یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


میرا حسین تیرا حسین

ماخذ: اردو کی برقی کتاب

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید


فیض احمد فیض

رات آئی ہے شبّیر پہ یلغارِ بلا ہے

ساتھی نہ کوئی یار نہ غمخوار رہا ہے

مونِس ہے تو اِک درد کی گھنگھور گھٹا ہے

مُشفِق ہے تو اک دل کے دھڑکنے کی صدا ہے

٭

تنہائی کی، غربت کی، پریشانی کی شب ہے

یہ خانۂ شبّیر کی ویرانی کی شب ہے

٭٭

دشمن کی سپہ خواب میں‌ مدہوش پڑی تھی

پل بھر کو کسی کی نہ اِدھر آنکھ لگی تھی

ہر ایک گھڑی آج قیامت کی گھڑی تھی

یہ رات بہت آلِ محمّد پہ کڑی تھی

٭

رہ رہ کے بُکا اہلِ‌حرم کرتے تھے ایسے

تھم تھم کے دِیا آخرِ شب جلتا ہے جیسے

٭٭


اِک گوشے میں‌ ان سوختہ سامانوں‌ کے سالار

اِن خاک بسر، خانماں ویرانوں‌ کے سردار

تشنہ لب و درماندہ و مجبور و دل افگار

اِس شان سے بیٹھے تھے شہِ لشکرِ احرار

٭

مسند تھی، نہ خلعت تھی، نہ خدّام کھڑے تھے

ہاں‌ تن پہ جدھر دیکھیے سو زخم سجے تھے

٭٭

کچھ خوف تھا چہرے پہ نہ تشویش ذرا تھی

ہر ایک ادا مظہرِ تسلیم و رضا تھی

ہر ایک نگہ شاہدِ اقرارِ وفا تھی

ہر جنبشِ لب منکرِ دستورِ جفا تھی

٭

پہلے تو بہت پیار سے ہر فرد کو دیکھا

پھر نام خدا کا لیا اور یوں ہوئے گویا

٭٭


الحمد قریب آیا غمِ عشق کا ساحل

الحمد کہ اب صبحِ شہادت ہوئی نازل

بازی ہے بہت سخت میانِ حق و باطل

وہ ظلم میں‌کامل ہیں تو ہم صبر میں ‌کامل

٭

بازی ہوئی انجام، مبارک ہو عزیزو

باطل ہُوا ناکام، مبارک ہو عزیزو

٭٭

پھر صبح کی لَو آئی رخِ پاک پہ چمکی

اور ایک کرن مقتلِ خونناک پہ چمکی

نیزے کی انی تھی خس و خاشاک پہ چمکی

شمشیر برہنہ تھی کہ افلاک پہ چمکی

٭

دم بھر کے لیے آئینہ رُو ہو گیا صحرا

خورشید جو ابھرا تو لہو ہو گیا صحرا

٭٭


پر باندھے ہوئے حملے کو آئی صفِ‌ اعدا

تھا سامنے اِک بندۂ حق یکّہ و تنہا

ہر چند کہ ہر اک تھا اُدھر خون کا پیاسا

یہ رُعب کا عالم کہ کوئی پہل نہ کرتا

٭

کی آنے میں ‌تاخیر جو لیلائے قضا نے

خطبہ کیا ارشاد امامِ شہداء نے

٭٭

فرمایا کہ کیوں در پۓ ‌آزار ہو لوگو

حق والوں ‌سے کیوں ‌برسرِ پیکار ہو لوگو

واللہ کہ مجرم ہو، گنہگار ہو لوگو

معلوم ہے کچھ کس کے طرفدار ہو لوگو

٭

کیوں ‌آپ کے آقاؤں‌ میں ‌اور ہم میں ‌ٹھنی ہے

معلوم ہے کس واسطے اس جاں پہ بنی ہے

٭٭


سَطوت نہ حکومت نہ حشم چاہیئے ہم کو

اورنگ نہ افسر، نہ عَلم چاہیئے ہم کو

زر چاہیئے، نے مال و دِرم چاہیئے ہم کو

جو چیز بھی فانی ہے وہ کم چاہیئے ہم کو

٭

سرداری کی خواہش ہے نہ شاہی کی ہوس ہے

اِک حرفِ یقیں، دولتِ ایماں‌ ہمیں‌ بس ہے

٭٭

طالب ہیں ‌اگر ہم تو فقط حق کے طلبگار

باطل کے مقابل میں‌ صداقت کے پرستار

انصاف کے، نیکی کے، مروّت کے طرفدار

ظالم کے مخالف ہیں‌ تو بیکس کے مددگار

٭

جو ظلم پہ لعنت نہ کرے، آپ لعیں ہے

جو جبر کا منکر نہیں ‌وہ منکرِ‌ دیں ‌ہے

٭٭


تا حشر زمانہ تمہیں مکّار کہے گا

تم عہد شکن ہو، تمہیں غدّار کہے گا

جو صاحبِ دل ہے، ہمیں ‌ابرار کہے گا

جو بندۂ‌ حُر ہے، ہمیں‌ احرار کہے گا

٭

نام اونچا زمانے میں ‌ہر انداز رہے گا

نیزے پہ بھی سر اپنا سرافراز رہے گا

٭٭

کر ختم سخن محوِ‌ دعا ہو گئے شبّیر

پھر نعرہ زناں محوِ وغا ہو گئے شبیر

قربانِ رہِ صدق و صفا ہو گئے شبیر

خیموں میں‌ تھا کہرام، جُدا ہو گئے شبیر

٭

مرکب پہ تنِ پاک تھا اور خاک پہ سر تھا

اِس خاک تلے جنّتِ ‌فردوس کا در تھا

٭٭٭


سوگواران حُسین سے خطاب

جوش ملیح آبادی

اِنقلابِ تُند خُو جس وقت اُٹھائے گا نظر

کَروٹیں لے گی زمیں، ہوگا فلک زیر و زبر

٭

کانپ کر ہونٹوں پر آ جائے گی رُوحِ بحر و بر

وقت کا پیرانہ سالی سے بھڑک اُٹھے گا سر

٭

موت کے سیلاب میں ہر خشک و تر بہہ جائے گا

ہاں مگر نامِ حسین علیہ السلام ابن علیؓ رہ جائے گا

٭

کون؟ جو ہستی کے دھوکے میں نہ آیا، وہ حسینؓ

سَر کٹا کر بھی نہ جس نے سر جھکایا ، وہ حسینؓ

٭

جس نے مر کر غیرتِ حق کو جِلایا، وہ حسینؓ

موت کا منہ دیکھ کر جو مُسکرایا، وہ حسینؓ

٭

کانپتی ہے جس کی پیری کو جوانی دیکھ کر

ہنس دیا جو تیغِ قاتل کی رَوانی دیکھ کر

٭


ہاں نگاہِ غور سے دیکھ اے گروہِ مومنیں!

