اور ناکامی کے اکٹھے احتمال کے مواقع پر آتی ہے یہ شاید اس بناء پر ہے کہ انھیں امید و بیم اور خوف ورجاء کے درمیان رکھا جائے کیونکہ یہ دونوں کیفیتیں تکامل اور ارتقاء او ر تربیت کا ذریعہ ہیں ۔

یہ احتمال بھی ہے کہ ”عسیٰ “ کی تعبیر اس طرف اشارہ ہو کہ توبہ ، ندامت اور پشیمانی کے علاوہ انھیں دیگر شرائط کو بھی پورا کرنا چاہئیے اور اپنے نیک اعمال کے ذریعے گذشتہ کی تلافی کرنا چاہئیے ۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ کہ آیت اللہ کو غیران و رحمت کے ذکر سے مکمل کیا گیا ہے ، اس میں امید کا پہلو غالب ہے ۔

یہ با ت بھی واضح ہے کہ آیت اگر چہ ابو لبابہ کے بارے میں یا جنگ ِ تبوک کے دیگر متخلفین کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس سے آیت کا وسیع معنی محدود نہیں ہو جاتا بلکہ آیت ان تمام افراد کا احاطہ کئے ہوئے ہے جو نیک وبد اعمال کو خلط ملط کر دیتے ہیں اور پھر اپنے برے اعمال پر پشیمان ہوتے ہیں ض اسی لئے بعض علماء سے منقول ہے انھوں نے کہا ہے کہ مندرجہ بالا آیت نہایت امید بخش آیات ِ قرآن میں سے ہے کہ جس نے گنہ گاروں کے لئے کئی دروازے کھول دئیے ہیں اورتوبہ کرنے والوں کو اپنی طرف دعوت دی ہے ۔


آیات ۱۰۳،۱۰۴،۱۰۵

۱۰۳ ۔( خُذْ مِنْ اٴَمْوَالِهمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَکیهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیهِمْ إِنَّ صَلَاتَکَ سَکَنٌ لَهُمْ وَاللهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ ) ۔

۱۰۴ ۔( اٴَلَمْ یَعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَیَاٴْخُذُ الصَّدَقَاتِ وَاٴَنَّ اللهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ ) ۔

۱۰۵ ۔( وَقُلْ اعْمَلُوا فَسَیَرَی اللهُ عَمَلَکُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَی عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ) ۔

ترجمہ

۱۰۳ ۔ انکے اموال سے صدقہ ( زکوٰة ) لے لوتاکہ انھیں اس کے ذریعے پا کرو اور ان کی تربیت کرو اور ( زکوٰة لیتے وقت ) انھیں دعا دو کیونکہ تمہاری دعا ان کے سکون کا باعث ہے اور خدا سننے والا اور جاننے والا ہے ۔

۱۰۴ ۔ کیاوپہ جانتے نہیں کہ صرف خدا ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور صدقات لیتا ہے اور خدا ہی توبہ قبول کرنے والا مہر بان ہے ۔

۱۰۵ ۔ کہہ دو ! عمل کر و خدا، اس کا رسول او رمومنین تمہارے عمل کو دیکھتے ہیں اور عنقریب اس کی طرف لوٹ کر جاو گے کہ جو پنہاں اور آشکار کو جانتا ہے اور تمہیں اس چیز کی خبر دے گا جو کچھ تم کرتے ہو۔

زکوٰة فرد او رمعاشرے کو پا ک کرتی ہے

پہلی زیر نظر آیت میں ایک اہم اسلامی حکم یعنی زکوٰة کی طرف اشارہ ہوا ہے اور رسول اللہ کو ایک عمومی قانون کے طور پر حکم دیا گیا ہے کہ ان کے اموال سے صد قہ یعنی زکوٰة وصول کرو( مِنْ اٴَمْوَالِهمْ صَدَقَةً ) ۔

لفظ ”من “ جو تبعیض کے لئے ہے نشاندہی کرتا ہے کہ زکوٰة مال کا ایک حصہ ہوتا ہے پورا مال نہیں اور نہ ہی اس کا پورا حصہ زکوٰة قرار پاتا ہے ۔

اس کے بعد زکوٰة کے اخلاقی ، نفسیاتی اور اجتماعی فلسفہ کے دو پہلو وں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اس طرح سے تو انھیں پا ک کرتا ہے اور نشو و نما دیتا ہے( تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَکیهِمْ بِهَا ) ۔ انھی اخلاقی رذائل، دنیا پرستی او ربخل سے پاک کرتا ہے اور انسان دوسری ، سخاوت اور دوسروں کے حقوق کی پاسداری کے لئے نشو و نما دیتا ہے ۔

اس سے قطع نظر معاشرے کے ایک طبقے کی محرومیت سے جو خرابیاں ، افلاس ، گناہ اور طبقاتی تفاوت جنم لیتی ہے ۔ اسے الہٰی فریضہ انجام دے کر ختم کرو اورمعاشرے کو ان آلودگیوں سے پا ک کردو ۔ علاوہ بر این اجتماعی وابستگی ، نمو ، اقتصادی پیش رفت ایسے ہی کاموں سے ہوتی ہے اس بناء پر زکوٰة کا حکم ایک طرف سے معاشرے اور فرد کو پاک کرتا ہے اور دوسری طرف انسانوں میں فضیلت کے بیج کی نشو و نما کرتا ہے ۔ نیز معاشرے کی پیش رفت کا سبب بھی ہے اور زکوٰة کے بارے میں پیش کی جا سکنے والی یہ بہترین تعبیر ہے یعنی ایک طرف سے یہ آلودگیوں کو دھو ڈالتی ہے دوسری طرف ارتقاء و تکامل کا ذریعہ ہے ۔ آیت کے معنی میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیاہے کہ ” تطھرھم“کافاعل زکوٰة ہو اور ” تزکیھم“ کا فاعل پیغمبر اکرم ہوں ۔ اس بناء پر آیت کا معنی یہ ہوگا کہ زکوٰة انھیں پاک کرتی ہے اور اس کے ذریعے تو ان کی نشو ونما کرتاہے لیکن زیادہ ظاہر یہی معلوم ہوتاہے کہ دونوں کا فاعل ذات ِ پیغمبر ہے ۔ جیسا کہ ہم نے ابتداء میں معنی کیاہے اگر چہ نتیجہ کے لحاظ سے ان دونوں تعبیروں میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے ۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے جس وقت وہ زکوٰة ادا کریں تو ان کے لئے دعا کرو اور ان پر درود بھج دو( وَصَلِّ عَلَیهِمْ ) ۔

یہ بات نشاندہی کرتی ہے کہ واجب ذمہ داریاں ادا کرنے پر بھی لوگوں کی قدر دانی کی جانا چاہئیے اور خصوصیت سے معنوی اور نفسیاتی طریقے سے انھیں تشویق دلانی چاہئیے لہٰذ اروایات میں ہے کہ جب رسول اللہ کی خدمت میں زکوٰة لے کر آتے تھے تو آپ ”اللھم صل علیھم “ کہہ کر ان کے لئے دعا کرتے تھے ۔

بعد میں مزید فرمایا گیا ہے : تمہارا یہ دعا کرنا اور درود بھیجنا ان کے قلبی سکو کا سر مایہ ہے( إِنَّ صَلَاتَکَ سَکَنٌ لَهُمْ ) ۔

کیونکہ اس دعا سے ان کے قلب و روح پر رحمت ِ الہٰی کا نزول ہوتا ہے اور وہ اسے محسوس کرتے ہیں علاوہ ازیں رسول اللہ یا ان کے جانشین لوگوں کی جو قدر دانی کرتے ہیں اور ان کے مال کی زکوٰة لیتے ہیں تو انھیں ایک قسم کا روحانی اور فکری سکون پہنچاتے ہیں یعنی اگر ظاہراً وہ ایک چیز دے بیٹھے ہیں تو اس سے بہتر چیز انھوں نے حاصل کی ہے ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ ہم نے آج تک نہیں سنا کہ مالیات پر مامور افراد کی ذمہ داری ہو کہ وہ لوگوں کا شکریہ ادا کریں لیکن یہ ایک مستحب حکم اسلامی لائحہ عمل میں موجود انسانی اقدار کے گہرے احترام کو واضح کرتا ہے ۔

آیت کے آخر میں گذشتہ بحث کی مناسبت سے ارشاد ہو تاہے : خدا سننے والا اور جاننے والا ہے ( وَاللهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ)۔وہ پیغمبر کی دعا بھی سنتا ہے اور زکوٰة دینے والوں کی نیت کو بھی جانتا ہے ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ قبول کی گئی زکوٰة :

گزشتہ آیات کے بارے میں جو شان ِ نزول ہم نے ذکر کی ہے اس سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ یہ آیت ان آیا ت سے قریبی تعلق رکھتی ہے جن کا ربط ابو لبابہ اور اس کے ساتھیوں کی توبہ کے واقعہ سے ہے کیونکہ وہ اپنی تو بہ قبول ہونے کے شکرانے پر اپنا سب مال رسول اللہ کی خدمت میں لے آئے اور آپ نے ان کے مال میں سے کچھ حصہ لے لیا لیکن یہ شان ِ نزول ا س کے منافی نہیں کہ آیت زکوٰة کے بارے میں ایک عمومی حکم رکھتی ہو او ریہ جو بعض مفسرین نے ان دونوں کے درمیان تضاد و خیال کیا ہے درست نہیں ہے جیسا کہ ہم نھے باقی آیات اور ان کی شان ، نزول کے بارے میں کئی مرتبہ کہا ہے ۔

ایک ہی سوال باقی رہ جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اس روایت کے مطابق رسول اللہ نے ابو لبابہ اور اس کے ساتھیوں کے مال میں سے ایک تہائی حصہ قبول کیا تھا جب کہ زکوٰة کی مقدار کسی مقام پر بھی ۳/۱ نہیں ہے ۔ گندم، جو ، خرما اور کشمش میں دسواں حصہ ہوتا ہے اور کبھی بیسواں ۔ سونا اور چاندی میں ڈھائی ( ۲/۱ ۔ ۲) فیصد زکوٰة ہوتی ہے اور گائے ، گوسفند اور اونٹ میں بھی زکوٰة کی مقدار ایک تہائی نہیں بنتی۔

لیکن اس سوال کا یہ جواب دیا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ نے ان کے اموال میں سے ایک حصہ زکوٰة کے طور پر اور باقی ان کے گناہوں کے کفارے پر وصول کیا اس بناء پر آپ نے ان سے واجب زکوٰة لی اور کچھ مقدارانھیں گناہوں سے پاک کرنے کے لئے قبول کی جس کی کل مقداران کے اموال کا ۳/۱ حصہ بنتی ہے ۔

۲ ۔ ”خذ“کا مفہوم :

اس کا معنی ہے ”لے لو“ یہ حکم اس امر کی واضح دلیل ہے کہ اسلامی حکومت کا سر براہ لوگوں سے زکوٰةلے سکتا ہے نہ یہ کہ وہ منتظر رہے کہ اگر لوگ چاہیں تو ادا کریں اور اگر نہ چاہیں تونہ کریں ۔

۳ ۔ ”صل علیھم “ کے حکم کی عمومیت :”

صل علیھم “ اگر چہ رسول اللہ سے خطاب ہے مگر واضح ہے کہ یہ ایک کلی اور عمومی حکم ہے ( کیونکہ کلی قانون یہ ہے کہ پیغمبر کی خصوصیات کو دلیل خاص کا ذریعہ ہو نا چاہئیے )۔

لہٰذا بیت المال کے ذمہ دار اور نگران ہر زمانے میں زکوٰة دینے والوں کو ”اللهم صلی علیهم “ کہہ کر دعا دے سکتے ہیں ۔

اس کے باوجود اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ اہل سنت میں سے کچھ متعصب افراد آلِ نبی پر درود و صلٰوة کو بالکل جائز نہیں سمجھتے یعنی اگر کوئی کہے ”اللهم صلی علی ٓعلی امیر المومنین “ یا ”صلی علی فاطمة الزهرآء “ تو اسے ممنوع شمار کرتے ہیں ۔(۱)

حالانکہ ایسی دعا ممنوع ہونے کے لئے دلیل کی ضرورت ہے نہ کہ جواز کے لئے دلیل کی احتیاج ہے ۔

علاوہ ازیں جیسا کہ سطور بالا میں ہے قرآن صراحت سے اجازت دیتا ہے کہ عام افراد کے بارے میں ایسی دعا کی جائے ،چہ جائیکہ اہل بیت رسول ، ،جانشینان ، پیغمبر اور اولیاء ِ الٰہی کے لئے ۔ لیکن کیا کیا جاسلتا ہے کہ بعض اوقات تعصبات قرآنی آیات بھی سمجھنے نہیں دیتے ۔

بعض گنہ گار مثلاً جنگ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے رسول اللہ سے اصرار کرتے تھے کہ آپ ان کی تو بہ قبول کرلیں ۔ اس سلسلے میں زیر بحث دوسری آیت میں اشارہ کیا گیا ہے کہ تو قبول کرنا رسول کا کام نہیں ہے ” کیا وہ جانتے نہیں کہ خدا ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے( اٴَلَمْ یَعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ ) ۔وہ نہ فقط توبہ قبو ل کرنے والا ہے بلکہ زکوٰة یادوسرے صدقات جوگناہ کے کفارہ کے طورپر یا پروردگار کے تقرب کے لئے دئیے جاتے ہیں وہ بھی خدا ہی لیتا ہے( وَیَاٴْخُذُ الصَّدَقَاتِ ) ۔

اس میں شک نہیں کہ زکوٰة و صدقات پیغمبر ، امام او رمسلمانوں کے پیشوا وصول کرتے ہیں یا مستحق افراد لیتے ہیں ۔ بہر صورت بظاہر ان سے یہ چیزیں خد ا نہیں لیتا ۔ لیکن چونکہ پیغمبر اور ہادیان ِ بر حق کا ہاتھ خد اکا ہاتھ ہے ( اس لئے کہ وہ خدا کے نمائدے ہیں ) تو گویا خدا ہی ان صدقات کو وصول کرتا ہے اس طرح ضرورت مند بندے جو خدا کی اجازت او رفرمان سے ایسی مدد قبول کرتے ہیں در حقیقت اسی کے نمائندے ہیں اس طرح ان کا ہاتھ بھی خدا ہی کا ہاتھ ہے یہ ایک انتہائی لطیف چیز ہے جو زکوٰة کے اس اسلامی حکم کی عظمت و شکوہ کی تصویر کشی کرتی ہے ۔

اس عظیم خدائی فریضہ کی ادائیگی کے لئے مسلمانوں کو شوق دلانے کے علاوہ اس طرح سے انھیں خبر دار کیا گیا ہے کہ وہ زکوٰةو صدقات ادا کرنے میں انتہائی ادب و احترام ملحوظ نظر رکھیں کیونکہ لینے والا خدا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ کوتاہ فکری سے یہ تصور کرلیا جائے کہ ضرورت مند شخص کی تحقیر و تذلیل میں کوئی حرج نہیں یا اسے اس طرح زکوٰة دی جائے کہ اس کی شخصیت مجروح ہو بلکہ اس کے بر عکس چاہئیے کہ یہ انکساری کے ساتھ اپنے ولی نعمت کے سامنے ادب کے اظہار کے ساتھ زکوٰة اس کے مستحق تک پہنچائی جائے ۔

رسول اکرم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا :ان الصدقة تقع فی ید الله قبل ان تصل الیٰ ید السآئل

صدقہ حاجت مند کے ہاتھ میں جانے سے پہلے خدا کے ہاتھ میں پہنچتا ہے ۔

دوسری حدیث میں امام سجادعليه‌السلام سے منقول ہے :ان الصدقة لاتقع فی ید العبد حتیٰ تقع فی ید الرب

صدقہ بندے کے ہاتھ میں اس وقت تک نہیں پہنچتا جب تک کہ پہلے پروردگار کے ہاتھ میں نہ جائے

( پہلے خدا کے ہاتھ میں جاتا ہے پھر بندے کے ہاتھ میں جاتا ہے )(۳)

یہاں تک کہ ایک روایت میں ہے:

اس بندے کے تمام اعمال فرشتے اپنی تحویل میں لے لیتے ہیں سوائے صدقہ کے کہ جو براہ ِراست خدا کے ہاتھ میں جاتا ہے ۔(۴)

یہی مضمون جو مختلف تعبیروں کے ساتھ ہم نے روایات اہل بیتعليه‌السلام میں پڑھا ہے اہل سنت کے طرق سے بھی ایک اور تعبیر کے ساتھ نقل ہوا ہے ۔ صحیح مسلم اور صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا :

ما تصدق احد کم بصدقة من کسب حلال طیب ولاتقبل الله الا الطیب الا اخذها الرحمن بیمینه و ان کانت تمرة فتربوا فی کف الرحمن حتیٰ تکون اعظم من الجبل ۔

تم میں سے کوئی شخص حلال کمائی میں سے صدقہ نہیں دے گا - اور البتہ خدا حلال کے علاوہ قبول نہیں کرت- مگر یہ کہ خدا اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لے گا ۔ اگر خرمے کا ایک دانہ ہو ۔ پھر وہ خدا کے دست قدرت میں بڑھنا شروع ہو گایہاں تک کہ وہ پہاڑ سے بھی بڑا ہو جائے گا ۔(۵)

یہ حدیث معنی خیز تشبیہات او رکنایہ جات سے معمور ہے ۔ اس سے اسلامی تعلیمات میں انسانی خد مت اور حاجت مندوں کی مدد کی بہت زیادہ اہمیت واضح ہو تی ہے ۔

احادیث میں اس ضمن میں کئی ایک اور تعبیرات بھی آئی جو بڑی جاذب ِ نظر اور اہم ہیں ۔ ان میں مکتب اسلام کے پرورش یافتہ افراد کو حاجت مندوں کو مدد دیتے ہوئے ایسا منکر بنا کر پیش کیا گیا ہے گویا ھاجت مندوں نے مدد قبول کرکے ان پر احسان کیا ہے اور انھیں اعزاز و افتخار سے نوازا ہے ۔ مثلاً بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آئمہ معصومین بعض اوقات حاجت مند کو صدقہ دینے سے پہلے احترام اور تعظیم کی علامت کے طور پر اپنے ہاتھ کا بوسہ لیتے یا یہ کہ پہلے وہ مال حاجت مند کو دے دیتے پھر اسے لے کر بوسہ لیتے اور سونگھتے پھر اسے واپس کردیتے چونکہ وہ دستِ خدا کے رو برو ہوتے تھے لیکن وہ لوگ ان تعلیمات سے کس قدر دور ہیں کہ جو اپنے ضرورت مند بھائیوں یا بہنوں کی تھوڑی سی مدد کرتے ہوئے ان کی تذلیل کرتے ہیں یا ان سے سختی یا بے اعتنائی سے پیش آتے ہیں ۔ یہاں تک کہ بعض اوقات بے ادبی سے ان کی طرف پھینکتے ہیں ۔

البتہ جیسا کہ اپنے مقام پر ہم نے کہا ہے کہ اسلام اپنی پور ے اسلامی معاشرے میں کوئی فقیر اورحاجت مند نہ رہے لیکن اس میں شک نہیں کہ ہر معاشرے میں کچھ آبرو مند و ناتواں ، ننھے یتیم اور بیمار وغیرہ ہوتے ہیں جو کمانے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ ضروری ہے کہ بیت المال او رمتمکن افراد کے ذریعے انتہائی ادب و احترام سے ان کی ضروریات کو پورا کیا جائے ۔

آیت کے آخر میں زیادہ تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے : خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے( وَاٴَنَّ اللهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ ) ۔

توبہ اور اس کی تلافی جیسا کہ قرآن مجید کی متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ توبہ گناہ پر صرف ندامت اور پشیمانی کانام نہیں بلکہ ضروری ہے کہ ندامت کے ساتھ ساتھ اصلاح اور تلافی بھی شامل ہو۔ ممکن ہے یہ تلافی بھی شامل ہو ۔ ممکن ہے یہ تلافی ضرورت مندوں کی بلا عوض امداد کی صورت میں ہو جیساکہ مندرجہ بالا آیات میں اور ابو لبابہ کے واقعہ میں ہم نے پڑھا ہے ۔ اس میں کوئی فرق نہیں کہ گناہ مالی امور سے متعلق ہو یا کسی اور سے متعلق ، جیسا کہ ہم جنگ تبوک سے پیچھے رہ جانے والوں کے مسئلہ میں پڑھ چکے ہیں ۔ در حقیقت مقصد یہ ہے کہ گناہ سے آلودہ روح کو نیک ، صالح او رشائستہ عمل سے دھو یا جائے اور اسے پاک کیا جائے اور پہلی اور فطری پاکیز گی کو لوٹا یا جائے۔

بعد والی آیت میں گذشتہ مباحث کے بارے میں نئی شکل میں تاکید کی گئی ہے ۔ پیغمبر اکرم کو حکم دیا گیا ہے کہ تمام لوگوں کو اس امر کی تبلیغ کریں اور کہیں کہ اپنے اعمال او رذمہ دار یاں انجام دو او رجان لو کہ خدا ، اس کا رسول اور مومنین تمہارے اعمال کو دیکھیں گے( وَقُلْ اعْمَلُوا فَسَیَرَی اللهُ عَمَلَکُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ ) ۔

یہ اس طرف اشارہ ہے کہ کوئی تصور نہ کرے کہ اگر وہ کسی خلوت کے مقام پر یا کسی جماعت کے اندر کوئی عمل انجام دیتا ہے تو وہ علم خدا کی نگاہ سے اوجھل رہ جاتا ہے بلکہ خدا کے علاوہ وہ پیغمبر او رمومنین بھی اس سے آگاہ ہیں ۔ اس حقیقت کی طرف توجہ اور اس پر ایمان اعمال اور نیتوں کے پا ک رہنے کے لئے بہت موثر ہے عام طور پر اگر انسان یہ احساس کرکہ اسے ایک آدمی دیکھ رہا ہے تو وہ اپنی کیفیت ایسی بنالے گا کہ جو قابل اعتراض نہ ہو چہ جائیکہ اسے یہ احساس ہو کہ خدا و رسول او رمومنین اس کے اعمال سے باخبر ہیں ۔ عنقریب تم ایسی ہستی کی طرف لوٹ جاو گے جو مخفی اور آشکار سے آگاہ ہے اور وہ تمہیں تمہارے عمل کی خبر دے گا اور اس کے مطابق جزا دے گا( وَسَتُرَدُّونَ إِلَی عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ) ۔

____________________

۱۔ مجمع البیان ، زیربحث آیے کے ذیل میں ۔

۲۔ان لوگوں کی ایل بیت رسالت سے دشمنی اس حد تک ہے کہ آنحضرت کے لئے بھی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہتے ہیں اور ” صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم “ نہیں کہتے ۔ جب کہ رسول اللہ نے خود آل کے ذکر کے بغیر صلوٰت کو ” دم کٹی صلوات“ قرار دیا ہے ۔ کدا وند عالم مسلمانوں کو عظلمت اہل ِ بیتعليه‌السلام کا اقرار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ( مترجم )

۳ ۔ تفسیر صافی زیر بحث آیت کے ذیل میں بحوالہ تفسیر عیاشی ۔

۴۔ تفسیر بر ہان زی بحث آیت کے ذیل میں بحوالہ تفسیر عیاشی ۔

۵۔ تفسیر المنار ج ۱۱ ص ۳۳ ( یہ حدیث طرق اہلِ بیت سے امام صادق علیہ السلام سے بھی نقل ہوئی ہے ۔ بحار الانوار ج۹۶ ص ۱۴۳ طبع جدید کی طرف رجوع فرمائیں )


ایک اور گروہ فر مان خدا سے نکل گیا ۔

۱ ۔ اعمال پیش ہونے کا مسئلہ : بہت سی روایات او رخبریں جو آئمہ سے پہنچی ہیں ان کے پیش نظر مکتب اہل بیت کے پیروں کایہ مشہور و معروف عقیدہ ہے کہ پیغمبر اکرم اور آئمہ ہدایٰ تمام امت کے اعمال سے آگاہ ہوجاتے ہیں یعنی خدا تعالیٰ مخصوص طریقوں سے امت کے اعمال ان کے سامنے پیش کردیتاہے ۔

اس سلسلے میں منقول روایات بہت زیادہ ہیں اور شاید حد تواتر تک ہوں ۔ ہم نمونے کے طور پر ان میں سے مختلف قسم کی چند روایات ذیل میں درج کرتے ہیں ۔

۱ ۔ امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے ،آپعليه‌السلام نے فرمایا :

تعرض الاعمال علیٰ رسول الله اعمال العباد کل صباح ، ابرارها و فجار ها ، فاحذروها ، وهو قول الله عز وجل و قل اعملو ا فسیری الله عملکم و رسوله ، وسکت ۔

لوگوں کے تمام اعمال ہر روز صبح کے وقت رسول خدا کے سامنے پیش ہوتے ہیں ، چاہے وہ نیک لوگوں کے اعمال ہو ں یا برے لوگوں کے ،لہٰذا متوجہ رہو ( اور اسے ڈرو) اور خدا تعالیٰ کے ارشاد ” قل اعملو ا فسیری اللہ عملکم و رسولہ“ کا یہی مفہوم ہے یہ کہہ کر آپ خاموش ہو گئے۔(۱)

۲ ۔ امام محمد باقر علیہ السلام سے ایک حدیث منقول ہے جس میں آپعليه‌السلام فرماتے ہیں :

ان الاعمال تعرض علی نبیکم کل عشیة الخمیس فلیستح احدکم ان تعرض علی نبیه العمل القبح ۔

تمہارے تمام اعمال ہر جمعرات کو عصر کے وقت رسول خدا کے پاس پیش ہوتے ہیں لہٰذا اس بات پر شرم کرو کہ تمہاری طرف سے کوئی بر اعمل خدمت پیغمبر میں پیش ہو ۔(۲)

۳ ۔ نیز ایک اور روایت امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے منقول ہے کہ ایک شخص نے آپعليه‌السلام کی خدمت میں عرض کیا میرے لئے اور میرے گھر والوں کے لئے دعا کیجئے۔

تو آپعليه‌السلام نے فرمایا :تو کیا میں دعا نہیں کرتا،و الله ان اعمالکم لتعرض علیٰ فی کل یوم و لیلة

( خدا کی قسم تمہارے اعمال ہر روز شب میرے سامنے پیش ہوتے ہیں )

راوی کہتا ہے کہ یہ بات مجھ پر گراں گذری ، امام متوجہ ہوئے اور مجھ سے فرمایا:

اما تقرء لتاب الله عزو جل ” و قل اعملوا فسیری الله عملکم و رسوله والموٴ منون هو و الله علی بن ابی طالب “۔

کیا تونے اللہ کی کتاب نہیں پڑھی جو کہتی ہے ۔ ” عمل کر و، خدا ، اس کا رسول اور مومنین تمہارے عمل کو دیکھتے ہیں ۔ خد اکی قسم مومنین سے مراد علی بن ابی طالب ( اور ان کی اولاد میں سے دوسرے امام ) ہیں ۔ ۳

البتہ بعض روایات میں صرف رسول اللہ کے بارے میں بات کی گئی ہے ۔ کچھ حضرت علیعليه‌السلام کے بارے میں اور بعض میں پیغمبر اکرم اور تمام آئمہ کا ذکر ہے اسی طرح کچھ روایات صرف جمعرات کو عصر کے وقت اعمال پیش ہونے کے بارے میں ہیں ، بعض میں ہر روز اعمال پیش ہونے کا تذکرہ ہے ، کچھ میں ہفتہ میں دو مرتبہ ، بعض میں ہر ماہ کے شروع میں اوربعض میں موت کے وقت او ر قبر میں رکھے جانے کے وقت کا ذکر ہے ۔

واضح ہے کہ یہ روایات آپس میں ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں او رہوسکتا ہے کہ سب صحیح ہوں ۔ ٹھیک اسی طرح جیسے بہت سے اداکاروں میں ہر روز کی کار گزاری روزانہ ، ہفتہ کی کار گزاری ہفتے کے آخر میں او رمہینے یا سال کی کار گزاری مہینے یا سال کے آخر میں اعلیٰ افسروں کو پیش کی جاتی ہے ۔

یہاں یہ سوال پیش آتاہے کہ کیا خود زیرنظر آیت اور اس کی تفسیر میں وارد روایات سے یہ بات معلوم ہوسکتی ہے یا جیسا کہ اہل سنت کے مفسرین نے کہا ہے کہ آیت ایک عام مسئلے کی طرف اشارہ کررہی ہے وہ یہ کہ انسان جو بھی عمل کرتا ہے چاہے نہ چاہے ظاہر ہو ہی جات اہے اور خدا کے علاوہ پیغمبر اور تمام مومنین عام طریقوں ہی سے اس سے آگاہ ہو جاتے ہیں ۔

اس سوال کے جواب میں کہنا چاہئیے کہ انصاف یہ ہے کہ خود آیت میں اس بارے میں کچھ شواہد موجود ہیں ۔

پہلا یہ کہ آیت مطلق ہے اور اس میں تمام اعمال شامل ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ تمام اعمال معمول کے طریقوں سے رسول اللہ او رمومنین پر آشکار نہیں ہوتے تھے کیونکہ بہت سے غلط اعمال مذخفی طور پر انجام پاتے تھے او راکثر اوقات پوشیدہ رہ جاتے تھے یہاں تک کہ بہت سے اچھے اعمال بھی اسی طرح چھپے رہتے تھے ۔

اگر ہم یہ دعوی کریں کہ تمام نیک اعمال میں سے اکثر سب پر واضح ہو جاتے تھے تو یہ ایک بے ہودہ بات ہو گی۔ لہٰذالوگوں کے اعمال سے رسول اللہ کی اور لوگوں کی آگاہی غیر معمولی طریقوں اور خدائی تعلیم ہی سے ہو سکتی ہے ۔

دوسرا یہ کہ آیت کے آخر میں ”فینبئکم بما کنتم تعملون“خد اتمہیں قیامت میں اس سے آگاہ کرے گا جو تم عمل کرتے تھے ) اس میں شک نہیں کہ اس جملے کے مفہوم میں انسان کے تمام اعمال شامل ہیں چاہے وہ مخفی ہوں یا آشکار اور آیت کا ظاہر یہ ہے کہ آیت کی ابتداء اور آخر میں ”عمل“ کا ایک ہی مفہوم ہے لہٰذا آیت کی ابتداء میں آشکار و مخفی تمام اعمال کے بارے میں ہے اور اس میں شک نہیں کہ ان تمام سے آگاہی معمول کے طریق سے ممکن نہیں ہے ۔ دوسرے لفظوں میں آیت کے کا آخری حصہ تمام اعمال کی جزا کے بارے میں ہے ۔ اس لئے آغاز بھی خدا ، رسول او رمومنین کی تمام اعمال سے آگاہی سے متعلق ہے ۔ ایک آگاہی کا مرحلہ ہے اور دوسرا جزاء کا اور بات دونوں میں ایک ہی موضوع سے متعلق ہے ۔

تیسرا یہ کہ ” مومنین “ کا ذکر اسی صورت میں صحیح ہے کہ مراد سب اعمال ہوں اور غیر معمولی طریقوں سے معلوم ہوں ۔ ورنہ جو اعمال آشکار اور واضح ہیں وہ تومومنین اور غیرمومنین سب دیکھتے ہیں ۔

یہاں سے ضمنی طور پر یہ نکتہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ اس آیت میں مومنین سے مراد سب صاحب ایمان افراد نہیں ہیں بلکہ ان میں سے کچھ مخصوص افراد ہیں جو حکم خدا سے اسرار غیبی سے آگاہ ہیں یعنی رسول اللہ کے حقیقی جا نشین ۔

ایک اہم نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا چاہئیے یہ ہے کہ جس طرح پہلے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے کہ اعمال کے پیش ہونے کا مسئلہ اس کے معتقدین کے لئے بہت زیادہ تربیتی اثر رکھتا ہے کیونکہ جب ہمیں یہ معلوم ہو کہ خدا جوکہ ہر جگہ میرے ساتھ ہے اس کے علاوہ پیغمبر اکرم اور ہمارے محبوب پیشوا ہر روز یا ہر ہفتے میرے ہر عمل سے چاہے وہ اچھا ہو یا برا آگاہ ہو جاتے ہیں تو بلا شبہ ہم زیادہ احتیاط کریں گے اور اپنے اعمال کی طرف متوجہ رہیں گے بالکل اسی طرح جیسے کسی ادارے میں کام کرنے والوں کو معلوم ہو کہ ہر روز ہر ہفتے ان کے تمام پوری تفصیل سے اعلیٰ افسروں کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں اور وہ ان سب سے باخبر ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے کاموں کو بڑی توجہ سے انجام دیں گے ۔

۲ ۔ کیا روئیت یہاں دیکھنے کے معنی میں ہے ؟ بعض مفسرین میں مشہور ہے کہ ” فسیری اللہ عملکم “ میں روئیت معرفت کے معنی میں ہے نہ کہ علم کے معنی میں کیونکہ اس کا ایک سے زیادہ مفعول نہیں ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ اگر روئیت علم کے معنی میں ہوتو اس کے دو مفعول چاہئیے ہو ں گے ۔

لیکن اس میں کوئی حرج نہیں کہ روئیت کو اس کے اصل معنی میں لیا جائے یعنی محسوسات کا مشاہدہ نہ کہ علم یا معرفت ۔ یہ بات خدا کے بارے میں تو جو ہر جگہ حاضر و ناضر ہے اور تمام محسوسات پر احاطہ رکھتا ہے قابل، بحث نہیں لیکن پیغمبر اور آئمہعليه‌السلام کے متعلق بھی کوئی مانع نہیں کہ وہ خود اعمال کو دیکھیں کہ جب ان کے سامنے پیش ہو ں کوینکہ ہم جانتے ہیں کہ انسانی امعلا فانی نہیں ہیں بلکہ قیامت تک باقی رہیں گے ۔

۳ ۔ عنقریب خدا اعمال دیکھے گا “ سے کیا مراد ہے : اس میں شک نہیں کہ خدا اعمال سے پہلے ہیں ان سے آگاہ ہے اور یہ جو آیت میں ”فسیری اللہ “ یعنی عنقریب تمہارے اعمال دیکھے گا “ آیا ہے ، یہ اعمال کی کیفیت کی طرف اشارہ ہے جو ان کے وجو د اور تحقیق کے بعد ہو گی ۔

____________________

۱ اصول کافی جلد ۱ ص ۱۷۱ ( باب عرض الاعمال )

۲۔ تفسیر برہان جلد ۲ ص ۱۵۸۔

۳۔ اصول کافی جلد ۱ ص ۱۷۱ ( باب عرض الاعمال )۔


آیت ۱۰۶

۱۰۶ ۔( وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِاٴَمْرِ اللهِ إِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَإِمَّا یَتُوبُ عَلَیْهِمْ وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ ) ۔

ترجمہ

۱۰۶ ۔ ایک اور گروہ فر مان خدا سے نکل گیا ۔ وہ تو انھیں سزا دے گا اور یا ان کی توبہ قبول کرلے گا (جس کے وہ لائق ہو ں گے) خدا دانا اور حکیم ہے ۔

شان ِ نزول

بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ مندرجہ بالا آیت جنگ تبوک سے واپس رہ جانے والے تین اشخاص ہلال بن امیہ ، مرارہ بن ربیع اور کعب بن مالک کے بارے میں ہے ۔ کہ جن کی پشیمانی کی تشریح اور توبہ کی کیفیت اسی سورہ کی آیہ ۱۱۸ کے ذیل میں آئے گی۔

کچھ اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا آیت بعض کفار کے بارے میں ہے جنھوں نے مسلمانوں کے خلاف مختلف جنگو ں میں عظیم شخصیتوں مثلاً سید الشہداء حضرت حمزہ اور ایسے دیگر افراد کو شہید کیا تھا ۔ اس کے بعد وہ شرک سے دستبردار ہو گئے اور دین اسلام کی طرف آگئے۔

تفسیر

اس آیت میں ایک اور گنہ گار کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ ان لوگوں کا انجام صحیح طور پر واضح نہیں ہے نہ تووہ ایسے ہیں کہ رحمت الہٰی کے مستحق سمجھے جائیں اورنہ ایسے ہیں کہ ان کی بخشش سے بالکل مایوس ہو جا ئے لہٰذا قرآن ان کے بارے میں کہتا ہے : ایک اور گروہ کا معاملہ فرمانِ خد اپر موقوف ہے یا وہ انھیں سزا دے گا اور یا ان کی توبہ قبول کرلے گا( وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِاٴَمْرِ اللهِ إِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَإِمَّا یَتُوبُ عَلَیْهِمْ ) ۔

” مرجون “ کا مادہ ” ارجاء“ سے ہے ۔ یہ تاخیر اور توقف کے معنی میں ہے ۔اصل میں یہ ”رجاء “ سے لیا گیا ہے ۔جس کا معنی امید ہے ۔اس لحاظ سے کہ بعض اوقات انسان کسی کام کو کسی ہدف کے ماتحت تاخیر میں ڈال دیتا ہے یہ لفظ تاخیر کے معنی میں آیا ہے لیکن ایسی تاخیر جس میں امید شامل ہو ۔

حقیقت میں یہ لوگ نہ تو ایسے پا ک مضبوط ایمان اور نیک اعمال کے مالک ہیں کہ انھیں سعادت مند اور اہل نجات سمجھا جاسکے اور نہ ہی ایسے آلودہ اور منحرف ہیں کہ ان کے رخ پر سرخ خط کھینچ دی اجائے اور انھیں بد بخت سمجھ لیا جائے یہاں تک کہ ( ان کے روحانی مقام و مرتبہ کے مطابق ) لطف ِ الہٰی ان کے بارے میں فیصلہ کرے گا ۔

آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے کہ خدا ان کے ساتھ حساب کتاب کے بغیر کو ئی سلوک نہیں کرے گا ۔ بلکہ علم و حکمت کے تقاضے کے مطابق ہی ان سے سلوک کرے گا کیونکہ ”خد اعلیم وحکیم ہے “( وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ ) ۔

ایک سوال اور اس کا جواب

یہاں ایک اہم سوال سامنے آتا ہے ا س کے بارے میں مفسرین نے بہت کم ہی کہیں جامع بحث کی ہے سوال یہ ہے کہ اس گروہ میں اور اس گروہ میں جس کی حالت اسی سورہ کی آیہ ۱۰۲ میں گذر چکی ہے کیا فرق ہے دونوں گروہ گنہ گار تھے اور دونوں نے اپنے گناہ سے توبہ کی۔ پہلے گروہ نے اپنے گناہ کا اعترافکرکے پشمانی کا اظہار کیا ااور دوسرے گروہ کے بارے میں ” امایتوب علیھم “ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے بھی توبہ کی ۔ اسی طرح دونوں گروہ رحمت الہٰی کی توقع رکھتے تھے ۔ اور دونوں خوف و رجاء کے درمیان تھے ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ہم دو طریقوں سے ان دونوں گروہوں میں فر ق کرسکتے ہیں ۔

۱ ۔ پہلے گروہ نے فوراً توبہ کی اور کھلے بندوں پشیمانی کی علامت کے طور پر آپ کو مسجد کے ستون سے باندھ دیا

جیسے ابو لبابہ کے بارے میں آپ پڑھ چکے ہیں ۔مختصر یہ کہ انھوں نے اپنی ندامت کا اظہار صراحت کے ساتھ کیا او ربدنی اور مالی طور پر ہر قسم کی تلافی کے لئے اپنی آمادگی ظاہر کردی ۔

جبکہ دوسرے گروہ کے افراد ایسے تھے جنھوں نے اپنی پشیمانی کی ابتداء میں اپنی کیفیت ظاہرنہیں کی اگر چہ وہ دل میں پشیمان ہوئے تھے اور انھوں نے گزشتہ کی تلافی کے لئے اپنی آمادگی کا اظہار نہیں کیا۔ حقیقت میں وہ چاہتے تھے کہ ساد گی اور آسانی سے اپنے گناہوں سے گذر جائیں ۔ ان کی واضح مثال وہ تین افراد تھے جن کی طرف سطور بالا میں اشارہ ہوا ہے ۔ ان کی حالت کی وضاحت عنقریب آئے گی یہ لوگ خوف و رجاء کے درمیان تھے لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ نے حکم دیا کہ لوگ ان سے علیحدہ رہیں اور ان سے روابط منقطع رکھیں ۔، اس طرح وہ معاشرے کے شدید دباو کا شکار تھے اور آخر کار وہ مجبور ہوئے کہ پہلے گروہ کا ساراستہ اختیار کریں ۔

ایسے اشخاص کی توبہ کی قبولیت کا اعلان چونکہ آیت نازل ہو نے کی صورت میں ہوا لہٰذا پیغمبر اکرم اس مدت تک وحی کے انتظار میں تھے یہاں تک کہ پچاس دنوں میں یا اس سے کم مدت میں ان کی تو بہ قبول ہو ئی اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ پہلے گروہ کے بارے میں جبتک انھوں نے اپنی روش کو تبدیل نہیں کیا ” واللہ علیم حکیم “کا جملہ آیا ہے ۔ کہ جس میں توبہ قبول ہونے کی کوئی بات نہیں ہے ۔

البتہ باعث تعجب نہیں کہ بڑے بڑے گناہوں کے بارے میں خصوصاً نزول آیات کے زمانے میں صرف ندامت و پشیمانی توبہ قبول ہونے کے لئے کافی نہ ہو ۔ بلکہ تلافی کے لئے اقدام ، واضح طور پر گناہ کا اعتراف اور اس کے بعد آیت کا نزول توبہ قبول ہو نے کے لئے شرط ہو۔

۲ ۔ دوسرا فرق جو ممکن ہے دونوں گروہوں کے درمیان ہو یہ ہے کہ پہلے گروہ نے اگر چہ ایک عظیم اسلامی فریضہ یعنی جہاد سے تخلف کیا تھا یا بعض جنگی اسرار دشمن کو بتائے تھے تا ہم ان کے ساتھ سید الشہداء حمزہ کے قتل جیسے عظیم گناہوں سے آلودہ نہ تھے اس لئے ان کی توبہ او رتلافی کے لئے آمادگی کے بعد خدا تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرلی لیکن جناب حمزہ کا قتل ایسا گناہ نہ تھا ج سکی تلافی ہو سکے ۔ اس لئے اس گروہ کی نجات حکم ِ خدا سے وابستہ تھی کہ وہ انھیں اپنی عفو بخشش سے نوازتا ہے یا انھیں سزا اور عذاب میں مبتلا کرتا ہے ۔

بہر حال پہلا جواب آیت کی شان نزول کے بارے میں مروی ان روایات سے مطابقت رکھتا ہے جو محل بحث آیت کو جنگ تبوک سے متخلف تین افراد کے ساتھ ربط رکھتی ہیں دوسرا جواب ان روایات سے موافقت رکھتا ہے جو طرق اہل بیتعليه‌السلام سے پہنچی ہیں اور جن میں ہے کہ یہ آیت حمزہ ، جعفر او راس قسم کے دیگر افراد کے بارے میں ہے ۔ ۱

اگر صحیح غور و فکر کیا جائے تو یہ دونوں جوابات ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں اور ممکن ہے کہ آیت کی تفسیر میں دونوں ہی مراد ہوں ۔

____________________

۱۔ ان روایات کو جاننے کے لئے تفسیر نور الثقلین جلد ۲ ص ۲۶۵ اور تفسیر بر ہان جلد۲ ص ۱۰۶ کی طرف رجوع فرمائیں ۔


آیات ۱۰۷،۱۰۸،۱۰۹،۱۱۰

۱۰۷ ۔( وَالَّذِینَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَکُفْرًا وَتَفْرِیقًا بَیْنَ الْمُؤْمِنِینَ وَإِرْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللهَ وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ وَلَیَحْلِفُنَّ إِنْ اٴَرَدْنَا إِلاَّ الْحُسْنَی وَاللهُ یَشْهَدُ إِنّهُمْ لَکَاذِبُونَ ) ۔

۱۰۸ ۔( لاَتَقُمْ فِیهِ اٴَبَدًا لَمَسْجِدٌ اٴُسِّسَ عَلَی التَّقْوَی مِنْ اٴَوَّلِ یَوْمٍ اٴَحَقُّ اٴَنْ تَقُومَ فِیهِ فِیهِ رِجَالٌ یُحِبُّونَ اٴَنْ یَتَطَهرُوا وَاللهُ یُحِبُّ الْمُطّهِّرِینَ ) ۔

۱۰۹ ۔( اٴَفَمَنْ اٴَسَّسَ بُنْیَانَهُ عَلَی تَقْوَی مِنْ اللهِ وَرِضْوَانٍ خَیْرٌ اٴَمْ مَنْ اٴَسَّسَ بُنْیَانَهُ عَلَی شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِی نَارِ جَهَنَّمَ وَاللهُ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ ) ۔

۱۱۰ ۔( لاَیَزَالُ بُنْیَانُهُمْ الَّذِی بَنَوْا رِیبَةً فِی قُلُوبِهِمْ إِلاَّ اٴَنْ تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ ) ۔

ترجمہ

۱۰۷ ۔ (مزید بر آں ) وہ لوگ ہیں جنھوں نے ( مسلمانوں کو ) نقصان پہنچائے اور کفر ( کوتقویت دینے ) کے لئے اور مومنین میں تفرقہ ڈالنے کی خاطر ایسے افراد کے لئے کمین گاہ مہیا کرنے کے جنھوں نے پہلے ہی اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کی ہے ، مسجد بنائی ہے وہ قسم کھاتے ہیں کہ ہمرا مقصد سوائے نیکی ( اور خدمت) کے اور کچھ نہیں لیکن خدا گوہای دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں ۔

۱۰۸ ۔ اس میں ہر گز قیام ( او رعبادت ) نہ کرنا ۔ وہ مسجد جو روز اول سے تقویٰ کی بنیاد پربنی ہے زیادہ حق رکھتی ہے کہ تم اس میں قیام ( اور عبادت ) کرو ۔اس میں ایسے مرد ہیں جو پاک او رپا کیزہ رہنا پسند کرتے ہیں اور خدا پاک رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۔

۱۰۹ ۔ کیا وہ شخص جس نے اس کی بنیادتقویٰ الٰہی اور اس کی خوشنودی پر رکھی ہے بہتر ہے یاوہ شخص جو نے اس کی بنیاد گرنے والی کمزور جگہ پررکھی ہے کہ جو اچانک جہنم کی آ گ میں گرجائے گی اور خدا کی ظالم گروہ کو ہدایت نہیں کرتا ۔

۱۱۰ ۔ (لیکن ) یہ بنیاد جو انھوں نے رکھی ہے، اس کے دلوں میں ہمیشہ شک اور تردد کے ذریعے کے طور پر باقی رہے گی۔ مگر یہ کہ ان کے دل کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں (اور وہ مر جائیں ورنہ چیز ان کے دلوں سے نہیں نکلے گی ) اور خدا دانا و حکیم ۔

شان نزول

زیر نظر آیات منافقین کے ایک گروہ کے بارے میں ہیں ۔ جنھوں نے اپنی منحوس سازشوں کی تکمیل کے لئے مدینہ میں ایک مسجد قائم کی تھی جو بعد میں ” مسجد ضرار“ کے نام سے مشہور ہ وئی ۔ یہ بات تمام اسلامی مفسرین اور بہت سی کتب حدث و تاریخ نے ذکر کی ہے ،اگر چہ اس کی تفصیلات میں کچھ فرق نظر آتا ہے ۔مختلف تفاسیر اور احادیث سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے اس کے پیش نظر اس واقعہ کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے :

کچھ منافقین رسول اللہ کے پاس آئے عرض کی ا: ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم قبیلہ بنی سالم کے درمیان ، مسجد قبا کے قریب ایک مسجد بنالیں تاکہ ناتواں ، بیمار اور بوڑھے جو کوئی کام نہیں کرسکتے اس میں نماز پڑھ لیا کریں ۔ اسی طرح راتوں میں بارش ہوتی ہے ان میں جو لوگ آپ کی مسجد میں نہیں آسکتے اپنے اسلامی فریضة کو اس میں انجام دے لیا کریں ۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب پیغمبر خدا جنگ تبوک کا عزم کرچکے تھے آنحضرت نے انھیں اجازت دے لیا کریں ۔

انھوں نے مزید کہا : کیا یہ بھی ممکن ہے کہ آپ خود آکر اس میں نماز پڑھیں ؟ بنی اکرم نے فرمایا: اس وقت تو میں سفر کا ارادہ کرچکا ہو ں البتہ واپسی پر خدا نے چاہا تو اس مسجد میں آکر نماز پڑھو ں گا ۔

جب آپ جنگ تبوک سے لوٹے تو یہ لوگ آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے :ہماری در خواست ہے کہ آپ ہماری مسجد میں آکر نماز پڑھائیں اور خدا سے دعا کریں ہمیں برکت دے ۔

یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب ابھی آنحضر ت مدینہ کے دروازے میں داخل نہیں ہوئے تھے اس وقت وحی خدا کا حامل فرشتہ نازل ہوا اور مندرجہ بالا آیات لایا اور ان کے کرتوت سے پردہ اٹھا یا ۔

اس کے فوراً بعد رسول اللہ نے حکم دیا کہ مذکورہ مسجد کو جلا دیا جائے اور اس کے باقی حصے کو مسمار کردیا جائے اور اس کی جگہ کو ڑا کرکٹ ڈال جایا کرے ۔

ان لوگوں کے ظاہراً کام کو دیکھا جا ئے تو ہمیں شروع میں تو اس حکم پر حیرت ہو گی کہ کیا بیماروں اور بوڑھوں کی سہولت کے لئے اور اضطراری مواقع کے لئے مسجد بنانا برا کام ہے جبکہ یہ ایک دینی اور انسانی خدمت معلوم ہوتی ہے کیا ایسے کام کے بارے میں یہ حکم صادر ہو اہے ؟ لیکن اگر ہم اس معاملہ کی حقیقت پر نظر کریں گے تو معلوم ہوگاکہ یہ حکم کس قدر بر محل و جچا تلا تھا ۔

اس کی وضاحت یہ کہ ابو عامر نامی ایک شخص نے عیسائیت قبول کرلی تھی اور راہبوں کے مسلک سے منسلک ہو گیا تھا ۔ اس کا شمار عابدوں اور زاہدوں میں ہوتا تھا ۔ قبیلہ خزرج میں اس کا گہرا رسوخ تھا ۔ رسول اللہ نے جب مدینہ کی طرف ہجرت کی اور مسلمان آپ کے گرد جمع ہو گئے تو با وعامر جو خود کبھی پیغمبر کے ظہور کے خبر دینے والوں میں سے تھا نے دیکھا کہ اس کے گرد ا گرد سے لوگ چھٹ گے ہیں اس پر وہ اسلام کے مقابلے کے لئے اٹھ کھڑاہوا۔ وہ مدینہ سے نکلا اور کفار کے پاس پہنچا اس نے ان سے پیغمبر اکرم کے خلاف جنگ کے لئے مدد چاہی اور قبائل عرب کو بھی تعاون کی دعوت دی ۔ وہ خود مسلمانوں کے خلاف جنگ ِ اھد کی منصوبہ بندی میں شریک رہا تھا اور راہنمائی کرنے والوں میں سے تھا ۔ اس نے حکم دیا کہ لشکر کی دو صفو ں کے در میان گڑھے کھودے جائیں ۔ اتفاقاً پیغمبر ِ اسلام ایک گڑھے میں گر پڑے ، آپ کی پیشانی پر زخم آئے اور دندان ِ مبارک ٹوٹ گئے۔

جنگ احدختم ہوئی ، مسلمانوں کو اس میدان میں آنے والی مشکلات کے باوجوداسلام کی آواز بلند تر ہوئی او رہر طرف صدائے اسلام گونجنے لگی ۔ تو مدینہ سے بھاگ گیا اور بادشاہ روم ہر قل کے پاس پہنچا تا کہ اس سے مدد چاہے اور مسلمانوں کی سر کوبی کے لئے ایک لشکر مہیا کرے ۔

اس نکتے کابھی ذکر ضروری ہے کہ ان کی ان کارستانیوں کی وجہ سے پیغمبر اسلام نے اسے ”فاسق “ کا لقب دے رکھا تھا ۔

بعض کہتے ہیں کہ موت نے اسے مہلت نہ دی کہ اپنی آرزو ہر قل سے کہتا لیکن بعض دوسری کتب میں ہے کہ وہ ہر قل سے جاکر ملا اور اس کے وعدوں سے مطمئن اور خوش ہوا ۔

بہر حال اس نے مرنے سے پہلے مدینہ کے منافقین کو ایک خط لکھا اور انھیں خوشخبری دی کہ روم کے ایک لشکر کے ساتھ وہ ان کی مدد کو آئے گا ۔ اس نے انھیں خصوصی تاکید کی کہ وہ اس کے لئے ایک مرکز بنائیں تاکہ اس کے آئندہ کی کا گذار یوں کے لئے وہ کام دے سکے لیکن ایسا مرکز چونکہ مدینہ میں اسلام دشمنوں کی طرف سے اپنے نام پر قائم کرنا عملی طو رپر ممکن نہ تھا ۔ لہٰذا منافقین نے مناسب یہ سمجھا کہ مسجد کے نام پر بیماروں ار معذروں کی مدد کی صور ت میں اپنے پروگرام کو عملی شکل دیں ۔

آخر کار مسجد تعمیر ہو گئی یہاں تک کہ مسمانوں میں سے مجمع بن حارثہ( یامجمع جاریہ ) نامی ایک قرآن فہم نوجوان کو مسجد کی امات کے لئے بھی چن لیا گیا لیکن وحی الٰہی نے ان کے کا مسے پردہ اٹھا دیا۔

یہ جو پیغمبر اکرم نے جنگ تبوک کی طرف جانے سے قبل ان کے خلاف سخت کار روائی کاحکم نہیں دیا اس کی وجہ شاید یہ ہوکہ ایک تو ان کی حقیقت زیادہ واضح ہوجائے اور دوسرا یہ کہ تبوک کے سفر میں اس طرف سے کوئی اور ذہنی پریشانی نہ ہو۔ بہر حال جو کچھ بھی تھا رسول اللہ نے نہ صرف یہ کہ مسجد میں نماز پڑھی بلکہ بعض مسلمانوں ( مالک بن خشم ، معنی بن عدی اور عامر بن سکر یا عاصم بن عدی ) کو حکم دیا کہ مسجد کو جلا دیں اور پھر اس کی دیواروں کو مسمار کروادیا۔ اور آخر کار اسے کوڑا کر کٹ پھینکنے کی جگہ قرار دے دیا۔ ۱

____________________

۱-مجمع البیان ، تفسیر ابو الفتوح رازی ، تفسیر المنار ، تفسیر المیزان ، تفسیر نور الثقلین اور دیگر کتب۔


مسجد کے روپ میں بت خانہ

گذشتہ آیات میں مختلف مخالف گروہوں کی کیفیت کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ زیر بحث آیات ایک اور گروہ کا تعارف کرواتی ہیں ۔یہ لوگ بڑے ماہرانہ منصوبہ اور سازشوں کے تحت میدان میں داخل ہوئے اللہ کی رحمت مسلمانوں کے شامل ِ حال ہوئی اور ان کا یہ منصوبہ اور سازش نقش بر آپ ہوگئی۔

پہلی آیت میں قرآن کہتا ہے : ان میں سے ایک گروہ نے مدینہ میں ایک مسجد بنائی ۔ مسجد کے مقدس نام کے پیچھے انھوں نے اپنے منحوس مقاصد چھپارکھے تھے( وَالَّذِینَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا)۔ ۲

۲ ۔ مفسرین نے اس جملے کی ترکیب کے سلسلے میں اگر چہ ادبی لحاظ سے مختلف نظر یات پیش کئے ہیں لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ جملہ گذشتہ جملوں پر عطف ہے جو منافقین کے بارے میں ہیں اور اس کی تقدیر یہ ہے ” منھم الذین اتخذوا مسجداً“۔

اس کے بعد ان کے چار طرح کے مقاصد کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے :

ا۔ ایک مقصد ان کا یہ تھا کہ اس طرح سے مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں (ضِرَارًا )۔ ”ضرار “ کا معنی ہے ” جانن بوجھ کر نقصان پہنچا نا “۔ دعویٰ تو یہ کرتے تھے کہ ان کا مقصد مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ ہے اور وہ بیمار اور ناتواں لوگوں کو مدد کرنا چاہتے ہیں ۔ درحقیقت وہ اس کے برعکس اپنے کاموں سے پیغمبر اسلام کا خاتمہ اور مسلمانوں کی سر کوبی چاہتے تھے یہاں تک کہ اگر ان کے بس میں ہوتا تو اسلام ہی کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے تھے ۔

۲ ۔ دوسرا مقصد ان کا کفر کی بنیادوں کو تقویت پہنچانا تھا ۔ وہ ان لوگوں کو اسلام سے پہلے کی سی حالت پر پلٹادینا چاہتے تھے ۔ (وَکُفْرًا

۳ ۔ وہ مسلمانوں میں صف میں تفرقہ ڈالنا چاہتے تھے کیونکہ اس مسجد میں کچھ لوگ جمع ہو نے لگتے تو اس سے مسجد قبا جو اس کے نزدیک تھی یا مسجد نبوی جو اس سے کچھ فاصلے پر تھی ، کی رونق ختم ہو جاتی( وَتَفْرِیقًا بَیْنَ الْمُؤْمِنِینَ ) ۔

جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے ، اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ مساجد کے درمیان فاصلہ اتنا کم نہیں ہو نا چاہئیے کہ دوسری مسجد کے اجتماع پر اثر انداز ہو ۔ اس بناء پر وہ لوگ جو قومی تعصب یا ذاتی اغراض کی بنیاد پر مسجد کے پاس ایک مسجد بنالیتے ہیں ، اور یوں مسلمانوں کے اجتماعات کے منتشر کرتے ہیں اور ان کے اس اقدام سے دوسری مساجد کی صفیں خالی ، بے رونق اور بے روح ہوجاتی ہیں وہ اہداف اسلامی کے خلاف عمل کرتے ہیں ۔

۴ ۔ ان کا آخری مقصد یہ تھا کہ ایسے شخص کے لئے ایک مر کز قائم کریں جو پہلے سے خدا اور اس کے رسول کے خلاف بر سر پیکار تھا اور اس کے سابقہ برے کار نامے لوگوں پر واضح تھے اور وہ اس مرکز سے اپنے منصوبوں کی تکمیل چاہتا تھا( وَإِرْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللهَ وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ ) ۔

لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ ان تمام برے اغراض اور منحوس مقاصد کو انھوں نے ایک خوب صورت اور پر فریب لاس میں چھپا رکھا تھا ۔ یہاں تک کہ وہ قسم کھاتے تھے کہ ہمارا نیکی کرنے کے علاوہ اور کوئی مقصد اور ارادہ نہیں( وَلَیَحْلِفُنَّ إِنْ اٴَرَدْنَا إِلاَّ الْحُسْنَی ) ۔

منافقین کا ہر دور اور زمانے میں یہی دستور رہا ہے وہ اپنے مقا صد کو خوشنما پردوں میں چھپا ئے رکھتے ہیں اور عام لوگوں کو منحرف کرنے کےلئے طرح طرح کی قسموں کا سہارا لیتے ہیں ۔ لیکن قرآن مزید کہتا ہے : وہ خدا جو سب کے اندرونی رازوں سے واقف ہے اور جس کے لئے غیب و شہود یکساں ہے ، گواہی دیتا ہے کہ یقینا وہ جھوٹے ہیں( وَاللهُ یَشْهَدُ إِنّهُمْ لَکَاذِبُونَ ) ۔

اس جملے میں ان کے مختلف تاکیدں نظر آتی ہیں :

پہلی یہ کہ یہ جملہ اسمیہ ہے ۔

دوسری یہ کہ لفظ ”انتاکید “ کے لئے ۔

تیسری یہ کہ ”لکٰذبون “ میں لام ابتداء اور تاکید کے لئے ۔

چوتھی یہ کہ فعل ماضی کی جگہ ”کٰذبون “ کا آنا ان کے جھوٹ بولنے کے استمرار اور دوام کی دلیل ہے ۔

اس طرح سے خدا تعالیٰ ان کی بڑی بڑی قسموں کا شدید ترین طریقے سے تکذیب کرتا ہے ۔

بعد والی آیت میں اس حیات بخش حکم کی مزید تاکید کے لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے : اس مسجد میں ہر گز قیام نہ کرواور اس میں نماز نہ پڑھو( لاَتَقُمْ فِیهِ اٴَبَدًا ) ۔

بلکہ اس مسجد کی بجائے زیادہ مناسب یہ ہے کہ اس مسجد میں عبادت قائم کرو جس کی بنیاد پہلے تقویٰ پر رکھی گئی ہے( لَمَسْجِدٌ اٴُسِّسَ عَلَی التَّقْوَی مِنْ اٴَوَّلِ یَوْمٍ اٴَحَقُّ اٴَنْ تَقُومَ فِیهِ ) ۔نہ یہ کہ یہ مسجد جس کی بنیاد روز اول ہی سے کفر ، نفاق ، بے دینی اور تفرقہ پر رکھی گئی ہے ۔

لفظ ”احق “( یعنی زیادہ مناسب اور سزا وار ) اگر چہ افضل التفضیل ہے لیکن یہاں لیا قت اور اہلیت کے لئے دو چیزوں کے درمیان موازنہ کے معنی میں نہیں آیا بلکہ مناسب ، لیاقت اور عدم لیاقت کے موازنہ کے لئے آیا ہے ۔ قرآنی آیات ، احادیث اور روز مرہ میں ایسی گفتگوو ں کے بہت سے نمونے موجود ہیں ۔مثلاً بعض اوقات ناپاک اور برے آدمی سے ہم کہتے ہیں کہ پاکیزگی اور اچھا کام کرنا تیرے لئے بہتر ہے اس بات کا یہ معنی نہیں کہ ناپاک رہنا اور برکام کرنا اچھا ہے لیکن بری چیز )۔

مفسرین نے کہاہے کہ جس مسجد کے بارے میں مندرجہ بالا جملے میں کہا گیا ہے کہ زیادہ مناسب یہ ہے کہ پیغمبر اس میں نماز پڑھیں اس سے مراد مسجد قبا ہے کہ جس کے قریب منافقین نے مسجد ضرّار بنائی تھی ۔

البتہ یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس سے مراد مسجد نبوی یا وہ تمام مساجد ہوں کہ جن کی بنیاد تقویٰ پر ہو لیکن ” اول یوم “ ( روز اول ) کی تعبیر کی طرف توجہ کرتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ مسجد قبا پہلی مسجد تھی جو مدینہ میں بنائی گئی ۔(کامل ابن ایثر جلد ۲ ص ۱۰۷)

پہلا احتمال ہی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے اگر چہ دوسری مساجد مثلاً مسجد نبوی کے لئے بھی یہ لفظ مناسب ہے ۔

اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے کہ علاوہ اس کے کہ اس مسجد کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے ، مردوں کاایک گروہ اس میں مشغول ِ عبادت ہے جو پسند کرتا ہے کہ اپنے آپ کو پاکیزہ رکھے اور خدا پاکزاد لوگوں کو دوست رکھتا ہے( فِیهِ رِجَالٌ یُحِبُّونَ اٴَنْ یَتَطَهرُوا وَاللهُ یُحِبُّ الْمُطّهِّرِینَ ) ۔

اس سلسلے میں اس پاکیز گی سے مراد ظاہری اور جسمانی پاکیز گی ہے یا معنوی اور باطنی پاکیزگی ، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ تفسیر تبیان اور مجمع البیان میں اس آیت کے ذیل،میں رسول اللہ سے ایک روایت نقل ہوئی ہے جس میں ہے کہ آپ نے مسجد قبا والوں سے فرمایا:ما ذا تفعلون فی طهر کم فان الله تعالیٰ قد احسن علیکم الثناء ، قالوا الغسل اثر الغائط

تم اپنے آپ کو پاک کرتے وقت کیا کام انجا م دیتے ہوکہ خدا نے تمہاری اس طرح سے مدح و ثناء کی ہے ۔

انھوں نے کہا : ہم اپنے پائیخانہ کے اثر کو پانی سے دھوتے ہیں ۔

اسی مضمون کی روایات امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل ہوئی ہیں لیکن جیسا کہ ہم نے بار ہا اشارہ کیا ہے ایسے مصداق کے لئے اس قسم کی روایات مفہوم ِ آیت کو منحصر کرنے کے لئے نہیں ہیں بلکہ جیسا کہ آیت کا ظہور مطلق ہے اور یہ گواہی دیتا ہے کہ طہارت یہاں ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے اس میں شرک و گناہ کے آثارسے روح کی پاکیز گی اور جسمانی کثافتوں کے آثار سے جسم کی پاکزگی سب شامل ہیں ۔

زیر بحث تیسری آیت میں دو گروہوں کے مابین موازنہ کیا گیا ہے ایک گروہ مومنین کا ہے جو مسجد قبا کی طرح کو مساجد کو تقویٰ کی بنیاد پر بناتے ہیں اور دوسرا گروہ منافقین کا ہے جو مسجد کو کفر و نفاق اور تفرقہ و فسادکی اساس پر تعمیر کرتے ہیں ۔

پہلے فرمایا گیا ہے : کیا وہ شخص جس نے مسجد کی بنیاد تقویٰ ، حکم الٰہی کی مخالفت سے پرہیز اور اس کی رضا طلب کرتے ہوئے رکھی ہے بہتر یا وہ شخص جس نے اس کی بنیاد کمزور اور گرجانے والی جگہ پر جہنم کے کنارے رکھی ہے جو عنقریب جہنم میں گر جائے گی( اٴَفَمَنْ اٴَسَّسَ بُنْیَانَهُ عَلَی تَقْوَی مِنْ اللهِ وَرِضْوَانٍ خَیْرٌ اٴَمْ مَنْ اٴَسَّسَ بُنْیَانَهُ عَلَی شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِی نَارِ جَهَنَّم ) ۔

”بنیان “مصدر ہے اور اسم مفعول کے معنی میں ہے یعنی بنیاد اور عمارت۔

”شفا“ کسی چیز کے کنارے یا کنگرہ کو کہتے ہیں ۔

”حرف “ نہر یا کنوئیں کا وہ حاشیہ اور کنارہ ہے جس کے نچلے حصے کو پانی نے خالی کردیا ہو۔

”ہار“ اس کمزور شخص یا کمزور عمارت کو کہتے ہیں جو گررہی ہو ۔

مندرجہ بالا تشبیہ منافقین کے کام کی بے ثباتی اور کمزوری کو اور اہل ایمان کے کام اور لائحہ عمل کے استحکام اور بقا کو روشن اور واضح کررہی ہے۔

مومن کی مثال اس شخص کی سی ہے جو ایک عمارت بنانے کے لئے بڑی مضبوط زمین منتخب کرے اور اس کی بیاد بھی مضبوط اور قابل اطمنان مصالح سے رکھے ۔

دوسری طرف مناطق کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اپنی عمارت دریا کے کنارے ایسی جگہ بنائے جس کے نچلے حصہ کی مٹی سیلاب بہا لے گیا ہواور جو ہر وقت گر نے کو تیار ہو ۔ نفاق کی بھی یہی صورت ہے اس کا بھی ظاہر ہے اور باطن کچھ نہیں اسی طرح اس عمارت کا بھی ظاہر ہے لیکن جس کی کوئی اساس نہیں یہ عمارت کسی بھی وقت گر سکتی ہے ۔ اہل نفاق کا مکتب و مذہب بھیاپنے کھلے باطن کے باعث کسی بھی وقت تباہی اور رسوائی کے انجام کو پہنچ سکتا ہے ۔

پرہیز گاریاور رضائے الہٰی کو طلب کرنا یعنی حقیقت سے ہم آہنگ ہونا، جہانِ خلقت اور اسرار حیات سے ہم قدم ہونا بلا شبہ بقاء اور ثبات کاعامل ہے ۔لیکن نفاق یعنی حقائق سے بے گانگی اور قوانینِ فطرت سے بغاوت بلا شبہ زوال اور فنا کاعامل ہے۔

منافقین چونکہ اپنے آپ سے بھی ظلم کرتے ہیں اور معاشرے ست بھی لہٰذا آیت کے آخر میں فرمایا گیاہے ، خدا ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا۔( وَاللهُ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ ) ۔

جیسا کہ ہم نے بر ہا کہاہے ، ہدایت ِ خدا وندی یعنی مقصد تک پہنچنے کے لئے مقد مات کی فراہمی صرف ان کے لئے ہے ۔

جو اس کا استحقاق اور اہلیت رکھتے ہیں ۔ لیکن وہ ظالم جن میں یہ اہلیت نہیں ہے یہ لطف و کرم ہرگز ان کے شامل حال نہیں ہوتا کیونکہ خدا حکیم ہے اور اس کی مشیت حساب و کتاب پر مبنی ہے ۔

زیر نظر آخری آیت میں منافقین کی ہٹ دھرمی ڈھٹائی کی طرف اشارہکرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اس طرح اپنے کام میں ہٹ دھرم ہیں اور نفاق و کفر کی تاریکی میں اس طرح سے سر گرداں ہیں کہ جو عمارت وہ خود کھڑی کرتے ہیں وہ شک و تردد کے عامل کے طور پر یاشک و تردد کے نتیجہ کے طور پر ان کے دلوں میں باقی رہ جاتی ہے مگریہ کہ ان کے دل کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور وہ موت کی آغوش میں چلے جائیں( لاَیَزَالُ بُنْیَانُهُمْ الَّذِی بَنَوْا رِیبَةً فِی قُلُوبِهِمْ إِلاَّ اٴَنْ تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ ) ۔

وہ ہمیشہ حیرت و سرگردانی کے عالم میں زندگی بسر کرتے ہیں اور یہ مرکز نفاق اور مسجد ضرارجو انھوں نے بناتھی ایک ہٹ دھرمی اور تردد کے عامل کی صورت میں ان کی روح میں اسی طرحباقی تھی ۔ اگر چہ رسول اللہ نے عمار ت کو جلودیا تھا اور مسمار کروادیا تھا ؛لیکن ایسے تھا جیسے اس کا نقش ان کے شک زدہ دل سے کبھی زائل نہ ہوگا ۔

آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : اور خدادانا و حکیم ہے( وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ ) ۔

خدا تعالیٰ نے اگر رسول اللہ کو ان کے خلاف اقدام کا حکم دیا اور ان کی ایسی عمارت کو مسمار کرنے کے لئے کہا کہ جو ظاہر حق کے لئے تھی تو یہ اس لئے تھا کہ وہ بنانے والوں کی بری نیتوں سے ، بد باطنی اور اس عمارت کی حقیقت سے آگاہ تھا۔۔ یہ حکم عین حکمت و مصلحت کے مطابق تھا اس کا مقصد اسلامی معاشرے کی بھلائی اور درستی تھا۔ یہ نہیں کہ یہ کوئی جلد بازی کا فیصلہ تھااور نہ ہی یہ غیض و غضب کا نتیجہ تھا ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ عظیم درس :

مسجد ضرار کا واقعہ تمام مسلمانوں کے لئے پوری زندگی میں ایک درس ہے ۔ کلام ِ خدا اور عمل رسول واضح طور پر نشان دہی کرتا ہے کہ مسلمانوں کو کبھی بھی ایسا ظاہر بین بھی نہیں ہونا چاہئیے کہوہ صرف ظاہر ی طور پر کاموں کے حق بجانب ہونے پر نظر رکھیں اور ان کے اصلی اغراض و مقاصد سے بے خبر اور لاتعلق رہیں ۔ مسلمان وہ ہے جو نفاق او رمنافق کو ہر وقت ، ہر جگہ ، ہر لباس میں اور چہرے میں پہچان لے ۔ اگر چہ دین و مذہب کے چہرے اور قرآن مسجد کی حمایت کے لباس ہی میں کیوں نہ ہو۔

مذہب سے مذہب کے خلاف فائدہ اٹھا ناکوئی نئی چیز نہیں ۔ استعمار گروں ، جابر حکمرانوں اور منافقوں کے طور طریقے ہمیشہ ہرمعاشرے میں یہی رہے ہیں ۔ اگر لوگ کسی خاص مطلب کی طرف جھاو رکھتے ہیں تو وہ پہلے انھیں تو وہ پہلے انھیں اسی جھاو سے غافل کرتے ہیں اور پھر اپنے استعماری مقاصد بروئے کار لاتے ہیں یہاں تک کہ وہ مذہب کے خلاف مذہب ہی کی قوت سے مدد لیتے ہیں ۔

اصولی طور پر جعلی پیغمبروں اور باطل مذاہب گھڑنے کا یہی فلسفہ تھا کہ اس راستے سے لوگوں کے مذہبی جھکاو اور میلان کو اپنی پسند کی راہ پر ڈال دیا جائے ۔

واضح رہے کہ مدینہ کے ماحول میں ، وہ بھی رسول اللہ کے زمنے میں جب اسلام اور قرآن لوگوں میں بہت زیادہ نفوذ کر چکا تھا ، اسلام کے خلاف کھلے بندوں جنگ ممکن نہ تھی بلکہ ضروری تھا کہ بے دینی کو دین کے پیکٹ میں پیش کیا جائے اور باطل کو حق لباس پہنا کر لایا جائے تاکہ سادہ دل لوگوں کو کھینچا جاسکے او ریوں برے مقاصد کو عملی جامہ پہنایا جاسکے ۔

لیکن سچا مسلمان وہ نہیں جو ایسا سطحی اور سادہ ہو کہ ایسے ظواہر سے دھوکا کھالے ۔ اسے چاہئیے کہ ایسے کاموں کے عوامل ، ان کے پیچھے کار فرما یاتھوں اور دوسرے قرائن کوسامنے رکھکر ان کی حقیقت معلوم کرے اور ظاہری چہرے ک پیچھے لوگوں کے باطنی چہرے کو بھی دیکھے ۔

مسلمان وہ نہیں جو ہر پکار کو صرف یہ دیکھ کر قبول کرلے کہ یہ حق کی آواز ہے چاہے وہ جس گلے سے بھی نکل رہی ہو اور نہ وہ مسلمان ہے جو اپنی طرف بڑھنے والے ہرہاتھ کو پکڑلے ۔ ہر کام جو ظاہر دینی ہو اسے دیکھتے ہیں اس کے ہم قدم ہو جائے ، اسلام کو ہوشیار ، آگاہ،حقیقت شناس ، مستقبل پر نظر رکھنے والااور تمام معاشرتی مسائل کا تجزیہ و تحلیل کرنے کے قابل ہونا چاہئیے ۔ چاہیئے کہ وہ فرشتوں کے لباس میں جنو کو پہچان لے ۔ چرواہے کے لباس میں بھڑئیے کو پہچان لے اور اپنے آپ کو دوست نماز دشمنوں سے مقابلے کے لئے تیار کرے ۔

اسلام میں ایک بنیادی چیز یہ ہے کہ ہر چیز سے پہلے نیتوں اور ارادوں کو دیکھا جائے ۔ اسلام کی نظر میں ہر عمل کی قدر و قیمت اس کی نیت کے ساتھ وابستہ ہے نہ کہاس کے ظاہر کے ساتھ ۔ نیت اگر چہ ایک باطنی چیز ہے تا ہم ممکن نہیں کہ کوئی شخص اپنی نیت صرف دل میں رکھے رہے اور اس کا اثر اس کے عمل میں ظاہر ہو اگر چہ وہ رازی داری میں بڑا ماہر اور استاد ہی کیوں نہ ہو۔

یہاں سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے کہ اتنا با عظمت مقام یعنی مسجد اور خانہ خدا ہونے کے باوجود اسے جلانے کا حکم کیوں دیا؟ وہ مسجد جس کی ریت کا ایک ذرہ باہر نہیں جا سکتا اسے کیوں تباہ کردیا اور وہ مقام کہ اگر نجس ہ وجائے تو فوراً پاک کرنا چاہئیے اسے شہر کی گندگی پھینکنے کامقام کیوں قرار دیا؟

ان سوالا ت کا ایک ہی جواب ہے اور وہ یہ کہ مسجد ضرارمسجد ہی نہ تھی ، در حقیقت وہ بت خانہ تھا ۔ مقدس جگہ نہ تھی افتراق اور نفاق کا مرکز تھا خدا کا گھر نہ تھا بلکہ شیطان کا گھر تھا۔ ظاہر نام اور نقاب کسی چیز کی حقیقت کو نہیں بدل سکتے۔

یہ ہے وہ عظیم درس جو مسجد ضرار کی داستان نے ہر دور کے تمام مسلمانوں دیا ہے ۔

اس بحث سے یہ امر بھی واضح ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد و اتفاق کی اسلام کی نظر اس قدر اہمیت ہے کہ اگر ایک مسجد کا دوسری مسجد کے قریب بنانا مسلمانوں کی صفوں کے درمیان تفرقہ بازی ، اختلاف اور شگاف پیدا ہونے کا باعث ہوتو وہ تفرقہ انداز مسجد غیرمقدس ہے ۔

۲ ۔ صرف نفی کافی نہیں :

دوسرا درس جو ہمیں مندرجہ بالا آیات سے ملتا ہے یہ ہے کہ خدا اپنے پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ مسجد ضرار میں نماز نہ پڑھو بلکہ اس مسجد میں نماز پڑھو جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے ۔

یہ ”نفی “ اور ” اثبات“ اسلام کے اصلی شعار ”لااله الا الله “ سے لے کر اس کے ہر چھوٹے بڑے پرگرام میں جلوہ گر ہے یہ امر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ ہمیشہہ رنفی کے ساتھ ایک اثبات ہونا چاہئیے تاکہ وہ خود جامہ عملی پہنے ۔ اگر ہم لوگوں کو برائی کے مراکز میں جانے سے منع کرتے ہیں تو ضروری ہے کہ ان کے مقابلے میں پاک و پاکیزہ مراکز قائم کریں جو معاشرے او رجمیعت کی روح تسکین کا باعث ہوں ۔ اگر غلط تفریح سے لوگوں کو روکتے ہیں تو ہمیں صحیح تفریح کے مواقع فراہم کرنا چاہییں ۔ اگر ہم سامراجی مدارس اور تعلیمی ادراروں میں جانے سے منع کرتے ہیں تو ضروری ہے کہ صحیح مراکز ِ تعلیم و تربیت مہیا کریں ۔ اگر ہم بے حیائی اور بے عفتی کی مذمت کرتے ہیں تو ہمیں نوجوانوں کے لئے شادی کے آسان وسائل فراہم کرنا چاہییں ۔

وہ لوگ جو اپنی تمام تر قوت ” نفی “ میں استعمال کرتے ہیں اور ان کے لائحہ عمل میں اثبات کا کوئی نام و نشان نہیں ، انھیں یقین کرلینا چاہئیے کہ ان کی نفی کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہے کیونکہ سنت خلقت ہے کہ تما غرائز او رجذبات کو صحیح راستے سے سیراب کیا جائے ۔ کیونکہ اسلام کا یہ مسلمہ طریقہ ہے کہ ” لا “ کو ”الاّ“ کےس اتھ باہم ہونا چا ہئیے تاکہ اس سے حیات بخش توحید پیدا ہو سکے ۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ یہ درس ہے کہ جسے بہت سے مسلمان فراموش کرچکے ہیں اور پھر بھی شکایت کرتے ہیں کہ اسلامی پرگراموں میں پیش رفت کیوں نہیں ہوتی حالانکہ ان کے خیالات کے بر عکس اسلام کا پر گرام نفی میں منحصر نہیں ہے اگر وہ نفی اور اثبات کو ساتھ ساتھ رکھتے تو اسلامی پیش رفت حتمی اور یقینی ہوتی ۔

۳ ۔ دو بنیادی شرطیں :

تیسرا قیمتی درس جو ہمیں مسجد ضرار کے واقعہ سے اور زیر بحث آیت سے ملتا ہے یہ ہے کہ ایک فعال او رمثبت دینی اور اجتماعی مرکز وہ ہے جو دو مثبت عناصر سے تشکیل پائے۔

پہلایہ کہ اس کی بنیاد اور مقصد پاک ہو (اسس علی التقویٰ من اول یوم

دوسرا یہ کہ اس کے حامی اور نگہبان پاک ، صالح ، صاحب ایمان ، مضبوط دل او رمخلص ہوں( فیه رجال یحبون ان یتطهروا ) ۔

ان دو منیادی ارکان کے نتیجہ اور مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا ۔


آیات ۱۱۱،۱۱۲

۱۱۱ ۔( إِنَّ اللهَ اشْتَرَی مِنْ الْمُؤْمِنِینَ اٴَنفُسَُمْ وَاٴَمْوَالَهُمْ بِاٴَنَّ لهُمْ الْجَنَّةَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِیلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ اٴَوْفَی بِعهْدِهِ مِنْ اللهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَیْعِکُمْ الَّذِی بَایَعْتُمْ بِهِ وَذَلِکَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ ) ۔

۱۱۲ ۔( التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاکِعُونَ السَّاجِدُونَ الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنْ الْمُنکَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللهِ وَبَشِّرْ الْمُؤْمِنِینَ ) ۔

ترجمہ

۱۱۱ ۔ خدا مومنین سے ان کی جانیں اور مال خرید تا ہے کہ تاکہ ( ان کے بدلے ) ان کے لئے جنت ہو( اس طرح سے کہ ) وہ راہ ِخدا میں جنگ کرتے ہیں ، قتل کرتے ہیں ۔یہ سچا وعدہ اس کے ذمہ ہے جو اسنے توریت ، انجیل اور قراں میں ذکر فرمایاہے اور خدا سے بڑھ کراپنا وعدہ وفا کرنے والا کون ہے ۔ اب تمہارے لئے خوش خبری ہے اس خرید و فریخت کے بارے میں جو تم نے خدا سے کی ہے اور یہ ( تمہارے لئے ) عظیم کامیابی ہے ۔

۱۱۲ ۔ ( مومن وہ ہیں جو ) توبہ کرنے والے ، عبادت کرنے والے ، حمد و ثنا کرنے والے ، سیا حت کرنے والے ، رکوع کر نے والے ، سجدہ کرنے والے ، برائی سے روکنے والے اور خدائی حود ( اور سر حدوں ) کی حفاظت کرنے والے ہیں اور ( ایسے ) مومنین کو خوشخبری دو۔

ایک بے مثال تجارت

گذشتہ آیات میں چونکہ جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے لہٰذا ان دو آیات میں ایک عمدہ مثال کے ساتھ صاحب ایمان مجاہدین کے بلند مقام کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اس مثال میں خدا نے اپنا خرید ار کی حیثیت سے تعارف کروایا ہے ارشاد ہوتا ہے : خدا نے مومنین سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لئے ہیں اور اس مال و متاع کے بدلے انھیں جنت دے گا( إِنَّ اللهَ اشْتَرَی مِنْ الْمُؤْمِنِینَ اٴَنفُسَُمْ وَاٴَمْوَالَهُمْ بِاٴَنَّ لهُمْ الْجَنَّةَ ) ۔

ہر خرید و فروخت کے معاملے میں پانچ بنیادی اراکین ہوتے ہیں جو یہ ہیں :۔

۱ ۔ خرید ار

۲ ۔ بیچنے والا

۳ ۔ مال و متاع

۴ ۔ قیمت اور

۵ ۔ معاملہ کی سند ۔

اس آیت میں خدا تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی طرف اشارہ کیا ہے ۔اپنے آپ کو خرید ار ، مومنین کو بیچنے والا، مومنین کی جانوں اور مالوں کو مال متاع اور جنت کو اس معالے کی قیتم قرار دیا ہے البتہ اس مال و متاع کو ادا کرنے کی طرز کے لئے ایک لطیف تعبیر استعمال کی گئی ہے یعنی ” وہ راہ خدا میں جنگ کرتے ہیں اور دشمنان ِ حق کو قتل کرتے ہیں یا اس راہ میں قتل ہو جاتے ہیں او رجام ِ شہادت نوش کرتے ہیں “( یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ ) ۔

در حقیقت خدا کا ہاتھ میدان جہاد میں صرف ہونے والے متاع ِ جان ومال کو لینے کےلئے کھلا ہے ۔

اس کے بعد پانچویں رکن کی طرف اشارہ ہے جو کہ معامے کی محکم سند ہے فرمایا گیا ہے : یہ خدا کے ذمہ سچا وعدہ ہے جو تین آسمانی کتابوں تورات، انجیل اور قرآن میں آیا ہے( وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِیلِ وَالْقُرْآنِ ) ۔

البتہ ”فی سبیل اللہ “ کی تعبیر کی طرف توجہ کرتے ہوئےاچھی طرح واضح ہوجاتاہے کہ خدا ان جانوں مساعی اور مجاہدات کا خریدار ہے جو اس راہ میں صرف ہوتی ہیں یعنی خدا ہر اس کو شش کو خریدار ہے جو حق و عدالت کے لئے ہو او رجو انسانوں کو کفر ظلم اور فساد کے چنگل سے نجات دلانے کے لئے ہو۔

اس کے بعد قرآن اس عظیم معاملے کے لئے تاکید کرتے ہوئے مزید کہتا ہے : خدا سے زیادہ اپنے وعدے کو پورا کرنے والا کون ہے( وَمَنْ اٴَوْفَی بِعهْدِهِ مِنْ اللهِ ) ۔یعنی اگر چہ ا س معالے کی قیمت فوراً ادا نہیں کی جائے گی تاہم بیع نسیہ(۱)

کے خطرات میں نہیں کیونکہ خد ااپنی قدرت اور بے نیازی کے سبب ہر شخص کی نسبت اپنے عہدوپیمان کو زیادہ پو را کرنے والا ہے ۔ نہ وہ بھولتا ہے اور نہ ادا کرنے سے عاجز ہے اور نہ ہی پورا کرنے کے بارے میں اور وعدہ کے مطابق قیمت ادا کرنے سے متعلق کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا۔

سب سے زیادہ جالب ِ نظر امر یہ ہے کہ ا س معاملے کے مراسم کی انجام دہی کے بعد کہ تجارت کرنے والوں کا معمول ہے کہ دوسرے کو مبارکبادی دی جاتی ہے ، خدا تعالیٰ معاملے کو سود مند قرار دےتے ہوئے کہتا ہے : تمہیں خوشخبری ہو ا س معاملہ پر ، جو تم نے انجام دیا ہے( فَاسْتَبْشِرُوا بِبَیْعِکُمْ الَّذِی بَایَعْتُمْ بِهِ ) ۔(۲)

ایسی نظیر دوسری عبارتوں میں بھی آئی ہے ۔ مثلاً سورہ صف کی آیات ۱۰ ، ۱۱ ، ۱۲ ، میں فرمایا گیا ہے ۔

( یا ایها الذین اٰمنوا هل ادلکم علی تجارة تنجیکم من عذاب الیه توٴمنون بالله و رسول و تجاهدون فی سبیل الله باموالکم و انفسکم ذاٰلکم خیرلکم انکنتم تعلمون یغفرلکم ذنوبکم ویدخلکم جنٰات تجری من تحتها الانهار و مسٰکن طیبة فی جنات عد ذٰلک الفوز العظیم ) ۔

یعنی اے ایمان والو! کیا تمہیں ایسی تجارت کی رہبری کروں جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دے ۔ اللہ اور ا س کے رسول پر ایمان لاو اور اپنے مالوں ا ور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے ۔ اگر تم جانو۔ وہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمہیں ایسی بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور جنات عدن میں رہنے کی پاکیز ہ جگہیں ہوں گی ۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے ۔

یہاں انسان پروردگار کے اس لطیف پر حیرت میں ڈوب جاتا ہے وہ خدا جو تمام عالم ہستی کا مالک ہے او رتمام جہاں آفرینش پر حاکم ِ مطلق ہے اور ہرشخص کے پاس جو کچھ ہے اسی کیطرف سے ہے جب وہ اپنی ہی عطا کردہ نعمتیں اپنے بندوں سے خرید نے پر آتا ہی ہے تو انھیں ہزارہا گناقیمت پر خریدتا ہے ۔

زیادہ عجیب تو یہ بات ہے کہ جہاد جو انسان کی اپنی سر بلندی اور ہر قوم و ملت کی کامیابی و افتخار کا ذریعہ ہے او راس کے ثمرات آخر کار خود انسان ہی کو حاصل ہوتے ہیں اسے اس متاع کی ادائیگی کا ذریعہ شمار کیا گیا ہے ۔ نیز اگر چہ ضروری ہے مال و متا ع اور قیمت کے درمیان کچھ توازن ہو نا چاہئیے لیکن اس پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے او رایک نائیدار متاع جو بہر حال فنا ہونے والی سے ( چاہے بیماری کے بستر پرختم ہو جائے یا میدان جنگ میں ) اس کے بدلے سعادت ابدی عطا کرتا ہے ۔

اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اگر چہ خدا تمام سچوں سے زیادہ سچا ہے اور اسے کسی سند اور ضمانت کی احتیاج نہیں ا س کے باوجود وہ اپنے بندوں کے لئے اہم ترین اسناد اور ضمانتیں پیش کرتا ہے ۔ پھر اس عظیم معاملہ کے آخر میں انھیں مبارک دیتاہے اور بشات دیتا ہے کیا اس سے بالاتر کسی لطف و کرم اور محبت و رحمت کا تصور ہو سکتا ہے اور کیا کوئی معاملہ اس سے بڑھ کر سود مندہو سکتا ہے ۔ اسی لئے ایک حدیث میں جابر بن عبد اللہ انصاری سے مروی ہے کہ جب زیر نظر آیت نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم مسجد میں تھے آپ نے اس آیت کو بلند آواز میں تلاوت کیا، اور لوگوں نے تکبیر کہی۔ انصار میں سے ایک شخص سامنے آیا ۔ اس نے بڑے تعجب سے پیغمبر سے پوچھا: کیا واقعاً یہ آیت تھی جو نازل ہو ئی ہے ۔

پیغمبر نے فرمایا:ہاں

وہ انصاری کہنے لگا :بیع ربیح لانقیل ولا نستقیل

یعنی ہم اس معاملہ کو نہیں لوٹائیں گے اور اگرہم سے چاہا گیا کہ اس سودے کو واپس کردیں تو تو ہم قبول نہیں کریں گے ۔(۳)

جیسا کہ قرآن کی روش ہے کہ ایک آیت میں ایک بات کو اجمال کے ساتھ پیش کرتا ہے اور بعد والی آیت میں اس کی تشریح و توضیح کرتا ہے ۔ دوسری محلِ بحث آیت میں مومنین جو خدا کے پاس اپنی جان و مال بیچنے والے ہیں ، کا واضح صفات کے ساتھ کا تعارف کرواتا ہے :

۱ ۔ وہ توبہ کرنے والے ہیں اپنے قلب و روح کی آلودگی کو توبہ کے پانی سے دھوتے ہیں( التَّائِبُونَ ) ۔

۲ ۔ وہ عبادت کرنے والے ہیں خدا سے راز و نیاز کے ذریعے اور اس کی پاک ذات کی پرستش سے خود سازی کرتے ہیں او راپنی اصلاح کرتے ہیں ۔( الْعَابِدُونَ ) ۔

۳ ۔ وہ پر وردگا رکی مادی او رمعنوی نعمتون پر اس کی حمد و ثنا کرتے ہیں( الْحَامِدُونَ ) ۔

۴ ۔ وہ ایک مرکز عبادت سے دوسرے مرکز کی طرف آتے جاتے ہیں( السَّائِحُونَ ) ۔اسی طرح ان کا عبادت کے ذریعے خود سازی کا لائحہ عمل محدود ماحول میں منحصر نہیں رہتا اور کسی خاص علاقے سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ ان کے لئے ہر جگہ پر وردگار کی عبادت خو دسازی او رتربیت کا مر کز موجود ہے اور جہاں کہیں بھی اس سلسلے میں کوئی درس مل سکتا ہووہ اس کے طالب ہیں ۔

”سائح“ اصل میں ” سیح“ اور ”سیاحت“ کے مادہ سے جاری رہنے اور استمرار کے معنی میں لیا گیا ہے ۔

یہ کہ زیر نظر آیت میں ”مسائح “ سے مراد کس قسم کی سیاحت اور استمرار مراد لی ہے ۔ رسول اللہ کی ایک حدیث میں ہے :۔

سیاحة امتی فی المساجد

میری مات کی سیر و سیاحت مساجد میں ہے ۔( تفسیر المیزان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں )

بعض نے ”صائح “ کو ”صائم “ یعنی روزہ دار ) کے معنی میں لیا ہے کیو نکہ روزہ پورے دن میں ایک مسلسل کام ہے ۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم نے فرمایا ہے :۔ان السائحین هم الصائمون

سائحون روزہ دارہی ہیں ۔( تفسیر نور الثقلین اور دیگر تفاسیر )

