انتخاب حمد و مناجات
گروہ بندی شعری مجموعے
مصنف محمد امین
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


انتخاب حمد و مناجات

قرطاس ناگپور کے حمد و مناجات نمبر کا نظمیہ حصہ

مدیر : محمد امین الدین

ماخذ: اردو کی برقی کتاب

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید


سورۂ الفاتحہ

(آزاد منظوم ترجمہ)

امتیاز الدین خان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کیا وصف ہو تیرا بیاں، اللہ رب العالمیں

بے حد رحیم و مہرباں، اللہ رب العالمیں

*

اے مالک روز جزا، ( اللہ رب العالمیں)

معبود بس تو ہی مرا، ( اللہ رب العالمیں)

*

تو ہی مرا حاجت روا، ( اللہ رب العالمیں)

دکھلا دے سیدھا راستہ، ( اللہ رب العالمیں)

*

جو راہ ان لوگوں کی ہے جن کو تری نعمت ملی

ان کی نہیں ہرگز جنھیں گمراہی و ذلت ملی

***


حمد

حضرت ادیب مالیگانوی مرحوم

(۱)

میں کون ہوں ستم کش نیرنگ روزگار

میں کون ہوں خفائے زمانہ کا اک شکار

*

ناکامیِ حیات سے دل داغ داغ ہے

سینہ بنا ہے خونِ تمنائے لالہ زار

*

ہر شے سے ہے عیاں مری افسردگی کا رنگ

گویا ہے کائنات مرے غم میں سوگوار

*

میں نے خزاں کی گود میں پائی ہے پرورش

شایاں مرے چمن کے نہیں عشرت بہار

*

اک عالم سکوت ہے دنیائے آرزو

ٹوٹا ہوا ہے زمزمۂ زندگی کا تار

*

مایوسیوں سے دل کا کنول ہے بجھا ہوا

ہے زندگی کو مجھ سے، مجھے زندگی سے عار

*

محرومیِ سکون و مسرت کہاں تلک

یہ بزم رنگ و بو ہے مرے حق میں خارزار

*


اے رب ذوالجلال خداوند کردگار

سن ! اک غریب و بیکس و مجبور کی پکار

*

تو وہ کہ اک اشارۂ چشم کرم ترا

جاری کرے پہاڑ کے سینے سے جوئبار

*

تو وہ کہ تیری بارش الطاف و رحم سے

ہو سرزمین دشت و بیاباں بھی لالہ زار

*

تیری رضا اگر ہو چمن بند کائنات

پیدا خزاں کے ساز سے ہو نغمہ بہار

*

باہر ہے میرے ظرف سے اب امتحان ترا

اے ذوالکرام! جوش کرم ہے کہاں ترا

*

وہ رحمتِ تمام کہ ہے تیری شان خاص

یا رب ادیبؔ کو بھی اسی کا ہے انتظار

***


(۲)

یہ عرش اے مولا ترے جلووں سے سجا ہے

ان چاند ستاروں میں ترا نور بھرا ہے

*

پھولوں کی قباؤں پہ ہے تیری ہی نگارش

تتلی کے پروں کو ترے ہاتھوں نے رچا ہے

*

گلشن کی کیاری تیری خوشبو سے بھری ہے

غنچوں کی بناوٹ میں ترا نقش چھپا ہے

*

انگڑائیاں لیتی ہیں فقط تیری بدولت

جو سوئے فلک چھائی ہوئی کالی گھٹا ہے

*

جو چاہے کھلی آنکھ سے پڑھ لے اسے مولا

افلاک کی تختی پہ ترا نام لکھا ہے

***


(۳)

آسماں تیرا ہے یہ شمس و قمر تیرے ہیں

یہ افق نور شفق، شام و سحر تیرے ہیں

*

آتے جاتے ہوے یہ شادی و غم کے موسم

ان کے معمول میں جو بھی ہیں اثر تیرے ہیں

*

سائباں بن کے کھڑی ہے تیری رحمت ہر سو

مجھ پہ جو سایہ فگن ہیں وہ شجر تیرے ہیں

*

تو نے ہی بخشی ہے یہ فطرت حساس مجھے

ہیں جو اس دل کے صدف میں وہ گہر تیرے ہیں

*

تیرے بخشے ہوئے جلوے ہیں خدایا مجھ میں

میرے اندر جو نمایاں ہیں ہنر تیرے ہیں

*

ہے جو ہستی میں میری روح امانت ہے تری

دل کے اندر سبھی آباد نگر تیرے ہیں

***


حمد

الحاج حکیم رازیؔ ادیبی (پونہ)

ازل سے ہے تو ہی تجھی کو بقا ہے

تو مالک ہے سب کا تو سب کا خدا ہے

*

ہو تعریف جتنی بھی تیری بجا ہے

تو ہی اک سزا وار حمد و ثنا ہے

*

ترے آستاں پر مرا سر جھکا ہے

مری ابتدا تو مری انتہا ہے

*

زمانے میں ہر شے کی تکمیل تجھ سے

تو رہ رو ہے رستہ ہے منزل نما ہے

*

کرم سے تو اس کا بھی کشکول بھر دے

الٰہی ترے در کا رازیؔ گدا ہے

***


حمد

ڈاکٹر قمر رئیس بہرائچی (بہرائچ)

کرم وہ کر دے خدایا تری ثنا لکھوں

میں اپنے آپ کو بندہ تجھے خدا لکھوں

*

میں آرزو کوئی لکھوں یا مدعا لکھوں

نوازشوں کا تری پہلے شکریہ لکھوں

*

نہ تجھ سے پہلے کوئی اور نہ تیرے بعد کوئی

بلند سب سے ترا کیوں نہ مرتبہ لکھوں

*

صفات و ذات میں تیرا کوئی نہیں ثانی

سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ تجھ کو کیا لکھوں

*

یہ لوح و عرش یہ کرسی یہ آسماں یہ زمیں

تمام عمر میں صناعی خدا لکھوں

*

ہر ایک چیز کا رشتہ تو تیری ذات سے ہے

میں کس کو ذات سے تیری بھلا جدا لکھوں

*

بلا کے عرش پہ آقا کو دیکھنے والے

میں اس ادا کو تری کون سی ادا لکھوں

*


خلیل و نوح کو بھی تو نے آسرا ہے دیا

غلط نہ ہو گا اگر تجھ کو آسرا لکھوں

*

تجھے تو خالق ہر دو جہاں بھی کہتے ہیں

تجھے میں ذات کا اپنی نہ کیوں پتا لکھوں

***


حمد

قیصر شمیم (کولکتہ)

صبح تیری عطا، شام تیری عطا

کام کے بعد آرام، تیری عطا

*

قصۂ غم کا آغاز تیرا کرم

نیک پھر اس کا انجام، تیری عطا

*

ایک شب کا سماں، راہ کی تیرگی

روشنی پھر بہر گام تیری عطا

*

حوصلوں کی بلندی پہ تیری نظر

آزمائش کے ایام، تیری عطا

*

لا مکاں تو ہے، لیکن مکاں کے لیے

در نوازش تری، بام، تیری عطا

*

ذکر جس کا ترے نام کے بعد ہے

میرے ہونٹوں کو وہ نام، تیری عطا

*

آنسوؤں کی زباں میں حکایات دل

چشم تر کو یہ انعام، تیری عطا

*

کاسۂ فن میں قیصرؔ کے اے ذوالکرم!

دولت عز و ا کرام تیری عطا

***


حمد

قیصر شمیم (کولکتہ)

میں اندھیرے میں ہوں، روشنی دے خدا

آگہی دے خدا، آگہی دے خدا

*

تیرے بندے کا دل بجھ نہ جائے کہیں

غم دیئے ہیں بہت، کچھ خوشی دے خدا

*

یا خدا، یا خدا کی صدا لب پہ ہو

وجد کرتی ہوئی زندگی دے خدا

*

میں طلب گار دریا کا تجھ سے نہیں

کب سے پیاسا ہوں، اک بوند ہی دے خدا

*

درپہ تیرے رہوں آخری سانس تک

اس طرح کی مجھے بندگی دے خدا

*

ایک دنیا خودی میں گرفتار ہے

بے خودی دے خدا، بے خودی دے خدا

*

ساز قیصرؔ کو تو نے دیا ہے تو پھر

اس کی آواز کو سوز بھی دے خدا

***


حمد

ڈاکٹر زبیر قمر دیگلوری (دیگلور)

تو ہی سب کا خدا اے خدا

نا کوئی دوسرا ائے خدا

*

تو ہی معبود مولا تو ہی

ہے نہ کوئی الہٰ ائے خدا

*

چاند تارے فلک یہ زمیں

سب میں جلوہ ترا ائے خدا

*

اب تری قوم کا رکھ بھرم

راہ حق پر چلا ائے خدا

*

فرش سے عرش تک تو ہی تو

تو ہی سب کا خدا ائے خدا

*

حمد لکھتا رہوں میں سدا

ائے خدا ائے خدا ائے خدا

*

روز محشر قمرؔ پر ذرا

کر کرم ائے خدا ائے خدا

***


محمد ہارون سیٹھ سلیم (بنگلور)

کشتی میری ڈوب رہی ہے بیچ بھنور میں اے مولا

میرا معاون کوئی نہیں ہے بحر و بدر میں اے مولا

*

وسط سمندر میرے مالک، میں ہی ایک اکیلا ہوں

میرا ساتھی کوئی نہیں ہے آج سفر میں اے مولا

*

نہ میں زاہد نہ میں عابد، میں تو بس اک عارف ہوں

مجھ کو یقیں ہے، سب ہیں برابر تیری نظر میں اے مولا

*

سوکھے ہوئے بھرپور شجر تھے جتنے بھی تھے باغوں میں

برگ و ثمر کو دیکھا میں نے، ایک شجر میں اے مولا

*

کہتے ہیں کہ نام خدا کا ثبت ہے ذرے ذرے پر

ڈھونڈ رہا تھا نام ترا میں لعل و گہر میں اے مولا

*

پھیلا ہے جو نور منور سارے جہاں میں شام و سحر

اس کا مطلب تو ہی تو ہے، شمس و قمر میں اے مولا

*

گزریں گے جب خضر یہاں سے حال سناؤں گا اپنا

پلکیں بچھائے کب سے کھڑا ہوں، راہ خضر میں اے مولا

*


شہر میں سارے شور شرابا ہو گا یہ امید نہ تھی

مہر و وفا کا نام نہیں ہے، سارے نگر میں اے مولا

*

گھاؤ مرے بھرنے کے لیے دنیا میں کوئی جراح نہیں

بڑھنے لگا ہے درد مسلسل زخم جگر میں اے مولا

*

نوع انساں ہو گئی قابض دیکھو چاند ستاروں پر

آئی کہاں سے اتنی فراست آج بشر میں اے مولا

*

رکھوالی تو کرنا اس کی بندہ سیدھا سادہ ہے

سلیمؔ کے جانی دشمن ہوں گے ڈگر ڈگر میں اے مولا

***


ڈاکٹر فیض اشرف فیض (اکبرآبادی)

یا رب پیا ہے میں نے وحدت کا جام تیرا

دل میں ہے یاد تیری، لب پر ہے نام تیرا

*

ہو گی حیات روشن، تحقیق ذات حق سے

قرآن میں لکھا ہے ہر اک کلام تیرا

*

عقل و شعور انساں، حیرت میں ہے خدایا

وہم و گمان سے ہے بالا مقام تیرا

*

وہ دیکھتے ہیں تیری ہر ایک شے میں قدرت

اہل نظر کی خاطر جلوہ ہے عام تیرا

*

تیرے ہی حسن ظن کا ہر ذرہ آئینہ ہے

ہم لوگ دیکھتے ہیں حسن تمام تیرا

*

اس شخص کے لئے تو جنت بھی منتظر ہے

یا رب ہے جس کے دل میں عشق دوام تیرا

*

پی کر وہی مئے حق پائے گا فیض ہر دم

جس کو نصیب ہو گا، پر کیف جام تیرا

*


ہو گا دماغ روشن جس کے مطالعہ سے

قرآن میں لکھا ہے ایسا کلام تیرا

*

تیرے ہی حسن کا ہے ہر ایک حسن پر تو

سب لوگ دیکھتے ہیں حسن تمام تیرا

*

وہ دیکھتا ہے ہر اک شے میں تراہی جلوہ

اہل نظر کی خاطر جلوہ ہے عام تیرا

*

پی کر وہی مئے وحدت کامیاب ہو گا

جس کو نصیب ہو گا پر کیف جام تیرا

*

پروردگار تیرا عاشق ہے یہ سخنور

جاوید فیضؔ کے ہونٹوں پر ہے نام تیرا

***


یونس انیس (ناگپور)

لازم ہے کہ ہر حمد کا عنوان خدا ہے

جب شان کی بات آئے تو ذیشان خدا ہے

*

غفار ہے، ستار ہے، سبحان خدا ہے

جبار ہے، قہار ہے، لافان خدا ہے

*

توحید خدا کی صفت اول و آخر

مقصود ہو معبود تو ہر آن خدا ہے

*

مسجود ملائک ہے وہ مسجود جن و انس

سجدہ اسے زیبا ہے وہ ذی شان خدا ہے

*

یہ گردش ایام، یہ نیرنگیِ افلاک

لاریب یہ سب کچھ ترا فرمان خدا ہے

*

ہر چیز کا خالق ہے وہ ہر چیز کا مالک

سب جھوٹ یہ انسان، وہ انسان خدا ہے

*

عقبیٰ کا کوئی خوف نہ دنیا کا کوئی ڈر

واللہ انیسؔ اپنا نگہبان خدا ہے

***


ظفر کلیم (ناگپور)

وہ مرا رب مرا خدا سب کچھ

میں تو اس کا ہوں وہ مرا سب کچھ

*

ہے سبھی کچھ اسی کے قبضے میں

آگ، مٹی، ہوا، گھٹا سب کچھ

*

لفظ کن سے یہ کائنات بنی

کن کہا اس نے ہو گیا سب کچھ

*

کام سارے ہماری مرضی کے

ہے اسی کی مگر رضا سب کچھ

*

میں کسی اور سے نہ کچھ مانگوں

مجھ کو اس نے کیا عطا سب کچھ

*

چھین لیں جب بلندیاں اس نے

یاد آیا کہ ہے خدا سب کچھ

*

جان لیجے نہیں کوئی کچھ بھی

مان لیجے ظفرؔ خدا سب کچھ

***


کرشن کمار طور (پنجاب)

ہے تپتی دھوپ میں سایا بس ایک اس کا نام

تلافیِ غم دنیا بس ایک اس کا نام

*

شکست و ریخت کے ان تپتے ریگزاروں میں

نسیم تازہ کا جھونکا بس ایک اس کا نام

*

مری رگوں میں ہے جاری اسی کی گرمیِ خوں

مرے لبوں سے شناسا بس ایک اس کا نام

*

سطر سطر سے عیاں اس کے ہر سخن کا لمس

کہ لفظ لفظ تراشا بس ایک اس کا نام

*

ہر ایک سانس معطر ہے اس کے ذکر سے طورؔ

بدن میں خوشبو سا پھیلا بس ایک اس کا نام

***


ڈاکٹر شرف الدین ساحلؔ

( ۱)

کچھ پتھروں کو قیمتی پتھر بنا دیا

قطرے کو تو نے سیپ میں گوہر بنا دیا

*

دستِ دعا کو دیکھ کے جب مہرباں ہوا

بے انتہا غریب کو افسر بنا دیا

*

اس طرح سے بچا لیا اپنے خلیلؑ کو

نارِ غضب کو پھول کا بستر بنا دیا

*

جس کو بھی چاہا اس کو دیا عزت و شرف

اور جس کو چاہا اپنا پیمبر بنا دیا

*

خنجر کو شاخِ گل کی کبھی دی نزاکتیں

اور شاخِ گل کو وقت پہ خنجر بنا دیا

*

لذت نشاط کی ملی ہر حال میں اسے

ساحلؔ کا تو نے ایسا مقدر بنا دیا

***


(۲)

گردشِ شام اور سحر میں تو

ہر پرندے کے بال و پر میں تو

*

مور کے پنکھ میں تری قدرت

برق، سیلاب اور بھنور میں تو

*

ان کی تابندگی ہے امر ترا

لعل و یاقوت میں گہر میں تو

*

کوئی انکار کر نہیں سکتا

مٹی، پانی، ہوا، شرر میں تو

*

سارا عالم ہے تیرے قبضے میں

ملک، صوبہ، نگر نگر میں تو

*

دل میں ساحلؔ کے تو ہی رہتا ہے

اس کی مغموم چشمِ تر میں تو

* * * *


(۳)

خدا قلاّش کو بھی شان و شوکت بخش دیتا ہے

وہی ذراتِ بے مایہ کو عظمت بخش دیتا ہے

*

وہ شہرت یافتہ کو پل میں کر دیتا ہے رسوا بھی

ذلیل و خوار کو چاہے تو عزت بخش دیتا ہے

*

کبھی دانشوروں پر تنگ کر دیتا ہے وہ روزی

کبھی جاہل کو بھی انعامِ دولت بخش دیتا ہے

*

وہ لے کر تاجِ شاہی کو کسی سرکش شہنشاہ سے

کسی کمزور کو دے کر حکومت بخش دیتا ہے

*

وہی بے چین رکھتا ہے امیرِ شہر کو شب بھر

یقیں کی سیج پر مفلس کو راحت بخش دیتا ہے

*

سمجھ لیتا ہے ساحلؔ جو بھی اس رازِ مشیت کو

وہ اس انسان کو نورِ حقیقت بخش دیتا ہے

*

ایک قطرے کو صدف میں زندگی دیتا ہے کون

بن گیا موتی اسے تابندگی دیتا ہے کون

*


آ گیا موسم خزاں کا موت سب کو آ گئی

مردہ پودوں کو دوبارہ زندگی دیتا ہے کون

*

یہ ہیں سب بے جان ان میں جان کیسے آ گئی

تال، سر، لفظ و صدا کو دلکشی دیتا ہے کون

*

کھو گیا اس کی نوا میں تو مگر یہ بھی تو دیکھ

نالۂ بلبل میں درد و نغمگی دیتا ہے کون

*

ان کی تابانی سے نظروں کو ہٹا کر یہ بھی سوچ

انجم و شمس و قمر کو روشنی دیتا ہے کون

*

اپنے شعروں پر ہے ساحلؔ کیوں تجھے اتنا غرور

سوچ کہ شاعر کو ذوقِ شاعر ی دیتا ہے کون

***


مدہوش بلگرامی (ہردوئی)

وہی میکدہ وہی بادہ کش وہی مئے ہے اور وہی جام ہے

وہی معرفت کا حصار ہے وہی زندگی کا نظام ہے

*

نہ یہاں خرد کے ہے دسترس نہ یہاں جنون کا کام ہے

یہ نیاز و ناز کی انجمن ہے یہ بندگی کا مقام ہے

*

کبھی دھوپ ہے کبھی چھاؤں ہے کبھی صبح ہے کبھی شام ہے

ہیں خدا کی تابع حکم سب یہ اسی کا حسن نظام ہے

*

مرے ذکر میں مری فکر میں مرے صبح و شام کے ورد میں

مجھے ناز ہے کہ ترے حبیب کا اور تیرا ہی نام ہے

*

مری زندگی کا یہ میکدہ ہے کرم سے جن کے سجا ہوا

یہ جو میرے ہاتھ میں جام ہے یہ انہیں کا فیض دوام ہے

*

نہ سرور و کیف کی چاہ ہے نہ نشاط و عیش کی ہے طلب

مرے دل کا ہے وہی مدعا جو رضائے رب انام ہے

*

تو ہی ابتدا تو ہی انتہا ہے عیاں بھی تو ہے نہاں بھی تو

جو فراز عرش سے فرش تک ہے تو ہی وہ جلوۂ عام ہے

*


مجھے رہزنوں کا خطر نہیں مجھے گمرہی کا بھی ڈر نہیں

مرا رہبر شہ دوجہاں مرے لب پہ رب کا کلام ہے

*

نہیں جان میکدہ روبرو تو کہاں وہ لطف مئے و سبو

یہ الگ ہے بات کہ سامنے وہی مئے ہے اور وہی جام ہے

*

کہیں درد و غم کے ہیں مرحلے تو کہیں خوشی بھرے زمزمے

یہ ہیں صبر و شکر کی منزلیں یہی میرے رب کا نظام ہے

***


سیدطاہرحسین طاہر (ناندیٹر)

