یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
تفسیر نمونہ جلد دوازدہم
تفسیرنمونه ، آیه الله العظمی مکارم شیرازی (مدظله العالی) کی ۱۵ ساله زحمات کا نتیجه ہے جس کو معظم له نے اہل قلم کی ایک جماعت کی مدد سے فارسی زبان میں تحریر فرمایا ، اس کا اردو اور عربی زبان میں ترجمه ہو کر شایع ہوچکا ہے.
تعداد جلد: ۱۵جلد
زبان: اردو
مترجم : مولانا سید صفدر حسین نجفی (رح)
تاریخ اشاعت: ربیع الثانی ۱۴۱۷هجری
سورہ بنی اسرائیل
مکہ میں نازل ہوئی
اس میں ۔ ۱۱۱ آیتیں ہیں
نام اور مقام نزول
اس کا مشہور نام ”سورئہ بنی اسرائیل“ ہے البتہ دیگر چند نام بھی ہیں ۔ مثلاً:
”سورئہ اسراء“”سورئہ سبحان“ وغیرہ(۱)
ظاہر ہے کہ ان میں سے ہر نام اس سورت میں موجود مطالب کے حوالے سے ہے ۔ سورئہ بنی اسرائیل اسے اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس سورت کی ابتداء اور اختتام کا ایک اچھا خاصا حصّہ بنی اسرائیل کے بارے میں ہے ۔
”اسراء“ اسے اس کی پہلی آیت کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ جو رسولِ اکرم (ص) کے اسراء (یعنی معراج) کے بارے میں گفتگو کرتی ہے اور سورہ سبحان اسے اس کے پہلے لفظ کی وجہ سے کہتے ہیں ۔
البتہ جن روایات میں اس سورہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے ان میں اسے صرف ”بنی اسرائیل“ کہا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر مفسرین نے اس سورہ کے لیے یہی نام انتخاب کیا ہے ۔
بہرحال مشہور یہ ہے کہ اس سورہ کی تمام آیتیں مکہ میں نازل ہوئی ہیں اور اس کے مفاہیم و مضامین بھی مکّی سورتوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہیں ۔ تا ہم بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ اس کی کچھ آیتیں مدینہ میں نازل ہوئی ہیں لیکن پہلے والا قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے ۔
____________________
۱۔ تفسیر آلوسی ج ۱۵ ص ۲-
فضیلت
پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم اور امام صادق علیہ السلام سے اس سورت کی تلاوت کرنے والے کے لیے بہت زیادہ اجر و ثواب منقول ہے ۔ ان روایات میں سے ایک کہ جو امام صادق علیہ السلام سے مردی ہے اس میں آپ (ع) فرماتے ہیں :من قرء سورة بنی اسرائیل فی کل لیلة جمعة لم یمت حتّی یدرک القائم و یکون من اصحابه
جو شخص ہر شبِ جمعہ سورہ بنی اسرائیل کی تلاوت کرے گا وہ اس وقت تک دنیا سے نہ جائے گا جب تک ”قائم(ع)“کو نہ دیکھ لے اور وہ آپ کے یارو و انصار میں سے ہوگا ۔
ہم نے بارہا اس امر کا تکرار کیا ہے کہ قرآن پاک کی سورتوں کا جو اجر و ثواب بیان کیا گیا ہے وہ ہرگز صرف زبانی پڑھ لینے کے لیے نہیں ہے بلکہ ان روایات میں پڑھنے سے مراد ایسا پڑھنا ہے کہ جس میں غور و فکر اور سوچ بچار شامل ہوا اور اس کے نتیجے میں انسان اس قرات اور فکر کے تقاضوں کے مطابق عمل بھی کرے ۔
خصوصاً اسی سورہ کی فضیلت سے مربوط ایک روایت میں ہے:فرّق قلبه عند ذکر الوالدین
اس سورہ کا قاری جب اس میں اللہ کی نصیحتوں تک پہنچتا ہے تو اس کے احساسات میں تحریک پیدا ہوتی ہے اور ماں باپ سے محبت کا جذبہ اس میں فزوں تر ہوجاتا ہے ۔
لہٰذا وہ شخص ایسے اجر کا حامل ٹھہرتا ہے ۔
اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ اگر چہ قرآنی الفاظ محترم اور اہم ہیں لیکن یہ الفاظ تمہید ہیں معانی و مفاہیم کے لیے اور معانی مقدمہ ہیں عمل کے لیے ۔
مضامین ایک نگاہ میں
ہم کہہ چکے ہیں ، جیسا کہ مشہور ہے یہ سورہ مکہ میں نازل ہوئی، لہٰذا فطری امر ہے کہ اس میں مکی سورتوں کی خصوصیات موجود ہیں ۔ ان میں دعوت توحید بھی ہے،معاد کی جانب بھی توجہ دلائی گئی ہے،مفید نصیحتیں بھی ہیں اور شرک، ظلم، انحراف اور کج روی کے خلاف بھی اس میں بہت سارا مواد ہے ۔ کہا جاسکتا ہے کہ مجموعی طور پر اس سورت کی آیتیں ان امور پر مشتمل ہیں :
۱ ۔ نبوت کے دلائل۔ بالخصوص قرآن اور معراج کے حوالے سے ۔
۲ ۔ معاد سے مربوط بحثیں ۔ انجام کار، اجر و ثواب، نامہ اعمال اور اس کے نتائج۔
۳ ۔ سورہ کے آغاز اور اختتام پر بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک حصّہ۔
۴ ۔ ارادہ و اختیار کی آزادی ۔ اور یہ کہ ہر قسم کے اچھے برے عمل کا نتیجہ خود انسان کو بھگتنا پڑتا ہے ۔
۵ ۔ اس جہان کی زندگی کا حساب کتاب دوسرے جہان کے لیے نمونہ ہے ۔
۶ ۔ ہر سطح پر حق شناسی ۔ خصوصاً اعزاء و اقرباء کے بارے میں اور ان میں سے بھی خاص طور پر ماں باپ کے بارے میں ۔
۷ ۔ فضول خرچی، کنجوسی، اولاد کشی، زناء، مالِ یتیم کھانا، کم فروشی، تکبر اور خونریزی سب حرام ہیں ۔
۸ ۔ توحید اور خداشناسی سے متعلق مباحث۔
۹ ۔ پیش حق ہر قسم کی ہٹ دھرمی کے خلاف مقابلہ اور یہ کہ گناہ انسان اور چہرہ حق کے درمیان پردہ ڈال دیتے ہیں ۔
۱۰ ۔ انسان کا مقام اور دوسری مخلوقات پر اس کی فضیلت۔
۱۱ ۔ ہر قسم کی اخلاقی اور اجتماعی بیماری کے علاج کے لیے تاثیر قرآن۔
۱۲ ۔ اعجازِ قرآن اور اس کے مقابلے کی عدم توانائی ۔
۱۳ ۔ شیطانی وسوسے اور ان کے خلاف مومنین کو تنبیہ۔
۱۴ ۔ مختلف اخلاقی تعلیمات۔
۱۵ ۔ تاریخ انبیاء کے بعض نشیب و فراز۔ تمام انسان کے لیے عبرت کے درس۔
بہر حال مجموعی طور پر عقائد، اخلاق اور معاشرت کے حوالے سے راہنمائی پر مبنی یہ ایک جامع اور کامل سورت ہے اور یہ مختلف میدانوں میں انسان کے ارتقاء و کمال کا زمینہ بن سکتی ہے ۔
یہ امر جاذب توجہ ہے کہ یہ سورت تسبیح خدا سے شروع ہوتی ہے اس کی حمد و تکبیر پر تمام ہوتی ہے ۔ تسبیح نشانی ہے ہذ قسم کے عیب و نقص سے دوری اور پاک رہنے کی اور حمد و ثنا نشانی ہے صفاتِ فضیلت سے آراستہ ہونے کے لیے اور تکبیر کمال و عظمت کی طرف بڑھنے کے لیے علامت ہے ۔
آیت ۱
( بِسْمِ الله الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ )
۱( سُبْحَانَ الَّذِی اٴَسْریٰ بِعَبْدِهِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الْاٴَقْصَی الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَهُ لِنُرِیَهُ مِنْ آیَاتِنَا إِنَّه هُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ )
ترجمہ
بخشنے والے مہربان الله کے نام سے
۱ ۔ پاک و منزل ہے وہ الله کہ جو اپنے بندے کو رات مسجدالحرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف لے گیا کہ جس کا ماحول پر برکت ہے، تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں ۔یقینا وہ سننے والا ہے ۔
معراجِ رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم
اس سورت کی پہلی آیت میں ”اسراء“کا ذکر ہے ۔راتوں رات جو رسول الله نے مسجد الحرام سے مسجدالاقصیٰ(بیت المقدس)کا سفر کیا تھا اس میں اس کا ذکر ہے ۔یہ سفر معراج کا مقدمہ بنا ۔یہ سفر جو رات کے بہت کم وقت میں مکمل ہوگیا کم از کم اس زمانے کے حالات،راستوں اور معمولات کے لحاظ سے کسی طرح بھی ممکن نہ تھا ۔یہ بالکل اعجاز آمیز اور غیر معمولی تھا ۔
پہلے فرمایا گیا ہے :منزہ ہے وہ خدا کہ جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجدالحرام سے مسجدالاقصیٰ کی طرف لے یے گیا( سُبْحَانَ الَّذِی اٴَسْریٰ بِعَبْدِهِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الْاٴَقْصَی ) ۔
رات کی یہ غیر معمولی سیر اس لیے تھی تاکہ ہم اسے اپنی عظمت کی نشانیاں دکھائیں( لِنُرِیَهُ مِنْ آیَاتِنَا ) ۔
آخر آیت میں فرمایا گیا ہے:الله سننے والا اور دیکھنے والا ہے( إِنَّه هُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ ) ۔
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ الله نے اپنے پیغمبر کو اس افتخار کے لیے چنا ہے تو یہ بلاوجہ نہیں ہے کیونکہ رسول کی گفتار اور ان کا کردار اس قابل تھا کہ یہ لباس ان کے بدن کے لیے بالکل زیبا تھا ۔
الله نے اپنے رسول کی گفتار سنی،اس کا کردار دیکھا اور اس مقام کے لیے اس کی لیاقت مان لی ۔
اس جملے کے بارے میں بعض مفسریں نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس اعجاز کے منکریں کو تہدید کی جائے کہ الله ان کی باتیں سنتاہے،ای کے اعمال دیکھنا ہے اور ان کی سازش سے آگاہ ہے ۔
یہ آیت نہایت مختصر اور جچے تلے الفاظ پر مشتمل ہے تا ہم اس رات کے معجزہ نما سفر کے بہت سے پہلو اس آیت سے واضح ہوجاتے ہیں :
(۱) لفظ ”اسریٰ“ نشاندہی کرتا ہے کہ یہ سفررات کے وقت ہوا کیونکہ ”اسراء“عربی زبان میں رات کے سفر کے معنی ہے جبکہ لفظ”سیر“دن کے سفر کے لیے بولا جاتا ہے ۔
(۲)لفظ ”لیلا“ ایک تو ”اسرا“ کے مفہوم کی تاکید ہے اور دوسرے اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ یہ سارے کا سارا سفر ایک ہی رات میں ہوا اور اہم بات بھی یہی ہے کہ مسجدالحرام اور مسجد الاقصیٰ کے در میان ایک سوفرسخ سے زیادہ کا فاصلہ کئی دنوں بلکہ کئی ہفتوں میں طے کیا جاتا تھا جبکہ شب اسراء تھوڑے سے وقت میں یہ سفر مکمل ہوگیا ۔
(۳)لفظ ”عبد“ نشاندہی کرتا ہے کہ یہ افتخار و اکرام رسول الله کے مقام عبودیت کی وجہ سے تھا کیونکہ انسان کے لیے سب سے بلند منزل یہی ہے کہ وہ الله کا سچا اور صحیح بندہ ہوجائے ۔اس کی بارگاہ کے سوا کہیں تھا نہ جھکائے،اس کے علاوہ کسی کے فرمان کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرے،جو بھی کام کرے فقط خدا کے لیے ہو اور جو بھی قدم اٹھائے اسی کی رضا مطلوب ہو۔
(۴)”عبد“ کی تعبیر یہ واضع کرتی ہے کہ سفر عالم بیداری میں تھا اور یہ جسمانی سیر تھی نہ کہ روحانی کیونکہ سیر روحانی کا کوئی معقول معنی خواب یا خواب کی مانند حالت کے سوا نہیں ہے لیکن لفظ”عبد“ نشاندہی کرتا ہے کہ جسم و روح پیغمبر اس سفر میں شریک تھے ۔یہ اعجاز جن میں نہیں آتا انہوں نے جو زیادہ بات کی ہے یہ ہے کہ انہوں نے آیت کی توجیہ کے نام پر اسے روحانی کہہ دیا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کہے کہ میں فلاں شخص کو فلاں جگہ سے لے گیا تو اس کا یہ مفہوم نہیں ہوگا کہ عالم خواب میں یا عالم خیال میں یا فکری طور پر لے گیا ۔
(۵)اس سفر کا آغاز مکہ کی مسجدالحرام سے وہاں سے بیت المقدس میں موجود مسجدالاقصیٰ پہنچے(اور یہ سفر معراج آسمانی کا مقدمہ تھا کہ جس کے بارے میں ہم بعد میں دلایل پیش کریں گے) ۔
البتہ تمام مکہ کو بھی چونکہ ااحترام کی وجہ سے مسجدالحرام کہا جاتا ہے لہذا مفسرین میں اس بات پر اختلاف ہے کہ رسول الله کا یہ سفر خانہ کعبہ کے قریب سے شروع ہواتھا یا کسی عزیز رشتہ دار کے گھر سے ۔لیکن اس میں شک نہیں کہ آیت کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ سیر خانہ کعبہ سے شروع ہوئی ۔
(۶)اس سیر کا مقصد یہ تھا کہ رسول الله عظمت الٰہی کی نشانیوں کا مشاہدہ کریں ۔آسمانوں کی سیر بھی اسی مقصد سے تھی کہ پیغمبراکرم صلی الله علیہ وآلہ کی باعظمت روح ان آیات بینات ما مشاہدہ کرکے اور بھی عظمت و بزرگی پالے اور انسانوں کی ہدایت کے لیے آپ خوب تیار ہوجائیں ۔یہ سفر معراج بعض کوتاہ فکر لوگوں کے خیال کے بر عکس اس لیے نہ تھا کہ آپ خدا کو دیکھیں ۔ان لوگوں کا خیال یہ تھا کہ خدا آسمانوں میں رہتا ہے ۔
بہر حال اگر چہ رسول الله عظمت الٰہی کو پیچانتے تھے اور اس کی خلقت کی عظمت سے بھی آگاہ تھے لیکن بقولے:ولی
شنیدن کی بود مانند دیدن
سورہ نجم کی آیات میں بھی اس سفر کے آخری حصے یعنی معراج آسمانی کی طرف اشارہ کیا گیاہے ۔
ارشاد ہوتا ہے:( لَقَد رَاٰی مِن اٰیَاتِ رَبِّهِ الکُبرٰی )
اس سفر میں اس نے اپنے رب کی عظیم آیات دیکھیں ۔
(۷) ” بارکناحولہ “یہ مطلب واضح کرتا ہے کہ مسجد الاقصیٰ علاوہ اس کے کہ خود مقدس ہے اس کے اطراف کی سرزمین بھی مبارک اور با برکت ہے ۔یہ اس کی ظاہری برکات کی طرف اشارہ ہو کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ سر سبز و شاداب سرزمین ہے ۔درخت اس زمین پر سایہ فگن ہیں ۔پانی وہاں جاری رہتا ہے اور یہ ایک آباد علاقہ ہے ۔
(۸)جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ’ ’اِنَّہ ھُوَالسَّمِیعُ الْبَصِیر“کا جملہ اس طرف اشارہ ہے کہ رسولالله کو اس نعمت کی عطا بلا وجہ نہ بلکہ اس اہلبیت و لیاقت کے باعث تھی کہ جو آپ کی گفتار و کردار سے ہویدا تھی اور الله ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے ۔
(۹)ضمنی طور پر لفظ ”سبحان “اس بات کی دلیل ہے اور رسول الله کا یہ سفر بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ الله ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے ۔
( ۱۰)” من اٰیاتنا“میں لفظ”من“نشاندہی کرتا ہے کہ آیات عظمت الٰہی اس قدر زیادہ ہیں کہ اپنی تمام تر عظمت کے با وجود رسول الله (ص) نے اس با عظمت سفر میں صرف بعض کا ہی مشاہدہ کیا ۔
مسئلہ معراج
علماء اسلام کے در میان مشہور یہ ہے کہ رسول اکرم (ص) جس وقت مکہ میں تھے تو ایک ہی رات میں آپقدرت الٰہی سے مسجد الحرام سے مسجد المقدس میں ہے ۔وہاں سے آپ آسمانوں کی طرف گئے آسمانی وسعتوں میں عظمت الٰہی کے آثار مشاہدہ کیے اور اسی رات مکہّ واپس آگئے ۔
نیز یہ بھی مشہور ہے کہ یہ زمینی اور آسمانی سیر جسم اور روح کے ساتھ تھی البتہ یہ سیر چونکہ بہت عجیب و غریب اور بے نظیر تھی لہذا بعض حضرات نے اس کی توجیہ کی اور اسے معراج روحانی قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک طرح کا خوا ب تھا یا مکاشفہ روحی تھا لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں یہ بات آیات کے ظاہری مفہوم کے بالکل خلاف ہے کیونکہ ظاہرِ آیات اس معراج کے جسمانی ہونے کی گواہی دتا ہے ۔
بہر حال اس بحث سے بہت سے سوالات پیدا پیدا ہوتے ہیو مثلاً:
۱ ۔ قرآن، حدیث اور تاریخ کی نظر سے معراج کی کیفیت کیا تھی؟
۲ ۔ شیعہ اور سنی علماء اسلام کا اس سلسلے میں کیا عقیدہ ہے؟
۳ ۔ معراج کا مقصد کیا تھا؟
۴ ۔ دور ححاضر کے علم اور سائنس کی رو سے معراج کا کیا امکان ہے؟
ان تمام مسائل کا کماحقہ، جائزہ پیش کرنا اگر چہ تفسیر کی حدود سے باہر ہے تاکہ ہم کوشش کریں گے کہ مختصراً ان تمام مسائل کو قارئین محترم کے سامنے ذکر کریں ۔
۱ ۔ معراج۔ قرآن و حدیث کی نظر میں :
قرآن حکیم کی دں سں توں میں اس مسئلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ پہلی سورت۔ یہی سورہ بنی اسرائیل ہے ۔ اس میں اس سفر کے ابتدائی حصے کا تذکرہ ہے ۔ یعنی مکہ کی مسجد الحرام سے بیت المقدس کی مسجدِ الاقصیٰ تک کا سفر۔
اس سلسلے کی دوسری سورت۔ سورئہ نجم ہے ۔ اس کی آیت ۱۳ تا ۱۸ میں معراج کا روسرا حصہ بیان کیا گیا ہے اور یہ آسمانی سیر کے متعلق ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے-:
( وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً اٴُخْری عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَی عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاٴْوَی إِذْ یَغْشَی السِّدْرَةَ مَا یَغْشَی مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَی لَقَدْ رَاٴَی مِنْ آیَاتِ رَبِّهِ الْکُبْری ٰ)
ان آیات کا مفہوم یہ ہے کہ۔
رسول اللہ نے فرشتہ وحی جبریل کو اس کی اصل صورت میں دوسری مرتبہ دیکھا (پہلے آپ اسے نزول وحی کے آغاز میں کوہِ حرا میں دیکھ چکے تھے) یہ ملاقات بہشت جاوداں کے پاس ہوئی ۔ یہ منظر دیکھتے ہوئے رسول اللہ کسی اشتباہ کا شکار نہ تھے ۔ آپ نے عظمت الٰہی کی عظیم نشانیاں مشاہدہ کیں ۔
یہ آیات کہ جو اکثر مفسرین کے بقول واقعہ معراج سے متعلق ہیں یہ بھی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ واقعہ عالم بیداری میں پیش خصوصاً ”مازاغ البصر و ما طغیٰ“ اس امرکا شاہد ہے کہ رسول اللہ کی آنکھ کسی خطا، اشتباہ اور انحراف سے دوچار نہیں ہوئی ۔
اس واقعے کے سلسلے میں مشہور اسلامی کتابوں میں بہت زیادہ روایات نقل ہوئی ہیں ۔
علماء اسلام نے ان روایات کے تو اتر اور شہرت کی گواہی دی ہے ۔ ہم نونے کے طور پر چند روایات ذکر کرتے ہیں :
۱ ۔ عظیم فقیہ و مفسر شیخ طوسی تفسیر تبیان میں زیر بحث آیت کے ذیل میں کہتے ہیں :
شیعہ علما کا مؤقف ہے کہ جس رات اللہ اپنے رسول کو مکہ سے بیت المقدس لے گیا اسی رات اس نے آپ کو آسمانوں کی طرف بلند کیا اور آپ کو اپنی عظمت کی نشانیاں دکھائیں اور یہ سب کچھ عالم بیداری میں تھا ،خواب میں نہ تھا ۔
۲ ۔ بلند مرتبہ مفسر مرحوم طبرسی اپنی تفسیر مجمع البیان میں سورہ نجم کی آیات کے ذیل میں کہتے ہیں :
ہماری روایات میں مشہور یہ ہے کہ اللہ اپنے رسول کو اسی جسم کے ساتھ عالم بیداری و حیات میں آسمانوں پر لے گیا اور اکثر مفسرین کا یہی عقیدہ ہے ۔
۳ ۔ مشہور محدث علامہ مجلسی بحار الانوار میں کہتے ہیں :
مسجد الحرام سے بیت المقدس کی طرف اور وہاں سے آسمانوں کی طرف رسول اسلام کی سیر ایسی بات ہے جس پر آیات قرآن اور شیعہ و سنی متواتر احادیث دلالت کرتی ہیں ۔ اس کا انکار یا اسے روحانی معراج کہنا یا عالم خواب کی بات قرار دینا ۔ آئمہ ہریٰ (ع) کی احادیث سے عدم اطلاع یا یقین کی کمزوری کے باعث ہے ۔
اس کے بعد علامہ مجلسی مزید کہتے ہیں :
اگر ہم اس واقعے سے متعلقہ احادیث جمع کرنا چاہیں تو ایک ضخیم کتاب بن جائیگی ۔(۱)
۴ ۔ اہل سنت کے معاصر علماء میں سے الا زہر کے منصور علی ناصف مشہور کتاب ”التاج“ کے مصنف ہیں ۔ انہوں نے اس میں احادیث معراج کو جمع کیا ہے ۔
۵ ۔ مشہور فسر فخر الدین رازی نے زیر بحث آیت کے ذیل میں واقعہ معراج کے امکان پر بہت سی عقلی دلیلیں پیش کی ہیں ۔ دلائل ذکر کرنے کے بعد وہ کہتے ہیں :
حدیث کے لحاظ سے احادیث معراج مشہور روایات میں سے عیں کہ جو اہل سنت کی کتب صحاح میں نقل ہوئی ہیں اور ان کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے مکہ سے بیت المقدس اور وہاں سے آسمانوں کی سیر کی ۔
۶ ۔ شیخ عبد العزیز بن عبداللہ بن باز ادارہ ”بحوث علمیہ و افتاء و دعوة و ارشاد“ کے سر براہ ہیں وہ دور حاضر کے متعصب وہابی علماء میں سے ہیں ۔ وہ اپنی کتاب ”التحذیر من البدع“ میں کہتے ہیں :
اس میں شک نہیں ہے کہ معراج ان عظیم نشانیوں میں سے ہے جو رسول کی صداقت اور بلند منزلت پر دلالت کرتی ہیں ۔
یہاں تک کہ وہ کہتے ہیں :
رسول اللہ سے اخبار متواتر نقل ہوئی ہیں کہ اللہ انہیں آسمانوں پر لے گیا اور آپ پر آسمانوں کے دروازے کھول دیئے ۔(۲)
اس نکتے کا ذکر کرنا بھی انتہائی ضروری ہے کہ احادیث معراج میں بعض جعلی یا ضعیف ہیں کہ جو کسی طرح سے بھی قابل قبول نہیں ہیے یہی وجہ ہے کہ عظیم مفسر طبرسی مرحوم نے اسی زیر بحث آیت کے ذیل میں لحادیث معراج کو ان چار قسموں میں تقسیم کیا ہے:
(۱)وہ روایات جو متواتر ہونے کی وجہ سے قطعی ہیں مثلاً اصل واقعہ معراج۔
(۲) وہ احادیث کہ عقلی لحاظ سے جنہیں قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں اور وایات میں اس امر کی تصریح کی گئی ہے ۔ مثلاً صحن آسمان میں عظمتِ الٰہی کی بہت سی نشانیوں کا مشاہدہ کرنا ۔
(۳) وہ روایات جد ہمارے ہاں موجود اصول و ضوابط پر تو پوری نہیں اتر تیں البتہ ان کی توجیہ کی جاسکتی ہے ۔ مثلاً وہ احادیث جو کہتی ہیں کہ رسول الله نے آسمانوں میں ایک گروہ کو جنت میں اور ایک گروہ کو دوزخ میں ددیکھا ۔کہنا چاہئے کہ اہل جنت اور اہل دوزخ کی صفات دیکھیں (یا برزخ کی جنت اور دوزخ کی) ۔
(۴)وہ روایات جو نا معقول اور باطل امور پر مشتمل ہیں اور ان کی کیفیت ان کے جعلی ہونے پر گواہ ہے ۔ مثلاً وہ روایات جو کہتی ہیں کہ رسول الله نے خدا کو واضح طور پر دیکھا،اس کے ساتھ باتیں کیں اور اس کے پاس بیٹھے ۔ایسی احادیث کسی دلیل و منطق کے لحاظ سے درست نہیں ہیں اور بلاشبہ اس قسم کی روایات من گھڑت اور جعلی ہیں ۔
واقعہ معراج کی تاریخ کے سلسلے میں اسلامی مورخین کے درمیان اختلاف ہے ۔بعض کا خیال ہے کہ یہ واقعہ بعثت کے دسویں سال ۲۷ رجب کی شب پیش آیا ۔بعض کہتے ہیں کہ یہ بعثت کے بارہوں سال ۱۷ رمضان المبارک کی رات وقوع پذیر ہوا جبکہ بعض اسے اوائل بعثت میں میں ذکر کرتے ہیں ۔ لیکن اس کے وقوع پذیر ہونے کی تاریخ میں اختلاف اصل واقعہ پر اختلاف میں حائل نہیں ہوتا ۔
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ صرف مسلمان ہی معراج کا عقیدہ نہیں رکھتے، دیگر ادیان کے پیروکاروں میں بھی یہ عقیدہ کم و بیش موجود ہے ۔ ان میں سے حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہ عقیدہ عجیب تر صورت نظر آتا ہے جیسا کہ انجیل مرقس کے باب ۶ ، لوتا کے باب ۲۴ اور یوحنا کے باب ۲۱ میں ہے کہ:
عیسیٰ مصلوب ہونے کے بعد دفن ہوگئے تو مُردوں میں سے اٹھ کھڑے ہونے اور چالیس روز تک لوگوں میں موجود دہے پھر آسمان کی طرف چڑھ گئے(اور ہمیشہ کے لیے معراج پر چلے گئے) ۔
ضمناًیہ وضاحت بھی ہوجائے کہ بعض اسلامی روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض گذشتہ انبیاء کوبھی معراج نصیب ہوئی تھی ۔
معراج جسمانی تھی یا روحانی؟
شیعہ اور سنی علمائے اسلام کے در میان مشہور یہ ہے کہ یہ واقعہ عالم بیداری میں صورت پذیر ہوا ۔
سوورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت اور سورہ نجم کی موذکرہ آیات کا مظاہری مفہوم بھی اس امر کا شاہد ہے کہ یہ واقعہ بیداری کی حالت میں پیش آیا ۔
تواریخ اسلامی بھی اس امر پر شاہد صادق ہیں ۔ تاریخ کہتی ہے:
جس دقت رسول الله نے واقعہ معراج کا ذکر کیا تو مشرکین نے شدت سے اس کا انکار کردیا اور اسے آپ کے خلاف ایک بات بنا لیا ۔
یہ بات گواہی دیتی ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم ہرگز خواب یا مکاشفہ روحانی کے مدعی نہ تھے ورنہ مخالفین اس قدر شور و غوغا نہ کرتے ۔
یہ جو حسن بصری سے روایت ہے کہ:کان فی المنام رؤیاً راٰها
یہ واقعہ خواب میں پیش آیا ۔
اور اسی طرح جو حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ:والله ما فقد جسد رسول الله و لکن عرج بروحه
خدا کی قسم بدن رسول اللہ ہم سے جدا نہیں ہوا صرف آپ کی روح آسمانوں پر گئی ۔
ایسی روایات ظاہراً سیاسی پہلو رکھتی ہیں ۔(۳)
____________________
۱۔ بحار الانوار، ج ۶ طبع قدیم ص ۳۶۸-
۲۔ التحذیر ص۷-
۳۔ حسن بصری اور حضرت عائشہ سے مروی روایات بذاتِ خود محل اشکال ہیں کیونکہ واقعہ معراج مکہ مکرمہ میں پیش آیا تھا ۔(ثاقب)
معراج کا مقصد
گزشتہ مباحث پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ معراج کا مقصد یہ نہیں کہ رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم دیدار خدا کے لیے آسمانوں پر جائیں ، جیسا کہ سادہ لوح افراد خیال کرتے ہیں ۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض مغربی دانشور بھی نا آگاہی کی بناء پر دوسروں کے سامنے اسلام کا چہرہ بگاڑ کر پیش کرنے کے لیے ایسی باتیں کرتے ہیں ۔ ان میں سے ایک مسٹر ”گیورگیو“ ہیں ۔ وہ اپنی کتاب ”محمد وہ پیغمبر ہیں جنہیں پھر سے پہچاننا چاہیے“ میں کہتے ہیں :
محمد اپنے سفر معراج میں ایسی جگہ پہنچے کہ انہیں خدا کے قلم کی آواز سنائی دی انہوں نے سمجھا کہ اللہ اپنے بندوں کے حساب کتاب میں مشغول ہے البتہ وہ اللہ کے قلم کی آواز تو سنتے تھے مگر انہیں اللہ دکھائی نہ دیتا تھا کیونکہ کوئی شخص خدا کو نہیں دیکھ سکتا خواہ پیغمبر ہی کیوں نہ ہو۔(۱)
یہ عبارت نشاندہی کرتی ہے کہ قلم لکڑی کا تھا، ایسا کہ کاغذ پر لکھتے وقت لرزتا تھا اور آواز پیدا کرتا تھا ۔اسی طرح کی اور بہت ساری خرافات اس میں موجود ہیں ۔
جبکہ مقصدِ معراج یہ تھا کہ اللہ کے عظیم پیغمبر کائنات میں بالخصوص عالمِ بالا میں موجود عظمت الٰہی کی نشانیوں کا مشاہدہ کریں اور انسانوں کی ہدایت و رہبری کے لیے ایک نیا ادراک اور نئی بصیرت حاصل کریں ۔
امام صادق علیہ السلام سے مقصدِ معراج پوچھا گیا تو آپ (ع)نے فرمایا:
ان الله لا یوصف بمکان، ولا یجری علیه زمان، ولکنه عزوجل اٴراد اٴن یشرف به ملائکته و سکان سماواته، و یکرمهم بمشاهدته،و یریه من عجائب عظمته ما یخبربه بعد هبوطه ۔
خدا ہر گز کوئی مکان نہیں رکھتا اور نہ اس پر کوئی زمانہ گزرتا ہے لیکن وہ چاہتا تھا کہ فرشتوں اور آسمان کے باسیوں کو اپنے پیغمبر کی تشریف آوری سے عزت بخشے اور انہیں آپ کی زیارت کا شرف عطا کرے نیز آپ کو اپنی عظمت کے عجائبات دکھائے تاکہ واپس آکر آپ انہیں لوگوں سے بیان کریں ۔(۲)
____________________
۱۔ مذکورہ کتاب کے فارسی ترجمہ کا نام ہے ”محمد پیغمبری کہ از نو باید شناخت“ ص ۱۲۵ دیکھیے ۔
۲۔ تفسیر برہان،ج۲،ص۴۰۰۔
معراج اور دور حاضر کا علم اور سائنس
گزشتہ زمانے میں بعض فلاسفہ بطلیموس کی طرح یہ نظریہ رکھتے تھے کہ نو آسمان پیاز کے چھلکے کی طرح ایک دوسرے کے اوپر ہیں ۔ واقعہ معراج کو قبول کرنے میں ان کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ان کا یہی نظریہ تھا ۔ ان کے خیال میں اس طرح تو یہ ماننا پڑتا ہے کہ آسمان شگافتہ ہوگئے تھے اور پھر آپس میں مل گئے تھے ۔(۱)
لیکن بطلیموسی نظریہ ختم ہوگیا تو آسمانوں کے شگافتہ ہونے کا مسئلہ ہی ختم ہوگیا البتہ علم ہیئت میں جو ترقی ہوئی ہے اس سے معراج کے سلسلے میں نئے سوالات ابھرے ہیں مثلاً:
(۱) ایسے فضائی سفر میں پہلی رکاوٹ کشش ثقل ہے کہ جس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے غیر معمولی وسائل و ذرائع کی ضرورت ہے کیونکہ زمین کے مدار اور مرکز ثقل سے نکلنے کے لیے کم از کم چالیس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کی ضرورت ہے ۔
(۲)دوسری رکاوٹ یہ ہے کہ زمین کے باہر خلا میں ہوا نہیں ہے جبکہ ہوا کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا ۔
(۳) تیسری رکاوٹ ایسے سفر میں اس حصے میں سورج کی جلادینے والی تپش ہے کہ جس حصے پر سورج کی مستقیماً روشنی پڑ رہی ہے اور اس حصے میں مار ڈالنے والی سردی ہے کہ جس میں سورج کی روشنی نہیں پڑرہی ۔
(۴)اس سفر میں چوتھی رکاوٹ وہ خطر ناک شعاعیں ہیں کہ فضائے زمین سے اوپر موجود ہیں مثلاً کاسمک ریز Cosmic Rays الٹراوائلٹ ریز Ultra Violet Rays اور ایکس ریز X-Rays ۔ یہ شعاعیں اگر تھوڑی مقدار میں انسانی بدن پر پڑیں تو بدن کے آرگانزم Organism کے لیے نقصان وہ نہیں ہیں لیکن فضائے زمین کے باہر یہ شعاعیں بہت تباہ کن ہوتی ہیں ۔ (زمین پر رہنے والوں کے لیے زمین کے اوپر موجود فضا کی وجہ سے ان کی تابش ختم ہوجاتی ہے) ۔
(۵) ایک اور مشکل اس سلسلے میں یہ ہے کہ خلامیں انسان بے وزنی کی کیفیت سے دوچار ہوجاتا ہے اگر چہ تدریجاً بے وزنی کی عادت پیدا کی جاسکتی ہے لیکن اگر زمین کے باسی بغیر کسی تیاری اور تمہید کے خلاص جا پہنچیں تو بے وزنی سے نمٹنا بہت ہی مشکل یا ناممکن ہے ۔
(۶) آخری مشکل اس سلسلے میں زمانے کی مشکل ہے اور یہ نہایت اہم رکاوٹ ہے کیونکہ دور حاضر کے سائنسی علوم کے مطابق روشنی کی رفتار ہر چیز سے زیادہ ہے اور اگر کوئی شخص آسمانوں کی سیر کرنا چاہے تو ضروری ہے کہ اس کی رفتار روشنی کی رفتار سے زیادہ ہو۔
ان امور کے جواب میں ان نکات کس طرف توجہ ضروری ہے:
(۱) ہم جانتے ہیں کہ فضائی سفر کی تمام ترمشکلات کے باوجود آخر کار انسان علم کی قوت سے اس پر دسترس حاصل کرچکا ہے اور سوائے زمانے کی مشکل کے باقی تمام مشکلات حل ہوچکی ہیں اور زمانے والی مشکل بھی بہت دور کے سفر سے مربوط ہے ۔
(۲) اس میں شک نہیں کہ مسئلہ معراج عمومی اور معمولی کا پہلو نہیں رکھتا بلکہ یہ اللہ کی لامتناہی قدرت و طاقت کے ذریعے صورت پذیر ہوا اور انبیاء کے تمام معجزات اسی قسم کے تھے، زیادہ واضح الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ معجزہ عقلاً محال نہیں ہونا چاہئے اور یہ معجزہ بھی عقلاً ممکن ہے ۔ باقی معاملات اللہ کی قدرت سے حل ہوجاتے ہیں ۔
جب انسان یہ طاقت رکھتا ہے کہ سائنسی ترقی کی بنیاد پر ایسی چیزیں بنالے کہ جو زمینی مرکز ثقل سے باہر نکل سکتی ہیں ، ایسی چیزیں تیار کرلے کہ فضائے زمین سے باہر کی ہولناک شعاعیں ان پر اثر نہ کرسکیں اور مشق کے ذریعے کے ذریعے بے وزنی کی کیفیت میں رہنے کی عادت پیدا کرلے ۔ یعنی جب انسان اپنی محدود قوت کے ذریعے یہ کام کرسکتا ہے تو پھر کیا اللہ اپنی لامحدود طاقت کے ذریعے یہ کام نہیں کرسکتا؟
ہمیں یقین ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو اس سفر کے لیے انتہائی تیز رفتار سواری دی تھی اور اس سفر میں درپیش خطرات سے محفوظ رہنے کے لیے انہیں اپنی مدد کا لباس پہنایا تھا ۔ ہاں یہ سواری کس قسم کی تھی اور اس کا نام کیا تھا ۔براق؟یا کوئی اور---؟ یہ مسئلہ قدرت کا راز ہے،ہمیں اس کا علم نہیں ۔
ان تمام چیزوں سے مقطع نظر تیز ترین رفتار کے بارے میں مذکورہ نظر یہ آج کے سائنسدانوں کے درمیان متزلزل ہوچکا ہے اگر چہ آئن سٹائن اپنے مشہور نظریے پر پختہ یقین رکھتا ہے ۔
آج کے سائنسدان کہتے ہیں کہ امواج جاذبہ Rays of Attraction زمانے کی احتیاج کے بغیر آنِ واحد میں دنیا کی ایک طرف سے دوسری طرف منتقل ہوجاتی ہیں اور اپنا اثر چھوڑتی ہیں یہاں تک کہ یہ احتمال بھی ہے کہ عالم کے پھیلاؤ سے مربوط حرکات میں ایسے منظومے موجود ہیں کہ جو روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے مرکز جہان سے دور ہوجاتے ہیں (ہم جانتے ہیں کہ کائنات پھیل رہی ہے اور یتارے اور نظام ہائے شمسی تیزی کے ساتھ ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں )(غور کیجئے گا) ۔
مختصر یہ کہ اس سفر کے لیے جو بھی مشکلات بیان کی گئی ہیں ان میں سے کوئی بھی عقلی طور پر اس راہ میں حائل نہیں ہے اور ایسی کوئی بنیاد نہیں کہ واقعہ معراج کو محال عقلی سمجھا جائے ۔اس راستے میں در پیش مسائل کو حل کرنے کے لیے جو وسائل درکار ہیں وہ موجود ہوں تو ایسا ہوسکتا ہے ۔
بہرحال واقعہ معراج نہ تو عقلی دلائل کے حوالے سے نا ممکن ہے اور نہ دور حاضر کے سائنسی معیاروں کے لحاظ سے، البتہ اس کے غیر معمولی اور معجزہ ہونے کو سب قبول کرتے ہیں لہٰذا جب قطعی اور یقینی نقلی دلیل سے ثابت ہوجائے تو اسے قبول کرلینا چاہیے ۔(۲)
واقعہ معراج کے سلسلے میں کچھ اور پہلو بھی ہیں جن پر انشاء اللہ سورہ نجم کی تفسیر میں گفتگو ہوگی ۔
____________________
۱۔ بعض قدیم فلاسفہ کا نظریہ تھا کہ آسمانوں میں ایسا ہوتا ممکن نہیں ہے ۔ اصطلاح میں وہ کہتے تھے کہ افلاک میں ”خرق“ (پھٹنا) اور ”التیام“(ملنا) ممکن نہیں ۔
۲۔ مزید وضاحت کے لیے کتاب ”ہمہ می خواہند بدانند“ کی طرف رجوع فرمائیں ۔ اس میں ہم نے معراج، شق القمر اور قطبین میں عبادت کے سلسلے میں بحث کی ہے ۔
آیات ۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸
۲( وَآتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ وَجَعَلْنَاهُ هُدًی لِبَنِی إِسْرَائِیلَ اٴَلاَّ تَتَّخِذُوا مِنْ دُونِی وَکِیلًا )
۳( ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ إِنَّهُ کَانَ عَبْدًا شَکُورًا )
۴( وَقَضَیْنَا إِلیٰ بَنِی إسْرائِیلَ فِی الْکِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاٴَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا کَبِیرًا )
۵( فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ اٴُولَاهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَنَا اٴُولِی بَاٴْسٍ شَدِیدٍ فَجَاسُوا خِلَالَ الدِّیَارِ وَکَانَ وَعْدًا مَفْعُولًا )
۶( ثُمَّ رَدَدْنَا لَکُمْ الْکَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَاٴَمْدَدْنَاکُمْ بِاٴَمْوَالٍ وَبَنِینَ وَجَعَلْنَاکُمْ اٴَکْثَرَ نَفِیرًا )
۷( إِنْ اٴَحْسَنتُمْ اٴَحْسَنتُمْ لِاٴَنفُسِکُمْ وَإِنْ اٴَسَاٴْتُمْ فَلَهَا فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ لِیَسُوئُوا وُجُوهَکُمْ وَلِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ کَمَا دَخَلُوهُ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِیُتَبِّرُوا مَا عَلَوْا تَتْبِیرًا )
۸( عَسیٰ رَبُّکُمْ اٴَنْ یَرْحَمَکُمْ وَإِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْکَافِرِینَ حَصِیرًا )
ترجمہ
۲ ۔ ہم نے موسیٰ کو(آسمانی )کتاب عطا کی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کا ذریعہ قرار دیا اور ہم نے کہا کہ ہمارے غیر کو سہارا نہ بناؤ۔
۳ ۔ اے ان لوگوں کی اولاد کہ جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی پر)سوار کیا تھا!وہ ایک شکر گزار بندہ تھا ۔
۴ ۔ ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) میں بتادیا تھا کہ تم زمین میں دو مرتبہ فساد برپا کرو گے اور بڑی سرکشی کرو گے ۔
۵ ۔ جب ان میں سے پہلی سرکشی کا موقع آپا تو ہم تمہارے اوپر نہایت زور آور لوگ بھیجیں گے (تاکہ وہ تم سے سختی سے نمٹیں یہاں تک کہ مجرموں کو پکڑنے کے لیے) گھروں کی تلاشی لیں گے اور یہ وعدہ قطعی ہے ۔
۶ ۔ اس کے بعد ہم تمہیں ان پر غلبہ دیں گے اور تمہارا مال اور اولاد بڑھادیں گے اور تمہاری تعداد (دشمن سے)زیادہ کردیں گے ۔
۷ ۔ اگر نیکی کرو گے تو اپنے آپ سے بھلائی کرو گے اور اگر بدی کرو گے تو بھی خود سے کرو گے اور جب دوسرے وعدے کا وقت آپہنچا (تو دشمن تمہارا یہ حال کرے گا کہ) تمہارے چہرے غمزدہ ہوجائیں گے اور وہ مسجد (اقصیٰ)میں یوں داخل ہوں گے جیسے پہلے دشمن داخل ہوئے تھے اور جو چیز بھی ان کے ہاتھ پڑے گی اسے در ہم بر ہم کردیں گے ۔
۸ ۔ ہوسکتا ہے تمہارا رب تم پر رحم کرے ۔ جب تم پلٹ آوں گے تو ہم بھی پلٹ آئیں گے اورہم نے جہنم کو کافروں کے لیے سخت قید خانہ بنارکھا ہے ۔
دو عظیم طوفانی واقعات
اس سورت کی پہلی آیت میں رسول الله کے مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ کے اعجاز آمیز سفر کا ذکر تھا ۔ ایسے واقعات کا عموماً مشرکین اور مخالفین انکار کردیتے تھے، وہ کہتے تھے کہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہمارے درمیان میں سے ایک پیغمبر مبعوث ہو اور پھر اسے یہ سب اعزاز واکرام حاصل ہو، لہٰذا زیر بحث آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ نے اپنی کتاب کی طرف دعوت دی تھی تاکہ واضح ہوجائے کہ رسالت کا پروگرام کوئی نئی چیز نہیں اور تاریخ شاہد ہے بنی اسرائیل نے بھی ایسی مخالفت اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا تھا جیسی اب مشرکین کررہے ہیں ، ارشاد ہوتا ہے: ہم نے موسیٰ کو آسمانی کتاب عطا کی (وَآتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ) اور ہم نے بنی اسرائیل کے لئے وسیلہ ہدایت قرار دیا (وَجَعَلْنَاہُ ھُدًی لِبَنِی إِسْرَائِیلَ) ۔
اس میں شک نہیں کہ کتاب سے یہاں مراد ”تورات“ ہے کہ جو بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے الله تعالیٰ نے حضرت موسیٰ(ع) پر نازل فرمائی تھی ۔ اس کے بعد بعثتِ انبیاء کا بنیادی مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان سے ہم کہا کہ میرے غیر کو سہارا نہ بناؤ( اٴَلاَّ تَتَّخِذُوا مِنْ دُونِی وَکِیلًا ) ۔(۱)
”’عمل میں توحید“ ”عقیدے میں توحید“ کی علامت ہے اور یہ امر توحید کی بنیادی باتوں میں سے ہے جو شخص عالمِ کائنات میں مؤثر حقیقی صرف الله کو جانتا ہے وہ اس کے غیر پر تکیہ نہیں کرے گا اور جو کسی اور سہارا بناتے ہیں یہ ان کے اعتقادِ توحید کی کمزوری کی دلیل ہے ۔
آسمانی کتب کی عالی تجلیاتِ ہدایت دلوں کو نورِ توحید سے روشن کردیتی ہے اور اس کے سبب انسان ہر غیر الله سے کٹ کر خدا سے وابستہ ہوجاتا ہے اور اسی پر تکیہ کرتا ہے ۔
بنی اسرائیل کو جن نعماتِ الٰہی سے نوازا گیا بالخصوص کتابِ آسمانی میں روحانی نعمت، اگلی آیت میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے تاکہ ان کے احساساتِ تشکر کو ابھارا جائے، ارشاد ہوتا ہے: اے ان لوگوں کی اولاد کہ جنھیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا نھا( ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ ) ۔(۲)
”( وقلنا لهم لا تَتَّخِذُوا مِنْ دُونِی وَکِیلًا ) “
اور ہم نے ان سے کہا کہ میرے سوا کسی کو پناہ گا نہ بناؤ۔
یہ بہت بعید معلوم ہوتا ہے اور ”( إِنَّهُ کَانَ عَبْدًا شَکُورًا ) “ہے ہم آہنگ نہیں ہے (عور کیجئے گا) ۔
یہ بات مت بھولو کہ ”نوح ایک شکر گزار بندہ تھا“( إِنَّهُ کَانَ عَبْدًا شَکُورًا ) ۔
تم کہ جو اصحاب نوح کی اولاد ہوا اپنے با ایمان بزرگوں کی پیروی کیوں نہیں کرتے ہو؟ کیوں کفرانِ نعمت کی راہ اپنا تے ہو؟
”شکور“ مبالغے کا صسغہ ہے اور اس کا معنی ہے ”زیادہ شکر گزار“۔
بنی اسرائیل کو اصحاب نوح کی اولاد شاید اس لیے کہا گیا ہے کہ مشہور تواریخ کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹے تھے ۔ ان کے نام ”سام“ ”حام“ اور ”یافث“ تھے ۔ طوفان نوح کے بعد بنی نوع انسان انہی کی اولاد میں سے ہیں اور بنی اسرائیل بھی اس لحاظ سے انہی کی اولاد سے ہیں ۔
اس میں شک نہیں کہ تمام انبیاء اللہ کے شکر گزار بندے تھے لیکن حضرت نوح علیہ السلام کی کچھ ایسی خصوصیات احادیث میں مذکورہ ہیں کہ جن کے باعث انہیں خاص طور پر ”عبداً شکوراً“ کے لفظ سے نوازا گیا ہے ۔ ان کے بارے میں روایات میں ہے کہ جب وہ لباس پہنتے، پانی پیتے، کھانا کھاتے یا انیں کوئی بھی نعمت نصیب ہوتی تو فوراً ذکر خدا کرتے اور شکر الٰہی بجالاتے ۔
ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام اور امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے:
حضرت نوح ہر روز صبح اور عصر کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے:
اللّٰهم انی اشهدک ان ما اصبح او امس بی من نعمة فی دین او دنیا فمنک، وحدک لا شریک لک، لک الحمد و لک الشکر بها علی حتّی ترضی، و بعد الرضا ۔
خداوندا !میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ جو بھی نعمت مجھے صبح و شام پہنچتی ہے وہ نعمتِ دین ہو یا نعمت دنیا، وہ نعمتِ روحانی ہو یا نعمتِ مادی ۔ سب تیری طرف سے ہے تو ایک اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ، حمد وثنا تیرے لیے مخصوص ہے اور شکر بھی تیرے ہی لیے ہے ۔ میں تیرا اس قدر شکر کرتا ہوں کہ تو مجھ سے راضی ہو جا اور تیری رضا کے بعد بھی میں تیرا شکر کرتا ہوں ۔
اس کے بعد امام نے مزید فرمایا کہ:---
ایسا تھا نوح کا شکر۔(۳)
اس کے بعد بنی اسرائیل کی داستان انگیز تاریخ کے ایک گوشے کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: ہم نے تورات میں بنی اسرائیل کو بتادیا تھا کہ تم زمین میں دو دفعہ فساد کرو گے اور بڑی سرکشی کا ارتکاب کرو گے( وَقَضَیْنَا إِلیٰ بَنِی إسْرائِیلَ فِی الْکِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاٴَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا کَبِیرًا ) ۔
”قضاء“ کے اگر چہ بہت سے معانی ہیں لیکن یہاں یہ لفظ ”بتانے“ کے معنی میں آیا ہے ۔
نیز بعد کی آیت کے قرینے سے لفظ ”الارض“ سے یہاں مراد فلسطین کی مقدس زمین ہے کہ جس میں مسجد الاقصیٰ واقع ہے ۔
آئندہ آیات میں ان دو عظیم حوادث کا ذکر ہے جو اللہ کی طرف سے سزا کے طور پر رونما ہوئے ۔ ارشاد ہوتا ہے: جب پہلے وعدے کا مرحلہ آپہنچا اور تم فساد، خونریزی اور ظلم کے مرتکب ہوئے او ہم اپنے بندوں میں سے ایک جنگ آزماگروہ تمہاری طرف بھیجیں گے تاکہ وہ تمہارے اعمال کی سزا کے طور پر تمہاری سرکوبی کرے( فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ اٴُولَاهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَنَا اٴُولِی بَاٴْسٍ شَدِیدٍ ) ۔
یہ روز آور لوگ اس طرح سے تم پر حملہ کریں گے کہ تمہارے افراد کو پکڑنے کے لیے گھر گھر کی تلاشی لیں گے(فَجَاسُوا خِلَالَ الدِّیَارِ) ۔
اور یہ ایک قطعی اور ناقابلِ تغیر وعدہ ہے( وَکَانَ وَعْدًا مَفْعُولًا ) ۔
اس کے بعد ایک مرتبہ پھر اللہ کا لطف و کرم تمہارے شاملِ حال ہوا اور ہم نے تمہیں اس حملہ آور قوم پر غلبہ عطا کیا( ثُمَّ رَدَدْنَا لَکُمْ الْکَرَّةَ عَلَیْهِمْ ) ۔
اور ہم نے تمہیں بہت مال و ثروت سے نوازا اور کثرت اولاد سے تمہیں تقویت بخشی( وَاٴَمْدَدْنَاکُمْ بِاٴَمْوَالٍ وَبَنِینَ ) ۔ اس قدر کہ تمہری تعداد دشمن سے زیادہ ہوگئی( وَجَعَلْنَاکُمْ اٴَکْثَرَ نَفِیرًا ) ۔(۴)
یہ الطاف الٰہی تمہارے لیے ہے کہ شاید تم ہوش میں آؤ، اپنی اصلاح کرو ، برائیوں کو ترک کر دو اور نیکیوں کا راستہ اختیار کرو کیونکہ ”اگر نیکی کرو گے تو اپنے آپ ہی سے بھلائی کرو گے اور اگر بدی کرو گے تو اپنے آپ ہی سے کرو گے( إِنْ اٴَحْسَنتُمْ اٴَحْسَنتُمْ لِاٴَنفُسِکُمْ وَإِنْ اٴَسَاٴْتُمْ فَلَهَا ) ۔
یہ ایک دائمی اصول ہے کہ نیکیاں اور برائیاں آخر کار خود انسان کی طرف لوٹتی ہیں ۔ اگر کوئی ضرب لگاتا ہے تو در اصل وہ اپنے جسم پر لگاتا ہے اور اگر کوئی کسی کی خدمت کرتا ہے تو در حقیقت اپنی ہی خدمت کرتا ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ نہ اس سزا نے تمہیں بیدار کیا اور نہ بارِ دیگر نعماتِ الٰہی حاصل ہونے نے ۔تم پھر بھی سرکشی کرتے رہے اور راہِ ظلم و تجاوز اختیار کیے رہے ۔ تم نے زمین پر بہت فساد پیدا کردیا اور غرور و تکبر میں حد سے گزرگئے ۔
پھر اللہ کے دوسرے وعدے کی تکمیل کا مرحلہ آپہنچا تو ایک اور زبر دست جنگجو گروہ تم پر مسلط ہوجائے گا اور وہ تمہارا یہ حال کرے گا کہ تمہارے چہرے غمزدہ ہوجائیں گے( فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ لِیَسُوئُوا وُجُوهَکُمْ ) ۔
یہاں تک کہ وہ تمہاری عظیم عبادت گاہ بیت المقدس کو تمہارے ہاتھ سے چھین لیں گے ”اور اس مسجد میں داخل ہوجائیں گے جیسے پہلی مرتبہ دشمن اس میں داخل ہوئے تھے“( وَلِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ کَمَا دَخَلُوهُ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ ) ۔
وہ اسی پر بس نہیں کریں گے بلکہ ”ان کے سارے آباد شہر اور زمین اجاڑ کے رکھ دیں گے“( وَلِیُتَبِّرُوا مَا عَلَوْا تَتْبِیرًا ) ۔
اس کے باوجود توبہ اور خدا کی طرف بازگشت کے دروازے تم پر بند نہیں ہوئے پھر بھی ”ممکن ہے اللہ تم پر رحم کرے“( عَسیٰ رَبُّکُمْ اٴَنْ یَرْحَمَکُمْ ) ۔
اور اگر ہماری طرف لوٹ آؤ تو ہم بھی اپنے لطف ں کرم کا رخ پھر تمہاری جانب کردیں گے اور اگر تم نے فساد اور اکڑپن کو نہ چھوڑا تو پھر تمہیں ہم شدیدعذاب میں مبتلا کردیں گے( وَإِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا ) ۔اور پھر یہ تو دنیا کی سزا ہے جبکہ ”جہنم کو ہم نے کافروں کے لیے سخت قید خانہ قرار دیا ہے“( وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْکَافِرِینَ حَصِیرًا ) ۔(۵)
____________________
۱۔ ترکیب نحوی کے اعتبار سے بعض مفسرین نے ”اٴَلاَّ تَتَّخِذُوا مِنْ دُونِی وَکِیلًا “ کو ”لئلاَّ تَتَّخِذُو ----“ سمجھا ہے اور بعض نے ”اٴن “ کو زائد اور ”قلنا لهم “ کو مقدر سمجھا ہے کہ جو مجموعی طور پر یوں ہوگا:
۲۔ ”ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ “جملہ ندائیہ ہے اور تقدیر میں ”یا ذریة من حملنا مع نوح“ تھا رہا یہ احتمال کہ ”ذریة“ ”وکیلا“کا بدل ہے یا ”تتخذوا“ کا مفعول ثانی ہے ۔
۳۔ مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
۴۔ ”نفیر“ اسم جمع ہے اس کا معنی ہے ”لوگوں کا ایک گروہ“ بعض کہتے ہیں کہ یہ ”نفر“ کی جمع ہے اور در اصل یہ ”نفر“ (بوزن ”عفو“)کے مادہ سے کوچ کرنے اور کسی چیز کو سامنے لانے کے معنی میں ہے، اسی وجہ سے اس گروہ کو ”نفیر“ کہتے ہیں کہ جو کسی چیز کی طرف حرکت کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔
۵۔ ”حصیر“ ”حصر“ کے مادہ سے ”قید“ کے معنی میں ہے اور ہر وہ جگہ جس سے نکلنے کی راہ نہ ہوا سے ”حصیر“کہتے ہیں چٹائی کو بھی حصیر اس لیے کہتے ہیں کہ اس کے مختلف حصے باہم بنے ہوئے اور محصور ہوتے ہیں ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ بنی اسرائیل کے دو تاریخی فسادات:
زیر نظر آیات میں بنی اسرائیل کے دو اجتماعی انحرافات کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے ۔ یہ انحرافات فساد اور سرکشی پر منتج ہوئے ۔ ان میں سے ہر ایک کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت زور آور لوگوں کو مسلط کردیا تاکہ وہ انہیں سخت سزادیں اور کیفرِ کردار تک پہنچائیں ۔
بنی اسرائیل کی تاریخ بہت داستان انگیز ہے ۔ وہ تاریخ کے بہت سے نشیب و فراز سے گزرے ہیں کبھی انہیں کامیابی نصیب ہوئی اور کبھی وہ شکست سے دوچار ہوئے لیکن قرآن یہاں کن حوادث کی طرف اشارہ کررہا ہے، اس سلسلے میں مفسرین میں بہت اختلاف ہے ۔ اس سلسلے میو ہم بطور نمونہ چند ایک کا ذکر کرتے ہیں :
۱ ۔ بنی اسرائیل کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلا شخص جس نے ان پر حملہ کیا اور بیت المقدس کو تباہ کردیا وہ بخت النصر تھا ۔ یہ بابل کا حکمران تھا ۔ اس حملے کے بعد بیت المقدس ستر برس تک اسی طرح برباد رہا یہاں تک کہ پھر یہودی اٹھے اور انہوں نے اس کی تعمیر نو کی ۔
دوسرا شخص جس نے ان پر حملہ کیا وہ قیصرِ روم ”اسپیانوس“ تھا ۔ اس نے اپنے وزیر ”طرطوز“ کو اس کام پر مامور کیا ۔ اس نے بیت المقدس کو تباہ کرنے اور بنی اسرائیل کو کمزور اور قتل کرنے میں پوری قوت صرف کر دی ۔ یہ واقعہ تقریباً سو سال قبل مسیح پیش آیا ۔
لہٰذا ممکن ہے کہ وہ دو داقعات جن کی طرف قرآن حکیم میں اشارہ کیا گیا ہے یہی ہوں کہ جو بنی اسرائیل کی تاریخ میں بھی آئے ہیں کیونکہ بنی اسرائیل کی تاریخ میں پیش آنے والے دوسرے واقعات اس قدر سنگین اور شدید نہیں تھے کہ ان کی حکومت بالکل ملیا میٹ ہوگئی ہو بخت النصر کے حملے نے ان کی طاقت و شوکت کو بالکل تہس نہس کرکے رکھ دیا ۔ ”کورش“ کے زمانے تک ان کی صورتِ حال اسی طرح رہی ۔ اس کے بعد پھر بنی اسرائیل بر سر اقتدار آئے ۔ ان کی حکومت اسی طرح برقرار رہی یہاں تک کہ پھر قیصرِ روم نے ان پر حملہ کیا اور ان کی حکومت کو ختم کردیا ۔ پھر ایک طویل مدت وہ در بدر رہے (اور اب پھر کچھ عرصہ پیشتران لوگوں نے انسانیت کُش سامراجی قوتوں کی مدد سے ایک حکومت قائم کی ہے اور اب وہ اس کی توسیع کے لیے کوشاں ہیں ) ۔(۱)
۲ ۔ طبری اپنی تفسیر میں نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلمنے فرمایا:
پہلے فساد سے مراد زکریا اور بہت سے انبیاء کا قتل ہے اور پہلے وعدے سے مراد بخت النصر کے ذریعے اللہ کی طرف سے ان سے انتقام لینے کا وعدہ ہے اور دوسرے فساد سے مراد وہ شورش ہے جو انہوں نے ”آزادی“ کے بعد ایران کے ایک بادشاہ کی سرکردگی میں برپا کی اور یہ لوگ فساد اور خرابی کے مرتکب ہوئے جبکہ دوسرے وعدے سے مراد بادشاہِ روم ”انطیاخوس“ کا حملہ ہے ۔
ایک حد تک تو یہ تفسیر پہلی تفسیر پر منطبق کی جاسکتی ہے لیکن اس کا راوی قابلِ اعتماد نہیں ہے نیز حضرت زکریا علیہ السلام کی تاریخ کو بخت النصر اور اسپیانوس یا انطیا خوس کے زمانے پر منطبق نہیں کیا جاسکتا بلکہ بعض کے بقول بخت النصر ”ارمیا“ یا دانیال پیغمبر کا ہم عصر تھا اور یہ زمانہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے دور سے تقریباً چھ سو برس پہلے کا ہے لہٰذا کیونکر ممکن ہے کہ بخت النصر نے حضرت یحییٰ کے خون کے انتقام کے لیے قیام کیا ہو؟
۳ ۔ بعض دوسرے مفسرین نے کہا ہے کہ حضرت داؤد(ع) اور حضرت سلیمان (ع) کے زمانے میں ایک مرتبہ بیت المقدس تعمیر ہوا اور بخت النصر نے اسے تباہ و برباد کردیا ۔ یہی وہ پہلا وعدہ ہے جس کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے ۔ اس کے بعد بیت المقدس ہخامنشی بادشاہوں کے زمانے میں تعمیر ہوا ۔ پھر اسے طیطوس رومی نے برباد کیا (توجہ رہے کہ ہوسکتا ہے یہ ”طیطوس“ وہی ”طرطوز“ ہوجس کا سطورِ بالا میں ذکر آچکا ہے) ۔ اس شہر کی یہی حالت رہی، یہاں تک کہ خلیفہ ثانی کے زمانے میں اسے مسلمانوں نے فتح کیا ۔(۲)
یہ تفسیر بھی مندرجہ بالا دو تفسیروں سے کوئی زیادہ اختلاف نہیں رکھتی ۔
۴ ۔ مندرجہ بالا تفاسیر اور دیگر تفاسیر کہ جو کم و بیش ان سے ہم آہنگ ہیں ، کے مقابلے میں ایک اور تفسیر بھی ہے ۔ اس کا احتمال سید قطب نے اپنی تفسیر فی ذکر کیا ہے ۔ یہ تفسیر مذکورہ تفسیروں سے بالکل مختلف ہے ۔ اس تفسیر کے مطابق یہ واقعات گزشتہ زمانے میں اور نزولِ قرآن کے زمانے میں پیش نہیں آئے بلکہ ان کا تعلق نزول قرآن سے بعد کے زمانے سے ہے ۔ احتمالاً ان کا پہلا فساد ہٹلر کے زمانے سے مربوط ہے کہ جب ہٹلر کی قیادت میں جرمن کے نازیوں نے یہودیوں کے خلاف قیام کیا ۔(۳)
لیکن۔ اس تفسیر میں یہ اشکال ہے کہ ان واقعات میں سے کسی واقعے میں بھی فتح مند قوم بیت المقدس میں داخل بھی نہیں ہوئی چہ جائیکہ بیت المقدس برباد ہوتا ۔
