یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


علقمہ کےساحل پر

مختلف شعراء


شاہد اکبر پوری

(۱)

آیۂ تطہیر نے ہر زخم دل پر لے لیا

جب حرم سے ظلم نے اعزازِ چادر لے لیا

*

اپنے ہی سینے میں شاید قلبِ مادر لے لیا

کیسے اذنِ مرگ تو نے ماں سے اکبر(ع) لے لیا

*

کہہ رہا ہے سجدۂ آخر یہ شہ(ع) کا آج تک

دستِ بیعت تو نہ پایا ظلم نے سر لے لیا

*

عکس بھی ان پر نہ آئے گا ترا موجِ فرات

جن لبوں کی تشنگی نے رنگِ کوثر لے لیا

*

نہر تو اس طرح لے لوں گا کہا عباس(ع) نے

جیسے اک حملے میں کل بابا نے خیبر لے لیا

*

ایک انگڑائی جو آئی آخرت کی یاد میں

حر(ع) نے پائے شاہ(ع) سے اپنا مقدّر لے لیا

*

جنت و کوثر ہیں اُس شبیر(ع) کی اب سلطنت

جس نے تاجِ آخرت سجدے سے اٹھ کر لے لیا

*


مسکرا اٹھے شہادت پر وہب(ع) اس وقت جب

’’کہہ کے بسم اللہ ماں نے گود میں سر لے لیا‘‘

*

موت کے شیریں لبوں نے زیست کے بوسے لئے

شہ(ع) سے جب اذنِ وغا قاسم(ع) نے بڑھ کر لے لیا

*

خشک ہونٹوں پر زباں اصغر(ع) جو تو نے پھیر دی

اک تبسم نے تیرے ہاتھوں میں لشکر لے لیا

*

خوں سکینہ(ع) کی لوئوں سے دیر تک بہتا رہا

کان زخمی کرکے یوں ظالم نے گوہر لے لیا

*

فکرِ قرآں ، سیرتِ شبیر(ع)، کردارِ رسول(س)

جیسے اک کوزے میں شاہد نے سمندر لے لیا

***


(۲)

مقصدِ شبیر(ع) جو دیتا ہے وہ پیغام لو

بن کے حر(ع) دستِ عمل سے شہ(ع) کا دامن تھام لو

*

دیتے ہیں پیغام یہ ابتک بہتّر تشنہ لب

موت کے ہاتھوں سے بڑھ کر زندگی کا جام لو

*

ہر غمِ دوراں کو دو شبیر(ع) کے غم سے جواب

آنسوئوں سے انتقامِ گردش ایام لو

*

معنی و تفسیرِ کعبہ ہے کتابِ کربلا

بعدِ احمد(س) کربلا کی خاک سے اسلام لو

*

فیصلہ ہوگا قیامت میں کہ مجرم کون ہے

دشمنِ آلِ(ع) پیمبر(س) جو بھی دے الزام لو

*

تم کو فکرِ زندگی ہے ہم کو فکرِ آخرت

ہم وہاں آرام لیں گے تم یہاں آرام لو

*

منزلِ عشقِ علی(ع) ہی منزلِ ایمان ہے

جانچ لو اپنے عمل کو پھر علی(ع) کا نام لو

*

شرک و بدعت اور ذکرِ معنیٔ ذبحِ عظیم

آیتِ قرآں نہ جھٹلائو خدا کا نام لو

*


چھین کر دریا کہا عباس(ع) نے یوں فوج سے

لے سکو تو مجھ سے دریا بڑھ کے اب دو گام لو

*

جارہے ہیں پیش کرنے حجتِ آخر حسین(ع)

اے علی اصغر(ع) نہ اب جھولے میں تم آرام لو

*

آخرت کی زندگی شاہد رہے پیشِ نظر

مدحِ مولا(ع) میں نہ دنیا سے کوئی انعام لو

***


(۳)

کربلا ہیں تجھ میں ایسے رہ نما ٹھہرے ہوئے

گردشوں پر بھی ہیں جن کے نقشِ پا ٹھہرے ہوئے

*

آج تک آنکھوں میں ہیں اشکِ عزا ٹھہرے ہوئے

اک جہاں میں ہم ہیں بس غم آشنا ٹھہرے ہوئے

*

دیتے ہیں راہِ عمل سے یہ صدا اب تک حسین(ع)

ہم شفاعت کو ہیں تا روزِ جزا ٹھہرے ہوئے

*

اڑ رہا ہے جس بلندی پر َعلم عباس(ع) کا

اب اسی مرکز پہ ہیں اہلِ وفا ٹھہرے ہوئے

*

دو جہاں سے لے چکی بیعت وفا عباس(ع) کی

دو کٹے ہاتھوں پہ ہیں ارض و سما ٹھہرے ہوئے

*

بڑھتے ہیں اپنی جگہ سے شہ(ع) بہ الطاف و کرم

حر(ع) پشیماں ہورہے ہیں اپنی جا ٹھہرے ہوئے

*

ان پہ کیا گزرے گی تیری اٹھتی موجیں دیکھ کر

سامنے پیاسے جو ہیں اے علقمہ ٹھہرے ہوئے

*

جنگِ قاسم(ع) دیکھ کر حیرت سے کہتے تھے عدو

کم سنی میں بھی ہیں ان کے وار کیا ٹھہرے ہوئے

*


آرہے ہیں لاش پر بابا یہ اکبر(ع) نے کہا

قلبِ مضطر اور کچھ رہنا ، ذرا ٹھہرے ہوئے

*

دل کی ہر دھڑکن میں اب تک سو رہی ہے اس کی یاد

جس کا جھولا اک زمانہ ہوگیا ٹھہرے ہوئے

*

ٹھوکریں کھاتے زمانے بھر کی شاہد کس لیے

جب درِ شبیر(ع) پر سب مل گیا ٹھہرے ہوئے

***


(۴)

اشکِ غم میں شہ(ع) کے ایسی ضوفشانی چاہیے

کچھ عمل میں سیرتِ شبیر(ع) آنی چاہیے

*

وہ سمجھ لیں کربلا میں آکے مفہومِ حیات

جن کو دارِ آخرت کی زندگانی چاہیے

*

جاگ اٹھا کہہ کر شبِ عاشور یہ حر(ع) کا ضمیر

صبح پائے شہ(ع) پہ قسمت آزمانی چاہیے

*

مشورے اصحابِ شہ(ع) میں تھے شبِ عاشور یہ

کل ہر اک آفت ہمیں پر پہلے آنی چاہیے

*

فوج کہتی تھی کوئی ساحل پہ آسکتا نہیں

غیض کہتا تھا جری(ع) کا ہم کو پانی چاہیے

*

شرم آئے گی سکینہ(ع) سے کہا عباس(ع) نے

لاش خیمے میں مری آقا نہ جانی چاہیے

*

کرکے صبر و شکر رن کو بھیجے دیتے ہیں حسین(ع)

’’موت جب کہتی ہے اکبر(ع)کی جوانی چاہیے‘‘

*


حرملہ کے تیر سے اصغر(ع) نے ہنس کر یہ کہا

یہ تو تھی اتمامِ حجت کس کو پانی چاہیے

*

قبضۂ شبیر(ع) ہے ہر دل پہ شاہد آج تک

بادشاہِ دیں (س) کو ایسی حکمرانی چاہیے

***


(۵)

ذکرِ غم حسین(ع) کی عظمت نہ پوچھئے

اہلِ عزا کی خوبیٔ قسمت نہ پوچھئے

*

مَس ہوگئی ہے جن کی عقیدت حسین(ع) سے

ان کے دل و نظر کی طہارت نہ پوچھئے

*

نکلے درِ حسین(ع) سے جنت کے قافلے

ہٹ کر یہاں سے راہِ ہدایت نہ پوچھئے

*

رکھئے ولائے آلِ محمد(س) کی روشنی

ورنہ اندھیری قبر کی وحشت نہ پوچھئے

*

کشتیٔ اہلبیت(ع) میں جب مل چکی پناہ

دنیا سے اب نجات کی صورت نہ پوچھئے

*

دامن میں فاطمہ(س) کے ہے تقدیرِ کائنات

’’اشکِ غم حسین(ع) کی قیمت نہ پوچھئے’’

*

تڑپی تھی ایک برق سی انکارِ شاہ(ع) کی

پھر کیا ہوا نتیجۂ بیعت نہ پوچھئے

*


ٹھوکر میں اپنی چھوڑ کے منصب جو حر(ع) چلا

قدموں میں شہ(ع) کے اس کی ندامت نہ پوچھئے

*

جھولے سے جس نے خود کو مچل کر گرادیا

اس بے زباں (ع) کا جذبۂ نصرت نہ پوچھئے

*

اصغر(ع) کی لاش خاک میں رکھ کر حسین(ع) نے

کیسے بنائی ننھی سی تربت نہ پوچھئے

*

سکتہ میں شام آگیا کوفہ لرز اٹھا

بنتِ(س) علی(ع) کا زورِ خطابت نہ پوچھئے

*

میزانِ غم حسین(ع) ہے اعمال جانچئے

’’اشکِ غمِ حسین(ع) کی قیمت نہ پوچھئے’’