بعضدوسرے مفسرین نے سیاحت کو روئے زمین میں سیر و گردش، عظمت ِ خدا کے آثار کا مشاہدہ ، انسانی معاشروں کی پہچان اور مختلف اقوام کی عادات ورسول او رعلوم دانش سے آشنائی جو کہ انسانی افکار کو زندہ اور پختہ کرتی ہے ، سمجھا ہے ۔

بعض دوسرے مفسرین سیا حت کو میدان جہاد ار دشمن سے مقابلے کے لئے سیر و حرکت کے معنی میں سمجھتے ہیں اس سلسلے میں وہ اس مشہور حدیث ِ رسول کو شاہد قرار دیتے ہیں ، کہ :ان سیاحة امتی الجهاد فی سبیل الله

میری امت کی سیرو سیاحت اللہ کی راہ میں جہا د کرنا ہے ۔ ( تفسیر المیزان اور تفسیر المنار ، محل ِ بحث آیت کے ذیل میں )۔

کچھ نے اسے جہان ہستی ، عوامل سعادت اور اسبا ب شکست سے مربوط عقل و فکر کی سیر کے معنی میں سمجھا ہے ۔

لیکن قبل اور بعد کے جو اوصاف شمار کئے گئے ہیں ان کی طرف توجہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام معانی میں پہلا معنی زیادہ مناسب معلوم نظر آتا ہے ۔ اگر چہ تمام معانی بھی اس لفظ سے مراد لئے جاسکتے ہیں کیونکہ یہ تمام مفاہیم سیر و سیاحت کے مفہوم میں جمع ہیں ۔

۵ ۔ وہ عظمت الٰہی کے سامنے رکوع کرتے ہیں( الرَّاکِعُونَ ) ۔

۶ ۔ وہ اس کے آستانہ پر جبّہ آسائی کرتے ہیں( السَّاجِدُونَ ) ۔

۷ ۔ وہ لوگوں کو نیکیوں کی دعوت دیتے ہیں( الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ ) ۔

۸ ۔ وہ صر ف نیکی کی دعوت دینے کا فریضہ ادا نہیں کرتے بلکہ ہر قسم کی برائی اور منکر سے بھی جنگ کرتے ہیں( وَالنَّاهُونَ عَنْ الْمُنکَرِ ) ۔

۹ ۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ادائیگی کے بعد اپنی آخری اور زیادہ اہم اجتماعی ذمہ داری یعنی حدود خداندی کی حفاظت ، اس کے قوانین کا اجراء اور حق و عدالت کے قیام کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں( وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللهِ ) ۔

یہ نو صفات بیان کرنے کے بعد خدا تعالیٰ دوبارہ ایسے سچے او رمکتب ایمان و عمل کے تربیت یافتہ مومنین کو تشویق دلاتا ہے اور پیغمبر اکرم سے کہتا ہے : ان مومنین کو بشارت دو:( وَبَشِّرْ الْمُؤْمِنِینَ ) ۔

یہاں یہ نہیں بتا یا گیا کہ کس چیز کی بشارت ہے یا دوسرے لفظوں میں بشارت بطور مطلق آئی ہے لہٰذا وہ ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے جس میں ہر طرح کی خیر وسعادت شامل ہے یعنی انھیں ہر خیر ، ہر سعادت ، ہر افتخار اور ہر اعزاز کی بشارت دو۔

اس نکتے کی طرف توجہ بھی ضروری ہے کہ ان نو قسم کی صفات میں سے بعض( چھ پہلی صفات ) خو د سازی اور افراد کی تربیت کے ساتھ مربوط ہیں اور ان کا دوسرا حصہ ( ساتویں اور آٹھویں صفت ) اجتماعی فرائض سے متعلق ہے اور معاشرے کو پا ک رکھنے کی طرف اشارہ ہے اور آخری صفت سب لوگوں کی ذمہ داری بیان کررہی ہے اور وہ ہے صالح حکومت کا قیام او رمثبت سیاسی امور میں بھر پور شر کت ۔

____________________

۱۔ بیع نسیہ یہ ہے کہ جو چیز بیچی جائے وہ تو خریدنے والے کو دے دی جائے لیکن اس کی قیمت بعد میں ادا کرنا ہو ۔ ( مترجم )

۲”فاستبشروا ” مادہ “بشارت “ در اصل ”بشره “ یعنی چہرہ کے معنی سے لیا گیا ہے اور خوشی کی طرف اشارہ ہے جس کے آثار چہرے پر ظاہر ہوتے ہیں ۔

اور یہ تم سب کے لئے عظیم کامیابی ہے (وَذَلِکَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ

۳۔ تفسیر المیزان بحوالہ در المنثور۔


آیات ۱۱۳،۱۱۴

۱۱۳ ۔( مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِینَ آمَنُوا اٴَنْ یَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِینَ وَلَوْ کَانُوا اٴُوْلِی قُرْبَی مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اٴَنَّهُمْ اٴَصْحَابُ الْجَحِیمِ ) ۔

۱۱۴ ۔( وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِیمَ لِاٴَبِیهِ إِلاَّ عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِیَّاهُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهُ اٴَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّاٴَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِیمَ لَاٴَوَّاهٌ حَلِیمٌ ) ۔

ترجمہ

۱۱۳ ۔ پیغمبر او رمومنین کے لئے مناسب نہیں تھا کہ مشرکین کے لئے ( خدا سے ) بخشش طلب کریں اگر چہ وہ ان کے قریبی کیوں نہ ہوں جبکہ ان پر روشن ہو گیا کہ یہ لوگ اصحاب ِ دوزخ ہیں ۔،

۱۱۴ ۔اور ابراہیمعليه‌السلام کی استغفار اپنے ( بمنزلہ) باپ ( چچا آزر) کے لئے صرف اس وعدہ کی وجہ سے تھی کہ جو اس سے کیا گیا تھا ( تاکہ اسے ایمان کی طرف ترغیب دیں )لیکن جب اس پر واضح ہو گیا کہ وہ دشمن ِ خدا ہے تو اس سے بیزاری کی ۔ کیونک ابرہیمعليه‌السلام مہر بان او ربرد بار ہے ۔

شان نزول

تفسیر مجمع البیان میں مندرجہ بالا آیات کی شان نزول کے ابرے میں یہ روایت نقل ہو ئی ہے کہ بعض مسلمان پیغمبر اکرم سے کہتے تھے کہ کیا آپ ہمارے آباء و اجداد جو زمانہ جاہلیت میں مر گئے تھے ، کے لئے طلب بخشش نہیں کرتے اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور انھیں خبردار کیا گیا کہ کوئی شخص حق نہیں رکھتا کہ مشرکین کے لئے استغفار کرے۔

ان آیات کی شان نزول کے بارے میں کچھ اور مطالب بھی بیان کئے گئے ہیں جو آیت کی تفسیر کے آخر میں آئیں گے۔

دشمنوں سے لاتعلقی ضروری ہے

پہلی آیت ایک اچھی اور قطعی تعبیر کے ساتھ پیغمبر اور مومنین کو مشرکین کے لئے استغفار سے منع کرتی ہے اور کہتی ہے :مناسب نہیں کہ پیغمبر اور صاحب ایمان افراد مشرکین کے لئے طلب مغرفت کریں( مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِینَ آمَنُوا اٴَنْ یَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِینَ ) ۔

اس کے بعد تاکید کے طور پر اور عمومیت کے لئے مزید کہا گیا ہے : یہاں تک کہ وہ ان کے نزدیکی ہی کیوں نہ ہوں( وَلَوْ کَانُوا اٴُوْلِی قُرْبَی ) ۔

اس کے بعد اس امر کی دلیل بیان کی گئی ہے : جب مسلمانوں پر واضح ہو گیا کہ مشرکین اہل جہنم ہیں اب ان کے لئے طلب مغفرت کے کوئی معنی نہیں ہیں( مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اٴَنَّهُمْ اٴَصْحَابُ الْجَحِیم ) ۔یہ بالکل فضول کا م اور نامناسب آرزو ہے ۔ کیونکہ مشرک کسی طرح بھی قابل بخشش نہیں ہے اور جو شرک کی راہ پر ہیں ان کے لئے راہ نجات کا تصور نہیں ہوسکتا۔

علاوہ ازیں استغفار اور طلب بخشش ایک طرح سے مشرکین کے ساتھ محبت ، وابستگی اور لگاو کا اظہار بھی ہے او ریہ وہ چیز ہے جس سے قرآن میں بار ہا منع کیا گیا ہے ۔

قرآن سے آگاہ اور آشنا مومنین نے چونکہ اس آسمانی کتاب میں پڑھ رکھا تھا کہ حضرت ابراہیمعليه‌السلام نے اپنے چچا آزر کے لئے استغفار کی تھی تو ممکن تھا ان کے ذہن میں فوراً یہ سوال پیدا ہوتا کہ آزر مشرک تھا او راگر یہ کام ممنوع ہے تو خدا کے اس عظیم پیغمبرعليه‌السلام نے کیوں انجام دیا لہٰذا زیر نظر آیت میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے : ابرہایم کی استغفار اپنے بات (کے بمنزلہ چچا) کے لئے ایک وعدہ کی بنا پر تھی جو انھوں نے ا س سے کیا تھا لیکن جب وہ ان پر واضح ہو گیا کہ وہ دشمن خدا ہے تو انھوں نے اس سے بیزاری اختیار کرلی اور پھر ا س کے لئے استغفار نہیں کی( وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِیمَ لِاٴَبِیهِ إِلاَّ عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِیَّاهُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهُ اٴَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّاٴَ مِنْهُ ) ۔

آیت کے آخر میں قرآن مزید کہتا ہے : ابراہیم وہ تھے جو بار گاہ خدا میں خاضع اور غضب الہٰی سے خائف بزرگوار تھے اورحلیم و برد بار تھے ۔( ان ابراهیم لا واه حلیم ) ۔

ہوسکتا ہے یہ جملہ ابراہیمعليه‌السلام کے آزر کے لئے استغفار کرنے کے وعدہ کی دلیل کے طور پر ہو کیونکہ ایک تو آپ حلیم و بر د بار تھے اور دوسری صفت آپ کی ”اواہ “ بیان ہو ئی ہے جو بعض تفاسیر کے مطابق رحیم اور رحمن کے معنی میں ہے۔ ان صفات کا تقاضا تھا کہ آپ آزر کی ہدایت زیادہ کوشش کرتے اگرچہ وہ وعدہ استغفار اور اس کے گذشتہ گناہوں کےلئے طلب بخشش کی صورت میں ہو۔

یہ احتمال بھی ہے کہ مندرجہ بالا جملہ اس امر کے لئے ہو کہ حضرت ابراہیمعليه‌السلام میں جو خشوع و خضوع تھا اور آپ میں خدا کی مخالفت کا جو خوف تھا اس کی وجہ سے وہ حق کے دشمنوں کے لئے استغفار کرنے کو بالکل تیار نہ تھے ۔ بلکہ یہ کام اس زمانے سے مخصوص تھا جب آپ کو آزرکی ہدایت کی امید تھی لہٰذا صرف ا س کی دشمنی واضح ہوتے ہی آپ نے اس کام سے صرف نظر کرلیا ۔

اگر سوال ہو کہ اس وقت مسلمانوں کو کیسے معلوم ہوگیا کہ ابراہیمعليه‌السلام نے آزر کے لئے استغفار کی تھی تو ہم جواب میں کہیں گے سورہ توبہ کی یہ آیات، جیسا کہ ہم ابتداء میں اشارہ کرچکے ہیں پیغمبر خدا کی عمر کے آخری حصے میں نازل ہوئی تھیں جبکہ مسلمان پہلے سے سورہ مریم کی آیت ۴۷ پڑھ چکے تھے ۔ اس میں ہے کہ حضرت ابراہیمعليه‌السلام نے ” ساستغفرک ربی “کہہ کر آزر سے استغفار ککا وعدہ کیا تھا ۔ اور یہ بات مسلم ہے کہ خدا کا پیغمبر کسی سے فضول اور بلاوجہ وعدہ نہیں کرتا اور جب وہ وعدہ کرتا ہے تو اس کی وفا بھی کرتا ہے ۔

نیز سورہ منتحہ کی آیت ۴ میں بھی وہ پڑھ چکے تھے کہ حضرت ابراہیم کی استغفار صراحت سے آئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے :

( و اغفرلی لابی انه کان من الضآلّین ) ( الشعراء ۔ ۸۶)

چند اہم نکات

۱ ۔ ایک جعلی روایت :

کئی سنی مفسرین نے صحیح بخاری ، مسلم اور دیگر کتب سے سعید بن مسیب کے واسطے سے اس کے باپ سے ایک جعلی رویات نقل کی ہے وہ یہ ہے کہ جب ابو طالب کی موت کا وقت آیا تو پیغمبر اکرم ان کے پاس گئے جبکہ ابو جہل اور عبد اللہ بن امیہ ان کے پا س بیٹھے تھے تو پیغمبر اکرم نے ان سے فرمایا: اے چچا آپ ”لا اله الاالله “ کہیں تاکہ میں اس کے ذریعے پروردگارکے ہاں آپ کی شفاعت کروں ۔ اس وقت ابو جہل اور عبد اللہ بن امیہ نے ابو طالب کی طرف رخ کیا اور کہا: کیا تم چاہتے ہو کہ ( اپنے باپ ) عبد اللہ کے دین سے منہ پھیر لو۔ پیغمبر خدا نے ان سے وہی بات بار بار کہی ۔ مگر ابو جہل اور عبد اللہ وہی کہتے ہوئے روکتے رہے ۔ آخری بات جو ابو طالب نے کہی وہ یہ تھی ۔ ” عبد المطلب کے دین پر اور ”لا اله الا الله “ کہنے سے اجتناب کیا ۔ اس وقت پیغمبر اکرم نے فرمایا : میں آپ کے لئے استغفار کرتار ہوں گا یہاں تک کہ مجھے اس سے روکاجائے اس وقت یہ آیت نازل ہو ئی ”( ما کان للنبی و الذین اٰمنوا ) “ ( تفسیر المنار او راہل سنت کی دیگر تفاسیر )

اس حدیث میں جعلی ہونے کی نشانیاں صاف نظر آرہی ہیں ۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ مفسرین اور محدثین کے درمیان مشہور ہے کہ سورہ برات ۹ ھ ء میں نازل ہوئی بلکہ بعض کے نظرئیے کے مطابق یہ آخری سورت ہے جو پیغمبر اکرم پر نازل ہوئی ۔ جبکہ مورخین نے لکھا ہے کہ جناب ابو طالب کی وفات مکہ میں رسول اللہ کی ہجرت سے پہلے ہوئی ہے ۔

اسی واضح تضاد کی بناء پر متعصبین مثلا ًصاحب المنار نے ہاتھ پاوں مار ے ہیں ۔ کبھی کہا ہے کہ یہ آیت دو مرتبہ نازل ہوئی ، ایک دفعہ مکہ میں اور ایک دفعہ مدینہ میں ۹ ء ھ میں ۔ اس بے دلیل دعویٰ سے انھوں نے اپنے خیال میں اس واضح تضاد کو بر طرف کرنے کی کوشش کی ہے کبھی کہا ہے کہ ہو سکتا ہے یہ آیت مکہ میں وفات ابوطالب کے وقت نازل ہوئی ہو ۔

پھر بعد میں رسول اللہ کے حکم سے سورہ توبہ میں رکھ دی گئی ہو جبکہ یہ دعویٰ بھی بالکل دلیل سے عاری ہے ۔ کیا بہتر نہ تھا کہ بجائے ایسے بے سند توجہات کرنے مذکورہ روایت اور ا س کی صحت میں تردد کیا جاتا۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس میں شک نہیں کہ حضرت ابو طالب کی وفات سے پہلے خدا تعالیٰ قرآن کی چند آیات میں مسلمانوں کو مشرکین کی دوستی اور محبت سے منع کرچکا تھا اور ہم جانتے ہیں کہ استغفار کرنا دوستی اورمحبت کے اظہار کا ایک واضح ترین مصداق ہے اس کے باوجود کسی طرح ممکن ہے کہ ابو طالب دنیا سے مشرک کے طور پر چلے جائیں اور پھر رسول اللہ قسم کھائیں کہ میں تو اسی طرح تمہارے لئے استغفار کرتا رہوں گا جب تک خدا مجھے اس سے منع نہ کر دے۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ فخرالدین رازی اس کا تو انکار نہیں کرسکا کہ یہ آیت باقی سورہ تو بہ کی آیات کی طرح مدینہ میں پیغمبر اکرم کی آخری عمر میں نازل ہوئی ہے لیکن ایسے مسائل میں اپنے مشہور تعصب کی بناء پر ایک اور توجیہ کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ رسو ل اللہ ابو طالب کی وفات کے بعد اسی طرح مسلسل سورہ توبہ کے نزول تک ان کے لئے استغفار کرتے رہے ۔ یہاں تک ایک مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور انھیں منع کیا گیا ۔ اس کے بعد کہتا ہے : اس میں کیا حرج ہے کہ یہ چیز پیغمبر اور مومنین کے لئے اس وقت تک جائز ہو۔

اگر فخرالدین رازی اپنے آپ کو تعصب کی قید سے آزاد کرلیتا تو اس حقیقت کی طرف متوجہ ہوجاتا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم اتنی طویل مدت تک ایک مشرک شخص کے لئے استغفار کریں جبکہ بہت سی قرآنی آیا ت جو اس وقت تک نازل ہو چکی تھیں ۔ مشرکین کے ساتھ ہر قسم کی محبت اور دوستی کی مذمت کرچکی تھیں ۔(۱)

تیسری بات یہ ہے کہ وہ اکیلا شخص جس نے یہ روایت نقل کی ہے وہ سعید بن مسیب ہے اور اس کی امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے دشمنی مشہور ہے ۔ اس بناء پر اس کی بات پر حضرت علیعليه‌السلام ان کے والد اور ان کی اولاد کے بارے میں ہر گز اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔

علامہ امینی نے مذکورہ بات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد واقدی سے ایک بات نقل کی ہے جو قابل توجہ ہے واقدی کہتا ہے :۔

سعید بن مسیب حضرت امام سجاد علی بن الحسین علیہ السلام کے جنازے کے قریب سے غذرا او ران کی نماز جنازہ نہ پڑھی( اور ایک فضول عذر کے ) اس کام سے اجتناب کیا لیکن ابن حزم کے بقول جب لوگوں نے اسے پوچھا کہ کیا تم حجاج کے پیچھے نماز پڑھتے ہو یا نہیں تو اس نے کہا کہ ہم حجاج سے بد تر کے پیچھے نما پڑھ لیتے ہیں ۔

چوتھی بات یہ ہے کہ جیسا کہ اسی تفسیر کی پانچویں جلد میں ہم کہہ آئے ہیں کہ اس میں شک نہیں کہ حضرت ابو طالب پیغمبر اسلام پر ایمان لے آئے تھے ۔ اس سلسلے میں ہم نے واضح مدرک اور دلائل پیش کئے ہیں اور ثابت کیا ہے کہ جو کچھ جناب ابو طالب کے ایمان نہ لانے کے بارے میں کہا گیا ہے وہ ایک بہت بڑی تہمت ہے ۔ تمام شیعہ علماء او ربہت سے سنی علماء مثلاًابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں قسطلانی نے ارشاد الباری میں اور زینی وحلان نے تفسیر حلبی کے حاشیہ پر اس امر کی تصریح کی ہے ۔

ایک باریک بین محقق اگر اس لہر کی طرف توجہ کرے جو بنی امیہ کے حکام کی طرف سے حضرت علیعليه‌السلام کے خلاف سیاسی مقاصد کے تحت اٹھی تھی تو وہ اچھی طرح اندازہ لگا سکتا ہے کہ جو شخص بھی آپ سے رشتہ اور تعلق رکھتا تھا وہ اس سازش سے امان میں نہیں تھا ۔ در حقیقت حضرت ابو طالب کا اس کے علاوہ کوئی گناہ نہیں تھا کہ وہ اسلام کے عظیم پیشوا علی بن ابی طالب علیہ السلام کے باپ تھے ۔ کیاان لوگوں نے ابو ذر جیسے عظیم مجاہد ِ اسلام پر حضرت علیعليه‌السلام سے عشق و محبت اورمکتب عثمان سے مقابلے کی وجہ سے ایسی تہمتیں نہیں لگائیں ۔

حضرت ابو طالب جو ساری زندگی پیغمبر اسلام کے حامی اور ان کے محافظ رہے اور آپ ہر طرح سے فرمانبرداری کرتے رہے ، ان کے ایمان کے سلسلے میں مزید اطلاع کے لئے اسی تفسیر کی جلد پانچ کے صفحہ ۱۶۶ تا صفحہ ۱۷۱ ( اردو ترجمہ ) کی طرف رجوع فرمائیں ۔

۲ ۔ حضرت ابراہیمعليه‌السلام نے آزر سے استغفار کاوعدہ کیوں کیا؟

دوسرا سوال جو یہاں سامنے آتا ہے یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے اپنے چچا آزر سے استغفار کاوعدہ کیونکر کیا جبکہ زیر بحث آیت اور قرآن کی دیگر آیات کے مطابق آپ نے یہ وعدہ پورا کیا ، حالانکہ وہ ہر گز ایمان نہیں لایا اور وہ مشر کوں اور بت پرستوں میں سے تھا او رایسے افراد کے لئے استغفار کرنے کی ممانعت ہے ۔

اس سوال کے جواب میں اس نکتے کی طرف توجہ کرنا چاہئیے کہ مندرجہ بالا آیت سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم کو توقع تھی کہ انتظار تھا کہ اس طریقے سے آزر، ایمان او ر توحید کی طرف مائل ہ وجائے گا اور ان کی استغفار حقیقت میں یہ تھی کہ خدا وند اسے ہدایت کر اور اس کے گذشتہ گناہوں کو بخش دے لیکن جب آزر نے حالت شرک میں اپنی آنکھیں دنیا سے بند کیں اور حضرت ابراہیم کے لئے مسلم ہو گیا کہ وہ پر وردگار کی دشمنی میں امر ہے اور اب اس کی ہدایت کی کوئی گنجائش نہیں رہی تو آپ نے اس کے لئے استغفار کو ختم کردیا ۔

اس معنی کے مطابق مسلمان بھی اپنے مشرک دوستوں اور رشتہ داروں کے لئے، جب تک وہ بقید حیات ہیں اور ان کی ہدایت کی امید ہو سکتی ہے استغفارکریں یعنی خدا سے ان کے لئے ہدایت اور بخشش دونوں طلب کریں لیکن جب وہ حالت ِکفر میں مر جائیں تو ان کے لئے اب استغفار کا کوئی موقع نہ رہے گا۔

باقی رہا یہ جو بعض روایات میں آیا ہے کہ امام صا دقعليه‌السلام نے فرمایا کہ حضرت ابراہیمعليه‌السلام نے وعدہ کیا تھا کہ اگر آزر اسلام لے آیا تو اس کے لئے استغفار کریں گے( نہ کہ اسلام لانے سے پہلے ) اور جس وقت ان پر واضح ہو گیا کہ وہ دشمن خدا ہے تو آپ نے اس سے بیزاری اختیار کی ۔ اس بناء پر ابراہیم کا وعدہ مشروط تھا اور چونکہ شرط پوری نہ ہوئی اس لئے انھوں نے کبھی اس کے لئے استغفا رنہیں کی۔

یہ روایت مرسل اور ضعیف ہونے کے علاوہ ظاہر یا صریح آیات ِ قرآن کے مخالف ہے کیونکہ زیر بحث آیت کا ظہور یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے استغفار کی ۔ سورہ شعراء کی آیت ۸۶ میں صراحت سے ہے کہ ابراہیمعليه‌السلام نے خدا سے اس کی بخشش کا تقاضا کیا تھا ۔ ارشاد ہوتا ہے :واغفر لابی انه کان من الصآلّین

اس کا دوسرا شاہد وہ مشہور جملہ ہے جو ابن عباس سے نقل ہوا ہے کہ جن تک آزر زندہ تھا حضرت ابراہیم نے بار ہا اس کے لئے استغفار کی لیکن جب وہ حالتِ کفر میں مر گیا اور اس کی دین ِ حق سے عداوت مسلم ہو گئی تو آپ بھی اس کام سے رک گئے۔

بعض مسلمان چونکہ اپنے بزرگ مشرکین کے لئے جو حالت کفر میں مر گئے تھے استغفارکرنا چاہتے تھے لہٰذا قرآن نے صراحت کے ساتھ انہیں منع کیا اور تصریح کی ابراہیم کا معاملہ بالکل ان سے مختلف تھا وہ تو آزر کی زندگی میں اور ا س کے ایمان کی امید پر ایسا کرتے تھے نہ کہ اس کی موت کے بعد ۔

۳ ۔ دشمنوں سے ہر قسم کا تعلق توڑ لینا چاہئیے :

زیر بحث آیت کوئی واحد آیت نہیں ہے جو مشرکین سے ہر قسم کا رابطہ منقطع کرنے کی بات کرتی ہے ۔ بلکہ قرآن کی متعدد آیات سے یہ امر اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ ہر قسم کا رابطہ ، رشتہ داری ، قطع تعلق اور عدم رشتہ داری مکتبی اور مذہبی بنیادوں پر ہو نا چاہئیے اور یہ رشتہ ( خدا پر ایمان اور اس قسم کے شرک اور بت پرستی سے مقابلہ )مسلمانوں کے تمام روابط پر حاوی ہو نا چاہئیے کیونکہ یہ رشتہ داری بنیادی ہے او ریہ رابط تمام اجتماعی اور معاشرتی امور پر حاکم ہے ۔ سطحی اور ظاہری رشتے ناتے اس کی ہر گز نفی نہیں کرسکتے۔ یہ درس کل کے لئے بھی تھا اور آج کے لئے بھی ہے ۔یہ ہر زمانے اور ہر دور کے لئے ایک سبق ہے ۔


آیات ۱۱۵،۱۱۶

۱۱۵ ۔( وَمَا کَانَ اللهُ لِیُضِلَّ قَوْمًا بَعْدَ إِذْ هَدَاهُمْ حَتَّی یُبَیِّنَ لَهُمْ مَا یَتَّقُونَ إِنَّ اللهَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ ) ۔

۱۱۶ ۔( إِنَّ اللهَ لَهُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ یُحْیِ وَیُمِیتُ وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَنَصِیرٍ ) ۔

ترجمہ

۱۱۵ ۔ ایسا نہ تھا کہ خدا کسی قوم کو ہدایت ( اور ایمان ) کے بعد سزا دے مگر یہ کہ جس سے انھیں بچنا چاہئیے اسے ان کے لئے بیان کردے( او رو ہ اس کی مخالفت کریں ) کیونکہ خدا ہر چیز سے دانا ہے ۔

۱۱۶ ۔ آسمانوں اور زمیں کی حکومت اس کے لئے ہے ( وہ ) زندہ کرتا ہے او رمارتا ہے اور خدا کے علاوہ کوئی ولی اور مدد گار نہیں ہے ۔

شان نزول

بعض مفسرین نے کہا ہے کہ کچھ مسلمان فرائض ، و واجبات کے نزول سے پہلے اس دنیا سے چل بسے ۔کچھ لوگ رسول اللہ کی خدمت میں آئے اور ان کے انجام کے بارے میں پریشانی کا اظہار کیا ان کا خیال تھا کہ شاید فوت شدہ مسلمان عذاب الہٰی میں گرفتار ہوں کیونکہ انھوں نے یہ فرائض انجام نہیں دئیے تھے اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور اس با ت کی نفی کی گئی ۔ (مجمع البیان ، محل آیت کے ذیل میں )۔

بعض دوسرے مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت سابقہ آیات میں وارد صریح ممانعت سے پہلے مسلمانوں کے مشرکین کے لئے استغفار کرنے اور ان سے اظہار محبت کرنے کے بارے میں نازل ہوئی اور انھیں اظمینان دلایا ہے کہ ان کی استغفار جو خدا کی ممانعت سے پہلے تھی اس پر ان کا مواخذہ نہیں ہوگا۔

____________________

۱۔سوره ٴ نساء مسلماً سورہ برات سے پہلے نازل ہوئی اس کی آیت ۱۳۹ میں اور سورہ آل ِ عمران بھی برات سے پہلے نازل ہوئی اس کی اایت ۳۸ میں صراحت سے کفار سے دوستی اور محبت کرنے کو منع کیا گیا ہے اور خو د اسی سورہ توبہ کی زیر بحث آیت سے پہلے کی آیات میں خدا تعالیٰ اپنے پیغمبر سے بالصراحت کہتا ہے :۔ ان ( کفار ) کے لئے استغفار کرو یانہ کرو خداانھیں نہیں بخشے گا ۔


واضح حکم کے بعدسزا

مندرجہ بالا پہلی آیت ایک عمومی قانون کی طرف اشارہ ہے کہ جس کی عقل بھی تائید کرتی ہے اور وہ یہ کہ جب تک خدا کوئی حکم بیان نہ فرمائے اور شریعت میں اس کے بارے میں وضاحت نہ آجائے کسی شخص کو اس کے سلسلے میں سزا نہیں دے گا دوسرے لفظوں میں مسئولیت اور جوابدہی ہمیشہ احکام بیان کرنے کے بعد ہے اس چیز کو علم ِ اصول میں ” قاعدہ بلا بیان “ سے تعبیر کیا جاتاہے ۔

لہٰذا ابتداء میں فرما یا گیا ہے : ایسا نہ تھا کہ خدا کسی گروہ کو ہدایت کے بعد گمراہ کردے جب تک جس چیز سے اسے پرہیز کرنا چاہئیے وہ اس سے بیان نہ کردے( وَمَا کَانَ اللهُ لِیُضِلَّ قَوْمًا بَعْدَ إِذْ هَدَاهُمْ حَتَّی یُبَیِّنَ لَهُمْ مَا یَتَّقُونَ ) ۔

”یضل “ اصل میں گمراہ کرنے کے معنی میں ہے اس سے مراد گمراہی کا حکم لگا نا ہے جیسا کہ بعض مفسرین کو احتمال ہے جیسے تعدیل اور تفسیق ۔ عدالت اور فسق۔ عدالت کا حکم لگانے کے معنی میں ہیں ۔(۱)

و طائفة قد اکفرونی بحبکم

یعنی ایک گروہ نے آپ کی محبت کی وجہ سے مجھ پر کفر کا حکم لگا یا ہے ۔

یاروز قیامت ثواب و جزا کے راستے سے گمراہ کرنے کے معنی میں ہے جو در اصل سزا دینے کے مفہوم میں ہوگا یاپھر ” اضلال “ سے مرد وہی ہے جس کی طرف پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں اور و ہ ہے نعمت ِ توفیق سلب کرنا اور انسان کو اس حالت پر چھوڑ دینا ۔ اس کا نتیجہ طریق ہدایت سے گمراہی اور سر گر دانی یہ تعبیر اس حقیقت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ گناہوں کا تسلسل زیادہ گمراہی اور طریق ہدایت سے دور رہنے کا سر چشمہ ہے ۔(۲)

آیت کے آخر میں فرمایا گیا : خد اہر چیز کو جانتا ہے( إِنَّ اللهَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ ) ۔یعنی خد اکے علم کا تقاضا ہے کہ جب تک اس نے کسی کے بارے میں اپنے بندوں سے کچھ کہا نہیں اس کے بارے میں کسی کو جوابدہ نہ سمجھے اور اس سے مواخذہ نہ کرے ۔

____________________

۱۔ بعض یہ خیال کرتے ہیں کہ صرف ”باب تفعیل“ ہے جو کبھی حکم لگانے کے معنی میں بھی آتا ہے حالانکہ یہ حکم” باب افعال “میں دیکھا گیا ہے ۔ مثلا کمیت شاعر کا مشہو رشعر ہے جواس خاندان ِ رسالت سے اپنے عشق کے اظہار کے لئے کہا ہے ، اس میں ہے :۔

۲۔ قرآن میں ہدایت وضلالت کے معنی کے بارے میں مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد اول ص ۱۴۰ تا ص ۱۴۱( اردو ترجمہ )کی طرف رجوع کریں ۔


ایک سوال اور اس کا جواب

بعض مفسرین اور محدثین کا خیال ہے کہ مندرجہ باآیت اس پر دلیل کہ مستقلات عقلیہ جب تک شرعی طریق سے بیان نہ ہوں کوئی شخص ان کے بارے میں مسولیت نہیں رکھتا ( مستقلات عقلیہ ان چیزوں کو کہتے ہیں جن کی اچھائی یا برائی کو انسان حکم ِ شریعت کے بغیر اپنی عقل سے سمجھ لیتا ہے مثلاً ظلم کی بدی، عدالت کی اچھائی یا چوری ، جھوٹ، تجاوز اور قتل فنس وغیرہ کی برائی ) گویا ان کے خیال کے مطابق تمام احکام ِ عقلی کی حکم ِ شریعت کے ذریعہ تائید ہو نا چاہئیے تاکہ لوگوں کی ان کے بارے میں مسولیت ہو۔ اس خیال کی بناء پر شریعت کے نزول سے پہلے لوگ مستقلات عقلیہ کے بارے میں کوئی بھی جوابدہی نہں رکھتے تھے لیکن اس کا خیال بطلان واضح ہے کیونکہ جملہ ”( حتیٰ یبین لهم ) “( یہاں تک کہ ان سے بیان کرے ) ان کا جواب دیتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ یہ آیت اور ایسی آیات ان مسائل سے مربوط ومخصوص ہے جو پروہ ابہام میں ہیں اور بیان ووضاحت کے محتاج ہیں اور یہ مسلم ہے کہ مستقلات عقلیہ کے بارے میں یہ بات نہیں ہو سکتی کیونکہ ظلم برا ہے اور عدالت اچھی ہے اس میں کوئی ابہام نہیں ہے جو وضاحت کا محتاج ہو۔

جولوگ ایسی باتیں کرتے ہیں وہ اس طرف متوجہ نہیں ہیں کہ اگر یہ بات صحیح ہو تولوگوں پر ضرور ی نہیں رہتا کہ انبیاء کی دعوت پر لبیک کہیں اور ان کی صداقت معلوم کرنے کے لئے دعوی نبوت کے مدعی اور اس کے معجزات کا مطالعہ کریں کیونکہ ان کے تو ابھی پیغمبر کی سچائی اور حکم الٰہی واضح نہیں ہوا( لہٰذا ضروری نہیں کہ وہ ان کے دعویٰ کی تحقیقی کریں اور کا مطالعہ کریں ۔ لہٰذا جیسے مدعیان ِ نبوت کے دعویٰ کا مطالعہ عقل و خرد کے حکم سے واجب ہے اور اصطلاح کے مطابق مستقلات عقلیہ میں سے ہے ایسے ہیں دیگر مسائل جنھیں عقل و خرد وضاحت سے پہچانتی ہے ، واجب الاتباع ہیں ۔

اس گفتگو کی شاہد وہ تعبیر ہے جو طرق اہل بیتعليه‌السلام کی بعض احادیث میں نظر آتی ہے ۔ کتاب ِ توحید میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپعليه‌السلام نے اس آیت کی تفسیر میں فر مایا :

حتیٰ یعرفهم مایرضیه و ما یسخطه

یعنی خد اکسی کو عذاب نہیں کرتا جبتک اسے سمجھا نہ لے کہ کونسی چیزیں اس کی رضا کا سبب ہیں اور کون سی اس کے غضب کا موجب ہیں ۔(۱)

بہر حال یہ آیت اور اس قسم کی دیگر آیات ایک کلی حکم اور اصولی قانون کی بنیاد شمار ہوتی ہیں اور وہ یہ کہ جب تک کسی چیز کے وجوب یا حرمت کے لئے ہمارے پاس دلیل نہ ہو اس کے بارے میں ہماری کوئی مسولیت نہیں ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ہمارے لئے تمام چیزیں جائز اور مباح ہیں مگریہ کہ ان کے وجوب یا حرمت کے لئے کوئی دلیل موجود ہو ۔ اسی بات کو ” اصل برات کہتے ہیں ۔

بعد والی آیت میں اس مسئلہ پر تاکیدکے حوالے سے کہا گیا ہے : آسمانوں اور زمینوں کی حکومت خدا کے لئے ہے( إِنَّ اللهَ لَهُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ ) ۔

(موت و حیات کانظام اس کے قبضہ قدرت میں ہے وہی ہے جو زندہ کرتا ہے او رمارتا ہے( یُحْیِ وَیُمِیتُ ) ۔

اس بناء پر ” تمہارا خدا کے علاوہ کوئی ولی ، سر پرست ، دوست اور یاور نہیں ہے( وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَنَصِیرٍ ) ۔

یہ اس طرف اشارہ ہے کہ عالم ہستی کی تمام قدرتیں اور تمام حکومتیں اس کے ہاتھ میں اور اس کے زیر فرمان ہیں ۔ تم اس کے غیر کا سہارا نہ لو۔ غیر خدا کو پناہ گاہ قرار نہ دو اور استغفار وغیرہ کے ذریعے خدا کے دشمنوں سے اپنی محبت کا رشتہ قائم اور محکوم کرو۔

____________________

۱۔ تفسیر نو ر الثقلین جلد ۲ صفحہ ۲۷۶۔


آیات ۱۱۷،۱۱۸

۱۱۷ ۔( لَقَدْ تَابَ اللهُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُهاجِرِینَ وَالْاٴَنصَارِ الَّذِینَ اتَّبَعُوهُ فِی سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیغُ قُلُوبُ فَرِیقٍ مِنْهم ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَئُوفٌ رَحِیمٌ ) ۔

۱۱۸ ۔( وَعَلَی الثَّلَاثَةِ الَّذِینَ خُلِّفُوا حَتَّی إِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ الْاٴَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیهِمْ اٴَنفُسُهُمْ وَظَنُّوا اٴَنْ لاَمَلْجَاٴَ مِنْ اللهِ إِلاَّ إِلَیْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوبُوا إِنَّ اللهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ ) ۔

ترجمہ

۱۱۷ ۔خدا اپنی اپنی رحمت پیغمبر اور ( اسی طرح ان ) مہاجرین و انصار کے شامل حال کی کہ جنھوں نے عسرت و شدت کے وقت کے وقت (جنگ تبوک میں )ان کی پیروی کی کہ جب کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل حق سے منحرف ہو جائیں ( اور وہ میدان ِ جنگ سے پلٹ آئیں اس کے بعد خدا نے ان کی توبہ قبول کرلی وہ ان پر مہر با ن اور رحیم ہے ۔

۱۱۸ ۔ ( اسی طرح) ان تین افراد کہ جو مدینہ میں ) وہ گئے تھے ( اور انھوں نے تبوک میں شر کت نہیں کی تھی اور مسلمانوں نے ان سے قطع روابط کرلیا گیا) یہاں تک کہ زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر جنت ہو گئی تھی اور (عالم یہ یہ تھا کہ)انھیں اپنے وجود میں بھی کوئی جگہ نہیں ملتی تھی اور انھوں نے سمجھ لیا کہ خدا کی طرف سوائے اس کے کوئی پناہ گاہ نہیں ہے ۔ اس وقت خدا نے اپنی رحمت ان کے شامل حال کی اور خدا نے ان کی توبہ قبول کرلی کیونکہ خدا تو بہ قبول کرنے والا مہر بان ہے ۔

شان نزول

ایک عظیم درس

مفسرین نے کہا ہے کہ پہلی آیت جنگ تبوک کے بارے میں اور اس میں مسلمانوں کو پیش آمدہ مشکلات کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ مشکلات اس قدر تھیں کہ کچھ لوگوں نے پلٹ آنے کا رادہ کرلیا ۔ لیکن خدا کا لطف و کرم اور ا س کی تو فیق ان کے شامل حال ہوئی اور وہ اسی طرح سے جمے رہے ۔

جن افراد کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ، کہا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک ابو حیثمہ ہے جو اصحاب ِ پیغمبر میں سے تھا ، منافقین میں سے نہ تھا لیکن سستی کی وجہ سے پیغمبر اکرم کے ساتھ میدان ِ تبوک میں نہ گیا ۔

اس واقعہ کو دس دن گزرگئے ۔ ہو اگرم اور جلادینے والی تھی ، ایک دن اپنی بیویوں کے پاس آیا انھوں نے ایک سائبان تان رکھا تھا ، ٹھنڈا پانی مہا کررکھا تھا اور بہترین کھا نا تیار کررکھا تھا ۔ وہ اچانک غور و فکر میں ڈوب گیا او راپنے پیشوا رسول اللہ کی یاد سے ستانے لگی ۔ اس نے کہا :۔

رسول اللہ کہ جنھوں نے کبھی گناہ نہیں کیا اور خدا ان کے گذشتہ اور آئندہ کاذمہ دار ہے : بیا بان کی جلا ڈالنے والی ہواوں میں کندھے پر ہتھیار اٹھائے اس دشوار گذار سفر کی مشکلات اٹھا رہے ہیں اور ابو حیثمہ کو دیکھو کہ ٹھنڈے سائے میں تیار کھانے اور خوبصورت بیویوں کے پاس بیٹھا ہے ، کیا یہ انصاف ہے ؟

اس کے بعد اس نے اپنی بیویوں کی طرف رخ کیا اور کہا :

خدا کی قسم تم میں سے کسی کے ساتھ میں بات نہ کروں گا اور سائبان کے نیچے نہیں بیٹھوں گا جب تک پیغمبر سے نہ جاملوں ۔

یہ بات کہہ کر اس نے زاد راہ لیا ،اپنے اونٹ پر سوار ہوا اور چل کھڑا ہوا۔ اس کی بیویوں نے بہت چاہا کہ اس سے بات کریں لیکن اس نے ایک لفظ نہ کہا اور اسی طرح چلتا رہا یہاں تک کہ تبوک کے قریب جاپہنچا ۔

مسلمان ایک دوسرے سے کہنے لگے : یہ کوئی سوار ہے جو سڑک سے گذررہاہے ْ لیکن پیغمبر اکرم نے فرمایا : اے سوار تم ابوحیثمہ ہو تو بہتر ہے ۔

جب وہ قریب پہنچا اور لوگوں نے اسے پہچان لیا تو کہنے لگے جی ہاں ! ابو حیثمہ ہے ۔

اس نے اپنا اونٹ زمین پربٹھا یا اور پیغمبر اکرم کی خدمت میں سلام عرض کیااور اپنا مجرا بیان کیا ۔

رسول اللہ نے اسے خوش آمدید کہا اور اس کے حق میں دعا فرمائی۔

اس طرح وہ ایک ایسا شخص تھا جس کا دل باطل کی طرف مائل ہوگیا تھا لیکن اس کی روحانی آمادگی کی بناء پر خد انے اسے حق کی طرف متوجہ کیا اور اسے ثباتِ قدم بھی عطا کیا ۔

دوسری آیت کے بارے میں ایک شان نزول منقول ہے ا س کاخلاصہ یہ ہے :

مسلمانوں میں سے تین افراد کعب بن مالک ، مراہ بن ربیع اور بلال بن امیہ نے جنگ تبوک میں شر کت نہ کی اور انھوں نے پیغمبر خدا کے ہمراہ سفر نہ کیا لیکن وہ منافقین میں شامل نہیں ہو نا چاہئیے تھے بلکہ ایسا انھوں نے سستی اور کاہلی کی بناء پرکیا تھا ۔

تھوڑا ہی عرصہ گذرا تھا کہ وہ اپنے لئے نادم اور پشیمان ہو گئے ۔

جب رسول اللہ میدان تبوک سے مدینہ لوٹے تو وہ آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور معذرت لیکن رسول اللہ نے ان سے ایک لفظ تک نہ کہا اور مسلمانوں کو بھی حکم دیا کہ کوئی شخص اس سے بات چیت نہ کرے وہ ایک معاشرتی دباو کاشکار ہوگئے ۔ یہاں تک کہ ان کے چھوٹے بچے اور عورتیں رسول اللہ کے پاس آئیں اور اجازت چاہی کہ ان سے الگ ہو جائیں ، آپ نے انھیں علیحدگی کی اجازت تو نہ دی لیکن حکم دیا کہ ان کے قریب نہ جائیں ۔ مدینہ کی فضا وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی ۔ وہ مجبور ہو گئے کہ اس اتنی بڑی ذلت اور رسوائی سے نجات حاصل کرنے کے لئے شہر چھوڑ دیں اور اطراف مدینہ کے پہاڑوں کی چوٹی پر جاکر پناہ لیں ۔

جن باتوں نے جن باتوں نے ان کے جذبات پر شدید ضرب لگائی ان میں سے ایک یہ تھی کہ کعب بن مالک کہتا ہے :

میں ایک دن بازار مدینہ میں پریشانی کے عالم میں بیٹھا تھا کہ ایک شامی عیسائی مجھے تلاش کرتا ہوا آیا۔ جب اس نے مجھے پہچان لیا تو باد شاہ غسان کی طرفسے ایک خط میرے ہاتھ میں دیا ۔ اس میں لکھا تھا کہ اگر تیرے ساتھی نے تجھے دھتکار دیا ہے تو ہماری طرف چلے آو۔ میری حالت منقلب اور غیر ہوگئی اور میں نے کہا وائے ہو مجھ پرمیر امعاملہ اس حد تک پہنچ گیا کہ دشمن میرے بارے میں لالچ کرنے لگے ہیں ۔

خلاصہ یہ کہ ان کے اعزو اقارب ان کے پاس کھانا لے آتے مگر ان سے ایک لفظ بھی نہ کہتے ۔ کچھ مدت اسی صورت میں گزر گئی اور وہ مسلسل انتظار میں تھے کہ ان کی توبہ قبول ہو اور کوئی آیت نازل ہو جو ان کی توبہ کی دلیل بنے ۔ مگر کوئی خبر نہ تھی ۔

اس دوران ان میں سے ایک کے ذہن میں یہ بات آئی اور اس نے دوسروں سے کہا کہ اب جبکہ لوگوں نے ہم سے قطع تعلق کرلیا ہے کیا ہی بہتر ہو کہ ہم بھی ایک دوسرے سے قطع تعلق کرلیں ( یہ ٹھیک ہے کہ ہم گنہ گار ہیں لیکن مناسب ہے کہ دوسرے گنہ گار سے خوش اور راضی نہ ہوں )

انھوں نے ایسا کیا یہاں تک کہ ایک لفظ بھی ایک دوسرے سے نہیں کہتے تھے اور ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہتا تھا۔اس طرح پچاس دن انھوں نے توبہ و زاری کی اور آخر کار ان کی توبہ قبول ہو گئی۔ اس پر مندرجہ بالا آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔

گنہ گاروں کے لئے معاشرتی دبا و

یہ آیات بھی جنگ تبوک سے متعلق اور اس عظیم اسلامی واقعے کے بارے میں مختلف مطالب پر مشتمل ہیں ۔

پہلی آیت میں پرور دگار کی اس لامتناہی رحمت کی طرف اشارہ ہے جو ایسے حساس لمحات میں پیغمبر اور مہاجرین و انصار کے شامل حال ہوئی ۔ ارشاد ہوتا ہے : خدا کی رحمت پیغمبر اور ان کے مہاجرین و انصار کے شامل حال ہوئی جو شدت اور بحران کے موقع پر آنحضرت کی پیروی کرتے ہیں( لَقَدْ تَابَ اللهُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُهاجِرِینَ وَالْاٴَنصَارِ الَّذِینَ اتَّبَعُوهُ فِی سَاعَةِ الْعُسْرَةِ ) ۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : یہ رحمت الہٰی اس وقت شامل حال ہوئی جب شدت حوادث اور پریشانیوں کے دباو کی وجہ سے قریب تھا کہ مسلمانوں کا ایک گروہ راہ حق سے پھر جائے ( اور تبوک سے واپسی کاارادہ کرلے )( مِنْ بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیغُ قُلُوبُ فَرِیقٍ مِنْهم ) ۔

دوبارہ تاکید کی گئی ہے : اس صورت ِ حالکے بعد اللہ نے اپنی رحمت ان کے شامل حال کر دی اور ان کی توبہ قبول کرلی کیونکہ وہ مومنین پر مہر بان اور رحیم ہے( ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَئُوفٌ رَحِیمٌ ) ۔اس کے بعدنہ صرف اس عظیم گروہ پراپنی رحمت نازل کی کہ جو جہاد میں شریک ہوا بلکہ ان تین افراد پر بھی اپنا لطف و کرم کیا جو جنگ میں شریک نہ ہوئے تھے اس لئے مجاہدین انھیں پیچھے چھوڑ گئے تھے( وَعَلَی الثَّلَاثَةِ الَّذِینَ خُلِّفُوا ) ۔لیکن یہ لطف الہٰی انھیں آسانی سے میسر نہیں آیا بلکہ ایسا اس وقت ہوا جب یہ تین افراد ( کعب بن مالک ، مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ جن کے بارے میں شانِ نزول میں بتا یا جاچکا ہے ) شدید معاشرتی دباو میں رہ چکے تھے اور تمام لوگوں نے ان کا بائیکات کردیا تھا ” یہاں تک کہ زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی تھی “( حَتَّی إِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ الْاٴَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ) ۔اور ان کے سینے اس طرح سے غم اندوہ سے معمور تھے کہ گویا ” انھیں اپنے وجود میں بھی جگہ نہ ملتی تھی “ اور عالم یہ تھا کہ انھوں نے ایک دوسرے سے بھی رابطہ منقطع کرلیا تھا( وَضَاقَتْ عَلَیهِمْ اٴَنفُسُهُم ) اس طرح ان پر تمام راستے بند ہو گئے تھے ”اور انھوں نے یقین کرلیا تھا کہ اس کی طرف باز گشت کے علاوہ غضبِ خدا سے بچنے کے لئے کوئی اور پناہ گاہ نہیں ہے “( وَظَنُّوا اٴَنْ لاَمَلْجَاٴَ مِنْ اللهِ إِلاَّ إِلَیْهِ ) ۔

دوبارہ رحمت ِ خدا انک ے شامل حال ہوئی “۔ اور اس رحمت نے ان کے لئے حقیقی اور مخلصانہ توبہ اور باز گشت ان کے لئے آسان کردی( ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوبُوا ) ۔ کیونکہ خدا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے ۔( ا( ِٕنَّ اللهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ ) ۔

چند اہم نکات

۱ ۔( تاب الله علی النبی ) “ سے کیامراد ہے ؟ :

محل بحث پہلی آیت میں ہم نے پڑھا ہے کہ خدا نے پیغمبر ، مہاجرین اور انصارپر توجہ کی اور ان کی توبہ قبول کی

اس میں شک نہیں کہ معصوم پیغمبر کا تو گناہ ہی نہ تھا کہ خدا اس پر توجہ کرتا اور اس کی تبہ قبول کرتا، اگر چہ اہل سنت کے بعض مفسرین ِ حدیث نے مندرجہ بالا تعبیر کو جنگ تبوک کے واقعہ میں پیغمبر سے کوئی لغزش ہونے کی دلیل قرار دیا ہے لیکن خود اس آیت میں اورقرآن کی دوسری آیات میں غو ر خوض کیا جائے تو یہ تفسیر غلط معلوم ہوتی ہے کیونکہ :

پہلی بات تو یہ ہے کہ پر وردگار کی توبہ کا معنی ٰ ہے ” اس اپنی رحمت کے ساتھ لوٹ آنا “ اور بندوں کی طرف توجہ کرنا اور اس کے مفہوم میں گناہ یالغزش نہیں ہے جیسا کہ سورہ نساء میں بعض احکام ِ اسلام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے :

( یرید الله لیبین لکم و یهدیکم سنن الذین من قبلکم و یتوب علیکم و الله علیم حکیم )

خد اچاہتا ہے کہ تم سے اپنے احکام بیان کرے اور جو لوگ تم سے پہلے تھے ان کی اچھی سنت اور روش کی تمہیں ہدایت کرے اور تم پر ”توبہ “ کرے اور خدا عالم و حکیم ہے ۔

اس آیت میں اور ا س سے پہلے گناہ اور لغزش کی کوئی بات نہیں کی گئی۔ بلکہ اس آیت کی تصریح کے مطابق گفتگو احکام بیان کرنے کے حوالے سے اور گذشتہ لوگوں کی اچھی طرح سنتوں کی ہدایت کے بارے میں ہورہی ہے یہ چیز خود نشان دہی کرتی ہے کہ یہاں توبہ کا معنی ہے بندوں کے لئے رحمت ِالٰہی شمول ۔

دوسری بات یہ ہے کہ کتب ِ لغت میں بھی توبہ کا ایک یہی معنی مذکور ہے ۔ مشہور کتاب قاموس میں تو بہ کا ایک معنی اس طرح ذکر ہوا ہے :رجع علیه بفضله و قبوله

یعنی اس کی طرف لوٹا اپنے فضل و قبول کرنے سے ۔

تیسری بات یہ ہے کہ زیر بحث آیت میں مومنین کے صرف ایک گروہ کے انحراف ِ حق کا ذکر ہے حالانکہ خدائی توبہ سب کے لئے قرار دی گئی ہے یہ امر نشان دہی کرتا ہے کہ یہاں خدائی توبہ گناہ پر بندوں کی معذرت قبول کرنے کے معنی میں نہیں ةے بلکہ یہاں اس سے مراد خدا کی خاص رحمت ہے جو ان سخت لمحات میں پیغمبر اور تمام مومنین کی مدد کے لئے آئی ۔ اس میں مہاجرین و انصار میں سے کسی کے لئے استثناء نہیں ہے اور اس رحمت نے انھیں جہادمیں ثابت رکھا۔

۲ ۔ جنگ تبوک کو”ساعة العسرة “ کیوں کہاگیا ؟:

لفظ ”ساعت“ لغت کے اعتبار سے وقت کے ایک حصہ کو کہتے ہیں ، چاہے وہ چھوٹا ہویا بڑا۔ البتہ زیادہ لمبے زمانے کو ساعت نہیں کہا جاسکتا ہے اور ” عسرت “ مشقت اور سختی کے معنی میں ہے ۔

تاریخ اسلام نشاندہی کرتی ہے کہ مسلمان کبھی بھی جنگ تبوک کے موقع کی طرح مشکل صورت ِ حال ، دباو اور زحمت میں مبتلا نہیں ہوئے تھے ۔ کیونکہ ایک تو سفر تبوک سخت گرمی کے عالم میں تھا ۔ دوسرا خشک سالی سے لوگو ں کو تنگ اور ملول کررکھا تھا اور تیسرا اس وقت درختوں سے پھل اتارنے نے دن تھے اور اسی پر لوگوں کی سال بھر کی آمدنی کا انحصار تھا ۔

ان تمام چیزوں کے علاوہ مدینہ اور تبوک کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ تھا اور مشرقی روم کی سلطنت کا انھیں سامنا تھا جو اس وقت کی سپر پاور تھی ۔

مزید بر آن سواریاں اور رسد مسلمانوں کے پاس اتناکم تھا کہ بعض اوقات دو افراد مجبور ہوتے تھے کہ ایک ہی سواری پرباری باری سفر کریں بعض پیدل چلنے والوں کے پاس جو تا تک نہیں تھا اور وہ مجبور تھے کہ وہ بیا بان کی جلانے والی ریت پر پا بر ہپنہ چلیں ۔ آب و غذا کی کمی کا یہ عالم تھا کہ بعض اوقات خرمہ کا ایک دانہ چند آدمی یکے بعد دیگرے منہ میں رکھ کر چوستے تھے یہاں تک کہ اس کی صرف گھٹلی رہ جاتی پانی کا ایک گھنونٹ چند آدمیوں کو مل کر پینا پڑتا۔

ان تمام باتوں کے باوجود اکثر مسلمان قوی اور مستحکم جذبہ رکھتے تھے اور تمام مشکلات کے باوجود رسول ِ خدا کے ہمراہ دشمن کی طرف چل پڑے اور اس عجیب استقامت اور پا مردی کا مظاہرہ کرکے ہر دور کے تمام مسلمانوں کے لئے انھوں نے ایک عظیم درس یا دگار کے طور پر چھوڑا۔

ایسا درس جو تمام نسلوں کے لئے کافی ہے یہ درس عظیم اور خطرناک دشمنوں پر کامیابی کا وسیلہ ہے ۔

اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں میں ایسے افراد تھے جن کے دل کمزور تھے اور یہی کمزور دل واپس لوٹ جانے کی فکرمیں تھے ان کے بارے میں قرآن کہتا ہے ۔من بعد ما کاد یزیغ قلوب فریق منهم

”یزیغ“ ’زیغ“ کے مادہ سے ہے اس کامطلب ہے حق سے باطل کی طرف انحراف۔

لیکن جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ اکثریت کے عالم جذبات نے اور لطفِ پر وردگار نے انھیں بھی اس فکر سے پلٹا دیا اور وہ بھی راہِ حق کے مجاہدین میں شامل ہو گئے ۔

۳ ۔ تین افراد کے لئے ”خلفوا “ کی تعبیر :

مندرجہ بالا آیات میں سست او رسہل انگار تین افراد کے بارے میں ”خلفوا“ کی تعبیر آئی ہے یعنی ” انھیں پیچھے چھوڑ دیا گیا تھا “۔

یہ تعبیر یا تو اس بناء پرہے کہ جب ایسے افراد سستی کرتے تو مسلمان انھیں پیچھے چھوڑ جاتے اور ان کی پر واہ کے لئے بغیر میدانِ جہا د کی طرف پیش قدمی کرجاتے تھے اور یا اس بناء پرہے کہ جس وقت وہ عذر خواہی کے لئے پیغمبر اکرم کے پاس آئے تو آپ نے ان کا عذر قبول نہ کیا اور ان کی توبہ قبول کرنے کو پس پشت ڈال دیا ۔

۴ ۔ ایک دائمی اور عظیم سبق :

زیر بحث آیات سے جو اہم مسائل معلوم ہوتے ہیں ان میں سے ایک مسئلہ مجرموں اور فاسدوں کو معاشرتی دباو اور بائیکات کے ذریعے سزا دینے سے متعلق ہے ۔

ہم اچھی طرح سے دیکھ رہے ہیں کہ جنگ ِ تبوک سے پیچھے رہ والے افراد سے بائیکاٹ سے وہ کیسی سختی ، تنگی اور دباو میں مبتلا ہوئے یہ بائیکاٹ ان کے لئے ہر قسم قسم کے قید خانے سے سخت تر تھایہاں کہ اس اجتماعی بائیکاٹ کی وجہ سے ان کی جان لبوں تک آپہنچی او روہ ہر طرف سے ناامید ہو گئے اس طریقے سے اس وقت کے مسلمانوں کے معاشرے پر اس کا ایسا وسیع اثر ہوا کہ اس کے بعد بہت کم افراد ایسی جرات کرتے تھے کہ وہ ایسے گناہ کے مرتکب ہوں ۔

ایسی سزا سے نہ تو قید خانوں کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے نہ ایسی سزاوں پر کوئی خرچ اٹھتا ہے نہ ایسی سزا سستی و کاہلی کا جنم دیتی ہے اور نہ ہی برے اخلاق کو پنپنے دیتی ہے لیکن کی تاثیر ہر قید خانہ سے زیادہ اور بہت ہی دردناک ہے ۔

د رحقیقت یہ ایک بائیکاٹ اور معاشرے کی طرف سے ایسے برے اور فاسد افراد کے خلاف منفی جنگ ہے جو حساس ذمہ داریوں کی ادائیگی سے منہ موڑ لیتے ہیں اگر مسلمان ہر دور اور ہر زمانے میں ایسے لوگوں کے خلاف اس طرح کا اقدام کریں تو انھیں کامیابی حاصل ہو نا یقینی ہو جائے ۔ اس طرح سے مسلمان اپنے معاشرے کو پا ک کرسکتے ہیں لیکن بد قسمتی سے آج کے اسلامی معاشروں میں ایسے جرائم سے چشم پوش اور سازش کاری تقریبا ً ایک ہمہ گیر بیماری کی شکل اختیار کی چکی ہے یہ صورت حال نہ صرف یہ کہ ایسے افراد کو روک نہیں سکتی بلکہ انھیں ان کے برے اعمال میں مزید دلیر اور لاپر وہ کردیتی ہے ۔

۵ ۔ جنگ تبوک سے مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی:

” تبوک “ کا مقام ان تمام مقامات سے دور تھا جہاں پیغمبر اکرم نے اپنی جنگوں میں پیش قدمی کی ۔ ”تبوک“ میں ایک محکم اور بلند قلعہ کا نام تھا ۔ جو حجاز اور شام کی سر حد پر واقع تھا ۔ اسی وجہ سے اس علاقے کو سر زمین تبوک کہتے تھے ۔

جزیرہ نما عرب میں اسلام کے تیز رفتار نفوذ کی وجہ سے رسول اللہ کی شہرت اطراف کے تمام ممالک میں گونجنے لگی ۔ باوجودیکہ وہ اس وقت حجاز کی اہمیت کی قائل تھے لیکن طلوع ِ اسلام اور لشکر اسلام کی طاقت کہ جس نے حجاز کو ایک پر چم تلے جمع کرلیا ، نے انھیں اپنے مستقبل کے بارے میں تشویش میں ڈال دیا۔

مشرقی روم کی سر حد حجاز سے ملتی تھی ۔ اس حکومت کو خیال ہوا کہ کہیں اسلام کی تیز رفتار ترقی کی وہ پہلی قربانی نہ بن جائے لہٰذا اس نے چالیس ہزار کی زبر دست مسلح فوج جو اس وقت کی روم جیسی طاقتوں کے شایان شان تھی۔ اکھٹی کی اور اسے حجاز کی سر حد پر لاکھڑا کیا یہ خبر مسافرو ں کے ذریعے پیغمبر اکرم کے کانوں تک پہنچی ۔ رسول اللہ نے روم اور دیگر ہمسایوں کو درس عبرت دینے کے لئے توقف کیے بغیر تیاری کا حکم صادر فرمایا۔

آپ کے منادیوں نے مدینہ اور دوسرے علاقوں تک آپ کا پیغام پہنچا یا ۔ تھوڑے ہی عرصے میں تیس ہزار افراد رومیوں سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہو گئے ۔ ان میں دس ہزار سوار اور بیس ہزار پیادہ تھے ۔

موسم بہت گرم تھا ، غلے کے گودام خالی تھے ، اس سال کی فصل ابھی اٹھائی نہیں گئی تھی ۔ان حالات میں سفر کرنا مسلمانوں کے لئے بہت ہی مشکل تھا۔ لیکن چونکہ خدا اور رسول کا فرمان تھا لہٰذا ہر حالت میں سفر کرنا تھا اور مدینہ اور تبوک کے درمیان پر خطر ، طول صحرا کو عبور کرنا تھا ۔ اس لشکر کو چونکہ اقتصادی طور پر بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، اس کا راستہ بھی طولانی تھا راستے میں جلانے دالی زہریلی ہوائیں چلتی تھیں سنگریزہ اڑتے تھے جھکڑ چلتے تھے سواریاں بھی کافی نہ تھیں ، اس لئے یہ ” جیش العسرة “ ( یعنی سختیوں والا لشکر )کے نام سے مشہور ہوا۔ ا س نے تمام سختیوں کو جھیلا اورماہ شعبان کی ابتداء میں ہجرت کے نویں سال سر زمین تبوک میں پہنچا جبکہ رسول اللہ حضرت علی کو اپنی جگہ پر مدینہ میں چھوڑ آئے تھے ۔ یہ واحد غزوہ ہے جس میں حضرت علی علیہ السلام شریک نہیں ہوئے ۔

رسول اللہ کا اقدام بہت ہی مناسب اور ضروری تھا کیونکہ بہت احتمال تھا کہ بعض پیچھے رہنے والے مشرکین یا منافقین جو حیلوں بہانوں سے میدان ِ تبوک میں شریک نہ ہوئے تھے رسول اللہ اور ان کی فوج کی طویل غیبت سے فائدہ اٹھائیں او رمدینہ پر حملہ کردیں ۔ عورتوں اور بچوں کو قتل کردیں اور مدینہ کو تاخت و تاراج کردیں لیکن حضرت علیعليه‌السلام کا مدینہ میں رہ جانا ان کی سازشوں کے مقابلے میں ایک طاقتور بند تھا ۔

بہت حال جب رسول اللہ تبوک میں پہنچے تو وہاں آپ کو رومی فوج کا کوئی نام و نشان نظر نہ آیا ۔ عظیم سپاہ اسلام چونکہ کئی جنگوں میں اپنی عجیب و غریب جرات وشجاعت کا مظاہرہ کر چکی تھی جب ان کے آنے کی خبر رومیوں کے کانوں تک پہنچی تو انھوں نے اسی کو بہتر سمجھا کے اپنے ملک کے اندر چلے جائیں اور اس طرح سے ظاہر کریں کہ مدینہ پر حمل ہ کرنے کے لئے لشکر ِ روم کی سر حدوں پر جمع ہو نے کی خبر ایک بے بنیاد افواہ سے زیادہ کچھ نہ تھی کیونکہ وہ ایک ایسی خطرناک جنگ شروع کرنے سے ڈرتے تھے کہ جس کا جواز بھی ان کے پاس کوئی تھا لیکن لشکر اسلام اس طرح سے تیز رفتاری سے میدان تبوک میں پہنچنے سے دشمنان اسلام کو کئی درس سکھائے ، مثلاً:

۱ ۔ یہ بات ثابت ہو گئی کہ مجاہدین اسلام کا جذبہ جہاد اس قدر وقی ہے کہ وہ اس زمانے کی نہایت طاقت در فوج سے نہیں ڈرتے ۔

۲ ۔ بہت سے قبائل اور اطراف، تبوک کے امراء پیغمبر اسلام کی خدمت میں آئے اور آپ سے تعرض او رجنگ نہ کرنے کے عہد و پیمان پر دستخظ کیے اس طرح مسلمان ان کی طرف سے آسودہ خاطر ہو گئے ۔

۳ ۔ اسلام کی لہریں سلطنت ِ روم کی سر حدوں کے اندر تک چلی گئیں اور اس وقت کے ایک اہم واقعے کے طور پر اس کی آواز ہر جگہ گونجی اور رومیوں کے اسلام کی طرف متوجہ ہونے کے لئے زمین ہموار ہوگئی۔

۴ ۔ یہ راستہ طے کرنے اور زحمتوں کو بر داشت کرنے سے آیندہ شام کا علاقہ فتح کرنے کے لئے راہ ہموار ہ وگئی اور معلوم ہو گیا کہ آخر کار یہ راستہ طے کرنا ہی ہے ۔

یہ عظیم فوائد ایسے تھے کہ جن کے لئے لشکر کی زحمت بر داشت کی جا سکتی تھی ۔

بہر حال پیغمبر اکرم نے اپنی سنت کے مطابق اپنی فوج سے مشورہ کیا کہ پیش قدمی جاری رکھی جائے یا واپس پلٹ جایا جائے ۔ اکثریت کی رائے یہ تھی کہ پلٹ جانا بہتر ہے اور یہ اسلامی اصولوں کی روح سے زیادہ منا سبت رکھتا تھا خصوصاً جبکہ اس وقت طاقت فرمسا سفر اور راستے کی مشقت و زحمت کے باعث اسلامی فوج کے سپاہی تھکے ہوئے تھے اور ان کی جسمانی قوت مزاحمت کمزور پڑچکی تھی ۔

رسول اللہ نے اس رائے کو صحیح قرار دیا اور لشکر اسلام مدینہ کی طرف لوٹ آیا ۔


آیت ۱۱۹

۱۱۹ ۔( یَااٴَیهَُا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ ) ۔

ترجمہ

۱۱۹ ۔ اے ایمان والو! خدا ( کے ہر حکم کی مخالفت ) سے ڈرو اور سچوں کا ساتھ دو ۔

سچوں کا ساتھ دو

گذشتہ آیات میں متخلفین اور جنگ سے منہ موڑ نے والوں کے بارے میں گفتگو تھی ۔ متخلفین وہ لوگ تھے جنھوں نے خدا اور رسول سے کئے ہوئے عہد کو توڑ ڈالا وہ لوگ جو عملی طو رپر خدا اور قیامت پر اپنے اظہار ایمان کی تکذیب کرچکے تھے اور ہم نے دیکھا کہ مسلمانوں نے قطع روابط کرکے انھیں کس طرح سے تنبیہ کی ۔

زیر بحث آیت میں ان کے مد مقابل دوسرے لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھیں حکم دیا گیا ہے کہ اپنا رابطہ سچے لوگوں کے ساتھ اور ان کے ساتھ جو اپنے عہد پر قائم ہیں ، مستحکم رکھو۔

پہلے فرمایا گیا ہے : اے ایمان والو! حکم خدا کی مخالفت سے بچوں( یَااٴَیّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ ) ۔اور اس بناء پر کہ اہل ایمان تقویٰ کی پر پیچ وخم راہ کو غلطی اور انحراف کے بغیر طے کر سکیں ، مزید فرمایا گیا ہے سچوں کا ساتھ دو( وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ ) ۔

اس بارے میں ” صادقین “کون ہیں ، مفسرین نے مختلف احتمالات ذکر کئے ہیں لیکن اگر ہم راستے کو مختصر کرنا چاہیں تو ہمیں خود قرآن کو طرف رجوع کرنا چاہیئے جس نے متعدد آیات میں ”صادقین “ کی تفسیر کی ہے ۔

سورہ بقرہ میں ہے :۔

( لیس البر ان تولّوا وجوهکم قبل المشرق و المغرب ولٰکن البر من اٰمن بالله و الیوم الاٰخر و الملآئکة و الکتاب النبیین و اٰتیال مال علیٰ حبه ذوی القربیٰ و الیتٰمیٰ و المسٰاکین و ابن السبیل و السآئلین و فی الرقاب و اقام الصلٰواة و اٰتی الزکوٰة و الموفون بعهدهم اذا عٰهدوا و الصا برین فی الباٴسآء و الضرٓاء حین الباٴس اولٰٓئک الذین صدقوا و اولٰٓئک هم المتقون ) ۔(بقرہ۔ ۱۷۷)

اس آیت میں ہم دیکھتے ہیں کہ قبلہ کی تبدیلی کے مسئلے میں مسلمانوں کو زیادہ باتیں کرنے سے منع کیا گیا ہے اور پھر اس کے بعد نیکی کی حقیقت کی اس طرح وضاحت کی گئی ہے ۔

خدا روز قیامت ، ملائکہ ، آسمانی کتب اور انبیاء پر ایمان لانا۔

اس کے بعد فرمایا :

راہ خدا میں حاجت مندوں اور محروم لو گوں پر خرچ کرنا ، نماز قائم کرنا ، زکوٰة ادا کرنا ، عہد و پیمان پو را کرنا او رجہاد کے وقت مشکلات کے سامنے صبر و استقامت دکھانا ۔ ان سب چیزوں کے ذکر کے بعد فرمایا گیا ہے :

جو لوگ ان صفات کے حامل ہوں وہ صاد ق اور پرہیزگار ہیں ۔

اسی طرح صادق وہ ہے جو تمام مقدسات پر ایمان رکھتا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ ہر میدان میں عمل بھی کرتا ہو۔

سورہ حجرات آیہ ۱۵ میں ہے :

( انما المومنون الذین اٰمنوا بالله و رسوله ثم لم یرتابوا وجاهدوا باموالهم و انفسهم فی سبیل الله اولٰئک هم الصادقون ) ۔

یعنی .( اس مال میں ) ان مفلس مہاجروں کا ( حصہ ) ہے جو اپنے گھروں سے او رمالوں سے دور کردئیے گئے ( اور جو ) خدا کے فضل اور خوشنودی کے طلب گار ہیں اور خدا کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں ۔ یہی لوگ سچے ہیں ۔

اس آیت میں وہ محروم مومنین کہ جنھوں نے تمام مشکلات کے باوجود پا مردی ار استقامت دکھائی اور اپنے گھر بار اور مال و منال سے زبر دستی الگ کردئے گئے اور جن کا ہدف رضائے الہٰٰی اور نصرت ، پیغمبر کے علاوہ اور کچھ نہ تھا ۔ انھیں ” صا دقین “ قرار دیا گیا ہے ۔

ان تمام آیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم نتیجہ نکالتے ہیں کہ صادقین وہ ہیں جو پر وردگار پر ایمان لانے کے نتیجے میں اپنے اوپر عائد ہونے والی ذمہ دار یوں کو اچھی طرح سے انجام دیتے ہیں نہ شک و تردد کا شکار ہوتے ہیں ، نہ پاوں پیچھے ہٹاتے ہیں ، نہ ہی ہجوم ِ مشکلات سے گھبراتے ہیں بلکہ مختلف طرح سے فداکاری کے کے اپنے ایمان کی سچائی کا ثبوت دیتے ہیں ۔

اس میں شک نہیں کہ ان صفات کے کئی مداج اور مراتب ہیں ۔ ممکن ہے بعض لوگ سب سے بالا درجے پر فائز ہوں جنھیں ہم ” معصوم “ کہتے ہیں اور بعض نچلے مراحل میں ہوں ۔

کیا صادقین سے مراد صرف معصومین ہیں ؟

جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں ذکر کیاہے ” صادقین “ کا مفہوم اگر چہ وسیع ہے مگر بہت سی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے یہاں مراد صرف معصومین ہیں ۔

سلیم بن قیس ہلالی بیان کرتے ہیں کہ ایک دن امیر المومنین علیہ السلام کچھ مسلمانوں سے محوِ گفتگو تھے ۔ آپ نے ان سے دیگر باتوں کے علاوہ فرمایا :

میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں ، کیا تمہیں معلو م ہے کہ جد خدا نے( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ ) کا حکم نازل ہو اتو سلمان نے عر ض کیا: اے خدا کے رسول ! کیا اس سے مراد عام ہے یا خاص؟ تو رسول اللہ نے فرمایا: اس حکم کے مامور اور ذمہ دار تمام مومنین ہیں لیکن ” صادقین “ کا مفہوم مخصوص ہے میرے بھائی علی کے لئے اور روز قیامت تک اس کے بعد اوصیاء کے لئے ۔

جب علیعليه‌السلام نے یہ سوال کیا تو حاضرین نے کہا : جی ہاں ! یہ بات ہم نے رسول اللہ سے سنی تھی ۔( تفسیر برہان جلد ۲ ص ۱۷۰) ۔

نافع نے عبد اللہ بن عمر سے اس آیت کی تفسیر میں یوں نقل کیا ہے :

خدا نے پہلے مسلمانوں کا حکم دیا ہے کہ وہ خدا سے ڈریں ، اس کے بعد فرمایا ہے : ”( کُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ ) “یعنی مع محمد و اھل بیہ (محمد اور ان کے اہل بیت کا ساتھ دو )( تفسیر برہان جلد ۲ ص ۱۷۰) ۔

اہل سنت کے بعض مفسرین مثلاً صاحب المنار مندرجہ بالا روایت کے ذیل میں اس طرح نقل کیا ہے کہ ” مع محمد و اصحابہ “ ( محمد اور ان کے اصحاب کے ساتھ )لیکن مفہوم آیت کی طرف توجہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ عام ہے اور ہر زمانے کے لئے ہے اور ہم جانتے ہیں کہ رسول اللہ کے صحابہ ایک محدود زمانھے میں تھے لہٰذا عبد اللہ بن عمر سے جو روایت شیعہ کتب میں آئی ہے ۔ صحیح تر دکھائی دیتی ہے ۔

تفسیر بر ہان کے مصنف نے اسی طرح کا مضمون اہل تسنن کے طرق سے نقل کیا ہے اور کہا ہے : موفق ابن احمد نے اپنی اسناد ابن ِ عباس سے مندر جہ بالا آیت کے ذیل میں اس طرح سے نقل کیا ہے :وھو علی بن ابی طالب

یعنی وہ علی بن ابی طالب ہیں ۔

اس کے بعد کہتا ہے :

یہی مطلب عبد الرزاق نے کتاب رموز الکنوز میں درج کیا ہے ۔ ( تفسیر بر ہان جلد ۲ ص ۱۰۰)

زیادہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں پہلا حکم یہ دیا گیا ہے کہ ” تقویٰ اختیار کرو “ اور اس کے بعد سچوں کا ساتھ دینے کا حکم دیا گیا ہے اگر ” صادقین “ کا مفہوم آیت میں عام ہوتا او رتمام سچے اور با استقامت مومنین اس میں شامل ہوتے تو کہا جاتا” وکونوا مع الصادقین “ یعنی سچوں میں سے رہنا نہ کہ ” سچوں کے ساتھ دو“ ( غور کیجئے گا ) ۔

یہ امر خود اس بات کا قرینہ ہے کہ ” صادقین “ آیت میں ایک خاص گروہ کے لئے آیا ہے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ ساتھ دینے سے مراد ساتھ رہنا نہیں بلکہ بلا شبہ اس سے مراد ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہے ۔

ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کیا کسی غیر معصوم کی پیروی اور نقش قدم پر چلنے کا حکم بغیر کسی قید اور شرط کے دیا جا سکتا ہے کیا یہ خود اس امر پر دلیل نہیں کہ صادقین سے مراد صرف ” معصومین “ ہیں ۔

لہٰذ اجوکچھ روایات سے معلوم ہوتا ہے اگر غور و خوض کریں تو وہی مفہوم خود آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے

یہ بات جانب ِ توجہ ہے کہ معروف مفسری فخر رازی نے جو تعصب اور شک پیدا کرنے میں مشہور یہ حقیقت قبول کی ہے ( اگر چہ زیادہ تر اہل سنت مفسرین اس مسئلہ سے خاموشی سے گذرگئے ہیں ) وہ کہتا ہے :

خدا مومنین کو سچوں کا ساتھ دینے کا حکم دیا ہے لہٰذا آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو لوگ جائز الخطاء ہیں وہ کسی معصوم کی پیروی کریں تاکہ اس پیروی کے ذریعے خطاء سے محفوظ رہیں اور یہ مفہوم ہر دور کے لئے ہونا چاہئیے اور زمانہ پیغمبر میں اسے مخصوص کرنے کے لئے کوئی دلیل ہمارے پاس نہیں ہے ۔

لیکن بعد میں مزید کہتا ہے :

ہم تسلیم کرتے ہیں کہ آیت کا مفہوم یہی ہے اور ہر زمانے میں معصوم ہونا چاہئیے ، لیکن ہم اس معصوم کو مجموع ِ امت سمجھتے ہیں نہ کہ کوئی ایک فرد۔ بالفاظ دیگر یہ آیت اجماع ِ مومنین کی حجیّت او رمجموع امت کے خطا نہ کرنے کی دلیل ہے ۔ ۱

یوں فخر رازی آدھا راستہ تو ٹھیک طرح سے طے کرلیا لیکن باقی نصف راہ میں اشتباہ کا شکا رہو گیا اگر وہ ایک نکتے کی طرف توجہ کرتاجو متن آیت میں موجود ہے تو باقی نصف راستہ بھی صحیح طرح سے طے کرلیتا اور وہ نکتہ یہ ہے کہ اگر صادقین سے مراد ساری امت ہے تو خود یہ پیرو بھی اس مجموع کا جز ہے اور یوں در اصل پیرو کا رپیشوا کا حصہ ہو جائے گا او رتابع و متبوع کا اتحاد اور ایک ہونا لازم آئےگا حالانکہ ظاہر آیت یہ ہے کہ پیرو کار اور ہیں اور پیشوا اور ہیں یعنی تابعین او رمتبوعین جد اجدا اور علیحدہ علیحدہ ہیں ( غور کیجئے گا ) ۔

خلاصہ یہ کہ مندرجہ بالا آیت ان آیات میں سے ایک ہے جو ہر زمانے میں موجود معصوم پر دلالت کرتی ہیں ۔

ایک سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ ” صادقین “ جمع ہے لہٰذا ضروری ہے کہ ہر زمانے میں متعدد معصوم ہوں ۔

اس سوال کا جواب بھی واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ مخاطب صرف ایک زمانے کے لوگوں نہیں ہیں بلکہ آیت تمام زمانوں کے لئے ہے لہٰذا گفتگو متعدد معصومین کے بارے میں ہو گی نہ کہ ایک فرد کے بارے میں ۔

اس امر کا بولتا ہوا گواہ یہ ہے کہ زمانہ رسول میں سوائے آنحضرت کے کوئی اور واجب الاطاعت نہ تھا۔ جبکہ آیت مسلمہ طور پر اس زما نے مومنین کے لئے بھی تھی ۔ لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ جمع سے مراد ایک زمانے کے افراد نہیں بلکہ جمع زمانوں کے مجموعہ کے لئے ہے ۔

____________________

۱۔ تفسیر فخر رازی ج۱۶ ص ۲۲۰، ص ۲۲۱۔


آیات ۱۲۰،۱۲۱

۱۲۰ ۔( مَا کَانَ لِاٴَهْلِ الْمَدِینَةِ وَمَنْ حَوْلَهُمْ مِنَ الْاٴَعْرَابِ اٴَنْ یَتَخَلَّفُوا عَنْ رَسُولِ اللهِ وَلاَیَرْغَبُوا بِاٴَنفُسِهِمْ عَنْ نَفْسِهِ ذَلِکَ بِاٴَنَّهُمْ لاَیُصِیبُهُمْ ظَمَاٴٌ وَلاَنَصَبٌ وَلاَمَخْمَصَةٌ فِی سَبِیلِ اللهِ وَلاَیَطَئُونَ مَوْطِئًا یَغِیظُ الْکُفَّارَ وَلاَیَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَیْلًا إِلاَّ کُتِبَ لَهُمْ بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللهَ لاَیُضِیعُ اٴَجْرَ الْمُحْسِنِینَ ) ۔

۱۲ ۱۔( وَلاَیُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِیرَةً وَلاَکَبِیرَةً وَلاَیَقْطَعُونَ وَادِیًا إِلاَّ کُتِبَ لَهُمْ لِیَجْزِیَهُمْ اللهُ اٴَحْسَنَ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) ۔

ترجمہ

مناسب نہیں کہ اہل مدینہ اور بادیہ نشین جو اس کے اطراف میں ہیں ، رسول اللہ سے اختلاف کریں اور اپنی جان بچانے کے لئے ان کی جان سے لاپرواہی کریں یہ اس لئے ہے کہ انھیں کوئی پیاس نہیں لگے گی ، نہ خستگی ہو گی ، نہ راہ ِ خدا میں بھوک لگے گی ، نہ وہ کوئی ایسا قدم اٹھاتے ہیں کہ جو کافروں کے غضب کاموجب ہو او رنہ دشمن سے کوئی ضرب کھاتے ہیں مگر یہ کہ ا سکی وجہ سے ان کے لئے اچھا عمل لکھا جاتا ہے کیونکہ نیک لوگوں کی اجرت ( او رجزا) ضائع نہیں کرتا ۔

۱۲۱ ۔ اور وہ کسی چھوٹے یا بڑے مال کو ( راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے اور کسی زمین کو ( میدان جہاد کی طرف جاتے ہوئے یا اس سے پلٹتے ہوئے ) خرچ نہیں کرتے اور کسی زمین کو ( میدان جہاد کی طرف جاتے ہوئے اس سے پلٹتے ہوئے ) عبور نہیں کرتے مگر یہ کہ ان کے لئے لکھا جاتا ہے تاکہ خدا ان کے بہترین اعمال کے لحاظ سے انہیں جزا دے ۔

مجاہدین کو مشکلات پر جزا ضرور ملے گی

گذشتہ آیات میں جنگ تبوک سے پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں سر زنش آئی تھی ۔ زیر بحث دو آیات اس سلسلے میں ایک کلی قانون کے طور پر آخری اور بنیادی بحث کرتی ہیں ۔

پہلے فرمایا گیا ہے : مدینہ کے لوگ او ربادیہ نشین جو اس مر کز اسلام شہر کے اطراف میں زندگی بسر کرتے ہیں انھیں حق نہیں پہنچتا کہ رسول اللہ سے اختلاف کریں اور انھیں چھو ڑ کربیٹھ جائیں( مَا کَانَ لِاٴَهْلِ الْمَدِینَةِ وَمَنْ حَوْلَهُمْ مِنَ الْاٴَعْرَابِ اٴَنْ یَتَخَلَّفُوا عَنْ رَسُولِ اللهِ ) ۔

اور نہ انھیں یہ حق پہنچتا ہے کہ اپنی جان کی حفاظت کو رسول کی جان کی حفاظت پر مقدم رکھیں( وَلاَیَرْغَبُوا بِاٴَنفُسِهِمْ عَنْ نَفْسِهِ ) ۔

کیونکہ امت کے رہبر ، اللہ کے رسول اور ملت اسلام کی بقا اور حیات کی علامت ہیں انھیں اکیلا چھوڑ دینا نہ صرف پیغمبر کو خطرے میں ڈالے گا بلکہ دین ِ خدا اور خود مومنین کا وجود اور حیات کا بھی حقیقتاً خطرے میں پڑ جائے گی ۔

در حقیقت قرآن ایک جذباتی بیان کے ذریعے تمام اہل ایمان کو پیغمبر کی حفاظت کرنے پر ابھارتاہے اور مشکلات و مصائب میں ان کی حمایت اور دفاع کی ترغیب دیتا ہے اور کہتا ہے کہ تمہاری جان اس کی جان سے عزیز تر نہیں ہے اور نہ تمہاری زندگی اس کی حیات سے زیادہ قیمتی ہے ۔ کیا تمہارا ایمان اس کی جازت دیتا ہے کہ وہ ہستی جو بہت ہی زیادہ پر ارزش ہے اور جس کا وجود تمہاری نجات اور رہبری کے لئے ، وہ خطرے میں پڑجائے اور تم سلامت طلب اپنی جان اس کی جان بچانے کے لئے اس کی راہ میں قربانی سے دریغ کرو۔

مسلم ہے کہ مدینہ اور اطراف مدینہ کے لئے تاکید اس بنا پر ہے کہ اس زمانے میں مرکز اسلام مدینہ میں تھا ورنہ یہ حکم نہ مدینہ اور اس کے اطراف کے ساتھ مخصوص ہے اور نہ ہی پیغمبر خدا کے ساتھ مخصوص ہے ۔ تمام مسلمانوں کی ہر دور میں ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے رہبروں کو اپنی جان کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ گرامی اور عزیز سمجھیں اور ان کی حفاظت کی کوشش کریں او رمشکلات میں انھیں اکیلا نہ چھوڑیں کیونکہ ان کے لئے خطرہ پوری امت کے لئے خطرہ ہے ۔

اس کے بعد اس اجر و جزا کی طرف اشارہ ہے جو ہر قسم کی مشکلات کا مجاہدانہ مقابلہ کرنے سے مجاہدین کو نصیب ہوتی ہے ان مشکلات میں سے سات اقسام کی نشاندہی کی گئی ہے :

۱ ۔ ”یہ اس بنا پر ہے کہ انھیں کوئی پیاس نہیں لگتی“( ذَلِکَ بِاٴَنَّهُمْ لاَیُصِیبُهُمْ ظَمَاٴ ) ۔

۲ ۔ ” نہ انھیں کوئی خستگی اور تکان ہوتی ہے “( وَلاَنَصَبٌ ) ۔

۳ ۔ ” نہ راہ خدا میں انھیں کوئی بھوک دامن گیر ہوتی ہے “( وَلاَمَخْمَصَةٌ فِی سَبِیلِ اللهِ ) ۔

۴ ۔ ” نہ کفار کے غیظ و غضب کی وجہ سے کسی خطرے سے دوچار ہوتے ہیں “( وَلاَیَطَئُونَ مَوْطِئًا یَغِیظُ الْکُفَّارَ ) ۔

۵ ۔ ” اور نہ انھیں دشمن کی طرف سے کوئی ضرب لگتی ہے “( وَلاَیَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَیْلًا ) ۔

مگر یہ کہ اس کے ساتھ ان کے لئے عمل صالح لکھاجاتاہے ( ا( ِٕلاَّ کُتِبَ لَهُمْ بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ ) ۔مسلم ہے کہ خدائے بزرگ و برترکی طرف سے انھیں ایک ایک کرکے جزا اور اجر ملے گا ، کیونکہ خدا نیک لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتا ہے( إِنَّ اللهَ لاَیُضِیعُ اٴَجْرَ الْمُحْسِنِینَ ) ۔

۶ ۔ اسی طرح ” وہ تھوڑایا زیادہ مال راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے( وَلاَیُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِیرَةً وَلاَکَبِیرَةً ) ۔

۷ ۔ اورمیدان جہاد میں جاتے ہوئے لوٹتے ہوئے وہ کسی سر زمین کو عبور نہیں کرتے مگر یہ کہ یہ تمام قدم اور یہ اخراجات ان کے لئے ثبت ہو ہو جاتے ہیں اور لکھ لئے جاتے ہیں “( وَلاَیَقْطَعُونَ وَادِیًا إِلاَّ کُتِبَ لَهُمْ ) ۔

تاکہ آخر خدا اعمال کے لحاظ سے انھیں بدلہ اور جزا دے( لِیَجْزِیَهُمْ اللهُ اٴَحْسَنَ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) ۔

چند قابل توجہ نکات

۱ ۔( لاینا لون من عدو نیلا ) “کا مفہوم :

جیسا کہ سطور بالا میں ذکر ہوا ہے اس جملے اکثر مفسرین نے یہ مراد لیا ہے کہ مجاہد ین راہ ِ خدا میں دشمن سے بی تکلیف اٹھائیں چاہے وہ زخم کی صورت میں ہو یا قید و بد کی صورت میں یا پھر قتل ہونے کی صورت میں ہو خدائی جز ا کے لئے ان کے نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہے اور ہر ایک کی مناسبت سے انھیں اجر ملے گا ۔

اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ آیت مجاہدین کی مشکلات شمار کر رہی ہے یہی معنی مناسب معلوم ہوتا ہے لیکن اگر خود اس جملے کی ب بندی کا سہارا لیں اور اس کے الفاظ کی مناسبت سے اس کی تفسیر کریں تو پھر اس کا معنی یہ ہوگا کہ وہ پیکر دشمن پر ج وبھی ضرب لگاتے ہیں ان کے نامہ عمل میں لکھی جائے گی کیونکہ ”نال من عدوہ “ لغت میں دشمن پر ضب بلگانے کے معنی میں ہے لیکن پوری آیت کے لئے توجہ گذشتہ تفسیر کے لئے قرینہ ہے ۔

۲ ۔( احسن ماکانوا یعلون ) “ سے کیا مراد ہے ؟

اس جملے کی دو تفسیرں ذکر کی گئی ہیں ایک یہ کہ لفظ ” احسن “ ان کے افعال کی صفت ہے اور دوسرا یہ کہ ان کی جزا کی صفت ہے ۔

پہلی صفت ہم نے اوپر انتخاب کی ہے یہی ظاہر آیت سے بھی زیادہ منافق ہے ۔ اس تفسیر کے مطابق ایسے مجاہدین کے اعمال ان کی زندگی کے بہترین اعمال قرار دئیے گئے ہیں اور خدا ان کی جزا ان کے تناسب کے لحاظ سے دے گا ۔

دوسری تفسیر لفظ ” احسن “ کے بعد لفظ ” من “ کی تقدیر کی محتاج ہے اس کے مطابق خدائی جزا ان کے اعمال سے بہتر اور بالاتر قرار دی گئی ہے ۔ اس کے مطابق جملے کی تقدیر اس طرح ہو گی :لیجزیھم اللہ احسن مما کانوا یعملون ۔ یعنی جو کچھ وہ انجام دے چکے ہیں خدا انھیں اس سے بہتر جزا دے گا ۔

۳ ۔ یہ آیت ہر دور کے مسلمانوں کے لئے ہے :

مندرجہ بالا آیات صرف گذشتہ مسلمامنوں کے لئے نہ تھیں بلکہ آج کے بھی اور ہر دور کے مسلمانوں کے لئے ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ ہر جہاد میں چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، طرح طرح کی مشکلات اور پریشانیاں ہوتی ہیں لیکن جب مجاہدین قلب و روح کو خد اپر ایمان اور ا س کے عظیم وعدوں سے روشن کریں او رجان لیں کہ ہر سانس ، ہر بات اور ہر قدم جو ا س کے راستے میں اٹھائیں گے وہ ضائع نہیں ہوگا بلکہ اس کا حساب بغیر کسی کم و کاست کے انتہائی باریک بینی سے محفوظ ہے اور خدا انھیں ان کے بدلے میں انھیں بہترین اعمال شمار کرتے ہوئے اپنے لطف کے بحر بیکراں سے مناسب ترین جزا دے گا تو ان حالات میں وہ مشکلات بر داشت کرنے سے کبھی نہیں گھبرائیں گے اور مشکلات کی کثرت سے نہیں ڈریں گا اور جہاد کتنا ہی طولانی ، کھٹن اور حادثات سے معمور ہووہ کسی قسم ضعف ہووہ کسی قسم کی ضعف اور سستی کا مظاہرہ نہیں کریں گے ۔