۵ ۔ ایک احتمال اور بھی بعض حضرات کی طرف سے ذکر ہوا ہے اور وہ یہ کہ یہ دونوں واقعات دوسری جنگِ عظیم کے بعد کے ہیں جبکہ صیہونزم کی بنیاد پڑی اور اسلامی ممالک کے قلب میں اسرائیل نامی حکومت تشکیل دی گئی بنی اسرائیل کے پہلے فساد اور سرکشی سے یہی مراد ہے اور پہلے انتقام سے مراد یہ ہے کہ جب ابتداء میں اسلامی ممالک اس سازش سے آگاہ ہوئے تو انہوں نے اس کے مقابلے کے لیے قیام کیا نتیجتاً انہوں نے بیت المقدس اور فلسطین کے کچھ شہر اور قبضے یہودیوں کے چنگل سے آزاد کروالیے اور مسجدِ اقصیٰ سے یہودی اثر و نفوذ بالکل ختم ہوگیا ۔
دوسرے فساد سے مراد درندہ صفت سامراجی طاقتوں کے سہارے بنی اسرائیل کا وہ حملہ ہے جس کے نتیجے میں انہوں نے بہت سے اسلامی علاقوں پر قبضہ جمالیا اور بیت المقدس اور میجد اقصیٰ کو اپنے زیر نگین کرلیا ۔
اس بنا پر مسلمانوں کو بنی اسرائیل پر دوسری کامیابی کا انتظار کرنا چاہیے، مسجد اقصیٰ کو ان کے چنگل سے آزاد کروانا چاہیے اور اسلامی سرزمین سے ان کے اثر و نفوذ کا پوری طرح خاتمہ کردینا چاہیے ۔ ساری دنیا کے مسلمان اسی روز کے منتظر ہیں اور اللہ نے اسی کے لیے مسلمانوں سے فتح و نصرت کا وعدہ کیا ہے ۔(۴)
ان کے علاوہ بھی کچھ تفاسیر ہیں کہ جن کے ذکر کی کوئی ضرورت نہیں ۔
چوتھی اور پانچویں تفسیر کے مطابق آیات میں جو ماضی کے صیغے استعمال ہوئے ہیں ان سب کو مضارع کی حالت میں ہونا چاہیے تھا البتہ عربی ادب کے لحاظ سے جہاں فعل حروفِ شرط کے بعد آئے وہاں یہ معنی بعید نہیں ہے ۔ لیکن یہ آیت:( ثم رددنا لکم الکرة علیهم و امددناکم با موال و بنین وجعلنا کم اکثر نفیراً )
ظاہری اعتبار سے اس بات کی غماز ہے کہ کم از کم بنی اسرائیل کا پہلا فساد اور اس کا انتقام گزشتہ زمانے میں وقوع پذیر ہوا ہے ۔
ان تمام چیزوں سے قطع نظر ایک اہم مسئلہ اس مقام پر لائق توجہ ہے ۔ اس آیت پر غور کیجیے:( بعثنا علیکم عباداً لنا اولی باٴس شدید )
ہم اپنے بندوں میں سے ایک زور آور گروہ تم پر مسلط کریں گے ۔
ظاہراً یہ آیت نشاندہی کرتی ہے کہ انتقام لینے والے افراد با ایمان بہادر تھے کہ جو ”عباد“”لنا“ اور ”بعثنا“ کے اہل تھے ۔ یہ وہ بات ہے کہ جس کا ذکر بہت سی مذکورہ تفاسیر میں نہیں آیا ۔
البتہ اس بات کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ لفظ ان کے علاوہ بھی استعمال ہوا ہے ۔ مثلا ۔ ہابیل اور قابیل کے واقعے میں ہے:( فَبَعَثَ الله غُرَابًا یَبْحَثُ فِی الْاٴَرْضِ )
اللہ نے ایک کوّا بھیجا کہ جو زمین کو کریدتا تھا ۔(مائدہ۔ ۳۱)
نیز یہی لفظ زمین و آسمان کے عذاب کے لیے استعمال ہوا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے:
( قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلیٰ اٴَنْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ اٴَوْ مِنْ تَحْتِ اٴَرْجُلِکُمْ ) ۔(انعام۔ ۶۵)
اسی طرح لفظ ”عباد“اور ”عبد“ قابل مذمت افراد کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے ۔ مثلاً سورہ فرقان کی آیت ۵۸ میں یہ لفظ گنہگاروں کے
لیے استعمال ہوا ہے:( وَکَفیٰ بِهِ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِیرًا )
نیز سورہ شورایٰ کی آیت ۲۷ میں سرکشوں کے لیے یہ لفظ اس پیرائے میں استمال ہوا ہے:
( وَلَوْ بَسَطَ الله الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِی الْاٴَرْضِ )
اسی طرح سورہ مائدہ کی آیت ۱۱۸ میں خطا کاروں اور منکرین توحید کے بارے میں فرماگیا ہے:( إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُکَ )
لیکن ۔ ان تمام چیزوں کے باوجو اس بات کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اگر یقینی قرینہ موجود نہ ہوتو زیربحث آیات کاظاہری اسلوب یہی کہتا ہے کہ انتقام لینے والے اہلِ ایمان ہیں ۔
بہرحال مندرجہ بالا آیات اجمالاً ہم سے کہتی ہیں کہ بنی اسرائیل نے دومرتبہ فساد بر پا کیا اور سرکشی اختیار کی اور اللہ نے ان سے سخت انتقام لیا ۔ اس بات کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بنی اسرائیل، ہم اور تمام انسان اس سے عبرت حاصل کریں اور یہ جان لیں کہ ظلم و ستم اور فساد انگیزی خدا کی بارگاہ میں سزا کے بغیر نہیں رہ سکتی اور جب ہمیں اقتدار یاقوت حاصل ہو تو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ دردناک حوادث ہمارے انتظار میں ہیں لہٰذا گزشتہ لوگوں کی تاریخ سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہیے ۔
۲ ۔ جو کام بھی کرو گے اپنے ساتھ ہی کرو گے:
زیر بحث آیات میں اس بنیادی اصول کی نشاندہی کی گئی ہے کہ تمہاری اچھائیاں اور برائیاں خود تمہاری طرف لوٹتی ہیں ۔ اگر چہ ظاہراً اس جملے کے مخاطب بنی اسرائیل ہیں لیکن واضح ہے کہ اس مسئلے میں بنی اسرائیل کو کوئی خصوصیت حاصل نہیں ہے ۔ یہ تو پوری تاریخ انسانی کے لیے ایک دائمی قانون ہے اور خود تاریخ اس کی شاہد ہے ۔(۵)
بہت سے ایسے لوگ تھے جنہوں نے غلط اور برے کاموں کی بنیاد رکھی، ظالمانہ قوانین بنائے اور غیر انسانی بدعتوں کو رواج دیا اور آخر کار ان کا نتیجہ خود ان کے لیے کھودا تھا خود اس میں جا گرے ۔
خاص طور پر زمین پر فتنہ و فساد برپا کرنا، برتری جتانا اور اپنے تئیں بڑا سمجھنا( علواً کبیراً ) ایسے امور ہیں کہ جن کا اثر اسی جہان میں انسان کا دامن آپکڑتا ہے ۔ اسی بناء پر بنی اسرائیل بارہا سخت شکست سے دوچار ہوئے ، پراگندہ ہوئے اور انہیں رسوا کن انجام کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انہوں نے زمین پر فتنہ و فساد برپا کیا ۔
اس وقت بھی صیہونی یہودیوں نے دوسروں کی زمین غضب کرنے، دوسروں کو بدر آوارہ وطن کرنے اور ان کی اولاد کوقتل و برباد کرنے کا ہمل شروع کررکھا ہے ۔ یہاں تک کہ انہوں نے اللہ کے گھر بیت المقدس کی حرمت کا بھی پاس نہیں کیا ۔ عالمی سطح پر ان کا طرز عمل یہ ہے کہ وہ کسی قانون اور اصول کی پرواہ نہیں کرتے ۔اگر کوئی ایک فلسطینی مجاہدان کی طرف رائفل کی ایک گولی چلاتا ہے تو اس کے بدلے وہ مہاجر کمپوں ، بچوں کے اسکولوں اور ہسپتالوں پر وحشیانہ بمباری کرتے ہیں اور اپنے ایک شخص کے بدلے بعض اوقات سینکڑوں بے گناہوں کو خاک و خون میں تڑپا دیتے ہیں اور اپنے ایک شخص کے بدلے بعض اوقات سینکڑوں بے گناہوں کو خاک و خون میں تڑپا دیتے ہیں اور بہت سے گھروں کو تباہ و برباد کردیتے ہیں ۔
وہ اپنے آپ کو کسی بین الاقوامی قانون کا پابند نہیں سمجھتے اور اعلانیہ سب کو پاؤں تلے روندیتے ہیں ۔
اس میں شک نہیں کہ یہ تمام تر قانون سکنی، بے انصافی اور خلافِ انسانیت کردار اس لیے ہے کہ اسرائیل کو انسان کش عالمی طاقت امریکہ کی سرپرستی حاصل ہے لیکن یہ امر بھی قابل تردید و شک نہیں کہ خود یہ قوم سراپا ظلم و بربریت ہے اور تمام تر انسانی اقدار کو پامال کرنے پر اپنی مثال آپ ہے ۔ ان کا یہ طرز عمل بذاتِ خود زمین پر فساد برپا کرنے، بڑا بننے کی خواہش اور ظلم و استکبار کا مصداق ہے ۔ انہیں اب انتظار کرنا چاہیے کہ پھر ”عباداً لنا اولی باٴس شدید “ کے مصداق لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور ان پر غلبہ پائیں گے اور ان کے بارے میں اللہ کا قطعی وعدہ عملی شکل اختیار کرے گا ۔
۳ ۔ آیات کی تطبیق اسلامی تاریخ پر:
متعدد روایات میں زیر نظر آیات کو مسلمانوں کی تاریخ میں پیش آنے والے حوادث پر منطبق کیا گیا ہے ۔ ان کے مطابق پہلا فساد اور ظلم حضرت علی علیہ السلام کی شہادت ہے اور دوسرا امام حسن علیہ السلام کی شہادت جبکہ ”بعثنا علیکم عباداً لنا اولی باٴس شدید “ کے مصداق مہدی قائم علیہ السلام اور ان کے انصار ہیں ۔
بعض دوسری روایات کے مطابق یہ ایک ایسی قوم کی طرف اشارہ ہے جو حضرت مہدی علیہ السلام سے پہلے قیام کریگی ۔(۱۰)
یہ واضح ہے کہ ان احادیث کا یہ مفہوم ہر گز نہیں ہے کہ زیر بحث آیات ی تفسیر اپنے لفظی مفہوم کے مطابق نہیں ہے کیونکہ یہ آیات پوری صراحت کے ساتھ بنی اسرائیل کے بارے میں گفتگو کررہی ہیں بلکہ ان روایات سے مراد یہ ہے کہ اس امت میں بھی ایسے فسادات اور مظالم کی ایسی ہی سزا ہوگی ۔
یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مذکورہ بالا طرزِ عمل اگر چہ بنی اسرائیل کے بارے میں ہے لیکن یہ ایک عمومی قانون ہے جو تمام اقوام و ملل کیلئے ہے اور ساری تاریخ انسانی پر جاری و ساری ایک عمومی سنت ہے ۔
____________________
۱۔ تفسیر المیزان، ج ۱۳ ص ۴۶۔
۲۔ تفسیر ابوالفتوح رازی، ج ۷ حاشیہ ص ۲۰۹ از قلم عالمِ معظم شعرانی مرحوم۔
۳۔ تفسیر فی ظلال، ج ۵ ص ۳۰۸۔
۴۔ مجلہ مکتب اسلام شوارہ ۱۲ سال ۱۲ و یک سال ۱۳ بحث تفسیر آقائی ابراہیم انصاری ۔
۵۔ نور الثقلین ج ۳، ص ۱۳۸-
سعادت کا بالکل سیدھا راستہ
گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل، ان کی آسمانی کتاب تورا ت، ان کی طرف سے احکام الہٰی خلاف ورزی اور اس سلسلے میں ان کی سزاؤں سے متعلق گفتگو تھی۔اب مسلمانوں کی آسمانی کتاب قرآن مجید کی طرف بات کا رخ موڑاگیا ہے کہ جو کتب آسمانی کی آخری کڑی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: یہ قرآن لوگوں کو مستقیم ترین اور بالکل سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے( إِنَّ هٰذَا الْقُرْآنَ یَهْدِی لِلَّتِی هِیَ اٴَقْوَمُ ) ۔
”اقوم“ ”قیام “کے مادہ سے ہے اور چونکہ انسان جب کسی اہم کام کو انجام دینا چاہتا ہے تو قیام کرتا ہے اور کام شروع کردیتا ہے اسی لحاظ سے احسن طریقے اور تندہی سے انجام دینے کے لیے ”قیام“ بطور کنایہ استعمال ہوا ہے ۔
ضمناً یہ بھی کہہ دیا جائے کہ لفظ” استقامت“ بھی اسی مادے سے ہے اور”قیم“بھی اسی مادے سے ہے جس کا معنی ہے صاف و شفاف،مستقیم،ثابت اور ٹھوس۔
”اقوم“چونکہ افعل التفضیل کا صیغہ ہے لہٰذا صاف تر،مستقیم تر اور بالکل سیدھا کے معنی میں ہے ۔ اس لحاظ سے زیر بحث آیت کا مفہوم یہ ہوگا:
قرآن ایسے راستے کی طرف دعوت دیتا ہے جو زیادہ مستقیم، زیادہ صاف اور زیادہ محفوظ و مضبوط ہے ۔
قران کے پیش کردہ عقائد صاف اور مستقیم ہیں ،روشن و واضح ہیں ،قابل ادراک ہیں ، ہر قسم کے ابہام اور خرافات سے پاک ہیں ۔وہ عقائد کہ جو عمل کی دعوت دیتے ہیں انسانی صلاحیتوں کو مجتمع کرتے ہیں اور انسان اور عالم فطرت کے قوانین میں ہم آہنگی بر قرار رکھتے ہیں ۔
یہ قرآن زیادہ صاف اور زیادہ مستقیم ۔اس لحاظ سے کہ ظاہر و باطن،عقیدہ و عمل،فکر و نظر اور طرز حیات کے در میان یکجہنی پیدا کرکے سب کوالله کی طرف دعوت دیتا ہے ۔
یہ قرآن صاف تر اور مستقیم تر ہے ۔سماجی ،اقتصادی اور سیاسی نظام اور قوانین کے اعتبار سے ۔ اس کا نظام تمام روحانی پہلوؤں کی بھی پرورش کرتا ہے اور مادی لحاظ سے بھی کمال و ارتقاء آفرین ہے ۔
یہ قرآن عبادت میں بھی افراط و تفریط سے بچاتا ہے ۔
اسی طرح قرآن کا اخلاقی نظام بھی ہر طرح کے افراط و تفریط سے محفوظ رکھتا ہے ۔ حرص اور طمع سے بھی بچاتا ہے، اسراف اور فضول خرچی سے بھی نجات دلاتا ہے، بخل اور کنجوسی سے بھی محفوظ رکھتا ہے، حسد سے بھی دوکتا ہے کمزور بن جانے اور دوسروں کو کمزور کرکے خود بڑا بن بیٹھنے سے بھی بچانا ہے ۔
یہ قرآن صاف تر اور مستقیم تر ہے ۔ اپنے پیش کردہ نظام حکومت کے لحاظ سے کہ جو عدل و انصاف پر مبنی ہے اور ظلم اور ظالموں کی سرکوبی کرتا ہے ۔
جی ہاں !قرآن ایسے راستے کی ہدایت کرتا ہے جو ہر لحاظ سے زیادہ صاف،زیادہ مستقیم،زیادہ محفوظ اور زیادہ مضبوط ہے ۔
یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ ”افعل التفضیل “کا صیغہ یہ معنی دیتا ہے کہ دوسری اقوام کے مذاہب میں بھی استقامت اور عدالت کی خوبیاں موجود تھیں جبکہ قرآن میں ان کی نسبت زیادہ ہیں لیکن چند پہلوؤں کی طرف توجہ کرنے سے یہ مسئلہ واضح ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ:
اولاً: اگر موازنہ دوسرے آسمانی ادیان کے ساتھ ہو تو۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ان میں سے ہر ایک اپنے زمانے میں صاف،مستقیم اور مضبوط دین تھا لیکن تکامل و ارتقاء کے مطابق جب ہم آخری مرحلے یعنی مرحلہ خاتمیت تک پہنچیں گے تو ایسا دین موجود ہوگا کہ جو صاف تر، مستقیم تر اور مضبوط تر ہوگا ۔
ثانیاً: اگر موازنہ دیگر آسمانی مذاہب کی بجائے دیگر مذاہب سے ہو تو بھی”افعل التفضیل “ با معنی ہوگا کیونکہ ہر مکتب و مذاہب کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کم از کم ان خوبیوں کا لحاظ رکھیں لیکن ان میں موجود کوتاہیوں ، خرابیوں اور انحرافوں کو مجموعی طور پر دیکھا جائے اور پھر قرآن سے ان کا موازنہ کیا جائے تو واضح ہوجائے گا کہ یہ دین زیادہ صاف اور انسان کی روحانی و مادی ضروریات سے زیادہ ہم آہنگ ہے لہٰذا یہ زیادہ مضبوط اور زیادہ محفوظ ہے ۔
ثالثاً: جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں کہ”افعل التفضیل “ کا صیغہ ہمیشہ اس بات کی دلیل نہیں ہوتا کہ لازماً کسی چیز سے موازنہ کیا جارہا ہے اور لازماًدوسری طرف کوئی چیز اس کے کچھ مفہوم کی حامل ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
( اَفَمَنْ یَّهْدِیٓ اِلَی الْحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیٓ اِلَّا ٓاَنْ یُّهْدٰی )
جو شخص حق کی طرف دعوت دیتا ہے کیا رہبری کا وہ زیادہ حق رکھتا ہے اور زیادہ اہل ہے یا وہ شخص جو حق کے راستے کا راہی ہی نہیں ۔ (یونس۔ ۳۵)
ضمنی طور پر اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ” اقوم“ کا ایک معنی زیادہ ثابت اور زیادہ محفوظ و مضبوط ہے نیز آیت کی عبارت میں موازنے کے طور پر کسی دوسری چیز کا ذکر نہیں ہے جبکہ اصطلاح کے مطابق”متعلق کا حذف ہونا عمومیت و شمولیت کی دلیل ہے“ ان امور کی طرف توجہ کرنے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ آیت ان آیات میں سے ہے جو اسلام اور رسول کی خاتمیت کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں کیونکہ اس آیت کے مطابق یہ دین زیادہ ثابت، زیادہ باقی، زیادہ ٹھوس، زیادہ مضبوط اور زیادہ محفوظ ہے ۔ (غور کیجیے گا) ۔
اس مستقیم الٰہی پروگرام سے لوگوں کا تعلق چونکہ دو طرح ہے لہٰذا اس کے بعد اس رابطے اور تعلق کے نتیجے کا انہی دو حوالوں سے ذکر کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: جن با ایمان لوگوں نے نیک عمل انجام دئیے ہیں قرآن انہیں خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے( وَیُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِینَ الَّذِینَ یَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ اٴَنَّ لَهُمْ اٴَجْرًا کَبِیرًا ) (۱)
اور وہ کہ جو آخرت اور اس کی عظیم عدالت پر ایمان نہیں رکھتے (اور اس لیے انہوں نے اعمال صالح انجام نہیں دیئے) انہیں آگاہ کردیتا ہے کہ ان کے لیے دردناک عذاب ہم نے تیار کررکھا ہے( وَاٴَنَّ الَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ اٴَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اٴَلِیمًا )
مومنین کے لیے بشارت کی تعبیر تو واضح ہے لیکن بے ایمان اور سرکش افراد کے لیے در حقیقت یہ ایک قسم کا استہزاء ہے یا پھر مومنین کے لیے بشارت ہے کہ ان کے دشمنوں کا یہ انجام ہوگا ۔
اس طرف بھی نظر جاتی ہے کہ مومنین کے لیے اجمالاً ”اجراًکبیراً “ فرمایا گیا ہے جبکہ بے ایمان افراد کی سزاکے لیے صراحتاً ”عذابا الیماً “ فرما گیا ہے ۔ان دونوں تعبیرات کا مفہوم اس قدر وسیع ہے کہ معنوی و مادی اور روحانی و جسمانی تمام پہلووں پر محیط ہے ۔
رہی یہ بات کہ دوزخیوں کی صفات میں سے صرف”آخرت پر ایمان نہ لانے“کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ ان کے اعمال کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔ہو سکتا ہے کہ یہ اس بناء پر ہوکہ اگر انسان اس عظیم عدالت پر ایمان رکھتا ہو تو گناہوں سے بچانے کے لیے یہ ایمان سب سے زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے ۔ اس سے قطع نظر انکار قیامت کا مطلب انکارِ خدا بھی ہے کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ عادل و حکیم خدا اس جہان کے لوگوں کو ان حالات میں کہ جو ہم دیکھ رہے ہیں ، ان کی حالات پر چھوڑدے اور کوئی دوسرا جہاں موجود نہ ہو۔یہ امر نہ اس کی حکومت سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ اس کی عدالت سے ۔علاوہ ازیں آیت میں موجود جزاء سزا کے بارے میں گفتگو جاری ہے اور یہ گفتگو آخرت اور عدالتِ الٰہی کے مسئلے سے مناسبت رکھتی ہے اس لیے یہاں آخرت پر ان کے ایمان نہ لانے کا ذکر کیا گیا ہے ۔
اگلی آیت میں گزشتہ بحث کی مناسبت سے بے ایمانی ایک اہم علت بیان کی گئی ہے اور وہ مختلف امور کے بارے میں درکار آگاہی کا نہ ہونا ۔ ارشاد ہوتا ہے: جیسے انسان بھلائی کا خواہشمند ہوتا ہے اسی طرح جلد بازی کرتے ہوئے اور درکار آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے برائی طلب کرنے لگتا ہے( وَیَدْعُ الْإِنسَانُ بِالشَّرِّ دُعَائَهُ بِالْخَیْر ) ۔
کیونکہ انسان پر جلد باز ہے( وَکَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا ) ۔
اس مقام پر ”دعا“کا ایک وسیع مفہوم ہے اور اس میں ہر قسم کی خواہش و طلب شامل ہے چاہے زبان سے ہو یا عمل سے ۔
در حقیقت زیادہ سے زیادہ اور جلد منافع کے حصول کی تڑپ اس امر کا سبب بنتی ہے کہ مسائل کے تمام پلوؤں کے بارے میں غور و فکر اور تحقیق و مطالعہ نہیں کرتا اور بسا ایسا ہوتا ہے کہ اس جلد بازی کے باعث انسان حقیقی فائدے اور منافع کی تمیز نہیں کر پاتا بلکہ خواہشات کی سرکش اور بے تابی حقیقت کا چہرہ چھپادیتی ہے اور انسان اپنی بھلائی کی بجائے برائی کے پیچھے چل نکلتا ہے ۔ اس حالت میں جس طرح انسان الله سے بھلائی کا تقاضا کرتاہے عدم معرفت اور غلط پہچان کے باعث برائیوں کا بھی تقاضا کرنے لگتا ہے اور جس طرح بھلائی کے لیے کوشش کرتا ہے برائی کے بھی پیچھے چل پڑتا ہے ۔یہ نوع انسانی کے لئے ایک بہت بڑی مصیبت ہے اور سعادت کے راستے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے ۔
کتنے ہی ایسے لوگ ہیں کہ جو جلد بازی کی وجہ سے خطرناک گڑھوں میں گرجاتے ہیں ۔ اپنے تئیں وہ امن و خوشحالی کے راستے پر جارہے ہوتے ہیں لیکن بے راہ روی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ منزل سعادت کے تصور میں برائیوں اور بدبختیوں میں جا پڑتے ہیں افتخار و عزت کی بجائے ذلت و رسوائی کے پانیوں میں جا اتر تے ہیں ۔ یہ برا نتیجہ عجلت پسندی اور جلد بازی کا ہے ۔
جو کچھ ہم کہہ چکے ہیں اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ آیت کا مفہوم نہ لفظی دعا میں منحرف ہے اور نہ عملی طلب میں ۔ بلکہ یہ سب کچھ ایک جامع مفہوم میں موجود ہے ۔ لہٰذا اگر بعض مفسریں نے اسے کسی ایک حصے میں محدود کیا ہے تو اس کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے ۔ نیز اگر بعض روایات میں صرف لفظی دعا کا ذکر ہے تو وہ در اصل ایک مصداق کی نشاندہی ہے نہ کہ پورے مفہوم کا ذکر ہے ۔ جیسا کہ ایک حدیث میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:
واعرف طریق نجاتک وھلاکک، کی لاتدعوا الله بشیء عسی فیہ ھلاکک، وانت تظن ان فیہ نجاتک، قال الله تعالیٰ ”( وَیَدْعُ الْإِنسَانُ بِالشَّرِّ دُعَائَهُ بِالْخَیْرِ وَکَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا ) “
اپنی نجات اور اپنی ہلاکت کے راستے کو خوب پہچان لے تا کہ تو ا للهسے کسی ایسی چیز کا مطالبہ نہ کربیٹھے کہ جس میں تیری ہلاکت ہے جبکہ تیرا یہ گمان ہو کہ اسی میں تیری نجات ہے ۔ الله تعالیٰ کہتا ہے کہ انسان جس طرح سے بھلائی کی دعا کرتا ہے اسی طرح برائی کی طلب کرنے لگتا ہے کیونکہ انسان جلد باز ہے ۔
لہٰذا حیر و سعادت تک پہنچنے کے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ انسان جو بھی کام کرنا چاہے بڑے غور و خوض،سمجھداری اور جلد بازی سے بچتے ہوئے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر کے اور اس سلسلے میں بے سوچے سمجھے فیصلوں سے بچے اور خواہشات نفسانی کی آلودگیوں سے اپنی رائے کو پاک رکھے پھر الله سے اس کام کے لئے مدد طلب کرے تا کہ منزل سعادت سے ہمکنار ہو سکے اور ہلاکت کے گڑھے میں نہ جا گرے ۔
اگلی آیت میں خلقت شب و روز، ان کی برکات اور علم میں ایک نظم وحساب کی موجودگی کے بارے گفتگو کی گئی ہے تا کہ توحید و معرفت الٰہی کی دلیل بھی بنے اور گزشتہ سے پیوستہ بحث قیامت کی بھی تکمیل ہوجائے اور اس کے علاوہ کاموں میں غور و حوض کرنے اور عجلت سے کام نہ لینے کے ضروری ہونے کے لیے بھی مشاہدہ بن سکے ۔ارشاد ہوتا ہے: رات اور دن کو ہم نے اپنی نشانیاں قرار دیا ہے( وَجَعَلْنَا اللَّیْلَ وَالنَّهَارَ آیَتَیْنِ ) ۔
پھر ہم نے رات کی نشانی کو محو کردیا اور اس کی جگہ دن کی نشانی لے آئے کہ جو ضیاء بخش ہے( فَمَحَوْنَا آیَةَ اللَّیْلِ وَجَعَلْنَا آیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً ) ۔
اس سے ہمارے دو مقصد تھے ۔ پہلا یہ کہ” تم اپنے رب کے فضل سے بہرہ ور ہوجاؤ“( لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّکُمْ ) ۔ رات کو آرام کرو اور دن میں کام کاج اور بھاگ دوڑ کرو اور اس کے نتیجہ میں نعمات الٰہی سے فائدہ اٹھاؤ۔
دوسرا یہ کہ اپنے کاموں کے نظم و حساب کے لیے سالوں کی تعداد اور مدت معین کرو اور وقت کا حساب کتاب اور تقسیم طے کرلو
( وَلِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِینَ وَالْحِسَابَ ) ۔
اور ہم نے سب کچھ مفصل اور واضح کردیا ہے( وَکُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنَاهُ تَفْصِیلًا ) ۔ تا کہ کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ رہے ۔
”اٰیة اللیل“ اور ”ایةالنہار“ سے مراد خود رات دن ہیں اور ان میں سے ہر ایک پروردگار کی ایک نشانی ہے یا”آیة اللیل“ سے مراد چاند اور ”آیة النہار“ سے مراد سورج ہے ۔اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔لیکن آیت پر ہی غور و خوض کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پہلی تفسیر صحیح ہے ۔
”وَجَعَلْنَا اللَّیْلَ وَالنَّھَارَ آیَتَیْنِ“ کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ ان میں سے ہر ایک اثباتِ وجود خدا کے لیے دلیل، ایک نشانی ہے اور آیتِ شب محو ہونے سے مراد یہ ہے کہ رات کے تاریک پردے دن کے اجالے کی وجہ سے چھٹ جاتے ہیں اور رات کے وقت جوکچھ چھپ جاتا ہے دن کے روشنی میں آشکار ہوجاتا ہے ۔
قرآن نے جو بعض دوسری آیات( یونس۔ ۵) میں سال اور مہینے کے حساب کے لیے سورج اور چاند کو پیمانہ اور ذریعہ قرار دیا ہے وہ ہمارے مذکورہ بیان کے منافی نہیں ہے کیونکہ انسانی زندگی میں نظم اور حساب کے پیدا ہونے کو رات دن کی طرف بھی نسبت دی سکتی ہے اور چاند سورج کی طرف بھی چونکہ یہ ایک دوسرے سے مربوط ہیں ۔ نہج البلاغہ کے خطبہ اشباح میں عظمتِ الٰہی کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے امیرالمومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
”وجعل الشمس آیة مبصرة لنهارها، وقمرها، آیة ممحوة من لییلها، واجراهما فی مناقل مجراهما، وقدر سیرهما فی مدارج درجهما، لیمز بین اللیل والنهار بهما، ولیعلم عدد السنین والحساب بمقادیرهما “
سورج کو دن ضیاء بخش نشانی قرار دیا اور چاند کو رات کی محو کرنے والی نشانی بنایا اور ان دونوں کو رواں دواں کردیا ۔ ان کی حرکت کے مراحل مقرر کیے تا کہ رات اور دن کے درمیان فرق پیدا کرے اور دونوں سے حاصل کیے گئے حساب کتاب سے سالوں کا اندازہ لگا یا جاسکے ۔
یہ تفسیر بھی مذکورہ بالا پہلی تفسیر کے منافی نہیں ہے کیونکہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں سال کے حساب کتاب کو رات دن سے بھی منسوب کیا جا سکتا ہے اور چاند سورج سے بھی کیونکہ دونوں ایک دوسرے سے مربوط ہیں ۔
____________________
۱۔ سورہ نساء کی آیت ۳۸ کے ذیل میں ہم کہہ چکے ہیں کہ لفظ ”بشارت“ در اصل ”بشرة“ سے لیا گیا ہے اور ”بشرة“ کا ہے ”چہذہ“ اور ہر چیز جو انسان پر اثر انداز ہو، اسے مسرور یا مغموم کردے اسے ”بشارت“ کہتے ہیں ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ کیا انسان ذاتی طور پر جلد باز ہے ؟
زیر بحث آیت میں تو انسان کو جلد باز کہا گیا ہے لیکن کسی آیات بھی ہیں جن میں انسان کو ”ظلوم‘،” جھول“، ”کفور“، سرکش، کم ظرف اور مغرور وغیرہ کہا گیا ہے ۔
ان تعبیروں سے بعضی اوقات یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک ظرف یہ کہا گیا ہے اور دوسری طرف انسان کے پاک فطرت اور الٰہی روح کے حامل ہونے کا ذکر ہے ۔ ان دونوں کو کس طرح ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے؟
دوسری لفظوں میں اسلامی تصور کائنات کے مطابق انسان ایک عالی مرتبہ موجود ہے خلیفة الله اور زمین میں الله کی نمائندگی کے لایق ہے ۔ انسان فرشتوں کا استاد اور ان سے برتر ہے ۔ یہ بات مذکورہ مذمت آمیز تعبیرات سے کیونکہ ہم آہنگ ہے؟
اس سوال کا جواب ایک ہی جملے میں دیا جاسکتا ہے کہ انسان کا یہ تمام تر مقام، اہمیت اور قیمت سے مشروط ہے اور وہ شرط ہے” ہادیاں الٰہی کے زیر نظر تربیت“۔ اس صورت کے علاوہ انسان خود رو گھاس پھونس کی طرح پرورش پاتا ہے اور خواہشات و شہوات میں غوطے کھاتا رہتا ہے اور اپنی عظیم صلاحتیں کھو دیتا ہے اور اس میں منفی پہلو آشکار ہو جاتے ہیں ۔
اس بنا پر۔ اگر مذکورہ شرط پوری ہوجائے تو وہ تمام مثبت صفات جو قرآن حکیم میں انسان کے بارے میں آئی ہیں وہ صورت پذیر ہو جائیں گی اور اگر یہ شرط پوری نہ ہوئی تو مذکورہ منفی صفات نمایان ہوجائیں گی۔ اسی لیے سورہ معارج کی آیہ ۱۹ تا ۲۳ میں ہے:
( إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا، إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا، وَإِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوعًا، إِلاَّ الْمُصَلِّینَ، الَّذِینَ هُمْ عَلیٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ )
انسان بہت کم ظرف پیدا ہوا ہے ۔ جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بے تاب ہو جاتا ہے اور جب اسے کوئی اچھائی میسر آتی ہے تو بخل کرتا ہے سوائے ان نمازگزاروں کے کہ جو ہمیشہ اس طرز عمل پر باقی رہتے ہیں ۔
اس سلسلے میں مزید تفصیل تفسیر نمونہ کی آٹھویں جلد میں سورہ یونس کی آیت ۱۲ کے ذیل میں بیان کی جاچکی ہے ۔
۲ ۔ جلد بازی۔ ایک مصیبت:
کسی چیز کو زیادہ پسند کرنا، سطحی اور محدود فکر،خواہشات کا انسان پر غلبہ اور کسی چیزکے بارے میں حد سے زیادہ اچھا گمان۔ یہ سب جلد بازی کے عوامل ہیں ۔ عام طور پر سطحی مطالعہ اور ابتدائی آگاہی کسی امر کی حقیقت اور اس کے نفع و نقصان کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں ہوتے لہٰذا عموماً جلد بازی ندامت، نقصان اور پشیمانی کا موجب بنتی ہے ۔ یہاں تک کہ زیر بحث آیات کے مطابق بعض اوقات عجلت کے باعث انسان غلط کاموں کے پیچھے ایسی تیزی سے اچھے کاموں کے پیچھے جاتا ہے ۔
پوری تاریخ انسانی میں انسان کو جن تلخ کامیوں ، شکستوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا ان کا شمار ممکن نہیں اور خود ہم نے اپنی زندگی میں اس کے کئی نمونے دیکھے ہیں اور اس کے تلخ ثمرات چکھے ہیں ۔
”عجلت“کے مقابل ”تثبت“اور ”تانی“ یعنی توقف کرنا، تفکر و تامل کرنا اور کسی کام کے انجام دینے کے لیے اس کے تمام پہلووں کا جائز لینا ہے ۔
ایک حدیث میں رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:
”انما اٴهلک الناس العجلة ولو ان الناس تثبتوا لم یهلکو اٴحد “
لوگوں کو ان کی جلد بازی نے مار ڈالا اور لوگ تامل اور سوچ بچار سے کام انجام دیتے تو کوئی شخص ہلاک نہ ہوتا ۔(۱)
ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے:
مع التثبت تکون السلامة، وع العجلة تکون الندامة
توقف اور تامل کرنے میں سلامتی ہے اور جلد بازی میں ندامت ہے ۔(۲)
نیز رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :ان الانة من الله والعجلة من الشیطان
سوچ سمجھ کر کام کرنا الله کی طرف سے ہے اور عجلت شیطان کی جانب سے ہے ۔(۳)
البتہ اسلامی روایات میں ”نیک کام جلدی کرنے کا باب“ بھی موجود ہے ۔ ان میں سے ایک حدیث رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے، آپ فرماتے ہیں :ان الله یحب من الخیر ما یعجل
الله کو پسند ہے کہ نیک کام میں جلدی کی جائے ۔(۴)
اس سلسلے میں بہت سی روایات ہیں ۔ یہاں بے جا تاخیر، تساہل اور آج کل کرنے کے مقابل عجلت کا حکم ہے کیونکہ یہ طرز عمل عام طور پر کاموں میں مشکلیں اور رکاوٹیں پیدا ہونے کا سبب بنتا ہے ۔
اس امر کی شاہد وہ حدیث ہے جو اسی باب میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے،آپ فرماتے ہیں :
من هم بشیء من الخیر فلیعجله فان کل شیء فیه تاٴخیر فان للشیطان فیه نظرة
جو شخص کسی کار خیر کا ارادہ کرے اسے چاہئے کہ اس میں جلدی کرے کیونکہ جس کام میں تاخیر کرو گے شیطان اس میں حیلے بہانے پیدا کردے گا ۔(۵)
اس بنا پر کہنا چاہئے کہ کاموں میں سرعت اور مضبوط ارادہ تو ضرور ہونا چاہیئے لیکن جلد بازی نہیں ۔
دوسرے لفظوں میں مذموم ایسی جلد بازی ہے کہ نتیجے میں کام بغیر تمام پہلووں کا جائزہ لیے اور بغیر تحقیق و شناخت کے، صورت پذیر ہوجائے اور لایق تحسین ایسی سرعت ہے جو مصمم اردہ کر لینے کے بعد تاخیر سے بچنے کے لیے ہو۔
ردایات میں ہے کہ”نیک کام میں جلدی کرو“ یعنی پہلے یہ جان لو کہ یہ کام۔ کار خیر ہے اور جب اس کا اچھا ہونا ثابت ہو جائے تو پھر اس میں تساہل نہ بر تو۔
____________________
۱۔ و۲۔ و۳۔ سفینة البحار، ج۱، ص۱۳۹؟
۴۔ اصول کافی، ج۱، کتاب ایمان وکفر، باب ”تعجیل فعل الخیر “-
۵۔ اصول کافی، ج۱، کتاب ایمان وکفر، باب ”تعجیل فعل الخیر “-
۳ ۔ کائنات میں نظم و حسا ب کا انسانی زندگی پر اثر:
تمام تر نظام کائنات کسی حساب کتاب اور نظم و شمار پر قائم ہے ۔ نظام عالم کی کوئی چیز بغیر کسی حساب کتاب کے نہیں ہے ۔ فطری امر ہے کہ انسان کہ جواس سارے نظام کا ایک جزو ہے کسی حساب کتاب کے بغیر زندگی بستر نہیں کر سکتا ۔
اسی بناء پر قرآن کی مختلف آیات میں یہ فرمایا گیا ہے کہ چاند، سورج یا رات دن کا وجود انسان کے لیے نعمات الٰہی میں سے ہے کیونکہ یہ انسان زندگی میں نظم و حساب پیدا کرنے کا ایک عامل ہے ۔کیونکہ بے نظم زندگی فنا اور نابود کا سبب ہے ۔
ایک۔ ”ابتغاء فضل الله “۔ کہ جو عام طور پر مفید اور تعبیر کام کے معنی میں ہے ۔
دوسرا ۔سالوں کا حساب جاننا ۔
ان دونوں کا اکٹھا ذکرشاید اس بات کی دلیل ہے کہ”ابتغاء فضل الله “”نظم و حساب“ سے استفادہ کیے بغیر ممکن نہیں ہے ۔
گزشتہ زمانے میں شاید یہ بات اتنی واضح نہیں تھی لیکن آج کی دنیا نو اعداد و شمار کی دنیا ہے آج تو ہر اقتصادی، سماجی، سیاسی، سائنسی اور ثقافتی ادارے میں شماریات کا شعبہ ہوتا ہے ۔ ہر کار خانے میں شعبہ ہوتا ہے ۔دور حاضر میں اس قرآن اشارے کی گہرائی کی طرف توجہ کرنا چاہئے اور یہ جاننا چاہیئے کہ قرآن نہ صرف یہ کہ قرآن نہ صرف یہ کہ زمانہ گزرنے سے پرانا نہیں ہوتا بلکہ جوں جوں وقت گرزتا ہے اس کی تازگی زیادہ نکھر کر سامنے آتی ہے ۔(۱)
____________________
۱۔ اس سلسلے میں ہم نے سورہ یونس کی آیت ۵ کے ذیل میں بھی تفصیلی بات کی ہے، اس سلسلے میں تفسیر نمونہ کی آٹھویں جلد میں مذکورہ آیت کی تفسیر کی طرف رجوع کیجئے ۔
آیات ۱۳،۱۴،۱۵
۱۳( وَکُلَّ إِنسَانٍ اٴَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِی عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ کِتَابًا یَلْقَاهُ مَنشُورًا )
۱۴( اقْرَاٴْ کِتَابَکَ کَفیٰ بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیبًا )
۱۵( مَنْ اهْتَدیٰ فَإِنَّمَا یَهْتَدِی لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا وَلَاتَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ اٴُخْریٰ وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِینَ حَتَّی نَبْعَثَ رَسُولًا )
ترجمہ
۱۳ ۔اور ہر شخص کے اعمال کو ہم نے اس کے گلے کار ہار بنا دیا ہے اور روز قیامت اس کے لیے ہم ایک کتاب نکالیں گے کہ جسے وہ اپنے سامنے کھلاہوا پائے گا ۔
۱۴ ۔ (یہ اس کا نامہ اعمال ہی ہوگا ۔ ہم اس کہیں گے)اپنی کتاب پڑھ، آج اپنا حساب لگانے کے لیے تو خود ہی کافی ہے ۔
۱۵ جو شخص بھی ہدایت پائے اس نے اپنے لیے ہدایت پائی اور جو شخص گمراہ ہو وہ اپنے ہی نقصان میں گمراہ ہوا (اس کا نقصان خود اسی کو پہنچے گا) اور کوئی شخص دوسرے کا بوجھ اپنے کندھے پر نہیں اٹھائے گا ہم (لوگوں کو ان کی ذمہ دارایاں بتانے کے لیے) پیغمبر مبعوث کیے بغیر کسی (شخص یا قوم) کو عذاب نہیں دیتے ۔
چادر اہم اسلامی اصول
گزشتہ آیات میں معادو قیامت اور حساب و کتاب کے بارے میں گفتگو تھی۔اسی مناسب سے زیر بحث آیات میں انسان کے اعمال کے حساب و کتاب کے ابرے میں بات کی گئی۔ گفتگو قیامت میں اس معاملے کی کیفیت سے شروع ہوتی ہے ۔ ارساد ہوتا ہے: ہر شخص کے اعمال کو ہم نے اس کے گلے کا ہار بنادیا ہے
( وَکُلَّ إِنسَانٍ اٴَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِی عُنُقِهِ ) ۔
”طائر“پرندے کے معنی میں ہے لیکن عربوں کے درمیان معمول تھا کہ وہ پرندوں کے ذریعے نیک یابد فال نکالتے تھے اور ان کی حرکت کی کیفیت سے نتیجہ نکالتے تھے ۔یہاں اس چیز کی طرف اشارہ ہے ۔ مثلاً اگر ایک پرندہ ان کی دائیں طرف اڑرہا ہوتا تو ایک اسے نیک فال سمجھتے اور اگر بائیں طرف اڑرہا ہوتا تو اسے بد فال خیال کرتے ۔اسی لیے یہ لفظ زیادہ تر فال بد کے معنی میں استعمال ہوتا ہے حالانکہ ”تفال“زیادہ تر نیک فال کے لیے بولا جاتا ہے ۔
آیات قرآن میں بھی بارہا” تطیر“ فال بد کے معنی میں آیا ہے ۔مثلاً:
( وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَطَّیَّرُوا بِمُوسیٰ وَمَنْ مَعَهُ )
فرعوں والوں کو کوئی پر یشانی لایق ہوتی تو وہ اسے موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست سمجھتے تھے ۔ (اعراف۔ ۱۳۱)
نیز سورہ نمل کی آیت ۴۷ میں ہے:( قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِکَ وَبِمَنْ مَعَکَ )
قوم صالح کے مشرکین کہنے لگے: ہم تجھے اور تیرے ساتھیوں کو منحوس اور فال بد سمجھتے ہیں ۔
اسلامی احادیث میں ”تطیر“سے منع کیا گیا ہے اور اس کے مقابلے میں ”توکل علی الله ‘ ‘کی ہدایت فرمائی گئی ہے ۔
بہر حال زیر بحث آیت میں بھی”طائر“اس معنی کی طرف اشارہ ہے یا پھر یہ قسمت کے معنی میں ہے کہ جو نیک و بد فال کے قریب قریب ہے ۔
قرآن در حقیقت کہتا ہے کہ نیک و بد فال اور اچھی بری قسمت کوئی چیز نہیں ۔یہ تو تمہارے اعمال ہیں کہ جنہیں تمہاری گردن میں لٹکایا جائے گا ۔
”الزمناہ“(ہم نے لازم قرار دیا ہے اس کو) اور”فی عنقہ“(اس کی گردن میں )کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کے اعمال اور ان کے نتائج دنیا اور آخرت میں اس سے جدا نہیں ہوتے اور ہر حالت میں اسے ان کا مسئول اور ذمہ دار ہونا چاہئے ۔جو کچھ ہے عمل ہے باقی سب باتیں ہیں ۔بعض مفسرین نے لفظ ”طائر“کے انسانی اعمال پر اطلاق سے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ انسان کے اچھے برے اعمال گویا ایک پرندے کی مانند ہیں کہ جو اس کے وجود سے پرواز کرتا ہے ۔ اسی لیے ان پر ”طائر“کا اطلاق ہوا ہے ۔
زیر بحث آیت میں لفظ”طائر“اچھائی اور برائی سے انسان کے حصے کے معنی میں ہے یا دلیل اور رہنما کے معنی میں ہے یا نامہ اعمال کے معنی میں ہے یا برکت و نحوست کے معنی میں ہے ۔
ان میں سے بعض تفاسیر سے تو وہی مفہوم نکلتا ہے جس کا ذکر ہم پہلے کرچکے ہیں جبکہ بعض تفاسیر آیت کے مفہوم سے بہت دور ہیں ۔
اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: روزِ قیامت ہم اس کے لیے کتاب نکالیں گے کہ جسے وہ اپنے سامنے کھلا ہوا پائے گا( وَنُخْرِجُ لَهُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ کِتَابًا یَلْقَاهُ مَنشُورًا ) ۔
واضح ہے کہ”کتاب“سے مراد انسان کے نامہ اعمال کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے ۔ وہی نامہ اعمال کہ جو اس دنیا میں بھی موجود ہے کہ جس میں اس کے اعمال ثبت ہوئے ہیں ۔ فرق یہ ہے کہ یہاں وہ نامہ اعمال پوشیدہ اور وہاں کھلا ہوا سامنے رکھا ہوگا ۔ ”نخرج“‘ (نکالیں گے) اور ”منشور“ (کھلا ہوا) کی تعبیر اسی معنی کی طرف اشارہ ہے کہ جو اس جہان میں مخفی ہے وہاں آشکار اور کھلاہوا ہوگا ۔
نامہ اعمال اور اس کی حقیقت کے بارے میں آئندہ صفحات میں ہم مزید گفتگو کریں گے ۔
تو اس وقت اس سے کہا جائے گا: اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے( اقْرَاٴْ کِتَابَک ) ۔ اپنا حساب کتاب کرنے کے لیے آج تو خود ہی کافی ہے( کَفیٰ بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیبًا ) )
یعنی مسائل اس قدر واضح ہیں کہ جائے کلام نہیں ہے ۔جو شخص بھی اس نامہ اعمال کودیکھے گا خود فیصلہ کر سکے گا، چا ہے وہ خود مجرم ہی کیوں نہ ہو کیونکہ یہ نامہ اعمال خود اسی کے اعمال یا اعمال کے آثار کا مجموعہ ہے لہٰذا کرئی ایسی چیز نہیں کہ جس کا انکار ہوسکے ۔
اگر میں اپنی ریکارڈ شدہ آواز سنوں یا کرئی اچھایا برا کام کرتے ہوئے کھینچی گئی اپنی تصویر دیکھوں تو کیا اسکا انکار کر سکتا ہوں ۔ نامہ اعمال کی کیفیت روز قیامت اس سے بھی زیادہ اضح اور باریک تفصیلات کے ساتھ ہوگی۔
اگلی آیت میں حساب اور جزاء کے بارے میں چار اصولی احکام بیان کیے گیے ہیں :
۱ ۔ جو شخص ہدایت پالے تو اس نے اپنے ہی فائدے میں ہدایت پائی ہے اور اس کا نتیجہ خود اسی کو حاصل ہوگا( مَنْ اهْتَدیٰ فَإِنَّمَا یَهْتَدِی لِنَفْسِهِ ) ۔
۲ ۔ اور جوشخص گمراہی کا راستہ اپنا لے تو وہ اپنے ہی نقصان میں گمراہ ہوا ہے اور اس کے برے نتائج خود اسی کے دامن گیر ہوں گے
( وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا ) ۔
ان دو احکام کی نظیر اسی سورت کی ساتویں آیت میں بھی گزرچگی ہے ۔
۳ ۔ کوئی شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ اپنے دوش پر نہیں اٹھائے گا اور کسی کو دوسرے کے جرم کی سزا نہیں دی جائے گی( وَلَاتَزِرُ وَازِرَةٌ وزَر اٴُخْری )
”وزر“کا معنی ہے”بھاری بوجھ“ یہ لفظ مسئولیت اور جوابد ہی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے کیونکہ روحانی اعتبار سے یہ بھی انسان کے کندھے پر ایک بھار بوجھ کی مانند ہی ہے”وزیر “کو بھی اسی لیے ”وزیر “کہتے ہیں کہ سر براہ مملکت یا عوام کی طرف سے اس کے کندھے پر ایک بھاری بوجھ ہوتا ہے ۔یہ ایک عمومی قانون ہے کہ کوئی شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ اپنے کندھے پر نہیں اٹھائے گا ۔
البتہ یہ قانون سورہ نحل کی آیت ۲۵ کے مفہوم کے منافی نہیں ہے کہ جس میں ہے کہ گمراہ کرنے والے افراد سے ان لوگوں کے بارے میں بھی جوابدہی ہوگی جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہے کیونکہ دوسروں کو گمراہ کرنا بھی بذات خود گناہ ہے یا گمراہ کرنے والے مثل فاعل شمارہوں گے لہٰذا در حقیقت یہ ان کے اپنے گناہوں کا بوجھ ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہاں ”سبب“ کام انجام دینے والے کے حکم میں ہے ۔
متعدد روایات کے مطابق جو اچھی یا بری رسم کی بنیاد رکھے گا وہ جزااور سزا میں اس رسم کی پیروی کرنے والوں کا شریک ہے ۔ جو کچھ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے یہ روایات اس سے متضاد نہیں ہیں کیونکہ کسی سنت یا رسم کی بنیاد رکھنے والا در حقیقت عمل کے بنیادی اسباب میں سے ہے اور عمل میں شریک ہے ۔
۴ ۔آخر میں چو تھا حکم یوں بیان کیا گیا ہے: ہم کسی شخص یا قوم کو اس وقت تک سزا نہیں دیتے جی تک ان کے لیے کوئی پیغمبر مبعوث نہ کریں تا کہ وہ پوری طرح انہیں ا ن کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرکے ان پر حجت تمام کردے( وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِینَ حَتَّی نَبْعَثَ رَسُولًا ) ۔
مفسرین میں اس سلسلے میں اختلاف ہے کہ یہاں عذاب سے مراد ہر قسم کا دنیاوی یا اخروی عذاب ہے یا خصوصیت سے”عذابِ استیصال“ ہے (یعنی طوفان نوح کی طرح کا ہولناک عذاب) ۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ آیت کا ظاہری مفہوم مطلق ہے اور اس میں ہر قسم کا عذاب شامل ہے ۔
نیز اس بارے میں بھی مفسرین میں اختلاف ہے کہ یہ حکم شرعی مسائل کہ جنہیں نقلی دلائل سے معلوم کیا جاتا ہے کے لیے مخصوص ہے یا اصولی و فرعی اور عقلی و نقلی تمام مسائل سے مربوط ہے ۔ البتہ اگر ہم آیت کے ظاہری مفہوم کو دیکھیں تو مطلق ہے ۔ لہٰذا کہنا چاہئے اصول و فروع دین سے مربوط تمام عقلی و نقلی احکام اس میں شامل ہے ۔
آیت کے ظاہری مفہوم کے لحاظ سے اس گفتگو کا مفہوم یہ ہے کہ وہ مسائل بھی جن کے بارے میں عقل مستقلاً اچھا یا برا ہونے کا فیصلہ رکھتی ہے(مثلاً عدل کا اچھا ہونا اور ظلم کا برا ہونا) الله تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے ان کے بارے میں بھی کسی کو اس وقت تک سزا نہیں دیتا جب تک خدا کے پیغمبر نہ آئیں اور حکم نقل کے ذریعے حکم عقل کی تائید نہ کریں ۔ (غور کیجئے گا) ۔
لیکن یہ بات بہت بعید معلوم ہوتی ہے کیونکہ عقل جن امور کے بارے میں مستقل فیصلہ رکھتی ہے وہ بیان شرعی کے محتاج نہیں ہیں اور ایسے امور کے لیے حکم عقل اتمام حجت کے لیے کافی ہے لہٰذا ہمارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم مستقلات عقلی کو اس آیت سے مستثنیٰ سمجھیں اور اگر ایسا نہ سمجھیں تو پھر عذاب کے اس جملے میں عذابِ استیصال کا معنی لینا ہوگا ۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ الله تعالیٰ اپنے لطف اور کرم کی وجہ سے ظالموں اور منحرفوں کواس وقت تک نابود نہیں کرے گا جب تک انہیں سعادت کی تمام راہیں بتانے والا پیغمبر ان میں مبعوث نہ کرے ۔وہ پیغمبر ان سے مستقلات عقلی کے بارے میں بھی شرعی حکم بیان کرے گا اور عقل و نقل دونوں حوالوں سے اتمام حجت کرے گا(غور کیحئے گا) ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ اچھی اور بری فال:
کسی چیز یا کام سے نیک و بد فال لینا تمام قوموں میں تھا اور آج بھی ہے ۔ یوں لگتا ہے کہ اس کا سرچشمہ حقائق تک دسترس نہ ہونا اور واقعات کے اسباب و علل سے لا علمی ہے ۔
بہر حال اس میں شک نہیں کہ نیک یا بد فال کا کوئی طبیعی اثر نہیں ہے البتہ اس کا نفیساتی اثر ہوتا ہے ۔ لیکن فال امید آفریں ہوتی ہے جبکہ بد فال یاس، ناامیدی اور کمزوری کا موجب بنتی ہے ۔ اسلام چونکہ ہمیشہ اچھی چیزوں کا خیر مقدم کرتا ہے اس لیے اسلام نے نیک فال سے منع نہیں کیا، البتہ بد فال کی شدید مذمت کی ہے ۔ یہاں تک کہ بعض روایات میں اسے سرحد شرک میں شمار کیا گیا ہے ۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:
الطیرة شرک
بری فال لینا(اور خدا کے مقابلے میں اسے اپنی قسمت میں موثر جاننا) ایک قسم کا خدا کی ذات میں شرک کرنا ہے ۔
اس سلسلے میں چھٹی جلد میں ہم سورہ اعراف میں آیت ۱۳۱ کے ذیل میں گفتگو کر چکے ہیں ۔یہ بات جاذب نظر ہے کہ صحیح او راصلاح پہلووں سے اس قسم کے تخیلاتی امور سے اسلام نے بھی فائدہ اٹھایا ہے ۔
مثلاًعمو ماً کہا جاتا ہے کہ فلاں دلہن خوش قدم تھی یا بَد قدم تھی۔جس دن سے اس نے فلاں شخض کے گھر میں قدم رکھا ہے وہ ایساہو گیاہے ۔ یہ ایک فضول بات سے زیادہ نہیں ہے ۔لیکن اسلام نے اسے تعمیری اور اصلاحی شکل دی ہے ۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے :من شوم المرئة غلاء مهرها وشدة مئونته ----
عورت کی ایک نحوست یہ ہے کہ اس کاحق مہرزیادہ ہو اور اخراجات بھاری ہوں ----(۱)
ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ(ص) وسلم سے منقول ہے:
اما الدار فشومها ضیقها وخبث جیرانها
منحوس گھر وہ ہے کہ جو تنگ وتاریک ہو اور جس کے ہمسائے برے لوگ ہوں ۔(۲)
خوب غور کریں کہ وہی الفاظ جنہیں لوگ غلط اور بے ہودہ مفاہیم کے لیے استعمال کرتے ہیں انہیں حقیقی اور اصلاح مفاہیم کے لیے صرف کیا گیا ہے اور بے راہ روی کی طرف جانے والے خیال و افکار کو سیدھے راستے کی طرف ہدایت کی گئی ہے ۔
اس بحث کی موید رسول صلی الله علیہ وآلہ(ص) وسلم کی ایک حدیث پر ہم اپنی اس گفتگو کو ختم کرتے ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں :اللّٰهم لاخیر الّا خیرک، ولا طیر الّا طیرک ولا رب غیرک
بار الہا!خیر وہی ہے جو تیری طرف سے ہوا اور کوئی اچھی بری فال تیرے ارادے کے بغیر کچھ نہیں اور تیری علاوہ کوئی رب نہیں ۔
۲ ۔ انسان کا عجیب اعمال نامہ:
قرآن حکیم کی بہت سی آیات اور روایات میں انسانوں کے نامہ اعمال کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے ۔ مجموعی طور پر ان آیات و روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے تمام اعمال اپنی تمام تر تفصیلات کے ساتھ ایک رجسٹر میں لکھے جاتے ہیں اور اگر انسان نیک ہوا تو روز قیامت اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور اگر برا ہوا تو بائیں ہاتھ میں ۔
سورہ حاقہ میں ہے:( فَاٴَمَّا مَنْ اٴُوتِیَ کِتَابَهُ بِیَمِینِهِ فَیَقُولُ هَاؤُمْ اقْرَئُوا کِتَابِی )
جسے اس نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں تھما یا جائے گا فخر سے کہے گا کہ آئیے اور ہمارا نامہ اعمال پڑھیے ۔ (حاقہ۔ ۱۹)
نیز یہ بھی فرمایا ہے:( وَاٴَمَّا مَنْ اٴُوتِیَ کِتَابَهُ بِشِمَالِهِ فَیَقُولُ یَالَیْتَنِی لَمْ اٴُوتَ کِتَابِی )
لیکن جسے اس نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں تھما یا جائے گا وہ کہے گا: اے کاش! میر نامہ اعمال مجھے نہ تھما یا جاتا ۔ (حاقہ۔ ۲۵)
سورہ کہف کی آیت ۴۹ میں ہے:( وَوُضِعَ الْکِتَابُ فَتَرَی الْمُجْرِمِینَ مُشْفِقِینَ مِمَّا فِیهِ وَیَقُولُونَ یَاوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْکِتَابِ لَایُغَادِرُ صَغِیرَةً وَلَاکَبِیرَةً إِلاَّ اٴَحْصَاهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلَایَظْلِمُ رَبُّکَ اٴَحَدًا )
بنی آدم کے اعمال نامے کھول دیئے جائیں گے تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اس کی تحریر سے خوف کھائیں گے اور کہیں گے! ہائے ہم پر افسوس! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس میں کوئی چھوٹا بڑا گناہ شمار کیے بغیر نہیں چھوڑا گیا اور جو کچھ انہوں نے انجام دیا تھا اسے موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا ۔
ایک حدیث میں زیر بحث آیت”اقرء کتابک---“کے ذیل میں اما م صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:یذکر العبد جمیع ما عمل، وما کتب علیه، حتی کانه فعله تلک الساعة، فلذلک قالوا یا ویلتنا ما لهٰذا الکتاب لایغادر صغیرة ولا کبیرة الّا اٴحصاه -
جو کچھ انسان انجام دے چکا ہے اور اس کے نامہ اعمال میں درج ہے سبب کچھ اسے یاد آجائے گا اور اس طرح سے کہ جیسے اس نے ابھی ابھی انجام دیا ہے لہٰذا مجرمین پکاریں گے اور کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے کہ جس نے کوئی چھوٹا بڑا گناہ لکھے بناء نہیں چھوڑا ۔(۳)
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ نامہ اعمال کیا ہے اور کیسا ہے ۔ظاہر ہے کہ وہ عام کتاب، یار جسٹر یا فائل کی طرح کا تو نہیں ہوگا ۔ اس لیے بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ نامہ اعمال”روح انسان“ کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہے کہ جس میں تمام اعمال کے آثار ثبت ہیں ۔(۴) کیونکہ ہم جو بھی عمل انجام دیتے ہیں وہ لازمی طور پر ہماری روح پر اثر مرتب کرتا ہے ۔ یا یہ کہ یہ نامہ اعمال ہمارے جسم کے اعضاء اور گوشت پوست اور اس کے گرد کی زمین، ہوا اور فضا ہے کہ جس میں ہم اعمال انجام دیتے ہیں کیونکہ ہمارے اعمال ہمارے جسم پر اثرات مرتب کرنے کے علاوہ ہوا اور زمین پر بھی اثر چھوڑتے ہیں اگر چہ اس دنیا میں ہم ان آثار کو محسوس کر نہیں سکتے لیکن بلاشبہ وہ موجود ہوتے ہیں اور روز قیامت کہ جب ہمیں ایک نئی قوت ادراک حاصل ہوگی، ہم دیکھ سکیں گے ۔