*

شاہد بقائے مقصدِ شبیر(ع) کے لئے

ہے کس قدر عمل کی ضرورت نہ پوچھئے

***


شاہد صدیقی

جفا کی ظلمت طرازیوں میں وفا کی شمعیں جلا رہے ہیں

حسین(ع) نورِ حیات بن کر تمام عالم پہ چھا رہے ہیں

*

یہ کس مسافر نے جان دے کر بتا دیا ہے سراغِ منزل

یہ کون گذرا ہے کربلا سے کہ راستے جگمگا رہے ہیں

*

حسین(ع) کے ساتھیوں کی راہوں میں حشر تک روشنی رہے گی

یہ اہلِ ہمت ہوا کے رخ پر چراغ اپنا جلا رہے ہیں

*

خود آگہی منزلِ حضوری مقامِ غفلت مقامِ دوری

شعور بیدار ہورہا ہے حسین(ع) نزدیک آ رہے ہیں

*

یہ ظلمت و نور کا تصادم ازل سے جاری ہے اس جہاں

یزید شمعیں بجھا رہا ہے حسین(ع) شمعیں جلا رہے ہیں

*

علی(ع) کو آواز دے کے اٹھئے اگر نہیں ہے کوئی سہارا

حسین(ع) کا نام لیکے بڑھئے اگر قدم لڑکھڑا رہے ہیں

*

امامِ(ع) برحق کا ہر زمانہ میں ربط ہے کاروبارِ حق سے

پیمبری(ص) ختم ہو چکی ہے مگر پیامات آ رہے ہیں

*

مری نگاہوں میں بزمِ ماتم بھی منزلِ امتحاں ہے شاہد

جنہیں مشیت نے آزمایا وہ اب ہمیں آزما رہے ہیں

***


شاہد نقدی

مسافر گر چرالیں اپنی نظریں علم کے در سے

تو سارے رابطے کٹ جائیں امت کے پیمبر(ص) سے

*

علی(ع) کے روئے اقدس میں ہے جلوہ ہر پیمبر(ص) کا

نظر ڈالی علی(ع) پر مل لیے ایک اک پیمبر(ص) سے

*

ذرا نامِ مقابل پوچھ لے قبلِ وغا مرحب

تری ماں نے کہا تھا بچ کے رہنا تیغ حیدر(ع) سے

*

دلائل میں نصیری کے یقینا وزن ہے لیکن

جو وہ کہتا ہے میں کہتا نہیں اللہ کے ڈر سے

*

سرِ منبر نبی(ص) کے بعد دنیا آئی تو لیکن

نہ ہو پانی ہے جس بادل میں وہ برسے تو کیا برسے

*

خدا وندا مسلماں کو وہ چشمِ دور رس دے دے

کہ دشتِ خم نظر آنے لگے ہجرت کے بستر سے

*

علی(ع) کا مثل کوئی ڈھونڈ کر لائے تو ہم جانیں

خدا سازی تو آساں ہے بنا لیتے ہیں پتھر سے

*

نظر آئے نہ آئے کوئی ہادی اب بھی ہے شاہد

نہ ہوگر حجتِ قائم(ع) زمیں ہٹ جائے محور سے

***


شبنم رومانی

جب دکھائے اسد اللہ نے تلوار کے ہاتھ

خشک پتے نظر آنے لگے اغیار کے ہاتھ

*

دیکھتا ہوں جو کسی رحل پہ قرآنِ کریم

چوم لیتا ہوں تصور میں علمدار(ع) کے ہاتھ

*

دیکھتے رہ گئے اربابِ جفا حیرت سے

بک گئے اہلِ وفا سیدِ ابرار(ع) کے ہاتھ

*

ایک اک ہاتھ تھا تلوار کا صد خشتِ حرم

یوں بھی تعمیر کیا کرتے ہیں معمار کے ہاتھ

*

ہائے وہ جذبِ وفا اُف وہ جنونِ ایثار

خود َعلم ہوگئے میداں میں علمدار(ع) کے ہاتھ

*

ظلم کی حد ہے کہ ظالم بھی بلک کر رویا

کبھی ماتھے پہ تو زانو پہ کبھی مار کے ہاتھ

*

ہر برے کام کا انجام برا ہوتا ہے

کس نے دیکھے ہیں بھلا کیفرِ کردار کے ہاتھ

*


گھونٹ دیتی ہے گلا وحشتِ احساسِ گناہ

نکل آتے ہیں اچانک درو دیوار کے ہاتھ

*

یوں تو ہوں شاعرِ رومان مگر اے شبنم

بک گیا ہوں میں کسی یارِ طرحدار کے ہاتھ

***


میر شجاعت علی خاں معظم جاہ شجیع شہزادۂ سلطنتِ آصفیہ

(۱)

مقابلِ رخِ شہ(ع) آفتاب کیا ہوگا

جوابِ سبط(ع) رسالت(ص) مآب کیا ہوگا

*

نبی(ص) کا حسن ہے شانِ علی(ع) ہے اکبر(ع) میں

بس اب سمجھ لو کہ ان کا شباب کیا ہوگا

*

جو بے حساب کرم ہے ترا تو محشر میں

گناہ گاروں کا یارب حساب کیا ہوگا

*

علی(ع) وصیٔ نبی(ص) ہیں علی(ع) ولیٔ خدا

یہ لاجواب ہیں ان کا جواب کیا ہوگا

*

لحد نے کی تو ہیں تیاریاں فشار کی آج

جو آئیں بہرِ مدد بوتراب(ع) کیا ہوگا

*

تڑپ کے مر گئے بچے حسین(ع) کے پیاسے

جہاں میں لاکھ یہ برسے سحاب کیا ہوگا

*

حرم(ع) رسول(ص) کے دربارِ عام میں ہوں کھڑے

اب اس سے بڑھ کے بھلا انقلاب کیا ہوگا

*

ملی ہے مجھ کو شجاعت علی(ع) کے صدقے میں

شجیع اور جہاں میں خطاب کیا ہوگا

***


(۲)

جہانِ ظلم سے اصغر(ع) بھی مسکراکے چلے

بجھانے آئے تھے پیاس اور تیر کھا کے چلے

*

حسینیوں (ع) کے بھی کیسے بڑھے ہوئے دل تھے

قریب آئی جو منزل قدم بڑھا کے چلے

*

علم بدوش تھے لشکر کی جان تھے عباس(ع)

بہ زورِ تیغ زمیں آسماں ہلا کے چلے

*

علی(ع) کے شیر(ع) تھے ہاتھ اپنے کردیئے صدقے

خدا کی راہ میں دنیا سے ہاتھ اٹھا کے چلے

*

حسین(ع) کو جو سکینہ(ع) وغا میں یاد آئی

پلٹ کے خیمہ میں آئے گلے لگا کے چلے

*

چلے جو تشنہ لبِ کربلا سوئے کوثر

لبِ فرات چراغِ وفا جلا کے چلے

*

اسی لئے علی اکبر(ع) جہاں میں آئے تھے

علی(ع) کی شان شبابِ نبی(ص) دکھا کے چلے

*


دلوں پہ داغ عزیزوں کے بازوئوں میں رسن

عجیب شان سے مہمان کربلا کے چلے

*

قبولیت کی سند بھی چلے شجیع کے ساتھ

سلام روضۂ اقدس پہ جب سنا کے چلے

***


شفیق لکھنوی اُمّی ہیں

پیارے صاحب رشید کے چہیتے شاگردوں میں شمار ہے صاحبِ دیوان ہیں ۔

لکھنو کے اُمّی شعراءسید احمد حسین شفیق لکھنوی عرف ننھو

(۱)

کربلا کے دشت میں یوں شاہ(ع) کا ماتم رہا

خاک اڑائی دن نے شب کو گریۂ شبنم رہا

*

ذوالفقارِ شاہ(ع) کہتی تھی بڑی عابد ہوں میں

دشمنوں سے جنگ کرنے میں مرا سر خم رہا

*

تم بھی انصارِ شہ(ع) دیں زندۂ جاوید ہو

بعد مر جانے کے تم میں تا قیامت دم رہا

*

سربلندوں کے جدا کرتی ہے سر شمشیرِ شاہ(ع)

دیکھتی جاتی ہے مڑ مڑ کے کہ کس میں دم رہا

*

خونِ ناحق کی شہادت دے گا وہ روزِ جزا

خونِ اصغر(ع) حرملہ کے تیر میں جو جم رہا

*

اندمالِ زخمِ شاہ(ع) دیں ہے منظورِ نظر

اس لئے آنکھوں میں میری اشک کا مرہم رہا

*


کہتا تھا دریا کہ ان کے تر تو ہوں زخمِ جگر

عکس سے عباس(ع) کے آب رواں یوں تھم رہا

*

اور خاصانِ خدا گذرے ہیں عالم میں شفیق

تا قیامت اک حسین(ع) ابنِ علی(ع) کا غم رہا

***


(۲)

دیواں ہوا مرتب دیکھے گا اک زمانہ

ان پڑھ ہوں میں الٰہی عزت مری بچانا

*

اک لفظِ کن سے تیرا ہر چیز کا بنانا

جیسا کہ تو ہے خالق ویسا ہے کارخانہ

*

یکتا ہے تو بھی خالق تیرا نبی(ص) یگانا

دنیا میں جس سے پایا اسلام نے ٹھکانا

*

سب منکروں کے ہاتھوں وہ ظلم کا اٹھانا

یہ اس کا قاعدہ تھا اخلاق کا بتانا

*

تیرا پیام لے کر ہر سمت اس کو جانا

تو دوست تھا الٰہی دشمن تھا اک زمانہ

*

ایسے نبی(ص) کا یارب ایسا وصی(ع) بنانا

جس کو امامِ(ع) اوّل کہنے لگا زمانہ

*

بچوں میں یہ علی(ع) کے تھا فعلِ عاشقانہ

دے دے کے اپنی جانیں اسلام کو بچانا

*


ان سب نے منکروں کا ستھرائو کردیا ہے

کفار کو تھا مشکل جانوں کا بھی بچانا

*

ان کو ہی تو نے دی تھی ایسی صفت الٰہی

ہر دم جہاد کرکے کفارّ کو دبانا

*

ایمان کے چمن میں یہ معجزہ ہے ظاہر

نامِ کریم ُسن کر کلیوں کا پھول جانا

*

ایماں کے جوہیں بلبل وہ کررہے ہیں کوشش

اپنا بنا رہے جنت میں آشیانا

*

ان کی زباں کی قوت زائد ہو یا الٰہی

اسلام کا ہے ڈنکا بلبل کا چہچانا

*

انساں ہو یا کہ طائر آباد رکھنا ان کو

پڑھتے ہیں ہر چمن میں جو تیرا ہے فسانا

*

ان پڑھ شفیق یارب آیا ہے تیرے در پر

یہ ہو اثر سخن میں اچھا کہے زمانا

***


(۳)