میں فنا ہوں، بقا بس تری ذات ہے

لا شریک اے خدا بس تری ذات ہے

*

تو ہی معبود ہے تو ہی مسجود ہے

مرحبا مرحبا بس تری ذات ہے

*

روز اول بھی تو روز آخر بھی تو

ابتدا انتہا بس تری ذات ہے

*

تجھ کو سجدہ روا تو ہی مختار کل

سب سے برتر خدا بس تری ذات ہے

*

تیری قدرت کا قرآن شاہد ہے خود

وقف حمد و ثنا بس تری ذات ہے

*

ساری مخلوق کا تو ہے حاجت روا

وصف جود و سخا بس تری ذات ہے

*

بالقیں تو نے پیدا کیے دو جہاں

لفظ کن کا صلہ بس تری ذات ہے

*


تیرے رحم و کرم کا میں محتاج ہوں

اور عطا ہی عطا بس تری ذات ہے

*

جز تیرے میں کسی سے طلب کیوں کروں

حاصل مدعا بس تری ذات ہے

*

سب کا مالک ہے تو سب کی سنتا ہے تو

مستجاب الدعا بس تری ذات ہے

*

تیرا طاہرؔ سراپا گنہگار ہے

پرسش غمزدہ بس تری ذات ہے

***


رہبر جونپوری(بھوپال)

خالق ارض و سما، اے مالک و پروردگار

ذرے ذرے سے ہے تیری شان و عظمت آشکار

*

مہرو مہ میں ہیں ترے ہی نور کی تابانیاں

تیری ہی قدرت میں ہیں آبادیاں ویرانیاں

*

کیا چمن کیا کوہ و صحرا کیا ندی کیا آبشار

قادر مطلق ہے تو سب پر ہے تجھ کو اختیار

*

ہیں تیرے محتاج سب یہ آب و گل ریگ و حجر

تو ہی دیتا ہے درختوں کو گل و برگ و ثمر

*

بحر کو سرشار کر دینا ترا ہی کام ہے

آگ کو گلزار کر دینا ترا ہی کام ہے

*

آسماں سے کھیتوں پر مینہ برساتا ہے تو

ہر کس و ناکس کو اس کا رزق پہنچاتا ہے

*

تو ہی دریاؤں کو دیتا ہے روانی کا مزاج

بطن گیتی سے اگاتا ہے جواہر اور اناج

*


تو نے ہی بخشا ہے خضر راہ کو جام حیات

نوح کو طوفان محشر خیز سے دی ہے نجات

*

تو نے ہی یوسف کو بخشی چاہ ظلمت سے اماں

پائے اسماعیل سے تو نے کیا زم زم رواں

*

تو نے ہی کی ہے عطا یہ عقل و بینائی مجھے

تو نے ہی بخشی ہے یا رب تاب گویائی مجھے

*

تیرے ذکر و ورد کے لائق کہاں میری زباں

رہبرؔ عاصی کہاں حمد و ثنا تیری کہاں

***


محفوظ اثر (ناگپور)

عکس میں ہوں مرا نِشاں تو ہے

یعنی آئینۂ جہاں تو ہے

*

تیری حکمت وجودِ عالم کُل

اپنی حکمت کا راز داں تو ہے

*

ماورا ذات تیری پیکر سے

نور ہی نور کا سماں تو ہے

*

فرش تا عرش مملکت تیری

دونوں عالم کا حکمراں تو ہے

*

تیرے کُن سے نظامِ عالمِ کُل

عالمِ سرِّ کُن فکاں تو ہے

*

حمدِ پروردگار اور اثرؔ

اُس کی کاوش میں بھی نہاں تو ہے

***


عرش صہبائی (جموں )

(۱)

عظمتوں کا نشاں ہے تیرا نام

اک حسیں داستاں ہے تیرا نام

*

مجھ کو تجھ سے شکایتیں کیا کیا

پھر بھی ورد زباں ہے تیرا نام

*

دل میں یہ جذبے ہی سہی لیکن

روح میں بھی رواں ہے تیرا نام

*

میری را ہوں میں روشنی اس سے

سر بہ سر کہکشاں ہے تیرا نام

*

زندگی حادثوں کی دھوپ کڑی

دھوپ میں سائباں ہے تیرا نام

*

کتنی وسعت ہے اس کے معنوں میں

کس قدر بیکراں ہے تیرا نام

*

دل نشیں داستاں ہے یہ دنیا

حاصل داستاں ہے تیرا نام

*


تیری عظمت سے انحراف جنہیں

ان پہ بھی مہرباں ہے تیرا نام

*

ہر زباں پر ہیں تذکرے تیرے

ہر زباں پر رواں ہے تیرا نام

*

صرف اس کو ثبات حاصل ہے

دہر میں جاوداں ہے تیرا نام

*

زندگی بخش اس کو شیرینی

یعنی اردو زباں ہے تیرا نام

*

عرشؔ سے کوئی صرف یہ پوچھے

شاعر ی میں کہاں ہے تیرا نام

***


(۲)

دل بھی ہے وہی دل کی تمنا بھی وہی ہے

دنیا بھی وہی حاصل دنیا بھی وہی ہے

*

شکلیں ہیں الگ اس کی نہیں اور کوئی فرق

دریا بھی وہی وسعت صحرا بھی وہی ہے

*

ہر کوئی مصیبت میں پریشان ہے ناحق

غم بھی ہے وہی غم کا مداوا بھی وہی ہے

*

یہ جام و سبو اپنی جگہ خوب ہیں لیکن

صہبا بھی وہی مستی صہبا بھی وہی ہے

*

جو کچھ بھی ہے دنیا میں کرم ہے یہ اسی کا

جلوہ بھی وہی حسن سراپا بھی وہی ہے

*

یہ دیکھنا لازم ہے کہ ہم کس کے ہیں قابل

اک آس بھی ہے یاس کی دنیا بھی وہی ہے

*

انسان تو بے سود ہی اتراتا ہے خود پر

ادنیٰ بھی وہی ہے یہاں اعلیٰ بھی وہی ہے

*


ہم درد کے ماروں کی شکایت بھی اسی سے

ہم درد کے ماروں کا مسیحا بھی وہی ہے

*

جو لطف و کرم اس کے ہیں محدود نہیں عرشؔ

راحت کی ندی فیض کا دریا بھی وہی ہے

***


اللہ ھو

افضل علی حیدری (ناگپور)

کہکشاں چاند سورج ستاروں میں تو

سبز پتوں میں پھولوں میں خاروں میں تو

کوہ میں دشت میں آبشاروں میں تو

باغِ ہستی کے رنگیں نظاروں میں تو

*

تیرے جلوے ہیں بکھرے ہوئے چار سو

اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو

***

تیرا ہی ذکر ہے انجمن انجمن

تیرا کلمہ تیری بات تیرا سخن

نور ہی نور تیرا چمن در چمن

موگرا یا سمن نرگس و نسترن

*

کہہ رہے ہیں یہ شبنم سے کر کے وضو

اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو

***

کتنی اونچائی پر تیرا دربار ہے

خوب سے خوب تر تیری سرکار ہے

کوئی کیا جانے کیا تیرا اسرار ہے

سارے عالم کا تو ہی تو مختار ہے

*


گونجتی ہے تیری ہی صدا چار سو

اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو

***

اہل دیر و حرم دیکھتے رہ گئے

پتھروں کے صنم دیکھتے رہ گئے

تیرا جاہ و حشم دیکھتے رہ گئے

تیری شانِ کرم دیکھتے رہ گئے

*

تو نے سب کا بھرا دامن آرزو

اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو

***

تیرا بندہ ہوں تیرا گنہگار ہوں

زخم سے چور ہوں غم سے لاچار ہوں

گردشوں میں جہاں کی گرفتار ہوں

تیری نظر کرم کا طلب گار ہوں

*

حشر میں رکھنا افضلؔ کی تو آبرو

اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو

***


حبیب راحت حباب (کھنڈوہ)

(۱)

پروردگار عالم اعلیٰ مقام تیرا

تو رب ہے دو جہاں کا سارا نظام تیرا

*

ہر شے پہ تو ہی قادر ہر جا ہے تو ہی حاضر

ہر دل میں یاد تیری ہر لب پہ نام تیرا

*

پھل پھول کیا شجر کیا، حیوان کیا بشر کیا؟

ذروں سے آسماں تک ہے فیض عام تیرا

*

یہ چاند یہ ستارے، ندیاں پہاڑسارے

ہر شے میں تو ہی تو ہے جلوہ ہے عام تیرا

*

اک کن سے تیری داتا کل کائنات بدلے

کیا کوئی وصف لکھے مجھ سا غلام تیرا

*

بندے کو تو نے اپنے کچھ اس طرح نوازا

آیا ہے فرش پر بھی اکثر سلام تیرا

*

لب پر ہی دعا ہے یا رب طفیل احمد

لکھے حباب جو کچھ ہو سب کلام تیرا

***


(۲)

آزمائش میں مجھے کا ہے کو ڈالا ربی

میں کہاں ایسا تیرا نیکیوں والا ربی

*

مار جائے نہ میری آس کو پالا ربی

میری اوقات ہی کیا خاک سفالہ ربی

*

سارا عالم ہے تیرے نور کی لو سے جھلمل

سارے عالم میں تیرے دم سے اجالا ربی

*

میری تخیل میں رکھ شمع ہدایت روشن

فکر کی آنکھ میں پڑ جائے نہ جالا ربی

*

خون دل سے ہو چراغاں سر مژگاں ایسا

اشک بن جائیں میرے لولوئے لالہ ربی

*

تیری رحمت کا طلب گار ہے راحتؔ کب سے

تیرے محبوب کا دے دے کے حوالہ ربی

***


اختر بیکانیری

زباں تیری فلک تیرا ہر اک کو جستجو تیری

مکین ولا مکاں تیرا گلوں میں رنگ و بو تیری

*

عیاں ہے ذرے ذرے سے تیری شان کریمانہ

غرض تا حد امکاں تک ہے مدحت چار سو تیری

*

نہیں موقوف رسم بندگی دنیا میں انساں پر

چرندوں اور پرندوں کی زباں پر گفتگو تیری

*

جگا دیتی ہے بانگ مرغ شب میں سونے والوں کو

ادا کرتے ہیں برگ و گل عبادت با وضو تیری

*

دہلا دیتی ہے منھ غنچوں کا شبنم صبح دم آ کر

رواں صحن چمن ہوتی ہے صدائے حق و ہو تیری

*

ہر اک دل میں نہاں ہے اور ہے نظروں میں پوشیدہ

پھرا دونوں جہاں میں لے کے اخترؔ آرزو تیری

***


رحمتِ الٰہی

ڈاکٹر شرف الدین ساحلؔ

صبحِ صادق کا چہرۂ خنداں

شامِ رنگیں کا جلوۂ محجوب

فرش کی طرح سے بچھی یہ زمیں

احمریں مہر یہ چمکتا ہوا

جگمگاتا یہ ماہتابِ حسیں

مسکراتے یہ انجمِ تاباں

بادِ صرصر کی شوخیِ پیہم

بحر، دریا، ندی کا آبِ رواں

کوہساروں کے سلسلوں کا سماں

سب میں رحمت ہے جلوہ گر تیری

***


نغمۂ سرمدی پرندوں کے

پی پپیہے کی، کوک کوئل کی

جاں نوازیِ نالۂ بلبل

رقصِ طاؤس کا حسیں انداز

صحنِ گلشن کی ساری رعنائی

عطر بیزیِ خوشبوئے گلزار

رنگ در رنگ منظرِ دلکش

گل کا رُخ چومتی نسیمِ سحر

کفِ گل پر جمی ہوئی شبنم

تیرے ذوقِ جمال کے شاہد

سب میں رحمت ہے جلوہ گر تیری

***


ریشم و اون، اطلس و کمخواب

عنبر و مشک و عطر اور کافور

ننھی منی سی نحل کی تخلیق

چار پایوں کا نفع بخش وجود

باغ میوے کے، کھیت غلے کے

بحرِ پُر جوش کے تلاطم میں

موج کو چیرتے ہوئے یہ جہاز

ریت و ماہی و لولو و مرجاں

نعمتوں کا تری شمار کہاں

سب میں رحمت ہے جلوہ گر تیری

***


مرسلات و مقسمات کا زور

حاملات اور زاریات کا زور

عاصفات اور ناشرات کا زور

جاریات اور فارقات کا زور

دوش پر ان کے اُڑتے ابرِ کرم

ارض کی تشنگی بجھاتے ہیں

مردہ سبزوں کو لہلہلاتے ہیں

بیج کو قوتِ نمو دے کر

پیڑ، پودے، شجر اگاتے ہیں

سب میں رحمت ہے جلوہ گر تیری

***


زلزلہ، رعد، برق، قحط، وبا

موج، سیلاب اور طغیانی

کوہساروں میں آتش افشانی

برف باریِ موسمِ سرما

گرم موسم میں چلتی باد سموم

یورشِ آب و باد بارش میں

ہیں بظاہر ترے جلال مگر

سب میں رحمت ہے جلوہ گر تیری

***


شبیر آصف (مالیگاؤں )

محبتوں کا صلہ بے مثال رکھتا ہے

وہ میرا مجھ سے زیادہ خیال رکھتا ہے

*

گو میرے حیطۂ ادراک میں نہیں آتا

مگر وہ دل سے تعلق بحال رکھتا ہے

*

میں سرد و گرم زمانے کے جھیل لیتا ہوں

وہ موسموں کو میرے حسب حال رکھتا ہے

*

نظام عالم امکاں سے آگہی کے لیے

وہ طرح نو میں بنائے زوال رکھتا ہے

*

شکست حربۂ بوجہل و بولہب کے لیے

وہ شہر سنگ میں آئینہ ڈھال رکھتا ہے

*

شعور حرف سخن سے نواز کر مجھ کو

وہ میرا طرز تکلم بحال رکھتا ہے

***


صالحؔ بن تابش (مالیگاؤں )

مہکی مہکی ہوئی رہ گزر کس کی ہے

ایک خوشبو مری ہم سفر کس کی ہے

*

یہ جو لمحہ بہ لمحہ مرے ساتھ ہے

ہر نظر سے پرے وہ نظر کس کی ہے

*

مری ہستی تو تھی ایک سادہ ورق

اس پہ تحریر معجز اثر کس کی ہے

*

کون منظر یہ منظر ہے چھایا ہوا

اک کشش ہر طرف منتشر کس کی ہے

*

ننگی شاخوں نے کیں زیب تن خلعتیں

یہ عنایت شجر در شجر کس کی ہے

*

پل میں صالحؔ کو جو آئینہ کر گئی

غیرت شیشہ گر وہ نظر کس کی ہے

***


سلیم شہزاد (مالیگاؤں )

دشت بے سمت میں یہ راہ گزر کس نے دیا

پر شکستہ ہوں مجھے اذن سفر کس نے دیا

*

کس نے پتھر کی سیاہی پہ سجایا سبزہ

گونگے لفظوں کی دعاؤں کو اثر کس نے دیا

*

کس نے چسپاں کئے بے رنگ فضا پر منظر

ریت کو آب تو بنجر کو شجر کس نے دیا

*

کس نے مایوس فضاؤں میں دیا حرف امید

خواب شب دے کے مجھے خواب سحر کس نے دیا

*

کس نے آفات و بلا میرے مقابل لائے

اور مجھے حوصلۂ خوف و خطر کس نے دیا

*

کس نے پہچان عطا کی مجھے این و آں کی

زشت و ناخوب میں یہ حسن نظر کس نے دیا

*

کس نے دی شعلہ نوائی مرے ہونٹوں کو سلیمؔ

شہر آہن میں مجھے دست ہنر کس نے دیا

****


ڈاکٹر معین الدین شاہین (بیکانیر)

اک یہ ہی التجا ہے میری، میرے خدا سے

کر دے تو سرفراز مجھے اپنی عطا سے

*

آدم کا میں بیٹا ہوں خطا کرنے کا عادی

ناراض نہ ہو جانا کہیں میری خطا سے

*

اللہ تو کریم ہے، پروردگار ہے

محروم کیوں رہوں میں بھلا تیری عطا سے

*

اللہ کا نام کافی و شافی ہے بالیقیں

’’اے درد سروکار نہ رکھ کوئی دوا سے ‘‘

*

ہر وقت میرے ورد زباں ’’یا کریم‘‘ ہے

محفوظ اس لیے میں رہا رنج و بلا سے

*

تیری رضا کو اپنی سمجھتا ہوں میں رضا

تب ہی تو فیضیاب ہوں میں تیری دیا سے

*

راتوں کو جاگ جاگ کے کرتا ہوں میں دعا

ملتا ہے دل کو چین تری حمد و ثنا سے

*


رکھ لینا لاج حشر میں بندے کی اے رحیم

عاصی ہوں خوف کھاتا ہوں میں روز جزا سے

*

شاہیں ؔ رہے خیال یہ اللہ کی حمد ہے

لفظوں کو پہلے تولنا تو حمد و ثنا سے

***


بیتاب کیفی (بھوجپور)

تو ہے خلاق دو جہاں یا رب

تیری رحمت ہے بے کراں یا رب

*

ذرہ ذرہ فنا بداماں ہے

ایک تو ہی ہے جاوداں یا رب

*

پھول خوشبو بہار رعنائی

تیری عظمت کے ہیں نشاں یا رب

*

سب ہیں سیم و رجا میں سرگرداں

مرغ و ماہی و انس و جاں یا رب

*

حسن تیرا تمام بکھرا ہے

یہ زمیں ہو کہ آسماں یا رب

*

بخشش و مغفرت کے ساماں سے

عقل حیراں ہے چپ زباں یا رب

*

ساری دنیا میں فیض جاری ہے

بحر الطاف ہے رواں یا رب

*


آج تک اس جہان فانی میں

راز سمجھا کوئی کہاں یا رب

*

سن بیتابؔ دل کی آوازیں

ہو عطا ندرت بیاں یا رب

***


ڈاکٹر مقبول احمد مقبول (اودگیر)

ہے صبح و شام تجھ سے مری ایک ہی دعا

میرے لبوں پہ نام ہو تیرا ہی ائے خدا

*

کس کس کا شکر ادا کروں اے رب العالمین

تیری عنایتوں کی نہ حد ہے نہ انتہا

*

ہر شئے گواہی دیتی ہے تیرے وجود کی

ہر چیز سے عیاں تیری قدرت ہے ائے خدا

*

محدود میری فکر و نظر، تو محیط کل

حمد و ثنا کا حق ہو بھلا کس طرح ادا

*

میری بساط کیا ہے، یہ تیرا ہی ہے کرم

دنیائے شاعر ی میں جو مقبولؔ ہو گیا

***


حمد باری تعالیٰ

فرید تنویر (ناگپور)

