تفسیر نمونہ- جلد 10
گروہ بندی تفسیر قرآن
مصنف آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


تفسیر نمونہ جلد دہم

تفسیرنمونه ، آیه الله العظمی مکارم شیرازی (مدظله العالی) کی ۱۵ ساله زحمات کا نتیجه ہے جس کو معظم له نے اہل قلم کی ایک جماعت کی مدد سے فارسی زبان میں تحریر فرمایا ، اس کا اردو اور عربی زبان میں ترجمه ہو کر شایع ہوچکا ہے.

تعداد جلد: ۱۵جلد

زبان: اردو

مترجم : مولانا سید صفدر حسین نجفی (رح)

تاریخ اشاعت: ربیع الثانی ۱۴۱۷هجری


سورہ یوسف

آیات ۵۴،۵۵،۵۶،۵۷

۵۴۔( وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُونِی بِهِ اٴَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِی فَلَمَّا کَلَّمَهُ قَالَ إِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِینٌ اٴَمِینٌ ) ۔

۵۵ ۔( قَالَ اجْعَلْنِی عَلَی خَزَائِنِ الْاٴَرْضِ إِنِّی حَفِیظٌ عَلِیمٌ ) ۔

۵۶ ۔( وَکَذَلِکَ مَکَّنَّا لِیُوسُفَ فِی الْاٴَرْضِ یَتَبَوَّاٴُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَاءُ نُصِیبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَشَاءُ وَلاَنُضِیعُ اٴَجْرَ الْمُحْسِنِینَ ) ۔

۵۷ ۔( وَلَاٴَجْرُ الْآخِرَةِ خَیْرٌ لِلَّذِینَ آمَنُوا وَکَانُوا یَتَّقُونَ ) ۔

ترجمہ

۵۴ ۔(مصر کے) باد شا ہ نے کہا :اس ( یوسف ) کو میرے پاس لے آؤ تاکہ میں اسے اپنے ساتھ مخصوص کر لوں ۔

جب( یوسف اس کے پاس آئے اور )اس سے گفتگو کی ( تو باد شاہ کو ان کی عقل و فہم کا اندازہ ہوا) تو اس نے کہا: آج تو ہمارے ہاں اعلیٰ قدر و منزلت رکھتا ہے تو قابل اعتماد ہ۔

۵۵ ۔ (یوسف نے )کہا: مجھے ( مصر کی ) زمین کے خزانوں کا سر پرست بنادے کیونکہ میں حفاظت کرنے والا اور آگاہ ہوں ۔

۵۶ ۔ اس طرح ہم یوسف کو ( مصر کی ) زمین میں قدرت دی کہ اب جہاں چاہتا اس میں رہتا ( اور اس میں تصرف کرتا) ہم جسے چاہتے ہیں ( اور لائق سمجھے ہیں ) اپنی رحمت سے نواز تے ہیں اور ہم نیک لوگوں کا اجر ضائع کرتے ۔

۵۷ ۔ اور جو ایمان لائے ہیں اور پر ہیز گار ہیں آخرت کا اجر ان کے لئے بہتر ہے ۔

یوسفعليه‌السلام مصر کے خزانہ دار کی حیثیت سے

حضرت یوسف علیہ السلام جیسے عظیم نبی کی عجیب زندگی کی تفصیل میں ہم یہاں تک پہنچے تھے کہ آخر ان کی پاکدامنی سب پر ثابت ہو گئی یہاں تک کہ ان کے دشمنوں نے ان کی پاکیز گی کی گواہی دی اور یہ ثا بت ہو گیا کہ جس گناہ کی وجہ سے وہ زندان میں ڈالے گئے تھے وہ پاکدامنی تقویٰ اور پر ہیز گاری کے سواکچھ نہ تھا۔

ضمناً یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ بے گناہ قیدی علم ، آگہی، دانشمندی ، انتظامی صلاحیت اور فہم و فراست کی بہت اعلیٰ سطح کا مرکز ہے کیونکہ اس نے ” ملک‘ ‘( بادشاہ مصر) کے خوان کی تعبیر بتاتے ہوئے آئندہ کی پیچیدہ اقتصادی مشکلات بیان کرتے ہوئے ساتھ ہی ان سے نجات کے راستے کی نشاندہی بھی کردی تھی ۔

یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد قرآن کہتا ہے ؛ ” باد شاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لے آؤ تاکہ میں اسے اپنامشیر اور نمائندہ خاص بناؤ‘ ‘ اور اپنی مشکلات حل کرنے کے لئے اس کے علم و دانش اور انتظامی صلاحیت سے مدد لوں( وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُونِی بِهِ اٴَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِی ) ۔

پادشاہ کا پر جوش پیام لیکر اس کا خاص نمائندہ قید خانے میں یوسف کے پاس پہنچا۔ اس نے بادشا ہ کی طرف سلام و دعا پہنچا یا اور بتا یا کہ اسے آ پ سے شدید لگاؤ ہو گیا ہے ۔ اس نے مصر کی عورتوں کے بارے میں تحقیق سے متعلق آپ کی درخواست کی عملی جامہ پہنا یا اور سب نے کھل کر آپ کی پاکدامنی اور بے گناہی کی گواہی دی ہے ۔ لہٰذا اب تاخیر کرنے کی گنجائش نہیں رہی اٹھیئے تاکہ ہم اس کے پاس چلیں ۔

حضرت یوسفعليه‌السلام پادشاہ کے پاس تشریف لائے ۔ ان کی آپس میں بات چیت ہوئی ۔ باد شاہ نے ان کی گفتگو سنی اور آپ کی پر مغز اور نہایت اعلیٰ باتیں سنیں ۔ اس نے دیکھا کہ آپ کی باتیں انتہائی علم و دانش اور دانائی سے معمور ہیں تو پہلے سے بھی زیادہ آپ کا شیفتہ ہو گیا۔

کہنے لگا : آپ آج سے ہمارے ہاں اعلیٰ قدرت و منزل اور وسیع اختیارات کے حامل ہیں اور ہمارے نزدیک قابل ِ اعتماد رہیں گے( فَلَمَّا کَلَّمَهُ قَالَ إِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِینٌ اٴَمِینٌ ) ۔

آج سے اس ملک کے اہم کام آپ کے سپرد ہیں اور آپ کو امور کی اصلاح کے لئے کمر ہمت باندھ لینا چاہئیے کیونکہ میرے خواب کی جو تعبیر آپ نے بیان کی ہے اس کے مطابق اس ملک کو شدید اقتصادی بحران در پیش ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس بحران پر صرف آپ ہی قابو پا سکتے ہیں ۔

حضرت یوسفعليه‌السلام نے تجویز پیش کہ مجھے اس علاقہ ک ے خزانوں کی ذمہ داری سونپ دی جائے کیونکہ میں اچھا محافظ ہوں اور اس کام کے اسرار سے بھی واقف ہوں( قَالَ اجْعَلْنِی عَلَی خَزَائِنِ الْاٴَرْضِ إِنِّی حَفِیظٌ عَلِیمٌ ) ۔

حضرت یوسفعليه‌السلام اچھی طرح جانتے تھے کہ ظلم سے بھرے اس معاشرے کی پریشانیوں کی ایک اہم بنیاد اس کے اقتصادی مسائل میں ہیں ۔ لہٰذا انھوں نے سوچا کہ جب کہ انہیں مجبور اً آپ کی طرف آنا پڑا تو کیا ہی اچھا ہے کہ مصر کی اقتصادیات کو اپنے ہاتھ میں لے لیں اور محروم و مستضعف عوام کی مدد کے لئے آگے بڑھیں اور جتنا ہو سکے طبقاتی تفاقت اور اونچ نیچ کو کم کریں ، مظلوموں کا حق ظالموں سے لیں اور اس وسیع ملک کی بد حالی کو دور کریں ۔ آپ کی نظر میں تھا کہ خاص طور پر زرعی مسائل اس ملک میں زیادہ اہم ہیں اس بات پر بھی توجہ رکھنا ہو گی چندسال فراوانی کے ہوں گے اور پھر خشکی کے سال در پش ہوں گے لہٰذا لوگوں کو زیادہ سے زیادہ غلّے پیدا کرنے اور پھر انہیں احتیاط سے محفوظ رکھنے اور نہایت کم خرچ کرنے پر آمادہ کرنا ہو گا تاکہ قحط کے سالوں کے لئے غلہ ذخیرہ کیا جاسکے ۔ لہٰذا اس مقصد کے لئے آپ کو یہی بہتر معلوم ہواکہ آپ مصر کے خزانوں کو اپنی سر پرستی میں لینے کی تجویز پیش کریں ۔

بعض نے لکھا ہے کہ اس سال بادشاہ سخت مشکلات میں گھرا ہوا تھا اور کسی طرح ان سے نجات چاہتا تھا لہٰذا اس نے تمام امور کی باگ ڈور حضرت یوسفعليه‌السلام کے ہاتھ میں دے دی اور خود کنارہ کشی اختیار کرلی ۔

بعض دوسروں کا کہنا ہے کہ اس نے عزیز مصرکی جگہ حضرت یوسفعليه‌السلام کواپنا وزیر اعظم بنا لیا۔

یہ احتمال بھی ہے کہ اس آیت کے ظاہری مفہوم کے مطابق وہ صرف مصر کے وزیر خزانہ بنے ہوں لیکن اسی سورہ کی آیت ۱۰۰ ۔ اور۔ ۱۰۱/ کہ جن کی تفسیر انشاء اللہ آئے گی اس امر کی دلیل ہیں کہ آخر کار آپ بادشاہ ہوگئے اورتمام امور مملکت کی باگ ڈور آپ کے ہاتھ میں آگئی ۔ اگر چہ آیت ۸۸/ میں ہے کہ یوسفعليه‌السلام کے بھائیوں نے ان سے کہا :” ی( ا ایها العزیز ) “ ۔

یہ امر کی دلیل ہے کہ آپ نے عزیز مصر کا منصب سنبھالا مگر اس میں کوئی مانع نہیں کہ آپ نے یہ مناسب تدریجاً حاصل کئے ہوں ۔ پہلے وزیر خزانہ ہوئے ہوں پھر وزیر اعظم اور پھر بادشاہ ۔

بہر حال اس مقام پر خدا کہتا ہے : اور اس طرح ہم نے یوسفعليه‌السلام سر زمین مصر پر قدرت عطا کی کہ وہ جیسے چاہتا ہے اس میں تصرف کرتا تھا( وَکَذَلِکَ مَکَّنَّا لِیُوسُفَ فِی الْاٴَرْضِ یَتَبَوَّاٴُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَاءُ ) ۔

جی ہاں ! ہم اپنی رحمت اور مادی و روحانی نعمتیں جسے چاہتے ہیں اور اہل پاتےہیں عطا کرتے ہیں ( نُصِیبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَشَاءُ) ۔

اور ہم نیکو کاروں کا اجر ہرگز ضائع نہیں کریں گے “۔ اگر چہ اس میں تاخیر ہو جائے تاہم آخر کار جو کچھ ان کے لائق ہوا انہیں دیں گے کیونکہ ہم کسی نیک کو فراموش نہیں کرتے( وَلاَنُضِیعُ اٴَجْرَ الْمُحْسِنِینَ ) ۔

لیکن اہم بات یہ ہے کہ ہم صرف دنیاوی اجر ہی نہیں دیں بلکہ ”جو اجر انہیں آخرت میں ملے گا وہ اہل ایمان اور صاحبان ِ تقویٰ کے لئے زیادہ اچھا ہے“( وَلَاٴَجْرُ الْآخِرَةِ خَیْرٌ لِلَّذِینَ آمَنُوا وَکَانُوا یَتَّقُونَ ) ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ حضرت یوسفعليه‌السلام نے طاغوت وقت کی دعوت کیونکر قبول کی ؟

زیر بحث آیات کی طرف توجہ ہوتے ہیں پہلا سوال جو ذہن میں آتا ہے یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام جیسے عظیم نبی طاغوت زمانہ سے وزارت ِ خزانہ یا وزارت عظمیٰ کا منصب قبول کرنے اور اس کے ساتھ ملکر کام کرنے پر کیسے تیار ہو گئے؟

اس سوال کا جواب خود مندرجہ بالا آیات ہی میں پوشیدہ ہے ۔ وہ یہ کہ آپ نے یہ منصب ایک ’ حفیظ و علیم “ شخصیت کی حیثیت سے قبول کیا تاکہ عوام کے مفاد میں بیت المال کی حفاظت کریں اور اسے انہی کے مفاد میں خرچ کریں خصوصاً مستضعف اور محروم کے حقوق کو جو اکثر معاشروں میں پامال ہوتے ہیں ان تک پہنچائیں ۔

علاوہ ازیں جیسا کہ ہم نے کہا ہے وہ علم و تعبیر کے ذریعے جانتے تھے کہ مصری قوم کو ایک شدید اقتصادی بحران پیش آنے والا ہے لہٰذا اس کے مقابلے کے لئے دقیق پروگرام اور قریب سے اس کی نگرانی کے بغیر ممکن تھا کہ بہت سے لوگ تباہ و بر باد ہو جاتے، لہٰذا اس مصیبت سے عوال کی نجات اور بے گناہ انسانوں کی جان کی حفاظت کے لئے ضروری تھا کہ حضرت یوسفعليه‌السلام کو جو موقع مل رہا تھا اس سے فائدہ اٹھاتے اور تمام لوگوں خصوصاً محروم عوام کے لئے اس سے استفادہ کرتے کیونکہ اقتصادی بحران اور قحط سالی میں سب سے زیادہ خطرہ انہیں لوگوں کی جان کو تھا اور بحرانوں کی پہلی قربانی یہی لو گ ہوتے ہیں ۔

فقہ میں ظالم کی حکومت قبول کرنے کی بحث میں بھی یہ بات تفصیل سے آئی ہے کہ ظالم کی طرف سے کوئی منصب قبول کرنا ہمیشہ حرام نہیں ہوتا بلکہ کبھی مستحب بھی ہوتا ہے اور ایسا اس صورت میں ہوتاہے جب اس منصب کو قبول کرنے کے فوائد اور دینی تقاضے اس کی حکومت کی تقویت پہنچنے کے نقصانات سے زیادہ ہوں ۔

متعدد روایات میں آیاہے کہ آئمہ اہل بیتعليه‌السلام بھی اپنے قریبی ساتھیوں کو اس قسم کی اجازت دے دیتے تھے مثلاً علی بن یقطین امام موسی کاظم علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے ۔ انھوں نے اپنے زمانے کے فرعون ہارون رشید کی وزارت امامعليه‌السلام کی اجازت سے قبول کی ۔

بہرصورت اس قسم کے مناصب قبول کرنے یا رد کرنے کا انحصار ’ قانون ِ اہم و فہم “ پر ہے ۔ اس کے نفع و نقصان کو دینی اور اجتماعی لحاظ سے پرکھا جانا چاہیئے ۔ بہت سے مواقع ایسے ہوتے ہیں کہ ایسا عہدہ قبول کرنا ظالم کی معزولی پر منتج ہوتا ہے ۔ جیسا کہ بعض روایات کے مطابق حضرت یوسفعليه‌السلام کے ساتھ بھی یہی اتفاق ہوا اور کبھی ایسا عمل بعد ازآں انقلاب و قیام کا سر چشمہ بن جاتا ہے کیونکہ منصب قبول کرنے والا شخص حکومت کے اندر سے انقلاب کی راہ ہموار کرتا ہے ۔ شاید مومن آل ِ فرعون اسی قسم کی ایک مثال تھے ۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایسے افراد مظلوموں اور محروموں کے لئے پناہ گاہ بن جاتے ہیں اور ان کے لئے حکومتی ظلم میں کمی کاباعث بن جاتے ہیں ان مقاصد میں سے کوئی ایک بھی حاصل ہورہا ہوتو ایسے عہدہے قبول کرنے کا جواز بن جاتا ہے ۔

ایک مشہور روایت میں امام صادقعليه‌السلام ایسے ہی افرد کے بارے میں فرماتے ہیں :

کفارة عمل السلطان قضاء حوائج الاخوان

ظالم حکومت کا ساتھ دینے کا کفارہ یہ ہے کہ بھائیوں کی ضروریات پوری کی جائیں ۔(۱)

لیکن یہ مسئلہ ایسے مسائل میں سے ہے کہ جن میں حلال و حرام کی سر حد ایک دوسرے کے بہت نزدیک ہوتی ہے ۔ کبھی ایسا ہوا ہے کہ انسان تھوڑی سی سہل انگاری کی وجہ سے غلط طور پر ظالم کا ساتھ دینے لگتا ہے اور کسی بہت بڑے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے جب کہ وہ سمجھ رہاہوتا ہے کہ میں عبادت اور خدمت خلق میں مشغول ہوں ۔

بعض اوقات سوء استفادہ کرنے والے افراد حضرت یوسفعليه‌السلام یا علی بن یقطین کا نام غلط طور پر استعمال کرتے ہیں اور اسے بہانے کے طور پر استعمال کرتے ہیں حالانکہ ان کے کام کوحضرت یوسفعليه‌السلام اور علی بن یقطین سے کوئی نسبت نہیں ہوتی ۔(۲)

یہاں ایک اور سوال سامنے آتا ہے ، وہ یہ کہ مصر کا ظالم بادشاہ اس کے لئے کیسے تیار ہو گیا جب کہ وہ جانتا تھا کہ حضرت یوسف ظلم و ستم استعماری ہتھکنڈوں اور استشمار کے لئے ہر گز تیار نہ ہوں گے بلکہ اس کے برعکس اس کے مظالم میں رکاوٹ بنیں گے ۔

ایک نکتے کی طرف توجہ کی جائے تو اس سوال کا جواب چندان مشکل نہیں رہتا ، وہ یہ کہ بعض اوقات معاشرتی اور اقتصادی بحران اس طرح کے ہوتے ہیں کہ خود سروں کی حکومت کی بنیادیں ہلاکر رکھ دیتے ہیں اسی طرح سے کہ انہیں اپنی ہر چیز خطرے میں نظر آتی ہے ۔ ایسے مواقع پر ہلاکت سے بچنے کے لئے وہ یہاں ک تیار ہو جاتے ہیں کہ ایک عادلانہ عموامی حکومت کو قبول کرلیں تاکہ اپنے آپ کو بچا سکیں ۔

۲ ۔ اقتصادی مسائل اور انتظامی صلاحیت کی اہمیت :

بعض مکاتب بالکل یک جہتی ہیں اور ہر چیز کو اقتصادی پہلو میں منحصر سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے انسان اور اس کے وجودکی مختلف جہات کو نہیں پہنچانا ۔ ہم اگر چہ ان مکاتب سے اتفاق نہیں کرتے تا ہم معاشروں کی زندگی میں خصوصیت سے اتصادی مسائل کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔مندر جہ بالا آیات بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کیونکہ تمام مناصب میں سے حضرت یوسفعليه‌السلام نے وزارت خزانہ کا انتخاب کیا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ کہ اگر انہوں نے اسے ٹھیک کرلیا تو مصر کی زیادہ تر پریشانیاں دور ہو جائیں گی اور عدالت ِ اقتصادی کے ذریعے وہ دوسری مشکلات پر بھی قابو پا سکیں گے ۔

اسلامی روایات میں بھی اس موضوع کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے ۔ ان میں سے ایک مشہور حدیث حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے جس میں لوگوں کی روحانی او رمادی زندگی (قوام الدین و الدنیا )کی حقیقی دو بنیادوں میں سے ایک اقتصادی مسائل بیان کی گئی جب کہ دوسری آگہی اور علم و دانش کو شمار کیا گیا ہے ۔ گر چہ مسلمانوں نے ابھی تک اس اہمیت کی طرف توجہ نہیں کی کہ جو اسلام نے انفرادی اور اجتماعی زندگی کے اس حصے کو دی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان زندگی کے اس حصے میں اپنے دشمنوں سے پیچھے رہ گئے ہیں اور پس ماندہ ہیں ۔

لیکن مسلمانوں کے مختلف طبقوں میں روز بروز بیداری اور آگاہی میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے ۔ اس سے امید بندھتی ہے کہ مستقبل میں مسلمان اقتصادی میدان میں کاوشوں کو ایک بہت بڑی اسلامی عبادت سمجھتے ہوئے انجام دینے لگیں کے اور اس لحاظ سے اسلام کے بے رحم دشمنوں کی نسبت جو پس ماندگی ہے اسے دور کریں گے ۔

ضمناً حضرت یوسفعليه‌السلام نے یہ جو کہا ہے کہ : ”( انی حفیظ علیم ) “ ۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرے کے کسی حساس منصب کو قبول کرنے کے لئے صرف امانت داری ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انتظامی صلاحیت بھی ضروری ہے اور اس کے علاوہ علم و آگاہی اور مہارت بھی ضروری ہے کیونکہ آپ نے ”حفیظ“کے ساتھ ساتھ ” علیم “ بھی کہا ہے ۔

ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ بے خبری ، عدم مہارت اور انتظامی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے جو خطرات پیدا ہوتے ہیں وہ خیانت سے پیدا ہونے والے خطرات سے کم نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات اس سے بد تر اور زیادہ ہوتے ہیں ۔

ان واضح اسلامی تعلیمات کے باوجود معلوم نہیں بعض مسلمان انتطامی صلاحیت اور علم و آگہی کے مسئلے کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور عہدے سپرد کرنے کے لئے وہ صرف امانت و دیانت کو شرائط سمجھتے ہیں حالانکہ پیغمبر اسلام اور حضرت علیعليه‌السلام کی دور حکومت میں ان کی سیرت نشاندہی کرتی ہے کہ وہ بزرگوار آگاہی اور انتطامی صلاحیت کو امانت و دیانت کی طرح اہمیت دیتے تھے ۔

۳ ۔ مصارف کی نگرانی :

اقتصادی مسائل میں صرف زیادہ سے زیادہ اجناس پیدا کرنے کا مسئلہ نہیں ہے ۔ بعض اوقات مصارت او رمخارج پر کنٹرول کرنا اس سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت یوسفعليه‌السلام نے اپنے دورِ حکومت میں فراوانی نعمت کے سات سالوں میں مصارف پر سختی سے کنٹرول کیا تاکہ اجناس کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ سختی کے سالوں کے لئے بچا کر کھ سکیں ۔

در حقیقت یہ دونوں چیزیں ایک دوسر ے سے جدا نہیں ہوسکتیں ۔ زیادہ پیدا وار اس وقت مفید ہو تی ہے جب اسے زیادہ صحیح طور پر کنٹرول کرکے استعمال کیا جا سکے اور مصارف پر کنٹرول اس وقت زیادہ مفید ہے جب اس کے ساتھ پیداوار بھی زیادہ ے زیادہ ہو۔

مصر میں حضرت یوسفعليه‌السلام کی اقتصادی سیاست سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ترقی پذیر اقتصادی نظام صرف زمانہ حال پر نظر نہیں رکھتابلکہ آئندہ پر بھی نظر رکھتا ہے بلکہ آئندہ نسلوں پر بھی نظر ہوتی ہے اور یہ انتہائی خود غرضی ہے کہ ہم صرف اپنے آ کے منافع کی فکر میں رہیں مثلاًزمین میں موجود تمام ذخائر کو لوٹ لیں اور آئندہ آنے والوں کی کوئی فکر نہ کریں اور یہ نہ سوچین کہ وہ کن حالات میں زندگی بسر کریں گے کیا ہمارے بھائی صرف وہی ہیں جو آج ہمارے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور بعد میں آنے والے ہمارے کچھ نہیں لگتے؟

یہ بات جاذب نظر ہے کہ بعض اوقات روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسفعليه‌السلام نے مصر کے لوگوں میں طبقاتی فاوت او رلوٹ کسوٹ کو ختم کرنے کے لئے قحط کے سالوں سے استفادہ کیا ۔ آپ نے زیادہ پیداوار کرکے عرصے میں لوگوں سے غذائی مواد خرید لیا اور اس کے لئے تیارکئے گئے بڑے بڑے گواموں میں اسے ذخیرہ کیا ۔ جب یہ سال گذر گئے اور قحط کے سال شروع ہوئے تو پہلے سال اجناس کو درہم و دینار کے بدلے بیچا ۔ اس طرح کرنسی کا ایک بڑا حصہ جمع کرلیا ۔ دوسرے سال اسباب زینت اور جواہرات کے بدلے اجناس کو بیچا۔

البتہ جن کے پاس یہ چیزیں نہ تھیں انہیں مستثنیٰ رکھا ۔ تیسرے برس چوپایوں کے بدلے ، چوتھے برس غلاموں اور کنیزوں کے عوض ، پانچویں برس عمارات کے بدلے ، چھٹے برس زرعی زمینوں اور پانی کے عوض اور ساتویں خود مصر کے لوگوں کے بدلے اجناس دیں ۔ پھر یہ سب چیزیں انہیں ( عادلانہ طور پر ) واپس کردیں اور کہا کہ میرا مقصد یہ تھا کہ عوام کو بلا ؤ مصیبت اور بے سروسامانی سے نجاد دلواں ۔(۳)

۴ ۔ اپنی تعریف یا اپنا تعارف :

اس میں اس میں شک نہیں کہ اپنی تعریف کرنا ایک ناپسند یدہ کام ہے لیکن اس کے باوجود یہ کلی قانون نہیں بعض اوقات حالات کا تقاضا ہوتا ہے اورضروری ہوتا ہے کہ انسان معاشرے کو اپنا تعارف کروائے تاکہ لوگ اسے پہچانیں اور اس کی مختلف خوبیوں اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں اور وہ ایک پوشیدہ اور متروک خزانے کی طرح نہ رہ جائے ۔

مندرجہ بالاآیات میں بھی ہم نے پڑھا ہے کہ حضرت یوسفعليه‌السلام نے مصر کی وزارت ِ خزانہ کئے منصب کے لئے آپ کو تجویز کرتے ہوئے ” حفیظ علیم “ کے الفاظ سے اپنی تعریف کی کیونکہ ضروری تھا کہ بادشاہ ِ مصر اور دوسرے لو گ جان لیں کہ آپ ایسی صفات کے حامل ہیں جو اسے شعبے کی سر پرستی کے لئے بہت ہی ضروری ہیں ۔

اسی لئے تفسیر عیاشی میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپعليه‌السلام سے سوال کیا گیا : کیا جائز ہے کہ انسان آپ اپنی تعریف کرے ۔

آپعليه‌السلام نے فرمایا :نعم ،اذا اضطر الیه اما سمعت قول یوسف اجعلنی علی خزائن الارض انی حفیظ علیم وقول العبد الصالح و انا لکم ناصح امین ۔

جی ہاں ! جب اس کے سوا چارہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ۔ کیا تو نے حضرت یوسفعليه‌السلام کا قول نہیں سنا ۔ انہوں نے فرمایا : مجھے زمین کے خزانوں پر مقر کردو کیونکہ میں امین او رآگاہ ہوں ۔ اسی طرح خدا کے عبد صالح ہودعليه‌السلام نے فرمایا :میں تمہارے لئے خیراخواہ اور امین ہوں ۔(۴)

یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ خطبہ شقشقیہ اور نہج البلاغہ کے دیگر خطبوں میں حضرت علیعليه‌السلام نے جو اپنی تعریف کی ہے اور اپنے آپ کو محور ِ خلافت کا قب قرار دیا ہے کہ جس کی اوج فکر اور مقام ِ والا تک فکر انسانی کا پرندہ پر نہیں مارسکتااور علوم کی آبشار ان کے کوہسار وجود سے گرتے ہیں ۔ اور اسی قسم کی دیگر تعریفیں سب اس لئے ہیں کہ نا آگاہ اور بے خبر لوگ ا ٓپ کے مقام کو سمجھیں اور آپ کے گنجینہ وجود سے معاشرے کی بہبود کے لئے استفادہ کریں ۔

۵ ۔ روحانی اجر بہتر ہے :

اگر چہ بہت سے نیک لوگوں کو اس جہان میں مادی اجر مل جاتا ہے جیساکہ حضرت یوسفعليه‌السلام نے اپنی پاکدامنی ، صبر ، پارسائی اور تقویٰ کا نتیجہ اسی دنیا میں پالیا اور اگر وہ پاکدامن نہ ہوتے تو ہرگز اس مقام تک نہ پہنچتے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام لوگوں کو اس قسم کی توقع رکھنا چاہئیے اور اگر انہیں مادی اجر نہ ملے تو وہ یہ گمان کرنے لگ جائیں کہ ان پر ظلم ہوا ہے کیونکہ اصلی اجر توو ہ ہے جو آئندہ زندگی میں انسان کے انتظار میں ہے ۔

شاید اسی اشتباہ رفع کرنے اور اس توہم کو دور کرنے کے لئے قرآن زیر بحث ِ آیات میں حضرت یوسفعليه‌السلام کے دنیا وی اجر کا ذکر کرکے بعد مزید فرماتا ہے :( ولاجر الاٰخرة خیر للذین اٰمنوا وکانوا یتقون )

اہل ایمان اور صاحبان تقویٰ کے لئے اجر آخرت برتر و بہتر ہے ۔

۶ ۔قیدیوں کے حقوق کی حمایت :

قید خانوں میں ہمیشہ نیک لوگ ہی نہیں رہے ۔ ان میں کبھی بے گناہ رہے ہیں اور کبھی مجرم لیکن ہر صورت میں اصول ِ انسانی کا تقاضا ہے کہ انسانی حقوق کو ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہئیے ۔ ہوسکتا ہے کہ آج کی دنیا یہ سمجھے کہ قید یوں کے حقوق کی آواز اسی دور میں بلند ہو ئی ہے لیکن اسلام کی پر افتخار تاریخ گواہ ہے کہ پیغمبر اکرم نے اپنی حکومت کی ابتداہی میں قید یوں کے بارے میں نصیحتیں فرمائیں نیز حضرت علیعليه‌السلام نے اپنے ظالم قاتل عبد الرحمن بن ملجم مرادی کے بارے میں جو وصیت فرمائی وہ تو ہم سب نے سنی ہے کہ آپعليه‌السلام نے حکم دیا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے یہاں تک کہ آپعليه‌السلام نے اپنے لئے آنے والا دودھ اس کے لئے بھیجا اور اسے قتل کرنے کے بارے میں فرمایا: اسے ایک سے زیادہ ضرب نہ لگائی جائے کیونکہ اس نے صرف ایک ضرب لگائی ہے ۔

حضرت یوسفعليه‌السلام بھی جب قید خانہ میں تھے تو آپ قیدیوں کے لئے مہربان رفیق ، دلسوز ساتھی اور خیر خواہ مشیر تھے اور جب آپ قید خانہ سے جانے لگے تو سب سے پہلے آپ نے دنیا کی توجہ قید یوں کے حالت کی طرف مبذول کرائی اور ان کے حقوق کی حمایت کی اور ان سے اظہار ِ ہمدردی کیا ۔ آپ نے حکم کہ قید خانہ کے دروازے پر عبارت لکھیں :

هٰذا قبور الاحیاء، و بیت الاحزانو تجربة الاصدقاء و شماتة الاعداء

یہ زندوں کا قبرستان ہے غموں کا گھر ہے ، دوستوں کی آزمائش گاہ ہے اور دشمنوں کی سر زنش کی جگہ ہے ۔ ۵

حضرت یوسفعليه‌السلام نے یہ دعا کرتے ہوئے قیدیوں سے اپنے لگاؤ کاظہارکیا :

اللهم اعطف علیهم بقلوب الاخیار ، ولا تعم علیهم الاخبار ۔

بارالہٰا ! اپنے نیک بندوں کے دل ان کی طرف متوجہ کردے اور ان سے خبروں کو پوشیدہ نہ رکھ ۔ ۶

یہ بات قابل توجہ ہے کہ مذکورہ بالا حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں :

فذٰلک یکون اصحاب السجن اعرف الناس بالاخبار فی کل بلدة

یہی وجہ ہے کہ ہر شہر میں قیدی اس شہر کی خبروں کے بارے میں دوسروں سے زیادہ آگاہ ہوتے ہیں ۔

اس بات کو خود ہم نے قید کے دوران آزامایاہے ۔ استثنائی مواقع کے علاوہ قیدیوں تک ایسی ایسی خبریں عجیب مخفی طریقوں سے پہنچ جاتی تھیں کہ جن سے قید خانے کے مامور آگاہ نہیں ہوتے تھے ۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ قید خانے میں آنے والے نئے قیدیوں کو قید خانے میں ایسی خبریں سننے کو ملتیں جن سے وہ باہر آگاہ نہ ہوتے تھے ۔

اب اگر ہم اس کی مثالوں میں پڑگئے تو مقصد سے دور ہو جائیں گے ۔

____________________

۱۔ وسائل الشیعہ جلد ۲ ص ۱۳۹ ( سفینة البحار جلد ۲ ص۲۵۲ پر اسی قسم کا مضمون امام کاظم علیہ السلام سے علی بن یقطین کے بارے میں منقول ہے ) ۔

یہ روایت بھی اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔

۲۔کئی ایک روایات جو امام علی بن موسیٰ رضاعليه‌السلام سے منقول ہیں ، میں ہے کہ کچھ افراد جو اسلامی معیاروں سے ناآشنا تھے بعض اوقات آپعليه‌السلام پر اعتراض کرتے کہ آپعليه‌السلام نے اس زہد و تقویٰ اور دنیا سے بے اعتنائی کے باوجود مامون کی ولی عہدی کو قبول کرلیا ہے ۔ امامعليه‌السلام نے جواب میں فرمایا: کیا پیغمبر افضل ہے یا وصی پیغمبر ؟ انہوں نے کہا نہیں پیغمبر ہی افضل ہے ۔ فرمایا : کون افضل ہے مسلمان یا مشر ک ؟ انہوں نے عرض کیا: مسلمان، فرمایا عزیز مصر مشرک تھا اور یوسف پیغمبر تھے اور مومون ( ظاہراً) مسلمان ہے اور میں پیغمبر کا وصی ہوں اور یوسفعليه‌السلام نے عزیز مصر سے چاہا کہ انہیں مصر کے خزانوں پر مامون کریں اور کہا کہ میں حفیظ و علیم ہوں اور جب کہ میں اس منصب کو قبول کرنے پر مجبور تھا ۔( وسائل الشیعہ جلد ۱۲ ص ۱۴۶) ۔

۳۔ اس حدیث کو اختصارسے ذکر کیا گیاہے اورصرف مفہوم پیش کیا گیا ہے ۔ یہ امام علی بن موسیٰ رضاعليه‌السلام سے منقول ہے ۔ تفسیر مجمع البیان جلد ۵ ص ۲۴۴۔ کی طرف رجوع فرمائیں ۔

۴ تفسیرالثقلین جلد ۲ ص ۴۳۳۔

۵۔نور الثقلین ، جلد ۲ ص ۴۳۲۔

۶-نور الثقلین ، جلد ۲ ص ۴۳۲۔


آیات ۵۸،۵۹،۶۰،۶۱،۶۲

۵۸ ۔( وَجَاءَ إِخْوَةُ یُوسُفَ فَدَخَلُوا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنکِرُونَ ) ۔

۵۹ ۔( وَلَمَّا جهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُونِی بِاٴَخٍ لَکُمْ مِنْ اٴَبِیکُمْ اٴَلاَتَرَوْنَ اٴَنِّی اٴُوفِی الْکَیْلَ وَاٴَنَا خَیْرُ الْمُنزِلِینَ ) ۔

۶۰ ۔( فَإِنْ لَمْ تَأتونِی بِهِ فَلاَکَیْلَ لَکُمْ عِندِی وَلاَتَقْرَبُونِی ) ۔

۶۱ ۔( قَالُوا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اٴَبَاهُ وَإِنَّا لَفَاعِلُونَ ) ۔

۶۲ ۔( وَقَالَ لِفِتْیَانِهِ اجْعَلُوا بِضَاعَتَهُمْ فِی رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُونَها إِذَا انقَلَبُوا إِلَی اٴَهْلِهمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُونَ ) ۔

ترجمہ

۵۸ ۔اور یوسفعليه‌السلام کے بھائی آئے اور اس کے پاس پہنچے ۔ اس نے انہیں پہچان لیا لیکن وہ اسے نہ پہچان پائے ۔

۵۹ ۔ جب ( یوسف ) ان کے بار تیار کر چکا تو کہا( آئندہ جب آؤتو ) تمہارا جوباپ کی طرف سے بھائی ہے اسے میرے پاس لانا ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں پیمانے کا حق ادا کرتا ہوں اور میں بہترین میز بان ہوں ۔

۶۰ ۔ اور اگر تم اسے میرے ہاں نہ لاؤ توپھر میرے پاس تمہارے نہ کوئی کیل ( اور غلے کا پیمانہ )ہوگا اور نہ ہی ( تم ہرگز ) میرے پاس آنا ۔

۶۱ ۔ انہوں نے کہا ہم اس کے باپ سے بات کریں گے ( اور کوشش کریں گے کہ وہ مان جائے ) اور ہم یہ کام کریں گے ۔

۶۲ ۔ پھر اس نے اپنے کارندوں سے کہا : جو کچھ انہوں نے قیمت کے طور پر دیا ہے وہ ان کے سامان میں رکھ دو شاید اپنے گھر والوں کے پاس پہنچ کر وہ اسے پہچانیں اور شاید پلٹ آئیں ۔

یوسفعليه‌السلام کی بھائیوں کو نئی تجویز

آخر کار جیسا کہ پیش گوئی ہوئی تھی سات سات پے در پے بارش ہونے کے سبب اور دریائے نیل کے پانی میں اضافے کے باعث مصر کی زرعی پیدا وار خوب تسلی بخش ہو گئی ۔ مصر کا خزانہ اور اقتصادی امور حضرت یوسفعليه‌السلام کے زیر نظر تھے ۔ آپ نے حکم دیا کہ غذائی اجناس کو خراب ہونے سے بچا نے کے لئے چھوٹے بڑے گودام بنائے جائیں ۔ آپ نے عوام کو حکم دیا کہ پیدا وار سے اپنی ضرورت کے مطابق رکھ لیں اور باقی حکومت کے پاس بیچ دیں ۔ اس طرح گودام غلّے سے بھر جائیں گئے ۔

نعمت و بر کت کی فراوانی کے یہ سات سال گزر گئے اور قحط سالی اور خشک سالی کا منحوس دور شروع ہوا۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے آسمان زمین کے لئے بخیل ہو گیا ہے ۔ کھیتیاں اور نخلستان خشک ہو گئے ۔ عوام کو غلے کی کمی کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ جانتے تھے کہ حکومت نے غلے کے ذخائر جمع کر کھے ہیں لہٰذا وہ اپنی مشکلات حکومت ہی کے ذریعے دور کرتے تھے ۔ حضرت یوسفعليه‌السلام بھی پوری منصوبہ بندی اور پرو گرام کے تحت غلہ فروخت کرتے تھے اور عادلانہ طورپر ان کی ضرورت پوری کرتے تھے ۔

یہ خشک سالی صرف مصر ہی میں نہ تھی اطراف کے ملکوں کا بھی یہی حال تھا فلسطین اور کنعان مصر کے شمال مشرق میں تھے ۔ وہاں کے لو گ بھی انہی مشکلات سے دور چار تھے ۔ حضرت یعقوب کا خاندان بھی اسی علاقہ میں سکونت پذیر تھا ۔ وہ بھی غلے کی کمی سے دو چار ہو گیا ۔

حضرت یعقوبعليه‌السلام نے ان حالات میں مصمم ارادہ کیا کہ بنیامین کے علاوہ باقی بیٹیوں کو مصر کی طرف بھیجیں ۔ یوسف کی جگہ اب بنیامین ہی ان کے پاس تھا ۔ بہت حال وہ لوگ مصر کی طرف جانے والے قافلے کے ہمراہ ہولئے اوربعض مفسرین کے بقول اٹھارہ دن کی مسافت کے بعد مصر پہنچے ۔

جیسا کہ تواریخ میں ہے ، ضروری تھا کہ ملک سے باہر سے آنے والے افراد مصر میں داخل ہوتے وقت اپنی شناخت کروائیں تاکہ مامورین حضرت یوسفعليه‌السلام کو مطلع کریں ۔ جب مامورین نے فسلطین کے قافلہ کی خبر دی تو حضرت یوسفعليه‌السلام نے دیکھا کہ غلے کی درخواست کرنے والوں میں ان کے بھائیوں کے نام بھی ہیں ۔ آپ انہیں پہچان گئے اور یہ ظاہر کئے بغیر کے وہ آپ کے بھائی ہیں ، آپ نے حکم دیا کہ انہیں حاضر کیا جائے اور جیسا کہ قرآن کہتا ہے : یوسفعليه‌السلام کے بھائی آئے اور ا س کے پاس پہنچے تو اس نے انہیں پہچان لیا لیکن انہوں نے اسے نہیں پہچانا( وَجَاءَ إِخْوَةُ یُوسُفَ فَدَخَلُوا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنکِرُونَ ) ۔

وہ یوسفعليه‌السلام نہ پہچاننے میں حق بجانب تھے کیونکہ ایک طرف تو تیس یا چالیس سال تک کا عرصہ بیت چکا تھا ( اس دن سے لیکر جب انہوں نے حضرت یوسفعليه‌السلام کو کنویں میں پھینکا تھا ان کے مصر میں آنے تک ) اور دوسری طرف وہ سوچ بھی نہ سکتے تھے کہ ان کابھائی عزیز مصر ہو گیا ہے ۔ یہاں تک کہ اگر وہ اسے اپنے بھائی کے مشابہ بھی پاتے تو ایک اتفاق ہی سمجھتے ۔ ان تمام امور سے قطع نظر حضرت یو سفعليه‌السلام کے لباس کا اندازہ بھی بالکل بدل چکا تھا ، انہیں مصریوں کے نئے لباس میں پہچاننا کوئی آسان کام نہیں تھا بلکہ یوسفعليه‌السلام کے ساتھ جو کچھ ہو گزرا تھا اس کے بعد ان کی زندگی کا احتمال بھی ان کے لئے بہت بعید تھا ۔

بہر حال انہوں نے اپنی ضرورت کا غلہ خرید ا اور اس کی قیمت نقدی کی صورت میں اور یا موزے ، جوتے یا کچھ اجناس کی صورت میں ادا کی کہ جو وہ کنعان سے مصر لائے تھے ۔

حضرت یوسفعليه‌السلام نے اپنے بھائیوں نے بہت محبت کا برتاؤ کیا اور ان سے بات چیت کرنے لگے ۔ بھائیوں نے کہا: ہم دس بھائی ہیں اور حضرت یعقوبعليه‌السلام کے بیٹے ہیں ہمارے والد خدا کے عظیم پیغمبر ابراہیمعليه‌السلام خلیل کے پوتے ہیں ۔ اگر آپ ہمارے باپ کو پہچانتے ہوتے تو ہمارا بہت احترام کرتے ۔ ہمارا بوڑھا باپ انبیاء الٰہی میں سے ہے لیکن ایک نہایت گہرے غم نے ان کے پورے وجود کو گھیر رکھا ہے ۔

حضرت یوسفعليه‌السلام نے پوچھا :

یہ غم کس بنا پر ہے ۔

انہوں نے کہا :

اس کا ایک بیٹا تھا جس سے وہ بہت محبت کرتا تھا ۔ عمر میں وہ ہم سے بہت چھوٹا تھا ۔ ایک دن ہمارے ساتھ شکار اورتفریح کے لئے صحرا میں گیا ۔ ہم ا س سے غافل ہو گئے تو ایک بھیڑیا اسے چیر پھار گیا ۔ اس دن سے لے کر آج تک اس کے لئے گریاں اور غمگین ہے ۔

بعض مفسرین نے اس طرح سے نقل کیا ہے :

حضرت یوسفعليه‌السلام کی عادت تھی کہ ایک شخص کو ایک اونٹ کے بارے سے زیادہ غلہ نہیں بیچتے تھے ۔ حضرت یوسفعليه‌السلام کے بھائی چونکہ دس تھے لہٰذا انہیں غلے کے دس بار دئیے گئے ۔

انہوں نے کہا : ہمارا بوڑھا باپ ہے اور ایک چھوٹا بھائی ہے جو وطن میں رہ گیا ہے ۔ باپ غم و اندوہ کی شدت کی وجہ سے سفر نہیں کرسکتا اور چھوٹا بھائی خد مت کے لئے اور مانوسیت کی وجہ سے اس کے پاس رہ گیا ۔ لہٰذا ان دونوں کا حصہ بھی ہمیں دیدیجئے ۔

حضرت یوسفعليه‌السلام نے حکم دیا کہ دو اونٹوں کے بار کا اضافہ کیا جائے ۔ پھر حضرت یوسفعليه‌السلام ان کی طرف متوجہ ہوئے او رکہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ تم ہوشمند اور مؤدب افراد ہواور یہ جو تم کہتے ہو کہ تمہارے بھائی کو تمہارے سب سے چھوٹے بھائی سے لگاؤ ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ غیر معمولی اور عام بچوں سے ہٹ کر ہے ۔میری خواہش ہے کہ تمہارے آئندہ سفر میں میں اسے ضرور دیکھوں ۔ علاوہ ازیں یہاں کے لوگوں کو تمہارے بارے میں کئی بد گمانیاں ہیں کیونکہ تم ایک دوسرے ملک سے تعلق رکھتے ہو لہٰذا بد ظنی کی اس فضا کو دور کرنے کے لئے آئندہ سفر میں چھوٹے بھائی کو نشانی کے طور پر ساتھ لے آنا ۔

یہاں قرآن کہتا ہے :جب یوسفعليه‌السلام نے ان کے بار تیار کئے تو ان سے کہا : تمہارا بھائی جو باپ کی طرف سے ہے اسے میرے پاس لے آؤ( وَلَمَّا جهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُونِی بِاٴَخٍ لَکُمْ مِنْ اٴَبِیکُم ) ۔

اس کے بعد مزید کہا : کیا تم دیکھتے ہیں ہو کہ میں پیمانہ کا حق ادا کر تا ہوں اور میں بہترین میز بان ہوں( وَلاَتَرَوْنَ اٴَنِّی اٴُوفِی الْکَیْلَ وَاٴَنَا خَیْرُ الْمُنزِلِینَ ) ۔

اس تشویق اور اظہار محبت کے بعد انہیں یوں تہدید بھی کی : اگر اس بھائی کو میرے پاس نہ لائے تو نہ تمہیں میرے پاس سے غلہ ملے گا اور نہ تم خود میرے پاس پھٹکنا( فَإِنْ لَمْ تَأتونِی بِهِ فَلاَکَیْلَ لَکُمْ عِندِی وَلاَتَقْرَبُونِی ) ۔

حضرت یوسفعليه‌السلام چاہتے تھے کہ جیسے بھی ہو بنیامین کو اپنے پاس بلائیں ۔ ا س کے لئے کبھی وہ لطف و محبت کا طریقہ اختیار کرتے اور کبھی تہدید کا ۔

ان تعبیرات سے ضمنی طور پر واضح ہو جاتا ہے کہ مصر میں غلات کی خرید و فروخت تول کر نہیں ہوتی تھی بلکہ پیمانے سے ہوتی تھی ۔

نیز یہ واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت یوسفعليه‌السلام اپنے بھائیوں اور دوسرے مہمانون کی بہت اچھے طریقے سے پذیرائی کرتے تھے اور ہر حوالے سے مہمان نواز تھے ۔

بھائیوں نےان کے جواب میں کہا : ہم اس کے باپ سے بات کریں گے اور کوشش کریں گے کہ وہ رضامند ہوجائیں اور ہم یہ کام ضرورکریں گے( قَالُوا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اٴَبَاهُ وَإِنَّا لَفَاعِلُونَ ) ۔

” انا لفاعلون “ کی تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ انہیں یقین تھا کہ اس سلسلے میں وہ اپنے باپ کو راضی کرلیں گے اور ا ن کی موافقت حاصل کرلیں گے ۔ اسی لئے وہ عزیز مصر ایسا کا واعدہ کررہے تھے او رایسا ہی ہونا چاہئیے تھے کیونکہ جب وہ اپنے اصرار اور آہ و زاری سے یوسفعليه‌السلام کو اپنے باپ سے لے جاسکتے تھے تو بنیامین کو کیونکر ان سے جد انہیں کرسکتے تھے ۔

اس موقع پر ان کی ہمدردی اور توجہ کو زیادہ سے زیادہ اپنی طرف مبذول کرنے کے لئے حضرت یوسفعليه‌السلام نے ” اپنے کارندوں سے کہا کہ ان کی نظر بچا کر وہ اموال ان کے غلے میں رکھ دیں جو انہوں نے اس کے بدلے میں دئیے تھے تاکہ جب وہ واپس اپنے خاندان میں جا کر اپنا سامان کھولیں تو انہیں پہچان لیں اور دوبارہ مصر کی طرف لوٹ آئیں( وَقَالَ لِفِتْیَانِهِ اجْعَلُوا بِضَاعَتَهُمْ فِی رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُونَها إِذَا انقَلَبُوا إِلَی اٴَهْلِهمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُونَ ) ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ حضرت یوسفعليه‌السلام نے بھائیوں نے اپنا تعارف کیوں نہیں کروا یا :

مندرجہ بالا آیات کے مطالعہ سے جو پہلا سوال سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ حضر ت یوسفعليه‌السلام نے بھائیوں نے اپنا تعارف کیوں نہ کروایا کہ وہ جلد از آپ کو پہچان لیتے اور باپ کے پاس واپس جاکر انہیں آپ کی جدائی کے جانکاہ غم سے نکالتے َ ؟

یہ سوال زیادہ وسیع حوالے سے بھی سامنے آسکتا ہے اور وہ یہ کہ جس وقت حضرت یوسفعليه‌السلام کے بھائی آپ کے پا س آئے اس وقت آپ کی زندان سے رہائی کو کوئی آٹھ سال گزر چکے تھے کیونکہ گزشتہ سات سال فراوان نعمتوں پرمشتمل گزر چکے تھے جن کے دوران آپ قحط سالی کے عرصے کے لئے اناج ذخیرہ کرنے میں مشغول تھے ۔ آٹھویں سال قحط کا دور شروع ہوا ۔ اس سال یا اس کے بعد آپ کے بھائی غلہ لینے کے لئے مصر آئے ۔ کیا چاہئیے نہ تھا کہ ان آٹھ سالوں میں آپ کوئی قاصد کنعان کی طرف بھیجتے اور اپنے والد کو اپنے حالات سے آگاہ کرتے اور انہیں شدید غم سے نجات دلاتے ؟

بہت سے مفسرین نے مثلاً طبرسی نے مجمع البیان میں ، علامہ طباطبائی نے المیزان میں اور قر طبی نے الجامع الاحکام القرآن میں اس سوال کا جواب دیا ہے اور اس سلسلے میں کئی جوابات پیش کئے ہیں ۔ ان میں سے زیادہ بہتر یہ نظر آتا ہے کہ حضرت یوسفعليه‌السلام کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی اجازت نہ تھی کیونکہ فراق ِ یوسفعليه‌السلام دیگر پہلوؤں کے علاوہ حضرت یعقوب کے لئے ایک امتحان بھی تھا اور ضروری تھا کہ آزمائش کا یہ دور فرمان الہٰی سے ختم ہوا اور اس کے پہلے حضرت یوسفعليه‌السلام خبر دینے کے مجاز نہ تھے ۔

علاوہ ازیں اگر حضرت یوسفعليه‌السلام فوراً ہی اپنے بھائیوں کو اپنا تعارر کروادیتے تو ممکن تھا کہ اس کا نتیجہ اچھا نہ ہوتا اور ہوسکتا تھا جہ وہ اس سے ایسے وحشت زدہ ہوتے کہ پھر لوٹ کر آپ کے پاس نہ آتے کیونکہ انہیں یہ خیال پیدا ہوتا کہ ممکن ہے یوسفعليه‌السلام ان کے گزشتہ رویہ کا انتقال لیں ۔

۲ ۔غلہ کی قیمت کیوں واپس کردی :

حضرت یوسفعليه‌السلام نے یہ حکم کیوں دیا تھا کہ جو مال ان کے بھائیوں نے غلے کی قیمت کے طور پر دیا ہے وہ ان کے سامان میں رکھ دیا جائے ؟

اس سوال کے بھی کئی جواب دئیے گئے ہیں ۔ ان میں سے فخرالدین رازی نے اپنے تفسیر میں دس جوابات ذکر کئے ہیں ۔ بعض تو ان میں سے غیر مناسب ہیں البتہ خود مذکورہ آیت نے اس سوال کا جواب دیا ہے :”( لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُونَها إِذَا انقَلَبُوا إِلَی اٴَهْلِهمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُون ) “۔

یعنی حضرت یوسفعليه‌السلام کا مقصد یہ تھا کہ جب وہ وطن واپسی پر اپنا سامان دیکھیں گے تو انہیں عزیز مصر ( حضرت یوسفعليه‌السلام ) کی کرم نوازی کا پہلے سے زیادہ احساس ہو اور اسی بنیاد پر وہ دوبار ہ آپ کے پاس آجائیں یہاں تک کہ اپنے چھوٹے بھائی کو بھی پورے اطمینان ِقلب سے اپنے ساتھ لے آئیں اور خود حضرت یعقوبعليه‌السلام بھی یہ بات دیکھ کر بنیامین کو بڑے اعتماد سے مصر روانہ کردیں ۔

۳ ۔حضرت یوسفعليه‌السلام نے بیت المال کا مال کیوں بلا معاوضہ دے دیا؟ :

ایک اور سوال جو یہاں سامنے آتاہے یہ ہے کہ حضرت یوسفعليه‌السلام نے اپنے بھائیوں کو بیت المال کا کچھ حصہ کیوں بلا معاضہ دے دیا۔

اس سوال کا جوانب دو طرح سے دیا جاسکتا ہے :

پہلا یہ کہ مصر کے بیت المال میں مستضعفین کا حق تھا( اور ہمیشہ ہوتا ہے ) اور مختلف ممالک میں موجود سر حدوں سے یہ حق ختم نہیں ہوتا ۔ اسی لئے حضرت یوسفعليه‌السلام اپنے بھائیوں کے لئے جو اس وقت مستضعف تھے اس حق سے استفادہ کیا جیسا کہ وہ دیگر مستضعفین کے لئے بھی کرتے تھے ۔

دوسرا یہ کہ حضرت یوسفعليه‌السلام اس وقت ایک حساس منصب پر تھے جس کی بناء پر ذاتی طور پر بھی ان کے کچھ حقوق تھے ، ان کا کم از کم یہ حق تھا کہ وہ اپنے معاشی ضروریات کا ، اپنے ضرورت مند اہل و عیال کا اور اپنے باپ اور بھا ئیوں جیسے رشتہ داروں کی کم از معاشی زندگی کا خیال رکھیں اسی بناء پر آپ نے اس بخشش و عطا میں اپنے حق سے استفادہ کیا۔


آیات ۶۳،۶۴،۶۵،۶۶

۶۳ ۔( فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَی اٴَبِیهِمْ قَالُوا یَااٴَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْکَیْلُ فَاٴَرْسِلْ مَعَنَا اٴَخَانَا نَکْتَلْ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ) ۔

۶۴ ۔( قَالَ هَلْ آمَنُکُمْ عَلَیْهِ إِلاَّ کَمَا اٴَمِنتُکُمْ عَلَی اٴَخِیهِ مِنْ قَبْلُ فَاللهُ خَیْرٌ حَافِظًا وَهُوَ اٴَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ ) ۔

۶۵ ۔( وَلَمَّا فَتَحُوا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَیْهِمْ قَالُوا یَااٴَبَانَا مَا نَبْغِی هَذِهِ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ إِلَیْنَا وَنَمِیرُ اٴَهْلَنَا وَنَحْفَظُ اٴَخَانَا وَنَزْدَادُ کَیْلَ بَعِیرٍ ذَلِکَ کَیْلٌ یَسِیرٌ )

۶۶ ۔( قَالَ لَنْ اٴُرْسِلَهُ مَعَکُمْ حَتَّی تُؤْتُونِی مَوْثِقًا مِنْ اللهِ لَتَأتونَنِی بِهِ إِلاَّ اٴَنْ یُحَاطَ بِکُمْ فَلَمَّا آتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللهُ عَلَی مَا نَقُولُ وَکِیلٌ ) ۔

ترجمہ

۶۳ ۔ جب وہ اپنے والد کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا : ابا جان ! ہم سے ( غلے کا) پیمانہ روک دیا گیا ہے لہٰذا ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے گا تاکہ ہم ( غلے کا ) حصہ لے سکیں اور ہم اس کی حفاظت کریں گے ۔

۶۴ ۔ اس نے کہا کہ کیا میں اس کے بارے میں تم پر بھروسہ کرلوں جیسا کہ اس کے بھائی ( یوسف ) کے بارے میں میں تم پر بھروسہ کیا تھا اور( میں نے دیکھا کہ کیا ہوا اور بہر حال ) خدا بہترین محافظ اور ارحم الراحمین ہے ۔

۶۵ ۔ اور جس وقت انہوں نے اپنا مال و متاع کھولا تو انہوں نے دیکھا کہ ان کا سرمایہ انہیں واپس کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا : ابا جان ! ہمیں اور کیاچاہئیے یہ( دیکھئے)ہمارا سرمایہ جو ہمیں واپس کردیا گیا ہے ( لہٰذا کیا ہی اچھا ہے کہ بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے) اور ہم اپنے گھر والوں کے لئے اناج لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور زیادہ بڑا پیمانہ حاصل کریں گے ، یہ تو چھوٹا پیمانہ ہے ۔

۶۶ ۔ اس نے کہا میں ہر گز اسے تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا جب تک کہ مجھ سے پکا خدائی وعدہ نہ کرو کہ اسے حتماً میرے پاس لے آؤگے مگر یہ کہ ( موت یا کسی اور سبب سے ) تم سے قدرت سلب ہو جائے اور جس وقت انہوں نے اس سے قابل ِ وثوق وعدہ کرلیا تو اس نے کہا : جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں خدا اس پر ناظر و حافظ ہے ۔

آخرکار باپ راضی ہو گئے

حضرت یوسفعليه‌السلام کے بھائی مالا ہو کر خوشی خوشی کنعان واپس آئے لیکن آئندہ کی فکر تھی کہ اگر باپ چھوٹے بھائی (بنیامین )بھیجنے پر راضی نہ ہوئے تو عزیز ان کی پذیرائی نہیں کرے گا اور انہیں غلے کا حصہ بھی نہیں دے گا ۔

اسی لئے قرآن کہتا ہے : جب وہ باپ کے پاس لوٹ کر آئے تو انہوں نے کہا ابا جان ! حکم دیا گیا ہے کہ آئندہ ہمیں غلے کا حصہ نہ دیا جائے اور پیمانہ ہم سے روک دیا جائے( فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَی اٴَبِیهِمْ قَالُوا یَااٴَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْکَیْلُ ) ۔ اب جب یہ صورت در پیش ہے ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیں تاکہ ہم پیمانہ حاصل کر سکیں( فَاٴَرْسِلْ مَعَنَا اٴَخَانَا نَکْتَلْ ) ۔(۱)

اور آپ مطمن رہیں ہم اس کی حفاظت کریں گے( وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ) ۔

باپ کہ جسے یوسفعليه‌السلام ہر گز نہ بھولتا تھا یہ بات سن کر پریشان ہوگیا ، ان کی طر فرخ کرکے اس نے کہا: کیا میں تم پر اس بھائی کے بارے میں بھروسہ کرلوں کہ اس کے بھائی یوسف (ع)کے بارے میں گزشتہ زمانے میں تم پر بھروسہ کیا تھا( قَالَ هَلْ آمَنُکُمْ عَلَیْهِ إِلاَّ کَمَا اٴَمِنتُکُمْ عَلَی اٴَخِیهِ مِنْ قَبْلُ ) ۔

یعنی جب تمہارا ایسا بر اماضی ہے کہ جو بھولنے کے قابل نہیں تو تم کس طرح توقع رکھتے ہو کہ دوبارہ تمہاری فرمائش مان لوں اور اپنے فرزند دلبند کو تمہارے سپرد کروں اور وہ بھی ایک دور دراز سفر اور پرائے دیس کے لئے ۔ اس کے بعد اس نے مزید کہا: ہر حالت میں خدا بہترین محافظ اور ارحم الراحمین ہے ۔

( فَاللهُ خَیْرٌ حَافِظًا وَهُوَ اٴَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ ) ۔

ہوسکتا ہے یہ جملہ اس طرف اشارہ ہوکہ تم جیسے برے ماضی والے افراد کے ساتھ میرے لئے مشکل ہے کہ بنیامین کو بھیجوں اوربھیجوں گا ، بھی تو خدا کی حفاظت میں اور اس کے ارحم الراحمین ہونے کے بھروسے پر نہ کہ تمہارے بھروسے پر ۔

لہٰذا مندرجہ بالا جمہ ان کی فرمائش قبول کرنے کی طرف قطعی اشارہ نہیں ہے بلکہ ایک احتمالی بات ہے کیونکہ بعد والی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوبعليه‌السلام نے ابھی تک ان کی فرمائش قبول نہ کی تھی اور آپ نے پختہ عہد لینے اور پیش آمدہ دیگر واقعات کے بعد اسے قبول کیا۔

دوسرا یہ کہ ممکن ہے حضرت یوسفعليه‌السلام کی طرف اشارہ ہو کیونکہ اس موقع پر انہیں یوسفعليه‌السلام یاد آگئے اور وہ پہلے سے بھی جانتے تھے کہ وہ زندہ ہیں (اور بعد والی آیات میں بھی ہم پڑھ گئے ہیں کہ انہیں حضرت یوسفعليه‌السلام کے زندہ ہونے کا اطمینان تھا ) لہٰذا آپ نے ان کے محفوظ و سلامت رہنے کی دعا کی کہ خدا یا ! وہ جہاں کہیں بھی ہیں انہیں سلامت رکھ۔

پھر ان بھائیوں نے جن اپنا سامان کھولاتو انہوں نے بڑے تعجب سے دیکھا کہ وہ تمام چیزیں جو انہوں نے غلے کی قیمت کے طور پر عزیز مصر کو دی تھیں سب انہیں لوٹا دی گئی ہیں اور وہ ان کے سامان میں موجود ہیں( وَلَمَّا فَتَحُوا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَیْهِمْ ) ۔

جب انھوں نے دیکھا کہ یہ تو ان کی گفتگو پر سند قاطع ہے تو باپ کے پا س آئے اور ” کہنے لگے : ابا جان ! ہمیں اس سے بڑھ کر او رکیا چاہئیے ، دیکھئے انہوں نے ہمارا تمام مال و متاع ہمیں واپس کردیا ہے “۔( قَالُوا یَااٴَبَانَا مَا نَبْغِی هَذِهِ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ إِلَیْنَا ) (۲)

کیا اس سے بڑ ھ کر کوئی عزت و احترام او رمہر بانی ہو سکتی ہے کہ ایک غیر ملک کا سر براہ ایسے قحط اور خشک سالی میں ہمیں اناج بھی دے اور اس کی قیمت بھی واپس کردے ، وہ بھی ایسے کہ ہم سمجھ ہی نہ پائیں اور شرمندہ نہ ہوں ؟ اس سے بڑھ کر ہم کیا تصور کرسکتے ہیں ؟ ؟

ابا جان ! اب کسی پریشانی کی ضرورت نہیں ۔ ہمارے ساتھ بھیج دیں ” ہم اپنے گھر والوں کے لئے اناج لے آئیں گے “۔( وَنَمِیرُ اٴَهْلَنَا ) ۔(۳)

اور اپنے بھائی کی حفاظت کی کوشش کریں گے “۔( وَنَحْفَظُ اٴَخَانَا ) ۔” نیز اس کی وجہ سے ایک اونٹ کا بار بھی زیادہ لائیں گے ۔( وَنَزْدَادُ کَیْلَ بَعِیر ) ۔اورعزیر مصر جیسے محترم ، مہربان اور سخی شخص کے لئے کہ جسے ہم نے دیکھا ہے ایک آسان اور معمولی کام ہے( ذَلِکَ کَیْلٌ یَسِیرٌ ) ۔(۴)

ان تمام امور کے باوجود حضرت یعقوبعليه‌السلام اپنے بیٹے بنیامین کو ان کے ساتھ بھیجنے کے لئے راضی نہ تھے لیکن دوسری طرف ان کا اصرار تھا جو واضح منطق کی بنیاد پر تھا ۔ یہ صورت ِ حال انہیں آمادہ کرتی تھی کہ وہ ان کی تجویز قبول کرلیں ۔ آخر کار انہوں نے دیکھا کہ اس کے بغیر چارہ نہیں کہ مشروط طور پر بیٹے کوبھیج دیا جائے ۔ لہٰذا آپ نے انہیں اس طرح سے ” کہا : میں اسے ہر گز تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا ، جب تک کہ تم ایک خدائی پیمان نہ دو اور کوئی ایسا کام نہ کرو جس سے مجھے اعتماد پیدا ہو جائے کہ تم اسے واپس لے کر آؤ گے مگر یہ کہ موت یا موت یا اور عوامل کی وجہ سے یہ امر تمہارے بس میں نہ رہے( قَالَ لَنْ اٴُرْسِلَهُ مَعَکُمْ حَتَّی تُؤْتُونِی مَوْثِقًا مِنْ اللهِ لَتَأتونَنِی بِهِ إِلاَّ اٴَنْ یُحَاطَ بِکُم ) ۔

موثقاً من الله “سے مراد وہی قسم ہے جو خدا کے نام کے ساتھ ہے ۔

الا ان یحاط بکم “کامعنی اصل میں یہ ہے :

” مگر یہ کہ جو حوادث سے مغلوب ہو جاؤ“۔

یہ جملہ ہوسکتا ہے موت یا ایسے دوسرے حوادث کے لئے کنایہ ہو جو انسان کو بے بس کردیں ۔(۵)

( واحیط بثمره ) ( کہف ۔ ۴۲) لیکن واضح زیربحث آیات میں مراد بالخصوص ہلاکت نہیں ہے بلکہ ایسا عذر ہے جس کے باعث انسان کا اختیار ختم ہو جائے ۔

یہ استثناء حضرت یعقوبعليه‌السلام کی عظیم دانائی کی علامت ہے ۔ اس کے باوجود کہ وہ اپنے بیٹھے بنیامین سے اس قدر محبت رکھتے تھے انہوں نے اپنے دوسرے بیٹوں کو ایسی مشکل میں نہیں ڈالا جو ان کے بس میں نہ ہو لہٰذا کہا کہ میں تم سے اپنا بیٹا چاہتاہوں مگر یہ کہ ایسے حوادث پیش آجائیں جو تمہاری قدرت سے ماوراء ہوں اس صورت میں تمہاراکوئی گناہ نہ ہو گا۔واضح ہے کہ اگر ان میں سے بعض کسی حادثے میں گرفتار ہو جاتے اور ان سے قدرت چھن جاتی تو باقی رہ جانے والوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ باپ کی امانت اس تک پہنچا دیں ، اسی لئے حضرت یعقوبعليه‌السلام کہتے ہیں : مگر یہ کہ تم سب حوادث سے مغلوب ہو جاؤ ۔بہر حال یوسفعليه‌السلام کے بھائیوں نے باپ کی شرط قبول کرلی اور جب انہوں نے اپنے والد سے عہدو پیمان باندھا تو یعقوبعليه‌السلام نے کہا : شاہد ، ناظر اور محافظ ہے ، اس بات پر کہ جو ہم کہتے ہیں( فَلَمَّا آتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللهُ عَلَی مَا نَقُولُ وَکِیلٌ ) ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ حضرت یعقوبعليه‌السلام کیسے راضی ہو گئے :

مندرجہ بالا آیا ت کے سلسلے میں جو پہلا سوال ذہن میں آتا ہے یہ ہے کہ حضرت عقوبعليه‌السلام بنیامین کو ان کے سپرد کرنے پر کیسے آمادہ ہو گئے جب کہ ان کے بھائی یو سفعليه‌السلام کے بارے میں اپنے سلوک کی وجہ سے پہلے برے کردار کے شمار ہوتے تھے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ صرف یوسفعليه‌السلام کے بارے میں اپنے دل میں کینہ و حسد نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ یہی احساسات اگر چہ نسبتاً خفیف ہی سہی بنیامین کے لئے بھی رکھتے تھے ۔ چنانچہ اس سورہ کی ابتدائی آیا ت میں ہے :

( اذقالوا لیوسف و اخوه احب الیٰ ابینا منا و نحن عصبة )

انہوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی باپ کے نزدیک ہم سے زیادہ محبوب ہے جب کہ ہم زیادہ طاقتور ہیں ۔

اس نکتے کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت یوسفعليه‌السلام والے حادثے کو تیس سے چالیس سال تک کا عرصہ بیت چکا تھا اور حضرت یوسفعليه‌السلام کے جو ان بھائی بڑحاپے کو پہنچ گئے تھے اور فطرتا ً ان کے ذہن پہلے زمانے کی نسبت پختہ ہو چکا تھا۔ علاوہ ازیں گھر کے ماحول پر اور اپنے مضطرب وجدان پر اپنے برے ارادے کے اثرات وہ اچھی طرح سے محسوس کرتے تھے اور تجربے نے ان پر ثابت کریا کہ یوسفعليه‌السلام کے فقدان سے نہ صرف یہ کہ ان کے لئے باپ کی محبت میں اضافہ ہوا بلکہ مزید مہری اور بے التفاتی پیدا ہو گئی ۔

ان سب باتوں سے قطع نظر یہ تو ایک زندگی کا مسئلہ ہے ۔ قحط سالی میں ایک گھرانے کے لئے اناج مہیا کرنا ایک بہت بڑی چیز تھی اور یہ سیر و تفریح کا معاملہ نہ تھا جیسا کہ انہوں نے ماضی میں حضرت یوسفعليه‌السلام کے متعلق فرمائش کی تھی ۔

ان تمام پہلوؤں کے پیش نظر حضرت یعقوبعليه‌السلام نے ان کی بات مان لی لیکن شرط کے ساتھ کہ آپ سے عہد و پیمان باندھیں کہ وہ اپنے بھائی بنیامین کو صحیح و سالم آپ کے پاس واپس لے آئیں گے ۔

۲ ۔ کیا صرف ایک قسم کافی تھی ؟

دوسرا سوال یہا ں یہ پید اہوتا ہے کہ کیا صرف قسم کھا لینا اور خدائی پیمان باندھ لینا کافی تھا کہ جس کی بنیاد پر بنیامین کو ان کے سپرد کردیا جاتا ۔ ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ مسلم ہے کہ عہدو پیمان اور قسم کھا لینا ہی کافی نہیں تھا لیکن قرائن و شواہد نشاندہی کرے تھے کہ اس دفعہ ایک حقیقت پیش نظر ہے نہ کہ سازش ، مکروفریب اور جھوٹ ۔ اس لئے وعدہ اور قسم زیادہ تاکید کے لئے تھی ۔ بالکل اسی طرح جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ سیاسی اشخاص سے مثلاً صدر مملکت اور اسمبلی کے ارکان سے ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے حلف ِ وفا داری لیا جاتا ہے جب کہ ان کے انتخاب میں بھی کافی دیکھ بھال سے کام لیا جاتا ہے ۔

____________________

۱۔”نکتل “ اصل میں ”کیل “ کے مادہ سے ” نکتال “ تھا یہ پیمانے سے کوئی چیز حاصل کرنے کے معنی میں ہے لیکن ” کال “ پیمانے سے کوئی دینے کے معنی میں ہے ۔

۲۔ہوسکتا ہے ” مانبغی“ استفہامیہ جملہ ہو اور اس کی تقدیر ”مانبغی وراء ذٰلک “ ( ہمیں اس سے زیادہ اور کیاچاہئیے ) ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نافیہ ہو اور اس کی تقدیر اس طرح ہو :”مانبغی بذٰلک الکذب ۔ او۔ مانبغی منک دراھم “ (ہم جھوٹ نہیں بولنا چاہتے یا یہ کہ ہم اور پیسے آپ سے نہیں چاہتے یہی مال کافی ہے ۔

۳۔”نمیرمیره “ مادہ سے کھانا اور غذائی مواد حاصل کرنے کے معنی میں ہے ۔

۴۔”ذٰلک کیل یسیر“ میں یہ احتمال بھی ہے کہ حضرت یوسفعليه‌السلام کے بھائیوں کامقصد یہ تھا کہ جو کچھ لے آئے ہیں یہ تو تھو ڑا سا پیمانہ ہے اگر ہمارا چھوٹا بھائی ہمارے ساتھ چلے تو ہم زیاد ہ غلہ حاصل کرسکتے ہیں ۔

۵۔ یہ تفسیر قرآن مجید میں کئی مقامات پر صرف ہلاکت او رنابودی کے معنی میں استعمال ہوئی ہے ۔مثلاًوظنوا انهم احیط بهم ( یونس ۔۲۲)


آیات ۶۷،۶۸

۶۷ ۔( وَقَالَ یَابَنِیَّ لاَتَدْخُلُوا مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ اٴَبْوَابٍ مُتَفَرِّقَةٍ وَمَا اٴُغْنِی عَنکُمْ مِنْ اللهِ مِنْ شَیْءٍ إِنْ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّهِ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَعَلَیْهِ فَلْیَتَوَکَّلْ الْمُتَوَکِّلُونَ ) ۔

۶۸ ۔( وَلَمَّا دَخَلُوا مِنْ حَیْثُ اٴَمَرهُمْ اٴَبُوهُمْ مَا کَانَ یُغْنِی عَنْهُمْ مِنْ اللهِ مِنْ شَیْءٍ إِلاَّ حَاجَةً فِی نَفْسِ یَعْقُوبَ قَضَاهَا وَإِنَّهُ لَذُو عِلْمٍ لِمَا عَلَّمْنَاهُ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لاَیَعْلَمُونَ )

ترجمہ

۶۷ ۔ ( جب وہ جانے لگے تو یعقوبعليه‌السلام نے ) کہا : میرے بیٹو! ایک دروازے سے داخل نہ ہونا ، بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا اور ( میں یہ حکم دے کر ) خدا کی طرف سے حتمی حادثے کو نہیں ٹال سکتا۔ حکم اور فرمان صرف خدا کی طرف سے جاری ہوتا ہے ۔ اس پر میں نے توکل کیا ہے اور تمام توکل کرنے والوں کو اسی پر توکل کرنا چاہئیے ۔

۶۸ ۔ اور جب اسی طریقے سے جیسا کہ انہیں باپ نے حکم دیا تھا وہ داخل ہوئے تو یہ کام ان سے کسی حتی خدائی حادثے کو دور نہیں کرسکتا تھا سوائے اس حاجت کے جو یعقوبعليه‌السلام کے دل میں تھی ، ( جو اس طرح سے ) انجام پائی ( اور اس کے دل کو تسکین ہو ئی ) اور وہ اس تعلیم کی بر کت سے جو ہم نے اسے دی بہت سا علم رکھتا تھا جب کہ اکثر لوگ نہیں جانتے ۔

تفسیر

آخر کار حضرت یوسفعليه‌السلام کے بھائی باپ کی رضا مندی کے بعد اپنے چھوٹے بھائی کو ہمراہ لے کر دوسری مرتبہ مصر جانے کو تیار ہوئے تو اس موقع پر باپ نے انہیں نصیحت کی ۔ ” اس نے کہا :میرے بیٹو !تم ایک در وازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف در وازوں سے داخل ہونا “

( وَقَالَ یَابَنِیَّ لاَتَدْخُلُوا مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ اٴَبْوَابٍ مُتَفَرِّقَةٍ ) ۔

اور مزید کہا : ” یہ حکم دے کر میں خدا کی طرف سے کسی حتمی حادثے کو تم سے بر طرف نہیں کرسکتا “( وَمَا اٴُغْنِی عَنکُمْ مِنْ اللهِ مِنْ شَیْءٍ ) ۔لیکن ناگوار حوادث کا ایک سلسلہ ایسا ہے جس سے بچا جا سکتا ہے اور ان کے متعلق خدا کا حتمی حکم صادر نہیں ہوا ۔

میرا مقصد یہ ہے کہ ایسے حوادث تم سے دور ہیں اور ایسا ہونا ممکن ہے ۔

آخر میں کہا : ” حکم اور فرمان خدا کے ساتھ مخصوص ہے “( إِنْ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّهِ ) ۔” میں نے خدا پر توکل کیا ہے “( عَلَیْهِ تَوَکَّلْت ) ۔” اور تمام توکل کرنے والوں کو اسی پر توکل کرنا چاہئیے اور اسی سے مدد طلب کرو اور اپنا معاملہ اسی کے سپرد کرو“( وَعَلَیْهِ فَلْیَتَوَکَّلْ الْمُتَوَکِّلُونَ ) ۔

اس میں شک نہیں کہ اس زمانے میں دوسرے شہروں کی طر ح مصر کے پایہ تخت کے ا گرد گر بھی فصیل تھی ۔ اس کے بھی برج و بار تھے اور اس کے متعدد دروازے تھے ۔

رہا یہ سوال کہ حضرت یعقوبعليه‌السلام نے کیوں نصیحت کی کہ ان کے بیٹے ایک در وازے سے داخل نہ ہوں بلکہ مختلف حصوں میں تقسیم ہو کر مختلف دروازوں سے شہر میں داخل ہو ، ا س کی وجہ مندرجہ بالاآیت میں مذکورنہیں ہے ۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ حضرت یوسفعليه‌السلام کے بھائی ایک تو بہت حسین و جمیل تھء ( اگر چہ وہ یوسف نہ تھے مگر یوسف کے بھائی تو تھے ) ۔ ان کا قد کاٹھ بہت اچھا تھا ۔ لہٰذا ان کے باپ پر یشان تھے کہ گیارہ افراد اکھٹے جن کے چہرے مہرے معلوم ہو کہ وہ مصر کے علاوہ کسی اور ملک سے آئے ہیں ، لوگ ان کی طرف متوجہ نہ ہوں وہ نہیں چاہتے تھے کہ اس طرح انہیں نظر بد لگ جائے ۔

اس تفسیر کے بعد مفسرین کے درمیان نظر بد کی تا ثیر کے بارے میں ایک طویل بحث چھڑ گئی ہے ۔ انہوں نے اس کے لئے روایات و تاریخ میں سے کئی ایک شواہد پیش کئے ہیں جنہیں ہم انشاء الہ اس آیت کی تفسیر میں ذکر کریں گے :

( و ان یکاد الذین کفروا لیزلقونک بابصار هم ) ( ن و القلم ۔ ۵۱)

اس آیت کے ذیل میں ہم ثابت کریں گے کہ اس سلسلے کی کچھ بحث بجا بھی ہے اور سائنسی لحاظ سے بھی ایک مخصوص سیالہ مقنا طیسی کہ جو آنکھ سے باہر اڑتا ہے اس کی توجیہ پیش کی جا سکتی ہے اگر چہ عامة الناس نے اس معاملے میں بہت سی خرافات شامل کردی ہیں ۔

حضرت یعقوبعليه‌السلام کے اس حکم کے بارے میں جو دوسری علت بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہو سکتا ہے جب اونچے لمبے چوڑے چکلے مضبوط جسموں والے اکھٹے چلیں تو حاسدوں کو انہیں دیکھ کر حسد پیدا ہو اور وہ ان کے بارے میں حکومت سے کوئی شکایت کرنے لگیں اور ان کے متعلق یہ بد ظنی کریں کہ وہ کسی خرابی اور فتنہ و فساد کا ارادہ رکھتے ہیں اس لئے باپ نے انہیں حکم دیا کہ مختلف در وازوں سے داخل ہوں تاکہ لوگ ان کی طرف متوجہ نہ ہوں ۔

بعض مفسرین( عظیم و خطیب مرحوم اشراقی ( قدس سرہ)نے اس کی ایک عرفانی تفسیر بھی ہے ۔ وہ یہ کہ یعقوبعليه‌السلام راہنما راہ کے حوالے سے اپنے بیٹوں کو ایک اہم معاشرتی مسئلہ سمجھانا چاہتے تھے اور وہ یہ کہ کھوئی ہوئی چیز کو صرف ایک ہی راستے سے تلاش نہ کریں بلکہ ہر دروازے سے داخل ہو کر اسے ڈھونڈیں ۔

کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان ایک مقصد تک پہنچنے کے لئے صرف ایک ہی راہ کا انتخاب کرتا ہے اور جب آگے راستہ بن پاتا ہے تو مایوس ہو کر بیٹھ جاتا ہے لیکن اگر وہ اس حقیقت کی طرف متوجہ ہو کہ متوجہ ہو کہ گمشدہ افراد اور چیزیں عموماً ایک ہی راستے پر جانے سے نہیں ملتیں بلکہ مختلف راستوں سے ان کی جستجو کرنا چاہتے تو عام طور پر کامیاب ہو جاتا ہے ۔

برادران یوسفعليه‌السلام روانہ ہوئے اور کنعان و مصر کے درمیان طویل مسافت طے کرنے کے بعد سر زمین مصر میں داخل ہوئے اور جب باپ کے دئے ہو ئے حکم کے مطابق مختلف راستوں سے مصر میں داخل ہوئے تو یہ کام انہیں کسی خدا ئی حادثے سے دور نہیں کرسکتا تھا( وَلَمَّا دَخَلُوا مِنْ حَیْثُ اٴَمَرهُمْ اٴَبُوهُمْ مَا کَانَ یُغْنِی عَنْهُمْ مِنْ اللهِ مِنْ شَیْءٍ ) ۔بلکہ اس کا فائدہ صرف یہ تھا کہ ” یعقوب کے دل میں ایک حاجت تھی جو اس طرح پوری ہوتی تھی “ (إِلاَّ حَاجَةً فِی نَفْسِ یَعْقُوبَ قَضَاهَا ) ۔

یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اس کا اثر صرف باپ کے دل کی تسکین اور آرام تھا کیونکہ وہ اپنے سارے بیٹوں سے دور تھا اور رات دن ان کی اور یوسف کی فکر میں رہتا تھا اور ان کے بارے میں حوادث کے گزند اور حاسدوں اور بد خواہوں کے بغض و حسد سے ڈرتا تھا اور اسے صرف اس بات سے اطمینان تھا کہ وہ اس کے احکام کے کاربند رہیں گے ۔ اس پر اس کا دل خوش تھا ۔

اس کے بعد قرآں یعقوبعليه‌السلام کی یوں مدح و ثنا اور تعریف و توصیف کرتا ہے : وہ ہماری ہوئی تعلیم کے سبب علم آگہی رکھتا تھا جب کہ اکثر لوگ نہیں جانتے( وَإِنَّهُ لَذُو عِلْمٍ لِمَا عَلَّمْنَاهُ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لاَیَعْلَمُونَ ) ۔

اس طرف اشارہ ہے کہ اسی طرح بہت سے لوگ عالم اسباب میں گم ہو جاتے ہیں ، خدا کو بھول جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ بعض لوگوں کو نظر بد سے نہیں بچا یا جاسکتا۔ اسی بنا ء پر ایسے لوگ خدا اور اس پر توکل کو بھول کر ہر کہ کہ ومہ کے دامن سے جاچمٹتے ہیں لیکن حضرت یعقوبعليه‌السلام اس طرح کے نہ تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ جب تک خدا کسی چیز کو نہ چاہے وہ انجام نہیں پاسکتی لہٰذا پہلے درجے میں ان کا بھروسہ اور اعتماد خدا پر تھا ۔ اس کے بعد وہ عالم ِ اسباب کی طرف جاتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ جانتے تھے کہ ان اسباب کے پیچھے ایک مسبب الاسباب ذات پاک ہے ، جیسا کہ قرآن بقرہ ۱۰۲ میں شہر بابل کے جادو گروں کے بارے میں کہتا ہے :

( وما هم بضارین به من احد الا باذن الله )

وہ جادو سے کسی کو نقصان نہیں پہنچاسکتے تے مگر یہ کہ خدا چاہے ۔

یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان سب چیزوں سے مافوق خدا کاارادہ ہے دل اس سے باندھنا چاہئیے اور اسی سے مدد لینا چاہئیے ۔


آیات ۶۹،۷۰،۷۱،۷۲،۷۳،۷۴،۷۵،۷۶

۶۹ ۔( وَلَمَّا دَخَلُوا عَلَی یُوسُفَ آوَی إِلَیْهِ اٴَخَاهُ قَالَ إِنِّی اٴَنَا اٴَخُوکَ فَلاَتَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) ۔

۷۰ ۔( فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِی رَحْلِ اٴَخِیهِ ثُمَّ اٴَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اٴَیَّتهَا الْعِیرُ إِنَّکُمْ لَسَارِقُونَ ) ۔

۷۱ ۔( قَالُوا وَاٴَقْبَلُوا عَلَیْهِمْ مَاذَا تَفْقِدُونَ ) ۔

۷۲ ۔( قَالُوا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِکِ وَلِمَنْ جَاءَ بِهِ حِمْلُ بَعِیرٍ وَاٴَنَا بِهِ زَعِیمٌ ) ۔

۷۳ ۔( قَالُوا تَاللهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاٴَرْضِ وَمَا کُنَّا سَارِقِینَ ) ۔

۷۴ ۔( قَالُوا فَمَا جَزَاؤُهُ إِنْ کُنتُمْ کَاذِبِینَ ) ۔

۷۵ ۔( قَالُوا جَزَاؤُهُ مَنْ وُجِدَ فِی رَحْلِهِ فَهُو جَزَاؤُهُ کَذَلِکَ نَجْزِی الظَّالِمِینَ ) ۔

۷۶ ۔( فَبَدَاٴَ بِاٴَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَاءِ اٴَخِیهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِعَاءِ اٴَخِیهِ کَذَلِکَ کِدْنَا لِیُوسُفَ مَا کَانَ لِیأخُذَ اٴَخَاهُ فِی دِینِ الْمَلِکِ إِلاَّ اٴَنْ یَشَاءَ اللهُ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاءُ وَفَوْقَ کُلِّ ذِی عِلْمٍ عَلِیمٌ ) ۔

ترجمہ

۶۹ ۔جب یوسف کے پا س پہنچے تو انہوں نے اپنے بھائی کو اپنے پا س جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہو ں جو کچھ یہ کرتے ہیں اس سے غمگین اور پریشان نہ ہو۔

۷۰ ۔ اور جس وقت ان کا سامان باندھا گیا تو ان کے باد شاہ نے پانی پینے کا برتن اپنے بھائی کے سامان میں رکھ دیا۔ اس کے بعد کسی نے آواز بلند کی کہ اےس قافلے والو! تم چور ہو۔

۷۱ ۔ انہوں نے اس کی طرف رخ کرکے کہا تمہاری کیا چیز گم ہو گئی ہے ۔

۷۲ ۔ انہوں نے کہا: باد شاہ کا پیمانہ ، اور جو شخص اسے لے آئے ( غلے کا ) اونٹ کا ایک بار اسے دیا جائے گا اور میں ( اس انعام کا ) ضامن ہوں ۔

۷۳ ۔ انہوں نے کہا : قسم بخدا تم جانتے ہو کہ ہم اس علاقے میں فساد کرنے نہیں آئے اور ہم ( کبھی بھی ) چور نہیں تھے ۔

۷۴ ۔انہوں نے کہا : اگر تم جھوٹے ہوئے تو تمہاری سزا کیا ہے ۔

۷۵ ۔ انہوں نے کہا :جس کے سامان میں ( وہ پیمانہ ) مل گیا تو وہ خود اس کی سزا ہو گا ( اور اس کام کی بنا ء پر وہ غلام ہو جائے گا ) ہم ظالموں کو اس طرح سے سزا دیتے ہیں ۔

۷۶ ۔ تو اس وقت ( یوسف نے ) اپنے بھائی کے سامان سے پہلے ان کے سامان کی تلاشی لی اور پھر اپنے بھائی کے سامان سے اسے برآمد کرلیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کو چارہ کار یاد دلایا ۔ وہ مصر ( کے بادشاہ ) کے آئین کے مطابق اپنے بھائی کو ہر گز نہیں لے سکتا تھا مگر یہ کہ خدا چاہے ۔ ہم جس شخص کے چاہیں درجات بلند کرتے ہیں اور ہر صاحب ِ علم کے اوپر ایک عالم ہے ۔

بھائی کو روکنے کی کوشش

آخر کار بھائی یوسفعليه‌السلام کے پا س پہنچے اور انہیں بتا یا کہ ہم نے آپ کے حکم کی تعمیل کی ہے اور باوجود اس کے کہ ہمارے والدپہلے چھوٹے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیجنے پر راضی نہ تھے لیکن ہم نے اصرار کرکے اسے راضی کی ہے تاکہ آپ جالیں کہ ہم نے قول و قرار پورا کیا ہے ۔

حضرت یوسفعليه‌السلام نے بڑی عزت و احترام سے ان کی پذیرائی کی ، انہیں مہمان بلا یا اور حکم دیا کہ دسترخوان یاطبق کے پاس دو دو افراد آئیں ۔ انہوں نے ایسا ہیں کیا ، اس وقت بنیامین جو تنہا رہ گیا تھا رونے لگا اور کہنے لگا کہ اگر میرا یوسفعليه‌السلام زندہ ہوتا تو مجھے اپنے ساتھ ایک دسترخوان پر بٹھا تاکیونکہ ہم پدری مادری بھائی تھے ۔

پھر حکم دیا کہ دو دو افراد کے لئے ایک ایک کمرہ سونے کے لئے تیار کیا جائے ۔بنیامین پھر اکیلا رہ گیا تو حضرت یوسفعليه‌السلام نے فرمایا : اسے میرے پاس بھیج دو ۔ ا س طرح حضرت یوسفعليه‌السلام نے اپنے بھائی کو اپنے ہاں جگہ دی لیکن دیکھا کہ وہ بہت دکھی اور پریشان ہے اور ہمیشہ اپنے کھوئے ہوئے بھائی یوسفعليه‌السلام کی یاد میں رہتا ہے ۔ ایسے میں یو سفعليه‌السلام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور آپعليه‌السلام نے حقیقت کے چہرے سے پر دہ ہٹا دیا ، جیسا کہ قرآن کہتا ہے : جب یوسفعليه‌السلام کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے ہاں جگہ دی اور کہاکہ میں وہی تمہارا بھائی یوسف ہوں ، غمگین نہ ہو اور اپنے دل کو دکھی نہ کر اور ان کے کسی کام سے پریشان نہ ہو( وَلَمَّا دَخَلُوا عَلَی یُوسُفَ آوَی إِلَیْهِ اٴَخَاهُ قَالَ إِنِّی اٴَنَا اٴَخُوکَ فَلاَتَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) ۔

” لا بتئس “ اصل میں ” بؤس “ کے مادہ سے ضررر اور شدت کے معنی میں ہے اور اس مقام پر اس کا معنی ہے ” غمگین نہ ہو“۔

بھائیوں کے کام کہ جو بنیامین کو دکھی اور پریشان کرتے تھے ان سے مراد ان کی وہ نامہربانیاں اور بے التفاتیاں تھیں جو وہ اس کے اور یوسفعليه‌السلام کے لئے روارکھتے تھے اور وہ سازشیں کہ جو اسے گھر والوں سے دور کرنے کے لئے انجام دیتے تھے ۔ حضرت یوسفعليه‌السلام کی مراد یہ تھی کہ تم دیکھ رہے ہو کہ ان کی کارستانیوں سے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا بلکہ وہ میری ترقی اور بلندی کا ذریعہ بن گئیں لہٰذا اب تم بھی اس بارے میں اپنے دل کو دکھی نہ کرو۔

بعض روایات کے مطابق اس موقع پر حضرت یوسفعليه‌السلام نے اپنے بھائی بنیامین سے کہا : کیا تم پسند کرتے ہو کہ میرے پاس رہ جاؤ اس نے کہا: ہاں میں تو راضی ہوں لیکن بھائی ہر گز نہیں راضی ہوں گے کیونکہ انہوں نے باپ سے قول و قرار کیا ہے اور قسم کھائی ہے کہ مجھے ہرقیمت پر اپنے ساتھ واپس لے جائیں گے ۔

حضرت یوسفعليه‌السلام نے کہا : تم فکر نہ کرو میں ایک منصوبہ بناتا ہوں جس وہ مجبور ہو جائیں گے کہ تمہیں میرے پاس چھوڑ جائیں ۔ غلات کے بار تیار ہو گئے تم حکم دیا کہ مخصوص قیمتی پیمانہ بھائی کے بارمیں رکھ دیں ( کیونکہ ہر شخص کے لئے غلے کا ایک باردیا جاتا تھا )( فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِی رَحْلِ اٴَخِیه ) ۔

البتہ یہ کام مخفی طور پر انجام پا یا اور شاید اس کا علم مامورین میں سے فقط ایک شخص کو تھا ۔

جب اناج کو پیمانے سے دینے والوں نے دیکھا کہ مخصوص قیمتی پیمانے کا کہیں نام ونشان نہیں ہے حالانکہ پہلے وہ ان کے پاس موجود تھا۔ لہٰذا جب وہ قافلہ چلنے لگا تو کسی نے پکارکر کہا : اے قافلے والو! تم چور ہو( ثُمَّ اٴَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اٴَیَّتهَا الْعِیرُ إِنَّکُمْ لَسَارِقُونَ ) ۔

یوسف (ع)کے بھائیوں نے جب یہ جملہ سنا تو سخت پریشان ہوئے اور وحشت زدہ ہو گئے کیونکہ ان کے ذہن میں تو اس کا خیال بھی نہ آسکتا تھا کہ اس احترام و اکرام کے بعد ان پر چوری کا الزام لگا یا جائے گا ۔لہٰذا انہوں ا س کی طرف رخ کرکے کہا: تمہاری کونسی چیز چوری ہوگئی ہے( قَالُوا وَاٴَقْبَلُوا عَلَیْهِمْ مَاذَا تَفْقِدُونَ ) ۔

انہوں نے کہا ہم سے بادشاہ کا پیمانہ گم ہوگیا ہے اور ہمیں تمہارے بارے میں بد گمانی ہے( قَالُوا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِکِ ) ۔

پیمانہ چونکہ گراں قیمت ہے اور باد شاہ کو پسند ہے لہٰذا ” وہ جس شخص کو ملے اور وہ اسے لے آئے تو اسے ایک اونٹ کا بار بطور انعام دیا جائے گا “( وَلِمَنْ جَاءَ بِهِ حِمْلُ بَعِیرٍ ) ۔

پھر یہ بات کہنے والے نے مزید تاکید سے کہا : اورمیں ذاتی طو ر پر اس انعام کا ضامن ہوں( وَاٴَنَا بِهِ زَعِیمٌ ) ۔

بھائی یہ بات سن کر سخت پریشان ہوئے اور حواس باختہ ہو گئے اور وہ نہیں سمجھتے تھے کہ معاملہ کیا ہوا ، ان کی طرف رخ کرکے ” انہوں نے کہا: خدا کی قسم تم جانتے کہ ہم یہاں اس لئے نہیں آئے کہ فتنہ و فساد کرین اور ہم کبھی بھی چور نہیں تھے “( قَالُوا تَاللهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاٴَرْضِ وَمَا کُنَّا سَارِقِینَ ) ۔

یہ جو انہوں نے کہاکہ تم خود جانتے ہو کہ ہم فسادی اور چور نہیں ہیں ، شاید اس طرف اشارہ ہو کہ تم ہمارا سابقہ کردار اچھی طرح جانتے ہ وکہ گزشتہ موقع پر ہماری پیش کرد ہ قیمت جو تم نے ہمارے غلات میں رکھ دی تھی وہ ہم دوبارہ تمہارے پاس لے آئے ہیں اور تمہیں بتا یا کہ وہ ساری کی ساری ہم تمہیں واپس کرنے کو تیار ہیں لہٰذا وہ افراد جو دور دراز کے ملک سے اپنا قرض ادا کرنے واپس آجاتے ہیں ان سے کیونکر ممکن ہے کہ چوری کے لئے ہاتھ بڑھائیں ۔

اس کے علاوہ کہا جاتا ہے کہ جب وہ مصر میں داخل ہو ئے تو انہون نے اپنے اونٹوں کے منہ دہان بدنوں سے باندھ دیئے تھے تاکہ وہ کسی کی زراعت اور مال کا نقصان نہ کریں ۔ لہٰذا ان کی مراد یہ تھی کہ ہم جو اس حد تک احتیاط کرتے ہیں حتی کہ ہمارے جانور بھی کسی کو ضرر یا نقصان نہ پہنچائیں تو کس طرح ممکن ہے کہ ہم ایسے کام کے مرتکب ہو ں ۔

یہ سن کر مامورین ان کی طرف متوجہ ہوئے اور ” کہا : لیکن اگر تم جھوٹے ہوئے تو اس کی سزا کیا ہے ؟ “( قَالُوا فَمَا جَزَاؤُهُ إِنْ کُنتُمْ کَاذِبِینَ ) ۔

” انہوں نے جواب میں کہا : اس کی سزا یہ ہے کہ جو شخص کے بارے میں بادشاہ ک اپیمانہ مل جائے اسے روک لو اور اسے اس کے بدلے میں لے لو“( قَالُوا جَزَاؤُهُ مَنْ وُجِدَ فِی رَحْلِهِ فَهُو جَزَاؤُهُ ) ۔” جی ہاں ! ہم اسی طرح ظالموں کو سزا دیتے ہیں( کَذَلِکَ نَجْزِی الظَّالِمِینَ ) ۔

اس موقع پر حضرت یوسفعليه‌السلام نے حکم دیا کہ ان کے غلات کے بارے کھولے جائیں اور ایک ایک جانچ پڑتال کی جائے البتہ اس بناء پر ان کے اصلی منصوبے کا کسی کو پتہ نہ چلے ، اپنے بھائی بنیامین کے بار سے پہلے دوسروں کے سامان کی پڑتال کی اور پھر وہ مخصوص پیمانہ اپنے بھائی کے مال سے بر آمد کرلیا( فَبَدَاٴَ بِاٴَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَاءِ اٴَخِیهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِعَاءِ اٴَخِیهِ ) ۔

بنیامین کے بارے سے پیمانہ بر آمد ہوا تو تعجب سے بھائیوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے گویا غم و اندوہ کے پہاڑ ان کے سروں پر آگرا اور انہیں یو ں لگا جیسے وہ ایک عجیب مقام پر پھنس گئے ہیں کہ جس کے چاروں طرف راستے بند ہو گئے ہیں ۔ ایک طرف ان کا بھائی ظاہرا ایسی چوری کا مر تکب ہوا جس سے ان کے سر ندامت سے جھک گئے اور دوسری طرف ظاہراً عزیز مصر کی نظروں میں ان کی عزت و حیثیت خطرے میں جا پڑ ی کہ اب آئندہ کے لئے اس کی حمایت حاصل کرنا ان کے لئے ممکن نہ رہا اور ان تمام باتوں سے قطع نظر انہوں نے سوچا کہ با پ کو کیا جواب دیں گے اور وہ کیسے یقین کرے گا کہ اس میں ان کوئی قصور نہیں ہے ۔

بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ موقع پر بھائیوں نے بنیامین کی طرف رخ کرکے کہا: اے بے خبر ! تونے ہمیں رسوا کردیا ہے اور ہمارا منہ کالا کردیا ہے ۔ تونے یہ کیسا غلط کام انجام دیا ہے ( نہ تونے اپنے باپ پر رحم کیا ، نہ ہم پر اور نہ خاندان یعقوبعليه‌السلام پر کہ جو خاندان ِ نبوت ہے )آخر ہمیں بتا تو سہی کہ تونے کس وقت پیمانہ اٹھا یا اور اپنے بار میں رکھ لیا ۔

بنیامین نے جو معالے کی اصل اور قضیے کے باطن کو جانتا تھا ٹھنڈے دل سے جواب دیا کہ یہ کام اسی شخص نے کیا ہے جس نے تمہاری دی ہوئی قیمت تمہارے بار میں رکھ دی تھی لیکن بھائیوں کو اس حادثے نے اس قدر پریشان کررکھا تھا کہ وہ سمجھ نہ سکے کہ وہ کیا کہہ رہاہے ۔(۱)

پھر قرآن مزید کہتا ہے : ہم نے اس طرح یوسفعليه‌السلام کے لئے ایک تدبیر کی (تاکہ وہ اپنے بھائی کو دوسرے بھائیوں کی مخالفت کے بغیر روک سکیں )( کَذَلِکَ کِدْنَا لِیُوسُفَ ) ۔

اہم مسئلہ یہ ہے کہ اگر یوسفعليه‌السلام قوانین مصر کے مطابق سلوک کرتے تو انہیں چاہئیے تھا کہ اسے زود و کوب کرتے اور قید خانے میں ڈال دیتے لیکن اس طرح نہ صرف بھائی کو آزار و تکلیف پہنچتی بلکہ خود ان کا مقصد کہ بھائی کو اپنے پاس رکھیں ، پورانہ ہوتا ۔ اسی لئے انہوں نے پہلے بھائیوں سے اعتراف لیا کہ اگر تم سے چوری کی ہو تو تمہارے نزدیک اس کی کیا سزا ہے تو انہوں نے اپنے ہاں رائج طریقے کے مطابق جواب دیا کہ ہمارے ہاں یہ طریقہ ہے کہ طور کو اس کی چوری کے بدلے اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں اور اس سے کام لیتے ہیں اور حضرت یوسفعليه‌السلام نے بھی اسی طریقے کے مطابق ان سے سلوک کیا کیونکہ مجرم کو سزا دینے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اسے ا س کے اپنے قانون کے مطابق سزا دی جائے ۔

اسی بناء پرقرآن کہتا ہے : یوسفعليه‌السلام ملکِ مصر کے قانون کے مطابق اپنے بھائی کو نہیں لے سکتے تھے اور اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے( مَا کَانَ لِیأخُذَ اٴَخَاهُ فِی دِینِ الْمَلِکِ ) ۔

اس کے بعد استثناء کے طور پر فرماتاہے : مگر یہ کہ خدا چاہے( إِلاَّ اٴَنْ یَشَاءَ اللهُ ) ۔

یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ کام جو یوسفعليه‌السلام نے انجام دیا اور بھائیوں کے ساتھ ان کے طریقے کے مطابق سلوک کیا فرمان الہٰی کے مطابق تھا اور یہ بھائی کی حفاظت اور ان کے با پ کی اور دوسرے بھائیوں کی آز مائش کی تکمیل کے لئے ایک منصوبہ تھا ۔

آخر میں قرآن مزید کہتا ہے : ہم جس کو چاہتے ہیں درجات بلند کرتے ہیں( نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاء ) ۔

ان افراد کے درجات۔ جو اہل ہوں اور یوسف کی طرح امتحانات کی کٹھالی سے صحیح و سالم نکل آئیں ۔

بہر حال ہر عالم سے بڑھ کر ایک عالم و دانا ہے ( یعنی خدا)( وَفَوْقَ کُلِّ ذِی عِلْمٍ عَلِیمٌ ) ۔اور وہی ہے جس نے اس منصوبے کا یوسفعليه‌السلام کو الہام کیا تھا ۔

چند اہم نکات

مندرجہ بالا آیات سے سوالات پید ا ہوتے ہیں جن کا ایک ایک کر کے جواب دیاجائے گا :

۱ ۔ یوسفعليه‌السلام نے بھائیوں سے اپنا تعارف کیوں نہ کروایا؟

یوسفعليه‌السلام نے بھائیون نے اپنا تعارف کیوں نہیں کروایا، تاکہ ان کے باپ کو جانکاہ غم ِ فراق سے جلدی نجات ملتی ؟۔

اس سوال کا جواب جیسا کہ پہلے بھی اشارہ ہوا ہے یہ ہے کہ باپ اور بھائیوں کے امتحان کے پروگرام کی تکمیل کے لئے تھا ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کام خود غرضی کی بناء پر نہ تھا بلکہ ایک فرمان الہٰی کے ماتحت تھا۔ خدا چاہتا تھا کہ دوسرے بیٹھے کو کھونے پر بھی یعقوبعليه‌السلام کے عزم اور حوصلے کا امتحان لے اور یوں ان کے تکامل اور ترقی کا آخری زینہ بھی طے ہو جائے اور بھائی بھی آزمائے جائیں کہ ایسے موقع پر جب ان کا بھائی اس طرح کے معالے میں گرفتار ہوا ہے تو وہ باپ سے باندھے پیمان کی کس طرح سے حفاطت کرتے ہیں ۔

۲ ۔ بے گناہ پر چوری کا الزام ؟ :

کیا جائز تھا کہ ایک بے گناہ پر چوری کا اتہام لگا یا جاتا، ایسااتہام کہ جس کے برے آثار نے باقی بھائیوں کو بھی کسی حد تک اپنی لپیٹ میں لے لیا ؟

اس سوال کاجواب بھی خود واقعہ میں موجود ہے اور وہ یہ کہ یہ معاملہ خود بنیامین کی رضا مندی سے انجام پا یا تھا ۔ کیونکہ حضرت یوسفعليه‌السلام نے پہلے اپنے آپ کو اس سے متعارف کروایا تھا اور وہ جانتا تھا کہ یہ منصوبہ خود اس کی حفاظت کے لئے بنایا گیا تھا ۔ نیز اس سے بھائیوں پر بھی کوئی تہمت نہیں لگی البتہ انہیں اضطراب اور پریشانی ضرور ہوئی جس میں کہ ایک اہم امتحان کی وجہ سے کوئی ہرج نہ تھا ۔

۳ ۔ چوری کی طرف سب کی نسبت کیوں دی گئی ؟ :

کیا ” انکم لسارقون “ یعنی “ تم چورہو کہکر سب کی طرف چوری کی نسبت دینا جھوٹ نہ تھا اور اس جھوٹ اور تہمت کا کیا جواز تھا ؟

ذیل کے تجربہ سے اس سوال کا جواب واضح ہو جائے گا:

اولاً: یہ معلوم نہیں کہ یہ بات کہنے والے کون تھے ۔ قرآن میں صرف اس قدر :” قالوا “ یعنی انہوں نے کہا۔“ ہوسکتا ہے یہ با ت کہنے والے حضرت یوسفعليه‌السلام کے کچھ کارندے ہوں کہ جب انہوں نے دیکھا کہ مخصوص پیمانہ نہیں ہے تو یقین کرلیا کہ کنعان کے قافلے میں سے کسی شخص نے اسے چرا لیا ہے او ریہ معمول ہے کہ اگر کوئی چیز ایسے افراد میں چوری ہو جائے کہ جو ایک ہی گروہ کی صورت میں متشکل ہو او راصل چور پہچانا نہ جائے تو سب کو مخاطب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم نے یہ کام کیا ہے یعنی تم میں سے ایک نے یا میں سے بعض نے ایسا کیا ہے ۔

ثانیاً: اس بات کا اصلی نشانہ بنیامین تھا جو کہ اس نسبت پر راضی تھا کیونکہ اس منصوبے میں ظاہراً تو اس پر چوری کی تہمت لگی تھی لیکن در حقیقت وہ اس کے اپنے بھائی یوسفعليه‌السلام کے پاس رہنے کے لئے مقدمہ تھی اور یہ جو سب پر الزام آیا یہ ایک بالکل عارضی سی بات تھی جو صرف برادران یوسفعليه‌السلام کے سامان کی تلاشی پر ختم ہوگیا اور جو در حقیقت مراد تھا یعنی ” بنیامین “ وہ پہچان لیا گیا ۔

بعض نے کہا کہ یہاں جس چوری کی ان کی طرف نسبت دی گئی ہے وہ گزشتہ زمانے سے مربوط تھی اوروہ تھی بھائیوں کا یوسفعليه‌السلام کے باپ یعقوبعليه‌السلام سے یوسفعليه‌السلام کو چرا نا لیکن یہ خیال اس صورت میں درست ہو سکتا ہے جب یہ نسبت حضرت یوسفعليه‌السلام عليه‌السلام کی طرف اشارہ سے انہیں دی جاتی کیونکہ وہی گز شتہ معا ملے سے آگاہ تھے اور شاید بعد والے جملے میں اسی کی طرف اشارہ ہو کیو نکہ حضرت یو سفعليه‌السلام کے مامور ین نے یہ نہیں چاہا کہ تم نے باد شاہ کا پیمانہ چوری کیا ہے بلکہ کہا: ”( نفقد صوامع الملک ) “ یعنی ہم باد شاہ کا پیمانہ مفقود پاتے ہیں “۔ ( لیکن پہلا جواب زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے ) ۔

۴ ۔اس زمانے میں چوری کی سزا ؟

اس زمانے میں چوری کی سزا کیا تھی اس سلسلے میں زیر بحث آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مصریوں اور کنعان کے باشندوں میں چوری کی سزا مختلف تھی ۔ حضرت یوسفعليه‌السلام کے بھائیوں اور احتمالاً اہل کنعان میں اس عمل کی سزا یہ تھی کہ چور کو اس چوری کے بدلے میں ( ہمیشہ کے لئے یا وقتی طور پر ) غلام بنالیا جاتا ۔(۲)

لیکن مصریوں میں یہ سزا رائج نہ تھی بلکہ چوروں کو دوسرے ذرائع سے مثلاًمار پیٹ سے اور قید و بند وغیرہ سے سزا دیتے تھے ۔

بہر حال یہ جملہ اس امر کی دلیل نہیں بنتا کہ آسمانی ادیان میں سے کسی میں غلام بنالینا چور کی سزا تھی کیونکہ بسا اوقات کسی گروہ میں رائج کوئی طریقہ اس زمانے کے لوگوں کی طرف سے شمار ہوتا ہے ۔ غلامی کی تاریخ میں بھی ہم پڑھتے ہیں کہ بے ہودہ اقوام میں یہ طریقہ رہا ہے کہ اگر مقروض اپنا قرض اداکرنے سے عاجز ہو جاتا تو اسے غلام بنا لیا جاتا ۔

۵ ۔” سقایا“یا ” صوامع “ :

زیر نظر آیات میں کبھی لفظ ”صوامع “( پیمانہ ) استعمال ہوا اور کبھی ” سقایة “ ( پانی پینے کا برتن ) ۔ ان دونوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ یہ پیمانہ ابتداء میں باد شاہ کے پینے کا برتن تھا لیکن جس وقت اناج سر زمین مصر میں گراں او رکم یاب ہو گیا اور اس کی راشن بند ہوگئی تو اس امر کی اہمیت ظاہر کرنے کے لئے کہ لو گ نہایت احتیاط سے اور کم خرچ کریں بادشاہ کے پانی پینے کے لئے استعمال ہونے والا مخصوص برتن اس کے پیمانے کے طور پر استعمال کیا گیا ۔

اس برتن کی خصوصیت کے ضمن میں مفسرین نے بہت سی باتیں لکھی ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ وہ چاندی کا تھا اور بعض کے بقول وہ سونے کا تھا بعض نے اضافہ کیا ہے کہ اس میں جواہرات بھی جڑے ہوئے تھے ۔ کچھ غیر معتبر روایات میں بھی ایسے مطالب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن اس سلسلے میں کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے ۔

جو کچھ مسلم ہے وہ یہ کہ ایک ایسا پیمانہ تھا جس سے کسی زمانے میں بادشاہ ِ مصر پانی پیتا تھا بعد میں وہ پیمانے میں تبدیل ہو گیا ۔

یہ بھی واضح ہے کہ ایک ملک کی تمام تر ضروریات کو اس قسم کے پیمانے سے ناپ کرپورا نہیں کیا جا سکتا۔ شاید ایسا رمزاًکیا گیا ہو او ران سالوں میں غلے کی کم یابی اور اہمیت ظاہر کرنے کے لئے خاص طور پر اسے استعمال کیا گیا ہوتا لو گ اسے صرف کرنے میں بہت احتیاط سے کام لیں ۔

ضمناً اس بناء پر کہ وہ پیمانہ اس وقت حضرت یوسفعليه‌السلام کے قبضے میں تھا لہٰذا وہ اس بات کا سبب بنتا اگر چور غلام بنایاجاتاتو وہ صاحب ِ احتیاط پیمانہ یعنی خود حضرت یوسفعليه‌السلام کا غلام بنتا اور انہی کے پاس رہتا اور بالکل اسی مقصد کے لئے حضرت یوسفعليه‌السلام نے یہ منصوبہ بنایا تھا ۔

____________________

۱۔مجمع البیان جلد ۵ ص ۲۵۳۔ مذکورہ آیت کے ذیل میں ۔

۲۔ طبرسی نے مجمع البیان میں نقل کیا ہے کہ اس زمانے میں ایک گروہ میں یہ طریقہ رائج تھا کہ وہ چور کو ایک سال کے لئے غلام بنالیتے تھے ۔ نیز یہ بھی نقل کیا ہے کہ خاندان ِ یعقوبعليه‌السلام میں چوری کی مقدار کے برابر غلامی کی مدت معین کی جاتی تھی ( تاکہ وہ اسی کے مطابق کام کرے ) ۔


آیات ۷۷،۷۸،۷۹

۷۷ ۔( قَالُوا إِنْ یَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اٴَخٌ لَهُ مِنْ قَبْلُ فَاٴَسَرَّهَا یُوسُفُ فِی نَفْسِهِ وَلَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ قَالَ اٴَنْتُمْ شَرٌّ مَکَانًا وَاللهُ اٴَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ ) ۔

۷۸ ۔( قَالُوا یَااٴَیُّهَا الْعَزِیزُ إِنَّ لَهُ اٴَبًا شَیْخًا کَبِیرًا فَخُذْ اٴَحَدَنَا مَکَانَهُ إِنَّا نَرَاکَ مِنْ الْمُحْسِنِینَ ) ۔

۷۹ ۔( قَالَ مَعَاذَ اللهِ اٴَنْ نَاٴْخُذَ إِلاَّ مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ إِنَّا إِذًا لَظَالِمُونَ ) ۔

ترجمہ

۷۷ ۔) بھائیوں نے ) کہا: اگر اس( بنیامین ) نے چوری کی ہے تو ( تعجب کی بات نہیں )اس کے بھائی ( یوسف ) نے بھی اس سے پہلے چور ی کی تھی یوسف(کو بہت دکھ ہوا اور اس ) نے اس ( دکھ ) کو اپنے اندرچھپائے رکھا اور ان پر ظاہر نہیں کیا۔ ( بس اتنا) کہا: تم بد تر ہو او رجو کچھ تم بیان کرتے ہو خدا اس سے زیادہ آگاہ ہے ۔

۷۸ ۔انہوں نے کہا : اے عزیر مصر ! اس کا ایک بوڑھا باپ ہے ( اور وہ بہت پریشان ہوگا ) ہم میں سے ایک کو لے لے ہم دیکھ رہے ہیں کہ تو نیکوکاروں میں سے ہے ۔

۷۹ ۔ اس نے کہا : اس سے خدا کہ پناہ کہ جس شخص کے پاس سے ہمارا مال و متاع ملا ہم سوائے اس کے کسی اور کو لیں کیونکہ اس صورت میں ہم ظالموں میں سے ہو جائیں گے ۔

برادران یوسفعليه‌السلام کی فداکاری کیوں قبول نہیں ہوئی ؟

آخر کا ر بھائیوں نے یقین کرلیا کہ ان کے بھائی بنیامین نے ایسی قبیح اور منحوس چوری کی ہے اور اس طر ح اس نے عزیز مصر کی نظروں میں ان کا سابقہ رکار ڈ سارا خراب کردیا ہے ۔ لہٰذا اپنے آپ کو بری الذمہ کرنے کے لئے انہوں نے کہا: اگر اس لڑکے نے چوری کی ہے تو یہ کو ئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ ا سکا بھائی یوسفعليه‌السلام بھی پہلے ایسے کام کا مرتکب ہو چکا ہے “ اور یہ دونوں ایک ماں اور باپ سے ہیں اور ہم کہ جو دوسری ماں سے ہیں ہمارا حساب کتاب ان سے الگ ہے( قَالُوا إِنْ یَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اٴَخٌ لَه مِنْ قَبْل ) ۔اس طرح سے انہوں نے اپنے اور بنیامین کے درمیان ایک حد فاصل قائم کرنا چاہی اور اس کا تعلق یوسفعليه‌السلام سے جوڑ دیا ۔

یہ بات سن کر یوسفعليه‌السلام بہت دکھی اور پریشان ہوئے اور ” اسے دل میں چھپائے رکھا اور ان کے سامنے اظہار نہ کیا “( فَاٴَسَرَّهَا یُوسُفُ فِی نَفْسِهِ وَلَمْ یُبْدِهَا لَهُم ) ۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ بات کہہ کر انہوں ایک بہت بڑا بہتان باندھا ہے لیکن انہوں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا ۔ بس اجمالی طور پر اتنا”کہا:جس کی طرف تم یہ نسبت دیتے ہو تم اس سے بد تر ہو “ یا”میرے نزدیک مقام ومنزلت کے لحاظ سے تم بد ترین لوگ ہو “( قَالَ اٴَنْتُمْ شَرٌّ مَکَانًا ) ۔

اس کے بعد مزید کہا: جو کچھ تم کہتے ہو خدا اس کے بارے میں زیادہ جاننے والا ہے( وَاللهُ اٴَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ ) ۔

یہ ٹھیک ہے کہ یوسفعليه‌السلام کے بھائیوں نے ان بحرانی لمحوں میں اپنے آپ کو بری الذمہ ثابت کرنے کے لئے اپنے بھائی یوسفعليه‌السلام پر ایک ناروا تہمت باندھی تھی لیکن پھر بھی اس کام کے لئے کوئی بہانہ اور سند ہونا چاہئیے جس کی بناء پر وہ یوسفعليه‌السلام کی طرف ایسی نسبت دیں ۔ اس سلسلے میں مفسرین کا وش و زحمت میں پڑے ہیں اور گزشتہ لوگوں نے تواریخ سے انہوں نے تین روایات نقل کی ہیں ۔

پہلی یہ کہ یوسفعليه‌السلام اپنی ماں کی وفات کے بعد اپنی پھوپھی کے پاس رہا کرتے تھے اور انہیں یوسفعليه‌السلام سے بہت زیادہ پیار تھا جب آپ بڑے ہو گئے اور حضرت یعقوبعليه‌السلام نے انہیں ان کی پھوپھی سے واپس لینا چاہا تو ان کی پھوپھی نے ایک منصوبہ بنایا او روہ یہ کمر بند یا ایک خاص شال جو حضرت اسحاق (ع)کی جانب سے ان کے خاندان میں بطور یاد گار چلی آرہی تھی یوسفعليه‌السلام کی کمر سے باندھ دی اور دعویٰ کیا کہ یوسفعليه‌السلام اسے چھپا لے جانا چاہتا تھا ایسا انہوں نے اس لئے کیا تاکہ اس خاص کمر بند یا شال کے بدلے یوسفعليه‌السلام کو اپنے پاس رکھ لیں ۔

دوسری روایت یہ ہے کہ حضرت یوسفعليه‌السلام کے مادری رشتہ داروں میں سے ایک کے پاس ایک بت تھا جسے یوسفعليه‌السلام نے اٹھا کر توڑ دیا اور اسے سڑک پر لا پھینکا لہٰذا انہوں نے حضرت یوسفعليه‌السلام پر چوری کا الزام لگا دیا حالانکہ اس میں تو کوئی گناہ نہیں تھا۔

تیسری روایت یہ ہے کہ کبھی کبھار وہ دسترخوان سے کھانا لے کر مسکینوں اور حاجت مندوں کو دے دیتے لہٰذا بہانہ تراش بھائیوں نے اسے بھی چوری کا الزام دینے کے لئے سند بنا لیا حالانکہ ان میں سے کوئی چیز گناہ کے زمرے میں نہیں آتی ۔

اگر ایک شخص کسی کو کوئی لباس پہنادے اور پہنے والا نہ جانتا ہو کہ یہ کسی دوسرے کا مال ہے تو کیا اسے چوری کا الزام دینا صحیح ہے ۔

اسی طرح کیا کسی بٹ کو اٹھا کر پٹخ دینا گناہ ہے ۔

نیز انسان کو ئی کوئی چیز اپنے باپ کے دستر خوان سے اٹھا کر مسکینوں کو دےدے جب کہ اسے یقین ہو تو کیا اسے گناہ قرار دیا جاسکتا ہے ۔

بھائیوں نے دیکھا کہ ان کے چھوٹے بھائی بنیامین کو اس قانون کے مطابق عزیز مصر کے پاس رہنا پڑے گا جسے وہ خود قبول کرچکے ہیں اور دوسری طرف انہوں نے باپ سے پیمان باندھا تھا کہ بنیامین کی حفاظت اور اسے واپس لانے کے لئے اپنی پوری کوشش کریں گے ۔ ایسے میں انہوں نے یوسفعليه‌السلام کی طرف رخ کیا جسے ابھی تک انہوں نے پہچانا نہیں تھا اور ” کہا : اے عزیز مصر :اے بزرگوار صاحبِ اقتدار ! اس کا باپ بہت بوڑھا ہے اور وہ اس کی جدائی کو بر داشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ہم نے آپ کے اصرار پر اسے باپ سے جدا کیا اور با پ نے ہم سے تاکیدی وعدہ لیا کہ ہم ہر قیمت پر اسے واپس لائیں گے ۔ اب ہم پر احسان کیجئے اور اس کے بدلے میں ہم سے کسی ایک کو رکھ لیجئے “( قَالُوا یَااٴَیُّهَا الْعَزِیزُ إِنَّ لَهُ اٴَبًا شَیْخًا کَبِیرًا فَخُذْ اٴَحَدَنَا مَکَانَهُ ) ۔کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ نیکو کاروں میں سے ہیں “ اور یہ پہلا موقع نہیں کہ آپ نے ہم پر لطف و کرم اور مہر بانی کرکے اپنی کرم نوازیوں کی تکمیل کیجئے ۔( إِنَّا نَرَاکَ مِنْ الْمُحْسِنِینَ ) ۔

حضرت یوسفعليه‌السلام نے اس تجویز کی شدت سے نفی کی او ر” کہا : پناہ بخدا ۱ کیسے ہو سکتا ہے کہ جس کے پاس سے ہمارا مال و متاع بر آمد ہو اہے ہم اس کے علاوہ کسی شخص کو رکھ لیں “ کبھی تم نے سنا ہے کہ ایک منصف مزاج شخص نے کسی بے گناہ کو دوسرے کے جرم میں سزا دی ہو( قَالَ مَعَاذَ اللهِ اٴَنْ نَاٴْخُذَ إِلاَّ مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ ) ۔اگر ہم ایسا کریں تو یقینا ہم ظالم ہوں گے( إِنَّا إِذًا لَظَالِمُونَ ) ۔

یہ امر قابل توجہ ہے کہ حضرت یوسفعليه‌السلام نے اپنی اس گفتگو میں بھائی کی طرف چوری کی کوئی نسبت نہیں دی بلکہ کہتے ہیں کہ ” جس شخص کے پاس سے ہمیں ہمارا مال و متاع ملا ہے “ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ وہ اس امر کی طرف سنجیدگی سے متوجہ تھے کہ اپنی پوری زندگی میں کبھی کوئی غلط با ت نہ کریں ۔


آیات ۸۰،۸۱،۸۲،

۸۰ ۔( فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِیًّا قَالَ کَبِیرُهُمْ اٴَلَمْ تَعْلَمُوا اٴَنَّ اٴَبَاکُمْ قَدْ اٴَخَذَ عَلَیْکُمْ مَوْثِقًا مِنْ اللهِ وَمِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطتُمْ فِی یُوسُفَ فَلَنْ اٴَبْرَحَ الْاٴَرْضَ حَتَّی یأذَنَ لِی اٴَبِی اٴَوْ یَحْکُمَ اللهُ لِی وَهُوَ خَیْرُ الْحَاکِمِینَ ) ۔

۸۱ ۔( ارْجِعُوا إِلَی اٴَبِیکُمْ فَقُولُوا یَااٴَبَانَا إِنَّ ابْنَکَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَا إِلاَّ بِمَا عَلِمْنَا وَمَا کُنَّا لِلْغَیْبِ حافِظِینَ ) ۔

۸۲ ۔( وَاسْاٴَلْ الْقَرْیَةَ الَّتِی کُنَّا فِیهَا وَالْعِیرَ الَّتِی اٴَقْبَلْنَا فِیهَا وَإِنَّا لَصَادِقُونَ ) ۔

ترجمہ

۸۰ ۔ جب ( بھائی) ا س سے مایوس ہو گئے تو ایک طرف گئے اور آپس میں سر گوشی کی ۔ ان میں سے سب سے بڑے نے کہا : کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ سے تم سے الہٰی پیمان لیا تھا اور اس سے پہلے تم سے یوسفعليه‌السلام کے بارے میں کوتاہی کی تھی لہٰذامیں اس سر زمین سے نہیں جاؤں گا جب تک مجھے میرا باپ اجازت نہ دے یا خدا اپنا حکم میرے بارے میں صادر نہ فرمائے اور وہ بہترین حکم کرنے والا ہے ۔

۸۱ ۔ تم اپنے باپ کی طرف پلٹ جاؤ اور اس سے کہو ابا(جان) ! تمہارے بیٹے نے چوری کی ہے اور ہم جو کچھ جانتے ہیں اس کے سوا ہم نے گواہی نہیں دی اور نہ ہی ہم غیب سے آگاہ تھے ۔

۸ ۔ ( مزید اطمینان کے لئے ) اس شہرے سے پوچھ لیں جس میں ہم تھے نیز اس قافلے سے پوچھ لیں جس کے ساتھ ہم آئے ہیں اور ہم ( اپنی بات میں ) سچے ہیں ۔

بھائی سر جھکائے باپ کے پاس پہنچے

بھائیوں نے بنیامین کے رہائی کے لئے اپنی آخری کوشش کر دیکھی لیکن انہوں نے اپنے سامنے تمام راستے بند پائے ۔ ایک طرف تو اس کام کو کچھ اس طرح سے انجام دیا گیا تھا کہ طاہراً بھائی کی برأت ممکن نہ تھی اور دوسری طرف عزیز مصر نے اس کی جگہ کسی اور فرد کو رکھنے کی تجویز قبول نہ کی لہٰذا وہ مایوس ہو گئے ۔ یوں انہوں نے کنعان کی طرف لوٹ جانے اور باپ سے سارا ماجرا بیان کرنے کا رادہ کرلیا ۔ قرآن کہتا ہے : جس وقت وہ عزیز مصر سے یا بھائی کی نجات سے مایوس ہو گئے تو ایک طرف کو آئے اور دوسروں سے الگ ہو گئے اور سر گوشی کرنے لگے( فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِیًّا ) ۔

” خلصوا“”یعنی “ خالص ہو گئے “۔ یہ دونوں سے الگ ہونے اور خصوصی مٹینگ کرنے کی طرف اشارہ ہے ۔ اور ”نجی “ ” مناجات“ کے مادہ سے در اصل ” نجوہ “ سے مر تفع زمین کے معنی میں لیا گیا ہے چونکہ اونچی اور مفع زمینیں اپنے اطراف سے جدا اور الگ ہوتی ہیں اور مخفی میٹنگیں اور سر گوشیاں ارد گرد والوں سے ہٹ کر ہوتی ہیں اس لئے انہیں ” نجوی “ کہتے ہیں ( اس بناء پر ” نجوی “ ہر قسم کی محرمانہ بات کو کہا جاتا ہے چاہے وہ کان میں کہی جائے یا کسی خفیہ میٹنگ میں ) ۔

جملہ” خلصوا نجیا“ جیسا کہ بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ فصیح ترین اور خوبصورت ترین قرآنی تعبیر ہے جس میں دو لفظوں کے ذریعے بہت سے مطالب بیان کردئے گئے ہیں جب کہ یہ مطالب بیان کرنے کے لئے بہت سے جملے در کار تھے ۔

بہر حال سب سے بڑے بھائی نے اس خصوصی میٹنگ میں میں ان سے کہا : کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے باپ نے تم سے الہٰی پیمان لیا ہے کہ بنیامین کو ہر ممکنہ صورت میں ہم واپس لائیں گے( قَالَ کَبِیرُهُمْ اٴَلَمْ تَعْلَمُوا اٴَنَّ اٴَبَاکُمْ قَدْ اٴَخَذَ عَلَیْکُمْ مَوْثِقًا مِنْ اللهِ ) ۔اور تمہی نے اس سے پہلے بھی یوسف کے بارے میں کوتاہی کی “ اور باپ کے نزدیک تمہارا گزشتہ کردار برا ہے( وَمِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطتُمْ فِی یُوسُفَ ) ۔(۱)

” اب جبکہ معاملہ یوں ہے تو میں اپنی جگہ سے ( یا سر زمین ِ مصرسے ) نہیں جاؤں گا اور یہیں پڑاؤ ڈالوں گا ، مگر یہ کہ میرا باپ مجھے دے دے یا خدا میرے متعلق کوئی فرمان صادر کرے جو کہ بہترین حاکم و فرماں رواہے( فَلَنْ اٴَبْرَحَ الْاٴَرْضَ حَتَّی یأذَنَ لِی اٴَبِی اٴَوْ یَحْکُمَ اللهُ لِی وَهُوَ خَیْرُ الْحَاکِمِینَ ) ۔

اس حکم یا تو موت کا حکم مراد ہے یعنی مرتے دم تک یہاں سے نہیں جاؤں گا یا خدا کی طرف پیداہونے والا کوئی چارہ کار مراد ہے یا پھر کوئی قابل قبول اور ناقابل ِ توجیہ عذر مراد ہے جوکہ باپ کے نزدیک قطعی طور پر قابل قبول ہو۔

پھر بڑے بھائی نے دوسرے بھائیوں کو حکم دیا “ تم باپ کے پاس لوٹ آؤ او رکہوابا جان آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے( ارْجِعُوا إِلَی اٴَبِیکُمْ فَقُولُوا یَااٴَبَانَا إِنَّ ابْنَکَ سَرَقَ ) ۔

” اور یہ جو ہم گواہی دے رہے ہیں اتنی ہی ہے جتنا ہمیں علم ہوا“ بس ہم نے اتنا دیکھا کہ بادشاہ کا پیمانہ ہمارے بھائی کے بارے سے بر آمد ہو اجس سے ظاہر ہوتا تھا کہ اس نے چوری کی ہے ، باقی رہا امر ِ باطن تو وہ خدا جانتا ہے( وَمَا شَهِدْنَا إِلاَّ بِمَا عَلِمْنَا ) ۔” اورہمیں غیب کی خبر نہیں “( وَمَا کُنَّا لِلْغَیْبِ حافِظِینَ ) ۔اس آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ بھائیوں کا مقصد یہ ہو کہ وہ باپ سے کہیں کہ اگر ہم نے تیرے پاس گواہی دی اور عہد کیا کہ ہم بھائی کو لے جائیں گے اور واپس لے آئیں گے تو اس بناء پر تھا کہ ہم اس کے باطن سے باخبر نہ تھے اور ہم غیب سے آگاہ نہ تھے کہ اس کا انجام یہ ہوگا ۔

____________________

۱۔ ” فرطتم “ تفریط“ کے مادہ سے در اصل ”فروط“ (بروزن” شروط“)مقدم ہونے کے معنی میں ہے اور جب یہ بات تفعیل میں آجائے تو آگے بڑھنے میں کوتاہی کرنے کے معنی میں ہے اور جب باب افعال سے ” افراط “ ہوتو تقدم اور اگے بڑھنے میں تجاوز کرنے کے معنی میں ہے ۔


چند اہم نکات

۱ ۔ سب سے بڑا بھائی کون تھا ؟

بعض نے سب سے بڑے بھائی کا نام ” روبین “ ( روبیل ) لکھا ہے ۔ بعض نے ” شمعون “ کو سب سے بڑا بھائی سمجھا ہے ۔ بعض نے اس کانام ” یہودا“ بیان کیا ہے ۔

نیز اس لحاظ سے بھی مفسرین میں اختلاف ہے کہ یہاں بڑا ہونے سے مراد عمر میں بڑا ہے یا عقل و فہم کے لحاظ سے بڑا ہے ۔ البتہ آیت کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ یہاں سن و سال میں بڑا ہونا مراد ہے ۔