سطورِ بالا میں جو تفسیر بیان ہوئی ہے اس کے بارے میں لفظ”اقراٴ “ (پڑھ) سے غلط فہمی پیدا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ پڑھنے کا بھی ایک وسیع مفہوم ہے اور اس میں ہر قسم کا مشاہدہ شامل ہے ۔ مثلاً روز مرہ کی گفتگو میں ہم کبھی کبھی کہتے ہیں :”میں نے اس کی آنکھوں سے پڑھ لیا ہے کہ اس کا ارادہ کیا ہے“ یا ”فلاں آدمی کے فلاں کام سے میں نے باقی بات پڑھ لی ہے ۔“ اسی طرح بیماروں کے ایکس رے کو دیکھنے کے لیے بھی پڑھنے کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں ہے کہ اس کے نامہ اعمال کے مندرجات کسی طرح بھی قابلِ انکار نہیں ہیں کیونکہ وہ خود عمل کے حقیقی اور تکوینی آثار ہیں ۔بالکل انسان کی ٹیپ شدہ آواز کی طرح اور یا اس کی انگلی کے نشان کی طرح۔
۳ ۔ گنگار کے ساتھ بے گناہ نہیں جلے گا:
عوام میں مشہور ہے کہ جب آگ لگتی ہے تو خشک و تر سب کچھ جل جاتا ہے ۔ لیکن منطق، عقل اور تعلیمات انبیاء کے مطابق کسی بے گناہ کو کسی دوسرے کے گناہ کی وجہ سے سزا نہیں ملے گی قوم لوط کے تمام شروں میں صرف ایک گھر ایمان والوں کا تھا ۔ جب الله نے اس منحرف اور غلیظ قوم پر عذاب نارل کیا تو اس ایک گھرانے کو بچا لیا ۔
زیر بحث آیات میں بھی صراحت سے فرمایا گیا ہے:ولا تزر وازرة وزر اخری
کوئی شخص دوسرے کا بوجھ دوسرے کا بوجھ اپنے کندھے پر نہیں اٹھا ئے گا ۔
اس بناء پر اگر کچھ غیر معتبر روایات میں اسلام کے کلی قانون کے خلاف کچھ نظر آئے تو اسے لازمی طور پر ایک طرف پھینک دینا چاہئے یا اس کی توجیہ کی جانا چاہئے ۔ مثلا ًایک روایت میں ہے:
مرجانے والے کو اس کے پسماندگان کی گریہ و زاری کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ۔
ہوسکتا ہے یہاں عذاب سے عذاب الٰہی مراد نہ ہو بلکہ اس سے وہ ناراحتی اور دکھ مراد ہو کہ جو اس کی روح کو اپنے عزیزوں کی بے تابی و اضطراب سے آگاہ ہونے پر ہوتا ہے ۔
نیز اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ بعض لوگوں کا یہ عقیدہ کہ کافروں کی اولاد اپنے ماں باپ کے ساتھ جہنم میں جائے گی، ایک اسلامی عقیدہ نہیں ہے ۔ کیونکہ اولاد کو ماں باپ کے گناہ کی سزا نہیں مل سکتی یہی وجہ ہے کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ غیر شرعی طور پرپیدا ہونے والی اولاد کا بھی ذاتی طور پر کوئی گناہ نہیں اور اگر وہ چاہے تو سعادت و نجات کے دروازے اس کے سامنے کھلے ہیں اگر چہ ایسی اولاد کے لیے تربیت کا مسئلہ بہت دشوار ہے ۔
۴ ۔ برائت کا اصول اور آیت”( ما کنا معذبین ) “:
علمِ اصول میں ”برائت “کی بحث میں زیر نظر آیت سے استدال کیا گیا ہے کیونکہ آیت کا کم از کم مفہوم یہ ہے کہ جن مسائل کا عقل ادراک نہیں کرسکتی، انبیاء بھیجے بغیر یعنی احکام اور ذمہ داریاں بیان کیے بغیر خدا کسی کو سزا نہیں دے گا ۔ یہ بات اس امر کی دلیل ہے کہ جن امور کے بارے میں کوئی حکم موجود نہیں ہے ان پر کوئی سزا نہ ہوگی۔ اس کو قانونِ برائت کہتے ہیں یعنی حکم بیان کیے بغیر سزا صحیح نہیں ہے ۔
باقی رہا یہ معاملہ کہ بعض نے کہا ہے کہ زیر نظر آیت میں عذاب سے مراد صرف عذابِ استیصال ہے جیسا قومِ نوح پر آیا تھا، تو اس کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں ہے بلکہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں آیت مطلق ہے اور اس کے مفہوم میں ہر قسم کا عذاب اور سزا شامل ہے ۔
____________________
۱۔ وسائل الشیعہ، ج۳، ص۱۰۴-
۲۔ سفینة البحار، ج۱، ص۶۸۰-
۳۔ نور الثقلین، ج۳، ص۱۴۴-
۴۔ تفسیر صافی-
آیات ۱۶،۱۷
۱۶( وَإِذَا اٴَرَدْنَا اٴَنْ نُهْلِکَ قَرْیَةً اٴَمَرْنَا مُتْرَفِیهَا فَفَسَقُوا فِیهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِیرًا )
۱۷( وَکَمْ اٴَهْلَکْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِنْ بَعْدِ نُوحٍ وَکَفیٰ بِرَبِّکَ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِیرًا بَصِیرًا )
ترجمہ
۱۶ ۔ اور جب ہم کسی شہر کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے”مترفین“( نفس پرستی میں مست دولت مندوں ) سے اپنے اورامر بیان کرتے ہیں ۔ پھر جب وہ مخالفت پر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور سزا کے مستحق ہو جاتے ہیں تو ہم شدت سے ان کی سر کوبی کرتے ہیں ۔
۱۷ ۔ اور ایسے کتنے ہی لوگ تھے جو نوح کے بعد کی صدیوں میں رہے اور(اسی سنت کے مطابق)ہم نے انہیں ہلاک کردیا ۔ اور کافی ہے تیرا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں سے آگاہ اور ان کے لیے بینا ہے ۔
عذاب الٰہی کے چارہ مرحلے
گزشتہ آیات میں سے آخری میں بیان کیا گیا تھا کہ” ہم کسی فرد یا کروہ کو انبیاء بھیجنے اور اپنے احکام بیان کرنے کے بغیر ہرگز سزا نہیں دیتے“۔ اب زیر بحث پہلی آیت میں ہی بنیادی بات ایک اور پیرائے میں بیان کی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: جب ہم کسی قوم کو ہلاک کرنے کا مصمم ارادہ کر لیتے ہیں تو پہلے ہم مترفین اور دولت کے نشے میں غرق لوگوں سے اپنے احکام بیان کرتے ہیں ۔ اس کے بعد جب وہ اطاعت نہیں کرتے بلکہ مخالفت کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور عذاب کے مستحق ہو جاتے ہیں تو ہم ان کی شدت سے سر کوبی کرتے ہیں اور انہیں ہلاک کردیتے ہیں( وَإِذَا اٴَرَدْنَا اٴَنْ نُهْلِکَ قَرْیَةً اٴَمَرْنَا مُتْرَفِیهَا فَفَسَقُوا فِیهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِیرًا ) ۔(۱)
اس آیت کے مفہوم کے بارے میں بہت سے مفسرین نے متعدد احتمالات ذکر کیے ہیں لیکن ہماری نظر میں آیت ظاہری معنی کے اعتبار سے ایک سے زیادہ واضح تفسیر نہیں رکھتی۔ اور وہ یہ کہ الله تعالیٰ اتمام حجت اور اپنے احکام بیان کرنے سے پہلے ہرگز کسی سے مواخذہ نہیں کرتا اور نہ کسی کو عذاب دیتا ہے بلکہ پہلے اپنے احکام بیان کرتا ہے اگر لوگ اطاعت کریں اور ان احکام کو اپنا لیں تو خوب، اسی میں ان کی دنیا و آخرت کی سعادت ہے اور اگر وہ فسق و فجور کریں اور مخالفت پر اٹھ کھڑے ہوں اور احکام کو پاؤں تلے روند ڈالیں تو یہ وہ مقام ہے جہاں وہ عذاب کے مستحق ہوجاتے ہیں اور پھر اس کے بعد ان کے لیے ہلاکت ہے ۔
اگر آیت میں صحیح طور پر غور و فکریں تو اس کام کے لیے چار مراحل واضح طور پر بیان ہوئے ہیں :
(۱) اوامر(و نواھی)کا مرحلہ
(۲)مخالفت تور فسق وفجور کا مرحلہ
(۳)عذاب کے استحقاق کا مرحلہ
(۴)ہلاکت ما مرحلہ
فاء تفریح کے ساتھ یہ تمام مرحلے دوسرے پر عطف ہوئے ہیں ۔
یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ صرف”مترفین“(۲) کو حکم کیوں دیا گیا ہے ۔
اس سوال کے جواب میں ایک نکتے کی طرف توجہ کی جائے تومعاملہ واضح ہوجا تا ہے اور وہ یہ کہ بہت سے معاشروں (مراد غلط قسم کے معاشرے ہیں ) میں معاشرے کی باگ ڈور مترفین ہی کے قبضے میں ہوتی ہے اور لوگ ان کے تابع اور پیرو ہوتے ہیں ۔ علاوہ ازیں اس میں ایک اور نکتے کی طرف اشارہ ہے وہ یہ کہ معاشرے کی زیادہ تر برائیوں کا سرچشمہ مترفین اور خدا کو بھولے ہوئے دولت مندہی ہوتے ہیں جو نازد نعمت، عیش و عشرت اور ہوا و ہوس میں مستغرق ہوتے ہیں ۔ ہر اصلاحی، انسانی اور اخلاقی آواز انہیں بُری لگتی ہے ۔ لہٰذا یہی لوگ انبیاء کے مقابلے میں پہلی صف میں ہوتے تھے اور ان کی دعوت کہ جو عدل و انصاف کے لیے اور مستضعفین کی حمایت میں ہوتی تھی اسے ہمیشہ اپنے بر خلاف سمجھتے تھے ۔ان وجوہ کی بناء پر خصوصیت سے انہی کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ فساد اور برائی کی اصلی جڑ یہی لوگ ہیں ۔
ضمنا ۔ ”دمرنا“ اور ”تدمیر“’، ”دمار“کے مادہ سے ہلاکت کے معنی میں ہیں ۔
بہرحال مندرجہ بالا آیت تمام اہل ایمان کے لیے تنبیہ ہے کہ وہ خبردار رہیں اور اپنی حکومت مترفین اور نفسانی خواہشوں میں سرمست دولت مندوں کے ہاتھ میں نہ دیں اور ان کے پیچھے نہ لگیں کیونکہ یہ لوگ آخر کار ان کے معاشرے کو ہلاک و نابود ی سے ہمکنار کریں گے ۔
اس کے بعد والی آیت میں اس مسئلے کے کئی ایک نمونوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: کتنے ہی لوگ تھے جو نوح کے بعد کی صدیوں میں آئے اور (اسی سنت کے مطابق )ہلاک اور نابود ہوگئے( وَکَمْ اٴَهْلَکْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِنْ بَعْدِ نُوحٍ )
اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے:یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی فرد یا یا گرو ہ کا ظلم اور گناہ علم خدا کی تیز بین نگاہ سے مخفی رہ جائے ”خدا اپنے بندوں کے گناہ سے کافی یعنی پورا آگاہ ہے ان کے لیے بینا ہے“( وَکَفیٰ بِرَبِّکَ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِیرًا بَصِیرًا )
”قرون“ ”قرن“کی جمع ہے ۔ اس کا معنی ہے وہ لوگ جو ایک زمانے میں زندگی گزاریں ۔بعد ازاں یہ لفظ ایک زمانے اور ایک دَور کے لیے استعمال ہونے لگا ۔
ایک”قرن“کتنے سال کا ہوتا ہے، اس سلسلے میں مختلف نظریات ہیں ۔ بعض چالیس سال کا کہتے ہیں ، بعض اَسّی سال کا، بعض سو سال کا اور بعض اس سے بھی زیاد ہ، ایک سو بیس سال کا کہتے ہیں ۔ لیکن بناکہے واضح ہے کہ یہ ایک امر اعتبار ہے جو مختلف صورتوں میں مختلف ہوتا ہے البتہ ہمارے زمانے میں معمول یہ ہے کہ لفظ”قرن“کا اطلاق سو سال پر ہوتا ہے ۔(۳) ۔
نیز یہ کہ نوح علیہ السلام کے بعد کے قرنوں کا خصوصی ذکر کیوں کیا گیا ہے ۔ ہوسکتا ہے یہ اس لیے ہو کہ حضرت نوح علیہ السلام سے پہلے انسانی زندگی انتہائی سادہ تھی۔ یہ سب اختلاف خصوصاً معاشرے کی”مترف“اور ”مستضعف“ کی طبقاتی تقسیم بہت کم تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ بہت کم عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے ۔
”خبیر“ و ”بصیر“(آگاہ و بینا) کا اکھٹا ذکر اس طرف اشارہ ہے کہ ”خبیر“ نیت اور عقیدے سے آگاہ کے معنی میں ہے اور ”بصیر“ اعمال وکردار کودیکھنے والے کے معنی ہے ۔ لہٰذا خدا تعالیٰ لوگوں کے اعمال کے باطنی وجود اور اسباب پر بھی مطلع ہے اور خود اعمال کو بھی جانتا ہے اور ایسی ہستی ہرگز کسی پر ظلم روا نہیں رکھتی اور اس کی حکومت میں کسی کا حق صنائع نہیں ہوتا ۔
____________________
۱۔ ”قول“ کا لفظ اگرچہ وسیع معنی ہے لیکن ایسے موقع پر حکم، عذاب کے معنی میں ہے ۔
۲۔ ”مترفین“ ”ترفہ“ کے مادہ سے فراواں نعمت کے معنی میں ہے یعنی وہ نعمتوں کے پلے ہوئے اور دولت مند جو خدا سے بے خبر ہیں ۔
۳ سورہء یونس کی آیت ۱۳ کے ذیل میں بھی ہم نے اس موضوع کی طرف اشارہ کیا ہے (تفسیر نمونہ، ج۸، ص۱۹۸ اردو ترجمہ)-
آیات ۱۸،۱۹،۲۰،۲۱
۱۸( مَنْ کَانَ یُرِیدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِیهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِیدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ یَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا )
۱۹( وَمَنْ اٴَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعیٰ لَهَا سَعْیَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاٴُوْلٰئِکَ کَانَ سَعْیُهُمْ مَشْکُورًا )
۲۰( کُلًّا نُمِدُّ هَؤُلَاء وَهٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّکَ وَمَا کَانَ عَطَاءُ رَبِّکَ مَحْظُورًا )
۲۱( انظُرْ کَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلیٰ بَعْضٍ وَلَلْآخِرَةُ اٴَکْبَرُ دَرَجَاتٍ وَاٴَکْبَرُ تَفْضِیلًا )
ترجمہ
۱۸ ۔ جو شخص (صرف)جلد گزر جانے والی( مادی دنیا)طلب کرتا ہے تو ہم اسے اس قدر دے دیتے ہیں ، جو ہم چاہیں اور جس مقدار کا اس کے بارے میں ارادہ کریں اس کے لیے دوزخ قرار دیں گے کہ وہ اس کی جلادینے والی آگ میں جلے گا( جبکہ وہ درگاہ الٰہی سے)راندہ اور مذموم ہوگا ۔
۱۹ ۔ اور جو شخص صرف آخرت کو چاہے اور اپنی سعی اور تلاش اس کے لیے انجام دے اور وہ ایمان بھی رکھتا ہو تو ( خدا کی طرف سے) اسے اس وتلاش جزا ملے گی۔
۲۰ ۔ ان میں سے ہرگروہ کو تیرے پروردگار کی عطا میں سے حصہ اور مدد ملے گی اور تیرے پروردگار کی عطا و بخشش کبھی کسی سے ممنوع قرار نہیں دی گئی۔
۲۱ ۔ دیکھو کس طرح ہم نے بعض کو(دنیا میں ان کی سعی اور تلاش کی وجہ سے)بعض دوسروں پر برتری عطا کی ہے اور آخرت کے درجات اور اس کی فضیلتیں تو اس کہیں زیادہ ہیں ۔
طالبان دنیا اور طالبان آخرت
گزشتہ آیات میں اوامرِ الٰہی کے مقابلے میں منکرین کی مخالفت اور پھر ان کی ہلاکت کے بارے میں گفتگو تھی۔ زیر نظر آیات میں اس سرکشی اور طغیان کے حقیقی سبب یعنی حبّ دنیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جن لوگوں کی نظر اسی زود گزر مادّی دنیا پر ہے، ہم جس مقدار میں چاہتے ہیں اور اس کے لیے مناسب سمجھتے ہیں اسی زندگی میں اسے دے دیتے ہیں ، اس کے بعد اس کے لیے ہم جہنم قرار دیں گے کہ جس کی آگ میں وہ جلے گا اس حالت میں کہ وہ رحمت الٰہی کی درگاہ سے راندہ اور مذموم ہوگا( مَنْ کَانَ یُرِیدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِیهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِیدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ یَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا )
”عاجلة“کا معنی ہے جلد گزر جانے والی نعمتیں یا زود گزر دنیا ۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ یہ نہیں فرمایا کہ جو شخص دنیا کے پیچھے جائے گا، وہ جو کچھ چاہے گا اس تک پہنچ جائے گا بلکہ اس کے لیے دو شرطیں بیان کی گئی ہیں پہلی یہ کہ وہ جو چاہے گا اس کا کچھ حصہ اسے ملے گا، اتنا ہی جتنا ہم چاہیں گے(ما نشاء) ۔
دوسری یہ کہ سب لوگ بھی یہ حصہ نہیں پا سکیں گے، بلکہ ان میں سے کچھ متاع دنیا کے ایک حصے تک پہنچیں گے وہی کہ جن کے بارے میں ہم چاہیں گے( لمن نرید ) ۔
اس طرح نہ تمام دنیا پرست دنیا تک پہنچیں گے اور نہ ہی پہنچ پانے والے اتنی دنیا حاصل کرسکیں گے جتنی وہ چاہیں گے ۔
روزمرہ کی زندگی میں بھی ہم اس امر کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔ کتنے لوگ شب و روز دوڑتے رہتے ہیں لیکن کہیں نہیں پہنچتے اور کتنے افرادہیں جو اس دنیا میں بڑی بڑی آرزوئیں رکھتے ہیں مگر ان میں سے کچھ ہی کی تکمیل ہوتی ہے ۔
یہ امر دنیا پرستوں کے لیے تنبیہ ہے کہ اگر تم خیال کرتے ہو کہ آخرت کو دنیا کے بدلے بیچ کر اپنامقصد حاصل کر لوگے تو یہ تمہاری بہت بڑی غلطی ہے ۔ ایسا کبھی نہ ہوسکے گا ۔ مقصد کا کچھ حصہ ہی تمہیں ملے گا ۔
ویسے بھی انسان کی آرزوؤں کا دامن اتنا وسیع ہے کہ محدود عالم مادہ میں وہ سب پوری نہیں ہو سکتیں ۔ ایک شخص کو سازی دنیا مل جائے تو بھی اکثر وہ سیر نہیں ہوتا ۔
رہے وہ لوگ کہ جو کوششیں کرتے ہیں مگر انہیں کچھ حاصل نہیں ہوتا، تو اس کی کئی وجوہ ہیں ۔ یا تو اس لیے کہ ابھی ان کی بیداری اور نجات کی امید ہوتی ہے اور خدا ان سے محبت کرتا ہے اور یا اس وجہ سے کہ اگروہ کچھ حاصل کرلیں تو اس قدر سرکشی کریں گے کہ مخلوق خدا پر عرصہ حیات تنگ کریں گے ۔
”یصلی“ ”صلی“کے مادہ سے آگ روشن کرنے اور آگ میں جلنے کے معنی میں ہے ۔ یہاں دوسرا معنی مراد ہے ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ سزا کے طور پر جہنم کی آگ کے ساتھ ”مذموم“ اور ”مدحور“ کے الفاظ بھی تاکید کے طور پر آئے ہیں ۔ ان میں سے پہلی سزا سرزنش اور مذمت ہونے کی طرف اشارہ ہے اور دوسری خدا سے دور رہنے کے معنی میں ہے ۔ در حقیقت جہنم کی آگ تو ان کے لیے جسمانی سزا ہے اور مذموم و مدحور ہونا ان کے لیے روحانی عذاب ہے ۔ کیونکہ معاد جسمانی بھی ہے اور روحانی بھی، اس کا عذاب و ثواب اور سزا جزاکے بھی دونوں پہلوں ہیں ۔
اس کے بعد دوسرے گروہ کے حالات بیان کیے گئے ہیں تا کہ قرآن کی روش کے مطابق تقابل سے مطلب زیادہ آشکار ہو جائے ۔
ارشاد ہوتا ہے: باقی رہا وہ شخص جو آخرت طلب کرتا ہے اور اسی راستے میں سعی و کوشش کرتا ہے اور وہ صاحب ایمان ہے تو اس کی سعی و کوشش بارگاہ الٰہی میں قبول ہوگی( وَمَنْ اٴَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعیٰ لَهَا سَعْیَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاٴُوْلٰئِکَ کَانَ سَعْیُهُمْ مَشْکُورًا )
لہٰذا جاودانی سعادت اور دائمی خوش بختی تک پہنچے کے لیے تین بنیادی شرائط ہیں :
(۱)انسانی ارادہ۔ایسا ارادہ جو حیا ت ابدی سے تعلق رکھتا ہو اور زود گزر لذات، نا پائندہ نعمات اور نرے مادی مقاصد سے تعلق نہ رکھنا ۔ بلند ہمت اور اعلی جذبہ اسے قوت دینے والا ہو۔ اور یہ جذبہ و ہمت اسے ہر غیر الٰہی وابستگی اور تعلق سے آزاد کردے ۔
(۲)یہ ارادہ فکر و نظر، تصور اور روح میں کمزور و ناتوان نہ ہو بلکہ ایسا ہو کہ وجود انسانی کے سبب ذرات کو حرکات میں لائے اور انسان اپنی تمام تر کوشش صرف کردے(توجہ رہے کہ لفظ”سعیھا“جو تاکید کے طور پر آیا ہے، نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اپنی حتمی کوشش کہ جو آخرت تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے، انجام دیتا ہے اور کوئی -------دقیقہ فرو گزاشت نہیں کرتا) ۔
(۳)یہ سب امور ایمان کے ساتھ لازم وملزوم ہیں ۔ ایمان کہ جو استوار اور پختہ ہو کیونکہ مصمم ارادہ اور کوشش جب ہی ثمر آور ہوگی جب اس کا سرچشمہ صحیح جذبہ ایمان بالله کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا ۔ یہ صحیح ہے کہ آخرت کے لیے کوشش ایمان کے بغیر نہیں ہوسکتی اور ایمان کا مفہوم اس میں پوشیدہ ہے لیکن اس راہ میں چونکہ ایمان کو بنیادی حیثیت حاصل ہے لہٰذا اس سلسلے میں دلالت التزامی پر قناعت نہیں کی گئی اور ایمان کو بالصراحت کے شرط کے طور پر بیان کیا گیا ہے ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ دنیا پرستوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ ان کے لیے ہم جہنم قرار دیں گے لیکن آخرت کے عاشقین کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے کہ ان کی سعی و کوشش مشکور ہوگی یعنی پروردگار اس کا تشکر اور قدر دانی کرے گا ۔
اس کی نسبت کہ کہا جائے”ان کی جزا بہشت ہوگی“ یہ مذکورہ تعبیر بہت زیادہ جامع اور بلند تر ہے کیونکہ ہر شخص کے لیے تشکر اور قدر دانی اس کی شخصیت کی وسعتِ وجودی کے مطابق ہوتی ہے نہ کہ عمل کی مقدار کے مطابق۔ اس لحاظ سے خدا کا شکر اور قدر دانی اس کی لامتنا ہی ذات کی مناسب سے ہے ۔ انواع و اقسام کی مادی و معنوی نعمتیں اور وہ سب کچھ جو ہمارے تصور میں آسکتا ہے، اس میں جمع ہے ۔
بعض مفسرین نے ”مشکور“ کا معنی”کئی گناہ اجر“پ بیان کیا ہے اور بعض نے اس سے ”مقبولیتِ عملپمراد لیا ہے لیکن واضح ہے کہ”مشکور“ ان سے وسیع تر معنی رکھتا ہے ۔
ممکن ہے یہاں یہ تو ہم ہوکہ دنیا کی نعمتیں دنیا پرست لوگوں کاحصہ ہیں اور طالبانِ آخرت اس سے محروم ہیں ۔ اس تو ہم کو دُور کرنے کے لیے بعد والی آیت کہتی ہے: ہم اس گروہ کو یعنی ان میں سے ہر ایک کو اپنی عطا و بخشش کا حصہ دیں گے اور اس کی مدد کریں گے( کُلًّا نُمِدُّ هَؤُلَاء وَهٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّکَ ) ۔ کیونکہ پروردگار کی بخشش کسی سے ممنوع نہیں ہے ۔ یہودی و نصاریٰ، مومن و مسلمان سب اس کے خوانِ نعمت سے حصہ پاتے ہیں ۔
”نمد“ ”امداد“ کے مادہ سے زیادہ کرنے کے معنی میں ہے ۔
اسکے بعد والی آیت اس سلسلے میں ایک بنیادی امر بیان کرتی ہے اور وہ یہ کہ جس طرح اس دنیا میں کوشش مختلف ہوتونتیجہ مختلف ہو جاتا ہے اخروی امور میں بھی پوری طرح یہ بنیاد کا رفرما ہے ۔ فرق یہ ہے کہ دنیا محدود ہے اور یہاں کا فرق بھی محدود ہے لیکن آخرت چونکہ لا محدود ہے لہٰذا وہاں فرق بھی لا محدود ہوگا ۔
ارشاد ہوتا ہے: دیکھو کس طرح ہم ان میں سے بعض کو بعض دوسروں پر(ان کی کوشش میں اختلاف کی وجہ سے) برتری دیتے ہیں البتہ آخرت کے درجات زیادہ بڑے ہیں اور اس کی برتری و فضیلت بھی بہت زیادہ ہے( انظُرْ کَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلیٰ بَعْضٍ وَلَلْآخِرَةُ اٴَکْبَرُ دَرَجَاتٍ وَاٴَکْبَرُ تَفْضِیلًا ) ۔
ہو سکتا ہے کہا جائے کہ اس دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ افراد بغیر کسی کوشش کے بہت سے فوائد حاصل کر لیتے ہیں ۔
اس میں شک نہیں کہ یہ استثنائی مواقع ہیں ۔ سعی و کوشش کو عمومی بنیاد کی حیثیت حاصل ہے اور یہی کامیابی کی میزان ہے اس کے مقابلے میں ان استثنائی مواقع کی پرواہ نہیں کی جا سکتی اور نہ یہ استثنائی مسئلہ عمومی و کلی بنیاد کے منافی ہے ۔ضمنی طور پر توجہ رہے کہ کوشش سے مراد فقط اس کی مقدار نہیں ہے ۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تھوڑی سی کوشش بہت سی کوششوں کے مقابلے میں اپنی کیفیت کہ وجہ سے زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ کیا دنیا و آخرت میں تضاد ہے؟:
بہت سی آیات میں دنیا اور اسی کے مادّی و مسائل کی تعریف کی گئی ہے ۔ بعض آیات میں مال دنیا کو ”خیر“ کہا گیا ہے (بقرہ۔ ۱۸۰) ۔ بہت سی آیات میں مادّی نعمتوں کو”فضل الله “کہا گیا ہے ۔ مثلاً:( وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ الله )
ایک اور جگہ فرمایا گیا ہے:( خَلَقَ لَکُمْ مَا فِی الْاٴَرْضِ جَمِیعًا )
دنیا کی تمام نعمتیں تمہارے لیے پیدا کی گئی ہے ۔
بہت سے آیات انہیں ”( سَخَّرَ لَکُمْ ) “ (انہیں تمہارے لیے مسخر کیا گیا ہے) کے حوالے سے ان کا ذکر آیا ہے ۔ اگر ہم ان آیات کو جمع کریں کہ جن میں مادّی وسائل کی تعریف کی گئی ہے تو آیات کا اچھا خاصا ذخیرہ ہو جائے ۔ لیکن مادّی نعمات کو اس قدر اہمیت دینے کے باوجود ایسے الفاظ آیات قرآن میں وجود ہیں جن میں ان کی تحقیر و تذلیل کی گئی ہے:
ایک مقام پر اسے متاع فانی شمار کیا گیا ہے:( تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا )
ایک جگہ اسے غرور غفلت کا سبب قرار دیا گیا ہے:( وَمَا الْحَیَاةُ الدُّنْیَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُورِ )
ایک موقع پر اسے لہو و لعب اور کھیل کود کا ذریعہ شمار کیا گیا ہے:( وَمَا هٰذِهِ الْحَیَاةُ الدُّنْیَا إِلاَّ لَهْوٌ وَلَعِبٌ )
نیز ایک مقام پر اسے یادخدا سے غفلت کا سبب گردانا گیا ہے:( رِجَالٌ لَاتُلْهِیهِمْ تِجَارَةٌ وَلَابَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ الله )
یہی دو قسم کی تعبیرات روایات اسلامی میں بھی نظر آتی ہیں ۔ ایک رُخ سے دنیا آخرت کی کھتی ہے، مردانِ خدا کا مرکز تجارت ہے، دوستان حق کی مسجد ہے، وحی پروردگار کے نزول کا مقام ہے اور پند و نصیحت کا گھر ہے ۔
امیر المومنین علی السلام فرماتے ہیں :مسجد اٴحباء الله ومصلی ملائکة الله وم۰بط وحی الله ومتجر اٴولیاء الله -(۱)
جبکہ دوسری طرف اسے یاد خدا غفلت کا سبب اور متاع غرور وغیرہ بھی قرار دیا گیا ہے ۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ دو طرح کی آیت و ورایات ایک دوسرے سے متضاد ہیں ؟
اس سوال کا جواب خود قرآن سے تلاش کیا جا سکتا ہے ۔ کیونکہ قرآن جہاں دنیا داور اس کی نعمتوں کی مذمت کرتا ہے تو اس کا تعلق ان لوگوں سے ہے جن کا مقصد فقط یہی زندگی ہے ۔ سورہ نجم کی آیہ ۲۹ میں ہیں :
( وَلَمْ یُرِدْ إِلاَّ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا )
وہ لوگوں کہ جو دنیاوں زندگی کے سوا کچھ نہیں چاہتے ۔
دوسرے لفظوں میں یہاں ان لوگوں کے بارے میں گفتگو ہے جو دنیا کے بدلے آخرت کو بیچ دیتے ہیں اور مادّی خواہشات کی تکمیل کے لیے کسی قسم کی غلط کاری اور جرم سے نہیں چوکتے ۔
سورہ توبہ آیہ ۳۸ میں ہے:( اٴَرَضِیتُمْ بِالْحَیَاةِ الدُّنْیَا مِنَ الْآخِرَةِ )
کیا تم آخرت کے بدلے دنیا وی زندگی قبول کرنے پر راضی ہو گئے ہو؟
زیر بحث آیات خود اس دعوی کی شہادت دیتی ہیں ۔ فرمایا گیا ہے:( مَنْ کَانَ یُرِیدُ الْعَاجِلَةَ )
یعنی ان کے پیش نظر یہی زود گزر مادّی زندگی ہے ۔
اصولی طور پر کھیتی یا مزکر تجارت و غیرہ کے الفاظ خود اسی پر زندہ شاہد ہیں ۔
مختصر یہ کہ مادّی دنیا کی نعمتیں سب کی سب الله کی نعمتیں ہیں ۔ ان کا وجود نظام خلقت میں یقیناً ضروری تھا اور ہے ۔ اگر انسان ان سے سعادت اور روحانی کمال تک پہنچنے کا وسیلہ سمجھ کر استفادہ کرے تو یہ ہر لحاظ سے قابل تحسین ہے ۔ لیکن اگر وسیلے کی بجائے انہی کو مقصد سمجھ لیا جائے اور انہیں معنوی اور انسانی قدروں سے الگ کر لیا جائے تو فطرتاً یہ امر غرور، طغیان، سرکشی،ظلم اور بیدادگری کا سبب ہوگا ۔ ایسی دنیا یقیناً ہر قسم کی برائی کا محل قرار پائے گی اور قابل مذمت ٹھہرے گی۔
حضرت علی علیہ السلام نے اپنے اس پُر مغزدار اور مختصر سے جملے میں کیا خوب فرمایا ہے:
من اٴبصر بها بصرته ومن البصر الیها اٴعمته
جو اس کے ذریعے چشم بصیرت سے دیکھے تو دنیا اسے آگہی بخشتی ہے اور خود دنیا کی طرف دیکھے تو یہ اسے اندھا کردیتی ہے ۔(۲)
در حقیقت مذموم اور ممدوح دنیا میں وہی فرق ہے جو ”الیھا“ اور ”بھا“میں ہے ۔ پہلی صورت میں دنیا مقصد ہے اور دوسری صورت میں دنیا وسیلہ ہے اور کسی اور تک پہنچے کا ذریعہ ہے ۔
____________________
۱۔ نہج البلاغہ، کلماتِ قصار، جملہ۱۳۱-
۲۔ نہج البلاغہ، خطبہ۳۸-
۲ ۔ کا میابی میں کوشش کا دخل:
یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ قرآن کوشش کا ذکر کرتے ہوئے سست اور بیکار افراد کو تنبیہ کررہا ہے اور نہیں بیدار کر تے ہوئے کہہ رہا ہے کہ دوسری جہان کی سعادت وخوش بختی صرف اظہار ایمان اور گفتار سے حاصل نہیں ہو سکتی بلکہ سعادت وخوش بختی کا حقیقی عامل کوشش اور جستجو ہے ۔
یہ حقیقت بہت سی قرانی آیات سے معلوم ہوتی ہے ۔ذیل کی آیت میں انسان کو اپنے اعمال کا گیروی قرار دیا گیا ہے :
( کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ رَهِینَةٌ )
ایک اور مقام پر فرمایاگیا ہے کہ انسان کا حصّہ وہی کچھ ہے جو وہ کوشش کرتاہے :
( وَاٴَنْ لَیْسَ لِلْإِنسَانِ إِلاَّ مَا سَعیٰ )
بہت سی آیات قرآن میں ایمان کا ذکر کرنے کے بعد عمل صالح کا ذکر کیا گیا ہے ۔تاکہ یہ خیال خام ذہن سے نکل جائے کہ کو شش کے بغیر بھی کسی مقام تک پہنچا جا سکتا ہے ۔جب مادّی دنیا کی نعمات کوشش کے بغیر حاصل نہیں جا سکتی تو کیسے جاسکتی ہے کہ سعادت جاودانی اس کے بغیر ہاتھ لگ جائے گی ۔
۳ ۔امدادالٰہی:
”نمد“ ”امداد“ کے مادہ سے مدد دینے کے معنی میں ہے ۔مفردات میں راغب کہتا ہے :
لفظ ”امداد“ عام طور پر مفید اور مؤثر کمک کے لیے استعمال ہوتا ہے اور ”مد“ ناپسندیدہ کمک کے لیے ۔
بہر حال زیر بحث آیات کے مطابق خدا تعالیٰ اپنی نعمتوں کا کچھ حصہ تو سب کو دیتا ہے اور نیک اور بد سب اس سے استفادہ کرتے ہیں یہ نعمتوں کے اس حصے کی طرف اشارہ ہے جس پر دنیاوی زندگی کے بقا موقوف ہے اور جس کے بغیر کوئی باقی رہ سکتا ۔
دوسرے لفظوں میں خدا کا وہی مقام رحمانیت ہے جس کا فیض مومن و کافر کے لیے عام ہے لیکن اس کے علاوہ بھی ایسی لا متناہی نعمتیں ہیں جو صرف مومنین اور نیک لوگوں کے ساتھ مخصوص ہیں ۔
آیات ۲۲،۲۳،۲۴،۲۵
۲۲( لَاتَجْعَلْ مَعَ الله إِلَهًا آخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُومًا مَخْذُولً )
۲۳( وَقَضَی رَبُّکَ اٴَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِیَّاهُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اٴَحَدُهُمَا اٴَوْ کِلَاهُمَا فَلَاتَقُلْ لَهُمَا اٴُفٍّ وَلَاتَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا کَرِیمًا )
۲۴( وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا کَمَا رَبَّیَانِی صَغِیرًا )
۲۵( رَبُّکُمْ اٴَعْلَمُ بِمَا فِی نُفُوسِکُمْ إِنْ تَکُونُوا صَالِحِینَ فَإِنَّهُ کَانَ لِلْاٴَوَّابِینَ غَفُورًا )
ترجمہ
۲۲ ۔ اور الله کے ساتھ کسی اور کو معبود قرار نہ دے ورنہ مذموم و رسوا ہو جائے گا ۔
۲۳ ۔تیرے پروردگار نے حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی پرستش نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو جب ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھا پے کو پہنچ جائیں تو ان کی ذرہ بھر اہانت بھی نہ کرو اور انہیں جھڑکو نہیں اور کریمانہ انداز سے لطیف و سنجیدہ گفتگوکرو۔
۲۴ ۔ اور لطیف و محبت سے ان کے سامنے خاکساری کا پہلو جھکائے رکھو۔ اور کہو۔ پروردگارا! جیسے انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما ۔
۲۵ ۔تمہارا پروردگار تمہارے دلوں کے نہاں خانہ سے آگاہ ہے(اگر تم نے اس سلسلے میں کوئی لغزش کی ہوا اور پھر اس کی تلافی کردی ہو تو وہ تمہیں معاف کردے گا کیونکہ)اگر تم صالح اور نیک ہوگے تو وہ توبہ کرنے والوں کو بخش دیتا ہے ۔
اہم اسلامی احکام کا سلسلہ
توحید اور ماں باپ سے حسن سلوک
زیرِ نظرِ آیات اسلامی احکام کے ایک سلسلے کا آغاز ہیں یہ سلسلہ توحید اور ایمان سے شروع ہوتا ہے توحید تمام مثبت اور اصلاحی کاموں کے اسباب کا خمیر ہے ۔توحید سے احکام کے بارے میں گفتگو شروع کرکے ان آیات کا گزشتہ آیات سے تعلق باقی رکھا گیا ہے کیونکہ گزشتہ آیات میں ایمان، کوشش اور دار آخرت کا ارادہ رکھنے کے بارے میں گفتگو تھی۔
نیز یہ اس امر کی بھی تاکید ہے کہ قرآن صاف ترین اور بہترین راستہ کہ طرف دعوت دینے والا ہے ۔
توحید کے ذکر سے بعد شروع کرتے ہوئے قران کہتا ہے:”الله “ خدائے یگانہ کے ساتھ کوئی معبود قرار نہ دے( لَاتَجْعَلْ مَعَ الله إِلَهًا آخَرَ ) ۔
قرآن یہ نہیں کہتا کہ خدا کے ساتھ دوسرے معبود کی پرستش نہ کرو بلکہ کہتا ہے کہ اس کے ساتھ کسی اور کو معبود قرار نہ دو۔ یہ بات زیادہ وسیع مفہوم رکھتی ہے ۔ یعنی عقیدے میں ، عمل میں ، دعامیں اور پرستش میں ۔ کسی حالت میں بھی الله کے ساتھ کسی اور کہ معبود قرار نہ دو۔ اس کے بعد شرک کا ہلاکت انگیز نتیجہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:اگر تم اس کے لیے شریک کے قائل ہوگئے تو مذمت اور رسوائی میں ڈوب جاؤ گے( فَتَقْعُدَ مَذْمُومًا مَخْذُولً ) ۔
لفظ ”قعود“(بیٹھ جانا) یہاں ضعف و ناتوامی کی طرف اشارہ ہے کیونکہ عربی ادب میں لفظ ضعف کے لیے کنایہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔ مثلاً”قعد به الضعف عن القتال “
ناتوانی کی وجہ سے دشمن سے جنگ کرنے سے بیٹھ گیا ۔
مذکورہ بالا جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک انسان میں تین بہت برے اثر مرتب کرتا ہے ۔
(۱)شرک ضعف وناتوانی اور ذلت و زبوں حالی کاسبب ہے جبکہ قیام، حرکت اور سر فرازی کا عمل ہے ۔
(۲)شرک مذمت و سرزنش کا سبب ہے کیونکہ یہ ایک واضح انحرافی راستہ ہے، منطقِ عقل کا انکار ہے نعمتِ پروردگار کا واضح کفران ہے ۔ جو شخص ایسا انحراف اختیار کرے وہ قابلِ مذمت ہے ۔
(۳)شرک مشرک کو اس کے بنائے معبودوں کے پاس چھوڑ دیا ہے اور خدا اس کی مدد سے ہاتھ اٹھا لیتا ہے ۔ بناوٹی معبود بھی چونکہ کسی کہ مدد کرنے کے قابل نہیں اور خدا بھی ان افراد کی مدد ترک کردیتا ہے تو وہ”مخذول“ یعنی بے یار و مددگار ہوکر رہ جاتے ہیں ۔قرآن کی دوسری آیات میں بھی یہی مفہوم کسی اور شکل میں بیان کیا گیا ہے ۔ سورہ عنکبوت کی آیہ ۴۱ میں ہے:
( مَثَلُ الَّذِینَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ الله اٴَوْلِیَاءَ کَمَثَلِ الْعَنکَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَیْتًا وَإِنَّ اٴَوْهَنَ الْبُیُوتِ لَبَیْتُ الْعَنْکَبُوتِ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ ) غیر خدا کو اپنا معبود بنانے والوں کی مثال مکڑی کی سی ہے جس نے کمزور اور بے بنیاد گھر کو اپنا سہارا بنا رکھا ہے اور کمزور ترین گھر مکڑی کا ہے ۔
توحید کے بعد اس پر تاکید کے ساتھ انبیاء کی انسانی تعلیمات میں سے ایک انتہائی بنیادی تعلیم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:” تیرے پروردگار نے حکم دیا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو “( وَقَضَی رَبُّکَ اٴَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِیَّاهُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا )
”قضاء“ ”امر“ کی نسبت زیادہ تاکید کا مفہوم رکھتا ہے اور قطعی و محکم فرمان کا معنی دیتا ہے ۔ یہ لفظ اس مسئلے میں پہلی تاکید ہے ۔
توحید۔ کہ جو اسلام کی عظیم ترین بنیاد ہے، ماں باپ سے نیکی کرنے کو اس کے ساتھ قرار دینا اس اسلامی حکم کی اہمیت کے لیے دوسری تاکید ہے ۔
لفظ ”احسان“ یہاں مطلق ہے ۔ اس میں ہر قسم کی نیکی کا مفہوم مضمر ہے ۔ یہ اس معاملے پر تیسری تاکید ہے ۔ اسی طرح لفظ ”والذین“ کا اطلاق مسلمان اور کافر دونوں پر ہوا ہے ۔ یہ اس مسئلے پر چوتھی تاکید ہے ۔
لفظ ”احساناً“یہاں نکرہ صورت میں ہے جو ایسے مواقع پر بیان عظمت کے لیے آتا ہے ۔ یہ پانچویں تاکید ہے(۱) ۔
بعض کا نظریہ ہے کہ ”احسان“ عام طورپر ”الیٰ“ کے ساتھ متعدی ہوتا ہے ”احسن الیہ“ (اس سے احسان کیا“ اور کبھی ”باء“ کے ذریعہ متعدی ہوتا ہے ۔ یہ تعبیر شاید دیکھ بھال کرنے کا معنی دینے کے لئے ہو، یعنی ذاتی طور پر بغیر کسی واسطے کے ماں باپ سے حُسنِ سلوک اور احترام ومحبت کا مظاہرہ کرو، یہ اس مسئلے کے لئے چھٹی تاکید ہے ۔
اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ حکم عمومی عموماً امر اثباتی کے لیے ہوتا ہے حالانکہ یہاں نفی پر ہے (تیرے پروردگار نے حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی پرستش نہ کرو) ہوسکتا ہے یہ اس بناء پر ہو کہ لفظ ”قضیٰ“ سے سمجھے جاتا ہے کہ دوسرا جملہ اثباتی شکل میں مقدر ہے اور معنی کے لحاظ سے اس طرح ہے :
تیرے پروردگار نے تاکیدی حکم دیا ہے کہ اس کی پرستش کر و، اس کہ غیر کی نہ کرو ۔
یایہ کہ نفی اور اثبات پر مشتمل یہ جملہ ”( اٴَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِیَّاهُ ) “ایک اثباتی جملے کی حیثیت رکھتا ہے یعنی پروردگار کے لیے عبادت منحصر ہے کا اثبات ۔
اس کہ بعد ماں باپ سے حسن سلوک کا ایک واضح مصداق بیان کیا گیا ہے : جب ان دونوں میں سے ایک یادونوں تیرے پاس بڑھاپے تک پہنچ جائیں اور شکستہ سِن ہوجائیں (اس طرح سے انہیں تیری طرف سے مستقل دیکھ بھال کی احتیاج ہو ) توان کے لیے کسی طرح سے محبت میں دریغ نہ کرنا اور ان کی تھوڑی سی بھی اہانت نہ کرنا یہاں تک کہ خفیف ساغیر مؤد بانہ لفظ ”اُف“تک منہ سے نہ نکالنا( إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اٴَحَدُهُمَا اٴَوْ کِلَاهُمَا فَلَاتَقُلْ لَهُمَا اٴُفٍّ ) ۔(۱)
انہیں جھڑک نہ دینا اور ان کے سامنے بلند آواز نہ بولنا( وَلَاتَنْهَرْهُمَا ) ۔بلکہ سنجیدہ ‘لطیف کریمانہ شریفانہ انداز سے کلام کرنا( وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا کَرِیمًا ) ۔
اور تنہائی عجر وانکساری سے ان کے سامنے پہلو جھکا ئے رکھنا( وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ ) ۔اور کہو : پروردگار ا اپنی رحمت ان کے شامل حال کر جس طرح کہ انہوں نے بچپن میں پرورش کی ہے( وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا کَمَا رَبَّیَانِی صَغِیرًا ) ۔یعض دوسروں کے بقول ”ان“ شرطیہ اور ”ما“ زائدہ سے مرکب ہے جو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ لفظ شرط اس فعل پر آسکے جو نون تاکید سے مؤکد ہے ۔ (المیزان)
____________________
۱۔ ”إِمَّا یَبْلُغَنَّ “ میں ”إِمَّا“بعض کے بقول ”ان“ شرطیہ اور ”ما“ شرطیہ کا مرکب ہے جو کہ تاکید کے لئے یکے بعد دیگرے آئے ہیں ۔ (تفسیر فخر الدین رازی)
ماں باپ کا انتہائی احترام
کزشتہ دو آیات میں ادلاد کے لیے ماں باپ کا انتہائی ادب واحترام بیان کیاگیا ہے کہ اس سلسلہ میں مختلف پہلو قابل غور ہیں :
(۱)ایک توان کے عالمِ پیری کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب وہ زیاوہ توجہ، محبت اور احترام کے محتاج ہوتے ہیں ۔فرمایا گیا ہے کہ ان سے ذرہ بھر اہانت آمیز بات نہ کرو کیو نکہ ہوسکتاہے بڑھا پے کی وجہ سے اس عالم کو پہنچ چکے ہوں کہ ادب دوسرے کی مدد کے بغیر چل پھرنہ سکتے ہوں اور نہ اپنی جگہ سے اٹھ سکتے ہوں یہاں تک کہ ہو سکتا ہے کہ گندگی بھی اپنے سے دور نہ کر سکتے ہوں ۔ایسی حالت میں ادلاد کی بہت بڑی آزمایش شروع ہوجاتی ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس حالت میں اولاد ماں باپ کے وجود کو رحمت سمجھتی ہے یا مصیبت، کیا ایسے میں کافی صبر وحوصلہ کے ساتھ ماں باپ کی پورے احترام سے نگہداشت کرتی ہے یا گھٹیا اور اہانت آمیز الفاظ کے ساتھ انہیں زبان کے نشتر چبھوتی ہے، یا یہاں تک کہ بعض اوقات خدا سے ان کی موت کا تقاضا کرکے انہیں اذیت پہنچاتی ہے ۔
(۲)قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ اس موقع پر انہیں ”اف “تک نہ کہو یعنی ناراحتی، پریشانی اور تنفر کا اظہار نہ کرو۔ قرآن مزید کہتا ہے کہ ان سے بلند اور اہانت آمیز آواز سے بات نہ کرو۔ مزید تاکید کرتا ہے کہ ان سے کریمانہ اور شریفانہ لہجے میں کلام کرو۔بہ سب چیزیں انتہائی ادب سے گفتگو کرنے کے بارے میں ہیں کیونکہ دل کی کلید زبان ہے ۔
(۳) نیز قرآن عجز و انکساری کا حکم دیتا ہے ۔ ایسی انکساری جس سے محبت اور لگاؤ ظاہر ہو نہ کہ کوئی اور چیز۔
(۴)نیز آخر میں یہ تک کہتا ہے کہ جب بارگاہ خداوندی کا رخ کرو تو(وہ زندہ ہو یا نہ ) انہیں فراموش نہ کرو اور ان کے لیے رحمت پروردگار کا تقاضا کرو۔
اس تقاضے کے ساتھ خصوصیت سے یہ دلیل رکھو کہ خداوندا! جس طرح انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی تو بھی ویسے ہی اپنی رحمت ان کے شاملِ حال فرما ۔
دیگر چیزوں کے علاوہ اس سے یہ اہم نکتہ معلوم ہوتاہے کہ اگر ماں باپ اس قدر ناتواں ہوجائیں کہ تنہا چلنے پھرنے کے قابل نہ رہیں اور گندگی اپنے سے دور نہ کرسکیں تو پھر بھی انہیں فراموش نہ کرو و کیونکہ تم بھی بچپن میں اسی طرح تھے اور و ہ تمہاری حفاظت اور تجھ سے محبت میں کوئی دریغ نہ کرتے تھے لہٰذا ان کی محبت کا جواب ویسی ہی محبت سے دو۔
نیز ممکن ہے ماں باپ کے حقوق کی ادائیگی ، ان کا احترام اور ان کے سامنے انکساری کے معاملے میں اولاد سے جان بوجھ کر یا لا علمی میں کچھ لغزشیں ہو جائیں لہٰذا زیرِ بحث آخری آیت میں قرآن کہتاہے: جو کچھ تمہارے دل میں ہے پروردگار اس سے زیادہ آگاہ ہے( بُّکُمْ اٴَعْلَمُ بِمَا فِی نُفُوسِکُمْ ) ۔
کیونکہ اس کا علم تمام پہلووں سے حضور، ثابت اور ازلی و ابدی ہے اور ہر طرح سے غلطی اور اشتباہ سے پاک ہے جبکہ تمہارا علم ان صفات کا حامل نہیں ہے لہٰذا اگر تم سے سرکشی کی ارادے کے بغیر حکمِ الٰہی کے خلاف ماں باپ کے احترام اوران سے حُسنِ سلوک میں کوئی لغزش ہوجائیں اور تم فوراً پشیمان ہوکر توبہ و تلافی کا رُخ کرو تو یقینا رحمت الٰہی تمھارے شاملِ حال ہوگی۔” اگر تم صالح اور نیک ہو اور توبہ کرتے ہو، کیونکہ خدا توبہ کرنے ولوں کو بخشنے والا ہے“( إِنْ تَکُونُوا صَالِحِینَ فَإِنَّهُ کَانَ لِلْاٴَوَّابِینَ غَفُورًا )
”اٴَوّاب “ ”اٴَوب “ (بروزن ”قَوم“)کے مادہ سے ہے ۔ یہ اس بازگشت کو کہتے ہیں جس میں ارادہ شامل ہو جبکہ ”رجوع“بھی بازگشت کوکہتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ ارادہ بھی اس میں شامل ہو۔اسی بناء پر ”توبہ“کو ”اوبہ“ کہا جاتا ہے کیونکہ توبہ در حقیقت خدا کی طرف ارادے کے ساتھ بازگشت ہے ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ صیغہ مبالغہ کاذکر خداکی طرف بازگشت اور رجوع کے متعدد عوامل کی طرف اشارہ ہوکیونکہ :
(۱)پروردگار پر ایمان،
(۲) قیامت کی عدالت کی طرف توجہ،
(۳)بیداری ضمیر اور
(۴)گناہ کے اواقب و آثار کی طرف توجہ
یہ چاروں با ہم مل کر انسان کو تاکید در تاکید کے ذریعے کج روی سے نکال کر خدا کی طرف لے جاتے ہیں ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ منطقِ اسلام میں والدین کا احترام:
اگر چہ انسانی جذبات اور حق شناسی والدین کی احترام گزاری کے لئے کافی ہے لیکن اسلام ایسے امور میں بھی خاموشی روا نہیں رکھتا جن میں عقل، جذبات اور طبعی میلانات واضح رہنمائی کرتے ہیں بلکہ ایسے امور بھی اسلام تاکید کے طور پر ضروری احکام صادر کرتا ہے ۔
والدین کے احترام کے بارے میں اسلام نے اس قدر تاکید کی ہے کہ اتنی تاکید بہت کم کسی مسئلہ میں کی گئی ہے ۔ نمونے کے طور پر ہم چندایک پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
(۱) قرآن مجید میں چار سورتوں میں مسئلے توحید کے فوراً بعد والدین سے حسن سلوک کا حکم آیا ہے ۔ ان دونوں مسائل کا اکھٹا بیان ہونا اس امر کو واضح کرتا ہے کہ اسلام کس حد تک ماں باپ کے احترام کاقائل ہے ۔
سورہ بقرہ کی آیت ۸۳ میں ہے:( اتَعْبُدُونَ إِلاَّ الله وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا )
سورہ نساء کی آیت ۳۶ میں ہے:( وَاعْبُدُوا الله وَلَاتُشْرِکُوا بِهِ شَیْئًا وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا )
سورہ، انعام کی آیت ۱۵۱ میں ہے:( اٴَلاَّ تُشْرِکُوا بِهِ شَیْئًا وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا )
اور زیر بحث آیات میں بھی ان دونوں کو ایک دوسرے کا ہم قریں قرار دیا گیا ہے:
( وَقَضَی رَبُّکَ اٴَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِیَّاهُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا )
(۲) اس مسئلے کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ قرآن میں بھی اور روایات میں بھی صراحت سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ماں باپ کافر ہوں تب بھی ان کا احترام بجالا نا ضروری ہے ۔ سورہ لقمان کی آیت ۱۵ میں ہے ۔
( وَإِنْ جَاهَدَاکَ عَلی اٴَنْ تُشْرِکَ بِی مَا لَیْسَ لَکَ بِهِ عِلْمٌ فَلَاتُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوفًا )
اگر وہ تجھ سے اصرار کریں کہ تُو مشرک ہو جاتو اُن کی اطاعت نہ کر لیکن دنیا دی زندگی میں ان سے اچھا سلوک کر۔
(۳) قرآن مجید میں ماں باپ کے سامنے اظہار تشکر کا ذکر نعمات الٰہی کے شکریے کے ساتھ آیا ہے ۔
ارشاد ہوتا ہے:( اٴَنْ اشْکُرْ لِی وَلِوَالِدَیْکَ )
اگر چہ خدا کی نعمتوں کا تو اندازہ بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ امر ماں باپ کے حقوق کی عظمت اور وسعت کی دلیل ہے ۔
(۴) قرآن نے ماں باپ کی ذرہ بھر بے احترام کی اجازت نہیں دی۔ ایک حدیث میں ہے کہ حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :
لو علم الله شیئاً هو ادنیٰ من اٴف لنهی عنه، وهو من اٴدنی العقوق، ومن العقوق اٴن ینظر الرجل الی والدیه فیحدّ النظر الیهم -
کوئی چیز ”اف“(۱) سے بھی کم ہوتی تو خدا اس سے بھی روکتا بھی بے احترامی میں شامل ہے(۲)
(۵) با وجود یکہ جہاد ایک نہایت اہم اسلامی حکم ہے، جب تک واجب عینی نہ ہو یعنی اتنے افراد کافی تعداد میں وجود ہوں کہ جو اپنی خواہش سے جہاد پر جائیں تو جہاد کی نسبت ماں باپ کی خدمت میں رہنا زیادہ اہم ہے اور اگر جانا ان کی پریشانی اور بے آرامی کا سبب بنے تو نا جائز ہے ۔
امام صادق علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں :
ایک شخص پیغمبر اکرم کی خدمت میں آیا ۔
اُس نے عرض کیا:میں ایک خوش و خرم اور طاقتور نوجوان ہوں ۔ میرا دل چاہتا ہے کہ جہاد میں حصہّ لوں لیکن میری ماں ہے جو اس سے ناراحت ہوتی ہے ۔
اس کی اس بات پر رسول الله نے فرمایا:ارجع فکن مع والدتک فوا الذی یعثنی بالحق بک لیلة خیر من جهاد فی سبیل الله سنة -
لوٹ جاؤ اور اپنی ماں کے پاس رہو۔ قسم ہے اس خدا کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ایک رات کہ جس میں تیری ماں تجھ سے خوش رہے ایک سال جہاد سے بہتر ہے(۳)
البتہ جس وقت جہاد وجوب عینی کی صورت اختیار کر لے اور اسلامی ملک خطرے میں ہوا اورسب کا حاضر ہونا ضروری ہوتو پھر کوئی عذر قابل قبول نہیں یہاں تک کہ ماں باپ کی ناراضگی بھی لیکن واجبات کفائی کے موقع پر اسی طرح مستحبات میں مسئلہ اسی طرح ہے جیسا جہاد کے موقع پر کہا گیا ہے ۔
(۶) پیغمبر اکرم نے فرمایا:
ایّاکم وعقوق الوالدین فان ریح الجنة توجد من سیرة الف عام ولایجدها عاق -
اس سے بچو کہ ماں باپ تمہیں عاق کردیں اور ان کے ناراض ہونے سے بچو کیونکہ جنت کی خشبو ایک ہزار سال کی مسافت تک پہنچتی ہے لیکن ایسا شخص کبھی بھی یہ خشبو نہیں سونگھ سکتا کہ جو ماں باپ کا عاق کردہ اور نافرمان ہو۔(۴)
یہ تعبیر اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ ایسے افراد نہ صرف جنت میں قدم نہیں رکھ سکیں گے بلکہ اس سے بہت دور ہوں گے اور اس کے قریب بھی نہیں پھٹک سکیں گے ۔
سید قطب اپنی تفسیر فی ظلال میں پیغمبر اکرم سے یہ حدیث نقل کرتے ہیں :
ایک شخص طواف میں مشغول تھا ۔ اس نے اپنی ماں کو کاندھوں پر اٹھا رکھا تھا اور اسے طواف کروارہا تھا ۔ تو رسول الله نے اسے اس حالت میں دیکھا ۔ اس نے عرض کیا: کیا یہ کام کرکے میں نے اپنی ماں کا حق ادا کردیا ؟ آپ نے فرمایا: نہیں یہاں تک کہ تو نے(وضع حمل کے وقت کی) ایک آہ کا بدلہ نہیں دیا ۔(۵)
اگر ہم قلم کو آزاد چھوڑدیں تو گفتگو بہت لمبی ہوجائے گی اور بات تفسیر سے آگے بڑھ جائے گی لیکن ہم صراحت سے کہتے ہیں کہ اس سلسلے کی جس قدر بھی گفتگو کریں تھوڑی ہے کیونکہ والدین انسان پر حق حیات رکھتے ہیں ۔
اس بحث کی آخر کیں ہم اس نکتے کا ذکر ضروری سمجھتے ہیں کہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ماں باپ کوئی غیر منطقی یا خلاف شریعت بات کرتے ہیں تو واضح ہے کہ کسی ایسے موقع پر ان کی اطاعت واجب اور امر بالمعروف کیا جائے ۔
اس سلسلے گفتگو کو ہم امام کاظم علیہ السلام کی ایک حدیث پر تمام کرتے ہیں ۔ امام فرماتے ہیں :
کوئی شخص رسول الله کے پاس آیا اور اس نے باپ اور بیٹے کے حق کے متعلق سوال کیا ۔ آپ نے فرمایا:
لایسمه باسمه، ولا یمشی بین یدیه، ولا یجلس قبله، ولا یستسب له -
باپ کو اس کے نام سے نہ پکارے (بلکہ کہے:ابا جان،وغیرہ)، اس کے آگے آگے نہ چلے، اس سے پہلے نہ بیٹھے اور کوئی کام ایسا نہ کرے کہ لوگ اس کے باپ کو گالیاں دیں اور برا بھلا کہیں ۔ (یعنی یہ نہ کہیں کہ خدا تیرے باپ کو نہ بخشے کہ تونے یہ کام کیا ہے، وغیرہ) ۔(۶)
۲ ۔ ”قضاء“ کے معنی کے بارے میں تحقیق:
”قضیٰ“ ”قضاء“کے مادی سے کسی چیز کو عمل یا گفتگو سے جدا کرنے کے معنی میں ہے ۔بعض نے کہا ہے کہ یہ در اصل کسی چیز کو ختم کرنے کے معنی ہے ۔یہ دونوں معانی قریب الافق ہیں ۔
ختم کرنا اور جدا کرنا چونکہ وسیع مفہوم رکھتے ہیں لہٰذا یہ لفظ مختلف مفاہیم میں استعمال ہوتا ہے ۔
قرطبی نے اپنی تفسیر میں اس کے چھ معانی ذکر کیے ہیں :
(۱) ”قضاء“بمعنی حکم اور فرمان۔ مثلاً:( وَقَضَی رَبُّکَ اٴَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِیَّاهُ )
تیرے پروردگار نے حکم دیا ہے کہ اس کہ علاوہ کس کی عبادت نہ کر۔
(۲)”قضیٰ“ خلق کرنے کے معنی میں ۔ مثلاً:( فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِی یَوْمَیْنِ )
خدا نے جہان کو ادورا میں سات آسمانوں کی شکل میں خلق کیا ۔ ( حٰم السجدہ۔ ۱۲)
(۳)”قضیٰ“فیصلے کے معنی میں :مثلاً:( فَاقْضِ مَا اٴَنْتَ قَاضٍ )
جو فیصلہ کرنا چاہتے ہو کرو۔ (طٰہٰ/ ۷۲)
(۴)”قضاء“ کسی چیز سے فراغت کے معنی میں ۔مثلاً:( قُضِیَ الْاٴَمْرُ الَّذِی فِیهِ تَسْتَفْتِیَانِ )
جس کام کے بارے میں تم نظریہ یافتویٰ دنیا چاہتے تھے وہ ختم ہوگیا ۔ (یوسف/ ۴۱)
(۵)”قضی“ ارادہ کے معنی میں مثلاً:( إِذَا قَضَی اٴَمْرًا فَإِنَّمَا یَقُولُ لَهُ کُنْ فَیَکُونُ )
جس وقت ہم نے موسی سے عہد و پیمان لیا ۔ (آل عمران/ ۴۷)
نیز ابوالفتوح رازی نے” قضیٰ“ کا معنی خبر دینا اور اعلان کرنا بھی لکھا ہے مثلاً:( إِذْ قَضَیْنَا إِلَی مُوسیٰ الْاٴَمْرَ )
ہم نے بنی اسرائیل کوتورات میں خبردی۔ (قصص/ ۴۴)(۲)
ان معانی میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے کہ”قضاء“ موت کے معنی میں بھی ہے مثلاً:( فَوَکَزَهُ مُوسیٰ فَقَضَی عَلَیْهِ )
موسی نے اسے ضرب لگائی اور وہ مرگیا ۔ (قصص/ ۱۵)
یہاں تک کہ بعض مفسرین نے قرآن مجید میں ”قضاء“ کے تیرہ سے بھی زیادہ معانی سمجھے ہیں ۔(۷)
لیکن ان سب کو لفظ”قضاء“ کے مختلف معانی نہیں سمجھنا چاہئے یہ سب ایک قدر مشترک رکھتے ہیں جس میں سب جمع ہیں ۔ در حقیقت زیادہ تر معانی جو سطور بالا میں ذکر کیے گئے ہیں ”اشتباہِ مصداق بمفہوم“ کے قبیل سے ہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک ایک کلی اور جامع معنی کا مصداق ہے یعنی ختم کرنا اور الگ کرنا ۔