جا رہا ہے کربلا خیرالبشر کا جانشیں

٭

آسماں ہے لرزہ بر اندام، جنبش میں زمیں

فرق پر ہے سایہ افگن شہپرِ روح الامیں

٭

اے شگوفو،السَّلام، اے خفتہ کلیو الوداع

اے مدینے کی نظر افروز گلیو الوداع

٭

ہوشیار، اے ساکت و خاموش کُوفے! ہوشیار

آرہے ہیں دیکھ وہ اعدا قطار اندر قطار

٭

ہونے والی ہے کشاکش درمیانِ نور و نار

اپنے وعدوں پر پہاڑوں کی طرح رہ استوار

٭

صبح قبضہ کر کے رہتی ہے اندھیری رات پر

جو بہادر ہیں، اَڑے رہتے ہیں اپنی بات پر

٭


لُو کے جھکّڑ چل رہے ہیں، غیظ میں ہے آفتاب

سُرخ ذرّوں کا سمندر کھا رہا ہے پیچ و تاب

٭

تشنگی، گَرمی، تلاطُم، آگ، دہشت، اضطراب

کیوں مسلمانو! یہ منزل، اور آلِ بُو تراب ؓ

٭

کس خطا پر تم نے بدلے ان سے گن گن کے لیئے

فاطمہؓ نے ان کو پالا تھا اسی دن کے لیئے؟

٭

لو وہ مقتل کا سَماں ہے، وہ حریفوں کی قطار

بہ رہی ہے نہر لو وہ سامنے بیگانہ وار

٭

وہ ہوا اسلام کا سرتاج مَرکب پر سَوار

دھوپ میں وہ برق سی چمکی، وہ نکلی ذوالفقار

٭

آ گئی رَن میں اجل، تیغ دو دَم تولے ہوئے

جانبِ اعدا بڑھا دوزخ وہ منہ کھولے ہوئے

٭


دُور تک ہلنے لگی گھوڑوں کی ٹاپوں سے زمیں

کوہ تھرّانے لگے، تیورا گئی فوجِ لعین

٭

زد پر آ کر کوئی بچ جائے، نہیں، ممکن نہیں

لُو حسین ابن علیؓ نے وہ چڑھا لی آستیں

٭

آستیں چڑھتے ہی خونِ ہاشمی گرما گیا

ناخدا! ہشیار، دریا میں تلاطُم آگیا

٭

ظُہر کے ہنگام، کچھ جھکنے لگا جب آفتاب

ذوقِ طاعت نے دلِ مولیٰ میں کھایا پیچ و تاب

٭

آ کے خیمے سے کسی نے دوڑ کر تھامی رکاب

ہو گئی بزمِ رسالت میں امامت باریاب

٭

تشنہ لب ذرّوں پہ خُونِ مشکبو بہنے لگا

خاک پر اسلام کے دل کا لَہُو بہنے لگا

٭


آفرین چشم و چراغِ دُود مانِ مصطفیٰؐ

آفرین صد آفرین و مرحبا صد مرحبا

٭

مرتبہ انسان کو تو نے دوبالا کر دیا

جان دے کر، اہلِ دل کو تو سبق یہ دے گیا

٭

کشتیِ ایمان کو خونِ دل میں کھپنا چاہئے

حق پہ جب آنچ آئے تو یوں جان دینا چاہئے

٭

اے مُحیطِ کربلا! اے ارضِ بے آب و گیاہ

جراتِ مردانۂ شبیرؓ کی رہنا گواہ!

٭

حشر تک گونجے گا تجھ میں نعرہ ہائے لا الہ

کج رہے گی فخر سے فرقِ رسالت پر کُلاہ

٭

یہ شہادت اک سبق ہے حق پرستی کے لیئے

اک ستونِ روشنی ہے بحرِ ہستی کے لیئے

٭


تُم سے کچھ کہنا ہے اب اے سوگوارانِ حسینؓ

یاد بھی ہے تم کو تعلیمِ امامِ مشرقین؟

٭

تا کُجا بھولے رہو گے غزوۂ بدر و حنین؟

کب تک آخر ذاکروں کے تاجرانہ شورشین؟

٭

ذاکروں نے موت کے سانچے میں دل ڈھالے نہیں

یہ شہیدِ کربلا کے چاہنے والے نہیں

٭

کہہ چکا ہوں بار بار، اور اب بھی کہتا ہوں یہی

مانعِ شیون نہیں میرا پیغامِ زندگی

٭

لیکن اتنی عرض ہے اے نو اسیرِ بُزدلی

اپنی نبضوں میں رواں کر خونِ سر جوشِ علیؓ

٭

ابنِ کوثر! پہلے اپنی تلخ کامی کو تو دیکھ

اپنے ماتھے کی ذرا مُہرِ غلامی کو تو دیکھ

٭


جس کو ذِلّت کا نہ ہو احساس وہ نامرد ہے

ننگِ پہلو ہے وہ دل جو بے نیازِ درد ہے

٭

حق نہیں جینے کا اُس کو جس کا، چہرہ زرد ہے

خود کشی ہے فرض اُس پر، خون جس کا سرد ہے

٭

وقتِ بیداری نہ غالب ہو سکے جو نَوم پر

لعنت ایسی خُفتہ ملّت پر، تُف ایسی قوم پر!

