یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
منزلت غدیر
حجة الاسلام والمسلمین محمد دشتی
مترجم : ضمیرحسین آف بہاول پور
مجمع جہانی اہل بیت علیھم السلام
قال رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم قال لی جبرئیل قال ﷲ تعالی:
وِلَا یَةُ عَلِی اِبنِ اَبِی طَالِب حِصنِی فَمَن دَخَل حِصنِی اَمِنَ مِن عَذا بی(۱)
( حدیث قدسی)
تر جمہ: علی ابن ابیطالبـ کی ولایت میرا قلعہ ہے جو میرے قلعہ میں داخل ہو گیا وہ میرے عذاب سے نجات پا گیا۔
____________________
(۱) شواھدالتنزیل، ج۱،ص ۱۷۰، الحاکم الحسکانی:
بسم الل ه الرحمن الرحیم
حرف اول
جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔
اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفیصلىاللهعليهوآلهوسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ۲۳ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔
اگرچہ رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔
(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلىاللهعليهوآلهوسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔
ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل علّام محمد دشتی کی گرانقدر کتاب ''منزلت غدیر'' کو فاضل جلیل مولانا ضمیر حسین نے اردو زبان میںاپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں، اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔
والسلام مع الاکرام
مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام
بسم ﷲالرّحمن الرّحیم
پیش لفظِ مترجِم
تمام تعریفیں ﷲ کے لئے ہیں جس نے اپنی وحدانیّت و یکتائی کے انوار سے ہمارے دلوں کو منوّر فرمایا اور ہمارے سینوںمیں اپنی اور اپنے اطاعت گزار بندوں کی محبّت اور دوستی کے پودے لگاے ٔ ، اور درود و سلام ہواسکی مخلوق میں سب سے اچھے اور اشرف بندے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ا ور ان کے اہلِ بیت (ع) پر مخصوص اس ذات پر جس نے آنحضرت کے چہرۂ انور سے کرب و اندوہ کا غبار صاف کیا جو وصیّوں کے سردار اور متّقیوں کے امام علی ابنِ ابی طالب ہیں اور انکے دشمنوں پر لعنت ابدی ہو۔
اما بعد: تاریخی واقعات و حوادث کی اہمیّت وعظمت کے لحاظ سے ان کی قدرو قیمت کا اندازہ لگانے کا ا یک طریقہ یہ ہے کہ اس واقعہ ٔ کے رموز،اس کے اغراض و مقاصد اور اس واقعۂ میں موجود افراد اور عوامل کی عظمت ورفعت کا اندازہ لگایا جا ئے لہٰذہ جتنا اِ س واقعہ کے اسباب و عوامل کی منزلت عظیم ہو گی اور اِس کے رموز کا مقام اعلےٰ و اشرف ہوگا یہ واقعہ بھی اتنا ہی عظمت و اہمیّت کا حامل اور توجّہ کے قابل ہوگا۔
تاریخِ اِ سلام میں واقعۂ غدیر کے بارے میں یہ کہنا بلا مبالغہ ہوگا کہ وہ مسلمانوںکے سامنے رونما ہونے والے اہم واقعات و حادثات میں سے ایک نہایت اہم واقعہ ہے اسکی اس اہمیّت کا سر چشمہ اسکا موضوع ،اس کے رموز اور افراد کابلند و بالا مرتبہ اور اس کے اغراض و مقاصدکی پاکیزگی اور انکا تقدّس ہے واقعۂ غدیر کاموضوع مسلمانوں پرایسے شخص کو خلیفہ و حاکم مقرّرکرنا ہے جو رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد اسلام کی با گ ڈورسنبھالے اور اِس واقعۂ کے رمز و محور رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں جو خلیفہ اور حاکم مقرّر کرنے والے ہیں اور امیرالمومنین ہیں جن کو حاکِم بنایا گیا اِس واقعۂ کے گواہ تمام مسلمان ہیں اور اِس کا محرّک اور دستور دینے والا خدا وندِ متعال ہے چونکہ اسی نے اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس امر کے اعلان اور لوگوں تک پہنچانے کا حکم دیا ۔
چنانچہ اِرشاد فرمایا :( یٰاأَیُّهَاالْرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَابَلَّغْتَ رِسٰلَتَه، لٰخ )
اے رسول جو حکم تمہارے پروردگار کی جانب سے تمہارے پاس آچکا ہے اُس کو پہنچاؤ اگر تم نے یہ حکم نہ پہنچایاتو گویا تم نے رسالَت کا کوئی کام انجام نہیں دیا اور ﷲ تمہیں لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا، اس واقعۂ کے اغراض و مقاصد دینِ خدا کو لہو و لعب اور جھوٹ کا نشانہ بننے سے محفوظ رکھنا ،احکام خدا کو تحریف و تعطیل سے بچانا ،تمام لوگوں کی ہدایت کا انتظام کرنااورانھیں گمراہی اور رسّہ کشی سے دُ ور رکھنا ہے،اس واقعہ کی عظمت و اہمیت ہی کی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ علمائ، مؤرّخین،ادبااور محدّثین نے مذہب و مسلک کے اختلاف کے با وجود اس واقعہ کو بڑے اہتمام سے پیش کیا ہے، اس واقعہ کے ثبوت اور اسکی تصدیق میں اتنی وافر مقدار میںدلیلیں موجود ہیںکہ جن کی وجہ سے تاریخِ اسلامی کا محقّق ، اور اس واقعہ کے مقصد سے آگاہی رکھنے والا انسان آنحضرت کی وفات کے بعد رونما ہونے والے ایسے بہت سے واقعات کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے جن میں غدیر خُم میں کی گیٔ وصیّت سے انحراف کا عنوان پایا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دشمنوںنے،اس واقعہ کے ثبوت مٹانے والوں، منحرف و گمراہ محدثوں، مؤرخوںاور درباری مُلّاؤں نے اِس واقعہ پر پردہ ڈالنے اور نصفُ النّہار کے آفتاب سے زیادہ روشن اِس حقیقت کو دھندلا بنانے اور اِس میںشک و وہم پیدا کرنے کی نا پاک اور نا کام کوشش کی ہے ۔ لہٰذا حق کے متوالوں اور امیرالمومنین کی محبّت و دوستی اور اخلاص کی راہ پر چلنے والوں نے اِس ظالمانہ حملے کا مقابلہ کرنے اور قطعی دلیلوں اور روشن برہانوں کے ذریعے اِ س واقعہ پر ڈالے گۓ شکوک و شبہات کے پردے ہٹانے کا عزمِ بالجزم کیااُنہیں بزرگوں میںسے محقّقِ عصر حجةُالاسلام والمسلِمین محمد دشتی ہیں۔
جنہوںنے اپنی علمی ،فنی تاریخی ،ادبی اوراخلاقی صلاحیتوں کو برُو ئے کار لاتے ہوے ٔاِس کتاب کو تألیف کیا اورحق کے راہیوں کے لئے شمعِ ہدایت روشن کی ،چونکہ میں نے اردو دان طبقہ کے لئے ایسی کتاب کی اشد ضرورت محسوس کی جس کی وجہ سے باوجود نامساعد حالات کے اِس کتاب کے ترجُمہ میں مشغول ہوا،خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے مجھے یہ ہمّت بخشی اور میں اپنے اُردو دان حضرات کے لئے یہ گوہر نایاب ہدیہ کرنے میں کامیاب ہوا مُجھے اُمید ہے کہ یہ کتاب اہلِ حق کے ایمان میں اضافے ،اور حق کے متلاشیوں کے لئے مشعلِ راہ بنے گی۔
ضروری وضاحت:
یہاں پر یہ وضاحت کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک مطلب کو ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرنا آسان نہیں ہوتا لہٰذا تحتُ اللّفظی ترجُمہ کو معیار نہیں بنایا بلکہ مؤلّف کے اصل مفہوم کو اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے ،اربابِ قلم سے بصد خلوص گزارش ہے کہ اگر الفاظ و عبارات کی ترکیب و تو جیہ اور انکے معانی ومفاہیم کی ادائیگی میں کویٔ غلطی نظر آ ے تو اُسکی راہنمأ فرمائیں تاکہ آیٔندہ ایڈیشنوں میں اُسکی تصحیح کی جاسکے ۔
آخر میں ان تمام لوگوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اِس کتاب کی کتابت ، نشرو اِشاعت میں میری مدد کی اور خدا کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ وہ اِ ن لوگوں کی توفیقات میں اضافہ فرمائے، وہی بہترین ناصر و مددگار ہے ۔
والسّلام
ضمیر حسین
۱۸ ذی الحجہ ۱۴۲۴ھ
قال الامام الباقرعلی ه السلام:
لَمْ یُنَادِ بِشَٔيٍ مِثْلَ مَا نُوْدی بِالوِلَایَةِ یَوْمَ الغَدیر
امام باقر ـ فرماتے ہیں کہ کسی بھی حکم کا ایسے اعلان نہیں کیا گیا جیسے غدیر کے دن ولایت کا اعلان کیا گیا ہے ۔
مدینہ سے لے کر مقامِ غدیر تک کے مختصر حالات ( مترجم )
رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت کو تقریباً دس سال گذر رہے تھے کہ ماہ ذیقعدہ کی ایک رات کو حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نماز شب سے فارغ ہو کر صحنِ مسجد میں تشریف فرما تھے کہ امین وحی نازل ہوا اور فرمایا کہ اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خداوندِ عالم آپ پر درود و سلام کے بعد فرماتا ہے کہ میں نے کسی بھی رسول کو اس وقت تک اپنی طرف نہیں بلایا یہاں تک کہ انکے دین کو کامل کیا اور انکی حجت کو لوگوں پر تمام کیا پس آپکی رسالت کے دو وظایف آپ پر باقی ہیں ایک حج اور دوسرا وصایت و امامت ۔
اے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم خداوند عالم آ پ کو حکم دیتا ہے کہ حج بجا لایٔیں اور لو گوں کومناسک حج کی تعلیم دیں جیسے نماز و روزہ سکھایا ہے، اور باقی احکام دین کو بیان کیا ہے، دس ہجری کو پہلی بار حضور ِ اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے قانونی طور پر لوگوں کو حج کی دعوت دی اور فرمایا کہ اس مراسم حج میں زیادہ سے زیادہ لوگ شرکت کریں ، اور اس سفر حج کو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم حجةالوداع کے نام سے یاد فرمایا ،اوراس سفر سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ہدف قوانیں اسلام کے دواہم احکام کو بیان کرنا تھا جو ابھی تک لوگوں کے درمیان کامل اور قانونی طور پر بیان نہیں ہوے ٔ تھے ایک حج اور دوسرا آنحضرت کی وفات کے بعد امامت اور خلافت کا مسئلہ تھا ۔
حکم خداوند عالم کے بعد حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے منادی کرنے والوں کو بلایا اور فرمایا کہ مدینہ اور اسکے اطراف میں جا کر منادی کرو اور یہ اطلاع پہنچا دو کہ جو بھی میرے ساتھ مراسم حج کی ادایٔگی کے لئے جانا چاہتا ہے وہ تیّاری کر لے ،یہ اعلان سننے کے بعد مدینہ کے گرد و نواح سے بہت سے لوگ شہرِ مدینہ میں داخل ہونا شروع ہو گۓ تاکہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اور مہاجرین و انصار کے ساتھ فریضۂ حج کے لئے مکّہ کی طرف سفر کریں جب یہ کاروان مکّہ کی طرف چلا تو بہت سے قبائل کے لوگ راستے میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سا تھ شریک ہوے اور جب اطراف مکّہ اور دوسرے اسلامی ممالک تک یہ خبر پہنچی تو بہت سے لوگ حج کے لئے آمادہ ہو گۓ تاکہ حج کے جز ئیات حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زبانی سن لیں اور یاد کر لیں ۔
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ بھی اشارہ فرما دیا تھا کہ یہ میری زندگی کا آخری سال ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ مراسم حج میں شرکت کریں ، یہی وجہ ہے کہ تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار افراد نے مراسم حج میں شرکت کی جن میں سے اَسّی ہزار افراد وہ تھے جو مدینہ سے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ سفرمیں شامل ہوے ٔ تھے ۔
مدینہ سے مکّہ تک :
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس عظیم کاروان نے ۲۵ ذیقعدہ بروز ہفتہ مدینہ سے حرکت کی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حکم کے مطابق لوگوں نے لباس احرام ساتھ لیا اور خود رسول گرامی اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غسل فرمایا اور دو لباس احرام ساتھ لئے اور احرام باندھنے کے لئے مدینہ کے نزدیک مسجد شجرہ تک آے ٔ اہل بیتِ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم ( حضرت ِ فاطمہ زہرا سلامُ ﷲ ِ علیہا، امامِ حسن ـ، امامِ حسین ـ ) اورآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تمام بیویاں اس سفر میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ تھیں ۔
احرام باندھنے کے بعد مکّہ کے لئے دس روزہ سفر کا آغاز کیا اور اتوار کے دن صبح ایک جگہ پر قیام فرمایا اور شام تک وہاں ٹھرے نماز مغرب و عشا کے بعد حرکت کی اور مقامِ عِرقُ الظبیة پر پہنچے اور اس کے بعد مقامِ رَ وحائِ پر مختصر قیام کیا اور نماز عصر کے وقت مقامِ منصرف پر پہنچے اور نماز مغرب و عشا کیلئے متعشّیٰ پر قیام کیا اور صبح کی نماز مقامِ اثایة پر ادا کی اور بروز منگل مقامِ عَرج پر پہنچے اور بروز بدھ مقامِ سقیائِ پر پہنچے اور بروز جمعرات مقامِ أَبوائِ پر پہنچے کہ وہاں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مادرِ گرامی حضرت آمنہ علَیہا السَلام کی قبرِ مبارک تھی۔
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے قبرِ مادرِ گرامی کی زیارت کی اور جمعہ کے دن مقامِ جحفہُ اور غد یرِ خُم کو عبور کرتے ہوے ٔ بروز ہفتہ مقامِ قُد َید پر پہنچے اور بروز اتوار مقامِ عُسفان پر اور بروز سوموار مقامِ مَرّالظّہران پہنچے اورشام تک وہاں قیام فرمایا اور رات کو مقامِ سَیرَف کی طرف حرکت کی اور اس کے بعد کی منزل مکّۂ معظّمہ تھی دس دن مسافت کے بعد پانچویں ذی الحجہ بروز منگل یہ عظیم کارواں عظمت و جلالت کے ساتھ شہرِ مکّہ میں وارد ہوا ۔
جب سفرِ حج کے لئے اعلان کیا گیا تھا اُن دنوں حضرت علی ـ تبلیغِ اسلام اور خُمس و زکٰوة کی رقم وصول کرنے نجران اور یمن گۓ ہوے ٔ تھے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مدینہ سے حرکت کرتے وقت ایک قاصد حضرت امیرُالمؤمنین ـ کے پاس بھیجا اور دستور فرمایا کہ اہالیِ یمن میں سے جو بھی مراسمِ حج میں شرکت کرنا چاہتے ہیں ان کو اپنی ہمراہی میں لے کر آپ ـ مکہ آجائیں،حضرت َمیرُالمؤمنین
ـ یہ حکم ملتے ہی بارہ ہزار افراد پر مشتمل کاروان لے کر عازمِ مکہ ہوئے جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا کاروان مکّہ کے نزدیک پہنچا توحضرت علی ـ بھی یمن سے مکّہ کے نزدیک پہنچے ایک شخص کو اپنا جانشین مقرّر فرمایا اور خود حُضورِ اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ملاقات کی غرض سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں حاضر ہوے ٔ اور حالاتِ سفر بیان کئے ۔
رسول گرامیِ اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم بہت خوش ہوے ٔ اور حکم دیا کہ کاروانِ یمن کو مکّہ میں داخل کیا جاے ٔ حضرت امیرالمؤمنین ـ دوبارہ کاروان کے پاس تشریف لے گۓ اور آپـ کا قافلہ آنحضرت
صلىاللهعليهوآلهوسلم کے قافلے کے ساتھ پانچویں ذی الحجة بروز منگل واردِ مکہ ہوا ۔
نویں ذی الحجة کو مراسمِ حج کا آغاز ہوا آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے عرفات اور مشعر کے بعد دسویں ذی الحجةکے روز منیٰ میں قربانی اور باقی اعمال کو انجام دیا اور طواف اور سعی کے بعد تمام واجبات اور مستحبّاتِ الہی کو لوگوں کے لئے بیان فرمایا اور بارہ ذی الحجہ کو تین دن میں اعمال حج تمام ہوے ٔ ، مراسمِ حج کے بعد آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم پر دستورِ الٰہی یوں نازل ہوا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نبوّت تمام ہونے والی ہے اسمِ اعظم و آثارِ علم اور میراث انبیاء کو حضر ت علی ابن ا بی طالب ـ کے حوالے کر دیں جو سب سے پہلے مؤمِن ہیں اور میں زمین کو حجّت خدا سے خالی نہیں رہنے دونگا۔
یادگارَنبیاء ،صحف ِ آدم و نوح و ِبراہیم علیٰ نبیِّنا وَعلَیہِمُ السَّلام ، تورات انجیل ، عصایٔ موسیٰ علیٰ نبیِّناوَعلَیہ ِالسّلام انگشترسلَیمان علیٰ، نبیِّناوَعلَیہ ِالسّلام اور باقی تمام انبیاء علیٰ نبیِّنا وَعلَیہِمُ السَّلام کی میراث جن کے خاتمُ الانبیاء حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم محافظ تھے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی ـ کو بلایا اور انبیاء مَا سبق کی میراث کو حضرت علی ـ کے سپرد کیاجو آپ ـ کے بعد آنے والے گیارہ َئمّہ تک منتقل ہوتی رہی ۔
سب لوگ اس بات کے منتظر تھے کہ مراسمِ حج کے بعد آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کچھ مدّت کے لئے مکہ میں قیام فرمائیں گے تا کہ لوگ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زیارت کے لئے آئیں اور اپنے مسائل پوچھیں، لیکن اس کے بر عکس مراسمِ حج تمام ہوتے ہی آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے منادی حضرت بلال کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کردیں کہ کل ۱۶ ذی الحجة کو تمام لوگ مکّہ کو ترک کرکے مقامِ غدیر کی طرف حرکت کریں اور وقتِ معیّن پر غدیر خُم پر پہنچ جائیں اور جو نہ پہنچے وہ ملعون ہو گا ۔
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس دستور کے مطابق کوئی بھی حاجی مکّہ میں باقی نہ رہا یہاں تک کہ مکّہ کے۵ہزار حاجی بھی مکّہ کو ترک کر کے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہمراہ عازمِ مقامِ غدیر ہو ئے، مکّہ سے نکلتے وقت پہلی آبادی بنام سَیرَف پہنچے اور اسکے بعدمَرّالظہران پہنچے اور اسی طرح بالترتیب عُسفان، قُد یداور جحفہ جو کہ غدیر سے نزدیک ترین مقام ہے ۱۸ذی الحجة سوموار کے دن ظہر کے وقت مقامِ غدیرِ خُم پہنچے تب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا !
'' أیُّ ه اَالنَّاسْ اجِیبُوا دَاعِیَ ﷲ انَا رَسُوْلُ ﷲ''
اے لوگو! خداوند عالم کی طرف دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرو ، میں ﷲ کا پیغام لے کر آیا ہوں ۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
مقدمۂ مو لِّف
جس دن سے فرشتۂ وحی غدیر خم میں ولایت کی نورا نی آیات لے کرآیااورمسلمانوں نے حضرت علی ـکی بیعت کی اور راہ ِ رِسالت ہمیشہ کے لئے زندہ ہو گیٔ اس وقت سے لے کر آج تک غدیر خم کے متعلق مختلف قسم کے نظریات پیش کئے گۓ ؛ بعض اسلامی گروہوں نے اصلِ غدیر کو قبول کیا مگر اُس کے ہدف کو تبدیل کر دیا،بہت سی کتابیں خُطبۂحجَّةُ الوداع کے نام سے چھاپی گۓں لیکن ولایت و رہبری حضرت علی ـ کی بحث کو حذف کر دیا اور صرف اخلاقیات کو بیان کیا گیا اور یہاں تک کہ فیلمنامۂ محمد رسول ُﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم میں بھی خطبۂ حجّةُ الوداع میں تحریف کی گیٔ اور اس فیلمنامہ میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے آخری خطبہ کو اخلاقیات کے بیان سے مخصوص کر دیا گیا ۔
انہوں نے پیغامِ غدیر کو صحیح طور پر نہیں پہچانا اور نہ ہی پہچاننا چاہتے ہیں ، اور بعض دوسر ے غدیر کو شواہد ، اسناد و مدارک کے ساتھ پہچاننے کے با وجود عذر لے کر آئے اور ہوا وہی جو ہونا چاہیے تھا۔
ماجرائے سقیفہ کے بعد اب کچھ نہیں کیا جا سکتا ، حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے اختلافی مساۓل کو نہیں چھیڑا جا سکتا،بعض دوسروں نے سکوت اختیار کیا اور بغیر کسی دلیل و مدرک کے سر دران سقیفہ کی حکومت کو تسلیم کرلیا ، اُن میں حقیقت و واقعیّت کوقبول کرنے کی شہامت و جرأت نہ تھی، صرف ایک گروہ ایسا ہے جس نے واقعۂ غدیرکو کما حقّہ،جس طرح پہچاننا چاہیے تھا اس طر ح پہچانااور سینہ بہ سینہ اب تک اپنی آئندہ نسلوں کو مُنتقل کیا اور وہگروہ کویٔ نہیں سواے ٔ حضرت علی ابن ابی طالب ـکے شیعوں کے کہ جنہوں نے اپنا آئین زندگی ، دین ومذہب اور عقائد، غدیرسے لئے ہیں غدیر شیعوں کا کُل عقیدہ ہے ، غدیر کی بات ان کی روحوں کو جلا بخشتی ہے ،شیعوں کی شادابی کا نام غدیر ہے ، کیوں کہ اِن کی سرشت اور انکے وجود کے خمیر کی سرشت عترت کی باقی ماندہ مٹّی سے بنی ہے۔
''خُلِقُواْمِنْ فَاضِلِ طیِنَتِنَا '' کہ یہ لوگ انکی خوشی میں خوشی مناتے ہیں اور انکے غم میں غمناک ہوتے ہیں۔''یُفَرَ حُوْ نَ بِفَرَ حِنَا وَ یَحْزُنُوْنَ بِحُزْنِنَا'' جس دن سے دست ِمبارک حضرت رسولِ اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر کے اعلیٰ مقام پر دستِ حضرتِ ولی ﷲ کو پکڑا اور بلند کیا ، اور خدا کاپیغام لوگوں تک پہنچایا اب تک بہت سے قصیدے کہے گے ٔ،بہت سی کہانیاں لکھی گۓں ، اوراعتقادی اور کلامی کتابیں لکھی گئیں تا کہ جہاں تک ہو سکے اس زندہ و جاوید واقعہ کو ہمیشہ زندہ رکھا جا سکے، اور اس بہتے ہوے ٔ دریا سے بعد میں آنے والی نسلوں کوسیراب کیا جا سکے۔
لمحۂ فکریہ:
جو چیز انسان کو مطالعات اورریڈیو ،ٹیلی ویژن،مسجد و ممبر ، عیدِ غدیرکی مناسبت سے برپا ہونے والی محافل جشن میں غدیر جیسے بے مثل واقعہ کے بارے میں سننے کے بعد بھی بے قرار رکھتی ہے وہ بے توجّہی اور دقّت کا فقدان ہے، اور انتہا ئی افسوس کیساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہی سطحی سوچ کی تاریکی ہے جس نے ابھی تک غدیر خم کو اپنے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں چھپا رکھا ہے۔
بہت سے قصیدے ،محافل جشن، کتابیں،تقاریر ایسی ہیں کہ جن میں غدیر کا کما حقہ، حق ادا نہیں ہوتا اور آہستہ آہستہ بعض لوگوں کے لئے صرف ایک راسخ عقیدہ کی حیثیت سے رہ گیا ہے کہ روز غدیر اعلانِ ولایت کا دن ہے، '' حضرت امیرُ المومنین ـ کی امامت اور وصایت پہنچا نے کا دن ہے، اور یہ سخن حق ہے کہ جو عاشقان ولایت کی زبان،قلم وفکراورذوق سے صادر ہوتا ہے، لیکن صرف یہی حق نہیں ہے،بلکہ حقیقت اور واقعیّت کاصرف ایک گوشہ ہے،سکّہ کا ایک رُخ ہے،کیونکر سطحی سوچ کے ساتھ فیصلہ کیا جاے ٔ ، کہا جاے ٔ اورلکھا جاے ٔ ؟
جبکہ ہمارا دشمن غدیر کی حقیقت کو چھپانے کی سر توڑ کوشش کر رہا ہے ؛ ہزاروں حیلے اور بہانے تلا ش کرتا ہے کہ کسی طرح غدیر خم کی حقیقت کو اجاگر نہ ہونے دیا جائے اور اس تاریخی حقیقت کو پس پردہ ڈالا جاے ٔ، ایسا کیوں ہے کہ ہمارے مقرّرین غدیر کے عمیق اور گہرے مطالب کو بیان نہیں کرتے ؟ ایسا کیوں ہے کہ ہمارے مصنِّفین غدیر خم کی اصل حقیقت کو نہیں لکھتے ؟
بعض لا علمی کی وجہ سے اپنے خطاب ، اشعار اور مرثیوں میں غدیر کے دن کو صرف اعلان ولایت کے ساتھ مخصوص کر دیتے ہیں لیکن افسوس کہ بعض جان بوجھ کر غدیر کے دن کو اعلان ولایت کا دن کہتے ہیں ،اور لوگوں نے بھی اس بات پر یقین کر لیا ؛ کیوں کہ ہمارے مسلمان اپنے روحانی پیشواؤں کی اطاعت کرتے اور اپنے عقائد اُن ہی سے لیتے ہیں ، بار بار یہ سُننے کے بعد یقین کر لیا ہے کہ روز غدیر صرف اور صرف پیغامِ ولایت پہنچانے کا دن ہے۔
واقعۂ غدیر میں تحقیق کی ضرورت :
کیا رسول گرامی اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے آغاز بعثت کے وقت حضرت امیرُالمومنین ـ کی ولایت کا پیغام نہیں پہنچایا۔
کیا بارہا وبارہا مدینہ کے ممبر سے امام علی ـاور انکے گیارہ بیٹوں کی ولایت کولوگوں کے کانوں تک نہیں پہنچایا ؟کیا امام علی ـ اور انکے بعد آنے والے اماموں کے نام آسمانی کتابوں جیسے توریت ، انجیل اور زبور میں نہیں آے ٔ ؟
کیا جنگ خیبر ،اُحد اور تبوک کے زمانے میں رسول گرامی اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی متعدّد احادیث اس وقت کے تمام اسلامی ممالک میں نہیںپہنچیں تھیں جبکہ امام علی ـ(کا تعارف اپنے) بعد''ولی'' اور ''وصی'' کی حیثیت سے کروایا؟اورحدیث منزلت '' أَنْتَ مِنِّی بِمَنْزَلَةِ ھاٰرُوْنَ مِنْ مُوْسی'' کیا واقعۂ غدیر سے پہلے بیان نہیں کی گیٔ؟
اگر رسول گرامی اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے واقعۂ غدیر سے پہلے اپنی بہت سی تقاریر، احادیث اور روایات کے ذریعے امامِ علی ـ کی ولایت کا اعلان فرمادیا ہے،تو پھر یہ اعلان غدیر سے پہلے ہو چکا تھا، اب دیکھنا یہ ہے کہ غدیر میں کونسی حقیقت آشکار ہو ئی اور بیان کی گئی ؟ و ہ کو نسا ایسا اہم وظیفہ تھا کہ جسے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے انجام دیا ؟اور منافقین اور کُفّار کو حسد اور کینہ کس بات پر تھا؟غدیر کے دن ایسا کیا ہوا کہ اُن سے تحمُّل نہ ہو سکا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قتل کے درپے ہو گۓ؟
اگر مسئلہ صرف '' اعلان ولایت'' کا ہوتا تو اتنے تلخ سیاسی واقعات رونما نہ ہوتے، کیوں کہ مدینہ میں کیٔ بار حضرت علی ـ کی ولایت کا اعلان سن چکے تھے اور اکوئی عتراض نہ کیا !کیونکہ انھیں تو صرف اس زمانے کا انتظار تھا کہ جب رسول گرامی اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم درمیان نہ ہوں، غدیر میں ایسا کیا ہو ا کہ عاشقان ِولایت خوش ہوے ٔ اور منافقین نا اُ مید ہو گۓ ؟اور اپنی تمام شیطانی اُ میدوں کو برباد ہوتا ہوا دیکھ رہے تھے یہاں تک کہ تلواریں لے کر تاریکی شب سے فائدہ اُٹھاتے ہوے ٔ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے راستے میں بیٹھ گے ؟ لیکن خدا کو یہ ہر گز منظور نہ تھا کہ ان کے یہ نا پاک ارادے پورے ہوں(اور پیغمبر گرامی اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم محفوظ رہے)اس میں شک نہیں کہ ظاہر آیةِ( بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ ِلَیْکَ ) ابلاغِ ولایت سمجھاتی ہے ،مگر دیکھنا یہ ہے کہ( مَا أُنْزِلَ ) کیا ہے؟
اسلامی جمہوریۂ ایران کے تبلیغاتی ادارے اور گروہ صحافت سے مجھے امید یہ ہے کہ وہ غدیر کے بارے میں تحقیقی اور شائسة نظر سے سوچیں گے،اور و ہ یہ ہے کہ غدیر روزِ تحقّق ہے بارہ اماموں کی و لایت کا( حضرت امیرُالمومنین ـ سے لیکرحضرت مہدی ـتک ) کہ جس کا ظاہری طور پر اعلان بھی کیا گیا اور حضرت رسولِ خدا نے بیعت بھی لی ،دنیا بھر کے اسلامی ممالک سے آئے ہوئے تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار (۰۰۰ ۱۲۰) حاجیوں نے آپکی بیعت کی اور یہ تاریخ ساز اور اہم واقعہ ہمیشہ ہمیشہ کیلۓ اوراق تاریخ پر ثبت ہوگیا۔
اس حقیقت کے تاریخ میں ثبت ہونے کے ساتھ ، غدیر کے موضوع پر قصیدہ گو ئی (کہ جس کا آغاز حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں ہی ہو گیا تھا ) اور مہاجرین و انصار میں سے ہزاروں سچّے گواہوں کی گواہی کی وجہ سے وہ منافقین جو موقع کی تلاش میں تھے تحمُّل نہ کر سکے یہاں تک کہ حملہ آور ہو گئے ان کے بدنما چہروں سے نقابیں ہٹ گۓں اور تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیئے وہ ذلیل و رسوا ہو گۓ۔
اس کتاب کی تحریر کا ہدف یہ ہے کہ ہمارے اسلامی ملک میں جہاں بھی غدیر کے بارے میں کچھ لکھا جائے یا کہا جائے بات تحقیقی اور مناسب ہو کہ غدیر کا دن حضرت علی ـ کے ساتھ لوگوں کی عمومی بیعت کا دن ہے روز ِ غدیر حضرت علی ـسے لے کرحضرت مہدی ـ تک بارہ ائمہ(ع) کی اثبات ولایت اور تحقق امامت کا دن ہے۔
قُم مؤَسّسۂ تحقیقاتی امیرُالمومنین ـ
مُحمَّد دشتی
پہلی فصل
کیا واقعۂ غدیر صرف اعلان ِ دوستی کے لئے تھا؟
پہلی بحث : دوستانہ نظریات
دوسری بحث: حقیقتِ تاریخ کا جواب
تیسری بحث : رسولِ اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور علی ـ کی دوستی
چوتھی بحث : خطبۂ حجةُ الوداع پر ایک نظر
علماء اہل سنّت نے روزِ غدیر سے لے کر آج تک اس موضوع پر مختلف قسم کے نظریات کا اظہار کیا ہے، بعض نے خاموشی اختیار کی تاکہ اس خاموشی کے ذریعے اس عظیم واقعہ کو بھول اور فراموشی کی وادی میںڈھکیل دیا جائے، اور یہ حَسین یاد لوگوںکے ذ ہنوں سے محوہو جائے ،لیکن ایسا نہ ہو سکا ، بلکہ سینکڑوں عرب شاعروں کے اشعار کی روشنی میں جگمگا تا گیا جیسے عرب کا مشہور شاعر فرزدق رسولِ خد ا اصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں موجود تھا ۔
اس نے ا پنی فنکارانہ شاعری میں نظم کر کے اس عظیم واقعہ کو دنیا والوں تک پہنچا دیا، اور بعض نے حکّامِ وقت کی مدد سے سقیفہ سے اب تک تذکرہ غدیر پر پابندی لگا دی ا س کو جرم شمار کیا جانے لگا !کوڑوں ،زندان اور قتلِ عام کے ذریعے چاہا کہ اس واقعہ کو لوگ فرموش کر ڈالیں۔لیکن اپنی تمام تر کوششوں کی باوجود ناکام رہے ، ولایت کے متوالوں پر ظلم ڈھایا گیا انھیں قتل کیا گیا ،تازیانوں کی زد پررکھا گیا ، جتنا راہ غدیر کو خونی بنا یا گیا اُتنا ہی مقامِ غدیر اُجاگر ہوتا گیا اور آخر کار ان کا خون رنگ لایا اور شفق کی سرخی کے مانند جاوید ہو گیا ۔
حضرت فاطمہ زہرا سلامُ ﷲ ِعلَیہا کی ہمیشہ یہ کوشش رہی بحث و مباحثہ اور مناظرات کے دوران غدیر کے موضوع پر بات کریں ، خود حضرت علی ـ نے غدیر کی حساس سیاسی تبدیلیوںسے ،متعلق گفتگو کی اور میدان غدیر میں حاضر چشم دید گواہوں سے غدیر کے واقعہ کا اعتراف لیا، اور دوسرے ائِمّۂ معصومین اور ولایت کے جانثاروںنے ا س دن سے لے کر آج تک ہمیشہ غدیرِ خُم کو اُجاگر کیا، اور پیامِ غدیر کو آ ئندہ نسلوں تک پہنچایا اب کوئی غدیر میں شک و تردد کا شکار نہیں ہو سکتااور نہ ہی اس کو جھٹلا سکتا ہے ۔
۱ ۔ دوستانہ نظریات
بعض ا ہل سنت مصنِّفین جو اس بات کو سمجھتے تھے کہ واقعۂ غدیر سورج کی طرح روشن و منوّر ہے اور جس طرح سورج کو چراغ نہیں دکھایا جاسکتا اُسی طرح اس کا انکار بھی ممکن نہیں ہے اور اگر اِس کو نئے رنگ میں پیش نہیں کیا گیا تو غدیر کی حقیقت بہت سے جوانوں اور حق کے متلاشیوں کو ولایتِ علی ـ کے نور کی طرف لے جائے گی ،تو وہ حیلہ اور مکر سے کام لینے لگے اور حقیقت غدیر میں تحریف کرنے لگے ،اور کہا کہ ! ہاں واقعۂ غدیر صحیح ہے اور اس کا انکار ممکن نہیں ہے لیکن اس دن رسول ِخداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مقصد یہ تھا کہ اس بات کا اعلان کریں کہ (علی ـ کو دوست رکھتے ہیں) اور یہ جو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: مَنْ کُنْتُ مَوْلٰاہُ فَعَلِیّ مَوْلٰاہُ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مقصد یہ بتانا تھا کہ ( جو بھی مُجھے دوست رکھتا ہے ضروری ہے کہ علی ـ کو بھی دوست رکھے )۔
اور یہیں سے وہ الفاظ کی ادبی بحث میں داخل ہوئے لفظ ِ '' ولی '' اور '' مولیٰ '' کاایک معنیٰ ( دوستی )اور( دوست رکھنے ) کے ہیں لہذا غدیر کا دن اس لئے نہیں تھا کہ اسلامی دنیا کی امامت اور رہبری کا تذکرہ کیا جائے بلکہ روزِ غدیر علی ـ کی دوستی کے اعلان کا دن تھا۔
اُنہوں نے اس طرح پیغامِ غدیر میں تحریف کر کے بظاہر دوستانہ نظریات کے ذریعہ یہ کوشش کی کہ ا ہلسُنّت جوانوں اور اذہانِ عمومی کو پیغامِ غدیر سے منحرف کیا جائے ،چنانچہ اپنی کتابوں میں اس طرح بیان کیا کہ اہلِسُنّت مدارس کے طالبِ علموں اور عام لوگوں نے اس بات پر یقین کر لیا کہ روزِ غدیر علی ـ کی دوستی کے اعلان کا دن ہے ، پس کوئی غدیر کا انکار نہیں کرتا اور رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اُس دن تقریر کی لیکن صرف علی ـ کی اپنے ساتھ دوستی کا اعلان کیا اور اس بات کی تاکید کی کہ مسلمان بھی حضرت علی ـ کو دوست رکھیں۔
۲ ۔ حقیقتِ تاریخ کا جواب:
واقعۂ غدیرکی صحیح تحقیق کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ غدیر خم صرف اعلان دوستی کا نام نہیں ہے بلکہ اس کی حقیقت کچھ اور ہے۔
۱۔واقعۂ روزِغدیر کی تحقیق:
حقیقتِ غدیر تک پہنچنے کے لئے ایک راستہ یہ ہے کہ غدیر کی تاریخی حقیقت اورواقعیّت میںتحقیق کی جائے ، حجةُالوداع رسولِ گرامی ِ اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کا آخری سفرِ حج ہے اس خبرکے پاتے ہی مختلف اسلامی ممالک سے جوق در جوق مسلمان آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں آئے اور بے مثال و کم نظیر تعداد کے ساتھ فرائض حج کو انجام دیا اور اسکے بعد سارے مسلمان شہرِ مکّہ سے خارج ہوئے اور غدیر خُم پر پہنچے کہ جہاں سے اُنہیں اپنے اپنے شہرو دیار کی طرف کوچ کرنا تھا ۔
اہلِ عراق کو عراق کی طرف ، اہلِ شام کو شام کی طرف ،بعض کو مشرق کی سمت اوربعض کو مغرب کی سمت ،ایک تعدادکو مدینہ ، اور اسی طرح مختلف گروہوں کو اپنے اپنے قبیلوں اور دیہاتوں کی طرف لَوٹنا تھا،رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم ایسے مقام کا انتخاب کرتے اور توقّف کرتے ہیں شدید گرمی کا عالم ہے ، سائبان اور گرمی سے بچنے کے دوسرے وسائل موجود نہیں ہیں اور عورتوں اور مردوں پر مشتمل ایک لاکھ بیس ہزار (۰۰۰،۱۲۰)حاجیوں کی اتنی بڑی تعداد کو ٹہرنے کا حکم دیتے ہیں یہاںتک کہ( ۱ ) پچھے رہ جانے والوں کا انتظار کیاجائے ،آگے چلے جانے والوں کو واپس بلایا جائے اور پھر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اُونٹوں کے کجا ووںاور مختلف وسائل سے ایک اُونچی جگہ بنانے کا حکم د یا تاکہ سب لوگ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو آسانی سے دیکھ سکیں، اور اسلامی ممالک سے آ ئے ہو ئے حاجیوں کے جمع ہونے تک انتظار کیا گیا، گرمی کی شدّت سے پسینے میں شرابور لوگ صرف اس لئے جمع ہوئے تھے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا پیغام غور سے سنیں اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم یہ فرمائیں!