ہر طرف جلوہ عام ہے تیرا

سب سے اعلیٰ مقام ہے تیرا

*

یہ زمیں، آسماں تری مخلوق

گلستاں، کہکشاں تری مخلوق

ذرہ ذرہ غلام ہے تیرا

ہر طرف جلوہ عام ہے تیرا

سب سے اعلیٰ مقام ہے تیرا

*

فرش رنگیں و عرش عالیشاں

تو نے پیدا کئے ہزاروں جہاں

کتنا دلکش نظام ہے تیرا

ہر طرف جلوہ عام ہے تیرا

سب سے اعلیٰ مقام ہے تیرا

*


علم و حکمت کے بے بہا گوہر

عقل و دانش کے قیمتی جوہر

دینا دنیا کو کام ہے تیرا

ہر طرف جلوہ عام ہے تیرا

سب سے اعلیٰ مقام ہے تیرا

*

یہ شجر، یہ حجر یہ گل بوٹے

ماہ و خورشید نور کے چشمے

تیری صنعت ہے کام ہے تیرا

ہر طرف جلوہ عام ہے تیرا

سب سے اعلیٰ مقام ہے تیرا

*

پاک توریت، با صفا انجیل

نور قرآں، زبور کی قندیل

ذکر تیرا کلام ہے تیرا

ہر طرف جلوہ عام ہے تیرا

سب سے اعلیٰ مقام ہے تیرا

*

علم تنویرؔ کو عطا کر دے

نور ایماں سے قلب کو بھر دے

ناتواں اک غلام ہے تیرا

ہر طرف جلوہ عام ہے تیرا

سب سے اعلیٰ مقام ہے تیرا

***


پروردگار دیتا ہے

نور منیری (پونہ)

کسی کی آنکھ میں آنسو اتار دیتا ہے

کسی کے دل کو وہ، صبر و قرار دیتا ہے

*

کبھی امیر کو ٹھوکر پہ، مارتا ہے وہ

کبھی غریب کی، قسمت سنوار دیتا ہے

*

حسین پھول کھلاتا ہے، ریگزاروں میں

خزاں نصیب چمن کو، بہار دیتا ہے

*

فلک شگاف پہاڑوں کا چیر کر سینہ

زمیں کی پیاس کو، وہ آبشار دیتا ہے

*

بہاؤ بحر کا خشکی پہ کم نہ ہو تو وہ

سمندروں میں جزیرے ابھار دیتا ہے

*

وہ نغمہ بار پرندوں کے چہچہوں میں کبھی

زمین والوں پہ، رحمت اتار دیتا ہے

*

مرے گناہ پہ، چادر بھی ڈالتا ہے وہ

سماج میں بھی وہ، مجھ کو وقار دیتا ہے

*


بھٹک بھی جاؤں، کسی دشت بیکراں میں اگر

تو مجھ کو پیار سے آ کر، سہار دیتا ہے

*

خیال رکھتا ہے، سب کی ضرورتوں کا وہ

کسی کو نقد، کسی کو ادھار دیتا ہے

*

کسی کے پیار کی کشتی، بھنور میں پھنس جائے

اسے بھی نورؔ کنارے اتار دیتا ہے

***


راج پریمی (بنگلور)

مرے دل کو اب بدل دے اے رب عالمیں تو!

میں تو مشت آب و گل ہوں، ہے نور آفریں تو!

*

یہ اثر ہے بندگی کا، یا گردشوں کا حاصل

میں تو زیر آسماں ہوں، ہے محور زمیں تو!

*

میں ہوں، دوش کا شکاری، ترے رحم کا بھکاری

میں تو صرف اک خطا ہوں، ہے منصف و امیں تو!

*

ترا رنگ ہے نظر میں، ترا نور چار سو ہے

کوئی صدق دل سے دیکھے، مرے دل کے ہے قریں تو!

*

تری برکتوں کے سجدے، تری رحمتوں کے صدقے !

مری روح کی ہے عظمت، مری جان آفریں تو!

*

یہی دل کی آرزو ہے، یہی میرا مدعا ہے

ہر سانس تجھ پہ قرباں، اتنا ہے دل نشیں تو!

*

دنیا ہے صرف دھوکا، اے راجؔ کچھ نہیں ہے !

تُو ہی میرا آسرا ہے، مری جان کا امیں تو!

***


امیر اللہ عنبر خلیقی (ناگپور)

میرا کیا ہے، سب تیرا ہے

بس یہ کافی، تو میرا ہے

*

تو ہی بقا اور تو ہی باقی

ہم سب کا فانی ڈیرا ہے

*

قرآنی تعلیم نے ہم کو

تیری جانب ہی پھیرا ہے

*

یہ قانون تری قدرت کا

وہ ہی کاٹے جو پیرا ہے

*

جانے کیا وہ تیری عظمت

جس کو دنیا نے گھیرا ہے

*

کیسے جھکوں اوروں کے آگے

معبودی حق جب تیرا ہے

*

شکر تیرا کرتا ہے عنبرؔ

اس پر احساں بہتیرا ہے

***


ڈاکٹر بختیار نواز (بجرڈیہہ)

ابتدا تو ہے انتہا تو ہے

دونوں عالم کا رہنما تو ہے

*

چاند تاروں میں نور ہے تیرا

حد امکاں ظہور ہے تیرا

*

غنچۂ و گل میں ہے ادا تیری

تیرگی میں بھی ہے ضیا تیری

*

میں ہوں کمزور اور قوی تو ہے

میں ہوں محتاج اور غنی تو ہے

*

میرے ہستی سنوار دے مولیٰ

میرے دل کو قرار دے مولیٰ

*

سب کا ہے تو ہی مالک و مختار

تیرے آگے نوازؔ ہے لاچار

***


حمد باری تعالیٰ

یونس انیس (ناگپور)

اے خالق رب العلا

اے مالک ارض و سما

اے ذات باری اے خدا

تو لائق حمد و ثنا

*

روز و شب و صبح مسا

ہم سب ترے مدحت سرا

*

الحمد للہ سب نور نور

ہر سمت بس تیرا ظہور

یہ کوہ یہ دشت و طیور

سب کلمہ گو تیرے حضور

*

پروردگار جز و کل

آب و گل و ہر خار و گل

*

سب سے بڑا سب سے عظیم

تو صاحبِ لطف عمیم

محتاج ہم سب تو نعیم

رحمن تو ہے تو رحیم

*


اے کردگار انس و جاں

تو رحم والا مہرباں

*

ہم عاصیِ دامن تہی

از بسکہ ہے شرمندگی

اک آسرا ہے بس یہی

لا تقنطوا من رحمتی

*

لاریب فیہ اے خدا

تو مالکِ روزِ جزا

*

ہر چیز میں موجود تو

ہر چیز کا مقصود تو

ہم عابد و معبود تو

تو شاہد و مشہود تو

*

ہم ساجد و مسجود تو

ہم عابد و معبود تو

*

یا ربنا، یا ربنا

جو راہ حق ہے حق نما

وہ راہِ حق ہم کو دکھا

گم کردہ را ہوں سے بچا

*

فیضانِ جنت ہو مدام

نارِ جہنم ہو حرام


حمد ربِ کائنات

کیفی اسماعیلی (کامٹی)

میرا اللہ تعالیٰ تو ہے رحمان بہت

مجھ گنہگار کی بخشش کا ہے امکان بہت

*

ہے رحیم اور بھی اک نام مرے مالک کا

کر رہا ہوں میں اسی نام کی گردان بہت

*

ڈوبتے ڈوبتے ایمان مرا تیر گیا؟

میں نے دل سے جو پڑھی سورۂ رحمان بہت

*

ورد آیات کریمہ کا اثر کیا کہئے

ہوتی رہتی ہیں مری مشکلیں آسان بہت

*

جس نے یونسؑ کو بچایا شکم ماہی میں

ہے بہر حال وہی میرا نگہبان بہت

*

دونوں عالم کے سمجھنے کو یہی کافی ہے

ہے ہمارے لئے اللہ کا عرفان بہت

*

سچ تو یہ ہے، کہ ہے سائنس اسی کا صدقہ

ہر مسلمان سمجھ کر پڑھے قرآن بہت

*


ہر گھڑی کلمۂ توحید پڑھا کرتا ہوں

ہے اسی نور میں کھو جانے کا ارمان بہت

*

تر ہیں رخسار اگر اشک پشیمانی سے

ہے گنہگار کی بخشش کا یہ سامان بہت

*

مشرکین لاکھ لگاتے رہیں بہتان مگر

میرا مالک مرا مولا تو ہے سبحان بہت

*

ہے خداوند تعالیٰ کا کرم لامحدود

حمد کہنے کے لئے ملتے ہیں عنوان بہت

*

اس کی روزی میں بڑی برکتیں دیکھیں ہم نے

جس کے گھر آتے ہیں اللہ کے مہمان بہت

*

ہم نے خود رکھ دیا دشوار بنا کے ورنہ

ہے مرا مذہب اسلام تو آسان بہت

*

دے رہا ہے وہ بلا کسب ہی روزی کیفیؔ

مجھ پہ رزاق دو عالم کا ہے احسان بہت

***


احمدرئیس (کلکتہ)

اعلیٰ ہے تو، عظیم ہے تو، رب ذوالجلال

رحمن ہے، رحیم ہے تو، رب ذوالجلال

*

تیری نوازشوں کے طلب گار ہیں سبھی

سب س بڑا کریم ہے تو رب ذوالجلال

*

شعلوں میں کون، کون ہے مچھلی کے پیٹ میں

عالم ہے تو، علیم ہے تو، رب ذوالجلال

*

صدیوں سے ہے یہ فرش زمیں بے ستون عرش

ان سب سے بھی قدیم ہے تو، رب ذوالجلال

*

پوشیدہ حکمتیں ہیں ترے حرف حرف میں

حاکم ہے تو، حکیم ہے تو، رب ذوالجلال

*

دیتا ہے رزق سب کو تو سب کے نصیب کا

قاسم ہے تو، قسیم ہے تو، رب ذوالجلال

*

ذہن رئیسؔ پر بھی ہے مولا ترا کرم

اور دل میں بھی مقیم ہے تو رب ذوالجلال

***


محمد افضل خان (ہوڑہ)

خالق، مالک، اعلیٰ تو ہی

سب سے عظمت والا تو ہی

*

شاہ و گدا سب تیرے غلام

پاتے ہیں تجھ سے انعام

*

عزت ذلت ہاتھ میں تیرے

شہرت دولت ہاتھ میں تیرے

*

جس کو چاہے علم و ہنر دے

تو ہی روزی روٹی گھر دے

*

رکھوالا عالم کا تو ہی

سب سے برتر بالا تو ہی

*

روز و شب ہیں تیرے دم سے

ہم ہیں زندہ تیرے کرم سے

*

تیری ثنا پڑھتا ہے افضلؔ

دم تیرا بھرتا ہے افضلؔ

***


رزاق افسر (میسور)

تیری آرزو مری زندگی، مری بندگی تری جستجو

یہ ہے روز و شب مرا مشغلہ، مرے سلسلے یہی کو بکو

*

تری ذات منبع نور ہے، ترا نور کل کا ظہور ہے

تو مجیب اسود و طور ہے، تو نہاں کہیں کہیں روبرو

*

کوئی ایسا دیدہ و دل کہاں، تری ذات جس پہ نہ ہو عیاں

تو قدیم و خالق کن فکاں، تو محیط عالم رنگ و بو

*

تری راہ صبح کے رابطے، ترے فاصلے مرے رت جگے

یہ نیاز و ناز کے مرحلے، کہیں تشنہ لب کہیں آبجو

*

تری عظمتوں کے سرور سے ہوئی فکر میری نہال جب

تو ملا کمال سخن مجھے، بنی آئینہ مری گفتگو

*

ہو بیان کیا تری برتری، ترا نام جب بھی لیا کوئی

تو زبان خلق ہے کہہ اٹھی، تری شان جل جلالہٗ

***


نظیر احمد نظیر (کامٹی)

شکم میں ماں کے ہر اک شکل کو بناتا ہے

مگر کسی کو کسی سے نہیں ملاتا ہے

*

میرے خدا یہ تیری شان کبریائی ہے

اندھیرے گھر سے اجالے میں تو ہی لاتا ہے

*

ملا کے رکھ دیا دہقاں نے خاک میں گندم

یہ تیری شان ہے اس کو تو ہی اگاتا ہے

*

میں اپنی نیند سے جاگوں مری مجال کہاں

تو ہی سلاتا ہے یا رب تو ہی اٹھاتا ہے

*

نظر میں تاب کہاں دیکھنے کی نظارے

تیرا ہی نور ہے آنکھوں میں جو دکھاتا ہے

*

پلک جھپکتے ہی یہ زندگی ہو جائے فنا

تیرا کرم ہے جو سانسوں میں آتا جاتا ہے

*

یہ بات سچ ہے کے جس کا مجھے نہیں انکار

نظیرؔ حکم سے تیرے قلم اٹھاتا ہے

***


طالب صدیقی (کلکتہ)

درد کا درماں چین کا عنوان اک تو ہی

سب کے خانۂ دل کا مہماں اک تو ہی

*

تیری ذات لافانی کا کیا کہنا

ذرے ذرے میں ہے نمایاں اک تو ہی

*

باغ بھی تیرے، گل بھی تیرے ہیں مالک

رکھتا ہے شاداب گلستاں اک تو ہی

*

غم کی کوئی گنجائش ہو تو کیسے

جب رکھتا ہے دل کو شاداں اک تو ہی

*

کرنا ہے تا عمر خدایا مجھ کو طواف

میں پروانہ، شمع فروزاں اک تو ہی

*

بخشی ہے سورج کو تو نے تابانی

چاند کو بھی کرتا ہے درخشاں اک تو ہی

*

ہوتا ہے تاریک دل طالبؔ جب بھی

کر دیتا ہے اس میں چراغاں اک تو ہی

***


رخشاں ہاشمی (مونگیر)

زندگی تیری مہربانی ہے

تیری بس تیری ہی کہانی ہے

*

تیرا جلوہ ہے چار سو روشن

ہے کرم تیرا زندگانی ہے

*

سارے منظر میں تجھ کو دیکھا ہے

سارا عالم تری نشانی ہے

*

تو ہی عزت دے تو ہی ذلت دے

آگ بھی تو ہے، تو ہی پانی ہے

*

تو جو چاہے تو سب فنا کر دے

ہر جگہ تیری راجدھانی ہے

*

یاد میں تیری کر رہا ہے جو

رخشاں ؔ کی آنکھ کا وہ پانی ہے

***


صابر فخر الدین (یادگر)

جس کو حاصل ہے آگہی تیری

اس پہ رحمت فزوں ہوئی تیری

*

خود پہ احسان ہی تو کرتا ہے

وہ جو کرتا ہے بندگی تیری

*

میں اندھیروں کو چیر جاؤں گا

ہو اگر ساتھ روشنی تیری

*

ہر کہہ و مہہ کو جو نوازے ہے

ہو نظر مجھ پہ بھی وہی تیری

*

ٹھیک منزل سے جا ملاتی ہے

گم رہوں کو بھی رہبری تیری

*

چاند سورج ہوں یا وہ ارض و سما

سب ہی کرتے ہیں بندگی تیری

*

تیرے صابرؔ کے سامنے کیوں کر

ہو نہ مد نظر خوشی تیری

***


صابر فخر الدین (یادگر)

نئے چراغ پرانے چراغ بھی تیرے

جو آ رہے ہیں نظر وہ ایاغ بھی تیرے

*

ہمارے دل کا گلستاں بھی ہے ترا یا رب

جو ہیں بہشت بریں میں وہ باغ بھی تیرے

*

نظر سے تیری نہیں ہے کوئی بھی شئے مخفی

قدم قدم پہ ہیں پھیلے سراغ بھی تیرے

*

جو تنگیاں ہیں وہ میرا نصیب ہیں یا رب

تمام وسعتیں سارے فراغ بھی تیرے

*

مجھے ملی ہیں جو علم و عمل کی سوغاتیں

ہیں ان کے طاق میں روشن چراغ بھی تیرے

***


علیم الدین علیم (کلکتہ)

ہم کو ہر شے میں نظر آتا ہے جلوہ تیرا

سارے عالم میں ہے معبود اجالا تیرا

*

ایک پتا نہیں ہلتا کبھی شاخ گل پر

جب تلک ہوتا نہیں کوئی اشارا تیرا

*

لفظ کن سے کیا تخلیق جہاں کو تو نے

تیری مخلوق پہ احسان ہے ربا تیرا

*

کوئی معبود نہیں تیرے سوا اے اللہ

سر بہ سجدہ ہے ترے سامنے بندا تیرا

*

ہو کوئی جن کہ بشر یا ہوں چرند اور پرند

سب پہ یکساں ہے کرم خالق دنیا تیرا

*

تیرے بندوں کی عبادت کا ہے پہلا مرکز

کیوں نہ معمور ہو انوار سے کعبا تیرا

*

سانس جب تک مری چلتی رہے اے رب قدیر

ہو ادا مجھ سے ہر اک حال میں سجدا تیرا

*

سر جھکاتا ہے علیمؔ اس لیے تیرے آگے

اس کا معبود ہے تو اور وہ بندا تیرا

***


حیدر علی ظفر دیگلوری

افضل ارفع اعلیٰ تو

مالک سب کا مولا تو

*

قائم دنیا تجھ سے ہے

ایسی ہستی والا تو

*

سب تیرے گن گاتے ہیں

شان و شوکت والا تو

*

خوشبو تیری ہر گل میں

گلشن گلشن صحرا تو

*

ہندو مسلم سکھ تیرے

سب کاموں داتا تو

*

بت خانہ ہو یا ہو کعبہ

ہر گھر کا رکھوالا تو

*

ہے تیرا محتاج ظفرؔ

میں بندہ ہوں آقا تو

***


حامد رضوی حیدرآبادی

سب پہ لازم احترام اللہ کا

ذرہ ذرہ ہے غلام اللہ کا

*

سارے بندوں کی بھلائی کے لئے

عرش سے اترا کلام اللہ کا

*

بھوک دے کر بھول وہ جاتا نہیں

رزق کا دینا ہے کام اللہ کا

*

جس کو رکھنا ہے جہاں رکھتا ہے وہ

ایسا بہتر ہے نظام اللہ کا

*

ہے وہی مختار کل معبود حق

ہو لبوں پر صرف نام اللہ کا

*

یہ زمین و آسماں کل کائنات

راج ہے ہر جا تمام اللہ کا

*

کہتے ہیں حامدؔ جسے وہ رات دن

نام لیتا ہے مدام اللہ کا

***


سکندر عرفان (کھنڈوہ)

سب کو جزا کا دینے والا اللہ تو

اور سزا کا دینے والا اللہ تو

*

یوں تو دوا کا دینے والا ہے انساں

صرف شفا کا دینے والا اللہ تو

*

ذلت تری ہی صرف بقا کی حامل ہے

حکم فنا کا دینے والا اللہ تو

*

موسیٰ جب مجبور کھڑے تھے دریا پر

ان کو عصا کا دینے والا اللہ تو

*

یہ نہ ملیں تو پل بھر میں مر جاتے ہم

پانی ہوا کا دینے والا اللہ تو

*

پودوں کے ان پژمردہ سے ہونٹوں کو

جام گھٹا کا دینے والا اللہ تو

*

غم بھی دئے ایوبؔ کو تو نے یہ سچ ہے

صبر و رضا کو دینے والا اللہ تو

*

میں نے کی عرفانؔ جو میری دنیا

صلہ وفا کا دینے والا اللہ تو

***


صابر جوہری (بھدوہی)

(۱)

رقم اوصاف رب کے کر رہا ہے

قلم کاغذ پہ سجدے کر رہا ہے

*

کرم کی ہو رہی ہے عام بارش

زمانہ اس کے چرچے کر رہا ہے

*

منور نور ہستی سے تو یا رب!