٭

زندہ رہنا ہے تو میرِ کارواں بن کر رہو

اس زمیں کی پستیوں میں آسماں بن کر رہو

٭

دورِ حق ہو تو نسیمِ بوستاں بن کر رہو

عہدِ باطل ہو تو تیغِ بے اماں بن کر رہو

٭

دوستوں کے پاس آؤ نور پھیلاتے ہوئے

دُشمنوں کی صف سے گزرو آگ برساتے ہوئے

٭


دورِ محکومی میں راحت کفر، عشرت، ہے حرام

مہ وشوں کی چاہ، ساقی کی محبت ہے حرام

٭

علم ناجائز ہے، دستارِ فضیلت ہے حرام

انتہا یہ ہے غُلاموں کی عبادت ہے حرام

٭

کوئے ذلّت میں، ٹھہرنا کیا، گزرنا بھی ہے حرام

صرف جینا ہی نہیں، اس طرح مرنا بھی ہے حرام

٭٭٭


حفیظ جالندھری

لباس ہے پھٹا ہوا ،غبار میں اٹا ہوا

تمام جسمِ نازنیں چھدا ہوا کٹا ہوا

یہ کون ذی وقار ہے بلا کا شہ سوار ہے

کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا

٭

یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورِ عین ہے

٭٭

یہ جس کی ایک ضرب سے ، کمالِ فنِ حرب سے

کئی شقی گرئے ہوئے تڑپ رہے ہیں کرب سے

غضب ہے تیغ دوسرا کہ ایک ایک وار پر

اٹھی صدائے الاماں زبان شرق و غرب سے

٭

یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورِ عین ہے

٭٭

عبا بھی تار تار ہے تو جسم بھی فگار ہے

زمین بھی تپی ہوئی ، فلک بھی شعلہ بار ہے

مگر یہ مردِ تیغ زن یہ صف شکن فلک فگن

کمالِ صبر و تن دہی سے محو کارزار ہے

٭

یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورِ عین ہے

٭٭


دلاوری میں فرد ہے بڑا ہی شیر مرد ہے

کہ جسکے دبدبے سے دشمنوں کا رنگ زرد ہے

حبیبِ مصطفی ہے مجاہدِ خدا ہے یہ

کہ جس طرف اٹھی ہے تیغ بس خدا کا نام ہے

٭

یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورِ عین ہے

٭٭

اُدھر سیاہ شام ہے ہزار انتظام ہے

اُدھر ہیں دشمنانِ دیں ادھر فقط امام ہے

مگر عجیب شان ہے غضب کی آن بان ہے

کہ جس طرف اُٹھی ہے تیغ بس خدا کا نام ہے

٭

یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورِ عین ہے

٭٭٭


سلام اُس پر

احمد فراز

حسین

اے میرے سر بریدہ

بدن دریدہ

سدا ترا نام برگزیدہ

میں کربلا کے لہو لہو دشت میں تجھے

دشمنوں کے نرغے میں

تیغ در دست دیکھتا ہوں

میں دیکھتا ہوں

کہ تیرے سارے رفیق

سب ہمنوا

سبھی جانفروش

اپنے سروں کی فصلیں کٹا چکے ہیں

گلاب سے جسم اپنے خوں میں نہا چکے ہیں

ہوائے جانکاہ کے بگولے

چراغ سے تابناک چہرے بجھا چکے ہیں

مسافرانِ رہِ وفا، لٹ لٹا چکے ہیں


اور اب فقط تُو

زمین کے اس شفق کدے میں

ستارۂ صبح کی طرح

روشنی کا پرچم لیے کھڑا ہے

٭

یہ ایک منظر نہیں ہے

اک داستاں کا حصہ نہیں ہے

اک واقعہ نہیں ہے

یہیں سے تاریخ

اپنے تازہ سفر کا آغاز کر رہی ہے

یہیں سے انسانیت

نئی رفعتوں کو پرواز کر رہی ہے

٭

میں آج اسی کربلا میں

بے آبرو ۔۔۔۔ نگوں سر

شکست خوردہ خجل کھڑا ہوں

جہاں سے میرا عظیم ہادی

حسین کل سرخرو گیا ہے

٭


میں جاں بچا کر

فنا کے دلدل میں جاں بلب ہوں

زمین اور آسمان کے عزّ و فخر

سارے حرام مجھ پر

وہ جاں لٹا کر

منارۂ عرش چھو گیا ہے

٭

سلام اُس پر

سلام اُس پر

٭٭٭


قتیل شفائی

سلام اس پر کہ سب انسانیت جس سے شناسا ہے

پسر ہے جو علی کا اور محمّد کا نواسہ ہے

٭

تضاداتِ مشیت دیکھئے، اس کے حوالے سے

جو اپنی ذات میں ہے اک سمندر، اور پیاسا ہے

٭

برہنہ سر، لٹی املاک اور کچھ راکھ خیموں کی

مدینے کے سفر کا بس اتنا سا ہی اثاثہ ہے

٭

علی اصغر تکے جاتے ہیں اس عالم کو حیرت سے

نہ لوری پیاری امّاں کی، نہ بابا کا دلاسہ ہے

٭

کسی نے سر کٹایا اور بیعت کی نہ ظالم کی

سنی تھی جو کہانی، اس کا اتنا سا خلاصہ ہے

٭

نہ مانگا خوں بہا اپنا خدا سے روزِ محشر بھی

مگر نانا کی امّت کے لیے ہاتھوں میں کاسہ ہے

٭


قتیل اب تجھ کو بھی رکھنا ہے اپنا سر ہتھیلی پر

کہ تیرے شہر کا ماحول بھی اب کربلا سا ہے

٭

قتیل اس شخص کی تعظیم کرنا فرض ہے میرا

جو صورت اور سیرت میں محمّد مصطفٰی سا ہے

٭٭٭


عبدالحمید عدم

تھا کربلا کو ازل سے جو انتظارِ حُسین

وہیں تمام ہوئے جملہ کاروبارِ حسین

٭

دکانِ صدق نہ کھولو، اگر نہیں توفیق

کہ جاں چھڑک کے نکھرتا ہے کاروبارِ حسین

٭

وہ ہر قیاس سے بالا، وہ ہر گماں سے بلند

درست ہی نہیں اندازۂ شمارِ حسین

٭

کئی طریقے ہیں یزداں سے بات کرنے کے

نزولِ آیتِ تازہ ہے یادگارِ حسین

٭

وفا سرشت بہتّر نفوس کی ٹولی

گئی تھی جوڑنے تاریخِ زر نگارِ حسین

٭٭٭


علی سردار جعفری

آتا ہے کون شمع امامت لئے ہوئے

اپنے جلوے میں فوج ہدایت لئے ہوئے

٭

ہاتھوں جام سرخ شہادت لئے ہوئے

لب دعائے بخش امت لئے ہوئے

٭

پھیلی بو فضا میں شہہ مشرقین کی

آتی ہے کربلا میں سواری حسین کی

٭

زہرا بھی ساتھ ہیں حسن مجتبیٰ بھی ساتھ