____________________
( ۱ ) واقعۂ غدیر کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت حاجیوں کا جمع غفیر تھا جوکہ مختلف اسلامی ممالک سے آئے ہوئے تھے جنکی تعداد مؤرّخین نے نوّے ہزار (۰۰۰،۹۰) سے ایک لاکھ بیس ہزار (۰۰۰،۱۲۰)تک نقل کی ہے اورحج کی ادائگی کے بعد اپنے اپنے وطن لَوٹتے ہوئے ۱۸ ذی الحجہ کے دن خدا کے حکم سے سرزمینِ غدیر خُم پر جمع ہوئے اور جنہوں نے رسولِ خد اصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پیام کو سُننے کے بعدحضرت علی ـ کی بیعت کی،غدیر کے دن لوگوں کی اس عام بیعت کا اعتراف بہت سارے مؤرِّخین نے کیا ہے ۔جو مندرجہ ذیل ہیں!
۱ ۔ سیرۂ حلبی ، ج ۳ ص ۲۸۳ : حلبی :
۲ ۔ سیرۂ نبوی ، ج ۳ ص ۳ : زینی دحلان
۳ ۔ تاریخُ الخُلَفاء ، ج ۴ : سیوطی (متوفّٰی ۹۱۱ ہجری)
۴ ۔ تذکرةُخواص الاُمّة ، ص ۱۸ : ابنِ جَوزی(متوفّٰی ۶۵۴ ہجری)
۵ ۔ احتجاج ، ج ۱ ص ۶۶ : طبرسی (متوفّٰی ۵۸۸ ہجری)
۶ ۔ تفسیرِ عیّاشی ، ج ۱ ص ۳۲۹/۳۳۲ حدیث ۱۵۴ : ثمر قندی
۷ ۔ بحارُا لا نوار ، ج ۳۷ ص ۱۳۸ حدیث ۳۰ : علّامہ مجلسی
۸۔ اثباتُ الہُداة ، ج ۳ حُرِّعاملی ص ۵۴۳ /۵۴۴ حدیث ۵۹۰/۵۹۱/۵۹۳ :
۹ ۔ تفسیرِبرہان ، ج ۱ ص ۴۸۵ حدیث ۲ ، ص ۴۸۹ حدیث ۶ :بحرانی
۱۰ ۔ حبیبُ السَّیر ، ج ۱ ص ۲۹۷/۳۷۵/۴۰۴/۴۱۲/۴۴۱ : خواند میر
''اے لوگو !میں علی ـ کو دوست رکھتا ہوں ''
پھر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی لوگوں سے بار بارتاکید کی کہ آج کے اس واقعہ کو اپنی اَولادوں،آئندہ آنے والی نسلوںاور اپنے شہرودیار کے لوگوں تک پہنچادیں۔
یہ اہم واقعہ کیا ہے؟
کیا صرف یہ ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم یہ فرمائیں ! میں علی ـ کو دوست رکھتا ہوں ؟
کیا ایسی حرکت کسی عام شخص سے قابلِ قبول ہے ؟
کیا ایسی حرکت بیہودہ ،اذیّت ناک اور قابل مذمّت نہیں ہے ؟
پھر کسی نے اعتراض کیوں نہیں کیا؟
کیا مسلمان یہ نہیں جانتے تھے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت علی ـ کو دوست رکھتے ہیں ؟ کیا علی ـ ایسے صف شکن مجاہد کی محبّت پہلے سے مسلمانوں کے دلوں میں نہیں بسی ہوئی تھی؟
۲۔فرشتۂ وحی کا بار بار نزول:
اگر غدیر کا دن صرف دوستی کے اعلان کے لئے تھا تو ایسا کیوںہواکہ جبرئیل امین جیسا عظیم فرشتہ تین بار آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر نازل ہو اور پیغامِ الٰہی سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو آگاہ کرے؟! جیسا کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے خود ارشاد فرمایا!۔
'' إنَّ جِبْرَئ ي ْلَـ ه َبَطَ اِلَیَّ مِرٰاراً ثَلٰاثاً یَاْ مُرُنِیْ عَنِ السَّلٰامِ رَبِّیْ وَ ه ُوَالسَّلٰامُ َانْ َقُوْمَ فِی ه ٰذا الْمَشْ ه َدِ، فُعْلِمَ کُلَّ َبْياَضٍ وَ َسْوَدٍ اَنَّ عَلِیَّ ابْنَ اَبِیْ طٰالِبٍ َاخِیْ وَ وَصِییّ و َخَلِیفَتِی عَلٰی اُمَّتِیْ وَ الْاِمٰام ُ مِنْ بَعْدِیْ اَلَّذِی مَحَلَّ ه مِنِّیْ مَحَلُ ه ٰارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی اِلّٰا انَّ ه لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ وَ ه ُوَ وَلِیُّکُمْ بَعْدَ ﷲ وَرَسُوْلِ ه وَ قَدْ اَنْزَلَ ﷲ تَبٰارَ کَ وَ تَعٰا لٰی عَلَیَّ
بِذٰ لِکَ آیَةً مِنْ کِتٰابِ ه !''
( اِنَّمٰاوَلِیُّکُمُ ﷲ ُوَرَسُوْلُهُ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْاالَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَیُؤْ تُوْن الزَّکٰوةَ وَ هُمْ رٰاکِعُوْنَ ) ( ۱ )
وَعَلِیُّ بْنَ اَبِیْطالِبٍ اَلَّذِیْ اقٰامَ الصَّلٰوةَوَاٰتَی الزَّکٰوةَ وَ ه ُوَرٰاکِع یُرِیْد ﷲ َ عزَّ وَجَلَّ فِی ْکُل ّحٰالٍ ( ۲ )
جبرائیل ـ تین بار وحی لے کرمجھ پرنازل ہو ئے اور درود و سلام کے بعد فرمایا کہ یہ مقام غدیرہے یہاں قیام فرمائیں اورہر سیاہ و سفید،یہ بات جان لے کہ حضرت علی ـ میرے بعدآپ کے وصی خلیفہ اورتمہارے پیشوا ہیں ، انکا مقام میری نسبت ایسا ہی ہے جیسا مقام ہارون کا موسٰی کی نسبت تھا ،بس فرق یہ ہے کہ میرے بعد کو ئی نبی نہیں آئے گاعلی ـ خدا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد تمہارے رہنما ہیں خدا وندِ صاحب عزّت و جلال نے اپنی پا ک وبابرکت کتاب قرآنِ مجید میں اس مسئلہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی۔اس کے سوا کچھ نہیں کہ تمہارے ولی اور سرپرست خدا،رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اوروہ لوگ ہیں جو ایمان لائیں ،نماز بپا کریں اور حالتِ رکوع میں زکٰوة ادا کریں یہ بات تم لوگ اچھی طرح جانتے ہو کہ علی ـ نے نماز بپا کی اور حالتِ رکوع میں زکٰوة ادا کی اور ہر حال میں مرضیِ خدا کے طلبگار رہے ۔
____________________
(۱)مائدہ، ۵/ ۵۵
(۲) حجّةُالوداع کے موقع پر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا خطبہ ( کتاب احتجاج طبرسی ،ج ۱، ص۶۶)
خطبہ کے مدارک و اسناد :
(۱) ۔ احتجاج ، ج ۱، ص ۶۶ : طبرسی ( ۲)۔ اقبا ل الاعمال ،ص۴۵۵: ابن طاؤوس ( ۳)۔ کتاب الیقین،باب۱۲۷: ابن طاؤوس
( ۴) التحصین ، باب۲۹: ابن طاؤوس (۵)۔روضةُالواعظین ،ص۸۹ :قتال نیشابوری (۶)۔ البرہان،ج۱ ص۴۳۳:بحرانی
(۷)۔ اثباتُ الہُداة ، ج۳ ص۲ : عاملی(۸)۔ بحارُالانوار ، ج۳۷ص ۲۰۱:بحرانی( ۹)۔ کشف المہم،ص ۵۱:بحرانی
(۱۰)۔تفسیرِ صافی،ج۲، ص۵۳۹:فیض کاشانی
۳۔ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پریشانی:
اگر غدیر کا مقصد صرف علی ـ کی دوستی کا پیغام پہنچانا تھا تواس پیغامِ الٰہی کے پہنچا دینے میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پریشانی کا کیا سبب ہے؟آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تین بار پس و پیش کیوں کی؟ اور جِبرَئیل ـ کا مسلسل اصرار کرنا اور اس آیت کاپڑھناکہ( یٰا اَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مٰا اُنْزِلَ ِالَیْکَ مِنْ رَبِّکْ وَاِنْ لَمْ تَفْعَل فَمٰا بَلَّغْتَ رِسٰالَتَهُ ) ( ۱ )
( اے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم !جو حکم خدا کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے اسے لوگوں تک پہنچا دیں اگر آج آپنے یہ کام انجام نہیں دیا تو گویا آپنے اپنی رسالت کو ادھورا چھوڑ دیا ۔( ۲ )
____________________
(۱) مائدہ ۵/۶۷
(۲)بہت سارے مسلمان عُلماء نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ! یہ آیۂ مبارکہ غدیر کے دن حضرت ِ علی ـ کی ولایت کے ا علان کے لئے نازل ہوئی۔
۱۔ الولایة فی طرق حدیث الغدیر : طبری ۲۔ ما نزل القرآن فی امیرالمؤمنین ـ : ابو بکر فارسی ۳۔ ما نزل القرآن فی علی ـ : ابو نعیم ۴۔ الدرایة فی حدیث الولایة : سجستانی
۵۔ الخصائص العلویّة : نطنزی ۶۔ تفسیر شاہی : محبوب العالم۷۔ ارجح المطالب ، ص ۶۷/۶۸/۲۰۳/ ۵۶۶ : امرتسری۸۔ اسباب النزول ، ص ۱۳۵ : واحدی
۹۔ تاریخ دمشق ، ج ۲ ، ص ۸۵ : ابن عساکر ۱۰۔ فتح القدیر ، ج ۳ ، ص ۵۷ : شوکانی۱۱۔ مفاتیحُ الغیب ، ج ۱۲ : فخر رازی۱۲۔ تفسیر المنار ، ج ۶ ، ص ۴۶۳ : رشید رضا
۱۳۔ حبیبُ السَّیر، ج ۲ ،ص ۱۲ : خواند میر ۱۴۔ الدرّ المنثور ، ج ۲ ص ۲۹۸ : سیوطی۱۵۔ شواھدالتنزیل ، ج ۱، ص ۱۸۷ / ۱۹۲ : حسکانی ۱۶۔ فرائد ا لسّمطین : حموینی
۱۷۔ فصول المہمّة ، ص ، ۲۳ /۷۴ : ابن صبّاغ ۱۸۔ مطالب السؤول : ابن طلحہ۱۹۔ ینا بیع المودّة : ص ،۱۲۰ قندوزی۲۰ ۔ روح المعانی : ج ۲ ص، ۳۴۸ آلوسی
۲۱۔ عمدة القاری ، ج ۸ ، ص۵۸۴: عینی۲۲۔ غرایب القرآن ، ج ۶، ص ۱۷۰ : نیشا بوری ۲۳ ۔: مودّة القربی : ھمدانی
یہ اتنا بڑااور اہم کام کیا تھا؟حضرت علی ـ کی دوستی کا پیغام تو کوئی اتنا بڑا کام نہیں تھا !اور یہ کام کسی خاص خطرہ کا حامل بھی نہیں تھا کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اتنا پریشان کرتا یہاں تک کہ ۳ بار حضرت جبرئیل ـ نازل ہوں اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کام کو انجام دینے سے عذر خواہی کریں ،اس بات کا اظہا ر خود آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس دن کے خطبہ میں کیا !
وَسَاَلْتُ جِبْرَئِیْل ا ـَنْ یَسْتَعْفِیَ الِیَ السَّلٰامَ عَنْ تَبْلِیْغِ ذٰلِکَ اِلَیْکُمْ؛ اَیُّ ه َاالنّٰاسُ؛ لِعِلْمِیْ بِقِلَّة ِ الْمُتَّقِیْنَ وَکَثْرَةِالْمُنٰافِقِیْنَ ، وَاِدْغٰال َالا ثْمِیْنَ وَحِیَل ِالْمُسْتَ ه ْزِئِیْن ِ بِالاِسْلٰامِ اَلَّذِیْن َوَصَفَ ه ُم ﷲ فِیْ کِتٰابِ ه :( بِاَنَّهُمْ یَقُوْ لُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مٰالَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ وَیَحْسَبُوْنَه هَیِّنا ً وَ هُوَ عِنْدَﷲ ِعَظِیْم ) ( ۱ )
وَکَثْرَ ةِ َاذٰا ه ُمْ لِیْ غَیْرَ مَرَّة ِ، حَتّیٰ سَمُّوْنِی ا ُذُناً، وَزَعَمُوْاَنِّیْ کَذٰلِک لِکَثْرَةِ مُلٰازِمَتِ ه ا ِیّٰایَ، وَاِقْبٰالِیْ عَلَیْ ه ِ، وَ ه َوٰا ه ُ وَقَبُوْلِ ه حَتّیٰ ا َنْزَلَ ﷲ ُ عَزَّ وجَلَ َّفِیْ ذٰلِکَ قُرْآناً
( وَمِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَیَقُوْلُوْنَ هُوَاُذُ ن قُلْ اذُن خَیْرٍلَکُم ) ( ۲ )
وَلَوْ شِئْتُ اَنْ ُسَمِّیَ القٰائِلیْنَ بِذٰلِکَ بِاَسْمٰئِ ه ِمْ لَسَمَّیْتُ، وَاِنْ َوْمَیئَ ِلَیْ ه ِمْ بِاَعْیٰانِ ه ِم ْ لاَوْمْتُ،وَاَنْ َدُلَّ عَلَیْ ه ِمْ لَدَلَلْتُ،وَلٰکِنِّیْ وَﷲ ِ فِیْ ُمُوْر ه ِمْ قَدْ تَکَرَّمْتُ ۔
میں نے جبرَئیل ـ سے درخواست کی کہ مجھے علی ـ کی ولایت کے اعلان سے معاف رکھے کیوںکہ اے لوگو !میں اس بات سے بخوبی واقف ہوں کہ ،پرہیزگار بہت کم اور منافقوں کی تعداد
____________________
(۱) نور،۲۴/۱۵
(۲) توبہ / ۶۱
بہت زیادہ ہے ، مکّار گنہگار اور اسلام کا مذاق اڑانے وا لے موجود ہیں وہ لوگ کہ جن کے بارے میںخدا وندِعالم نے اپنی کتاب میں فرمایا: (وہ لوگ اپنی زبانوں سے ایسی باتیں کہتے ہیں کہ جن پر دل میں یقین نہیں رکھتے اور انکا خیال یہ ہے کہ یہ آسان اور بہت سادہ سی بات ہے جبکہ منافقت خدا کے نزدیک سب سے بڑاگناہ ہے )
ان منافقوں نے بارہا مجھے تکلیف پہنچائی یہاں تک کہ مجھ پر تہمتیں لگائیں اور کہا کہ ( پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم معاذﷲ دوسروں کے کہنے پر عمل کرتے ہیں اور اس میں انکا اپنا کوئی ا رادہ شامل نہیں ہوتا) کیونکہ! میں ہمیشہ علی ـ کے ساتھ تھا اور وہ زیادہ تر میری توجّہ کے مرکز تھے لہٰذا منا فقین حسد کی وجہ سے اس بات کو تحمّل نہ کر سکے یہاں تک کہ خداو ندِ بزرگ و بر تر نے ایک آیت نازل کی جسکے ذریعہ اُنکی ان بیہودہ باتوںکامُنہ توڑ جواب دیا فرمایاکہ:( بعض منافقین ، پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کو تکلیف پہنچاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ سرا پاگوش ہیں، اے رسول کہدو کہ پیغمبر اچھی باتیںسننے والا ہے یہی تمہارے لئے بہتر ی ہے) اگر ابھی چاہوں تو منافقوں کونام اور پتے کے ساتھ پہچنوا دوں، یا انکی طرف ا نگلی کا اشارہ کر دوںیا لوگوں کو انکو پہچاننے کے لئے راہنمائی کردوںتوجو چاہوں کر سکتا ہوںلیکن خداکی قسم میں ان کیلئے کریم ہوں اور بزرگواری سے کا م لیتا ہوں( ۱ )
اگر اُس دن پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت علی ـ کی دوستی کا پیغام نہ پہنچاتے تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رسالت پر کیا حرف آتا ؟یہ کام ایسا کونسا کام ہے کہ اگر پیغمبر گرامیصلىاللهعليهوآلهوسلم انجام نہ دیں تو انکی رسالت نا مکمّل رہ جائے گی؟ اور پھر فرشتۂ وحی آ نحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تسلّی کے لئے پیغام الٰہی لے کر آئے کہ( وَﷲ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ) ( ۲ )
____________________
۱۔ یہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حجّةُ الوداع کے موقع پر معروف خطبہ کا کچھ حصّہ ہے مکمّل خطبہ اس کتاب کے آ خر میں اسناد و مدارک کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے رجوع فرمائیں:
(۲)مائدہ ۵/۶۷
( خدا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو انسانوں کے شر سے محفوظ رکھے گا )
وہ رسول جن پر آغاز بعثت سے لے کر حجّةُ الوداع تک کبھی بھی خوف غالب نہیں آیا ،ہمیشہ میدان جنگ میں موجود رہے( ۱ ) کارِ رسالت کے مشکل اور کٹھن راستے میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قدم کبھی متزلزل نہیں ہوئے اب آ پصلىاللهعليهوآلهوسلم کو کیا بات پریشان کئے ہوئے ہے ؟
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو کونسا کام انجام دینا ہے کہ جسکے انجام دینے میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم دشمن کے مخالفانہ پروپیگنڈے، منکروں کے انکار ،کافروں کے کفر اور منافقوں کے نفاق سے خوفزدہ ہیںاور تین بارجبرَئیل ـ سے اس کام کو انجام نہ دینے کی درخواست کرتے ہیں ؟
پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم تو کبھی خوف میں مبتلا نہیں ہوتے تھے ،اور وحیِّ الہی کے پہنچانے میں ایک لحظہ پس و پیش سے کام نہیں لیتے تھے،حقیقت میں پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم ُمّت کے بکھر جانے سے خوفزد ہ تھے،رسولِ اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کوداخلی اختلاف اور جھگڑوں کا ڈر تھاکہ کہیں لوگ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مقابلہ میںکھڑے نہ
____________________
۱ ۔آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شجاعت اور خط شکنی کے سلسلے میں امیرُالمؤمنین ـ نے فرمایا:
( کُنَّا ِذَا أحْمَرَّالْبَاْس ُأتَّقَیْنَا بِرَسُوْلِ ﷲ صلىاللهعليهوآلهوسلم ،فَلَمْ یَکُنْ َحَد مِنَّاَقْرَبَ ِلَیٰ الْعَدُوِّمِنْهُ )
(جب بھی شعلۂ جنگ بھڑکتا ہم رسولِخداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پناہ میں چلے جاتے تھے کیوںکہ ایسے نازک وقت میں ہم لوگوںمیں سب سے زیادہ رسولِخداصلىاللهعليهوآلهوسلم دشمن کے نزدیک ہوتے تھے ۔ )
۱۔ کشف الغمة : مرحوم اربلی( متوفیٰ ۶۸۹ ھ)
۲۔غریب الحدیث ، ج۲ ص۱۸۵ : ابن سلام ( متوفیٰ ۲۲۳ھ )
۳۔کتاب النہایة ، ج۱ ص ۸۹ ، ۴۳۹ : ابن اثیر ( متوفیٰ ۶۳۰ھ )
۴۔تاریخ طبری ، ج۲ ص۱۳۵ : طبری ( متوفیٰ ۳۱۰ھ )
۵۔بحار الانوار ، ج۵ ص ۲۲۰ : مرحوم مجلسی ( متوفی۱۱۱۰ھ )
۶۔بحار الانوار ، ج۱۶ص ۱۱۷، ۲۳۲، ۳۴۰ : مرحوم مجلسی ( متوفی۱۱۱۰ھ )
ہوجائیں اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی کہیں موجودگی میں امّت کے درمیان خونریزی شرو ع نہ ہو جائے، احترام جاتا رہے،جو کچھ جہاد کی قربانیوںاور شہادتوں سے حاصل ہوا تھا بھلا دیا جائے آیا یہ سب کچھ حضرت علی ـ سے دوستی کے اعلان کی وجہ سے تھا ؟ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ماضی میں آغاز بعثت سے لے کر غدیر کے موقع تک بارہا و بارہا فرمایا تھا کہ میں علی ـ کو دوست رکھتا ہوں ۔
یہ تو کوئی اتنا اہم مسئلہ نہیں تھا کہ امّت مسلمہ کی صفوں میں تزلزل اور دراڑ کا باعث ہو دوستی کا اعلان کوئی خاص اہمیت کا حامل مسئلہ نہ تھا کہ صاحب عزّت و جلال خدا اپنے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اطمینان دلائے اور کہے کہ( وَ ﷲ ُ یَعصِمُکَ مِنَ النَّاسِ )
اور تم ڈر و نہیں خداوند عالم آپ کو لوگوںکے شر سے محفو ظ رکھے گا اگر ہدف صرف یہ تھا کہ ''دوستی کا ابلاغ '' ہو جائے تو پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی ـکا ہاتھ بلند کرکے انکی بیعت کیوں کی ؟ اور تمام مسلمانوں کو بیعت کا حکم کیوں دیا کہ حضرت علی ـ کی بیعت کریں !! اور حاضرین میں سے مرد آدھی رات تک اور خواتین اگلے دن کی صبح تک حکم بیعت کی بجاآوری میں مشغول رہیں ۔ حضرت علی ـ کی د وستی یا اسکا ابلاغ تو اس بات کا متقاضی نہیں ہے کہ بیعت طلب کی جائے اور لوگ بھی امتثال حکم کرتے ہوئے مشغول ہوجائیں ۔
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم مختلف اسلامی ممالک سے آئے ہوئے ایک لاکھ بیس ہزار حجاج کو ایک دن اور رات کے لئے غدیر خم کے میدان میں روکے رہیں صرف یہ کہنے کے لئے کہ ( اے لوگو ! میں علی ـ کو دوست رکھتا ہوں ) آیا یہ دعویٰ قابل ِ قبول ہے ؟
۴۔ تکمیلِ دین کا راز :
یہاں ایک سوا ل اور پیدا ہوتا ہے کہ آیا حضرت علی ـکی دوستی کے اعلان کے ساتھ دین کامل ہو جائے گا؟اگر پیغمبر گرامی ِ اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم روزِغدیر اپنے ساتھ علی ـ کی دوستی کا اعلان نہ کرتے تو کیا دین ناقص تھا ؟ اور چونکہ اُس دن آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے لوگوں سے کہا کہ ( میں علی ـ کو دوست رکھتا ہوں ) تو دین ِ خدا کامل ہو گیا ؟ اور خدا کی نعمتیں لوگوں پر تمام ہو گئیں ؟ اور جیسا کہ بہت سارے شیعہ اور سُنّی علماء( ۱ ) نے اس بات کااعتراف کیا ہےغدیر کے دن آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اعلان ِ ولایت اور لوگوں کے بیعت کر لینے کے بعد ختمی مرتبتصلىاللهعليهوآلهوسلم پر یہ آیۂ مبارکہ نازل ہوئی !
( ا لْیَوْ مَ یَئِسَ ا لَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِ یْنِکُمْ ، فَلاَ تَخْشَوْ هُم وَاخْشَوْنِ،الْیَوْمَ أَکْمَلْت لَکُم ْدِیْنَکُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتی وَرَضِیْتُ لَکُم ُالاِسْلٰامَ دِیْناً ) ( ۲ )
(مسلمانوں ) اب تو کفّار تمہارے دین سے( پھر جانے سے ) ما یوس ہو گئے ہیں ، لھذا تم ان سے تو ڈرو ہی نہیں بلکہ صرف مجھ سے ڈرو آج ( غدیر کے دن )میں نے تمہارے دین کو مکمّل کر دیا اور تم لوگوںپر اپنی نعمتیں پوری کر دیں ،اور تمارے اس دین اسلام کو پسندکیا غدیر کے دن ایسا کونسا کام انجام پایا کہ فرشتۂ وحی مذ کورہ آیت کوبشارت و خوشخبری کے سا تھ لیکر نازل ہوا ؟
وہ عظیم واقعہ کیا تھا کہ جس کی وجہ سے
الف۔ کافر دین کی نابودی سے مایوس ہو گئے ۔
____________________
۱۔تمام مؤرّخوں اور بہت سارے اہل ِ سنّت مفسِّروں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سورۂ مبارکہ ٔ مائدہ کی آیت شمارہ /۳ (الْیَوْمَ َکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ) غدیر کے دن حضرت علی ـ کی اعلان ِ ولایت اور لوگوں کی بیعت ِعمومی کے بعدآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم پر نازل ہوئی ۔مورخوں اور مفسّروں کے نام مندرجہ ذیل ہیں !