آیت ۱۲۲

۱۲۲ ۔( وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِیَنفِرُوا کَافَّةً فَلَوْلاَنَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِیَتَفَقهُوا فِی الدِّینِ وَلِیُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَیْهِمْ لَعَلَهُمْ یَحْذَرُونَ ) ۔

ترجمہ

۱۲۲ ۔ مناسب نہیں کہ سب مومنین ( میدان جہاد کی طرف ) کوچ کریں ۔ ہر گروہ میں سے ایک طائفہ کیوں خرچ نہیں کرتا( اور ایک حصہ باقی نہیں رہتا) دین ( اور اسلامکے معارف و احکام ) سے آگاہی حاصل کریں اور اپنی قوم کی طرف باز گشت کے وقت انھیں ڈرائیں تاکہ وہ ( حکم خدا کی مخالفت سے ) ڈریں اور رک جائیں ۔

شان نزول

مرحوم طبری نے مجمع البیان میں ابن عباس سے روایت کی ہے کہ جس وقت پیغمبر اکرم میدان جہاد کی طرف روانہ ہوئے تو سب مسلمان آپ کے ساتھ نکل پڑتے ۔ پیچھے معذور افراد اور منافقین رہ جاتے لیکن جب کچھ آیات منا فقین کی نازل ہوئیں اور خصوصاً جنگ تبوک سے منہ موڑنے والوں کو جس طرح سے وعید و ملامت نے آگھیرا اس سے مومنین جہاد کے میدانوں میں شرکت کے لئے اور زیادہ پختہ ہو گئے ۔ یہاں تک کہ وہ جنگیں جن میں پیغمبر ذاتی طور پر شرکت نہیں کرتے تھے ان میں شرکت کے لئے بھی سب نکل پڑتے تھے اور رسول اللہ کو تنہا چھوڑ دیتے تھے ۔

اس صورت حال کے پیش نظر مندر جہ بالا آیت نازل ہوئی اور انھیں بتا یا گیا کہ ضرورت کے علاوہ مناسب نہیں کہ سب مسلمان میدان جنگ کی طرف جائیں بلکہ ایک گروہ مدینہ کی طرف جائے او رمدینہ میں جانے والے رسول اللہ سے اسلامی معارف و احکام کی تعلیم حاصل کریں اور اپنے مجاہددوستوں کو واپس آنے کے بعد تعلیم دیں ۔

اس عظیم مفسر نے اس اضمون کی ایک اور شانِ نزول نقل کی ہے : اصحاب پیغمبر میں سے کچھ افراد تبلیغ دین کے لئے بادیہ نشین قبائل کے پاس گئے ،۔ بادیہ نشینوں نے ان کی آمد کو پسند کیا اور ان سے اچھا سلوک کیا لیکن بعض نے ان پر اعتراض کیا کہ تم لوگ کویں رسول اللہ کو چھوڑ کر ہمارے پاس آ گئے ہو۔ یہ بات سن کر وہ پریشان اور افسردہ ہوئے اور پیغمبر خدا کی خدمت میں پلٹ آئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی او ران کے تبلیغی کام کی تائید کی اور ان کی پریشانی کو دور کیا ۔

تفسیر تبیان میں اس آیت کی ایک اور شانِ نزول بھی نقل ہوئی ہے اور وہ یہ کہ جب بادیہ نشین لوگ مسلمان ہو گئے تو احکام ِ اسلام معلوم کرنے کے لئے سب کے سب مدینہ کی طرف چل پڑے اس سے مدینہ میں اجناس کی قیمتیں چڑھ گئیں اور کئی اور مشکلات پیدا ہوگئیں ۔

اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انھیں حکم دیا گیا کہ ضروری نہیں کہ تم سب سے اپنے شہر اور گھروں کو خالی چھوڑ کر معارف ِ اسلام سمجھنے کے لئے مدینہ آجاو بلکہ اگر کچھ لوگ آجائیں تو کافی ہے ۔

جہالت اور دشمن کے خلاف جہاد

زیر نظر آیت ، جہاد کے سلسلے میں گزشتہ آیات سے تعلق رکھتی ہے یہ ایک ایسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے جو مسلمان کے لئے حیات آفرین حیثیت رکھتی ہے اور وہ یہ کہ جہاد بہت اہمیت رکھتا ہے اور اس سے پیچھے رہ جانا ننگ و عار اور گناہ ہے لیکن بعض مواقع پر جہاں ضرورت تقاضا نہیں کرتی کہ تما م مسلمان میدانِ جہاد میں شرکت کریں خصوصاً ان مواقع پر جب پیغمبر خود مدینہ میں رہ جائیں تو ” مناسب نہیں کہ سب جہا د کے لئے چل پڑیں بلکہ ضروری ہے کہ مسلمانوں کی ہر جماعت کے دوحصے ہوں ۔ ایک حصہ فریضہ جہاد کو انجام دے اور دوسرا حصہ مدینہ میں رہ کر اسلام کے معارف کی تعلیم حاصل کرے “( وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِیَنفِرُوا کَافَّةً فَلَوْلاَنَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِیَتَفَقهُوا فِی الدِّینِ ) ۔اور جب ان کے دوست مجاہدین میدن سے پلٹ کر آئیں تو خدا کے احکام و فرامین کی انھیں تعلیم دیں اور انھیں ان کی مخالفت سے ڈرائیں “( وَلِیُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَیْهِمْ ) ۔ہو سکتا ہے اس طرح سے فرمان خدا کی مخالفت سے پرہیز کریں اور اپنے فرائض انجام دیں “( لَعَلَهُمْ یَحْذَرُونَ ) ۔

چند قابل توجہ امور

۱ ۔ آیت کی تفسیر میں مختلف احتمالات:

آیت کی تفسیر میں جو کچھ کہا ہے وہ مشہور شانِ نزول میں مطابقت رکھنے کے علاوہ آیت کے ظاہری مفہوم سے بھی دیگر ہر تفسیر کی نسبت زیادہ موافق ہے ایک چیز البتہ یہاں قابل غور ہے اور وہ یہ کہ ” کل فرقة طائفة“ کے بعد ”لتبقی طائفة “ ( ایک گروہ باقی رہے ) مقدر سمجھا جائے یعنی ہر جماعت میں سے ایک گروہ چلاجائے اور ایک گروہ رہ جائے آیت میں موجود قرائن کی طرف توجہ کی جائے تو اس سے کوئی مشکل پیدا نہیں ہوتی ( غور کیجئے گا )

لیکن بعض مفسرین نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ آیت میں کسی قسم کی تقدیر نہیں ہے او رمراد یہ ہے کہ مسلمانوں کا ایک گروہ واجب کفائی ہے طور پر میدانِ جہاد میں جائے اور وہاں اسلامی تعلیمات سے آگاہی حاصل کرے دشمنوں پر مسلمانوں کی کامیابی کو اپنی آنکھوں سے دیکھے جو کہ اس دین کی عظمت و حقانیت کا نمونہ ہے اور واپسی پر یہ آگاہی اپنے دوستوں کو منتقل کرے ۔(۱)

تیسرا احتمال بعض بعض دوسرے مفسرین نے ذکر کیا ہے اور وہ یہ کہ مباحث جہاد سے الگ ، آیت ایک مستقل حکم بیان کررہی ہے اور وہ یہ کہ مسلمانوں پر فرضہے کہ واجب کفائی کے طو رپر ان کی ہر جمیعت میں سے ایک گروہ اٹھ کھڑا ہو جو اسلامی تعلیمات و معارف حاصل کرنے کے لئے اسلام کے عظیم مراکز کی طرف جائے او رعلوم حاصل کرنے کے بعد اپنے شہروں اور گھروں کو پلٹ آئے اور دوسروں کو ان کی تعلیم دے ۔ (یہ تفسیر تبیان میں شیخ کی بیان کی گئی شان ِ نزول سے مطابقت رکھتی ہے)

البتہ جیسا کہ ہم نے کہا ہے پہلی تفسیر آیت کے مفہوم سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے اور اگر چہ تمام معانی مرادلینا بھی زیادہ بعید نہیں ہے ۔(۲)

۲ ۔ ایک اشکال اور اس کا جواب :

بعض نے خیال کیا ہے کہ اس آیت اور گزشتہ آیات کے درمیان ایک طرح کا اختلاف زیر بحث آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ سب کو میدان ِ جہادمیں شرکت کا حکم دیا گیا ہے اور پیچھے رہ جانے والوں کی سخت سر نزش کی گئی ہے لیکن زیر بحث آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ سب لوگ میدان ِ جہاد کی طرف نہ چل پڑیں ۔

لیکن واضح ہے کہ یہ دونوں حکم مختلف حالات کے پیش نظر دئیے گئے ہیں مثلاً تبوک کے موقع پ رجبکہ روم کی شاہی حکومت کی طاقتور فوج کا سامنا تھا ، وہاں اس کے عالوہ چارہ ہی نہ تھا کہ تمام مسلمان چل پڑیں خصوصاًایسے مواقع پر جبکہ رسول اللہ خود مدینہ میں رہ جائیں تو مدینہ خالی نہیں چھوڑ نا چاہئیے اور اس صورت میں اھتمالی خطرات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے نیز اسلامی احکام و معارف کے حصول سے غافل نہیں رہنا چاہئیے ۔ لہٰذ امندرجہ بالا آیات میں کوئی نسخ نہیں ہے اور بعض نے جویہ خیال کیا ہے وہ اشتباہ ہے ۔

۳ ۔”تفقه فی الدین “کا وسیع مفہوم :

اس میں شک نہیں کہ ”تفقه فی الدین “ سے مراد تمام اسلامی معارف و احکام کا حصول ہے چاہے ان کا تعلق اصول دین سے ہو یا فروع دین سے کیونکہ تفقہ کے مفہوم میں یہ تمام امور جمع ہیں لہٰذ ا مندرجہ بالا آیت اس بات پر واضح دلیل ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک گروہ ہمیشہ واجب کفائی انجام دینے کے لئے تمام اسلامی مسائل میں تحصیل علم کرے اور فارالتحصیل ہونے کے بعد اسلامی احکام کی تبلیغ کےلئے مختلف علاقوں کی طرف جائے ، خصوصاً اپنی قوم اور جمیعت کی طرف آئے اور اسے اسلامی مسائل سے آشنا کرے ۔

لہٰذا مندرجہ بالا آیت کے اسلامی مسائل کے تعلیم و تعلم کے وجوب پر ایک واضح دلیل ہے دوسرے لفظوں میں تعلیم حاصل کرنا بھی واجب ہے اور تعلیم دینا بھی ۔ آج کی دنیا اگر جبری تعلیم پر فخر کرتی ہے تو قرآن نے چودہ سو سال پہلے اس سے بھی بڑھ کر معلمین پر بھی یہ کام فرض کیا ہے ۔

۴ ۔ اجتہاد اور تقلید کے جواز پر استدلال :

بعض علماء اسلام نے زیر نظر آیت سے مسئلہ جواز تقلید پر استدلال کیا ہے ۔ کیونکہ تعلیمات ِ دین حاصل کرنا اورمسائل فروع کو دوسروں تک پہنچا نا اور سننے والوں کے لئے ان کی لازمی طور پر پیروی کرنا یہی تقلید ہے ۔

البتہ جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ زیر بحث آیت صرف فروع دین سے بحث نہیں کرتی اور اس کے مفہوم میں مسائل ِ اصول بھی شامل ہیں لیکن بہر حال فروع دین اس کے مفہوم میں داخل ہیں ۔

واحد اعتراض جو یہاں نظر آتا ہے یہ ہے کہ اس وقت اجتہاد اور تقلید کی بات نہیں تھی اس زمانے میں جو لوگ مسائل دین سیکھتے اور اسے دوسروں تک پہنچاتے ان کی کیفیت ہمارے زمانے کے مسائل بیان کرنے والے حضرات کی سی نہ تھی نہ وہ مجتہدین کی سی حیثیت رکھتے تھے یعنی پیغمبر اکرم سے مسائل معلوم کرکے بعینہ بغیر کسی قسم کے اظہار ِ نظر کے دوسروں کے سامنے نقل کردیتے تھے ۔

اگر ہم اس طرف توجہ دیں کہ اجتہاد اور تقلید کا ایک وسیع مفہوم ہے تو مندر بالا اعتراض کا جواب مل سکتا ہے ۔

اس کی وضاحت یہ ہے کہ اس میں شک نہیں کہ علم فقہ کو جو موجود ہ وسعت حاصل ہے یہ اس زمانے میں نہ تھی اور مسلمان آسانی سے پیغمبر اکرم سے مسائل معلوم کرلیتے تھے لیکن اس کے باوجود ایسا نہ تھا کہ تما م بزرگان ِ اسلام ہمارے زمانے کے مسائل بیان کرنے والے حضرات کی طرح ہوں ۔ ان میں سے بہت سے افراد قضاوت یا امارت کی ذمہ دایوں کی ادائیگی کے لئے دوسری جگہوں کی طرف جایا کرتے تھے ۔ فطرتا ً انھیں کچھ ایسے مسائل پیش آتے تھے جو بعینہ انھوں نے پیغمبر اکرم سے نہ سنے تھے ۔ لیکن وہ آیا ت قرآن کے عمومات اور اطلاق سے استفادہ کرتے تھے ۔ مسلماً وہ کلیات کی تطبیق پر کرتے تھے ۔عملی اصطلاح میں ” ردّ فروع بر اصول “اور ”ردّ اصول بر فروع “ سے ان مسائل کے احکام سمجھتے تھے اور یہ ایک قسم کا سادہ اور آسان اجتہاد تھا ( غور کیجئے گا ) ۔

مسلم ہے کہ یہ کام اور ایسے معاملات رسول اللہ کے زمانے میں تھے ۔ اس طرح سے اجتہاد کی بنیاد صحابہ میں موجود تھی اگر چہ تمام اصحاب اس مد میں آتے تھے ۔

زیرنظر آیت چونکہ عمومی مفہوم رکھتی ہے لہٰذا مسائل بیان کرنے والے افراد کی بات قبول کرنے اور مجتہدین کا قول قبول کرنے کے دونوں مفہوم اپنے دامن میں لئے ہوئے ۔ اس طرح آیت کی عمومیت سے جوازِ تقلید پر استدلال کیا جاسکتا ہے ۔

۵ ۔ تعلیم اور تعلّم کی اہمیت : ایک اور اہم مسئلہ جو آیت سے معلوم کیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کی نظر میں تعلیم اور تعلّم کا ایک خاص احترام اور اہمیت ہے یہاں تک کہ اسلام مسلمانوں پر لازم قرار دیتا ہے کہ سب کے سب میدانِ جنگ میں شرکت نہ کریں بلکہ ایک گروہ ٹھہر جائے اور معارف اسلام حاصل کرے یعنی جہالت کے خلاف جہاد کرنا دشمن کے خلاف جہاد کرنے کی طرح فرض ہے اور ایک کی دوسرے سے کم اہمیت نہیں ہے بلکہ جب تک جہا لت کے خلاف جہاد کرنے میں کامیاب نہ ہوں دشمن سے جہاد میں کامیاب نہیں ہو سکتے کوینکہ جاہل قوم ہمیشہ شکست خوردہ ہوتی ہے ۔ ایک معاصر مفسرے نے اس آیت کے ذیل میں ایک جالب ِ نظر بات بیان کی ہے ۔

وہ کہتا ہے : ” میں طرابلس میں تحصیل علم میں مشغول تھا ایک دن وہاں کا ڈپٹی کمشنر جو معارفِ اسلامی کے بارے میں خود بھی اچھی آگاہی رکتھا تھا ، مجھ سے کہنے لگا :۔

”حکومت کس بناء پر علماء اور علوم دینی کے طلباء کو فوجی خد مات سے مستثنیٰ قرار دیتی ہے جب کہ یہ مقدس خدمت شرعی طور پر سب پر واجب ہے او رعلوم دین کے طلبہ اس دینی فریضہ کی انجام دہی کے لئے دیگر لوگوں کی نسبت زیادہ حق رکھتے ہیں ، کیا یہ کام غلط نہیں ہے ؟ “

فوراً زیرنظر آیت مجھے یاد آئی اور میں نے بغیر کسی تمہید کے کہا:

” اس معاملے کی بنیاد قرآن میں موجود ہے اور اس سلسلے میں وہ کہتا ہے کہ اگر ایک گر وہ جہاد کرے اور ایک گروہ علم حاصل کرے “۔

اسے اس جواب سے بہت لطف آیا ، خصوصاً جب کہ اس نے مجھ جیسے ابتدائی طالب علم سے یہ جواب سنا جب کہ میں نے ابھی تازہ تازہ ہی تحصیلِ علم کا سلسلہ شروع کیا تھا ۔( المنار ج ۱۱ ص ۷۸) ۔

____________________

۱۔ قر طبی کے مطابق یہ تفسیر طبری نے اپنی تفسیر میں انتخاب کی ہے ۔ بعض مفسرین نے بھی احتمال کے طور پر آیت کے ذیل میں اسے ذکر کیا ہے ۔

۲ ۔ توجہ رہے کہ ہمارے نزدیک کسی لفظ کا ایک سے زیادہ معانی میں استعمال صحیح ہے ۔


آیت ۱۲۳

۱۲۳ ۔( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِینَ یَلُونَکُمْ مِنْ الْکُفَّارِ وَلْیَجِدُوا فِیکُمْ غِلْظَةً وَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ مَعَ الْمُتَّقِینَ ) ۔

ترجمہ

۱۲۳ ۔ اے ایمان والو! ان کفار کے ساتھ جنگ کرو جو تمہارے زیادہ قریب ہیں ( اور دور کا دشمن تمہیں نزدیک کے دشمن سے غافل نہ کردے ) اور وہ تمام میں شدت او رسختی محسوس کریں اور جان لو خدا پر ہیز گاروں کے ساتھ ہے ۔

قریب کے دشمن کی خبر

جہاد کے بارے میں جاری مباحث کے ضمن میں زیر نظر آیت میں دو مزید احکام بیان کئے گئے ہیں ۔

پہلے روئے سخن مومنین کی طرف کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اے ایمان والو! ان کفار سے جنگ کرو جو تمہارے آس پاس ہیں( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِینَ یَلُونَکُمْ مِنْ الْکُفَّارِ ) ۔

یہ درست ہے کہ تمام دشمنوں کے خلاف جنگ کرنا چاہتے اور اس سلسلے میں کوئی امتیاز نہیں لیکن جنگی تیکنک کے لحاظ سے بلا شبہ پہلے قریب ترین دشمن کے خلاف جنگ کرنا چاہئیے ۔ کوینکہ قریب کے دشمن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے یہ اسی طرح ہے جیسے اسلام کی طرف دعوت دینے اور دین حق کی طرف ہدایت کرنے کے وقت بھی زیادہ نزدیک ہے ان سے آغاز کیا جانا چاہئیے ۔

رسول اللہ نے حکم خدا سے اپنی دعوت کا آغاز اپنے رشتہ داروں سے کیا تھا اس کے بعد مکہ کے لوگوں کو تبلیغ کی ۔ اس کے بعد سارے جز یرہ عرب کی طرف مبلّغ بھیجے اور پھر ساری دنیا کے باد شاہوں کو خطوط لکھے اور بلا شبہ طریقہ کامیابی کے زیادہ قریب ہے ۔

البتہ ہر قانون میں کچھ استثنائی پہلو ضرور ہوتے ہیں ممکن ہے کچھ ایسے امور خلافِ معمول پیش آجائیں کہ دور کا دشمن بہت زیادہ خطر ناک ہو لہٰذا پہلے اس کی سر کوبی کے لئے جانا پڑے لیکن جیسا کہ ہم نے کہا ہے یہ ایک استثناء ہے نہ کہ ایک کلی قانون ۔

یہ جو ہم نے کہا ہے کہ قریب کے دشمن سے نپٹنا زیادہ ضروری ہے اس کے دلائل واضح ہیں ۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ قریب کے دشمن کا خطرہ دور کے دشمنوں سے زیادہ ہوتا ہے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ ہماری آگاہی اورا طلاعات قریب کے دشمن کے بارے میں زیادہ ہوتی ہیں اور یہ خود کامیابی کے لئے ممدو معاون ہیں ۔

تیسری بات یہ ہے کہ دور والے دشمن کی طرف جانا اور نزدیک والے دشمن کو آزاد چھوڑ دینا اس خطرے کا باعث بھی ہوسکتا ہے کہ قریب والا دشمن پیچھے سے حملہ کر دے یا مرکز ِ اسلام خالی ہونے کی صورت میں اسے درہم برہم کردے ۔

چوتھی بات یہ ہے کہ نزدیک کے دشمن کے مقابلے میں وسائل اور سازو سامان نسبتاً کم درکار ہوتا ہے اور قریبی محاذ پر قبضہ کرنا مقابلتاً آسان ہے ۔

ان وجوہ کی بنا پر اور ایسی دیگر وجوہ کے پیش نظر ایسے دشمن کو دفع کرنا زیادہ ضروری ہے ۔

اس نکتے کا ذکر بھی بہت ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت زیر نظر آیت نازل ہو ئی اس وقت اسلام تقریبا ً سارے جزیرہ عرب کو اپنے زیر نگین کر چکا تھا

اس بناء پر اس وقت نزدیک ترین دشمن مشرقی روم کی حکومت ہی تھی کہ جس کے مقابلے کےلئے مسلمان تبوک کی طرف گئے تھے ۔

اس بات کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہئیے کہ زیر نظر آیت اگر چہ مسلح جنگ اور فاصلہ مکانی کے بارے میں گفتگو کررہی ہے لیکن بعید نہیں کہ آیت کی روح منطقی جنگوں اور معنوی فاصلوں کے بارے میں بھی حکم دیتی ہویعنی مسلمان دشمنوں سے منطقی اور تبلیغا تی مقابلے کے لئے پہلے ایسے لوگوں کا مقابلہ کریں جن کا خطرہ اسلامی معاشرے کے لئے بہت نزدیک ہو۔ مثلاً ہمارے زمانے میں الحاد اور مادیت کا خطرہ تمام معاشروں کو دستک دے رہا ہے ۔ لہٰذباطل مذاہب سے مقابلے کی نسبت اس کے مقابلے کومقدم رکھنا چاہئیے یہ نہیں کہ انھیں بھلا دیا جائے ۔ بلکہ تیز حملے کا رخ زیادہ خطر ناک گروہ کی طرف ہونا چاہئیے یا مثلاً فکری یا سیاسی اور اقتصادیاستعمار سے مقابلے کے پہلے درجے میں رکھنا چاہئیے ۔

جہادکے متعلق آیت بالا میں دوسرا حکم شدت عمل کا ہے ، آیت کہتی ہے : دشمنوں کو تم میں ایک طرح کی سختی کا احساس ہونا چاہئیے( وَلْیَجِدُوا فِیکُمْ غِلْظَةً ) ۔یہ اس طرف اشارہ ہے کہ قیام کے لئے اور دشمن کا سختی سے مقابلہ کرنے کے لئے صرف باطنی شجاعت و شہامت اور قلبی آمادگی کافی نہیں ہے بلکہ اپنی اس آمادگی اور شدت کا دشمن کے سامنے اظہار بھی ہونا چاہئیے تاکہ اسے معلوم ہو کہ تم میں ایسا جذبہ موجود ہے اور اور یہی چیز اس کی عقب نشینی اور شکست کا باعث بن جائے اور دوسرے لفظوں میں قوت اور طاقت کا ہونا کافی نہیں ہے بلکہ دشمن کے مقابلے میں طاقت کا اظہار بھی ہو نا چاہئیے ۔

اسی لئے تاریخ اسلام میں ہے کہ جس وقت مسلمان مکہ میں خانہ کعبہ کی زیارت کےلئے آئے تو پیغمبر اکرم نے انھیں حکم دیا کہ طواف تیزی کے ساتھ کریں بلکہ ڈوڑیں اور ان دشمنوں کے سامنے جو انھیں دیکھ رہے ہیں شدت و سرعت اور اپنی قوت و طاقت کا مظاہرہ کریں ۔

نیز فتح مکہ کے واقعہ میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت حکم دیا کہ سب مسلمان بیابان میں آگ روشن کریں تاکہ مکہ کے لوگ لشکر اسلام کی عظمت اور کثرت سے آشنا ہوں او ر ایسا ہی ہوایہ چیز ان کے دلوں پر اثر انداز ہوئی آپ نے یہ بھی حکم دیا کہ کفار مکہ کے سر براہ ابو سفیان کو ایک جگہ کھڑا کرکے طاقتور لشکر اسلامی کو ایک ایک دستہ کر کے اس کے سامنے سے گزارا جائے ۔

آخر میں قرآن مسلمانوں کو ان الفاظ میں فتح و کامرانی کا نوید دیتا ہے : جان لو خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے( وَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ مَعَ الْمُتَّقِینَ ) ۔ہو سکتا ہے یہ تعبیر مزید بر آں اس طرف بھی اشارہ ہو کہ شدت ِ عمل کو پر ہیز گاری کے ساتھ ہو نا چاہئیے اور حدودِ انسانی سے کسی صورت میں بھی تجا وز نہیں کیا جا نا چاہیئے ۔


آیات ۱۲۴،۱۲۵

۱۲۴ ۔( وَإِذَا مَا اٴُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُمْ مَنْ یَقُولُ اٴَیُّکُمْ زَادَتْهُ هَذِهِ إِیمَانًا فَاٴَمَّا الَّذِینَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِیمَانًا وَهُمْ یَسْتَبْشِرُونَ ) ۔

۱۲۵ ۔( وَاٴَمَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَی رِجْسِهِمْ وَمَاتُوا وَهُمْ کَافِرُونَ ) ۔

ترجمہ

۱۲۴ ۔ اورجب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ان میں سے بعض ( دوسروں سے ) کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم سے کس کے ایمان میں اضافہ کیا ہے ۔ (ان سے کہہ دو )جو لوگ ایمان لائے ہیں ، اس سے ان کا ایمان بڑھا ہے اوروہ ( خد اکے فضل و کرم سے ) خوش ہیں ۔

۱۲۵ ۔ لیکن جن کے دلوں میں بیماری ہے ان کی ناپاکی ہی کا اضافہ ہوا ہے اور وہ دنیا سے اس حالت میں گئے ہیں کہ وہ کافر تھے ۔

آیات قرانی کی تاثیر ۔ پاک اور ناپاک دلوں پر

منافقین اور مونین کے بارے میں گزشتہ مباحث کی مناسبت سے ان دو آیات میں ان دونوں گروہوں کی ایک واضح نشانی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔

پہلے ارشاد ہوتا ہے : جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو بعض منافقین ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ یہ سورت نازل ہونے سے تم میں سے کس کا ایمان بڑھا ہے( وَإِذَا مَا اٴُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُمْ مَنْ یَقُولُ اٴَیُّکُمْ زَادَتْهُ هَذِهِ إِیمَانًا ) ۔(۱)

ایسی باتیں کرکے وہ قرآن کی سورتوں کی عدم تاثیر اور ان کے بارے میں بے اعتنائی کااظہار کرنا چاہتے تھے وہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ یہ آیات کسی اہم اور قابل ِ توجہ مفہوم کی حامل نہیں ہیں ۔ لیکن قرآن انھیں قطعی لب و لہجہ میں جواب دیتا ہے اور لوگوں کے دو گروہوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتا ہے : رہے وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں ، تو ان آیات کا نزول ان کے ایمان میں اضافہ کرتا ہے اور ان کے چہروں سے مسرت کے آثار ظاہر ہوتے ہیں( فَاٴَمَّا الَّذِینَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِیمَانًا وَهُمْ یَسْتَبْشِرُونَ ) ۔” لیکن جن جن کے دلوں میں نفاق ، جہالت اور عناد اورحسد کی بیماری ہے ان کی ناپاکی پر ایک ناپاکی کا اضافہ ہوجا تا ہے “( وَاٴَمَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَی رِجْسِهِمْ ) ۔آخر کار وہ کفر اور بے ایمانی کی حالت میں اس دنیا سے جائیں گے( وَمَاتُوا وَهُمْ کَافِرُونَ ) ۔

چند قابل توجہ نکات

۱ ۔ قرانی آیا کے مختلف لوگوں پر مختلف اثرات:

قرآن کی مندرجہ بالا دو آیت اس حقیقت کی تاکید کرتی ہیں کہ صرف حیات بخش تعلیمات اور اچھا لائحہ عمل ہی کسی فریاگروہ کی سعادت کے لئے کافی نہیں بلکہ اس کے مقدمات کی فراہی اور بیادوں کا مہیا ہونا بھی ایک بنیادی شرط سمجھا جانا چاہئیے ۔

قرآنی آیات بارش کے حیات بخش قطروں کی طرح ہیں جو باغ میں سبزہ زار اگاتے ہیں تھور والی زمین میں خس و خاشاک۔

جو لوگ تعلیم اور ایمان کے جذبے سے اور حقیقت سے عشق کے ساتھ ان کی طرف دیکھتے ہیں وہ ہر سورت بلکہ ہر آیت سے نیا درس لیتے ہیں ۔ جو ان کے ایمان کی پرورش کرتا ہے اور ان میں انسانیت کی واضح مصفات کو تقویت پہنچا تا ہے ۔ لیکن جو لوگ ہٹ دھرمی ، غرور اور نفاق کے تاریک شیشوں کے پیچھے ان آیا ت کی طرف دیکھتے ہیں وہ نہ صرف ان سے فائدہ اٹھاتے بلکہ ان کے کفر اور عناد کی شدت میں اضافہ ہوجا تا ہے ۔

دوسرے لفظوں میں ہر نئے فرمان کے بارے میں وہ نئی نافرمانی اور نیا گناہ کرتے ہیں ، ہر حکم کے بارے میں نئی سر کشی اور ہر حقیقت کے سامنے نئی ہٹ دھرمی کرتے ہیں اس طرح ان کے وجود میں عصیان ، نافرمانیاں اور ہٹ دھرمیاں تہ در تہ جمع ہو جاتی ہیں اس طرح ان کی روح میں ان بری صفات کی جڑیں مضبوط ہ وجاتی ہیں آخر کار وہ حالت کفر میں مر جاتے ہیں اور واپسی کا راستہ ان کے لئے بالکل بند ہو جاتا ہے ۔

ایک اور تعبیر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ کسی بھی تربیتی پر وگرام میں فاعل کی فاعلیت کا فی نہیں ہے بلکہ روحِ قبولیت اور قابل کی قابلیت بھی بنیاد ی شرط ہے ۔

۲ ۔”رجس “ کا مفہوم :

لغت میں ” رجس “ کا معنی ہے ” پلید “ اور ” ناپاک “ وجود اور راغب نے اپنی کتاب مفردات میں لکھا ہے کہ پلیدی چار قسم کی ہے ۔

۱ ۔ طبیعت کے لحاظ سے ، ۲ ۔ عقل و فکر کے زاویہ سے ،

۳ ۔شریعت کے حوالے سے اور ۔ ۴ ۔ کبھی تمام پہلووں سے ۔

البتہ اس میں شک نیہں کہ وہ پلیدی جو نفاق ، ہٹ دھرمی اور حق کے مقابلے میں شدت سے پیدا ہو تی ہے ، ایک قسم کی باطنی اور معنوی ناپاکی ہے جس کا اثر آخر کار انسان کے تما م وجود ، گفتار اور کردار میں ظاہر ہوتا ہے ۔

۳ ۔ ”( وهم یستبشرون ) “ کا مطلب :

لفط ”بشارت “ کی اصل کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ جملہ ایسے سور اورخوشی کے آثار ان کے چہرے سے ظاہر ہوتے ہیں ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اذٓیات قرآنی کاتربیتی اثر مومنین میں اس قدر آشکار تھا کہ اس کی علامات فوراً انک ے چہروں میں نمایاں ہو جاتی تھیں ۔

۴ ۔ دل کی بیماری :

مندرجہ بالا آیات میں نفاق اور اس کی گندگی صفات کو دل کی بیماری کہا گیا ہے جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ ” قلب “ ایسے مواقع پر روح اور عقل کے معنی میں ہے اور دل کی بیماری ان مواقع رذائل اور روحانی انحرافات کے معنی میں ہے اور یہ تعلیم نشاندہی کرتی ہے کہ انسان کی روح اور عقل اگر صحیح و سالم ہو تو ان پر بری صفات میں سے کوئی بھی اس کے وجود میں اپنی جڑیں پید انہیں کرسکتی اور ایسا اخلاق جسمانی بیماری کی طرح طبیعت کے بر خلاف ہو گا ۔ لہٰذا ایسی صفات سے آلودگی اصلی طبعی راستے سے انحراف اور روحانی بیماری کی دلیل نہیں ہیں ۔۲

۵ ۔ ایک درس :

مندرجہ بالاآیت ہم سب مسلمانوں کو ایک عجیب درس دیتی ہے یہ آیات اس حقیقت کی ترجمانی کرتی ہیں کہ جب کوئی قرآنی سورت نازل ہوتی ہے تو پہلے مسلمانوں میں ایک تازہ روح پیدا ہوجاتی تھی اور انھیں نئی تربیت حاصل ہوتی تھی ، اس طرح کہ اس کے آثار بہت جلد ان کے چہروں سے نمایاں ہوجاتے تھے حالانکہ آج کل ہم بظاہر مسلمان افراد کو دیکھتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ ایک سورت پڑھ کر ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا بلکہ قرآن ختم کرکے بھی ان پر تھوڑا سا اثر بھی دکھا ئی نہیں دیتا ۔

تو کیا قرآن کی سورتیں اور آیتیں اپنا اثر کھو بیٹھی ہیں یا پھر افکار کی آلودگی ، دلوں کی بیماری اور ہمارے برے اعمال کے حجابوں نے ہمارے دلوں کو اثر پذیر بنا دیا ہے ایسی حالت پر ہمیں خدا سے پناہ مانگنا چاہئیے اور اس کے درگاہ ِ پاک سے پہلے وقت کے مسلمانوں کے دل عطا ہونے کی دع ا کرنا چاہئیے ۔

____________________

۱۔اذا ماانزلت “میں لفظ ”ما “ در حقیقت”مازائده “ ہے اور تاکید کے لئے ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ ” ماصلہ “ ہے جو حرف شرط یعنی ”اذا“ کو اس کی جزا پرمسلط کرتا ہے اورجملے کی تاکید کرتا ہے ۔

۲۔ دل کی بیماری اور قرآ ن میں اس کے مفہوم کے بارے میں ہم جلد اول ص ۹۹ ( ار دو ترجمہ ) پر ایک اور بحث کرچکے ہیں ۔


آیات ۱۲۶،۱۲۷

۱۲۶ ۔( اٴَوَلاَیَرَوْنَ اٴَنَّهُمْ یُفْتَنُونَ فِی کُلِّ عَامٍ مَرَّةً اٴَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لاَیَتُوبُونَ وَلاَهُمْ یَذَّکَّرُونَ ) ۔

۱۲۷ ۔( وَإِذَا مَا اٴُنزِلَتْ سُورَةٌ نَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَی بَعْضٍ هَلْ یَرَاکُمْ مِنْ اٴَحَدٍ ثُمَّ انصَرَفُوا صَرَفَ اللهُ قُلُوبَهُمْ بِاٴَنّهُمْ قَوْمٌ لاَیَفْقَهُونَ ) ۔

ترجمہ

۱۲۶ ۔ کیاوہ نہیں دیکھتے کہ سال میں ایک یا دو مرتبہ ان کی آزمائش ہو تی ہے پھر بھی وہ تو بہ نہیں کرتے اور متوجہ نہیں ہوتے ۔

۱۲۷ ۔ اور جس وقت کوئی سورت نازل ہوتی ہے ان( منافقین ) میں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں کہ کیا تمہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا ؟( اور اگر ہم بارگاہ پیغمبر سے باہر چلے جائیں تو کوئی ہماری طرف متوجہ نہیں ہوگا ) اس کے بعد وہ لوٹ جاتے ہیں ( اور باہر چلے جاتے ہیں ) خد انے ان کے دلوں کو حق سے پھیر دیا ہے کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے نہیں ہیں ( اور بے علم ہیں ) ۔

تفسیر

ان آیا ت میں بھی منافقین کے بارے میں گفتگو جاری ہے اور انھیں سر زنش کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہر سال ایک یا دو مرتبہ انھیں آزمایا جاتا ہے( اٴَوَلاَیَرَوْنَ اٴَنَّهُمْ یُفْتَنُونَ فِی کُلِّ عَامٍ مَرَّةً اٴَوْ مَرَّتَیْنِ ) ۔تعجب کی بات ہے کہ ان پے در پے آزمائشوں کے باجود غلط را ستوں پر چلنے سے بعض نہیں آتے اور توبہ نہیں کرتے اور متذکر نہیں ہوتے( ثُمَّ لاَیَتُوبُونَ وَلاَهُمْ یَذَّکَّرُونَ ) ۔

اس سلسلے میں اس آزمائش سے کیا مراد ہے جس کا سالانہ ایک یا دو مرتبہ تکرار ہوتا ہے ۔ مفسرین کے در میان اختلاف ہے ۔

بعض انھیں بیماریاں قرار دیتے ہیں ۔

بعض بھوک ، ننگ اور دوسری سختیاں مراد لیتے ہیں ۔

بعض جہاد کے میدانوں میں عظمتِ اسلام کے آثار اور حقانیت ِ پیغمبر کا مشاہدہ سمجھتے ہیں کیونکہ منافقین ماحول کی مجبوری کے باعث ان میں شریک ہوتے ہیں ۔

بعض منافقین کے بھید کھل جانا مراد لیتے ہیں ۔

لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ آیت کے آخر میں ہے کہ ” وہ متذکر نہیں ہوتے“ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ کوئی ایسی آزمائش ہو نا چاہئیے جو ان لوگوں کی بیدایر کا باعث ہو۔

نیز تعبیر آیت سے یو ں معلوم ہوتا ہے کہ یہ آزمائش ان عمومی آزمائشوں سے الگ ہے جن کا عام لوگوں میں اپنی زندگی میں سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

اس امر کی طرف توجہ کرتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ چوتھی تفسیر یعنی ان کے برے اعمال سے پردہ اٹھنا اور ان کے باطن کا ظاہر ہونا ، آیت کے مفہوم سے زیادہ قریب ہے ۔

یہ احتمال بھی ہے کہ زیر بحث آیت میں آزمائش ایک جامع مفہوم رکھتی ہو جس میں یہ تمام امو رشامل ہوں ۔

ان کے بعد انکار آمیز حرکات کی طرف اشارہ کیا گای ہے جو وہ آیات ِ خدا وندی سن کر کیا کرتے تھے ، ار شاد ہوتا ہے : جب کوئی قرآن کی سورت نازل ہوتی ہے تو وہ اس کے بارے میں حقارت اور انکار کی نظر سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے وہ آنکھوں کی حرکات سے ظاہر کرتے ہیں کہ انھیں کس قدر پریشانی ہے( وَإِذَا مَا اٴُنزِلَتْ سُورَةٌ نَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَی بَعْضٍ ) ۔

انھیں تکلیف اور پریشانی اس وجہ سے ہے کہ کہیں اس سورت کا نزول ان کے لئے کوئی نئی رسوائی اور ذلت فراہم نہ کردے یا اس وجہ سے ہے کہ کور باطنی کے باعث وہ اس میں سے کچھ سمجھ نہیں پاتے اور انسان اس چیز کا دشمن ہے جسے وہ نہیں جانتا ۔

بہر حال وہ پختہ ارادہ کرلیتے ہیں کہ مجلس سے باہر نکل جائیں تاکہ یہ آسمانی زمزمے نہ سنیں البتہ انھیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں نکلتے وقت کوئی انھیں دیکھ نہ لے لہٰذا آہستہ سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ کوئی ہماری طرف متوجہ تو نہیں ہے ” کیا کوئی تمہیں دیکھ رہا ہے “( هَلْ یَرَاکُمْ مِنْ اٴَحَدٍ ) ۔ جب انہیں اطمینان ہو جاتا ہے کہ لوگ پیغمبر اکرم کی گفتگو سننے میں مشغول ہیں اور ان کی طرف متوجہ نہیں ہیں تو وہ مجلس سے باہر نکل جاتے ہیں( ثُمَّ انصَرَفُوا ) ۔

( هَلْ یَرَاکُمْ مِنْ اٴَحَدٍ ) “ ( کیا کوئی تمہیں دیکھ رہا ہے ).یہ جملہ وہ زبان سے کہتے یا آنکھوں کے اشارے سے ا شارے کی صورت میں ” نظر بعضھم الیٰ بعض “ کا جملہ اس کے ساتھ مل کر ایک ہی مفہوم بیان کرتا ہے اور حقیقت میں ” ھل یراکم من اھد “ ان کے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کی تفسیر ہے ۔

آیت کے آخر میں اس بات کی علت کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کلمات ِ خدا سننے پر اس لئے بے کیف اور پریشان ہوتے ہیں کہ ” خدا نے ان کے دلوں کو ان کی ہ دھرمی ، عناد اور گناہوں کی وجہ سے حق سے پھیر دیا ہے ( اور وہ حق سے دشمنی اور عداوت رکھتے ہیں ) کیونکہ وہ بے فکر اور ناسمجھ افراد ہیں( صَرَفَ اللهُ قُلُوبَهُمْ بِاٴَنّهُمْ قَوْمٌ لاَیَفْقَهُونَ ) ۔

( صَرَفَ اللهُ قُلُوبَهُم ) “کے بارے میں مفسرین نے دو احتمالات ذکر کئے ہیں :

پہلا یہ جملہ جملہ خبر یہ ہے جسیا کہ ہم نے اوپر تفسیر کی ہے اور ،

دوسرا یہ کہ یہ جملہ انشائیہ ہے اور نفرین اور بد عا کے معنی میں ہے یعنی خدا نے ان کے دل حق سے منصرف کردئے ہیں ۔

لیکن پہلا احتمال زیادہ صحیح دکھائی دیتا ہے ۔


آیات ۱۲۸،۱۲۹

۱۲۸ ۔( لَقَدْ جَائَکُمْ رَسُولٌ مِنْ اٴَنفُسِکُمْ عَزِیزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِینَ رَئُوفٌ رَحِیمٌ ) ۔

۱۲۹ ۔( فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِی اللهُ لاَإِلَهَ إِلاَّهُوَ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ ) ۔

ترجمہ

۱۲۸ ۔ تم میں سے تمہاری طرف رسول آیتا کہ جسے تمہاری تکالیف اور رنج و الم ناگوار ہیں اور جو تمہاری ہدایت پر اصرار کرتا ہے اور مومنین پر روف و مہر بان ہے ۔

۱۲۹ ۔ اگر وہ ( حق سے ) منہ پھیر لیں ( تو تم پریشان نہ ہو جانا ) کہہ دو کہ خدا میری کفایت کرے گا۔ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے میں نے اس پر توکہ کیا ہے اور وہ عرش عظیم کا پر وردگار( اور مالک )ہے ۔

نازل ہو نے والی آخری آیات

بعض مفسرین کے بقول زیر نظر آیات رسول اللہ پر نازل ہونے والی آخری آیات ہیں ۔ سورہ برات ان پر ختم ہو رہی ہے ۔ یہ آیات فی الحقیقت ان تمام مسائل کی طرف اشارہ ہیں جو اس سورہ میں گزر چکے ہیں ، کیونکہ ،ایک طرف تو ان میں تمام لوگوں کو چاہے وہ مومن ہو ں ، یا منافق کہا گیا ہے کہ پیغمبر اور قرآن کی طرف سے سخت گیر یاں اور ظاہری سختیاں جن کے نمونے اس سورہ میں آئے ہیں سب اس لئے ہیں کہ پیغمبر کو ان کی ہدایت ، تربیت ، تکامل اور ارتقاء سے عشق ہے ۔

دوسری طرف پیغمبر اکرم کو بھی خبر دی گئی ہے کہ وہ لوگوں کی سر کشی اور نافرمانیوں پر جن کے بہت سے واقعے اس سورہ میں گذرے ہیں پریشان اور کبیدہ خاطر نہ ہوں او ریہ یقین رکھیں کہ خدا وند عالم ہر حالت میں ان کا پشتیبان ، دوست اور یا ور ہے ۔

لہٰذا پہلی آیت میں روئے سخن لوگوں کی طرف کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : پیغمبر جو خود تمہی سے ہے تمہاری طرف آیا ہے( لَقَدْ جَائَکُمْ رَسُولٌ مِنْ اٴَنفُسِکُمْ ) ۔

آیت میں ” منکم “ کی بجائے ” من انفسکم “ یہ خصوصیت سے پیغمبر اکرم کے لوگوں سے شدت ارتباط کی طرف اشارہ ہے گویا وہ خود لوگوں کی جان کا ایک ٹکڑا ہے اور معاشرے کی روح کا ایک حصہ پیغمبر کی شکل میں ظاہر ہوا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان کے تمام دکھ درد جانتا ہے ، ان کی مشکلات سے آگاہ ہے اور پریشانی اور غم و اندوہ میں ان کا شریک ہے ان حالات میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ان کے فائدے کے سوا کوئی بات کہے اور حقیقت میں یہ پیغمبر کی پہلی صفت ہے جو مندرجہ بالا آیات میں پیغمبر اکرم کے لئے ذکر ہوئی ہے ۔

تعجب کی بات ہے کہ بعض مفسرین جو نسلی اور عربی تعصبات کے زیر اثر تھے انھوں نے کہا ہے کہ اس آیت میں مخاطب عرب نسل کے لوگ ہیں یعنی پیغمبر اس نسل میں سے تمہاری طرف آیا ہے ۔ ہمارے نظرئیے کے مطابق اس آیت کے لئے ذکر ہونے والی یہ بد ترین تفسیر ہے ۔

کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ چیز کا قرآن میں ذکر تک نہیں ہے وہ نسل پرستی ہے کوینکہ قرآن میں تمام جگہوں پر ”( یا ایها الناس ) “ ، ”( یا ایها الذین اٰمنوا ) “ اور اس قسم کے دیگر الفاظ سے خطاب کیا گیا ہے اور کسی جگہ پر بھی ” یا ایھا العرب “ اور ” یا قریش“ وغیرہ کا وجود نہیں ہے ۔

اس کے علاوہ آخری حصہ میں ارشاد ہوتا ہے : وہ مومنین پر روف اور مہر بان ہے ”بالمومنین روف رحیم “ یہ جملہ بھی وضاحت سے اس کی تفسری کی نفی کرتا ہے کیونکہ تمام مومنین کے بارے میں ہے چاہے وہ کسی قوم و ملت او رکسی نسل و خاندان سے ہوں ۔

افسوس کا مقام ہے کہ بعض متعصب علماء قراان کو اس کے عالمی اور انسانی مرتبے سے نیچے لے آئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسے چھوٹے سے نسلی دائرے میں محصور اور محدود کردیا جائے ۔

بہر حال ” من انفسکم “کی صفت بیان کرنے کے بعد رسول اللہ کی چار ممتاز صفات کی طرف اشارہ کی اگیا ہے یہصفات لوگوں کے میلانات کی تحریک کے لئے ان کے احساساو جذبات کو جذب کرنے کے لئے گہرا اثر رکھتی ہیں ۔

پہلے فرمایا گیا ہے : تمہیں کوئی بھی تکلیف ، ضراور نقصاب پہنچے ،پیغمبر کے لئے سخت اور ناراضی کا باعث ہے (ع( زِیزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ ) ۔ یعنی وہ نہ صرف تمہاری تکلیف سے خوش نہیں ہوتا بلکہ وہ اس تکلیف سے الگ نہیں رہ سکتا، تماہیرے رنج و غم سے رنجیدہ ہوتا ہے اور اگر تمہاری ہدایت اور طاقت فرسا، پر زحمت جنگوں پر اصرار کرتا ہے تو وہ بھی تمہاری نجات اور ظلم ، گناہ اور بد بختی کے چنگل سے تمہاری رہائی کے لئے ہے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ ” وہ تمہاری ہدایت سے سخت لگاو رکھتا ہے “ اور تمہاری ہدایت سے عشق رکھتا ہے( حَرِیصٌ عَلَیْکُمْ ) ۔

لغت میں ”حرص“ کا معنی ہے ” کسی چیز سے شدید لگاو رکھنا “ ۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ زیر بحث میں بطور اطلاق کہا گیا ہے کہ ” تم پر حریص ہے “ نہ ہدایت کے بارے میں بات کی گئی ہے اور نہ ہی کسی اور چیز کے بارے میں ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اسے تماہری ہر طرح کی سعادت پیش رفت ، ترقی اور خوش بختی سے عشق ہے ( اصطلاح میں کہتے ہیں کہ ” متعلق کا خذف ہو نا عموم کی دلیل ہے “) ۔ اس کے بعد تیسری اور چوتھی صفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : وہ مومنین کے لئے روف و رحیم ہے( بِالْمُؤْمِنِینَ رَئُوفٌ رَحِیمٌ ) ۔

لہٰذا اگر وہ مشکل اور طاقت فرسا حکم دیتا ہے تو یہ بھی اس کی طرف سے ایک طرح کی محبت اور لطف ہے یہانتک کہ گرمیوں کے موسم میں طاقتور دشمن کے مقابلے میں جنگ تبوک کے لئے بھوک اور پیاس کے ساتھ طویل اور جلانے والے بیا بانوں سے گذرنا بھی اس کے مہر و محبت کی علامت ہے ۔

”روف “ اور ”رحیم “ میں کیا فرق ہے اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے لیکن ایسا معلوم، ہوتا ہے کہ بہترین تفسیر یہ ہے کہ روف فرمانبر داروں کے لئے مخصوص محبت و لطف کی طرف اشارہ ہے جب کہ رحیم گناہ گاروں کے لئے رحمت کی طرف اشارہ ہے ۔

البتہ اس بات کا فراموش نہیں کرنا چاہئیے کہ یہ دونوں الفاظ جب الگ الگ ہوں ہوتو ہو سکتا ہے کہ ایک ہی معنی میں استعمال ہوں لیکن جہاں ایک دوسرے کے ساتھ استعمال ہوں تو بعض اوقات دو مختلف معانی دیتے ہیں ۔

بعد والی آیت میں جوکہ اس سورہ کی آخری آیت ہے ، پیغمبراکرم کی دلجوئی کرتے ہوئے کہ وہ لوگوں کی سر کشیوں اور نافرمانیوں سے ملول نہ ہوں فرمایا گیا ہے : اگر حق سے منہ نہ پھیر لیں تو پریشان نہ ہو اور کہہ دے کہ ” خدا میرے لئے کافی ہے “ کیونکہ وہ ہر چیز پر قدرترکھتا ہے( فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِی ) ۔

” وہی خد اکہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے “ لہٰذا وہی اکیلا پناہ گاہ ہے( اللهُ لاَإِلَهَ إِلاَّهُوا ) ۔

جی ہاں میں نے صرف اسی معبود پر تکیہ کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی دل باندھا ہے اور اپنے کام اسی کے سپرد کئے ہیں( عَلَیْهِ تَوَکَّلْت ) ۔

اور وہی عرش عظیم کا مالک اور پر وردگار ہے( وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ ) ۔

عرش، عالم بالا ماوائے طبیعت اپنی پوری عظمت کے ساتھ اس کے قبضہ قدرت میں ہے اور ا س کی حمایت و کفالت میں ہے تو کیونکر ممکن ہے کہ وہ مجھے اکیلا چھوڑ دے اور دشمن کے مقابلے میں میری مدد کرے ؟ کیا کوئی قدرت اس کی قدرت کے مقابلے میں ٹھہر سکتی ہے یا کوئی رحمت و مہر بانی اس کی رحمت و مہر بانی اس کی رحمت و مہر بانی سے بالاتر تصور ہو سکتی ہے ۔

خد ایا ! اس وقت جبکہ ہم یہ سورہ ختم کررہے ہیں او ریہ سطور لکھ رہے ہیں دشمنوں نے ہمیں ہر طرف سے گھیررکھا ہے اور ہماری رشید اور بہادر قوم ظلم ، برائی اور استبداد کے خاتمے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی ہے ، تمام صفوں اور طبقوں میں ایسا بینظیر اتحاد و اتفاق پید اہو گیا ہے جس کا تصور نہیں ہوتا تھا یہاں تک کہ ننھے ننھے بچے بھی اس جہاد میں شریک ہیں اور کوئی بھی کسی قسم کی فدا کاری اور قربانی سے دریغ نہیں کر رہا ہے ۔

پر ور دگار! تو ان تمام چیزوں کو جانتا ہے اور دیکھتا ہے ، ت ومہر و محبت کا مر کز ہے تو نے مجاہدین سے کامیابی اور کامرانی کا وعدہ کررکھا ہے ۔ پس اپنی نصرت و مدد قریب کردے او رہمیں آخری اور مکمل فتح عطا فرما اور ان پیاسوں اور عاشقوں کو ایمان ، عدل اور آزادی کے شفاف پانی سے سیراب فرما( انک علی کل شیء قدیر ) ( تو ہر چیز پر قادر ہے ) ۔(۱)

____________________

۱۔یہ حصہ انقلاب اسلامی حکومت کے قیام سے پہلے شاہ کے خلاف قیام کے زمانے میں لکھا گیا ہے ۔


سوره یونس

اس سورہ کے مضامین اور فضیلت

یہ سورة مکی ہے ، بعض مفسرین کے بقول سورہ بنی اسرائیل کے بعد اور سورہ ہود سے پہلے نازل ہوئی ہے ۔ دیگر مکی سورتوں کی طرح یہ بھی چند اصولی اور بنیادی مسائل پر مشتمل ہے ان میں سے سب سے اہم مبداء اور معاد کا مسئلہ ہے البتہ پہلے وحی اور مقام پیغمبر کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے اس کے بعد عظمت آفرینش کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں جو کہ عظمت خدا کی علامت ہیں ۔ بعد از اں لوگوں کو مادی زندگی کی نا پائیداری اور دار آخرت کی طرف متوجہ کیا ہے اور اس کے لئے ایمان اور عمل صالح کے ذریعے تیاری پر ابھارا گیا ہے ۔ انھی مسائل کی مناسبت سے بزرگ انبیاء کی زندگی کے مختلف پہلووں کو بیان کیا گیا ہے ۔ مثلا حضرت نوح، حضرت موسیٰ اور حضرت یونس علیہم السلام کے تذکرے ہیں ۔ اسی حوالے سے سورہ کا نام سورہ یونس رکھا گیا ہے ۔

اس کے بعد مذکورہ مباحث کی تائید کے لئے بت پرستوں کی ہٹ دھرمی اور سخت مزاجی کا ذکر ہے ۔ ہر جگہ خدا کا حضور و شہود ان کے لئے ثابت کیا گیا ہے خصوصیت سے اس مسئلہ کے اثبات کے لئے ان کی فطرت کی آگاہی سے مدد لی گئی ہے ۔ وہی فطرت کہ جو مشکلات کے وقت ظاہر ہوتی ہے اور وہ خدائے یکتا کو یاد کرتے ہیں ۔

اسی لئے امام صادق علیہ السلام سے ایک روایت میں مروی ہے :

من قرء سورة یونس فی کل شهرین او ثلاثه لم یخف علیه ان یکون من الجاهلین وکان یوم القیامة من المقربین ۔

جو شخص سورہ یونس ہر دو یا تین ماہ میں ایک دفعہ پڑھے تو اس کے لئے یہ خوف نہیں کہ وہ جاہلوں میں سے قرار پائے ۔ نیز قیامت کے دن وہ مقربین میں سے ہوگا ۔(۱)

یہ اس بناء پر ہے کہ اس سورہ میں خبر دار اور بیدار کرنے والی بہت سی آیات ہیں اور اگر انہیں غور و خوض سے پڑھا جائے تو جہالت کی تاریکی انسانی روح سے دور کر دیتی ہیں اور اس کے اثرات کم از کم چند ماہ تک انسان کے وجود میں رہتے ہیں اور اگر سورہ کے مضامیں کو سمجھنے کے علاوہ ان پر عمل بھی کیا جائے تو یقینی طور پر قیامت کے دن پڑھنے والا مقربین کے زمزہ میں قرار پائے گا ۔

شاید یاددہانی کی ضرورت نہ ہو کہ سورتوں کے فضائل جیسا کہ ہم کہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں ، صرف آیات کی تلاوت سے بغیر معانی سمجھے اور بغیر اس کے مضامین پر عمل کیے فراہم نہیں ہوتے۔

کیونکہ تلاوت سمجھنے کا مقدمہ اور سمجھنا عمل کرنے کی تمہید ہے ۔

____________________

۱ تفسیر نور الثقلین ج ۲ ص ۲۹۰ اور دیگر تفاسیر


آیات ۱،۲

( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ )

۱ ۔( الر تِلْکَ آیاتُ الْکِتابِ الْحَکیمِ ) ۔

۲ ۔( اٴَ کانَ لِلنَّاسِ عَجَباً اٴَنْ اٴَوْحَیْنا إِلی رَجُلٍ مِنْهمْ اٴَنْ اٴَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذینَ آمَنُوا اٴَنَّ لَهمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قالَ الْکافِرُونَ إِنَّ هذا لَساحِرٌ مُبین ) ۔

ترجمہ

بخشنے والے مہربان خدا کے نام سے ۔

۱ ۔ ل. ر. وہ کتاب حکیم کی آیات ہیں ۔

۲ ۔ کیا یہ چیز لوگوں کے لیے با عث تعجب ہے کہ ان میں سے ایک کی طرف ہم نے وحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈراو ۔ اور جو ایمان لائے ہیں انھیں بشارت دو کہ ان کے لئے ان کے پروردگار پاس مسلم جزا ہے ۔

تفسیر

اس سورہ میں پھر ہمیں حروف مقطعات کا سامناہے اور یہ ہیں الف ، لام اور راء۔ سورہ بقرہ ، سورہ آل عمران اور سورہ اعراف کی ابتداء میں ہم ایسے حروف کے بارے میں کافی بحث کر چکے ہیں ۔ آئندہ بھی انشاء اللہ اس سلسلے میں مناسب موقع پر بحث کریں گے ، اور اس میں نئے مطالب کا اضافہ کریں گے ۔

حروف مقطعات کے بعد پہلے آیات قرآن کی عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاکیا گیا ہے -: وہ کتاب حکیم کی آیات ہیں ۔( الر تِلْکَ آیاتُ الْکِتابِ الْحَکیمِ )

” یہ “ ( اسم اشارہ قریب کی )بجائے ” وہ “ ( اسم اشارہ بعید ) سے ابتداء کی گئی ہے اس کی نظیر سورہ بقرہ کی ابتدا میں بھی موجود ہے یہ قرآن کریم کی لطیف تعبیرات میں سے شمار ہوتی ہے اور یہ قرآن کریم کے مفاہیم کی عظمت اور بلندی کے لئے کنایہ ہے۔ کیونکہ سامنے پڑے ہوئے اور عام مطالب کے لئے زیادہ تر اسم اشارہ قریب استعمال کیا جاتا ہے لیکن اہم مطالب جو بلند سطح کے ہوں جو گویا آسمانوں کی بلندی میں ایک افق اعلیٰ میں موجود ہیں انھیں اسم اشارہ بعید کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور اتفاق کی بات ہے کہ ہم روزمرہ کی تعبیرات میں بھی ایسی تعبیر استعمال کر تے ہیں مشلابعض اشخاص کی عظمت کے اظہار کے لیے ” آنجناب“ یا”آنحضرت“استعمال کرتے ہیں اگرچہ وہ پاس ہی بیٹھے ہوں لیکن انکساری کے اظہار کے لئے ” اینجانب “ کہا جاتا ہے ۔

آسمانی کتاب یعنی قرآن کی تعریف کے لئے لفظ ” حکیم “ استعمال کیا گیا ہے یہ اس طرف اشارہ ہے کہ آیت قرآنی استحکام نظم و ضبط اور حساب و کتاب کی حامل ہیں اور ہر قسم کے باطل سے ، فضول باتوں سے اور ہزل گوئی سے دور ہیں اور قرآن حق کے سوا کچھ نہیں کہتا اور سوائے راہ حق کے کسی چیز کی دعوت نہیں دیتا ۔

اس اشارے کی مناسبت سے جو پہلی آیت میں قرآن مجید میں وحی آسمانی کے لئے ہے دوسری آیت میں رسول اللہ کے بارے میں مشرکین کا ایک اعتراض بیان کیا گیا ہے یہ وہی اعتراض ہے جس کا قرآن مجید میں کئی مرتبہ ذکر کیا گیا ہے اس کا تکرار نشان دہی کرتا ہے کہ مشرکین یہ اعتراض بار بار کیا کرتے تھے اور وہ یہ کہ آسمانی وحی کیوں خدا کی طرف سے ایک انسان پر نازل ہوئی ہے اور عظیم رسالت کی یہ ذمہ داری کسی فرشتے کے ذمہ کیوں نہیں ہوئی ۔

ایسے سوالات کے جواب میں قرآن کہتا ہے کیا لوگوں کے لئے یہ امر باعث تعجب ہے کہ ہم نے ان میں سے ایک شخص کی طرف وحی بھیجی ہے ۔( اٴَ کانَ لِلنَّاسِ عَجَباً اٴَنْ اٴَوْحَیْنا إِلی رَجُلٍ مِنْهمْ )

درحقیقت ان کے اعتراض کا جواب لفظ ”منھم“ (ان کی نوع سے )کے ذریعہ دیا گیا ہے یعنی اگر رہبروراہنما اپنے پیرو کاروں کا ہم نوع ہو اور ان کے درداور تکالیف کو جانے اور ان کی ضروریات سے آگاہ ہو تو کوئی تعجب کا مقام تو نیہں ہے بلکہ تعجب کا مقام تو یہ ہے کہ انکی نوع میں سے نہ ہواوران کی کیفیت سے بے خبر ہو نے کی وجہ سے ان کی رہبری نہ کر سکے ۔

اس کے بود اس آسمانی وحی سے مضمون کا دو چیزوں میں خلاصہ بیان کیا گیا ہے پہلی یہ کہ ہم نے تیری طرف وحی کی ” تا کہ لوگوں کو کفر و گناہ کے انجام سے ڈر او( اٴَنْ اٴَنْذِرِ النَّاسَ ) ۔ اور دوسرا یہ کہ ” صاحب ایمان افراد کو بشارت دو کہ ان کے لئے بارگاہ خدا میں ” صدق ہے “( اٴَنْ اٴَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذینَ آمَنُوا اٴَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِم )

” قدم صدق “ سے کیا مراد ہے ، اس سلسلہ میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن ان کی پیش کردہ تمام تفاسیر میں سے تین ایسی ہیں جن میں سے ایک تفسیر قابل قبول ہے یا پھر تینوں اکھٹی قبول کی جا سکتی ہیں ۔

پہلی یہ کہ اس طرف اشارہ ہے کہ ایمان ” فطری سابقہ “ رکھتا ہے اور حقیقت میں مومنین نے ایمان کو ظاہر کرکے اپنے تقاضائے فطرت کی تصدیق اور تاکید کی ہے ( کیونکہ ” ودم “ کا ایک معنی ” سابقہ “ ہے ) جیسا کہ کہتے ہیں :

لفلان قدم فی الاسلام او قدم فی الحرب ۔

یعنی ۔۔۔۔۔فلاں شخص اسلام یا جنگ میں سابقہ رکھتا ہے ۔

دوسری ۔۔۔۔ یہ کہ یہ مسئلہ معاد و قیامت اور آخرت کی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ” قدم “ کا ایک معنی ” مقام “ اور ” منزلت “ بھی ہے ( اس مانسبت سے کہ انسان اپنے پاوں کے ساتھ اپنی منزل میں داخل ہوتا ہے ) یعنی صاحب ایمان افراد کے لئے خدا کی بارگاہ میں مسلما اور یقینا مقام و منزلت ہے کہ جسے کوئی چیز متغیر نہیں کر سکتی ۔

تیسری ۔۔۔۔۔ یہ کہ ” قدم “ پیشوا اور رہبر کے معنی میں ہے یعنی مومنین کے لئے سچا پیشوا اور رہبر بھیجا گیا ہے اس آیت کے ذیل میں سنی شیعہ تفاسیر میں متعدد روایات میں ” ْقدم صدق “ کی تفسیر پیغمبر اکرم کی ذات یا ولایت علی سے کی گئی ہے یہ روایات اس معنی کی موید ہیں ۔(۱)

جیسا کہ ہم نے کہا ہے ، ہو سکتا ہے اس تعبیر کامقصد ان تمام امور کی بشارت دینا ہو ۔

آیت کے آخر میں پھر ایک ایسے اتہام کی طرف اشارہ ہے جو مشرکین بار ہا رسول اللہ پر باندھتے تھے ارشاد ہوتا ہے : کافر کہتے ہیں کہ یہ شخص واضح جادو گر ہے۔( قالَ الْکافِرُونَ إِنَّ هذا لَساحِرٌ مُبین )

لفظ ” انّ“ لام تاکید اور صفت ” مبین“ یہ سب اس تاکید کی علامت ہے جو وہ اس تہمت کے بارے میں کرتے تھے اور ” ھذا “ (جو کہ اسم اشارہ قریب ہے ) کی تعبیر اس لئے تھی کہ وہ مقام پیغمبر کی تحقیر کریں ۔ رہا یہ سوال کہ وہ پیغمبر اکرم کی طرف جادو کی نسبت کیوں دیتے ہیں ، تو اس کا جواب واضح ہے کیونکہ آپ کی پر اعجاز باتوں ، در خشاں منصوبہ جات ، روشن قوانین اور دیگر معجزات کا ان کے پاس کوئی اطمینان بخش جواب نہیں تھے ۔ سوائے اس کے کہ ان کی خارق عادت اور غیر معمولی ہونے کو وہ جادو قرار دے دیں تا کہ اس طرح وہ سادہ لوح افراد پر جہالت کا پردہ ڈال سکیں ۔ رسول اللہ کے دشمن کی طرف سے ایسی تعبیریں خود اس بات کی دلیل ہیں کہ آپ کے کام خارق عادت اور غیر معمولی تھے جو لوگوں کے قلب و نظر کو اپنی طرف جذب کرلیتے تھے ۔ خصوصا ان کا قرآن مجید کو جادو قرار دینا اس بات کازندہ شاہد ہے کہ وہ اس آسمانی کتاب کی انتہائی قوت جاذبہ سے لوگوں کو دور رکھنے کے لئے اس تہمت کا سہارا لیتے تھے ۔

انشاء اللہ متعلقہ آیات کے ذیل میں اس سلسلے میں ہم پھر گفتگو کریں گے ۔

____________________

۱ تفسیر برہان۔ ج ۲ ص ۱۷۷ اور تفسیر قرطبی ۔ ج ۵ ص ۳۱۴۵


آیات ۳،۴

۳ ۔( إِنَّ رَبَّکُمُ اللَّهُ الَّذی خَلَقَ السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضَ فی سِتَّةِ اٴَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوی عَلَی الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاٴَمْرَ ما مِنْ شَفیعٍ إِلاَّ مِنْ بَعْدِ إِذْنِهِ ذلِکُمُ اللَّهُ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوهُ اٴَ فَلا تَذَکَّرُونَ ) ۔

۴ ۔( إِلَیْهِ مَرْجِعُکُمْ جَمیعاً وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا إِنَّهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعیدُهُ لِیَجْزِیَ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ بِالْقِسْطِ وَ الَّذینَ کَفَرُوا لَهُمْ شَرابٌ مِنْ حَمیمٍ وَ عَذابٌ اٴَلیمٌ بِما کانُوا یَکْفُرُون ) ۔

ترجمہ

۳ ۔ تمہارا پروردگار وہ خدا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اس کے بعد عرش ( قدرت ) پر بقرار ہوا اور ( عالم کے ) کام کی تدبیر کی ۔ اس کے اذن کے بغیر کوئی شفاعت کرنے والا نہیں ۔ یہ ہے خدا تمہارا پروردگار ، پس اس کی پرستش کرو ، کیا تم غور نہیں کرتے ۔

۴ ۔ تم سب کی باز گشت اس کی طرف ہے ۔ خدا نے حق وعدہ فرمایا ہے اس نے مخلوق کا آغاز کیا اس کے بعد انہیں پلٹائے گا تا کہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو یاد عادلانہ جزا دے اور جو کافر ہوگئے ہیں ان کے پینے کے لئے جلانے والی مائع اور درد ناک عذاب ہے کیونکہ انھوں نے کفر اختیار کیا ہے ۔

خدا شناسی اور قیامت

وحی اور نبوت کے مسئلہ کی طرف اشارہ کرنے کے بعد ، اس سورہ کی ابتدائی آیات میں قرآن تمام انبیاء کی تعلیمات کے دو بنیادی اصولوں یعنی مبداء اور معاد کا رخ کرتا ہے زیر نظر دو آیت میں ان دو اہم اصولوں کو مختصر اور واضح عبارت میں بیان کیا گیا ہے پہلے فرمایا گیا ہے : تمہارا پروردگار وہی خدا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا( إِنَّ رَبَّکُمُ اللَّهُ الَّذی خَلَقَ السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضَ فی سِتَّةِ اٴَیَّام ) جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں لفظ ” یوم “ عربی زبان میں اور ” روز “ فارسی زبان میں اور اسی طرح دوسری زبانوں میں ان کے متبادل الفاظ بہت سے موقع پر دور کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ ایک دن تھا جب استبداد کا دور تھا اور اس دور کے خاتمے پر لوگوں کی نجات اور آزادی کا دور آن پہنچا ہے ۔(۱)

اس بناء پر مندرجہ بالا جملے کا مفہوم یہ ہوگا کہ پروردگار نے آسمان اور زمین کو چھ ادوار میں پیدا کیا اور چونکہ ان چھ ادوار کے بارے میں ہم پہلے گفتگو کر چکے ہیں لہذا یہاں تکرار نہیں کرتے ۔(۲)

لفظ ” عرش “ بعض اوقات چھت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی اس چیزکے معنی میں بولا جاتا ہے جو چھت کے رکھتی ہو اور بعض اوقات یہ اونچے پاوں والے تخت کے معنی میں آتاہے اس کا اصلی معنی ہے ” قدرت “ مثلاً ہم کہتے ہیں فلاں شخص بیٹھا یا اس کے تخت کے پائے گر گئے یا اس ے تخت سے اتار دیا گیا ۔ یہ سب اقتدار حاصل کرنے یا اقتدار کھو دینے کے لئے کنایہ ہیں حالانکہ ہوسکتا ہے ، تخت اصلاً ہو ہی نہیں ۔ لہٰذا ” استوی علی العرش “ کے معنی ہیں خدا نے امور عالم کی باگ دوڑ اپنے دست قدرت میں لی ۔(۳)

”تدبر “ تدبیر “ کے مادہ سے مشتق ہے اور در اصل ” دبر “ ( بر وزن ) ”ابر“) کسی چیز کے پیچھے اور انجام کے معنی میں ہے اس بناء پر” تدبیر “کاموں کے انجام کی تحقیق کرنے او رمصالح کو منظم کرکے ان کے مطابق عمل کرنے کے معنی میں ہے ۔

جب یہ واضح ہو گیا کہ خالق اللہ ہے او ر عالم ہستی کو وہی چلاتا ہے او رتما م امو رکی تدبیر اس کے فرمان سے ہو تی ہے واضح ہے کہ بے جان ، عاجز اور ناتواں بتوں انسانوں کی سر نوشت میں کوئی اثر نہیں ہے اس لئے بعد والے جملہ میں فرمایاگیا ہے : اس کے اذن کے بغیر کوئی شفاعت کرنے والا نہیں ہے( ما مِنْ شَفیعٍ إِلاَّ مِنْ بَعْدِ إِذْنِه ) ۔(۴)

جی ہاں .حقیقت یہی ہے کہ اللہ تمہارا پر وردگار ہے لہٰذا اس کی پرستش کرو نہ کہ اس کے غیر کی( ذلِکُمُ اللَّهُ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوهُ ) ۔

کیا اس واضح دلیل سے تم متذکر اور متوجہ نہیں ہوتے( اٴَ فَلا تَذَکَّرُونَ ) ۔

جیسا کہ ہم اشار ہ کرچکے ہیں ” بعد والی آیت میں معاد اور قیامت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے اور چھوٹے چھوٹے جملوں میں یہ معاملہ ، اس کی دلیل اور اس کا مقصد بیان کیا گیا ہے ۔

پہلے قرآن کہتا ہے : تم سب کی باز گشت خدا کی طرف ہے( إِلَیْهِ مَرْجِعُکُمْ جَمیعاً ) ۔

اس کے بعد تاکیداً فرمایاگیا ہے : خدا کا یہ قطعی وعدہ ہے( وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا ) ۔

بعد از آں اس کی دلیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے : خد انے خلقت کی ابتداء کی اور پھر اس کی تجدیدکرے گا( إِنَّهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعیدُهُ ) ۔

یعنی جو لوگ معاد اور قیامت کے بارے میں شک کرتے ہیں انھیں آغازخلقت کے بارے میں غور و فکر کرنا چاہئیے ۔

خدا جس نے دنیا کو ابتداء میں ایجادکیا وہ اسے دوبار پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے یہ استدلال ایک دوسری شکل میں سورہ اعراف آیت ۲۹ میں ایک مختصر سے جملہ میں بیان ہوا ہے اس کی تفصیل سورہ اعراف کی تفسیر میں گذر چکی ہے ۔

قیامت او رمعاد سے مربوط آیات نشان دہی کرتی ہیں کہ مشرکین اور مخالفین کے شک کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ انھیں ایسی چیز کے امکان میں شک تھا اور تعجب سے سوال کرتے تھے کہ کیا یہ بوسیدہ اور خا ک بنی ہوئیں ہڈیاں دوبارہ لباس حیات پہنیں گی اور اپنی پہلی شکل میں پلٹ آئیں گی ۔

اس لئے قرآن نے بھی اس مسئلہ کے امکان پر انگلی رکھی ہے اور کہتا ہے : اس ذات کو فراموش نہ کرو جو اس جہاں کو از سر نو ساز و سامان بخشے گا او رمردوں کو زندہ کرے گا کیونکہ وہی آفریدگار ہے جس نے آغاز میں یہی کا م کیا تھا ۔

اس کے بعدمعادکے مقصد کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے ۔

ارشاد ہوتا ہے : یہ اس بناء پر ہے کہ خدا ایسے افراد کو جو ایمان لائے ہیں اور انھوں نے نیک اعمال انجام دئیے ہیں انھیں عادلانی جزا او ربدلہ دے گا ۔

بغیر اس کے کہ ان کا کوئی چھوٹا سا عمل بھی بغیر لطف و رحمت کی نظر سے مخفی رہے اور اجر و ثواب کے بغیر رہ جائے( لِیَجْزِیَ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ بِالْقِسْطِ ) ۔

” اور وہ لوگ کہ جنہوں کفر اور انکا ر کا راستہ طے کیا ہے اور پھر فطری طور پر ان کاکوئی نیک عمل بھی نہ تھا ( کیونکہ اچھے عمل کی جڑ اچھا عقیدہ ہے ) ان کے درد ناک سزا ہے ۔ ان کے پینے کے لئے گرم اور جلانے والا پانی ہے اور ان کے کفر کی وجہ سے عذاب الیم ان کے انتظار میں ہے( وَ الَّذینَ کَفَرُوا لَهُمْ شَرابٌ مِنْ حَمیمٍ وَ عَذابٌ اٴَلیمٌ بِما کانُوا یَکْفُرُون ) ۔

____________________

۱- مزید توضیح اور اس سلسلے میں عربی فارسی مثالوں کے لئے تفسیر نمونہ جلد ششم سورہ اعراف کی آیت ۵۴ کے ذیل میں رجوع کریں ۔

۲-اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے : خدا نے عالم کو پیدا کرنے کے بعد اس کے امور کی باگ ڈور اپنے دست قدرت میں لی (ثم استوی علیٰ العرش ) ۔ تمام کام اس کے فرمان سے ہوتے ہیں اور تمام چیزیں اس کے قبضہ تدبیر میں ہیں (ید بر الامر )

۳۔زیادہ وضاحت اور ”عرش“ کے مختلف معانی سے باخبر ہونے کےلئے تفسیر نمونہ جلد ۶ ص۱۸۰( اردو ترجمہ ) اور ج۲ ص ۱۵۸ ( اردو ترجمہ )

۴-شفاعت جیسے اہم مسئلہ پر ہم بحث پہلے ہی کرچکے ہیں اس کے لئے جلد اول ص۱۸۷ ( اردو ترجمہ ) اور جلد دوم ص ۱۵۵( اردو ترجمہ ) کی طرف رجوع فرمائیں ۔


دو قابل توجہ نکات

۱ ۔ ” الیہ مرجعکم جیمعاً “ کا مفہوم :

اگر چہ خد اکے لئے مکان و محل نہیں ہے ۔ اس کے باوجود اس جہاں میں وہ ہرجگہ ہے اور ہم سے ہمارے نسبت زیادہ قریب ہے ۔ اس کے امر کے سبب مفسرین نے زیر نظر آیت میں ” الیہ مرجعکم جمیعاً“ اور قرآن کی ایسی دیگر آیات کی مختلف تفسیریں کی ہیں ،

کبھی کہا جاتا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ثواب اور جزا کی طرف پلٹ جائیں گے۔

نیز شاید بعض جاہل افراد اسے قیامت میں خدا کے مجسم ہو نے کی دلیل سمجھیں کہ جس عقیدہ کا بطلان اس قدر واضح ہے کہ محتاج بیان نہیں ۔

لیکن جو کچھ آیات قرآن میں غورو فکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ عالم حیات ایسے کاروں کی طرح جو جہان عدم سے چلا ہے اور اپنے لامتناہی سفر اور گردش میں لامتناہی کی طرف ہی آگے بڑھ رہا ہے جو کہ خدا کی ذات پاک ہے اگر چہ مخلوق محدود ہے اور محدود کبھی لامتناہی ( Infinite )نہیں ہوتا پھر بھی اس کا سفر تکامل رکتا ۔ یہاں تک کہ قیام قیامت کے بعد بھی یہ سیر ت کامل جاری و ساری رہے گی ( جیسا کہ ہم نے معادکی بحث میں اس کی تشریح کی ہے )(۱)

قرآن کہتا ہے : ۔( یا ایها الانسان انک کادح الی ربک کدحاً ) ۔

اے انسان !تو سعی وکو شش کے ساتھ اپنے پر وردگارکی طرف جارہا ہے ۔

نیز کہتا ہے :۔( یا اایتها النفس المطمئنه الی ربک ) ۔

اے وہ روح کہ جوایمان اور عمل صا لح کے ذریعے سکو ن واطمینان کی سرحد تک پہنچ گئی ہے، اپنے پروردگار کی طرف پلٹ آ ۔

اس تحر یک کی ابتدا خدا کی طرف سے ہوئی ہے اور زند گی کا پہلا شعلہ اس کی طرف سے ظا ہر ہو ا ہے نیزیہ ارتقائی سفر اور حرکت اسی کی طرف ہے جسے ---” رجوع “ اوربازگشت سے تعبیرکیا جا تا ہے.