جعفر بھی ساتھ ہیں مشکل کشا بھی ساتھ

٭

حمزہ بھی ساتھ ہیں جناب رسول خدا بھی ساتھ

تنہا نہیں حسین کہ ہیں انبیاء بھی ساتھ

٭

شور درود اٹھتا ہے سارے جہان سے

برسا رہا ہے پھو ل ملک آسمان سے

٭


گھوڑے پہ آگے آگے ہیں خود شیر کربلا

ہیں گرد سب عزیز و رفیقان با وفا

٭

ابرار و پاک ہیں و حق آگاہ و پارسا

پھیلی ہوئی ہے چہروں کے چاروں طرف ضیاء

٭

پورے بہار پر ہے گلستاں بتول کا

چھوٹا سا قافلہ ہے یہ آل رسول کا

٭

بر میں قبائیں سر پہ عمامے بندھے ہوئے

تیغیں کمر میں پہلو میں خنجر لگے ہوئے

٭

دانتوں میں ہونٹ رانوں گھوڑے جمے ہوئے

بازو بھرے بھرے ہوئے سینے تنے ہوئے

٭

کمسن ہیں کچھ ضعیف ہیں کچھ نوجوان ہیں

پیشانیوں پہ سجدۂ حق کے نشان ہیں

٭


ہمت پہ و لو لوں پہ شجاعت کو ناز ہے

طاعت گذاریوں پہ عبادت کو ناز ہے

٭

صورت پہ د ست صانع قدرت کو ناز ہے

بازو میں زور وہ ہے کہ قوت کو ناز ہے

٭

نقشے ہیں اک مصور زریں نگار کے

بکھرے ورق ہیں مصحف پروردگار کے

٭٭٭


شورش کاشمیری

قرنِ اوّل کی روایت کا نگہدار حسین

بس کہ تھا لختِ دلِ حیدرِ کرار حسین

٭

عرصۂ شام میں سی پارۂ قرآنِ حکیم

وادیِ نجد میں اسلام کی للکار حسین

٭

سر کٹانے چلا منشائے خداوند کے تحت

اپنے نانا کی شفاعت کا خریدار حسین

٭

کوئی انساں کسی انساں کا پرستار نہ ہو

اس جہاں تاب حقیقت کا علمدار حسین

٭

ابو سفیان کے پوتے کی جہانبانی میں

عزّتِ خواجۂ گیہاں کا نگہدار حسین

٭

کرۂ ارض پہ اسلام کی رحمت کا ظہور

عشق کی راہ میں تاریخ کا معمار حسین

٭


جان اسلام پہ دینے کی بنا ڈال گیا

حق کی آواز، صداقت کا طرفدار حسین

٭

دینِ قیم کے شہیدوں کا امامِ برحق

حشر تک امّتِ مرحوم کا سردار حسین

٭

ہر زمانے کے مصائب کو ضرورت اس کی

ہر زمانے کے لیے دعوتِ ایثار حسین

٭

کربلا اب بھی لہو رنگ چلی آتی ہے

دورِ حاضر کے یزیدوں سے دوچار حسین

٭٭٭


بہزاد لکھنوی

جو سر تاجِ زماں شاہِ شہیداں ہے سلام اُس پر

جو کُل اسلام کا مقصودِ ایماں ہے سلام اُس پر

٭

جو محبوبِ الٰہی مصطفی کے دل کی دھڑکن ہے

جو روح پاک بازاں جانِ جاناں ہے سلام اُس پر

٭

جو اہلِ کیف کی منزل ہے اہلِ ذوق کا مرکز

جو اہلِ عشق کا مقصود و ارماں ہے سلام اُس پر

٭

حیاتِ نو ملی اسلام کو جس کے تصدّق میں

جہانِ راستی پر جس کا احساں ہے سلام اُس پر

٭

فنا کا راز جس نے آشکارا کر دیا سب پر

بقاء جس کے جلو میں خود خراماں ہے سلام اُس پر

٭

فدائی ہے اسی کے نام کا میرا دلِ مضطر

جو اے بہزاد میرا دین و ایماں ہے سلام اُس پر

٭٭٭


مصطفےٰ زیدی

بعدِ امامِ لشکرِ تشنہ دہاں جو کچھ ہوا

کس سے کہوں،کیسے کہوں،اے کربلا اے کربلا

٭

کیسے رقم ہو بے کسی، بے حُرمتی کی داستاں

اک کنبۂ عالی نسب کی دربدر رسوائیاں

اک مشک جس کو کر گئ سیراب تیروں کی زباں

اک سبز پرچم جھک گیا جو خاک و خوں کے درمیاں

٭

اک آہ جو سینے سے نکلی اور فضا میں کھو گئ

اک روشنی جو دن کی ڈھلتی ساعتوں میں سو گئ

٭٭

وہ دودمانِ حیدری کی، آلِ پیغمبر کی لاش

وہ آیتوں کی گود میں سوئے ہوئے اکبر کی لاش

وہ اک بُریدہ بازوؤں والے علم پرور کی لاش

وہ دودھ پیتے ،لوریاں سُنتے ہوئے اصغر کی لاش

٭

معصوم بچے وحشیوں کی جھڑکیاں کھائے ہوئے

عون و محمد چھوٹے چھوٹے ہاتھ پھیلائے ہوئے

٭٭


سجاد سے زینب کا یہ کہنا کہ مولا جاگئے

غفلت سے آنکھیں کھولئے ،لٹتا ہے کنبہ جا گئے

اُٹھتے ہیں شعلے دیکھئے، جلتا ہے خیمہ جاگئے

اے باقئ ذرّیتِ یٰسین و طٰہ جاگئے

٭

سارے محافظ سو رہے ہیں اشقیا بیدار ہیں

طوق و سلاسل منتظر ہیں، بیڑیاں تیار ہیں

٭٭٭


منیر نیازی

خوابِ جمالِ عشق کی تعبیر ہے حُسین

شامِ ملالِ عشق کی تصویر ہے حسین

٭

حیراں وہ بے یقینیِ اہلِ جہاں سے ہے

دنیا کی بیوفائی سے دلگیر ہے حسین

٭

یہ زیست ایک دشت ہے لا حد و بے کنار

اس دشتِ غم پہ ابر کی تاثیر ہے حسین

٭

روشن ہے اس کے دم سے الم خانۂ جہاں

نورِ خدائے عصر کی تنویر ہے حسین

٭

ہے اس کا ذکر شہر کی مجلس میں رہنما

اجڑے نگر میں حسرتِ تعمیر ہے حسین

٭٭٭


صبا اکبر آبادی

حسین نزہتِ باغِ پیمبرِ عربی

حسین نازشِ فاقہ، وقارِ تشنہ لبی

٭

حسین مرکزِ ایثار و مخزنِ تسلیم

حسین شمعِ حقیقت، چراغِ بزمِ نبی

٭

حسین لختِ دلِ مرتضیٰ و جانِ بتول

جہاں میں کس کو میسر ہے یہ علو نسبی

٭

حسین، سینۂ اکبر سے کھینچ لی برچھی

حسین سینہ میں اس وقت کیسے آہ دبی

٭

ستم کا تیر بھی دیکھا گلوئے اصغر میں

وہ مسکرانے کا انداز روحِ تشنہ لبی

٭

جوان بھائی کے شانے کٹے ہوئے دیکھے

یہ صبر ابنِ ید اللہ، یہ رضا طلبی

٭


یہی تو شان ہے سبطِ رسول ہونے کی

دعائے بخششِ امت، جوابِ بے ادبی

٭

نہیں ہے کوئی ذریعہ صبا، حسین تو ہیں