۱۔تاریخ دمشق ، ج۲ ص ۷۵ و ۵۷۷ : ابن عساکر شافعی ( متوفّیٰ ۵۷۱ ھ )۲۔ شواہدُ التنزیل ، ج۱ ص ۱۵۷ : حسکانی حنفی ( متوفّیٰ ۵۰۴ ھ ) ۳۔ مناقب ،ص۱۹ : ابن مغازلی شافعی ۴۔ تاریخ بغداد ، ج۸، ص ۲۹۰ :خطیب ِ بغدادی ( متوفّیٰ ۴۸۴ ھ )۵۔ تفسیرِدرّالمنثور ،ج۲، ص ۲۵۹ : سیوطی شافعی ( متوفّیٰ ۹۱۱ ھ ) ۶۔ الِتقان ، ج ۱، ص ۳۱ و۵۲ : سیوطی شافعی ( متوفّیٰ ۹۱۱ ھ )۷۔ مناقب ،ص۸۰ : خوارزمی حنفی ( متوفّیٰ ۹۹۳ ھ )۸۔تذکرةُ الخواص ، ص ۳۰ و ۱۸: ابن جوزی حنفی ( متوفّیٰ ۶۵۴ ھ )۹۔ تفسیر ِ ابن کثیر ، ج۲ ،ص ۱۴ : ابن کثیر ِ شافعی ( متوفّیٰ ۷۷۴ ھ )۱۰۔ مقتلُ الحُسین،ج۱ ، ص۴۷ : خوارزمی حنفی ( متوفّیٰ ۹۹۳ ھ ) ۱۱۔ینابیعُ المودة، ص۱۱۵ : قندوزی حنفی۱۲۔ فرائدُ السّمطین ،ج ۱ ،ص، ۷۲ و ۷۴ و۳۱۵: حموینی ( متوفّیٰ ۷۲۲ ھ )۱۳۔ تاریخ یعقوبی ،ج ۲، ص ۳۵ : یعقوبی ( متوفّیٰ ۲۹۲ ھ )۱۴۔ الغدیر ، ج ۱، ص ۲۳۰ : علّامہ امینی ۱۵۔ کتاب الولایة : ابن جریر طبری ( متوفّیٰ ۳۱۰ ھ )۱۶۔ تاریخ ابن کثیر،ج۵، ص ۲۱۰ : ابن کثیر ِ شافعی ( متوفّیٰ ۷۷۴ ھ )۱۷۔ مناقب ،ص ۱۰۶: عبدﷲ ِ شافعی ۱۸ ۔ ارجح المطالب ،ص ۵۶۸ : عبدﷲ ِ حنفی ۱۹۔ تفسیر ِ روحُ المعانی ، ج۶ ص۵۵: آلوسی ۲۰ ۔ البدایة والنہایة ،ج۵، ص۲۱۳وج۷ ص ۳۴۹ :ابن کثیر ِ شافعی ( متوفّیٰ ۷۷۴ ھ )۲۱۔ الکشف و البیان :ثعلبی ( متوفّیٰ ۲۹۱ ھ ) ۲۲۔بحارُ الانوار ،ج۳۷ باب ۵۲ : علّامہ مجلسی اور بہت ساری تفاسیر اہل سنّت ، اور تمام شیعہ علماء کی تفاسیر جن کے ذکر کے لئے ایک الگ کتاب کی ضرورت ہے ۔
(۲) مائدہ ۵/ ۳
ب ۔ جس کے بعد کافروں کی سازشوں سے نہ ڈرا جائے ۔
ج ۔ دین اسلام کامل ہوگیا۔
د۔ ﷲ کی نعمتیں پوری ہو گئیں ۔
ھ ۔ اسلام کے پائندہ رہنے کی ضمانت دی گئی ۔
کیا یہ سب کچھ صرف دوستی کا پیغام پہنچانے کے لئے تھا ؟
آیا اس قسم کے دعوے تمام دنیا کے مسلمانوں کے لئے قابلِ قبول ہیں ؟
ہم غدیر کے پر نور خورشید کے مقابلے میں جہل کی تاریکی اور کینہ پروری کی پناہ کیوں لیں؟
بلکہ غدیر کاواقعہ تو کوئی بہت بڑا واقعہ ہونا چاہیے کہ جس نے آیاتِ الٰہی کے( بہت سی بشارتوں اور پیغاموں کے ساتھ) نزول کی راہ ہموار کی۔
اُس واقعہ کو تو بہت اہم واقعہ ہونا چا ہیے کہ جسکا نتیجہ ''اکمالِ دین '' اور '' اتمامِ نعمت ہو۔
ایسا واقعہ کہ جس نے راہ رسالت کو رنگ جاویدانی بخشا اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی آغاز ِ بعثت سے لے کر ہجرت اور اسکے بعد کی زحمتوں کا پھل دیا۔
آیا یہ عظیم واقعہ '' عام مسلمانوں کا حضرت علی ـ کی بیعت کرنے'' کے علاوہ کچھ اور ہے؟ آیا یہ عظیم واقعہ '' حضرت علی ـ اور انکے گیارہ بیٹوں کی ''قیامت تک کے لئے بیعت عمومی کے علاوہ کچھ اور ہے ؟
کیایہ عظیم واقعہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعدسے قیامت تک کے لئے مسلمانوں کے رہبراور پیشوا معیّن ہونے کے علاوہ کچھ اور ہے؟
یہ اہل سنّت مصنّفین، تاریخ کا مطالعہ کیوں نہیں کرتے کہ روزِ غدیر کے بعد کس قسم کے تلخ حوادث رونما ہوئے ؟
۵۔ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قتل کی نا کام سازش :
اگر پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ہدف غدیر کے دن صرف حضرت علی ـ کی دوستی کا پیغام پہنچانا تھا تو ایک گروہ نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قتل کا ارادہ کیوں کیا ؟ اور مدینے کے راستے میں اپنے اس باغیانہ ارادے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کیوں کی لیکن خدا وند عالم نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت کی ؟ دوستی کا پیغام تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قتل کا سبب نہیں ہو سکتا ؟
امیرُ المؤمنین ـ کی ولایت کے مخالفوں نے سوچا کہ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو قتل کر دیا جائے ، اور اس قتل کوطبیعی موت ظاہر کرنے کے لئے ان لوگوںنے آپس میںسازش یہ کی کہ جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سواری '' عقبہ'' (جو کہ پہاڑی علاقہ ہے اور وہاں بہت گہری گہری کھائیّاں ہیں) کے قریب پہنچے تو پتھر اور لکڑیاں وغیرہ ان کھائیّوں میں پھینکی جائیں جن سے مختلف قسم کی خوفناک آوازیں پیدا ہو ںگی جن آوازوں سے ڈر کر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سواری کسی گہری کھائی میں جا گرے گی۔ اور ہم تاریکی شب سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں سے فرار ہو جائیںگے پھر کل سب لوگوں میں یہ بات مشہور کر دیں گے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات کا سبب طبیعی حادثہ ہے ۔
پھر یہ سارے مخالفین تیزی سے اس مقام پر جمع ہوکر گھات لگا کر بیٹھ گئے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سواری کا انتظار کرنے لگے ،لیکن خدا وند ِعالم نے فرشتہ ٔ وحی کو نازل کرکے اپنے حبیبصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دشمن کی اس سازش سے آگاہ فرما دیا،جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سواری اس مقام کے نزدیک پہنچی تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حذیفہ ٔ یمانی اور عمّار یاسر سے کہا کہ اُن میں سے ایک اونٹ کی مھار تھامے اور ایک سواری کو ہنکائے، گھات لگائے ہوئے منافقوں نے جو کچھ بھی ہاتھ میں آیا کھائی کی طرف پھینکنا شروع کر دیا اور مختلف قسم کی خوفناک آوازوں سے اُونٹ کو ڈرانے کی کوشش کی ، لیکن خدا کی مدد آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے شامل حال رہی اور اُونٹ پر کوئی اثر نہ ہوا ۔
اور اس طرح دشمن کی سازش ناکام ہوئی ، مگر یہ منافقین اس سنہرے موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے تھے اور جب اس سازش کو ناکام ہوتے دیکھا تو تلواریںلے کر پیغمبر گرامیِ اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم پر حملہ آور ہو گئے لیکن ان کے سامنے حذیفہ ٔ یمانی اور عمار ِ یاسر جیسے عاشقانِ ولایت تھے جن کے بے نظیر اور شجاعت سے بھرپور دفاع کے سبب اس سازش میں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ، اب اگر یہ منافقین تھوڑی سی دیر کرتے تو قافلے میں شامل عاشقان ِ ولایت سر پر پہنچ جاتے اور منافقوں کا کام تمام کر دیتے ۔
لہٰذا اب منافقین کے پاس فرار کے علاوہ کو ئی چارہ نہیں تھا ، حذیفہ ٔ یمانی نے پوچھا یا رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم یہ کون لوگ تھے ؟ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا خود ہی دیکھ لو، اُس وقت بجلی چمکی اور منافقوں کے چہرے تاریکی کے پردے سے بے نقاب ہوئے اور حذیفہ نے اُن افراد کو آسانی سے پہچان لیا ! جن کی تعداد پندرہ (۱۵) ہے اور ان کے نام در ج ذیل کتب میں درج ہیں۔( ۱ )
۶۔ نفرین آمیز طو مار کا انکشاف :
روزِ غدیر پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ہدف صرف حضرت علی ـ کی دوستی کا اعلان اور لوگوں سے حضرت علی ـ کی بعنوان امام اور رہبربیعت لینا نہیں تھا تو ایک گروہ نے اس دن کے بعد اُمّت ِ اسلامی کی امامت اور رہبری کے متعلّق مخفیانہ تحریر کیوں لکھی کہ جسکے ذریعہ رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد قدرت و حکومت اپنے ہاتھ میں لے لیں ؟
جب یہ گروہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو قتل کرنے اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے میں کامیاب نہ ہوسکا تو انہوں نے احتیاط کا دامن تھاما اور تا حیات ِ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم اس قسم کی حرکتوں
____________________
(۱) کشف الیقین ، ص ۱۳۷ : علّامہ حلّی ۲۔ ارشادالقلوب ، ص ۱۱۲ و ۱۳۵ : دیلمی ۳۔ بحارالانوار ، ج۲۸ ص ۸۶ و ۴ ۱۱ : علّامہ مجلِسی
سے اجتناب کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن ایک دوسرے گر وہ نے ولایتِ علی ـ کی کھلّم کھلّا مخالفت کی ا ور اس طرح ایک تحریر لکھی جس پر بہت سارے لوگوں کے دستخط لئے تاکہ یہ ظاہر کر سکیں کہ ہمار ی مخالفت بہت منظّم اور مستحکم ہے ۔
اس مقصد کے لئے ابو بکر کے گھر پر جمع ہوئے باہم گفتگو کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ ایک عہد نامہ لکھا جائے ،چنانچہ سعید بن عاص نے ایک عہد نامہ لکھا ، اس عہد نامے پر جن لوگوں نے دستخط کئے ان کے ناموں سے قریش اور امیرُالمؤ منین ـ کے مخالفوں کے سینوں میں کینے اور بغض کی شدت ثابت ہو جاتی ہے ،ان ناموں میں سرِ فہرست ابو سفیان ، فرزندِ ابی جہل اورصفوان بن ُمیّہ جیسے نام دیکھنے میں آتے ہیں، یعنی مشرکوں اور کافروں کے سردار منافقوں ( نام نہاد مسلمانوں ) کے ہاتھوں میںہاتھ دئے ہوئے ہیں تاکہ خورشیدِ ولایت کا انکار کیا جاسکے ۔
عہد نامہ
بِسْمِ ﷲ ِالرَّحْمٰن ِالرَّحِیمِ
یہ وہ عہد نامہ ہے کہ جس پر اصحابِ رسول میں سے انصار و مہاجر ین پر مشتمل ایک گروہ نے اتفاق کیا ہے، یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کی تعریف خدا وندِ عالم نے اپنی آسمانی کتاب میں رسول کے ذریعہ اور بزبانِ رسالت کی ہے،اس گروہ نے ولایت وامامت کے مسئلے میں مختلف آراء اور مشوروں کی روشنی میں اجتہاد اور کوشش کرنے کے بعد اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی کے لئے جو کچھ دین اور لوگوں کے لئے مناسب تھا اس عہد نامے میں تحریر کر دیا ہے تاکہ آئندہ آنے والی نسلیں بھی اس سے فائدہ اُٹھا سکیں اور اسکے دستورالعمل کی پیروی کرتے ہوئے دنیا اور آخرت کی سعادت حاصل کر سکیں ۔
امّا بعد! خداوند ِ منّان نے اپنے کرم اور مہربانی کے ساتھ حضرت محمّدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو لوگوں کی طرف بھیجا تاکہ اسکے پسندیدہ دین کو لوگوں تک پہنچائیں ، اور رسول ِ اکرم نے اپنے اس تبلیغی وظیفے کو انجام دینے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی ،جن جن امورکی تبلیغ پر مامور کئے گئے تھے ان کو بخیر وخوبی لوگوں تک پہنچایا،یہاں تک کہ دین کامل ہو گیا اور اسلامی معاشرے میں واجبات و سنن ِلٰہی رائج ہوگئے ۔ اس کے بعد خدا وند ِ عالم نے اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنی طرف بُلا لیااور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم مکمّل عزّت و احترام کے ساتھ دعوت حق کو لبّیک کہا اور اپنی جا نشینی کے لئے کسی شخص کی نشان دہی کئے بغیر اس دار ِفانی سے دار بقا ء کی طرف کوچ کر گئے ، بلکہ خلیفہ وجانشین چننے کا اختیار لوگوں کو سونپ گئے تاکہ جس کو بھی مورد وثوق واطمنان پائیں اسے جانشین رسول اور ولایت امرالمسلمین کے لئے منتخب کر لیں اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت مسلمانوں کے لئے باعث افنخار ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:( جو بھی روز ِ قیامت اپنے پروردگار سے ملاقات کرنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ رسول کی اطاعت کرے ) حقیقت میں رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس لئے اپنا جانشین مقرّر نہیں کیا کہ خلافت ِ رسول ایک ہی خاندان میںمنحصر نہ رہے بلکہ دوسرے خاندان بھی خلافت سے کچھ فائدہ حاصل کر سکیںمیراث کی طرح ایک شخص سے دوسرے شخص کی طرف منتقل نہ ہوتی رہے،اور اس لیے کہ دلتمندوں کے ہاتھوں کا کھلونا نہ بن جائے اور کوئی خلیفہ بھی قیامت تک کے لئے اپنی نسل میں خلافت کا دعوے دار نہ ہو۔
ہر عہد اور زمانے میں تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ ایک خلیفہ کے مرنے کے بعد صاحبان ِ حلّ و عقدمل کر بیٹھیں اور باہمی صلاح و مشورے سے جس کو بھی صالح اور خلافت کے لائق سمجھیں مسلمانوں کے تمام امور کی لگام اسکے سپرد کردیں اور اسکو ولی ِامرِ مسلمین اور ان کے اموال و نفوس کا مختار قرار دیں،کیو نکہ اصحابِ حل ّ و عقد ایسے امور کی پوری صلاحیّت رکھتے ہیں اس لئے یہ کبھی بھی خلافت کے لئے انتخاب سے قاصر نہیں ہوں گے، لہٰذا اگر کوئی اس بات کا دعوے دار ہو کہ رسول ِخداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک خاص شخص کو اپنی جانشینی کے لئے چن لیاتھا اور اسکے نام اور حسب و نسب سے سب کو آگاہ فرمادیا تھا ، اسکی یہ بات بیہودہ اور اصحابِ رسول کی رای کے خلاف ہے ، اور ا س نے مسلمانوں کی جماعت میں اختلاف ڈالاہے اوراگر کوئی دعو ی کرے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خلافت اور جانشینی وراثت ہے اور اسکے بعد دوسرے کو ملے گی تو اسکی یہ بات بے معنیٰ ہے کیونکہ رسول ِخداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: ( ہم انبیاء کسی کو ار ث نہیں دیتے اور جو کچھ ہم سے باقی بچے صدقہ ہے ۔ )
اور اگر کوئی اس بات کا دعوے دار ہو کہ خلافت ِ رسو ل خداصلىاللهعليهوآلهوسلم ہر کسی کو زیب نہیں دیتی بلکہ مسلمانوں میں سے ایک معیّن شخص اس مقام کے لائق ہے ، اور خلافت اسکا حق ہے کوئی دوسرا خلافت کا مستحق نہیں ہے کیونکہ خلافت نبوّت کے بعد بالکل ویسا ہی ایک سلسلہ ہے، یہ بات قابل ِ قبول نہیں ہے اور اسکا کہنے والا جھوٹا ہے ،اس لئے کہ خود رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا! ( میرے صحابہ آسمان کے ستاروں کے مانند ہیں جس کی بھی پیروی کروگے ہدایت پا جاؤ گے۔)
اور اگر کوئی کہے کہ وہ خلافت کا مستحق ہے وہ بھی اس لئے کہ حسب و نسب کے لحاظ سے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قریب ہے اور یہی معیار رہتی دنیا تک خلافت کا ملاک ا ور معیار ہے، اسکا یہ کلام بے جا ہے کیونکہ ملاک اور معیار تقویٰ ہے ،نہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے رشتہ داری،
جیسا کہ خدا وند ِ عالم نے فرمایا :( اِنَّ َکْرَمَکُمْ عِنْدَﷲ اَتْقٰاکُمْ )
تم میں سے خدا کے نزدیک صاحب عزت وہ ہے جس کا تقوی ز یادہ ہواور ایسے ہی رسول ِ اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ارشاد فرمایا:( سارے مسلمان ایک ہیں اور مخالفوں کے سامنے ایک صف میں ہیں ۔
لہٰذا جو بھی کتاب خدا پر ایمان لائے اور سُنّت ِ رسول کو قبول کرتے ہوئے اس پر عمل کرے وہ حق کے راستے پر ہے اور اسکے نیک اور صالح ہونے میں کوئی شک نہیں اور جو بھی قرآن و سُنّت کے بر خلاف عمل کرے اور مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو جائے اسے قتل کر دو کیونکہ اسکے قتل میں ہی اُمّت کی صلاح پوشیدہ ہے۔ کیونکہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی یہی فرمایا:
( جو بھی میری اُمّت میں تفرقہ ڈالے ، انکو ایک دوسرے سے جدا کرے اورانکی صفوں میں شگاف ڈالے تو اس کو قتل کر دو، چاہے وہ کوئی بھی ہو ؛ کیونکہ اجتماع اُمّت رحمت ہے اور اُمّت کی جدائی عذاب ہے اور میری اُمّت ضلالت اور گمراہی پر متّفق نہیں ہوسکتی ،اور یہ سب دشمن کے مقابلے میں بہت زیادہ متّحد اور یکدست ہیں معاندین کے گروہ کے علاو ہ کوئی بھی مسلمانوں کی جماعت سے جدا نہیں ہوگا جو جدا ہو اس کا خون مباح ہے۔
تاریخ:محرّمُ الحرام ۱۰ ھ( ۱ )
اس دستاویز کو سعید بن عاص نے لکھا اور تیرہ لوگوں (کہ جنہوں نے اس دستاویز پر دستخط کئے )کو اس کا گواہ بنایا جن کے اسماء ذیل کتب میں موجود ہیں( ۲ )
غدیر کے روز ایسا کونسا اہم کام انجام دیا کہ جس کی وجہ سے ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہنے والے نا اُمّید ہو گئے ،اُنکے تمام منصوبے خاک میں مل گئے اور تمام سازشوں پر پانی پھر گیا، مزید صبر نہ کر سکے اور جتنی مخالفت کر سکتے تھے کی اور کھل کر سامنے آگئے ، یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے عذاب طلب کیا۔
____________________
(۱)۱۔بحارُ الانوار ، ج۲۸ ص ۱۰۵۔۱۰۳
(۲)ارشاد القلوب دیلمی ،ص ۱۳۵۔ ۱۱۲،کشف الیقین،ص۱۳۷، مسند احمد ،ج ۱ ۔ ص ۱۰۹
۷۔بعض حاضرین کی علی الاعلان مخالفت :
ایک شخص جسکا نام ''حارث بن نعمان فہری''تھا اور امام علی ـ کے خلاف دل میں بغض لئے تھا اپنے اونٹ پر سوار ہو کر رسول ِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خیمے کے سامنے آیا اور کہا !
(اے محمّدصلىاللهعليهوآلهوسلم ! تم نے ہمیں ایک خدا کی تعلیم دی ہم نے تسلیم کیا ، اپنی نبوت کا دعویٰ کیا ہم نے لاالٰہَ الّﷲ وَ محمّد رسول ُ ﷲ کہا ، ہمیں اسلام کی دعوت دی ہم نے قبول کی اور اسلام لے آئے ، تم نے کہا پانچ وقت نماز پڑھوہم نے پڑھی ،زکوٰة و روزہ و حج و جہاد کا حکم دیا ہم نے اطاعت کی ، اب اپنے چچا زاد بھائی کو ہمارا امیر بنا دیا معلوم نہیںیہ حکم خدا کا ہے یا تمہارے ذاتی ارادے کی پیداوار ہے ۔ )
رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا ( خدا کی قسم کہ جس کے سوا کوئی خدا نہیں ،یہ حکم اس خدا ہی کی طرف سے ہے میرا کام فقط اس حکم کو تم لوگوں تک پہنچانا تھا) حارث آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا یہ جواب سن کر غضبناک ہو گیا اور آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہا !
( خدا یا ! اگر جو کچھ محمّدصلىاللهعليهوآلهوسلم نے علی ـ کے بارے میں کہا ہے تیری طرف سے ہے اور تیرے حکم سے ہے تو ایک پتھر آسمان سے مجھ پر گرے اورمیں ہلاک ہو جائو ں )
ابھی حارث بن نعمان کے یہ جملے ختم نہیں ہوئے تھے کہ آسمان کی طرف سے ایک پتھر آیااور اس کو ہلاک کر دیا،تو اس وقت سورۂ معارج کی آیات نمبر ۱ و ۲ نازل ہوئی۔( ۱ )
____________________
(۱)۔ (سَاَلَ سَآئِل بِعَذَابٍ وَاقِعٍ لِلْکٰافِرِیْنَ لَیْسَ لَه دَافِع )
۱۔ غریب ُالقرآن : ہروی۲۔شفاء الصدور : موصلی۳۔الکشف والبیان:ثعلبی ۴۔رعاة الھداة:حسکانی ۵۔الجامع لاحکام القرآن : قرطبی۶۔ تذکرة الخواص ،ص۱۹ : سبط ابن جوزی۷۔ الاکتفاء : وصابی شافعی ۸۔ فرائد السّمطین ،باب۱۳ : حموینی۹۔ معارج الاصول : زرندی ۱۰۔ نظم درر السمطین : زرندی۱۱ ۔ ہدایة ا لسعداء : دولت آبادی۱۲ ۔ الفصول المہمّة ،ص۴۶ : ابن صبّاغ ۱۳۔ جواہر العقدین :سمہودی۱۴۔ تفسیر ابن سعود ،ج۸ ص۲۹۲: عمادی ۱۵۔السراج المنیر ،ج۴ ص ۳۶۴: شربینی۱۶۔ الاربعین فی فضائلِ امیرالمؤمنین ـ : جمال الدّین شیرازی۱۷۔ فیض ا لقدیر ،ج۶ ص ۲۱۸ : مناوی۱۸۔العقدالنّبوی والسّر المصطفوی: عبد روس ۱۹۔ وسیلة المآل: با کثیر مکّی۲۰۔نزہة المجالس، ج۲ ص۲۴۲: صفوری۲۱۔السیرة الحلبیّة، ج۳ ص۳۰۲:حلبی۲۲۔الصراط السوی فی مناقب النّبیصلىاللهعليهوآلهوسلم :قاری۳ ۲۔ معارج العلی فی مناقب المصفی: صدر عالم۲۴۔ تفسیر شاہی :محبوب عالم۲۵ ۔ذخیرة المآل : حفظی شافعی۲۶۔ الروضة النّذیّة: یمانی۲۷۔نورالابصار ،ص ۷۸: شبلنجی ۲۸۔ تفسیر المنار ،ج۶ ص ۴۶۴: رشید رضا۲۹۔ الغدیر ،ج۱ ص ۲۳۹: علّامہ امینی (اور سینکڑوں شیعہ اور سُنّی کتب ِتفسیرجنہوں نے اس حقیقت کا اعتراف کیاہے
( ایک سوال کرنے والے نے اس عذاب کا سوال کیا کہ جو کافروں پر آتا ہے اور اسکو کوئی نہیں روک سکتا۔) دوسرے نے وہ شرمناک تحریر لکھی ، اور ایک گروہ تو کھلے دشمن کی طرح برہنہ شمشیر لئے رسولِ اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قتل کے درپے ہوگئے ، اگر غدیر کے دن صرف علی ـ کی دوستی کا اعلان ہوا تھا اور کوئی بہت اہم کام انجام نہیں پایا تھا تو پھر سیاسی پارٹیوں کے سربراہ ،موقع کی تلاش میںرہنے والے حکومت اور اقتدار کے بھوکے رسول ِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قتل کی سازش میں ناکام ہونے کے بعد مسلمانوں کی منظّم صفوں کو درہم برہم کرنے کی کوششیں کیوں کرتے رہے ؟اور مکّہ سے مدینہ تک راستے بھر اس کوشش میںکیوں لگے رہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب پر کاری ضرب لگائیں؟
''غدیر خم'' میں ایسا کونسا اہم واقعہ رونما ہوا کہ ان سارے گروہوں نے جو سازش ممکن تھی کی اور شیطانی چالیں چلیں؟
۸۔ناکام سازشیں :
تمام مسلمانوں کے حضرت علی ـ کی بیعت کر لینے کے بعد اور مخالفوں کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے یہ احتمال ہر آن بڑھتا جارہاتھا کہ سرزمین غدیر خم سے مدینہ تک کے طویل راستے میں کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن اس شیطانی سازش میں کامیاب ہو جائے اور ایسی جارحانہ حرکتوں کا مرتکب ہو جو دنیایٔ اسلام اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لئے خوش آیند نہ ہو، لہٰذا اس خطرے کے پیش نظر پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حکم دیا کہ منادی یہ اعلان کردے:
( رسول خدا کا حکم ہے کہ مدینہ پہنچنے تک راستے میں دو یا تین آدمی اس بات کا حق نہیں رکھتے کہ ایک ساتھ جمع ہوں اور ایک دوسرے کے کانوں میں باتیں کریں ۔)
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس فرمان کی وجہ سے شیطانی منصوبے خاک میں مل گئے ، تمام سازش آمیز اتحادٹوٹ گیا اور مخالفین اپنی ان شیطانی سازشوں اور حرکتوں کو عملی جامہ نہ پہنا سکے ، اس قافلے کے مدینہ کی طرف سفر کے دوران حذیفہ کے غلام( جس کا نام سالم تھا) نے دیکھا کہ ابو بکر ،عمر اور ابو عبیدہ جرّاح ایک جگہ جمع ہیں اور آپس میں گفتگو میں مشغول ہیں ، اس نے کہا کہ اگر مجھے نہیں بتاؤگے تو پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اطلاع دے دوں گا، انہوں نے وعدہ و وعید کے بعد سالم سے کہا کہ :
(ہم چاہتے ہیں کہ ولایت علی ـکی اطاعت نہ کرنے پر اتّحاد کرلیں تو بھی ہمارے ساتھ شامل ہو جا۔) سالم نے کہا : کیونکہ میں بنی ہاشم اور علی ـ کا دشمن ہوں اس لئے مجھے منظور ہے ۔ لیکن یہ چھوٹا سا جلسہ بھی رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نگاہوں سے پوشیدہ نہ رہ سکا اور راستے میںاُن سے مخاطب ہو کر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : ( میں نے تم لوگوں کو جمع ہونے اورکانوں میں باتیں کرنے سے منع کیا تھا تم لوگوں نے اطاعت کیوں نہیں کی جان لو کہ خدا وند عالم تمہارے ہر عمل سے واقف ہے اور کوئی شی اس سے مخفی اور پوشیدہ نہیں ہے ۔)
اگر غدیر کے دن کی تاریخی حقیقت کا کما حقّہ مطالعہ اور تحقیق کی جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ روزِ غدیر صرف دوستی کے اعلان کے لئے نہیں تھا،اور لفظ '' مولیٰ '' اور'' ولی ''کے معنیٰ صرف (امامت اور رہبری ) ہی کئے جاسکتے ہیں ، گویا پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر میں فرمایا : (ہر اسکا کہ جسکا میں رہبر ،امام اور مولیٰ ہوں علی ـ بھی رہبر ،امام اور مولیٰ ہے) اور کیونکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے امت مسلمہ کی رہبری اور امامت کا واضح اور قطعی اعلان کیا اور حضرت علی ـ کے لئے بیعت لے لی تو منافقوں کی ا میدوں ، موقع کی تلا ش میں رہنے والوں کے انتظار اور انکی حد درجہ مخالفانہ کوششوں پر پانی پھر گیا۔
سوّم۔رسولِ اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور علی ـ کی دوستی
ا مام علی ـ کا دوست رکھنا اور پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حضرت علی ـ کے ساتھ دوستی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی ،علی ـ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی جان او ر پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت علی ـ کی جان تھے آغاز بعثت کے وقت سے سب لوگ یہ دیکھتے رہے کہ علی ـ اور حضرت خدیجہ سلامُ ﷲ ِ علیہا حجر اسمٰعیل کے برابر میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے ہیںیہ سب نے دیکھا کہ حضرت علی ـ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بستر پر سوئے اور اپنی جان کی پرواہ نہ کی تاکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی جان بچا سکیں سب نے دیکھا کہ حضرت علی ـ بعثت وھجرت میں ایک پروانے کی طرح شمع رسالت کے گرد چکر لگاتے رہے سب نے یہ بارہا سنا کہ حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی ـ کے ساتھ اپنی دوستی کا اعلان کیا : جن میں سے چند نمونے مندرجہ ذیل ہیں
۱۔ جنگ اُحُد میں دوستی کا اعلان :
ابن اثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مشرکوں کے ایک گروہ کو دیکھا کہ حملے کے لیے تیّار ہے حضرت علی ـ کو حکم دیا کہ اس گروہ پر حملہ کریں ، حضرت علی ـ نے حکم کی اطاعت کی اور ان لوگوں پر حملہ کرکے کا فی کو قتل اور باقی کو فرار پر مجبور کر دیا بعد ایک اور گروہ کو دیکھا اور حضرت علی ـ کو حملہ کا حکم دیا علی ـ نے انکو بھی مار بھگایا اس وقت فرشتۂ وحی نے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہا کہ یہ فداکاری کی انتہا ہے جو حضرت علی ـ دکھا رہے ہیں رسول ِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا ! ( وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ) ا س وقت آسمان سے یہ آواز آئی،لاَ فَتیٰ الّٰا عَلِی ّ ،لاَ سَیْفَ الّٰا ذُوالْفِقٰار ( علی ـ جیسا شجاع جوان اور ذوالفقار جیسی تلوار وجود نہیں رکھتی)۔
ابن ابی الحدید بھی لکھتے ہیں : جب اصحاب پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم میں سے اکثریت فرارہو رہی تھی تو دشمن کے مختلف دستے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گرد گھیرا تنگ کرنے لگے قبیلۂ بنی کنانہ کا ایک گروہ ،اور ایک گروہ قبیلہ عبد مناة کا جس میں چار نامور جنگجو بھی؛ تھے جب پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف بڑھنے لگے توآپ نے حضرت علی ـ سے فرما یا : ان لوگوں کے حملے کو رفع دفع کرو علی ـ جو پا پیادہ جنگ میں مصروف تھے ، پچاس افراد پر مشتمل اس گرو ہ پر حملہ کر کے انھیں پسپا کر دیا انھوں نے کئی بار جمع ہو کر حملہ کیا لیکن پسپائی انکا مقدّر تھی ان حملوں میں چار مشہور جنگجو اور دس دوسرے افراد جنکا نام تاریخ میں نہیں ملتا علی ـ کے ہاتھوں قتل ہوئے جبرَئیل نے رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہا:( حق یہ ہے کہ علی ـ فدا کاری کر رہے ہیں ، فرشتے انکی اس جاں فشانی سے تعجب میں مبتلا ہیں )
پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : ایسا کیوں نہ ہو حضرت علی ـ مجھ سے ہیں اور میں علی ـ سے ہوں، جبر ئیل نے کہا : میں بھی آپ سے ہوں۔
اس وقت آسمان سے دوبارہ یہ آوازآ ئی ''لَا سَیْفَ اِلَّا ذُوالْفَقٰاروَلاَ فَتیٰ اِلَّا عَلِیّ'' لیکن کہنے والا دکھائی نہیں دے رہا تھا، جب پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سوال کیا گیا یہ کس کی آواز ہے ؟ توآپ نے فرمایا جبرئیل کی آواز ہے ۔( ۱ )
۲۔ جنگ خیبر میں دوستی کا اعلان :
جنگ احزاب میں کامیابی کے بعد جب یہودیوں نے خیانت کی اور عہدو پیمان کا پاس نہ کیا تو مسلمان رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی قیادت میں جنگ خیبر کے لئے تیّار ہوئے اور حملے کے آغازمیں ہی یہودیوں کے بعض قلعوں کو فتح کرلیا حضرت علی ـ آشوب ِ چشم میں مبتلا تھے ۔
____________________
(۱)۔ ابن ا بی الحدید نے شرح نہج البلاغہ ،ج۱۴ ص ۲۵۳میں اور خوارزمی نے کتاب المناقب' ص ۲۲۳ میں روایت کی ہے اپنی اس فداکاری (کہ جس کے نتیجے میں آسمان سے یہ ندا آئی) کو حضرت علی ـ نے شوریٰ کی تشکیل کے وقت اعضا کے سامنے دلیل کے طور پر پیش کیا۔
چھوٹے چھوٹے قلعوں کو فتح کرنے کے بعدمسلمان سپاہیوں نے بڑے قلعوں '' وطیع 'اور ''سلالم''کی طرف پیش قدمی کی لیکن قلعہ کے باہر ہی یہودیوں کی سخت مقاومت کا سامنا ہوا ، یہی وجہ تھی کہ اسلام کے دلیر سپاہی اس تمام جاں نثاری ،فداکاری اور سنگین نقصانات ( جنکا ذکر اسلامی مورخ ابن ہشام نے مخصوص باب میں کیاہے )کے با وجود کامیابی حاصل نہ کر سکے ، لشکر ِ اسلام کے سپاہی دس دن سے زیادہ نبرد آزما ئی کرتے رہے۔
لیکن ہر روز بغیر کامیابی کے لوٹتے رہے ایک دن جلیل القدر صحابی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ، ابو بکر سفید پرچم لے کر قلعہ خیبر کو فتح کرنے کے لئے روانہ جنگ ہوے مسلمانوں نے بھی ان کی سالاری میں حرکت کر دی لیکن کچھ دیر بعد بغیر کسی نتیجہ کے واپس لشکر گاہ کی طرف پلٹ آئے سالار اور سپاہی سب ایک دوسرے کو قصور وار ٹھراتے ہوئے بزدلی اور فرار کا الزام لگارہے تھے ۔
ایک دن لشکر کی سالاری عمر کو دی گئی انہوں نے بھی اپنے دوست کی کہانی دہرائی اورجیسا کہ طبری( ۱ ) نے نقل کیا ہے،میدانِ جنگ سے پلٹنے کے بعد قلعۂ خیبر کے سردارمرحب کی غیر معمولی دلاوری اور شجاعت کے ذکر سے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھیوں کو ہرا ساں کرتے رہے اس صورت حال نے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اور مسلمان سرداروں کو سخت پریشانی میں مبتلا کردیا، ان حسّاس حالات میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فوج اسلام کے سپاہیوں اور سرداروں کو جمع کیا اور یہ قیمتی کلمات ا رشاد فرمائے :
''لَاَعْطَیَنَّ الرَّایَةَ غَدَاً رَجُلاًیُحِبُّ ﷲ َ وَرَسُوْلَ ه وَیُحِبُّ ه ﷲوَ رَسُوْ لُ ه یَفْتَحُ ﷲ عَلیٰ یَدَیْ ه ِ، لَیْسَ بِفَرَّارٍ .''( ۲ )
____________________
( ۱)۔تاریخ طبری ، ج۲ ،ص ۳۰۰
(۲)۔ مجمع البیان ، ج ۹، ص ۱۲۰ ۔ سیرۂ حلبی ، ج ۲، ص ۴۳ ۔ سیرۂ ابن ہشام ، ج ۳ ، ص ۳۴۹
( یہ علم میں کل اس مردکے ہاتھوں میں دونگا جو خدا اور اسکے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دوست رکھتا ہوگا اورخدا اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کودوست رکھتے ہونگے ،ﷲ اسکے ہاتھوں پرفتح (قلعہ پر غلبہ ) دیگاوہ مردہرگز میدان جنگ سے دشمن کی طرف پشت کر کے بھا گنے و الا نہ ہو گا۔)
طبری اور حلبی کی ایک روایت کے مطابق اس طرح فرمایا:''کَرّارٍ غَیْرَ فَرَّار'' (دشمن پر حملہ کرتا ہے اور ہر گز فرار نہیں ہوتا)( ۱ ) یہ جملہ اس سردار کی فضیلت، معنوی برتری، شہامت اور شجاعت کی حکایت کرتاہے کہ فتح و کامرانی جسکا مقدّر ہے اور کامیابی جسکے ہاتھوں حاصل ہوگی؛ سپاہیوں اور سرداروں کے درمیان خوشی ، اضطرا ب اور پریشانی کی ملی جُلی کیفیت ہے کہ کل یہ اعزاز کس کو ملنے والا ہے ؟ ایک عجیب غوغا خیموں اور اطراف میں بلندتھا، ہر شخص کے دل میں یہ آرزو تھی کہ کل یہ اعزاز مجھے مل جائے۔( ۲ )
____________________
(۱)۔ ابن ابی الحدید نے ان دو سرداروں کے فرار سے سخت متثر ہوتے ہوئے اپنے معروف قصیدہ میں اس طرح بیان کیا
وما انس لا انس اللّذینَ تقدما و فر هما و الفر ، قد علما
(اگر ہر چیز کو بھول بھی جاؤں لیکن ان دو سرداروں کے فرار کو نہیں بھول سکتا کیونکہ وہ تلواریں ہاتھ میں لے کر دشمن کی طرف گئے اور یہ جاننے کے باوجود کہ جہاد سے فرار کرنا حرام ہے دشمن کی طرف پیٹھ کرکے فرار ہو گئے ۔)
و للر ایة العظمیٰ و قد ذهبابها ملابس ذل فوقها و جلابیب
(وہ لوگ بڑا پرچم لے کر دشمن کی طرف گئے لیکن معنوی طور پر ذلّت اور خواری کے پردے میں لپٹاہوا تھا۔)
یَشلّهمامن آل موسیٰ شمردل طویل نجاد السّیف ،اجید یعبوب
فرزندانِ موسیٰ میں سے ایک تیز و طرّار اور بلند قامت جوان انکو میدانِ جنگ سے دور کر رہا تھا وہ بہترین اور تند رو سوار تھا۔
( ۲)۔ جب حضرت علی ـ نے خیمہ میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس فرمان کو سنا تو بڑے شوق دل کے ساتھ فرمایا!