مثال کے طور پر قاضی اپنے فیصلے کے ذریعے دعوی ختم کرتا ہے ۔ پیدا کرنے والا اپنی تخلیق کے ذریعے کسی چیز کی خلقت کواختتام تک پہنچاتا ہے ۔ خبر دینے والا اپنی خبر کے ذریعے کسی چیز کا بیان آخر تک پہنچاتا ہے ۔ عہد و پیمان کرنے والا اور حکم دینے والا اپنے عہد و پیمان اور حکم کے ذریعے مسئلے کو اس طرح تمام کرتا ہے کہ اب اس میں بازگشت ممکن نہیں ہے ۔ البتہ بات کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان بعض مصادیق میں یہ اس طرح سے استعمال ہوا ہے کہ ایک نیا سامعنی پیدا ہو گیا ہے مثلا” قضاء“ فیصلہ کرنے اور حکم دینے کے معنی میں ۔
۳ ۔ ”اف“کے معنی کی تحقیق:
راغب مفردات میں کہتا ہے کہ”اُف“ در اصل ہر کثیف اور آلودہ چیز کے معنی میں ہے او ر توہین کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اس لفظ کا صرف رسمی معنی نہیں ہے بلکہ اس سے فعل بھی بنایا جا سکتا ہے ۔ مثلا ًکہتے ہیں :
اففت بکذ -
یعنی۔ میں نے فلاں چیز کو آلودہ سمجھا اور اس سے اظہار نفرت کیا ۔
بعض مفسرین مثلا ًقرطبی نے اپنی تفسیر میں اور طبرسی نے مجمع البیان میں کہا ہے کہ ”اُف“ اور ”تف“ اصل میں وہ میل کچیل ہے جو ناخن کے نیچے جمع ہوجاتی ہے جو آلودہ بھی ہوتی ہے اور حقیر بھی۔ یہاں تک کہ بعض نے”اُف“ اور ”تف“ میں بھی فرق کیا ہے ۔ انھوں نے پہلے کوگوشت کی میل کچیل اور دوسرے کو ناخن کی میل سمجھا ہے ۔
بعد ازاں اس کے مفہوم میں وسعت پیدا ہوگئی اور ہر اس چیز کے لیے بولا جانے لگا جو ناراحتی اور تکلیف کا باعث ہو(۸)
”اُف“ سے اور معانی بھی مراد لیے گئے ہیں ، مثلاً تھوڑی سی چیز، ناراحتی، ملامت اور بدبو۔
بعض دیگر نے کہا ہے کہ اس لفظ کی بنیاد یہ ہے کہ جس وقت انسان کے بدن یا لباس پر مٹی یا تھوڑی سی راکھ بیٹھ جائے اوروہ پھونک سے اسے اپنے سے دور کرے تو اس موقع پر انسان کے منہ سے جو آواز نکلتی ہے وہ”اوف“ یا”اُف“ کے مشابہ ہوتی ہے ۔بعد ازاں یہ لفظ کی صورت میں ناراحتی اور تنفر کے اظہار کے لیے خصوصاً معمولی چیزوں کے بارے میں استعمال ہونے لگا ۔
جو کچھ اس سلسلے میں کہا گیا ہے اسے مجموعی نظر سے دیکھا جائے اور دیگر قرائن بھی ملحوظ نظر رکھے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ اصل میں ”اسم صوت“ تھا(وہ آواز جو انسان نفرت، رنج اور تکلیف کے موقع پر نکلتا ہے یا کسی آلودہ چیز پر پھونک مارتے ہوئے اس کے منھ سے نکلتی ہے) ۔ بعد ازاں یہ آواز لفظ کی صورت اختیار کر گئی۔ یہاں تک کہ اس سے الفاظ مشتق ہوئے اور یہ لفظ معمولی پریشانیوں یا چھوٹے چھوٹے مسائل پر اظہار تنفر کے لیے بولا جانے لگا ۔ لہٰذا اوپر جو مختلف معانی بیان ہوئے ہیں یوں لگتا ہے کہ وہ اسی جامع اور کلی کے مصداق ہیں ۔
بہرحال آیت چاہتی ہے کہ ایک مختصر سی عبارت میں انتہائی فصاحت و بلاغت سے یہ بات سمجھائے کہ ماں باپ کا احترام اس قدر زیادہ ہے کہ ان کے سامنے ذراسی بھی ایسی بات نہ کی جائے جو ان کی ناراحتی یا تنفر کا باعث ہو۔
____________________
۱۔ جیسا کہ ہم نے کہا ہے ”اُف“ ناراحتی کا معمولی سا اظہار ہے ۔
۲۔ جامع السعادات، ج۲، ص۲۵۸-
۳۔ جامع السعادات، ج۲، ص۲۶۰-
۴۔ جامع السعادات، ج۲، ص۲۵۷-
۵۔ فی ظلال، ج۵، ص۳۱۸-
۶۔ نور الثقلین، ج۴، ص۱۴۹-
۷۔ تفسیر قرطبی، ج۶، ص۳۸۵۳-
۸۔ تفسیر فخر الدین رازی، ج۲۰، ص۱۸۸-
آیات ۲۶،۲۷،۲۸،۲۹
۲۶( وَآتِ ذَا الْقُرْبیٰ حَقَّهُ وَالْمِسْکِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ وَلَاتُبَذِّرْ تَبْذِیرًا )
۲۷( إِنَّ الْمُبَذِّرِینَ کَانُوا إِخْوَانَ الشَّیَاطِینِ وَکَانَ الشَّیْطَانُ لِرَبِّهِ کَفُورًا )
۲۸( وَإِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمْ ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّکَ تَرْجُوهَا فَقُلْ لَهُمْ قَوْلًا مَیْسُورًا )
۲۹( وَلَاتَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُولَةً إِلیٰ عُنُقِکَ وَلَاتَبْسُطْهَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَحْسُورًا )
۳۰( إِنَّ رَبَّکَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشَاءُ وَیَقْدِرُ إِنَّهُ کَانَ بِعِبَادِهِ خَبِیرًا بَصِیرًا )
ترجمہ
۲۶ ۔ اور نزدیکیوں کو ان کا حق دے اور(اسی طرح) مسکین اور مسافر کا اور ہرگز اسراف اور فضولی خرچی نہ کر۔
۲۷ ۔ کیونکہ اسراف کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان نے اپنے پروردگار(کی نعمتوں ) کا کفران کیا ۔
۲۸ ۔ اور اگر تو ان(حاجت مندوں ) سے اعتراض کرے اور تم اپنے پروردگار کی رحمت کے انتظار میں ہو(کہ وہ تیرے کام میں کشائش کرے اور تُو ان کی مدد کرے) تو ان سے تو نرم اور لطیف و کرم کے پیرائے میں بات کر۔
۲۹ ۔ کبھی بھی اپنے ہاتھ کو اپنی گردن کا حلقہ نہ بنا(اور انفاق و بخشش کر ترک نہ کر) اور نہ ہی اسے بالکل کھول دے کہ(آخر کار) تو ملامت زدہ اور بے کار ہو کررہ جائے ۔
۳۰ ۔ تیرا پروردگار جسے چاہتا ہے اس کی روزی کشادہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کی روزی تنگ کردیتا ہے وہ اپنے بندوں کے بارے میں آگاہ و بینا ہے ۔
انفاق و بخشش میں اعتدال
ان آیات میں اسلام کے بنیادی احکام کا ایک اور حصہ بیان کیا گیا ہے ۔ ان میں قریبیوں ، حاجت مندوں اور مسکینوں کے حق کی ادائیگی کے بارے میں حکم ہے نیز انفاق میں فضولی خرچی سے روکا بھی گیا ہے
پہلے فرمایا گیاہے: قریبیوں اور نزدیکیوں کا حق انہیں دے( وَآتِ ذَا الْقُرْبیٰ حَقَّهُ ) ۔ اسی طرح حاجت مندوں اور راہ میں رہ جانے والوں کا حق انہیں دے( وَالْمِسْکِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ ) ۔ لیکن اس طرح سے کہ ہرگز فضولی خرچی نہ ہو( وَلَاتُبَذِّرْ تَبْذِیرًا ) ۔
”تبذیر“ اصل میں ”بذر“ کے مادہ سے بیج ڈالنے اور دانہ چھڑکنے کے معنی میں ہے لیکن یہ لفظ ایسے مواقع سے مخصوص ہے جہاں انسان اپنے اموال کو غیر منطقی اور غلط کام میں خرچ کرے ۔ فارسی میں اس کا متبادل ہے”ریخت وپاش “۔دوسرے لفظوں میں ”تبذیر“ نامناسب مقام پر مال خرچ کرنے کو کہتے ہیں چاہے تھوڑا ساہی کیوں نہ ہو۔ بر محل مقام پر خرچ کرنے کو ”تبذیر“ نہیں کہتے چاہے زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔ جیسا کہ تفسیر عیاشی میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(ص) نے اس آیت کے بارے میں سوال کرنے والے کے جواب میں فرمایا:
من اٴنفق شیئاً فی غیر طاعة الله فهو مبذّر ومن اٴنفق فی سبیل الله فهو مقتصد -
جو شخص حکم الٰہی اطاعت کے خلاف کہیں خرچ کرے وہ”مبذر“(فضولی خرچ) ہے اور جو شخص راہ خدا میں خرچ کرے وہ مقتصد (میانہ رو) ہے(۱) ۔
آپ ہی سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ آپ(ص) نے حاضرین کے لیے ترو تازہ کھجوریں لانے کا حکم دیا ۔
بعض لوگ کھجور کھاتے اور ان کی کٹھلیاں دور پھینک دیتے ۔آپ(ص) نے فرمایا: ایسا نہ کرو”تبزیر“ ہے اور خدا برائی کو پسند نہیں کرتا ۔(۲)
اسراف اور تبذیر کا معاملے اتنا باریک ہے کہ ایک حدیث میں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ(ص) وسلم ایک راستہ سے گزر رہے تھے ۔ آپ کے ایک صحابی سعد وضو کر رہے تھے اور پانی زیاد ہ ڈال رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا:
اسراف کیوں کرتے ہو؟
سعد نے عرض کیا:
کیا وضو کے پانی میں بھی اسراف ہے؟
آپ نے فرمایا:
نعم وان کنت علی نھر جار-
ہاں اگر چہ تم جاری دریا کے کنارے ہی کیوں نہ ہو۔(۳)
اس سلسلے میں کہ ”ذی القربیٰ“ سے آنحضرت کے سب رشتہ دار مراد ہیں یا مخصوص رشتہ دار(کیونکہ آیت میں مخاطب آنحضرت ہی ہیں )، اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے ۔
متعدد احادیث کہ جن کے بارے میں ”چند اہم نکات“ کے زیر عنوان بحث آئے گی، میں ہم پڑھیں گے کہ یہ آیت رسول الله کے”ذوی القربیٰ“ سے تفسیر ہوگئی ہے ۔ یہاں تک کہ بعض احادیث میں ہے کہ یہ آیت آنحضرت کی طرف سے حضرت فاطمہ الزہرا اسلام الله علیہا کو فدک کا علاقہ بخشے کے بارے میں ہے لیکن جیسا کہ ہم نے بار ہا کہا ہے ایسی تفسیر آیات کے وسیع مفہوم کو محدود نہیں کرتیں ۔ در اصل ان میں روشن اور واضح مصداق کا ذکر ہوتا ہے ۔
”واٰت“میں رسول الله سے خطاب کیا گیا ہے لیکن یہ بات اس امر کی دلیل نہیں کہ حکم آنحضرت ہی سے مخصوص ہے ۔کیونکہ باقی احکام جوان آیات میں آئے ہیں مثلا فضولی خرچی کی ممانعت، سائل اور مسکین سے نرمی یا بخل کی ممانعت سب رسول اکرم سے خطاب کی صورت میں ہیں حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ احکام آپ سے مخصوص نہیں ہیں اور ان کا مفہوم طرح عام ہے ۔
اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ رشتہ داروں ، مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرنے کے حکم کے بعد فضولی خرچی کی ممانت اس طرف اشارہ ہے کہ کہیں انسان قرابت کے جذبات یا مسکین اور مسافر سے کسی جذباتی وابستگی کے زیر اثر نہ آ جائے اور ان کے استحقاق سے زیادہ خرچ نہ کرے اور سرف کی راہ اختیار نہ کرے کیونکہ اسراف اور فضولی خرچی ہر مقام پر مذموم ہے ۔
بعد والی آیت”تبذیر“ کی ممانعت پر استدال اور تاکید کے طور پر ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: اسراف کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں( إِنَّ الْمُبَذِّرِینَ کَانُوا إِخْوَانَ الشَّیَاطِینِ ) ۔
اور شیطان نے پروردگار کی نعمتوں کا کیسے کفران کیا تو اس کا جواب واضح ہے کیونکہ الله تعالیٰ نے اسے بہت زیادہ قوت و استعداد دے رکھی تھی۔ اس نے ان سب قوتوں کوغلط مقام پر صرف کیا یعنی لوگوں کوگمراہ کیا ۔
رہا یہ کہ اسراف کرنے والے شیطان کے بھائی کیسے ہیں ؟ تو اس کو وجہ یہ ہے کہ وہ بھی خدا داد نعمتوں کا کفران کرتے ہیں اور جہاں انہیں استعمال کرنا چاہئے وہاں کی بجائے انہیں غلط مقام پر خرچ کرتے ہیں ۔
”اخوان“(بھائی) یا اس بناء پر ہے کہ ان کے اعمال شیطانوں سے اس طرح ہم آہنگ ہیں جیسے بھائیوں کے کہ جو ایک جیسے عمل کرتے ہیں اور یا اس بناء پر کہ وہ دوزخ میں شیطانوں کے ہم نشین ہوں گے جیسا کہ سورہ زخرف آیہ ۳۹ میں شیطان کا گناہوں سے آلودہ انسانوں سے بہت نزدیکی تعلق بیان کرنے کے بعدفرمایا گیا ہے:
( وَلَنْ یَنفَعَکُمْ الْیَوْمَ إِذْ ظَلَمْتُمْ اٴَنَّکُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِکُونَ )
آج شیطان سے اظہار برائت اور علیحد گی کا تقاضا تمہارے لیے سود مند نہیں ہے کیونکہ تم سب عذاب میں مشترک ہو۔
رہا یہ کہ”شیاطین“ یہاں جمع کی صورت میں ہے ۔ ہو سکتا ہے یہ اس چیز کی طرف اشارہ ہو جو سورہ ز خرف کی آیات سے معلوم ہوتی ہے کہ جو شخص یاد خدا سے منہ پھیر لے ایک شیطان کو اس کا ہمنشین قرار دیا جاتا ہے جو نہ صرف اس جہاں میں اس کے ہمراہ ہوگا بلکہ اس جہان میں بھی ساتھ ہوگا ۔ قرآن کے الفاظ میں :
( وَزُخْرُفًا وَإِنْ کُلُّ ذٰلِکَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَالْآخِرَةُ عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُتَّقِینَ، وَمَنْ یَعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمَانِ نُقَیِّضْ لَهُ شَیْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِینٌ، حَتَّی إِذَا جَائَنَا قَالَ یَالَیْتَ بَیْنِی وَبَیْنَکَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِینُ ) (زخرف/ ۳۶ و ۳۸)
بعض اوقات کوئی مسکین کسی کے پاس آتا ہے لیکن اس کی ضرورت کے مطابق اس کی مدد کرنا اس کے بس میں نہیں ہوتا ۔ اس سلسلے میں اگلی آیت بتاتی ہے کہ ضرورت مندوں سے کیسا سلوک کرنا چائیے ۔
ارشاد ہوتا ہے:”اگر تو ان ضرورت مندوں سے(وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اور) رحمت کے انتظار میں ہونے کے باعث رُخ موڑے تو ایسا تحقیر اور بے حرمتی سے نہیں ہونا چاہئے بلکہ ان سے نرم اور سنجیدہ گفتگو سے بڑی محبت سے پیش آنا چاہئے ۔“ یہاں تک کہ اگر ہوسکے تو ان سے آئندہ کا وعدہ کرلے تا کہ وہ مایوس نہ ہوں( وَإِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمْ ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّکَ تَرْجُوهَا فَقُلْ لَهُمْ قَوْلًا مَیْسُورًا ) ۔
”میسور“ ”یسر“ کے مادہ سے راحت اور آسان کے معنی میں ہے ۔ یہاں یہ لفظ وسیع مفہوم رکھتا ہے ۔ اس میں ہر قسم کی اچھی گفتگو اور محبت آمیز برتاؤ کا مفہوم شامل ہے ۔ لہٰذا اگر بعض نے اس کی تفسیر کسی خاص عبارت سے کی ہے آئندہ کا وعدہ کرنا مراد لیا ہے تو یہ مصداق کی حیثیت رکھتا ہے ۔
روایات میں ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد جب کوئی شخص رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے کچھ مانگتا اور آپ کے پاس دینے کو کچھ نہ ہوہوتا تو فرماتے:یرزقنا الله وایاکم من فضله -
میں امید رکھتا ہوں کہ خدا ہمیں اپنے فضل سے رزق دے گا ۔(۴)
ہمارے ہاں قدیمی طریقہ ہے کہ کوئی سائل گھر کے دروازے پر آئے اور اسے دینے کو کچھ نہ ہوتا تو کہتے ہیں : معاف کرو۔
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ تیرے آنے سے ہمارے اوپر ایک حق عائد ہو گیا ہے اور تو اخلاقی طور پر ہم سے کچھ طلب کر رہا ہے ۔ ہم تجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ اپنا یہ اخلاقی حق ہمیں بخش دے کیونکہ ہم تمہارے حق کا تقاضا پورا نہیں کر سکتے ۔
اعتدال چونکہ ہر چیز میں ضروری ہے یہاں تک کہ انفاق میں بھی، لہٰذا اگلی آیت میں اس بارے میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اپنے ہاتھ کا گردن کے گرد حلقہ نہ بنا( وَلَاتَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُولَةً إِلیٰ عُنُقِکَ ) ۔
یہ تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دینے والا ہاتھ تیرے پاس ہونا چاہئے اسے بخیلوں کے ہاتھ کی طرح گردن کی زنجیر نہیں بن جانی چاہیے کہ انسان مدد کرنے کے قابل نہ رہے ۔
دوسری طرف یہ بھی ہے کہ”اپنا ہاتھ اتنا بھی کھلانا رکھ اور بخشش اتنی بھی بے حساب نہ کر کہ تو کام کاج سے رہ جائے اور کبھی اِس اور کبھی اُس کی ملامت سنتار ہے اور لوگوں سے جدا ہو جائے“( وَلَاتَبْسُطْهَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَحْسُورًا ) ۔
جیسے ہاتھ کا گردن کے لیے حلقہ زنجیربن جانا بخل کے لیے کنایہ ہے اسی طرح ہاتھ کا بالکل کھلا ہونا بے حساب بخشش کرکے بیٹھ رہنے اور بیکار ہوجانے کی طرف اشارہ ہے لفظ”تقعد“”قعود“ کے مادہ سے بیٹھے کے معنی میں ہے ۔
لفظ”ملوم“ اس طرف اشارہ ہے کہ بعض اوقات زیادہ انفاق اور بخشش نہ صرف انسان کی فعالیت ختم کردیتی ہے اوراسے لوگوں کی ملامت کا بہی شکار کردنتی ہے ۔
”محسور“ ”حسر“ (بروزن ”قصر“ )کے مادہ سے در اصل لباس اتار کر کچھ حصہ برہنہ کرنے معنی میں ۔اسی بناء پر ”حاسر“اس جنگجو کو کہتے ہیں جس کے بدن پر زِرہ اور سر پر خود نہ ہو ۔نیز جانور جو زیادہ چلنے کی وجہ سے تھک کررہ گئے ہو ں انہیں بھی ”حسیر“یا ”حاسر“ کہا جاتا ہے ۔گویا ان کی جسمانی طاقت کا لباس اتر جاتا ہے اور وہ برہنہ ہو جاتے میں ۔بعد ازاں اس لفظ مفہوم میں وسعت پیدا ہو گئی اور ہر اس شخص کو جو تھکا ماندہ ہو اور مقصد تک پہنچنے سے عاجز ہو ”حسیر“یا ”حاسر“”محسور“یا ”حسیر“یا ”حاسر“کہا جانے لگا ۔
لفظ ”حسرت“(بمعنی غم واندازہ )اسی مادہ سے لیاگیا ہے کیونکہ یہ حالت عام طور پر انسان پر ایسے عالم میں طاری ہوتی ہے جب وہ مشکلات کو ختم کر نے کی سکت نہ رکھتا ہو گویا اس کی طاقت کا جامہ اتر گیا ہو ۔
انفاق میں بھی انسان حد سے گزر جائے اور اس میں اپنی تمام قوت ہاتھ سے دے بیٹھے تو فطری امر ہے کہ وہ اپنی کار کردگی اور رکھنے اور زندگی کا سازدسامان مہیا کرنے سے رہ جاتاہے گویا اس کی برطرف ہوجاتی ہیں اور وہ غم والم میں ڈوب جاتاہے اور لوگوں سے بھی اس کا میل ملاپ منقطع ہوجاتا ہے ۔
بعض روایات جو اس آیت کی شان نزول میں منقول ہیں ۔ان میں یہ مفہوم وضاحت سے نظر آیا ہے ۔ایک روایات میں ہے :
رسول ا لله ایک گھر میں موجود تھے ۔اس گھر کے دروازہ ے پر ایک سائل آیا اسے دینے کے لیے کوئی چیز مہیانہ تھی ۔اس نے قمیص مانگی تھی۔ رسول الله نے اپنی قمیص اتار کر اسے دے دی ۔اس وجہ سے آپ اس روز مسجد میں نماز کے لیے نہ جا سکے ۔کفار نے اس مسئلے کو اچھا لا طرح طرح کی باتیں کرنے لگے ۔انہوں نے کہا ،محمّد(ص)سو گیاہے یالہو ولعب میں مشغول ہے اور اس نے اپنی نماز بھلادی ہے ۔
اس طرح یہ کام دشمن کی علامت وشماتت کا سبب بھی بنا اور دوستوں کی جدائی کا بھی ۔یعنی ”ملوم ومحسور “کا مصداق ہوا ۔اس پرمند رجہ بالا آیت نازل ہوتی اور رسول الله سے کہا گیا کہ اس کام کا اعادہ نہ ہو ۔
یہ مسئلہ ظاہر اًجس مو قع پر مسئلہ ایثار سے متضادہے، اس کے بارے میں ہم ”چند اہم نکات“کے زیر عنوان بحث کریں گے ۔
بعض نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ بعضی اوقات رسول الله بیت المال میں جو کچھ ہوتا کسی ضرورت مند کو دے دیتے ۔ بعد میں کوئی حاجت مند آتا تو پھر آپ کے پاس کچھ نہ ہوتا اور آپ کو شرمندگی محسوس ہوتی۔ ایسے میں بسا اوقات ضرورتمند شخص ملامت کرنے لگتا اور پیغمبر اکرم کے پاک دل کو آزردہ کرتا لہٰذا حکم دیا گیا کہ جو کچھ بیت المال میں ہو سارے کا سارا نہ دیا جائے اور نہ ہی سارا رکھ چھوڑا جائے تا کہ اس قسم کی مشکلات پیش نہ آئیں ۔
یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اصلاً بعض لوگ محروم، نیاز اور مسکین کیوں ہیں کہ جن کی وجہ سے ان کے لیے خرچ کرنا ضروری ہے ۔ کیا بہتر نہ تھا کہ خدا تعالیٰ خود انہیں جس چیز کی ضرورت ہے دے ویتا تا کہ وہ اس کے محتاج نہ ہوتے کہ ان پر خرچ کیا جائے ۔
زیر نظر آخری آیت گویا اس سوال کا جواب ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: خدا اپنی روزی جس کے لیے چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے کیونکہ وہ اپنے بندوں کے بارے میں آگاہ وبینا ہے( إِنَّ رَبَّکَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشَاءُ وَیَقْدِرُ إِنَّهُ کَانَ بِعِبَادِهِ خَبِیرًا بَصِیرًا )
یہ تمھارے لئے ایک آزمائش اور امتحان ہے ورنہ اس کے لئے ہر چیز ممکن ہے، وہاس طرح سے تمھاری تربیت کرنا چاہتا ہے ۔ وہ تم میں سخاوت اور فداکاری کے جذبے پروان چڑھانا چاہتا ہے وہ تمہارے اندر خود غرضی کا خاتمہ چاہتا ہے ۔
علاوہ ازیں بہت سے ایسے لوگ ہیں کہ اگر وہ بالکل بے نیاز ہوجائیں تو سرکشی کی راہ اختیار کرلیں ۔ان کے لیے مصلحت اسی میں ہے کہ ان کو محدود طور پر روزی ملے کہ جس سے وہ فقر و فاقہ میں بھی مبتلا نہ ہوں اور طغیان و سرکشی کی راہ بھی اختیار نہ کریں ۔
ان تمام امور سے قطع نظر انسانوں میں (معلول، معذور اور مجبور افراد کے علاوہ) رزق کی تنگی اور وسعت ان کی سعی و کوشش سے وابستہ ہے اور یہ جو فرمایا گیا ہے کہ خدا جس کے لیے چاہتا ہے روزی کشادہ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، اس کا یہ چاہنا اس کی حکمت کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ جس شخص کی کوشش زیادہ ہے اس کا حصہ زیادہ ہو اور جس کی کوشش کم ہے اس کا حصہ کم ہو۔بعض مفسرین نے اس آیت کے گزشتہ آیات سے متعلق کے بارے میں ایک اور احتمال قبول کیا ہے وہ یہ کہ زیر نظر آخری آیت انفاق میں افراط و تفریط سے روکنے کے حکم کی دلیل کے طور پر آئی ہے ۔ فرمایا گیا ہے کہ یہاں تک کہ خدا اپنی اس قدرت و طاقت کے با وجود عطائے رزق میں اعتدال رکھتا ہے نہ اس طرح سے بخشا ہے کہ برائی اور سرکشی بر پا ہوجائے اور نہ اس طرح تنگ کرتا ہے کہ لوگ زحمت و مصیبت میں پڑ جائیں یہ سب کچھ بندوں کے مفاد کے پیش نظر ہے لہٰذا حق یہی ہے کہ تم بھی خدائی اخلاق اپنا کر اعتدال کی راہ اختیار کرو اور افراط اور تفریط سے پرہیز کرو۔(۵)
____________________
۱۔ تفسیر صافی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں -
۲۔ تفسیر صافی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں -۳۔ تفسیر صافی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں -
۴۔ تفسیر مجمع البیان ، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں -۵۔ المیزان، ج۱۳، ص۸۸-
چند اہم نکات
۱ ۔ ”ذی القربیٰ“ سے یہاں کون لوگ مراد ہیں ؟
”ذی القربیٰ “ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں وابستہ اور نزدیکی افراد کے معنی میں ہے ۔ مفسرین نے اس بارے میں بحث کی ہے کہ یہ لفظ یہاں مخصوص افراد کے لیے ہے یا عام ہے ۔
بعض کا نظریہ یہ ہے کہ تمام مومنین و مسلمین مخاطب ہیں اور انہیں اپنے زشتہ داروں کا حق ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ بعض دیگر کہتے ہیں کہ مخاطب پیغمبر اکرم صلی الله علیہ آلہ وسلم ہیں اور آپ سے کہا گیا ہے کہ اپنے نزدیکیوں کو ان کا حق ادا کریں ۔ مثلا خمس غنائم اور خمس سے باقی متعلقہ چیزوں میں سے اور کلی طور پر بیت المال میں جو ان کے حقوق ہیں وہ ادا کریں ۔
متعدد روایات جو شیعہ اور سنی طرق سے نقل ہوئی ہیں ان کے مطابق جب یہ آیت نارل ہوئی تو رسول اکرم صلی الله علیہ آلہ وسلم نے حضرت فاطمہ سلام الله علیہا کو بلایا اور فدک کی سرزمین آ پکو بخشش دی ۔(۱)
جب اس علاقے کے یہودیوں نے جنگ کیے بغیر ہتھیار ڈال دیئے اور انھوں نے اپنے تئیں آنحضرت کی خدمت میں پیش کردیا تو معتبر اسناد اور تواریخ کے مطابق آنحضرت نے یہ زمین حضرت فاطمہ زہر(ص) کو بخش دی لیکن آنحضرت کی رحلت کے بعد مخالفین نے اسے غصب کرلیا، سالہا سال تک یہ علاقہ ایک سیاسی حربے کے طور پر ان کے ہاتھ میں رہا لیکن بعض خلفاء نے اسے اولادِ فاطمہ(ص) کو واپس کردیا ۔
(بعض تواریخ کے مطابق فدک کا علاقہ تقریباً دس مرتبہ چھینا گیا اور واپس کیا گیا) ۔
اہل سنت کی منابع سے ایک حدیث مشہور صحابی رسول ابو سعد خددی سے منقول ہے :
لما نزل قوله تعالیٰ: ”واٰتِ ذا القربی حقه“ اعطی رسول الله فاطمة فدک -
جب یہ آیت نازل ہوئی :”واٰتِ ذا القربی حقہ“ تو رسو ل اللہنے فدک کا علاقہ فاطمہ(ص) کودے دیا ۔(۲)
بعض روایات سے یہ معلوم ہوتاہے کہ یہاں تک کہ حضرت سجاد علیہ السلام نے اسیری کے دوران شام میں اسی آیت سے شامیوں کے سامنے استدلال کر تے ہوئے فرمایا :
آیت ”اٰتِ ذا القربی حقہ“سے مراد ہم میں کہ جن کے بارے میں خدا نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا ہے کہ ان کا حق انہیں اداکر ہم (جبکہ شامیو!تم نے ہمارے سب حقوق ضائع کردیئے ہیں ) ۔(۳)
لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود ،جیساکہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ یہ دونوں تفاسیر ایک دوسرے کے مخالفت نہیں ہیں ۔
سب لوگوں کا فرض ہے کہ ذی القربیٰ کا حق ادا کریں ۔رسول اللہ چونکہ اسلامی معاشرت کے رہبر ہیں لہٰذا ان کی بھی ذمہ داری ہے کہ اس عظیم خدائی فریضہ پر عمل کریں ۔
در حقیقت اہل بیت رسول ”ذی القربی ٰ “ کے واضح ترین مصداق ہیں اور رسول اللہ خود اس آیت کے روشن ترین مخاطب ہیں ۔لہٰذا پیغمبر اکرم نے ذی القربیٰ کا حق کہ جو خمس ،فدک یا اسی طرح دوسری چیزوں کی صورت میں تھا انہیں دے دیا کیونکہ زکوہٰ کہ جو درحقیقت عمومی اموال میں شمار ہو تی ہے اس کا لینا ان کے لیے ممنوع تھا ۔
۲ ۔اسراف کے بُرے اثرات :
اس میں شک نہیں کہ کرہ ارض میں موجود نعمتیں اس میں رہنے والوں کے لیے کافی ووافی ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ انہیں بے ہودہ اور فضول استعمال نہ کیا جائے بلکہ صحیح اور معقول طریقے سے ہر قسم کی افراط وتفریط سے بچ کران سے استفادہ کیا جائے ورنہ یہ نعمات اس قدر غیر محدود بھی نہیں کہ ان کے استعمال کے مہلک نتائج نہ نکلیں ۔
افسوس کا مقام ہے کہ اکثر اوقات زمین کے ایک علاقے میں اسراف اور فضول خرچی کے باعث دوسرا علاقہ محرومیت کا شکار ہوجاتا ہے یاایک زمانے کے لوگوں کا اسراف آیندہ نسلوں محرومیت کا باعث بن جاتاہے ۔
جس زمانے میں آج کے دَور کی طرح لوگوں کے پاس آبادی کے اعداد وشمار مو جود نہ تھے ، اسلام نے خبر دار کیا تھا کہ خدائی نعمتوں سے استفادہ کرتے ہوئے اسراف اور فضول چرخی نہ کرو۔
قران حکیم نے بہت سی آیات میں مسرفین کی بڑی شدت سے مذمت کی ہے ۔
ایک جگہ فرمایا ہے:( وَلَاتُسْرِفُوا إِنَّهُ لَایُحِبُّ الْمُسْرِفِینَ )
اسراف نہ کرو کہ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ (انعام ۔ ۱۴۱ ،اعراف۔ ۳۱) ۔
ایک اور مقام پر فرمایاہے:( وَاَنَّ الْمُسْرَفِینَ هُمْ اٴَصْحَابُ النَّارِ )
اور یقینا مسرفین اصحاب دوزخ ہیں ۔ (مومن ۔ ۴۳) ۔
ایک اور مقام پر مسرفین کی پیروی سے روکتے ہوئے فرمایا ہے ۔( وَلَاتُطِیعُوا اٴَمْرَ الْمُسْرِفِینَ )
اور مسرفین کے حکم کی پیروی کی اطاعت نہ کرو ۔ (شوراء۔ ۱۵۱) ۔
ایک ا ور جگہ فرماتاہے :( مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُسْرِفِینَ )
مفسرین پر تیرے پروردگا ر کی طرف سے نشان لگا دیئے گئے ہیں ۔ (ذارعات ۔ ۳۴)
ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے :( وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاٴَرْضِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الْمُسْرِفِینَ )
شک نہیں کہ فرعون روئے زمین پر بڑا بن بیٹاٹھاتھا اور اس میں بھی شک نہیں کہ وہ مسرفین میں سے تھا ۔ (یونس۔ ۸۳)
ایک اور جگہ فرماتاہے :ا( ِٕنَّ الله لَایَهْدِی مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ کَذَّابٌ )
یقینا اللہ جھو ٹے مسرف کہ ہدایت نہیں کرتا ۔ (مومن ۔ ۲۸)
اور آخر کا ر ان کا انجام ہلاکت ونابودی بتا یا گیا ہے :( وَاٴَهْلَکْنَا الْمُسْرِفِینَ )
اور ہم نے مفسرین کو ہلاکت کر ڈالا ۔ (انبیاء ۔ ۲۸)
نیز جیسا کہ ہم نے لکھا ہے کہ زیر بحث آیت میں مسرفین کو شیطان کا بھائی اور ہمنشین شمار کیاگیا ہے ۔
”اسراف“اپنے وسیع معنی کہ لحاظ سے ہر قسم کے کام میں تجاوز کا مفہوم رکھتا ہے لیکن عام طو ر پر اخراجات میں حد سے تجاوز کے لیے بولا جاتا ہے ۔
خود آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اسراف کنجوسی اور تنگی کا متضاد ہے ۔
قرآن کہتا ہے :( وَالَّذِینَ إِذَا اٴَنفَقُوا لَمْ یُسْرِفُوا وَلَمْ یَقْتُرُوا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًا )
وہ لوگ کہ خرج کرتے وقت اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ میانہ روی سے کام لیتے ہیں ۔ (فرقان ۔ ۴۷)
۳ ۔”اسراف “اور ”تبذیر“میں فرق :
اس سلسلہ میں مفسّرین کی طرف سے کوئی واضح بحث نظر سے نہیں گزری لیکن ان دونوں الفاظ کے بنیادی معانی پر نظر کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ جس و قت یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابلے پر ہوں تو اسراف حد اعتدال سے نکل جانے کے معنی میں ہے بغیر اس کے کہ ظاہراً کسی چیز کو ضائع کیا ہو۔مثلاًیہ کہ ہم ایسا گراں قیمت لباس پہنتے ہیں کے جو ہماری ضرورت کے لباس سے سوگنا زیادہ قیمت کا ہے یا اپنی ایسی گراں قیمت غذا تیار کرتے ہیں کہ جتنی قیمت سے بہت سے لوگون کو عزت وآبرو سے کھانا کھلایا جاسکتا ہے ۔ایسے موقع پر ہم حد سے تجاوز کر گئے ہیں لیکن ظاہراًکوئی چیز ختم اور ضائع نہیں ہوئی۔
جبکہ ”تنذیر “اس طرح سے خرچ کرنے کو کہتے ہیں کہ جو اتلاف اور ضیاع کی حد تک پہنچ جائے مثلاًدو مہمانو ں کے لیے دس افراد کا کھا نا پکالیں جیساکہ بعض نادان کے تے ہیں اور پھر اس پر فخر کے تے ہیں اور بچے ہوئے کھا نے کو کُوڑ ے کرکٹ میں پھینک کر ضا ئع کرتے ہیں ۔
حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں :
”الا اٴن اٴعطاء المال فی غیر حقه تبذیر واسراف وهو یرفع صاحبه فی الدنیا ویضعه فی الآخرة ویکرمه فی الناس ویهینه عند الله “
خبر دار !مال کو اس کے مقام استحقاق کے علاوہ خرچ کرنا تبدیر واسراف ہے ۔ ہوسکتا ہے یہ کام انسان کو دنیا میں بلند مرتبہ کردے لیکن آخرت میں وہ یقینا پست وحقیر ہوگا ۔ہو سکتا ہے عام لوگوں کی نظر میں اسے عزت واکرام حاصل ہو جائے مگر بارگاہ الٰہی میں یہ کام انسان کی تنزلی اور سقوط کا سبب ہے ۔
زیر بحث آیات کی تشریح میں ہم نے پڑھا ہے کہ احکام اسلامی میں اسراف اور تبذیر کی اس قدر ممانعت کی گئی ہے کہ وضوکے لیے زیادہ پانی ڈالنے سے بھی منع کیا گیا ہے اگرچہ وضو کرنے والا لب دریا ہی کیوں نہ بیٹھا ہو ۔اسی طرح امام (ص)نے خر مے کی گٹھلیاں تک دُور پھینکنے سے منع کیاہے ۔
آج کی دنیا میں بعض مواد کی کمی کے احساس نے اس امر کی طرف اتنی شدت سے توجہ دلائی ہے کہ اب ہر چیزسے استفاوہ کیا جارہا ہے ۔یہاں تک کہ کو ڑاکرکٹ سے کھا دتیار کی جا رہی ہے اور پھوک سے اشیائے ضرورت تیار کی جارہی ہیں ۔استعمال شدہ گندے اور بچے ہوئے پانی سے زراعت کے لیے استفادہ کیا جارہا ہے کیو نکہ آج لوگ محسوس کرتے ہیں کہ عالم طبیعی میں موجود مواد غیر محدود نہیں ہے کہ جس کے باعث اس امر سے آسانی سے صرف نظر کرلیا جائے بلکہ لوگ سمجھتے ہیں ہر چیز سے دو ہر ا استفادہ کرناچاہیے ۔
۴ ۔کیا میانہ روی ایثار کے منا فی ہے :
زیر بحث آیات کہ جو انفاق میں اعتدال ملحوظ رکھنے کا حکم کر نے والوں کی تعریف اور توصیف اور مدح وثنا کی گئی ہے یہاں تک کہ انتہائی مشکل کا حالات میں بھی اپنی ذات کو فراموش کر کے دوسرں کے لیے ایثار کر نے کی تشویق کی گئی ہے ۔لہٰذا یہ دونوں با تیں آپس میں کس طرح ہم آہنگ ہوسکتی ہیں ۔
زیر بحث آیات کی شان نزول پرغور و خوص کرنے سے اور اسی طرح دیگر قرائن کو سامنے رکھنے سے مسئلہ واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ اعتدال ملحوظ رکھنے کا حکم وہاں ہے جہاں زیادہ بخشش انسان کی اپنی بے سروسامانی کا سبب بن جائے اور اصطلاح کے مطابق وہ ”ملوم و محسور “ہو جائے ۔یا ایثار اس کی اولاد کے لیے نا راحتی، پریشانی دباؤ اور تنگی کابا عث ہو جائے اور اس کے اپنے گھر کا نظام خطرے میں پر جائے لیکن اگر ایسا نہ ہو تو یقینا ایسے میں ایثار بہترین راہ ہے ۔
ا س سے قطع نظر اعتدال ملحوظ رکھنے کا حکم عمومی ہے جبکہ ایثار ایک خواص حکم جو معین مواقع سے مربوط ہے لہٰذا یہ دونوں حکم ایک دوسرے سے متضاد نہیں ہیں ۔
____________________
۱۔ فدک خیبر کے پاس اور مدینہ سے تقریباً ۱۴۰ کلو میٹر کے فاصلے پر ایک آباد اور زرخیز زمین ہے، خیبر کے بعد حجاز کے یہودیوں کا یہ واحد سہارا شمار ہوتی تھی۔ (کتاب ”مراصد الاطلاع“ کے مادہ ”مادہ فدک“ کی طرف رجوع کریں ) ۔
۲۔ بزاز ابو بعلی، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے یہ حدیث ابو سعید سے نقل کی ہے (کتاب میزان الاعتدال، ج۲، ص۲۸۸ اور کنز العمال، ج۲، ص۱۵۸ کی طرف رجوع کریں )مجمع البیان میں اور اسی طرح درمنثور میں زیرِ بحث آیت کے ذیل میں شیعہ اور سنن طرق کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے ۔
۳۔ نور الثقلین، ج۳، ص۲۵۵-
آیات ۳۱،۳۲،۳۳،۳۴،۳۵
۳۱( وَلَاتَقْتُلُوا اٴَوْلَادَکُمْ خَشْیَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِیَّاکُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ کَانَ خِطْئًا کَبِیرًا )
۳۲( وَلَاتَقْرَبُوا الزِّنَی إِنَّهُ کَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِیلًا )
۳۳( وَلَاتَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ الله إِلاَّ بِالْحَقِّ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهِ سُلْطَانًا فَلَایُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ إِنَّهُ کَانَ مَنصُورًا )
۳۴( وَلَاتَقْرَبُوا مَالَ الْیَتِیمِ إِلاَّ بِالَّتِی هِیَ اٴَحْسَنُ حَتَّی یَبْلُغَ اٴَشُدَّهُ وَاٴَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ کَانَ مَسْئُولًا )
۳۵( وَاٴَوْفُوا الْکَیْلَ إِذَا کِلْتُمْ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیمِ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَاٴَحْسَنُ تَاٴْوِیلًا )
ترجمہ
۳۱ ۔ اور اپنی اولاد کو فقر وفاقہ کے خون سے قتل نہ کرو ۔ہم انہیں اور تمہیں رزق دیتے ہیں انہیں قتل کر نا ایک بہت بڑا گناہ ہے ۔
۳۲ ۔ اور زنا کے قریب نہ جاؤ کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے ۔
۳۳ ۔ اور جس شخص کا خون خدا نے حرام قرار دیا ہے اسے سوائے حق کے قتل نہ کرو اور جو شخص مظلوم ما را گیا ہے اس کے ولی کو ہم نے (حق قصاص )پر تسلط دیا ہے لیکن وہ قتل میں اسراف نہ کرے کیونکہ وہ مدد دیا گیا ہے ۔
۳۴ ۔اور سوائے احسن طریقے کے مالِ یتیم کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ حدّ بلوغ کو پہنچ جائے اور اپنے عہد کو ایفا کرو کیونکہ عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا ۔
۳۵ ۔اور جب تم ناپ تول کرو تو پیمانہ کا حق ادا کرو اور ترازو سے وزن صحیح کرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اس کا انجام بہت اچھا ہے ۔
چھ اہم احکام
گزشتہ آیات میں احکام اسلامی کے کچھ حصے آئے ہیں ۔ ان کے بعد زیر نظر آیات میں کچھ مزید احکام پیش کیے گئے ہیں ۔ چھ اہم احکام پانچ آیات میں بہت پر معنی اور دلنشین پیرائے میں بیان کیے گئے ہیں ۔
(۱) پہلے زمانہ جاہلیت کے ایک بہت قبیح اور برے عمل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ انتہائی دردناک گناہوں میں سے تھا ۔ ارشاد ہوتا ہے: اپنی اولاد کو فقر و فاقہ کے خوف سے قتل نہ کرو( وَلَاتَقْتُلُوا اٴَوْلَادَکُمْ خَشْیَةَ إِمْلَاقٍ ) ۔ان کی روزی تمہارے ذمہ نہیں ہے بلکہ انہیں اور تمہیں ہم رزق دیتے -ہیں( نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِیَّاکُمْ ) ۔کیونکہ ان کا قتل ایک بہت بڑا گناہ تھا اور ہے( إِنَّ قَتْلَهُمْ کَانَ خِطْئًا کَبِیرًا ) ۔
اس آیت سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عربوں کی اقتصادی حالت اتنی سخت اور پریشان کن تھی کہ وہ اپنی مالی حالت پتلی ہونے کی وجہ سے اپنی عزیز اولاد تک کو قتل کردیتے تھے ۔
مفسرین میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ کیا زمانہ جاہلیت کے عرب فقر کے خوف سے صرف اپنی بیٹیوں کو مٹی میں دبا دیتے تھے یا بیٹیوں کو بھی زندہ در گور کردیتے تھے ۔
بعض کا نظریہ ہے کہ یہ سب گفتگوبیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کی طرف اشارہ ہے ۔ وہ لوگ ایسا دو وجوہ کی بناء پر کرتے تھے ۔ ایک تو اس خیال کی بناء پر کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی جنگ میں دشمنوں کی قید میں چلی جائیں اور اس طرح ان کی غزت و ناموس دوسروں کے ہاتھ آجائے ۔
دوسرا فقر و فاقہ کی وجہ سے اور اسباب زندگی مہیا کرنے کی طاقت نہ ہونے کے سبب وہ لڑکیوں کو قتل کردیتے تھے ۔ کیونکہ اس زمانہ میں لڑکی مالی پیدا وار کا ذریعہ نہ تھی بلکہ اکثر اوقات اخراجات کا سبب شمار ہوتی تھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ ابتداء میں بیٹے بھی اخراجات ہی کا باعث تھے لیکن زمانہ جاہلیت کے عرب ہمیشہ بیٹیوں کو اہم سرمائے کے طور پر دیکھتے تھے اور انہیں گنوانے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے ۔
بعض دوسروں کانظریہ ہے کہ وہ دو طرح سے اولاد کو قتل کرتے تھے ۔ ایک قتل و ہ ناموس کی حفاظت کے غلط نام پر لڑکیوں کا کرتے تھے اور دوسرا فقر و فاقہ کے خوف سے بلا تخصیص بیٹے اور بیٹی کا ۔
آیت کی ظاہری تعبیر کہ جو جمع مذکر (قتلھم اور نرزقھم)کی صورت میں آئی ہے، اس نظریے کی دلیل بن سکتی ہے کیونکہ عربی ادب کے لحاظ سے جمع مذکر کا اطلاق بیٹیوں پر مجموعی طور پر درست ہے لیکن خصوصیت سے اس کا بیٹیوں کے لیے ہونا بعید معلوم ہوتا ہے ۔
البتہ یہ جو کہا گیا ہے کہ بیٹے پیدا واری صلاحیت رکھتے تھے اور سرمایہ شمار ہوتے تھے، یہ بالکل صحیح ہے لیکن یہ اس صورت میں کہ جب اس تھوڑی مدت کے لیے وہ اجراجات برداشت کرسکتے ۔ حالانکہ بعض اوقات تو وہ اس قدر تنگ دستی میں ہوتے کہ اس تھوڑی سی مدت کے لیے بھی اسبابِ زندگی مہیا کرنے کے قابل نہ ہوتے ۔
لہٰذا دوسری تعبیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے ۔
بہر حال یہ بات ایک وہم و گمان سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی کہ روزی دینے والے ماں باپ ہی ہیں ۔ خدا تعالیٰ اعلان کررہا ہے کہ اس شیطانی خیال کو دماغ سے نکال دو زیادہ سے زیادہ سعی و کوشش کے لئے اٹھ کھڑے ہو تو خدا بھی مدد کرے گا اور ان کی زندگی کا نظام چلادے گا ۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ ہم اس قبیح اور شرمناک جرم سے وحشت کرتے ہیں حالانکہ یہی جرم ہمارے زمانے میں ایک اور شکل میں موجود ہے ۔ یہاں تک کہ یہ کام بہت زیادہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی انجام پاتا ہے اور وہ ہے اسقاطِ حمل۔ یہ کام بہت زیادہ بڑھتی ہوئی آبادی کی روک تھام اور اقتصادی حالات کے نام پر کیا جارہا ہے ۔
(مزید توضیح کے لیے تفسیر نونہ جلد ۶ سورہ انعام کی آیہ ۱۵۱ کی طرف رجوع کریں )
”خشیة املاق“ بھی اس شیطانی وہم کی نفی کے لیے لطیف اشارہ ہے کہ یہ صرف ایک خوف ہے جو تمہیں اس بہت بڑے جرم پر ابھارتا ہے ورنہ اس میں حقیقت نہیں ہے ۔“
ضمناً توجہ رہے کہ ”کان خطاً کبیراً“ کہ جو فعل ماضی کے ساتھ آیا ہے اس امر کے لیے اشارہ اور تاکید ہے کہ اولاد کو قتل کرنا ایک بہت بڑا گناہ ہے کہ جو قدیم زمانے سے لوگوں میں موجود ہے اور اس کی قباحت اور برائی فطرت کی گہرائیوں میں موجود ہے لہٰذا یہ قباحت کسی زمانے سے مخصوص نہیں ہے ۔
(۲) ایک اور عظیم گناہ کہ جس کی طرف اگلی آیت اشارہ کرتی ہے وہ زنا اور منافی عفت عمل ہے ۔ قرآن کہتا ہے: زنا کے قریب نہ جاؤ کیونکہ یہ بہت بُرا اور قبیح عمل ہے اور بہت بری روشن ہے( وَلَاتَقْرَبُوا الزِّنَی إِنَّهُ کَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِیلًا ) ۔
اس مختصر سے جملے میں تین نکات کی طرف اشارہ ہوا ہے:
الف۔ یہ نہیں فرمایا کہ زنانہ کرو۔ بلکہ فرمایا کہ اس شرمناک کام کے قریب نہ جاؤ۔ یہ تعبیر اپنی گہرائی کے اعتبار سے اس حکم کے لیے تاکید ہے نیز یہ اس امر کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ اکثر اوقات اس گناہ کے کچھ تمہیدی اعمال بھی ہوتے ہیں جو تدریجاً انسان کو اس کے قریب کردیتے ہیں ۔ ہوا و ہوس کی نظر سے عورتوں کو دیکھنا بھی اس کا ایک مقدمہ ہے ۔ بے پردگی اس کا دوسرا مقدمہ ہے ۔ بری باتیں سکھانے والی کتابیں ، گندی فلمیں ، گھٹیا جرائد اور برائی کے مختلف مراکز بھی اس کام کا مقدمہ فراہم کرتے ہیں ۔
اسی طرح نامحرم عورتوں کے ساتھ خلوت بھی اس کا ایک عامل ہے (یعنی ایک نامحرم مرد اور عورت کسی خالی مکان یا مقام پر ہوں تو وہ بھی اس کا عامل بن سکتا ہے) ۔
اسی طرح جوان لڑکے اور لڑکی کی شادی نہ کرنا اور دونوں پر بلا وجہ سختیاں عائد کرنا بھی اس کا سبب بن جاتا ہے ۔
یہ سب ”زنا کے قریب جانے کے“عامل ہیں ۔ مذکورہ آیت اپنے مختصر جملے میں ان سب سے روکتی ہے ۔ اسلامی روایات میں ان مقدمات میں سے ہر ایک کی الگ الگ ممانعت کی گئی ہے ۔
ب۔ ”انہ کان فاحشة“ میں تین تاکیدیں موجود ہیں :
ایک ”انّ“ دوسری فعل ماضی اور تیسری ”فاحشة“۔
ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گناہ کتنا بڑا ہے ۔
ج۔ ”ساء سبیلا“ (یعنی زنا بہت بری روش ہے) ۔ یہ جملہ اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ یہ عمل معاشرے میں دیگر بُرائیوں کو بھی کھینچ لاتا ہے ۔
زنا کا فلسفہ حرمت
(الف) اس سے خاندانی نظام درہم برہم ہوجاتا ہے ۔ ماں باپ اور اولاد کے درمیان رابطہ ختم ہوجاتا ہے جبکہ یہ وہ رابطہ ہے جو نہ صرف معاشرے کی شناخت کا سبب ہے بلکہ خود اولاد کی نشود و نما کا موجب بھی ہے ۔ یہی رابطہ ساری عمر محبت کے ستونوں کو قائم رکھتا ہے اور انہیں دوام دیتا ہے ۔
مختصر یہ کہ جس معاشرے میں غیرشرعی اور بے باپ کی اولاد زیاد ہ ہو اس کے اجتماعی روا بط سخت تزلزل کا شکا ر ہو جاتے ہیں کیونکہ ان روابط کی بنیاد خاندانی روابط ہیں ۔
اس مسئلے کی اہمیت سمجھنے کے لیے لحظہ بھر اس امر پر غور کرنا کافی ہے کہ اگر سارے انسانی معاشرے میں زنا جائز اور مباح ہوجائے اور شادی بیاہ کا قانون ختم کردیا جائے تو ان حالات میں غیر مشخص اور بے ٹھکانہ اولاد پیدا ہوگی۔ اس اولاد کو کسی کی مدد اور سرپرستی حاصل نہ ہوگی۔ اسے نہ پیدائش کے وقت کوئی پوچھے گا نہ بڑا ہوکر۔
اس سے قطع نظر برائیوں ، سختیوں اور مشکلوں میں محبت کا اثر تسلیم شدہ ہے جبکہ ایسی اولاد اس محبت سے محروم ہوجائے گی اور انسانی معاشرہ پوری طرح تمام پہلوؤں سے حیوانی درندگی کی شکل اختیار کرلے گا ۔
(ب) یہ شرمناک اور قبیح عمل ہوس باز لوگوں کے درمیان طرح طرح کے جھگڑوں اور کشمکشوں کا باعث بنے گا ۔ وہ واقعات کہ جو بعض افراد نے بد نام محلوں اور غلط مراکز کی داخلی کیفیت کے بارے میں لکھے ہیں ان سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ جنسی بے راہ رویاں بدترین جرائم کو جنم دیتی ہیں ۔
(ج) یہ بات علم اور تجربے نے ثابت کردی ہے کہ زنا طرح طرح کی بیماریاں پھیلنے کا سبب بناہے ۔ اس کے آثارِ بد اور برے نتائج کی روک تھام کے لیے آج کے دور میں بہت سے ادارے قائم ہیں اور بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں مگر اعداد و شمار نشاندہی کرتے ہیں کہ کس قدر افراد اس راستے میں اپنی صحت و سلامتی گنوا بیٹھے ہیں ۔
(د) اکثر اوقات یہ عمل اسقاطِ حمل، قتل اولاد اور انقطاع نسل کا سبب بنتا ہے کیونکہ ایسی عورتوں ایسی اولاد کی نگہداری کے لیے ہرگز تیار نہیں ہوتیں اور اصولاً اولاد ان کے لیے ایسا منحوس عمل جاری رکھنے میں بہت بڑی رکاوٹ ہوتی ہے لہٰذا وہ ہمیشہ اسے پہلے سے ختم کردینے کی کوشش کرتی ہیں ۔
یہ مفروضہ بالکل موہومی ہے ایسی اولاد حکومت کے زیر کنٹرول اداروں میں رکھی جاسکتی ہے ۔ اس مفروضے کی ناکامی عملی طور پر واضح ہوچکی ہے اور ثابت ہوچکا ہے کہ اس صورت میں بِن باپ کی اولاد کی پرورش کس قدر مشکلات کا باعث ہے اور نتیجتاً بہت ہی نامرغوب اور غیر پسندیدہ ہے ۔ ایسی اولاد سنگدل، مجرم، بے حیثیت اور ہر چیز سے عاری ہوتی ہے ۔
(ہ) یہ بات فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ شادی بیاہ کا مقصد صرف جنسی تقاضے پورے کرنا نہیں بلکہ تشکیل حیات میں اشتراک، روحانی محبت، فکری سکون، اولاد کی تربیت اور تمام حالاتِ زندگی میں ہمکاری شادی کے نتائج میں سے ہیں اور ایسا بغیر اس کے نہیں ہوسکتا کہ عورت اور مرد باہم مخصوص ہوں اور عورتیں دوسروں پر حرام ہوں ۔
امام علی بن ابی طالب علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں :
میں نے پیغمبر اکرم صلی ا لله علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا:
فی الزناست خصال:ثلث فی الدنیا و ثلث فی الاٰخرة، فاٴما اللّواتی فی الدنیا فیذهب بنورالوجه، و یقطع الرزق، ویسرع الفناء و اٴما اللّواتی فی الاٰخرة فغضب الرب و سوءِ الحساب و الدخول فی النار، اٴو الخلود فی النار ۔
زنا کے چھ بُرے اثرات ہیں : ان میں سے تین کا تعلق دنیا سے ہے اور تین کا تعلق آخرت سے ہے ۔ دُنیاوی بُرے اثرات یہ ہیں کہ یہ عمل انسان کی نورانیت گنوادیتا ہے، روزی منقطع کردیتا ہے اور جلد فنا سے ہمکنار کردیتا ہے ۔ اُخروی آثار یہ ہیں کہ یہ عمل پروردگار کے غضب، حساب کتاب میں سختی اور آتشِ جہنم میں دخول یا دوام کا سبب بنتا ہے ۔(۱)
(۳) اگلی آیت میں ایک اور حکم ہے ۔ یہ حکم انسانوں کے خون کے احترام کے بارے میں ہے اور قتل نفس کی انتہائی حرمت کا ترجمان ہے ۔ قرآن کہتا ہے: جس شخص کا خون خدا نے حرام قرار دیا ہے اسے سوائے حق کے قتل نہ کرو( وَلَاتَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ الله إِلاَّ بِالْحَقِّ ) ۔
انسان کے خون کا احترام اور قتل نفس کی حرمت ایسے مسائل ہیں جن میں تمام آسمانی شریعتیں ، دین اور انسانی قوانین متفق ہیں اور اس قتل کو ایک بہت بڑا جرم اور گناہ شمار کرتے ہیں لیکن اسلام نے اس مسئلے کو بہت ہی زیادہ اہمیت دی ہے یہاں تک کہ ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے ۔ قرآن کہتا ہے:
( مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اٴَوْ فَسَادٍ فِی الْاٴَرْضِ فَکَاٴَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا )
جو کسی کو نہ جان کے بدلے اور نہ فساد فی الرض کی سزا میں قتل کردے تو اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر ڈالا ۔ (مائدہ۔ ۳۲)
یہاں تک کہ قرآن کی بعض آیات سے تو معلوم ہوتا ہے کہ دائمی عذابِ جہنم کہ جو کفار کے لیے مخصوص ہے قاتل کے لیے بھی بیان ہوا ہے اور ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ممکن ہے یہ تعبیر اس بات کی دلیل ہو کہ وہ افراد جن کے ہاتھ بے گناہ افراد کے خون سے رنگین ہوتے ہیں وہ دنیا سے ایمان کے ساتھ نہیں جائیں گے بہر حال قرآن کہتا ہے:
( وَمَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِیهَا )
جس کسی نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کردیا تو اس کی جزاء جہنم ہے کہ جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ۔ (نساء/ ۹۳)
یہاں تک کہ جو افراد لوگوں کے سامنے ہتھیار کھینچتے ہیں ان کے لیے اسلام میں محارب کی حیثیت سے سنگین سزا مقرر ہوئی ہے جس کی تفصیل فقہی کتب میں آئی ہے اس سلسلے میں ہم سورہ مائدہ آیہ ۳۳ کے ذیل میں اشارہ کر آئے ہیں ۔
نہ صرف قتل کرنا بلکہ کسی شخص کو کم سے کم اور چھوٹا آزار پہنچانے پر بھی اسلام میں سزا موجود ہے ۔
یہ بات بڑے اطمینان سے کہی جاسکتی ہے کہ خون، جان اور انسان کے مقام کا یہ سب احترام جو اسلام میں ہے کسی اور دین و آئین میں موجود نہیں ہے ۔
لیکن بالکل اسی وجہ سے کچھ ایسے مواقع آتے ہیں کہ خون کا احترام اٹھ حاتا ہے اور ان افرا د کے لیے ہے جو قتل یا اس جیسے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ اسی لیے زیر بحث آیت میں پہلے حرمت قتل نفس کا بنیادی اور عمومی قانون بیان کیا گیا اور اس کے فوراً بعد”الّابالحق “ کہہ کر ایسے افراد کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے ۔
پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے ایک مشہور حدیث میں فرمایا ہے:
لایحل امرء مسلم یشهد اٴن لا الٰه الّا الله واٴنّ محمداً رسول الله الّا باٴحدی الثلاث: النفس بالنفس، والزانی المحصن، والتارک لدینه المفارق للجماعة -
کسی مسلمان کا خون کہ جو ”لا اله الا الله “ اور ”محمد رسول الله “ کی گواہی دیتا ہو حلال نہیں ہے مگر تین مواقع پر۔ ایک یہ کہ وہ قاتل ہو، زانی محصن ہو اور وہ جو اپنا دین چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہوجائے ۔(۲)
قاتل کے بارے میں حکم تو واضح ہے ۔ اس کے قصاص میں معاشرے کی حیات اور انسانوں کی حفظِ جان کی ضمانت اور اگر اولیاءِ مقتول کو حقِ قصاص نہ دیا جائے تو قاتلوں کوشہ ملے گی اور معاشرے کا امن وامان تباہ ہوجائے گا ۔
باقی رہا زانی محصن تو اس کا قتل ایک ایسے انتہایی قبیح گناہ کے بدلے میں ہے جو قتل کے برابر ہے ۔نیز مرتد کا قتل اسلامی معاشرے میں حرج مرج کو روکتا ہے اور جیسا کہ ہم نے کہا ہے یہ ایک سیاسی حکم ہے، تا کہ نظام اجتماعی کی حفاظت کی جاسکے کیونکہ ارتداد نہ صرف اجتماعی امن و امان کے لیے خطرہ ہے بلکہ خود نظام اسلام کے لیے بھی خطرہ ہے ۔
اصولی طور پر اسلام کسی شخص کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ یہ دین قبول کرے ۔ دوسرے ادیان سے اسلام منطقی بنیادپر معاملہ کرتا ہے اور آزاد بحث و مباحثہ کا تامل ہے لیکن اگر کسی نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کر لیا او راسلامی معاشرے کا جز بن گیا اور اس طرح مسلمانوں کے اسرار سے آگاہ ہوگیا ۔اب اگر وہ دین سے پلٹ جانا چاہے اور عملی طور پر نظام اسلام کی بنیاد کمزور کرنا چاہے اور اسلامی معاشرے کے ستون گرانا چاہے تو یقیناً یہ عمل ناقابل برداشت ہے اور ان شرائط کے ساتھ اس کی سزا قتل ہے ۔(۳)
البتہ اسلام میں انسانوں کے خون کا احترام مسلمانوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ وہ غیر مسلمان جو مسلمانوں سے بر سرجنگ نہیں ہیں اور ان سے دامن و سلامتی کی زندگی بسر کرتے ہیں ان کی جان و مال ائر نا موس بھی محفوظ ہے اور ان پر تجاوز کرنا حرام اور ممنوع ہے ۔اس کے بعد قرآن اولیاء مقتول کے حق قصاص کے بارے میں کہتا ہے: جو شخص مظلوم مارا جائے اس کے ولی کو ہم نے(قاتل سے قصاص لینے کا) تسلط دیا ہے( وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهِ سُلْطَانًا ) ۔