دلوں کے آبگینے کر رہا ہے

*

عطا کر کے لقب یٰسین و طہٰ

بلند انساں کے درجے کر رہا ہے

*

اسے بھی رزق تو دیتا ہے یا رب!

خدائی کے جو دعوے کر رہا ہے

*

جہنم سے ڈراتا ہے اگر تو

تو جنت کے بھی وعدے کر رہا ہے

*

ترا احساں کہ ہر طوفاں کی زد سے

مری کشتی کنارے کر رہا ہے

*


پرندہ بیٹھ کر ڈالی پہ ہر دم

ترا ہی ذکر جیسے کر رہا ہے

*

عطا ہو جائے علم و فن کی دولت

دعا صابرؔ یہ دل سے کر رہا ہے

***


(۲)

سیاروں کی گردش میں پنہاں تیری قدرت ہے

تار نفس کی ہر لے میں جیسی تیری حکمت ہے

*

پھولوں سے اور خاروں سے سورج چاند ستاروں سے

دریاؤں کہساروں سے ظاہر تیری عظمت ہے

*

ہر اک پھول کی خوشبو میں قوس قزح کے جادو میں

جگمگ جگمگ جگنو میں یا رب! تیری جلوت ہے

*

مہر و ماہ و اختر میں، برق و شرر کے تیور میں

گردوں کے ہر منظر میں ترا جمال وحدت ہے

*

علم دیا عرفاں بخشا، لاثانی قرآں بخشا

بخشش کا ساماں بخشا تیری کیا کیا رحمت ہے

*

تیری رحمت کا طالب تنکا تنکا ہے لاریب

تیرے قہر سے خوف زدہ یا رب پربت پربت ہے

*

نوک خامہ تو بھی لکھ رب کی تحمید و تقدیس

ذرہ ذرہ روز و شب جب مشغول مدحت ہے

*

نور شمع ایماں سے روشن ہے دنیائے دل

صابرؔ پر مولائے کل تیری کتنی رحمت ہے

***


محمد نصراللہ نصرؔ (ہاوڑہ)

( ۱)

پھول کو خوشبو قمر کی روشنی تو نے ہی دی

کائنات حسن کو یوں دلکشی تو نے ہی دی

*

اک فلک کو ماہ و انجم، اک زمیں کو پھول پھل

دونوں عالم کو ہر اک شئے دیدنی تو نے ہی دی

*

وسعت صحرا کو نخلستان کی ٹھنڈی ہوا

موج بحر بے کراں کو بے کلی تو نے ہی دی

*

طائر دلکش ادا کو حسن بھی دلکش دیا

عندلیب خوش نوا کو راگنی تو نے ہی دی

*

دن کو روشن کر دیا خورشید نور خاص سے

شب گزیدہ دہر کو یہ چاندنی تو نے ہی دی

*

علم کی دولت عطا کی، عقل بھی تیری عطا

ہاں بشر کو نیک و بد کی آگہی تو نے ہی دی

*

تیری حکمت کا بیاں ممکن نہیں الفاظ میں

ایک لفظ کن سے ہم کو زندگی تو نے ہی دی

*

بندۂ کمتر تری توصیف کرنا کس طرح

نصرؔ کو توفیق یا رب! مدح کی تو نے ہی دی

***


(۲)

یہ مہر و ماہ منور غلام تیرے ہیں

تمام نور کے مظہر غلام تیرے ہیں

*

تغیرات زمانہ ہیں تری قدرت میں

یہ عرش و فرش کے منظر غلام تیرے ہیں

*

ترے غلام خدایا ہیں نغمہ بار پرند

تو نامہ بر یہ کبوتر غلام تیرے ہیں

*

ترے جہاں کے گداؤں کا ذکر کیا یا رب

زمانے بھر کے سکندر غلام تیرے ہیں

*

کروں نہ کیوں میں اطاعت تری مرے مولا

تمام پیر و پیمبر غلام تیرے ہیں

*

کہاں کہاں نہ غلامی میں ہے تری خلقت

یہ سیپ سیپ میں گوہر غلام تیرے ہیں

*

تری رضا پہ ہے موقوف فکر کی پرواز

تخیلات کے شہپر غلام تیرے ہیں

*

ترا غلام ترا نصرؔ کیوں نہ ہو یا رب

کہ ذی وقار سخنور غلام تیرے ہیں

***


مشرف حسین محضر (علی گڑھ)

آنکھوں میں تو ہے دل میں تو ہے دل کے احساسات میں تو

تیری ذات کا میں شیدائی پنہاں میری ذات میں تو

*

صبح طرب کی سطح افق سے سورج بن کر ابھرا ہے

چاند کا روپ لیے آیا ہے غم کی کالی رات میں تو

*

عیش و مسرت تیرا کرم ہے فکرو فاقہ تیری رضا!

آسودہ لمحات میں تو تھا آشفتہ لمحات میں تو!

*

قہر ترا نافرمانوں پر رحم ترا ہر تابع پر

فیض و غضب کی آندھی میں تو رحمت کی برسات میں تو

*

کعبے کی دیوار پہ لکھے مصرعوں سے یہ ثابت ہے

لاثانی ہے تیرا کلام اور یکتا اپنی ذات میں تو

*

ماضی تیرا حال بھی تیرا مستقبل کا تو مالک!

ماضی کے حالات میں تو تھا موجودہ حالات میں تو

*

تو چاہے محضرؔ کے حق میں ناممکن، ممکن کر دے

ہر اک شئے پر تو قادر ہے سارے امکانات میں تو

***


مراق مرزا (بمبئی)

گلستاں اس کے ریگزار اس کا

سارے عالم پہ اختیار اس کا

*

چاند ستاروں میں جلوہ گر ہے وہی

پھول کلیوں پہ ہے نکھار اس کا

*

اس کے دم سے رواں سمندر ہے

ہے ندی اس کی، آبشار اس کا

*

جانے کیوں ان دنوں لبوں پہ مرے

نام آتا ہے بار بار اس کا

*

ذرے ذرے میں وہ سمایا ہے

ہے زمیں اس کی کوہسار اس کا

*

جسم اس کا ہے، سانس اس کی ہے

ابن آدم ہے قرض دار اس کا

*

وہ مرا ہر گناہ بخشے گا

ہے مرے دل کو اعتبار اس کا

***


رحمت اللہ راشد احمدآبادی (ناگپور)

ہے ترا ہر ذرے پہ احسان رب العالمین

کیا بیاں ہ سے ہو تیری شان رب العالمین

*

سرخرو ہو جائے ہر انسان رب العالمین

کر عطا ہر ایک کو ایمان رب العالمین

*

ساری خلقت آج بھی بے بس ہے تیرے سامنے

تیرے قبضے میں ہے سب کی جان رب العالمین

*

ذکر ہر مخلوق کرتی ہے ترا شام و سحر

لہر ہو دریا کی یا طوفان رب العالمین

*

سارا عالم، ساری دنیا تیرے ہی قبضے میں ہے

ہے ترا قرآں میں یہ اعلان رب العالمین

*

اک اشارے پر ترے پیارے خلیل اللہ نے

کر دیا بیٹے کو بھی قربان رب العالمین

*

جب بھی ٹوٹے تیرے راشدؔ پر مصیبت کے پہاڑ

کر دیا تو نے انھیں آسان رب العالمین

***


حافظ اسرارسیفی (آرہ)

تو ہی میری آرزو ہے تو ہی میری جستجو

اول و آخر بھی تو ہے ظاہر و باطن بھی تو

*

تو نے دامان زمیں کو موتیوں سے بھر دیا

اور جہان آسماں کو قمقموں سے بھر دیا

*

رازق و خلاق تو ہے حافظ و ناصر ہے تو

آنکھ سے اوجھل ہے لیکن ہر جگہ ظاہر ہے تو

*

نعمتیں ہیں ان گنت اور رحمتیں ہیں بے شمار

ہر قدم پر ہے عنایت تیری اے پروردگار

*

ہے منور نور بھی اور نور کا محور بھی تو

تو ہی ہے تحسین فطرت اور مہہ و اختر بھی تو

*

تو ہی مندر کا جرس ہے تو ہی مسجد کی اذاں

ذرے ذرے میں ہے روشن تیرے جلووں کا نشاں

*

قطرۂ ناچیز ہوں میں اور تو بحر رواں

تیری مدحت کے لیے ہے گنگ ناطق کی زباں

*

بخش دے سیفیؔ کو مولا ہے کرم تیرا بڑا

بندۂ ناچیز یہ ہے بحر عصیاں میں پڑا

***


شاغل ادیب (حیدرآباد)

کاش مل جاتے مرے نالوں کو تاثیرنئی

تجھ سے اللہ ملے خوشیوں کی جاگیر نئی

*

رکھنا ایمان سلامت تو مرا اے اللہ

ہے یہ وعدہ نہ کروں گا کوئی تقصیر نئی

*

ہر نئی صبح رہے حمد نئی ہونٹوں پر

ہر نئی شام ہو، دل میں تری توقیر نئی

*

رات کے خواب مرے کڑوے بہت ہیں یارو

دن کے لمحات کو دے میٹھی سی تعبیر نئی

*

تیرے محبوبؐ کا بیمار جو ہو جاتا ہے

اس کو بے مانگے تو دے دیتا ہے اکسیر نئی

*

اپنے محبوبؐ کی امت پہ ہو رحمت کی نظر

اپنے محبوبؐ کی امت دے توقیر نئی

*

تیرے قرآں میں مسائل ہیں قیامت تک کے

آیتیں اس کی عطا کرتی ہیں تفسیر نئی

*

حمد شاغلؔ میں لکھوں یا کہ مناجات لکھوں

دے دے مولا تو قلم کو مرے تاثیر نئی

***


فراغ روہوی (کلکتہ)

اعزاز مجھ کو ایک یہی ذوالجلال! دے

میری نگاہِ شوق کو ذوقِ جمال دے

*

مجھ کو خلوص و مہر کے سانچے میں ڈھال دے

ایسا دے پھر مزاج کہ دنیا مثال دے

*

تو نے عطا کیے ہیں یہ لوح و قلم تو پھر

جو دل گداز ہو وہی حسن خیال دے

*

شہرت سے تو نے مجھ کو نوازا تو ہے، مگر

تھوڑا سا انکسار بھی اے ذوالجلال! دے

*

میری نظر میں وہ کسی دریا سے کم نہیں

قطرہ جو میرے کوزے میں یا رب! تو ڈال دے

*

گمنامیوں کی قید میں گوہر جو ہے ابھی

یا رب! اسے صدف سے تو باہر نکال دے

*

محروم تیرے فیض سے صحرا جو ہے یہاں

اک بار اس کے سامنے دریا اچھال دے

*

ہو فیض یاب حرف دعا سے ترا فراغؔ

تاثیر بھی زباں میں اگر اس کی ڈال دے

***


خضر ناگپوری (ناگپور)

اے مرے مالک مرے پروردگار

تیری رحمت ایک بحر بے کنار

*

آتش نمرود تو نے سرد کی

تو نے عیسیٰ کی بچائی زندگی

تو نے یوسف کا رکھا قائم وقار

اے مرے مالک مرے پروردگار

*

نور بخشا دیدۂ یعقوب کو

دم میں اچھا کر دیا ایوب کو

دی زلیخا کو جوانی کی بہار

اے مرے مالک مرے پروردگار

*

ہے عطا کی شان بھی کیا دیدنی

آگ کے طالب کو دی پیغمبری

ایک مانگے کوئی تو دے تو ہزار

اے مرے مالک مرے پروردگار

*


نوح کی کشتی کا تو ہی ناخدا

راستہ موسیٰ کو دریا میں دیا

تیری قدرت ہے جہاں پر آشکار

اے مرے مالک مرے پروردگار

*

تاجدار انبیا کا واسطا

نعمت کونین اسے بھی کر عطا

خضرؔ بھی رحمت کا ہے امیدوار

اے مرے مالک مرے پروردگار

***


بولو وہ کون ہے ؟

ڈاکٹر منشاء الرحمن خان منشاء (ناگپور)

بولو وہ کون ہے ؟ نظروں سے جو رہ کر پنہاں

ایک اک شے کے پس پردہ ہے جلوہ افشاں

*

بولو وہ کون ہے ؟ دیتا ہے جو سامان حیات

ہم کو بن مانگے عطا کرتا ہے کیا کیا نعمات

*

بولو وہ کون ہے ؟ ہر سمت ہے جس کا سکہ

حکمراں جو ہے فلک اور زمیں پر تنہا

*

بولو وہ کون ہے ؟ یہ دھرتی سجائی جس نے

چرخ پہ چادر نورانی بچھائی جس نے

*

بولو وہ کون ہے ؟ جو قادر و قیوم بھی ہے

ہر دو عالم کا جو مسجود بھی مخدوم بھی ہے

*

بولو وہ کون ہے ؟ نازل کیا جس نے قرآں

اس میں صادر کئے حکمت بھرے کتنے فرماں

*

بولو وہ کون ہے ؟ جو رزق عطا کرتا ہے

جس کی مرضی کے بنا پتہ نہیں ہلتا ہے

*


بولو وہ کون ہے ؟ ہر امر پہ قدرت والا

جس سے بڑھ کر نہیں ہے کوئی بھی حکمت والا

جس نے پیدا کیا انساں کو بطرز احسن

زندگی کرنے کے پھر اس کو سکھائے ہیں چلن

جس نے مخلوق میں انساں کو بنایا اشرف

*

کون ہے وہ؟ جو ہے سجدوں کا ہمارے حقدار

ہر قدم پر ہمیں اس کی ہی مدد ہے درکار

ایسی ہی ہستی تو بجز رب العلیٰ کوئی نہیں

لائق حمد و ثنا اس کے سوا کوئی نہیں

***


محسن باعشن حسرت (کلکتہ)

وہ جس نے دی ہم کو زندگانی

نہیں ہے کوئی بھی اس کا ثانی

*

جو سب سے افضل ہے سب سے برتر

جو سب کا والی ہے سب کا یاور

*

وہ جس نے دونوں جہاں بنائے

زمین اور آسماں بنائے

*

وہ جس نے دولت ہمیں عطا کی

وہ جس نے شہرت ہمیں عطا کی

*

وہ جس نے دی ہم سبھوں کو عزت

وہ جس نے بخشی ہمیں مسرت

*

وہ جس کی ہم پر ہے مہربانی!

نہیں ہے کوئی بھی اس کا ثانی

*

وہ جس نے بخشی گلوں کو خوشبو

وہ جس نے دلکش بنائے جگنو

*


وہ جس نے تارے سجائے ہر سو

وہ جس نے غنچے کھلائے ہر سو

*

یہ چاند سورج دیئے ہیں جس نے

پہاڑ پیدا کئے ہیں جس نے

*

وہ جس کے گن گا رہے ہیں سارے

وہ جس کے دم سے ہیں سب نظارے

*

جہاں پہ جس کی ہے حکمرانی!!

نہیں ہے کوئی بھی اس کا ثانی

***


ڈاکٹر شرف الدین ساحلؔ

(۱)

شکست میرا مقدر سہی سنبھال مجھے

متاعِ صبر عطا کر دے ذوالجلال مجھے

*

فقط تری ہی محبت ہو خانۂ دل میں

اس آرزوئے حقیقی سے کر نہال مجھے

*

انا سے دل کو مرے پاک رکھ کہ اس کے سبب

عروج لے کے چلا جانبِ زوال مجھے

*

درست کر مری فطرت میں خامیاں ہیں بہت

نواز خوبیِ کردار و خوش خصال مجھے

*

وہ جس کمال نے صلحا کو سرفرازی دی

مرے کریم عطا کر وہی کمال مجھے

*

گناہگار ہوں ڈوبا ہوا ہوں عصیاں میں

تو اس عمیق سمندر سے اب نکال مجھے

***


(۲)

میں بے قرار ہوں مجھ کو قرار دے ربی

مرا نصیب و مقدر سنوار دے ربی

*

ہوا ہے گلشنِ امید میرا پژمردہ

خزاں کی کوکھ سے فصلِ بہار دے ربی

*

قدم قدم پہ ہیں خارِ نفاق و بغض و حسد

اس امتحاں سے سلامت گزار دے ربی

*

میں مخلصانہ دعا دشمنوں کو دیتا رہوں

تو میرے دل میں وہ جذبہ ابھار دے ربی

*

میں جو کہوں یا لکھوں سب میں عشق ہو تیرا

میرے خیال کو اتنا نکھار دے ربی

*

بہت برا ہے گنا ہوں سے حال ساحلؔ کا

یہ بار سر سے تو اس کے اتار دے ربی

***


(۳)

شمعِ عرفان و یقیں دل میں جلا دے مولیٰ

راہ جو سیدھی ہے، وہ راہ بتا دے مولیٰ

*

تجھ کو پانے میں یہ قوت ہے رکاوٹ کا سبب

فتنہ و شر کو مرے دل سے مٹا دے مولیٰ

*

یہ گرفتار ہے گردابِ مسائل میں ابھی

کشتیِ زیست مری پار لگا دے مولیٰ

*

میرا ہر لفظ ترے عشق کا مظہر بن جائے

سوچ کو میری وہ پاکیزہ ادا دے مولیٰ

*

تیرے مصحف کی تلاوت کروں آسانی سے

نور آنکھوں کا مری اتنا بڑھا دے مولیٰ

*

عالمِ فانی و باقی میں بھلائی دے دے

نار دوزخ سے بھی ساحلؔ کو بچا دے مولیٰ

***


(۴)

فکر جب دی ہے مجھے اس میں اثر بھی دے دے

پیڑسرسبز دیا ہے تو ثمر بھی دے دے

*

راہِ پر خار سے میں ہنس کے گزر جاؤں گا

عزم کے ساتھ ہی توفیقِ سفر بھی دے دے

*

خانۂ دل مرا خالی ہے محبت سے تری

سیپ تو دی ہے مجھے اس میں گہر بھی دے دے

*

شکر تیرا کہ مجھے طاقت گویائی دی

التجا یہ ہے دعاؤں میں اثر بھی دے دے

*

سوچ کی ساری حدیں ختم ہوئیں تو نہ ملا

صبح کاذب کو مری نورِ سحر بھی دے دے

*

دوستی کرنے کا ساحل کو سلیقہ تو دیا

زیر کرنے کا حریفوں کو ہنر بھی دے دے

***


فرید تنویر (ناگپور)

میرے دل میں ہوئی جب بھی کوئی خواہش مولا

ہو گئی تیری عنایات کی بارش مولا

*

تیرے خورشید کرم کی یہ ضیا باری ہے

زندگی میں ہے اجالوں کی نمائش مولا

*

نکلا طوفان حوادث سے سفینہ میرا

یہ ترا فضل ہے، یہ تیری نوازش مولا

*

ہو مرے حال پہ ہر وقت ترا لطف و کرم

دور ہر دم رہے افلاک کی گردش مولا

*

التجا ہے ترے تنویرؔ کی اے رب کریم

زندگی بھر نہ ہو اس سے کوئی لغزش مولا

***


منظورالحسن منظور (پونہ)