''اللّٰهُمَّ لَا معطی لما منعت ولا مانع لما َ عطیت'' سیرۂ حلبی ،ج۳، ص ۴۱
اے پرودگا ر جس سے تو منع کیااسے انجام نہیں دوں گا اور جس کاامر فرمایااسے انجام دوں گا۔
رات کی تاریکی نے ہر جگہ کو اپنی آغوش میںلے لیا تھا مسلمان سپاہی اپنے اپنے خیموں میں تھے سب جلداز جلد یہ جاننا چاہتے تھے کہ کل یہ اعزاز کس کو دیا جائے گا؟( ۱ )
نا گاہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا ! علی ـ کہاں ہیں ؟ جواب دیا گیا کہ ؛ وہ آشوب ِ چشم میں مبتلا ہیں اور ایک گوشے میں آرام فرما رہے ہیں پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا ! انکو بلایا جائے لہٰذا امیر المؤمنین ـ کے ساتھ دوستی کا اعلان تو غدیر ِ خم سے کئی سال پہلے ہو چکا تھا جب علی ـ دشمن کی صفوں کو توڑتے اور سردارانِ قریش کے سروں کو کچلتے ؛جب جنگ ِ اُحُد میں قریش کے طاقتو ر علمداروں کو خاک میں ملایاجب جنگِ احزاب میں قریش کے د لیر پہلوان عمرو ابن عبد ِ ود کو مغلوب کیا ۔
جب جنگ ِ ذاتُ السّلاسل میں دشمن کی طاقت کو خاک میں ملایامسلمانوںنے دیکھا اور سنا کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم دل و جان سے علی ـ کو چاہتے ہیں اور انکے زخموں پر آنسو بہاتے ہیں اور ان کا تعارف اپنی جان کہکر کراتے ہیں، جب علی ـ میدان جنگ کی طرف جاتے تو اشک آلودہ آنکھوں کے ساتھ ہاتھ دعا کے لئے بلند کرتے اور علی ـکی خدا سے سلامتی طلب کرتے ہیں، پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حضرت علی ـ کے ساتھ دوستی کوئی ایسی ڈھکی چھپی اور پوشیدہ بات نہیں تھی جو غدیر میں عام کی گئی ہو ا میر المؤمنین ـ کی پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے دوستی اور محبت کی شدّت سے ہر خاص و عام واقف تھا اور مہاجرین و انصار میں سے بہت سارے بزر گ افراد اس دوستی اور محبت پر رشک کرتے تھے ۔
سیاسی جماعتوں کے سربراہ اور منافقین اس موقع کی تلاش میں رہتے تھے کہ اعتراض کر سکیں اور حسد کی آگ بجھا سکیں، لہٰذاکوئی بھی دانشمند مورّخ یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ '' غدیر خم''صرف دوستی کا اعلان تھا اور کوئی خاص بات رونما نہیں ہوئی۔
____________________
(۱)۔ تاریخ طبری کی عبارت اس بحث میں کچھ ایسی ہے : فتطاول ابو بکر و عمر
۳۔امام ـ کے دوستوں کی پہچان :
نہ صرف یہ کہ حضور ِ اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم امیر المؤمنین ـ کے ساتھ اپنی دوستی کا بارہا و بارہا اعلان کر چکے تھے بلکہ انکے دوستوں کو بھی پہچنواچکے تھے اور انکے دشمنوںکے چہروں سے بھی پردے اُٹھاچکے تھے۔
۴۔حضرت علی ـ کی دوستی مؤمن اور منافق کی پہچان کا معیار:
غدیر خم سے کئی سال پہلے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی ـ کی دوستی کو ''حق و باطل'' اور مؤمن و منافق ''کی پہچان کا معیار قرار دیا، اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ علی بن ابی طالب ـ ایمان اور کفر کا معیار ہیں۔ صرف مؤمنین ہی آنحضرت ـ کے دوست ہو سکتے ہیں اور صرف منافقین ہی آپ ـ سے دشمنی کر سکتے ہیں۔
یہ حدیث شریف جس سے شیعہ اور سُنّی کتابیں بھری ہوئی ہیں حد تواتر سے گذر چکی ہے،اور امیرُالمؤمنین ـ کے لئے ایسی فضیلت کا درجہ رکھتی ہے کہ جو آپ ـ کے علاوہ کسی اور کے پاس نہیں۔ اس حدیث کو مختلف تعابیر کے ساتھ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نقل کیا گیا کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:''قٰالَ رَسُوْلُ ﷲ صلىاللهعليهوآلهوسلم : یٰا عَلِیُّ لَا یُحِبُّکَ اِلّٰا مُؤْمِن وَلَا یُبْغِضُکِ الّٰا مُنٰافِق ''( ۱ ( یا علی ! سوائے مؤمن کے کوئی تمہارا محب اورچاہنے والا نہیں اور سوائے منافق کے کوئی تم سے بغض وکینہ نہیں رکھتا۔)
____________________
۱۔ارشاد مفید ۔ص ۱۸ ، بحار الانوار ۔ ج۳۹ ص ۳۴۶ ۔ ۳۱۰ ، صحیح مسلم ۔ ج۱ ص ۴۸ ( باب الدّ لیل علی حسب الانصار ) ، صواعق محرّقہ ۔ابن حجر ص۱۲۰ ، حدیث ۔(ہشتم از فضائل آنحضرت ـ ) ، شرح ابن ابی الحدید ج۱۸ ص ۱۷۳ حکمت ۴۲ کے ذیل میں کہتا ہے کہ ( ہٰذالخبر مرویّ فی الصّحاح)
حارث ہمدانی کہتے ہیں :
میں نے ایک دن حضرت علی ـ کو دیکھا کہ ممبر پر تشریف فرما ہیں اور پروردگار کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا :'' قَضٰاء قَضٰا ه ﷲ ُ تَعٰالیٰ عَلیٰ لِسٰانِ النَّبِیِّ صلىاللهعليهوآلهوسلم ، اِنَّ ه قٰالَ: لاَ یُحِبُّنِی اِلّٰامُؤمِن و لَا یُبْغِضُنِیْ اِلّٰامُنٰافِق وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَریٰ ''( ۱ )
( یہ منظورِ خدا تھا جو رسولِ اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زبانِ مبارک پر یہ کلمات جاری ہوئے کہ مجھے دوست نہیں رکھے گا سوائے مؤمن کے اور مجھے دشمن نہیں جانے گا سوائے منافق کے جس نے باطل دعویٰ کیا وہ جھوٹا ہے ۔)
____________________
(۱)ارشاد مفید ، ص ۱۸ ، بحار الانوار ، ج ۳۹ ص ۳۴۶ / ۳۱۰ ، صحیح مسلم ، ج ۱ ص ۴۸ ( باب الدّ لیل علی حسب الانصار ) صواعق محرّقہ ، ابن حجر ص ۱۲۰ ، حدیث ، (ہشتم از فضائل آنحضرت ـ ) ، شرح ابن ابی الحدید ، ج ۱۸ ص ۷۳ ۱ حکمت ۴۲ کے ذیل میں کہتا ہے کہ : ( ہٰذالخبر مرویّ فی الصّحاح)
۵۔امام ـکی دوستی نہج البلاغہ کی زبانی :
امیرُ المؤمنین ـ خود نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں !
''لَوْضَرَبْتُ خَیْشُوْمَ الْمُؤْمِنِ بِسَیْفِیْ ه ٰذَا عَلَیٰ اَن ْیُبْغِضَنِی مَا اَبْغَضَنِیْ ؛ وَ لَوْصَبَبْتُ الدُّنْیَا بِجَمَّاتِ ه َاعَلَیٰ المنافق علٰی اَنْ یُحِبَّنِیْ مَا َحَبَّنِیْ وَذٰلِکَ َانَّ ه قُضِی فَانْقَضَیٰ عَلَیٰ لِسَانِ النَّبِیِّ الْاُمِّیّ صلىاللهعليهوآلهوسلم ؛ اَنَّ ه قَال: یَا عَلِیُّ لا یُبْغِضُکَ مُؤْ مِن ، وَ لاَ یُحِبُّک مُنٰافِق .''
( میں اگر اپنی شمشیر سے مؤمن کی ناک پر وار کروں تاکہ وہ میرا دشمن ہو جائے وہ کبھی بھی مجھ سے دشمنی نہیںکرے گا ا ور اگر ساری دنیا منافق کو دے دوں تا کہ وہ میرا دوست ہوجائے ، وہ کبھی بھی میرا دوست نہیں ہو گایہ ِ خداوند عالم کی مرضی تھی جو پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زبان سے جاری ہوئی ،اے علی ! مومن تم سے دشمنی نہیں کرے گااور منافق تمہارا دوست نہیں ہو گا۔)( ۱ )
____________________
(۱)۔وہ مصنِّفین جنہوں نے اس کلام ِ امام کو اپنی کتابوں میں ذکر کیا مندرجہ ذیل ہیں :
۱۔بشارة المصطفیٰ ، ص ۱۳۰ و ۱۸۱ : مرحوم طبری ( متوفّیٰ ۵۵۳ ھ)۲۔ کتاب ِامالی ، ج ۱ ،ص ۲۰۹ : شیخ طوسی ( متوفّیٰ ۴۶۰ ھ)۳۔ ربیع الابرار ، ج ۱، ص ۱۳۸ : زمخشری ( متوفّیٰ ۵۳۸ ھ)۴۔ روضۂ کافی ، ص ۲۶۸ : مرحوم کلینی ( متوفّیٰ ۳۲۸ ھ)۵۔مشکاة الانوار ، ص ۷۴ : مرحوم طبرسی ( متوفّیٰ ۵۴۸ ھ)۶۔مقتلِ امیرُ المؤمنین ـ ، ص ۳ : ابن ابی الدنیا ( متوفّیٰ ۲۸۱ ھ)۷۔ تاریخ دمشق ، ج۲ ، ص ۱۹۰ : ابن عساکر ( متوفّیٰ ۶۷۳ ھ)۸۔ علل الشّرایع ، ص ۵۹/۵۸ : شیخ صدوق ( متوفّیٰ ۳۸۰ ھ)۹۔ بحار الانوار ، ج۳۶ ، ص ۲۱۶ : مرحوم مجلسی ( متوفّیٰ ۱۱۱۰ ھ)۱۰۔ کتاب احتجاج ( بہ نقل بحار ) : مرحوم طبرسی ( متوفّیٰ ۵۴۸ ھ)۱۱۔ بحار الانوار ، ج۳۹ ، ص ۲۵۲ تا ۲۵۶ : مرحوم مجلسی ( متوفّیٰ ۱۱۱۰ ھ)۱۲۔ کتاب محاسن ، ص ۱۵۰ و ۱۵۱ : علَّامہ برقی ( متوفّیٰ ۲۷۴ ھ)۱۳۔ کتاب ارشاد ، ص ۳۵ / ۱۷ و ۱۸ : شیخ مفید ( متوفّیٰ ۴۱۳ ھ)٭ مندرجہ ذیل منابع بحارالانوار ( ج۳۹ ، ص ۲۶۲ تا ۳۲۶ ) میں نقل کئے گئے ہیں ۔۱۴ ۔ کتاب حلیة : سمعانی ۱۵۔ کتاب الفضائل ص ۱۰۰ : سمعانی ۱۶۔ مسند احمد : احمد بن حنبل ( متوفّیٰ ۲۴۱ ھ) ۱۷۔ جامع ترمذی : ترمذی ( متوفّیٰ ۲۷۹ ھ)۱۸۔ کتاب مسند : موصلی۱۹۔ تاریخ بغداد : خطیب بغدادی ( متوفّیٰ ۴۶۳ ھ) ۲۰۔سنن ابن ما جہ : ابن ما جہ ( متوفّیٰ ۲۷۵ ھ)۲۱۔ کتاب صحیح بخاری : بخاری ( متوفّیٰ ۲۵۶ ھ)
۲۲۔کتاب صحیح مسلم : مسلم ( متوفّیٰ ۲۶۱ ھ)۲۳۔کتاب الغارات : ابن ہلال ثقفی ( متوفّیٰ ۲۸۳ ھ)۲۴۔ شرح الالکانی : الکانی ۲۵۔ اعیان ، ج۲ ص ۲۶۹ : ابن عقدہ۲۶۔ کتاب الغریبین : ہروی ( متوفّیٰ ۴۰۱ ھ)۲۷۔کتاب الولایة : طبری ( متوفّیٰ ۴۶۰ ھ )۲۸ ۔ احتجاج : طبرسی ( متوفّیٰ ۵۸۸ ھ) ۲۹۔ کتاب امالی ، ص ۳۸ و ۳۹ و ۱۷۳ : شیخ مفید ( متوفّیٰ ۴۱۳ ھ)
۳۰۔ تفسیر البرہان ، ج۳ ص۲۰۷ : بحرانی ( متوفّیٰ ۱۱۰۷ ھ)۳۱۔کشف ا لغمہ : مرحوم اربلی ( متوفّیٰ ۶۸۷ ھ)۳۲۔ کشف الیقین : علّامہ حلّی ( متوفّیٰ ۷۵۷ ھ)۳۳۔ کتاب طرائف : ابن طاؤوس ۳۴۔ الجمع بین ا لصححین : حمیدی ۳۵۔ کتاب صحیح ابی داؤود : ابی داؤود ( متوفّیٰ ۲۵۷ ھ)۳۶۔ عیون اخبار الرّضا ، ص ۲۲۱ : شیخ صدوق ( متوفّیٰ ۳۸۰ ھ)
۳۷۔کتاب العمدة : ابن البطریق ( متوفّیٰ ۶۰۰ ھ) ۳۸۔ کتاب الجمع بین صحاح الستّہ : عبدری ۳۹۔ کتاب الفردوس : ابن شیرویہ ۴۰۔ غرر الحکم ، ج۵ ص ۱۰۹ : مرحوم آمدی ( متوفّیٰ ۵۸۸ ھ) ۴۱۔کشف الغمہ ، ج۱ ص ۵۲۶ : مرحوم اربلی ( متوفّیٰ ۶۸۷ ھ)
چہارم ۔ خطبۂ حجةُ الوداع پر ایک نظر
غدیر خم کے اصلی پیغام کی شناخت کا ایک طریقہ اور ہے وہ یہ کہ رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس دن کے خطبہ کا عمیق نظروں سے جائزہ لیا جائے جو اس تاریخ ساز دن بیان ہوا !
( آفتاب آمد دلیل آفتاب)
موجب اختلاف ابحاث اور کسی ایک فرقہ یا گروہ کے اظہار نظر پر بات کرنے سے پہلے اس بات پر غور و فکر کرنا چاہیے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم کے دن اپنے خطبہ میں کن اہم مسائل کی طرف لوگوں کی توجّہ مبذول کرائی ؟
اگر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ہدف و مقصد صرف یہ تھا کہ علی ـ کی دوستی کا اعلان فرمائیںتو سورۂ مائدہ کی آیة / ۵۵( بَلِّغْ مَا ُنْزِلَِلَیْکَ ) کا تعلق سے حضرت علی ـ کی خلافت اور امامت سے کیوں ہے ؟
جیسا کہ ارشاد فرمایا :( بِسْمِ ﷲ ِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم:یٰا اَیُّهَا الرَّسُوْلُ! بَلِّغْ مَاُانْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ ) ]فِی عَلِیٍّ ،یَعْنِی فِی الْخِلٰافَةِلِعَلِیِّ بْنِ اَبِی طاٰلِب ٍ [( وَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمٰا بَلَّغْتَ رِسٰالَتَه وَﷲ یَعْصِمُکَ مِن النّٰاسِ )
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خطبۂ حجّة الوداع کا کچھ حصہ اے رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم ! جو کچھ] حضرت علی ـ کے بارے میں [ تمہارے خدا کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے اس کو لوگوں تک پہنچا دو،یعنی حضرت علی ـ کی خلافت اور امت مسلمہ سے رہبری کے بارے میں مسلمانوں کو بتا دو ، اپنے خطبے میں حضرت علی ـ کی وصایت اورامامت کوواضح طور پر بیان کیوں فرمایا :
فَاُعْلِمَ کُلَّ َا بْیَضٍ وَاَ سْوَدٍاَ نَّ عَلِیَّ بْنَ َبِیْ طٰالِب ٍ، ااَخِیْ و وَصِیِّی و خَلِیْفَتی عَلیٰ اُمَّتی وَالْاِمٰامُ مِنْ بَعْدِی ( ۱ )
(لہٰذا سارے ! سیاہ و سفید یہ جان لیں کہ علی بن ابی طالب ـ میر ے بھائی ، خلیفہ ، وصی اور جانشین اور میرے بعد اُمّت کے امام و رہبر ہیں ۔)
کیا اس قسم کے جملے دوستی کا پیغام پہنچانے کے لئے تھے ؟
اگر ہدف، دوستی کا اعلان تھا تو کیوں فرمایا:
''وَاعْلَمُواَنَّ ﷲ َقَدْ نَصَبَ ه لَکُمْ وَلِیّاً وَاِمَاماً،فَرَضَ طٰا عَتَ ه عَلَی الْمُ ه ٰاجِرِیْن وَالْاَنْصٰارِ، وَعَلَی التَّابِعِیْنَ لَ ه ُمْ بِاِحْسٰانٍ، وَعَلَی الْبٰادِی وَالْحٰاضِرِ،وَعَلَی الْعَجَمِیِّ وَا لْعَرَبِیِّ ، وَالْحُر وَالْمَمْلُوْکِ، وَالصَّغِیْرِ وَالْکَبِیْرِ،وَعَلَی الْاَبْیَض وَالاْسْوَدِ، و عَلیٰ کُلِّ مُوَحِّدٍ،مٰاضٍ حُکْمُ ه ،جٰازَ قَوْلُ ه ،نٰافِذ َمْرُ ه ،مَلْعُوْن مَنْ خٰالَفَ ه ، مَرْحُوْم مَنْ تَبِعَ ه ، وَصَدَقَ ه ، فَقَدْ غَفَرَﷲ ُ لَ ه وَلِمَنْ سَمِعَ مِنْ ه وَاَطٰاعَ لَ ه .''
اے لوگو ! جان لو کہ خدا وند ِ عالم نے علی ـ کو تمہارا امام اور سرپرست بنایا ہے،انکی اطاعت تمام مہاجرین و انصار، اسلام کے نیک پیروکار، شہری و دیہاتی، عرب و عجم ، غلام و آزاد ،چھوٹے بڑے ، کالے گورے اور ہر اس خداپرست پر جو ایک خدا کی پرستش کرتا ہے واجب قرار دی ہے؛ انکے فرمان پر عمل ، کلام کا سننا اور حکم کی بجا آوری واجب ہے؛ ملعون ہے وہ شخص جو انکی مخالفت کرے اور اس پر خدا کی رحمت جو انکی اطاعت کرے، انکی تصدیق کرنے والا مومن ہے جو بھی ان سے سنے اور ان کی اطاعت کرے خدا اس کو بخش دے گا۔) اگر روزِ غدیر صرف دوستی کے اعلان کے لئے تھا تو پھر حضرت علی ـاور انکے فرزندوں کی امامت اور رہبری ِ کی بات کیوں کر رہے ہیں ؟
____________________
(۱)پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم خطبۂ حجّةُالْوداع کا کچھ حصّہ انکی اطاعت کو سب مسلمانوں پر واجب کیوں کر رہے ہیں ؟ امامت اور رہبری کو تا روزِ قیامت علی ـ اور انکے فرزندوں میں کیوں قرار دے رہے ہیں؟
جیسا کہ فرمایا:''ثُمَّ مِنْ بَعْدِیْ عَلِیّ وَ لِیُّکُمْ، وَاِمٰامُکُمْ بِاَمْرِﷲ ِ رَبِّکُمْ، ثُم الامٰا مَةُ فِیْ ذُرِّیَتِیْ مِنْ وُلْدِه ِلیٰ یَوْمِ الْقِیٰامَةِ،یَوْمَ تَلْقُوْنَ ﷲ َ وَ رَسُوْلَه. ''
( خدا وندِ عالم کے حکم سے میرے بعد علی ـ تمہارے امام اور ولی ہونگے اور انکے بعد اما مت میری ذرّیت میں ہے کہ جو علی ـ سے ہو گی او رتا روزِ قیامت برقرار رہے گی وہ دن کہ جس دن تم لوگ خدا اور اسکے رسول سے ملاقات کرو گے ۔)
اگر غدیر کا دن صرف دوستی کے اعلان کے لیے تھا تو پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے خود حضرت علی ـ کی بیعت کیوںکی ؟ اور تمام مسلمانوں کو بیعت کا حکم کیوں دیا ؟دوستی کا اعلان تو بیعت کاتقاضا نہیں کرتا ۔
'' َلَا وَاِنِّیْ عِنْدَ انْقِضٰائِ خُطْبَتیْ َدْعُوْکُمْ ِلیٰ مُصٰافَقَتی عَلی بَیْعَتِ ه وَالْاِقْرَارِ بِ ه ثُمَّ مُصٰافَقَتِ ه مَنْ بَعْدی؛؛؛َلَا وَ اِنِّی قَدْ بٰا یَعْتُ ﷲ َ،وَ عَلِیّ قَدْ بٰایَعْنِیْ وَ اَنٰا آخِذْ کُمْ بِالْبَیْعَةِ لَ ه عَنِ ﷲ ِ عَزَّ وَجَل ( ا ِنَّ الَّذِیْن یُبٰایِعُوْنَکَ اِنَّمٰا یُبٰایِعُوْنَ ﷲ یَدُﷲ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ فَمَنْ نَکَث فَاِنَّمٰا یَنْکُث عَلیٰ نَفْسِه وَمَنْ َوْفیٰ بِمٰا عٰاهَدعَلَیْهِ ﷲ َ فَسَیُوْ تِیْهِ اجْراً عَظِیْماً ) سورةُ الْفَتْح/ ۱۰)
تم سب آگاہ ہو جاؤ کہ میں اپنے خطبے کے اختتام پر تم لوگوں کو حضر ت علی ـکی بیعت کے لئے بلاؤں گا تو تم سب انکی بیعت کرنا اور انکی امامت کا اعترا ف کرنا ،اور پھرانکے بعد آنے والے اماموں کی بھی بیعت کرنا ۔
آگاہ ہو جاؤ اس کے سوا کچھ نہیںکہ میں نے خدا کی بیعت کی اور علی ـ نے میری بیعت کی میں خدا وند ِعالم کی طرف سے تم لوگوں کو حضرت علی ـ کی بیعت کرنے کے لئے دعوت دیتاہوں، آیہ /۱۰ سورۂ الفتح : ( بتحقیق جو لوگ تمہاری بیعت کرتے ہیں اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ خدا کی ہی بیعت کرتے ہیں خدا کی قوّت اور قدرت تو سب کی قوّت پر غالب ہے ، جو عہد شکنی کرے گا اسکو نقصان ہوگا ،اور جو عہد و پیمان کو وفا کرے گا خدا وند ِ منّان ا س کو عنقریب اجر عظیم عطا فرمائے گا ۔)
جو شخص بھی عہد کو توڑے گا اسنے اپنے نقصان میں کام کیا، خداوند عالم کی جانب سے مجھے یہ کام سونپا گیا ہے کہ تم لوگوں سے علی ـ کے لئے بیعت لوں ، لہٰذاجو کچھ خدا وند عالم کی طرف سے ولایت علی ـ کے سلسلے میں نازل ہوا ہے اسکا اعتراف کرو اور ان کوامیرُالمؤمنین جانو ، اور علی ـ کے بعد آنے والے میرے خاندان میں سے اور علی ـ کے فرزندوں کی ا مامت کو قبول کرو ، اور انکے قائم حضرت مہدی ـ ہونگے جو تا روزِ قیامت حق سے قضاوت کریں گے ۔)
اگر سارے اسلامی فرقے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خطبہ حجة الوداع کو ہر قسم کے تعصب سے ہٹ کر دیکھیں اور اس میں غور و فکر کریں تو حقیقت کو نور خورشید کے مانند پائیںگے،اور حق کے مزے سے آشنا ہو جائیں گے ۔
دوسری فصل
آیا واقعۂ غدیر ولایت کے اعلان کے لئے تھا؟
پہلی بحث : سطحی طر ز تفکّر اور پیام غدیر
دوسری بحث: ولایت کا اعلا ن غدیر سے پہلے
تیسری بحث : اثبات امامت تا رجعت و قیامت
بعض لوگوں نے اپنی تقاریر اور تحریروں میں بغیر کسی تحقیق اور تدبّر کے واقعۂ غدیرکے بارے میں لکھا اور کہا کہ ( غدیر کا دن اعلان ولایت کا دن ہے ۔ )
اور اس بات کی اتنی تکرار کی گئی کہ قارئین اور سامعین کے نزدیک یہ بات ایک حقیقت بن گئی اور سب نے اس کو عقیدے کے طور پر قبول کر لیا۔
۱ سطحی طرز تفکّر اور پیام غدیر:
واقعاً کیا غدیر کے دن صرف اعلان ولایت کیا گیا؟
مشہور اہل قلم و بیان کے قلم و بیان سے یہی بات ثابت ہوتی ہے جو غلط فہمی کا سبب بنی جسکے نتیجے میں لوگوں کو واقعۂ غدیر سے صحیح اور حقیقی آگاہی حاصل نہ ہو سکی درست ہے کہ عید غدیر کے دن ( ولایت ِ عترت ) کا اعلان بھی کیا گیا ،لیکن روز غدیر کو صرف ولایت کے اعلان سے ہی مخصوص نہیں کیا جاسکتا ۔
اگر کسی نے کم علمی ، عدم آگاہی یا اپنی سطحی سوچ کی وجہ سے اس قسم کا دعویٰ کیاہے اور اخباروں رسالوں اور مختلف جرائد میں ایسا لکھا گیا ہے تو کوئی بات نہیں ، لیکن اس کے بر طرف کرنے کی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا غدیر کی حقیقت کو شائستہ اور دلنشین انداز میں بیان کر کے امت مسلمہ کی جان و دل کو پاک کیا جائے ۔
۲۔ ولایت کا اعلان غدیر سے پہلے:
روز غدیر رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہم کاموں میں سے ایک کام اعلان ولایت تھا نہ صرف روز غدیر بلکہ آغاز بعثت سے غدیر تک ہمیشہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت علی ـ کی( ولایت ) اور ( وصایت ) کے بارے میں لوگوں کو بتاتے رہے۔
اگر غدیر کا دن صرف اعلان ولایت کے لئے تھا توفرصت طلب منافقین ا تنا ہاتھ پاؤں نہ مارتے اور پیامبر گرامیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قتل کا منصوبہ نہ بناتے،کیونکہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم بارہا مدینہ میں ، اُحُد میں، خیبر میں ، بیعت عقبہ میں، بعثت کے آغاز پر، ہجرت کے دوران،غزوہ ٔ تبوک کے موقع پر اور کئی حساس موقعوں پر علی ـ کی ولایت کا اعلان کر چکے تھے۔
اپنے بعد کے امام اور حضرت علی ـ کے فرزندوںمیں سے آنے والے دوسرے اماموںکا تعارف ناموں کے ساتھ کروا چکے تھے، مگر کسی کو دکھ نہ ہوا، کچھ منافق چہرے بھی وہاں موجود تھے لیکن انھوں نے کسی قسم کی سازش نہیں کی، کوئی قتل کا منصوبہ نہیں بنایا کیوں ؟ اس لئے کہ صرف اعلان ولایت انکے پوشیدہ مقاصد کے لئے کوئی خطرے والی بات نہیں تھی ،غدیر سے پہلے اعلان ولایت کے چند نمونے پیش خدمت ہیں :
۱۔ ولایت ِ علی ـ کا اعلان آغاز بعثت میں:
حضرت امیر المؤمنین ـ کی ولایت کا اعلان غدیر کے دن پرمنحصر نہیں بلکہ آغاز بعثت کے موقع پر ہو چکا تھا، سیرۂ ابن ہشّام میں ہے کہ بعثت کو ابھی تین سال بھی نہ گذرے تھے کہ خدا وند عالم نے اپنے حبیب سے فرمایا :
( اَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبیْنَ ) سورۂ شعراء / ۲۱۴
( اے رسول تم اپنے قرابت داروں کو عذاب الہی سے ڈراؤ )
اس آیت کے نازل ہو تے ہی پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اسلام کے لئے مخفیانہ دعوت تمام ہو گئی اور وہ وقت آگیا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور قرابت داروں کو اسلام کی دعوت دیں تمام مفسّرین اور مؤرّخین تقریباً بالاتفاق یہ لکھتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت دینے کا بیڑہ اٹھا لیا ،اور یہی وجہ تھی کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی ـ کو گوشت اور شیر (دودھ) سے غذا بنانے کا حکم دیا اور کہا کہ بنی ہاشم کے بڑے لوگوں میں سے چالیس یا پینتالیس لوگوں کو کھانے پر دعوت دیں( ۱ )
دعوت کی تیاریاں ہو گئیں ، سب مہمان مقررہ وقت پر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے ، لیکن کھانے کے بعد ( ابو لہب) کی بیھودہ اور سبک باتوں کی وجہ سے مجلس درہم برہم ہو گئی اور کوئی خاطر خواہ نتیجہ حاصل نہ ہو سکا ، تمام مدعوّین کھانا کھا کر اور دودھ پی کر واپس چلے گئے۔
حضوراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فیصلہ کیا کہ اسکے دوسرے دن ایک اور ضیافت کا انتظام کیا جائے اور ایک بارپھر ان سب لوگوں کو دعوت دی جائے ، رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حکم سے حضرت علی ـ نے ان لوگوں کو دوبارہ کھانے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کلمات سننے کی دعوت دی سارے مہمان ایک مرتبہ پھر مقررہ وقت پر حاضر ہو گئے ، کھانے وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد جناب رسولِ خدا نے فرمایا:
____________________
(۱)۔مجمع البیان ج ۷،ص ۲۶۰، و کامل ابن اثیر ج ۲، ص ۶۱، و تفسیر کشّاف ج ۳ ،ص ۳۴۱ ، و تفسیر کبیر امام فخر رازی ج ۲۴، ص ۷۳ ۱ ، و تاریخ دمشق ج ۱، ص ۸۷ ، و الدرالمنثور ج ۵، ص ۹۷ ، کقایة الطالب ص ۲۰۵،
( جو اپنی اُمّت کا حقیقی اور واقعی راہنما ہوتا ہے وہ کبھی ان سے جھوٹ نہیں بولتا اس خدا کی قسم کہ جس کے سوا کوئی خدا نہیں ، میں اسکی طرف سے تمہارے لئے اور سارے جہان والوں کے لئے بھیجا گیا ہوں ہا ں اس بات سے آگاہ ہو جاؤ کہ جس طرح سوتے ہو اس ہی طرح مرجاؤگے ، اور جس طرح بیدار؛ ہوتے ہواس ہی طرح قیامت کے دن زندہ ہو جاؤ گے اعمال نیک بجا لانے والوں کو جزائے خیر اور بُرے اعمال و الوں کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا ،نیک اعمال والوں کے لئے ہمیشہ رہنے والی جنت اور بدکاروں کے لئے ؛ ہمیشہ کے لئے جہنّم تیّا ر ہے میں پورے عرب میں کسی بھی شخص کو نہیں جانتا کہ جو کچھ میں اپنی امّت کے لئے لایا ہوں اس سے بہتر اپنی قوم کے لئے لایا ہو ؛جس میں بھی دنیا وآخرت کی خیر اور بھلائی تھی میں تمہارے لئے لے کر آیا ہوں میرے خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم لوگوں کو اسکی وحدانیّت اور اپنی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دوں۔)
اسکے بعد فرمایا :
(وَاِنَّ ﷲ َ لَمْ یَبْعَثْ نَبِیّاً اِلَّا جَعَلَ لَ ه مِنْ َا ه ْلِ ه اخاً وَ وَزِیْراً وَ وٰارِثاً وَوَصِیَّاَا َخَلِیْفَةً فی اَ ه ْلِ ه فَاَ یُّکُمْ یَقُوْمُ فَیُبٰایِعْنی عَلیٰ ا َنَّ ه اَخی وَوٰارِثی وَ وَزِیْری وَ وَصِیّ وَیَکُوْنُ مِنّی بِمَنْزِلَةِ ه ٰارُوْنَ مِنْ مُوْسی اِلَّا اَنَّ ه ُ لَا نَبِی َّبَعْدی )
بتحقیق خدا وند عالم نے کوئی نبی نہیں بھیجا کہ جسکے قریبی رشتہ داروں میں سے اس کے لئے بھائی ، وارث ، جانشین ، اور خلیفہ مقرر نہ کیا ہو پس تم میں سے کون ہے جوسب سے پہلے کھڑا ہو اور اس امر میں میری بیعت کرے اورمیرا بھائی ، وارث ،وصی اوروزیر بنے تو اسکا مقام اور منزلت میری نسبت و ہی ہے جو موسیٰ کی نسبت ہارون کی تھی فرق صرف اتناہے کہ میرے بعد کوئی پیامبر نہیں آئے گا ۔)( ۱ )
____________________
(۱)۔مجمع البیان ، ج ۷ ،ص ۲۰۶ / تفسیر المیزان ، ج ۱۵، ص ۳۳۵ / تاریخ دمشق ابن عساکر ، ج ۱۹، ص ۶۸ المنا قب فی ذرّیّة ِ اطائب ۔
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس جملے کو تین بار تکرار فرمایا :ایک اور روایت میں ہے کہ فرمایا :
(فَاَیُّکُمْ یُوَازِرُنی عَلیٰ ه ٰذَاالْاَمْرِ؟ وَاَ نْ یَکُوْنَ اَخی وَوَصیّی وَخَلِیْفَتی فِیکُمْ؟ )( ۱ )
( پس تم میں سے کون ہے جو اس کام میں میری مدد کرے اور یہ کہ وہ تمہارے درمیان میرا بھائی ، وصی اور خلیفہ ہو گا؟ ) آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ جملہ ارشاد فرمانے کے بعد کچھ دیر توقّف کیا تاکہ دیکھ سکیں کہ ان لوگوں میں سے کس نے انکی دعوت پر لبّیک کہا اور مثبت جواب دیا؟سب لو گ سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے کہ اچانک حضرت علی ـ کو دیکھا( جنکا سن اس وقت ۱۵سال سے زیادہ نہ تھا۔ ) کہ وہ کھڑے ہوئے اور سکوت کو توڑتے ہوئے
پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف رخ کر کے فرمایا: (اے خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم !میں اس راہ میں آپکی مدد کروں گا ۔)
اسکے بعد وفاداری کی علامت کے طور پر اپنے ہاتھ کو جناب ختمی مرتبتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف بڑھا دیا ، رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بیٹھ جانے کا حکم دیا ؛ اور ایک بار آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی بات دہرائی،پھر حضرت علی ـ کھڑے ہوئے اور اپنی آمادگی کا اظہار کیا ،اس بار بھی آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بیٹھ جانے کا حکم دیا ؛تیسری دفعہ بھی حضرت علی ـ کے علاوہ کوئی کھڑانہ ہوا،اس جماعت میں صرف حضرت امیرُالمؤمنین ـ تھے جو کھڑے ہوئے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس مقدّس ہدف کی حمایت اور پشت پناہی کا کھلا اظہار کیا اور فرمایا:
____________________
(۱)۔حیات ِ محمّدصلىاللهعليهوآلهوسلم ، ڈاکٹر ھیکل ص ۱۰۴ / کامل ابن اثیر ، ج ۲ ،ص ۶۳کفایةالمطالب ، ص ۲۵۰ و تاریخ مشق ج ۱، ص ۸۹/ شرح ابن ابی الحدید ، ج ۳ ۱ ،ص ۲۱۱۔
( یا رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم میں اس راہ میں آپکا مدد گار و معاون رہونگا۔ )
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنا دست مبارک حضرت علی ـ کے دست مبارک پر رکھا اور فرمایا:''ِانَّ ه ٰذ َا خی وَ وَ صیّ وَ خَلِیْفَتی عَلَیْکُمْ فَاسْمَعُوْا لَ ه ُ وَاَطِیْعُوْ ه ُ .''