لیکن اسے بھی نہیں چاہیے کہ ان حالات میں وہ اپنے حق سے زیادہ کا مطالبہ کرے اور قتل میں اسراف کرے کیونکہ وہ مدد دیا گیا ہے( فَلَایُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ إِنَّهُ کَانَ مَنصُورًا ) ۔
جی ہاں ! اولیاءِ مقتول جب تک حد اسلام کے اندر رہتے ہیں اور اپنی حد سے تجاوز نہیں کرتے وہ نصرت الٰہی کے زیر سایہ ہیں یہ جملہ ان اعمال کی طرف اشارہ ہے زمانہ جاہلیت میں تھے اور بعض اوقات آج کل بھی ہوتے ہیں ۔ کبھی ایک شخص کے قتل کے علاوہ اور بہت سے بے گناہ افراد قتل کردیئے جاتے ہیں ۔ جیسے زمانہ جاہلیت کی رسوم میں تھا کہ جب کسی قبیلے کا کوئی معروف آدمی قتل ہوجاتا تو مقتول کا قبیلہ قاتل کے قتل پر قناعت نہ کرتا بلکہ ضروری سمجھتا کہ قاتل کے قبیلے کا سردار معروف شخص قتل کرے چاہے اس قتل میں اس کا کوئی حصّہ نہ ہو۔(۴)
ہمارے زمانے میں بھی بعض اوقات ایسے جرائم ہوتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں ۔ اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں ۔ خصوصاً غاصب اسرائیل کا یہی کردار ہے ۔ جب کوئی فلسطینی مجاہدان میں سے کسی کو قتل کردے تو وہ فوراً فلسطینی بچوں اور عورتوں پر بم برسانے لگتے ہیں اور بعض اوقات ایک شخص کے بدلے بیسیوں بے گناہ افراد کو خاک و خون میں تڑپا دیتے ہیں ۔
عراق کی بعث پاڑٹی کی طرف سے ہمارے اسلامی ملک پر مسلط کردہ جنگ میں بھی یہی صورتِ حال دیکھتے ہیں ۔آئندہ تاریخ ان کے بارے میں فیصلہ کرے گی ہم یہ معاملہ اسی کے سپرد کرتے ہیں ۔
اسلام میں عدالت کی اس قدر اہمیت ہے کہ اسے قاتل تک کے لیے ملحوظ رکھا گیا ہے ۔ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اپنی وصیتوں میں فرماتے ہیں :
یا بنی عبد المطلب لا الفینکم تخوضون دماء المسلمین خوضاً تقولون قتل امیرالمومنین، الّا لا تقتلن بی الّا قاتلی، انظروا اذا انامت من ضربته هذه فاضربوه، ولا تمثلوا بالرجل ۔
اے اولادِ عبد المطلب!مبادا میری شہادت کے بعد مسلمانوں کا خون بہا نے لگو اور کہو کہ امیرالمومنین مارے گئے ہیں اور اس بہانے سے لوگوں کا خون بہانے لگو۔ آگاہ رہو کہ صرف میرا قاتل (عبدالرحمن بن ملجم مرادی) قتل ہوگا ۔ پوری طرح غور کرنا کہ جب میں اس ضرب سے شہید ہوجاؤں کہ جو مجھ پر لگائی گئی ہے تو اسے صرف ایک ضرب کاری لگانا اور قتل کے بعد اس کا مثلہ نہ کرنا (ناک کان وغیرہ نہ کاٹنا) ۔(۵)
(۴) اگلی آیت میں اس سلسلہ احکام کا چوتھا حکم ہے ۔ پہلے یتیموں کے مال کی حفاظت کی اہمیت بتائی گئی ہے ۔ اس میں وہی لب ولہجہ اختیار کیا گیا ہے جو منافی عفت عمل کے بارے میں گزشتہ آیات میں اختیار کیا گیا ہے ۔ ارشاد فرمایا ہے: یتیموں کے مال کے قریب نہ جاؤ( وَلَاتَقْرَبُوا مَالَ الْیَتِیمِ )
نہ صرف یہ کہ یتیموں کا مال نہ کھاؤ بلکہ اس کے حریم و حدود کو بھی محترم سمجھو۔ لیکن ممکن تھا کہ نا آگاہ لوگ اس حکم کو منفی حوالے سے دیکھتے اور یتیموں کا مال بے سرپرست چھوڑنے کے لیے اسے سند بنالیتے اور یوں یتیموں کا مال حوادث کے رحم و کرم پر رہ جاتا لہٰذا فوراً بلافاصلہ استثناء فرمایا گیا ہے: مگر نہایت اچھے طریقے سے( إِلاَّ بِالَّتِی هِیَ اٴَحْسَنُ ) ۔
ا س جامع اور واضح تعبیر کے مطابق یتیموں کے اموال میں ہر ایسا تصرف جائز ہے جو ان کی حفاظت، اصلاح اور اضافے کی نیت سے ہو اور جس میں قبل ازیں ان کے ضروری پہلوؤں کا اتلاف نہ ہونے کی منصوبہ بندی کرلی گئی ہو بلکہ ایسا تصرف ان یتیموں کی ایک خدمت ہے جو اپنے مفادات کی حفاظت نہیں کرسکتے ۔ البتہ یہ کیفیت یتیم کے فکری واقتصادی رشد تک پہنچنے کے وقت تک ہونا چاہئے ۔ جیسا کہ زیرِ بحث آیت جاری رکھتے ہوئے قرآن کہتا ہے: اس زمانے تک کہ ان میں یہ طاقت پیدا ہوجائے( حَتَّی یَبْلُغَ اٴَشُدَّهُ ) ۔
”اشد“ مادہ ”شدّ“ (بروزن ”جَد“) سے محکم گرہ کے معنی میں ہے ۔ بعد ازاں اس کے مفہوم میں وسعت پیدا ہو گئی اور اب یہ لفظ ہر قسم کے جسمانی و روحانی استحکام کے لیے بولا جاتا ہے ۔ یہاں ” اشد“ سے مراد حدّ بلوغ کو پہنچنا ہے لیکن جسمانی و بلوغت کافی نہیں بلکہ فکری و اقتصادی بلوغت ہونا چاہیے ۔ اس طرح سے کہ یتیم اپنے اموال کی حفاظت کرسکے یہ تعبیر اسی لیے منتخب کی گئی ہے کہ یقینی طور پر آزما کر دیکھ لیا جائے ۔
اس میں شک نہیں کہ ہر معاشرے میں مختلف حوادث کے باعث یتیم موجود ہوتے ہیں ۔ انسانی اقدار اور دیگر حوالوں سے ضروری ہے کہ یہ یتیم تمام پہلووں سے معاشرے کے خیر خواہ افراد کی سرپرستی میں ہوں ۔ اسی لیے اسلام نے اس مسئلے کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے ۔ اس کا کچھ حصہ ہم سورہ نساء کی آیہ ۲ کے ذیل میں ذکر کر آئے ہیں ( تفسیر نمونہ جلد ۳ کی طرف رجوع فرمائیں ) ۔
جس چیز کا ہمیں یہاں اضافہ کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ بعض روایات میں یتیم وسیع تر معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ ان افراد کو بھی یتیم کہا گیا ہے جو اپنے امام اور پیشوا سے جدا ہوچکے ہیں اور ایک مادی حکم سے معنوی استفادہ کیا گیا ہے ۔
(۵) اس کے بعد ایفائے عہد کا مسئلہ ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: اپنا عہد وفا کرو کیونکہ ایفائے عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا( وَاٴَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ کَانَ مَسْئُولًا ) ۔
بہت سے معاشرتی روابط، اقتصادی نظام اور سیاسی مسائل عہد و پیمان کے گرد گھومتے ہیں ۔ اگر عہد و پیمان متز لزل ہوجائے اور اعتماد اٹھ جائے تو معاشرے کا نظام تیزی سے در ہم برہم ہوجائے اور اس پر وحشتناک حرج و مرج مسلط ہوجائے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن آیات میں ایفائے عہد پر بہت زور دیا گیا ہے ۔
عہد و پیمان کا مفہوم بہت وسیع ہے ۔ اس میں افراد کے درمیان جو اقتصادی اور کار و باری پیمان ہوتے ہیں وہ بھی شامل ہیں اور شادی بیاہ وغیرہ کے پیمان بھی شامل ہیں ۔ ان میں وہ معاہدے بھی شامل ہیں جو اقوام وملل اور حکومتوں کے درمیان ہوتے اور ان سے بڑھ کر خدائی پیمان اور آسمانی رہبروں کے اپنی امتوں سے کیے گئے پیمان یا امتوں کی طرف سے ان سے باندھے گئے پیمان بھی اس میں شامل ہیں ۔(۶)
(۶)آخری زیرِ بحث آیت میں آخری حکم ناپ تول میں عدالت کے بارے میں ہے ۔ اس کے ذریعے حقوق الناس کی حغاظت اور کم فروشی کا سدِّ باب مقصود ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: جب کسی پیمانہ سے کوئی چیز ناپو تو اس کا حق ادا کرو( وَاٴَوْفُوا الْکَیْلَ إِذَا کِلْتُمْ ) ۔ اور صحیح اور سیدھے ترازو سے وزن کرو( وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیمِ ) ۔ کیونکہ یہ کام تمہارے فائدے میں ہے اور اس کا انجام سب سے بہتر ہے( ذٰلِکَ خَیْرٌ وَاٴَحْسَنُ تَاٴْوِیلًا ) ۔
____________________
۱۔ تفسیر مجمع البیان ج ۶ ص ۴۱۴-
۲۔ تفسیر فی ضلال، ج۵، ص۳۲۳ بحوالہ صحیح بخاری وصحیح مسلم-
۳۔ ارتداد اور اس کی سخت سزا کے بارے میں سورہ نحل کی آیہ۱۰۶ کے ذیل میں تفسیر نمونہ کی جلد ۱۱ میں ہم تفصیلی بحث کرچکے ہیں ۔
۴۔ تفسیر روح المعانی از آلوسی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں -
۵۔ نہج البلاغہ، حصّہ مکتوبات نمبر۴۷-
۶۔ ایفائے عہد اور قسم پوری کرنے کی اہمیت کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد ۱۱ سورہ نحل آیہ ۹۱ تا ۹۴ کے ذیل میں ہم تفصیلی بحث کرچکے ہیں
چند اہم نکات
۱ ۔ کم فروشی کا نقصان:
پہلا نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا چاہیے یہ ہے کہ قرآن مجید میں بارہا کم فروشی، وزن میں کمی اور دھوکا بازی کے خاتمے پر زور دیا گیا ہے ۔ ایک مقام پر یہ مسئلہ وسیع عالمِ ہستی کے نظامِ خلقت کے ہم پّلہ رکھا گیا ہے:
( وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِیزَانَ، اٴَلاَّ تَطْغَوْا فِی الْمِیزَان ) ۔
خدانے آسمان بلند کیا اور ہر چیز میں میزان اور حساب و کتاب رکھا تا کہ تم وزن اور حساب و کتاب میں سرکشی نہ کرو۔ (رحمٰن۔ ۷ و ۸) ۔
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ناپ تول پورا رکھنا کوئی کم اہم مسئلہ نہیں بلکہ اصل عدالت اور اس آفرینش کے نظم و ضبط کا حصّہ ہے جو پورے عالم ہستی پر حکم فرما ہے ۔
ایک اور مقام پر شدید اور دھمکی آمیز لہجے میں ارشاد فرما یا گیا ہے:
( وَیْلٌ لِلْمُطَفِّفِینَ، الَّذِینَ إِذَا اکْتَالُوا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُون، وَإِذَا کَالُوهُمْ اٴَوْ وَزَنُوهُمْ یُخْسِرُون، اٴَلَایَظُنُّ اٴُولَئِکَ اٴَنَّهُمْ مَبْعُوثُونَ، لِیَوْمٍ عَظِیمٍ )
وائے اور ہلاکت ہے کم فروشی کرنے والوں کے لیے کہ جو خرید تے وقت اپنا حق پورا پورا لیتے ہیں اور بیچتے وقت کم وزن میں کمی کرتے ہیں کیا وہ یہ گمان نہیں کرتے کہ قیامت کے عظیم دن عدل الٰہی کی بارگاہ میں مبعوث ہوں گے ۔ (مطففین۔ ۱ ۔ ۵)
یہاں تک کہ قرآن مجید میں بعض انبیاء کے حالات میں ہے کہ ان کے شدید مبارزہ کا رُخ شرک کے بعد کم فروشی کی طرف تھا مگر ان کی ظالم قوم نے پرواہ نہ کی اور خدا کے شدید عذاب میں گرفتار ہو کر نابود ہوگئی۔
(تفسیر نمونہ جلد ۶ دیکھیے ۔سورہ اعراف کی آیہ ۸۵ کے ذیل میں ، مدین میں حضرت شعیب(ص) کی تبلیغ کے ضمن میں تفصیلات ذکر کی گئی ہیں ) ۔
اصولی طور پر حق و عدالت، نظم و ضبط اور حساب و کتاب ہر چیز میں لاور ہر جگہ بنیادی اور حیاتی حیثیت رکھتے ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ یہ روح ہے جو تمام عالم ہستی پر حکم فرما ہے ۔ لہٰذا اس بنیادی مسئلے سے کسی بھی قسم کا انحراف خطرناک اور بد انجام ہوگا خصوصاً کم فروشی اعتماد و اطمینان کا سرمایہ ختم کردیتی ہے کہ جو مبادلات کا اہم رکن ہے ۔ یہ کام اقتصادی نظام کو درہم برہم کردیتا ہے ۔
بہت ہی افسوس کا مقام ہے کہ بعض اوقات ہم دیکھتے ہیں اس اصول کو اپنا نے میں غیر مسلم بعض فرض شناسی مسلمانوں سے آگے بڑھ جاتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ دنیا کی منڈیوں میں اسی وزن کے مطابق اجناس پہنچائیں جو ان پر لکھا ہوا ہے تا کہ دوسروں کا اعتماد حاصل کر سکیں ۔
جی ہاں ! وہ جانتے ہیں کہ انسان اہل دنیا بھی ہو تا اس راستہ یہی ہے کہ معاملہ میں خیانت نہ کرے ۔
یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ حقوق کے اعتبار سے کم فروش خریداروں کے مقروض ہیں ۔ لہٰذا ان کی توبہ یہ حقوق ادا کیے بغیر نہیں ہوسکتی جو انہوں نے غصب کیے ہیں ۔ یہاں تک کہ اگر وہ ان حقوق کے مالکوں کو نہیں پہچانتے تب بھی انہیں چاہئے کہ ان کے برابر ”ردّ مظالم“ کے طور پر اصلی مالکوں کی طرف سے سے فقرا اور مساکین کودیں ۔
۲ ۔ کم تولنے کے مفہوم کی وسعت:
بعض اوقات کم فروشی کا مفہوم وسعت اختیار کر جاتا ہے اور اس میں عمومیت آجاتی ہے ۔ اس طرح سے کہ ہر قسم کی کوتاہی اور فرائض کی انجام دہی میں کمی اس کے مفہوم میں شامل ہوجاتی ہے ۔ لہٰذا وہ کارگیر جو اپنے کام میں کچھ کمی چھوڑ دیتا ہے ، وہ استاد جو ٹھیک طرح سے درس نہیں دیتا، وہ مزدور جو بر وقت کام پر حاضر نہیں ہوتا اور دل جمعی سے کام نہیں کرتا ۔ اس حکم کے مخاطب ہیں اور اس کی خلاف ورزی کے نتائج کے حصہّ دار ہیں ۔
البتہ زیرِ بحث آیت کے الفاظ براہِ راست اس عمومیت کے لیے نہیں ہیں بلکہ مفہوم کی یہ وسعت عقلی ہے لیکن سورہ رحمن میں جو تعبیر آئی ہے وہ اس عمومیت اور وسعت کی طرف اشارہ کرتی ہے:
( وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِیزَانَ، اٴَلاَّ تَطْغَوْا فِی الْمِیزَانِ )
۳ ۔”قسطاس “ کا مفہوم:
قاف کے نیچے زیر اور پیش کے ساتھ بھی استعمال ہوتا ہے (”بروزن ”مقیاس“ اور کبھی بر وزنِ ”قُرآن“) اس کا معنی ہے ترازو ۔بعض اسے رومی زبان کا لفظ سمجھتے ہیں اور بعض عربی کا ۔بعض اوقات کہا جاتاہے کہ اصل میں یہ دو لفظوں کا مرکب ہے ”قسط“ بمعنی عدل انصاف اور ”طاس“ بمعنی ترازوکا پلڑا ۔بعض کہتے ہیں کہ ”قسطاس“بڑے ترازو کو اور ”میزان“ چھو ٹے ترازو کو کہتے ہیں ۔(۱)
بہر حال ”قسطاس“ سے مراد متقسیم اور صحیح سالم ترازو ہے جو بے کم وکاست عادلانہ وزن کرے ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ ایک روایت میں امام باقر علیہ السلام اس لفظ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
هو الذی له لسان
ترازو وہ میزان ہے جس کی زبان (دوپلڑوں کا توان بتانے والی سوئی )ہو۔(۲)
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جو ترازو اس سوئی کے بغیر ہوتے ہیں وہ دو پلڑوں کی حرکات اور توازن کو پوری طرح واضح نہیں کرتے لیکن اگر ترازو میں یہ معیاری سوئی ہوتو پلڑوں کی تھوڑی سی حرکت بھی اس سے ظاہر ہوجائے گی اور عدالت پوری طرح ملحوظ رکھی جاسکے گی ۔
____________________
۱۔ تفسیر المیزان، تفسیر فخر الدین رازی وتفسیر مجمع البیان، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔
۲۔ تفسیر صافی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔
آیات ۳۶،۳۷،۳۸،۳۹،۴۰
۳۶( وَلَاتَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اٴُوْلٰئِکَ کَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا )
۳۷( وَلَاتَمْشِ فِی الْاٴَرْضِ مَرَحًا إِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْاٴَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا )
۳۸( کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّئُهُ عِنْدَ رَبِّکَ مَکْرُوهًا )
۳۹( ذٰلِکَ مِمَّا اٴَوْحیٰ إِلَیْکَ رَبُّکَ مِنَ الْحِکْمَةِ وَلَاتَجْعَلْ مَعَ الله إِلَهًا آخَرَ فَتُلْقَی فِی جَهَنَّمَ مَلُومًا مَدْحُورًا )
۴۰( اٴَفَاٴَصْفَاکُمْ رَبُّکُمْ بِالْبَنِینَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِکَةِ إِنَاثًا إِنَّکُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِیمًا )
ترجمہ
۳۶ ۔ اس کہ پیروی نہ کر جس کا تجھے علم نہ ہو کیونکہ کان ،آنکھ اور دل سے سوال کیا جائے گا ۔
۳۷ ۔ زمین پر تکبّر سے نہ چل ،تو زمین کو چیر نہیں سکتا اور تیرے قد کی لمبائی ہر گز پہاڑوں تک نہیں پہنچ سکتی ۔
۳۸ ۔ ان سب کے گناہ تیرے پروردگار کہ ہاں لائقِ نفرت قرار پائے ہیں ۔
۳۹ ۔ یہ احکام ان حکمتوں میں سے ہیں جو تجھے تیرے پروردگار نے وحی کے ذریعے دی ہیں اور اللہ کے ساتھ ہر گز کسی کو معبود قرار نہ دے کہ تو جہنم میں جاگرے گا اس حالت میں کہ درگاہ خدا سے ملامت شدہ اور راندہ ہو گا ۔
۴۰ ۔ کیا خدانے بیٹے تم سے مخصوص کردیئے ہیں اور خود ملائکہ میں سے بیٹیاں لے لی ہیں ۔تم بہت بڑی (اور اتنہائی غلط) بات کہتے ہو ۔
تفسیر
گزشتہ آیات میں ہم نے اسلام کی کچھ انتہائی بنیاد ی تعلیمات پڑھی ہیں ۔یہ مسئلہ توحید سے شروع ہوتا ہے کہ جس سے ان تمام تعلیمات کا خمیر اٹھتا ہے اور پھر وہ احکام ہیں کہ جو انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے مربوط ہیں زیرِ نظر آیات میں ہم ان احکام کے آخر ی حصّے تک جاتے ہیں ۔یہاں چند مزید اہم احکام کی طرف اشارہ گیا ہے ۔
۱ ۔ صرف علم کی پیروی کرو :
پہلے تمام چیزوں میں تحقیق کو ضرورت قرار دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے :جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کی پیروی نہ کرو( وَلَاتَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِهِ عِلْمٌ ) ۔ نہ اپنے ذاتی عمل میں علم کے بغیر عمل کر اور نہ دوسروں کے بارے میں فیصلہ کر تے وقت بغیر علم کے شہادت دے اور نہ ہی علم کے بغیر کوئی عقیدہ و نظریہ قائم کر۔
گویا غیر عالم کی پیروی سے ممانعت ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے ۔ اس میں اعتقادی امور بھی شامل ہیں ، شہادت، قضائت اور عمل بھی۔ یہ جو بعض مفسرین نے اسے کچھ امور محدود کردیا ہے اس کی کوئی واضح دلیل نہیں ہے کیونکہ”تقف“ ”قفو“ (بروزن ”عفو“) کے مادہ سے کسی چیز کے پیچھے لگنے کے معنی میں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ غیر علم کے پیچھے لگنا وسیع مفہوم رکھتا ہے ۔ اور اس میں تمام مذکورہ چیزیں شامل ہیں ۔
لہٰذا ہر چیز کی شناخت کا معیار علم و یقین ہے اور اس کے علاوہ ظن وگمان ہو، حدس و تخمین ہو یا شک و احتمال کچھ بھی قابل اعتماد نہیں ہے ۔ جو لوگ ان امور کی بنیاد پر اعتماد کر لیتے ہیں یا فیصلے کی مسند پر بیٹھ جاتے ہیں یا شہادت دیتے ہیں یہاں تک کہ اپنے ذاتی عمل میں ان کی بنیاد پر قدم اٹھاتے ہیں وہ اس صریح حکم اسلامی کے خلاف عمل کرتے ہیں ۔
دوسرے لفظوں میں نہ شہرت پانے والی چیزیں قضائت، شھادت اور عمل کی بنیاد بن سکتی ہیں قرائن ظنی اور غیر یقینی خبریں کہ جو غیر مؤثق ذرائع سے ہم تک پہنچتی ہیں ۔
آیت کے آخر میں اس ممانعت کی دلیل اس طرح بیان کی گئی ہے:”کان، آنکھ اور دل سب کے سب مسئول ہیں “ اور جو کچھ وہ انجام دیتے ہیں اس کے بارے میں ان سے پوچھا جائے گا( إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اٴُوْلٰئِکَ کَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا ) ۔
یہ ذمہ داری اس بناء پر ہے کہ جو باتیں انسان علم و یقین کے بغیر کہتا ہے وہ یا اس نے غیر مؤثق افراد سے سنی ہوتی ہیں ، یا وہ کہتا ہے کہ میں نے دیکھا ہے جبکہ اس نے دیکھا نہیں ہوتا، یا وہ اپنے فکر و خیال کی بنیاد پر بے بنیاد فیصلے کرتا ہے کہ جو حقیقت پر منطبق نہیں ہوتے ۔ اسی بناء پر اس کی آنکھ، کان اور فکر و عقل سے سوال کیا جائے گا کہ کیا واقعاً تم ان امور کے بارے میں یقین رکھتے تھے کہ تم نے ان کے بارے میں گواہی دی یا فیصلہ کیا یا ان کے معتقد ہوئے اور ان کے مطابق عمل کیا ۔
اگر چہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ان اعضاء وجوارح سے سوال کرنے سے مرادیہ اعضاء رکھنے والوں سے سوال کرنا ہے لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ قرآن دیگر آیات (مثلاً فصلت۔ ۲۱) میں تصریح کرتا ہے کہ روز قیامت انسانی جسم کے اعضاء یہاں تک کہ بدن کی کھال بھی بات کرے گی اور یہ اعضاء حقائق بیان کریں گے، تو کوئی دلیل موجود نہیں کہ ہم آیت کے ظاہری مفہوم کو چھوڑ دیں اور یہ نہ کہیں کہ خود ان اعضاء سے سوال ہوگا ۔
رہا یہ سوال کہ حواس انسانی میں سے صرف آنکھ اور کان کا ذکر کیوں کیا گیا ہے، تو اس کی دلیل اور وجہ واضح ہے کیونکہ انسان کی حسّی معلومات کا ذریعہ عام طور پر دوہی ہیں اور باقی حواس ان کے تحت ہیں ۔
نظم معاشرہ کے لیے ایک اہم درس
مذکورہ بالا آیت اجتماعی زندگی کے ایک انتہائی اہم اصول کی طرف اشارہ کرتی ہے جسے نظر انداز کر دینے کا نتیجہ سوائے اس کے کچھ نہیں ہوگا کہ معاشرہ حرج مرج کا شکار ہوجائے گا انسانی رابطہ ختم ہوجائیں گے اور احساسات کے رشتے ٹوٹ جائیں گے ۔
اور اگر یہ قرآنی پروگرام تمام انسانی معاشروں میں پوری طرح سے جاری ہوجائے تو بہت سی بدنظمیاں ، بے اعتدالیاں اور مشکلات ختم ہوجائیں کہ جن کا سرچشمہ جلد بازی کے فیصلے، بے بنیاد گمان، مشکوک اور جھوٹی خبریں ہوتی ہیں ۔
اگر قرآن کا یہ حکم رائج نہ ہو تو معاشرہ پر حرج مرج اور فتنہ و فساد کی فضا چھا جائے گی اور کوئی شخص دوسرے کی بدگمانی سے نہیں بچ سکے گا، کسی کو کسی پر اطمینان نہیں ہوگا اور تمام افراد کی عزت و آبرو اور مقام ہمیشہ خطرے میں رہے گا ۔
بہت سی دیگر قرآنی آیات اور اسلامی روایات میں اس بات پر زور دیا گیا ہے ۔ مثلاً:
(۱) وہ آیات کہ جو ظن و گمان کی پیروی کرنے کی وجہ سے بے ایمان افراد کی شدید مذمت کرتی ہیں ۔مثلاً:
( وَمَا یَتَّبِعُ اٴَکْثَرُهُمْ إِلاَّ ظَنًّا إِنَّ الظَّنَّ لَایُغْنِی مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا ) ۔
ان میں اکثر اپنے فیصلوں میں صرف ظن و گمان کی پیروی کرتے ہیں حالانکہ ظن و گمان انسان کو کسی طرح بھی حق و حقیقت تک نہیں پہنچا سکتے ۔ (یونس۔ ۳۶)
(۲) ایک اور مقام پر پیروی ظن کو ہوائے نفس کی پیروی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے:
( إِنْ یَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَمَا تَهْوَی الْاٴَنْفُس ) ۔
وہ صرف گمان اور ہوائے نفس کی پیروی کرتے ہیں ۔ (نجم۔ ۲۳)
(۳) ایک حدیث میں امام صادق سے مروی ہے:ان من حقیقة الایمان ان لا یجوز منطقک علمک
ایمان کی حقیقت میں سے یہ ہے کہ تیری گفتگو تیرے علم سے زیادہ نہ ہو اور جتنا تو جانتا ہے تو اس سے زیادہ بات نہ کرے ۔(۱)
(۴) ایک اور حدیث میں امام موسیٰ بن جعفرعلیہ السلام سے مروی ہے، آپ(ص) اپنے آباؤ اجداد سے نقل کرتے ہیں :
لیس لک ان تتکلم بما شئت، لان اللّٰه عزوجل یقول ( ولا تقف ما لیس لک به علم ) ۔
تو جو چاہے نہیں کہہ سکتا کیونکہ خدا کہتا ہے: جس کا تجھے علم نہیں اس کی پیروی نہ کر۔(۲)
(۵) ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم سے منقول ہے، آپ فرماتے ہیں :
ایّاکم والظن فان الظن اکذب الکذب
گمان سے پرہیز کرو کیونکہ گمان بدترین جھوٹ ہے ۔(۳)
(۶) ایک شخص امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا ۔ اس نے عرض کی:
میرے کچھ ہمسائے ہیں ۔ ان کے پاس گانے بجانے والی کنیزیں ہیں ۔ وہ گاتی بجاتی ہیں ۔ بعض اوقات میں بیت الخلاء میں جاتا ہوں تو زیادہ دیر بیٹھا رہتا ہوں تاکہ ان کے گیت سن سکوں حالانکہ میں اس مقصد کے لیے نہیں جاتا ۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
کیا تو نے خدا کا یہ ارشاد نہیں سنا:( إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اٴُوْلٰئِکَ کَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا )
(یقینا کان، آنکھ اور دل سب سے سوال ہوگا)
اس نے عرض کیا:مجھے یوں لگا ہے کہ جیسے یہ آیت میں نے ہرگز کبھی کسی عرب یا عجم سے نہیں سنی میں ابھی سے یہ کام چھوڑتا ہوں اور بارگاہ الٰہی میں توبہ کرتا ہوں ۔(۴)
بعض مصاد ر حدیث میں اس روایت کے ذیل میں ہے کہ امام (ص)نے اسے حکم دیا:
جاؤ اور غسل توبہ کرو اور جس قدر ہوسکے نماز پڑھو کیونکہ تم نے بہت بُرا کام کیا ۔ اگر تو اس حالت میں مرجاتا تو تجھے عظیم جواب وہی کاسامنا کرنا پڑتا ۔
یہ آیات اور پیغمبر اکرم صلی ا للهعلیہ وآلہ وسلم اور آئمہ ہدیٰ(ص) سے منقول احادیث سے واضح ہوجاتا ہے کہ اسلام کس طرح انسان کی آنکھ اور کان کو مسئول قرار دیتا ہے ۔ اسلام کا تقاضا ہے کہ انسان جب تک نہ دیکھے نہ کہے، جب تک نہ سنے فیصلہ نہ کرے اور تحقیق، علم اور یقین کے بغیر کسی چیز کا اعتقاد نہ رکھے، نہ عمل کرے اور نہ قضاوت کرے ۔
گمان ، تخمینے، اندازے اور سنی سنائی باتوں کی پیروی کرنا اور علم و یقین کے بغیر کسی چیز کے پیچھے لگنا فرد اور معاشرے کے لیے بہت بڑے خطرات پیدا کرتی ہے ۔ ان میں سے ہر ایک کے بہت زیادہ نقصانات ہیں ۔مثلاً:
(۱) غیر علم پر بھروسہ کرنا لوگوں کے حقوق کی پامالی اور غیر مستحق افراد کو کسی کا حق دینے کا سرچشمہ ہے ۔
(۲) غیر علم کی پیروی آبرو مند افراد کی غزت و آبرو کو خطرے میں ڈال دیتی ہے اور خدمت گزاروں کو بد دِل کردیتی ہے ۔
(۳) غیر علم پر اعتماد پر ا پیگنڈا، افواہوں اور جعل سازیوں کا بازار گرم کردیتا ہے ۔
(۴) غیر علم کی پیروی انسان میں تحقیق وجستجو کا جذبہ ختم کردیتی ہے اور اسے ایک جلد باور کرنے والا اور احمق شخص بنادیتی ہے ۔
(۵) غیر علم کی پیروی گھر، بازار، کاروبار غرض ہر جگہ پر سے گرم جوشی اور دوستی کے روابط ختم کردیتی ہے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے بارے میں بدگمان بنادیتی ہے ۔
(۶) غیر علم کی پیروی ہمارے استقلالِ فکری کو ختم کردیتی ہے اور ہماری روح کو ہر قسم کا زہریلا پراپیگنڈاقبول کرنے پر آمادہ کردیتی ہے ۔
(۷)غیر علم کی پیروی ہر شخص اور ہر چیز کے بارے میں جلد بازی سے فیصلہ کرنے کا سرچشمہ ہے اور یہ خود طرح طرح کی ناکامیوں اور پشیمانیوں کا سبب ہے ۔
گمان کی طرف میلان کا سدِّ باب
اب جو سوال باقی رہ گیا ہے وہ یہ ہے کہ ہم اس بُری اور منحوس عادت اور اس کے دردناک انجام سے کس طرح اپنے آپ کو اور معاشرے کو نجات دلاسکتے ہیں ، اس سوال کے جواب کے لئے ایک طویل بحث کی ضرورت ہے البتہ ہم یہاں مختصر اور چچے تلے نکات کی صورت میں ایک دستور العمل پیش کرتے ہیں ۔
(الف) اس عمل کے دردناک نتائج اور انجام سے لوگوں کو پیہم آگاہ کرنا چاہیے اور ان سے تقاضا کرنا چاہیے کہ وہ غیر علم کے منحوس نتائج پر غور وفکر کریں ۔
(ب) اسلامی طرزِ تفکر اور اسلام کے اندازِ جہاں بینی کو لوگوں میں زندہ کرنا چاہیے تاکہ وہ جان سکیں کہ خدا ہر حالت میں لوگوں پر نگران ہے، وہ سمیع وبصیر ہے، یہاں تک کہ وہ ہمارے افکار ونظریات سے بھی آگاہ ہے ۔
( یَعْلَمُ خَائِنَةَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِیَ الصُّدُوْرِ )
وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو کچھ سینوں میں چھپاتے اس سے بھی وہ آگاہ ہے ۔ (مومن/ ۱۹)
ہم جو بھی بات کرتے ہیں اور جو بھی قدم اٹھاتے ہیں ہمارے حساب میں لکھا جاتا ہے اور ہم اپنے اتمام اعمال، فیصلوں اور اعتقادات کے جوابدہ ہیں ۔
(ج) رشدِ فکری کی سطح بلند کرنا چاہیے کیونکہ غیرعلم کی پیروی عام طور پر آگاہ اور بے علم عوام کرتے ہیں کہ جو ایک بے بنیاد خبر سن کر فوراً اس سے چمٹ جاتے ہیں اور فیصلہ کرلیتے ہیں اور اسی کے مطابق پھر اقدام کرتے ہیں ۔
۲ ۔ متکبر نہ بنو
اگلی آیت میں غرور وتکبر کے خلاف ہے، اس میں مومنین کو زندہ اور روشن تعبیر سے غرور کرنے کی ممانعت کی گئی ہے ۔
رسول الله کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: روئے زمین پر غرور وتکبر سے نہ چلو( وَلَاتَمْشِ فِی الْاٴَرْضِ مَرَحًا ) ۔(۵) کیونکہ تم ہرگز زمین کو چیز نہیں سکتے اور تمھارا لمبا قد پہاڑوں تک نہیں پہنچ سکتا( إِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْاٴَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا ) ۔
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ مغرور لوگ عام طور پر چلتے وقت زمین پر زور زور سے پاؤں پٹختے ہیں تاکہ لوگوں کو بتائیں کہ ہم آرہے ہیں ۔ گردن اوپر اکڑا کر رکھتے ہیں تاکہ اہلِ زمین پر بزعمِ خود اپنی برتری جتا سکیں لیکن قرآن کہتا ہے کہ تم بھی زمین پر کیسے ہی اپنے پاؤں پٹخو، کیا اسے چیر سکو گے جبکہ اس کرہ خاکی پر تمہارا وجود بالکل ناچیز ہے ۔ یہ تو بالکل اس چیونٹی کی طرح ہے جو بہت بڑے پتھر پر چل رہی ہو اور اپنا پاؤں اس پر پٹخے تو پتھر اس کی حماقت اور کم ظرفی پر ہنسے گاہی۔
تو اپنی گردن کو جتنا بھی اکڑالے کیا پہاڑوں کا ہمطراز ہوسکتا ہے اس طرح تو زیادہ سے زیادہ چند سنٹی میٹر اپنے تئیں اونچا کرسکتا ہے جبکہ اس زمین کے بلند ترین پہاڑوں کی چوٹی بھی اس کرہ کے مقابلے میں کوئی قابل ذکر حیثیت نہیں رکھتی اور خود زمین پوری گائنات کے مقابلے میں ایک ذرہ بے مقدار ہے ۔ پس تیرا یہ غرور و تکبر چہ معنی دارد؟
یہ امر قابل توجہ ہے کہ غرور و تکبر ایک خطرناک باطنی بیماری ہے لیکن قرآن نے براہِ راست اس پر بحث نہیں کی بلکہ اس کے ظاہری آثار میں سے بھی سادہ ترین اثرات کی نشاندہی کی ہے اور خود پسند بے مغز متکبروں اور مغروروں کی چال کے بارے میں بات کی ہے ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ تکبر و غرور اپنے کمترین آثار کی سطح پر بھی مذموم، ناپسندیدہ اور شرمناک ہے ۔ نیز یہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ انسان کی اندرونی صفات جو بھی ہوں وہ چاہے نہ چاہے ان کی جھلک اس کے اعمال میں ضرر نظر آجاتی ہے ۔ اس کی چال ڈھال میں ، اس کے دیکھنے کے اندر میں ، اس کی بات کرنے کے طریقے میں اور اس کے تمام کاموں میں اس کی داخلی صفات جھلکتی ہیں ۔ لہٰذا اگر ان صفات کا کچھ بھی اثر اعمال میں نظر آئے تو ہمیں متوجہ ہونا چاہیے کہ خطرہ نزدیک آگیا ہے اور ہمیں فکر کرنا چاہیے کہ اس مذموم عادت نے ہماری روح میں گھونسلا بنالیا ہے لہٰذا ہمیں اس کے خلاف مقابلے کے لیے اٹھ کھڑا ہونا چاہیے ۔
ضمنی طور پر ہم نے جو کچھ کہا ہے اس سے اچھی طرح معلوم ہوسکتا ہے کہ زیر بحث آیت میں (اسی طرح سورہ لقمان میں اور قرآن کی دوسری سورتوں میں )قرآن کا ہدف یہ ہے کہ غرور و تکبر کی کلّی طور پر مذمت کی جائے نہ کہ اس کے کسی خاص موقع کی یعنی چلنے پھرنے کے انداز کی۔
کیونکہ غرور و تکبر خدا فراموشی، خود فراموشی، فیصلے میں اشتباہ، راہِ عق سے گمراہی، شیطان کے راستے سے وابستگی اور طرح طرح کے گناہوں سے آلودگی کا سرچشمہ ہے ۔
حضرت علی علیہ السلام خطبہ ”ہمام“ میں پرہیز گاروں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :و مشیهم التواضع
اور ان کی چال ڈھال میں انکساری ہوتی ہے ۔(۶)
نہ صرف کوچہ بازار میں چلتے ہوئے ان میں انکساری ہوتی ہے بلکہ زندگی کے تمام امور میں یہاں تک کہ مطالعات فکری میں اور نظریات و افکار کے سفر میں انکساری ان کے ساتھ ساتھ ہوتی ہے ۔
ہادیانِ اسلام کی اپنی زندگی اس سلسلے میں ہر مسلمان کے لیے بہت ہی سبق آموز اور نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔
پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی سیرت میں ہم پڑھتے ہیں کہ آپ ہرگز اجازت نہیں دیتے تھے کہ جس وقت آپ سوار ہوں تو کچھ لوگ پیادہ آپ کے ہمرکاب چلیں بلکہ فرماتے تھے:
تم فلاں جگہ پہنچو، میں بھی آجاؤں گا ۔ وہاں ملاقات ہوگی پیادہ شخص کا سوار کے ساتھ چلنا سوار کے غرور اور پیادہ کی ذلت کا سبب بنتا ہے ۔
نیز ہم بڑھتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم زمین پر بیٹھتے، غلاموں کی سی سادہ غذا کھاتے، بکری کا دودھ دوہتے اور گدھے کی ننگی پشت پر سوار ہوتے ۔
یہاں تک کہ جب آپ کے اقتدار کا زمانہ تھا مثلاً فتح مکّہ کے دن بھی اسی طرح کے کام انجام دیتے تھے تاکہ لوگ یہ گمان نہ کریں کہ کسی مقام پر پہنچنے سے غرور پیدا ہوگیا ہے اور آپ کوچہ و بازار کے لوگوں اور مستضعفین سے الگ رہنے لگے ہیں اور محنت کش عوام سے بیگانہ ہوگئے ہیں ۔
حضرت علی علیہ السلام کے حالات میں بھی ہے کہ آپ گھر کے لیے خود پانی بھرتے اور بعض اوقات گھر میں جھاڑو دیتے ۔
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے حالات میں ہے کہ کئی سواریاں آپ(ص) کے پاس تھیں اس کے باوجود آپ(ص) بیس مرتبہ پا پیادہ بیت اللہ کی زیارت سے مشرف ہوئے ۔ آپ(ص) فرماتے تھے:
میں ایسا بارگاہِ الٰہی میں عجزو انکساری کے لیے کرتا ہوں ۔(۷)
اگلی آیت میں گزشتہ آیات میں بیان کیے گئے احکام پر تاکید کی گئی ہے ۔شرک، قتل نفس، زنا، قتلِ اولاد، مالِ یتیم میں تصرف اور ماں باپ کو آزار پہنچانے کے بارے میں فرمایا گیا ہے:ان تمام کا گناہ تیرے پروردگار کے نزدیک قابلِ نفرت ہے( کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّئُهُ عِنْدَ رَبِّکَ مَکْرُوهًا ) ۔(۸)
اس تعبیر سے واضح ہوجاتا ہے کہ مکتب جبر کے پیرو کاروں کے قول کے برخلاف خدانے ہرگز ارادہ نہیں کیا کہ کسی سے گناہ سر زد ہوا گر اس نے ایسا ارادہ کیا ہوتا تو اس آیت میں اس سے کراہت اور ناراضگی مناسب نہ تھی۔
ضمناً واضح ہوجاتا ہے کہ قرآن کی زبان میں بہت بڑے گناہوں کے لیے بھی لفظ مکروہ استعمال ہوا ہے ۔
۳ ۔ مشرک نہ بنو
تاکید مزید کے لیے اور اس لیے کہ ان تمام حکیمانہ احکام کا سرچشمہ وحی الٰہی ہے فرمایا گیا ہے: یہ سب حکمت آمیز احکام ہیں کہ جن کی تیرے پروردگار نے تیری طرف وحی کی ہے( ذٰلِکَ مِمَّا اٴَوْحیٰ إِلَیْکَ رَبُّکَ مِنَ الْحِکْمَةِ ) ۔
”حکمت“ کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ ان آسمانی احکام کا سرچشمہ وحی الٰہی ہے، اس کے علاوہ یہ میزان عقل پر بھی بالکل پوری اتر تے ہیں اور عقل کے مطابق قابل ادراک ہیں ۔
کون شخص شرک، قتل نفس یا ماں باپ کو آزار پہنچانے کی قباحت کا انکار کر سکتا ہے ۔ اسی طرح کون زنا تکبر، یتیموں پر ظلم اور پیمان شکنی کے منحوس نتائج کا انکار کر سکتا ہے ۔
دوسرے لفظوں میں ، یہ احکام عقلی کے ذریعے بھی قابت شدہ ہیں اور وحی الٰہی کے ذریعے سے بھی اور تمام احکام الٰہی کے اصول اسی طرح ہیں اگر چہ عقل کے کم فروغ چراغ سے ان کی تفصیلات کو اکثر اوقات مشخص نہیں کیا چاسکتا اور صرف وحی الٰہی کے طاقتوں نور ہی سے انہیں پہنچانا جاسکتا ہے ۔
بعض مفسرین نے حکمت کی تعبیر سے یہ استفادہ بھی کیا ہے کہ متعدد احکام جو گزشتہ آیات میں گزرے ہیں ثابت، مستحکم اور ناقابل تنسیخ ہیں اور یہ تمام آسمانی ادیان میں تھے ۔ مثلاً شرک، قتل نفس، زنا، پیمان شکنی ایسی چیزیں نہیں ہیں کہ جو کسی بھی مذہب میں جائز شمار ہوتی ہوں ۔ پس یہ احکام محکمات او رقوانین ثابت کا حصہّ ہیں ۔اس کے بعد جس طرح ان احکام کی ابتداء تحریم شرک سے کی گئی ہے حرمت شرک کی تاکید کے ساتھ ان کا اختتام ہوتا ہے ۔ ارشاد فرمایا گیا ہے: خدائے یگانہ کے ساتھ ہرگز شریک کا قائل نہ ہونا اور الله کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود قرار نہ دینا( وَلَاتَجْعَلْ مَعَ الله إِلَهًا آخَرَ ) ۔
کیونکہ اس امر کے سبب تو دوزخ میں جا گرے گا جبکہ مخلوق خدا کی ملامت بھی تجھے دامن گیر ہوگی اور بارگاہ الٰہی سے بھی تو دھتکار ا جائے گا اور اس کا قہر و غضب بھی تجھے لاحق ہوگا ۔( فَتُلْقَی فِی جَهَنَّمَ مَلُومًا مَدْحُورًا ) ۔
د رحقیقت تمام انحرافات، جرائم اور گناہوں کا خمیر شرک او ردوگانہ پرستی سے اٹھتا ہے ۔ اسی لیے اسلام کے اساسی احکام کا یہ سلسلہ حرمتِ شرک سے شروع ہوتا ہے اور تحریمِ شرک پر ہی تمام ہوتا ہے ۔
آخری زیرِ بحث آیت میں مشرکیں کی ایک بیہودہ خرافاتی فکر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کے پایہ منطق اور سطح فکر کو واضح کیا گیاہے ۔ ان میں سے لوگ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں حالانکہ خود بیٹی کا نام سن کر شرم محسو س کرتے تھے اور اپنے کھر میں اس کی ولادت کو بدبختی کا باعث خیال کرتے تھے قرآن مجید خود انہی کی منطق کی زبان میں انہیں جواب دیتا ہے: کیا تمہارے پروردگار نے بیٹے صرف تمہارے حصّے میں دے دیئے ہیں اور خود اپنے لیے اس نے فرشتوں میں سے بیٹیاں لے لی ہیں( اٴَفَاٴَصْفَاکُمْ رَبُّکُمْ بِالْبَنِینَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِکَةِ إِنَاثًا ) ۔
اس میں شک نہیں کہ بیٹیاں بھی بیٹیوں کی طرح نعماتِ الٰہی ہیں اور انسانی قدر و قیمت کے لحاظ سے ان میں کوئی فرق نہیں ۔ اصولی طور پر بقائے نسل انسانی ان دونوں میں سے کسی ایک کے بغیر ممکن نہیں لہٰذا زمانہ جاہلیت میں لڑکیوں کو جو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا وہ بیہودہ، فضول اور خرافاتی فکر تھی۔ اس کا پس منظر کیا تھا، اس کے بارے میں ہم تفصیلی بحث کرچکے ہیں ۔(۹)
لیکن قرآن کا مقصد یہ ہے کہ انہیں ان ہی کی منطق کے ذریعے مغلوب کرے کہ تم کیسے نادان لوگ ہوکہ اپنے پروردگار کے لیے ایسی چیز کا نظریہ رکھتے ہو جس سے خود تم عار محسوس کرتے ہو۔
اس کے بعد آیت کے آخر میں ایک قاطع اور یقینی حکم کی صورت میں فرمایا گیا ہے: تم بہت بڑی اور کفر آمیز بات کرتے ہو( إِنَّکُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِیمًا ) ۔ ایسی بات جو کسی منطق سے مناسبت نہیں رکھتی اور کئی حوالوں سے بے بنیاد ہے مثلاً:
۱ ۔ خدا کی اولاد ہونے کا اعتقاد اس کی ساحتِ مقدس میں ایک بہت بڑی اہانت ہے کیونکہ نہ وہ جسم ہے نہ عوارض جسمانی رکھتا ہے اور نہ بقائے نسل کا محتاج ہے ۔ لہٰذا اس کے لیے اولاد کا اعتقاد صرف اس کی پاکیزہ صفات کو نہ پہچاننے کی وجہ سے ہے ۔
۲ ۔ تم خدا کی ساری اولاد بیٹیوں میں منحصر کیوں سمجھتے ہو جبکہ بیٹی کے لیے بہت پست قدر و منزلت کے قائل ہو۔ تمہارے خیالات کے لحاظ سے یہ احمقانہ اعتقاد خدا کی بارگاہ میں ایک اور اہانت ہے ۔
۳ ۔ ان تمام باتوں سے قطع نظر یہ عقیدہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کے مقام کی بھی تو ہین ہے، جبکہ وہ فرمانِ حق پر قائم ہیں اور مقربِ بارگاہِ الٰہی ہیں ۔ خود بیٹی کے نام سے گھبرا جاتے ہو لیکن ان سب مقربانِ الٰہی کو بیٹی فرض کرتے ہو۔
ان امور کی جانب توجہ سے اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے کہ یہ بات ایک بہت بڑی بات ہے ۔ واقعات سے انحراف کے لحاظ سے بڑی ہے کہ تم معصوم بیٹیوں کی تحقیر و تذلیل کرتے ہو اور ان کے احترام میں کمی کرتے ہو۔
لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ مشرکینِ عرب ، فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کیوں خیال کرتے تھے ۔ اسی طرح زمانہ جاہلیت کے عرب بیٹیوں کو زندہ در گور کیوں کرتے تھے اور ان کے نام سے وحشت کیوں کرتے تھے نیز دوسری طرف اسلام نے عورت کو کیا مقام و منزلت عطا کیا اور کس طرح سے صنفِ عورت کی تذلیل کے نظریات کا مقابلہ کیا ۔ ان تمام امور پر تفصیلی بحث تفسیر نمونہ جلد ۱۱ ، سورہ نحل آیات ۵۷ تا ۵۹ کے ذیل میں آچکی ہے ۔
____________________
۱۔ وسائل الشیعہ، ج ۱۸ ص ۱۶-۲۔وسائل الشیعہ، ج ۱۸ ص ۱۷-۳۔وسائل الشیعہ، ج ۱۸ ص ۳۸-۴۔ نور الثقلین، ج۳، ص۱۶۴-
۵۔ ”مَرَحَ“ (بروزن ”فَرَحَ“) ایک باطل اور بے بنیاد بات پر بہت زیادہ خوشی کے معنی میں ہے ۔۶۔ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۹۳-۷۔ تفسیر نونہ جلد ۶ میں بھی غرور و تکبر کے نقصان کے بارے میں گفتگو کرچکے ہیں (دیکھیے اردو ترجمہ)۸۔ ”سیہ“ کی ضمیر ”ذٰلک“یا” کل“ کی طرف لوٹتی ہے اور یہ ان الفاظ کے مفرد ہونے کی وجہ سے مفرد ہے اگر چہ یہاں جمع کے معنی رکھتی ہے ۔۹۔ تفسیر نونہ، ج ۱۱ ،سورہ نحل کی آیات ۵۸ و ۵۹ کے ذیل میں دیکھئے ۔
آیات ۴۱،۴۲،۴۳،۴۴
۴۱( وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِی هٰذَا الْقُرْآنِ لِیَذَّکَّرُوا وَمَا یَزِیدُهُمْ إِلاَّ نُفُورًا )
۴۲( قُلْ لَوْ کَانَ مَعَهُ آلِهَةٌ کَمَا یَقُولُونَ إِذًا لَابْتَغَوْا إِلیٰ ذِی الْعَرْشِ سَبِیلًا )
۴۳( سُبْحَانَهُ وَتَعَالیٰ عَمَّا یَقُولُونَ عُلُوًّا کَبِیرًا )
۴۴( تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْاٴَرْضُ وَمَنْ فِیهِنَّ وَإِنْ مِنْ شَیْءٍ إِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَکِنْ لَاتَفْقَهُونَ تَسْبِیحَهُمْ إِنَّهُ کَانَ حَلِیمًا غَفُورًا
) ترجمہ
۴۱ ۔ ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے مؤثر طور پر بیان کیا تا کہ وہ کسی طرح سمجھیں لیکن(جن کے دل اندھے تھے) ان میں نفرت کے سوا کسی چیز کااضافہ نہ ہوا ۔
۴۲ ۔ کہہ دو: اگر اس کے ساتھ اور خدا ہوتے، جیسا کہ تمہارا خیال ہے تو وہ کوشش کرتے کہ مالک عرش خدا کی طرف کوئی راہ نکالیں ۔
۴۳ ۔ جو کچھ یہ کہتے ہیں وہ اس سے پاک و برتر ہے، بہت ہی برتر ۔
۴۴ ۔ سات آسمان اور زمین اور جو اس میں ہیں ۔ سب اس کی تسبیح کرتے ہیں اور ہر موجود اس کی تسبیح اور حمد کرتا ہے لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے ۔ وہ حلیم اور بخشنے والاہے ۔
وہ حق سے کیو نکر فرار کرتے ہیں ؟
گزشتہ آیات میں گفتگو مسئلہ توحید پر تمام ہوئی ۔زیر بحث آیات میں واضح اور قاطع اندازہ میں اسی مسئلے پر تاکید کی جارہی ہے ۔
پہلے توتوحید کے مختلف دلائل کے سامنے ایک گروہ مشرکین کی انتہائی ہٹ دھر می کا ذکر کیا گیا ہے ۔ارشاد ہو تاہے :ہم نے اس قرآن میں بہت سے استد لال پیش کیے اور طرح طرح سے مؤثر طور پر بیان کیا تاکہ وہ سمجھیں اور راہ حق میں قدم اٹھائیں لیکن ان سب استدلال اور بیانات پر انہوں نے فرار ہی کیا اور ان کی نفرت کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا( وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِی هٰذَا الْقُرْآنِ لِیَذَّکَّرُوا وَمَا یَزِیدُهُمْ إِلاَّ نُفُورًا ) ۔
”صرّف“مادہ ”تصریف“سے تبدیل کرنے اور دگرگوں کرنے کے معنی میں ہے ۔ خصوصاً اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ بابِ تفعیل سے ہے، کثرت کا مفہوم اس میں پنہاں ہے ۔
قرآن میں توحید کے اثبات اور شرک کی نفی کے لیے کبھی منطقی استدلال پیش کیا گیا ہے، کبھی برہان فطرت سے کام لیا گیا ہے، کبھی تہدیہ کی صورت اپنائی گئی ہے اور کبھی تشویق کی راہ اختیار کی گئی ہے خلاصہ یہ کہ مشرکین کو بیدار اور آگاہ کرنے کے لیے کلام کے مختلف طریقوں اور فنوں سے استفادہ کیا گیا ہے لہٰذا ”صرفنا“ کی تعبیر اس مقام پر بہت ہی مناسب ہے ۔
اس تعبیر کے ذریعے قرآن کہتا ہے: ہم ہر دروازے سے وارد ہوئے اور ہم نے ہر راستے سے استفادہ کیا تاکہ ان کے اندھے دلوں میں توحید کا چراغ روشن کردیں لیکن ان میں سے ایک گروہ اس قدر ہٹ دھرم، متعصب اور سخت ہے کہ نہ صرف ان بیانات سے وہ حقیقت کے قریب نہیں ہوئے الٹا ان کی نفرت اور دوری میں اضافہ ہوا ہے ۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان بیانات کا الٹا نتیجہ نکلتا ہے تو پھر ان کے ذکر کا کیا فائدہ؟
جواب واضح ہے اور وہ یہ کہ قرآن ایک خاص گروہ کے لیے نازل نہیں ہوا بلکہ یہ سارے انسانی معاشرے کے لیے ہے اور مسلّم ہے کہ سب انسان تو ایسے نہیں ہیں ۔ بہت سے ایسے بھی ہیں کہ وہ یہ دلائل سنتے ہیں تو راہِ حق ان پر آشکار ہوجاتی ہے ۔ ان تشنگانِ حقیقت کا ہر دستہ قرآن کے کسی ایک طرح کے بیان سے فائدہ اٹھاتا ہے اور بیدار ہوجاتا ہے اور ان آیات کے نزول کا یہی اثر کافی ہے اگر چہ کور دِل اس سے الٹا اثر لیتے ہیں ۔
علاوہ ازیں اس متعصب اور ہٹ دھرم گروہ کا راستہ اگر چہ غلط ہے اور یہ خود بدبخت ہیں لیکن حق طلب افراد ان سے اپنا موازنہ کر کے راہ حق کو بہتر طور پر پاسکتے ہیں کیونکہ نور ظلمت کے مقابلے سے نور کی قیمت بیشتر معلوم ہوتی ہے یہاں تک کہ بے ادبوں سے بھی سیکھا جاسکتا ہے ۔
ضمنی طور پر اس آیت سے تربیت اور تبلیغ مسائل کے سلسلے میں یہ درس لیا جاسکتا ہے کہ اعلیٰ تربیتی اہداف و مقاصد تک پہنچنے کے لیے صرف ایک ہی طریقے سے استفادہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ مختلف اور طرح طرح کے وسائل سے استفادہ کیا جانا چاہئے کیونکہ استعداد مختلف ہوتی ہے ۔ ہر ایک پر اثر انداز ہونے کے لیے خاص انداز ہونا چاہیے ۔ فنونِ بلاغت میں سے ایک یہ اسلوب ہے ۔
دلیل تمانع
اگلی آیت توحید کی ایک دلیل کی طرف اشارہ کرتی ہے جو علماء اور فلاسفہ میں ”دلیل تمانع“ کے نام سے مشہور ہے ۔
ارشاد ہوتا ہے: اے رسول! ان سے کہہ دو: اگر خداوند قادر متعال کے ساتھ اور بھی خدا ہوتے، جیسا کہ تمہارا خیال عے، تو وہ خدا کوشش کرتے کہ خدائے عظیم صاحب عرش تک پہنچنے کی کوئی راہ نکالیں اور اس پر غلبہ حاصل کرلیں( قُلْ لَوْ کَانَ مَعَهُ آلِهَةٌ کَمَا یَقُولُونَ إِذًا لَابْتَغَوْا إِلیٰ ذِی الْعَرْشِ سَبِیلًا ) ۔
”ا( ِٕذًا لَابْتَغَوْا إِلیٰ ذِی الْعَرْشِ سَبِیلًا ) “ کا مفہوم اگر چہ یہ ہے کہ”وہ صاحب عرش کی طرف راہ نکالتے“ لیکن طرز بیان نشاندہی کرتا ہے کہ مراد اس پر غلبہ حاصل کرنے کی کوئی سبیل پیدا کرنا ہے ۔ خصوصاً ”الله “ کے بجائے”ذی العرش“ کی تعبیر اسی مطلب کی طرف اشارہ کرتی ہے یعنی وہ بھی چاہتے کہ عرش اعلیٰ کے مالک بن جائیں اور سارے جہان ہستی پر حکومت کریں ۔ لہٰذا ا س سے مقابلے کے لیے اٹھ کڑے ہوتے ۔
بہر حال یہ امر فطر ی اور طبیعی ہے کہ ہر صاحب قدرت چاہتا ہے کہ اپنے اقتدار کامل کرے اور اپنے قلمرو حکومت کو تو سیع دے اور اگر سچ مچ کوئی خدا موجود ہوتے تو توسیع حکومت کا یہ تنارع اور تمانع ان میں رونما ہوتا ۔(۱)
لیکن اگلی آیت کی تعبیرات اور بعد کی آیت اس تفسیر سے ہرگز مناسبت نہیں رکھتیں ۔
ممکن ہے کہا چاہیے کہ کونسا مانع ہے اور کیا حرج ہے کہ متعدد خدا ایک دوسرے کے ساتھ ہمکاری اور تعادن کرتے ہوئے ا س عالم پر حکومت کریں اور کیا ضروری ہے کہ وہ آپس میں جھگڑیں ۔
اس سوال کے جواب میں اس حقیقت کی طرف توجہ کرنا چاہیے کہ اگر چہ ہر موجود کے لیے تکامل اورتوسیعِ اقتدار سے لگاؤ فطری اورطبیعی ہے اور یہ بھی کہ جن خداؤں کا مشرکین عقیدہ رکھتے تھے وہ بہت سی بشری صفات کے حامل تھے کہ جن میں حکومت و قدرت سے لگاؤایک زیادہ واضح صفت ہے لیکن ان سب امور سے قطع نظر اختلاف تعدّدِ وجود کا لازمہ ہے کیونکہ اگر کسی رویّے، پروگرام اور دیگر پہلوؤں سے کوئی اختلاف نہ ہو تو تعدّد کا کوئی معنی ہی نہیں اور دونوں ایک چیز ہوں گے(غور کیجیے گا) ۔
اس بحث کی نظیر سورہ انبیاء کی آیت ۲۲ میں بھی موجود ہے ۔ جہاں فرمایا گیا ہے:
( لَوکَانَ فِیهِمَا آلِهَةٌ الّا الله لَفَسَدَتَا )
اگر زمین و آسمان میں ”الله “ کے علاوہ اور وہ خدا ہوتے تو نظام جہاں دگرگوں اور فاسد ہوجاتا ۔
اشتباہ نہیں ہونا چاہیے، یہ دونوں بیان بعض جہات سے اگر چہ ایک دوسرے کے مشابہ میں لیکن دومختلف دلیلوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ ایک کی خداؤں کے تعدد کی وجہ سے نظام جہاں کے فساد کی طرف بازگشت ہے اور دوسری نظام جہاں سے قطع نظر متعدد خداؤں کے درمیان وجود تمانع و تنازع کے بارے میں گفتگو کرتی ہے ۔
(سورہ انبیاء کی آیہ ۲۲ کے ذیل میں بھی ہم انشاء الله اس سلسلے میں بحث کریں گے)
چونکہ مشرکین کہتے ہیں کہ خدائے بزرگ نے ایک طرف نزاع کیا ہے لہٰذا اگلی آیت میں بلافاصلہ فرمایا گیا ہے: جو کچھ وہ کہتے ہیں خدا اس سے پاک اور منزہ ہے اور جو کچھ وہ سوچتے ہیں خدا اس سے بہت برتر اور بالاتر ہے (سُبْحَانَہُ وَتَعَالیٰ عَمَّا یَقُولُونَ عُلُوًّا کَبِیرًا) ۔
اس مختصر سے جملہ میں حقیقت الله تعالیٰ نے چار مختلف تعبیروں سے ناروا نسبتوں سے اپنے دامن کبریایی کی پاکیزگی بیان کی ہے:
۱ ۔خدا ان نقائص اور نارواں نسبتوں سے منزہ ہے( سُبْحَانَهُ )
۲ ۔ جو کچھ یہ کہتے ہیں وہ اس سے بالاتر ہے( وَتَعَالیٰ عَمَّا یَقُولُونَ )
۳ ۔ لفظ ”علواً“ مفعول مطلق ہے اور تاکید کے لیے آیا ہے ۔
۴ ۔ اور آخر میں ”کبیراً“ کہہ کر مزید تاکید کی گوئی ہے ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ ”عما یقولون“ (جو کچھ وہ کہتے ہیں ) ۔ ایک وسیع معنی رکھتا ہے ۔ اس میں ان کی تمام ناروا نسبتیں اور ان کے لوازم شامل ہیں (غور کیجیے گا) ۔
ا س کے بعد پروردگار کا مقام عظمت بیان کیا گیا ہے کہ وہ مشرکین کے وہم و خیال سے برتر ہے ۔ فرمایا گیا ہے کہ موجود جہاں اس کی ذات مقدس کی تسبیح کرتی ہیں ۔ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب خدا کی تسبیح کرتے ہیں( تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْاٴَرْضُ وَمَنْ فِیهِنَّ ) ۔ اس کے با وجود خود حلیم و غفور ہے( إِنَّهُ کَانَ حَلِیمًا غَفُورًا ) ۔
تمہارے کفر اور شرک پر الله تمہارا فوری مواخذہ نہیں کرتا بلکہ کافی مہلت دیتا ہے اور تمہارے لیے توبہ کے دروازے کھلے رکھتا ہے تا کہ اتمام حجت ہوجائے ۔
دوسرے لفظوں میں تم یہ صلاحیت رکھتے ہو کہ عالم کے تمام ذرات میں سے سن سکو کہ موجودات تسبیح الٰہی کا نغمہ گنگنار ہے ہیں اور تم اس قابل ہو کہ خدائے یگانہ قادر متعال کی معرفت حاصل کر سکو لیکن تم کوتاہی کرتے ہو اور ا س کوتاہی کے باوجود وہ فوراً مواخذہ اور عذاب نہیں کرتا اور تمہیں زیادہ سے زیادہ موقع فراہم کرتا ہے کہ تم توحید کی شناخت کر سکو اور راہ شرک ترک کرسکو۔
____________________
۱۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس جملے کا معنی یہ ہے کہ دوسرے خدا کوشش کرتے کہ اپنے آپ کو ”الله “ کی بارگاہ میں مقرب بنائیں یعنی یہ تمھارے بُت اور خدا جب خود الله کا تقرب حاصل نہیں کرسکتے تمھارے تقرب کا وسیلہ کیسے بن سکتے ہیں ۔
موجودات عالم کی عمومی تسبیح
قرآن کی مختلف آیات میں یہ بات آئی ہے کہ عالم ہستی کے موجودات خدائے عظیم کی تسبیح اور حمد کرتے ہیں ۔ ان سب آیات میں شاید زیادہ صریح زیرِ بحث آیت ہے ۔ اس آیت کے مطابق عالم ہستی کے تمام موجودات بلا استثناء مصروف تسبیح ہیں ۔ اس کے مطابق زمین، آسمان، ستارہ، کہکشاں ، انسان، حیوان، نباتات یہاں تک کہ ایٹم کے چھوٹے چھوٹے ذرّات بھی اس عموی تسبیح و حمد میں شریک ہیں ۔
قرآن کہتا ہے عالم ہستی سر تا پا زمزمہ و نغمہ ہے ۔ ہر موجود ایک طرح سے حمد و ثنائے حق میں مشغول ہے ۔بظاہر خاموش عالم ہستی کے صحن میں مسلسل ایک نغمہ ہے ۔ بے خبر لوگ اسے سننے کی توانایی نہیں رکھتے لیکن وہ صاحبان فکر و نظر جن کا قلب و روح نور ایمان سے زندہ اور روشن ہے ہر طرف سے کان اور جان سے یہ صدا سن رہے ہیں ۔ بقول شاعر:
۱ ۔گر تو را از غیب چشمی باز شد با تو ذراتِ جہاں ہمراہ شد
۲ ۔نطق آب و نطق خاک و نطق گل ہست محسوس حواس اہلِ دل!