بڑا سبب ہے زمانہ میں اپنی بے سببی

٭٭٭


شوکت تھانوی

دردِ حسرت اور ہے صحرائے غربت اور ہے

رنج سب کے اور ہیں شہ کی مصیبت اور ہے

٭

خاک و خوں میں لوٹتا ہے ایک شاہ تشنہ کام

کربلا کیا اب بھی دل میں کچھ کدورت اور ہے

٭

اک مسافر سے زمانہ برسرِ پیکار ہے

کیا ستم کی اس سے بڑھ کر بھی کدورت اور ہے

٭

ہاتھ کرتے ہو قلم تھوڑے سے پانی کے لئے

ظالموں اس سے بھی بڑھ کر کیا شقاوت اور ہے

٭

آ گئے عون و محمد رن میں ماں کو چھوڑ کر

کیا کسی کمسن کے دل میں اتنی جرأت اور ہے

٭

ظاہرا مظلوم سے معلوم ہوتے ہیں حسین

غور سے دیکھے جو کوئی تو حقیقت اور ہے

٭


ملکِ دنیا سے کہیں پائندۂ ہے ملکِ بقا

باغِ شدّاد اور ہے گلزارِ جنت اور ہے

٭

شمر یوں غربت زدہ سے کوئی لڑتا ہے کبھی

اے ستم ایجاد ہمت کر کہ ہمت اور ہے

٭

حر تمہیں رن کی طرف کچھ اور بڑھنا چاہیے

سامنے ہے خلد تھوڑی سی مسافت اور ہے

٭

خارزارِ کربلا ہے آج تک دنیائے دوں

ہو بہو عالم وہی ہے صرف صورت اور ہے

٭

جانشیں شمرِ لعیں کے ہیں بہت سے آج بھی

جانشینِ شاہ کی ہم کو ضرورت اور ہے

٭٭٭


میں نوحہ گر ہوں

امجد اسلام امجد

میں نوحہ گر ہوں

میں اپنے چاروں طرف بکھرتے ہوئے زمانوں کا نوحہ گر ہوں

میں آنے والی رتوں کے دامن میں عورتوں کی اداس بانہوں کو دیکھتا ہوں

٭

اور انکے بچوں کی تیز چیخوں کو سن رہا ہوں

اور انکے مَردوں کی سرد لاشوں کو گن رہا ہوں

میں اپنے ہاتھوں کے فاصلے پر فصیلِ دہشت کو چھو رہا ہوں

٭

زمیں کے گولے پر زرد کالے تمام نقطے لہو کی سرخی میں جل رہے ہیں

نئی زمینوں کے خواب لے کر

مسافر اِن تباہ یادوں کے ریگ زاروں میں چل رہے ہیں

میں نوحہ گر ہوں

مسافروں کا جو اپنے رستے سے بے خبر ہیں

٭

میں ہوش والوں کی بد حواسی کا نوحہ گر ہوں

حُسین، میں اپنے ساتھیوں کی سیہ لباسی کا نوحہ گر ہوں

٭


ہمارے آگے بھی کربلا ہے، ہمارے پیچھے بھی کربلا ہے

حُسین، میں اپنے کارواں کی جہت شناسی کا نوحہ گر ہوں

نئے یزیدوں کو فاش کرنا ہے کام میرا

ترے سفر کی جراحتوں سے

ملا ہے مجھ کو مقام میرا

حُسین، تجھ کو سلام میرا

٭٭٭


غنیم کی سرحدوں کے اندر

پروین شاکر

زمینِ نا مہرباں پہ جنگل کے پاس ہی

شام پڑ چکی ہے

ہوا میں کچے گلاب جلنے کی کیفیت ہے

اور ان شگوفوں کی سبز خوشبو

جو اپنی نوخیزیوں کی پہلی رتوں میں

رعنائیِ صلیبِ خزاں ہوئے

اور بہار کی جاگتی علامت ہوئے ابد تک

جلے ہوئے راکھ خیموں سے کچھ کھلے ہوئے سر

ردائے عفت اڑھانے والے

بریدہ بازو کو ڈھونڈتے ہیں

بریدہ بازو کہ جن کا مشکیزہ

ننھے حلقوم تک اگرچہ پہنچ نہ پایا

مگر وفا کی سبیل بن کر

فضا سے اب تک چھلک رہا ہے

برہنہ سر بیبیاں ہواؤں میں سوکھے پتوں

کی سرسراہٹ پہ چونک اٹھتی ہیں

بادِ صرصر کے ہاتھ سے بچنے

والے پھولوں کو چومتی ہیں

چھپانے لگتی ہیں اپنے دل میں


بدلتے، سفاک موسموں کی ادا شناسی نے چشمِ

حیرت کو سہمناکی کا مستقل رنگ دے دیا ہے

چمکتے نیزوں پہ سارے پیاروں کے سر سجے ہیں

کٹے ہوئے سر

شکستہ خوابوں سے کیسا پیمان لے رہے ہیں

کہ خالی آنکھوں میں روشنی آتی جا رہی ہے

٭٭٭


نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟

محسن نقوی

جہانِ عزمِ وفا کا پیکر

خِرد کا مرکز، جنوں کا محور

جمالِ زہرا ، جلالِ حیدر

ضمیرِ انساں، نصیرِ داور

زمیں کا دل، آسماں کا یاور

دیارِ صبر و رضا کا دلبر

کمالِ ایثار کا پیمبر

شعورِ امن و سکوں کا پیکر

جبینِ انسانیت کا جھُومر

عرب کا سہرا، عجم کا زیور

حسین تصویرِ انبیاء ہے

نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟

٭


حسین اہلِ وفا کی بستی

حسین آئینِ حق پرستی

حسین صدق و صفا کا ساقی

حسین چشمِ اَنا کی مستی

حسین پیش از عدم، تصور

حسین بعد از قیامِ ہستی

حسین نے زندگی بکھیری

فضا سے ورنہ قضا برستی

عروجِ ہفت آسمانِ عظمت

حسین کے نقشِ پا کی مستی

حسین کو خُلد میں نہ ڈھونڈو

حسین مہنگا ہے خلد سستی

حسین مقسومِ دین و ایماں

حسین مفہوم "ھَل اَتٰی" ہے

نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟

٭


حسین نِکھرا ہُوا قلندر

حسین بپھرا ہُوا سمندر

حسین بستے دلوں سے آگے

حسین اُجڑے دلوں کے اندر

حسین سلطانِ دین و ایماں

حسین افکار کا سکندر

حسین سے آدمی کا رُتبہ!

حسین ہے آدمی کا "مَن دَر"

خدا کی بخشش ہی خیمہ زَن ہے

حسین کی سلطنت کے اندر

حسین داتا، حسین راجہ

حسین بھگوان، حسین سُندر

حسین آکاش کا رشی ہے

حسین دھرتی کی آتما ہے

نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟

٭


حسین ، میدان کا سپاہی

حسین دشتِ اَنا کا راہی

حسین فرقِ اَجل کا بَل ہے

حسین انداز، کجکلاہی!

حسین کی گردَ پا، زمانہ!