حیات مہنگی، ممات سستی ہے کیسا قہر و وبال یا رب

کہیں تو آ کر ہو ختم آخر، یہ دور حزن و ملال یا رب

*

یہ چینچی میں عتاب روسی، یہ بوسنی میں لہو کے دریا

ہے خوں میں ڈوبا ہوا فلسطیں، یہ کیسا طرز رجال یا رب

*

نکل کے بدر و احد سے آگے، یہ آئے ہیں کربلا سے غازی

تھکے ہیں سارے ہی آبلہ پا، تو آ کے انکو سنبھال یا رب

*

چلے ہیں سر سے کفن کو باندھے، صلیب کاندھوں پہ لیکے اپنے

زباں پہ تیرا ہے ذکر پیہم، نظر میں تیرا جمال یا رب

*

دلوں میں خیر البشرؐ کی عظمت، ادا میں قرآں کا بانکپن ہے

یہی تو ہے زادِ راہ اپنا، یہی ہے مال و منال یا رب

*

کھڑے ہیں دارو رسن کی زد پر، مگر ہنسی ہے سبھوں کے لب پر

یہ سرفروشی کا عزمِ راسخ، ہے مومنانہ کمال یا رب

*

یہ جوش صہبائے عشق احمدؐ، کہ زیر خنجر بھی کہہ رہے ہیں

لہو سے ہو کر ہی سرخ رو اب، ملے گا تیرا وصال یا رب

*


بنا ہے مشق ستم فلسطیں مجاہدوں پر ہے وجد طاری

زباں پہ ہے لا الہٰ ان کی، یہی ہے انکا کمال یا رب

*

زمیں فلسطیں کی منتظر ہے، کہ کوئی ایوبؔ پھر سے آئے

ہے ارضِ اقصیٰ کا تیرے در پر، دراز دست سوال یا رب

*

اے رب کعبہ تو مقتدر ہے، تو خالق کل جہاں ہے مولیٰ

عطا ہو صبر و عمل کی قوت، کہ ہو گئے ہیں نڈھال یا رب

*

ہے شش جہت میں تری ہی خاطر، صدائے لبیک سب کے لب پر

دعا ہے شام و سحر کہ رکھیو، ہماری عزت بحال یا رب

*

دعا ہے منظورؔ ناتواں کی، جہاں میں امن و اماں ہو مولیٰ

ستم گروں سے ملے رہائی، دکھا دے اپنا جلال یا رب

***


حمد باری تعالیٰ جل شانہٗ

بختیار مشرقی (اورئی)

تو مرا خدائے برحق

تو مکمل اور مطلق

تو قدیم اور محقق

*

میں زمیں نہ آسماں کا

تو ہے ثابت اور قائم

میں ہواؤں میں معلق

*

میں تمام تر معاصی

تری حمد کیا کروں میں

ترے وصف بیکراں ہیں

*

ترے انگنت فرشتے

تری حمد کر رہے ہیں

جو محیط آسماں ہیں

*

یہ کروڑہا پرندے

یہ وحوش یہ درندے

یہ ملخ یہ مور سارے

*


وہ ہوں پتھروں کے کیڑے

کہ ہوں کرم قعر دریا

کہ زمیں کے چور سارے

*

تری حمد میں لگے ہیں

ترے گیت گا رہے ہیں

یہ تمام مرغ و ماہی

*

یہ شجر حجر یہاں کے

مہہ و مہر آسماں کے

گل و نجم صبح گاہی

*

مرا عجز کہہ رہا ہے

وہ خدا ہے جانتا ہے

کہ تری بساط کتنی!

*

تو بس ایک کام کر لے

کوئی نعت لکھ نبیؐ کی

مری بات مان اتنی!

*

کوئی نعت مصطفیٰؐ لکھ

یہ پسند کبریا ہے

یہی نسخہ کیمیا ہے

*


تو بس اے خدائے برتر

یہ گناہ گار بدتر

ترے سجدے میں پڑا ہے

*

تری حمد کے بھی قابل

نہیں جانتا جو خود کو

بھلا نعت کیا کہے گا

*

یہ تو پل صراط سے بھی

بڑا سخت مرحلہ ہے

مری لاج رکھ خدایا

*

ترا حکم مانتا ہوں

میں درود بھیجتا ہوں

ترے پیارے مصطفی پر

*

سبھی آل مصطفیؐ پر

تو قبول کر لے یا رب

یہ ادائے بندہ پرور

*

مری التجا ہے یا رب

*


مجھے بخش دے حضوری

در کعبۂ یقیں کی

مجھے صدقہ دے نبیؐ کا

مری بے بضاعتی تو

نہیں رہ گئی کہیں کی!

میں بڑا خطا کنندہ

تو بڑا رحیم یا رب

*

میں پہ سڑرہا ہوں

مجھے بخش دے الہٰا

ترے ہاتھ جوڑتا ہوں

ترے پاؤں پڑ رہا ہوں

ترے ہاتھ جوڑتا ہوں

ترے پاؤں پڑ رہا ہوں

یہاں کب سے سڑرہا ہوں

***


دوہا حمد

عاجز ہنگن گھاٹی (ہنگن گھاٹ)

عزت اس کے ہاتھ ہے ذلت اس کے ہاتھ

گمنامی بھی بخشے وہ شہرت اس کے ہاتھ

*

بالکل سچی بات ہے اپنی کیا اوقات

کٹھ پتلی کے جیسے ہم فطرت اس کے ہاتھ

*

ہست و بود کا راز کیا اپنی ہستی خاک

بے شک مرنے جینے کی حرکت اس کے ہاتھ

*

افراتفری سب کے گھر الجھن سب کے پاس

چاہت ہم کو چین کی راحت اس کے ہاتھ

*

تخلیق اس کا کل جہاں واحد اس کی ذات

لفظ کن کے راز کی حکمت اس کے ہاتھ

*

بے شک وہ مختار ہے سب کا پالن ہار

عاجزؔ تو بھی مانگ لے رحمت اس کے ہاتھ

***


حمدیہ ماہیے

مدہوش بلگرامی (ہردوئی)

رحمان و رحیم اللہ

اس سے ہے سب ممکن

ستاروکریم اللہ

٭

خلاق تو ہی بے شک

سب کو کھلاتا ہے

رزاق تو ہی بے شک

٭

غفار خدا ہے بس

میں ہوں بت عاصی

مختار خدا ہے بس

٭

ہر شے پہ حکومت ہے

کون و مکاں کس کا

ہے جس کا وہ قدرت ہے

٭


ہے ذات تری طاہر

عرش بریں والے

ہر چیز پہ تو قادر

٭

چڑیوں کو زباں دی ہے

کھلتی کلی کو بھی

تو نے ہی ادادی ہے

٭

ہے عرش بریں تیرا

فکر و بیاں، لہجہ

اے نور یقیں تیرا

٭

حمد و ثنا کرتے

بحر و جزیرے بھی

توصیف خدا کرتے

٭

معبود ہر اک شے کا

ارض وسما اس کے

مسجود ہر اک شئے کا

***


راہی صدیقی (ہردوئی)

پھولوں میں رنگ الگ اور خوشبو جدا

بس یہی تو ہے قدرت یہی ہے خدا

**

سب چرند اور پرند مختلف رنگ کے

آدمی ملتے ہیں سب الگ ڈھنگ کے

شکل و صورت الگ بولیاں ہیں جدا

بس یہی تو ہے قدرت یہی ہے خدا

**

جس میں چاقو لگے نکلے گا، خوں لئے

پر اسی سینے سے دودھ بچہ پئے

خون سے دودھ کو ایسے رکھا جدا

بس یہی تو ہے قدرت یہی ہے خدا

**

جب سمندر سے جا کر کے دریا ملا

اپنی پہچان کو ملتے ہی کھو دیا

اپنا اپنا وجود گر رہیں وہ جدا

بس یہی تو ہے قدرت یہی ہے خدا

**


ریگزاروں میں پیدا کئے ہیں شجر

رزق کیڑوں کو پتھر میں دے پیٹ بھر

ظاہراً بھی الگ باطناً بھی جدا

بس یہی تو ہے قدرت یہی ہے خدا

**

کیسے کیسے عجوبے دہر میں ہوئے

یوں ملے حیرتوں میں ہی ڈوبے ہوئے

سر جڑے دھڑ جڑے جسم و جاں ہیں جدا

بس یہی تو ہے قدرت یہی ہے خدا

**

دھوپ تھی دھوپ کی تھیں ابھی گرمیاں

دیکھتے دیکھتے چھا گئیں بدلیاں

برسا پانی ہوا بادلوں سے جدا

بس یہی تو ہے قدرت یہی ہے خدا

**

آندھیاں اور طوفان اور زلزلہ

آتے ہی یاد آ جائے جو برملا

وہ ہوا میں گھلا وہ ہوا سے جدا

بس یہی تو ہے قدرت یہی ہے خدا

**

روز ہوتے طلوع اور ہوتے غروب

چاند سورج کا ہے یہ تماشہ بھی خوب

فرق پڑتا نہیں ڈھنگ نہ ہوتا جدا

بس یہی تو ہے قدرت یہی ہے خدا


**

اک طرف تیرگی اک طرف روشنی

اس طرف ہے غمی اس طرف ہے خوشی

ایک ہی وقت پر حادثے ہوں جدا

بس یہی تو ہے قدرت یہی ہے خدا

**

جگنو پیدا کئے رات کے واسطے

بند اک جو کیا کھولے کئی راستے

ہر بقا بھی الگ ہر فنا بھی جدا

بس یہی تو ہے قدرت یہی ہے خدا

**

پیاس ہونٹوں پہ ہے دل میں ہے تشنگی

بکھری بکھری سی لگتی ہے یہ زندگی

موت کا رنگ الگ موت کا ڈھنگ جدا

بس یہی تو ہے قدرت یہی ہے خدا

**

حکم سے جس کے ہوتی عطا زندگی

موت بھی راہیؔ جس کی ہی طابع رہی

اس کی رحمت الگ اس کی حکمت جدا

بس یہی تو ہے قدرت یہی ہے خدا

***


منصور اعجاز (آکولہ)

تو زمین آسمان کا رب ہے

تو ہی سارے جہان کا رب ہے

حکم چلتا ہے بحر و بر پہ ترا

رعب ہے خیر اور شر پہ ترا

چاند تاروں میں چاندنی تیری

ہے ہواؤں میں راگنی تیری

سبزہ و گل میں جان تیری ہے

چہچہوں میں زبان تیری ہے

سارے عالم پہ مہرباں تو ہے

حق پرستوں کا نگہباں تو ہے

تیرے محکوم ہیں یہ جن و ملک

تیرے تابع بشر ہیں عرض و فلک

تیری حمد و ثنا ہو کس سے بیاں

تو نہاں ہو کے بھی ہے سب پہ عیاں

سب فنا ہے بقا ہے تیرے لئے

ساری حمد و ثنا ہے تیرے لئے

***


تخلیق کائنات

منصور اعجاز (آکولہ)

اگر تو یہ زمین نہیں بناتا

ہم خلاؤں میں تیرتے رہتے

*

تو نے زمیں کی کوکھ میں

آبی ذخیرے نہ سموئے ہوتے

ہم فضاؤں میں نمی چوستے ہوتے

تو نے خورشید کو تپش دے کر

چمکایا نہ ہوتا

فصلیں اگتی اور پکتی کیسے ؟

*

ہماری دنیا اندھی

اندھیاری ہو جاتی

رب اللعالمین!

تو نے زمین و آسمان کی

بے پناہ دولت اور خلافت

ہمیں عطا کر دی (کتنا سخت امتحان ہے )


قیامت قریب ہے اور ہم

بے چین و پریشان

بے حس و حرکت

یا غفور الرحیم!

ہمیں ایمان کی حرارت سے پگھلا دے

کل کائنات پر پھیلا دے

ہم پر امید ہیں

تجھے بھی یہی مقصود ہے نا۔ ؟

***


حمد

حشمت کمال پاشاؔ (کلکتہ)

اے دنیا کے سرجن ہارے

اعلیٰ تو ہے

برتر تو ہے

ذات کو تیری نہیں زوال

قائم تیرا جاہ و جلال

توہے عین عز و کمال

مالک۔۔۔ روز حشر کا تو ہے

خالق۔۔۔ توہے رات کا دن کا

تو ہی۔۔۔ عبادت کے لائق ہے

تیرے لئے سب حمد و ثنا ہیں

تیرے غضب سے سب ہیں لرزاں

عالم کن کا رب جلیل

تو ہی رحیم

تو ہی کریم

پاشاؔ۔۔۔ تیرے در پہ کھڑا ہے

لب پہ دعا ہے

ہاتھ اٹھا ہے


سچا نیک انسان بنا دے

سیدھا رستہ ہم کو دکھا دے

مجبوروں کے کام میں آؤں

دکھیاروں کا درد بٹاؤں

***


اللہ تعالیٰ

حشمت کمال پاشاؔ (کلکتہ)

میں اکثر سوچاکرتا ہوں

شجر یہ ڈاب کے کس نے اگائے ہیں

کہ ڈابوں میں کہاں سے آتا ہے پانی یہ میٹھا سا

نظر جائے جہاں تک دور اس نیلے گگن پر

میں اکثر سوچاکرتا ہوں

کہ ننھے منے چمکیلے سے تاروں کو

انھیں آکاش پہ کس نے سجایا ہے

میں اکثر سوچاکرتا ہوں

بنایا ہے یہ کس نے چندا ماما کو

جو شب بھرآسماں پر وہ چمکتا ہے

جو چلتا ہوں تو میرے ساتھ چلتا ہے

یہ اکثر سوچاکرتا ہوں

مجھے پیداکیاکس نے۔۔۔ ؟

مری امی یہ کہتی ہیں

کہ اک خالق ہے ان ساری ہی چیزوں کا

وہی برتر و بالا ہے

وہی اللہ تعالیٰ ہے

***


تحفہ حمد بحضور خالق کائنات

خان حسنین عاقبؔ (پوسد)

مرا تصور بھٹک رہا ہے

مرا تخیل جھجک رہا ہے

*

مجھے خبر ہے نہیں یہ ممکن

کہ تیری تعریف کر سکوں میں

تری خدائی کی حد کو پاؤں

محال ہے اس پہ غور کرنا

مگر میں ٹوٹے ہوئے سے الفاظ کو

عقیدت کی چاشنی میں ڈبو رہا ہوں

اور اپنے جذبات کے سمندر کو

حرف و معنیٰ کے بس ایک کوزے

میں ڈرتے ڈرتے سمورہا ہوں

*

ہے میٹھے خوش رنگ پانیوں پر

ہے کھارے سمندروں پر

*

تری ہی قدرت و حکمرانی

*


تو کن سے دنیا بنانے والا

تو پربتوں کو جمانے والا

کو کشتیوں کو چلانے والا

قیامتوں کو جگانے والا

مصیبتوں کو سلانے والا

تو ساحلوں پر ڈبونے والا

تو بیچ دریا بچانے والا

*

علیم تو ہے بصیر تو ہے

تجھے پتا ہے وہ بات بھی جو

ہر اک نظر سے چھپی ہوئی ہے

تری ہی قدرت میں ہے وہ آتش

جو راکھ ہی میں دبی ہوئی ہے

حسین شکلوں کو کس کا آخر جمال سمجھوں ؟

*

قلم سے اپنے نکلتی کرنوں

کو تیری مدحت کا نور سمجھوں !

کہ کوئی مجھ سے غریب شاعر

کا ہچکچاتا خیال سمجھوں ؟

*


ہے رہبری بھی خضرؑ کی تجھ سے

عصائے موسیٰؑ تری عطا ہے

بلندیوں کو ہے سرفرازی کا شرف حاصل

تو سونی سونی ہے پستیوں کی ہر ایک محفل

مرے عمل کا ہر ایک دفتر

ہے چیدہ چیدہ

مگر بڑائی ہے کس کو زیبا؟

*

تری عطا کو!

کہ پھر خطاؤں کو عاصیوں کی؟

مجھے پتا ہے !

مری ندامت کو ڈھونڈتی ہیں

شفیق بانہیں ترے کرم میں

تو کشتیِ نوحؑ کو کھویّا

حرم سے لے کر مرے مکاں تک

تری عطا کے سمندروں پر

*

مری دعا کو

بس اتنا سا اختیار دے دے

حیات میری خزاں رسیدہ

تو اس کو حکم بہار دے دے

***


ارشاد خان ارشاد (ممبرا۔ ممبئی)

تو خالق جہان تو ہی رب کائنات

سب خامیوں سے پاک منزہ ہے تیری ذات

*

زیبا فقط تجھی کو حمد و ثنا ہے یا رب

فخر و غرور، نخوت تیرا بجا ہے یا رب

*

برتر عظیم تر ہے اعلیٰ تیری صفات

تو خالق جہان تو ہی رب کائنات

*

خاکی میں جان ڈالی اس کو شعور بخشا

منھ میں زبان رکھی آنکھوں کو نور بخشا

*

رب کریم تو نے بخشی ہمیں حیات

تو خالق جہان تو ہی رب کائنات

*

تارے شجر حجر سب رطب اللسان تیرے

طبقات ارض تیرے یہ آسمان تیرے

*

تیرا نہیں ہے ہمسر یکتا ہے تیری ذات

تو خالق جہاں تو ہی رب کائنات

***


الیاس احمد انصاری شادابؔ (آکولہ)

دل سکوں پا گیا، راحتیں مل گئیں

آفتیں ذکر سے ٹل گئیں، ٹل گئیں

*

اس زمیں پر فلک پر تری حمد ہے

خانقاہوں میں اک عالم وجد ہے

*

خشک دھرتی ہو، جل تھل تری ذات ہے

حکم سے تیرے برسی یہ برسات ہے

*

را ہوں میں زندگی کی بغاوت رہی

بندگی تیری مثل علامت رہی

*

رحمتوں سے تیری، پاپ دھل جائیں گے

پھوٹی قسمت کے سب پھول کھل جائیں گے

*

رحمتیں ہیں تری عام انسان پر

برق کیسے گرے پھر مسلمان پر

*

نام کا بحر میں بھی ترے ورد ہے

تو ہی تو میری شہہ رگ سے بھی نزد ہے

*

پاؤں کی اس رگڑسے بہا آب ہے

تو جو چاہے تو بنجر بھی شادابؔ ہے

***


عرفان پربھنوی

ائے دو جہاں کے مالک تو ہی ہے رب ہمارا

تیرے سوا نہیں ہے اور کوئی رب ہمارا

*

تیری ہی میرے مولا کرتے ہیں ہم عبادت

تجھ ہی سے مانگتے ہیں ہر وقت استعانت

روز جزا کا تو ہی مالک ہے میرے مولا

دونوں جہاں کا تو ہی خالق ہے میرے مولا

*

تو نے ہی آسماں سے پانی کو ہے گرایا

تو نے زمیں سے مولا فصلوں کو ہے اگایا

تو نے ہی چاند سورج، تاروں کو ہے بنایا

تو نے ہی آسماں کو تاروں سے ہے سجایا

*

تو ہی کھلانے والا، تو ہی پلانے والا

تو ہی ہے مارنے اور تو ہی جلانے والا

حمد و ثنا کے لائق تو ہی ہے میرے مولا

عرفانؔ کی بھی سن لے یہ حمد میرے مولا

***


گوہر تری کروی (میسور)

حمد ہے میری زباں پر تیری اے پروردگار

رحمتوں کا تیری صبح و شام ہوں امیدوار

*

قاضی الحاجات ہے تو یہ مرا ایمان ہے

بندۂ عاجز پہ تیرا کس قدر احسان ہے

*

ساری مخلوقات کا داتا ہے تو محتاج ہم

ہم گنہگاروں پہ برساتا ہے تو ابر کرم

*

نام سے تیرے سخن کی، کی ہے میں نے ابتدا

لطف گویائی کو بخشا تو نے میری حوصلہ

*

تو نے شیرینی عطا کی ہے مری گفتار کو

با اثر تو نے کیا ہے جرأت اظہار کو

*

بخش دی تو نے مجھے حسن تخیل کی ضیا

ذہن و دل روشن کیا ہے دے کے ذوق ارتقا

*

دل میں علم و آگاہی کی روشنی باقی رہے

فکر میں گوہرؔ کی دائم تازگی باقی رہے

*

ہے تمنا ہو عطا اقبالؔ کا سوز دروں

آخری دم تک تری حمد و ثنا کرتا رہوں

***


اسماعیل پرواز (ہوڑہ)

ہے گماں پردے کے باہر اور یقیں پردے میں ہے

آپ پر تو چومئے وہ مہہ جبیں پردے میں ہے

*

آپ کتنے زاویوں سے دیکھ سکتے ہیں اسے

عکس اس کا دیکھئے وہ تو مکیں پردے میں ہے

*

کتنی منطق اس میں پوشیدہ ہے کوئی کیا کہے !