رہ گئے تنہا تو طعنہ زن ستمگر ہوگئے

شاہ(ع) کو زخمِ زباں سب شکلِ نشتر ہوگئے

*

بحرِ غم میں غرق یہ ایسے بہتّر ہوگئے

کشتیٔ اسلام کے مضبوط لنگر ہوگئے

*

رونے والے شاہ(ع) کے کہنے لگے روزِ جزا

آنسوئوں نے یہ ترقی کی کہ گوہر ہوگئے

*

ان کے باعث سے بڑی اسلام میں رونق ہوئی

جو بہتّر فدیۂ دینِ پیمبر(ص) ہوگئے

*

کہتی تھی زینب(ع) ابھی عون(ع) و محمد(ع) طفل ہیں

جنگ میں پہلے پہل کیسے دلاور ہوگئے

*

ننگے سر دیکھا جو آلِ(ع) مصطفی(ص) کو راہ میں

خاک سے اٹھ کر بگولے شکلِ چادر ہوگئے

*

حضرتِ اصغر(ع) کے مرنے میں عجب اعجاز تھا

جان دے کر یہ بزرگوں کے برابر ہوگئے

*


کہتی تھی بانو(ص) علی اکبر(ع) سے شادی ہو کہیں

اب جواں نامِ خدا تم جانِ مادر ہوگئے

*

شہ(ع) کے صدقے میں گنہ گاروں کو بخشے گا خدا

جس قدر بگڑے تھے وہ سیدھے مقدر ہوگئے

*

یاد تو ہوں گی تجھے دستِ خدا کی قوتیں

کس قدر ٹکڑتے ترے اے بابِ خیبر ہوگئے

*

یہ عقیدہ ہے مرا میں صاف کہتا ہوں شفیق

باوفا عالم میں عباس(ع) دلاور ہوگئے

***


محمد سعید شفیق بریلوی

یہ کون شخص ہے کیسا دکھائی دیتا ہے

کہ جو بھی دیکھے ہی، اپنا دکھائی دیتا ہے

*

ہے کتنی صدیوں کا گرد و غبار چہرہ پر

یہ مہر پھر بھی چمکتا دکھائی دیتا ہے

*

جو کام آنہ سکا چند تشنہ کاموں کے

ہمیں وہ نام کا دریا دکھائی دیتا ہے

*

کسی کو خوں کی ضرورت کسی کو پانی کی

جسے بھی دیکھو وہ پیاسا دکھائی دیتا ہے

*

نہ جانے خیمہ میں یہ کیسے لوگ بیٹھے ہیں

کہ شمع گل ہے ، اُجالا دکھائی دیتا ہے

*

ہیں اس گھرانے کے سب لوگ ایک قامت کے

کہ جو بھی آتا ہے اونچا دکھائی دیتا ہے

*

کوئی علیؑ کے ہے خوابوں کی ہو بہو تعبیر

کوئی نبی(ص) کا سراپا دکھائی دیتا ہے

*

نہ کچھ تھکن کے ہیں آثار اور نہ موت کا ڈر

ہر ایک چہرہ شگفتہ دکھائی دیتا ہے

*


عجیب شان ہے ان چند مرنے والوں کی

کہ زرد موت کا چہرہ دکھائی دیتا ہے

*

لرز رہے ہیں عدو، دیکھو ذوالفقار نہ ہو

ہمیں تو ہاتھوں پہ ّبچہ دکھائی دیتا ہے

*

نہ جانے کیوں اسے بیمار لوگ کہتے ہیں

ہمیں یہ شخص مسیحا دکھائی دیتا ہے

*

شفیق کس کا کرم ہے کہ تیری قسمت کا

بلندیوں پہ ستارا دکھائی دیتا ہے

***


شکیل بدایونی

نظر وابستۂ ماہِ محرّم ہوتی جاتی ہے

سلامی بزمِ ہستی بزمِ ماتم ہوتی جاتی ہے

*

طبیعت خود بہ خود دلداۂ غم ہوتی جاتی ہے

صدائے دل صدائے سوزِ ماتم ہوتی جاتی ہے

*

ہوائے دہر کی خوں نابہ افشانی ارے توبہ

خزاں بر کف بہارِ بزمِ عالم ہوتی جاتی ہے

*

اُدھر صرفِ ستم گیسو بریدہ فوجِ شامی ہے

اِدھر تیغِ برہنہ اور برہم ہوتی جاتی ہے

*

ہر اک روحِ جفا ہے خود جفاکار و جفاپیشہ

بلا شک داخلِ قعرِ جہنم ہوتی جاتی ہے

*

شہادت جس کو مدت سے سرافرازی کا ارماں تھا

وہ اب پابوسِ محبوبِ دو عالم ہوتی جاتی ہے

*

حسینِ(ع) پاک کی گردن پہ خنجر چلتا جاتا ہے

مکمل داستانِ جورِ پیہم ہوتی جاتی ہے

*

خمِ تیغِ قضا محرابِ کعبہ ہے نگاہوں میں

جبینِ شوق سجدوں کے لئے خم ہوتی جاتی ہے

*


خدا شاہد کہ اس ایثار و قربانی کے صدقے میں

خدائی واقفِ رازِ دو عالم ہوتی جاتی ہے

*

زمینِ کربلا کے اُف وہ ہیبت ناک نظارے

دلوں سے قدرِ محشر واقعی کم ہوتی جاتی ہے

*

حریفانِ علی(ع) وعدہ خلافی کرتے جاتے ہیں

عداوت، جزو خوئے ابنِ آدم ہوتی جاتی ہے

*

مئے کوثر پلاتے ہیں جنابِ مصطفی(ص) شاید

علی اصغر(ع) کے رونے کی صدا کم ہوتی جاتی ہے

*

ستم کوشانِ بزدل شیربن بن کر بپھرتے ہیں

دلیروں کی جماعت جس قدر کم ہوتی جاتی ہے

*

ترانے عشق کے اتنے ہی دلکش ہوتے جاتے ہیں

صدائے سازِ ہستی جتنی مدھم ہوتی جاتی ہے

*

جہاں پر جتنے اسرارِ شہادت ُکھلتے جاتے ہیں

شریعت اور محکم اور محکم ہوتی جاتی ہے

*

شکیل اسلام کے دشمن مٹے اور مٹتے جاتے ہیں

یہ قربانی مسلم تھی مسلم ہوتی جاتی ہے

***


شمیم امروہوی

(۱)

سلامی جاں گزا ہے رنج وغم خاصانِ داور کا

قلق سبطین(ع) کا ، زہرا(ص) کا، حیدر(ع) کا، پیمبر(ص) کا

*

سدا ُشہرہ رہے گا جود و خلق و زورِ حیدر(ع) کا

قطار و شیر و انگشتر کا، در کا، روح کے َپر کا

*

علی(ع) کی تیغ کے دم سے ہوا ہر معرکہ فیصل

احد کا، بدرکا، صفین کا، خندق کا، خیبر کا

*

یہ پانچوں سورے اے دل، پنجتن(ع) کی شان میں آئے

قمرکا ، شمس کا ، رحمان کا ، مریم(ع) کا ، کوثر کا

*

فدائے شاہ(ع) ہوکر حر(ع) نی، کس کس کا شرف پایا

اویس(ع) و زید(ع) کا ، عمار(ع) کا ، سلماں (ع) کا بوذر(ع) کا

*

نشاں مٹ کر وفاداری میں کیسا نام نکلا ہے

زہیر(ع) و مسلم(ع) و وہب(ع) و حبیب(ع) و حر(ع) صفدر(ع) کا

*

غلامِ پنجتن(ع) کو ڈر نہیں ان پانچوں چیزوں کا

اجل کا، جاں کنی کا، قبر کا، برزخ کا، محشر کا

*

ِملا ہے رونے والوں کو ثواب اک کا آہ کیا کیا

صلٰوۃ و صوم کا خمس و زکوٰۃ و حجِّ اکبر کا


*

سوائے تشنگی شبیر(ع) کو ایک ایک صدمہ تھا

بھتیجوں بھانجوں کا ، بھائی کا ، اکبر(ع) کا ، اصغر(ع) کا

*

برابر زخم پر ہے زخم ، شہ(ع) کے جسمِ اطہر پر

تبر کا ، تیر کا ، تلوار کا ، نیزے کا ، خنجر کا

*

غضب ہے اتنے صدمے ایک جانِ خواہرِ شہ(ع) پر

ردا کا، قید کا، بچوں کا، اکبر(ع) کا، برادر(ع) کا

*

سکینہ(ع) لے گئی یہ پانچ داغ اس باغِ عالم سے

طمانچوں کا، رسن کا، باپ کا، عمّو کا، گوہر کا

*

تڑپ کے کہتی تھی بانو(ع)، کروں کس کا کا میں ماتم

جواں کا، طفل کا، داماد کا، دختر کا، شوہر کا

*

قیامت ہے نئی بیاہی سہے بچپن میں کیا کیا غم

پدر کا بھائی کا گھر کا رنڈاپے کا کھلے سر کا

*

تہِ خنجر امامِ پاک کو کس کس کا دھیان آیا

بہن کا، بیٹی کا بیمار کا، امت کا ، محضر کا

*

تپِ ہجراں میں جلنے کو چراغ اک رہ گیا باقی

نبی(ص) و فاطمہ(ص) کا حیدر(ع) و شبیر(ع) و شبر(ع) کا

*

شمیم اس کلمۂ وحدت کا ہر دم دھیان رکھتا ہے

میں بندہ ایک کا دو تین کا نو کا اکہتر کا

***


(۲)

حیاتِ دو جہاں رسول(ص)

نصیبِ این و آں حسین(ع)

جہاں جہاں جہاں رسول(ص)

وہاں وہاں وہاں حسین(ع)

*

لب و نظر کی زیب و زین

حدیثِ شاہ(ص) مشرقین

حسین(ع) کی زباں رسول(ص)

رسول(ص) کی زباں حسین(ع)

*

انہیں کا فیض جا بجا

بساطِ خشک و تر ہے کیا

فروغِ ہر زماں رسول(ص)

مکینِ ہر مکاں حسین(ع)

*

روش روش ہے لالہ زار

ہر ایک گل سدا بہار

بنائے گلستاں رسول(ص)

بہارِ بے خزاں حسین(ع)

*


حرم زمینِ ابتلا

بلا زمینِ کربلا

یہاں کے آسماں رسول(ص)

وہاں کے آسماں حسین(ع)

*

ہر اک نظر ہر اک نگاہ

شہودِ حق کی جلوہ گاہ

خدا کے رازداں رسول(ص)

نبی(ص) کے رازداں حسین(ع)

*

سوالِ بولہب شدید

سوالِ سخت تر یزید

جواب میں وہاں رسول(ص)

جواب میں یہاں حسین(ع)

*

شمیم غم گسار پر

یہ فیض کردگار کر

کرم ہی مہرباں رسول(ص)

کرم ہی جانِ جاں حسین(ع)

***


(۳)

چراغِ خانۂ زہرا(ص) دکھائی دیتا ہے

وہ ظلمتوں میں اُجالا دکھائی دیتا ہے

*

جو اہلِ بیت(ع) کے در پر لگا رہا برسوں

اسی غلاف میں کعبہ دکھائی دیتا ہے

*

نشانِ دینِ پیمبر(ص) ہے آپ کا دامن

فضا میں سبز پھریرا دکھائی دیتا ہے

*

اگر شرائط صلحِ حسن(ع) پہ غور کرو

حدیبیہ کا سا نقشہ دکھائی دیتا ہے

*

بقائے دین کی کوشش رسول(ص) کا کردار

اس ایک صلح میں کیا کیا دکھائی دیتا ہے

*

پلا رہا ہے جو محشر میں جام کوثر کے

وہ تین روز کا پیاسا دکھائی دیتا ہے

*

مدد کو آئو کہ وقتِ مدد ہے اے مولا

شمیم آپ کا تنہا دکھائی دیتا ہے

***


منظور حسین شور

یہ سلسلہ ہے اٹل دینِ مصطفی کے لئے

علی نبی کے لئے ہیں نبی خدا کے لئے

*

میانِ باطل و حق زحمتِ تمیز بھی کر

یہ رہگذار ترستی ہے نقشِ پا کے لئے

*

وہ جس کا وقت کی تاریخ میں ہے نام حسین

وہ استعارۂ وحدت ہے کبریا کے لئے

*

علی کا ذکر عبادت ہے بے رکوع و سجود

کہ سمت و جہت ضروری نہیں ہوا کے لئے

*

سقیفہ بند ہو ایماں کہ شام کا بازار

جواز کوئی تو ہو خونِ کربلا کے لئے

*

تھیں برقعہ پوش سبھی دخترانِ کوفہ و شام

نہ تھی ردا تو فقط بنتِ فاطمہ کے لئے

***


شورش کاشمیری

(۲)