حسین کی ٹھوکروں میں‌ شاہی

حسین معراجِ فقرِ عالم

حسین ، رمزِ جہاں پناہی

حسین ایقان کا مِنارہ

حسین اوہام کی تباہی

ضمیر انصاف کی لغت میں

حسین معیارِ بےگناہی

بنامِ جبر و غرورِ شاہی

حسین غیرت کا فیصلہ

نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟

٭


حسین فقر و اَنا کا غازی

حسین جنگاہ میں‌ نمازی

حسین حسنِ نیاز مندی

حسین اعجازِ بے نیازی

حسین آغازِ جاں نثاری

حسین انجامِ جاں گدازی

حسین توقیر کار بندی

حسین تعبیر کار سازی

حسین معجز نمائے دوراں

حسین حق کی فسوں طرازی

حسین ہارا تو یوں کہ جیسے

حسین نے جیت لی ہو بازی

حسین سارے جہاں کا وارث

حسین کہنے کو بے نوا ہے

نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟

٭


حسین اک دلنشیں کہانی

حسین دستورِ حق کا بانی

حسین عباس کا سراپا

حسین اکبر کی نوجوانی

حسین کردارِ اہلِ ایماں

حسین معیارِ زندگانی

حسین قاسم کی کم نمائی

حسین اصغر کی بے زبانی

حسین سجاد کی خموشی

حسین باقر کی نوحہ خوانی

حسین دجلہ کا خشک ساحل

حسین صحرا کی بیکرانی

حسین زینب کی کسمپرسی

حسین کلثوم کی ردا ہے

نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟

٭٭٭


سلام خونِ شہیداں حسین زندہ باد

ملک زادہ منظور

طلسم سود و زیاں ہو کہ ظلمت باطل

فیصل دار و رسن ہو کہ کوچہ قاتل

دیار ظلم و ستم ہو کہ صید گاہ رقیب

وہ کئی جادہ پر خار ہو کہ شہر صلیب

٭

رہ حیات میں جب یہ مقام آتے ہیں

حسین سارے زمانے کے کام آتے ہیں

٭٭

نمود صبح ازل سے حدودِ امکاں تک

فرات و نیل کے ساحل سے چاہ کنعاں تک

ستیزہ کار رہا ہے ہر ایک خیر سے شر

چراغ مصطفوی سے ابولہب کا شرر

٭

رہ خلیل میں اصنام آذری بھی ہیں

کلیم ہیں تو طلسمات سامری بھی ہیں

٭٭


مگر حریمِ زلیخا و مصر کے بازار

صلیب و آتش ِ زہراب ، نینوا کے دیار

بجھا سکے نہ کبھی شمع عصمتِ کردار

دبا سکے نہ کبھی حق کی جرات گفتار

٭

جہاں خیر میں دریائے فیض جاری ہے

بدی نے مورچے جیتے ہیں، جنگ ہاری ہے

٭٭

جلا کے مشعلِ جاں روشنی عطا کی ہے

نماز سایہ شمشیر میں ادا کی ہے

بساطِ شوق پہ تابندہ کہکشاں رکھ دی

دہانِ زخم میں اللہ کی زباں رکھ دی

٭

امینِ فاتح بدر وحنین زندہ باد

سلام خونِ شہیداں حسین زندہ باد

٭٭٭


واصف علی واصف

السّلام اے نُورِ اوّل کے نشاں

السّلام اے راز دارِ کُن فکاں

٭

السّلام اے داستانِ بے کسی

السّلام اے چارہ سازِ بے کساں

٭

السّلام اے دستِ حق، باطل شکن

السّلام اے تاجدارِ ہر زماں

٭

السّلام اے رہبرِ علمِ لَدُن

السّلام اے افتخارِ عارفاں

٭

السّلام اے راحتِ دوشِ نبی

السّلام اے راکبِ نوکِ سناں

٭

السّلام اے بوترابی کی دلیل

السّلام اے شاہبازِ لا مکاں

٭


السّلام اے ساجدِ بے آرزو

السّلام اے راز دارِ قُدسیاں

٭

السّلام اے ذوالفقارِ حیدری

السّلام اے کشتۂ تسلیمِ جاں

٭

السّلام اے مستیِ جامِ نجف

السّلام اے جنبشِ کون و مکاں

٭

السّلام اے رازِ قرآنِ مبیں

السّلام اے ناطقِ رازِ نہاں

٭

السّلام اے ہم نشینِ ریگِ دشت

السّلام اے کج کلاہِ خسرواں

٭

السّلام اے دُرِ دینِ مُصطفٰی

السّلام اے معدنِ علمِ رواں

٭

السّلام گوہرِ عینِ علی

دینِ پیغمبر کے عنوانِ جلی

٭٭٭


ثمینہ راجہ

ہے آشنائے رازِ صدائے غمِ حسین

بادِ صبا ہے نوحہ سرائے غمِ حسین

٭

ٹھہرا ہوا ہے آنکھ میں اک ماہِ سالِ نوَ

چلنے لگی ہے دل میں ہَوائے غمِ حسین

٭

اک ایک نقشِ پا جو کھِلا ہے مثالِ گُل

ہو کر گئے ہیں آبلہ پائے غمِ حسین

٭

بے پردہ کب تھیں بیبیاں بازارِ شام میں

ڈھانپے ہوئے تھی ان کو ردائے غمِ حسین

٭

کیا غم ہے جو دعا کی طرح ہے زبان پر

غم ہو کوئی نہ تم کو سوائے غمِ حسین

٭

دل گیر ہم جفائے زمانہ سے گر نہیں

یہ خندہ رُوئی بھی ہے عطائے غمِ حسین

٭


عمروں پہ ہے محیط یہ صدیوں سے ہے بسیط

کم ہے بس ایک ماہ، برائے غمِ حسین

٭

کرب و بلا سے کم تو نہیں ہے یہ دَور بھی

ماتم یہاں بپا ہے بجائے غمِ حسین

٭

گریے کو ایک ذکر نے آسان کر دیا

دریا بہیں گے، لب پہ جو آئے غمِ حسین

٭

شیوہ ہے مدتوں سے یہی اہلِ صبر کا

اپنے غموں پہ کہتے ہیں، ہائے غمِ حسین!