بے شک یہ علی ـ تمہارے درمیا ن میرا بھائی ،وصی اور جانشین ہے اسکی بات سنو اور اسکی اطاعت کرو، پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اپنوں نے اس موضوع کو بہت سادہ اور عام سمجھا اور یہاں تک کہ بعض نے تو مذاق اڑا یا اور جناب ابوطالبـ سے کہا آج کے بعداپنے بیٹے علی ـ کی بات غور سے سنو اور اسکی اطاعت کرو۔) لہٰذا ولایت کا اعلان ،رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بعثت کے ۳سال بعداور اسلام رائج ہوتے وقت ہی ہو گیا تھا اور غدیرخُم سے پہلے ہی آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قرابت داروں اور بزرگانِ قریش کے کانوں تک پہنچ گیا تھا ۔
۲۔ جنگ تبوک کے موقع پر اعلان ولایت : (حدیث ِ منزلت )
۹ ہجری میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تبوک کی طرف لشکر کشی فرمائی ، چونکہ یہ لشکر کشی بہت طولانی تھی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اسلامی حکومت کے دارُالخلافہ سے بہت دور شام کی سرحدوں تک جانا تھا، اس امر کی ضرورت تھی کہ ایک قدرت مند اور بہادر مرد مدینہ میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا جانشین ہو ؛تاکہ حکومت کے مرکزاور صدر مقام پر امن و امان کی فضا بحال رہے اس لئے حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بہتر یہ سمجھا کہ حضرت علی ابن ابی طالب ـ کو مدینہ میں اپنا جانشین مقرّر کریں ۔
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تبوک کی طرف روانگی کے فوراً بعد ہی منافقوں نے شہر مدینہ میںچر چا شروع کردیا کہ( نعوذبﷲ) رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت علی ابن ابی طالب ـ سے ناراض ہیں اور اب ان سے محبّت نہیں کرتے ،اور اس بات کی دلیل یہ ہے کہ اپنے ساتھ لے کر نہیں جا رہے، یہ بات حضرت علی ـ پر گراں گذر ی ا ور آپ ـاس کو برداشت نہ کر سکے اس لئے تبوک کے راستے میں پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں پہنچے اور عرض کی :
یا رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم یہ لوگ ایسی ایسی بات کر رہے ہیں حضرت ختمی مرتبتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :
(َنْتَ مِنِّیْ بمنزِلَةِ ه ٰارُوْنَ مِن مُوْسیٰ ، ِلَّا َنَّ ه لا نَبِیَّ بَعْدی )
اے علی ـ! تمہاری نسبت میرے ساتھ ایسی ہی ہے جیسے ہارون ـ کی موسیٰ ـکے ساتھ تھی لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ )( ۱ )
یعنی : تمہیں اس لئے مدینہ میں رہنا ہے کہ جب بھی موسیٰ اپنے پروردگار کے امر کی بجاآوری کے لئے جاتے تھے ،تواپنے بھائی کو اپنی جگہ پر بٹھا کرجاتے تھے۔
( وَ قٰالَ مُوسیٰ لِاَ خِیْه هٰا رُوْنَ اُخْلُفْنی فی قَوْمی وَ اَصْلِحْ ولاَ تَتَّبِع سَبیلَ الْمُفْسِدِیْن ) ( ۲ )
____________________
(۱)۱۔ معانی الاخبار ،ص۷۴ ، جابر ابن عبدﷲ اور سعد ابن ابی وقّاص سے نقل کیا ہے۔
۲۔ مناقب آل ِ ابن طالب ـ ، ج۳، ص ۱۶
۳۔ صحیح بخاری ، ج۵ ،ص ۲۴ ، ( باب مناقب علی )
۴۔ صحیح مسلم ، ج۲، ص۳۶۰ ، ( باب فضائل علی ـ )
۵۔ الغدیر ،ج۱ ،ص ۱۹۷ ،ج۳، ص۱۹۹
۶۔ کتاب احقاق الحق ، ج۲۱ ،ص ۲۶ و ۲۷
۷۔ الغدیر ،ج۱ ،ص ۱۹۷ ، ج۳ ،ص۱۹
۸۔َسنی المطالب فی مناقب علی بن ابیطالب ـ : شمس الدین ابوالخیر جزری
۹۔الضوء اللّامع ، ج۹ ،ص ۲۵۶
۱۰۔البدر الطالع ،ج۲، ص ۲۹۷
(۲) سورۂ اعراف/۱۴۲
اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا : میری اُمّت میں میرے جانشین رہو ، اور انکی اصلاح کرنااور مفسدین کی راہ پر مت چلنا، مذکورہ حدیث میں بھی واقعۂ غدیر سے پہلے حضرت امیرُالمؤمنین ـ کی وصایت و ولایت کا اعلان ہو چکا تو پھر کیا ضرورت تھی کہ اتنے تپتے ہوئے صحرا میں صرف ولایت کے اعلان کے لیے لوگوں کو روکا جائے ۔
۳۔ حضرت علی ـکے رہبر ہونے کا اعلان غدیر سے پہلے:
لفظِ( یعسوب ) کے معنیٰ رئیس ، بزرگ اور ا سلام کے سرپرست کے ہیں ۔( ۱ )
رسولِ اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی ـ کے بارے میں کچھ اس طرح ارشا د فرمایا !
(یٰا عَلِیُّ اِنَّکَ سَیِّد ُالْمُسْلِمیْنَ وَیَعْسُوْبُ الْمُؤمِنیْنَ وَاِمٰامُ الْمُتَّقیْنَ وَ قٰا ئِدُالْغُرِّالْمُحَجَّلیْنَ )( ۲ )
اے علی ـ ! تم مومنین کے بزرگ اور رہبر ہو اور پرہیز گاروں کے امام ہو اور با ایمان عورتوں کے رہبر ہو ) جناب ِ امیرالمؤمنین نے ارشاد فرمایا :(اَنَا یَعْسُوْبُ الْمُؤْ مِنیْنَ وَ الْمٰالُ یَعْسُوْبُ الْفُجَّارِ) ابنِ ابی الحدید امیرالمؤمنین کے کلام کی شرح کرتے ہوئے لکھتا ہے ! یہ کلمہ خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے امام علی ـ کے بارے میں ارشاد فرمایا:ایک بار ''انْتَ یَعْسُوْ بُ الدّیْن'' کے لفظوں کے ساتھ اور دوسری بار''َنْتَ یَعْسُوْبُ الْمُؤْمِنیْنَ '' کے لفظوں کے ساتھ، اور ان دونوں کے ایک ہی معنیٰ ہیں گویا امیرُالمؤمنین ـ کومؤمنین کا رئیس اور سیّد و سردار قرار دیا ہے( ۳ ) نیز
____________________
(۱)۔ لغت میں ہے کہ ( الیعسوب ؛ الرّئیس الکبیر ، یقال ھو یعسوب قومہ) اصل میں شہد کی مکھیوں کے امیر اور نر کو (یعسوب ) کہتے ہیں، جیسا کہ اہل لغت کہتے ہیں ( الیعسوب ؛ ذَکَرُ النَّحْلِ وَمیرھا ) ۔
(۲)۔بحار الانوار ، ج۳۸ ص ۱۲۶ تا ۱۶۶ تقریباً ۱۰/روایتیں شیعہ اور سنّی سے اس سلسلے میں نقل ہوئی ہیں ۔
(۳) ۔ شرح ابن ابی الحدید ، ج ،۱۹ص ۲۲۴ حکمت ۳۲۲ کے ذیل میں اپنی شرح کے مقدمہ میں لکھتاہے : اہل حدیث کی روایت میں ایک کلام نقل ہوا ہے جسکے معنیٰ امیرُالمؤمنین کے ہیں،اور وہ یہ ہے کہ فرمایا:
''ا َنْتَ یَعْسُوْبُ الدّیْنِ وَالْمٰالُ یَعْسُوْبُ الظُّلْمَةِ ''اے علی ـ !تم دین کے رہبر اور مال گمراہوں کا رہبر ہے ) ایک دوسری روایت میں ہے کہ فرمایا :
هٰذٰا یَعْسُوْبُ الدیْنِ ( یہ علی ـ دین کے رہبر ہیں ) ان دونوں روایتوں کو احمد بن حنبل نے اپنی کتاب ( مسند) میں اور ابو نعیم نے اپنی کتاب حلیة الاو لیاء میں نقل کیا ہے
یاد رہے کہ یہ فضائل اور مناقب امام علی ـ کے ساتھ مخصوص ہیںاور منحصر بہ فرد ہیں ،انکی خلافت کے دلائل میں سے ہیںاور واقعۂ غدیر سے پہلے بیان کئے جاچکے ہیں ۔
۴۔حضرت علی ـ کی امامت کا اعلان :
حدیث اعلان ولایت حضرت امیرُالمؤمنین ـ کی ایک ایسی فضیلت ہے کہ جو آپ ـ کی ذات سے مخصوص ،منحصر بہ فرد اور آپ ـ کی خلافت اور امامت کے دلائل میں سے ہے ، ابن عبّاس نقل کرتے ہیں کہ رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی ـ سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا: یا علی ـ ''انْتَ وَلِیُّ کُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدیْ وَمُؤْمِنَةٍ ''( ۲ )
آپ میرے بعد ہر مؤمن مرد و زن کے ولی اور رہبر ہیں ) یہ حدیث بھی غدیر خُم کے اہم واقعہ سے پہلے رسولِ اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی جانب سے صادر ہوئی سب لوگوں نے اسکو سنا بھی تھا اورحفظ بھی کر لیا تھا۔
____________________
(۱)۔ شرح ابن ابی الحدید ، ج۱ص ۱۲ : مقدمہ کنز العمال ، حاشیہ مسند احمد
(۲)۔ تلخیص مستدرک ، ج۳، ص ۳۴ ۱ : ذہبی مسندِ حنبل ، ج۱ص ۳۳۱ : احمد ابن حنبل
۳۔صحیح ترمذی ، ج۵ص ۶۳۲ (باب مناقب علی بن ابی طالب ـ ) : ترمذی
۴۔کنزالعمال حاشیہ مسند احمد
۵۔ الغدیر ، ج۳ ص ۲۱۵تا ۲۱۷ : علّامہ امینی
۶۔ مناقب ابن شہر آشوب ، ج۳ ص ۴۶تا۵۲
۷۔مستدرک حاکم ، ج۳ ص ۱۳۴
۵ ۔ پرہیزگا روںکے امام حضرت علی ـ :
رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نقل ہوا ہے کہ
ا وْحِیَ ِلِیَّ فی ثَلٰاثٍ،َنَّ ه سَیَّدُالْمُسْلِمیْنَ وَاِمٰامُ الْمُتَّقیْنَ وَقٰائِدُ الْغُرِّالْمُحَجَّلیْنَ رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
تین بار حضرت علی ـ کے بارے میں مجھ پر وحی نازل ہوئی : علی ـ مسلمانوں کے سردار ، پرہیزگاروں کے امام اور با ایما ن خو اتین کے رہبر ہیں( ۱ ) اس طرح واضح اور روشن انداز میں ولایت کا اظہار بھی واقعۂ غدیر سے پہلے ہو چکا تھااور کسی سے پوشیدہ نہ تھا ۔
۶۔ علی ـ امیرُالمؤمنین :
ایک اور بہت واضح اور روشن حقیقت یہ ہے کہ رسولِ گرامی اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے واقعۂ غدیر سے پہلے حضرت علی بن ابیطالب ـ کو ( امیرُالمؤمنین )کا لقب دیا جوکہ حضرت علی ـ کی امامت اور خلافت کی حکایت کرتا ہے اور یہ لقب آپ ـ کی ذات اقدس کے ساتھ مخصوص ہے۔
انس بن مالک :
ا نس بن مالک نے نقل کیا ہے کہ میں جناب رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا خادم تھا ؛ جس رات آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اُمِّ حبیبہ کے گھرمیں شب بسر کرنا تھی ، میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے
____________________
( ۱ )۔مستدرک صحیحین ،ج۳، ص ۱۳۶ و صحیح بخاری ، مختصر کنزالعمال حاشیۂ مسند احمد ،ص ۳۴ و المراجعات ،ص۱۵۰
لئے وضوء کا پانی لے کر آیا تو آپ نے مجھ سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا :''یا اَنَسُ یَدْ خُل عَلَیْکَ السّٰاعَة مِن ه ٰذاالباب امیرالْمؤمِنیْنَ وَخَیْرالْوَصِیّیْن ، َ قْدَمُ النّٰاسَ سِلْماً وَ َ کْثِرُ ه ُمْ عِلْماً و َا رْ جَحُ ه ُم حِلْما''
اے انس ! ابھی اس دروازے سے امیرالمؤمنین و خیر الوصیّین داخل ہونگے؛ جو سب سے پہلے اسلام لائے جنکا علم سب انسانوں سے زیادہ ہے؛ جو حلم ا ور بردباری میں سب لوگوں سے بڑھ کر ہیں)( ۱ ) انس کہتے ہیں کہ! میں نے کہا کہ خدایا کیا وہ شخص میری قوم میں سے ہے؟ ابھی کچھ دیر نہ گذری تھی کہ میں نے دیکھا علی بن ابیطالب ـ دروازے سے داخل ہوئے جبکہ رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم وضو کرنے میں مشغول تھے ،آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے وضوکے پانی میں سے کچھ پانی حضرت علی ـ کے چہرۂ مبارک پرڈالا۔
____________________
۱۔ ارشاد ، ص ۲۰ : شیخ مفید ابن مالک سے نقل کرتے ہیں ۔
نقل شیخ مفید:
ایک اور روایت میں شیخ مفید بہ سند خود ابن عبّاس سے نقل کرتے ہیں : رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اُمِّ سلمیٰ سے فرمایا :
اسْمَعی وَا شْ ه َد ایْ ه ٰذا ؛ عَلِیُّ ا میْرُالْمُؤْ مِنیْنَ وَ سَیَّدُ الْوَ صِیّیْنَ )
( اے امّ سلمیٰ میری بات سنو اور اسکی گواہ رہنا کہ یہ علی]بن ابیطالب ـ[مؤمنوں کا امیراوروصیّوں کا سردار ہے۔ )
نقل ابن ثعلبہ :
شیخ مفید تیسری روایت میں بہ سند خود معاویةبن ثعلبہ سے نقل کرتے ہیںکہ ( ابو ذر سے کہا گیا کہ وصیّت کرو۔
ا بوذرنے کہا:میں نے وصیّت کردی ہے ۔
انہوں نے کہا: کس شخص کو؟
ابوذر نے کہا :امیرُالمؤمنین ـ کو،؟
انہوں نے کہا :کیا عثمان بن عفّان کو؟
ابوذر نے کہا: نہیں امیرُالمؤمنین علی بن ابیطالب ـ کو جنکے دم سے زمین ہے اور جواُمّت کی تربیت کرنے والے ہیں ۔ )
نقل بریدة بن اسلمی :
برید ہ بن خضیب اسلمی کی خبر جو علما ء کے درمیان مشہور ہے بہت سی اسناد کے ساتھ (کہ جنکا ذکر کلام کو طولا نی کرے گا ) بُریدہ کہتا ہے کہ: جناب رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مجھے اور میرے ساتھ ایک جماعت ( ہم لوگ سات افراد تھے ان میں سے منجملہ ابو بکر ،عمر ، طلحہ ، زبیر تھے کو حکم دیا کہ: ''سَلِّمُوا عَلیٰ عَلِیٍّ بِا مْرَةِ الْمُؤْمِنیْنَ'' علی ـ کو امیر المؤمنین کے کلمہ کے ساتھ سلام کیا کرو) ہم نے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیات اور ان کی موجودگی میں ا ن کو یا امیر المومنین کہکر سلام کیا۔( ۱ )
____________________
(۱)۔ارشاد ِ شیخ مفید ، ص ۲۰ : شیخ مفید و بحارُالانوار ، ج۳۷ ،ص ۲۹۰ تا ۳۴۰ : علامہ مجلسی ، الغدیر ج۸ ،ص ۸۷۔ ج۶، ص ۰ ۸ : علّامہ امینی و حلیة الا ولیاء ، ج ۱، ص ۶۳ : ابو نعیم
نقل عیّاشی:
عیّاشی اپنی تفسیر میں نقل کرتا ہے کہ ایک شخص امام صادق ـ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا:( اَلسَّلاٰمُ عَلَیْکَ یٰا َمیْرَالْمُؤمِنیْن) امام صادق ـ کھڑے ہوگئے اور فرمایا :یہ نام امیرُالمؤمنین علی ـ کے علاوہ کسی اور کے لئے مناسب نہیں ہے اور یہ نام خدا وند عالم کا رکھا ہوا ہے ا س نے کہا کہ آپکے امامِ قائم کو کس نام سے پکارا جاتا ہے ؟
ا مام صادق ـ نے فرمایا :
(السَّلاٰمُ عَلَیْکَ یٰا بَقْیَةَ ﷲ ِ ،السَّلاٰمُ عَلَیْکَ یَابنَ رَسُوْل ﷲ )( ۱ )
اور امام باقر ـ نے فُضیل بن یسار سے فرمایا:
(یٰا فُضَیْلُ لَمْ یُسَمَّ بِ ه ٰا وَﷲ ِ بَعْدَ عَلِیٍّ اَمیْرِالْمُؤْمِنیْنَ ِلا مُفٰتِرٍ کَذّٰابِ الیٰ یَوْمَ النّٰاسِ ه ٰذٰا )( ۲ )
اے فضیل !خدا کی قسم علی ـکے علاوہ کسی کو بھی اس نام (امیر المؤمنین )سے نہیں پکارا گیا اور اگر کسی کو پکارا گیا تو وہ خائن اور جھوٹا ہے۔ )
واقعۂ غدیر سے قبل حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے اتنی فراوان اور وسیع روایات و احادیث کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ روز غدیر ( ولایت )کے اعلان کے لئے مخصوص نہیں تھا ، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اور اہم چیز حقیقت کے روپ میں سامنے آئی اوروہ حقیقت حضرت علی ـ کیلئے لوگوں کی بیعت عمومی تھی ،کیونکہ اگر لوگوں کی عمومی بیعت نہ ہو توامام ـ کی قیادت و راہنمائی قابل اجرا اور قابل عمل نہ رہے گی ۔
____________________
(۱)۔ تفسیر عیّاشی ، ج ۱، ص ۲۸۶ ( سورۂ نساء کی آیت /۱۱۷ کے ذیل میں )
(۲)۔بحار الانوار ، ج۳۷، ص ۳۱۸
۷۔اعلان ولایت بوقت نزول وحی:
جب آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم پر وحی کا نزول ہو رہا تھا تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے حضرت علی ـ کی امامت اور وصایت کا بھی اعلان ہوا۔ امیرُالمؤمنین ـ نہج البلاغہ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ: جب وحی نازل ہو رہی تھی تو میں نے شیطان کی گریہ وزاری کی آواز سنی اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے اس کی وجہ
پوچھی ؛ جناب رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے میرے سوال کے مناسب جواب کے ساتھ میری وصایت اور ولایت کو بھی بیان فرمایا۔)
(وَلَقَدْ کُنْتُ اَتَّبِعُ ه ُ أتِّبٰاعَ الْفَصیْلِ اَثَرَ اُمِّ ه ٭ یَرْفَعُ لی فی کُلِّ یَوْمٍ مِن ْا ِخْلَاقِ ه عَلَماً وَ یَاْ مُرُنی بِا لْاِ قْتِدَائِ بِ ه وَ لَقَدْکٰان یُجٰاوِرُ فی کُلِّ سَنَةٍ بِحِرٰائَ فَاَرٰا ه ُ، وَلٰا یَرٰا ه ُ غَیْری؛ وَلَمْ یَجْمَع بَیْت وَاحِد یَوْمَئِذ فی الْاِ سْلٰامِ غَیْرَرَسُوْلِ ﷲ صلىاللهعليهوآلهوسلم وَخَدیْجَة وَ اَنٰا ثٰالِثُ ه ُمٰا اَرَیٰ نُوْرَ الْوَحْیِ وَ الرِّسٰالَةِ ، وَ اَشُمُّ ریْحَ النُّبُوَّةِ وَلَقَدْ سَمِعْتُ رَنَّةَ الشَّیْطٰانِ حیْنَ نَزَل الْوَحْیُ عَلَیْ ه ِ فَقُلْتُ؛ یٰا رَسُوْلَ ﷲ صلىاللهعليهوآلهوسلم مٰا ه ٰذِ ه ِ الرَّنَّةُ ؟ فَقٰالَ! ( ه ٰذَا الشَّیْطٰانُ قَدْ َیِسَ مِنْ عِبٰادَ تِ ه اِنَّکَ تَسْمَعُ مٰا اَسْمَعُ،وَتَرَیٰ مٰا َارَیٰ ، اِلّاٰاَنَّکَ لَسْتَ بِنَبِیٍّ ،وَلٰکِنَّکَ لَوَزِیْر وَ اِنَّکَ لَعَلیٰ خَیْرٍ. )( ۱ )
میں ہمیشہ ؛پیغمبرگرامیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ تھا جس طرح ایک بچہ اپنی ماں کے ساتھ ہوتا ہے، پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم ہر روز اپنے پسندیدہ اخلاق میں سے ایک نمونہ مجھے دکھاتے اورمجھے اپنی اقتدا کا حکم دیتے تھے ، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سال کے کچھ مہینے غار حرا میں بسرکرتے تھے صرف میں ہی ان سے ملاقات کرتاتھا ،اور میرے علاوہ کوئی بھی ان سے نہیں ملتا ان دنوں کسی مسلمان کے گھر میں را ہ نہ تھی؛ سوائے خانہ رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جنابِ خدیجہ علیہا سلام بھی وہاں ہوتیںاور میں تیسرا شخص ہوتا تھا ، میں نور وحی اور رسالت کو دیکھتا اور بوئے نبوّت کو محسوس کرتا تھا۔
____________________
( ۱)۔ خطبۂ ، ۱۹۲ / ۱۱۹ ، نہج البلاغہ
٭ ( اونٹنی کا بچہ ہمیشہ اسکے ساتھ ہے )یہ ایک ضرب المثل ہے ، جب یہ بتانا چاہتے تھے کہ وہ دو لوگ ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں تو ،اسطرح کہتے تھے۔
جب آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم پر وحی نازل ہو رہی تھی تو میں نے شیطان رجیم کی آہ و زار ی کی آوازسنی ، جنابِ رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے دریافت کیا کہ یہ کس کی آہ و زاری کی آواز ہے ؟ پیغمبرگرامیصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ارشاد فرمایا :
یہ شیطان ہے جو اپنی عبادت سے نا اُمید ہو گیا ہے ، اور ارشاد فرمایا: یاعلی ـ ! جو کچھ میں سنتا ہوں آپ سنتے ہیں اورجو کچھ میں دیکھتا ہوں آ پ دیکھتے ہیں لیکن فرق اتنا ہے کہ آپ نبی نہیں بلکہ آپ میرے وزیر ہیں اور راہ خیر پر ہیں( ۱ )
____________________
( ۱) ۔اس خطبے کے اسناد و مدارک اور ( معجم المفہرس ) مؤلّف درج ذیل ہے :
۱۔کتاب الیقین ، ص ۱۹۶ : سیّد ابن طاؤوس ( متوفیٰ ۶۶۴ ھ )۲۔فروع کافی ، ج۴، ص ۱۹۸ و ۱۶۸ / ج۱، ص۲۱۹ : مرحوم کلینی ( متوفیٰ ۳۲۸ ھ )
۳۔ من لا یحضرہ الفقیہ ، ج۱، ص ۱۵۲ : شیخ صدوق ( متوفیٰ ۳۸۰ ھ )۴۔ربیع الابرار ، ج۱، ص ۱۱۳ : زمخشری ( متوفیٰ ۵۳۸ ھ )
۵۔اعلام النبوة ، ص ۹۷ : ماوردی ( متوفیٰ ۴۵۰ ھ )۶۔بحار الانوار ، ج۱۳ ،ص ۱۴۱ / ج۶۰ ،ص ۲۱۴ : مر حوم مجلسی ( متوفیٰ ۱۱۱۰ ھ )
۷۔ منہاج البراعة ، ج۲،ص۲۰۶ : ابن راوندی ( متوفیٰ ۵۷۳ ھ )۸۔ نسخۂ خطی نہج البلاغہ ، ص ۱۸۰ : لکھی گئی ۴۲۱ ھ
۹۔ نسخۂ خطی نہج البلاغہ ، ص ۲۱۶ : ابن مؤدّب : لکھی گئی ۴۹۹ ھ۱۰۔دلائل النبوة : بیہقی ( متوفیٰ ۵۶۹ ھ )
۱۱۔کتاب السّیرة و المغازی : ابن یسار ۱۲۔ کتاب خصال ، ج ۱، ص ۱۶۳ حدیث ۱۷۱ / ص ۶۵۵ و ۵۰۰ : شیخ صدوق ( متوفیٰ ۳۸۰ ھ )
۱۳۔غرر الحکم ، ج ۱،ص۲۹۴ / ج۲ ،ص ۱۱۰ : مرحوم آمدی ( متوفیٰ ۵۸۸ ھ )۱۴۔ بحار الانوار ، ج۶۳، ص ۲۱۴ / ج۱۱۳،ص ۱۴۱ : مرحوم مجلسی ( متوفیٰ ۱۱۱۰ ھ )
۱۵۔ بحار الانوار ، ج۱۴،ص ۴۷۷ : مرحوم مجلسی ( متوفیٰ ۱۱۱۰ ھ )۱۶۔ غررالحکم ، ج۴،ص ۴۳۵ /۴۳۸/۴۷۷ : مرحوم آمدی مرحوم مجلسی ( متوفیٰ ۵۸۸ ھ )
۱۷۔غررالحکم ، ج۳ ص ۲۰ /۳۹/۳۰۰/۳۱۱/۳۷۳ : مرحوم آمدی مرحوم مجلسی ( متوفیٰ ۵۸۸ ھ )۱۸۔غررالحکم ، ج۶،ص ۲۷۶ /۲۷۹/۴۳۱ : مرحوم آمدی مرحوم مجلسی ( متوفیٰ ۵۸۸ ھ )
۱۹۔غررالحکم ، ج۲ ،ص ۲۶۲/۳۴۲ : مرحوم آمدی مرحوم مجلسی ( متوفیٰ ۵۸۸ ھ )۲۰۔غررالحکم ، ج۵ ،ص ۱۱۹ /۱۵۶ : مرحوم آمدی مرحوم مجلسی ( متوفیٰ ۵۸۸ ھ )
۲۱۔ارشاد ، ج۱ ،ص ۳۱۵ : شیخ مفید ( متوفیٰ ۴۱۳ ھ )۲۲۔ احتجاج ، ج ۱، ص ۱۴۱ : مرحوم طبرسی ( متوفیٰ ۵۸۸ ھ )
۸ ۔ حدیث ثقلین :
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم غدیر سے بہت پہلے معروف حدیث (ثقلین )میں بھی حضرت علی ـاور دوسرے َئِمّہ معصومین علیہم السّلام کی امامت کا واضح اعلان کر چکے تھے ، ارشاد فرمایا: ''انِّیْ تٰا رِک فیْکُمُ الثِّقَلَیْن کِتٰابَ ﷲ ِ وَ عِتْرَتیْ'' ( ۱ ) میں تمہارے درمیان'' دو گراں قدر' چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں؛ ایک کتاب خدا اور دوسری اپنی عترت ۔)
____________________
(۱)۔ حدیث ثقلین کے اسناد و مدارک :
۱۔بحار الانوار ، ج۲۲، ص ۴۷۲ : علّامہ مجلسی ( متوفیٰ ۱۱۱۰ ھ )۲۔ کتاب مجالس : شیخ مفید ( متوفیٰ ۴۱۳ ھ )
۳۔ صحیح ترمذی ، ج۵ ،ص ۳۲۸ / ج۱۳ ص ۱۹۹ : محمد بن عیسیٰ ترمذی ( متوفیٰ ۲۷۹ ھ )۴۔نظم درر السمطین ، ص ۲۳۲ : زرندی حنفی
۵۔ ینابیع المؤدّة ، ص ۳۳/۴۵ : قندوزی حنفی۶۔ کنزالعمّال ، ج ۱، ص ۱۵۳ : متّقی ہندی ۷۔ تفسیر ابن کثیر ، ج۴، ص ۱۱۳ : اسماعیل بن عمر ( متوفیٰ ۷۷۴ ھ )
۸۔ مصابیح السنّة ، ج ۱ ،ص ۲۰۶ / ج۲ ،ص ۲۷۹ ۹۔ جامع الاصول ، ج ۱،ص ۱۸۷ : ابن اثیر ( متوفیٰ ۶۰۶ ھ )
۱۰۔ معجم الکبیر ، ص۱۳۷ : طبرانی ( متوفیٰ ۳۶۰ ھ )۱۱۔ فتح الکبیر ، ج ۱ ، ص ۵۰۳ / ج ۳ ص ۳۸۵
۱۲۔عبقات الانوار ، ج۱، ص ۹۴/۱۱۲/۱۱۴/۱۵۱ :۱۳۔ احقاق الحق ، ج۹ : علّامہ قاضی نورﷲ شوشتری۱۴۔ ارجح المطالب ، ص۳۳۶ :
۱۵۔ رفع اللّبس و الشّبہات ، ص۱۱/۱۵ : ادریسی۱۶۔الدرّ المنثور ، ج۴ ،ص ۷/۳۰۶ : سیوطی ( متوفیٰ ۹۱۱ ھ )
۱۷۔ذخائر العقبیٰ ، ص۱۶ : محب الدّین طبری ( متوفیٰ ۶۹۴ ھ )۱۸۔ صوا عق المحرّقة ، ص۱۴۷/۲۲۶ : ابن حجر ( متوفیٰ ۸۵۲ ھ )
۱۹۔ اسد الغابة ، ج۲ ،ص ۱۲ : ابن َثیر شافعی ( متوفیٰ ۶۳۰ ھ )۲۰۔ تفسیر الخازن ، ج ۱ ،ص۴ : ۲۱ ۔ الجمع بین الصحّاح ( نسخۂ خطّی)
۲۲۔ علم الکتاب ، ص۲۶۴ : سیّد خواجہ حنفی ۲۳۔ مشکاة المصابیح ، ج۳ ،ص ۲۵۸ :۲۴۔ تیسیر الوصول ، ج۱، ص ۱۶ : ابن الدیبع۲۵۔مجمع الزوائد ، ج۹ ،ص ۱۶۲ : ہیثمی ( متوفیٰ ۸۰۷ ھ )۲۶۔جامع الصغیر ، ج۱ ،ص ۳۵۳ : سیوطی ( متوفیٰ ۹۱۱ ھ )۲۷۔ مفتاح النّجاة ، ص۹ ( نسخۂ خطّی )۲۸۔ مناقب علی بن ابی طالب ـ ، ص۲۳۴/۲۸۱ : ابن المغازلی۲۹۔ فرائد السّمطین ، ج۲، ص۱۴۳ : حموینی ( متوفیٰ ۷۲۲ ھ )۳۰۔مقتل الحسین ـ ، ج۱ ،ص ۱۰۴ : خوارزمی ( متوفیٰ ۹۹۳ ھ )۳۱۔طبقات الکبریٰ ، ج۲، ص۱۹۴ : ابن سعد ( متوفیٰ ۲۳۰ ھ )۳۲۔ خصائص امیرُ المؤمنین ـ ، ص۲۱ : نسائی ( متوفیٰ ۳۰۳ ھ )۳۳۔ مسند احمد ، ج۵، ص ۱۲۲/۱۸۲ : احمد بن حنبل ( متوفیٰ ۲۴۱ ھ )۳۴۔ الغدیر ، ج۱ ،ص ۳۰ : علّا مہ امینی
سوّم ۔ اثبات امامت تا رجعت و قیامت
روز غدیر کے دن کی عظیم تبدیلیوں اور تحوّلات کی روشنی میں یہ معلوم ہوا کہ:
۱ ۔ غدیر کے دن ؛حضرت علی ـ کی امامت و ولایت کے مکرّر اعلان کے بعد سارے مسلمانوں کی امیرُالمؤمنین ـ کے ہاتھوں پر بیعت نے حقیقت کا روپ دھارا۔
۲۔اس وسیع بیعت کا آغاز حکم خداوندی ، نزول فرشتۂ وحی اور خود رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بیعت کرنے سے ہوا ؛اوریہ سلسلہ اختتام شب تک جاری رہا ۔
۳۔ اگر لوگوں کی بیعت عمومی نہ ہوتی اور صرف ( اعلان ولایت ) پہ اکتفا کیا جاتا ( جیسا کہ اس سے پہلے آغاز بعثت سے حجّة الوداع تک بارہا اس حقیقت کو بیان کیا گیا اور منافقوں نے کسی قسم کے خطرے کا احساس نہیں کیا اور نہ ہی کوئی خطرناک سازش کی)تو موقع کی تلاش میں رہنے والے منافقین خطرے کا احساس نہ کرتے اور خطرنا ک سازشوں کے جال نہ بُنتے کیونکہ امام ـ کی امامت کے اجراء کی پشت پناہ لوگوں کی آراء اور انکی عمومی بیعت ہوتی ہے ۔
لیکن غدیر کے دن انتہائی تعجب اور بے یقینی کی کیفیت کے ساتھ ا نہوں نے دیکھا کہ:
(الف) اعلان ولایت
سب سے پہلے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی ـ کی ولایت کا اعلان کیا اور ارشاد فرمایا :''ثُمَّ مِنْ بَعْدیْ عَلِیّ وَلِیُّکُمْ وَ اِمٰامُکُمْ بِاَمْرِ ﷲ ِ رَبِّکُمْ ثُمَّ الْاِمٰامَةُ فیْ ذُرِّیَتیْ مِنْ وُلْدِ ه اِلیٰ یَوْمٍ تَلْقُوْنَ ﷲ َ وَ رَسُوْلَ ه ''اب میرے بعد تمہارے امام علی ـ ہیں وہ امام جو خدا کے حکم سے معیّن ہوا ہے ا ور اسکے بعد امامت ؛میرے خاندان میں علی ـ کی اولاد کے ذریعہ تا قیامت جاری رہے گی اس دن تک کہ جس دن تم لوگ خدا اور اسکے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ملاقات کرو گے۔
(ب ) سلسلہ امامت کا اعلان
پھر سلسلۂ امامت کی دوسری گیارہ کڑیوں یعنی خاندان ِ رسالت اور اولادِ علی ـ کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا:''مَعٰاشِرَ النّٰاسِ؛ اِنَّ ه اٰخِرُ مَقٰامٍ َقُوْمُ ه ُ فیْ ه ٰذَا الْمَشْ ه َدِ؛ فَاسْمَعُوْا وَا َطیْعُوْا وَ أنْقٰادُوْا لِاَمْرِﷲ ِ رَبِّکُمْ؛ فَاِنَّ ﷲ عَزَّ وجَلَّ ه ُوَ رَبُّکُمْ وَ وَلِیُّکُمْ وَا ِلٰ ه ُکُمْ؛ ثُمَّ مِنْ دُ وْنِ ه رَسُوْلُ ه مُحَمَّد وَلِیُّکُمْ ؛القٰا ئِمُ الْمُخٰاطِبُ لَکُمْ ؛ ثُمَّ مِنْ بَعْدیْ عَلِیّ وَلِیُّکُمْ وَ اِمٰامُکُمْ بِاَمْرِ ﷲ ِ رَبِّکُمْ ؛ ثُمَّ الْاِمٰامَةُ فیْ ذُرِّیَتی مِنْ وُلْدِ ه ِ اِلی یَوْمِ الْقِیٰامَةِ ؛یَوْمَ تَلْقُوْنَ ﷲ َ وَ رَسُوْلَ ه .''