المختصر ایسی تعبیر یں علاوہ اس کے کہ موجو دات کی خدا کی طرف عمومی حرکت کی طرف اشارہ ہیں اس حرکت کے مقصد کو بھی مشخص کرتی ہیں اور وہ اس کی پاک ذات ہے ۔

اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ لفظ ” الیہِِ“ مقدم ہے اور اس کا مقد م ہونا انحصار کی دلیل ہے واضح ہو جا تا ہے کہ انسان کی ارتقائی اور تکا ملی حرکت کا مقصد اس کی پاک ذات کے علاوہ کوئی وجود نہں ہو سکتا نہ بت اور نہ ہی کوئی اور مخلوق ۔کیونکہ یہ سب چیزیں محدود ہیں اور انسان کی راہ غیر محدود ہے ۔

۲ ۔ ” قسط “کا مفہوم :

”قسط “ لغت میں دوسرے کاحصہ اداکرنے کے معنی میں ہے لہذا اس میں انصاف کا مفہوم چھپا ہوا ہے ۔یہ بات جاذب نظر ہے مندرجہ بالا آیت میں یہ لفظ صرف ا ن افراد کے لیے بولاگیا ہے جو عمل صا لح بجالاتے ہیں اور اچھی جزا چا ہتے ہیں لیکن بدکارو ں کی سزا کے ذکر میں یہ لفظ نہیں آیا کیونکہ عذاب اور سزامیں کوی حصہ نہیں ہو تا ۔با لفا ظ دیگر” قسط “ صرف نیک جزا کیلئے مناسب ہے ،سزا کے لیے مناسب نہیں ہے۔

____________________

۱ ۔زیادہ وضاحت کے لئے کتا ب ” معاد و جہان پس از مرگ “ کی طرف رجوع کرے ۔


آیات ۵،۶

۵ ۔( هُوَ الَّذی جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیاء ً وَ الْقَمَرَ نُوراً وَ قَدَّرَهُ مَنازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنینَ وَ الْحِسابَ ما خَلَقَ اللَّهُ ذلِکَ إِلاَّ بِالْحَقِّ یُفَصِّلُ الْآیاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ) ۔

۶ ۔( إِنَّ فی اخْتِلافِ اللَّیْلِ وَ النَّهارِ وَ ما خَلَقَ اللَّهُ فِی السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضِ لَآیاتٍ لِقَوْمٍ یَتَّقُونَ ) ۔

ترجمہ

۵ ۔ وہ وہ ہے کہ جس نے سورج کو روشنی اور چاند کو نور قرار دیا ہے اور اس کے لئے منزلیں مقرر کی ہیں تا کہ تم برسوں کی تعداد اور ( کاموں کا ) حساب جان لو۔ خدا نے اسے سوائے حق کے پیدا نہیں کیا ۔ وہ (اپنی ) آیات صاحبان علم کے لئے تفصیل و تشریح کے ساتھ بیان کرتا ہے ۔

۶ ۔ مسلم ہے کہ رات اور دن کے آنے جانے میں اور ان چیزوں میں کہ جنھیں خدا نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ، ان لوگوں کے لئے آیات ( اورنشانیاں ) ہیں جو پرہیزگار ہیں ( اور گناہ نے ان کے دل کی آنکھ کو اندھا نہیں کر دیا ) ۔

عظمت الہی کی نشانیاں

گزشتہ آیت میں مبداء اور معاد کے مسئلہ کی طرف اشارہ کیا گیا تھا لیکن ان آیات کے بعد ان دو اصولی مسائل کو شرح و بسط سے بیان کیا گیا ہے کیونکہ یہ مسائل دعوت انبیاء کے اہم ترین ارکان ہیں ۔ با الفاظ دیگر آنے والی آیات گزشتہ آیات کی نسبت تفصیلی ہیں ۔

زیر نظر پہلی آیت میں جہان آفرینش میں عظمت خدا کی نشانیوں کے ایک حصہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : وہ وہ ہے کہ جس نے سورج کو ضیاء اور چاند کو نور قرار دیا( هُوَ الَّذی جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیاء ً وَ الْقَمَرَ نُوراً )

سورج اپنے عالمگیر نور سے نہ صرف موجودات کے وجود کو گرم کرتا اور روشنی بخشتا ہے بلکہ سبزہ زاروں کی نشو و نما اور جانوروں کی پر ورش میں عمدہ اوربنیادی کرداراداکرتاہے اصولی طور پر ہر حرکت وجنبش جو کرہ زمین موجود ہے۔ یہاں تک کہ ہواوں کے چلنے میں دریاوں کی موجوں میں نہروں کی لہروں میں اورآبشاروں کی روانی میں ، اگر صیح طور پرغور و فکر کیا جا ئے تو یہ نور آفتاب کی برکت ہے اور اگر کسی دن یہ حیات بخش شعا عیں ہما رے کرہ خاکی سے منقطع ہو جائیں تو قلیل عرصے میں تاریکی ہسکوت اور موت تمام جگہوں پر چھاجائے ۔

چاند اپنے خوبصورت نور کے ساتھ ہماری تاریک راتوں کا چراغ ہے ۔ماہ تاباں نہ صرف بیابانوں میں رات کے مسافروں کی رہبری کرتاہے بلکہ اس کی مناسب اور ملائم روشنی سارے کرہ ارضی کے رہنے والوں کے لیے سکون وآرام اور نشاط و مسرت کا باعث ہے ۔اس کے بعد چاند کے وجودکے ایک اور مفیداثر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : خدا نے اْس کے لئے کئی منزلیں مقرر کی ہیں تا کہ وہ اپنے برسوں کی تعداد اور زندگی کے حسابات جان سکیں ۔( وَ قَدَّرَهُ مَنازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنینَ وَ الْحِسابَ ) ۔یعنی اگر تم دیکھتے ہو کہ پہلی رات میں چاند ایک باریک سا ہلال ہو تا ہے اور پھر ہر روز بڑھتا رہتا ہے ، تقریباً آدھے مہینے تک یوں ہی بڑھتا چلا جاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ کم ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ مہینے کے آخری دودن میں محاق(۱)

کی تاریکی میں ڈوب جاتا ہے اور پھر دوبارہ ہلال کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور انھیں پہلی منزلوں کو طے کرتا ہے تو یہ تبدلی عبث اور فضول نہیں ہے بلکہ یہ ایک بہت ہی وقیق اور زندہ طبیعی تقوییم- ہے(۲)

جسے عالم وجاہل پڑھ سکتے ہیں اور اس سے اپنے امور حیات کا حساب رکھ سکتے ہیں اور روشنی کے علاوہ ہمارے لئے چاند کا یہ ایک اور فائدہ ہے ۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے کہ مہرومہ کی یہ آفرینش و گردش بغیر سوچے سمجھے اور کھیل کود کے لئے نہیں ہیں ” خدا نے انھیں صرف حق کے ساتھ پیدا کیا ہے “( ما خَلَقَ اللَّهُ ذلِکَ إِلاَّ بِالْحَقِّ ) ۔

آیت کے آخر میں تاکیدا ً فرمایا گیا ہے : خدا سمجھنے والوں کے لئے اپنی نشانیاں شرح و بسط کے ساتھ بیان کرتا ہے( یُفَصِّلُ الْآیاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ) ۔

باقی رہے بے خبر و بے بسر تو وہ بارہا خدا کی ان نشانیوں کے پاس سے گزر جاتے ہیں لیکن ان سے کچھ نہیں سمجھتے ۔

۔دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ آسمان و زمیں میں اپنے وجود کی کجھ مزید نشانیاں اور دلائل بیان کرتا ہے ، فرماتا ہے : رات دن کے آنے جانے میں اور جو کچھ خدا نے آسمانوں اور زمینوں میں پیدا کیا اس میں پرہیزگاروں کے لئے نشانیاں ہیں( إِنَّ فی اخْتِلافِ اللَّیْلِ وَ النَّهارِ وَ ما خَلَقَ اللَّهُ فِی السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضِ لَآیاتٍ لِقَوْمٍ یَتَّقُونَ ) ۔

نہ صرف آسمان اور زمین خدا کی نشانیاں ہیں بلکہ موجودات کے تمام ذرات جو ان میں موجود ہیں ہر کوئی ایک نشانی ہے لیکن انھیں صرف وہی لوگ سمجھ جاتے ہیں جنہوں نے تقویٰ اور گناہ سے پرہیز کے سائے میں روح کی پاکیزگی اور روشن بینی حاصل کی ہے جو حقیقت اور جمال کا مشاہدہ کر سکتے ہیں ۔

____________________

۱ ۔ چاند کا گھٹنا ، چاند کی وہ آخری تین تاریخیں جن میں وہ نظر نہیں آتا ۔ ہندی میں اسے” اوماس“ کہتے ہیں ۔ (مترجم )

۲ اس بارے میں کہ چاند ایک فطری تقویم ہے، اس کے مختلف حالات سے مہینہ کے دنوں کو غور و خوض سے معین کیا جا سکتاہے۔اس سلسلے میں تفسیر نمونہ جلد دوم ، ص ۲۲ ( اردو ترجمہ ) پر بحث کر چکے ہیں ۔


چند اہم نکات

۱ ۔ ضیا اور نور میں فرق :

اس سلسلے میں مفسرین میں بہت اختلاف ہے ۔

بعض دونوں کو مترادف اور ہم معنی سمجھتے ہیں ۔

بعض کہتے ہیں کہ ضیاء جو مندرجہ بالا آیت میں سورج کی روشنی کے لئے استعمال ہوا ہے وہ قوی اور طاقتور نور ہے لیکن لفظ” نو ر “ جو چاند کے بارے میں آیا ہے ، کمزور نور کے بارے میں ہے ۔

تیسرا نظریہ یہ ہے کہ ” ضیاء “ ذاتی طور پر یہ نور کے معنی میں ہے لیکن نور ایک عام مفہوم رکھتا ہے جو ذاتی اور دوسرے سے حاصل کردہ دونوں کے لئے ہے ۔ اس صورت میں مندرجہ بالا آیت میں تعبیر کا فرق اس نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ خدا نے سورج کو نور پھوٹنے کا منبع قرار دیا ہے جبکہ چاند کا نور دوسرے سے حاصل کردہ ہے اور اس کا سر چشمہ سورج ہے ۔

قرآن کی کچھ آیات کی طرف توجہ کرنے سے یہ فرق زیادہ واضح طور پر دکھائی دیتا ہے ۔

سورہ نوح کی آیہ ۱۶ میں ہے :( و جعل القمر فیهن نوراً وجعل الشمس سراجاً )

ان میں سے چاند کو نور اور سورج کو چراغ قرار دیا ہے ۔

سورہ فرقان آیہ ۶۱ میں ہے -:( و جعل فیها سراجا و قمرامنیرا ) ۔

ان میں سے چراغ اور روشنی دینے والا چاند قرار دیا ہے۔

اور اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ” سراج “ ( یعنی چراغ) اپنی طرف سے نور برساتا ہے اور وہ نور کا منبع اور سر چشمہ ہے اور سورج کو مندرجہ بالا دو آیات میں چراغ سے تشبیہ دی گئی ہے واضح ہو جاتا ہے کہ زیر بحث آیات میں بھی یہ فرق بہت ہی مناسب معلوم ہوتا ہے ۔

۲ ۔” ضیاء “ جمع ہے یا مفرد :

اس سلسلے میں اہل ادب اور اہل لغت میں اختلاف ہے ۔ مولف قاموس کی طرح بعض نے اسے مفرد سمجھا ہے لیکن زجاج کی طرح بعض دوسرے افراد نے ” ضیاء “ کو ”ضو“ کی جمع قرار دیا ہے ۔ تفسیر المنار اور تفسیر قرطبی کے مولفین نے بھی دوسرا معنی قبول کیا ہے ۔

خصوصاً المنار کے مولف نے اسی بنیاد پرآیت سے بہت استفادہ کیا ہے ۔ وہ کہتا ہے :

سورج کے نور کے بارے میں قرآن میں ” ضیاء “ کا جمع کی صورت میں ذکر اس چیز کی طرف اشارہ ہے جسے اس زمانے کی سائنس نے کئی صدیوں کے بعد ثابت کیا ہے اور وہ یہ کہ سورج کا نور سات انوار سے مرکب ہے یا دوسرے لفظوں میں سات رنگوں میں ہے وہی رنگ جو قوس قزح میں اور بلوریں سوراخوں سے گذرتے ہوتے ہوئے روشنی میں نظر آتے ہیں ۔

لیکن یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ چاند کا نور اگر چہ ضعیف ہے پھر بھی کیا وہ مختلف رنگوں سےمرکب نہیں ہے ؟

۳ ۔ ”قدرہ منازل “ کی ضمیر:

”قدرہ منازل “( اسکے لئے کئی منزلیں مقرر کیں )کی ضمیر کا مرجع صرف چاند ہے یا یہ چاند اور سورج دونوں کی طرف اشارہ ہے ۔ اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے بعض کا نظریہ ہے کہ یہ ضمیر اگر چہ مفرد ہے پھر بھی دونوں کی طرف لوٹتی ہے ۔ ایسی نظیریں عربی ادب میں بہت ہے ۔ اس نظریہ کا انتخاب اس بنیاد پر کیا گیا ہے کہ صرف چاند ہی کی نہیں بلکہ سورج کی بھی منزلیں ہیں اور وہ ہر وقت کسی مخصوص برج میں ہوتا ہے ۔برجوں کایہی اختلاف تاریخ اورشمسی مہینوں کے بننے کی بنیادہے۔

لیکن انصاف یہ ہے کہ آیت کاظہورنشاندہی کرتا ہے کہ یہ ضمیرمفرد صرف ”قمر “ کی طرف لوٹتی ہے جواس کے قریب ہے اوراس میں بھی ایک نکتہ ہے۔۔۔۔۔کیونکہ:

وہ مہینے کہ جنہیں اسلام میں قانونی طور پر قبول کیا گیا ہے ، قمری مہینے ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ چاند ایک متحرک کرّہ ہے اور اس کی کئی منزلیں ہیں لیکن سورج نظام شمسی کے وسط میں ہے اور اس نظام میں اس کی کوئی حرکت نہیں ۔

باقی رہا برجوں کا اختلاف اور بارہ فلکی برجوں میں سورج کی سیر کہ جو حمل سے شروع ہوکر حوت پر جا کر ختم ہوتی ہے تو وہ سورج کی حرکت کی وجہ نہیں ہے بلکہ زمین کی چاند کے گرد حرکت کی وجہ سے ہے اور زمین کی یہ گردش سبب بنتی ہے کہ ہم سورج کو ہر مہینے میں بارہ آسمانی برجوں میں سے ایک میں دیکھتے ہیں ۔ لہذا سورج کی مختلف منزلیں نہیں ہیں بلکہ صرف چاند ہی کی منزلیں ہیں ۔(غور کیجئے گا )

مندرجہ بالا آیات در حقیقت ایک علمی مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جو آسمانی کرات سے مربوط ہے اس زمانے میں یہ بات نوع بشر کے علم کی نگاہ سے پوشیدہ تھی اور وہ یہ کہ چاند حرکت کرتا ہے لیکن سورج حرکت نہیں رکھتا ۔

۴ ۔ رات دن کا آنا جانا :

زیر نظر آیت میں رات دن کے آنے جانے کو خدا کی ایک نشانی شمار کیا گیا ہے اور یہ اس بنا پر ہے کہ اگر سورج کی روشنی ایک ہی طرح مسلسل زمین پر پڑتی رہتی تو یقینا زمین کا درجہ حرارت اتنا بٹرھ جاتا کہ وہ زندگی گزارنے کے قابل نہ رہتی ( جیسے چاند پر جلانے والی حرارت ہے جو کہ اس کے دنوں میں زمین کے ۱۵ شب و روز کے برابر ہے ) اور اگر اسی طرح رات مسلسل جاری رہتی تو تمام چیزیں سردی کی شدت سے خشک ہوجاتیں

( جیسا کہ چاند کی طویل راتیں ہیں ) لیکن خدا نے ان دونوں کو یکے بعد دیگرے قرار دیا ہے تا کہ زندگی کو کرہ ارض پر باقی رکھے ۔(۱)

عدد ، حساب ، تاریخ ، سال اور مہینہ کا انسانی نظام حیات ، اس کے معاشرتی رابطوں اور کام کاج پر اثر سب پر واضح ہے ۔

۵ ۔ تقویم اور تاریخ کا مسئلہ :

مندرجہ بالا آیت میں تقویم اور تاریخ کے حساب کے جس مسئلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ انسانی زندگی کے اہم ترین مسائل میں سے ہے ۔

ہم جانتے ہیں کہ کسی نعمت کی اہمیت اس وقت واضح ہوتی ہے جب زندگی کو اس کے بغیر دیکھیں اگر ہم اس حوالے سے غور کریں کہ اگر تاریخ ( DATE )

( جو کہ دنوں ، مہینوں اور سالوں کا امتیاز کرتی ہے ) انسانی زندگی سے ہٹا دی جائے مثلا ہفتے کے دن واضح نہ ہوں ، نہ مہینے کا حساب ہو اور نہ سال کا حساب ہو تو تمام تجارتی و اقتصادی معاملات ، تمام معاہدہ اور مدت کے تعین کا نظام درہم برہم ہو جائے اور کسی کام میں نظم و ضبط نہ رہے یہاں تک کہ کھیتی باڑی ، سرمایہ کاری اور کارخانوں کی حالت بھی حرج مرج کا شکار ہو جائے لیکن خدا نے چونکہ انسان کو ایک سعادت بخش زندگی کے لئے پیدا کیا ہے جس کا ایک نظم و ضبط ہے اسلئے اس نظام کے وسائل بھی اسے مہیا کئے ہیں ۔

یہ ٹھیک ہے کہ انسان کسی ایک نظام تاریخ کے مطابق کسی حد تک اپنے کاموں کو منظم کر سکتا ہے لیکن اگر یہ حساب کسی فطری میزان کے مطابق نہ ہو تو نہ اس میں عمومیت ہو سکتی ہے اور نہ ہی یہ قابل اعتماد ہو سکتا ہے ۔

گردش مہر و ماہ ( یا زیادہ صحیح لفظوں میں زمین کی سورج کے گرد گردش ) اور اس کی منزلیں ایک فطری تقویم کی بنیاد قائم کرتی ہیں ، جو ہر جگہ اور تمام لوگوں کے لئے واضح اور قابل اعتماد ہے ۔

جیسا کہ رات دن کی مقدر جو کہ ایک چھوٹا سا ارصہ ہے ایک طبیعی عامل کے ما تحت یعنی زمین کے اپنے محور کے گرد حرکت کرنے سے وجود میں آتی ہے اسی طرح مہینہ اور سال کا حساب بھی کسی طبیعی گردش کی بنیاد پر ہونا چاہیے ۔ اس کے لئے کرہ ارض کے گرد چاند کی حرکت ایک بڑی اکائی ہے ( اسی کی بنیاد پر بنتا ہے جو تقریبا تیس دن کے مساوی ہے ) اور زمین کی سورج کے گرد حرکت عظیم تر اکائی ہے جس سے سال معرض وجود میں آتا ہے ۔

ہم نے کہا ہے کہ اسلامی تقویم چاند کی گردش کی بنیاد پر ہے ۔ یہ درست ہے کہ بارہ برجوں میں سورج کی گردش بھی تقویم کے حساب کے لئے ایک اچھا ذریعہ ہے اور اس سے شمسی مہینوں کا تعین ہوتا ہے ۔ تا ہم یہ سب کے لئے فائدہ مند نہیں ہے اور اس کی تشخیص صرف علم فلکیات کے ماہرین رصد گاہوں کے ذریعے کر سکتے ہیں لہذا دوسرے لوگ مجبور ہیں کہ ان تقویموں کی طرف رجوع کریں جو علم فلکیات کے ماہرین نے مرتب کی ہیں ۔لیکن زمین کے گرد چاند کی منظم گردش ایسی واضح تقویم پیش کرتی ہے کہ ان پڑھ اور بیابانوں میں رہنے والے بھی اس کے نقوش اور خطوط پڑھ سکتے ہیں اسکی وضاحت یہ ہے کہ آسمان پر ہر رات چاند کی ایک خاص کیفیت ہوتی ہے جو پہلے اور بعد کی رات سے مختلف ہو تی ہے اس طرح سے کہ پورے مہینوں کی دو راتوں میں آسمان پر چاند کی کیفیت اور شکل و صورت ایک جیسی نہیں ہوتی ۔ ہر رات کے چاند کی کیفیت پر اگر ہم تھوڑا سا غور کریں تو آہستہ آہستہ ہمیں عادت ہو جائے گی اور ہم پورے طور پر معین کر سکیں گے کہ یہ مہینے کی کون سی رات ہے ۔

ہو سکتا ہے بعض لوگ یہ تصویر کرےں کہ مہینے کے دوسرے نصف میں بعینہ پہلے نصف کے منظر کا طریقہ ہوتا ہے مثلا اکیسویں شب چاند کا چہرہ ٹھیک ساتویں رات کے چہرے کی طرح ہوتا ہے لیکن یہ ایک بڑا اشتباہ ہے کیونکہ چاند کا ناقص حصہ پہلے نصف مہینے میں اوپر کی طرف ہوتا ہے جبکہ دوسرے نصف حصہ میں ناقص حصہ نیچے کی طرف ہوتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں آغاز ماہ میں ھلال کے کونے مشرق کی سمت ہوتے ہیں جبکہ مہینے کے دوسرے حصے میں چاند کی نوکیں مغرب کی طرف ہوتی ہیں ۔ علاوہ ازیں مہینے کے اوائل میں چاند مغرب کی طرف نظر آتا ہے لیکن نصف ماہ کے بعد زیادہ تر مشرق کی طرف ہوتا ہے اور بہت دیر کے بعد طلوع کرتا ہے ۔

اس طرح چاند کی بدلتی صورت سے ایک دن کا حساب کیا جا سکتا ہے اور شکل ہی پر غورو خوض کرنے سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مہینے کی کون سی تاریخ ہے بحر حال یہ نظام تقویم ایک بڑی نعمت ہے جس پر ہم آفرینش خدا وندی کے ممنون احسان ہیں اور اگر چاند ، سورج اور زمین کی حرکات نہ ہوتیں تو ہماری زندگی میں ایسا حرج مرج ہوتا اور ہم ایسی پریشانی سے دوچار ہوتے کہ جس کا اس وقت ہم تصور بھی نہیں کر سکتے ۔

وہ قیدی جو کسی تاریک کوٹھڑی میں قید تنہائی میں ہوتے ہیں اور انھیں وقت کا پتہ نہیں چلتا وہ اس مصیبت کا پورے طور پر احساس کرتے ہیں ۔

ہمارے زمانے میں ایک قیدی تقریبا ایک ماہ کے لئے استبداد کے ایجنٹوں کے ہاٹھوں گرفتار رہا ، اسے ایک تاریک کوٹھڑی میں قید تنہائی میں رکھا گیا تھا وہ بیان کرتا ہے : ” میرے پاس وقت نماز کی تشخیص کا اس کے سوا کوئی ذریعہ نہ تھا کہ جب وہ دوپہر کا کھانا لاتے تو میں ظہر اور عصر کی نمازیں پڑھ لیتا اور جس وقت وہ رات کا کھانا لاتے تو میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کر لیتا اور نماز صبح بھی عموما جب وہ ناشتہ لاتے پڑھ لیتا ۔اگر دنوں کو شمار کرنا چہتا تو کھانوں کی تعداد اور حساب کو نظر میں رکھتا ۔ کھانے کے تین اوقات کو ایک دن شمار کرتا تھا ۔ لیکن نہ معلوم کیا ہوا کہ جب میں زندان سے باہر نکلا تو میرا حساب باہر کے لوگوں کے حساب سے مختلف ہو چکا تھا ۔ “

____________________

۱ جلد اول تفسیر نمونہ ص ۳۹۷ ( اردو ترجمہ ) اور جلد سوم ص ۱۶۰ (اردو ترجمہ ) پر بھی اس کے بارے میں وضاحت کی جا چکی ہے ۔


آیات ۷،۸،۹،۱۰

۷ ۔( إِنَّ الَّذینَ لا یَرْجُونَ لِقاء َنا وَ رَضُوا بِالْحَیاةِ الدُّنْیا وَ اطْمَاٴَنُّوا بِها وَ الَّذینَ هُمْ عَنْ آیاتِنا غافِلُونَ ) ۔

۸ ۔( اٴُولئِکَ مَاٴْواهُمُ النَّارُ بِما کانُوا یَکْسِبُونَ ) ۔

۹ ۔( إِنَّ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ یَهْدیهمْ رَبُّهُمْ بِإیمانِهمْ تَجْری مِنْ تَحْتِهمُ الْاٴَنْهارُ فی جَنَّاتِ النَّعیمِ ) ۔

۱۰ ۔( دَعْواهُمْ فیها سُبْحانَکَ اللَّهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فیها سَلامٌ وَ آخِرُ دَعْواهُمْ اٴَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمین ) ۔

ترجمہ

۷ ۔ وہ جو ہماری ملاقات ( اور قیامت ) کی امید نہیں رکھتے اور دنیاوی زندگی پر خوش ہیں اور اس پر تکیہ کئے ہوئے ہیں اور وہ جو ہماری آیات سے غافل ہیں ۔

۸ ۔ ان ( سب ) کے رہنے کی جگہ آگ ہے ، ان کاموں کی وجہ سے جو وہ انجام دیتے تھے ۔

۹ ۔ ( لیکن ) وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کئے خدا انھیں ان کے ایمان کے سبب ہدایت کرتا ہے ، ان کے ( قصر اور محلات کے ) نیچے سے جنت کے باغوں میں نہریں جاری ہیں ۔

۱۰ ۔ جنت میں ان کی گفتگو ( اور دعا ) یہ ہے کہ خدایا : تو منزہ ہے اور ان کا تحیہ سلام ہے اور ان کی آخری بات یہ ہے کہ حمد اور تعریف مخصوص ہے عالمین کے پروردگار اللہ کے لئے ۔

جنتی اور دوزخی

جیسا کہ اشارہ ہو چکا ہے اس سورہ کی ابتدامیں قرآن نے پہلے مبدا اور معاد کے مسلہ کے بارے میں ایک اجمالی بحث کی ہے اور بعد میں اس کی تفصیل شروع کی ہے ۔

گزشتہ آیات میں مسئلہ مبداء کے بارے میں تشریح تھی اور زیر نظر آیات میں معاد اور دوسرے جہان میں لوگوں کی سر نوشت کے بارے میں تشریح نظر آتی ہے ۔ پہلے فرمایا گیا ہے : وہ لوگ جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے اور قیامت پر عقیدہ نہیں رکھتے اور اس بناء پر صرف دنیا وی زندگی پر خوش ہیں اور اسی پر تکیہ کئے ہوئے ہیں( إِنَّ الَّذینَ لا یَرْجُونَ لِقاء َنا وَ رَضُوا بِالْحَیاةِ الدُّنْیا وَ اطْمَاٴَنُّوا بِها ) ۔

اور اسی طرح طرح وہ لوگ جو ہماری آیات سے غافل ہیں اور ان میں غور و فکر نہیں کرتے کہ ان کے دل بیدار ہوں اور ان میں احساس مسئولیت پیدا ہو( وَ الَّذینَ هُمْ عَنْ آیاتِنا غافِلُونَ ) ۔

” ان دونوں گروہوں کے رہنے کی جگہ آگ ہے ، ان اعمال کے سبب جو وہ انجام دیتے تھے( اٴُولئِکَ مَاٴْواهُمُ النَّارُ بِما کانُوا یَکْسِبُونَ ) ۔

فی الحقیقت معاد اور قیامت پر ایمان نہ لانے کا سیدھا نتیجہ یہ ہے کہ انسان اس محدود زندگی اور عارضی مادی مقام و منصب سے دل بستگی پیدا کرتا ہے اور انھی پر بھروسہ کر لیتا ہے ۔ زندگی کے کاموں میں اس کا نتیجہ آلودگی کی صورت میں نکلتا ہے اور اس کا انجام آخر آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔

اسی طرح آیات الہی سے غفلت خدا سے بیگانگی کا سر چشمہ ہے اور خدا سے بیگانگی عدم احساس مسئولیت کا سر چشمہ ہے اور اس کے نتیجے میں انسان ظلم ، فساد اور گناہ سے آلودہ ہوتا ہے اور اس کا انجام آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔

لہذا مذکورہ دونوں گروہ ۔۔۔۔ یعنی وہ جو مبداء یا معاد پر یقین نہیں رکھتے یقیناً عمل کے لحاظ سے آلودہ ہوں گے اور دونوں گروہوں کا مستقبل تاریک ہے ۔

یہ دو آیات دوبارہ اس حقیقت کی تاکید کرتی ہیں کہ ایک معاشرے کی اصلاح اور اور ظلم و گناہ کی آگ سے نجات کے لئے خدا اور معاد ایمان کی بنیادوں کو قوی کرنا ناگزیر ہے کیونکہ خدا پر ایمان لائے بغیر وجود انسانی میں احساس مسئولیت پیدا نہیں ہوسکتا اور معاد قیامت کی طرف توجہ کئے بغیر سزا اور خوف پیدا نہیں ہو سکتا ۔ لہذا یہ دونوں اعتقادی ستون تمام اجتماعی اصلاحات کی بنیاد ہیں ۔

اس کے بعد دونوں گروہوں کے مقابل ایک اور گروہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے:جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اچھے عمل کئے ، ان کے ایمان کی تقویت کے لئے خدا انھیں ہدایت کرتا ہے( إِنَّ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ یَهْدیهِمْ رَبُّهُمْ بِإیمانِهِمْ ) ۔

ہدایت الہی کا یہ نور جس کا سر چشمہ ان کا نور ایمان ہے ، ان کی زندگی کے تمام افق راشن کر دیتا ہے اس نور کے ذریعے ان میں ایسی روشن بینی پیدا ہو جاتی ہے کہ مادی مکاتب و نظریات ، شیطانی وسوسے ، گناہوں کی چمک دہک ، زور دولت اور اقتدار ان کی فکر و نظر میں نہیں جچتے اور وہ صحیح راستے کو چھوڑ کر بے راہ روی میں قدم نہیں رکھتے ۔

یہ تو ان کی دنیا کی حالت ہے ” اور دوسرے جہان میں خدا بہشت کے پر نعمت باغوں میں انھیں محلات عطا کرے گا کہ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی( تَجْری مِنْ تَحْتِهمُ الْاٴَنْهارُ فی جَنَّاتِ النَّعیمِ ) ۔

وہ ایک ایسے ماحول میں زندگی بسر کریں گے جو صلح و آشتی ، پاکیزگی اور عشق پروردگار سے معمور ہوگا اور جہاں طرح طرح کی نعمتیں ہوں گی جس وقت خدا کی ذات و صفات سے عشق ان کے وجود کو روشن کر دیگا تو وہ ” کہیں گے پروردگار ! تو ہر قسم کے عیب اورنقص سے منزہ اور پاک ہے “( دَعْواهُمْ فیها سُبْحانَکَ اللَّهُمّ ) ۔جب وہ ایک دوسرے سے ملیں گے تو صلح و صفائی کی باتیں کریں گے اور ان کا تحیہ سلام ہو گا( وَ تَحِیَّتُهُمْ فیها سَلامٌ ) ۔

اور آخر کار وہ وہاں خدا کی گونا گوں نعمتوں سے بہرہ ور ہوں گے تو اس کا شکرانہ ادا کریں گے اور کہیں گے کہ ” حمد و ثنا اس خدا کے لئے مخصوص ہے جو عالمین کا پروردگار ہے “ ۔( وَ آخِرُ دَعْواهُمْ اٴَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمین ) ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ پروردگار سے ملاقات :

سوال پیدا ہوتا ہے کہ لقاء الہی سے کیا مراد ہے جس کا ذکر زیر نظر پہلی آیت میں ہے مسلم ہے کہ ملاقات حسی تو نہیں ہے بلکہ مراد پروردگار کی جزا وسزا سے ملاقات ہے اور اس کے علاوہ ایک قسم شہود باطنی بھی ہے جق قیامت میں انسان کے اندر ذات مقدس الہی کے بارے میں پیدا ہوگا کیونکہ اس موقع پر وہ اس کی آیات اور نشا نیوں کو ہر مقام سے بڑھ کر واضح اور آشکاردیکھ پائے گا اور وہاں انسان معرفت کی نئی نظر اور قدرت حاصل کر لے گا۔(۱)

۲ ۔( یهدیهم ربهم بایمانهم ) کے بارے میں کچھ گفتگو :

اس جملے میں ایمان کے سائے میں ہدایت انسانی کے مطلق گفتگو ہے ۔ یہ ہدایت دوسرے جہان کی زندگی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اس جہان میں بھی ایک مومن ایمان کی وجہ سے بہت سے اشتباہات، فریب کاریوں اور لغزشوں سے نجات حاصل کر لیتا ہے کیونکہ یہ بیماریاں ،حرص ، خود خواہی اور ہوا وہوس سے پیدا ہوتی ہیں اور اسی ایمان کے ذریعہ مومن دوسرے جہان میں اپنے لئے جنت کی طرف راستہ بنا لیتا ہے ۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے :یوم تری المومنین و المومنات یسعی نورھم بین ایدیھم و بایمانھم

اس دن تو صاحب ایمان مردوں اور عورتوں کو دیکھے گا کہ ان کے نور کی شعاع ان کے سامنے اور دائیں طرف چل رہی ہوگی ۔ (حدید ۔۔۔ ۱۲ )

نیز ایک حدیث میں رسول اللہ سے مروی ہے:

انّ الموٴمن اذا خرج من قبره صور له عمله فی صورة حسنة فیقول له انا عملک فیکون له نوراً و قائداً الیٰ الجنة (۲)

جب مومن اپنی قبر سے نکلے گا تو اس کے اعمال ایک پیاری صورت میں نمایاں ہوں گے اوراس سے کہیں گے کہ میں تیرا عمل ہوں اور ایک نور سا آئے گا جو اسے جنت کی طرف ہدایت کرے گا۔

۳ ۔( تجری من تحتهم الانهار ) کا مفہوم :

زیر نظر آیات میں ” تجری من تحتھم الانھار “ آیا ہے جبکہ قرآن کی دیر آیات میں ” تجری من تحتھا الانھار “نظر آتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں دیگر مواقع پر ہے کہ ” جنت کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی “جبکہ زیر نظر آیت میں ہے کہ ” جنت والوں کے پیر کے نیچے نہریں جاری ہوں گی “ ممکن ہے یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہوکہ اہل بہشت کے محلات بھی نہروں کے اوپر ہوں گے اور یوں یہ منظر نہایت حسین دکھائی دے گا ۔

یا پھر یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جنت کی نہریں ان کے تابع فرمان ہوں گی اور ان کے قبضہ قدرت میں ہوں گی ۔ جیسا کہ فرعون کے واقعہ میں ہے ، وہ کہتا ہے( اٴ لیس لی ملک مصرو هذه الانهار تجری من تحتی ) ۔

کیا مصر کی حکومت میرے قبضہ میں نہیں اور یہ نہریں میرے حکم سے نہیں چلتیں ۔ (زخرف ۵۲)

یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ یہ لفظ ” تحت “ ”بین ایدی “ کے معنی میں ہو یعنی ان کے سامنے نہریں جاری ہوں گی ۔

۴ ۔ اہل جنت کے لئے تین عظیم نعمتیں : یہ امر جاذب توجہ ہے کہ زیر بحث آخری آیت میں اہل بہشت کی تین حالتوں یا ان کے لئے تین نعمتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔

پہلی. ذات پروردگار کی طرف توجہ اس توجہ سے جو لزت انھیں حاصل ہو گی اس کا موازنہ کسی اور لذت سے نہیں کیا جا سکتا ۔

دوسری وہ لذت جو مومنین کے ایک دوسرے سے صلح و تفاہم سے معمور اس ماحول میں ملاقات اور میل جول سے حاصل ہوگی اور یہ لذت خدا کی طرف متوجہ ہونے کی لزت کے بعد ہر چیز سے بہتر اور بر تر ہوگی ۔

تیسری وہ لذت کہ جو انھیں طرح طرح کی نعمات بہشت سے بہرہ ور ہونے سے حاصل ہوگی اور پھر وہ انھیں خدا کی طرف متوجہ کرے گی اور وہ اس کی حمد ، سپاس اور شکر بجا لائیں گے ۔ ( غور کیجئے )

____________________

۱ مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد اول ص ۱۸۳ ( اردوترجمہ ) اور سورہ بقرہ کی ایة کی ۴۶ کے ذیل کی طرف رجوع کریں ۔

۲ تفسیرفخر الدین رازی جلد ۱۷ ص۴۰


ـآیات ۱۱،۱۲

۱۱ ۔( وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللَّهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجالَهم بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ إِلَیْهمْ اٴَجَلُهمْ فَنَذَرُ الَّذینَ لا یَرْجُونَ لِقاء َنا فی طُغْیانِهمْ یَعْمَهُونَ ) ۔

۱۲ ۔( وَ إِذا مَسَّ الْإِنْسانَ الضُّرُّ دَعانا لِجَنْبِهِ اٴَوْ قاعِداً اٴَوْ قائِماً فَلَمَّا کَشَفْنا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ کَاٴَنْ لَمْ یَدْعُنا إِلی ضُرٍّ مَسَّهُ کَذلِکَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفینَ ما کانُوا یَعْمَلُونَ ) ۔

ترجمہ

۱۱ ۔جس طرح لوگ اچھائیوں کو اپنے قبضے میں لینے کے لئے جلدی کرتے ہیں اگر خدا( ان کے اعمال کے بدلے ) انھیں سزادے تو ان کی زندگی اختتام کو پہنچ جائے ( اور سب کے سب ختم ہو جائیں ) لیکن وہ جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے انھیں ہم ان کی حالت پر چھوڑ دیں گے تا کہ وہ طغیان میں سر گردان پھریں ۔

۱۲ ۔ اور جس وقت کسی انسان کو کوئی نقصان ( اور پریشانی ) چھوئے تو جب وہ پہلو کے بل سویا ہوا بیٹھا ہو یا کھڑا ہو ( ہر حالت میں ہمیں ) پکارتا ہے لیکن جب ہم اس کی پریشانی دور کر دیتے ہیں تو ایسے گزرتا ہے گویا اس نے کسی مشکل کے حل کے لئے کبھی ہمیں پکارا ہی نہ ہو ۔ اس طرح سے اسراف کرنے والوں کے لئے ان کے اعمال زینت دے جاتے ہیں ۔

خود غرض انسان

ان آیات میں بھی بد کاروں کی پاداش کے بارے میں گفتگو جاری ہے ۔

پہلی آیت میں قرآن کہتا ہے : اگر خدا بد کار لوگوں کو جلدی اور اسی جہان میں سزا دےدے اور جیسے وہ نعمت اور خیر کے بارے کے حصول میں جلدی کرتے ہیں خدا بھی ان کی سزا میں تعجیل کرے تو سب کی عمر ختم ہو جائے اور ان کا نام و نشان تک بھی باقی نہ رہے( وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللَّهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجالَهم بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ إِلَیْهمْ اٴَجَلُهمْ )

لیکن خدا لطف چونکہ تمام بندوں کے شامل حال ہے یہاں تک کہ بد کاروں ، کافروں اور مشرکوں کے لئے بھی ہے اس لیے وہ ان کی سزا میں جلدی نہین کرتا کہ شاید وہ بیدار ہوں جائیں ، توبہ کر لیں اور بے راہ روی سے پلٹ آئیں ۔ علاوہ ازیں اگرسزا اتنی جلد مل جاتی تو اختیاری حالت جو کہ مسولیت کی بنیاد ہے ، تقریبا ً ختم ہوجاتی اور اطاعت گزاروں کی اطاعت بھی ، پھر اضطراری کیفیت میں ہوتی کیونکہ خلاف ورزی کی صورت میں فوراً وہ درد ناک سزا کا سامنا کرتے ۔

اس جملے میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کچھ ہٹ دھرم کفار ایسے تھے جو انبیاء سے کہتے تھے کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو جتنا جلدی ہوسکے خدا سے کہو، ہمیں نابود کر دے یا سزا دے اس بات کو قرآن نے ذکر کیا ہے اب اگر خدا ان کے اس تقاضے کو قبول کر لیتا تو ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہتا لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے ۔

آیت کے آخر مین قرآن فرماتا ہے : ان کے لئے یہی سزا کافی ہے کہ جو لوگ قیامت اور ہماری ملاقات پر ایمان نہیں لائے انھیں ہم ان کی حالت پر چھوڑ دیتے ہیں تا کہ وہ اپنے طغیان میں حیران و سرگردان رہیں ، نہ حق کو باطل سے جدا کر سکیں اور نہ راہ کو چاہ سے ۔( فَنَذَرُ الَّذینَ لا یَرْجُونَ لِقاء َنا فی طُغْیانِهمْ یَعْمَهُونَ ) ۔

اس موقع پر آدمی کی فطرت اور روح کی گہرائی میں نور توحید کے وجد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : جب انسان کو کوئی نقصان اور ضرر پہنچتا ہے اور ہر جگہ اس کا ہاتھ کوتاہ ہوجاتا ہے تو ہماری طرف ہاتھ بلند کرتا ہے اور جب وہ پہلو کے بل سوتا ہے یا بیٹھاتا ہے یا کھڑا ہوتا ہے ، ہر حالت میں ہمیں پکارتا ہے ۔

( وَ إِذا مَسَّ الْإِنْسانَ الضُّرُّ دَعانا لِجَنْبِهِ اٴَوْ قاعِداً اٴَوْ قائِماً )

جی ہاں ! مشکلات اور دردناک حواث کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انسان کی پاک فطرت سے پردوں اور حجابوں کو بر طرف کر دیتے ہیں ۔ حوادث کی بھٹی میں تمام سیا ہ پردے جنہوں نے اس فطرت کو چھپا رکھا ہوتا ہے ، جل جاتے ہیں اور ختم ہو جاتے ہیں اور ایک عرصہ کے لئے چاہے وہ کتنا ہی کم ہو اس نور توحیدی کی چمک آشکار ہو جاتی ہے ۔

اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ باقی رہے یہ لوگ ، تو یہ اس قدر کم ظرف اور بے عقل ہیں کہ -- ” اتنی دیر میں کہ ہم بلا و پریشانی ان سے بر طرف کر دیں ، اس طرح غفلت میں ڈوب جاتے ہیں گویا انھوں نے ہم سے کوئی بالکل تقاضا ہی نہ کیا تھا ، اور ہم نے بھی جیسے ان کی کوئی مدد نہیں کی( فَلَمَّا کَشَفْنا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ کَاٴَنْ لَمْ یَدْعُنا إِلی ضُرٍّ مَسَّهُ )

جی ہاں ! اس طرح سے مسرفین کے اعمال کو ان نظر میں مزین کیا گیا ہے ۔( کَذلِکَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفینَ ما کانُوا یَعْمَلُونَ ) ۔

ایسے افراد کے اعمال کو ان کی نظر میں کون مزین کرکے پیش کرتا ہے ؟ اس بارے میں ہم تفسیر نمونہ جلد پنجم سورہ انعام کی آیہ ۱۲۲ کے ذیل میں صفحہ ۳۴۳ ( اردو ترجمہ ) پر بحث کر چکے ہیں اس بحث کا اجمالی خاکہ یہ ہے کہ زینت دینے والا خدا ہے لیکن اس طرح سے کہ اس نے برے اور قبیح اعمال میں یہ خاصیت پیدا کی ہے کہ جس قدر انسان ان سے آلودہ ہوجاتا ہے اس قدر ان کا زیادہ عادی ہو جاتا ہے اور نہ صرف ان کی برا ئی اور قباحت اس کی نظر میں ختم ہو جاتی ہے بلکہ وہ اسے آہستہ آہستہ اچھے معلوم ہونے لگتے ہیں ۔

یہ کہ ایسے افراد کو زیر نظر آیت میں ” مسرفین “ ( اسراف کرنے والے ) کیوں کہا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے زیادہ اسراف کیا ہو گا کہ اپنے وجود کا اہم ترین سرمایہ یعنی عمر ، سلامتی ، جوانی اور اپنی مختلف صلاحیتوں کو فضول کاموں میں اور گناہ ، عصیان اور نا فرمانی میں برباد کر دے یا اس دنیا کے لئے بے وقعت اور نا پائیدار مال و متاع کے حصول میں ضائع کر دے اور اس سرمایہ کے بدلے میں اسے کوئی فائدہ حاصل نہ ہو کیا یہ کام اسراف نہیں ہے اور کیا ایسے لوگ مسرف شمار نہیں ہوتے ؟

انسان قرآن کریم کی نظر میں

انسان کے بارے میں قرآن مجید میں مختلف تعبیرات آئی ہیں :

بہت سی آیات میں انسان کے لئے لفظ ” بشر “ استعمال ہوا ہے ۔ بہت سی دیگر آیات میں لفظ ” انسان “ آیا ہے ۔ کچھ آیات میں ” بنی آدم “ کی تعبیر آئی ہے ہاں البتہ بہت سے مواقع پر اس کے لئے مذموم صفات ذکر ہوئی ہیں ۔

مثلا ً زیر بحث آیات میں انسان کا تعارف ایک زود فراموش اور حق شناس موجود کے طور پر کروایا گیا ہے ۔

ایک اور مقام پر اسے ایک ضعیف اور کمزور موجود موجود کہا گیا ہے :( خلق الانساان ضعیفاً ) ۔ ( نساء ۲۸ )

ایک اور جگہ اسے ستم گراور کفر کرنے والا قرار دیا گیا ہے :( ان الانسان لظلوم کفار ) ۔ ( ابراھیم ۔ ۳۴ )

ایک اور مقام پر انسان کو بخیل کہا گیا ہے :( و کان الانسان قتوراً ) ۔ ( بنی اسرائیل۔ ۱۰۰)

ایک اور جگہ جلد باز کہا گیا ہے :( و کان الانسان عجولاً ) ۔ ( بنی اسرائیل۔ ۱۱)

دوسری جگہ کفران کرنے والے قرار دیا گیا ہے :( و کان الانسان کفوراً ) ۔ ( بنی اسرائیل۔ ۶۷ )

ایک اور مقام پر اسے جھگڑالو کہا گیا:( کان الانسان اکثر شیء جدلاً ) ۔ ( کھف۔ ۵۴)

ایک اور جگہ انسان کو ظلوم اور جہول کہا گیا ہے :( انه کان ظلوما جهولاً ) ۔ ( احزاب۔ ۷۲ )

ایک اور جگہ اسے واضح کفر کرنے والا کہا گیا ہے :( ان الانسان لکفور مبین ) ۔ ( زخرف۔ ۱۵)

ایک اور جگہ اسے کم ظرف اور متلون مزاج کہا گیا ہے کہ جو دم بہ دم بدلتا رہتا ہے ، نعمت ملے تو بخیل ہو جاتا ہے اور مصیبت کے وقت رونا پیٹنا شروع کر دیتا ہے :( ان الانسان خلق هلوعاً اذا مسه الشر جزوعاً و اذا مسه الخیر منوعاً ) ۔ (معارج ۱۹ ، ۲۰ ، ۲۱ ،)

ایک اور جگہ اسے مغرور یہاں تک کہ خدا کے سامنے بھی مغرور بتایا گیا ہے :

( یا ایها الانسان ما غرک بربک الکریم ) ۔ ( انفطار ۔ ۶)

ایک اور مقام پر اسے ایک ایسا موجود بتایا گیا ہے کہ جو نعمت کے وقت طغیان و سرکشی کرتا ہے :

( ان الانسان لیطغی ان راٰه استغنی ) ٰ ۔ ( علق ۶،۷ )

اس طرح سے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں انسان کو ایک ایسا موجود کہا گیا ہے جو بہت زیادہ منفی پہلو رکھتا ہے اور جس میں کمزوری کے بہت سے نقطے موجود ہیں ۔

کیا یہ وہی انسان ہے جسے انسان ہے جسے خدا نے ” احسن تقویم “ اور بہترین ساخت میں پیدا کیا ہے :

( لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ) ۔ ( التین ۔ ۴)

کیا یہ وہی انسا ن ہے جس کا معلم اور استاد خدا تھا اور جس چیز کو وہ نہیں جانتا تھا اللہ نے اسے اس کی تعلیم دی :

( علم الانسان مالم یعلم ) ۔ (علق۔ ۵ )

کیا یہی وہ انسان ہے جسے خدا نے بیان سکھایا ہے -:( خلق الانسان علمه البیان ) ۔ ( رحمن ۔ ۳ ، ۴ )

کیا یہ وہی انسان ہے جسے خدا نے اپنی راہ میں کاوش کے لئے ابھارا ہے :

( یا ایها الانسان انک کادح الیٰ ربک کدحاً ) ۔ ( انشقاق ۔ ۶ )

یہ بات قابل غور ہے کہ خدا کی طرف سے ایسے شرف اور ایسی محبت کے حامل انسانوں میں کمزوری کے یہ پہلو کیسے آ گئے ۔

ظاہراً یہ ہے کہ تمام مباحث ایسے انسانوں کے بارے میں ہیں جو خدائی رہبروں کے زیر تربیت نہیں رہے بلکہ انھوں نے خود رو پودوں کی طرح پرورش پائی ہے ان کا نہ کوئی معلم تھا نہ رہبر و راہنما اور نہ انھیں کوئی بیدار کرنے والا تھا ۔ ان کی خواہشات آزاد تھیں اور وہ ہوا و ہوس میں غوطہ زن تھے ۔

واضح ہے کہ ایسے انسان نہ صرف یہ کہ فراواں وسائل اور اپنے وجود کے سرمایہ عظیم سے فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ انھیں انحرافی راستوں اور غلط کاموں میں استعمال کرتے ہیں ۔ یوں وہ ایک خطرناک موجود کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور آخر کار ناتواں و بے نوا وجود بن جاتے ہیں ۔

ورنہ وہ انسان جو ہادیان بر حق کے وجود سے استفادہ کرتے ہیں ، اپنی فکر و نظر سے استفادہ کرتے ہیں اور تکامل و ارتقاء اور حق و عدالت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، وہ مرحلہ آدمیت میں قدم رکھ کر بنی آدم ہونے کی اہلیت کا اظہار کرتے ہیں اور اس طرح وہ اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ خدا کے علاوہ انھیں کچھ نہیں سوجھتا ۔

جیسا کہ قرآن کہتا ہے :( و لقد کرمنا بنی آدم و حملناهم فی البر و البحر و رزقناهم من الطیبات و فضلناهم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلاً ) ۔

ہم نے بنی آدم کو تکریم و عزت بخشی اور خشکی اور دریا کو ان کی جولان گاہ قرار دیا اور انھیں پاکیزہ رزق دیا اور انھیں اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی

( بنی اسرائیل ۔ ۷۰ )


آیات ۱۳،۱۴

۱۳ ۔( وَ لَقَدْ اٴَهْلَکْنَا الْقُرُونَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَمَّا ظَلَمُوا وَ جاء َتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّناتِ وَ ما کانُوا لِیُؤْمِنُوا کَذلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمینَ ) ۔

۱۴ ۔( ثُمَّ جَعَلْناکُمْ خَلائِفَ فِی الْاٴَرْضِ مِنْ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُونَ ) ۔

ترجمہ

۱۳ ۔تم سے پہلے کی امتوں نے جب ظلم کیا تو ہم نے انھیں ہلاک کردیا حالانکہ ان کے پیغمبر واضح دلائل لیکر ان کے پا آئے تھے مجرم گروہ کو ہم اس طرح سے جز ادیتے ہیں ۔

۱۴ ۔ان کے بعد پھر ہم نے تمہیں روئے زمین پر ان کا جانشین بنایا تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کس طرح عمل کرتے ہو ۔

پہلے ظالم اور تم

ان آیات میں بھی ظالموں اور مجرموں کی اس جہان میں سزاوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے مسلمانوں کو گزشتہ زمانے کی طرف متوجہ کرتے ہوئے ان کے گوش گزار کیا گیا ہے کہ اگر ان کی راہ پر چلیں تو ان جیسی سر نوشت میں گرفتار ہو گے ۔

پہلی آیت میں کہا گیا ہے : ہم نے تم سے پہلے کی امتوں کو ہلاک اور نابود کر دیا جبکہ انہوں نے ظلم کیا اور وہ ان انبیاء پر ہر گز ایمان نہ لائے جو ان کے پاس واضح دلائل اور معجزات کے ساتھ ان کی ہدایت کے لئے آئے تھے( وَ لَقَدْ اٴَهْلَکْنَا الْقُرُونَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَمَّا ظَلَمُوا وَ جاء َتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّناتِ وَ ما کانُوا لِیُؤْمِنُوا )

آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے : ایسا انجام کسی خاص جماعت سے مخصوص نہیں ہے ۔ ہم مجرموں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں( کَذلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمینَ ) ۔

بعد والی آیت میں اس بات کو زیادہ صراحت سے بیان کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : اس کے بعد ہم نے تمہیں زمین پر ان کا جانشین قرار دیا تا کہ دیکھیں کہ تم کس طرح عمل کرتے ہو( ثُمَّ جَعَلْناکُمْ خَلائِفَ فِی الْاٴَرْضِ مِنْ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُون ) ۔

چند قابل توجہ نکات

۱ ۔ ”قرون “ کا مطلب :

” قرون “ ” قرن “ کی جمع ہے ۔ ” قرن “ عام طور پر ایک طویل زمانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن جیسا کہ علماء لغت نے کہا ہے ایسی قوم اور جمیعت کے معنی میں بھی لفظ استعمال ہوتا ہے جو ایک ہی زمانے میں زندگی بسر کرتے ہوں کیونکہ اس کا اصلی مادہ ” اقتران “ سے ہے جس کا مطلب ہے ” نزدیک ہونا ۔ “ زیر بحث آیت میں بھی ” قروان“ اس معنی میں یعنی ہم عصر گروہوں اور قوموں کے لئے استعمال ہوا ہے ۔

۲ ۔ قوموں کی بربادی کی وجہ ؟

مندرجہ بالا آیات میں قوموں کی بربادی اور نابودی کی علت ظلم قرار دی گئی ہے یہ اس بنا پر ہے کہ لفظ --” ظلم “ ایسا وسیع مفہوم رکھتا ہے کہ جس میں ہر قسم کی برائی اور گناہ شامل ہے ۔

۳ ۔”( وما کانو ا لیوٴمنوا ) “ کا مفہوم :

اس کا معنی ہے ” ایسا نہ تھا کہ وہ ایمان لاتے “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا صرف اس گروہ کو ہلاک کرنے کی سزا دیتا ہے جس کےت آیندہ ایمان لانے کی امید نہ ہو ۔ اس طرح سے وہ قومیں کہ جن کے لئے ممکن ہو کہ آیندہ ایمان لے آئیں گی انھیں ایسی سزائیں نہیں دی جاتیں کیونکہ ان دونوں میں بہت فرق ہے کہ ” وہ ایمان نہیں لائے “ اور ” ایسا نہ تھا کہ وہ ایمان لائیں “ ( غور کیجئے گا )

۴ ۔ ”( لننظر کیف تعلمون ) “ کا مطلب:

اس کا لفظی معنی یہ ہے : تا کہ ہم دیکھیں کہ تم کس طرح عمل کرتے ہو “ ۔ مسلم ہے کہ نہ اس کا مقصود آنکھ سے دیکھنا ہے نہ دل کی نگاہ سے دیکھنا ہے کیونکہ خدا میں دونوں چیزیں نہیں ہیں بلکہ اس مفہوم ہے ایک حالت جو انتظار سے مشابہت رکھتی ہے یعنی تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ دیا ہے اور ہمیں انتظار ہے کہ تم کیا کرتے ہو ۔


آیات ۱۵،۱۶،۱۷

۱۵ ۔( وَ إِذا تُتْلی عَلَیْهِمْ آیاتُنا بَیِّناتٍ قالَ الَّذینَ لا یَرْجُونَ لِقاء َنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَیْرِهذا اٴَوْ بَدِّلْهُ قُلْ ما یَکُونُ لی اٴَنْ اٴُبَدِّلَهُ مِنْ تِلْقاء ِ نَفْسی إِنْ اٴَتَّبِعُ إِلاَّ ما یُوحی إِلَیَّ إِنِّی اٴَخافُ إِنْ عَصَیْتُ رَبِّی عَذابَ یَوْمٍ عَظیمٍ ) ۔

۱۶ ۔( قُلْ لَوْ شاء َ اللَّهُ ما تَلَوْتُهُ عَلَیْکُمْ وَ لا اٴَدْراکُمْ بِهِ فَقَدْ لَبِثْتُ فیکُمْ عُمُراً مِنْ قَبْلِهِ اٴَ فَلا تَعْقِلُونَ ) ۔

۱۷ ۔( فَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَری عَلَی اللَّهِ کَذِباً اٴَوْ کَذَّبَ بِآیاتِهِ إِنَّهُ لا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ ) ۔

ترجمہ

۱۵ ۔اور جس وقت ہماری واضح آیات انھیں سنائی جاتی ہیں تو جو لوگ ہماری ملاقات ( اور قیامت ) کی امید نہیں رکھتے کہتے ہیں : کوئی قرآن لے آواس کے علاوہ یا اسے تبدیل کرودو ( اور اس میں سے بتوں کی مذمت والی آیتیں نکال دو ) کہہ دو : مجھے حق نہیں کہ میں اسے اپنی طرف سے تبدیل کر دوں میں تو صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی ہوتی ہے اگر میں اپنے پروردگار کی نا فرمانی کروں تو ( قیامت کے ) عظیم دن کی سزا سے ڈرتا ہوں ۔

۱۶ ۔ کہہ دو : اگر خدا چاہتا تو میں تم پر آیات تلاوت نہ کرتا اور تمہیں ان سے آگاہ نہ کرتا کیونکہ میں نے مدتوں اس سے پہلے تم میں زندگی گزاری ہے ، کیا سمجھتے نہیں ہو ۔

۱۷ ۔ اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ باندھتا ہے اور اس کی آیات کو جھٹلاتا ہے ۔ مسلم ہے کہ مجرم فلاح نہیں پائیں گے ۔

شان نزول

بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیات چند بت پرستوں کے بارے میں نازل ہوئیں ہیں ۔ وہ خدمت پیغمبر میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے جو کچھ قرآن میں ہمارے بڑے بتوں لات ، عزٰی ، منات اورھبل کی عبادت کرنے اور ان کی مذمت میں نازل ہوا ہے ، ہمارے لئے قابل برداشت نہیں ہے اگر تم چاہتے ہو کہ ہم تمہاری پیروی کریں تو دوسرا قرآن لے آوجس میں ایسی کوئی بات نہ ہو یا پھر کم از کم موجودہ قرآن میں سے ایسی باتیں نکال دو ۔ اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں ہیں اور انھیں جواب دیا گیا ہے ۔

تفسیر

گذشتہ آیات کی طرح ان آیات میں بھی مبداء اور معاد سے مربوط مسائل سے متعلق بحث جاری ہے ۔

پہلے بت پرستوں کے ایک بہت بڑے اشتباہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے : جب ان کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں جو لوگ قیامت اور ہماری ملاقات پر ایمان نہیں رکھتے ، کہتے ہیں : اس کی بجائے کوئی دوسرا قرآن لے آویا پھر کم از کم اس قرآن میں تبدیل کر دو( وَ إِذا تُتْلی عَلَیْهِمْ آیاتُنا بَیِّناتٍ قالَ الَّذینَ لا یَرْجُونَ لِقاء َنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَیْرِهذا اٴَوْ بَدِّلْه )

یہ بے خبر بے نوا پیغمبر کی رہبری کو قبول نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے خرافات اور باطل افکار کی پیروی کی دعت دیتے تھے۔ آنحضرت سے ایسے قرآن کی خواہش کرتے تھے جو ان کے انحراف کے تابع ہو نہ کہ ان کے معاشرے کا اصلاح کنندہ ہو ۔ وہ نہ صرف یہ کہ قیامت پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور اپنے کاموں میں احساس مسولیت نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کی یہ گفتگو نشاندہی کرتی تھی کہ انھوں نے نبوت کے مفہوم کو بالکل سمجھا ہی نہ تھا یا وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے ۔

قرآن صراحت کے ساتھ انھیں اس عظیم اشتباہ سے باہر نکالتا ہے اور پیغمبر اکرم کو حکم دیتا ہے کہ ان سے کہہ دو : میرے لئے ممکن نہیں ہے کہ میں خود اس میں تبدیلی کر دوں( قُلْ ما یَکُونُ لی اٴَنْ اٴُبَدِّلَهُ مِنْ تِلْقاء ِ نَفْسی ) (۱)

اس کے بعد تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے : میں فقط اس کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی ہوتی ہے( إِنْ اٴَتَّبِعُ إِلاَّ ما یُوحی إِلَیَّ ) نہ صرف یہ کہ میں اس آسمانی وحی میں تبدیلی نہیں کر سکتا بلکہ میں اگر اپنے پروردگار کے حکم سے تھوڑا سا بھی تخلف کروں تو ( قیامت کے ) اس عظیم دن کی سزا سے ڈرتا ہوں( إِنِّی اٴَخافُ إِنْ عَصَیْتُ رَبِّی عَذابَ یَوْمٍ عَظیمٍ )

اگلی آیت میں اس بات کی دلیل پیش کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے ، ان سے کہہ دو : ” اس کتاب میں میرے ارادے کا ذرہ بھر بھی دخل نہیں ہے اور اگر خدا چاہتا تو ان کی آیات کی میں تمہارے سامنے تلاوت نہ کرتا اور تمھیں اس سے آگاہ نہ کرتا “ ۔( قُلْ لَوْ شاء َ اللَّهُ ما تَلَوْتُهُ عَلَیْکُمْ وَ لا اٴَدْراکُمْ ) اس لئے کہ میں نے قبل ازیں بہت عرصہ تم میں زندگی گزاری ہے اور تم نے کبھی بھی مجھ سے ایسی باتیں نہیں سنیں اگر یہ آیات میری طرف سے ہوتیں تو لازماً اس چالیس سال کی مدت میں میری فکر سے میری زبان پر جاری ہوتیں ۔ کم از کم ان کا کچھ حصہ تو بعض لوگ ہم سے سنتے ( بِہِ فَقَدْ لَبِثْتُ فیکُمْ عُمُراً مِنْ قَبْلِہ) کیا یہ واضح بات نہیں سمجھ سکتے( اٴَ فَلا تَعْقِلُونَ )

پھر مزید تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے : میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ ظلم کی بد ترین قسم یہ ہے کہ کوئی شخص خدا پر افتراء باندھے ۔

”اس سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے کہ جو خدا کی طرف جھوٹی نسبت دے “( فَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَری عَلَی اللَّهِ کَذِباً ) ۔

لہذا کیونکر ممکن ہے کہ میں ایسے بڑے گناہ کا مرتکب ہوں اسی طرح جو شخص آیات الہی کی تکذیب کرے تو یہ بھی بہت بڑا ظلم ہے( اٴَوْ کَذَّبَ بِآیاتِه )

اگر تم آیات حق کی تکذیب اور انکار کے گناہ کی عظمت سے بے خبر ہو تو میں بے خبر نہیں ہوسکتا ۔ بحر حال تمہارا یہ کام بہت بڑا ظلم ہے ” اور مجرم کبھی فلاح اور کامیابی حاصل نہیں کرستے “( إِنَّهُ لا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ )

چند اہم نکات

۱ ۔ مشرکین کی دو متبادل خواہشوں میں فرق :

مشرکین پیغمبر خدا سے یہ خواہش کرتے تھے کہ یا تو قرآن کو کسی اور کتاب سے بدل دیں یا قرآن میں تبدیلی کردیں ان دونوں کے درمیان فرق واضح ہے ۔ ان کے پہلے تقاضے میں ان کا مقصد یہ تھا کہ یہ کتاب بالکل ختم ہو جائے اور اس کی جگہ پیغمبر کی طرف سے دوسری کتاب آجائے لیکن دوسرے تقاضے میں وہ چاہتے تھے کہ کم از کم وہ آیات جو بتوں کے خلاف ہیں وہ تبدیل ہو جائیں تا کہ انھیں اس طرف سے کسی قسم کی پریشانی لا حق نہ ہو ۔

ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کیسے قطعی لہجہ میں انھیں جواب دیتا ہے کہ نہ کتاب کا تبادلہ پیغمبر کے اختیار میں ہے نہ رد و بدل اور نہ وحی تاخیر یا جلدی ۔

واقعاً ان کے افکار و نظریات کسیے پست اور ناقص تھے وہ ایسے پیغمبر کی اطاعت کرنا چاہتے تھے کہ جو ان کے خرافات اور ہوا و ہوس کا پیرو ہو نا کہ جو خود پیشوا، رہبر ، مربی اور رہنماء ہو ۔

۲ ۔ پیغمبر اکرم کے جواب پر ایک نظر :

یہ بات قابل توجہ ہے کہ پیغمبر خدا ان کے دو تقاضوں کے جواب میں صرف ان کی دوسری خواہش کے انجام دینے کی توانائی نہ رکھنے کا ذکر کرتے ہیں کہ میں اپنی طرف سے اس میں کویہ ردّ و بدل نہیں کر سکتا ۔ اس بیان سے در اصل ان کی پہلی خواہش کی بطریق اولیٰ نفی ہوجاتی ہے کیونکہ جب بعض آیات میں تغیر و تبدل پیغمبر کے اختیار میں نہیں تو کیا اس ساری آسمانی کتاب کو بدل دینا اس کے لئے ممکن ہے اس تعبیر میں ایک خاص وضاحت پائی جاتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ قرآن ایک بھی اضافی جملہ یا لفظ کہے بغیر انتہائی جچے تلے اور مختصر الفاظ میں تمام مسائل بیان کرتا ہے ۔

۳ ۔ ایک اشکال اور اس کی وضاحت :

ہو سکتا ہے کہا جائے ۔ جو دلیل قرآن کے پیغمبر کی طرف سے ہونے کی نفی کے لئے اور اس کے حتماً خدا کی طرف سے ہونے کے بارے میں زیر نظر آیات میں پیش کی گئی ہے وہ مطمئن کرنے والی نہیں ہے ۔ یہ ضروری ہے کہ اگر یہ کتاب پیغمبر کی طرف سے ہو تو حتماً اس جیسا کلام انہوں نے اس سے قبل آپ سے سنا ہو ۔

لیکن تھوڑا سا غور کرنے سے اس سوال کا جواب مل جاتا ہے کیونکہ جو کچھ ماہرین نفسیات کہتے ہیں اس کے مطابق نبوغ ، ایجاد اور تخلیق کی صلاحیتوں کااظہار عموماً انسان میں بیس سال کی عمر میں شروع ہو جاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ پینتیس سے چالیس سال تک رہتا ہے یعنی اگر انسان اس عمر تک اپنی ان صلاحیتوں سے کام نہ لے تو اس کے بعد عام طور پر ممکن نہیں رہتا ۔

یہ امر جو آج کل علم نفسیات کے حوالے سے معلوم ہوا ہے مثلاً اس سے پہلے اس حد تک واضح نہیں تھا مگر اکثر لوگ فطرت کی ہدایت سے اس امر کی طرح توجہ رکھتے ہیں کہ معمول کے مطابق ممکن نہیں ہے کہ ایک انسان ایک روش ، مکتب اور نظریہ رکھتا ہو اور چالیس سال ایک قوم میں زندگی گزار لے اور بالکل اسے ظاہر نہ کرے قرآن بھی اسی نبیاد کا سہارا لیتا ہے کہ اس سن و سال میں کس طرح ممکن تھا کہ اپیغمبر ایسے افکار و نظریات رکھتا ہو اور انہیں بالکل چھپا ئے رکھے ۔

۴ ۔ سب سے زیادہ ظالم کون ہے ؟ :

جیسا کہ ہم سورہ انعام کی آیہ ۲۱ ۔ کے ذیل میں اشارہ کرچکے ہیں کہ قرآن میں بہت سے موقع پر کسی ایک گروہ کو سب سے بڑھ کر اظالم ( اظلم ) قرار دیا گیا ہے ۔ ابتداء میں شاید یہ نظر آئے کہ ان میں ایک دوسرے سے تضادپایا جاتا ہے کیونکہ جب ایک گروة کو سب سے زیادہ ظاکم قرار دیا جائے تو ہھر دوسرے کو کیسے یہی کچھ کہا جا سکتا ہے ۔

اس سوال کے جواب میں ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ تمام عناوین در اصل ایک یہی عنوان کی طرف لوٹتے ہیں اور وہ ہے شرک ، کفر ، عناد آیات خدا وندی کی تکذیب اور خدا پر افتراء۔ زیر بحث آیت میں بھی یہی صورت ہے ۔

مزید وضاحت کے لئے جلد پنجم ص ۱۶۰ ( اردو ترجمہ ) کی طرف رجوع کریں ۔

____________________

۱۔ لفظ ” تلقاء “ مصدر ہے یا اسم مصدر ہے یہ مقابلے اور آمنے سامنے کے معنیٰ میں آیا ہے اس آیت میں اور ایسے مقامات پر یہ نزدیک اور ماحیہ کے معنی میں ہے یعنی میں اپنی طرف سے اور خود سے تبدیلی نہیں کر سکتا ۔


آیت ۱۸

۱۸ ۔( وَ یَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا یَضُرُّهُمْ وَ لا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُولُونَ هؤُلاء ِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ قُلْ اٴَ تُنَبِّئُونَ اللَّهَ بِما لا یَعْلَمُ فِی السَّماواتِ وَ لا فِی الْاٴَرْضِ سُبْحانَهُ وَ تَعالی عَمَّا یُشْرِکُونَ ) ۔

ترجمہ

۱۸ ۔ اور خدا کی بجائے کچھ چیزوں کی پرستش کرتے ہیں کہ جونہ انہیں نقصان پہنچاتی ہیں اور نہ فائدہ دیتی ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا کے پاس یہ ہمارے شفیع ہیں ، کہہ دو : کیا تم خدا کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ آسمانوں اور زمین میں نہیں جانتا ۔ وہ ان شریکوں سے منزہ اور بلند و بر تر ہے جو تم قرار دیتے ہو ۔

بے اثر معبود

اس آیت میں بھی بحث توحید جاری ہے یہاں بتوں کی الوہیت کی نفی کی گئی ہے اور ایک واضح دلیل کے ذریعہ بتوں کا بے وقعت اور بے قیمت ہونا ثابت کیا گیا ہے ۔ فرمایا گیا ہے : وہ خدا کی بجائے کچھ معبودوں کی پرستش کرتے ہیں کہ جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں کہ ان کی طرف سے نقصان کے خوف سے ان کی پرستش کریں اور نہ ہی انہیں کوئی نفع پہنچاسکتے ہیں کہ ان کی جانب سے فائدے کی وجہ سے ان کی عبادت کریں (وَ یَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّہِ ما لا یَضُرُّھُمْ وَ لا یَنْفَعُھُم)۔

واضح ہے کہ اگر فرض کریں بت سود و زیاں پہنچا سکتے ہیں پھر بھی عبادت کے لائق نہ تھے لیکن قرآن اس تعبیر کے ذریعہ یہ نکتہ سمجھاتا ہے کہ بت پرستوں کے پاس اس بات کا چھوٹے سے چھوٹا بہانا بھی نہیں ہے اور وہ ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں کہ جن میں بالکل کوئی خاصیت نہیں ہے اور یہ بد ترین اور قبیح ترین پرستش ہے ۔

اس کے بعد قرآن بت پرستوں کا ایک بے ہودہ دعوی پیش کرتے ہوئے کہتا ہے : وہ کہتے ہیں کہ بت بارگاہ الہی میں ہمارے شفیع اور سفارشی ہیں ۔ یعنی خود ان سے کچھ نہیں ہو سکتا تو شفاعت کے ذریعہ سود و زیاں کر سکتے ہیں( وَ یَقُولُونَ هؤُلاء ِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ )

بت پرستی کا یاک سبب بتوں کی شفاعت کا اعتقاد تھا اور جیسا کہ تاریخ میں آیا ہے جس وقت عربوں کا ایک بزرگ عمر وبن لحی شام کے معدنی پانیوں سے استفادہ کرنے اور اپنا علاج کرنے اس علاقہ میں گیا تواسے بت پرستوں کا طریقہ بہت اچھا لگا جب اس نے ان سے اس پرستش کی دلیل پوچھی تو انہوں نے اس سے کہا کہ یہ بت بارش برسنے ، مشکلات حل ہونے اور بارگاہ خدا میں شفاعت کا ذریعہ ہیں وہ چونکہ ایک فضول سا آدمی تھا اس سے متاثر ہو گیا اور خواہش کی کہ کچھ بت ایسے دئے جائےں تا کہ وہ انہیں حجاز میں لے جائے ۔ اس طریقہ سے بت پرستی اہل حجاز میں رائج ہوگئی ۔ تو اس خیال کے جواب میں قرآن کہتا ہے : کیا تم خدا کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جسے آسمانوں اور زمین مکیں وہ نہیں جانتا( قُلْ اٴَ تُنَبِّئُونَ اللَّهَ بِما لا یَعْلَمُ فِی السَّماواتِ وَ لا فِی الْاٴَرْضِ )

یہ امر اس کے لئے کنایہ ہے کہ اگر خدا کے پاس ایسے شفیع ہوتے تو وہ زمین و آسمان کے جس نقطے میں ہوتے ان کے وجود سے آگاہ ہوتا کیونکہ علم خدا کی وصیت اس طرح سے ہے کہ آسمان اور زمین میں چھوٹے سے چھوٹا ذرا بھی ایسا نہیں جس سے آگاہ نہ ہو ۔ دوسرے لفظوں میں یہ بالکل اس طرح ہے کہ کسی سے کہا جائے کہ کیا تمہارا کوئی اس طرح کا نمائندہ ہے ؟ اور وہ جواب دے کہ میں ایسے نمائندے کے وجود کی خبر نہں رکھتا ، تو یہ اس کے وجود کی نفی کے لئے بہترین ہے کیونکہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص اپنے نمائندے کے وجود سے بے خبر ہو ۔

آیت کے آخر میں تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے : خدا ان کے شریکوں سے منزہ اور بر تر ہے جو وہ بتا تے ہیں( سُبْحانَهُ وَ تَعالی عَمَّا یُشْرِکُونَ )

شفاعت کے بارے میں جلد اول ص ۱۸۷ ( اردو ترجمہ ) اور جلد دوم ( اردو ترجمہ ) پر تفصیلی بحث ہو چکی ہے ۔


آیت ۱۹

۱۹ ۔( وَ ما کانَ النَّاسُ إِلاَّ اٴُمَّةً واحِدَةً فَاخْتَلَفُوا وَ لَوْ لا کَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَهمْ فیما فیهِ یَخْتَلِفُونَ ) ۔

ترجمہ

۱۹ ۔ اور ( ابتدا میں )سبلوگ ایک ہی امت تھے پھر وہ اختلاف کرنے لگے اور اگر تیرے پروردگار کی طرف سے ( انھیں فوری سزا نہ دےنے کے بارے میں )حکم نہ ہوتا تو جس چیز کے بارے میں وہ اختلاف کرتے ہیں اس کا فیصلہ ہوجاتا ہے ۔

تفسیر

یہ آیت اس بحث کی مناسبت سے جو گزشتہ آیت میں شرک اور بت پرستی کی نفی کے سلسلے میں گزرچکی ہے تمام انسانوں کی توحیدی فطرت کی طرف اشارہ کرتی ہے اور کہتی ہے : ابتداء میں تمام انسان امت و احد تھے اور توحید کے علاوہ کسی کا کوئی دین نہ تھا( وَ ما کانَ النَّاسُ إِلاَّ اٴُمَّةً واحِدَةً )

ابتداء میں تو اس طرح توحیدی فطرت کو کسی کا ہاتھ نہیں لگاتھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پست افکار اور شیطانی رجحانات کے زیر اثر یہ دگر گوں ہونگی کچھ لوگ جادہ توحید سے منحرف ہوں گے اور انھوں نے شرک کا رخ کر لیا یوں فطرتاً انسانی معاشرہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ایک گروہ موحد اور دوسرا مشرک( فَاخْتَلَفُوا )

اس بنا ء پر شرک در حقیقت ایک قسم کی بدعت اور فطرت سے انحراف ہے جس کا سر چشمہ کچھ اوہام اور بے بنیاد خیالات ہیں ۔

ممکن تھا اس موقع پر یہ سوال کیا جاتا کہ خدا تعالیٰ مشرکین کو فوری طور پر سزا دے کر یہ اختلاف کیوں نہیں ختم کر دیتا تا کہ تمام انسانی معاشرہ سے پھر موحد بن جائے اس سوال کے جواب کے لئے قرآن بلا فاصلہ کہتا ہے : اگر پہلے سے ہدایت کے بارے میں انسانی آزادی کے متعلق خدا کا فرمان نہ ہوتا جو کہ انسانی تکامل اور ترقی کی بنیاد ہے تو خدا بہت جلدی ان کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کر دیتا جس میں وہ اختلاف رکھتے تھے اور مشرکین و منحرفین کو کیفر کردار تک پہنچا دیتا ۔

( وَ لَوْ لا کَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَهمْ فیما فیهِ یَخْتَلِفُونَ )

اس بناء پر مندرجہ بالا آیت میں لفظ ” کلمہ “ انسانوں کی آزادی کے بارے میں سنت اور حکم فطرت کی طرف اشارہ ہے جو ابتداء سے اسی طرح ہے اگر منحرفین اور مشرکین کو فورا ً سزا دے دی جائے تو موحدین کا ایمان تقریباً اضطراری اور جبری ہو جائے گا اور حتما ًخوف اور وحشت کی بناء پر ہوگا ایسا ایمان نہ سرمایہ ایمان ہے نہ تکامل اور ارتقاء کی دلیل ہے یہ فیصلہ اور یہ سزا خدا نے زیادہ تر دوسرے جہان کے لئے چھوڑ دی ہے تاکہ نیک اور پاک لوگ آزادی سے اپنی راہ منتخب کریں ۔


آیت ۲۰

۲۰ ۔( وَ یَقُولُونَ لَوْ لا اٴُنْزِلَ عَلَیْهِ آیَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَقُلْ إِنَّمَا الْغَیْبُ لِلَّهِ فَانْتَظِرُوا إِنِّی مَعَکُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرینَ ) ۔

ترجمہ

۲۰ ۔ اور کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے کیوں کوئی معجزا نازل نہیں ہوا کہہ دو : غیب ( اور معجزات ) خدا کے لئے ( اور اس کے حکم سے ) ہیں ۔ تم انتظار کرو اور میں بھی تمہارے انتظار میں ہوں ( تم مند پسند اور بہانہ جویانہ معجزات کے انتظار میں رہو اور میں بھی تمہاری سزا کے انتظار میں ہوں ) ۔

من پسند معجزات

ایمان اور اسلام سے رو گردانی کرتے ہوئے مشرکین جو بہانے بناتے تھے قرآن دوبارہ ان کا ذکر کرہا ہے کہتا ہے : مشرکین کہتے ہیں کہ خدا کی طرف سے پیغمبر پر کوئی معجزا کیوں نازل نہیں ہوتا( وَ یَقُولُونَ لَوْ لا اٴُنْزِلَ عَلَیْهِ آیَةٌ مِنْ رَبِّهِ )

البتہ قرآن سے جن کی طرف ہم بعد میں اشارہ کریں گے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی مراد ہر قسم کا معجزا نہیں تھا ۔ کیونکہ مسلم ہے کہ پیغمبر اسلام کے قرآن کے علاوہ اور بھی معجزات تھے ۔ تو اریخ اسلام اور بعض آیات قرآن اس حقیقت پر گواہ ہے بلکہ ان کی مراد یہ تھی کہ جب بھی وہ کسی من پسند معجزے کی خواہش کریں فوراً اسے پورا کیا جائے ۔ وہ خیال کرتے تھے کہ اعجاز ایک ایسی چیز ہے جو پیغمبر کے اختیار میں ہے اور آپ خود جس وقت جس قسم کے معجزے کا ارادہ کریں انجام دے سکتے ہیں ۔ علاوہ ازیں شاید وہ سمجھتے تھے کہ اپنی اس قوت سے ہر ہٹ دھرمی اور بہانہ جو مدعی کے سامنے کام لیں اور اس کی خواہش کے مطابق عمل کرے ۔

لہذا بال فاصلہ پیغمبر اکرم کو حکم دیا گیا ہے : ان سے کہہ دو کہ معجزہ خدا کے ساتھ مخصوص ہے اور عالم غیب اور ما وراء الطبیعت سے مربوط ہے( فَقُلْ إِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّه ) اس بناء پر معجزا کوئی ایسی چیز نہیں جو میرے اختیار میں ہو اور میں تمہاری خواہش کے مطابق ہر روز ایک نیا معجزا دکھاوں اور پھر بھی تم حیلے بہانے کرکے ایمان نہ لاو ۔

آیت کے آخر میں انہیں دھمکی کے انداز میں کہا گیا ہے : اب جبکہ تم ہٹ دھرمی سے دست بردار نہیں ہوتے تو انتظار میں رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں( فَانْتَظِرُوا إِنِّی مَعَکُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرینَ ) ۔ تم خدائی سزا کے انتظار میں رہو اور میں بھی کامیابی کا منتظر ہوں یا یہ کہ تم اس قسم کے معجزہ کے انتظار میں رہو اورمیں بھی تم ہٹ دھرم لوگوں کی سزا کے انتظار میں ہوں ۔

دو اہم نکات

۱ ۔ آیت میں معجزے سے مراد کیاہے :

جیسا کہ ہم سطور بالا میں اشارہ کر چکے ہیں لفظ ” آیہ “ ( معجزہ ) اگر چہ مطلق ہے اور اس کے مفہوم میں ہر قسم کا معجزا شامل ہے لیکن ہامرے پاس ایسے قرائن موجود ہیں جو نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ معرفت پیغمبر کے لئے معجزہ طلب نہین کرتے تھے بلکہ دل پسند معجزات کے خواہاں تھے یعنی وہ ہر روز ایک نئے معجزے کے طلب گار ہوتے تھے اوراس کے لئے روزانہ رسول اللہ سے ایک نیا مطالبہ کرتے تھے اور توقع رکھتے تھے کہ آپ ان کا مطالبہ قبول کر لیں گویا ان کی نظر میں پیغمبر ایک بیکار انسان تھے کہ جنہوں نے تمام معجزات کی کلید اپنے ہاتھ میں لے رکھی تھی اور منتظر رہتے تھے کہ کوئی کسی طرف سے آجائے اوران سے معجزے کی فرمائش کرے وہ اس بات سے غافل تھے کہ اول تو معجزہ فعل خدا ہے اور اسی کے فرمان سے انجام پاتا ہے اور دوم یہ کہ معجزہ پیغمبر کی شناخت کے لئے لوگوں کی ہدایت کے لئے ہے اور اس کا ایک ہی موقع اس مقصد کے لئے کافی ہے ۔ علاوہ ازیں پیغمبر اسلام نے کافی معجزات ان کے سامنے پیش بھی کئے تھے ۔ مزید برآں ان لوگوں کا مقصد اپنی ذاتی کاہش کی تسکین کے اور کچھ نہ تھا ۔

مندرجہ بالا جملے میں ” آیة “ سے مراد من پسن کے معجزات ہیں ۔ اس بات کے لئے مندرجہ ذیل امور کو بطور شاہد پیش کیا جا سکتا ہے ۔

۱ ۔ آیت کے ذیل میں انھیں دھمکی دی گئی ہے اور اگر واقعاً وہ حقیقت شناسی کے لئے معجزا طلب کرتے توانھیں ہر گز تحدید نہ کی جاتی ۔

۲ ۔ پہلے کی چند آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ وہ اس قدر ہٹ دھرم تھے کہ رسول اللہ سے کہتے تھے کہ اپنی آسمانی کتاب کو تبدیل کرکے کوئی دوسری کتاب لے آئیں یا کم ازکم وہ آیات جو بت پرستی کی نفی کرتی ہیں ۔ ان میں رد و بدل کر دیں ۔

۳ ۔ قرآن حکیم میں آیات کی تفسیر کے لئے ایک تسلیم شدہ طریقہ بتایا گیا ہے کہ القرآن یفسرہ بعضہ بعضاً۔

یعنی ......قرآنی آیات ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں ۔

اس حوالے سے اگر قرآن کی آیات مثلا ً سورہ بنی اسرائیل ۹۰ اور ۹۴ کو دکھایا جائے تو اچھی طرح سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ہٹ دھرم بت پرست ہدایت کے لئے معجزہ طلب نہیں کرتے تھے اسی لئے کبھی کہتے تھے کہ ہم اس وقت تک آپ ایمان نہیں لائیں گے جب تک اس خشک زمین سے چشمے نہ نکال کر دکھاو ۔ کوئی کہتا یہ بھی کافی نہیں ہے بلکہ تمہارے پاس سونے کا محل ہونا چاہیے ۔ کوئی اور کہتا کہ اس سے بھی ہماری تسلی نہیں ہوگی بلکہ ہماری آنکھوں کے سامنے آسمان کی طرف پرواز کرو کوئی کہتا کہ آسمان کی طرف پرواز کرنا بھی کافی نہیں ہے بلکہ خدا کی طرف سے ہمارے نام خط لے کر آو۔ اسی طرح کی یادہ گوئیاں اور فضول باتیں کرتے تھے ۔

جو کچھ ہم نے اس ضمن میں کہا ہے اس سے واضح ہو گیا ہے کہ جو لوگ چاہتے ہیں کہ زیر بحث آیت کو ہر قسم کے معجزے یا قرآن کے علاوہ معجزات کی نفی کی دلیل قرار دیں وہ اشتباہ میں ہیں ۔

اس مسئلے کے بارے میں مزید وضاحت انشاء اللہ سورہ بنی اسرائیل کی آیہ ۵۹ کے ذیل میں آئے گی ۔

۲ ۔( انما الغیب لله ) ” میں غیب “ کا مفہوم :

ہو سکتا ہے یہ اس طرف اشارہ ہو کہ معجزہ ایک ایسی چیز ہے جس کا تعلق عالم غیب سے ہے اور وہ میرے اختیار میں نہیں ہے اور خدا کے ساتھ مخصوص ہے یا اس طرف اشارہ ہو کہ مصالح امور اور یہ کہ کسی موقع پر حکمت مصلحت کا تقاضا ہے کہ معجزا پیش کیا جائے ۔ دوسرا یہ غیب میں سے ہے اور خدا کے ساتھ مخصوص ہے ۔ وہ جس موقع پر مصلحت دیکھتا ہے اور معجزہ طلب کرنے والے کو حقیقت کا متلاشی سمجھتا ہے ۔ معجزہ نازل کرتا ہے ۔ کیونکہ غیب اور اسرار نہاں اس کی ذات پاک سے مخصوص ہیں ۔

ان میں سے پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے ۔


آیات ۲۱،۲۲،۲۳

۲۱ ۔( وَ إِذا اٴَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِنْ بَعْدِ ضَرَّاء َ مَسَّتهمْ إِذا لَهُمْ مَکْرٌ فی آیاتِنا قُلِ اللَّهُ اٴَسْرَعُ مَکْراً إِنَّ رُسُلَنا یَکْتُبُونَ ما تَمْکُرُون ) ۔

۲۲۔( هُوَ الَّذی یُسَیِّرُکُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ حَتَّی إِذا کُنْتُمْ فِی الْفُلْکِ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِریحٍ طَیِّبَةٍ وَ فَرِحُوا بِها جاء َتْها ریحٌ عاصِفٌ وَ جاء َههمُ الْمَوْجُ مِنْ کُلِّ مَکانٍ وَ ظَنُّوا اٴَنّهُمْ اٴُحیطَ بِهمْ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصینَ لَهُ الدِّینَ لَئِنْ اٴَنْجَیْتَنا مِنْ هذِهِ لَنَکُونَنَّ مِنَ الشَّاکِرینَ ) ۔

۲۳ ۔( فَلَمَّا اٴَنْجاهُمْ إِذا هُمْ یَبْغُونَ فِی الْاٴَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ یا اٴَیّها النَّاسُ إِنَّما بَغْیُکُمْ عَلی اٴَنْفُسِکُمْ مَتاعَ الْحَیاةِ الدُّنْیا ثُمَّ إِلَیْنا مَرْجِعُکُمْ فَنُنَبِّئُکُمْ بِما کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ) ۔

ترجمہ

۲۱ ۔جب لوگو کق پہنچنے والے نقصان کے بعد ہم انھیں رحمت کا مزہ چکھائےں تو وہ ہماری آیات کے بارے میں مکر کرتے ہیں کرتے ہیں ( اور اس نعمت و رحمت کے لئے غلط سلط توجہات کرتے ہیں ) کہہ دو کہ خدا تم سے زیادہ جلدی چارہ جوئی کرتا ہے اور جو کچھ مکر ( اور سازش ) تم کرتے ہو ہمارے رسول اسے لکھتے ہیں ۔

۲۲ ۔ وہ وہ ہے جو تمہیں خشکی اور دریا میں سیر کراتا ہے یہاں تک کہ تم کشتی میں ہوتے ہو اور موافق ہوائیں انھیں ( منزل مراد کی طرف ) لے جاتی ہیں ۔ اچانک سخت آندھیاں چلنے لگتی ہیں اور ہر طرف سے موجیں انھیں گھیر لیتی ہیں اور وہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ وہ ہلاک ہو جائیں گے تو اس وقت خدا کو خلوص سے پکارتے ہیں کہ اگر تو ہمیں نجات دے دے تو ہم یقینا شکر ادا کریں گے ۔

۲۳ ۔ لیکن جب اس نے انھیں نجات بخشی تو وہ ( دوبارہ ) زمین میں ناحق ظلم کرتے ہیں ۔ اے لوگو! تمہارے ظلم و ستم تمہارے لئے ہی نقصان دہ ہیں ۔ دنیاوی زندگی سے فائدہ ( اٹھاتے ہو ) پھر جلد ہی تمہاری بازگشت ہماری طرف ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو ( خدا ) تمھیں اس کی خبر دے گا ۔

تفسیر

ان آیات میں دوبارہ گفتگو عقائد کے بارے میں اور مشرکین کے کرتو توں کے بارے میں ہے ۔ نیز انھیں توحید کی طرف اور شرک کی نفی کی جانب دعوت دی گئی ہے ۔

زیر نظر پہلی آیت میں مشرکین کی ایک جاہلانہ سازش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے :

جب لوگوں کو بیداری اور آگاہی کے لئے ہم مشکلات اور نقصانات میں گرفتار کرتے ہیں پھر انھیں دور کرکے ہم انھیں سکون اور اپنی رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو بجائے اس کے کہ وہ ہماری طرف متوجہ ہوں ، ان آیات اور نشانیوں کا مزاق اڑاتے ہیں یا غلط توجیہات کرکے ان کا انکار کرنے لگتے ہیں ۔ مثلاً مصائب و مشکلات کو بتوں کے غیض ع غضب کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور راحت و نعمت کو ان کی شفقت و محبت کی دلیل کہتے ہیں یا پھر سب کو اتفاقات شمار کرتے ہیں ۔( إوَ إِذا اٴَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِنْ بَعْدِ ضَرَّاء َ مَسَّتهمْ إِذا لَهُمْ مَکْرٌ فی آیاتِنا )

لفظ” مکر “ جو مندرجہ بالا آیت میں آیا ہے ، ہر قسم کی چارہ جوئی کے معنی میں ہے یہ ان غلط توجیہات اور فرار کی راہوں کی طرف اشارہ ہے جو مشرکین آیات الہی کے نزول ، بالاو کی آمد اور نعمتوں کے ظہور کے وقت سوچتے تھے ۔

لیکن اللہ انھیں اپنے پیغمبر کے ذریعہ خبر دار کرتا ہے کہ ” ان سے کہہ دو : کہ خدا ہر کسی سے بڑھ کر سرکوبی کرنے والی چارہ جوئی اور منصوبہ بندی پر قادر ہیں اور زیادہ تیز ہے( قُلِ اللَّهُ اٴَسْرَعُ مَکْراً )

جیسا کہ ہم نے بارہا اشارہ کیا ہے ” مکر “ ہم قسم کی ایسی چارہ جوئی کو کہتے ہیں جیسے خفیہ طور پر بجا لایا جائے اور اس کا وہ معنی نہیں جو آج کل فارسی میں مروّج ہے ۔ فارسی میں آج کل ” مکر “ میں شیطانی کاموں کا مفہوم بھی شامل ہے لہذا اس لفظ کے حقیقی معنی کو سامنے رکھا جائے تو یہ خدا کے بارے میں بھی صادق آتا ہے اور بندوں کے بارے میں بھی ۔(۱)

باقی رہا یہ کہ زیر بحث آیت میں اس ” مکر “ کا مصداق کیا ہے تو ظاہراً پروردگار کی انھیں سزاوں کی طرف اشارہ ہے کہ جن میں سے بعض انتہائی مخفی طور پر اور بغیر کسی تمہید کے بڑی تیز رفتاری سے آ پہنچتی ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات تو مجرمین کو خود انھیں کے ہاتھ سے سزا دی جاتی ہے ۔

واضح ہے کہ وہ ذات جو سب سے زیادہ قادر ہے ، موانع دور کرنے اور اسباب نہاں کرنے کی سب سے زیادہ طاقت رکھتی ہے ۔ اس کے منصوبے اور تدبیریں بھی سب سے زیادہ تیز ہو گئیں دوسرے لفظوں میں وہ جس وقت کسی کوسزا دینے اور تنبیہ کرنے کا ارادہ کر ے تو وہ فوراً عملی صورت اختیار کر لیتی ہے جبکہ دوسرے اس طرح سے نہیں ہیں ۔

اس کے بعد انھیں تحدید کی گئی ہے کہ یہ گمان نہ کرو کہ یہ سازشیں اور منصوبے فراموش ہوجائیں گے بلکہ ہمارے بھیجے ہوئے یعنی اعمال ثبت کرنے والے فرشتے ان تمام منصوبوں اور سازشوں کو لکھ لیتے ہیں جنہیں تم نور حق کو خاموش کرنے کے لئے تیار کرتے ہو( إِنَّ رُسُلَنا یَکْتُبُونَ ما تَمْکُرُون ) لہذا تم اپنے آپ کو جو ابدہی اور دوسرے جہان میں سزا پانے کے لئے تیار کر لو ۔

ثبت اعمال اور اس کام پر معمور فرشتوں کے بارے میں ہم متعلقہ آیات کے ذیل میں بحث کریں گے ۔

اگلی آیت میں انسانی فطرت کی گہرایوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے سامنے توحید فطری کا ایک نمونہ پیش کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ عظیم مشکلات اور خطرے کے وقت کسی طرح انسان خدا کے علاوہ تمام چیزوں کو بھول جاتا ہے لیکن جو نہی مصیبت ٹلتی ہے اور مشکلات کی آگ ٹھنڈی پڑتی ہے تووہ دو بارہ ظلم و ستم کی راہ اختیار کر لیتا ہے اور خدا سے بیگانہ ہو جاتا ہے ۔

پہلے فرمایا گیا ہے : وہ خدا وہ ہے جو تمہیں سہرا اور دریا میں سیر کراتا ہے( هُوَ الَّذی یُسَیِّرُکُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْر ) ۔”یہاں تک کہ جب تم کشتی میں سوار ہوتے ہو اور کشتی میں سوار لوگوں کو موافق ہوا ئیں آہستہ آہستہ مقصد کی طرف لے جا رہی ہوتی ہیں اور سب کے سب شادمان اور خوش ہوتے ہیں “( حَتَّی إِذا کُنْتُمْ فِی الْفُلْکِ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِریحٍ طَیِّبَةٍ وَ فَرِحُوا بِها ) ۔ ” اچانک شدید طوفان اور تباہ کن آندھیاں چلنے لگتی ہیں اور ہر طرف سے موجیں اٹھتی ہیں اس طرح سے کہ انھیں اپنی موت نظر آنے لگتی ہے اور وہ زندگی سے گویا ہاتھ دوھو بیٹھتے ہیں( جاء َتْها ریحٌ عاصِفٌ وَ جاء َههمُ الْمَوْجُ مِنْ کُلِّ مَکانٍ وَ ظَنُّوا اٴَنّهُمْ اٴُحیطَ بِهمْ ) ۔ ٹھیک اس وقت وہ خدا کو یاد کرنے لگتے ہیں اور اسے خلوص کے ساتھ پکارتے ہیں اور اپنے دین کو ہر قسم کے شرک اور بت پرستی سے اپک کر لیتے ہیں( دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصینَ لَهُ الدِّینَ ) ۔

اس وقت وہ دست دعابلند کرتے ہیں : ۔ خدا یا اگر تو نے اس ہلاکت انگیزی سے نجات بخش دی تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے ، ظلم کریں گے نہ تیرے غیر کی طرف رخ موڑیں گے( لَئِنْ اٴَنْجَیْتَنا مِنْ هذِهِ لَنَکُونَنَّ مِنَ الشَّاکِرینَ ) ۔

لیکن جب خدا انھیں نجات دے دیتا ہے اور وہ ساحل مراد تک جا پہنچتے ہیں تو زمین میں ظلم و ستم شروع کر دیتے ہیں( فَلَمَّا اٴَنْجاهُمْ إِذا هُمْ یَبْغُونَ فِی الْاٴَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ )

مگراے لوگوں جان لوکہ جیسے ظلم کے مرتکب ہوگے اور حق سے جس قدرا نحراف کروگے اس کانقصان خودتمہیں ہی ہوگا ”( یا اٴَیّها النَّاسُ إِنَّما بَغْیُکُمْ عَلی اٴَنْفُسِکُمْ ) ۔ آخری کام جو تم انجام دے سکتے ہو یہ ہے کہ” چند روز حیات دنیا کی متاع سے فائدہ اٹھالو“( مَتاعَ الْحَیاةِ الدُّنْیا ) (۲)

اس کے بعد تمہاری بازگشت ہماری طرف ہے( ثُمَّ إِلَیْنا مَرْجِعُکُمْ ) ” اس وقت ہم تمہیں اس سے آگاہ کریں گے جو تم انجام دیتے تھے( فَنُنَبِّئُکُمْ بِما کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ) ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ لوگ عموماً ایسا کرتے ہیں :

مندرجہ بالا آیت میں جو کچھ ہم نے پڑھا ہے وہ بت پرستوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ عموماً ایسا ہوتا ہے تمام آلودہ ، دنیا پرست ، کم ظرف اور فراموش کار افراد ایسا کرتے ہیں جب انھیں بلا وصیت کی موجیں گھیر لیتی ہیں وہ ہاتھ پاوں مارتے ہیں لیکن کچھ نہیں بنتا گویا تلوار ان کی شہ رگ تک آ پہنچتی ہے اور انہیں کوئی یار و مددگار نظر نہیں آتا تو بارگاہ خدا میں ہاتھ اٹھاتے ہیں اس سے ہزاروں عہد و پیمان باندھتے ہیں اور نذر و نیاز مانتے ہیں کہ اگر بلاوں اور مصائب سے نجات ملی توبہ کریں گے اور وہ یہ کریں گے لیکن یہ بیداری اور آگاہی جو توحید فطری کا انعکاس ہے ایسے افراد میں زیادہ دیر نہیں رہتی ...جونہی طوفان بلاختم ہوجاتا ہے اور مشکل حل ہو جاتی ہے ۔ غفلت کے پردے ان کے دل پر پڑ جاتے ہیں ایسے بھاری پردے کہ جنہیں طوفان بلا کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہٹا سکتی ۔

یہ وقتی بیداری اگر چہ زیادہ آلودہ افراد پر کوئی اثر نہیں کرتی تا ہم ان پر حجت تمام کر دیتی ہے اور یہی ان کے مذموم ومحکوم ہونے کی دلیل بن جائے گی ۔

دوسری طرف کم آلودہ افراد یسے حوادث میں عموماً بیدار ہو جاتے ہیں اور اپنے طریقہ کار کی اصلاح کر لیتے ہیں ۔

باقی رہے بندگان خدا تو ان کا حساب و کتاب واضح ہے ۔ وہ عالم سکون میں بھی خدا کی طرف اتنا ہی متوجہ رہتے ہیں ، جتنا سختی اور تنگی کے عالم میں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہر خیر و برکت جو ظاہراً طبیعی اور فطری عوامل کے ذریعہ انہیں پہنچتی ہے در حقیقت خدا کی طرف سے ہے ۔

بحر حال یہ یاد آوری اور تذکر قرآن مجید کی بہت سی آیات میں ہے ۔

۲ ۔ ” ضراء “ کے مقابلے میں ” رحمت “:

مندرجہ بال اآیات میں ” ضراء “ ( یعنی پریشانی اور نقصان ) کے مقابلے میں ” رحمت “ کا ذکر ہے نہ کہ ” سراء “ ( خوشی اور مسرت ) کا ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جیسی بھی اچھائی اور بھلائی انسان کو پہنچے وہ خدا کی طرف سے ہے اور اس کی رحمت بے پایاں ہے جبکہ مشکلات اگردرس عبرت کے طور پر نہ ہو ں تو خود انسان کے اپنے اعمال کانتیجہ ہوتی ہیں ۔

۳ ۔ ضمیروں کا فرق کیوں ہے ؟

زیر بحث دوسری آیت کی ابتداء میں مخاطب ضمیریں ہیں لیکن بعد میں غایب کی ضمیریں ہیں ۔

یقینا اس میں کوئی نکتہ ہے ۔

بعض مفسرین نے کہا ہے کہ آیت کے لب و لہجہ میں یہ تبدیلی اس بناء پر ہے کہ مشرکین کی حالت جبکہ وہ گرفتار بلا ہوں تو دوسروں کے لئے درس عبرت کے طور پر ان کا ذکر کیا جائے اس لئے انہیں غایب ذکر کیا گیا ہے اور باقی کو حاضر ۔

بعض دیگر مفسرین نے کہا ہے کہ اس میں یہ نکتہ ہے ان سے بے اعتنائی اور ان کی تحقیر کا اظہار ہو گویا پہلے خدا تعالی انھیں حاضر کے طور پر قبول کرکے مخاطب قرار دیتا ہے اس کے بعد انہیں اپنے سے دور کرکے چھوڑ دیتا ہے ۔

یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ آیت لوگوں کی ایک فطری تصویر کررہی ہے جب تک وہ کشتی میں بیٹھے ہیں اور ساحل سے دور نہیں ہوئے تو دیگر لوگوں کے درمیان ہیں لہٰذا مخاطب قرار پاسکتے ہیں لیکن جب کشتی انھیں ساحل سے دور کردیتی ہے ۔

اور وہ آہستہ آہستہ آنکھوں سے اوجھل ہ وجاتے ہیں تو غائب شمار ہوتے ہیں اور یہ دو مختلف حالتوں میں ان کی فطری تصویر کشی ہے ۔

۴ ۔”احیط بھم “کا مفہوم : اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ہر طرف سے امواج بلا میں گھرے ہوئے ہیں لیکن یہ یہاں ہلاکت او رنابودی کے لئے کنایہ ہے جو اس حالت کا لازمی نتیجہ ہے ۔

____________________

۱-مزید وضاحت کے لئے جلد ۲ ص ۳۳۹ ، جلد ۶ ص ۲۳۶ اور جلد ۷ ص ۱۲۶ ( اودو ترجمہ ) کی طرف رجوع فرمائیں ۔

۲- لفظ ”متاع“ ایک فعل مقدر سے منصوب ہے اصل میں یوں تھا”تتمتعون متاع الحیاة الدنیا “ ۔


آیات ۲۴،۲۵

۲۴ ۔( إِنَّمَا مَثَلُ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا کَمَاءٍ اٴَنْزَلْنَاهُ مِنْ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْاٴَرْضِ مِمَّا یَاٴْکُلُ النَّاسُ وَالْاٴَنْعَامُ حَتَّی إِذَا اٴَخَذَتْ الْاٴَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَّیَّنَتْ وَظَنَّ اٴَهْلُهَا اٴَنَّهُمْ قَادِرُونَ عَلَیْهَا اٴَتَاهَا اٴَمْرُنَا لَیْلًا اٴَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنَاهَا حَصِیدًا کَاٴَنْ لَمْ تَغْنَ بِالْاٴَمْسِ کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ ) ۔

۲۵ ۔( وَاللهُ یَدْعُو إِلَی دَارِ السَّلَامِ وَیَهْدِی مَنْ یَشَاءُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ) ۔

ترجمہ

۲۴ ۔دنیاوی زندگی اس پانی کی طرح ہے جسے ہم نے آسمان کی طرف سے نازل کیا ہے کہ جس کے اثرسے طرح طرح کے نباتات اُگتے ہیں جنھیں انسان اورچوپائے کھاتے ہیں ،یہاں تک کہ زمین (ان سے)اپنی زیبائی حاصل کرتی ہیں اور مزین ہوجاتی ہے اور اور اس کے رہنے والے مطمئن ہوجاتے ہیں کہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے کہ (چانک انکی نابودی کے لئے )ہمارا حکم آپہنچتا ہے (اور ہم سردی یا بجلی کو ان پر مسلط کردیتے ہیں )اور اس طرح سے کاٹ ڈالتے ہیں کہ گویا بالکل کچھ تھا ہی نہیں ۔ یوں ہم اپنی آیات اس گروہ کے لئے تفصیل سے بیان کرتے ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں ۔

۲۵ ۔اور خداصلح و سلامتی کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور جسے چاہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے ۔

دنیاوی زندگی کی دور نمائی

گزشتہ آیات میں دنیاوی زندگی کی ناپائیداری کی طرف اشارہ ہواہے زیر نظر آیت میں اس حقیقت کو ایک عمدہ مثال کے ذریعے بیان کیا گیا ہے تاکہ غرور اور غفلت کے پردے غافل اور طغیان گروں کی نظروں کے سامنے سے ہٹا دئیے جائیں ۔

ارشاد ہوتا ہے : دنیاوی زندگی کی مثال اس پانی کی طرح ہے

جسے ہم نے آسمانوں سے نازل کیا ہے( إِنَّمَا مَثَلُ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا کَمَاءٍ اٴَنْزَلْنَاهُ مِنْ السَّمَاءِ ) ۔ بارش کےیہ حیات بخش قطرہ آمادہ زمینوں پر گرتے ہیں اور ان کے ذریعے طرح طرح کے نباتات اگتے ہیں ان میں سے بعض انسانوں کے لئے مفید ہیں اور بعض جانوروں کے لئے( فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْاٴَرْضِ مِمَّا یَاٴْکُلُ النَّاسُ وَالْاٴَنْعَامُ ) ۔