سوچتا ہوں کہ اسی قوم کے وارث ہم ہیں

جس نے اولادِ پیمبر کا تماشا دیکھا

*

جس نے سادات کے خیموں کی طنابیں توڑیں

جس نے لختِ دل حیدر کو تڑپتا دیکھا

*

برسرِ عام سکینہ کی نقابیں الٹیں

لشکرِ حیدر کرار کو لٹتا دیکھا

*

اُمِّ کلثوم کے چہرے پہ طمانچے مارے

شام میں زنیب و صغریٰ کا تماشا دیکھا

*

شہ کونین کی بیٹی کا جگر چاک کیا

سبطِ پیغمبرِ اسلام کا لاشا دیکھا

*

دیدۂ قاسم و عباس کے آنسو لوٹے

قلب پر عابد بیمار کے چرکا دیکھا

*

توڑ کر اکبر و اصغر کی رگوں پر خنجر

جورِ دوراں کا بہیمانہ تماشا دیکھا

*


بھائی کی نعش سے ہمشیر لپٹ کر روئی

فوج کے سامنے شبیر کو تنہا دیکھا

*

پھاڑ کے گنبدِ خضریٰ کے مکیں کا پرچم

عرش سے فرش تلک حشر کا نقشا دیکھا

*

قلبِ اسلام میں صدمات کے خنجر بھونکے

کربلا میں کفِ قاتل کا تماشا دیکھا

*

ابوسفیان کے پوتے کی غلامی کرلی

خود فرشتوں کو دِنایت سے پنپتا دیکھا

*

اے میری قوم ترے حسنِ کمالات کی خیر

تو نے جو کچھ بھی دکھایا وہی نقشا دیکھا

*

یہ سبھی کیوں ہے یہ کیا ہے مجھے اب سوچنے دے

کوئی تیرا بھی خدا ہے مجھے اب سوچنے دے

***


(۲)

قرنِ اوّل کی روایت کا نگہدار حسین

بسکہ تھا لختِ دلِ حیدر کرار حسین

*

عرصۂ شام میں سی پارۂ قرآنِ حکیم

وادیٔ نجد میں اسلام کی للکار حسین

*

کوئی انساں کسی انساں کا پرستار نہ ہو

اس جہاں تاب حقیقت کا علمدار حسین

*

ابوسفیان کے پوتے کی جہانبانی میں

عزتِ خواجۂ گیہاں کا نگہدار حسین

*

کرۂ ارض پہ اسلام کی رحمت کا ظہور

عشق کی راہ میں تاریخ کا معمار حسین

*

جان اسلام پہ دینے کی بنا ڈال گیا

حق کی آواز صداقت کا طرفدار حسین

*

وائے یہ جور جگر گوشۂ زہرا کے لئے

ہائے نیزے کی انی پر ہے جگر دار حسین

*


ہر زمانے کے مصائب کو ضرورت اس کی

ہر زمانے کے لئے دعوتِ ایثار حسین

*

کربلا اب بھی لہو رنگ چلی آتی ہے

دورِ حاضر کے یزیدوں سے ہے دو چار حسین

***


مرزا محمد اشفاق شوق لکھنوی

(۱)

جس سے ماتم سرِ بازار نہیں ہو سکتا

وہ کبھی شہ کا عزادار نہیں ہو سکتا

*

غمِ سرور میں جو زنجیر پہن لیتا ہے

وہ مصائب میں گرفتار نہیں ہو سکتا

*

دستِ شبیر سے جیسا سرِ بیعت پہ ہوا

ایسا کونین میں اب وار نہیں ہو سکتا

*

زیب دیتا نہیں میثم کا حوالہ اس کو

ذکرِ حق جس سے سرِ دار نہیں ہو سکتا

*

دشمنِ شہ کے بنیں دوست برائے دنیا

حق پسندوں کا یہ کردار نہیں ہو سکتا

*

چشم و ابرو ہی سے اظہارِ برأت کردے

تو اگر برسرِ پیکار نہیں ہو سکتا

*

’’غیر کی مدح کروں شہ کا ثنا خواں ہوکر’’

آپ سے کہہ دیا سو بار نہیں ہو سکتا

*


سلسلہ مدح کا محشر کی سحر سے مل جائے

ذکرِ عباس جری بار نہیں ہو سکتا

*

چشمِ عرفاں سے ذرا دیکھ تو سوئے درگاہ

اس سے بہتر کوئی دربار نہیں ہو سکتا

*

جس کو تقدیسِ علم کا نہیں احساس وہ شخص

مدحِ عباس کا حق دار نہیں ہو سکتا

*

شیر آتا ہے سوئے نہر کہو اعدا سے

اب کوئی راہ کی دیوار نہیں ہو سکتا

*

رعبِ حیدر کی قسم خسروِ اقلیم جلال

کوئی بھی مثلِ علمدار نہیں ہو سکتا

*

جس کو باطل کے اندھیروں میں سکوں ملتا ہے

وہ کبھی حق کا طرفدار نہیں ہو سکتا

*

روزِ محشر کوئی اے شوق بجز بنتِ رسول

میرے اشکوں کا خریدار نہیں ہو سکتا

***


(۲)

رو رہے تھے خوف سے جس رات تم غاروں کے بیچ

چین سے اس رات ہم سوئے ہیں تلواروں کے بیچ

*

مدحِ حیدر میں قصیدے دوستانِ اہلِ بیت

دار کے منبر سے پڑھتے ہیں ستم گاروں کے بیچ

*

اب تو ان لوگوں کا کچھ نام و نشاں ملتا نہیں

جو چنا کرتے تھے ہم لوگوں کو دیواروں کے بیچ

*

مل کے پیشانی پہ اپنی خاکِ پائے بو تراب

سرخ رو رہتے ہیں ہم دنیا میں زرداروں کے بیچ

*

محفلِ اعمال میں ہے یوں ولائے اہلِ بیت

ماہِ کامل ضوفشاں ہو جس طرح تاروں کے بیچ

*

ہو مبارک آئے دنیا میں حسین ابنِ علی

مغفرت کا ذکر ہوتا ہے گنہ گاروں کے بیچ

*

کیا عزاداری کو روکیں گی ستم کی آندھیاں

ہم علم لے کر چلے جاتے ہیں انگاروں کے بیچ

*


آبروئے دیں بچانے کو علی ابن الحسین

ہتھکڑی پہنے ہوئے آئے ہیں بازاروں کے بیچ

*

شوق یہ ہے مختصر سی اپنی رودادِ حیات

زندگی ماتم میں گزری ہے عزاداروں کے بیچ

***


(۳)

فکرِ رساٝ زبانِ قلم ہو ُبسانِ تیغ

لکھنا ہے مجھ کو مدحِ علی داستانِ تیغ

*

خود اپنے ہاتھوں لٹ گئے سودا گرانِ تیغ

جب لیلتہ اُلہریر میں چمکی دکانِ تیغ

*

ہیں زندگی سے سیر جو تشنہ لبانِ تیغ

پانی انہیں پلاتی ہے جوئے روانِ تیغ

*

لاسیف برزبانِ ملک مدحِ ذوالفقار

یہ سورۂ حدید نہیں ہے بیانِ تیغ

*

دوشِ نبیٔ پہ نقشِ کفِ پائے مرتضیٰ

جبریل کے پروں پہ ملے گا نشانِ تیغ

*

کیا دستِ مرتضیٰ کی صفائی کا ہو بیاں

ہوتے ہیں دنگ دیکھ کے کاریگرانِ تیغ

*

تقسیمِ جسم میں بھی عدالت ہے برقرار

مرحب کو آکے دیکھ لیں خود منصفانِ تیغ

*


دیکھیں کلیم قوتِ بازوئے حیدری

ہیں سجدہ ریز پیشِ خدا ساحرانِ تیغ

*

اصلاب دیکھ دیکھ کے چلتی ہے جنگ میں

ہوتا ہے یوں بہ دستِ خدا امتحانِ تیغ

*

قبضے پہ ذوالفقار کے حیدر کا ہاتھ ہے

دستِ خدا جہاں میں ہے شایانِ شانِ تیغ

*

خود دشمنانِ تیغ گلے اپنے کاٹ لیں

گر مدحِ ذوالفقار کریں دوستانِ تیغ

*

دشمن کوزیر کرتے ہیں میدانِ جنگ میں

آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیدہ ورانِ تیغ

*

خنجر کی دھار پر بھی ثنائے علی رہی

میثم کی طرح کون ہوا خوش بیانِ تیغ

*

عباس اور شبیہ پیمبر ہوئے شہید

ابنِ حسن کے تن پہ ِکھلا گلستانِ تیغ

*

اپنے گلوں کو رکھ دیا خنجر کی دھار پر

اسلام کو ِجلا گئے یہ عاشقانِ تیغ


*

ان کو نہ ہوگی زلزلۂ حشر کی خبر

دشتِ بلا میں سوگئے جو کشتگانِ تیغ

*

محشر سے پہلے حشر بپا ہوگا دہر میں

جب ہوگی دستِ مہدی دیں میں عنانِ تیغ

*

اک روز الٹ کے پردۂ غیبت کو آئے گا

کب تک سنے گا جانِ محمد فغانِ تیغ

*

شوق انتقامِ خونِ شہیداں کے واسطے

باقی ابھی زمین پہ ہے آسمانِ تیغ

***


(۴)