اے لوگو ! یہ آخری مقام ہے جہاں میں تمہارے درمیان کھڑے ہو کر بات کر رہا ہوں: تو میری بات سنو ؛ فرمانبرداری کرو اور اپنے پروردگار کے سامنے سر تسلیم خم کرو حق یہ ہے کہ خدا وند ِبزرگ وبرتر تمہارا پروردگار ، تمہاراسرپرست اور تمہارا معبود ہے ا س کے علاوہ ا س کا رسول محمَّدصلىاللهعليهوآلهوسلم جو کھڑاتم سے خطاب کر رہا ہے تمہارا سرپرست ہے اور پھرمیرے بعد علی ـ خدا کے حکم سے تمہارے سرپرست اور امام ہیں اور ا س کے بعد امامت ؛ میری ذرّیت میں علی ـ کی اولاد سے تا قیامت جاری رہے گی اس دن تک کہ جس دن تم لوگ خدا اور اسکے رسول سے ملاقات کروگے ۔
( ج ) تا قیامت امامت مسلمین
اسکے بعد پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے قیامت تک کے لئے اسلامی حکومت اور اما مت کی نشاندہی کی۔
( د ) حضرت مہدی عج کی امامت کا تعارّف
آخری زمانے کے امام ؛امام مہدی (عجّلَ ﷲ ُ تَعٰالیٰ فَرَجَہُ الشَّریْف) کی حکومت اور امامت کو بیان کیا ۔
( ہ ) خلافت کا دعوے دار غاصب ہے
امامت کے ہر مدّعی اور خاندان رسالت کے علاوہ کسی اور خلافت کے دعوے دار غاصب اور باطل کی پہچان کروائی گئی( مَلْعُوْن مَلْعُوْن،مَغضُوْب مَغْضُوْب،مَنْ رَدَّ عَلَیَّ قَوْلیْ ه ٰذٰا وَلَمْ یُوَافِقْ ه ُ َ لاَ ِنَّ جَبْرَئِیْلَ خَبَّرَنیْ عَنِ ﷲ ِ تَعٰالیٰ! بِذٰلِکَ وَیَقُوْلُ!( مَنْ عٰادیٰ عَلِیّاً وَلَمْ یَتَو لَّ ه فَعَلَیْ ه ِ لَعْنَتیْ ) ( فَلْتَنْظُرْ نَفْس مٰا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوﷲ ا نْ تُخٰالِفُوْهُ فَتَزِلَّ قَد َم بَعْدَ ثُبُوْ تِهٰا اِنَّ ﷲ َ خَبیر بِمٰا یَعملونَ ) )
ملعون ہے؛ ملعون ہے ؛مغضوب ہے مغضوب ہے؛ وہ شخص جو میری بات کا اس لئے انکار کرے کہ اس کی خواہش کے مطابق نہیں ہے آگاہ ہو جاؤ! کہ جبرئیل نے مجھے خدا کی طرف سے خبر دی ہے وہ فرماتا ہے : ( جو شخص علی ـ سے دشمنی کرے اور انکی ولایت کو قبول نہ کرے اس پر میری لعنت و غضب ہو( پس ہر شخص کو سوچنا چاہیے کہ وہ قیامت کے لئے کیا لے کر جا رہا ہے ؟) لوگو ! خدا سے ڈرو مبادا تم اسکی مخالفت کربیٹھو یا تمہارے قدم ایمان کی راہ سے ڈگمگا جائیں جو کبھی ایمان کی راہ پر استوار اور ثابت تھے ؛ حق یہ ہے کہ جو کچھ تم انجام دیتے ہو خدا جانتاہے۔)
( و ) عام اعلان ( حکم اعتراف)
پھر امام علی ـ کی بیعت اور دوسرے اماموں پراعتقاد ،یقین اور اعتراف کرنے کے لئے فرمان جاری کیا:
مَعٰاشِرَالنّٰاسِ!اِنَّکُمْ َکْثَرُمِنْ اَنْ تُصَافِقُوْنی بِکَفٍ واحِدٍ فی وَقْتٍ وَاحِدٍ قَدْ اَمَرَنِیْ ﷲ ُ عَزَّ وَجَلَّ اَنْ اٰخُذَ مِنْ اَلْسِنَتِکُم الْا ِقْرٰارَ بِمٰا عَقَّد تُ لِعَلِیٍّ اَمیْرِالْمُؤْمِنیْنَ وَلِمَنْ جٰائَ بَعْدَ ه ُ؛ مِنَ الْاَئِمّةِ مِنّیْ وَ مِنْ ه ُ عَلیٰ ماَعَْلمْتُکُمْ اَنَّ ذُرِّیَّتیْ مِنْ صُلْبِ ه فَقُوْلُوْا بِاَجْمَعِکُمْ: انّا سٰامِعُونَ مُطِیْعُوْنَ رٰاضُوْنَ مُنْقٰادُوْنَ لِمٰا بَلَّغْتَ عَنْ رَبِّنٰا ، وَرَبِّک فیْ اَمْرِ اِمٰامِنٰا عَلِیٍّ اَمیْرِ الْمُؤْمِنیْنَ ـ وَمَنْ وُلِدَتْ مِنْ صُلْبِ ه مِنَ الْاَئِمَّة نُبٰایِعُکَ عَلیٰ ذٰلِکَ بِقُلُوْبِنٰا، وَ َنْفُسِنٰا و اَلْسِنَتِنٰا،وَا یْدیْنٰا، عَلیٰ ذٰلِکَ نَحْییٰ،وَعَلَیْ ه ِ نَمُوْتُ،وَعَلَیْ ه ِ نَبْعَثُ،وَلاَ نُغَیِّرُ، وَلاَ نُبَدِّلُ،و لانَشُکُّ وَلاَنَجْحَدُ وَلاَنَرْتٰابُ وَلاَنَرْجِعُ عَنِ الْعَ ه ْدِ،و َلاَتَنْقُض الْمیْثٰاقَ وَعَظْتَنٰا بِوَعْظِ ﷲ ِ فیْ عَلِیًّ اَمیْرِالْمُؤْمِنیْنَ،وَالْاَئِمَّةِ الَّذیْنَ ذَکَرْتَ مِنْ ذُرِّیَّتِکَ مِنْ وُلْدِ ه ،بَعْدَ ه ُ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ وَمَنْ نَصَبَ ه ُ ﷲ بَعْدَ ه ُمٰا فَالْعَ ه ْدُوَالْمیْثٰاقُ لَ ه ُمْ مَاْخُوْذمِنّٰا،مِنْ قُلُوْبِنٰا وَاَنْفُسِنٰا وَاَلْسِنَتِنٰا وَضَمٰایِرِنٰا وَا یْدیْنٰا مَنْ اَدْرَکَ ه ٰا بِ ي َدِ ه وَ ِلَّا فَقَدْ اَقَرَّ بِلِسٰانِ ه وَلاَ نَبْتَغیْ بِذٰلِکَ بَدَلاً وَلاَ یَرَی ﷲ ُمِنْ اَنْفُسِنٰا حِوَلاً نَحْنُ نُؤَدِّیْ ذٰلِکَ عَنْکَ َالدّٰانیْ وَالْقٰاضی مِنْ اَوْلاَدِنٰا و َاحٰال ي ْنٰا وَ نَشْ ه َدُ ﷲ َ بِذٰلِکَ وَکَفیٰ بِﷲ ِشَ ه یْداً وَاَنْتَ عَلَیْنٰا بِ ه شَ هي ْد. )
( اے مسلمانوں ! تمہاری تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کہ تم لوگ خود اپنے ہاتھوں سے اس تپتے ہوئے صحراء میں میرے ہاتھ پر بیعت کر سکو پس خدا وند عالم کی جانب سے مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تم لوگوں سے ولایت علی ـ اور انکے بعد آنے والے اماموںکی امامت ]جو کہ میری اور علی ـ کی اولاد میں سے ہیں [کے بارے میں اقرار لے لوں اورمیں تم لوگوں کو اس بات سے آگاہ کر چکا ہوں میر ے فر زندعلی ـ کے ُصلب سے ہیں ۔
پھر تم سب لوگ کہو کہ: ( یارسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم !ہم آپکا فرمان سن رہے ہیں اور اس کو تسلیم کرتے ہیں ،اس پر راضی ہیں ، اور آپکے اِس حکم کی اطاعت کرتے ہیں جو کہ خدا وند عالم کی طرف سے آپ نے ہم تک پہنچایا جو ہمارا رب ہے ، ہم اس پیمان پرجو کہ حضرت علی ـ کی ولایت اور ان کے بیٹوں کی ولایت کے سلسلے میں ہے اپنے جان و دل کے ساتھ اپنی زبان اور ہاتھوں کے ذریعہ آپکی بیعت کرتے ہیں اس بیعت پر زندہ رہیں گے ، مر جائیں گے اور اٹھائے جائیں گے اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کریں گے ، اس میں کسی قسم کا شک و تردید نہیں کرتے ، اور اس سے رو گردانی نہیں کریں گے ،اور اس عہد و پیمان کو نہیں توڑیں گے ۔
خدا وند عالم اور آ پ کی اطاعت کرتے ہیں اور علی ؛امیر المؤمنین ـ اورانکے بیٹوں کی اطاعت کریں گے کہ یہ سب ا مّت کے امام ہیں وہ امام جن کا آ پ نے تذکرہ کیا ہے آپکی اولاد میں سے ہیں حضر ت علی ـ کے صلب سے اورامام حسن ـ وامام حسین ـ کے بعد آنے والے ہیں ، حسن و حسین علیہما السلام کے میرے نزدیک مقام کے بارے میں پہلے تمہیںآگاہ کر چکا ہوں ، خدا وند عالم کے نزدیک انکی قدرو منزلت کا تذکرہ کر چکا ہوں اورامانت تم لوگوں کو دے دی یعنی کہہ دیا کہ یہ دو بزر گ ہستیاں جوانان جنّت کی سردار ہیں میرے اور علی ـ کے بعد امّت مسلمہ کے امام ہیں۔
تم سب مل کر کہو! کہ ہم اس حکم میں خدا کی اطاعت کرتے ہیں اور اے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم آپ کی ،حضرت علی ـ کی ، حسنین علیہما السلام کی اور انکے بعد آنے والے اماموں کی اطاعت کرتے ہیں کہ جن کی امامت کا آپ نے تذکرہ کیا اور ہم سے عہد و پیمان لیا ہمارے دل و جان ،زبان اور ہاتھ سے بیعت لی جو کہ آپکے قریب تھے یا زبان سے اقرار لیا اس عہد و پیمان میں تبدیلی نہ کریں گے اورخدا وند عالم کواس پر گواہ بناتے ہیں جو گواہی کے لئے کافی ہے اے رسول خدصلىاللهعليهوآلهوسلم آپ ہمارے اس پیمان پر گواہ ہیںہر مؤمن پیروکار ظاہری یا مخفی ، فرشتگان خدا ، خدا کے بندے اور خدا ان سب لوگوں کا گواہ ہے، پھر رسول گرامی اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے اس اہم خطبے کے دوران تمام حاضرین کو علی الاعلان اور واضح طور پر ہوشیار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:
(مَعٰاشِرَالنَّاسِ!مٰاتَقُوْلُوْنَ فَاِ نَّ ﷲ یَعْلَمُ کُلَّ صَوْتٍ وَخٰافِیَة کُلِّ نَفْس فَمَن ا ه ْتَدیٰ فَلِنَفْسِ ه ِ، وَمَنْ ضَلَّ فَنَّمٰا یَضِلُّ عَلَیْ ه ٰا )و مَن بٰایَعَ فَاِنَّمٰا یُبٰایِعُ ﷲ ا یَدُﷲ ِ فَوْقَ َیْدیْ ه ِمْ)مَعٰاشِرَالنَّاس فَبٰایِعُوْاﷲ َوَبٰایِعُوْنی وَ بَایِعُوْاعَلِیّاً اَمیْرَالْمُؤْمِنیْنَ ،وَالْحَسَن وَالْحُسَیْنَ وَ الْاَ ئِمَّةَ مِنْ ه ُمْ فیْ الدُّ نْیٰا وَالْآخِرَةِ کَلِمَةً طَیِّبَة بٰاقِیَةًیُ ه ْلِکُ ﷲ ُمَنْ غَدَرَ وَ یَرْحَمَ ﷲ ُ مَنْ وَفیٰ،( فَمَنْ نَکَثَ فَاِ نَّمٰا یَنْکُثُ عَلیٰ نَفْسه وَمَنْ َا وْفیٰ بِمٰا عٰا هَدَ عَلَیْهِ ﷲ َ فَسَیُؤْتيْه ا َجْراً عَظیْماً )
مَعٰاشِرَ النَّاس! قُوْلُوْا الَّذی قُلْتُ لَکُمْ ، وَ سَلِّمُوْاعَلیٰ عَلِیٍّ ؛بِاِمِرْةِ الْمُؤْمِنیْنَ، وَقُوْلُوْا!( سَمِعْنٰا وَاَطَعْنٰا غُفْرٰانَکَ رَبَّنٰا وَاِلَیْکَ الْمَصیْرُ ) ( ۱ )
وَقُوْلُوْا( الْحَمْدُلِلّٰهِ الَّذیْ هَدٰینٰا لِهٰذَاوَمٰا کُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْلَاَانْ هَدٰانَاﷲ ) ( ۲ )
____________________
(۱)۔بقرہ ۲/۲۸۵
(۲)۔اعراف۴۳/۷
مَعٰا شِرَالنَّاسِ!اِنَّ فَضٰا ئِلَ عَلِیِّ بْنِ َا بیْ طاٰ لِبٍ عِنْدَﷲ ِعَز وَجَلَّ وَ قَدْ َا نْزَلَ ه ٰا فیْ الْقُرْآن ِاَ کْثَرُ مِنْ ُا حْصِیَ ه ا فیْ مَقٰامٍ وٰاحِدٍ ، فَمَنْ نْبَاَکُمْ بِ ه ٰا وَ عَرَفَ ه ٰا فَصَدِّ قُوْ ه ُ مَعٰا شِرَالنَّاسِ ! مَنْ یُطِعِ ﷲ وَ رَسُوْلَ ه ُ وَعَلِیّاً وَالْاَ ئِمَّةَالَّذ ین ذَکَرْتُ ه ُمْ فَقَدْ فٰازَ فَوْزاً عَظیْماً مَعٰا شِرَالنَّاسِ ! السّٰا بِقُوْنَ اِلیٰ مُبٰا یَعَتِ ه َ و مُوَالاَتِ ه وَالتّسْلیْم علَیْ ه بِاِ مْرَةِ الْمُؤْ مِنیْنَ ا وْلٰئِکَ ه ُمُ الْفٰا ئِزُوْنَ فی جَنّٰات النَّعیمِ ۔
( و( اے لوگو ! تم کیا کہتے ہو؟ حق یہ ہے کہ جو آواز بھی تم زبان سے جاری کرتے ہو اور تمہارے دلوں میں جو نیّت بھی ہو خدا وند عالم اس سے آگاہ ہے ؛ بس جس نے ہدایت کا راستہ ا ختیار کیا ؛اس نے اپنے ساتھ نیکی کی اور جو گمراہ ہو گیا اس نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا ، اور جو اپنے امام کی بیعت کرے گا اسنے اپنے خدا وند برتر کی بیعت کی ؛ کہ اسکی قدرت ساری قدرتوں سے بالا ہے ۔
اے لوگو !خدا وند عالم کی بیعت کرو میری بیعت کرو اور علی ـ امیر المؤمنین کی بیعت کرو، حسن و حسین علیہماالسّلام کی بیعت اور انکے بعد آنے والے ائمّہ علیہِمُ السّلام کی بیعت کرو جو کہ زندہ و جاوید کلمۂ طیّبہ ہیں ،خدا دغا بازکو ہلاک کرتا ہے اور جو ایفایٔ عہد کر ے گا رحمت خدا وندی اسکے شا مل
حال ہو گی، اور جو بھی پیمان شکنی کرے گا،تو وہ اپنے نقصان میں یہ عمل انجام دیگا،اور جس نے وفا کی اسکے لئے اجر عظیم ہے ۔
اے لوگو! جو کچھ میں نے تمہارے لئے کہا ہے اس کو دہراؤ اور علی ـ کو امیرالمؤمنین کہہ کر سلام کیا کرواور کہو : ہم نے سن لیا ہے اور اس امر میں آپکی اطاعت کرتے ہیں ، خدا وندا تجھ سے مغفرت کے طلبگارہیں اور ہمیں تیری طرف لوٹنا ہے۔
اور کہو: ]حمد ہو خدا کی کہ اسنے ولایت علی ـ کی طرف ہماری ہدایت کی ، اگر خدا ہمار ی ر ہنمائی نہ فرماتاتو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے۔ [
اے لوگو! در حقیقت علی ابن ابی طالب ـ کے فضائل خدا وند منّان کی نظر میںجو اس نے قرآن مجید میں نازل فرمائے ہیں اتنے زیادہ ہیں کہ جنکا ذکرکر ناکسی ایک تقریر میںممکن نہیں،لہٰذا اگر کوئی علی ـ کے فضائل اورانکی قدرو منزلت تمہارے لئے بیان کرے تو اس کی تصدیق کرو اور شک نہ کرو۔
اے لوگو! جس نے خدا ، رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ،علی ـ اور انکے بعد آنے والے اماموں کی اطاعت کی کہ جن کا ذکرمیں نے کیا تو در حقیقت وہ ایمان کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہو گیا۔
اے لوگو! وہ لوگ جنہوں نے علی ـ کی بیعت ، ان سے دوستی ،اور امیر المؤمنین کے عنوان سے انکو سلام کرنے میں سبقت حاصل کی تو وہ لوگ؛ بہشت میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ۔
( ز ) پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور علی ـ کی بیعت
اس مقام پر رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی ـ کے ساتھ بیعت کی اور عمومی بیعت کا فرمان اس طرح صادر فرمایا:'اَ لاَ وَاِنِّیْ عِنْدَانْقِضٰا ئِ خُطْبَتیْ َ دْعُوْکُمْ ِلیٰ مُصٰافَقَتیْ عَلیٰ بَیْعَتِ ه وَالْاِ قْرٰارِ بِ ه ثُمَّ مُصٰا فَقَتِ ه مِنْ بَعْدِیْ اَ لاَ وَ ِ نِّیْ قَدْ بٰا یَعْتُ ﷲ َ وَعَلِیّ قَدْ بٰا یَعْنی وَاَ نٰا آخِذْ کُم بِالْبَیْعَةِ لَ ه ُ؛ عَنِ ﷲ ِ عَزَّ وَ جَلَّ ! ( ا ِنَّ الَّذ یْنَ ! یُبٰا یِعُوْنَکَ اِنَّمٰا یُبٰا یِعُوْنَ ﷲ یَدُﷲ ِ فَوْقَ اَیْدیْهِمْ فَمَن نَکَثَ فَاِنَّمٰایَنْکُثُ عَلیٰ نَفْسِه وَمَن َوْفیٰ بِمٰاعٰاهَدَعَلَیْهِ ﷲ َفَسَیُوتیْه اَجْراً عَظیْماً )
( آگاہ ہو جاؤ خطبہ کے بعد ؛ میں تمہیں علی ـ کی بیعت کرنے کی دعوت دونگا ؛ تو انکی بیعت کرو ، انکی امامت کا اعتراف کرو اور انکے بعد آنے والی اماموں کی؛بیعت کرو ۔
آگاہ ہوجاؤ حق یہ ہے کہ میں نے خد ا کی بیعت کی ہے اور علی نے میری بیعت کی ہے ۔ اور میں خدا وند عالم کی طرف سے تم لوگوں کو حضرت علی ـ کی بیعت کرنے کی دعوت دے رہا ہوں لھذا تم میںجو عھدوپیمان کو توڑے گا تو وہ اپنے نقصان میں پیمان شکنی کرے گا مجھے خدا وند عالم کی طرف سے حکم ہے کہ میں آپ سے حضرت علی ـ کی بیعت لوں اور جو کچھ خدا وند عالم کی طرف سے حضرت علی ـ کی ولایت کے بارے میں نازل ہوا ہے ا سں کا اعتراف کرو۔
(ح ) مرد و زن کا حضرت علی ـ کی بیعت کرنا
اس کے بعد تمام مسلمانوں (مرد و زن) نے حضرت علی ـ کی بیعت کی اور سب نے ایک ساتھ خاندان رسالت کے بار ہ اماموں کی تاقیامت رہنے والی امامت کا اعتراف کیا، اس وقت رسول ِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ارشاد فرمایا: (مَعٰاشِرَ النّٰاسِ !ِانِّیْ اَدَعُ ه ٰا اِمٰامَةً ،وَ وِرٰاثَةً فِیْ عَقَبیْ اِلی یَوْمِ الْقِیٰامَةِ؛ وَ قَدْ بَلَّغْتُ مٰاُامِرْتُ بِتَبْلِیْغِ ه ِ،حُجَّةًعَلیٰ کُلِّ حٰا ضِرٍوَغٰائب وَ عَلیٰ کُلِّ اَحَد مِمَّنْ شَ ه ِدَ اَو لَمْ یَشْ ه َدْ ، وُلِدَ اَو لَمْ یُوْلَدْ؛ فَلْیُبَلِّغِ الْحٰاضِرُالْغٰائِبَ ، وَالْوَالِدُ الْوَلَدَ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیٰامَةِ ،و سَیَجْعَلُوْ نَ ا لْاِ مٰا مَةَ بَعْدِ یْ مُلْکَ وَ ا غْتِصٰا باً ،َالاَا لَعَنَ ﷲ الْغٰا صِبیْنَ وَالْمُغْتَصِبیْن َ،وَعِنْدَ ه ٰا سَیَفْرُغُ لَکُمْ اَیُّ ه َا الثَّقَلَان مَنْ یَفْرُ غُ وَ یُرْ سِلُ عَلَیْکُمٰا شُوٰاظ مِنْ نٰا رٍ وَ نُحٰا سُ فَلَا تَنْتَصِرٰانِ :
( اے لوگو ! میں علی ـ کی اور ان کے بیٹوں کی امامت تمہا رے درمیان قیامت تک کے لئے باقی چھوڑکرجا رہا ہوں ، میں نے وہ چیز کہ جسکی تبلیغ پر ممور تھا تم تک پہنچا دی ہے ، میری حجّت ہر انسان کے لئے تمام ہو چکی ہے چاہے وہ حاضرہو یا غائب ، شاہد ہو یا غیر شاہد ،جو ،اب تک متولّد ہوگیاہو یا ابھی تک اس دنیا میں نہ آیا ہو۔
لہٰذا حاضرین کو چاہیے کہ غائبین کے لئے ، والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کے لیے تا قیامت علی ـ اور انکے بیٹوں کی امامت کے مسئلے کو بیان کریں کیونکہ کچھ لوگ بہت جلد خلافتِ لٰہی کو بادشاہی میں تبدیل کرکے اسے غصب کرلیں گے۔
آگاہ ہو جاؤ !خداخلافت کے غاصبوں اور انکے طرفداروں پر لعنت کرتا ہے ، بہت جلد جن وانس سے حساب کتاب لے گااور ان میں سے گنہگاروںپر آگ کے شعلے برسائے گا،اور اس وقت تم لوگ کوئی یار ومدد گار نہ پاؤ گے ۔ ) پھر آخر میں ہر اس شخص پر کہ جو امامت عترت کو نظر انداز کرے ، یا خلافت کو غصب کرے، یا پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی عترت کو اُمّت کی قیادت سے دور رکھے سب پر لعنت کی۔ ان سارے اقدامات کے بعد حکومت کے پیاسے منافقوں کے لئے قدرت طلبی کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ گئی تھی۔
وہ لوگ جو اس بات کے منتظر تھے کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات کے بعد سیاسی طاقت وقدرت اپنے ہاتھ میں لے لیں گے ؛ واقعہ غدیر(مذکورہ خصوصیات کے ساتھ ) کے بعد کیا کر سکتے تھے ؟یہ درست ہے کہ مسلّحانہ بغاوت کے ذریعے ہر کام ممکن تھا ۔
لیکن دوسروں کے دلوں میں انکا کوئی نفوذ نہیں تھا اور اپنے سیاسی حربوں کو اسلام کا رنگ دے کر پیش نہیں کر سکتے تھے ،منافقوں کی خواہش یہ تھی کہ دین ،خلافت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور اس کے اندر موجود معنوی کشش کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کریں ، اور ہر قسم کی مخالفانہ تحریک کی سرکوبی کرتے ہوئے ہر اعتراض کا گلا گھونٹ دیں ۔
لیکن واقعۂ غدیر کے تحقق پانے کے بعد یہ لوگ اپنے خفیہ اور نا پاک ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکے اور ا ن کے پاس ا س کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ دنیا کے دوسرے مغرور اورظالم حکمرانوں کی طرح عمل کریں، تاریخ کے فرعونوں اور ظالم بادشاہوں کی طرح قتل و غارت گری ، قید ودھمکیوں کے ذریعے لوگوں کو خاموش ہونے پر مجبور کریں اور اپنے مخالفوں کو راستے سے ہٹادیں غدیر کے دن ''امامت عترت ''جیسی حقیقت کے آشکار ہونے کے بعد منافقوں کے بڑے بڑے دعوے ریزہ ریزہ ہوگئے اور ان کے چہروں کے جھوٹے نقاب تار تار ہوگئے اور انہیں مجبوراً صفِ اوّل میں یا لوگوں کے اس جم غفیر کے ساتھ آگے بڑھ کر اوراپنے عقیدوں اورخواہشات کے بر خلاف حضرت علی ـ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر آپ ـ کی بیعت اور مبارکباد پیش کرناپڑی۔( ۱ )
____________________
(۱)۔بہت سارے مصنّفوں نے لکھا کہ ابو بکر اور عمر آگے بڑھے اور امام علی ـ کا ہاتھ پکڑ کر بیعت کرتے ہوئے کہا
بَخٍّ بَخٍّ لَکَ یٰا َبَا الْحَسَن؛ لَقَدْ َصْبَحْتَ مَوْلٰایَ وَ مَوْلیٰ کُلِّ مُؤْمِنٍ وَ مُؤْمِنَةٍ
( آپ پر درود اور سلا م ہو اے ابوالحسن ـ، آپنے اس حالت میںصبح کی ہے کہ میرے امام اور ہر مسلمان مرد اور عورت کے امام ہیں۔)
اسناد و مدارک مندرجہ ذیل ہیں :
۱۔ تاریخ دمشق ، ج ۲ ،ص ۵۴۸/۵۵۰ : ابن عساکر شافعی ( متوفّیٰ ۵۷۱ ھ )۲۔ مناقب خوارزمی ، ص ۹۴ : خوارزمی ( متوفّیٰ ۹۹۳ ھ )۳۔ مسند احمد ، ج ۴ ،ص ۲۸۱ : احمد بن حنبل ( متوفّیٰ ۲۴۱ ھ )۴۔ فصول المہمّة ، ص ۲۴ : شیخ حرّ عاملی ۵۔ الحاوی الفتاوی ، ج ۱، ص ۱۲۲ : سیوطی شافعی ( متوفّیٰ ۹۱۱ ھ )۶۔ ذخائر العقبیٰ ، ص ۶۷ : طبری ( متوفّیٰ ۶۹۴ ھ ) ۷۔ فضائل الخمسہ ، ج ۱ ،ص ۳۵۰ : فیروز آبادی ۸۔ فضائل الصّحابہ ( مخطوط ) : نسائی ( متوفّیٰ ۳۰۳ ھ )۹۔ تاریخ اسلام ، ج ۲ ،ص ۱۹۷ : ذہبی ( متوفّیٰ ۷۴۸ ھ )۱۰۔ علم الکتاب ، ص ۱۶۱ : خواجہ حنفی۱۱۔ دررالسمطین ، ص ۱۰۹ : زرندی ۱۲۔ ینابیع المؤدّة ، ص ۳۰/۳۱/۲۴۹ : قندوزی حنفی ( متوفّیٰ ۱۲۷ ھ )۱۳۔ تفسیر فخر رازی ، ج ۳، ص ۶۳ / ج ۱۲ ، ص ۵۰ : فخر رازی ( متوفّیٰ ۳۱۹ ھ )۱۴۔ تذکرة الخواص ، ص ۲۹ : ابن جوزی ( متوفّیٰ ۶۵۴ ھ )۱۵۔ مشکاة المصابیح ، ج ۳ ،ص ۲۴۶ ۱۶۔ عبقات الانوار ، ج ۱، ص ۲۸۵ : سید جزائری ۱۷۔ فرائد السمطین ، ج ۱ ،ص ۷۷ باب ۱۳ : حموینی ( متوفّیٰ ۷۲۳ ھ ) ۱۸۔ الغدیر ، ج ۱، ص ۲۷۲ : علّامہ امینی ۱۹۔ ریاض النضرة ، ج ۲ ، ص ۱۶۹ : طبری ( متوفّیٰ ۶۹۴ ھ )۲۰۔ کفایة المطالب ، ص ۲۸۲۱ ۔ مناقب ابن جوزی : ابن جوزی ( متوفّیٰ ۷۵۱ ھ )۲۲۔ البدایة والنّہایة ، ج ۵، ص ۲۱۲ : ابن کثیر ( متوفّیٰ ۷۷۴ ھ )۲۳۔ کتاب الخطط ، ص ۲۲۳ : مقریزی ۲۴۔ بدیع المعانی ، ص ۷۵۲۵۔ کنز العمّال ، ج ۶ ،ص ۳۹۷ : متّقی ہندی ۲۶۔ وفاء الوفاء ، ج ۲ ،ص ۱۷۳ : سمہودی ( متوفّیٰ ۹۱۱ ھ )۲۷۔ مناقب ابن مغازلی ، ص ۱۸/۲۴ : مغازلی شافعی ( متوفّیٰ ۴۸۳ ھ )۲۸۔ تاریخ بغداد ، ج ۸ ،ص ۲۹۰ : خطیب بغدادی ( متوفّیٰ ۴۸۴ ھ ۲۹۔ شواہد التّنزیل ، ج ۱ ،ص ۱۵۸ : حسکانی حنفی ( متوفّیٰ ۵۱۴ ھ )
۳۰۔ سرّالعالمین ، ص ۲۱ : غزالی ( متوفّیٰ ۵۰۵ ھ )۳۱۔ احقاق الحق ، ج ۶ ، ص ۲۵۶ : قاضی نور ﷲ شوشتری۳۲۔ الصواعق المحرّقہ ، ص ۲۶ : ابن حجر عسقلانی ( متوفّیٰ ۸۵۲ ھ )
۳۳۔ فیض الغدیر ، ج ۶، ص ۲۱۸ : حاج شیخ عبّاس قمیّ۳۴۔ شرح المواہب ، ج ۷، ص ۱۳ : زرقانی مالکی۳۵۔ الفتوحات الاسلامیہ ، ج ۲، ص ۳۱۸
پس غدیر کے دن صرف ولایت و امامت کا اعلان نہیں ہوا بلکہ حضرت علی ـاور آپ کے فرزندوں میں سے گیارہ دیگر اَئمہ علیہم السلام کی امامت اور رہبری کے لئے مسلمانوں کی ''عمومی بیعت نے ایک تاریخی حقیقت کا روپ اختیار کیا، یہ عمومی بیعت ولایت کے اعلان کے لئے اور ولایت کو مستحکم کرنے کے لیے ممد و معاون ،اور پشت پناہ بنی، اب اسکے بعد حضرت امیر المؤمنین ـ خدا کی طرف سے بھی منصب امامت پر فائز ہوگئے تھے ۔
اور لوگوں کی حمایت بھی حاصل ہو گئی تھی،خدا نے بھی انکو چن لیا تھا اور لوگوں نے بھی منتخب کر لیا تھا ، فرصت طلب منافقوںاور چالبازوں کے لئے کسی عذر اور بہانے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی تھی اور یہی وجہ تھی کہ جنگی ہتکنڈوں اور مسلّحانہ کاروائیّوںکے ذریعے اپنے نا پاک اہداف تک پہنچنے کی کوششیں شروع کی اورآخر کار رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد فوجی بغاوت کے ذریعے اپنے نا پاک اہداف تک پہنچ گئے ، اگر غدیر کا دن صرف ولایت کے اعلان کے لئے تھا تو پھر جناب رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی ـ کی بیعت کیوں کی؟ اور فرمایا:
اَناٰ آخِذبِیَدِ ه وَمُصْعِدُ ه ُ اِلَیَّ وَشٰآئِل بِعَضُدِ ه وَرٰافِعُ ه ُ بِیَدَی وَ مُعَلِّمُکُم اَنَّ مَنْ کُنْتُ مَوْلاَ ه ُ فَ ه ٰذٰاعَلِیّ مَوْلاَ ه ُ،وَ ه ُوَعَلِیُّ بْن اَبِیْ طاٰ لِب ٍاَخِی وَ وَصِیِّیْ و مَواْلاَتُ ه ُ مِنَ ﷲ ِعَزَّوَجَلَّ اَنْزَلَ ه ٰا عَلَیّ )
اس وقت جسکا ہاتھ پکڑ کر بلند کررہا ہوں( حضرت علی ـ کا ہاتھ پکڑ کر بلند کیا )اور تم لوگوں کو آگاہ کر رہا ہوں ، حق یہ ہے کہ جس جس کا میں مولیٰ اور سرپرست ہوں اس اس کا یہ علی ـ بھی مولیٰ اور سرپرست ہیں اور وہ علی ـ جو ابو طالب کا بیٹا میرا بھائی اور جا نشین ہے ، اور جسکی سرپرستی کے اعلان کے لئے خدا وند عالم کی طرف سے مجھ پر حکم نازل ہوا ہے، پھر سب مسلمانوں کو حضرت علی ـ کی بیعت کا حکم دیا جسکا سلسلہ اسکے دوسرے دن تک جاری رہا اگر ہدف فقط ولایت کا اعلان تھا تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے دیگر اَئمہ معصومین علیہم السلام کی تا قیامت جاری رہنے والی امامت کا تذکرہ کیوں کیا؟ اور حضرت علی ـ انکی اولاد اور حضرت مہدی ـ کی بیعت کا حکم کیوں صادر فرمایا:؟!