۲ ۔ موجود قرائن کی بنیاد پر فیصلہ :

اس آیت سے ضمنی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اقرار اور گواہ نہ ہوں تو قاضی قطعی قرائن پر عمل کرسکتا ہے کیونکہ برادران ِ یوسف (علیه السلام) کے اس واقعے میں نہ گواہ تھے اور نہ اقرار۔ صرف بنیامین کے بارے میں بادشاہ کے پیمانے کا کامل جانا اس کے مجرم ہونے کی دلیل شمار کیا گیا ۔

نیز ان میں سے ہر ایک ذاتی طور پر اپنے بار کو پرکرتا تھا یا کم از کم پرکرتے وقت وہاں حاضر ہوتا تھا اور اگر تالالگانا ہوتا یا بند کرنا ہوتا تو چابی وغیرہ بھی خود اسی کے قبضے میں ہوتی۔ دوسری طرف کوئی شخص یہ سوچ بھی نہیں سکتاتھا کہ اس کے پیچھے کوئی منصوبہ کار فرماہے ۔ مزید یہ کہ کنعان کے مسافروں ( برادران یوسف )کا اس شہر میں کوئی دشمن بھی نہ تھا کہ جو ان کے خلاف کوئی سازش کرتا ۔

ان تمام پہلوؤں کو پیش، نظر رکھتے ہوئے یہ نتیجہ نکلتا تھا کہ بنیامین کے بارے میں جو بادشاہ کا پیمانہ برآمد ہوا ہے یہ خوداس کا ذاتی کام ہے ۔

دور حاضر میں ایسی ہی بنیادوں پر فیصلے کئے جاتے ہیں ۔ اس سلسلے میں فقہ ِ اسلامی میں مزید جستجو اور تحقیق کی ضرورت ہے کیونکہ یہ امر موجودہ زمانے میں عدالتی بحثوں میں بہت مؤثر ہے ۔ کتاب القضاء میں اس سلسلے میں بحث کی جانا چاہئیے ۔

۳ ۔ برادران یوسف (علیه السلام) میں فرق :

مندرجہ بالاآیات سے معلوم ہوتا ہے کہ برادران یوسف (علیه السلام) میں عزم و ہمت کے لحاظ سے بہت فرق تھا ۔ سب سے بڑا بھائی اپنے وعدہ کا بہت سختی سے پابندتھا جب کہ دوسرے بھائیوں نے جب دیکھا کہ عزیز مصر سے ان کی گفتگو نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی تو انہوں نے بس اسی پر اپنے آپ کو معذور سمجھا اور مزید کوشش نہ کی البتہ حق بڑے بھائی کے ساتھ تھا کیونکہ وہ مصر ہی میں ٹھہر گیا تھا خصوصاً عزیز مصر کے دربار کے نزدیک اس نے پڑاؤ ڈال لیا ۔ اس سے یہ توقع ہو سکتی تھی کہ وہ لطف و مہر بانی کرے اور ایک پیمانے کی وجہ سے جو آخر کار مل گیا تھا اور ایک مسافر اس سے داغ دار بھی ہو گیا تھا ، اب اس کے بدلے بھائیوں اور اس کے بوڑھے باپ کو سزا نہ دے ۔ اسی احتمال کی بناء پر وہ مصر میں ٹھہر گیا اور بھائیوں کو باپ کاحکم معلوم کرنے کے لئے باپ کی خدمت میں روانہ کردیا تاکہ وہ جاکرسارا واقعہ بیان کریں ۔


آیات ۸۳،۸۴،۸۵،۸۶

۸۳ ۔( قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اٴَنفُسُکُمْ اٴَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِیلٌ عَسَی اللهُ اٴَنْ یَأتیَنِی بِهِمْ جَمِیعًا إِنَّه هُوَ الْعَلِیمُ الْحَکِیمُ ) ۔

۸۴ ۔( وَتَوَلَّی عَنْهُمْ وَقَالَ یَااٴَسَفَی عَلَی یُوسُفَ وَابْیَضَّتْ عَیْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ کَظِیمٌ ) ۔

۸۵ ۔( قَالُوا تَاللهِ تَفْتَاٴُ تَذْکُرُ یُوسُفَ حَتَّی تَکُونَ حَرَضًا اٴَوْ تَکُونَ مِنْ الْهَالِکِینَ ) ۔

۸۶ ۔( قَالَ إِنَّمَا اٴَشْکُو بَثِّی وَحُزْنِی إِلَی اللهِ وَاٴَعْلَمُ مِنْ اللهِ مَا لاَتَعْلَمُونَ ) ۔

ترجمہ

۸۳ ۔(یعقوب (علیه السلام) نے کہا: نفس ( اور ہوا و ہوس ) نے معاملہ تمہاری نگاہ میں اس طرح سے مزین کردیا ہے ۔ میں صر کروں گا ، صبر جمیل ( کہ جس میں کفران نہ ہو )، مجھے امید ہے کہ خدا ان سب کو میری طرف پلٹادے گا کیونکہ وہ علیم و حکیم ہے ۔

۸۴ ۔ اور ان سے منہ پھیر لیا اور کہا : ہائے یوسف (علیه السلام) ۔ اور اس کی آنکھیں غم اندوہ سے سفید ہوگئیں لیکن وہ اپنا غصہ پی جاتا ( اورہر گز ناشکری نہ کرتا ) ۔

۸۵ ۔ انہوں نے کہا : بخدا ! تو یوسف (علیه السلام) کو اس قدر یاد کرتا ہے کہ تو موت کے قریب جاپہنچے گا یا ہلاک ہو جائے گا ۔

۸۶ ۔ اس نے کہا: میں اپنا درد و غم صرف خدا سے کہتا ہوں ( اور ا س کے ہاں شکایت کرتا ہوں ) اور میں خدا کی طرف سے ایسی چیزین جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے ۔

میں وہ الطاف الہٰی جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

بھائی مصر سے چل پڑے سب سے بڑے اور سب سے چھوٹے بھائی کو وہاں چھوڑ آئے اور پریشان و غم و زدہ کنعان پہنچے ۔ باپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ اس سفر سے واپسی پر باپ نے جب گزشتہ سفر کے بر عکس غم و اندوہ کے آثار ان کے چہروں پر دیکھے تو سمجھ گئے کہ کوئی ناگوار خبر لائیں ہیں خصوصاًجبکہ بنیامین اور سب سے بڑا بھائی ان کے ہمراہ نہ تھا ۔جب بھائیوں نے بغیر کسی کمی بیشی کے ساری آپ بیتی کہہ دی تو یعقوب (علیه السلام) بہت حیران ہوئے اور ان کی طرف رخ کرکے ” کہنے لگے : تمہاری نفسانی خواہشات کا یہ معاملہ تمہارے سامنے اس طرح سے پیش کیا ہے اور اسے اس طرح سے مزین کیا ہے “( قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اٴَنفُسُکُمْ اٴَمْراً ) ۔

یعنی بالکل وہی جملہ کہا جو انہوں نے حادثہ یوسف (علیه السلام) کے بعد کہا تھا جب کہ انہوں نے وہ جھوٹا واقعہ بیان کیا تھا ۔

یہا ں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حضرت یعقوب (علیه السلام) نے ان کے سابقہ کردار ہی کے باعث ان کے بارے میں سوء ظن کیا اور یقین کرلیا کہ یہ جھوٹ بولتے ہیں اور اس میں کوئی سازش ہے حالانکہ ایسا کرنا نہ صرف یعقوب (علیه السلام) جیسے پیغمبر سے بعید معلوم ہوتا ہے بلکہ عام لوگوں سے بھی بعید ہے کہ کسی کو صرف اس کے کسی سابقہ برے کردار کی وجہ سے یقینی طور پر متہم کریں جبکہ دوسری طرف گواہ بھی ہوں اور تحقیق کا راستہ بھی بند نہ ہو۔

یا پھر ۔ کیا اس جملہ کا مقصد ایک اور نکتہ بیان کرنا ہے جس کے یہ پہلو ہیں :

۱ ۔ تم فقط بادشاہ کا پیمانہ بھائی کے بارے میں دیکھ کر کیوں مان گئے کہ اس نے چوری کی ہے جب کہ تنہا یہ بات من طقی دلیل نہیں بن سکتی ۔

۲ ۔ تم نے عزیز مصر سے کیوں کہا کہ طور کی یہ سزا ہے کہ اسے غلام بنالو حالانکہ یہ کوئی خدائی قانون نہیں بلکہ کنعان کے لوگوں کی ایک غلط رسم ہے

( یہ بات اس صورت میں درست ہے جب بعض مفسرین کے قول کے خلاف اس قانون کو شریعت ِ یعقوب کاحصہ نہ سمجھا جائے ) ۔

۳ ۔ اس واقعہ کے بعد تم فوراً کیوں چل پڑے اور برے بھائی کی طرح قیام کیوں نہیں کیا جبکہ تم میرے ساتھ پکا خدائی وعدہ کرچکے تھے ۔(۱)

اس کے بعد یعقوب (علیه السلام) اپنی جانب متوجہ ہوئے اور ” کہنے لگے کہ میں صبر کا دامن اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑوں گا اور اچھا صبر کروں گا کہ جو کفران نعمت سے خالی ہو( فَصَبْرٌ جَمِیلٌ ) ۔

مجھے امید ہے کہ خدا ان سب جو ( یوسف (علیه السلام) ، بنیامین اور میرے بڑے بیٹے کو )میری طرف پلٹا دے گا( عَسَی اللهُ اٴَنْ یَأتیَنِی بِهِمْ جَمِیعًا ) ۔کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ” وہ ان سب کے دل کو داخلی کیفیات سے باخبر ہے ، علاوہ ازین وہ حکیم بھی ہے اور وہ کوئی کام بغیر کسی حساب کتاب کے نہیں کرتا“( إِنَّه هُوَ الْعَلِیمُ الْحَکِیمُ ) ۔

اس وقت یعقوب (علیه السلام) رنج و غم میں ڈوب گئے ۔ بنیامین کہ جو ان کے دل کی ڈھارس تھا واپس نہ آیا تو انہیں پیارے یوسف (علیه السلام) کی یاد آگئی ۔ انہیں خیال آیاکہ اے کاش آج وہ آبرومند ، باایمان ، باہوش اور حسین و جمیل بیٹا ان کی آغوش میں ہوتا اور اس کی پیاری خوشبو ہرلمحہ باپ کو ایک حیاتِ نو بخشی لیکن آج نہ صرف یہ کہ اس کا نام و نشان نہیں بلکہ ا س کا جانشین بنیامین بھی اس کے طرح ایک درد ناک معالے میں گرفتار ہو گیا ہے ۔ ” اس وقت انہوں نے اپنے بیٹوں سے رخ پھیر لیا اور کہا:ہائے یوسف (علیه السلام)( وَتَوَلَّی عَنْهُمْ وَقَالَ یَااٴَسَفَی عَلَی یُوسُف ) بھائی کہ پہلے جو بنیامین کے ماجرے پر باپ کے سامنے شرمندہ تھے یوسف کانام سن کر فکر میں ڈوب گئے ۔ ان کے ماتھے پر عرق ِ ندامت کے قطرے چمکنے لگے ۔

حزن و ملال اتنا بڑھا کہ یعقوب (علیه السلام) کی آنکھوں سے بے اختیار اشکوں کا سیلاب بہہ کریہاں تک کہ ” اس کی آنکھیں دردو غم سے سفید اور نابینا ہو گئیں( وَابْیَضَّتْ عَیْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ ) ۔

لیکن اس کے باوجود کوشش کرتے تھے کہ ضبط کریں اور اپنا غم و غصہ پی جائیں اور رضائے حق کے خلاف کوئی بات نہ کہیں ” وہ باحوصلہ اور جواں مرد تھے اور انہیں اپنے غصے پر پورا کنٹرول تھا “( فَهُوَ کَظِیمٌ ) ۔

ظاہر آیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیه السلام) اس وقت تک نابینا نہیں ہوئے تھے لیکن اب جب کہ رنج و غم کئی گنابڑھ گیا اور آپ مسلسل گریہ و زاری کرتے رہے اور آپ کے آنسو تھمنے نہ پاتے تھے تو آپ کی بینائی ختم ہوگئی اور جیسا کہ ہم پہلے بھی اشار ہ کرچکے ہیں کہ یہ کوئی اختیاری چیز نہ تھی کہ جو صبر و جمیل کے منافی ہو۔(۲)

بھائی کہ جو ان تمام واقعات سے بہت پریشان تھے ، ایک طرف تو ان کا ضمیر حضرت یوسف (علیه السلام) کے واقعے کی بناء پر انہیں عذاب دیتا اور دوسری طرف وہ بنیامین کی وجہ سے اپنے آپ کو ایک نئے امتحان کی چوکھٹ پر پاتے اور تیسری طرف باپ کا اتنا غم اور دکھ ان پر بہت گراں تھا لہٰذا انہوں نے پریشانی اور بے حوصلگی کے ساتھ باپ سے ”کہا:بخدا تو اتنا یوسف یوسف کرتا ہے کہ بیمار ہو جائے گا اور موت کے کنارے پہنچ جائے گا یا ہلاک ہو جائے گا( قَالُوا تَاللهِ تَفْتَاٴُ تَذْکُرُ یُوسُفَ حَتَّی تَکُونَ حَرَضًا اٴَوْ تَکُونَ مِنْ الْهَالِکِینَ ) ۔(۳)

لیکن کنعان کے اس مرد بزرگ اور روشن ضمیر پیغمبر نے ان کے جواب میں کہا:

میں تمہارے سامنے اپنی شکایت پیش نہیں کی جو اس طرح کی باتیں کرتے وہ میں اپنادرد و غم بار گاہ الہٰی میں پیش کرتا ہوں اور ا س کے ہاں اپنی شکایت پیش کرتا ہوں “( قَالَ إِنَّمَا اٴَشْکُو بَثِّی وَحُزْنِی إِلَی اللهِ ) ۔(۴)

اور اپنے خدا کی طرف سے مجھے ایسے الطاف و عنایات حاصل ہیں او رایسی چیزیں مجھے معلوم ہیں کہ جن سے تم بے خبر ہو( وَاٴَعْلَمُ مِنْ اللهِ مَا لاَتَعْلَمُونَ ) )

____________________

۱۔ یہ جو بعض نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ واقعہ یوسف (علیه السلام) کی طرف اشارہ ہے ، بعید معلوم ہوتا ہے کیونکہ یوسف کو ماں باپ سے جدا کرنے کا معاملہ مندرجہ بالا آیات میں بالکل نہیں آیاہے ۔

۲۔ مزید وضاحت کے لئے اس سورہ کی آیہ ۱۸ کی تفسیر ملاحظہ کیجئے ۔

۳۔”بث“ کا معنی ہے پراکندگی اور ایسی چیز جسے چھپا یا نہ جاسکے او ریہاں واضح غم و اندوہ اور دل کی نمایاں پراکندگی کے معنی میں ہے ۔

۴۔ ”حرض“ (بروزن ِ ”مرض “)فاسد اور پریشان کرنے والی چیز کے معنی میں ہے ۔ یہاں اس کا معنی ہے بیمار، نحیف ، لاغر اور قریب المرگ۔


آیات ۸۷،۸۸،۸۹،۹۰،۹۱،۹۲،۹۳

۸۷ ۔( یَابَنِیَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ یُوسُفَ وَاٴَخِیهِ وَلاَتَیْئَسُوا مِنْ رَوْحِ اللهِ إِنَّهُ لاَیَیْئَسُ مِنْ رَوْحِ اللهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الکَافِرُونَ ) ۔

۸۸ ۔( فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَیْهِ قَالُوا یَااٴَیّهَا الْعَزِیزُ مَسَّنَا وَاٴَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُزْجَاةٍ فَاٴَوْفِ لَنَا الْکَیْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَیْنَا إِنَّ اللهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِینَ ) ۔

۸۹ ۔( قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَا فَعَلْتُمْ بِیُوسُفَ وَاٴَخِیهِ إِذْ اٴَنْتُمْ جَاهِلُونَ ) ۔

۹۰ ۔( قَالُوا اٴَئِنَّکَ لَاٴَنْتَ یُوسُفُ قَالَ اٴَنَا یُوسُفُ وَهذَا اٴَخِی قَدْ مَنَّ اللهُ عَلَیْنَا إِنَّهُ مَنْ یَتَّقِ وَیَصْبِرْ فَإِنَّ اللهَ لاَیُضِیعُ اٴَجْرَ الْمُحْسِنِینَ ) ۔

۹۱ ۔( قَالُوا تَاللهِ لَقَدْ آثَرَکَ اللهُ عَلَیْنَا وَإِنْ کُنَّا لَخَاطِئِینَ ) ۔

۹۲ ۔( قَالَ لاَتَثْرِیبَ عَلَیْکُمْ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللهُ لَکُمْ وَهُوَ اٴَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ ) ۔

۹۳ ۔( اذْهَبُوا بِقَمِیصِی هَذَا فَاٴَلْقُوهُ عَلَی وَجْهِ اٴَبِی یَأت بَصِیرًا وَأتونِی بِاٴَهْلِکُمْ اٴَجْمَعِینَ ) ۔

ترجمہ

۸۷ ۔ اے میرے بیٹو! جاؤ اور یوسف (علیه السلام) اور اس کے بھائی کی تلاش کرو اور خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہو کیونکہ خدا کی رحمت سے کافر کے سوا کوئی مایوس نہیں ہوتا ۔

۸۸ ۔ جب وہ اس ( یوسف ) کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا : اے عزیز ! ہم اور ہمارا خاندان پریشانی میں گھر گیا ہے اور ہم ( اناج خریدنے کے لئے ) تھوڑی سی پونجی اپنے ساتھ لائے ہیں ۔ ہمارا پیمانہ پوری طرح بھر دے اور ہم پر صدقہ کردے کیونکہ خدا صدقہ کرنے والوں کو جزا دیتا ہے ۔

۸۹ ۔ اس نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ تم نے یوسف (علیه السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا جب کہ تم جاہل تھے ۔

۹۰ ۔ انہوں نے کہا: کیاتو وہی یوسف (علیه السلام) ہے ۔ اس نے کہا : ( ہاں ) میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے خدانے ہم پر احسان کیا ہے ۔ جو شخص تقویٰ اختیار کرے اور صبر و استقامت دکھائے ( آخر کا روہ کامیاب ہوتا ہے )کیونکہ خد انیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا ۔

۹۱ ۔ انہوں نے کہا :خدا کی قسم ! تجھے ہم پر مقدم رکھا اور ہم خطا کار تھے ۔

۹۲ ۔ اس نے کہا: آج تم پر کوئی ملامت و سر زنش نہیں ہے ، خد اتمہیں بخشنے اور وہ ارحم الراحمین ہے ۔

۹۳ ۔ یہ میری قمیص لے جاؤ او رمیرے باپ کے چہرے پر ڈال دو تو وہ بینا ہو جائے گا اور تمام گھر والوں کو میرے پاس لے آؤ ۔

کو شش کرو اور مایوس نہ ہو

مصر اور اطراف ِ مصر جس میں کنعان بھی شامل تھا میں قحط ظلم ڈھا رہا تھا ۔ اناج بالکل ختم ہو گیا تو حضرت یعقوب (علیه السلام) نے دوبارہ اپنے بیٹوں کو مصر کی طرف جانے اور غلہ حاصل کرنے کا حکم دیا لیکن اس مرتبہ اپنی آرزؤں کی بنیاد پر یوسف (علیه السلام) اور ان کے بھائی بنیامین کی تلاش کو قرار دیا اور کہا : ” میرے بیٹو! جاؤ اور یوسف (علیه السلام) اور ا س کے بھائی کو تلاش کرو“( یَابَنِیَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ یُوسُفَ وَاٴَخِیه ) ۔

حضرت یعقوب (علیه السلام) کے بیٹے چونکہ اس بارے میں تقریباً مطمئن تھے کہ یوسف (علیه السلام) موجود ہی نہیں اس لئے وہ باپ کی اس نصیحت اور تاکید پر تعجب کرتے تھے ۔

یعقوب ان کے گوش گزار کرتے رہے تھے : ” رحمت الٰہی سے کبھی مایوس نہ ہونا “ کیونکہ اس کی قدرت تمام مشکلوں اور سختیوں سے مافوق ہے( وَلاَتَیْئَسُوا مِنْ رَوْحِ اللهِ ) ۔کیونکہ صرف بے ایمان کافر کہ جو قدرت ِ خدا سے بے خبر ہیں ا س کی رحمت سے مایوس ہوتے ہیں( إِنَّهُ لاَیَیْئَسُ مِنْ رَوْحِ اللهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الکَافِرُونَ ) ۔

” تحسس“ مادہ ” حس“ سے ہے اور یہ قوت حس کے ذریعے کسی چیز کی جستجو اور تلاش کے معنی میں ہے ۔ او ریہ کہ ” تجسس“ میں اور اس میں کیا فرق ہے ، اس سلسلے میں مفسرین اور ارباب ِ لغت کے درمیان اختلاف ہے ۔

ابن ِ عباس سے منقول ہے کہ ” تحسس“امور ِ خیر میں ہے اور تجسس“ امور شر میں ۔

بعض دوسروں نے کہا ہے کہ ” تحسس“ افراد اقوام کی سر گزشت جاننے کے لئے کو شش کرنے کے معنی میں ہے اور تجسس“ عیوب و نقائص کی جستجو کرنے کے معنی میں ہے ۔

بعض دیگر احباب نے دونوں سے ایک ہی معنی مراد لیا ہے ۔

لیکن اس حدیث کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جس میں فرمایا گیا ہے :لاتجسسوا ولا تحسسوا

. واضح ہو جاتا ہے کہ یہ دونوں آپس میں مختلف ہیں ۔ نیز ان دونوں کے درمیان فرق کے بارے میں ، زیربحث آیت کے معنی میں ، ابن عباس کانظریہ مناسب معلوم ہوتا ہے او راگر ہم دیکھتے ہیں کہ حدیث میں دونوں سے منع کیا گیا ہے تو ہو سکتا ہے کہ یہ اس طرف اشارہ ہو کہ لوگوں کے کاموں او رمعاملات کی ٹوہ میں نہ رہو نہ ان کے اچھے کاموں کی ٹوہ میں اور نہ ہی برے کاموں کی ٹوہ میں ۔

”روح “ رحمت “ راحت ، سہولت اور کشائش ِ کارکے معنی میں ہے ۔ مفردات میں راغب کہتا ہے کہ ” روح “ ( بر وزنِ ” لوح “ ) اور ”روح “( بر وزن ”نوح “ )دونوں کا اصل میں ایک ہی معنی ہے او ریہ ”جان “ اور تنفس “ کے معنی میں ہیں ۔بعد ازاں ” روح “ ( بر وزن ”لوح “ رحمت اور کشائش کے معنی میں استعمال ہونے لگا ( اس بناء پر کہ ہمیشہ مشکلات ٹل جانے پر انسان نئی روح اور جان پاتا ہے اور آزاری کا سانس لیتا ہے ) ۔

بہر حال فرزندان یعقوب (علیه السلام) نے اپنامال و اسباب باندھا اور مصر کی طرف چل پڑے اور اب کے وہ تیسری مرتبہ داستانوں سے معمو ر اس سر زمین پ رپہنچے ۔ گزشتہ سفروں کے برخلاف اس سفر میں ان کی روح کو ایک احساس ِ ندامت کچوکے لگا رہا تھا کیونکہ مصر میں اور عزیز مصر کے نزدیک ان کا سابقہ کردار بہت برا تھا اور وہ بدنام ہو چکے تھے اور اندازہ تھا شاید بعض لوگ انہیں ”کنعان کے چور “ کے عنوان سے پہچانیں ۔ دوسری طرف ان کے پاس گندم اوردوسرے اناج کی قیمت دینے کے لئے درکار مال و متاع موجود نہیں تھا اور سا تھ ہی بھائی بنیامین کے کھو جانے اورباپ کی انتہائی پریشانی نے ان کی مشکلات میں اضافہ کردیا تھا ۔ گویا تلوار ان کے حلقوم تک پہنچ گئی تھی ۔ بہت ساری مشکلات اور روح فرسا پریشانیوں نے انہیں گھیر لیا تھا ۔ ایسے میں جو چیز ان کی تسکین ِ قلب کاباعث تھی وہ صرف باپ کا آخری جملہ تھا کہ جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہونا کیونکہ اس کے لئے ہر مشکل آساں ہے ۔ اس عالم میں ” وہ یوسف (علیه السلام) (علیه السلام) کے پاس پہنچے اور اس وقت انتہائی پریشانی کے عالم میں انہوں نے اس کی طرف رخ کیا اور کہا: اے عزیز ! ہمیں او رہمارے خاندان کو قحط، پریشانی اور مصیبت نے گھیر لیا ہے “( فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَیْهِ قَالُوا یَااٴَیّهَا الْعَزِیزُ مَسَّنَا وَاٴَهْلَنَا الضُّر ) ۔” اور ہمارے پاس صرف تھوڑی سی کم قیمت پونجی ہے “( وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُزْجَاةٍ ) ۔(۱)

لیکن پھربھی ہمیں تیرے کرم اور شفقت پر بھروسہ ہے ” اور ہمیں توقع ہے کہ تو ہمارا پیمانہ بالکل پورا کرے گا “( فَاٴَوْفِ لَنَا الْکَیْلَ ) ۔” اور ا س معاملے میں ہم پر احسان کرتے ہوئے صدقہ کر“( وَتَصَدَّقْ عَلَیْنَا ) ۔

اور اپنا اجر و ثواب ہم نے لے بلکہ اپنے خدا سے لے کیونکہ خدا کریموں اور صدقہ کرنے والوں کو اجر خیر دیتا ہے( إِنَّ اللهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِینَ ) ۔

یہ قابل توجہ ہے کہ برادران یوسف (علیه السلام) کو باپ نے تاکید کی تھی کہ پہلے یوسف (علیه السلام) اور اس کے بھائی کے لئے جستجو کریں اور بعد میں اناج حاصل کریں لیکن اس کے باوجود انہوں نے ا س بات کی طرف چنداں توجہ نہیں کی اور سب سے پہلے انہوں نے عزیز مصرسے اناج کا تقاضہ کیا ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ انہیں یوسف (علیه السلام) کے ملنے کی چنداں امید نہ تھی یا ممکن ہے انہوں نے سوچا ہو کہ بہتر ہے کہ اپنے کو اناج کے خرید داروں کے طور پر پیش کریں جو کہ زیادہ طبعی اور فطری ہے اور بھائی کی آزادی کا تقاضا ضمناًرہنے دیں تاکہ یہ چیز عزیز مصر پر زیاد ہ اثر انداز ہو۔

بعض نے کہا کہ ” تصدق علینا “ سے مراد وہی بھائی کی آزادی ہے ورنہ وہ انا ج بغیر معاوضے کے حاصل نہیں کرنا چاہتے تھے کہ اسے ”تصدق “ قرار دیا جاتا ۔

روایات میں بھی ہے کہ بھائی باپ کی طرف سے عزیز مصر کے نام ایک خط لے کر آئے تھے اس خط میں حضرت یعقوب (علیه السلام) نے عزیز مصر کے عدل و انصاف کاتذکرہ کیا ۔ اپنے خاندان سے ا س کی محبتوں اور شفقتوں کی تعریف کی ۔ پھر اپنا اور پانے خاندان نبوت کا تعارف کروایا ۔ اپنی پریشانیوں کا ذکر کیا اور ساتھ ہی اس کے ضمن میں اپنے بیٹے یوسف (علیه السلام) اور دوسرے بیٹھے بنیامین کے کھوجانے اور خشک سالی سے پیدا ہونے والی مصیبتوں کا ذکر کیا ۔ خط کے آخر میں اس سے خواہش کی گئی تھی کہ بنیامین کو آزاد کردے اور تاکید کی تھی کہ ہمارے خاندان میں چوری وغیرہ ہر گز نہ تھی اور نہ ہوگی ۔

جب بھائیوں نے باپ کا خط عزیز مصر کو دیا تو انہوں نے اسے لے کر چوما او راپنی آنکھوں پر رکھا اور رونے لگے ۔ گریہ کا عا لم یہ تھا کہ قطرات ِ اشک انکے پیراہن پر گرنے لگے ۔(۲)

(یہ دیکھ کر بھائی حیرت وفکر میں ڈوب جاتے ہیں کہ عزیز مصر کو ان کے باپ سے کیا لگاؤ ہے ۔ وہ سوچتے ہیں کہ ان کے باپ کے خط نے اس میں ہیجان و اضطراب کیون پید اکردیا ہے اور شاید اسی موقع پران کے دل میں یہ خیال بجلی کی طرح اترا ہو کہ ہو نہ ہو یہی یوسف (علیه السلام) ہو اور شاید باپ کے اسی خط کی وجہ سے یوسف (علیه السلام) اس قدر بیقرار ہو گئے کہ اب مزید اپنے آپ کو عزیز مصر کے نقاب میں نہ چھپا سکے او رجیسا کہ ہم دیکھیں گے کہ بہت جلد بھائیوں سے بھائی کی حیثیت سے اپنا تعارف کروادیا ) ۔

اس موقع پر جبکہ دور آزمائش ختم ہورہا تھا اور یوسف (علیه السلام) بھی بیتاب اور پرشان نظر آرہے تھے تعارف کے لئے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے بھائیوں کی طرف رخ کرکے آپ نے ” کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب تم جاہل و نادان تھے تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا سلوک کیا( قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَا فَعَلْتُمْ بِیُوسُفَ وَاٴَخِیهِ إِذْ اٴَنْتُمْ جَاهِلُونَ ) ۔

حضرت یوسف (علیه السلام) کی عظمت اور شفقت ملاحظہ ملاحظہ کیجئے کہ اولاً تو ان کاگناہ مجمل طور پر بیان کیا اور کہا :”مافعلتم “ ( جو کچھ تم نے انجام دیا ہے اور اب تم عاقل اور سمجھدار ہو۔

ضمناً اس گفتگو سے واضح ہو تا ہے کہ گزشتہ زمانے میں انہوں نے صرف یوسف (علیه السلام) پر ظلم نہیں ڈھایا تھا بلکہ بنیامین بھی اس دور میں ان کے شر سے محفوظ نہیں تھے اور انہوں نے اس کے لئے بھی اس زمانے میں مشکلات پیدا کی تھیں ۔ جب بنیامین مصر میں یوسف (علیه السلام) کے پاس تھے شاید ان دنوں میں انہوں نے ان کی کچھ بے انصافیاں اپنے بھائی کو بتائی ہوں ۔

بعض روایات میں ہے کہ وہ زیادہ پریشان نہ ہوں اور یہ خیال نہ کریں کہ عزیز مصر ہم سے انتقام لینے والا ہے یوسف (علیه السلام) نے اپنی گفتگو کو ایک تبسم کے ساتھ ختم کیا ۔ اس تبسم کی وجہ سے بھائیوں کو حضرت یوسف (علیه السلام) کے خوبصورت دانت پوری طرح نظر آگئے ۔ جب انہوں نے خوب غور کیا تو انہیں محسوس ہوا کہ یہ دانت ان کے بھائی یوسف (علیه السلام) سے عجیب مشابہت رکھتے ہیں ۔(۳)

اس طرح بہت سے پہلو جمع ہو گئے ۔ ایک طرف تو انہوں نے دیکھا کہ عزیز مصر یوسف (علیه السلام) کے بارے میں اور اس پر بھائیوں کی طرف سے کئے گئے مظالم کے بارے میں گفتگو کررہا ہے جنہیں سوائے ان کے اور یوسف (علیه السلام) کے کوئی نہیں جانتا تھا ۔دوسری طرف انہوں نے دیکھا کہ یعقوب (علیه السلام) کے خط نے اس قدر مضطرب کردیا ہے جیسے اس کا یعقوب (علیه السلام) سے کوئی بہت ہی قریبی تعلق ہو۔

تیسری طر ف وہ اس کے چہرے مہرے پر جتنا غور کرتے انہیں اپنے بھائی یو سف (علیه السلام) سے بہت زیادہ مشابہت دکھائی دیتی ۔

لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود انہیں یقین نہیں آتا تھا کہ یوسف (علیه السلام) عزیز مصر کی مسند پر پہنچ گیا ہو ۔ وہ سوچتے کہ یوسف (علیه السلام) کہا اور یہ مقام کہاں ؟

لہٰذا انہوں نے شک و تردد کے لہجے میں ” کہا : کیا تم خوف یوسف (علیه السلام) تو نہیں( قَالُوا اٴَئِنَّکَ لَاٴَنْتَ یُوسُفُ ) ۔

یہ موقع بھائیوں پر بہت زیادہ حساس لمحات گزرا ۔ کیونکہ صحیح طور پر معلوم بھی نہیں تھا کہ عزیز ِ مصرکے سوال کے جواب میں کیا کہے گا ۔ کیا سچ مچ وہ پردہ ہٹا دے گا اور اپنا تعارف کروائے گا یا انہیں دیوانہ اور بے وقوف سمجھ کر خطاب کرے گا کہ انہوں نے ایک مضحکہ خیز بات کی ہے ۔

گھڑیاں بہت تیزی سے گزر رہی تھیں انتظار کے روح فرسا لمحے ان کے دل کو بوجھل کررہے تھے لیکن حضرت یوسف (علیه السلام) نے نہ چاہا کہ یہ زمانہ طویل ہو جائے ۔ اچانک انہوں نے حقیقت کے چہرے سے پر دہ ہٹا یا اور ” کہا: ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی بنیامین ہے “( قَالَ اٴَنَا یُوسُفُ وَهذَا اٴَخِی ) ۔لیکن اس بناء پر کہ وہ خدا کی نعمت پر شکر ادا کریں کہ جس نے یہ سب نعمات عطا فرمائی تھیں اور ساتھ ہی بھائیوں کو بھی ایک عظیم درس دیں انہوں نے مزید کہا : خدانے ہم پر احسان کیا ہے جو شخص بھی تقویٰ اور صبر اختیار کرے گا خدا اسے اس کا اجرو ثواب دے گا کیونکہ خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا “( قَدْ مَنَّ اللهُ عَلَیْنَا إِنَّهُ مَنْ یَتَّقِ وَیَصْبِرْ فَإِنَّ اللهَ لاَیُضِیعُ اٴَجْرَ الْمُحْسِنِینَ ) ۔

کسی کو معلوم نہیں کہ ان حساس لمحات میں کیا گزری او رجب دسیوں سال بعد بھائیوں نے ایک دوسرے کو پہچانا تو کیسا شور و غوغا بپا کیا ، وہ کس طرح آپس میں بغل گیر ہوئے اور کس طرح سے ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو امڈپڑے ۔

ان تمام چیزوں کے باوجود بھائی اپنے آپ میں شرمندہ تھے ۔ وہ یوسف (علیه السلام) کے چہرے کی طرف نظر بھر کے نہیں دیکھ پارہے تھے ۔

وہ اس انتظا رمیں تھے کہ دیکھیں ان کا عظیم گناہ بخشش و عفو کے قابل بھی ہے یا نہیں ۔ لہٰذا انہوں نے بھائی کی طرف رخ کیا او رکہا :خدا کی قسم : اللہ نے تجھے ہم پر مقدم کیا ہے اور تجھے ترجیح دی ہے اور علم حلم اور عقل و حکومت کے لحاظ سے جھے فضیلت بخشی ہے( قَالُوا تَاللهِ لَقَدْ آثَرَکَ اللهُ عَلَیْنَا ) ۔(۴)

یقینا ہم خطاکار اور گناہ گار تھے( وَإِنْ کُنَّا لَخَاطِئِینَ ) ۔(۵)

لیکن یوسف (علیه السلام) نہیں چاہتے تھے کہ بھائی اس طرح شرمسار رہیں خصوصاً جب کہ یہ ان کی اپنی کامیابی و کامرانی کا موقع تھا یا یہ کہ احتمالاً بھائیوں کے ذہن میں یہ بات نہ آئے کہ یوسف (علیه السلام) اس موقع پر انتقام لے گا لہٰذا فوراً یہ کہہ کر انہیں مطمئن اور پر سکون کردیا کہ ” آج تمہیں کوئی سر زنش اور توبیخ نہیں ہو گی “( قَالَ لاَتَثْرِیبَ عَلَیْکُمْ الْیَوْمَ ) ۔(۶) تمہاری فکر آسودہ رہے اور وجدان کو راحت رہے اور گذشتہ گناہوں پر غم نہ کرو۔

اس بناء پر کہ انہیں بتایا جائے کہ انہیں نہ صرف یوسف (علیه السلام) کا حق بخش دیا گیا ہے بلکہ ان کی ندامت و پشمانی کی وجہ سے اس سلسلے میں خدائی حق بھی قابل بخشش ہے ، مزید کہا: اللہ بھی تمہیں بخش دے گا کیونکہ وہ ارحم الراحمین ہے( یَغْفِرُ اللهُ لَکُمْ وَهُوَ اٴَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ ) ۔

یہ حضرت یوسف (علیه السلام) کی انتہائی عظمت کی دلیل ہے کہ نہ صرف اپنا حق معاف کردیا بلکہ اس بات پر بھی تیار نہ ہوئے کہ انہیں تھوڑی سی بھی سر زنش کی جائے چہ جائیکہ ،بھائیوں کوکوئی سزا دیتے بلکہ حق الہٰی کے لحاظ سے بھی انہیں اطمینان دلا یا کہ خدا غفور اور بخشنے والا ہے بلکہ یہ بات ثابت کرنے کے لئے یہ استدلال پیش کیا کہ وہ ارحم الراحمین ہے ۔

اس موقع پر بھائیوں کو ایک اور غم بھی ستا رہا تھا اور وہ یہ کہ باپ اپنے بیٹوں کے غم میں نابینا ہوچکا تھا اور ا س کا اس طرح رہناپورے خاندان کے لئے ایک جانکاہ رنج ہے علاوہ ازیں ان کے جرم پر ایک مسلسل دلیل ہے ۔ لہٰذا یوسف (علیه السلام) نے اس عظیم مشکل کے حل کے لئے بھی فرمایا :” میر ایہ پیراہن لے جاؤ اور میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو تاکہ وہ بینا ہو جائے “( اذْهَبُوا بِقَمِیصِی هَذَا فَاٴَلْقُوهُ عَلَی وَجْهِ اٴَبِی یَأت بَصِیرًا ) ۔”اس کے بعد سارے خاندان کے ہمراہ میرے پاس آجاؤ “( وَأتونِی بِاٴَهْلِکُمْ اٴَجْمَعِینَ ) ۔

____________________

۱۔بضاعت ۔ بضع کے مادہ سے ہے بروزن جزء

۲۔ مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔

۳۔” تثریب“ اصل میں ” ثرب“(بروزن ” سرد “)کے مادہ سے ہے ”ثرب“ در اصل چربی کی اس نازک اور پتلی جھلی کو کہتے ہیں جس نے معدے اور آنتوں کوچھپا رکھا ہوتا ہے اور ” تثریب “ اسے الگ کردینے کے معنی میں ہے ۔ بعد ازاں یہ سر زنش و ملامت کے معنی میں استعمال ہو نے لگا گویا اس کام سے گناہ کا پر دہ دوسرے کے چہرے سے دور کردیا جاتا ہے ( قاموس ، مفردات راغب،تفسیر فخررازی اور روح المعانی کی طرف رجوع فرمائیں ) ۔

۴۔”اٰثرک“ ایثار کے مادہ سے ہے

۵۔ فخر رازی نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ ” خاطی “ اور ” مخطی“کے درمیان فرق یہ ہے کہ ”خاطی “ اس شخص کو کہتے ہیں جو جان بوجھ کر برے کام کرے اور ” مخطی “ اسے کہتے ہیں جو غلطی سے غلط کام کرے بیٹھے ۔۶۔ مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔


چند اہم نکات

۱ ۔ یوسف (علیه السلام) کی قمیص کون لے کر گیا ؟

چند ایک روایات میں آیا ہے کہ حضرت یوسف (علیه السلام) نے کہا :

میرا شفا بخش کرتہ باپ کے پاس وہی لے کر جائے جو خون آلودہ کرتہ لے کر گیا تھا تاکہ جیسے اس نے باپ کو تکلیف پہنچائی اور پریشان کیا تھا اب کے اسے خوش و خرم کرے ۔

لہٰذا یہ کام ” یہودا“ کے سپرد ہواکیونکہ اس نے بتا تھا کہ وہ میں ہو جو خون آلودہ کرتہ لے کرباپ کے پاس گیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ آپ کے بیٹے کو بھیڑیا کھا گیا ہے ۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ یوسف (علیه السلام) اس قدر مشکلات او رمصائب میں گرفتار رہے لیکن اخلاقی مسائل کی باریکی سے غافل نہیں رہتے تھے ۔

۲ ۔ یوسف (علیه السلام) کی عظمت :

بعض دیگر روایا ت میں آیا ہے کہ اس ماجرے کے بعد حضرت یوسف (علیه السلام) کے بھائی ہمیشہ شرمسار رہتے تھے ۔ انہوں نے کسی کو یوسف (علیه السلام) کے پاس بھیجا او رکہلایا کہ آپ ہر صبح و شام ہمیں دستر خوا ن پر بٹھا تے ہیں اور آپ کا چہرہ دیکھ کر ہمیں شرم و خجالت محسوس ہو تی ہے کیونکہ ہم نے آپ کے ساتھ اس قدر جسارتیں کی ہیں ۔

اس بناء پر کہ انہیں نہ صرف احساس شرمندگی نہ ہو بلکہ یوسف (علیه السلام) کے دستر خوان پر ان کی موجو د گی کو یوسف (علیه السلام) کی ایک خدمت محسوس کریں ، حضرت یوسف (علیه السلام) نے انہیں بہت ہی عمدہ جواب دیا ۔ آپ نے کہا: مصر کے لوگ اب تک مجھے ایک زر خرید غلام کی نظر سے دیکھتے تھے اور ایک دوسرے سے کہتے تھے :

سبحان من بلغ عبداً بیع بعشرین درهماً مابلغ

پاک ہے وہ ذات جس نے اس غلام کو کہ جو بیس درہم میں بیچا گیا اس مقام تک پہنچا یا ۔

لیکن اب جب کہ تم لوگ آگئے ہو اور میری زندگی کی کتاب ان کے سامنے کھل گئی ہے تو وہ سمجھنے لگے کہ غلام نہیں تھا بلکہ میں خاندان نبوت سے تعلق رکھتا ہوں اور ابراہیم خلیل اللہ کی اولاد میں سے ہوں اور یہ میرے لئے باعث ِ افتخار ہے ۔(۱) ۔

۳ ۔ کامیابی کا شکرانہ :

مندرجہ بالا آیات میں یہ اہم اخلاقی درس اور واضح ترین اسلامی حکم موجود ہے کہ دشمن پر کامیابی کے وقت انتقام جو اور کینہ پر ور نہ بنو ۔

یوسف (علیه السلام) کے بھائیوں نے انہیں نہایت سخت صدمے پہنچائے تھے اور انہیں موت کی دہلیز تک پہنچا دیا تھا ۔ اگر لطف الہٰی شامل حال نہ ہوتا تو بچ جانا ان کے لئے ممکن نہ تھا صرف یہی نہیں کہ انہوں نے یوسف (علیه السلام) کو تکلیف پہنچائی تھی بلکہ ان کے والد کو بھی سخت مصیبت میں مبتلا کردیا تھا لیکن اب جب کہ وہ سب کے سب رازو نزار یوسف (علیه السلام) کے سامنے تھے اور یوسف (علیه السلام) کے پاس پوری قدرت و طاقت بھی تھی مگر حضرت یوسف (علیه السلام) کی گفتگو سے او ران کے کلمات کے اندر جھانکنے سے اچھی طرح محسوس ہوتا ہے کہ ان کے دل میں نہ صرف یہ کہ کوئی کینہ موجو د نہیں تھا بلکہ انہیں اس بات سے تکلیف ہوتی تھی کہ ان کے بھائی گزشتہ واقعے کو یاد کریں اور پریشان و غمزدہ ہوں اور شر مندگی محسوس کریں ۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت یوسف (علیه السلام) پوری کوشش کرتے ہیں کہ یہ احساس ان کی روح سے نکال دیں ۔ یہا ں تک کہ اس سے بھی بڑھ کر وہ چاہتے ہیں کہ انہیں یقین دلائیں کہ ان کا مصر میں آنا اس لحاظ سے باعث افتخار ہے کہ خود حضرت یوسف(علیه السلام) کے بارے میں مزید آگاہی کا سبب بنا ہے او رلوگوں کو معلوم ہوا ہے کہ وہ خاندان ِ رسالت میں سے ہیں نہ کہ ایک کنعانی غلام ہیں کہ جسے چند درہموں میں بیچا گیا ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ بھائی اس طرح محسوس کریں کہ نہ صرف یہ کہ میں ان پر احسان نہیں کررہا بلکہ وہ مجھ پر احسان کررہے ہیں ۔

یہ امر جاذب توجہ ہے کہ پیغمبر اسلام کو ایسے ہیں حالات میں پیش آئے اور فتح مکہ کے موقع پر آپ کو خونخوار دشمنوں یعنی شرک و بت پرستی کے سر غنوں پر کامیابی حاصل ہو ئی تو ابن عباس کے بقول آ پ خانہ کعبہ کے پاس تشریف لائے ۔ اس وقت مخالفین کعبہ میں پناہ لے چکے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ پیغمبر اسلام ان کے بارے میں کیا حکم صادر کرتے ہیں ۔ ایسے میں آپ نے کعبہ کے کنڈے کو پکڑ کر فرمایا:الحمد لله الذی صدق وعده و نصرعبده و هزم الاحزاب وحده

شکر ہے خدا کا کہ جس کا وعدہ پورا ہوا اور اس نے اپنے بندے کو کامیاب کیا اور دشمنون کے گروہوں کو شکست دی ۔ اس کے بعد آپ (علیه السلام) نے لوگوں کی طرف رخ کیا اور فرمایا :ماذا تظنون معشر قریش

اے قریش والو! کیا گمان ہے کہ میں تمہارے بارے میں حکم دو ں گا ۔

قالوا خیراً ، اخ کریم ، و ابن اخ کریم و قد قدرت

انہوں نے جواب دیا : ہم تجھ سے خیر و نیکی کے علاوہ کوئی توقع نہیں رکھتے ۔ آپ کریم و شریف بھائی ہیں اور کریم و بزرگوار بھائی کے بیٹے ہیں اور اس وقت قدرت و طاقت آپ کے ہاتھ میں ہے ۔

قال و انا اقول کما قال اخی یوسف : لاتثریب علیکم الیوم

اس پر پیغمبر اکرم نے فرمایا : میں تمہارے بارے میں وہی کچھ کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف (علیه السلام) نے اپنے بھائیوں کے کے بارے میں کامیابی کے وقت کہا تھا ” لاتثریب علیکم الیوم “۔ یعنی ۔ آج تمہارے لئے روز ملامت و سر زنش نہیں ہے ۔

عمر کہتے ہیں :

اس موقع پر میرے چہرے پر شرم و حیا سے پسینہ آگیا کیونکہ میں نے مکہ میں داخل ہوتے وقت ان سے کہا تھا : آج کے دن میں تم سے انتقام لوں گا ۔ جب پیغمبر نے وہ جملہ فرمایا تو مجھے اپنی گفتگو پر شرم آئی ۔(۲)

روایات اسلامی میں بھی بار ہا یہ آیا ہے کہ :

کامیابی کی زکات عفو و بخشش ہے ۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

اذا قدرت علی عدوک فاجعل العفو عنه شکراً للقدرة علیه ۔

جس وقت تو اپنے دشمن پر کامیاب ہو جائے تو عفو بخشش کو اپنی کامیابی کا شکرانہ قرار دے ۔(۳)

____________________

۱ ۔ تفسیر فخر رازی جلد ۱۸ ص ۲۰۶۔

۲۔ تفسیر قرطبی، جلد ۵ ص ۳۴۸۷۔

۳۔ نہج البلاغہ کلمات قصار ۔ جملہ ۱۱۔


آیات ۹۴،۹۵،۹۶،۹۷،۹۸

۹۴ ۔( وَلَمَّا فَصَلَتْ الْعِیرُ قَالَ اٴَبُوهُمْ إِنِّی لَاٴَجِدُ رِیحَ یُوسُفَ لَوْلاَاٴَنْ تُفَنِّدُونِی ) ۔

۹۵ ۔( قَالُوا تَاللهِ إِنَّکَ لَفِی ضَلَالِکَ الْقَدِیمِ ) ۔

۹۶ ۔( فَلَمَّا اٴَنْ جَاءَ الْبَشِیرُ اٴَلْقَاهُ عَلَیوَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِیرًا قَالَ اٴَلَمْ اٴَقُلْ لَکُمْ إِنِّی اٴَعْلَمُ مِنْ اللهِ مَا لاَتَعْلَمُونَ ) ۔

۹۷ ۔( قَالُوا یَااٴَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا کُنَّا خَاطِئِینَ ) ۔

۹۸ ۔( قَالَ سَوْفَ اٴَسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّی إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ ) ۔

ترجمہ

۹۴ ۔جس وقت قافلہ ( س رزمین مصر سے) جد اہوا تو ان کے باپ ( یعقوب )نے کہا : اگر مجھے نادانی اور کم عقل کی نسبت نہ دو تو مجھےیوسف کی خوشبو آرہی ہے ۔

۹۵ ۔ انہوں نے کہا: بخدا تو اسی گزشتہ گمراہی میں ہے ۔

۹۶ ۔ لیکن جب بشارت دینے والاآگیا ( اور اس نے ) وہ کرتہ ) اس کے چہرے پر ڈالا تو اچانک وہ بینا ہو گیا ۔ تو اس نے کہا : کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف ایسی چیزیں جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے ۔

۹۷ ۔ انہوں نے کہا ابا ( جان ) ! خد اسے ہمارے گناہوں کی بخشش کو خواہش کریں ، بےشک ہم خطا کار تھے ۔

۹۸ ۔ اس نے کہا عنقریب میں اپنے پر ور دگار سے تمہارے لئے طلب بخشش کرو ں گا ۔ بے شک و ہ غفور و رحیم ہے ۔

آخرکار لطف الہٰی اپنا کام کرے گا

فرزندان یعقوب (علیه السلام) خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے ۔ وہ خوشی خوشی یوسف (علیه السلام) کا پیراہن اپنے ساتھ لے کر قافلے کے ساتھ مصر سے چل پڑے ۔ ادھر بھائیوں کے لئے زندگی کے شیرین لمحات تھے ادھر شام کے علاقے کنعان میں بورھے کا گھر غم و اندوہ میں ڈوبا ہوا تھا ۔ سارا گھر نہ افسردہ اور غم زدہ تھا ۔

لیکن ۔ ادھر یہ قافلہ مصر سے چلا اور ادھر اچانک یعقوب (علیه السلام) کے گھر میں ایک واقعی رونما ہوا جس سے سب کو تعجب میں ڈال دیا ۔ یعقوب (علیه السلام) کا جسم کانپ رہاتھا ۔ انہوں نے بڑے اطمینان اور اعتماد سے پکارکر کہا : اگر تم بد گوئی نہ کرو اور میری طرف نادانی اور جھوٹ کی نسبت نہ دو تو میں تم سے کہتا ہوں کہ مجھے اپنے پیارے یوسف (علیه السلام) کی خوشبو آرہی ہے ، میں محسوس کررہا ہوں کہ رنج و غم اور زحمت و مشکل کی گھڑ یاں ختم ہونے کو ہیں اور وصال و کامیابی کا زمانہ آنے کو ہے ، خاندانِ یعقوب (علیه السلام) اب لباس ماتم اتار دے گا اور لباس ِ مسرت زیب ترن کرے گا لیکن میر اخیا ل نہیں کہ تم ان باتوں پر یقین کروگے( وَلَمَّا فَصَلَتْ الْعِیرُ قَالَ اٴَبُوهُمْ إِنِّی لَاٴَجِدُ رِیحَ یُوسُفَ لَوْلاَاٴَنْ تُفَنِّدُونِ ) ۔(۱)

” فصلت“ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیه السلام) میں یہ احساس اسی وقت پیدا ہوا جب قافلہ مصر سے چلنے لگا ۔ قاعدتا حضرت یعقوب (علیه السلام) سے کہا :آپ اسی پرانی گمراہی میں ہیں (قَالُوا تَاللهِ إِنَّکَ لَفِی ضَلَالِکَ الْقَدِیمِ ) ۔یعنی اس سے بڑھ کر گمراہی کیا ہوگی کہ یوسف (علیه السلام) کی خوشبو آرہی ہے ، مصر کہا اور شام کو کنعان کہاں ، کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ ہمیشہ خوا و خیال کی دنیا میں رہتے ہیں اور اپنے خیالات و تصورات کو حقیقت سمجھتے ہیں ، آپ یہ کیسی عجیب بات کہہ رہے ہیں ، بہر حال آپ تو پہلے بھی اپنے بیٹوں سے کہہ چکے ہیں کہ مصر کی طرف جاؤ او رمیر ے یوسف (علیه السلام) کی تلاش کرو ۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں ضلالت و گمراہی سے مراد عقیدے اور نظر یے کی گمراہی نہیں ہے بلکہ یوسف (علیه السلام) سے متعلق مسائل کے سمجھنے میں گمراہی مراد ہے ۔

بہر کیف ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ اس عظیم کہنہ سال اور روشن ضمیر پیغمبر سے کیساشدید اور جسارت آمیز سلوک کرتے تھے ۔

ایک جگہ انہوں نے کہا: ہمارا باپ ”ضلا ل مبین “( کھلی گمراہی “ میں ہے اور یہاں انہوں نے کہا : تم اپنی اسی دیرینہ گمراہی میں ہو۔

وہ پیر کنعان کے دل کی پاکیز گی اور روشنی سے بے خبر تھے ۔ ان کا خیال تھا کہ اس کا دل بھی انہی کے دل کی طرح تاریک ہے ۔ انہیں یہ خیال نہ تھا کہ آئندہ کے واقعات اور دور و نزدیک کے مقامات اس کے آئینہ دل میں منعکس ہوتے ہیں ۔

کئی رات دن بیت گئے ۔ یعقوب اسی طرح انتظارکہ جس کی گہرائی میں مسر و شادمانی اور سکون و اطمینان موجزن تھا حالانکہ ان کے پا س رہنے والوں کو ان مسائل سے کوئی دلچسپی نہ تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ یو سف (علیه السلام) کا معاملہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو چکا ہے ۔

معلوم نہیں یعقوب (علیه السلام) پر یہ چند دن اور راتیں کس طر ح گزریں ۔ آخر کار ایک دن آیا جب آواز آئی وہ دیکھو مصر سے کنعان کا قافلہ آیا ہے ۔

گزشتہ سفروں کے بر خلا ففرزندان یعقوب (علیه السلام) شاداں و فرخاں شہر میں داخل ہو ئے اور بڑی تیزی سے باپ کے گھر پہنچ گئے ۔ سب سے پہلے ” بشیر“ بوڑھے یعقوب (علیه السلام) کے پاس آیا (وہی ”بشیر “ جو وصال کی بشات لایا تھا او رجس کے پاس یوسف (علیه السلام) کا پیراہن تھا ) اس نے آتے ہیں پیراہن یعقوب (علیه السلام) کے چہرے پر ڈال دیا ۔ یعقوب (علیه السلام) کی آنکھیں تو بے نور تھیں ۔ وہ پیراہن کو دیکھ نہ سکتے تھے ۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ایک آشنا خوشبوان کے مشام ِ جان میں تر گئی ہے ۔ یہ ایک پر کیف زریں لمحہ تھا ۔ گویا ان کے وجود کا ہر ذرہ روشن ہو گیا ہو آسمان و زمین مسکرا اٹھے ہوں ۔ ہر طرف قہقہے بکھر گئے ہوں ، نسیم رحمت چل اٹھی ہو اور غم و اندوہ کا گرد و غبارلپیٹ کر لے جارہی ہو درو دیوار سے خوشی کے نعرے سنائی دے رہے تھے اور یعقوب (علیه السلام) اسی ساری فضا کے ساتھ تبسم کناں تھے ۔ ایک عجیب پیجانی کیفیت تھی جو اس بوڑھے انسان پر طاری تھی ۔ اچانک انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی آنکھیں روشن ہو گئیں ہیں اور وہ ہر جگہ دیکھ رہے ہیں ۔ دنیا اپنی تمام زیبائیوں کے ساتھ ایک مرتبہ پھر ان کی آنکھوں کے سامنے تھی ۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے : جب بشارت دینے والاآیا تو اس نے و ہ ( پیراہن ) ان کے چہرے پر ڈال دیا تو اچانک وہ بینا ہو گئے( فَلَمَّا اٴَنْ جَاءَ الْبَشِیرُ اٴَلْقَاهُ عَلَی وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِیرًا ) ۔

بھائیوں اور گر دوں پیش والوں کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو امنڈ آئے اور یعقوب (علیه السلام) نے پورے اعتماد سے کہا : میں نہ کہتا تھا کہ میں خدا کی طرف سے ایسی چیزیں جانتا ہون جنہیں تم نہیں جانتے( قَالَ اٴَلَمْ اٴَقُلْ لَکُمْ إِنِّی اٴَعْلَمُ مِنْ اللهِ مَا لاَتَعْلَمُونَ ) ۔

اس حیران کن معجزہ پر گہری فکر میں ڈوب گئے ۔ ایک لمحہ کے لئے اپنا تاریک ماضی ان کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا، خطا، اشتباہ اور تنگ نظری سے پر ماضی ۔

لیکن کتنی اچھی بات ہے کہ جب انسان اپنی غلطی کو سمجھ لے تو فوراًاس کی اصطلاح کی فکر کرے فرزندنِ یعقوب (علیه السلام) بھی اسی فکر میں گم ہوگئے ۔ انہوں نے باپ کا دامن پکڑ لیا اور ” کہ ا: باباجان ! خدا سے درکواست کیجئے کہ وہ ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو بخش دے “( قَالُوا یَااٴَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا ) ۔

” کیونکہ ہم گناہگار اور خطا کار تھے “۔( إِنَّا کُنَّا خَاطِئِینَ ) ۔

بزرگوار اور باعظمت بوڑھا جس کا ظرف سمندر کی طرح وسیع تھا ، اس نے کوئی ملامت و سر زنش کئے بغیر ان سے وعدہ کیا کہ میں بہت جلدتمہارے لئے اپنے پر وردگار سے مغفرت طلب کروں گا( قَالَ سَوْفَ اٴَسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّی ) ۔اور مجھے امید ہے کہ وہ تمہاری توبہ قبول کرلے گا اور تمہارے گناہوں سے صرفِ نظر کرلے گا کیونکہ ” وہ غفور و رحیم ہے “( إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ ) ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ یعقوب (علیه السلام) نے پیراہن یوسف (علیه السلام) کی خوشبو کیسے محسوس کی ؟

یہ سوال بہت سے مفسرین نے اٹھا یا ہے اور اس پر بحث کی ہے عام طور پر مفسرین نے اسے یعقوب (علیه السلام) یا یوسف (علیه السلام) کا معجزہ قرار دیا ہے لیکن چونکہ قرآن نے اسے اعجاز یا غیر اعجاز ہونے کے لحاظ سے پیش نہیں کیا اور اس سلسلے میں خاموشی اختیار کی ہے ، اس کی سائنسی توجیہ معلوم کی جاسکتی ہے ۔

موجودہ زمانے میں ” ٹیلی پیتھی “ ایک مسئلہ علمی ہے ( اس میں یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ ایک دوسرے سے دور رہنے والے افراد کے درمیان فکری ارتباط اور روحانی رابطہ ہو سکتا ہے ۔ اسے ” انتقال فکر “ کہتے ہیں ) ایسے افراد جو ایک دوسرے سے نزدیکی تعلق رکھتے ہیں یا جو بہت زیادہ روحانی طاقت رکھتے ہیں یہ تعلق ان کے درمیان پید اہو تا ہے ۔ شاید ہم میں سے بہت سے افراد نے اپنی روز مرہ کی زندگی میں اس کا سامنا کیا ہو کہ بعض اوقات کسی کی والدہ یا بھائی اپنے اندر بلا سبب بہت زیادہ اضطراب اور پریشانی محسوس کرتے ہیں اور زیادہ دیر نہیں گزرتی کہ خبر پہنچتی ہے کہ اس کے بیٹے یا بھائی کو فلاں دور دراز علاقے میں ایک ناگوار حادثہ پیش آیا ہے ۔

ماہرین اس قسم کے احساس کو ٹیلی پیتھی اور دور دراز کے علاقوں سے انتقال فکر کا عمل قرار دیتے ہیں ۔

حضرت یعقوب (علیه السلام) کے واقعہ میں بھی ممکن ہے یو سف (علیه السلام) سے شدیدمحبت اور آپ روحانی عظمت کے سبب آپ میں وہی احساس پیدا ہو گیا ہو جو یوسف (علیه السلام) کا کرتہ اٹھاتے وقت بھائیوں میں پیدا ہوا تھا ۔

البتہ یہ بات بھی ہر ح ممکن ہے کہ اس واقعے کا تعلق انبیاء کے دائرہ علم کی وسعت سے ہو ۔

بعض روایات میں بھی انتقال فکر کے مسئلے کی طرف جاذبِ نظر اور عمدہ اشارہ کیا گیا ہے مثلاً :

کسی نے امام باقر (علیه السلام) سے عرض کیا : کبھی ایسا ہوتا ہے کہ میں بغیر کسی مصیبت یا ناگوار حادثے کے غمگین ہو جاتا ہوں یہاں تک کہ میرے گھر والے اور میرے دوست بھی اس کے اثرات میرے چہرے پر دیکھ لیتے ہیں ۔

امام (علیه السلام) نے فرمایا : ہاں ، خدا نے مومنین کو ایک ہی بہشتی طینت سے پیدا کیا ہے اور ا سکی روح ان میں پھونکی ہے لہٰذا مومنین ایک دوسرے کے بھائی ہیں جس وقت کسی ایک شہر میں ان میں سے کسی ایک خاص بھائی کو کوئی مصیبت پیش آتی ہے تو باقیوں پر ا س کا اثر ہوتا ہے ۔(۲)

بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کرتہ نہ تھا بلکہ ایک جنتی پیراہن تھا جو حضرت ابراہیم (علیه السلام) خلیل اللہ کی طرف سے خاندان ِ یعقوب (علیه السلام) میں یاد گار کے طور پر چلا آرہا تھا او رجو شخص حضرت یعقوب (علیه السلام) کی طرح بہشتی قوت شامہ رکھتا تھا وہ اس کی خوشبو دور سے محسوس کرلیتا تھا ۔(۳)

۲ ۔ انبیاء کے حالات میں فرق:

یہاں پر ایک اور مشہور اعتراض سامنے آتا ہے ۔ فارسی زبان کے اشعار میں بھی اعتراض بیان کیا گیا ہے

۔ کسی نے یعقوب (علیه السلام) سے کہا :

زمصر ش بوی پیراہن شنیدی چرا درچاہ کنعانش نہ دیدی

یعنی ..آپ نے مصر سے پیراہن کی خوشبو سونگھ لی لیکن آپ کو کنعان کے کنویں میں یوسف (علیه السلام) کیوں دکھائی نہ دیا؟

کیسے ہوسکتا کہ اس عظیم پیغمبر نے اتنے دور دراز کے علاقے سے یوسف (علیه السلام) کی قمیص کی خوشبو سونگ لی جب کہ بعض نے یہ فاصلہ اسّی فرسخ لکھا ہے اور بعض نے دس دن کی مسافت بیان کی ہے لیکن اپنے ہی علاقے کنعان کے اندر جب کہ یوسف (علیه السلام) کو اس کے بھائی نے کنویں میں پھینک رہے تھے اور ان پر وہ واقعات گزررہے تھے اس سے یعقوب (علیه السلام) آگاہ نہ ہوئے ؟

قبل ازیں انبیاء اور آئمہ کے علم غیب کی حدود کے بارے میں جو کچھ کہا جا چکا ہے اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے اس سوال کا جواب ہر گز مشکل نہیں رہتا ۔ امور غیب کے متعلق ان کا علم پر ور دگار کے ارادے اور عطا کئے ہوئے علم پر منحصر ہے ۔ جہاں خدا چاہتا ہے وہ جانتے ہیں چاہے واقعے کا تعلق کسی دور دراز علاقے سے ہو اور جہاں وہ نہ چاہے نہیں جانتے چاہے معاملہ کسی نزدیک ترین علاقے سے مربوط ہو ۔ جیسے کسی تاریک رات میں ایک قافلہ کسی بیا بان سے گزررہا ہو اور ۔ آسمان کو بادلوں نے ڈھانپ رکھا ہو ۔ ایک لمحے کے لئے بجلی خاموش ہو جائے اور پھر تاریکی ہر طرف چھا جائے اس طرح سے کہ کوئی چیز نظر نہ آئے ۔

شاید امام جعفر صادق علیہ السلام علم امام کے بارے میں مروی یہ حدیث اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتی ہے ، آ پ فرماتے ہیں :

جعل الله بینه و بین الامام عموداً من نور ینظر الله به الیٰ الامام و ینظر الامام به الیه فاذا اراد علم شیء نظر فی ذٰلک النور فعرفه

خدا نے اپنے اور امام و پیشوائے خلق کے درمیان نور کا ایک ستون بنایا ہے ۔ اسی سے خدا امام کی طرف دیکھتا ہے اور امام بھی اسی طریق سے اپنے پر وردگار کی طرف دیکھتا ہے اور جب امام کوئی چیز جاننا چاہتا ہے تو نور کے اس ستون میں دیکھتا ہے اور اس سے آگاہ ہوجاتا ہے ۔(۴)

ایک شعر جو پہلے ذکر کیا گیا ہے اس کے بعد سعدی کے مشہور اشعار میں ایسی ہی روایات کے پیش نظر کہا گیا ہے :

بگفت احوال مابرق جہان است گہی پیدا و دیگر دم نہان است

گہی برکام اعلا نشینیم گہی تا پشت پای خود نبینیم

یعنی .اس نے کہا ہمارے حالات چمکنے والی بجلی کی طرح ہیں جو کبھی دکھائی دیتی ہے اور کبھی چھپ جاتی ہے ۔

کبھی ہم آسمان کی بلندیوں پر بیٹھتے ہیں اور کبھی اپنے پاؤں کے پیچھے بھی دکھائی نہیں دیتا ۔

” جہان“ یہاں ” جہندہ“ یعنی چمکنے والی “ کے معنی میں ہے اور ” برق جہان “ کا معنی ہے چمکنے والی آسمانی بجلی ۔

اس حقیقت کی طرف توجہ کرتے ہوئے تعجب کا مقام نہیں کہ ایک دن مشیت ِ الٰہی کی بناء پر یعقوب (علیه السلام) کی آزمائش کے لئے وہ اپنے قریب رونما ہونے والے واقعات سے آگاہ نہ ہوں اور کسی دوسرے دن جب کہ دورِ آزمائش ختم ہو چکا تھا اور مشکلات کے دن بیت چکے تھے انہوں نے مصر سے قمیص یوسف (علیه السلام) کی مہک سونگھ لی ہو۔

۳ ۔ بینائی کیسے لوٹ آئی ؟

بعض مفسرین نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ حضرت یعقوب (علیه السلام) کی آنکھوں کا نور بالکل ضائع ہو نہیں ہوگیا تھا بلکہ ان کی آنکھیں کمزور ہوگئیں تھی اور بیٹے کی ملاقات کے امکانات پیدا ہوئے تو ان میں ایک ایسا ہیجان پیدا ہوا کہ وہ پہلی حالت پر واپس آگئیں لیکن آیات کا ظہور نشاندہی کرتا ہے کہ وہ بالکل نابینا ہو گئے تھے یہاں تک کہ ان کی آنکھیں سفید ہوچکی تھیں لہٰذا ان کی بینائی معجزانہ طور پر واپس آئی ۔ قرآن کہتا ہے :( فارتد بصیراً ) بینائی کی طرف لوٹ آیا ۔

۴ ۔ استغفار کا وعدہ :

مندرجہ بالا آیات میں ہے کہ بھائیوں کے اظہار ِ ندامت پر حضرت یوسف (علیه السلام)نے کہا :

( یغفر الله لکم ) خدا تمہیں بخش دے گا ۔

لیکن انہوں نے حضرت یعقوب (علیه السلام) کے سامنے اعتراف گناہ اور اظہار ندامت کیا اور استغفار کا تضایا کیا تو انہوں نے کہا: میں بعد میں تمہارے لئے استغفار کروں گا ۔

جیساکہ روایات میں آیا ہے ان کا مقصد یہ تھا کہ اس تقاضا پر شبِ جمعہ وقت سحر عمل کریں جو کہ اجابتِ دعا اور توبہ کی قبولیت کے لئے مناسب وقت ہے(۵)

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یو سف (علیه السلام) نے انہیں کس طرح قطعی جواب دیا جب کہ ان کے باپ نے آئندہ پر چھوڑ دیا ؟۔

ہو سکتا ہے یہ فرق اس بناء پر ہو کہ حضرت یوسف (علیه السلام) بخشش کے امکان کے بارے میں با ت کررہے ہوں یعنی یہ گناہ قابل بخشش ہے لیکن حضرت یعقوب (علیه السلام) اس کی فعلیت کے بارے میں گفتگو کررہے ہوں یعنی کیا کیا جائے کہ جس سے بخشش ہو جائے ( غو کیجئے گا ) ۔

۵ ۔ توسل جائز ہے :

مندرجہ بالا آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی سے استغفار کا تقاضا کرنا نہ صرف یہ کہ عقیدہ توحید کے منافی نہیں ہے بلکہ لطف الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہے ورنہ کیسے ممکن تھا کہ یعقوب (علیه السلام) کہ جو نبی تھے بیٹوں کا یہ تقاضا قبول کرتے کہ ان کے لئے استغفار کی جائے اور کیسے ممکن تھا کہ ان کے توسل کا مثبت جواب دیتے ۔

یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ اولیاء اللہ سے توسل اجمالاً ایک جائز امر ہے اور جو اسے ممنوع اور اور اصل ِ توحید کے خلاف سمجھتے ہیں وہ متون قرآن سے آگاہی نہیں رکھتے یا پھر غلط تعصبات نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال رکھا ہے ۔

۶ ۔ سیاہ رات چھٹ گئی:

مندربالا آیات ہمیں یہ عظیم درس دیتی ہیں کہ مشکلات و حوادث جتنے بھی سخت اور دردناک ہوں اور ظاہری اسباب و علل جتنے بھی محدود اور نارسا ہوں اور کامیابی و کشائش میں کتنی ہی تاخیر ہو جائے ان میں سے کوئی چیز بی لطفِ پر وردگار پر امید رکھنے سے مانع نہیں ہوسکتی۔ ہاں یہ وہی خدا ہے جو نابینا آنکھ کو پیراہن کے ذریعے روشن کردیتا ہے اور پیراہن کو خوشبودور کے فاصلے سے دیگر علاقوں کی طرف منتقل کردیتا ہے اور گمشد ہ عزیز اور محبوب کو سالہا سال بعد لوٹا دیتا ہے اور جدائی سے مجروح ولوں پر مرہم رکھتا ہے اور جانکاہ تکالیف کو شفا بخشتا ہے ۔

جی ہاں اس سر گزشت میں توحید اور خدا شناسی کا یہ عظیم درس ہے کہ کوئی چیز بھی خدا کے ارادے کے سامنے پیچیدہ نہیں ہے ۔

____________________

۱۔ ”تفندون“ ” فند“ (بروزن ”نمد“) کے مادہ سے ، فکر کی کمزوری اور حماقت کے معنی میں ہے ۔ اسے” جھوٹ“کے معنی میں سمجھتے ہیں ۔ در اصل یہ فساد اورخرابی کے معنی میں ہے ۔ ۔لہٰذا ” لولاان تفندو “ کا معنی ہے : اگر تم مجھے بے وقوف اور فاسد العقل نہ کہو۔

۲۔اصول کافی جلد ۲ ص ۱۳۳۔

۳۔ ان روایات کے بارے میں مزید آگاہی کے لئے نو ر الثقلین کی دوسری جلد ص ۴۶۴ کی طرف رجوع کریں ۔

۴۔ شرح نہج البلاغہ از خوئی جلد ۵ ص ۲۰۰۔

۵۔تفسیر قرطبی میں ہے کہ ان کا مقصد یہ تھا کہ شب ِ جمعہ کہ جو روز عاشورکے برابر تھی ، ان کے لئے اسغفار کریں ( تفسیر قرطبی ۔ جلد ۶ س ۳۴۹۱)


آیات ۹۹،۱۰۰،۱۰۱،

۹۹ ۔( فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَی یُوسُفَ آوَی إِلَیْهِ اٴَبَوَیْهِ وَقَالَ ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شَاءَ اللهُ آمِنِینَ ) ۔

۱۰۰ ۔( وَرَفَعَ اٴَبَوَیْهِ عَلَی الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ یَااٴَبَتِ هَذَا تَاٴْوِیلُ رُؤْیَای مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلهَا رَبِّی حَقًّا وَقَدْ اٴَحْسَنَ بِی إِذْ اٴَخْرَجَنِی مِنْ السِّجْنِ وَجَاءَ بِکُمْ مِنْ الْبَدْوِ مِنْ بَعْدِ اٴَنْ نَزَغَ الشَّیْطَانُ بَیْنِی وَبَیْنَ إِخْوَتِی إِنَّ رَبِّی لَطِیفٌ لِمَا یَشَاءُ إِنَّه هُوَ الْعَلِیمُ الْحَکِیمُ ) ۔

۱۰۱ ۔( رَبِّ قَدْ آتَیْتَنِی مِنْ الْمُلْکِ وَعَلَّمْتَنِی مِنْ تَاٴْوِیلِ الْاٴَحَادِیثِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ اٴَنْتَ وَلِیِّ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِی مُسْلِمًا وَاٴَلْحِقْنِی بِالصَّالِحِینَ ) ۔

ترجمہ

۹۹ ۔ جس و قت یوسف کے پاس پہنچے تو وہ اپنے ماں باپ سے بغل گیر ہوئے اور کہا : سب کے سب مصر میں داخل ہو جاؤ ، انشاء اللہ امن و امان میں رہو گے

۱۰۰ ۔ اور ماں باپ کو تخت پر بٹھایا اور سب کے سب ان کے لئے سجدے میں گر گئے اور اس نے کہا: ابا جان : یہ اس خواب کی تعبیر ہے کہ جو پہلے میں نے دیکھا تھا، خدا نے اسے حقیقت میں بدل دیا اور اس نے مجھ سے نیکی کی جب مجھے زندان سے نکالا اور آ پ کو اس بیا بان سے ( یہاں ) لے آیا اور جب کہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان خرابی پیدا کرچکا تھا ، اور میرا پر وردگار جسے چاہتا ہے ( اور مناسب دیکھتا ہے ) اس کے لئے صاحبِ لطف ہے کیونکہ وہ دانا اور حکیم ہے ۔

۱۰۱ ۔ پر ور دگارا ! تونے مجھے حکومت کا ( عظیم ) حصہ بکشا ہے اور تونے مجھے خوابوں کا تعبیر کا علم دیا ہے تو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اورتو دنیا و آخرت میں میرا سر پرست ہے ، مجھے مسلمان مارنا اور صالحین کے ساتھ ملحق فرمانا ۔

تفسیر

یوسف (علیه السلام)، یعقوب (علیه السلام) اور بھائیوں کی سر گزشت کا اختتام

عظیم ترین بشارت لئے ہوئے مصر سے فاقلہ کنعان پہنچا ۔ بوڑھے یعقوب بینا ہوگئے ۔ عجیب جو ش و خروش تھا ۔ سالہا سال سے جو گھرانا غم و اندوہ میں ڈابا ہوا تھا وہ خوشی اور سرور میں ڈوب گیا ۔ ان سب نعمات الٰہی پر وہ پھولے نہیں سما تے تھے ۔ یوسف (علیه السلام) فرمائش کے مطابق اس خاندان کو اب مصر کی طرف روانہ ہونا تھا ۔ سفر کی تیاری ہر لحاظ سے مکمل ہو گئی ہعقوب (علیه السلام) ایک مرکب پر سوار ہوئے جب کہ ان کے مبارک لبوں پر ذکر و شکر خدا جاری تھا اور عشق ِ وصال نے انہیں اس طرح قوت و توانائی بخشی کہ کہ گویا وہ نئے سےجواب ہو گئے تھے ۔

بھائیوں کے گزشتہ سفر تو خوف و پریشانی سے گزرے لیکن ان کے بر خلاف یہی سفر ہر قسم کے فکر و اندیشہ سے خالی تھا ۔ یہاں تک کہ سفر کی کوئی تکلیف تھی بھی تو اس انتظار میں پنہاں مقصد کے سامنے اس کی کوئی حقیقت نہ تھی ۔

وصال کعبہ چناں می دواندام بشتاب کہ خار ہای مغیلاں می آید

کعبہ مقصود کے وصال نے مجھے اتنا دوڑا یا کہ خارمغیلاں ریشم معلوم ہوتے تھے ۔

رات و دن گویا بڑی آہستگی سے گزررہے تھے کیونکہ اشتیاق ِ وصال میں ہر گھڑی ایک دن بلکہ ایک سال معلوم ہورہی تھی مگر جو کچھ تھا آخر گزر گیا ۔ مصرکی آباد یاں دور سے نمایاں ہوئیں ،مصر کے سر سبز کھیت ،آسمان سے باتیں کرنے والے درخت اور خوبصورت عمارتیں دکاھئی دینے لگیں ۔

لیکن قرآن اپنی دائمی سیرت کے مطابق ان سب مقدمات کو جو تھوڑے سے غور و فکر سے واضح ہو جاتے ہیں حذف کرتے ہوئے کہتا ہے : جب وہ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف اپنے ماں باپ سے بغل گیر ہوئے( فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَی یُوسُفَ آوَی إِلَیْهِ اٴَبَوَیْه ) ۔

” اٰوی “ جیسا کہ راغب نے کہا ہے اصل میں کسی چیز کو دوسری چیز سے منضم کرنے کے معنی میں ہے یوسف (علیه السلام) کا اپنے تئیں ماں باپ سے منضم کرنا ، ان سے بغل گیر ہونے کے لئے کنایہ ہے ۔

آخر کار یعقوب (علیه السلام) کی زندگی کا شیرین ترین لمحہ آگیا ۔ دیدار وصال کا یہ لمحہ فراق کے کئی سالوں بعد آیاتھا ۔ خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ وصال کے یہ لمحات یعقوب (علیه السلام) اور یوسف (علیه السلام) پر کیسے گزرے ، ان شیرین لمحات میں ان دونوں کے احساسات و جذبات کیا تھے ، عالم ِ شوق میں انہوں نے کتنے آنسو بہائے اور عالم ِ عشق میں کیا نالہ ہوا ۔

پھر یوسف (علیه السلام) نے ” سب سے کہا : سر زمین ، مصر میں قدم رکھیں کہ انشاء اللہ یہاں آپ بالکل امن و امان میں ہوں گے “ کیونکہ مصر یوسف (علیه السلام) کی حکومت میں امن و امان کا گہوارہ بن چکا تھا( وَقَالَ ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شَاءَ اللهُ آمِنِینَ ) ۔

اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ یوسف (علیه السلام) اپنے ماں باپ کے استقبال کے لئے شہر کے دروازے کے باہر تک آئے تھے اور اور شاید جملہ ”دخلوا علی یوسف “کہ جو دروازے سے باہر سے مربوط ہے ، اس طرف اشارہ ہے کہ یوسف (علیه السلام) نے حکم دیا تھا کہ وہاں خیمے نصب کئے جائیں اور ماں باپاور بھائیوں کی پہلے پہل وہاں پذیرائی کی جائے ۔

جب وہ بارگاہ ِ یوسف (علیه السلام) میں پہنچے ” تو اس نے اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا “( وَرَفَعَ اٴَبَوَیْهِ عَلَی الْعَرْشِ ) ۔

نعمت الٰہی کی اس عظمت اور پر وردگار کے لطف کی اس گہرائی اور وسعت نے بھائیوں اور ماں باپ کو اتنا متاثر کیا کہ وہ ” سب کے سب اس کے سامنے سجدے میں گر گئے“( وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا ) ۔

اس موقع پر یوسف (علیه السلام) نے باپ کی طرف رخ کیا ” اور اعتراض کیا : اباجان ! یہ اسی خواب کی تعبیر ہے جومیں نے بچپن میں دیکھا تھا“( وَقَالَ یَااٴَبَتِ هَذَا تَاٴْوِیلُ رُؤْیَای مِنْ قَبْلُ ) ۔کیا ایسا ہی نہیں کہ میں نے خواب مین دیکھا تھا کہ سورج ، چاند اور گایرہ ستارے میرے سامنے سجدہ کررہے ہیں ۔ دیکھئے ! جیسا کہ آپ نے پیش گوئی کی تھی ” خدا نے اس خواب کو واقعیت میں بدل دیا ہے “( قَدْ جَعَلهَا رَبِّی حَقًّا ) ۔” اور پر وردگار نے مجھ پرلطف و احسان کیا ہے کہ اس نے مجھے زندان سے نکالا ہے “( وَقَدْ اٴَحْسَنَ بِی إِذْ اٴَخْرَجَنِی مِن السِّجْنِ ) ۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ حضرت یوسف (علیه السلام) نے اپنی زندگی کی مشکلات میں صرف زندانِ مصر کے بارے میں گفتگو کی ہے لیکن میرے بھائیوں کی وجہ سے کنعان کے کنوئیں کی بات نہیں کی۔

اس کے بعد مزید کہا : خدا نے مجھ پر کس قدر لطف کیاکہ آپ کو کنعان کے اس بیابان سے یہاں لے آیا جب جب کہ شیطان میرے اور میرے بھائی کے درمیان فساد انگیزی کر چکاتھا( وَجَاءَ بِکُمْ مِنْ الْبَدْوِ مِنْ بَعْدِ اٴَنْ نَزَغَ الشَّیْطَانُ بَیْنِی وَبَیْنَ إِخْوَتِی ) ۔

یہاں یوسف (علیه السلام) ایک مرتبہ اپنی وسعت قلبی اور عظمت کا ایک نمونہ پیش کرتے ہیں ۔ یہ نہیں کہتے کہ کوتاہی کس شکس نے کی صرف سر بستہ او راجمالی طور پر کہتے ہیں کہ شیطان نے اس کام میں دخل اندازی کی او روہ فساد کا باعث بنا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ بھائیوں کا گزشتہ خطاؤں کا گلہ کریں ۔

سر زمین کنعان کو” بدو“ یعنی ” بیا بان“ کہنا بھی جاذب نظر ہے ۔ اس طرح سے مصر اور کنعان ک اتمدنی فرق واضح کیا گیا ہے ۔

آخر میں یوسف (علیه السلام) کہتے ہیں : یہ سب نعمات و عنایات خدا کی طرف سے ہیں کیونکہ میرا پر وردگار مرکزِ لطف و کرم ہے اور جس امر میں چاہتا ہے لطف کرتا ہے ، وہ بندوں کے کاموں کی تدبیر کرتا ہے اور ان مشکلات کو آسان کرتا ہے( إِنَّ رَبِّی لَطِیفٌ لِمَا یَشَاءُ ) ۔

وہ جانتا ہے کہ کون ھاجت مند ہیں اور کون اہل ہیں کیونکہ ” وہ علیم و حکیم ہے “( إِنَّه هُوَ الْعَلِیمُ الْحَکِیم ) ۔

اس کے بعد یوسف (علیه السلام) حقیقی مالک الملک اور دائمی ولی ِ نعمت کی طرف رخ کرتے ہیں اور شکر اور تقاضے کے طو رپر کہتے ہیں :

” پروردگارا ! تونے ایک وسیع حکومت کا ایک حصہ مجھے مرحمت فرمایا ہے “( رَبِّ قَدْ آتَیْتَنِی مِنْ الْمُلْکِ ) ۔” اور تونےمجھے تعبیر خواب کے علم کی تعلیم دی ہے “( وَعَلَّمْتَنِی مِنْ تَاٴْوِیلِ الْاٴَحَادِیث ) ۔اور اسی علم نے جو ظاہرا ً سادہ اور عام ہے میری زندگی اور تیرے بندوں کی ایک بڑی جماعت کی زندگی میں کس قسم کا انقلاب پیدا کردیا ہے اور یہ علم کس قدر پر برکت ہے ۔

” تو وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو ایجاد کیا ہے “( فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ ) ۔اور اسی بناء پر تمام چیزیں تیری قدرت کے سامنے سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں ۔ ” پروردگارا! دنیا و آخرت میں تو میرا ولی ، ناصر ، مدبر اور محافظ ہے “( اٴَنْتَ وَلِیِّ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ ) ۔” مجھے اس جہان سے مسلمان اور اپنے فرمان کے سامنے سر تسلیم خم کئے ہوئے لے جا “( تَوَفَّنِی مُسْلِمًا ) ۔اور مجھے صالحین سے ملحق کردے “( وَاٴَلْحِقْنِی بِالصَّالِحِینَ ) ۔

یعنی میں تجھ سے ملک کے دوام اور اپنی مادی حکومت اور زندگی کی بقاء کا تقاضا نہیں کرتا کیونکہ یہ تو سب فانی ہیں اور صرف دیکھنے میں دل انگیز ہیں بلکہ میں یہ چاہتا ہوں کہ میری عاقبت اور انجام کا ر بخیر ہو او رمیں راہ ایمان و تسلیم کے ساتھ رہوں اور تیرے لئے جان دو ں اور صالحین اور تیرے باخلوص دوستوں کی صف میں قرار پاؤ ں ، میرے لئے یہ چیزیں اہم ہیں ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ کیا غیر خد اکے لئے سجدہ جائز ہے ؟

جیساکہ ہم پہلی جلد ( جلد اوّل ص ۱۶۱ ( اردو ترجمہ ) میں فرشتوں کے آدم (علیه السلام) کو سجدہ کرنے کی بحث میں کہہ چکے ہیں کہ پرستش و عبادت کے معنی میں سجدہ خدا کے ساتھ مخصوص ہے اور کسی مذہب میں کسی شخص کے لئے پرستش جائز نہیں ہے اور تو حید عبادت جو مسئلہ توحید کا اہم حصہ ہے او رجس کی تمام پیغمبروں نے دعوت دی ہے ، کایہی مفہوم ہے ۔

لہٰذا یوسف (علیه السلام) کہ جو خد اکے پیغمبر تھے نہ وہ ا س کی اجازت دے سکتے تھے کہ انہیں سجدہ کیا جائے اور ان کی عبادت کیا جائے اور نہ ہی یعقوب (علیه السلام) جیسے عظیم پیغمبر ایسا کام کرسکتے تھے او رنہ ہی قرآن اسے ایک اچھے یا کم از کم جائز و مباح کا م کے طور پر یاد کرسکتا تھا ۔

اس بناء پر مذکورہ سجدہ یا خدا کے لئے “ سجدہ شکر “ کے طور پر تھا ۔ اسی خدا کے لئے سجدہ شکر جس نے یہ تمام عنایات و نعمات اور مقام عظیم یوسف (علیه السلام) کو دیا تھا اور جس نے خاندان یعقوب (علیه السلام) کی مشکلوں اور مصیبتوں ک ودور کیا تھا ۔ اس صورت میں اگر چہ سجدہ خدا کے لئے تھا لیکن چونکہ یوسف(علیه السلام) کو عطا کی گی نعمت کی عظمت کے لئے تھا خود یوسف (علیه السلام) کا احترام بھی اس سے ظاہر ہوتا تھا اور اس لحاظ سے ” لہ “ کی ضمیر جو مسلماً یوسف (علیه السلام) کی طرف لوٹتی ہے اس معنی کے ساتھ پوری طرح مناسب ہو گی ۔

یا یہ کہ یہاں ” سجدہ “ ک اوسیع مفہوم مراد ہے یعنی خضوع اور انکساری ، کیونکہ سجدہ ہمیشہ اپنے مشہور معنی میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ ہر قسم کی انکساری اور تواضع کے معنی میں بھی استعمال ہوجاتا ہے لہٰذا بعض مفسرین نے کہا کہ اس زمانے میں خم ہ وکر انکساری اور تواضع ک ااظہار کرتے تھے اور تعظیم و احترام بجالانے کا یہ طریقہ رائج تھا ۔ان مفسرین کے نزدیک مندرجہ بالا آیت میں ” سجداً“ سے مراد یہی ہے ۔

لیکن ” خروا“ کا مفہوم ہے ” زمین پر گر پڑنا “۔ اس لفظ کی طرف توجہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا سجدہ خم ہونے اور سر نیچا کرنے کے معنی میں نہیں تھا ۔

بعض دیگر عظیم مفسرین نے کہاہے کہ حضرت یعقوب (علیه السلام) ، بھائیوں اور ان کی والدہ کا سجدہ خدا کے لئے تھا لیکن یوسف (علیه السلام) خانہ کعبہ کی طرح ان کے قبلہ تھے اسی لئے عربوں کی تعبیرات میں بعض اوقات کہا جاتا ہے :

فلان صلی للقبله

یعنی فلاں شخص نے قبلہ کی طرف نماز پڑھی ۔(۱)

البتہ پہلا معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے بالخصوص جب کہ آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے اس سلسلے میں متعدد روایات بھی موجود ہیں ۔ فرمایا:کان سجودهم لله

یعنی ..کا سجدہ خدا کے لئے تھا ۔

یہ بھی الفاظ ہیں :کان سجودهم عباده لله

ان کا سجدہ اللہ کی عبادت کے طور تھا ۔(۲)

نیز کچھ اور احادیث میں ہے :کان طاعة لله و تحیة لیوسف

یہ سجدہ اللہ کی اطاعت کے عنوان سے اور یوسف (علیه السلام) کے احترام کے لئے تھا ۔ ۳

جیسا کہ حضرت آدم (علیه السلام) کے واقعہ میں بھی سجدہ اس خدائے بزرگ و برتر کے لئے تھا کہ جس نے ایسی بدیع اور عجیب و غریب مخلوق پید اکی تھی ۔ وہ سجدہ عبادت ِ خدا کے ساتھ ساتھ حضرت آدم (علیه السلام) کے احترام اور عظمت مقام کی دلیل بھی تھا ۔ یہ بالکل اس طرح ہے کہ ایک شخص کوئی بہت ہی اچھا اہم کام انجام دیتا ہے اور ہم اس کام کی بنا ء پر خدا کے لئے سجدہ کریں کہ جس نے ایسا بندہ پیدا یا ہے تویہ سجدہ خدا کے لئے بھی ہے اور اس شخص کے احترام کے لئے بھی ۔

۲ ۔ شیطانی وسوسے:

” نزع الشیطان بینی و بین اخوتی “ میں لفظ ” نزع“ کسی کام میں فساد و افساد کے ارادے سے داخل ہونے کے معنی میں ہے ۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ایسے معاملات مین شیطانی وسوسے ہمیشہ بہت اثر رکھتے ہیں ۔ لیکن ہم اس سے پہلے بھی کہہ چکے ہیں صرف اس قسم کے وسوسوں سے کچھ بھی نہیں ہوسکتا ۔ اٹل فیصلہ اور آخری مصمم ارادہ خود انسان کو کرنا ہوتا ہے بلکہ وہی اپنے دل کا دریچہ شیطان کے لئے کھولتا ہے اور اسے اندر داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے لہٰذا مندرجہ بالا آیت سے اختیار و ارادہ کی آزادی کے برخلاف کوئی مفہوم نہیں نکلتا ۔

البتہ حضرت یوسف (علیه السلام) اپنی عظمت وبزرگواری ، وسعت ، ظرف اور کشادہ دلی کی وجہ سے نہیں چاہتے تھے کہ بھائیوں کو اس معاملے میں زیادہ شرمندہ کریں کہ جو خود ہی بہت شرمندہ تھے ۔ اس لئے آخری ارادہ کرنے والے کی طرف اشارہ نہیں کیا اور صرف شیطانی وسوسوں کا ذکر کیا ہے جو دوسرے درجے کے عامل ہیں ۔

۳ ۔ امن و امان خدا کی عظیم نعمت :

حضرت یوسف (علیه السلام) نے مصر کی تمام تر نعمات میں سے امن و امان کا ذکر کیا ہے اور ماں باپ اور بھائیوں سے کہا کہ مصر میں داخل ہوجاؤ انشاء اللہ امن و امان میں رہو گے ۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ امن و امان کی نعمت تمام نعمتوں کی جڑ ہے اور حقیقت میں ایسا ہی ہے کیونکہ جب امن و امان ختم ہو جائے تو تمام رفاہی امور او رمادی و روحانی نعمتیں مظرے میں پڑجاتی ہیں ۔ بے امنی کے ماحول میں نہ اطاعت ِ خدا مقدور میں رہتی ہے او رنہ ندگی میں سر بلندی اور آسودگئی فکر باقی رہتی ہے او رنہ ہی سعی و کوشش اور اجتماعی مقاصد کی پیش رفت کے لئے جہاد ہوسکتا ہے ۔

ہوسکتا ہے یہ جملہ ضمناً اس نکتے کی طرف اشارہ ہو کہ یوسف (علیه السلام) چاہتے ہیں کہ یہ بتائیں کہ مصر میری حکومت و سلطنت میں کل کے فراعنہ کی سی سر زمین نہیں ہے ۔ وہ خود غرضیاں ، خود پرستیاں ، مظالم، لوٹ مار، گھٹن اور شکنجے سب کے سب ختم ہو گئے ہیں ۔ ایک مکمل امن و امان کا ماحول ہے ۔

۴ ۔مقام علم کی اہمیت : حضرت یوسف (علیه السلام) آخر میں ایک مرتبہ پھر علم تعبیر خواب کا ذکر کرتے ہیں اور اس عظیم اور بغر نزاع کے حکومت کی بنیاد اس ظاہراً آسان اور سادہ علم کو قرار دیتے ہیں ۔ یہ امر در اصل علم و دانش کی اہمیت و تاثیر پر زیادہ سے زیادہ تاکید کرنے کے لئے ہے ۔ چاہے وہ علم سادہ اور عام قسم کا ہی کیون نہ ہو.. لہٰذا کہتے ہیں :

( رب قد اٰتیتنی من الملک و علمتنی من تاٴویل الاحادیث )

۵ ۔ اختتام خیر :

ہو سکتا ہے انسان کی زندگی میں بہت سی تبدیلیاں آئیں لیکن مسلم ہے کہ اس کی زندگی کے آخری لمحات اس کی ساری زندگی اور سر نوشت سے زیادہ اصلاحی اور تعمیری ہیں کیونکہ عمر کا دفتر ان کے ساتھ بند ہو جاتا ہے اور آخری فیصلہ زندگی کے انہین آخری صفحات وابستہ ہے ۔ اسی لئے صاحب ایمان اور سمجھدار لوگ ہمیشہ خد اسے دعا کرتے ہیں کہ ان کی عمر کے یہ لحظے نورانی اور درخشاں ہوں ۔ یوسف (علیه السلام) بھی اس مقام پر خدا سے یہی چاہتے ہیں او رکہتے ہیں :

( توفنی مسلماً و الحقنی بالصالحین )

مجھے دنیا سے ایمان کے ساتھ لے جا اور میرا شمار صالحین کے زمرے میں کر ۔

یہ گفتگو خد اسے موت کا تقاضا کرنے کے لئے نہیں جیسا کہ ابن عباس نے گمان کیا ہے اور کہا ہے :

یوسف (علیه السلام) کے سوا کسی پیغمبر نے خدا سے موت کا تقاضا نہیں کیا ۔ ان کے پاس اپنی حکومت کے تمام اسباب و وسائل موجود تھے لیکن ان کی روح میں عشق ِ الٰہی کا شعلہ بھڑک اٹھا او رانہوں نے لقائے الٰہی کی آرزو کی ۔

لیکن یوسف (علیه السلام) کا تقاضا شرط اور حالت کا تقاضا تھا یعنی انہوں نے یہ تقاضا کیا تھا کہ موت کے وقت وہ ایمان و اسلام کے حامل ہوں جیسا کہ ابراہیم (علیه السلام) اور یعقوب (علیه السلام) نے بھی اپنی اولاد کو یہ وصیت کی تھی ۔( فلا تموتن الا و انتم مسلمون )

میرے بچو!کوشش کرو کہ دنیا سے جاتے وقت باایمان اور فرمان ِ خدا کے سامنے سر تسلیم خد اکئے ہوئے ہو ( بقرہ ۔ ۱۳۲) ۔بہت سے مفسرین نے بی یہی معنی انتخاب کیا ہے ۔

۶ ۔ کیایوسف (علیه السلام) کی والدہ مصر آئی تھیں ؟

مندرجہ بالا آیات کے ظاہری معنی سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیه السلام) کی والدہ اس وقت زندہ وسلامت تھیں اور وہ اپنے شوہر اور بیٹوں کے ساتھ مصر آئی تھیں اور اس نعمت کے شکرانے کے طور پر انہوں نے بھی سجدہ کیا تھا لیکن بعض مفسرین کا اصرارہے کہ ان کی والدہ ” راحیل “ فوت ہو چکی تھیں اور یہ حضرت یوسف (علیه السلام) کی خالہ تھیں جو مصر آئی تھیں اور وہ ماں کی جگہ شمار ہوتی تھیں موجودہ تورات کے سفر تکوین کی فصل ۳۵ اور جملہ ۱۸ میں ہے :

بنیامین کے پیدا ہونے کے بعد راحیل فوت ہو گئیں ۔

بعض روایات جو وہب بن منیہ سے اور کعب الاحبار سے نقل ہوئی ہیں ان میں بھی یہی بات مذکور ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے انہوں نے یہ بات تورات سے لی ہے ۔

بہر حال ہم قرآن کے ظاہری مفہوم سے بغیر کسی یقینی مدرک کے آنکھیں بند کرکے اس کی توجیہ و تاویل نہیں کرسکتے اور ظاہرِ قرآن یہی ہے کہ اس وقت یوسف(علیه السلام) کی ماں زندہ تھیں ۔

۷ ۔ باپ کو سر گزشت نہ سنانا:

امام صادق علیہ السلام سے مروی ایک روایت میں ہے :

جس وقت یعقوب (علیه السلام) یوسف سے ملاقات کے لئے پہنچے تو ان سے کہا: میرے بیٹے دل چاہتا ہے کہ میں پوری تفصیل جانون کہ بھائیوں نے تم سے کیا سلوک کیا ۔

حضرت یوسف (علیه السلام) نے باپ سے تقاضا کیا کہ وہ اس معاملے کو جانے دیں لیکن یعقوب (علیه السلام) نے انہیں قسم دے کہا کہ بیان کریں ۔

یوسف (علیه السلام)نے واقعات کا کچھ حصہ بیان کیا ، یہاں تک کہ بتا یا: بھائیوں نے مجھے پکڑ لیا اور کنویں میں بٹھا یا ۔ مجھے حکم د یا کہ کرتا اتاردوں تو میں نے ان سے کہا : میں تمہیں اپنے باپ (علیه السلام) یعقوب (علیه السلام) کے احترام کی قسم دیتا ہوں کہ میرے بدن سے کرتا نہ اتارو او رمجھے برہنہ نہ کرو ۔ ان میں سے ایک پاس چھری تھی اس نے وہ چھری نکال اور چلا کر کہا : کرتا اتاررو۔

یہ جملہ سنتے ہی یعقوب (علیه السلام) کی طاقت جواب دے گئی ، انہوں نے چیخ ماری اور ے ہوش ہوگئے ۔ جب ہوش میں آئے تو بیٹے سے چاہا کہ اپنی بات جاری رکھے لیکن یوسف (علیه السلام) نے کہا : آپ (علیه السلام) کو ابراہیم ،(علیه السلام) اسماعیل اور اسحاق (علیه السلام) کے خدا کی قسم مجھے اس کام سے معاف رکھیں ۔

جب یعقوب (علیه السلام) نے یہ سنا تو اس معاملے سے صرفِ نظر کرلیا ۔(۴)

یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ یوسف (علیه السلام) ہر گز نہیں چاہتے تھے کہ ماضی کے تلخ واقعات اپنے دل میں لائیں یاباپ کے سامنے انہیں دھرائیں اگر چہ حضرت یعقوب (علیه السلام) کی جستجو کی حس ّ انہیں مجبور کرتی تھی ۔

____________________

۱-تفسیرالمیزان و تفسیر فخر رازی زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔

۲۔ تفسیر نور الثقلین جلد ۲ ص ۴۶۷۔

۳۔ تفسیر نور الثقلین جلد ص۴۶۸۔

۴ مجمع البیان جلد ۵ ص ۲۶۵۔


آیات ۱۰۲،۱۰۳،۱۰۴،۱۰۵،۱۰۶،۱۰۷

۱۰۲ ۔( ذَلِکَ مِنْ اٴَنْبَاءِ الْغَیْبِ نُوحِیهِ إِلَیْکَ وَمَا کُنتَ لَدَیْهِمْ إِذْ اٴَجْمَعُوا اٴَمْرَهُمْ وَهمْ یَمْکُرُونَ ) ۔

۱۰۳ ۔( وَمَا اٴَکْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِینَ ) ۔

۱۰۴ ۔( وَمَا تَسْاٴَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اٴَجْرٍ إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِکْرٌ لِلْعَالَمِینَ ) ۔

۱۰۵ ۔( وَکَاٴَیِّنْ مِنْ آیَةٍ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ یَمُرُّونَ عَلَیْهَا وَهُمْ عَنهَا مُعْرِضُونَ ) ۔

۱۰۶ ۔( وَمَا یُؤْمِنُ اٴَکْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلاَّ وَهُمْ مُشْرِکُونَ ) ۔

۱۰۷ ۔( اٴَفَاٴَمِنُوا اٴَنْ تَأتیَهمْ غَاشِیَةٌ مِنْ عَذَابِ اللهِ اٴَوْ تَأتیَهُمْ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَهُمْ لاَیَشْعُرُونَ ) ۔

ترجمہ

۱۰۲ ۔ یہ غیب کی خبروں میں سے ہے کہ جس کی ہم تجھے وحی کرتے ہیں تو ( ہر گز) ان کے پاس نہیں تھا جب انہوں نے مصمم ارادہ کیا اور جب منصوبہ بنارہے تھے ۔

۱۰۳ ۔ اور اگر چہ تو اصرار کرے تو زیادہ تر لوگ ایمان نہیں لائیں گے ۔

۱۰۴ ۔اورتو اس پر( ہر گز ) ان سے اجرت کامطالبہ نہیں کرتا، یہ نہیں ہے مگر یہ کہ عالمین کے لئے یادھانی۔

۱۰۵ ۔ اور ( خدا کی )بہت سے نشانیاں آسمانوں اور زمین میں موجود ہیں کہ وہ جن کے پاس سے گزرتے ہیں اور ان سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔

۱۰۶ ۔ اور ان میں کہ جو خدا پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں اکثر مشرک ہیں ۔

۱۰۷ ۔ کیا وہ اس سے مامون ہیں کہ خدا کی طرف سے گھیر نے والا عذاب ان پر آجائے یا قیامت کی گھڑی اچانک ان پر آجائے جب کہ وہ متوجہ نہ ہوں ۔

یہ دعویدار عام طور پر مشرک ہیں

حضرت یوسف (علیه السلام) کا واقعہ تمام ہوا ۔ اس میں عبرت اور اصلاح کے بہت سے درس موجود ہیں ۔ا س میں گرانبہا قیمتی اور ثمر بخش نکات موجود ہیں اور یہ تاریخی واقعہ ہر قسم کی فضولیات اور خرافات سے پاک کرکے بیان کردیا گیا ہے ۔ اب قرآن روئے سخن پیغمبر کی طرف کرتے ہوئے کہتا ہے : یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم تیری طرف وحی کررہے ہیں( ذَلِکَ مِنْ اٴَنْبَاءِ الْغَیْبِ نُوحِیهِ إِلَیْکَ ) ۔

تو ہرگز ان کے پاس نہیں تھا جبکہ وہ مصمم ارادہ کررہے تھے اورمنصوبہ بنا رہے تھے( وَمَا کُنتَ لَدَیْهِمْ إِذْ اٴَجْمَعُوا اٴَمْرَهُمْ وَهمْ یَمْکُرُونَ ) ۔ان باریکیوں اور تفصیلات کو صرف خدا جانتا ہے یاوہ شخص جو اس موقع پر موجود تھا اور چونکہ تو وہاں موجود نہیں تھا لہٰذا صرف وحی الہٰی ہے جو ایسی خبریں تجھ تک پہنچ جاتی ہیں ۔

یہاں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت یوسف (علیه السلام) کا واقعہ اگر چہ تورات میں آیاہے اور قاعدتاً حجاز والے اس کے بارے میں تھوڑی بہت معلومات رکھتے تھے پھر بھی پوری تفصیلات کے ساتھ تمام واقعہ حتی کہ جو کچھ خصوصی مجالس میں ہواتھا لوگوں کو معلوم نہیں تھا کہ جس میں کوئی اضافہ نہ کیا گیا ہو اور خرافات شامل نہ کی گئی ہو ں ۔

ان حالات میں لوگوں کو چاہیئے کہ ان سب نشانیوں کو دیکنے کے بعد اور ان خدا ئی نصیحتوں کو سننے کے بعد ایمان لے آئیں اور غلط راستے سے پلٹ جائیں مگر اے پیغمبر ! اگر چہ تو اس پر اصرار کرے کہ یہ ایمان لے آئیں ان میں سے اکثر ایمان نہیں لائیں گے( وَمَا اٴَکْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِینَ ) ۔

لفظ ” حرص “ لوگوں کے ایمان لانے کے لئے پیغمبر کے شدید لگاؤ اور شقو کی دلیل ہے لیکن صرف آپ (علیه السلام) کا شوق اور حرص کا فی نہ تھا ۔ زمینوں اور طرفوں کی قابلیت بھی شرط نہ تھی ۔

یعقوب (علیه السلام) کے بیٹے کہ جو وحی و نبوت کے ماحول میں پلے بڑھے تھے جب وہ ہوا وہوس میں گرفتار ہو سکتے ہیں یہاں تک کہ اپنے بھائی کو نابود کرنے پر تل سکتے ہیں تو پھر دوسروں سے کیا توقع کیا جاسکتی ہے کہ وہ ہواو ہوس کے دیواور شہوت بھوٹ پر غالب آجائیں اور سب کے سب ایک ہی دفعہ پوری طرح خدا کی طرف رخ کریں ۔

یہ جملہ ضمنی طور پر پیغمبر کی ایک طرح سے تسلی اور دلجوئی کے لئے ہے کہ وہ لوگوں کے کفر و گناہ پر اصرار سے ہ رگز مایوس نہ ہو جائیں اور اس راہ میں ہم سفروں کی کمی سے ملول ِ خاطر نہ ہوں ، جیسا کہ قرآن کی دیگر آیات میں بھی ہے مثلاً :

( فلعلک باخع نفسک علیٰ اٰثارهم ان لم یومنوا بهذا الحدیث اسفاً )

اے پیغمبر ! گویا تو چاہتا ہے کہ قرآن ان کے ایمان نہ لانے پر شدت تاسف سے اپنی جان گنوابیٹھے(کہف۔ ۶)

قرآن مزید کہتا ہے کہ در اصل تریری دعوت کو قبول نہ کرنے کے لئے ان کے پاس کوئی عذر و بہانہ نہیں ہے کیونکہ علاوہ اس کے کہ اس میں حق کی نشانیاں واضح ہیں ”تو نے ا س کے بدلے ان سے ہر گز کوئی اجر مزدوری نہیں چاہی “ کہ جسے وہ مخالفت کا بہانہ بنا سکیں( وَمَا تَسْاٴَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اٴَجْرٍ ) ۔

”یہ ایک عمومی دعوت ہے اور سب جہانوں کے لئے اورعالمین کے لئے ایک دھانی ہے “ اور یہ عام و خاص تمام انسانوں کے لئے بچھا یا گیا ایک دسترخوان ہے( إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِکْرٌ لِلْعَالَمِینَ ) ۔

وہ در اصل اس لئے گمراہ ہوئے کہ ان کے پاس کھلی اور بینا آنکھ اور سننے والے کان نہیں ہیں ”’ آسمان و زمین میں بہت سے خدائی آیات ہیں کہ وہ جن کے قریب سے گزرجاتے ہیں اور ان سے منہ پھیر لیتے ہیں “( وَکَاٴَیِّنْ مِنْ آیَةٍ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ یَمُرُّونَ عَلَیْهَا وَهُمْ عَنهَا مُعْرِضُونَ ) ۔

یہی حوادث کہ جنہیں ہر روز وہ اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں ۔ صبح کے وقت آفتاب افق ِ مشرق سے سر نکالتا ہے ۔ اس کی سنہری کرنیں پہاڑوں درّو ں ، صحراؤں اور دریاؤں پر پڑتی ہیں اور شام کے وقت افق مغرب میں ڈوب جاتا ہے اور رات کی گہری سیاہ چادر ہر جگہ کو ڈھانپ دیتی ہے ۔

عجیب و غریب نظام کے یہ اسرار ، یہ طلوع و غروب، سبزوں ، پرندوں ، حشرات اور انسانوں میں زندگی کا یہ شور و غوغا ، یہ ندیوں زمزمہ ، نسیم سحری کا یہ ہمہمہ اور یہ سب عجیب و دلنشین نقش کہ وجود کے درو دیوار پر ہیں ۔ اس قدر آشکار ہیں کہ جو کوئی ان میں اور ان کے خالق میں غو ر و فکر نہ کرے وہ ایسے ہی ہے جیسے دیوار پر کوئی نشان تھا ۔

بہت چھوٹے چھوٹے امر ہیں جو ظاہرا ً کوئی اہمیت نہیں رکھتے ، جن کے قریب سے ہم بے اعتنائی سے گزر جاتے ہیں لیکن اچانک گہرائی تک پہنچنے والا ماہر پیدا ہوتا ہے جو کئی ماہ اور سالوں کے مطالعہ کے بعد عجیب و غریب اسرا ر معلوم کرتا ہے کہ جن سے دنیا کے منہ مارے تعجب کے کھلے کے کھلے رہ جاتے ہیں ۔

اصولی طور پر اہم بات یہ ہے کہ ہم جانیں کہ اس عالم ک وئی چیز معمولی اور بے اہمیت نہیں ہے کیونکہ ہر چیز خد اکی مصنوع و مخلوق ہے ۔ وہ خد اکہ جس کا علم لامتناہی او رجس کی حکمت بے پایاں ہے ۔ بے وقعت وہ لوگ ہیں جو اس عالم کو بے اہمیت اور سر سری سی چیز سمجھتے ہیں ۔ لہٰذا اگر وہ ان آیات ِ قرآنی پر کہ جو تجھ پر نازل ہو ئی ہیں ایمان نہیں لاتے تو اس پر تعجب نہ کر کیونکہ وہ آیات ِ خلقت پر بھی ایمان نہیں لائے کہ جو ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں ۔

بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے : وہ جو ایمان لے آتے ہیں ان میں سے بھی اکثر کا ایمان خالص نہیں ہے بلکہ اس میں شرک کی آمیزش ہے( وَمَا یُؤْمِنُ اٴَکْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلاَّ وَهُمْ مُشْرِکُونَ ) ۔ہو سکتا ہے وہ خود سمجھتے ہوں کہ وہ خالص مومن ہیں لیکن شر ک کی رگیں عموماً ان کےافکار ، گفتار اور کردار میں موجود ہوتی ہیں ۔

ایمان صرف یہ نہیں کہ انسان صرف وجود خدا کا اعتقاد رکھتا ہوبلکہ ایک خالص موحدوہ ہے جس کے قلب و جان میں خدا کے علاوہ کسی شکل میں کوئی معبود نہ ہو۔ اس کی گفتار خد اکے لئے ، اس کے اعمال خدا کے لئے اور اس کا ہر کام اسی کے لئے انجام پائے ۔

خدا کے قانون کے علاوہ کسی قانون کو قبول نہ کرے اور ا سکے غیر کی بندگی کا طوق اپنی گردن میں نہ ڈالے اور خدا یہ فرامین ک ودل و جان سے قبول کرے چاہے وہ اس کے میلان کے مطابق ہوں یا نہ ہوں ۔ خدا او رہوائے نفس کے انتخاب کے دوراہے پر ہمیشہ خدا کو مقدم شماار کرے ۔ یہ ہے ہر قسم کے شرک سے پاک ایمان ۔ عقیدے کا شرک ، گفتاگر اور عمل کا شرک ، اگر ہم واقعاً ہر پہلو کے بارے میں باریک بینی سے کام لیں تو دیکھیں گے کہ سچے ، خالص اور حقیقی موحد بہت کم ہیں ۔

اسی بناء پر اسلامی روایات میں ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

الشرک اخفی من دبیب النمل

انسانی اعمال میں شرک چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہے ۔ ( سفینة البحار جلد ۱ ص ۱۶۹۷)

یہ بھی روایت ہے :

( ان اخوف ما اخاف علیکم الشرک الاصغر قالوا وما الشرک الاصغر یا رسول الله ؟ قال الریا، یقول الله تعالیٰ یوم القیامة اذا جاء الناس باعمالهم اذهبوا الیٰ الذین کنتم تراء ون فی الدنیا ، فانظروا هل تجدون عندهم من جزاء ؟ ) !

رسول اللہ نے فرمایا:

خطر ناک ترین چیز کہ جس کا مجھے تم سے خوف ہے شرکِ اصغر ہے ۔

اصحاب نے پوچھا :

یا رسول اللہ : شرک ِ اصغر کیا ہے :

فرمایا:

ریا کاری ، قیامت کے دن جب لوگ اپنے اعمال کے ساتھ بار گاہ خد امیں حاضر ہوں گے تو پر وردگار انہیں کہ جو ددنیا میں ریا کرتے تھے ، فرمائے گا : ان کے پاس جاؤ کہ جن کے لئے تم ریا کرتے تھے اور دیکھو کہ ان کے ہاں سے تمہیں کوئی اجر ملتا ہے ؟(۱)

امام محمد باقر علیہ السلام سے مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا :

شرک طاعة ولیس شرک عبادة المعاصی التی ترتکبون وهی شرک طاعة اطاعوا فیها الشیطان فاشرکوا بالله فی الطاعة لغیره

اس آیت سے مراد اطاعت میں شرک کرنا ہے نہ کہ عبادت میں شرک کرنا اور جن گناہوں کے لوگ مرتکب ہوتے ہیں وہ شرک اطاعت ہے کیونکہ اس میں وہ شیطان کی اطاعت کرتے ہیں اور اس عمل کی بناء پر خدا کے لئے اطاعت میں شریک کے قائل ہوتے ہیں ۔(۲)

بعض دوسری روایات میں ہے کہ مراد ” شرک ِ نعمت “ ہے اس معنی میں کہ کوئی نعمت خدا کی طرف سے انسان کو پہنچے او روہ کہے کہ یہ نعمت فلاشخص کی طرف سے مجھے پہنچی ہے ، اگر وہ نہ ہوتا تو میں مرجاتا یا میری زندگی تباہ ہوجاتی اور میں بے چارہ رہ جاتا ۔( نور الثقلین جلد ۲ ص ۴۷۶) ۔

یہاں غیر خد اکو روزی اور نعمات بخشنے میں خدا کا شریک شمارکیا گیا ہے ۔

خلاصہ یہ کہ مندرجہ بالاآیت میں شرک سے مراد کفر، انکار خدا اور ظاہری طور پر بت پرستی کرنا نہیں ہے ۔ جیسا کہ امام علی بن موسیٰ رضا (علیه السلام) سے نقل ہوا ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا :

شرک لایبلغ به الکفر

ایسا شرک جو کفر کے درجے تک نہ پہنچے ۔

البتہ وسیع مفہوم کے لحاظ سے شرک میں یہ تمام امر شامل ہیں ۔

زیر بحث آخری آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو ایمان نہیں لائے ، جو خدا کی واضح آیات کے قریب سے بے خبر گز رجاتے ہیں او رجو اپنے اعمال میں مشرک ہیں خدا تعالیٰ انہیں خبر دار کرتے ہوئے کہتا ہے : کیا یہ لوگ اپنے آپ کو اس امر سے مامون سمجھتے ہیں کہ اچانک اور بغیر کسی تمہید کے انہیں عذاب الہٰی آگھیرے ، احاطہ کرنے والا ایسا عذاب کہ جو ان کے سب کو آگھیرے( اٴَفَاٴَمِنُوا اٴَنْ تَأتیَهمْ غَاشِیَةٌ مِنْ عَذَابِ اللهِ ) ۔اور یا یہ کہ ناگہاں قیامت آپہنچے اور عظیم خد ائی عدالت لگ جائے اور ان کا حساب کتاب شروع ہو جائے کہ جب وہ بے خبر اور غافل ہوں( اٴَوْ تَأتیَهُمْ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَهُمْ لاَیَشْعُرُونَ ) ۔

” غاشیہ” ڈھانپنے والی چیز اور ڈھکنے کے معنی میں ہے ۔ دیگر چیزوں کے علاوہ ھگوڑے کی زین پر ڈالنے جانے والے بڑے کپڑے کو بھی غاشیہ کہتے ہیں جو اسے ڈھانپ دیتا ہے ۔ یہاں پر اس سے مراد وہ سزا ہے جو تمام بد کاروں کا گھیر لے گی ۔(۳)

”ساعة “ سے مراد قیامت ہے جیسا کہ بہت سی دوسری قرآنی آیات میں یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے ۔ البتہ یہ احتمال بھی ہے کہ ” ساعة“ ہولناک حوادث کے لئے کنایہ ہوکیونکہ قرآنی آیات بار بار کہتی ہیں کہ قیامت کے دن کا آغاز بہت ہی زیادہ ہولناک حوادث کے ایک سلسلے سے ہوگا ۔ مثلاً زلزلے ، طوفان اور بجلیاں یاموت کی گھڑی کی طرف اشارہ ہے ۔ پہلو تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے ۔

____________________

۱۔ تفسیر فی ظلال جلد ۵ ص ۵۳۔

۲۔ نور الثقلین جلد ۲ ص ۴۷۵ و اصول ِ کافی جلد ۲ ص ۲۹۲۔

۳۔ ”غاشیہ“ یہاں اس لئے مونث ہے کہ یہ لفظ” عقوبہ“ کی صفت ہے کہ جو مقدر ہے ۔


آیات ۱۰۸،۱۰۹،۱۱۰،۱۱۱

۱۰۸ ۔( قُلْ هَذِهِ سَبِیلِی اٴَدْعُو إِلَی اللهِ عَلَی بَصِیرَةٍ اٴَنَا وَمَنْ اتَّبَعَنِی وَسُبْحَانَ اللهِ وَمَا اٴَنَا مِنْ الْمُشْرِکِینَ ) ۔

۱۰۹ ۔( وَمَا اٴَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ إِلاَّ رِجَالًا نُوحِی إِلَیْهِمْ مِنْ اٴَهْلِ الْقُرَی اٴَفَلَمْ یَسِیرُوا فِی الْاٴَرْضِ فَیَنْظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الَّذِینَ مِنْ قَبْلهِمْ وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَیْرٌ لِلَّذِینَ اتَّقَوْا اٴَفَلاَتَعْقِلُونَ ) ۔

۱۱۰ ۔( حَتَّی إِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا اٴَنّهُمْ قَدْ کُذِبُوا جَائَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَشَاءُ وَلاَیُرَدُّ بَاٴْسُنَا عَنْ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِینَ ) ۔

۱۱۱ ۔( لَقَدْ کَانَ فِی قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِاٴُوْلِی الْاٴَلْبَابِ مَا کَانَ حَدِیثًا یُفْتَرَی وَلَکِنْ تَصْدِیقَ الَّذِی بَیْنَ یَدَیْهِ وَتَفْصِیلَ کُلِّ شَیْءٍ وَهُدًی وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ) ۔

ترجمہ

۱۰۸ ۔ کہہ دو : یہ میرا راستہ ہے کہ میں اور میرے پروکار پوری بصیرت سے لوگوں کو خد اکی طرف دعوت دیتے ہیں ۔ خدا منزہ ہے او رمیں مشرکین میں سے نہیں ہوں ۔

۱۰۹ ۔ اور ہم نے تجھ سے پہلے نہیں بھیجا مگر شہر والوں میں سے ان مردوں کو کہ جن کی طرف ہم نے وحی کی ہے ۔ کیا ( تیری دعوت کے مخالفین نے ) زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھیں کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا کیا انجام ہوا اور آخرت کا گھر پر ہیز گاروں کے لئے بہتر ہے کیا تم عقل و فکر سے کام نہیں لیتے ۔

۱۱۰ ۔ ( انبیاء نے اپنی دعوت اور دشمنوں نے اپنی مخالفت اسی طرح جاری رکھی) یہاں تک کہ پیغمبر مایوس ہو گئے اور انہوں نے گمان کیا کہ (حتی مومنین کے چھوٹے سے گروہ نے بھی ) ان سے جھوٹ بولا تو اس موقع پر جاری مدد ان کے پاس آئی۔ ہم جس شخص کو چاہتے ہیں نجات دیتے ہیں اور زیاں کار قوم کے لئے ہماری سزا اور عذاب کو پلٹا یانہیں جاسکتا ۔

۱۱۱ ۔ ان کی سر گزشتوں میں صاحبان ِ فکر کے لئے درس عبرت ہے ۔ یہ واقعات جھوٹی بات نہیں تھے بلکہ ( آسمانی وحی ہے اور ) گزشتہ آسمانی کتب ) سے ہم آہنگ ہیں جو اس کے سامنے ہیں اور ہر چیز ( کہ جو سعادت انسانی کی بنیاد ہے ) کی تشریح اور ہدایت و رحمت ہے ایسے گروہ کے لئے کہ جو ایمان لایا ہے ۔

عبرت کے زندہ درس

زیرنظر پہلی آیت میں پیغمبر اسلام سے اپنے آئین ، دین ، روش اور خط کو مشخص کرنے کے لئے کہا گیا ہے ۔ فرمایا گیا ہے : کہہ دو : میری راہ اور طریقہ یہ ہے کہ سب کو اللہ کی طرف ( کہ جو ایک اکیلا خدا ہے ) دعوت دوں( قُلْ هَذِهِ سَبِیلِی اٴَدْعُو إِلَی اللهِ ) ۔

اس کے بعدمزید فرمایا گیاہے : یہ سفر میں نے بے خبری یا تقلیداً اختیار نہیں کیا بلکہ میں خود او رمیرے پروکا ردنیا کے سب لوگوں کو اس راستے کی طرف آگاہی اور بصیرت سے بلاتے ہیں( عَلَی بَصِیرَةٍ اٴَنَا وَمَنْ اتَّبَعَنِی ) ۔

یہ جملہ نشاندہی کرتا ہے کہ پیغمبر اکرم کا پیر وکار ہر مسلمان اپنے مقام پر حق کی طرف بلانے والاہے اسے چاہیئے کہ اپنی گفتار اور کردار سے دوسروں کو راہ ِ خدا کی طرف دعوت دے ۔ نیز یہ جملہ نشاندہی کرتا ہے کہ ” رہبر کو کافی بصیرت ، بینائی اور آگاہی کا حامل ہونا چاہئیے ورنہ اس کی دعوت حق کی طرف نہیں ہوگی ۔

اس کے بعد بطور تاکید کہا گیاہے : خد یعنی وہ ذات جس کی طرف میں دعوت دیتا ہوں ہر قسم کے عیب ، نقص ، شبیہ اور شریک سےپاک او رمنزہ ہے( و سبحان الله ) ۔

مزید تاکید کے لئے ارشاد ہوتا ہے :” میں مشرکین میں سے نہیں ہوں “ اور میں اس کے لئے کسی قسم کے شبیہ و شریک کا قائل نہیں ہوں( وَمَا اٴَنَا مِنْ الْمُشْرِکِینَ ) ۔

واقعاًایک سچے رہبر کی ذمہ داریوں میں سے ہے کہ صراحت سے اپنے پروگراموں اور اہداف کا اعلان کرے او روہ خود اور اس کے پیرو کار بھی ایک مشخص پروگرام کی پیروی کریں ۔ نہ یہ کہ اس کا ہدف ، روش اور طریقہ ابہام میں ہو یایہ کہ ہر ایک الگ الگ راہ پر چل رہاہو۔ اصولی طور پر سچے رہبروں کو جھوٹے رہبروں سے جد اپہچاننے کا یہی ایک راستہ ہے کہ یہ صراحت سے گفتگو کرتے ہیں اور ان کا راستہ واضح ہوتا ہے جب کہ جھوٹے کاموں کا چھپائے رکھتے ہیں اور ہمیشہ مبہم پہلو دار باتیں کرتے ہیں ۔

حضرت یوسف (علیه السلام) سے متعلق آیات کے بعد اس آیت کا آنا اس طرف اشارہ ہے کہ میری راہ و رسم خد اکے عظیم پیغمبر حضرت یوسف (علیه السلام) کی راہ و رسم سے جدا نہیں ہے ۔ وہ بھی ہمیشہ یہاں تک کہ گوشہ زندان میں بیٹھ کر بھی خدائے واحدو قہار کی طرف دعوت دیتے تھے اور اس کے اغیار کو اسماء بے مسمیٰ شمار کرتے تھے کہ جو تقلیداً جاہلوں کے ایک گروہ سے دوسرے تک پہنچے تھے ۔ جی ہاں ! میری روش او رتمام انبیاء کی روش یہی ہے ۔

گمراہ اور نادان قوموں کی طرف سے انبیاء پرہمیشہ یہ اعتراض ہوتا تھا کہ وہ انسان کیوں ہیں ، یہ ذمہ داری فرشتے کے کندھے پر کیوں نہیں رکھی گئی ؟ طبعاً زمانہ جاہلیت کے لوگ بھی پیغمبر اسلام پر ان کی عظیم دعوت کے جواب میں یہی اعتراض کرتے تھے لہٰذا قرآن مجید ایک مرتبہ پھر اعتراض کا جواب دیتا ہے : ہم نے تجھ سے پہلے کوئی پیغمبر نہیں بھیجے مگر یہ کہ وہ مرد تھے کہ جن کی طرف وحی نازل ہوتی تھی ، ایسے مرد کہ جو آباد شہروں اور عوامی مراکز سے اٹھتے تھے( وَمَا اٴَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ إِلاَّ رِجَالًا نُوحِی إِلَیْهِمْ مِنْ اٴَهْلِ الْقُرَی ) ۔

وہ بھی انہی شہروں اور آباد یوں میں دوسرے انسانوں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے او رلوگوں سے میل جول رکھتے تھے ۔ ان کی مصیبتوں ، تکلیفوں ، ضروتوں اور مشکلوں سے اچھی طرح آگاہ تھے ۔

آیت میں لفظ ” من اھل قریٰ“ آیا ہے ، یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ عربی زبان میں لفط ”قریة “ ہر قسم کے شہر آباد ی کو کہا جاتا ہے او ریہ لفظ ”بدو“ کے مقابلے میں استعمال ہوتا ہے جس کا معنی ہے بیان ۔ ہوسکتا ہے یہ ضمنی طور پر ا س طر اشارہ ہو کہ انبیاء الہٰی ہر گز بیابانوں نشینوں میں سے نہیں ہوتے تھے ( جیسا کہ بعض مفسرین نے تصریح بھی کی ہے ) کیونکہ بیابانوں میں گردش کرنے والے عام طور پر جہالت ، نادانی اور قساوت قلبی میں گرفتار ہوتے ہیں اور مسائل زندگی اور روحانی و مادی ضروریات سے بہت کم آگاہی رکھتے ہیں ۔

یہ ٹھیک ہے کہ سر زمین حجاز میں صحرا نورد اعراب او ربدو بہت زیادہ تھے لیکن پیغمبر اسلام مکہ میں مبعوث ہوئے کہ جو اس وقت نسبتاً بڑا شہر تھا اور یہ ٹھیک ہے کہ کنعان کا علاقہ سر زمین مصر کہ جس میں یوسف (علیه السلام) حکومت کرتے تھے کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا اسی بناء پر حضرت یوسف (علیه السلام) نے اس کے بارے میں لفظ ” بدو“ استعمال کیا لیکن ہم جانتے ہیں پیغمبر خد احضرت یعقوب (علیه السلام) اور ان کے بیٹے کبھی بھی صحرانورد اور بیاباں نشین نہیں تھے بلکہ ایک چھوٹے سے قصبے کنعان میں زندگی بسر کرتے تھے ۔

پھر مزید فرمایا گیا ہے : یہ جو تیری دعوت کے خلاف ہیں ، جب کہ تیری دعوت توحید کی طرف ہے ان کے لئے بہتر ہے کہ جائیں اور گزشتہ لوگوں کے آثار اور نشانات دیکھیں تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ ان کی مخالفتوں کا انجام کیا ہو گا ۔ کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ وہ دیکھ سکتے کہ گذشتہ قوموں کا انجام کیا ہوا( اٴَفَلَمْ یَسِیرُوا فِی الْاٴَرْضِ فَیَنْظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الَّذِینَ مِنْ قَبْلهِمْ ) ۔

کیونکہ یہ” زمین میں سیر “ روئے زمین پر گردش ۔ گزشتہ لوگوں کے آثار کا مشاہدہ اور عذاب الہٰی کی تباہ کن ضربوں کے نتیجے میں ان کے محلوں اور آبادیوں کی ویرانی بہترین درس ہے ۔ یہ زندہ اور محسوس درس ہے اور ایسا درس ہے جوسب کے لئے قابل لمس ہے ۔

آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : اور آخرت کا گھر پر ہیز گاروں کے لئے مسلماً بہتر ہے( وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَیْرٌ لِلَّذِینَ اتَّقَوْا ) ۔

کیا تمام عقل سے کام نہیں لیتے اور اپنی فکر و نظر کو کام میں نہیں لاتے( اٴَفَلاَتَعْقِلُونَ ) ۔کیونکہ یہاں کا گھر تو ناپائیدار ہے ۔ یہاں تو طرح طرح کے مصائب و آلام و تکلیفیں ہیں لیکن وہاں کا گھر جاودانی ہے اور ہر قسم کے نج و تکلیف اور پریشانی سے خالی ہے ۔

بعد والی آیت میں انبیاء کی زندگی کے حساس ترین اور زیادہ بحرانی لمحات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : خدائی پیغمبر حق کی طرف دعوت دینے کی راہ میں استقامت دکھاتے تھے اور ڈٹے رہتے تھے اور دوسری طرف گمراہ اور سر کش قومیں اپنی مخالفت کو اس طرح جاری رکھتی تھیں کہ آخر کار انبیاء مایوس ہو جاتے اور گمان کرنے لگتے کہ شاید مومنین کے چھوتے سے گروہ نے بھی ان سے جھوٹ بولا ہے اور اپنی دعوت کے راستے میں وہ تن نہا ہیں ۔ اس وقت کے جب ہر طرف سے ان کی امید ختم ہو گئی تو ہماری طرف سے نصرت و کامیابی آپہنچی جسے ہم چاہتے ہیں اور اہل پاتے ہیں ، نجات دیتے ہیں

( حَتَّی إِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا اٴَنّهُمْ قَدْ کُذِبُوا جَائَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَشَاءُ ) ۔(۱)

آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : ہمارا عذا ب و عقاب گنہگار اور مجرم قوم سے پلٹا ی انہیں جائے گا( وَلاَیُرَدُّ بَاٴْسُنَا عَنْ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِینَ ) ۔

یہ ایک سنت الٰہی ہے کہ جب مجرمین اپنے کام پر اصرار کرتے ہیں اور اپنے اوپر ہدایت کے دروازے بند کرلیتے ہیں اور ان پر اتمام حجت ہو جاتی ہے تو پھر خدا ئی عذا ب اور سزائیں ان کا تعاقب کرتی ہیں اور پھر کسی کی قدرت میں نہیں کہ انہیں پلٹا سکے ۔

اس آیہ کی تفسیر کے متعلق اور یہ کہ ” ظنوا انھم قد کذبوا “کس گروہ کے بارے میں ہے ، مفسرین کی مختلف آراء ہیں ۔

جو کچھ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے یہی تفسیر بہت سے علماء نے انتخاب کی ہے ۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انبیاء کا معاملہ اس حد تک پہنچ جاتا تھا کہ وہ گمان کرنے لگتے کہ بغیر کسی استثناء کے تما م لوگ ان کی تکذیب کریں گے یہاں تک کہ اظہار ایمان کرنے والے مومنین بھی اپنے عقیدے میں ثابت قدم نہیں ہیں ۔

اس کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ” ظنوا“ کا فاعل مومنین ہیں ۔ یعنی مشکلات اور بحران کا عالم یہ ہوتا کہ ایمان لانے والے یہ خیال کرتے کہ کہیں انبیاء کی طرف سے دیا جانے وال نصرت و کامیابی کا وعدہ غلط نہ ہو او ریہ سوئے ظن اور تزلزل نئے ایمان لانے والوں میں پیدا ہو نا کوئی بعید نہیں ہے ۔

بعض نے آیت کی ایک اور تفسیر بھی کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ” انبیاء بلا کش و سبہ بشر تھے ۔ جب انہیں زیادہ طولانی حالات کا سامنا ہو تا تو حالا ت کی اس سنگینی کا اثر ان پر بھی ہو تا ۔ وہ دیکھتے کہ تمام دروازے بند ہو گئے ہیں او رکشائش کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا ، طولانی حوادث کے تھپیڑمسلسل انہیں پڑتے اور جن مومنین کے صبر کا یمانہ لبریز ہو جاتا ان کی فریاد متواتر ان کے کانوں سے تکراتی رہتی ۔

جی ہاں ! اس حالت میں ایک ناپائیدار لمحے میں طبیعت بشری کی بناء پر بے اختیار یہ فکر ان کے دماغ سے ٹکراتی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کامیابی کا وعدہ ہی غلط ثابت ہو جائے یا ممکن ہے کامیابی کا وعدہ ایسے شرائط سے مشروط ہو کہ جو حاصل نہ ہوئی ہوں لیکن بہت جلد وہ اس فکر پر غالب آجاتے اور اسے صفحہ دل سے محوکردیتے او رامید کی بجلی ان کے دلوں میں کوندنے لگتی اور ا س کے ساتھ ہی کامیابی کے آثار اور ہرا ول دستے ظاہر ہو تے “ ۔

اس تفسیر کے لئے انہوں نے سورہ بقرہ کی آیہ ۲۱۴ سے شاہد پیش کیا ہے :

( حتی یقول الرسول و الذین اٰمنوا معه نصر الله )

یعنی ۔ گزشتہ قومیں شدائد ومصائب کے بھنور میں اس طر پھنس گئیں اور وہ خود سے لرزنے لگیں یہاں تک کہ ان کے پیغمبر اور ان پر ایمان لانے والے پکارکے کہتے تھے : کہاں ہے خدا کی نصرت .لیکن انہیں جواب دیا جاتا تھا :

( الا ان نصر الله قریب )

مفسرین کی ایک جماعت مثلاً طبرسی نے مجمع البیان میں اور فخر رازی نے تفسیر کبیر میں یہ احتمال ذکر کرنے کے بعد اسے بعید قرار دیا ہے کیونکہ مقامِ انبیاء سے اس قدر بھی بعید ہے ۔

بہر حال پہلی تفسیر زیادہ صحیح ہے ۔

اس سورہ کی آخری آیت ایک جامع مضمون کی حامل ہے ۔ ا س میں وہ تمام مباحث مختصر سے الفاظ میں جمع کردیئے گئے ہیں جو اس سورہ میں گزرے ہیں اور وہ یہ کہ حضرت یوسف (علیه السلام) ، ان کے بھائیوں ، گزشتہ انبیاء و مرسلین اور مومن و غیرہ قوموں کی سر گزشتاور حالات ِ زندگی میں غور وفکر کرنے والے تمام صاحبانِ عقل کے لئے عبرت کے عظیم درس موجود ہیں( لَقَدْ کَانَ فِی قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِاٴُوْلِی الْاٴَلْبَابِ ) ۔

گزرے ہوؤں کی سر گزشت ایک آئینہ جس میں فتح و شکست ، کامیابی و ناکامی ، خو بختی و بد بختی اور سر بلندی و ذلت سب کچھ بھی دیکھا جاسکتا ہے ، خلاصہ یہ کہ انسان اس آئینے میں وہ کچھ دیکھ سکتا ہے جو اس کی زندگی میں اہمیت اور منزلت رکھتا ہے اور وہ کچھ بھی دیکھ سکتا ہے جو ا س کی زندگی میں اہمیت و منزلت نہیں رکھتا ۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں گزشتہ قوموں اور عظیم رہبروں کے تمام تجر بات کا ماحصل نظر آتا ہے ۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس کا مشاہدہ کم عمر والے انسان کو تمام عالم بشریت کی عمر کے برابر طولانی زندگی والا کر دیتا ہے ۔

لیکن صرف اولو االباب اور صاحبان فکر ہی ہیں جو اس عجیب و غریب آئینہ سے ان نقوش عبرت کو دیکھ سکتے ہیں ۔

مزید فرمایا گیا ہے : جو کچھ کہا گیاہے کوئی گھڑا ہوا افسانہ اور خیالی داستان نہیں ہے( مَا کَانَ حَدِیثًا یُفْتَرَی ) ۔

یہ آیات جو تجھ پر نازل ہوئی ہیں اور گزشتہ لوگوں کو صحیح تاریخ کے چہرے سے پردہ ہٹاتی ہیں تیرے دماغ اور فکر کی پیدا وار نہیں ہیں ” بلکہ یہ ایک عظیم آسمانی وحی ہے ، گزشتہ انبیاء کی بنیادی کتب کی تصدیق کرتی ہے اور ان کی شہادت دیتی ہے “( وَلَکِنْ تَصْدِیقَ الَّذِی بَیْنَ یَدَیْهِ ) ۔

علاوہ ازیں جس چیز کی انسان کو ضرورت ہے اور جو کچھ اس کی سعادت اور تکامل کے لئے درکار ہے وہ ان آیات میں آیا ہے( وَتَفْصِیلَ کُلِّ شَیْءٍ ) ۔

اسی بناء پر یہ جستجو کرنے والوں کے لئے سرمایہ ہدایت ہے اور تمام ایمان لانے والوں کے باعثِ رحمت ہے( وَهُدًی وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ) ۔

گویا مندرجہ بالا آیت میں اس نکتے کی طرف اشارہ کرنا چاہتی ہے کہ کوبصورت اور دل انگیز داستانیں و بہت ہیں اور تمام قوموں میں ہمیشہ خیالی اور دلکش افسانے بہت رہے ہیں کہیں کوئی یہ تصور نہ کرے کہ یوسف (علیه السلام) کی سر گزشت یا قرآن میں آنے والے دیگر انبیاء کے واقعات بھی اسی قبیل سے ہیں ۔

یہ امر بہت اہم ہے کہ یہ عبرت انگیز اور جھنجھوڑ نے والے واقعات عین حقیقت ہیں اور ان میں ذرہ بھر انحراف نہیں اور نہ کوئی خارجی چیز ان میں شامل کی گئی ہے ۔ اسی بنا ء پر ان کی تاثیر بہت زیادہ ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خیالی افسانہ کتنا ہی جاذب نظر ، ہلادینے والا اور مرتب و منظم ہو اس کی تاثیر ایک حقیقی واقعے کی نسبت کچھ بھی نہیں ہے ..کیونکہ :

اولاً:۔ جس وقت سننے والا پڑھنے والا داستان کے زیادہ ہیجان انگیز لمحات تک پہنچتا ہے اور اس سے لرز نے لگتا ہے تو اچانک یہ خیال بجلی کی کرنٹ کی طرح اس کے دماغ میں پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایک خیالی تصوراتی چیز سے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔

ثانیاً:۔یہ واقعات اور داستانیں در اصل انہیں پیش کرنے والے کی فکر کو بیان کرتی ہیں ۔ وہ اپنے افکار اور خواہشات کا نچور داستان کے ہیرو کے کردار میں مجسم کرتا ہے ۔

لہٰذا ایک خیالی داستا ن ایک انسان کی فکر سے زیادہ کچھ نہیں ہے اور یہ چیز ایک عینی حقیقت سے بہت مختلف ہے ۔خیالی بات کہنے والے کی نصیحت اور وعظ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی لیکن انسانوں کی حقیقی تاریخ کی یہ صورت نہیں ہے وہ تو نتیجہ خیز ، پر بر کت اور ہر لحاظ سے راہ کشا ہوتی ہے ۔

سورہ یوسف (علیه السلام)کا اختتام

پروردگارا !