یہ نباتات زندہ موجودات کے لئے غذا بھی فراہم کرتے ہیں اور علاوہ ازین سطح زمین کو بھی ڈھانپ دیتے ہیں اور اسے زینت بخشتے ہیں یہاں تک کہ زمین بہترین زیبائی حاصل کرتی ہے اور مزین ہو جاتی ہے( حَتَّی إِذَا اٴَخَذَتْ الْاٴَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَّیَّنَت ) ۔

اس طرح شکوفہ شاخساروں کو زینت بخشتے ہیں ، پھول کھلتے ہیں ، سبزہ زار نور آفتاب سے چمکنے لگتے ہیں ، تنے اور شاخیں ہواوں کے چلنے سے رقص کرنے لگتے ہیں ۔اناج کے دانے اور پھل آہستہ آہستہ نکلنے لگتے ہیں اور صحنِ دنیا میں بھر پور زندگی مجسم ہو کر سامنے آجاتی ہے، دل امید سے اور آنکھیں سرور سے معمور ہو جاتی ہے ،پھولوں سے بھی استفادہ کریں گے اور حیات بخش دانوں سے بھی( وَظَنَّ اٴَهْلُهَا اٴَنَّهُمْ قَادِرُونَ عَلَیْهَا ) ۔

لیکن اچانک ہمارا حکم آپہنچتا ہے ( سخت سردی، شدید ژالہ باری یا تباہ کن طوفان ان پر مسلط ہو جاتا ہے ) اور ہمیں انہیں اس طرح سے کاٹ دیتے ہیں گویا وہ اصلاً تھے ہیں نہیں( اٴَتَاهَا اٴَمْرُنَا لَیْلًا اٴَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنَاهَا حَصِیدًا کَاٴَنْ لَمْ تَغْنَ بِالْاٴَمْسِ ) ۔

”تغن“ مادہ ”غنا“ سے ، کسی جگہ قیام کرنے کے معنی میں ہے ، اسی بناء پر ”لم تغن بالامس “ کا معنی ہے ” کل وہ اس مکان میں نہ تھا “ اور یہ کنایہ کے طور پر اس چیز کے لئے استعمال ہوتا ہے جو اس طرح سے بالکل ختم ہو جائے کہ گویا اس کا ہر گز وجود ہی نہ تھا ۔

آیت کے آخر میں زیادہ تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے: یوہم تفکر کرنے والوں کے لئے تفصیل سے آیات بیان کرتے ہیں (کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ ) ۔

جوکچھ کہا جاچکا ہے وہ نائیدار ، پر فریب اور زرق و برق مادی دنیا کی واضح اور بدلتی تصویر ہے ۔اس زندگی کا مقام پائدار ہے ، نہ ثروت اور نہ ہی یہ امن و سلامتی کی جگہ ہے لہٰذا بعد والی آیت میں ایک مختصر سے جملے کے ذریعے اس کے مد مقابل دوسری زندگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : خدا دار السلام ، صلح و سلامتی اور امن و آشتی کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے (وَ اللهُ یَدْعُو إِلَی دَارِ السَّلَامِ ) ۔وہ جگہ کہ جہاں مادی زندگی کے ان غارت گروں کی کشمش کی کوئی خبر ہے اور نہ ہی خدا سے بے خبر ذخیرہ اندوزوں کی احمقانہ مزاحمت کا کوئی پتہ اور نہ ہی وہاں جنگ ، خونریزی ، استعمار اور استمشار ہے اور یہ تمام مفاہیم لفظ” دار السلام“ ( یعنی امن و سلامتی کا گھر ) جمع ہیں ۔

اگر دنیا کی زندگی بھی توحیدی اور آخرت والی شکل اختیار کرلے تو یہ بھی دار السلام میں تبدیل ہو جائے اور اس کی صورت ” مزرعہ بلا دیدہ و طوفان زدہ “ والی نہیں رہے گی ۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیاہے : خدا جسے چاہے ( اور اہل پائے ) راہ ِ مستقیم کی طرف دعوت دیتا ہے کہ جو راہ ِ دار السلام ہے اور جو امن و آشتی کے مرکز تک جا پہنچتی ہے( وَیَهْدِی مَنْ یَشَاءُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیم ) ۔

دو قابل تووجہ نکات

۱ ۔دنیا کی ناپائیداری کے لئے مثال :

قرآن ایک انسان ساز اور تربیت کرنے والی کتاب ہے لہٰذا بہت سے مواقع پر حقائق ِ عقلی کو واضح کرنے کے لئے اس میں پیش کیا گئی ہے ۔بعض اوقات ایسے امور جو کوئی سال طویل ہوتے ہیں انھیں بھی ایک زود گزر اور قابل ِ غور منظر کے طور پر مجسم کرکے لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے ۔

ایک انسان یا ایک نسل کی بھر پور زندگی کی تاریخ کہ جو کبھی ایک سو سال پر مشتمل ہوتی ہے کا مطالعہ عام افراد کے لئے کوئی آسان کام نہیں لیکن جب بہت سے نباتات کی زندگی کہ جو چند ماہ میں ختم ہو جاتی ہے ( پیدائش ، نشوونما ، خوبصورتی اور پھر نابودی )کا منظر اس کے سامنے پیش کردیا جائے تو وہ بہت بڑی سہولت سے اپنی زندگی کی کیفیت اس صاف و شفاف آئینہ میں دیکھ سکتا ہے ۔

اس منظر کو ٹھیک طرح سے اپنی آنکھوں کے سامنے لائیے کہ ایک باغ ہے جو درختوں ، سبزہ زاروں سے بھر اپڑا ہے ۔ سب کے سب درخت پھل دار ہیں ۔

باغ میں ہر طرف زندگی مچل رہی ہے مگر کسی تاریک رات میں یا روز روشن میں اچانک سیاہ بادل آسمان پر امنڈ آتے ہیں ۔باد ل گرجتے ہیں اور بجلی چمکتی ہے طوفان موسلادھار بارش اور زبر دست ژالہ باری شروع ہو جاتی ہے ۔باغ تباہ و بر باد ہو جاتا ہے ۔

دوسرے روز جب باغ میں آتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ درخت ٹوٹے پڑے ہیں ۔سبزہ زار ویران اور پژمردہ ہو چکے ہیں اور ہر چیز برباد ہو کر زمین پر پڑی ہے ،ہمیں یقین نہیں آتا کہ یہ وہی سر سبز اور آباد باغ ہے جو کل ہر ابھرا او ر کھلا ہواتھا۔

جی ہاں انسان کی زندگی کا بھی یہی ماجرا ہے خصوصاً ہمارے زمانے میں کہ کبھی ایک زلزلہ یا چند گھنٹوں کی ایک جنگ یا ایک آباد اور خوش و خرم شہر کو اس طرح سے بر باد اور ویران کردیتی ہے کہ اس میں ایک ویرانے کے اور کچھ ٹکڑے جسموں کے کچھ باقی نہیں رہتا۔

وہ لوگ کس قدر غافل ہیں جنہوں نے ایسی ناپائیدار زندگی سے دل لگایا ہے ۔

۲ ۔”اختلط بہ نبات الارض“ کامفہوم :

اس جملے میں توجہ کرنی چاہئیے کہ اختلاط اصل میں ،جیسا کہ راغب نے کہا ہے دو یا دو سے زیادہ چیزوں کو جمع کرنا ،چاہے وہ مانع ہوں یا ٹھوس ۔ ” امتزاج“ کی نسبت ” اختلاط“ عام ہے ( کیونکہ امتزاج عموماً مایعات میں ہوتا ہے ) لہٰذا جملہ کا معنی یہ ہوگا کہ بارش کے ذریعے ہر طرح کے نباتات ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں وہ نباتات جو انسان کے کام آتے ہیں ۔(۱)

یہ جملہ ضمنی طور پر اس حقیقت پر کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ خدا بارش کے پانی سے جو ایک ہی طرح کا ہوتا ہے ،انواع و قسام کے نباتا اگاتا ہے کہ جو انسانوں اور جانوروں کی مختلف ضروریات کے لئے مختلف قسم کے غذائی مواد مہیا کرتے ہیں ۔

____________________

۱۔کچھ سطور بالامیں کہا گیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ”بہ“ میں ”باء“ سببیت کے معنی میں ہے لیکن بعض نے یہ احتمال ذکرکیا ہے کہ یہ ”مع“ کے معنی میں ہے یعنی پانی آسمان سے نازل ہوتا ہے اور نباتات سے مل جاتا ہے اور انھیں رشدو نمو دیتا ہے لیکن یہ احتمال آیت کے اس حصے سے مناسبت نہیں رکھتا جس میں کہا گیا ہے ” مما یاکل الناس و الانعام “ کیونکہ اس جملے کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اختلاط مختلف قسم کے نباتات کے درمیان مراد ہے نہ کہ پانی اور نباتات کا اختلاط۔ ( غور کیجئے گا )


آیات ۲۶،۲۷

۲۶ ۔( لِلَّذِینَ اٴَحْسَنُوا الْحُسْنَی وَزِیَادَةٌ وَلاَیَرْهَقُ وُجُوههُمْ قَتَرٌ وَلاَذِلَّةٌ اٴُوْلَئِکَ اٴَصْحَابُ الْجَنَِّ هُمْ فِیهَا خَالِدُونَ ) ۔

۲۷ ۔( وَالَّذِینَ کَسَبُوا السَّیِّئَاتِ جَزَاءُ سَیِّئَةٍ بِمِثْلِها وَتَرْهَقُهمْ ذِلَّةٌ مَا لَهمْ مِنْ اللهِ مِنْ عَاصِمٍ کَاٴَنَّمَا اٴُغْشِیَتْ وُجُو ههم قِطَعًا مِنْ اللَّیْلِ مُظْلِمًا اٴُوْلَئِکَ اٴَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِیهَا خَالِدُونَ ) ۔

ترجمہ

۲۶ ۔جولوگ نیکی کرتے ہیں وہ اس کے لئے اچھی اور زیادہ جزا رکھتے ہیں اور تاریکی و ذلت ان کے چہروں کو نہیں ڈھانپتی ۔وہ بہشت کے ساتھی ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے ۔

۲۷ ۔ باقی رہے وہ لوگ جو گناہوں کاارتکاب کرتے ہیں وہ اس کے برابر جزا رکھتے ہیں اور ذلت و خواری ان کے چہروں کو ڈھانپ لیتی ہے اور کوئی چیز انھیں خدا ( کی سزا) سے نہیں بچا سکتی( ان کے چہرے اس قدر سیاہ ہیں کہ ) گویا تاریک رات کے ٹکڑوں نے ان کے چہروں کاڈھانپ رکھا ہے ۔ وہ آگ کے ساتھی ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے ۔

سفیداور سیاہ چہروں والے

گزشتہ آیات میں دارِ آخرت اور روز قیامت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اسی مناسبت سے زیر بحث آیات دار آخرت میں نیکوکاروں اور گناہ گاروں کا انجام بیان کررہی ہےں ۔

پہلے ارشاد ہوتا ہے : جولوگ اچھے کام کرتے ہیں ان کے لئے اچھی اور زیادہ جزا ہے( لِلَّذِینَ اٴَحْسَنُوا الْحُسْنَی وَزِیَادَةٌ ) (۱)

یہ کہ اس جملے میں ”زیادة“ سے کیا مراد ہے ، اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ آیات قرآنی ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کئی گناجزا اور ثواب کی طرف اشارہ ہے یہ جزا کبھی دس گناہ ہوتی ہے اور کبھی ہزار گنا( خلوص، پاکیزگی، تقویٰ اور عمل کی قدر و منزلت کے اعتبار سے ) ۔

سورہ انعام آیہ ۱۶۰ میں ہے :( من جاء بالحسنة فله عشر امثالها ) ۔

جو شخص کوئی اچھا کام انجام دے گا اسے اس کے دس گناہ جزا ملے گی ۔

ایک اور مقام پر ہے :( فاما الذین اٰمنوا وعملو ا الصالحات فیوافیهم اجورهم ویزیدهم من فضله ) ،

رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو خد ا انھیں پوری جزا دے گا اور اپنے فضل و کرم سے بھی اس پر زیادہ کرے گا ۔( نساء ۱۷۳)

سوہ بقرہ میں انفاق سے مربوط آیات میں بھی نیکوکار لوگوں کی جزا سات صد یا کئی گنابیان کی گئی ہے ۔( بقرہ ۲۶۱)

ایک اورنکتہ کی طرف یہاں توجہ کرنا چاہئیے یہ کہ یہ بات عین ممکن ہے یہ زیادہ دوسرے جہان میں متواتر اور ہمیشہ بڑھتی رہے یعنی ہرروزخداکی طرف سے انھیں نئی نعمت اور لطف و کرم عطا ہوتارہے ۔ درحقیقت یہ امرنشاندہی کرتاہے کہ دوسرے جہان کی زندگی ایک ہی طرز کی نہیں ہے اور غیر محدود طور پر تکامل و ارتقا کی طرف بڑھتی رہے کی ۔

اس آیت کی تفسیر میں پیغمبر اکرم سے جو روایات نقل ہوئی ہیں ان کے مطابق ” زیادة“ سے مراد پر وردگار کی ذات ِ پاک کے جلوہ کی طرف توجہ اور اس عظیم معنوی نعمت سے استفادہ کرنا ہے ، ممکن ہے یہ اسی مذکورہ نکتے کی طرف اشارہ ہو۔

چند ایک روایات جو ائمہ اہلبیتعليه‌السلام سے منقول ہیں میں لفظ ”زیادة“ تمام نعمات کی طرف اشارہ ہو۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے کہ روز نیک لوگوں کے چہرے درخشاں اور چمکتے ہوئے ہوں گے اور تاریکی و ذلت ان کے چہروں کو نہیں چھپائے گی( وَلاَیَرْهَقُ وُجُوههُمْ قَتَرٌ وَلاَذِلَّة ) ۔

” یرھق“ مادہ ”رھق“ ” سے جبری طور پر چھپانے کے معنی میں ہے اور ” قتر“ کا معنی ہے غبار یا دھواں ۔

آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے :یہ لوگ اہل بہشت ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے ۔( اٴُوْلَئِکَ اٴَصْحَابُ الْجَنَِّ هُمْ فِیهَا خَالِدُونَ ) ۔

” اصحاب “ کی تعبیر اس مناسبت کی طرف اشارہ ہے جو اس گروہ کی روحانیت اور جنت کے ماحول کے درمیان ہے ۔

دوسری آیت میں دوزخیوں کے بارے میں گفتگو ہے جو پہلے گروہ کے مد مقابل ہیں فرمایا گیا ہے: جولوگ گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں انھیں ان کے عمل کے مطابق بر ی جزا ملے گی( وَالَّذِینَ کَسَبُوا السَّیِّئَاتِ جَزَاءُ سَیِّئَةٍ بِمِثْلِها ) ۔

یہاں ” زیادة“ کا ذکر نہیں ہے کیونکہ جزا میں زیادتی فضل و رحمت ہے لیکن سزا میں عدالت میں کا تقاضا ہے کہ وہ ذرہ برابر بھی گناہ سے زیادہ نہ ہو ۔ لیکن یہ لوگ پہلے لوگوں کے برعکس سیاہ چہرے والے ہوں گے اور ان کے چہروں کو ذلت و رسوائی نے ڈھانپ رکھا ہو گا( وَتَرْهَقُهمْ ذِلَّةٌ ) ۔(۲)

ممکن ہے سوال کیا جائے کہ عدالت کا تقاضا ہے کہ انھیں گناسے زیادہ سزا دی جائے جب کہ ان کے چہرہ کی سیاہی ، ذلت کی گردان کے لئے ایک زیادتی ہے لیکن توجہ رہے کہ یہ عمل کی خاصیت اور اثر ہے جو انسان کی روح کے اندر سے باہر منعکس ہوتا ہے یہ بالکل اسی طرح ہے کہ ہم کہیں کہ شرابیوں کو کوڑے لگانے چاہئیں جب کہ شراب معدہ ، دل جگر اور اعصاب میں طرح طرح کی بیماریاں بھی پیدا کردیتی ہے ۔

بہر حال ممکن ہے بد کاریہ گمان کریں کہ انھیں کوئی راہ ِ فرار مل جائے گی یابت وغیرہ ان کی شفاعت کرسکیں گے لیکن اگلا جملہ صراحت سے کہتا ہے : کوئی شخص اور کوئی چیز انھیں خدائی سزا سے نہ بچا سکے گی( م( ا لَهمْ مِنْ اللهِ مِنْ عَاصِمٍ ) ۔

ان کے چہروں کی تاریکی اور سیاہی اتنی زیادہ ہوگی” گویا تاریک رات کے ٹکڑے یکے بعد دیگرے ان چہرے پر پڑے ہوئے ہیں “( کَاٴَنَّمَا اٴُغْشِیَتْ وُجُو ههم قِطَعًا مِنْ اللَّیْلِ مُظْلِمًا ) ۔

”وہ اہل نار ہیں اور ہمیشہ اس ( جہنم )میں رہیں گے “( اٴُوْلَئِکَ اٴَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِیهَا خَالِدُونَ ) ۔

____________________

۱۔ توجہ رہے کہ اس جملے میں ” حسنی“ مبتدائے موخر ہے اور آیت کا معنی اس طرح ہے :الحسنیٰ للذین احسنوا لهٰذا لفظ ”زیادہ“جس کا اس طر عطف ہے ، مرفوع آیا ہے نیز”الحسنی “ ”المثوبة “ کی صفت ہے کہ جو مقدر ہے اور یہ موصوف کی جگہ ہے ۔

۲۔ہوسکتا ہے گزشتہ آیت کے قرینہ سے ”ترهقهم ذلة “ تقدیراً ”’ترهقهم قترو ذلة “ ہو اور مقابلہ کے قرینہ سے اختصار کے لئے ” قتر‘ ‘ کے وہاں سے حذف ہواہو۔


آیات ۲۸،۲۹،۳۰

۲۸ ۔( وَیَوْمَ نَحْشُرهُمْ جَمِیعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِینَ اٴَشْرَکُوا مَکَانَکُمْ اٴَنْتُمْ وَشُرَکَاؤُکُمْ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَقَالَ شُرَکَاؤُهُمْ مَا کُنْتُمْ إِیَّانَا تَعْبُدُونَ ) ۔

۲۹ ۔( فَکَفَی بِاللهِ شَهِیدًا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ إِنْ کُنَّا عَنْ عِبَادَتِکُمْ لَغَافِلِینَ ) ۔

۳۰ ۔( هُنَالِکَ تَبْلُو کُلُّ نَفْسٍ مَا اٴَسْلَفَتْ وَرُدُّوا إِلَی اللهِ مَوْلَاهُمْ الْحَقِّ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا کَانُوا یَفْتَرُونَ ) ۔

ترجمہ

۲۸ ۔اس دن کو یا د کرو جب ہم ان سب کو جمع کریں گے ، اس کے بعد مشرکین کہیں گے کہ تم اور تمہارے معبود اپنی جگہ پر ہو ( تاکہ تمہارا حساب کتاب لیا جائے )پھر انھیں ہم ایک دوسرے سے جدا کردیں گے ( اور ہر ایک سے الگ الگ سوال کریں گے ) اور ان کے معبود ( ان سے ) کہیں گے کہ تم ( ہر گز ) ہماری عبادت نہیں کرتے تھے ۔

۲۹ ۔یہی کافی ہے کہ خدا ہمارے اور تمہارے درمیان گواہ ہے کہ ہم تمہارے عبادت کرنے سے غافل تھے ۔

۳۰ ۔ اس وقت( اور وہاں ) ہر شخص نے جو پہلے سے عمل کیا ہو گا اسے آزمائے گا اور سب کے سب اللہ ، اپنے مولا اور حقیقی سر پرست کی طرف پلٹ جائیں گے اور جنہیں وہ جھوٹ موٹ خدا کا شریک قرار دیتے تھے ان سے کھو جائیں گے ۔

قیامت میں بت پرستوں کا ایک منظر

ان آیات میں بھی گزشتہ مباحث جاری ہیں جو کہ مبداء ومعاد اور مشرکین کی کیفیت کے بارے میں تھیں ۔ ان آیات میں ان کی اس حالت ِ بے چار گی کی تصویر کشی کی گئی ہے جب کہ وہ عدلِ الہٰی کے حضور اور اس کی بار گاہ ِحساب و کتاب میں حاضر ہو ں گے ۔

پہلے فرمایا گیا ہے : اس دن کویاد کرو جس میں ہم تمام بندوں کی جمع اور محشور کریں گے ( وَیَوْمَ نَحْشُرھُمْ جَمِیعًا) ۔

اس کے بعد ہم مشرکین سے کہیں گے کہ تم تمہارے معبود اپنی جگہ پر ٹھہرو تاکہ حساب کتاب دیکھا جائے “( ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِینَ اٴَشْرَکُوا مَکَانَکُمْ اٴَنْتُمْ وَشُرَکَاؤُکُمْ ) ۔(۱)

وقفوا ھم انھم مسئولون۔انھیں ٹھہراوان سے سوال ہوتاہے ۔

یہ بات توجہ طلب ہے کہ زیر نظر آیت میں بتوں کو ” شراکاوکم“ کہا گیا ہے یعنی ” شریک “ جب کہ مشرکین بتوں کو خدا کا شریک قرار دیتے تھے نہ کہ اپنا ۔

یہ تعبیر درحقیقت اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ بت در خدا کے شریک نہیں ہوتھے اور یہ بت برستوں کے موہوں خیالات تھے کہ جن کی بنا انھوں نے انھیں یہ حیثیت دے رکھی تھی یعنی وہ تمہارے انتخاب شدہ شریک تھے ۔

یہ بات بالکل اسی طرح ہے کہ کہیں کہ آودیکھوتمہارے اس استاد اور سربراہ نے کیا کچھ نہیں کیا( حالانکہ وہ اس کا استاد اور سربراہ نہیں ہے بلکہ مدرسہ کامعلم اورسر براہ ہے لیکن اس نے اسے اپنا لیا ہے ) ۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: ان دوگروہوں ( معبوداور عابد) کو ہم ایک دوسرے سے الگ کردیں گے “ اور ہر ایک سے الگ الگ سوال کریں گے ( جیسا کہ تمام عدالتوں میں یہ معول ہے کہ ہر ایک سے علیحدہ علیحدہ سوال کیا جاتاہے ) ۔ بت پرستوں سے سوال کریں گے کہ کس دلیل کی بناء پر تم نے ان بتوں کو خدا کا شریک قرار دیا تھا اور ان کی عبادت کرتے تھے اور معبودوں سے بھی پوچھیں گے کہ تم کس بناء پر معبود بنے تھے یا اس کام کے لئے تیار ہوئے تھے( فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ ) ۔(۲)

جنہیں انھوں نے شریک بنایا تھا اس وقت وہ بول اٹھیں گے “ اورکہیں گے تم ہر گز ہماری پرستش نہیں کرتے تھے “( وَقَالَ شُرَکَاؤُهُمْ مَا کُنْتُمْ إِیَّانَا تَعْبُدُونَ ) ۔تم درحقیقت و ہواوہوساور اپنے اوہام وخیالات کی پرستش کرتے تھے نہ کہ ہماری ۔

علاوہ ازیں تمہاری عبادت کرنا ہمارے فرمان سے نہ تھا اور نہ ہی ہماری رضا سے تھا اور ایسی عبادت دراصل عبادت ہی نہیں ہے ۔

اس کے بعد مزید تاکید کے لئے کہیں گے : ہمارے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے خدا کافی ہے کہ ہم کس طرح بھی تمہاری عبادت سے آگاہ نہ تھے( فَکَفَی بِاللهِ شَهِیدًا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ إِنْ کُنَّا عَنْ عِبَادَتِکُمْ لَغَافِلِینَ ) ۔(۳)

یہ کہ زیر نظر آیت میں بتوں اور شرکاء سے کون سے معبود مراد ہیں اور یہ کہ وہ کس طرح ایسی گفتگو کریں گے ، اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔

بعض نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ مراد انسانی اور شیطانی معبود ہیں یا پھر یہ فرشتوں میں سے ہیں کہ جو عقل و شعور رکھتے ہیں لیکن اس کے باجود انھیں یہ خبر نہیں ہے کہ کوئی گروہ ان کی عبادت کرتا ہے کیونکہ یاتووہ ان کی غیبت میں ایسی عبادت کرتے تھے اور یا ان کی موت کے بعد ان کی عبادت کی گئی ہے ( جیسے بعض انسانوں کی موت کے بعد ان کی عبادت کی گئی ہے ) ۔

لہٰذاان کی یہ گفتگو بالکل فطری اور طبعی ہو گی اس احتمال کی بناء پر یہ آیت سورہ سبا کی آیہ ۴۰ کی طرح ہوگی ، جس میں ارشادفرمایاگیا ہے :( ویوم یحشرهم جمیعاً ثم یقول للملائکة اهوٴلاء ایاکم کانوا یعبدون )

وہ دن کہ جس میں خدا سب کو محشور کرے گا ۔ اس کے بعد فرشتوں سے کہے گا ! کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کرتے تھے ۔

دوسرا احتمال ہے کہ جسے بہت سے مفسرین نے ذکر کیا ہے یہ ہے کہ اس روز خدا تعالیٰ بتوں کو زندگی اور شعور عطا کرے گا اس طرح سے کہ وہ حقائق بیان کرسکیں گے مندر جہ بالاجملہ کہ جو بتوں کی زبانی نقل ہوا ہے کہ وہ خدا گواہ بنائیں گے وہ عبادت کرنے والوں کی عبادت سے غافل تھے اس سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے کیونکہ پتھر اور لکڑی کے بت بالکل کسی چیز کو نہیں سمجھتے ۔

آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تمام معبودوں کے لئے ہے البتہ جو معبود عقل و شعور رکھتے ہیں وہ اپنی زبان سے حقیقت بیان کریں گے لیکن جومعبود عقل و شعور نہیں رکھتے وہ زبان حال اور آثار ِ عمل کے ذریعے بات کریں گے بلکہ اسی طرح جیسے ہم کہتے ہیں کہ تیرے چہرے کی رنگت تیرے اندر کی بات کررہی ہے ۔

قرآن بھی سورہ فصلت آیہ ۲۱ میں کہتا ہے :انسانی جلد اورچمڑے عالم ِ قیامت میں گفتگو کریں گے ۔

اسی طرح سورہ زلزال میں کہتا ہے : وہ زمینیں جن پر انسان زندگی بسر کرتا ہے ،حقائق بیان کریں گی ۔

یہ معاملہ دور حاضر میں کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے جب کہ ایک بے زبان ٹیپ ہماری تمام باتوں کو ریکارڈ کرتی ہے اور ضرورت کے وقت بیان کرتی ہے لہٰذا تعجب کا مقام نہیں کہ بت بھی اپنی عبادت کرنے والوں کی حقیقت کو ظاہر کریں ۔

بہر حال اس دن ، اس جگہ یا اس حالت میں جیسا کہ قرآن زیر نظر آخری آیت میں کہتا ہے : ہر شخص اپنے انجام دئے گئے اعمال کا نتیجہ دیکھے گا بلکہ خود انہیں دیکھے گا چاہے وہ عبادت کرنے والا ہو یا گمراہ معبود کہ جو لوگوں کو اپنی عبادت کی دعوت دیتا تھا، چاہے مشرک ہو یا مومن اور چاہے کسی گروہ یا کسی قبیلے سے ہو( هُنَالِکَ تَبْلُو کُلُّ نَفْسٍ مَا اٴَسْلَفَتْ ) ۔

” اور اس دن سب کے سب اللہ کی طرف پلٹ جائیں گے جو ان کا حقیقی مولا اورسرپرست ہے اور قیامت کی عدالت میں ظاہر ہو جائے گا کہ حکومت صرف اس کے زیرفرمان ہے “( وَرُدُّوا إِلَی اللهِ مَوْلَاهُمْ الْحَقِّ ) ۔”آخر کا ر تمام بت اور جعلی معبود کہ جنہیں وہ غلط طور پر خدا کا شریک قرار دے چکے تھے گم اور نابود ہو جائیں گے “( وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا کَانُوا یَفْتَرُونَ ) ۔

کیونکہ وہ بندوں کے اسرار نہاں کے ظہور کا میدان ہے اور کوئی حقیقت ایسی نہیں رہے گی کہ جو اپنے آپ کو شکار نہ کردے ۔وہاں اصولی طور پر ایسی صورتحال ہے کہ نہ سوال کی ضرورت ہے نہ گفتگو کی بلکہ کیفیت حالات ہر چیز کی ترجمانی کرے گی او ربات چیت کی ضرورت نہیں ہوگی ۔

____________________

۱۔ ”مکانکم “ اصل میں فعل مقدرکا مفعول ہے اور حقیقت میں یوں تھا”الزموامکانکم انتم وشرکائکم حتیٰ تسئلوا “۔یہ جملہ فی الحقیقت سورہ الصاصفات کی آیہ ۲۴ کے مشابہ ہے جہاں فرمایاگیا ہے :

۲۔”زیلنا “ ”تزییل “ کے مادہ سے ہے اور جدا کرنے کے معنی میں ہے نیز جیسا کہ بعض اہل لغت نے کہا ہے کہ اس کا مادہ ثلاثی زال یزیل ہے جو جدا ہونے کے معنی میں ہے ۔ نہ کہ زال یزول کے مادہ سے زوال قبول کرنے کے معنی میں ہے ۔

۳-مندر جہ بالا جملے میں لفظ ” ان “ اصطلاح کے مطابق ثقیلہ سے خفیفہ ہے اور تاکید کے لئے ہے اور جملے کا معنی یہ ہے :۔ اننا عن عبادتکم لغافلین ۔ یعنی ہم یقینا تمہاری عبادت سے غافل تھے ۔


آیات ۳۱،۳۲،۳۳

۳۱ ۔( قُلْ مَنْ یَرْزُقُکُمْ مِنْ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ اٴَمَّنْ یَمْلِکُ السَّمْعَ وَالْاٴَبْصَارَ وَمَنْ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنْ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنْ الْحَیِّ وَمَنْ یُدَبِّرُ الْاٴَمْرَ فَسَیَقُولُونَ اللهُ فَقُلْ اٴَفَلاَتَتَّقُونَ ) ۔

۳۲ ۔( فَذَلِکُمْ اللهُ رَبُّکُمْ الْحَقُّ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلاَّ الضَّلَالُ فَاٴَنَّا تُصْرَفُونَ ) ۔

۳۳ ۔( کَذَلِکَ حَقَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ عَلَی الَّذِینَ فَسَقُوا اٴَنّهُمْ لاَیُؤْمِنُونَ ) ۔

ترجمہ

۳۱ ۔ کہہ دو : کوتمہیں آسمان وزمین سے روزی دیتا ہے یا کون کان اور آکھوں کا مالک ( اور خالق ) ہے اور کوئی زندہ کو مردہ سے نکلتا ہے اور مردہ کوزندہ سے نکالتا ہے اور کو ن ( دنیا کے ) امور کی تدبیر کرتا ہے جلد ہی وہ ( جواب میں ) کہیں گے : تو کہوکہ پھر کیوں تقویٰ اختیار نہیں کرتے ہو ( اور خدا سے نہیں ڈرتے ہو) ۔

۳۲ ۔ اور یہ تمہارا اللہ ، تمہارا حقیقی پر وردگار ، تو اس صورت میں حق کے بعد گمراہی کے علاوہ کچھ ہے ؟ پس کویں ( اس کی عبادت سے ) رخ پھیر تے ہو؟

اس طرح سے تیرے پر وردگار کا حکم فاسقوں پر مسلم ہوا ہے کہ وہ ( اس سر کشی اور گناہ کے بعد ) ایمان نہیں لائیں گے ۔

تفسیر

ان آیات میں وجودہ پر وردگار کی نشانیوں اور اس کے لائق عبودیت ہونے کے بارے میں گفتگو ہے اور اس سلسلے میں گزشتہ مباحث جاری ہیں ۔

پہلے فرمایا گیا ہے : مشرکین اور بت پرست کہ جو راہ روہی میں سر گر داں ہیں ان سے کہہ دو : کون تمہیں آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہے “( قُلْ مَنْ یَرْزُقُکُمْ مِنْ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ ) ۔

”رزق“ لگا تار اور دائمی عطا اور بخشش کے معنی میں ہے اور چونکہ تمام نعمتیں بخشنے والا در حقیقت خد اہے لہٰذا ” رزق“ اور رازق“ لئے الفاط حقیقی معنی کے لحاظ سے صرف اسی کے لئے بو لے جاتے ہیں اور اگر اس کے علاوہ کسی اور کے لئے استعمال ہوں تو بلا شبہ مجاز کے حوالے سے ہوں سے ہوں گے جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ۲۳۳ میں دودھ پلانے والی عورتوں کے بارے میں ہے :۔و علی مولودله رزقهن و کسوتهن بالمعروف ۔

باپ پر فرض ہے کہ جو عورتیں اس کی اولاد کو دودھ پلائیں انھیں مناسب رزق دے اور لباس پہنائے ۔

یہ نکتہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ انسا ن کی زیادہ تر روزی آسمان سے مربوط ہے ۔ حیات بخش بارش آسمان سے برستی ہے ۔ ہوا جو کہ تمام زندہ موجودات کی ضرورت ہے وہ بھی زمین کے اوپر ہے اور سب سے زیادہ اہم سورج کی روشنی ہے کہ جس کےبغیر زمین پر کوئی موجود زندہ نہیں رہ سکتا اور جس کے بغیر ساری زمین پر کوئی حرکت و جنبش نہیں ہو سکتی ، اس روشنی کا تعلق بھی آسمان سے ہے ۔ یہاں تک کہ جو جانور دریا وں کی گہرائی میں ہیں وہ بھی نور آفتاب ہی کی بدلت زندہ ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے بہت سوں کی غذا بہت ہی چھوٹ نباتات ہیں کہ جو سمندر کی سطح پر موجوں کے درمیان سورج کی روشنی پڑنے سے ہی نشو ونما حاصل کرتے ہیں ۔ لیکن زمین صرف اپنے نباتات کو غذا دیتی ہے شاید اسی بنا پر مندرجہ با لاآیت میں پہلے آسمان سے روزی مہی اکیے جانے کا تذکرہ ہے او ربعد میں زمین سے ( درجہ اہمیت کے فرق کے ساتھ ) ۔

اس کے بعد حواس ِانسانی میں سے دو اہم ترین کا ذکر کیا گیا ہے جن کے بغیر انسان علم حاصل نہیں کرسکتا ۔ ارشاد ہوتا ہے : اور کہہ دو کہ کان اور آنکھوں کا خالق ، مالک اور انسان کے ان دو حواس کو قدرت دینے والاکون ہے (اٴَمَّنْ یَمْلِکُ السَّمْعَ وَالْاٴَبْصَارَ ) ۔

در حقیقت اس آیت میں پہلے تو مادی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے اور اس کے بعد معنوی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جن کے بغیر مادہ نعمتیں اپنا مقصد کھو دیتی ہیں ۔

لفظ ” سمع“ مفرد ( اور کان کے معنی میں ہے ) اور ” اسار“ ” بصر“ کی جمع ہے ، بینائی اور آنکھ کے معنی میں ہے یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ” سمع “ قرآن میں تمام جگہوں پر مفرد آیا ہے جب کہ ” بصر“ کبھی جمع کی صورت میں آیا ہے کبھی مفرد، آخر اس کی کیا وجہ ہے اس سوال کا جواب جلد اولم ص ۱۰۱( اردو ترجمہ ) پر پیش کیا جاچکا ہے ۔

اس کے بع ددو ظاہر ہونے والی چیزیں یعنی موت و حیات کا ذکر ہے جو کہ عالم خلقت کی عجیب و غریب چیزیں ہیں ، ارشاد ہوتا ہے : اور کون ہے جو زندہ کو مردہ سے نکلاتا ہے او رمردہ کا زندہ سے نکالتا ہے( وَمَنْ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنْ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنْ الْحَیِّ ) ۔

یہ وہی موضوع ہے کہ جس میں ابھی تک طبیعی علوم کے ماہرین اور حیات شناس لوگوں کی عقل حیران و پریشان ہے کہ ایک بے جان چیز سے ایک زندہ موجودہ کس طرح وجود میں آتا ہے ۔ کیا ایسی چیز جسکے بارے میں علماء اور سائنس دانوں کی مسلسل کوشش ابھی تک کسی مقام تک نہیں پہنچی ۔ ایک معمولی ، اتفاقیہ ، بغیر ہدایت کے رونما ہونے والی حادثاتی اور بلا مقصد طبیعی ہوسکتی ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ ظاہر ہونے والی پیچیدہ ، ظریف اور آثار آمیز زندگی حد سے زیادہ علم و قدرت اور عقل ِ کلی کی محتاج ہے ۔

اس نے نہ صرف ابتداء میں زندہ کو زمین کی بے جان موجودات سے پیدا کیا ہے بلکہ اس کی سنت یہ رہی ہے کہ زندگی بھی جاودانی نہ ہو ۔ اس بنا پر اس نے موت کو زندگی کے دل میں پیدا کیا ہے تاکہ اس طریقے سے تغیر و تکامل کے لئے مید ان کھلا رکھے ۔

مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ آیت مادی موت و حیات کے علاوہ معنوی موت و حیات کے بارے میں بھی ہے کیونک ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی گمراہ او ربے ایمان ماں باپ سے ایک ہوش مند، پا ک دامن اور اب ایمان انسان پیدا ہوجاتا ہے اور اس کے بر عکس بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ قا نون ِ وراثت کے بر خلاف نہایت لائق او ربا وقار انسان سے بے وقعت او رمردہ انسان وجود میں آتے ہیں ۔(۱)

البتہ اس میں کوئی مانع نہیں کہ زیر نظر آیت دونوں قسموں کی موت و حیات کی طرف اشارہ ہو کیونکہ دونوں ہی عجائب ِ آفرینش اور عالم کے تعجب انگیز مظاہرہ میں سے ہیں اور اس سے یہ حقیقت واضح ہو تی ہے کہ طبیعی عوامل و حکیم خالق کا دستِ قدرت کا ر فرما ہے ۔

اس کے بارے میں جلد پنجم ۔ص ۲۸۹ ( اردو ترجمہ ) سورہ انعام کی اایہ ۹۵ کے ذیل میں ہم کچھ دیگر توضیحات بھی ذکر کر چکے ہیں ۔

اس کے بعد قرآن کہتا ہے : کون ہے جو ا س جہان کے امور کی تدبیر کرتا ہے( وَمَنْ یُدَبِّرُ الْاٴَمْرَ ) ۔

در حقیقت پہلے تو نعمات کی خلقت و آفرینش کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے اور اس کے بعد ان کے محافظ، نگہبان او رمدبر کے بارے میں بات کی گئی ہے ۔

ان تین سوالات کو پیش کرنے کے بعد قرآن بلا فاصلہ کہتاہے : وہ فوراً ہی جواب میں کہیں گے ”اللہ “

اس جملے سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ جاہلیت کے مشرکین او ربت پرست بھی عالم ہستی کا خالق ، رازق، حیات بخش اور مدبر امور اللہ ہی کو جانتے ہیں اور وہ ا س حقیقت کو طریق عقل او رراہ فطرت سے جان چکے تھے کہ یہ نظام اور حساب شدہ جہان بے نظمی کی پید اوار یابتوں کی مخلوق نہیں ہوسکتا۔

آیت کے آخر میں پیغمبر اکرم کو حکم دیا گیا ہے : ان سے کہہ دو کہ کیا اس حالت میں تم تقویٰ اختیار نہیں کرتے ہو( فَقُلْ اٴَفَلاَتَتَّقُونَ ) ۔

صرف وہ ذات پرستش کے لائق ہے جس کے ہاتھ میں دنیا کی خلقت و تدبیر ہے ۔ اگر عبادت معبود کی اہلیت اور عظمت کی بنا پر کی جائے تو پھر یہ اہلیت ، لیاقت اور عظمت صرف خدا میں پائی جاتی ہے اور اگر اس بناء پر کی جائے کہ معبود سود زیاں کا سر چشمہ ہے تو یہ بھی خدا کے ساتھ مخصوص ہے ۔

آسمان و زمین میں خد اکی عظمت و تدبیر کے کچھ آثارذکر کرنے کے بعد اور مخالفین کے وجدان و عقل کو دعوت دینے کے بعد جب وہ اعتراف کرچکے تو اگلی آیت میں قطعی لب و لہجہ کے اختیار کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : یہ ہے خدا تمہارا برحق پر وردگار( فَذَلِکُمْ اللهُ رَبُّکُمْ الْحَقُّ ) ۔

نہ کہ بت اور دوسرے موجودات کہ جنہیں تم خدا کی عبودیت میں شریک قرار دیتے ہو اور ان کے سامنے سجدہ کرتے ہو اور ان کی تعظیم کرتے ہو۔ وہ کس طرح عبودیت کے لائق ہو سکتے ہیں حالانکہ یہی نہیں کہ وہ تخلیق و تدبیر جہان میں شریک نہیں ہوسکتے بلکہ خود بھی سر تا پا محتاج ہیں ۔

اس کے بعد نتیجتاً فرمایا گیا ہے : اب جب کہ حق کو واضح طور پر پہچان چکے ہو ۔ تو کیا حق کے بعد گمراہی کے علاوہ کچھ رہ جاتا ہے( فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلاَّ الضَّلَالُ ) ۔

اس کے باوجود کیوں تم خدا کی عبادت اور پرستش سے منہ بھیر تو ہو حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ معبود بر حق ا س کے علاوہ کوئی نہیں( اٴَنَّی تُصْرَفُونَ ) ۔

یہ آیت در حقیقت باطل کی شناخت اور اسے ترک کرنے کے لئے ایک واضح منطقی راستہ بتاتی ہے اور وہ یہ کہ پہلے تو حق کی پہچان کے لئے عقل سے کام لینا چاہئیے اور جب حق کو پہچان لیا جائے تو جو کچھ اس کے مخالف ہے وہ باطل اور گمراہی ہے اور اس سے کنارہ کشی کرنا چاہئیے ۔

آخری آیت میں یہ نکتہ بیان کرنے کے لئے کہ وہ لوگ مطلب واضح اور حق آشکار ہو جانے کے باوجود کیوں اس کے پیچھے نہیں جاتے، قرآن کہتا ہے : اسی طرح خدا کا فرمان ان افراد کے بارے میں کہ جو جان بوجھ کر اور عقل کے خلاف چلتے ہوئے اطاعت سے رخ پھیر تے ہیں ، صادر ہوا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائےں گے( کَذَلِکَ حَقَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ عَلَی الَّذِینَ فَسَقُوا اٴَنّهُمْ لاَیُؤْمِنُونَ ) ۔(۲)

حقیقت میں یہ ان کے مسلسل غلط اعمال کی خاصیت ہے کہ جو ان کے دل کو اس طرح سے تاریک اور ان کی روح کو اس طرح سے آلودہ کردیتی ہے کہ حق کے واضح اور روشن ہونے کے باوجود اسے نہیں دیکھتے اور بے راہ روی اختیار کرتے ہیں ۔ اس بناء پر مندرجہ بالا آیت کسی طرح سے بھی مسئلہ جبر پر دلالت نہیں کرتی بلکہ انسان کے خود اپنے اعمال کی طرف اشارہ ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ ان اعمال میں یہ خصوصیت فرمان الہٰی سے ہے ۔

یہ بالکل اس طرح ہے جیسے ہم کسی سے کہیں کہ ہم نے تجھے سو مرتبہ کہا ہے کہ نشہ آور چیزوں اور شراب کے پیچھے نہ جاو ، اب جب کہ تونے کان میں نہیں دھرے اور ان کا سخت عادی ہو چکا ہے تو اب تیرے لئے یہی حکم ہے کہ مدتوں بد بختی میں رہے ۔

____________________

۱۔ تفسیر بر ہان ج،۱ ص ۵۴۳ ،سورہ انعام کی آیت ۹۵کے ذیل میں متعدد روایات کے حوالے سے یہ مضمون ذکر کیا گیا ہے ۔

۲-کاف تشبیہ یہاں ایک مطلب کی طرف اشارہ ہے کہ جو گزشتہ آیت کے آخری جملے میں ذکر ہوا ہے اور آیت کا معنی اس طرح ہے (انه لیس بعد الحق الا الضلال کذٰلک حقت کلمة ربک )یعنی پہلے حق کے بعد گمراہی کے سوا کچھ نہیں ہے اسی طرح خد اکا حکم صادر ہو چکا ہے ۔


آیات ۳۴،۳۵،۳۶

۳۴ ۔( قُلْ هَلْ مِنْ شُرَکَائِکُمْ مَنْ یَبْدَاٴُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ قُلْ اللهُ یَبْدَاٴُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ فَاٴَنَّا تُؤْفَکُون ) ۔

۳۵ ۔( قُلْ هَلْ مِنْ شُرَکَائِکُمْ مَنْ یَهْدِی إِلَی الْحَقِّ قُلْ اللهُ یَهْدِی لِلْحَقِّ اٴَفَمَنْ یَهْدِی إِلَی الْحَقِّ اٴَحَقُّ اٴَنْ یُتَّبَعَ اٴَمَّنْ لاَیَهِدِّی إِلاَّ اٴَنْ یُهْدَی فَمَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُونَ ) ۔

۳۶ ۔( وَمَا یَتَّبِعُ اٴَکْثَرُهُمْ إِلاَّ ظَنًّا إِنَّ الظَّنَّ لاَیُغْنِی مِنْ الْحَقِّ شَیْئًا إِنَّ اللهَ عَلِیمٌ بِمَا یَفْعَلُونَ ) ۔

ترجمہ

۳۴ ۔ کہہ دو ! کیا تمہارے معبودوں میں سے کوئی مخلوق کو ایجان کرسکتا ہے اور پھر اسے پلٹا سکتا ہے ؟ کہہ دو ! صرف خدا نے مخلوق کو پیدا کیا ہے اور پھر واپس پلٹا ئے گا ۔ اس کے باوجود حق سے کیوں رو گرداں ہوتے ہو۔

۳۵ ۔ کہہ دو ! کیا تمہارے معبودوں میں سے کوئی حق کی طرف ہدایت کرتا ہے ۔ کہہ دو صرف خدا حق کی ہدایت کرتا ہے ۔ کیا وہ جو حق کی ہدایت کرتا ہے پیروی کے زیادہ لائق نہیں ہے یا وہ کہ جسے ہدایت نہ کی جائے تو وہ خود ہدایت حاصل کرتا تمہیں کیا ہوگیا ہے تم کس طرح فیصلہ کرتے ہو۔

۳۶ ۔ ان میں سے اکثر سوائے گمان ( اور بے بنیاد خیالات)کے کسی چیز کی پیروی نہیں کرتے ( حالانکہ ) گمان کبھی انسان کو حق سے بے نیاز نہیں کرتا(اور حق تک نہیں پہنچاتا) اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو خدا اس سے باخبر اور آگاہ ہے ۔

حق و باطل کی ایک پہچان

ان آیات میں بھی مبداء اور معاد سے مربوط استدلالات کا سلسلہ جاری ہے ۔ پہلی آیت میں پیغمبر اکرم کو حکم دیا گیا ہے : ان سے کہہ دو کہ تمہارے معبودوں کہ جنہیں تم خدا کا شریک قرار دیتے ہومیں سے کوئی ہے جو عالم آفرینش کو ایجاد کرکے پھر لوٹا سکتا ہے( قُلْ هَلْ مِنْ شُرَکَائِکُمْ مَنْ یَبْدَاٴُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ ) ۔

اس کے بعد مزیدکہتا ہے : کہہ دو کہ خد انے عالم ِ آفرینش کو پیدا کیا ہے اور پھر اسے لوٹا ئے گا( قُلْ اللهُ یَبْدَاٴُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُه ) ۔” اس کے با وجود حق سے کیوں رو گردانی کرتے ہو اور بے راہ روی میں سر گرداں ہو“( فَاَنَّی تُؤْفَکُون ) ۔

یہاں دو سوال سامنے آتے ہیں : پہلا یہ کہ مشرکین عرب عام طور پر معاد اور قیامت کا عقیدہ خصوصاً جیسے قرآن کہتا ہے ، نہیں رکھتے تھے اس کے باوجود قرآن ان سے کیونکہ اعتراف چاہتا ہے ۔

دوسرا یہ کہ گذشتہ آیت میں مشرکین کے اعتراف کا ذکر تھا لیکن یہاں پیغمبر کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اس حقیقت کا اعتراف کرو تعبیر کا یہ فرق کیوں ہے ؟

لیکن ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے دونوں سوالوں کا جواب واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ مشرکین معاد ( معاد جسمانی ) کا عقیدہ نہیں رکتھے تھے ان کا بس یہ اعتقاد تھا کہ خلقت کی ابتداء خدا کی طرف سے ہے اور یہی بات معاد کو تسلیم کرنے کے لئے کافی ہے کیونکہ جس نے ابتداء کی ہے وہ اعادہ بھی کرسکتا ہے لہٰذا مبداء کے عقیدہ پرتھو ڑا سا بھی غور و فکر کیا جائے تو اس سے معاد کا عقیدہ ثابت ہو جا تاہے ۔

یہاں سے واضح ہو جا تا ہے کہ کس بناء پر مشرکین کی بجائے پیغمبر اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کیونکہ اگر چہ معاد پر ایمان مبداء کے لئے ایمان کے لوازمات میں سے ہے لیکن چونکہ وہ اس لزوم کی طرف متوجہ نہیں تھے لہٰذا طرزِ تعبیر بدل گئی اور پیغمبر نے ان کی جگہ اعتراف کیا ۔

دوبارہ پیغمبر اکرم کو حکم دیا گیا ہے : ان سے کہہ دو کہ کیا کوئی تمہارے جعلی معبودوں میں سے حق کی طرف ہدایت کرسکتا ہے( قُلْ هَلْ مِنْ شُرَکَائِکُمْ مَنْ یَهْدِی إِلَی الْحَقّ ِ ) ۔کیونکہ معبود کو اپنی عبادت کرنے والوں کا رہبر ہو نا چاہئیے اور رہبری بھی حق کی طرف کرنا چاہیئے ۔ حالانکہ مشرکین کے معبود چاہے وہ بے جان بت ہوں یا جاندار، کوئی بھی یہ طاقت نہیں رکھتا کہ ہدایت الہٰی کے بغیر حق کی طرف رہبری کرسکے کیونکہ حق کی طرف ہدا یت کرنا مقام ِ عصمت اور خطاہ و اشتباہ سے محفوظ ہونے کا مقام ہے او ریہ خدا کی ہدایت اور حمایت کے بغیر ممکن نہیں ہے ، لہٰذا بلا فاصلہ مزید فرمایا گیا ہے : کہہ دو کہ صرف خدا ہی حق کی طرف ہدایت کرتا ہے( قُلْ اللهُ یَهْدِی لِلْحَقِّ ) ۔تو ایسے میں ” کیا وہ جو حق کی طرف ہدایت کرتا ہے پیروی کے زیادہ لائق ہے یا وہ کہ جس کی ہدایت اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کہ اسے ہدایت کی نہ جائے( اٴَفَمَنْ یَهْدِی إِلَی الْحَقِّ اٴَحَقُّ اٴَنْ یُتَّبَعَ اٴَمَّنْ لاَیَهِدِّی إِلاَّ اٴَنْ یُهْدَی ) ۔

آیت کے آخر میں سر زنش کے انداز میں اور جھنجوڑ تے ہوئے فرمایا گیا ہے : تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ کس طرح کا فیصلہ کرتے ہو( فَمَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُونَ ) ۔

زیر نظر آخری آیت میں ان کے انحراف کی بنیا داور سر چشمہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : ان میں سے اکثر خیال اور گمان کے سوا کسی چیز کی پیروی نہیں کرتے جبکہ خیال اور گمان کبھی بھی انسان کو نہ حق سے بے نیاز کرسکتا ہے اور نہ حق تک پہنچا سکتا ہے( وَمَا یَتَّبِعُ اٴَکْثَرُهُمْ إِلاَّ ظَنًّا إِنَّ الظَّنَّ لاَیُغْنِی مِنْ الْحَقِّ شَیْئًا ) ۔

جو لوگ کسی منطق اور حساب کتاب کے تابع نہیں ، آیت کے آخر میں انھیں تہدید آمیز لہجے میں کہا گیا ہے : جو کچھ وہ انجام دیتے ہیں ، خدا اس کا عالم اور جاننے والا ہے( إِنَّ اللهَ عَلِیمٌ بِمَا یَفْعَلُونَ ) ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ ”خدا ہی حق کی طرف ہدایت کرتا ہے “

۔ مندرجہ بالا آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ صرف خدا حق کی ہدایت کرتا ہے یہ انحصار یا تو اس بناء پر ہے کہ ہدایت کے مراد راستہ دکھا نا نہیں ہے بلکہ مقصد تک پہنچا نا بھی ہے او ریہ کام صرف خدا کے ہاتھ میں ہے اور یا اس بناء پر ہے کہ راستہ دکھا نا اور اس کی نشاندہی کرنا بھی پہلے درجے میں خدا ہی کا کام ہے اور ا س کے غیر یعنی انبیاء الہٰی اور ہادیان بر حق صرف اس کے طریق ہدایت سے ہدایت کے راستوں سے آگاہ ہوتے ہیں اور اس کی تعلیم سے عالم ہوتے ہیں ۔

۲ ۔ مشرکین کے معبود خود ہدایت کے محتاج ہیں :

یہ جو زیر بحث آیات میں آیا ہے کہ مشر کین معبود نہ صر ف کسی کو ہدایت نہیں کرسکتے بلکہ خود بھی ہدا یت الٰہی کے محتاج ہیں اگر پتھر اور لکڑی کے بتوں کے بارے میں صادق نہیں آتا کیونکہ وہ تو بالکل شعور نہیں رکھتے تھے لیکن صاحب شعور معبودوں کے بارے میں مثلاً جن فرشتوں اور انسانوں کو معبود قرار دیا گیا ہے پرمکمل طور پر صادق آتا ہے ۔

یہ احتمال بھی ہے کہ مذکورہ جملہ ایک قضیہ شرطیہ کے معنی میں ہو یعنی فرض کریں کہ بت عقل و شعور رکھتے ہوتے تو خدائی راہنمائی کے بغیر خودراہ تلاش نہ کرسکتے چہ جائیکہ دوسروں کی راہنمائی کرتے ۔

بہر حال مندرجہ بالا آیات اچھی طرح سے نشاندہی کرتی ہیں کہ بندوں کے لئے خدا کا ایک طرف سے ہدایت کا ایک بنیادی پر وگرام ہے جس کے تحت انھیں حق کی طرف ہدایت کی جاتی ہے اور یہ کام عقل و خرد بخشنے ، طریق ِ فطرت سے انھیں مختلف درس دینے ، جہانِ خلقت میں اپنی آیات دکھانے اور اسی طرح انبیاء اور آسمانی کتب بھیجنے کے ذریعے عمل پذیر ہوتا ہے ۔

۳ ۔ بت پرست گمان کی پیروی کرتے ہیں :

زیر بحث آخری آیت میں ہم نے پڑھا ہے کہ اکثربت پرست اور مشرک اپنے ظن و گمان کے پیچھے لگے رہتے ہیں ۔

یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ یہ کیوں نہیں فرمایا کہ وہ سب کے سب ایسے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تمام بت پرست اس گمان باطل میں شریک ہیں کہ وہ بتوں کو حقیقی معبود، نفع و نقصان کا مالک اور بار گاہ ِ خدا میں شفیع خیال کرتا ہوں ۔ اسی بناء پر بعض مجبور ہوئے ہیں کہ لفظ ” اکثر “ سے تمام کے معنی مراد لیں اور ان کا نظر یہ ہے کہ یہ بعض اوقات تمام او ر کل کے معنی میں آتا ہے ۔

لیکن یہ جواب کوئی زیادہ قابل ِلحاظ نہیں ہے ۔بہتر یہ ہے کہ ہم کہیں کہ بت پرست دو طرح کے ہیں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو بیہودہ ، نادان او رجاہل ہیں اور غلط سلط خیالات او رگمانوں کے زیر اثر رہتے ہیں اور انھوں نے بتوں کو پرستش کے لئے منتخب کر رکھا ہے جب کہ اقلیت میں وہ بت پرست ہیں جو سیاہ دل اور آگاہ ہیں اور اکثریت کے رہبر و راہنما ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بت پرستی کے لئے بے بنیاد ہونے کو جاننے کے باوجود اپنے مفادات کے لئے لوگوں کو بتوں کی طرف دعوت دیتے ہیں لہٰذ اخدا صرف پہلے گروہ کو جواب دیتا ہے کیونکہ وہ قابل ہدایت ہیں ۔ لیکن دوسرا اگر وہ جو جان بوجھ کر غلط راستے چل رہے اسے بالکل قابل ِ اعتناء قرار نہیں دیتا۔

۴ ۔ علماء اصول کی ایک بحث:

کچھ علماء اصول زیر نظر آیت اور اس قسم کی آیا ت کو اس امر کی دلیل سمجھتے ہیں کہ ظن اور گمان کسی طرح حجت اور سند نہیں بن سکتے اور صرف قطعی دلائل پر ہی اعتماد کیا جاسکتا ہے لیکن بعض دیگر علماء کہتے ہیں کہ فہقی دلائل میں ہمارے پاس بہت سے ظنی دلائل ہیں (مثلاً الفاظ کے ظواہر کا حجت ہونا ، دو عادل گواہوں کی گواہی ی اخبر واحد ثقہ اور اس قسم کے دیگر دلائل ) وہ کہتے ہیں کہ زیر نظر آیت اس امر کی دلیل ہے کہ اصلی قاعدہ کے مطابق ظن حجت نہیں ہے مگر یہ کہ کسی ظن کا حجت ہو نا قطعی دلیل سے ثابت ہ وجائے ، جیسے مذکورہ چند مثالوں کے بارے میں ہے ۔

مگرانصاف یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت صرف بے اسا س خیالات اور بے ہودہ گمانوں کے بارے میں بات کررہی ہے جیسے بت پرستوں کے گمان ۔ اس آیت کا تعلق اس ظن سے نہیں جو عقلاء کے نزدیک قابل ِ اعتماد ہے لہٰذا مندرجہ بالا آیت اور اس طرح کی دیگر آیات سے ظن کے حجت نہ ہونے کے بارے میں سند پیش نہیں کی جاسکتی۔ ( غور کیجئے گا )


آیات ۳۷،۳۸،۳۹،۴۰

۳۷ ۔( وَمَا کَانَ هَذَا الْقُرْآنُ اٴَنْ یُفْتَرَی مِنْ دُونِ اللهِ وَلَکِنْ تَصْدِیقَ الَّذِی بَیْنَ یَدَیْهِ وَتَفْصِیلَ الْکِتَابِ لاَرَیْبَ فِیهِ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِینَ ) ۔

۳۸ ۔( اٴَمْ یَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَاٴْتُوا بِسُورَةٍ مِثْلِهِ وَادْعُوا مَنْ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللهِ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ ) ۔

۳۹ ۔( بَلْ کَذَّبُوا بِمَا لَمْ یُحِیطُوا بِعِلْمِهِ وَلَمَّا یَاٴْتِهِمْ تَاٴْوِیلُهُ کَذَلِکَ کَذَّبَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الظَّالِمِینَ ) ۔

۴۰ ۔( وَمِنْهُمْ مَنْ یُؤْمِنُ بِهِ وَمِنهُمْ مَنْ لاَیُؤْمِنُ بِهِ وَرَبُّکَ اٴَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِینَ ) ۔

ترجمہ

۳۷ ۔مناسب نہیں ( اور ممکن نہ تھا ) کہ بغیر وحی الہٰی کے اس قرآن کی نسبت خدا کی طرف دی جائے لیکن ( آسمانی کتب میں سے ) جو کچھ موجود ہے یہ اس کی تصدیق ہے اور اس کی تفصیل ہے اور اس میں شک نہیں کہ عالمین کے پروردگار کی طرف سے ہے ۔

۳۸ ۔ وہ کہتے ہیں کہ اس نے قرآن کی خدا کی طرف جھوٹی نسبت دی ہے ۔ کہہ دو کہ اگر سچ کہتے ہو تو اس جیسی ایک سورت لے آواور خدا کے علاوہ جسے چاہتے ہو ( اپنی مدد کے لئے ) بلا لو۔

۳۹ ۔ ( وہ علم و دانش کی بناء پر قرآن ک انکار کرتے ) بلکہ وہ ایسی چیز کی تکذیب کرتے ہیں جس سے آگاہی نہیں رکھتے اور ابھی تک اس کی حقیقت ان کے لئے واضح نہیں ہوئی اسی طرح سے ان سے پہلے لوگوں نے بھی تکذیب کی تھی ۔ پس دیکھو کہ ظالموں کا انجام کیا ہوا۔

۴۰ ۔ اور ان میں سے بعض اس پر ایمان لے آتے ہیں اور بعض ایمان نہیں لاتے اور تیرا پر ور دگار فساد کرنے والوں سے زیادہ باخبر اور آگاہ ( اور انھیں اچھی طرح سے جانتا ہے ) ۔

دعوت ِقرآن کی عظمت اور حقانیت

یہ آیات مشرکین کی کچھ نارا باتوں کا جواب دے رہی ہیں ۔ کیونکہ وہ صرف مبداء کی پہچان کے بارے میں انحراف اور کجروی کا شکار نہ تھے بلکہ پیغمبر اسلام پر بھی افتراء باندھتے تھے کہ انھوں نے قرآن خود اپنی فکر و نظر سے بنا کر خدا کی طرف منسوب کردیا ہے ۔ اسی لئے ہم نے گذشتہ آیات میں پڑھا ہے کہ وہ رسول اللہ سے تقاضا کرتے تھے کہ اس کے علاوہ کوئی اور قرآن لے آئیہں یا پھر کم از کم اس میں رد و بدل کردیں ۔ ان کا یہ تقاضا خو د اس امر کی دلیل ہے کہ وہ قرآن کو فکر پیغمبر کی تخلیق خیال کرتے تھے ۔

زیر بحث پہلی آیت میں فر ما یا گیا ہے : مناسب نہیں کہ وحی الہٰی کے بغیر اس قرآن کی خدا کی طرف نسبتدی جائے

( وَمَا کَانَ هَذَا الْقُرْآنُ اٴَنْ یُفْتَرَی مِنْ دُونِ اللهِ ) ۔

یہ بات کاذب نظر ہے کہ سادہ نفی کی بجائے مناسبت کی نفی کی گئی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ سادہ نفی کی بجائے ایسی تعبیر زیادہ رسا اور عمدہ ہے ۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص اپنا دفاع کرتے ہوئے کہے کہ یہ میری شان کے خلاف ہے کہ میں جھوٹ بولوں ۔

ظاہر ہے کہ اس طرح سے کہنا یہ کہنے سے زیادہ پر معنی اور گہرائی کا حامل ہے کہ میں جھوٹ نہیں بولتا۔

اس کے بعد قرآن کی اصالت اور اس کے وحی آسمانی ہونے کی دلیل کے طور پر کہتا ہے : لیکن یہ قرآن اپنے سے پہلے کی کتبِ آسمانی کی تصدیق کرتا ہے( وَلَکِنْ تَصْدِیقَ الَّذِی بَیْنَ یَدَیْهِ ) ۔یعنی وہ تمام بشارتیں اور حقانیت کی نشانیاں جو گزشتہ آسمانی کتب میں آئی ہیں وہ مکمل طور پر قرآن اور قرآن لانے والے پر منطبق ہوتی ہیں اور یہ امر خود اس بات ک اثبوت ہے کہ یہ خدا پر تہمت نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے ۔ اصولی طور پر قرآن خود ”آفتاب آمد دلیل آفتاب “ کے مصداق اپنے مشمولات کی سچائی پر شاہد ہے ۔

یہاں سے واضح ہوجاتا ہے کہ کہ وہ لوگ جو اس قسم کی آیات ِ قرآن کے زمانے میں تھیں ، تصدیق نہیں کرتابلکہ صرف پیغمبر اکرم اور قرآن کے بارے میں ان کتب میں جو نشانیاں تھیں ان کی تائید کرتا ہے ( غور کیجئے گا ) ۔

اس سلسلے میں مزید توضیحات تفسیر نمونہ جلد اول سورہ بقرہ کی آیت ۔ ۴۱ ۔ کے ذیل میں پیش کی جاچکی ہیں ۔

اس کے بعد اس آسمانی وحٰ کی صداقت کے بارے میں ایک اور دلیل پیش کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اس قرآن میں گزشتہ انبیاء کی اصل کتب کی تشریح، بنیادی احکام اور اصولی عقائد بیان کیئے ہیں اور اسی وجہ سے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ پر وردگار عالمین کی طرف سے ہے( وَتَفْصِیلَ الْکِتَابِ لاَرَیْبَ فِیهِ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِینَ ) ۔

دوسرے لفظو ں میں گزشتہ انبیاء کے پیش کردہ پر گرام سے اس کا کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ اس میں ان تعلیمات اور پر وگراموں کی تکمیل کی گئی ہے اور اگر یہ قرآن جعلی ہوتا تو یقینا ان کے مخالف اور متضاد ہوتا۔

یہیں سے معلوم ہوتا ہے ، کہ اصولی مسائل میں چاہے وہ دینی عقائد ہوں ، یا اجتماعی پروگرام ، چاہے حفظ حقوق کے معاملات ہو ں یا چاہے جہالت کے خلاف جہاد ، حق و عدالت ہو یا اخلاقی اقدار کا احیاء او ریا اس قسم کے دیگر مسائل ، ان کے بارے میں کتب آسمانی میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ سوائے اس کے کہ بعد میں نازل ہونے والی کتاب پہلی کتاب سے بالا تر اور کامل تر سطح کی تھی ۔ جیسا کہ تعلیم کی مختلف کلاسیں ہوتی ہیں ۔ پرائمری ، میٹرک ، کالج او ریونیورسٹی میں ایک ہی علم کی کتاب مختلف سطح کی ہوتی ہے ۔ اسی طرح آخری آسمانی کتاب امتوں کی دینی تعلیم کے آخری دور کے لئے مخصوص تھی جو کہ قرآن ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ احکام کی جزئیات اور فروع میں آسمانی مذاہب میں فرق ہے لیکن یہاں ہم ان کے بنیادی اصولی کی بارت کررہے ہیں جو کہ ہر جگہ ہم آہنگ ہیں ۔

اگلی آیت میں قرآن کی اصالت کے لئے تیسری دلیل پیش کی گئی ہے ۔ ارشاد ہو تا ہے : وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس قرآن کی خدا کی طرف غلط نسبت دی ہے ، ان سے کہہ دو کہ اگر سچ کہتے ہوتو تم بھی اس جیسی ایک سورت لے آواور خدا کے علاوہ جس سے چاہو مدد طلب کرلو( لیکن تم یہ کام ہر گز نہیں کرسکو گے اور اس سے ثابت ہو جائے گا کہ یہ وحی آسمانی ہے )( اٴَمْ یَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَاٴْتُوا بِسُورَةٍ مِثْلِهِ وَادْعُوا مَنْ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللهِ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ ) ۔

یہ آیت ان آیات میں سے ہے کہ جو صراحت سے اعجاز قرآن کا ذکر کرتی ہیں اس آیت میں نہ صرف سارے قرآن کے اعجاز کا ذکر ہے بلکہ یہاں تک کہ ایک سورت کے اعجاز کو بیان کیا گیا ہے اور بلا استثناء تمام عالمین کو دعوت دی گئی ہے ۔ کہ اگر تم یہ نظریہ رکھتے ہو کہ یہ آیات خدا کی طرف سے نہیں ہیں تو اس قرآن کی مانند یا کم از کم اس کی ایک سورہ کی مثل تم بھی آیات لے آو۔

جیساکہ ہم پہلی جلد میں سورہ بقرہ کی آیہ ۲۳ کے ذیل میں بیان کرآئے ہیں ۔ آیاتِ قرآن میں کبھی سارے قرآن کے مقابلے کے لئے چیلنج کیا گیا ہے کبھی دس سورتوں کی دعوت دی گئی اور کبھی ایسی ایک سورت بنا کر لانے کی دعوت دی گئی ہے ۔ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قرآن کا جز و اور کل سب معجزہ ہے ۔ نیز چونکہ کسی معین سورہ کا ذکر نہیں ہوالہٰذا قرآن کی ہر سورت کے مقابلے کی دعوت اس میں شامل ہے ۔

البتہ اس میں شک نہیں کہ قرآن کا اعجاز فصاحت و بلاغت ، شیرینی بیان اور عمدورسا تعبیرات میں منحصر نہیں ہے ۔ جیسا کہ بعض پہلے مفسرین کا نظریہ ہے کہ بلکہ اس کے علاوہ اس کے دینی معارف، اس وقت تک کشف نہ ہونے والے علوم کا اس میں ذکر ، اس کے احکام و قوانین ، ہر غلطی اور خرافات سے پاک گزشتہ لوگوں کی تاریخ اور اس میں تضادف و اختلاف کا نہ ہو نا بھی معجزاتی پہلو رکھتے ہیں ۔ ( برائے شرح بیشتر) ۔

اعجاز قرآن کا ایک نیا جلوہ

یہ امر جاذب ِ توجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اعجاز قرآن کے نئے جلوے آشکار ہوتے ہیں جن کی طرف گزشتہ زمانے میں توجہ نہیں ہو سکی ان میں سے ایک یہ ہے کہ کمپیوٹرکے ذریعہ الفاظ ِ قرآن، قرآنی جملوں کی بدنش اور ہر سورت کے زمانہ نزول سے ان کے ربط کی نئی نئی خصوصیات سامنے آئی ہیں ، اس کا ایک نمونہ ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں ۔

آج کے محققین اور دانشوروں نے تحقیق و جستجو اور چھان بین سے آیاتِ قرآن اور سورتوں کے نہایت پیچیدہ باہمی روابط معلوم کیئے ہیں اور اس سلسلے میں حیرت انگیز حتمی فامولے معلوم کئے ہیں ۔ اس امر کے یقین کے ساتھ ایسا عملی نظم و نسق قرآن کی عمارت میں موجود ہے کہ اعداد شمار کی تحقیق و مطالعہ سے اور ریاضی کے دقیق قواعد کے ذریعہ آیاتِ قرآن میں ریاضی کے فامولوں کے مطابق حسابات اور کامل منحنی خطوط( complete cur ves )اور پیچیدہ اصول معلوم ہوئے اور یہ دریافت اتنی اہم ہے کہ زمین کی کشش کے بارے میں نیوٹن کے قانون کی دریافت کی یاد تازہ ہو گئی ہے ۔

ا یک عظیم قرآن شناس نے اپنے کام کا آغاز اس معمولی مسئلہ سے کیا ہے کہ مکہ میں نازل ہونے والی آیات چھوٹی چھوٹی ہیں جبکہ مدینہ میں نازل ہونے والی آیات طویل ہیں ۔ یہ ایک فطری سی بات ہے کہ ہر لکھنے اور بولنے والااپنے جملوں کی طوالت او رالفاظ کا آہنگ موضوع سخن کے اعتبار سے بدلتا ہے ۔

توصیفی اور تعریفی مسائل چھوٹے چھوٹے جملوں میں بیان ہوتے ہیں اور تحلیلی و استدلالی مسائل طویل جملوں میں بیان کئے جاتے ہیں ۔ جہاں گفتگو تحریک کے لئے ہو یا انتقادی اور تنقیدی حوالے سے عمومی اصول سے متعلق ہو یا اعتقاد کے حوالے سے کلی اصول بیان کرنا مقصودہوتو لب و لہجہ شعار اور نعرے کا اختیار کیا جاتا ہے اور عبارتیں چھوٹی چھوٹی ہو تی ہیں لیکن جہاں کوئی داستان بیان کرنا ہو ، کوئی واقعہ ذکر کرنا ہو ، یا اخلاقی حولاے سے کوئی نتیجہ نکالتان ہو تو لب و لہجہ میں ٹھہراو ہوتا ہے اور عبارتیں لمبی ہوتی ہیں اور آہنگ میں نرمی ہوتی ہے ۔

مکہ میں جو مسائل در پیش تھے وہ پہلی قسم کے تھے اور مدینہ میں پیش آنے والے معاملات دوسری قسم کے تھے ۔کیونکہ مکہ میں ایک تحریک اور انقلاب کی ابتداء تھی ۔ وہاں بات اعتقادی اور انتقادی حوالے سے کلی اصول کے مطابق کرنا تھی ۔ لیکن مدینہ میں ایک معاشرہ کی بنیاد پڑ گئی تھی ۔ یہا ں حقوق و اخلاق سے متعلق بات کرنا تھی ، تاریخی واقعاتبیان کرنا تھے اور ان سے فکری و علمی نتائج اخذ کرنا تھے ۔

قرآن ایک فطری کلام ہے لہٰذا یہ امرنا گزیرہے کہ یہ آسان ، خوبصورت اور بلیغ طریقے کے مطابق ہو اور ا سکے نتیجے میں آیات کے اختصار اور طوالت میں بھی مفاہیم کی مناسبت کو ملحوظ رکھے ۔ اگر ہم قبول کرلیں کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو فطرت کے بھی مطابق ہے تو پھر اس کا یہ اختصار اور طوالت بغیر کسی حساب کتاب کے نہیں ہوسکتا ایک دقیق علمی قاعدہ کے مطابق اس کی ابتداء مختصر آیات سے ہوئی ہے اور آہستہ آہستہ آیات طویل ہو تی گئی ہیں لہٰذا ہر آیت اگلے برس نازل ہونے والی آیت سے چھوٹی ہے او ر کسی ایک برس میں نازل ہو نے والی آیت گزشتہ برس نازل ہونے والی آیت سے طویل تر ہے اس طرح سے ۲۳/ سال کی مدت میں جو وحی نازل ہوئی ہے آیات کی اوسط طوالت کے لحاظ سے اسے تیئس حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔

اس قاعدہ کی بناء پر تیئس کا لم ہونے چاہئیں کہ جن میں ان آیات کو ان کی طوالت کے لحاظ سے تقسیم کیاجا سکے ۔ اب ہمیں کیسے معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ تقسیم بندی صحیح ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ بعض آیاتِ قرآن کی شان ِ نزول معلوم ہے ۔ بعض کے سال ِ نزول کو تاریخی روایات نے معین کیا ہے اور صراحت کے ساتھ بتایا ہے کہ وہ کس سال میں نازل ہوئی ہیں اور بعض کو ان کے مفاہیم کے ذریعے معین کیا جا سکتا ہے مثلاً قبلہ کی تبدیلی ، حرمت ِ شراب حجاب اور احکام خمس و زکوٰة کے بارے میں جو آیا ت ہیں جن میں ہجرت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے ۔

ہم انتہائی تعجب سے دیکھتے ہیں کہ یہ آیات کہ جن کا سال ِ نزول معلو م ہے ٹھیک انہی کالموں میں آتی ہیں جو آیات کی اوسط طوالت کے جدول میں ہر سال کے لحاظ سے خاص طور پر معین کئے گئے ہیں ( غور کیجئے گا ) ۔

یہ امر قابل توجہ ہے کہ اس سلسلے میں دو تین استثنائی مواقع پیدا ہو ئے ہیں مثلاً:

سورہ مائدہ نازل ہونے والی آخری بڑی سورت ہے جب کہ اس کی چند آیات کو فار مولے کے مطابق پہلے سالوں میں نازل ہونا چاہئیے تھا۔ تفاسیرتاور اسلامی روایات کی تحقیق کے بعد ہمیں معتبر مفسرین کے اقوال ملتے ہیں کہ جنہوں نے کہا ہے کہ یہ چند آیات ابتداء میں نازل ہوئی تھیں لیکن تدوین کے لحاظ سے پیغمبر کے حکم سے سورہ مائدہ میں موجود ہیں ۔ لہٰذا اس طریقے سے ہر آیت کے سال نزول کو ریاضی کے قاعدے سے معین کیا جا سکتا ہے اور قرآن کی تدوین سال ِ نزول کے حساب سے بھی کی جاسکتی ہے ۔

دنیا میں کون ایسا خطیب ہے جس کی عبارت کی طوالت سے اس کے ہر جملے کی دائیگی کے سال کو معین کیا جا سکے خصوصاً جب کہ وہ کسی مولف کے علمی یا ادبی کتاب کا متن نہ ہو کہ جسے اس نے ایک معین مدت میں تسلسل کے ساتھ تحریر کیا ہو اور پھر اس کی زبان پر جاری ہو ئی ہو ۔ خصوصاً جب کہ وہ ایسی کتاب نہ ہو جسے لکھنے والے نے کسی ایک موضوع یا حتی کہ معین شدہ مضامین میں تالیف کیا ہو۔ بلکہ اس میں گو نا گوں مسائل ہوں کہ جو تدریجاً معاشرے کی ضرورت کے مطابق اور پیش آنے والے سوالات کے جواب میں بیان کیے گئے ہوں ، ایسے مسائل جو ایک طویل جد و جہد اور مقابلے کے دوران پیدا ہوئے ہوں اور ایک رہبر کے ذریعے بیان ہوئے ہوں اور پھر انھیں جمع کرکے منظم کیا گیا ہو او رکتابی شکل دی گئی ہو ۔(۱)

بلکہ بعض مفسرین کے بقول قرآن کے مخصوص لغات و الفاظ کی طرز بھی اپنی نوع میں ایک معجزہ ہے ۔ انھوں نے اس کے لئے مختلف اور جاذب نظر شواہد پیش کئے ہیں ۔ ان میں سے ایک وہ واقعہ ہے جو مشہور مفسر سید قطب کو پیش آیا ۔ زیربحث آیت کے ذیل میں وہ کہتے ہیں ، میں ان حوادث و واقعات ک ےبارے میں بات نہیں کرتا جو دوسروں کو پیش آئے صرف وہ واقعہ بیان کرتا ہوں جو خود مجھے پیش آیا اور میرے علاوہ اسے دیکھنے والے پانچ افراد تھے ۔ہم چھ مسلمان ایک مصری بحری جہاز میں سوار تھے ۔ بحری جہاز نیو یارک جانے کے لئے اوقیانوس اطلس کو عبور کررہا تھا جہاں میں کل ۱۲۰ مسافر تھے جن میں عورتیں بھی تھیں اور مرد بھی تھے اور ہمارے سوا مسافروں میں سے کوئی مسلمان نہ تھا ۔ جمعہ کے روز ہم نے سوچا کہ نما جمعہ وسط سمندر میں جہاز کے اوپر کی جائے ہم چاہتے تھے کہ مذہبی فریضہ کی ادائیگی کے علاوہ ایک عیسائی مبلغ کے سامنے اسلامی جرات کا مظاہرہ کیا جائے جس نے کشتی میں اپنا تبلیغی پر گرام ترک نہیں کیا تھا اور پھر خصوصاً جب کہ وہ ہمیں بھی مسیحیت کی تبلیغ کرنا چاہتاتھا ۔ جہاز کا کپتان ایک انگریز تھا اس نے جہاز کے اوپر نماز باجماعت کی ہمیں اجازت دے دی ۔ نیز جہاز پ رکام کرنے والوں کو بھی ہمارے ساتھ نماز نماز پڑھنے کی اجازت دے دی جو کہ سب افریقی مسلمان تھے ۔ وہ بھی اس واقعہ سے بڑے خوش ہوئے کیونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ نماز جمعہ انجام پا رہی تھی ۔

میں نماز جمعہ کا خطبہ پڑھنے لگا اور امامت کے لئے تیار ہوا ۔ یہ بات جاذبِ توجہ ہے کہ تمام غیر مسلم مسافر ہمارے گرد حلقہ باندھ کر کھڑے ہوئے گئی اور بڑے غور سے اس اسلامی فریضے کی انجام دہی دیکھتے رہے ۔

نماز کے اختتام پر ان میں سے بہت سے لوگ ہمارے پاس آئے اور ہمارے ا س کام کی تعریف کی ۔ ان میں سے ایک خاتون تھی کہ جس کے بارے میں مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ یو گوسلاویہ کی ایک عیسائی عورت تھی جو ٹیٹو اور اس کے کمیونزم کے جہنم سے فرار کیے ہوئے تھی ۔ وہ ہماری نماز سے بے حد متاثر ہوئی اس ھد تک کہ اس کی آنکھوں سے آنسوبہہ رہے تھے او روہ اپنے او پر کنٹرول نہیں کر پارہی تھی ۔

وہ اپنی عام انگریزی زبان میں جو شدید تاثیر او رایک خاص خضوع و خشوع میں ملی ہو ئی تھی ، گفتگو کر رہی تھی ، اس کی گفتگو کے کچھ الفاظ یہ تھے :

بتاو کہ میں دیکھوں تمہارا کشیش کس زبان میں باتیں کرتا تھا ( اس کا خیال تھا کہ یقینا ایسی نماز فقط کشیش یا کوئی عالم ہی قائم کرسکتا ہے جیسا کہ عیسائیوں کے ہاں نماز ہو تی ہے لیکن ہم نے اسے جلد ہی سمجھا دیا کہ اس اسلامی پروگرام کو ہر صاحب ایمان مسلمان انجام دے سکتا ہے )

آخر میں ہم نے اس سے کہ ا: ہم تو عربی زبان میں بو ل رہے تھے ۔

وہ کہنے لگی : میں اگر چہ تمہارے مطالب میں سے ایک لفظ بھی نہ سمجھ پائی تھی تا ہم میں سے ایک صراحت سے دیکھا کہ تمہارے الفاظ عجیب و غریب طرز کے تھے ۔

اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا : اور اس کی وہ بات وجو زیادہ اہم ہے اور جس نے مجھے بہت زیادہ متوجہ کیا یہ تھی ، کہ تمہارے پیش نماز کے خطبے کے دوران کچھ جملے ایسے تھے جو باقی جملوں سے ممتاز تھے وہ بہت زیادہ موثر تھے اور گہرے معلوم ہوتے تھے یہاں تک کہ انھوں نے مجھے لرزہ بر اندام کردیا ۔ یقینا ان جملوں میں کچھ اور مطالب تھے ۔ مجھے یوں لگتا تھا کہ تمہارا پیش نماز جب ان جملوں کو ادا کرتا ہے تو وہ روح القدس سے ملا ہوتا ہے ۔

ہم نے تھوڑا سا غور و فکر کیا تو متوجہ ہوئے کہ یہ جملے آیاتِ قرآن ہی تھیں جو میں نے خطبے کے دوران او رنماز میں پڑھی تھی ۔

اس بات نے ہمیں ہلا کے رکھ دیا اور اس نکتے کی طرف متوجہ کیا کہ قرآن کی مخصوص طرز اس قدر موثر ہے کہ حتیٰ کہ ایک ایسی خاتون جو اس کے ایک لفظ کا مفہوم نہیں سمجھتی وہ بھی اس سے شدید متا ثر ہو جاتی ہے ۔ ( تفسیر فی ظلال جلد ۴ صفحہ ۴۴۲)

بعد والی آیت میں مشرکین کی مخالفتوں کی ایک بنیادی علت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ قرآن کا انکار اشکالات اور اعتراضات کی بناء پر نہیں کرتے تھے بلکہ ان کی تکذیب اس وجہ سے تھی کہ وہ اس کے مضامین سے آگاہ نہیں تھے( بَلْ کَذَّبُوا بِمَا لَمْ یُحِیطُوا بِعِلْمِهِ ) ۔در حقیقت ازن کے انکار کا عامل اور سبب ان کی عدم آگہی اور جہا لت تھی ۔

رہا یہ سوال کہ اس سے مراد کن امور کے بارےان کی جہا لت تھی اس سلسلے میں مفسرین نے کئی احتمالات ذکر کیے ہیں کہ جو سب کے سب آیت میں مراد ہوسکتے ہیں ، منجملہ ان کے :

معارفدینی او رمبداء و معاد سے جہا لت جیسا کہ قرآن معبودِ حقیقی اللہ کے بارے میں مشرکین کا قول نقل کرتا ہے کہ وہ کہتے تھے :اجعل الالٰهة الها واحداً ان هٰذا الشی عجاب ۔

کیا اس نے ہمارے خدا وں کو ایک معبود میں بدل دیا ہے، عجیب و غریب چیز ہے (ص ۵) یا پھر وہ معاد کے بارے میں کہتے تھے:( هل ندلُّکم علیٰ رجل ینبئکم اذا مزّ قتم کل ّ ممزّ ق انکم لفی خلق جدید افتری علیٰ الله کذباً امر به جنة ٌ ) ( سبا ، ۷ ۔ ۸)

کیا تمہیں اسے شخص کے بارے میں بتائیں جو تم سے بیان کرے گا کہ جب تم ( مرکر گل سڑ جاو گے اور ) بالک ریزہ ریزہ ہو جاو گے تو تم ایک نیا جنم لو گے کیا اس شخص ( محمد) نے خد اپر جھوٹ باندھا ہے یا اسے جنون ( ہو گیا ) ہے ۔

در حقیقت ان لوگوں کے پاس مبداء و معاد کی نفی کے لئے کوئی دلیل نہیں تھی صرف جہا لت اور بے خبری خرا فات اور بڑے بوڑھوں کے مذہب کے عادی ہوجانے سے ، ان کے لئے سدّ راہ تھی ۔

پھر وہ احکام کے اسرار سے جاہل تھے اسی طرح آیات متشابہ کے مفہوم سے جاہل تھے یا حروف ، مقطعات کے مفہوم سے نابلد تھے ۔

یہی سب جہالتیں انھیں تکذیب اور انکار پر ابھارتی تھیں جب کہ ابھی تک مسائل ِ مجہولہ کی تاویل ، تفسیر اور حقیقت ان پر واضح نہیں ہوئی تھی ۔( وَلَمَّا یَاٴْتِهِمْ تَاٴْوِیلُهُ ) ۔

”تاویل “ اصل لغت میں کسی چیز کو لوٹا نے کے معنی میں ہے لہٰذا کوئی کام او ربات اپنے اصلی مقصد تک پہنچ جائے تو ہم کہتے ہیں کہ اس کی تاویل آگئی ہے ۔ اس بناء پر کسی اقدام کے اصلی ہدف کا بیان ، کسی بات کی حقیقی تشریح یا کسی خواب کی تعبیر اور نتیجہ یا کسی بات کا عملی صورت اختیار کرجانا ، سب کو تاویل کہاجاتا ہے ( اس سلسلے میں تفسیر نمونہ جلد دوم ص ۲۵۴ ۔ ار دو ترجمہ پر ہم تفصیل سے گفتگو کر آئے ہیں ) ۔

اس کے بعد قرآن کہتا ہے کہ یہ غلط روش صرف زمانہ جاہلیت کے مشرکین میں ہی منحصر نہیں ہے بلکہ گزشتہ گرماہ قومیں بھی اسی ابتلاء میں مبتلاتھیں ، وہ بھی حقائق کی پہچان اور تحقیق کے بغیر اور ان کے تحقق کی انتظار کے بغیر ان کا انکار اور تکذیب کرتے تھے( کَذَلِکَ کَذَّبَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ ) ۔

سورہ بقرہ کی آیت ۱۱۳ ۔ اور ۱۱۸ ۔ میں گذشتہ امتوں کی کیفیر کی طرف اس حوالے سے اشارہ کیا گیا ہے ۔ در حقیقت ان سب کا عذر ان کی جہالت ہی تھی اور حقائق کے بارے میں تحقیق نہ کرنا ان کی بد بختی کا باعث تھا جبکہ عقل و منطق کا تقاضا ہے کہ انسان جس چیز کو نہیں جانتا اس کا ہر گز انکار نہ کرے بلکہ اس کی جستجو اور تحقیق کرے ۔

آخر میں روئے سخن پیغمبر کی طرف کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : دیکھو کہ ان ستم گروں کا انجام کار کیا ہوا( فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الظَّالِمِینَ ) ۔یعنی وہ بھی اسی انجام سے دو چار ہوں گے ۔

زیر بحث آخری آیت میں مشرکین کے دو بڑے گروہوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرما یا گیا ہے : یہ سب کے سب اسی حالت میں باقی نہہیں رہیں گے بلکہ ” ان میں سے ایک گروہ جس میں حق طلبی کی روح مردہ نہیں ہوئی ، آخر کار اس قرآن پر ایمان لے آئے گا جب کہ دوسرا گروہ اس ی طرح اپنی جہا لت اور ہٹ دھرمی پر قائم رہے گا اور ایمان نہیں لائے گا “( وَمِنْهُمْ مَنْ یُؤْمِنُ بِهِ وَمِنهُمْ مَنْ لاَیُؤْمِنُ بِهِ ) ۔

واضح ہے کہ یہ دوسرا گروہ فاسد اور مفسد ہے اسی وجہ سے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : تیرا پر وردگار مفسدین کو بہتر جانتا ہے( وَرَبُّکَ اٴَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِینَ ) ۔

یہاس طرف اشارہ ہے کہ جو افراد حق قبول نہیں کرتے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے معاشرے کا شیرازہ بکھیر دیا ہے اور معاشرے کے نظام کو خراب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔

____________________

۱۔ نشریہ فلق ( یونیورسٹی طلبہ کا نشریہ )


جہالت اور انکار

جیسا کہ مندر جہ بالا آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اصولی طور پر زیادہ تر حق کی مخالفتوں ، دشمنیوں اور حق کے خلاف جنگ کا سر چشمہ جہا لت اور نادانی ہے ۔ اس لئے کہتے ہیں کہ جہالت کا انجام کفر ہے ۔

پہلا فریضہ جو ہر حق طلب انسان کے ذمہ ہے یہ ہے کہ جسے وہ جانتا اس کے بارے میں سکوت اور خاموشی اختیار کرے ، انتظار کرے اور تحقیق و سجتجو کے لئے اٹھ کھڑا ہو، جس مطلب کو نہیں جانتا اس کے تمام پہلوو کا مطالعہ کرے تحقیق کرے ۔ جب تک اس کی نفی پر کوئی قطعی دلیل نہ مل جائے اس کی نفی نہ کرے جیسا کہ بغیر قطعی دلیل کے اثبات بھی نہ کرے ۔

مر حوم طبری نے مجمع البیان میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس سلسلے میں ایک نہایت عمدہ حدیث نقل کی ہے ۔ آپ نے فرمایا :

اللہ نے قرآں کی دو آیات میں اس امت کو دو اہم درس دئیے ہیں ۔ پہلا یہ کہ جسے جانتے ہو اس کے سوا کوئی بات نہ کہو اور دوسرا یہ کہ جسے جانتے نہیں ہو اس کا انکار نہ کرو۔

اس کے بعد آپعليه‌السلام نے یہ دو آیات تلاوت کیں :( الم لیوٴخذ علیهم میثاق الکتاب ان لا یقولوا علی الله الا الحق ) ۔

کیا خدا نے ان سے آسمانی کتاب کا عہد وپیمان نہیں لیا کہ خدا کے بارے میں حق کے سواکچھ نہ کہیں ۔

( بل کذبوا بما لم یحیطوا بعلمه ) ۔

مشرکین نے ایسی چیزوں کا انکار کیا کہ جن آگاہی نہیں رکھتے تھے جب کہ جہالت کسی چیز کے انکار کے لئے دلیل نہیں ہے ۔


آیات ۴۱،۴۲،۴۳،۴۴

۴۱ ۔( وَإِنْ کَذَّبُوکَ فَقُلْ لِی عَمَلِی وَلَکُمْ عَمَلُکُمْ اٴَنْتُمْ بَرِیئُونَ مِمَّا اٴَعْمَلُ وَاٴَنَا بَرِیءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ ) ۔

۴۲ ۔( وَمِنْهُمْ مَنْ یَسْتَمِعُونَ إِلَیْکَ اٴَفَاٴَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْ کَانُوا لاَیَعْقِلُونَ ) ۔

۴۳ ۔( وَمِنْهُمْ مَنْ یَنْظُرُ إِلَیْکَ اٴَفَاٴَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَلَوْ کَانُوا لاَیُبْصِرُونَ ) ۔

۴۴ ۔( إِنَّ اللهَ لاَیَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَلَکِنَّ النَّاسَ اٴَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُونَ ) ۔

ترجمہ

۴۱ ۔ انھوں نے تیری تکذیب کی ہے تو کہہ دے کہ میرا عمل میرے لئے اور تمہارا عمل تمارے لئے ۔ جو کچھ میں انجام دیتا ہوں تم اس سے بیزار ہو اور میں اس سے بیزار ہو ں جو تم کرتے ہو۔

۴۲ ۔ اور ان میں سے ایک گروہ تیری طرف کان دھرتا ہے ( لیکن گویا وہ بالکل نہیں سنتا اور بہرہ ہے ) کیا تو اپنی بات بہروں کے کانوں تک پہنچا سکتا ہے ،اگر وہ نہ سمجھیں ۔

۴۳ ۔اور ان میں ایک گروہ تیری طرف دیکھتا ہے ( لیکن گویا وہ بالکل نہیں دیکھتا ) کیا تو نابینوں کو ہدایت کرسکتا ہے ۔