فَاُ مِرْتُ َا نْ اٰخُذَ الْبَیْعَةَ مِنْکُمْ وَ الصَّفَقَةَ لَکُمْ بِقَبُوْلِ مٰاجِئْتُ بِ ه عَنِ ﷲ عَزَّ وَ جَلَّ فیْ ''عَلِیٍّ'' اَم ي ْرِا لْمُؤْمِن ي ْنَ وا لْاَ وْ صِیٰائِ مِنْ بَعْدِ ه ا لَّذ ي ْنَ ه ُمْ مِنِّیْ وَ مِنْ ه ُ اِ مٰا مَةً؛ فیْ ه ِم الْمَ ه ْدِیُّ اِلیٰ یَوْمِ یَلْقیَ ﷲ َ الَّذیْ یُقَدِّرُ وَ یَقْضیْ )
پس خدا وند بزرگ و برتر کی طرف سے مجھے حکم ملا کہ علی امیرا لمؤمنین ـکے لئے تم لوگوں سے بیعت لوں اور انکے بعد آنے والے اماموں کے لئے بھی بیعت کرالوں وہ ائمہ جو سارے مجھ سے اور علی ـسے ہیں اور انھیں میں قائم مہدی ـ بھی ہیں جو تا روز قیامت حق سے قضاوت کر یںگے۔)
تیسری فصل
آیا غدیر کا ہدف امام کاتعین تھا ؟
غدیر کے مختلف پہلوؤں پرلوگوں کی جانب سے تنگ نظری
پہلی بحث : پہلے سے تعیین شدہ امامت
دوسری بحث : لوگ اور انتخاب
تیسری بحث : تحقق امامت کے مراحل
واقعۂ غدیر کے مقاصد کے اذہان سے پوشیدہ رہنے کی ایک اور افسوسناک وجہ یہ ہے کہ بعض لوگ اپنے قصیدوں یا تقاریر میں یہ کہتے ہیں کہ روز غدیر اسلامی امّت کے لئے امامت کی تعیین کا دن ہے ، روز غدیر '' حضرت امیر المؤمنین ـ '' کی ولایت کا دن ہے ۔
یہ تنگ نظری اور محدودفکر اس قدر مکرّر بیان ہوئیں کہ بہت سے لوگ غدیر جیسے عظیم واقعہ کے دیگر نکات کی طرف توجّہ دینے سے قاصر رہے ۔
کوتہ نظر ببین کہ سخن مختصر گرفت:
غدیر کے مختلف پہلوؤں پر لوگوںکی جانب سے تنگ نظری :
ا فسوس کہ آج بھی اگر مشاہدہ کیا جائے تو جب بھی روزغدیر کا تذکرہ ہوتا ہے تو ہمارے لوگ اس دن کو صرف 'امام علی ـ کی ولایت ' کی نسبت سے یاد کرتے ہیں اور غدیر کے دیگر اہم اور تاریخ ساز پہلوؤں سے غافل نظر آتے ہیں ۔
غدیر کے اصلی اہداف، نہ ہونے کے برابر تصانیف اور کتابوں میں ذکر ہوئے ہیں اور جس طرح غدیر کے وسیع اور با مقصد جہتوں کو منابر کے ذریعے اور نماز جمعہ کے خطبوں میں بیان کیاجانا چاہیے بیان نہیں کئے جاتے ، مجلّوں اور اخباروں میں بھی صرف ''ولایت امام ـ کے ذکر پر اکتفاء کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ روز غدیر لوگوں کے درمیا ن فقط ولایت علی ـ کے ساتھ خاص ہو کر رہ گیا ہے۔
۱۔ پہلے سے تعیین شدہ امامت :
شیعہ نظریہ ،یہ ہے کہ حضرت علی ـ اور انکے گیارہ بیٹوں کی امامت غدیر سے پہلے ہی معیّن ہو چکی تھی اس دن کہ جب موجودات اور ہماری اس کائنات کی خلقت کی کوئی خبر نہ تھی اس دن کہ جب ابھی تک پیغمبر ان ِ الٰہی کی ارواح بھی خلق نہ ہوئی تھیں ۔
جناب رسول ِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم اور پنجتن آلِ عباء علیہم السلام کی ارواح خلق ہوچکی تھیں ، جناب رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم اور حضرت علی ـ کے وجود کے انوار اس وقت خلق کئے جا چکے تھے کہ جب بھی آدم خلق نہ ہوئے تھے ۔
سارے پیغمبران خدا اپنے خدا ئی انقلاب کی ابتدا میں پنجتن آلِ عباء علیہم السلام کے اسمائے مبارک کی قسم کھاتے تھے ،اور سخت مشکلات کے وقت خدا وند عالم کو محمّد ، علی فاطمہ ، حسن اور حسین صلوٰةُ ﷲ ِ عَلیہِم َجمعینکے ناموں کا واسطہ قسم دیتے اور انکی برکت سے توبہ کرتے اور خدا وند منّان کی بارگاہ میں عفو اور بخشش طلب کرتے تھے ۔
حضرت آدم ـ نے ان اسمائے مبارک کو جب عرش معلّیٰ پر دیکھا؛انکی نورانیّت کیو جہ سے حضرت آدم ـ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں اورخدا وند عالم سے ان ناموںکے ذریعے بات کی۔
حضرت نوح ـ نے ا نھیں مبارک اسما ء کو اپنی کشتی کے تختے پر لکھا اور جب شدید اور سخت طوفان میں گھر گئے تو ان ہی ناموںکا واسطہ دے کر خدا وند عالم سے مدد طلب کی، تمام پیغمبران خدا جانتے تھے کہ ایک پیغمبر خاتمصلىاللهعليهوآلهوسلم آئیں گے اور انکے اس راستے کو کمال کے درجہ تک پہنچائیں گے ،اور اس بات سے بھی واقف تھے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد آنے والے امام کون ہونگے اور دین و بشریت کو کمال تک پہنچانے میں اُن َئمّہ کو کن کن ناگوار حوادث کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
انہوں نے حضرت علی ـ کی مظلومیت پر گریہ و زاری کی اور امام حُسین ـ کی کربلا کو یاد کر کے اشک بہائے ،ا ن کے نام اور پیش آنے والے حوادث کواپنی امّتوں کے لئے بیان کئے؛ اسی لئے جب یہودی عالم نے امام حُسین ـ کو گہوارہ میں دیکھا تو اس کو وہ تمام نشانیاں یاد آگئیں جوذکرکی گئیں تھیں ؛وہ اسلام لے آیا اور امام حُسین ـ کے بوسے لینے لگا۔
تو معلوم ہو اکہ روز غدیر صرف'' تعیین امامت ''کا دن نہیں تھا ؛بلکہ آغاز بعثت میں ہی پیغمبر گرامیصلىاللهعليهوآلهوسلم نے امام کو معیّن کر دیا تھا ، جس وقت عالم شیر خواری میں حضرت علی ـ کو پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مبارک ہاتھوں میں دیا گیا تو حضرت علی ـ نے پیغمبر گرامیصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود و سلام بھیجا اور قرآن مجید کی کچھ آیات کی تلاوت فرمائی جب کہ بظاہر ابھی قرآن نازل نہیں ہوا تھا۔
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جب بھی اور جہاں بھی ضرورت محسوس کی بارہ ا ئمہ علیہم السّلام کے اسمائے مبارک ایک ایک کرکے بیان فرمائے ، اور اپنے بعد آنے والے امام ـ کو مختلف شکلوں اور عبارتوں کے ذریعے بیان فرمایا، ائمہ علیہم السّلام کے ادوار میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلییوں کو آشکار کیا ؛مدینہ کے منبر سے بار بار ائمّہ علیہم السّلام کے اسماء مبارک انکی تعداد،حالات زندگی ، انکے زمانے کے ظالم حکمرانوںاور انکے نابکار قاتلوں کا تعارف کروایا۔
حضرت مہدی عجل ﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف کے زمانۂ غَیبت کے بارے میں بار بار بات کی اورغَیبت کے دوران انکی راہنمائی کے بارے میں سننے والوں کے اعتراضات کے جواب دئے ؛ حضرت مہدیعجل ﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف کی ساری دنیا پر حکومت کے بارے میں اتنا بیان کیا کہ اُمَوی و عبّاسی دور میں بعض لوگوں نے اس خیال سے کہ وہ اُمّت کے مہدی ہو سکتے ہیں قیام کیا تاکہ جو لوگ حضرت مہدی عجل ﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف کے انتظار میںہیں ا ُن کو آسانی سے گمراہ کیاجا سکے۔ لہٰذا امامت کا عہدہ خدا وند عالم کی جانب سے مقرّر کردہ ہے جو ہمیشہ سے انسانوں کی ہدایت اور راہنمائی کرتا رہا ہے اور تا قیام قیامت انسانوں کی ہدایت اور راہنمائی کرتا رہے گا،اگر انسان کی ہدایت ضرور ی ہے تو امام کا وجود بھی ضروری ہے ؛ اور صرف خدا وند عالم کی پاک اور بابرکت ذات ہی پیغمبروں اور ائمہ ـ کاتعین اور انتخاب کر سکتی ہے۔ (وﷲ ا َعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسٰالَتَ ه ُ )
خداوند عالم سب سے زیادہ آگاہ ہے کہ اپنی رسالت کو کہاں قرار دے) کیونکہ ایک انسا ن کے لئے دوسرے انسان کی شناخت مشکل ہے اور وہ ایک دوسر ے کے باطن سے آگاہی حاصل نہیں کر سکتے، لہٰذا اسی دلیل کے تحت کہ جس کے تحت خدا کے پیغمبروں کاانتخاب اور چناؤ خدا کی طرف سے ہوتا ہے ائمّۂ معصومین علیہم السّلام کا تعیّن اور انتخاب بھی خدا وند عالم کی جانب سے ہے اور فرشتۂ وحی کے توسّط سے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ابلاغ حکم ہوا۔
واقعیت یہ ہے کہ ا س حقیقت (تعیین امامت )کا غدیر کے دن سے کوئی تعلّق نہیں ہے بلکہ آغاز بعثت ہی میں اس کو ذکر کیا جا چکا تھا،ہجرت کے دوران اور مختلف جنگوں کے درمیان رسول گرامی اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے امامت کا تعیّن اور تعار ف کروا دیا تھا جب حضرت زہرا علیہا سلام کے یہاں امام حسین ـ کی ولادت کا وقت نزدیک آیا تو جناب ختمی مرتبتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت زہرا علیہا سلام کو خبر دی کہ تمہارے یہاں بیٹے کی ولادت ہو گی اور اسکا نام حُسین ـ ہوگا جس کا ذکر گذشتہ آسمانی کتابوںمیں آچکا ہے جناب زہرا علیہا سلام کے چہرے پر خو شی کے آثار نمودار ہوے ا ور جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے امام حُسین ـکی کربلا میں شہادت کی خبر دی تو جناب زہراعلیہا سلام نے فرمایا:
'' یٰا اَبَتٰا ه ُ مَنْ یَقْتُلُ وَلَدیْ وَ قُرَّةَ عَیْنیْ وَثَمَرَةَ فُؤَادیْ ؟ قٰالَ صلىاللهعليهوآلهوسلم ! شَرُّ اُمَّةٍ مِنْ اُمَّتیْ .قٰالَتْ! یٰا اَبَتٰا ه ُ اِقْرَء جِبْرَئیْلَ عَنّیْ السَّلٰامَ وَقُلْ لَ ه ُ فی اَیِّ مَوْضِعٍ یُقْتَلُ ؟ ( ۱ ) قال صلىاللهعليهوآلهوسلم فیْ مَوْضِعٍ یُقٰالَ لَ ه ُ کَرْبَلٰا !! )
اے بابا جان! میری آنکھوں کے قراراوردل کے ثمر بیٹے کو کون قتل کریگا ؟ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: میری امت کے سب سے زیادہ بدترین اور برُے لوگ، دوبارہ پوچھا ؛اے بابا جان: جبرئیل کو میرا سلام کہیے اور پوچھیے کہ میرے بیٹے حُسین ـ کو کس جگہ شہید کیا جائے گا ؟ جناب رسولِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا اس سر زمین پر جس کو کربلا کہا جاتا ہے ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت زہراعلیہا سلام نے فرمایا :
''یٰا اَبَةَ سَلَّمْتُ وَ رَضیْتُ وَ تَوَکَّلْتُ عَلَی ﷲ ''اے بابا جان: میں خواستہ خدا پر تسلیم اور راضی ہوں اور خدا وند عالم کی ذات پر توکّل کرتی ہوں( ۲ ) جب جناب زہر کے یہاں حضرت امام حُسین ـ کی ولادت ہونے والی تھی خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی بیٹی کو اطلاع دیتے ہوئے فرمایا کہ: (حضرت جبرئیل نے مجھے خبر دی ہے کہ ؛ تمہار ا بیٹا کربلا میں شہید کر دیا جائے گا ۔)
جناب فاطمہ علیہا سلام نے انتہائی غم و اندوہ کے عالم میں ارشاد فرمایا:
(لَیْسَ لیْ فیْ ه ِ حٰاجَة یٰا اَبَةَ ) اے بابا جان ! مجھے ایسے بیٹے کی کوئی حاجت نہیں ہے ۔
جناب رسول خد اصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :(میری بیٹی تمہارا یہ بیٹا حُسین ـ ہے اور نو معصوم امام اسکے وجود سے پیدا ہونگے جودین خدا کی بقا کا سبب ہونگے ۔)
____________________
( ۱)۔جعفر بن محمّد القراری معنعناً عن ابی عبدﷲ ـ
(۲)۔ ( الف ) تظلم الزہراء علیہا سلام ، ص ۹۵
(ب) بحارالانوار ، ج ۴۴ ص ۲۶۴ : علّامہ مجلسی ( متوفّیٰ ۱۱۱۰ ھ )
(ج) تفسیر فرات الکوفی ، ص ۵۵ : فرات الکوفی ( متوفّیٰ ۳۰۰ ھ )
جناب زہرا علیہا سلام نے فرمایا:''یٰا رَسُوْلَ ﷲ ِ قَدْ رَضیْتُ عَنِ ﷲ ِ عَزَّ وَ جَلَّ'' (اے خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ! میں خدا وند بزرگ و برتر سے راضی ہوں )( ۱ ) اس قسم کے اظہارات بہت سطحی فکر اور کوتاہ نظری ہیں کہ یہ کہا جائے :
غدیر خم کے دن لوگوں کی امامت مشخّص ہوئی، غدیر کا دن امامت کے تعیّن کا دن ہے ۔ غدیر کا دن ولایت کے تعیّن کا دن ہے ،کیونکہ امامت، رسالت ہی کی طرح الٰہی اصولوں میں سے ایک اصل ہے جو خلقت کے آغاز میں ہی معین ہو گئی تھی اور گذشتہ پیغمبروں کی لائی ہوئی آسمانی کتابوں میں اس کو بیان کر دیا گیا تھا ،اور بعثت سے غدیر تک سینکڑوں بار بے شمار احادیث وروایات میں پیغمبر گرامی اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جہان والوں کی رہنمائی کرتے ہوئے امامت کا تعارف کر وا دیا تھا۔
۲۔ لوگ اور انتخاب :
یہ درست ہے کہ شیعوں کے امام خدا وند عالم کی طرف سے پہلے سے ہی منتخب ہو گئے تھے اور بعثت کے بعد سے ہر اہم مقام اورموقع پر خود رسول گرامی اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زبانی انکا تعارف ہو چکا تھا لیکن ابھی بھی یہ کام مکمّل نہیں ہوا کہیں لوگ خود امام کا انتخاب نہ کرلیں ، اور اپنی کج فکری اور گمراہی کے سبب ائِمّہ معصومین علیہم السّلام کی امامت کو قبول نہ کریں نیز اسلام کی اصلی ثقافت اور امامت کے درمیان فاصلہ ڈال دیں اور حضرت علی ـاوربا قی ا ماموں کی بیعت نہ کریں تو رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا
____________________
( ۱)۔ (الف) بحار الانوار ، ج ۲۵ ص ۴۴ /۲۲۱/۳۳۳ اور ج ۲۳ ص ۲۷۲ اور ج ۳۶ ص ۱۵۸ : علامہ مجلسی
(ب) علل الشرایع ، ص ۷۹ : شیخ صدوق ( متوفّیٰ ۳۸۱ ھ )
( ج ) کمال الدّین ، ج ۲ ص ۸۷ : شیخ صدوق ( متوفّیٰ ۳۸۱ ھ )
( د ) تفسیر البرہان ، ج ۴ ص ۱۷۳ : علامہ بحرانی اصفہانی ( متوفّیٰ ۱۱۰۷ ھ )
بتا یا ہوا راستہ خطرے میں پڑجائیگا اور پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رسالت ان تمام ز حمتوں اور قربا نیو ں کے باوجود نامکمّل ر ہے، چنانچہ خدا وند عالم نے بھی ہوشیار کرنے والے کلمات کے ساتھ فرمایا:
( وَ اِنْ لَم تَفْعَلْ فَمٰا بَلَّغْتَ رِسٰا لَتَکَ )
اور اگر تم نے یہ کام نہ کیا تو میری رسالت کا کوی کام نہیں کیا اگر لوگ امام بر حق کی بیعت نہ کریں اور امام کو لوگوں کی حمایت حاصل نہ ہو تو امام سیاسی طاقت اور قدرت اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا ،بعنوان امام اور حاکم دستور نہیں دے سکتا؛ امر و نہی نہیں کرسکتا حکومتی کام انجا م دینے والے افراد کا تعیّن نہیں کرسکتا۔
یہ جو سیاسی جما عتوں کے سربراہوں ، جاہ طلب منافقوں اور سقیفہ کے مکاّروں نے غدیر کے دن تک سکوت اختیار کیا اور کوئی خطرناک اقدام نہیں کیا صرف اس وجہ سے تھا کہ ابھی تک امّت کی رہنمائی و رہبری کا مسئلہ تحریرو تقریر تک محدود تھا، صرف رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تقاریر میں ولایت امیرالمؤمنین ـ کا ذکر ہوا تھا اور وہ لوگ بھی تحمّل کر رہے تھے ۔
لیکن غدیر کے دن ، اس عظیم اور کم نظیر اجتماع کے درمیان اور چونکا دینے والی خصوصیات کے ساتھ ؛ سب نے دیکھا کہ جناب رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے صرف خطبہ اور بیان پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عملاً سب سے پہلے حضرت علی ـ کا ہاتھ بلند کرکے خود بیعت کی اور اسکے بعد سب لوگوں کو حضرت علی ـ کی بیعت کرنے کا دستور دیا اور آخر کار ایک زیبا اور شانداربیعت وجود میں آئی، مخالفین اور منافقین بھی ایسے حالات اور شرائط سے دُچار ہو گئے تھیکہ اب انکے پاس سوائے بیعت کرنے کے اور کوئی چارہ باقی نہ رہ گیا تھا،یہاں انکی خواہشات کو ٹھیس پہنچی اور انہوں نے اپنی تمام سیاسی آرزوؤں اور شیطانی امیدوں پر پانی پھرتا محسوس کیا ،وہ یہ بات صاف طور پر محسوس کر رہے تھے کہ اب انکے لیے اور حکومت کے پیاسے سیاستدانوں کی لئے کوئی مقام نہیں ہے اوریہ کہہ رہے تھے کہ!
علی ـ خدا کی طرف سے بھی معیّن ہوئے ہیں اور پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی انکی بیعت کی ہے اور سارے مسلمانوں نے بھی انکی بیعت کی ہے ،عقلی اور عقیدتی حمایت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی سیاسی حمایت بھی ہے ، او ر پھر فرشتۂ وحی نے بھی ا نہی کو معیّن کیا ہے اور اس طرح حضرت علی ـکے لیے عمومی بیعت نے حقیقت کا روپ بھی دھارا ہے ۔ لہٰذا پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد سیاسی طاقت اور حکومت حاصل کرنے کے تمام راستے اور طریقے بند ہیں،اب اسکے سوا کوئی چارہ نہیں کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کو قتل کر دیا جائے اور (سازشی اور قابل نفرین ) تحریر لکھی جائے، اسکے علاوہ کوئی چارہ باقی نہیں رہ گیا کہ ایک فوجی بغاوت کی جائے اور مخالفوں کا قتل عام کیا جائے ، اگر غدیر کے دن عمومی بیعت نہ ہوئی ہو تی تو منا فق اور سیاسی جماعتوں کے سربراہ اتنے غضب ناک نہ ہوتے اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مسلّحانہ قتل کا منصوبہ نہ بناتے، لہٰذ ا غدیر کا دن صرف تعیین امامت کا دن نہیں تھا بلکہ: روز غدیر '' امام اور عترت کی ولایت' کے تحقق کا دن تھا، غدیر کا دن مسلمانوں کی حضرت علی ـ کے ساتھ اور دوسرے َئمّہ کے ساتھ تا قیامت عمومی بیعت کا دن تھا۔
غدیر کا دن وہ دن ہے ! جس دن رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد مسلمانوں کی رہبری اور امامت کا مسئلہ روشن ہوا ؛ خاندان علی ابن ابی طالب ـ سے گیارہ ائمّہ کی تا قیامت جاری رہنے والی امامت کا اعلان ہو ا اور اس سلسلے میں عمومی بیعت لی گئی ،ولایت کے غاصبوں پر لعنت ملامت ہوئی اور امامت و رہبری کے تعیّن اور مسلمانوں کی قیامت تک کے لئے بیعت عام نے راہ رسالت کو دو ا م بخشا ۔
۳۔ تحقق امامت کے مراحل :
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں چونکہ خدا وند عالم نے امام کو چنا اور معیّن فرمایا تھا اور رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی اس امر کی تبلیغ کر دی تھی تو بس یہ کافی ہے ، ائمّہ معصومین علیہم السّلام (حضرت امیرالمؤمنین ـ سے لے کر حضرت مہدی 'عجل فرجہ الشریف ' تک ) انسانوں کے امام ، رہبر اور پیشوا خدا کی طرف سے منصوب کئے گئے ہیں ۔ُمّت مسلمہ کے حقیقی اور واقعی رہبر تو ائمّہ ہیں ؛ چاہے لوگ انکو منتخب کریں یا نہ کریں ،چاہے ظاہری امامت کے حامل ہوں یانہ ہوں سیاسی قدرت کواسلامی معاشرے میں اسلامی آئین و قوانین کا اجرا کر یں یا نہ کریں یہ نظریہ اور طرز تفکّر '' شخصی اعتقاد ' 'کے لحاظ سے تو صحیح ہے حضرت علی ـ اور دیگر ائمہ معصومین علیہم السّلام جہان کی خلقت کے شروع ہونے سے بھی پہلے منتخب ہو چکے تھے اور انکے بابرکت اور نورانی اسماء دیگر آسمانی کتابوں بھی ذکر کئے گئے ہیں چاہے لوگ ان بزرگوں اور رہبران حق کو پہچانے یا نہ پہچانے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
جب حضرت علی ـ کو غربت و فقر کی ہی زندگی گزارنی ہے اور سیاسی طاقت اپنے ہاتھ میں نہیں لینی ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ لوگ انکو پہچانے یا نہ اور ا ن کے مقام و منزلت سے واقف ہوں یا نہ؟کیونکہ امام علی ـ کو خدا وندعالم نے منتخب کیا ہے اور وہ تمام لیاقتیں اور اوصاف جو ایک امام بر حق میں ہونا ضروری ہیں ان سب کے حامل ہیں ، اس بات پر یقین اور اعتقاد بھی محکم ترین عقائد میں سے ایک ہے، لیکن اس عقیدے کا اجتماعی فائدہ کیا ہے ؟مقام جراء میں اس کی کیا حیثیت ہے؟
اس کی مثا ل بالکل ایسی ہی ہے جیسے ایک ما ہر طبیب اور قابل ولائق ڈاکٹر ایک شہر میں گوشہ نشینی اختیار کر لے اور غریبانہ ، تنہا اور گمنام زندگی گزارے جبکہ مختلف امرا ض میں مبتلا ہزاروں مریض اس طبیب کے علاج و درمان سے محروم رہیں معا لجے کے لئے اس کا انتخاب نہ کریں ، اس کے پا س نہ جا ئیں اور اس کے علم ودانش سے استفادہ نہ کر یں ۔
سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ امام اسلامی حکومت کی سیاست میں عمل دخل رکھتا ہو سیاسی قدرت اس کے ہا تھ میں ہو اور احکام دین کا اجرا ہو ، اجتماعی عدالت کاتحقق اور اس میں توسیع ہو،
وہ کون ہے جسے احکام الہی کی تفسیر کرنی چاہیے،
وہ کو ن ہے جسے اسلامی اقتدار کو اسلامی معاشرے پر حاکم بنانا چاہیے ،
وہ کون ہے جسے حدود الہی کا پاس رکھتے ہوئے اسلامی معاشرے پر قانون لاگو کرنا چاہیے وہ کون ہے جو قصاص کرے ، شرعی حد جاری کرے ،وجوہات شرعی کی جمع آوری کرے اور صلح وجنگ میں رہنمائی کرے، خدا اور اسکے فرشتے تو مسلمانوں کی سیاسی اور اجرائی قدرت کو عملاً اپنے ہاتھ میں نہیں لیتے ، لہذا خدا کے منتخب بندوں کو ہونا چاہیے جومعاشرے میں یہ سارے امور خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیں لیکن کو ن اور کیسے ؟۔
یہیں پر لوگوں کا انتخاب اپنا کردار ادا کرتا ہے لوگوں کا قبو ل کرنا امام کی سیاسی اور اجرائی قدرت کیے لئے موثر ہو تا ہے لھذا اس بنا پر امامت کا تحقق پانا چند مراحل میں بہت اہم اور ضروری ہے جیسے۔
اوّل ۔ انتخاب الٰہی :
کیونکہ لوگ انسان شناس نہیں ہیں اور دوسروں کے باطنی رموزو اسرارسے واقفیت نہیں رکھتے ، لہٰذا امام بر حق کا انتخاب خدا وند عالم کو کرنا چاہیے جو کہ خالق انسان بھی ہے اور اسکی باطنی کیفیت سے بھی آگاہ ہے ۔ ( ﷲ ُ َعْلَمُ حَیْثَ یَجْعَلَ رِّسٰا لَتَہُ )
(خدا وند عالم بہتر جانتا ہے کہ رسالت و امامت کو کس خاندان میں قرار دے ، خدا وند عالم نے ہی تمام قوموں کے لئے پیغمبروں اور اماموں کا انتخاب کیا ہے اور انکا تعارف کرایا ہے ۔
دوّم۔ پیغمبرا ن خدا کا اعلان :
خدا وند عالم کے انتخاب کر لینے کے بعد آسمانی رہنماؤں اور ائمّہ معصو مین علیہم السّلام کا تعارف خدا کے پیغمبروں کے توسّط سے ہونا چاہیے ،انکی اخلاقی خصوصیات کا ذکر ہونا چاہیے ،انکی اجرائی اور سربراہی طاقت کو لوگوں کے درمیان بیان ہونا چاہیے،تاکہ یہ بر گزیدہ ہستیاں پیغمبر خاتمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد سے تا قیام قیامت امت کی رہنمائی کر سکیں اور احکام خدا وندعالم کو معاشرے میں عام کر سکیں۔
چنانچہ جناب امیر المؤمنین ـ نے ارشاد فرمایا:
''وَخَلَّفَ فیْکُمْ مٰاخَلَّفَتِ الْاَنْبِیٰاء ُفیْ ُمَمِ ه ٰا،ِذْلَمْ یَتْرُکُوْ ه ُم ه َمَلاً، بِغَیْرٍ طَریْقٍ وَاضِحٍ وَلَا عَلَمٍ قٰائِمٍ .'' رسول گرامی اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تمہارے درمیان ایسے ہی جانشین مقرر کئے جیسے کے گذشتہ پیغمبروں نے اپنی اپنی امت کے لئے مقرّر کئے کیونکہ وہ اپنی امت کو سر گردان اور لاوارث چھوڑ کر نہیں گئے ، واضح و روشن راستہ نیز محکم نشانیاں بتائے بغیرلوگوں کے درمیان سے نہیں گئے ۔( ۱ )
لیکن اب بھی منتخب َئمّہ کی ولایت عمل و اجرا کے لحاظ سے نامکمّل ہے کیونکہ اگر خدا وند عالم معصوم رہنماؤں کا انتخاب بھی کرلے اور اسکا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم انکا ابلاغ بھی کر دے لیکن مقام عمل اور میدان زندگی میں لوگ انکو قبول نہ کرتے ہوں تو ولایت کا وقوع معاشرے میں نا تمام و نا مکمّل ہے ۔ اس لئے ایک تیسرے عامل ( لوگوں کا انتخاب ) کا وجود لازمی و ضروری ہے۔
____________________
( ۱)۔ خطبۂ ۱/ ۴۴ : نہج البلاغہ معجم المفہرس مؤلّف ۔ اسناد و مدارک
۱۔ عیون المواعظ والحکم : واسطی ( ۴۵۷ میں لکھی گئی ) ۲۔ بحار الانوار ، ج ۷۷ ، ص ۳۰۰ / ۴۲۳ : مرحوم علّامہ مجلسی ( متوفّیٰ ۱۱۱۰ ھ ) ۳۔ ربیع الابرار ( باب السماء والکواکب ) : زمخشری ( متوفّیٰ ۵۳۸ ھ ) ۴۔ شرح نہج البلاغہ ، ج ۱ ،ص ۲۲ : قطب راوندی ( متوفّیٰ ۵۷۳ ھ ) ۵۔ تحف العقول : ابن شعبۂ حرانی ( متوفّیٰ ۳۸۰ ھ )۶۔ اصول کافی ، ج ۱، ص ۱۴۰/۱۳۸ : مرحوم کلینی ( متوفّیٰ ۳۲۸ ھ )۷۔ الاحتجاج ، ج ۱ ،ص ۱۵۰ /۱۹۸ /۲۰۹ : مرحوم طبرسی ( متوفّیٰ ۵۸۸ ھ )۸۔ مطالب السؤول : محمّد بن طلحہ شافعی ( متوفّیٰ ۶۵۲ ھ )
۹۔ دستور معالم الحکم ، ص ۱۵۳ : قاضی قضاعی ( متوفّیٰ ۴۵۴ ھ )۱۰۔ تفسیر فخر رازی ، ج ۲، ص ۱۶۴ : فخر رازی ( متوفّیٰ ۶۰۶ ھ ) ۱۱۔ الحکمة و المواعظ : ابن شاکر واسطی ( ۴۵۲ میں تدوین ہوئی )۱۲۔ ارشاد ، ج ۱، ص ۱۰۵/۲۱۶/۲۱۷ : شیخ مفید ( متوفّیٰ ۴۱۳ ھ ) ۱۳۔ توحید ، ص ۲۴ : شیخ صدوق ( متوفّیٰ ۳۸۰ ھ )۱۴۔ عیون الاخبار : شیخ صدوق ( متوفّیٰ ۳۸۰ ھ )۱۵۔ أمالی ، ج ۱ ،ص ۲۲ : شیخ طوسی ( متوفّیٰ ۴۶۰ ھ )۱۶۔ کتاب أمالی ، ص ۲۰۵ : شیخ صدوق ( متوفّیٰ ۳۸۰ ھ )۱۷۔ اختصاص ، ص ۲۳۶ : شیخ مفید ( متوفّیٰ ۴۱۳ ھ )۱۹۔ تذکرة الخواص ، ص ۱۵۷ : ابن جوزی ( متوفّیٰ ۶۵۴ ھ )۲۰۔ کتاب البدء والتاریخ ، ج ۱، ص ۷۴ : مقدّسی ( متوفّیٰ ۳۵۵ ھ )۲۱۔ بحار الانوار ، ج ۴، ص ۳۲/۴۴/ ۵۳/ ۵۴ : علامہ مجلسی ( متوفّیٰ ۱۱۱۰ ھ )۲۲۔ کتاب محاسن : علامہ برقی ( متوفّیٰ ۲۷۴ ھ )۲۳۔ بحارالانوار ، ج ۴ ، ص ۲۴۷/۲۸۵/۳۰۴/۳۲/۴۴/۵۲/۵۳/۵۴ : علامہ مجلسی ( متوفّیٰ ۱۱۱۰ ھ )۲۴۔ بحارالانوار ، ج ۱۰ ،ص ۱۱۸/ ج ۱۱ ،ص ۶۰/۱۲۲ : علامہ مجلسی ( متوفّیٰ ۱۱۱۰ ھ )۲۵۔ بحارالانوار ، ج ۱۶، ص ۲۸۴ / ج ۵۴ ، ص ۱۷۶ : علامہ مجلسی ( متوفّیٰ ۱۱۱۰ ھ )
۲۶۔ بحارالانوار ، ج ۶۰ ،ص ۲۱۲ : علامہ مجلسی ( متوفّیٰ ۱۱۱۰ ھ )۲۷۔ غررالحکم ، ج ۳، ص ۳۰۱/ ج ۴ ،ص ۳۸۹ : مرحوم آمدی ( متوفّیٰ ۵۸۸ ھ )۲۸۔ غررالحکم ، ج ۵ ،ص ۹۹/۱۰۲/ ج ۶ ،ص ۴۲۱ : مرحوم آمدی ( متوفّیٰ ۵۸۸ ھ )۲۹۔ بحارالانوار ، ج ۴ ،ص ۲۴۸ / ج ۵۷ ،ص ۱۷۸ : علامہ مجلسی ( متوفّیٰ ۱۱۱۰ ھ )۳۰۔ بحارالانوار ، ج ۱۸ ، ص ۲۱۷ / ج ۱۱ ،ص ۱۲۳ /۶۱طبع جدید : علامہ مجلسی ( متوفّیٰ ۱۱۱۰ ھ )۳۱۔ اصول کافی ، ج ۱، ص ۱۳۵ / ۱۳۹/ ۱۴۱ : مرحوم کلینی ( متوفّیٰ ۳۲۸ ھ ) ۳۲۔ روضۂ کافی ، ج ۸، ص ۳۱ : مرحوم کلینی ( متوفّیٰ ۳۲۸ ھ )
سوّم۔لوگوں کی بیعت عام:
اگر لوگ انتخاب الٰہی اور پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ابلاغ کے بعد راستے کو پہچان لیں ، اپنے اما م بر حق کو چن لیں ، کارہائے امامت میں ممد و معاون ہوں ، اپنے امام کا دل وجان سے انتخاب کریں،اسلامی اقدار کے تحقق کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دیں اور شہادت کی آرزو کے ساتھ امام کے حکم جہاد کو بجا لانے میں دریغ نہ کریں ، عقیدے و یقین میں بھی اور زندگی کے میدان عمل میں بھی امام پر ایمان رکھتے ہوں تب ہی امامت کا تحقق اور ایک واقعی وجودقائم ہوتا ہے ،امام کو احکام الٰہی کے اجراء کی قدرت و طاقت ملتی ہے اور انسانوں کی میدان زندگی میں دین خدا کو وجود ملتا ہے ۔
جیسا کہ امام ـ نے فرمایا !