سب پہ جو ظاہر ہے وہ پردہ نشیں پردے میں ہے

*

دعویٰ چشم بصیرت کھوکھلا لگنے لگا

جب عقیدت نے کہا دیکھو! یہیں پردے میں ہے

*

ہے انا الحق کی صدا تحت الثریٰ سے عرش تک

جو فلک پر ہے وہی زیر زمیں پردے میں ہے

*

راز تخلیق جہاں جس کن میں ہے پروازؔ وہ

ہے قلندر کی نظر میں یا کہیں پردے میں ہے

***


زاہدہ تقدیسؔ فردوسی (جبلپور)

اے میرے خالق! مرے پروردگار

نطق دل آویز بخشا کر دگار

*

علم کی دولت عطا کی خوب تر

نعمتیں بخشیں مجھے تو نے ہزار

*

شکر ہو کیسے ادا ناچیز سے

لفظ کم احسان تیرے بے شمار

*

قوت گویائی کر مجھ کو عطا

شکر تیرا ہو زباں پر بار بار

*

زندگی کیا جانے کیسے کٹ گئی

ہوں خطاؤں پر نہایت شرمسار

*

دار فانی میں نہیں لگتا ہے دل

دامن دل ہو چکا ہے تار تار

*

دامن عصیاں کے دھبے دھو سکوں

اشک آنکھوں سے رواں ہوں زار زار

*

ہو دم آخر لبوں پر تیرا نام

ختم ہوں تقدیسؔ کے لیل و نہار

***


ڈاکٹر فدا المصطفی فدوی (ساگر)

ترے جلوے ہر طرف ہیں تیری خوشبو چار سو

کس میں ہے تابِ نظارہ تجھ کو دیکھے روبرو

*

دیکھنا ممکن نہیں تجھ کو ان آنکھوں سے مگر

تو نے اپنی دید کی بخشی ہے دل کو آرزو

*

کاروان شوق سرگرداں ہے تیری راہ میں

منزل مقصود تو ہے سب کو تیری جستجو

*

صبح دم غنچے چٹک کر ذکر کرتے ہیں ترا

طائران خوش نوا کرتے ہیں تیری گفتگو

*

حاضر و ناظر ترے ہونے کا عام اقرار ہے

ہر کس و ناکس کے لب پر نعرۂ اللہ ہو

*

کبریائی کا تری کرتے ہیں دل سے اعتراف

عاجزی سے اہل ایماں سر بسجدہ با وضو

*

مل سکی ان کو نہ اپنی روسیاہی سے نجات

تیرے باغی دین و دنیا میں ہوئے کب سرخ رو

*


شک ترے انصاف میں کیونکر ہو قسام ازل

عزت و ذلت بقدر ظرف عطا کرتا ہے تو

*

اک نگاہ لطف کا طالب ہوں میں بھی ساقیا!

مست و بے خود کر مجھے بے منت جام و سبو

*

مجھ پہ بھی برسے ترے عرفان کا ابر کرم

تاکہ تسکین پائے میری روح کا ذوق نمو

*

حق تری حمد و ثنا کا ہو سکا کس سے ادا

بے مثال اپنی صفات و ذات کی خوبی میں تو

*

وقت آخر کلمہ طیب پہ دم نکلے مرا

ساز دل پر گنگنائے بس یہی نغمہ ہو

*

پر معاصی فدویؔ عاصی کو بخشش کا یقین

ہے ترا فرمان محکم آیہِ ’’لاتقنطو‘‘ !

***


طالوت

ڈاکٹر شرف الدین ساحل (ناگپور)

خدائے قادر و عادل!

یہ عہدِ نومزین ہے یقیناً علم و فن سے

*

مگر دراصل یہ عہدِ جہالت ہے

ترقی یافتہ حسنِ تمدن جل رہا ہے

اور عریاں ہو رہا ہے پیکرِ تہذیبِ دوراں

دھماکوں سے مسلط خوف کی ہر سو فضا ہے

*

گلا انسانیت کا گھُٹ رہا ہے

علوم و آگہی بے جان ہو کر رہ گئے ہیں

ہوائے مادیت چل رہی ہے تیز رفتاری سے دنیا میں

رخ روحانیت مرجھا رہا ہے

*

غرور و سرکشی کا رقص پیہم ہو رہا ہے

حقوق انساں کے چھینے جا رہے ہیں

فرائض رو رہے ہیں

ستم جالوت کا اب انتہا پر آ چکا ہے

*

خدائے قادر و عادل!

پھر کسی مفلس کے مسکن سے

کوئی طالوت کر ظاہر

***


فہیم بسمل (شاہجہاں پور)

ہر طرف ہیں تری وحدت کے اجالے یا رب

تیری قدرت کے ہیں قرآں میں حوالے یا رب

*

دل میں آیا ترے دنیا جو بنانے کا خیال

اپنا محبوب بھی لاثانی بنانے کا خیال

*

اولاً نور محمد ؐ کیا پیدا تو نے

ورفعنا لک ذکرک سے نوازا تو نے

*

خلق قدرت سے کیے کتنے ہی عالم تو نے

اور پیدا کیا پھر پیکرِ آدم تو نے

*

تو نے تخلیق کیے چاند ستارے اللہ

بخشے مخلوق کو خوش رنگ نظارے اللہ

*

بحر و بر تیرے، ہوا تیری ہے افلاک ترے

برگ و گل تیرے ہیں بے شک خس و خاشاک ترے

*

میرا ایماں ہے یہی قادرِ مطلق تو ہے

جس کی مرضی سے ہوا ماہِ مبیں شق تو ہے

*


کر دے رحمت کا اک ادنیٰ سا اشارہ معبود

میری قسمت کا بھی چمکا دے ستارا معبود

*

کب سے ہی لطف کو تر سے ہوئے ان ہاتھوں کی

لاج رکھ لے مرے پھیلے ہوئے ان ہاتھوں کی

*

مجھ کو ہر اک کی نگاہوں میں جو عزت بخشے

کاش مجھ کو وہ سلیقہ تری رحمت بخشے

*

ایک مدت سے یہ بسمل ہے پریشاں مولا

اپنی رحمت سے عطا کر اسے خوشیاں مولا

***


مناجات

عرفان پربھنوی (پربھنی)

ترے ہیں تجھی سے کرم مانگتے ہیں

رحم کے ہیں طالب رحم مانگتے ہیں

*

تو ہی ہے عبادت کے لائق خدایا

تجھی سے مدد کے ہیں طالب خدایا

تجھی سے نگاہِ کرم مانگتے ہیں

*

تو ہی دو جہاں کا حقیقی ہے داتا

تو ہی بے نیاز اور یکتا ہے مولا

تو داتا ہے تجھ سے ہی ہم مانگتے ہیں

*

نہ دولت ہی دے اور نہ دے کوئی عہدہ

فقط اپنی رحمت کا دے تھوڑا صدقہ

یہی تجھ سے ہم دم بدم مانگتے ہیں

*

جو تڑپے تیری یاد میں وہ جگر دے

جو دیکھے تجھی کو بس ایسی نظر دے

ملا دے جو تجھ سے وہ غم مانگتے ہیں

*


گنا ہوں پہ اپنے بہت ہوں پشیماں

تو غفار ہے بخش دے ہم کو رحماں

کرم کر کہ تیرا کرم مانگتے ہیں

*

ہو تابع تیرے میری یہ زندگانی

ہر اک حال میں ہو تیری مہربانی

یہی چیز عرفانؔ ہم مانگتے ہیں

***


لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ

رزاق افسر (میسور)

ظہورِ صبح ازل لا الہ الا اللہ

حیات ہو کہ اجل لا الہ الا اللہ

*

ہمارا کل تھا وہی آج بھی وہ ہے اپنا

اصول دیں کا ہے کل لا الہ الا اللہ

*

دلیل وحدت رب لا الہ الا اللہ

مزاج عظمت رب لا الہ الا اللہ

*

طفیل رحمت خیر الانام ہے افسرؔ

سبیل قربت رب لا الہ الا اللہ

*

خدا کا خاص کرم لا الہ الا اللہ

عطائے شاہؐ امم لا الہ الا اللہ

*

سمٹ کے آ گئی ہے جس میں کائنات تمام

ارم سے تابہ حرم لا الہ الا اللہ

*

خدا کا ذکر جلی لا الہ الا اللہ

عروج شان نبیؐ لا الہ الا اللہ

*


جو دل کہ مومنِ شب زندہ دار ہے اس کی

دعائے نیم شبی لا الہ الا اللہ

*

مکاں کا دست ہنر لا الہ الا اللہ

زماں کا زادِ سفر لا الہ الا اللہ

*

مری نظر میں ہے تفسیر آخری اس کی

قرآں کا نام دگر لا الہ الا اللہ

*

مدارِ فکرِ بشر لا الہ الا اللہ

قرارِ قلب و نظر لا الہ الا اللہ

*

نمودِ صبح سے تاروں کی رونمائی تک

ہے سب کا رختِ سفر لا الہ الا اللہ

*

زباں تو میری کہے لا الہ الا اللہ

سمجھ سے پر ہے پرے لا الہ الا اللہ

*

اسی پہ کھلتا ہے افسرؔ یہ بابِ رازِ خفی

جو جان و دل سے پڑھے لا الہ الا اللہ

***


وہ شاہ، سب ہیں گدا، لا الہ الا اللہ

ڈاکٹر نسیم (وارانسی)

وہ شاہ، سب ہیں گدا، لا الہ الا اللہ

ہے کون اس سے بڑا، لا الہ الا اللہ

*

پیامِ غارِ حرا، لا الہ الا اللہ

نبیؐ کی پہلی صدا، لا الہ الا اللہ

*

اذاں کی آئی صدا، لا الہ الا اللہ

تو گونجے ارض و سما، لا الہ الا اللہ

*

کبھی یہ مشعل توحید بجھ نہیں سکتی

چلے کوئی بھی ہوا، لا الہ الا اللہ

*

یہ بحر و بر، یہ زمیں، آسماں یہ شمس و قمر

وہی ہے سب کا خدا، لا الہ الا اللہ

*

یہی وظیفہ ازل سے ہے ساری خلقت کا

ندائے ارض و سما، لا الہ الا اللہ

*

شعاع مہر جو پھوٹی افق سے وقتِ سحر

تو بادلوں پہ لکھا، لا الہ الا اللہ

*


عدو ہے سارا زمانہ تو کیا خدا تو ہے ساتھ

کسی سے خوف نہ کھا، لا الہ الا اللہ

*

تو اژدہوں سے گھرا ہو تو دل میں خوف نہ لا

اٹھا لے اپنی عصا، لا الہ الا اللہ

*

وہی ہے بس، وہی شایان بندگی اے دل

وہی ہے تیرا خدا لا الہ الا اللہ

*

ترا ولی، ترا فریاد رس، ترا معبود

ہے کون اس کے سوا، لا الہ الا اللہ

*

اسے نصیب ہوا اوجِ عبدیت کا مقام

وہ جس نے دل سے پڑھا، لا الہ الا اللہ

*

تری جبیں ہے فقط اس کے سنگِ در کے لیے

اسے کہیں نہ جھکا، لا الہ الا اللہ

*

وہی ہے آسرا ٹوٹی ہوئی امیدوں کا

دکھے دلوں کی صدا، لا الہ الا اللہ

*

تو لوحِ دل پہ رقم کر اسے بہ خطِ جلی

یہی ہے نقشِ شفاء، لا الہ الا اللہ

*


اسی سے چمکے گا آئینہ تیرے باطن کا

یہی ہے دل کی جِلا، لا الہ الا اللہ

*

اسی سے مانگ، تجھے جو بھی مانگنا ہے نسیمؔ

وہی سنے گا دعا، لا الہ الا اللہ

***


محمد شاہد پٹھان (جئے پور)

نگاہ و دل کا نشہ لا الہ الا اللہ

ایاغِ آبِ بقا لا الہ الا اللہ

*

فضائے باغِ بلادِ حجاز میں اول

پیام لائی صبا لا الہ الا اللہ

*

حیات بخش ہے گلزارِ مصطفی کی بہار

کلی کلی کی صدا لا الہ الا اللہ

*

نشاطِ اہلِ وفا عشقِ سرورِ بطحیٰ

طریقِ اہلِ صفا لا الہ الا اللہ

*

سکندری کا نشہ تخت و تاج و حورو قصور

قلندری کی ادا لا الہ الا اللہ

*

جمال حمد و ثنا عشقِ صاحبِ لولاک

جلالِ ذکرِ خدا، لا الہ الا اللہ

*

اسے نصیب ہوئی سرفرازیِ کونین

زباں پہ جس کی رہا لا الہ الا اللہ

*

نگاہِ لطفِ محمد ؐ کا فیض ہے شاہدؔ

ہے ورد صبح و مسا لا الہ الا اللہ

***


محمد ہارون سیٹھ سلیم بنگلوری

ہمیں تیری قدرت پہ ایقان ہے

تو بندوں پہ یا رب مہربان ہے

امڈ کر نہ آئے مری آنکھ سے

مرے دل میں غم کا جو طوفان ہے

پریشانیوں کو مری دور کر

یہ ناچیز بے حد پریشان ہے

تجھے رات دن یاد کرتا ہوں میں

مگر پھر بھی تو ہے کہ انجان ہے

خداوندا دے رستگاری مجھے

مری زندگی ایک زندان ہے

خطاؤں کو بندے کی کر دے معاف

یہ اولاد آدمؑ ہے انسان ہے

***


ڈاکٹر سید ساجد علی (بنگلور)

مدعا ہے میرے دل کا اے مرے پروردگار

ہوں میں نافرمان بندہ اے مرے پروردگار

*

تو نے ہم جن و بشر کو جس لئے پیدا کیا

وہ عبادت ہم سے کروا ے مرے پروردگار

*

بھول کر تیری ڈگر دنیا میں کھوئے ہیں سبھی

اپنی رحمت ہم پہ برسا اے مرے پروردگار

*

ہو نزع کا وقت جب ہم کو نہ کچھ احساس ہو

خیال میں چہرہ ہو شہؐ کا اے مرے پروردگار

*

شہؐ کے صدقے ان دعاؤں کو میری کر لو قبول

کر دو بیڑا پار میرا اے مرے پروردگار

*

بندگی ساجدؔ کی تم برتر پھر اعلیٰ تر کرو

بخش دو جام اس کو ایسا اے مرے پروردگار

***


محمد حسین دلبرؔ ادیبی

تو اپنی رحمتوں کی عطا بے شمار دے

بے چینیاں سمیٹ لے دل کو قرار دے

*

میخانۂ الست میں ٹوٹے نہ جو کبھی

پیمانۂ رسولؐ سے ایسا خمار دے

*

عشقِ رسولؐ جذبۂ صادق لئے ہوئے

یا رب کرم سے امت مسلم پہ وار دے

*

طوفان غم میں کشتیِ مسلم ہے، اے خدا

اپنے کرم سے پھر سر ساحل اتار دے

*

آلودہ پھر کبھی نہ ہو عصیاں کے داغ سے

نورِ نبیؐ سے سینۂ دلبرؔ نکھار دے

***


سلام نجمی (بنگلور)

ہم نہیں کہتے ہمیں شان سلیمانی تو بخش

یہ بھی ہم کہتے نہیں تخت اور سلطانی تو بخش

*

کوئی منصب کوئی عہدہ اور نہ دیوانی تو بخش

ہے ضرورت جس کی اب وہ جذب ایمانی تو بخش

*

یا خدا پھر سے متاع درس قرآنی تو بخش

ہم مسلمانوں کو پھر سچی مسلمانی تو بخش

*

زندگانی کو خدایا خوئے انسانی تو بخش

ذہن و دل کو روح کو توحید افشانی تو بخش

*

صدق، اخلاص و وفا اور عشق لاثانی تو بخش

یعنی یاران نبیؐ کا وصف قربانی تو بخش

*

اقلیت کے فرق کا یا رب نہ ہو ہم کو خیال

دعوت حق کا ہمیں اندازِ فارانی تو بخش

*

ہم مٹا دیں پھر سے یا رب فتنۂ باطل تمام

خالدؓ ایوبیؓ جیسی ہم کو جولانی تو بخش

*


دور کر ملت سے یا رب مسلکی ناچاقیاں

اور دلوں کو جوڑ دے آپس میں اک جانی تو بخش

*

خار زاران وطن کو نیست کر نابود کر

اور یہاں کے ذرے ذرے کو گل افشانی تو بخش

*

پیروی کرنے لگے ہیں ہم سبھی اغیار کی

پھر سے یا رب ہم کو اپنی راہ نورانی تو بخش

*

ہر طرف سے بڑھ رہی ہیں ہر طرح کی مشکلیں

مہربانی ہم پہ فرما اور آسانی تو بخش

*

شعبۂ ہستی ہوا اپنا ہر اک تاریک تر

شعبۂ ہستی کو ہر اک اپنے تابانی تو بخش

*

اس مشینی دور کی جو بے حسی ہے ذوالجلال

بہر رحمت بے حسی کو ذوق روحانی تو بخش

*

جب دیا ہے دل تو درد دل بھی کر ہم کو عطا

یعنی ہم کو درد مندی اور درمانی تو بخش

*

جس میں تو ہی تو ہو رب دل کو وہ آئینہ بنا

اور بصیرت کو ہماری جلوہ سامانی تو بخش

*


میں تری شان کریمی کے تصدق رب مرے

جس سے ملت کا بھلا ہو وہ سخندانی تو بخش

*

شاعر ی میں نعت گوئی ہو مری پہچان خاص

نعت گوئی کو مری ایسی فراوانی تو بخش

*

بندگی کی دے سدا توفیق رب ذوالجلال

اور نجمیؔ کو ترے حمد و ثنا خوانی تو بخش

***


سید طاہر حسین طاہر (ناندیڑ)

ظلمتوں سے نجات دے اللہ

نور والی حیات دے اللہ

*

سب کو کل کائنات دے اللہ

مجھ کو طیبہ کی رات دے اللہ

*

باطلوں سے نباہ کیا ہو گا

اہل ایماں کا ساتھ دے اللہ

*

تیری مخلوق کے جو کام آئے

مجھ میں کچھ ایسی بات دے اللہ

*

حق پرستی میں عمر کٹ جائے

قابل رشک ذات دے اللہ

*

دے ارادوں کو تو ظفریابی

حوصلوں کو ثبات دے اللہ

*

سرخروئی ہو حشر میں جس سے

مجھ میں ایسی صفات دے اللہ

*


میں ہوں حالات کے شکنجے میں

گردشوں سے نجات دے اللہ

*

ہم سے باطل ہے برسر پیکار

دشمن دیں کو مات دے اللہ

*

اس گنہگار کو تو فیض کرم

باعث التفات دے اللہ

*

لکھ رہا ہے تری ثنا طاہرؔ

شاعر ی کو ثبات دے اللہ

***


رجب عمر (ناگپور)