ہمیں چشم بینا ، گوش سنوا اور قلب دانا مرحمت فرما ۔

تاکہ ہم گزشتہ لوگوں کی سر گزشتوں سے اپنی نجات کے راستے تلاش کرسکیں اور ان مشکلات سے نکل جائیں کہ جن میں اس وقت ہم غوطہ زن ہیں ۔

خدا وندا !

ہمیں تیز نگاہ عطا فرما ۔

تاکہ ہم اقوم ِ عالم کے انجام سے سبق حاصل کریں اور کایابی کے بعد اختلاف و انتشار کی بناء پر دردناک ترین شکستوں سے دوچار ہونے والی اقوام کو ہم دیکھیں اور اس طرح ہم اس راستے پر نہ چلیں جس پر وہ قومیں چلی ہیں ۔

بارالٰہا !

ہمیں ایسی خالص نیت عطا فرما کہ ہم نفس کے دیو کے سر پر پاؤں رکھ دیں اور ایسی معرفت عطا فرما .کہ

ہم کامیابی پر مغرور نہ ہوں اور ایسی گزشت و بخشش عطا فرم کہ

اگر دوسرا ہم سے بہتر اکام انجام دے تو وہ کام ہم اس کے سپرد کردیں ۔

اگر یہ چیزیں تو ہمیں مر حمت فرمادے تو ہم تمام مشکلات پر کامیابی حاصل کرسکتے ہیں اور ہم اسلام و قرآن کا چراغ ساری دنیا میں روشن رکھ سکتے ہیں ۔

____________________

۱۔’ ’ حتیٰ“ محذوف جملے کے لئے غایت و انتہا کی شکل میں ذکر ہوا ہے اور اس کی تقدیر اس طرح ہے :ان الرسل اقاموا علی دوتهم و الکافرین بهم علی مخالفتهم حتیٰ ازا تیئس الرسل


سورہ رعد

آسمان و زمین اورسبزہ زار خدا کی نشانیاں ہیں

اس سورہ کے آغاز میں ہم پھر قرآ ن کے حروف مقطعات کا سامنا کررہے ہیں ۔ ایسے الفاظ قرآن کی ۲۹ سورتوں کی ابتداے میں آئے ہیں ۔ یہاں آنے والے حروف در اصل ” الم“ اور ” الر“ کا مرکب ہیں جو چند دیگر سورتوں کی ابتداء میں الگ الگ آئے ہیں ۔ درحقیقت یہ وہ واحد سورة ہے جس کی ابتداء میں ”المر“ نظر آتا ہے اور چونکہ ہر سورہ کی ابتداء میں جو حروف مقطعات آتے ہیں وہ اس سورہ کے مضامین کے ساتھ براہ راست تعلق رکھتے ہیں لہٰذا احتمال ہے کہ یہ ترکیب جو سورہ رعد کی ابتداء میں آئی ہے اس طرف اشارہ ہے کہ سورہ رعد کے مضامین ان دونوں قسم سورتوں کے مضامین کے جامع ہیں جن کی ابتداء میں ” الم“ اور الر“ آیا ہے اور اتفاق کی بات ہے کہ ان سورتوں کے مضامین میں غور و خو کرنے سے اس امر کی تائید ہو تی ہے ۔

قرآن کے حروف مقطعات کی تفسیر کے بارے میں اب تک ہم نے سورہ بقرہ ، سورہ آل عمران ، اور سورہ اعراف کے آغاز میں تفصلی بحث کی ہے کہ جس کی تکرار کی ہم ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

بہر حال اس سورہ کی سب سے پہلی آیت عظمت قرآن کے بارے میں گفتگو کرتی ہے۔

” یہ عظیم آسمانی کتاب کی آیات ہیں ”( تِلْکَ آیَاتُ الْکِتَابِ ) “۔(۱)

اور جو کچھ تیرے پر وردگار کی طرف سے تجھ پر نازل ہوا ہے وہ حق ہے “( وَالَّذِی اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ الْحَقُّ ) )۔اور اس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ حقائق عینی بیان کرنے والا جہاں آفرینش اور اس کے انسان سے روابط عینی کا شاہد ہے ۔

یہ ایسا حق ہے جو باطل میں ملا ہو انہیں ہے ۔ اسی لئے اس کی حقانیت کی نشانیاں اس کے چہرے سے ہویدار ہیں اور یہ مزید استدلال کی ضرورت نہیں رکھتا ۔

لیکن اس کے باوجود بوالہوس اور نادان لوگ ، کہ جن کی اکثریت ہے، ان آیات پر ایمان نہیں لاتے( وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لاَیُؤْمِنُونَ ) ۔

کیونکہ اگر انسان کو اس کی اپنی حالت پر چھوڑ دیا جائے اور وہ پاک دل معلم کی پیروی نہ کرے کہ جو راہِ حیات میں اس کی ہدایت اور تربیت کرے اور اس طرح ہوا و ہوس کی پیروی کرنے میں بھی آزاد ہو تو اکثر وہ اپنے آپ کو ان کے اختیار میں دے دیں تو پھر اکثریت راہِ حق پر چلے گی۔

اس کے بعد تو حید اور عالم آفرینش میں خدا کی نشانیوں کے اہم دلائل کی تشریح کی گئی ہے اور خاکی انسان کو آسمانوں کی وسعت میں گردش کرنے پر ابھارا گیا ہے اور ا س کے لئے ان عظیم کروں ، ان کے نظام ِ حرکت اور ان کے اسرار کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ وہ اس کی لامتناہی اور بے پایاں قدرت و حکمت کو جان سکے، کس قدر خوبصورتی سے فرمایا گیا ہے : خدا وہی ہے جو آسمانوں کو جیسا تم دیکھتے ہو بغیر ستون کے قائم کئے ہوئے ہے یا وہ انہیں غیر مرئی ستونوں کے ساتھ بلند کئے ہوئے ہے( اللهُ الَّذِی رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا )(۲)

” بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا “کے بارے میں دو تفسریں بیان کی ہیں :

پہلی یہ کہ ” جس طرح تم دیکھتے ہو آسمان بغیر ستون کے ہے ( گویا اصل میں ایسے تھا :( ترونها بغیر عمد ) ۔

دوسری یہ کہ ” ترونھا“ صفت ہے ”عمد “ کے لئے کہ جس کا معنی یہ ہے کہ آسمانون کو بغیر کسی مرئی ستون کے بلند کیا گیا ، جس کا لازمہ ہے کہ آسمان کے لئے ستون جو غیر مرئی ہے ۔

پہلی بات امام علی بن موسیٰ رضاعليه‌السلام سے حسین بن خالد کی حدیث میں آئی ہے ، وہ کہتا ہے :

میں نے امام ابو الحسنعليه‌السلام رضاعليه‌السلام سے پوچھا : یہ خدا کہتا ہے ”( والسماء ذات الحیک ) “ ( اس آسمان کی قسم جو راستوں کا حامل ہے ) اس سے کیا مراد ہے ؟

امامعليه‌السلام نے فرمایا :

اس آسمان کے زمین کی طرف راستے ہیں ۔

حسین بن خالد کہتے ہیں : میں نے عرض کیا:

یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آسمان زمین کے ساتھ ارتباطی راستہ رکھتا ہو حالانکہ خدا فرماتا ہے : آسمان ستون کے بغیر ہیں

اس پر امام نے فرمایا:

سبحان الله ! لیس الله یقوم : بغیر عمد ترونها

سبحان اللہ ! کیا خدا نے نہیں فرمایا : بغیر ایسے ستون کے جو قابل مشاہدہ ہو؟

فقلت بلیٰ

راوی کہتا ہے : میں نے کہا جی ہاں

فقال ثم عمد ولٰکن لاترونها

فرمایا : پس ستون تو ہیں لیکن تم انہیں نہیں دیکھ پاتے ۔ ۳

اس حدیث کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جو زیر بحث آیت کی تفسیر میں آئی ہے ، اس آیت نے ایک سائنسی حقیقت کے چہرے سے پردہ اٹھا یا ہے کہ جو نزول آیات کے وقت کسی پر آشکار نہیں تھی کیونکہ اس نے زمانے میں بطلیموس کی ہیئت اپنی پوری طاقت کے ساتھ دنیا کے سائنسی مسائل اور لوگوں کے افکار و نظر یات پر حکمران تھی اور اس کے مطابق آسمان ایک دوسرے پر پیاز کے چھلکے کی طر ح کرات کی شکل میں تھے ۔ ظاہر ہے اس طرح تو ان میں کوئی بھی معلق اور ستون کے بغیر نہ تھا بلکہ ہر ایک دوسرے کا سہارا لیئے ہو ئے تھا لیکن ان آیات کے نزول کے تقریبا ً ایک ہزار سال بعد انسانی علم ا س مقام پر پہنچا ہے کہ پیاز کے چھلکوں والے افلاک کی بات موہومی ہے ۔

واقعیت یہ ہے کہ آسمانی کرات میں سے ہر ایک اپنے مدار اور جگہ سے بغیر کسی سہارے کے ثابت اور معلق ہے اور وہ واحد چیز جو انہیں اپنی جگہ پر قائم رکھے ہوئے ہے وہ قوت جاذبہ اور دافعہ کا اعتدا ل ہے کہ جن میں سے ایک ان کے کرات کے جرم سے تعلق رکھتی ہے اور دوسری ان کی حر کت کے ساتھ مربوط ہے ۔

جاذبہ و دافعہ کا یہ اعتدال غیر مرئی ستون کی شکل میں آسمانی کرات کو اپنی جگہ پر قائم رکھے ہوئے ہے ۔

اس سلسلے میں ایک حدیث جو امیر المومنین علیعليه‌السلام سے نقل ہوئی ہے بہت ہی جاذب نظر ہے ۔ اس حدیث کے مطابق امام علیہ السلام نے فرمایا :

هٰذه النجوم التی فی السماء مدائن مثل مدائن فی الارض مربوطة کل مدینة الیٰ عمود من نور .(۴)

یہ ستارے جو آسمان میں ہیں یہ زمین کے شہروں کی طرح شہر ہیں کہ جن میں سے ہر شہر دوسرے شہر کے ساتھ ( ہر ستارہ دوسرے ستارے کے ساتھ ) نور کے ایک ستون کے ذریعے مربوط ہے ۔

کیا اس زمانے کے افق ادبیات میں قوت جاذبہ کی امواج اور ان کے قوتِ دافعہ میں اعتدال کے لئے ” غیر مرئی ستون “ اور ” نورانی ستو ن“ سے بڑھ کر روشن اور رسا تعبیر ہو سکتی تھی ؟(۵)

اس کے بعدفرمایا گیا ہے : خد انے بغیر ستون کے ان آسمانوں کو پیدا کرنے کے بعد کہ جو اس کی لامتناہی عظمت و قدرت کی واضح نشانی ہیں عرش کا کنٹرول سنبھالا، یعنی عالم ہستی کی حکومت اپنے قبضے میں لی( ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ ) ۔

”عرش“ کے معنی اور اس پر خدا کے تسلط کے مفہوم کے سلسلے میں سورہ اعراف کی آیہ ۵۴ کے ذیل میں کافی بحث ہو چکی ہے ۔(۶)

آسمانوں کی خلقت اور ان پر پروردگار کی حکومت کا ذکرکرنے کے بعد سورج اور چاند کی تسخیر کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : وہ وہی ہے جس نے سورج اور چاند کا مسخر کیااور ا نہیں فرمابر دار اور خدمت گزار قرار دیا( وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ) ۔

اس سے بڑھ کر اور کیا تسخیر ہو گی کہ یہ سب اس کے فرمان کے سامنے سر نگوں ہیں نیز انسانوں اور تمام زندہ موجودات کے خدمت گزار ہیں ، نور چھڑکتے ہیں ۔ ایک عالم کو روشن کرتے ہیں ، موجودات کا بستر گرم کرتے ہیں ،موجودات زندہ کی پرورش کرتے ہیں اور دریاؤں میں مد جزرپیدا کرتے ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ تمام حرکتوں اور بر کتوں کا سر چشمہ ہیں ۔

لیکن جہان مادہ کا یہ نظام جاودانی اور ابدی نہیں ہے اور شمس و قمر میں سے ہر ایک ، ایک مدت ِ معین تک اپنے راستے پر حرکت جاری رکھے ہوئے ہے( کُلٌّ یَجْرِی لِاٴَجَلٍ مُسَمًّی ) ۔

اس کے بعد قرآن مزیدکہتا ہے کہ یہ حرکات ، گر دشیں ، آمد و شد اور تبدیلیاں بغیر کسی حساب و کتاب کے اور بے نتیجہ و بے فائدہ نہیں ہیں بلکہ ” وہی ہے جو تمام کاموں کا تدبیر کرتا ہے “ اور ہر حرکت کے لئے حساب اور ہر حساب کے لئے ہدف اور مقصد نظر میں رکھتا ہے( یُدَبِّرُ الْاٴَمْر ) ۔

” وہ اپنی آیات تمہارے لئے شمار کرتا ہے اور ان کی باریکیاں تفصیل سے بیان کرتا ہے تاکہ تمہیں لقائے پر وردگار اور دوسرے جہان کا یقین پیدا ہو “( یُفَصِّلُ الآیَاتِ لَعَلَّکُمْ بِلِقَاءِ رَبِّکُمْ تُوقِنُونَ ) ۔

گزشتہ آیت انسان کو آسمانوں پر لے جاتی ہے اور عالم بالا میں اسے آیات الہٰی کی طر ف متوجہ کرتی ہے دوسری آیت انسان کو تو حیدی آیات کے مطالعے کی دعوت دیتی ہے ، انسان کو زمین ، پہاڑوں ، نہروں ، انواع و اقسام کے پھلوں اور سورج کے طلو ع و غروب پر غور کرنے کی طرف متوجہ کرتی ہے تاکہ وہ سوچ بچار کرے کہ اس مقام ِ آسایش و آرام پہلے کیا تھا اور وہ اس شکل میں کیسے آیا۔

قرآن کہتا ہے : وہ وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا( وَهُوَ الَّذِی مَدَّ الْاٴَرْضَ ) ۔اس نے اسے یوں پھیلایا کہ وہ انسانی زندگی اور نبا تات و حیوانات کی پرورش کے قابل ہو ۔ تند اور خطر ناک گڑھوں اور ڈھلوانوں میں پہاڑ داخل کردیئے اور انہیں پتھروں کو مٹی میں تبدیل کرکے پر کیا اور ان کی سطح کو قابل حیات بنایا حالانکہ ابتداء میں ان کے پیچ و خم ایسے تھے جن میں انسان کے لئے زندگی بسر کرنے کی گنجائش نہیں تھی ۔

اس جملے میں ” مد الارض“ سے یہ احتمال بھی ہے کہ جیسا کہ ماہرین ارض بھی کہتے ہیں ابتداء میں ساری زمین پانی کے نیچے ڈھکی ہو ئی تھی ۔ پھر پانی گڑھوں میں چلا گیا اور خشکیاں تدریجاً پانی سے نما یاں ہو نے لگیں اور دن بدن ان میں وسعت ِ پیدا ئش ہو تی گئی یہاں تک کہ انہوں نے موجوداہ صورت حال اختیار کرلی۔

اس کے بعد پہاڑوں کی پیدائش کے مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : خدا نے زمین میں پہاڑ بنائے( وَجَعَلَ فِیهَا رَوَاسِیَ ) ۔

وہی پہاڑ....کہ جن کا قرآن کی دوسری آیات میں ” اوتاد“ ( یعنی ” اونچی میخیں “ ) کے طور پر تعارف کروایا گیا ہے ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ نیچے سے پہاڑوں نے ایک دوسرے میں پنجے ڈالے ہوئے ہیں اور زرہ کی طرح ساری سطح زمین کوڈھانپا ہوا ہے تاکہ اندرونی دباؤ بھی ختم کر سکیں اور باہر سے چاند کی بہت زیادہ قوت جاذبہ اور مد جزر کو بھی روکے رکھیں ، اس طرح سے تزلزل اور دائمی زلزلون کو ختم کر سکیں اور کرہ زمین کو انسانی زندگی کے آرام و سکون کے لئے بر قرار رکھیں ۔

زمین کے پھیلانے اور بچھانے کے بعد پہاڑوں کا ذکر گویا اس طرف اشارہ ہے کہ زمین نہ اس طرح سے پھیلائی گئی ہے کہ اس میں کوئی پستی و بلندی نہ ہو کیونکہ اس صورت میں بارشیں اور پانی اس پر نہ ہوتے اور یا ہر جگہ ایک جوہڑ کی صورت میں تبدیل ہو جاتی اور اس کی سطح پر دائمی طوفان جاری رہتے لیکن پہاڑوں کی پیدا ئش سے ان دونوں صورتوں میں امان مل گئی ہے او رنہ ساری زمین پہاڑوں اور در وں پر مشتمل ہے کہ زندگی کے قابل ہی نہ ہو یہ زمین مجموعی طور پر ہموار بھی ہے اور اس میں پہاڑ اور درے بھی ہیں جو نوع بشر اور دیگر زندہ موجودات کی زندگی کے لئے بہترین ترکیب ہے ۔

اس کے بعد ان پانیوں اور دریاؤں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جو روئے زمین پر چلتے ہیں ۔ فرمایا گیا یت : اور اس میں دریا جاری ہیں( وَاٴَنْهَارًا )

زمین کی آبیاری کا نظام پہاڑوں سے ارتباط کا دریا ؤں سے تعلق بہت جاذب نظر ہے کیونکہ زمین کے بہت سے پہاڑوں کی چوٹیوں اور درّوں کے شگافوں میں برف کی صورت میں یہ دریا سٹور ہوتے ہیں جو تدریجا ً پانی کی شکل اختیار کرتے ہیں اور قانون جاذبہ کے مطابق بلند ترین مقامات سے زیر یں اور کشادہ علاقوں کی طرف سفر کرتے ہیں او ربغیر کسی قوت کی احتیاج کے سال بھر طبیعی طور پر بہت وسیع زمینوں کی آبیاری کرتے ہیں اور انہیں سیراب کرتے ہیں اگر زمینون میں مناسب ڈھلوان نہ ہوتی اور پانی اس شکل میں پہاڑوں پر ذخیرہ نہ ہوتا تو زیادہ تر خشک علاقوں کی آبیاری کا امکان نہ ہوتا اور اگر آبیاری ممکن بھی ہوتی تو بہت زیادہ مخارج کی ضرورت پڑتی۔

اس کے بعد غذائی مواد اور ان پھلوں کا ذکر ہے کہ جو زمین ، پانی اور سورج کی روشنی سے وجود میں آتے ہیں اور انسانی غذا کا بہترین وسیلہ ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے : اور تمام پھلوں میں سے جوڑا جوڑا زمین پر قرار دئیے گئے ہیں( وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِیهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ ) ۔

یہ اس طرف اشارہ ہے کہ پھل بھی زندہ موجودات ہیں اور ان میں بھی نر اور مادہ نطفے موجود ہوتے ہیں کہ جو تلقیح سے بار آور وہتے ہیں ۔ دانش مند ”لینہ “ اور مشہور ماہر نباتات ”سوئنڈی “ اٹھارھویں صدی عیسوی کے اواسط میں یہ بات معلوم کرنے میں کامیاب ہوئے کہ عالم نباتات میں زوجیت اور جفت کا معاملہ تقریباً عمومی اور کلی قانون ہے اور نباتات بھی حیوانات کی طرح نر اور مادہ کے نطفہ کی آمیزش سے بار آور ہوتے ہیں اور پھل دیتے ہیں جب کہ قرآن مجید نے اس سے گیارہ سو سال پہلے اس حقیقت کو فاش کردیا تھا ۔ یہ خود قرآن مجید کا ایک علمی معجزہ ہے کہ جس سے اس عظیم آسمانی کتاب کی عظمت ظاہر ہوتی ہے ۔

اس میں شک نہیں کہ لینہ سے پہلے بہت سے ماہرین اجمالی طور پر بعض نباتات میں نر اور مادہ کا وجود معلوم کرچکے تھے یہاں تک کہ عام لوگ بھی جانتے تھے کہ اگر کھجور کے درخت بور نہ دیں یعنی نر کا نطفہ مادہ حصوں ہر نہ چھڑ کا جائے تو وہ پھل نہیں دے گا لیکن کوئی شخص ٹھیک طرح سے یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ قانون تقریباً سب کے لئے ہے یہاں تک کہ لینہ اسے معلوم کرنے میں کامیاب ہوا مگر جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ قرآن صدیوں پہلے اس حقیقت کے چہرے سے پر دہ ہٹا چکا تھا ۔

انسان اور دیگر تمام زندہ موجودات کی زندگی ، بالخصوص نباتات ، گیاہ پھلوں کی زندگی رات و دن کے دقیق نظام کے بغیر ممکن نہیں لہٰذا آیت کے دوسرے حصے میں اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : خدا را ت کے ذریعے دن کو ڈھانپ دیتا ہے اور اس پر پردہ ڈال دیتا ہے( یُغْشِی اللَّیْلَ النَهَارَ )

کیونکہ اگر رات کا سکون بخش پر دہ نہ ہوتو سورج کا دائمی نور تمام سبزوں اور نبا تات کو جلا دے اور صفحہ زمین پر پھلوں کا بلکہ تمام زندہ موجودات کا کوئی نام و نشان باقی نہ رہے ۔

کرہ مہتاب میں اگر چہ دن ہمیشہ نہیں رہتا لیکن وہاں دنون کی لمبائی کرہ زمین کے پندرہ رات دن کے برا بر اور دن کے وسط میں کرہ ماہتاب کا درجہ حرارت اتنا زیادہ ہوجاتا ہے کہ اگر پانی یا کوئی دوسری بہنے والی چیز ہو تو ابلنے لگے بلکہ اس کا درجہ حرارت اس سے بھی بڑھ جائے ۔ کوئی زندہ موجود کہ جسے ہم زمین پر پہچانتے ہیں عام حالات میں یہ گرمی بر داشت نہیں کرسکتا ۔

آیت کے آخر میں فرمایا گیا : جو امور بیان کئے گئے ہیں ان میں آیات اور نشانیاں ہیں ، ان کے لئے جو غور و فکر کر تے ہیں( إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ )

وہ لوگ جو اس بدیع اور تعجب خیز نظام میں سوچ بچار کرتے ہیں نور و ظلمت کے نظام میں ، آسمانی کرات اور ان کی گردش کے نظام میں ، آفتاب و مہتاب کی نورافشانی اور ان کی انسانو ں کے لئے خد مت گزاری کے نظام میں ، زمین بچھانے کے نظام میں ، پہاڑوں اور دریاؤں کی پیدائش کے اسرار میں اور نباتات اور پھلوں کے نظام میں جی ہاں ! جو لوگ اس نظام میں غور و فکر کرتے ہیں وہ ان میں قدر تِ لایزال کی آیات اور پر وردگار کی حکمت ِ بے پایاں واضح اور روشن طور پر دیکھتے ہیں ۔

زیر بحث آخری آیت میں زمین شناسی اور نباتات شناسی کے جاذب ِ نظر نکات کے ایک سلسلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ ان میں سے ہر ایک ، ایک حساب شدہ نظامِ خلقت کی نشانی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ زمین میں مختلف قطعات اور ٹکڑے موجود ہیں کہ ایک دوسرے کے پاس ہمسائیگی میں ہیں( وَفِی الْاٴَرْضِ قِطَعٌ مُتَجَاوِرَاتٌ ) ۔

باوجودیکہ یہ سب قطعات ایک دوسرے سے متصل او رمر بوط ہیں ، ہر ایک کی ساخت اور استعداد خود اسی کے ساتھ مخصوص ہے ۔ بعض محکم ہیں اور بعض نرم ، بعض نمکین ہیں اور بعض شرین اور ان میں سے ہر ایک خاص نبا تات ، درختوں ، پھلوں اور زراعتوں کی پرورش کی استعداد رکھتا ہے ۔

انسان او رزمین میں رہنے والے جانداروں کی ضروریات چونکہ بہت زیادہ اور مختلف ہیں لہٰذا زمین کا ہر قطعہ گویا ان میں سے ایک ضرورت کو پورا کرنے کی مامور یت رکھتا ہے اور اگر سب قطعات ایک ہی طرح کے ہوتے یا یہ استعدادیں ان میں صحیح طور پر تقسیم نہ ہوتیں تو انسان غذائی مواد ، دواؤں اور دیگر ضروریات کے لحاظ سے کیسی کیسی کمیابیوں میں گرفتار ہوتا لیکن ماموریت کی اس حساب شدہ تقسیم کی وجہ سے مختلف قطعات زمین کو پر ورش کی مختلف استعدادیں دئے جانے کے باعث یہ ضروریات مکمل طور پر پوری ہو جاتی ہیں ۔

نیز یہ کہ ” اسی زمین میں انواع و قسام کے انگوروں ، اور زروعتوں او رکھجوروں کے باغات اور پودے موجود ہیں “( وَجَنَّاتٌ مِنْ اٴَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِیلٌ ) (۷)

تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ درخت اور ان کی مختلف انواع و اقسام کبھی تو ایک ہی پایہ و بنیاد پر اگتی ہیں او رکبھی مختلف پایوں اور بنیادوں پر( صِنْوَانٌ وَغَیْرُ صِنْوَانٍ ) ۔(۸)

” صنوان “ جمع ہے ”صنو“ کی کہ جو در اصل شاخ کے معنی میں ہے کہ جو درخت کے اصلی تنے سے نکلتی ہے اس بنا ء پر ” صنوان “ کا معنی ہے ” ایک تنے سے پھوٹنے والی مختلف شاخیں ۔

یہ جاذب نظر ہے کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ان شاخوں میں سے ہر ایک پھل کی ایک خاص قسم دیتی ہے ۔ یہ جملہ درختوں کی پیوند کی استعداد کے مسئلے کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے ۔ کبھی ایک ہی پایہ اور شاخ پر چند مختلف پیوند لگائے جاتے ہیں اور ان پیوندوں میں سے ایک نشو و نما حاصل کرتا ہے اور اس سے پھل کی ایک خاص قسم حاصل ہو تی ہے مٹی ایک ، جڑ ایک اور شاخ ایک لیکن اس کا پھل اور محصول مختلف ہوتا ہے ۔

زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ ” وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں( یُسْقَی بِمَاءٍ وَاحِدٍ )

ان تمام چیزوں کے باوجود ” ہم ان میں سے بعض درختوں کو بعض دوسرے درختوں پر پھل کے لحاظ سے بر تری اور فضیلت دیتے ہیں “( وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَی بَعْضٍ فِی الْاٴُکُلِ ) ۔

یہاں تک کہ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ ایک ہی درخت میں ای ایک ہی شاخ میں ایک ہی جنس کے پھل لگتے ہیں مگر ان کا ذائقہ اور رنگ مختلف ہوتا ہے ۔ اسی طرح پھلوں میں دنیامیں ہم نے بہت دیکھا کہ ایک ہی پودے میں بلکہ ایک ہی شاخ پر بالکل مختلف رنگوں والے پھل اگے ہوتے ہیں ۔

یہ کیسی تجربہ گاہ ہے او رکیسی اسرار آمیزلیبارٹری درختوں کی شاخوں میں لگائی جاتی ہے کہ جو بالکل ایک ہی مواد سے بالکل مختلف ترکیبات کو جنم دیتی ہے کہ جن میں سے ہر ایک انسانی ضروریات کے ایک حصے کو پورا کرتی ہے ۔

کیا ان اسرار میں سے ہر ایک کسی ایک حکیم و عالم مبداء کے وجود کی دلیل نہیں کہ جو اس نظام کی رہبری کرتا ہے ۔

یہ وہ مقام ہے کہ جہاں آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : ان امور میں عظمت ِ خدا کی نشانیاں ہیں ، ان کے لئے جو تعقل اور سوچ بچار رکھتے ہیں( إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ )

____________________

۱۔جیسا کہ ہم نے پہلے بھی ذکر کیا کہ ”تلک“ اسم اشارہ بعید ہے ، ا س کا انتخاب قریب کے اشارہ ” ھٰذہ“ کی بجائے قرآنی آیات کی عظمت و رفعت کے لئے کنایہ ہے ۔

۲۔ ”عمدہ “ ( بر وزن ” صمد “ )اور ”عمد “ ( بروزن ”دھل “) دونوں عمود بمعنی ”ستون “ کی جمع ہیں اگر چہ ادبی لحاظ سے پہلے جمع اور دوسرے کو اسم جمع سمجھا جا تا ہے ( مجمع البیان ۔ زیر بحث آیت کے ذیل میں )۔

۳۔ یہ حدیث تفسیر بر ہان میں تفسیر علی بن ابراہیم اور تفسیر عیاشی کے حوالے سے نقل کی گئی ہے ۔ ( برہان جلد ۲ص۲۷۸)

۴۔سفینة البحار جلد ۲ ص ۵۷۴ منقول از تفسیر علی بن ابراہیم قمی۔

۵-مزید وضاحت کے لئے کتاب ” قرآن و آخرین پیامبر “ ص ۱۶۶ کے بعد کی طرف رجوع فرمائیں ۔

۶۔ تفسیر نمونہ جلد۶ ص۱۸۰کی طرف رجوع فرمائیں ۔

۷۔” اعناب“ ”عنب “ کی جمع ہے اور ” نخٰل “ ” نخل “ کی جمع ہے اور شاید جمع کا صیغہ یہاں انگور او رکھجور کی مختلف انواع کی طرف اشارہ ہو کیونکہ ان دو قسمو ں کے پھلوں میں سے ہر ایک کی شاہد مثال ہیں ذائقے اور رنگ کے اعتبار سے کئی سو اقسام ہیں ۔

۸۔”صنو“ کے لئے ایک او رمعنی بھی ذکر ہوا ہے او روہ ہے ” شبیہ“ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ معنی بھی مذکورہ بالا معنی سے لیا گیا ہے ۔


آیات ۱،۲،۳،۴،

( بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ )

۱ ۔( المر تِلْکَ آیَاتُ الْکِتَابِ وَالَّذِی اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ الْحَقُّ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لاَیُؤْمِنُونَ ) ۔

۲ ۔( اللهُ الَّذِی رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلٌّ یَجْرِی لِاٴَجَلٍ مُسَمًّی یُدَبِّرُ الْاٴَمْرَ یُفَصِّلُ الآیَاتِ لَعَلَّکُمْ بِلِقَاءِ رَبِّکُمْ تُوقِنُونَ ) ۔

۳ ۔( وَهُوَ الَّذِی مَدَّ الْاٴَرْضَ وَجَعَلَ فِیهَا رَوَاسِیَ وَاٴَنْهَارًا وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِیهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی اللَّیْلَ النَهَارَ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ ) ۔

۴ ۔( وَفِی الْاٴَرْضِ قِطَعٌ مُتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِنْ اٴَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِیلٌ صِنْوَانٌ وَغَیْرُ صِنْوَانٍ یُسْقَی بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَی بَعْضٍ فِی الْاٴُکُلِ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ ) ۔

ترجمہ

۱ ۔ الٓمٓر یہ ( آسمانی ) کتاب کی آیات ہیں اور جو کچھ تیرے پر وردگار کی طرف سے تجھ پر نازل ہوا ہے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے ۔

۲ ۔خدا وہی ہے جس نے آسمان کو قابل مشاہدہ ستون کے بغیر پیدا کیا پھر عرش کا کنٹرول سنبھالا ( اور تدبیر عالم کی مہار اپنے ہاتھ میں لی) اور آفتا ب و مہتاب کو مسخر کیا کہ ان میں سے ہر ایک معین زمانے تک حرکت رکھتے ہیں ، وہی کاموں کی تدبیر کرتا ہے ، ( تمہارے لئے ) آیات کی تشریح کرتا ہے تاکہ تم اپنے پروردگار کی ملاقات کا یقین حاصل کرلو۔

۳ ۔ وہ وہی ہے جس نے زمین کو بچھایا اور اس میں پہاڑ اور نہریں بنائیں اور اس میں تمام پھولوں کے دو جفت پیدا کئے۔ وہی دن کو رات ( کا سیاہ پردہ ) اوڑھا تا ہے ۔ ان میں ان کے لئے آیات ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں ۔

۴ ۔اور روئے زمین میں ایسے قطعات ہیں جو ایک دوسرے سے ملے ہونے کے باجود ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ نیز انگور کے باگات ، کھیتیاں اور نخلستان ہیں کہ جو کبھی ایک ہی پائے پر اگتے ہیں اور کبھی دوپایوں پر ۔ وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں ۔ اس کے باوجود ان میں سے بعض کو پھل لحاظ سے ایک دوسرے پر بر تری دیتے ہیں ۔ ان میں ان کے لئے نشانیاں ہیں جو اپنی عقل استعمال کرتے ہیں ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ توحید اور قیامت میں تعلق:

زیر بحث پہلی آیت کے آغاز میں اسرار خلقت اور توحید کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن آیت کے آخر میں ہے :

( یفصل الآیات لعلکم بلقاء ربکم توقنون )

خدا تمہارے لئے اپنی آیات کی تشریح کرتا ہے تاکہ تم قیامت او رمعاد پر ایمان لے آؤ۔

یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ مسئلہ توحید اور مسئلہ معاد کے درمیان کونسا تعلق ہے کہ جس کی بناء پر ان کا ذکر ایک دوسرے کے نتیجے کے حوالے سے کیا گیا ہے ۔

اس نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے کہ وہ اس کے اعادہ کی بھی قدرت رکھتا ہے جیسا کہ سورہ اعراف کی آیت ۲۹ میں ہے :( کما بداٴکم تعودون )

جیسے اس نے تمہیں ابتداء میں پیدا کیا ہے ویسے ہیں پلٹا ئے گا ۔

اور سورہ یٰس کے اواخر میں ہے :

کیا وہ خدا کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ، ان کی مثل ایجاد کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ۔

ثانیا ً جیسا کہ ہم معاد و قیامت می بحث میں کہا ہے کہ اگر عالم آخرت نہ ہوتو اس جہان کی خلقت فضول اور بیہودہ ہوگی کیونکہ یہ زندگی اس وسیع جہان کی خلقت کا مقصد نہیں ہوسکتی ۔ قرآن مجید معاد سے مربوط آیات ( مثلا ً سورہ واقعہ آیہ ۶۲) میں کہتا ہے :( ولقد علمتم النشاٴ ة الاولیٰ فلولا تذکرون )

تم نے جو اس جہان کو دیکھا تو پھر دھیان کیوں نہیں دیتے کہ یقینا اس کے بعد ایک اور جہان ہو گا ۔ ۱

۲ ۔قرآن کی سائنسی معجزات :

قرآن مجید میں بہت سے آیات ایسی ہیں جو ایسے سائنسی اسرار کے ایک پہلو سے پر دہ اٹھاتی ہیں کہ جو اس زمانے کے ماہرین کی نظروں سے پو شیدہ تھے اور یہ امر خود قرآنی اعجاز اور عظمت کی نشانی ہے ۔ وہ محققین کہ جنہوں نے اعجاز قرآن کے سلسلے میں بحث کی ہے اکثر و بیشتر ان آیات کے ایک حصے کی طرف اشارہ کیا ہے ۔

ان میں سے ایک آیت سطور با لا میں ذکر ہو ئی ہے کہ جو عالم نباتات میں زوجیت اور جفت ہونے کے بارے میں گفتگو کرتی ہے ۔ جیسا کہ ہم نےے کہا ہے کہ عالم نباتات میں زوجیت کا مسئلہ جزوی طور پر عرصہ قدیم سے جانا پہچاناتھا لیکن ایک کلی اور عمومی قانون کے طور پر پہلی مرتبہ یورپ میں اٹھارھویں صدی کے وسط میں ایک اٹلی سائنسداں ” لینہ “ نے اس کا انکشاف کیا لیکن قرآن مسلمانوں کو ایک ہزار سال بلکہ اس سے بھی قبل اس کی خبر دے چکا تھا ۔

یہ مسئلہ سورہ لقمان کی آیہ ۱۰ میں بھی بیان ہوا ہے ، ارشاد ہوتا ہے :

( و انزلنا من السماء ماءً فانبتنا فیها من کل زوج کریم )

ہم نے آسمان سے پانی نا زل کیا اور اس کے ذریعے ہم نے زمین پر زوج اور جفت سے مفید گیا ہ اُگا یا ۔

بعض دوسری آیات میں بھی اس مسئلے کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔

۳ ۔ سورج اور چاند کی تسخیر :

ہم نے مندرجہ بالا آیات میں پڑحا کہ خد انے سورج اور چاند کو مسخر کیا ہے ۔ قرآن مجید میں بہت سے ایسی آیات ہیں کہ جو کہتی ہیں کہ آسمانی کرات ، زمینی موجودات اور رات دن وغیرہ سب انسان کے لئے مسخر ہیں ، ایک موقع پر ہے :

( و سخر لکم الانهار ) خدا نے تمہارے لئے دریاؤ ں کو مسخر کیا ہے ۔ ( براہیم ۔ ۳۲)

ایک اور موقع پر ہے :( و سخر لکم الفلک ) تمہارے لئے کشتی کو مسخر کیا ہے ۔( ابراہیم ۔ ۳۲)

ایک اور جگہ ہے :( وسخر لکم اللیل و النهار ) رات اور دن کو تمہارے لئے مسخر کیا ہے ۔ ( نحل ۔ ۱۲)

اور مقام پر ہے :( سخر لکم الشمس و القمر )

سورج اور چاند تمہارے لئے مسخرکئے ہیں ۔( ابراہیم ۔ ۳۲)

ایک اور جگہ پرہے :( وهو الذی سخر لبحر لتاٴکلو ا منه لحماً طریاً )

تمہارے لئے دریا مسخر کیا تاکہ اس سے تازہ گوشت کھا ؤ( نحل ۔ ۱۴)

ایک او رمقام پر ہے :( الم تر ان الله سخر لکم ما فی الارض )

کیا دیکھتے نہیں ہو کہ خدا نے ان تمام چیزوں کو تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے جو روئے زمین پر ہیں (حج۔ ۶۵)

ایک اور موقع پر ہے :( وسخر لکم ما فی السمٰوٰت وما فی الارض جمیعاً منه )

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کو خد انے تمہارے لئے مسخر کیا ہے ( جا ثیہ ۔ ۱۳)

ان تمام آیات سے مجموعی طور پر اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ :

اولاً:انسان اس جہان کا اکمل اور ترقی یافتہ موجود ہے اور اسلام کی جہان بینی کی نظر سے اسے اس قدر مقام دیا گیا ہے کہ دوسرے تمام موجودات کو اس انسان کے لئے مسخر کر دیا گیا ہے کہ جو ” خلیفة اللہ “ ہے اور اس کا دل مقام ِ نور خد اہے ۔

ثانیاً:ان آیا ت میں تسخیر ان معنی میں نہیں کہ یہ تمام چیزیں انسان کے تحت فرمان ہیں بلکہ اس قدر ہے کہ یہ اس کے فائدے اور منافع کے لئے اور اس کی خدمت کے لئے حرکت کررہے ہیں ۔

مثلاًآسمانی کرات اس کے لئے نور افشانی کرتے ہیں یا ان سے دیگر فوائد حاصل ہوتے ہیں ، وہ اس کی تسخیر میں ہیں ۔ کو ئی مکتب و مذہب اس قدر بلند انسانی مقام کا قائل نہیں اور کسی فلسفہ میں انسان یہ حیثیت اور مقام نہیں رکھتا اور یہ دین اسلام کی خصوصیت ہے کہ اس نے انسانی وجود کی اہمیت اس حد تک بلند کر دی ہے کہ جس سے آگاہی انسانی تربیت اور ارتقاء کے لئے گہرے اثرات مرتب کرتی ہے کیونکہ جب انسان یہ سوچے کہ خدا نے یہ تمام عظمتیں اسے بخشی ہیں اور۔

ابر و باد ماہ خورشید در کار ند

یعنی بادل، ہوا ، چاند ، سورج سب محو کار ہیں اور سب اس کے فرمابر دار اور خدمت گزار ہیں ۔

ایسا انسان غفلت اور پستی کے لئے تیار نہیں ہوتا ، اپنے آپ کو خواہشات و شہوات کا اسیر نہیں کرتا اور ثروت و مقام اور زرو زور کا غلام، نہیں بنات.... وہ غلامی کی زنجیریں توڑ کر آسمانوں کی اوج پر پر واز کرتا ہے ۔

کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ سورج اور چاند انسان کے مسخر نہیں ہیں حالانکہ وہ اپنی نورافشانی سے حیاتِ انسانی کو روشن اور گرم کئے ہوئے ہیں ۔ اگر سورج کی روشنی نہ ہوتو کرہ ارض پر کوئی جنبش و حرکت نہ ہو۔

دوسری طرف سورج کی قوت جاذبہ زمین کی حرکت کو اس کے مدار میں منظم کرتی ہے ۔

دریاؤں اور سمندروں کا مدو جزر چاند کی مدد سے پیدا ہوتا ہے کہ جو خود بہت سی برکات اور منافع کا سر چشمہ ہے ۔

کشتیاں ، دریا،نہریں اور دن رات ہر ایک کسی نہ کسی طرح انسان کی خدمت کرتے ہیں اور اس کے فائدے کے لئے رواں دواں ہیں ۔

ان تسخیرات اور ان کے حساب شدہ نظام میں غور و فکر کیا جائے تو یہ خالق کی عظمت ، قدرت اور حکمت کی واضح دلیل ہیں ۔


آیات ۵،۶

۵ ۔( وَإِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ اٴَئِذَا کُنَّا تُرَابًا اٴَئِنَّا لَفِی خَلْقٍ جَدِیدٍ اٴُوْلَئِکَ الَّذِینَ کَفَرُوا بِرَبِّهِمْ وَاٴُوْلَئِکَ الْاٴَغْلَالُ فِی اٴَعْنَاقِهمْ وَاٴُوْلَئِکَ اٴَصْحَابُ النَّارِهُمْ فِیهَا خَالِدُونَ ) ۔

۶ ۔( وَیَسْتَعْجِلُونَکَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهمْ الْمَثُلَاتُ وَإِنَّ رَبَّکَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِلنَّاسِ عَلَی ظُلْمِهمْ وَإِنَّ رَبَّکَ لَشَدِیدُ الْعِقَابِ ) ۔

ترجمہ

۵ ۔اور اگر تو( کسی چیز پر) تعجب کرنا چاہتا ہے تو ان کی گفتگو عجیب ہے کہ جو کہتے ہیں کہ کیا جس وقت ہم مٹی لوگئے تو ہم دوبارہ زندہ ہو ں گے اور کیا )ہم نئی خلقت کے ساتھ پلٹ آئیں گے۔ وہ ایسے لوگ ہیں کہ جو اپنے پر وردگار سے کافر ہو گئے ہیں اور یہ وہ ہیں جن کی گردن میں زنجیریں اور یہ اہل نار ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

۶ ۔ وہ تجھ سے حسنہ ( اور رحمت ) سے پہلے جلدی سے سیئہ (اور عذاب) کا تقاضا کرتے ہیں حالانکہ ان سے پہلے عبرت انگیز بلائیں اور مصیبتیں نازل ہوئی ہیں اور اگر چہ لوگ ظلم کرتے ہیں تیرا پروردگار ان کے لئے صاحب ِ مغفرت ہے اور تیرا پر وردگار عذابِ شدید بھی رکھتا ہے ۔

____________________

۱ -مزید وضاحت کے لئے کتاب ” معاد و جہان پس از مرگ “ کی طرف رجوع کریں ۔


قیامت کے بارے میں کافروں کا تعجب

عظمت الہٰی کی نشانیوں کے بارے میں جو آیات گزری ہیں ان کے بعد زیر بحث پہلی آیت میں مسئلہ معاد پیش کیا گیا ہے او ر مسئلہ مبداء و معاد میں جو خاص ربط اور تعلق ہے اس کی بنیاد پر اس بحثکو پختگی دی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے اگر تم کسی چیز پر تعجب کرنا چاہتے ہو تو ان کی اس بات پر تعجب کرو کہ کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے تو ہمیں نئی خلقت دی جائے گی( وَإِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ اٴَئِذَا کُنَّا تُرَابًا اٴَئِنَّا لَفِی خَلْقٍ جَدِید ) ۔(۱)

یہ وہی تعجب ہے جو تمام جاہل قوموں کو مسئلہ معاد کے بارے میں تھا ۔ وہ موت کے بعد حیات ِ نواور خلقت ِ جدید کو محال سمجھتے تھے حالانکہ گزشتہ آیات میں اور دیگر قرآنی آیات میں اس مسئلے کا اچھی طرح سے جواب دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ آغاز ِ خلقت اور تجدید ِ خلقت میں کیا فرق ہے وہ ذات جو آغاز ِ خلقت میں انہیں پیدا کرنے پر قادرتھی وہ اس پر بھی قادر ہے کہ ان کے بدن کو حیات نو عطا کرے ۔ گویا یہ اپنی خلقت کی ابتدا کو بھول چکے ہیں تبھی تو اس کی تجدید کے بارے میں بحث کرتے ہیں ۔

پہلے کہتا ہے : یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پر ور دگار کے کافر ہو گئے ہیں( اٴُوْلَئِکَ الَّذِینَ کَفَرُوا بِرَبِّهِمْ ) ۔کیونکہ اگریہ لوگ خدا کو اور اس کی ربوبیت کو قبول کرتے توپھر معاد اور تجدید حیاتِ انسانی کے بارے میں شک نہ کرتے لہٰذا مسئلہ معاد میں ان کی خرابی مسئلہ توحید و ربوبیت ِ الہٰی کے بارے میں ان کی خرابی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے ۔

دوسرا یہ کہ کفر اور بے ایمانی اختیار کرنے کی وجہ سے اور توحید کے پر چم آزادی کے سائے سے نکل جانے کی وجہ سے انہوں نے اپنے آپ کو طوق و زنجیر میں گرفتار کر لیا ہے ۔ انہوں نے بت پرستی ، ہوسپرستی ، مادہ پرستی اور جہالت و خرافات کے طوق اپنے ہاتھوں اپنی گردن میں ڈالے ہیں ” اور ان کی گردن میں یہ طوق ہیں “( وَاٴُوْلَئِکَ الْاٴَغْلَالُ فِی اٴَعْنَاقِهمْ ) ۔

” اور اس کیفیت اور کردار کی وجہ سے ایسے لوگ یقینا اہل دوزخ ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے“ اور ان کے لئے اس کے سوا کوئی نتیجہ اور توقع نہیں ہے( وَاٴُوْلَئِکَ اٴَصْحَابُ النَّارِهُمْ فِیهَا خَالِدُونَ )

بعد والی آیت میں مشرکین کی ایک اور غیر منطقی بات پیش کی گئی ہے ۔ فرمایا : بجائے اس کے کہ وہ تیرے ذریعے خدا سے رحمت کا تقاضا کرتے عذاب ، کیفر کردار اور سزا میں تعجیل کا تقاضا کرتے ہیں( وَیَسْتَعْجِلُونَکَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ ) ۔

یہ قوم اس قدر ہٹ دھرم اور جاہل کیوں ہے ۔ لوگ یہ کیوں نہیں کہتے کہ اگر تو سچ کہتا تو ہم اس طرح یا س رحمت ِ خدا نازل کر ، الٹا کہتے ہیں کہ اگر تیری بات سچی ہے تو ہم پر عذاب ِ خدا نازل کر۔

کیا ان کا خیا ل ہے کہ خدا کی سزا اور عذاب کی بات غلط ہے ” حالانکہ گزشتہ زمانوں میں سر کش امتوں پر عذاب نازل ہو ئے “ جن کی خبریں صفحاتِ تاریخ پر اور زمین کے دل پر ثبت ہیں( وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهمْ الْمَثُلَاتُ )(۲)

اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے : لوگوں کی برائیوں ، قباحتوں اور ظلم و ستم کے مقابلے میں خدا صاحبِ مغفرت ہے اور شدید العقاب بھی ہے( وَإِنَّ رَبَّکَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِلنَّاسِ عَلَی ظُلْمِهمْ وَإِنَّ رَبَّکَ لَشَدِیدُ الْعِقَابِ ) ۔

اس کی شدت عقاب و سزا اس کی رحمت ِ عام کے لئے ہر گز رکاوٹ نہیں جیسا کہ اس کی رحمت ِ عام شد ِت عقاب و سزا کا وٹ نہیں ہے ۔

یہ اشتباہ نہیں ہو نا چاہئیے کہ وہ ظالموں کو موقع دیتا ہے کہ جو کچھ وہ چاہیں کریں کیونکہ ایسے مواقع پرتو وہ شدید العقاب ہے ۔ پر وردگار کی یہ دو صفات یعنی ”ذو مغفرة“ اور ” شدید العقاب“ کے آثار کا تعلق خود انسان کے وجود سے ہے ۔

____________________

۱۔”ان تعجب فعجب قولهم“ ۔ اس جملے کا در حقیقت یہ معنی ہے کہ اگر تو چاہتا ہے کہ کسی چیز کے بارے میں تعجب کرے تو ا ن کی بات پر تعجب کرو کیونکہ یہ بہت ہی تعجب کی بات ہے اور ” فعجب قولھم“ در اصل جملہ شرطیہ کی جزا ہے ۔

۲۔”مثلات“مثلة“کی جمع ہے ۔ یہ بلاؤں اور سزا ؤں کے معنی میں ہے جو گزشتہ امتوں پر اس طرح سے نازل ہوئیں کہ ضرب المثل ہوگئیں ۔


چند اہم نکات

۱ ۔ خلقت ِ نو کے بارے میں تعجب کیوں ؟ قرآن کی مختلف آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کی مشکلات میں سے ایک مشرک قوموں کے سامنے معادِ جسمانی کے اثبات کا مسئلہ تھا کیونکہ وہ لوگ ہمیشہ اس بات پر تعجب کرتے تھے کہ کس طرح انسان مٹی ہونے کے بعد دوبارہ حیات کی طرف پلٹ آئے گا ۔ یہ جو محل بحث آیات میں ہے :

( ء اذا کنا تراباً ء انّا لفی خلق جدید )

کیا جب ہم مٹی ہو جائیں تو دوبارہ حیات ِ نو پائیں گے۔

ایسی تعبیرات تھوڑے بہت فرق کے ساتھ قرآن کی سات دیگر آیات میں موجود ہیں ، جو یہ ہیں :

مومنون ۔ ۳۵ ۔ مومنون ۸۲ نمل ۔ ۶۷ صافات ۔ ۵۳ ق ۳ اور واقعہ ۔ ۴۷

اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ اعتراض ان کی نگاہ میں بہت ہی اہم تھا ۔ تبھی تو ہر جگہ اسی کا سہارا لیتے تھے لیکن قرآن مجید بہت ہی مختصر عبارتوں میں انہیں دو ٹوک اور قاطع جواب دیتا ہے ۔ مثلا ً سورہ اعراف کی آیہ ۲۹ میں :

( کمابداء کما تعودون )

جیسا کہ ابتداء میں تمہیں پیدا کیا گیا ہے اسی طرح پھر لوٹا ئے جاؤ گے۔

چند الفاظ میں یہ ایک دندان شکن جواب ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا گیا ہے :( وهو اهوان علیه )

تمہاری بازگشت تو تمہارے آغاز سے بھی سادہ اور آسان ہے ۔ ( روم ۔ ۲۷)

کیونکہ ابتداء میں تم کچھ بھی نہیں تھے لیکن اب کم از کم بوسیدہ ہڈی یا مٹی کی صورت میں تو تم موجود ہو۔

بعض مقامات پر قرآن لوگوں کو ہاتھ پکڑ کر وسیع کائنات زمین و آسمان میں عظمت قدرتِ خدا کا مشاہدہ کرواتا ہے او رکہتا ہے : کیا وہ ذات جو یہ سب کرات ، کہکشائیں ، ثوابت اور سیارے پیدا کرسکتی ہے اس کے اعادہ پر قادر نہیں ہے ۔(یٰسٓ۔ ۸)

۲ ۔کیا خدا ستمگر وں کو بخش دیتا ہے :مندرجہ بالاآیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ پر ور دگار لوگوں کے ظلم کے باوجود صاحبِ مغفرت و بخشش ہے۔ مسلم ہے کہ اس سے یہ مراد نہیں کہ خد ااپنی عفو و بخشش ان ظالموں کے شامل حال کرتا ہے جو اپنے ظلم پر اصرار کرتے ہیں بلکہ وہ چاہتا ہے کہ ظالموں کو بھی اس وسیلے سے بازگشت اور اپنی اصلاح کا امکان فراہم کرے ورنہ دوسرے جملے میں ان کے انجام کی طرف اشارہ موجود ہے کہ ” تیرا پر ور دگار شدید العقاب ہے “۔

ضمنا ً اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہانِ کبیرہ ( کہ جن میں سے ایک ظلم ہے ) بھی قابل بخشش ہیں ( تمام تر شرائط کے ساتھ ) یہ آیت اور اس جیسی دیگر آیات اس غلط بات کا دو ٹوک اور قاطع جواب دیتی ہے جو قدیم زمانے سے معتزلہ کے حوالے سے نقل ہو ئی ہے کہ جو کہتے ہیں کہ گناہاں کبیرہ کبھی بھی نہیں بخشے جائیں گے ۔

بہر حال پروردگار کی ” وسیع مغفرت“ اور اس کے ” شدیدعقاب“ کا ذکر در حقیقت سب کو میانہ راہ پر اور خوف و رجا کے درمیان لے آتا ہے کہ جس کا اہم عامل انسان کی تربیت ہے کہ نہ بالکل رحمتِ الہٰی سے مایوس ہو جائے چاہے اس کا جرم سنگین بھی ہو اور نہ ہی کبھی اپنے آپ کو اس کی سزا سے مامون سمجھے چاہے اس کا گناہ خفیف ہی کیوں نہ ہو۔ اسی لئے ایک حدیث میں پیغمبر اکرم سے روایت ہے :

لولا عفو الله وتجا وزه ما هنا احد العیش ، ولولا وعید الله و عقابه لاتکل کل واحد

اگر خدا کی عفو و بخشش نہ ہوتی تو زندگی ہر گز کسی کے حلق میں گوارانہ ہوتی اور اگرخدائی تہدیدیں اور سزائیں نہ ہوتیں تو ہر شخص اس کی رحمت کے نام پر جو چاہتا انجام دیتا۔۱

یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ جو لوگ گناہ انجام دیتے ہوئے بڑے غرور سے کہتے ہیں کہ ” خد اکریم ہے “ در حقیقت انہوں نے خدا کے کرم پر بھروسہ نہیں کیا وہ جھوٹ بولتے ہیں اور اصل میں وہ پروردگار کی سزا اور عذاب سے بے اعتنائی کرتے ہیں ۔

____________________

۱۔ مجمع البیان ص ۲۷۸ جلد ۵ و ۶ زیر بحث آیت کے ذیل میں ، تفسیر قرطبی جلد ۶ ص ۳۱۴۔


آیت ۷

۷ ۔( وَیَقُولُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْلاَاٴُنزِلَ عَلَیْهِ آیَةٌ مِنْ رَبِّهِ إِنَّمَا اٴَنْتَ مُنذِرٌ وَلِکُلِّ قَوْمٍ هَادٍ ) ۔

ترجمہ

۷ ۔ اور وہ جو کافر ہو گئے کہتے ہیں کہ اس کے پر وردگار کی طرف سے اس پر آیت( اور معجزہ) کیوں نازل نہیں ہوا۔ تُوتو صرف ڈرانے والاہے اور ہر گروہ کے لئے ہدایت کرنے والا ہوتا ہے ( اور یہ تو سب بہانے ہیں نہ کہ حقیقت کی جستجو)۔

پھر بہانہ سازی

گزشتہ آیات میں کچھ اشارہ مسئلہ توحید کے متعلق کئے گئے ہیں اور ایک اشارہ مسئلہ ” معاد کی طرف کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد زیر بحث آیت میں ہٹ دھرم مشرکین کی طرف سے ” نبوت“ کے بارے میں ایک اعتراض بیان کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہو تا ہے : کفار کہتے ہیں : اس کے پروردگار کی طرف سے اس پرکیوں کوئی معجزہ او ر نشانی نازل نہیں ہوئی( وَیَقُولُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْلاَاٴُنزِلَ عَلَیْهِ آیَةٌ مِنْ رَبِّهِ )

واضح ہے کہ پیغمبر کی ذمہ داریوں میں سے ایک یہ ہے کہ اپنی حقانیت کی سند کے طور پر اور وحی الہٰی سے اپنے تعلق کے ثبوت میں معجزات پیش کرے اور متلاشیانِ حق نبوت کی دعوت میں شک و تردید کے موقع پر حق رکھتے ہیں کہ معجزے کا مطالبہ کریں لیکن اگر نبوت کے دلائل دوسرے طریقے سے آشکار اور واضح ہو ں تو پھر وہ حق نہیں رکھتے لیکن ایک نکتہ کی طرف بھر پور توجہ کرنا چاہئیے کہ مخالفین ِ انبیاء ہمیشہ حسنِ نیت کے حامل نہیں ہوتے تھے معجزات حق معلوم کرنے کے لئے طلب نہیں کرتے تھے بلکہ ہٹ دھرمی اور حق کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کے لئے بھی ہر وقت معجزے اور عجیب و غریب خارق ِ عادت کا تقاضا کرتے تھے۔ ایسے معجزات کہ جنہیں ” معجزات ِ اقتراحی“ کہا جاتا ہے ہر گز کشفِ حقیقت کے لئے نہیں تھے ۔ اسی لئے انبیاء ان کا تقا ضا تسلیم نہیں کر تے تھے ۔ در حقیقت ان ہٹ دھرم کفار کا یہ خیال تھا کہ پیغمبر (ص) کا دعویٰ ہے کہ میں ہر چیز انجام دینے پر قادر ہو ں اور معجزہ گر ہوں اور یہاں بیٹھا ہوں جو شخص بھی کسی معجزے کا تقاضا کرے گا وہ پیش کرودوں گا ۔

لیکن انبیاء یہ حقیقت بیان کرکے ایسے لوگوں کی خواہشات ٹھکرادیتے تھے کہ معجزات خدا کے ہاتھ میں ہیں اوراس کے حکم سے انجام پاتے ہیں اور ہماری ذمہ داری لوگوں کی تعلیم و تربیت ہے ۔

اسی لئے زیر بحث آیت میں ہے کہ خدا تعالیٰ اس گفتگو کے بعد فرماتا ہے : اے پیغمبر تو ُتو صرف ڈرانے والا ہے اور ہر قوم و ملت کے لئے ہادی و رہنما ہوتا ہے( إ ِنَّمَا اٴَنْتَ مُنذِرٌ وَلِکُلِّ قَوْمٍ هَادٍ ) ۔

دو سوال اور ان کے جواب

۱ ۔ کافروں کا جواب کیسے ہوا ؟

سوال پیدا ہوا کہ( إ ِنَّمَا اٴَنْتَ مُنذِرٌ وَلِکُلِّ قَوْمٍ هَادٍ ) کس طرح کافروں کی معجزہ طلبی کا جواب ہو سکتا ہے ۔

جو بات مندرجہ بالا سطور میں کہی گئی ہے اس کی طرف توجہ دینے سے سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے۔ کیونکہ پیغمبر ایک ایسی شخصیت نہیں کہ ہر تقاضے، ہر مقصد اور ہر مراد کے لئے معجزہ ایجاد کردے ۔پہلے تو ا س کی ذمہ دای ہے ” انذار“ اور انہیں ڈرانا جو بے راہ چلتے ہیں اور صراط مستقیم کی دعوت دینا ۔ البتہ جس مقام پر انذار اور ڈرانے کی تکمیل کے لئے اور گمراہوں کی صراط مستقیم پر لانے کے لئے معجزے کی ضرورت ہو مسلم ہے کہ پیغمبر کوتاہی نہیں کرے گا ۔ البتہ ان ہٹ دھرم لوگوں کے جواب میں ہر گز اس کی ایسی کوئی ذمہ داری نہیں جو بالکل راستے پر نہیں آتے۔

در اصل قرآن کہتا ہے کہ یہ کفار پیغمبر کی اصلی ذمہ داری بھول چکے ہیں اور وہ ہے انذار ، ڈرانا اور خدا کی طرف دعوت دینا اور انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ اس کی بنیادی ذمہ داری معجزہ دکھانا ہے ۔

۲ ۔”لکل قوم ھاد“ سے کیا مراد ہے ؟

کچھ مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ دونوں صفات” منذر“ ہادی“اور پیغمبر اکرم کی طرف لوٹتی ہیں ۔ ان کے خیال میں در اصل یہ جملہ یوں ہے :( انت منذر و هاد لکل قوم )

تو ہر قوم اور ہر گروہ کے لئے ڈرانے والا او ر ہادی ہے۔

لیکن یہی تفسیر مندر جہ بالا آیت کے ظاہرکے خلاف ہے کیونکہ واؤ نے ”( لکل قوم هاد ) “ کو”( انما انت منذر ) “سے جدا کردیا ہے ۔ ہا ں البتہ اگر لفظ ”هاد “ ”لکل قوم “ سے پہلے ہوتا تو یہ معنی پورے طور پر قابلِ قبول تھا لیکن ایسانہیں ہے ۔

کچھ مفسرین کا خیال ہے کہ یہاں مقصد یہ تھا حق کی طرف دعوت کرن ے والوں کی دو قسمیں بیان کی جائیں ۔ پہلی قسم ان کے دعوت کرنے والوں کی جو انذار کریں اور ڈرائیں اور دوسری قسم ان دعوت کرنے والوں کی جو ہدایت کریں ۔

حتماً آپ سوال کریں گے کہ ” انذار“ اور” ہدایت “میں کیا فرق ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ” انذار“ اس لئے کہ گمراہی اور بے راہ روی سے راستے کی طرف پلٹا یا جائے اور صراطِ مسقتیم پر پہنچایا جائے لیکن ”ہدایت “ اس لئے ہے کہ لوگوں کو راستے پر آجانے کے بعد آگے لے جایا جائے۔

حقیقت میں ” منذر“” علت محدثة“ یعنی ایجاد کرنے والے سبب“ کی طرح ہے اور ”ہادی“ ” علت مبقیة“ یعنی باقی رکھنے والے اور آگے لے جانے والے سبب “ کی مانند ہے اور یہ وہی چیز ہے جسے ہم ” رسول “ اور ” امام “ سے تعبیر کرتے ہیں ۔ رسول ِ شریعت کی بنیاد رکھتا ہے اور امام شریعت کا محافظ اور نگہبان ہے ( اس میں شک نہیں کہ دیگر مواقع پر خود ذاتِ پیغمبرپر لفظ ”ہادی“ کا اطلاق ہوا ہے لیکن زیر بحث آیت میں ” منذر“ کے ذکر کے قرینے سے ہم سمجھتے ہیں کہ ” ہادی “ سے یہاں مراد وہ شخص ہے جو راہ پیغمبر کو جاری وساری رکھے اور اس کی شریعت کا محافظ و نگہبان ہو)۔

متعدد روایات کہ جو پیغمبر اسلام سے مروی ہیں اور شیعہ سنی کتب میں موجود ہیں ان میں آپ نے فرمایا ہے کہ : میں منذر ہو ں اور علی ہادی ہیں ۔

یہ روایات مندرجہ بالا تفسری کی مکمل طور پر تائید کرتی ہیں ۔ چند ایک روایات ذیل میں پیش کی جاتی ہیں :

۱) اسی آیت کے ذٰل میں فخر الدین رازی ابن عباس سے نقل کرتے ہیں :

وضع رسول الله یده علی صدره فقال انا المنذر، ثم اوماٴ الی منکب علیعليه‌السلام و قال انت الهادی بک یهتدی المهتدون من بعدی

رسول اللہ نے اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر مارا اور فرمایا : میں منذر ہو ں ۔ پھر علی کے کندھے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایاتو ہادی ہے اور تیرے ذریعے میرے بعد ہدایت پانے والے ہدایت پائیں گے ۔(۱)

یہ روایت اہل سنت کے مشہور عالم علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اسی طرح علامہ ابن صباغ مالکی نے ” فصول المہمہ “ میں ، گنجی شافعی نے کفایة الطالب میں ، طبری نے اپنے تفسیر میں ، ابو حیان اندلسی نے اپنی تفسیر ” بحر المحیط“ میں ، علامہ نیشاپوری نے اپنی تفسیر میں اور اسی طرح دیگر بہت سے علماء نے نقل کی ہے

۲) حموینی جو اہل سنت کے مشہور عالم ہیں اپنی کتاب” فرائد السمطین “ میں ابو ہریرہ اسلمی سے اس طرح نقل کرتے ہیں :ان المراد بالهادی علی (ع)

ہادی سے مراد حضرت علیعليه‌السلام ہیں

۳) ” حبیب السیر“ کے مولف میر غیاث الدین اپنی کتاب کی دوسری جلد ص ۱۲ پر اس طرح لکھتے ہیں :

قد ثبت بطرق متعدده انه لما نزل قوله تعالیٰ ” انما انت منذر و لکل قوم هاد“ قال لعلی ” انا المنذر و انت الهادی بک یا علی یهتدی المهتدون من بعدی “۔

متعدد طریق سے نقل ہوا ہے کہ جب آیت ”( انما انت منذر و لکل قوم هاد ) “ نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم نے حضرت علیعليه‌السلام سے فرمایا:” میں منذر ہو ں اور تو ہادی ہے او رمیرے بعد ہدایت پانے والوں کی تیرے ذریعے ہدایت ہو گی “۔

آلوسی نے ” روح المعانی “ میں ، شبلنجی نے”نور الابصار“ میں اور شیخ سلیمان قندوزی نے ” ینابع المودة“ میں یہی حدیث انہیں الفاظ میں یا اس کے قریب قریب الفاظ میں نقل کی ہے ۔

اکرثر روایات میں اس حدیث کے راوی اگر چہ ابن عباس ہیں تا ہم یہ روایت ابن عباس میں منحصر نہیں ہے بلکہ حموینی کی نقل کے مطابق خود حضرت علیعليه‌السلام سے بھی مروی ہے ، آپعليه‌السلام فرماتے ہیں :

المنذر النبی و الهادی رجل من بنی هاشم یغنی نفسه

منذر پیغمبر ہیں ہادی بنی ہاشم میں سے ایک شخص ہے کہ اس سے مراد خود آپ کی ذات ہے ۔ ۲

____________________

۱۔تفسیر کبیر فخر رازی جلد ۱۹ ص۱۴۔

۲۔ اس حدیث میں اگر چہ مسئلہ ولایت اور خلافتِ بلا فصل کی تصریح نہیں کی گئی تا ہم اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ہدایت اپنے وسیع معنی کے لحاظ سے حضرت علیعليه‌السلام میں منحصر نہ تھی بلکہ تمام سچے علماء اور رسول اللہ کے خاص اصحاب یہ کام انجام دیتے تھے ، معلوم ہوتا ہے کہ ”ہادی “ کے طور پر حضرت علیعليه‌السلام کی تعارف آپ کے خاص امتیاز اور خصوصیت کی وجہ سے ہے ۔ آپعليه‌السلام بہترین اور افضل ترین ہادی کے مصداق ہیں اور اس قسم کامطلب ولایت اور خلافتِ پیغمبر سے جدا نہیں ہو سکتا ۔


آیات ۸،۹،۱۰

۸ ۔( اللهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ کُلُّ اٴُنثَی وَمَا تَغِیضُ الْاٴَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَکُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهُ بِمِقْدَارٍ ) ۔

۹ ۔( عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشّهََادَةِ الْکَبِیرُ الْمُتَعَالِی ) ۔

۱۰ ۔( سَوَاءٌ مِنْکُمْ مَنْ اٴَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّیْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ ) ۔

ترجمہ

۸ ۔خدا ان تمام جنیوں سے آگاہ ہے جن کا ہر مادہ انسان یا مادہ جانور حامل ہے اور جسے رحم کرتے ہیں ( اور مقررہ مدت سے پہلے جتنے ہیں ) اور جسے زیادہ کرتے ہیں اور اس کے ہاں ہر چیز کی مقدار معین ہے ۔

۹ ۔ وہ غیب و شہود سے آگاہ ہے او ربزرگ و متعال ہے ۔

۱۰ ۔ اسے فرق نہیں پڑتا کہ تم میں سے کچھ پنہاں گفتگو کرتے ہیں یا آشکار اور وہ جو رات کو خفیہ حر کت کرتے ہیں یا دن کی روشنی میں ۔

خدا کا بے پایاں علم

ان آیات میں پر وردگار کی کچھ صفات بھی ہیں اور یہ آیات توحید اور معاد کی بحث کی تکمیل بھی کرتی ہیں ۔ یہاں پر وردگار کے وسیع علم اور ہر چیز کے بارے میں اس کی آگاہی کے متعلق گفتگو ہے۔ وہی علم جو نظام آفرینش ، عجائبات ِ خلقت اور دلائل ِ توحید کا سر چشمہ ہے ۔ وہی علم جو قیامت اور اس کی عظیم عدالت کی بیاد ہے ۔ ان آیات میں علم کے دونوں پہلوؤں ( نظام آفرینش کا علم اور بندوں کے اعمال کا علم ) کے بارے میں بات کی گئی ہے ۔

پہلے فرمایا گیا ہے : خدا ان جنینوں ( جو بچے شکم مادر میں ہوتے ہیں ) سے آگاہ ہے کہ جنہیں ہر عورت اور ہر مادہ جانور( اپنے شکم میں ) اٹھائے ہوتا ہے( اللهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ کُلُّ اٴُنثَی )

اور اسی طرح انہیں بھی جانتا ہے جنہیں رحم وقت مقرہ سے پہلے جَن دیتے ہیں( وَمَا تَغِیضُ الْاٴَرْحَامُ ) ۔(۱)

اور یونہی ان سے باخبر ہے جنہیں رحم وقت مقررہ سے زیادہ روک رکھتے ہیں( وَمَا تَزْدَادُ ) ۔

مندرجہ بالا تین جملوں کی تفسیر کے بارے میں مفسیرن میں بہت اختلاف ہے ۔

جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے بعض مفسرین حمل کی تین قسموں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ۔ یعنی کبھی وقت مقررہ پر پیدا ہوتا ہے ، کبھی وقت مقررہ سے پہلے ( گویا در کار وقت کو اپنے اندر جذ کرلیتا ہے ) اور کبھی وقت مقررہ کے بعد ۔ خدا ان تمام کو جانتا ہے ۔ وہ جنین کی تاریخ تولد اور لمحہ ولادت سے بے کم و کاست آگاہ ہے اور یہ ایسے امور میں سے ہے جسے کوئی شخص اورکوئی مشینری حتماًمعین نہیں کرسکتی ۔ یہ علم پروردگار کی ذات پاک سے مخصوص ہے اور اس کی دلیل بھی واضح ہے کیونکہ رحمتوں اور جنینوں کی استعداد بالکل مختلف ہوتی ہے اور کوئی شخص بھی ان اختلافات سے حتماً اور کاملا ً آگاہ نہیں ہے ۔

بعض دیگر مفسرین نے کہا ہے کہ یہ تین جملے حمل کی مختلف حالتوں کی طرف اشارہ ہیں ۔ پہلا جملہ خود جنین کی طرف اشارہ ہے کہ رحم اسے محفوظ کرلیتا ہے ۔ دوسرا جملہ خونِ حٰض کی طرف اشارہ ہے جو رحم میں گرتا ہے اور جنین اسے جذب کرلیتا ہے ، اسے چوستا ہے اور اسے نگل لیتا ہے اور تیسرا جملہ اضافی خون کی طرف اشارہ ہے جو حمل کے دنوں میں کبھی کبھار باہر گرتا ہے یا ولادت کے وقت یا س کے بعد رحم سے الگ ہو تا ہے ۔(۲)

لیکن جو روایات تفسیر نو ر الثقلین میں اس آیت کے ذیل میں آئمہ اہل بیتعليه‌السلام سے نقل ہوئی ہیں وہ زیادہ تر اسی پہلے منعی کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ جو ہم متن میں ذکر کرچکے ہیں

اس آیت کی تفسیر کے سلسلہ میں دیگر احتمالات بھی ذکر کئے گئے ہیں کہ جن میں سے کوئی بھی مختلف ہو نے کے باوجود دوسرے سے متضاد نہیں ہے اور ہوسکتا ہے یہ آیت ان تمام تفاسیر کی طرف اشارہ ہو ارگ چہ ظاہری مفہوم وہی ہے جو پہلی تفسیر کے ضمن میں پیش کیا گیا ہے ۔ کیونکہ لفظ ”تحمل“ جنین کے اٹھانے کا معنی دیتا ہے اور اس کے قرینہ سے ” تغیض“ اور ”تزداد“ کے الفاظ دورانِ حمل کی کمی اور بیشی کی طرف اشارہ ہیں ۔

ایک حدیث جو امام محمد باقرعلیہ السلام یا امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے ، اس طرح ہے :الغیض کل حمل دون تسعة اشهر ، وما تزداد کل شیء یزداد علی تسعة اشهر

”غیض“ ہر اس حمل کو کہتے ہیں جس کی مدت ۹ ماہ سے کم ہو اور ” ماتزداد“ ہر وہ چیز ہے جو ۹ ماہ سے زیادہ ہو ۔

اس حدیث کے آخر میں فرماتے ہیں :کلمارأت المراة الدم الخالص فی حملها فانها تزداد و بعدد الایام التی زاد فیها فی حملها من الدم

جب عورت حمل کی حالت میں خالص خون دیکھے تو اس خون کے ایام کی تعداد کے برابر حمل کی مدت میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔(۳)

اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے : ہر چیز خد اکے ہاں معین مقدار کی حامل ہے (وَکُلُّ شَیْءٍ عِنْدَہُ بِمِقْدَارٍ )۔کہیں یہ خیال نہ ہو کہ مدت حمل کی یہ کمی بیشی بغیر کسی حساب کتاب کے اور بغیر کسی سبب کے ہے بلکہ اس مدت کی ہر گھڑی اور ہر لحظہ نپا تُلا ہے ۔

بعد والی آیت درحقیقت گذشتہ آیت میں بیان کی گئی بات کی دلیل ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : خدا غیب و شہود ( اور پنہاں و آشکار) سب کو جانتا ہے( عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشّهََادَةِ ) ۔

غیب و شہود کے بارے میں اس کی آگاہی اس بناء پر کہ ” وہ بزرگ و بر تر ہے ، ہر چیز کے لئے متعال ہے اور ہر چیز پر مسلط ہے “ اسی بناء پر وہ ہر جگہ حاضر ہے اور کوئی چیز اس کی نگاہِ علم سے پوشیدہ نہیں ہے( الْکَبِیرُ الْمُتَعَالِ )

اس بحث کی تکمیل کے لئے اور اس کے علم بے پایاں کے بارے میں تاکید کے لئے مزید فرمایا گیا ہے ” خدا کے لئے ان لوگوں میں کوئی فرق نہیں کہ جو اپنی بات چھپاتے ہیں اور وہ جو آشکار کرتے ہیں وہ سب کچھ جانتا اور سنتا ہے( سَوَاءٌ مِنْکُمْ مَنْ اٴَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ ) ۔

نیز اس کے لئے ان لوگوں میں کچھ فرق نہیں کہ جو خفیہ طور پر رات کی تاریکی میں اور ظلمت کے پردوں میں قدم اٹھاتے ہیں اور وہ کہ جو آشکارا روزِ روشن میں اپنے کارو بار کے لئے نکلتے ہیں( وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّیْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ )(۴)

چند اہم نکات

۱ ۔ قرآن اور جنین شناسی :

قر آ ن مجید میں بار ہا جنین ، اس کے عجائب و غرائب اور نظام کی طرف توحید ، خدا شناسی اور حضرتِ حق کے علم بے پایاں کی ایک دلیل کے طور پر اشارہ ہوا ہے ۔ البتہ جنین شناسی ایک بالکل نیا علم ہے ۔ گزشتہ زمانے میں علماء اور سائنسداں جنین اور اس کے مختلف مراحل کے بارے میں بہت محدود اطلاعات رکھتے تھے لیکن علم اور سائنس کی پیش رفت کے ساتھ اس علم میں تیزی سے غیر معمولی ترقی ہوئی ہے اور اس خاموش اور بے آواز دنای کے بہت سے اسرار و عجائب منکشف ہوئے ہیں اس طرح سے کہا جا سکتا ہے کہ جنین کی خلقت ، اس کے تحول اور تکامل میں خدا شناسی کی ایک دنیا پوشیدہ ہے ۔

اس موجودہ کی کونخبر پا سکتا ہے کہ جو ہر کسی کی دسترس سے باہر ہو قرآنی الفاظ میں جو ” ظلمات ثلاث “ ( تین تاریکیوں ) میں موجود ہواور جس کی زندگی انتہائی ظریف اور دقیق ہو ۔ کو ن اسے ضروری مقدار میں غذا بہم پہنچا سکتا ہے اور کون تمام مراحل میں اس کی ہدایت کرسکتا ہے ۔

مندرجہ بالا آیات میں جب خدا فرماتا ہے کہ ” خدا جانتا ہے کہ ہر مادہ جانور کے رحم میں کیا ہے “ تو اس کا یہ مفہوم نہیں کہ صرف اس کی جنسیت ( یعنی نر یا مادہ ہونے ) کے بارے میں آگاہ ہے بلکہ اس کی تمام مشخصات ، استعداد، ذوق اور طاقت کہ جو بالقوہ اس میں پوشیدہ ہے کے متعلق آگاہ ہے اور یہ وہ امور ہیں جن کے بارے میں کوئی شخص کسی بھی ذریعے سے آگاہی حاصل نہیں کرسکتا ۔

اس بناء جنین میں حساب شدہ نظاموں کی موجودگی اور دقیق و پیچیدہ ارتقاء میں اس کی راہبری ایک عالم و قدار مبداء کے بغیر ممکن نہیں ۔

سورہ طلاق آیہ ۳ میں ہے :( قد جعل الله لکل شیء قدراً )

خدا انے ہر چیز کے لئے ایک مقدار معین کی ہے

سورہ حجر آیہ ۲۱ میں ہے :( و ان کان من شیء عنده نا خزائنه و ما ننزله الا بقدر معلوم )

ہر چیز کے خزانے ہمارے پاس ہیں اور ہم ایک معین مقدار کے سوا نازل نہیں کرتے ۔

زیر بحث آیات میں بھی ہم نے پڑھا ہے :( وکل شیء عنده بمقدار )

اور تمام چیزوں کی اس کے یہاں مقدار ہے ۔

یہ سب آیات اس امر کی طرف اشارہ ہیں کہ اس عالم کی کوئی چیزحساب کتا ب کے بغیر نہیں ہے یہاں تک کہ طبیعی دنیا میں جن موجودات کو ہم بغیر حساب کتاب کے فرض کرتے ہیں وہ سب دقیق او ر جچا تلا حساب رکھتی ہیں چاہے ہم اس سے جانیں یا نہ جانیں ۔ اصولی طو ر پر خدا کے حکیم ہو نے کا بھی اس کے علاوہ کوئی مفہوم نہیں کہ ہر چیز کی خلقت میں ایک پروگرام ، حد اور مقدار معین ہوتی ہے ۔ جن اسرار ِ خلقت کو ہم نے آج علوم کے ذریعے معلوم کیا ہے وہ اس حقیقت کو پورے طور پر تاکید کرتے ہیں ۔ مثلاً انسان کا خون کہ جو اس کے وجود کی زندگی کا سب سے اہم مادہ ہے اور جو تمام ضروری مواد کو انسانی بدن کے تمام خلیوں تک پہنچانے کا ذمہ دار ہے ، بیس سے زیادہ عناصر کا مرکب ہے ان عناصر کا تناسب اور کیفیت اس قدر مہم دقیق اور جچی تلی ہے کہ اس میں تھوڑے سے تغیر سے بھی انسانی سلامتی خطرے میں پڑجاتی ہے ۔یہی وجہ ہے بدن کی خرابیوں کو پہچاننے کے لئے فوراً خون ٹیسٹ کرتے ہیں اور شوگر ، چربی اور اورہ، آئرن اور دیگر اجزائے ترکیبی کا اندازہ لگا یا جاتا ہے اور ان اجزاکی کمی بیشی سے فوراً بدن کی بیماریوں کے علل و اسباب معلوم کرلئے جاتے ہیں ۔

ان کا خون ہی ایسی دقیق ترکیب نہیں رکھتا بلکہ یہی صورت تمام عالم ہستی کی ہے ۔

اس نکتے کی طرف توجہ کرنے سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ کبھی کبھار وہ چیزیں ہم عالم ہستی کی بے نظمیاں خیال کرتے ہیں اور دراصل ہمارے علم کی نارسائی اور ناپختگی سے مربوط ہیں ۔ ایک موحد اور سچا خدا پرست عالم کے بارے میں کبھی بھی ایسا تصور نہیں کرسکتا او رعلوم کی تدریجی پیش رفت اسی حقیقت کی گواہ ہے ۔

اس گفتگو سے ہم یہ سبق بھی سیکھ سکتے کہ انسانی معاشرہ جو پورے نظام ہستی کا ایک حصہ ہے اگر صحیح زندگی بسر کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئیے کہ ” شیء عندہ بمقدار“ کا اصول اس کے سارے وجود پر حکمران ہو وہ ہر قسم کے افراط و تفریط سے بچے اور ہر اس کام سے پر ہیز کرے جو بغیر کسی حساب کتاب کے ہو اور اسکے تمام اجتماعی اصول جچے تلے ہونے چاہئیں ۔

۳ ۔ خد اکے لئے غیب و شہود برابر ہیں :

زیر بحث آیات میں یہ بات ذکر ہوئی ہے کہ غیب و شہود بار گاہ خدا وندی میں واضح اور روشن ہے ۔ بنیادی طور پر غیب و شہود دو نسبتی مفہوم ہیں کہ جو ایسے موجود کے بارے میں استعمال ہوتے ہیں جس کا علم اور ہستی محدود ہوں ۔

مثلاً ہم جو حواس خمسہ کے حامل ہیں تو جو کچھ ہماری آنکھوں ، قوتِ سماعت اور دیگر حواس کی پہنچ کے اندر ہے وہ ہمارے ”شہود“ ہے اور جو کچھ ہماری دید و شنید سے باہر ہے ہمارے لئے وہ ” غیب ہے “۔ فرض کیا اگر ہماری نگاہ کی قدرت لامحدود ہوتی، ہم اشیاء کے ظاہر و باطن کو دیکھ سکتے اور ذرات عالم کے اندے ہماری نظر اتر جاتی تو تمام چیزیں ہمارے لئے شہود“ ہو جاتیں ۔ خدا کی ذات پا ک کے علاوہ باقی تمام چیزیں چونکہ محدود ہیں لہٰذا ان تما م چیزوں کے لئے غٰب و شہود موجود ہے لیکن ذات الہٰی چونکہ لامحدود ہے اور ہر جگہ موجود ہے لہٰذا اس کے لئے تمام چیزیں شہود ہیں اور اس کی ذاتِ پاک کے برے میں ”غیب “کوئی مفہوم نہیں رکھتا ۔

اگر ہم کہتے ہیں کہ خدا ”( عالم الغیب و الشهادة ) “ ہے تو اس کا معنی یہ ہے کہ جو کچھ ہمارے لئے غیب یا شہود ہے اس کے لئے یکساں اور شہود ہے ۔

اگر ہم روشنی میں اپنی ہتھیلی کی طرف دیکھیں تو کیا ممکن ہے کہ جو کچھ اس میں ہو ہم اس سے بے خبر رہ جائیں ۔ عاللم ہستی علم خدا کے سامنے اس بھی کئی درجے زیادہ واضح و آشکار ہے ۔

۴ ۔ علم خدا کی طرف کے تربیتی آثار:

یہ جو ہم مندرجہ بالا آیات میں پڑھتے ہیں کہ خد اپنہاں و آشکار چیزوں کو ، رات اور دن کی آمدو رفت کو تمہاری تمام حرکات کو یکسا ں طور پر جانتا ہے اور اس کے علم کی بارگاہ میں یہ سب آشکار ہیں ۔ اس حقیقت پر اگر ہم حقیقی ایمان رکھتے ہوں اور یہ احساس رکھتے ہوں کہ وہ ہمارے اوپر ہر وقت نگران ہے تو اس سے ہماری روح ، فکر ، گفتار اور کردار میں ایک بہت گہرا انقلاب پیداہو جائے گا ۔

ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے امام جعفر صا دق علیہ السلام ایک سوال کیا : آپ کی زندگی کا پروگرام کیا ہے ؟

آپ نے چند امور بیان فرمانے کے بعد فرمایا :علمت ان الله مطلع علی فاستحییت

میراایک پروگرام یہ ہے کہ میں نے جان لیا ہے کہ خد امیرے تمام کاموں سے آگاہ ہے اور ان کے بارے میں باخبر ہے لہٰذا میں ا س کی نافرمانی سے حیا کرتا ہوں ۔

تاریخ اسلام میں اور حقیقی مسلمانوں کی روز مرہ زندگی میں ہم اس حقیقت کے بہت سے جلوہ مشاہدہ کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں ایک باپ بیٹا ایک باغ میں پہنچے ۔ باپ باغ کے مالک کی اجازت کے بغٰر پھل توڑنے کے لئے درخت پر چڑھ گیا ۔ اس کا بیٹا جو با معرفت نوجوان تھا کہنے لگا : ابّا ! نیچے اتر آؤ ۔

باپ پریشان ہوا اور ڈرا ۔ اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے فوراً نیچے اتر آیا۔ اس نے پوچھا : مجھے نظر نہیں آیا، کوتھا جو مجھے دیکھ رہا تھا ؟ لڑکے نے کہا تمہارے اوپر سے ۔

اس نے اوپر کی کی طرف دیکھا تو اسے کوئی چیز نظر نہیں آئی۔

بیٹے نے کہا، میری مراد خدا ہے ، جو ہم سب سے مافوق اور ہم سب پرمحیط ہے ، کیسے مکن ہے کہ ایک انسان کے دیکھنے سے تو تمہیں خوف آتا ہے لیکن خدا جو تمہیں ہر حالت میں دیکھ رہا ہے اس سے تجھے کوئی خوف نہیں آتا ۔ یہ کیا ایمان ہے ۔

____________________

۱۔ ”تغیض “ ” غیض“ کے مادہ سے ہے ۔ یہ اصل میں بہنے والی چیز کا نگل جانے اور اسے ٹھہرالینے کے معنی میں ہے اسی لئے یہ لفظ نقصان اور فساد کے معنی میں بھی آیاہے۔”غیض“ ایسے مکان اور جگہ کو کہا جاتا ہے جس میں پانی کھڑا ہو جائے اور اسے نگل جائے ” لیلة غائضة“تاریک رات کے معنی میں ہے ( یعنی ایسی رات جو سارا نور نگل گئی ہو )۔

۲۔ تفسیر المیزان میں آیت کی اس تفسیر کی تائید کے ضمن میں صاحبِ تفسیر کی تائید کے ضمن میں صاحبِ تفسیر فرماتے ہیں کہ آئمہ اہل بیتعليه‌السلام کی بعض روایات اس تفسیر کی تائید کرتی ہیں او رجو کچھ ابن عباس سے نقل ہو اہے وہ بھی حتما ً اسی معنی پر منطبق ہوتا ہے ۔

۳۔ نور الثقلین جلد ۲ ص ۴۸۵۔

۴”سارب“ اصل میں ”سرب“ ( بر وزن” ضرر“ ) کے مادہ سے ”جاری پانی “ کے معنی میں ہے ۔ بعد از اں لفظ اس انسان کے بارے میں استعمال ہونے لگا جو کسی کام کے پیچھے چل رہا ہو۔اصولی طور پر اس شخص کے لئے نور و ظلمت ، تاریکی و روشنی اور غیب و شہود کوئی مفہوم نہیں رکھتے جو ہر جگہ حاضر و ناضر ہے ۔ وہ یکساں طور پر ان سب سے آگاہ اور با خبر ہے ۔


آیت ۱۱

۱۱ ۔( لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَیْنِ یَدَیْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ یَحْفَظُونَهُ مِنْ اٴَمْرِ اللهِ إِنَّ اللهَ لاَیُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا مَا بِاٴَنفُسِهِمْ وَإِذَا اٴَرَادَ اللهُ بِقَوْمٍ سُوئًا فَلاَمَرَدَّ لَهُ وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالٍ ) ۔

ترجمہ

۱۱ ۔انسان کے لئے کچھ مامورین ہیں کہ جو پے درپے سامنے اور اس کے پیچھے سے اسے ( غیر حتمی ) حوادث سے محفوظ رکھتے ہیں لیکن خدا کسی قوم ( اور ملت ) کی سر نوشت کو نہیں بدلتا مگر یہ کہ وہ خود اسے تبدیل کریں اور جب خدا کسی قوم کے بارے میں ( ان کے اعمال کی وجہ سے ) بُرا ارادہ کرتا ہے تو کوئی اس کے لئے رکاوٹ نہیں ہوتی اور خد اکے علاوہ ان کا کوئی سر پرست نہیں ہو گا۔

غیبی محافظ

گزشتہ آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ خدا علم الغیب و الشہادة ہونے کی بناء پر لوگوں کے پنہاں اور آشکار سے باخبر ہے اور وہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہے ۔

زیر بحث آیت میں مزید اشاد فرمایا گیا ہے : اس کے علاوہ کہ خدا اپنے بندوں کا محافظ اور نگہبان ہے ” کچھ مامورین ہیں کہ جو پے در پے آگے اور پیچھے سے حوادث سے انسان کی حفاظت کرتے ہیں “( لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَیْنِ یَدَیْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ یَحْفَظُونَهُ مِنْ اٴَمْرِ اللهِ ) ۔(۱)

لیکن کوئی اس بناء پر کہ کوئی یہ اشتباہ نہ کرے کہ یہ حفاظت و نگہبانی بلا مشروط ہے اور انسان کہیں اپنے آپ کو ہر گڑھے میں نہ گرادے یاکہیں انسان ہر طرح کے گناہ کامرتکب نہ ہونے لگے اور اس طرح اپنے آپ کو عذاب کا سزا وار بنا کر بھی توقع رکھے کہ خدا اور اس کے مامو محافظین اس کی حفاظت کریں ، مزید فرمایا گیا ہے : خداکسی قوم و ملت کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ میں تبدیلی پیدا نہ کرے( إِنَّ اللهَ لاَیُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا مَا بِاٴَنفُسِهِمْ ) )۔دوبارہ اس لئے کہ کوئی غلط فہمی نہ ہو کہ انسانی حفاظت کے مامورین ہونے کے باوجود مجازات و سزا اور خدا ئی امتحانات کا کیا معنی ہے ، آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : جس وقت خدا کسی قوم کے لئے برائی کا رادہ کرتا ہے تو پھر دفاع اور بازگشت کی کوئی باگشت کی کوئی صورت نہیں ہے( وَإِذَا اٴَرَادَ اللهُ بِقَوْمٍ سُوئًا فَلاَمَرَدَّ لَهُ ) ۔

” اور خدا کے علاوہ ان کو کوئی والی و ناصر اور یارو مدد گار نہیں ہو سکتا “( وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالٍ ) ۔

اسی بناء پر جب کسی قوم کے لئے خدا کی طرف سے عذاب ، سزا اور نابودی کا فرمان صادر ہوجاتا ہے تو محافظین اور نگہبان الگ ہو جاتے ہیں اور انسان کو حوادث کے سپرد کردیتے ہیں ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ ”معقبات“ کیا ہیں ؟

جیسا کہ طبرسی نے مجمع البیان میں اور بعض میں اور بعض دوسرے بزرگ مفسرین نے کہاہے ” معقبات“ جمع ہے ” معقبہ“کی جب خود ” معقبہ“ بھی ” معقب“ کی جمع ہے اور یہ اس گروہ کو کہتے ہیں جس کے افراد پے در پدے ایک دوسرے کی نیابت میں کسی کا کے لئے نکلیں ۔

اس آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ خدا تعالےٰ نے کچھ فرشتوں کی یہ ڈیوٹی لگائی ہے کہ وہ رات دن باری انسان کے پاس آئیں اور آگے اور پیچھے سے اس کی حفاظت کریں ۔

بیشک انسان اپنی زندگی میں بہت سی آفات و بلیات سے دوچار ہے ۔ اندرونی و بیرونی حوادث ، طرح طرح کی بیماریاں ، جرائم اور مختلف قسم کے حادثات و خطرات کہ جو زمین و آسمان سے ابھر تے ہیں انسان کو گھیر ے ہوئے ہیں ۔ خصوصاًبچپن کے زمانے میں جب گردو پیش کی کیفیتوں سے انسان بہت کم آگاہ ہوتا ہے ، اسے کوئی تجربہ نہیں ہوتا، ہر قدم پر اسے کوئی نہ کوئی خطرہ در پیش ہوتا ہے او رکبھی تو انسان تعجب کرتا ہے کہ ان تمام حوادث سے بچہ طرح بچ نکلتا ہے اور بڑا ہو جاتا ہے خصوصاًایسے گھر انوں میں جہاں ماں باپ مسائل سے بالکل آگاہ بھی نہیں ہوتے یا ان کے پاس وسائل نہیں ہوتے ۔ خاص طور پر دیہات میں پلنے بڑھنے والے وہ بچے جو محرومیوں کا شکارہوتے ہیں اور بیماری اور خطرات کے عوامل میں گھر ے ہوتے ہیں ۔

اگر ان مسائل پر ہم حقیقی طور پر غور وفکر کریں تو ہم محسوس کریں گے کہ ایک محافظ طاقت ہے کہ جو ان حوادث سے ہماری حفاظت کرتی ہے اور سپرد اور ڈھال کی طرح آگے اور پیچھے سے ہماری محافظ و نگہبان ہے ۔

بہت سے مواقع پر انسان کو خطر ناک حادثات پیش آتے ہیں اور وہ معجزانہ طور پر ان سے بچ نکلتا ہے اس طرح سے کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ یہ سب چیزیں اتفاقی نہیں ہیں کہ بلکہ ایک محافظ طاقت اس کی نگہبانی کررہی ہے ۔

پیشوایان ِ اسلام سے مروی بہت سی روایات بھی اس پر تاکید کرتی ہیں ۔ ایک روایت میں امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ زیر ِ بحث آیت کی تفسیر میں آپعليه‌السلام نے فرمایا :

بحفظ بامر الله من ان یقع فی رکی علیه حائط او یصیبه شیء حتی اذاجاء القدر خلو بینه و بین یدفعونه الیٰ المقادیر و هما ملکان یحفظانه باللیل و ملکان من نهار یتعاقبانه

حکم خدا سے انسان کی حفاظت ہوتی ہے ، کنویں میں گرنے سے یا دیوار پر آپڑ نے سے یا کوئی اور حادثہ سے مگر جب حتمی مقدرات آپہنچیں تو محافظین ایک طرف ہا جاتے ہیں اور اسے حوادث کے سپرد کردیتے ہیں ۔ اور دو فرشتے انسان کی رات کو حفاظت کرتے ہیں اور ( ان کے علاوہ ) فر شتے دن کے وقت باری باری ذمہ داری پوری کرتے ہیں ۔ ۲

ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے :

مامن عبد الا و معه ملکان یحفظانه فاذا جاء الامر من عند الله خلیا بینه و بین امر اللهِ

کوئی بھی ایسا بندہ نہیں کہ جس کے ساتھ دو فرشتے نہ ہوں کہ جو اس کی حفاظت کرتے ہوں لیکن جب خدا کا قطعی فرمان آپہنچا ہے تو وہ اسے حوادث کے سپرد کردیتے ہیں ۔(۳)

(اس بناء پر وہ انسان کی حفاظت صرف ان حوادث سے کرتے ہیں جن کے بارے میں خدا کا قطعی حکم نہیں ہوتا )۔

نہج البلاغہ میں بھی حضر ت امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرمایا :

ان مع کل انسان ملکین یحفظانه فاذا جاء القدر خلیا بینه و بینه

یعنی ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں کہ جو اس کی حفاظت کرتے ہیں لیکن جب حتمی مقدرات آپہنچے تو وہ اسے چھوڑ دیتے ہیں ۔(۴)

اسی طرح نہج البلاغہ کے پہلے خطبے میں فرشتوں کی تعریف اور ان کے مختلف گروہوں کے بارے میں ہے :

و منهم الحفظة لعباده

ان میں سے ایک گروہ خد اکے بندوں کا محافظ ہے ۔

البتہ حسّی ذرائع سے یا طبعی علوم کے ذریعے ان فرشتوں کے وجود کے بارے میں عدم آگاہی ان کے وجود کی نفی کی دلیل نہیں ہو سکتی اور یہ بات زیر بحث آیت میں منحصر نہیں ہے بلکہ قرآن مجید اور اسی طرح دیگر مذاہب بہت سے ایسے امور کی خبر دیتے ہیں جو حس ّ انسانی سے ماوراء ہیں کہ جن کے بارے میں انسان عام ذرائع سے آگاہی حاصل نہیں کرسکتا ۔

اس سے قطع نظر جیسا کہ ہم نے مندرجہ بالا سطور میں کہا ہے کہ ہماری روز مرہ کی زندگی میں ہمیں اس محافظ قوت کی واضح نشانیاں نظر آتی ہیں اور ہم محسوس کرتے ہیں کہ بہت سے تباہ کن حوادث سے ہم معجزانہ طور پر نجات حاصل کرتے ہیں کہ جن کی تفسیر عام طریقے سے نہیں ہوسکتی یا جنہیں اتفاق قرار دینا مشکل ہے ۔

خود راقم نے اپنی زندگی میں اس کے نمونے دیکھے ہیں کہ جو یقینا حیرت انگیز ہیں کہ جو مجھ جیسے جلدی یقین نہ کرنے والے شخص کے لئے بھی غیر مرئی محافظ کے وجود کے لئے دلیل تھے ۔

۲ ۔ تبدیلی ہمیشہ خود ہمارے ہاتھو سے آتی ہے :

( ان الله لایغیر مابقوم حتی یغیروا ما بانفسهم ) “ یہ جمہ قرآن میں دو مواقع پر مختصر سے فرق کے ساتھ آیاہے اس میں ایک عمومی اور کلی قانون بیان کیا گیا ہے ۔ یہ ایک حیات ساز ، انقلاب آفریں ، اور خبر دار اور ہوشیار کرنے والا قانون ہے ۔

یہ قانون اسلام میں جہاں بینی او رمعاشرہ شناسی کی بنیاد ہے .....یہ قانون ہم سے کہتا ہے کہ تمہاری تقدیر ہر چیز اور ہر شخص سے پہلے خود تمہارے ہاتھ میں ہے اور قوموں کی خوش بختی و بد بختی کے سلسلے میں تبدیلی اور تغیر پہلے درجے میں خود انہی سے وابستہ ہے ۔ قسمت ، اقبال اتفاقات اور اوضاعِ فلکی کی تاثیر و غیرہ کوئی بھی بنیاد نہیں رکھتی ۔ اساس و بیاد یہی ہے کہ ہر شخص خود چاہے تو سر بلند اور کامیاب ہو یا اس کے علاوہ خود چاہے تو اپنے آپ کو ذلت ، زبوں حالی اور شکست کے سپرد کردے ۔ یہاں تک کہ لطف الہٰی کسی ملت پر بغیر کسی مقدمہ اور تمہید کے نہیں آتا۔

بلکہ یہ ملتوں کا اپنا ارادہ ، خواہش اور ان کے اندر ونی تغیرات ہیں کہ جو انہیں لطف ِ خدا یا عذابِ خدا کا مستحق بنا تے ہیں ۔

دوسرے لفظوں میں اسلام اجتماعی پرگرام کے ایک اہم ترین گوشے سے آگاہ کرنے والا یہ قانون ہم سے کہتا ہے کہ ہر قسم کے بیرانی تغیرات اور تبدیلیاں ملتوں اور قوموں کے اندرونی تغیرات پر منحصر ہوتی ہیں اور کسی قوم کو پیش آنے ہر قسم کی فتح و شکست کا سر چشمہ اس کے اندر ہو تا ہے ۔ لہٰذا وہ لوگ کہ جو اپنا دامن بچانے کے لئے ہر وقت ” بیرونی عوامل “ کے پیچھے پھرتے ہیں اور ہمیشہ اقتدار پرست اور استعماری طاقتوں کو اپنی بد بختی کا عامل شمار کر تے ہیں بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں کیونکہ اگر کسی معاشرے کے اندر ان جہنمی طاقتوں کو کوئی مر کز حاصل نہ ہو تو یہ کچھ بھی نہیں کر سکتیں ۔

اہم بات یہ ہے کہ ان توسیع پسندوں ، استعماری قوتوں اور سپرد طاقتوں کی چھاؤنیاں او رمراکز اپنے معاشرے سے در ہم برہم کردیں اور ان کی سر کوبی کریں تاکہ ان کے لئے نفوذ کی کوئی راہ ہی باقی نہ رہے ۔

یہ طاقتیں شیطان کی مانند ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ قرآن کے بقول شیطان ان لوگوں پر دسترس حاصل نہیں کرسکتا جو” عباد مخلصین “ ہیں ۔ وہ صرف ان لوگوں پر غلبہ حاصل کرتا ہے جنہوں نے اپنے وجود کے اندر شیطان کے لئے کوئی جگہ بنا رکھی ہے ۔

قرآن کی اس بنیادی تعلیم کا تقاضا ہے کہ بد بختیوں او رناکامیوں کو ختم کرنے کے لئے اندرونی انقلاب کی طرف بڑھیں ۔ ایک فکری اور ثقافتی انقلاب کی طرف ، ایک ایمانی اور اخلاقی انقلاب کی طرف ۔ بد بختیوں کے چنگل میں گرفتاری کے وقت اپنے کمزور پہلوؤں کو فوراً تلاش کرنا چاہئیے ۔ ہمیں اپنی روح سے کمزوری کے داغ توبہ او رحق کی طرف باز گشت کے پانی سے دھونے چاہئیں ۔ا س طرح ہم ایک نیا جنم لیں گے ، نیا نور بصیرت ملے گا اور نئی طاقت حرکت پیدا ہو گی اور اس کے ذریعے ہم اپنی ناکامیوں اور شکستوں کو کامیابی میں بدل سکتے ہیں ۔ یہ کامیابی اس طرح سے ممکن نہیں کہ ہم اپنے کمزورپہلوؤں کو خود خواہی اور خود غرضی کے پردوں میں چھپا دیں اور عوامل شکست کو اپنے معاشرے کے باہر سے تلاش کرتے پھریں ۔

پہلے مسلمانوں کی فتح و کامرانی او ربعد والے مسلمانوں کی شکست کے عوامل پر اب تک بہت سی کتا بیں لکھی گئی ہیں ۔ ان میں سے بہت سی مباحث سنگلاخ زمین پر ہل چلانے اور بے سمت چلنے کے مترادف ہیں ۔ ہمیں چاہئیے کہ کامیابی اور ناکامی کے عوامل خود مسلمانوں کے فکری ، اعتقادی اور اخلاقی تغیرات میں تلاش کریں ۔ خود مسلمانوں کی عملی زندگی کا مطالعہ کریں نہ کہ اس سے ہٹ کر ۔

دورحاضر کے انقلابات کہ جن میں سے ایک ہماری ملت کا انقلاب ہے اسی طرح اگر ہم الجزائر ، افغانستان اور دیگر مقامات کی انقلابی جد و جہد کا مطالعہ کریں تو ہم ان میں واضح طورپر اس قرآنی اصل کی حاکمیت کا مشاہدہ کریں گے۔

یعنی سامراجی حکومتوں اورتو سیع پسند طاقتوں نے تو اپنی روش نہیں بدلی لیکن جب ہم اندر سے تبدیل ہو گئے تو ہر چیز بدل گئی۔

ہم دیکھتے ہیں کہ صرف وہی رہبر اور قائد کا میاب ہوئے ہیں کہ جنہوں نے اس بنیادی قانون کے مطابق اپنی ملت کی رہبری کی ہے اور اس میں ایک انقلاب پیدا کیا ہے ۔

تاریخ اسلام اور دورِ حاضر کی تاریخ اس اساسی و بنیادی اور جاو دانی و دائمی قانون کی صداقت کے شواہد سے بھری پڑی ہے کہ جن کے تفصیلی ذکر سے ہماری بحث ہمیں اس تفسیر کی روش سے دور لے جائے گی ۔

____________________

۱۔ مفسرین میں اس سلسلے میں اختلاف ہے کہ ”لہ “ کی ضمیر کس کی طرف لوٹتی ہے ۔ مشہور تفسیر یہی ہے کہ یہ انسان کی طرف لوٹتی ہے جس کی طرف قبل کی آیت میں اشارہ ہوا ہے ۔ بعض نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ یہ پیغمبر یا خدا کی طرف لوٹتی ہے لیکن یہ احتمال ذیل کی آیت سے مناسبت نہیں رکھتا ( غورکیجئے گا )

۲۔ تفسیر بر ہان جل د ۲ ص ۳۸۳۔

۳۔ تفسیر بر ہان جل د ۲ ص ۳۸۳۔

۴۔نہج البلاغہ ، کلمات قصار جملہ ۲۰۱۔


آیات ۱۲،۱۳،۱۴،۱۵

۱۲ ۔( هُوَ الَّذِی یُرِیکُمْ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَیُنْشِءُ السَّحَابَ الثِّقَالَ ) ۔

۱۳ ۔( وَیُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِکَةُ مِنْ خِیفَتِهِ وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیبُ بِهَا مَنْ یَشَاءُ وَهُمْ یُجَادِلُونَ فِی اللهِ وَهوَ شَدِیدُ الْمِحَالِ ) ۔

۱۴ ۔( لَهُ دَعْوَةُ الْحَقِّ وَالَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لاَیَسْتَجِیبُونَ لَهُمْ بِشَیْءٍ إِلاَّ کَبَاسِطِ کَفَّیْهِ إِلَی الْمَاءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هوَ بِبَالِغِهِ وَمَا دُعَاءُ الْکَافِرِینَ إِلاَّ فِی ضَلَالٍ ) ۔

۱۵ ۔( وَلِلَّهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ طَوْعًا وَکَرْهًا وَظِلَالُهمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ) ۔

ترجمہ

۱۲ ۔ وہ وہی ہے جو تمہیں بجلی دکھا تا ہے کہ جو خوف کا بھی باعث ہے اور امید کا بھی نیزہ وہ بوجھل بادہ پیدا کرتاہے ۔

۱۳ ۔ اور گرج اس کی تسبیح اور حمد کرتی ہے اور فرشتر ( بھی ) اس کے خوف سے( مشغول تسبیح ہیں )اور ویہ صاعقہ بھیجتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس میں گرفتار کرتا ہے حالانکہ وہ (خدا کی ان آیات کا مشاہدہ کرنے کے باوجود ) خدا کے بارے میں مجادلہ میں مشغول ہیں اوراس کی قدرت لامتناہی ( اور عذاب درناک) ہے ۔

۱۴ ۔ حق کی دعوت اس کی طرف سے ہے اور جو ( مشرک ) لوگ غیر خدا کو پکار تے ہیں ان کی پکار کا وہ کوئی جواب نہیں دیتے یہ لوگ اس شخص کی طرح ہیں جو پانی کی طرف اپنی ہتھیلیاں کھولتا ہے تاکہ پانی اس کے منہ تک پہنچ جائے لیکن وہ کبھی نہیں پہنچے گا اور کافروں کا پکار ضلالت ( اور گمراہی ) کے سوال کچھ نہیں

۱۵ ۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے طوعاً یاکرھاًخد اکے لئے سجدہ ریز ہے ۔ اسی طرح دن رات ان کے سائے بھی ( سجدہ گزار ہیں ) ۔

عظمت الہٰی کی کچھ نشانیاں

قرآن یہاں ایک مرتبہ پھر آیات ِ توحید ، عظمت ِ پر وردگار کی نشانیاں اور اسرار آفرینش بیان کررہا ہے ۔ عالم طبیعت میں نمودار ہونے والی مختلف قدرتوں کی نشاندہی کی گئی ہے نیز ان کے اسرار کی طرف مختصر اور پر معنی اشارے کرتے ہوئے خدا سے بندوں کو زیادہ قریب کرکے ان دلوں پر ایمان و معرفت کی نور پاشی کی گئی ہے ۔

پہلے ( بادلوں میں پیدا ہونے والی ) بجلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : وہ وہی ہے جو تمہیں وہ بجلی دکھا تا ہے جو خوف او رامید کاباعث ہے( هُوَ الَّذِی یُرِیکُمْ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا ) ۔

ایک طرف تو اس کی شعاعِ درخشاں آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے اور رعد دار آواز جو اس سے اٹھتی ہے بعض اوقات تمہیں وحشت زدہ کردیتی ہے ۔ اس سے جو آتش سوزی کے خطرات پید ا ہوتے ہیں وہ خوف و اضطراب پیدا کردیتا ہے خصوصا ً جو لوگ بیابانوں میں زندگی بسر کرتے ہیں بیابانوں سے گزرہے ہوتے ہیں انہیں اس سے بہت وحشت آتی ہے ۔

دوسری طرف عموماً چونکہ ساتھ ساتھ موٹے قطروں کی بارش بھی ہوتی ہے جو بیابانوں کے تشنہ کاموں اور پیاسوں کو خوشگوار پانی بخشتی ہے اور اس سے درخت اور زراعت سیراب ہوتے ہیں لہٰذا اس سے ان کے دل میں ایک امید بھی پید اہوتی ہے او ریوں وہ خوف و امید کے حصاس لمحے گزارتے ہیں ۔

اس کے بعد قرآن مزیدکہتا ہے : وہ وہی ہے جو بوجھل اور پر بار بادل پیدا کرتا ہے کہ جو پیاسی زمینوں کی آبیاری کرسکتے ہیں( وَیُنْشیِءُ السَّحَابَ الثِّقَالَ ) ۔

رعد و برق کی بر کتیں

ہم جانتے ہیں کہ سائنسی لحاظ سے برق اس طرح سے پید اہوتی ہے کہ بادل کے دو ٹکڑے مختلف بجلی کے لحاظ سے (مثبت او رمنفی پول کی صورت میں ) ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں اور ان سے بالکل اس طرح سے کرنٹ پیدا ہوتا ہے جیسے بجلی کے دو تار جن میں مختلف (مثبت اور منفی فیز ( Phase )کی بجلی آرہی ہو جب ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں تو بہت زیادہ کرنٹ پیدا ہوتا ہے اور اصطلاح کے مطابق ہو جاتے ہیں ۔

تاروں کے دو سے جب آپس میں ملتے ہیں تو ہمارے سامنے معمولی سا کرنٹ اور شعلہ پید اہوتا ہے اور ایک ہلکی سے آواز بھی پیدا ہوتی ہے جب کہ آسمانی بجلی کے ساتھ بادلوں کی وسعت کے اعتبار سے الیکٹرک ڈسچارج شدید ہوتا ہے کہ اس سے ” رعد“ اور گرج پید اہوتی ہے۔

بادل کا ٹکڑا جو مثبت رو ہوتی ہے جب زمین کے نزدیک ہو جائے کہ جس میں ہمیشہ منفی رو ہوتی تو زمین اور بادل کے درمیان کرنٹ پید اہو جاتا ہے جسے ”صاعقہ“ کہتے ہیں ۔ یہ برقی رو اس ئے خطر ناک ہوتی ہے کہ اس کا ایک سر زمین کے بلند مقامات ہو تے ہیں ۔ اصطلاح کے مطابق یہ بلند جگہیں منفی رو کی حامل تار کے سرے یا نوک میں بدل جاتی ہیں یہاں تک کہ ہو سکتا ہے کہ کسی بیابان میں ایک انسان عملی طور پر اس منفی تا ر کی نوک میں بدل جائے اور بہت وحشت ناک کرنٹ اس کے سر پر آگرے اور مختصر سے لمحہ میں وہ خاکستر ہو جائے ۔ لہٰذا بیا بانوں میں رعد اور برق کے موقع پر فورا ً درخت ، دیوار یا پہاڑ کے دامن میں یا کسی اونچی جگہ کی اوٹ میں پناہ لے لینا چاہئیے یا کسی گرھے میں لیٹ جانا چاہئیے ۔

بہر حال برق جو شاید بعض کی نگاہ میں عالم طبیعت کی شوخی ہے موجودہ سائنسی انکشافات سے ثابت ہو ا ہے کہ اس کے بہت سے فوائد و برکات ہیں ۔ ذیل میں ہم ان فوائد کے تین پہلوؤ ں کی طرف اشارہ کرتے ہیں :

۱ ۔ آبیاری :

بجلیاں عموما ً بہت زیادہ حرارت پید اکرتی ہیں جو بعض اوقات تقریبا ً ۱۵ / ہزار سنتی گریڈ ہوتی ہے ۔ یہ حرارت اس مقصد کے لئے کافی ہوتی ہے کہ اطراف کی زیادہ تر ہوا کو جلادے اور اس کے نتیجہ میں فوراً ہوا کا دباؤ کم ہو جاتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ کم دباؤ کی صورت میں ہی بادل برستے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ عام طور پر بجلی چمکنے اور گرنے کے بعد ہی اولے پڑنے شروع ہوجاتے ہیں اور بارش کے موٹے موٹے قطرے گرنے لگتے ہیں ۔ اس بناء پر در حقیقت بجلی کی ایک ذمہ داری آبیاری ہے ۔

۲ ۔ جراثم پرسم پاشی :

جس وقت برجلی اپنی اس حرارت کے ساتھ چمکتی ہے تو بارش کے قطرات اضافی آکسیجن کی مقدار میں ترکیب ہوتے ہیں اور یہ بھاری پانی یعنی ہائیڈروجن پر آکسائیڈ پیدا کرتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ بھاری پانی کے آثار میں سے ایک یہ ہے وہ جراثیم کش ہوتا ہے ۔ اسی بناء پر طبی مصارف میں اسے زخموں کو دھونے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ بھاری پانی کے یہ قطرات جس وقت زمین پر برستے ہیں تو بناتاتی بیماریوں کے جراثم ختم کردیتے ہیں ۔ گویا پانی جراثیم پر خوب سم پاشی کرتا ہے ۔ اسی بنا ء پر ماہرین نے کہا ہے کہ جس سال رعد و برکم ہو بناتاتی آفات اور بیماریاں زیاد ہوتی ہیں ۔

۳ ۔ تغذیہ اور کھاد رسائی :

بجلی ، شدید حرارت او رکیمیائی ترکیب سے بارش کے قطرے کار بانک اسیڈ ۱

( H۲CO۳ CARBONIC ACID )بے رنگ و بو بھاپ جو کچھ ترش مزہ ہوتی ہے طب مین ہاضمے کی تقویت کے لئے استعمال ہوتی ہے ۔ ( مترجم )

کی حالت اختیار کرلیتے ہیں یہ جب زمینوں پر چھڑکے جاتے ہیں ، تو کیمیائی اثرات کی بدولت نباتات کے لئے ایک موثر کھا دکا کام کرتے ہیں ۔ اسی طرح سے نباتات کو غذا ملتی ہے ۔

بعض ماہرین کے مطابق آسمانی بجلیوں کے ذریعے کرہ زمین کو سال بھر میں ملنے والی کھاد سینکڑوں لاکھ ٹن ہے ۔

لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ پاؤں کے نیچے روندی جانے والی بظاہر ایک بے خاصیت چیز کس قدر پر بار او رپر بر کت ہے آبیاری بھی کرتی ہے ، جراثم پر رسم پاشی بھی کرتی ہے اور غذا بھی بنتی ہے ۔ یہ عالم ِ ہستی کے عجیب و غریب اور وسیع و عریض اسرار میں خدا شناسی کی طرف واضح راہنمائی کرنے والا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے ۔

یہ سب ایک طرف بجلی کی برکات ہیں اور دوسری طرف یہ آتش سوزاں کو بھی وجود دیتی ہے کہ جس کی ایک قسم ” صاعقہ “ ہے۔ یہ بجلی ہوسکتا ہے ایک یا کئی انسانوں کو یا درکتوں کوجلا ڈالے ۔ یہ چیز اگر کم اور ناد رہے اور اس سے بچا بھی جا سکتا ہے تا ہم خوف و ہراس کا عامل بن سکتی ہے ۔

اس طرح سے یہ جو ہم نے آیت بالا میں پڑھا کہ برق خوف کا سبب بھی ہے اور امید کا بھی ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ان تمام امور کی طرف اشارہ ہو۔

یہ بھی ممکن ہے کہ جملہ ”( وَیُنْشِیء السَّحَابَ الثِّقَالَ ) “جو مندر جہ بالا آیت کے آخر میں آیاہے وہ بجلی کی اسی خاصیت کے ساتھ مربوط ہو کہ جو بادلوں کی بارش کے انہی بھری ہو ئی پشت والے قطروں سے بوجھل کرتی ہے ۔

بعد والی آیت میں ”رعد“ کی آواز کا ذکر ہے کہ جو برق سے جدا نہیں ہے ۔ فرمایا گیاہے : رعد خدا کی تسبیح اور حمد کرتی ہے “( وَیُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ ) ۔

جی ہاں !عالم طبیعت کی یہ سخت آواز کہ جو بڑی آواز کے لئے ضرب المثل ہے چونکہ بجلی سے منسلک ہے اور دونوں ایک ہی مقصد کو پورا کرتی ہیں اور بہت اہم اور سوچی سمجھی خدمات انجام دیتی ہیں کہ جن کی طرف سطور بالا میں اشارہ کیا گیا ہے عملی طور پر خدا کی تسبیح کرتی ہیں دوسری طرف ”رعد“ ”برق“ کی زبان ِ گویا ہے جو نظام آفرینش اور عظمت خلق کی ترجمانی کرتی ہے ۔

یہ وہی چیز ہے جسے ”زبان حال “کہتے ہیں ۔ ایک جامع کتاب ، ایک قصیدہغرا، ایک خوبصورت اور دل انگیز مصوری کا نمونہ اور ایک مستحکم و منظم عمارت سب اپنی زبان حل سے اپنے لکھنے والے ، کہنے والے ، نقاش اور معمار کے علم و دانش اور ذوق و مہارت کی بات کرتے ہیں اور انہیں خراج ِ تحسین پیش کرتے ہیں ۔

اس عالم ہستی کا ہر ذرہ اسرار آمیز ہے اور بہت ہی دقیق اور حساب شدہ نظام رکھتا ہے ۔ سب ذرات ِ کائنات خدا پاکیزگی اور ہرقسم کے نقص و عیب سے اس کے منزہ ہونے کی حکایت کرتے ہیں (کیا” تسبیح“تنزیہ اور پاک جانتے کے علاوہ کچھ اور ہے ؟)اور سب کے سب اس کی قدرت اور علم و حکمت کی خبر دیتے ہیں (کیا”حمد“ صفات ِ کمال بیان کرنے کے علاوہ کچھ اور ہے ؟)(۱)

فلاسفہ کی ایک جماعت نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ اس جہان کے تمام ذرات میں سے ہر ایک ایک قسم کا عقل و شعور رکھتا ہے اور اسی عقل و شعور کی بناء پر خدا کی تسبیح و تقدیس کرتا ہے نہ صرف زبان حال سے اور اپنے وجود سے کہ وجود خدا کی ترجمانی کرتا ہے بلکہ زبان قال سے بھی اس کی تعریف کرتا ہے ۔

نہ صرف یہ کہ صدائے رعد اور عالم مادہ کے دیگر اجراء اس کی تسبیح کرتے ہیں بلکہ ” تمام فرشتے بھی خدا کے خوف و خشیت سے اس کی تسبیح میں مشغول ہیں “( وَالْمَلَائِکَةُ مِنْ خِیفَتِهِ ) ۔(۲)

وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں فرمان ، خدا پر عمل کرنے میں اور نظام ہستی کے بارے میں عائد شدہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی نہ ہو جائے اور اس طرح کہیں وہ عذاب ِ الٰہی میں گرفتار نہ ہوجائیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ جواحساس ِ مسئولیت رکھتے ہیں ان کے لئے ذمہ داریاں خوف کا باعث ہوتی ہیں ایک اصلاحی خوف کو جو انسان کو سعی و کاوش اور تحریک پر آمادہ کرتا اور ابھار تا ہے ۔

”رعد و برق“ کے بارے میں مزید وضاحت کے لئے ”صواعق“ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : خد اصواعق کو بھیجتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان کے ذریعے تکلیف پہنچاتا ہے( وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیبُ بِهَا مَنْ یَشَاءُ ) ۔

لیکن ان سب چیزوں کے باوجود عالم آفرینش ، وسیع آسمان و زمین ، نباتات، رعد و برق اور اس طرح کی دیگر چیزوں مین عظمت ِ الٰہی کی آیات دیکھنے کے باوجود حوادث یہاں تک کہ ایک آسمانی شعلے کے سامنے انسانی طاقت بے بسی کا مشاہدہ کرنے کے باوجود بے خبروں کا ایک گروہ خدا کے بارے میں مجادلہ او رجنگ کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے( وَهُمْ یُجَادِلُونَ فِی اللهِ ) ۔

حالانکہ خدا کی قدرت لامتناہی ہے ، اس کا عذاب دردناک ہے اور اس کی سزا بڑی سخت ہے( وَهوَ شَدِیدُ الْمِحَال ) ۔

“محال “ اصل میں ” حیلہ“ سے ہے اور ” حیلہ “ ہر قسم کی مخفی اور پنہان چارہ اندیشی کے معنی میں ہے ( غلط کو ششوں اور چارہ جوئیوں کے معنی میں نہیں کہ جس میں یہ لفظ فارسی زبان میں مشہور ہو چکا ہے ) ۔ یہ بات مسلم ہے ہے کہ جو چارہ جوئی پر بہت زیادہ قدرت رکھتا ہے وہ وہی ہے جو قدرت کے لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے اور علم و حکمت کے لحاظ سے بھی اور اس بناء پر وہ اپنے دشمنوں پر مسلط اور کامیاب ہوتا ہے اور کسی کو اس کے مرکز ِ قدرت سے نکل بھاگنے کا یارا نہیں ہے اسی لئے مفسرین نے ہر ایک نے ” شدید المحال “ کی اس طرح تفسیر کی ہے کہ سب نے اس کے مفہوم کی بنیاد مذکورہ معنی کو قرار دیا ہے ۔ بعض نے اسے ”شدید القوة “ ، بعض نے ”شدید العذاب“ ، بعض نے ” شدید القدرة“ اور بعض نے ” شدید الاخذ“ کے معنی میں اور اس جیسے الفاظ میں اس کی تفسیر کی ہے ۔(۳)