بزمِ رسول پاک میں بوذر سے منہ کی کھائی

میدان میں گئے تو غضنفر سے منہ کی کھائی

*

ایماں کے مرتبوں کا اگر ذکر آگیا

سلماں سے منہ کی کھائی ابوذر سے منہ کی کھائی

*

حیران مشرکین تھے کعبے میں تھے علی

جب قفل کھولنے کو چلے در سے منہ کی کھائی

*

حیدر ہیں محوِ خواب کسی کو خبر نہ تھی

کفار نے رسول کے بستر سے منہ کی کھائی

*

مرحب کو اپنے نام پہ بے حد گھمنڈ تھا

جب آیا رزم گاہ میں حیدر سے منہ کی کھائی

*

جب آئے بحث کرنے کو روزِ مبابلہ

نصرانیوں نے آلِ پیمبر سے منہ کی کھائی

*

اترا درِ علی پہ ستارہ دمِ سحر

وہ دیکھئے نجوم نے اختر سے منہ کی کھائی

*

پلٹا علی کے ایک اشارے پہ آفتاب

یا دشمنوں نے مہرِ منور سے منہ کی کھائی

*


حیدر کے در کو چھوڑ کے جو راستہ چلا

دنیا و آخرت میں ہر اک در سے منہ کی کھائی

*

دنیا میں اہلبیت کے دشمن رہے ذلیل

محشر کے روز شافعِ محشر سے منہ کی کھائی

*

میزاں پہ روزِ حشر عجب معرکہ ہوا

عصیاں نے میرے مدح کے دفتر سے منہ کی کھائی

*

دیوان روزِ حشر نہ جنت دلا سکے

سب شاعروں نے شہ کے سخنور سے منہ کی کھائی

*

ہر معرکہ حسین کے صدقے میں سر ہوا

ہر مرحلے نے الفتِ حیدر سے منہ کی کھائی

*

دن حشر کا گزر گیا طوبیٰ کے سائے میں

اور تشنگی نے چشمۂ کوثر سے منہ کی کھائی

*

دنیا سے جو بھی دشمنیٔ آل لے گیا

اے شوق اُس نے شافعِ محشر سے منہ کی کھائی

***


(۵)

وہ جن رستوں سے گزرے وہ جوابِ کہکشاں ٹھہرے

وہیں جنت سمٹ آئی مرے مولا جہاں ٹھہرے

*

بتا منکر محمد جب نہیں کیوں یہ جہاں ٹھہرے

یہ کن قدموں کی برکت سے زمین و آسماں ٹھہرے

*

زمیں سے پوچھ لو فیضان ان آنکھوں کے چشموں کا

وہیں گلشن بنا ڈالا جہاں اُبلے جہاں ٹھہرے

*

میں جب سمجھوں محبت ربطِ باہم جب بڑھے اتنا

وہ لیں گر امتحاں میرا خود ان کا امتحاں ٹھہرے

*

محبت کر تو لی ان سے مگر ہر دم یہ دھڑکا ہے

کہیں ایسا نہ ہو سعیٔ تمنا رائگاں ٹھہرے

*

نہ کہہ پائی زباں جو راز وہ اشکوں نے کہہ ڈالا

مرے آنسو ترے آگے نرالے ترجماں ٹھہرے

*

نہ ان کا ذکر ہو جس میں نہ خونِ دل سے ّ لکھی ہو

بھلا کس طرح ممکن ہے وہ میری داستاں ٹھہرے

*

چلی ہے عزمِ کامل کے سہارے ڈھونڈنے ان کو

نگاہِ جستجو اللہ جانے اب کہاں ٹھہرے

*


منور عرش تک ہو پرتوِ رخسار سے جس کے

نہ پھر کیوں نقشِ پا اس کا چراغِ آسماں ٹھہرے

*

کبھی فطرت پہ قدرت باپ دکھلائے کبھی بیٹا

کہیں برسیں گھٹائیں اور کہیں آبِ رواں ٹھہرے

*

سن اے بے معرفت زاہد امامت کی نگاہوں میں

مرے آنسو تری ساری عبادت سے گراں ٹھہرے

*

زمیں ان کی زماں ان کا غرض سارا جہاں اُن کا

نہیں حق ان کے دشمن کو کہ وہ آکر یہاں ٹھہرے

*

وہی ہیں مالکِ جنت وہی ہیں مالکِ کوثر

جگہ دشمن کی ہے دوزخ وہ بس جاکر وہاں ٹھہرے

*

جبینِ شوق میں اے کاش یہ تاثیر پیدا ہو

جہاں بھی سر جھکا دوں بس وہیں پرآستاں ٹھہرے

***


شوکت تھانوی

دردِ حسرت اور ہے صحرائے غربت اور ہے

رنج سب کے اور ہیں شہ کی مصیبت اور ہے

*

خاک و خوں میں لوٹتا ہے ایک شاہ تشنہ کام

کربلا کیا اب بھی دل میں کچھ کدورت اور ہے

*

اک مسافر سے زمانہ برسرِ پیکار ہے

کیا ستم کی اس سے بڑھ کر بھی کدورت اور ہے

*

ہاتھ کرتے ہو قلم تھوڑے سے پانی کے لئے

ظالموں اس سے بھی بڑھ کر کیا شقاوت اور ہے

*

آگئے عون و محمد رن میں ماں کو چھوڑ کر

کیا کسی کمسن کے دل میں اتنی جرأت اور ہے

*

ظاہرا مظلوم سے معلوم ہوتے ہیں حسین

غور سے دیکھے جو کوئی تو حقیقت اور ہے

*

ملکِ دنیا سے کہیں پائندۂ ہے ملکِ بقا

باغِ شدّاد اور ہے گلزارِ جنت اور ہے

*

شمر ُیوں غربت زدہ سے کوئی لڑتا ہے کبھی

اے ستم ایجاد ہمت کر کہ ہمت اور ہے


*

حر تمہیں رن کی طرف کچھ اور بڑھنا چاہیے

سامنے ہے خلد تھوڑی سی مسافت اور ہے

*

خارزارِ کربلا ہے آج تک دنیائے دوں

ہو بہو عالم وہی ہے صرف صورت اور ہے

*

جانشیں شمرِلعیں کے ہیں بہت سے آج بھی

جانشینِ شاہ کی ہم کو ضرورت اور ہے

***


مرزا شوکت حسین شوکت لکھنوی

شوکت لکھنوی اُمّی شعرائ میں سے ہیں پہلے ضمیر کاظمی لکھنوی اور اس کے بعد سروش الہ آبادی کو کلام برائے اصلاح دکھایالکھنو کے اُمّی شعراء

دل کو گر آلِ نبی کی مہربانی چاہیے

میثم تمار کی سی زندگانی چاہیے

*

دین کہتا ہے نجف سے مجھ کو قوت تو ملی

کربلا سے اب حیاتِ جادوانی چاہیے

*

غیظ میں عباس یہ کہتے چلے سوئے فرات

میں ہوں سقاّئے سکینہ مجھ کو پانی چاہیے

*

دشمنوں کے بیچ میں اسلام کی تبلیغ کو

زینب و کلثوم کی سی حق بیانی چاہیے

*

ظالموں کی شورشوں کا زور ڈھانے کے لئے

اصغر معصوم ایسی بے زبانی چاہیے

*

ڈوب جائے جس میں باطل اور جل جائے ستم

ایسی گرم و تیز اشکوں کی روانی چاہیے

*


اُمِّ لیلیٰ چاہتی ہیں بخش دیں اپنی حیات

موت جب کہتی ہے اکبر کی جوانی چاہیے

*

تونے کیا سمجھی نہیں تھی بے زباں بچے کی بات

حرملہ پیکاں نہیں اصغر کو پانی چاہیے

*

شاعری سے عاقبت شوکت بنانے کے لئے

اہلِ بیتِ مصطفیٰ کی مدح خوانی چاہیے

***


شہاب کاظمی

(۱)

ایک ہے انسان ایسا سارے انسانوں کے بیچ

جس طرح ر ّکھی ہوئی ہو شمع پروانوں کے بیچ

*

ہم سے پوچھو ہم بتائیں گے وفا کیا چیز ہے

زندگی ہم نے گزاری ہے عزائ خانوں کے بیچ

*

وہ مدینہ ہو کہ مشہد کربلا ہو کہ نجف

ایک ہی جلوہ ہے سارے آئینہ خانوں کے بیچ

*

اس کو کیا کہئے جسے ہو عصمتِ مرسل پہ شک

بات یہ رکھتا ہوں میں سارے مسلمانوں کے بیچ

*

منزل انفس پہ یہ آئیں نبی کے ساتھ اگر

صورتِ مطلق نکل آتی ہے امکانوں کے بیچ

*

خونِ ناحق ہے جبینوں سے عیاں ہو جائے گا

انگلیاں ہر چند رکھیں لوگ دستانوں کے بیچ

*

اک امامت پر نہیں ہے منحصر جورِ یزید

کٹ گئے دَورِ امامت کتنے زندانوں کے بیچ

*


کربلا والوں کی پیاس اے محتسب ہم سے نہ پوچھ

آج بھی آتی ہے آوازِ عطش کانوں کے بیچ

*

روشنی فانوس میں ہوتی ہے جیسے جلوہ گر

یوں غمِ شبیر ہے دل کے نہاں خانوں کے بیچ

*

مان لوں کیسے عرب مہماں نوازی میں تھے فرد

تین دن کی پیاس ہے کوفے کے مہمانوں کے بیچ

*

اِس قدر شاید نہ ہوتا دکھ رسول اللہ کو

قتل ہوجاتے اگر شبیر بیگانوں کے بیچ

*

یہ بتانے کو کہ دیکھو ایسے ہوتے ہیں رفیق

شمع گل کرتے ہیں شاہِ دین پروانوں کے بیچ

*

ظلمتوں میں رہنے والوں کو یہ دعوت عام ہے

روشنی آکر ذرا دیکھیں عزاخانوں کے بیچ

*

دوسروں پر نکتہ چینی کی یہ پہلی شرط ہے

پہلے دیکھیں جھانک کر اپنے گریبانوں کے بیچ

*

یہ صلہ ہے مدحتِ شہ کا کہ اپنا بھی ِشہاب

احتراماً نام آتا ہے سخن دانوں کے بیچ

***


(۲)