تجھے پسند ہوں ایسے مرے مشاغل کر

حیات میری ہے طوفاں تو اس کو ساحل کر

*

تری طلب میں رہوں ڈھونڈتا پھروں تجھ کو

تو اپنے چاہنے والوں میں مجھ کو شامل کر

*

سنا ہے اب بھی ہیں اصحاب فیل حرکت میں

خدایا ان پہ ابابیل پھر سے نازل کر

*

بہت کٹھن ہے رہ مستقیم پہ چلنا

تو اپنے فضل سے آساں مرے مراحل کر

*

الجھنا خطروں سے بس میں نہیں ہے اب میرے

تو اپنے لطف سے ان کو خدایا باطل کر

***


علیم الدین علیم (کلکتہ)

دل سے نکلے تری ثنا یا رب

میرے لب پہ رہے سدا یا رب

*

آسماں سے زمیں کے سینے تک

جلوہ تیرا ہے جا بہ جا یا رب

*

اپنی قدرت سے سارے عالم کو

زندگی تو نے کی عطا یا رب

*

باغ میں عندلیب ہیں جتنے

گیت گاتے ہیں سب ترا یا رب

*

بے زباں یا زبان والا ہو

سب کو دیتا ہے، تو غذا یا رب

*

درد معصوم کو جو دیتا ہے

کب ملے گی اسے سزا یا رب

*

سرورؐ انبیا کی امت کو

ہے فقط آسرا ترا یا رب

*

مانگتا ہے علیمؔ کیا تجھ سے

سن لے اب اس کی بھی دعا یا رب

***


حسن رضا اطہر (بوکارو سیٹی)

متاع علم و ہنر لازوال دے اللہ

مجھے بلندیِ فکر و خیال دے اللہ

*

گداز و سوزش عشق بلال دے اللہ

شراب عشق مرے دل میں ڈال دے اللہ

*

مرا وجود ہے بے سور اس لئے مجھ سے

وہ کام لے کے زمانہ مثال دے اللہ

*

سروں پہ تان دے حفظ و اماں کی اک چادر

قصور وار ہیں رحمت کی شال دے اللہ

*

خیال سختی محشر سے مرتعش ہے بدن

کوئی نجات کی صورت نکال دے اللہ

*

وفا خلوص کی خوشبو ہی جسم سے پھیلے

سرشت بد نہ کوئی ابتذال دے اللہ

*

تو ہی تو رزاق مطلق ہے مالک و خالق

نبی کے صدقے میں رزق حلال دے اللہ

***


تلک راج پارس (جبل پور)

گداز ریشمی گفت و شنید ہو مولا

متاع ذہن رسا بھی جدید ہو مولا

*

اک ایسا بندہ مرے گھر میں پرورش پائے

جو تیری راہ پہ چل کر شہید ہو مولا

*

جو مرے پاس ہے تاوان ہے سخاوت کا

یہ التفات و عنایت مزید ہو مولا

*

ہمارے ذہن کو عرفان آگہی دے دے

جو نسل نو کے لئے بھی مفید ہو مولا

*

یہ بد نمائی نمائش کبھی نہ کر پائے

جو احتجاج کا جذبہ شدید ہو مولا

*

ہمارے خون کی ہر بوند تیغ بن جائے

نظر کے سامنے جب بھی یزید ہو مولا

*

قبول ساری عبادت ہو روزہ داروں کی

جو تیری مرضی ہے ویسی ہی عید ہو مولا

***


رخشاں ہاشمی (مونگیر)

اس فضا کو نکھار دے یا رب

سب کے دل میں تو پیار دے یا رب

*

نیک رستہ پہ تو چلا سب کو

سب کی دنیا سنوار دے یا رب

*

بندگی تیری بس ہم کرتے رہیں

زندگی با وقار دے یا رب

*

غم کے دن کو گزار لوں ہنس کر

حوصلہ دے اعتبار دے یا رب

*

تنگ پڑ جائے رخشاں ؔ کا دامن

خوشیوں کی تو، بہار دے یا رب

***


رئیس احمد رئیس (بدایوں )

بدی کی راہ سے مجھ کو ہٹا دے یا اللہ

مطیع احمد مرسل بنا دے یا اللہ

*

تمام عمر حقیقت کو یہ بیان کرے

مری زبان کو وہ حوصلہ دے یا اللہ

*

جو میری نسلوں کا اب تک رہی ہے سرمایہ

دلوں میں پھر وہی الفت جگا دے یا اللہ

*

ہر ایک سمت جہالت کا بول بالا ہے

یہاں تو علم کی شمعیں جلا دے یا اللہ

*

تمام شہر میں، میں منفرد نظر آؤں !

تو میری ذات مثالی بنا دے یا اللہ!

*

ہر ایک لمحہ تیرا نام ہو زباں پہ مری!

تو مجھ کو اپنا دیوانہ بنا دے یا اللہ

*

ترے وجود کو تسلیم کر لیں منکر بھی!

کوئی تو معجزہ ایسا دکھا دے یا اللہ

*

تو اپنے پیارے نبیؐ رحمت دو عالم کی

دل رئیسؔ میں الفت جگا دے یا اللہ

***


امیر اللہ عنبر خلیقی (ناگپور)

عرفان و آگاہی پاؤں، حرف ہدایت دے داتا

خود سمجھوں، سب کو سمجھاؤں ایسی صداقت دے داتا

*

رسم جہاں جانی پہچانی، دولت و شہرت آنی جانی

دائم و قائم جو رہ جائے، ایسی عزت دے داتا

*

ظلم و ستم کرنا ہے کس کو، جور و جفا سہنا ہے کس کو

رحم کرے جو انسانوں پر، ایسی مروت دے داتا

*

میں نے ہر خواہش کو چھوڑا، تیری جانب رخ کو موڑا

میں مخلص تیرا بندہ ہوں، رحمت و برکت دے داتا

*

حرص و ہوس کے چلتے جھونکے، دنیا میں مطلب اور دھوکے

اخلاق و اخلاص نبھاؤں، اتنی شرافت دے داتا

*

جھوٹ کا جب ماحول ہوا ہے جھوٹ یہاں انمول ہوا ہے

جگ میں ہمیشہ سچ کہنے کی جرأت و ہمت دے داتا

*

بجلی کوندے محنت کی اور برق بھی کوندے غیرت کی

میری رگ رگ اور لہو میں ایسی حرارت دے داتا

*

کرنے کو اصلاحی خدمت، عنبرؔ کو ابلاغ سے نسبت

ذکر میں کچھ ندرت لانے کو، فکر میں رفعت دے داتا

***


ڈاکٹر قمر رئیس بہرائچی (بہرائچ)

یا رب نبیؐ کے باغ کی قربت نصیب ہو

مجھ کو میری حیات میں جنت نصیب ہو

*

نار سقر سے مجھ کو برأت نصیب ہو

سرکار دو جہاں کی محبت نصیب ہو

*

میدانِ حشر میں جو مرے کام آ سکے

محبوب دو جہاں کی وہ چاہت نصیب ہو

*

غم ہائے روزگار سے تنگ آ چکا ہوں میں

شہر نبیؐ میں مجھ کو سکونت نصیب ہو

*

میں بھی شفیع حشر کا ادنیٰ غلام ہوں

محشر کے روز مجھ کو شفاعت نصیب ہو

*

اچھے برے کی کچھ تو میں تمیز کر سکوں

روشن دماغ، چشم بصیرت نصیب ہو

*

جو سرزمین طیبہ پہ پہنچا سکے ہمیں

یا رب ہمیں وہ قوت و ہمت نصیب ہو

*


بس اتنی التجا ہے مری تجھ سے اے خدا

دیدارِ مصطفی کی اجازت نصیب ہو

*

کوئی قمرؔ رئیس کو کاذب نہ کہہ سکے

بوبکرؓ کی اسے بھی صداقت نصیب ہو

***


بیتاب کیفی (بھوجپور)

ہم پہ ہر وقت عنایت کی نظر ہو یا رب

زندگی نور کے سایہ میں بسر ہو یا رب

*

دل کی گہرائی سے ہر بات زباں تک آئے

ذہن روشن ہو دعاؤں میں اثر ہو یا رب

*

حسن اخلاق و محبت کی عطا ہو دولت

خدمت خلق سے لبریز جگر ہو یا رب

*

ایک پل بھی نہ تری یاد سے دل غافل ہو

بس اسی طرح بسر شام و سحر ہو یا رب

*

ہر طرف آج حوادث کی گھٹا چھائی ہے

اک نظر خاص نوازش کی ادھر ہو یا رب

*

دشمنوں کے لئے ہو درد کا دریا دل میں

دوستوں کو بھی منانے کا ہنر ہو یا رب

*

بخش دے گا تو گنا ہوں کو یقین کامل ہے

قلب صادق سے مناجات اگر ہو یا رب

*


ہاتھ سے دامن تہذیب نہ چھوٹے ہرگز

عدل و انصاف کا ہر معرکہ سر ہو یا رب

*

دیکھ بس ایک دفعہ شہر مدینہ جا کر

زندگانی میں کبھی نیک سفر ہو یا رب

*

بھول کر آئے نہ اس سمت خزاں کا موسم

پھول کی طرح مہکتا ہوا گھر ہو یا رب

*

کج روی پر نہ حسیں قلب کبھی مائل ہو

ہر گھڑی پیش نظر سیدھی ڈگر ہو یا رب

*

جب بھی بیتابؔ مری روح بدن سے نکلے

سامنے سید کونین کا در ہو یا رب

***


عارف حسین افسر (بلندشہری)

یا الٰہی پاک و اعلیٰ تیری ذات

معرفت سے ماوراء تیری صفات

*

بھیج سیدنا محمد ؐ پر سلام

حیثیت سے اپنی برکت اور صلوٰۃ

*

بخش دے یا رب خطاؤں کو مری

خیر میں تبدیل فرما سیّات

*

نفس اور شیطاں کے شر سے دے پناہ

دے بلاؤں اور فتنوں سے نجات

*

کر دئے تیرے حوالے معاملات

میرے رب تو ہی حل المشکلات

***


حبیب سیفی آغاپوری (نئی دہلی)

خالق دو جہاں سن مری التجا

مجھ کو رکھنا فقط اپنے در کا گدا

سب سہارے ہیں دنیا کے جھوٹے خدا

تیری ہی ذات ہے اے خدا ماوریٰ

سارا عالم فنا ہونا ہے ایک دن

میرا ایمان ہے صرف تو ہے بقا

وحدہٗ لاشریک لہٗ، تو ہی تو

کر دیا ہے زباں سے بیاں مدعا

باقی کچھ جان ہے اور یہ ارمان ہے

ساتھ ایمان کے نکلے بس دم مرا

قبر کی ہولناکی سے ڈرتا ہوں میں

کرتا ہوں اس لئے مغفرت کی دعا

لاکھ عاصی ہوں میں تو تو رحمن ہے

در گزر کر دے تو میری بس ہر خطا

کیوں تمنا کروں میں کسی غیر کی

مجھ کو جو بھی ملا تیرے در سے ملا

میری ناکام مسرت کا رکھنا بھرم

تیرے آگے جھکایا ہے پھر سر خدا

***


سیداصغربہرائچی (بھرائچ)

صحرا نورد ہوں تو مجھے شہر ناز دے

تو اپنی رحمتوں سے خدایا نواز دے

*

جی بھر کے تیری حمد و ثنا میں بھی کر سکوں

بھیجا ہے اس جہاں میں تو عمر دراز دے

*

گم ہو گیا ہوں میں بھی گنا ہوں کی بھیڑ میں

پروردگار مجھ کو تو ذوق نماز دے

*

گھر سے چلوں تو طیبہ میں جا کے رکیں قدم

یا رب مرے جنوں کو وہ اوج و فراز دے

*

ہر سنگ و آئینہ کو بھی محسوس کر سکوں

ایماں عطا کیا ہے تو دل بھی گداز دے

*

ذہن رسا پہ جس کے تھا محمود کو بھی ناز

اے کار ساز مجھ وہ تاریخ ساز دے

*

اصغرؔ کے کام آئے جو میدان حشر میں

بس اتنی التجا ہے وہ سامان و ساز دے

***


عبرت بہرائچی (بھرائچ)

( ۱)

خار زاروں کو گلستاں مرے مولیٰ کر دے

ہر طرف دید کا ساماں مرے مولیٰ کر دے

*

دیکھ لوں گنبد خضریٰ کو نظر سے اپنی

یہ بھی پورا مرا ارماں، مرے مولیٰ کر دے

*

میرے دامن میں گنا ہوں کے سوا کچھ بھی نہیں

کچھ عطا دولت ایماں مرے مولیٰ کر دے

*

راہ چلنے نہیں دیتے ہیں گنا ہوں کے سفیر

مشکلیں اب مری آساں مرے مولیٰ کر دے

*

دل کے ہر تیرہ و تاریک صنم خانہ میں

شمع توحید فروزاں مرے مولیٰ کر دے

*

میں بھی ہوں سید کونین ؐ کا اک ادنیٰ غلام

مجھ کو بھی خلد بداماں مرے مولیٰ کر دے

*

نام لیوا نہ رہے ظلم کا دنیا میں کوئی

ایسا جاری کوئی فرماں مرے مولیٰ کر دے

*

آنکھیں پر نم ہیں دوا مانگ رہا ہے عبرتؔ

اس کے اب درد کا درماں مرے مولیٰ کر دے

***


(۲)

ذرہ ذرہ کو ثریا کا تو ہمسر کر دے

قد سے محروم ہیں جو ان کو قد آور کر دے

*

تو اگر چاہے تو خاروں کو گل تر کر دے

ایک ہی پھول سے عالم کو معطر کر دے

*

تیری عظمت تری قدرت سے نہیں کچھ بھی بعید

آگ کو پھول تو قطرہ کو سمندر کر دے

*

کمتری کا اسے احساس نہ ہونے پائے

میرے بھائی کو مرے قد کے برابر کر دے

*

خشک سالی مرے ہونٹوں کی نہیں جاتی ہے

اب تو پیدا مرے ہونٹوں پہ سمندر کر دے

*

تیرگی بڑھتی ہی جاتی ہے مرے سینے کی

نور ایماں سے اسے آج منور کر دے

*

بے پری مجھ کو مدینہ نہیں جانے دیتی

بازوؤں کو تو مرے حاصل شہ پر کر دے

*


مجھ گنہ گار سیہ کار کو اب رب قدیر

باغ جنت میں عطا چھوٹا سا اک گھر کر دے

*

مالک کون و مکاں سن لے دعائے عبرتؔ

اس کے بگڑے ہوئے حالات کو بہتر کر دے

***


ڈاکٹر امین انعامدار (امراؤتی)

(۱)

تو برف کو بھی عطا سوز اور جلن کر دے

تجھے ہے سہل جو احساس کو بدن کر دے

*

اگرچہ حرص غلط ہے مگر مجھے یا رب

حریص علم بنا دے حریص فن کر دے

*

تم اپنی خوبی تقدیر پر نہ اتراؤ

نہ جانے کون سا لمحہ چمن کو بن کر دے

*

سنا ہے آج وہ تشریف لانے والے ہیں

خدائے پاک معطر مرا سخن کر دے

*

شہید عشق ہوں اے خاک یہ خیال رہے

ترا رویہ نہ میلا مرا کفن کر دے

*

بہ طرز ابن رواحہؓ و حضرت حسانؓ

مرے قلم کو مدیح شہ زمن کر دے

***


(۲)

اے خدائے بزرگ و برتر دے

مجھ کو کامل یقین خود پر دے

*

مژدۂ فتح دے شکست کو پھر

پھر زمیں کو وہی بہتر دے

*

پھر ابابیلیں آسماں سے اتار

ان کی چونچوں میں پھر تو کنکر دے

*

یا تو دے دے مصیبتوں سے نجات

یا مرے دل کو اب زمیں کر دے

*

جن کی خوشبو سے دنیا مہک اٹھے

ایسے میری زباں کو اکشر دے

*

زیر ہے اور نہ پیش ہے یہ امینؔ

تو اگر چاہے تو زبر کر دے

***


ڈاکٹر نثار جیراجپوری (اعظم گڑھ)

خدایا دین کی عزت ہو جان سے اوپر

کروں نہ فیصلہ کوئی قرآن سے اوپر

*

اب اور کتنا اٹھائے گی قوم یہ ذلت

دوبارہ کر دے اسے پھر جہان سے اوپر

*

سفینہ ڈوب نہ جائے ہوائیں برہم ہیں

ہواؤں کو تو اٹھا دے بادبان سے اوپر

*

نہ دین پاس ہے اپنے نہ علم ہے نہ ہنر

ہماری زندگی کر دے ڈھلان سے اوپر

*

خدا کا خوف بسائے رہو تصور میں

نہ خود کو رکھو کبھی آسمان سے اوپر

*

نثار دین کی عظمت رہے نگاہوں میں

سدا رکھو اسے دونوں جہان سے اوپر

***


عطا عابدی (بہار)

( ۱)

یا رب چمن زیست کو گلہائے اماں دے

نفرت بھرے ماحول کو الفت کا سماں دے

*

ہم اہل جہاں کے لئے ہوں باعث صد رشک

وہ فکر وہ کردار دے وہ حسن بیاں دے

*

پھر لشکر اغیار ہزیمت سے ہو دوچار

پھر بازوئے ملت کو وہی تاب و تواں دے

*

سجدے کی زمیں نرغۂ اعدا میں ہے اللہ

ایوبیؓ و خالدؓ سا اس امت کو جواں دے

*

انسان کی خدمت ہو مرا مقصد و منصب

وہ حوصلہ وہ قلب دے وہ دست و زباں دے

*

ملت کا ہوں ہم فخر تو ہوں ملک کی ہم شان

توفیق ہمیں خیر کی بے حد و گماں دے

*

ہے دھوپ کا یہ شہر میں بے سایہ ہوں اللہ

سر اپنا چھپانے کو عطاؔ کو بھی مکاں دے

***


(۲)

ہر رنگ نرالا دے، ہر روپ نمایاں دے

یا رب مرے گلشن کو وہ لطف بہاراں دے

*

تو زخم سے واقف ہے تو درد سمجھتا ہے

اس زخم کا مرہم دے اس درد کا درماں دے

*

دنیا کے جو طالب ہیں تو ان سے بچا مجھ کو

جو تجھ سے ملا پائے وہ صحبت انساں دے

*

ہر خوف نکل جائے دل سے مرے دنیا کا

بس ایک تیرا ڈر ہو وہ قوت ایماں دے

*

عصیاں سے بھرا دامن دھل جائے مرا جس سے

وہ ابر کرم دے اور وہ بارش احساں دے

*

جینے کی امنگیں ہوں، پر نور ترنگیں ہوں

اس بزم عطا کو تو وہ شمع فروزاں دے

***


امتیاز احمد عاقل نقشبندی (بھدوہی)

لذت درد مصطفی دے دے

میرے ایمان کو جلا دے دے

*

ہر طرف ظلمتوں کا ڈیرا ہے

میرے مالک مجھے ضیا دے دے

*

راستے سے بھٹک گیا ہوں میں

گم شدہ مجھ کو راستہ دے دے

*

ہو گئی ہے ہماری منزل گم

ہم کو منزل کا تو پتہ دے دے

*

کتنی پستی میں جی رہے ہیں لوگ

بے شعوروں کو یہ پتہ دے دے

*

جو ہے معمور تیری رحمت سے

میرے سر کو وہی ردا دے دے

*

عاقلؔ بے عمل کے دل کو بھی

حب سرکار اے خدا دے دے

***


پروفیسر اقتدار افسرؔ (بھوپال)