۴۴ ۔خدا انسانوں پربالکل ظلم نہیں کرتا لیکن انسان ہیں کہ جو اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں ۔

اندھے اوربہرے

گزشتہ آیات میں ہٹ دھرمی پر مبنی مشرکین کے انکار کے بارے میں بحث آئی ہے ۔ یہاں بھی اسی بحث کو آگے بڑھایا گیا ہے ۔

پہلی آیت میں ایک نئے طریقے سے پیغمبر کو مقابلے کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اگر وہ تیری تکذیب کریں تو ان سے کہہ دو کہ مریا عمل میرے لئے اور تمہارا عمل تمہارے لئے( وَإِنْ کَذَّبُوکَ فَقُلْ لِی عَمَلِی وَلَکُمْ عَمَلُکُم ) ۔

جو میں انجام دیتا ہوں اس سے تم بیزار ہو اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو میں اس سے بیزار ہوں( اٴَنْتُمْ بَرِیئُونَ مِمَّا اٴَعْمَلُ وَاٴَنَا بَرِیءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ ) ۔

بیزاری اور بے اعتنائی کا یہ اعلان جس سے اپنے مکتب پر قطعی اعتماد اور ایمان جھلکتا ہے خاص طور پر ہٹ دھرمی منکرین پر ایک مخصوص نفسیاتی اثر رکتھا ہے یہ اعلان ان پر واضح کرتا ہے کہ اس مکتب کو قبول کرنے میں کوئی اصرار اور جبر نہیں ہے وہ حق کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کی وجہ سے اپنے آپ کو محرومیت کی طرف لے گئے ہیں اور اس طرح صرف اپنے ہی کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔

ایسی تعبیریں قرآن کی دیگر آیات میں بھی ہیں ۔ جیسا کہ سورہ کافرون میں ہے :۔( لکم دینکم ولی دین ) ۔

تمہارا دین تمہارے لئے او رمیرا دین میرے لئے ۔

اس بیان سے واضح ہو جا تا ہے کہ ایسی آیات کا مفہوم مشرکین کے مقابلے میں تبلیغ او رجہاد کے حکم کے منافی نہیں کہ ہم انھیں منسوخ سمجھنے لگیں بلکہ جیسا کہ کہا جا چکا ہے کہ یہ بے اعتنائی او ربے نیازی کے انداز میں ہت دھر م او رکینہ پر ور افراد سے ایک منطقی مقابلہ ہے ۔

بعد والی آیات میں حق سے ان کے احراف او رعدم تعلیم کی دلیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: ایک انسان کی ہدایت کے لئے صرف صحیح ، ہلادینے والی اور پر اعجاز آیات اور واضح دلائل کافی نہیں ہیں بلکہ قبول کرنے کے لئے آمادہ گی اور قبولیت حق کی لیاقت بھی ضروری ہے جیسا کہ سبزہ پھول اگانے کے لئے صرف تیارشدہ بیج کافی نہیں ہے ۔ آمادہ زمین بھی ضروری ہے ۔

اسی لئے پہلے فرمایا گیا: ان میں سے ایک گروہ تیری طرف کان تو دھر تاہے لیکن گویا یہ لوگ بہرے ہیں( ومنهم یستمعون الیک ) (۱)

باوجودیکہ وہ سننے والا کان نہیں رکھتے ، کیا تم ان بہروں کے کانوں تک اپنی آواز پہنچا سکتے ہو، چاہے وہ عقل و ادراک نہ رکھتے ہوں( افانت تسمع الصم ولوکانوا لایعقلون ) ۔

” اور ایک گروہ تیرے طرف آنکھ لگائے ہوئے ہے اور تیرے اعمال دیکھتا رہتا ہے کہ جن میں سے ہر ایک تیری حقانیت او رراست گوئی کی نشانیوں کو دیکھ سکتاہے لیکن گویا یہ لوگ اندھے ہیں “( وَمِنْهُمْ مَنْ یَنْظُرُ إِلَیْک ) ۔ کیا اس کے باوجود تو ان نابینوں کو ہدایت کرسکتا ہے اگر چہ ان کے پاس کوئی بصیرت نہ ہو

( اٴَفَاٴَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَلَوْ کَانُوا لاَیُبْصِرُونَ ) ۔(۲)

لیکن جان لو اور وہ بھی جالیں کہ یہ فکری نارسائی، عدم بصیرت ، حق کا چہرہ دیکھنے کے بارے میں اندھا پن او رکلام الہٰی کے لئے ناشنوائی کو ئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جسے وہ شکم مادر سے اپنے ساتھ لائے ہیں اورخدا نے ان پر کوئی ظلم کیا ہو خود انہیں نے اپنے غلط اعمال ، حق دشمنی اور گناہوں سے اپنی روح کو تاریک کرکے اپنی دیکھنے والی آنکھے اور اہنے سننے والے کان کو بیکار کردیا ہے ، کیونکہ ” خد اکسی شخص پر ظلم کرتا لیکن یہ لوگ ہیں جو خود اپنے اوپر ظلم روا رکھتے ہیں “( إِنَّ اللهَ لاَیَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَلَکِنَّ النَّاسَ اٴَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُونَ ) ۔

____________________

۱ ۔ اس آیت میں درحقیقت ”کانهم صم لایسمعون “ کا جملہ مقدر ہے ۔

۲یہاں ”کانهم عمی لا یبصرون “ جا جملہ مقدر ہے ۔


دو قابل توجہ نکات

۱ ۔”( من یستمعون ) “ اور ”( من ینتظر ) “ سے کیا مراد ہے :

یہ جو دوسری آیت میں ہے کہ ” ان میں سے کچھ لوگ تیری بات سنتے ہیں “ او رتیسری آیت میں ہے کہ ” ان میں سے کچھ نہیں جو تیری طرف دیکھتے ہیں “اور یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان میں سے کچھ لوگ تیری اعجاز نما باتوں کو سنتے ہیں او رکچھ سنتے ہیں اور کچھ دوسرے ہیں جو تیرے معجز نشان اعمال دیکھتے ہیں کہ جو سب کے سب تیری صدق ِ گفتار او رتیری دعوت کی حقانیت کی دلیل ہیں لیکن کان دھرنے او ردیکھنے والے ان دونوں گروہوں میں سے کوئی بھی فائدہ نہیں اٹھا تا ، کیونکہ ان کی نگاہ فہم و ادراک کی نگاہ نہیں ہے ، بلکہ تنقید ، عیب جوئی ، اور مخالفت کی نظر ہے ۔ وہ کان دھر کے سننے سے بھی فائدہ نہیں اٹھاتے کوینکہ ان کا مقصد مفہوم سخن نہیں ہوتا بلکہ وہ تو تکذیب او رانکار کے لئے بہانے تلاش کرتے پھر تے ہیں او رہم جانتے ہیں کہ انسان کے اعمال کی بنیاد اس کا رادہ اور نیت ہی ہے ۔ نیت اور ارادہ ہی انسانی اعمالک ے اثرات کو دگر گون کردیتا ہے ۔

۲ ۔ ”( ولوکانوا لایعقلون ) “ اور ”( ولوکانوا لایبصرون ) “ کا مفہوم :

زیر نظرا لفاظ سننا کافی نہیں بلکہ دوسری آیت کے آخر میں ” ولو کانوا لایعقلون “ آیا ہے ۔ اور تیسری آیت کے اختتام پر ”ولو کا نوا لا یبصرون “ آیا ہے یہ اس طرف اشارہ ہے کہ فقط کانوں سے تفکرو تدبر بھی ضروی ہے تاکہ انسان الفاظ کے مفاہیم سے فائدہ اٹھائے اسی طرح کسی چیز کو آنکھوں سے صرف دیکھنے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ بصیرت او رجن چیزوں کو انسان دیکھتا ہے انھیں سمجھنا بھی ضروری ہے تاکہ ان کی گہرائی تک پہنچے اور ہدایت حاصل کرے ۔


آیات ۴۵،۴۶،۴۷

۴۵ ۔( وَیَوْمَ یَحْشُرهُمْ کَاٴَنْ لَمْ یَلْبَثُوا إِلاَّ سَاعَةً مِنْ النَّهَارِ یَتَعَارَفُونَ بَیْنَهُمْ قَدْ خَسِرَ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللهِ وَمَا کَانُوا مُهْتَدِینَ ) ۔

۴۶ ۔( وَإِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِی نَعِدُهُمْ اٴَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَإِلَیْنَا مَرْجِعُهم ثُمَّ اللهُ شَهِیدٌ عَلَی مَا یَفْعَلُونَ ) ۔۔

۴۷ ۔( وَلِکُلِّ اٴُمَّةٍ رَسُولٌ فَإِذَا جَاءَ رَسُولُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لاَیُظْلَمُونَ ) ۔

ترجمہ

۴۵ ۔ اس دن کو یاد کرو جب انھیں جمع ( اور محشور) کرے گا اور انھیں ایسا محسوس ہو گا جیسے ( دنیا میں ) انھوں نے دن کی ایک گھڑی سے زیادہ توقف نہیں کیا۔ بس اتنی مقدار کہ ایک دوسرے کو ( دیکھیں اور ) پہچان لیں ۔ وہ کہ جنہوں لقائے الہٰی ( اور روز قیامت ) کا ناکر کیا وہ خسارے میں رہے ، اور انھوں نے ہدایت حاصل نہ کی ۔

۴۶ ۔ اور گار ہم کچھ سزائیں کہ جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے ( تیری زندگی میں ) تجھے دکھائیں یا ( قبل اس کے کہ وہ عذاب میں گرفتار ہوں ) تجھے دنیا سے لے جائیں ، بہر حال ان کی با زگشت ہماری طرف ہے ۔ اس کے بعد خدا اس پر گواہ ہے جو کچھ وہ انجام دیتے ہیں ۔

۴۷ ۔ اور ہدایت کے لئے ایک رسول ہے ۔ جب ان کا رسول ان کی طرف آئے تو خدا ان کے درمیان عدل سے فیصلہ کرتا ہے اور ان پر ظلم نہیں ہوگا ۔

تفسیر

گزشتہ آیات میں مشرکین کی بعض صفات بیان کرنے کے بعد اب ان آیات میں قیامت میں ان کی دردناک کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اس دن کو یاد کرو جب خدا ان سے کو محشور کرے گا اور ا س حالت میں کہ وہ محسوس کریں گے کہ دنیا میں ان کی ساری عمر دن کی ایک گھڑی سے زیادہ بس اتنی مقدار کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ لیں ، اور پہچان لیں( یَوْمَ یَحْشُرهُمْ کَاٴَنْ لَمْ یَلْبَثُوا إِلاَّ سَاعَةً مِنْ النَّهَارِ یَتَعَارَفُونَ بَیْنَهُمْ ) ۔

دنیا میں تھوڑی سی دیر کا یہ احساس اس بناء پر ہے کہ آخرت کی دائمی زندگی کے مقابلے میں یہ ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ہے ۔

یا اس بناء پر کہ یہ ناپائیدار اور دنیا ان پر یوں تیزی سے گزری ہے کہ ایک ساعت سے زیادہ نہ تھی ۔

یا پھر اپنی زندگی سے صحیح فائدہ نہ اٹھانے کی وجہ سے یوں خیال کریں گے کہ ان کی ساری عمر ایک گھڑی سے زیاد ہ قدر و قیمت نہیں رکھتی تھی ۔

جو کچھ ہم نے سطور بالا میں کہ ہے اس کے پیشِ نظر ”( یتعارفون بینهم ) “ ( ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں ) کاجملہ دنیا میں ان کے قیام کی مقدار کی طرف اشارہ ہے یعنی اس طرح وہ اپنی عمر کو مختصر اور کم محسوس کرین گے گویا صرف اتنی مقدار تھی کہ جس میں دو آدمی ایک دوسرے کو دیکھ کر آپس میں متعارف ہو ں اور پھر ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں ۔

آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ مراد یہاں زمانہ برزخ کی کمی کا احساس ہے یعنی وہ لوگ دورانِ برزخ کی نیند کی سی کیفیت میں ڈوب جائیں گے جس میں سالہا سال اور صدیوں او رزمانوں کے گزرنے کا احساس نہیں کریں گے اور قیامت کے دن ہزار ہا سال پر مشتمل زمانہ برزخ انھیں ایک ساعت سے زیادہ محسوس نہیں ہوگا ۔

اس تفسیر کے لئے شاہد سورہ روم کی آیت( ۵۵ ۔ ۔ ۵۶) ہے جس میں ارشاد فرمایا گیا ہے :۔

( ویوم تقوم الساعة یقسم المجرمون مالبثوا غیر ساعة کذٰلک کانوا یوٴفکون وقال الذین اوتوا العلم و الایمان لقد لبثتم فی کتاب الله الیٰ یوم البعث فهٰذا یو م البعث ولکنکم لا تعلمون ) ۔

ان دو آیا ت سے معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت قیامت بر پا ہو گی ، مجرمین کا ایک گروہ قسم کھائے گا کہ ان کے برزخ ک ادور ایک ساعت سے زیادہ نہیں تھا لیکن مومنین ان سے کہیں گہ وہ طولانی دور تھا اور اب قیامت بر پا ہوئی ہے او رتمہیں معلوم نہیں ہے ۔

ہم جانتے ہیں کہ برزخ تمام لوگوں کے لئے ایک جیسی نہیں ہے اور اس کی تفصیل ہم متعلقہ آیات کے ذیل میں بیان کریں گے ۔

اس تفسیر کے مطابق ”( یتعارفون بینهم ) “ کا معنی یہ ہوگا کہ وہ لوگ زمانہ برزخ کی مقدار اتنی کم محسوس کریں گے کہ انھیں دنیا کی کوئی بات بھولی نہیں ہوگی او روہ ایک دوسرے کو اچھی طرح سے پہچان لیں گے ۔

اور یہ کہ وہاں ایک دوسرے کے برے اعمال کو دیکھیں گے او رایک دوسرے کے باطن کو پہچان لیں گے اور یہ خود ان کے لئے ایک بہت بڑی رسوائی ہے ۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے کہ اس دن ان سب پر ثابت ہو جائے گا کہ وہ افرادن جنہوں نے روز قیامت اور لقائے الہٰی کی تکذیب کی ، انھوں نے نقصان اٹھایا“۔ او روہ اپنے وجود کا سارا سرمایہ ہاتھ سے گنوابیٹھے اور ا سے کوئی نتیجہ بھی حاصل نہ کیا( قَدْ خَسِرَ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللهِ ) ۔

اور یہ لوگ اس تکذیب ، انکار ،گناہ پر اصرار ہت دھرمی کی وجہ سے ہدایت کی اہلیت نہیں رکھتے تھے( وَمَا کَانُوا مُهْتَدِینَ ) ۔کیونکہ ان کا دل سیاہ او ران کی روح تاریک تھی ۔

اگلی آیت میں کفار کی تہدید کے لئے پیغمبر کو تسلی دینے کی خاطر فرمایا گیا ہے : جن سزاوں کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے اگر ان کا کچھ حصہ ہم تجھے دکھائیں اور اپنی زندگی کے دوران اگر تو ان کے عذاب اور سزا کو دیکھ لے او ریا پھر اس سے قبل کہ وہ ایسے کام سے دو چار ہو ں ہم تجھے دنیا سے لے جائیں ، بہر حال ان کی باز گشت ہماری طرف ہے اور خدا ان کے انجام دیئے ہو ئے اعمال پر شاہد ہے( وَإِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِی نَعِدُهُمْ اٴَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَإِلَیْنَا مَرْجِعُهم ثُمَّ اللهُ شَهِیدٌ عَلَی مَا یَفْعَلُونَ ) ۔

زیر نظر آیت میں بشمول پیغمبر اسلام تمام انبیاء کے بارے میں او رتمام امتوں کے بارے میں کہ جن میں رسول اللہ کے زمانے کی امت بھی شامل ہے ، ایک کلی قانون بیان کیا گیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے : ہدایت کے لئے خدا کی طرف سے ایک رسول اور فرستادہ الٰہی ہوتاہے( وَلِکُلِّ اٴُمَّةٍ رَسُولٌ ) ۔

جب ان کی طرف رسول آیا اور اس نے ابلاغ رسول کیا اور کچھ لوگوں نے حق کو قبول کرلیا اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کرلیا اور ایک ایک گروہ مخالفت اور تکذیب کے لئے اٹھ کھڑا ہوا تو خدا ان کے درمیان اپنے عدل سے فیصلہ کرتا ہے او رکسی پر ظلم نہیں ہوگا “ مومن اور نیک لوگ باقی رہ جاتے ہیں اور برے اور مخالفت یا تو نابود ہو جاتے ہیں او ریا پھر شکست سے دو چار ہو تے ہیں( فَإِذَا جَاءَ رَسُولُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لاَیُظْلَمُونَ ) ۔

اسی طرح پیغمبر اسلام اور ان کے معاصر امت کے ساتھ ہوا کہ ان کی دعوت کے مخالف یا تو جنگوں میں ختم ہوگئے اور یا آخر کار شکست کھا کر معاشر ے سے مسترد ہو گئے اور مومنین نے امور کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی ۔

لہٰذا جس فیصلے کی طرف آیت میں اشارہ ہوا ہے یہ وہی تکوینی قضاوت اور فیصلہ ہے جو اسی دنیا میں جاری ہوا ہے ۔ باقی رہا یہ جو بعض نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ روز قیامت خدا کے فیصلے کی طرف اشارہ ہے ، خلافِ ظاہر ہے ۔


آیات ۴۸،۴۹،۵۰،۵۱،۵۲

۴۸ ۔( وَیَقُولُونَ مَتَی هَذَا الْوَعْدُ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ ) ۔

۴۹ ۔( قُلْ لاَاٴَمْلِکُ لِنَفْسِی ضَرًّا وَلاَنَفْعًا إِلاَّ مَا شَاءَ اللهُ لِکُلِّ اٴُمَّةٍ اٴَجَلٌ إِذَا جَاءَ اٴَجَلُهُمْ فَلاَیَسْتَاٴْخِرُونَ سَاعَةً وَلاَیَسْتَقْدِمُونَ ) ۔

۵۰ ۔( قُلْ اٴَرَاٴَیْتُمْ إِنْ اٴَتَاکُمْ عَذَابُهُ بَیَاتًا اٴَوْ نهَارًا مَاذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُونَ ) ۔

۵۱ ۔( اٴَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ آمَنْتُمْ بِهِ اٴَالْآنَ وَقَدْ کُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ ) ۔

۵۲ ۔( ثُمَّ قِیلَ لِلَّذِینَ ظَلَمُوا ذُوقُوا عَذَابَ الْخُلْدِهَلْ تُجْزَوْنَ إِلاَّ بِمَا کُنْتُمْ تَکْسِبُونَ ) ۔

ترجمہ

۴۸ ۔ وہ کتے ہیں یہ جو ( سزا کا ) وعدہ ہے ، اگر سچ کہتے ہو تو کب اس پر عمل ہو گا ۔

۴۹ ۔ کہہ دو میں اپنے لئے نقصان او رنفع کا مالک نہیں ہو ں ( چہ جائیکہ تمہارے لئے ) مگروہ جو خدا چاہے ۔ ہر قوم و ملت کےلئے ایک اجل او رانجام ہے جب ان کی اجل آجاتی ہے ( اور ان کی سزا یا موت کا حکم صادر ہو جائے ) تو نہ ایک ھگڑی تاخیر کرتے ہیں اور نہ ہی ایک گھڑی آگے ہوتے ہیں ۔

۵۰ ۔ کہہ دو کہ اگر اس کی سز رات کے وقت یا دن کو تمہیں آپہنچے ( تو کیا تم اسے دور کرسکتے ہو) پس مجرمین کس بناء پر جلدی کرتے ہیں ۔

۵۱ ۔ یا یہ کہ جب واقع ہو گی تو ایمان لے آوگے ( لیکن جا لو کہ تمہیں کہا جائے گا کہ)اب جب کہ پہلے اس کے لئے جلدی کرتے تھے ( اس وقت کیا فائدہ ) ۔

۵۲ ۔ پھر جنہوں نے ظلم کیا ہے ان سے کہاجائے گا:ابدی عذاب چکھو، جو کچھ تم انجام دیتے تھے کیا تمہیں اس کے علاوہ کی سزادی جائے گی ۔

خدائی سزا میرے ہاتھ میں نہیں ہے

منکرین حق کو عذاب اور سزا کی تہدیدوں کے بعد اب ان آیات میں پہلے تو ان کی تکذیب اور تمسخر بھری بات بیان کی گئی ہے : وہ کہتے ہیں کہ عذاب کے بارے میں تم جو وعدہ کرتے ہواگر سچ ہوتو وہ کب ہے ؟( وَیَقُولُونَ مَتَی هَذَا الْوَعْدُ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ ) ۔

یقینا یہ باتیں پیغمبر اسلام کے زمانے کے مشرکین کرتے تھے ۔ کیونکہ بعد والی آیات جس میں پیغمبر اکرم کا جواب موجود ہے اس امر پر شاہد ہے ۔

بہر حال اس طرح سے وہ پیغمبر کی تہدوں کے بارے میں اپنی اعتنائی کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے اور جو افراد ان تہدیدوں کی وجہ سے متزلزل ہو گئے تھے ان کے قوت قلب اور سکون ِ فکر کا سامان کرنا چاہتے تھے ۔ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ پیغمبر اکرم کو حکم دیتا ہے کہ انھیں چند طریقوں سے جواب دیں ۔

پہلا یہ کہ فرماتا ہے :ان سے کہہ دو کہ ان کام کا وقت اور وعدہ گاہ میرے اختیار میں نہیں ہے ۔ میں اپنے لئے نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں ، چہ جائیکہ تمہارے لئے ، مگر جو کچھ خدا چاہے ۔ اور جو وہ ارادہ کرے( قُلْ لاَاٴَمْلِکُ لِنَفْسِی ضَرًّا وَلاَنَفْعًا إِلاَّ مَا شَاءَ اللهُ ) ۔میں تو صرف اس کا بھیجا ہوا اور پیغمبرہوں نزول عذاب کے لئے وعدہ گاہ کا وقت کا تعین اسی کے ہاتھ میں ہے ۔ جب میں اپنے بارے میں نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں تو تمہارے بارے میں بدرجہ اولیٰ نہیں ہو ں گا ۔

یہاں در حقیقت توحید افعالی کی طرف اشارہ ہے ۔ یعنی اس عالم میں تمام چیزوں کی باز گشت خدا کی طرف ہے ۔ ہر کام اسی کی طرف سے ہے کہ جو اپنی حکمت سے مومنین کو کامیابی عطا کرتا ہے او روہی ہے جو منحرفین کو اپنے عدل سے سزا دیتا ہے ْ

واضح ہے کہ یہ اس بات کے منافی نہیں کہ اللہ نے ہمیں قدرت و طاقت دی ہے کہ جس کے ذریعے ہم اپنے بعض منافع اور نقصا نات کے مالک ہیں اور اپنی سر نوشت کے بارے میں ہم ارادہ کرسکتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں یہ آیت مالکیت بالذات کی نفی کرتی ہے نہ کہ مالکیت بالغیر کی اور ”الا ماشاء الله “ اس کے لئے واضح قرینہ ہے ۔

یہاں سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس آیت سے جو بعض متعصب افراد مثلاً مولف المنار نے پیغمبر سے توسل کے جواز کی نفی کا مطلب لیا ہے وہ بالکل بے بنیاد ہے کیونکہ اگر توسل سے مراد یہ ہو کہ ہم پیغمبر اکرم کو بالذات صاحبِ قدرت اور مالک ِ سود و زیاں سمجھیں تو مسلم ہے کہ یہ شرک ہے او رکوئی مسلمان یہ عقیدہ نہیں رکھ سکتا او راگر یہ مالکیت خد اکی طرف سے ہو اور ”الاّ ماشاء الله “ کے مفہوم کے مطابق ہو تو اس میں کوئی مانع نہیں ہے اور یہ عین ایمان و توحید ہے ۔ مذکورہ مولف نے اس نکتے سے غفلت کی وجہ سے طویل بحثوں سے اپنا او راپنے قارئیں کا وقت جائع کیا ہے ۔ افسوس سے کہنا پڑ تا ہے کہ اس کی تفسیر تمام تر خصوصیات کے باوجود اس میں اشتباہات بہت زیادہ ہیں ۔ جن کا سر چشمہ تعصب کو سمجھا جا سکتا ہے ۔

دوسرا یہ کہ فرماتا ہے : ہر قوم او رجمیعت کے لئے ایک معین زمانہ او راجل ہے جن ان کی اجل آجاتی ہے تو وہ اس میں نہ ایک گھڑی تاخیر کرسکتے ہیں نہ گھڑی بھر کے لئے آگے بڑھ سکتے ہیں( لِکُلِّ اٴُمَّةٍ اٴَجَلٌ إِذَا جَاءَ اٴَجَلُهُمْ فَلاَیَسْتَاٴْخِرُونَ سَاعَةً وَلاَیَسْتَقْدِمُونَ ) ۔

دوسرے لفظوں میں کوئی قو م وم ملت جب راہ حق سے منحرف ہو تو اپنے اعمال کے نتیجے میں خدا کی سزا سے محفوظ نہیں رہ سکتی ۔ جب لوگ ایسے راستوں پر چل پڑیں اور آفرینش کے قطعی قوانین سے انحراف کریں تو اپنے مسائل کھو بیٹھتے ہیں اور آخر کار قعر مذلت میں جا گر تے ہیں تاریخ ِ عالم ایسے لوگوں کی مثالوں میں بھری پڑی ہے ۔

مشرکین جو عذاب الہٰی کے آنے میں تعجیل کا تقاضا کرتے تھے ، درحقیقت انھیں خبر داری کرتا ہے کہ وہ بلا وجہ جلدی نہ کریں ، جب وقت آئے گاتو اس عذاب میں لمحہ بھر کی تاخیر و تقدیم نہیں ہو گی ۔

ضمنی طور پر متوجہ رہنا چاہئیے کہ لفظ ” ساعت “ کبھی لحظہ اور لمحہ کے لئے آتا ہے او رکبھی زمانے کی تھوڑی سی مدت کے لئے آتا ہے اگر چہ آج کل رات دن کے چوبیسویں حصہ ( ایک گھنٹہ ) کو ” ساعت“ کہتے ہیں ۔

تیسرا جواب اگلی آیت میں پیش کرتے ہوئے کہتا ہے : ان سے کہہ دو کہ اگر رات یا دن کے وقت پر وردگار کا عذاب تم پر آجائے تو یہ کوئی غیر ممکن بات نہیں ہے ، کیا تم اس ناگہانی عذاب کو دو کرسکتے ہو ۔( قُلْ اٴَرَاٴَیْتُمْ إِنْ اٴَتَاکُمْ عَذَابُهُ بَیَاتًا اٴَوْ نهَارًا ) ۔

ان حالات میں مجرم اور گنہ گار آکر کیوں جلدی کرتے ہیں( مَاذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُونَ ) ۔(۱)

بعض نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ ”ماذا یستعجل “ جزائے شرط ہے ، بہت بعید ہے ۔ ( غر کیجئے گا ) ۔

دوسرے لفظوں میں ان جسور مجرموں کو انزولِ عذاب کا یقین ہے تو کم از کم اس کا احتمال تو انھیں ہے ہی کہ اچانک عذاب ان کے پیچھے آجائے ۔ ان کے پاس اس کے لئے کیا بندو سبت ، ضمانت اور دلیل ہے کہ پیغمبر کی تہدید یں بالکل وقوعپذیر نہیں ہوں گی۔ عقل مند انسان کو ایسے احتمال ِ ضرر کی صورت میں بھی کچھ نہ کچھ احتیاط کرنا چاہیئے اور اس سر ڈرنا چاہئیے ۔

ایسا ہی مفہوم دیگر تعبیرات کی صورت میں قرآن کی سدوسری آیات میں میں موجودہے : مثلاً:افامنهم ان یخسف بکم جانب البر او یرسل علیکم حاصباً ثم لا تجدو ا لکم وکیلاً ۔

کیاتم اس سے مامون ہو کہ خدا تمہیں زمین کے کسی حصہ میں اندر سمادے ( یعنی تم زمین میں دھنس جاو) یا تم پر آسمان سے سنگریزے برسائے اور پھر تم اپنے لئے کوئی نگہبان نہ پاو۔ ( بنی اسرائیل ۶۸)

یہ وہی چیز ہے جسے علم کلام اور علم اصول میں ”لزوم دفع ضرر محتمل “ کہاجاتا ہے ۔

چوتھا جواب اس سے بعد والی آیت میں دیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے : اگر تم گمان کرتے ہو کہ نزول عذاب کے وقت ایمان لاوگے تمہارا ایمان قبول کر لیا جائے گا تو یہ خیال باطل ہے( اٴَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ آمَنْتُمْ بِهِ ) ۔ کیونکہ نزول عذاب کے بعد توبہ کے در وازے تم پر بند ہو جائےں گے اور پھر ایمان لانے کا ذرہ بھر اثر بھی نہ ہوگا ۔ بلکہ ” تم سے کہا جائے گا کہ اب ایمان لارہے ہو جب کہ پہلے تم تمسخر اور تکذیب کرتے ہوئے عذاب کے لئے تعجیل کرتے تھے( اٴَالْآنَ وَقَدْ کُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ ) ۔

یہ ان کی دنیاوی سزا ہے ” پھر روز قیامت جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ، ان سے کہا جائے گا ابدی اور ہمیشہ کا عذاب چکھو“( ثُمَّ قِیلَ لِلَّذِینَ ظَلَمُوا ذُوقُوا عَذَابَ الْخُلْدِ ) ۔

کیا جو کچھ تم نے انجام دیا ہے تمہیں اس کے سوا سزا دی جائے گی( هَلْ تُجْزَوْنَ إِلاَّ بِمَا کُنْتُمْ تَکْسِبُونَ ) ۔

یہ در حقیقت تمہارے ہی اعمال ہیں جو تمہیں دامن گیر ہوئے ہیں ، وہی تمہارے سامنے مجسم ہو ئے ہیں اور وہی تمہیں ہمیشہ تکلیف و آزار پہنچاتے ہیں ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ قرآنی آیت سے غلط استدلال :

جیساکہ سورہ اعراف کی آیہ ۳۴ کے ذیل میں ہم نے کہا ہے کہ ہمارے زمانے کے بعض دین ساز لوگوں نے ”لکل امة اجل “ جیسی آیات سے جو قرآن میں دو مرتبہ آئی ہے ، پیغمبر اسلام کی خاتمیت کی نفی کے لئے استدلال کیا ہے اور یہ نتیجہ نکلا ہے کہ ہر دین و مذہب آخر کار ختم ہو جاتا ہے او راپنی جگہ دوسرے کو دے دیتا ہے حالانکہ لفظ ” امت “ گروہ اور جماعت کے معنی میں ہے نہ کہ مذہب کے معنی میں خصوصاً ایک مذہب کے پیرو کار ۔

ان آیات کا مقصد یہ ہے کہ قانون ِ موت و حیات افراد سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ملتوں اور گروہوں پر بھی یہ قانون حاوی ہے ، اور جب وہ ظلم و گناہ اختیار کریں گے تو ختم ہو جائیں گے ، خصوصاً زیر بحث آیت سے پہلے اور بعد کی آیات کی طرف توجہ سے یہ حقیقت واضح پر ثابت ہ وجاتی ہے کہ یہاں کسی مذہب کے منسوخ ہونے سے متعلق گفتگو نہیں ہے بلکہ نزول عذاب اور ایک گروہ و ملت کے نابود اور ختم ہو جانے کے بارے میں ہے کیونکہ قبل و بعد کی دونوں آیات دنیاوی عذاب اور سزا کے بارے میں بات کررہی ہیں ۔

۲ ۔ دنیا میں مسلمانوں کے لئے سزا :

مندرجہ بالا آیات کی طرف توجہ کرنے سے یہ سوال پید اہوتا ہے کہ کیا مسلمانوں کے معاشرے بھی اس دنیامیں سزا و عذاب میں گرفتار ہو ں گے ؟

اس سوال کا جواب ہاں میں ہے کیونکہ ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ امت دنیا وی عذاب سے مستثنیٰ ہے بلکہ یہ قانون تمام امتوں اور ملتوں کے بارے میں ہے اور جو ہم نے بعض آیا ِ قرآن ( مثلاً انفال ۳۳) میں پڑھا ہے کہ خدا اس امت کو سز انہیں دے گا وہ دو میں سے ایک شرط کے ساتھ مشروط ہے پہلی پیغمبر اکرم کا امت میں موجود ہونا اور دوسری استغفار اور گناہ سے توبہ کرنا ۔ لہٰذا یہ فرمان غیرمشروط ہے ۔

۳ ۔ نزول اعذاب کے وقت توبہ قبول نہیں ہوتی :

مندرجہ باآیات دو بارہ اس حقیقت کو تاکید کرتی ہیں کہ نزول ِ عذاب کے وقت توبہ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں او ر عذاب کے وقت کی پشیمانی بے فائدہ ہے ۔ اس کی دلیل بھی واضح ہے اور وہ یہ کہ اس حالت میں توبہ اجباری اور اضطراری صورت میں ہوگی اور ایسی توبہ کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہوتی ۔

____________________

۱-جو کچھ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ زیر نظر قضیہ شرطیہ پر مشتمل ہے جس کی شرط ذکر ہوئی ہے اور جزا مقدر ہے ، او ر” ماذا یستعجل منہ المجرمون “ ایک مستقل جملہ ہے ۔ آیت کی تقدیر اسی طرح ہے : (اٴَرَاٴَیْتُمْ إِنْ اٴَتَاکُمْ عَذَابُهُ بَیَاتًا اٴَوْ نهَارًا کنتم تقدرون علی دفعه او تعدونه امرا محالا فاذا کان الامر کذٰلک ماذا یستعجل منه المجرمون ) ۔ یعنی کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر تم رات یا دن کے وقت عذاب آجائے تو تم اسے روکنے کی قدرت رکھتے ہو یا اسے امر محال سمجھتے ہو۔ جب معاملہ ایسا ہے تو پھر مجرمین آخر کس طرح اس کی تعجیل چاہتے ہیں ۔


آیات ۵۳،۵۴،۵۵،۵۶

۵۳ ۔( وَیَسْتَنْبِئُونَکَ اٴَحَقّ هُوَ قُلْ إِی وَرَبِّی إِنَّهُ لَحَقٌّ وَمَا اٴَنْتُمْ بِمُعْجِزِینَ ) ۔

۵۴ ۔( وَلَوْ اٴَنَّ لِکُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاٴَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهِ وَاٴَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاٴَوْا الْعَذَابَ وَقُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لاَیُظْلَمُونَ ) ۔

۵۵ ۔( اٴَلاَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ اٴَلاَإِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَهُمْ لاَیَعْلَمُونَ ) ۔

۵۶ ۔( هُوَ یُحْیِ وَیُمِیتُ وَإِلَیْهِ تُرْجَعُونَ ) ۔

ترجمہ

۵۳ ۔ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا وہ ( خدائی سزا والا وعدہ ) حق ہے ؟ کہہ دو خدا کی قسم یقینا حق ہے اور تم اس سے بچ نہیں سکتے ۔

۵۴ ۔ اور جس نے ظلم کیا ہے اگر وہ تمام کچھ جو روئے پر ہے اس کے اختیار میں ہو تو وہ ( سب کچھ عذاب کے خوف سے ) اپنی نجات کے لئے دے گا اور جب عذاب کے دیکھے گا تو (پشیمان ہو گا لیکن ) اپنی پشیمانی کو چھپائے گا ( کہ کہیں زیادہ سوار نہ ہو ) اور ان کے درمیان عدل سے فیصلہ ہو گا او ران پر ظلم و ستم نہیں ہوگا ۔

۵۵ ۔ آگاہ ہو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ خدا کا ہے ۔ آگاہ رہو کہ خد اکا وعدہ حق ہے ۔

۵۶ ۔ وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جاو گے ۔

خدائی سزا میں شک نہ کرو

گزشتہ آیا ت میں مجرمیں کے لئے اس جہان میں اور آرت میں سزا اور عذاب کے بارے میں گفتگو تھی ۔ زیر نظر آیات میں یہی بحث جاری ہے ۔

پہلے ارشاد ہوتا ہے : مجرمین اور مشر کین تجھ سے تعجب سے سوال کرتے ہیں کہ کیا اس جہان میں اور دوسرے جہان میں خدائی سزا والا وعدہ حق ہے

( وَیَسْتَنْبِئُونَکَ اٴَحَقّ هُوَ ) ۔

یاد رہے کہ یہاں ” حق “ ” باطل “ کے مقابلے میں نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ کیا یہ سزا او رکیفر کردار واقعیت رکھتا ہے اور متحقق ہوگا ؟ کیونکہ ”حق “ اور تحقیق“دونوں ایک ہی مادہ سے ہیں البتہ اگر یہاں وہ ” حق “مراد لیا جائے جو ” باطل “ کے مقابلے میں ہے تو پھر اس کا ایک وسیع معنی ہوگا اور یہ ہر موجود کی حقیقت پر محیط ہو گا اور اس نقطہ مقابل معدوم اور باطل ہو گا ۔

خدا تعالیٰ اپنے پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ اس سوال کا جواب میں بڑی تاکید سے کہہ دو : مجھے اپنے پروردگار کی قسم ! یہ حقیقت ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے( قُلْ إِی وَرَبِّی إِنَّهُ لَحَقٌّ ) ۔

اور اگر تمہارا خیال یہ ہے کہ تم خدائی سزا کی گرفت سے بھاگ سکتے ہوئے تو تم نے بہت بڑا اشتباہ کیا ہے کیونکہ ” تم ہر گز اس سے نہیں بچ سکتے اور نہ ہی اپنی طاقت سے تم اسے عاجز سکتے ہو۔( وَمَا اٴَنْتُمْ بِمُعْجِزِینَ ) ۔

درحقیقت یہ جملہ مندرجہ بالا جملے کے ساتھ مقتضی اور مانع کے بیان کے قبیل میں سے ہے ۔ پہلے جملے میں فرمایا گیا ہے ، کہ مجرمین کی سزا ایک حقیقت ہے اور دوسرے جمل؛ے میں مزید کہا گیا ہے کہ کوئی طاقت اس سے بچا نہیں سکتی ۔ سورہ طور کی آیت ۷ ۔ ۸ ،میں بالکل اسی طرح ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے :۔( ان عذاب ربک لواقع ماله من دافع ) ۔

یقیناس تیرے رب ک اعذاب واقع ہو کر رہے گا او رکوئی اس سے بچا نے والا نہیں ہے

زیر بحث آیت میں جو تاکید یں دکھائی دیتی ہیں وہ قابل توجہ ہیں ۔ ایک طرف قسم کھا کر بات کی گئی ہے دوسری ”انّ“ اور لام تاکید ہے اور تیسری طرف ”وماانتم بمعجزین“کا جملہ یہ سب اس امر پر تاکید ہیں کہ سنگین جرائم کے ارتکاب پر خدائی سزا حتمی ہے ۔

بعد والی آیت میں اس سزا کے عظیم ہونے خصوصاً قیامت میں اس کے بڑے ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : عذابِ الٰہی اس طرح سے وحشت ناک اور ہول انگیز ہے کہ ظالموں میں سے ہ رایک زمین کی تمام تر ثروت کا مالک ہوتو وہ تیار ہو گا کہ سب کچھ دے تاکہ اس عذاب اور سزا سے رہائی پالے

( وَلَوْ اٴَنَّ لِکُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاٴَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهِ ) ۔(۱)

در حقیقت وہ عذاب الٰہی سے بچنے کے لئے بڑی بڑی رشوت دینے کو تیار ہیں لیکن ان سے کچھ بھی قبول نہیں کیا جائے گا اور سوئی کی نوک کے برابر بھی ان کی سزا میں کمی نہیں کی جائے گی ۔

خصوصاً ان میں سے بعض سزائیں تو معنوی پہلو رکھتی ہیں اور وہ یہ کہ وہ عذاب الہٰی کے مشاہدے پر پشیمان ہوتے ہیں لیکن دوسرے مجرموں یا اپنے پیروکاروں کے سامنے زیادہ رسوائی سے بچنے کے لئے اظہار ندامت نہیں کرتے( وَاٴَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاٴَوْا الْعَذَابَ ) ۔

اس کے بعد تاکیداً کہا گیا ہے کہ ان تمام چیزوں کے باوجود ان کے درمیان عمل سے فیصلہ ہو گا اور ان کے بارے میں ظلم نہیں ہو گا( وَقُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لاَیُظْلَمُونَ ) ۔

یہ جملہ قرآنی روش کے مطابق تمام مقامات پر سزا میں عدالت کے سلسلے میں تاکید ہے کیونکہ گزشتہ آیت میں سزا کے بارے میں موجود تاکیدوں سے غافل لوگ یہ وہم کرتے کہ یہاں انتقام جوئی کا جذبہ کار فرما ہے لہٰذا قرآن پہلے کہتا ہے کہ ان کے درمیان عدل سے فیصلہ ہو گا اور پھر تاکید کے طور پر کہتا ہے کہ ان پر ظلم نہیں ہوگا ۔

اس کے بعد اس بناء پر کہ کہیں لوگ اللہ کے اس وعدہ اور و عید کو مذاق نہ سمجھیں اور یہ خیال نہ کریں کہ خدا اسے انجام دینے سے قاصر ہے ، قرآن مزید کہتا ہے : آگاہ رہوجو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ خدا کامال ہے اور اس کی مالکیت و حکومت تمام جہان ِ ہستی پر محیط ہے اور کوئی اس کی سلطنت سر باہر نہیں جاسکتا( اٴَلاَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ ) ۔

نیز اگاہ رہو کہ مجرمین کی سزاکے بارے میں خد اکا وعدہ حق ہے اگر چہ بہت سے لوگ جن کے نفس پر جہالت نے اپنا منحوس سایہ ڈال دیا ہے اس حقیقت کو نہیں جانتے( اٴَلاَإِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَهُمْ لاَیَعْلَمُونَ ) ۔

زیر نظر آخری آیت بھی اسی مسئلہ حیات کے بارے میں مزید تاکید ہے ، ارشاد ہوتا ہے : خدا ہے کہ جو زندہ کرتا ہے اور وہی ہے جو مارتا ہے( هُوَ یُحْیِ وَیُمِیتُ ) ۔لہٰذا وہ بدنوں کو مارنے اور انھیں قیامت کے عدالت کے لئے زندہ کرنے کی بھی قدرت رکھتا ہے ۔

اور آکر کا تم سب کے سب اس کی طرف پلٹ جاو گے( وَإِلَیْهِ تُرْجَعُونَ ) ۔اور وہاں پھر اپنے اعمال کی جزا اور سزا پاوگے ۔

دو اہم نکات

ایک سوال اور اس کا جواب :

زیربحث آیا ت کے بارے میں ایک سوال کیا جاتا ہے کہ خدائی سزا کے واقعی ہونے کے بارے میں مشرکین کا سوال تمسخر تھا یا حقیقی سوال تھا بعض کہتے ہیں کہ حقیقی سوال شک کی نشانی ہے اور یہ مشرکین کی کیفیت نہ تھی ۔

لیکن بہت سے مشرکین شک اور تردد کی حالت میں تھے اور ان میں ایک گروہ پیغمبر اکرم کی حقانیت کا علم رکھنے کے باوجود ہٹ دھرمی تعصب اور عناد وغیرہ کی وجہ سے مخالفت پر اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔ اس صورت ِ حال کی طرف توجہ کرتے ہوئے واضح ہو جاتا ہے کہ ان کی طرف سے حقیقی سوال کیا جانا کوئی بعید نہیں ہے ۔

۲ ۔ ”ندامت “ کا مفہوم :

”ندامت “ کا مطلب ہے ایسے کام پر پشیمانی جس کے غیر مطلوب آثار واضح ہو چکے ہوں ، چاہے انسان اس کا مداوا کرسکے یا نہ کرسکے ۔ مجرمین کی قیامت مین پشمانی دوسری طرح کی ہے اور اسے پوشیدہ رکھنا اس بناء پر ہے کہ اسے واضح کرنا زیادہ رسوائی کو موجب ہے ۔

____________________

۱-در حقیقت مندر جہ بالا جملے میں یہ عبارت مقدر ہے :من حول القیامة و العذاب ۔


آیات ۵۷،۵۸

۵۷ ۔( یَااٴَیّهَا النَّاسُ قَدْ جَائَتْکُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِی الصُّدُورِ وَهُدًی وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِینَ ) ۔

۵۸ ۔( قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِکَ فَلْیَفْرَحُوا هُوَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُونَ ) ۔

ترجمہ

۵۷ ۔ اے لوگو! تمہارے پر وردگار کی طرف سے تمہارے لئے نصیحت اور موعظہ آیا ہے او رجو کچھ سنیوں میں ہے اس کے لئے باعث شفاہے او رمومنین کے لئے ہدایت اور رحمت ہے ۔

۵۸ ۔ کہہ دو کہ خدا کے فضل اور رحمت سے خوش رہو، کیونکہ جو کچھ انھوں نے جمع کرکھا ہے وہ اس سے بہتر ہے ۔

قرآن خدا کی عظیم رحمت ہے

بعض گزشتہ آیات میں قرآ ن کے بارے میں کچھ مباحث آئی ہیں اور ان میں مشرکین کی مخالفت کا کچھ ذکر آیا ہے ۔ زیر بحث آیات میں بھی اسی مناسبت سے قرآن کے بارے میں گفتگو آئی ہے ۔

پہلے ایک ہمہ گیر عالمی پیغام کے حوالے سے تمام انسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : اے لوگوں تمہارے لئے تمہارے پر ور دگار کی طرف سے وعظ و نصیحت آئی ہے( یَااٴَیّهَا النَّاسُ قَدْ جَائَتْکُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّکُم ) ۔اور ایسا کلام کہ جو تمہارے دلوں کی شفاء کا سبب ہے( وَشِفَاءٌ لِمَا فِی الصُّدُور ) ۔ ایسی چیز کہ جو ہدایت اور راہنمائی کا باعث ہے( وَهُدًی ) اور مومنین کے لئے رحمت ہے( وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِینَ ) ۔

اس آیت میں قرآن کی چار صفات بیان ہو ئی ہیں ، انھیں سمجھنے کے لئے پہلے ان کے لغوی معانی کی طرف رجوع کرنا پڑے گا ” وعظ“ ( اور ”موعظہ“) جیسا کہ مفردات میں آیا ہے ، ایسی نہین کو کہتے ہیں جسمیں تہدید کی آمیزش ہو لیکن ظاہراً ”موعظہ “ کا معنی اس سے وسیع تر ہے جیسا کہ مشہور عرب دانشر خلیل کا قول مفردات ہی میں لکھا ہے کہ ” موعظہ “ نیکیوں کا تذکراور یادہانی ہے جس میں رقت ِ قلب بھی موجود ہو۔

در حقیقت ہرقسم کی پند و نصیحت جو مخالطب پراثر کرے ، اسے برائیوں سے ڈرائے یا اس کے دل کے نیکیوں کی طرف متوجہ کرے اسے ”وعظ “ اور ”موعظہ“کہتے ہیں البتہ اس بات کا یہ مطلب نہیں کہ ہرموعظہ کا اثر ہو نا چاہئیے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ آمادہ دلوں پر اس طرح سے اثر کرے ۔

دلوں کی بیماری سے شفاے کا باعث یا قرآن کی تعبیر میں اس سے شفاء کا سبب جو سینوں میں ہے اس سے مراد معنوی اور روحانی آلودگیوں سے شفاء ہے ۔ مثلاً بخل، کینہ ، حسد، بزدلی ،شرک اورنفاق وغیرہ سے شفاءکہ جو سب کی سب روحانی بیمار یاں ہیں ۔

”ہدایت“ سے مرادہے مقصود کی طرف راستہ مل جانا۔ یعنی انسان کاتکل ، ارتقاء او رپیش رفت تمام مثبت پہلووں کے سلسلے میں ۔

نیز” رحمت“ سے مراد خدا کی بخشی ہو ئی وہ مادی اور معنوی نعمتیں ہیں جو اہل انسانوں کو میسر آتی ہیں جیساکہ مفردات میں ہے کہ ” رحمت “ کی جب خدا کی طرف نسبت دی جائے تو اس کا معنی نعمت بخشنا ہے اور جب انسانوں کی طرف اس کی نسبت ہو تو اس کا مطلب ہے رقت طلبی اور مہربانی ۔

قرآن کے سائے میں انسان کی تربیت اور اس کے تکامل و ارتقاء کو مندرجہ بالا آیات میں در حقیقت چار مراحل میں بیان کیا گیا ہے ۔

دوسرا مرحلہ طرح طرح کے اخلاقی رذائل سے روح ِ پاک انسانی کو پاک کرنا ہے ۔

تیسرامرحلہ ہدایت کا ہے جو پاکسازی کے بعد انجام پاتا ہے اور

چوتھامرحلہ وہ ہے کہ انسان اس لائق ہو جاتا ہے کہ پروردگار کی رحمت و نعمت اس کے شامل حال ہو۔

ان میں سے مرحلہ دوسرے کے بعد آتا ہے اور جاذبِ نظر یہ ہے کہ یہ سب مراحل قرآن کے زیرسایہ انجام پاتے ہیں ۔

قرآن ہے کہ جو انسانوں کو پند و نصیحت کرتا ہے ، قرآن ہے کہ جو گناہ کے زنگ او ربری صفت کو اس کے دل سے دھوتا ہے ۔ قرآن ہے کہ جو انسانوں کے دلوں میں نور ہدایت کی روشنی کرتا ہے ، اور قرآن ہی ہے جو فر اور معاشرے پر خدائی نعمتوں کے نزول کا باعث ہے ۔

نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام نے اپنی جامع گفتگو میں نہایت خوبصورت انداز میں اس حقیقت کی وضاحت فرمائی ہے ، آپعليه‌السلام فرماتے ہیں :

فاستشفعوه من ادوائکم و استعینوا به علی لاوائکم فان فیه شفاء من اکبر الداء وهو الکفر و النفاق و الغی و ضلال ۔

قرآن سے اپنی بیماریوں کی شفاء طلب کرو اور اپنی مشکلات کے حل کے لئے اس سے مدد طلب کرو کیونکہ قرآن میں سب بڑی بیماری یعنی کفر، نفاق گمراہی کی شفاء ہے ۔ ( نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶) ۔

یہ چیز بتاتی ہے کہ قرآن ایک ایسا نسخہ ہے جو فرد اور معاشرے کی مختلف اخلاقی اور اجتماعی بیماریوں کے علاج کے لئے کار گر ہے اور یہ وہ حقیقت ہے ، جس مسلمان بھلا چکے ہیں اور بجائے اس کے کہ وہ اس شفاء بخش دواسے فائدہ اٹھائیں ، اپنا علاج دوسرے مکاتب میں تلاش کرتے پھرتے ہیں اور انھوں نے اس عظیم آسمانی کتاب کو فقط پڑھنے کے لئے رکھ چھوڑا ہے اور یہ نہیں کہ وہ اس میں غور و فکر کریں اور اس پر عمل کریں ۔

اگلی آیت میں بحث کی تکمیل کے لئے اور اس عظیم خدائی نعمت یعنی قرآن مجید کہ جو ہر نعمت سے برتر ہے کے بارے میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اے پیغ،بر! کہہ دو کہ لوگ پر وردگار کے فضل اور اس کی بے پایاں رحمت پر اور اس عظیم آسمانی کتاب کے نزول پر خوش ہ وجائیں کہ جو تمام نعمتوں کی جامع ہے ۔ نہ کہ دولت کے انباروں پر ، بڑے مقام و منصب پر اور قوم و قبیلہ کی کثرت پر( قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِکَ فَلْیَفْرَحُوا ) ۔ کیونکہ یہ سرمایہ ان تمام چیزوں سے بہتر اور بالا ترہے کہ جو انھوں نے جمع کر رکھی ہے ۔ ان میں سے کوئی بھی اس سے موازنہ کے قابل نہیں ہے( هُوَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُونَ ) ۔

دو قابل توجہ نکات

۱ ۔ کیا دل احساسات کا مر کز ہے ؟

زیر بحث پہلی آیت اور اس قسم کی بعض دیگر قرآنی آیات کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اخلاقی بیماریوں کا مرکز دل ہے ۔ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ ابتداء میں یہ اعتراض پیدا ہوتا کہ ہم جانتے ہیں کہ تمام اخلاقی اوصاف او ر فکری و جذباتی مسائل کا تعلق روح ِ انسانی سے ہے اور دل تو صرف ایک خود کا رپمپ کے طور پر خو ن کی نقل و انتقال اور بدن کے سالموں کی آبیاری اور انھیں غذا پہنچانے کا کام کرتا ہے ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ حق یہی ہے کہ دل صرف جسم انسانی کو منظم رکھنے پر مامور ہے اور نفسیاتی مسائل کا تعلق روح سے ہے لیکن ایک دقیق نکتہ موجود ہے کہ جس کی طرف توجہ کرنے سے قرآن کی اس تعبیر کا مقصد واضح ہو جائے گا اور وہ یہ کہ جسم انسانی میں مرکز موجود ہیں کہ جن میں سے ہر ایک انسان کے نفسانی اعمال کا مظہر ہے یعنی ان دومراکز میں سے ہر ایک نفسانی فعل اور انفعال پر فوراً ردّ عمل کا مظاہرہ کرتا ہے ۔ ان میں سے ایک دماغ پر ہوتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں دماغ روح کو فکری مسائل میں مدد دینے کے لئے ایک آلہ ہے ۔اسی لئے غور و فکر کرتے وقت خون دماغ میں تیزی سے حرکت کرتا ہے ، دماغ کے لئے سالمے ( Molecules )زیادہ فعل و انفعال کرتے ہیں ، زیادہ غذا جذب کرتے ہیں اور زیادہ لہریں بھیجتے ہیں ۔ مگر جب معاملہ جذبات سے متعلق ہو، مثلاً عشق و محبت ، عزم غصہ ، کینہ ، حسد اور در گزر وغیرہ تو انسان کے دل میں عجیب طرح کی فعالیت پیدا ہو جاتی ہے ، بعض اوقات دل کی دھڑکن بڑی تیزی ہوجاتی ہے اور کبھی حرکت قلب اتینی کمزور پڑجاتی ہے کہ گویا اب دل کام کرنا چھوڑ دے گا ، گاہے ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہمارا دل پھٹنے لگا ہے ۔ یہ سب کچھ اس نزدیکی تعلق کی بناء پر ہے جو دل اور ان نفسیاتی معاملات کے مابین ہے ۔

اسی بناء پر قرآن مجید ایمان کی نسبت دل کی طرف دیتا ہے ۔( ولما یدخل الایمان فی قلوبکم )

اور تمہارے دلوں میں ایمان ہر گز داخل نہ ہوگا ۔ ( حجرات ۱۴)

اسی طرح جہالت ، ہٹ دھرمی اور حق کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کو دل کے اندھے پن سے تعبیر کیا گیا ہے :

( ولٰکن تعمی القلوب التی فی الصدور )

اور لیکن وہ دل جو سینوں میں ہیں ، اندھے ہیں ۔ (حج ۴۶)

یہ بات کہے بغیر نہیں نہ رہ جائے کہ انسان ہمیشہ ، کینہ یا حسد وغیرہ کے وقت ایک خاص اثر اپنے دل میں محسوس کرتا ہے یعنی ان فسیاتی مسائل کے شعلے تپش جسم انسانی میں سب سے پہلے دل میں محسوس ہوتی ہے ۔

البتہ ان تمام باتوں کے علاوہ پہلے بھی اشارہ کیا جا چکاہے کہ ” قلب “ کے معانی میں سے ایک معنی انسانی عقل اور روح کے بھی ہے ۔ لہٰذا اس کا معنی اسی عضو کے ساتھ مخصوص نہیں جو سینے کے اندر ہے اور یہ امر آیات قلب کے لئے خود ایک تفسیر ہے ۔ لیکن تمام آیات ِ قلب کے لئے نہیں بلکہ بعض آیات میں تصریح کی گئی ہے کہ وہ دل جو سینوں میں ہیں ۔ ( غور کیجئے گا )

۲ ۔ ”فضل “ اور ” رحمت “ میں کیا فرق ہے ؟ :

زیر بحث دوسری آیت میں ”فضل“ اور ” رحمت “ کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں میں کیا فرق ہے ؟ اس سلسلے میں مفسرین میں بہت اختلاف ہے ۔

الف: بعض نے فضل الہٰی کو ظاہری نعمتوں کی طر ف اور رحمت کو باطنی نعمتوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ایک نعمت ِ مادی کی طرف اشارہ ہے اور دوسرا لفظ نعمت ِ معنوی کی طرف ( اور بار ہا قرآنی آیات میں ” و ابتغوا من فضلہ“ یا ” لتبتغوا من فضلہ “ تحصیل روزی اور مادی نعمتوں کے لئے آیا ہے ) ۔

ب: کچھ مفسرین نے کہا ہے کہ فضل الہٰی نعمت کا آغاز ہے اور اس کی رحمت نعمت کا دوام ہے ( البتہ اس طرف توجہ کرتے ہوئے فضل نعمت بخشنے کے معنی میں ہے اور اس کے بعد رحمت کے ذکر میں کسی چیز کا اضافہ ہو نا چاہئیے یہ تفسیر قابل فہم ہے ) ۔

یہ جو متعدد روایات میں ہے کہ کہ فضل الہٰی سے مراد جو پیغمبر اور نعمت نبوت ہے اور رحمت پر وردگار سے مراد وجدِ علی اور نعمت ولایت ہے ، شاید اسی تفسیر کی طرف اشارہ ہو کیونکہ رسول اللہ سر آغاز اسلام ہیں ، علیعليه‌السلام کی بقاء اور حیات ِ دوام کا سبب ہیں (ایک علت محدثہ اور ایجاد کنندہ ہیں اور دوسرے علت مبقیہ اور بقائے دینے والے ہیں ) ۔ ۱

ج: یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ” فضل “ پر وردگار کی اس نعمت کی طرف اشارہ ہے جو دوست و دشمن کے لئے عام ہے اور گزشتہ آیت میں ”للموٴمنین ‘ ‘ کی طرف توجہ کرتے ہوئے ” رحمت“ اس کی مخصوص رحمت کی طرف اشارہ ہے جو باایمان افراد سے مختص ہے ۔

د: ایک اور تفسیر جو ان دونوں الفاظ کے لئے ذکر ہوئی ہے یہ ہے کہ پر وردگار کا فضل ایمان کی طرف اشارہ ہے اور رحمت قرآن کی طرف کہ جس کے بارے میں اس سے پہلے کی آیت میں گفتگو ہو ئی ہے ۔

ان میں سے زیادہ تر معانی آپس میں تضاد نہیں رکھتے اور ہوسکتا ہے یہ سب مفاہیم فضل اور رحمت کے ایک جامع معنی میں جمع ہوں ۔

____________________

۱۔ ان روایات سے آگاہی کے لئے تفسیر نور الثقلین ج۲ ص ۳۰۷ اور ص ۳۰۸ کی طرف رجوع کریں ۔


آیات ۵۹،۶۰،۶۱

۵۹ ۔( قُلْ اٴَرَاٴَیْتُمْ مَا اٴَنْزَلَ اللهُ لَکُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ اٴَاللهُ اٴَذِنَ لَکُمْ اٴَمْ عَلَی اللهِ تَفْتَرُونَ ) ۔

۶۰ ۔( وَمَا ظَنُّ الَّذِینَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللهِ الْکَذِبَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ إِنَّ اللهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَهُمْ لاَیَشْکُرُونَ ) ۔

۶۱ ۔( وَمَا تَکُونُ فِی شَاٴْنٍ وَمَا تَتْلُوا مِنْهُ مِنْ قُرْآنٍ وَلاَتَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلاَّ کُنَّا عَلَیْکُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِیضُونَ فِیهِ وَمَا یَعْزُبُ عَنْ رَبِّکَ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاٴَرْضِ وَلاَفِی السَّمَاءِ وَلاَاٴَصْغَرَ مِنْ ذَلِکَ وَلاَاٴَکْبَرَ إِلاَّ فِی کِتَابٍ مُبِینٍ ) ۔

ترجمہ

۵۹ ۔ کہہ دو: کیاوہ رزق کو خدائے نے تم پر نازل کیا ہے تم نے اسے دیکھا ہے کہ اس میں سے کچھ تم نے حلال قرار دے دیا ہے اور کچھ کو حرام ۔ کہہ دو : کیا تمہیں خدا نے اجازت دی ہے یا خدا پر افتراء باندھتے ہو( اور اپنی طرف سے کسی کو حلال قرار دیتے ہو او رکسی کو حرام ) ۔

۶۰ ۔ جو خد اپر افتراء باندھتے ہیں وہ روز قیامت ( کی سزا ) کے بارے میں کیا سوچتے ہیں ۔ خدا سب لوگوں کےلئے فضل (اوربخشش) کرنے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر گزاری نہیں کرتے ۔

۶۱ ۔ تم کسی حالت ( اور فکر ) میں نہیں ہوتے، نہ قرآن کے کسی حصے کی تلاوت کرتے ہواور نہ ہی تم کوئی عمل انجام دیتے ہو مگر یہ کہ جب تم ان میں وارد ہوتے ہو ہم تم پر نگران ہوتے ہیں اور زمین و آسمان میں کوئی چیز تیرے پر وردگار سے مخفی نہیں رہتی ذرہ برابر اور نہ اس سے کم و بیش ۔ مگر یہ کہ وہ سب کچھ واضح کتاب ( اور علم خدا کی لوحِ محفوظ ) میں ثبت ہے ۔

خد اہر جگہ ناظر ہے

گزشتہ آیات میں اور قرآن میں خدا کے وعظ و نصیحت اور ہدایت و رحمت کے بارے میں گفتگو تھی ۔ زیر بحث آیات میں اسی مناسبت سے مشرکین کے گھڑے ہوئے قوانین اور جھوٹے احکام کے بارے میں بات کی گئی ہے کیونکہ جو شخص خدا پر ایمان رکھتا ہے اور جانتا ہے کہ تمام نعمات اور رزق اس کی طرف سے ہے اسے چاہئیے کہ وہ یہ حقیقت بھی قبول کرے کہ ان نعمات کے بارے میں حکم دینا اور ان کے بارے میں حلال و حرام کا تعین خدا کے ہاتھ میں ہے اور اس کے اذن اور حکم کے بغیر اس کام میں دخل اندازی صحیح نہیں ہے ۔

زیر نظر پہلی آیت میں روئے سخن پیغمبر اکرم کی طرف ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : ان سے کہہ دو کہ خد انے جو رزق تمہارے لئے نازل کیا ہے اس میں سے کیوں کچھ کو حرام قرار دیتے ہو او رکچھ کو حلال( قُلْ اٴَرَاٴَیْتُمْ مَا اٴَنْزَلَ اللهُ لَکُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا ) ۔اپنی بے ہودہ رسوم کے مطابق کچھ چوپایوں کو سائبہ ، کچھ کو بحیرہ اور کچھ کو وصیلہ(۱)

کہتے ہو اسی طرح تم نے اپنی کھیتی باڑی کے بعض محصولات کو حرام قرار دے رکھا ہے اور ان کو ان پا ک نعمتوں سے محروم رکھا ہے علاوہ ازیں یہ امر تم سے مربوط نہیں ہے کہ کس چیز کو حلال ہونا چاہئیے او رکس چیز کو حرام ۔ یہ امر تو صرف ان کے پر وردگار اور خالق کے اختیار میں ہے ۔

کہہ دو : کیا خدا نے تمہیں اجازر دی ہے کہ ایسے قوانین وضع کرو یاخدا پرافتراء باندھتے ہو( قُلْ اٴَاللهُ اٴَذِنَ لَکُمْ اٴَمْ عَلَی اللهِ تَفْتَرُونَ ) ۔یعنی اس کام کی دوہی صورتیں ہوسکتی ہیں کوئی تیسری نہیں یا تو ایسا پر وردگارکی اجازتسے ہو اور یا پھر یہ تہمت اور افتراء ہے اور چونکہ پہلی بات نہیں ہے لہٰذا تہمت اور افتراء کے سوا کوئی اور چیز نہیں ہو سکتی۔

اب جبکہ یہ مسلم ہو گیا ہے کہوہ اپنے ان خود ساختہ اور بے ہودہ احاکم کے ذریعے نعمات الہٰی سے محروم ہو ئے ہیں اور پر وردگار کی ذات ِ مقدس پر افتراء باندھا ہے لہٰذا مزید فرمایا گیا ہے جو خڈا پر جھوٹ ناھتے ہیں وہ روز قیامت کی سزا کے بارے میں کیا سوچتے ہیں کیا انھوں اس دردناک سزا سے نجات کا کوئی بند و بست کیا ہے( وَمَا ظَنُّ الَّذِینَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللهِ الْکَذِبَ یَوْمَ الْقِیَامَة ) ۔لیکن ” لوگوں پر خدا فضل اور رحمت وسیع ہے “ لہٰذا وہ انھیں ایسے برے اعمال پر سزا نہیں دیتا( إِنَّ اللهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ ) ۔مگر وہ لوگ بجائے اس کے کہ اس خدائی مہلت سے فائدہ اٹھائیں ، عبرت حاصل کریں اس کا شکر بجالائیں اور خدا کی طرف پلٹ آئیں ۔

” ان میں سے اکثر غافل ہیں “ اور وہ اس عظیم نعمت کا شکر بجا لاتے( وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَهُمْ لاَیَشْکُرُونَ ) ۔

اس آیت کی تفسری میں یہ احتمال بھی ہے کہ ان تمام نعمات اور رزق کا حلال ہو نا ( سوائے چند نقصان دہ اور ناپاک مستثنیٰ چیزوں کے ) خو د خدا کی ایک عظیم نعمت ہے اور بہت سے لو گ اس عظیم نعمت کی شکر گزاری کی بجائے نا شکری کرتے ہیں او ربے ہودہ احکام اور چیزوں کو بلا دلیل ممنوع قرار دے کر اپنے آپ کو ان سے محروم رکھتے ہیں ۔

اس بناء پر کہیں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ خداکی یہ مہلت اس لےے کہ وہ ان کے کرتوتوں کو نہیں جانتا، زیر بحث آکری آیت میں یہ حقیقت نہایت عمدہ عبارت سے بیان کی گئی ہے کہ وہ آسمان و زمین کی وسعت میں تمام ذرات موجودات او ربندوں کے اعمال کی جزئیات سے باخبر ہے ، ارشاد ہو تا ہے : تو کسی حالت اورکسی اہم کام میں نہیں ہوتا اور تو کسی آیت کی تلاوت نہیں کرتا، اور وہ کوئی عمل انجام نہیں دیتے مگر یہ کہ ہم اس پر شاہد او رناظر ہوتے ہیں جب بھی وہ کام کرنے لگتے ہو( وَمَا تَکُونُ فِی شَاٴْنٍ وَمَا تَتْلُوا مِنْهُ مِنْ قُرْآنٍ وَلاَتَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلاَّ کُنَّا عَلَیْکُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِیضُونَ فِیهِ ) ۔(۳)

”شہود“ ” شاہد “ کی جمع ہے یہ اصل میں حضور اور موجودگی کے معنی میں ہے ۔ جس میں آنکھ یا قلب و فکر کا مشاہدہ شامل ہو۔

جمع کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ نہ صرف خدا بلکہ فرشتے جو اس کے فرمانبردار ہیں اور انسانوں کے اعمال کے نگران ہیں ان کے سب کاموں سے باخبر ہیں اور ان کے شاہد و ناظر ہیں ۔

جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ خدا کے بارے میں جمع کا صیغہ جب کہ اس کی ذات پ اک ہر لحاظ سے یکتا و بیگانہ ہے ، اس کے مقام کی عظمت کی طرف اشارہ ہے اور ہمیشہ ا سکے مامور ا س کے فر مان کے تابع ہیں اور اس کے امر کی طاعت کے لئے تیار ہیں ۔

اور درحقیقت گفتگو صرف اس کے بارے میں نہیں بلکہ اس کے تمام مطیع مامورین کے بارے میں بھی ہے ۔

اس کے بعدخداکی تمام چیزوں سے آگاہی کے مسئلے پر زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : زمین اور آسمان میں چھوٹی سے چھوٹی چیز یہاں تک کہ کوئی ذرّہ بے مقدار بھی تیرے پر وردگار کے علم کی نظر سے مخفی نہیں رہتا نہ اس سے کوئی چھوٹی چیز ہے او رنہ اس سے بڑی ۔ ،گر یہ کہ سب کی سب لوحِ محفوظ اور علم خدا کی واضح کتاب میں ثبت ہے( وَمَا یَعْزُبُ عَنْ رَبِّکَ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاٴَرْضِ وَلاَفِی السَّمَاءِ وَلاَاٴَصْغَرَ مِنْ ذَلِکَ وَلاَاٴَکْبَرَ إِلاَّ فِی کِتَابٍ مُبِینٍ ) ۔

”یعذب “ اور ”عذوب“ کے مادہ سے در اصل گھر اور گھر والوں سے چوپایوں کے لئے چراگاہ تلاش کرنے کے لئے جدائی کے معنی میں ہے بعد ازاں یہ لفظ مطلقاً غیبت اور جدائی کے معنی میں استعمال ہونے لگا ۔

”ذرة“ نہایت چھوٹے سے جسم کے معنی میں ہے ۔ اسی لئے چوھٹی چھوٹی چونٹیوں کو بھی ”ذرہ “ کہا جاتا ہے ۔

مزید وضاحت کے لئے جلد سوم ص ۲۸۹ کی طرف مراجعت کیجئے ۔

”کتاب مبین “ پر وردگارکے وسیع علم کی طرف اشارہ ہے کہ جسے بعض اوقات ” لوح محفوظ“ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔

( اس بارے میں جلد پنجم ص ۱۸۵ ، اردو ترجمہ پر بھی بات کی گئی ہے ) ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ قانون بنانے کا حق صرف خدا کو ہے :

مندرجہ بالاآیات کی مختصر سی عبارتوں کے ذریعہ یہ حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ قانون بنانے کا حق خدا کے ساتھ مخصوص ہے اور جو شخص اس کے فرمان اور اجازت کے بغیر ایسا کرے تو وہ خدا پر تہمت اور افتراء کا ارتکاب کرتا ہے کیونکہ رزق اور تمام عالم ہستی کی نعمات اس کی جانب سے نازل ہوتی ہیں اور در حقیقت ان سب کا حقیقی مالک وہی ہے ۔ اسی لئے اسی کو حق پہنچتا ہے کہ کسی کو جائز یا ناجائز قرار دے ۔ البتہ اس سلسلے میں اس کے احکام خود بندوں کے مفاد میں ہیں اور انہی کے تکامل و ارتقاء کے لئے ہیں اور اسے ان کی ذرہ بھر بھی ضرورت نہیں ہے ۔ لیکن بہر حال صاحبِ اختیار اور قانون گزار وہی ہے مگر یہ کہ جتنا مناسب سمجھے کسی پیغمبر کو یا کسی حد تک کوئی اجازت دے دے ۔

جیسا کہ بہت سی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام بعض امور کو واجب یا حرام قرار دیتے تھے کہ جنہیں روایات کی زبان میں ” فرض النبی “ کہا جاتا ہے البتہ یہ سب کے سب خدا کے حکم کے تابع ہیں اور ایسے اختیارات ہیں جو پیغمبر اکرم کو ودیعت کئے گئے ہیں ۔

” اللہ اذب لکم “ اس پر دلیل ہے کہ ہوسکتا ہے کہ خدا اس قسم کی اجازت کسی کو دے ۔

یہ مسئلہ ” ولایت تشریعی “ کی بحث سے مربوط ہے جو انشاء اللہ تعالیٰ کسی دوسرے مقام پر ہم تشریح کے ساتھ بیان کریں گے ۔

۲ ۔ رزق کا نزول :

مندرجہ بالا آیات میں ارزاق کے لئے نزول کی تعبیر استعمال ہوئی ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ صرف بارش کا پانی آسمانی سے اترتا ہے ۔ یہ یا تو اس بناء پر ہے کہ بارش کے یہ حیات بخش قطرے تمام تر رزق کی اصل بنیاد ہیں اور یا اس بناء پر ہے کہ مرادنزول مقامی ہے کہ جس کی طرف پہلے بھی اشارہ کیا جاچکا ہے ۔ یہ تعبیر روز مرہ کی گفتگو میں نظر آتی ہے کہ اگر ایک بزرگ شخص کی طرف سے کوئی حکم یا احسان کسی چھوٹے شخص کے لئے ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ ” اوپر “ سے معین کیا گیا ہے یا اوپر سے ہمیں ملا ہے ۔

۳ ۔ علماء علم اصول کا ایک استدلال :

علما ء علم اصول نے ”اٴ لله اذن لکم ام علی الله تفترون “سے ” اصل عدم حجیت ظن“ کو ثابت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ احکام الہٰی میں سے کوئی یقین کے بغیر ثابت نہیں کیا جاسکتا ورنہ خدا پر افتراء ہو گا کہ جو حرام ہے ۔

البتہ اس استدلال پر ہمارے کچھ اعتراجات ہیں کہ جو ہم نے علم اصول کے مباحث میں ذکر کئے ہیں ۔

۴ ۔ ایک درس :

مندرجہ بالاآیات میں سے ہمیں ایک اور درس بھی ملتا ہے اور وہ یہ ہے کہ قانون خدا کے مقابلے میں قانون بنا نا جاہلیت کا طریقہ ہے ۔

ایسے لوگ اپنے آپ کو حق دار سمجھتے تھے کہ اپنے نارسا اور ناپختہ افکار سے احکام تراش لیں ۔ ایک حقیقی خدا پرست ہر گز ایسا نہیں ہوسکتا ۔

یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو ایمان ب اخدا کا دم بھر تے ہیں اس کے باوجود دوسروں کے غیر اسلامی قوانین کی طرف دست سوال دراز کرتے ہیں یا جو قوانین ِ اسلام کو ناقابل عمل قرار دے کر خود قانون وضع کرتے ہیں وہ بھی جاہلیت کے طریقوں کے پیروکار ہیں ۔

حقیقی اسلام قابل تقسیم اور تجزیہ پذیر نہیں ہے ۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں تو اس کے قوانین کو قبول کرنا چاہئیے اور یہ جو بعض کہتے ہیں کہ اس کے سب قوانین قابل اجراء ہیں ، ان کی سوچ بے بنیاد اور یہ خیال ایک قسم کی مگرب زدگی اور خود نمائی پر مبنی ہے ۔

البتہ اسلام اپنی جامعیت کے لحاظ سے بعض مسائل میں اصول بیان کرکے ہمارے ہاتھ کھلے رکھتا ہے تاکہ ہر زمانے کے تقاضوں کے مطابق شوریٰ کے اصولوں کی روشنی میں ہم تنظیم کریں اور انھیں جاری کریں ۔

۵ ۔ علم الہٰی کے تین پہلو :

محل ِ بحث آخری آیت میں علم پر وردگار کی وسعت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین نکتوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔ فرمایا گیا ہے کہ تو کسی کام اور حالت میں نہیں ہے اور کوئی آیت تلاوت نہیں کرتا اور تم لوگ کوئی عمل انجام نہیں دیتے ہو مگر یہ کہ ہم تم پر شاہد اور ناظر ہیں ۔

یہ تین تعبیریں اصل میں انسانوں کے افکار ، گفتار اور کردار کی طرف اشارہ ہیں ،یعنی جس طرح خدا ہمارے اعمال دیکھتا ہے ،۔ ہماری باتوں کو بھی سنتا ہے اور ہمارے افکار اور نیتوں سے بھی آگاہ ہے اور ان میں سے کوئی چیز بھی علم پر وردگار کے دائرے سے خارج نہیں ہے ۔

اس میں شک نہیں کہ نیت اور روح کی کیفیت کا مرحلہ پہلے آتا ہے ، گفتگو اس کے بعد ہوتی ہے اور کردار کا مرحلہ آخر میں آتا ہے ۔ اسی لئے آیت میں بی اسی ترتیب کو ملحوظ رکھا گیا ہے ۔

یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ پہلے اور دوسرے مرحلے کا ذکر مفرد کی شکل میں پیغمبر سے خطاب کی صورت میں ہے اور تیسرے مرحلے کاذکر جمع کی صورت میں ہے اور تمام مسلمانوں سے خطاب ہے ، جیسا کہ خدا کی طرف سے آیات ِ قرآن لے کر انھیں لوگوں کے سامنے تلاوت کرنا بی آنحضرت سے مربوط ہے ۔ لیکن ان پر وگراموں پر عمل کرنا ساری ملت سے مربوط ہے اور کوئی شخص اس سے مستثنیٰ نہیں ہے ۔

۶ ۔ ہماری ہر کیفیت کی نگرانی ہورہی ہے :

زیر نظر آخری آیت میں تمام مسلمانوں کے لئے ایک عظیم درس موجود ہے کہ جو انھیں راہ حق پر ڈال سکتا ہے اور انحرافات سے روک سکتا ہے یہ ایک ایسا درس ہے کہ جس کی ط رف توجہ کرنے سے صالح اور پاکیزہ معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمیں یہ حقیقت نظر میں رکھنا چاہئیے کہ ہم جو بھی قدم اٹھاتے ہیں ، جو بھی بات کرتے ہیں ، جو کچھ بھی سوچتے ہیں ، جس طرف بھی دیکھتے ہیں او رہم جس حالت اور کیفیت میں بھی ہوتے ہیں نہ صرف خدا کی پا ک ذات بلکہ اس کے فرشتے بھی ہمارے نگران ہوتے ہیں اور پوری توجہ سے ہمیں دیکھتے ہیں ۔ زمین و آسمان کے طول و عرض میں چھوٹی سے چھوٹی حرکت بھی خدا کی نگاہ سے پنہاں نہیں ہوسکتی ، نہ صرف پنہاں نہیں ہوتی بلکہ لوحِ محفوظ میں بھی ثبت ہوتی ہے اور اس میں تبدیلی ، اشتباہ یا غلطی نہیں ہوسکتی۔ نہ خدا کے علم بے پایاں کے صفحہ میں نہ مقرب فرشتوں اور بندوں کے اعمال لکھنے والوں کی سوچ میں اور نہ ہماری ڈائری اور ہمارے نامہ اعمال میں کہیں بھی تبدیلی ، اشتباہ یا غلطی نہیں ہو سکتی۔

بلاوجہ نہیں ہے کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :کان رسول الله اذا قرء هٰذه الاٰیة بکی بکاء شدیداً ۔

جب رسول اللہ اس آیت کی تلاوت کرتے تھے تو شدت سے گریہ کرتے تھے ۔ ( مجمع البیان جلد ۵ ص ۱۱۶ ، مذکورہ آیت کے ذیل میں )جب رسول اللہ اپنے خلوص و بندگی ، خدمت خلق او رعبادت ِ خالق کے باوجود علم خدا کے سامنے ترساں ہوتوہماری اور دوسروں کی حالت واضح ہے ۔

____________________

۱۔ ”بحیرہ “ اس جانور کو کہتے ہیں جس نے کئی مرتبہ بچہ جنا ہو ۔” سائبہ “ اس اونٹنی کو کہتے ہیں جس نے دس یا بارہ بچے دئیے ہوں اور ” وصیلہ “ اس گوسفند کو کہتے ہیں جس نے سات بچے دئیے ہو ں ( مزید وضاحت کے لئے جلد پنجم ص۹۷ کی طرف رجوع کریں ) ۔

۲-بعض مفسرین ضمیر ” منہ “ کو خدا کی طرف پلٹا تے ہیں یعنی جو آیات تو خدا کی طرف سے پڑھتا ہے ۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ ضمیر لفظ شان یا قرآن کی طرف لوٹتی ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین نے کہا ہے یعنی وہ آیات جن کی کسی اہم کام کے بارے میں تو تلاوت کرتا ہے یا قرآن کی جو آیات تو تلاوت کرتا ہے ۔


آیات ۶۲،۶۳،۶۴،۶۵

۶۲ ۔( اٴَلاَإِنَّ اٴَوْلِیَاءَ اللهِ لاَخَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلاَهُمْ یَحْزَنُونَ ) ۔

۶۳ ۔( الَّذِینَ آمَنُوا وَکَانُوا یَتَّقُونَ ) ۔

۶۴ ۔( لَهُمْ الْبُشْرَی فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَةِ لاَتَبْدِیلَ لِکَلِمَاتِ اللهِ ذَلِکَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ ) ۔

۶۵ ۔( وَلاَیَحْزُنْکَ قَوْلهُمْ إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِیعًا هُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ ) ۔

ترجمہ

۶۲ ۔ آگاہ رہو کہ خدا کے اولیاء ( اور دوست) نہ ڈرتے ہیں اور نہ غمگین ہوتے ہیں ۔

۶۳ ۔ وہی کہ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ( حکم خدا کی مخالفت سے ) پر ہیز کیا ۔

۶۴ ۔ وہ دنیاوی زندگی اور آخرت میں خوش ( اور مسرور ) ہیں ۔ خدا کے وعدوں کی خلاف ورزی نہیں ہوسکتی اور عظیم کامیابی ہے ۔

۶۵ ۔ ان کی گفتگو تجھے غمگین نہ کرے ۔ تمام عزت و قدرت خدا کے لئے ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے ۔

روحانی سکون ایمان کے زیر سائی ہے

گزشتہ آیات میں مشرکین اور بے ایمان افراد کے حالات کا کچھ حصہ پیش کیا گیا تھا ۔ ان آیات میں ان کے مد مقابل مخلص، مجاہد اور پرہیز گار مومنین کی کیفیت بیان ہوئی ہے تاکہ موازنہ ہو سکے ۔ جیسا کہ قرآن کی روش ہے کہ وہ نور کو ظلمت سے اور سعادت کو بد بختی سے میّز کر تا ہے ۔

پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے : آگاہ رہو کہ اولیاء ِ خدا پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ انھیں کوئی حزن و غم ہے( اٴَلاَإِنَّ اٴَوْلِیَاءَ اللهِ لاَخَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلاَهُمْ یَحْزَنُونَ ) ۔

اس بات کو پوری طرح سمجھنے کے لئے اولیاء کا معنی خوب معلوم ہونا چاہئیے ” اولیاء “ ”ولی “ کی جمع ہے یہ اصل میں ”ولی یلی “ کے مادہ سے لیا گیا ہے جو دو چیزوں کے نزدیک واسطہ نہ ہونے اور ان کے ایک دوسرے کے نزدیک پے در پے ہونے کے معنی میں ہیں لہٰذا ہر اس چیز کو جو دوسری سے مکان ، زمان ، نسب یا مقام کے لحاظ سے قرابت رکھتی ہے ” کہا جا تا ہے ۔ اس لفظ کا ” سر پرست “ اور ”دوست“ وغیرہ کے لئے استعمال بھی اسی بناء پر ہے اس لئے اولیاء وہ ہیں جن کے اور خدا کے درمیان کوئی فاصلہ نہ ہو ۔ اولیاء ِ خد ا معرفت اور ایمان کے نور سے اور اپنے پاک عمل کی بناء پر خد اکو دل کی آنکھ سے اس طرح دیکھتے ہیں کہ ان کے دل میں کسی قسم کا کوئی شک اور ترد پیدا نہیں ہوتا اور خدا کہ جو بے انتہا ہے جس کی قدرت بے پایاں ہے او رجو کما ل ِ مطلق ہے ، سے اسی آشنائی کے سبب جو کچھ خدا کے علاوہ ہے ، ان کی نگاہ میں حقیر ، بے وقعت ، ناپائیدار اوربے مقدار ہے ۔ جو شخص سمندر سے آشنا ہے قطرہ اس کی نگاہ میں کوئی قیمت نہیں رکھتی اور جوآفتاب کو دیکھتا ہے وہ ایک سمع بے فورح سے بے اعتناء ہے ۔

اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ انھیں کیوں خوف و اندوہ نہیں ہے کیونکہ خوف عام طور پر میسر نعمتوں کے فقدان کے احتمال پر ہوتا ہے یا ان خطرات سے ہو سکتا ہے جبکہ خدا کے اولیاء اور سچے دوست مادی دنیا کی ہر قسم کی وابستگی اور عقد سے آزاد ہیں اور ” زہد “ اپنے حقیقی مفہوم میں ان کے وجود پر حکومت کرتا ہے وہ نہ مادی وسائل کے چھن جانے پر واویلا کرتے ہیں اور نہ آئندہ کے لئے ایسے مسائل کا احتمال ان کے اذہان کو اپنی طرف مشغول رکھتا ہے : ان کے وجود میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

کسی چھوٹے سے برتن کا پانی انسان کی ایک پھونک ہی سے متلاطم ہو جاتا ہے لیکن ایک وسیع سمندر کے لئے طوفان بھی کم اثر ہوتے ہیں ۔ اسی لئے سمندر کو سکون کہاجاتا ہے ۔( لکی لا تاٴسوا علی مافاتکم ولا تفرحوا بما اٰتاکم ) ۔

تاکہ نہ افسوس کرو تم اس چیز کا جو تم سے چھن جائے اور نہ خوش ہو تم اس چیز سے جو تم کو دی جائے ۔ (حدید۔ ۲۳)

نہ وہ دن کہ جب دنیا ان کے پاس تھی انھوں نے اس سے دل لگا یا اور نہ آج جبکہ اس سے جدا ہورہے ہیں انھیں اس کا غم ہے ۔ ان کی روح بزرگ تر ہے اور ان کی روح سے بالا تر ہے کہ ایسے حوادث ان کے گزشتہ اور آئندہ پر اثر انداز ہوں گے ۔

اس طرح سے حقیقی امن و سکون ان کے وجود رپر حکم فرما ہے ۔ قرآن کے مطابق :( اولٰئک لهم الامن )

انہیں لوگوں کے لئے امن اور سلامتی ہے ۔( انعام ۔ ۸۲) ۔

یا دوسرے لفظوں میں :( الا بذکرالله تطمئن القلوب ) ۔

خدا کی یاد ان کے دلوں کے سکون کاباعث ہے ۔ ( رعد ۔ ۲۸)

خلاصہ یہ کہ عموماً غم اور خوف انسانوں میں دنیا پرستی کی روح کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ۔ جو لوگ اسی روح سے تہی داماں ہیں اگر انھیں کوئی غم اور خوف نہ ہو تو یہ بہت فطری اور طبعی بات ہے یہ اس مسئلہ کا استدلالی بیان ہے ۔ کبھی اس مسئلے کو عرفانی صورت میں یوں بیان کیا جاتا ہے :

اولیاء اللہ اس طرح صفات جلال و جمال میں مستغرق ہیں اور کی ذات پاک کے مشاہدہ میں محو ہوتے ہیں اور اس کے غیر کو بھول جاتے ہیں کہ کسی چیز کے لئے کھو جانے کے غم میں اور کسی خطرناک دشمن کے خوف کی ان کے دل میں کوئی گنجائش نہیں رہتی ۔ جس کے دل میں خدا کے سوا کسی کے لئے کوئی گنجائش نہ ہو اور جو اس کے غیر کی فکر نہ کرے اور اس کی روح اس کے علاوہ کسی کو قبول نہ کرے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ کسی غم و اندوہ یا خوف و وحشت سے دو چار ہو۔

جو کچھ ہم نے کہ اہے اس سے یہ حقیقت آشکار ہوجاتی ہے کہ اس سے مراد مادی نج و غم اور دنیاوی خوف و ہراس ہے ۔ ورنہ اللہ کے دوستوں کا وجود اس کے خوف سے مالا مال ہوتا ہے ۔ فرائض اور ذمہ دار یوں کے انجام نہ دینے کا خوف اور ان مواقع کا دکھ کہ جو ان سے جائع ہو گئے ۔ یہ حزن و ملال روحانی پہلو اور وجود انسان کے تکامل اور ترقی کا باعث ہے جبکہ اس کے بر عکس مادی خوف اور غم انحطاط اور تنزل کا سبب ہیں ۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اپنے مشہور خطبہ ہمام میں اولیا ء اللہ کے حالات کی نہایت خوبصورت تصویر کشی کرتے ہوئے فرماتے ہیں :( قلوبهم مخزونة و شرورهم مامونة ) ۔

ان کے دل مخزونو غمزہ ہیں اور لوگ ان کے شر سے امان میں ہیں ۔

آپعليه‌السلام مزید فرماتے ہیں :( ولو لا الاجل الذی کتب الله علیهم لم تستقرارواحهم فی اجسادهم طرفة عین شوقاً الیٰ الثواب وخوفاً من العقاب ) ۔

اگر وہ اجل جو خدا نے ان کے لءء مقرر کی ہے نہ ہوتی تو ثوابِ الہٰ ی کے شوق میں اور عذاب الہٰی کے خوف سے ان کے جسموں میں ان کی روح چشم زدن کی دیر بھی ٹھہرتی ۔ ( نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۳( صبحی صالح )، ۔

قرآن مجید بھی مو منین کے بارے میں کہتا ہے :( الذین یخشون ربهم بالغیب وهم من الساعة مشفقون ) ۔

وہ لوگ جو پر وردگار سے اس کے غضب کو نہ دیکھنے کے باجود ڈرتے ہیں ۔( انبیاء ۔ ۴۹)

اس بناء پر ان کا خوف و ہراس دوسری قسم کا ہے ۔(۱)

___________________

۱اس وقت جب کہ ہم یہ آیات لکھ رہے ہیں اللہ کے ایک سچے ولی کی شہادت کی خبر پہنچی ہے یعنی فلسفی ، عالم ، مجاہد ِ عظیم آقائے مرتضی مطہری کی خبر شہادت ۔ اس شہادت نے ہمارے لئے یہ حقیقت ایک مرتبہ ثابت کردی ہے کہ عظیم اسلامی انقلاب کی حفاظت کے لئے جسے ہم نے دورِ حاضر میں اس ملک میں شروع کررکھا ہے اور جس میں قوم کے تمام طبقے شریک ہیں ، ابھی ہمیں بہت سا خون اور بہت سی قربانیاں دینی ہوں گی ۔ لیکن اب کے دشمنوں نے ہم سے ایک ایسے جواں مرد کو چھینا ہے جس کی ساری عمر علم و دانش کی خدمت میں صرف ہوئی تھی اور ا سکے گراں بہا آثار علمی اس دعویٰ پر شاہد ناطق ہیں ۔ وہ مخلص مجاہد اور آزاد مومن تھے ۔ وہ بھی انہی افراد میں سے تھے کہ جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ :۔ ” نہ انھیں خوف ہے او رنہ غم و حزن“ کیونکہ اس شہید نے اپنے پیغام اور ذمہ داری کو عمدہ طریقے سے انجام دیا اور اپنے پیغام اور ذمہ داری کی راہ میں شہید ہو گیا ۔( ۱۲ اردی بہشت ۱۳۵۸ ہجری شمسی )


یہ کہ اولیاء خدا سے مراد کون سے افراد ہیں ، اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے لیکن دوسری آیت اس مطلب کو واضح کرتی ہے اور بحث کردیتی ہے ار شاد ہوتا ہے : وہ ایسے لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ہمیشہ تقویٰ اور پر ہیز گاری کو اختیا ر کئے رکھا( الَّذِینَ آمَنُوا وَکَانُوا یَتَّقُونَ ) ۔

یہ امر جاذب توجہ ہے کہ ایمان کا ذکر ما ضی مطلق کی صورت میں ہے اور تقویٰ کا ذکر ماضی استمراری کی شکل میں ہے ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان کا ایمان حد کامل کو پہنچ گیا ہے لیکن تقویٰ جوکہ روزمرہ کے عمل میں منعکس ہوتا ہے ، ہر گھڑی نئے کام کا مطالبہ کرتا ہے اور تدریجی پہلو رکھتا ہے یہ ان کے لئے ایک دائمی ذمہ دای کی صورت میں ہے ۔

جی ہاں یہ وہ لوگ ہیں جو دین اور شخصیت کے ان دو بنیادی ار کان کے حامل ہیں اور اس کی وجہ سے اپنے اندر ایک ایسا سکو ن محسوس کرتے ہیں کہ جسے زندگی کا کوئی طوفان مضطرب نہیں کرسکتا بلکہ :الموٴمن الحبل الراسخ لاتحرکه العواصف ۔

مومن مضبوط پہاڑ کی طرح ہے جسے تیز آندھیاں ہلا نہیں سکتیں ۔

یعنی وہ پہاڑ کی طرح حوادث کی تند ہوا کے سامنے استقامت اور پا مردی کا مظاہرہ کرتا ہے ۔