منافقت کے جو پردے اٹھا کے دیکھتے ہیں

علی کی ذات میں جلوے خدا کے دیکھتے ہیں

*

ہر ایک حال میں ہیں ہم علی کے شیدائی

وہ اور لوگ ہیں جو رخ ہوا کے دیکھتے ہیں

*

مزا ہے نیند کا کیا بسترِ پیمبر پر

علی یہ جان کی بازی لگا کے دیکھتے ہیں

*

شجاعتِ بنِ ود کی سنیں جو تعریفیں

علی نے ہنس کے کہا ہم بھی جا کے دیکھتے ہیں

*

سنا یہ جبکہ گراں بار ہے درِ خیبر

کہا علی نے کہ اچھا اٹھا کے دیکھتے ہیں

*

ہوا کسی سے نہ جب فتح قلعۂ خیبر

نبی نے سوچا علی کو بلا کے دیکھتے ہیں

*

بہت سے لوگ ہیں ہم لوگ جن کی صورت سے

’’منافقون’’ کی سورت ِملا کے دیکھتے ہیں

*


حضور خامہ و قرطاس کے حوالے سے

رفیق کیسے ہیں یہ آزما کے دیکھتے ہیں

*

ہے کون اپنا پرایا ہے کون محفل میں

علی کے نام کا نعرہ لگا کے دیکھتے ہیں

*

یہ کیسا دعویٔ الفت ہے جس کو چاہتے ہیں

اسی کی ذات میں پہلو خطا کے دیکھتے ہیں

*

سوائے عیب انہیں کچھ نظر نہیں آتا

یہ لوگ کون سی عینک لگا کے دیکھتے ہیں

*

اُحد کی جنگ کا منظر نظر میں ہے شاید

چراغ اس لئے سرور بجھا کے دیکھتے ہیں

*

ستارے کیسے سجاتے ہیں لوگ پلکوں پر

ملک یہ مجلسِ سرور میں آکے دیکھتے ہیں

*

حسین کیسے اٹھاتے ہیں لاش اکبر کی

خلیل عرش سے تشریف لا کے دیکھتے ہیں

*

سخن شناسوں کی محفل ہے جب کسی نے کہا

کہا ِشہاب نے منبر پہ جا کے دیکھتے ہیں

***


(۳)

الفتِ حیدر سے ہے دل میں تماشا اور کچھ

زندگانی اور شئے ٹھہری ہے مرنا اور کچھ

*

ِگھر کے طوفاں میں کہا جب یا علی مُشکلکشا

لاکے ساحل پر ہمیں موجوں نے پوچھا اور کچھ

*

سنتے ہی نامِ علی وہ اٹھ گیا اچھا ہوا

بیٹھتا کچھ دیر محفل میں تو سنتا اور کچھ

*

لیکے بخشش کی سند ہم شرم سے چپ رہ گئے

ورنہ رضواں تو برابر پوچھتا تھا اور کچھ

*

ہم سے کہتے ہیں کہ ہم بھی اُس کی سنت پر چلیں

جس نے فرمانِ نبی رد کرکے مانا اور کچھ

*

کیوں نہ آجاتی شبِ ہجرت علی کو گہری نیند

چھائوں میں تیغوں کی سونے کا مزا تھا اور کچھ

*

یہ بھی انکارِ غدیرِ خم سے ثابت ہوگیا

دل میں تھا اسلام لے آنے کا منشائ اور کچھ

*

وہ تو یہ کہئے نہ دی اِذنِ وغا عباس کو

کَربلا کا ورنہ ہوجانا تھا نقشا اور کچھ

*


رکھ دیا ہوتا اگر خشتِ غدیرِ خم پہ سر

یہ مسلماں اور کچھ ہوتے یہ دنیا اور کچھ

*

لاش اکبر کی اٹھا کر خود سے سرور نے کہا

کردیا ہے مجھ کو پیری نے توانا اور کچھ

*

اس لئے تاکید تھی مڑ مڑ کے اکبر دیکھنا

دیکھ لیں شبیر نانا کا سراپا اور کچھ

*

شکوۂ بے اعتنائی بھائی سے صغرا نہ کر

سوچ لے مضمونِ خط اس کے علاوہ اور کچھ

*

آرزو اکبر کی شادی دیکھنے کی سب کو تھی

تھا مگر منظور قسمت کو دکھانا اور کچھ

*

مانگ لی اللہ سے مدّاحیٔ حیدر ِشہاب

کوئی دیوانہ تھا جو کرتا تمنا اور کچھ

***


(۴)

تمہیں کیا، کربلا میں ہم نے پیشانی کہاں رکھ دی

ہماری چیز ہے ہم نے جہاں چاہا وہاں رکھ دی

*

جب اس نے اشکِ شہ پر نارِ دوزخ سے اماں رکھ دی

سجا کر ہم نے پلکوں پر جواہر کی دکاں رکھ دی

*

حقیقت دیکھ لیں بینائی اس نے اس لئے دیدی

پڑھیں مدحت علی کی اس لئے منہ میں زباں رکھ دی

*

اڑا جب جذبۂ مداحی حیدر ہمیں لے کر

ہمارے پائوں کے نیچے فلک نے کہکشاں رکھ دی

*

پس اذنِ وغا یہ بھی زمانہ پوچھتا پھرتا

بساطِ اَرض اے عباس تہ کرکے کہاں رکھ دی

*

بھنور میں آرہا تھا لطف ان کو یاد کرنے کا

ہوائوں نے یہ کشتی لاکے ساحل پر کہاں رکھ دی

*

کہ دل میں جذبۂ شوق شہادت اور بڑھ جائے

علی اکبر کے منہ میں اس لئے شہ نے زباں رکھ دی

*

اگر رونا پڑے تو رو سکوں شبیر پر کھل کر

مری فطرت میں اس نے اس لئے آہ و فغاں رکھ دی

*


کیا وہ ظلم اعدا نے محمد کے گھرانے پر

ہلا کے جس نے بنیادِ زمین و آسماں رکھ دی

*

اِدھر گردن سے روکا مسکرا کر تیر اصغر نے

ادھر زچ ہوکے ظالم نے ہمیشہ کو کماں رکھ دی

*

تمہارے صبر پر صد آفریں اے مادرِ اصغر

کہ اتنا بھی نہ پوچھا لاش اصغر کی کہاں رکھ دی

*

شہاب اعمال کے دفتر میں کیا تھا پیش کرنے کو

بیاضِ مدح لی ، فردِ عمل کے درمیاں رکھ دی

***


(۵)

سرمۂ حُبِّ علی جب سے مری آنکھوں میں ہے

ماہِ دو ہفتہ سے تابِ ہمسری آنکھوں میں ہے

*

کٹ رہی ہے چین سے حُبِّ علی میں زندگی

نورِ ایماں قلب میں دیدہ وری آنکھوں میں ہے

*

ہے تصور میں زمینِ کاظمین و سامرہ

جنت الفردوس کی خوش منظری آنکھوں میں ہے

*

جارہا ہے یوں کوئی ، لَولا علی، کہتا ہوا

دلِ میں حسرت، سرمۂ بیچارگی آنکھوں میں ہے

*

خالی ہاتھوں کی طرف اِن کے نہ دیکھو حشر میں

کربلا والوں کا رختِ بندگی آنکھوں میں ہے

*

کیجئے اس پر غمِ شہ کے خزانوں کا قیاس

نائو اک لعل و جواہر سے بھری آنکھوں میں ہے

*

چاند پھر دیکھیں محرم کا تو کچھ باتیں کریں

نو مہینے بیس دن سے خاموشی آنکھوں میں ہے

*


گر نصیبوں میں نہیں دیدِ ضریحِ شاہ دیں

پھر یہ سمجھا دیجئے کیوں روشنی آنکھوں میں ہے

*

پائوں مجبورِ اطاعت، دل میں شوقِ اِذنِ جنگ

ہاتھ قبضے پر ترائی َنہر کی آنکھوں میں ہے

*

ہاں ابھی فرشِ عزا سے اٹھ کے آیا ہے ِشہاب

تازگی بس اس لئے بھیگی ہوئی آنکھوں میں ہے

***


منوّر عباس شہاب

کبھی فرطِ ادب میں اشک افشانی نہیں جاتی

ہیں لب خاموش لیکن مرثیہ خوانی نہیں جاتی

*

حرم کی بے ردائی نے لیا ہے انتقام ایسا

یزیدیت کی پردوں میں بھی عریانی نہیں جاتی

*

نہ بھرتے رنگ اِس میں گر لہو سے کربلا والے

تو آج اسلام کی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی

*

حکومت اہلِ دنیا کی فقط حاکم کے دم تک ہے

دلوں پر جو حکومت ہو وہ سلطانی نہیں جاتی

*

کوئی حق کا مجاہد سر بکف آتا ہے میداں میں

ُ ُکھلے سر شام کے بلوے میں سیدانی نہیں جاتی

*

ہزاروں بندشیں ہوتی ہیں ماتم پہ شہیدوں کی

شہاب اس پر بھی اپنی مرثیہ خوانی نہیں جاتی

***


امتہ المحدی بیگم شہرت حیدرآبادی

علی سا جب مرا مشکل کشا ہے

کسی کی پھر مجھے پروا ہی کیا ہے

*

صراطِ مستقیم ان کی ولا ہے

یہی ّجنت کا سیدھا راستہ ہے

*

مری جاں اس گھرانے پر فدا ہے

یہی دنیا میں میرا آسرا ہے

*

یہی ہے دین میں میرا سہارا

کہ جس کا مدح گستر کبریا ہے

*

اسی سے ہوتی ہیں سب مشکلیں حل

یہی کونین کا حاجت روا ہے

*

نبی لیتے ہیں جس در پر اجازت

سلام اللہ جس پر بھیجتا ہے

*

نہ ہو تکلیف مجھ کو جانکنی کی

مرے مولا غضب کا سامنا ہے

*

جہاں پھر جائے شہرت غم نہ کرنا

زمانے میں ترا رکھّا ہے کیا ہے

***


محرّم علی شہرت نو گانوی

(۱)

اصولِ دینِ یزداں کی ضرورت ثانیٔ زہرا

شہیدوں کے تصور کی حقیقت ثانیٔ زہرا

*

تمہاری سعیٔ پیہم اور پاکیزہ خیالوں نے

کیا تبدیل ذہنِ آدمیّت ثانیٔ زہرا

*

بندھے ہاتھوں سے کچھ ایسی نرالی جنگ کی تم نے

زمانہ آج تک ہے محوِ حیرت ثانیٔ زہرا

*

اسیری سے تمہاری اور انکارِ شہ دیں سے

لگے ہے اجنبی سا لفظِ بیعت ثانیٔ زہرا

*

چلی جب ظلم کی آندھی ردائوں کی قناتوں سے

بچالی آپ نے شمعِ نبوت ثانیٔ زہرا

*

زبانِ حال سے یہ آیۂ تطہیر کہتی تھی

تری بے چادری معراجِ عصمت ثانیٔ زہرا

*

نہ ہو کیوں نام اس کا اسمِ اعظم دونوں عالم میں

تخلص مل گیا ہو جس کو شہرت ثانیٔ زہرا

***


(۲)