۳ ۔جملہ ذرّات در عالم نہاں با تو می گویند روزان و شباں
۴ ۔ ما سمیم و بصیر و باہشیم با شما نامحرمان ما خامشیم!
۵ ۔ا زجمادی سوئی جان حاں شوید غلغل اجزای عالم بشنوید
۶ ۔فاش تسبیح جمادات آیدت وسوسہ ی تاویلھا بزد ایدت
۱ ۔ اگر تجھے نگاہ غیب حاصل ہو جائے تو ذرات عالم تجھ سے باتیں کرنے لگیں ۔
۲ ۔ پانی، خاک اور مٹی کا بولنا اہلِ دل محسوس کرتے ہیں ۔
۳ ۔ سارے عالم کے موجودات چپکے چپکے شب و روز تجھ سے کہتے ہیں ۔
۴ ۔ وہ سنتے ہیں ، دیکھتے ہیں اور باہوش ہیں البتہ تم نا حرموں سے بات نہیں کرتے ۔
۵ ۔ ایک جماد بے جاں سے جانِ جاں ہوجاؤ تو اجرائے عالم کا غلغلہ سنو۔
۶ ۔جمادات کی تسبیح تمہیں صاف سنائی دے گی اور تاویلوں کا وسوسہ کم کردے گی۔
اس حمد و تسبیح کی حقیقت کے بارے میں فلاسفہ اورمفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے ۔ بعض نے اسے ”حالی“ کہا ہے اور بعض نے ”قالی“ ہمارے نزدیک اان کے جو قابلِ قبول نظریات ہیں ، ذیل میں ان کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے ۔
۱ ۔ ایک گروہ کا نظریہ ہےں کہ اس جہان کے سب ذرّات انہیں ہم عاقل سمجھیں یا غیر عاقل ایک قسم کے ادراک اور شعور کے حامل ہیں اگر چہ ہم میں یہ قدرت نہیں کہ ان کے ادراک و احساس کی کیفیت سمجھ سکیں اور ان کی حمد و تسبیح سن سکیں ۔
وہ مختلف آیات اپنے نظریے کا شاہد قرار دیتے ہیں ، مثلاً:
( وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ الله )
بعض پتھر خوفِ خدا سے پہاڑوں کی چوٹی سے نیچے گِر جاتے ہیں ۔ (بقرہ۔ ۷۴)
( فَقَالَ لَهَا وَلِلْاٴَرْضِ اِئْتِیَا طَوْعًا اٴَوْ کَرْهًا قَالَتَا اٴَتَیْنَا طَائِعِینَ )
اللہ نے آسمان و زمین سے فرمایا طوعاً یا کرہاً میرے فرمان کی طرف آؤ تو انہوں نے کہا کہ ہم اطاعت کا راستہ اپنائیں گے ۔ (حٰم ٓ السّجدہ۔ ۷۴)
۲ ۔ بہت سوں کا نظریہ ہے کہ یہ تسبیح اور حمد وہی چیز ہے جسے ہم ”زبان حال“ کہتے ہیں ۔یہ تسبیح حقیقی ہے نہ کہ مجازی لیکن زبانِ حال سے ہے نہ کہ زبان قال سے (غور کیجئے گا) ۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص کے چہرے اور آنکھوں سے تکلیف ، رنج و غم اور بے خوابی نمایاں ہو تو ہم کہتے ہیں کہ اگر چہ تم اپنی تکلیف اور رنج و غم کے بارے میں زبان سے کچھ نہیں کہتے لیکن تمہاری آنکھیں کہہ رہی ہیں کہ تم کل رات نہیں سوئے اور تمہارا چہرہ کہہ رہا ہے کہ تم کسی جان کاہ رنج و غم سے گزر رہے ہو۔ یہ زبان حال کبھی اس قدر قوی ہوتی ہے کہ زبان قال سے انکار چھپانے کی کوشش بھی کی جائے تو حقیقت چھپ نہیں سکتی۔ بقول شاعر:
گفتم کہ با مکرو فسوں پنہان کنم رازِ دروں
پنہاں نمی گردو کہ خون از دید گانم می رود
میں نے چاہا کہ کسی حیلے سے رازِ دروں چھپا لوں ۔
لیکن وہ نہیں چھپتا کیونکہ میری آنکھوں سے خون جاری ہے ۔
یہی بات حضرت علی علیہ السلام اپنے مشہور جملے میں فرماتے ہیں :
ما اضمر احد شیئاً الاظهر فی فلتات لسانه و صفحات وجهه
کوئی شخص اپنے دل کا بھید نہیں چھپاتا مگر یہ کہ لا علمی میں اس کی گفتگو کے دوران اور اس کے چہرے کے صفحہ پر آشکار ہوجاتا ہے ۔(۲)
کیا انکار کیا جاسکتا ہے کہ عظیم نامور شعراء کا دیوان ان کے ذوقِ ادراک اور طبیعت عالی کی حکایت کرتا ہے اور ہمیشہ صاحبِ دیوان کی تعریف کرتا ہے ۔ کیا انکار کیا جاسکتا ہے کہ عظیم عمارتیں اور بڑے بڑے کاخانے اور پیچیدہ کمپیوٹر وغیرہ زبانی سے اپنے موجد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اورہر ایک اپنی اپنی حد تک اپنے موجد کی ستائش کرتا ہے ۔
لہٰذا ماننا پڑے گا کہ یہ عجیب و غریب عالم ہستی اپنے عجیب نظام، اسرار، خیرہ کن عظمت اور حیرت انگیز باریکییوں کے ساتھ خدا کی تسبیح و حمد کرتا ہے ۔
کیا”تسبیح“ عیوب سے پاک شمار کرنے کہ علاوہ کچھ اور ہے؟ اس عالم ہستی کے ساخت اور اس کا نظم او ر نسق ہوتا ہے کہ اس کا خالق ہر قسم کے نقص اور عیب سے مبرا اوں ر منزہ ہے ۔
کیا حمد و ثنا صفات کمال بیان کرنے کے علاوہ کچھ اور ہے؟ جہان آفرینش کا نظام۔ الله کی صفات کمال ،اس کے بے پایان علم، بے انتہا قدرت اور وسیع اور ہمہ گیر حکمت کی حایت کرتا ہے ۔
مخصوصاً سائنس و اور علم و دانش کی پیشرفت سے اور اس وسیع عالم کے اسرار کے بعض گوشوں سے پردہ اٹھنے سے موجودات عالم کی یہ عمومی حمد وتسبیح زیادہ آشکار ہوئی ہے ۔
اگر ایک دن کوئی نکتہ پرداز شاعر سبز و درختوں کے ہر پتے کو معرفت پروردگار کا ایک دفتر سمجھتا تھا تو آج کے ماہرین نباتات اور سائنس دانوں نے ایک دفتر نہیں بلکہ کئی کتابیں لکھی ہیں آج ان ماہرین نے پتوں کے چھوٹے سے چھوٹے اجرا کی حیرت انگیز ساخت پر بحث کی ہے ۔ پتوں کے اجرائے حیات ، cellules سے لے کر ان کی سات تہوں ، ان کے تنفس کے نظام ،آب غذا کے حصول کے لیے ان کے رشتے ناتوں پر کتابیں لکھی گئی ہیں ۔ کئی پیچیدہ پتوں کی خصوصیات پر بھی ایسی کتابوں میں بحث کی گئی ہے ۔
لہٰذا ہر پتّہ شب و روز مزمہ توحید گنگناتا ہے ۔ پتوں کی تسبیح کی دلنشین آواز باغوں ، کہساروں اور درّوں کے پُر پیچ راستوں میں گونج رہی ہے لیکن بے خبر لوگوں کوکچھ نہیں آتا وہ انہیں خاموش اور گونگا سمجھتے ہیں ۔
موجودات کی عمومی تسبیح و حمد کا یہ مفہوم پوری قابلِ فہم ہے اور ضروری نہیں کہ ہم اس بات کے قائل ہوں کہ عالم ہستی کے تمام ذرّات ادراک و شعور رکھتے ہیں کیونکہ اس بات کے لیے ہمارے پاس کوئی قطعی دلیل نہیں ہے او رزیادہ احتمال یہی ہے کہ مذکورہ آیات اسی”زبانِ حال“ کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔
____________________
۱۔ نہج البلاغہ، کلمات قصار۲۶-
ایک سوال کا جواب
یہاں ایک سوال باقی رہ جاتا ہے ۔ وہ یہ کہ اگر تسبیح و حمد سے مراد یہ ہے کہ نظامِ آفرینش خدا کی پاکیزگی، عظمت،قدرت اور صفات ثبوتیہ و سلبیہ کی حکایت و ترجمانی کرتا ہے تو پھر قرآن کیوں کہتا ہے کہ تم ان کی حمد و تسبیح نہیں سمجھتے کیونکہ بعض لوگ نہیں سمجھتے تو کم از کم علماء او ردانشمند تو سمجھتے ہیں ۔
اس سوال کے دو جواب ہیں :
پہلا یہ کہ روئے سخن لوگوں کی نادان اکثریت خصوصاً مشرکین کی طرف ہے اور صاحب ایمان علماء کہ جو اقلیت میں ہیں اس عموم سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ ہر عام میں استثناء ہے ۔
دوسرا یہ کہ اسرار عالم میں سے جو کچھ ہم جانتے ہیں وہ اس کے مقابلے میں کہ جسے ہم نہیں جانتے سمندر کے مقابلے میں قطرے کی مانند ہے اور عظیم پہاڑ کے مقابلے میں ذرّے کی طرح ہے ۔ اگر کسی میں صحیح طور پر غور و فکر کیا جائے تو اسے علم و دانش کا نام بھی نہیں دیا جاسکتا ۔
تا بد انجار رسید دانش من کہ بدانستمی کہ نادانم!
میرا علم یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ مجھے معلوم ہوگیا ہے کہ میں نہیں جانتا ۔
اس بناء پر اگر ہم عالم بھی ہوں تو بھی ان موجودات کی حمد وتسبیح نہیں پہچانتے کیونکہ جو کچھ ہم سُن رہے ہیں وہ ایک عظیم کتاب کا ایک لفظ ہے ۔ اس لحاظ سے ایک عمومی حکم کے طور پر یہ سب لوگوں سے خطاب ہے کہ عالم ہستی کی موجودات زبانِ حال سے جو تسبیح و حمد کرتے ہیں تم انہیں نہیں سمجھتے کیونکہ جو کچھ تم سمجھتے ہو وہ اس قدر ناچیز او رحقیر ہے کہ کسی حساب و شمار ہی میں نہیں آتا ۔
۳ ۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ یہاں موجودات کی عمومی تسبیح و حمد زبانِ حال اور زبانِ قال دونوں کا مرکب ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ تسبیح”تسبیح تکوینی“ بھی ہے اور”تسبیح تشریعی“ بھی کیونکہ بہت سے انسان اور تمام فرشتے ادراک و شعور کے ساتھ اس کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور باقی تمام موجودات کے ذرّے بھی اپنی زبانِ حال سے خالق کی عظمت کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں ۔
یہ دونوں قسم کی حمد و تسبیح اگر چہ آپس میں فرق رکھتی ہے لیکن حمد و تسبیح کے وسیع مفہوم میں دونوں مشترک ہیں لیکن جیسا کہ واضح ہے دوسری تفسیر اس تشریح کے ساتھ کہ جو ہم نے بیان کی سب سے زیادہ دلچسپ ہے ۔
اھل بیت(ص) سے چند روایات
پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے جو روایات اس سلسلے میں ہم تک پہنچی ہیں ان میں جاذبِ نظر تعبیرات دکھائی دیتی ہیں ۔
امام صادق علیہ السلام کا ایک صحابی کہتا ہے: میں نے آیہ”وَإِنْ مِنْ شَیْءٍ إِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہِ“ کے متعلق سوال کیا تو آپ(ص) نے جواب میں فرمایا:کل شیء یسبح بحمده وانا لنریٰ اٴن ینقض الجدار وهو تسبیحه -
جی ہاں ہر چیز خدا کی تسبیح و حمد کرتی ہے ۔یہاں تک کہ جب دیوار گر رہی ہوتی ہے اور اس کے گرنے کی آواز ہمیں سنائی دے رہی ہوتی ہے تو وہ بھی تسبیح ہوتی ہے ۔(۱)
امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا:
نهی رسول الله عن ان توسهم البهائم فی وجوهها، واٴن تضرب وجوهها لاٴنّها تسبح ربه -
رسول الله نے فرمایا کہ جانوروں کے منہ نہ داغو اور ان کے منہ پر تازیانہ نہ مارو کیونکہ خدا کی حمد و ثنا کرتے ہیں(۲)
امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے:ما من طیر یصاد فی بر ولابحر ولا شیء یصاد من الوحش الّا بتضیعه التسبیح -
کوئی پرندہ صحرا و دریا میں شکار نہیں ہوتا اور کوئی جانور دام صیاد میں نہیں پھنستا مگر تسبیح ترک کرنے سے ۔(۳)
امام باقر علیہ السلام نے چڑیا کی آواز سنی توفرمایا: جانتے ہو یہ کیا کہتی ہیں ؟
ابو حمزہ ثمالی جو آپ کے خاص اصحاب میں سے تھے نے عرض کیا: نہیں ۔
اس پر آپ(ص) نے فزمایا:یسبحن ربهن عزوجل و یسئلن قوت یومهن
یہ خدائے عزوجل کی تسبیح کرتی ہیں اور اس سے دن کی روزی مانگتی ہیں ۔(۴)
ایک اور حدیث میں ہے:
ایک روز رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم حضرت عائشہ کے پاس آئے ۔ فرمایا: میرے یہ دونوں کپڑے دھو ڈالو۔
کہنے لگیں : یا رسول اللہ! کل میں نے انہیں دھویا تھا ۔
رسول اللہ نے فرمایا:اما علمت ان الثوب یسبحن فاذا اتسخ انقطع تسبیحه ۔
کیا جانتی نہیں ہو کہ کپڑے تسبیح کرتے ہیں اور جب میلے ہوجائیں تو ان کی تسبیح رُک جاتی ہے ۔(۵)
ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا:
للدابة علی صاحبها ستة حقوق لا یحملها فوق طاقتها، ولا یتخذ ظهرها مجلساً یتحدث علیها، و یبدء بعلفها اذا نزل، ولا یسمها فی وجهها، ولا یضربها فانها تسبح و یعرض علیها الماء اذا مربها ۔
جانور اپنے مالک پر چھ حق رکھتا ہے:
۱ ۔ اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بار نہ لادے ۔
۲ ۔ اس کی پشت کو باتیں کرنے کی مجلس نہ بنائے (بلکہ جب کسی سے سرِراہ ملاقات ہوجائے اور اس سے باتیں کرنا چاہے تو سواری سے اتر کرے اور بات چیت ختم ہوجائے تو سوار ہوکر چل دے) ۔
۳ ۔ جس منزل پر پہنچے اسے پہلے چارہ مہیا کرے ۔
۴ ۔ اس کے منہ کو نہ داغے ۔
۵ ۔ اور نہ اس کے منہ پر مارے کیونکہ وہ خدا کی تسبیح کرتا ہے ۔
۶ ۔ اور چشمہ آب یا ایسی کسی جگہ سے گزرے تو اسے پانی کے پاس لے جائے(تاکہ اگر وہ پیاسا ہے تو پانی پی لے) ۔(۶)
مجموعی طور پر یہ روایات کہ جن میں سے بعض دقیق اور باریک معانی کی حامل ہیں ، نشاندہی کرتی ہیں کہ موجودات کی تسبیح والا عام حکم بلا استثناء سب چیزوں پر محیط ہے اور یہ سب چیزیں مذکورہ بالا دوسری تفسیر(تفسیر تکوینی اور زبان حال کے معنی میں تسبیح) سے پوری طرح مطابقت رکھتی ہیں اور یہ جو ان روایات میں ہے کہ جس وقت لباس کثیف ہوجاتا ہے تو اس کی تسبیح رُک جاتی ہے، ممکن ہے یہ اس طرف اشارہ ہو کہ جب تک موجودات طبیعی حالت میں اور پاک صاف ہوں تو انسان کو یاد الٰہی میں ڈالتی ہیں ۔ لیکن جب طبیعی حالت میں اور پاک صاف نہ ہوں تو پھر یاد کا یہ سلسلہ باقی نہیں رہتا ۔
آیات ۴۴،۴۵،۴۶،۴۷
۴۴( وَإِذَا قَرَاٴْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ الَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَسْتُورًا )
۴۵( وَجَعَلْنَا عَلیٰ قُلُوبِهِمْ اٴَکِنَّةً اٴَنْ یَفْقَهُوهُ وَفِی آذَانِهِمْ وَقْرًا وَإِذَا ذَکَرْتَ رَبَّکَ فِی الْقُرْآنِ وَحْدَهُ وَلَّوْا عَلیٰ اٴَدْبَارِهِمْ نُفُورًا )
۴۶( نَحْنُ اٴَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُونَ بِهِ إِذْ یَسْتَمِعُونَ إِلَیْکَ وَإِذْ هُمْ نَجْوَی إِذْ یَقُولُ الظَّالِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلاَّ رَجُلًا مَسْحُورًا )
۴۷( انظُرْ کَیْفَ ضَرَبُوا لَکَ الْاٴَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَایَسْتَطِیعُونَ سَبِیلًا )
ترجمہ
۴۵ ۔ اور جب تو قرآن پڑھتا ہے تو ہم تیرے اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے درمیان ایک غیر محسوس حجاب پیدا کردیتے ہیں ۔
۴۶ ۔ اور ہم ان کے دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں تاکہ وہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی (پیدا کردیتے ہیں ) اور جب تو قرآن میں اپنے پروردگار کو تنہا یاد کرتا ہے تو پشت کرلیتے ہیں اور تجھ سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں ۔
۴۷ ۔ اور ہم جانتے ہیں کہ وہ کیوں تیری باتیں کان لگا کر سنتے ہیں اور جب وہ آپس میں کانا پھوسی کرتے ہیں جبکہ ظالم کہتے ہیں کہ تم تو بس ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو۔
۴۸ ۔ دیکھ! یہ تجھ پر کیسی پھبتیاں کستے ہیں اور اسی بناء پر یہ گمراہ ہوگئے ہیں اور یہ (حق کا) راستہ پاہی نہیں سکتے ۔
شان نزول
مجمع البیان میں طبرسی نے، تفسیر کبیر میں فخر الدین رازی نے اور بعض دیگر مفسرین نے مندرجہ بالا آیات کی شان نزول کے بارے میں کہا ہے کہ ان میں سے پہلی آیت مشرکین کے ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ جب رات کے وقت آپ قرآن کی تلاوت کرتے اور خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھتے تو یہ لوگ آپ کو اذیت پہنچاتے ۔ آپ کو پتھر مارتے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے سے روکتے ۔
خدا تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے ایسا کیا کہ وہ آپ کو اذیت نہ دے سکیں (اور شاید یہ اس طرح سے تھا کہ ان کے دلوں میں آپ کا رعب ڈال دیا تھا) ۔(۷)
ایک اور روایت میں ہے کہ جس وقت رسول اللہ قرآن پڑھتے تو مشرکین میں سے دو آدمی دائیں طرف اور دو آدمی بائیں طرف کھڑے ہوجاتے ۔ تالیاں بجاتے، سیٹیاں بجاتے اور بلند آواز سے شعر پڑھتے تاکہ آپ کی آواز لوگوں کے کانوں تک نہ پہنچے ۔(۸)
ابن عباس کہتے ہیں کہ کبھی کبھار ابوسفیان اور ابوجہل، رسول اللہ کے پاس آتے اور آپ کی باتیں سنتے ۔ ایک دن ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: مجھے سمجھ نہیں آتا کہ محمد کیا کہتا ہے؟ صرف یہ نظر آتا ہے کہ اس کے لب ہلتے ہیں ۔
ابو سفیان نے کہا: میں سوچتا ہوں کہ اس کی بعض باتیں حق ہیں ۔
ابوجہل نے اظہار کیا: وہ دیوانہ ہے ۔
ابولہب نے مزید کہا:وہ کاہن ہے ۔
ایک اور نے کہا: وہ شاعر ہے ۔
ان غیر موزوں اور ناروا باتوں اور تہمتوں کے بعد مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں ۔(۹)
____________________
۱۔ نور الثقلین ج ۳ ص ۱۶۸-
۲۔ نورالثقلین ج ۳ ص ۱۶۸-
۳۔ نور الثقلین ج ۳ ص ۱۶۸-
۴۔ تفسیر المیزان، بحوالہ حلیة الاولیاء از ابونعیم اصفہانی-
۵۔ تفسیر المیزان، بحوالہ حلیة الاولیاء از ابونعیم اصفہانی-
۶۔ تفسیر المیزان، بحوالہ کافی ۴-
۷۔ مجمع البیان۔
۸۔ تفسیر کبیر، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
۹۔ تفسیر کبیر، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
جاہل مغرور
گزشتہ آیات کے بعد بہت سے لوگوں کے سامنے یہ سوال ابھرتا ہے کہ مسئلہ توحید اس قدر واضح ہے کہ تمام موجودات عالم اس کی گواہی دیتے ہیں تو پھر مشرکین اس حقیقت کو کیوں قبول نہیں کرتے، وہ یہ گویا اور رسا آیات قرآن سننے کے باوجود بیدار کیوں نہیں ہوتے؟
ہوسکتا ہے زیرِ بحث آیات اس سوال کے جواب کی طرف اشارہ ہوں ۔ پہلی آیت کہتی ہے: اے رسول! ”جس وقت تو قرآن پڑھتا ہے ہم تیرے اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے درمیان پردہ حائل کردیتے ہیں “( وَإِذَا قَرَاٴْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ الَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَسْتُورًا ) ۔
یہ حجاب در اصل ہٹ دھرمی، تعصب، خود پرستی، غرور و تکبر اور جہالت ہی تھی کہ جوان کی فکر و نظر سے حقائق قرآن چھپادیتی تھی اور انہیں اجازت نہ دیتی تھی کہ وہ توحید و معاد، دعوتِ پیغمبر کی صداقت اور اس قسم کے دیگر حقائق کا ادراک کرسکیں ۔
لفظ ”مستور“یہاں ”حجاب“ کی صفت یا ذاتِ پیغمبر کی حقائقِ قرآن کی، اس بارے میں مفسرین نے مختلف آراء پیش کی ہیں ۔ اس سلسلے میں ہم ان آیات کی تفسیر کے آخر میں بحث کریں گے ۔اسی طرح خدا کی طرف سے اس حجاب کے پیدا ہونے کی کیفیت کے بارے میں بھی وہیں پر بحث آئے گی۔
اگلی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: ”ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں تاکہ وہ قرآن کو نہ سمجھ سکیں اور ان کے کانوں میں گرانی اور بوجھ ہے“( وَجَعَلْنَا عَلیٰ قُلُوبِهِمْ اٴَکِنَّةً اٴَنْ یَفْقَهُوهُ وَفِی آذَانِهِمْ وَقْرًا ) ۔اسی لیے جب تو اپنے پروردگار کو قرآن میں تنہا یاد کرتا ہے تو وہ پیٹھ پھیر لیتے ہیں( وَإِذَا ذَکَرْتَ رَبَّکَ فِی الْقُرْآنِ وَحْدَهُ وَلَّوْا عَلیٰ اٴَدْبَارِهِمْ نُفُورًا ) ۔
واقعاً حق سے فرار کیسی عجیب بات ہے یعنی بات ہے یعنی سعادت و نجات سے فرار، خوش بختی اور کامیابی سے فرار اور فہم و شعور سے فرار۔ اس معنی کی نظیر سورہ مدثر کی آیات ۵۰ اور ۵۱ میں بھی ہے:
( کَاٴَنَّهُمْ حُمُرٌ مُسْتَنْفِرَةٌ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ ) ۔
”گویا وہ خو فزدہ گدھے ہیں کہ غضبناک شیر سے بھاگ رہے ہیں “۔
مزید فرمایا گیا: ہم جانتے ہیں کہ وہ کیوں تمہاری باتیں کان دھر کر سنتے ہیں( نَحْنُ اٴَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُونَ بِهِ إِذْ یَسْتَمِعُونَ إِلَیْک ) ۔ اور جب وہ آپس میں سر گوشیاں اور کان پھونسیاں کرتے ہیں( وَإِذْ هُمْ نَجْوَی ) ۔
جس وقت ظالم لوگ مومنین سے کہتے ہیں ہیں کہ صرف تم ایسے شخص کی پیروی کرتے ہو جو سحر زدہ ہے اور ساحروں نے جس کی عقل و ہوش کو ختم کردیا ہے( إِذْ یَقُولُ الظَّالِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلاَّ رَجُلًا مَسْحُورًا ) ۔
یہ لوگ در اصل ادراک حقیقت کے لیے تیرے پاس نہیں آتے اور تیری باتیں دل کے کانوں سے نہیں سنتے بلکہ ان کا مقصد تو یہ ہے کہ وہ آکر مخل ہوں اور اگر ہوسکے تو مومنین کو راستے سے بھٹکا دیں ۔ اصولی طور پر جس کے دلپر پردہ پڑا ہو اور جس کے کان ایسے بوجہل ہوں کہ وہ حق بات سن ہی نہ سکے وہ مردان حق کی باتیں ایسے مقاصد کے علاوہ نہیں سنتے ۔
زیرِ بحث آخری آیت میں پیغمبر اکرم کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے مختصرسی عبارت میں ان گمراہوں کو دندان شکن جواب دیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: دیکھ! تیرے بارے میں کیسی کیسی پھبتیاں کستے ہیں (کوئی تجھے جادو گر کہتا ہے، کوئی سحر زدہ ، کوئی کاہن اور کوئی مجنون) ، یہی وجہ ہے کہ وہ گمراہ ہوئے ہیں اور راہِ حق پانے کی سکت نہیں رکھتے( انظُرْ کَیْفَ ضَرَبُوا لَکَ الْاٴَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَایَسْتَطِیعُونَ سَبِیلًا ) ۔
ایسا نہیں کہ راستہ واضح نہیں ہے اور حق کا چہرہ چھپ گیا ہے بلکہ ان کے پاس چشم بینا نہیں ہے اور وہ بعض و جہالت، تعصب اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اپنی عقل و خرد گنوا بیٹھے ہیں ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ ان آیات کا مجموعی جائزہ:
زیرنظر آیات میں گمراہ لوگوں کی حالت اور شناخت حق کی راہ میں حائل ہونے والی رکاوٹوں کا عمدہ نقشہ کھینچا گیا ہے ۔ مجموعی طور پر یہ آیات کہتی ہیں کہ حق کی پہنچان میں ان کے لیے تین بڑی رکاوٹیں موجود ہیں ، وہ نہ ہوں تو اُن کے لئے حق کا چہرہ دیکھنا آسان ہوجائے ۔
پہلی یہ کہ قرآن رسول اللہ سے کہتا ہے کہ تیرے اور ان کے درمیان ایک حجاب حائل ہے یہ حجاب سوائے بغض ، کینے، حسد اور عداوت کے کچھ اور نہیں کہ جو ان کے سینوں میں تیرے لیے موجود ہے ۔ اسی وجہ سے وہ تیری بلند شخصیت کو نہیں دیکھ پاتے اور تیری گفتار و رفتار کی عظمت کو نہیں سمجھ پاتے ۔ یہاں تک کہ اچھائیاں بھی انہیں برائیاں معلوم ہوتی ہیں ۔
دوسری یہ کہ وہ رسول اللہ سے کینہ اور حسدہی نہ رکھتے تھے بلکہ ان کے دلوں پر جہالت اور اندھی تقلید کے پردے بھی پڑے ہوئے تھے یہاں تک کہ وہ کسی شخص سے حق بات سننے کے لیے بھی تیار نہ تھے ۔
تیسری رکاوٹ شناختِ حق میں یہ حائل تھی کہ ان کے آلاتِ شناخت ہی حق قبول کرنے کے لئے آمادہ نہ تھے ۔ مثلاً ان کے کان ہی حق بات سے ایسی نفرت کرتے تھے کہ گویا حق بات کو دفع کرتے تھے اور اس کے سامنے گویا بہرے ہوجاتے تھے جبکہ اس کے برعکس باطل کی باتیں انہیں پسند تھیں ۔ باطل ان کے لیے لذت بخش تھا اور ان پر فوری اثر کرتا تھا ۔
خصوصاً یہ بات تو تجربے سے ثابت ہوئی ہے کہ جن باتوں کی طرف انسان رغبت نہ رکھتا ہو انہیں مشکل ہی سے سنتا ہے اور جن کی طرف میلان رکھتا ہے انہیں خاص تیزی کے ساتھ سنتا اور سمجھتا ہے گویا اندرونی میلانات بھی انسان کے ظاہری حواس پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اسے اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں ۔
ان تین موانع کا نتیجہ یہ تھا کہ:
اولاً: وہ کلمہ حق سننے سے بھاگتے تھے خصوصاً جب اللہ کی وحدانیت کے بارے میں گفتگو ہوتی کہ جوان کے تمام مشرکانہ عقائد کی بنیاد ہی سے متصادم تھی تو وہ تیزی سے بھاگ کھڑے ہوتے تھے ۔
ثانیاً: وہ اپنے انحرافی خط کو صحیح ثابت کرنے کے لیے رسول اللہ اور ان کے ارشادات کے بارے میں غلط توجہیں کرتے تھے اور آپ پر طرح طرح کی تہمتیں لگاتے تھے ۔ کوئی ساحر کہتا اور کوئی شاعر ، کوئی آپ کو مجنون قرار دیتا اور کوئی دیوانہ۔
تمام دشمنانِ حق کہ جن کے اعمال و صفات رذیلہ ان کے لیے حجاب ہیں ، کی یہی حالت ہے ۔ اسی مقام پر ہم کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص راہِ حق اور صراط مستقیم پر چلنا چاہتا ہے اور انحراف و گمراہی سے بچنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اسے اپنی اصلاح کی کوشش کرنا چاہئے ۔ دل کو بغض و کینہ اور حسد و عناد سے پاک کرنا چاہیے ۔ روح کو غرور و نخوت سے پاک کرنا چاہیے ۔ خلاصہ یہ کہ اپنے وجود کو صفاتِ رذیلہ سے پاک کرنا چاہیے چونکہ جب دل کا آئینہ ان رذائل سے پاک صاف ہوکر صیقل ہوجائے گا تو پھر تمام حقائق اس پر اپنا پَرتَو ڈال سکیں گے یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات بے علم پاک دل افراد حقائق سمجھ لیتے ہیں لیکن غیر تہذیب یافتہ عالم نہیں سمجھ پاتے ۔
۲ ۔ خدا کی طرف نسبت کا مفہوم:
دوسری بہت سی آیات کی طرح زیر بحث آیات میں بھی حجابوں کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے ۔ فرمایا گیا ہے:
ہم ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں ۔
تیرے اور ان کے درمیان ہم حجاب حائل کردیتے ہیں اور ان کے کانوں میں سنگینی قرار دیتے ہیں ۔
ہوسکتا ہے ایسی تعبیرات سے جاہل افراد مکتبِ جبر کا مفہوم لیں حالانکہ یہ تو ان کے اعمال ہی کے آثار اور نتائج ہیں ۔ در حقیقت وہ خود ہی ہیں جو اپنے گناہوں اور بری صفات کے ذریعے یہ حجاب پیدا کرتے ہیں لیکن چونکہ ہر چیز کی خاصیت خدا کی طرف سے ہے اور عملِ قبیح اور صفاتِ رذیلہ میں خدانے یہ تاثیر پیدا کی ہے لہٰذا اس خاصیت اور حجاب کی نسبت خدا کی طرف بھی دی جاسکتی ہے ۔ اس بارے میں گزشتہ مباحث میں ہم بارہا گفتگو کرچکے ہیں اور اس سلسلے میں قرآن سے بھی بہت سے شواہد پیش کیے حا چکے ہیں ۔
۳ ۔ حجاب مستور کیا ہے؟ :
اس سلسلے میں مفسرین کی کئی مختلف آراء ہیں ۔ مثلاً:
(الف) بعض ”مستور“کو ”حجاب“ کی صفت سمجھتے ہیں کہ قرآن کی تعبیر کا ظہور یہ ہے کہ حجاب نگاہوں سے پوشیدہ ہیں ۔ در حقیقت کینہ و عداوت اور حسد وبغض کے حجاب ایسے نہیں ہیں جو آنکھ سے دکھائی دیں بلکہ ان کے باعث جس سے حسد اور کینہ ہوتا ہے اُس کے اور اِس کے درمیان ایک ضخیم پردہ حائل ہوجاتا ہے ۔
(ب) بعض دیگر مفسرین ”مستور “کو ”ساتر“ کے معنی میں سمجھتے ہیں (کیونکہ اسم مفعول بعض اوقات فاعل کے معنی میں آتا ہے جیسا کہ آیات مذکورہ میں بھی بعض مفسرین ”مسحور“ کو ”ساحر“ کے معنی میں سمجھتے ہیں ) ۔(۱)
(ج) بعض ”مستور“ کو ”حجاب“ کی مجازی توصیف سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مراد یہ نہیں ہے کہ یہ حجاب مستور ہے بلکہ وہ حقائق جو اس حجاب کے ماو راء ہیں وہ مستور ہیں (مثلاً پیغمبر اکرم کی شخصیت آپ کی دعوت کی عظمت اور آپ کے ارشادات کی عظمت) ۔
لیکن ان تینوں تفسیروں میں غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پہلی تفسیر ظاہر آیت سے زیادہ ہم آہنگ ہے، بعض روایات میں بھی ہے کہ بعض اوقات رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے سخت ترین دشمن آپ کی طرف آتے جبکہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ قرآنِ مجید کی تلاوت میں مشغول ہوتے لیکن وہ آپ کو نہ دیکھ پاتے گویا آپ کی خیرہ کن عظمت کے باعث یہ دل کے اندھے آپ کو نہ دیکھ پاتے اور نہ پہچان پاتے لہٰذا آپ ان کی طرف سے اذیت سے محفوظ رہتے ۔
____________________
۱۔ اخفش سے منقول ہے کہ وہ کہتا ہے:”اسم مفعول کبھی اسم فاعل کے معنی میں ہوتا ہے مثلاً ”میمون“ ”یامن“ کے معنی میں اور ”مشئوم“ ”شائم“ کے معنی میں ۔
۴ ۔ ”اکنہ “اور ”وقر“ کیا چیز ہے؟
”اکنہ“ ”کنان“ (برورزن ”زیان“) کی جمع ہے، یہ در اصل ہر قسم کی ڈھانپتے اور مستور کرتے ہیں لیکن ”کن“ (بروزن ”جِنّ“)اس برتن کو کہتے ہیں جس میں کسی چیز کو محفوظ رکھا جاتا ہے ۔ ”کن“ کی جمع ”اکنان“ ہے ۔ بعد ازان اس معنی میں وسعت پیدا ہوگئی اور ہر چیز کہ جو مستور ہونے کا باعث بنے کے لئے بولا جانے لگا، مثلاً پردہ، گھر اور وہ اجسام کہ جن کے پیچھے انسان اپنے آپ کو چھپائے ۔
”وقر“ (بروزن ”جبر“) سنگینی کے معنی میں ہے کہ جو کان میں پیدا ہوجائے اور ”وقر“ (بروزن ”رزق“) بارِسنگین کے معنی میں ہے ۔
۵ ۔ ”( ما یستمعون به ) “ کی تفسیر
اس کی مفسرین نے دو تفسیر کی ہیں :
طبرسی نے مجمع البیان میں اور فخر الداین رازی نے تفسیر کبیر میں اور بعض دیگر مفسّرین نے اسے ”سببِ استماع“ کے معنی میں لیا ہے یعنی ہم جانتے ہیں کہ وہ تیری باتیں کیوں کان لگار سنتے ہیں ، ادراکِ حق کے لئے؟ نہیں بلکہ استہزاء اور جوڑ توڑ لگانے اور الٹی سیدھی توجیہات کرنے کے لئے مختصر یہ کہ گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کے لئے علامہ طباطبائی نے المیزان میں اور بعض دیگر مفسّرین نے اسے ”وسیلہ استماع“ کے معنی میں لیا ہے یعنی ہم جانتے ہیں کہ وہ کن کانوں سے تیری باتیں کان لگار سنتے ہیں اور ہم ان کے دلوں اور ان کی سرگوشیوں سے آگاہ ہیں ۔
(پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے) ۔
۶ ۔ وہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو ”مسحور“ کیوں کہتے تھے؟
”مسحور“ کا معنی ہے سحر شدہ اور ”ساحر“ کا معنی ہے سحر کرنے والا ۔
دشمن رسول لله کو ”مسحور“ یا تو اس بناء پر کہتے تھے کہ وہ اس طرح آپ کی طرف جنون کی نسبت دینا چاہتے تھے اور کہنا چاہتے تھے کہ جادوگروں نے آپ کو فکر وعقل پر اثر کیا ہے اور ساحروں نے (معاذ الله ) آپ کے حواس مختل کردیئے ہیں ۔
بعض مفسّرین نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ ”مسحور“ یہاں ”ساحر “کے معنی میں ہے (کیونکہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں اسم مفعول کبھی اسمِ فاعل کے معنی میں آتا ہے) ۔ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ رسول الله کا غیر معمولی کلام جادو ہے جو لوگوں کے دلوں پر اثر کرتا ہے ۔ ضمنی طور پر یہ بات کہہ کر وہ آپ کے کلام کی عجیب تاثیر کا اعتراف کرتے تھے ۔
۷ ۔ توحید کی آواز پر مشرکین کا خوف
زیرِ بحث آیات میں ہم نے پڑھا ہے مشرکین خاص طور پر توحید کی آواز سن کر سخت خوف میں مبتلا ہوجاتے تھے اور بھاگ کھڑے ہوتے تھے کیونکہ ان کی تمام تر زندگی کی بنیاد شرک اور بت پرستی تھی اور ان کے معاشرے پر مشرکانہ نظام حکمران تھا ۔ اگر توحید کی بنیاد پڑجاتی تو نہ صرف ان کے مذہبی عقائد پر ضرب پڑتی تھی بلکہ ان کا معاشرتی، اقتصادی، سیاسی، ثقافتی اور تمدنی نظام بھی جو شرک پر مبنی تھا وہ تباہ ہوکر رہ جاتا، اس طرح حکومت پسے ہوئے مستضعف لوگوں کے ہاتھ آجاتی۔
مستکبرین کا خاتمہ ہوجاتا، اور استعمار اور لوٹ کھسوٹ کہ جو مشرکانہ نظاموں کا نتیجہ ہے ختم ہوجاتا، اور طبقاتی تفاوت ختم ہوجاتا تھا، لہٰذا جن کے اقتدار کا انحصار شرک پر تھا ان کی سخت کوشش تھی کہ توحید کی پکار کسی کے کان تک نہ پہنچنے پائے لیکن جیسا کہ زیرِ بحث آیات اشارہ کرتی ہیں وہ ظالم اور ستمگر لوگ تھے کہ جو مستضعف عوام پر بھی ظلم کرتے تھے اور اپنے آپ پر بھی، کیونکہ ہر ظالم منحرف اپنی قبر آپ کھودتا ہے ۔
یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ قرآن کہتا ہے کہ مشرکین چاہتے تھے کہ انھیں فسق وفجور اور گناہ جاری رکھنے کا کوئی جواز ہاتھ آجائے لہٰذا باربار پوچھتے تھے قیامت کا دن کب آئے گا:( بَلْ یُرِیدُ الْإِنسَانُ لِیَفْجُرَ اٴَمَامَهُ، یَسْاٴَلُ اٴَیَّانَ یَوْمُ الْقِیَامَةِ )
”بلکہ انسان تو یہ چاہتا ہے کہ ہمیشہ بُرائی کرتا رہے ۔ (جبھی تو) پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا“۔ (قیامت/ ۵,۶)
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ بھی ذمہ داری اور جوابدہی سے فرار کے لئے ایک بہانہ سازی تھی۔
آیات ۴۹،۵۰،۵۱،۵۲
۴۹( وَقَالُوا اٴَئِذَا کُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا اٴَئِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِیدًا )
۵۰( قُلْ کُونُوا حِجَارَةً اٴَوْ حَدِیدًا )
۵۱( اٴَوْ خَلْقًا مِمَّا یَکْبُرُ فِی صُدُورِکُمْ فَسَیَقُولُونَ مَنْ یُعِیدُنَا قُلْ الَّذِی فَطَرَکُمْ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ فَسَیُنْغِضُونَ إِلَیْکَ رُئُوسَهُمْ وَیَقُولُونَ مَتیٰ هُوَ قُلْ عَسیٰ اٴَنْ یَکُونَ قَرِیبًا )
۵۲( یَوْمَ یَدْعُوکُمْ فَتَسْتَجِیبُونَ بِحَمْدِهِ وَتَظُنُّونَ إِنْ لَبِثْتُمْ إِلاَّ قَلِیلًا )
ترجمہ
۴۹ ۔ اور انھوں نے کہا کہ بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اور بکھر جائیں گے تو دوبارہ نئی خلقت حاصل کریں گے ۔
۵۰ ۔ کہہ دو کہ تم پتھر یا لوہا ہوجاؤ۔
۵۱ ۔ یا جو مخلوق تمھاری نظر میں ان سے زیادہ سخت ہو ( اور جس میں زندگی کے دُور دُور تک کوئی آثار نہ ہوں ۔ پھر بھی خدا قادر ہے کہ تمھیں نئی زندگی کی طرف پلٹادے) ۔ عنقریب وہ کہیں گے کون ہمیں دوبراہ پلٹائے گا ۔ کہہ دو: وہی جس نے تمھیں پیدا کیا تھا ۔ وہ (تعجب اور انکار سے) تیرے سامنے اپنے سر جھکاتے ہیں اور کہتے ہیں :ایسا کس وقت ہوگا ۔ کہہ دو: شاید نزدیک ہو۔
۵۲ ۔ وہی دن کہ جب وہ تمھیں (تمھاری قبروں سے) بُلائے گا تم بھی جواب دوگے اس حالت میں کہ اُس کی حمد کررہے ہوگے اور خیال کروگے کہ تم تھوڑی سی مدت ہی (عالمِ برزخ میں ) رہے ہو۔
قیامت یقینی ہے
گزشتہ آیات توحید سے متعلق اور شرک کے خلاف مبارزہ کے بارے میں تھیں لیکن زیرِ نظر آیات میں معاد اور قیامت کے بارے میں گفتگو ہے اور ہر مقام پر اس گفتگو سے مسئلہ توحید کی تکمیل ہوتی ہے، جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ عقائدِ اسلامی میں سے بنیادی ترین مبداء ومعاد کا عقیدہ ہے یہی عقیدہ انسان کی عملی اور اخلاقی طور پر تربیت کرتا ہے، یہ عقیدہ آلودگی اور گناہ سے بچاتا اور ادائیگی فرض کی دعوت دیتا ہے اور انسان کو تکامل وارتقاء کے راستے پر جاتا ہے ۔
ان آیات میں منکرین معاد کے تین سوالات یا تین اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے، پہلے ارشاد ہوتا ہے: انھوں نے کہا کہ جب ہم ہڈیوں میں تبدیل ہوگئے اور یہ ہڈیاں بھی بوسیدہ ہوکر منتشر ہوگئیں تو کیا ہمیں نئے سرے سے تخلیق کیا جائے گا( وَقَالُوا اٴَئِذَا کُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا اٴَئِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِیدًا ) ۔(۱)
کیا اصولی طور پر اس بات کا امکان ہے کہ بوسیدہ اور ذرہ ذرہ ہوکر بکھر جانے والی ہڈیاں نئے سے جمع ہوں اور اس کے بعد پھر انھیں لباسِ حیات عطا ہوجائے، بوسیدہ اور پراکندہ ہڈیاں کہاں اور ایک زندہ طاقتور اور عقلمند انسان کہاں ۔
معاد کے بارے میں قرآن کی دیگر بہت سی تعبیرات کی طرح یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ رسول الله اپنی گفتگو میں ہمیشہ معادِ جسمانی کی بات کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ بکھر جانے کے بعد یہ جسم پھر پلٹ آئے گا، ورنہ اگر معادِ روحانی کی بات ہوتی تو مخالفین کے ایسے اعتراضات کے کوئی معنی نہ تھے ۔
قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے: کہہ دو: کہ بوسیدہ اور خاک شدہ ہڈی سے لباسِ حیات عطا کرنا تو آسان کام ہے ”تم پتھر یا لوہا بن جاؤ“ تو پھر بھی خدا قادر ہے کہ تمھارے بدن کو لباسِ حیات پہنادے( قُلْ کُونُوا حِجَارَةً اٴَوْ حَدِیدًا ) ۔ یہاں تک کہ اگر کوئی مخلوق پتھر اور لوہے سے بھی سخت تر ہو اور زندگی سے بہت دُور ہو اور اس لحاظ سے تمھاری نظر میں زیادہ بڑا کام ہو تو خدا قادر ہے کہ اس کے بدن پر جامہ حیات پہنادے( اٴَوْ خَلْقًا مِمَّا یَکْبُرُ فِی صُدُورِکُمْ ) ۔
واضح رہے کہ ہڈیاں بوسیدہ ہوکر خاک ہوجاتی ہیں اور مٹی میں ہمیشہ آثارِ حیات ہوتے ہیں ، نباتات خاک ہی سے اُگتے ہیں ، زندہ موجودات خاک ہی میں پرورش پاتے ہیں اور انسانی وجود کی اصل بھی خاک ہے، مختصر یہ کہ خاک زندگی کات دروازہ ہے لیکن پتھر، لوہا یا وہ موجودات جو ان سے زیادہ سخت ہیں ان کا فاصلہ زندگی سے بہت زیادہ ہے، نباتات کبھی بھی ہو اور جو کچھ بھی ہوجاؤ تمھاری طرف زندگی لوٹادینا اس کے لئے کچھ مشکل نہیں ۔
پتھر بوسیدہ ہوکر خاک میں بدل جاتے ہیں اور پھر مٹھی کے سینے سے زندگی پیدا ہوجاتی ہے، لویا بھی بوسیدہ ہوکر پراکندہ ہوجاتا ہے اور پھر اس کرہ خاکی کے دوسرے موجودات سے مل کر تمام مبداء حیات بن جاتا ہے ۔
اس زمین میں ہم جس موعود کا بھی تصور کریں ، وہ معدنیات میں سے ہو یا معدنیات سے مشابہ کسی چیز سے، انسانی بدن کی عمارت میں ساعمتال ہوتا ہے، یہ چیز نشاندہی کرتی ہے کہ اس عالم کے تمام ذرّات میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ موجودِ زندہ میں تبدیل ہوجائے اگرچہ ان میں سے بعض کسی مرحلے میں زندگی سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مثلاً مٹی اور بعض نسبتاً دور ہوتے ہیں مثلاً پتھر اور لوہا ۔
ان کا اعتراض یہ تھا کہ وہ کہتے تھے کہ اچھا اگر ہم مان لیں کہ یہ بوسیدہ اور منتشر ہڈیاں پھر زندگی حاصل کرسکتی ہیں تو یہ کام انجام دینے کی قدرت کسی میں ہے؟ وہ یہ اس لئے کہتے تھے کیونکہ وہ اس تبدیلی کو ایک نہایت پیچیدہ اور مشکل امر سمجھتے تھے ۔ ”وہ کہتے تھے کہ کون انھیں اٹھائے گا“( فَسَیَقُولُونَ مَنْ یُعِیدُنَا ) ۔
اس سوال کا جواب قرآن اس طرح دیتا ہے: ان سے کہو کہ وہی جس نے پہلی مرتبہ تمھیں پیدا کیا تھا( قُلْ الَّذِی فَطَرَکُمْ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ ) ۔
اگر ”وہ قابل“ کی قابلیت میں تمھیں شک ہے تو سوچو کہ تم پہلے بھی تو خاک تھے، پھر اب کیا رکاوٹ ہے پھر خاک بننے کے بعد تمھیں زندگی دے دی جائے، اگر ”فاعل“ کی فاعلیت میں شک ہے تو وہی خدا جس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا وہ پھر بھی یہ کام کرسکتا ہے کیونکہ:حکم الامثال فیما یجوز وفیما لایجوز واحد -
ہم مثل چیزوں کے جائز اور ناجائز فیصلہ ایک جیسا ہوتا ہے ۔
آخر میں ان کا تیسرا اعتراض بیان کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ تعجب اور انکار کرتے ہوئے اپنا سر ہلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ قیامت کب برپا ہوگی( فَسَیُنْغِضُونَ إِلَیْکَ رُئُوسَهُمْ وَیَقُولُونَ مَتیٰ هُوَ ) ۔
”( فَسَیُنْغِضُونَ ) “”انغاض“ کے مادہ سے کسی مقابل شخص کی جانب تعجب سے سربلانے کے معنی میں ہے ۔
اس اعتراض سے ان کی مراد یہ تھی کہ فرض کریں یہ مادہ خاکی انسان میں تبدیل ہونے کے مقابل ہے اور یہ بھی مان لیں کہ خدا میں یہ قدرت ہے لیکن یہ تو ایک ادھار والے وعدے سے زیادہ بات نہیں ہے اور معلوم نہیں کہ قیامت کب واقع ہوگی، اگر ہزاروں یا لاکھوں سال بعد ہوتی تو ہماری آج کی زندگی میں اس کا کیا اثر ہوگا،نقد بات کرو ادھار بات چھوڑو۔
قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے: ان سے کہہ دو: اس کا زمانہ قریب ہے( قُلْ عَسیٰ اٴَنْ یَکُونَ قَرِیبًا ) ۔
قیامت کی گھڑی قریب ہی ہے کیونکہ اس عالم کی مجموعی عمر کتنی ہی کیوں نہ ہو دوسرے جہاں کی بے پایاں زندگی کے مقابلے میں تو جلدی گزر جانے والے ایک لمحے سے زیادہ نہیں ہے ۔
اس سے قطع نظر اگر قیامت ہمارے چھوڑے اور محدود معیار کے مطابق دور بھی ہوتو بھی قیامت کا آستانہ۔ یعنی موت۔ ہم سب کے قریب ہے ۔ کیونکہ موت قیامت صغریٰ ہے:”اذا مات الانسان قامت قیامته “
جب انسان کو موت آجاتی ہے تو اس کے لیے قیامت واقع ہوجاتی ہے ۔
یہ ٹھیک ہے کہ موت قیامت کبریٰ نہیں ہے لیکن اس کی یاد تو دلاتی ہے ۔
ضمنی طور پر ”عَسیٰ “ کی تعبیر شاید اس طرف اشارہ ہو کہ کوئی شخص دقیقاً قیامت کی تاریخ نہیں جانتا اور یہ ان علوم میں سے ہے جو ذاتِ پروردگار سے مخصوص ہیں ۔ اس کے علاوہ کوئی بھی اس سے آگاہ نہیں ۔
اگلی آیت میں قیامت کی متعین تاریخ ذکر کیے بغیر اس خصوصیات بیان کی گئی ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے: زندگی کی طرف یہ بازگشت اس دن ہوگی جس دن تمہیں قبروں سے پکارا جائے گا اور تم چاہو یا نہ چاہو اس کی دعوت پر لبیک کہو گے اور خدا کی حمد و ثناء کرتے ہوئے زندگی کی طرف پلٹ آؤ گے
( یَوْمَ یَدْعُوکُمْ فَتَسْتَجِیبُونَ بِحَمْدِهِ ) ۔
اور وہ ایسا دن ہے کہ تم موت اور قیامت کے درمیان کے فاصلہ(دور ِبرزخ) کو کم سمجھو گے اور خیال کرو گے کہ برزخ میں تو تم تھوڑی سی مدت ہی رہے ہو
( وَتَظُنُّونَ إِنْ لَبِثْتُمْ إِلاَّ قَلِیلًا ) ۔ اگر چہ یہ طولانی ہو لیکن عالم بقاء کی انتہا عمر کے مقابلے میں چند جلدی سے گزر جانے والے لمحات سے زیادہ نہیں ہے ۔
بعض مفسّرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ یہ دنیال میں توقف کی طرف اشارہ ہے یعنی وہ دن کہ جب تم جان لوگ کہ دنیاوی زندگی کوئی زیادہ طولانی نہ تھی چند مختصر سی گزر گھڑیاں تھیں ۔
____________________
۱۔ رفاف، بروزن کرات۔
آیات ۵۳،۵۴،۵۵،۵۶،۵۷
۵۳( وَقُلْ لِعِبَادِی یَقُولُوا الَّتِی هِیَ اٴَحْسَنُ إِنَّ الشَّیْطَانَ یَنزَغُ بَیْنَهُمْ إِنَّ الشَّیْطَانَ کَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوًّا مُبِینًا )
۵۴( رَبُّکُمْ اٴَعْلَمُ بِکُمْ إِنْ یَشَاٴْ یَرْحَمْکُمْ اٴَوْ إِنْ یَشَاٴْ یُعَذِّبْکُمْ وَمَا اٴَرْسَلْنَاکَ عَلَیْهِمْ وَکِیلًا )
۵۵( وَرَبُّکَ اٴَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیِّینَ عَلیٰ بَعْضٍ وَآتَیْنَا دَاوُودَ زَبُورًا )
۵۶( قُلْ ادْعُوا الَّذِینَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ فَلَایَمْلِکُونَ کَشْفَ الضُّرِّ عَنکُمْ وَلَاتَحْوِیلًا )
۵۷( اٴُوْلٰئِکَ الَّذِینَ یَدْعُونَ یَبْتَغُونَ إِلیٰ رَبِّهِمْ الْوَسِیلَةَ اٴَیُّهُمْ اٴَقْرَبُ وَیَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَیَخَافُونَ عَذَابَهُ إِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحْذُورًا )
ترجمہ
۵۳ ۔ میرے بندوں سے کہدو : ایسی بات کریں کہ جو زیادہ اچھی ہو کیونکہ شیطان (ناموزوں باتوں کے ذریعے) ان کے درمیان فتنہ وفساد کھڑا کردیتا ہے ۔ شیطان ہمیشہ انسان کا کھلا ہوا دشمن۔
۵۴ ۔ تمھارا پروردگار (تمھاری نیتّوں اور اعمال کو) تم سے زیادہ جانتا ہے اگر وہ چاہے (اور تمھیں اس لائق سمجھے) تو اپنی رحمت تمھارے شاملِ حال کردے اور اگر چاہے تو عذاب اور ہم نے تجھے ان پر وکیل نہیں بنایا (کہ تیرے لئے لازم ہو کہ جبراً ایمان لے آئیں ) ۔
۵۵ ۔ وہ تمام لوگ کہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ان کے حالات سے تیرا پروردگار زیادہ آگاہ ہے (اور اگر ہم نے تجھے دوسرے نبیوں پر فضیلت عطا کی ہے اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی ہے ۔
۵۶ ۔ ان سے کہہ دو: تم نے خدا کے علاوہ جو (اپنے معبود) بنا رکھے ہیں انھیں پکار کر دیکھو، وہ تمھاری کوئی مشکل حل نہیں کرسکتے اور نہ اس میں کوئی تبدیلی لاسکتے ہیں ۔
۵۷ ۔ وہ تو وہ ہیں جو خود اپنے پروردگار سے (تقرّب کا) وسیلہ طلب کرتے ہیں ، ایسا وسیلہ جو زیادہ قریب ہو اور یہ اس کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں کیونکہ سب تیرے پروردگار کے عذاب سے بچنے کی فکر میں اور وحشت زدہ ہیں ۔
تمام مخلفین سے منطقی طرزِ عمل
گزشتہ آیات میں مبداء ومعاد کے بارے میں گفتگو تھی اور دو اہم عقائد کے بارے میں دلائل پیش کئے گئے تھے، زیرِ بحث آیات میں مخالفین خصوصاً مخالفین مشرکین کے ساتھ گفتگو اور استدلال کے آداب سکھائے گئے ہیں کیونکہ مکتب جتنا عالی ہو اور منطق جتنی قوی ہو اگر بحث وگفتگو صحیح طریقے اور لطف ومحبت کی بجائے خشونت وسختی پر مبنی ہوگی تو بے اثر ہوکر رہ جائے گی۔
لہٰذا پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: میرے بندوں سے کہہ دو کی ایسی گفتگو صحیح کریں جو بہت اچھی ہو( وَقُلْ لِعِبَادِی یَقُولُوا الَّتِی هِیَ اٴَحْسَنُ ) ۔ ان کی گفتگو مضمون کے لحاظ سے، طرزِ بیان کے لحاظ سے، اخلاق کے حوالےں سے، انسانی آداب کے حوالے سے سے بہترین ہو۔
کیونکہ اگر انھوں نے ”قولِ احسن“ کو ترک کردیا اور کلام میں خشونت، سختی اور ہٹ دھرمی ہوئی تو شیطان ان کے درمیان فتنہ وفساد اٹھادے گا( إِنَّ الشَّیْطَانَ یَنزَغُ بَیْنَهُمْ ) ۔
اور یہ بات کبھی فراموش نہ کرو کہ شیطان کمین لگائے بیٹھا ہے اور چین سے نہیں بیٹھا ”کیونکہ شیطان شروع ہی سے نوعِ انسان کا کھُلا دشمن ہے“( إِنَّ الشَّیْطَانَ کَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوًّا مُبِینًا ) ۔
اس آیت میں لفظ ”عباد“ سے کون لوگ مراد ہیں اس سلسلے میں مفسّرین میں دو مختلف نظریے ہیں ۔ بعض قرائن سے ان میں سے ہر ایک کی تائید ہوتی ہے ۔
۱ ۔ ”عباد“ مراد مشرک بندے ہیں اگرچہ انھوں نے غلط راہ اختیار کررکھی ہے لیکن الله تعالیٰ نے انسانی جذبات کی تحریک کے لئے انھیں ”عبادی“ (میرے بندے) سے یاد کیا ہے اور انھیں دعوت دی ہے کہ وہ ”احسن“ یعنی توحید اور نفی شرک کا راستہ اختیار کریں اور شیطانی وسوسوں سے خبردا ر ہیں ۔ گویا ان آیات کا مقصد یہ ہے کہ توحید ومعاد کے دلائل پیش کرنے کے بعد مشرکین کے دلوں کواپیل کی جائے تاکہ ان میں سے جو تھوڑی بہت آمادگی رکھتے ہیں وہ بیدار ہوجائیں اور راہِ راست پر آجائیں ۔
یہ سورہ مکّی ہے اور اس وقت ابھی جہاد کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اور اس صورت میں منطق و استدلال کے علاوہ ان سے مقابلے کا اور کوئی راستہ نہ تھا اس حوالے سے اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے ۔
۲ ۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ لفظ ”عبادی“ مومنین کی طرف اشارہ ہے اور انہیں دشمنوں سے بحث کرنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے کیونکہ بعض اوقات نو وارد مومنین اپنے پہلے والے طرز عمل ہی کا مظاہرہ کرتے، اپنے عقیدے کے ہر مخالف سے سخت رویہ اختیار کرتے، انہیں صراحت سے اہلِ جہنم، اہلِ عذاب، بدبخت اور گمراہ کہتے پھرتے اور اپنے تئیں اہل نجات قرار دیتے ۔ اس سے رسول اللہ کی دعوت کے بارے میں مخالفین میں ایک منفی ردّ عمل جنم لیتا ۔