زیربحث آخری آیت دو مطالب کی طرف اشارہ کرتی ہے :۔

پہلا یہ کہ ”دعوت ِ حق ( اور حقیقی دعا ) “( لَهُ دَعْوَةُ الْحَقِّ ) ۔ یعنی جس وقت ہم اسے پکار یں تو وہ سنتاہے اور ہماری پکارکا جواب دیتا ہے اور وہ بندوں کی دعا سے آگاہی بھی رکھتا ہے اور ان کی آرزوؤں کو پورا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے ۔ اس لئے اسے پکارنا اور اس کی مقدس ذات سے تقا ضا کرنا حق ہے نہ کہ باطل اور بے اساس و بے بنیاد ۔

دوسرا یہ ہے کہ بتوں کو پکارنا اور ان سے درخواست اور دعا کرنا دعائے باطل ہے کیونکہ ”جن لوگوں کو مشرکین خدا کے علاوہ پکارتے ہیں اور اپنی تمناؤں کو پورا کرنے کے لئے حق کا سہارا لیتے ہیں وہ ہر گز انہیں جواب نہیں دیں گے اور ان کی دعا قبول نہیں کریں گے “( وَالَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لاَیَسْتَجِیبُونَ لَهُمْ بِشَیْءٍ ) ۔

جی ہاں باطل کو پکارنا ایسا ہی ہے کیونکہ وہ خیالی تصور سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا اور بتوں کے لئے وہ جیسے بھی علم و قدرت کے قائل ہوں سب موہوم ، بے پایہ اور بے اساس ہے ۔

کیا عینیت ، واقعیت اور مایہ خیرو برکت کے سوا” حق“ کچھ اور ہے اور خیال ، توہم اور مایہ شروفساد کے سوا” باطل “ کچھ اور ہے ۔

اس کے بعد جیسا کہ قرآن کی روش ہے اس عقلی بات کو ثابت کرنے کے لئے وہ ایک خوبصورت حسی اور رسا مثال پیش کرتے ہوئے کہتا ہے : وہ کہ جو غیر خدا کو پکار تے ہیں ، اس شخص کی طر ح ہیں جو ایسے پانی کے کنارے بیٹھا ہو جس کی سطح اس کے دسترس میں نہ ہو اور وہ اس امید سے پانی کی طرف اشارہ کرتا ہو کہ وہ اس کے دہن میں پہنچ جائے حالانکہ وہ ہر گز نہیں پہنچے گا ۔ یہ کیسا بے ہودہ اور فضول خواب و خیال ہے (ا( ِٕلاَّ کَبَاسِطِ کَفَّیْهِ إِلَی الْمَاءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هوَ بِبَالِغِه ) ۔

کیا کنویں کے کنارے بیٹھ کر پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر ، اشارہ سے پانی منہ تک پہنچا یا جا سکتا ہے ؟ ایسا کام کسی دیوانے اور سادہ لوح شخص کے سوا کوئی نہیں کرسکتا ہے ۔

مذکورہ جملہ کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ بت پرستوں کو ایک شخص سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جو اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو پوری طرح کھول کر افقی شکل میں پانی داخل کرتا ہے اور اس انتظار میں ہے کہ پانی ا س کے ہاتھ میں ٹھہر جائے حالانکہ پانی سے نکلتے ہی پانی کے قطرے انگلیوں کی طرف سے نکل جائیں گے اور کچھ باقی نہیں رہے گا ۔

مفسرین نے اس جملے کے لئے ایک تیسری تفسیر بھی ذکر کی ہے اور وہ یہ کہ بت پرست جو اپنی مشکلات کے حل کے لئے بتوں کے پاس جاتے ہیں اس شخص کی طرح ہیں جو چاہتا ہے کہ پانی اپنی مٹھی میں بند رکھے ۔ کیا کبھی پانی کو مٹھی میں بند رکھا جاسکتا ہے ، یہ بات عربوں میں مشہور ضرب المثل سے لی گئی ہے کہ جب وہ اس شخص کے لئے کوئی مثال ذکر کرنا چاہتے ہیں کہ جو بے ہودہ اور فضول کو شش کرتا ہے تو کہتے ہیں :”هو کقابض الماء بالید

وہ اس شخص کی طرح ہے جو پانی کو ہاتھ سے پکڑ نا چاہتا ہے ۔

ایک عرب شاعر کہتا ہے :فاصبحت فیماکان بینی و بینها من الود مثل قابضِ الماء بالید

میری حالت تو یہ ہو گئی کہ میں اپنے اور اس کے درمیان محبت بر قرار رکھنے کے لئے اس شخص کو طرح ہو گیا کہ جو پانی کو ہاتھ میں روک رکھے۔(۴)

آیت کے آخر میں اس بات کی تاکید کے لئے قرآن کہتا ہے : کافروں کابتون سے دعا اور درخواست کرنا گمراہی میں قدم اٹھانے کے علاوہ کچھ نہیں( وَمَا دُعَاءُ الْکَافِرِینَ إِلاَّ فِی ضَلَالٍ ) ۔

اس سے بڑھ کر کیا گمراہی ہوسکتی ہے کہ انسان اس راستے میں اپنی کاوشیں صرف کرے کہ جو کبھی منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا اور اس راستے میں وہ اپنے آپ کو خستہ و بے حال کردے لیکن اسے کوئی نتیجہ اور فائدہ حاصل نہ ہو۔

زیر بحث آخر ی آیت میں یہ نشاندہی کرنے کے لئے کہ بت پرست عالم ہستی کے کارواں سے کس طرح الگ ہو گئے ہیں اور تنہا بے راہ روی میں سر گرداں ہیں فرمایاگیا ہے : آسمانوں اور زمین کے تمام رہنے والے اطاعت و تسلیم سے یا کراہت و ناپسندیدگی سے سر بسجود ہیں اور اسی طرح ان کے سائے بھی صبح و شام سجدہ ریز ہیں( وَلِلَّهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ طَوْعًا وَکَرْهًا وَظِلَالُهمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ) ۔

____________________

۱۔”تسبیح و تقدیس “ کہ جو مودات کرتی ہیں کے بارے میں مزید وضاحت انشا اللہ ”وان من شیء الا یسبح بحمده لکن لاتفقهون تسبیحهم “ ( بنی اسرائیل ۴۴) کے ذیل میں آئے گی ۔

۲۔شیخ طوسی تبیان میں فرماتے ہیں :

”خفیة“ اور ”خوف“ کے درمیان فرق یہ ہے کہ” خفیة“حالت کو بیان کرتا ہے اور ”خوف “مصدر ہے ۔ یعنی پہلا حالت خوف کے معنی میں ہے اور دوسرا ڈرنے کے معنی میں ہے ۔

۳۔بعض ”محال “کو ”حیلة“ کے مادہ سے نہیں سمجھتے بلکہ” محل “اور ”ماحل “ کے مادہ سے قرار دیتے ہیں کہ جو مکر و جدال اور عذاب دینے اور سزا دینے کے لئے عزم و صمیم کرنے کے معنی سے لیا گیا ہے لیکن جو کچھ ہم نے تین میں کہا ہے وہ زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے اگر چہ دونوں معانی قریب الافق ہیں ۔

۴۔ تفسیر قرطبی جلد ۵۔ ص ۳۵۲۹۔


چند اہم نکات

۱ ۔ موجودات کے سجدہ کرنے سے کیا مرد ہے :

ایسے مواقع پر سجدہ خضوع و خشوع ، انتہائی قسم کی تواضع و انکساری اور سر تسلیم خم کرنے کے معنی میں ہے یعنی تمام فرشتے ، انسان اور سب صاحبان عقل و فکر خدا کے سامنے متواضع ہیں لیکن کچھ مخلوقات سجود، تکوینی کے علاوہ سجود تشریعی کی بھی حامل ہیں ۔

سجود تشریعی یعنی اپنے ارادے اور رضاو رغبت سے کئے جانے والے سجدے ۔

جب سجود تکوینی کی مثال یہ ہے کہ جب کوئی مخلوق موت و حیات ، نشو وتکامل اور سلامتی و بیماری وغیرہ کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہے تو تسلیم و خضوع کی یہ حالت در حقیقت قوانین آفرینش کے لئے ان کی طرف سے ایک قسم کا سجدہ تکوینی ہے ۔

۲ ۔ طوعاً و کرھاً سے کیا مراد :

ہو سکتا ہے یہ اس طرف اشارہ ہو کہ مومنین بارگاہ پروردگار میں رضاو رغبت سے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور اس کے سامنے خضوع کرتے ہیں لیکن غیر مومنین اگر چہ ایسے سجدے کے لئے تیار نہیں ہیں تا ہم ان کے وجود کے تمام ذرات قوانین ِ آفرینش کے پیش نظر فرمان خدا کے سامنے سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں ، وہ چاہیں یا نہ چاہیں ۔

ضمنا ً توجہ رہے کہ ”کرہ“ ( بر وزن ”جرم “ ) اس کراہت کے معنی میں ہے جس کا سر چشمہ انسان کا اندر اور باطن ہے اور”کرہ“ ( بروزن ” شرح “) اس کراہت کے معنی میں ہے جس عامل بیرونی اور خارجی ہو ۔ زیر بحث مقام پر چونکہ غیر مومنین خارج از ذات عوامل کے زیر اثر قوانین ِ آفرینش کے مقہور و مغلوب ہیں اس لئے ”کرہ “ ( بر وزن ”شرح “) استعمال ہوا ہے ۔

”طوعاً و کرھاً“ کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ” طوعاً“ سے مراد عالم خلقت کے وہ واقعات ہیں جو ایک موجود کی فطری اور طبیعی رضا و رغبت کے موافق ہیں ( مثلاً زندہ رہنے کے لئے موجودِزندہ کی رغبت ) اور ”کرھاً“ سے مراد وہ میلان ہے جو ایک وجود کو خارج سے لاحق ہو۔ مثلاً جراثیم کے حملے سے ایک زندہ موجود کی موت۔

۳ ۔ ”ظلال“ کامفہوم :”ظلال “جمع ”ظل“ کی ، جو ”سایہ “ کے معنی میں ہے

۔ مندرجہ بالا آیت میں اس لفظ کا ذکر نشاندہی کرتا ہے کہ ”سجود “ سے مراد صرف تشریعی سجدہ نہیں کیونکہ موجودات کے سایہ تو اپنا کوئی ارادہ و اختیار نہیں رکھتے بلکہ وہ تو روشنی کہ چمک کے قوانین کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہیں ، اس بناء پر ان کا سجدہ تکوینی ہے یعنی وہ قوانین ِ آفرینش کے سامنے سر تسلیم کم کئے ہوئے ہیں ۔

البتہ لفظ ”ظلال “ کے ذکر کا یہ مطلب نہیں کہ زمین و آسمان کی تمام موجودات کا وجود مادی ہے اور ان سب کا سایہ ہوتا ہے بلکہ یہ صرف ان موجودات کی طرف اشارہ ہے کہ جن کا سایہ ہوتا ہے ۔ مثلاً جب کہا جاتا ہے کہ شہر کے علماء اور ان کے فرزندوں نے فلاں مجلس میں شر کت کی تو ا س کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کے فرزندوں نے شر کت کی کہ جن کے فرزند تھے ۔ اس جملے سے ہر گز یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ شہر کے تمام علماء صاحبِ اولاد ہیں (غورکیجئے گا

بہر حال سایہ اگر چہ ایک عدی چیز کے علاوہ کچھ نہیں کہ جو روشنی کا فقدان اور نہ ہونا ہی ہے لیکن چونکہ ہر طرف سے نو رکا وجود اس کا احاطہ کئے ہوتا ہے لہٰذا اس کی بھی ایک موجودیت ہے اور وہ بھی آثار رکھتا ہے ۔ مندر جہ بالا آیت میں اس لفظ کی تصریح شاید تاکید کے لئے ہے کہ موجودات کے سائے تک بار گاہ خدا وندی میں سر خمیدہ ہیں ۔

۴ ۔ ”آصال “اور” غدو“ کامطلب :

یہ ” اصل “( بر وزن ”دھل “) جمع ہے اور ”اصل“بھی اور اصیل“ جمع ہے کہ جو ”اصل “کے مادہ سے لی گئی ہے اور یہ دن کے آخری حصے کو کہتے ہیں اس لئے کہ دن کا یہ حصہ رات کی اصل اور بنیاد شمار ہوتا ہے ۔

نیز ”غدو“ جمع ہے ”غداة“ کی کہ جو دن کے پہلے حصے کے معنی میں ہے ( اور بعض اوقات یہ مصدری معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ) ۔

اگر چہ حکم خدا کے سامنے عالم ِ ہستی کی موجودات کا سجدہ اور خضوع صبح اور عصر کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر وقت ہے پھر بھی ان دو مواقع کا ذکر یاتو اس امر کے دوام کے لئے کنایہ ہے مثلاً کہتے ہیں کہ فلاں شخص صبح و شام تحصیلِ علم میں مشغول ہے یعنی ہمیشہ تحصیل علم میں محو ہے اور یا اس بناء پر ہے کہ گزشتہ جملے میں موجودات کے سایوں کے بارے میں گفتگو ہوئی تھی اور سائے دن کے آغاز اور اختتام پر دیگر اوقات کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں ۔


آیت ۱۶

۱۶ ۔( قُلْ مَنْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ قُلْ اللهُ قُلْ اٴَفَاتَّخَذْتُمْ مِنْ دُونِهِ اٴَوْلِیَاءَ لاَیَمْلِکُونَ لِاٴَنفُسِهمْ نَفْعًا وَلاَضَرًّا قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاٴَعْمَی وَالْبَصِیرُ اٴَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمَاتُ وَالنُّورُ اٴَمْ جَعَلُوا لِلَّهِ شُرَکَاءَ خَلَقُوا کَخَلْقِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ قُلْ اللهُ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ) ۔

ترجمہ

کہو آسمان اور زمین کا پر وردگار کون ہے ؟ کہہ دو : تم نے اپنے لئے اس کے علاوہ اولیاء ( اور خدا) بنالئے ہیں ، کہ جو اپنے سودو زیاں کے ( بھی ) مالک نہیں ہیں ( چہ جائیکہ تمہارے ) ۔ کہو : کیا بینا اور نابینا برابر ہیں یا ظلمتیں اورنور برا بر ہیں ؟ کیا انہوں نے انہیں خدا کا اس لئے شریک قرار دیا ہے کہ وہ خدا کا طرح خلقت رکھتے ہیں اور یہ خلقتیں ان کے لئے مشتبہ ہو گئی ہیں ؟ کہہ دو : خدا ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہے یکتا و کامیاب ۔

بت پرستی کیوں ؟

گزشتہ آیات میں وجودِ خد اکی معرفت کے بارے میں بہت سی بحثیں تھیں ۔ اس آیت میں بت پرستوں کے اشتباہ کے بارے میں بحث کی گئی ہے اور اس کے بارے میں مختلف پہلوؤں سے گفتگو کی گئی ہے ۔

پہلے پیغمبر کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : ان سے پوچھوکہ آسمانوں اور زمین کاپر وردگار اور مدبر کون ہے( قُلْ مَنْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ ) ۔

اس کے بعد بغیر اس کے کہ پیغمبر ان کے جواب کے انتظار میں رہے حکم دیا گیا ہے کہاس سوال کا جواب خود دو، کہو : ”اللہ “( قل الله ) ۔

پھر انھیں یو ں ملامت کی گئی ہے : ان سے کہو : کیا تم نے غیر خدا کو اپنے لئے اولیاء ،سہارا اور معبود قرار دے لیا ہے حالانکہ یہ بت تو اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں( قُلْ اللهُ قُلْ اٴَفَاتَّخَذْتُمْ مِنْ دُونِهِ اٴَوْلِیَاءَ لاَیَمْلِکُونَ لِاٴَنفُسِهمْ نَفْعًا وَلاَضَرًّا ) ۔

در حقیقت پہلے ” خدا کی ربوبیت “ کے حوالے سے بحث کی گئی ہے نیز یہ کہ وہی عالم ک امالک و مدبر ہے ہر خیر و نیکی اسی کی جانب سے ہے اور وہی ہر شر کو دور کرنے کی طاقت رکھتا ہے یعنی جب کہ تم یہ بات قبول کرتے ہوکہ خالق اور پرور دگار وہ ہے تو اب جو مانگنا ہے اسی سے مانگو نہ کہ بتوں سے کہ جہ جو تمہاری کوئی مشکل حل نہیں کرسکتے۔ پھر اس سے بھی پڑھ کر فرمایاگیا ہے کہ وہ تو اپنے نفع و نقصان تک کے مالک نہیں ہیں چہ جائیکہ تمہارے ۔ ان حالات میں وہ تمہاری کونسی مشکل آسان کرسکتے ہیں جس کی بناء پر تم ان کی پرستش کرتے ہو جب وہ اپنے لئے بے بس ہیں تو تم ان سے کیا توقع رکھتے ہو۔

اس کے بعد دو واضح اور صریح مثالوں کے ذریعے ” موحد“ اور ”شرک“ کی کیفیت بیان کی گئی ہے ۔

پہلے فرمایا گیا ہے : کہو: کیا نابینا اور بینا برابر ہیں( قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاٴَعْمَی وَالْبَصِیرُ ) ۔

جس طرح بینا اور نابینا برابر نہیں ہیں اسی طرح کافر اور مون بھی برابر نہیں ہیں اور بتوں کو ”اللہ “ کا شریک قرار نہیں دیا جاسکتا ۔

دوسرا یہ کہ : کیا ظلمات اور نور برابر ہیں( اٴَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمَاتُ وَالنُّورُ ) ۔

وہ ظلمت کہ جو انحراف ، گمراہی ، اشتباہ اور خوف و خطر کا مر کز ہے اسے اس نور کے برابر کیسے سمجھا جا سکتا ہے جو رہنما اور حیات بخش ہے ۔ کس طرح سے بتون کو کہ جو محض ظلمات ہیں خدا کے ساتھ شریک کیا جا سکتا ہے کہ جو عالم ہستی کا نور مطلق ہے ۔ ایمان اور توحید کہ جو روحِ نور ہے اسے شر ک و بت پرستی سے کیانسبت کہ جو ظلمت کہ روحِ رواں ہے ۔

اس کے بعد ایک طریقے سے مشرکین کے عقیدے کابطلان ثابت کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہو تا ہے : وہ کہ جنہوں نے خدا کے لئے شریک قرار دئے ہیں کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بھی خدا کی طرح خلق کیا ہے او ریہ خلق کیا ہے اور یہ خلقت ا س کے لئے مشتبہ ہو گئی اور انہیں یہ گمان ہو گیا ہے کہ بت بھی خدا کی طرح عبادت کے مستحق ہیں کیونکہ ان کی نظر میں بت بھی وہی کام کرتے ہیں کہ جو خدا کرتا ہے( اٴَمْ جَعَلُوا لِلَّهِ شُرَکَاءَ خَلَقُوا کَخَلْقِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ ) ۔

حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ یہاں تک کہ بت پرست بھی بتوں کے بارے میں ایساعقیدہ نہیں رکھتے ۔ وہ بھی خدا کو تمام چیزوں کا خالق سمجھتے ہیں اور عالم خلقت کو فقط اس سے مربوط شمار کرتے ہیں ۔

اسی لئے فوراً فرمایا گیاہے : کہہ دو خدا ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہے یکتا و کامیاب( قُلْ اللهُ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ) ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ خالقیت و ربوبیت معبودیت سے مر بوط ہے :

زیر نظر آیت سے پہلے تو یہ نکتہ معلوم ہوتا ہے کہ جو خالق ہے وہ رب اور مدبر ہے بھی ہے کیونکہ خلقت ایک دائمی اور مسلسل امر ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ خدا وند عالم موجودات کو پیداکرکے ایک طرف بیٹھ جائے بلکہ فیضِ ہستی خدا کی طرف سے دائمی طور پر ہوتا ہے اور ہر موجود اس کی پاک ذات سے ہستی اور وجود حاصل کرتا رہتا ہے ۔ اس بناء پر آفرینش کا پر وگرام اور عالم ہستی خدا کی تدبیر ابتدائے خلقت کی طرح خدا کے ہاتھ میں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سود زیاں اور نفع و نقصان کامالک وہی ہے اور اس کے علاوہ جس کے پاس جو کچھ بھی ہے اسی کی طرف سے ہے ۔ اس کے باوجود کیا خدا کے علاوہ کوئی عبودیت کا اہل ہے۔

۲ ۔ خود ہی سوال اور خود ہی جواب :

محل بحث آیت سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ خدا اپنے پیغمبر کو کیونکر حکم دیتا ہے کہ مشرکین سے سوال کریں کہ آسمان و زمین کا پر ور دگار اور مالک کون ہے اور ا سکے بعد بغیر جواب کا انتظار کئے اپنے پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ وہ ا س سوال کا جواب دیں اور اس کے بعد بلا فاصلہ ان مشرکین کو سر زنش کی گئی ہے کہ وہ بتوں کی پر ستش کیوں کرتے ہیں ۔

یہ سوا ل و جواب کا کیسا طریقہ ہے ؟ایک نکتہ کی طرف تو جہ کرنے سے اس سوال کا جوا ب واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ بعض اوقات ایک سوال کا جواب اس در واضح ہوتا ہے کہ وہ اس بات کا محتاج نہیں ہوتا کہ مدمقابل کے جواب کا انتظار کیا جائے ۔ مثلا ًیہ کہ ہم کسی سے سوال کرتے ہیں کہ اس وقت رات یا دن اور پھر بلا فاصلہ ہم خود جواب دیتے ہیں کہ یقینارات ہے ۔ یہ در اصل اس امر کے لئے ایک لطیف کنایہ ہے کہ یہ بات اس قدر واضح ہے کہ جواب کے انتظار کرنے کی محتاج نہیں ہے ۔

علاوہ ازیں مشرکین خالقیت کو خدا کے ساتھ مخصوص سمجھتے تھے اور وہ ہر گز یہ بات نہیں کہتے تھے کہ بت پرست زمین و آسمان کے خالق ہیں بلکہ ان کا عقیدہ تھا کہ وہ شفیع ہیں اور انسان کو نفع و نقصان پہونچانے پر قادر ہیں اور اسی بناء پر ان کا یہ عقیدہ تھا کہ ان کی عبادت کرنا چاہئیے ۔ لیکن چونکہ ”خالقیت“ اور ”ربوبیت“ ( عالم ہستی کی تدبیر اور اس کے نظام کو چلانا)ایک دوسرے سے جد انہیں ہے لہٰذا مشرکین پر یہ اعتراج کیا جا سکتا ہے اور انہیں کہا جا سکتا ہے کہ تم خالقیت کو خدا کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہو تو ربوبیت کو بھی اس کے ساتھ مخصوص سمجھو اور اس کے ساتھ عبادت بھی اسی سے مخصوص ہو گئی ہے ۔

۳ ۔چشم بینا اور روشنی لازم و ملزوم ہیں :

آیت میں ” نابینا و بینا “ اور ”ظلمات و نور “ دونوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ گویا یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ایک حقیقت ِ عینی کے مشاہدہ کے لئے دو چیزوں کی ضرورت ہے ۔ چشم بیناکی بھی اور نور کی شعاعوں کی بھی ۔ ان میں سے کوئی ایک نہ ہو تو مشاہدہ ممکن نہیں ۔ لہٰذا سوچنا چاہئیے کہ ان لوگوں کی کیا حالت ہو گی کہ جو ان دونوں سے محروم ہوں ، بینائی سے بھی اور نور سے بھی ۔ اس کا حقیقی مقصداق مشرکین ہیں کہ جن کی چشم بصیرت بھی اندھی ہے او ر جن کی زندگی کو بھی کفر و بت پرستی کی تاریکی نے گھیر لیارکھا ہے اسی لئے وہ تاریک گھاٹیوں اور گڑھوں میں سر گرداں ہیں ۔ جب ان کے بر عکس مومنین نگاہِ بینا رکھتے ہیں ۔ ان کا پر و گرام واضح ہے اور انہوں نے نورِ وحی اور تعلیماتِ انبیاء کی مدد سے اپنی زندگی صحیح راستے پر دال لیا ہے ۔

۴ ۔ کیا خدا کی خالقیت جبر و اکراہ کی دلیل ہے ؟

زیر نظر جبر کی بعض طرفداروں نے محل بحث آیت کے جملے ”( الله خالق کل شیء ) “ سے اپنا مقصد ثابت کرنے کے لئے استدلال کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ کاموں کا خالق بھی خدا ہے یعنی ہمارا اپنا کوئی اختیار نہیں ہے ۔

اس بات کو دو طریقوں سے جواب دیاجا سکتا ہے :

پہلا یہ کہ اس آیت کے دوسرے جملے اس بات کی پورے طور پر نفی کرتے ہیں کیونکہ ان میں بت پرستوں کی بڑی ملامت کی گئی ہے اگر واقعا ً ہم اپنے اعمال میں کوئی اختیار نہیں رکھتے تو پرتنبیہ اور سر زنش کس بناء پر ؟اگر خدا چاہتا کہ ہم بت پرست رہین تو پھر وہ کیون سر زنش کرتا ہے او رکیوں ہدایت کے لئے اور راہ بدلنے کے لئے استدلال کرتا ہے ۔ یہ سب چیزیں اس بات کی دلیل ہیں کہ لوگ اپنی راہ انتخاب کرنے میں آزاد اور مختار ہیں ۔

دوسرایہ کہ ہر چیز میں خالقیت بالذات خدا کے ساتھ مخصوص ہے لیکن پھر بھی یہ چیز اپنے افعال میں ہمارے مختار ہونے کے منافی نہیں ہے کیونکہ ہماری طاقت اور ہماری عقل بلکہ ہمارے ارادے کی آزادی سب کے سب اسی کی جانب سے ہیں ۔ اس بناء پر ایک لحاظ سے وہ بھی خالق ہے ( تمام چیزوں کا خالق حتی کہ ہمارے افعال و اعمال کا خالق ) اور ہم بھی فاعل مختار ہیں اور یہ دونوں ایک دوسرے کے طول میں ہیں کہ کہ عرض میں ۔ وہ فعل کے تمام وسائل اور ذرائع پیدا کرنے والا ہے اور ہم خیر و شر کے راستے پر ان وسائل سے استفادہ کرنے والے ہیں ۔

یہ بالکل اس طرح ہے جس طرح سے کوئی شخص بجلی گھر یا پانی پلائی کا مر کز تیار کرکے ہمارے اختیار میں دے دیتا ہے ۔ مسلم ہے کہ ہم اس بجلی سے کسی قریب المرگ بیمار کے لئے آپریشن تھیٹر کو روشن کریں یا ایک برائی کے مرکز کو ۔ اسی طرح پانی سے کسی تشنہ لب کو سیراب کریں اور پھولوں کے پودوں کی آبیاری کریں یا کسی بے گناہ کے گھر کی بنیادوں میں پانی ڈال کر اسے تباہ کردیں ۔


آیت ۱۷

۱۷ ۔( اٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ اٴَوْدِیَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَابِیًا وَمِمَّا یُوقِدُونَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْیَةٍ اٴَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِثْلُهُ کَذَلِکَ یَضْرِبُ اللهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ فَاٴَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَاءً وَاٴَمَّا مَا یَنفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاٴَرْضِ کَذَلِکَ یَضْرِبُ اللهُ الْاٴَمْثَالَ ) ۔

ترجمہ

۱۷ ۔ خدا نے آسمان سے پانی بھیجا اور ہر درّہ اور دریا سے ان کی مقدار کے مطابق سیلاب امند پڑا پھر پانی کے ریلوں پر جھگ پیدا ہو گئی اور جن (بھٹیوں ) میں زیرات یا اسباب زندگی تیار کرنے کے لئے آگ روشن کرتے ہیں ان سے بھی جھاگ نکلنے لگی ۔ اس طرح خدا حق او رباطل کے لئے مثال بیان کرتا ہے ۔لیکن جھگ ایک طرف ہو جاتی ہے او رلوگوں کے لئے فائدہ رساں چیز ( پانی یا خالص دھات ) زمین میں باقی رہ جاتی ہے ۔ خدا اسی سے مثال بیان کرتا ہے ۔

حق و باطل کی منظر کشی

قرآن کے جو تعلیم وتربیت کی کتاب ہے ا س کی روش ہے کہ وہ مسائل عینی کی بنیا دپر گفتگو کرتا ہے لہٰذا اس میں پیچیدہ مسائل کو ذھن نشین کروالے کے لئے لوگوں کی روز مرہ زندگی سے عمدہ، خوبصورت اور حسی مثالیں پیش کی گئی ہیں زیر نظر آیت میں بھی توحید و شرک ، ایمان و کفر اور حق و باطل کے بارے میں گزشتہ آیات میں ذکر کئے گئے حقائق کو مجسم کرنے کے لئے ایک بہت ہی رسا اور عمدہ مثال بیان کی گئی ہے ۔

پہلے ارشاد ہوتا ہے : خدا نے آسمان سے پانی نا زل کیا ہے( اٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً ) ۔زندگی کی بخش اور حیات آفرین پانی نشو ونما اور حرکت کا سر چشمہ پانی ۔

اس وقت یہ پانی زمین کے دروں ،گڑھوں ، دریاؤں اور نہروں میں ان کی وسعت کے مطابق سما جا تا ہے( فَسَالَتْ اٴَوْدِیَةٌ بِقَدَرِهَا ) ۔

چھوٹی چھوٹی ندیاں ایک دوسرے گلے ملتی ہیں ۔ تو در یا وجود میں آتے ہیں دریا باہم مل مل جائیں تو دامن کہساز سے سیلابِ عظیم امنڈ پڑتا ہے پانی کندھوں اور سروں سے بلند ہو جاتا ہے او رجو کچھ اس کی راہ میں آتا ہے اسے بہالے جاتا ہے ۔ ایسے میں پانی کی موجیں اور لہریں جب آپس میں ٹکراتی ہیں تو جھاگ پیدا ہوتی ہے ۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے : سیلاب کے اوپر جھاگ اٹھتی ہے( فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَابِیًا ) ۔

”رابی “ کا مادہ ”ربو“ ( بر وزن ”غلو“) ہے ۔ یہ بلندی و بر تری کے معنی میں ہے۔ ”ربا “کہ جوسود یا اضافی رقم یا اضافی جنس کے معنی میں ہے وہ بھی اسی مادہ سے اسی معنی میں ہے چونکہ یہ اضافے اور زیادتی کا معنی دیتا ہے ۔

جھاگ صرف بارش برسنے سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ جو دھاتیں آگ کے ذریعے پگھلتی ہیں تاکہ ان سے زیوارات یا دیگر اسباب ِ زندگی تیار کئے جائیں ان سے بھی پانی کی جھاگ کی طرح جھاگ نکلتی ہے( وَمِمَّا یُوقِدُونَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْیَةٍ اٴَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِثْلُهُ ) ۔(۱)

یہ تعبیر ان کٹھالیوں کی طرف اشارہ ہے جن میں دھاتیں پگھلانے کے لئے ان کے نیچے بھی آگ ہوتی ہے اور اوپر بھی ۔ اس طرح سے نیچے آگ ہوتی ہے پھر اس کے اوپر ایسے پتھر کہ جن میں سامواد ہوتا ہے ڈالے جاتے ہیں اور پھر اس کے اوپر بھی آگ ڈالتے ہیں ۔ یہ بہترین قسم کی کٹھالی ہے کہ جن میں آگ نے پگھلنے کے قابل مواد کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہوتا ہے ۔

یہ ایک ایسی وسیع مثال بیان کی گئی ہے جو صرف پانی سے متعلق نہیں ہے بلکہ دھاتوں کے بارے میں بھی ہے چاہے وہ دھا تیں زیورات بنانے کے لئے استعمال ہوتی ہوں یا دیگر اسباب ِ حیات تیار کرنے کے کام میں آتی ہوں ۔ اس کے بعد نتیجہ اخذ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اس طرح خدا حق او رباطل کے لئے مثال بیان کرتا ہے( کَذَلِکَ یَضْرِبُ اللهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ ) ۔

پھر اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا گیاہے : لیکن جھاگ ایک طرف ہو جاتی ہے اور وہ پانی کہ جو لوگوں کے لئے مفید اور سود مند ہوتا ہوتا ہے زمین میں باقی رہ جاتا ہے( فَاٴَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَاءً وَاٴَمَّا مَا یَنفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاٴَرْضِ ) ۔

فضول شوریلی اور اندر سے خالی جھاگ کہ جو ہمیشہ اوپر ہوتی ہے لیکن کوئی فائدہ بخش نہیں ہوتی اسے ایک طرف پھینک دینا چاہئیے لیکن خاموش، بے صدا، متواضع ، مفید اور سود مند پانی باقی رہ جاتا ہے اور اگر زمین کے اوپر نہ ہو تو زمین کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے اور زیادہ وقت نہیں گذرتا کہ رواں چشموں اور کنوؤں کی صورت میں زمین سے نکل آتا ہے اور تشنہ کاموں کو سیراب کرتا ہے ۔ درختوں کو بار آور ، گلو کو شگفتہ اور پھلوں کو تیار کرتا ہے اور ہرچیز کو سروسامان ِ حیات عطا کرتا ہے ۔

آیت کے آخر میں مزید تاکید کے طور پر اور اس آیت میں زیادہ غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اس طرح خدا مثالیں بیان کرتا ہے( کَذَلِکَ یَضْرِبُ اللهُ الْاٴَمْثَالَ ) ۔

چند اہم نکات

اس معنی خیز مثال میں نہایت موزوں الفاظ اور جملے استعمال ہوئے ہیں ۔ حق و باطل کی منظر کشی نہایت عمدہ گی سے کی گئی ہے ۔ اس میں بہت سے حقائق پوشیدہ ہیں ۔ ان میں سے بعض کی طرف ہم یہاں اشارہ کرتے ہیں ۔

۱ ۔ حق و باطل کی شناخت کے لئے علامتیں :

حق و باطل کی پہچان کہ جو در حقیقت واقعیت اور حقیقت کو خالی اور جعلی باتوں سے الگ کرنے کا نام ہے بعض اوقات انسان کے لئے اس قدر مشکل اور پیچیدہ ہو جاتی ہے کہ کسی حتمی اور یقینی علامت کو تلاش کرنا پڑتا ہے اور علامتوں کے ذریعے حقائق کو اوہام سے اور حق کو باطل سے جدا کرکے پہچاننا پڑتا ہے ۔ قرآن نے مذکورہ مثال میں ان علامتوں کو اس طرح سے بیان کیا ہے :

الف : حق ہمیشہ مفید اور سود مند ہوتا ہے آب شیریں کی طرح کہ جو باعث حیات ہے لیکن باطل بے فائدہ اور فضول ہوتا ہے پانی کے اوپر والی جھاگ کسی کو سیراب کرتی ہے نہ درخت اگاتی ہے ۔ کٹھالی میں پگھلنے والی دھاتوں سے نکلنے والی جھاگ بھی نہ زیور بنانے کے کام آتی ہے نہ زندگی کا کوئی اور ساز و سامان ۔ اگر اس جھاگ کا کوئی مصرف ہے تو پست اور بے وقعت جو کسی حساب و شمار میں نہیں آتا ۔ جیسے خمس و خاشاک کو جلانے کے کا م لایاجائے ۔

ب:باطل ہمیشہ مستکبر ، بالا نشین اور قال و قیل اورشور و غوغا سے پر لیکن اند سے خالی اور کھوکھلا ہوتا ہے لیکن حق متواضع ، کم صدا، باعمل ، با مقصد اور وزنی ہوتا ہے ۔(۲)

۲۔حضرت علی علیہ السلام اپنے متعلق اور اپنے دشمنوں ، جیسے اصحاب ِ جمل تھے ، کے بارے میں فرماتے ہیں

وقد ارعدوا و برقوا و مع هٰذین الامرین الفشل ولسنا نر عد حتی نو قع ولانسیل حتی نمطر

وہ رعد بر ق کی سی گرج دکھاتے ہیں لیکن انجام کا رسکتی اور ناتوانی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا لیکن اس کے بر عکس ہم جب تک کوئی اکام انجام نہ دے لیں گرج چمک نہیں دکھاے۔ ہم نہ بر سیں تو سیلاب ِ خروشاں نہیں اٹھاتے(ہمارا پر گرام عمل ہے نہ کہ باتیں کرنا ) ۔نہج البلاغہ ۔ خطبہ ۹ ۔

ج:حق ہمیشہ اپنے اوپر تکیہ کرتا ہے لیکن باطل حق کی آبرو کا سہارا لیتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اپنے آپ کو حق کے لباس میں پیش کرے اور اس کے مقام سے استفادہ کرے ۔ جیسے کہا جاتا ہے :

” ہر دروغی از راست فروغ می گیرد“

یعنی ہر دروغ اور جھوٹ سچ سے فروغ حاصل کرتا ہے ۔ کیونکہ اگر سچ بات دنیا میں نہ ہوتی تو کوئی شخص کبھی جھوٹ کا اعتبار نہیں کرتااور اگر خالص جنس دنیا میں نہ ہوتی تو کوئی ملا وٹی اور جعلی چیز سے فریب نہ کھا تا۔ اس بناء پر باطل کا کم عمر فروغ اور وقتی آبرو بھی حق کی وجہ سے ہے لیکن حق ہر جگہ اپنے اوپر بھروسہ کرتا ہے اور اپنی آبرو کا سہارا لیتا ہے ۔

اسی امر کی طرف حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے :

لو ان الباطل خلص من مزاج الحق لم یخف علی المرتادین ولو ان الحق خلص من لبس الباطل انقطعت عنه السن المعاندین

اگر اگر باطل حق سے مل نہ جائے تو حق متلاشیوں کے لئے مخفی نہ رہے اور اگر حق باطل سے جدا ہو جائے تو بد لوگو ں کی زبان اس سے منقطع ہو جائے گی۔(۳)

بعض مفسرین نے کہا ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں در حقیقت تین تشبیہیں ہیں ۔

۱ ۔ آسمان وحی سے آیات ِ قرآن کا نزول جسے بارش کے حیات بخش قطرات کے برسنے سے تشبیہ دی گئی ہے ۔

۲ ۔ انسانوں کے دلوں کو ایسی زمینوں ، دروں اور گہرائیوں سے تشبیہ دی گئی ہے جو اپنی وسعت اور ظرف کے لحاظ سے استفادہ کرتے ہیں ۔

۳ ۔ ”شیطانی وسوسوں “ کو پانی پر پیدا ہونے والی ایسی گندی جھاگ سے تشبیہ دی گئی ہے جو پانی سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ پانی کے گرنے کی جگہ کی گندگی سے پیدا ہوئی ہے ۔ اسی بناء پر نفس اور شیطان کے وسوسے مومنین کے دلوں سے بر طرف ہو جاتے ہیں اور وحی کا آپ شیریں باقی رہ جاتا ہے جو انسانوں کی ہدایت اور حیات کا موجب ہے ۔

۳ ۔ فائدہ ہمیشہ اہلیت کے اعتبار سے ہوتا ہے :

اس آیت سے ضمنی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ خدائی فیض کے مبداء میں کسی قسم کا کوئی بخل، محدودیت اور ممنوعیت نہیں ہے ۔ جیساکہ آسمانی بادل ہر جگہ بغیر کسی قید کے برستے ہیں اور زمین کے مختلف حصے اور درّے اپنے وجود کی وسعت کے اعتبار سے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔جو زمین چھوٹی ہے ا س کا حصہ کم ہے اور جو بڑی ہے اس کا حصہ زیادہ ہے ۔ انسانوں کے دل اور روحیں بھی خدائی فیض سے اسی اعتبار سے مستفید ہوتی ہیں ۔

۴ ۔ باطل سر گرداں ہے :

جس وقت سیلِ آب کسی صاف صحرا میں پہنچا ہے اور پانی کا جوش و خروش مد ہم پرجاتا ہے تو جو چیزیں پانی سے مخلوط ہوئی ہوتی ہیں آہستہ آہستہ تی نشین ہو جاتی ہیں اور جھاگ ختم ہو جاتی ہے ۔ صاف و شیریں پانی نمایاں ہو جاتا ہے ۔ باطل بھی اسی طرح پریشاں حال ہے وہ مفاد اٹھانے کے چکر میں ہے لیکن جس وقت سکون آتا ہے اورہرشخص اپنے مقام پر بیٹھ جاتا ہے حقیقی معیار اور ضابطے معاشرے میں ظاہر ہوتے ہیں تو پھر باطل کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوتی اور وہ جلدی ہی رفو چکر ہو جا تا ہے ۔

۵ ۔ باطل صرف ایک لبادہ میں نہیں ہوتا:

باطل کی خصوصیت میں سے ہے کہ لمحہ بہ لمحہ شکلیں اور لباس بدلتا رہتا ہے ۔ تاکہ اگر اسے ایک بہروپ میں پہچان لیا جائے تو وہ دوسرے میں اپنے تئیں چھپا لے ۔

مندرجہ بالا آیت میں بھی اس معالے کی طرف ایک لطیف اشارہ کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے کہ جھاگ نہ صرف پانی پر ظاہر ہوتی ہے بلکہ ہر بھٹی، ہر کٹھالی اور سانچے میں سے کہ جس میں دھاتوں کو پگلایا جاتا ہے نئی جھاگ نئی شکل میں اور نئے لباس میں آشکار ہو تی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں حق و باطل ہر جگہ موجود ہوتا ہے جیسا کہ ہر بہنے والی چیز میں جھاگ نئی اپنی خاص شکل میں ظاہر ہوتی ہے ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم شکلیں بدلنے سے دھوکا نہ کھائیں اور ہر جگہ باطل کو اس کی مخصوص صفات سے پہچان لیں کیونکہ اس کی صفات ہر جگہ ایک ہی طرح کی ہیں اور جیسا کہ اوپر اشارہ کیا جا چکا ہے کہ ان صفات کے حوالے سے باطل کو پہچان کر اسے حق سے الگ کردینا چاہئیے ۔

۶ ۔ ہر موجود کی بقا اس کے فائدے سے وابستہ ہے :

اس سلسلے میں زیر بحث آیت میں ہے کہ جو چیز لوگوں کو فائدہ پہنچاتی ہے باقی رہ جاتی ہے( واماما ینفع الناس فیمکث فی الارض ) ۔

یعنی پانی کہ جو صرف باعث حیات ہے باقی رہ جاتا ہے اور جھاگ ختم ہو جاتی ہے بلکہ دھات بھی چاہے وہ زیور کے لئے ہو چاہے اسباب زندگی تیار کرنے کے لئے اس میں سے بھی خالص دھات جو مفید ، سود مند یا صاف و شفاف اور خوبصورت و زیبا ہوتی ہے باقی رہ جاتی ہے اور جھاگ کو دور پھینک دیتی ہے ۔

اسی طرح سے انسان ، گروہ ، مکاتب فکر اور پروگرام جس قدر سود مند ہیں اس قدر بقا و حیات کا حق رکھتے ہیں اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی انسان یا باطل مکتب و مذہب ایک مدت تک باقی رہ جاتا ہے تو اس کی وجہ بھی حق کی وہ مقدار ہے جو اس میں ملا ہوا ہے اور وہ اتنی مقدار کے لئے حقِ حیات پیدا کرچکا ہے ۔

۷ ۔ حق باطل کو کس طرح باہر نکال پھینکتا ہے :

لفظ ”جفاء “ جو گر جانے او ربا ہر کی طرف جا پڑنے کے معنی میں ہے اپنے اندر ایک لطیف نکتہ لئے ہوئے ہے اور وہ یہ کہ باطل اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنی حفاظت نہیں کرسکتا اور ہمہ وقت معاشرے سے باہر جا گر نا چاہتا ہے او ریہ اسی وقت ہوتا ہے جب حق جوش میں آتا ہے اور جس وقت حق میں حرکت اور جوش و خروش پیدا ہوتا ہے تو باطل کسی بر تن کی جھاگ کی طرح اچھل کر باہر جا پڑتا ہے اور یہ بات خود اس امر کی دلیل ہے کہ حق کو ہمیشہ جوش او رجنبش و خروش میں رہنا چاہیئے تاکہ باطل کو اپنے سے دو رکھے ۔

۸ ۔ باطل اپنی بقا میں حق کا مقروض ہے :

جیسا کہ ہم نے آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ اگر پانی نہ ہوتو جھاگ کبھی بھی اپنا وجود بر قرار نہیں رکھ سکتی ۔ اسی طرح اگر حق نہ ہو تو باطل کے لئے فروغ و ظہو ر ممکن نہیں ۔ اگر صالح اور اچھے لوگ نہ ہوتے تو کوئی شخص خائن اور دھو کا باز افراد سے متاثر نہ ہوتا اور ان کے فریب میں نہ آتا لہٰذا باطل کا یہ جھوٹا جولان اور فروغ بھی فروغِ حق سے بہرہ وری ہے :

کان دروغ از راست می گیرد فروغ جھوت سچ سے فروغ پاتا ہے ۔

۹ ۔ حق اور باطل میں ہمیشہ مقابلہ رہتا ہے :

قرآن نے یہاں حق و باطل کو مجسم کرنے کے لئے ایک ایسی مثال دی ہے جوکسی مکان و زمان سے مخصوص نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو دنیا کے مختلف علاقوں میں انسانوں کے سامنے آتا رہتا ہے ۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ حق و باطل کے مابین جنگ کوئی وقتی اور مقامی جنگ نہیں ہے ۔ صاف اور آلودہ پانی کی یہ ندیاں مخلوق پر صور پھونکے جانے تک اسی طرح جاری رہیں گی مگر یہ کہ ایک آئیڈیل معاشرے وجود میں آجائے ( مثلاً حضرت مہدی علیہ السلام کے دور قیام کا معاشرہ) ۔ کو اس مبارزہ کے اختتام کا اعلان ہو گا ۔ حق کا لشکر کامیاب ہو جائے گا ۔ باطل کی بساط الت جائے گی ۔ بشریت اپنی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گی اور جب تک یہ تاریخی مرحلہ نہ آجائے ہر جگہ حق و باطل کے تصادم کی انتظار میں رہنا چاہئیے اور باطل کے مقابلے کے لئے ضروری اہتمام کرنا چاہئیے ۔

۱۰ ۔ زندگی جہاد و جستجو کے سائے میں :

زیر بحث آیت میں دی گئی خوبصورت مثال زندگی کی اس بنیادی حقیقت کو بھی واضح کرتی ہے کہ زندگی بغیر جہاد کے بقا و سر بلندی بغیر سعی و کوشش کے ممکن نہیں ہے ۔ ارشاد فرمایا ہے کہ لوگ وسائل زندگی یا زیور کی تیاری کے لئے جو کچھ بھٹیوں اور کٹھالیوں میں ڈالتے ہیں اس میں سے ہمیشہ غیر ضروری مواد نکلتا ہے اور جھاگ پیدا ہوتی ہے اور یہ دو قسم کے وسائل یعنی ضروری اور رفاہی وسائل (ابتغاء حلیة او متاع) حاصل کرنے کے لئے اصلی مواد کو جو عالم ِ طبیعت میں اصلی شکل میں نہیں مل سکتا اور ہمیشہ دوسری چیز وں میں ملا ہوتا ہے اسے ااگ کی کٹھالی میں ڈالنا پڑتا ہے اور اسے پاک صاف کرنا پڑتا ہے تاکہ خالص دھات میسر آسکے اور یہ کام سعی و جستجو کے بغیر ممکن نہیں ۔

اصولی طور پر دنیا وی زندگی کا مزاج یہ ہے کہ گلوں کے ساتھ خار م نوش کے ساتھ نیش ، اور کامیابیوں کے ساتھ مشکلات ہوتی ہیں ۔ قدیم زمانے کی کہاوت ہے کہ :

خزانے ویرانوں میں ہوتے ہیں اور ہر خزانے کے اوپر ایک اژدھا سویا ہوا ہے ۔

کیا یہ ویرانے اور اژدھا سوائے مشکلات کے کسی اور چیز کا نام ہے کہ جو کامیابی کے راستے میں موجود ہیں ۔

ایرانی داستانوں میں بھی رستم کی داستان میں ہے کہ وہ کامیابی تک پہنچنے کے لئے مجبور تھا کہ سات خوان سے گزرے کہ جن میں سے ہر ایک انبوہِ مشکلات کی طرف اشارہ ہے کہ جو ہر مثبت کام کے راستے میں در پیش ہوتی ہیں ۔

بہر حال قرآن نے یہ حقیقت با رہا بیان فرمائی ہے کہ انسان کوئی کامیابی مشکلات اور تکالیف اٹھائے بغیر حاصل نہیں کرسکتا ۔ اس کے لئے قراان میں مختلف عبارتیں ہیں ۔ سورہ بقرہ کی آیہ ۲۱۴ میں ہے :

( ام حسبتم ان تدخلوا الجنة و لما یأتکم مثل الذین خلوا من قبلکم مستهم الباٴساء و الضراء و زلزلوا حتی یقول الرسول و الذین اٰمنوا معه متی نصر الله قریب )

کیا تم نے سمجھ رکھا ہے کہ کہ تمام آسانی سے جنت میں جا پہنچو گے اور تمہیں وہ حوادث پیش نہیں اائیں گے جو گزشتہ لوگوں کو در پیش ہوئے ، وہی لوگ کہ جنہیں دشواریاں اورتکلیفیں در پیش ہوئیں اور وہ ایسے دکھ درد میں مبتلا ہوئے کہ پیغمبر اور ان کے ساتھ اہل ایمان کہنے لگے کہ خدا کی مدد کہا ں ہے تو ان بہت ہی سخت اور دردناک لمحات میں خدائی نصرت ان کے پاس آپہنچی اور ان سے کہا گیا کہ خدا ئی مدد قریب ہے ۔

____________________

۱۔اس جملہ کا لفظی ترجمہ یہ ہے

اس معنی خیز زیور اور متاع حاصل کرنے کے لئے آگ روشن کرتے ہیں اس سے پانی کی جھاگ کی طرح جھاگ حاصل ہوتی ہے ۔

۲۔ ”زبد“ کیا ہے ؟ ”زبد“ پانی کے اوپر والی یا ہر قسم کی جھاگ کو کہتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ آبِ شیریں پر بہت کم جھاگ آتی ہے کیونکہ پانی کے خارجی اجسال سے آلودہ ہونے کی وجہ سے جھاگ پیدا ہوتی ہے ۔ یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ اگر حق اپنی اصل صفائی اور پاکیزگی پر رہے تو ا س کے اطراف میں باطل کی جھاگ کبھی پیدا نہ ہوگی لیکن جب حق آلودہ گندے ماحول میں ہو اور حقیقت خرافات میں کھو جائے ، درستی نا درستی سے مل جائے اور پاکیزگی ناپاکی سے خلط ملط ہو جائے تو باطل کی جھاگ اس کے ساتھ ظاہر ہو جاتی ہے ۔

۳۔ نہج البلاغہ ،خطبہ۔۵۰۔


قرآنی مثالیں

مباحث کی توضیح و تفسیر میں مثال کی تاثیر ناقابل انکار ہے ۔ اسی بناء پر کسی بھی علم میں حقائق کے اثبات اور توضیح کے لئے انہیں ذہن کے قریب لانے کے لئے ہم مثال پیش کرنے سے بے نیاز نہیں ہیں ۔

بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک بر محل مثال کو جو مقصود سے پوری طرح ہم آہنگ ہو اور اس پر منطبق ہو مطلب کو آسمان سے زمین پرلے آتی ہے اور اسے سب کے لئے قابل فہم بنادیتی ہے ۔

بہر حال کہا جا سکتا ہے کہ مختلف علمی ، تر تیبی، اجتماعی اور اخلاقی مباحث میں مثال مندرجہ ذیل موثر اثرات رکھتی ہے ۔

۱ ۔ مثال مسائل کو حسّی بنا دیتی ہے :

انسان چونکہ زیادہ تر محسوسات سے مانوس ہے اور پیچیدہ عقلی حقائق نسبتاً افکار کی دسترس سے دور ہوتے ہیں لہٰذا حسّی مثالیں ان دور دراز فاصلوں کو سمیٹ دیتی ہیں اور انہیں محسوسات کے آستانے پر لاکھڑا کرتی ہیں اور ان کے ادراک کو دل چسپ، شیریں اور اطمینان بخش بنادیتی ہیں ۔

۲ ۔ مثال راستے کو مختصر کردیتی ہے :

بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک گہرا ، منطقی اور عقلی مسئلہ ثابت کرنے کے لئے انسان کو مختلف استدلالات کا سہارا لینا پڑتا ہے مگر پھر بھی اس کے گرد ابہام موجود رہتا ہے لیکن ایک واضح اور مقصد سے ہم آہنگ مثال راستہ اس قدر مختصر کردیتی ہے کہ استدلال کی تاثیر میں اضافہ ہو جاتا ہے اور متعدد استدلالات کی ضرورت بھی نہیں رہتی ۔

۳ ۔ مثال مسائل کو سب کے لئے یکسان بنا دیتی ہے :

بہت سے علمی مسائل کہ جو اپنی اصل صورت میں صرف خواص کے لئے قابل فہم ہیں اور عامة الناس اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا پاتے لیکن جب ساتھ مثال موجود ہو اور اس کے ذریعے وہ قابل فہم ہوجائیں تو ان سے سب لوگ مستفید ہو ں گے چاہے وہ علم و دانش کی عمومیت دینے کے اعتبار سے ناقابل انکار کار آمد چیزیں ہیں ۔

۴ ۔ مثال مسائل کو زیادہ قابل اطمینان بنا دیتی ہے :

کلیاتِ عقلی جس قدر بھی مستدل او رمنطقی ہوں جب تک ذہن تک رہتے ہیں ان کے بارے مین کافی اطمینان پیدا نہیں ہوتاکیونکہ انسان ہمیشہ اطمینان کو عینیت اور ظاہری وجود میں ڈھونڈتا ہے او رمثال ذہنی مسائل کو عینیت بخشتی ہے اور انہیں عالم ِ خارج میں واضح کردیتی ہے ۔ اسی لئے باور کرنے ، قبول کرنے اور اطمینان حاصل کرنے کے لئے مثال بہت موثر ہو تی ہے ۔

۵ ۔مثال ہٹ دھرموں کو خاموش کردیتی ہے :

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مسائل کلیات مستدل اور منطقی صورت میں پیش کیے جائیں تو ایک ہٹ دھرم شخص ان پر خاموش نہیں ہوتا اور اسی طرح ہاتھ پاؤں مارتا رہتا ہے لیکن جب مسئلہ مثال کے قالب میں ڈھالاجائے تو اس کے لئے راستہ بند ہو جاتا ہے اور اس میں بہانہ جوئی کی مجال نہیں رہتی ۔

نامناسب نہیں ہوگا اگر ہم اس موضوع کے لئے چند مثالیں پیش کریں تاکہ واضح ہو جائے کہ مثال میں کس قدر اثر ہے ۔

جو لوگ یہ اعتراض کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ صرف ماں سے کس طرح پیدا ہو گئے اور کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص بغیر باپ کے پیدا ہو جائے ، قرآن ان کے جواب میں فرماتا ہے :( ان مثل عیسیٰ عند الله کمثل اٰدم خلقه من تراب )

عیسیٰ کی مثال خدا کے نزدیک آدم کی سی ہے کہ جسے اس نے مٹی سے پید اکیا ۔ ( آل عمران ۵۹)

صحیح طرح سے غور کریں کہ ہم جس قدر بھی ہٹ دھرم لوگوں کے سامنے کہیں کہ یہ کام خدا کی لامتناہی قدرت کے سامنے نہایت معمولی ہے پھر بھی ممکن ہے وہ بہانے ڈھونڈیں لیکن جب ان سے یہ کہیں کہ کیا تم یہ مانتے ہو کہ حضرت آدم کو جو پہلے انسان تھے مٹی سے پیدا ہوئے تھے تو جو خدا ایسی قدرت رکھتا ہے وہ کسی بشر کو بغیرباپ کے پیدا کیوں نہیں کرسکتا ۔

جن منافقوں نے اپنے نفاق کے زیر سایہ چندن دن ظاہر اً سکون و آرام سے بسر کیے ہیں قرآن مجید ان کے بارے میں ایک خوبصورت مثال پیش کرتا ہے ۔ قرآن انہیں ایسے مسافر سے تشبیہ دیتا ہے جو تاریک بیابان سے گزرہا ہے ۔ رات اندھیری ہے ۔ بادل گرج رہے ہیں ۔ مسافر آندھی، طوفان او ربارش میں گرفتار ہو جاتا ہے ۔ وہ اس طرح سے سر گر دان ہے کہ اسے کسی طرف کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ ایسے میں جب آسمانی بجلی چمکتی ہے تو بیابان کی فضا چند لمحوں کے لئے روشن ہو جاتی ہے اور وہ اراد ہ کرتا ہے کہ کسی طرف جائے تاکہ اسے راستہ مل جائے لیکن جلدی ہی وہ بجلی خاموش ہو تی ہے اور وہ اسی طرح بیابان میں سر گرداں رہ جاتا ہے ۔ (بقرہ۔ ۲۰)

کیا سر گرداں منافق کی حالت کی تصویر کشی کے لئے کہ جو اپنی روحِ نفاق او رمنافقانہ عمل سے اپنی زندگی کا سفر جاری رکھنا چاہتا ہو اس سے زیادہ جاذبِ نظر مثال ہو سکتی ہے ؟ یایہ کہ جب ہم کچھ لوگوں سے کہتے ہیں کہ راہِ خدا میں خرچ کرو تو خدا تمہیں کئی گنازیادہ اجر دے گا تو ہو سکتا ہے کہ عام لوگ اس بات کا مفہوم پوری طرح نہ سمجھ سکیں لیکن جب یہ کہا جا ئے کہ راہ خد امیں خرچ کرنا اس بیج کی مانند ہے جسے زمین میں ڈالا جائے کہ جس سے سات خوشے اگتے ہیں اور ہر خوشے میں ہو سکتا ہے ایک سو دانے ہوں تو پھر یہ مسئلہ پوری طرح سے قابل فہم ہو جا تاہے جیسا کہ ارشاد الہٰی ہے

( مثل الذین ینفقون اموالهم فی سبیل الله کمثل حبة انبتت سبع سنابل فی کل سنبلة مائة حبة ) (بقرہ ۲۶۱)

عام طور پر ہم کہتے ہیں کہ ریا کاری والے اعمال فضول او ربیکار ہیں اور انسان کو ان سے کوئی فائد ہ حاصل نہیں ہوتا ہوسکتا ہے یہ بات کچھ لوگوں کے لئے ناقابل فہم ہو کہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک فائدہ مند عمل مثلاًایک ہسپتال یا ایک مدرسہ اگر چہ دکھاوے اور ریاکاری کے ارادہ سے ہو بار گاہ قدرت میں بے وقعت ہو لیکن قرآن ایک مثال کے ذریعے اس بات کو پوری طرح قابلِ فہم اور دلچسپ بنا دیتا ہے ۔

ارشاد ہوتا ہے :( فمثله کمثل صفوان علیه تراب فاصابه وابل فترکه صلداً )

ایسے اشخاص کا عمل پتھر کے ایک ٹکڑے کی مانند ہے کہ جس پر کچھ مٹی ڈال دی گئی ہو او راس پر کچھ بیج چھڑک دیاجائے ۔ تو جس وقت بارش برستی ہے تو بجائے کہ یہ بیج بار آور ہو بارش اسے پتھر پر پڑی ہو ئی سطحی مٹی کے ساتھ دھو ڈالتی ہے اور اسے ایک طرف پھینک دیتی ہے ۔ (بقرہ۔ ۲۶۴)

ریا کاری اور بے بنیاد اعمال کی بھی یہی حالت ہے ۔ہم دور نہ نکل جائیں اسی زیر بحث مثال میں کہ جو حق و باطل کے مابین مقابلے کے بارے میں اس میں معاملے کی کیسی عمدہ تصویر کشی کی گئی ہے اور اسے دقیق طور پر مجسم کیا گیا ہے ۔ تمہید ، نتائج اور حق و باطل کی مخصوص صفات اور آثار میں سے ہر ایک کو ا س مثال میں اس طرح سے منعکس کیا گیا ہے کہ مسئلہ سب لوگوں کے لئے قابل فہم او راطمینان بخش ہو گیا ہے ۔ اس کے پیش کئے گئے حقائق ہٹ دھرم افراد کو خاموش کردینے والے ہیں نیز تمام چیزوں سے قطع نظر یہ مثال طولانی مباحث کی زحمت سے بچا دیتی ہے ۔

ایک روایت میں ہے کہ مادہ پرست امام صا د ق علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا اور عرض کیا : قرآن میں ہے کہ جس وقت دوزخیوں کے جسم کا چمڑاآگ کی شدت سے جل جائے گا تو ہم اسے دوسرا چمڑا پہنادیں گے تاکہ وہ عذاب کا ذائقہ اچھی طرح سے چکھیں ۔ اس دوسرے چمڑے کاکیا گناہ ہے کہ اسے سزا اور عذاب دیا جائے ۔

اس کے جواب میں امام نے فرمایا:

وہ چمڑابعینہ پہلا وا چمڑا بھی ہے اور اس کا غیر بھی ہے ۔

سوال کرنے والے اس جواب سے مطمئن نہ ہو اور اس جواب سے کچھ نہ سمجھ سکا لیکن امام نے ایک ناطق مثال کے ذریعے معاملہ اس طرح سے واضح کردیا کہ گفتگو کی گنجائش باقی نہ رہی ۔ آپ نے فرمایا:

دیکھو!تم ایک پرانی اور خراب اینٹ کو زیزہ ریزہ کردیتے ہو پھر اسی خاک کو بھگو کر سانچے میں ڈالتے ہو اور اس سے ایک نئی اینٹ بناتے ہو ۔ یہ وہی پہلے والی اینٹ ہے اور ایک لحاظ سے اس کی غیر بھی ہے ۔(۱)

یہاں ایک نکتہ کا ذکر بہت ضروری ہے اور وہ یہ کہ مثال اپنے ان تمام مفید او رموثر اثرات کے باوجود اپنا بنیادی تقاضا بھی پورا کرسکتی ہے جب وہ اس مطلب سے ہم آہنگ ہو جس کے لئے اسے پیش کیا جا رہا ہے ورنہ مثال خود گمراہ ہو گی یعنی جیسے ایک صحیح اور ہم آہنگ مثال مفید اور مؤثر ہے اسی طرح ایک انحرافی اور غلط مثال گمراہی اور تباہی کا باعث بھی ہو سکتی ہے ۔

اسی بناء پر منافقین اور بداندیش افراد ہمیشہ لوگوں کو گمراہ کرنے اور سادہ لوح افراد کو غافل کرنے کے لئے غلط مثالوں کا سہارا لیتے ہیں اور اپنے جھوٹ کے لئے مثال سے مدد لیتے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ ہم انحرافی اور غلط مثالوں سے فائدہ اٹھانے والے ایسے افراد پر پوری توجہ سے نظر رکھیں ۔

____________________

۱۔اس حدیث کی تشریح تفسیر نمونہ جلد ۲ ص۳۰۸( ار دو ترجمہ ) میں ملاحظہ فرمائیں ۔ وہاں یہ حدیث مجالس ِ شیخ اور احتجاج طبرسی کے حوالے سے ذکر کی گئی ہے ۔


آیت ۱۸

۱۸ ۔( لِلَّذِینَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ الْحُسْنَی وَالَّذِینَ لَمْ یَسْتَجِیبُوا لَهُ لَوْ اٴَنَّ لَهُمْ مَا فِی الْاٴَرْضِ جَمِیعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لَافْتَدَوْا بِهِ اٴُوْلَئِکَ لَهُمْ سُوءُ الْحِسَابِ وَمَاٴْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ ) ۔

ترجمہ

۱۸ ۔ ان لوگوں کے لئے کہ جنہوں نے اپنے پر وردگار کی دعوت کو قبول کیا ہے نیک ( انجام ، جزا اور) نتیجہ ہے اور وہ کہ جنہوں نے اس کی دعوت کو قبول نہیں کیا ( وہ عذا ب الہٰی کی وحشت میں اس طرح غرق ہو ں گے کہ) اگر وہ سب کچھ جو زمین پر ہے اور اس کی مثل ان کی ملکیت ہو او روہ یہ سب کچھ عذاب سے نجات کے لئے دے دیں ( لیکن وہ ان سے قبول نہیں کیا جائے گا ) ان کے لئے بر احساب اور ان کا ٹھکا نا جہنم ہے او روہ کس قدر بر اٹھکا نا ہے ۔

جنہوں نے دعوت ِ حق کو قبول کر لیا

گشتہ آیت میں حق و باطل کا چہرہ نمایاں کرنے کے لئے ایک رسا اور فصیح و بلیغ مثال پیش کی گئی تھی ۔ اس کے بعد اب اس مقام پر ان لوگوں کے انجام کی طرف اشار ہ کیا گیا ہے جنہوں نے دعوتِ حق کو قبول کرلیا اور اس کے گر ویدہو گئے نیز ان افراد کا انجام بیان کیا گیا ہے جنہوں نے حق سے ر وگردانی کرتے ہوئے باطل کی طرف رخ کیا۔

پہلے ارشاد ہوتا ہے : ان لوگوں کے لئے ، جنہوں نے اپنے پر ور دگار کی دعوت کو قبول کرلیا ہے نیک جزا، سود مند نتیجہ اور عاقبت ِ محمود ہے( للَّذِینَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ الْحُسْنَی ) ۔

”حسنیٰ “ ( نیکی ) کا ایک وسیع مفہوم ہے جس میں ہر خیر و سعادت شامل ہے ۔ نیک خصائل اور اخلاقی فضائل سے لے کر پا ک و پاکیزہ اجتماعی زندگی، دشمن کا پر کامیابی اور بہشتِ جا وداں تک سب اس کے مفہوم میں شامل ہیں ۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے :او روہ یہ جنہوں نے پر وردگار کی یہ دعوت قبول نہیں کی ان کا انجام اس قدر برا اور رقت بار ہے کہ اگر تمام روئے زمین اور حتی کہ اس کی مثل بھی ان کی ملکیت میں ہو اور وہ یہ سب کچھ اسے برے انجام سے نجات کے لئے دینے ہر آمادہ ہو ں توبھی ”ان سے یہ سب کچھ قبول نہیں کیا جائے گا( وَالَّذِینَ لَمْ یَسْتَجِیبُوا لَهُ لَوْ اٴَنَّ لَهُمْ مَا فِی الْاٴَرْضِ جَمِیعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لَافْتَدَوْا بِهِ ) ۔

ان کے لئے عذاب اور سزا کے عظیم ہونے کی تصویر کشی کے لئے اس سے بڑھ کر رسا اور عمدہ تعبیر نہیں ہوسکتی کہ ایک انسان تمام روئے زمین بلکہ اس کے دوگناکامالک ہو اور وہ سب کچھ اپنے آپ کو بچانے کے لئے دے دے مگر وہ اس کے لئے فائد ہ مند نہ ہو ۔

یہ جملہ در حقیقت اس طرف اشارہ ہے کہ ایک انسان کی آخری آرزو کہ جس سے بر تر تصور نہیں ہوسکتا یہ ہے کہ وہ تمام روئے زمین کا مالک ہو لیکن ستمگروں اور دعوت ِ حق کے مخالفوں کو دئے جانے والے عذاب کی شدت اس حد تک ہے کہ وہ اس بات پر تیار ہوں کہ یہ آخری دنیاوی ہدف بلکہ اس سے بھی بر تر و بالاتر کو فدیہ کے طور پر دے کر آزادہوجائیں اور بالفرض اگر ان سے یہ قبول کر بھی لیا جاتا تو یہ صرف عذاب سے نجات ہوتی ۔ لیکن دعوتِ حق کو قبول کرنے والوں کے لئے جو انتہائی عظیم اجر ہیں ان کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے واضح ہو جا تا ہے کہ ” مثلہ معہ “ صرف اسی معنی میں نہیں کہ پورے کرہ زمین کی مانند ان کے پاس مزید ہو بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ اس سے بڑھ کر جنتی زیادہ دولت ِ و سلطنت کے مالک ہو جائیں اور وہ اپنی نجات کے لئے سب کچھ دینے پر تیار ہو ں گے ۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے ۔ انسان چونکہ ہر چیز اپنے لئے چاہتا ہے او رجب وہ خود عذاب میں غرق ہو تو پھر تما م دنیا کی مالکیت کا اسے کیا فائدہ ۔

اس بدبختی (ساری دنیا دے کر بھی نجات حاصل نہ ہونا)کے بعد ایک او ربد بختی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : ان کا حساب کتاب سخت اور برا ہو گا( اٴُوْلَئِکَ لَهُمْ سُوءُ الْحِسَابِ ) ۔

”سوء الحساب “ سے کیا مراد ہے ، اس سلسلے میں مفسرین کے مختلف نظر یات ہیں ۔

بعض کا نظر یہ ہے اس سے مراد ایسا حساب ہے جو بہت دقیق اور باریک بین ہو اور جس میں کوئی در گزر نہ ہو کیونکہ ” سوء الحساب“ ظلم و ستم کے معنی میں خدا ئے عادل کے بارے میں کوئی مفہوم نہیں رکھتا ۔ حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک حدیث بھی اسی تفسیر کی تائید کرتی ہے ۔ اس حدیث میں ہے کہ امام نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا :فلاں شخص کو تجھ سے کیوں شکایت ہے ۔

اسے یہ شکایت ہے کہ میں نے اپنا حق اس سے آخر تک لیا ہے ۔

جب امام نے یہ بات سنی تو غضب ناک ہو کر بیٹھ گئے، پھر فرمایا :

کانک اذا استقضیت حقک لم تسبیٴ ارایت ماحکی الله عزوجل: و یخا فون السوء الحساب، تراهم یخافون الله ان یجور علیهم لاو الله ماخافوا الا الاستقصاء فسماه الله عزو جل سوء الحساب فمن استقصی فقد اسائه ۔

گویا تیرا گمان ہے کہ اگر تو آخری مرحلہ تک اپنا حق لے لے تو تُو نے کوئی بر انہیں کیا۔ ایسا نہیں ہے ۔ کیا تونے خدا کا یہ ارشاد نہیں دیکھا کہ جس میں اس نے فرمایا ہے :و یخاف فون سوء الحساب ( او ربد کار برے حساب سے ڈرتے ہیں ) ۔

کیا تیرا خیال ہے کہ وہ اس سے ڈرتے ہیں کہ خدا ان پر ظلم کرے گا ؟ بخدا ایسا نہیں وہ تو اس سے ڈرتے ہیں کہ خدا ان کا حساب دقیق طور پر لے اور آخری مرحلے تک پہنچائے۔ خدا نے اس کا نام ” سوء الحساب “ رکھا ہے لہٰذا جس شخص نے حساب کرنے میں سخت گیری کی اس نے برا حساب کیا ہے ۔(۱)

بعض دوسرے مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ ” سوء الحساب “ سے مراد یہ ہے کہ ان کا محاسبہ سر زنش کے ساتھ ہو گا ۔ اس سے ایک تو اصل حساب کی وحشت ہو گی اور ا س کے علاوہ بھی وہ سر زنش کی تکلیف سے گزریں گے ۔

بعض دیگر مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ ”سوء الحساب “ سے مراد ”سوء الجزاء “ ( برا بدلہ ) ہے یعنی ان کے لئے بری سزا ہے ۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے ہم کہیں کہ فلاں شخص کا حساب پاک ہے یا فلاں شخص کا حساب تاریک ہے یعنی ان کے حساب کا نتیجہ اچھا یا برا ہے یا یہ کہ ہم کہیں کہ فلاں شخص کا حساب اس کے ہاتھ میں دے دو یعنی اس کے کام کے مطابق اسے سزا یا بدلہ دو۔

یہ تینوں تفاسیر ایک دوسرے کے منافی نہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ سب کی سب آیت کی مراد ہوں یعنی ایسے سخت حساب سے گزرنا ہو گا اور محاسبہ کے ساتھ ساتھ انہیں سر زنش بھی ہو گی اور حساب کے بعد انہیں بے کم وکاست سزا بھی دی جائے گی ۔آیت کے آخر میں ان کے لئے تیسرے عذاب یا سزا کے آخری نتیجے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ فرمایا گیا ہے : ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور یہ کیسا بر اٹھکانا ہے( وَمَاٴْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ ) ۔

”مھاد“اصل میں ” مھد “کے مادہ سے تیار اور مہیا کرنے کے معنی میں ہے نیز یہ لفظ بستر کے معنی میں بھی آیاہے کہ جس سے انسان آرام اور استراحت کے موقع پر استفادہ کرتا ہے کیونکہ وہ اسے استراحت کرنے کے لئے آمادہ کرتا ہے ۔

یہ لفظ اس طرف اشارہ ہے کہ ایسے سر کش افراد بجائے بسترِ استراحت پر آرام کرنے کے آگ کے جلادینے والے شعلوں پر رہیں گے۔

____________________

۱۔ تفسیر بر ہان جلد ۲ ص ۲۸۸( یہ حدیث اگر چہ اس سورہ کی آیہ ۲۱ کی تفسیر کے متن میں آئی ہے لیکن واضح ہے کہ یہ لفظ” سوء الحساب“ کا عمومی مفہوم بیان کررہی ہے ) ۔


ایک نکتہ

آیات الہٰی سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں لوگ دو گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے ۔ ایک وہ گروہ ہے خدا کی بارگاہ میں جن کا حساب اور سہولت آسانی سے ہو گا اور اللہ تعالی ان کے بارے میں کسی قسم کی سخت گیری نہیں کرے گا ۔ ارشاد الہٰی ہے :( اما من اوتی کتابه بیمینه فسوف یحاسب حساباً یسیراً )

اس دن جسے نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے آسان حساب لیاجائے گا ۔ (انشقاق۔ ۸ ۔ ۷)

اس کے بر عکس کچھ ایسے لوگ ہیں جن سے ” شدت“ کے ساتھ حساب لیا جائے گا ۔ ان سے ذر ہ ذرہ اور مثقال بھر کا حساب نہایت باریک بینی سے لیاجائے گا ۔جیسا کہ بعض شہر جن کے لوگ سر کش اور گنہگار تھے ، ان کے بارے میں فرمایا گیاہے :( فحاسبنا حساباً شدیداً و عذابنا ها عذاباً نکراً )

پس ہم نے ان کا بڑی سختی سے حساب لیا اور انہیں برے عذاب کی سزا دی ۔

اسی طرح زیر بحث آیت میں ہے جس میں ”سوء الحساب “ کی تعبیر استعمال ہوئی ہے ۔

یہ اس بناء پر کہ کچھ لوگ دنیا وی زندگی میں دوسروں سے حساب لینے میں بہت زیادہ سختی کرتے ہیں یعنی بال کی کھال اتارنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اپنے حق کا آخری پیسہ تک وصول کرلیں او رجب دوسرے سے کوئی خطا سرزد ہو جاتی ہے تو آخری حد امکان تک اسے سزا دیتے ہیں ۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو اپنی بیوی، اولاد، بھائیوں اور دوستوں تک سے ذرہ بھر در گزر نہیں کرتے اور چونکہ دوسرے جہان کی زندگی اس جہان کا رد عمل ہے لہٰذا خدا بھی ان کے حساب کتاب میں ایسی سخت گیری کرے گا تاکہ انہوں نے جو کام بھی کیا ہے ا س کے جواب دہ ہوں اور ان کے بارے میں کچھ بھی د رگزر اور چشم پوشی نہیں کی جائے گی ۔ اس کے برعکس کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو آسان گیر ہیں بہت زیادہ در گزر کرنے والے ہیں اور نہایت شفیق و مہر بان ہیں ۔ خصوصاًدوستوں اور جان پہچان والے افراد یاجن پر ان کا کوئی حق ہے یا جو افراد ضعیف اور کمزور ہیں ان کے لئے ایسے مہر بان اور بزرگوار ہیں کہ کوشش کرتے ہیں کہ ایسے بہت سے مواقع پر اپنے آپ کو غافل ظاہر کریں اور بعض کی غلطیوں اورگناہوں سے چشم پوشی کرلتیے ہیں البتہ یہاں گناہوں سے مراد ایسے گناہ ہیں جو شخصی اور انفرادی پہلو رکھتے ہیں ۔

خدا ایسے افراد کے لئے آسانی فراہم کرتا ہے ۔ انہیں اپنی عفوِ بے پایاں اور رحمت ِ وسیع سے نواز تا ہے اور انہیں آسانی سے حساب کی منزل سے گزاردیتا ہے ۔

یہ بات تمام انسانوں کے لئے ، خصوصاً ان لوگوں کے لئے جوکسی امر کے سر براہ یانگران ہوتے ہیں اور لوگوں سے ان کا رابطہ اور تعلق ہوتا ہے ان کے لئے ایک عظیم درس ہے ۔


آیات ۱۹،۲۰،۲۱،۲۲،۲۳،۲۴،

۱۹ ۔( اٴَفَمَنْ یَعْلَمُ اٴَنَّمَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ الْحَقُّ کَمَنْ هُوَ اٴَعْمَی إِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اٴُوْلُوا الْاٴَلْبَابِ ) ۔

۲۰ ۔( الَّذِینَ یُوفُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَلاَیَنقُضُونَ الْمِیثَاقَ ) ۔

۲۱ ۔( وَالَّذِینَ یَصِلُونَ مَا اٴَمَرَ اللهُ بِهِ اٴَنْ یُوصَلَ وَیَخْشَوْنَ رَبّهُمْ وَیَخَافُونَ سُوءَ الْحِسَابِ ) ۔

۲۲ ۔( وَالَّذِینَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَاٴَقَامُوا الصَّلَاةَ وَاٴَنفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِیَةً وَیَدْرَئُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اٴُوْلَئِکَ لَهُمْ عُقْبَی الدَّارِ ) ۔

۲۳ ۔( جَنَّاتُ عَدْنٍ یَدْخُلُونَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَاٴَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّیَّاتِهِمْ وَالْمَلَائِکَةُ یَدْخُلُونَ عَلَیْهِمْ مِنْ کُلِّ بَابٍ ) ۔

۲۴ ۔( سَلَامٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ) ۔

ترجمہ

۱۹ ۔ کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ تیرے پر وردگار کی طرف سے جو کچھ تجھ پر نازل ہوا ہے حق ہے ، اس شخص کی طرح ہے جو نابینا ہے بس سمجھدار لوگ ہیں نصیحت حاصل کرتے ہیں ۔

۲۰ ۔ وہی کہ جو عہد الہٰی کو وفا کرتے ہیں اورپیمان شکنی نہیں کرتے ۔

۲۱ ۔ وہی کہ جو وہ پیوند بر قرار رکھتے ہیں کہ جن کے بارے میں خدا نے حکم دیا ہے اور جو اپنے پر ورگار سے ڈرتے ہیں اور ( روز قیامت کے ) حساب کی برائی سے ڈرتے ہیں ۔

۲۲ ۔ اور وہ کہ جو اپنے پر وردگا رکی ( پاک) ذات کے لئے صبر کرتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں اور ہم نے انہیں جو روزی دی ہے اس میں سے پنہاں اور آشکار خرچ کرتے ہیں اور حسنات کے ذریعے سیئات کو ختم کرتے ہیں ۔ ان کے لئے آخرت میں اچھا گھر ہے ۔

۲۳ ۔وہ جنت کے سدا بہار باغوں میں داخل ہوں گے اسی طرح ان کے آباء ، ازواج اور اولاد میں سے صالح افراد بھی (داخل بہشت ہوں گے ) اور ہر دروازے سے ان کے لئے فرشتے داخل ہو ں گے ۔

۲۴ ۔ ( اور ان سے کہیں گے ) سلام ہو تم پر ، صبر و استقامت کی بناء پر ۔ تمہیں یہ آخری گھر کیسا اچھا نصیب ہوا ہے ۔

اہل شعور کا طرز عمل جنت کے آٹھ دروازے

زیر نظر آیات میں حق کے طرفدارون کے اصلاحی طرز عمل کے جزئیات کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔ یہ آیات گزشتہ آیات کی بحث کو مکمل کرتی ہیں ۔

زیر نظر پہلی آیت میں استفہام ِ انکاری کی صورت میں فرمایا گیا ہے : کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ تیرے پر وردگار کی طرف سے جو کچھ تجھ پر نازل ہوا ہے حق ہے ، اس شخص جیسا ہے جو نابینا ہے( اٴَفَمَنْ یَعْلَمُ اٴَنَّمَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ الْحَقُّ کَمَنْ هُوَ اٴَعْمَی ) ۔

یہ کیسی عمدہ تعبیر ہے ۔ یہ نہیں فرمایا کہ جو شخص جانتا ہے کہ یہ قرآن بر حق ہے کیا وہ اس کی مانند ہے کہ جو نہیں جانتا بلکہ فرمایا کیا جو جانتا ہے وہ اندھے کی طرح ہے ؟ یہ تعبیر ایک اس امر کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ اس حقیقت کو نہ جاننا کسی بھی طرح ممکن نہیں سوائے اس کے کہ انسان کے دل کی آنکھ بالکل بے کارہوچکی ہو ورنہ کیسے ممکن ہے کہ چشم بینا رکھنے والا رخ آفتاب نہ دیکھ سکے اور اس قرآن کی عظمت بالکل نورِ آفتاب کی مانند ہے ۔

اسی لئے آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے : صرف وہی لوگ نصیحت پاتے ہیں جو اولو الالباب ہیں اور صاحبان ِ فکر و نظر ہیں( إِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اٴُوْلُوا الْاٴَلْبَابِ ) ۔

”الباب “ جمع ہے ”لب “ کی جو ہر چیز کے ”مغز“ کے معنی میں ہے ۔ اسی بناء پر” اولو الالباب “ کا متضاد بے مغز ، کھوکھلے اور وہ افراد ہیں جن کے اندر کچھ نہ ہو۔

بعض عظیم مفسرین کے بقول یہ آیت لوگوں کو حصولِ علم اورجہالت کا زیادہ سے زیادہ مقابلہ کرنے کی تاکید کرتی ہے کیونکہ اس میں بے علم اور دانش سے محروم افراد کو نابینا قرار دیا گیا ہے ۔

اس کے بعد ” اولو الالباب “ کی تفسیر کے طور پر صاحبانِ حق کے طرز عمل کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں سب سے پہلے ایفائے عہد کرتے ہیں اور پیمان شکنی نہیں کرتے( الَّذِینَ یُوفُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَلاَیَنقُضُونَ الْمِیثَاقَ ) ۔

اس میں شخص نہیں کہ” عہد اللہ “( عہد الہٰی ) کا ایک وسیع مفہوم ہے ۔ اس میں فطری عہد و پیمان کہ جو خدا نے تضاجائے فطرت کے مطابق انسان سے لئے ہیں وہ بھی شامل ہیں ۔ مثلاً توحید اور حق عدالت سے انسان کی فطری محبت کا عہد ۔ اسی طرح عقلی عہد پیمان یعنی وہ عہد کہ جو غور و فکر سوچ بچار اور قوتِ عقل کے نتیجے میں ناگزیر ہو جاتے ہیں جیسے عالم ہستی اور مبداء و معاد کے حقائق کا ادراک انہیں غور و فکر کے نتیجے میں کرلیتا ہے ۔

اسی طرح اس میں شرعی پیمان شامل ہیں یعنی وہ پیمان جو پیغمبر نے مومنین سے لیا ہے کہ وہ احکام ِ خدا وندی کی اطاعت کریں گے اور اس کی نا فرمانی اور گانہ ترک کردیں گے ۔

یونہی وہ پیمان کہ جو انسان دوسرے انسانوں سے باندھتا ہے عہد الہٰی کے مفہوم میں شامل ہیں کیونکہ خدا ہی کا حکم ہے کہ یہ پیمان بھی پورے کئے جائیں بلکہ ایسے پیمان تشریعی بھی ہیں اور عقلی بھی ۔

اہل شعور کے لائحہ عمل کا دوسرا حصہ رشتہ ناتوں کی حفاظت اور پاسداری ہے ، جیسا کہ فرمایا گیا ہے : یہ وہی لوگ ہیں جو ان رشتوں اور رابطوں کو قائم کھتے ہیں جن کی حفاظت کرنے کا خدا نے حکم دیا ہے( وَالَّذِینَ یَصِلُونَ مَا اٴَمَرَ اللهُ بِهِ اٴَنْ یُوصَلَ ) ۔

اس سلسلے میں اس سے زیادہ وسیع تعبیر نہیں مل سکتی کیونکہ انسان کا تعلق خدا سے بھی ہے ، انبیاء سے بھی ہے ، اوررہبروں سے بھی ہے ۔ انسان کا رابطہ باقی تمام انسانوں کے ساتھ بھی ہے چاہے وہ دوست ہوں ، ہمسائے ہیں ، رشتہ دار ہوں ، دینی بھائی ہوں یا ہم نوع ہوں ۔

اس کا تعلق خود اپنے ساتھ ہے ۔ مندرجہ بالا حکم میں تمام رشتہ ناتوں کو محترم شمار کیاگیا ہے ۔ سب کا حق ادا کرنا چاہئیے اور ایسا کام انجام نہیں دینا چاہئیے جس سے ان میں سے کسی ایک سے تعلق منقطع ہونے تک جا پہنچے ۔

درحقیقت انسان ایک ایسا موجود نہیں جو دوسرے سے کٹ کر او رجدا ہو کررہ سکے بلکہ اس ک اوجود سر تا پا رشتے ناتوں ، تعلق اور رابطوں سے تشکیل پاتا ہے ۔

ایک طرف سے اس کا تعلق پیدا کرنے والے کی بارگاہ سے ایسا ہے کہ اگر یہ اسے منقطع کرلے تو نابود ہو جائے ۔ جیسے ایک بلب کا رابطہ اگر بجلی پیداکرنے والے مبداء سے کٹ جائے ۔ لہٰذا جیسے تکوینی لحاظ سے انسان اس عظیم مبداء سے تعلق رکھتا ہے چاہیئے کہ تشریعی اعتبار سے بھی اس کے ساتھ اطاعت کا رشتہ برقرار رکھے۔

دوسری طرف اس کا رشتہ پیغمبر اور امام سے رہبر، راہنما اور پیشوا کے حوالے سے ہے اور ارگ یہ رشتہ ٹوٹ گیا تو انسان بے راہ رو اور سر گرداں ہو جائے گا۔ تیسری طرف انسان کا ایک رشتہ پورے انسانی معاشرے سے بھی ہے خصوصاً ان افراد سے جو اس پر زیادہ حق رکھتے ہیں جیسے ماں ، باپ ، رشتہ دار ، دوستاور مربی۔

چوتھی طرف اپنی ذات سے بھی اس کا ایک تعلق ہے اس لحاط سے وہ اپنے مصالح کی حفاظت اور اپنی ترقی اور کمال تک پہنچنے کا ذمہ دار ہے ۔

در حقیقت ان تمام رشتوں اور رابطوں کو بر قرار رکھنا ”یصلون ماامر اللہ بہ ان یوصل“ کا مصداق ہے اور ان میں سے کسی کو منقطع کرنا“ ما امر اللہ بہ ان یوصل“ کو منقطع کرنا ہے کیونکہ خدا نے ان تمام کے ”وصل “ کاحکم دیا ہے ۔

جو کچھ ہم نے کہا ہے کہ اس سے ان احادیث کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے جو آیت کی تفسیر میں کبھی خاندان اور رشتہ داروں سے تعلق کو قائم رکھنے کاکہتی ہیں ، کبھی امام اور پیشوائے دین سے مر بوط رہنے کا کہتی ہیں ، کبھی آل محمد سے رابطے کا حکم دیتی ہیں اور کبھی تمام اہل ایمان سے تعلق کوکہتی ہیں ۔

مثلاً ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے مر وی ہے کہ آپ سے ” الذین یصلون ما امر اللہ بہ ان یوصل“ کی تفسیر کے بارے میں سوا ل کیا گیا تو۔فقال قرابتک

فرمایا : تیرے اپنے قریبی مراد ہیں ۔ ( نور الثقلین جلد ۲ ص ۴۹۴) ۔

ایک اور حدیث میں اما م صادق علیہ السلام ہی سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا :

نزلت فی رحم اٰل محمد و قد یکون فی قرابتک

یہ جملہ آل محمد کے رشتے کے بارے میں ہے نیز تیرے اپنے قریبوں کے بارے میں بھی ہے ۔

یہ بات جاذب نظر ہے کہ اس حدیث کے آخر میں ہے کہ امام نے فرمایا:

فلاتکونن ممن یقول للشیء انه فی شیءً واحد

تو ایسا شخص نہ ہو جا کہ جو آیت کے معنی کو ایک ہی مصداق میں منحصر کردے ۔ ( نور الثقلین جلد ۲ ص ۴۹۴) ۔

نیز ایک تیسری حدیث بھی اسی عظیم راہنما سے مروی ہے جس میں آپ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا :

هو صله الامام فی کل سنة بما قل او کثر ثم قال وما ارید بذٰلک الا تزکیتکم

اس سے مراد مسلمانوں کے امام اور پیشوا سے ہر سال مالی امداد کے ذریعے رشتہ بر قرار رکھنا ہے چاہے وہ کم ہو یا زیادہ ۔اس کے بعد آپ نے فرمایا:

اس کام سے میری مراد صرف یہ ہے کہ تمہیں پا ک و پاکیزہ کروں ۔ (نور الثقلین جلد ۲ ص ۴۹۵) ۔

حامیان حق کا تیسرا اور چوتھا طرز عمل یہ ہے کہ ” وہ اپنے پر وردگا رسے ڈرتے ہیں اور قیامت کی عدالت کے حساب کی برائی سے خوف کھاتے ہیں( وَیَخْشَو نَ رَبّهُمْ وَیَخَافُونَ سُوءَ الْحِسَابِ ) ۔

اس سلسلے میں کہ” خشیت“اور ” خوف “ میں کیا فرق ہے جب کہ دونوں ایک دوسرے کے قریب ہیں ، بعض نے کہا ہے کہ ” خشیت“ وہ خوف ہے جو دوسرے کے احترام اور علم ویقین کی بنیاد پر ہو ۔ لہٰذا قرآن میں یہ حالت علماء سے مخصوص شمار کی گئی ہے ۔ ارشاد الہٰی ہے :( انما یخشی الله من عباده العلمائ )

بندگان خدا سے صرف علماء اس سے خشیت رکھتے ہیں ۔( فاطر۔ ۲۸) ۔

لیکن قرآن میں یہ لفظ جہاں جہاں استعمال ہوا ہے ان بہت سے مواقع کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ لفظ بالکل ” خوف“ کے مترادف کے طور پر آیا ہے اور اس کا ہم معنی ہے ۔

یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ کیاپر وردگار سے ڈرنا اس کے حساب و کتاب اور عذاب و سزا سے ڈرنے کے علاوہ کوئی اور خوف ہے ، اور اگر ایسا ہے تو پھر ” یخشون ربھم “ اور ” یخافون سوء الحساب“ کے درمیان کیا فرق ہے ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ خدا سے ڈر نا ہمیشہ او رلازما ً اس کے عذاب اور حساب کتاب سے ڈر نے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہ خوف اس کے مقام کی عظمت کا احساس ہے اور بندگی کی ذمہ دای کے سنگین ہونے کے خیال سے (یہاں تک کہ سزا اور عذاب کی طرف توجہ کے بغیر بھی یہ احساس پیدا ہو سکتا ہے )اہل ایمان کے دلوں میں یہ احساس خود بخود ایک خوف اور وحشت کی حالت پیدا کردیتا ہے ۔ وہ خوف جو ایمان کی پیدا وار ہے ، عظمت الہٰی سے آگہی کا نتیجہ ہے اور اس کی بار گاہ میں احساس ِ مسئولیت کی بدولت ہے ( سورہ فاطر کی آیہ ۲۸ ممکن ہے اسی معنی کی طرف اشارہ ہوا ) ۔

ایک اور سوال یہاں ”سوء الحساب “ کے حوالے سے سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ کیا قیامت میں واقعاً محاسبہ اعمال کے موقع پر بعض افراد کو ” بد حسابی“ کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

گزشتہ چند آیات کے ذیل میں ہم اس سوال کا جواب ذکر کر چکے ہیں ۔ وہاں بھی بالکل یہی لفظ استعمال ہوا ہے ۔ وہاں ہم بیان کرچکے ہیں کہ اس سے مراد کسی در گزر کے بغیر تمام جزئیات کا باریک بینی سے حساب لیا جانا ہے ۔ اصطلاحا ً جسے بال کی کھال اتارنا کہتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ایک جاذب نظر حدیث بھی وارد ہوئی ہے جو وہاں بیان کی جاچکی ہے ۔

نیز جیسا کہ ہم نے وہاں کہا ہے کہ یہ احتمال بھی ہے کہ ”سوء الحساب “ سے مراد ایسا محاسبہ ہ وکہ جس میں سر زنش بھی شامل ہو ۔ بعض نے ”سوء الحساب “ کی تفسیر ”سوء الجزاء “ یعنی بری سزا کے طور پر کی ہے ۔ جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلاں کا حساب چکا دو یعنی اسے سزا دو ۔

ہم نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ ”سوء الحساب “ کا ایک جامع مفہوم ہے اور اس میں یہ تمام معانی شامل ہیں ۔

ان کا پانچواں طرزِ عمل تمام مشکلات کے مقابلے میں صبرو استقامت ہے ، وہ مشکلات کہ جو اطاعت ، ترکِ گناہ دشمن کے خلاف جہاد اور ظلم و سر کشی کے مقابلے کے راستے میں پیش آتی ہیں ۔(۱)

وہ صبر و استقامت بھی پر وردگار کی رضا اور خوشنودی کی خاطر ہو۔ اسی لئے فرمایا گیا ہے : وہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے پر وردگار کی رضا اور کوشنودی حاصل کرنے کے لئے صبر و استقامت سے کام لیتے ہیں( وَالَّذِینَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ ) ۔

ہم بار ہا صبر کے معنی کہ جو استقامت کے وسیع مفہوم کاحامل ہے ، کے بارے میں وضاحت کر چکے ہیں ۔ رہا ”وجہ ربھم “ تو اس کے دو میں سے ایک معنی ہیں ۔

پہلا یہ کہ ”وجہ “ ایسا مواقع پر ” عظمت “ کے معمنی میں ہے جیسے کسی اہم نظرے اور رائے کے بارے میں کہا جاتا ہے :( هٰذا وجه الراٴی ) یعنی یہ اہم رائے ہے ۔

اور یہ شاید اس بناء پر ہے کہ اصل میں ”وجہ “ کا معنی ہے ”چہرہ “ اور انسان کا چہرہ ظاہری بدن کا اہم ترین حصہ ہے کیونکہ بینائی ، شنوائی اور گویا ئی جیسے اہم اعجاز اس میں موجود ہیں ۔

دوسرا یہ کہ ”وجہ رب“ یہاں ” پر وردگار کی رضا“ کے معنی میں ہے ۔ یعنی وہ لوگ حق تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے تمام مشکلات کے مقابلے میں صبر و استقامت سے کام لیتے ہیں ۔ اس معنی میں ”وجہ “ استعمال اس بناء پر ہے کہ جب انسان کسی کی رضا حاصل کرنا چاہتا ہے تو ا س کے چہرے کو اپنی طرف متو جہ کرتا ہے ( اس بناء پر ” وجہ “ یہاں کنایتاًآیا ہے ) ۔

بہر صورت یہ جملہ اس مر کے لئے واضح دلیل ہے کہ صبر و شکیبائی بلکہ کلیة ہر عمل خیر اسی صورت میں قدر و قیمت رکھتا ہے جب ”ابتغاء وجہ اللہ “ اور خد اکے لئے ہو اور اگر اس کے کوئی اور اسباب ہوں مثلاً ریا کاری اورلوگوں کی توجہ حاصل کرنا کہ وہ سمجھیں کہ یہ بڑا صابر اور نیکو کار شخص ہے یا حتی اپنے غرورکے پیش نظر کوئی کام انجام دے تو پھر اس کی کوئی وقعت اور قدر و قیمت نہیں ہے ۔

بعض مفسرین کے بقول کبھی انسان نا گوار حوادث پر صبر کرتا ہے تاکہ لوگ کہیں کہ یہ کس قدر صابر اور صاحب ِ استقامت ہے ، کبھی اس خوف سے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ یہ کیسا کم ظرف آدمی ہے، کبھی اس لئے کہ دشمن اسے طعنہ نہ دیں ، کبھی اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ بے تابی اور داد فریاد یہاں فضول ہے کبھی اس لئے کہ لوگوں کے سامنے اپنی مظلومیت پیش کرے تاکہ لوگ اس کی مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہو ں ان امور میں سے کوئی بھی نفس انسانی کے کمال کی دلیل نہیں ہے ۔ لیکن جس وق حکم ِ خدا کی اطاعت کی بناء پر اور اس لئے کہ زندگی میں رونما ہونے والے ہر حادثے کی کوئی وجہ ، حکمت اور مصلحت ہوتی ہے کوئی شخص صبر و استقامت سے کام لیتا ہے اور اس طرح وہ اس حادثے کی عظمت کو ختم کردیتا ہے ، کفر ان میں زبان نہیں کھولتااور ایسا کوئی کام نہیں کرتاجو جزع و فزع کی دلیل بنے تو یہی وہ صبر ہے کہ جس کی طرف آیت بالامیں اشارہ کیا گیا ہے اور یہی صبر ”ابتغا وجه الله “ شمار ہوتا ہے ۔

ان کا چھٹا طرز عمل یہ ہے کہ ”وہ نماز قائم کرتے ہیں “( وَاٴَقَامُوا الصَّلَاةَ ) ۔

نماز قائم کرنا اگر چہ عہد الہٰی کے وفا کرنے کے مصادیق میں سے ہے بلکہ خدائی رشتوں کی حفاظت کا ایک زندہ مصداق ہے اور ایک لحاظ سے صبر واستقامت کے مصادق میں سے ہے لیکن ان کلی مفا ہیم کے بعض مصادیق بہت اہم ہیں جو انسانی سر نو شت میں بہت زیادہ موثر ہیں لہذا ان کی خصوصی طور پرنشاند ہی کی گئی ہے۔

اس سے بڑھ کر اہم کیا بات ہوگی کہ انسان ہر صبح شام خدا سے اپنے رابطے او ر تعلق کی تجدید کرے ، اس کے ساتھ راز و نیاز کے لئے کھڑا ہو ، اس کی عظمت اور اپنی ذمہ داریوں کو یاد رکھے اور اس عمل کے ذریعے اپنے قلب و روح سے گناہ کا غبار اور زنگ دھوڈالے اور پانے قطرہ وجود کے ہستی حق کے بیکراں سمندر سے ملحق ہونے کا شرف حاصل کرے ،جی ہاں !نماز میں یہ تمام اثرات وبرکات موجود ہیں ۔

اس کے بعد حق جو افراد کا ساتواں طرز عمل اسی طرح سے بیان کیاگیا ہے :وہ ایسے لوگ ہیں کہ ہمارے عطا کردہ رزق سے پنہان و آشکار خرچ کرتے ہیں( وَاٴَنفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِیَةً ) ۔

انفاق او ر زکوٰة کا مسئلہ صرف اسی آیت میں نماز کے بعد بیان نہیں ہوا بلکہ بہت سی آیات قرآن میں زکوة کو نماز کے پہلو میں رکھا گیا ہے کیونکہ ان میں سے ایک چیز انسان کے رشتے کو”خدا“ سے مستحکم کرتی ہے اور دوسری ”مخلوق“ سے تعلق کو۔

یہاں اگر ہم ”ممارزقناهم “ کی طرف توجہ دیں تو وہ ہر قسم کی عنایت و بخشش کے بارے میں چاہے مال ہو یا علم ،طاقت و حیثیت ہویا اجتماعی اثر و رسوخ ایسا ہونا ضروری بھی ہے کیونکہ انفاق اور خرچ کرنے کا ایک پہلونہیں ہو چاہئیے ،بلکہ یہ خرچ تمام پہلوؤں سے اور تمام نعمات سے ہونا چاہئیے۔

”سراوعلانة“(پنہان اورآشکار )یہ تعبیر اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اپنے مصارف میں اس حقیقت کی طرف بھی نظر رکھتے ہیں کیونکہ کبھی ایساہوتا ہے کہ اگر انفاق مخفی طور پر ہوتو وہ زیادہ موثر ہوتا ہے ۔ مثلاًاگر دوسرے کی حیثیت کا تقاضا ہو کہ اسے مخفی رکھا جائے یا انفاق کرنے والا ریا اور دکھا وے سے بچنا چاہتا ہو اور کبھی انفاق آشکار طور پر کیا جائے تو اس کا اثر زیادہ وسیع ہوتا ہے مثلاً ایسے مواقع پر جبکہ ایسا کرنا دوسروں کی تشویق کا باعث بنے اور انہیں اس عمل کی اقتدا کی ترغیب دے او انفاق کرنے کا ایک عمل ایسے سینکڑوں اور ہزاروں کاموں کا سبب بنے ۔

یہاں سے واضح ہوتا ہے کہ ایک مثبت عمل کی انجام دہی کے لئے قرآن کس قدر باریک بینی سے کام لیتا ہے وہ صرف اصل کام کی طرف توجہ نہیں کرتا بلکہ تاکید کرتا ہے کہ اصل عمل بھی خیر ہو اور اس کے انجام پانے کی کیفیت بھی اچھی ہو ( ایسے مواقع پر جہاں ایک کام کی انجام دہی مختلف کیفیات سے ممکن ہو) ۔

آخر میں ا س کا آٹھواں اور آخری طرز عمل بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ وہ ”حسنات“( نیکیوں ) کے ذریعے اپنی” سیئات “(برائیوں ) کو ختم کردیتے ہیں( وَیَدْرَئُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ ) ۔

اس معنی میں کہ وہ ایک گناہ اور لغزش کے ارتکاب پر صرف پشیمان ہونے اور ندامت و استغفار پر قناعت نہیں کرتے بلکہ عملی طور پر تلافی کے لئے قدم اٹھاتے ہیں اور جس قدر ان کا گناہ اور لغزش زیادہ ہو اسی قدر حسنات اور نیکیاں بھی زیادہ انجام دیتے ہیں تاکہ اپنے اور معاشرے کے وجود سے گناہ کی آلودگی کو حسنات کو پانی سے دھو ڈالیں ۔

”یدرؤن“ ” درء “ ( بروزن ”زرع“)کے مادہ سے دفع کرنے کے معنی میں ہے ۔

اس آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ وہ برائی کی تلافی برائی کے ذریعے نہیں کررتے بلکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اگر کسی شخص کی طرف سے انہیں برائی پہنچے تو اس کے حق میں نیکی انجام دے کر اسے شرمندہ ہونے او تجدید نظر پر آمادہ کریں ۔جیسا کہ سورہ فصلت کی آیہ ۳۵ میں ہے :( ادفع بالتی هی احسن فاذا الذی بینک و بینه عداوة کانه ولیّ حمیم )

بدی کو اس طریقہ سے اپنے سے دور کرجو زیادہ اچھا ہے کیونکہ اس موقع پر وہ شخص جس کے اور تیرے درمیان عداوت ہے اپنا چہرہ یوں بدل لیتا ہے گویا وہ تیرا مخلص اور پکا دوست ہے ۔

بہر حال اس میں کوئی مانع نہیں کہ زیر بحث آیت دونوں مفاہیم لئے ہوئے ہو۔ احادیث اسلامی میں بھی کچھ احادیث دونوں تفاسیر بیان کرتی ہیں ۔

ایک حدیث پیغمبر اکرم سے منقول ہے ، آپ معاذ بن جبل سے فرماتے ہیں :

فاذا عملت سیئةفاعمل بجنبها حسنة تمحها ۔

جب کوئی برا کام کر بیٹھو توا س کےساتھ ہی کوئی نیک کام انجام دو جو اسے محو کردے۔

مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

عاتب اخاک بالاحسان الیه واردو شره بالانعام علیه ۔

اپنے بھائی کو کوئی غلط کام انجام دینے پر نیکی کے ذریعے سر زنش کرو اور اس کے شرکو انعام اور احسان کے ذریعے اس کی طرف پلٹا دو۔(۲)

البتہ ان طرف توجہ رہے کہ یہ ایک اخلاقی حکم ہے جو بعض مواضع سے مخصوص ہے کہ جہاں اس قسم کی طرز عمل موثر ہوتا ہے ورنہ حد جار ی کرنا اور بدکاروں کو سزا دینا اسلام کے قوانین میں سے ہیں اور ان تمام افراد کے لئے یکساں طو پر ہے کہ جواس کے دائرے میں آتے ہیں ۔

مختلف طرز عمل کے بعد ” اولو الباب “صاحبان فکر و نظر ،طرفداران حق او ر ایسے طریقوں پر عمل کرنے والوں کے انجام کا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : دوسرا گھر جو نیک او اچھی عاقبت کا حامل ہے ، ان کے لئے( اٴُوْلَئِکَ لَهُمْ عُقْبَی الدَّارِ ) ۔(۳)

بعد والی آیت میں اس نیک انجام اور عاقبت ِ خیر کی توضیح کی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : ان کا انجام کا جنت کے دائمی باغات ہیں کہ جن میں وہ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے صالح اور نیک آباؤ و اجداد ، ازواج اور اولاد بھی( جَنَّاتُ عَدْنٍ یَدْخُلُونَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَاٴَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّیَّاتِهِمْ ) ۔

اور جو چیز ان عظیم اور بے پایا ں نعمتوں کی تکمیل کرتی ہے یہ ہے کہ ” ہر دروازے سے ان کے ئے فرشتے داخل “( وَالْمَلَائِکَةُ یَدْخُلُونَ عَلَیْهِمْ مِنْ کُلِّ بَابٍ ) ۔

اورانہیں کہیں گے ”تم پر سلام ہو تمہارے صبر و استقامت کی بناء پر( سَلَامٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ ) ۔ذمہ داریوں کی انجام دہی میں اور شدائد و مصائب بر داشت کرنے میں تمہارا صبر و استقامت ہے جو اس اسلامی کا باعث ہوا ہے ۔یہاں انتہائی امن، آرام اور چین و سکون سے رہوگے ۔ یہاں نہ جنگ و جدال ہے ،نہ نزاع ہے، نہ سختی ،نہ مخالفت ہے او رنہ جھگڑا ،ہر جگہ امن ہی امر ہے اور تمام چیزیں تمہارے سامنے تبسم کناں ہیں اور ایسا آرام و سکون جس میں اضطراب ِقلب کا شائبہ تک نہیں وہ یہیں پر ہے ۔

آخر میں ارشاد ہوتا ہے یہ کیسا اچھا انجام اور کیسی اچھی عاقبت ہے( فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ) ۔

____________________

۱۔صبر صرف اطاعت ، مصیبت سے بچنے اور مصیبت کے موقع پر منحصر نہیں ہے بلکہ نعمت کے موقع پر بھی صبر کرنا چاہئیے یعنی وہ انسان کو مغرور او ربے لگام نہ بنادے ۔

۲۔نہج البلاغہ کلمات قصا ر جملہ ۵۸۔

۳۔”عقبیٰ“ عاقبت اورانجام کار کے معنی میں ہے چاہے اچھا ہویا برالیکن قرینہ حالیہ او رمقالیہ کی طرف توجہ کی جائے تو مذکورہ آیت میں اس سے مراد عاقبت خیر ہے ۔


چند اہم نکات

۱ ۔ صرف”صبر“کا ذکر کیوں ہوا ہے ؟

سلام علیکم بماصرتهم “ کے جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرشتے اہل جنت یوں سے کہیں گے :”تم پر تمہارے صبر و استقامت کی وجہ سے سلام ہو “ حالانکہ مندرجہ بالاآیت میں ان کے آٹھ قسم کے اچھے کاموں اور اہم طرز ہائے عمل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن اس جملے میں آٹھ امور میں سے صرف”صبر “ کی نشاندہی ہی کی گئی ہے ۔

اس امر کی وجہ حضرت علی کے ایک زندہ اور پر مغز بیان سے سمجھی جاتی ہے ۔ آپ فرماتے ہیں :

ان الصبر من الایمان کالراس من الجسد ولاخیر فی جسد لاراٴس معه ولافی ایمان لاصبر معه ۔

صبر کی ایمان سے وہی نسبت ہے جو سر کی جسم سے ہے۔بدن سے کے بغیر باقی نہیں رہ سکتا اور ایمان بی صبر کے بغیر کوئی وقعت نہیں رکھتا ۔(۱)

درحقیقت تمام انفرادی اور اجتماعی اصلاحی پروگراموں کا سہارا صبر و شکیبائی اور استقامت ہے ۔ اگر یہ نہ ہو تو ان میں سے کچھ بھی انجام نہیں پاسکتا کیونکہ ہر مثبت کام کی راہ میں مشکلات او ر رکاوٹیں ہوتی ہیں کہ جن پر صبر و استقامت کی قوت کے بغیر کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی نہ ایفائے عہد صبر و استقامت کے بغیر ممکن ہے ،نہ خدا رشتوں کی حفاظت اس کے بغیر ممکن ہو سکتی ہے ،نہ اسکے بغیر خدا اور عدالت ِ قیامت کاخوف ہوتا ہے ، نہ اس کے بنا قیام نماز ممکن ہے ،نہ خدائی نعمتوں میں سے اس کے بغیر کرچ ہوتا ہے او رنہ ہی اس کے بغیر حسنات کے ذریعے خطاؤں کی تلافی ہو سکتی ہے ۔

۲ ۔جنت کے دروازے :

آیات قرآن سے بھی اور روایات سے بھی یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ جنت کے دروازے ہیں لیکن یہ متعدد دروازے اس بناء پرنہیں ہیں کہ جنت میں داخل ہونے والوں کی تعداد اس قدر ہے کہ اگر وہ ایک ہی دروازے سے داخل ہونا چاہیں تو زحمت ہوگی، نہ ہی اس کی وجہ وجہ یہ ہے کہ طبقات میں اختلاف ہے او ر جس کی بناء پر ہر گز گروہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک دروازے سے آئے ، نہ ہی اس کی وجہ راستے کی نزدیکی یا دوری ہے اور نہ ہی دروازوں کی کثرت خوبصورتی زیبائی اور تنوع کا باعث ہے اصولی طور پر جنت کے دروازے دنیا کے دروازوں کی طرح نہیں ہیں کہ وباغات،محلات اور مکانات میں داخل ہو نے کے لئے ہوتے ہیں بلکہ یہ دروازے اعمال و کردار کی طرف اشارہ ہیں کہ جو جنت میں داخل ہونے کاسبب ہو ں گے اسی لئے چند ایک احادیث میں ہے کہ جنت کے دروازے کے مختلف نام ہیں ۔ ان میں سے ایک کانام ”باب المجاھدین “( مجاہدین کا دروازہ) ہے اور مجاہدین اسی اسلحہ سے مسلح ہو کر اس دوازے سے جنت میں داخل ہو ں گے جس کے ساتھ وہ جہاد کر تے تھے اور فرشتے انہیں ” خوش آمدید“کہیں گے۔(۲)

ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :اعلموا ان للجنة ثمانیة ابواب عرض کل باب منها میسرةاربعین سبعة

جان لو کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں کہ جن میں ہر دروازے کا عرض چالیس سال کی مسافت کے برابر ہے ۔(۳)

یہ حدیث نشاندہی کرتی ہے کہ ایسے مواقع پر دروازے کا مفہوم ہماری رو زمرہ کی گفتگو سے وسیع تر ہے ۔

یہ بات جاذب نظر ہے کہ قرآن حکیم میں ہے کہ جہنم کے سات دروازے ہیں :لھا سبعة ابواب (حجر ۴۴)

اور روایا ت کے مطابق جنت کے اس آٹھ دروازے ہیں ۔یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جہنم میں پہنچنے کے راستوں کی نسبت سعادت بہشت جاوداں تک پہنچنے کے راستے زیادہ ہیں اور خدا کی رحمت اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے جیسا کہ دعاء جوشن کبیر کے الفاظ ہیں :یا من سبقت رحمتہ غضبہ

اس سے بھی زیااؤدی جاذب نظر امر یہ ہے کہ مندرجہ بالاآیات میں بھی”اولوالالباب“کے طرزہائے عمل کے بارے میں آٹھ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن میں سے ہر ایک دراصل جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور سعادت جاوداں تک پہنچنے کا راستہ ہے ۔

۳ ۔اہل جنت سے وابستگی رکھنے والے ان سے جاملیں گے:

نہ صرف مندرجہ بالاآیت بلکہ قرآن کی دوسی آیات بھی یہ بات صراحت سے بیان کرتی ہیں کہ جنت میں اہل بہشت او ر ان کے ماں باپ ،بیویوں اور اولاد میں سے جو نیک اور صالح ہوں گے داخل ہوں گے ۔یہ در حقیقت ان پر خدائی نعمات کی تکمیل ہے تاکہ وہ وہاں کسی قسم کی کمی محسوس نہ کریں یہاں تک کہ جن افراد سے ان کا لگاؤہے ان کی جدائی بھی نہ ہو۔نیز چونکہ اس دار آخرت میں کہ جو نیا اور کامل گھر ہے ہر چیز تازہ اور نئی ہوتی ہوجاتی ہے لہٰذا وہ لوگ بھی تازہ اور نئے چہروں کے ساتھ اور زیادہ خلوص و محبت کے ساتھ وہاں داخل ہو ں گے ، ایسی مہر و محبت کو جو نعماتِ بہشت کی قدر و قیمت کئی گناہ کردے گی۔

مندرجہ بالاآیت میں اگر چہ صرف ماں باپ ، اولاد اور ازواج کا ذکر ہے لیکن درحقیقت وہاں تمام وابستگان اکھٹے ہوں گے کیونکہ اولاد اور ماں باپ ( یا باپ داد) کی موجودگی بہن بھائیوں کے بغیر بلکہ دیگر وابستگان کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ تھوڑا سا غور وخوض کیا جائے تو یہ مطلب واضح ہوجاتا ہے کیونکہ نیک باپ جنتی ہے لہٰذا ا سکے تمام بیٹے اس سے آملیں گے ۔ اس طرح بھائی آپس میں مل جائیں گے اور اسی طرح دیگر وابستگان اور عزیز و اقارب اکھٹے ہوجائیں گے ( کیجئے گا) ۔

قرآن کی مختلف آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت اہل جنت اہل بہشت کے لئے ابدی اور جاودانی گھر ہے لیکن جیسا کہ ہم نے سورہ توبہ کی آیہ ۷۲ کے ذیل میں کہا جاتا ہے ، قرآن کی چند ایک آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات ِ عدن میں ایک مخصوص مقام ہے جو جنت کے دیگر باغات سے امتیاز رکھتا ہے اور اس میں صرف تین طرح کے لوگ رہیں گے انبیاء مر سلین صدقین ( یعنی انبیاء کے خاص دوست احباب ) اور شہدا۔(۴)

۴۔ گناہ کے آثار دھلنا :

اجمالی طور پر ”حسنات“ اور ”سیئات“ ایک دوسرے پر متقابل اثررکھتے ہیں اور ا سمیں کوئی شک و شبہ نہیں ہے ۔ حتی کہ ہم اس چیز کے نمونے اپنی روز مرہ زندگی میں بھی مشاہدہ کرتے ہیں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان سالہا سال زحمت اٹھاتا ہے اور بہت زیادہ محنت و مشقت کرکے سرمایہ جمع کرتا ہے لیکن ناسمجھی، ہو و ہوس کی پیروی یا بے پر واہی سے اسے گنوابیٹھتا ہے یہ بالکل مادی حسنات کو گنوابیٹھنے کے اور کچھ نہیں ہے جسے قرآن میں ” حبط“ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ ا س کے بر عکس کبھی انسان بہت سی غلطیوں کا مرتکب ہوتا ہے اور ان کے باعث سنگین خسارے کے بوجھ تلے دب جاتا ہے لیکن ایک عقلمندانہ عمل سے یا عاشقانہ جہاد کے ذریعے ان سب نقصانات کی تلافی کردیتا ہے ۔ مثلاًہمارے زمانے کے اسی اسلامی انقلاب میں ہم نے بہت سے افراد دیکھے ہیں کہ وہ سابق ظالم و جابر نظام میں بہت سے گناہوں کے مرتکب ہوئے تھے اور اسی وجہ سے وہ جیل میں تھے لیکن جب ملک کے دشمنوں کے خلاف جہاد شروع ہوا تو اس وقت ان کی فوجی مہارت کی بناء پر انہیں میدانِ جنگ میں آنے کی دعوت دی گئی ۔ انہوں نے بی بے نظیر شجاعت و فداکاری سے پیکر دشمن پر مہلک ضربیں لگائیں ۔

اس دوران ان میں سے بعض شہید ہو گئے اور بعض زندہ ہیں ۔ دونوں صورتوں میں انہون نے اپنی گزشتہ غلطیوں کی تلافی کرلی ۔

زیر بحث آیات کہ جن میں فرمایا گیا ہے :وید رء ون بالحسنة السیئة

اہل ایمان عقلاء اور ارباب ِ فکر و نظر اپنی برائیوں کو نیکیوں کے ذریعے دور کرتے ہیں ۔

یہ اسی مطلب کی طرف اشارہ ہے کیونکہ غیر معصوم انسان کبھی نہ کبھی غلطیوں اور لغزشوں میں گرفتار ہو جاتا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس کے بعد وہ ان کی تلافی کی فکر میں رہے نہ صرف گناہ کے اجتماعی آثار جو اپنے اعمال ِ خیر کے ساتھ دھوڈالے بلکہ وہ ظلمت ِ گناہ جو انسان کے قلب و روح پر جاپڑتی ہے اسے بھی ”حسنات“ کے ذریعے دور کرے اور اسے فطری نورانیت اور شفافیت کی طرف پلٹا ئے ۔ قرآن کی زبان میں ا س کام کو ”تکفیر “ ( ڈھانپنا ) اور پاک کرنا کہتے ہیں ( اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد دوم ص ۶۶ ( اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں ) ۔

البتہ جیسا کہ ہم مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں کہہ چکے ہیں ہوسکتا ہے ” وید رء ون بالحسنة“ ایک او راہم اخلاقی فضیلت کی طرف اشارہ ہو او روہ یہ کہ ” اولوالالباب “ دوسروں کی برائی کا برائی سے جواب نہیں دیتے اور انتقام لینے کی بجائے نیکی اور اچھائی کرتے ہیں تاکہ دوسرا خود شرمندہ ہو جائے ، پاکیزگی کی طرف پلٹ آئے اور اپنی اصلاح کرلے ۔

____________________

۱۔ جنات ِ عدن کیا ہے ؟ جنات“ کامعنی ہے ”باغات “ اور ”عدن“کامعنی ہے ” طولانی توقفِ“ اور یہاں ابدیت اور ہمیشگی کے معنی میں ہے اور یہ جو ” معدن“( کان ) کو ” معدن “ کہتے ہیں وہ بھی اس جگہ کسی مواد کے طولانی توقف کی بناء پر ہے ۔

۲۔ منھاج البراعةفی شرح نہج البلاغہ جلد ۳ ص ۹۹۵۔

۳۔خصال صدوق ابواب ثمانیہ۔

۴۔ مزید وضاحت کے لئے جلد ۸ ( ار دو ترجمہ کی طرف رجوع فرمائیں ۔


آیات ۲۵،۲۶

۲۵ ۔( وَالَّذِینَ یَنقُضُونَ عَهْدَ اللهِ مِنْ بَعْدِ مِیثَاقِهِ وَیَقْطَعُونَ مَا اٴَمَرَ اللهُ بِهِ اٴَنْ یُوصَلَ وَیُفْسِدُونَ فِی الْاٴَرْضِ اٴُوْلَئِکَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلهُمْ سُوءُ الدَّارِ ) ۔

۲۶ ۔( اللهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشَاءُ وَیَقْدِرُ وَفَرِحُوا بِالْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَمَا الْحَیَاةُ الدُّنْیَا فِی الْآخِرَةِ إِلاَّ مَتَاعٌ ) ۔

ترجمہ

۲۵ ۔ اور وہ کہ جو عہد الہٰی کو مستحکم ہونے کے بعد توڑدیتے ہیں اور ان رشتوں کو قطع کردیتے ہیں جنہیں قائم رکھنے کا حکم خدا نے دیا ہے اور روئے میں میں دفساد کرتے ہیں ان کے لئے لعنت اور آخرت کے گھر کی بدی ( اور سزا )ہے۔

۲۶ ۔ خدا جسے چاہتا ہے ( اور اہل سمجھتا ہے ) وسیع رزق دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے ( مستحق سمجھتا ہے ) تنگ کردیتا ہے لیکن وہ دنیا کی زندگی پر خوش ہو گئے ہیں جب کہ آخرت کے مقابلے میں دنیا وی زندگی متاع ِ ناچیز ہے ۔

دنیا پرست تباہ کار

چونکہ نیک و بد ہمیشہ ایک دوسرے سے موازنہ کرنے سے اچھی طرح واضح ہو جاتے ہیں لہٰذا ” اوالالباب“ اور حق پرست افراد کہ جن کا تفصیلی ذکر گزشتہ آیات میں آیا ہے کہ صفات بیان کرنے کے بعد محل بحث آیات کے کچھ حصوں میں مفسدین اور وہ کہ جو واقعی اپنی عقل و کفر گنوا بیٹھے ہیں کی چند بنیادی صفات بیان کی گئی ہیں ۔ارشاد ہوتاہے : اور وہ کہ جو عہد خدا وندی کو محکم کرنے کے بعد توڑدیتے ہیں اور ان رشتوں کو منقطع کردیتے ہیں جنہیں قائم رکھنے کا خد انے حکم دیا ہے اور روئے زمیں میں فساد بر پا کرتے ہیں ان پر لعنت ہے اور دار آخرت کا عذاب ان کے لئے مخصوص ہے( وَالَّذِینَ یَنقُضُونَ عَهْدَ اللهِ مِنْ بَعْدِ مِیثَاقِهِ وَیَقْطَعُونَ مَا اٴَمَرَ اللهُ بِهِ اٴَنْ یُوصَلَ وَیُفْسِدُونَ فِی الْاٴَرْضِ اٴُوْلَئِکَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلهُمْ سُوءُ الدَّارِ ) ۔

در حقیقت ان کے تمام اعتقادی و عملی مفاسد کا خلاصہ مذکورہ تین عہد و پیمان میں بیان کردیا گیا ہے :۔

(۱) خدائی عہد و پیمان کو توڑنا جس میں فطری ، عقلی اور شرعی عہد و پیمان شامل ہیں ۔

(۲) روابط اور رشتوں کو منقطع کرنا ۔ خدا سے رابطہ ، خدائی رہبروں سے رابطہ ، مخلوق سے رابطہ اور اپنے آپ سے رابطہ ۔

(۳) آخری حصہ کہ جو پہلے دو حصوں کا نتیجہ ہے روئے زمیں میں فساد کرنا۔

جو شخص پیمان الہٰی توڑتا ہے اور ہر طرف سے رشتوں کو منقطع کردیتا ہے کیا وہ فتنہ فساد کے علاوہ کوئی کام انجام دے سکتا ہے ، یہ کاوشیں ان لوگوں کی جانب سے مادی مقاصد کے لئے حی کہ خیالی مقاصد کے لئے کی جاتی ہیں اور ان کے نتیجے میں وہ کسی بلند مقصد کے قریب ہونے کی بجائے دو ہو جاتے ہیں کیونکہ ”لعنت“ رحمتِ خدا سے دوری کے معنی میں ہے ۔(۱)

یہ بات جاذب نظر ہے کہ اس آیت میں اور گزشتہ آیت میں ”دار“)گھر اور سرائے ) بصورت مطلق آیا ہے جو اس طرف اشارہ ہے کہ حقیقی گھر آخرت والا گھر ہی ہے کیونکہ دوسرا ہر گھر آخر کار خلل پذیر ہو گا اور ٹوٹ پھوٹ جائے گا ۔

بعد والی آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ روزی اور اس کی کمی بیشی خدا کے ہاتھ میں ہے : خد اجسے چاہتا ہے وسیع رزق دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے اس کی روزی تنگ کردیتا ہے( اللهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشَاءُ وَیَقْدِرُ ) ۔

یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جو لوگ زیادہ سے زیادہ دنیا سمیٹنے کے لئے روئے زمین پر فساد کرتے ہیں وہ خدائی رشتوں کو توڑتے ہیں اور خدا کے ساتھ عہد شکنی کرتے ہیں تاکہ مادی زندگی کے لئے زیادہ سے زیادہ مفادات حاصل کرسکیں لیکن وہ اس حقیقت کی طرف توجہ نہیں دیتے کہ رزق اور ا س میں کمی بیشی خدا کے ہاتھ میں ہے ۔

علاوہ ا ز ین یہ جملہ ایک سوال کا جواب بھی ہوسکتا جو آیت میں صراحت سے نہیں آیا اور وہ یہ کہ گزشتہ آیات میں حق و باطل کے طرفداردو گروہوں کے ذکر کے بعد یہ سوال سامنے آتا ہے کہ خدا اپنے رزق اور نعمات سے کس طرح نواز تا ہے تو آیت اس سوال کے جواب میں کہتی ہے کہ روزی اور اس کی کمی بیشی خدا کے ہاتھ میں ہے ۔ بہت صورت یہ روزی جلد گزرجانے والی متاع ہے جب کہ وہ چیز جسے اہمیت دی جا نا چاہئیے وہ آخرت کاگھر او رابدی سعادت ہے

تاہم اس کے بارے میں اہم نکتہ یہ ہے کہ رزق کے لئے ” مشیت ِ الہٰی “ یہ خدا نہیں کہ بغیر حساب کے اور اسباب سے فائدہ اٹھائے بغیر کسی کو رزق ِ فراوان دے دے یا اس کی روزی کو کم کر دے بلکہ ا س کی مشیت کی بنیاد یہ ہے کہ انسان اسے اس عالم کے اسباب کے اندر تلاش کرے کیونکہ : ” الیٰ اللہ این یجری الامور الاباسبابھا “ یعنی خد اچاہتا ہے کہ تمام امور اسباب کے ساتھ ہی روپذیر ہوں ۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : عہد شکن اور فساد فی الارض کرنے والے دنیاوی زندگی پر ہی خوش ہیں حالانکہ آخرت کے مقابلے میں دنیا وی زندگی متاعِ ناچیز سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی( وَفَرِحُوا بِالْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَمَا الْحَیَاةُ الدُّنْیَا فِی الْآخِرَةِ إِلاَّ مَتَاعٌ ) ۔

نکر ہ کی صورت میں ”متاع“ کا ذکر اس کا حقیر ہونا ظاہر کرنے کے لئے ۔ جیسا کہ ہم فارسی میں کہتے ہیں :

فلاں موضوع ”متاعی“ بیش نیست

فلاں چیز”ایک متاع “ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی ۔

یعنی بے وقعت متاع ہے ۔

چند اہم نکات

۱ ۔مفسد فی الارض “ کون ہے ؟

”فساد“ کہ جو ”اصلاح “ (درستی )کا متضاد ہے ہر قسم کی تخریب کاری اور تباہ کاری کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے ۔ راغب نے مفردات میں کہا ہے :

الفساد خروج الشیء عن الاعتدال قلیلا کان اوکثیراً و یضاد ه الصلاح، و یستعمل ذٰلک فی النفس و البدن و الاشیاء الخارجه عن الاستقامة ۔

چیزیں حالتِ اعتدال سے کس طرح بھی خارج ہوجائیں ، کم یا زیادہ، اسے فساد کہتے ہیں ۔ اس کا متضاد ” صلاح “ ہے ۔ یہ جان و بدن اور ان تمام خرابیاں جو مختلف کاموں میں پیدا ہوتی ہیں اور تما م انفرادی یا اجتماعی مسائل میں ہر قسم کا افراط اور تفریط ”فساد“ کا مصداق ہیں ۔قرآن مجید میں بھی بہت سے مواقع پر ”فساد“ اور ”صلاح “ ایک دوسرے کے مقابلے میں آئے ہیں ۔ سورہ شعراء کی آیت ۱۵۲ میں ہے :( الذین یفسدون فی الارض ولایصلحون )

وہ لوگ جو زمین میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے ۔

سورہ بقرہ کی آیت ۲۲۰ میں ہے :( و الله یعلم المفسدین من المصلح )

خدا مفسدین کو مصلحین میں سے پہچانتا ہے ۔

سورہ اعراف کی آیت ۱۴۲ میں ہے :( واصلح ولاتتبع سبیل المفسدین ) اصلاح کرو اور مفسدین کی راہ کی پیروی نہ کرو۔

بعض مواقع پر ایما ن اور عمل صالح کو فساد کے مقابلہ میں قرار دیا گیا ہے :

( ام نجعل الذین اٰمنوا و عملو الصالحات کالمفسدین فی الارض )

کیاہم ایمان لانے والوں اور عمل صالح بجالانے والوں کو مفسدینِ فی الارض کی طرح قرار دیں ۔ (ص۔ ۲۸)

دوسری طرف بہت سی آیا ت ِ قرآن میں لفظ ” فساد“ کو ”فی الارض “ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے کہ جو نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلے کے اجتماعی پہلوؤں پر نگاہ ہے ۔ یہ تعبیر قرآن میں بیس سے زیادہ مواقع ہر دکھائی دیتی ہے ۔

تیسری طرف قرآن مجید کی مختلف آیات میں ”فساد“ افساد“ ایسے گناہوں کے ساتھ آیا ہے جو شاید زیادہ تر مصداق کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ان میں سے بعض گناہ بہت بڑے ہیں اور بعض چھوٹے ہیں ۔ کبھی تو خدا اور رسول خدا اور رسول سے جنگ کے ہم پلہ ہو کر آیاہے ، مثلاً:انما جزاؤا الذین یحاربون الله و رسول له و یسعون فی الارض فساد اً

ان لوگوں کی جزاء کے جو اللہ اور اس کے رسول سے جنت کرتے ہیں اور زمین میں فساد کے در پے ہیں ( مائدہ ۔ ۳۳) کبھی نسال اور زراعت کو تباہ کرنے کے پلہ قرار پایاہے ، مثلاً

( و اذا تولیّ سعیٰ فی الارض لیفسد فیها ویهلک الحرث و النسل )

اور جہاں منھ پھیر ا تو ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگا تاکہ زمین میں فساد پھیلائے اور زراعت اور نسل کا ستیا ناس کردے ۔ ( بقرہ ۔ ۲۰۵)

کبھی اس کا ذکر ان رشتوں کو منقطع کرنے کے ساتھ آیا ہے جنہیں قائم رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ، مثلاً:

( الذین ینقضون عهد الله من بعد میثاقه و یقطعون ما امر الله به ان یوصل و یفسدون فی الارض )

وہ لوگ کہ جو اس سے میثاق باندھنے کے بعد عہد الٰہی کو توڑدیتے ہیں اور جن رشتوں کو خدا نے جوڑنے کاحکم دیا ہے انہیں قطع کردیتے ہیں اور اور زمین میں فساد کرتے ہیں ۔ ( بقرہ ۔ ۲۷)

کبھی اسے بڑا بننے کی خواہش اور سر کشی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ، مثلاً

( تلک الدار الاٰخره نجعلها للذین لایریدون علواً فی الارض و لا فساداً )

یہ آخرت کا گھر ہے جو ہم نے ان لوگوں کے لئے قرار دیا ہے جو زمین پر بڑا ہونے کی خواہش اور فساد بر پا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے ۔ ( قصص۔ ۸۳)

کبھی قرآن ”فرعون“ کو مفسد گردانتا ہے اور دریائے نیل میں غرق ہوتے ہیں وقت اسکے توبہ کرنے کے متعلق کہتا ہے :( اٰلاٰ و قد عصیت قبل وکنت من المفسدین )

اب ایمان لاتا ہے حالانکہ پہلے تونے نافرمانی کی اور تو مفسدین میں سے تھا ۔ ( یونس ۔ ۹۱)