بے زبانی بن گئی ہے داستانِ کربلا

اصغر معصوم ہیں گویا لسانِ کربلا

*

حر غازی کی ضیافت میں شہادت کا ہے جام

مرحبا صد مرحبا اے میزبانِ کربلا

*

ہاتھ دے کر لاج رکھ لی آپ نے اسلام کی

ورثہ دارِ جعفر طیّار جانِ کربلا

*

ساقیٔ کوثر کی خدمت میں چلے ہیں ناز سے

خون میں ڈوبے ہوئے تشنہ لبانِ کربلا

*

یا محمد یا علی یا فاطمہ آجائیے

بے کفن ہیں کربلا میں کشتگانِ کربلا

*

بے ردا اپنی لحد سے آگئی ہیں فاطمہ

سانحہ کیسا ہوا ہے درمیانِ کربلا

*

اے مرے معبود وہ بھی فاطمہ کا لال ہے

کیا ہوا دشوار گر ہے امتحانِ کربلا

***


(۳)

زباں ہو خشک جسدم روزِ محشر ساقیٔ کوثر

عطا ہم کو بھی ہو اک جام کوثر ساقیٔ کوثر

*

شہنشاہ دو عالم مالکِ منشائے یزدانی

تری ٹھوکر میں ہے تختِ سکندر ساقیٔ کوثر

*

صدائے العطش اسلام کے ہونٹوں پہ آئی ہے

ملے پیاسے کو بھی لبریز ساغر ساقیٔ کوثر

*

خدا کے دین کو پھر چاہیے خونِ دلِ زہرا

کہاں ہیں آپ کے شبیر و شبر ساقیٔ کوثر

*

شب ہجرت گواہی دی رسولِ حق کے بستر نے

تمہاری ذات ہے نفسِ پیمبر ساقیٔ کوثر

*

یہ کیسی ضرب تھی مرحب کے سر سے کس طرف پہنچی

پکارے لافتیٰ جبریل کے پر ساقیٔ کوثر

*

تری جائے ولادت بھی تری جائے شہادت بھی

ہر اک ماحول میں اللہ کے گھر ساقیٔ کوثر

*

نقیبِ حق خطیبِ دینِ ختم المرسلیں شہرت

مرے مولا و آقا میرے رہبر ساقیٔ کوثر

***


(۴)

توصیفِ حسین ابنِ علی کیسے بیاں ہو

الفاظ ہوں خالق کے پیمبر کی زباں ہو

*

آنکھوں نے وضو اشکِ غم شہ سے کیا ہو

پھر کیوں نہ تہجد مری نظروں سے عیاں ہو

*

شبیر کا غم اہلِ عزا ایسے منائو

ماحول میں پھیلا ہوا آہوں کا دھواں ہو

*

اشکوں میں غمِ شاہ کے دل ڈوب رہا ہو

ممکن ہی نہیں درد نہ ہو اور فغاں ہو

*

شبیر کی آغوش میں اے اصغر بے شیر

قرآن کی تفسیر ذرا ہنس کے بیاں ہو

*

بس عون و محمد کے سوا روزِ ازل سے

لائو جو کوئی زینبِ دلگیر سی ماں ہو

*

اکبر کے جنازے کو اٹھاتے ہوئے شبیر

دیتے رہے آواز کہ عباس کہاں ہو

*


ایسا بھی مقیّد ہے کوئی جس کے سبب سے

زنجیر کی جھنکار میں پیغامِ اذاں ہو

*

باطل کی شکستِ ابدی کے لئے شہرت

اکبر سا جگر ہو علی اصغر سی زباں ہو

***


(۵)

اللہ کے وجود کی مظہر ہیں فاطمہ

پروردۂ اصولِ پیمبر ہیں فاطمہ

*

وجہِ نزولِ رحمتِ داور ہیں فاطمہ

واللہ روحِ سورۂ کوثر ہیں فاطمہ

*

ہر ہر قدم پہ مقصدِ احمد کا ہے خیال

گویا شریکِ کارِ پیمبر ہیں فاطمہ

*

چادر ہٹے جو سر سے تو نکلے نہ آفتاب

جیسے نظامِ خالقِ اکبر ہیں فاطمہ

*

پاکیزگی کی خاص سند کس نے پائی ہے

دیکھو بنائے آیۂ اطہر ہیں فاطمہ

*

جس پر کرے ہے ناز خداوندِ کائنات

اس کشتۂ عظیم کی مادر ہیں فاطمہ

*

جلتی زمیں پہ لاشۂ شبیر کے قریب

کرب و بلا میں کھولے ہوئے سر ہیں فاطمہ

*

شہرت کوئی جواب ہے اُن کا نہ ہے مثال

سب عورتوں میں افضل و برتر ہیں فاطمہ

***


میر مہدی علی شہید لکھنوی شہید یار جنگ

(۱)

دنیا میں ہے حسین پہ بس انتہائے رنج

رنج ان کے واسطے تھا تو یہ تھے برائے رنج

*

اصغر کا داغ اور دلِ صد پارۂ حسین

یہ انتہائے صبر ہے وہ انتہائے رنج

*

ہو خاتمہ بخیر دعا ہے یہ صبح و شام

تکلیف ہے جہاں میں تو کیا اس میں جائے رنج

*

وہ مرد ہے جو چہرے سے ظاہر نہ ہونے دے

پہنچے بھی گر کسی سے تو دل میں چھپائے رنج

*

تھا خاتمہ حسین پہ دنیا میں رنج کا

آدم سے اس جہاں میں ہوئی ابتدائے رنج

*

دنیا میں ایک لحظہ بھی پوری خوشی کہاں

فرحت میں بھی نکلتا ہے گوشہ برائے رنج

*

دل ٹوٹتا ہے جب تو نکلتی ہے آہ بھی

چھپتی نہیں چھپائے سے ہرگز صدائے رنج

*


آنسو نکل ہی آتے ہیں ہنستے ہیں جب زیاد

جو انتہائے عیش ہے وہ ابتدائے رنج

*

کڑیل جواں کی لاش پہ چلاّئے شاہ دیں

دشمن کو بھی خدا نہ کبھی یہ دکھائے رنج

*

بھائی کا داغ بچوں کا غم قید کا ستم

زینب نے بھی جہان میں کیا کیا اٹھائے رنج

*

تکلیف دوسروں سے نہ پہنچی کبھی شہید

دنیا میں دوستوں ہی سے ہم نے اٹھائے رنج

***


(۲)

کعبہ کا سماں اور ہے مقتل کا سماں اور

حیدر کی اذاں اور تھی اکبر کی اذاں اور

*

بچے کا گلا اور ہے کچھ صدرِ جواں اور

ہاں تیر کا زخم اور ہے کچھ زخمِ سناں اور

*

اونچا ہوا جس کے قدِ بالا سے نشاں اور

عباس سا ہوگا نہ زمانے میں جواں اور

*

اعدا میں خوشی لشکرِ شہ محوِ دعا ہے

کچھ فکر یہاں اور ہے کچھ ذکر وہاں اور

*

کہتے ہوئے اٹھے یہ جوانانِ حسینی

کچھ جاذبِ دل آج ہے اکبر کی اذاں اور

*

شہ کہتے تھے اکبر سے کہ عباس کو روکو

اک خون کا دریا لبِ دریا ہے رواں اور

*

دم اہلِ حرم کے جو گھٹے ہوں تو عجب کیا

خیموں کے دھویں میں تھا کلیجوں کا دھواں اور

*

سب زخم تو بھر جاتے ہیں پر یہ نہیں بھرتا

تلوار کا زخم اور ہے کچھ زخمِ زباں اور

*


بچوں کو فدا کر دیا بھائی کے پسر پر

زینب سی زمانے میں نہ ہوگی کوئی ماں اور

*

اک حملے میں لشکر تہ و بالا ہوا اکبر

اک حملہ اسی طرح کا اے شیر ږیاں اور

*

ہند آتی تو ہے پوچھنے احوالِ اسیراں

رکھتی ہے مگر دل میں یہ کچھ اپنے گماں اور

*

آتے ہیں ہمک کر جو یہ آغوشِ پدر میں

اصغر کے تبسّم میں ہے کچھ رازِ نہاں اور

*

سجاد رہِ شام میں گر پڑتے ہیں تھک کر

چلنے نہیں دیتی انہیں زنجیرِ گراں اور

*

ہے خطبہ سرا کوفہ میں بنتِ اسد اللہ

یہ طرزِ سخن اور ہے اندازِ بیاں اور

*

اصغر نے زباں پھیری ہے ہونٹوں پہ عطش سے

یہ شانِ تکلم ہے جدا طرزِ بیاں اور

*

زینب نے کہا بھائی کا چہلم میں کروں گی

دیدے مجھے مجلس کے لئے کوئی مکاں اور

*

ہے میرے سلاموں میں شہید اور ہے کچھ رنگ

کہتے ہیں سخن گو کہ ہے یہ طرزِ بیاں اور

***


(۳)

غمِ حسین کا گر ذکر داستاں میں نہیں

اثر زباں میں نہیں ہے مزا بیاں میں نہیں

*

جمالِ حضرتِ عباس اے تعال اللہ

زمین کیا ہے جواب اس کا آسماں میں نہیں

*

خدا کہوں میں علی کو ارے معاذ اللہ

یہ بات میرے تصور مرے گماں میں نہیں

*

زُہیر قین وہ اسّی برس کا مردِ ضعیف

یہ جوشِ جنگ یہ قوت کسی جواں میں نہیں

*

حرم کے قافلے کی شان ہی نرالی ہے

کہ دو قدم کی سکت پائے سارباں میں نہیں

*

زباں دکھا دی لبوں پر پھرا نہیں سکتی

اب اتنی جان بھی اللہ بے زباں میں نہیں

*

خدا ہی جانے رہِ شام کیسے طے ہوگی

کہ سانس لینے کی طاقت بھی ناتواں میں نہیں

*


یہ راز طالب و مطلوب کا کھلا سرِ عرش

بس ایک پردہ ہے کچھ اور درمیاں میں نہیں

*

شہید کیوں نہ ہو ہر قوم میں حسین کا غم

کہ مرثیہ مرے مولا کا کس زباں میں نہیں

***


(۴)

ہو خلوصِ قلب کا مظہر کلام ایسا تو ہو

فاطمہ روئیں جسے ُسن کر سلام ایسا تو ہو

*

جون تیرے اک لہو کی بوند پر دنیا نثار

پائوں پر آقا کے دم نکلے غلام ایسا تو ہو

*

سامنے آنکھوں کے پھر جائے سماں حالات کا

رات رونے میں کٹے کچھ ذکرِ شام ایسا تو ہو

*

حر تری تقدیر پر شاہوں کو بھی آتا ہے رشک

پیشوائی خود کرے آقا غلام ایسا تو ہو

*

ہو شہید ایسا کہ مٹی سجدہ گاہِ خلق ہو

خاک ہو تسبیح میں داخل امام ایسا تو ہو

*

نشّہ جس کا حشر تک رہ جائے ہو ایسی شراب

ساقیٔ کوثر سے جو ہاتھ آئے جام ایسا تو ہو

*

دل تڑپ جاتا ہے جب کہتا ہے کوئی یا حسین

آنکھ سے آنسو نہ تھمنے پائیں نام ایسا تو ہو

*

منبرِ دوشِ رسالت پر ہوا خطبہ سرا

ہاں جو مولا ہو تو ایسا ہو امام ایسا تو ہو

*


اکبر و عباس و قاسم بس ہیں شاہ دیں کے ساتھ

ہاں سواری کا بہن کی اہتمام ایسا تو ہو

*

ناصرانِ شاہ دیں کہتے تھے آپس میں شہید

نام رہ جائے جہاں میں کوئی کام ایسا تو ہو

***


(۵)