٭

دل میں قدم سنبھل کے غمِ دوجہاں رکھے

جائے ادب ہے یہ، کہ ہے جائے غمِ حسین

٭٭٭


نقاش کاظمی

کوئی چراغ تخیل نہ میری راہ میں رکھ

بس اک سلام کا گوہر میری کلاہ میں رکھ

٭

اگرچہ تو کسی سچائی کا مورخ ہے

یزید عصر کو بھی دفتر سپاہ میں رکھ

٭

بکھیر صفحۂ قرطاس پر لہو کے حروف

قلم سنبھال کے مت دل کی خانقاہ میں رکھ

٭

سمجھ سکے جو شہیدان حق کی تاجوری

جبین عجز کو تو خاک پائے شاہ میں رکھ

٭

علی کے سجدۂ آخر سے حلق اصغر تک

ہر ایک تیر ستم مرکز نگاہ میں رکھ

٭

وہی امام زماں جو ہیں سب پہ سایہ فگن

انہیں کے سایہ دستار کی پناہ میں رکھ

٭

مجھے وہ حریت فکر بھی دے حُر کی طرح

پھر اُس کے بعد اُسی لشکر و سپاہ میں رکھ

٭


سلام و مرثیہ و نعت لے کے حاضر ہوں

اُنہیں کا بندہ سمجھ اپنی بارگاہ میں رکھ

٭

ترا یہ شاعر نقاش تو ہے ذرۂ خاک

اسے غبار بنا کہ مہر و ماہ میں رکھ

٭٭٭


غلام محمد قاصر

جو پیاس وسعت میں بے کراں ہے سلام اس پر

فرات جس کی طرف رواں ہے سلام اس پر

٭

سبھی کنارے اسی کی جانب کریں اشارے

جو کشتیِ حق کا بادباں ہے سلام اس پر

٭

جو پھول تیغِ اصول سے ہر خزاں کو کاٹیں

وہ ایسے پھولوں کا پاسباں ہے سلام اس پر

٭

مری زمینوں کو اب نہیں خوفِ بے ردائی

جو ان زمینوں کا آسماں ہے سلام اس پر

٭

ہر اک غلامی ہے آدمیّت کی نا تمامی

وہ حریّت کا مزاج داں ہے سلام اس پر

٭

حیات بن کر فنا کے تیروں میں ضو فشاں ہے

جو سب ضمیروں میں ضو فشاں ہے سلام اس پر

٭


کبھی چراغِ حرم کبھی صبح کا ستارہ

وہ رات میں دن کا ترجماں ہے سلام اس پر

٭

میں جلتے جسموں نئے طلسموں میں گھِر چکا ہوں

وہ ابرِ رحمت ہے سائباں ہے سلام اس پر

٭

شفق میں جھلکے کہ گردنِ اہلِ حق سے چھلکے

لہو تمھارا جہاں جہاں ہے سلام اس پر

٭٭٭


صفدر ہمدانی

نوحے کا ربط حمد و ثنا سے ملا دیا

کرب و بلا کو عرشِ عُلا سے ملا دیا

٭

زینب کی جنگ دیکھئے دربار شام میں

بے پردگی کو اپنی حیا سے ملا دیا

٭

احسان اہلبیت کا سب کائنات پر

خوشبو کو گُل سے گُل کو صبا سے ملا دیا

٭

یہ معجزہ تھا کرب وبلا میں حسین کا

پل بھر میں حُر کو اہلِ وفا سے ملا دیا

٭

اللہ کے نبی کے نواسے کی مجلسیں

اہلِ ولا کو اہلِ عزا سے ملا دیا

٭

صفدر یہ فیض آلِ محمد کا فیض ہے

سجاد نے دعا کو شفا سے ملا دیا

٭٭٭


ارشد نذیر ساحل

سیاہ راتوں کا راج تھا

جب صداقتوں کے ویران راستوں پر

مشعلِ حق اٹھا کے میرا حسین نکلا

اسے خبر تھی

کہ دجل کی مکر کی ہوائیں مقابلے پہ ہیں

مگر خوں کی نجابت اسے میداں میں لائی

اور اس نے قرطاسِ کربلا پہ لہو سے اپنے لکھا

٭

مجھے ابد تک فنا نہیں

مجھے ابد تک فنا نہیں

٭٭٭


یا ایہالناس ۔۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

وہ جو لگن کے رستوں پہ چلتے ہیں

انہیں کو جینے کے قرینے ملتے ہیں

ہاں دفینوں سے خزینے ملتے ہیں

٭

سو میرا بھی پہلا قدم اس رستے پر اٹھ گیا

میں بھی اسی سمت چل پڑی تھی جہاں دل میں ایک لگن سی لگی تھی ۔۔

جیسے آخری سانس بھی کچھ پانے کی خواہش میں ٹھہر سی گئی تھی

بس میں چل پڑی تھی ۔۔اور ۔۔پھر ۔۔

ہاتھوں میں میرے اپنے ہی گناہوں کی گٹھڑی تھی

٭

پاؤں میں جیسے کوئی بیڑی ٹوٹ کر گر پڑی تھی

آنکھوں میں لگی جیسے ساون کی اک جھڑی تھی

اور میں اپنی ہی تڑپ میں دلگیر چلی جا رہی تھی ۔۔

٭

جاں بلب ، سوختہ جاں ، شکستہ پا ۔۔اور زمانے کے گرم سرد

کہیں انگارے ہی انگارے تو کہیں فگار اپنے ہی دل کے پارے

٭

کہتے ہیں جو بھی لگن کے رستوں پہ چلتے ہیں

انہیں کہیں نہ کہیں جینے کے قرینے ملتے ہیں

٭


یا ایہالناس

نوید ہو کہ ابدی خزانہ مل گیا مجھے

غم حسین ،موت سے بیگانہ کر گیا مجھے

گویا

صبر حسین سے جینے کا قرینہ مل گیا مجھے

٭

اے عالی حوصلہ، کربلا کے جیدار ، سید الشہدا حسین

آپ کی شان پہ قربان ، آپ کی نذر میرے شام و سحر

آپ کو میری ہر سانس کا سلام ۔۔سلام ۔۔ سلام

٭

اے خانہ زہرا کے چراغ ، کربلا کے تاجدار، سید الشہدا حسین

آپ ہیں دین محمد کے پاسبان ، آپ کی نذر میرے قلب و جگر

آپ کو میری ہر سانس کا سلام ۔۔سلام ۔۔ سلام

اے پاک امام۔۔۔۔امام۔۔۔۔امام

٭٭٭


عارف نقوی

پکارتا ہے زمانہ علی علی مولیٰ

گرج رہا ہے یہ نعرہ علی علی مولیٰ

٭

علی کے نام پہ شمس و قمر سلام کریں

ستارے جلوۂ حیدر سے جگمگانے لگیں

فرشتے نام علی پر بلائیں لینے لگیں

علی کی عزمت و وقعت کا احترام کریں

٭

پکارتا ہے زمانہ علی علی مولیٰ

٭٭

رسولِ پاک کے ہمدم جہاں کے رکھوالے

مثالِ حسن و محبت خلوص و ہمدردی

علی کے نام سے روشن چراغِ الفت ہے

علی کے نور سے روشن ہیں آسمان و زمیں

٭

علی تمھاری ضرورت ہے آج دنیا کو

تری شجاعت و شمشیر،حکمت و تدبیر

وہ ہاتھ جس نے اکھاڑا تھا درِّ خیبر کو


وہ وصف جس نے صداقت کی لاج رکھی تھی

دھندلکے چیر کے عالم میں روشنی کی تھی

بدی کو توڑ کے نیکی کو زندگی دی تھی

اسی علی کی ضرورت ہے آج عالم کو

٭

پکارتا ہے زمانہ علی علی مولیٰ

گرج رہا ہے یہ نعرہ علی علی مولیٰ

٭٭٭


سوئے کربلا

شفیق مراد

ظلمتوں کی بدلیاں چھائی ہوئی ہیں ہر طرف

قافلے کوفے کی جانب آج کیوں جاتے نہیں

ہو رہا ہے آج بھی فتووں کا ہر سو کاروبار

آج بھی سوچوں پہ پہرہ ہے کسی کی سوچ کا

آج بھی انصاف کی باتیں پرانی ہو گئیں

آج پھر ہم کو ضرورت ہے علی کی آل کی

آج پھر پیدا کرو روحِ حُسینی قلب میں

کربلا کا سو سہارا باندھ کر سر پہ کفن

قافلوں کو لے چلو کوفے کی جانب آج پھر

ظلمتوں کی بدلیاں چھائی ہوئی ہیں ہر طرف

قافلے کوفے کی جانب آج کیوں جاتے نہیں

٭٭٭


اختر عثمان

اشک نے چھوڑ دی پلک ، نذر ِ حُسین ہو گیا

لو مری لاج رہ گئی ، لو مرا بَین ہو گیا

٭

بیتِ نبی سے شاہ یوں بیتِ الٰہ کو گئے

روح تڑپ تڑپ اُٹھی ، دل حرمین ہو گیا

٭

میں نے کہا شہا ! اگر عِلم کا اِذن ہو سکے!۔

پھر جو وہ خشک لب ہِلے ، عین بہ عین ہو گیا

٭

بزم ِ عزا کے کفش بَر! تیری عجب نشست ہے

تُو کہ زمین کے لئے زینت و زَین ہو گیا

٭

ماتم ِ شاہِ کربلا کم تو نہیں نماز سے

ہاتھ اُٹھے تو یہ عمل رفع ِ یدین ہو گیا

٭

مجھ سے کہا گیا کہ اب جاؤ پئے مبارزت

جی میں وہ لَو اُتر گئی ، روح کو چین ہو گیا

٭


نصرتِ شاہ کے لئے اب تو اُٹھو حسینیو !۔

بزم کا بَین ہو گیا ، نالہ و شَین ہو گیا

٭

مدح ِ شہ ِ شہاں کوئی مدحتِ کَے و جَم نہیں

میرا شرف کہ آن میں در قدمین ہو گیا