کبھی یہی لفظ” فساد فی الارض“ چوری کے لئے استعمال ہوا ہے ۔ جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے متعلق ہے کہ انہوں نے چوری کی تہمت لگنے کے بعد کہا:( تالله لقد علمتم ماجئنا لنفسد فی الارض وما کنا سارقین )

بخدا تم جاتنے ہو کہ ہم سر زمین مصر میں فساد کرنے نہیں آئے اور ہم کبھی بی چورنہ تھے ۔(یوسف ۔ ۷۳)

کبھی یہ لفظ کم فروشی کے ہم پلہ ہو کر آیا ہے ،جیسا کہ حضرت شعیب علیہ اسلام کے واقعے میں ہے کہ وہ اپنی قوم سے کہتے ہیں :( ولا تبخسو االناس اشیاء هم ولا تعثو ا فی الارض مفسدین )

کم فروشی نہ کرو اور لوگوں کے حق میں کمی نہ کرو اور زمین پر فساد نہ پھیلاتے پھرو ۔ (ہود ۔ ۸۵)

اور کبھی نظام ِ عالم ہستی اور جہان خلقت کو خراب اور تباہ کرنے کے معنی میں آیا ہے :لو کان فیهما اٰلهة الااله لفسد تا

اگر زمین و آسمان مین اللہ کہ جو خدائے یگانہ ہے کہ علاوہ اور خدا ہوتے تو یہ فاسد ،خراب اور بر باد ہو جاتے ۔(انبیاء۔ ۲۲)

ان تمام آیات سے کہ جو قرآن کی مختلف سورتوں میں آئی ہیں اچھی طرح سے معلوم ہوتاہے کہ ”فساد “بطور کلی “یا”فساد فی الارض “ایک بہت ہی وسیع معنی رکھتا ہے ۔اس کے مفہوم میں بڑے بڑے جرائم مثلاََ فرعون اور دوسرے آمروں کے جرائم اور ان سے کم تر کام یہاں تک کہ کم فروشی اور لین دین میں دھوکابازی جیسے گناہ بھی شامل ہیں ۔فساد کے وسیع مفہوم یعنی حد اعتدال سے ہر قسم کا اخراج،کی طرف توجہ رکھی جائے تو یہ وسعت پوری طر ح قا بل فہم ہے ۔نیز اس طر ف تو جہ کرتے ہوئے کہ عذاب اور سزاؤ ں کومیزان جرم کے مطابق ہونا چاہیئے :واضح ہوتا ہے کہ ان ”مفسدین “ میں سے ہر گروہ کو ایک الگ سزا ملنا چاہئیے اور سب کے لئے ایک جیسی سزا نہیں ہے ۔ یہاں تک کہ سورہ مائدہ کی آیہ ۳۳ کہ جسمیں ”مفسد فی الارض “ کا ذکر ” خد ااور رسول کے محارب“ کے ساتھ آیاہے ، ان کے لئے چار قسم کی سزائیں ہیں ۔ یقینا حاکم شرع کے ذمہ ہے کہ وہ ان چار سزاؤں (قتل کرنا، سولی پر لٹکا نا ، ہاتھ پاؤں کاٹنا اور جلا وطن کرنا) میں سے جرم کی مقدار کے مطابق ایک سز امنتخب کرے ، ہمارے فقہا نے فقہی کتب میں محارب اور مفسد فی الارض کی بحث میں ان سزاؤں کی شرائط اور حدود و تفصیل سے بیان کی ہیں ۔ ۲

ایسے مفاسد کی بیخ کنی کے لئے ہر موقع پر کسی ذریعے سے متمسک ہونا پڑے گا ۔ کبھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا پہلا مرحلہ یعنی پندو نصیحت اور تذکر ہی کافی ہوتا ہے لیکن کبھی ایسا وقت آجاتا ہے کہ شدت عمل کے آخری درجہ یعنی جنگ کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے ۔

ضمناً فساد فی الارخ کی تعبیر ہمیں انسانوں کی اجتماعی زندگی کی ایک حقیقت کی طرف راہنمائیکرتی ہے اور وہ یہ کہ اجتماعی مفاسد عام طور کسی خاص مقام سے تعلق نہیں رکھتے اور انہیں کسی ایک علاقے میں محصور نہیں کیا جاسکتا بلکہ ان کی وسعت پورے معاشرے اور پوری زمین تک ہوتی ہے اور ایک گروہ سے دوسرے گروہ کی طرف سرایت کرتے ہیں ۔

آیات ِ قرآنی سے یہ نکتہ بھی اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ بعثت ِ انبیاء کے عظیم مقاصد سے ایک ” وسیع مفہوم میں “ زمین سے فساد ختم کرنا ہے ۔ جیسا کہ خدا کے عظیم پیغمبر حضرت شیعب علیہ السلام کے بارے میں قرآن حکیم میں ہے کہ وہ اپنی سرکش قوم کے فساد کے مقابلے میں کہتے ہیں :( ان ارید الا الاصلاح ما استطعت )

میرا ہدف صرف یہ ہے کہ جتنا استطاعت میں ہے فساد کے خلاف جنگ کروں اور اصلاح کروں ۔ ( ہود۔ ۸۸)

۲ ۔ روزی خدا کے ہاتھ میں ہے لیکن:

مندرجہ بالاآیات ہی نہیں جو کہتی ہیں کہ روزی کی کمی بیشی خدا کے ہاتھ میں ہے بلکہ قرآن کی مختلف آیات سے واضح طور پر یہی مفہوم حاصل ہوتا ہے کہ خدا جس شخص کی چاہتا ہے روزی وسیع کردیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے کم کر دیتا ہے لیکن اس کا وہ مطلب نہیں جو بعض جاہل لوگ خیال کرتے ہیں کہ کوشش و کار کردگی سے ہاتھ کھینچ لینا چاہئیے اور گوشہ نشین ہوجانا چاہئیے تاکہ جو کچھ مقدر میں ہے خدا دے دے ۔ ان لوگوں کی منفی سوچ مذاہب کو افیون قراردینے والوں کے لئے بڑی اہم سند ہے ۔

یہ لوگ دو بنیادی نکتوں سے غافل ہیں :

پہلا یہ کہ خد ا کا چاہنا اور ا س کی مشیت و ارادہ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ ہوا ہے وہ کوئی من پسند اور بغیر کسی کلیہ قاعدہ والا معاملہ نہیں بلکہ اسی طرح ہے جس طرح ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ خد اکی مشیت و ارادہ ا س کی حکمت سے جد انہیں ہے بلکہ ہمیشہ لیاقت اور اہلیت پر موقوف ہے ۔

دوسرایہ کہ یہ مسئلہ عالم اسباب کی نفی میں نہیں ہے کیونکہ عالم ِاسباب یعنی جہان تکوینی بھی اس کی مشیت ِ تکوینی ہے اور وہ کبھی بھی اس مشیت تشریعی سے جدا نہیں ہوئی ۔

زیادہ واضح الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ رزق کی وسعت و تنگی کے بارے میں خدا کا ارادہ کچھ شرائط کے ساتھ مشروط ہے کہ جو انسانون کی زندگی پ رحکم فرماہیں ۔ کوشش، ہمت اور اخلاص اور ا س کے بر عکس سستی ، تن آسانی ، بخل اور زمینوں کی آلودگی اس میں نتیجہ خیز اثر رکھتی ہے ۔ اسی بناء پر قرآن مجید نے بار ہا انسان کو اس کی سعی و کوشش او رجہد و فعالیت کا مر ہونِ منت شمار کیا ہے اور زندگی میں ا س کے حصہ کو سعی و کوشش کی میزان پر تَولا ہے ۔ اسی لئے وسائل الشیعہ کی کتاب ِ تجارت میں ایک باب حصول ِ رزق کے لئے کوشش سے متعلق ہے نیز کچھ ابواب بیکاری ، زیادہ سونے اور ضروریات ِ زندگی کے حصول میں سستی کی مذمت کے بارے میں بھی ہیں ۔

ان ابواب میں منقول احادیث میں سے ایک حدیث جو امیر المومنین علیہ السلام سے مروی ہے ، میں ہے کہ آپ نے فرمایا :ان الاشیاء لما ازدوجت ازدوج الکسل و العجز فنتجابینهما الفقر

جب شروع شروع میں موجودات نے ایک دوسرے سے ازدواج کیا تو سستی اور عجز ناتوانی نے آپس میں شادی رچائی اور ان سے جو بچہ پیدا ہوا وہ ”فقر“ تھا۔(۳)

ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :لاتکسلوافی طلب معایشکم فان اٰبائنا کانوا یرکضون فیها ویطلبونها

حصول رزق میں ضرورت ِ زندگی مہیا کرنے میں سستی سے کام نہ لو کیونکہ ہمارے آباؤ اجداد ان کے حصول میں دوڑا کرتے تھے اور ان کے لئے تلاش و جستجو کرتے تھے ۔(۴)

ایک اور حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے :

انی لابغض الرجل ان یکون کسلاناً عن امر دنیاه، ومن کسل عن امر دنیاه فهو عن امر اٰخرته اکسل ۔

میں ایسے شخص سے ناراض ہوں جو اپنے کارِ دنیا میں سست ہو کہ کیونکہ جو کارِ دنیا میں سست ہے ( اگر چہ وہ اس کا نتیجہ جلد بھگتے گا تاہم ) وہ آخرت کے معاملے میں زیادہ سست ہو گا۔(۵)

نیز امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے منقول ہے ، آپ نے فرمایا:ان الله تعالیٰ لیبغض العبد النوّام ، ان الله لیبغض العبد الفارغ

یقینا خدا تعالیٰ زیادہ سونے والے اور بیکار شخص سے ناراض ہے ۔(۶)

____________________

۱۔ راغب نے کتاب مفردات میں کہا ہے :” اس طرح سے دور کرنے کے معنی میں ہے جس میں غصہ ملا ہوا ، جب آخرت میں خدا کی طرف اس لفظ کی اضافت ہو تو سزا کے معنی میں ہے اور دنیا میں رحمت منقطع ہو نے کے معنی میں ہے اور اگر لوگوں کی طرف سے ہو تو پھر نفرین کے معنی میں ہے ۔

۲۔ ہم نے بھی سورہ مائدہ کی آیہ ۳۳ کے ذیل میں ( جلد ۴ پر) اس سلسلے میں ضروری وضاحت کی ہے ( ار دو ترجمہ دیکھئے ) ۔

۳۔ وسائل الشیعہ جلد ۱۲۔ ص۳۸۔

۴۔ وسائل الشیعہ جلد ۱۲۔ ص۳۸۔

۵۔ وسائل الشیعہ جلد ۱۲۔ ص۳۷۔

۶۔ وسائل الشیعہ جلد ۱۲۔ ص۳۷۔


آیات ۲۷،۲۸،۲۹

۲۷ ۔( وَیَقُولُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْلاَاٴُنزِلَ عَلَیْهِ آیَةٌ مِنْ رَبِّهِ قُلْ إِنَّ اللهَ یُضِلُّ مَنْ یَشَاءُ وَیَهْدِی إِلَیْهِ مَنْ اٴَنَابَ ) ۔

۲۸ ۔( الَّذِینَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِکْرِ اللهِ اٴَلاَبِذِکْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ) ۔

۲۹ ۔( الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ طُوبَی لَهُمْ وَحُسْنُ مَآبٍ ) ۔

ترجمہ

۲۷ ۔ جولوگ کافر ہو گئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے آیت ( اور معجزہ) کیوں نازل نہیں ہوتا۔ کہہ دو: خدا جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرتا ہے اور جو شکس اس کی طرف پلٹ آتا ہے اسے ہدایت کرتا ہے ( معجزے کی کمی نہیں ان کی ہٹ دھرمی رکاوت کا باعث ہے ) ۔

۲۸ ۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور ان کے دل یادِ خدا سے مطمئن ( اور پر سکون ) ہیں یادرکھو کہ یا د خدا سے دل مطمئن ہوتے ہیں ۔

۲۹ ۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال انجام دئے پاکیزہ ترین( زندگی ) اور بہترین انجام ان کا نصیب ہے ۔

یاد الٰہی باعث ِ تسکین دل ہے

اس سورت میں چونکہ توحید ، معاد اور رسالت ِ پیغمبر کے بارے میں بہت سی مباحث ہیں لہٰذا زیر بحث پہلی آیت دوبارہ پیغمبر اسلام کی دعوت کے مسئلے کی طرف لے جاتی ہے ۔ اس میں ہٹ دھرم منکرین کا ایک اعتراض بیان کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : کافرین کہتے ہیں کہ اس کے پروردگار کی طرف سے اس پر معجزہ نازل کیوں نہیں ہوتا( وَیَقُولُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْلاَاٴُنزِلَ عَلَیْهِ آیَةٌ مِنْ رَبِّه ) ِ) ۔

لفظ ”یقول “ فعل مضارع ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بار با راعتراض کرتے تھے اور باوجودیکہ انہوں نے رسول اللہ سے بار ہا معجزات دیکھتے تھے ( اور ہر پیغمبر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حقانیت کے ثبوت میں کچھ معجزات پیش کرے ) پھر بھی وہ بہانے تراشتے تھے اور گزشتہ معجزات کو نظر انداز کردیتے تھے اور اپنی من پسند کے نئے معجزے کا تقاضا کرتے تھے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ لوگ اور تمام ہٹ دھرم منکرین ہمیشہ اپنی مرضی کے معجزات ڈھونڈتے رہتے تھے کہ پیغمبر اور توقع رکھتے تھے کہ پیغمبر ایک جادو گر کی طرح کہیں بیٹھ جائیں اور ان میں سے ہر کوئی جائے اور جو معجزہ طلب کرے وہ فوراً پیش کردیں اور اگر پھر بھی یہ نہ چاہیں تو ایمان نہ لائیں ۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ پہلے درجے میں انبیاء کی ذمہ داری ہے کہ تبلیغ، تعلیم اور تنبیہ کا ذریعہ اختیار کریں ۔ معجزات تو استثنائی امور ہیں کہ جس حصب ِ ضرورت وہ بھی حکم خد اسے ( نہ پیغمبر کی خواہش کے مطابق ) انجام پاتے ہیں لیکن ہم بار ہا آیاتِ قرآنی میں پڑھتے ہیں کہ دشمنوں کے کئی گروہ اس حقیقت کی پرواہ کئے بغیر ہمیشہ انبیاء کے خلاف مزاحمت کرتے رہے ہیں اور اس قسم کی فرمائشیں کرتے رہے ہیں ۔

قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے : اے پیغمبر ۱ ان سے کہہ دو خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو شخص اس کی طرف لوٹے اسے ہدایت کرتا ہے( قُلْ إِنَّ اللهَ یُضِلُّ مَنْ یَشَاءُ وَیَهْدِی إِلَیْهِ مَنْ اٴَنَابَ ) ۔

یہ اس طرف اشارہ ہے کہ تمہارے لئے معجزے کے لحاظ سے کوئی کمی نہیں کیونکہ پیغمبر نے کافی مقدار میں معجزات دکھائے ہیں کمی خود تمہارے وجود اند ر ہے ۔ ہٹ دھرمیاں ، تعصبات، جہالتیں وہ گناہ کہ جو توفیق کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں تمہارے ایمان لانے میں حائل ہیں لہٰذا خدا کی طرف لوٹ آؤ، توبہ رو، جہالت و غرور اور خود خواہی کے پردے اپنی نگاہ ِ فکر سے ہٹا ؤ تاکہ واضح طور پر جمالِ حق کا مشاہدہ کر سکو، کیونکہ :

جمال یار ندارو نقاب و پردہ ولی غبار رہ بنشان تا نظر توانی کرد

جمال ِدوست پر تو کوئی نقاب نہیں ہے لیکن راستے کا غبار ہٹا دو تاکہ میں اسے دیکھ سکوں ۔

بعد والی آیت میں ” من اناب“ (جو خدا کی طرف پلٹ آئے ہیں ) کی بہت عمدہ تفسیر بیان ہوئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : یہ وہی لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور ان کے دل ذکر الٰہی سے مطمئن اور پر سکون ہیں( الَّذِینَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِکْرِ اللهِ ) ۔

اس کے بعد ایک دائمی وسیع اصول کے طور پر بیان فرمایا گیا ہے : آگاہ ہو کہ یاد الٰہی سے دل مطمئن ہوتے ہیں اور قرار پاتے ہیں( اٴَلاَبِذِکْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ) ۔

زیر بحث آخری آیت میں اہل ایمان کا انجام کار بیان کرکے گزشتہ آیت کا مضمون یوں مکمل کیا گیا ہے : وہ لوگ کہ جو ایمان لائے او ر انہوں نے صالح اعمال انجام دئے ان کے لئے بہترین زندگی ہے او ران کا انجام کار بہترین ہوگا( الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ طُوبَی لَهُمْ وَحُسْنُ مَآب ) ۔

بہت سے بزرگ مفسرین نے لفظ ” طوبیٰ“ کو ” اطیب“ کامونث سمجھا ہے جس کا مفہوم ہے بہتر، پاکیزہ تر یا بہترین اور پاکیزہ ترین۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ اس کا متعلق محذوف ہے اس لفظ کا مفہوم ہر لحاظ سے وسیع اور غیر محدود ہوگا ۔

اس کا نتیجہ یہ ہو اکہ ”طوبیٰ لھم “ کے ذریعے ان کے لئے تمام سعادتوں اور پاکیزگیوں کی پیش بینی کی گئی ہے ۔ ان کے لئے تمام چیزوں میں سے بہترین مہیا ہوں گی۔

بہترین زندگی ، بہترین نعمتیں ، بہترین آرام او رسکوں ، بہترین دوست و احباب اور پر وردگار کی بہترین اور خاص مہر بانیاں یہ سب کی سب ایمان اورعمل صالح کی مرہون ِ منت ہیں اور یہ ان کے لئے اجر ہے جو عقیدے کے لحاظ سے محکم اور عمل کے لحاظ سے پاک، فعال، درست کار اور خدمت گزار ہیں ۔

لہٰذا اس لفظ کی مختلف مفسرین کی طرف جو مختلف تفسیریں ہو ئی ہیں وہ سب اس کی مصداق ہیں ۔ یہاں تک کہ مجمع البیان میں اس کے دس معانی ذکر ہوئے ہیں جو حقیقت میں اس کے وسیع معنی کے مختلف مصادیق ہیں ۔

کئی ایک روایات میں بھی ہے کہ ” طوبیٰ “ ایک درخت ہے جس کی جڑیں جنت میں رسول اللہ یا حضرت علی کے گھر میں ہیں اور اس کی شاخیں ہر جگہ تکام مومنین اور ان کے گھروں پر سایہ فگن ہیں ۔ ہوسکتا یہ روایات ان عظیم پیشواؤں اور ان کے پیروکار وں کے درمیان ان کے مقامِ رہبری اور نہ ٹوٹنے والے رشتوں کی تصویر کشی کرتی ہوں جن کا نتیجہ ایسی طرح طرح کی نعمات ہیں ۔

یہ جو ہم دیکھتے ہیں لفظ” طوبیٰ “ مونث کے طور پر آیا ہے اور ”اطیب “ نہیں آیا کہ جومذکر ہے تو ا س کی وجہ یہ ہے کہ یہ حیات یا نعمت کی صفت ہے اور یہ دونوں الفاظ مونث ہیں ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ یا د الہٰی سے دل کو کیسے سکون ملتا ہے ؟

انسانوں کی زندگی میں اضطراب اور پریشانی ہمیشہ سے ایک بڑی مصیبت کے طور پر موجود ہے ۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی پر اس کے اثرات پوری طرح محسوس ہوتے ہیں ۔ سکون و قرار ہمیشہ سے انسان کی زندگی کی ایک قیمتی گمشدہ چیز رہی ہے ۔ اس کی تلاش میں انسان ہر دروازہ کھٹکھٹا تا ہے ۔ اگر ہم پوری تاریخ بشر میں صحیح یا غلط طریقے سے کی گئی ان کوششوں کا ذکر کریں کہ جو سکون قرار حاصل کرنے کے لئے کی گئیں تو بہت ہی ضخیم کتاب بن جائے ۔ بعض ماہرین اور علماء کہتے ہیں کہ بعض ہمہ گیر بیماریاں جب پھیلتی ہیں اور وباء کی صورت اختیار کرلیتی ہیں تو جو افراد ظاہراً اس وبائی بیماری کی وجہ سے مرتے ہیں ان میں سے اکثر خوف اور پریشانی کی وجہ سے دم توڑ دیتے تھوڑے ہی افراد ایسے ہوتے ہیں جو حقیقتاً اس بیماری میں مبتلا ہو کر ختم ہوتے ہیں ۔

اصولی طور پر سکون و پریشانی فرد اور معاشرے کی سلامتی وبیماری اور سعادت و بد بختی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے اور یہ ایسی چیز نہیں ہے جس سے آسانی سے گزر جایا جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک بہت سی کتابیں پریشانی اور اضطرابِ قلب پر قابو پانے اور آرام و سکون حاصل کرنے کے طریقوں پر لکھی گئی ہیں ۔

تاریخ بشر ایسے غم انگیز مناظر سے بھری پڑی ہے کہ انسان نے تلاش سکون میں ہر چیز کی طرف ہاتھ بڑھایا، وادی وادی پھرا اور طرح طرح کی عادتیں اپنائیں ۔

لیکن قرآن نے ایک مختصر اور پر مغز جملے میں انتہائی اطمینان کے لئے نزدیک ترین راستے کی نشاندہی کی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : جان لو کہ یادِ خدا دلوں کے لئے آرام بخش اور باعثِ سکون ہے ۔

اس قرآنی حقیقت کی وضاحت کے لئے مندرجہ ذیل توضیح کی طرف توجہ کیجئے:۔

پریشانی اور اضطراب کے عوامل

۱- اضطراب و پریشانی کبھی تاریک اور مبہم مستقبل کی فکر کی بناء پرہوتی ہے ۔ نعمتوں کا زوال ، دشمن کے چنگل میں گرفتاری ، ضعف کمزوری ، بیماری ، ناتوانی ، درماندگی اور حاجتمندی کا احتمال یہ سب چیزیں انسان کو پریشان کردیتی ہیں لیکن قادر و متعال اور رحیم و مہر بان خدا پر ایمان وہ خدا کہ جو ہمیشہ سے اپنے بندوں کی کفالت اپنے ذمہ لئے ہوئے ہے ۔ ایسی پریشانیوں کو دور کرسکتا ہے اور اسے سکون دے سکتا ہے ۔ اس کی یاد یہ حوصلہ دے سکتی ہے کہ آنے والے حوادث کے مقابلے میں تو در ماندہ اور بے یار و مدد گار نہیں ہے توتوانا، قادر اور مہر بان خدا رکھتا ہے ۔

۲ ۔ کبھی ماضی کی تاریک زندگی فکرِ انسانی کو اپنی طرف مشغول رکھتی ہے اور ہمیشہ اسے پریشان کئے رہتی ہے ان گناہوں پر پریشانی کہ جو اس نے انجام دئے ہیں اور وہ کوتاہیاں اور لغزشیں جو اس سے سر زد ہوئی ہیں اسے ستاتی رہتی ہیں لیکن اس طرف توجہ کہ خدا غفار، توبہ قبول کرنے والا، رحیم اور غفور ہے ، اسے سکون دیتی ہے اور اسے کہتی ہے کہ اس کی بارگاہ میں تقصیر و کوتاہی پر معذرت چاہو، گزشتہ گناہوں پر عذر خواہی کرو اور ان کی تلافی کی کوشش کرو کیونکہ وہ بخشنے والا ہے اور تلافی ممکن ہے ۔

۳ ۔ کبھی طبعی اور مادی عوامل کے مقابلے میں انسان کی کمزوری وناتوانی اور کبھی داخلی و خارجی دشمنوں کی کثرت اسے پریشان کردیتی ہے کہ میں طاقتور دشمنوں کے مقابلے میں میدانِ جہاد میں کیا کروں یا ان سے دیگر مقابلوں میں میں کیا کرسکتا ہوں لیکن جب وہ خدا کو یاد کرتا ہے اور اس کی قدرت و رحمت پر بھروسہ کرتا ہے وہ قدرت جو تمام طاقتوں سے بر تر ہے او رکوئی اس کے مقابلے کی ہمت نہیں رکھتا تو ا سکے دل کو سکون آجاتا ہے اور وہ اپنے آپ سے کہتا ہے : وہاں ! میں اکیلا نہیں ہوں ،خدا کے سائے میں میری طاقت لامتناہی ہے ۔

جنگوں میں مجاہد ین ِ راہ خدا کا جذبہ گزشتہ زمانہ ہو یا موجودہ ان کی تعجب انگیز اور خیرہ کن جنگیں یہاں تک کہ ان مواقع پر بھی جب وہ یک و تنہا ہوتے ہیں ان سے وہ سکون و اطمینان واضح ہوتا ہے کہ جو صرف سایہ ایمان میں پیدا ہوتا ہے ۔

جب ہم اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں یاکان سے سنتے ہیں کہ ایک افسرِ رشید خیرکن معرکے میں اپنی بینائی بالکل کھوبیٹھتا ہے اور وہ مجروح بدن کے ساتھ ہسپتال میں چار پائی پر پڑا ہوتا ہے لیکن ایسے سکون ِ دل اورا طمینان قلب سے گفتگو کررہا ہوتا ہے گویا اس کے بدن پر کوئی خراش تک نہیں آئی ا س سے ہم ذکر ، خدا کے زیر سایہ پر اعجاز سکون کا مشاہدہ کرسکتے ہیں ۔(۱)

۴ ۔ کبھی انسان کی تکلیف دہ پریشانیوں کی بنیادزندگی کے لئے بے مقصد ہونے کا حساس ہوتا ہے لیکن جو شخص خد اپر ایمان رکھتا ہے اور زندگی میں تکامل و کمال حاصل کرنے کو ایک عظیم مقصد کے طور پر اپنائے ہوئے ہے اور زندگی کے تمام امو ر و حوادث کو اسی مقصد کو روشنی میں دیکھتا ہے اسے نہ زندگی کے بے کار ہونے کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی وہ بے ہدف اور ٹھکرائے ہوئے افراد کی طرح مضطرب و سر گر داں ہوتا ہے ۔

۵ ۔ پریشانی کا ایک اور عامل یہ ہے کہ انسان بعض اوقات ایک ہدف تک پہچنے کے لئے بہت زیادہ زحمت اٹھاتا ہے لیکن اسے کوئی ایسا فردنظر نہیں آتاجو اسی زحمت و مشقت کا قدر دان ہو۔ یہ ناقدری اسے شدید دکھ دیتی ہے اور اسے ایک عالم اضطراب و پریشانی میں غرق کردیتی ہے لیکن جب وہ احساس کرتا ہے کہ کوئی ہے جو اس کی تمام مساعی اور کاوشو ں سے آگاہ ہے ، وہان سب کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور وہ ان سب پر اجر و ثواب دے گا تو پھر وہ کیوں پریشان اور بے چین ہوگا ۔

۶ ۔ بد گمانیاں ، تو ہمات اور بے ہودہ خیالات بھی پریشانی کے عوامل میں سے ہیں ۔ بہت سے لوگ ان کی وجہ سے اپنی زندگی میں رنج اٹھاتے ہیں لیکن کیونکر انکار کیا جا سکتا ہے کہ خدا کے لطف و کرم کی یاد نیز اس حکم کی طرف توجہ کہ ہر صاحب ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ حسن ِ ظن سے کام لے اسے یہ پریشانی جاتی رہتی ہے اور ا س کی جگہ سکون و اطمینان لے لیتا ہے ۔

۷ ۔ دنیا پرستی اور مادی زندگی کی رنگیوں پر دلباختگی انسانوں کے اضطراب و پریشانی کاایک بہت بڑا عامل رہا ہے یہاں تک کہ بعض اوقات لباس ، جوتے ، ٹوپی یاہزاروں چیزوں میں سے کسی ایک کا خاس رنگ نہ مل سکے تو دنیا پرست کئی گھنٹے ، کئی دن یا کئی ہفتے پریشان اور بے آرام رہتے ہیں لیکن خدا پر ایمان اور ایسی چیزوں سے مومن کی آزادی ایسی تمام پریشانیوں کو ختم کردیتی ہے کیونکہ ایک مومن ہمیشہ اصلاحی زہد کا حامل ہوتا ہے او روہ مادی زندگی کی رنگینیوں کاقیدی نہیں ہوتا ۔

جس وقت انسانی روح اتنی وسعت حاصل کرلے کہ وہ علی علیہ السلام کی طرح کہے:

دنیاکم هذه اهون عندی من ورقة فی فم جرادة تقضمها

تمہاری دنیا میری نظر میں درخت کے اس پتے سے بھی حقیر ہے کو ایک ٹڈی دَل کے منہ میں ہوجسے وہ جبا رہی ہو۔(۲)

تو پھر کسی مادی چیز تک ا سکا نہ پہنچنا یا سے کھوبیٹھنا انسانی روح کا سکون کیسے درہم بر ہم کرسکتا ہے اور اس کے دل و دماغ میں کیونکر پریشانی پیدا کرسکتا ہے ۔

۸ ۔ پریشانی کا ایک اور اہم عامل مو ت کاخوف بھی ہے یہ خوف ہمیشہ انسانوں کی روح کر ستائے رکھتا ہے ۔ موت کا امکان چونکہ صرف زیادہ بڑی عمر میں نہیں بلکہ دوسرے سالوں میں بھی ہے ، خصوصاً بیماریوں ، جنگوں اور بدامنیوں کی حالت میں لہٰذا یہ وحشت اور خوف عمومی ہو سکتا ہے ۔

البتہ اگر ہم عالم شناسی کے حوالے سے موت کو فنا او رہر چیز کے خامتے کے معنی میں سمجھیں ( جیسا کہ مادی نظریہ رکھنے والوں کا خیال ہے ) تو پھر یہ اضطراب بالکل بجا ہے ۔ ایسی موت سے واقعاً ڈرنا چاہیئے جو انسان کی تمام آرزؤں اور کامیوبیوں کا آخری نقطہ ہو لیکن اگر خدا پر ایمان کی وجہ سے موت کو ایک وسیع تر اور اعلیٰ تر زندگی کا دریچہ سمجھا جائے اور موت سے گزرنے کو زندان کے دالان سے گزر کر ایک آزاد فضا تک پہنچنا شمار کیا جائے تو پھر یہ پریشانی بے معنی ہے بلکہ ایسی موت اگر ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے آئے تو اسے پسند کیا جانا چاہئیے اور وہ چاہے جانے کے قابل ہے ۔

پریشانی کے عوامل انہی میں منحصر نہیں ہیں بلکہ اس کے اور بھی بہت سے عوامل شمار کئے جاسکتے ہیں لیکن یہ بات قابل قبول ہے کہ زیادہ تر پریشانیوں کی بازگشت مذکورہ عوامل ہی کی طرف ہے لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ عوامل خد اپر ایمان کے مقابلے میں پگھل جاتے ہیں ، بے رنگ ہو جاتے ہیں او رنابود ہو جاتے ہیں تو پھر اس بات کی تصدیق کرنا پڑے گی کہ خدا کی یاد دلوں کے سکون و قرار کا باعث ہے( الابذکر الله تطمئن القلوب ) (۳)

۲ ۔ کیا خوف ِخدا اور اطمینان باہم مطابقت رکھتے ہیں ؟

بعض مفسرین نے یہاں ایک اعتراض اٹھایا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک طرف تو ہم مذکورہ آیت میں پڑھتے ہیں کہ یادِ خدا دلوں کے سکون و اطمینان با عث ہے جب کہ دوسری طرف سورہ انفال کی آیة ۲ میں ہے :

( انما المومنون الذین اذا ذکرالله وجلت قلوبهم )

مومن وہ ہیں کہ جس وقت خدا کا ذکر کیا جائے تو ان کا دل دھڑکنے لگتا ہے۔

کیا یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں ؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ آرام و سکون سے مراد وہی عوامل کے مقابلے میں سکون ہے کہ جو عام لوگوں ک وپریشان کیے رکھتے ہیں ، جن کے واضح نمونے ہم نے سطور بالا میں پیش کئے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اہل ایمان اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں پریشان نہ ہوں دوسرے لفظوں میں جو چیز ان میں نہیں ہوتی وہ ویرا ن گر پریشانیاں ہیں جو دنیا میں عام طور پر ہوتی ہیں باقی رہی اصلاحی پریشانی کہ جو انسان کو خدا اور مخلوق کے بارے میں احساس ِذمہ داری پر ہوتی ہے اور جو زندگی میں مثبت کردار اور آمادہ کرتی ہے وہ ان میں موجود ہوتی ہے اور اسے ہونا بھی چاہئیے اور خوف خدا سے مراد بھی یہی ہے ۔(۴)

۳ ۔ ”ذکر خدا “ کیا ہے او ر کس طرح ہے ؟

جیسا کہ راغب اصفہانی نے مفردات میں کہاہے ” ذکر“ کبھی مطالب و معارف کے حفظ کے معنی میں آتا ہے ، اس فرق کے ساتھ کہ لفظ ”حفظ“ اس کی ابتداء میں بولا جاتا ہے اور لفظ ” ذکر“ اسے جاری رکھتے ہوئے اور کبھی کسی چیز کو زبان سے یا دل میں یا د کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اسی لئے علما ء نے کہا ہے کہ ”ذکر“ دو قسم کاہے ”ذکر قلبی “ ذکر زبابی “۔ ان میں ہر ایک پھر دو طر ح کا ہے یا تو فراموشی کے بعد ذکر یا بغیر فراموش کئے ذکر۔

بہرحال زیر بحث آیت میں ذکر خدا کو کہ جو دلوں کے لئے باعث سکون ہے ،سے مراد یہ نہیں کہ اس کا نام زبان پرلایا جائے اور بار بار تسبیح و تحلیل اور تکبیر کہی جائے بلکہ مراد یہ ہے کہ دل کے ساتھ خدا کی طرف اور اس کے عظمت، ا س کے علم اور اس کے حاضر و ناظر ہونے کی طرف متوجہ رہا جائے اور یہ تو جہ انسان میں جہاد و کوشش او رنیکیوں کی طرف حرکت کی بنیاد بنے اور اس کے اور گناہ کے درمیان ایک مضبوط بند کا کردار ادا کرے یہ ہے وہ ذکر جس کے لئے روایات اسلامی میں اس قدر آثار و بر کات بیان ہوئی ہیں ۔

ایک حدیث میں ہم پڑھتے ہیں کہ پیغمبر اکرم نے حضرت علی سے جو وصیتیں کیں ان میں سے ایک یہ تھی :

یا علی ثلاث لاتطیقها هٰذه الامة المواسات للاخ فی ماله و انصاف الناس من نفسه و ذکر الله علی کل حال، و لیس هو سبحان الله و الحمد لله ولا اله الا الله و الله اکبر و لٰکن اذا ورد علی مایحرم علیه خاف الله عزو جل عنده و ترکه ۔

یا علی ۱ تین کام ایسے ہیں جن کی اس امت میں طاقت نہیں ہے (اور ہر شخص یہ کام نہیں کرسکتا ): مال میں دینی بھائیوں کے ساتھ مواسات کرنا ، اپنی طرف سے لوگوں کا حق ادا کرنا اور ہر حالت میں خداکو یاد رکھنا لیکن خدا کی یاد( صرف) سبحان اللہ و الحمد للہ ولا الہ الااللہ و اللہ اکبر نہیں ہے بلکہ یادِخدا یہ ہے کہ جس وقت انسان کسی فعل حرام کا سامنا کرے تو خدا سے ڈرتے اور اسے ترک کردے۔(۵)

ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

الذکر ذکر الله عزو جل عند المصیبة و افضل من ذٰلک ذکر الله عند ما حرم الله علیک فیکون حاجزاً ۔

ذکر دو قسم ہے ۔ ایک تو خدا کو مصیبت کے وقت رکھنا ( اور صبر و استقامت سے کام لینا) اور اس سے افضل و بر تر یہ ہے کہ محرمات کے مقابلے میں خدا کو یاد رکھا جائے اور اس کے اور حرام کام کے درمیان دیوارکھڑی کردی جائے ۔(۶)

یہی وجہ ہے کہ بعض روایات میں ذکر خدا کا تعارف ایک سپراور دفاعی ہتھیار کے طور پر کر وایا گیا ہے ۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ ایک روز پیغمبر اکرم نے اپنے اصحاب کی طرف رخ کرکے ارشاد فرمایا:

اتخذوا جئنا فقالوا: یا رسول الله امن عدد و قد اظلنا؟

قال: لا، ولٰکن من النارقولوا سبحان الله و الحمد لله ولا اله الا الله و الله اکبر

اپنے لئے سپر مہیا کرو۔

اصحاب نے عرض کیا : یا رسول اللہ! کیا دشمنوں کے مقابلے میں جنہوں نے ہمیں گھیر رکھا ہے اور ہم پرسایہ کئے ہوئے ہیں ؟ فرمایا : نہیں بلکہ جہنم ( کی آگ) سے کہو: سبحان اللہ و الحمد اللہ و الاالہ الااللہ و اللہ اکبر (خدا کی پاکیز گی بیان کرو،اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرو اس کے علاوہ کسی کو معبود نہ بناؤ اور اسے ہر چیز سے بر تر سمجھو ) ۔(۶)

جو ہم دیکھتے ہیں کہ ایک احادیث میں پیغمبر اکرم کا تعارف ’ ذکر اللہ “ کے طور پر ہوا ہے تو وہ بھی اس بناء پر ہے کہ وہ لوگوں کو یاد خدا دلاتے ہیں اور ان کی تربیت کرتے ہیں ۔ امام صادق علیہ السلام سے ”( الابذکر الله تطمئن القلوب ) “ کی تفسیر کے ضمن میں نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا :بمحمد تطمئن القلوب وهو ذکر الله و حجابه

محمد کے ذریعے دلوں کو سکون ہوتا ہے ، وہ ہیں خدا کا ذکر اور ا س کا حجاب۔

____________________

۱۔ ایسے واقعات ہم پر دشمنوں کی مسلط کردہ ایران عراق جنگ میں ایک نہیں بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں ہیں ۔ یہ واقعات مجاہدین بد اور دیگر اسلامی جنگوں کے مجاہدین کی تازی کرتے ہیں ۔

۲۔ نہج البلاغہ ۲۲۴۔

۳۔مزید وضاحت کے لئے کتاب ”راہ غلبہ پر نگرانیھا “ کی طرف رجوع فرمائیں ۔

۴۔ تفسیر نمونہ جلد ۸۴( اردو ترجمہ) پر بھی ہم نے اس سلسلے میں وضاحت کی ہے ۔

۵۔سفینة البحار جلد ۱ ص ۴۸۴۔

۶۔سفینة البحار جلد ۱ ص ۴۸۴۔

۷۔ سفینة البحار جلد ۱ ص ۴۸۴۔


آیات ۳۰،۳۱،۳۲

۳۰ ۔( کَذَلِکَ اٴَرْسَلْنَاکَ فِی اٴُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَا اٴُمَمٌ لِتَتْلُوَ عَلَیْهِمْ الَّذِی اٴَوْحَیْنَا إِلَیْکَ وَهُمْ یَکْفُرُونَ بِالرَّحْمَانِ قُلْ هُوَ رَبِّی لاَإِلَهَ إِلاَّ هُوَ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَإِلَیْهِ مَتَابِ ) ۔

۳۱ ۔( وَلَوْ اٴَنَّ قُرْآنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اٴَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاٴَرْضُ اٴَوْ کُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَی بَلْ لِلَّهِ الْاٴَمْرُ جَمِیعًا اٴَفَلَمْ یَیْئَسْ الَّذِینَ آمَنُوا اٴَنْ لَوْ یَشَاءُ اللهُ لَهَدَی النَّاسَ جَمِیعًا وَلاَیَزَالُ الَّذِینَ کَفَرُوا تُصِیبُهُمْ بِمَا صَنَعُوا قَارِعَةٌ اٴَوْ تَحُلُّ قَرِیبًا مِنْ دَارِهِمْ حَتَّی یَأتیَ وَعْدُ اللهِ إِنَّ اللهَ لاَیُخْلِفُ الْمِیعَادَ ) ۔

۳۲ ۔( وَلَقَدْ اسْتُهْزِءَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِکَ فَاٴَمْلَیْتُ لِلَّذِینَ کَفَرُوا ثُمَّ اٴَخَذْتُهُمْ فَکَیْفَ کَانَ عِقَابِ ) ۔

ترجمہ

۳۰ ۔ جیسا کہ ( ہم نے گزشتہ انبیاء کو بھیجا ) تجھے بھی ایک امت کے درمیان بھیجا کہ جس سے پہلے دوسری امتیں آئیں اور چلی گئیں ، تاکہ ہم نے جو کچھ تجھ پر وحی کی ہے ان کے سامنے پڑھو حالانکہ وہ رحمن ( وہ خدا کہ جس کی رحمت سب پر محیط ہے ) ست کفر کرتے ہیں ۔کہہ دو وہ میرا پر وردگار ہے ، اسے کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، میں نے اس پر توکل کیا ہے اور میری باز گشت اس کی طرف ہے ۔

۳۱ ۔ اگر قرآن کہ وجہ سے پہاڑ چلنے لگ جائیں اور زمین ٹکڑے ہو جائے اور اس کے ذریعے مردوں کے ساتھ گفتگو کی جائے ( وہ پھر بھی ایمان لائیں گے) لیکن یہ سب کچھ خد اکے اختیار میں ہے ۔ کیا وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں نہیں جانتے کہ اگر خد اچاہے تو تمام لوگوں کو(جبراً)ہدایت کردے ( لیکن جبری ہدایت کاکوئی فائدہ نہیں ) اور کافروں پر ان کے اعمال کی وجہ سے مسلسل سر کوبی کرنے والی مصیبتیں ٹوٹی رہیں گی یا ان کے گھروں کے ارد گرد نازل ہوں گی یہاں تک کہ خدا کا آخری وعدہ پورا ہو ، خدا اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

۳۲ ۔ ( انہوں نے صرف تیرا مذاق نہیں اڑا یا بلکہ ) تجھ سے پہلے انبیاء سے بھی انہوں نے استہزاء کیا۔ میں نے کافروں کو مہلت دی اور پھر ان کی گرفت کی ، تونے دیکھا ( میری ) سزا کیسی تھی ؟

شان نزول

مفسرین کا کہنا ہے کہ پہلی آیت صلح حدیبیہ کے بارے میں ہجرت کے چھٹے سال نزال ہوئی ۔ جب صلح نامہ لکھا جانے لگا تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ آلہ و سلم نے حضرت علی علیہ السلام سے کہا:

لکھو:بسم الله الرحمن الرحیم

اس پر سہیل بن عمر و اور دیگر مشرکین کہنے لگے : ہم ”رحمان “ ک ونہیں پہچانتے۔ ”رحمن “ تو صرف ایک ہی ہے اور وہ یمامہ میں ہے ( ان کی مراد مسیلمہ کذاب سے تھی کہ جو نبوت کا دعویدارتھا) ، بلکہ لکھو:با سمک اللهم

زمانہ جاہلیت میں اسی طرح لکھا جاتا تھا ۔ اس کے بعد آنحضرت نے حضرت علی سے کہا لکھو:

یہ صلح نامہ ہے جو محمد رسول اللہ

ابھی اتنا ہی لکھتا تھا کہ مشرکین قریش کہنے لگے : اگر تم خدا کے رسول ہوتے اور ہم تم سے جنگ کرتے اور خانہ خدا کا راستہ تم پر بند کرتے تو ہم بڑے ظالم ہوتے( جھگڑا تو تمہاری اس رسالت کا ہی ہے ) بلکہ لکھو ” یہ صلح نامہ محمد بن عبد اللہ کاہے “۔

اس وقت اصحاب پیغمبر بھڑک اٹھے ۔ کہنے لگے : ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم ان سے جنگ کریں ۔

پیغمبر اکرم نے فرمایا:نہیں ، جس طرح یہ کہتے ہیں ویسے لکھو ۔

اس موقع پر مندر جہ بالا آیت نازل ہو ئی اور خدا کے نام ”رحمن “ کے سلسلے میں ان کی بہانہ جوئی ، ہٹ دھرمی اور مخالفت پر ان کی شدید سر زنش کی گئی کیونکہ یہ تو خداکی قطعی صفات میں سے ہے ۔

یہ شان نزول اس صورت میں صحیح ہے جب ہم اس سورہ کو مدنی سمجھیں تاکہ یہ صلح حدیبیہ کے واقعے سے مطابقت اختیار کرسکے لیکن اگر جیسا کہ مشہور ہے کہ اسے مکی سمجھیں تو پھر اس بحث کی نوبت نہیں آئے گی مگر یہ کہ اس آیہ کی شان نزول کو مشرکین کی اس گفتگو کا جواب سمجھا جائے جو سورہ فرقان میں آئی ہے ۔ انہوں نے ”رحمن “ کو سجدہ کرنے کی دعوتِ پیغمبر کے جواب میں کہا ہے کہ ہم رحمن کو نہیں پہچانتے:

( اسجدوا للرحمن قالوا و ما الرحمن ) ( جب ان سے کہا گیا کہ ) رحمن کو سجدہ کرو تو کہنے لگے رحمن کون ؟ (فرقان۔ ۶۰)

بہر حال مندرجہ باآیت شانِ نزول سے قطع نظر بھی ایک واضح مفہوم رکھتی ہے کہ جو اس کی تفسیر میں بیان کیا جائے گا۔دوسری آیت کی شان نزول کے بارے میں بھی بعض عظیم مفسرین نے کہا ہے کہ یہ مشرکین مکہ کی ایک جماعت کے جواب میں نازل ہوئی ہے ۔ یہ لوگ کانہ کعبہ کی پشت کی طرف بیٹھے تھے ۔ انہوں نے پیغمبر اکرم کی طرف کسی کو یہ پیغام دے کر بھیجا :

اگر تو چاہتا ہے کہ ہم تیری پیروی کریں تو مکہ کے ان پہاڑوں کو اپنے قرآن کے ذریعے پیچھے ہٹا دے تاکہ ہماری یہ تنگ زمین کسی حدتک وسیع ہو جائے ۔ نیز زمین میں شکاف کرکے اس میں چشمے اور نہریں جاری کردے تاکہ ہماری یہ تنگ زمین کسی حد تک وسیع ہو جائے ۔ نیز زمین میں شگاف کرکے اس میں چشمے نہریں جاری کردے تاکہ ہم درخت لگائیں اور زراعت کریں تو اپنے گمان میں داؤد سے کم نہیں ہے کہ جس کے لئے خدا نے پہاڑوں کو مسخر کر رکھا تھا کہ جو اس سے ہم آواز ہو کر خدا کی تسبیح کرتے تھے یا یہ کہ ہمارے لئے ہوا کو مسخر کردے تاکہ ہم اسکے دو ش پر سوار ہو کر شامل کی طرف جائیں اور اپنی مشکلات حال کریں اپنی ضروریات پوری کریں اور اسی دن واپس لوٹ آئیں جیسا کہ سلیمان کے لئے مسخر تھی اور تو اپنے گمان میں سلیمان سے کم نہیں ہے نیز اپنے دادا” قصی“ (قبیلہ قریش کے جدِّ اعلیٰ ) یا ہمارے مردوں میں سے کسی اور شخص کو جسے چاہے زندہ کردے تاکہ ہم اس سے سوال کریں کہ کیا جو کچھ تو کہتا ہے حق ہے یا باطل کیونکہ عیسیٰ مردوں کو زندہ کرتا تھا اور تو عیسیٰ سے کم تر نہیں ہے ۔

اس پر دوسری زیر بحث آیت نازل ہوئی اور ان سے کہا گیا کہ جو کچھ تم کہتے ہو وہٹ دھرمی کے وجہ سے ہے نہ کہ ایمان لانے کے لئے کیونکہ ایمان لانے کے لئے درکار کافی معجزات پیش کیے جاچکے ہیں ۔

ہٹ دھرم ہر گز ایمان نہیں لائیں گے

ان آیات میں ہم پھر نبوت کی بحث کی طرف لوٹتے ہیں ۔ ان میں مشرکین کی گفتگو کا ایک اور حصہ پیش کیا گیا ہے نیز نبوت کے بارے میں ان کی گفتگو کا واضح جواب دیا گیا ہے ۔

پہلے فرمایا گیاہے : جیسے ہم نے گزشتہ انبیاء کو گزشتہ قوموں کی ہدایت کے لئے بھیجا تھا تجھے بھی ایک امت کے درمیان بھیجا ہے کہ جس سے پہلے امتیں آئیں اور چلی گئیں( لتتلو ا علیهم الذی اوحینا الیک ) حالانکہ وہ ”رحمن “ (وہ خدا کہ جس کی رحمت اور وسیع و عام فیض مومن و کافر اور یہودو نصاریٰ سب پر محیط ہے ) کا انکار کرتے ہیں (وھم یکفرون بالرحمن ) ۔

۔کہہ دو : اگر تم انکا رکرتے ہو تو رحمن کہ جن کا فیض و رحمت عام ہے ، میرا پر وردگار ہے ( قل ھو ربی )اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، میں اس پر توکل کرتا ہوں اور میری باز گشت اسی طرف ہے ( لاالہ الاھو علیہ توکلت والیہ متاب) ۔

اس کے بع دان بہانہ تراش افراد کے جواب میں کہ جو ہر چیز پر اعتراض کرتے ہیں ، فرماتا ہے : یہاں تک کہ اگر قرآن کے ذریعے پہاڑ چلنے لگ جائیں اور زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور اس کے ذریعے مردوں سے گفتگو بھی ہو پھر بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے( وَلَوْ اٴَنَّ قُرْآنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اٴَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاٴَرْضُ اٴَوْ کُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَی ) ۔

لیکن یہ تمام کام خد اکے اختیار میں ہے او روہ جتنا ضروری سمجھتا ہے انجام دیتا ہے( بَلْ لِلَّهِ الْاٴَمْرُ جَمِیعًا ) ۔

مگر تم لوگ حق کے طالب نہیں ہو،گر ہو تے تو جس قدر اعجاز کی نشانیاں اس پیغمبر سے صادر ہوئی ہیں ایمان لانے کے لئے کاملاً کافی ہیں ، یہ تو سب بہانے ہیں ۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : کیا وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں نہیں جانتے کہ اگر خدا چاہے تو تمام لوگوں کو جبراً ہدایت کردے( اٴَفَلَمْ یَیْئَسْ الَّذِینَ آمَنُوا اٴَنْ لَوْ یَشَاءُ اللهُ لَهَدَی النَّاسَ جَمِیعًا ) ۔

۱ ۔”( اٴَفَلَمْ یَیْئَس ) “”یأس“ کے مادہ سے ناامیدی کے معنی میں ہے مگر بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں علم کے معنی میں ہے لیکن ( فخر رازی کے مطابق )” کچھ لوگوں “ کے بقول کہیں نہیں دیکھا گیا کہ ” یئست“ ” علمت“ کے معنی میں ہو ۔ مفردات میں راغب کی گفتگو سے یہ نتیجہ نکتا ہے کہ ”یأس“ یہاں اپنے اسی مشہور معنی میں ہے لیکن ہر مایوسی کے لئے ضروری ہے کہ اس کام کے نہ ہوسکنے کا علم ہو ۔ اس بناء پر ان کے یاس کے ہونے کا لازمہ ان کا علم ہے لیکن راغب کی اس گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ یہاں یاس وجود علم کے معنی میں نہیں بلکہ عدم کے علم کے معنی میں ہے اور یہ مفہوم آیت کے مفہوم سے مطابقت نہیں رکھتا اس بناء پر حق وہی ہے جو مشہور مفسرین نے کہا ہے اور ا س کے لئے اقوالِ عرب سے بھی شواہد پیش کیے گئے ہیں اور ان کے نمونے فخررازی نے اپنی تفسیر میں پیش کئے ہیں ۔(غور کیجئے) ۔

یہ اس طرف اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ داخلی یا خارجی طور پر جبری طریقے سے منکرین اور ہٹ دھرم افراد تک کو بھی ایمان لانے پر آمادہ کرسکتا ہے کہ کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے اور اس کی قدرت کے سامنے کوئی کام مشکل نہیں ہے لیکن وہ ہر گز ایسا نہیں کرے گا کیونکہ ایسا جبری ایمان بے وقعت ہے۔ ایسا ایمان اس معنویت اور کمال سے محروم ہے جس کی انسان کو ضرورت ہے ۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : اس کے باوجود کفار ہمیشہ اپنے اعمال کے سبب تباہ کن مصائب کے حملے سے دو چار ہیں یہ مصائب مختلف بلاؤں کی صورت میں نازل ہوتے ہیں اور کبھی ان پر مجاہدین ِ اسلام کے تباہ کن حملوں کی صورت میں آتے ہیں( وَلاَیَزَالُ الَّذِینَ کَفَرُوا تُصِیبُهُمْ بِمَا صَنَعُوا قَارِعَةٌ ) ۔

یہ مصائب اگر ان کے گھروں پر نازل نہ ہوں تو ان کے گھروں کے آس پاس نازل ہو ں گے( اٴَوْ تَحُلُّ قَرِیبًا مِنْ دَارِهِمْ ) تاکہ وہ عبرت حاصل کریں ، حرکت میں آئیں اور خدا کی طرف لوٹ آئیں ۔

یہ تنبیہیں اسی طرح جاری رہیں گی یہاں تک کہ خدا کا آخری حکم آپہنچے( حتَّی یَأتیَ وَعْدُ اللهِ ) ۔

یہ آخری حکم ہو سکتا ہے موت کی طرف یا روز قیامت کی طرف اشارہ ہو یابقول بعض کے فتح مکہ کی طرف اشارہ ہو کہ جس نے دشمن کی ساری طاقت کو درہم بر ہم کرکے رکھ دیا ۔

بہر حال خد اکاو عدہ حتمی ہے ” خدا کبھی بھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا“( إِنَّ اللهَ لاَیُخْلِفُ الْمِیعَادَ ) ۔

زیر نظر آخری آیت پیغمبر اکرم کی طرف روئے سخن کئے ہوئے کہتی ہے : صرف تمہی نہیں ہو کہ جسے اس کا فر گروہ کے طرح طرح کے تقاضوں اور من پسند معجزوں کی فرمائش کے ذریعے تمسخر اور استہزاء کا سامنا کرنا پڑا ہے بلکہ یہ تو پوری تاریخ انبیاء میں ہوتا رہا ہے ”اور تجھسے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا تمسخر اڑایا گیا ہے “( وَلَقَدْ اسْتُهْزِءَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِکَ ) ۔

لیکن ہم نے ان کافروں کو فوراً عذاب نہیں کیا بلکہ ” ہم نے انہیں مہلت دی “( فَاٴَمْلَیْتُ لِلَّذِینَ کَفَرُوا ) ۔

اس لئے کہ شاید بیدار ہوجائیں اور شاید راہ حق کی طرف پلٹ آئیں یا کم از کم ان پر کافی اتمام حجت ہو جائے کیونکہ اگر وہ بد کار اور گنہگار ہیں تو خدا کی مہربانی اور اس کا لطف و کرم اور حکمت بھی تو موجود ہے ۔

بہر حال یہ مہلت اور تاخیر اس معنی میں نہیں کہ ان کی سزا اور کیفر کردار کو فراموش کردیا جائے لہٰذا” اس مہلت کے بعد ہم نے انہیں گرفت کی اور تونے دیکھا کہ ہم نے انہیں کس طرح سزا دی “ یہ انجام تیری ہٹ دھرم قوم کے بھی انتظار میں ہے( ثُمَّ اٴَخَذْتُهُمْ فَکَیْفَ کَانَ عِقَابِ ) ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ لفظ” رحمن “ کیوں استعمال کیا گیا ہے ؟

مندرجہ بالا آیات اور ان کے بارے میں مذکورہ شان نزول نشاندہی کرتی ہیں کہ قریش کو لفظ”رحمن “کہ قریش کو لفظ ”رحمن“ سے خدا کی توصیف و تعریف پسند نہیں تھی کیونکہ ایسی کوئی چیز ان کے درمیان رائج نہ تھی لہٰذا وہ اس کا مذاق اراتے تھے حالانکہ مندرجہ بالا آیا ت میں اس کی تاکید کی گئی ہے کیونکہ اس لفظ میں ایک خاص لطف پوشیدہ ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا کی صفت ِ رحمانیت اس کے لطف ِ عام کی طرف اشارہ ہے کہ جو دوست اور دشمن سب پر محیط ہے اور مومن اور کافر سب کے شامل ِ حال ہے جب کہ اس کے مقابلے میں صفت ِ رحیمیت خداکی صفتِ خا ص ہے اور صالح او رمون بندوں کے بارے میں ہے ۔

یعنی تم کس طرح اس خدا پر ایمان لاتے ہو کہ ج ومنبع لطف و کرم ہے یہاں تک کہ اپنے دشمنوں کو بی اپنے لطف و رحمت سے نوازتا ہے ۔ یہ تمہاری انتہائی نادانی ہے ۔

۲ ۔ پیغمبر اکرم نے معجزات کا تقاضاکیوں پورا نہ کیا

یہاں ہمیں پھر ان لوگون کی گفتگو کا سامنا کرنا پڑرہاہے کہ جو یہ خیال کرتے ہیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سوائے قرآن کے اور کوئی معجزہ رکھتے تھے ۔ یہ لوگ زیر نظر آیات اور اس قسم کی دیگر آیات سے مدد لیتے ہیں کیونکہ ان آیات کا ظہور یہ بتاتا ہے کہ نبی اکرم نے مختلف معجزات کی فرمائش کو ٹھکرادیا ۔ وہ لوگ پہاڑوں کو ان کی جگہ سے پیچھے ہٹا نے کا ، وہاں کی زمین میں شگاف کرکے چشمے اور نہریں جاری کرنے کا اور مردوں کے زندہ ہوکر گفتگو کرنے کا تقاضا کررہے تھے لیکن آپ نے ان کی درخواست رد کردی۔

لیکن ہم بار ہا کہہ چکے ہیں کہ معجزہ ان لوگوں کو کہ جو حقیقت طلب ہیں صرف حقیقت کاچہرہ دکھانے کے لئے ہے نہ یہ کہ پیغمبر ایک معجزہ گر بن جائے اور جو شخص جس عمل فرمائش کرے وہ اسے انجام دیتا جائے چاہے وہ اسے قبول کرنے کے لئے بھی تیار نہ ہو۔

من پسند کے معجزات کی ایسی فرمائش صرف ایسے ہٹ دھرم اور کوتاہ فکر افراد کی طرف سے کی جاتی ہے کہ جو کسی حق کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور اتفاق کی بات ہے کہ اس امر کی نشانیاں مندر جہ بالا آیات مندرجہ بالا آیات میں واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں ۔ آخری زیر بحث آیت میں ہم نے دیکھا ہے کہ گفتگو ان کی طرف سے پیغمبر کا مذاق اڑانے کے سلسلے میں آئی ہے یعنی وہ لوگ حق کا چہرہ نہیں دیکھناچاہتے تھے بلکہ ایسی فرمائشوں سے ان کا مقصود پیغمبر اکرم کا تمسخر اڑانا تھا۔

علاوہ از یں ان آیات کے بارے میں جو شان ہائے نزول ہم نے پڑھی ہیں ان سے معلوم ہوتاہے کہ انہوں نے پیغمبر اکرم سے تقاضا کیا تھا کہ وہ گزشتہ بزرگوں میں سے کسی ایک کو زندہ کردیں تاکہ وہ ان سے پوچھیں کہ کیا آپ حق پر ہیں یاباطل پر حالانکہ اگر پیغمبر اس قسم کا معجزہ (مردوں کو زندہ کرنا) پیش کردیں تو پھر اس بات کے پوچھنے کی گنجائش نہیں رہتی کہ پیغمبر حق پر ہیں یا باطل پر ۔ یہی با ت نشاندہی کرتی ہے کہ وہ متعصب ، ہٹ دھرم اور معاند افراد تھے اور ان کا مقصد حق کی جستجو نہ تھا۔ وہ ہمیشہ عجیب و غریب فرمائشیں کرتے رہتے تھے اور آخر کار وہ ایمان بھی نہیں لاتے تھے ۔

سورہبنی اسرائیل کی آیہ ۹۰ کے ذیل میں ہم انشاء اللہ دوبارہ اس مسئلے کی وضاحت کریں گے ۔

۳ ۔ ”قارعة “ کیا ہے ؟

’قارعة“ ” قرع“ کے مادہ سے ہے جو کہ کھٹکھٹانے کے معنی میں ہے ۔ اس بناء پر ” قارعة“ کامعنی ہے ” کھٹکھٹانے والی “ یہاں ایسے امو ر کی طرف کی طرف اشارہ ہے جو انسان کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور اسے تنبیہ کرتے ہیں اور اگر بیدار ہونے کے لئے آمادہ ہو تو اسے بیدارکرتے ہیں ۔

در حقیقت ” قارعة“ کا ایک وسیع معنی ہے کہ جس میں ہر قسم کی انفرادی یا اجتماعی مصیبتوں ، مشکلات اور دردناک حوادث کا مفہوم شامل ہے ۔ اسی لئے بعض مفسرین اسے جنگوں ، خشک سالیوں ، قتل ہونے اور قید ہونے کے معنی میں سمجھتے ہیں کہ جب دوسرے اسے صرف ان جنگوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جو صدر اسلام میں ” سریہ“ کے عنوان سے ہوئیں ۔ ”سریہ“ ان جنگوں کو کہا جاتا ہے جن میں پیغمبر اسلام خود شریک نہیں ہوئے بلکہ ان میں آپ نے اپنے اصھاب و انصار کو مامور فرمایا لیکن مسلم ہے کہ ” قارعة“ ان امور میں سے کسی ایک کے لئے مختص نہیں اور ا س کے مفہوم میں یہ تمام امور شامل ہیں ۔

یہ بات جاذب نظر ہے کہ زیر بحث آیات میں ہے کہ یہ تباہ کن حوادث خود انہیں پہنچتے تھے یا ان کے گھر کے آس پاس رونما ہوتے تھے یعنی اگر وہ خود ان بیدار کرنے والے اور تنبیہ کرنے والے حوادث میں مبتلا نہ ہوں تو بھی یہ ان کے اوس پڑوس یا ان کے نزدیک رونما ہوتے ہیں ۔ کیا یہ ان کی بیداری کے لئے کافی نہیں ۔


آیات ۳۳،۳۴

۳۳ ۔( اٴَفَمَنْ هوقَائِمٌ عَلَی کُلِّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَکَاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ اٴَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِمَا لاَیَعْلَمُ فِی الْاٴَرْضِ اٴَمْ بِظَاهِرٍ مِنْ الْقَوْلِ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِینَ کَفَرُوا مَکْرُهُمْ وَصُدُّوا عَنْ السَّبِیلِ وَمَنْ یُضْلِلْ اللهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ) ۔

۳۴ ۔( لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ اٴَشَقُّ وَمَا لَهُمْ مِنْ اللهِ مِنْ وَاقٍ ) ۔

ترجمہ

۳۳ ۔کیاوہ کہ جو سب کے سروں پر موجود ہے ( اور سب کانگران اور نگہبان ہے )اور سب کے اعمال دیکھتا ہے ( اس کی مانند ہے کہ جو ان میں سے کوئی صفت نہیں رکھتا) ۔انہوں نے خدا کے لئے شریک قرار دیے ہیں ۔ کہہ دو: ان کے نام لو، کیا اسے ایسی چیز کی خبردیتے ہوئے کہ روئے زمین میں جس کے وجود سے وہ بے خبر ہے یاظاہری اور کھوکھلی باتیں کرتے ہو( نہیں خدا کا کوئی شریک نہیں ہے )بلکہ کافروں کے سامنے ان کے جھوٹ مزین کئے گئے ہیں ( اور اندرونی ناپاکی کی بناء پر ان کا خیال ہے کہ یہ حقیقت پر مبنی ہیں ) اور وہ( خداکی )راہ سے روک دیئے گئے ہیں اور جسے خدا گمراہ کردے اس کے لئے کوئی راہنما نہیں ہوگا ۔

۳۴ ۔ ان کے لئے دنیا میں ( دردناک ) عذاب ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت ہے اور خدا کے مقابلے میں کوئی ان کا دفاع نہیں کرسکتا۔

کس طرح خدا کو بتوں کا شریک بناتے ہو؟

ان آیات میں قرآن پھر توحید کی بحث کی جانب لوٹتا ہے اور ان لوگوں کو اس واضح دلیل سے خطاب کرتا ہے : کیا وہ کہ جو تمام عالم ہستی میں ہر چیز کا محافظ اور جس نے سب کو اپنی تدبیر کے زیر پردہ قرار دیا ہے اور تمام لوگوں کے اعمال سے باخبر ہے اس کی طرح ہے کہ جس میں ان صفات میں سے کوئی بھی نہیں( اٴَفَمَنْ هوقَائِمٌ عَلَی کُلِّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ ) ۔(۱)

در حقیقت مندرجہ بالا جملہ وضاحت سے کہتا ہے کہ خدا نے تمام چیزوں کا اس طرح سے احاطہ کر رکھا ہے کہ گویا وہ سب کے سروں پر کھڑا ہے ، جو کچھ انجام دیتا ہے وہ اسے دیکھتا ہے ، جانتا ہے ، اس کا حساب و کتاب رکھتا ہے ، اس کی جزا و سزا دیتا ہے اور تصرف و تدبیر کرتا ہے ۔ اس بناء پر لفظ” قائم “ایک وسیع رکھتا ہے کہ جس میں یہ تمام امور شامل ہیں اگر چہ بعض مفسرین نے ان میں ایک پہلو لے لیا ہے ۔

اس کے بعد گزشتہ بحث کی تکمیل اور آئندہ بحث کی تمہید کے طور پر فرمایا گیا ہے : انہوں نے خدا کے شریک قرار دئیے ہیں( وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَکَاءَ ) ۔

فوراً ہی انہیں چند طریقوں سے جواب دیا گیا :

پہلا یہ کہ :فرمایا : ان شریکوں کے نام لو( قُلْ سَمُّوهُم ) ۔

نام لینے سے یاتو یہ امر مراد ہے کہ ان کی وقعت اور قدر و قیمت اتنی بھی نہیں کہ ان کانام و نشان بھی ہو یعنی تم چند بے نام و نشان اور بے وقعت موجودات کا قادر و متعال پر ور دگار کے کس طرح ہم پلہ قرار دیتے ہو؟

یا مراد یہ ہے کہ ان کی صفات بیان کرو تاکہ ہم دیکھیں کہ کیا وہ عبودیت کے لائق ہیں ؟ اللہ کے بارے میں ہم کہتے ہیں وہ خالق ، راقز زندگی بخشنے والا، عالم ، قادراور بزرگ و بر تر ہے تو کیا تم یہ صفات بتوں کے لئے استعمال کرسکتے ہویا اس کے بر عکس اگر ان کا ذکر کرنا چاہیں تو ہمیں کہنا پڑے گا کہ ، پتھر، لکڑی کے بے حس و حرکت بت جو عقل و شعور سے عاری ہیں اور اپنے عبادت کرنے والوں کے محتاج ہیں ۔ مختصر یہ کہ ہر چیز سے عاری بت تو پھر ان دونوں کو کس طرح ایک جیسا قراردیا جاسکتا ہے ۔ کیا اب تک انہوں نے کسی کو کوئی نقصان پہنچا یا ہے یا کسی کو کوئی فائدہ پہنچا یا ہے، یا کسی کو مشکل حل کی ہے یا کسی کام میں مدد کی ہے ؟ تو ان حالات میں کونسی عقل اجازت دیتی ہے کہ انہیں خدا کا ہم پلہ قرار دیا جائے کہ جو تمام برکات و نعمات ، سودو زیان اور جزا و سزا کا مالک ہے ۔

البتہ کوئی مانع نہیں کہ یہ تمام معانی ”سموھم “ ( ان کے نام لو) جملے میں جمع ہوں ۔

دوسرا یہ کہ اس قسم کا کوئی شریک کیسے ہوسکتا ہے جب کہ وہ خداجو تمہارے خیال میں ان کا شریک ہے ان کے وجود کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں رکھتا ھب کہ اس کا علم تمام جہان پرمحیط ہے ۔” کیا اسے اس چیز کی خبر دیتے ہوجس کے وجود کو وہ زمین میں نہیں جانتا“( اٴَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِمَا لاَیَعْلَمُ فِی الْاٴَرْضِ ) ۔یہ تعبیر در حقیقت مد مقابل کے بے ہودہ اور فضول گفتگو ختم کرنے کے لئے بہترین راستہ ہے ۔ یہ ایسے ہے جیسے کوئی شخص آپ سے کہتا ہے کہ کل رات فلاں شخص تمہارے گھر میں مہمان تھا اور آپ ا سکے جواب میں کہتے ہیں کہ تم مجھے ایسے مہمان کی خبر دیتے ہو جس کی مجھے اطلاع نہیں ہے یعنی کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص میرامہمان ہو اور میں ا س سے بے خبر ہوں او رتم اس سے آگاہ ہو۔

تیسرا یہ کہ دراصل خود تم بھی دل میں ایسی چیز کا ایمان نہیں رکھتے ” صر ف ایک کھوکھلی ظاہری بات کا سہارا لئے ہوئے ہ وکہ جس میں کوئی حقیقی مفہوم موجود نہیں ہے “( اٴَمْ بِظَاهِرٍ مِنْ الْقَوْلِ ) ۔

اسی بناء پر یہ مشرکین جب زندگی کی کسی سخت گھائی میں جو ہر طرف سے بند ہو کر پھنس جاتے ہیں تو ” اللہ “ کی طرف رجوع کرتے ہیں کیونکہ وہ دلی طور پر جانتے ہیں کہ بتوں سے کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ خدا ان کی حالت سورہ عنکبوت کی آی ۶۵ میں بیان فرماتا ہے جب کہ وہ کسی کشتی میں سوار ہوتے ہیں اور سخت طوفان میں گھر جاتے ہیں تو صرف خدا کا رخ کرتے ہیں ۔

چوتھا یہ کہ مشرکین صحیح شعور نہیں رکھتے اور چونکہ ہوا و ہوس اورا ندھی تقلید میں گرفتار ہیں لہٰذا عقل مندانہ اور صحیح فیصلہ نہیں کرپاتے ۔ اسی بناء پر گرماہ ہی میں آن پڑے ہیں ۔ ” پیغمبر اور مومنین کے خلاف ان کی سازشوں کو اور ان کے جھوٹ ، تہمتوں اور بہتانوں کو ( ان کی اندرونی ناپاکی کی بناء پر)مزین کردیا گیا ہے “یہاں تک کہ انہوں نے ان بے وقعت او ربے نام و نشان موجودات کو خدا کا شریک جان لیا ہے( بل زُیِّنَ لِلَّذِینَ کَفَرُوا مَکْرُهُمْ وَصُدُّوا عَنْ السَّبِیلِ ) )اور جس شخص کو خدا قرار دے اس کی ہدایت کسی کے بس نہیں ہے( وَمَنْ یُضْلِلْ اللهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ) ۔

ہم نے بار ہا کہا ہے کہ یہ گمراہی جبری معنی میں نہیں ہے او رنہ یہ بغیر کسی شرطاور بنیاد کے من پسند کا مسئلہ ہے بلکہ خدا کی طرف سے گمراہی خود انسان کے غلط کاموں کے عکس العمل کے معنی میں ہے یہ اس کے اپنے اعمال کا ردّ عمل ہے کہ جو اسے گمراہیوں کی طرف کھینچ لے جاتا ہے ۔ چونکہ ایسے اعمال میں خدا نے یہ خاصیت پیدا کی ہے لہٰذا اس کی نسبت خدا کی طرف دی جاتی ہے ۔

زیر نظر آخری آیت میں دنیا و آخرت میں ان کی دردناک سزاؤں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ ان ن میں فطرتاً شکست و ناکامی، سیاہ روزی اور ذلت و رسوائی شامل ہیں ۔ فرمایا گیا ہے : ان کے لئے دنیا زندگی میں بھی سزا ہے اور آخرت کی سزا زیادہ سخت اور شدید تر ہے( لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ اٴَشَقُّ ) ۔ کیونکہ وہ سزا دائمی بھی ہے ، جسمانی اور روحانی بھی اور اس میں طرح طرح کا عذاب شامل ہے اور اگر وہ یہ گمان کریں کہ اس سے بچ نکلنے کے لئے ان کے پاس کوئی راستہ یا وسیلہ ہے تو وہ سخت غلط فہی میں مبتلا ہیں کیونکہ ” خدا کے مقابلے میں انہیں کوئی چیز نہیں بچا سکتی “( وَمَا لَهُمْ مِنْ اللهِ مِنْ وَاقٍ ) ۔

____________________

۱۔درحقیقت مندرجہ بالا جملہ مبتداء پر مشتمل ہے اور اس کی خبر محذوف ہے ، تقدیر میں اس طرح تھا :افمن هو قائم علی کل نفس بما کسبت کمن لیس کذٰلک یعنی کیا وہ کہ جو اس صفت ک احامل ہے اس جیسا کہ جو اس سے عاری ہے ۔


آیت ۳۵

۳۵ ۔( مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِی وُعِدَ الْمُتَّقُونَ تَجْرِی مِنْ تَحْتِهَا الْاٴَنْهَارُ اٴُکُلُهَا دَائِمٌ وَظِلُّهَا تِلْکَ عُقْبَی الَّذِینَ اتَّقَوا وَعُقْبَی الْکَافِرِینَ النَّارُ ) ۔

ترجمہ

۳۵ ۔وہ جنت کہ جس کا پرہیز گاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں ۔ اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کے سائے ہمیشہ کے لئے ہیں ۔ یہ انجام ان لوگوں کے لئے ہے جنہوں نے پر ہیز گاری اختیار کی ہے اور کافروں کا انجام آگ ہے ۔

تفسیر

اس سورہ کی آیات میں توحید ، قیامت اور دیگر اسلامی معار ف کا باری باری ذکرآیا ہے ۔ اس آیت میں میں معاد کے بارے میں خصوصاً جنت کی نعمتوں اور دوزخ کے عذاب کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے ۔

پہلے ارشاد ہوتا ہے : جنت کے وہ باغ کہ جن کا پرہیز گاروں سے وعدہ کیا گیا ہے ایسے ہیں کہ جن کے درختوں کے نیچے جاری پانی کی نہریں رواں دوان ہیں( مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِی وُعِدَ الْمُتَّقُونَ تَجْرِی مِنْ تَحْتِهَا الْاٴَنْهَارُ ) ۔

”مثل“ کی تعبیر شاید اس نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ آخرت کے گھر کے باغات اور دیگر نعمتوں کی اس محدود جہان میں رہنے والوں کے لئے کسی بیان سے تعریف نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ جہان بعد از موت کے جہان کے مقابلے میں نہایت چھوٹا ہے ۔ اس جہان کے لوگوں کے لئے وہاں کی چیزوں کو صرف ” مثل“ اور ارشاداتی گفتگو میں بیان کیا جاسکتا ہے ۔ جیسے ایک بچہ جو عالم جنین میں ہے اگر عقل و شعور رکھتا ہو تو ا س کے سامنے اس دنیا کی نعمتوں کی وضاحت ہر گز نہیں ہوسکتی ۔ صرف ناقص اور کم رنگ مثالیں پیش کی جاسکتی ہے ۔

باغات کی دوسری صفت یہ ہے کہ اس کے پھل دائمی ہیں( اٴُکُلُهَا دَائِمٌ ) ۔نہ کہ اس جہان کے پھلوں کی طرح جو موسمی ہیں اور ان میں سے ہر ایک کسی خاص موسم میں میں پیدا ہوتا ہے بلکہ کسی آفت کی وجہ سے ممکن ہے کسی سال بالکل نہ ہولیکن جنت کے پھلوں کو نہ کوئی آفت درپیش ہے او رنہ وہ کسی موسم کے محتاج ہیں بلکہ سچے مومنین کے ایمان کی طرح قائم و دائم ہیں ۔ اسی طرح ان درختوں کا سایہ بھی دائمی ہے( وَظِلُّهاَ ) ۔ان کے سائے دنیا کے درختوں کے سائے کی طرح نہیں ہیں کہ ہو سکتا دن کے وقت جب کہ صبح سورج ایک طرف سے چمکتا ہے ان کے سائے سطح باغ میں گہرے ہوں لیکن جب آفتاب عمودی شکل میں چمکتا ہے تو وہ کم ہو جاتے ہیں ۔ اسی طرح فصل ِ بہار میں گر میوں میں جب کہ درخت پتوں سے بھرے ہوتے ہیں ان کا سایہ ہوتا ہے مگر فصل خزاں میں سر دیوں میں جب درخت برہنہ ہوجاتے ہیں ان کا سابھی جاتا رہتا ہے ۔ ( البتہ دنیا میں کہیں کہیں سدا بہار درختوں کے نمونے بھی موجود ہیں کہ جو ہمیشہ پھل پھول دیتے رہتے ہیں ۔یہ درخت ایسے علاقوں میں ہوتے ہیں جہاں خزان کی خنکی اور فصلِ سرما نہیں ہوتی) ۔

خلاصہ یہ کہ جنت کے سائے اس کی تمام نعمتوں کی طرح جاودانی ہیں ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ باغات ِ بہشت کے لئے خزاں نہیں ہے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں نورِ آفتاب یا اس جیسی کوئی چیز ہے ورنہ جہاں شعاعِ نور نہ ہو وہاں سائے کا کوئی مفہوم نہیں ہے ۔ یہ جو سورہ دہر کی آیہ ۱۳ میں ہے :( لایرون فیها شمساً ولا زمهریراً )

وہاں شدت کی دھوپ دیکھیں گے اور نہ زیادہ سردی۔

ہوسکتا ہے یہ موسم کے اعتدال کی طرف اشارہ ہو کیونکہ سوزشِ آفتاب اور اسی طرح سخت سردی جنت میں نہیں ہے نہ یہ کہ وہاں سورج بالکل نہیں چمکتا۔

کرہ آفتاب کا خاموش ہوجانااس کے ہمیشہ کے لئے ختم ہوجانے کی دلیل نہیں ہے کیونکہ قرآن کہتا ہے :

قیامت میں زمین و آسمان دوسر ے ( نئے اور وسیع تر ) زمین و آسمان میں تبدیل ہو جائیں گے ۔

اور اگر کہا جائے کہ جہاں سورج کی تمازت اور تپش نہیں وہاں پھر سایہ کس لئے ہے ؟ تو ا س کے جواب میں ہم کہیں گے کہ سائے کا لطف صرف تمازت ِ آفتاب سے بچنے میں نہیں ہے بلکہ پتوں سے طبعی اور اوپر جانے والی رطوبت کہ جو نشاط بخش آکسیجن سے ملی ہوتی ہے سائے کو ایک خاص قسم کی لطافت اور تازگی بھی دیتی ہے ۔ اسی لئے درخت کا سایہ کرے کی چھت کے سائے کی طرح ہر گز خشک اور بے روح نہیں ہوتا۔

جنت کی یہ تین صفات بیان کرنے کے بعد، آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : یہ ہے پرہیز گاروں کا انجام ، لیکن کافروں کا انجام آگ ہے( تِلْکَ عُقْبَی الَّذِینَ اتَّقَوا وَعُقْبَی الْکَافِرِینَ النَّارُ ) ۔

جنت کی نعمتوں کا ذکر اس خوبصورت اور زیبا تعبیر کے ذریعے لطافت اور تفصیل کے ساتھ ہوا ہے لیکن دوزخیوں کے بارے میں ایک مختصر سا خشک اور سخت جملہ ہے کہ ان کا انجام کار جہنم ہے ۔


آیت ۳۶

۳۶ ۔( وَالَّذِینَ آتَیْنَاهُمْ الْکِتَابَ یَفْرَحُونَ بِمَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ وَمِنْ الْاٴَحْزَابِ مَنْ یُنکِرُ بَعْضَهُ قُلْ إِنَّمَا اٴُمِرْتُ اٴَنْ اٴَعْبُدَ اللهَ وَلاَاٴُشْرِکَ بِهِ إِلَیْهِ اٴَدْعُو وَإِلَیْهِ مَآبِ ) ۔

ترجمہ

۳۶ ۔ اور وہ کہ جنہیں ہم نے آسمانی کتاب دی ہے وہ اس پر خوش ہیں کہ جو تجھ پر نازل ہوا ہے اور بعض احزاب ( اور گروہ) اس کے ایک حصہ کا انکار کرتے ہیں ۔ کہہ دو: میں مامور ہوں کہ اللہ کی عبادت کروں اور ا سکے لئے شریک قرار نہ دوں ۔ میں اس کی طرف دعوت دیتا ہوں ( سب کی ) باز گشت اسی کی طرف ہے ۔

خدا پرست اور دیگر گروہ

اس آیت میں آیات قرآن کے نزول پر لوگوں کے مختلف ردّ عمل کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ اس میں بتا یا گیا ہے کہ حقیقت کے متلاشی اور حق جو افرد کس طرح جو کچھ پیغمبر پر نازل ہوتا تھا اس پر سر تسلیم خم کرتے تھے اور خوش ہوتے تھے جب کہ مخالف اورہٹ دھرم افراد اس کی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے تھے ۔

پہلے ارشاد ہوتا ہے :جنہیں ہم نے آسمانی کتاب دے رکھی ہے وہ اس پر خوش ہوتے ہیں جوکچھ تجھ پر نازل ہوتا ہے( و الذین اتیناهم الکتاب یفرحون بما انزل الیک ) ۔

اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ”اٰتیناهم الکتاب “ اور اس قسم کی تعبیر پورے قرآن میں عام طور پر یہود و نصاریٰ اور ان جیسے آسمانی مذاہب کے پیروکاروں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، تو ا س میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ یہاں بی انہی کی طرف اشارہ ہے ۔ یعنی یہود و نصاریٰ اور ان جیسے دوسرے جو یانِ حق تجھ پر ان آیات کے نزول پر مسرور ہوتے ہیں کیونکہ ایک طرف تو وہ انہیں ان نشانیوں سے ہم آہنگ پاتے ہیں جو ان کے پاس ہیں اور دوسری طرف یہ انکے لئے ان خرافات سے نیز یہود و نصاریٰ اور دیگر مذاہب کے ان عالم نما جاہلوں کے شر سے آزادی اور نجات کا سبب ہیں جنہوں نے انہیں قید و بند میں جکڑ رکھا ہے اور فکری آزادی اور تکامل و ارتقائے انسانی سے محروم رکھا ہے ۔

یہ جو بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ”( الذین اٰتینا هم الکتاب ) “سے مراد حضرت رسول اکرم کے اصحاب و انصار ہیں بہت بعید معلوم ہوتا ہے کیونکہ مسلمانوں کے لئے ایسی تعبیر کا استعمال معمول نہیں ہے ۔ علاوہ ازیں یہ با ت”( بما انزل الیک ) “ سے مطابقت نہیں رکھتی ۔(۱)

نیز جو کچھ کہا گیا سورہ رعد کا مکی ہونا اس کے منافی نہیں کیونکہ یہودیوں کا اصلی مرکز اگر چہ مدینہ اور خیبر تھے اور عیسائیوں کا اصلی مرکز نجران وغیرہ تھا پھر بھی اس میں شک نہیں کہ وہ مکہ آتے جاتے تھے اور مکہ میں ان کے افکار و نظر یات اور ثقافت کا تھوڑا بہت اثر تھا ۔ اسی بناء پر مکہ کے لوگ ان انشانیوں کے بنا ء پر کہ جو یہودی خداکے آخری پیغمبر کے بارے میں بیان کرتے تھے ان میں سے ایسے پیغمبر کے ظہور کے انتظار میں رہتے تھے ۔ ( اس سلسلے میں ورقہ بن نوفل اور اس قسم کے دیگر افراد کے واقعا مشہور ہیں ) ۔ قرآن مجید کی دیگر سورتوں میں بھی اس بات کے شواہد ہیں کہ اہل کتاب میں سے سچ مومنین پیغمبر اسلام پر آیات ِ قرآن کے نزول سے خوش تھے ۔ سورہ قصص کی آیہ ۵۲ میں ہے :

( الذین اتینا هم الکتاب من قبله هم به یؤمنون )

جنہیں ہم نے اس سے پہلے آسمانی کتاب دی تھی وہ اس قرآن پر ایمان رکھتے تھے ۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : لیکن احزاب میں سے ایک جماعت ہے کہ جس پر قومی و مذہبی تعصب اور ایسے دوسرے تعصبات کا غلبہ تھا ۔ اسی بناء پر قرآن انہیں ” اہل کتاب “ نہیں کہتا کیونکہ وہ اپنی آسمانی کتب کے سامنے بھی سر تسلیم خم نہیں کئے ہوئے ۔ بلکہ حقیقت میں وہ ” احزاب“ اور مختلف گروہ تھے کہ جو صرف اپنے اپنے گروہ کے راستے پر چلتے تھے ۔ یہ گروہ رہ اس چیز کاانکار کردیتے تھے کہ جو ان کے اپنے میلان ، طریقے او رپہلے سے کئے گئے فیصلوں سے ہم آہنگ نہ ہوتی۔

یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ” احزاب“ مشرکین کی طرف اشارہ ہو کیونکہ سورہ احزاب مین بھی ان کا اس لفظ کے ذریعے ذکر کیا گیا ہے ۔ اصل میں ان کا کوئی دین و مذہب نہ تھا بلکہ وہ بکھرے ہوئے گروہ اور احزاب تھے کہ جو قرآن اور اسلام کی مخالفت میں متحد تھے ۔

عظیم مفسر مر حوم طبرسی اور بعض دوسرے مفسرین نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ مندرجہ بالا آیت صفتِ رحمن کے ساتھ خدا وند عالم کی توصیف سے بت پرستوں کے انکار کی طرف اشار ہ ہے کہ جب اہل کتاب خصوصاً یہودی اس توصیف سے آشنائی کی بناء پر قرآنی آیات میں لفظ” رحمن “ کی موجودگی پرخوشی کا اظہار کرتے تھے اور مشرکین ِ مکہ کہ جو اس صفت سے نا آشنا تھے ، اس کا مذاق اڑاتے تھے ۔

آیت کے آخر میں پیغمبر اکرم کو حکم دیا گیا ہے کہ اس کی اور اس کی مخالفت او رہٹ دھرمی کی پر واہ نہ کروبلکہ اپنے حقیقی خط اور صراط مستقیم پر قائم رہو اور ” کہو: میں مامور ہوں کہ صرف اللہ کی پرستش کروں کہ جو یکتا و یگانہ خدا ہے اور اس کے لئے کسی شریک کا قائل نہ ہوں میں صرف اس کی طرف دعوت دیتا ہوں اور میری اور سب کی باز گشت اسی کی طرف ہے “( قل امرت ان اعبد الله ولا اشرک به الیه ادعوا و الیه ماٰب ) ۔

یہاں س طرف اشارہ ہے کہ سچے موحد اور حقیقی خدا پرست کا خدا کے فرامین کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے علاوہ کوئی راستہ اور پروگرام نہیں ہے وہ ان تمام امور کے لئے فرماں بردار ہے جو خدا کی طرف سے نازل ہوتے ہین اور ان کے بار ے میں کچھ ماننے اور کچھ نہ ماننے کا قائل نہیں ہوتا ۔ ایسا نہیں ہوتاکہ جس چیز کے بارے میں اس کی رغبت ہو اسے قبول کرلے اور جس کے بارے میں میلان نہ ہو اس کی مخالفت کرے اور انکار کردے ۔

ایک اہم نکتہ

ایمان اور اجتماعی وابستگیاں : زیر نظر آیت میں ہم نے دیکھا ہے کہ خدا کس طرح یہود و نصاریٰ میں سے سچے مومنین کو ” اہل کتاب “ سے تعبیر کرہاہے اور جو لوگ اپنے تعصبات اور ہوا و ہوس کے تابع تھے انہیں ” احزاب“ قرا ر دے رہا ہے ۔ امر صدر اسلام اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ہم عصر یہود و نصاریٰ میں منحصر نہیں بلکہ حقیقی مومنین اور ایمان کے دعویداروں میں ہمیشہ یہی فرق رہا ہے کہ سچے مومنین فرامین حق کے سامنے تسلیم محض ہوتے ہیں اور ان مین تفریق و تبعیض کے قائل نہیں ہوتے یعنی اپنی خواہش و رغبت کو ان کے تحت رکھتے ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے اہل کتاب اور اہل ایمان کا لقب سجتا ہے ۔

لیکن وہ کہ جو ” نؤمن ببعض ونکفر ببعض“ کا مصداق ہیں یعنی جو کچھ ان کی ذاتی سوچ ، رغبت اور ہوا ہوس سے ہم آہنگ ہے اسے قبول کر لیتے اور جو کچھ ایسا نہیں اس کا انکار کردیتے ہیں یا کچھ ان کے فائدے میں ہے اسے مان لیتے ہیں اور جو ان کے ذاتی مفادات کے خلاف ہے ا س کا انکار کردیتے ہیں وہ نہ حقیقی مسلمان ہیں اور نہ سچے مومن بلکہ وہ تو اجتماعی وابستگیاں رکھتے اور اپنے مقاصد دین میں تلاش کرتے ہیں اسی لئے تعلیمان ِ اسلام اور احکام دین میں ہمیشہ تبعیض کے قائل ہوتے ہیں ۔

_____________________

۱۔کیونکہ اس بات کا لازمہ یہ ہے کہ ”ما انزل الیک “ ”الکتاب “ ہی ہوکیونکہ اس صورت میں دونوں قرآن کی طرف اشارہ ہیں حالانکہ قرینہ مقابلہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ”الکتاب “ سے مراد اور ہے اور ”ماانزل الیک “ سے مراد کچھ اور ہے ۔


آیات ۳۷،۳۸،۳۹،۴۰

۳۷ ۔( وَکَذَلِکَ اٴَنزَلْنَاهُ حُکْمًا عَرَبِیًّا وَلَئِنْ اتَّبَعْتَ اٴَهْوَائَهُمْ بَعْدَمَا جَائَکَ مِنْ الْعِلْمِ مَا لَکَ مِنْ اللهِ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَوَاقٍ ) ۔

۳۸ ۔( وَلَقَدْ اٴَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ اٴَزْوَاجًا وَذُرِّیَّةً وَمَا کَانَ لِرَسُولٍ اٴَنْ یَأتیَ بِآیَةٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللهِ لِکُلِّ اٴَجَلٍ کِتَابٌ ) ۔

۳۹( یَمْحُوا اللهُ مَا یَشَاءُ وَیُثْبِتُ وَعِنْدَهُ اٴُمُّ الْکِتَابِ ) ۔

۴۰ ۔( وَإِنْ مَا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِی نَعِدُهُمْ اٴَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَإِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلَاغُ وَعَلَیْنَا الْحِسَابُ ) ۔

ترجمہ

۳۷ ۔ جس طرح (کہ ہم نے گزشتہ انبیاء کو آسمانی کتاب دی ہے ) تجھ پر بھی واضح اور صریح فرمان نازل کیا ہے اور تیرے پاس آگاہی آجائے کہ بعد اگران کی خواہشات کی پیروی کرے تو خدا کے سامنے کوئی تیری حمایت کرنے والا اور بچا نے والا نہیں ہوگا ۔

۳۸ ۔ اور ہم نے تجھ سے پہلے رسول بھیجے ہیں اور ان کی بیوبیاں اور اولاد بھی تھی اور کوئی رسول حکم خدا کے بغیر(اپنی طرف سے )کوئی معجزہ نہیں لاسکتا تھا، ہر زمانہ ایک کتاب رکھتا ہے (او رہر کام کے لئے وقت مقرر ہے ) ۔

۳۹ ۔ خدا جسے چاہتا ہے محو کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ثبات عطا کرتا ہے اور ام الکتاب اس کے پاس ہے ۔

۴۰ ۔ اور وہ بعض سزائیں کہ جن کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے تجھے دکھائیں یا ( ان سزاؤں کے آنے سے پہلے ) ہم تجھے ماردیں تو ہرحالت میں تو فقط ابلاغ پر مامور ہے اور (ان کا )حساب ہمارے ذمہ ہے ۔

قطعی اور قابل ِ تغیر حوادث

ان آیا ت میں بھی نبوت سے مربوط مسائل کا سلسلہ جاری ہے ۔

پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے : جیسے ہم نے اہل کتاب اور گزشتہ انبیاء پر آسمانی کتاب نازل کی ویسے ہی یہ قرآن بھی تم پر نازل کیا ہے اس حالت میں کہ یہ واضح و آشکار احکام پر مشتمل ہے( وَکَذَلِکَ اٴَنزَلْنَاهُ حُکْمًا عَرَبِیًّا ) ۔

جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے ” عربی “ فصیح اور واضح گفتگو کے معنی میں ہے :

الفصیح البین من الکلام

لہٰذا جس وقت کہا جاتا ہے :”امراٴة روبة “تو اس کامفہوم ہے :” جو عورت اپنی عفت و پاکدامنی سے آگاہ ہو“۔

اس کے بعد راغب مزید کہتا ہے :قوله حکماًعربیاً قیل معناه مفصحاً یحق الهق ویبطل الباطل

یہ جو خدا نے فرمایا ہے ” حکماً عربیاً“ اس کا مفہوم ہے ایسی واضح اور آشکار گفتگو جو حق کو ثابت کرتی ہے اور باطل کا بطلان کرتی ہے ۔

یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ”عربی“ یہاں ”شریف “ کے معنی میں ہے کیونکہ لغت میں یہ لفظ اس معنی میں بھی آیاہے ۔ اس طرح اس صفت سے قرآن کی توصیف مراد یہ ہے کہ ا س کے احکام واضح و آشکار ہیں اور اسے غلط فائدہ اٹھا نے اور مختلف تعبیروں کی گنجائش نہیں ہے ۔ اسی لئے اس تعبیر کے بعد دیگر آیات میں استقامت ، ٹیڑھا پن نہ ہونے اور ی اعلم و آگہی کا ذکر کیا گیا ہے ۔ سورہ زمر کی آیت ۲۸ میں ہے :( قراٰنا عربیاً غیر ذی عوج )

یہ آشکار قرآن ہے کہ جو ہر قسم کی کجی اور ٹیڑھ پن سے پاک ہے ۔

سورہ حمٓ سجدہ کی آیہ ۳ میں ہے :( کتاب فصلت اٰیاته قراٰناً عربیاً لقوم یعلمون )

یہ وہ کتاب ہے کہ جس کی آیات تشریح شدہ ہیں اور یہ ان کے لئے واضح و آشکار قرآن ہے کہ جو جانناچاہے ۔

اس طرح اس آیت میں قبل اور بعد کا جملہ تائید کرتا ہے کہ ” عربیت“ سے مراد بیان کا واضح ، روشن اور پیچ و خم سے خالی ہونا چاہے۔

یہ تعبیر قرآن کی سات سورتوں میں آئی ہے لیکن چند ایک مواقع پر ” لسان عربی مبین“ اور اس قسم کے دیگر الفاظ بھی آئے ہیں ۔ ممکن ہے وہ بھی اسی معنی یعنی بیان کا روشن ، واضح اور ابہام سے خالی ہونا، میں ہو۔

البتہ اس خاص موقع پر ہوسکتا ہے عربی زبان کی طرف اشارہ ہو کیونکہ خدا ہر نبی کو اس کی اپنی قوم کی زبان میں مبعوث کرتا تھا تاکہ وہ سب سے پہلے اپنی قوم کو ہدایت کرے ا س کے بعد اس انقلاب کا دامن دوسری جگہوں تک پھیلائے ۔

اس کے بعدتہدید آمیز اور قاطع لہجے میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے :جب تک حقیقت تجھ پر آشکار ہوجائے تو اس کے بعد اگر تو ان کی خواہشات کی پیروی کرے تو تمہیں خدائی عذاب کے ذریعے سزا ہو گی( وَلَئِنْ اتَّبَعْتَ اٴَهْوَائَهُمْ بَعْدَمَا جَائَکَ مِنْ الْعِلْمِ مَا لَکَ مِنْ اللهِ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَوَاقٍ ) ۔

پیغمبر اکرم کے مقام عصمت ، معرفت اور علم و آگہی کی وجہ سے اگر چہ ان کے لئے انحراف کااحتمال یقینا نہیں ہے لیکن یہ الفاظ اولاً تو واضح کرتے ہیں کہ خدا کسی شخص کے ساتھ خصوصی ارتباط نہیں رکھتا بالفاظ دیگر اس کی کسی سے کوئی رشتہ داری نہیں ہے یہاں تک کہ اگر پیغمبر کا مقام بلند و بالا ہے تو ان کی تسلیم و عبودیت اور ایمان و استقامت کی بناء پر ہے ۔

ثانیاًیہ بات دوسروں کے لئے تاکید ہے کہ جہاں پیغمبر جیسی ہستی راہِ حق سے انحراف اور باطل راستے کی طرف میلان کی صورت میں خدائی سز اسے بچ نہیں سکتی تو پر دوسروں کی حیثیت واضح ہے ۔

یہ بعینہ اس طرح ہے کہ کوئی شخص اپنے اچھے اور نیک بیٹے کو مخاطب کرکے کہے ، اگر تو اپنا ہاتھ غلط کاریوں سے آلودہ کرے تو میں تجھے سزادوں گا تاکہ دوسروں کو اپنا حساب کتاب معلوم ہو جائے ۔

یہ نکتہ بھی یاد ررکھنے کے قابل ہے کہ ” ولی “ سر پرستو محافظ) اور ” واق“ ( نگہدار) اگر چہ معنی کے لحاظ سے ایک دوسرے کے مشابہ ہیں تاہم ان میں فرق یہ ہے کہ ایک مثبت پہلو کو بیان کرتا ہے اور دوسرا منفی پہلو کو ۔ ایک نصرت و مدد کرنے والے کے معنی میں ہے اور دوسرا دفاع اور حفاظت کرنے والے کے معنی میں ۔

بعد والی آیت در حقیقت ان مختلف اعتراضات ک اجواب ہے کہ جو دشمن آپ کر کرتے تھے ۔ ان میں سے ایک گروہ کہتا تھا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ پیغمبر نوعِ بشر میں سے ہو اور اس کی بیوی اور بچے ہوں تو مندرجہ بالا آیت انہیں جواب دیتے ہوئے کہتی ہے : یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہم نے تجھ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے ہیں ۔ ان کی بیویاں بھی تھیں اور اولاد بھی( وَلَقَدْ اٴَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ اٴَزْوَاجًا وَذُرِّیَّةً ) ۔(۱)

ان کے اعتراض سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تو تاریخ ِ انبیاء سے نا واقف تھے یا اپنے آپ کو نادانی او رجہالت میں رکھے ہوئے تھے ورنہ یہ اعتراض نہ کرتے ۔

دوسرا یہ کہ انہیں توقع تھی کہ وہ جو معجزہ بھی تجویز کریں اور جوبھی ان کی خواہشات کا تقاضا ہو آپ اسے انجام دیں ( چاہے وہ ایمان لائیں یا نہ لائیں ) لیکن انہیں جاننا چاہیئے کہ ” کوئی رسول حکم ِ خدا کے بغیر کوئی معجزہ پیش نہیں کرسکتا “( وَمَا کَانَ لِرَسُولٍ اٴَنْ یَأتیَ بِآیَةٍ إِلاَّ بِإِذْنِ الله ِ ) ۔

تیسرا اعتراض یہ کیا جاتا تھا کہ پیغمبر اسلام کیوں آئے ہیں اور انہوں نے تورات یا انجیل کے احکام کو کیوں تبدیل کردیا ہے ، کیا یہ آسمانی کتاب نہیں ہیں اور خدا کی طرف سے نازل نہیں ہوئیں ؟ کیا یہ ممکن ہے کہ خدا اپنا حکم تبدیل کردے ؟ ( یہ اعتراض خصوصاًاس امر سے پوری طرح ہم آہنگ ہے کہ یہودی نسخِ احکام کے ناممکن ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے ) ۔

زیر نظر آیت اپنے آخری جملے میں انہیں جواب دیتی ہے :ہر زمانے کے لئے ایک حکم اور قانون مقرر ہوا ہے ( تاکہ بشریت اپنے آخری بلوغ تک پہنچ جائے اور آخری حکم صادر ہو)( لِکُلِّ اٴَجَلٍ کِتَابٌ ) ۔

لہٰذا مقام تعجب نہیں کہ ایک دن وہ تورات نازل کرے ، دوسرے دن انجیل نازل کرے اور پھر قرآن ۔ کیونکہ تکامل ِ حیات کے لئے مختلف اور گونا گون پو گراموں کی ضرورت ہے ۔

یہ احتمال بھی ہے کہ ”لکل اجل کتاب “ ان لوگوں ک اجواب ہو جو کہتے ہیں کہ اگر پیغمبر سچ کہتا ہے تو پھر کیوں خدائی عذاب اس کے مخالف کا قلع قمع نہیں کرتا۔ قرآن انہیں جواب دیتا ہے کہ ہر چیز کا ایک وقت ہے اورکوئی چیز حساب و کتاب کے بغیر نہیں ہے ۔ سزا اور عذاب کا وقت بھی آپہنچے گا۔(۲)

جو کچھ گزشتہ آیت کے آخر میں کہا گیا ہے بعد والی آیت اس کے لئے تاکید و استدلال کی حیثیت رکھتی ہے اور وہ یہ کہ ہر حادثے اور حکم کے لئے ایک معین زمانہ ہے جیسا کہ کہا گیا ہے :ان الامور مرهونة باوقاتها

اور اگر دیکھتے ہو کہ بعض آسمانی کتب دیگر کتب کی جگہ لیتی ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ” خدا جو چیز چاہتا ہے محو کردیتا ہے جیسے وہ اپنے ارادے اور حکمت کے تقاضے سے کچھ امر کا اثبات کرتا ہے نیز کتابِ اصلی اور ام الکتاب اس کے پاس ہے( یَمْحُوا اللهُ مَا یَشَاءُ وَیُثْبِتُ وَعِنْدَهُ اٴُمُّ الْکِتَابِ ) ۔آخر میں مزید تاکید کے طور پر ان عذابوں کاذکر ہے کہ پیغمبر جن کا وعدہ کرتے تھے اور وہ ان کا انتظار کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ اعتراض کرتے تھے کہ تمہارے وعدے نے عملی شکل کیوں اختیار نہیں کی ۔ ارشاد ہوتا ہے : اور بعض امور کہ جن کا ہم نے وعدہ کررکھا ہے ( یعنی تیری کامیابی ، ان کی شکست، تیرے پیروکاروں کی رہائی اور ان کے پیرو کاروں کی اسارت) ہم تجھے تیری زندگی میں دکھائیں یا ان وعدوں پر عمل در آمد سے پہلے تجھے اس دنیا سے لے جائیں تیری ذمہ داری بہر صورت پر عمل در آمد سے پہلے تجھے اس دنیا سے لے جائیں تیری ذمہ داری بہر صورت ابلاغ رسالت ہے اور ہماری ذمہ داری ان سے حساب لینا ہے( وَإِنْ مَا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِی نَعِدُهُمْ اٴَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَإِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلَاغُ وَعَلَیْنَا الْحِسَابُ ) ۔

____________________

۱۔ بعض مفسرین نے اس آیت کے لئے ایک شان نزول ذکر کی ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کا جواب ہے جنہوں نے پیغمبر اکرم کی ایک سے زیادہ ازواج ہونے پر اعتراض کیا تھا حالانکہ سورہ رعد مکی ہے اور مکہ میں تعداد ازواج کا معاملہ در پیش نہیں تھا ۔

۲۔ البتہ اس معنی کے مطابق ، جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ مندرجہ بالا جملے میں تقدیم و تاخیر کا قائل ہو نا پڑے گا اور یہ کہنا پرے گا کہ تقدیر میں ”لکل کتاب اجل “ تھا ( غور کیجئے گا) ۔


دو اہم نکات

۱ ۔لوح محو و اثبات اور ام الکتاب :

( یمحو الله مایشاء ویثبت ) “ مندرجہ بالا آیات میں اگرچہ انبیاء پر نزول معجزات یا آسمانی کتب کے نازل ہونے کے بارے میں آیا ہے لیکن اس میں ایک عمومی قانون بیان کیا گیا ہے کہ جس کی طرف مختلف منابع ِ اسلامی میں بھی اشارہ ہواہے اور وہ یہ کہ تحقق موجو دات اور عالم کے مختلف حوادث کے دو مرحلے ہیں ۔ ایک مرحلہ قطعیت ہے کہ جس میں کسی قسم کا کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا (مذکورہ بالاآیت میں ”ام الکتاب “ اسی کی طرف اشارہ ہے ) ۔ دوسرا مرحلہ غیر قطعی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ مشروط ہے کہ اس مرحلے میں تبدیلی ممکن ہے لہٰذا اسے مرحلہ محوو اثبات کہتے ہیں ۔

کبھی انہیں ” لوح محفوظ “ اور ”لوح محو و اثبات“ بھی کہا جاتا ہے ۔ گویا ان میں سے ایک لوح میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اور وہ بالکل محفوظہے لیکن دوسری میں ممکن ہے کوئی چیز لکھی جائے اور پھر محو ہو جائے اور اس کی جگہ دوسری چیز لکھی جائے ۔

حقیقت ِ امر یہ ہے کہ کبھی ایک حادثہ پر ہم ا س کے ناقص اسباب کے ساتھ نظر ڈالتے ہیں ۔ مثلاً زہر قاتل کی طبیعت کا تقاضا ہے کہ انسان کو ختم کردے ، اسے نظر میں رکھتے ہوئے ہم کہتے ہیں کہ جو شخص اسے کھائے گامر جائے گا مگر اس سے بے خبر ہوتے ہیں کہ اس زہر کے لئے ایک ” ضد زہر “ بھی ہے اگر اس کے بعد اسے کھا لیا تو اس کے اثرات ختم ہو جائیں گے ( البتہ ممکن ہے ہم بے خبر تو نہ ہوں لیکن اس ” ضد زہر“ کے بارے میں با ت کرنا مناسب نہ سمجھیں ) ۔

اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ حادثہ زہر کھانے سے موت، قطعی پہلو نہیں رکھتا یعنی اس مقام پر ” لوح ِ محو و اثبات “ ہے کہ جس میں دوسرے حوادث پرنظررکھتے ہوئے تغیر ممکن ہے لیکن اگر حاثے کو ا س کی علت ِ تامہ یعنی مقتضیٰ کے وجود ، تمام شرائط کی موجود گی او ر تمام موانع کے خاتمے کے ساتھ نظر میں رکھیں (مندرجہ بالا مثال میں زہر کھانے اور ”ضد زہر “ نہ کھانے کے ساتھ نظر میں رکھیں ) تو پھر یہاں حادثہ قطعی ہے اور اصطلاح کے مطابق اس کی جگہ لوح محفوظ اور ام الکتاب میں ہے اور اس میں کوئی تغیر نہیں ہوتا ۔

یہ بات ایک اور طرح سے بیان کی جاسکتی ہے اور وہ یہ کہ خدا کے علم کے دو مرحلے ہیں ۔ ” مقتضیات اور علل ِ ناقصہ کا علم “ اور ”علل تامہ کا علم “ جو دوسرے مرحلے سے مربوط ہے اسے علم الکتاب اور لوح محفوظ کہا جا تا ہے او رجو پہلے مرحلے سے مر بوط ہے اسے لوح محو و اثبات سے تعبیر کرتے ہیں ورنہ آسمان کے کسی گوشے میں کوئی لوح اور تختی نہیں رکھی ہوئی کہ جس پر کوئی چیز لکھی جاتی ہو یا مٹا کر اس پر دوسری چیز لکھی جاتی ہو۔

یہاں سے منابع اسلامی کے مطالعہ سے سامنے آنے والے بہت سے سوالات کا جواب دیا جاسکتا ہے کیونکہ کبھی کبھی روایات یا بعض قرآنی آیات میں ہم پڑھتے ہیں کہ فلاں کام فلاں نتیجے کا سبب بنتا ہے لیکن ہم بعض اوقات اس میں ایسا نتیجہ نہیں دیکھے۔ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ اس نتیجہ کا حصول بعض شرائط یا موانع کا حامل ہوتا ہے کہ جو شرط پوری نہ ہونے یا رکاوٹ دور نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہو پاتا۔

نیز بہت سی روایات کہ جو لوحِ محفوظ ، لوح محو و اثبات او رانبیاء و آئمہ علیہم السلام کے علم کے بارے میں ہیں ان کا مفہوم اس بحث سے واضح ہو جاتا ہے ۔ ان میں سے چند روایات ہم بطور نمونہ پیش کرتے ہیں :

۱) امیر المومنین علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے مندر جہ بالا آیت کے بارے میں رسول اللہ سے سوال کیا تو حضور نے فرمایا :

لا قرن عینیک بتفسیر ها ولاقرن عین امتی بعدی بتفسیر ها، الصدقة علی وجهها وبر الوالدین و اصطناع المعروف یحول الشقاء سعادة، ویزید فی العمر، وقی مصادع السوء ۔

اس آیت کی تفسیر میں تیری آنکھوں کو روشن کرونگا اور اسی طرح اپنے بعد اپنی امت کی آنکھوں کو ضرورت مندوں کی صحیح طریقے سے مدد کرنا ۔ماں باپ سے نیکی کرنا اور اچھے کام انجام دینا شقاوقت کو سعادت میں دیتا بدل ہے ،زدگی کو طولانی کردیتا ہے اور خطرات سے بچا تا ہے ۔ ( المیزان جلد ۱۱ ص ۴۱۹) ۔

یہ اس طرف اشارہ ہے کہ سعادت و شقاوت کو حتمی اورناقابل تغیر امر نہیں ۔ یہاں تک کہ اگر انسان نے ایسے اعمال انجام دیئے ہوں کہ جن کی وجہ سے بدبختیوں کی صف میں شامل ہو تو وہ اپنی جگہ تبدیل کرکے اورنیکیوں کا رخ کرکے خصوصاًمخلوق خدا کی مدد اور خدمت کرکے اپنی سر نوشت کوبدل سکتا ہے کیونکہ ان امورکامقام لوحِ محو و اثبات ہے نہ کہام الکتاب ۔توجہ رہے کہ جوکچھ مندرجہ حدیث میں آیا ہے وہ مفہوم آیت کا ایک حصہ ہے کہ ایک مثال کے طور پر بیان ہوا ہے ۔

۲) امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:

من الامور محتومة کائنة لامهالة، ومن الامور امور موقوفة عند الله ، یقدم فیها مایشاء و یمحو مایشاء ویثبت منها مایشاء

کچھ امور حوادث حتمی ہیں کہ جو یقینارونما ہوتے ہیں اور بعض خدا کے ہاں کچھ شرائط کے ساتھ مشروط ہوتے ہیں وہ جس میں مصلحت دیکھتاہے اسے مقدم کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ثبت کردیتا ہے ۔ ( المیزان جلد ۱۱ ص ۴۱۹) ۔

نیز مرقوم ہے کہ امام علی بن الحسین زین العابدین علیہ السلام فرماکرتے تھے :

الولایة فی کتاب الله لحدثتکم بما کان مایکون الیٰ یوم القیامة ، فقلت له اٰیة فقال قال الله: یمحوا الله مایشاء و عنده ام الکتاب

اگر قرآن میں ایک حدیث نہ ہوتی تو میں گزشتہ اور آئندہ قیامت تک حوادث کی تمہیں خبر دیتا۔

راوی حدیث کہتا ہے : میں نے عرض کیا کہ کونسی آیت ہے تو فرمایا:

خدا فرماتا ہے :( یمحو ا الله مایشاء و یثبت و عند ه ام الکتاب ) ( نور الثقلین ،جلد ۲ ص ۵۱۲) ۔

یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ مختلف حوادث کے متعلق دین کے عظیم راہبروں کے کم از کم کچھ علوم لوح محو و اثبات سے مربوط ہیں اور لوح محفوظ اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ اسے مخصوص ہے اوروہ اس کے کچھ حصے کی کہ جو میں مصلحت سمجھتا ہے اپنے خاص بندون کو تعلیم دے دیتا ہے ۔

و ان کنت من الاشقیاء فامحنی من الاشقایء و اکتبنی من السعدائ

اگر شقاوت مندوں میں سے ہوں تو ان میں سے خذف کرکے مجھے سعادت مندوں میں لکھ دے ( یعنی مجھے اس کام کی توفیق دے) ۔

بہرحال جیسا کہ کہا جاچکا ہے محو و اثبات کا ایک جامع مفہوم ہے ۔ شرائط کی تبدیلی اور موانع کی موجود گی کے زیر اثر اس میں ہر قسم کی تبدیلی شامل ہے اور یہ جوبعض مفسرین نے کسی خاص مصداق کی نشاندہی کی ہے مثلاً انہوں نے کہا ہے کہ یہ تو بہ کے زیر اثر گناہوں کے محو ہونے یاحالات بدلنے سے روزی کم یازیادہ ہونے یا اس قسم کے امور کی طرف اشارہ ہے ان میں سے ہربات اسی صورت میں صحیح ہوسکتی ہے جب مراد ایک مصداق بیان کرنا ہو۔

۲ ۔ بداء کیا ہے ؟ شیعہ اور سنی میں جو ایک پیچیدہ بحث پیدا ہو گئی ہے وہ مسئلہ”بداء“ کے بارے میں ہے ۔

فخر رازی اپنی تفسیروں میں زیر بحث آیت کے ذیل میں کہتا ہے :۔

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ خدا کے لئے ”بدا“ جائز ہے اور ان کے نزدیک بدا کی حقیقت یہ ہے کہ ایک شخص ایک چیز کا معتقد ہو پرپھر ظاہرہو جائے کہ حقیقت اس کے اعتقاد کے برخلاف ہے اور یہ بات ثابت کرنے کے لئے انہوں نے ”یمحوا اللہ مایشاء و یثبت“ کی آیت کا سہارا لیا ہے ۔

فخر رازی مزید کہتا ہے :

یہ عقیدہ باطل ہے کیونکہ علم ِ خدا اس کی ذات کے لوازم میں سے ہے اور جو ایسا ہو اس میں تغیر و تبدل محال ہے۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسئلہ بداکے بارے میں شیعہ عقیدہ سے عدم آگاہی اور لاعلمی کے سبب بہت سے اہل سنت بھائیوں نے شیعوں کی طرف ایسی ناروا نسبتیں دی ہیں ۔ اس کی وضاحت یہ ہے :

لغت میں لفظ ”بداء“ آشکار ہونے اور پوری طرح واضح ہونے کے معنی میں ہے نیز یہ لفظ پشیمانی کے معنی میں بھی آیا ہے کیونکہ جو شخص پشیمان ہوتا ہے یقینااسے کوئی نئی چیز پیش آتی ہے ۔

اس میں شک نہیں کہ اس معنی ٰ کے لحاظ سے خدا کے بارے میں بداء کاکوئی مفہوم نہیں اور ممکن نہیں ۔ اور کسی عقلمند اور دانا کے لئے ممکن نہیں کہ اسے یہ احتمال ہوکہ کوئی مطلب خدا سے پوشیدہ ہوتا ہے اور پھر وقت گزرنے سے اس پر آشکار ہوجاتا ہے ۔اصولی طور پر یہ بات صریح کفر ہے اورکھٹکنے والی ہے ۔ اس بات کا لازمی مطلب یہ ہے کہ خدا کی ذات ِ پاک کی طرف جہالت کی نسبت دی جائے اور اس کی ذات کومحل تغیر اور محل حوادث سمجھا جائے حاشاوکل شیعہ امامیہ ذات پروردگار اور خدائے لایزال کے بارے میں ایسا احتمال ہر گز نہیں رکھتے ۔

جس میں شیعہ کا بداء کا عقیدہ رکھتے ہیں اور اس پر اصرار کرتے ہیں او رجس کے مطابق روایاتِ اہل بیت میں آیاہے کہماعرف الله حق معرفته من لم یعرفه بالبداء

وہ یہ کہ اکثر ایسا ہوا ہے کہ ہم علل و اسباب کے ظواہر کے مطابق محسوس کرتے ہیں کہ ایک واقعہ و قوع پذیر ہو گا یا کسی پیغمبر کو ایسا واقعہ پیش آنے کی خبر دی گئی حالانکہ ہم بعد میں دیکھتے ہیں ایسا واقع نہیں ہوا تو اس موقع پر ہم کہتے ہیں کہ ” بداء“ واقع ہوا ہے یعنی جس امر کو ہم واقع شدہ سمجھتے تھے اور اس کے رونما ہونے کو یقینی جانتے تھے اس کے خلاف ظاہر ہوا۔

اس بات کی بنیاد اور اصلی علم وہی ہے جو گزشتہ بحث میں بیان ہوچکی ہے اور وہ یہ کہ بعض اوقات ہماری آگاہی کا تعلق صرف علل ناقصہ سے ہوتا ہے اور ہم شرائط و موانع نہیں دیکھ پاتے اور ہم اس کے مطابق فیصلہ کردیتے ہیں اور اس کے بعد جب شرط کے فقدان یا مانع کے وجود سے سامنا کرنا پڑتا ہے اور جس کی ہم توقع کررہے ہوتے ہیں اس کے خلاف واقع ہو جاتا ہے تو ہم ان کے مسائل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔

اسی طرح کبھی امام پیغمبر یا امام لوح پیغمبر یا امام لوح محوو اثبات سے آگاہی حاصل کرلیتے ہیں جب کہ یہ طبعا ً قابل تغیر ہے اور پھر موانع پیش آنے اور شرائط مفقود ہونے کی بناء پر اس طرح رونما نہیں ہوتا۔

اس حقیقت کو واضح کرنے کے لئے ” نسخ “اور ”بداء“ کا آپس میں موازنہ کرنا چاہیئے ۔ ہم جانتے ہیں کہ تمامسلمانوں کے نزدیک نسخ احکام جائز ہے ۔ یعنی ممکن ہے ایک حکم شریعت میں نازل ہو اور لوگ سمجھیں کہ یہ ابدی حکم ہے لیکن پھر وہ ذات ِپیغمبر کے ذریعے منسوخ قرار پاجائے اور اس کی جگہ دوسرا آجائے (جیسے ہم نے تفسیر ، فقہ اور حدیث میں قبلہ کی تبدیلی کے بارے میں پڑھا ہے ) ۔

یہ درحقیقت ”بداء“ کی ایک قسم ہے لیکن عام طور پر امور تشریعی اور احکام و قوانین میں اسے نسخ کہتے ہیں اور مور تکوینی میں بداء ایک قسم کا نسخ ہے ۔ کیا کوئی شخص ایسے منطقی امر کا انکار کرسکتا ہے سوائے ایسے شخص کے جو علت ِتامہ اور علت ناقصہ کے درمیان فرق نہ کر سکے یا یہ کہ وہ شیعیانِ اہل بیت کے خلاف ہونے والے منحوس پراپیکنڈا کا شکار ہو جائے اور اس کا تعصب اسے اجازت نہ دے کہ شیعہ عقائد کا مطالعہ خود ان کی کتب سے کرے ۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ فخر الدین رازی نے ”یمحو اللہ مایشاء اللہ و یثبت “ کے ذیل میں بداء کے بارے میں شیعوں کے عقیدے کی با ت تو کی لیکن اس نے اس مسئلے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی کہ بداء اسی ”محو و اثبات“ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔ اس نے تواپنے مخصوص تعصب کی بناء پر شیعوں پر کڑی نکتہ چینی کی ہے کہ وہ بداے کے قائل کیوں نہیں ۔

اجازت دیجئے کہ مسئلہ بداء کے کے بار ے میں چند ایسے نمونے پیش کئے جائیں کہ جنہیں سب کے قبول کیا ہے ۔

۱) حضرت یونس علیہ السلام کے واقعہ میں ہم نے پڑھا ہے کہ ان کی قوم کی نافرمانی سبب بنی کہ عذاب الہٰی ان کی طرف آئے اور اس عظیم پیغمبر نے بھی چونکہ انہیں قابل ہدایت نہ سمجھا اور انہیں مستحق ِعذاب جانا تو انہیں چھوڑ کر چلے گئے لیکن اچانک ”بداء واقع ہوا“ اس قوم کے ایک عالم نے جب آثار ِ عذاب دیکھے تو انہیں جمع کیا اور توبہ کی دعوت دی ۔ سب نے بات مان لی اور وہ عذاب کہ جس کی نشانیاں ظاہر ہو چکی تھیں ٹل گیا۔

( فلولا کانت قریة اٰمنت فنعها ایمانها الاقوم یونس لمّا اٰمنوا کشفنا عنهم عذاب الخزی فی الحیٰوة الدنیا و متعناهم الیٰ حین ) ۔ (یونس۔ ۹۸) ۔

۲) اسلامی تواریخ میں ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے ایک دلہن کے بارے میں خبر دی کہ وہ اسی شب زفاف مرجائے گی لیکن وہ آپ کی پیش گوئی کے بر خلاف زندہ رہی جب آپ سے ماجرا پوچھا گیا تو فرمایا :

کیا تم نے اس سلسلہ میں کوئی صدقہ دیا ہے ۔

انہوں نے کہا :

جی ہاں

تو آپ نے فرمایا :

صدقہ حتمی بلاؤں کو دور کردیتاہے ۔(۱)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے در حقیقت لوحِ محو و اثبات سے ارتباط کی وجہ سے ایسے واقعہ کے رونما ہونے کی خبر دی تھی حالانکہ یہ واقعہ مشروط تھا ( شرط یہ تھی کہ اس میں صدقہ کی طرح کو ئی مانع پیدا نہ ہو گیا ہو تو نتیجہ کوئی اور نکل آیا۔

۳) بہادربت شکن ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں قرآن میں ہے کہ وہ اسماعیل کو ذبح کرنے پر مامور ہوئے اور اس ماموریت کے بعد بیٹے کو قربان گاہ میں لے گئے لیکن جب انہوں نے ثابت کردیاکہ میں پوری طرح آمادہ ہو تو بداء واقع ہو گیا اور واضح ہو گیا کہ یہ ایک امتحان تھا اس عظیم پیغمبر اور انکے فرزند ارجمند کی اطاعت و تسلیم کو آزمایا جائے ۔

۴) حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں ہے کہ پہلے وہ مامور ہوئے کہ اپنی قوم سے تیس دن تک علیحدہ رہیں اور احکام تورات حاصل کرنے کے لئے خدائی وعدہ گاہ کی طرف جائیں لیکن پھر ( بنی اسرائیل کی آزمائش کے لئے ) اس مدت کو دس دن بڑھا دیا گیا۔

یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ بداء کے ایسے واقعات کا کیا فائدہ؟

اس سوال کا جواب ان کے امور میں توجہ کرنے سے ظاہر اً مشکل نہیں رہتا جن کاسطور ِ بالا میں ذکر کیا گیا ہے کیونکہ بعض اوقات اہم مسائل مثلاً کسی شخص کی آزمائش ،کسی قوم کا امتحان ، توبہ اور خدائی بازگشت ( جیسے داستان یونس میں آیاہے )صدقہ ، حاجتمندوں کی مدد اور نیک کاموں کے زیر اثر دردناک برطرف ہو جاتے ہیں ۔ ایسے ماور تقاضا کرتے ہیں کہ آئندہ کے واقعات پہلے اس طرح سے منظم ہوں اور پھر شرائط و حالات بدلنے سے وہ بھی بدل جائیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ ان کی سر نوشت خود انہی کے ہاتھ ہے اور روش کی تبددیلی سے وہ اپنی تقدیر بدلنے پر قادر ہیں اور یہ بداء کے ساتھ نہیں پہچانا وہ اس کی پوری معرفت نہیں رکھتا، یہ بھی انہی حقائق کی طرف اشارہ ہے اسی لئے ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا :

مابعث الله عزوجل نبیاً حتی یأخذ علیه ثلاث خصال الاقرار بالعبودیة وخلع الانداد، و ان اله یقدم ما یشاء و یؤخر مایشاء

خدا نے کسی پیغمبر کو نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس سے یہ تین پیمان لیے ۔ پر وردگار کی بندگی کا اقرار ، ہرقسم کے شرک کی نفی اور یہ کہ خدا جس چیز کو چاہتا ہے مقدم کرتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے موخر کرتا ہے ۔(۲)

حقیقت میں پہلا پیمان خدا کی اطاعت اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے مربوط ہے دوسرا عہد شرک کے خلاف قیام کرنے سے متعلق ہے اور تیسرا مسئلہ بداء سے مربوط ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کی تقدیر خود اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ حالات تبدیل کرکے اپنے آپ کو لطف ِ الہٰی یا عذاب ِ خدا کا حقدار بنا لیتا ہے ۔

آخری بات یہ ہے کہ مندر جہ بالا پہلوؤں کی بناء پرعلماء شیعہ نے کہا ہے کہ جب ” بداء “ کی نسبت خدا کی طرف دی جاتی ہے تو یہ ”ابداء“ کے معنی میں ہوتی ہے یعنی کسی ایسی چیز کو ظاہر کردیتا ہے جو پہلے ظاہر نہ ہو او ر جس پیشین گوئی نہ کی جاسکتی ہو۔

لیکن شیعوں کی طرف یہ نسبت دینا کہ ان کا عقیدہ ہے کہ خدا کبھی کبھی اپنے کام پر پشیمان ہوجاتا ہے یا کسی ایسی چیز سے باخبر ہو جاتا ہے کہ جس سے پہلے آگاہ نہ ہو یہ بہت بڑی زیادتی ہے اور ایسی تہمت ہے جسے معاف نہیں کیا جاسکتا۔

اسی لئے آئمہ معصومین علیہم السلام سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا:

من زعم ان الله عزوجل یبد وله فی شیء لم یعلمه امس فابرؤا منه

جو شخص یہ گمان کرے کہ خدا پر کوئی ایسی چیز آج آشکار ہوتی ہے جسے وہ کل نہیں جانتا تھا تو ایسے شخص سے بیزاری اختیار کرو۔(۳)

____________________

۱۔ بحار الانوار چاپ قدیم ، جلد ۲ ص ۱۳۱ از امالی صدوق ۔

۲۔اصول کافی ، جلد ۱ ص ۱۱۴، سفینة البحار جلد ۱ ص ۶۱۔

۳۔سفینة البحار جلد ۶۱۔


آیات ۴۱،۴۲،۴۳

۴۱ ۔( اٴَوَلَمْ یَرَوْا اٴَنَّا نَأتی الْاٴَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اٴَطْرَافِهَا وَاللهُ یَحْکُمُ لاَمُعَقِّبَ لِحُکْمِهِ وَهُوَ سَرِیعُ الْحِسَابِ ) ۔

۴۲ ۔( وَقَدْ مَکَرَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلَّهِ الْمَکْرُ جَمِیعًا یَعْلَمُ مَا تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ وَسَیَعْلَمُ الْکُفَّارُ لِمَنْ عُقْبَی الدَّارِ )

۴۳ ۔( وَیَقُولُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا قُلْ کَفَی بِاللهِ شَهِیدًا بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْکِتَابِ ) ۔

ترجمہ

۴۱ ۔ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ ہم ہمیشہ زمین کے اطراف (وجوانب) کو کم کررہتے ہیں ( معاشرے ، تمدن اور علماء تدیجاً ختم ہو تے رہتے ہیں )اور خدا حکومت کرتا ہے اور کسی شخص کو اسے روکنے یااس کے احکام رد کرنے کا یارا نہیں اور وہ سریع الحساب ہے ۔

وہ لوگ جنہوں نے ان سے پہلے سازشیں کیں اور منصوبے بنائے لیکن منصوبہ بنانا تو خدا کا کام ہے کہ جو ہر شخص کے کام سے آگاہ ہے اور عنقریب کفار جان لیں گے کہ دوسرے گھر میں ( نیک و بد ) انجام کس کا ہے ۔

۴۳ ۔ جو کافر ہو گئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ر ورسول نہیں ہے۔ کہہ دے کہ خدااور وہ لوگ کہ جن کے پاس علم کتاب ( اور قرآن کی آگاہی ) ہے (میری ۹ گواہی کے لئے کافی ہیں ۔

انسان اور معاشرے ختم ہو جاتے ہیں ، خدا باقی رہتا ہے

گزشتہ آیا ت میں روئے سخن رسول اللہ کی رسالت کے منکرین کی طرف تھا ۔ ان آیات میں اس بحث کو جاری رکھا گیا ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ انہیں تنبیہ کی جائے ، انہیں بیدار کیا جائے ، ان کے سامنے استدلال کیا جائے الغرض مختلف طریقوں سے انہیں عقلی راہ پر لگا کر غور و فکر کرنے اور پھر اپنی حالت کی اصلاح کرنے پر آمادہ کیا جائے ۔

پہلے ارشاد ہوتا ہے : ان مغرور اور ہٹ دھرم افراد نے دیکھا نہیں کہ ہم مسلسل زمین کے اطراف و جوانب کو کم کرتے رہتے ہیں( اٴَوَلَمْ یَرَوْا اٴَنَّا نَأتی الْاٴَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اٴَطْرَافِهَا ) ۔

واضح ہے کہ زمین سے یہاں مراد اہل زمین ہیں ۔ یعنی کیا وہ اس واقعیت کی طرف نگاہ نہیں کرتے کہ ہمیشہ اقوام ، تمدن اور حکومتیں زوال پذیر ہوتی ہیں ۔ وہ قومیں کہ جو ان سے زیادہ قوی تھیں ، زیادہ طاقتورتھیں اور زیادہ سر کش تھیں ، ان سب نے اپنے اپنے منہ می میں چھپا لئے۔ یہاں تک کہ علماء بزرگ اور دانشور کہ جو زمین کا سہارا تھے انہوں نے بھی اس جہان سے آنکھیں بند کرلیں اور ابدایت کے ساتھ وابستہ ہو گئے ۔ کیا یہ ہمہ گیر قانون ِحیات کہ جو تمام افراد، تمام انسانی معاشروں اور ہر چھوٹے بڑے پرجاری و ساری ہے ان کے بیدار ہونے کے لئے کا فی نہیں ہے کہ وہ اس چند روزہ زندگی کو ابدی نہ سمجھیں اور اسے غفلت میں نہ گزاردیں ۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : حکومت اور فرمان جار کرنا خدا کے لئے ہے اور کسی شخص میں اس کے فرمان کو رف کرنے اور سے روکنے کا یارا نہیں ہے( وَاللهُ یَحْکُمُ لاَمُعَقِّبَ لِحُکْمِه ) ۔اور وہ سریع الحساب ہے( وَهُوَ سَرِیعُ الْحِسَابِ ) ۔

اس بناء پر ایک طرف تو اس نے تمام افراد اور سب قوموں کو پشیمانی پر قانون ِ فنا رقم کردیا ہے اور دوسری طرف کسی کی مجال نہیں کہ اس فرمان کو یا خدا کے دوسرے فرامین کو بدل سکے اور تیسری طرف وہ بندوں سے بڑی تیزی سے حساب لیتا ہے اور اس طر ح سے اس کی جزاء قطعی ہے ۔

کئی ایک روایات کو جوتفسیر برہان ،نور ثقلین ، دیگر تفاسیر اورکتب حدیث میں آئی ہیں ان میں زیر نظر آیت کی تفسیر علماء اور دانشمندبیان کی گئی ہے کیونکہ ان کا فقدان زمین اوراسلامی معاشرے کمی اور نقصان کا سبب بنتا ہے ۔

مفسر ِ بزرگ طبرسی اس آیت کی تفسیر میں امام صادق علیہ السلام کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :

ننقصها بذهاب علمائها ، وفقهائها و خیارها

ہم زمین میں اس کے علماء فقہااو رنیک لوگوں کے لئے چلے جانے سے کمی واقع کریں گے ۔(۱)

ایک اور حدیث میں ہے کہ جس وقت حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام شہید ہوئے تو عبد اللہ بن عمر نے یہ آیت پڑھی:انا نأتی الارض ننقصها من اطرافها