تیسری آیت میں اولیاء ِ حق کے وجود میں خوف و غم اور وحشت و اضطراب کے نہ ہونے کی تاکید یوں کی گئی ہے : ان کے لئے دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں بشارت، خوشحالی اور سرور نصیب ہو گا ( توجہ رہے کہ البشریٰ میں الف لام جنس کے حوالے سے مطلق ذکر ہوا ہے اور اس میں طرح طرح کی بشارتوں کا مفہوم موجود ہے ) ۔

دوبارہ تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے : پر وردگار کی باتوں اور خڈائی وعدوں میں تغیر نہیں ہوتا اور خدا اپنے دوستوں کے بار ے میں اپنا وعدہ پورا کرے گا (لا تبدیل کلمات الله )، اور یہ جسے نصیب ہوا اس کے لئے عظیم کامیابی اور سعادت ہے( ذَلِکَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ ) ۔

آخری آیت میں روئے سخن پیغمبر اکرم کی طرف ہے جو اولیاء اللہ اور دوستان خدا کے سردار ہیں ۔ ان کی دلجوئی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : غافل اور جاہل مخالفین اور مشرکین کی غیر موزوں باتیں تجھے غمگین نہ کریں( وَلاَیَحْزُنْکَ قَوْلهُم جمیعاً ) ۔کیونکہ تمام عزت و قدرت خدا کے لئے ہے اورخدا کے ارادہ حق کے سامنے دشمن کچھ نہیں کرسکتے( إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ ) ۔ خدا ان کی سب سازشوں سے باخبر ہے ۔ ان کی باتوں کو سنتا ہے اور ان کے اندر ونی اسرار و رموز سے آگاہ ہے( هُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ ) ۔

دو اہم نکات

۱ ۔ ”بشارت سے کیا مراد ہے ؟

مندرجہ بالا آیات میں خدانے اپنے دوستوں کے لئے دنیا و آخرت میں جس بشارت کا تذکرہ ہے اس سے کیا مراد ہے ، اس سلسلے میں تمام مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔

بعض نے اس آیت کو اس بشارت کے ساتھ مخصوص سمجھا ہے جو فرشتے مومنین کو موت اور اس جہان سے انتقال کے وقت دیتے ہیں او رکہتے ہیں :( و ابشروا بالجنة التی کنتم توعدون ) ۔

خوشخبری ہو تمہیں اس جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ۔ ( حٰم ٓ سجدہ ۔ ۳۰)

بعض دوسرے اسے ان کے مومن اور صالح ہونے تک کے لئے دشمنوں پر غلبہ اور روئے زمین پر حکومت کرنے کے وعدہ کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ۔

لیکن جیسا کہ ہم نے کہا ہے یہ لفظ مطلق ہے او ر” البشریٰ “ پر الف لام جنس کے حوالے سے ہے اس طرف توجہ کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ایک وسیع مفہوم پنہاں ہے ، جس میں ہر قسم کی بشارت ، کامیابی اور موفقیت شامل ہے اور جن امور کا اوپر ذکر ہوا ہے وہ سب اس میں شامل ہیں اور درحقیقت ان میں سے ہر ایک خدا کی اس وسیع بشارت کے ایک گوشے کی طرف اشارہ ہے اور شاید یہ جو بعض روایات میں عمدہ خوابوں اور رویائے صالحہ سے اس کی تفسیر کی گئی ہے ، اس طرف اشارہ ہے کہ ہر قسم کی بشارت یہاں تک کہ چھوٹی بشارتیں بھی ” البشریٰ “ کے مفہوم میں موجود ہیں او ریہ نہیں کہ اس کا مفہوم ان میں منحصر ہے ۔

در حقیقت جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ایمان اور تقویٰ کا یہ تکوینی اور طبیعی اثر ہے کہ جو انسان کی روح اور جسم کو ہر قسم کے خوف و دہشت سے دورکردیتا ہے کہ جو شک اور تردد سے اور اسی طرح گناہ اور مختلف آلودگیوں سے پیدا ہوتا ہے کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے اندر ایمان اور معنویت نہ رکھتا ہو پھر بھی سکون محسوس کرے ۔ ایک شخص ایک بے لنگر کشتی کی طرح ہے جو طوفان میں پھنس گئی ہو کہ جسے کوہ پیکر موجیں ہر لمحہ الٹ دینا چاہتی ہوں اور گرداب اسے نگلنے کے لئے منہ کھولے ہوئے ہوں ۔

کسی طرح سے ممکن ہے کہ وہ شخص جس نے لوگوں پر ظلم و ستم کیاہو ، انسانوں کا خون بہا یا ہو اور دوسروں کے اموال و حقوق غصب کئے ہوں ، چین سے بیٹھا ہو۔مومنین کے بر عکس اسے سکون کی نیند نہیں آسکتی ۔ وہ زیادہ تر ڈراو نے خواب دیکھتا رہے گا کہ جن میں وہ اپنے آپ کو دشمنوں میں گھرا ہوا پائے گا او ریہ خود ان کی بے آرامی اور روح میں موجود تلاطم پ رایک دلیل ہے ۔

یہ یک فطری بات ہے کہ ایک مجرم اور ظالم ، خصوصاً جب اس کا تعاقب ہو رہا ہو عالم خواب میں اپنے آپ کو ہو لناکیوں کے سامنے دیکھتا ہے کہ جو اس کا پیچھا کرنے اور اسے پکڑ نے کے در پے ہیں یا یہ کہ مقتول و مظلوم کی روح اس کے نا آگاہ ضمیر کے اندر سے فریاد کرتی ہے اور اسے سخت مضطرب کرتی ہے ۔ اسی لئے جب وہ بیدار ہوتا ہے تو یزید کی طرح کہتا ہے :

مالی وللحسین ؟

میرا حسین سے کیا تعلق ہے ؟

یا حجاج کہتا ہے :مالی و لسعید بن جبیر

مجھے سعید بن جبیر سے کیا واسطہ ؟

۲ ۔ آئمہ ہدای کی چند روایات :

زیر بحث آیات کے ذیل میں آئمہ اہل بیت علیم السلام سے بڑی عمدہ روایات منقول ہیں ان میں سے بعض کی طرف ہم یہاں اشارہ کرتے ہیں ۔

امیر المومنین علی علیہ السلام نے آیت الاان اولیاء اللہ کی تلاوت فرمائی اور پھر اپنے اصحاب سے سوال کیا : جانتے ہو کہ اولیاء خدا کون لوگ ہیں ؟

انھوں نے سوال کیا : یا امیر المومنین ! آ پ ہی فرمائیے کہ وہ کون ہیں ؟

امام عليه‌السلام نے فرما یا :هم نحن و اتباعنا فمن تبعنا من بعدنا طوبی لنا ، طوبی لهم افضل من طوبیٰ لنا ،

قالوا : یا امیر المومین ماشاٴن طوبی لهم افضل من طوبی لنا ؛ السنا نحن وهم علی امر؛

قال : لا ، انهم حملوا مالم تحملوا علیه ، وطاقوا مالم تطیقوا۔

خدا کے دوست ہم اور ہمارے پیر وکار ہیں جو ہمارے بعد آئیں گے ۔ کیا کہنا ہمارا اور اس سے بڑھ کر کیا کہنا ان کا ۔

بعض نے پوچھا: ان کے لئے آپ نے بڑھ کر کیوں کہا: کیا ہم اور و ہ ایک ہی مکتب کے پیرو نہیں ہیں کیا ہمارا معاملہ ایک جیسا نہیں ہے ۔

آپ نے فرمایا:

نہیں کیونکہ ان کی اس قسم کی ذمہ داریاں ہیں جیسی تمہاری نہیں ہے اور وہ ایسی مشکلات سے دوچار ہوں گے کہ تم دوچار نہیں ہو۔(۱)

کتاب کمال الدین میں ابو بصیر کے واسطے سے امام صادقعليه‌السلام سے منقول ہے ۔

آپعليه‌السلام نے فرمایا :۔طو بیٰ لشیعة قائمنا المنتظرین لظهور ه فی غیبته ، و المطعین له فی ظهوره، اولٰئک اولیاء الله الذین لاخوف علیهم ولا هم یحزنون ۔

خوشا حال امام قائمعليه‌السلام کے پیروکاروں کا کہ جو ان کی غیبت میں ( اپنی خود سازی کے ساتھ ) ان کے ظہور کا انتظار کریں گے اور ان کے ظہور کے وقت ان کے فرماں بردار ہوں گے ، وہ اولیاء ِ خدا ہیں کہ جنہیں نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ مخزون و مغموم ہوتے ہیں ۔(۲)

حضرت صادق علیہ السلام کا ایک موالی نقل کرتا ہے کہ امامعليه‌السلام نے فرمایا :

اس مکتب کے پیروکار زندگی کے آخری لمحات میں ایسی چیزیں دیکھتے ہیں کہ جن سے ان کی آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں ۔

راوی کہتا ہے : میں نے اصرار کیا کہ وہ کیا دیکھتے ہیں ؟ اس سوال کا میں نے دس سے زیادہ مرتبہ تکرار کیا ۔ لیکن امام ہر مرتبہ صرف اتنا کہتے ۔

وہ دیکھیں گے

مجلس کے اختتام پر آپعليه‌السلام نے میری طرف رخ کیا اور مجھے پکارکر فرمایا:

گویا تو اصرار کرتا ہے کہ یہ جانے کہ وہ کیا دیکھتے ہیں ؟

میں نے عرض کیا:

یقین پھر میں رونے لگا ۔

امام کو میری حالت پر رحم آیا اور کہا:

ان دونوں کودیکھیں گے ۔

میں نے اصرار کیا : کن دونوں کو ؟ فرمایا :۔ پیغمبر اکرم اور حضرت علیعليه‌السلام کو کوئی صاحبِ ایمان دنیا سے آنکھ بند نہیں کرے گا مگر یہ کہ ان دو بزرگوں کو دیکھے گا کہ وہ اسے بشارت دے رہے ہیں ۔

اس کے بعد فرمایا :

اسے خدا نے قرآن میں بیان کیا ہے ۔

سوال : کہاں اور کس سورہ میں ؟

فرمایا :

سورہ یونس میں جہاں فرمایا گیا ہے :( الذین اٰمنوا وکانوں یتقون لهم البشریٰ فی الحیاة الدنیا و فی الاٰخرة ) ۔

اسی مضمون کی اور روایات بھی موجود ہیں ۔

واضح ہے کہ یہ روایات اشارہ ہیں کہ حاصب ایمان تقویٰ افراد کے لئے کچھ یوں بشارتوں کی طرف ، نہ کہ ان سب بشارتوں کی طرف نیز واضح ہے کہ یہ مشاہدہ مادی جسم کانہیں ہے بلکہ برزخی نگاہ سے جسم کے مشاہدے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ عالم برزخ جوکہ اس جہاں او رعالم آخرت میں حد فاصل ہے ، میں انسانی روح برزخی جسم میں باقی رہ جائے گی ۔

____________________

۱۔ تفسیر نور الثقلین جلد ۲ ص ۳۰۹۔

۲۔ تفسیر نور الثقلین جلد ۲ ص ۳۰۹۔


آیات ۶۶،۶۷

۶۶ ۔( اٴَلاَإِنَّ لِلَّهِ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِی الْاٴَرْضِ وَمَا یَتَّبِعُ الَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ شُرَکَاءَ إِنْ یَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ همْ إِلاَّ یَخْرُصُونَ ) ۔

۶۷ ۔( هُوَ الَّذِی جَعَلَ لَکُمْ اللَّیْلَ لِتَسْکُنُوا فِیهِ وَالنّهَارَ مُبْصِرًا إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَسْمَعُونَ ) ۔

ترجمہ

۶۶ ۔ آگاہ ہو کہ وہ تمام جو آسمانوں میں ہیں اور زمین ہیں ، خدا کے ہیں اور جو غیر خد اکو اس کا شریک بناتے ہیں وہ دلیل و منطق کی پیروی نہیں کرتے وہ صرف ظن او رگمان کی پیروی کرتے ہیں اور وہ صرف جھوٹ بولتے ہیں ۔

۶۷ ۔ وہ وہ ہے کہ جس نے تمہارے لئے رات کو پیدا کیا تاکہ اس میں سکون حاصل کرو او راس نے دن کو روشنی بخش قرار دیا۔

اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو سننے والے رکھتے ہیں ۔

عظمت الہٰی کی کچھ نشانیاں

زیر نظر آیات دوبارہ مسئلہ توحید و شرک کی طرف لوٹتی ہیں یہ مسئلہ اسلام اور ا س سورہ کے اہم ترین مباحث میں سے ہے ۔ ان آیات میں مشرکین کی خبر لی گئی ہے اور انکی عاجزی و ناتوانی کو ثابت کیا گیا ہے ۔

پہلے ارشاد ہوتا ہے : آگاہ ہو کہ وہ تمام لوگ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کے لئے ہیں ( اور اس کی ملکیت ہیں )( اٴَلاَإِنَّ لِلَّهِ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِی الْاٴَرْضِ ) ۔

جہاں اشخاص اس کی ملکیت ہوں اور اس کے لئے ہوں وہاں اشیاء اس جہاں میں بدرجہ اولیٰ اس کی ہیں اور اس کے لئے ہیں اس بناء پر وہ تمام عالم ہستی کا مالک ہے اس حالت میں کیونکہ ممکن ہے کہ اس کے مملوک اس کے شریک ہوں ۔

مزید ارشاد ہوتا ہے : جو لوگ غیر خدا کو اس کا شریک قرار دیتے ہیں وہ دلیل و منطق کی پیروی نہیں کرتے اور ان کے پاس اپنے قول کے لئے کوئی سند اور شاہد نہیں ہے( وَمَا یَتَّبِعُ الَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ شُرَکَاءَ ) ۔

وہ صرف بے بنیاد تصورات اور گمانوں کی پیروی کرتے ہیں( إِنْ یَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّن ) ۔

بلکہ وہ تو صرف تخمینے سے بات کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں( وَإِنْ همْ إِلاَّ یَخْرُصُونَ ) ۔

” خرص “ لگت میں ” جھوٹ“ کے معنی میں بھی آیا ہے اور تخمین او روہم و خیال کے معنی میں بھی آیا ہے ۔ دراصل جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے کہ یہ پھلوں کی جمع آوری کے معنی میں ةے اور بعد ازاں حساب کے لئے جمع کرنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ۔

نیز درختوں پر پھلوں کا تخمینہ اور اندازہ لگانے کو کہتے ہیں اور چونکہ کبھی کبھی تخمینہ غلط نکل آتا ہے لہٰذا یہ مادہ ” جھوٹ “ کے معنی میں بھی آیاہے ۔

اصولی طور پر بے بنیاد گمان کی پیروی کی یہ خاصیت ہے کہ آخر کار انسان جھوٹ کی وادی میں جاپہنچتا ہے ۔ جنہوں نے بتوں کو خدا کا شریک قرار دیا تھا ان کی بیاد اوہام سے بڑھ کر نہ تھی ۔ وہ اوہام کہ جن کا تصور کرنا ہمارے لئے مشکل ہے کہ کیونکہ ممکن ہے کہ انسان بے روح شکلیں اور مجسمے بنائے اور پھر اپنی بنائی ہوئی چیز کو اپن ارب اور صاحب ِ اختیار سمجھنے لگے ، اپنی تقدیر اس کے سپرد کردے اور اپنی مشکلات کا حل اس سے طلب کرے ۔ کیا یہ چیز جھوٹ اور جھوٹ قبول کرلینے کے سوا کچھ اور کہلاسکتی ہے ۔

اس آیت میں تھوڑا سے غور کرکے اس سے ایک عمومی قانون اخذ کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ جو شخص بے بنیاد گمان کی پیروی کرتا ہے آخر کار جھوٹ تک جا پہنچتا ہے ۔ صداقت اور سچائی یقین کی بنیاد پر استوار ہے اور جھوٹ کی عمارت بے بنیاد وہم و گمان کے سہارے قائم ہے ۔

اس کے بعد بحث کی تکمیل ، راہ خدا شناسی کی نشاندہی اور شرک و بت پرستی سے دوری کے لئے خدائی نعمات کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، یہ پہلو نظام خلقتاور اللہ کی عظمت ، قدرت اور حکمت کی نشاندہی کرتا ہے ، ارشاد ہوتا ہے کہ : وہ وہ ہے جس نے رات کو تمہارے لئے باعثِ سکون قرار دیا ہے

( هُوَ الَّذِی جَعَلَ لَکُمْ اللَّیْلَ لِتَسْکُنُوا فِیهِ ) ۔اور دن کو روشنی بخش بنا یا ہے( وَالنّهَارَ مُبْصِرًا ) ۔

نور ظلمت کا یہ نظام جسکا ذکر قرآن میں بار ہا آیا ہے ، حیرت انگیز اور پر بار نظام ہے جس میں کچھ عرصہ میں تابش ِ نور سے انسانوں کے صح حیات کو روشن کیا گیا ہے ۔ یہ عرصہ حرکت آفرین ہے اور انسا ن کو جستجو اور عمل پر آمادہ کرتا ہے ۔ دوسرا عرصہ سیاہ پردوں میں لپٹی ہوئی آرام بخش رات کا ہے ۔ اس رات کے ذریعے تھکی ہو ئی روح اور جسم کا کام اور حرکت کے لئے پھر سے تیار ہوتا ہے ۔

جی ہاں اس حساب شدہ نظام میں پر وردگار کی قدرت کی آیات اور نشانیاں ہیں لیکن ان کے لئے جو سننے والے کان رکھتے ہیں اور حقائق کو سنتے ہیں

( إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَسْمَعُونَ ) ۔وہ جو سنتے اور ادراک کرتے ہیں اور جو ادراکِ حقیقت کے بعد اسے استعمال میں لاتے ہیں او رکام کرتے ہیں ۔

چند قابل توجہ نکات

۱ ۔ رات آرام و سکون کے لئے ہے :

رات کے بناے کا مقصد آیت میں آرام و سکون قرار دیا گیا ہے یہ ایک مسلم علمی ہے جسے آج کے علم سے درجہ ثبوت تک پہنچا یا ہے کہ تاریکی کے پر دے نہ صرف دن بھر کے کام کاج کے لئے جبری تعطیل ہیں بلکہ انسان اور دوسرے جانداروں کے اعصاب پر ان کا مستقیم اثر ہے اور انھیں اسراحت، نیند اور سکون بخشتے ہیں کس قدر ناداں ہیں وہ لوگ کہ جو رات کو ہوس رانی میں بسر کردیتے ہیں اور دن کو ِخصوصاً نشاط انگیز صبح کو نیند میں گزار دیتے ہیں ۔

اسی بناء پر ایسے لوگوں کے اعضاء ہمیشہ غیر معتدل اور بے آرام رہتے ہیں ۔

۲ ۔ ”( و النهار مبصراً ) “ کا مفہوم :

مادہ ”ابصار“ بینائی کے معنی میں ہے ۔ اس طرح ” و النھار مبصراً“ کا مفہوم یہ ہوگا کہ خدانے ” دن کو بینا قرار دیا ہے “حالانکہ دن بینا کرنے والا ہے نہ کہ خود بینا ہے یہ ایک خوبصورت تشبیہ او رمجاز ہے جو ” توصیف سبب با اوصاف مسبب “ کے قبیل سے ہے ۔ جیسا کہ رات کے بارے میں بی کہا جاتا ہے کہ ” لیل نائم “ یعنی سوئی ہوئی رات “ حالانکہ رات تو نہیں سوتی بلکہ رات سبب ہے لوگوں کے لئے سونے کا۔

۳ ۔کیا آیت ہر طرح کے ظن کی نفی کرتی ہے :

زیر نظر آیات میں ظن اور گمان کی ایک مرتبہ مذمت کی گئی ہے اور ا سے مردود قر ار دیا گیا ہے لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ گفتگو بت پرستوں کے بے ہودہ اور بے بنیاد خیالات کے بارے میں ہے ، یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں ” ظن“ عقلی اعتبار سے سوچے سمجھے گمان کے معنی میں نہیں ہے کہ جو بعض مواقع پر مثلاً شہادت و شہود ، ظاہر ِ الفاظ ، اقرار اور تحریروں میں حجت ہے لہٰذا یہ آیات ” ظن “ کے حجت نہ ہونے پر دلیل نہیں ہوسکتیں ۔


آیات ۶۸،۶۹،۷۰

۶۸ ۔( قَالُوا اتَّخَذَ اللهُ وَلَدًا سُبْحَانَه ُهُوَ الْغَنِیُّ لَهُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْاٴَرْضِ إِنْ عِنْدَکُمْ مِنْ سُلْطَانٍ بِهَذَا اٴَتَقُولُونَ عَلَی اللهِ مَا لاَتَعْلَمُونَ ) ۔

۶۹ ۔( قُلْ إِنَّ الَّذِینَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللهِ الْکَذِبَ لاَیُفْلِحُونَ ) ۔

۷۰ ۔( مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ إِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیقُهُمْ الْعَذَابَ الشَّدِیدَ بِمَا کَانُوا یَکْفُرُونَ ) ۔

ترجمہ

۶۸ ۔ انھوں نے کہا کہ خدا نے اپنے لئے بیٹا چنا ہے (وہ ہر عیب ، نقص اور احتیاج سے ) منزہ ہے ، وہ بے نیاز ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے لئے ۔ تمہارے پاس اس دعویٰ کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ کیا خدا کی طرف ایسی نسبت دیتے ہو جسے جانتے نہیں ہو ۔ ۔

۶۹ ۔ کہہ دو کہ جو خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں (وہ کبھی بھی ) فلاح نہیں پائیں گے ۔

۷۰ ۔ ( زیادہ سے زیادہ ) انھیں دنیا کا فائدہ ہو گا پھر ان کی باز گشت ہماری طرف ہے ۔ اس کے بعد ان کے لئے عذاب ِ شدید ہے ، ان کے کفر کے بدلے کہ جو ہم انھیں چکھائے گے ۔

تفسیر

ان آیات میں بی اسی طرح مشرکین کے بارے میں بحث جاری ہے یہاں خدا کی ذات ِ مقدس کے بارے میں انکی ایک تہمت بیان کی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : انھوں نے کہا کہ خدا نے اپنے لئے ایک بیٹا چنا ہے ( قَالُوا اتَّخَذَ اللهُ وَلَدًا) ۔

یہ بات سب سے پہلے عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کے بارے میں کی ۔ پھر زمانہ جاہلیت کے بت پرستوں نے فرشتوں کے بارے میں کی ، وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں خیال کرتے ہیں اور اسی طرح یہود یوں نے حضرت عزیر کے بارے میں یہ بات کی۔

قرآن ان لوگوں کا جواب دو طریقوں سے دیتا ہے ۔

پہلا یہ کہ خد اہر قسم کے عیب اور نقص سے منزہ ہے اور تمام چیزوں سے بے نیاز ہے( سُبْحَانَه ُهُوَ الْغَنِیُّ ) ۔

یہ اس طرف اشارہ کہ اولاد کی ضرورت یا تو جسمانی قوت کی احتیاج اور مدد کے طور پر ہوتی ہے اور یا روحانی اور ضذباتی ضرورت کے تحت اور چونکہ خدا ہر عیب و نقص اور ہر وجعی کمی سے منزہ ہے اور اس کی ذات پا ک غنی اور بے نیاز ہے لہٰذا ممکن نہیں کہ وہ اپنے لئے بیٹے کا انتخاب کرے ”وہ آسمانوں او رزمین میں موجود تمام تر موجودات کا مالک ہے “( لَهُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْاٴَرْضِ ) ۔

اس صورت میں اس کے لئے بیٹے کا کیا مفہوم وہ رہ جاتا ہے کہ جو اسے سکون بخشے یا اس کی مدد کرے ۔

امر جاذب نظر ہے کہ یہاں ” اتخذ “ ( انتخاب کیا اور اختیار کیا ) استعمال ہو ا۔ یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ ان کا نظر یہ تھا کہ خدا سے بیٹا پیدا نہیں ہو بلکہ وہ کہتے تھے کہ خدا نے ایک موجود کو اپنے فرزند کے طو ر چن لیا ہے جیسے بعض لوگوں کے ہاں اولاد نہیں ہوتی تو وہ کسی بچہ کسی پر ورش گاہ وغیرہ سے گود لے لیتے ہیں بہر حال یہ کوتاہ نظر جاہل خالق و مخلوق کے موازنہ میں اشتباہ میں پڑ گئے تھے اور انھوں نے خدا کی بے نیاز ذات کو اپنے ضرورت مند اور نیاز مند وجود کی طرح سمجھ لیا تھا ۔

دوسرا جواب جو قرآن انھیں دیتا ہے یہ کہ جو شخص بھی کوئی دعویٰ کرتا ہے اسے اپنے دعویٰ پرکوئی دلیل پیش کرنا چاہتا ہئیے ۔ ” کیا تمہارے پاس اس بات کی کوئی دلیل ہے “۔ نہیں تمہارے پاس اس دعویٰ کی کوئی دلیل نہیں ہے( إِنْ عِنْدَکُمْ مِنْ سُلْطَانٍ بِهَذَا اٴَتَقُولُونَ عَلَی اللهِ مَا لاَتَعْلَمُونَ ) ۔

یعنی بالفرض اگر تم پہلی دلیل کو قبول نہیں کرتے تو پھر بھی تم اس حقیقت کا انکار نہیں کرسکتے کہ تمہاری با ت ایک تہمت ہے او رایسا قول ہے جس کی بنیاد میں کوئی علم نہیں ہے ۔

اگلی آیت میں خد اپر تہمت باندھنے کے منحوس انجام کا تذکرہ ہے ۔ خدا تعالیٰ روئے سخن اپنے پیغمبر کی طرف کرتے ہوئے کہتا ہے ان کہہ دو: وہ لوگ جو خدا پر افتراء باند ھتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں ہ رگز فلاح کا منہ نہیں دیکھیں گے( قُلْ إِنَّ الَّذِینَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللهِ الْکَذِبَ لاَیُفْلِحُونَ ) ۔

فرض کریں کہ وہ اپنے جھوٹ اور تہمتوں سے چند دن کے لئے دنیا کے مال و منال تک پہنچ بھی جائیں تو یہ صرف اس جہان کا ایک زود گزر مال و متاع ہی ہے ۔ اس کے بعد یہ ہماری طرف پلٹ کر آئیں گے او رہم ان کے کفر کی وجہ سے انھیں عذابِ شدیدکا مزہ چکھائیں گے( مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ إِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیقُهُمْ الْعَذَابَ الشَّدِیدَ بِمَا کَانُوا یَکْفُرُونَ ) ۔

در حقیقت اس آیت میں اور اس سے پہلے کی آیت میں خدا کی طرف بیٹے کے انتخاب کی نسبست دینے والے جھوٹوں کے لئے دو قسم کی سزائیں بیان کی گئی ہیں ایک یہ کہ جھوٹ اور افتراء کبھی ان کی فلاح کا سبب نہیں بنے گا اور کبھی انھیں ان کے مقصد تک نہیں پہنچائے گا بلکہ وہ بے راہ ویوں میں سر گرداں رہیں گے اور بد بختی اور شکست انھیں دامن گیر ہو گی ۔ دوسرا یہ کہ فرض کریں کہ وہ ان باتوں سے چند لوگوں کو غفلت میں رکھ لیں اور بت پرستی کے مذہب سے کوئی مقصد حاصل کرلیں تاہم اس مفاد میں دوام و بقاء نہیں ہے اور خدا کا دائمی عذاب ان کے انتظار میں ہے ۔

چند الفاظ کا مفہوم

۱ ۔ ” سلطان “:

یہ لفظ یہاں ” دلیل “ کے معنی میں ہے یہ لفظ ” دلیل “ سے بھی زیادہ پرمعنی اور رسا تر ہے کیونکہ ” راہنما “ کے معنی میں ہے ۔ لیکن ” سلطان “ کا مطلب ہے وہ چیز جو انسان کو اپنے مد مقابل پر مسلط کردے ۔ یہ لفظ بحث ، مجادلہ اور گفتگو کے مواقع سے منا سبت رکھتا ہے او رسر کوبی کرنے والی دلیل کی طرف اشارہ ہے ۔

۲ ۔ ”متاع “۔

اس کامعنی ہے ” وہ چیز جس سے انسان فائدہ اٹھائے “ اس کا مفہوم بہت وسیع ہے اور اس میں زندگی کے تمام وسائل او رمادی نعمات شامل ہیں ۔ مفردات میں راغب کہاتا ہے : ” کلما ینتفع بہ علی وجہ ما،فھو متاع و متعة“

ہر وہ چیز جس سے انسان فائدہ اٹھائے اسے ”متاع “ یا ” متعہ “ کہتے ہیں ۔

۳ ۔ ” نذیقھم “

اس کا معنی ہے ” ہم انھیں چکھائیں گے“۔ یہ تعبیر جو عذاب الہٰی کے بارے میں استعمال ہوئی ہے اس طرف اشارہ ہے کہ یہ سزا ان تک اس طرح پہنچتی ہے کہ گویا وہ اسے اپنی زبان سے چکھتے ہیں ۔ یہ تعبیر مشاہدہ سے حتی ٰ کہ عذاب کو مس کرنے سے بھی کہیں زیادہ مطلب دیتی ہے ۔


آیات ۷۱،۷۲،۷۳

۷۱ ۔( وَاتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاٴَ نُوحٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ یَاقَوْمِ إِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکُمْ مَقَامِی وَتَذْکِیرِی بِآیَاتِ اللهِ فَعَلَی اللهِ تَوَکَّلْتُ فَاٴَجْمِعُوا اٴَمْرَکُمْ وَشُرَکَائَکُمْ ثُمَّ لاَیَکُنْ اٴَمْرُکُمْ عَلَیْکُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوا إِلَیَّ وَلاَتُنْظِرُونِی ) ۔

۷۲ ۔( فَإِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاٴَلْتُکُمْ مِنْ اٴَجْرٍ إِنْ اٴَجْرِی إِلاَّ عَلَی اللهِ وَاٴُمِرْتُ اٴَنْ اٴَکُونَ مِنْ الْمُسْلِمِینَ ) ۔

۷۳ ۔( فَکَذَّبُوهُ فَنَجَّیْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِی الْفُلْکِ وَجَعَلْنَاهُمْ خَلَائِفَ وَاٴَغْرَقْنَا الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِینَ ) ۔

ترجمہ

۷۱ ۔ان کے سامنے نوح کا قصہ پڑھو کہ جب اس نے اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم ! حیثیت اور میرا آیات ِ الہٰی کا یاد دلانا تم پر گراں ( اور قابل بر داشت ) ہے تو جو کچھ تم سے ہو سکے کرلو ) میں نے خدا پر توکل کیا ہے اپنی فکر اور اپنے معبودوں کی قوت کو مجتمع کولو اور کوئی چیز تم پر مخفی نہ ہو پھر میری زندگی کا خاتمہ کردو ( اور لمحہ بھر کے لئے ) مجھے مہلت نہ دو ( لیکن تم اس کی قدرت نہیں رکھتے ) ۔

۷۲ ۔ اور اگر تم میری دعوت قبولکرنے سے منہ موڑ تے ہو تو ( تم غلط کرتے ہو کیونکہ ) میں تم سے کوئی مزدوری نہیں چاہتا ۔ میرا اجر صرف خدا پر اور میرے ذمہ ہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں ( کہ جو خدا کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہیں ) ۔

۷۳ ۔ لیکن انھوں نے اس کی تکذیب کی اور ہم نے اسے اور اس کے ساتھ جو کشتی میں تھے انھیں نجات دی اور انھیں ( کافروں کی جگہ ) جا نشین قرار دیا او رجن لوگوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی تھی انھیں غرق کردیا پس دیکھو کہ جوڈرائے گئے تھے ( لیکن انھوں نے اللہ کی طرف سے ڈرائے جانے کو اہمیت نہ دی ) ان کا کیا انجام ہوا ؟

حضرت نوحعليه‌السلام کے جہاد کا ایک پہلو

زیر نظر آیات سے تاریخ انبیاء اور گزشتہ اقوام کی سر گزشت کے ایک حصے کا آغاز ہوتا ہے ۔ مشرکوں اور مخالف گروہوں کی بیداری کے لئے خدا اپنے پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ مشرکین کے بارے میں جاری گفتگو کی تکمیل گزشتہ لوگوں کی عبرت انگیز تاریخ کے حوالے سے کریں ۔

پہلے حضرت نوحعليه‌السلام کی سر گزشت بیان کی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : ان کے سامنے نوح کی سر گزشت پڑھو، جبکہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم ! تمہارے درمیان میرا توقف اور آیات ِ الٰہی کا یاد دلانا اگر تمہارے لئے گراں ہے اور ناقابل ِ برداشت ہے تو پھر جو کچھ تم سے ہو سکے کر گزر رو اور اس میں کوتا ہی نہ کرو

( وَاتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاٴَ نُوحٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ یَاقَوْمِ إِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکُمْ مَقَامِی وَتَذْکِیرِی بِآیَاتِ اللهِ ) ۔کیونکہ میں نے اللہ پر توکل کیا ہے “ لہٰذا اس کے غیر سے نہیں ڈرتا اور نہ میں کسی سے ہراساں ہو ں( فَعَلَی اللهِ تَوَکَّلْت ) ۔

اس کے بعد تاکیداً فرمایا گیا ہے : اب جب کہ ایسا ہے تو اپنی فکر مجتمع کرلو اور اپنے بتوں کو بھی دعوتِ عمل دو تاکہ وہ تمہارے ارادے میں تمہاری مدد کریں( فَاٴَجْمِعُوا اٴَمْرَکُمْ وَشُرَکَائَکُم ) ۔” اس طرح سے کہ کوئی چیز تم پر مخفی نہ رہے اور نہ تمہارے دل میں کوئی غم رہے “ بلکہ پوری وضاحت سے میرے بارے میں پختہ ارادہ کرلو( ثُمَّ لاَیَکُنْ اٴَمْرُکُمْ عَلَیْکُمْ غُمَّةً ) ۔

” غمة “ ” غم “ کے مادہ سے کسی چیز کے چھپانے کے معنی میں ہے ۔ یہ جو رنج و اندوہ اور حزن و ملال کو غم کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ انسان کے دل کو چھپالیتا ہے ۔

اس کے بعد کہاگیا ہے : اگرتم سے ہو سکے تو ” اٹھ کھڑے ہو اور میری زندگی کا خاتمہ کر دو اور مجھے لمحہ بھر کی مہلت نہ دو“( ثُمَّ اقْضُوا إِلَیَّ وَلاَتُنْظِرُونِی ) ۔(۱)

حضرت نوحعليه‌السلام خدا کے عظیم رسول ہیں ان کے بہت تھوڑے سے ساتھی تھے اور دشمن نہایت سخت اور طاقت ور لیکن وہ پانے یقین کے ساتھ کہ جو اولو العزم پیغمبروں کا خاصہ ہے بڑی شجاعت اور پامردی سے دشمنوں کے مقابلے میں ڈٹ جاتے ہیں ۔ ان کی قوت و طاقت کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کے سازشوں ، افکار اور بتوں کے بارے میں اپنی بے اعتنائی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ اس طرح ان کے افکار و نظر یات پر ایک شدید نفسیاتی ضرب لگاتے ہیں ۔

اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ آیات مکہ میں نازل ہو ئیں اس زمانے میں کہ جب رسول اللہ بھی حضرت نوحعليه‌السلام جیسے حالات سے دو چار تھے اور مومنین اقلیت میں تھے ، قرآن چاہتا ہے کہ پیغمبر اکرم کو بھی یہی حکم دے کہ وہ دشمن کی طاقت کو اہمیت نہ دیں ، بلکہ یقین او رشجاعت و شہامت کا مظاہرہ کریں کیونکہ ان کی پناہ گاہ خدا ہے اور اس کی قدرت کے سامنے طاقت نہیں ٹھہر سکتی ۔

بعض مفسرین حضرت نوحعليه‌السلام کے اس قیام کو یا تاریخ انبیاء میں ایسے واقعات کو اعجاز کی ایک قسم قرار دیتے ہیں کیونکہ انھوں نے ظاہری وسائل نہ ہونے کے باوجود دشمنوں کو شکست کی دھمکی دی او رانجام کا ر اپنی فتح کی خبر دی اور یہ چیز معجزے کے سوا ممکن نہیں ۔

بہر حال یہ تمام اسلامی رہبروں کے لئے ایک درس ہے کہ وہ دشمنوں کی کثرت سے ہر گز ہراساں نہ ہوں بلکہ پر وردگار پر بھروسہ اور توکل کرتے ہوئے ، حتمی و قطعی فیصلے کے ساتھ جتنا زیادہ ہو سکے انھیں مقابلہ کی دعوت دیں او ران کی طاقت کی تحقیر و تذلیل کریں کیونکہ یہ اسلام کی پیروکاروں کی روحانی تقویت اور دشمنوں کی روحانی شکست کے لئے ایک اہم عامل ہے ۔

اگلی آیت میں حضرت نوحعليه‌السلام کی طرف سے اپنی حقانیت کے لئے اثبات کے لئے ایک اور بیان نقل ہواہے ارشاد ہوتا ہے :اگر تم میری دعوت سے رو گردانی کرو گے تو مجھے کوئی نقصان نہیں ہو گا کیونکہ میں نے تم سے کسی اجر یا مزدوری کا تو تقاضا نہیں کیا( فَإِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاٴَلْتُکُمْ مِنْ اٴَجْرٍ ) (۲)

کیونکہ میرا اجر اور جزا صرف خدا پر ہے “( إِنْ اٴَجْرِی إِلاَّ عَلَی اللهِ ) ۔

میں اس کام کے لئے کرتا ہوں اور اسی سے اجر و جزا چاہتا ہوں اور ” میں مامور ہوں کہ فقط فرمانِ خدا کے سامنے سر تسلیم خم کروں “( وَاٴُمِرْتُ اٴَنْ اٴَکُونَ مِنْ الْمُسْلِمِینَ ) ۔

یہ جو حضرت نوحعليه‌السلام کہتے ہیں کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا خدائی رہبروں کے لئے یہ ایک اور درس ہے کہ وہ اپنی دعوت اور تبلیغ میں لوگوں سے کسی قسم کی کوئی مادی اور معنوی جز کی توقع نہ رکھیں کیونکہ ایسی توقعات ایک قسم کی وابستگی پیدا کردیتی ہیں اور ان کی صریح تبلیغات اور آزادانہ کار کر دگی کی راہ میں دیوار بن جاتی ہیں لہٰذا فطرتا ً ان کی تبلیغات اور دعوت کا اثر کم ہو جائے گا ۔ ۔ اس بناء پر اسلام اور اس کی تبلیغ اور دعوت کے لئے صحیح راستہ بھی یہی ہے کہ مبلغین اسلام اپنی گزر بسر کرنے اور معاش کے لئے بیت المال کا سہارا لیں نہ کہ وہ لوگوں کے محتاج ہوں ۔

زیر بحث آخری آیت میں حضرت نوح کے دشمنوں کے انجام اور آپ پیش گوئی کی صداقت کی یوں بیان کیا گیا ہے : انھوں نے نوح کی تکذیب کی لیکن ہم نے اسے اور ان تمام افراد کو جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی( فَکَذَّبُوهُ فَنَجَّیْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِی الْفُلْکِ ) ۔(۳)

” ہم نے یہ صرف انھیں نجات دی بلکہ ستم گر قوم کی جگہ جانشین بنایا “( وَجَعَلْنَاهُمْ خَلَائِف ) ۔اور جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کیا تھا انھیں ہم نے غرق کردیا “( وَاٴَغْرَقْنَا الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا ) ۔

آخر میں روئے سخں پیغمبر اکرم کی طرف کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اب ان لوگوں کا انجام دیکھو جھنیں ڈرایا گیا تھا لیکن انھوں نے خدا ئی تنبیہوں کو نہ سمجھااس طرح ہم تجاوز کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں ( تاکہ وہ کچھ نہ سمجھ سکیں ) ۔( فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِینَ ) ۔

____________________

۱۔ ”کان ان کبر علیکم “ کی جزاء شرط کیاہے ؟ اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے اس کے لئے جس قدر احتمالات ذخر ہوئے ہیں ان میں سے دو زیادہ قرین عقل ہیں ۔ایک یہ کہ ”فاجمعوا امرکم “ جزائے شرط ہے اور ”فعلی الله توکلت “ شرط اور جزا کے درمیان جملہ معترضہ ہے ۔ دوسرا یہ کہ جزا محذوف ہے او ربعد والے جملے اس پر دلالت کرتے ہیں اور تقدیر اس طرح ہے :فافعلوا ما ترید ون فانی متوکل علی الله ۔ در حقیقت جملہ ”فعلی الله توکلت “ علت کے قبیل سے ہے جو معلول کی جانشین ہے اور بعد والے جملے میں ” شرکائکم “ بتوں کی طرف اشارہ ہے اور اس سے پہلے واو ہے وہ ” مع“ کے معنی میں ہے ( غور کیجئے گا ) ۔

۲۔ اس شرط کا جواب بھی محذوف ہے ۔فان تولیتم فلا تضرونی ۔ یا اس طرح ہے :فان تولیتم فانتم و شاٴنکم ۔

۳۔ ”فلک “ کشتی کے معنی میں یہ لفظ ” سفینہ “ سے مختلف ہے ۔ یہ فرق کہ ” سفینہ “ مفرد ہے اور اس کی جمع ” سفائن “ ہے ، جبکہ ” فلک “ مفرد اور جمع دونوں کے لئے بولا جاتا ہے ۔


آیت ۷۴

۷۴ ۔( ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِ رُسُلًا إِلَی قَوْمِهِمْ فَجَائُوهُمْ بِالْبَیِّنَاتِ فَمَا کَانُوا لِیُؤْمِنُوا بِمَا کَذَّبُوا بِهِ مِنْ قَبْلُ کَذَلِکَ نَطْبَعُ عَلَی قُلُوبِ الْمُعْتَدِینَ ) ۔

ترجمہ

۷۴ ۔ پھر ہم نے نوحعليه‌السلام کے بعد کچھ رسول ان کی قوم کی طرف بھیجے وہ واضح دلائل لے کے ان کے پاس گئے لیکن وہ اس چیز پر ایمان نہ لائے جس کی پہلے تکذیب کرچکے تھے ۔

حضرت نوحعليه‌السلام کے بعد آنے والے انبیاء

حضرت نوح کی سر گزشت کے بارے میں اجمالی گفتگو کے بعد ان کے بعد لوگوں کی ہدایت کے لئے آنے والے انبیاء کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یہ ان انبیاء کا تذکرہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے آئے مثلاًابراہیمعليه‌السلام ، ہودعليه‌السلام ، صالحعليه‌السلام ، لوطعليه‌السلام اور یو سفعليه‌السلام ۔ ارشاد ہو تا ہے : پھر نوح کے بعد ہم نے کچھ رسول ان کی قوم اور جمیعت کی طرف بھیجے( ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِ رُسُلًا إِلَی قَوْمِهِمْ ) ۔

” وہ واضح ، روشن اور آشکار دلائل لے کر اپنی اپنی قوم کی طرف ائے “ اور نوح کی طرف ح ان کے پاس بھی منطق و اعجاز کے تربیت کنندہ ہتھیار اور پروگرام تھے( فَجَائُوهُمْ بِالْبَیِّنَات ) ۔

” لیکن وہ لوگ جو عناد اور ہٹ دھرمی کی راہ چل رہے تھے اور گزشتہ انبیاء کی تکذیب کے لئے بھی اٹھ کھڑے ہوئے تھے ۔ انھوں نے ان انبیاء کی بھی تکذیب کی اور ان پر ایمان نہ لائے( فَمَا کَانُوا لِیُؤْمِنُوا بِمَا کَذَّبُوا بِهِ مِنْ قَبْلُ ) ۔

اور یہ اس بناء پر تھا کہ گناہ اور حق دشمنی کی وجہ سے ان کے دلوں پر پردہ پڑا ہو اہے ” جی ہاں ہم اس طرح تجاوز کرنےوالوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں “( کَذَلِکَ نَطْبَعُ عَلَی قُلُوبِ الْمُعْتَدِینَ ) ۔

دوقابل توجہ نکات

۱ ۔ ہٹ دھرم گروہ :

( فما کانوا لیوٴمنوا بما کذبوا به من قبل ) “ یہ جملہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ امتوں میں کچھ ایسے گروہ بھی تھے جو کسی پیغمبر اور مصلح کی دعوت پر سر تسلیم خم نہیں کرتے تھے اور اسی طرح اپنی بات پر اڑے رہتے تھے انبیاء کی بار بار کی دعوت سے ان پر ذرہ بھی بھی اثر نہیں ہوتا تھا لہٰذا مذکورہ ایک ایسے گروہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جس نے دو مختلف گروہوں کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ ایک گروہ حضرت نوحعليه‌السلام کے زمانے میں تھا اور ان کی دعوت کی تکذیب کرتا تھا جب کہ دوسرا گروہ اس کے بعد آیا جو انبیاء کی تکذیب میں پہلے گروہ کا پیرو کار تھا ۔ اس بناء پر جملے کا معنی اس طرح ہو گا : دوسری قوموں کے تجاوز کرنے والوں نے اس چیز پر ایمان لانے سے منہ پھیر لیا کہ جس سے پہلی قوموں نے رو گر دانی کی تھی ۔

البتہ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کی مخالفت کرنے والے طوفان کے دوران ختم ہو گئے تھے دوسرا احتمال زیادہ قوی معلوم ہوتا ہے بہر حال اس کا لازمہ یہ ہے کہ ہم جملے کی ضمیروں کے مرجع (کانوا،لیوٴمنوا ،اورکذبوا ، میں جمع کی واو ) میں تفکیک اور الگ الگ ہونے کے قائل ہوں ۔

۲ ۔ ”( کذٰلک نطبع علیٰ قلوب المعتدین ) “ جبر کی دلیل نہیں :

واضح ہے کہ یہ جملہ جبر کی دلیل نہیں ہے اور اس کی تفسیر خود اسی میں موجود ہے کیونکہ فرمایا گیا ہے کہ ہم تجاوز کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگادیتے ہیں تاکہ وہ کسی چیز کا ادراک نہ کرسکیں ۔ یعنی پہلے وہ احکام الہٰی اور حق و حقیقت کے بارے میں پے در پے تجاوز اور زیادتیوں کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ ان کی یہ زیادہ تیاں تدریجاً ان کے دلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں اور ان سے حق کی تشخیصکی قدرت چھین لیتی ہیں ان کا معاملہ یہاں تک پہنچ جاتا ہے کہ سر کشی ، نافرمانی اور گانہ ان کی عادت اور طبیعت ِ ثانیہ بن جاتا ہے چنانچہ اب وہ کسی حقیقت کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے ۔(۱)

____________________

۱ ۔اس مطلب کی تفصیل ہم جلد اول میں سورہ بقرہ کی آیت ۸ کے ذیل میں پیش کرچکے ہیں ۔


آیات ۷۵،۷۶،۷۷،۷۸

۷۵ ۔( ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ مُوسَی وَهَارُونَ إِلَی فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ بِآیَاتِنَا فَاسْتَکْبَرُوا وَکَانُوا قَوْمًا مُجْرِمِینَ ) ۔

۷۶ ۔( فَلَمَّا جَائَهُمْ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا إِنَّ هَذَا لَسِحْرٌ مُبِینٌ ) ۔

۷۷ ۔( قَالَ مُوسَی اٴَتَقُولُونَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَائَکُمْ اٴَسِحْرٌ هَذَا وَلاَیُفْلِحُ السَّاحِرُونَ ) ۔

۷ ۸۔( قَالُوا اٴَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ آبَائَنَا وَتَکُونَ لَکُمَا الْکِبْرِیَاءُ فِی الْاٴَرْضِ وَمَا نَحْنُ لَکُمَا بِمُؤْمِنِینَ ) ۔

ترجمہ

۷۵ ۔ ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی آیات دے کرفرعون اور اس کے آس پا س والوں کی طرف بھیجا لیکن انھوں نے تکبر کیا ( اور حق قبول نہ کیا کیونکہ ) وہ مجرم گروہ تھا۔

۷۶ ۔ اور جب ہماری طرف سے ان کے پاس حق آیا تو کہنے لگے یہ واضح جادو ہے ۔

۷۷ ۔( لیکن ) موسیٰ نے کہا کیا اس حق کو تم جادو شمار کرتے ہو جو تمہاری طرف آیاہے ؟ کیا یہ جادو ہے؟ حالانکہ جادو گر تو رست گار ( اور کامیاب ) نہیں ہوں گے ۔

۷۸ ۔ کہنے لگے کیا تو اس لئے آیا ہے کہ ہمیں اس سے پھیر دے جس پر ہمارے آباو اجداد تھے اور تو روئے زمین کی بزر گی ( اور حکومت حاصل کرلے ) ہم تم دونوں پر ایمان نہیں لائیں گے ۔

موسیٰعليه‌السلام اور ہارونعليه‌السلام کے جہاد کا ایک پہلو

گزشتہ انبیاء او ران کی امتوں کے واقعات کو زندہ نمونہ کے طور پر ذکر کیا گیا ہے ، اس سلسلے میں سب سے پہلے حضرت نوحعليه‌السلام کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے پھر حضرت نوحعليه‌السلام کے بعد کے پیغمبروں کاذکر ہوا ہے ۔

اب زیر نظر آیات میں حضرت موسیٰعليه‌السلام اور حضرت ہارونعليه‌السلام کے بارے میں بات کی گئی ہے ۔ یہاں فرعون اور اس کے ساتھیوں سے ان کے مسلسل مبارزات اور جہاد کا کچھ ذکر کیا گیا ہے ۔

پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے : گزشتہ انبیاء کے بعد ہم نے موسیٰ او رہارون کو فرعون اور اس کی جماعت کی طرف آیات و معجزات کے ساتھ بھیجا( ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ مُوسَی وَهَارُونَ إِلَی فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ بِآیَاتِنَا ) ۔(۱)

جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے ان زرق و برق اشراف کو ملا ء کہا جاتا ہے کہ جن کا ظاہر آنکھ کو پر کردے اور اجماع میں ہو ں تو نمایاں ہوں ۔ زیر بحث آیت میں ایسی دیگر آیات میں یہ لفظ حواریوں ، اطرافیوں او رمشیروں کے معنی میں آیا ہے ۔

یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ گفتگو صرف فرعونیوں کی طرف حضرت موسیٰعليه‌السلام کے مبعوث ہو نے کے بارے میں ہے جب کہ حضرت موسیٰ تمام فرعونیوں اور بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے تو ا س کی وجہ یہ ہے کہ معاشرے کی بض بر سر اقتدار پارٹی او ران کے خاندان کے ہاتھ میں ہوتی ہے اس لئے ضروی ہے کہ ہر اصطلاحی اور انقلابی پر گرام میں پہلے انھیں ہدف بنا یا جائے ۔ جیسا کہ سورہ توبہ کی آیہ ۱۲ میں بھی ہے:( فقاتلوا ائمة الکفر )

پس کفر کے حکمرانوں اور دالیوں سے جنگ کرو۔

لیکن فرعون اور فرعونیوں نے حضرت موسیٰعليه‌السلام کی دعوت سے رو گر دانی کی اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی بجائے اس سے تکبر کیا( فَاسْتَکْبَرُوا ) ۔

انھوں نے تکبر کی وجہ سے اور انکساری کی روح نہ ہونے کے باعث حضرت موسیٰ کی دعوت کے واضح حقائق کی پر واہ نہ کی ۔ اس طرح اس مجرم اور گنہ گار قوم نے اپنا جرم و گناہ جاری رکھا ۔( وَ کَانُوا قَوْمًا مُجْرِمِینَ ) ۔

اگلی آیت میں حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی سے فرعونیوں کے بعض مبارزات کے بارے میں گفتگو ہے پہلا مرحلہ یہ تھا کہ انھوں نے انکار ، تکذیب اور افتراء کا راستہ اختیار کیا ان کی نیت کو بڑا قرار دیا ۔بڑوں کے طریقے کو درہم بر ہم کرنے کا الزام دیا اور اجتماعی نظام میں خلل ڈالنے کی تہمت لگائی ۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے : جس وقت ہماری طرف سے حق ان کے پاس آیا ( تو باوجودیکہ انھوں نے اس کے چہرے سے اسے پہچان لیا ) کہنے لگے کہ یہ واضح جادو ہے

( فَلَمَّا جَائَهُمْ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا إِنَّ هَذَا لَسِحْرٌ مُبِینٌ ) ۔

حضرت موسیٰ کی دعوت کی قوت ِ جاذبہ ایک طرف، آنکھوں میں سما جانے والے معجزات دوسری طرف روز افزون اور حیران کن اثر نفوذ تیسری طرف بنے کہ فرعونی فکر میں پڑ گئے ۔ انھیں اس سے بہتر کوئی بات نہ سوجھی کہ انھیں جادو گر کہیں اور ان کے کام کو جا دو قرار دیں اور یہ ایسی تہمت ہے جو پوری تاریخ انبیاء میں اور خصوصاً پیغمبر اسلام کے بارے میں نظر آتی ہے لیکن حضرت موسیٰعليه‌السلام نے اپنے دفاع میں دو لیلوں سے نقاب الٹ دئیے اور ان کے جھوٹ اور تہمت کو آشکار کردیا ۔

آپعليه‌السلام نے پہلے ان سے کہا کہ کیا تم حق کی طرف جادو کی نسبت دیتے ہو کیا یہ جادو ہے اور ا س کی جادو سے کوئی مشابہت ہے ؟( قَالَ مُوسَی اٴَتَقُولُونَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَائَکُمْ اٴَسِحْرٌ هَذَا ) ۔

مندر جہ بالا جملے میں محذوف مقدر ہے کہ جو پورر کلام سے سمجھا جاتا ہے ، جو اصل میں اس طرح ہے :

( اتقولون للحق لما جاء کم سحر، اسحر هٰذا )

یعنی یہ درست ہے کہ سحر اور معجزہ دونوں ہی اثر رکھتے ہیں ۔ یہ حق اور باطل ممکن ہے دونوں لوگوں کو متاثر کریں لیکن جادو ک اچہرہ کہ جو ایک باطل چیز ہے ، معجزے سے کہ جو حق ہے بالکل جدا ہے ۔ انبیاء کے اثر کو جادو گروں کے اثر پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ۔ جادو گروں کے کام بے ہدف ، محدود اور بے وقعت ہوتے ہیں ۔ جب کہ انبیاء کے معجزات کے مقاصد روشن ، اصلاحی ، انقلابی اور تربیتی ہوتے ہیں علاوہ ازیں جادو گر بھی کامیاب نہیں ہوتے( وَلاَیُفْلِحُ السَّاحِرُونَ ) ۔

یہ تعبیر در اصل انبیاء کے کام کے جادو سے ممتاز اور جدا ہونے پر ایک دلیل ہے پہلی دلیل میں جادو اور معجزے کا فرق بیان کیا گیا ہے ان دونوں کے مختلف رخ کی طرف اشارہ ہے اور ان کے ہدف اور مقصد ک ااختلاف ثابت کیا گیا ہے لیکن یہاں جادو گر اور معجزہ لانے والے کے حالات و صفات کے اختلاف کے حوالے سے مطلب کے اثبات میں مدد لی گئی ہے ۔

جادو گر کا کام اور فن انحراف پیدا کرنے اور غافل کرنے کا پہلو رکھتا ہے ۔ جادو سے فائدہ اٹھانے والے افراد منحرف ، لوگوں کو غافل کرنے والے اور دھوکا باز ہوتے ہیں ۔ جبکہ پیغمبر حق طلب ، دلسوز ، پاک دل ، باہدف ، نیک ، پارسا اور مادی امور کی پرواہ نہ کرنے والے جواں مرد ہوتے ہیں ۔

جادو گر بھی رست گاری اور فلاح کا چہرہ نہیں دیکھتے وہ دولت و ثروت ، مقام اور منصب ذاتی مفادات کے سوا کسی چیز کے لئے کام نہیں کرتے ۔ جبکہ انبیاء کا ہدف و مقصد ہدایت ، خلق خدا کا مفاد اور انسانی معاشرے کے تمام معنوی اور مادی پہلو وں کی اصلاح ہوتا ہے ۔

پھر انھوں نے اپنی تہمتوں کی سیلاب کا رخ موسیٰ کی طرف کئے رکھا اور ان سے کھل کر کہنے لگے: کیا تو ہمارے آباوواجداد اوربزرگوں کے طور طریقے سے پھیر دینا چاہتا ہے( قَالُوا اٴَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ آبَائَنَا ) ۔

در حقیقت انھو ں نے بڑوں کے طور طریقے ، رسومات ، خیالی عظمت او ران کے افسانوی بتوں کا سہارا لیا تاکہ عوام کو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونعليه‌السلام سے متنفر کرسکیں اور انھیں یقین دلائیں کہ یہ تمہارے معاشرےاور ملک کے مقدسات اور عظمتوں کو پامال کرنا اور ان سے کھیلنا چاہتے ہیں ۔

اس کے بعد انھو ں نے اپنی پہلی بات کو جاری رکھا اور کہا کہ خدا کے دین کے بارے میں تمہاری دعوت جھوٹ سے زیادہ کچھ نہیں ۔ یہ تو سب اس سر زمین پر حکومت کرنے کے لئے جال اور خائنانہ سازشیں ہیں( وَتَکُونَ لَکُمَا الْکِبْرِیَاءُ فِی الْاٴَرْضِ ) ۔

درحقیقت چونکہ ان کی ہر کوشش لوگں پر ظالمانہ حکومت کے لئے تھی لہٰذا دوسروں کو بھی ایسا ہی خیال کرتے تھے ۔ وہ انبیاء کی مصلحانہ کو ششوں کو بھی یہی معنی پہناتے تھے اور کہتے تھے کہ ” تم جان لو کہ ہم تم دو افراد پرکبھی ایمان نہیں لائیں گے ۔ “ کیونکہ ہم تمہارے مقاصد سمجھ لیتے ہیں اور تمہارے تحزیبی پر گرام سے ہم آگاہ ہیں( وَمَا نَحْنُ لَکُمَا بِمُؤْمِنِینَ ) ۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف ان کی جنگ کا یہ پہلا مرحلہ ہے ۔

____________________

۱۔ ”آیات “ سے مراد وہی حضرت موسیٰعليه‌السلام کے متعدد معجزات جو ابتداء میں اپنے ساتھ لائے تھے ۔


آیات ۷۹،۸۰،۸۱،۸۲

۷۹ ۔( وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُونِی بِکُلِّ سَاحِرٍ عَلِیمٍ ) ۔

۸۰ ۔( فَلَمَّا جَاءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُوسَی اٴَلْقُوا مَا اٴَنْتُمْ مُلْقُونَ ) ۔

۸۱ ۔( فَلَمَّا اٴَلْقَوْا قَالَ مُوسَی مَا جِئْتُمْ بِهِ السِّحْرُ إِنَّ اللهَ سَیُبْطِلُهُ إِنَّ اللهَ لاَیُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِینَ ) ۔

۸۲ ۔( وَیُحِقُّ اللهُ الْحَقَّ بِکَلِمَاتِهِ وَلَوْ کَرِهَ الْمُجْرِمُونَ ) ۔

ترجمہ

۷۹ ۔ فرعون نے کہا :ہر گاہ جادو گر ( اور ساحر )کومیرے پاس لے آو۔

۸۰ ۔ جس وقت جادو گر آئے اور موسیٰ نے ان سے کہا : تم ( جادو کے اسباب میں سے ) جو کچھ ڈال سکتے ہو ڈال دو ۔

۸۱ ۔ جب انھوں نے ( جا دو کے اسباب) ڈالے تو موسیٰ نے کہا کہ جو کچھ تم لائے ہو وہ جادو ہے جسے خدا جلدی باطل کر دے گا کیونکہ خدا فساد کرنے والوں کے عمل کی اصلاح نہیں کرتا ۔

۸۲ ۔ اور حق کو وہ اپنے وعدہ سے ثابت کر دکھا تا ہے اگر چہ مجرم ناپسند کرتے ہوں ۔

حضرت موسیٰعليه‌السلام کے خلاف جنگ کا دوسرا مرحلہ

ان آیات میں مقابلے کا اگلا مرحلہ بیان کیا گیا ہے ۔ ان میں حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی کے خلاف فرعون کے عملی اقدام کی بات کی گئی ہے ۔

جب فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کے کچھ معجزات مثلاًید بیضا اور بہت بڑ ااژدہا کو حملہ کرتے دکھا اور اسے نظر آیا کہ موسیٰعليه‌السلام کا دعویٰ بلا دلیل نہیں اور یہ دلیل کم از کم اس کے اطرافیوں یا دوسروں میں سے بعض پر اثر انداز ہو گی تو اس نے عملی طور پر جواب دینے کا فیصلہ کیا ۔ قرآن کہتا ہے : فرعون نے پکارا کے کہا کہ تم آگاہ جادو گروں کو میرے پاس لے آوتاکہ ان کے ذیعے میں موسیٰ والی مصیبت اپنے سے دور کرسکوں( وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُونِی بِکُلِّ سَاحِرٍ عَلِیمٍ ) ۔

وہ جانتا تھا کہ ہر کام میں اس کے راستے سے داخل ہونا چاہئیے اور ا س کے ماہروں سے مدد لینا چاہئےے ۔

کیا واقعاً حضرت موسیٰ کی دعوت کی حقانیت میں شک رکھتا تھا اور اس طریقے سے انھیں آزمانا چاہتا تھا یا وہ جانتا تھا کہ موسیٰ خدا کی طرف سے ہیں لیکن اس کا خیال تھا کہ جادو گروں کے شور وغل سے لوگوں کا مطمئن کیا جا سکتا ہے اور وقتی طور پر عامة الناس کے افکار کو موسیٰ کے اثر و نفوذ سے بچایا جا سکتا ہے کہ موسیٰ خارق عادت کام کا انجام دیتا ہے تو ہم بھی اس جیسے کام کی انجام دہی سے عاجز نہیں ہیں اور ا س خیال تھا کہ اگر اس کا ملوکا نہ ارادہ اس طرح سے پورا ہو جائے تو یہ چیز سہل اور آسان ہے ۔

دوسرا احتمال زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے نیز حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں کھڑا ہوا تھا ۔

بہر حال جب مقابلے کے معین تاریخی دن کہ جس دن کے لئے لوگوں کو شرکت کی عام دعوت دی گئی تھی ، جادو گر اکھٹے ہو ئے تو حضرت موسیٰعليه‌السلام نے ان کی طرف رخ کیا اور کہا : پہلے جو کچھ تم لاسکتے ہوں میدان میں لے آو( فَلَمَّا جَاءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُوسَی اٴَلْقُوا مَا اٴَنْتُمْ مُلْقُونَ ) ۔

القو ماانتم ملقون “ کااصلی معنی یہ ہے کہ جوکچھ تم پھینک سکتے ہو پھینکو اور یہ اشارہ ہے ان مخصوص رسیوں اور لاٹھیوں کی طرف جو اندر سے خالی تھیں اور انھوں نے ان میں خاص کیمیائی مواد ڈال رکھا تھا کہ جسے سورج کی روشنی میں رکھا جائے تو اس میں حرکت اور جوش پیدا ہوتا ہے ۔ اس بات کی شاہد وہ آیات ہیں جو سورہ اعراف اور شعراء میں آئی ہیں ۔ سورہ شعراء کی آیت ۴۳ اور ۴۴ میں ہے ۔

( قال لهم موسیٰ القوا ماانتم ملقون فالواحبالهم و عصیهم و قالو بعزة فرعون انا لنحن الغالبون ) ۔

موسیٰ نے ان سے کہا جو پھینک سکتے ہو پھینکو ، پھر انھوں نے میدان میں اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں اور کہنے لگے فرعون کی عزت کے صدقے ،ہم کامیاب ہیں ۔

بہر حال انھوں نے اپنی تمام قدرت مجتمع کی او رجو کچھ وہ اپنے ساتھ لائے تھے انھوں نے میدان کے بیچ میں ڈال دئیے ” تو اس وقت موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو کچھ تم لے کر آئے ہو یہ جادو ہے او رخدا جلدی ہی اسے باطل کردے گا( فَلَمَّا اٴَلْقَوْا قَالَ مُوسَی مَا جِئْتُمْ بِهِ السِّحْرُ إِنَّ اللهَ سَیُبْطِلُهُ ) ۔

تم فاسد اور مفسد افراد ہو کیونکہ ایک جابر ، ظالم اور سر کش کی خدمت انجام دے رہے ہو اور تم نے اپنے علم کو اس خود غرض حکومت کی بنیادوں ک ومضبوط کرنے کے لئے فروخت کردیا ہے اور یہ خود تماہرے مفسد ہونے پر ایک بہترین دلیل ہے اور خدا مفسدین کے عمل کی اصلاح نہیں کرتا( إِنَّ اللهَ لاَیُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِینَ ) ۔

در حقیقت جو شخص بھی عقل ہوش اور دانش رکھتا تھا، حضرت موسیٰ کے جادو گروں پر غلبہ حاصل کرنے سے پہلے بھی اس حقیقت کو سمجھ سکتا تھا کہ ان کاعملبے بنیاد ہے کیونکہ وہ ظلم کی بنیادوں کو مستحکم کرنے کے لئے کام کررہے تھے ۔ کوں نہیں جانتا تھا کہ فرعون غاصب، غارت گر ، ظالم اور مفسد ہے ت وکیا ایسی طاقت کے خدمتگزار اس ظلم و فساد میں شریک نہ تھے کیا ممکن تھا کہ ان کا عمل ایک صحیح اور خدائی عمل قرار پا سکے ۔ ہر گزش نہیں ۔ لہٰذا واضح ہے کہ خدا ایسی مفسدانہ کوششوں کو باطل کردے گا۔

کیا ”سیبطلہ“ ( خدا نے جلد باطل کردے گا ) اس بات کا دلیل ہے کہ جادو ایک حقیقت ہے لیکن خدا اسے باطل کرسکتا ہے یا س جملے سے مراد یہ ہے کہ خدا اس کے باطل ہونے کو واضح کردے گا ۔

سورہ اعراف کی آیہ ۱۱۶ میں ہے :۔( فلما القوا سحروا اعین الناس و استرهبو هم ) ۔

یعنی ۔ جادو گروں کے جادو نے لوگوں کی آنکھوں کو متاثر کیا اور انھیں وحشت میں ڈال دیا ۔

لیکن یہ تعبیر اس بات کے منافی نہیں کہ ان کے پاس مرموز وسائل تھے جیسا کہ ” سحر“ کے لغوی معنی میں پوشیدہ ہے ۔ انھوں نے معنوی طور پر مختلف اجسام کے طبیعی اور کیمیائی خواص سے استفادہ کیا اور اس سے ان رسیوں اور لاٹھیوں میں واقعاً حرکات پیدا کردیں البتہ یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ جیسا کہ ظاہرا ً معلوم ہوتا تھا معاملہ اس کے بر عکس تھا یہ رسیاں اور لاٹھیاں زندہ موجودات نہیں بن گئی تھیں ۔ جیسا کہ قرآن سورہ طٰہٰ کی آیت میں کہتا ہے :

( فاذا حبالهم و عصیهم یخیل الیه من سحر هم انها تسعیٰ

) اس وقت رسیاں اور لاٹھیاں جادو گروں کے جادو کی وجہ سے یوں لگتی تھیں جیسے وہ زندہ موجودات ہیں جو دوڑرہی ہیں ۔لہٰذا جادو جا ایک حصہ تو حقیقت پر مبنی ہے اور دوسرا وہم و خیال ہے ۔

زیرنظر آخری آیت میں فرمایا گیا ہے کہ موسیٰ نے اس سے کہا کہ اس مقابلے میں ہمیں اعتماد ہے کہ کامیابی ہماری ہے کیونکہ خدا کا وعدہ ہے کہ وہ حق کو آشکار کرے گا اور شکست دینے والی منطق اور غالب آنے والے معجزات کے ذریعے اپنے پیغمبروں کی مدد کرے گا اور یوں ایل فساد و باطل کو رسوا اور ذلیل کرے گا اگر چہ مفسد فرعون اور ا س کے حواری اسے ناپسند کرت ے ہیں( وَیُحِقُّ اللهُ الْحَقَّ بِکَلِمَاتِهِ وَلَوْ کَرِهَ الْمُجْرِمُونَ ) ۔

” بکلماتہ“ سے مراد یا تو انبیاء ِبر حق کی کامیابی کے لئے خدائی وعدہ ہے یا اس کے قاہر اور قوی معجزات ہیں ۔(۱)

____________________

۱ ۔حضرت موسیٰ کے فرعون اور فرعونیوں سے مقابلے کے بارے میں تفصیلات اور اس سلسلے میں کئی اہم نکات پر ہم جلد شش میں سورہ اعراف کی آیہ ۱۱۳کے بعد سے تفصیل سے بحث کرچکے ہیں ۔ نیز جاو اور اس کی حقیقت کے بارے میں ہم پہلی جلد میں سورہ بقرہ کی آیہ ۱۰۲ کے ذیل میں بحث کرچکے ہیں ۔ رجوع کیجئے ۔


آیات ۸۳،۸۴،۸۵،۸۶

۸۳ ۔( فَمَا آمَنَ لِمُوسَی إِلاَّ ذُرِّیَّةٌ مِنْ قَوْمِهِ عَلَی خَوْفٍ مِنْ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِمْ اٴَنْ یَفْتِنَهُمْ وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاٴَرْضِ وَإِنَّهُ لَمِنْ الْمُسْرِفِینَ ) ۔

۴ ۸ ۔( وَقَالَ مُوسَی یَاقَوْمِ إِنْ کُنْتُمْ آمَنْتُمْ بِاللهِ فَعَلَیْهِ تَوَکَّلُوا إِنْ کُنْتُمْ مُسْلِمِینَ ) ۔

۸۵ ۔( فَقَالُوا عَلَی اللهِ تَوَکَّلْنَا رَبَّنَا لاَتَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلْقَوْمِ الظَّالِمِینَ ) ۔

۸۶ ۔( وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِکَ مِنْ الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ ) ۔

ترجمہ

۸۳ ۔ ( شروع میں ) کوئی شخص موسیٰ پر ایمان نہ لا یا اور مگر صرف اس کی قوم کی اولاد میں سے ایک گروہ ۔ ( وہ بھی ) فرعون اور اس کے حواریوں کے خوف سے کہیں وہ ( انھیں دباو ی اگمراہ کن پرپیگنڈہ سے ) ان کے دین سے منحرف نہ کردیں ۔ فرعون زمین میں بالا دستی اور طغیان کے لئے کوشاں تھا اور وہ زیادتی کر نے والوں میں سے تھا ۔

۸۴ ۔ موسیٰ نے کہا : اے میری قوم ! اگر تم ایمان لائے ہو تو اس پر توکل کرواگر اس کے فرمان کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہو۔

۸۵ ۔ انھوں نے کہا ہم صرف خدا پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔ پر ور دگار ! ہمیں ظالم گروہ کے زیر اثر قرار نہ دے ۔

۸۶ ۔ اور ہمیں اپنی رحمت سے کافر گروہ (کے ہاتھ )سے نجات دے ۔

طاغوت ِ مصر سے حضرت موسیٰعليه‌السلام کے جہاد کا تیسرا مرحلہ

ان آیات میں فرعون سے حضرت موسیٰعليه‌السلام کے انقلابی مقابلوں میں سے ایک اور واقعہ بیان کیا گیا ہے ۔

ابتداء میں حضرت موسیٰعليه‌السلام پر ایمان لانے والے کی کیفیت بیان کی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : اس واقعہ کے بعد موسیٰ پر ایمان لانے والے صرف ان کی قوم کے فرزند تھے( فَمَا آمَنَ لِمُوسَی إِلاَّ ذُرِّیَّةٌ مِنْ قَوْمِهِ ) ۔

یہ چھوٹا اور مختصر سا گروہ تھا ۔ لفظ ”ذریة “ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بھی زیادہ تر جوان اورنوجوان تھے ۔ وہ فرعون اور اس کے حواریوں کی طرف ست سخت دباو کا شکار تھے ۔ انھیں ہر وقت یہی خوف رہتا تھا کہ فرعونی حکومت کہیں شدید دباو کے ذریعے کہ جو اہل ایمان پر روارکتھی ہے ، انھیں موسیٰ کا دین ترک کرنے پر مجبور نہ کرے( عَلَی خَوْفٍ مِنْ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِمْ اٴَنْ یَفْتِنَهُمْ ) ۔کیونکہ فرعون ایک ایسا شخص تھا جو زمین پر بالادستی چاہتا تھا( وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاٴَرْضِ ) ۔وہ اسراف کرنے والا تجاوز کرنے والا تھا اور کسی حد کو قانونی نہیں سمجھتا تھا( وَإِنَّهُ لَمِنْ الْمُسْرِفِینَ ) ۔

اس بارے میں مفسرین میں اختلاف ہے کہ موسیٰ پر ایمان لانے والی ”ذریہ“ کون سی تھی اور یہ کہ ”مِنْ قومہٖ“ کی ضمیر موسیٰ کی لوٹتی ہے یا فرعون کی طرف ۔

بعض کا خیال ہے کہ یہ فرعون کی قوم اور قبطیوں میں سے چند افراد تھے جیسے مومن آل فرعون، فرعون کی بیوی ، اس کی مشاطہ ۱

اور اس کی کنیز ظاہرا اس خیال کی وجہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے اکثر افراد ایمان لاچکے تھے لہٰذا یہ صورت ” ذریة من قومہ “ سے مناسبت نہیں رکھتی۔ کیونکہ یہ تو ایک چھوٹے سے گروہ کا ذکر ہے ۔

بعض دوسرے مفسرین کا نظر یہ ہے کہ یہ گروہ بنی اسرائیل میں سے تھا اور ” بہ “ کی ضمیر موسیٰ کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ اس سے پہلے موسیٰ کا نام آیا ہے لہٰذا ادبی قواعد کے مطابق اس ضمیر کا تعلق موسیٰ ہی سے ہے ۔

اس میں شک نہیں کہ دوسرا معنی ظاہر آیت سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے نیز والی آیت میں اس کے لئے ایک شاہد ہے جس میں فرمایا گیا ہے ۔( وَقَالَ مُوسَی یَاقَوْمِ )

موسیٰ نے مومنین سے کہا : اے میری قوم یعنی مومنین کو اپنی قوم قرار دیا ہے ۔

ایک ہی اعتراض ہے جو اس تفسیر پر باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ بنی اسرائیل تو تمام حضرت موسیٰ پر ایمان لائے تھے نہ کہ ان کا ایک چھوٹا سا گروہ ایمان لایا تھا ۔ البتہ ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے یہ اعتراض دور ہو سکتا ہے او روہ یہ کہ ہم جانتے ہیں کہ ہر انقلاب کی طرف جذب ہونے والا پہلا گروہ نوجوان کا ہوتا ہے ۔ نوجوان زیادہ پاکیزہ دل اور صاف و شفاف افکارکر کھتے ہیں ۔

مزید بر آں ان میں انقلابہ جوش و خروش زیادہ ہوتا ہے ۔ مادی وابستگیاں جو بڑے بوڑھوں کا احتیاط اور مصلحت کوشی کی طرف دعوت دیتی ہیں ان میں نہیں ہوتیں نہ ان کے پاس مال و دولت ہوتا ہے کہ جس کے ضائع ہونے کا انھیں ڈر ہو اور نہ ہی مقام و منصب کہ جس کے خطرے میں پڑجانے پر وہ مضطرب ہوں لہٰذا یہ بات فطری ہے کہ گروہ حضرت موسیٰ کی طرف بہت جلد جذب ہو گیا ، اور ”ذریة“کی تعبیر اس معنی سے بہت زیادہ مناسبت رکھتی ہے ۔

اس کے علاوہ بڑے بوڑھے بھی بعد میں اس گروہ سے ملحق ہو گئے تھے کیونکہ وہ اس وقت کے معاشرے میں کوئی مقام نہیں رکھتے تھے اور ضعیف و ناتواں تھے ۔جیسا کہ ابن عباس سے منقول ہے یہ تعبیر ان کے لئے کوئی بعید نہیں ہے ۔یہ بالکل اس طرح ہے جیسے اپنے تمام دوستوں کو دعوت دیتے ہوئے ہم کہتے ہیں ” آگے چلو جوانو! دعوت ہے “ اگر چہ بڑے بوڑھے ہوں اور اگر اس تعبیر کو ہم بعید سمجھیں تو پہلا احتمال پوری طرح سے باقی ہے ۔

مزید بر آں ’ذریة “ اگر چہ عام طور پر اولاد کے لئے بولا جاتا ہے لیکن اصل لغت کے اعتبار سے جیسا کہ مفردات راغب میں راغب نے کہا ہے ، چھوٹے اور بڑے دونوں کا مفہوم لئے ہوئے ہے ۔

ایک اور نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا چاہئیے یہ ہے کہ لفظ”فتنة “ کہ جو ” ان یتنھم “ میں ہے سے مراد ڈرانے ، دھمکانے اور تکلیف پہنچانے کے ذریعہ منحرف کرنا یا ہر طرح سے پریشانی اور دردِ سر پید اکرنا چاہے وہ دینی حوالے سے ہو یا غیر دینی حدالے سے ۔

بہر حال حضرت موسیٰ نے ان کی فکر اور روح کیی تسکین کے لئے محبت آمیز لہجے میں ان سے کہا: اے میری قوم ! اگت تم لوگ خدا پر ایمان لائے ہو اور اور اپنی گفتار میں اور ایمان و اسلام کے اظہار میں سچے ہو تو تمہیں اس پرتوکل اور بھروسہ کرنا چاہیئے ۔ امواج و طوفانِ بلا سے نہ ڈرو۔ کیونکہ ایمان توکل سے جدانہیں ہے

( وَقَالَ مُوسیٰ یَا قَوْم إِنْ کُنْتُمْ آمَنْتُمْ بِاللهِ فَعَلَیْهِ تَوَکَّلُوا إِنْ کُنْتُمْ مُسْلِمِین ) ۔

”توکل “ کا مفہوم ہے کام کسی کے سپرد کرنا اور اسے وکالت کے لئے منتخب کرن۔ ” توکل “ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کو شش کرنا چھوڑ دے ، گوشہ تنہائی میں جابیٹھے او رکہے کہ میرا سہارا خدا ہے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب انسان کام کے لئے اپنی پوری کوشش کرچکے اور مشکل حل نہ ہو اور راہ سسے رکا وٹیں نہ ہٹیں تو پھر اضطراب اور وحشت کو اپنی طرف نہ آنے دے بلکہ لطف الہٰی پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کی ذات پاک اور قدرت ِ بے پایاں سے مدد چاہتے ہوئے مامردی کا مظاہرہ کرے ۔ مسلسل جہاد جاری رکھے یہاں تک کہ اگر اس میں طاقت بھی ہو تو اپنے آپ کو لطفِ خدا سے بے نیاز نہ سمجھے کیونکہ جو طاقت بھی ہے اسکی کی طرف سے ہے ۔

یہ ہے توکل کا مفہوم کہ جو ایمان و اسلام سے جدا نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ایک مومن کہ جس کا سر فرمانِ پر وردگار کے سامنے خم ہے وہ اسے ہر چیز پر قادر توانا سمجھتا ہے ۔ ہر مشکل کو اس کے ارادے کے سامنے سہل اورآسان سمجھتا ہے اور اس کے کامیابی کے وعدوں پر اعتقاد رکھتا ہے ۔

ان سچے مومنین نے موسیٰ کی دعوت کو توکل کے ساتھ قبول کیا اور کہا کہ ہم صرف خدا پر توکل کرتے ہیں( فَقَالُوا عَلَی اللهِ تَوَکَّلْنَا ) ۔

اس کے بعد انھوں نے بار گاہ ِقدس سے تقاضا کیا کہ وہ انھیں دشمنوں کے شر، وسوسوں اور دباو سے امان میں رکھے اور عرض کیا: اے پر وردگار ہمیں فتنہ کا ذریعہ اور ظالموں کے زیر اثر قرار نہ دے( رَبَّنَا لاَتَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلْقَوْمِ الظَّالِمِینَ ) ۔پر وردگار ہمیں اپنی رحمت سے بے ایمان قوم سے نجات دے( وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِکَ مِنْ الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ ) ۔

یہ امر جاذب توجہ ہے کہ پہلی آیت میں فرعون کو مسرفین میں سے قرار دیا گیا ہے ۔ تیسری آیت میں فرعون اور ا س کے حواریوں کو ظالم کہا گیا ہے اور آخری آیت میں انھیں کافر قرار دے دیا گیا ہے ۔ تعبیروں کا یہ فرق شاید اس بناء پر ہو کہ انسان گناہ کے راستے میں پہلے اسراف کرتا ہے ۔ یعنی حدود سے تجاوز کرتا ہے ، پھر ظلم و ستم کی بنیاد رکھتا ہے اور آخر کار معاملہ کفر و انکار پر جا کر ختم ہو جاتا ہے ۔

____________________

۱۔ مشاطہ پرانے زمانے میں اس عورت کو کہتے تھے جو امیر کبیر گھرانوں کی عورتوں کی آرائش و زیبائش کرتی تھی (مترجم ) ۔


آیات ۸۷،۸۸،۸۹

۸۷ ۔( وَاٴَوْحَیْنَا إِلَی مُوسَی وَاٴَخِیهِ اٴَنْ تَبَوَّاٴَا لِقَوْمِکُمَا بِمِصْرَ بُیُوتًا وَاجْعَلُوا بُیُوتَکُمْ قِبْلَةً وَاٴَقِیمُوا الصَّلَاةَ وَبَشِّرْ الْمُؤْمِنِین ) ۔

۸۸ ۔( وَقَالَ مُوسَی رَبَّنَا إِنَّکَ آتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَاٴَهُ زِینَةً وَاٴَمْوَالًا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا رَبَّنَا لِیُضِلُّوا عَنْ سَبِیلِکَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَی اٴَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَی قُلُوبِهِمْ فَلاَیُؤْمِنُوا حَتَّی یَرَوْا الْعَذَابَ الْاٴَلِیمَ ) ۔

۸۹ ۔( قَالَ قَدْ اٴُجِیبَتْ دَعْوَتُکُمَا فَاسْتَقِیمَا وَلاَتَتَّبِعَانِ سَبِیلَ الَّذِینَ لاَیَعْلَمُونَ ) ۔

ترجمہ

۸۷ ۔ اور موسیٰ اور اس کے بھائی کو ہم نے وحی کی کہ اپنی قوم کے لئے سر زمین ِمصر میں گھروں کا انتخاب کرو اور اپنے گھروں کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے

( اور قریب) رکھو اور نماز قائم کرو او رمومنین کو بشارت دو( کہ آخر کار وہ کامیاب ہو جائیں گے ) ۔

۸۸ ۔ موسیٰ نے کہا : پر وردگار! تونے فرعون اور اس کے اطرافیوں کو دنیا کی زندگی میں زینت اور ( بھر پور ) اموال دیئیے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ وہ ( تیرے بندوں کو ) تیری راہ سے گمراہ کرتے ہیں ۔ پر وردگار ! ان کے اموال نابود کردے اور ان کے دلوں کو سخت کردے کیونکہ جن تک دردناک عذاب نہ دیکھیں گے ایمان نہ لائیں گے ۔

۸۹ ۔ فرمایا: تم دونوں کی دعا قبول ہو گئی ہے ۔تم استقامت دکھاو اور ان لوگوں کے طور طریقے کی پیروی نہ کروجو نہیں جانتے ۔

چوتھا مرحلہانقلاب کی تیاری

ان آیات میں فرعون کے خلاف بنی اسرائیل کے قیام اور انقلاب کا ایک اور مرحلہ بیان کیا گیا ہے ۔

پہلی بات یہ ہے کہ خدا فرماتا ہے : ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی کہ سر زمین مصر میں اپنی قوم کے لئے گھروں کا انتخاب کرو( وَاٴَوْحَیْنَا إِلَی مُوسَی وَاٴَخِیهِ اٴَنْ تَبَوَّاٴَا لِقَوْمِکُمَا بِمِصْرَ بُیُوتًا ) ۔ اور خصوصیت کے ساتھ ” ان گھروں کو ایک دوسرے کے قریب اور آمنے سامنے بناو ۔( وَاجْعَلُوا بُیُوتَکُمْ قِبْلَةً ) ۔ پھر روحانی طور پر اپنی خود سازی اور اصلاح کرو” اور نماز قائم کرو“ ۔ اس طرح سے اپنے نفس کو پاک اور قوی کرو( وَاٴَقِیمُوا الصَّلَاةَ ) ۔

اس لئے کہ خوف اور وحشت کے آثار ان کے دل سے نکل جائیں اور وہ روحانی و انقلابی قوت پالیں ” مومنین کو بشارت دو“ کامیابی اور خدا کے لطف و رحمت کی بشارت( وَبَشِّرْ الْمُؤْمِنِین ) ۔

ان آیات کے مجموعی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانے میں بنی اسرائیل منتشر ، شکست خوردہ ، وابستہ ، طفیلی ، آلودہ اور خوف زدہ گروہ کی شکل میں تھے ، نہ انکے پاس گھر تھے نہ کوئی مرکز تھا ۔ نہ ان کے پاس معنوی اصلاح کا کوئی پر گرام تھا اور نہ ہی ان میں اس قدر شجاعت ، عزم اور حوصلہ تھا جو شکست دینے والے انقلاب کے لئے ضروری ہوتا ہے ۔ لہٰذا حضر ت موسیٰ علیہ السلام او ران کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو حکم ملا کہ وہ بنی اسرائیل کی مرکزیت کے لئے خصوصاً روحانی حوالے سے ، چند امور پر مشتمل پر وگرام شروع کریں ۔

۱ ۔ مکان کی تعمیر کریں اور اپنے مکانات فرعونیوں سے الگ بنائیں ۔ اس میں متعدد فائدے تھے ۔

ایک یہ کہ سر زمین مصر میں ان کے مکانات ہوں گے تووہ اس کا دفاع زیادہ لگاو سے کریں گے ۔

دوسرا یہ کہ قبطیوں کے گھروں میں طفیلی زندگی گزارنے کی بجاے وہ اپنی ایک مستقل زندگی شروع کرسکیں گے ۔

تیسرا یہ کہ ان کے معاملات اور تدابیر کے راز دشمنوں کے ہاتھ نہیں لگے گے ۔

۲ ۔ اپنے گھر دوسرے کے آمنے سامنے اور قریب قریب بنائیں کیونکہ در اصل ” قبلہ“ حالت ِ تقابل“کے تقابل میں ہے ۔ آج کل لفظ ” قبلہ “ کا جو معنی مشہور ہے وہ اس کا ثانوی معنی ہے ۔ ۱

بنی اسرائیل کی مرکزیت کے لئے یہ ایک موثر کام تھا اس طرح وہ اجتماعی مسائل پر مل کر غور و فکر کرسکتے تھے اور مراسم مذہبی کے حوالے سے جمع ہوکر اپنی آزادی کے لئے ضروری پروگرام بنا سکتے تھے ۔

۳ ۔ عبادت کی طرف متوجہ ہو ں ، خصوصاً نماز کی طرف کہ جو انسان کو بندوں کی بندگی سے جدا کرتی ہے اور اس کا تعلق تمام قدرتوں کے خالق سے قائم کردیتی ہے ۔ اس کے دل اور روح کو گناہ کی آلودگی سے پاک کرتی ہے اپنے آپ پر بھروسہ کرنے کا احساس زند ہ کرتی ہے اور قدرت ِ پروردگار کا سہارا لے کر انسانی جس میں ایک تازہ روح پھونک دیتی ہے ۔

۴ ۔ ایک رہبر کے طور حضرت موسیٰعليه‌السلام کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کی روحوں میں موجود طویل غلامی اور ذلت کے دور کا خوف و حشت نکلا باہر پھینکیں اورحتمی فتح و نصرت و کامیابی اور پر وردگار کے لطف و کرم کی بشارت دے کر مومنین کے ارادے کو مضبوط کریں اور ان میں شہامت و شجاعت کی پر ورش کریں ۔

یہ امر جاذب ِ توجہ ہے کہ بنی اسرائیل حضرت یعقوبعليه‌السلام کی اولاد میں سے ہیں ۔ فطرتاً ان میں سے ایک گروہ حضرت یو سفعليه‌السلام کی اولاد میں سے ہے اور وہ اور وہ ان کے بھائی سالہا سال تک مصر پرحکومت کرتے رہے ہیں ۔ اس طرح اس سر زمین کی آبادی ا ور تعمیر میں کوشا ں ر ہے ہیں لیکن خدا کی نا فر مانی ،غفلت اور داخلی اختلاف کی وجہ سے انکی ز ند گی اس وقت بار کیفیت تک پہنچ گئی تھی ضروری تھا کہ اس مصیبت زدہ فر سود ہ معاشرے کی تعمیرنو ہو ۔اس کے منفی پہلوؤں کی اصلاح ہو اور ان کی بجائے ان میں تعمیری اور اصلاحی،رو حانی خصائل پیدا ہوں تا کہ ان کی عظمت -رفتہ پلٹ آئے ۔

اس کے بعد فر عون اور فر عو نیوں کی سر کشی کے ایک سبب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت موسیٰ کی زبانی فرمایا گیا ہے: پر وردگارا ! تونے فرعون اوراس کے حواریوں کو دنیا کی زندگی میں زینت اور مال بخشا ہے( وَقَالَ مُوسَی رَبَّنَا إِنَّکَ آتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَاٴَهُ زِینَةً وَاٴَمْوَالًا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا ) ۔ لیکن اس ثروت و زینت کا انجام یہ ہوا کہ وہ تیرے بندوں کو تیری راہ سے منحرف اور گمراہ کرتے ہیں( رَبَّنَا لِیُضِلُّوا عَنْ سَبِیلِکَ ) ۔

”لیضلوا“ میں لام اصطلاح کے مطابق لامِ عاقبت ہے یعنی اشراف کی دولت مند تحمل پرست قوم لوگوں کو راہِ خدا سے گمراہ کرنے کی خواہ مخواہ کوشش کرے گی ۔ راس سے آخر کار اس کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا ۔ کیونکہ انبیاء کی دعوت اور خدائی پروگرام لوگوں کی بیدار ، ہوشیار ، متحد اور مجتمع کردیں گے ان حالات میں غارتگروں اور لٹیروں کے لئے حلقہ تنگ ہو جائے گا اور ان کے لئے زندگی سیاہ ہو جائے گی ، وہ ردّ عمل کا مظاہرہ کریں گے اور انبیاء کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوں گے ۔

اس کے بعد حضرت موسیٰ در گاہ الہٰی میں تقاضا کرتے ہوئے کہتے ہیں : پروردگار! ان کے اموال کو محو اور بے اثر کردے تاکہ وہ اس سے بہرہ ور نہ ہو سکیں( رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَی اٴَمْوَالِهِمْ ) ۔

لغت میں ”طمس“ کسی چیز کو محو اور بے اثر کرنے کے معنی میں ہے ۔

یہ بات جاذب نظرہے کہ بعض روایات میں آیا ہے کہ اس نفرین اور بد د عا کے بعد فرعونیوں کا مال پتھر اور راکھ میں تبدیل ہو گیا ۔ شاید یہ اس امر اشارہ ہو کہ وہ اس طرح سے اقتصادی بحران کا شکار ہ وئے کہ ان کی ثروت بے وقعت ہو گئی اور راکھ کی طرح بے قیمت ہو گئی ۔

حضرت موسیٰ مزید عرض کرتے ہیں : پر وردگار! اس کے علاوہ ان سے غور و فکرکی ، سوچنے کی قدرت بھی لے لے( وَاشْدُدْ عَلَی قُلُوبِهِمْ ) ۔کیونکہ یہ دو سرمائے گنواکر وہ زوال اور تباہی کے قریب پہنچ جائیں گے ۔ اس طرح انقلاب کی طرف اور ان پر آخری ضرب لگانے کے لئے راستہ کھل جائے گا ۔ خدا وندا ! یہ جو میں فرعونیوں کے بارے میں ایسی خواہش رکھتا ہوں تو یہ جذبہ انتقال اور کینے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس بناء پر ہے کہ اب ان میں ایمان کے لئے کسی قسم کی کوئی آمادگی نہیں ہے ۔ جب تک تیرا دردناک عذاب نہ پہنچ جائے وہ ایمان نہیں لائیں گے( فَلاَیُؤْمِنُوا حَتَّی یَرَوْا الْعَذَابَ الْاٴَلِیمَ ) ۔

البتہ واضح ہے کہ عذاب کو دیکھ کر ایمان لانا ان کے لئے فائدہ مند نہیں ہوگا جیسا کہ عنقریب آئے گا ۔