٭

ایک ہی لفظ میں بہم یوں ہیں حسین اور حسن

نور ِ مرکّبِ دو جاں خُود حسنین ہو گیا

٭

حرفِ غلط بھی ایک تھا ، دستِ غلط نویس بھی

تیغ ِ علی عَلَم ہوئی ، قطع ِ یدین ہو گیا

٭

میری وفا جلی بَلی ، شام ِ جلی نہیں ڈھلی

المددے علی ولی ! دن مرا رَین ہو گیا

٭

اختر ِ کج ہُنر ترے لفظ میں لَو کہاں کی تھی

تھوڑا بہت یہ نام تو شاہ کا دَین ہو گیا

٭٭٭


اعزاز احمد آذر

شام کنارے اُتری پیاس

تلواروں پر چمکی پیاس

٭

کتنے پھولوں کا رس پی کر

نہر کنارے سو گئی پیاس

٭

دانتوں میں مشکیزہ تھامے

موت سفر پر نکلی پیاس

٭

اس سے پہلے کس نے دیکھی

تلواروں سے بجھتی پیاس

٭

دیکھا صبر جو معصوموں کا

شرمندہ سی ہو گئی پیاس

٭

صحرا نے سیراب کیا ہے

دریا سے جب نکلی پیاس

٭

کربل کی دھرتی ہے شاہد

پانی جھوٹا سچی پیاس

٭٭٭


سید وحید الحسن ہاشمی

کہو نہ حاجت ذکر شہ ہُدی کیا ہے

حسین ہی نے تو ثابت کیا خُدا کیا ہے

٭

غمِ حُسین دلوں کا نفاق دھوتا ہے

بس اب نہ پو چھو کہ رونے کا فائدہ کیا ہے

٭

رضائے حق کی ہر اک راہ میں ہے نقش حُسین

میں کربلا سے نہ جاؤں تو راستہ کیا ہے

٭

اگر حسین کی سیرت پہ ہو سکا نہ عمل

تو پھر یہ مجلس و ماتم کا فائدہ کیا ہے

٭

حسینیت سے جو ٹوٹا یزیدیت کا بھرم

یہ پھر کُھلا اثر نامِ کربلا کیا ہے

٭

پلٹ نہ آتے جو دریا سے تشنہ لب عباس

تو کون جانتا اس دہر میں وفا کیا ہے

٭


بقائے دیں کی ضمانت ہے فاطمہ کا پسر

نہیں حسین تو اسلام میں دھرا کیا ہے

٭

یہ کربلا کے شہیدوں نے حل کیا ورنہ

کسے خبر تھی فنا کیا ہے اور بقا کیا ہے

٭٭٭


محمد اعظم عظیم اعظم

سبطِ محبوبِ خدا ہیں نیرِ شہدا حسین

سچ کہوں میں اِس لئے ہیں شان میں یکتا حسین

٭

آپ کی سیرت کے چرچے آج بھی ہر سمت ہیں

جو نظر رکھتا ہے اِس پر بنتا ہے اچھا حسین

٭

زورِ باطل تھا یزیدی دور میں بے انتہا

آپ نے حق و صداقت کا کیا چرچا حسین

٭

سر کو کٹوا کر زمینِ کربلا پر آپ نے

شریعتِ محبوبِ دارو کو کیا زندہ حسین

٭

آبیاری خون سے کی کربلا میں آپ نے

باغِ دیں مُرجھا رہا تھا آپ نے سینچا حسین

٭

آپ کے گھر کی فضیلت آئی ہے قرآن میں

آپ کا رب نے کیا ہے مرتبہ اعلیٰ حسین

٭


بنتے آئے ہیں خدا بھی اور نبی بھی کچھ لعین

نہ زمانے نے ابھی تک آپ سا دیکھا حسین

٭

ہر طرف دورِ یزیدی آ گیا ہے آج پھر

آیئے بہرِ مدد اِس وقت اے آقا حسین

٭

میں تو تھا کمتر یہ احساں کر دیا ہے آپ نے

آپ نے ہی مجھ کو بس اعظم بنایا، یا حسین

٭٭٭


سلام آپ پہ اے حضرتِ امامِ حسین

زمانہ کرتا ہے یوں مدحتِ امامِ حسین

٭

حبیبِ داورِ کُل اُن کے جب ثنا خواں ہیں

بیاں کیسے ہوں پھر عظمتِ امامِ حسین

٭

اٹھا تھا آپ کا ہر اِک قدم صداقت میں

لعین سمجھے نہیں حکمتِ امامِ حسین

٭

انہیں بتایا کہ باز آؤ قتلِ ناحق سے

ہے دشمنوں پہ بھی تو رحمتِ امامِ حسین

٭

زمانہ آج بھی آنسو بہا رہا غم میں

بھُلا نہ پایا غمِ لذتِ امامِ حسین

٭

بروزِ حشر وہ دامن میں ہونگے اُن کے ضرور

ہے جس کے دل میں یہاں عزتِ امامِ حسین

٭

ہزاروں سال ہوئے آپ کی شہادت کو

ہے آج چاروں طرف شہرتِ امامِ حسین

٭


قرآن پا ک ذرا پڑھ کے غور سے دیکھو

خدا نے کی ہے بیاں نزہتِ امامِ حسین

٭

جوابی حملہ کیا سینکڑوں مرے دشمن

اُنہوں نے دیکھی نہ تھی طاقتِ امامِ حسین

٭

جلیں گے نار میں جا کر وہ سب یزید کے ساتھ

ہے جن کے دل میں یہاں نفرتِ امامِ حسین

٭

نہ جانے کب وہ بلائیں گے کربلا میں مجھے

رُلا رہی ہے بہت فرقتِ امامِ حسین

٭

کچھ ایسے بھی ہیں جو کرتے ہیں جان و دل صدقے

ہے اُن کے دل میں بسی اُلفتِ امامِ حسین

٭

حسین سبطِ نبی اور اُمتی اعظم

نصیب اِس کو بھی ہے نسبتِ امامِ حسین

٭٭٭


ڈاکٹر اختر ہاشمی

جہاں میں پھیل گیا اتنا اختیارِ حسین

ہر اک دیار کو اب کہتے ہیں دیارِ حسین

٭

نظامِ دیں نہ عطا کرتے خود نواسے کو

اگر رسولﷺ کو ہوتا نہ اعتبارِ حسین

٭

ذرا سی جان امامت کو دے گئی تنویر

تبسمِ علی اصغر ہے یادگارِ حسین

٭

جگر کا خون بتائے گا خود چمن کا نشاں

ان آنسوؤں میں ملے گی تمہیں بہارِ حسین

٭

حسینیت تو دلِ کائنات میں ہے مکیں

کہاں کہاں سے مٹاؤ گے یادگارِ حسین

٭

قیاس کر چکا کتنے گمان وہم کے وار

جہاں میں آج بھی قائم ہے اعتبارِ حسین

٭


ہر اک جہاد پیمبر کا رُخ سمیٹے ہے

بس ایک صفحۂ تاریخ، کارزارِ حسین

٭

خدا تو حشر میں پوچھے گا، وجہِ غم اختر

وہاں جو اشک بہائے گا سوگوارِ حسین

٭٭٭


فوزیہ مغل

حضرتِ زینب کی پاکیزہ چادر کا سایا

تا حشر رہے عالمِ اسلام پہ چھایا

٭

زینب نے رکھا ہے بھرم نانا رسول کا

دامانِ صبر چھوڑا نہ دامن اصول کا

٭

چادر بنی زینب کی بھی توحید کا علم

بازو بھی ہو گئے جہاں عباس کے قلم

٭

زینب تیرا احسان بھلایا نہ جائے گا

ذکرِ حسین میں بھی تیرا نام آئے گا

٭

دیکھی نہ گئی بے بسی آلِ امام کی

ہیں اشک بار آج تک گلیاں وہ شام کی

٭٭٭


سلام

کیسے عیب تھے وہ نظارے فرات کے

پیاسے تھے اہلِ بیعت کنارے فرات کے

٭

ہوا شہید اصغرِ کمسن تشنہ لب

پیاسی رہی سکینہ کنارے فرات کے

٭

ہے یاد گار تابہ ابد دین کے لئے

سجدہ ترا حسین کنارے فرات کے

٭

اس داستانِ حق نے سنوارا ہے دین کو

جو رقم ہو گئی ہے کنارے فرات کے

٭

حق پہ شہید ہو کے امر ہو گئے حسین

باطن فنا ہوا کنارے فرات کے

٭

اب فوزیہ حسین کی یادوں میں ڈوب کر

جلتے ہیں پانیوں سے کنارے فرات کے

٭٭٭


فہرست

فیض احمد فیض ۴

سوگواران حُسین سے خطاب ۱۰

جوش ملیح آبادی ۱۰

حفیظ جالندھری ۱۸

سلام اُس پر ۲۰

احمد فراز ۲۰

قتیل شفائی ۲۳

عبدالحمید عدم ۲۵

علی سردار جعفری ۲۶

شورش کاشمیری ۲۹

بہزاد لکھنوی ۳۱

مصطفےٰ زیدی ۳۲

منیر نیازی ۳۴

صبا اکبر آبادی ۳۵

شوکت تھانوی ۳۷

میں نوحہ گر ہوں ۳۹

امجد اسلام امجد ۳۹

غنیم کی سرحدوں کے اندر ۴۱


پروین شاکر ۴۱

نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ ۴۳

محسن نقوی ۴۳

سلام خونِ شہیداں حسین زندہ باد ۴۹

ملک زادہ منظور ۴۹

واصف علی واصف ۵۱

ثمینہ راجہ ۵۳

نقاش کاظمی ۵۵

غلام محمد قاصر ۵۷

صفدر ہمدانی ۵۹

ارشد نذیر ساحل ۶۰

یا ایہالناس ۔۔ ۶۱

ڈاکٹر نگہت نسیم ۶۱

عارف نقوی ۶۳

سوئے کربلا ۶۵

شفیق مراد ۶۵

اختر عثمان ۶۶

اعزاز احمد آذر ۶۸

سید وحید الحسن ہاشمی ۶۹

محمد اعظم عظیم اعظم ۷۱


ڈاکٹر اختر ہاشمی ۷۵

فوزیہ مغل ۷۷

سلام ۷۸