اس کے بعدکہا:یا امیر المومنین لقد کنت الطرف الاکبر فی العلم ، الیوم نقص علم الاسلام و مضی رکن الایمان

اے ا میر المومنین آپ عالم ِ انسانیت میں علم انسانیت میں علم کی بہت بڑی ”طرف“ تھے ۔ آپ شہادت سے آج اسلام کا علم و دانش نقصان کی طرف جھگ گیا اور ایمان کا ستون گر گیا ۔(۲)

باقی رہا یہ کہ بعض مفسرین نے احتما ل ظاہر کیا ہے کہ زمین کے نقصان سے مراد کفار کی زمینوں کاکم ہونااور مسلمان علاقوں میں اضافہ ہونا ہے اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی صحیح معلوم نہیں ہوتا کیونکہ اس وقت تو ایسی فتوحات نہیں تھیں کہ کفار جنہیں اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور قرآن ان کی طرف اشارہ کرتا۔ نیز یہ جو بعض مفسرین کہ جوعلوم طبیعی میں مستغرق ہیں وہ زیر نظر آیت کو قبطین کی طر ف سے زمین کے کم ہونے اور استوائی جانب سے زیادہ ابھر نے کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ، بہت بعید معلوم ہوتا ہے کیونکہ قرآن کی زیر نظر آیت میں یہ چیز بیان کرنے کا موقع نہیں ہے ۔

بعد والی آیت میں اسی بحث کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا گیا ہے : صرف یہی گروہ نہیں کہ جو سازشوں اور مکرو فریب کے ساتھ تمہارے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ہے بلکہ ” ان سے پہلے والے بھی سازشیں اور مکاریں کیا کرتے تھے “( وَقَدْ مَکَرَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ ) ۔

لیکن ان کے منصوبے نقش بر آب ہو گئے اور ان کی سازشیں حکم خدا سے بے اثر ہو کر رہ گئیں کیونکہ وہ ہر شخص کے معاملات خود اس سے بہتر جانتا ہے نکہ ” تمام منصوبے خدا کے لئے ہیں “( فَلِلَّهِ الْمَکْرُ جَمِیعًا ) ۔وہ ہے کہ جو ہر شخص کے کسب و کار سے آگاہ ہے اور ”وہ جانت اہے کہ ہر شخص کیا انجام دیتا ہے “( یَعْلَمُ مَا تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ ) ۔

اور پھر تہدید کے لہجے میں انہیں ان کے انجام کار سے ڈرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : کفار بہت ہی جلد جالیں گے کہ انجام ِ کار اور نیک و بد عاقبت دوسرے جہان میں کس کس کے لئے ہے( وَسَیَعْلَمُ الْکُفَّارُ لِمَنْ عُقْبَی الدَّارِ ) ۔

جس طرح سے یہ سورت قرآن اور کتاب اللہ کے ذکر سے شروع ہوئی تھی اسی طرح زیر بحث آخری آیت میں قرآن کے معجزہ ہونے پر بہت زیادہ تاکید گئی ہے اور اسی پر سورہ رعد ختم ہوتی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : یہ کافر کہتے ہیں کہ تو رسول نہیں ہے( وَیَقُولُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا ) )

یہ لوگ ہر روز ایک نیا بہانہ تراشتے ہیں ، ہر وقت معجزہ کا تقاضا کرتے ہیں ا ور پھر بھی آخر کار کہتے ہیں کہ تو پیغمبر نہیں ہے ۔

ان کے جواب میں کہو :یہی کافی ہے کہ دو ہستیاں میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہیں ایک اللہ اور دوسرا وہ کہ جس کے پاس کتاب کا علم اور قرآن کی آگاہی موجود ہے( قُلْ کَفَی بِاللهِ شَهِیدًا بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْکِتَابِ ) ۔ایک تو خودخدا جانتا ہے میں اس کا بھیجا ہوا ہوں اور دوسرے وہ لوگ کہ جو میری اس آسمانی کتاب یعنی قرآن کے بارے میں کافی آگھی رکھتے ہیں وہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ کتاب انسانی دماغ کی ساختہ نہیں ہے خدایے بزرگ کے سوا یہ کسی اور کی ہو ،یہ بھی مختلف پہلوؤں سے قرآن کے اعجاز ہونے کے بارے میں ایک تاکید ہے۔اس کی تفصیل ہم دیگر خصوصا کتاب،،قرآن و آخرین پیامبر میں بیان کرچکے ہیں ۔

جو کچھ ہم نے سطوربالا میں کہا ہے اس کی بنا پر( ومن عنده علم الکتاب ) سے مراد مضامین قرآن مجید سے آگاہ افراد ہیں ۔

لیکن بعض مفسرین نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ اہل کتاب کے علماء کی طرف اشارہ ہے۔بہت سی روایات میں آیا ہے(من عندہ علم الکتاب)سے مراد حضرت علی بن ابی طالب اور دیگر ائمہ ھدی مراد ہیں ۔

اس سلسلے کی روایات تفسیر نورالثقلین اور تفسیر برہان می جمع کردی گئی ہیں لیکن یہ روایات اس بات کی دلیل نہیں کہ مفہوم آیت اسی پر منحصر نہیں ہے جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ یہ ایک مصداق یا مصادیق تامہ وکاملہ کی طرف اشارہ ہیں ۔بہر حال یہ روایات پہلی تفسیر کہ جسے ہم نے انتخاب کیا ہے کی تایید کرتی ہیں ۔ناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں ہم اپنی گفتگو پیغمبر اکرم سے منقول ایک رواےت پر ختم کریں

ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ میں نے پیغمبر گرامی سے ،،قال الذی عندہ علم من الکتاب،،اس شخص نے کہا کہ جس کے پاس کتاب میں سے علم تھا (یہ آیت حضرت سلیمان کے واقعہ کے ضمن میں ہے )

کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا:ذاک وصی اخی سلیمان بن داود

وہ میرے بھائی سلیمان بن داوود کا وصی اور جانشین تھا ابو سعید کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا :،،( قل کفی بالله شهیدا بینی وبینکم ومن عنده علم الکتاب ) ،، کس کے بارے میں ہے اور کس طرف اشارہ ہے رسول اللہ نے فرمایا :ذاک اخی علی بن ابی طالب

وہ میرے بھائی علی بن ابی طالب ہیں ۔(المیزان ج، ۱۱ ص ۴۲۷)

پروردگارا! اپنی رحمت کے دروازے ہم پر کھول دے اور اپنی کتاب کا علم ہم پر ارزانی فرما ۔

بارالہا!قرآن کی آگہی سے ہمارے دل اس طرح سے روشن اور ہماری فکر کو ایسا توانا بنا ہم تجھے چھوڑ کر تےرے غےر کی طرف نہ جائیں ،کسی چیز کو تیری مشیت پر مقدم نہ کریں ،خودغرضیوں ،تنگ نظریوں اور خود بینیوں کے تنگ وتاریک گڑھوں میں نہ گریں ،تےرے بندوں کے درمیان تفرقہ نہ ڈالیں ،اپنے اسلامی انقلاب کو خطرے کی طرف کھینچ نہ لے جائیں اور اسلام ،قرآن اور ملت اسلامی کی مصلحتوں کو ہر چیز پر مقدم رکھیں ۔

خداوندا!عراق کے ظالم حکام کو خواب غفلت سے بیدار کر کہ جنہوں نے یہ خانماں سوز ،ویران گر اور تباہ کن جنگ دشمنان اسلام کی تحریک ہم پر مسلط کی ہے اور اگر وہ بیدار ہونے والے نہیں تو انہیں نابود فرما اور ہمیں اپنی کتاب کے زیر سایہ آگہی عطا فرما جس سے ہم حق وعدالت کے دشمنوں پر کامیابی کے لئے جائز اورتمام ممکنہ وسائل سے استفادہ کریں ۔

____________________

۱۔تفسیر برہان جلد ۲ ص ۳۰۱۔

۲۔البتہ جیسا کہ ہم نے کہا ہے آیت کا ایک وسیع مفہوم ہے ۔ اس میں ہر قسم کا نقصان اور کمی شامل ہیں چاہے وہ افراد ہوں ، یا معاشرے یا بطور کلی اہل زمین ۔ یہ تمام لوگوں کے لئے جرس بیداری ہے چاہے وہ نیک ہوں یا برے حتی کہ علما ء اور دانشمندوں کے لئے بھی کہ جو انسانی معاشروں کے ستون ہیں جب کہ ان میں سے کبھی ایک کے چلے جانے سے پوری دنیا کو نقصان پہنچتا ہے ۔ یہ سب کے لئے بولتی ہوئی ہلادینے والی صدائے ہوشیار باش ہے ۔


سوره ابراهیم

آیات ۱،۲،۳،

( بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ )

۱ ۔( الر کِتَابٌ اٴَنزَلْنَاهُ إِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَی صِرَاطِ الْعَزِیزِ الْحَمِیدِ ) ۔

۲ ۔( اللهِ الَّذِی لَهُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْاٴَرْضِ وَوَیْلٌ لِلْکَافِرِینَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیدٍ ) ۔

۳ ۔( الَّذِینَ یَسْتَحِبُّونَ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا عَلَی الْآخِرَةِ وَیَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ وَیَبْغُونَهَا عِوَجًا اٴُوْلَئِکَ فِی ضَلَالٍ بَعِیدٍ ) ۔

ترجمہ

رحمن و رحیم کے نام سے

۱ ۔ الر۔ یہ وہ کتاب ہے جو ہم نے تجھ پر نازل کی تاکہ تو پروردگار نے فرمان سے لوگوں کو (شرک ، ظلم اور طغیان کی )تاریکیوں سے نکال کر( ایمان ، عدل اور صلح کی ) کی روشنی کی طرف جائے ، عزیز وحمید خدا کی راہ کی طرف۔

۲ ۔ وہی خدا کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ، اسی کاہے ۔ کافروں کے لئے افسوس ناک ہے عذاب ِ شدید ۔

۳ ۔ وہی کہ جو دنیا ی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور ( لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ راہ ِ حق کو ٹیڑھا کردیں اور دور کی گمراہی میں ہیں ۔

تفسیر

ظلمتوں سے نور کی طرف

یہ سورہ بھی قرآن کی بعض دیگر سورتوں کی طرح حروف مقطعہ ( آلرٰ) سے شروع ہوئی ہے ۔ ان حروف کی تفسیر ہم سورہ بقرہ، آل عمران اور اعراف کی ابتداء میں بیان کرچکے ہیں ۔ یہاں نکتے کا ذکر ہم ضروری سمجھتے ہیں یہ کہ ۲۹ مقامات پر قرآن کی سورتوں کا آغاز حروف مقطعہ سے ہوا ہے ۔ ان میں سے ۲۴ مقامات ایسے ہیں جن میں بلا فاصلہ قرآن مجید کے بارے میں گفتگو آئی ہے ۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ قرآن اور حروف مقطعہ کے درمیان کوئی تعلق موجود ہے اور ہوسکتا ہے یہ وہی تعلق ہو جس کا ذکر ہم سورہ بقرہ کی ابتداء میں کر چکے ۔ وہ یہ کہ خدا چاہتا ہے کہ اس سے واضح کرے کہ یہ عظیم آسمانی کتاب اپنے با عظمت معافی و مفاہیم کہ جن کی بناء پر وہ تمام انسانوں کی ہدایت اپنے ذمہ لئے ہوئے ہے کہ باوجود اسی سادہ سے خام مال ( الف ، باء) سے تشکیل پائی ہے اور یہ اس اعجاز کی اہمیت کی نشانی ہے کہ وہ سادہ ترین چیز سے افضل ترین چیز کو وجود بخشا ہے ۔

بہرحال الف ، لام، را ۔ کے ذکر کے بعد فرمایاگیا ہے :یہ وہ کتاب ہے کہ جو ہم نے تجھ پر اس لئے نازل کی کہ تو لوگوں کو گمراہیوں سے نکال کر نور کی طرف لے جائے ۔( کِتَابٌ اٴَنزَلْنَاهُ إِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّور ) ۔

درحقیقت نزول قرآن کے تمام تر بیتی ، انسانی ، روحانی اور مادی مقاصد اسی ایک جملے میں جمع ہیں ، ” ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے جانا“۔ ظلم و جہالت سے نورِ علم کی طرف ، ظلمت ِ کفر سے نور ایمان کی طرف ، ظلمت ِ ظلم سے نور ِ عدالت کی ، فساد سے نورِ صلاح کی طرف ظلمتِ گناہ سے نورِ تقویٰ کی طرف اور ظلمت ِ افتراق سے نور ِوحدت کی طرف۔

یہ امر جاذب نظر ہے کہ یہاں ” ظلمات “ بعض دیگر قرآنی سورتوں کی طرح جمع کی شکل میں آیا ہے اور ” نور “ واحد کی صورت میں ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ تمام نیکیاں ، پاکیزگیاں ، ایمان و تقویٰ او ر فضیلت نورِ توحید کے سائے میں اپنے آپ میں وحدت و یگانگی کی حالت میں ہیں اور سب ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور متحد ہیں اور ان سے ایک متحد و واحد معاشرہ ، جو ہر لحاظ سے پاک و پاکیزہ کپڑ ے کی مانند ہو تیار کیا جاسکتا ہے ۔

لیکن ظلمت ہر مقام پر پراگندگی اور صفوں میں تفرقہ کا سبب ہے ۔ ستم گر ، بدکار، آلودہ گناہ اور منحرف لوگ عموماً اپنی انحرافی راہوں میں بھی وحدت نہیں رکھتے اور آپس میں حالت ِ جنگ میں ہوتے ہیں ۔

تمام نیکیوں کا سر چشمہ چونکہ خدا کی ذاتِ پاک اور ادراکِ توحید کی بنیادی شرط اسی حقیقت کی طرف توجہ ہے لہٰذا بلا فاصلہ مزید فرمایا گیا ہے : یہ سب کچھ ان ( لوگوں ) کے پر وردگار کے اذن وحکم سے ہے( ِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ ) ۔ اس نور کے بارے میں مزید توضیح کے لئے فرمایا گیا ہے :عزیز و حمید خدا کی راہ کی طرف( إِلَی صِرَاطِ الْعَزِیزِ الْحَمِیدِ ) ۔(۱)

وہ کہ جس کی عزت اس کی قدرت کی دلیل ہے کیونکہ کسی کے بس میں نہیں کہ اس پر غلبہ حاصل کرسکے اور اس کا حمید ہونا اس کی بے پایاں نعمات کی نشانی ہے کیونکہ حمد و ستائش ہمیشہ نعمتوں ، عنا ئتوں اور زیبائی پر ہوتی ہے ۔

اگلی آیت میں معرفت ِخدا کے لئے ایک درس ِ توحید دیتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے : وہی خدا کہ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے اسی ہے( اللهِ الَّذِی لَهُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْاٴَرْضِ ) ۔(۲)

تمام چیزیں اس کی ہیں کیونکہ وہی موجودات کاخالق ہے ، اسی بناء پر وہ قادر و عزیز بھی ہے ، تمام نعمتیں بخشنے والا اور حمید بھی ۔

ذکر مبداء کے بعد آیت کے آخر میں مسئلہ معاد کی جانب توجہ توجہ دی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : وائے ہو کفار پر قیامت کے شدید عذاب سے( وَوَیْلٌ لِلْکَافِرِینَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیدٍ ) ۔

اگلی آیت میں بلا فاصلہ کفار کا تعارف کروایا گیا ہے ۔ ان کی صفات کے تین حصوں کاذکر کرکے ان کی کیفیت کو پوری طرح مشخص کردیا گیا ہے اس طرح سے کہ ہر شخص ان کا سامنا کرتے ہیں انہیں پہچان لے فرمایا گیا ہے : وہ ایسے لوگ ہیں جو اس جہان کی پست زندگی کو آخرت کی زندگی پر مقدم شمار کرتے ہیں( الَّذِینَ یَسْتَحِبُّونَ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا عَلَی الْآخِرَةِ ) ۔(۳)

اسی وجہ سے وہ ایمان ، حق ، عدالت ، ، شرفِ آزادگی اور سر بلندی کہ جو آخرت سے لگاؤ رکھنے والوں کی خصوسیات میں سے ہیں اپنے گھٹیا مفادات، شہوات اور ہوا و ہوس پر قربان کردیتے ہیں

اس کے بعد فرمایا گیا ہے : ایسے لوگ اسی ہر بس نہیں بلکہ خود ہی میں پڑنے کے بعد دوسروں کو بھی بھٹکا نے کی کوشش کرے ہیں اور ”وہ لوگوں کو راہ خدا سے روکتے ہیں “۔( وَیَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ ) ۔

در حقیقت وہ اللہ کی راہ کہ جو راہِ فطرت ہے اور انسان خود سے چل کر اسے عبود کر سکتا ہے اس میں طرح طرح کی دیوار اٹھاتے ہیں اور رکا وٹیں کھری کرتے ہیں ۔ اپنی ہوا و ہوس اور خواہشا کی بنا سنوار کر پیش کرتے ہیں ، لوگوں کو گناہ کا شوق دلاتے ہیں اور راستی و پاکیزگی کے راستے سے خوف زدہ کرتے ہیں ۔

ان کا کام فقط اللہ کے راستے میں رکاوٹیں اور دیواریں کھڑی کرنا نہیں بلکہ ” کو شش کرتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے اسے بگاڑ کر پیش کریں “( وَیَبْغُونَهَا عِوَجًا ) ۔

در اصل وہ پوری توانائیوں سے کو شش کرتے ہیں کہ دوسروں کو اپنے رنگ میں رنگ لیں اور اپنا ہم مسلک بنالیں لہٰذا ان کی کو شش ہوتی ہے کہ اللہ کے سیدھے کو ٹیڑھا کر کے دکھائیں ۔ اس لئے وہ اس میں طرح طرح کی خرافات اور بے ہودہ گیاں پیدا کرتے ہیں ، مختلف تحریفات سے کام لیتے ہیں ۔ قبیح بدعتوں کو رواج دیتے ہیں اور کثیف طور طریقے اختیار کرتے ہیں ۔ واضح ہے کہ ” ان صفات و اعمال کے حامل ہونے کی وجہ سے ایسے افراد بہت دور کی گمراہی میں ہیں “( اٴُوْلَئِکَ فِی ضَلَالٍ بَعِیدٍ ) ۔یہ وہی لوگ ہیں کہ راہِ حق سے زیادہ دور ہونے کی بناء پر جن کا راہ ِ حق کی طرف لوٹ آنا آسانی سے ممکن نہیں لیکن یہ سب کچھ خود انہی کے اعمال کا نتیجہ ہے ۔

چند اہم نکا ت

۱ ۔ ایمان اور راہ ِخدا کو نور سے تشبیہ دینا

اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ”نور“ عالم مادہ کا لطیف ترین موجود ہے ، اس کی رفتار نہایت تیز ہے اور جہان ِ مادہ میں اس کے آثار و بر کات ہر چیز سے زیادہ ہیں ، یہ کہا جاسکتا ہے کہ تمام مادی نعمات و بر کات کا سر چشمہ نور ہے ۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ایمان اور راہِ خدا میں قدم رکھنے کو نور سے تشبیہ دینا کس قدر پر معنی ہے ۔

نور اتحاد کا سبب ہے اور ظلمت انتشار کا عامل ہے ۔ نور زندگی کی علامت ہے اور ظلمت موت کی نشانی ہے ۔ اسی بناء پر قرآن ِ مجید میں بہت سے قیمتی امور کو نور سے تشبیہ دی گئی ہے ۔

ان میں سے ایک عمل صالح ہے ۔یوم تری المومنین و المؤمنات یسعیٰ نور هم بین ایدیهم و بایمانهم

وہ دن کہ جب تو صاحب ِ ایمان مردو اور عورتوں کو دیکھے گا کہ ان کا نور ان کے سامنے اور دائیں جانب رواں دواں ہو گا ۔ ( حدید ۔ ۱۲) ۔

ایمان اور توحید کے لئے بھی یہ لفظ آیا ہے ۔ مثلاً

( الله ولی الذین اٰمنوا یخرجهم من الظلمات الیٰ النور )

اللہ ان لوگوں کا ولی و سر پرست ہے جو ایمان لائے ہیں کہ جنہیں وہ ظلمتوں سے نور کی ہدایت کرتا ہے ۔( بقرہ ۔ ۲۵۷)

قرآن کو بھی نور سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے :

( فالذین اٰمنوا به و عزروه و نصروه و اتبعوا النور الذی انزل معه اولٰئک هم المفلحون )

اور جوپیغمبر پر ایمان لائے ہیں ، اس کی عزت و توقیر کرتے ہیں ، اس کی مدد کرتے ہیں اور ا س نور کی پیروی کرتے ہیں کہ جو اس کے ساتھ نازل ہواہے ، وہ فلاح پانے والے ہیں ۔ (اعراف ۔ ۱۵۷)

نیز خدا کے آئین و دین کو اس پر بر کت وجود سے تشبیہ دی گئی ہے :( یریدون ان یطفؤا نور الله بافواههم )

وہ چاہتے ہیں کہ پھونکوں سے نور خدا کا خاموش کردیں ۔ ( توبہ ۔ ۳۲)

اور سب سے بڑھ کر خدا کی ذات پاک کہ جو افضل ترین وجود ہے بلکہ سب کی ہستی جس کے وجود ِ مقدس کا پر تو ہے کو نو ر سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے :( الله نور السمٰوٰت و الارض )

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے ۔ ( نور۔ ۳۵)

یہ تمام امور ایک ہی حقیقت کی طرف پلٹ تے ہیں کیونکہ یہ سب اللہ ، اس پر ایمان ، اس کی گفتگو اور اس کی راہ کے پر تو ہیں ۔ لہٰذا یہ لفظ ان مواقع پر مفرد کی شکل میں آیا ہے ۔ جب کہ اس کے بر عک” ظلمات“ چونکہ ہر جگہ انتشار و تفرقہ کا عامل ہے لہٰذا جمع کی صورت میں تعدد و تکثر کی علامت کے طور پر ذکر ہوا ہے اور خدا پر ایمان لانا ، اس کی راہ میں قدم رکھنا چونکہ حرکت بیداری کا سبب ہے ، اجتماعیت و وحدت کا عامل ہے اور ارتقاء و پیش رفت کا ذریعہ ہے لہٰذا یہ تشبیہ ہر لحاظ سے رسا ، با معنی اور باعث تربیت ہے ۔

۲ ۔ ”لتخرج“ کامفہوم :

پہلی آیت میں ” لتخرج“ کی تعبیر در حقیقت دو نکات کی طرف اشارہ کرتی ہے :

پہلا یہ کہ قرآن مجید اگر انسان کے لئے ہدایت و نجات کی کتاب ہے تا ہم اسے اجراء و نفاذ کرنے والے اور علمی صورت بخشنے والے کی احتیاج ہے لہٰذا پیغمبر جسے راہبر کی ضرورت ہے جو ا س کے ذریعے راہ حقیقت سے بھٹکے ہوؤں کی بد بختی کی ظلمات سے نورِ سعادت کی طرف ہدایت کرے ۔ لہٰذا قرآن بھی اپنی اس قدر عظمت کے باوجود رہبر ، رانما، مجری اور نافذ کرنے والے کے بغیر تمام مشکلات حل نہیں کرسکتا ۔

دوسرا یہ کہ خارج کرنے کی تعبیر در حقیقت تغیر و تبدل کے ساتھ حرکت دینے اور چلانے کی دلیل ہے ۔ گویا بے ایمان لو گ ایک تنگ و تاریک فضا میں ہوتے ہیں اور پیغمبر و رہبر ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں وسیع او ر روشن فضا میں لے جاتے ہیں ۔

۳ ۔ سورة کے آغاز و اختتام پر ایک نظر :

یہ امر جاذب توجہ ہے کہ اس سورة کا آغاز لوگوں کو ظلمات سے نور کی طرف ہدایت سے ہوا ہے او راکا اختتام بھی لوگوں کو ابلاغ و انذار پر ہوا ہے ۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ بہر حال اصلی ہدف خود لوگ ، ان کی سر نوشت اور ان کی ہدایت ہے اور در حقیقت انبیاء و مر سلین کا بھیجنا اور آسمانی کتب کا نزول سب اسی کو پانے کے لئے ہے ۔


آیات ۴،۵،۶،۷

۴ ۔( وَمَا اٴَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ فَیُضِلُّ اللهُ مَنْ یَشَاءُ وَیَهْدِی مَنْ یَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ ) ۔

۵ ۔( وَلَقَدْ اٴَرْسَلْنَا مُوسَی بِآیَاتِنَا اٴَنْ اٴَخْرِجْ قَوْمَکَ مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ وَذَکِّرْهُمْ بِاٴَیَّامِ اللهِ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِکُلِّ صَبَّارٍ شَکُورٍ ) ۔

۶ ۔( وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِهِ اذْکُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَیْکُمْ إِذْ اٴَنجَاکُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ یَسُومُونَکُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَیُذَبِّحُونَ اٴَبْنَائَکُمْ وَیَسْتَحْیُونَ نِسَائَکُمْ وَفِی ذَلِکُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّکُمْ عَظِیمٌ ) ۔

۷ ۔( وَإِذْ تَاٴَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاٴَزِیدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِی لَشَدِیدٌ ) ۔

ترجمہ

۴ ۔ ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی زبان میں تاکہ ان کے سامنے ( حقائق ) آشکار کرے پھر خدا جسے چاہے ( اور مستحق سمجھے) گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے ( اور مستحق سمجھے ) ہدایت کرتا ہے اور وہ تو توانا و حکیم ہے ۔

۵ ۔ اور ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات کے ساتھ بھیجا ( اور حکم دیا ) کہ اپنی قوم کو ظلمات سے ونر کی طرف نکال اور انہیں ایام اللہ یا د دلا اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر گزار کے لئے نشانیاں ہیں ۔

۶ ۔ وہ وقت یا د کرو کہ جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: اپنے اوپر خد اکی نعمت کو یاد رکھو جب کہ اس نے تمہیں آلِ فرعون ( کے چنگل سے)سے نجات بخشی ۔ وہ کہ جو تمہیں بد ترین طریقے سے عذاب دیتے تھے ۔

تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو ( خدمت گاری کے لئے ) زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے پر وردگار کی طرف بہت بڑی آزمائش تھی ۔

۷ ۔ ( اسی طرح ) اس وقت کو یاد کرو کہ جب تمہارے پر ور دگار نے اعلان کیا کہ اگر شکر گزاری کروگے تو تم پر( اپنی نعمت کا ) اضافہ کروں گا اور اگر کفران کروگے تو میرا عذاب سخت ہے ۔

تفسیر

زندگی کے حساس دن

گزشتہ آیات میں قرآن مجید اور اس کے حیات بخش اثرات کے متعلق گفتگو تھی ۔ زیر بحث پہلی آیت میں بھی ایک خاص پہلو سے اس موضوع کے بارے میں بات کی گئی ہے اور وہ ہے انبیاء اور آسمانی کتب کی زبان کا اس پہلی قوم کی زبان سے ہم آہنگ ہونا جس کی طرف وہ مبعوث ہوئے ۔

فرمایا گیاہے : ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان میں( وَمَا اٴَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِهِ ) ۔

کیونکہ پہلے پہل تو کسی پیغمبر کا تعلق اسی قوم سے پیدا ہوتا ہے جس میں وہ قیام کرتے ہیں ، انبیاء کے ذریعے پہلی وحی کی شعاع اسی پر پڑتی ہے اور ان کے اولین اصحاب و انصار اسی میں سے ہوتے ہیں لہٰذا پیغمبر کو انہی کی زبان میں گفتگو کرنا چاہئیے ” تاکہ وہ ان کے لئے حقائق کو واضح طور پر پیش کر سکے “( لِیُبَیِّنَ لَهُم )

اس جملے میں در حقیقت اس کے نکتے کی طرف بی اشارہ ہے کہ عام طور پر انبیاء کی دعوت ان کے پیروکاروں پر کسی انجانے اور غیر مانوس طریقے سے منعکس نہیں ہوتے تھی بلکہ واضح و روشن طور پر عام مروجہ زبان میں وہ تعلیم و تربیت کرتے تھے ۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: ان کے سانے منے دعوت ِ الہٰی کی وضاحت کے بعد ”خدا جس شخص کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے “( فَیُضِلُّ اللهُ مَنْ یَشَاءُ وَیَهْدِی مَنْ یَشَاءُ ) ۔

یہ اس طرف اشارہ ہے کہ آخر کار کسی کا ہدایت یافتہ ہونا یاگمراہ ہونا انبیاء کاکام تو تبلیغ اور تبیین ہے ۔ بندوں کی حقیقی ہدایت و رہنمائی تو خدا ہی کے ہاتھ ہے ۔

اس بناء پر کہیں یہ تصور نہ ہو کہ اس کا مطلب جبر ، لازمی طورپر ہونا اور انسان کی آزادی کا سلب ہونا ہے ، بلافاصلہ مزید ارشاد فرمایا گیا ہے : وہ عزیز حکیم ہے( وَهُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیم ) ۔

اپنی عزت و قدرت کی وجہ سے وہ ہر چیز پر قادر و توانا ہے او رکوئی شخص اس کے ارادے کے سامنے کھڑا نہیں ہوسکتا ۔ لیکن اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق وہ کسی شخص کو بلا سبب ہدایت نہیں کرتا اور نہ کسی کو بلا وجہ گمراہ کرتا ہے بلکہ بندے اپنے ارادے کی انتہائی آزادی کے ساتھ ”سیر الیٰ اللہ “ کے لئے قدم اٹھاتے ہیں اور اس کے بعد ان کے دل پر نور ہدایت اور فیض ِ حق کی کرنیں پڑتی ہیں ۔ جیسا کہ سورہ عنکبوت کی آیہ ۶۹ میں ہے :( والذی جاهدوا فینا لنهدینهم سبلنا )

جو لوگ ہماری راہ میں جہاد اور جدو جہد کرتے ہیں ہم یقینی طور پر انہیں اپنے راستوں کی طرف ہدایت کرتے ہیں ۔

اسی طرح جن لوگوں نے تعصب ، ہٹ دھرمی ، حق دشمنی ، شہوات میں غوطہ زنی اور ظلم میں آلودگی کے باعث ہدایت کے لئے اپنی قابلیت گنواد ی ہے وہ فیض ِ ہدایت سے محروم ہو جاتے ہیں اور ضلالت و گمراہی کی وادی میں بھٹکتے رہتے ہیں ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے :( کذٰلک یضل الله من هومسرف مرتاب )

اسی طرح خدا ہر اسراد کرنے والے اور آلودہ شک شخص کو گمراہ کرتا ہے ۔ (مومن ۔ ۳۴)

یہ بھی فرمایا گیا ہے :

اس کے ذریعہ خدا صرف فاسقوں کو گمراہ کرتا ہے (بقرہ۔ ۲۶) نیز یہ بھی ار شاد ہوتا ہے :( یضل الله الظالمین )

خدا ستمگروں کو گمراہ کرتا ہے ۔ (ابراہیم ۔ ۲۷)

گویا ہدایت اور گمراہی کا سر چشمہ خود ہمارے ہاتھ میں ہے ۔

اگلی آیت میں اپنے ہم عصر طاغوتوں کے مقابلے میں انبیاء کے قیام کا ایک نمومہ ذکر کیا گیا ہے اور بتا یا گیا ہے کہ وہ ظلمتوں سے نکال کر وادی نور میں لے جانے ے لئے بھیجے گئے تھے ۔ ارشاد ہوتا ہے :ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات ( مختلف معجزات) کے ساتھ بھبیجا اور ہم نے اسے حکم دیا کہ اپنی قوم کو ظلمات سے ونر کی طرف ہدایت کرو( وَلَقَدْ اٴَرْسَلْنَا مُوسَی بِآیَاتِنَا اٴَنْ اٴَخْرِجْ قَوْمَکَ مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ ) ۔(۱)

جیسا کہ ہم نے اس سورہ کی پہلی آیت میں پڑھا ہے پیغمبر اسلام کے پروگرام کا خلاصہ بھی لوگوں کو ظلمات سے نور کی طرف نکال لے جانا تھا ۔

یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ یہ سب خدا کے انبیاء و رسل ہیں بلکہ سب کے سب انسانوں کے معنوی اور روحانی راہنما ہیں ۔ کیا برائیاں ، گمراہیاں ، کجرویاں ، ظلم و ستم ، استثمار ، ذلتیں ، زبوں حالیاں ، فتنہ و فساد اور گناہ ظلمت و تاریکی کے علاوہ کچھ اور ہیں ۔ اور کیا ایمان و توحید ، تقویٰ و پاکیزگی ، آزادی و استقلال اور سربلندی و عزت نور و ضیا کے سوا کچھ اور ہے ۔ اس بنا ء پر تمام رہبروں کی دعوت کے درمیان بالکل یہی قدر مشترک اور قدر جامع ہے ۔

ا س کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ایک عظیم ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : تیری ذمہ داری ہے کہ تو اپنی قوم کو ” ایام اللہ “ یا د دلائے( وَذَکِّرْهُمْ بِاٴَیَّامِ اللهِ ) ۔

مسلم ہے کہ تمام دن ایام الٰہی ہیں جیسے تمام جگہیں اور مقامات خدا سے تعلق رکھتے ہیں اب اگر کسی خاص مقام کو ” بیت اللہ “ سے موسوم کیا جائے تو یہ اس کی خصوصیت کی دلیل ہے ۔ اسی طرح مسلم ہے کہ ”ایام اللہ “ کا عنواب مخصوص دنوں کی طرف اشارہ ہے کہ جو بہت زیادہ امتیاز و درخشندگی رکھتے ہیں ۔

اسی بناء پر مفسرین نے اس کی تفسیرمیں مختلف احتمالات پیش کئے ہیں ۔

بعض نے کہا ہے کہ یہ گزشتہ انبیاء اور ان کی سچی اور اچھی امتوں کی کامیابی کے دنوں کی طرف اشارہ ہے اور اسی طرح وہ ایام بھی اس کے مفہوم میں شامل ہیں کہ جن میں انہیں ان کی اہلیت کی بناء پر انواع و قسام کی نعمتوں ن سے نوازا گیا ۔

بعض نے کہا کہ یہ ان دنوں کی طرف اشارہ ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے سر کش قوموں کو عذاب زنجیر میں جکڑ ا اور طاغوت و سر کش افراد کو ایک ہی فرمان سے تباہ و بر باد کردیا ۔

بعض نے ان دونوں حصوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے ۔

لیکن اصولی طور پر اس گویا ، عمدہ اور رسا تعبیر کو محدود نہیں کیا جاسکتا ۔ وہ تمام دن ” ایام اللہ “ ہیں کہ جو نوعِ بشر کی زندگی کی تاریخ میں حامل ِ عظمت ہیں ۔ ہر وہ دن کہ جس میں کوئی فرمان ِ الہٰی اس طرح درخشندہ ہوا کہ باقی امور کو اپنے تحت الشعاع لے آیا وہ ایام اللہ میں سے ہے ۔

جس روز انسانوں کی زندگی میں سے نیا باب کھلا ، انہیں درس ِ عبرت دیا گیا ، ان مین کسی پیغمبر نے ظہور یا قیام فرمایا یا جس دن کوئی منکر ، طاغوت اور فرعون ظلمت کے گڑھے میں پھنکا گیا ۔ خلاصہ یہ کہ وہ دن کہ جس میں حق و عدالت بر پا ہو ئی اور ظلم و بدعت خاموش ہو ئی وہ ایام اللہ میں سے ہے جیساکہ ہم دیکھیں گے آئمہ معصومین علیہم السلام کی اس تفسیر کے ذیل میں منقول روایات میں بھی حساس دنوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔

آیت کے آخر میں ارشاد ہوتا ہے : اس گفتگو میں اور تمام ایام اللہ مین ہر صابر و با استقامت اور شکر گزار انسان کے لئے نشانیاں ہیں( إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِکُلِّ صَبَّارٍ شَکُورٍ ) ۔

”صبار“ اور ”شکور“ دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں ان میں سے ایک صبر و استقامت زیاد ہ ہونے اور دوسرا نعمت و احسان پر شکر گزاری زیادہ ہونے کو ظاہر کرتا ہے ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ صاحب ِ ایمان افراد نہ تو سختیوں اور مشکلوں کے دنوں میں حوصلہ ہار بیٹھتے ہیں اور اپنے آپ کو حوالہ حوادث کردیتے ہیں اور نہ ہی کامیابی اور نعمت کے دنوں میں غرور و غفلت میں گرفتار ہوتے ہیں اور ” ایام اللہ “کی طرف اشارہ کرنے کے بعد ان دونوں کا تذکرہ گویا اسی مقصد کی نشاندہی کررہاہے ۔

بعد والی آیت میں تاریخ بنی اسرائیل میں ایام اللہ اور درخشاں و پر باردلوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس کا ذکر مسلمانوں کے لئے بھی تذکرہ تھا ۔ ارشاد ہوتا ہے : اس وقت کو یاد کرو کہ جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اس نعمت ِخدا کا تذکرہ کرو کہ جب اس نے تمہیں آل ِ فرعون سے نجات بخشی( وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِهِ اذْکُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَیْکُمْ إِذْ اٴَنجَاکُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ ) ۔

وہی فرعونی کہ جنہوں نے تم پر بد ترین عذاب مسلط کررکھا تھا ، تمہارے بیٹوں کو ذبح کردیتے تھے اور تمہاری عورتوں کو خدمت اور کنیزی کے لئے زندہ رکھتے تھے( یَسُومُونَکُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَیُذَبِّحُونَ اٴَبْنَائَکُمْ وَیَسْتَحْیُونَ نِسَائَکُمْ ) ۔

اور یہ تمہارے پر وردگا رکی طر ف سے تمہاری بہت بڑی آزمائش تھی( وَفِی ذَلِکُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّکُمْ عَظِیمٌ ) ۔

اس دن سے زیادہ با بر کت کونسا دن ہو گا کہ جس دن تمہارے سروں سے خود غرض ، سنگدل اورا ستعمارگر لوگوں کو دور کیا گیا ۔ وہی لوگ کہ جو تمہارے ساتھ ایک بہت بڑا ستم روا رکھے ہوئے تھے ۔ اس ظلم سے بڑھ کر کیا ہوسکتاتھا کہ وہ تمہارے بیٹوں کے سر جانوروں کی طرح کاٹ دیتے تھے ( توجہ رہے کہ قرآن نے ذبح کہا ہے قتل نہیں ) اور اسے بڑھ کر یہ کہ تمہاری عزت و ناموس بے شرم دشمن کے چنگل میں کنیزوں کی طرح گرفتار تھی ۔

نہ صر ف بنی اسرائیل کے لئے بلکہ اقوام و ملل کے لئے آزادی و استقلا ل کے حصول اور طاغوت کی دست برد سے نجات کا دن ایام اللہ میں سے ہے کہ جسے انہیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئیے ۔ ایسی یاد کہ جس کے سبب وہ گزشتہ حالت کی طرف لوٹنے سے محفوظ ہیں ۔

”یسومونکم “ سوم ( بروزن ”صوم “) کے مادہ سے ہے ۔ در اصل یہ کسی چیز کے پیچھے جانے اور اس کی جستجو کے معنی میں ہے نیز یہ لفظ کسی پرکسی کام کو زبر دستی ٹھونسنے کے معنی میں بھی آیا ہے ۔(۲)

”یسومونکم سوء العذاب “ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ تم پر بد ترین سختیاں اور عذاب مسلط کرتے تھے ۔ کیا یہ کم مصیبت ہے کہ ایک گروہ کی فعال قوت کو فنا کے گھاٹ اتار دیا جائے اور اس کی عورتوں کو کسی سرپرست کے بغیر چند ظالموں کے چنگل میں کنیزوں کی طرح باقی رہنے دیا جائے ۔

ضمناً ”یسومون “ کا فعل مضارع کی صورت میں ہونا اس طرف اشارہ ہے کہ یہ کام مدتوں جاری رہا ۔(۳)

یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ بیٹوں کا سر کاٹنے اور عورتوں کی کنیزی کے ذکر کے بعد ان کا واؤ کے ذریعے ” سوء العذاب “ پر عطف کیا گیا ہے حالانکہ یہ خود ”سوء العذاب “ کا مصداق ہیں ۔ ایسا ان دونوں عذابوں کی اہمیت کی بناء پر ہوا ہے ۔ نیز یہ نشاندہی کرتا ہے کہ فرعون کی جابر اور ستم گر قوم بنی اسرائیل پر اور مظالم بھی روارکھتی تھی لیکن ان میں سے یہدو ظلم بہت شدید اور نہایت سخت تھے ۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : یہ بات بھی یاد رکھو کہ تمہارے پر وردگار نے اعلان کیا کہ اگرمیری نعمتوں کا شکر بجا لاؤ تو یقینا میں تمہاری نعمتوں میں اضافہ کروں گا اور اگر کفران کرو تو میرا عذاب اور سزا شدیدہے( وَإِذْ تَاٴَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاٴَزِیدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِی لَشَدِیدٌ ) ۔(۴)

ہوسکتا ہے کہ یہ آیت بنی اسرائیل سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی گفتگو کا تسلسل ہو ۔ آپ (علیه السلام) نے انہیں اس نجات ، کامیابی اور نعمات ِ فراواں پر شکر گزاری کی دعوت دی اور ان سے نعمت میں اضافے کا وعدہ کیا اور کفران کی صورت میں عذاب کی تہدید کی اور یہ ممکن ہے کہ یہ ایک مستقل جملہ ہو او ر مسلمانوں سے خطاب ہو لیکن بہر حال نتیجے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اگر بن اسرائیل کو خطاب ہو پھربھی قرآن مجید میں ہمارے لئے ایک اصلاحی درس کے طور پر آیا ہے ۔

یہ امر جاذب نظر ہے کہ شکر کے بارے میں صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے ” لا زید نکم “ ( یقینا میں اپنی نعمت تم پر زیادہ کر دوں گا ) ۔

جب کہ کفران نعمت کے بارے میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ تمہیں عذاب کروں گا بلکہ ارشاد ہوتا ہے :” میرا عذاب شدید ہے “ تعبیر کا یہ فر ق پر وردگار ک اانتہائی لطف و کرم ہے ۔

____________________

۱۔حضرت موسی بن عمران علیہ السلام سے ظاہر ہونے والے معجزات کی طرف زیر نظر آیت میں لفظ” آیات“کے ذریعے اشارہ کیا گیا ہے ۔ سورہ بنی اسرائیل کی آیت ۱۰۱کے مطابق وہ تو اہم معجزات تھے جن کی تفصیل اس آیت کے ضمن میں آئے گی ( انشاء اللہ ) ۔

۲۔مفردات راغب ، تفسیر المنا ر( جلد ۱ ص ۳۰۸ اور تفسیر ابو الفتوح رازی کی جلد ۷ ص ۷ کی طرف رجوع کریں ۔

۳۔ توجہ رہے کہ تھوڑے سے فرق کے ساتھ اس آیت کی نظیر سورہ بقرہ کی آیت ۴۹ میں بھی ہے ۔

۴۔تاٴذن باب تفعل سے ہے اور تاکید سے اعلان کرنے کے معنی میں ہے کیونکہ اس سے افعال کا مادہ ” ایذان “ اعلان کے معنی میں ہے اور جب تفعل کے معنی میں آئے تو اس سے اضافہ اور تاکید کا استفادہ ہوتا ہے ۔


چند اہم نکات

۱ ۔ ایام اللہ کی یاد آوری

۱ ۔ ایام اللہ کی یاد آوری : جیسا کہ ہم نے مندر جہ بالا آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ ” اللہ “ کی طرف ” ایام “ کی اضافت انسانوں کی زندگی کے اہم اور تقدیر ساز دنوں کی طرف اشارہ ہے اور ان دنوں کی عظمت کی بناء پر انہیں خداکی طرف نسبت دی گئی ہے ۔ نیز اس بناء پر کہ اگر ایک عظیم نعمت الہٰی کسی لائق قوم کے شامل حال ہو۔ یا عظیم عذابِ الٰہی کسی سر کش و طغیان گر قوم کو دمن گیر ہو تو دونوں صورتوں میں تذکرہ کرو یا د وآوری کے لائق ہے ۔

آئمہ معصومین علیہم السلام سے منقوم روایات میں ”ایام اللہ “ کی تفسیر مختلف دنوں سے کی گئی ہے ۔

ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا:

( ایام الله ، یوم یقوم القائم ( علیه السلام ) و یوم الکرّة و یوم القیامة )

ایام اللہ مہدی موعود (علیه السلام)کے قیامکا دن ، رو ز رجعت او رقیامت ہیں ۔(۱)

تفسیر علی بن ابراہیم میں ہے :

ایام الله “ تین دن ہیں قیام مہدی (علیه السلام) کا دن ، موت کا دن اور قیامت کا دن ۔(۲)

ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم سے منقول ہے :ایام الله نعمائه وبلائه و ببلائه سبحانه

ایام اللہ اس کی نعمتوں اور اس کی طرف مصائب کے ذریعے آز مائشوں کے دن ہیں ۔(۳)

جیسا کہ ہم نے با رہا کہا ہے کہ اس قسم کی احادیث کبھی بھی اس با ت کی دلیل نہیں ہیں کہ مفہوم انہی میں منحصر ہے بلکہ ان میں بعض مصادیق کے بعض حصوں کا بیان ہے ۔

بہر حال عظیم دنوں کی یاد آوری ( چاہے وہ کامیابی کے دن ہو یا سختی کے ) ملتوں کی بیداری اور ہوشیاری میں بہت مؤثر ہوتی ہے ۔ اسی آسمانی پیام سے ہدایت لیتے ہوئے ہم تاریخ اسلام کے عظیم دنوں کی یاد زندہ و جاوداں رکھتے ہیں اور ان یادوں کو تازہ کرنے کے لئے ہر سال ہم نے کچھ دنوں کو مخصوص کیا ہوا ہے ، ان دنوں میں ہم اپنے ماضی کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور اس سے ہم درس لیتے ہیں ، ایسے درس کہ جو ہمارے آج کے لئے بہت زیا دہ مؤثر ہیں ۔

نیز ہماری موجودہ تاریخ خصوصاً انقلاب ِ اسلامی ایرا ن کی پر شکوہ تاریخ میں بہت دن ایسے ہیں جو” ایام اللہ “ کے مصادیق ہیں ۔ ہر سال ہمیں ان کی یاد زندہ رکھنا چاہئیے ایسی یاد کہ جس میں شہیدوں ، غازیوں ، مجاہدوں اور عظیم دلاوروں کی یاد ررچی بسی ہو اور پھر ان سے ہدایت لینا چاہیئے ۔

لہٰذا ان عظیم دنوں کا ذکر ہمارے مدارس کی درسی کتب میں ہونا چاہئیے اور ان کی یاد ہماری اولاد کی تعلیم و تربیت کاحصہ ہونا چاہئے اور ہمیں آئندہ نسلوں کے بارے میں ” ذکرھم “ (انہیں یاد دلاؤ) کی ذمہ داری پوری کرنا چاہئیے ۔

قرآن مجید میں بھی بار ہا ” ایام اللہ “ کی یاد دہانی کر وائی گئی ہے ۔ بنی اسرائیل کے بارے میں بھی او رمسلمانوں کے بارے میں بھی نعمتوں اور سختیوں کے دنوں کو یاد رکھا گیا ہے ۔

۲ ۔ جابروں کے طور طریقے

ہم نے بار ہا قرآنی آیات میں پڑھا ہے کہ فرعونی بنی اسرائیل کے لڑکوں کو ذبح کردیتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رکھتے تھے ۔ یہ کام صرف فرعون اور فرعونی نہیں کرتے تھے بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ ہر استعمار گر کا یہی شیوہ اور طریقہ تھا کہ وہ فعال جنگجو اور پر عز م قوتوں کا ایک حصہ نابود کردیتے اور دوسرے کو کمزور کرکے اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتے کیونکہ اس کے بغیر وہ اپنے استعماری اور استثماری کام کاری نہیں رکھ سکتے تھے ۔

لیکن اہم با ت یہ کہ سمجھیں کہ ایسی قوتیں کبھی تو فرعونیوں کی طرح لڑکوں کو نابود ہی کردیتی ہیں او رکبھی منشیات ، شراب اور بدکاری جیسی بری عادتوں میں غرق کرکے فعال قوتوں کو ناکارہ بنادیتی ہیں اور انہیں زندہ نما مردہ بنادیتی ہیں ۔یہی وہ چیز ہے کہ جس پر مسلمانوں کو گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ان کی نسل ِ نو ایسے کاموں پر پڑگئی اور اپنی ایمانی جسمانی قوت گنوابیٹھی تو پھر انہی جان لینا چاہئیے کہ ان کے لئے غلامی یقینی ہے ۔

۳ ۔ سب سے بڑی نعمت آزادی ہے :

یہ امر جاذب نظر ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں ” ایام اللہ “ کے ذکر کے بعد صرف ایک دن کا ذکر کیا گیا ہے ۔ وہ دن کہ جو فرعونیوں کے چنگل سے بنی سرائیل کی نجات کا دن ہے (اذانجٰکم من اهل فرعون )حالانکہ بنی اسرائیل کی تاریخ میں اور بھی بہت سے عظیم دن تھے کہ جن میں حضرت موسیٰ (علیه السلام) کی ہدایت کے زیر سایہ اللہ تعالیٰ نے انہیں عظیم نعمتیں بخشی تھیں لیکن زیر بحث آیات میں ” یوم نجات“ کا ذکر قوموں کی سر نوشت میں آزادی اور استقلال کی انتہائی اہمیت کی دلیل ہے ۔

جی ہاں ! جب تک کوئی قوم وابستگی سے نجات حاصل نہ کرے ، غلامی اور استعمار کے چنگل سے آزاد ہو اس کی صلاحتیں استعداد اور کمال ظاہر نہیں ہوسکتا اور وہ اللہ کی راہ میں قدم نہیں رکھ سکتی وہ راہ کہ شرک ، ظلم اور بیدار کے خلاف قیام کا راستہ ہے ۔

اسی بناء پر عظیم الہٰی رہبرو ں کا پہلا کا یہی تھا کہ وہ قوموں کو فکری ، ثقافتی ، سیاسی او ر اقتصادی غلامی سے آزاد کروائیں اور اس کے بعدکوئی اور کام کریں اور توحید و انسانیت کے پروگراموں کو عملی شکل دیں ۔

۴ ۔ شکر نعمت اور کفران ِ نعمت کا نتیجہ

اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی عطا کردہ نعمتوں پر ہمارے تشکر کا محتاج نہیں اور اگر وہ شکر گزاری کا حکم دیتا ہے تو وہ بھی ہم پر ایک اور نعمت کا موجب ہے اور ایک اعلیٰ درجے کا تربیتی انداز ہے ۔

اہم بات یہ ہے کہ ہم دیکھیں کہ شکر کی حقیقت کیا ہے تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ اس کا نعمت کی زیادتی سے کیا تعلق ہے او رکس طرح وہ خود ایک عامل ِ تربیت ہو سکتا ہے ۔

شکر کا مطلب یہ نہیں کہ صرف زبانی شکر کیا جائے یا”الحمد للہ “ وغیرہ کہا جائے بلکہ شکر کے تین مراحل ہیں :

پہلا مرحلہ یہ ہے کہ سنجیدگی سے غور کیا جائے کہ نعمت عطا کرنے والا کون ہے ۔یہ توجہ ، ایمان اور آگاہی شکر کا پہلا ستون ہے ۔

دوسرا مرحلہ اس سے بھی بالاتر ہے اور وہ عمل کا مرحلہ ہے یعنی عملی شکر یہ ہے یعنی ہم پوری طرح سے غور کریں کہ ہر نعمت ہمیں کس مقصد کے لئے دی گئی ہے اور اسے ہم اس کے اپنے مقام پر صرف کریں اور اگر ایسا نہ کیا توپھر ہم نے کفر ان نعمت کیا ۔ جیسا کہ بزرگوں نے فرمایاہے :الشکر صرف العبد جمیع ما انعمه الله تعالیٰ فیماخلق لاجله

شکر یہ ہے کہ بندہ ہر نعمت کو ا س کے مصرف ہی میں صرف کرے ۔

واقعاً خدا نے ہمیں آنکھیں دی ہیں ، اس نے ہمیں دیکھنے اور سننے کی نعمت کیوں بخشی ہے ۔ کیا اس کے علاوہ کوئی مقصد تھا کہ ہم جہاں میں ا سکی عظمت کو دیکھیں ، راہ حیات کو پہچانیں اور ان وسائل کے ذریعے تکامل و ارتقاء کی طرف قدم بڑھائیں اور ، ادراک ، حق کریں ، حمایت ِ حق کریں ، اس کا د فاع کریں اور باطل کے خلاف جنگ کریں ۔ اگر خد اکی ان عظیم نعمتوں کو ہم نے ان کے راستے میں صر ف کیا تو ان کا عملی شکر ہے اور اگر یہ نعمتیں طغیان ، خود پرستی ، غرور، غفلت اور خدا سے دوری کا ذریعہ بن گئیں تو یہ عین کفران ہے ۔

امام صاد ق علیہ السلام فرماتے ہیں :

ادنی الشکر رؤیة النعمة من الله من غیر علة یتعلق القب بها دون الله ، و الرضا بما اعطاه ، وان لا تعصیه بنعمة و تخالفه بشیء من امره و نهیه بسبب من نعمته

کمترین شکریہ ہے کہ تو نعمت کو خدا کی طر ف سے سمجھے بغیر اس کے کہ تیرا اس نعمت میں مشغول رہے اور تو خد اکو بھول جائے اور ( شکر ) اس کی عطا پر راضی ہونا ہے او ر یہ کہ تو اس کی نعمت کو اس کی نافرمانی کا ذریعہ نہ بنائے اور اس کی نعمتوں سے استفادہ کرنے کے باوجود تو ا س کے اوامر و نواہی کو روندنہ ڈالے ۔۴

اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ طاقت ، علم ، قوتِ فکر و نظر ، معاشرتی حیثیت ، مال و ثروت اور تند رستی و سلامتی میں سے ہ رایک کے شکرکا راستہ کیا ہے اور کفران کی راہ کونسی ہے ۔

تفسیر نور الثقلین میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ایک حدیث بھی اس تفسیر کے لئے ایک واضح دلیل ہے ۔ آپ (علیه السلام) نے فرمایا :شکر نعمة اجتناب المحارم

شکرانِ نعمت گناہوں سے بچنے کا نام ہے ۔(۵)

یہیں سے شکر اور نعمت میں اضافے کے درمیان تعلق واضح ہو جاتا ہے کیونکہ جب بھی انسانوں نے نعمت الٰہی کو بالکل مقاصد ِنعمت کے تحت صرف کیاتو انہوں نے عملی طور پر ثابت کردیا کہ وہ اہل ہیں اور یہ اہل بیت سے زیادہ سے زیادہ فیض اور فزون تر نعمت کا سبب بنی ۔

اصولی طور پر شکر دو طرح کا ہے :

۱ ۔ شکر تکوینی اور

۲ ۔ شکر ِ تشریعی

شکر تکوینی یہ ہے کہ ایک موجود خود کو حاصل نعمات کو اپنے رشد و نمو کے لئے استعمال کرے ۔ مثلاً باغیاں دیکھتا ہے کہ باغ کے فلاں حصے میں درخت خوب پھل پھول رہے ہیں اور ان کی جتنی زیادہ خدمت کی جائے اتنے ہی زیادہ شگوفے پھوٹتے ہیں ۔ یہی امر سبب بنتا ہے کہ باغبان باغ کے درختوں کے اس حصے کی خدمت پر زیادہ تو جہ دیتا ہے اور اپنے کارکنوں کو ان کی نگہبانی کی نصیحت کرتا ہے کیونکہ درکت زبانِ حال سے پکار رہے ہوتے ہیں کہ اے باغبان ! ہم اس بات کے اہل ہیں کہ تو اپنی نعمت و احسان ہم پر زیادہ کرے ۔

وہ بھی اس پکار کا مثبت جوا دیتا ہے ۔

بسوزند چوب درختان بی بر سزا خود ہمین است مر،بی بری را

بے ثمر درختوں کی لکڑیاں جلیں کیونکہ بے ثمری کی ہی سزا ہے ۔

جہانِ شکر کی بھی یہی حالت ہے ۔فرق یہ ہے کہ درخت میں خود اختیاری نہیں ہے اور وہ فقط تکوینی قوانین کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہیں لیکن انسان اپنے ارادہ و اختیار کی طاقت سے اور تشریعی تعلیم و تربیت سے استفادہ کرتے ہوئے اس راہ پر استفادہ کرتے ہوئے اس راہ پر آگاہی سے قدم رکھ سکتے ہیں ۔

لہٰذا وہ شخص کہ جو طاقت کی نعمت کو ظلم و سر کشی کا وسیلہ بنایا ہے گویا زبان حال سے پکاررہا ہوتا ہے کہ خدا وند ! میں اس نعمت کے لائق نہیں اور جو شخص اپنی صلاحیت کو حق و عدالت کی راہ میں کام میں لاتا ہے وہ گویا زبانِ حال سے کہہ رہا ہوتا ہے کہ پر وردگار ا: میں اس لائق ہوں ، لہٰذا اضافہ فرما ۔

یہ حقیقت بھی ناقابل تردید ہے کہ جس وقت ہم شکر الہٰی بجالاتے ہیں ، چاہے وہ فکر و نظر سے ہو ، چاہے زبان سے اور چاہے عمل سے ، شکر کی یہ توانائی خود ہر مرحلے میں ایک نئی نعمت ہے اور اس طرح سے شکر کرنا ہمیں اس کی نئی نعمتوں کا مر ہون منت قرار دیتا ہے اور یوں یہ ہر گز ہمارے بس میں نہیں کہ ا س کے شکر کا حق ادا کر سکیں ۔ جیسا کہ امام سجاد علیہ السلام کی پندر مناجاتوں میں سے مناجات ِ شاکرین میں ہے :

کیف لی بتحصیل الشکر و شکرکی ایاک یفتقر الیٰ شکر ، فکلمات قلت لک الحمد و جب علی لذلک ان اقول لک الحمد

میں تیرے شکر کا حق کیسے اداکرسکتا ہوں کہ جب یہ شکر ایک اور شکر کا محتاج ہے اور جبمیں ” لک الحمد“ کہتا ہوں تو مجھ پر لازم ہے کہ اس شکر گزاری کی توفیق پر کہوں :”لک الحمد

لہٰذا انسان کے لئے مرحلہ شکر کا افضل ترین مقام یہ ہوسکتا ہے کہ اس کی نعمتوں پر شکر سے عاجزی کا اظہار کرے جیسا کہ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا:

فیمااوحی الله عز وجل الیٰ موسیٰ اشکر نی حق شکر ی فقال یا رب و کیف اشکرک حق شکرک و لیس من شکر اشکرک به الا و انت انعمت به علی قال یاموسی الان شکر تنی حین علمت ان ذٰلک منی ۔

خدا نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرا حق شکر ادا کرو تو انہوں نے عرض کیا : پر وردگارا میں تیرا حق ِ شکر کس طرح ادا کروں جب کہ میں جب بھی تیرا شکر بجا لاتا ہوں تو یہ توفیق بھی خود میرے لئے ایک نعمت ہوگی ۔

اللہ نے فرمایا : اب تونے میرا حق شکر ادا کیا جب کہ تونے جانا کہ حتی یہ توفیق بھی میری طرف سے ہے ۔(۶)

بندہ ہمان نہ کہ زتقصیر خویش عذر بہ درگاہ خدا آورد

ورنہ سزا وار خد اوند یش کس نتواندکہ بجا آورد

اچھا بندہ وہی ہے کہ جو اپنی کوتاہیو ں کا عذر بار گاہ الٰہی میں پیش کردے ورنہ اس کی خداندی کاحق کوئی بجا نہیں لاسکتا ہے ۔

____________________

۱۔ تفسیر نو ر الثقلین جلد ۲ ص ۵۲۶۔

۲۔ تفسیر نو ر الثقلین جلد ۲ ص ۵۲۶۔

۳۔۔ تفسیر نو ر الثقلین جلد ۲ ص ۵۲۶۔

۴۔سفینة البحار جلد ۱ ص ۷۱۰۔

۵۔نور الثقلین جلد ۲ ص ۵۲۹۔

۶۔ اصول کافی جلد ۴ ص ۸۰ ( باب الشکر ) ۔


شکر نعمت کے بارے میں چند اہم نکات

۱ ۔ حضرت علی (علیه السلام) نہج البلاغہ میں اپنے حکمت آمیز کلمات میں فرماتے ہیں :

اذا وصلت الیکم اطراف النعم فلا تنفروا و اقصاها بقبلة الشکر

جس وقت نعمات ِ الہٰی کا پہلا حصہ تم تک پہنچ جائے تو کوشش کرو کہ شکر کے ذریعے باقی حصے کو بھی اپنی طرف جذب کرو نہ یہ کہ شکر گزاری مین کمی کرکے اسے اپنے آپ سے دور بھگا دو۔(۱)

۲ ۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے نعمتوں پر صرف خدا کی سپاس گزاری اور تشکر کافی نہیں بلکہ ان لوگون کو بھی شکر یہ ادا کرنا چاہئیے کہ جو اس نعمت کا ذریعہ بنے ہیں اور ان کی زحمات و مشقات کا حق بھی اس طریقے سے ادا کرنا چاہئیے اور اس طرح انہیں اس راہ میں خدمات کی تشویق دلانا چاہئیے ۔ ایک حدیث میں امام علی بن الحسین علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا :

جب روز قیامت ہوگا تو اپنے بعض بندوں سے فرمائے گا: کیا تمنے فلاں شخص کا شکریہ ادا کیا ہے ۔

تو وہ عرض کرے گا : پرور دگارا : میں نے تیرا شکریہ اداکیا ہے ۔

اللہ فرمائے گا : چونکہ تو اس کا شکربجا نہیں لایا تو گویا تونے شکربھی ادا نہیں کیا ۔

پھر امام (علیه السلام) نے فرمایا:اشکر کم الله اشکر کم للناس

تم میں سے خدا کا زیادہ شکر کرنے والے وہ ہیں جو لوگوں کا زیادہ شکریہ ادا کرتے ہیں ۔(۱)

۳ ۔ خدا کی نعمتوں کی افزائش کہ جس کا شکرگزار وں سے وعدہ کیا گیا ہے صرف اس لئے نہیں ہے کہ انہیں نئی نئی مادی نعمتیں بخشی جائیں بلکہ خود شکر گزاری کہ جو خدا کی طرف خاص توجہ اور ا س کی ساحت ِ مقدس سے نئے عشق کے ساتھ ہو ایک عظیم روحانی نعمت ہے کہ جو انسانی نفوس کی تربیت اور انہیں فرامین الہٰی کی اطاعت کی طرف رغبت دلانے کے لئے بہت مؤثر ہے ۔ بلکہ شکر ذاتی طور پر زیادہ سے زیادہ معرفت الہٰی کا ذریعہ ہے ۔ اسی بناے پر علماء عقائد علم کلام میں ”وجوب معرفت الٰہی “ کو ثابت کرنے کے لئے ” وجوب شکر ِ منعم “ کی دلیل پیش کرتے ہیں ۔

۴ ۔ معاشرے میں تحریک پید اکرنے اور پیش رفت کے لئے روح شکر گزاری کاحیاء بہت اہم کردار کرتا ہے ۔ وہ لوگ کہ جنہوں نے اپنے علم و دانش سے یا فدا کاری اور شہادت سے یا کسی دوسرے طریقے سے اجتماعی اہداف کی پیش رفت کے لئے خدمت کی ، ان کی قدر دانی اور ان کا تشکر معاشرے کو آگے بڑھانے کا بہت اہل عامل ہے ۔

جس معاشرے میں تشکر اور قدر دانی کی روح مردہ ہو اس میں خدمت کے لئے لگاؤ اور گرم جوشی بہت کم ہوتی ہے ۔ اس کے بر عکس جس معاشرے میں لوگوں کی زحمتوں اور خدمتوں کی زیادہ قدر دانی کی جاتی ہو وہاں نشاط و مسرت زیادہ محسوس کی جاسکتی ہے اور ایسی قومیں زیادہ ترقی کرتی ہیں ۔

اسی حقیقت کی طرف توجہ کے سبب ہمارے ہاں گزشتہ بزرگوں کی زحمتوں کی قدر دانی کے اظہا ر کے لئے ان کے سوسالہ ، ہزار سالہ روز ولادت وغیرہ کے موقع پر اور دیگر مناسب مواقع پر پر گرام منعقد کئے جاتے ہیں اور ان کی خدمات کے تشکر اور سپاس گزاری سے لوگوں میں زیادہ سے زیادہ حرکت پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

مثلاً ہمارے ملک میں بر پا ہونے والے اسلامی انقلاب کو جو اڑھائی ہزارسالہ تاریک دور کا اختتام ہے او رایک دورِ نو کا آغاز ہے میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر سال او رہر ماہ بلکہ ہر روز شہدائے انقلاب کی یاد تازہ کی جاتی ہے ، انہیں ہدیہ عقیدت وسلام پیش کیا جاتا ہے ۔

ان تمام لوگوں کا احترام کیا جاتا ہے جو ان کی طرف منسوب ہے اور ان کی خدمات کو سرہاجاتا ہے تو یہ امر سبب بنتا ہے کہ دوسروں میں فدا کاری اور قربانی کا عشق پیدا ہو او رلوگوں میں فدا کاری کا سطح بلند تر ہو اور قرآن کی تعبیر کے مطابق اس نعمت کا تشکر اس میں اضافے کا باعث ہو او ر ایک شہید کے خون سے ہزاروں شہداء پیدا ہو اور ”لازیدنکم “ زندہ مصداق بن جائیں ۔

____________________

۱۔ نہج البلاغہ کلمات قصار شمارہ ۱۳۔

۲۔ اصول کافی جلد ۲ صفحہ ۸۱ حدیث ۳۰۔


آیات ۸،۹،۱۰

۸ ۔( وَقَالَ مُوسَی إِنْ تَکْفُرُوا اٴَنْتُمْ وَمَنْ فِی الْاٴَرْضِ جَمِیعًا فَإِنَّ اللهَ لَغَنِیٌّ حَمِیدٌ ) ۔

۹ ۔( اٴَلَمْ یَأتکُمْ نَبَاٴُ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَالَّذِینَ مِنْ بَعْدِهمْ لاَیَعْلَمُهُمْ إِلاَّ اللهُ جَائَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنَاتِ فَرَدُّوا اٴَیْدِیَهُمْ فِی اٴَفْوَاهِهِمْ وَقَالُوا إِنَّا کَفَرْنَا بِمَا اٴُرْسِلْتُمْ بِهِ وَإِنَّا لَفِی شَکٍّ مِمَّا تَدْعُونَنَا إِلَیْهِ مُرِیبٍ ) ۔

۱۰ ۔( قَالَتْ رُسُلُهُمْ اٴَفِی اللهِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ یَدْعُوکُمْ لِیَغْفِرَ لَکُمْ مِنْ ذُنُوبِکُمْ وَیُؤَخِّرَکُمْ إِلَی اٴَجَلٍ مُسَمًّی قَالُوا إِنْ اٴَنْتُمْ إِلاَّ بَشَرٌ مِثْلُنَا تُرِیدُونَ اٴَنْ تَصُدُّونَا عَمَّا کَانَ یَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأتونَا بِسُلْطَانٍ مُبِینٍ ) ۔

ترجمہ

۸ ۔ موسیٰ نے ( بنی اسرائیل سے ) کہا : اگر تم اور روئے زمین کے تمام لوگ کافر ہو جائیں تو ( خدا کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ ) خدا بے نیاز اور لائق ستائش ہے ۔

۹ ۔ کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی کہ جو تم سے پہلے تھے ۔ قوم نوح،عاد، ثمود ، اور وہ جو ان کے بعد تھے وہی کہ جن سے خدا کے علاوہ کوئی آگاہ نہیں ہے ۔ ان کے پیغمبر ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے لیکن انہوں نے ( تعجب اور استہزاء سے ) اپنے منہ پر ہاتھ رکھا کہ ہم اس چیز کے کافر ہیں جس کے لئے تم مامور ہو اور جس کی طرف تم بلاتے ہو اس کے بارے میں ہمیں شک ہے ۔

۱۰ ۔ ان کے رسولوں نے کہا: کیا اللہ کے بارے میں شک ہے ؟ وہ اللہ کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ، وہ کہ جو تمہیں دعوت دیتا ہے تاکہ تمہارے گناہ بخش دے اور تمہیں مقرر و وعدہ گاہ تک باقی رکھے ۔ انہوں نے کہا: ( ہم یہ باتیں نہیں سمجھتے ہم تو اتنی بات جانتے ہیں کہ ) تم تو ہمارے جیسے انسان ہو اور تم چاہتے ہو کہ ہمارے آباء و اجداد جن کی پوجا کرتے تھے اس سے باز رکھو تم ہمارے لئے کوئی واضح دلیل لاؤ۔

تفسیر

کیا خدا کے بارے میں شک ہے ؟

زیر نظر پہلی آیت شکر گزاری او رکفران نعمت کی بحث کی تائید و تکمیل ہے او ریہ آیت حضرت موسیٰ بن عمران کی زبانی گفتگو کے ضن میں نقل ہوئی ۔ فرمایا گیا ہے : موسیٰ نے بنی اسرائیل کو یاد دہانی کر وائی کہ اگر تم روئے زمین کے تمام لوگ کافر ہ وجائیں ( اور خدا کی نعمت کاکفران کریں )تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے کیونکہ وہ بے نیاز اور لائق ستائش ہے ۔( وَقَالَ مُوسَی إِنْ تَکْفُرُوا اٴَنْتُمْ وَمَنْ فِی الْاٴَرْضِ جَمِیعًا فَإِنَّ اللهَ لَغَنِیٌّ حَمِیدٌ ) ۔(۱)

در حقیقت شکر نعمت اور خدا پر ایمان تمہارے لئے نعمت میں اضافے ، تمہارے تکامل و ارتقاء اور تمہاری عزت و افتخار کا سبب ہے ۔ ورنہ خدا تو ایسا بے نیاز ہے کہ اگر پوری کائنات کافر ہو جائے تو ا س کے دامن ِ کبریا ئی پر کوئی گر دنہیں پڑسکتی کیونکہ وہ سب بے نیاز ہے ۔ یہاں تک کہ وہ تشکر و ستائش کا محتاج بھی نہیں کیونکہ وہ ذاتی طور پر لائق حمد ہے ( حمید) ۔

اگر اس کی ذات پاک میں نیاز و احتیاج ہوتی تو وہ واجب الوجوب نہ ہوتا ۔ لہٰذا اس کے غنی ہونے کا مدہوم یہ ہے کہ تمام کمالات اس میں جمع ہیں جو ایساہے وہ ذاتی طور پر تعریف کے لائق ہے کیونکہ ” حمید“ کامعنی اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ لائق حمد ہے ۔

اس کے بعد چند آیات میں بعض گزشتہ اقوام کا انجام بیان کیا گیاہے ۔ وہی اقوام کہ جنہوں نے نعماتِ الٰہی پر کفران ِ نعمت کا راستہ اختیار کیا او رہادیان ِ الہٰی کی دعوت پر ان کی مخالفت کی اور کفر کی راہ اپنائی ۔ ان آیات میں ان کی منطق اور ان کے انجام کی تشریح کی گئی ہے تاکہ گزشتہ آیت کے مضمون پر تاکید ہو جائے ارشاد ہوتا ہے : کیا تم تک ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی ہے کہ جو تم سے پہلے تھے( اٴَلَمْ یَأتکُمْ نَبَاٴُ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُم ) ۔

ہو سکتا ہے کہ جملہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی گفتگو کا آخری حصہ ہو او ریہ بھی ممکن ہے کہ قرآن کی طرف سے مسلمانوں کو خطاب کی صورت میں ایک مستقل بیان ہو ۔ بہر حال نتیجے کے لحاظ سے دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں ۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : قوم نوح ، عاد اور ثمود جیسی قومیں او روہ کہ جو ان کے بعد تھیں( قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَالَّذِینَ مِنْ بَعْدِهم ) ۔

وہی کہ جنہیں خد اکے علاوہ کوئی نہیں پہچانتا اور اس کے علاوہ کوئی ان کے حالات سے آگاہ نہیں ہے( لاَیَعْلَمُهُمْ إِلاَّ الله ) ۔(۲)

اس کے بعد کی سر گزشت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے :ان کے پیغمبر واضح دلائل کے ساتھ ان کی طرف آئے لیکن انہوں نے تعجب و انکار کی بناء پر اپنے منہ ہاتھ رکھ کر کہا کہ جن چیزوں کے لئے تم بھیجے گئے ہو ہم ان سے کفر کرتے ہیں( جَائَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنَاتِ فَرَدُّوا اٴَیْدِیَهُمْ فِی اٴَفْوَاهِهِمْ وَقَالُوا إِنَّا کَفَرْنَا بِمَا اٴُرْسِلْتُمْ بِهِ ) ۔کیونکہ ” ہم ہر اس چیز کے بارے میں شک رکھتے ہیں کہ جس کی طرف تمہیں دعوت دیتے ہو “ اور اس شک کے ہوتے ہوئے کس طرح ممکن ہے کہ ہم تمہاری دعوت قبول کرلیں( وَإِنَّا لَفِی شَکٍّ مِمَّا تَدْعُونَنَا إِلَیْهِ مُرِیبٍ ) ۔

یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ انہوں نے پہلے انبیاء کے بارے میں کفر اور بے ایمانی کااظہار کیا لیکن اس کے بعد انہوں نے کہا ہمیں شک ہے او رلفظ ” مریب “ کے ساتھ اپنی بات مکمل کی ، یہ دونوں چیزیں آپس میں کیا مناسبت رکھتی ہیں ؟۔

اس کا جواب یہ ہے کہ تردد و شک کا اظہار د رحقیقت عد م ایمان کی علت ہے کیونکہ ایمان کے لئے یقین کی ضرورت ہے اور شک اس میں رکاوٹ ہے ۔

گزشتہ آیت میں چونکہ مشرکین اور کفار نے شک کو بنیاد قرار دیتے ہوئے عدم ایمان کا اظہار کیا لہٰذا بعد والی آیت میں بلا فاصلہ مختصر سی عبارت میں واضح دلیل پیش کرکے ان کے شک کی نفی کی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : ان کے پیغمبروں نے ان سے کہا کہ کیا اس خدا کے وجود میں شک کرتے ہوکہ جو آسمانوں اور زمین کاپیدا کرنے والا ہے( قَالَتْ رُسُلُهُمْ اٴَفِی اللهِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ ) ۔

”فاطر“ در اصل شگاف کرنے والے کے معنی میں ہے لیکن یہاں پیدا کرنے والے کے لئے کنایہ کے طور پر استعمال ہوا ہے کہ جو ایک حساب شدہ پرگرام کے تحت کسی چیز کو پید اکرتا ہے اور پھر اس کی حفاظت کرتا ے کیونکہ اس کے وجود کی بر کت اور نور ہستی سے ظلمت ِ عدم چھٹ جاتی ہے اور شگافتہ ہو جاتی ہے جیسے سپیدہ سحر ظلمت ِ شب کا پر دہ چاک کردیتا ہے اور جیسے کھجور کا خوشہ اپنے غلاف کو شگافتہ کردیتا ہے اسی لئے عرب اسے ”فطر“ ( بر وزِ ”شتر“) کہتے ہیں ۔

یہ احتمال بھی ہے کہ ”فاطر“ جہان کے ابتدائی مادہ کے ٹکڑے میں شگاف کرنے کی طرف اشارہ ہو جیسا کہ جدید سائنس کہتی ہے کہ مادہ عالم مجموعی طو رپر باہم پیو ستہ چیز تی کہ جو بعد میں شگافتہ ہو کر مختلف کرّوں کی شکل میں ظاہر ہوئی ۔

بہر حال قرآن دیگر اکثر مواقع کی طرح خدا کے وجود اور صفات کو ثابت کرنے کے لئے یہاں نظام ِ عالمِ ہستی اور آسمانوں اور زمین کی خلقت کا ذکر کرتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ خدا شناسی کے مسئلے میں ا س سے زیادہ زندہ اور زیادہ روشن کوئی دلیل نہیں ۔ کیونکہ اس عجیب و غریب نظام کا ہر گوشہ اسرار سے معمور ہے کہ جو زبان ِ حال سے پکا پکار کر کہتا ہے کہ سوائے ایک قادرِ حکیم اور عالم ِ مطلق کے کوئی بھی ایسی قدرت پیش نہیں کرسکتا ۔ اسی بناء پر جس قدر انسانی علم ترقی کررہا ہے اتنے ہی اس نظام کے دلائل آشکار ہورہے ہیں اور یہ امر ہمیش ہر لمحہ خدا سے نزدیک کرتا ہے ۔

واقعاً قرآن کسی قدر عجائب و غرائب کا حامل ہے کہ جس خدا شناسی اور توحید کی بحث کو اسی ایک جملے میں استفہام ِ انکاری کی صورت میں ذکر کیاہے ۔”( افی الله شک فاطر السٰموٰت و الارض )

وہ جملہ کہ جس کے لئے تجزیہ و تحلی لاور وسیع بحث کے لئے ہزار ہا کتابیں بھی کافی نہیں ہیں ۔

اس کے بعدمنکرین کے لئے دوسرے اعتراض کا جواب دیا گیا ہے ۔ یہ اعتراض پیغمبرانِ الہٰی کی رسالت کے بارے میں ہے ( کیونکہ انہیں توحید کے بارے میں بھی شک تھا او ردعوت ِ پیغمبر کے بارے میں بھی ) ۔

یہ مسلم ہے کہ دانا و حکیم پر وردگار ا پنے بندوں کو ہر گز رہبر کے بغیر نہیں رہنے دیتا بلکہ ” وہ انبیاء بھیج کر تمہیں دعوت دیتا ہے تاکہ تہیں گناہوں اور آلوگیوں سے پاک کرے اور تمہارے گناہ بخش دے “( یَدْعُوکُمْ لِیَغْفِرَ لَکُمْ مِنْ ذُنُوبِکُمْ ) ۔(۳)

اور اس کے علاوہ ”تمہیں معین زمانے تک باقی رکھے “ تاکہ تم اپنے کمال اور ارتقاء کی راہ طے کرسکو اور اس زندگی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکو( وَیُؤَخِّرَکُمْ إِلَی اٴَجَلٍ مُسَمًّی ) ۔

در حقیقت دعوت انبیاء کے دو اہداف تھے ۔ ایک گناہوں کی بخشش یعنی انسا ن کے جسم و روح اور زندگی کی پاکیز گی اور دوسرا مقررہ مدت تک زندگی کہی بقا ۔ اور یہ دونوں در اصل ایک دوسرے کی علت و معلوم ہیں کیونکہ وہی معاشرہ باقی رہ سکتا ہے جو گناہ و ظلم سے پاک ہو۔

تاریخ میں بہت سے ایسے معاشرے تھے جو ظلم و ستم ، ہوس بازی اور طرح طرح کے گناہوں کی بناء پر” جواں مرگ“ کا شکار ہو گئے اور قرآن اصطلاح میں وہ ”اجل مسمی“ تک نہ پہنچ سکے ۔

امام صادق علیہ السلام سے اس سلسلے میں ایک جامع اور جاذب ِ نظر حدیث منقول ہے ۔ آپ (علیه السلام) نے فرمایا:( من یموت بالذنوب اکثر مما یموت بالاجال، ومن یعیش بالاحسان اکثر ممن یعیش بالاعمال )

جو لوگ گناہوں کی وجہ سے مر جاتے ہیں ان کی تعداد طبعی موت مرنے والوں سے زیادہ ہوتی ہے اور وجو نیکی کے باعث زندہ رہتے ہیں ( اور طویل عمر پاتے ہیں ) ان کی تعداد عام عمر کے ساتھ زندہ رہنے والوں سے زیادہ ہوتی ہے ۔(۴)

امام صا دق علیہ السلام ہی سے منقول ہے :

ان الرجل یذنب الذنب فیحرم صلٰوة اللیل و ان العمل السیء اسرع فی صاحبه من السکین فی اللحم ۔

بعض اوقات انسان گناہ کرتا ہے اور نیک اعمال سے مثلاً نما زتہجد سے محروم ہو جاتا ہے ۔ ( جان لو کہ ) براکام انسان کی تباہی و بر بادی میں گوشت کے لئے چھری سے زیادہ تیز ہوتا ہے ۔(۵)

ضمناًاس آیت میں اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ دعوت ِ انبیاء پر ایمان لانا اور ان کے پروگراموں پر عمل کر نا”اجل معلق “ کو روکتا ہے اور حیات ِ انسانی کو ”اجل مسمی “تک جاری و ساری رکھتا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ انسان کی ایک دو طرح کی ہوتی ہے ۔ ایک تو یہ ہے کہ انسان اپنے بد ن کی توانائی کے مطابق اختتام ِ عمر تک پہنچے اور دوسری ’ ’اجل معلق “ ہے مختلف عوامل یا ر کاوٹوں کی وجہ سے انسانی عمر کا راستے ہی میں ختم ہو جا نااور ایسا عام طور پرخود اس کے بغیر سوچے سمجھے کئے گئے اعمال کی وجہ سے اور طرح طرح کے گناہو کے باعث ہوتا ہے ۔ اس کے بارے میں ہم سورہ انعام کی آیہ ۲ کے ذیل میں بحث کرچکے ہیں ۔

لیکن اس کے باوجود ہٹ دھرم کفار نے اس حیات بخش دعوت کو قبول نہ کی اکہ جس میں واضح طور پر منطبق ِ توحید موجود تھی ۔ اور اپنے انبیاء کو ایسا جواب دیا کہ جس سے ان کی ہٹ دھرمی اور حق کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کے آثار جھلکتے تھے ۔ کہنے لگے -: تم تو ہم جیسے بشر ہو ، اس کے علاوہ کچھ نہیں( قَالُوا إِنْ اٴَنْتُمْ إِلاَّ بَشَرٌ مِثْلُنَا ) ۔علاوہ ازین ”تم چاہتے ہو کہ ہمیں اس سے روکو کہ جس کی ہمارے آباء اجداد پوجا کرتے تھے( تُرِیدُونَ اٴَنْ تَصُدُّونَا عَمَّا کَانَ یَعْبُدُ آبَاؤُنَا ) ۔

بہر حال ان سب امور سے قطع نظر ” تم ہمارے لئے کوئی واضح دلیل لاؤ“( فَأتونَا بِسُلْطَانٍ مُبِینٍ ) ۔

لیکن ہم نے با رہا کہا ہے ( اور قرآن نے بھی صراحت کے ساتھ بیان کیاہے ) کہ انبیاء و رسل کا بشر ہونا نہ صرف ان کی نبوت میں مانع نہیں بلکہ ان کی نبوت کی تکمیل کرنے والا امر ہے اور جو لوگ اس امر کی وانبیاء کی نبوت کے انکار کی دلیل سمجھتے تھے ان کا مقصد زیاد ہ تر بہانہ سازی تھا ۔

اسی طرح اس حقیقت کو جاننے کے باوجود کہ عام طور پر آنے والی نسل کا علم گزشتگان سے زیادہ ہوتا ہے ان کا آباؤ اجداد کی راہ و رسم کا سہارا لینا ایک اندھے تعصب ، بے وقعت بے ہودگی اور خرافات کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا ۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان کا یہ تقاضا کہ کوئی واضح دلیل پیش کریں ، اس بناء پر نہ تھا کہ انبیاء کے پاس کوئی واضح دلیل نہ تھی بلکہ ہم با رہا آیاتِ قرآنی میں پڑھتے ہیں کہ بہانہ جو لوگ واضح دلائل اور ”سلطان مبین“ کا انکار کرتے تھے اور ہر وقت نئی دلیل اور کسی نئے معجزے کی فرمائش کرتے رہتے تھے تاکہ اپنے لئے فرار کی راہ پیدا کرسکیں ۔ بہر حال آئندہ آیات میں ہم پڑھیں گے کہ انبیاء ان کا جواب کس طرح دیتے تھے ۔

____________________

۱۔واضح ہے کہ ”ان تکفروا “ جملہ شرطیہ ہے اور اس کی جزاےؤء محذوف ہے اور ”ان الله لغنی حمید “ اس پر دلالت کرتا ہے اور تقدیر میں اس طرح تھا :ان تکفروا لا تضروا لله شیئ

۲۔جملہ ”لایعلم الا الله “ ممکن ہے پہلے جملے پر معطوف ہو اور واؤ حذف ہو گئی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے جملے کے لئے جملہ وصفیہ کی شبیہ ہو۔

اس میں شک نہیں کہ قوم نوح، عاد، ثمود اور ان کے بعد آنے والی قوموں کے کچھ حالات ہم تک پہنچے ہیں لیکن مسلم ہے کہ بیشتر حصہ ہم تک نہیں پہنچا کہ جس سے صرف خدا ہی آگاہ ہے ۔ گزشتہ اقوام کی تاریخ میں اس قدر اسرار، خصوصیات اور جزئیات تھیں کہ شاید وہ کچھ کہ جو ہم تک پہنچا ہے ا س کے مقابلے میں جو نہیں پہنچا بہت ہی کم او رنا چیز ہے ۔

۳۔اس بارے میں کہ ”لیغفرلکم من ذنوبکم “ میں ”من “ کاکیا مفہوم ہے ، مفسرین میں اختلاف ہے ۔ بعض اسے تبعیض کے معنی میں لیتے ہیں یعنی ”تمہارے بعض گناہوں کو بخش دے گا “۔ لیکن اگر اس امر کی طرف توجہ کی جائے کہ ایمان لانا تمام گناہوں کی بخشش کا باعث ہے ، تو یہ احتمال بہت بعید معلو ہوتا ہے ۔ (”الاسلام یجب عما قبله “ اسلام ماقبل کے گناہ ساقط کردیتا ہے )بعض نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ ”من“ بدلیت کے معنی میں ہے ، اس کے مطابق اس جملے کامعنی یہ ہو گا : ”خدا تمہیں دعوت دیتا ہے کہ ایمان لانے کے بدلے تمہاے گناہ بخش دے “۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہاں ”من “ زائدہ ہے اور تاکید کے لئے آیا ہے یعنی ” خد اتمہیں ایمان کی طرف دعوت دیتا ہے تاکہ تمہارے تمام گناہ بخش دے ۔ یہ آخر ی تفسیر تمام تفاسیر سے زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے ۔

۴۔سفینة البحار جلد ۱ ص ۴۸۸ ۔

۵۔سفینة البحار جلد ۱ ص ۴۸۸ ۔


آیات ۱۱،۱۲

۱۱ ۔( قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِنْ نَحْنُ إِلاَّ بَشَرٌ مِثْلُکُمْ وَلَکِنَّ اللهَ یَمُنُّ عَلَی مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَمَا کَانَ لَنَا اٴَنْ نَأتیَکُمْ بِسُلْطَانٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللهِ وَعَلَی اللهِ فَلْیَتَوَکَّلْ الْمُؤْمِنُونَ ) ۔

۱۲ ۔( وَمَا لَنَا اٴَلاَّ نَتَوَکَّلَ عَلَی اللهِ وَقَدْ هَدَانَا سُبُلَنَا وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَی مَا آذَیْتُمُونَا وَعَلَی اللهِ فَلْیَتَوَکَّلْ الْمُتَوَکِّلُونَ ) ۔

ترجمہ

۱۱ ۔ ان کے رسولوں نے ان سے کہا : یہ ٹھیک ہے کہ تم جیسے بشر ہیں لیکن خدا اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے ( اور اسے اہل پاتا ہے ) نعمت عطا کرتا ہے ( اور اسے مقام ِ رسالت پر فائز فرماتا ہے ) اور ہم حکم خدا کے بغیر ہر گز معجزہ نہیں لاسکتے ( او رہم تمہاری دھمکیوں سے نہیں ڈرتے ) اور باایمان افراد کی طرح صرف اللہ پر توکل کرنا چاہتے ہیں ۔

۱۲ ۔ ہم اللہ پر کیوں توکل نہ کریں جب کہ اس نے ہمیں ہماری ( سعادت کی) راہوں کی طرف رہبری کی ہے اور ہم تمہاری ایذا سانیوں پریقینا صبر کریں گے ( اور اپنی رسالت کی انجام دہی سے دستبر دار نہیں ہوں گے )اور توکل کرنے والوں کی صرف اللہ پر توکل کرنا چاہیئے ۔

صرف اللہ پر توکل کرو

ان دو آیات میں انبیاء کے ہٹ دھرم دشمنوں کی بہانہ سازیوں کا جواب دیا گیا ہے کہ جن کا ذکر گزشتہ آیات میں کیا گیا تھا ۔ وہ کہ جو کہتے تھے کہ تم نوعِ بشر میں سے کیوں ہو، ان کے جواب میں پیغمبران ِ گرامی نے کہا یقینا ہم تمہی جیسے بشر ہیں لیکن خدا اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس پر احسان کرتا ہے اور اسے نعمت عطا کرتا ہے( قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِنْ نَحْنُ إِلاَّ بَشَرٌ مِثْلُکُمْ وَلَکِنَّ اللهَ یَمُنُّ عَلَی مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ) ۔

یعنی یہ امر فراموش نہ کرو کہ اگر بشر کی بجائے فرشتے کا انتکاب ہوتا تو اس کے پاس بھی اپنی طرف سے کچھ نہ ہوتا ۔ تمام نعمات کہ جن میں سے ایک رسالت و رہبری کی ہے ، خدا کی طرف سے ہیں ۔ تو جو ایسا مقام فرشتے کو دے سکتا ہے وہ انسان کو بھی دے سکتا ہے ۔

واضح ہے کہ اللہ کی طرف سے ایسی نعمت کی عطا بلا وجہ نہیں ہے اور ہم نے با رہا کہا ہے کہ خدا کی مشیت اس کی حکمت سے ہم آہنگ ہے یعنی ہم جہاں بھی پڑھیں کہ ” خدا جسے چاہتا ہے “ تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ ” خدا جسے چاہتا ہے اور اہل پاتا ہے “ یہ ٹھیک ہے کہ مقام رسالت بالآخرخدائی نعمت ہے لیکن اہلبیت (علیه السلام) بھی ذات پیغمبر میں حتماً موجود ہوتی ہے ۔

اس کے بعد دوسرے سوال کاجواب دیتے ہوئے تیسرے سوال کا جواب دیاگیاہے گویا آباؤ اجداد کی سنت کو بطور دلیل پیش کرنا اس قدر کمزور اور بے بنیاد تھا کہ ہر عاقل انسان تھوڑے سے غور و فکر سے اس کی کمزوری کو جان لیتاہے ۔ علاوہ ازہم قرآن کی دیگر آیات میں اس کا جواب دیا جاچکا ہے ۔

بہر حال تیسرے سوال کے جواب میں فرمایا گیا ہے : معجزات لانا ہمارا کام نہیں ۔ ہم کوئی جادو گر نہیں کہ ایک طرف بیٹھ جائیں اور جو شخص بھی من پسند کے معجزے کی فرمائش کرے اسے پیش کرتے رہیں اور معجزہ بے ار زش کھیل کود ہو کر رہ جائے بلکہ ” ہم کوئی معجزہ حکم الہٰی کے بغیر نہیں لاسکتے “( وَمَا کَانَ لَنَا اٴَنْ نَأتیَکُمْ بِسُلْطَانٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللهِ ) ۔

علاوہ ازیں ہر پیغمبر لوگوں کے تقاضا کے بغیر بھی اس قدر معجزہ پیش کردیتا ہے جوکافی ہوتا کہ وہ ایک کی حقانیت کے اثبات کی سند ہو ۔ اگر چہ ان کے دعوت کے مضامین اور انکا مکتب خود تنہا عظیم ترین معجزہ ہے لیکن بہانہ تراش عام طور پر ان باتوپر کان دھرتے اور ہر روز ایک نئی فرمائش کرتے ہیں اور پیغمبر اسے قبول نہ کریں تو شور و غوغا بر پا کردیتے ہیں ۔

اس کے بعد اس بناء پر کہ ان کی دھمکیوں کابھی قاطع جواب دیا جائے انبیاء اپناموقف بیان کرتے ہوئے کہتے :” تمام باایمان افراد کو صرف خدا پر بھروسہ کرنا چاہئیے “ وہی خدا کہ جس کی قدرت کے مقابلے میں تمام قدرتیں ناچیز اور حقیر ہیں( وَعَلَی اللهِ فَلْیَتَوَکَّلْ الْمُؤْمِنُونَ ) ۔

پھر مسئلہ توکل کو ایک واضح استدلال کے ساتھ بیان کرتے : ہم اللہ پر توکل کیوں نہ کریں اور تمام مشکلات میں اس کی پناہ کیوں نہ لیں ، ہم ناچیز طاقتوں اور دھمکیوں سے کیوں ڈریں جب کہ اس نے ہماری ہدایت سعا دت کی راہوں کی طرف کی ہے( وَمَا لَنَا اٴَلاَّ نَتَوَکَّلَ عَلَی اللهِ وَقَدْ هَدَانَا سُبُلَنَا ) ۔

اس نے جب کہ ہمیں سعادت کی راہوں کی طرف ہدایت ، کی افضل ترین نعمت عطا کی ہے تو یقینا وہ ہر قسم کی جارحیت ، کارشکنی اور مشکل میں ہمیں اپنی حمایت کے زیر سایہ رکھے گا ۔

پھر وہ اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہتے : اب جب کہ ہمارا سہارا خدا ہے ایسا سہار کہ جوناقابل ِ شکست ہے اور سب سے بلند ہے تو ”ہم یقینی طورپر تمہاری سب اذیتوں کے مقابلے میں پامردی اور صبر و شکیبائی دکھائیں گے “( وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَی مَا آذَیْتُمُونَا ) ۔

اور وہ اپنی بات یوں ختم کرتے: تمام توکل کرنے والوں کو صرف اللہ پر توکل کرنا چاہیئے( وَعَلَی اللهِ فَلْیَتَوَکَّلْ الْمُتَوَکِّلُونَ ) ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ مومنین اور متوکلین

۱ ۔ مومنین اور متوکلین : زیر بحث پہلی آیت میں ہے کہ مومنین کو اللہ پر توکل کرنا چاہیئے اور دوسری آیت میں ہے کہ متوکلین کو اللہ پر توکل کرنا چاہئیے ۔ گویا دوسرا جملہ پہلے کی نسبت زیادہ وسعت کا حامل ہے یعنی مومنین کے لئے تو آسان ہے کیونکہ خدا پر ایمان ہو تو یہ ایمان اس کی قدرت ، حمایت اور اس پر توکل کے ایمان سے جد ا نہیں ہوسکتا حتی کہ غیر مومنین اور سب لوگوں کے پاس خدا کے علاوہ کوئی سہار ا نہیں ہے ۔ کیونکہ جس کی طرف بھی نگاہ کریں اسکے پاس خود اپنی طرف سے تو کچھ بھی نہیں تمام نعمتیں ، طاقتیں اور عنایتیں اس کی پاک ذات کی طرف لوٹتی ہیں پس انہیں بھی اس کے آستان پر سر جھکا نا چاہیئے اور اس سے طلب کرنا چاہیئے ۔ کیونکہ یہ توکل انہیں اللہ پر ایمان کی دعوت بھی دے گا ۔

۲ ۔ انبیاء اور معجزات

زیر بحث آیات ایسے لوگوں کے لئے واضح جواب ہیں کہ جو انبیاء سے معجز کی نفی کرتے ہیں یا قرآن حکیم کے علاوہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوسرے معجزات کا انکار کرتے ہیں ۔ یہ آیات ہمیں سمجھاتی ہیں کہ انبیاء یہ ہر گز نہیں کہتے تھے کہ ہم معجزہ نہیں لائیں گے بلکہ وہ کہتے تھے کہ ہم حکم خدا اور اذن الہٰی کے بغیر یہ کام نہیں کریں گے کیونکہ معجزہ اس کاکام ہے ، ا س کے اختیار میں ہے اور جب وہ قرینِ مصلحت سمجھتا ہے ہمیں معجزہ دیتا ہے ۔

۳ ۔ توکل کی حقیقت اور فلسفہ

”توکل“ در اصل ”وکالت“ کے مادہ سے وکیل انتخاب کرنے کے معنی میں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ایک اچھا وکیل وہی ہے کو کم از کم چار صفات کا حامل ہو:

۱ ۔ کافی علم و آگاہی ۔ ۲ ۔ امانت داری ۔ ۳ ۔ طاقت و قدرت ۔ ۴ ۔ ہمدردی

شاید یہ امر بھی یا دلانے کی ضرورت نہ ہو کہ مضتلد کاموں کے لئے ایک مدافع کا انتخاب اس موقع پر ہوتا ہے کہاں انسان ذاتی طور پر دفاع پر قادر نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس موقع پر دوسری قوت سے استفادہ کرتا ہے اور اس کی طاقت و صلاحیت سے اپنی مشکل حل کرتا ہے ۔

لہٰذا خد اپر توکل کرنے کا اس کے علاوہ کوئی مفہوم نہیں کہ انسان زندگی کی مشکلات وحوادث ، مخالفین کی دشمنیوں اور سختیوں ،پیچیدگیوں اور کبھی اہداف کے راستے میں حائل رکاوٹوں میں جب خود انہیں دور کرنے کی طاقت نہ ررکھتا ہو تو اسے پنا وکیل قرار دے اور اس پر بھروسہ کرے اور خود بھی ہمت و کوشش سے باز نہ رہے بلکہ جہاں کسی کام کو خود انجام دینے کی طاقت رکھتا ہووہاں بھی مؤ ثر حقیقی خداہی کو جانے کیونکہ ایک موحد کی چشم بصیرت کے دریچے سے دیکھا جائے تو تمام قدرتوں او ر قوتوں کا سر چشمہ وہی ہے ۔

” توکل علی الله “ کا نقطہ مقابل یہ ہے کہ اس کے غیر پر بھروسہ کیا جائے ۔ یعنی کسی غیر پر تکیہ کرکے جینا ، دوسرے سے وابستہ ہونا اور اپنی ذات میں استقلال و اعتماد سے عاری ہونا ۔

علماء اخلاق کہتے ہیں کہ خد اکی توحید افعالی کا ثمرہ مستقیم توکل ہے کیونکہ جیسے ہم نے کہا ہے کہ ایک موحد کی نظر میں ہر حرکت ، ہو کوشش، ہر جنبش اور عالم میں صورت پذیر ہونے والی ہر چیز آخرکار اس جہان کی پہلی علت یعنی ذات ِ پاک خدا سے ارتباط رکھتی ہے ۔ لہٰذا ایک مؤحد کی نگاہ میں تمام طاقتیں اور کامیابیاں اسی کی طرف سے ہیں ۔

توکل کا فلسفه

جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے ا س کی طرف توجہ کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ :

اولاً: توکل علی اللہ زندگی کے سخت حوادث و مشکلات میں اس ناقابل ِ فنا منبع قدرت پر توکل انسان کی استقامت و مقاومت کا سبب بنتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب مسلمانون نے میدانِ احد میں سخت ضرب لگائی اور دشمن میدان چھوڑنے کے بعد راستے میں سے پلٹ آئے تاکہ مسلمانوں پر آخری ضرب لگائیں اور یہ خبر مسلمانوں کو پہنچی تو

قرآن کہتا ہے کہ صاحب ایمان افراد اس خطر ناک لمحے میں وحشت زدہ ہوئے جب کہ وہ اپنی فعال قوت کاایک اہم حصہ کھو چکے تھے بلکہ ” توکل “ اور قوت ِ ایمانی نے ان کی استقامت کے نمونے متعد آیات میں نظر آتے ہیں ۔ ان میں سے آلِ عمران کی آیت ۱۲۲ میں قرآن کہتا ہے :

توکل علی اللہ نے مجاہدین کے دو گروہوں کو میدانِ جہاد میں سستی سے بچا یا ۔

سورہ ابراہیم کی آیہ ۱۲ مین دشمن کے حملوں اور نقصانات کے مقابلے میں توکل اور صبر کا باہم ذکر ہوا ہے ۔

آل ِ عمران کی آیہ ۱۵۹ میں اہم کاموں کی انجام دہی کے لئے پہلے مشورے کا ، پھر پختہ ارادے کا اور پھر توکل علی اللہ کا حکم دیا گیا ہے ۔

یہاں تک کہ قرآن کہتا ہے :انه لیس له سلطان علی الذین اٰمنوا وعلی ربهم یتوکلون

شیطانی وسوسوں کا صرف وہ لوگ مقابلہ کرسکتے ہیں اور ا س کے نفوذسے بچ سکتے ہیں کہ جو ایمان اور توکل کے حامل ہوں ۔( نحل۔ ۹۹)

ان آیات سے مجموعی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ شدید مشکلات میں انسان ضعف اور کمزوری محسوص نہ کرے بلکہ اللہ کی بے پایاں قدرت پر بھروسہکرتے ہوئے اپنے آپ کو کامیاب اور فاتح سمجھے ۔ گویا توکل امید آفرین ، قوت بخش ، تقویت پہنچانے والااور استقامت مین اجافے کا سبب ہے ۔ توکل کا مفہوم اگر گوشہ نشینی اختیار کرنا اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا ہوتا تو مجاہدین اور اس قسم کے لوگوں میں تحرک پیدا کرنے کا باعث نہ بنتا ۔

اگر کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ عالم اسباب اور طبیعی عوامل کی طرف توجہ روح ِ توکل سے مناسبت نہیں رکھتی تو وہ انتہائی غلط فہمی میں مبتلاہیں کیونکہ طبیعی عوامل کے اثرات کو ارادہ الہٰی سے جدا کرنا ایک طرح کا شرک ہے ۔ کیا ایسا نہیں کہ عوامل طبیعی کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی کاہے اور سب کچھ اسی کے ارادے اور فرمان کے تحت ہے ۔ البتہ اگر عوامل کو ایک مستقل طاقت سمجھا جائے اور انہیں اس کے ارادے کے مد مقابل قرار دیا جائے تو یہ وہ مقام ہے جو روحِ توکل سے مطابقت نہیں رکھتا ۔

کیسے ممکن ہے کہ توکل کی ایسی تفسیر کی جائے حالانکہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جو متوکلین کے سید و سردار ہیں اپنے اہداف کی پیش رفت کے لئے کسی موقع ، صحیح منصوبہ، مثبت تکنیک اور مختلف ظاہری وسائل سے غفلت نہیں برتتے تھے ۔

یہ سب چیزیں ثابت کرتی ہیں کہ توکل کا وہ منفی مفہوم نہیں ہے ۔

ثانیاً:توکل علی اللہ انسان کو ان وابسگتیوں سے نجات دیتا ہے کہ جو ذلت و غلامی کا سر چشمہ ہیں اور اسے آزادی اور خود اعتمادی بخشتا ہے ۔

”توکل “ اور ”قناعت “ ہم ریشہ ہیں اور فطرتاًان دونون کا فلسفہ بھی کئی پہلوؤں سے ایک دوسرے سے مشابہت رکھتا ہے ۔ اس کے باوجود ان میں فرق بھی ہے ۔ یہاں ہم چند ایک اسلامی روایات پیش کرتے ہیں جن سے توکل کا حقیقی مفہوم اور اصلی بنیاد واضح ہو سکے ۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :ان الغنی و العز یجولان فاذا ظفرا بمواضع التوکل او طنا

بے نیازی اور عزت محوِ جستجو رہستی ہیں جہاں توکل کو پالیتی ہیں وہیں ڈیرے ڈال دیتی ہیں اور اسی مقام کو اپنا وطن بنا لیتی ہیں ۔(۱)

اس حدیث میں بے نیازی اور عزت کا اصلی وطن” توکل “ بیان کیا گیا ہے ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے ، آپ (علیه السلام) نے فرمایا: میں نے وحی الہٰی کے قاصد جبرئیل سے پوچھا کہ توکل کی اہے تو اس نے کہا :

العلم بان المخلوق لایضر ولاینفع ، ولا یعطی ولایمنع ، واستعمال الیأس من الخلق فاذا کان العبد کذٰلک لم یعمل لا حد سوی الله فهٰذا هو التوکل ۔

جب بندہ اس حقیقت سے آگاہ ہو جاتا ے کہ مخلوق نقصان پہنچاسکتی ہے نہ فائدہ اور عطا کرسکتی ہے نہ روک سکتی ہے اور وہ مخلوق کے ہاتھ سے آنکھ اٹھالیتا ہے تو پھر وہ خدا کے علاوہ کسی کے لئے کام نہیں کرتا اور اس کے سوا کسی سے امید نہیں باندھتا تو یہ ہے حقیقتِ توکل ۔(۲)

کسی نے حضرت امام علی ابن موسیی رضا علیہ السلام سے پوچھا :ماحد التوکل ؟

تو آپ (علیه السلام) نے فرمایا:ان لاتخاف مع الله احداً ( سفینة البحار ، جلد ۲ ص ۶۸۲) ۔

یہ کہ تو خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے کسی سے نہ ڈرے ۔(۳)

____________________

۱۔اصول کافی ، جلد ۲ ، باب ” “ حدیث ۳ ۔

۲۔ بحار الانوار ،جلد ۱۵، حصہ ۲ ص ۱۴چاپ قدیم

۳۔توکل کے بارے میں مزید وضاحت کے لئے کتاب ” انگیزہ پیدا ئش ِ رجوع کریں ۔


آیات ۱۳،۱۴،۱۵،۱۶،۱۷

۱۳( وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّکُمْ مِنْ اٴَرْضِنَا اٴَوْ لَتَعُودُنَّ فِی مِلَّتِنَا فَاٴَوْحَی إِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِکَنَّ الظَّالِمِینَ ) ۔

۱۴ ۔( وَلَنُسْکِنَنَّکُمْ الْاٴَرْضَ مِنْ بَعْدِهِمْ ذَلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِی وَخَافَ وَعِیدِ ) ۔

۱۵ ۔( وَاسْتَفْتَحُوا وَخَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ ) ۔

۱۶ ۔( مِنْ وَرَائِهِ جَهَنَّمُ وَیُسْقَی مِنْ مَاءٍ صَدِیدٍ ) ۔

۱۷ ۔( یَتَجَرَّعُهُ وَلاَیَکَادُ یُسِیغُهُ وَیَأتیهِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَمَا هُوَ بِمَیِّتٍ وَمِنْ وَرَائِهِ عَذَابٌ غَلِیظٌ ) ۔

ترجمہ

۱۳ ۔ جنہوں نے اپنے رسولوں سے کفر کیا انہوں نے کہا : یقینا ہم تمہیں اپنی سر زمین سے نکال باہر کریں گے مگر یہ کہ ہمارے دین کی طرف لوٹ آؤ تو ایسے موقع پر ان کے پر وردگار نے ان کی طرف وحی کی کہ میں ظالموں کو ہلاک کردوں گا ۔

۱۴ ۔ اور تمہیں ان کے بعد زمین میں سکونت بخشوں گایہ (کامیابی ) ا س کے لئے ہے کہ جو میرے مقام ( عدالت ) سے ڈرتا ہو اور میرے عذاب کا خوف رکھتا ہو۔

۱۵ ۔ انہوں نے ( خدا سے) فتح و کامرانی کا تقاضا کیا اور ہر جبار ِ منحرف نا امید اور نا بود ہوا ۔

۱۶ ۔ اس کے پیچھے جہنم ہو گی اور اسے متعفن پانی پلایاجائے گا ۔

۱۷ ۔ وہ اسے بڑی مشکل سے گھونٹ گھونٹ کرکے پئے گا اور وہ اسے خوشی سے پینے کو تیار نہیں اور ہر جگہ سے موت اس کی طرف آئے گی لیکن اس کے باوجود وہ مرے گا نہیں اور اس کے پیچھے عذاب ِ شدید ہے ۔

تفسیر

منحرف جابروں کا طرز عمل اور ان کا انجام

بے منطق افراد کا طریقہ ہے کہ جب وہ اپنی بات اور عقیدے میں کمزوری پر آگاہ ہوتے ہیں تو پھر دلیل کا راستہ چھوڑکر طاقت اور ظلم کا سہارالیتے ہیں ۔ اس جگہ پر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہت دھرم اور بہانہ ساز کافر قوموں نے جب انبیاء کی متین ورسا منطق کہ جو گزشتہ آیات میں گزر چکی ہے ،سنی تو انہوں نے اپنے انبیاء سے کہا : ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ تمہیں اپنی سر زمین سے نکال دیں گے مگر یہ کہ ہمارے دین ( بت پرستی ) کی طرف پلٹ آو

( وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّکُمْ مِنْ اٴَرْضِنَا اٴَوْ لَتَعُودُنَّ فِی مِلَّتِنَا ) ۔

یہ جاہل مغرور گویا ساری زمین کو اپنی ملکیت سمجھتے تھے اور اپنے انبیاء کو ایک شہری کے حقوق ملنے کے بھی قائل نہیں تھے ۔ اسی لئے کہتے تھے ”ارضنا“ (ہماری زمین )حالانکہ خدا نے زمین اور اس کی تمام نعمتیں صالح اور نیک لوگوں کے لئے پیدا کی ہیں اور یہ خود سر، جابر اور متکبر در حقیقت اس میں کوئی حق نہیں رکھتے چہ جائیکہ سب کچھ اپناسمجھیں ۔

ہوسکتا ہے ”لتعودنّ فی ملتنا “ ( ہمارے دین کی طرف لوٹ آؤ) سے غلط فہمی پید اہو کہ انبیاء قبل ِ رسالت بت پرستی کے مذہب پر تھے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ قطع نظر اس کے کہ وہ معصوم تھے اور قبل رسالت بھی تھے ان کی عقل ودرایت اس سے کہیں زیادہ تھی وہ ایسا احمقانہ کام کرتے پتھر اور لکڑی کے سامنے سجدہ کرتے ۔

ہو سکتا ہے یہ اس بنا ء پر ہو کہ اعلان ِ نبوت سے قبل انبیاء پر تبلیغ کی ذمہ داری نہ تھی شاید ان کی خاموشی کے سبب یہ غلط فہمی پیدا ہوئی کہ وہ مشرکین کے ہم عقیدہ تھے ۔

اس سے قطع نظر اگر چہ خطاب خود انبیاء کو ہے لیکن در حقیقت ان کے پیرو کاروں پر بھی محیط ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ان کے پیرو کار پہلے مشرکین کے مذہب پر تھے اور مشرکین کی نظر صرف انہی پر ہے ۔ نیز اصطلاح کے مطابق ” لتعودنّ“عمومی تعبیر ہے او ر باب ِ تغلیب میں سے ہے ( یعنی حکم اکثریت کو عمومیت پر محمول کرنا ) ۔(۱)

بعض دوسری قرآنی آیات کی طرف رجوع کیا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ لفظ ”عود“ جب“ ”فی “کے ساتھ ہو تو بھی بازگشت کا معنی دیتاہے ( غور کیجئے گا )

قرآن مزید کہتا ہے کہ خدا وند عالم ایسے مواقع پر پیغمبروں کی دلجوئی کرتا اور انہیں اطمینان دلاتا” اور ان کی طرف وحی کرتا کہ میں یقینا ظالموں کو ہلاک کروں گا “( فَاٴَوْحَی إِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِکَنَّ الظَّالِمِینَ ) ۔

لہٰذا ان دھمکیوں سے ہر گز نہ ڈرو اور تمہارے آہنی ارادے کی راہ میں ذرہ بر سستی بھی حائل نہیں ہونا چاہیئے ۔

ظالم منکرین چونکہ انبیاء کو اپنے علاقے سے جلا وطن کردینے کی دھمکی دیتے تھے تو خدا تعالیٰ ا س کے مقابلے میں ان سے وعدہ کرتا ہے کہ ” ہم تمہیں اس علاقے میں ان کی نابودی اور تباہی کے بعد سکونت بخشیں گے “( وَلَنُسْکِنَنَّکُمْ الْاٴَرْضَ مِنْ بَعْدِهِمْ ) ۔

لیکن یہ توفیق و کامیابی سب کو نصیب نہیں ہوتی ” یہ ان کے لئے ہے جومیرے مقام سے ڈریں اور احساس ِ ذمہ داری کریں اور اسی طرح انحراف ، ظلم اور گناہ پر ہونے والی تہدید ِعذاب سے ڈریں اور اسے سنجید گی سے لیں “( ذَلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِی وَخَافَ وَعِیدِ ) ۔

لہٰذا عنایت اور نعمت اور لطف وکرم نہ حساب کتاب کے بغیر ہے اور نہ بلاوجہ بلکہ ایسے افراد کے ساتھ مخصوص ہے کہ جو احساس ِ ذمہ داری کے ساتھ پر وردگار کے مقام ِ عدل کے مقابلے میں نہ ظلم و ستم کرتے ہیں او رنہ دعوت ِ حق کے جواب میں دشمنی کرتے ہیں ۔

اور ایسے موقع پر کہ جب انتہاہو گئی تھی اور وہ اپنی قوم کے سامنے اپنی ذمہ داری انجام دے چکے تھے، جنہیں ایمان لانا تھا لا چکے تھے اور باقی اپنے کفر پر ڈٹے ہوئے تھے اور مسلسل انبیاء و رسل کو دھمکیاں دے رہے تھے ”تو انہوں نے خدا سے فتح و کامرانی کا تقاضا کیا “( وَاسْتَفْتَحُوا ) ۔توخدا نے بھی ان سچے مجاہدوں کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اس طرح سے کہ ”منحرف جابر نا امید ، زیاں کار اور نابود ہو گئے “( وَخَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ ) ۔

خاب ” خیبة“ (بر وزن”غیبة“) کے مادہ سے مطلوب ہاتھ سے نکل جانے کے معنی میں ہے کہ جو تقریبا ناامیدی کامفہوم دیتا ہے ۔

”جبار“ یہاں متکبر اور سر کش کے معنی میں ہے ۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک عورت آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے اسے کوئی حکم دیا ۔ اس نے نافرمانی کی اور فرمان ِ پیغمبر پر عمل نہیں کیا تو آپ نے فرمایا :

( دعوها فانها جبارة ) اسے چھوڑ و یہ سر کش عورت ہے ۔(۲)

لیکن لفظ ”جبار“ کبھی کبھی خدا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جس کا ایک اور معنی ہے اور وہ ہے ”محتاج ِ اصلاح موجود کی اصلاح کرنے والا “ یا” وہ کہ جو ہر چیز پر مسلط ہے “۔(۳)

لفظ ”عنید “در اصل ”عند“ (بر وزن ”رند“) سے سمت کے معنی میں ہے ۔ یہاں انحراف اور راہ ِ حق کے علاوہ کی طرف جھکاؤ کے معنی میں ہے ۔ اسی لئے ایک حدیث میں پیغمبر اکرم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا :

کل جبار عنید من ابی ان یقول لااله الاالله

جبار ِ عنید وہے کہ جولاالہ الا اللہ کہنے سے انکار کرے ۔ ( نور الثقلین جلد ص ۵۳۲) ۔

ایک اور حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے :العنید المعرض عن الحق

عنید وہ ہے جو حق سے ر وگردانی کرے ۔ (نور الثقلین جلد ص ۵۳۲) ۔

یہ امر قابل توجہ ہے کہ ”جبار “ صفت ِ انسانی یعنی روح ِ سر کشی کی طرف اشارہ ہے اور ”عنید “ افعال ِ انسانی میں اس صفت کے اثر کی طرف اشارہ ہے کہ جو اسے حق سے منحرف کردیتا ہے ۔

اس کے بعد دوسرے جہان میں ان جبارانِ عنید کے نتیجہ عمل پر انہیں ملنے والی سزاؤں کے بارے میں دو آیات میں پانچ چیزوں کی طرف اشارہ کیاگیا ہے ۔ وہ پانچ چیزیں یہ ہیں :

۱) اس ناامید ی اور خسران کے پیچھے یا ایسے شخص کے پیچھے جہنم اور جلانے والی آگ ہوگی( مِنْ وَرَائِهِ جَهَنَّمُ ) ۔

لفظ ”وراء “ اگر چہ پس پشت کے معنی میں ( لفظ ”امام “کے مقابلے میں ) ہے لیکن ایسے مواقع پر نتیجہ اور انجام کار کے معنی میں ہے جیسا کہ فارسی میں بھی اس معنی میں یہ لفظ بہت استعمال ہوا ہے ۔ مثلاً ہم کہتے ہیں کہ اگر فلاں غذا کھاؤ تو اس کے پیچھے بیماری ہے یااگر فلاں شخص سے دوستی کر و تو اس کے پیچھے بدبختی اور پشیمانی ہے یعنی اس کا نتیجہ اور معلول اسی طرح ہے ۔

۲) اس جلانے والی آ گ میں جب وہ پیا سا ہو گا تو ہم اسے آب ِ ”صدید “ پلائیں گے( وَیُسْقَی مِنْ مَاءٍ صَدِیدٍ ) ۔

جیسا کہ علماء لغت نے کہا ہے کہ ”صدید “ ایک طر ح کی میل کچیل کو کہتے ہیں کہ جو چمڑے اور گوشت کے درمیان جمع ہوجاتی ہے ۔

یہ اس طرف اشار ہ ہے کہ میل اور خون کی طرح بد بو دار متعفن اور بد رنگ پانی اسے پلا یا جائے گا ۔

۳) یہ گنہگا ر، مجرم اور جبار ِ عنید جب دیکھے گا کہ اسے پینے کے لئے ایسا پانی ملا ہے تو بڑی تکلیف کرکے مشکل سے اسے گھونٹ گھونٹ پئے گا اگر چہ ہر گز اسے پینا نہیں چاہے گا ”بلکہ ہم ا س کے حلق میں یہ پانی ڈالیں گے “( یَتَجَرَّعُهُ وَلاَیَکَادُ یُسِیغُهُ ) ۔(۴)

۴) اسے اس قدر عذاب ، تکلیف اور ناراحتی کا سامنا ہو گا کہ ” ہر طرف سے موت اس کی طرف آئے گی لیکن اس کے باوجود وہ مرے گا نہیں “ تاکہ اپنے اعمال کا انجام بھگتے گا( وَیَأتیهِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَمَا هُوَ بِمَیِّتٍ ) ۔اگر چہ ظاہراً یو ں لگتا ہے کہ جو کچھ عذاب بیان کیا گیا ہے اس سے بڑھ کر نہیں ہو گا لیکن قرآن مزید کہتا ہے : اس کے پیچھے عذاب ِ شدید ہے( وَمِنْ وَرَائِهِ عَذَابٌ غَلِیظٌ ) ۔

اس طرح جس قدر شدید عذاب اور بر اانجام فکر انسانی میں آسکتا ہے حتیٰ کہ جو کچھ نہیں آسکتا وہ ان خود غرض ظالموں اور بے ایمان و گنہگاروں جابروں کے انتظار میں ہے ۔ ان کا بستر آگ ہے ، ان کے پینے کے لئے متعفن اور نفرت آورپانی ہے اور ان کے لئے طرح طرح کا عذاب ہے اور اس کے باوجود وہ مریں گے نہیں بلکہ زندہ رہیں گے اور اس کا مزہ چکھیں گے ۔

یہ ہر گز تصور نہیں کرنا چاہئیے کہ اس قسم کی سزائیں غیر عادلانہ ہیں کیونکہ جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ یہ سب کچھ انسانوں کے اعمال کا نتیجہ اور طبیعی اثر ہے بلکہ ان کے کام اس طرح دوسرے گھر میں مجسم ہوتے ہیں کہ جہاں عمل اپنی مناسب شکل میں مجسم ہو گا ۔

اگر ہم اپنے زمانے کے بعض ظالموں کے اعمال اور جرائم پر نظر کریں کہ جن کا ہم نے مشاہدہ کیا ہے یا ایسے گزشتہ لوگوں کی تاریخ کا صحیح طور پر مطالعہ کریں تو بعض اوقات ہم سوچتے ہیں کہ یہ سزا ئیں بھی ان کے لئے بہت کم ہیں ۔

۴۔ اسی تباہ کن جنگ ہی کو لیجئے کہ جس کا سامنا ہمیں اس وقت یہ بحث کرتے ہوئے ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کا ماحصل ایک ستم گر حکمران کی خود خواہی یا زیادہ صحیح الفاظ مین ایک پاگل جبار ِ عنید کی خود سری کے علاوہ کچھ نہیں اور اس کے لئے کسی عاقلانہ مقصد کا تصور نہیں ہوسکتا ۔ اس میں کیسے کیسے مظالم کئے گئے ہیں کہ جن کے ذکر سے زبان و قلم عاجز ہیں ۔ ہم نے خود ملک کے مغربی اسپتالوں میں مجر وحین ِ جنگ کو دیکھا ہے ۔ معصوم بچوں سے لے کر بوڑھوں اور عورتوں تک زخی حالت میں دیکھا ہے ان میں سے بہت سے اپنی آنکھیں اور ہاتھ پاؤں کھو بیٹھتے ہیں اور واقعاً ان کی ایسی حالت ہے کہ ان پر ایک نظر کی جائے تو انسان ہل کر رہ جائے ۔ تو غور کیجئے کہ جس وقت ایک ظالم او ر ستم گر لاکھوں انسانوں کو مصائب میں اس طرح تڑپائے تو ا س کے لئے کیسی سزا او ر عذاب ہونا چاہئیے ۔

____________________

۱۔اس غلط فہمی کو کا ایک اور جواب بھی دیاگیا ہے او روہ یہ کہ ”عود“ کا مادہ اگر ” الیٰ “ کے ساتھ متعدی ہو تو باز گشت اور لوٹنے کے معنی میں ہے اور اگر ”فی “ کے ساتھ متعدی ہوتو حالت کی تبدیلی کے معنی میں ہے اور باز گشت کا معنی نہیں دیتا ۔ لہٰذا ”لتعودن فی ملتنا “ کا مفہوم یہ ہے کہ تم اپنی حالت کو بدل دو اور اپنا دین چھوڑ کر ہمارے دین کو قبول کرلو۔ لیکن دیگر آیات مثلاًکلما ارادو ا ان یخرجوا منها اعید وا فیها (سجدہ :۲۰)

۲۔تفسیر فخر رازی ،مذکورہ آیت کے ذیل میں ۔

۳۔مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد ۴ ص ۲۵۹( اردو ترجمہ کی طرف رجوع کریں ۔

۴-”یسیغہ“ ”اساغة“ کے مادہ سے ہے ۔ اس کا معنی ہے ” پینے کی چیز حلق میں ڈالنا “۔


چند اہم نکات

۱ ۔ مقام ِ پروردگار سے کیا مراد ہے ؟

۱ ۔ مقام ِ پر وردگار سے کیا مراد ہے ؟ مندرجہ بالا آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ ظالموں پر کامیابی اور ان کی نابودی کے بعد زمین پر حکومت ان افراد کاحصہ ہے کہ جو ”مقام ِ الہٰی “ سے ڈریں ۔ یہاں لفظ ” مقام “ سے کیا مراد ہے ۔ اس سلسلے میں مختلف احتمالات پیش کئے گئے ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ تمام احتمالات صحیح ہوں آیت سے سب مراد ہوں :

الف: اس سے مراد محاسبہ کرتے وقت پر وردگار کی حیثیت ہے ۔ جیسا کہ قرآن کی بعض دوسری آیات میں بھی آیا ہے ۔مثلاً( و امامن خاف مقام ربه ونهی النفس عن الهوٰی )

مگر جو شخص اپنے پر وردگار کے سامنے کھڑے ہونے ڈرتارہا اور جی کو نا جائز خواہشوں سے روکتا رہا ۔ ( نازعات ۔ ۴۰) ۔اور( ولمن خاف مقام ربه جنتان )

اور جو شخص اپنے پر وردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتارہا اس کے لئے دوباغ ہیں (رحمن ۔ ۴۶) ۔

ب:”مقام “ ”قیام “ کے معنی میں ہے اور ”قیام “ نظارت و نگرانی “ کے معنی میں ہے یعنی جواللہ کی طرف سے اپنے اعمال کی شدید نظارت سے ڈرتا ہے اور احساسِ مسئولیت کرتا ہے ۔

ج:”مقام “ اجرائے عدالت اور احقاق ، حق کے لئے قیام کرنے کے معنی میں ہے یعنی جو پر وردگار کی اس حیثیت سے ڈرتے ہیں ۔

بہرحال جیس اکہ ہم نے کہا ہے کہ کوئی مانع نہیں کہ آیت کے مفہوم میں یہ سب معانی جمع ہوں ۔ یعنی وہ لوگ کہ جو خدا کو اپنے اوپر ناظر و نگران سمجھتے ہیں اور اس کے حساب اور اجزائے عدالت سے ڈرتے ہیں اور ان کا یہ خوف اصلاحی ہے کہ جو انہیں ہر کام میں احساس ذمہ داری کی دعوت دیتا ہے اور انہیں ہر قسم کی نا انصافی ، ظلم اور گناہ سے روکتا ہے ، کامیابی اور روئے زمین پر حکومت آخر کار انہی کا حصہ ہے ۔

۲ ۔ ”استفتحوا“کامفہوم

اس لفظ کی تفسیر کے بارے میں مفسرین میں اختلاف ہے ۔ بعض اسے فتح و کامرانی کے تقاضا کے معنی میں سمجھتے ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے ذکر کیاہے ۔ اس اس کا شاہد سورہ انفال کی آیہ ۱۹ میں ہے :( ان تستفتحوا فقد جائکم الفتح )

اے مومنین ! اگر تم فتح و کامرانی کا تقاضا کرتے ہوئے تو یہ فتح و کامرانی تمہارے پاس آگئی ہے ۔

بعض قضا وت کا تقاضا کرنے کا معنی لیتے ہیں ۔ یعنی انبیاء نے خدا سے تقاضا کیا کہ ان کے اور کافروں کے درمیان فیصلہ کرے ۔ اس کا شاہد سورہ اعراف کی آیہ ۸۹ ہے :( ربنا افتح بیننا و بین قومنابالحق و انت خیر الفاتحین )

خدا وند !ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کا فیصلہ کر اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔

۳ ۔ ایک جابر حکمران اور قرآن کی یہ آیت

تواریخ اور تفسیر میں آیاہے کہ ایک دن جابر حکمراں ولید بن یزید عب الملک اموی نے اپنے مستقبل کے لئے قرآن سے فال نکالی ۔ اتفاقاً ابتدائے صفحہ میں یہ آیت اس کے سامنے آگئی :”واستفتحوا وخاب کل جبار عنید “ ۔

وہ بہت زیادہ پریشان ہوا ۔ اسے سخت غصہ آیا ۔ یہاں تک کہ اس لعین نے وہ قرآن جو اس کے ہاتھ میں تھا پارہ پارہ کردیا پھر یہ اشعار پرھے :

اتوعد کل جبار عنید ؟ فها انا ذاک جبار عنید

اذا ماجئت ربک یوم حشر فقل یا رب مزقنی الولید

کیا توہے کہ جو ہر جبار عنید کو دھمکا تا ہے ؟

تویہ لے میں وہی جبار عنید ہوں

جب روز حشر اپنے پر وردگار سے ملنا

تو کہہ دینا خداوندا ! مجھے ولید نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا

زیادہ وقت نہ گزارا کہ یہ لعین اپنے دشمنوں کے ہاتھوں بد ترین طریقے سے مارا گیا ۔ انہوں نے اس کا سر کاٹ کر اسی کے محل کی چھت پر لٹکادیا اور پھر وہاں سے ہٹاکر شہر کے دروازے پر لٹکا دیا ۔ ( تفسیر قرطبی ص ۳۵۷۹) ۔


آیت۱۸

۱۸ ۔( مَثَلُ الَّذِینَ کَفَرُوا بِرَبِّهِمْ اٴَعْمَالُهُمْ کَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّیحُ فِی یَوْمٍ عَاصِفٍ لاَیَقْدِرُونَ مِمَّا کَسَبُوا عَلَی شَیْءٍ ذَلِکَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِیدُ ) ۔

ترجمہ

جنہوں نے اپنے پروردگار سے کفر کیا ان لوگوں کے اعمال خاکستر کی مانند ہیں کہ جنہیں ایک طوفانی دن میں نیز آندھی کا سامنا کرپڑے تو ان میں یہ طاقت نہیں کہ جو انہوں نے انجام دیا ہے اسے اپنے ہاتھ میں لیں اور یہ بہت دورکی گمراہی ہے ۔

تیز آندھی اور خاکستر

اس آیت میں بے ایمان افراد کے اعمال کے لئے بہت رسا او رنہایت عمدہ مثال بیان کی گئی ہے یہ آیت کفار کے انجام کے بارے میں گزشتہ آیات کی بحث کومکمل کرتی ہے ۔

ارشاد ہوتا ہے : جنہوں نے اپنے پر وردگار سے کفر کیا ان کے اعمال اس خاکستری مانند ہیں جسے ایک طوفانی روز تیز آندھی کا سامنا کرناپڑے( مَثَلُ الَّذِینَ کَفَرُوا بِرَبِّهِمْ اٴَعْمَالُهُمْ کَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّیحُ فِی یَوْمٍ عَاصِف ) ۔

جیسے کہ ایک طوفانی روزتیز آندھی کے سامنے راکھ اس طرح بکھر جاتی ہے کہ کوئی شخص اسے جمع نہیں کرسکتا اسی طرح منکرین ِ حق کے بس میں نہیں کہ جو اعمال وہ انجام دے چکے ہیں انہیں اپنے ہاتھ میں لے سکیں ۔ وہ سب تباہ و بر باد ہ وجائیں گے اور ان کے ہاتھ خالی رہ جائیں گے( لاَیَقْدِرُونَ مِمَّا کَسَبُوا عَلَی شَیْءٍ ) ۔اور یہ بہت دور کی گمراہی ہے( ذَلِکَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِیدُ ) ۔

چند اہم نکات

ان کے اعمال کو گرد و غبار کی مانند خاکستر سے تشبیہ کیوں دی گئی ہے

۱ ۔ بکھر جانے والی راکھ :

اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ان کے اعمال گردد غبار کی مانند کوئی مفید نہیں ہیں انہیں خاکستر سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ یعنی باقی ماندہ تھوڑی سی آگ ہے ۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ ہوسکتا ہے ان کے اعمال کاظاہر ہو اور اندر سے کچھ نہ ہو۔

ایک چھوٹے سے برتن میں مٹی ہو تو ہو سکتا ہے اس میں ایک خوبصورت پھول آگے لیکن اگر بہت ساری خاکستر ہو تو وہ اس قدر فضول ہے کہ اس میں سے فضول قسم کی گھاس تک نہیں اُگتی ۔

۲ ۔ کافروں کے اعمال خاکستر کی مانند ہیں :

کفار کے اعمال کو خاکستر کے ذرات میں کوئی پیوند یا جوڑ نہیں ہوتا یہاں تک کہ پانی کی مدد سے بھی انہیں ایک دوسرے سے نہیں جوڑا جا سکتا اور اس کا ہر ذرہ دوسرے سے تیزی سے لگ ہوجاتا ہے ۔

گویا یہ ایک حقیقت کی طرف اشارہ ہے اور یہ کہ مومنین کے اعمال باہم متصل اور پیوستہ ہو تے ہیں ، ان کاہر عمل دوسرے کی تکمیل کرتا ہے اور توحید و وحدت کی روح نہ صرف مومنین کے درمیان موجود ہے بلکہ ایک صاحب ِ ایمان فرد کے اعمال کے درمیان بھی موجود ہے لیکن بے ایمان افرد کے کاموں میں ایسا کوئی بہاؤ اور اتصال نہیں ہوتا ۔

۳ ۔ ایک طوفانی دن اور آندھی :