اس سے قطع نظر بعض اوقات مخالفین رسول اللہ کے بارے میں جو تو ہین آمیز الفاظ استعمال کرتے اس پر بھی مومنین بے اختیار ہوکر انہیں سخت سست کہتے تھے ۔ جیسا کہ گزشتہ آیات میں گزرچکا ہے ۔ مخالفین رسول اللہ کے لیے مسحور، مجنون، کاہن اور شاعر جیسے الفاظ کہتے تھے ۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ بعض مومنین بھی ان سے جھگڑ پڑتے اور جو منہ میں آتا کہہ ڈالتے ۔ قرآن مومنین کو اس طرز عمل سے روکتا ہے اور انہیں دعوت دیتا ہے کہ نرمی و لطافت سے جواب دیں اور بحث و گفتگو میں بہترین الفاظ استعمال کریں تاکہ شیطانی نقصان سے بچ جائیں ۔
اس تفسیر کے مطابق لفظ ”بینہم“(ان کے درمیان )کا مفہوم یہ ہوگا کہ شیطان کوشش کرتا ہے کہ مومنین اور مخالفین کے درمیان فتنہ و فساد پیدا کردے یا کوشش کرتا ہے کہ مومنین میں غیر محسوس طور پر نفوذ کرے اور انہیں فتنہ و فساد پر ابھارے ۔ کیونکہ ”ینزغ“”نزغ“ کے مادہ سے فساد کروانے کی نیّت سے کسی کام میں مداخلت کرنے کے معنی میں ہے ۔
لیکن تمام قرائن کو ملحوظِ نظر رکھا جائے تو دوسری تفسیر ظاہر آیت سے زیادہ میل کھاتی ہوئی معلوم ہوتی ہے کیونکہ عام طور پر لفظ ”عبادی“ قرآن میں مومنین کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔
علاوہ ازیں بعض مفسرین نے اس آیت کی جوشانِ نزول نقل کی ہے اس میں ہے کہ مکّہ میں مشرکین اصحاب رسول کو اذیت دیتے تھے تو گا ہے دل تنگی کے عالم میں اصحاب رسول اللہ سے اصرار کرتے تھے کہ ہمیں جہاد کی اجازت دی جائے (یا پھر گفتگو میں سخت کلامی اور جیسا سوال ویسا جواب کی اجازت دی جائے) اس پر رسول خدا فرماتے تھے کہ ابھی تک مجھے ایسا کوئی حکم نہیں دیا گیا ۔ اس موقع پر مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں اور انہیں حکم دیا گیا کہ صرف منطقی گفتگو سے جواب دینے کا اسلوب جاری رکھیں ۔(۱)
بعد والی آیت مزید کہتی ہے: تمہارا پروردگار تمہارے حالات سے زیادہ آگاہ ہے ۔ اگر وہ چاہے تو اپنی رحمت تمہارے شامل حال کردے اور اگر چاہے تو تمہیں سزادے( رَبُّکُمْ اٴَعْلَمُ بِکُمْ إِنْ یَشَاٴْ یَرْحَمْکُمْ اٴَوْ إِنْ یَشَاٴْ یُعَذِّبْکُمْ ) ۔
پہلی آیت کی دو تفسیروں کے پیشِ نظر اس آیت کی بھی دو تفسیریں ممکن ہیں :
پہلی یہ کہ اے مشرکین اور اے تہی از ایمان لوگو! تمہارا خدا وسیع رحمت بھی رکھتا ہے اور دردناک عذاب بھی۔ تمہیں وہ جس لائق سمجھے گا وہ سلوک کرے گا ۔ کیا ہی بہتر ہے کہ تم اس وسیع رحمت کے سائے میں آجاؤ اور اس کے عذاب سے بچو۔
دوسری یہ کہ اے اہلِ ایمان! یہ گمان نہ کرو بس تمہی اہلِ نجات ہو اور دوسرے سب اہلِ جہنم ہیں ۔ خدا تمہارے اعمال اور قلوب سے زیادہ آگاہ اور باخبر ہے اگر چاہے تو تمہارے گناہوں کے سبب تمہیں عذاب دے اور چاہے تو اپنی رحمت تمہارے شامل حال کردے ۔ اپنی حالت پر کچھ غور و فکر کرو اور اپنے اور دوسروں کے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ کرو۔
بہر حال آیت کے آخر میں روئے سخن پیغمبر اکرم کی طرف ہے ۔ آپ کی دلجوئی کی گئی ہے اور مشرکین کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے آپ کے انتہائی رنج کو دور کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے: ہم نے تجھے ان پر وکیل نہیں بنایا کہ تم یہ سمجھو کہ انہیں لازمی طور پر ایمان لانا چاہیے( وَمَا اٴَرْسَلْنَاکَ عَلَیْهِمْ وَکِیلًا ) ۔ تیری ذمہ داری تو یہ ہے کہ نہیں کھُلے بندوں حق کی طرف دعوت دو اور اپنی جد و جہد جاری رکھو۔ اگر وہ ایمان لے آئیں تو بہت خوب وگرنہ تجھے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا توُ نے تو اپنا فریضہ ادا کردیا ۔
اس جملے میں مخاطب اگر چہ رسول اللہ کی ذات ہے لیکن بعید نہیں کہ قرآن کے ایسے دیگر بہت سے مقامات کی طرح مراد تمام مومنین ہوں ۔ یہ بات دوسری تفسیرکی تائید میں ایک اور قرینہ ہے کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ تم مسلمانوں کی ذمہ داری حق کی طرف دعوت دینا ہے چاہے وہ ایمان لائیں یا نہ لائیں لہٰذا گفتگو میں سختی اور توہین و ہتک کا طریقہ اختیار کرنے اور اس طرح حد سے زیادہ جوش و خروش دکھانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔
اگلی آیت اس سے بھی بڑھ کر بات کرتی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: خدا تمہارے ہی حالات سے آگاہ نہیں بلکہ ”تیرا پروردگار آسمان اور زمین کے سب باسیوں کی نسبت زیادہ آگاہ ہے اور زیادہ علم رکھتا ہے“( وَرَبُّکَ اٴَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ ) ۔
اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: ہم نے بعض نبیوں پر فضیلت بخشی ہے اور داؤد کو زبور عطا کی ہے( وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیِّینَ عَلیٰ بَعْضٍ وَآتَیْنَا دَاوُودَ زَبُورًا ) ۔
یہ جملہ در حقیقت مشرکین کے ایک اعتراض کا جواب ہے ۔ وہ نہایت تحقیر انداز میں کہتے تھے کہ کیا خدا کے پاس اور کوئی شخص نہ تھا کہ اس نے ایک یتیم محمد کو نبوت کے لیے انتخاب کیا اور اسے کیا ضرورت پڑی تھی کہ اسے تمام انبیاء کا سردار اور خاتم النبیین قرار دے دے ۔
قرآن کہتا ہے کہ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے ۔خدا ہر شخص کے انسانی مقام اور قدر و یمت سے آگاہ ہے اور انہی عام لوگوں میں سے اپنے انبیاء کو منتخب کرتا ہے اور اس نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔ کسی کو خلیل کے اعزاز سے نوازا، کسی کو کلیم اللہ کا مقام عطا کیا کسی کو ”روح اللہ“ قرار دیا اور پیغمبر اسلام کو ”حبیب اللہ“ کی حیثیت سے چن لیا ۔ خلاصہ یہ کہ اس نے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے اور یہ فضیلت اس نے ان معیاروں کے مطابق عطا کی ہے جنہیں وہ خود جانتا ہے اور جو اس کی حکمت کے مطابق ہیں ۔
رہا یہ سوال کہ سب انبیاء میں سے یہاں صرف حصرت داؤد(ص) کو زبور عطا کرنے کی بات کیوں کی گئی ہے، ہو سکتا ہے اس کی وجہ یہ پہلو ہوں :
۱ ۔ کتبِ انبیاء میں حضرت داؤد کی زبور کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ وہ تمام ترمناجات، دعاؤں اور پند و نصیحت پر مشتمل ہے اور تمام تر ”قول احسن“اور اچھی گفتگو کا نمونہ ہے کہ جس کا حکم پہلی آیات میں دیا گیا ہے ۔یہ کتاب اس حکم سے سب سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے ۔
۲ ۔ زبورِ داؤد میں صالحین اوذ نیک بندوں کی حکومت کی خبردی گئی ہے اور فرمایا گیا ہے کہ اگر چہ وہ لوگ ظاہراً تہی دست، فقرا ور یتیم ہوں ہوگے ۔(۲)
”--- کیونکہ شریر منطق ہوجائیں گے لیکن اللہ پر توکل کرنے والے زمین کے وارث ہوں گے ۔ہاں ایک عرصے بعد ثرید یاقی نہ رہے گا تو اس کے بارے میں سوچ بچا کرے گا اور وہ نہیں ہوگا لیکن اہلِ حکمت (صالحین) زمین کے وارث ہوں گے ۔“
اسی مزمور کے بائسویں اور انتیسویں جملے میں اس سے بالکل مشابہ تعبیرات موجود ہیں ۔ یہی بات قرآن مجید کی سورہ انبیاء کی آیہ ۱۰۵ میں ہے:( ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکران الارض یرثها عبادی الصالحون )
ہم نے زبور میں یہ بات رقم کی ہے کہ کچھ عرصے بعد ہمارے نیک بندے زمین کے وارث ہوں گے ۔
اور یہ بات رسول اللہ اور سچے مومنین کی دعوت سے بالکل ہم آہنگ ہے کہ جو بہت تہی دست تھے اور یہ مشرکین کے اعتراض کا جواب ہے ۔
۳ ۔ حضرت داؤد علیہ السلام اگر چہ وسیع حکومت کے مالک تھے لیکن خدا تعالیٰ اس بات کو ان کے لیے اعزاز و افتخار قرار نہیں دیتا بلکہ کتابِ زبور کو ان کے لیے اعزاز شمار کرتا ہے تاکہ مشرکین جان لیں کہ ایک انسان کی عظمت کا معیار مال و دولت اور ظاہری اقتدار و حکومت نہیں ہے لہٰذا یتیم اور غریب ہونا تحقیر و تذلیل کی دلیل نہیں ہے ۔
۴ ۔ یہودی کہتے تھے کہ موسیٰ(ص) کے بعد کسی کتاب کا نازل ہونا ممکن نہیں ہے ۔ اس پر قرآن انہیں جواب دیتا ہے کہ جبکہ ہم نے داؤد کو زبور عطا کی تو تم نزولِ قرآن کے بارے میں کیوں تعجب کرتے ہو (البتہ حضرت داؤد علیہ السلام کی کتاب احکام کی کتاب نہ تھی بلکہ اخلاق کی کتاب تھی لیکن جو کچھ بھی تھی تورات کے بعد اور خدا کی طرف سے نازل ہوئی تھی) ۔
بہرحال کوئی مانع نہیں کہ زیرِ بحث آیت میں تمام انبیاء اور تمام کتب میں سے حضرت داؤد(ص) اور زبور کا انتخاب ان مذکورہ چاروں پہلوؤں کی بناء پر ہو۔
بعد والی آیت میں پھر مشرکین کے بارے میں گفتگو ہے ۔ گزشتہ مباحث کو جاری رکھتے ہوئے پیغمبراکرم سے فرمایا گیا ہے: ان سے کہو کہ خدا کے علاوہ جن معبودوں کو لاءِ پرستش سمجھتے ہیں انہیں صدا دیں ۔نہ ان کے بس میں یہ ہےکہ وہ تمہاری مشکلات اور مصائب دور کرسکیں اور نہ ہی ان میں کوئی تغیّر و تبدیل پیدا کرسکتے ہیں( قُلْ ادْعُوا الَّذِینَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ فَلَایَمْلِکُونَ کَشْفَ الضُّرِّ عَنکُمْ وَلَاتَحْوِیلًا ) ۔
در حقیقت یہ آیت قرآن کی دیگر بہت سی آیات کی طرح مشرکین کے عقیدے اور منطق کو اس حوالے سے باطل قرار دیتی ہے کہ معبودوں کی پرستش یا تو حصول مفاد کے لیے ہے یا دفعِ نقصان کے لیے جبکہ ان کے تو بس میں نہیں کہ کسی کی مشکل کو ٹال سکیں یہاں تک کہ وہ تو کسی مشکل میں کوئی تبدیلی بھی پیدا نہیں کرسکتے یعنی اس کی شدت میں کمی بھی نہیں کرسکتے کہ جس سے ان کی کوئی قدرت ظاہر ہوسکے ۔لہٰذا ”فلایملکون کشف الضر “ کے بعد ”ولا تحویلاً“ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ نہ تو مشکلات کی پوری تاثیر رطرف کرسکتے ہیں نہ ان میں تغیّر کرکے کچھ تھوڑی تاثیر کم کرسکتے ہیں ۔
”زعمتم“”زعم“کے مادہ اور عام طور پر غلط خیال و تصّور کو کہا جاتا ہے ۔ اسی لیے ابنِ عباس سے منقول ہے کہ جہاں کہیں قرآن میں لفظ ”زعم“ استعمال ہوا ہے جھوٹ اور کذب (اور بے بنیاد عقیدے) کے معنی میں ہے ۔
مفردات میں راغب کہتا ہے:الزعم حکایة قول یکون مظنة للکذب ---
زعم نقلِ قول (یا عقیدے) ہے کہ جس میں جھوٹ کا احتمال ہو یہ قرآن میں جن جن مواقع پر استعمال ہوا ہے وہاں مذمت و سرزنش کا پہلو لیے ہوئے ہے ۔
لفظ ”کشف“اصل میں کسی چیز سے پردہ، لباس یا ایسی کسی چیز کو ہٹانے کے معنی میں ہے اور یہ جو ”کشف الضر‘ ‘غم اندوہ، بیماری یا پریشانی برطرف ہونے کے موقع پر بولا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ غم و اندوہ، بیماری یا پریشانی انسانی بدن اور روح پر گویا پردے کی طرح آگرتی ہے اور آسائش، آرام اور سکون کہ جو حقیقی چہرہ ہے، اسے چھپا دیتی ہے لہٰذا غم، دکھ اور پریشانی کے دور ہونے کو ”کشف الضر“ کہا جاتا ہے ۔
اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ اس آیت میں ”الذین“ کی تعبیر یہ بات بیان کرتی ہے کہ مراد اللہ کے علاوہ سب معبود نہیں ہیں بلکہ فرشتے، حضرت عیسی(ص) اور ان جیسے معبود مراد ہیں (کیونکہ ”الذین“ عام طور پر ذوی العقول کی جمع کے لیے بولاجاتا ہے) ۔
بعد والی آیت در حقیقت پہلی آیت میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کے لیے دلیل ہے ۔ یہ آیت کہتی ہے: جانتے ہو کہ تمہاری مشکلوں کو اذنِ پروردگار کے بغیر ٹالنے پر کیوں قادر نہیں ہیں ، اس لیے کہ وہ تو خود اپنی مشکلات بارگاہِ الٰہی میں پیش کرتے ہیں ۔ وہ خود کوشش کرتے ہیں کہ اس کی پاک ذات کا تقرب حاصل کریں اور وہ جو کچھ بھی چاہتے ہیں اسی سے چاہتے ہیں ”وہ ایسے افراد ہیں جو خدا کو پکارتے ہیں اور اس کے تقرب کے لیے اس کی اطاعت کو وسیلہ بناتے ہیں “( اٴُوْلٰئِکَ الَّذِینَ یَدْعُونَ یَبْتَغُونَ إِلیٰ رَبِّهِمْ الْوَسِیلَةَ ) ۔”ایسا وسیلہ جو قریب ترین ہو“( اٴَیُّهُمْ اٴَقْرَبُ ) ۔”اور اس کے امیدوار ہیں “( وَیَرْجُونَ رَحْمَتَهُ ) ۔”اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں “( وَیَخَافُونَ عَذَابَهُ ) ۔”کیونکہ تیرے پروردگار کا عذاب اس قدر شدید ہے کہ سب اس سے بچتے ہیں اور وحشت زدہ ہیں “( إِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحْذُورًا ) ۔
اسلام کے عظیم مفسّرین نے ”ایھم اقرب“ کے مختلف تفسیریں کی ہیں :
بعض کہتے ہیں : یہ اولیا ء خدا فرشتے ہوں یا انبیاء ، ان میں سے جسے بھی معبود سمجھا گیا جتنا وہ اللہ کے زیادہ نزدیک ہو اتناہی مزید بارگاہ الٰہی میں تقرب کے درپے ہوتا ہے ۔ کیونکہ ان کے پاس اپنی طرف سے کچھ بھی ہے خدا کی طرف سے ہے اور ان کا مقام و منزلت جتنا بلند ہوتا جاتا ہے ان کی طرف سے اطاعت و بندگی اتنی ہی زیادہ ہوتی جاتی ہے ۔(۳)
بعض کا نظریہ ہے کہ جملے کا مفہوم یوں ہے: وہ کوشش کرتے ہیں کہ تقربِ پروردگار میں ایک دوسرے پر سبقت لے جائیں ۔ گویا اطاعت پروردگار اور تقرب الٰہی کے راستے میں وہ ایک روحانی مقابلے میں شریک ہیں اور ہر ایک کی کوشش ہے کہ اس میدان میں دوسرے پر بازی لے جائے ۔ وہ لوگ جو ایسے ہوں کیا معبود ہوسکتے ہیں اور کیا وہ خدا سے ہٹ کر کوئی ذاتی حیثیت رکھتے ہیں ؟۔(۴)
رہی یہ تفسیرکہ وہ ہر اس وسیلہ سے تقرب الٰہی چاہتے ہیں جو خدا کے زیادہ قریب ہو، بہت بعید احتمال ہے کیونکہ ”ایہم“ میں ”ہم“ کی ضمیر کہ جو عام طور پر جمع مذکر کے لیے ہوتی ہے اس معنی سے مناسبت نہیں رکھتی بلکہ اس طرح تو ”ایہا“ ہونا چاہیے تھا ۔(۵)
____________________
۱۔ مجمع البیان اور تفسیر قرطبی، زیر بحث آیات کے ذیل میں ۔
۲۔ کتاب مزامیر داؤد (زبور)جس صورت میں آج ہماری دسترس میں ہے اس کے مزمور ۳۷ کمیں ہے:
۳۔ اس تفسیر کے مطابق ”ایہم“”یبتغون“ کی ضمیر کا بدل ہے یاکسی مخدوف کا مبتداء ہے اور تقدیر میں اس طرح تھا:
”ایهم اقرب“ هو اکثر دعاءً وابتغاءً للوسیلة
۴۔ اس صورت میں ”ایہم“صرف”یبتغون“ کی ضمیر کا بدل ہی ہوسکتا ہے ۔
۵۔ اس سے قطع نظر”ایهم اقرب “ مبتداء اور خبر کی صورت میں ہے حالانکہ اس معنی کے مطابق مفعول کی صورت میں یا مفعول سے بدل کی شکل میں ہونا چاہیے ۔ (غور کیجئے گا) ۔
”وسیلہ“ کیا ہے؟
لفظ ”وسیلہ“ قرآن مجید میں دو مواقع پر استعمال ہوا ہے ۔ ایک آیات بالا میں اور دوسرا سورہ مائدہ کی آیہ ۳۵ میں ۔
جیسا کہ ہم سورہ مائدہ کی آیہ ۳۵ کے ذیل میں کہہ چکے ہیں ”وسیلہ“ قرب حاصل کرنے کے معنی میں یا اس چیز کے معنی میں جو قرب کا باعث بنے استعمال ہوتا ہے یا پھر اس کا مطلب ہے وہ نتیجہ جو قرب سے حاصل ہو۔
اس طرح سے ”وسیلہ“ ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جس میں ہر اچھا کام اور ہر اچھی صفت شامل ہے کیونکہ یہ سب چیزیں قربِ پروردگار کا موجب ہیں ۔
نہج البلاغہ کے خطبہ ۱۱۰ میں اس سلسلے میں حضرت علی علیہ السلام کے انتہائی پُر مغز جملے ہیں :
بہترین وسیلہ کہ جس سے بندے قربِ خدا چاہتے ہیں خدا پر ایمان، قیام نماز، ادائیگی زکوٰة، ماہِ رمضان کے روزےن حج و عمرہ، صلہ رحمی، راہ خدا میں پنہاں و آشکار انفاق اور تمام نیک اعمال ہیں کہ جو انسان کو زوال اور پستی سے نجات دیں ۔(۱)
اسی طرح نبیوں ، خدا کے نیک بندوں اور اس کی بارگاہ کے مقرب لوگوں کی شفاعت بھی اسی کے تقرب کا ایک وسیلہ ہے اور اس شفاعت کو آیاتِ قرآن میں صراحت سے بیان کیا گیا ہے ۔
غلط فہمی نہ ہو- بارگاہ ِپروردگار کے مقرب لوگوں سے توسل سے یہ مراد نہیں کہ انسان نبی یا امام سے مستقلاً تقاضا کرے یا اس مفہوم میں ان سے کسی مشکل کا حل چاہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان کے راستے پر چلے، اُن کے پروگراموں سے ہم آہنگ ہوجائے اور ان کے مقام و منزلت کا واسطہ دے کر خدا کو پکارے تاکہ خدا شفاعت و سفارش کی اجازت دے ۔(۲)
____________________
۱۔ تلخیص خطبہ ۱۰۰ نہج البلاغہ۔ اس کی تشریح ہم تفسیر نمونہ جلد ۴ ص ۲۷۶ (اردو ترجمہ) پر کرچکے ہیں ۔
۲۔ مزید و ضاحت کے لیے تفسیر نمونہ جلد ۴ ص ۲۷۷ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں ۔
آیات ۵۸،۵۹،۶۰
۵۸( وَإِنْ مِنْ قَرْیَةٍ إِلاَّ نَحْنُ مُهْلِکُوهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَةِ اٴَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِیدًا کَانَ ذٰلِکَ فِی الْکِتَابِ مَسْطُورًا )
۵۹( وَمَا مَنَعَنَا اٴَنْ نُرْسِلَ بِالْآیَاتِ إِلاَّ اٴَنْ کَذَّبَ بِهَا الْاٴَوَّلُونَ وَآتَیْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْآیَاتِ إِلاَّ تَخْوِیفًا
) ۶۰( وَإِذْ قُلْنَا لَکَ إِنَّ رَبَّکَ اٴَحَاطَ بِالنَّاسِ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی اٴَرَیْنَاکَ إِلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِی الْقُرْآنِ وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا یَزِیدُهُمْ إِلاَّ طُغْیَانًا کَبِیرًا )
ترجمہ
۵۸ ۔ قیامت سے پہلے ہم ہر شہر اور آبادی کو ہلاک کریں گے یا (اگر گنہگار ہیں تو) انہیں سخت عذاب میں گرفتار کریں گے، یہ کتابِ الٰہی (لوح محفوظ) میں ثبت ہے ۔
۵۹ ۔ ہمارے لیے کوئی امر مانع نہیں کہ ہم (بہانہ ساز لوگوں کے تقاضوں پر) یہ معجزات بھجتے سوائے اس کے کہ گزرے ہوئے لوگوں نے (کہ جو اسی قسم کے تقاضے کرتے تھے اور انہی جیسے تھے انہوں نے) ان کی تکذیب کی۔ (انہی میں سے)ثمود کو ہم نے ناقہ دیا(اور وہ ایسا معجزہ تھا کہ) جو واضح اور روشن تھا لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا (اور ناقہ کو ہلاک کردیا) ہم معجزات صرف ڈرانے (اور اتمامِ حجت) کیلئے بھیجتے ہیں ۔
۶۰ ۔وہ وقت یاد کر جب ہم نے تجھ سے کہا کہ تیرا پروردگار لوگوں پر پوری طرح محیط ہے (اور ان کی کیفیت سے پوری طرح آگاہ ہے) ۔ہم نے جو خواب تجھے دکھایا تھا وہ صرف لوگوں کی آزمائش کے لیے تھا ۔ اسی طرح جس شجرِ ملعونہ کا ہم نے قرآن میں ذکر کیا ہے، ہم انہیں ڈراتے (اور تنبیہ کرتے) ہیں لیکن ان کے طغیان و سرکشی کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہیں ہوتا ۔
بہانہ سازوں کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرو
پہلے مشرکین سے توحید و معاد کے بارے میں گفتگو تھی۔ زیرِ بحث پہلی آیت میں بیدار کرنے کے انداز میں انہیں پند و نصیحت کی گئی ہے ۔ اس میں ان کی نگاہِ عقل کے سامنے اس دنیا کے فانی ہونے کو مجسم کیا گیا ہے تاکہ وہ جان لیں کہ یہ دنیا سرائے فانی ہے اور سرائے بقا کوئی دوسری جلہ ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اعمال کے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار کرلیں ۔ ارشاد ہوتا ہے: روئے زمین پر کوئی ایسی آبادی نہیں جس روزِ قیامت سے قبل ہم ہلاک نہ کریں یا اسے عذابِ شدید میں گرفتار نہ کریں( وَإِنْ مِنْ قَرْیَةٍ إِلاَّ نَحْنُ مُهْلِکُوهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَةِ اٴَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِیدًا ) ۔ستمگروں ، بدکاروں اور سرکش باغیوں کو غذابِ شدید کے ذریعے ہلاک کردیں گے اور دوسرے طبعی موت یا عام حوادث ک سامنا کریں گے ۔
آخر کار یہ دنیا ختم ہوجائے گی اور سب راہِ فنا اختیار کریں گے اور یہ ایک تسلیم شدہ اور قطعی اصول ہے کہ جو کتابِ الٰہی میں ثبت ہے ( کَانَ ذٰلِکَ فِی الْکِتَابِ مَسْطُورًا) ۔ یہ کتاب وہی لوح محفوظ، پروردگار کا علم بے پایان اور عالم ہستی میں اس کے ناقابلِ تغیّر قوانین کا مجموعہ ہے ۔ اس قطعی اور ناقابل تغیّر قوانین کا مجموعہ ہے، اس قطعی اور ناقبال تغیّر کتاب الٰہی کی طرف توجہ کرتے ہوئے گمراہوں ، ستمگروں اور آلودہ مشرکین کو ابھی سے اپنے اعمال کے انجام کا اندازہ کرلینا چاہیے، انھیں جان لینا چاہیے کہ اگر وہ اس جہان کے اختتام تک زندہ رہے تو تھی آخرکار ان کے لئے فنا ہے اور اس کے بعد انھیں حساب اور جزا کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
یہاں ے مشرکین کا ایک اعتراض باقی رہ جاتا ہے، وہ کہتے ہیں کہ اچھا، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ، ہم ایمان لے آئیں گے لیکن ایک شرط کے ساتھ اور وہ یہ کہ ہم جس معجزے کی فرمائش کریں پیغمبر اسلام وہ پیش کریں اور درحقیقت ہمارے عذر بہانوں کے سامنے سر جھکادیں ۔
قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے: ان معجزات کی تکذیب کی تھی( وَمَا مَنَعَنَا اٴَنْ نُرْسِلَ بِالْآیَاتِ إِلاَّ اٴَنْ کَذَّبَ بِهَا الْاٴَوَّلُونَ ) ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ معجزات جو صداقتِ پیغمبر کی دلیل ہیں کافی مقدار میں بھیجے جاچکے ہیں اور اب تمھارے من پسند کے معجزات اور تقاضے ایسے نہیں ہیں کہ جن سے موافقت کی جائے کیونکہ تم مشاہدہ کے بعد بھی ایمان نہیں لاؤگے، اگر تم پوچھو کہ اس کی دلیل کیا ہے تو اس کی دلیل ان گزشتہ امتوں کا طرزِعمل ہے جن کی حالت بالکل تم جیسی تھی وہ بھی بہانے تراشنے اور طرح طرح کے تقاضے کرتے تھے لیکن بعد میں وہ ایمان نہ لائے ۔
اس کے بعد قرآن اس کی ایک واضح مثال بیان پیش کرتا ہے: ہم نے قوم ثمود کو ایک ناقہ دیا کہ جو واضح کرنے والا تھا( وَآتَیْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً ) ۔
یہ اوٹنی تھی جو حکم خدا سے پہاڑ سے برآمد ہوئی، کیونکہ ”انھوں نے ایسا ہی معجزہ طلب کیا“ یہ ایک واضح اور واضح کرنے والا معجزہ تھا لیکن اس کے باوجود ایمان نہ لائے، ”انھوں نے اس ناقہ ظلم کیا“ اور اسے قتل کردیا( فَظَلَمُوا بِهَا ) ۔
اصولی طور پر ہمارا یہ پروگرام نہیں کہ جو شخص بھی معجزے کی فرمائش کرے ہمارا پیغمبر اسے قبول کرلے ”ہم تو لوگوں کو سوائے متنبہ کرنے اور ان پر اتمام حجّت کرنے کے، آیات ومعجزات نہیں بھیجتے“( وَمَا نُرْسِلُ بِالْآیَاتِ إِلاَّ تَخْوِیفًا ) ۔ ہمارے انبیاء معجزہ گر لوگ نہیں کہ بیٹھ جائیں اور جو شخص بھی کوئی بھی کوئی فرمائشِ معجزہ کرے اور اسے پورا کرتے ہیں ، ان کا فریضہ بس یہ ہے کہ لوگوں تک دعوتِ الٰہی پہنچائیں ، تعلیم وتربیت کریں اور حکومتِ عدل قائم کریں البتہ خدا سے اپنے رابطے کے اثبات کے لئے اس قدر معجزے پیش کریں کہ جو کافی ہوں اور بس ۔
اس کے بعد دشمنوں کی سختی اور ہٹ دھرمی کے مقابلے میں ، خدا تعالیٰ اپنے رسول کی دلجوئی کرتا ہے اور کہتا ہے: تیری باتیں سُن کر اگر یہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ”وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تجھ سے کہا تھا کہ تیرا پروردگار لوگوں کی کیفیت سے بخوبی آگاہ ہے اور ان پر احاطہ علمی رکھتا ہے“( وَإِذْ قُلْنَا لَکَ إِنَّ رَبَّکَ اٴَحَاطَ بِالنَّاسِ ) ۔
ہمیشہ یہ ہوا کہ انبیاء کی دعوت سُن کر کچھ پاک دل لوگ ایمان لے آئے جبکہ متعصب اور ہٹ دھرم لوگ بہانہ تراشی، مخالفت اور دشمنی کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے، گزشتہ زمانے میں بھی ایسا ہی تھی اور اب ویسا ہی ہے ۔
اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: ہم نے جو خواب تجھے دکھایا وہ صرف لوگوں کی آزمائش کے طور پر تھا( وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی اٴَرَیْنَاکَ إِلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ ) ۔
اسی طرح جس شجرہ ملعونہ کی طرف ہم نے قرآن میں اشارہ کیا ہے وہ بھی لوگوں کی آزمائش کے لئے ہے (وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِی الْقُرْآنِ) ۔
آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: ان کے دل اندھے اور ہٹ دھرم لوگوں کو ہم مختلف طریقوں سے ڈراتے ہیں لیکن اصلاحی اور تربیتی پروگرام ان کی سرکشی کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتے( وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا یَزِیدُهُمْ إِلاَّ طُغْیَانًا کَبِیرًا ) ۔
کیونکہ انسان کا دل قبولِ حق کے لئے آمادہ نہ ہو تو صرف یہ کہ حق بات اس پر اثر نہیں کرتی بلکہ عام طور پر اس کا الٹا نتیجہ نلکتا ہے اور اس کی سختی واصرار کی وجہ سے ان کی گمراہی اور ہٹ دھرمی بڑھ جاتی ہے (غور کیجئے گا) ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ رسول الله کا خواب اور شجرہ ملعونہ:
اس ”رؤیا“ کے بارے مفسّرین میں بہت اختلاف ہے:
(الف)کچھ مفسّرین کا کہنا ہے کہ ”رؤیا“ یہاں خواب کے معنی میں نہیں ہے بلکہ آنکھ کا واقعی مشادہ ہے ۔ ان مفسّرین نے اس واقعہ معراج کی طرف اشارہ سمجھ ہے کہ جس کا ذکر اسی سورہ کی ابتداء میں آیا ہے ۔
اس تفسیر کے مطابق قرآن کہتا ہے: معراج کا واقعہ لوگوں کے لئے آزمائش تھا ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب دن چڑھا تو رسول الله نے لوگوں کو واقعہ معجراج سنایا، اس پر بہت شور اٹھا ۔ دشمن اس کا مذاق اڑانے لگے، کمزور ایمان والے اس پر شک کرنے لگے اور حقیقی مومنین نے اسے مکمل طور پر قبول کرلیا، کیونکہ قدرتِ الٰہی کے سامنے یہ سب مسائل معمولی ہیں ۔
اس تفسیر پر ایک ہی اہم اعتراض ہے اور وہ یہ کہ لفظ ”رؤیا“ عام طور پر خواب کے معنی میں ہے نہ کہ جاگتے ہوئے دیکھنے کے معنی میں ۔
(ب) ابنِ عباس سے منقول ہے کہ ”رؤیا“ اس خواب کی طرف اشارہ ہے جو آپ نے (ہجرت کے چھٹے برس) حدیبیہ کے سال میں مدینہ میں دیکھا تھا اور لوگوں کو بشارت دی تھی کہ تم جلدی ہی قریش پر فتح پاؤگے اور بڑے امن وآرام سے مسجد الحرام میں داخل ہوجاؤگے لیکن ہم جانتے ہیں کہ اس سال اس خواب نے عملی صورت اختیار نہ کی بلکہ دو سال بعد فتح مکہ کے موقع پر صورزت پذیر ہوا لیکن اتنی تاخیر کی وجہ سے مومنین آزمائش میں سے گزرے اور کمزور ایمان والے شک میں پڑگئے حالانکہ رسول الله نے ان سے بالصراحت فرمایا کہ میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ تم اس سال مکّہ جاؤگے بلکہ مَیں نے کہا تھا کہ جلد ایسا ہوگا (اور اسی طرح ہوا) ۔
اس تفسیر پر یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ یہ سورہ بنی اسرائیل مکّی سورتوں میں سے ہے اور حدیبیہ کا واقعہ ہجرت کے چھٹے سال میں ہوا ۔
(ج) بعض سُنی اور شیہ مفسّرین نے نقل کیا ہے کہ یہ ایک مہور خواب کی طرف اشارہ ہے جس میں رسول الله نے دیکھا کہ بندر آپ کے منبر پر اُچھل کود رہے ہیں ، اس پر آپ بہت غمگین ہوئے اور اس واقعہ کے بعد آپ بہت کم ہنستے تھے ۔
(ان بندروں سے بنی امیہ مراد لی گئی ہے، وہ یکے بعد دیگرے رسول الله کی جگہ اور منبر پر بیٹھتے انھوں نے اس میں ایک دوسرے کی تقلید کی، وہ بے حیثیت افراد تھے ۔ وہ اسلامی حکومت اور خلافتِ رسول الله کو تباہی کی طرف لے گئے) ۔
یہ تفسیر فخر الدین رازی نے ”تفسیر کبیر“ میں اہل سنت کے مشہور مفسّر قرطبی نے تفسیر الجامع میں طبرسی نے مجمع البیان میں اور متعدد دیگر مفسرین نے نقل کی ہے ۔
مرحوم فیض کاشانی تفسیر صافی میں کہتے ہیں کہ یہ روایت عامہ اور خاصہ میں مشہور روایات میں سے ہے ۔
البتہ یہ تینوں تفسیریں ایک دوسرے کے منافی ہیں ، ہوسکتا ہے یہ تینوں آیت میں جمع ہوں لیکن جیسا کہ ہم نے کہا ہے دوسری تفسیر سورہ کے مکّی ہونے سے مناسبت نہیں رکھتی۔
”شجرہ ملعونہ“ کے بارے میں اسی طرح متعدد تفاسیر ہیں :
الف) قران میں جس ”شجرہ ملعونہ“ کا ذکر ہے وہ ”شجرہ زقوم“ ہے ۔ یہ وہ درخت ہے جو سورہ صافّات کی آیہ ۶۴ کے مطابق جہنّم کی بنیاد میں اُگے گا ۔ اس کا پھل ناگوار اور رنج آور ہوگا، قرآنی الفاظ ہیں :
( إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِی اٴَصْلِ الْجَحِیمِ )
”یہ وہ درخت ہے جو جہنّم کی بنیاد سے اٹھے گا“۔
سورہ دخان کی آیت ۴۶ اور ۴۷ کے مطابق یہ درخت گنہگاروں کی خوراک ہے ۔ یہ اس دنیا کے کھانوں کی طرح نہیں ہے بلکہ یہ پگھلی ہوئی دھات کی طرح دل میں جوش مارے گا، اس کی مکمل تفسیر انشاء الله سورہ دخان کی آیات کے ذیل میں آئے گی۔
اس میں شک نہیں کہ ”شجرہ زقوم“ اس دنیا کے درختوں سے کوئی مشابہت نہیں رکھتا، اسی بناء پر آگ کے اندر سے اُگے گا ۔
واضح ہے کہ اس قوم کے مسائل کے جو دوسرے جہان سے مربوط ہیں ہمارے لئے تو ایک خیالی تصویر کی طرح ہیں جسے دور سے دیکھا جائے تو بس سیاہی سی معلوم ہوتی ہے ۔
مشرکینِ قریش قرآن کی اس تعبیر کا مذاق اڑاتے تھے، ابوجہل کہتا تھا:
محمد تمھیں ایسی آگ کی دھمکی دیتا ہے جو پتھروں کو جلائے گی اور اس کا خیال ہے کہ دوزخ میں درخت اُگے گا ۔
نیز یہ بھی منقول ہے وہ تمسخر کے طور پر کجھوریں اور مکھن منگواتا، انھیں کھاتا اور اپنے ساتھیوں سے کہتا: اسے کھاؤ یہی زقوم ہے ۔(۱)
اس بناء پر قران زیرِ بحث آیات میں شجرہ ملعونہ کا لوگوں کی آزمائش کے ذریعے کے طور پر تعارف کرواتا ہے کیونکہ ہٹ دھرم مشرک اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور سچّے مومنین سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔
ممکن ہے سوال کیا جائے کہ یہ درخت قرآن میں ”شجرہ ملعونہ“ کے نام سے نہیں آیا، اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ ہوسکتا ہے مراد کھانے والوں پر لعنت ہو، علاوہ ازیں لعنت رحمتِ خدا سے دوری کے علاوہ کچھ نہیں اور واضح ہےں کہ ایسا درخت رحمتِ پروردگار سے بہت دور ہے ۔
ب) ”شجرہ ملعونہ“ سے مراد سرکش یہودی قوم ہے، وہ ایسے درخت کی طرح ہیں جس کی بہت شاخیں اور پتّے ہیں لیکن بارگاہِ الٰہی میں دھتکارے ہوئے ہیں ۔
ج) بہت سے شیعہ اور سُنّی تفاسیر میں منقول ہے کہ شجرہ ملعونہ بنی امیہ ہیں ۔ فخرا رازی نے مشہور اسلامی مفسّر ابن عباس سے اس سلسلے میں اپنی تفسیر میں ایک رویات نقل کی ہے:
یہ تفسیر رسول الله صلی الله علیہ وآلہ(ص) وسلّم کے خواب کے بارے میں مذکورہ بالا روایت سے بھی مناسبت رکھتی ہے ۔ نیز اس حدیث سے بھی مناسبت رکھتی ہے جو حضرت عائشہ سے منقول ہے، انھوں نے مروان کی طرف منہ کرکے کہا:لعن الله اٴباک واٴنت فی صلبه فانت بعض من لعنه الله -
الله نے تیرے باپ پر لعنت کی جبکہ تُو اس کی صلب میں تھا لہٰذا تُو اس کا ایک حصّہ ہے جس پر خدا نے لعنت کی ہے ۔(۲)
یہاں پھر ایک سوال سامنے آتا ہے کہ قرآن میں کہاں بنی امیہ کے شجرہ پر لعنت ہوئی ہے ۔ جواب یہ ہے کہ سورہ ابراہیم میں آیہ ۲۶ میں ، جہاں شجرہ خبیثہ کا ذکر آیا ہے ۔ اگر شجرہ خبیثہ کے وسیع مفہوم کی طرف نظر رکھی جائے اور اس آیت کی تفسیر میں وارد روایات کہ جن میں بنی امیہ کو شجرہ خبیثہ قرار دیا گیا ہے کہ طرف توجہ کی جائے اور یہ دیکھا جائے کہ”خبیثہ“ معنی کے لحاظ سے لفظ”ملعونہ“ کے ساتھ لازم و ملزوم ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ قرآن میں بنی امیہ کے شجرہ خبیثہ پر لعنت ہوئی ہے ۔(۳)
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ یہ تمام تر یا زیادہ تر تفاسیر ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں ممکن ہے ہر منافق، خبیث اور درگاہِ الٰہی سے راندہ ہوا شجرہ ملعونہ کے مقہوم میں شامل ہو اور خصوصاً بنی امیہ، سنگدل، ہٹ دھرم یہودی اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے تمام لوگ اس سے مراد ہوں اور ہوسکتا ہے شجرہ زقوم دوسرے جان میں انہی شجراتِ خبیثہ کی تجسیم ہو اور یہ سب شجرات خبیثہ اِس جہان میں سچّے مومنین کی آزمائش اور امتحان کا باعث ہوں ۔
وہ یہودی کہ جو آج کل حساس اسلامی مراکز پر غاصبانہ طور پر مسلط ہوں اور ہر لمحہ دنیا کے کسی نہ کسی گوشے میں آگ لگا رہے ہیں اور جو کچھ جرائم اور بے انصافیاں کررہے ہیں ، اسی طرح وہ منافقین جن کے ان سے سیاسی یا غیر سیاسی روابط ہیں اور تمام آمر حکمران کہ جنھوں نے اسلام کا راستہ چھوڑکر اسلامی ممالک میں بنی امیہ کا راستہ اپنا رکھا ہے اور معاشرے کے منظر سے نیک لوگوں کو دُور کررکھا ہے ، جنھوں نے پست اور کمینے افراد کو عوام کے سروں پر مسلط کررکھا ہے، وہ کہ جو داستانِ حق پر مظالم ڈھارہے ہیں اور سچّے مجاہدین کو شہید کررہے ہیں ، وہ جنھوں نے ایسے افراد کے ہاتھ میں معاشرے کی باگ ڈور دے رکھی ہے جو دَورِ جاہلیت کی یادگار ہیں ۔ یہ سب ”شجرہ ملعونہ“ کے شاخ وبرگ ہیں اور لوگوں کے لئے آزمائش اور امتحان کا باعث ہیں ۔
____________________
۱۔ تفسیر روح المعانی، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔
۲۔ تفسیر قرطبی، ج۶، ص۳۹۰۲ اور تفسیر فخر رازی، ج۲۰، ص۲۳۷-
۳۔ نور الثقلین، ج۲، ص۵۳۸-
۲ ۔ منکرینِ اعجاز کی عذرتراشیاں
ہمارے زمانے کے بعض بے خیر افراد یہ راگ الاپتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کا قرآن کے علاوہ کوئی معجزہ نہ تھا، اپنی اس بات کے لئے وہ کئی طرح کے بہانے تراشتے ہیں ، وہ ”وَمَا مَنَعنَا اٴن نُرسِلَ بِالآیاتِ “ کو بھی اس بات کی دلیل بتاتے ہیں کہ پیغمبر اسلام نے گزشتہ انبیاء کے برخلاف کوئی معجزہ پیش نہیں کیا لیکن تعجب کی بات ہے کہ وہ آیت کے ابتدائی حصّے کا تو ذکر کرتے ہیں لیکن آخری حصّے کو چھوڑ دیتے ہیں جس میں ہے کہ:
( وَمَا نُرْسِلُ بِالْآیَاتِ إِلاَّ تَخْوِیفًا )
ہم آیات صرف مخالفین کو ڈارنے کے لئے بھیجتے ہیں ۔
یہ تعبیر ناشاندہی کرتی ہے کہ معجزات دو قسم کے ہیں ، ایک قسم ان معجزات کی ہے جو دعوتِ رسول کی صداقت ثابت کرنے کے لئے، اہل ایمان کی تشویق کے لئے اور منکرین کو ڈرانے کے لئے ضروری ہیں ، جبکہ دوسری قسم ان من پسند معجزات کی ہے جن کا تقاضا ہے بہانہ جوئی کے طور پر کرتے تھے، تاریخ انبیاء میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں ، انبیاء نے ایسے معجزات منکرین کے سامنے پیش کئے لیکن وہ ہرگز ایمان نہ لائے ۔
اسی لئے وہ لوگ خدائی عذاب میں گرفتار ہوئے کیونکہ ان مجوزہ معجزات کے ظہور پذیر ہونے کے باوجود وہ ایمان نہ لائے لہٰذا فوری عذاب کے مستحق قرار پائے ۔ اس بناء پر مندرجہ بالا آیت میں قرآن جس چیز کی پیغمبر اسلام کے بارے میں نفی کر رہا ہےوہ صرف دوسری قسم کے معجزات ہیں نہ کہ پہلی قسم کے معجزات کی کیونکہ ان کا دعویٰ نبوت کے ثبوت کے لئے ناگزیر ہے ۔
یہ ٹھیک ہے کہ قرآن خود تنہا ایک واضح اور جاوداں معجزہ ہے اور اگر اس کے علاوہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کا کوئی اور معجزہ نہ بھی ہوتا تب بھی آپ کی دعوت صداقت ہمارے لئے ثابت ہوسکتی تھی لیکن اس میں شک نہیں کہ قران آپ کا روحانی اور معنوی معجزہ ہے اور اہلِ فکر ونظر کے لئے یہ بہترین شاہد ہے لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس معجزے کو اگر دوسرے محسوس مادی معجزات کے ساتھ ملادیا جائے تو عامة الناس کے لئے انتہائی اہم ہوجائے بالخصوص جبکہ قرآن نے دیگر انبیاء کے لئے ایسے معجزے کا بارہا ذکر کیا ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ ان معجزات کا ذکر اس بات کا سبب ہے کہ لوگ آپ سے تقاضا کریں کہ آپ کیسے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ سب انبیاء الٰہی سے افضل اور آخری پیغمبر ہیں جبکہ ان کے معجزات میں سے چھوٹا یا معجزہ بھی پیش کرسکے ۔
یقیناً اس سوال کا مطمئن کرنے والا جواب اس کے علاوہ نہ تھا کہ پیغمبرِ اکرم انبیائے سلف کے معجزات کا نمونہ پیش کریں اور متواتر اسلامی تاریخ بھی کہتی ہے کہ رسول الله نے ایسے معجزات دکھائے ۔
قرآن کی متعدد آیات میں ان معجزات کے نمونے موجود ہیں ، مثلاً آئندہ کے واقعات کے بارے میں مختلف پیش گوئیاں ، دشمن کے خلاف فرشتوں کا لشکر اسلام کی مدد کرنا اسی طرح دیگر معجزات خصوصاً وہ معجزات جو اسلامی جنگوں میں وقوع پذیر ہوئے ۔
۳ ۔ گزشتہ لوگوں کے انکار کا آئندہ لوگوں سے تعلق؟
مندرجہ بالا آیات میں قرآن کہتا ہے کہ گزشتہ لوگوں نے چونکہ معجزات کا طالبہ کیا تھا اور ان کے ظہور پذیر ہونے کے باوجود انھوں نے تکذیب کی لہٰذا اس سلسلے میں اب تمھارے مطالبے تسلیم نہیں کئے جاسکتے ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا گزشتہ لوگوں کی تکذیب بعد کی نسلوں کی محرومیت کا سبب بن سکتی ہے؟
جو کچھ سطور گزشتہ میں کہا گیا ہے اس سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے ۔ یہ ایک رائج طریقہ ہے کہ مثلاً ہم کہتے ہیں کہ ہم تمھاری بہانہ سازیوں کو نہیں مانتے، اگر دوسرا پوچھے کہ کیوں ؟ تو ہم کہتے ہیں کہ پہلے بھی ایسا ہوچکا ہے کہ لوگوں نے ایسے تقاضے کئے تھے مگر بعد میں حق کو تسلیم نہیں کیا تمھاری کیفیت بھی انھی جیسی ہے ۔ اس کے علاوہ تم ان کی روش کی تائید کرتے ہو اور عملی طور پر تم نے ثابت کیا ہے کہ تمہارا مقصد تحقیق وجستجو نہیں ہے بلکہ تو تم صرف بہانے تراشتے ہو اور پھر ہٹ دھرمی، ڈھٹائی اور انکار پر باقی رہتے ہو لہٰذا تمھارے تقاضوں کا کچھ نتیجہ نہیں نکلے گا ۔
یہی وجہ ہے کہ جب رسول الله نے خبر دی کہ جہنم کی گہرائیوں میں ایک درخت اُگے گا کہ جو ان اوصاف کا حامل ہوگا اور اس سے اہلِ دوزخ کو غذا حاصل ہوگی، تو وہ فوراً تمسخر اڑانے لگے، کبھی کہتے کہ ”زقوم“ کھجور اور مکھن کے علاوہ کچھ نہیں ، آؤ یہ میٹھی اور روغنی غذا ”زقوم“ کی یاد میں کھائیں اور کبھی کہتے کہ جس دوزخ کے پتھروں میں سے اُگے گی اس میں درخت کیسے اُگے گا حالانکہ واضح تھا کہ وہ درخت اس جہان کے درختوں کی مانند نہیں ہے ۔
آیات ۶۱،۶۲،۶۳،۶۴،۶۵
۶۱( وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِکَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلاَّ إِبْلِیسَ قَالَ اٴَاٴَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِینًا )
۶۲( قَالَ اٴَرَاٴَیْتَکَ هٰذَا الَّذِی کَرَّمْتَ عَلَیَّ لَئِنْ اٴَخَّرْتَنِی إِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَةِ لَاٴَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَهُ إِلاَّ قَلِیلًا )
۶۳( قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَکَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُکُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا )
۶۴( وَاسْتَفْزِزْ مَنْ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِکَ وَاٴَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِکَ وَرَجِلِکَ وَشَارِکْهُمْ فِی الْاٴَمْوَالِ وَالْاٴَولَادِ وَعِدْهُمْ وَمَا یَعِدُهُمْ الشَّیْطَانُ إِلاَّ غُرُورًا )
۶۵( إِنَّ عِبَادِی لَیْسَ لَکَ عَلَیْهِمْ سُلْطَانٌ وَکَفیٰ بِرَبِّکَ وَکِیلًا )
ترجمہ
۶۱ ۔ وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ان سب نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے کہ جس نے کہا کہ کیا ایسے کو سجدہ کروں جسے تُو نے مٹی سے پیدا کیا ہے ۔
۶۲ ۔ (پھر) اس نے کہا یہ شخص جسے تُونے مجھ پر ترجیح دی ہے اگر تونے مجھے قیامت تک زندہ رکھا تو تھوڑے سے افراد کے سوا اس شخص کی ساری اولاد کو گمراہ کروں گا اور ان کی بیخ کُنی کروں گا ۔
۶۳ ۔ فرمایا: نکل جا، ان میں سے جو شخص بھی تیری اتباع کرے گا اس کی سزا جہنم ہے اور یہ بہت سخت سزا ہے ۔
۶۴ ۔ ان میں سے جس پر تیرا بس چلے اسے آواز دے کر ابھار اور اپنے سوار اور پیادہ لشکر کو ان پر لگادے اور مال اور اولاد میں سے ان کے ساتھ شریک ہو اور ان سے (جھوٹے) وعدے کر، لیکن شیطان کا وعدہ سوائے جھوٹ اور فریب کے کچھ نہیں ہے ۔
۶۵ ۔ (لیکن جان لے) تُو ہر گز میرے بندوں پر تسلّط حاصل نہیں کرسکے گا (اور وہ کبھی تیرے دام میں گرفتار نہیں ہوں گے) یہی کافی ہے کہ تیرا پروردگار ان کا محافظ ووکیل ہے ۔
شیطان کے جال
یہ آیات ابلیس کی رُوگردانی کے بارے میں ہیں ۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے آدم(ص) کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو اس نے انکار کردیا، علاوہ ازیں اس میں اس کے بُرے انجام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے نیز اس واقعے کے بعد کے کچھ امور کا بھی ذکر ہے ۔
قبل ازیں ہٹ دھرم مشرکین سے متعلق مباحث تھیں ، ان کے بعد شیطان کے بارے میں یہ آیات اس طرف اشارہ ہیں کہ شیطان استکبار اور کفر و عصیان کا مکمل نمونہ تھا ۔ دیکھو کہ اس کا کیا انجام ہوا لہٰذا تم کہ جو اس کے پیروکار ہو تمہارا بھی وہی انجام ہوگا ۔
علاوہ ازیں یہ آیات ا ِس طرف بھی اشارہ کرتی ہیں کہ یہ دل کے اندھے مشرکین کہ جو خلافِ حق راستے پر ڈٹے ہوئے ہیں تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ شیطان کئی طریقوں سے انہیں گمراہ کرنے کے درپے ہے اور در حقیقت وہ اپنے اس پروگرام پر عمل پیرا ہے کہ جس کا اعلان اس نے اِن الفاظ میں کیا تھا:
میں اکثر اولادِ آدم کو گمراہ کروں گا ۔
پہلے ارشاد فرمایا گیا ہے: وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم(ص) کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سواسب سجدہ ریز ہوگئے( وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِکَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلاَّ إِبْلِیسَ ) ۔
جیسا کہ خلقتِ آدم(ص) سے مربوط آیات کی تفسیر میں ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ یہ سجدہ ایک طرح کا خضوع اور اظہارِ احترام تھا اور اس سے خلقتِ آدم(ص) کی عظمت اور دیگر مخلوقات کی نسبت ان کے امتیازی مقام کے اظہار کے طور پر تھا اور یہ عبادت کے طور پر خدا کو سجدہ تھا کہ اس نے ایسی عجیب و غریب مخلوق پیدا کی ہے ۔
ہم یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر چہ یہاں ابلیس کا ذکر فرشتوں کے ساتھ آیا ہے لیکن قرآن کی شہادت کے مطابق ان میں سے نہیں تھا بلکہ بندگی خدا کے باعث ان کی صف میں جا پہنچا تھا ۔ وہ جنّات میں سے تھا اور اس کی خلقت مادی تھی۔ ابلیس کے سر پر غرور و تکبر سوار تھا ۔ خود بینی نے اس کی عقل و ہوش پر پردہ ڈال رکھا تھا ۔ اسے گمان تھا کہ مٹی آگ سے بہت کم حیثیت کی حامل ہے جبکہ مٹی تمام برکات کا منبع اور سرچشمہ حیات ہے ۔ اس نے اعتراض کے لہجے میں بارگاہِ خداوندی میں کہ-: کیا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جسے تونے گیلی مٹی سے پیدا کیا ہے
( قَالَ اٴَاٴَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِینًا ) ۔
جس وقت اس نے دیکھا کہ فرمانِ خدا کے سامنے غرور و تکبر اور سرکشی کی وجہ سے وہ ہمیشہ کے لیے اس کی بارگاہِ مقدس سے دھتکار دیا گیا ہے تو اس نے عرض کیا، اگر تو مجھے روزِ قیامت تک مہلت دے تو جسے تونے مجھ پر ترجیح دی ہے اور اعزاز بخشا ہے میں تھوڑے سے افراد کے سوا اس کی ساری اولاد کو گمراہ کردوں گا اور اس کی بیخ کنی کردوں گا( قَالَ اٴَرَاٴَیْتَکَ هٰذَا الَّذِی کَرَّمْتَ عَلَیَّ لَئِنْ اٴَخَّرْتَنِی إِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَةِ لَاٴَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَهُ إِلاَّ قَلِیلًا ) ۔(۱)
جسے تونے ترجیح دی ہے کیا اس شخص کو تونے دیکھا ہے؟ اگر مجھے زندہ رہنے دیا تو تودیکھے گا میں اس کی اکثر اولاد کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا ۔
دوسرا احتمال آیت کی ترکیب اور معنی کے لحاظ سے زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے ۔
”احتنکن “”احتناک “ کے مادہ سے کسی چیز کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے معنی میں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ٹڈی دَل زراعت کو بالکل کھاجائے تو عرب کہتے ہیں :”احتنک الجراد الزرع “
لہٰذا مذکورہ گفتگو کا مفہوم یہ ہے کہ میں معدودِ چند افراد کے سوا ساری اولادِ آدم کو تیرے جادئہ و اطاعت سے ہٹادوں گا ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ ”احتنکن “”حنک“کے مادہ سے زیر گلو اور زیر حلق کے معنی میں ہو جس وقت جانور کی گردن میں رسی یا لگام ڈالتے ہیں تو عرب اسے ”حنتک الدابه “ کہتے ہیں ۔
اِس بناء پر مذکورہ گفتگو کا مطلب یہ ہے کہ شیطان کہتا ہے کہ میں سب کی گردن میں وسوسے کی رسّی ڈال دوں گا اور انہیں گناہ کے راستے کی طرف کھینچ لے جاؤں گا ۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان کو مہلت دے دی گئی تاکہ ساری اولاد آدم کے لیے میدان امتحان معرضِ وجود میں آجائے اور حقیقی مومنین کی تربیت کا وسیلہ فراہم ہوجائے کیونکہ حوادث کی بھٹی میں انسان ہمیشہ پختہ تر ہوتا ہے اور طاقتور دشمن کے مقابلے میں دلیر ہوجاتا ہے ۔ فرمایا: نکل جا، ان میں سے جو لوگ تمہاری پیروی کریں گے ان کی سزا جہنم ہوگی اور یہ بہت سزا ہے( قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَکَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُکُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا ) ۔