غمِ شہ کا ہوگا بیاں رفتہ رفتہ

جگر سے اٹھے گا دھواں رفتہ رفتہ

*

ہوئے پھول صرفِ خزاں رفتہ رفتہ

نشاں ہوگئے بے نشاں رفتہ رفتہ

*

نبوت کی آغوشِ الفت میں پل کر

علی ہورہے ہیں جواں رفتہ رفتہ

*

صعوبات ہوں لاکھ، منزل پہ اک دن

پہنچ جائے گا کارواں رفتہ رفتہ

*

قریبوں کا غم اور عزیزوں کی فرقت

ہوا شاہ کا امتحاں رفتہ رفتہ

*

بڑھی اور زین العبا کی نقاہت

گراں ہوگئیں بیڑیاں رفتہ رفتہ

*

سکینہ کے دل میں بڑھا شمر کا ڈر

کہ نالے ہوئے سسکیاں رفتہ رفتہ

*


رہا زانوئے شہ پہ سر وقتِ مردن

گیا حر کہاں سے کہاں رفتہ رفتہ

*

سکینہ کے نالے اثر کررہے ہیں

تڑپنے لگے پاسباں رفتہ رفتہ

***


(۶)

دیکھتا ہوں جلوۂ شبیر اٹھتے بیٹھتے

ہے یہی پیشِ نظر تصویر اٹھتے بیٹھتے

*

پڑھ رہا ہوں خطبۂ من کنتُ مولا رات دن

کر رہا ہوں قلب کی تعمیر اٹھتے بیٹھتے

*

دو گھڑی بھی چین سے سجاد رہ سکتے نہیں

سخت ایذا دیتی ہے زنجیر اٹھتے بیٹھتے

*

دی صدا زینب نے آئو پیشوائی کو حسین

قبر پر آئی ہے اب ہمشیر اٹھتے بیٹھتے

*

خیمہ گہ میں لاشِ اکبر کس طرح لیجائیں گے

جارہے ہیں لاش پر شبیر اٹھتے بیٹھتے

*

ہم شبیہ مصطفیٰ یا رب مرا پھولے پھلے

تھی دعائے زینبِ دلگیر اٹھتے بیٹھتے

*

صبرِ عابد کا تصرف دیدنی ہے اہلِ دل

جو صدا دیتی نہیں زنجیر اٹھتے بیٹھتے

*

کربلا کا قصد ہے کیا ضعف روکے گا شہید

جا ہی پہنچوں گا کسی تدبیر اٹھتے بیٹھتے

***


(۷)

شکوہِ مرحبی و شانِ عنتری کیا ہے

یہ بے حواسیاں کیا ہیں یہ تھرتھری کیا ہے

*

قدم قدم پہ نشانِ قدم ہیں حیدر کے

زمیں کے آگے بھلا چرخِ چنبری کیا ہے

*

کہا یہ فوج سے عباس نے ٹھہر جائو

بتائوں گا تمہیں میں زورِ حیدری کیا ہے

*

حبیب آئے ہیں زینب سلام بھیجتی ہیں

بتا رہی ہیں ہمیں بندہ پروری کیا ہے

*

کہا یہ بیٹوں سے زینب نے ہے َعلم کا خیال

سمجھتے بھی ہو یہ میراثِ حیدری کیا ہے

*

کسی نے قید میں سجاد کو اگر دیکھا

سمجھ میں آگیا اس کی کہ لاغری کیا ہے

*

بتایا حضرتِ عباس نے لبِ دریا

وفا کی شان ہے کیا اور دلاوری کیا ہے

*

لچک کے کہتا ہے پنجہ عَلم کا حیدر کے

کہ میرے آگے یہ خورشیدِ خاوری کیا ہے

*


شہید طبع کی موزونیت سے کیا حاصل

جو شعر دل میں نہ اترے سخنوری کیا ہے

***


(۸)

مال کا طالب کہاں ہوں کب مجھے زر چاہیے

اک نگاہِ لطف اے سبطِ پیمبر چاہیے

*

آج پھر اسلام کی ہوتی ہے تجدیدِ حیات

پیرویٔ اسوۂ سبطِ پیمبر چاہیے

*

حر ابھی کیا تھا ابھی کیا ہوگیا شانِ خدا

ایسی قسمت چاہیے ایسا مقدر چاہیے

*

شہ نے فرمایا کہ شکوہ کیوں کسی کا لب پہ آئے

شکرِ خلاقِ دو عالم زیرِ خنجر چاہیے

*

کہہ رہے ہیں کہنے والے فتح کچھ آساں نہیں

بابِ خیبر کے لئے بازوئے حیدر چاہیے

*

دوشِ احمد پر علی کعبہ میں دیتے ہیں اذاں

اس مُکبر کے لئے ایسا ہی منبر چاہیے

*

ہم گنہگاروں کے دل میں یہ تمنا ہے شہید

سایۂ دامانِ زہرا روزِ محشر چاہیے

***


مرزا صادق حسین شہید لکھنوی

دینِ فطرت کی آبرو ہے حسین

حق یہ ہے حق کی آروز ہے حسین

*

زیرِ خنجر ترا گلو ہے حسین

پھر بھی خالق سے گفتگو ہے حسین

*

منہ پہ بے شیر کا لہو ہے حسین

پیشِ معبود سرخرو ہے حسین

*

یوں بھی کوئی نماز پڑھتا ہے

خونِ بے شیر سے وضو ہے حسین

*

آج کونین میں ہے ذکر ترا

دونوں عالم میں تو ہی تو ہے حسین

*

یہ حقیقت ہے ہر جگہ ہے خدا

یہ بھی سچ ہے کہ چار سو ہے حسین

*

باغِ ایماں کے غنچے غنچے میں

رنگ تیرا ہے تیری بوٖ ہے حسین

*


قلبِ مادر کو اب سنبھالے ہے

ماں کو بچّے کی جستجو ہے حسین

*

ماں یہ خیمے کے در سے دیکھا کے

لاشِ اکبر ہے اور تو ہے حسین

*

تیرا روضہ ہو اور شہیدِ حزیں

مدّ توں سے یہ آرزو ہے حسین

***


سید قمر حسین عرف چھٹن صاحب شیفتہ لکھنوی

شیفتہ امّی شاعر تھے انہوں نے ذاخر لکھنوی سے کلام پر اصلاح لی لکھنو کے اُمّی شعراء

(۱)

کہہ رہا تھا ُحسن ماں سے نوجوانی دیکھنا

ہوں جواں اکبر تو احمد کی نشانی دیکھنا

*

شیفتہ کیا ڈر ہے تجھ کو تیرے حامی ہیں حسین

بخشوائے گی لحد میں نوحہ خوانی دیکھنا

***


(۲)

ہنگامِ ذبح قاتل ہے صدرِ شاہ دیں پر

خنجر میں کچھ لہو ہے کچھ خوں ہے آستیں پر

*

فوجِ عدو نے بڑھ کر عباس کو جو روکا

غیظ آگیا جری کو بل پڑ گئے جبیں پر

*

ہنگامِ جنگ جس دم اکبر نے تیغ کھینچی

کٹ کٹ کے سر عدو کے گرنے لگے زمیں پر

*

دربار میں سکینہ اس طرح سے کھڑی ہے

اک ہاتھ ہے گلے پر ایک ہاتھ ہے جبیں پر

*

محشر میں پوچھتی ہے یہ بے کسی کسی کی

اے شمر خوں ہے کس کا یہ تیری آستیں پر

*

اے شیفتہ نجف ہو یا خاکِ کربلا ہو

تربت کی اک جگہ ہے مل جائے گی کہیں پر

***

ماخذ: http://www.maulaali.com/marasi-d.html

ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

اردو لائبریری ڈاٹ آرگ، کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام اور کتب ڈاٹ ۲۵۰ فری ڈاٹ کام کی مشترکہ پیشکش

بشکریہ kitaben.ifastnet.com


فہرست

شاہد اکبر پوری ۴

(۱) ۴

(۲) ۶

(۳) ۸

(۴) ۱۰

(۵) ۱۲

شاہد صدیقی ۱۴

شاہد نقدی ۱۵

شبنم رومانی ۱۶

میر شجاعت علی خاں معظم جاہ شجیع شہزادۂ سلطنتِ آصفیہ ۱۸

(۱) ۱۸

(۲) ۱۹

شفیق لکھنوی اُمّی ہیں ۲۱

(۱) ۲۱

(۲) ۲۳

(۳) ۲۵

محمد سعید شفیق بریلوی ۲۷

شکیل بدایونی ۲۹


شمیم امروہوی ۳۱

(۱) ۳۱

(۲) ۳۳

(۳) ۳۵

منظور حسین شور ۳۶

شورش کاشمیری ۳۷

(۲) ۳۷

(۲) ۳۹

مرزا محمد اشفاق شوق لکھنوی ۴۱

(۱) ۴۱

(۲) ۴۳

(۳) ۴۵

(۴) ۴۸

(۵) ۵۰

شوکت تھانوی ۵۲

مرزا شوکت حسین شوکت لکھنوی ۵۴

شہاب کاظمی ۵۶

(۱) ۵۶

(۲) ۵۸

(۳) ۶۰


(۴) ۶۲

(۵) ۶۴

منوّر عباس شہاب ۶۶

امتہ المحدی بیگم شہرت حیدرآبادی ۶۷

محرّم علی شہرت نو گانوی ۶۸

(۱) ۶۸

(۲) ۶۹

(۳) ۷۰

(۴) ۷۱

(۵) ۷۳

میر مہدی علی شہید لکھنوی شہید یار جنگ ۷۴

(۱) ۷۴

(۲) ۷۶

(۳) ۷۸

(۴) ۸۰

(۵) ۸۲

(۶) ۸۴

(۷) ۸۵

(۸) ۸۷

مرزا صادق حسین شہید لکھنوی ۸۸


سید قمر حسین عرف چھٹن صاحب شیفتہ لکھنوی ۹۰

(۱) ۹۰

(۲) ۹۱