تیز آندھی چلے تو راکھ بکھر جاتی ہے لیکن ”فی یوم عاصف “( ایک طوفانی دن ) کہہ کر مزید تاکید کی گئی ہے ۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ تھوڑی دیر کے لئے چلنے والی تیز ہوا راکھ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پر پھینک دے کہ جو زیادہ دور نہ ہو ۔ لیکن اگر دن طوفانی ہو صبح سے شام تک آندھیاں چلیں اور ہر طرف سے طوفان ہوتو ظاہر ہے اس قسم کی راکھ اس طرح سے منتشر ہوگی کہ اس کا ہر ذرہ کہیں بہت دور جا پڑے گا ۔ اس طرح سے کہ کسی کے بس میں نہ ہوگا کہ اسے جمع کرسکے ۔

۴ ۔ پتوں اور راکھ کے بکھر جانے میں فرق ہے :

اگر آندھی گھاس پھوس کے ڈھیر یا پتوں پر چلے اور انہیں مختلف جگہوں اور دور دراز کے مقامات پر بکھیر دے تو پھر بھی ایک اندازہ ہوسکتا ہے لیکن اگرراکھ کے چھوٹے چھوٹے ذرے بکھر جائیں تو وہ آنکھوں سے اس طرح محو ہو ں گے کہ گویا بالکل نابود ہو گئے ہیں ۔

۵ ۔ تیز آندھی کے اثرات :

نظام ِ آفرینش میں ہوا بلکہ تیز آندھی کے بہت سے اصلاحی آثار ہیں اس کے تخریبی آثار استثنائی پہلو رکھتے ہیں ۔ بہر حال اس کے مندر جہ ذیل آثار قابل ِ توجہ ہیں :

الف : ہوا آندھی مختلف نبا تات کے بیج مختلف جگہوں پر پھیلادیتی ہے اور ایک باغبان اور کسان کی طرح سارے کرہ ارض پر بیج بکھیر دیتی ہے ۔

ب: پودوں کی تلقیح کرتی ہے اور نر کے بیج نباتات کے مادہ حصوں پر چھڑکتی ہے ۔

ج: بادلوں کو سمندروں کی سطح سے ہانک کر خشک زمینوں کی طرف لے جاتی ہے ۔

د: بلند پہاڑوں کو آہستہ آہستہ رگڑ کر نرم اور بار آور کردیتی ہے ۔

ر: قبطی منطقوں کا موسم منطقہ استوا ء کی طرف اور خط ِ استواء کا موسم سرد علاقوں کی طرف منتقل کرتی ہے اور کرہ زمین میں حرارت کو اعتدال پر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔

س: سمندر کے پانی میں موجیں پید اکرتی ہے اور اسے زیر و زبر کرتی ہے اس طرح اس میں ہوا پہنچتی ہے جب کہ سمندر کا پانی کھڑا اور جامد رہے تو متعفن ہو جائے ۔

اس طرح نباتا ت اور تمام زندہ موجودات ہواکے چلنے سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اپنی استعداد کے مطابق اس سے فائدہ اٹھاتا ہے ۔

لیکن خاکستر کم وزن ، کھوکھلی اور سیاہ روہوتی ہے ۔ اس میں کوئی زندہ موجود نہیں رہ سکتا ، یہ سر سبز اور با ر آور نہیں ہوتی۔ اس کے ذرات ایکدوسرے سے بالکل جدا جدا ہو تے ہیں ۔ جب یہ خاکستر ہو اکا سامنا کرتی ہے تو فوراً ہی منتشر ہوجاتی ہے اور اس کا بے خاصیت ظاہر بھی نظروں سے محو ہو جاتا ہے ۔

۲ ۔ ان کے اعمال کیوں کھوکھلے ہیں ؟

یہ امر قابل غور ہے کہ بے ایمان افراد کے اعمال بے وقعت کیوں ہیں وہ اپنے اعمال سے کچھ حاصل کیوں نہیں کرپاتے ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اگر توحیدی نگاہ سے دیکھاجائے اور اس کے معیاروں کے مطابق تحقیق کی جائے تو یہ امر بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ وہ چیز کہ جو عمل سے شکل پذیر ہوتی ہے وہ نیت ، ہدف اور طرز عمل ہے ۔ اگر پر وگرام ، ہدف اور مقصد صحیح ہوتو عمل بھی ایسا ہی ہوگا اور اگر کوئی اچھا عمل غلط مقصد اور بے وقعت ہدف کے لئے انجام دیا جائے تو وہ لا یعنی اور بے مفہوم ہوکر رہ جائے گا اور ا س کی حیثیت تیز آندھی کلے سامنے خاکستر کی سی ہو گی۔

غلط نہ ہو گا کہ اگر اس بحث کو ہم ایک زندہ مثال کے ذریعے واضح کریں ۔

اس وقت حقوق ِ انسانی کے نام پر مغربی دنیا میں اور بڑی طاقتوں کی طرف سے بعض کام کئے جاتے ہیں ۔انبیاء بھی حقوق ِ انسانی کے تحفظ کاپر گرام لے کر آئے تے لیکن دونوں کے ماحصل اور ثمرہ میں زمین اور آسمان کا فرق ہے ۔

جہاں خوار طاقتیں جب حقوق ِ انسانی کا دم بھر تی ہیں تو یقینا ان کا مقصد انسانی اور اخلاقی نہیں ہوتا ۔ ان کا مقصد اپنے جرائم اور استعماری طو رطریقوں پر پردہ ڈالنا ہوتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ اگر ان کے کچھ جاسو س کہیں قابوآجائیں تو وہ حقوق انسانی کے نام پر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں لیکن جب انہی کے ہاتھوں لاکھوں دیت نامی خاک و خوں میں غلطیاں ہوں یا ہمارے اسلامی ممالک میں وہ اپنے جرائم اور قباحتوں میں مصروف ہوں تو حقوقِ انسانی کو فراموش کردیتے ہیں بلکہ انہوں نے تو حقوق ِ انسانی جھوٹے اور ظالم حکمرانوں سے تعاون کی نذر کررکھے ہیں ۔

لیکن ایک سچے پیغمبر یا علی (علیه السلام) جیسے وصی پیغمبر کے نزدیک حقوق انسانی انسانوں کی حقیقی آزادی کا نام ہے ۔ وہ انسانوں کی غالمی کے طوق اور زنجیر توڑنے کی جد جہد کرتے ہیں ۔ جب وہ کسی مظلوم انسان کو دیکھتے ہیں تو تڑپ اٹھتے ہیں اور اس کی نجات کے لئے کوشش کرتے ہیں ۔

گویا جہاں خوار طاقتوں کا عمل خاکسترکی ماندد ہے جسے تیز آندھی کا سامنا ہے اور انبیاء و اوصیاء کا عمل با بر کت زمین کی طرح ہے جس سے طرح طرح کی پاکیزہ نباتات پید اہوتی ہیں اور پھل پھول اُگتے ہیں ۔

یہیں سے مفسرین کی ایک بحث واضح ہو جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ زیر نظر آیت میں اعمال سے کون سے اعمال مراد ہیں ۔ کہنا چاہئیے کہ ان کے سارے اعمال ہیں حتی کہ ان کے وہ اعمال بھی جو ظاہراً اچھے لیکن باطناً شرک و بت پرستی کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے ۔

۳ ۔ مسئلہ احباط

۳ ۔ مسئلہ احباط : جیسے ہم سورہ بقرہ کی آیہ ۲۱۷ کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں حبط ِ اعمال یعنی برے اعمال یاکفرو بے ایمانی کی وجہ سے اچھے اعمال ختم ہو جانے کا مسئلہ علماء اسلام کے درمیان اختلافی ہے لیکن حق یہ ہے کہ کہ بے ایما نی اور کفر پر اصرار اور ہٹ دھرمی نیز بعض اعمال مثلاً حسد ، غیبت اور قتل ِ نفس کی ایسی بری تاثیر ہے جو نیک اعمال اور حسنات کو بر باد کردیتی ہے ۔ زیر نظر آیت بھی حبط ِ اعمال کے امکان پر ایک اور دلیل ہے ۔( جلد ۲ تفسیر نمونہ صفحہ ۶۶ ( اردو ترجمہ )

۴ ۔ کیا ایجادات و انکشافات کرنے والوں کے لئے بھی جزا ء ہے ؟

مندرجہ بالا مباحث کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ اہم سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ علوم اور ایجاداتو انکشافات کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے سائنسدانوں نے طاقت فرسازحمتیں جھیلی ہیں اور بہ محرومیوں کو بر داشت کیا ہے تاکہ ایجاد اور انکشاف کرسکیں تاکہ اپنے ہم نوع لوگوں کے دوش سے بھاری بوجھ اتار سکیں مثلاً بجلی ایجاد کرنے والے اڈیسون نے اس قیمتی ایجاد کے لئے کیسی جانکاہ زحمتیں جھیلی ہیں ۔

اس ایجاد کی برکت سے سر سبز کھیتیوں کو ٹیوب ویل سے پانی ملا ہے ، درخت سر سبز ہوئے ہیں اور کھیت آباد ہوئے خلاصہ یہ کہ دنیا کاچہرہ ہی بدل گیا ہے ۔

اسی طرح پاسور ہے کہ جس نے جراثیم کو دریافت کرکے لاکھوں انسانوں کو موت کے خطرے سے نجات دلادی ہے ۔

کیسے یقین کیا جا سکتا ہے کہ ایسے سب افراد اس فرض کی بناء پر قعر ِ جہنم میں گراجائیں کہ وہ ایمان نہیں رکھتے تھے لیکن وہ افراد جنہوں نے عمر بھر انسانوں کی خدمت کا کوئی کام نہیں کیا ان کا مقام بہشت ہو۔

اس کا جواب یہ کہ :

اسلام کے معاشرتی اصولوں کے لحاظ سے فقط اسلام کے معاشرتی اصولوں کے لحاظ سے فقط عمل کو دیکھنا کافی نہیں بلکہ عمل کی قدر و قیمت اس کے محرک ، سبب اور مقصد کے ساتھ بنتی ہے ۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ ہسپتال ، سکول یاکوئی اور مفید عمارت تعمیر کرتے ہیں اور اظہار بھی یہ کرتے ہیں کہ ان کا مقصد اس معاشرے کی انسانی خدمت ہے جس کے وہ مرہون ِ منت ہیں حالانکہ اس پر دے کے پیچھے کوئی اور مطلب چھپا ہوتا ہے ۔ ان کا مقصد مقام و منصب ی امال و ثروت کا حصول ہوتا ہے یا وہ اپنے بچاؤ کے لئے ایسا کرتے ہیں یا وہ عوامل کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنے مادی مفادات کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں یا پھر وہ دوسروں کی نظر وں سے بچ کر خیانت کرنا چاہتے ہیں ۔

لیکن اس کے بر عکس ممکن ہے کوئی شخص پورے خلوص سے یا سوفی صدانسانی اور روحانی جذبہ سے کوئی چھوٹا سا کام انجام دے ۔

لہٰذا ضروری ہے کہ ” عظیم لوگوں “ کے عمل اور کردار کے محرک کی بھی تحقیق کی جائے ۔ اگر تحقیق کی جائے تو ان کا عمل یقینا چند اشکال سے خارج نہیں ہے ۔

الف: کبھی کسی ایجاد کا حقیقی مقصد تخریب ہوتا ہے ( جیسے اٹامک نر جی کی دریافت پہلے پہل ایٹم بم بنانے کے لئے ہوئی ) ۔

پھر اس کے ساتھ نوعِ انسان کو کچھ فائدے بھی حاصل ہو جاتے ہیں کہ جو دریافت یا ایجاد کرنے والوں کو حقیقی مقصد نہیں ہوتا یا پھر اسے ثانوی حیثیت حاصل ہوتی ہے ۔ اس سے ایجادات کرنے والوں کی ذمہ داری پوری طرح واضح ہوجاتی ہے ۔

ب: کبھی ایجاد و انکشاف کرنے والے کا مقصد مادی فوائد یانام و نمود اور شہرت کا حصول ہوتا ہے ۔ ایسا شخص درحقیقت ایک تاجر کی طرح ہے کہ جو زیادہ آمدنی کے لئے زیادہ نفع بخش چیزیں بناتاہے ۔ اس کی بنائی ہوئی چیزیں کچھ لوگوں کے لئے مفید ہوتی ہیں اور ملک کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے جب کہ اس کا مقصد سوائے آمدنی کے کچھ بھی نہیں ہوتا اور اگر کسی اور کا م میں زیادہ آمدنی ہو تو وہ اسے شروع کردیتا ہے ۔ البتہ ایسی تجارت یاپیدا وار اگر شرعی قوانین کے مطابق ہو تو غلط اور حرام کام نہیں ہوگا لیکن کوئی مقدس عمل بھی شمار نہیں ہوگا ۔

ایسی ایجادیں اور دریافتیں تاریخ میں کم نہیں ہیں کہ جو ا س قسم کے طرز فکر کی نشاندہی کرتی ہیں ۔ اگر یہ لوگ دیکھیں کہ ایسے کسی کام کی نسبت دوسرے راستے میں آمدنی زیادہ ہے اگر چہ وہ معاشرے کے لئے مضر ہو ( مثلا ً دوا سازی کی صنعت میں ۲۰ ۰/۰ منافع ہے اور ہیروئن سازی میں ۵۰ ۰/۰) تو یہ دوسرے کو ترجیح دیں گے ۔

ایسے لوگ نہ خد اسے کوئی مطالبہ رکھتے ہیں نہ اپنے ہم نوع انسانوں سے ۔ ان کا اجر وہی فائدہ اور شہرت ہے جو وہ چاہتے ہیں اور جوانہوں نے پالیا ہے ۔

ج: ایک تیسرا گروہ بھی ہے جس کے محرکات اور اسباب یقینا انسانی نہیں یا اگر وہ اللہ کے معتقد ہیں تو ان کے اہداف اور محرکات الہٰی ہیں ۔ یہ لوگ کبھی کبھی سالہا سال تجربہ گاہوں کے گوشے میں غربت و محرومی سے گزاردیتے ہیں ۔ اس امید پر کہ اپنی نوع کی کچھ خدمت کرسکیں اور جہان ِ انسانیت کوکوئی ہدیہ اور سوغات پیش کرسکیں ، کسی تکلیف زدہ کے پاؤں کی زنجیر کھول سکیں اور کسی رنجیدہ خاطر کے چہرے پر پریشانی کی پر چھائیاں دور کرسکیں ۔

ایسے افراد اگر ایمان اور الہٰی محرم رکھتے ہوں تو پھر ان کے بارے میں کوئی بحث نہیں اور اگر وہ ایمان اور الہٰی محرک نہ رکھتے ہوں لیکن ان کا محرم انسانی اور لوگوں کی خدمت ہو تو اس میں شک نہیں کہ انہیں خد اوند ِ عالم کی طرف منابس اجر اور جزا ملے گی ۔ ہو سکتاہے انہیں یہ جزا دنیا میں ملے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دوسرے جہان میں ملے یقینا خدا وند عالم و عادل انہیں محروم نہیں کر ے گا ۔ لیکن کسی طرح اور کس طرز پر ، اس کی تفصیلات ہم پر واضح نہیں ۔ بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ ”خدا اس قسم کے نیک لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتا“ ( البتہ اگر وہ ایمان قبول نہ کرنے میں جاہل قاصر ہو تو پھر مسئلہ بہت واضح ہے ) ۔

اس مسئلہ دلیل حکم عقلی کے علاوہ وہ اشارات ہیں جو آیات یا روایات میں آئے ہیں ۔ ہمارے پا س کوئی دلیل نہیں کہ ”ان الله یضیع اجر المحسنین(۱)

کے مفہوم میں ایسے افراد شامل نہ ہوں ۔ کیونکہ قرآن میں لفظ ”محسنین“ کااطلاق صرف ”مومنین “ نہیں ہوا ۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی جب ان کے پاس آئے تو انہیں پہچانے بغیر عزیز مصر سمجھتے ہوئے کہنے لگے :انانراک من المحسنین

ہم تجھے نیکو ں کاروں میں سے سمجھتے ہیں ۔

اس سے قطع نظر یہ بھی فرمان ِ الہٰی ہے :( فمن یعمل مثقال ذرة خیراً ومن یعمل مثقال ذرة شرّاً یره )

جو شخص بھی ذرہ بھر اچھا کام کرے گا اسے دیکھے گا او ر جو کوئی ذرہ بھر بر اکام کرے گا اسے دیکھے گا ۔

ایک حدیث میں علی بن یقطین کی وساطت سے امام کاظم علیہ السلام سے مروی ہے :

بنی اسرائیل میں ایک صاحبِ ایمان تھا ۔ اس کا ہماسایہ کافر تھا ۔ کافر اپنے صاحب ِ ایمان ہمسائے اچھا سلوک کرتا تھا ۔ جب وہ دنیا سے گیا تو خدا نے اس کے لئے ایک گھر بنایا تاکہ جہنم کی آگ کی تپش سے رکاوٹ ہو اور اس سے کہا گیا کہ یہ اپنے مومن ہمسائے سے تیرے نیک کے سلوک کے سبب سے ہے(۲)

عبد اللہ بن جد عان زمانہ جاہلیت کے مشہور مشرکین اور قریش کے سر داروں میں سے تھا ۔ اس کے بارے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ سے منقول ہے :

اہل جہنم میں کمترین عذاب ابن ِ جدعان کو ہو گا ۔

لوگوں نے پوچھا : یارسول اللہ ! کیوں

آپ نے فرمایا:انه کان یطعم الطعام

کیونکہ وہ بھوکوں کو کھانا کھلاتا تھا ۔(۳)

ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے :

یمن سے کچھ لوگ رسول اللہ سے بحث و تمحیص کے لئے آپ کی خدمت میں آئے ا ۔ ان میں سے ایک شخص تھا جو زیادہ باتیں کرتا تھا اور آپ سے بڑی سختی اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتا تھا ۔آنحضرت کو اتنا برا لگا کہ ناپسند ید گی کے آثارآپ کے چہرہ مبارک پر پوری طرح ظاہر ہوئے ۔ اس وقت جبرائیل آئے اور یہ پیام الہٰی آپ تک پہنچا یا کہ خدا فرماتا ہے : یہ شخص سخی ہے ۔ یہ بات سنتے ہیں رسول اللہ کا غصہ ختم ہوگیا ۔ اس کی طرف رخ کرکے آپ نے فرمایا کہ پروردگارنے مجھے اس قسم اس قسم کا پیغام دیا ہے اور اگر یہ بات نہ ہوت تو میں تجھ پر اس قسم کی سختی کرتا کہ تو دوسروں کے لئے عبرت بن جاتا ۔ اس شخص نے پوچھا : کیا آپ کے پروردگار کوسخاوت پسند ہے ؟ فرمایا : ہاں ۔ تو اس نے عرض کیا:میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سو اکوئی معبود نہیں اور آپ اس کے رسول اور فرستادہ ہیں اور اسی خدا کی قسم جس نے آپ کو مبعوث کیا ہے آج تک میں نے کسی شخص کو اپنے ہاں سے محروم نہیں پلٹا یا ۔(۴)

یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ بعض آیات اور بہت سے روایات سے معلم ہوتا ہے کہ ایمان یا یہاں تک کہ ولایت قبول ِ اعمال یا جنت میں داخلے کی شرط ہے لہٰذا اگر بے ایمان افراد سے بہترین اعمال سرزد ہوں تو وہ بار گاہ الٰہی میں مقبول نہیں ہوں گے ۔

لیکن اس سوال کا جواب دیا جا سکتا ہے کہ ”قبولیت اعمال “ کا ایک مفہوم ہے اور مناسب اجر ملنا دوسرا مسئلہ ہے لہٰذ علماء اسلام کے درمیان مشہور ہے کہ مثلاً حضور قلب کے بغیر یابعض گناہوں مثلاً غیبت سے نماز مقبول ِ بار گاہ خدا نہیں ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ایسی نمازشرعاًصحیح ہے ، فرمان الہٰی کی اطاعت ہے اور اسے ذمہ داری ادا ہوجاتی ہے اور مسلم ہے کہ فرمانِ الہٰی کی اطاعت اجر و جزا کے بغیر نہیں ہوگی ۔

لہٰذا عمل کی قبولیت در اصل عمل کا عالی مرتبہ ہوتا ہے ۔ زیر بحث مسئلے میں بھی ہم یہی بات کہتے ہیں کہ اگر انسانوں اور عوام کی خدمات ایمان کےس اتھ ہوں تو ان کا مدہوم عالی ہوگا لیکن ایسانہ ہوتو بھی بالکل بے معنی اور بغیر اجر کے نہیں ہوں گی ۔ جنت میں داخلے کے بارے میں بھی یہی جواب دیں گے کہ عمل کا اجر ضروری نہیں کہ جنت میں داخلے پر منحصر ہو۔( بحث کا نچور اور تفصیلی بحث مناسب ہے کہ اس مسئلے کی فقہی مباحث میں ہو) ۔

____________________

۱۔ یوسف ۔ ۹۰ اور بعض دیگر سورتیں ۔

۲۔ بحار الانوار جلد ص ۳۷۷ چاپ کمپانی۔

۳۔ بحار الانوار جلد ص ۳۷۷ چاپ کمپانی۔

۴۔سفینة البحار جلد ۲ ص۶۰۷۔



آیات ۱۹،۲۰

۱۹ ۔( اٴَلَمْ تَرَی اٴَنَّ اللهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ بِالْحَقِّ إِنْ یَشَاٴْ یُذْهِبْکُمْ وَیَأت بِخَلْقٍ جَدِیدٍ ) ۔

۲۰ ۔( وَمَا ذَلِکَ عَلَی اللهِ بِعَزِیزٍ ) ۔

ترجمہ

۱۹ ۔کیا تو نے دیکھا نہیں کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیاہے ، اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور نئی مخلوق لے آئے ۔

۲۰ ۔اور یہ کام خدا کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے ۔

تفسیر

خلقت حق کی اساس پر ہے

گزشتہ آیت میں باطل ک اذکر ہے ۔ وہ باطل کہ خاکستر کی طرح ہے ۔ وہ خاکستر کہ جو پراگندہ ہے اور آندھی سے ادھر ادھر بکھر جاتی ہے ۔ زیر نظر پہلی آیت میں حق کے بارے میں گفتگو ہے ۔ یہ حق کے استقرار سے متعلق ہے ۔

روئے سخن پیغمبر کی طرف کرتے دنیا کے تمام طالبان حق کے لئے نوممنے کے طور پر فرمایا گیا ہے : کیا تو نے نہیں دیکھا کہ خد انے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے( اٴَلَمْ تَرَی اٴَنَّ اللهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ بِالْحَقّ ) ۔

”حق“ جیسا کہ مفردات میں راغب نے کہا ہے در اصل ”مطابقت “ اور ہم آہنگی “ کے معنی میں ہے لیکن کے اس کے استعمال کے مواقع مختلف ہیں ۔

بعض اوقات حق ایسے کام کو کہا جاتا ہے جوحکمت کے موافق اور نظم و نسق کے مطابق کیا گیا ہو جیسا کہ قرآن میں ہے :هو الذی جعل الشمس ضیاء والقمر نور ماخلق ذٰلک الابالحق

وہ وہی ہے کہ جس نے خورشید کو روشنی او ر چاند کو نور افشانی کا ذریعہ قرار دیا ہے اس نے یہ کام حکمت اور حساب وکتاب کے بغیر انجام نہیں دیا ۔

( یونس ۔ ۵)

کبھی اس ذات کو حق کہا جاتا ہے جو اس قسم کا کام انجام دے ۔ جیسے اللہ کے لئے اسی لفظ کا اطلاق ہوا ہے :

فذٰلکم الله ربکم الحق

تمہارا یہ خدا تمہارا پروردگار ہے ۔ (یونس ۔ ۳۲)

کبھی ایسے اعتقاد کو حق کہا جاتاہے جو حقیقت کے مطابق ہو ۔ مثلاً

( فهدی الله الذی اٰمنوا لما اختلفوا فیه من الحق )

جن اعتقاد میں اختلاف کرتے ہیں خدا نے ایمان والوں کو ان میں حق کی ہدایت کی ہے ۔ (بقرہ ۔ ۲۱۳)

کبھی ایسی گفتگو او ر عمل کو حق کہا جاتا ہے کہ جو ضروری مقدار کے مطابق ہو اور اس وقت انجام دئے جب ضروری ہو ۔مثلاً( حق القول منی لاملئن جهنم )

مجھ سے یہ قول حق صاد ر ہوا ہے کہ میں جہنم کو ( گنہگاروں سے ) بھر دوں گا ۔ (سجدہ ۔ ۱۳)

بہر حال ”حق“ کے مقابل باطل ” ضلال“ ۔ ” لعب“ بیہودہ اور اس قسم کے دیگر کام ہیں لیکن زیر بحث آیت میں بلا شبہ اس پہلے معنی کی طرف اشارہ ہے ۔ یعنی عالم آفرینش کے عمارت اور آسمان و زمین سب نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کی خلقت میں نظم و نسق ،حساب وکتاب اور حکمت و ہدف ہے ۔ خدا کو انہیں خلق کرنے کی احتیاج تھی نہ اسے تنہائی سے وحشت ہو تی تھی اور نہ ان سے وہ اپنی ذات کی کسی کمی کو دور کرنا چاہتا تھا کیونکہ وہ ہر چیز سے بے نیاز ہے بلکہ یہ وسیع و عریض جہان مخلوقات کی پر ورش اور انہیں زیادہ سے زیادہ تکامل و ارتقاء ء بخشنے کی منزل ہے ۔

اس کے بعدمزید فرمایا گیا ہے : اس بات کی دلیل ہے کہ اسے تمہاری اور تمہارے ایمان لانے کی ضرورت نہیں ہے ، یہ ہے کہ ”اگر وہ ارادے کرے تو تمہیں لے جائے اور تمہاری جگہ کوئی نئی مخلو ق لے آئے “ ایسی مخلوق کہ جو ساری کی ساری ایمان رکھتی ہو اور تمہارے غلط کاموں میں سے کسی کو انجام نہ دے( إِنْ یَشَاٴْ یُذْهِبْکُمْ وَیَأت بِخَلْقٍ جَدِیدٍ ) ۔

اور یہ کام خدا کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے( وَمَا ذَلِکَ عَلَی اللهِ بِعَزِیزٍ ) ۔

اس گفتگو کی شاہد سورہ نساء کی یہ آیت ہے :

( فان تکفروا فان لله مافی السمٰوات و الارض و کان الله غنیاً حمید ان یشاء یذهبکم ایهاالناس و یأت باٰخرین و کان الله علیٰ ذٰلک قدیرا ) ۔

اگر تم کافر ہو جاؤو اس سے خدا کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ جوکچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اللہ ہے او ر خدا بے نیاز اور لائق ِ حمدہے اے لوگو!وہ جب چاہے تمہیں لے جائے اور دوسرا گروہ لے آئے او ریہ کام خدا کے لئے آسان ہے ۔ (نساء ۱۳۱ ۔تا ۔ ۱۳۳)

مذکورہ بالا آیت کے متعلق یہ تفسیر ابن عباس سے بھی نقل ہوئی ہے ۔

ایک اور احتمال بھی ہے اور وہ یہ کہ مندرجہ بالا مسئلہ معاد کی طرف اشارہ ہے یعنی خدا کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں کہ سب انسانوں کو لے جائے اور دوسری مخلوق پیدا کرنے تو کیا اس قدرت کے باوجود مسئلہ معاد دوسرے جہان کی طرف تمہاری باز گشت میں تمہیں شک ہو سکتا ہے ؟


آیات ۲۱،۲۲،۲۳

۲۱ ۔( وَبَرَزُوا لِلَّهِ جَمِیعًا فَقَالَ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِینَ اسْتَکْبَرُوا إِنَّا کُنَّا لَکُمْ تَبَعًا فَهَلْ اٴَنْتُمْ مُغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللهِ مِنْ شَیْءٍ قَالُوا لَوْ هَدَانَا اللهُ لَهَدَیْنَاکُمْ سَوَاءٌ عَلَیْنَا اٴَجَزِعْنَا اٴَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَحِیصٍ ) ۔

۲۲ ۔( وَقَالَ الشَّیْطَانُ لَمَّا قُضِیَ الْاٴَمْرُ إِنَّ اللهَ وَعَدَکُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُکُمْ فَاٴَخْلَفْتُکُمْ وَمَا کَانَ لِی عَلَیْکُمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلاَّ اٴَنْ دَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِی فَلاَتَلُومُونِی وَلُومُوا اٴَنْفُسَکُمْ مَا اٴَنَا بِمُصْرِخِکُمْ وَمَا اٴَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ إِنِّی کَفَرْتُ بِمَا اٴَشْرَکْتُمُونِی مِنْ قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِینَ لَهُمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ ) ۔

۲۳ ۔( وَاٴُدْخِلَ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِهَا الْاٴَنْهَارُ خَالِدِینَ فِیهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ تَحِیَّتُهُمْ فِیهَا سَلَامٌ ) ۔

ترجمہ

۲۱ ۔اور( قیامت کے روز ) وہ سب خدا کے سامنے ظاہر ہو ں گے تو اس وقت ضعفاء (نادان پیرو کار ) متکبرین سے کہیں گے :ہم تمہارے پیرو کار تھے ۔ تو کیا ( اب جب تمہاری پیروی کی وجہ سے ہم عذاب ِ خدا میں گرفتار ہوئے ہیں ) تم تیار ہو کہ عذاب الٰہی کاکچھ حصہ قبول کرو اور اہم سے اسکا بوجھ اٹھالو۔ تو وہ کہیں گے کہ اگر خدا نے ( عذاب سے رہائی کی طرف)ہماری ہدایت کی ہوتی تو ہم بھی تمہیں ہدایت کرتے ( معاملہ اس سے آگے نکل گیا ہے )چاہے ہم بے قرار ہوں یاصبر کریں ، ہمارے لئے کوئی فرق نجات کی راہ موجود نہیں ہے ۔

۲۲ ۔ اور جس وقت کا م تمام ہوگیا تو شیطان کہے گا کہ خدا نے تم سے حق وعدہ کیا اور میں نے تم سے (باطل )وعدہ کیا اور خلاف ورزی کی۔ میں تم پر کوئی تسلط نہیں رکھتا تھا سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں دعوت دی اور تم نے قبول کرلی ۔ لہٰذ امجھے ملامت نہ کر و، اپنے آپ کو سر زنش نہ کرو، میں تمہارا فریاد رس ہوں نہ تم میرے فریاد رس ہو ۔ تم نے جو مجھے شریک بنایا ( اور میری اطاعت کو اطاعت خدا کے ہم پلہ قرار دیا ) اور یہ تم پہلے ہی سے کرتے تھے ، میں اس سے بیزار ہوں اور میں اس کا انکار کرتاہوں ۔ یقینا ظالموں کے لئے درد ناک عذاب ہے ۔

۲۳ ۔ اور جولوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے وہ باغات بہشت میں داخل ہوں گے ۔ ایسے باغاتکہ جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ۔ وہ اپنے پر وردگار کے اذن ے ہمیشہ ان میں رہیں گے اور وہاں ان کا تحیہ سلام ہو گا ۔

تفسیر

شیطان اور ا س کے پیرو کاروں کی صریح گفتگو

گزشتہ چند آیات میں ہٹ دھرم اور بے ایمان منحرفین کے لئے دردناک عذاب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ زیر بحث آیات اسی مفہوم کاتسلسل ہیں ۔

پہلے ارشاد ہوتا ہے : روز قیامت تمام جابر ، ظالم اور کافر بار گاہ خدا وندی میں پیش ہوں گے چاہے وہ تابع ہوں یا متبوع او رپیروہوں یا پیشوا( وَبَرَزُوا لِلَّهِ جَمِیعًا ) ۔(۱)

اس وقت ضعفاء یعنی نادان پیرو کار کہ جو اندھی تقلید کی وجہ سے اپنے آپ داوی ضلالت میں سر گرداں کر چکے تھے مستکبرین سے کہ جو ان کی گمراہی کے سامل تھے ، کہیں گے : ہم تمہارے پیرو تھے ۔ اب جب کہ ہم تمہاری رہبری کے باعث ان کے سب عذابوں اور بلاؤں میں گرفتار ہوئے ہیں ، کیا ممکن ہے کہ تم بھی ان عذابوں کا کچھ حصہ قبول کر لو تاکہ ہمیں تخفیف مل جائے( فَقَالَ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِینَ اسْتَکْبَرُوا إِنَّا کُنَّا لَکُمْ تَبَعًا فَهَلْ اٴَنْتُمْ مُغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللهِ مِنْ شَیْءٍ ) ۔

لیکن وہ کہیں گے : اس کیفر ِ کردار اور عذاب سے اگر خدا ہماری ہدایت نجات کی طرف کتاتوہم بھی تمہاری راہنمائی کرتے( قَالُوا لَوْ هَدَانَا اللهُ لَهَدَیْنَاکُمْ ) ۔

لیکن افسوس کہ معاملہ اس سے آگے نکل چکا ہے ” چاہے ہم بے قرار ہوں اور جزع و فزع کریں چاہے صبر کریں ہمارے کوئی راہ ، نجات نہیں ہے “( سَوَاءٌ عَلَیْنَا اٴَجَزِعْنَا اٴَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَحِیصٍ ) ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ ایک اشکال کی وضاحت :

۱ ۔ ایک اشکال کی وضاحت : اس آیت کے سلسلے میں جو پہلا سوال سامنے آتا ہے یہ ہے کہ کیا لو گ اس جہان میں علم ، خدا کے سامنے ظاہر نہیں ہیں کہ جومذکورہ بالا آیت میں فرمایا گیا ہے کہ قیامت میں سب کے سب بارگاہ خدامیں ظاہر ہوں گے ؟

اس سوال کے جواب میں بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ اس دنیا میں لوگوں کو احساس نہیں ہے کہ وہ خود اور ان کے سب اعمال بارگاہِ خدا میں ظاہر ہیں لیکن قیامت میں یہ ظہور سب محسوس کریں گے ۔

بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہاں مراد قبروں سے نکلنا اور حساب و کتاب کے لئے عدل ِ الٰہی کی عدالت کے سامنے پیش ہونا ہے ۔

یہ دونوں تفسیریں خوب ہیں اور کوئی مانع نہیں کہ دونوں ہی آیت کے مفہوم میں داخل ہوں ۔

۲ ۔ ”( لو هدانا الله لهدیناکم ) “کامفہوم

بہت سے مفسرین کا نظر یہ ہے کہ اس سے مراد اس جہان میں عذاب الہٰی سے نجات کے طریقے کی ہدایت ہے کیونکہ یہ با ت مستکبرین اپنے پیروکاروں کے جواب میں کہیں گے کہ جب پیرو ان سے عذاب کا کچھ حصہ قبول کرنے کا تقاضا کریں گے سوال و جواب کا تقاضا ہے کہ مراد عذاب سے رہائی کے طریقے کی ہدایت ہو۔

اتفاق سے یہی تعبیر (ھدایت ) نعمات ِ بہشت تک پہنچنے کے بارے میں بھی نظر آتی ہے ۔ اہل جنت کی زبانی ہے :

( وقالوا الحمد لله الذی هدانا لهذا و ماکنا لنهتدی لولا ان هدنا الله )

وہ کہیں گے : شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمیں ان نعمتوں کی طرف ہدایت کی ہے اور اگر اس کی توقیق و ہدایت نہ ہوتی تو ہمیں ان کی راہ نہ ملتی ۔ (اعراف۔ ۴۳)

یہ احتمال بھی ہے کہ رہبران ضلالت سے جب ان کے پیرو کار تقاضا کریں گے تو اپنے تئیں گناہ سے بری کرنے کے لئے گمراہی کے تمام علمبرداروں کی طرح کہ جو اپنی خراب کاری دوسروں کے سر تھونپ دیتے ہیں ، وہ بڑی ڈھٹائی سے کہیں گے : ہم کیا کریں اگر خدا ہمیں سیدھے واستے کی ہدایت کرتا تو ہم بھی تمہیں ہدایت کرتے یعنی ہم تو مجبور تھے اور ہمارا اپنا تو کوئی ارادہ ہی نہ تھا ۔

یہی شیطان کی منطق ہے کہ جس نے اپنے آپ کو بر ی قرار دینے کے لئے خدائے عادل کی طرف جبر کی نسبت دیتے ہوئے کہا:( فبما اغوینی لاقعدن لهم صراطک المستقیم )

اب جب کہ تونے مجھے گمراہ کیا ہے تو میں بھی تیرے سیدھے راستے میں بیٹھا ان کی تاک میں رہوں گا ( اور انہیں منحرف کروں گا)( اعراف۔ ۱۶) ۔

لیکن توجہ رہے کہ مستکبریں چاہیں نہ اؤچاہیں صریح آیات ِ قرآن اور واضح روایات کی رو سے اپنے پیرو کاروں کے گناہ کی ذمہ داری کوبوجھ بہرحال انہیں اپنے کندھوں پر اٹھا نا ہوگا کیونکہ وہ انحراف کی بانی اور گمراہی کے عامل تھے البتہ پیر وکاروں کی ذمہ داری اور عذاب و سزا میں بھی کچھ کمی نہ ہوگی ۔

۳ ۔ اندھی تقلید کی مذمت

مندرجہ بالا آیت سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ :

اولا ۔ وہ لوگ جو آنکھ کان بند کرکے اس کے اور اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں کہ گویا ہر شخص کے ہاتھ اپنی باگ دوڑ تھمادیتے ہیں وہ بے وقعت اور بے حیثیت لوگ ہیں قرآن ان کے لئے ”ضعفاء“ کا لفظ استعمال کرتا ہے ۔

ثانیا ۔ ان کا اور ان کے پیشواؤں کا انجام ایک ہی ہے اور وہ بے چارے سخت ترین حالات میں بھی اپنے گمراہ رہبروں کاتعاون حاصل نہیں کر سکیں گے ۔ یہاں تک کہ ان کے رہبروں کی سزا اور عذاب میں ذرہ بھر تخفیف نہیں کروا سکیں بلکہ شاید تمسخر سے انہیں جواب دیں گے کہ بے کار واویلا کرو کیونکہ بچ نکلنے کاکوئی راستہ نہیں ہے ۔

۴ ۔ ”برزو“ اور محیص“ کا مفہوم

برزوا“ در اصل ”بروز“کے مادہ سے ظاہر ہونے اور پردے سے باہر آنے کے معنی میں ہے ۔ نیز اس کا معنی میدانِ جنگ میں صف سے باہر نکل کر حریف کے مقابلے میں آکھڑے ہونا بھی ہے ۔ اصطلاح یہ لفظ مبارزہ کرنے کے معنی میں بھی آیا ہے ۔

”محیص“ ”محص“ کے مادہ سے ہے ۔ اس کا معنی ہے عیب یا تکلیف سے نجات پانا ۔

اس کے بعد جابروں ، گنہگاروں اور شیطان کے پیروکاروں کی روز قیامت روحانی اور نفسیاتی عذا اور سزا کا منظر پیش کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے :اور جب صالح اور غیر صالح بندوں کا حساب کتاب ختم ہو جائے گا او رہر ایک اپنے قطعی انجام کا پہنچ جائے گا تو شیطان اپنے پیرو کاروں سے کہے گا کہ خدا نے تم سے حق وعدہ کیا تھا اور میں نے بی تم سے وعدہ کیا تھا ( جیسا کہ تم خود جانتے ہو وہ فضول اور بے قیمت وعدہ تھا ) پھر میں نے اپنے وعدے کے خلاف کیا

( وَقَالَ الشَّیْطَانُ لَمَّا قُضِیَ الْاٴَمْرُ إِنَّ اللهَ وَعَدَکُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُکُمْ فَاٴَخْلَفْتُکُمْ ) ۔

گویا اس طرح شیطان بھی دیگر راہِ ضلالت کے ہبرمستکبرین کا ہم آواز ہوتا ہے اور اپنے ان بد بخت پیرو کاروں پر ملامت و سر زنش کے تیر چلا تا ہے پھر مزید کہتا ہے : میں تم پر کوئی جبری طور پر مسلط نہ تھا ۔ بات صرف یہ تھی کہ میں نے تمہیں دعوت دی اور تم نے اپنی مرضی سے اسے قبول کیا( وَمَا کَانَ لِی عَلَیْکُمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلاَّ اٴَنْ دَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِی ) ۔”لہٰذا مجھے سر زنش نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو“ کہ تم نے میری شیطنت آمیز اور ظاہر الفساد دعوت کو کیوں قبول کیا( فَلاَتَلُومُونِی وَلُومُوا اٴَنْفُسَکُمْ ) ۔تم نے خود یہ کام کیا ہے لہٰذا لعنت تم پر ہو ۔

بہر حال ”پر وردگار کے قطعی حکم اور عذاب کے سامنے نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو“( مَا اٴَنَا بِمُصْرِخِکُمْ وَمَا اٴَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ ) ۔میں اعلان کرتا ہوں کہ تمہاری طرف سے مجھے شریک قرار دینے اور میری اطاعت کو اطاعت ِ الٰہی کے ہم پلہ قرار دینے سے بیزار ہوں اور میں اس کا انکا رکرتا ہوں( إِنِّی کَفَرْتُ بِمَا اٴَشْرَکْتُمُونِی مِنْ قَبْل ) ۔

اب میں سمجھا ہوں کہ ”اسی اطاعت میں شرک کرنے نے “ مجھے بھی بد بخت کیا ہے او رتمہیں بھی ، وہی بد بختی اور بے چار گی کہ جس کی تلافی کے لئے کوئی راستہ نہیں ہے ، جان لوکہ ” ظالموں کے لئے یقینادردناک عذاب ہے “۔( إِنَّ الظَّالِمِینَ لَهُمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ ) ۔

چند اہم نکات

۱۰۔ شیطان کا اپنے پیروکاروں کو سخت جواب

”شیطان “ کا مفہوم اگر چہ وسیع ہے اور ا سمیں جنوں او رانسانوں میں سے تمام طاغوطی اور وسوسہ گر شامل ہیں لیکن اس آیت اور گزشتہ آیت میں جو قرائن موجود ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں یقینا مراد شخصی طو ر پر ابلیس ہے کہ جو تمام شیطانوں کا گروشمار ہوتا ہے ۔ اسی لئے تمام مفسرین نے اسی تفسیر کا انتخاب کیا ہے ۔(۲)

اس آیت سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ شیطانی وسوسے انسان کے اختیار وارادہ کو ہر گز سلب نہیں کرتے ۔ بلکہ ان کی حیثیت ایک دعوت دینے والے سے زیادہ نہیں او ریہ انسان ہے جو اپنے ارادے سے شیطان کی دعوت قبول کرتا ہے ۔ البتہ ممکن ہے شیطانی کاموں کے لئے طبیعت ہموارہو جانے اور انسانی مقاصد کے خلاف مسلسل کام کرنے سے انسان ایسے مقام تک جاپہنچے جس سے وسوسوں کے مقابل ایک طرح کی سلبِ اختیار کی حالت پیدا ہوجائے جیسے ہم بعض منشیات کے عادی لوگوں کو دیکھتے ہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ اس کا اصل سبب اختیاری ہے لہٰذا نیجہ کچھ ہو اختیاری ہی شمار ہو گا ۔

سورہ نحل کی آیہ ۱۰۰ میں ہے :( انما سلطانه علی الذین یتولونه و الذین هم مشرکون )

شیطان کا تسلط صرف ان لوگوں پر ہے جنہوں نے اپنے لئے اس کی سر پرستی قبول کرلی ہے او رجنہوں نے اطاعت میں اسے خدا کا شریک قرار دیا ہے ۔

ضمناً شیطان ان لوگوں کو دندان شکن جواب دیتا ہے جو اپنے گناہ ا س کی گردن پر ڈال دیتے ہیں ، اپنے انحرافات کا عامل اسے شمار کرتے ہیں اور اس پر لعنت بھیجتے ہیں ۔ شیطان بعض گنہگاروں کی اس عامیانہ منطق سے برأت کا اظہار کرتا ہے ۔ در اصل انسان پر حقیقی تسلط اس کے ارادے اور عمل کاہے نہ کہ کسی اور چیز کا ۔

۲ ۔ روز حشر شیطان کا اپنے پیرو کاروں سے رابطہ

اس عظیم محضر میں شیطان کس طرح اپنے تمام پیرو کاروں سے رابطہ قائم کرسکے گا او رکس طرح انہیں ملامت کرے گا ۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یقینا خد اسے یہ طاقت دے گا ۔ در اصل شیطان کے پیرو کاروں کے لئے یہ ایک طرح کا روحانی اور نفیاتی عذاب ہے ۔ یہ اس جہان میں اس راستے پر چلنے والوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے کہ وہ ابھی سے اپنا اور اپنے رہبر کا انجام دیکھ لیں ۔ بہرحال خد اکسی طرح سے شیطان اور اس کے پیروں کے درمیان یہ ارتباط فراہم کرے گا ۔

۳ ۔ گمراہی کے دیگر پیشواون کا طرز عمل

یہ امرجاذب ِنظر ہے کہ روز قیامت ایسی ملاقات صرف شیطان اور اس کے پیروکاروں کے درمیان نہ ہوگی بلکہ ضلالت و گمراہی کے تمام پیشوااس جہاں میں ایسا ہی کریں گے ۔ وہ اپنے پیروکاروں کا ہاتھ ( خود ان کی مرضی سے ) پکڑیں گے ۔ انہیں بلاؤں اور بلاؤں اور بدبختیوں کی موجوں کی طرف کھینچ لے جائیں گے اور جب وہ دیکھیں گے کہ حالات برے ہیں تو انہیں چھوڑ کر چلتے بنیں گے ۔

یہاں تک کہ ان سے بیزاری کا اعلان کریں گے اور انہیں ملامت کریں گے ۔ بزبان اصطلاح انہیں دنیا و آخرت کے خسارے میں گرفتار کریں گے ۔

۴ ۔ ”مصرخ“ کا مطلب

”مصرخ“ اصراخ “ کے مادہ سے اصل میں ”صرخ“مدد کے لئے پکا رنے اور فریاد کرنے کے معنی میں آیاہے ۔ اس بناء پر ” مصرخ “ فریاد رس کے معنی میں ہے اور ” مستصرخ“ اس شخص کے معنی میں ہے جو فردرسی چاہے ۔

۵ ۔ شیطان کو شریک قرا ردینے سے مراد

شیطان کو شریک قرار دینے سے مراد شرکِ اطاعت ہے نہ کہ شرک ِعبادت۔

۶ ۔ ”ان الظالمین لھم عذاب الیم “کس کا جملہ ہے :

یہ جملہ شیطان کی باتوں کا آخری حصہ ہے یا پر وردگار کی طرف سے مستقل جملہ ہے ، اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے ۔ لیکن زیادہ تر یہی معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی طرف سے مستقل جملہ ہے کہ جو شیطان کی اپنے پیروکاروں سےگفتگو کے بعد ایک اصلاحی و تربیتی درس کے طور پر آیا ہے ۔

زیر بحث آخری آیت میں سر کش و بے ایمان جابر افراد کی حالت اور ان کا دردناک انجام بیان کرنے کے بعد مومنین کی حالت او ر ان کا انجام بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اور جو ایمان لائے اور اعمال صالح انجام دئے وہ باغات ِبہشت میں داخل ہو ں گے ، وہ باغات کے جن کے درختوں کے نیچے پانی نہریں جاری ہیں( وَاٴُدْخِلَ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِهَا الْاٴَنْهَارُ ) ۔ وہ اپنے پر وردگار کے اذن سے ہمیشہ ان باغات میں ر ہیں گے( خَالِدِینَ فِیهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ تَحِیَّتُهُمْ فِیهَا سَلَامٌ ) ۔

”تحیت “ در اصل ”حیات “ کے مادہ سے لیا گیا ہے بعد از اں یہ لفظ افراد کی سلامتی اور حیات کی دعا کے لئے استعمال ہونے لگا ۔ہر قسم کی سلام و دعا کہ جو ابتدائے ملاقات میں کہی جاتی ہے ، اس پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔

بعض مفسرین نے کہا ہے کہ زیر بحث آیت میں ”تحیت “ وہ خوش آمدید او ردرود و سلام جو اللہ تعالیٰ نے صاحب ایمان پر بھیجا ہے اور انہیں اپنی اپنی نعمتِ سلامتی کا ہم آغوش قرار دیتا ہے ۔

سلامتی ہر قسم کی ناراحتی اور درد و غم سے سلامتی

سلامتی ہر قسم کی جنگ و نزع سے سلامتی

اس مفہوم کی بناء پر ” تحیتھم“ کی اضافت کی طرف ہے اور اس کا فاعل خدا تعالیٰ ہے ۔

بعض نے کہا ہے کہ یہاں مراد وہ تحیہ و سلام ہے جومومنین ایک دوسرے سے کہیں گے یافرشتے ان سے کہیں گے ۔

بہر حال لفظ ” سلام “ جو بطورمطلق آیاہے ، اس کا مفہوم اس قدر وسیع ہے کہ جو ہر قسم کی سلامتی پر محیط ہے اور ہر قسم کی ناراحتی اور تکلیف سے سلامتی پرمشتمل ہے چاہے روحانی ہو یاجسمانی ۔۳

____________________

۲۔ سلام و تحیت کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ جلد چہارم ،سورہ نساء آیت ۸۶ کے ذیل میں تفصیل سے بحث کرچکے ہیں ( ص ۵۴ اردو ترجمہ کی طرف رجوع کیجئے گا ) ۔


آیات ۲۴،۲۵،۲۶،۲۷

۲۴ ۔( اٴَلَمْ تَرَی کَیْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا کَلِمَةً طَیِّبَةً کَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اٴَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِی السَّمَاءِ ) ۔

۲۵ ۔( تُؤْتِی اٴُکُلَهَا کُلَّ حِینٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا وَیَضْرِبُ اللهُ الْاٴَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَکَّرُونَ ) ۔

۲۶ ۔( وَمَثَلُ کَلِمَةٍ خَبِیثَةٍ کَشَجَرَةٍ خَبِیثَةٍ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاٴَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ ) ۔

۲۷ ۔( یُثَبِّتُ اللهُ الَّذِینَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَةِ وَیُضِلُّ اللهُ الظَّالِمِینَ وَیَفْعَلُ اللهُ مَا یَشَاءُ ) ۔

ترجمہ

۲۴ ۔ کیا تو نے دیکھا نہیں کہ کس طرح اللہ نے کلمہ طیبہ (اور گفتار پاکیزہ )کو پاکیزہ درکت سے تشبیہ دی ہے کہ جس کی جڑ( زمین میں ) ثابت ہے او رجس کی شاخ آسمان میں ہے ۔

۲۵ ۔ وہ اپنے پروردگار کے اذن سے بر وقت اپنے پھل دیتا ہے اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے کہ شاید وہ نصیحت حاصل کریں ۔

۲۶ ۔ اور ( اسی طرح ) کلمہخبیثہ کو ناپاک درخت سے تشبیہ دی ہے کہ زمین سے اکھڑ چکا ہے اور ا س کے لئے قرار و ثبات نہیں ہے ۔

۲۷ ۔ جولوگ ایمان لائے ہیں اللہ ان کی گفتار اور اعتقاد کے ثبات کی وجہ سے ثابت قدم رکھے گا ، اس جہان میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ نیز اللہ ظالموں کو گمراہ کرتاہے (اور ان سے اپنا لطف و کرم چھین لیتا ہے )اور خدا جو کام چاہے (اور قرین مصلحت سمجھے )انجام دیتاہے ۔

تفسیر

”شجرہ طیبہ“اور” شجرہ خبیثہ“

یہاں حق و باطل، ایمان وکفر او رطیب و خبیث کو ایک نہایت عمیق اور پر معنی مثال کے ذریعے مجسم کرکے بیان کیا گیا ہے ۔ یہ آیات اس سلسلے کی گزشتہ آیات کی بحث کو مکمل کرتی ہیں ۔

پہلے فرمایا گیا ہے : کیا تو نے دیکھا نہیں کہ خد انے کس طرح پاکیزہ کلام کے لئے مثال دی ہے اور اسے طیب و پاکیزہ در خت سے تشبیہ دی ہے( اٴَلَمْ تَرَی کَیْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا کَلِمَةً طَیِّبَةً کَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ ) ۔

پھر اس شجرہ طیبہ یعنی پاکیزہ و با بر کت درخت کی خصوصیات بیان کی گئی ہے اور مختصر عبارت میں ا س کے تمام پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔

اس سے پہلے کہ ہم قرآن میں موجود اس شجرہ کی خصوصیات کا مطالعہ کریں “ ہمیں دیکھنا چاہئیے کہ ”کلمہ طیبہ“ سے مراد کیا ہے ۔

بعض مفسرین نے اس کو کلمہ توحید او رجملہ ” لاالہ الا اللہ “سے تفسیر کی ہے جب کہ بعض دوسرے اسے اوامر و فرمین الٰہی کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ۔بعض اسے ایمان سمجھتے ہیں کہ جو لاالہ الااللہ کامعنی و مفہوم ہے ۔ بعض دوسروں سے اس کی ” مؤمن “‘ سے تفسیر کی ہے اور بعض نے اس کا مفہوم اصلاحی و تربیتی روش او رلائحہ عمل بیان کیا ہے ۔(۱)

لیکن ”کلمہ طیبہ“ کے مفہوم و معنی کی وسعت کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اس میں یہ تمام تفاسیر شامل ہیں کیونکہ لفظ ”کلمہ “ کے وسیع معنی میں تمام موجودات شامل ہیں ۔ اسی بناء پر مخلوقات کو ”کلمة اللہ “ کہا جاتا ہے ۔(۲)

نیز ”طیب“ ہر قسم کی پاک و پاکیزہ چیز کو کہتے ہیں ۔

نتیجہ کلام یہ ہے کہ اس مثال کے مفہوم میں ہر پاک سنت ، حکم ، پروگرام ، روش ، عمل ، انسان شامل ہے ۔ مختصر یہ کہ ہر پاک و با برکت موجود کلمہ طیبہ ہے اور یہ سب ایک پاکیزہ درخت کی طرح ہیں کہ جس کی یہ خصوصیات ہیں :

۱ ۔ وہ موجودہ کہ جو نشو و نما کا حامل ہے نہ کہ بے روح ، جامد اور بے حرکت ہے ۔ بڑھنے او پھلنے پھولنے والاہے ۔ دوسروں کی اور اپنی پرورش و اصلاح کرنے والا ہے ۔ لفظ” شجرہ “اس حقیقت کو بیان کرتا ہے ۔

۲ ۔یہ درخت پاک و طیب ہے لیکن کس لحاظ سے ، اس سلسلے میں کسی خاص پہلو کی نشاندہی نہیں کی گئی ۔ لہٰذا ا س کامفہوم یہ ہے کہ یہ ہر پہلو سے پاکیزہ ہے ۔ اس کا پھل پاکیزہ ہے ، اس کے شگوفے اور پھول پاکیزہ ہیں ، اس کا سایہ پاکیزہ ہے اور اسے خارج ہونے والی گیس پاکیزہ ہے ۔

۳ ۔ یہ درخت ایک منظم نظام کا حامل ہے ۔ اس کی جڑ اور اس کی شاخوں میں سے ہر ایک اپنی ذمہ داری ہے ۔اصولی طور پر اس میں جڑ اور شاخ ک اوجود اس میں موجود منظم نظام کی دلیل ہے ۔

۴ ۔ اس کی جڑ اور ریشہ ثابت ومستحکم ہے ۔ اس طرح سے کہ طوفان اور تند و تیز آندھیاں اسے اس کی جگہ اکھاڑ نہیں سکتیں ۔ اس میں ایسی توانائی ہے کہاس کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی شاخیں سورج کی کرنوں کے نیچے اور آزاد ہوا میں محفوظ ہیں کیونکہ جو شاخ جتنی اونچی ہو اسے اتنی ہی قوی تر جڑ کی ضرورت ہے( اٴَصْلُهَا ثَابِتٌ ) ۔

۵ ۔ اس شجرہ کی شاخیں کسی پست اور محدود ماحول میں نہیں ہیں بلکہ وہ آسمان کی بلندیوں میں ہیں ۔ یہ شاخیں ہو اکا سینہ چیز کی بلندی پر جاپہنچیں ہیں ۔ جیا ہاں ”اس کی شاخیں آسمان میں ہیں “( وَفَرْعُهَا فِی السَّمَاءِ ) ۔

واضح ہے کہ شاخیں جس قدر بلند ہو ں گی ، زمین کے گرد وغبار سے اتنی ہی دور ہو ں گی اور ان کے پھل اتنے ہی زیادہ پاکیزہوں گے اور ایسی شاخیں سورج کی کرنوں اور پاکیزہ ہوا سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گی اور ان کا اثر طیب پھلوں پر بہتر بہتر ہو گا ۔(۳)

۶ ۔ یہ شجرہ طیبہ پھلوں سے لدا ہوا ہے ۔ یہ ان درختوں کی مانند نہیں کہ جو بے ثمر ہوتے ہیں ” یہ درخت اپنا پھل دیتا ہے “( تُؤْتِی اٴُکُلَهَا ) ۔

۷ ۔ اور ایہ ایسا درخت ہے جو ایک دو فصلوں میں پھل نہیں دیتا بلکہ ہر موسم میں اس پر پھل لدے ہوتے ہیں تو جب بھی اس کی جانب ہاتھ بڑھا ئے محروم نہیں لوٹے گا( کُلَّ حِینٍ ) ۔

۸ ۔ اس کا یہ پھل کسی پروگرام کے بغیر نہیں بلکہ قوانین فطرت کے مطابق سنتِ الہٰی کے تحت اور ” اپنے پر وردگار کے اذن سے “ ہے اور سب کے لئے عام ہے( بِإِذْنِ رَبِّهَا ) ۔

اس ”شجرہ طیبہ “ کی یہ خصوصیات آپ کے سامنے ہیں اب غور کیجئے کہ یہ بر کات کس درخت کو حاصل ہیں ۔ یقینا یہ خوبیاں او ربر کتیں کلمہ توحید اور اس کے معنی میں موجود ہیں ، ایک موحد اور صاحب معرفت انسان کو حاصل ہیں اور ایک اصلاحی اور پاکیزہ لائحہ عمل میں موجود ہیں او ریہ سب مفاہیم محکم و ثابت جڑوں کے حامل ہیں ، سب میں ایسی فراواں شاخیں ہیں جو آسمان سے باتیں کرنے والی ہیں اورمادی آلوگیوں او ر کثافتوں سے دور ہیں ۔ سب ثمر آور ، نور افشاں اور فیض بخش ہیں ۔

جو شخص جو وقت بھی ان کے پا س آئے اور ہاتھ ان کے شاخسارِ وجود کی طرف پھیلائے ان کے لذیزو معطر اور قوت بخش پھلوں سے اپنا دامن ِ مراد بھر لے گا ۔ حوادث کی تیز آندھیاں اور سخت طوفان انہیں ان کی جگہ سے ہٹا نہیں سکتے اور ان کا افق فکر چھوٹی سی دنیا میں محدود نہیں ہے وہ زمان و مکان کے حجاب چاک کرکے ابدیت کی طرف آگے بڑھتے ہیں ۔

ان کا پروگرام ہوا و ہوس کے تابع نہیں بلکہ سب کے سب اذن پر ور دگار سے ا س کے فرمان کے مطابق آگے بڑھے اور حرکت کرتے ہیں او ریہی ان کے ثمر بخش ہونے کا سرچشمہ ہے ۔

پر وردگار کے ان کلمات ِ طیبہ عظیم و با ایمان جوانمردوں کی زندگی برکت کا باعث ہے او ران کی موت ہے او ران کی موت حرکت کا سبب ہے ا، ان کے آثار ، ان کے کلمات ، ان کی باتیں ، ان کے شاگرد ، ان کی کتابیں ،ان کی پرافتخار تاریخ حتی کہ ان کی خاموش قبریں سب کی سب الہام بخش ، سر چشمہ ہدایت ، انسان ساز اور تربیت کنندہ ہیں ۔

جی ہاں ! خدا اس طرح سے لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے کہ شاید وہ سمجھ جائیں ”( وَیَضْرِبُ اللهُ الْاٴَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَکَّرُونَ ) ۔

یہاں مفسرین کے درمیان ایک سوال پیدا ہوا او روہ یہ ہے کی کوئی درخت مذکورہ بالاصفات کا وجودِخارجی رکھتا ہے کہ جس سے کلمہ طیبہ کو تشبیہ دی گئی ہے ایسا درخت موجود ہے او روہ کھجور کا درخت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مجبوراً” کل حین “کی تفسیر ” چھ ماہ ، بیان کی ہے ۔

لیکن کسی وجہ سے بھی ضروری نہیں کہ ہم اس قسم کے درخت کے وجود پر اصرار کریں بلکہ مختلف زبانوں میں ایسی بہت تشبیہیں موجود ہیں جو بالکل وجودِ خاجی نہیں رکھیں مثلاًہم کہتے ہیں کہ قرآن ایسے آفتاب کی مانند ہے جو کبھی غروب نہیں ہوتا ( حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ آفتاب ہمیشہ غروب کرتا ہے ) یا کہاجاتا ہے کہ میرا ہجر ایسی رات کی طرح ہے جو ختم ہونے کو نہیں آتی( حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ہر شب ختم ہو جاتی ہے ) ۔

بہر حال تشبیہ کا مقصد چونکہ حقائق کو مجسم کر نا ہے اور عقلی مسائل کو محسوس کے قالب میں ڈھالنا ہے لہٰذا ایسی تشبیہات میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ یہ پوری طرح دلنشیں ،مؤثر اور جاذب ہیں ۔

اس کے باوجود دنیا میں ایسے درخت موجود ہیں جن کی شاخوں پر سے سارا سال پھل ختم نہیں ہوتے یہاں تک کہ ہم نے خودگرم علاقوں میں بعض ایسے درخت دیکھے ہیں کہ ان پر پھل بھی موجود تھا اور تازہ پھول بھی اُگے ہوئے تھے اور نئے پھل کے آثار بھی موجود تھے جب کہ موسم سر دیوں کاتھا ۔

مسائل سمجھنے اور افہام و تفہیم کا بہترین طریقہ چونکہ موازنہ کرنا ہے لہٰذا شجرہ طیبہ کے ذکر کے بعد بلا فاصلہ اگلی آیت میں فرمایا گیاہے : رہی مثال کلمہ خبیثہ کی ، تو وہ خبیث ، ناپاک اور بے ریشہ درخت کی مانند ہے کہ جو زمین سے اکھڑچکا ہے اور طوفان آتے ہیں تو روزانہ کسی اور کونے میں جاگر تا ہے اور اسے قرار و ثبات میسر نہیں( وَمَثَلُ کَلِمَةٍ خَبِیثَةٍ کَشَجَرَةٍ خَبِیثَةٍ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاٴَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ ) ۔

”کلمہ خبیثہ“ وہی کفر و شرک کا کلمہ ہے ، گھٹیا ، قبیح او ربری گفتار ہے ، گمراہ کن اور غلط پروگرام ہے او رناپاک و آلودہ انسان ہیں خلاصہ یہ کہ ہرخبیث اورناپاک چیز کلمہ خبیثہ ہے ۔

واضح ہے کہ ہر ناکارہ او رقبیح و منحوس درخت کہ جس کی جریں اکھڑ گئی ہوں اس میں نہ نشو و نما ہوگی ، نہ ترقی و تکامل ، نہ پھل پھول ، نہ سایہ و منظراو رنہ ثبات و قراردہ تو ایک لکڑی جو سوائے جلانے اور آگ لگانے کے کسی کام کی نہیں بلکہ راستے کی رکاوٹ ہے ۔ ایسا درخت کبھی گزند پہنچا تا اور مجروح کرتا ہے ی الگوں کے لئے تکلیف و آزار کا باعث بنتا ہے ۔

یہ بات قابل ِ توجہ ہے کہ شجرہ طیبہ کی تعریف میں قرآن تفصیل سے بات کرتا ہے لیکن جب شجرہ خبیثہ کے ذکر کا موقع آتا ہے ۔ تو ایک مختصر سا جملہ کہہ کر گزر جاتا ہے ۔ صرف اتنا کہتا ہے ۔( اجتثت من فوق الارض مالها من قرار )

یہ زمین سے اکھڑا ہوا ہے اور اسے ثبات و قرار نہیں ہے ۔

کیونکہ جس وقت یہ ثابت ہو گیا کہ یہ درخت جڑ کے بغیر ہے تو پھر شاخ و بر گ اور پھل پھول کے ذکر کے ذکر کی ضرورت نہیں رہتی ۔ علاوہ ایں یہ ایک طرح کی لطافت ِ بیان ہے کہ انسان محبوب کا ذکر کوتا ہے تو اس کی تمام خصوصیات بیان کرتاہے لیکن جب”مبغوض“ کے ذکر کا موقع آتا ہے تو بس ایک نفرت انگیز جملہ کہہ کے آگے بڑ جاتا ہے ۔

یہاں پھر ہم دیکھتے ہیں کہ مفسرین اس درخت کے متعلق کہ جو مشبہ بہ کے طور پر آیا ہے کے بارے میں سوال اٹھا تے ہیں کہ یہ کونسا درخت ہے ۔

بعض نے اسے ”حنظل“سمجھا ہے کہ جس کا پھل بہت تلخ اور برا ہوتا ہے

بعض نے اسے ”کشوت“ (بروزن” سقوط“)کہا ہے ۔ یہ ایک پیچیدہ ساپودا ہے ، جو بیابانوں میں خاردار بوٹوں سے لپٹ کر اوپر چلا جاتا ہے ۔ نہ ا س کی جڑ ہوتی ہے نہ پتے ( توجہ رہے کہ ” شجر“لغت میں درخت کو بھی کہا جاتا ہے اور پودے کو بھی ) ۔

لیکن جیسا کہ ہم نے ”شجرہ طیبہ “ کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر تشبیہ میں ” مشبہ بہ“ ان تمام صفات کے ساتھ وجود خارجی رکھتا ہو بلکہ یہاں مقصد کلمہ شرک ، انحرافی طرز عمل اور خبیث لوگوں کی حقیقی چہرہ کو مجسم طور پر پیش کرنا ہے اور بتانا ہے کہ وہ ان درختوں کی طرح ہیں جن کی ہر چیز خبیث او ناپاک ہے اور ان کا ثمر سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ راستے میں مزاحم ہوتے ہیں اور درد سر کا باعث بنتے ہیں ۔ علاوہ ازیں ایسے ناپاک درخت کم نہیں کہ جو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گئے ہوں اور بیابان میں طوفان اور تیز آندھی کی زد پر ہوں ۔

مذکورہ بالاآیت میں دو ناطق مثالوں کے ذریعے ایمان و کفر ، مومن و کافر اور کلی طور پر ہ رپاک و ناپاک وجود کو مجسم شکل میں ذکر کیا گیا ہے لہٰذ آخری زیر نظر آیت میں نتیجہ کار اور ان کا انجام آخر ذکر کیا گیا ہے ۔

پہلے ارشاد ہوتا ہے : ایمان لانے والوں کو خدا ان کی ثابت و پائدار گفتار و اعتقاد کے سبب ثابت قدم رکھتا ہے ، اس جہاں میں بھی اور اس جہاں میں بھی( یُثَبِّتُ اللهُ الَّذِینَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَةِ ) ۔

کیونکہ ا ن کا ایمان سطحی اور متزلزل نہیں ہوتا نہ ان کی شخصیت کھوکھلی اور متلون ہوتی ہے بلکہ وہ ایک شجرہ طیبہ ہیں کہ جس کی جڑیں ثابت و پائدہیں اور جس کی شاخیں آسمان کی طرح بلندہیں اور چونکہ کوئی شخص لطف ِ خدا سے بےنیاز نہیں ، دوسرے لفظوں میں ہر نعمت بالآخر اس کی ذات ِ پاک کی طرف لوٹتی ہے لہٰذا یہ سچے ثابت قدم مومنین لطفِ خد اکے بھروسہ ہر حادثے کے مقابلے میں پہاڑ کی طرح استقامت دکھاتے ہیں ۔ لغزش کہ جس سے زندگی میں بچا نہیں جاسکتا ان کے راستے میں آتی ہے تو خدا ن کی حفاظت کرتا ہے ۔ شیاطین ہر طرف سے انہیں وسوسہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس دنیا کی زرق برق چیزوں کے ذریعے انہیں پھسلانے کی سعی کرتے ہیں مگر ان کا خدا انہیں محفوظ رکھتا ہے ۔ جہنمی طاقتیں اور سنگدل ظالم انہیں طرح طرح کی دھمکیوں کے ذریعے جھکانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ انہیں اثبات ِ قدم عطا کرتا ہے کیونکہ ان کی جڑ اور بنیاد ثابت و مستحکم ہوتی ہے ۔

یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ یہ خدائی حفاظت وثبا ت ان کی ساری زندگی پر محیط ہے ۔ اس جہاں کی زندگی پر بھی اور اس جہاں کی زندگی پر بھی ۔ یہاں وہ ایمان و پاکیزگی پر باقی رہتے ہیں اور ان کا دامن آلودگیوں کے عار و ننگ سے پاک ہوتا ہے اور وہاں وہ خدا تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے ۔

پھر ان کے مقابل افراد کے بارے میں فرمایا گیاہے : اور خدا ظالموں کوگمراہ کرتا ہے اور خدا جو کچھ چاہتا ہے انجام دیتا ہے( وَیُضِلُّ اللهُ الظَّالِمِینَ وَیَفْعَلُ اللهُ مَا یَشَاءُ ) ۔

ہم نے بارہا کہا ہے کہ جہاں جہاں بھی ہدایت و ضلالت کی نسبت خدا کی طرف دی جاتی ہے اس کے لئے پہلے انسان خود قدم اٹھا تا ہے ۔ خدا کا کام تو تاثیر پیدا کرتا ہے جو اس نے ہر عمل میں کی ہے نیز خدا کاکام نعمتیں عطا کرنا اور انہیں سلب کرتا ہے اور ایسا وہ اہلیت اور عدم اہلیت کی بناء پر کرتا ہے (غور کیجئے گا ) ۔

”یضل اللہ “ کے بعد ” ظالمین “ کی تعبیر اس امر کے لئے بہترین قرینہ ہے یعنی جب تک کوئی شخص ظلم و ستم سے آلودہ نہ ہو اس سے نعمت ہدایت سلب نہیں ہو گی لیکن جب کوئی ظلم و ستم سے آلودہ ہوجاتاتو گناہ کی تاریکی ا س کے وجود پر چھا جاتی ہے او رہدایت الہٰی کا نور ا س کے دل سے نکل جاتا ہے او ریہ بالکل ارادہ و اختیار کی آزادی ہے ۔ ایسا شخص اگر فور ی طور پر اپنی سمت درست کرلے تو نجات کا راستہ اس کے سامنے کھلا ہوا ہے لیکن گناہ میں مستحکم ہو جانے کے بعد پلٹنا بہت ہی مشکل ہے ۔

____________________

۱۔مجمع البیان ، قرطبی، فی ظلال اور تفسیر کبیر از فخر رازی کی طرف رجوع کریں ۔

۲۔ لفظ ”کلمہ “ اور اس کے مفہوم کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد ۵ میں سورہ انعام کی آیہ ۱۱۵ کے ذیل میں ہم بحث کر چکے ہیں ( دیکھئے ص۳۳۱ اردو ترجمہ ) ۔

۳۔ ایسی تاثیر خصوصاً ایک درخت کے پھلوں پر خوب واضح ہے ۔ وہ کہ جو درخت کی اوپرکی شاخوں پرلگنے والے پھلوں کی کی نسبت بہتر اور خوب پکے ہوئے ہوتے ہیں اور زیادہ عمدہ ہوتے ہیں ۔

۴۔تفسیر نور الثقلین جلد ۲ صفحہ ۵۴۰ و ۵۴۱۔


چند اہم نکات

۱ ۔ کیا آخرت سے مراد قبر ہے ؟

بہت سی روایات میں ہے کہ جب انسان قبر میں پہنچتا ہے اور فرشتے اس سے اس کی حقیقت کے متعلق سوال کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسے ایمان کے راستے پر ثابت قدم رکھتا ہے اور اس کا یہی معنی ہے :

( یُثَبِّتُ اللهُ الَّذِینَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَةِ )

ان میں سے بعض روایا ت میں صراحت کے ساتھ لفظ” قبر “ آیاہے ۔(۱)

جبکہ بعض دوسری روایات میں ہے کہ شیطان موت کے وقت صاحب ِ ایمان کے پاس آتا ہے اور کبھی داہنی طرف سے اور کبھی بائیں طرف سے اور کبھی بائیں طرف سے اسے گمراہ کرنے کے لئے وسوسہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے لیکن خدا اسے اجازت نہیں دیتا کہ وہ مومن کو گمراہ کرے ” یثبت اللہ الذین اٰمنوکا یہی مفہوم ہے ۔

امام صادق علیہ السلام کی اس روایت کا بھی یہ مفہوم ہے :

( ان الشیطان لیا تی الرجل من اولیاء ناعند موته عن یمینه و عن شماله لیضله عما هو علیه فیأبی الله عزو جل له ذٰلک قول الله عزو جل یثبت الله الذین اٰمنوا بالقول الثابت فی الحیٰوة الدنیا و فی الآخرة ) ۔(۲)

مفسر عظیم طبرسی نے مجمع البیان میں نقل کیا ہے کہ اکثر مفسرین نے اس تفسیر کو قبول کیا ہے ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ دار ِ آخر نہ لغزش کی جگہ ہے اور نہ عمل کی بلکہ صرف نتائج اعمال کا سامنا کرنے کا مقام ہے لیکن وہ لمحہ کہ جب موت آپہنچے اور حتی کہ عالم بر زخ ( وہ جہان کہ جو اس عالم اور عالم ِ آخرت کے درمیان ہے )میں تھوڑا بہت لغزش کا امکان ہے ۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں لطف ِ الہٰی انسا ن کی مدد کو آپہنچتا ہے، اس کی حفاظت کرتا ہے اور اسے ثابت قدم رکھتا ہے ۔

۲ ۔ ثبات و استقامت کا اثر

شجرہ طیبہ اور شجرہ خبیثہ کی تمام صفات میں سے کہ جو مندرجہ بالا آیات میں ذکر ہوئی ہیں سب سے زیادہ ثبات و عدم ثبات کا مسئلہ سامنے آتا ہے ۔ یہاں تک کہ شجرہ طیبہ کے ثمر کے طور پر آخری زیر بحث آیت میں فرمایا گیا ہے کہ خدا صاحب ِ ایمان افراد کو اپنے ثابت قدم و مستحکم عقیدے کی بناء پر دنیا و آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے ۔ ا س سے ثبات اور اس کی تاثیر کے مسئلے کی انتہائی اہمیت ظاہر ہوتی ہے ۔

عظیم لوگوں کی کامیابی کے عوامل کے بارے میں بہت گفتگو ہوتی ہے لیکن ان تمام میں سے استقامت و پامردی کا درجہ پہلاہے ۔

بہت سے لوگ ایسے ہیں جو سمجھ بوجھ اور استعداد کے لحاظ سے درمیانے درجے کے ہوتے ہیں یا عمل میں پیش قدمی کے لحاظ سے اوسط درجے کے ہوتے ہیں لیکن انہیں زندگی میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں ان کے بارے میں تحقیق و مطالعہ کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ان کی کامیابیوں کی وجہ سے ثبات و استقامت کو ختم کرنے پر صرف ہوتی ہے ۔ اصولی طور پر حقیقی مومنین کو زندگی کے سخت حوادث اور طوفان کے مقابلے میں ان کے ثبات و استقامت کے حوالے سے پہچاننا چاہئیے ۔

۳ ۔ روایات اسلامی میں شجرہ طیبہ اور شجرہ خبیثہ

جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ ”طیبہ “اور خبیثہ “ کہ جنہیں دو درختوں سے تشبیہ دی گئی ہے ایک وسیع مفہوم رکتھے ہیں او ریہ ہر طرح کے شخص ، پروگرام ، مکتب ، فکر و نظر ، سوچ بچار اور گفتار و عمل پر محیط ہے لیکن بعض اسلامی روایات میں اس کی خاص حوالوں سے تفسیر کی گئی ہے ۔ واضح ہے کہ مفہوم ِ آیت ان میں منحصر نہیں ہے ۔

ان میں سے ایک روایت امام صادق علیہ السلام مروی ہے آپ ”اصلھا ثابت و فرعھا فی السماء “ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

رسول الله اصلها و امیر المومنین فرعها ،

و الائمه من ذریتهما اغصانها ، و علم الائمه ثمر ها ، و شیعتهم المؤمنون ورقها، هل فیها فضل؟

قال : قلت لا والله ،

قال و الله ان المومن لیولد فتورق ورقة فیها و ان المؤمن لیموت فتسقطو رقة منها۔

رسول اللہ اس درخت کی جڑ ہیں ۔ امیر المومنین علی (علیه السلام) اس کا تنا ہیں اور وہ امام جو ان دونوں کی ذریت میں سے ہیں ا س کی ٹہنیاں ہیں اور آئمہ کا علم اس درخت کا پھل ہے اور ان کے صاحب ِ ایمان شیعہ اس کے پتے ہیں ۔

پھر امام نے فرمایا کیاکوئی اور چیز باقی رہ جاتی ہے ؟

راوی کہتا ہے : میں نے کہا نہیں ، خدا کی قسم ۔

فرمایا: و اللہ جس وقت ایک صاحب ِ ایمان پیدا ہوتا ہے تو اس درخت پر ایک پتے کا اضافہ ہو جاتا ہے اور جس وقت کوئی حقیقی مومن مرجاتا ہے اور جس وقت کوئی حقیقی مومن مر جاتا ہے تو اس درخت کا ایک پتہ گر جاتا ہے ۔(۳)

ایک روایت میں یہی مضمون امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے ۔ اس میں ہے :

راوی نے سوال کیا :”تؤتی اکلها کل حین باذن ربها “کا کیا مفہوم ہے ۔

امام (علیه السلام) نے فرمایا: آئمہ کے علم کی طرف اشارہ ہے کہ جو ہر سال اور ہر علاقے میں تم تک آپہنچتا ہے ۔(۴)

ایک اور روایت میں ہے :

” شجرہ طیبہ “ رسول اللہ ، علی ، حسن اور حسین اور ان کے فرزند ان ِ گرامی ہیں اور ” شجرہ خبیثہ “بنی امیہ ہیں ۔(۵)

نیز بعض روایا ت میں یہ بھی شرط ہے کہ ” شجرہ طیبہ “ کھجور کا درخت ہے اور ”شجرہ خبیثہ “ حنظل“ ( تُمّہ ) کا درخت ہے ۔(۶)

بہر حال ان تفاسیر میں کوئی باہمی تضاد نہیں ہے ۔ جو کچھ اوپر بیان ہوا ہے او رجو کچھ ہم نے آیہ کے عمومی معنی میں ذکر کیا ہے اس میں ہم آہنگی موجود ہے کیونکہ یہ تو اس عمومی مفہوم کے مصادیق میں سے ہیں ۔

____________________

۱۔تفسیر نور الثقلین جلد ۲ صفحہ ۵۴۰ و ۵۴۱۔

۲۔ نور الثقلین ، جلد ۲ ص۵۳۵۔

۳۔نور الثقلین ، جلد ۲ ص۵۳۵۔ و ص۵۳۸۔

۴۔نور الثقلین ، جلد ۲ ص۵۳۵۔ و ص۵۳۸۔

۵۔ المیزان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں ،بحوالہ تفسیر در منثور ۔


آیات ۲۸،۲۹،۳۰

۲۸ ۔( اٴَلَمْ تَرَی إِلَی الَّذِینَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللهِ کُفْرًا وَاٴَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ ) ۔

۲۹ ۔( جَهَنَّمَ یَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ ) ۔

۳۰ ۔( وَجَعَلُوا لِلَّهِ اٴَندَادًا لِیُضِلُّوا عَنْ سَبِیلِهِ قُلْ تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِیرَکُمْ إِلَی النَّارِ ) ۔

ترجمہ

۲۸ ۔ کیا تونے ( انہیں )نہیں دیکھا جنہوں نے خدا کی نعمت کو نا شکری میں بدل دیا او راپنی قوم کو ہلا کت کے گڑھے کی طرف کھینچ لے گئے ۔

۲۹ ۔ ( دار البوار وہی ) جہنم ہے کہ جس کی آگ میں وہ داخل ہوں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے ۔

۳۰ ۔ انہوں نے خدا کے ہمسر قرار دئیے تاکہ ( لوگوں کو ) اس کی راہ سے ( منحرف اور)گمراہ کریں ۔ ان سے کہہ دو (کہ چنددن )دنیا کی زندگی (اور اس کی لذتوں سے) فائدہ اٹھا لو مگر بالا ٓخر تمہیں ( جہنم کی ) آگ کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔

تفسیر

کفران ِ نعمت کا انجام

ان آیات میں روئے سخن پیغمبر اکرم کی طرف سے ہے ۔ در اصل ان میں شجرہ خبثہ کے ایک موقع کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔

پہلے فرمایا گیا ہے : کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے نعمت ِ الہٰی میں تبدیل کردیا ہے( اٴَلَمْ تَرَی إِلَی الَّذِینَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللهِ کُفْرًا ) ۔

اور بالآخرہ انہوں نے اپنی قوم کو دار البوار او رہلاکت کے گڑھے کی طرف دھکیل دیا( وَاٴَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ ) ۔

یہ و ہی شجرہ خبیثہ کی جڑیں اور کفر و انحراف کے رہبر ہیں جن کے دامن میں نعمتیں تھیں مثلاً وجود ، پیغمبر کی سی نعمت کہ جس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہ تھی ۔ چاہے تویہ تھا کہ وہ ان سے استفادہ کرتے اور شب بھر میں سوسال کی مسافت طے کرلیتے لیکن اندھے تعصب ، ہٹ دھرمی ، خود غرضی اور خود پسندی کے سبب وہ اس عظیم ترین نعمت سے استفادہ نہ کرسکے ۔ وہ نہ فقط خود کفران ِ نعمت کے مرتکب ہوئے بلکہ اپنی قوم کو بھی وسوسہ میں مبتلا کیا اور ہلاکت و بد بختی کی انہیں سوغات دی ۔

بزرگ مفسرین نے منابع ِ اسلامی میں آنے والی روایات کے پیش نظر کبھی اس نعمت کو وجود ِپیغمبر کہا ہے ، کبھی آئمہ اہل بیت (علیه السلام) اور کفران ِ نعمت کرنے والے کبھی بنو امیہ قرار دئیے ہیں ۔کبھی بنی مغیرہ اور کبھی زمانہ پیغمبر کے سب کفار لیکن آیت کا مفہوم یقینا وسیع ہے او ریہ کسی معین گروہ کے لئے مختص نہیں ہے اور اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو خدا کی کسی نعمت کا کفران کریں ۔

ضمناًمندرجہ بالا آیت سے یہ حقیقت بھی ثابت ہوتی ہے کہ خدائی نعمتوں خصوصاً عظیم ہادیوں اور رہبری کی نعمت کہ جو اہم ترین نعمتوں میں سے ہے ، سے استفادہ کرنا خود انسان کے فائدے میں ہے ۔ اب ان نعمتوں کا کفران اور آخری رہبری سے منہ پھیرنا سوائے ہلاکت اور دار البوار میں گرنے کے اور کچھ نہیں ہے ۔

اس کے بعد قرآن ”دار البوار “ کی تفسیر کرتا ہے : یہ جہنم ہے کہ وہ جس کے جلاڈالنے والے شعلوں میں جاگریں گے اور یہ بد ترین ٹھکانا ہے( جَهَنَّمَ یَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ ) ۔(۱)

اگلی آیت میں کفران ِ نعمت کی ایک بد ترین قسم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ،کہ جس کے وہ مر تکب ہوتے تھے ۔ارشاد ہوتا ہے :انہو ں نے خدا کے لیے شریک قراردیئے تا کہ اس طریقے سے لو گوں کو اس کی راہ سے گمراہ کریں( وجعلوالله انداً لیضلوا عن سبیله ) شرک و کفر اختیار کر کے اورلو گوں کو دین و طریق حق سے منحرف کرکے وہ لوگوں پر چند روزہ مادی اقتدار کوئی حا صل کرتے ہیں ۔اے رسول !ان سے کہو: اس ناپائیدار اور بے وقعت مادی زندگی سے فائدہ اٹھا لولیکن یہ جان لو کہ تمہارا انجام ِ کار آگ ہے( وَجَعَلُوا لِلَّهِ اٴَندَادًا لِیُضِلُّوا عَنْ سَبِیلِهِ قُلْ تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِیرَکُمْ إِلَی النَّارِ ) ۔نہ تمہاری یہ زندگی ہے بلکہ بدبختی ہے او رنہ تمہارا یہ اقتدار کوئی حیثیت رکھتا ہے بلکہ تباہ کاری مصیبت ہے لیکن اس کے باوجود اپنے انجام کے بدلے تم اس سے فائدہ اٹھا لو ۔

ایک اور آیت میں فرمایا گیا ہے :( قل تمتع بکفرک قلیلاً انک من اصحابِ النار )

کہہ دو : اپنے کفر سے تھوڑا سا فائدہ اٹھالے آخر کار تو اصحاب ِ نار میں سے ہے ۔(زمر ۔ ۸)

____________________

۱۔”یصلون “ ” صلی “مادہ سے آگ جلانے ، آگ میں جلنے، آگ میں مبتلا ہونے اور آگ میں جل کر کباب ہونے کے معنی میں ہے ۔


چند اہم نکات

۱ ۔ نعمت کوکفر میں بدل دیا :

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے نعمت ِ الہٰی کا کفران کیا لیکن زیر بحث آیت میں ہے : انہوں نے نعمت ِ خد اکو کفر میں تبدیل کیا اور کفران کیا“۔ہوسکتا ہے یہ خاص تعبیر دو میں ایک وجہ کی بناء پر ہو:

الف :مراد ہے ”شکر نعمت “ کو” کفران “ میں تبدیل کرنا یعنی ان کے لئے ضروری تھا کہ وہ پر وردگار کی نعمتوں پر شکر گزارہوں لیکن انہوننے اس شکر کو کفران میں تبدیل کردیا ۔ حقیقت میں لفظ شکر مقدر ہے اور تقدیر میں اس طرح تھا ،

الذین بدلوا شکر نعمتہ اللہ کفراً

ب:مراد یہ ہے کہ انہوں نے خود نعمت کو کفر میں تبدیل کردیا ۔ درحقیقت خدائی نعمتیں وسیلہ ہیں ۔ ان سے استفادہ کا طریقہ کود انسان کے ارادہ سے وابستہ ہے ۔ جیسا کہ ممکن ہے نعمتوں سے ایمان ، خوش بختی او رنیکی کی راہ میں فائدہ اٹھایا جائے اسی طرح ا ہیں کفر، ظلم اور برائی میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے یہ نعمتیں خام مال کی طرح ہیں جن میں سے مختلف قسم کی چیزیں تیار کی جا سکتی ہیں اگر اصل میں یہ خیر و سعادت کے لئے پید اکی گئی ہیں ۔

۲ ۔ نعمت سے سوئے استفادہ کفران ِ نعمت ہے :

کفران ِ نعمت صرف یہ نہیں کہ انسان خدا کی ناشکری کرے بلکہ نعمت سے ہر طرح کا انحرافی فائدہ حاصل کرنا اور سوئے استفادہ کفران ِ نعمت ہے ۔ اصولی طور پر کفرانِ نعمت کی حقیقت یہی ہے ۔ ناشکری اور شکر ادا نہ کرنا تو دوسرے مرحلے کی بات ہے ۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ نعمت کو اس مقصد کے مطابق صرف نہ کرنا جس کے لئے وہ پیدا کی گئی ہے کفران ِ نعمت ہے اور زبانی شکر گزاری ثانوی حیثیت رکھتی ہے ۔ اگر آپ ہزار مرتبہ زبان سے ” الحمد للہ“ کہیں لیکن عملی طو رپر نعمت سے سوء استفادہ کریں تو کفرانِ نعمت او رکیا ہے ۔

دورِ حاضر میں نعمت کو کفران میں تبدیل کرنے کے انتہائی واضح نمونے دکھائی دیتے ہیں ۔

فطرت کی بہت سے قوتیں انسان کی خدا داد بصیرت اور پیش قدمی کی وجہ سے انسان کے ہاتھ لگی ہیں اور ان سے فائدہ حاصل کرنا اب انسان کی دسترس میں ہے ۔

سائنسی انکشاف اور صنعتی ایجادات نے پوری دنیا کا رخ ہی بدل کر دکھ دیا ہے ۔ ان انکشافا ت و ایجادات نے انسان کے کندھوں بہت بھاری بوجھ اتار کر کار خانوں کے پہیوں پر ڈال دیا ہے ۔ آج نعمات ِ الہٰی ہر دور سے زیادہ ہیں ۔ آج انسان اپنے افکار اور عالم کو پوری دنیا میں پھیلاسکتا ہے ۔ ساری دنیا کی خبروں سے آگاہی حاصل کرسکتا ہے ۔ اب چاہیئے تو یہ تھا کہ اس دور میں لو گ ہر زمانے سے زیادہ خوشحال ہوتے ، مادی لحاظ سے بھی اور روحانی لحاظ سے بھی۔

آج خد انے ان عظیم نعمتوں کو کفر میں تبدیل کرنے کا راستہ اپنا یا گیا ہے ۔ مادے کے عجیب و غریب توانائیوں کو ظلم و طغیان کی راہ میں استعمال کیا جارہاہے ۔ انکشافات و ایجادات کو برائی اور تخریبی مقاصد کے لئے استعمال کیا جارہا ہے ۔ ہر نیا صنعتی شاہکار پہلے تکریبی مقاصد کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس کی تعمیری پہلو کی نوبت بعد کی بات ہو جاتی ہے ۔

خلاصہ یہ کہ یہ عظیم نا شکری ہے جو انبیاء الہٰی کی اصلاحی اور تر بیتی تعلیما ت سے دور رہنے کا نتیجہ ہے اور ایسا کرنے والے اپنی قوم کو نعمات ِ الہٰی کا کفران کر کے اسے دار البوار کی طر ف کھینچے لے جارہے ہیں ۔

۳ ۔ ” انداد“ کا مفہوم :

”انداد“ جمع ہے ”ند“ کی ۔ اس کا معنی ہے ”مثل“ لیکن جیسا کہ راغب نے مفردات میں اور زبیدی نے تاج العروس میں (بعض اہل لغت سے ) نقل کیا ہے ”ند“ اس چیزکو کہا جاتا ہے جو دوسری چیز سے شاہت جو ہری رکھتی ہولیکن ” مثل“ کا اطلاق ہر قسم کی شباہت پر ہوتا ہے ۔ لہٰذا ”ند“ کااستعمال ” مثل “ کی نسبت زیادہ عمیق ، رسا اور عمدہ ہے ۔

اس معنی کے مطابق زیر نظر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آئمہ کفر کی کوشش تھی کہ خدا کے کچھ ایسے شریک بنائیں کہ جنہیں جوہر ِ ذا میں خدا کا شبیہ قرار دیں تاکہ مخلوق کو خدا کی پر ستش سے روک سکیں اور اس طرح اپنے منحوس مقاصد پورے کرسکیں ۔

بعض اوقات وہ قربانیوں کا کچھ حصہ ان کے لئے قرار دیتے او رکبھی نعمات الہٰی کا کچھ حصہ ( جیسے بعض جانور ) بتوں کے لئے مخصوص کردیتے اور کبھی پرستش وعبادت کے ذریعے انہیں خدا کا ہم پلہ خیال کرتے ۔ سب سے بڑھ کر وقبیح یہ بات تھی کہ زمانہ جاہلیت میں مراسم حج میں کہ جو دین ِ ابراہیمی کے مطابق تھا اس میں انہوں نے بہت سی خرافات شامل کردی تھیں یہاں تک کہ ” لبیک “ کہتے ہوئے یوں کہتے تھے :

لبیک لاشریک لک ،

الا شریک هولک ،

تملکه و ماهلک ،

میں تیری دعوت کو قبول کرتا ہوں ، اے خد اکہ جس کا کوئی شریک نہیں ۔

سوائے اس شریک کے کہ جو تیرا شریک ہے ۔

اس کا بھی تو مالک ہے اور جس کاوہ مالک ہے اس کا بھی ۔(۱)

____________________

۱۔تفسیر فخر الدین رازی ، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔


آیات ۳۱،۳۲،۳۳،۳۴

۳۱۔( قُلْ لِعِبَادِی الَّذِینَ آمَنُوا یُقِیمُوا الصَّلَاةَ وَیُنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِیَةً مِنْ قَبْلِ اٴَنْ یَأتیَ یَوْمٌ لاَبَیْعٌ فِیهِ وَلاَخِلَالٌ ) ۔

۳۲ ۔( اللهُ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ وَاٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَخْرَجَ بِهِ مِنْ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَکُمْ وَسَخَّرَ لَکُمْ الْفُلْکَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاٴَمْرِهِ وَسَخَّرَ لَکُمْ الْاٴَنهَارَ ) ۔

۳۳( وَسَخَّرَ لَکُمْ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَیْنِ وَسَخَّرَ لَکُمْ اللَّیْلَ وَالنَّهَارَ ) ۔

۳۴ ۔( وَآتَاکُمْ مِنْ کُلِّ مَا سَاٴَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللهِ لاَتُحْصُوهَا إِنَّ الْإِنسَانَ لَظَلُومٌ کَفَّارٌ ) ۔

ترجمہ

۳۱ ۔ میرے ان بندوں سے کہہ دو کہ جو ایمان لائے ہیں کہ نماز قائم کریں اور ہم نے جو انہیں روزی دی ہے اس میں سے پنہاں و آشکار انفاق کریں ، اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے کہ جس میں خرید و فروخت ہے نہ دوستی ( نہ مال کے ذریعے عذاب ِ خدا سے نجات مل سکے گی اور نہ کسی او رمادی رشتے سے ) ۔

۳۲ ۔ اللہ وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پید اکیاہے اور آسمان سے پانی نازل کیا ہے اس کے ذریعے تماہرے رزق کے طور پر پھل اگائے ہیں اورکشتی کو تمہارے لئے مسخر کیا ہے تاکہ وہ اس کے حکم سے صفحہ دریا پر چلے اور نہریں بھی تمہارے لئے مسخر کی ہیں ۔

۳۳ ۔ منظم پرو گرام کے ماتحت کام کر نے والے سورج اور چاند کو تمہارے لئے مسخر کیا ہے اور رات او ردن کو ( بھی ) تمہار ے لئے مسخر کیا ہے ۔

۳۴ ۔ اور تم نے جس چیز کا اس سے تقاضا کیا تھا وہ اس نے تمہیں دے دی اور نعمات ِ الہٰی کا شمار کرنے لگو تو ہر گز شمار نہیں کرسکوگے انسان ستمگر اور کفران کرنے والا ہے ۔

تفسیر

قرآن کی نگاہ میں انسان کی عظمت

گزشتہ آیات میں مشرکین اور ان لوگوں کے طرز عمل کے بارے میں گفتگو تھی کہ جنہوں نے نعماتِ الٰہی کاکفران کیا اور آخر کار دار البوار کی طرف کھینچے گئے ۔ زیر نظر آیات میں خدا کے سچے بندوں کا ذکر ہے اور اللہ کی بندوں پر نازل ہونے والی غیر متناہی نعمات کے بارے میں با ت کی گئی ہے ۔

پہلے فرمایا گیا ہے : میرے ان بندوں کو جو ایمان لائے ہیں کہہ دو کہ نماز قائم کریں اور ہم نے جو رزق دیا ہے اس میں سے پنہاں و آشکار خرچ کریں

( قُلْ لِعِبَادِی الَّذِینَ آمَنُوا یُقِیمُوا الصَّلَاةَ وَیُنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِیَةً ) ۔اس کے پہلے کہ وہ دن آجائے کہ جس میں نہ خرید و فروخت ہے کہ اس طرح عذاب سے نجات کے لئے راہ سعادت خرید سکیں او رنہ وہاں کسی کی دوستی کا م آئے گی( مِنْ قَبْلِ اٴَنْ یَأتیَ یَوْمٌ لاَبَیْعٌ فِیهِ وَلاَخِلَالٌ ) ۔

اس کے بعد معرفت ِ خدا کے لئے اس کی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے ایسی معرفت کہ جس سے دلوں میں اس کا عشق زندہ ہو جائے نیز انسان کو اس کی عظمت اور اس کے لطف کے حوالے سے اس تعظیم پر ابھارا گیا ہے ۔ کیونکہ یہ ایک فطری امر ہے کہ مدد اور لطف و رحمت کرنے والے سے انسان کے دل میں لگاؤ اور محبت ہید اہوتی ہے ۔ یہی بات چند ایک آیات میں یہاں اس طرح بیان کی گئی ہے :۔

خد اوہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیاہے( اللهُ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْض ) ۔اور اس نے آسمان سے پانی نازل کیا جس کے ذریعے تمہاری روزی کے لئے مختلف ثمرات پیدا ہوتے ہیں( وَاٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَخْرَجَ بِهِ مِنْ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَکُمْ ) ۔

” اور اس نے تمہارے لئے کشتی کو مسخر کیا “ اس کے ساخت کے مواد کے لحاظ سے بھی کہ جسے طبیعت ِ مادہ سے پیدا کیا اور سمندروں پرمنظم ہواؤں کی صورت میں اس کی وقت ِ محرکہ لحاظ سے بھی( وَسَخَّرَ لَکُمْ الْفُلْکَ ) ۔” تاکہ یہ کشتیاں اس کے حکم سے سطح سمندر پر چلیں “ اور پانی پر سینہ چیر کر ساحلِ مقصود کی طرف بڑھیں اور انسانوں اور ان کے وسائل ایک سے دوسری جگہ کی طرف آسانی سے اٹھالے جائیں( لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاٴَمْرِهِ ) ۔

اسی طر ح ” نہریں بھی تمہارے لئے مسخر کردی گئیں “( وَسَخَّرَ لَکُمْ الْاٴَنهَارَ ) ۔تاکہ ان کے حیات بخش پانی سے تم اپنی فصلوں کی آبیاری کرو اور تم خود اور تمہارے مویشی اس سے سیراب ہوں ۔ نیز اکثر اوقات کے لئے سطح آب کو ہموارہ رکھا گیا ہے تاکہ چھوٹی بڑی کشتیاں اس میں آمد و رفت کرسکیں ۔ نیز نہریں مسخر کی گئی ہیں تاکہ تم ان کی مچھلیوں بلکہ یہاں تک کہ ان کی گہرائیوں میں موجود اصداف سے استفادہ کرسکو۔

نہ صرف زمینی موجودات کو تمہارے لئے مسخر کیا ہے بلکہ سورج اور چاند کو جو ہمیشہ مصروف ِ کار ہیں انہیں تمہارے فرمان کے زیر گردش قرار دے دیا ہے( وَسَخَّرَ لَکُمْ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَائِبَیْنِ ) ۔(۱)

نہ صرف اس جہان کے موجودات کو تمہارے زیر فرمان کردیا گیا ہے بلکہ ان کے عارضی حالات کو بھی تمہارے لئے مسخر کردیا گیا ہے جیسا کہ ”رات اور دن کو تمہارے لئے مسخر کیا گیا ہے “( سَخَّرَ لَکُمْ اللَّیْلَ وَالنَّهَارَ ) ۔

اور تم نے جس چیز کا اس سے تقاضا کیا اور فرد اورمعاشرے کی روح اور بدن کے لئے تمہیں جس چیز کی احتیاج ہوئی یا اپنی سعادت کے لئے تمہیں جس چیز کی ضرورت پڑی وہ سب کچھ اس نے تمہارے اختیار میں دے دیا( وَآتَاکُمْ مِنْ کُلِّ مَا سَاٴَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللهِ لاَتُحْصُوهَا ) ۔

کیونکہ پر وردگارکی مادی اور معنوی نعمتوں نے تمہارے وجود اور محیط ِ زندگی کو اس طرح سے گھیر رکھا ہے ان کا شمار ممکن نہیں اور جن خدائی نعمتوں کو تم جانتے ہو وہ ان کے مقابلے میں جنہیں تم نہیں جاتنے دریا کے مقابلے میں قطرے کی مانند ہیں لیکن خدا کے اس تمام لطف و رحمت کے باجود یہ انسان ظالم ہے اور کفران ِ نعمت کرنے والا ہے( إِنَّ الْإِنسَانَ لَظَلُومٌ کَفَّارٌ ) ۔

انسان کو ایسی نعمتیں عطا کی گئیں ہیں کہ اگر وہ ان سے صحیح استفادہ کرتاتو سارے جہاں کو گلستان بنا دیتا اور ” مدینہ فاضلہ “ کی تشکیل کا خواب پورا ہو جاتا لیکن سوئے استفادہ ، ظلم و ستم اورکفران ِ نعمت کے سبب وہ اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ اس کی اس زندگی کاافق تاریک ہو گیا ، شہدِ حیات اس کے دہن میں جاں گداز زہر بن چکا ہے اور طاقت فرسا مشکلات نے طوق و زنجیر مشکلات نے طوق و زنجیر کے اسے جکڑ رکھا ہے ۔

____________________

۱۔”دائبین “ ” دؤب “کے مادہ سے ایک عادت کے مطابق یا محکم سنت کے مطابق کام جاری رکھنے کے معنی میں ہے ۔ سورج اور چاند چونکہ لاکھوں سال سے ایک معین و مستحکم طریقے سے نور افشانی کرنے ، زندہ موجودات کی پرورش کرنے ، سمندروں میں مدو جز پیدا کرنے اور کئی دوسری خدمات میں مصروف ہیں لہٰذ ان کے لئے ” دائبین “ سے بہتر تعبیر کا تصور نہیں ہوسکتا ۔


چند اہم نکات

۱ ۔ خالق اور مخلوق سے رشتہ

ان آیات میں ایک مرتبہ پھر سچے مومنین کے لائحہ عمل میں سے ” نماز “ اور انفاق “ کا ذکر کیا گیا ہے ۔

ہوسکتا ہے کہ بتدائی نظر سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کے تمام عملی پروگراموں میں سے یہاں صرف دو کاتذکرہ کیوں کیا گیا ہے ۔

اس کی علت یہ ہے کہ اسلام کی مختلف جہتیں ہیں ۔ ان کا خلاصہ تین میں پیش کیا جا سکتا ہے :

۱) انسان کا خدا سے رابطہ ۔

۲) انسان کا مخلوق سے رابطہ ۔

۳) انسان کا اپنی ذات سے رابطہ۔

درحقیقت تیسرا حصہ پہلے حصے اور دوسرے حصے کا نتیجہ ہے ۔ مذکورہ دو پروگرام ( نماز اور انفاق ) در اصل انہی دو حصوں میں سے ایک ایک کی طرف اشارہ ہیں ۔

نماز اللہ سے ہر قسم کے رابطے کا مظہر ہے کیونکہ نماز کے دوران یہ رابطہ دوسرے عمل کی نسبت زیادہ واضح ہوتا ہے ۔ جب کہ انفاق مخلوق ِ خدا سے رشتے کی طرف اشارہ ہے اور ا س کے لئے ضروری ہے کہ ہر نعمت ِ رزق میں سے انفاق کا وسیع مفہوم پیش ِ نظر رکھا جائے جس میں ہر طرح کی مادی و روحانی نعمت شامل ہے ۔

البتہ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جس سورہ کی بحث جاری ہے وہ مکی ہے اور ا س کے نزول کے وقت ابھی زکوٰة کا حکم نازل نہیں ہوا تھا، اس انفاق کو زکوٰة سے مر بوط نہیں سمجھا جاسکتا بلکہ یہ ایک وسیع معنی رکھتا ہے کہ جس میں نزول ِ حکم کے بعد زکوٰة بھی شامل ہے ۔

۲ ۔انفاق، پنہان اور آشکار کیوں ؟

ہم بار ہا قرآنی آیات میں پڑھ چکے ہیں کہ سچے مومنین پنہاں بھی انفاق اور صدقہ کرتے ہیں اور آشکا ربھی ۔ اس طرح سے انفاق کا وسیع معنی بیان کرنے کے سا تھ ساتھ اس کی کیفیت کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کیونکہ بعض اوقات مخفی انفاق زیادہ مؤثر اور زیادہ آبرومند دانہ ہوتا ہے او ربعض اوقات آشکار ہو تو دوسروں کی تشویق کا باعث بنتا ہے ، اسلامی طرز ِ عمل کے لئے نمونہ مہیا کرتا ہے اور شعائر دین کی تعظیم و تکریم شمار ہوتا ہے ۔ علاوہ ازیں کبھی ایسے مواقع بھی آتے ہیں کہ جسے کچھ دیا جارہا ہو وہ لینے سے ناراحت ہوتا ہے ۔

اس وقت جب کہ ہم خونخوار دشمن سے جنگ میں مصروف ہیں ( یا کسی مسلمان قوم کو ایسی حالت کا سامنا ہو )تو اہل ایمان ہر روز جنگ زدگان یا مجروحین یاخود جنگجو یان کی امداد کے لئے مختلف قسم کا بہت زیادہ وہ سامان لے کر سر حدوں اور جنگی علاقوں کی طرف روانہ ہوتے ہیں اور ان کی خبریں ذرائع ابلاغ سے نشر ہوتی ہیں ایک تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پوری ملت جنگ کرنے والوں کی پشت پر ہے اور دوسرا ان لوگون کے لئے باعثِ تشویق ہوتا ہے جو اس قافلے سے پیچھے رہ گئے ہیں تاکہ جتنا جلدی ہو سکے وہ قافلے سے آملیں ۔ واضح ہے کہ ایسے مواقع پر اعلانیہ انفاق زیادہ مؤثر ہے ۔

ان دونوں میں فرق کے سلسلے میں بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اعلانیہ انفاق واجبات کے ساتھ مربوط ہے کہ جس عام طور پر تظاہر کا پہلو نہیں ہوتا کیونکہ ذمہ داری کی ادائیگی سب پر لازم ہے اور ا س میں کوئی پنہاں معاملہ نہیں لیکن مستحب انفاق چونکہ واجب سے زائد چیز ہے لہٰذا ہو سکتا ہے اس میں تظاہر یا ریا کا معاملہ بہتر ہے کہ اسے مخفی طور پر انجام دیا جائے ۔

ایسا نظر آتا ہے کہ یہ تفسیر کلی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ در حقیقت پہلی تفسیر کی ایک شاخ ہے ۔

۳ ۔اس دن ”بیع “ اور خلال“ نہیں ہے

ہم جانتے ہیں کہ روز قیامت کی ماہیت و حقیقت یہ ہے کہ ہم اعمال کے نتائج اور رد عمل کاسامنا کریں گے ۔ لہٰذا کوئی شخص وہاں عذاب سے نجات کے لئے کوئی فدیہ نہیں دے گا ۔ یہاں تک کہ اگر بالفرض روئے زمین کی ساری دولت اس کے قبضے میں ہو اور وہ اسے چرخ کرکے ذرہ بھر اپنے اعمال کی سز اکم کروانا چاہیئے تو ممکن نہیں کیونکہ دار العمل تو یہی دنیا ہے اور یہاں سے اس کا روزنامچہ مکمل ہو کر لپیٹا جاچکا ہے اور وہاں دار الحساب ہے ، وہ محاسبہ کا گھر ہے ۔ اسی طرح مادی دوسری کا رشتہ جس

شخص سے جس صورت میں بھی ہو وہاں نجات بخش نہیں ہوسکتا ۔ ( توجہ رہے کہ ”خلال“ اور” دوستی کے معنی میں ہے ) ۔

آسان لفظوں میں لوگ اس دنیا وی زندگی میں سزا سے بچنے کے لئے عام طور پر پیسے کا سہارا لیتے ہیں یا پارٹی اور دوستی کا ذریعہ استعما ل کرتے ہیں یعنی رشوتوں اور رشتوں کے ذریعے سزا سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگر یہ سمجھیں کہ وہاں بھی اسی طرح کوئی صورت نکل آئے تو یہ ممکن نہیں ۔ یہ ان کی بے خبری اور انتہائی نادانی کی دلیل ہے ۔

یہاں سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس آیت میں جس طرح کی دوستی کی نفی کی گئی ہے وہ عالم ِ قیامت میں مومنین کی باہمی دوستی کے منافی نہیں ہے کہ جس کے بارے میں بعض آیات میں تصریح کی گئی ہے کیونکہ یہ تو ایمان کے زیر سایہ ایک معنوی دوستی مؤدت ہے ۔

باقی رہا مسئلہ شفاعت تو جیسا کہ ہم نے بار ہاکہا ہے کہ اس کامادی مفہوم نہیں ہے بلکہ اس سلسلے میں وارد ہونے والی صریح آیات کے پیشِ نظر یہ صرف ،منعوی اور روحانی رشتوں کے زیر سایہ بعض اعمال خیر کی وجہ سے حاصل ہونے والی اہلیت کے باعث میسر آتی ہے ۔ اس کی تفصیل ہم سورہ بقرہ کی آیہ ۲۵۴ کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں ۔(۱)

____________________

۱۔ تفسیر نمونہ جلد اول ص ۱۸۷ ۔اور تفسیر نمونہ جلد دوم ص ۱۵۵( اردو ترجمہ ) کی طرف رجوع کریں ۔


۴ ۔ اے انسان ! تمام موجودات تیرے فرمان پر سر تسلیم خم ہیں

ان آیات میں دو بارہ زمین و آسمان کی مختلف موجودات کے انسان کے لئے تسخی رہونے کے بارے میں بات کی گئی ہے ۔ اس گفتگو کے چھ حصے ہیں ۔

۱) کشتیوں کی تسخیر

۲) نہروں اور دریاؤن کی تسخیر

۳) سورج کی تسخیر

۴) چاند کی تسخیر

۵) رات کی تسخیر

۶) دن کی تسخیر

ان میں سے بعض کا تعلق آسمان سے ہے اور بعض ( رات و دن ) کادونوں سے ۔

ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں اور پھر یاد دہانی ضروری ہے کہ انسان قرآن کی نگاہ میں اس قدر باعظمت ہے کہ اللہ کے حکم سے تمام موجودات اس کے لئے مسخر ہیں یعنی یا اس کے اختیار میں ہیں اور ان کہ مہار ا س کے ہاتھ میں ہے یا ان کی حرکت انسان کی خدمت کے لئے اور اس انسا ن کو ہر حالت میں اس قدر عظمت حاصل ہے کہ تمام آفرینش کا یہ ایک ہدف عالی بن گیا ہے ۔

سورج ا س کے لئے نور افشانی کرتا ہے ، اس کا بستر حیات گرم کرتاہے، اس کے لئے طرح طرح کی نباتت اور پودے اُسگاتا ہے ، اس کی زندگی کے ماحول کو ضرر رساں جراثیم سے پاک کرتا ہے ، اسے مسرت و شادمانی کا پیغام دیتا ہے اور اسے راہ ِ حیات کی نشاندہی کرتا ہے ۔

چاند انسان کی تاریک راتوں کا چراغ ہے یہ طبیعی ، فطری اور جاوداں تقویم ہے اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والا جوار باٹا انسان کی بہت سی مشکلات حل کرتا ہے ۔

سمندروں اور دریاؤں سے جاری نہروں کا پانی اوپر آجات ہے ۔ یہ بہت سے درختوں کی آبیاری کرتا ہے ۔ خاموش ، ساکن اور رکے ہوئے سمندروں کو حرکت میں لے آتا ہے اوراسے گندا اور متعفن ہونے بچا تا ہے ۔ اور موجوں کے اٹھنے سے دریاؤں اور سمندوں کے زندہ موجودات کے لئے ضروری آکسیجن میسر آجاتی ہے ۔

ہوائیں بحری جہاز اور کشتیاں سمندر کے سینے پر چلاتی ہیں ۔ وسیع ترین شاہراہ انہیں سمندروں میں رواں دواں ہوتے ہیں ۔

دریااور نہریں انسان کی خدمت گزار ہیں ۔ یہ زراعت کی آبیاری ، جانوروں کی سیرابی اور ماحول ِ زندگی کو ترتازہ رکھنے کے لئے ہیں یہاں تک کہ خود ان میں انسان کے لئے مچھلیوں کی صور میں غذائی مواد پل رہا ہوتا ہے ۔

تاریکی شب انسان کولباس کی طرح ڈھانپ دیتی ہے ، اسے سکون و راحت پہنچاتی ہے اور سورج کی جلانے والی حرارت سے اس طرح بچاتی ہے جیسے سائے میں پنکھے کی ہوا رات انسان کو حیات تازہ بخشتی ہے ۔

اسی طرح دن کی روشنی انسان کو اٹھ کھڑا ہونے اور سعی و کوشش کی دعوت دیتی ہے اور ا س کے اندر گرمی اور حرارت پیدا کرتی ہے اور ہر مقام پر جنبش و حرکت انسان کی فرمانبردارہیں ۔ ان تمام نعتموں کا بیان اور ان کی وضاحت انسان میں ایک نئی روح پھوکنے کے علاوہ اسے اسکی عظمت سے آگاہ کرتی ہے اور اس میں احساس تشکر ابھارتی ہے ۔

اس گفتگو سے ضمنی طور پر یہ تنیجہ نکلتا ہے کہ قرآنی لغت میں تسخیر دومعانی کے لئے آتا ہے ۔

ایک انسان کے مفادات اور مصالح کے لئے مصروف ِخدمت ہونے ( جیسے سورج اور چاند کی تسخیر ) اور دوسرا انسانی اختیار ہونے ( مثلاًکشتیوں اور دریاؤں کی تسخیر کے معنی میں آیا ہے ۔ او ریہ جو بعض کا خیال ہے کہ یہ آیات موجودہ زمانے میں تسخیر کے اصطلاحی معنی کی طرف اشارہ کرتی ہیں ( جیسے خلائی سفر کے ذریعے تسخیر ماہتاب)، یہ خیال درست معلوم نہیں ہوتا ۔ کیونکہ بعض قرآنی آیات میں ہے ،وسخر لکم السمٰوٰت ومافی الارض جمیعاًمنه

جوکچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب تمہارے لئے مسخر کر دیا گیا ہے ۔ ( جاثیہ ۔ ۱۳)

یہ آیت نشاندہی کرتی ہے کہ وہ تما چیزین جوآسمانوں میں ہیں اور تمام چیزیں زمین میں ہیں انسان کے لئے مسخر ہیں حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ فضا نوردوں کا تمام آسمانی کرات میں پہنچنا قطعاًمحال ہے ۔

قرآن میں بعض دوسری آیات ہیں کہ جو ممکن ہے اس قسم کی تسخیر کی طرف اشارہ ہوں ۔ اس کے بارے میں ہم انشاء اللہ سورہ رحمن کی تفسیر میں بحث کریں گے ۔

( موجودات کے انسان کے سامنے مسخر ہونے کے بارے میں سورہ رعد کی آیہ ۲ کے ذیل میں بھی بحث کی جائے گی ) ۔

۵ ۔ دائبین

ہم کہہ چکے ہیں کہ ”دائب“ مادہ ”دؤب“ سے ہے اس کا معنی ہے ایک عادت ی امحکم سنت کے مطابق کا جاری رکھنا ۔ البتہ سورج زمی کے گرد حرکت نہیں کرتابلکہ بلکہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے اور ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ سورج ہمارے گرد گھومتا ہے لیکن ” دائب“ کے معنی جگہ میں حرکت کرنے کامفہوم نہیں ہے بلکہ کسی کام کو مسلسل جاری رکھنے کا مفہوم اس میں مضمر ہے اور ہم جانتے ہیں کہ سورج اور چاند نور افشانی کرتے ہیں اور نشور نما کا ذریعہ ہیں ۔ کرہ زمین اور انسانوں کے لئے ان کا یہ پروگرام مسلسل پوری طرح منظم ہے ( اور اس بات کو فراموش نہ کیجئے گا کہ ”داٴب “ کا ایک معنی عادت بھی ہے ) ۔(۱)

____________________

۱۔البتہ موجودہ زمانے کے ہارین سورج کی دوسری قسم کی گردش کے قائل ہیں ۔ مثلاً وہ اپنے مدار کے گرد گھومتا ہے اور جس نظام ِ شمسی سے اس کا تعلق ہے اس کے ساتھ اس کہکشاں کے اندر حرکت کرتا ہے جس میں وہ موجود ہے ۔


۶ ۔ جو کچھ ہم خدا سے چاہتے ہیں کیا وہ دیتا ہے ؟

زیر بحث آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ :

خد انے تم پر لطف کیا اور جو کچھ تم نے اس سے طلب کیا اس کا کچھ حصہ تمہیں دیا ۔

( توجہ رہے کہ ”( من کل ماساٴلتموه ) “ میں ”من “ تبعیضیہ ہے ) ۔

یہ اس بناء پر ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان خداسے کوئی چیز چاہتا ہے کہ جس میں یقینی طور پر اس کا نقصان بلکہ بعض اوقات ہلاکت پنہاں ن ہوتی ہے لیکن وہ اس سے بے خبر ہوتا ہے لیکن عالم ، حکیم اور رحیم خد اہر گز اس قسم کا تقاضا پورا نہیں کرتا اور ا س کی بجائے شاید بہت سے مواقع پر انسان اپنی زبان سے خدا سے کوئی چیز طلب نہیں کرتا لیکن زبان حال سے اور اپنی فطرت سے اس کی تمنا کرتا ہے اور خدا اسے دے دیتا ہے اور کوئی مانع نہیں کہ ”ما ساٴلتموه “ میں زبان قال کا تقاضا بھی شامل ہو او ر زبان ِ حال کی آرزو بھی ۔

۷ ۔ اس کی نعمتیں کیوں قابل ِ شمار نہیں

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارا وجود سرتا پا ا س کی نعمتوں میں مستغرق ہے ۔ اگر مختلف طبیعی علوم ، علم ِ عمرانیات ، علم نفسانیات اور علم نباتات وغیرہ کی کتب کا مطالعہ کریں تو ہم دیکھیں گے کہ ان نعمتوں کا دامن کسی قدر وسیع ہے ۔ اصولی طور پر ایک عظیم ادیب کے بقول ہر سانس میں دو نعمتیں موجود ہیں اور ہر نعمت پر شکر واجب ہے ۔

اس سے قطع نظر ہم جانتے ہیں کہ ایک انسان کے بدن میں اوسطاً دس ملین ارب زندہ خیلے موجود ہیں ان میں سے ہر ایک ہمارے فعال بدن کاحصہہے ۔ یہ عدد اس قدر بڑا ہے کہ اگر ہم ان خلیوں کو گننا چاہیں تو سینکڑوں سال در کار ہیں اور پھر یہ تو ہم پر خدائی نعمتوں کا صرف ایک حصہ ہے ۔ لہٰذا اگر ہم واقعاً اس کی نعمتوں کو گننا چاہیں تو یہ ہمارے بس کی بات نہیں( و ان تعدوا نعمت الله لاتحصوها ) ۔

انسان کے خون میں دو قسم کے گلو بل ہیں (Globules)۱

ہوتے ہیں ۔ سرخ گلوبل کئی ملین ہیں اور اسی طرح سفید گلوبل بھی ۔ سرخ گلو بل بدن کے خلیوں کی سوخت و ساز کے لئے آکسیجن پہنچاتے ہیں اور سفید گلوبل انسان کی صحت و سلامتی کی حفاظت کرتے ہیں اور جب جراثیم جسم پر حملہ آور ہوتے ہیں تو یہ اپنا کردار ادار کتتے ہیں ۔ تعجب کی با ت یہ ہے کہ بغیر کسی استراحت اور آرام کے ہمیشہ خدمت ِ انسان کے لئے کمر بستہ رہتے ہیں ۔

۸ ۔ افسوس کہ انسان ” مظلوم “ اور ”کفار“ ہے

گزشتہ مباحث سے ہم اس حقیقت تک پہنچے ہیں کہ خدا نے تمام موجودات کو حکم انسان کے سامنے مسخر کردیا ہے اور اس قدر نعمتیں اسے عطا کردی ہیں کہ اب کسی پہلو سے اس کے لئے کوئی کمی نہیں ۔لیکن یہ انسان نور ِ ایمان سے اور تربیت سے دور رہنے کی بناء پر طغیان اور ظلم و ستم کے راستے پر قدم رکھتا ہے اور کفران ِ نعمت میں مشغول ہوجاتا ہے ۔

خود غرض افراد کی کوش ہوتی ہے کہ خدا کی وسیع و عریض نعمتوں کو اپنے لئے منحصر کرلیں اور زمین کے وسائل ِ حیات پر اپنا قبضہ جمالیں وہ خود تو تھوڑی سی مقدار کے علاوہ صرف نہیں کرسکتے لیکن اس کے باوجود دوسروں کو ان تک پہنچنے سے محرو م رکھتے ہیں ۔

یہ مظالم جو خود غرضی ، استعمار اور دوسروں کے حقوق پر تجاوز کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں اس کی زندگی کے پر سکون ماحول کو طوفانوں کے سپر د کردیتے ہیں ۔ ان کے باعث جنگیں برپا ہوتی ہیں ، خون بہتا ہے اور اموال و نفوس کی ہلاکت کا سامنا پڑتا ہے ۔

در حقیقت قرآن کہتا ہے : اسے انسان ! تریے دستِ اختیار میں تمام چیزیں اس قدر ہیں جو کافی ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ تو ” ظلوم “ اور ”کفار “نہ بنے، اپنے حق پر قناعت کرے ، دوسروں کے حقوق پر تجاوز نہ کرے او رکسی کے حق پر ڈاکہ نہ ڈالے ۔

____________________

۱۔ چھوٹے چھوٹے زندہ موجودات جوخون میں تیرے ہیں اور زندگی کے بارے میں بھاری ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے ۔


آیات ۳۵،۳۶،۳۷،۳۸،۳۹،۴۰،۴۱

۳۵ ۔( وَ إِذْ قالَ إِبْراهیمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ آمِناً وَ اجْنُبْنی وَ بَنِیَّ اٴَنْ نَعْبُدَ الْاٴَصْنامَ ) ۔

۳۶۔( رَبِّ إِنهُنَّ اٴَضْلَلْنَ کَثیراً مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنی فَإِنّه مِنِّی وَ مَنْ عَصانی فَإِنَّکَ غَفُورٌ رَحیمٌ ) ۔

۳۷ ۔( رَبَّنا إِنِّی اٴَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتی بِوادٍ غَیْرِ ذی زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنا لِیُقیمُوا الصَّلاةَ فَاجْعَلْ اٴَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوی إِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَراتِ لَعَلّهُمْ یَشْکُرُونَ ) ۔

۳۸ ۔( رَبَّنا إِنَّکَ تَعْلَمُ ما نُخْفی وَ ما نُعْلِنُ وَ ما یَخْفی عَلَی اللَّهِ مِنْ شَیْء ٍ فِی الْاٴَرْضِ وَ لا فِی السَّماء ) ۔

۳۹ ۔( الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذی وَهَبَ لی عَلَی الْکِبَرِ إِسْماعیلَ وَ إِسْحاقَ إِنَّ رَبِّی لَسَمیعُ الدُّعاء ) ۔

۴۰ ۔( رَبِّ اجْعَلْنی مُقیمَ الصَّلاةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتی رَبَّنا وَ تَقَبَّلْ دُعاء ) ۔

۴۱ ۔( رَبَّنَا اغْفِرْ لی وَ لِوالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنینَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسابُ ) ۔

ترجمہ

۳۵ ۔ وہ وقت (یاد کرو )جب ابراھیم نے کہا : پروردگارا، اس شہر ( مکہ ) کو شہر امن قرار دے اور مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پرستش سے دور رکھ ۔

۳۶ ۔ پروردگارا ! انہوں ( بتوں ) نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر رکھا ہے ۔ پس جو شخص میری پیروی کرے وہ مجھ سے ہے اور جو میری نا فرمانی کرے تو تو بخشنے والا اور مہربان ہے ۔

۳۷ ۔ پروردگارا ! میں نے اپنی اولاد کو تیرے گھر کے پاس کہ جو تیرا حرم ہے بے آب و گیاہ زمین میں ٹھہرایا ہے تاکہ نماز قائم کریں تو کچھ لوگوں کے دل ان کی طرف موڑ دے اور انھیں ثمرات میں سے رزق دے شاید وہ تیرا شکر بجا لائیں ۔

۳۸ ۔ پروردگارا !جو کچھ ہم چھپاتے ہیں یا ظاہر کرتے ہیں تو اسے جانتا ہے اور زمین و آسمان میں کوئی چیز اللہ پر مخفی نہیں ہے ۔

۳۹ ۔ حمد ہے اس اللہ کی جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا کئے یقینا میرا خدا دعا سنتا ہے ( اور قبول کرتا ہے ) ۔

۴۰ ۔ خدا یا ! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی ایسا کر ۔ پروردگارا ! (ہماری ) دعاء قبول فرما ۔

۴۱ ۔ پروردگارا! مجھے -، میرے ماں باپ کو اور تمام مومنین کو اس روز بخش دینا جب حساب قائم ہوگا ۔

تفسیر

ابراہیم (علیه السلام)بت شکن کی اصلاحی دعائیں

گذشتہ آیت میں سچے مومنین اور نعمات الہی کا شکر ادا کرنے والوں کے بارے میں گفتگو تھی ۔ زیر بحث آیت میں راہ خدا میں استقامت دکھانے والے اور اس کے عبد شاکر ابراہیم (علیه السلام) کی کچھ دعائیں بیان کی گئی ہیں تا کہ گذشتہ تمام بحثوں کی تکمیل ہو جائے اور یہ امر خدائی نعمتوں سے بہترین فائدہ اٹھانے کی خواہش رکھنے والوں کے لئے نمونہ بن جائے ۔

پہلے فرمایا گیا ہے : وہ وقت یاد کرو جب جب ابراہیم (علیه السلام) نے بارگاہ ایزدی میں عرض کیا : پروردگارا ! اس شہر ( مکہ ) کو سر زمین امن و امان قرار دے( وَ إِذْ قالَ إِبْراهیمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ آمِناً ) اور مجھ پر میرے بیٹے پر اپنا لطف و عنایت فرما اور بتوں کی پرستش سے دور رکھ( وَ اجْنُبْنی وَ بَنِیَّ اٴَنْ نَعْبُدَ الْاٴَصْنامَ ) ۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ بت پرستی کتنی بڑی مصیبت اور گھروں کو ویران کرنے والی ہے اور میں نے اپنی آنکھوں سے اس راستے میں برباد ہونے والوں کو دیکھا ہے ۔

پروردگارا ! ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے( رَبِّ إِنهُنَّ اٴَضْلَلْنَ کَثیراً مِنَ النَّاسِ ) ۔ گمراہ بھی کیسی خطرناک کہ جس میں وہ اپنی عقل و خرد تک گنوا بیٹھتے ہیں ۔

میرے اللہ میں تیری توحید کی دعوت دیتا ہوں اور سب کو تیری طرف پکارتا اور بلاتا ہوں ۔ ” جو شخص میری پیروی کرے وہ مجھ سے ہے اور جو میری نا فرمانی کرے اگر وہ قابل ہدایت اور بخشش ہے تو اس کے بارے میں محبت و احسان فرما کیونکہ تو بخشنے والا مہربان ہے “( فَمَنْ تَبِعَنی فَإِنّه مِنِّی وَ مَنْ عَصانی فَإِنَّکَ غَفُورٌ رَحیمٌ ) ۔

در اصل ان الفاظ میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) بارگاہ خدا وندی میں عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اگر میری اولاد بی راہ توحید سے منحرف ہو جائے اور بت پرستی کی طرف متوجہ ہو جائے تو وہ مجھ سے نہیں ہے اور اگر غیر اس راستے پر گامزن ہو جائیں تو وہ میرے بیٹوں اور بائیوں اور بھائیوں کی مانند ہیں ۔

حضرت کی یہ مؤدبانہ اور انتہائی محبت آمیز تعبیر اس لحاظ سے بھی قابل توجہ ہے کہ یہ نہیں کہتے کہ جو شخص میری نافرمانی کرے گا وہ مجھ سے نہیں ہے اور اسے اسطرح یا اس طرح سزا دے بلکہ کہتے ہیں -: جو شخص میری نا فرمانی کرے تو تو بخشنے والا اور مہربان ہے ۔

پھر اپنی دعا اوردرخواست جاری رکھتے ہیں : پروردگارا ! میں نے اپنی کچھ اولاد کو تیرے گھر کے پاس کہ جو تیرا حرم ہے بے آب و گیاہ سر زمین میں ٹھہرایا ہے تا کہ وہ نماز قائم کریں( رَبَّنا إِنِّی اٴَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتی بِوادٍ غَیْرِ ذی زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنا لِیُقیمُوا الصَّلاةَ )

یہ اس وقت کی بات ہے جب خدا نے انھیں ان کی کنیز ہاجرہ سے فرزند عطا کیا ۔ جس کا نام انہوں نے اسماعیل رکھا ۔ اس پر ان کی پہلی بیوی سارہ کے دل میں حسد پیدا ہو گیا ۔ وہ ہاجرہ اور ان کے بیٹے کی موجودگی برداشت نہ کر سکی ۔ اس نے ابراہیم (علیه السلام) ست تقاضا کیا کہ اس ماں بیٹے کو کہیں اور لے جائے ۔ حضرت ابراہیم (علیه السلام) نے فرمان خدا پر یہ بات مان لی اور اسماعیل اور ان کی والدہ کو لے کر سرزمین مکہ میں چلے آئے ۔ ان دنوں یہ علاقہ بالکل خشک بنجر اور ویران تھا ۔ آپ نے انہیں وہاں ٹھہرایا اور خدا حافظ کہہ کر چلے آئے ۔

تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اس گرم اور تپتی ہوئی زمین پر ماں اور بیٹے کو پیاس لگی ۔ ہاجرہ نے اپنے ننھے سے بچے کی جان بچانے کی بہت کوشش کی ۔

دوسری طرف خدا کا ارادہ تھا کہ یہ سرزمین ایک عظیم مرکز عبادت بنے اس موقع پر زمزم کا چشمہ جاری ہو گیا ۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ صحرا نورد قبیلہ ” جرہم “ وہاں سے گزارا ۔ اسے سارے ماجرے کا پتہ چلا ۔ اس نے وہیں پڑاو ڈال لیا اور مکہ آہستہ آہستہ ایک آبادی کی شکل اختیار کرنے لگا ۔

اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیه السلام) نے اپنی دعاء کو اس طرح سے جاری رکھا : اب جبکہ وہ تیرے عظیم گھر کے احترام میں اس جلا ڈالنے والے بیابان میں سکونت پذیر ہو گئے ہیں تو تو کچھ لوگو کا دل ان کر طرف موڑ دے اور ان کی محبت ان کے دلوں میں ڈال دے( فَاجْعَلْ اٴَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوی إِلَیْهِمْ ) )اور انہیں طرح طرح کی ( مادی و معنوی ) ثمرات سے بہرہ مند کردے ، شاید وہ تیری نعمتوں کا شکر ادا کرے( وَ ارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَراتِ لَعَلّهُمْ یَشْکُرُونَ ) ۔

ایک موحد اور آگاہ انسان جانتا ہے کہ علم الہی کے مقابلے میں اس کا علم محدود ہے اور اس کے مصالح کو صرف خدا جانتا ہے ، اکثر وہ خدا سے ایسی چیزوں کا تقاضا کرتا ہے جو اس کے لئے قرین مصلحت نہیں ہوتیں اور بہت سی ایسی چیزیں ہیں کہ جن میں اس کی مصلحت ہے لیکن وہ ان کے لئے درخواست نہیں کرتا اور کبھی اس کے دل کی آرزوئیں ہوتی ہیں کہ جن سب کو وہ زبان پر نہیں لا سکتا لہذا مذکورہ دعاؤں اور تقاضوں کے بعد حضرت ابرہیم (علیه السلام) یوں عرض کرتے ہیں پروردگارا ! تو ان سب چیزوں سے اچھی طرح آگاہ ہے جنہیں ہم چھپاتے ہیں یا آشکار کرتے ہیں( رَبَّنا إِنَّکَ تَعْلَمُ ما نُخْفی وَ ما نُعْلِن ) اور زمین و آسمان میں کوئی چیز خدا سے مخفی نہیں ہے( ُ وَ ما یَخْفی عَلَی اللَّهِ مِنْ شَیْء ٍ فِی الْاٴَرْضِ وَ لا فِی السَّماء ) ۔

اگر میں اپنے بیٹے اور بیوی کے فراق میں غمگین ہوں تو تو جانتا ہے اور اگر آشکار بھی میری آنکھ سے آنسوں جھلکتے ہیں تو تو انہیں دیکھتا ہے ۔ اور اگر فراق میرے دل پر چھایا ہوا ہے تو بھی تو جانتا ہے اور تیرے حکم کی اطاعت سے میرا دل ساتھ ساتھ مطمئن بھی ہے تو بھی تجھے خبر ہے ۔

اور اگر وقت جدائی میری بیوی مجھ سے کہتی ہے :الی من تکلنی ؟

مجھے کس کے سہارے چھوٹے جاتے ہو ؟

تو اس سے بھی تو آگاہ ہے ۔

تو ان سب چیزوں سے آگاہ ہے ۔ اس سر زمین اور ان کا مستقبل ایک دوسرے سے مضبوطی سے بندھا ہوا ہے ، یہ سب تیری بارگاہ علم میں روشن ہے ۔

اس کے بعد نعمات پروردگار کے شکر کی طرف اشارہ ہے ۔ ان میں سے اہم ترین یہ تھی کہ پروردگار نے عالم پیری میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) کو دو آبرو مند بیٹے اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے تھے بارگاہ ایزدی میں عرض کرتے ہیں : حمد و سپاس ہے اس اللہ کے لئے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق بخشے( الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذی وَهَبَ لی عَلَی الْکِبَرِ إِسْماعیلَ وَ إِسْحاقَ ) (۱)

جی ہاں ! یقینا میرا خدا دعاؤں کو سنتا ہے( إِنَّ رَبِّی لَسَمیعُ الدُّعاء ) ۔

پھر بھی درخواست اور دعا جاری رکھتے ہیں اور عرض کرتے ہیں پر ور دگارا ! مجھے نماز قائم کرنے والا قرار دے اور اے میرے خدا ! میری اولاد میں سے بھی اسی طرح قرار دے( رَبِّ اجْعَلْنی مُقیمَ الصَّلاةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتی ) ۔پروردگارا ! میری دعاء قبول کر لے( رَبَّنا وَ تَقَبَّلْ دُعاء ) ۔

اور آخری تقاضا ابراہیم (علیه السلام) نے یہ کیا : پروردگارا ! مجھے ، میرے ماں باپ کو سب مومنین کو اس روز بخش دےنا جس دن حساب قائم ہو

( رَبَّنَا اغْفِرْ لی وَ لِوالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنینَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسابُ ) ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ کیا مکہ اس وقت شہر تھا ؟

زیر نظر آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ ابراھیم (علیه السلام) اچانک عرض کرتے ہیں کہ خدا وندا! میں اپنے بیٹے کو ایک ایسی سر زمین میں چھوڑ رہا ہوں جہاں پانی ہے نہ آبادی اور نہ زراعت۔

یقینا یہ سر زمین مکہ میں ورود کا آغاز ہے کہ جب پانی تھا نہ آبادی ، نہ مکان تھا نہ مکین ۔ صرف خانہ خدا کے باقی ماندہ آثار تھے جو وہاں دکھائی دیتے تھے اور کچھ خشک اور بے آب و گیاہ پہاڑ تھے ۔

لیکن ہم جانتے ہیں کہ ابراہیم (علیه السلام) نے اس علاقہ کا یہی ایک سفر نہ کیا تھا ۔ اس کے بعد بھی آپ نے اس سر زمین مقدس پر بارہا قدم رکھا جبکہ تدریجاً مکہ شہر کی شکل اختیار کرتا جا رہا تھا ۔ قبیلہ ” جرہم “ وہاں سکونت اختیار کر چکا تھا ۔ چشمہ زمزم پیدا ہونے پر علاقہ رہائش کے قابل ہو چکا تھا ۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی یہ دعائیں ان کے کسی بعد کے سفر سے تعلق رکھتی ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ کہتے ہیں : خدا وندا ! اس شہر کو جاء امن و امان قرار دے ۔

اور یہ جو وادی ” غیر ذی زرع “ کہا ہے تو یہ یا گزشتہ زمانے کی بات کر رہے ہیں اور اپنے پہلے سفر کی یاد تازہ کر رہے ہیں اور یا اس طرف اشارہ ہے کہ سر زمین مکہ ایک شہر بن جانے کے بعد بھی نا قابل زراعت ہے لہذا اس کی ضروریات باہر سے آنا چاہئیں کیونکہ جغرافیائی لحاظ سے یہ علاقہ خشک پہاڑوں پر مشتمل ہے جہاں پانی بہت کم ہے ۔

۲ ۔ مکہ سر زمین امن

یہ بات جاذب نظر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سر زمین میں جو سب سے پہلی دعا کی وہ ( امن ) کے لئے تھی ۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ امن کی نعمت انسانی زندگی کے لئے ، کسی جگہ قیام کرنے کے لئے اور ہر قسم کی تعمیر ِ آبادی اور ترقی کے لئے پہلی شرط ہے اور ہے بھی ایسا ہی ۔ اگر کسی جگہ امن و امان نہ ہو تو وہ رہنے کے قابل نہیں اگر چہ دنیا کی تمام نعمتیں وہاں موجود ہوں ۔ اصولی طور پر وہ شہر ، آبادی اور ملک کہ جو امن کی نعمت سے محروم ہو گویا وہ تمام نعمتیں کھو بیٹھا ہے ۔

یہاں اس نکتہ کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کے امن کے بارے میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی دعا کو دو طرح سے قبول کیا ہے ۔ اسے امنیت تکوینی بھی دی کیونکہ یہ ایسا شہر ہو گیا کہ جس نے پوری تاریخ میں امن کے لئے تباہ کن حوادث بہت کم دیکھے ہیں اور اسے امنیت تکوینی بھی دی ۔ یعنی خڈا نے حکم دیا ہے کہ تمام انسان بلکہ جانور تک اس زمین میں امن و امان میں رہیں ۔ یہاں کے جانوروں کا شکار کرنا ممنوع ہے ۔(۲)

____________________

۱ ۔ جب حضرت اسما عیل (علیه السلام) اور حضرت اسحاق (علیه السلام) پیدا ہوئے اس وقت حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی عمر کیا تھی ۔ اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے بعض نے کہا ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) ۹۹ سال کے تھے کہ پہلے فرزند اسماعیل (علیه السلام) پیدا ہوئے اور ۱۱۲ سال کے تھے جب اسحاق (علیه السلام) نے آنکھ کھولی ۔ بعض نے اس سے کم اور بعض نے زیادہ عمر لکھی ہے تا ہم یہ مسلم ہے کہ اس وقت آپ کی عمر اتنی تھی کہ معمولاً اس عمر میں بچے کی پیدائش بہت بعید معلوم ہوتی تھی ۔

۲- اس وقت جبکہ ہم تفسیر کے اس حصہ کو مرتب کر رہے ہیں امت اسلامی پر ایک نہایت اندوہناک سانحہ گزرا ہے ۔ سر زمین حرم پر اطراف خانہ خدا میں سعودی پولیس نے وحشت و درندگی کی انتہا کر دی ۔ اس نے ایرانی حاجیوں پر گولی چلائی ۔ سیکڑوں عورتیں بچے بوڑھے شہید ہو گئے ۔ ایک انتہائی منظم پر امن اور با وقار جلوس پر یہ ظلم صرف اس ” جرم “ پو ہوا کہ وہ عالمی طاغوتی طاقتوں امریکہ ، روس اور اسرائیل کے خلاف اظہار نفرت کر رہے تھے ۔یہ واقعہ ان دنوں میں ہوا جب خلیج فارس میں امریکہ نے کھلم کھلا فوجی مداخلت شروع کردی ہے تاکہ ایران کے اسلامی انقلاب سے اپنی رسوائی سے بدلا لے سکے ۔ ایسے میں جبکہ مسلمانوں کی گردنوں پر مسلط استعماری ایجنٹوں ، فوجی آمروں اور بادشاہوں نے ایران کی اسلامی حکومت کے خلاف ایکا کر لیا ہے اور سب امریکہ سے تعاون پر کمر بستہ ہیں ۔ سودیوں نے نہ فقط سر زمین کعبہ کو اسلام کے صریح احکام کے خلاف زائرین حرم کے خون سے لالہ زار بنایا بلکہ ایسا پوری دنیا میں ان مظلوموں کے خلاف پراپیکنڈہ کیا ۔ صہیونیت اور استعماری قوتوں کے تمام نشریات ادارے ان مظلوموں کے خلاف استعمال ہوئے ۔ قاتلوں کو امن کا محافظ اور مشرکین اور دشمنان اسلام کے خلاف فریاد کرنے والوں کو امن کا دشمن قرار دیا گیا ۔

سعودی ایسا کیوں نہ کرتے کیوں کہ یہ اسی یزید اور حجاج کے افکار کے وارث ہیں جنہوں نے خانہ خدا کی حرمت پامال کی تھی ( ثاقب ) ( اگست ۱۹۸۷ء) ۔

یہاں تک کہ جو مجرم اس حرم اور خانہ خدا میں پناہ لیں ان کا تعاقب بھی جائز نہیں ۔ ایسے مجرمین کا صرف پانی بند کیا جا سکتا ہے تا کہ وہ باہر نکل آئیں اور سر تسلیم خم کردیں ۔


۳ ۔ ابراہیم (علیه السلام) بت پرستی سے دوری کی دعا کیوں کرتے ہیں ؟

اس میں شک نہیں کہ ابراہیم (علیه السلام) معصوم نبی تھے اور ان کے بلاواسطہ بیٹے جو آیت کے لفظ ” بنی “ کے یقینی مصداق ہیں یعنی اسماعیل (علیه السلام) اور اسحاق (علیه السلام)بھی معصوم پیغمبر تھے اس کے باوجود وہ تقاضا کرتے ہیں : خدا یا مجھے اور انھیں بتوں کی پوجا سے دور رکھ !