اس ذریعے سے آزمائش کا اعلان کیا گیا ہے اور آخر میں اس عظیم خدائی آزمائش میں کامیابی اور شکست کے بارے میں بتایا گیا ہے ۔ اس کے بعد شیطان کے ان ہتھکنڈوں ، حربوں اور وسائل کا ذکر کیا گیا جن سے وہ کام لیتا ہے ۔ اس سلسلے میں بہت واضح اور جاذبِ توجہ انداز میں فرمایا گیا ہے: ان میں سے ہر ایک کو اپنی آواز کے ذریعے تحریک کرسکتا ہے اور وسوسے میں ڈال سکتا ہے( وَاسْتَفْزِزْ مَنْ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِکَ ) ۔ اور اپنی پکار کے ذریعے اپنے سوار اور پیادہ لشکر کو ان کی طرف ہانک سکتا ہے( وَاٴَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِکَ وَرَجِلِکَ ) ۔ وہ ان کے اموال اور اولاد میں شریک ہوجاتا ہے( وَشَارِکْهُمْ فِی الْاٴَمْوَالِ وَالْاٴَولَادِ ) ۔ اور اپنے جھوٹے وعدوں کے ذریعے انہیں فریب دیتا ہے (وَعِدْھُمْ) ۔ اس کے بعد قرآن خبردار کرتا ہے: شیطان فریب، دھوکہ اور غرور پر مبنی وعدوں کے علاوہ کچھ نہیں دیتا( وَمَا یَعِدُهُمْ الشَّیْطَانُ إِلاَّ غُرُورًا ) ۔
پھر خدا اس سے کہتا ہے: لیکن جان لے کہ ”میرے بندوں پر تیرا کچھ بس نہ چلے گا“( إِنَّ عِبَادِی لَیْسَ لَکَ عَلَیْهِمْ سُلْطَانٌ ) ۔ اتنا ہی کافی ہے تیرا پروردگار ان بندوں کا ولی و حافظ ہے( وَکَفیٰ بِرَبِّکَ وَکِیلًا ) ۔
____________________
۱۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ”ارء یتک“ کا کاف حرفِ خطاب ہے کہ جو تاکید کے طور پر آیا ہے اور ”ارء یتک“کا معنی ”اخبرنی“ (مجھے خبردے) ہے جس کا جواب محذوف ہے ۔ تقدیر میں اس طرح تھا:اور مجموعی طور پر اس کا یہ معنی ہو:
چند اہم نکات
۱ ۔ چند الفاظ کا مفہوم:
”استفزز“”استفزاز“ کے مادہ سے تحریک کرنا اور ابھارنا کے معنی میں ہے ۔ اس میں سریع اور سادہ تحریک کا مفہوم پنہان ہے لیکن در اصل یہ لفظ قطع و برید کرنے کے معنی میں ہے ۔ اس لیے جب کوئی کپڑا یا لباس پھٹ جائے تو عرب کہتے ہیں :تفزز الثوب
تحریک پانے اور برانگیختہ ہونے کے معنی حق سے قطع ہونے اور باطل کی طرف ملتفت ہو جانے کی وجہ سے ہے ۔
”اجلب“”اجلاب“کے مادہ در اصل”جلبہ“ یعنی سخت قسم کی چیخ و پکار کے معنی میں ہے ۔”اجلاب“کے معنی ہے شور و غل مچا کر ہانکنا اور چَلانا ۔ بعض روایات میں ”جلب“سے منع کیا گیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰة جمع کرنے پر مامور شخص حقِ شرعی لینے کے لیے چراگاہ میں جائے تو چِلّائے نہیں کہ کہیں چراگاہ کے چوپائے وحشت زدہ ہوجائیں یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ گھڑ سواری کے مقابلے میں شریک کوئی بھی دوسرے کے گھوڑے کے سامنے غُل غپاڑہ نہ کرے تاکہ وہ خود دوڑ لگاتے ۔(۱)
”خیل“دو معانی میں آیا ہے ۔ گھوڑوں کے معنی میں اور گھڑ سواروں کے معنی میں ۔ یہاں البتہ دوسرے معنی میں ہے اور سوار لشکر کی طرف اشارہ ہے ۔
اس کے برعکس ”رجل“ پیادہ لشکر کے معنی میں ہے ۔
البتہ شیطان کا سوار اور پیادہ لشکر کسی باقاعدہ فوج کے مفہوم میں نہیں ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ خود اس کی اپنی جنس میں سے اور انسانوں میں سے بہت سے افراد گمراہی اور بے راہ روی پھیلانے کے لیے اس کے مددگار ارو ساتھی ہیں ۔اس کے ان مددگاروں میں بعض زیادہ طاقتور ہیں کہ جو سوار لشکر کی طرح ہیں اور بعض نسبتاً سست ہیں کہ جو پیادہ لشکر کی طرح ہیں ۔
۲ ۔ وسوسے کے لیے شیطانی ذرائع:
مندرجہ بالا آیات میں اگر چہ مخاطب شیطان ہے اور خدا تعالیٰ تہدید آمیز لہجے میں اس سے کہتا ہے کہ تجھ سے جو کچھ ہوسکتا ہے کرلے مختلف ذرائع سے بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔ لیکن یہ درحقیقت تمام انسانوں کے لیے تنبیہ اور بیداری کا الارم ہے ۔ انہیں شیطانی ہتھکنڈوں سے آگاہ کیا گیا ہے اور انہیں بتایا گیا ہے کہ وہ کس طرح وسوسے پیدا کرتا ہے ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں شیطانی ذرائع کے چا اہم اور بنیادی حصوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور انسانوں سے فرمایا گیا ہے کہ وہ ان سے خبردار رہیں :
الف۔ شیطانی کا پہلا ہتکھنڈا پراپیگنڈا ہے:
ابھی ہم نے پڑھا ہے:”( واستغفزز من استطعت منهم بصوتک ) “
بعض مفسرین نے اس جملے سے صرف ہوس انگیز گانوں اور موسیقی کا مفہوم لیا ہے لیکن اس کا مفہوم وسیع تر ہے ۔ اس میں سمعی اور صوتی ذرائع سے کیا جانے والا تمام تر گمراہ کن پراپیگنڈا شامل ہے ۔ آج کی دنیا ریڈیو اور ٹیلی ویڑن کی دنیا ہے ۔ آج کی دنیا وسیع سمعی و بصری کی دنیا ہے ۔ آج کی دنیا میں آواز کے ذریعے کو استعمال کررہے ہیں ۔ یہ لوگ بہت زیادہ دولت اسی راستے پر خرچ کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو راہِ حق سے گمراہ کرسکیں ، وہی راہِ حق کہ جو حریت و استقلال اور ایمان و تقویٰ کی راہ ہے ۔ وہ انسانوں کو بے ارادہ اور کمزور غلاموں میں بدل دینا چاہتے ہیں ۔
ب۔ شیطان کا دوسرا ہتھکنڈا فوجی قوت کا استعمال ہے:
شیطان کا یہ طرز عمل صرف ہمارے زمانے ہی میں نہیں ۔ فوجی طاقت ہمیشہ سے ظالموں اور جابروں کا اہم اور خطرناک ہتھیار رہا ہے ۔ جب بھی وہ ضرورت محسوس کرتے ہیں فوری طور پر اپنی مسلح طاقتوں کو پکارتے ہیں اور ان علاقوں کی طرف روانہ کردیتے ہیں جہاں وہ محسوس کرتے ہیں کہ لوگوں میں آزادی اور استقلال کی تڑپ پیدا ہورہی ہے اور خطرہ ہے کہ وہ پھر سے آزادی حاصل نہ کرلیں ۔
۱ ۔ امریکہ نے ایران کے خلاف یہ فوج تیار کی تھی اسے انگریزی میں Rapid Deplyed Army کا نام دیا گیا تھا ۔ (مصحح) ۔
خود آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ سریع الحرکت فوج(۱) تیار کی گئی ہے جو بالکل ”اجلاب“ کا مفہوم رکھتی ہے ۔ اسی طرح مغرب کی بعض دیگر طاغوتی طاقتوں نے بھی خاص فوج تیار کی ہے تاکہ دنیا کے جس کسی حصے میں بھی ان کے غیر شرعی شیطانی مفادات کو خطرہ ہو اُسے وہاں بھیج سکیں اور حق کی ہر آواز اور حرکت کو دبا سکیں ۔ یہ جاسوس درحقیقت ان کا پیادہ لشکر ہے ۔ یہ طاقتیں اس بات سے غافل ہیں کہ خدا کا اپنے سچے بندوں سے وعدہ ہے کہ شیطان اور اس کی فوج ہرگز ان پر غلبہ حاصل نہیں کرسکے گی۔
ج۔ اقتصادی ہتھکنڈا:
یہ ظاہراً انسانی طرزِ عمل معلوم ہوتا ہے لیکندر حقیقت شیطانی اثر و نفوذ کے لیے مالی و اقتصادی امور میں شرکت کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے ۔
بعض مفسرین نے اموال میں شرکت سے صرف سود اور اولاد میں شرکت سے صرف غیر شرعی اولاد مراد لیا ہے ۔(۲) حالانکہ ان کامفہوم بہت وسیع ہے جس میں ہر طرح کا حرام مال اور ہر طرح کی غیر شرعی اولاد وغیرہ شامل ہے ۔
ہم خود اپنے اس زمانے میں دیکھتے ہیں کہ عالمی شیطانی سامراجی انسان دشمن قوتیں کس کس طرح سرمایہ لگاتی ہیں ۔ یہ طاقتیں اقتصادی کمیٹیاں قائم کرتی ہیں کمزور ملکوں میں مختلف قسم کے کارخانے لگاتی ہیں اور پیدا واری مراکز قائم کرتی ہیں پھران کے ذریعے طرح طرح کے خطرناک کھیل کھیلتی ہیں ۔ یہ طاقتیں فنی اور اقتصادی ماہرین کے نام پر ان ملکوں میں اپنے جاسوس بھیجتی ہیں اور ہمدرد بن کر ان ملکوں کے خون کا آخری قطرہ تک چوس لیتی ہیں ۔ یہ طاقتیں ان ملکوں میں ان ذرائع سے اقتصادی ترقی، استقلال اور خود مختاری پر ضرب لگاتی ہیں اور انہیں آگے نہیں بڑھنے دیتیں ۔
اسی طرح یہ شیطانی قوتیں اسکولوں ، کالجوں ، لائبریریوں ، ہسپتالوں اور سیاحت کے راستے ان کی اولاد میں شرکت کرتی ہیں ۔ ان ممالک میں بعض افراد کو اپنے ہاں اعلیٰ تعلیم کے نام پر بلاتی ہیں اور ان ملکوں کے جوانوں کو اپنی تمدن و ثقافت کے رنگ میں پوری طرح رنگ لیتی ہیں اور اس طرح ان کے افکار و نظریات میں شریک ہوجاتی ہیں ۔
لیکن جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے اس قسم کی تفاسیر بعض واضح مصادیق کو بیان کرتی ہیں البتہ آیت کا مفہوم انہی میں منحصر نہیں ہے ۔ تفسیر نور الثقلین ج ۳ ص ۱۸۴ کی طرف رجوع کریں ۔
یہ شیطان برائی کے مراکز بھی قائم کرتے ہیں ۔ انٹر نیشنل ہوٹلوں ، جدید تفریحی کلبوں ، سینماؤں اور گمراہ کن فلموں کے ذریعے قوموں کا اخلاق تباہ کرتے ہیں ۔ صرف ان ذرائع سے برائیوں ہی کو جنم نہیں دیتے بلکہ غیر شرعی اولاد میں بھی اضافے کا باعث بنتے ہیں بلکہ ان ذرائع سے یہ شیطان ایک بھٹکی ہوئی، بے راہ رو، بے ارادہ، اوباش اور ہوس پرست نسل کو پروان چڑھاتے ہیں ۔
ان کے طور طریقوں پر ہم جتنا گہرا غور کریں گے اتنا زیادہ ان کے خطرناک شیطانی وسوسوں کی گہرائی سے آشنا ہوں گے ۔
____________________
۱۔ مفردات راغب اور مجمع البیان کی طرف رجوع کریں ۔
۲۔ ان آیات کے بارے میں وارد روایات میں بھی شیطان کے شریک اولاد ہونے کا مفہوم۔ غیر شرعی اولاد یا وہ اولاد جن کا نطفہ مالِ حرام سے بنا اور یا نطفہ ٹھہرتے وقت جن کے ماں باپ یادِ خدا سے غافل تھے، بیان کیا گیا ہے ۔
د۔ نفسانی تباہی کے شیطانی پروگرام:
مغرورکرنے والے اور طرح طرح کے پُر فریب وعدے، شیطانوں کا ایک اور چلن ہیں ۔ انہوں نے لوگوں کو فریب دینے کے لیے بڑے بڑے ماہرین نفسیات رکھے ہوئے ہیں ۔ ان کا کام لوگوں کو حقائق سے غافل کرنا ہے ۔ کبھی یہ کہتے ہیں کہ عظیم تمدن کا دروازہ تم سے چند قدم دور ہے ۔ کبھی سمجھاتے ہیں کہ تم جلد ہی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوجاؤ گے ۔ کبھی کہتے ہیں کہ تمہاری قوم بڑی عظیم ہے جو اس پروگرام پر عمل کرکے اوج عظمت تک جا پہنچے گی۔ وہ پسماندہ قوموں اور لوگوں کو انہی تصورات میں لگائے رکھتے ہیں اور یہ سب کام ”وعدہم“کا مصداق ہیں ۔
کبھی وہ اس کے برعکس دوسرا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔ تحقیر و تضعیف کرتے ہیں ۔ چھوٹے او ر کمزور ملکوں سے کہتے ہیں کہ تم بڑی عالمی طاقتوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ تمہارے اور ترقی یافتہ ممالک میں سینکڑوں سالوں کا فرق ہے ۔ اس طرح یہ شیطان انہیں ہمت و کوشش سے روکتے ہیں ۔
یہ قصّہ بہت طویل ہے ۔ شیطان اور اس کے لشکروں کے نفوذ کا کوئی ایک طریقہ نہیں ۔
یہ وہ مقام ہے کہ جہاں ”عباد اللّٰہ“ اور خدا کے سچے بندے ہمت نہیں ہارتے، ان کے وہ جذبے اسی طرح سلامت رہتے ہیں کہ جو وہ ان آیات سے حاصل کرتے ہیں ۔ ان آیات میں وہ خدا کا قطعی وعدہ دیکھتے ہوئے ان شیطانوں کے خلاف جنگ کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور ان سے ذرہ بھر خوف نہیں کھاتے ۔ وہ جانتے ہیں کہ شیطانوں کا شور و غل جتنا زیادہ ہو اتناہی بے معنی اور کھوکھلا ہوتا ہے ۔ وہ جانتے ہیں کہ قوت ایمان اور توکل علی اللہ سے ان سب پر کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے اور ان کے منصوبوں کو نقش بر آب کہا جاسکتا ہے ۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے:”( و کفٰی بربک وکیلاً ) “
خدا ان کا بہترین محافظ، نگہبان اور یارو مددگار ہے
۳ ۔ خدا نے شیطان کو کیوں پیدا کیا؟:
اس بارے میں سورہ بقرہ کی آیہ ۳۶ کی تفسیر میں ہم تفصیلی بحث کرچکے ہیں ۔ اسی طرح مختلف طرح کے شیطانی وسوسوں اور لفظ شیطان کے سلسلہ میں ج ۶ ص ۱۱۲ اور ج ۱ ص ۱۶۶ پر بحث کی جا چکی ہے ۔ (اردو ترجمہ)
آیات ۶۶،۶۷،۶۸،۶۹
۶۶( رَبُّکُمْ الَّذِی یُزْجِی لَکُمْ الْفُلْکَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ إِنَّهُ کَانَ بِکُمْ رَحِیمً ) -
۶۷( وَإِذَا مَسَّکُمْ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُونَ إِلاَّ إِیَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاکُمْ إِلَی الْبَرِّ اٴَعْرَضْتُمْ وَکَانَ الْإِنْسَانُ کَفُورًا )
۶۸( اٴَفَاٴَمِنتُمْ اٴَنْ یَخْسِفَ بِکُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اٴَوْ یُرْسِلَ عَلَیْکُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَاتَجِدُوا لَکُمْ وَکِیلًا )
۶۹( اٴَمْ اٴَمِنتُمْ اٴَنْ یُعِیدَکُمْ فِیهِ تَارَةً اٴُخْریٰ فَیُرْسِلَ عَلَیْکُمْ قَاصِفًا مِنَ الرِّیحِ فَیُغْرِقَکُمْ بِمَا کَفَرْتُمْ ثُمَّ لَاتَجِدُوا لَکُمْ عَلَیْنَا بِهِ تَبِیعً ) -
ترجمہ
۶۶ ۔ تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لیے دریا میں کشتی چلاتا ہے تاکہ تم اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ۔ وہ تمہارے لیے مہربان ہے ۔
۶۷ ۔ اور جس وقت تمہیں دریا میں کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے تو اس کے سوا ہر ایک کو بھول جاتے ہو لیکن جس وقت وہ تمہیں بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو منہ پھیر لیتے ہو اور انسان (نعمتوں کا)کفران کرنے والا ہے ۔
۶۸ ۔ کیا تم اس سے مامون ہو کہ وہ خشکی پر (ایک شدید زلزلے کے ذریعے) تمہیں زمین میں دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کا طوفان بھیج دے اور (تمہیں اس میں دفن کردے اور) پھر تمہیں کوئی محافظ (اور مددگار) نہ ملے ۔
۶۹ ۔ یا کیا تم اِس سے مامون ہوکہ وہ پھر تمہیں دریا کی طرف پلٹادے، تمہاری طرف شدید آندھی بھیج دے اور تمہیں تمہارے کفر کی وجہ سے غرق کردے یہاں تک کہ کسی ایسے شخص کو بھی پیدا نہ کرے کہ جو تمہارے خون کا مطالبہ کرے ۔
نعمتوں کے باوجود کفران کیوں ؟
اس سے قبل توحید کے بارے میں شرک کے خلاف بحث ہوچکی ہے ۔ زیرِ نظر آیات بھی اس بحث کا تسلسل ہیں ۔ ان آیات میں اس موضوع پر دو حوالے سے بحث کی گئی ہے ۔ ایک استدلال و برہان کے حوالے سے اور دوسرے وجدان و ضمیر کے حوالے سے ۔
پہلا توحیدِ استدلالی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: تمہارا پروردگار وہ ہے کہ جو دریا میں کشتی کو حرکت عطا کرتا ہے، ایک مسلسل اور دائمی حرکت( رَبُّکُمْ الَّذِی یُزْجِی لَکُمْ الْفُلْکَ فِی الْبَحْر ) ۔
واضح ہے کہ دریا یا سمندر میں کشتیوں کے چلنے کے لیے بہت سے باہم پیوستہ نظام موجود ہیں ۔ ایک طرف پانی کو مرکب کی طرح پیدا کیا گیا ہے ۔ دوسری طرف بعض چیزوں کا مخصوص وزن پانی سے بہت ہلکا ہے، اس طرح سے کہ وہ پانی کے اوپر رہ سکیں یا پھر انہیں ایسی شکل میں بنایا جاسکتا ہے کہ عملی طور پر ان کا وزن پانی سے کم ہوجائے بلکہ یہاں تک کہ بھاری بوجھ اور بہت سے انسانوں کو اٹھا سکیں ۔ تیسری طرف کشتی کو حرکت دینے والی قوت کی ضرورت ہے ۔ پُرانے زمانے میں یہ ضرورت منظم ہوا ئیں پورا کرتی تھیں ۔ یہ ہوائیں سمندروں پر ایک خاص نظم کے ساتھ چلتی ہیں ۔ ملاح ان سے آشنائی حاصل کرکے ان کے ذریعے بادبانی کشتیوں کو چلاتے ہیں راہوں کو پہنچاننے کے لیے سورج اور ستاروں سے مدد لیتے تھے اور آج کے دور میں قطب نما اور نقشوں سے ۔
بہر حال اگر یہ چاروں امور باہم مربوط نہ ہوتے اور کشتیوں کو چلانے کے لیے آپس میں ہم آہنگ نہ ہوتے تو انسان نقل و حمل کے اس انتہائی اہم وسیلے سے محروم ہوتا ۔
آپ جانتے ہیں کہ کشتیاں ہمیشہ سے انسان کے لیے نقل و حمل اور آمد و رفت کا ایک انتہائی اہم وسیلہ رہی ہیں ۔ آج تو ایسے ایسے بحری جہاز ہیں جو اپنے آپ میں ایک چھوٹے سے شہر کے برابر ہوتے ہیں ۔
اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اور یہ سب کچھ اس لیے ہے تاکہ تم فضل خدا سے بہرہ مند ہو( لِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِه ) ۔اپنی آمد و رفت کے لیے، مالِ تجارت کی نقل و حمل کے لیے اور دین و دنیا میں تمہاری مدد کیلئے ”کیونکہ پروردگار تم پر مہذبان ہے“( إِنَّهُ کَانَ بِکُمْ رَحِیمًا ) ۔
نظام خلقت کے ایک چھوٹے سے گوشے کے حوالے سے یہ توحید استدلالی کے بارے میں بات تھی۔ اس میں خالق کے علم، قدرت اور حکمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ اب بات کا رخ استدلال فطری کی طرف مڑتا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: کہیں بھول نہ جانا کہ ”جب کبھی تم کسی دریا یا سمندر میں ہوتے ہو اور تمہیں پریشانیاں اور مشکلات آگھیرتی ہیں (اور تم وحشت ناک طوفانی لہروں میں گھِر جاتے ہو)“ تو وہ تمام معبود تمہیں بھول جاتے ہیں جنہیں تم خدا کے علاوہ پکارتے ہو اور وہی ایک تمہارا سہارا رہ جاتا ہے( وَإِذَا مَسَّکُمْ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُونَ إِلاَّ إِیَّاهُ ) ۔ اور ایسے میں انہیں کھوہی جانا چاہیے کیونکہ طوفانی حوادث میں جب تقلید و تعصب کے پردے فطرتِ انسانی کے چہرے سے ہٹتے ہیں تو نور فطرت چمکنے لگتا ہے، وہی نور فطرت کہ جو نورِ توحید، نورِ خدا پرستی اور نور یگانہ پرستی ہے ۔ جی ہاں ! ایسے لمحات میں تمام تصوراتی و خیالی معبود کہ جنہیں انسانی تو ہم نے وجود بخشا ہوتا ہے ذہن سے محو ہوجاتے ہیں ، اس طرح سے جیسے تیز دھوپ میں برف پانی ہوجاتی ہے ۔
یہ ایک عمومی قانون ہے کہ جس کا تقریباً ہر شخص نے تجربہ کیا ہے کہ مصائب و آلام کی شدت میں جب جان پر بن جاتی ہے، اس وقت تمام ظاہری اسباب بیکار ہوجاتے ہیں اور مادی امداد و ناتوان ہوجاتی ہے ۔ ایسے میں انسان علم و قدرت کے عظیم مبداء کو یاد کرتا ہے کہ جو سخت ترین مشکلات کو حل کرنے پر قادر ہے ۔
ہمیں اس سے سروکار نہیں کہ اس مبداء کا نام کیا رکھتے ہیں ۔ ہم اتنا جانتے ہیں کہ امید کا ایک دریچہ دل کی طرف کھل جاتا ہے اور ایک لطیف و طاقتور نور دل کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے ۔ انسانی روح و قلب کے اندر خداشناسی کا یہ ایک بہت ہی نزدیک راستہ ہے ۔(۱)
اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے:لیکن تم ایسے مرد و فراموش ہوکہ ”ادھر دست قدرت الٰہی تمہیں ساحل تک پہنچاتا ہے اور ادھر تم اس سے منہ پھیر لیتے ہو اور انسان در اصل ہے ہی کفران کرنے والا( فَلَمَّا نَجَّاکُمْ إِلَی الْبَرِّ اٴَعْرَضْتُمْ وَکَانَ الْإِنْسَانُ کَفُورًا ) ۔
ایک بار پھر غرور ، غفلت، اندھی تقلید اور تعصب کے پردے اس نور الٰہی کو چھپا دیتے ہیں اور گناہ و نافرمانی کا غبار اور مادی زندگی کی سرگرمیاں اس کا تابناک چہرہ پنہان کردیتی ہیں ۔
لیکن کیا تمہارا خیال ہے کہ خدا خشکی اور صحرا میں تمہیں عذاب شدید میں مبتلا نہیں کرسکتا ”کیا تم اس سے مامون ہوکہ اس کے حکم سے زمین پھٹ جائے اور تم اس میں دھنس جاؤ‘ ‘( اٴَفَاٴَمِنتُمْ اٴَنْ یَخْسِفَ بِکُمْ جَانِبَ الْبَرِّ ) ۔ اور کیا تم اس سے مامون ہوکہ تم پر پتھروں کی بارش ہو اور تم پتھروں کے نیچے دفن ہوجاؤ(جبکہ یہ ایسا عذاب ہے کہ جو غرقاب ہونے سے کئی گنا سخت تر ہے)اور پھر تمہیں کوئی محافظ و نگہبان بھی نہ ملے
( اٴَوْ یُرْسِلَ عَلَیْکُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَاتَجِدُوا لَکُمْ وَکِیلًا ) ۔
صحرا نور د اس بات سے خاص طور پر آشنا تھے کہ کبھی کبھی بیابان میں ایسے طوفان آتے ہیں کہ ریت اور سنگریزوں کے انبار اٹھائے ہوتے ہیں ، دیکھتے ہی دیکھتے نئے ٹیلے بن جاتے ہیں اور بعض اوقات تو اونٹوں کی قطار کی قطار ان کے نیچے دفن ہوجاتی ہے ۔ قرآن کی اس دھمکی کو یہ بیابان نورد زیادہ سمجھ سکتے تھے ۔
اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اے بھول جانے والو! کیا تمہارا خیال ہے یہ تمہرا آخری بحری سفر تھا ”کیا اس سے مامون ہوکہ تمہیں تمہاری ضرورتیں پھر سمندر میں نہ لے جائےں اور وہاں خدا تباہ کن تیز ہواؤں کو حکم دے کہ تمہیں تمہارے کفر اور کفران نعمت کے باعث غرق کردیں اور اس وقت پھر یہ عالم ہوگا کہ کوئی تمہارے خون کا مطالعہ کرنے والا نہ ہوگا، کوئی نہ ہوگا جو کہے کہ ایسا کیوں ہوا“( اٴَمْ اٴَمِنتُمْ اٴَنْ یُعِیدَکُمْ فِیهِ تَارَةً اٴُخْریٰ فَیُرْسِلَ عَلَیْکُمْ قَاصِفًا مِنَ الرِّیحِ فَیُغْرِقَکُمْ بِمَا کَفَرْتُمْ ثُمَّ لَاتَجِدُوا لَکُمْ عَلَیْنَا بِهِ تَبِیعً ) ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ کم ظرف انسان:
بہت سے لوگ یہ کرتے ہیں کہ مشکلات میں تو خدا کو یاد کرتے ہیں لیکن راحت و آرام میں اسے بھول جاتے ہیں ۔ یہ لوگ حقائق زندگی پر توجہ نہیں دیتے لہٰذا انہیں بھول جانے کی راحت و آرام میں اسے بھول جاتے ہیں ۔ یہ لوگ حقائق زندگی پر توجہ نہیں دیتے لہٰذا انہیں بھول جانے کی عادت پڑچکی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی ان کی توجہ خدا اور حقائق زندگی کی طرف ہو تو یہ ان کی ایک استثنائی حالت ہوگی کہ جس کے لیے انتہائی شدید عوامل کی ضرورت ہے ۔ جب تک ان عوامل کے تحت کوئی غیر معمولی صورت حال باقی رہے گی انہیں خدایا درہے گا لیکن جو نہی وہ گھڑی ٹلے گی یہ لوگ اپنی انحرافی طبیعت کی طرف پلٹ آئیں گے اور اللہ کو بھول جائیں گے ۔ خلاصہ یہ کہ ایسے لوگ بہت کم ملیں گے جو سنگین و روح فرسا مشکلات میں اللہ کی باعظمت بارگاہ میں سر نہ جھکائیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ اس اضطراری بیداری اور توجہ کی کوئی قیمت نہیں ۔ صاحبانِ ایمان اور سچے مسلمان وہ ہیں جو راحت و مشکل میں ، سلامتی و بیماری میں ، خوشحالی و قحط میں ، اقتدار و زندان میں ۔ غرض ہر حالت میں اس کی یاد میں رہتے ہیں اور اصولی طور پر حالات کی تبدیلی ان پر ہرگز کوئی اثر نہیں کرتی۔ ان کی روح اس قدر عظیم ہے کہ سب کچھ ان کے اندر سما جاتا ہے جیسے حضرت علی علیہ السلام کی مثال ہے ۔ ان کی عبادت، ان کا زہد اور ان کی دردمندوں کی خبر گیری تخت و اقتدار پر بھی ایسی ہی تھی جیسی گوشہ تنہائی میں تھی، جیسا کہ آپ خود پرہیزگاروں کی صفات کے بارے میں فرماتے ہیں :
”نزلت انفسهم منهم فی البلاء کالتی نزلت فی الرخاء “
خوشی اور غمی میں ان کی ایک سی حالت رہتی ہے ۔(۲)
مختصر یہ کہ ایمان ، توجہ الی اللہ، توسل، عبادت، توبہ اور اللہ کے حضور سر تسلیم خم کی تبھی کوئی قدر و قیمت ہے جب یہ دائمی اور پائداری ہوں ۔ باقی رہا موسمی تو بہ اور موسمی عبادتیں کہ جو اضطراری حالت میں انجام دی جائیں یا اس حالت میں ئکہ جب ذاتی مفادات کا تقاضا ہو تو یہ سب بے فائدہ یا انتہائی کم قیمت ہیں ۔آیاتِ قرآنی میں ایسے لوگوں کی بارہا مذمت کی گئی ہے ۔
____________________
۱۔ توحید فطری کی تفصیل ”آفریدگار جہاں “میں مطالعہ کیجئے ۔ نیز سورہ نحل کی آیہ ۱۴ کی تفسیر میں بھی ہم اس مسئلے کی طرف اشارہ کرچکے ہیں ۔
۲۔ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۹۳-
۲ ۔ خدا کی حدود حکومت سے فراز ممکن نہیں :
بعض لوگ۔ مثلاً زمانہ جاہلیت کے بت پرست۔ صرف اس وت خدا کی طرف رُخ کرتے تھے جب کسی مشکل میں گرفتار ہوتے ہھے ۔ مثلاً کبھی وسط سمندر میں طوفان میں گھر جانے پر یا کسی خطرناک گھاٹی پر یا کسی شدید بیماری میں ، حالانکہ اگر صحیح طرح سے سوچا جائے تو ہر حالت میں ہر جگہ انسان کے لیے خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے ۔
دریا ہو یا صحرا، سلامتی ہو یا بیماری، ہلاکت کے گھڑے کا سامنا ہو یا کوئی اور موقع۔ درحقیقت سب برابر ہیں ۔ ہوسکتا ہے زلزلے کا ایک مختصر سا جھٹکا ہمارے خانہ امن و امان کو وحشت ناک ویرانے میں تبدیل کر دے ۔ خون کا ایک چھوٹا سا ذرہ ہمارے دل کی شہ رگ کو بند کرسکتا ہے ۔ دل یا دماغ کے ایک ثانیے کے سکتے کی وجہ سے موت آسکتی ہے ۔ ان امور کی طرف توجہ کی جائے تو واضح ہوگا کہ خدا سے غفلت اور اس کی پاک ذات کو فراموش کردینا کس قدر جاہلانہ ہے ۔
وہ لوگ کہ جو اس مفروضے کے حامی ہیں کہ مذہب کی بنیاد خوف ہے، ہوسکتا ہے اس بات کو دستاویز کے طور پر پیش کریں کہ مختلف طبیعی عوامل کا خوف انسان کو خدا کے تصور کی طرف لے جاتا ہے اور ایسے خیالات کو تقویت پہنچاتا ہے ۔
قرآنی آیات نے ایسے اوہام کا جواب دیا ہے کیونکہ قرآن نے خداشناسی کی بنیاد کبھی اس مسئلے پر نہیں رکھی بلکہ اس کی بنیاد نظام خلقت کے مطالعے اور اس مطالعے کے ذریعے اس کی پاک ذات تک پہنچنے کو قرار دیا ہے ۔ یہاں تک کہ زیر بحث آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ توحید فطری سے پہلے ایمان استدلالی کے بارے میں بات کی گئی ہے اور در حقیقت ان حوادث کو خدایا دلانے والے شمار کیا گیا ہے نہ کہ اس کی شناحت و معرفت کا موجب کیونکہ حق طلب افراد کے لیے اس کی شناخت و معرفت طریقِ استدلال سے بھی واضح ہے اور راہِ فطرت سے بھی واضح ہے اور راہِ فطرت سے بھی آشکار ہے ۔
۳ ۔ چند الفاظ کا مفہوم:
”یزجی“جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ”ازجاء“ کے مادہ سے کسی چیز کو مسلسل حرکت دینے کے معنی میں ہے ۔
”حاصب“ایسی ہوا کو کہتے ہیں کہ جو سنگریزوں کو اپنے ہمراہ اٹھالائے اور ان کے ٹیلے بنادے ۔ یہ لفظ در اصل ”حصباء“ سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے ”سنگریزہ“۔
”قاصف“ توڑنے والے کے معنی میں ہے ۔ یہاں ایسی شدید آندھی کی طرف اشارہ ہے کہ جو ہر چیز کو درہم برہم کرکے رکھ دے ۔
”تبیع“”‘تابع‘ کے معنی میں ہے ۔ یہاں ایسے شخص کی طرف اشارہ ہے کہ خون یا خونبہا کا مطالبہ لے کر اٹھ کھڑا ہو اور اس کا پیچھا کرے ۔
آیات ۷۰،۷۱،۷۲
۷۰( وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِی آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلیٰ کَثِیرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیلًا )
۷۱( یَوْمَ نَدْعُو کُلَّ اٴُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ فَمَنْ اٴُوتِیَ کِتَابَهُ بِیَمِینِهِ فَاٴُوْلٰئِکَ یَقْرَئُونَ کِتَابَهُمْ وَلَایُظْلَمُونَ فَتِیلًا )
۷۲( وَمَنْ کَانَ فِی هٰذِهِ اٴَعْمَی فَهُوَ فِی الْآخِرَةِ اٴَعْمَی وَاٴَضَلُّ سَبِیلًا )
ترجمہ
۷۰ ۔ ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور خشکی و دریا میں انہیں سواریاں عطا کیں ، طرح طرح کے پاکیزہ رزق میں سے انہیں روزی دی اور انہیں اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت عطا کی۔
۷۱ ۔ وہ دن یاد کرو کہ جب ہر گروہ کو ہم اس کے امام کے ساتھ پکاریں گے ۔ پس جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں ہوگا وہ اسے (بڑی مسرت سے)بڑھیں گے اور ان پر رائی برابر بھی ظلم نہیں ہوگا ۔
۷۲ ۔ لیکن وہ لوگ جو اس دنیا میں (چہرہ حق کو دیکھ کر بھی) اندھے بنے رہے وہ وہاں بھی اندھے رہیں گے بلکہ گمراہ تر۔
انسان گلشن حیات کا بہترین پھول
تربیت و ہدایت کا ایک طریقہ یہ ہے لوگوں کو ان کی عظمت اور مقام یاد دلایا جائے ۔ قرآن مجید بھی یہ طریقہ اختیار کرتا ہے ۔ گزشتہ آیات میں مشرکین اور منحرف افراد کے بارے میں گفتگو تھی۔ اب زیر نظر آیات میں نوعِ انسانی کے بلند مقام کا تذکرہ ہے نیز اس عطا ہونے والی نعمات الٰہی کا بیان ہے تا کہ وہ اپنے اس انتہائی اعلیٰ مقام کی طرف توجہ کرے اور اپنے مقامِ گراں بہا کو ضائع نہ کردے اور اپنے تئیں کسی حقیر سی قیمت پر نہ بیچ ڈالے ۔
ارشاد ہو تا ہے :ہم نے اولاد ِآدم کو عزت و تکریم بخشی اور گرامی قدر بنایا( وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِی آدَمَ ) ۔
اس کے بعد انسان کو عطا ہو نے والی تین طرح کی نعمات الٰہی کا ذکر کیا گیا ہے ۔
پہلی نعمت :
”ہم نے انہیں خشکی ودریا میں سواریاں عطا ہیں “( وَحَمَلْنَاهُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْر ) ۔
دوسری نعمت:
”پاکیزہ رزق میں سے ہم نے انہیں روزی دی ہے “( وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّیِّبَاتِ ) )
لفظ ”طیب“کے مفہوم میں ہر پاکیزہ موجود شامل ہے ۔اس مفہوم پر توجہ کی جائے تو اس عظیم خدائی نعمت کی وسعت واضح ہو جاتی ہے ۔
تیسری نعمت :
”ہم نے انہیں اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی ہے “( وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلیٰ کَثِیرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیلًا ) ۔
چند اہم نکات
۱ ۔سواری ۔انسان کے لیے اولین نعمت :
یہ نکتہ قا بلِ توجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو نعمتیں عطا کی ہیں ان میں سے سب سے پہلے خشکی اور دریا میں اس کی آمد ورفت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ممکن ہے یہ اس بناء پر ہو کہ طبیات اور مختلف قسم کے رزق سے حرکت اور سفر کے بغیر فائدہ اٹھانا ممکن نہیں اور صفحہ زمین پر اس سفر کے لیے انسان کو سواری کی ضرورت ہے ۔یہ بجا کہا جاتا ہے کہ حرکت میں برکت ہے ۔
یا پھر اس بنا ء پر ہے کہ خدا تعالیٰ اس زمین پر انسانی حکمرانی کو بیان کر نا چاہتا ہے ۔دریا ہو یا صحرا انسان کا اقتدار مو جود ہے ۔اس زمین پر دیگر موجود کا تسلط محدود اور ایک حصے پر ہے ۔ یہ صرف انسان ہے جو پورے کرہ خاکی پر حکومت کرتا ہے ۔ دریا، صحرا، اونچائی، اترائی اور ہوا سب میں انسان کی حکومت ہے ۔
۲ ۔ خدا کی طرف سے انسان کی عزت و تکریم:
مندرجہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ ہم نے انسان کو عزت بخشی۔ یہ ایک سربستہ سی بات ہے ۔ اللہ نے انسان کو کس چیز سے عزت بخشی اس سلسلے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ۔
بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس اعطاء سے مراد عقل و نطق کی قوت،مختلف استعدادیں اور ارادے کی آزادی ہے ۔
بعض سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد انسان کی موزوں جسامت اور قامتِ راست ہے ۔
بعض کہتے ہیں کہ اس اعطاء سے انگلیاں مراد ہیں جن کے ذریعے انسان بہت سے ظریف اور دقیق کام انجام دے سکتا ہے اور اسی طرح لکھنے کی قدرت رکھتا ہے ۔
بعض کا خیال ہے کہ اس سے انسان کی اس صلاحیت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ تقریباً واحد موجود ہے جو اپنی غذا اپنے ہاتھ سے کھا سکتا ہے ۔
بعض سمجھتے ہیں کہ یہ انسان کی اس سربلندی کی طرف اشارہ ہے کہ وہ روئے زمین کی تمام موجودات پر تسلط رکھتا ہے ۔
بعض کا خیال ہے کہ اس عطاء کی طرف اشارہ ہے کہ انسان معرفت الٰہی پر اور اس کے فرمان کی اطاعت پر قدرت رکھتا ہے ۔
لیکن یہ واضح ہے کہ یہ سب نعمتیں انسان میں جمع ہیں اور ان میں سے کوئی دوسرے کے متضاد نہیں ہے ۔
لہٰذا اس عظیم مخلوق کو خدا نے جو گرامی قدر بنایا اور عزت عطا کی ہے وہ ان تمام نعمات اور ان کے علاوہ دیگر نعمات کی بنیاد پر ہے ۔ مختصر یہ کہ انسان دیگر مخلوقات پر بہت سے امتیازات رکھتا ہے اور ان میں سے ہر ایک دوسرے سے بلند تر اور جاذب نظر زیادہ ہے ۔
انسان کے جسمانی امتیازات کے علاوہ انسان ایسی روح کا حامل ہے جو کمال حاصل کرنے کے لیے اعلیٰ صلاحتیں اور بہت توانائی رکھتی ہے ۔
۳ ۔”کّرمنا“اور ”فضّلنا“میں فرق:
اس سلسلے میں مختلف نظریات بیان کیے گئے ہیں :
بعض کا کہنا ہے کہ ”کرّمنا“ ان نعمات کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ذاتاً انسان کو دی ہیں جبکہ ”فضّلنا“ان فضائل کی طرف اشارہ ہے جو انسان نے توفیق الٰہی سے کسب کیے ہیں ۔
یہ احتمال بھی بہت صحیح معلوم ہوتا ہے کہ”کرّمنا“ مادی پہلوؤں کی طرف اشارہ ہو اور ”فضّلنا“روحانی پہلوؤں کی طرف کیونکہ لفظ ”فضّلنا“ عام طور پر قرآن میں اسی معنی میں آیا ہے ۔
۴ ۔ آیت میں ”کثیر“کا مفہوم
بعض مفسّرین کا خیال ہے کہ زیرِ بحث آیت تمام اولادِ آدم پر فرشتوں کی برتری کی دلیل ہے، وہ کہتے ہیں کہ چونکہ قرآن اس آیت میں کہتا ہے کہ ہم نے انسانوں کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت وبرتری عطا کی ہے، لہٰذا اس کا واضح مطلب ہے کہ ایک گروہ ایسا ہے کہ جس سے انسان افضل نہیں ہے اور یہ گروہ فرشتوں کے علاوہ اور کوئی نہیں ہوسکتا ۔
لیکن خلقتِ آدم اور فرشتوں کا ان کے سامنے سجدہ وخضوضع کرنے اور آدم(ص) کی طرف سے انھیں علمِ اسماء کی تعلیم کی طرف توجہ کی جائے تو اس امر میں شک کی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ انسان فرشتوں سے افضل وبرتر ہے لہٰذا ”کثیر“ یہاں پر ”جمیع“ کے معنی میں ہوگا ۔
عظیم مفسّر طبرسی نے مجمع البیان میں کہا ہے کہ قرآن میں عرب محاورات میں بہت معمول ہے کہ یہ لفظ ”جمیع“ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ طبرسی کہتے ہیں کہ اس جملے کا معنی یہ گا:
”( انّا فضلناهم علیٰ من خلقنا وهم کثیر ) “
ہم نے انسان کو ان سب پر فضیلت عطا کی ہے جنھیں ہم نے پیدا کیا ہے اور یہ مخلوقات کثیر ہیں ۔
شیاطین کے بارے میں قرآن کہتا ہے:( وَاٴَکْثَرُهُمْ کَاذِبُونَ ) (شعراء/ ۲۲۳)
واضح ہے کہ شیطان تو سب جھوٹے ہیں نہ کہ ان میں سے اکثر۔
بہرحال اس معنی کو خلاف ظاہر سمجھیں تو خلقتِ انسان کے بارے میں موجود آیات ہماری مذکورہ بات کے لئے واضح قرینہ ہیں ۔
۵ ۔ انسان کیوں افضل ہے؟
اس سوال کا جواب کوئی پیچیدہ نہیں ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ انسان ہی وہ واحد موجود ہے جس میں مختلف مادی ومعنوی اور جسمانی وروحانی قوتیں اور توانائیاں موجود ہیں ، یہی انسان متضاد چیزوں میں رہ کر پرورش پاسکتا ہے، صرف انسان ہی ہے جو کمال وارتقاء اور پیشرفت کی لامحدود صلاحیت رکھتا ہے
حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام سے منقول ایک حدیث بھی اس مدعا پر ایک گواہ ہے آپ(ص) فرماتے ہیں :
الله نے عالم کو تین قسم کا پیدا کیا ہے: فرشتے، حیوان اور انسان۔ فرشتے عقل رکھتے ہیں اور ان میں شہوت وغضب کی قوت نہیں ہے ۔ حیوان شہوت وغضب کا مجموعہ ہیں لیکن انسان دونوں کا مجموعہ ہے تاکہ معلوم ہو کہ کونسی قوت غالب آتی ہے ۔ اگر اس کی عقل شہوت پر غالب آجائے تو بہ فرشتوں سے افضل ہے اور اگر اس کی شہوت اس کی عقل پر غالب آجائے تو یہ حیوانات سے پست تر ہے ۔(۱)
یہاں ایک سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ تمام انسان فرشتوں سے افضل ہیں جبکہ بہت سے لوگ بے ایمان، شریر اور ستمگر ہیں اور ایسے لوگ مخلوقِ خدا میں سے پست ترین شمار ہوتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں کیا زیرِ بحث آیت میں لفظ ”بنی آدم“ سب انسانوں کے لئے ہے یا ان میں سے صرف ایک گروہ کے لئے ۔
اس سوال کا جواب ایک جملے میں دیا جاسکتا ہے اور وہ یہ کہ:
جی ہاں ! تمام انسان برتر ہیں لیکن بالقوة واستعداد کے لحاظ سے ۔ یعنی سب یہ مقام اور اہلیت رکھتے ہیں ، البتہ اس سے استفادہ نہ کریں اور اپنے مقام سے گرجائیں تو یہ کام خود ان سے مربوط ہے ۔
انسان کی تمام موجودات پر برتری اگرچہ روحانی اور انسانی حوالے سے ہے تاہم نامناسب نہیں کہ ہم علماء کے بقول بعض حوالوں سے جسمانی قوت کے لحاظ سے بھی افضل جانیں ۔ (اگرچہ بعض پہلوؤں سے انسان کمزور نظر آتا ہے) ۔
کتاب ”انسان موجود ناشناختہ“ کا مؤلف الیکسرکارل کہتا ہے:
انسانی بدن غیرمعمولی استحکام ار قابلیت کا حامل ہے، یہ ہر قسم کے حادثے میں استقامت دکھاتا ہے، اسی طرح بھوک، بے خوابی، تکان، بہت زیادہ غصّے، درد، بیماری، دُکھ، مشقّت اور روح وبدن میں موجود حیرت انگیز اعتدال کی حفاظت کے موقع بہت عجیب وغریب فکری وجسمانی توانائی کی وجہ سے وہ صنعت وتمدن میں اس مقام پر آپہنچا ہے اور تمام جانداروں پر اپنی برتری ثابت کرچکا ہے ۔(۲)
اگلی آیت میں انسان کے لئے ایک اور خدائی نعمت کی طرف اشارہ ہے، نیز اس نعمت کے بعد انسان پر جو سنگین ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس کی طرف متوجہ کیا گیا ہے ۔
پہلے مسئلہ رہبری اور انسانی سرنوشت میں اس کی تاثیر کو بیان گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: قیامت کے دن ہم ہر گروہ کو اس کے امام اور ہبر کے ساتھ پکاریں گے( یَوْمَ نَدْعُو کُلَّ اٴُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ ) ۔
یعنی وہ لوگ کہ جنھوں نے ہر زمانے میں انبیاء اور ان کے اوصیاء کی رہبری کو قبول کیا ہے اپنے ان پیشواؤں کے ساتھ ہوں گے اور جنھوں نے شیطان، آئمہ ضلال اور جابر وظالم پیشواؤں کی رہبری کو اختیار کیا ہے وہ ان کے ساتھ محشور ہوں گے ۔
خلاصہ یہ کہ رہبری اور پیروی کا جو رشتہ اس جہان میں ہوگا وہ پوری طرح اُس جہان میں منعکس ہوگا ۔ اسی بنیاد پر اہلِ نجات اور اہلِ عذاب ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں گے ۔
اگرچہ بعض مفسّرین نے چاہا ہے کہ یہاں ”امام“ کا وسیع مفہوم ہے اور اسی میں ہر پیشوا شامل ہے چاہے وہ انبیاء ہوں یا آئمہ ہدیٰ یا علماء اور کتاب وسنت اور اسی طرح آئمہ کفر وضلال بھی لہٰذا وہاں ہر شخص اس رہبر کی صف میں ہوگا جس کا یہاں طریقہ اپنایا ہوگا ۔
انسان کے کمال وارتقاء کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعبیر سب انسانوں کے لیے ایک تنبیہ بھی ہے اور اسے خبردار کرتی ہے کہ رہبر کے انتخاب میں بہت زیادہ غور غور و فکر سے کام لےے اور اپنی فکر و نظر اور زندگی کی مہار ہرکسی کے سپرد نہ کردے ۔
اس کے بعد قرآن کہتا ہے کہ وہاں لوگ دوحصوں میں تقسیم ہوجائیں گے ”جن کا نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ افتخار اور سرور کے ساتھ اپنا نامہ اعمال پڑھیں گے اور ان پر ذرہ بھر ظلم نہ ہوگا“( فَمَنْ اٴُوتِیَ کِتَابَهُ بِیَمِینِهِ فَاٴُوْلٰئِکَ یَقْرَئُونَ کِتَابَهُمْ وَلَایُظْلَمُونَ فَتِیلًا ) ۔(۳)
”لیکن جو لوگ اس جہاں میں کور دل تھے وہ آخرت میں بھی اندھے ہوں گے“( وَمَنْ کَانَ فِی هٰذِهِ اٴَعْمَی فَهُوَ فِی الْآخِرَةِ اٴَعْمَی ) ۔اور فطری امر ہے کہ دل کے یہ اندھے سب سے زیادہ گمراہ ہوں گے( وَاٴَضَلُّ سَبِیلًا ) ۔وہ نہ اس دنیا میں راہِ ہدایت پائین گے اور نہ آخرت میں بہشت و سعادت کی راہ۔ کیونکہ انہوں نے خود سے اپنی آنکھیں تمام حقائق کے سامنے بند کررکھی ہیں ۔ انہوں نے حق کا چہرہ دیکھنے کے لیے آنکھیں نہ کھولیں ۔ آیات خدا اور جو کچھ یاعث ہدایت و عبرت تھا اس سے آنکھیں چرائے رکھیں اور خدا کی عطا کردہ نعمتوں سے انہوں نے اپنے آپ کو محروم رکھا اور دارِ آخرت چونکہ اس جہاں کا عکس العمل ہے تو کیا تعجب کی بات ہے کہ یہ کور دل وہاں عرصہ محشر میں نابینوں کی صورت میں پیش ہوں ۔
چند قابل توجہ نکات
۱ ۔ انسان زندگی پر رہبری کا اثر:
انسان کی اجتماعی اور معاشرتی زندگی کو رہبری کے مسئلے سے جدا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ کسی بھی گروہ کے حقیقی راستے کو واضح کرنے کے لیے ہمیشہ رہبر اور پیشوا کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اصولی طور پر کمال و ارتقاء وجود رہبر کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ انبیاء اور اوصیاء کے بھیجے جانے اور انتخاب کا یہی راز ہے ۔
علم عقائد و کلام میں بھی قاعدہ لطف سے استفادہ کرتے ہوئے اور معاشرے کے نظم و نسق کے حصول اور انحراف سے بچانے میں رہبر کی ضرورت کے حوالے سے بعثت انبیاء اور ہر زمانے میں موجود امام کا ضروری ہونا ثابت کیا گیا ہے لیکن ایک خدائی رہبر اور عالم و صالح انسان کی رہبری انسان کے لیے اصلی ہدف تک رسائی کو جیسے آسان اور تیز تر کردیتی ہے ایسے ہی آئمہ کفر و ضلال کی رہبری کو قبول کرنے سے انسان بد بختی اور بد انجام کے گڑ ھے میں جاگر تاہے ۔
اس آیت کی تفسیر میں معتدد احادیثِ اسلامی مصادر میں موجود ہیں ۔ ان کے مطالعے سے مفہوم آیت اور ہدف امامت واضح ہوجاتا ہے ۔
ایک حدیث شیعہ اور سنی حضرات نے امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے صحیح اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔اس میں ہے کہ امام نے اپنے آباؤ اجداد کے واسطے سے رسولِ اکرم سے اس آیت کی تفسیر میں نقل فرمایا:
”یدعی کل اناس بامام زمانهم و کتاب ربهم وسنة نبیهم “
اس روز ہر قوم کو اس کے زمانے کے امام، اس کی کتاب الٰہی اور اس کے پیغمبر کی سنت کے ساتھ پکارا جائے گا ۔(۴)
____________________
۱۔ نورالثقلین، ج۳، ص۱۸۸-
۲۔ ”انسان موجودِ ناشناختہ“، ص۷۳ و ۷۴-
۳۔ ”فتیل“اس باریک اور نازک تار کو کہتے ہیں جوکھجور کی گٹھلی کے شگاف کے اندر ہوتی ہے ۔ جبکہ کھجور کی گٹھلی کی پشت پر جو تار ہوتی ہے اسے ”نقیر“کہتے ہیں جبکہ ”قطمیر“اس سے نازک چھلکے کو کہتے ہیں جس نے کھجور کی گٹھلی کو چھپار کھا ہوتا ہے اور یہ تمام الفاظ بہت چھوٹی اور حقیر چیز کے لیے کنائے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ۔
۴۔ مجمع البیان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں -
فہرست
سورہ بنی اسرائیل ۴
نام اور مقام نزول ۴
فضیلت ۵
مضامین ایک نگاہ میں ۵
آیت ۱ ۷
معراجِ رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم ۷
مسئلہ معراج ۹
۱ ۔ معراج۔ قرآن و حدیث کی نظر میں : ۱۰
معراج جسمانی تھی یا روحانی؟ ۱۳
معراج کا مقصد ۱۵
معراج اور دور حاضر کا علم اور سائنس ۱۶
آیات ۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸ ۱۹
دو عظیم طوفانی واقعات ۲۰
چند اہم نکات ۲۴
۱ ۔ بنی اسرائیل کے دو تاریخی فسادات: ۲۴
۲ ۔ جو کام بھی کرو گے اپنے ساتھ ہی کرو گے: ۲۷
۳ ۔ آیات کی تطبیق اسلامی تاریخ پر: ۲۹
سعادت کا بالکل سیدھا راستہ ۳۰
یہ قرآن عبادت میں بھی افراط و تفریط سے بچاتا ہے ۔ ۳۰
چند اہم نکات ۳۶
۱ ۔ کیا انسان ذاتی طور پر جلد باز ہے ؟ ۳۶
۲ ۔ جلد بازی۔ ایک مصیبت: ۳۷
۳ ۔ کائنات میں نظم و حسا ب کا انسانی زندگی پر اثر: ۳۹
آیات ۱۳،۱۴،۱۵ ۴۰
چادر اہم اسلامی اصول ۴۰
چند اہم نکات ۴۵
۱ ۔ اچھی اور بری فال: ۴۵
۲ ۔ انسان کا عجیب اعمال نامہ: ۴۶
۳ ۔ گنگار کے ساتھ بے گناہ نہیں جلے گا: ۴۷
۴ ۔ برائت کا اصول اور آیت” ( ما کنا معذبین ) “: ۴۸
آیات ۱۶،۱۷ ۴۹
عذاب الٰہی کے چارہ مرحلے ۴۹
آیات ۱۸،۱۹،۲۰،۲۱ ۵۲
طالبان دنیا اور طالبان آخرت ۵۲
چند اہم نکات ۵۶
۱ ۔ کیا دنیا و آخرت میں تضاد ہے؟: ۵۶
۲ ۔ کا میابی میں کوشش کا دخل: ۵۸
۳ ۔امدادالٰہی: ۵۸
آیات ۲۲،۲۳،۲۴،۲۵ ۵۹
اہم اسلامی احکام کا سلسلہ ۵۹
توحید اور ماں باپ سے حسن سلوک ۵۹
ماں باپ کا انتہائی احترام ۶۳
چند اہم نکات ۶۵
۱ ۔ منطقِ اسلام میں والدین کا احترام: ۶۵
۲ ۔ ”قضاء“ کے معنی کے بارے میں تحقیق: ۶۷
۳ ۔ ”اف“کے معنی کی تحقیق: ۶۹
آیات ۲۶،۲۷،۲۸،۲۹ ۷۱
انفاق و بخشش میں اعتدال ۷۱
چند اہم نکات ۷۸
۱ ۔ ”ذی القربیٰ“ سے یہاں کون لوگ مراد ہیں ؟ ۷۸
۲ ۔اسراف کے بُرے اثرات : ۷۹
۳ ۔”اسراف “اور ”تبذیر“میں فرق : ۸۰
۴ ۔کیا میانہ روی ایثار کے منا فی ہے : ۸۲
آیات ۳۱،۳۲،۳۳،۳۴،۳۵ ۸۳
چھ اہم احکام ۸۳
زنا کا فلسفہ حرمت ۸۶
چند اہم نکات ۹۳
۱ ۔ کم فروشی کا نقصان: ۹۳
۲ ۔ کم تولنے کے مفہوم کی وسعت: ۹۴
۳ ۔”قسطاس “ کا مفہوم: ۹۴
آیات ۳۶،۳۷،۳۸،۳۹،۴۰ ۹۶
تفسیر ۹۶
۱ ۔ صرف علم کی پیروی کرو : ۹۶
نظم معاشرہ کے لیے ایک اہم درس ۹۸
گمان کی طرف میلان کا سدِّ باب ۱۰۰
۲ ۔ متکبر نہ بنو ۱۰۱
۳ ۔ مشرک نہ بنو ۱۰۳
آیات ۴۱،۴۲،۴۳،۴۴ ۱۰۶
وہ حق سے کیو نکر فرار کرتے ہیں ؟ ۱۰۶
دلیل تمانع ۱۰۷
موجودات عالم کی عمومی تسبیح ۱۱۱
ایک سوال کا جواب ۱۱۵
اھل بیت(ص) سے چند روایات ۱۱۶
آیات ۴۴،۴۵،۴۶،۴۷ ۱۱۸
شان نزول ۱۱۸
جاہل مغرور ۱۲۰
چند اہم نکات ۱۲۱
۱ ۔ ان آیات کا مجموعی جائزہ: ۱۲۱
۲ ۔ خدا کی طرف نسبت کا مفہوم: ۱۲۲
۳ ۔ حجاب مستور کیا ہے؟ : ۱۲۳
۴ ۔ ”اکنہ “اور ”وقر“ کیا چیز ہے؟ ۱۲۵
۵ ۔ ” ( ما یستمعون به ) “ کی تفسیر ۱۲۵
۶ ۔ وہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو ”مسحور“ کیوں کہتے تھے؟ ۱۲۵
۷ ۔ توحید کی آواز پر مشرکین کا خوف ۱۲۶
آیات ۴۹،۵۰،۵۱،۵۲ ۱۲۷
قیامت یقینی ہے ۱۲۷
آیات ۵۳،۵۴،۵۵،۵۶،۵۷ ۱۳۱
تمام مخلفین سے منطقی طرزِ عمل ۱۳۱
”وسیلہ“ کیا ہے؟ ۱۳۹
آیات ۵۸،۵۹،۶۰ ۱۴۰
بہانہ سازوں کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرو ۱۴۰
چند اہم نکات ۱۴۲
۱ ۔ رسول الله کا خواب اور شجرہ ملعونہ: ۱۴۲
۲ ۔ منکرینِ اعجاز کی عذرتراشیاں ۱۴۷
۳ ۔ گزشتہ لوگوں کے انکار کا آئندہ لوگوں سے تعلق؟ ۱۴۸
آیات ۶۱،۶۲،۶۳،۶۴،۶۵ ۱۴۹
شیطان کے جال ۱۴۹
چند اہم نکات ۱۵۳
۱ ۔ چند الفاظ کا مفہوم: ۱۵۳
۲ ۔ وسوسے کے لیے شیطانی ذرائع: ۱۵۳
الف۔ شیطانی کا پہلا ہتکھنڈا پراپیگنڈا ہے: ۱۵۴
ب۔ شیطان کا دوسرا ہتھکنڈا فوجی قوت کا استعمال ہے: ۱۵۴
ج۔ اقتصادی ہتھکنڈا: ۱۵۵
د۔ نفسانی تباہی کے شیطانی پروگرام: ۱۵۷
۳ ۔ خدا نے شیطان کو کیوں پیدا کیا؟: ۱۵۷
آیات ۶۶،۶۷،۶۸،۶۹ ۱۵۸
نعمتوں کے باوجود کفران کیوں ؟ ۱۵۸
چند اہم نکات ۱۶۱
۱ ۔ کم ظرف انسان: ۱۶۱
۲ ۔ خدا کی حدود حکومت سے فراز ممکن نہیں : ۱۶۳
۳ ۔ چند الفاظ کا مفہوم: ۱۶۳
آیات ۷۰،۷۱،۷۲ ۱۶۵
انسان گلشن حیات کا بہترین پھول ۱۶۵
پہلی نعمت : ۱۶۵
دوسری نعمت: ۱۶۵
تیسری نعمت : ۱۶۶
چند اہم نکات ۱۶۶
۱ ۔سواری ۔انسان کے لیے اولین نعمت : ۱۶۶
۲ ۔ خدا کی طرف سے انسان کی عزت و تکریم: ۱۶۶
۳ ۔”کّرمنا“اور ”فضّلنا“میں فرق: ۱۶۷
۴ ۔ آیت میں ”کثیر“کا مفہوم ۱۶۷
۵ ۔ انسان کیوں افضل ہے؟ ۱۶۸
چند قابل توجہ نکات ۱۷۰
۱ ۔ انسان زندگی پر رہبری کا اثر: ۱۷۰