خدا نے حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی سے کہا کہ اب جبکہ تم بنی اسرائیل کی تربیت اور اصلاح کے لئے تیار ہو گئے ہو ” تمہارے دشمنوں کے بارے میں تمہاری دعا قبول کوئی( قَالَ قَدْ اٴُجِیبَتْ دَعْوَتُکُمَا ) ۔ پس مضبوطی سے اپنی راہ پر کھڑے ہوجاو اور استقامت و پا مردی دکھاو ، کثرت ِ مشکلات سے نہ ڈرو اور اپنے کام کے بارے میں حتمی فیصلہ کرو( فَاسْتَقِیمَا ) ۔اور نادان اور بے خبر افراد کی تجا ویز کے سامنے ہر گز سر تسلیم خم نہ کرو اور جالہوں کے راستے پر نی چلو بلکہ مکمل آگاہی کے ساتھ اپنے انقلابی پر گرام کو جاری رکھو( وَلاَتَتَّبِعَانِ سَبِیلَ الَّذِینَ لاَیَعْلَمُونَ ) ۔

____________________

۱۔ البتہ بعض مفسرین نے مندرجہ بالا آیت میں ” قبلہ “ کو آمنے سامنے کے معنی میں نہیں لیا بلکہ اسی قبلہ نماز کے معنی میں لیا ہے اور ”و اقیموا الصلوٰة “ کے جملہ کو اس کا قرینہ سمجھا ہے لیکن پہلا اس لفظ کے اصلی لغوی معنی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔ علاوہ ازیں دونوں معانی مراد لینے میں بھی کوئی اشکال نہیں اس کی بہت سی نظیریں موجود ہیں ۔


آیات ۹۰،۹۱،۹۲،۹۳

۹۰ ۔( وَجَاوَزْنَا بِبَنِی إِسْرَائِیلَ الْبَحْرَ فَاٴَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْیًا وَعَدْوًا حَتَّی إِذَا اٴَدْرَکَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنْتُ اٴَنَّهُ لاَإِلَهَ إِلاَّ الَّذِی آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِیلَ وَاٴَنَا مِنْ الْمُسْلِمِینَ ) ۔

۹۱ ۔( اٴَالْآنَ وَقَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَکُنْتَ مِنْ الْمُفْسِدِینَ ) ۔

۹۲ ۔( فَالْیَوْمَ نُنَجِّیکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُونَ لِمَنْ خَلْفَکَ آیَةً وَإِنَّ کَثِیرًا مِنْ النَّاسِ عَنْ آیَاتِنَا لَغَافِلُونَ ) ۔

۹۳ ۔( وَلَقَدْ بَوَّاٴْنَا بَنِی إِسْرَائِیلَ مُبَوَّاٴَ صِدْقٍ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنْ الطَّیِّبَاتِ فَمَا اخْتَلَفُوا حَتَّی جَاءَ هُم الْعِلْمُ إِنَّ رَبَّکَ یَقْضِی بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ فِیمَا کَانُوا فِیهِ یَخْتَلِفُونَ ) ۔

ترجمہ

۹۰ ۔ ہم نے بنی اسرائیل کو ( نیل کے عظیم ) دریا سے گز را اور فرعون اور اس کا لشکر ظلم و تجاوز کرتے ہوئے ان کے پیچھے گیا۔ جب وہ غرقاب ہونے لگا تو اس نے کہا کہ میں ایمان لایا کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ جس پر بنی اسرائیل ایمنا لائے ہیں اور میں مسلمین میں سے ہوں ۔

۹۱ ۔ ( لیکن اسے کہا گیا )اب ؟ حالانکہ پہلے تونے نافرمانی کی اور تومفسدین میں سے تھا۔

۹۲ ۔ لیکن آج ہم تیرے بدن کو ( پانی سے ) بچالیں گے تاکہ تو آنے والوں کے لئے عبرت بن جائے اور بہت سے لوگ ہماری آیات سے غافل ہیں ۔

۹۳ ۔ ہم نے بنی اسرائیل کو صدق ( اور سچائی ) کی منزل میں جگہ دی اور انھیں پاکیزہ رزق میں سے عطا کیا ( لیکن وہ نزاع و اختلاف میں پڑ گئے) اور انھوں نے اختلاف نہ کیا مگر اس کے بعد کہ علم و آگہی حاصل کرچکے تھے ۔ تیرا پر وردگار قیامت کے روز اس چیز کا فیصلہ کرے گا جس کے بارے میں وہ اختلاف کرتے تھے ۔

ظالموں سے مقابلے کا آخری مرحلہ

ان آیات میں فر عونیوں سے بنی اسرائیل کے مقابلے کے آخری مرحلے کی منظر کشی کی گئی ہے ۔ فرعونیوں کے انجام کی مختصر لیکن دقیق او رواضح عبارتوں کے ذریعے تصویر پیش کی گئی ہے اور ان میں قرآن نے اپنی روش کے مطابق اضافی مطالب ترک کردئےے ہیں جنہیں پہلے اور بعد کے جملوں سے سمجھا جا سکتا ہے ۔

پہلے ارشادہوتا ہے : جب کہ بنی اسرائیل دباو میں تھے اور فرعونی ان کا تعاقب کررہے تھے ہم نے انھیں دریا پا ر کروادیا( وَجَاوَزْنَا بِبَنِی إِسْرَائِیلَ الْبَحْر ) ۔دریائے نیل اتنا بڑا تھا کہ اس کے لئے لفظ” بحر“ استعمال کیا گیا ہے ۔ جس کا معنی ”سمندر“ ہے ۔

فرعون اور اس کا لشکر بنی اسرائیل کی سر کوبی کے لئے اور ان پر ظلم و تجاوز کرتے ہوئے ان کے تعاقب میں آیا لیکن جلد ہی وہ سب کے سب نیل کی موجوں میں غرق ہو گئے( فَاٴَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْیًا وَعَدْوًا ) ۔

”بغی “ کامعنی ہے ”ظلم و ستم “اور ”عدو“ کا مطلب ہے ”تجاوز“ یعنی انھوں نے ظلم اور تجاوز کرتے ہوئے بنی اسرائیل کاتعاقب کیا۔

”لفظ “فاتبعھم “نشاندہی کرتا ہے کہ فرعون اور اس کے لشکر نے اپنے اختیار اور ارادے سے بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ بعض روایات بھی اس معنی کی تاکید کرتی ہیں ۔ بعض دوسری روایات اس سے زیادہ مناسبت رکھتیں بہر حال جوکچھ ظاہر آیت سے معلوم ہوتا ہے وہی ہمارے لئے مدرک ہے ۔ باقی رہا یہ کہ بنی اسرائیل دریا سے کیسے گزرے اور اس موقع پ رکون سا معجزہ وقوع پذیر ہوا اس کی تفصیل انشاء اللہ سورہ شعراء کی آیہ ۶۳ کے ذیل میں آئے گی۔

بہرکیف یہ معاملہ چل رہا تھا ” یہاں تک کہ فرعون غرقاب ہو نے لگا اور وہ عظیم دریائے نیل کی موجوں میں تنکے کی طرح غوطے کھانے لگا تو اس وقت غرور و تکبر اور جہالت و بے خبری کے پردے اس کی آنکھوں سے ہٹ گئے اور فطری نور ِ توحید چمکنے لگا ۔ وہ پکاراٹھا :” میں ایمان لئے آیا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں “( حَتَّی إِذَا اٴَدْرَکَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنْتُ اٴَنَّهُ لاَإِلَهَ إِلاَّ الَّذِی آمَنَتْ بِهِ بَنُواسْرَائِیْل ) ۔ کہنے لگا کہ نہ صرف میں اپنے دل سے ایمان لایا ہوں بلکہ عملی طور پر بھی ایسے توانا پر وردگار کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہوں( وَاٴَنَا مِنْ الْمُسْلِمِینَ ) ۔

در حقیقت جبحضرت موسیٰعليه‌السلام کی پیشین گوئیاں یکے بعددیگرے وقوع پذیر ہوئیں اور فرعون اس عظیم پیغمبر کی گفتگو کی صداقت سے آگاہ ہوا اور اس کی قدرت نمائی کا مشاہدہ کیا تو اس نے مجبوراً اظہار ایمان کیا، اسے امید تھی کہ جیسے ” بنی اسرائیل کے خدا “ نے انھیں کوہ پیکر موجوں سے نجات بخشی ہے اسے بھی نجات دے گا ۔ لہٰذا وہ کہنے لگا میں اسی بنی اسرائیل کے خدا پر ایمان لایاہوں ۔ لیکن ظاہر ہے کہ ایسا ایمان جو نزول بلا اور موت کے چنگل میں گرفتار ہونے کے وقت ظاہر کیا جائے در حقیقت ایک قسم کا اضطراری ایمان ہے جس کا اظہار سب مجرم اور گنہ گار کرتے ہیں ۔ ایسے ایمان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی او رنہ یہ حسنِ نیت اور صدق گفتار کی دلیل ہوسکتا ہے ۔

اسی بناء پر خدا تعالیٰ نے اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے : اب ایمان لایا ہے ؟ حالانکہ اس سے پہلے تونا فرمانی او رطغیان کرنے والوں ، مفسدین فی الارض اور تباہ کاروں کی صف میں موجود تھا( اٴَالْآنَ وَقَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَکُنْتَ مِنْ الْمُفْسِدِینَ ) ۔

پہلے بھی ہم نے سورہ نساء کی آیہ ۱۸ میں پڑھا ہے ۔

( و لیست التوبة للذین یعملون السیئات حتیٰ اذا حضر احدهم الموت قال انی تبت الاٰن ) ۔

ان کی کوئی توبہ نہیں جو برے کام کرتے ہیں اور جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آپہنچے تو کہنے لگے کہ اب میری توبہ ہے ۔

اسی بناء پر بہت مرتبہ دیکھا گیا ہے کہ اگر مصیبت کا وقت ٹل جائے اور وہ موت کے چنگل سے نجات پالیں تو دوبارہ پہلے سے کاموں کی طرف پلٹ جاتے ہیں ۔

اس تعبیر کی نظیر کہ جو ہم نے سطور بالا میں پڑھی ہے عرب و عجم کے ادباء کے کلام اور گفتگو میں بھی آئی ہے ، مثلا:

اتت وحیاض الموت بینی و بینها

وجادت بوصل حین لاینفع الوصل

وہ مری طرف آئی جب کہ میرے اور اس کے درمیان موت موجزن تھی وہ آمادہ وصال تھی جب کہ وصال کا کوئی فائدہ نہ تھا ۔

لیکن آج ہم تیرے بدن کی موجوں سے بچا لیں گے تاککہ تونے آنے والوں کے لئے درس عبرت ہو، بر سر اقتدار مستکبرین کے لئے ، تمام ظالموں اور مفسدوں کے لئے اور مستضعف گروہوں کےلئے بھی( فَالْیَوْمَ نُنَجِّیکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُونَ لِمَنْ خَلْفَکَ آیَةً ) ۔

یہ کہ ” بدن“ سے مراد یہاں کیا ہے اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے ۔ ان میں سے اکثر کا نظریہ ہے کہ اس سے مراد فرعون کا بے جان جسم ہے کیونکہ اس ماحول کے لوگوں کے ذہن میں فرعون کی اس قدر عظمت تھی کہ اگر اس کے بدن کوپانی سے باہر نہ اچھالا جاتا تو بہت سے لوگ یقین ہی نہ کرتے کہ اس کا غرق ہونا بھی ممکن ہے اور ہو سکتا تھا کہ اس ماجرے کے بعد فرعون کی زندگی کے بارے میں افسانے تراش لیے جاتے ۔

یہ نکتہ توجہ طلب ہے کہ بعض نے ” ننجیک “ سے اس طرح استفادہ کیا ہے کہ خدا نے حکم دیا کہ موجیں اس کے بدن کو ساحل کی ایک اونچی جگہ پھینک دیں کیونکہ ”نجوہ“ کا مادہ مرتفع اور بلند جگہ کے معنی میں ہے ۔

دوسرا نکتہ جو آیت میں نظر آتا ہے یہ ہے کہ ” فالیوم ننجیک “ کا آغاز فاء تفریع کے ساتھ ہوا ہے ممکن ہے یہ اس طرف اشارہ ہو کہ نامیدی کے عالم میں اور موت کے چنگل میں گرفتاری کے وقت فرعون کے بے روح ایمان نے جو جسم بے جان کی طرح تھا یہ اثر کیا کہ خدا نے فرعون کے بے جان جس کو پانی سے نجات دی تاکہ وہ در کی مچھلیوں کی غذا نہ بنے اور آنے والے لوگوں کے لئے عبرت کا باعث بھی ہو۔

اب بھی مصر اور بر طانیہ کے عجائب گھروں میں فرعون کے مومیا ئے ہوئے بدن موجود ہیں ۔ کیا ان میں حضرت موسیٰعليه‌السلام کے ہم عصر فرعون کا بدن بھی موجود ہے کہ جسے بعد میں حفاظت کے لئے مومیا لیا گیا ہو یا نہیں ۔ اس سلسلے میں کوئی صحیح دلیل ہمارے پاس نہیں ہے لیکن ”لمن خلفک “ کی تعبیر ہو سکتا ہے اس احتمال کو تقویت دے کہ اس فرعون کا بدن بھی ان میں ہوتا کہ آنے والوں کےلئے باعث عبرت ہو کیونکہ آیت کی تعبیر مطلب ہے اور اس میں تمام آیات ، نشانیوں اور عبرت انگیزدرسو ں کے ہوتے ہوئے کہ جن سے تاریخ انسانی بھری پڑی ہے بہت سے لوگ ہماری آیات او رنشانیوں سے غافل ہیں( وَإِنَّ کَثِیرًا مِنْ النَّاسِ عَنْ آیَاتِنَا لَغَافِلُونَ ) ۔

زیر بحث آخری آیت میں بنی اسرائیل کی آخری کامیابی اور فرعونیوں کے چنگل سے نجات پانے کے بعد ان کی مقدس سر زمینوں کی طرف واپسی کو بیان کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : ہم نے بنی اسرائیل کو صدق اور سچائی کے مقام پر جگہ دی( وَلَقَدْ بَوَّاٴْنَا بَنِی إِسْرَائِیلَ مُبَوَّاٴَ صِدْق ) ۔

”مبوء صدق“ ( سچی منزل ) ممکن ہے اس طرف اشارہ ہو کہ خدا نے بنی اسرائیل سے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کردیا اور انھیں اس سر زمین میں پہنچادیا جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ یا پھر ہو سکتا ہے کہ ” صدق“ اس سر زمین کی پاکی اور نیکی کی طرف اشارہ ہو۔ اس طرح پھر یہ بات شام و فلسطین کی سر زمین سے مناسبت رکھتی ہے جو انبیاء خدا کی جائے سکونت ہے ۔

ایک گروہ نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ اس سے مراد سر زمین ِ مر ہے کیونکہ قرآن جیسے سورہ دخان میں کہتا ہے :

کم ترکوا من جنّات وعیون وزروع ومقام کریم و نعمة کانوا فیها فاکهین کذٰلک و اورثنا ها قوماً اٰخرین ۔

فرعونیوں کی نابودی کے بعد باغ ،چشمے، زمینیں ، محلات او ران کی جو نعمتیں رہ گئی تھیں ہم نے دوسرے گروہ ( یعنی بنی اسرائیل کو دے دیں ( دخان ۲۵ ۔ ۲۸)

یہی مضمون سورہ شعراء کی آیہ ۵۷ سے ۵۹ تک آیا ہے اور اس کے آخر میں ہے :( و اورثنا ها بنی اسرائیل ) ۔

ہم نے یہ باغ ،۔ چشمے، خزانے اور محل بنی اسرائیل کو ذمے دئیے ۔

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل سر زمین کی طرف ہجرت سے پہلے کچھ مدت مصرمیں بھی رہے اور اس زر خیز سر زمین کی بر کات سے بھی بہر مند ہوئے ہیں ۔ البتہ کو ئی مانع نہیں کہ سر زمین مصر، شام اور فلسطین سب مراد ہوں ۔

اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے : ہم نے انھیں پاکیزہ رزق سے بہرہ مندکیا( وَرَزَقْنَاهُمْ مِنْ الطَّیِّبَاتِ ) ۔ لیکن انھوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی اور ایک دوسرے سے اختلاف اور نزاع میں پڑ گئے ۔ وہ بھی لاعلمی کی وجہ سے نہیں بلکہ جانتے بوجھتے ہوئے اور حضرت موسیٰ کے ان معجزات اور ان کی صداقت کے دلائل کا مشاہدہ کرنے باوجود( فَمَا اخْتَلَفُوا حَتَّی جَاءَ هُم الْعِلْمُ ) ۔لیکن ” تیرا پر وردگار آخر کار روز قیامت ان میں اس چیز کے بارے میں فیصلہ کرے گا “ اور اگر آج وہ اختلاف کی سزا نہ پائیں توکل اس کا مزہ چکھیں گے ۔( اِنَّ رَبَّکَ یَقْضِی بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ فِیمَا کَانُوا فِیهِ یَخْتَلِفُونَ ) ۔

مندر جہ بالاآیت کے بارے میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اختلاف سے مراد پیغمبر اسلام کے ہم عصر یہودیوں کا اختلاف ہے کہ جو آنحضرت کی دعوت قبول کرنے کے بارے میں ان میں موجود تھا یعنی اگر چہ انھوں نے اپنی آسمانی کتب کی نشانیوں کے مطابق آپ کی صداقت جان لی تھی پھر بھی اختلاف کیا تھوڑے سے لوگ ایمان لائے اور زیادہ تر نے آپ کی دعوت قبول کرنے سے رو گر دانی کی اور خدا قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کرے گا ۔

یہ تھا بنی اسرائیل کی عبرت انگیز سر گزشت کا ایک حصہ جو اس سورہ کی کئی آیات میں بیان ہوا ہے ان کی حالت آج مسلمانوں سے کس قدر مشابہت رکھتی ہے ۔ خد اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کا کامیابیاں عطا کرتا ہے او ران کے طاقتور دشمن کو معجزانہ طور پر شکست دیتا ہے اور اس مستضعف اور پس ماندہ قوم کو اپنے فضل و رحمت سے فتح دیتا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس کامیابی کو دین اسلام کی عالمگیر فتح کے حصول کا ذریعہ بنالیتے ہیں اس طرح ان کی ساری کامیابیاں خطرے میں پڑجاتی ہیں ۔ خدا تعالیٰ ہمیں اس کفرانِ نعمت سے نجات بخشے ۔


آیات ۹۴،۹۵،۹۶،۹۷

۹۴ ۔( فَإِنْ کُنْتَ فِی شَکٍّ مِمَّا اٴَنْزَلْنَا إِلَیْکَ فَاسْاٴَلْ الَّذِینَ یَقْرَئُونَ الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکَ لَقَدْ جَائَکَ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ فَلاَتَکُونَنَّ مِنْ المُمْتَرِینَ ) ۔

۹۵ ۔( وَلاَتَکُونَنَّ مِنْ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِ اللهِ فَتَکُونَ مِنْ الْخَاسِرِینَ ) ۔

۹۶ ۔( إِنَّ الَّذِینَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ کَلِمَةُ رَبِّکَ لاَیُؤْمِنُونَ ) ۔

۹۷ ۔( وَلَوْ جَائَتْهُمْ کُلُّ آیَةٍ حَتَّی یَرَوْا الْعَذَابَ الْاٴَلِیمَ ) ۔

ترجمہ

۴۹ ۔ جو کچھ ہم نے تجھ پر نازل کیا ہے اگر اس میں تجھے شک و شبہ ہے تو ان سے جو تجھ سے پہلے آسمانی کتب پڑتھے ہیں سوال کرو، ( جان لو ( قطعی طور پر ” حق “ تیرے پروردگار کی طرف سے تجھ تک پہنچا ہے لہٰذا شک کرنے والوں میں سے ہر گز نہ ہو جا( البتہ وہ اس میں ہر گز شک نہیں کرتا جسے وہ شہود کے ذریعے جانتا ہے ، یہ لوگوں کےلئے ایک درس تھا ) ۔

۹۵ ۔ اور ان میں سے نہ ہو جاو جنہوں نے آیاتِ خدا کی تکذیب کی ہے ورنہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائے گا

۹۶ ۔ ( اور جان لو کہ ) جن پر خدا ثابت ہو چکا ہے وہ ایمان نہیں لائے گے ۔

۹۷ ۔اگر چہ ( اللہ کی ) تمام آیات ( اور اس کی نشانیاں ) ان تک پہنچ جائیں ، یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب کو دیکھ لیں ( کیونکہ ان کے دلوں پر گناہ کی تاریکی چھائی ہوئی ہے اور روشنی ان تک پہنچنے کے لئے ان کے پا س کوئی راستہ نہیں ہے ) ۔

شک کو اپنے قریب نہ آنے دو

گزشتہ آیات میں چونکہ انبیاء اور اقوام کی سر گذشت کے کچھ حصے بیان کئے گئے ہیں لہٰذا ممکن تھاکہ بعض مشرکین اور دعوتِ پیغمبر کے منکر ان کی صداقت میں شک کرتے ۔ قرآن ان سے چاہتا ہے کہ ان کہی ہوئی باتوں کی صداقت سمجھنے کے لئے اہل کتاب کی طرف رجوع کریں اور ان کے بارے میں ان سے معلوم کریں کیونکہ ان کی کتب میں اس قسم کے بہت سے مسائل آئے ہیں لیکن مخالفین کی طرف روئے سخن کرنے کی بجائے پیغمبر کو مخاطب کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: جو کچھ تجھ پر نازل ہوا ہے اگر تجھے اس کے بارے میں شک وتردد ہے تو ان سے جو تجھ سے پہلے آسمانی کتب پڑھتے ہیں پوچھ لے( فَإِنْ کُنْتَ فِی شَکٍّ مِمَّا اٴَنْزَلْنَا إِلَیْکَ فَاسْاٴَلْ الَّذِینَ یَقْرَئُونَ الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکَ ) ۔

تاکہ اس طرح سے یہ ثابت ہو جائے کہ ” ج وکچھ ہم نے تجھ پر نازل کیا ہے وہ تیرے پر وردگار کی طرف سے حق ہے ( لَقَدْ جَائَکَ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ ) ۔لہٰذا کسی قسم کے شک و شبہ کو ہر گز اپنے قریب نہ آنے دے ( فَلاَتَکُونَنَّ مِنْ المُمْتَرِینَ) ۔

یہ احتمال بھی ہے کہ مندرجہ بالا دعوت پیغمبر کی صداقت کے بارے میں ایک نئی اور مستقبل بحث شروع کررہی ہو اور مخالفین سے کہتی ہو کہ اھر اس کی حقانیت کے بارے میں انھیں کوئی شک و تردد ہے تو اس کی نشانیاں جو گزشتہ کتب مثلاً تورات اور انجیل میں ہیں اہل کتاب سے پوچھ لیں ۔

ایک شان نزول جو بعض کتب تفسیر ( تفسیر الفتوح رازی ،ج ۶ ،ص ۲۲۷ ، مذکورہ آیت کے ذیل میں ) ۔ میں نقل ہو ئی ہے وہ بھی اس معنی کی تائید کرتی ہے ۔ اور وہ یہ ہے : کفار قریش کا ایک گروہ کہتا تھا کہ یہ قرآن خدا کی طرف سے نازل نہیں ہوا بلکہ ( معاذاللہ ) محمد پر شیطان القا ء کرتا ہے ۔ ان کی اس گفتگو کی وجہ سے بعض لوگ شک و تردد کا شکار ہو گئے اس آیت کے ذریعے الہ نے انھیں جواب دیا۔

کیا رسول اللہ کو شک تھا ؟

ہو سکتا ہے کہ ابتدائی نظر میں یوں لگے کہ آیت کہہ رہی ہے کہ پیغمبر ِ خد ان آیات کی حقانیت کے بارے میں شک رکھتے تھے کہ جو ان پر نازل ہوتی تھیں اور خڈا نے اس طریقے سے ان کا شک و شبہ رد کردیا ۔

لیکن اس طرف توجہ رکھتے ہوئے کہ پیغمبر خد انے تو وحی کو شہود اور مشاہدہ سے پایا تھا ۔ جیسا کہ آیات ِ قرآنی اس بات کی حکایت کرتی ہیں لہٰذا اس صورت میں شک اور ردد کوئی مفہوم ہی نہیں ۔ علاوہ ازیں یہ بات مروج ہے کہ دور کے لوگوں کو تنبیہ کرنے کے لئے نزدیک کے افراد کو مخاطب کیا جاتا ہے ۔ جیسے عربوں میں مثل مشہور ہے :

ایاک اعنی و اسمعی یا جارة

اس کی نظیر فارسی میں بھی ہے ایسی گفتگو بہت سے مواقع پر صریح خطاب سے زیادہ موثر ہوتی ہے ۔ مزید بر آں جملہ شرطیہ ہمیشہ احتمال وجود شرط کی دلیل نہیں ہے ۔ بلکہ بعض اوقات ایک بات کی تاکید کے لئے ایک عمومی قانون بیان کرنے کے لئے ہوتا ہے ۔ مثلاً سورہ بنی اسرائیل کی آیہ ۲۳ میں ہے :

( وقضی ربک الاّ تعبدوا الایاه و بالوالدین احساناً و اما یبلغن عندک الکبر احدهما اوکلا هما فلا تقل لهما افٍ ) ۔

تمہارے پروردگار نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی پرستش نہ کرواور ماں باپ کی ساتھ نیکی کرو۔ جب ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے کبھی تھوڑی سی بھی دکھ دینے والی اور ناراحت کرنے والی بات نہ کہو۔

توجہ رہے کہ اس جملے میں ظاہراً مخاطب صرف رسول اللہ ہیں جبکہ ہم جانتے ہیں کہ رسول اللہ کے والد کی ولادت سے قبل ہی وقات پاچکے تھے ابھی آپ پچپن ہی میں تھے کہ والدہ بھجی چل بسیں تو اس حالت میں ماں باپ کے احترام کا حکم ایک عمومی قانون کے طور پر بیان ہوا ہے اگر چہ ظاہراً مخاطب پیغمبر خدا ہی ہوں ۔

نیز سورہ طلاق میں ہے :( یا ایهاالنبی اذا طلقتم النساء )

اے پیغمبر! جس وقت تم لوگ عورتوں کو طلاق دو۔

یہ تعبیر اس امر کی دلیل نہیں کہ پیغمبر خد انے اپنی زندگی میں کسی بیوی کو طلاق دی ہے بلکہ یہاں ایک عمومی قانون بیان کیا گیا ہے ۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ اس جملے کی ابتداء میں رسول اللہ مخاطب ہیں او رجملے کے آخر میں سب لوگ مخاطب ہیں ۔

بہت سے قرائن جو تائید کرتے ہیں کہ آیت میں اصلی مقصود مشرکین اور کفار ہیں ان میں سے ایک اس آیت کے بعد کی آیات ہیں جو انکے کفر اور بے ایمانی کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں اس کی نظیر حضرت عیسیٰعليه‌السلام سے مربوط آیات میں دکھائی دیتی ہیں کہ جس وقت خدا اس سے قیامت کے دن پوچھے گا کہ کیا تونے لوگوں کو اپنی اور اپنی ماں کی عبادت کی دعوت دی تھی وہ صراحت سے اس کا انکار کرتے ہیں اور مزید کہتے ہیں :( ان کنت قلته فقد علمته ) ۔

اگر میں نے یہ بات کی ہوتی تو تیرے علم میں ہوتا۔ (مائدہ ۔ ۱۱۶) ۔

بعد والی آیت میں مزید ارشاد ہوتا ہے : اب جبکہ آیات ِ پروردگار اور اس دعوت کی حقانیت تجھ پر واضح ہو چکی ہے تو ان لوگوں کی صف میں کھڑا نہ ہوجنہوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی ہے ورنہ زیاں کاروں میں سے ہو جائے گا( وَلاَتَکُونَنَّ مِنْ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِ اللهِ فَتَکُونَ مِنْ الْخَاسِرِینَ ) ۔

درحقیقت قرآن پہلی آیت میں کہتا ہے کہ اگر شک و تردد رکھتے ہو تو ان سے پوچھو جو آگاہی اور علم رکھتے ہیں اور اس آیت میں کہتا ہے کہ اب جبکہ تردد کے عوامل بر طرف ہوچکے ہیں تو ان آیات کے سامنے تجھے سر تسلیم خم کرنا چاہئیے ورنہ حق کی مخالفت کا نتیجہ خسارے اور نقصان کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔

یہ آیت اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ گزشتہ آیت میں میں حقیقی مقصود عام لوگ تھے اگر چہ روئے سخن پیغمبر خدا کی طرف تھا کیونکہ واضح نقصان ہے کہ پیغمبرہر گز آیات الٰہی کی تکذیب نہیں کرتے بلکہ وہ تو سختی سے اپنے دین کی حمایت اور دفاع کرتے ہیں ۔

اس کے بعد رسول اللہ کو بتا یا گیا کہ تیرے مخالفین میں تعصب اور ہٹ دھرم لوگ موجود ہیں جن کے ایمان لانے کی تقوع عبث ہے ۔ وہ فکری لحاظ سے اس قدر مسخ ہو چکے ہیں اور وہ باطل راستے اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ ان کا بیدار ِ انسانی وجدان کھو چکا ہے وہ ناقابل اثر وجودمیں تبدیل ہو چکے ہیں البتہ قرآن اس بات کو یوں بیان کرتا ہے : وہ لوگ کہ جن پر تیرے پر وردگار کا فرمان ثابت ہو چکا ہے وہ ایمان نہیں لائےں گے( إِنَّ الَّذِینَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ کَلِمَةُ رَبِّکَ لاَیُؤْمِنُونَ ) ۔

یہاں تک کہ اگرخدا کی تمام آیات اور نشانیاں ان کے پاس آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ خدا کے دردناک عذاب کو اپنی آنکھ سے نہ دیکھ لیں ۔ جبکہ اس وقت کے ایمان کا انھیں کوئی فائدہ نہیں( وَلَوْ جَائَتْهُمْ کُلُّ آیَةٍ حَتَّی یَرَوْا الْعَذَابَ الْاٴَلِیمَ ) ۔

در حقیقت زیر بحث پہلی آیت تمام لوگوں کو مطالعہ ، تحقیق او رباخبر لوگوں سے سوال کرنے کی دعوت دیتی ہے اور پھر تقاضا کرتی ہے کہ حق واضح ہو جانے پر اس کی حمایت اور دفاع کے لئے کھڑے ہو جائیں لیکن آخری آیات میں فرمایا گیا ہے کہ تمہیں سب کے ایمان لانے کی توقع نہیں رکھنا چاہئیے کیونکہ کچھ لوگ تو اس قدر فاسد ہو چکے ہیں کہ اب وہ اصلاح کے قابل نہیں رہے لہٰذا نہ تو ان کے ایمان نہ لانے پر دل سرد اہو اور نہ ہی ان کی ہدایت کے صرف ہونے والی توانائی کو رائیگان سمجھ بلکہ ان لوگوں کی طرف توجہ دے جو زیادہ تعداد میں ہیں اور قابل ہدایت ہیں ۔

جیسا کہ ہم بارہا تکرار کر چکے ہیں کہ ایسی آیات ہر گز کسی ” جبر “ پر دلالت نہیں کرتیں بلکہ یہ تو عمل انسانی کے آثار بیان کئے گئے ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ چونکہ ہر چیز کا اثر حکم خدا سے ہے اس لئے بعض اوقات ان امور کی نسبت خدا کی طرف دی جاتی ہے ۔

اس نکتے کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ قبل کی چند آیات میں ہم نے فرعون کے بارے میں پڑھا ہے کہ اس نے نزول ِ عذاب اور طوفان میں پھنسنے کے بعد اظہار ایمان کیا لیکن ایسا چونکہ اضطراری پہلو رکھتا ہے اس لئے اسے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔ لیکن زیر بحث آیات میں فرمایا گیا ہے : یہ صرف فرعون کا طریقہ تھا بلکہ تمام ہٹ دھرم ، خود دار ، مستکبر اور سیاہ دل افراد کہ جو طغیان و سر کشی کی آخری منزل پر پہنچے ہوئے ہیں ان کی بھی یہ حالت ہے وہ بھی دردناک عذاب کو دیکھے بغیر ایمان نہیں لاتے ۔ وہی ایمان جو ان کے لئے بالکل بے اثر ہے ۔


آیت ۹۸

۹۸ ۔( فَلَوْلاَکَانَتْ قَرْیَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِیمَانهَا إِلاَّ قَوْمَ یُونُسَ لَمَّا آمَنُوا کَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَی حِینٍ ) ۔

ترجمہ

۹۸ ۔ تمام آباد یاں اور شہر کیوں ایمان نہیں لائے کہ ( جن کا ایمان بر محل ہو اور ) ان کی حالت کے لئے مفید ہو ،مگر یونس کی قوم کہ جب وہ ایمان لائی تو ان کی زندگی سے ہم نے رسوا کن دنیاوی عذاب بر طرف کردیا او رہم نے مدت معین ( زندگی کے اختتام او ران کی اجل ) تک انھیں بہرہ مند کیا ۔

صرف ایک گروہ بر محل ایمان لایا

گزشتہ آیات میں فرعون اور فرعونیوں کے متعلق خصوصاً اور دوسری اقوال کے متعلق عموما ً یہ نکتہ بیان ہوا ہے کہ انھوں نے اختیار اور سلامتی کے عالم میں خدا پر ایمان لانے سے اعراض کیالیکن جب موت اور خد اکی سزا نے انھیں آلیا تو انھوں نے اظہار ایمان کیا کہ جو ان کے لئے سود م،ند نہیں ہوا۔ زیر نظر آیت میں یہ بات ایک عمومی قانون کے طور پر بیان کی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : گزشتہ قومیں بر محل اور بر موقع ایمان کیون نہیں لائیں کہ ان کا ایمان ان کے لئے فائدہ مند ہوتا( فَلَوْلاَکَانَتْ قَرْیَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِیمَانُهَا ) ۔

اس کے بعد حضرت یونسعليه‌السلام کی قوم کو مستثنیٰ کرتے ہوئے کہا گیا ہے : سوائے یو نس کی قوم کے کہ جب وہ ایمان لائے تو ان کی زندگی سے ہم نے رسوا کن دنیاوی عذاب بر طرف کردیا( إِلاَّ قَوْمَ یُونُسَ لَمَّا آمَنُوا کَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا ) ۔ ” اور انھیں معین مدت ( ان کی زندگی کے اختتام ) تک ہم نے بہرہ مند کیا( وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَی حِینٍ ) ۔

لفظ ” لَولَا“بعض مفسرین کے مطابق یہاں نفی کے معنی میں ہے لہٰذا ” الا“ کے ذریعے اس سے استثناء ہوا ہے ۔

اس بناء پر جملے کا معنی اس طرح ہوگا: کوئی قوم و ملت جو گزشتہ زمانے میں شہروں اور آبادیوں میں زندگی بسر کرتی تھی اکٹھے مل کر خدا ئی پیغمبر پر ایمان نہیں لائی سوائے قوم یو نس کے ۔

بعض دوسرے مفسرین کانظریہ ہے کہ ”لولا“ نفی کے لئے نہیں آیا بلکہ ہمیشہ یہ ” تخضیض “ کے معنی میں ہوتا ہے ۔ ” تحضیض “، اس سوال کو کہتے ہیں جس میں تحریک اور سر زنش پائی جاتی ہے ) لیکن ایسے مواقع پر اس کا مفہوم لازمی طور پر نفی ہی ہوتا ہے ۔ اسی بناء پر ” الا“ کہہ کر کسی چیز کا ہم استثناء کرتے ہیں ۔

بہر حال اس میں شک نہیں کہ دوسری قوموں میں بھی بہت سے لوگ ایمان لائے تھے لیکن جو بات قوم یونس کو دوسری اقوام سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ سب کے سب مل کر ایمان لائے اور وہ بھی عذاب الہٰی کے قطعی اور یقینی طور پر آجانے سے پہلے جبکہ دوسری قوموں میں سے بہت سے لوگ سختی سے مخالفت پر ڈٹے رہے ۔ یہاں تک کہ پر وردگار کا قطعی عذاب صادر ہوا۔ عام طور پر ایسے لوگوں نے عذاب الہٰی کو دیکھ کر اظہار ایمان کیا۔ ان کا ایمان اسی دلیل کی بناء پر جو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں سود مند نہ ہوا۔

قومِ یونس کے ایمان لانے کا واقعہ

جیسا کہ تواریخ میں آیا ہے کہ ان کا ماجرا کچھ یوں ہے :

حضرت یونسعليه‌السلام کی قوم نینوا( عراق) میں زندگی زندگی بسر کرتی تھی جب آپعليه‌السلام اس سے مایوس ہو گئے تو ایک عابد کی درخواست پر کہ جو ان میں رہتا تھا ان کے لئے بد دعا کی جبکہ انہی میں ایک عالم بھی تھاجو حضرت یونسعليه‌السلام سے درخواست کرتا تھا کہ آپ قوم کے بارے میں دوبارہ دعائے خیر کریں ، ان کے لئے پھر ارشاد و ہدایت شروع کریں اور مایوس نہ ہوں ۔

لیکن حضرت یونس اس واقعے کے بعد اپنی قوم سے باہر چلے گئے ، ان کی قوم کہ جس نے آ پ کی سچائی کو بار ہا آزمایا ہوا تھا ، اس عالم کے گرد جمع ہو گئی جب کہ نزول عذاب کا فرمان صادر نہیں ہو اتھا لیکن اس کی نشانیاں کم و بیش نظر آتی تھیں ۔ ان لوگوں نے موقع غنیمت جانا اور اس عالم کی راہنمائی میں شہرسے باہر نکل آئے ۔ ان کی حالت یہ تھی کہ دعا وتضرع کررہے تھے ہاتھ اٹھارکھے تھے ، اظہار ایمان کررہے تھے ، توبہ کناں تھے ، انھوں نے ماوں کو بچوں سے جدا کردیا تھا تاکہ ان کی روح میں زیادہ انقلاب بر پا ہو اور انھوں نے معمولی قسم کا لباس پہن رکھا تھا ۔ وہ اپنے پیغمبر کی تلاش میں نکل پڑے مگر ان کا تو کہیں کوئی نشان نظر نہ آیا ۔ لیکن ان کی یہ توبہ، ایما ن او رپر وردگار کی طرف بازگشت چونکہ بر محل تھی اور علم ، آگاہی اور خلوص کی بنیاد پر تھی لہٰذا وہ اپنا کام کرگئی ۔ عذاب کی نشانیاں بر طرف ہو گئیں ۔ آرام و سکون کی طرف پلٹ آیا۔ ایک طویل واقعے کے جب حضرت یونسعليه‌السلام اپنی قوم کی طرف پلٹ آئے تو دل و جان سے قوم نے ان کی پذیرائی کی ۔

خود حضرت یونس علیہ السلام کی زندگی کی تفصیل انشاء اللہ سورہ صافات کی آیات ۳۴ اتا ۱۴۸ کے ذیل میں بیان کی جائے گی۔

اس نکتے کی یاد دہانی بھی ضروری ہے قوم یونسعليه‌السلام کو خدا کے عذاب کا ہر گز سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ورنہ ان کی قوم کی توبہ بھی قبول نہ ہوتی بلکہ خطرے کے الارم اور نشانیاں جو عام طور پر حقیقی عذاب سے پہلے نمایاں ہوتی ہیں ان کی بیداری کے لئے کافی ثابت ہوگئیں حالانکہ فرعونی خطرے کے ایسے الارم بار ہا سن چکا تھا۔خطرے کی نشانیاں ان کے لئے نمایاں ہو چکی تھیں ۔ مثلاً طوفان ، ٹڈی دل کا حملہ اور نیل کے پانی کا دگر گوں ہو جانا وغیرہ ایسے واقعات رونما ہوچکے تھے لیکن انھوں نے خطرے کی ان گھنٹیوں کو کبھی کوئی اہمیت نہ وی اور ہر مصیبت پر صرف حضرت موسیٰ سے خواہش کی کہ اس تکلیف اور مصیبت کو خدا ان سے بر طرف کردے تو ایمان لے آئیں گے لیکن وہ کبھی ایمان نہیں لائے ۔

مندرجہ بالاواقعہ ضمنی طور پر نشاندہی کرتا ہے کہ آگاہ اور دلسوز رہبر کا وجود ایک قوم کے درمیان کس قدر موثر اور حیات بخش ہے جب کہ وہ عابد جو کافی علم نہ رکھتا ہو وہ زیادہ سختی اور خشونت ہی کا سہارا لیتا ہے ۔ عدم آگہی سے عبادت اور علم جو حواس ذمہ داری کے ساتھ ہو میں اسلام جس کا فرق قائل ہے ، اس کی منطق بھی اس روایت سے سمجھ میں آتی ہے ۔


آیات ۹۹،۱۰۰

۹۹ ۔( وَلَوْ شَاءَ رَبُّکَ لَآمَنَ مَنْ فِی الْاٴَرْضِ کُلّهُمْ جَمِیعًا اٴَفَاٴَنْتَ تُکْرِهُ النَّاسَ حَتَّی یَکُونُوا مُؤْمِنِینَ ) ۔

۱۰۰ ۔( وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اٴَنْ تُؤْمِنَ إِلاَّ بِإِذْنِ اللهِ وَیَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِینَ لاَیَعْقِلُونَ ) ۔

ترجمہ

۹۹ ۔ اور گر تیرا پر وردگار چاہتا تو روئے زمین کے تمام رہنے والے ( جبری طورپر) ایمان لے آتے ۔ کیا تو مجبور کرنا چاہتا ہے کہ وہ ایمان لے آئیں (جبری ایمان کا کیا فائدہ ہے ) ۔

۱۰۰ ۔ (لیکن) کوئی شخص خدا کے ( اس کی توفیق ، مدد او رہدایت ) کے بغیر ایمان نہیں لاسکتا اور ( کفر و گناہ کی ) کی ناپاکی وہ ان کے لئے قرار دیتا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے ۔

جبری ایمان بے کار ہے

گزشتہ آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ اضطراری ایمان کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ اسی بناء پر زیر بحث پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے : اگر اضطراری اور اجباری ایمان کا کوئی فائدہ ہوتا او رتیرا پر وردگار چاہتا تو روئے زمین کے تمام لوگ ایمان لے آتے( وَلَوْ شَاءَ رَبُّکَ لَآمَنَ مَنْ فِی الْاٴَرْضِ کُلّهُمْ جَمِیعًا ) ۔

لہٰذا ان میں سے ایک گروہ کے ایمان نہ لانے سے دلگیر اور پریشان نہ ہو۔ ارادہ و اختیارکی بنیادی آزادی کا لازمہ ہے کہ کچھ لوگ مومن ہو ں گے اور کچھ غیر مومن ” ان حالات میں تو چاہتا ہے کہ لوگوں کو ایمان لانے کے لئے مجبور کرے “( اٴَفَاٴَنْتَ تُکْرِهُ النَّاسَ حَتَّی یَکُونُوا مُؤْمِنِینَ ) ۔

آیت اس تہمت کی دوبارہ نفی کرتی ہے جو اسلام کے دشمن بارہا لگاتے رہے ہیں او رلگاتے رہتے ہیں اور وہ یہ کہ اسلام تلوار کا دین ہے او رزبر دستی اور جبری طور پر دنیا کے لوگوں پر ٹھونسا جاتا ہے ۔

زیر بحث آیت قرآن کی دیگر بہت سی آیات کی طرح کہپتی ہے کہ جبری ایمان کی کوئیقدر و قیمت نہیں اور اصولی دین و ایمان ایسی چیز ہے جو روح کے اندر سے اٹھے نہ کہ باہر سے اور تلوار کے ذریعے سے ہو ، خصوصاً خدا تعالیٰ پیغمبر اسلام کو ایمان و اسلام کے لئے لوگوں پر جبر و اکراہ کرنے سے ڈررہا ہے او رمنع کر رہا ہے اس کے باوجود بعد والی آیت میں اس حقیقت کی یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ یہ ٹھیک ہے کہ انسان مختار اور آزاد ہے پھر بھی جب تک لطفِ الہٰی اور حکم پر وردگار شامل حال نہ ہوتو کوئی شخص ایمان نہیں لاتا“( وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اٴَنْ تُؤْمِنَ إِلاَّ بِإِذْنِ اللهِ ) ۔لہٰذا وہ جہالت اور بے عقلی کی راہ میں قدم رکھتے ہیں اور اپنی عقل وخرد کے سرمائے سے فائدہ اٹھانے کے لئے تیار نہیں خدا ان کے لئے رجس اور ناپاکی قرار دیتا ہے اس طرح سے کہ انھیں ایمان کی توفیق نہیں ہوتی( وَیَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِینَ لاَیَعْقِلُونَ ) ۔

دو قابل توجہ نکات

۱ ۔ ایک وضاحت :

ہو سکتا ہے کہ ابتدائی نظر سے یوں معلوم ہو کہ پہلی اور دوسری آیت آپس میں ایک دوسرے کی نفی کرتی ہیں ۔ کیونکہ پہلی آیت کہتی ہے کہ خدا کسی کوایمان لانے پر مجبور نہیں کرتا جبکہ دووسری آیت کہتی ہے کہ جب تک پر وردگار کا فرمان اور ارادہ نہ ہو کوئی شخص ایمان نہیں لاتا۔

ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے ظاہری اختلاف بر طرف ہوجاتا ہے اور وہ یہ کہ ہم عقیدہ رکھتے ہیں کہ نہ ” جبر“ صحیح ہے اور نہ ہی ” تفویض “ درست ہے یعنی نہ اس طرح ہے کہ لوگ اپنے افعال میں مجبور اور بے اختیار ہیں اور نہ اس طرح ہے کہ وہ تمام معنی میں اور ہر لحاظ سے اپنے حالت میں آزاد ہیں بلکہ ارادے کی آزادی ہوتے ہوئے بھی وہ خدائی امداد کے محتاج ہیں کیونکہ ارادے کی یہ آزادی خدا دیتا ہے عقل او روجدان ِ پاک اس انعامات او ر عنا یات میں سے ہے ، انبیاء کی راہنمائی اور کتب ِ آسمانی کی ہدایت بھی اس جانب سے ہے ۔ اس بناء پر ارادے کی آزادی کے باوجوداس نعمت وعنایت کا سر چشمہ اور اس کا ماحصہ سبھی خدا کی طرف سے ہے ( غور کیجئے گا ) ۔

۲ ۔ ایک اشکام اور اس کی توضیح :

آخری آیت آخری جملہ ”( وَیَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِینَ لاَیَعْقِلُون ) “ہر گز جبر کی دلیل نہیں ہے ۔ کیونکہ ” لایعقلون“ ان کے اختیار کی دلیل ہے یعنی پہلے افراد تعقل و تفکر اور غور و فکر سے منہ موڑ لیتے ہیں جس کے انجام کے طور پر اس عذاب میں مبتلا ہو تے ہیں کہ رجس ، شک و تردد کی ناپاکی ، دل کی تاریکی اور غلط نظر ان پر غالب آجاتی ہے ۔یہاں تک کہ قوت ایمان ان سے سلب ہو جاتی ہے ۔ لیکن توجہ رہے کہ اس کے مقدمات خو د انھوں نے فراہم کئے ہیں ۔ درحقیقت ایسے مواقع پر ایمان کے لئے اللہ کا اذن اور فرمان نہیں ہوتا ۔

دوسرے لفظوں میں یہ جملہ اس طرف اشارہ ہے کہ خدا کا اذن اور فرمان بلاوجہ اور بغیر کسی حساب کتاب کے نہیں ہے جو اس لائق ہیں ان کے لئے ہو گا اور جو اس کے لائق نہیں وہ اس سے محروم رہیں گے ۔


آیات ۱۰۱،۱۰۲،۱۰۳،

۱۰۱( قُلْ انْظُرُوا مَاذَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَمَا تُغْنِی الْآیَاتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لاَیُؤْمِنُونَ ) ۔

۱۰۲ ۔( فَهَلْ یَنْتَظِرُونَ إِلاَّ مِثْلَ اٴَیَّامِ الَّذِینَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ قُلْ فَانْتَظِرُوا إِنِّی مَعَکُمْ مِنْ الْمُنْتَظِرِینَ ) ۔

۱۰۳ ۔( ثُمَّ نُنَجِّی رُسُلَنَا وَالَّذِینَ آمَنُوا کَذَلِکَ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِینَ ) ۔

ترجمہ

۱۰۱ ۔ کہہ دو: دیکھو ! ان ( خدا کی آیات اور توحید کی نشانیوں ) کو جو آسمانوں میں ہیں اور زمین میں ہی لیکن یہ نشانیاں اور تنبیہیں ان لوگں کے لئے مفید نہیں ہو گی جو ایمان نہیں لائے ( اور ہٹ دھرم ہیں ) ۔

۱۰۲ ۔کیا یہ گزشتہ لوگوں کے سے دنوں ( اور ویسی بلاوں ، مصیبتوں اور سزاوں ) کا انتظار کرتے ہیں کہہ دو : تم انتظار کر، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کروں گا ۔

۱۰۳ ۔ پھر ( نزول اور سزا و عذاب کے وقت ) ہم اپنے رسولوں کو اور ان پر ایمان لانے والوں نجات دیتے تھے اور اس طرح ہم پر حق ہے کہ (تجھ پر) ایمان لانے والوں کو نجات بخشیں ۔

تربیت اور وعظ و نصیحت

گزشتہ آیات میں اس بارے میں گفتگو تھی کہ ایمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اختیاری ہو نہ کہ اضطراری اور اجباری ۔ اسی مناسبت سے زیر نظر پہلی آیت میں اختیاری ایمان کے حصول کا راستہ بتا یا گیا ہے اور پیغمبر اکرم سے فرمایا گیا ہے : ان سے کہہ دو : صحیح طور پر غو ر و فکر کر لیں اور آسمان و زمین میں دیکھیں کہ کیسا عجیب و غریب اور حیرت انگیز نظام ہے کہ جس کا ہر گوشہ پیدا کرنے والے کی عظمت ۔ قدرت ، علم اور حکمت کی دین میں ہے( قُلْ انْظُرُوا مَاذَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ ) ۔یہ سب درخشان ستارے اور مختلف آسمانی کرّات کہ جن میں سے ہر ایک اپنے محور اور مدار میں گر دش کر رہا ہے ، یہ عظیم نظام ہائے شمسی اور یہ غول پیکر کہکشائیں اور ان پر کار فرما ایک دقیق ، نظام ، اسی طرح یہ کرّہ زمین اپنے تمام عجائب و اسرار کے ساتھ اور یہ سب طرح کے زندہ موجودات ان سب کی ساخت پر داخت میں غور کرو اور ان کے مطالعہ سے جہاں ، ہستی کے مبداء و موجد سے زیادہ آشنائی پیدا کرو اور اس سے زیادہ قریب ہو جاو۔

یہ جملہ وضاحت کےسا تھ جبر اور سلب ِ اختیار کی نفی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ایمان جہانِ آفرینش کے مطالعے کا نتیجہ ہے یعنی یہ کام خود تمہارے ہی ہاتھ میں ہے ۔

اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے : لیکن ان سب آیات اور نشانیوں کے باوجود تعجب کا مقام نہیں کہ ایک گروہ ایمان نہ لائے کیونکہ آیات، نشانیان ، کے الارم ، ڈرانے کے اسباب صرف ان لوگوں کے کام آتے ہیں جو حق کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن جنھوں نے پختہ ارادہ کرلیا ہے ہر گز ایمان نہیں لائیں گے ان پر ان امور کا کوئی اثر نہیں ہوتا( وَمَا تُغْنِی الْآیَاتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لاَیُؤْمِنُونَ ) ۔(۱)

لفظ ”ما“ کو ” ما تغنی الاٰیات“ میں بعض علما ء ماء نافیہ سمجھتے ہیں ، بعض استفہام انکاری ، نتیجہ کے لحاظ سے دونوں ایک ہی ہیں ۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ ماء نافیہ ہو نا چاہئیے ۔

یہ جملہ ایک حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے جو بارہا قرآن میں آئی اور وہ یہ کہ دلائل ، حق باتیں ،و نصائح تنہا کا فی نہیں ہیں بلکہ مہیا اور آمادہ اسباب بھی نتیجہ حاصل کرنے کی شرط ہیں ۔

اس کے بعد قرآن تہدید آمیز لہجے میں لیکن سوال کے انداز میں کہتا ہے کیا یہ ہٹ دھرم اور بے ایمان لوگ سوائے اس کے کوئی توقع رکھتے ہیں کہ جو انجام گزشتہ سرکش قوموں کا ہوا تھا اور جو دردناک خدائی عذاب میں گرفتار ہو ئے تھے ، اس سے دوچار ہوں ۔ جیسا کہ انجام ، فراعنہ نمرود، شداد اور ان کے اعوان و انصار کا ہوا

( فَهَلْ یَنْتَظِرُونَ إِلاَّ مِثْلَ اٴَیَّامِ الَّذِینَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ ) ۔

آیت کے آخر میں انھیں خطرے سے خبر دار کرتے ہوئے فرمای اگیا ہے : ” اے پیغمبر ! ان سے کہہ دو : اب جبکہ تم اس راستے پر چل رہے ہو اور تجدید نظر کے لئے تیار نہیں ہوتو تم انتظار میں رہو اور ہم تمہارے برے اور درد ناک انجام کے انتظار میں ہیں جیسا کہ انجام گزشتہ مستکبر قوموں کا ہوا( قُلْ فَانْتَظِرُوا إِنِّی مَعَکُمْ مِنْ الْمُنْتَظِرِینَ ) ۔

توجہ رہے کہ” فھل ینظرون“ میں استفہام ِ انکاری ہے یعنی ان کا طرز عمل ہی ایسا ہے کہ گویا وہ ایک برے انجام کے آپہنچنے کے علاوہ کسی کا انتظار نہیں کررہے ۔

لفظ”ایام “ اگر چہ لغت میں ” یوم “ کی جمع ہے جس کا معنی ہے دن لیکن دردناک حوادث کے معنی میں ہے ، کہ جو گزشتہ اقوام کی زندگی میں واقع ہوئے ۔

اس کے بعد اس بناء پر کہ یہ توہم نہ ہو کہ خدا سزا دیتے وقت خشک کے ساتھ تر کو بھی جلا دیتا ہے یہاں تک کہ ایک مومن جو کسی بڑے سر کش باغی گروہ میں ہو اسے نظر انداز کردیتا ہے مزید فرمایا گیا ہے : گزشتہ اقوام کے عذاب کے اسباب فراہم ہونے کے بعد ہم اپنے رسولوں اور ان لوگوں پر ایمان لائے نجات دیتے رہے

( ثُمَّ نُنَجِّی رُسُلَنَا وَالَّذِینَ آمَنُوا ) ۔

آخر میں فرمایا گیا ہے کہ یہ چیز گزشتہ اقوام ، رسل اور مومنین کے ساتھ مخصوص نہیں تھی بلکہ ہم اس طرح تجھے اور تجھ پر ایمان لانے والوں کو نجات دیں گے اور یہ ہم پر حق ہے ایک مسلم اور تخلف ناپذیر حق( کَذَلِکَ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِینَ ) ۔(۲)

____________________

۱۔ ”نذر“ نذیر“ کی جمع ہے ۔ اس کا معنی ہے ڈرانے والا۔ یہ انبیاء اور خدائی راہنماوں کے لئے کنایہ ہے یا پھر یہ انذار کی جمع ہے ۔ یعنی غافلین اور مجرمین کو ڈرانا دھمکانا جو ان ہادِ یان الہٰی کا پروگرام ہے ۔

۲۔”کذٰلک حقاً علینا ننج المومنین “ کا جملہ معنوی لحاظ سے تھا :”کذٰلک ننج المومنین و کان حقاً علینا “ یعنی جملہ ”حقاً علینا “ ایک جملہ معترضہ ہے کہ جو” کذٰلک “ اور ”ننج المومنین “ کے درمیان آیا ہے یہ احتمال بھی ہے کہ” کذٰلک “ کا تعلق گزشتہ جملے سے ہو یعنی ”ننجی رسلنا والذین اٰمنوا “۔


آیات ۱۰۴،۱۰۵،۱۰۶،۱۰۷

۱۰۴ ۔( قُلْ یَااٴَیّهَا النَّاسُ إِنْ کُنْتُمْ فِی شَکٍّ مِنْ دِینِی فَلاَاٴَعْبُدُ الَّذِینَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ وَلَکِنْ اٴَعْبُدُ اللهَ الَّذِی یَتَوَفَّاکُمْ وَاٴُمِرْتُ اٴَنْ اٴَکُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ ) ۔

۱۰۵ ۔( وَاٴَنْ اٴَقِمْ وَجْهَکَ لِلدِّینِ حَنِیفًا وَلاَتَکُونَنَّ مِنْ الْمُشْرِکِینَ ) ۔

۱۰۶ ۔( وَلاَتَدْعُ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لاَیَنْفَعُکَ وَلاَیَضُرُّکَ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّکَ إِذًا مِنْ الظَّالِمِینَ ) ۔

۱۰۷ ۔( وَإِنْ یَمْسَسْکَ اللهُ بِضُرٍّ فَلاَکَاشِفَ لَهُ إِلاّهُوَ وَإِنْ یُرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلاَرَادَّ لِفَضْلِهِ یُصِیبُ بِهِ مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ

) تر جمہ

۱۰۴ ۔ کہہ دو !اے لوگو! اگر میرے دین اور عقیدے کے بارے میں تمہیں شک ہے تو میں ان کی پرستش نہیں کرتا کہ خدا کے سوا جن کی تم پرستش کرتے ہو، میں صرف خدا کی عبادت کرتا ہوں کہ جو تمہیں مارے گا اور مجھے حکم دیا گیا اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مومنین میں سے ہوں ۔

۱۰۵ ۔ اور ( مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ) اپنا رخم اس د ین کے طرف کر کہ جو ہر قسم کے شرک سے خالی ہے اور مشرکین میں سے نہ ہو ۔

۱۰۶ ۔ اور سوائے خدا کے کسی چیز کو نہ پیکار کہ جو نہ نفع دے سکتی ہے اور نہ نقصان ۔ اگر ایسا کرو گے تو ظالموں میں سے ہوجاو گے ۔

۱۰۷ ۔ اور اگر خدا( امتحان کے لئے یا گناہ کی سزا کے طور پر ) تجھے کوئی نقصان پہنچائے تو اس کے علاوہ کوئی اسے بر طرف نہیں کرسکتا اور اگر وہ تیرے لئے بھلائی کا رادہ کرے تو کوئی بھی اس کے فضل کو نہیں روک سکتا اپنے بندوں میں سے جسے چاہے نوازتا ہے اور وہ بخشنے والا اور رحم کرنے والاہے ۔

مشرکین کے بارے میں حتمی فیصلہ

یہ آیات او ربعد کی چند آیات سب کی سب توحید سے مربوط شرک کے خلاف جنگ اور حق کی طرف دعوت دینے کے بارے میں ہیں ۔ یہ آیات اس سورہ کی آخری آیات میں سے ہیں اور در حقیقت یہ اس سورہ کی توحیدی مباحث کی فہرست یا خلاصہ ہیں اور بت پرستی کے خلاف جنگ کے لئے تاکید ہیں ، جس کا ذکراس سورہ میں بار ہا آیا ہے ۔

آیات کا لب ولہجہ نشاندہی کرتا ہے کہ مشرکین بعض اوقات اس وہم میں گرفتار ہو جاتے تھے کہ ہو سکتا ہے کہ پیغمبر اپنے عقائد میں بتوں کے بارے میں نرمی سے کام لیں ، کسی طرح سے انھیں قبول کرنے کے قائل ہو جائیں اور خدا کے عقیدہ کے ساتھ ساتھ کسی طرح سے انھیں بھی تسلیم کرلیں ۔ قرآن اس قدر حتمی اور قطعی فیصلے کے ساتھ کہ جتنا فرض کیا جا سکتا ہے اس بنیاد توہم کو ختم کرتا ہے اور ان کی فکر کو ہمیشہ کے لئے راحت پہنچا تا ہے کہ بتوں کے بارے میں کسی قسم کی صلح اور نرمی کا کوئی معنی نہیں ہے اور اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے ۔ صرف اللہ ، نہ ایک لفظ کم نہ ایک لفظ زیادہ ۔

پہلے پیغمبر اکرم کو حکم دیا گیا ہے کہ تمام لوگوں کو مخاطب کرکے : ” کہہ دو ! اے لوگو! تم میرے عقیدے کے بارے میں کوئی شک و تردد رکھتے ہو تو آگاہ رہو کہ میں ان کی کبھی عبادت قبول نہیں کروں گا جن کی خدا نے علاوہ تم عبادت کرتے ہو( قُلْ یَااٴَیّهَا النَّاسُ إِنْ کُنْتُمْ فِی شَکٍّ مِنْ دِینِی فَلاَاٴَعْبُدُ الَّذِینَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ ) ۔

صرف ان کے معبودوں کی نفی پر قناعت نہیں کی گئی بلکہ مزید تاکید کے لئے ہر قسم کی عبادت خد اکے لئے ثابت کرتے ہوئے بات جاری ہے : لیکن میں ایسے خدا کی عبادت کرتا ہوں کہ جو تمہیں موت دے گا( وَلَکِنْ اٴَعْبُدُ اللهَ الَّذِی یَتَوَفَّاکُمْ ) ۔

پھر تاکید مزید ہے : یہ صرف میری چاہت نہیں ہے بلکہ ” یہ خدا کا فرمان ہے جو اس نے مجھے دیا ہے کہ میں اللہ پر ایمان لانے والوں میں سے رہوں “( وَاٴُمِرْتُ اٴَنْ اٴَکُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ ) ۔

یہ جو خدا کی صفات میں سے صرف قبض روح او رمارنے کا ذکر ہوا ہے تو یہ یا تو اس بناء پر ہے کہ انسان جس چیز پر چاہے شک کرے لیکن وہ موت پر شک نہیں کرسکتا او ریا اس وجہ سے ہے کہ انھیں سزا اور ہلاکت خیز عذاب کی طرف متوجہ کیاجائے کہ جس کی طرف گزشتہ آیات میں اشارہ ہوا ہے ۔ اس طرح سے پھر یہ کنایةً خدا کے غضب کی ایک دھمکی ہے ۔

شرک و بت پرستی کی نفی کے بارے میں اپنا عقیدہ قطعی طور پر بیان کرنے کے بعد اب اس کے لئے دو دلیلیں پیش کی گئی ہیں ایک دلیل فطرت کے حوالے سے ہے اور دوسری عقل و خرد کے حوالے سے ۔

”کہہ دو : مجھےے حکم دیا گیاہے کہ اپنا رخ مستقیم اور سیدھے دین کی طرف رکھو کہ جو ہر لحاظ سے خالص اور پاک ہو “( وَاٴَنْ اٴَقِمْ وَجْهَکَ لِلدِّینِ حَنِیفًا ) ۔

یہاں بھی صرف اثباتی پہلو پر قناعت نہیں کی گئی بلکہ تاکید کے لئے نفی کا پہلو بھی بیان کیا گیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے : اور ہر گز مشرکین میں سے نہ ہونا( وَلاَتَکُونَنَّ مِنْ الْمُشْرِکِینَ ) ۔

جیسا کہ پہلے بھی کہا جا چکا ہے ” حنیف“ اس شخص کو کہتے ہیں جو انحراف اور ٹیڑھے پن سے راستی ، استقامت اور سیدھے پن کی طرف جھکے یا دوسرے لفظوں میں انحراف اور ٹیڑھے دینوں اور طور طریقوں سے آنکھیں بند کرلے اور خدا کے سیدھے اور مستقیم دین کی طرف متوجہ ہو وہی دین جو فطرت کے مطابق ہے اور فطرت سے اسی مطابقت کی وجہ سے صاف ستھرا او رمستقیم ہے ، اس بناء پر تو حید کے فطری ہونے کی طرف اشارہ اس میں پنہاں ہے کیونکہ انحراف وہ چیز ہے جو فطرت کے خلاف ہو ( غور کیجئے گا ) ۔

فطرت کے راستے شرک کے بطلان کی طرف اشارہ کرنے کے بعد ایک واضح عقلی دلیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حکم دیا گیا ہے کہ ” خدا کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت نہ کرجو نہ فائدہ پہنچاسکتی ہیں اور نہ نقصان ۔ کیونکہ اگر تونے ایسا کام کیا تو ظالموں میں سے ہو جائے گا “ اپنے اوپر ظلم کرے گا اور ا س معاشرے پر بھی جس سے تیرا تعلق ہے ۔( وَلاَتَدْعُ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لاَیَنْفَعُکَ وَلاَیَضُرُّکَ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّکَ إِذًا مِنْ الظَّالِمِینَ ) ۔

کون سی عقل اجازت دیتی ہے کہ انسان ایسی چیزوں او رموجودات کی عبادت کرے کہ جو کسی قسم کا فائدہ اور نقصان نہیں پہنچا سکتیں اور انسانی تقدیر میں جن کا تھوڑا سا بھی اثر نہیں ہے ۔

یہاں بھی صرف نفی کے پہلو پر بس نہیں کیا گئی بلکہ مثبت پہلو کے حوالے سے ارشاد ہوتا ہے : اگر تمہیں خدا کی طرف سے ناراحتی اور نقصان پہنچے ( چاہے سزا کے طور پر ) ، اس کے علاوہ کوئی بھی اسے بر طرف نہیں کرسکتا( وَإِنْ یَمْسَسْکَ اللهُ بِضُرٍّ فَلاَکَاشِفَ لَهُ إِلاّهُوَ ) ۔اسی طرح ” اگر خدا چاہے کہ تمجے بھلائی پہنچے تو کوئی بھی اس کے فضل و رحمت کوروک نہیں سکتا “( وَإِنْ یُرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلاَرَادَّ لِفَضْلِهِ ) ۔

” وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے ( اور اہل سمجھے) خیر اور نیکی تک پہچاتا ہے( یُصِیبُ بِهِ مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ) ۔کیونکہ اس کی بخشش اور رحمت سب پر محیط ہے اور وہ بخشنے والا اور رحم کرنے والاہے( وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ ) ۔


آیات ۱۰۸،۱۰۹

۱۰۸ ۔( قُلْ یَااٴَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَائَکُمْ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکُمْ فَمَنْ اهْتَدَی فَإِنَّمَا یَهْتَدِی لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا وَمَا اٴَنَا عَلَیْکُمْ بِوَکِیلٍ ) ۔

۱۰۹ ۔( وَاتَّبِعْ مَا یُوحَی إِلَیْکَ وَاصْبِرْ حَتَّی یَحْکُمَ اللهُ وَهُوَ خَیْرُ الْحَاکِمِینَ ) ۔

ترجمہ

۱۰۸ ۔ کہہ دو: اے لوگو! تمہارے پر وردگار کی طرف سے حق تمہاری جانب آیا ہے ( اس کے زیر سایہ) ہدایت یافتہ اپنے لئے ہدایت پا تا ہے اور جو شخص گمراہ ہو جائے تو وہ اپنے نقصان میں گمراہ ہوا ہے او رمیں تم پر ( مجبور کرنے کے لئے ) مامور نہیں ہوں ۔

۱۰۹ ۔ اور جو کچھ تم پروحی ہوتی ہے اس کی پیروی کر اور صبر کر ( اور استقامت دکھا ) تاکہ خدا ( کامیابی کا ) حکم صادر کرے اور وہ بہترین حکم کرنے والا ہے ۔

آخری بات

ان دو آیات میں سے ایک تو تمام لوگوں کے لئے پند و نصیحت ہے اور دوسری پیغمبر اکرم کے لئے مخصوص ہے یہ آیات ان احکام کی تکمیل کرتی ہیں جو اس پوری سورت میں بیان ہوئے اور یہییں پر سورہ یونس اختتام کو پہنچتی ہے ۔

پہلے ایک عمومی حکم کے طور پر فرمایا گیا ہے : تمام لوگوں سے کہہ دو کہ تمہارے پر وردگار کی جانب سے حق تمہاری جانب آیا ہے ۔ یہ تعلیمات ، یہ آسمانی کتاب ، یہ پرگرام اور یہ پیغمبر سب حق ہیں اور ان کے حق ہونے کی نشانیاں واضح ہیں( قُلْ یَااٴَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَائَکُمْ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکُم ) ۔اور اس حقیقت کی طرف توجہ کرتے ہوئے ” جو شخص اس حق کے زیر سایہ ہدایت حاصل کرے اس نے اپنے فائدے کی طرف ہدایت پائی ہے اور جو شخص اس کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرتے ہوئے منتخب کرے اس نے اپنے نقصان میں قدم اٹھایا ہے( فَمَنْ اهْتَدَی فَإِنَّمَا یَهْتَدِی لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَاٍ ) ۔اور میں تمہارا مامور ، وکیل اور نگہبان نہیں ہوں( وَمَا اٴَنَا عَلَیْکُمْ بِوَکِیل ) ۔

یعنی یہ میری ذمہ داری نہیں ہے کہ تمہیں حق قبول کرنے پر مجبور کروں کیونکہ حق قبول کرنے کے لئے مجبور کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا اور نہ ہی اگر تم نے حق قبول نہ کیا تو تمہیں خدائی عذاب سے محفوظ رکھ سکتا ہو ں بلکہ میری ذمہ داری تو دعوت دینا ، تبلیغ کرنا، رشد و ہدایت کرنااور رہبری کرنا ہے او ربا قی امور خود تمہارے ذمہ ہیں کہ تم اپنے اختیار سے اپنی راہ منتخب کرو۔

یہ آیت دوبارہ مسئلہ اختیار اور ارادے کی آزادی کا ذکر کرنے کے علاوہ اس امر پر تاکید کرتی ہے کہ حق کو قبول کرنا پہلے مرحلے میں خود انسان کے لئے فائدے میں ہے جیسا کہ اس کی مخالفت کرنا بھی خود اسی کے کے نقصان میں ہے ۔

در حقیقت خدائی ہبروں کی تعلیمات اور آسمانی کتب انسانوں کی تربیت ، تکامل اور ارتقاء کی کلاسیں ہیں نہ ان کی موافقت کرنا عظمت ِ الہٰی میں اضافے کا باعث ہے او رنہ ہی ان کی مخالفت سے اس کے جلال میں کوئی کمی آتی ہے ۔

اس کے بعد پیغمبرکی ذمہ داری کا تعین دو جملوں میں کیا گیا ہے ۔ پہلا یہ کہ جو کچھ تم پر وحی ہوتی ہے تجھے صرف اس کی پیروی کرنا چاہئیے( وَاتَّبِعْ مَا یُوحَی الیک ) ۔تیرا راستہ خدا نے وحی کے ذریعے معین کیا ہے اور تو نے اس سے معمولی سے انحراف کا بھی مجاز نہیں ۔

دوسرا یہ کہ اس راستے میں تجھے طاقت فرسا مشکلات ، بہت زیادہ ناراحتیں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا لہٰذا انبوہ ِ مشکلات میں تجھے چاہئیے کہ خوف و ہراس کو اپنے قریب نہ آنے دے ۔ صبر ،استقامت اور مر دی اختیار کر۔ یہاں تک کہ خدا دشمنوں پر تیری فتح و کامرانی کا حکم صادر کرے( وَاصْبِرْ حَتَّی یَحْکُمَ اللهُ ) ۔کیونکہ وہ بہترین حکم کرنے والا ہے ۔ اس کا فرمان حق ہے ، اس کا حکم عدل ہے اور اس کے وعدے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی( وَهُوَ خَیْرُ الْحَاکِمِینَ ) ۔

پر وردگار ا! تیرے بندے جو تیری راہ میں جہاد کرتے ہیں ۔

وہ جہاد جس میں خلوص اور ایمان کار فرما ہے ۔

تیرے بندے جو تیری راہ میں صبر، استقامت اور پا مردی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔

تونے ان سے کامیابی اور فتح و نصرت کا وعدہ کیا ہے ۔

خدا وندا ! ان لمحات میں اور حکومت اسلامی کی تشکیل کے مرحلے میں بہت زیادہ مشکلات نے ہمیں گھیر رکھا ہے او رہم تیری تو فیق و عنا یت سے جہاد اور استقامت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔

بار الٰہا ! تو بھی اپنے لطف و کرم سے مشکلات کے سیاہ بادل بر طرف کردے اور ہمیں حق و عدالت کی حیات بخش شعاعوں سے نواز ۔

آمین یا رب العالمین ۔


فہرست

مصارف زکوٰة اور اس کی تفصیلات ۴

چند اہم نکات ۶

۱ ۔ ”فقیر “ او ر” مسکین “ میں فرق : ۶

۲ ۔ کیا زکوٰة آٹھ حصوں میں برابر تقسیم کی جائےگی ؟ ۷

۳ ۔زکوٰة کس وقت وجب ہوئی تھی ؟ ۸

۴ ۔ ” ( مولفة قلبهم ) “ سے مراد کون لوگ ہیں ؟ ۸

۵ ۔ اسلام میں زکوٰة کی اہمیت اور اثر :۔ ۹

آیت ۶۱ ۱۲

یہ خوبی ہے عیب نہیں ۱۲

تفسیر ۱۲

آیات ۶۲،۶۳ ۱۶

شانِ نزول ۱۶

منافقین کی ایک نشانی ۱۶

آیات ۶۴،۶۵،۶۶ ۱۹

شان نزول ۱۹

منافقین کا خطر نا ک پرگرام ۲۰

آیات ۶۷،۶۸،۶۹،۷۰ ۲۴

منافقوں کی نشانیاں ۲۵


آیات ۷۱،۷۲ ۳۰

سچے مومنوں کی نشانیاں ۳۰

آیت ۷۳ ۳۵

کافروں اور منافقوں سے جنگ ۳۵

آیت ۷۴ ۳۷

شان ِ نزول ۳۷

خطر ناک سازش ۳۹

آیات ۷۵،۷۶،۷۷،۷۸، ۴۲

شان نزول ۴۲

منافق کم ظرف ہوتے ہیں ۴۳

چند اہم نکات ۴۴

آیات ۷۹،۸۰ ۴۸

شان ِ نزول ۴۸

منافقین کی ایک اور غلط حرکت ۵۰

چند اہم نکات ۵۱

۱ ۔ کام کی اہمیت کیفیت سے ہے کمیت سے نہیں :۔ ۵۱

۲ ۔ منا فقین کی صفات ہر دور میں ایک جیسی ہیں : ۵۲

۳ ۔ ” ( سخر الله منهم ) “ کامفہوم : ۵۲

۴ ۔ ”سبعین “ سے مراد: ۵۲

آیات ۸۱،۸۲،۸۳ ۵۵


منافقین کی ایک اور غلط حرکت ۵۵

چند توجہ طلب نکات ۵۸

۱ ۔ دوسرے جہاد میں شرکت کی حقیقت: ۵۸

۲ ۔لفظ ”خالف“ کا مفہوم : ۵۸

۳ ۔ دور حاضر میں ہماری ذمہ داری او رمنافقین کی روش: ۵۸

آیات ۸۴،۸۵ ۵۹

منافقین کے بارے میں زیادہ اقدام ۵۹

چند قابل توجہ نکات ۶۱

۱ ۔ شان نزول کی اختلافی روایات: ۶۱

۲ ۔ مومنین کی قبروں کے پاس کھڑے ہونا اور دعا کرنا : ۶۲

آیات ۸۶،۸۷،۸۸،۸۹ ۶۳

پست ہمت افراد اور سچے مومنین ۶۳

آیت ۹۰ ۶۶

تفسیر ۶۶

آیات ۹۱،۹۲،۹۳ ۶۸

شان نزول ۶۸

وہ معذور جو عشق جہاد میں آنسو بہاتے تھے ۶۹

چندقابل توجہ نکات ۷۳

۱-مجاہدین کا جذبہ و شہادت: ۷۳

۲ ۔ جہا کے کئی مراحل ہیں : ۷۳


۳ ۔ ایک وسیع قانون کا سر چشمہ : ۷۳

آیات ۹۴،۹۵،۹۶ ۷۵

شانِ نزول ۷۵

تفسیر ۷۶

آیات ۹۷،۹۸،۹۹ ۷۹

سنگ دل اور صاحب ِ ایمان بادیہ نشین ۷۹

چند اہم نکات ۸۳

۱ ۔ آبادی کے بڑ ے مراکز: ۸۳

۲ ۔ بادیہ نشین شہری : ۸۳

۳ ۔ قرب ِ الہٰی کا مفہوم : ۸۴

آیت ۱۰۰ ۸۵

سابقین ِ اسلام ۸۵

چند اہم نکات ۸۷

۱ ۔ سابقین کا مرتبہ اور اہمیت: ۸۷

۲ ۔ تابعین کون لوگ تھے ؟ : ۸۷

۳ ۔ پہلا مسلمان کون تھا ؟ : ۸۸

۴ ۔ کیا تمام صحابہ نیک اور صالح تھے ؟ ۹۱

آیت ۱۰۱ ۹۵

تفسیر ۹۵

آیت ۱۰۲ ۹۸


شان ِ نزول ۹۸

توبہ کرنے والے ۱۰۰

آیات ۱۰۳،۱۰۴،۱۰۵ ۱۰۱

زکوٰة فرد او رمعاشرے کو پا ک کرتی ہے ۱۰۱

چند اہم نکات ۱۰۲

۱ ۔ قبول کی گئی زکوٰة : ۱۰۲

۲ ۔ ”خذ“کا مفہوم : ۱۰۳

۳ ۔ ”صل علیھم “ کے حکم کی عمومیت :” ۱۰۳

ایک اور گروہ فر مان خدا سے نکل گیا ۔ ۱۰۸

آیت ۱۰۶ ۱۱۲

شان ِ نزول ۱۱۲

تفسیر ۱۱۲

ایک سوال اور اس کا جواب ۱۱۳

آیات ۱۰۷،۱۰۸،۱۰۹،۱۱۰ ۱۱۵

شان نزول ۱۱۶

مسجد کے روپ میں بت خانہ ۱۱۹

چند اہم نکات ۱۲۴

۱ ۔ عظیم درس : ۱۲۴

۲ ۔ صرف نفی کافی نہیں : ۱۲۵

۳ ۔ دو بنیادی شرطیں : ۱۲۶


آیات ۱۱۱،۱۱۲ ۱۲۷

ایک بے مثال تجارت ۱۲۷

آیات ۱۱۳،۱۱۴ ۱۳۳

شان نزول ۱۳۳

دشمنوں سے لاتعلقی ضروری ہے ۱۳۳

چند اہم نکات ۱۳۵

۱ ۔ ایک جعلی روایت : ۱۳۵

۲ ۔ حضرت ابراہیم عليه‌السلام نے آزر سے استغفار کاوعدہ کیوں کیا؟ ۱۳۸

۳ ۔ دشمنوں سے ہر قسم کا تعلق توڑ لینا چاہئیے : ۱۳۹

آیات ۱۱۵،۱۱۶ ۱۴۰

شان نزول ۱۴۰

واضح حکم کے بعدسزا ۱۴۱

ایک سوال اور اس کا جواب ۱۴۲

آیات ۱۱۷،۱۱۸ ۱۴۴

شان نزول ۱۴۴

ایک عظیم درس ۱۴۴

گنہ گاروں کے لئے معاشرتی دبا و ۱۴۶

چند اہم نکات ۱۴۸

۱ ۔ ( تاب الله علی النبی ) “ سے کیامراد ہے ؟ : ۱۴۸

۲ ۔ جنگ تبوک کو” ساعة العسرة “ کیوں کہاگیا ؟: ۱۴۹


۳ ۔ تین افراد کے لئے ” خلفوا “ کی تعبیر : ۱۵۰

۴ ۔ ایک دائمی اور عظیم سبق : ۱۵۰

۵ ۔ جنگ تبوک سے مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی: ۱۵۱

آیت ۱۱۹ ۱۵۴

سچوں کا ساتھ دو ۱۵۴

کیا صادقین سے مراد صرف معصومین ہیں ؟ ۱۵۵

آیات ۱۲۰،۱۲۱ ۱۵۹

مجاہدین کو مشکلات پر جزا ضرور ملے گی ۱۵۹

چند قابل توجہ نکات ۱۶۱

۱ ۔ ( لاینا لون من عدو نیلا ) “کا مفہوم : ۱۶۱

۲ ۔ ( احسن ماکانوا یعلون ) “ سے کیا مراد ہے ؟ ۱۶۱

۳ ۔ یہ آیت ہر دور کے مسلمانوں کے لئے ہے : ۱۶۱

آیت ۱۲۲ ۱۶۳

شان نزول ۱۶۳

جہالت اور دشمن کے خلاف جہاد ۱۶۴

چند قابل توجہ امور ۱۶۴

۱ ۔ آیت کی تفسیر میں مختلف احتمالات: ۱۶۴

۲ ۔ ایک اشکال اور اس کا جواب : ۱۶۵

۳ ۔” تفقه فی الدین “کا وسیع مفہوم : ۱۶۵

۴ ۔ اجتہاد اور تقلید کے جواز پر استدلال : ۱۶۶


آیت ۱۲۳ ۱۶۹

قریب کے دشمن کی خبر ۱۶۹

آیات ۱۲۴،۱۲۵ ۱۷۲

آیات قرانی کی تاثیر ۔ پاک اور ناپاک دلوں پر ۱۷۲

چند قابل توجہ نکات ۱۷۳

۱ ۔ قرانی آیا کے مختلف لوگوں پر مختلف اثرات: ۱۷۳

۲ ۔”رجس “ کا مفہوم : ۱۷۳

۳ ۔ ” ( وهم یستبشرون ) “ کا مطلب : ۱۷۴

۴ ۔ دل کی بیماری : ۱۷۴

۵ ۔ ایک درس : ۱۷۴

آیات ۱۲۶،۱۲۷ ۱۷۶

تفسیر ۱۷۶

آیات ۱۲۸،۱۲۹ ۱۷۹

نازل ہو نے والی آخری آیات ۱۷۹

سوره یونس ۱۸۳

اس سورہ کے مضامین اور فضیلت ۱۸۳

آیات ۱،۲ ۱۸۵

تفسیر ۱۸۵

آیات ۳،۴ ۱۸۸

خدا شناسی اور قیامت ۱۸۸


دو قابل توجہ نکات ۱۹۱

۱ ۔ ” الیہ مرجعکم جیمعاً “ کا مفہوم : ۱۹۱

۲ ۔ ” قسط “کا مفہوم : ۱۹۲

آیات ۵،۶ ۱۹۳

عظمت الہی کی نشانیاں ۱۹۳

چند اہم نکات ۱۹۶

۱ ۔ ضیا اور نور میں فرق : ۱۹۶

۲ ۔” ضیاء “ جمع ہے یا مفرد : ۱۹۶

۳ ۔ ”قدرہ منازل “ کی ضمیر: ۱۹۷

۴ ۔ رات دن کا آنا جانا : ۱۹۸

۵ ۔ تقویم اور تاریخ کا مسئلہ : ۱۹۸

آیات ۷،۸،۹،۱۰ ۲۰۱

جنتی اور دوزخی ۲۰۱

چند اہم نکات ۲۰۳

۱ ۔ پروردگار سے ملاقات : ۲۰۳

۲ ۔ ( یهدیهم ربهم بایمانهم ) کے بارے میں کچھ گفتگو : ۲۰۳

۳ ۔ ( تجری من تحتهم الانهار ) کا مفہوم : ۲۰۴

ـآیات ۱۱،۱۲ ۲۰۶

خود غرض انسان ۲۰۶

انسان قرآن کریم کی نظر میں ۲۰۸


آیات ۱۳،۱۴ ۲۱۱

پہلے ظالم اور تم ۲۱۱

چند قابل توجہ نکات ۲۱۱

۱ ۔ ”قرون “ کا مطلب : ۲۱۱

۲ ۔ قوموں کی بربادی کی وجہ ؟ ۲۱۲

۳ ۔” ( وما کانو ا لیوٴمنوا ) “ کا مفہوم : ۲۱۲

۴ ۔ ” ( لننظر کیف تعلمون ) “ کا مطلب: ۲۱۲

آیات ۱۵،۱۶،۱۷ ۲۱۳

شان نزول ۲۱۳

تفسیر ۲۱۳

چند اہم نکات ۲۱۵

۱ ۔ مشرکین کی دو متبادل خواہشوں میں فرق : ۲۱۵

۲ ۔ پیغمبر اکرم کے جواب پر ایک نظر : ۲۱۵

۳ ۔ ایک اشکال اور اس کی وضاحت : ۲۱۶

۴ ۔ سب سے زیادہ ظالم کون ہے ؟ : ۲۱۶

آیت ۱۸ ۲۱۸

بے اثر معبود ۲۱۸

آیت ۱۹ ۲۲۰

تفسیر ۲۲۰

آیت ۲۰ ۲۲۲


من پسند معجزات ۲۲۲

دو اہم نکات ۲۲۳

۱ ۔ آیت میں معجزے سے مراد کیاہے : ۲۲۳

۲ ۔ ( انما الغیب لله ) ” میں غیب “ کا مفہوم : ۲۲۴

آیات ۲۱،۲۲،۲۳ ۲۲۵

تفسیر ۲۲۵

چند اہم نکات ۲۲۸

۱ ۔ لوگ عموماً ایسا کرتے ہیں : ۲۲۸

۲ ۔ ” ضراء “ کے مقابلے میں ” رحمت “: ۲۲۸

۳ ۔ ضمیروں کا فرق کیوں ہے ؟ ۲۲۹

آیات ۲۴،۲۵ ۲۳۰

دنیاوی زندگی کی دور نمائی ۲۳۰

دو قابل تووجہ نکات ۲۳۲

۱ ۔دنیا کی ناپائیداری کے لئے مثال : ۲۳۲

۲ ۔”اختلط بہ نبات الارض“ کامفہوم : ۲۳۳

آیات ۲۶،۲۷ ۲۳۴

سفیداور سیاہ چہروں والے ۲۳۴

آیات ۲۸،۲۹،۳۰ ۲۳۷

قیامت میں بت پرستوں کا ایک منظر ۲۳۷

آیات ۳۱،۳۲،۳۳ ۲۴۱


تفسیر ۲۴۱

آیات ۳۴،۳۵،۳۶ ۲۴۶

حق و باطل کی ایک پہچان ۲۴۶

چند اہم نکات ۲۴۸

۱ ۔ ”خدا ہی حق کی طرف ہدایت کرتا ہے “ ۲۴۸

۲ ۔ مشرکین کے معبود خود ہدایت کے محتاج ہیں : ۲۴۸

۳ ۔ بت پرست گمان کی پیروی کرتے ہیں : ۲۴۸

۴ ۔ علماء اصول کی ایک بحث: ۲۴۹

آیات ۳۷،۳۸،۳۹،۴۰ ۲۵۰

دعوت ِقرآن کی عظمت اور حقانیت ۲۵۰

اعجاز قرآن کا ایک نیا جلوہ ۲۵۳

جہالت اور انکار ۲۵۹

آیات ۴۱،۴۲،۴۳،۴۴ ۲۶۰

اندھے اوربہرے ۲۶۰

دو قابل توجہ نکات ۲۶۳

۱ ۔” ( من یستمعون ) “ اور ” ( من ینتظر ) “ سے کیا مراد ہے : ۲۶۳

۲ ۔ ” ( ولوکانوا لایعقلون ) “ اور ” ( ولوکانوا لایبصرون ) “ کا مفہوم : ۲۶۳

آیات ۴۵،۴۶،۴۷ ۲۶۴

تفسیر ۲۶۴

آیات ۴۸،۴۹،۵۰،۵۱،۵۲ ۲۶۷


خدائی سزا میرے ہاتھ میں نہیں ہے ۲۶۷

چند اہم نکات ۲۷۰

۱ ۔ قرآنی آیت سے غلط استدلال : ۲۷۰

۲ ۔ دنیا میں مسلمانوں کے لئے سزا : ۲۷۱

۳ ۔ نزول اعذاب کے وقت توبہ قبول نہیں ہوتی : ۲۷۱

آیات ۵۳،۵۴،۵۵،۵۶ ۲۷۲

خدائی سزا میں شک نہ کرو ۲۷۲

دو اہم نکات ۲۷۴

ایک سوال اور اس کا جواب : ۲۷۴

۲ ۔ ”ندامت “ کا مفہوم : ۲۷۵

آیات ۵۷،۵۸ ۲۷۶

قرآن خدا کی عظیم رحمت ہے ۲۷۶

دو قابل توجہ نکات ۲۷۸

۱ ۔ کیا دل احساسات کا مر کز ہے ؟ ۲۷۸

۲ ۔ ”فضل “ اور ” رحمت “ میں کیا فرق ہے ؟ : ۲۷۹

آیات ۵۹،۶۰،۶۱ ۲۸۱

خد اہر جگہ ناظر ہے ۲۸۱

چند اہم نکات ۲۸۴

۱ ۔ قانون بنانے کا حق صرف خدا کو ہے : ۲۸۴

۲ ۔ رزق کا نزول : ۲۸۴


۳ ۔ علماء علم اصول کا ایک استدلال : ۲۸۴

۴ ۔ ایک درس : ۲۸۵

۵ ۔ علم الہٰی کے تین پہلو : ۲۸۵

۶ ۔ ہماری ہر کیفیت کی نگرانی ہورہی ہے : ۲۸۶

آیات ۶۲،۶۳،۶۴،۶۵ ۲۸۸

روحانی سکون ایمان کے زیر سائی ہے ۲۸۸

دو اہم نکات ۲۹۳

۱ ۔ ”بشارت سے کیا مراد ہے ؟ ۲۹۳

۲ ۔ آئمہ ہدای کی چند روایات : ۲۹۴

آیات ۶۶،۶۷ ۲۹۷

عظمت الہٰی کی کچھ نشانیاں ۲۹۷

چند قابل توجہ نکات ۲۹۹

۱ ۔ رات آرام و سکون کے لئے ہے : ۲۹۹

۲ ۔ ” ( و النهار مبصراً ) “ کا مفہوم : ۲۹۹

۳ ۔کیا آیت ہر طرح کے ظن کی نفی کرتی ہے : ۲۹۹

آیات ۶۸،۶۹،۷۰ ۳۰۰

تفسیر ۳۰۰

چند الفاظ کا مفہوم ۳۰۲

۱ ۔ ” سلطان “: ۳۰۲

۲ ۔ ”متاع “۔ ۳۰۲


۳ ۔ ” نذیقھم “ ۳۰۲

آیات ۷۱،۷۲،۷۳ ۳۰۳

حضرت نوح عليه‌السلام کے جہاد کا ایک پہلو ۳۰۳

آیت ۷۴ ۳۰۷

حضرت نوح عليه‌السلام کے بعد آنے والے انبیاء ۳۰۷

دوقابل توجہ نکات ۳۰۷

۱ ۔ ہٹ دھرم گروہ : ۳۰۷

۲ ۔ ” ( کذٰلک نطبع علیٰ قلوب المعتدین ) “ جبر کی دلیل نہیں : ۳۰۸

آیات ۷۵،۷۶،۷۷،۷۸ ۳۰۹

موسیٰ عليه‌السلام اور ہارون عليه‌السلام کے جہاد کا ایک پہلو ۳۰۹

آیات ۷۹،۸۰،۸۱،۸۲ ۳۱۳

حضرت موسیٰ عليه‌السلام کے خلاف جنگ کا دوسرا مرحلہ ۳۱۳

آیات ۸۳،۸۴،۸۵،۸۶ ۳۱۶

طاغوت ِ مصر سے حضرت موسیٰ عليه‌السلام کے جہاد کا تیسرا مرحلہ ۳۱۶

آیات ۸۷،۸۸،۸۹ ۳۲۰

چوتھا مرحلہانقلاب کی تیاری ۳۲۰

آیات ۹۰،۹۱،۹۲،۹۳ ۳۲۴

ظالموں سے مقابلے کا آخری مرحلہ ۳۲۴

آیات ۹۴،۹۵،۹۶،۹۷ ۳۲۹

شک کو اپنے قریب نہ آنے دو ۳۲۹


کیا رسول اللہ کو شک تھا ؟ ۳۳۰

آیت ۹۸ ۳۳۴

صرف ایک گروہ بر محل ایمان لایا ۳۳۴

قومِ یونس کے ایمان لانے کا واقعہ ۳۳۵

آیات ۹۹،۱۰۰ ۳۳۷

جبری ایمان بے کار ہے ۳۳۷

دو قابل توجہ نکات ۳۳۸

۱ ۔ ایک وضاحت : ۳۳۸

۲ ۔ ایک اشکام اور اس کی توضیح : ۳۳۸

آیات ۱۰۱،۱۰۲،۱۰۳، ۳۳۹

تربیت اور وعظ و نصیحت ۳۳۹

آیات ۱۰۴،۱۰۵،۱۰۶،۱۰۷ ۳۴۲

مشرکین کے بارے میں حتمی فیصلہ ۳۴۲

آیات ۱۰۸،۱۰۹ ۳۴۵

آخری بات ۳۴۵