یہ بات بت پرستی کے خلاف جہاد کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ تاکید کے لئے دلیل ہے ۔ یہاں تک کہ معصوم نبی اور بت شکن بھی اس سلسلہ میں خدا سے دعا کرتے ہیں ۔ یہ بعینہ پیغمبر اسلام کی طرف سے اپنی وصیتوں میں حضرت علی (علیه السلام) یا دوسرے آئمہ کو جو ان کے جانشین تھے انہیں نماز کی تاکید کرنے کے مشابہ ہے جبکہ ان کے بارے میں ترک نماز کا احتمال کا ہر گز کوئی مفہوم نہیں بلکہ اصولی طور پر نماز ان کی سعی و کوشش سے برپا ہوئی ہے ۔

تو اب یہ سوال سامنے آتا ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) نے کس طرح سے کہا کہ پروردگارا ! ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے حالانکہ وہ پتھر اور لکڑی کے سوا کچھ نہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ :

اولاً بت ہمیشہ پتھر اور لکڑی کے نہیں ہوتے تھے بلکہ کبھی فرعون اور نمرود جیسے افراد لوگوں کو اپنی پرستش کی دعوت دیتے تھے اور اپنے آپ کو ” رب اعلیٰ “ ” زندہ کرنے والا “ اور ” مارنے والا “ کی حیثیت سے متعارف کرواتے تھے ۔

ثانیاً بعض اوقات پتھر اور لکڑی کے بتوں کو ان کے متولی اور کارندے اس طرح سے آراستہ و پیراستہ کرتے اور ان کے لئے ایسے احترامات بجا لاتے کہ وہ واقعاً سادہ لوح عوام کے لئے گمراہ کن ہو جاتے تھے ۔

۴ ۔ ابراہیم (علیه السلام) کے تابع کون ہیں ؟

زیر بحث آیات میں ہے کہ ابراہیم کہتے ہیں :خدا وندا ! وہ لوگ جو میری پیروی اور اتباع کرتے ہیں ۔

یہاں سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پیرو کار صرف وہ لوگ تھے جو ان کے زمانے میں تھے یا ان کے بعد ان کے دین پر تھے یا ساری دنیا کے توحید پرست اور خدا پرست اس میں شامل ہیں کیونکہ ابراہیم (علیه السلام) توحیداور بت شکنی کی علامت اور نمونہ ہیں ۔

قرآنی آیات میں ملت اسلامیہ اور دین اسلام کو ملت و دین ابراہیمی کی حیثیت سے متعارف کروایا گیا ہے ۔(۱)

اس سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) کی دعاء تمام توحید پرستوں اورراہ توحید میں جد و جہد کرنے والوں کے لئے ہیں ۔

آئمہ اھلبیت (علیه السلام) سے مروی روایات میں بھی اس تفسیر کی تاکید کی گئی ہے ۔ ان میں سے ایک روایت امام باقر علیہ السلام سے مروی ہے ۔ آپ (علیه السلام) فرماتے ہیں :

من احبنا فھو منا اھل البیت قلت : جعلت فداک منکم قال : منا واللہ اما سمعت قول ابراہیم ! ”من تبعنی فانه منی

جو شخص ہم سے محبت رکھے ( اور اہل بیت کی سیرت پر چلے ) وہ ہم میں سے ہے ۔

راوی نے پوچھا : میں آپ پر قربان ، واقعاً آپ میں سے ہے ؟

فرمایا : واللہ ہم میں سے ہے ۔ کیا تم نے ابراہیم کی گفتگو نہیں سنی جو کہتے ہیں من تبعنی انہ منی ( جو شخص میری اتباع کرے وہ مجھ سے ہے )(۲)

یہ حدیث نشاندہی کرتی ہے کہ کسی مکتب کی پیروی اور اس کے پروگرام میں سے تعلق کسی خاندان سے روحانی طور پر تعلق ہونے کے مترادف ہے ۔

ایک اور حدیث میں امام امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

نحن اٰل ابراهیم افترغبون عن ملة ابراهیم و قد قال الله تعالیٰ فمن تبعنی فانه منی

ہم آل ابراہیم ہیں ۔ تو کیا ابراہیم کی ملت اوردین سے منہ موڑتے ہو ؟ حالانکہ خدا وند عالم ( ابراہیم کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتا:

جو شخص میری پیروی کرے وہ مجھ سے ہے ۔

____________________

۱ حج ۔۷۸ ۔

۲ ۔ تفسیر نور الثقلین ، جلد ۲ ص۵۴۸۔


۵ ۔ وادی -” غیر ذی زرع “ اور خدا کا پر امن حرم

جو لوگ مکہ گئے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ خانہ خدا مسجد حرام اور پورا مکہ مکرمہ چند خشک اور بے آب و گیاہ پہاڑوں کے درمیان واقع ہے ۔ گویا پتھروں کو پہلے ایک چلتے ہوئے تنور میں بھونا گیا ہے اور پھر انھیں ان کی جگہ پر نصب کیا گیا ہے ۔ حالانکہ یہ خشک اور جلا دینے والی زمین عبادت کا عظیم ترین مرکز اور روئے زمین پر توحید کا اولین مرکز ہے علاوہ ازیں خدا کا حرم امن ہے اور جیسا کہ ہم نے کہا ہے امنیت تکوینی کا بھی حامل ہے اور امنیت تشریعی کا بھی ۔

بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے ایسا مرکز ایسی سر زمین پر کیوں بنایا ۔ اس سلسلے میں حضرت علی علیہ السلام نے خطبہ قاصعہ میں نہایت خوبصورت اور عمدہ الفاظ میں اس کا فلسفہ بیان فرمایا ہے :۔

وضعه باوعر بقاع الارض حجراً و اقل نتائق الدنیا مدراً۰۰۰۰۰۰۰بین جبال خشنه و رمال دمثة ۰۰۰۰۰۰ ولو اراد سبحانه ان یضع بیته الحرام و مشاعره العظام بین جنات و انهار و سهل وقرار جم الاشجار ، دانی الثمار ، ملتف البنی ، متصل القری ، بین برة سمراء و روضة خضراء ، و اریاف محدقه ، و عراص مغدقة و ریاض ناظرة و طرق عامره لکان قد صغر قدر الجزاء علی حسب ضعف البلاء ، ولو کان الاساس محمول علیهاو الاحجار المرفوع بها، بین زمردة خضراء و یاقوتة حمراء ، ونور وضیاء ، لخفف ذالک مصارعة الشک فی الصدور ، و لوضع مجاهدة ابلیس عن القلوب ، ولنفی معتلج الریب من الناس ، و لٰکن الله یختبر عباده بانواع الشدائد ، و یتعبدهم بانواع المجاهد ویبتلیهم بضروب المکارة ، اخراجا للتکبرمن قلوبهم ، و اسکاناً للتذلل فی نفوسهم ، و لیجعل ذٰلک ابوابا ً فتحا ً الیٰ فضله ، و اسباباً ذللا لعفوه ۔

خدا نے اپنا گھر سنگلاخ ترین علاقے ، نہایت بے آب و گیاہ زمین ، سخت پہاڑوں اور ریگستانی علاقے میں قرار دیا ہے ۔

اللہ تعالیٰ چاہتا تو اپنا گھر اور احرام اور حج جیسی عظیم عبادت کا مقام کسی ایسے علاقے میں بنا سکتا تھا کہ جہاں باغات ہوتے ، نہریں بہہ رہی ہوتیں ، زمین ہموار ہوتی ، ہر طرف درخت ہوتے ، جہاں پھلوں پھولوں کی فراوانی ہوتی ، ارد گرد محلات اور آبادیاں ہوتیں گندم کے کھیت ہوتے سبزہ ہی سبزہ ہوتا ، خونصورت کیاریاں ہوتیں ، پانی سے سیراب چمن ہوتے ، شاداب گلستان ہوتے اور آباد شاہرا ہیں ہوتیں ۔

لیکن عظیم حج اور عبادت کی آزمائش جس قدر سہل اور آارام وہ ہوتی اجر و جزا بھی اسی قدر کم ہوتی ۔

نیز ااگر خدا چاہتا تو کعبہ کے ستون اور اس کی عمارت کے پتھر سبز زمرد اور سرخ یاقوت کے ہوتے جن سے روشنی پھوٹتی لیکن یہ چیز سینوں سے شک وشبہات کا ٹکراؤ کم کر دیتی اور دلوں سے شیطان کی دوڑ دھوپ کا اثر زایل کر دیتی اور لوگوں سے شکوک کے خلجان دور کر دیتی مگر اللہ اپنے بندوں کو گوناگوں سختیوں سے آزماتا ہے اور ان سے ایسی عبادت کا خواہاں ہے جو طرح طرح کی مشقتوں سے بجا گئی ہو اور اور انھیں قسم قسم کی نا گواریوں سے جانچتا ہے تاکہ ان کے دلوں سے غرور تکبر کو نکال باہر کرے اور ان کے نفوس میں عجز و فروتنی کو جگہ دے اور یہ کہ اس آزمایش کی راہ سے اپنے فضل و امتنان کے کھلے ہوئے دروازوں تک انھیں پہونچائے اور سے اپنی معافی اور بخشش کا آسان وسیلہ قرار دے ۔(۱)

____________________

۱۔نہج البلاغہ خطبہ قاصعہ ، خطبہ ۱۹۲۔


۶ ۔حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی سات دعائیں

زیر نظر آیات میں توحید و دعاکے ہیرواور بتوں ، بت پرستی اور ظالموں کے خلاف قیام کرنے حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی بارگاہ خدا میں سات دعائیں مذکورہیں ۔

پہلی دعاء : توحیدی معاشرے کے عظیم مرکز شہر مکہ کی امنیت کے بارے میں ہے اور یہ دعا ء نہایت معنی خیز ہے ۔

دوسری دعاء : بتوں کی پرشتش سے دور رہنے کے بارے میں ہے کہ جو تمام دینی عقائد اور پروگراموں کی اساس ہے ۔

تیسری دعاء : ان کی اولاد اور ان کے مکتب کے پیرو کاروں کی طرف تمام لوگوں اور خدا پرستوں کے قلبی میلان اور فکری رجحان کے بارے میں ہے کہ جو معاشرے میں کسی انسان کا عظیم ترین سرمایہ ہو سکتا ہے ۔

چوتھی دعاء : شکر گزاری کے مقدمہ کے طور پر اور خالق نعمات کی طرف مزید توجہ کے جزبہ سے انواع و اقسام کے ثمرات سے بہرہ مند ہونے کے بارے میں ہے ۔

پانچویں دعاء : قیام نماز کی توفیق کے متعلق ہے اور یہ انسان کے خدا کے ساتھ عظیم ترین رشتہ کی علامت ہے اور یہ دعا حضرت ابراہیم (علیه السلام) صرف اپنے لئے نہیں بلکہ اپنی اولاد کے لئے بھی کرتے ہیں ۔

چھٹی دعاء : قبولیت دعاء کے بارے میں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ خدا وہ دعا قبول کرتا ہے کہ جو پاک دل اور بے آلائش روح سے نکلے ۔

ساتویں دعاء : اور حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا آخری تقاضا اس بارے میں ہے کہ اگر ان سے کوئی لغزش سر زد ہوئی ہے تو بخشنے والا اور مہربان خدا انہیں اپنے لطف و بخشش سے نوازے اور اسی طرح روز قیامت ان کے ماں باپ اور تمام مومنین کو اپنے لطف و رحمت سے بہرہ ور کرے ۔

اس طرح حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی سات دعائیں امنیت سے شروع ہوتی ہیں اور مغفرت و بخشش پر تمام ہوتی ہیں ۔ یہ امر جاذب نظر ہے کہ ان دعاؤں میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) صرف اپنے لئے تقاضا نہیں کرتے بلکہ دوسروں کے لئے بھی طلب کرتے ہیں کیونکہ مردانِ خدا کبھی بھی صرف اپنے لئے نہیں سوچتے ۔

۷ ۔ کیا ابراہیم (علیه السلام)اپنے باپ کے لئے دعاء کررہے ہیں ؟

اس میں شک نہیں کہ آزر بت پرست تھا اور جیسا کہ قرآن کہتا ہے کہ اس کی ہدایت کے لئے حضرت ابراہیم کی کوششیں موثر ثابت نہ ہو سکیں اور اگر ہم یہ مان لیں کہ آزر حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ تھا تو یہ سوال سامنے آئے گا کہ ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) اس کی بخشش کی دعاء کیوں کر رہے ہیں حالانکہ قرآن صراحت سے مومنین کو مشرکین کے لئے استغفار کرنے سے روکتا ہے ۔ ( توبہ ۔ ۱۱۳) ۔

یہاں سے واضح ہوجاتا ہے کہ آزر کو حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ نہیں سمجھا جا سکتا اور یہ جو علماء نے کہا ہے کہ لفظ ” اب عربی زبان میں کبھی چچا کے لئے بھی بولا جاتا ہے ، زیر بحث آیات کو ملحوظ نظر رکھا جائے تو یہ بات پوری طرح قابل و قبول معلوم ہوتی ہے ۔

خلاصہ یہ عربی لغت کے اعتبار سے لفظ ” اب “ اور ” والد “ میں فرق ہے ۔ لفظ ” والد “ کہ جو زیر بحث آیات میں بھی استعمال ہوا ہے صرف باپ کے معنی میں ہے لیکن لفظ ” اب “ کہ جو آزر کے متعلق آیا ہے چچا کے معنی میں استعمال ہو سکتا ہے ۔

مندرجہ بالا آیات اور سورہ توبہ کی آیات کہ جن میں مشرکین کے استغفار کی ممانعت کی گئی ہے کو باہم ملا کر دیکھا جائے تو ہم نہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ آزر یقینا حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ نہیں تھا ۔(۱)

____________________

۱- مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد ۵ ص ۲۴۸ ۔ ( اردو ترجمہ ) کی طرف رجوع فرمائیں ۔


آیات ۴۲،۴۳،۴۴،۴۵،

۴۲ ۔( وَ لا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلاً عَمَّا یَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّما یُؤَخِّرُهمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فیهِ الْاٴَبْصارُ ) ۔۔

۴۳ ۔( مُهْطِعینَ مُقْنِعی رُؤُسِهِمْ لا یَرْتَدُّ إِلَیْهِمْ طَرْفهُمْ وَ اٴَفْئِدَتُهُمْ هَواء ٌ ) ۔

۴۴ ۔( وَ اٴَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَأتیهِمُ الْعَذابُ فَیَقُولُ الَّذینَ ظَلَمُوا رَبَّنا اٴَخِّرْنا إِلی اٴَجَلٍ قَریبٍ نُجِبْ دَعْوَتَکَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ اٴَ وَ لَمْ تَکُونُوا اٴَقْسَمْتُمْ مِنْ قَبْلُ ما لَکُمْ مِنْ زَوالٍ ) ۔

۴۵ ۔( وَ سَکَنْتُمْ فی مَساکِنِ الَّذینَ ظَلَمُوا اٴَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَکُمْ کَیْفَ فَعَلْنا بِهمْ وَ ضَرَبْنا لَکُمُ الْاٴَمْثالَ ) ۔

ترجمہ

۴۲ ۔ اور یہ گمان نہ کرکہ خدا ظالموں کے اعمال سے غافل ہے ( ایسا نہیں ہے بلکہ اس نے ) ان کے لئے ( سزا کو ) اس دن کے لئے موخر کیا ہے کہ جس دن ( خوف و وحشت کے مارے ) آنکھیں پتھرا جائیں گی ۔

۴۳ ۔ وہ گردنیں اوپر کی اور سر اٹھائے ہوں گے اور ان کی آنکھیں بے حرکت ہوکر رہ جائیں گی ( کیونکہ وہ جدھر دیکھیں گے عذاب کی نشایاں نظر آئیں گی ) اور ان کے ( ڈوبتے ہوئے ) دل بالکل ویران ہونگے ۔

۴۴ ۔ اور لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جس روز عذاب الھی ان کی طرف آئے گا وہ دن کہ جب ظالم کہیں گے : پروردگارا ! ہمیں تھوڑی سی مدت کے لئے مہلت دے دے تا کہ ہم تیری دعوت قبول کر لیں اور رسولوں کی اتباع کر لیں ( لیکن انہیں فوراً جواب دیا جائے گا کہ ) کیا پہلے تم قسم کھا کر نہ کہتے تھے کہ تمہارے لئے زوال و فنا نہیں ہے ۔

۴۵ ۔ ( کیا وہ تمہی نہ تھے کہ ) جنہوں نے ان لوگوں کے گھروں ( اور محلات ) میں سکونت اختیار کی کہ جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا جبکہ تم پر یہ امر آشکار ہو چکا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا اور ہم نے تم سے ( گزشتہ لوگوں کے انجام کی ) مثالیں بیان کردی تھیں ( پھر بھی تم بیدار نہ ہوئے ) ۔

تفسیر

جس روز آنکھیں پتھرا جائیں گی

گزشتہ آیات میں یوم حساب کے بارے میں گفتگو تھی ۔ اسی مناسبت سے زیر نظر آیات میں ظالموں اور ستم گروں کی کیفیت مجسم کی گئی ہے اور ان کے انجام کی ایسی تصویر کشی کی گئی ہے کہ جو ہلا دینے والی اور بیدار کرنے والی ہے ۔ ضمناً مسائل معاد کے اس حصہ کے ذکر سے گزشتہ مباحث توحید کی تکمیل بھی ہوتی ہے ۔

پہلے ظالموں اور ستم گروں کو تہدید کی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : اے پیغمبر ! کہیں یہ گمان نہ کرنا کہ خدا ظالموں اور ستم گروں کے کام سے غافل ہے ۔( و لا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلاً عَمَّا یَعْمَلُ الظَّالِمُونَ ) ۔

یہ بات در حقیقت ان لوگوں کا جواب ہے کہ جو کہتے ہیں کہ اگر اس عالم کا کوئی عادل خدا ہے تو پھر اس نے ظالموں کو کیوں ان کی حالت پر چھوڑ رکھا ہے ۔ کیا وہ ان کی حالت سے غافل ہے یا پھر کیا وہ جانتا تو ہے لیکن انہیں روکنے کی قدرت نہیں رکھتا ؟

اس سوال کے جواب میں قرآن کہتا ہے کہ خدا ہر گز غافل نہیں ہے ۔ اگر وہ انہیں فوراً سزا نہیں دیتا تو اسک کی وجہ یہ ہے کہ یہ جہان میدان عمل ہے اور یہ انسان کی آزمائش و پر ورش کا مقام ہے اور یہ مقصد آزادی عمل کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا ۔ لیکن آخر کا ان کا یوم حساب آکے رہے گا ۔

اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے : خدا ان کی سزا اور عذاب ایسے دن پر اٹھا رکھا ہے جس میں خوف و وحشت کے مارے آنکھیں پتھرا جائیں گی اور ایک نقطہ پر لگی بے حس و حرکت ہو کر رہ جائیں گی ( ا( ِٕنَّما یُؤَخِّرُهمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فیهِ الْاٴَبْصارُ ) ۔

اس روز کی سزا اور عذاب اس قدر وحشت ناک ہو گا کہ شدت خوف کے باعث یہ ستمگر اپنی گردنیں اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے یہاں تک کہ ان کی پلکیں بھی حرکت نہ کریں گی اور شدت اضطراب سے ان کے دل ویران ہو جائیں گے( مُهْطِعینَ مُقْنِعی رُؤُسِهِمْ لا یَرْتَدُّ إِلَیْهِمْ طَرْفهُمْ وَ اٴَفْئِدَتُهُمْ هَواء ) ۔

تشخص ” شخوص “ کے مادہ سے ہے اور اس کا معنی ہے آنکھوں کا بے حرکت ہوکر ایک ہی نقطہ پر جم کر رہ جانا ۔

”مھطعین “ ” اھطاء “ کے مادہ سے گردن اونچی کرنے کے معنی میں ہے ۔ بعض نے اسے تیز ہونے کے معنی میں لیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ ذلت و عجز کے ساتھ دیکھنے کے معنی میں ہے لیکن آیت کے دیگر حصوں کی طرف توجہ کرنے سے پہلا معنی ہی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے ۔

”مقنعی “ ” اقناع “ کے مادہ سے آسمان کی طرف سر بلند کرنے کے معنی میں ہے ۔

( لا یَرْتَدُّ إِلَیْهِمْ طَرْفهُمْ ) “ کا مفہوم یہ ہے کہ وحشت کے مارے ان کی پلکیں ایک دوسرے سے نہیں ٹکراتیں گویا مردوں کی آنکھوں کی طرح بے کار ہو چکی ہیں ۔

( وَ اٴَفْئِدَتُهُمْ هَواء ) “ان کے دلوں کے ویران ہونے کی طرف اشارہ ہے ۔ بالکل اسی طرح جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے مجھے وحشت ناک خبر سنائی تو اچانک میرا دل بیٹھ گیا اور ویران ہو گیا ۔ گویا وہ یوں حواس کھو دیں گے کہ انہیں کسی چیز کی ہوش نہ رہے گی یہاں تک کہ اپنے آپ سے بھی بے خبر ہو جائیں گے گویا ان میں نہ دل ہے نہ جان ، کوئی چیز انہیں یاد نہیں ۔

یہاں ان کی پانچ صفات بیان کی گئی ہیں :۔

آنکھوں کا خیرہ ہونا ،

گردنوں کا اونچا ہونا ،

سر کا بلند ہونا ،

پلکیں نہ جھپک سکنا اور

سب کچھ بھول جانا ۔

یہ اضطراب و وحشت کے عالم کی انتہائی عمدہ اور بولتی ہوئی تصویر کھینچی گئی ہے ۔ اس روز ظالموں کی یہ حالت ہوگی ۔ وہ ظالم کہ جو غرور تکبر میں ہر چیز کا مذاق اڑاتے اور تمسخر کرتے تھے ۔ اس دن ان کی بے چارگی کا یہ عالم ہوگا کہ پلکیں بھی نہ جھپک سکیں گے ۔ ان ہولناک مناظر سے آنکھیں چرانے کے لئے آسمان کی طرف ٹکٹکی باندھے ہوں گے کیونکہ وہ جدھر بھی دیکھیں گے وحشت ناک مناظر ان کے سامنے ہوں گے ۔

یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو عقل کل خیال کرتے تھے اور دوسروں کو بے عقل تصور کرتے تھے ۔ اس روز عقل و ہوش گنواں بیٹھیں گے اور دیوانے معلوم ہوں گے بلکہ ان کی آنکھیں مردوں کی آنکھوں کی طرح ویران اور بے حرکت ہوں گی ۔

واقعاً جب قرآن کسی منظر کی تصویر کشی کرتا ہے تو نہایت مختصر عبارت میں کامل ترین تصویر پیش کردیتا ہے ۔ زیر نظر آیت بھی اس کا نمونہ ہے ۔

اس کے بعد اس لئے کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ خدائی عذاب کسی خاص گروہ سے مربوط ہے خدا تعالیٰ اپنے پیغمبر کو ایک عمومی حکم دیتا ہے : تمام لوگوں کو اس دن سے ڈرا جس دن پروردگار کا درد ناک عذاب بد کاروں کا رخ کرے گا ، جس وقت ظالم اپنے اعمال کے وحشت ناک نتائج دیکھیں گے تو پریشان ہوں گے اور ان کی تلافی کے لئے سوچیں گے اور عرض کریں گے : پروردگارا !ہمیں کچھ دیر کی مہلت دے دے( وَ اٴَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَأتیهِمُ الْعَذابُ فَیَقُولُ الَّذینَ ظَلَمُوا رَبَّنا اٴَخِّرْنا إِلی اٴَجَلٍ قَریب ) ۔ تا کہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ” ہم تیری دعوت قبول کریں اور تیرے رسولوں کی پیروی کریں “( نُجِبْ دَعْوَتَکَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ ) ۔

لیکن فورا ً ان کی بات مسترد کر دی جائے گی اور انہیں ہولناک پیغام دیا جائے گا کہ ایسا ہونا اب محال ہے ، عمل کا دور ختم ہو چکا ہے ” کیا تم ہی نہ تھے جو قسم کھایا کرتے تھے کہ تمہاری طاقت زوال پذیر نہیں ہے “( اٴَ وَ لَمْ تَکُونُوا اٴَقْسَمْتُمْ مِنْ قَبْلُ ما لَکُمْ مِنْ زَوالٍ ) ۔

تم وہی نہیں جو ان کے گھروں اور محلات میں رہتے تھے جنہوں نے ظلم کیا تھا( وَ سَکَنْتُمْ فی مَساکِنِ الَّذینَ ظَلَمُوا اٴَنْفُسَهُمْ ) ۔ جبکہ تم پر حقیقت آشکار ہو چکی تھی کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا( وَ تَبَیَّنَ لَکُمْ کَیْفَ فَعَلْنا بِهمْ ) ۔ اور ہم نے تم سے گزشتہ امتوں کی ہلا دینے والی مثالیں بیان کیں( وَ ضَرَبْنا لَکُمُ الْاٴَمْثال ) ۔

لیکن ان عبرت انگیز درسوں میں سے کوئی بھی تم پر اثر انداز نہ ہو اور تم نے اسی طرح اپنے شرمناک اعمال اور طلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھا اور اب جبکہ تم الہی کیفر کردار کو پہنچے ہو تو مہلت دئے جانے کا تقاضا کر رہے ہو۔ کیسی مہلت ؟ اب موقع ہاتھ سے نکل چکا ہے ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ پیغمبر اکرم سے خطاب کیوں ہے ؟

اس میں شک نہیں کہ پیغمبر کبھی تصور بھی نہیں کرتے کہ خدا ظالموں کے کام سے غافل ہے لیکن اس کے باوجود زیر نظر آیات میں رسول اللہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : کہیں یہ گمان نہ کرنا کہ خدا ظالموں کے اعمال سے غافل ہے ۔

یہ در حقیقت بالواسطہ طور پر دوسروں کو پیغام دیا گیا ہے اور یہ بھی فصاحت کا ایک فن ہے کہ کبھی کسی ایک شخص کو مخاطب کیا جاتا ہے لیکن مراد دوسرا شخص یا دیگر اشخاص ہوتے ہیں ۔

علاوہ از ایں یہ تعبیر در اصل تہدید کے لئے کنایہ ہے ۔ مثلا ً کبھی ہم کسی قصور وار سے کہتے ہیں : ” فکر نہ کرو ہم تیری تقصیریں بھول چکے ہیں “ یعنی موقع پر ہم تیرا حساب چکائیں گے ۔

بہر حال اس دنیا کی اساس اس پر ہے کہ تمام افراد کو کافی حد تک مہلت دی جائے تاکہ جو کچھ ان کے اند ر ہے ظاہر ہو جائے اورآزمایش اور تکامل کا میدان وسیع ہو ۔ یہ اس لئے ہے کہ کسی کے لئے عذر و بھانہ باقی نہ رہے اور سب کو باز گشت ، اصلاح اور تلافی کا موقع دیا جائے ۔ اسی لئے گنہگاروں کو مہلت دی جاتی ہے ۔

۲ ۔ ” یوم یاتیھم العذاب “ سے کون سا دن مراد ہے ؟

زیر نظر آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ رسول اللہ کو اس بات پر مامور کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو اس دن سے درائیں جس دن عذاب ان کی طرف آئے گا ۔ اس دن سے کونسا دن مراد ہے ، اس سلسلے میں مفسرین نے تین احتمالات ذکر کئے ہیں :

پہلا ۔ یہ کہ یہ قیامت کا دن ہے ۔

دوسرا ۔یہ کہ یہ موت آنے کا دن ہے کہ جس دن عذاب الہی کا مقدمہ ظالموں کا رخ کرے گا ۔

تیسرا ۔یہ کہ کچھ دنیاوی سزاؤں کے نزول کا دن ہے ۔ مثلا ً جس روز قوم لوط ، قوم عاد و ثمود ، قوم نوح اور فرعونیوں پر عذاب ہوا ۔ یہ لوگ دریا کی دھاڑتی ہوئی موجوں کا شکار ہوئے ، یا غرقِ طوفان ہوئے یا زلزلوں سے تباہ ہوئے ، یا شدید ویران گر آندھیوں سے برباد ہوئے ۔

اگر چہ بہت سے مفسرین نے پہلے احتمال کو ترجیح دی ہے لیکن بعد میں آنے والے جملے واضح طور پر تیسرے احتمال کو تقویت دیتے ہیں اور نشاندہی کرتے ہیں کہ مراد دنیاوی نوبود کرنے والے عذاب ہیں ۔ اور ان کا شکار ہونے والے کہتے ہیں کہ پروردگارا ! ہمیں تلافی کے لئے تھوڑی سی مہلت دے دے ۔

” اخرنا “ (ہمیں تاخیر میں ڈال دے ) ۔ یہ تغیر دنیاوی زندگی جاری رکھنے کی درخواست کے لئے واضح قرینہ ہے ۔ اگر وہ یہ بات روز قیامت آثار عذاب دیکھ کر کہتے تو انہیں کہنا چاہیے تھا : خدا وندا : ہمیں دنیا کی طرف لوٹا دے ، جیسا کہ سورہ انعام کی آیہ ۲۷ میں ہے :( وَ لَوْ تَری إِذْ وُقِفُوا عَلَی النَّارِ فَقالُوا یا لَیْتَنا نُرَدُّ وَ لا نُکَذِّبَ بِآیاتِ رَبِّنا وَ نَکُونَ مِنَ الْمُؤْمِنین ) ۔

اگر تو انہیں سد عالم میں دیکھے کہ جب وہ آگ کے سامنے کھڑے ہوں گے تو تو دیکھے گا کہ وہ کہتے ہیں : کاش ! ہم دنیا کی طرف پلٹ جاتے اور اپنے پروردگار کی آیات کی تکذیب نہ کرتے اور ہم مومنین میں سے ہوجاتے ( تو تجھے ان کی حالت پر افسوس ہوگا ) ۔

کیونکہ فورا ً بعد والی آیت میں ان کا جواب اس طرح دیا گیا ہے :( وَ لَوْ رُدُّوا لَعادُوا لِما نُهُوا عَنْهُ وَ إِنَّهُمْ لَکاذِبُونَ ) ۔

یہ جھوٹ کہتے ہیں اگر لوٹ بھی جائیں تو انہیں اعمال میں مشغول ہو جائیں گے جن سے انہیں روکا گیا ہے ۔

یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے ، وہ یہ کہ اگر یہ آیت عذاب دنیا سے ڈرانے کے لئے ہے جبکہ اس سے پہلی آیت”( ولا تحسبن الله غافلاً ) --“ میں تو عذاب آخرت سے ڈرایا گیا ہے تو یہ امر ایک دوسرے سے کس طرح سے مناسبت رکھتا ہے ؟ نیز لفظ ” انما “ اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں صرف قیامت میں سزا دی جائے گی اور وہاں ان پر عذاب ہوگا نہ کہ اس دنیا میں ۔

لیکن اس نکتہ کی طرف توجہ سے جواب واضح ہو جاتا ہے کہ وہ سزا اور عذاب کہ جس میں کسی قسم کا تغیر نہیں ہے عذاب قیامت ہے جو سب ظالموں کو لاحق ہوگا لیکن دنیاوی سزائیں ایک تو عمومیت نہیں رکھتیں اور دوسرا بازگشت کے بھی قابل ہیں ۔

اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ تباہ کن دنیاوی عذاب مثلاً وہ المناک عذاب جو قوم نوح یا آل فرعون اور ان جیسے لوگوں کو دامن گیر ہوا ۔ ایسا عذاب شروع ہوجائے تو توبہ کے دروازہ بند ہو جاتے ہیں اور لوٹ آنے کے تمام راستے بند ہو جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب گنہگار لوگ ایسی سزاؤ ں کا سامنا کرتے ہیں تو اظہار پشیمانی کرتے ہیں لیکن یہ در حقیقت ایک اضطراری ندامت ہوتی ہے جس کا کوئی وزن نہیں ۔ لہذا ایسا عذاب شروع ہونے سے پہلے تلافی کے در پے ہونا چاہیے ۔(۱)

____________________

۱-مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد سوم سورہ نساء آیہ ۱۸۔ کی تفسیر کی طرف رجوع فرمائیں ۔


۳ ۔ مہلت کا تقاضا کیوں قبول نہیں کیا جاتا ؟

قرآن مجید کی مختلف آیات میں ہے کہ برے عمل کرنے والے اور ظالم مختلف مواقع پر تقاضا کریں گے کہ انہیں اپنے گزشتہ کی تلافی کے لئے پھر سے دنیاوی زندگی مل جائے ۔ ان میں سے بعض آیات روز قیامت سے مربوط ہیں مثلاً سورہ انعام کی آیہ ۲۸ - جس کی طرف ہم نے سطور بالا میں اشارہ کیا ہے ۔ بعض دیگر آیات وقت موت آ پہنچنے سے مربوط ہیں مثلا ً سورہ مومنون کی آیہ ۹۹ ۔ اس میں فرمایا گیاہے :

حتی اذا جاء احدهم الموت قال رب ارجعون لعلی اعمل صالحاً فیما ترکت

یہی حالت رہتی ہے یہاں تک کہ جب کہ کسی کی موت کا وقت آ پہنچتا ہے تو وہ عرض کرتا ہے : خدا وندا! مجھے پلٹا دے ۔ شاید میں اپنے کئے کی تلافی کر سکوں اور عمل صالح انجام دوں ۔

کچھ آیات تباہ کن عذاب کے موقع سے مربوط ہیں ۔ مثلا ً زیر بحث آیات میں ہے کہ نزول عذاب کے وقت ظالم مہلت کا تقاضا کریں گے ۔

یہ امر توجہ طلب ہے کہ ان تمام مواقع پر جواب نفی میں ہے ۔ اس کی دلیل واضح ہے کیونکہ ان میں سے کوئی تقاضا بھی حقیقی نہیں ہے یہ سب اس اضطراری حالت اور انتہائی پریشانی کا رد عمل ہیں جو ان بت ترین افراد کو لاحق ہوگی ۔ ان کے یہ تقاضے کسی داخلی انقلاب اور زندگی میں تغیر کے لئے عزم حقیقی کی دلیل نہیں ہیں ۔

یہ تو بالکل ان مشرکین کی سی حالت ہے جو دریاؤں کے ہولناک گردابوں میں پھنس جائیں تو بڑے خلوص سے خدا کو پکارتے ہیں لیکن طوفان رکتے ہی اور ساحل نجات تک پہنچتے ہی سب کچھ بھول جاتے ہیں ۔

اسی لئے قرآن مذکورہ آیات میں صراحت سے کہتا ہے :

( ولو ردو العادوا لما نهو عنه )

اگر یہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ جائیں تو پھر وہی طرز عمل جاری رکھیں گے ان کی روش میں تبدیلی پیدا نہ ہوگی ۔

یعنی ۔ وہی ہے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی وسواب بھی ہے ۔


آیات ۴۶،۶۷،۴۸،۴۹،۵۰،۵۱،۵۲

۴۶ ۔( وَ قَدْ مَکَرُوا مَکْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللَّهِ مَکْر هُمْ وَ إِنْ کانَ مَکْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبالُ ) ۔

۴۷ ۔( فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ إِنَّ اللَّهَ عَزیزٌ ذُو انتِقامٍ ) ۔

۴۸ ۔( یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاٴَرْضُ غَیْرَ الْاٴَرْضِ وَ السَّماواتُ وَ بَرَزُوا لِلَّهِ الْواحِدِ الْقَهَّارِ ) ۔

۴۹ ۔( وَ تَرَی الْمُجْرِمینَ یَوْمَئِذٍ مُقَرَّنینَ فِی الْاٴَصْفادِ ) ۔

۵۰ ۔( سَرابیلُهمْ مِنْ قَطِرانٍ وَ تَغْشی وُجُوههُمُ النَّارُ ) ۔

۵۱ ۔( لِیَجْزِیَ اللَّهُ کُلَّ نَفْسٍ ما کَسَبَتْ إِنَّ اللَّهَ سَریعُ الْحِسابِ ) ۔

۵۲ ۔( هذا بَلاغٌ لِلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوا بِهِ وَ لِیَعْلَمُوا اٴَنَّما هُوَ إِلهٌ واحِدٌ وَ لِیَذَّکَّرَ اٴُولُوا الْاٴَلْبابِ ) ۔

ترجمہ

۴۶ ۔ انہوں نے اپنا پورا مکر کیا اور ان کے سارے مکر ( اور سازشیں ) خدا کے سامنے آشکار ہیں اگر چہ ان کے مکر سے پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں ۔

۴۷ ۔ اور یہ گمان نہ کرنا کہ خدا ان وعدوں کی خلاف ورزی کرے گا جو اس نے اپنے رسولوں سے کئے ہیں کیونکہ خدا قادر و منتقم ہے ۔

۴۸ ۔ وہ دن کہ جب یہ زمین دوسری زمین میں بدل جائے گی اور آسمان ( دوسرے آسمانوں میں ) تبدیل ہو جائیں گے اور خدائے واحد و قہار کی بارگاہ میں ظاہر ہوں گے ۔

۴۹ ۔ اور تو اس دن مجرموں کو اکھٹا طوق و زنکیر میں دیکھے گا ( ایسے طوق و زنجیر جن سے ان کے ہاتھ اور گردنیں اکھٹی بندھی ہونگی ) ۔

۵۰ ۔ اور ان کا لباس قطران ( جلانے والا چپکا ہوا بدبد دار مادہ ) کا ہوگا اور ان کے چہروں کو آگ ڈھانپ لے گی ۔

۵۱ ۔ تا کہ خدا ہر شخص کو جو کچھ اس نے انجام دیا ہے اس کی جزا دے کیونکہ خدا سریع الحساب ہے ۔

۵۲ ۔ یہ ( قرآن ) ( سب ) لوگوں کے لئے اعلان ہے تا کہ سب کو تہدید ہو جائے اور ( سب ) جان لیں کہ وہ اکیلا معبود ہے نیز اس لئے کہ صاحبان عقل (اور غور و فکر کرنے والے ) نصیحت حاصل کریں ۔

تفسیر

ظالموں کمزور سازشیں

گزشتہ آیات میں ظالموں کی کچھ سزاؤں کی طرف اشارہ ہو چکا ہے ۔ ان آیات میں بھی پہلے ان کے بعض کاموں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور پھر ان کے لئے بعض سخت اور دردناک سزاؤں کا ذکر ہے ۔

پہلی آیت میں ہے : انہوں نے مکر کیا اور جس قدر ان سے بن پڑتا تھا سازش اور شیطنت کی (وَ قَدْ مَکَرُوا مَکْرَھُمْ ) ۔

خلاصہ یہ کہ تیرے دشمنوں نے اسلام کو مٹانے اور نابود کرنے کے لئے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا ۔ ڈرانے دھمکانے سے لے کر اذیت و آزار اور قتل کی سازش کی ۔ نیز وہ پرا پیکنڈہ کرتے رہے اور طرح طرح کی تہمتیں لگاتے رہے ۔

لیکن ان سب کے باوجود اللہ ان کی تمام سازشوں سے آگاہ ہے اور ان کے تمام کام اس کے رکارڈ میں ہیں( وَ عِنْدَ اللَّهِ مَکْر هُمْ ) ۔

بہر حال پریشان نہ ہو ۔ یہ نیرنگیاں ، منصوبے اور سازشیں تجھ پر اثر نہیں ڈالیں گی ” اگر وہ اپنے مکر سے پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہٹا دیں “( وَ إِنْ کانَ مَکْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبالُ ) ۔

جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں ” مکر “ ہر قسم کی چارہ جوئی اور چارہ اندیشی کے معنی میں ہے ۔ یہ کام کبھی برائی کے ساتھ ہوتا ہے اور کبھی اس کے بغیر۔ اگر چہ موجودہ فارسی زبان میں یہ لفظ پہلے معنی میں استعمال ہوتا ہے لیکن عربی ادب کے لحاظ سے اس کا معنی عام ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی یہ لفظ خدا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے ۔

( وَ عِنْدَ اللَّهِ مَکْر هُمْ ) کے بارے میں دو احتمال ذکر کئے ہیں ۔

بعض مفسرین مثلاً علامہ طبا طبائی نے االمیزان میں کہا ہے کہ اس جملے کا مفہوم یہ ہے کہ خدا ان کے تمام منصوبوں چالبازیوں اور سازشوں پر پورا احاطہ رکھتا ہے ۔

بعض دیگر مثلا ً مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ان کے مکر کی سزا خدا کے ہاں ثابت ہے لہذا یہ جملہ ”( وَ عِنْدَ اللَّهِ مَکْر هُمْ ) “ کی تقدی میں ہے اور لفظ ” جزاء “ جو مضاف ہے محذوف ہے ۔

البتہ پہلا معنی بلا شبہ زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ آیت کے ظاہری مفہوم سے بھی مطابقت رکھتا ہے ۔ اور کسی قسم کے حذف و تقدیر کا بھی محتاج نہیں ہے ۔

پہلا جملہ کہ جس میں ہے ۔” اگر چہ ان کا مکر پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہلا دے “ یہ بھی اسی تفسیر کو تقویت دیتا ہے ۔یعنی اگر چہ وہ منصوبہ بندی اور سازشوں میں بڑے طاق ہوں ، خدا ان سے زیادہ آگاہ اور زیادہ قدرت والا ہے اور ان کی سازشوں کو درہم برہم کر دیتا ہے ۔

دوبارہ روئے سخن پیغمبر اکرم کی طرف ہے اور ظالموں اور بد کاروں کو دھمکی دی گئی ہے ۔ ارشادہوتا ہے : تم یہ گمان نہ کرنا کہ خدا نے انبیاء سے جو وعدہ کیا ہے اس کی خلاف ورزی کرے گا( فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ ) ۔ کیونکہ وعدہ خلافی تو وہ کرتا ہے جو قادر و توانا نہ ہو یا سزا و انتقام اس کی لغت میں نہ ہو لیکن ” خدا تو توانا بھی ہے اور صاحب انتقام بھی( إِنَّ اللَّهَ عَزیزٌ ذُو انتِقامٍ ) ۔

یہ آیت در حقیقت ایک گزشتہ آیت ”ولا تحسبن اللہ غافلا ً عما یعمل الظالمون“ کی تکمیل کرتی ہے ۔ یعنی اگر تم دیکھتے ہو کہ ظالموں کو مہلت ملی ہوئی ہے تو وہ اس لئے نہی ہے کہ پروردگار ان کے اعمال سے غافل ہے اور نہ اس لئے کہ وہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی کرے گا بلکہ ان کے تمام حساب ایک ہی دن چکا دے گا اور انہی عادلانہ طور پر سزا دے گا ۔

لفظ ” انتقام “ موجودہ فارسی میں تلافی کرنا ، کینہ نکالنا اور معاف نہ کرنے کا مفہوم بھی لئے ہوئے ہے ۔ در اصل اس کا یہ معنی نہیں ۔ بلکہ ” انتقام “ کا مفہوم سزا دینا اور عذاب کرنا ہی ہے ۔ ایسی سزا کہ جو خدا استحقاق اور عدالت کی بنا پر دے گا بلکہ انسان کے اعمال کا نتیجہ ہے ۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اگر خدا کی طرف سے ایسا انتقام نہ ہو تو یہ اس کی حکمت و عدالت کے خلاف ہوگا ۔

مزید فرمایا گیا ہے : یہ سزا ایسے دن دی جائے گی جبکہ یہ زمین دوسری زمین میں تبدی لہو جائے گی اور یہ آسمان دوسرے آسمانوں میں تبدیل ہوجائے گا( یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاٴَرْضُ غَیْرَ الْاٴَرْضِ وَ السَّماواتُ ) ۔

اس روز ہر چیز تباہی کے بعد پھر سے صورت پذیر ہوگی اور انسان نئے حالات کے ساتھ نئے عالم میں قدم رکھے گا ۔ ایسا عالم کہ جس کی تمام چیزیں اس عالم سے مختلف ہوں گی ” اس کی وسعت ، اس کی نعمتیں اور اس کی سزائیں سب مختلف ہوں گی ” اور اس روز جو کچھ بھی کسی کے پاس ہے وہ سب پوری طرح واحد و قہار خدا کے سامنے ظاہر ہو جائے گا( وَ بَرَزُوا لِلَّهِ الْواحِدِ الْقَهَّارِ ) ۔

” برزو“ اصل میں ” براز “ ( بر وزن ” فراز “ ) کے مادہ سے فضا اور وسیع جگہ کے معنی میں لیا گیا ہے ۔ ” برزو “ کا معنی ایسی فضا اور وسیع علاقہ میں ہونا ہے کہ جس کا لازمی نتیجہ ظاہر اور آشکار ہونا ہے ۔ اسی وجہ سے ” برزو عام طور پر ” ظہور “کے معنی میں آتاہے ( غور کیجئے گا ) ۔

روز قیامت انسان کے خدا کے سامنے ظاہر ہونے کا کیا معنی ہے ، اس سلسلے میں مفسرین نے مختلف باتیں کی ہیں ۔

بہت سوں نے اسے قبروں سے باہر نکالنے کے معنی میں لیا ہے ۔

یہ احتمال بھی ہے کہ بروز کا مطلب انسان کے اندر اور باہر کا سب کچھ ظاہر ہوجانا ہو جیسا کہ سورہ مومن کی آیہ ۱۶ ۔ میں فرمایا گیا ہے : یوم ھم بارزون لا یخفی علیٰ اللہ منھم شیء

وہ دن کہ جب ان کاسب کچھ آشکار ہو جائے گا اور ان کی کوئی چیز مخفی نہ رہے گی ۔

نیز سورہ طارق کی آیہ ۹ ۔ میں ہے :( یوم تبلی السرائر )

وہ دن کہ جب ہر شخص کے اندرونی اسرارآشکار ہو جائیں گے ۔

بہر حال اس حالت میں خدا کی قہاریت کا ذکر ہر چیز پر اس کے تسلط اور سب کے اندر اور باہر پر اس کے غلبہ کی دلیل ہے ۔

یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ کیا دنیا میں کوئی چیز خدا پر مخفی ہے کہ جو وہاں آشکار ہو جائے گی ؟۔ کیا خدا قبروں میں مردوں کے وجود سے بے خبرہے ؟ یا کیا وہ یہاں انسان کے اندرونی اسرار کو نہیں جانتا ؟

ایک نکتے کی طرف توجہ سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے ۔ وہ یہ کہ اس جہان میں ایک ہمارا ظاہر ہے اور ایک باطن ۔ بعض اوقات ہامرے علم کے محدود ہونے کی بناء پر یہ اشتباہ ہوتا ہے کہ خدا ہمارے باطن کو نہیں جانتا لیکن دوسرے جہان میں ہر چیز اس طرح آشکار ہو جائے گی کہ ظاہر و باطن کا فرق نہیں ہوگا ۔ سب کچھ آشکار ہوگا ۔ یہاں تک کہ کسی کے دل میں یہ احتمال بھی پیدا نہیں ہوگا کہ ہو سکتا ہے کوئی چیز خدا سے مخفی رہ گئی ہے ۔

دوسرے لفظوں بروز و ظہور ہماری فکرو نظر کے اعتبار سے ہے کہ علم خدا کے اعتبار سے ۔

اگلی آیت میں مجرمین کی حالت ایک اور پہلو سے تصویر کشی کی گئی ہے : اس روز تو مجرموں کو دیکھے گا کہ وہ طوق و زنجیر میں جکڑے ہوں گے ۔ ان کے ہاتھ گردنوں سے بندھے ہوں گے اور وہ ایک دوسرے سے بھی بندھے ہوں گے( وَ تَرَی الْمُجْرِمینَ یَوْمَئِذٍ مُقَرَّنینَ فِی الْاٴَصْفادِ ) ۔

”اصفاد “ جمع ہے” صفد“ ( بر وزن ” نمد “ ) کی اور ”صفاد “ (بروزن” معاد “) طوق کے معنی میں ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ ” صفاد “ خاص طور پر اس طوق و زنجیر کو کہتے ہیں جو ہاتھ اور گردن کو ایک دوسرے سے باندھ دے ۔

” مقرنین “ ”قرن “ اور ” اقتران “ کے مادہ سے اسی معنی میں ہے ۔ البتہ جب اسے باب تفعیل میں منتقل کیا جائے تو اس سے ” تکثیر “ کا مفہوم حاصل ہوتا ہے ۔ لہذا ” مقرنین “ کا معنی ہے :” وہ لوگ جو ایک دوسرے کے بہت قریب ہوں “ ۔اس لفظ سے زیر نظر آیت میں کون لوگ مراد ہیں ۔اس سلسلے میں مفسرین نے تین تفسیریں بیان کی ہیں ۔

پہلی :۔ یہ کہ اس روز مجرمین کو طوق زنجیر کے ایک لمبے سلسلے میں ایک دوسرے سے باندھا جائے گا وہ لوگ اسی حالت میں میدان حشر میں پیش ہوں گے ۔ طوق و زنجیر کا یہ سلسلہ اب گنہگاروں کے عملی فکری رشتے اور تعلق کا مظہر ہے ۔ اس تعلق کی بنا ء پر وہ اس جہان میں باہم ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے تھے ، ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے اور ظلم و فساد کی راہ میں ایک دوسرے کے ساتھی تھے ۔ ان کا یہ باہمی ربط وہاں طوق و زنجیر کے اس سلسلے میں مجسم ہوگا ۔

دوسری :۔ تفسیر یہ ہے کہ اس روز مجرم زنجیروں کے ذریعے شیطانوں کے ساتھی ہو جائیں گے اور اس دنیا میں ان کا باطنی تعلق اس جہان میں ایک زنجیر کے ذریعے آشکار ہو جائے گا ۔

تیسری : ۔ تفسیر یہ ہے کہ زنجیروں کے ذریعے ان کے ہاتھوں کو ان کی گردن کا قرین بنا دیا جائے گا ۔

کوئی مضائقہ نہیں کہ مجرموں کے بارے میں یہ معانی صحیح ہوں اگر چہ آیت ظاہری مفہوم زیادہ تر پہلے معنی کی تائید کرتا ہے ۔

اس کے بعد ان کے لباس کے بارے میں بتایا گیا ہے اور یہ بھی ان کے لئے ایک عذاب عظیم ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : ان کے لباس قطران کے مادہ سے بنے ہوئے ہوں گے اور ان کے چہروں کو آگ کے شعلے ڈھانپ لیں گے( سَرابیلُهمْ مِنْ قَطِرانٍ وَ تَغْشی وُجُوههُمُ النَّارُ ) ۔

”سرابیل “ ” سربال “ ( بروزن ”مثقال “)کی جمع ہے ۔ اس کا معنی ہے ” قمیص “ چاہے وہ کسی بھی چیز سے بنی ہو۔ نیز بعض نے کہا ہے کہ یہ ہر قسم کے لباس کے معنی میں ہے لیکن پہلا معنی زیادہ مشہور ہے ۔

” قطران “ لغت میں کبھی قاف پر زبر اور تا پر سکون اور کبھی قاف کے نیچے زیر اور طاء پر سکون کے ساتھ پڑھا گیا ہے ۔ اس کا معنی ہے ایسا مادہ جو ابہل نامی درخت سے لیا جاتا ہے تا کہ اس بیماری کے باعث ہونے والی سوزش کو ختم کیا جا سکے اور اس کے مادہ کو جڑ سے ختم کیا جا سکے ۔ بہر حال یہ ایک ایسا بد بو دار سیاہ رنگ مادہ ہے جو شعلہ ور ہو سکتا ہے ۔(۱)(۲)

بہر کیف ” سرابیلھم من قطران “ کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے بدن لباس کی بجائے ایک طرح کے سیاہ رنگ بدبودار جل اٹھنے والے مادہ سے ڈھانپے جائیں گے ۔ یہ ایسا لباس ہوگا جو ویسے بھی برا ہوگا اور دیکھنے میں بھی بہت قبیح ہوگا ۔ بدبو بھی دے گا اور خود بخود جل اٹھنے والا بھی ہوگا ۔ جب لباس میں یہ چار عیب ہونگے تو گویا وہ بد ترین لباس ہوگا ۔ کیونکہ لباس زینت کے لئے بھی ہوتا ہے اور گرمی سردی سے بچنے کے لئے بھی جبکہ یہ لباس برا اور قبیح صورت بھی ہوگا اور جلانے والا بھی ۔

یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ لباس گناہ پہن کی مجرم اس جہان میں بارگاہ الہی میں بھی اپنے تئیں رو سیاہ کرتے ہیں اور ان کے گنا کا تعفن اس معاشرے کو بھی آلودہ کرتا ہے ۔ نیز ان کے اعمال اس معاشرے میں فساد وگناہ کی آگ بھڑکنے کا باعث بنتے ہیں ۔ یہ ” قطران “ کہ جس کا لباس انہیں اس جہان میں پہنایا جائے گا گویا ان کے اس جہان اعمال کی تجسیم ہے ۔

یہ جو آیت میں ہے کہ آگ کے شعلے ان کے چہروں کو ڈھانپ دیں گے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ جس حصہ پر ” قطران “ نہیں ہوگا وہ اس کے شعلوں میں جلے گا ۔

یہ اس لئے ہے کہ خدا چاہتا ہے کہ ہر شخص اس کے کئے کے مطابق سزا دے ( لِیَجْزِیَ اللَّہُ کُلَّ نَفْسٍ ما کَسَبَتْ ) ۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن یہ نہیں کہتا کہ ” انہیں ان کے اعمال کی سزا دے گا “ بلکہ کہتا ہے کہ جو کچھ انہوں نے انجام دیا ہے ، انہیں جزا کے طور پر دے گا ۔ دوسرے لفظوں میں ان کی جزا ان کے اعمال مجسم ہونا ہے ۔ اس خاص تعبیر کے باعث یہ آیت تجسیم اعمال کی ایک اور دلیل ہے ۔

آخر میں فرمایا گیا ہے: اللہ سریع الحساب ہے ۔( إِنَّ اللَّهَ سَریعُ الْحِسابِ )

بالکل واضح ہے کہ جب انسان کے اعمال ختم نہ ہوں اور چہرہ بدل کر انسان کے پاس آ جائیں تو اس سے زیادہ جلدی حساب اور کیا ہوگا اور در اصل انسان کا حساب اس کے ساتھ ساتھ ہی ہے ۔

بعض روایات میں ہے ۔( ان الله تعالیٰ یحساب الخلائق کلهم فی مقدار لمح البصر )

اللہ تعالیٰ چشم زدن میں تمام مخلوقات کا حساب کر لے گا ۔

اصولی طور پر پروردگار کی طرف سے محاسبہ مدت کا محتاج نہیں ۔ مذکورہ بالا روایت نے در اصل مختصر ترین زمانے کی طرف اشارہ کیا ہے ۔

مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد ۲ ص ۴۵ ۔ ( اردو ترجمہ ) کی طرف رجوع فرمائیں ۔

یہ سورہ اور تمام قرآن چونکہ لوگوں کو دعوت توحید دیتا ہے ، احکام الہی کی تبلیغ کرتا ہے اور احکام الہی کی خلاف ورزیوں سے ڈراتا ہے لہذا اس سورہ کی آخری آیت میں فرمایا گیا ہے : قرآن کا ابلاغ سب لوگوں کے لئے عمومی ہے( هذا بَلاغٌ لِلنَّاسِ ) ۔اور انہیں ڈرانے والا ہے( وَ لِیُنْذَرُوا بِهِ ) ۔ اور اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگ جان لیں کہ ان کا معبود بس وہی ایک ہے( وَ لِیَعْلَمُوا اٴَنَّما هُوَ إِلهٌ واحِدٌ ) ۔ نیز ہدف یہ ہے کہ صاحبان عقل و فکر متوجہ ہوں( وَ لِیَذَّکَّرَ اٴُولُوا الْاٴَلْبابِ ) )

____________________

۱ ۔تفسیر کبیر ، فخر الدین رازی جلد ۱۹ ص۱۴۸۔

۲ ۔فرید وجدی دائرة المعارف میں قطران کے مادہ میں کہتا ہے :

یہ ایسا مایع ہے کو پتھر کو کوئلہ کی تقطیر کے وقت ہاتھ آتا ہے جبکہ ایک خاص گیس حاصل کرنے کے لئے عمل تقطیر کیا جاتا ہے اور نباتی قطران بعض درختوں سے لیا جاتا ہے ۔


چند اہم نکات

۱ ۔ زمین اور آسمان بدل جائیں گے :

زیر نظر آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ قیامت میں یہ زمین کسی دوسری زمین میں اور اسی طرح آسمان دوسرے آسمانوں میں تبدیل ہو جائی گے ۔

کیا اس تبدیلی سے مراد ذاتی وجود کی تبدیلی ہے یعنی کیایہ زمین بالکل نا بود ہو جائے گی اور کوئی دوسری زمین خلق کع دی جائے گی اور قیامت اس زمین میں برپا ہوگی یعنی یہ کرہ خاکی اور یہ آسمان ویران ہو جائیں گے اور ان کے ویرانوں پر نئے زمین و آسمان پیدا ہوں گے جو اس زمین و آسمان کی نسبت تکامل و ارتقاء میں زیادہ ہوں گے ۔؟

قرآن مجید کی بہت سی آیات کا ظاہری مفہوم دوسرے معنی کی تائید کرتا ہے : ۔

سورہ فجر کی آیہ ۲۱ ۔ میں ہے :( کلا اذا دکت الارض دکاً دکاً )

ایک ایسا وقت آئے گا کہ جب زمین درہم برہم ہو جائے گی۔

سورہ زلزال میں اس جہان کے اختتام اور قیامت کے آغاز کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے :

( اذا زلزلت الارض زلزالها و اخرجت الارض اثقالها )

جب زمین میں زلزلہ آئے گا اور وہ اپنے مخفی بوجھ اگل دے گی ۔

سورہ حاقہ کی آیہ ۱۴ اور ۱۵ میں ہے :( و حملت الارض والجبال فدکتا دکة واحدة فیومئذوقعت الواقعة )

زمین اور پہاڑ اپنی جگہ سے اٹھالئے جائیں گےاور وہ درہم برہم ہو جائیں گے اور اس روز وہ عظیم واقعہ رونما ہوگا ۔

سورہ طٰہٰ کی آیات ۱۰۵ تا ۱۰۸ میں ہے :


۲ ۔سورہ ابراہیم کا آغاز اور اختتام

جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے سورہ ابراہیم قرآن کے ایک حساس موضوع سے شروع ہوتی ہے اور یہ موضوع ہے انسان کو جہالت اور شرک کے اندھیروں سے علم و توحید کی طرف نکال لے جانا ۔ اس سورت کا اختتام تمام لوگوں کو جہالت و شرک کے نتائج سے ڈرانے ، تعلیم توحید اور اولوا الباب کو متوجہ کرنے پر ہوتا ہے ۔

اس ابتداء اور انتہاء سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جو کچھ بھی ہم چاہتے ہیں وہ اسی قرآن میں موجود ہے ۔ حضرت امیر المومنین علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں :فیه ربیع القلب و ینابیع العلم

دلوں کی بہار اور علوم و دانش کے سوتے اسی قرآن سے پھوٹتے ہیں(۱)

اسی طرح تمام فکری ، اخلاقی اجتماعی اور سیاسی بیماریوں کا علاج اسی قرآن میں تلاش کرنا چاہئے ۔ بقول امیر المومنین :فاستشفوه من ادوائکم

اسی قرآن سے اپنی بیماریوں کی دوا حاصل کرو ۔(۲)

یہ بیان اس امر کی دلیل ہے کہ آج کے مسلمان جو سمجھتے ہیں کہ قرآن صرف ایک ایسی مقدس کتاب ہے جو پڑھنے اور ثواب حاصل کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے اس کے بر عکس یہ ایک ایسی کتاب ہے جو انسانوں کی ساری زندگی کے دستور العمل کے طور پر نازل ہوئی ہے ۔ یہ آگہی عطا کرنے والی اور بیدار کرنے والی کتاب ہے ۔

خلاصہ یہ کہ یہ ایسی کتاب ہے جو عالم اور دانشور کو متوجہ کرتی ہے اور عامة الناس اس سے ہدایت حاصل کرتے ہیں ۔ چاہیے کہ یہ کتاب مسلمانوں کی زندگی میں جگہ پائے اور ان کی زندگی کا آئین بن جائے ۔ نیز ضروری ہے کہ یہ کتاب ہمیشہ زیادہ سے زیادہ اور بہتر سے بہتر عمل کرنے کے لئے تحقیق ، مطالعہ اور غور و خوض کا موضوع بنی رہے ۔ مسلمانوں کے زوال اور پس ماندگی کا موثر عامل اور سبب یہ ہے کہ انہوں نے اس عظیم آسمانی کتاب کو فراموش کر دیا اور مشرق و مغرب کے انحرافی مکاتب فکر کی رخ کر لیا ہے ۔

حضرت علی علیہ السلام نے کیا عمدہ فرمایا ہے :

( واعلموا انه لیس علی احد بعد القرآن من فاقة ولا لاحد قبل القرآن من غنی ) ۔

یقین جانیے کہ آپ میں سے کوئی شخص بھی حامل قرآن ہو جائے تو اسے ذرہ بھر فقر و احتیاج نہیں رہے گی اور حامل قرآن ہونے سے پہلے بے نیازی اور تونگری ممکن نہیں ۔(۳)

کس قدر درد ناک ہے ۔ قرآن سے ہماری بیگانگی اور بے گانوں کی قرآن سے آشنائی ۔

کس قدر تکلیف دہ ہے ۔ کہ بہترین وسیلہ سعادت ہمارے گھر میں موجود ہے اور ہم اس سعادت کے لئے دنیا کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ۔

کس قدر اندوہناک ہے ۔ کہ آب حیات کا چشمہ ہمارے پاس ہو اور ہم تشنہ کام جان دے دیں یا تپتے ہوئے بے آب بیابانوں میں سیراب کے پیچھے بھاگتے رہیں ۔

خدا وندا ! ہمیں وہ عقل و ایمان عطا فرما جس کے ذریعے ہم سعادت کا یہ عظیم وسیلہ کھو نہ بیٹھیں جو تیری راہ کے شہداء نے ہم تک پہنچایا ہے ۔

اور ہمیں وہ شعور مرحمت فرما کہ ہم جان لیں کہ ہماری گمشدہ متاعیں اسی عظیم کتاب میں ہیں ۔

تا کہ ہم کبھی اس کے سامنے اور کبھی اس کے سامنے ہاتھ نہ پھیلاتے پھریں ۔

____________________

۱ ۔نہج البلاغہ

۲ ۔نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶

۳ ۔ نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶ ۔


۳ ۔ اول و آخر ۔ توحید

زیر نظر آیات کا ایک پہلو توحید پر تاکید ہے ۔ یہاں آخری ذکر بھی توحید کا ہے اور اسی کی طرف اولوا الباب کو متوجہ کیا گیا ہے ۔

جی ہاں ۔ توحید اسلام کی عمیق بنیاد ہے ۔ عقیدہ توحید اسلام کا وہ شجرہے جس کی جڑیں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں ۔ اسلامی تعلیم و تربیت کے سب راستے اسی پر اختتام پذیر ہوتے ہیں ۔ اسلام کی ابتداء بھی توحید ہے اور انتہاء بھی توحید ۔ اسلام کا تانا بانا توحید ہی سے بنا گیا ہے ۔ توحید کا تعلق فقط معبود اور اللہ کے عقیدہ ہی سے نہیں بلکہ اس کے ہر نظریے ، عقیدہ اور پروگرام کا ہدف بھی توحید ہی ہے ۔ ہر ایک کی بنیاد توحید پر ہے ۔

آج مسلمانوں کی عظیم ابتلا کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے توحید کو عملی طور پر اسلام سے حذف کر دیا ہے ۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عرب ممالک کہ جہاں اسلام پروان چڑھا ۔آج شرک آلود نعروں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ۔ آج وہ نسل پرستی ، عرب تفاخر ، احیاء عربیت اور عظمت عرب کے بھنور میں گرفتار ہیں ۔اسی طرح دوسرے ممالک میں سے بھی ہر کسی نے اپنے لئے اسی قسم کا کوئی بت تراش لیا ہے ۔ انہوں نے اسلامی توحید کو اپنے سے باکل الگ کر دیا ہے کہ جس نے کسی وقت مشرق و مغرب کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا تھا ۔ اس طرح یہ سب ممالک اپنے آپ میں ڈوب کر خود اپنے آپ سے بے گانہ ہو گئے ہیں ۔ حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ان کی آپس میں جنگ خون کے پیاسے دشمنوں سے کہیں زیادہ ہے ۔

یہ بات کتنی شرمناک ہے کہ ہم سنیں کہ عرب ممالک کی باہیمی جنگوں میں مرنے والوں کی تعداد اسرائیلی یہودیوں کے مقابلے میں مرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے ۔ اس وقت جب کہ ان کا ایک مشترک خطرناک دشمن ہے تو ان کے انتشار کا یہ عالم ہے اگر ایسا دشمن نہ ہوتا تو ان کی کیا حالت ہوتی ۔

اس وقت جبکہ ہم تفسیر کا یہ حصہ لکھ رہے ہیں حکومت عراق نے بڑی بے رحمی سے اسلامی جمہوریہ ایران پر حملہ کر دیا ہے اور بہانہ بھی اس کے پاس سرحد کا معمولی سا تنازعہ ہے جو یقینا مذاکرات سے حل ہو سکتا تھا ۔ یہ وہی حکومت عراق ہے کہ جس نے اسرائیلی سپاہیوں پر آج تک ایک بھی گولی نہیں چلائی ۔ آج اس نے اس سفا کی سے حملہ کیا ہے کہ جیسے دو قوموں کا آپس میں کوئی رشتہ ہی نہ ہو ۔ جیسے یہ نہ آپس میں ہمسایہ ہیں ، نہ ان میں تہذیب و ثقافت کا کوئی رشتہ ہے اور نہ گہرا دینی تعلق ہے ۔ ادھر ہم دیکھتے ہیں کہ مشترک دشمن یہودی خوش ہو کر کہتا ہے :

اس سے بہتر منصوبہ کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ عراق ایران پر حملہ کر دے اور دونوں میں شدید تباہ کن طولانی جنگ شروع ہو جائے اور ہمیں ایک مدت کے لئے آسودگی مل جائے ۔

یہ وہ مقام ہے کہ ایک موحد ، متعہد اور صاحب ایمان مسلمان پر لازم ہے کہ ان طاغوتو ں کا شر ختم کرنے کے لئے اٹھ کھڑا ہو ایسے شرک آلود ، نفاق ڈالنے والوں ، تباہیاں پھیلانے والوں اور دشمن کو خوش کرنے والوں کو قعر جہنم میں پہنچائے ۔


ابراہیم علیہ السلام کی زندگی پر ایک نظر

حضرت ابراہیم (علیه السلام)

یہ وہ صورت ہے جو قرآن حکیم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام سے موسوم ہے اگر چہ ان کے حالات زندگی صرف اسی صورت میں نہیں ہیں بلکہ مختلف مناسبتوں سے دیگر صورتوں میں بھی خدا کے اس عظیم پیغمبر کا ذکر موجود ہے ۔ ہم نے مناسب سمجھا کہ مکتب توحید کے اس ہیرو کی پر افتخار زندگی کے مختصر حالات زندگی اس سورہ کے آخر میں پیش کر دیں تا کہ اس سلسلہ میں آنے والی مختلف آیات کی تفسیر میں قارئین محترم کے لئے مدد گار ثابت ہو سکیں کیونکہ ان میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل کی ضرورت پیش آئے گی ۔

زندگی کے تین دور

حضرت ابراہیم کی زندگی کو واضح طور پر تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے :

۱ ۔ قبل بعثت کا دور

۲ ۔ دور نبوت اور بابل کے بت پرستوں سے مقابلہ ۔

۳ ۔ بابل سے ہجرت اور مصر ، فلسطین اور مکہ میں مساعی کا دور ۔

بت شکن پیغمبر ابراہیم علیہ السلام کی زندگی پر ایک نظر

بچپن

حضرت ابراہیم بابل میں پیدا ہوئے ۔ یہ دنیا کا حیرت انگیز اور عمدہ خطبہ تھا ۔ اس پر ایک ظالم و جابر اور طاقتور حکومت مسلط تھی(۱)

حضرت ابراہیم نے آنکھ کھولی تو بابل پر نمرود جیسا جابر و ظالم بادشاہ حکمران تھا ۔ وہ اپنے آپ کو بابل کا بڑا خدا سمجھتا تھا ۔

البتہ بابل کے لوگوں کے لئے یہی ایک بت نہ تھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کے ہاں مختلف مواد کے بنے ہوئے مختلف شکلوں کے کئی ایک بت تھے ۔ وہ ان کے سامنے جھکتے اور ان کی عبادت کرتے تھے ۔

حکومت وقت سادہ لوح افراد کو بیوقوف بنانے اور انہیں افیون زدہ رکھنے کے لئے بت پرستی کو ایک موثر ذریعہ سمجھتی تھی لہذا وہ بت پرستی کی سخت حامی تھی ۔ وہ کسی بت کی اہانت کو بہت بڑا نا قابل معافی جرم قرار دیتی تھی ۔

حضرت ابراہیم کی ولادت کے بارے میں مورخین نے عجیب و غریب داستان نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہاں پیش کیا جاتا ہے : بابل کے نجومیوں نے پیش گوئی کی تھی کہ ایک ایسا بچہ پیدا ہوگا جو نمرود کی غیر متنازعہ طاقت سے مقابلہ کرے گا ۔ لہذا اس نے اپنی تمام قوتیں اس بات پر صرف کر دیں کہ ایسا بچہ پیدا نہ ہو اس کی کوشش تھی کہ ایسا بچہ پیدا ہو بھی جائے تو اسے قتل کر دیا جائے ۔ لیکن اس کی کوئی تدبیر کار گر نہ ہوئی اور یہ بچہ آخر کار پیدا ہو گیا ۔

اس بچہ کی جاء ولادت کے قریب ہی ایک غار تھی ۔ اس کی ماں اس کی حفاظت کے لئے اسے اس میں لے گئی اور اس ک ی پرورش ہونے لگی ۔ یہاں تک کہ اس کی عمر کے تیرہ برس وہیں گزر گئے ۔

اب بچہ نمرود کے جاسوسوں سے بچ بچا کر نو جوانی میں قدم رکھ چکا تھا ۔ اس نے ارادہ کیا کہ اس عالم تنہائی کو چھوڑ دیا جائے اور لوگوں تک وہ درس توحید پہنچائے جو اس نے باطنی الہام اور فکری مطالعہ سے حاصل کیا تھا ۔

____________________

۱ ۔ بعض مورخین نے لکھا ہے کہ آپ ملک بابل کے شہر آور میں پیدا ہوئے ۔


بت پرستوں سے مقابلہ

بابل کے لوگ اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے بتوں کے علاوہ سورج ، چاند اور ستارے جیسے آسمانی موجودات کی پرستش کرتے تھے ۔ حضرت ابراہیم نے عزم صمیم کر لیا کہ واضح منطق اور استدلال کے ذریعہ ان کے خوابیدہ وجدان کو پیدا کیا جائے اور ان کی پاک فطرت کے چہرے سے غلط تعلیمات کے تاریک پردے ہٹا دئے جائیں تا کہ نور فطرت چمک اٹھے اور وہ توحید پرستی کے راستے پر گامزن ہو سکیں ۔

انہوں نے مدتوں آسمان و زمین کی خلقت پر غور کیا تھا ، ان پر حکمران قدرت کا مطالعہ کیا تھا اور آسمان و زمین کے شگفت انگیز اور تعجب خیز نظام کے بارے میں فکر کی تھی ۔ نور یقین ان کے دل میں چمک رہا تھا ( انعام ۔ ۷۵) ۔

منطق و استدلال کے سہارے

پہلے انہیں ستارہ پرستوں کا سامنا کرنا پڑا ۔” زہرہ “ ستارہ کہ جو غروب آفتاب کے ساتھ ہی افق مغرب پر چمک اٹھتا ہے ، یہ لوگ اس کی پرستش و تعظیم میں مشغول تھے ۔

حضرت ابراہیم نے استفہام انکاری کے طور پر یا ان کے نظریے کو غلط ثابت کرنے کے لئے ہم آہنگی کے اظہار کے طور پر پہلے کہا : یہ میرا خدا ہے ۔

لیکن جس وقت وہ غروب ہو گیا تو کہا : مجھے غروب ہونے والے اچھے نہیں لگتے ۔

جس وقت چاند افق کا سینہ چاک کرکے ابھرا اور چاند کی پرستش کرنے والوں نے مراسم عبادت شروع کیے تو ان کے ساتھ ہم صدا ہوکر کہنے لگے : یہ میرا خدا ہے ۔

اور جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا : اگر میرا پروردگار میری راہنمائی کرے تو میں تو گمراہوں میں سے ہو جاوں ۔

آفتاب نے شب تیرہ کا پردہ ہٹایا اور کوہ صحرا پر اپنی طلائی شعائیں چھڑکیں تو سورج پرست عبادت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ اس پر ابراہیم (علیه السلام) نے کہا : یہ میرا خدا ہے ، یہ تو ان سب سے بڑا ہے ۔

مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو گویا ہوئے : اے قوم ! میں ان شریکوں سے بیزار ہوں کہ جو تم نے خدا کے لئے بنا رکھے ہیں ۔ یہ تو سب غروب ہو جاتے ہیں ۔ یہ تو سب خوبصورت تغیر و تبدل کا شکار اور قوانین آفرینش کے اسیر ہیں ۔ ان کے تو اپنے بس میں کوئی ارادہ و اختیار نہیں چہ جائیکہ یہ خود اس جہان کے خالق اور اسے گردش دینے والے ہوں ۔ میں تو اپنا رخ اس کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس کے لئے میں اپنے ایمان میں خالص اور ثابت قدم ہوں اور میں ہر گز مشرکین میں شامل نہیں ہوں گا ( انعام ۔ ۷۵ تا ۷۹ ) ۔

ابراہیم نے بت پرستوں سے مقابلہ نہایت خوبصورتی سے جیت لیا ۔ کچھ لوگ بیدار ہو گئے اور باقی کم از کم اپنے عقاید کے بارے میں شک و شبہ میں پڑ گئے ۔

تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ علاقہ میں یہ بات دھوم گئی ۔ ہر کوئی سوچتا کہ یہ جوان کون ہے ، اس کی باتیں کتنی منطقی ہیں ، اس کا پیغام کتنا دل نشین ہے ، اس کی آواز تو لوگوں کے دلوں میں اترتی جاتی ہے ۔

آزر سے گفتگو

ایک اور مرحلہ آیا ۔ ابراہیم کی اپنے چچا آزر سے بحث ہونے لگی ۔ کبھی بہت مضبوط انداز سے ، محبت کے سلیقے سے اور کبھی تنبیہ و سر زنش کے لہجے میں ، آپ نے اسے بت پرستی کے بارے میں خبر دار کیا اور اس سے کہا : تو ایسی چیز کی پرستش کیوں کرتا ہے جو نہ سن سکتی ہے ، نہ دیکھ سکتی ہے اور نہ ہی تیری کوئی مشکل حل کر سکتی ہے ؟

آپ (علیه السلام) نے چچا سے کہا : اگر تو میری پیروی کے تو میں تجھے سیدھی راہ کی طرف ہدایت کروں ۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر تو شیطان کی پیروی کرتا ہے تو کہیں تجھے عذاب الہی دامن گیر نہ ہو جائے ۔

یہاں تک کہ ان کا چچا ان نصیحتوں کے جواب میں انہیں سنگسار کرنے کی دھمکی دیتا ۔ آپ (علیه السلام) ” سلام علیک “ کہتے ہوئے اسے جواب دیتے ہیں : میں تمہارے لئے استغفار کروں گا ۔

اس طرح آپ کوشش کرتے کہ اس سنگ دل کے دل میں کوئی گنجائش نکل آئے ۔ (مریم ۔ ۴۷ )

دور نبوت

حضرت ابراہیم کب مبعوث نبوت ہوئے ، اس سلسلے میں ہمارے پاس کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے ۔ البتہ سورہ مریم سے بس اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ نے اپنے چچا آزر سے بحث چھڑی تو آپ مقام نبوت پر فائز ہو چکے تھے کیونکہ سورہ کہتی ہے :

( و اذکر فی الکتاب ابراهیم انه کا صدیقاً نبیا ً اذ قال لابیه یا ابت لم تعبد مالا یسمع ولا یبصر ولا یغنی عنک شیئاً ) ۔

ہم جانتے ہیں کہ یہ واقعہ بت پرستوں کے ساتھ شدید معرکہ آرائی اور آپ کو آگ میں ڈالے جانے سے پہلے کا ہے ۔ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ آگ میں ڈالے جانے کے وقت حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی عمر ۱۶ ۔ سال تھی ۔ ہم اس کے ساتھ یہ اضافہ کرتے ہیں کہ یہ عظیم کا رسالت آغاز نو جوانی ہی میں آپ کے دوش پر آن پڑا تھا ۔

عملی مقابلے کا آغاز

بہر حال بت پرستوں کے ساتھ حضرت ابراہیم کی معرکہ آرائی روز بروز شدید سے شدید تر ہوتی چلی گئی ۔ یہاں تک کہ ایک روز موقعہ پا کر آپ نے بابل کے بت خانے کے بڑے بت کے علاوہ تمام بت توڑ دئے ۔ یہاں سے زبانی محاذ آرائی عملی مقابلے کی شکل اختیار کر گئی ۔

سلطان جابر کے سامنے

حضرت ابراہیم (علیه السلام)کی مخالفت اور محاذ آرائی کا ماجرا آخر کار نمرود کے کان تک پہنچ گیا ۔ آپ (علیه السلام) کو دربار میں حاضر کیا گیا تا کہ وہ بزعم خویش پند و نصیحت کے ذریعے ، یا ڈانٹ ڈپٹ کے ذریعے یا پھر دھمکی سے کام لے کر انہیں خاموش کردے ۔

نمرود بہت چالاک تھا ۔ اس نے حضرت ابراہیم (علیه السلام) سے پوچھا : اگر تو ان بتوں کی پوجا نہیں کرتا تو پھر تیرا پروردگار کون ہے ؟

آپ نے کہا : وہی جس کے قبضہ میں موت و حیات ہے ۔

وہ چلا کر کہنے لگا : اے بے خبر ! یہ تو میرے ہاتھ میں ہے ۔ کیا تو دیکھتا نہیں کہ جس مجرم کو قتل کی سزا ملی ہو میں اسے آزاد کر دیتا ہوں اور ایسے قیدی کو جسے قتل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ، میں چاہوں تو اسے قتل کر دیتا ہوں ۔

حضرت ابراہیم (علیه السلام) دندان شکن جواب میں بہت مشہور تھے ۔ نبوت کی طاقت سے مدد لیتے ہوئے آپ نے اس سے کہا : خدا کے ہاتھ میں صرف موت و حیا ہی نہیں بلکہ تمام عالم ہستی اس کے تابع فرمان ہے ۔ کیا تو دیکھتا نہیں کہ ہر صبح سورج اس کے حکم سے افق مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور وقت شام اس کے حکم سے مغرب میں ڈوب جاتا ہے ۔ اگر تو عالم ہستی کی اس وسعت کا فرماں روا ہے تو کل معاملہ اس کے بر عکس کر دے تو کہ سورج مغرب سے نکلے اور مشرق میں ڈوب جائے ۔ نمرود مبہوت ہو گیا ۔ ایسا چکرایا کہ اس کی زبان میں جواب کی سکت نہ رہی ( بقرہ ۔ ۲۵۸ )

اس میں شک نہیں کہ ابراہیم (علیه السلام) خوب جانتے تھے کہ موت و حیات پر قدرت کے بارے میں نمرود کا دعویٰ بس چکر بازی اور تیز طراری ہے لیکن استدلال پر آپ کی مہارت اجازت نہ دیتی تھی کہ اس موضوع پر بات کرتے رہیں کہ جسے مکار دشمن نے دیتاویز بنا لیا ہے لہذا اسے چھوڑ کر فورا ً ایسے موضوع پر بات شروع کی کہ جس پر وہ ہاتھ پاؤں مارنے کی طاقت بھی نہ رکھتا تھا ۔

حضرت ابراهیمعليه‌السلام کی هجرت

آخر کار نمرود کی ظالم حکومت کی مشیزی کو اس بات کا احساس ہوا کہ یہ جوان آہستہ آہستہ حکومت کے لئے خطرے کا مرکز بنتا جا رہا ہے ۔ انہوں نے سوچا کہ اس کی زبان گویا ، فکر توانااور منطق رسا کہیں پسے ہوئے محروم عوام کی بیداری اور آگاہی کا باعث نہ بن جائے کہیں لوگ استعمار کی زنجیر توڑ کی ان کے خلاف نہ اٹھ کھڑے ہوں لہذا حکومت نے فیصلہ کر لیا کہ بت پرستوں کے جاہلانہ تعصب کا سہارا لے کر ابراہیم کو راستے سے ہٹا دیا جائے ۔ انہیں ایک خاص انداز اور حالات پیدا کر کے لوگوں کے سامنے آگ کے دریا میں پھینکنے کا فیصلہ کر لیا گیا ۔ سورہ انبیا میں اس واقعہ کی تفصیل آئیں گی ۔یہ آگ در حقیقت لوگوں کی جہالت اور حکمران نظام کے ظلم کے ایندھن سے جلائی گئی تھی ۔ حکومت اس طرح اپنے آپ کو ہمیشہ کے لئے آسودہ فکر کرنا چاہتی تھی ۔

لیکن جب آگ حکم خدا سے خاموش ہو گئی اور ابراہیم اس سے صحیح و سالم نکل آئے تو نمرود کے نظام حکومت میں لرزہ پیدا ہو گیا ۔ اب ابراہیم ایک اور حیثیت سے سامنے آئے ۔ وہ ایک عام تفرقہ پرواز انسان نہ تھے کہ جسے وہ قتل کرنا چاہتے تھے ۔ وہ تو ایک خدائی رہبر تھے وہ ایک ایسے بہادر ہیرو تھے جو تن تنہا خالی ہاتھ طاقتور ظالم حکمرانوں پر حملہ کر سکتے تھے ۔ لہذا عوام کا خون چوسنے والے نمرود اس کے درباریوں نے فیصلہ کیا کہ وہ پوری قوت سے ابراہیم کا مقابلہ کریں گے اور جب تک انہیں ختم نہ کر لیں آرام سے نہیں بیٹھیں گے ۔

دوسری طرف ابراہیم یہاں اپنا کردار ادا کر چکے تھے ۔ آمادہ دل لوگ ان پر ایمان لا چکے تھے ۔ انہوں نے مناسب سمجھا کہ مؤمنین اور اپنے حامیوں کو ساتھ لے کر بابل سے نکل جائیں اور اپنی دعوت حق کو دور دور تک پھیلانے کے لئے شام ، فلسطین اور فرعون کی سر زمین مصر کی طرف روانہ ہوں ۔ آپ نے ان علاقوں میں حقیقت توحید کی تبلیغ کی اور بہت سے لوگ خدائے واحد پر ایمان لائے ۔

رسالت کا آخری مرحلہ

حضرت ابراہیم نے تمام عمر ہر طرح کی بت پرستی خصوصا ً انسان پرستی کے خلاف جہاد کرتے گزاری ۔ آپ نے آمادہ دلوں کو نور توحید سے روشن کیا ۔ آپ نے انسانی جسموں میں نئی روح پھونک دی اور بہت سے لوگوں کو خود غرضوں اور خود سروں کی قید سے رہائی دلائی ۔ اب ضروری تھا کہ آپ بندگی خدا کے آخری مرحلے میں قدم رکھیں اور اپنی متاع حیات کو طبق اخلاص میں رکھ کر بارگاہ الٰہی میں پیش کر دیں تاکہ خدا کی عظیم آزمائشوں سے گزر کر ایک عظیم روحانی انقلاب کے ذریعے انسانوں کی امامت کے مرحلے میں داخل ہوں ۔

اس کے ساتھ ساتھ اب انہیں خانہ توحید یعنی خانہ کعبہ کی بنیادوں کو بھی بلند کرنا تھا اور اسی خدا پرستی کے ایک بے نظیر مرکز میں تبدیل کرنا تھا اور تمام آمادہ دل مؤمنین کو اس عظیم مرکز توحید کے پاس ایک عظیم کانفرنس کی دعوت دینا تھا ۔

آپ نے اپنی کنیز ہاجرہ کو اپنی بیوی بنا لیا تھا ۔ اس سے انہیں اسمٰعیل جیسا بیٹا نصیب ہوا ۔ آپ کی پہلی بیوی سارہ نے ان سے حسد کیا ۔ یہی حسد سبب بنا کہ آپ ہاجرہ اور اپنے شیر خوار بچہ کو حکم خدا سے فلسطین سے لے کر مکہ کی جلتی ہوئی سنگلاخ پہاڑوں کی سر زمین میں لے گئے ۔ یہ وہ علاقہ تھا جہاں پانی کی ایک بوند بھی دستیاب نہ تھی آپ حکم خدا سے ایک عظیم امتحان سے گزرتے ہوئے انہیں وہاں چھوڑ کر واپس فلسطین آگئے ۔

وہاں چشمہ زمزم پیدا ہوا ۔ اس اثناء میں جرہم قبیلہ ادھر سے گزرا ۔ اس نے جناب ہاجرہ سے وہاں قیام کی اجازت چاہی ۔ گویا واقعات کا ایک طولانی سلسلہ ہے کہ جو اس علاقہ کی آبادی کا باعث بنا ۔

حضرت ابراہیم نے خدا سے دعا کی تھی کہ اس جگہ کو آباد اور پر برکت شہر بنا دے اور لوگوں کے دل میری اولاد کی طرف مائل کر دے ۔ ان کی اولاد وہاں پھلنے پھولنے لگی تھی ۔(۱)

یہ بات جاذب نظر ہے کہ بعض مورخین نے نقل کیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم ہاجرہ اور شیر خوار اسمعیل کو مکہ میں چھوڑ کر واپس جانا چاہتے تھے تو جناب ہاجرہ نے فریاد کی : اے ابراہیم آپ کو کس نے حکم دیا ہے کہ ہمیں ایسی جگہ پر چھوڑ جائیں کہ جہاں نہ کوئی سبزہ ہے ، نہ دودھ دینے والا کوئی جانور ، یہاں تک کہ جہاں پا نی کا ایک گھونٹ بھی نہیں ہے ۔ آپ پھر بھی ہمیں بغیر زاد و توشہ اور مونس و مدد گار کے چھوڑے جارہے ہیں ۔

حضرت ابراہیم نے مختصر سا جواب دیا : میرے پروردگار نے مجھے یہی حکم دیا ہے ۔

ہاجرہ نے یہ سنا تو کہنے لگی : اگر ایساہے تو پھر خدا ہر گز ہمیں یوں ہی نہیں چھوڑے گا ۔(۲)

حضرت ابراہیم بار ہا فلسطین سے اسماعیل کو ملنے کے لئے مکہ آئے ۔ ایک سفر کے موقعہ پر آپ مراسم حج بجا لائے اور حکم خدا سے اپنے آبرو مند اور نہایت پاکیزہ صاحب ایمان نو جوان بیٹے اسماعیل کو لے کر قربان گاہ میں آئے ۔ اسمعیل آپ کی زندگی کا بہترین ثمر تھے ۔ آپ بالکل تیار تھے کہ انہیں راہ خدا میں قربان کر دیں ۔

اس اہم ترین آزمائش سے جب آپ نہایت عالی طریقہ سے عہدہ بر آ ہو چکے اور آخری مرحلے تک اپنی آمادگی کا مظاہرہ کر چکے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانی کو قبول کر لیا اور اسمعیل کو بچا لیا اور قربانی کے لئے ایک دنبہ کو بھیج دیا ۔(۳)

حضرت ابراہیم ان سب امتحانات سے کامیابی سے گزر چکے اور آزمائشوں کی اس کٹھالی سے کامیاب نکل آئے تو آپ کو ایک ایسا مقام حاصل ہوا جو وہ بلند ترین مقام ہے جو ایک انسان ترقی کرکے حاصل کر سکتا ہے ۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے :

اللہ نے کچھ کلمات کے ذریعے ابراہیم کاا متحان لیا ۔ وہ ان سب سے کامیاب گزرے تو اس پر اللہ نے ان سے کہا : میں تجھے لوگوں کا امام اور پیشوا قرار دیتا ہوں ۔ ( ابراہیم اس خوش خبری پر وجد میں آئیں گے ) کہنے لگے : یہ مقام میرے کچھ اولاد کو بھی عطا کر دے ۔ ( ان کی دعا قبول ہو گئی لیکن ایک شرط کے ساتھ) اللہ نے کہا : یہ مقام ہر گز کسی ایسے شخص کو نصیب نہ ہوگا جس سے ظلم و ستم اور انحراف سرزد ہوا ہو۔(۴)

____________________

۱ ۔ کامل ابن اثیر جلد ۱ ص ۱۰۳

۲ ۔ سورہ صٰفٰت ۱۰۴ تا ۱۰۷

۳ ۔ بقرہ ۔ ۱۲۴

۴ ۔ سفینة البحار جلد ۱ ۔ ص ۷۴۔


قرآن اور ابراہیم کا مقام بلند

آیات قرآن مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو بہت بلند مقام عطا فرمایا تھا ۔ ایسا بلند مقام اللہ تعالیٰ نے کسی اور گزشتہ نبی کو عطا نہیں فرمایا تھا ۔

اس پیغمبر خدا کی عظمت ان تعبیرات سے واضح طور پر معلوم کی جا سکتی ہے :

۱ ۔ خدا نے ابراہیم کی ایک ” امت “ قرار دیا ہے اور ان کی شخصیت کو ایک امت کی مانند گردانا ہے ( نحل ۔ ۱۲۰ ) َ ۔

۲ ۔اللہ نے آپ کو خلیل اللہ کا مرتبہ عطا فرمایا ہے :

( واتخذ اللهابراهیم خلیلا ) (نساء ۔ ۱۲۵) ۔

یہ امر قابل توجہ ہے کہ بعض روایات میں ہے :

یہ مقام انہیں اس بناء پر حاصل ہوا کہ ابراہیم نے خود کبھی کسی چیز کے لئے کسی کے سامنے دست دراز بلند نہ کیا اور کبھی کسی سائل کو محروم نہیں لوٹایا ۔(۱)

۳ ۔ قرآن کے مطابق وہ نیک ۱ صالح ۲ قانتین میں سے ، ۳ صدیقین میں سے ،

۴ صابرین میں سے

۵ اور ایفائے عہد کرنے والوں میں سے تھے ۔(۲)

۱ ۔ ص ۴۷

۲ ۔ نحل ۔ ۱۲۲

۳ ۔ نحل ۱۲۰

۴ ۔ مریم ۔ ۴۱

۵ ۔ توبہ ۱۱۴

۶ ۔ نجم ۔ ۳۷

۷ ۔ ذاریات ۲۴ تا ۲۷

یہاں تک کہ بعض روایات میں انہیں ابوا ضیاف ( مہمانوں کا باپ یا مہمانوں کا ساتھی ) کا لقب دیا گیا ہے ۔(۳)

۸ ۔ سفینة البحار جلد ۱ ص ۷۴

جب ہت دھر قوم آپ کو آگ کے سمندر میں پھینک رہی تھی ۔ فرشتوں نے خواہش کی تھی کہ ہم آپ کو بچا لیں ۔ ابراہیم نے ان کے اس تقاضے کو قبول نہ کیا ۔ تاریخ میں اس بات کا تذکرہ موجود ہے ۔ آپ (علیه السلام) نے کہا : میں سر تا نیاز و احتیاج ہوں لیکن مخلوق سے نہیں صرف خالق سے ،(۴)

۶ ۔ شجاعت و بہادری میں بے مثال تھے ۔

بت پرستوں کے دہاڑتے ہوئے سیلاب کے سامنے تنہا کھڑے ہو گئے ، ان کا دل لمحہ بھر کے لئے ان سے وحشت زدہ نہ ہوا ۔ آپ نے ان کے بتوں کا مذاق اڑایا اور ان کے بت کدے کو ڈھا کر پتھروں کا ڈھیر بنا دیا نیز نمرود اور اس کے جلادوں کے بڑی جرأت سے بات کی جو قرآنی آیات میں موجود ہے ۔

۷ ۔ ابراہیم بڑی منطق سے بات کرتے تھے ۔

آپ نے گمراہوں کو بہت مختصر ، محکم ، دندان شکن استدلال سے جواب دئے اور اپنے مطقی استدلال سے مخالفین کو رسواکر دیا ۔

آپ کبھی سختی و خشونت سے پیش نہیں آتے تھے بلکہ بڑے اطمینان سے بات کرتے ۔ آپ کا یہ انداز آپ کی عظیم روحانی قوت کا ترجمان تھا ۔ آپ نے گفتار و کردار سے مخالفین کو شکست دی ۔ نمرود کے سامنے آپ کی بات چیت اور اپنے چچا آزر سے آپ کی گفتگو بابل کے قاضیوں سے مناظرہ بڑی وضاحت سے مرقوم ہے ۔ بابل کے قاضی آپ کو خدا پرستی اور بت شکنی کے جرم میں سزا دینا چاہتے تھے آپ نے بڑے اعتماد اور اطمینان سے مدلل جواب دئے ۔ اس سلسلے میں سورہ انبیاء کی مندرجہ ذیل آیات کو غور سے پڑھنا چاہیے :

قاضیوں نے آپ سے پوچھا : کیا وہ تم ہی ہو جس نے ہمارے خداؤں کے سر پر یہ مصیبت ڈھائی ہے اور ان سب چھوٹے بڑے بتوں کو توڑ پھوڑ دیا ہے ۔( قالو ا اٴانت فعلت هٰذا بالٰهتنا یاابراهیم )

( کہنے لگے : اے براہیم کیا وہ تم ہی ہو جس نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے )؟ ۔

آپ نے انہیں ایسا جواب دیا کہ ان کےلئے بچ نہ نکلنے کی کوئی راہ نہ رہی ۔قرآن کے الفاظ میں :

( قال بل فعله کبیرهم هٰذا فاسئلوهم ان کانوا ینطقون )

بولے :ہوسکتا ہے کہ ان کے بڑے نے یہ کام کیا ہو اگر یہ بات کرسکتے ہیں تو انہیں سے پوچھو ۔

اس ایک ہی جملہ سے آپ نے اپنے دشمنوں کے لئے تمام راستے بند کردئے ۔ اب اگر وہ کہیں کہ بت گونگے ہیں ، لب پستہ ہیں او ربا ت کرنے کی سکت نہیں رکھتے ، تو ان کے گونگے اور بے عزت خدا ؤں کی کتنی رسوائی ہے اورا گر کہیں کہ یہ با ت کر سکتے ہیں تو پھر ان کے پوچھنا پڑتا او رانہیں جواب دینا پڑتا ۔

اس پر ان کا کوابیدہ وجدان جاگ اٹھا ۔ ان کے اندر آواز آئی : تم ظالم اور خود پرست ہو ، نہ اپنے اوپر رحم کرتے ہو اور نہ اپنے معاشر پر ۔

قرآن الفاظ میں :( فارجعوا الیٰ انفسهم فقالوا انهم انتم الظالمون )

بہرحال جواب تو انہیں دینا ہی تھا ۔( ثم نکثو ا علی رؤسهم لقد علمت ما هوؤلاء ِ ینطقون )

بڑی بے دلی سے سر شکستہ ہو کر کہنے لگے : تم تو جانتے ہی ہو کہ یہ بات نہیں کرسکتے ۔

یہاں حضرت ابراہیم (علیه السلام) بات ان کے سر پر بجلی بن کر گری ۔

آپ نے پکار کر کہا :( اف لکم و لما تعبدون من دون الله افلا تعقلون )

حیف ہے تم پراور ان پر کہ خدا کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو ۔ کیا گیاہے تمہاری عقلوں کو؟ ۔

آخر کا رجب انہوں نے دیکھا کہ وہ ابراہیم (علیه السلام) قوی منطق کے مقابلہ کی سکت نہیں رکھتے تو انہوں پھر تمام جھوٹے سر کشوں کی طرح طاقت کا سہارا لیا اور کہنے لگے :تمہیں چاہئیے کہ انہیں جلادو:

اس کام کے لئے انہوں بت پرستوں کے جاہلانہ تعصبات سے مدد لی او رپکا رکر کہا : اگر تم میں طاقت ہے تو اسے جلا دو اور اپنے خداؤں کی مدد کےلئے تیار ہو جاؤ۔

( قالوا حرقوه و انصروا الٰهتکم ان کنتم فاعلین ) “۱۷

یہ ابراہیم (علیه السلام) کی رسا ،استدالالی اور قاطع منطق کا ایک نمونہ تھا ۔

۸ ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن مسلمانوں کا ایک اعزازیہ شمار کرتا ہے کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں(۵)

اور قرآن کہتا ہے کہ ان ہی نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے ۔(۶)

یہاں تک کہ مسلمانوں کو شوق دلانے کے لئے ان کے چند کے احکام پر عمل در آمد کی دعوت دیتا ہے او رکہتا ہے کہ تمہیں ابراہیم او ران کے انصا رکی اقتدا کرنا چاہئیے ۔(۷)

۹ ۔ اس عظمت و شکوہ سے مراسم حج کی بنیاد حکم الٰہی سے حضرت ابراہیم (علیه السلام) نے رکھی ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام مراسم حج میں ابراہیم کا نام ، ان کے کی یاد اور ان کا ذکر موجود ہے ۔(۸)

۱۰ ۔ ابراہیم (علیه السلام) کی شخصیت اس قدر بلند ہے کہ ہر گروہ کی کوشش تھی کہ انہیں اپنے میں سے قرار دیں ۔

یہودی اور عیسائی ابراہیم (علیه السلام) کے ساتھ اپنے تعلق پر بہت زور دیتے تھے یہاں تک کہ قرآن ان کے جواب میں یہ حقیقت بیان کرتا ہے کہ وہ ایک مسلمان اور سچے موحد تھے یعنی وہ ہر امر میں حکم خدا کے سامنے سر تسلیم خم تھے ، اس کے علاوہ انہیں کوئی سوچ نہ تھی اور بس اسی کی راہ میں قدم اٹھاتے تھے ۔(۹)

____________________

۱۔ ابراہیم بہت مہمان نواز تھے ۔ ۱۳

۲ ۔ ان کا توکل بے مثال تھا یہاں تک کہ کسی کام اور کسی مشکل میں خدا کے علاوہ کسی پر نظر نہیں رکھتے تھے ۔ جو کچھ بھی مانگتے خدا ہی سے مانگتے اور اس کے علاوہ کسی کا دروازہ نہیں کھٹکھٹاتے تھے ۱۵

۳- شعراء ۷۸ تا ۸۲

۴ ۔ کامل بن اثیر جلد ۱ ۔ ص ۹۹ ۔

۵۔انبیاء ۶۳ ۔تا ۔ ۶۷۔

۶۔ ملة ابیکم ابراھیم حج ۷۸۔

۷۔ ملة ابیکم ابراھیم حج ۷۸۔

۸۔ ممتحنة ۔۴۔

۹۔ سورہ حج ۲۷۔


فہرست

سورہ یوسف ۴

آیات ۵۴،۵۵،۵۶،۵۷ ۴

یوسف عليه‌السلام مصر کے خزانہ دار کی حیثیت سے ۴

چند اہم نکات ۷

۱ ۔ حضرت یوسف عليه‌السلام نے طاغوت وقت کی دعوت کیونکر قبول کی ؟ ۷

۲ ۔ اقتصادی مسائل اور انتظامی صلاحیت کی اہمیت : ۹

۳ ۔ مصارف کی نگرانی : ۱۰

۴ ۔ اپنی تعریف یا اپنا تعارف : ۱۱

۵ ۔ روحانی اجر بہتر ہے : ۱۲

۶ ۔قیدیوں کے حقوق کی حمایت : ۱۲

آیات ۵۸،۵۹،۶۰،۶۱،۶۲ ۱۴

یوسف عليه‌السلام کی بھائیوں کو نئی تجویز ۱۴

چند اہم نکات ۱۸

۱ ۔ حضرت یوسف عليه‌السلام نے بھائیوں نے اپنا تعارف کیوں نہیں کروا یا : ۱۸

۲ ۔غلہ کی قیمت کیوں واپس کردی : ۱۹

۳ ۔حضرت یوسف عليه‌السلام نے بیت المال کا مال کیوں بلا معاوضہ دے دیا؟ : ۱۹

آیات ۶۳،۶۴،۶۵،۶۶ ۲۱

آخرکار باپ راضی ہو گئے ۲۱


چند اہم نکات ۲۴

۱ ۔ حضرت یعقوب عليه‌السلام کیسے راضی ہو گئے : ۲۴

۲ ۔ کیا صرف ایک قسم کافی تھی ؟ ۲۵

آیات ۶۷،۶۸ ۲۶

تفسیر ۲۶

آیات ۶۹،۷۰،۷۱،۷۲،۷۳،۷۴،۷۵،۷۶ ۳۰

بھائی کو روکنے کی کوشش ۳۱

چند اہم نکات ۳۵

۱ ۔ یوسف عليه‌السلام نے بھائیوں سے اپنا تعارف کیوں نہ کروایا؟ ۳۵

۲ ۔ بے گناہ پر چوری کا الزام ؟ : ۳۵

۳ ۔ چوری کی طرف سب کی نسبت کیوں دی گئی ؟ : ۳۶

۴ ۔اس زمانے میں چوری کی سزا ؟ ۳۷

۵ ۔” سقایا“یا ” صوامع “ : ۳۷

آیات ۷۷،۷۸،۷۹ ۳۹

برادران یوسف عليه‌السلام کی فداکاری کیوں قبول نہیں ہوئی ؟ ۳۹

آیات ۸۰،۸۱،۸۲، ۴۲

بھائی سر جھکائے باپ کے پاس پہنچے ۴۲

چند اہم نکات ۴۵

۱ ۔ سب سے بڑا بھائی کون تھا ؟ ۴۵

۲ ۔ موجود قرائن کی بنیاد پر فیصلہ : ۴۵


۳ ۔ برادران یوسف (علیه السلام) میں فرق : ۴۵

آیات ۸۳،۸۴،۸۵،۸۶ ۴۷

میں وہ الطاف الہٰی جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۴۷

آیات ۸۷،۸۸،۸۹،۹۰،۹۱،۹۲،۹۳ ۵۱

کو شش کرو اور مایوس نہ ہو ۵۲

چند اہم نکات ۵۸

۱ ۔ یوسف (علیه السلام) کی قمیص کون لے کر گیا ؟ ۵۸

۲ ۔ یوسف (علیه السلام) کی عظمت : ۵۸

۳ ۔ کامیابی کا شکرانہ : ۵۹

آیات ۹۴،۹۵،۹۶،۹۷،۹۸ ۶۱

آخرکار لطف الہٰی اپنا کام کرے گا ۶۱

چند اہم نکات ۶۴

۱ ۔ یعقوب (علیه السلام) نے پیراہن یوسف (علیه السلام) کی خوشبو کیسے محسوس کی ؟ ۶۴

۲ ۔ انبیاء کے حالات میں فرق: ۶۵

۳ ۔ بینائی کیسے لوٹ آئی ؟ ۶۶

۴ ۔ استغفار کا وعدہ : ۶۷

۵ ۔ توسل جائز ہے : ۶۷

۶ ۔ سیاہ رات چھٹ گئی: ۶۷

آیات ۹۹،۱۰۰،۱۰۱، ۶۹

تفسیر ۶۹


یوسف (علیه السلام)، یعقوب (علیه السلام) اور بھائیوں کی سر گزشت کا اختتام ۶۹

چند اہم نکات ۷۲

۱ ۔ کیا غیر خد اکے لئے سجدہ جائز ہے ؟ ۷۲

۲ ۔ شیطانی وسوسے: ۷۴

۳ ۔ امن و امان خدا کی عظیم نعمت : ۷۴

۵ ۔ اختتام خیر : ۷۵

۶ ۔ کیایوسف (علیه السلام) کی والدہ مصر آئی تھیں ؟ ۷۶

۷ ۔ باپ کو سر گزشت نہ سنانا: ۷۶

آیات ۱۰۲،۱۰۳،۱۰۴،۱۰۵،۱۰۶،۱۰۷ ۷۸

یہ دعویدار عام طور پر مشرک ہیں ۷۸

آیات ۱۰۸،۱۰۹،۱۱۰،۱۱۱ ۸۴

عبرت کے زندہ درس ۸۵

سورہ یوسف (علیه السلام)کا اختتام ۹۰

سورہ رعد ۹۲

آسمان و زمین اورسبزہ زار خدا کی نشانیاں ہیں ۹۲

آیات ۱،۲،۳،۴، ۱۰۱

چند اہم نکات ۱۰۲

۱ ۔ توحید اور قیامت میں تعلق: ۱۰۲

۲ ۔قرآن کی سائنسی معجزات : ۱۰۲

۳ ۔ سورج اور چاند کی تسخیر : ۱۰۳


آیات ۵،۶ ۱۰۵

قیامت کے بارے میں کافروں کا تعجب ۱۰۶

چند اہم نکات ۱۰۸

آیت ۷ ۱۱۰

پھر بہانہ سازی ۱۱۰

دو سوال اور ان کے جواب ۱۱۱

۱ ۔ کافروں کا جواب کیسے ہوا ؟ ۱۱۱

۲ ۔”لکل قوم ھاد“ سے کیا مراد ہے ؟ ۱۱۱

آیات ۸،۹،۱۰ ۱۱۴

خدا کا بے پایاں علم ۱۱۴

چند اہم نکات ۱۱۶

۱ ۔ قرآن اور جنین شناسی : ۱۱۶

۳ ۔ خد اکے لئے غیب و شہود برابر ہیں : ۱۱۸

۴ ۔ علم خدا کی طرف کے تربیتی آثار: ۱۱۹

آیت ۱۱ ۱۲۱

غیبی محافظ ۱۲۱

چند اہم نکات ۱۲۲

۱ ۔ ”معقبات“ کیا ہیں ؟ ۱۲۲

۲ ۔ تبدیلی ہمیشہ خود ہمارے ہاتھو سے آتی ہے : ۱۲۴

آیات ۱۲،۱۳،۱۴،۱۵ ۱۲۷


عظمت الہٰی کی کچھ نشانیاں ۱۲۷

رعد و برق کی بر کتیں ۱۲۸

۱ ۔ آبیاری : ۱۲۹

۲ ۔ جراثم پرسم پاشی : ۱۲۹

۳ ۔ تغذیہ اور کھاد رسائی : ۱۲۹

چند اہم نکات ۱۳۵

۱ ۔ موجودات کے سجدہ کرنے سے کیا مرد ہے : ۱۳۵

۲ ۔ طوعاً و کرھاً سے کیا مراد : ۱۳۵

۳ ۔ ”ظلال“ کامفہوم :”ظلال “جمع ”ظل“ کی ، جو ”سایہ “ کے معنی میں ہے ۱۳۵

۴ ۔ ”آصال “اور” غدو“ کامطلب : ۱۳۶

آیت ۱۶ ۱۳۷

بت پرستی کیوں ؟ ۱۳۷

چند اہم نکات ۱۳۸

۱ ۔ خالقیت و ربوبیت معبودیت سے مر بوط ہے : ۱۳۹

۲ ۔ خود ہی سوال اور خود ہی جواب : ۱۳۹

۳ ۔چشم بینا اور روشنی لازم و ملزوم ہیں : ۱۴۰

۴ ۔ کیا خدا کی خالقیت جبر و اکراہ کی دلیل ہے ؟ ۱۴۰

آیت ۱۷ ۱۴۲

حق و باطل کی منظر کشی ۱۴۲

چند اہم نکات ۱۴۴


۱ ۔ حق و باطل کی شناخت کے لئے علامتیں : ۱۴۴

۳ ۔ فائدہ ہمیشہ اہلیت کے اعتبار سے ہوتا ہے : ۱۴۵

۴ ۔ باطل سر گرداں ہے : ۱۴۶

۵ ۔ باطل صرف ایک لبادہ میں نہیں ہوتا: ۱۴۶

۶ ۔ ہر موجود کی بقا اس کے فائدے سے وابستہ ہے : ۱۴۶

۷ ۔ حق باطل کو کس طرح باہر نکال پھینکتا ہے : ۱۴۷

۸ ۔ باطل اپنی بقا میں حق کا مقروض ہے : ۱۴۷

۹ ۔ حق اور باطل میں ہمیشہ مقابلہ رہتا ہے : ۱۴۷

۱۰ ۔ زندگی جہاد و جستجو کے سائے میں : ۱۴۸

قرآنی مثالیں ۱۵۰

۱ ۔ مثال مسائل کو حسّی بنا دیتی ہے : ۱۵۰

۲ ۔ مثال راستے کو مختصر کردیتی ہے : ۱۵۰

۳ ۔ مثال مسائل کو سب کے لئے یکسان بنا دیتی ہے : ۱۵۰

۴ ۔ مثال مسائل کو زیادہ قابل اطمینان بنا دیتی ہے : ۱۵۰

۵ ۔مثال ہٹ دھرموں کو خاموش کردیتی ہے : ۱۵۱

آیت ۱۸ ۱۵۴

جنہوں نے دعوت ِ حق کو قبول کر لیا ۱۵۴

ایک نکتہ ۱۵۷

آیات ۱۹،۲۰،۲۱،۲۲،۲۳،۲۴، ۱۵۹

اہل شعور کا طرز عمل جنت کے آٹھ دروازے ۱۵۹


چند اہم نکات ۱۶۹

۱ ۔ صرف”صبر“کا ذکر کیوں ہوا ہے ؟ ۱۶۹

۲ ۔جنت کے دروازے : ۱۶۹

۳ ۔اہل جنت سے وابستگی رکھنے والے ان سے جاملیں گے: ۱۷۰

۴۔ گناہ کے آثار دھلنا : ۱۷۱

آیات ۲۵،۲۶ ۱۷۳

دنیا پرست تباہ کار ۱۷۳

چند اہم نکات ۱۷۵

۱ ۔ مفسد فی الارض “ کون ہے ؟ ۱۷۵

۲ ۔ روزی خدا کے ہاتھ میں ہے لیکن: ۱۷۸

آیات ۲۷،۲۸،۲۹ ۱۸۱

یاد الٰہی باعث ِ تسکین دل ہے ۱۸۱

چند اہم نکات ۱۸۳

۱ ۔ یا د الہٰی سے دل کو کیسے سکون ملتا ہے ؟ ۱۸۳

پریشانی اور اضطراب کے عوامل ۱۸۴

۲ ۔ کیا خوف ِخدا اور اطمینان باہم مطابقت رکھتے ہیں ؟ ۱۸۷

۳ ۔ ”ذکر خدا “ کیا ہے او ر کس طرح ہے ؟ ۱۸۷

آیات ۳۰،۳۱،۳۲ ۱۹۰

شان نزول ۱۹۰

ہٹ دھرم ہر گز ایمان نہیں لائیں گے ۱۹۲


چند اہم نکات ۱۹۴

۱ ۔ لفظ” رحمن “ کیوں استعمال کیا گیا ہے ؟ ۱۹۴

۲ ۔ پیغمبر اکرم نے معجزات کا تقاضاکیوں پورا نہ کیا ۱۹۵

۳ ۔ ” قارعة “ کیا ہے ؟ ۱۹۶

آیات ۳۳،۳۴ ۱۹۷

کس طرح خدا کو بتوں کا شریک بناتے ہو؟ ۱۹۷

آیت ۳۵ ۲۰۰

تفسیر ۲۰۰

آیت ۳۶ ۲۰۲

خدا پرست اور دیگر گروہ ۲۰۲

ایک اہم نکتہ ۲۰۴

آیات ۳۷،۳۸،۳۹،۴۰ ۲۰۵

قطعی اور قابل ِ تغیر حوادث ۲۰۵

دو اہم نکات ۲۱۰

۱ ۔لوح محو و اثبات اور ام الکتاب : ۲۱۰

آیات ۴۱،۴۲،۴۳ ۲۱۷

انسان اور معاشرے ختم ہو جاتے ہیں ، خدا باقی رہتا ہے ۲۱۷

سوره ابراهیم ۲۲۲

آیات ۱،۲،۳، ۲۲۲

تفسیر ۲۲۲


ظلمتوں سے نور کی طرف ۲۲۲

چند اہم نکا ت ۲۲۵

۱ ۔ ایمان اور راہ ِخدا کو نور سے تشبیہ دینا ۲۲۵

۲ ۔ ”لتخرج“ کامفہوم : ۲۲۶

۳ ۔ سورة کے آغاز و اختتام پر ایک نظر : ۲۲۶

آیات ۴،۵،۶،۷ ۲۲۷

تفسیر ۲۲۷

زندگی کے حساس دن ۲۲۷

چند اہم نکات ۲۳۳

۱ ۔ ایام اللہ کی یاد آوری ۲۳۳

۲ ۔ جابروں کے طور طریقے ۲۳۴

۳ ۔ سب سے بڑی نعمت آزادی ہے : ۲۳۴

۴ ۔ شکر نعمت اور کفران ِ نعمت کا نتیجہ ۲۳۵

شکر نعمت کے بارے میں چند اہم نکات ۲۳۹

آیات ۸،۹،۱۰ ۲۴۱

تفسیر ۲۴۱

کیا خدا کے بارے میں شک ہے ؟ ۲۴۱

آیات ۱۱،۱۲ ۲۴۷

صرف اللہ پر توکل کرو ۲۴۷

چند اہم نکات ۲۴۹


۱ ۔ مومنین اور متوکلین ۲۴۹

۲ ۔ انبیاء اور معجزات ۲۴۹

۳ ۔ توکل کی حقیقت اور فلسفہ ۲۴۹

آیات ۱۳،۱۴،۱۵،۱۶،۱۷ ۲۵۳

تفسیر ۲۵۳

منحرف جابروں کا طرز عمل اور ان کا انجام ۲۵۳

چند اہم نکات ۲۵۸

۱ ۔ مقام ِ پروردگار سے کیا مراد ہے ؟ ۲۵۸

۲ ۔ ”استفتحوا“کامفہوم ۲۵۸

۳ ۔ ایک جابر حکمران اور قرآن کی یہ آیت ۲۵۹

آیت۱۸ ۲۶۰

تیز آندھی اور خاکستر ۲۶۰

چند اہم نکات ۲۶۰

۱ ۔ بکھر جانے والی راکھ : ۲۶۰

۲ ۔ کافروں کے اعمال خاکستر کی مانند ہیں : ۲۶۱

۳ ۔ ایک طوفانی دن اور آندھی : ۲۶۱

۴ ۔ پتوں اور راکھ کے بکھر جانے میں فرق ہے : ۲۶۱

۵ ۔ تیز آندھی کے اثرات : ۲۶۱

۲ ۔ ان کے اعمال کیوں کھوکھلے ہیں ؟ ۲۶۲

۳ ۔ مسئلہ احباط ۲۶۳


۴ ۔ کیا ایجادات و انکشافات کرنے والوں کے لئے بھی جزا ء ہے ؟ ۲۶۴

آیات ۱۹،۲۰ ۲۷۰

تفسیر ۲۷۰

خلقت حق کی اساس پر ہے ۲۷۰

آیات ۲۱،۲۲،۲۳ ۲۷۳

تفسیر ۲۷۴

شیطان اور ا س کے پیرو کاروں کی صریح گفتگو ۲۷۴

چند اہم نکات ۲۷۴

۱ ۔ ایک اشکال کی وضاحت : ۲۷۴

۲ ۔ ” ( لو هدانا الله لهدیناکم ) “کامفہوم ۲۷۵

۳ ۔ اندھی تقلید کی مذمت ۲۷۶

۴ ۔ ”برزو“ اور محیص“ کا مفہوم ۲۷۶

چند اہم نکات ۲۷۷

۱۰۔ شیطان کا اپنے پیروکاروں کو سخت جواب ۲۷۷

۲ ۔ روز حشر شیطان کا اپنے پیرو کاروں سے رابطہ ۲۷۸

۳ ۔ گمراہی کے دیگر پیشواون کا طرز عمل ۲۷۸

۴ ۔ ”مصرخ“ کا مطلب ۲۷۸

۵ ۔ شیطان کو شریک قرا ردینے سے مراد ۲۷۹

۶ ۔ ”ان الظالمین لھم عذاب الیم “کس کا جملہ ہے : ۲۷۹

آیات ۲۴،۲۵،۲۶،۲۷ ۲۸۱


تفسیر ۲۸۱

”شجرہ طیبہ“اور” شجرہ خبیثہ“ ۲۸۱

چند اہم نکات ۲۸۸

۱ ۔ کیا آخرت سے مراد قبر ہے ؟ ۲۸۸

۲ ۔ ثبات و استقامت کا اثر ۲۸۸

۳ ۔ روایات اسلامی میں شجرہ طیبہ اور شجرہ خبیثہ ۲۸۹

آیات ۲۸،۲۹،۳۰ ۲۹۱

تفسیر ۲۹۱

کفران ِ نعمت کا انجام ۲۹۱

چند اہم نکات ۲۹۳

۱ ۔ نعمت کوکفر میں بدل دیا : ۲۹۳

۲ ۔ نعمت سے سوئے استفادہ کفران ِ نعمت ہے : ۲۹۳

۳ ۔ ” انداد“ کا مفہوم : ۲۹۴

آیات ۳۱،۳۲،۳۳،۳۴ ۲۹۶

تفسیر ۲۹۶

قرآن کی نگاہ میں انسان کی عظمت ۲۹۶

چند اہم نکات ۲۹۹

۱ ۔ خالق اور مخلوق سے رشتہ ۲۹۹

۲ ۔انفاق، پنہان اور آشکار کیوں ؟ ۲۹۹

۳ ۔اس دن ”بیع “ اور خلال“ نہیں ہے ۳۰۰


۴ ۔ اے انسان ! تمام موجودات تیرے فرمان پر سر تسلیم خم ہیں ۳۰۲

۵ ۔ دائبین ۳۰۴

۶ ۔ جو کچھ ہم خدا سے چاہتے ہیں کیا وہ دیتا ہے ؟ ۳۰۵

۷ ۔ اس کی نعمتیں کیوں قابل ِ شمار نہیں ۳۰۵

۸ ۔ افسوس کہ انسان ” مظلوم “ اور ”کفار“ ہے ۳۰۶

آیات ۳۵،۳۶،۳۷،۳۸،۳۹،۴۰،۴۱ ۳۰۷

تفسیر ۳۰۸

ابراہیم (علیه السلام)بت شکن کی اصلاحی دعائیں ۳۰۸

چند اہم نکات ۳۱۱

۱ ۔ کیا مکہ اس وقت شہر تھا ؟ ۳۱۱

۲ ۔ مکہ سر زمین امن ۳۱۱

۳ ۔ ابراہیم (علیه السلام) بت پرستی سے دوری کی دعا کیوں کرتے ہیں ؟ ۳۱۳

۴ ۔ ابراہیم (علیه السلام) کے تابع کون ہیں ؟ ۳۱۳

۵ ۔ وادی -” غیر ذی زرع “ اور خدا کا پر امن حرم ۳۱۵

۶ ۔حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی سات دعائیں ۳۱۷

۷ ۔ کیا ابراہیم (علیه السلام)اپنے باپ کے لئے دعاء کررہے ہیں ؟ ۳۱۷

آیات ۴۲،۴۳،۴۴،۴۵، ۳۱۹

تفسیر ۳۱۹

جس روز آنکھیں پتھرا جائیں گی ۳۱۹

چند اہم نکات ۳۲۲


۱ ۔ پیغمبر اکرم سے خطاب کیوں ہے ؟ ۳۲۲

۲ ۔ ” یوم یاتیھم العذاب “ سے کون سا دن مراد ہے ؟ ۳۲۳

۳ ۔ مہلت کا تقاضا کیوں قبول نہیں کیا جاتا ؟ ۳۲۵

آیات ۴۶،۶۷،۴۸،۴۹،۵۰،۵۱،۵۲ ۳۲۶

تفسیر ۳۲۷

ظالموں کمزور سازشیں ۳۲۷

چند اہم نکات ۳۳۳

۱ ۔ زمین اور آسمان بدل جائیں گے : ۳۳۳

۲ ۔سورہ ابراہیم کا آغاز اور اختتام ۳۳۴

۳ ۔ اول و آخر ۔ توحید ۳۳۶

ابراہیم علیہ السلام کی زندگی پر ایک نظر ۳۳۸

حضرت ابراہیم (علیه السلام) ۳۳۸

زندگی کے تین دور ۳۳۸

بت شکن پیغمبر ابراہیم علیہ السلام کی زندگی پر ایک نظر ۳۳۸

بچپن ۳۳۸

بت پرستوں سے مقابلہ ۳۴۰

منطق و استدلال کے سہارے ۳۴۰

آزر سے گفتگو ۳۴۱

دور نبوت ۳۴۱

عملی مقابلے کا آغاز ۳۴۲


سلطان جابر کے سامنے ۳۴۲

حضرت ابراهیم عليه‌السلام کی هجرت ۳۴۳

رسالت کا آخری مرحلہ ۳۴۳

قرآن اور ابراہیم کا مقام بلند ۳۴۶

۶ ۔ شجاعت و بہادری میں بے مثال تھے ۔ ۳۴۷

۷ ۔ ابراہیم بڑی منطق سے بات کرتے تھے ۔ ۳۴۷