مرے اللہ جینے کا ہنر دے

مجھے تو سوز دل سوز جگر دے

*

محبت سے تری معمور وہ ہو

مجھے گرچہ حیات مختصر دے

*

دعائیں ہوں مری مقبول ساری

زباں میں تو مری ایسا اثر دے

*

جلا کر راکھ کر دیں ماسوا کو

تو دل کو عشق کے ایسے شرر دے

*

بنوں پروانۂ شمع رسالت

مجھے تو الفت خیر البشر دے

*

مجھے تو عشق بس اپنا ہی دینا

تو میری کاوشوں کا یہ ثمر دے

*

مقدس ذکر میں تیرے جو گزرے

مجھے وہ روز و شب شام و سحر دے

*


پھروں توحید کی دعوت کو لے کر

مرے اللہ ایسا تو سفر دے

*

تری ہی حمد میں کرتا ہوں افسرؔ

مجھے تو سرخرو عقبیٰ میں کر دے

***


سہیل عالم (کامٹی)

ہو کے مایوس ترے در سے جو خالی جائے

آس کیا لے کے کہیں اور سوالی جائے

*

میں گنہ گار و سیہ کار و خطا کار سہی

مجھ ریاکار کی کچھ راہ نکالی جائے

*

زندگی سے مجھے اتنی ہی تمنا ہے فقط

عشق میں تیرے بہ انداز بلالی جائے

*

مجھ سے لاچار پہ مولا ہو کرم کی بارش

مشکلوں میں مری حالت نہ سنبھالی جائے

*

صرف اخلاص و وفا شرط ہے سائل کیلئے

غیر ممکن ہے کہ در سے ترے خالی جائے

*

آس بس تجھ سے لگائے ہوئے بیٹھا ہے سہیلؔ

دل مغموم کی فریاد نہ ٹالی جائے

***


غلام مرتضیٰ راہی (فتح پور)

پل پل کی میں روداد رقم کرتا چلا جاؤں

صدیوں کے لئے خود کو بہم کرتا چلا جاؤں

*

اٹھ کر ترے در سے مجھے جانا ہو جہاں بھی

محسوس ترا لطف و کرم کرتا چلا جاؤں

*

رکھے مجھے توفیق سبک بار ہمیشہ

احسان کو احسان میں ضم کرتا چلا جاؤں

*

ٹھہروں ترے نزدیک میں کردار کا غازی

پورے میں سبھی قول و قسم کرتا چلا جاؤں

*

دنیا سے مرا فاصلہ بڑھتا رہے چاہے

تجھ سے جو ہے دوری اسے کم کرتا چلا جاؤں

*

ہر آن کوئی تازہ تڑپ رخت سفر ہو

جو زخم ملے سینے میں دم کرتا چلا جاؤں

*

فرق آئے نظر نشو و نما میں مجھے جن کی

ایسی سبھی شاخوں کو قلم کرتا چلا جاؤں

*


آج اس کے چلے جانے کے افسوس میں شامل

کل اپنے نہ رہنے کا بھی غم کرتا چلا جاؤں

*

دریا کی خوشامد نہ کروں پیاس کے ہوتے

ہونٹوں پہ زباں پھیر کے نم کرتا چلا جاؤں

***


اظہار سلیم (مالیگاؤں )

تحت الثریٰ میں قید ہوں باہر نکال دے

سات آسماں کی سیر کروں وہ کمال دے

*

مشعل بدست کوئی نہیں میرے شہر میں

ہر سمت روشنی کا سمندر اچھال دے

*

میں رنگ رنگ پھیل سکوں کائنات پر

قوس قزح کا روپ مجھے بے مثال دے

*

طائر ہوں دھوپ دھوپ جلا ہے مرا وجود

پیڑوں کی سرد چھاؤں ثمر ڈال ڈال دے

*

چار آئینوں کے گھر میں اندھیرا ہے کس قدر

اک تیرا عکس نور مگر لازوال دے

*

طالب ہوں حسن لفظ کا، روشن خیال کا

وصف سخنوری مرے کاسے میں ڈال دے

***


حبیب راحت حباب (کھنڈوہ)

( ۱)

میں کہ تیرا محتاج عنایت یا رب العزت یا رب العزت

کب تک رہوں گا محروم رحمت یا رب العزت یا رب العزت

*

بیت رہی ہے کس مشکل سے، واقف ہے تو حال دل سے

عمر یونہی نہ جائے اکارت یا رب العزت یا رب العزت

*

تجھ سا نہیں کوئی قدرت والا تجھ سا نہیں کوئی حکمت والا

سب تیرے بندے سب تیری خلقت یا رب العزت یا رب العزت

*

رد بلا کر رد بلا کر رد بلا کر رد بلا کر

دور ہو ظلمت دور ہو ظلمت یا رب العزت یا رب العزت

*

ذکر محمد باعث رفعت، عشق محمد تیری عبادت

محمد بھی مدحت نعت بھی مدحت یا رب العزت یا رب العزت

*

رنگ میں تیرے رنگ جائے گا، تیرا یہ راحتؔ تیرے کرم سے

رنگ تو لائے رنگ طبیعت یا رب العزت یا رب العزت

***


(۲)

دلوں کو پہلے تو صبر جمیل دے یا رب

پھر ہجر آشنا لمحہ طویل دے یا رب

*

اب اور کتنا لہو دیں عدو کے خنجر کو

اب اور ظلم کو اتنی نہ ڈھیل دے یا رب

*

ہر اک محاذ پہ نمرود ہیں مقابل میں

ہمیں بھی حوصلہ ہائے خلیل دے یا رب

*

مجھے عصائے کلیمی تو کر عطا پہلے

پھر اس کے بعد تو دریائے نیل دے یا رب

*

سر غرور نہ اونچا ہو تیری عظمت سے

تو اپنے ہونے کی کچھ تو دلیل دے یا رب

*

حبابؔ دیتا ہے اب واسطہ محمد ؐ کا

نہ فاصلے نہ دعا کو فصیل دے یا رب

***


(۳)

پھر میرے قلب و نظر نور سے بھر دے مولا

پھر اٹھا دے یہ حجابات کے پردے مولا

*

ہو چکے راستے مسدود سبھی کوشش کے

اب دعاؤں کو ہی تاثیر و اثر دے مولا

*

آسمانوں کی بلندی تو تجھے زیبا ہے

خاک زاروں کو زمینوں کی خبر دے مولا

*

میرے احباب کے دل اور کشادہ کر دے

مجھ مہاجر کو نہ دیوار نہ در دے مولا

*

ہو تیرے حق و صداقت کا علم بردار حبابؔ

عیب لاکھوں دے اسے ایک ہنر دے مولا

***


ڈاکٹر مسعودجعفری (حیدرآباد)

*

بھڑکتا جا رہا ہے کیوں چراغ دل مرے مولیٰ

بچانا لگ رہا ہے کس لئے مشکل مرے مولیٰ

*

تجھی سے مانگتا ہوں میں سکون دل مرے مولیٰ

بہت ہی دور ٹھہری ہے مری منزل مرے مولیٰ

*

تری تعریف ممکن ہی نہیں ہے کوئی بھاشا میں

کہاں تلگو، کہاں اردو ، کہاں تامل مرے مولیٰ

*

جواب دشمناں لکھوں تو مجھ کو روشنائی دے

رہے گی جرأت اظہار بھی کامل مرے مولیٰ

*

مری ہستی کو حق کی روشنی میں خوب نہلا دے

کھڑے ہیں ہر طرف کردار کے قاتل مرے مولیٰ

*

ترے ہی ذکر سے چلتی رہے یہ سانس کی دنیا

تری ہی یاد میں ڈوبا رہے یہ دل مرے مولیٰ

*

کہاں ہیں جعفریؔ کے پاس تخت و تاج عالم کے

کھڑی ہے آج بھی کشتی اب ساحل مرے مولیٰ

***


رحمت اللہ راشد احمدآبادی (ناگپور)

یہی ہے التجا یا رب، ہدایت بھیک میں دے دے

اطاعت بھیک میں دے دے، عقیدت بھیک میں دے دے

*

تری شان کریمی کا، تجھے ہے واسطہ یا رب

رسول پاک کی مجھ کو محبت بھیک میں دے دے

*

ترے محبوب کے در کے گداؤں کا گدا ہوں میں

حکومت وقت پر کرنے کی طاقت بھیک میں دے دے

*

رگوں میں خون کی گردش ہمیشہ ورد کرتی ہے

مجھے شبیر کا طرز عبادت بھیک میں دے دے

*

ترے محبوب سے بھی اب مخاطب ہو کے کہنا ہے

مرے آقا شفاعت کی ضمانت بھیک میں دے دے

*

تجھے ہے حیدر کرار کا بھی واسطہ یا رب؟

شجاعت بھیک میں دے دے کرامت بھیک میں دے دے

*

سزا وار ثنا و حمد، اے اللہ راشدؔ کو

تو اپنی مدح کرنے کی اجازت بھیک میں دے دے

***


سیدابرارنغمیؔ (رائے سین)

غرور کج کلاہی سے بچا لے

خدارا کم نگاہی سے بچا لے

*

نہ ہو انصاف پر بنیاد جس کی

تو ایسی بادشاہی سے بچا لے

*

جو باطن میں ہو عصیاں کا سمندر

وہ ظاہر بے گناہی سے بچا لے

*

جہاں ہر شہر ہو مقتل کا منظر

تو اس عالم پناہی سے بچا لے

*

عطا نغمیؔ کو ہو عشق محمد ؐ

مزاج خانقاہی سے بچا لے

***


ہارون رشید عادل (کامٹی)

میرے خدا تیری رضا

چا ہوں میں کیا اس کے سوا

*

عاصی ہوں میں بندہ تیرا

تو بخش دے میری خطا

*

گمراہ ہوں رستہ دکھا

تو قہر سے اپنے بچا

*

ہر چیز پر غلبہ تیرا

قدرت تری ہے بے پناہ

*

بے شک ہے توسب سے جدا

سجدہ ہے بس تجھ کو روا

*

مجھ کو ملےتیری پناہ

اس سے بھلابہتر ہو کیا

عادلؔ کی ہےبس یہ دعا

***


عبد المجید کوثر (مالیگاؤں )

زندگی اک سوال ہے ربی

آپ اپنی مثال ہے ربی

*

ایسی بپتا پڑی ہے اب مجھ پر

سانس لینا محال ہے ربی

*

اتنا ٹوٹا ہوں ایسا بکھرا ہوں

میرا جڑنا محال ہے ربی

*

ہائے دنیا کی سب کتابوں میں

لفظ انساں کا، کال ہے ربی

*

کیسے موتی نکالوں ساگر سے

قطرے قطرے پہ جال ہے ربی

*

حال کہتے تھے دل سے ہم لیکن؟

وہ بھی پائمال ہے ربی

*************


فہرست

سورۂ الفاتحہ ۴

(آزاد منظوم ترجمہ) ۴

امتیاز الدین خان ۴

حمد ۵

حضرت ادیب مالیگانوی مرحوم ۵

(۱) ۵

(۲) ۷

(۳) ۸

حمد ۹

الحاج حکیم رازیؔ ادیبی (پونہ) ۹

حمد ۱۰

ڈاکٹر قمر رئیس بہرائچی (بہرائچ) ۱۰

حمد ۱۲

قیصر شمیم (کولکتہ) ۱۲

حمد ۱۳

قیصر شمیم (کولکتہ) ۱۳

حمد ۱۴

ڈاکٹر زبیر قمر دیگلوری (دیگلور) ۱۴


محمد ہارون سیٹھ سلیم (بنگلور) ۱۵

ڈاکٹر فیض اشرف فیض (اکبرآبادی) ۱۷

یونس انیس (ناگپور) ۱۹

ظفر کلیم (ناگپور) ۲۰

کرشن کمار طور (پنجاب) ۲۱

ڈاکٹر شرف الدین ساحلؔ ۲۲

( ۱) ۲۲

( ۲) ۲۳

( ۳) ۲۴

مدہوش بلگرامی (ہردوئی) ۲۶

سیدطاہرحسین طاہر (ناندیٹر) ۲۸

رہبر جونپوری(بھوپال) ۳۰

محفوظ اثر (ناگپور) ۳۲

عرش صہبائی (جموں ) ۳۳

(۱) ۳۳

(۲) ۳۵

اللہ ھو ۳۷

افضل علی حیدری (ناگپور) ۳۷

حبیب راحت حباب (کھنڈوہ) ۳۹

(۱) ۳۹


(۲) ۴۰

اختر بیکانیری ۴۱

رحمتِ الٰہی ۴۲

ڈاکٹر شرف الدین ساحلؔ ۴۲

شبیر آصف (مالیگاؤں ) ۴۷

صالحؔ بن تابش (مالیگاؤں ) ۴۸

سلیم شہزاد (مالیگاؤں ) ۴۹

ڈاکٹر معین الدین شاہین (بیکانیر) ۵۰

بیتاب کیفی (بھوجپور) ۵۲

ڈاکٹر مقبول احمد مقبول (اودگیر) ۵۴

حمد باری تعالیٰ ۵۵

فرید تنویر (ناگپور) ۵۵

پروردگار دیتا ہے ۵۷

نور منیری (پونہ) ۵۷

راج پریمی (بنگلور) ۵۹

امیر اللہ عنبر خلیقی (ناگپور) ۶۰

ڈاکٹر بختیار نواز (بجرڈیہہ) ۶۱

حمد باری تعالیٰ ۶۲

یونس انیس (ناگپور) ۶۲

حمد ربِ کائنات ۶۴


کیفی اسماعیلی (کامٹی) ۶۴

احمدرئیس (کلکتہ) ۶۶

محمد افضل خان (ہوڑہ) ۶۷

رزاق افسر (میسور) ۶۸

نظیر احمد نظیر (کامٹی) ۶۹

طالب صدیقی (کلکتہ) ۷۰

رخشاں ہاشمی (مونگیر) ۷۱

صابر فخر الدین (یادگر) ۷۲

صابر فخر الدین (یادگر) ۷۳

علیم الدین علیم (کلکتہ) ۷۴

حیدر علی ظفر دیگلوری ۷۵

حامد رضوی حیدرآبادی ۷۶

سکندر عرفان (کھنڈوہ) ۷۷

صابر جوہری (بھدوہی) ۷۸

(۱) ۷۸

(۲) ۸۰

محمد نصراللہ نصرؔ (ہاوڑہ) ۸۱

( ۱) ۸۱

(۲) ۸۲

مشرف حسین محضر (علی گڑھ) ۸۳


مراق مرزا (بمبئی) ۸۴

رحمت اللہ راشد احمدآبادی (ناگپور) ۸۵

حافظ اسرارسیفی (آرہ) ۸۶

شاغل ادیب (حیدرآباد) ۸۷

فراغ روہوی (کلکتہ) ۸۸

خضر ناگپوری (ناگپور) ۸۹

بولو وہ کون ہے ؟ ۹۱

ڈاکٹر منشاء الرحمن خان منشاء (ناگپور) ۹۱

محسن باعشن حسرت (کلکتہ) ۹۳

ڈاکٹر شرف الدین ساحلؔ ۹۵

(۱) ۹۵

(۲) ۹۶

(۳) ۹۷

(۴) ۹۸

فرید تنویر (ناگپور) ۹۹

منظورالحسن منظور (پونہ) ۱۰۰

حمد باری تعالیٰ جل شانہٗ ۱۰۲

بختیار مشرقی (اورئی) ۱۰۲

دوہا حمد ۱۰۶

عاجز ہنگن گھاٹی (ہنگن گھاٹ) ۱۰۶


حمدیہ ماہیے ۱۰۷

مدہوش بلگرامی (ہردوئی) ۱۰۷

راہی صدیقی (ہردوئی) ۱۰۹

منصور اعجاز (آکولہ) ۱۱۲

تخلیق کائنات ۱۱۳

منصور اعجاز (آکولہ) ۱۱۳

حمد ۱۱۵

حشمت کمال پاشاؔ (کلکتہ) ۱۱۵

اللہ تعالیٰ ۱۱۷

حشمت کمال پاشاؔ (کلکتہ) ۱۱۷

تحفہ حمد بحضور خالق کائنات ۱۱۸

خان حسنین عاقبؔ (پوسد) ۱۱۸

ارشاد خان ارشاد (ممبرا۔ ممبئی) ۱۲۱

الیاس احمد انصاری شادابؔ (آکولہ) ۱۲۲

عرفان پربھنوی ۱۲۳

گوہر تری کروی (میسور) ۱۲۴

اسماعیل پرواز (ہوڑہ) ۱۲۵

زاہدہ تقدیسؔ فردوسی (جبلپور) ۱۲۶

ڈاکٹر فدا المصطفی فدوی (ساگر) ۱۲۷

طالوت ۱۲۹


ڈاکٹر شرف الدین ساحل (ناگپور) ۱۲۹

فہیم بسمل (شاہجہاں پور) ۱۳۰

مناجات ۱۳۲

عرفان پربھنوی (پربھنی) ۱۳۲

لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ ۱۳۴

رزاق افسر (میسور) ۱۳۴

وہ شاہ، سب ہیں گدا، لا الہ الا اللہ ۱۳۶

ڈاکٹر نسیم (وارانسی) ۱۳۶

محمد شاہد پٹھان (جئے پور) ۱۳۹

محمد ہارون سیٹھ سلیم بنگلوری ۱۴۰

ڈاکٹر سید ساجد علی (بنگلور) ۱۴۱

محمد حسین دلبرؔ ادیبی ۱۴۲

سلام نجمی (بنگلور) ۱۴۳

سید طاہر حسین طاہر (ناندیڑ) ۱۴۶

رجب عمر (ناگپور) ۱۴۸

علیم الدین علیم (کلکتہ) ۱۴۹

حسن رضا اطہر (بوکارو سیٹی) ۱۵۰

تلک راج پارس (جبل پور) ۱۵۱

رخشاں ہاشمی (مونگیر) ۱۵۲

رئیس احمد رئیس (بدایوں ) ۱۵۳


امیر اللہ عنبر خلیقی (ناگپور) ۱۵۴

ڈاکٹر قمر رئیس بہرائچی (بہرائچ) ۱۵۵

بیتاب کیفی (بھوجپور) ۱۵۷

عارف حسین افسر (بلندشہری) ۱۵۹

سیداصغربہرائچی (بھرائچ) ۱۶۱

عبرت بہرائچی (بھرائچ) ۱۶۲

( ۱) ۱۶۲

(۲) ۱۶۳

ڈاکٹر امین انعامدار (امراؤتی) ۱۶۵

(۱) ۱۶۵

(۲) ۱۶۶

ڈاکٹر نثار جیراجپوری (اعظم گڑھ) ۱۶۷

عطا عابدی (بہار) ۱۶۸

( ۱) ۱۶۸

(۲) ۱۶۹

امتیاز احمد عاقل نقشبندی (بھدوہی) ۱۷۰

پروفیسر اقتدار افسرؔ (بھوپال) ۱۷۱

سہیل عالم (کامٹی) ۱۷۳

غلام مرتضیٰ راہی (فتح پور) ۱۷۴

اظہار سلیم (مالیگاؤں ) ۱۷۶


حبیب راحت حباب (کھنڈوہ) ۱۷۷

( ۱) ۱۷۷

(۲) ۱۷۸

(۳) ۱۷۹

ڈاکٹر مسعودجعفری (حیدرآباد) ۱۸۰

رحمت اللہ راشد احمدآبادی (ناگپور) ۱۸۱

سیدابرارنغمیؔ (رائے سین) ۱۸۲

ہارون رشید عادل (کامٹی) ۱۸۳

عبد المجید کوثر (مالیگاؤں ) ۱۸۴