'' َمٰاوَالَّذِیْ فَلَقَ الْحَبَّةَ،وَبَرَاَالنَّسَمَةَ،لَوْلاَحُضُوْرُالحٰاضِر وَقِیٰامُ الْحُجَّة بِوُجُوْ دِ ا لنّٰاصِرِ،وَمٰا اَخَذَﷲ ُعَلیَ الْعُلَمٰائِ َلا یُقٰا رُّوْا عَلیٰ کِظَّة ظٰالِمٍ، وَلاَ سَغَبِ مَظْلُوْمٍ،لَاَ لْقَیْتُ حَبْلَ ه ٰا عَلیٰ غٰارِبِ ه ٰا،وَلَسَقَیْتُ آخِرَ ه ٰا بِکَاْسِ َوَّلِ ه ٰا،وَلَاَلْفَیْتُمْ دُنْیٰاکُمْ ه ٰذِ ه َ زْ ه َدَعِنْدِیْ مِنْ عَفْطَةِ عَنْزٍ!.'' ( ۱ )
اس خدا کی قسم! کہ جس نے دانے میں شگاف ڈالا اور جان کو خلق کیا ، اگر بیعت کرنے
____________________
(۱)نہج البلاغہ خطبۂ ۳/۱۶
والوں کی بڑی تعداد حاضر نہ ہوتی اور چاہنے والے مجھ پر حجّت تمام نہ کرتے اور خدا وند عالم نے علماء سے عہد و پیمان نہ لیا ہوتا کہ وہ ظالموں کی ہوس اور شکم پری، اور مظلوموں کی گرسنگی پر خاموشی اختیار نہ کریں تو میں آج بھی خلافت کی رسّی انکے گلے میں ڈال کر ہا نک دیتا اور خلافت کے آخر کو اول ہی کے کاسہ سے سیراب کرتا اور تم دیکھ لیتے کہ تمہاری دنیا میری نظر میں بکری کی چھینک سے بھی زیادہ بے قیمت ہے ۔( ۱ )
____________________
(۱)۔ اسناد و مدارک خطبۂ /۳
۱۔ کتاب الجمل ، ص ۶۲/۹۲ : شیخ مفید ( متوفّیٰ ۴۱۳ ھ )۲۔ الفہرست ، ص ۹۲ : نجاشی ( متوفّیٰ ۴۵۰ ھ )۳۔ الفہرست ، ص ۲۲۴ : ابن ندیم ( متوفّیٰ ۴۳۸ ھ )
۴۔ الانصاف فی الامامة : ابی جعفر ابن قبۂ رازی ( متوفّیٰ ۳۱۹ ھ )۵۔ معانی الاخبار ، ص ۳۴۳ : شیخ صدوق ( متوفّیٰ ۳۸۰ ھ ۶۔ علل الشرایع ، ص ۱۴۴ : شیخ صدوق ( متوفّیٰ ۳۸۰ ھ )۷۔ العقد الفرید ، ج ۴ : ابن عبد ربہ ( متوفّیٰ ۳۲۸ ھ )۸۔ بحار الانوار ، ج ۸ ص ۱۲۰ ( کمپانی ؛متوفّیٰ ۱۰۳۷ ھ ) : مرحوم مجلسی ( متوفّیٰ ۱۱۱۰ ھ )۹ شرح نہج البلاغہ : قطب راوندی ( متوفّیٰ ۵۷۳ ھ )۱۰۔ المناقب : ابن جوزی ( متوفّیٰ ۶۵۴ ھ )۱۱۔ الغارات : ابن ہلال ثقفی ( متوفّیٰ ۲۸۳ ھ )۱۲۔ الفرقة الناجیة : قطیفی ( متوفّیٰ ۹۴۵ ھ )۱۳۔ ارشاد ، ج ۱ ص ۱۳۵/۲۸۴/۲۸۶ : شیخ مفید ( متوفّیٰ ۴۱۳ ھ )۱۴۔ المغنی : قاضی عبدالجبّار ( متوفّیٰ ۴۱۵ ھ )۱۵۔ نثرالدرر : وزیر ابو سعید آبی ( متوفّیٰ ۴۲۲ ھ ) ۱۶۔ نزہة الادیب : وزیر ابو سعید آبادی ( متوفّیٰ ۴۲۲ ھ )۱۷۔ الشافی ، ص ۲۰۳ : سیّد مرتضیٰ ( متوفّیٰ ۴۳۶ ھ )۱۸۔ الامالی : ہلال بن محمد بن الحفار ( متوفّیٰ ۴۱۷ ھ )۱۹۔ الامالی : شیخ الطائفة طوسی ( متوفّیٰ ۴۶۰ ھ )۲۰۔ تذکرة الخواص ، ص ۱۳۳ : سبط ابن الجوزی ( متوفّیٰ ۶۵۴ ھ )۲۱۔ تحف العقول ، ص ۳۱۳ : ابن شعبۂ حرانی ( متوفّیٰ ۳۸۰ ھ )۲۲۔ شرح الخطبة الشقشقیة : سیّد مرتضیٰ ( متوفّیٰ ۴۳۶ ھ )۲۳۔ الافصاح فی الامامة ، ص ۱۷ : شیخ مفید ( متوفّیٰ ۴۱۳ ھ )۲۴۔ الاحتجاج ، ج ۱، ص ۲۸۱/۱۹۱ : طبرسی ( متوفّیٰ ۵۸۸ ھ )۲۵۔ المحاسن والادب : علّامہ برقی ( متوفّیٰ ۲۸۰ ھ )
۲۶۔ المستقصیٰ ، ج۱ ،ص ۳۹۳ : زمخشری ( متوفّیٰ ۵۳۸ ھ )۲۷۔ مجمع الامثال ، ج ۱، ص ۱۹۷ : میدانی ( متوفّیٰ ۵۱۸ ھ )۲۸۔ المجلی ، ص ۳۹۳ : ابن ابی جمہور احسائی ( متوفّیٰ ۹۰۹ ھ )۲۹۔ المواعظ ولزواجر ( کتاب الغدیر ، ج ۷، ص ۸۲ سے نقل ) : ابن سعید عسکری ( متوفّیٰ ۲۹۱ ھ )۳۰۔ ابن خشاب کہتا ہے ! خدا کی قسم میں نے اس خطبے کو ان کتابوں میں پڑھا ہے جو سیّد رضی کی پیدائش سے ۲۰۰/سال پہلے تدوین ہو ئی ہیں : ماھو نہج البلاغہ ، ص ۹۸ : شہرستانی۳۱۔ کتاب الانصاف : ابن کعبی بلخی ( متوفّیٰ ۳۱۹ ھ )
۳۲۔ الاوائل : ابن ہلال عسکری ( متوفّیٰ ۳۹۵ ھ )۳۳۔ غرر الحکم ، ج ۳ ، ص ۴۶ : مرحوم آمدی ( متوفّیٰ ۵۸۸ ھ )۳۴۔ غرر الحکم ، ج ۶ ،ص ۲۳۲/ ۲۵۶ : مرحوم آمدی ( متوفّیٰ ۵۸۸ ھ )۳۵۔ رسائل العشر ، ص ۱۲۴ : شیخ طوسی ( متوفّیٰ ۴۶۰ ھ )
اگرانتخاب الھی وابلاغ ر سا لت کے بعدلوگ ائمہ معصومین کو قبول نہ کریں اور امام برحق کو تنہا چھوڑ دیں یا قتل کر دیں تو اس صورت میں امامت اور ولایت کا تحقق نہیں ہو گا اور امام سیاسی طور پر لوگوں میں حاضر نہیں ہو سکتے اور کوئی بھی ان کے امر باالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل نہیں کرے گا اور اگرفرمان صادرفرمائیں گے تو کوئی اطاعت نہیں کرے گا۔
حضرت علی ـ نے فرما یا :
دَعُونِ وَالَتمِسُوا غَیرِی ،فَاِنَّاَا مُستَقبِلُون اَمراً لَ ه ُ وُجُو ه ُ وَاَلوَانُ، لَاتَقُومُ لَ ه القُلُوبُ،وَلَاتَثبُتُ عَلَی ه ِ العُقُولُ وَاِن الافَاقَ قَد اَغَامَت،وَالمحَجَّةَ قَدتَنَکَّرَت وَاعلَمُوا اَنَّ اِن اَجَبتُکُم رَکِبتُ بِکُم مَااَعلَمُ وَلَم اُصغِ اِ لَی قَولِ اَلقَائَل وَعَتبِ اَلعَا تِب وَاِن تَرَکتُمُونِ فَاَنَاکَاَحَدِکُم،وَلَعَلِّ اَسمَعُکُم وَاَطوَعُکُم لِمَن وَلَّیتُمُو ه ُ اَمرَکُم،وَ اَنَا لَکُم وَزِیراً ،خَیرُلَکُم مِنِّی اَمِیراً :( ۱ )
جب لوگوں نے قتل عثمان کے بعد آپ کی بیعت کا ارداہ کیا تو آپ نے فرما یا: مجھے چھوڑ دو جائو کسی اور کو تلاش کر لو( ۲ ) ہمارے سامنے وہ معاملہ ہے جس کے بہت سے رنگ اور رخ ہیں جن کی نہ دلوں میں تاب ہے اور نہ عقلیں انہیں برداشت کر سکتی ہیں دیکھو افق کس قدر ابر آلودہے اور راستے کس قدر انجانے ہیں ، یاد رکھو اگر میں نے تمہاری بیعت کی دعوت کو قبول کر لیا تو تمہیں اپنے علم ہی کے
____________________
(۱)۔خطبہ ۹۲، نہج البلاغہ معجم المفھرس
(۲)۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت علی ـ خدا وند عالم کی طرف سے امامت پر منصوب ہوئے اور اسلامی ممالک سے آئے ہوئے ایک لاکھ بیس ہزار حاجیوںنے غدیر خم کے میدان میں خدا وند عالم کے حکم سے اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ابلاغ کے بعد امام کے ساتھ بیعت کی ، لیکن ۲۵سال بعد ،ان تینوں کی خلافت کے دور میں لوگوں کے سیاسی انحراف اوراقدار میں تغییر کے سبب اس وقت اتمام حجّت کرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ '' مجھے چھوڑ دو'یعنی تم لوگ عدل کی حکومت کا تحمّل نہیں کر سکتے۔
راستے پر چلاؤں گا اور کسی کی کوئی بات او ر سرزنش نہیں سنوں گا لیکن اگر تم نے مجھے چھوڑ دیا تو تمہارے ہی ایک فرد کی طرح زندگی گزاروں گا بلکہ شاید تم سب سے زیادہ تمہارے حاکم کے احکام کا خیال رکھوں میں تمہارے لئے وزیر کی حیثیت سے ا میر کی بہ نسبت ز یادہ بہتر رہوں گا( ۱ ) نا پختہ اور سست عقائد کے مالک کوفیوں کی سرزنش کرتے ہوئے ایک تقریر میں حضرت امیر المؤمنین ـ نے واضح طور پر اساسی اور بنیادی اصل کی طرف اشارہ فرمایا کہ اگر لوگ امام کی اطاعت نہ کریں تو امام عملاً ایک اسلامی معاشرہ میں معاشرہ ساز فعالیّت نہیں انجام دے سکتا۔
____________________
(۱)۔ خطبۂ / ۹۲ کے اسناد و مدارک :
۱۔ تاریخ طبری ، ج ۶ ص ۳۰۶ : طبری ( متوفّیٰ ۳۱۰ ھ )۲۔ النّہایة ( ۳۵ ھ کے حوادث سی مربوط ) : ابن اثیر ( متوفّیٰ ۶۰۶ ھ )۳۔ کتاب جمل ، ص ۴۸ : شیخ مفید ( متوفّیٰ ۴۱۳ ھ )
۴۔ تذکرة الخواص ، ص ۵۷ : ابن جوزی ( متوفّیٰ ۵۶۷ ھ )۵۔ شرح قطب راوندی ، ج ۱ ص ۴۱۸ : ابن راوندی ( متوفّیٰ ۵۷۳ ھ )۶۔ نسخۂ خطّی ۴۹۹ ھ ، ص ۷۳ : مؤلفہ ابن مؤدب، پانچویں صدی کے عالم دین۷۔ نسخۂ خطّی نہج البلاغہ ، ص ۷۰ : مؤلّفہ ۴۲۱ ھ۸۔تجارب الامم:، ج ۱ ، ص ۵۰۸ : ابن مسکویہ ( متوفّی ۴۲۱ ھ)۹۔ بحارالانوار ، ج ۳۲ ،ص۳۵۔ مرحوم مجلسی ( متوفی ۱۱۱۰ ھ ) ٭ : امیر المؤ منین ـ کے اس ارشاد سے تین باتوں کی مکمّل وضاحت ہوتی ہے۔ (خطبہ ۹۲ نہج البلاغہ)۱۔ آپ ـکو خلافت کے سلسلے میں کوئی حرص اور طمع نہیں تھی اور نہ ہی آپ ـ اس سلسلے میں کسی قسم کی تگ و دو کرنے کے قائل تھے ۔ الٰہی عہدہ عہدیدار کے پاس آتا ہے عہدیدار خود اسکی تلاش میں نہیں جاتا۔
۲۔ آپ ـ کسی قیمت پر اسلام کی تباہی برداشت نہیں کر سکتے تھے آپ کی نظر میں خلافت کا لفظ اپنے اندر مشکلات اور مصائب لئے تھا اور قوم کی طرف سے بغاوت کا خطرہ نگاہ کے سامنے تھا لیکن اسکے باوجود اگر ملت کی اصلاح اور اسلام کی بقا ء کا دارومدار اس خلافت کو قبول کرنے میں ہے تو آپ اس راہ میں ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے آمادہ و تیارہیں ۔
۳۔ آ پ ـ کی نگاہ میں امت کے لئے ایک درمیانی راستہ وہی تھا جس پر آج تک چل رہی تھی کہ اپنی مرضی سے ایک امیر چن لے اور وقتاً فوقتاً ضرورت پڑنے پر آپ ـ سے مشورہ کرتی رہے آپ ـ مشورہ دینے سے بہر حال گریز نہیں کرتے ہیں جس کامسلسل تجربہ ہو چکا ہے ، اور اس مشاورت کو آپ نے وزارت سے تعبیر کیا ہے ، وزارت فقط اسلامی مفاد تک بوجھ بانٹنے کے لیے حسین ترین تعبیر ہے ، ورنہ جس حکومت کی امارت قابل قبول نہیں اسکی وزارت بھی قابل قبول نہ ہوگی ۔(مترجم)
'' یٰاَشْبٰا ه َ الرِّجٰالِ وَلاَرِجٰالَ!حُلُوْمُ الْاَطْفٰالِ،وَعُقُوْلُ رَبَّات الْحِجٰالِ لَوَدِدْتُ َا نِّیْ لَمْ َا رَکُمْ وَلَمْ َاعْرِفکُمْ مَعْرِفَةً وَﷲجَرَّتْ نَدَماً وَاَ عَقَبَت سَدَ ماً قَا تَلَکُمُ ﷲ ُ! لَقَدْ مَلَاْتُمْ قَلْبی قَیْحاً وَشَحَنْتُمْ صَدْری غَیْظاً وَجَرَعْتُمُوْنیْ نُغَبَ التَّ ه ْمٰام َنْفٰاساً وَاَفْسَدْتُمْ عَلَیَّ رْٰیِیْ بِالْعِصْیٰان وَالْخِذْلاَنِ حَتّیٰ لَقَد قٰالَتْ قُرَیْش اِنَّ أبْنَ َبیْ طٰالِبٍ رَجُل شُجٰاع ، وَلٰکِنْ لاَعِلْمَ لَ ه ُ بِالْحَرْبِ لِلّٰ ه ِ اَبُوْ ه ُمْ وَ ه َلْ اَحَدمِنْ ه ُمْ َشَدُّلَ ه ٰامِرٰاسا وَاَ قْدَمُ فیْ ه ٰامَقٰاماً مِنِّیْ لَقَدْنَ ه َضْتُ فِیْ ه ٰاوَمٰابَلَغْتُ الْعِشْرِیْنَ وَ ه ٰاَنَذَا قَدْذَرَّفْتَ عَلَی السِّتِّیْنَ وَلٰکِنْ لاَ رَاْیَ لِمَنْ لاَ یُطٰاعُ ''( ۱ )
ترجمہ ( اے مرد وں کی شکل وصورت والو! اور واقعا نا مردو ، تمہاری فکریں بچوں جیسی اور تمہاری عقلیں حجلہ نشین دلہنوں جیسی ہیں میری خواہش تھی کاش میں تمہیں نہ دیکھتا اور تم سے متعارف نہ ہوتا، جس کا نتیجہ صرف ندا مت اور رنج و ا فسوس ہے ﷲ تمہیں غارت کرے تم نے میرے دل کو پیپ سے بھر دیا، اور میرے سینہ کو رنج وغم سے چھلکا دیا ہے ، تم نے ہر سانس میں ہم و غم کے گھونٹ پلائے ، اور اپنی نافرمانی ا ور سر کشی سے میری رائے کو بھی بیکار و بے ا ثر بنا دیا ہے ،یہاں تک کہ اب قریش والے یہ کہنے لگے ہیں کہ فرزند ابو طالب ـبہادر تو ہیں لیکن انھیں فنون جنگ کا علم نہیں ہے ،
____________________
( ۱)۔اسناد و مدارک خطبۂ / ۲۷
۱۔ البیا ن و التبیین ، ج ۱ ،ص ۱۷۰ : جاحظ ( متوفّیٰ ۲۵۵ ھ ) ۲۔ البیا ن و التبیین ، ج ۲ ، ص ۶۶ : جاحظ ( متوفّیٰ ۲۵۵ ھ )
۳۔ عیون الاخبار ، ج ۲ ،ص ۲۳۶ : ابن قتیبة ( متوفّیٰ ۲۷۶ ھ ) ۴۔ اخبار الطوال ، ص ۲۱۱ : دینوری ( متوفّیٰ ۲۹۰ ھ )
۵۔ الغارات ، ج ۲ ، ص ۴۵۲/۴۹۴ : ابن ہلال ثقفی ( متوفّیٰ ۲۸۳ ھ )۶۔ الکامل ، ج ۱ ، ص ۱۳ : مبرد ( متوفّیٰ ۲۸۵ ھ )
۷۔ اغا نی ، ج ۱۵ ، ص ۴۵ : ابو الفرج اصفہانی ( متوفّیٰ ۳۵۶ ھ ) ۸۔ مقاتل الطالبین ، ص ۲۷ : ابو الفرج اصفہانی ( متوفّیٰ ۳۵۶ ھ )
۹۔ معانی الاخبار ، ص ۳۰۹ : شیخ صدوق ( متوفّیٰ ۳۸۰ ھ ) ۱۰۔ انساب الاشراف ، ج ۲ ص ۴۴۲ : بلاذری ( متوفّیٰ ۲۷۹ ھ )
۱۱۔ مروج الذہب ، ج ۲ ص ۴۰۳ : مسعودی ( متوفّیٰ ۳۴۶ ھ ) ۱۲۔ عقدالفرید ، ج ۲ ص ۱۶۳ : ابن عبد ربہ ( متوفّیٰ ۳۲۸ ھ )
۱۳۔ فروغ کافی ، ج ۵ ص ۴/۶/۵۳/۵۴ : مرحوم کلینی ( متوفّیٰ ۳۲۹ ھ ) ۱۴۔ دعائم الاسلام ، ج ۱ ص ۴۵۵ : قاضی نعمان ( متوفّیٰ ۳۶۳ ھ )
۱۵۔ احتجاج ، ج ۱ ص ۲۵۱ / ۱۷۴ : مرحوم طبرسی ( متوفّیٰ ۵۸۸ ھ ) ۱۶۔ تہذیب ، ج ۶ ص ۱۲۳ : شیخ طوسی ( متوفّیٰ ۴۶۰ ھ )
ﷲ ان کا بھلا کرے ، کیا ان میں کوئی بھی ایسا ہے ، جو مجھ سے زیادہ جنگ کا تجربہ رکھتا ہو ، اور مجھ سے پہلے سے کوئی مقام رکھتا ہو ، میں نے جھاد کے لئے اس وقت قیام کیا ہے جب میری عمر ۲۰ سال بھی نہیں تھی اور اب تو(۶۰) سال ہو چکی ہے لیکن کیاکیا جائے جس کی ا طاعت نہیں کی جاتی اس کی رائے بھی کوئی رائے نہیں ہوتی ۔
اب اس مقام پر یعنی انتخاب الہی اور ابلاغ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد لوگوں کی عمومی بیعت اور ملت کا انتخاب احکام الہی کے اجرا میں اپنا اہم کردار ادا کرتا ہے اور حکومت امام کے لئے عملی راہ فراہم کر تی ہے ، غدیر خم کے ر وزیہ تینوں مراحل بخوبی اور تمام تر ز یبایوں کے ساتھ ا پنے ا نجام کو پہنچے یہاں تک کہ حکومت کے پیاسوں کے د لوںمیں دشمنی کی آگ بھڑک ا ٹھی ا نہوں نے جو کچھ بھی چاہا انجام دیا ، اور تاریخ میں ہمیشہ کے لئے اپنے آپ کو بد نام کر لیاکیونکہ :
الف: خدا وند عالم کے انتخاب کا تحقق فرشتہ وحی کے توسّط سے آیات کی صورت میں( بلّغ ما اُنزِل اِلیک ) اور( الیوم اکملت لکم دینکم ) کے نزول کے ساتھ ہوا۔
ب: وحی الہی کا ابلاغ اس عظیم و کم نظیر اجتماع میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے توسط سے انجام پایا:
ج: مردوں اور عو ر توں پر مشتمل عمومی بیعت تا دم صبح جاری رہی اور بخیر و خوبی انجام پذ یر ہوئی کیونکہ امامت کو اس کا صحیح وارث اور مقام مل گیا اور لوگوں کی عمومی بیعت بھی انتخاب الٰہی کے لئے حامی واقع ہوئی ؛ لوگوں کا انتخاب ، انتخاب الٰہی اور رسول ِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ابلاغ و اعلان نے ایک ساتھ مل کر امامت کو پائدار اور زندہ و جاوید کیا ؛ تو اس وجہ سے منافقین اور حاسدین غضبناک ہوگئے ، یہاں تک کہ ایک شخص نے موت کی آرزو کی اور آسمان سے ایک پتھر نے آکر ا س کو نیست ونابود کر دیا۔
بعض گروہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قتل کے درپے ہوگئے لیکن خدائی امداد نے انہیں ناکام اور رسوا کردیا اور بعض دوسروں نے وہ شرمناک اور قابل مذمّت تحریر لکھی کہ جس کے ذریعہ لوگوں کو گمراہ کرنا چاہتے تھے ؛ لیکن آخر کار ان کے پاس سکوت اختیار کرنے ،بغض و نفاق اور شیطانی انتظار کے علاوہ کوئی اورچارہ نہ تھا یہاں تک کہ جناب رسول ِ خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات کے بعدتمام بغض اور کینہ توزیوں کو یکجا کرکے جو بھی چاہا ایک مسلّحانہ بغاوت (فوجی بغاوت) کی صورت میں انجام دیا۔
لہٰذا یہ غدیر کا دن صرف'' امام کے تعیّن '' کا دن نہ تھا کیونکہ مسلمانوں کا امام غدیر کے عظیم واقعہ سے پہلے ہی معیّن ہو چکا تھا اور حضرت امیر المؤمنین ـ کے بعد آنے والے ائمہ علیہم السّلام کا ناموں کے ساتھ تعارف کروایا جاچکا تھا ؛ کسی کو امامت اورائمہ علیہم السّلام کے ناموں میں کوئی شک و شبہ نہیں تھا، غدیر کے دن ( مسلمانوں کی عمومی بیعت) اور خود جناب رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حضرت علی ـ کے ساتھ بیعت نے حقیقت کا روپ اختیار کیا اور منکرین ولایت کے لئے تمام راستے بند کر د ئے تاکہ آفتاب ولایت کا انکار نہ کر سکیں ۔
چوتھی فصل
کیا غدیر کا دن صرف پیغام ولایت پہنچانے کے لئے تھا؟
ظواہر آیات غدیر کی طرف توجّہ
پہلی بحث : آیات غدیر کی صحیح تحقیق
دوسری بحث : تاریخ غدیر کی صحیح تحقیق
تیسری بحث : مخالفتوں کی طرف توجّہ
ظو اہر آیات غدیر کی طرف توجّہ :
بعض لوگوں نے سورہ ٔ مبارکہ مائدہ کی آیت ۶۷( یا اَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مٰا اُنْزِلَ ِلَیْک )
کے ظاہر پر توجّہ کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ غدیر کا دن صرف ''پیغام ولایت '' پہچانے کا دن ہے ، اور رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس مبارک دن '' حضرت علی ـ '' کی ولایت کا پیغام لوگوں تک پہنچایا ۔
اور بس اتنے ہی کو کافی سمجھتے ہوئے خوش حال ہو جاتے ہیں ، یا تو غدیر کے دوسرے تمام زاویوں کو درک کرنے سے انکی عقلیں قاصر ہیں یا کتب کے مطالعہ کے ذریعہ حقیقت تک پہنچنے کی زحمت نہیں کرتے ، کہتے ہیں کہ: لفظ (بلِّغ)یعنی ابلاغ کر دو لوگوں تک پہنچا دو ، اور ( ما انزِلَ الَیکَ) یعنی ولایت اور امامت حضرت امیرالمؤمنین ـ لہٰذا غدیر کا دن صرف '' اعلان ولایت '' کا دن ہے ، اس گروہ کا جواب بھی مختلف طریقوں سے دیا جاسکتا ہے ،جیسا کہ:
۱۔ آیات غدیر کی صحیح تحقیق :
یہ صحیح ہے کہ لفظ '' بلّغ'' کے معنیٰ ہیں ( پہنچادو)؛لوگوں میں ابلاغ کردو اورلوگوں کو آگاہ کردو لیکن کس چیز کے پہنچانے کا حکم دیا جارہا ہے ؛ اس حکم کا متعلّق کیا ہے ؟ یہ بات اس آیہ مبارکہ میں ذکر نہیں ہوئی ہے کس چیز کو پہنچانا ہے؟ ظاہر آیت سے واضح نہیں ہے ،اور اس آیت کا باقی حصّہ یعنی( مٰا اُنْزِلَ ِلَیْکَ ) جو کچھ تم پر نازل کیا گیایہ عام ہے ؛ جو کچھ تم پر نازل کیا گیا یہ کیا چیز ہے ؟
آیا مقصود صرف '' اعلان ولایت ''ہے ؟
آیا مقصود '' امام کا تعارف '' ہے؟
آیا مراد '' قیامت اور رجعت تک آنے والے اماموں کا تعارف '' ہے ؟
آیا مراد '' اسلام کی رہبریت کا تعیّن '' ہے ؟
یا( مٰا اُنْزِلَ ِلَیْکَ ) کا متعلّقہ موضوع '' تھیوری اور پریکٹیکل''یعنی عملی و نظری پر مشتمل ہے یعنی ائمّہ معصومین علیہم السّلام کا تعارف بھی کرواؤ اور ان ہستیوں کے لئے بیعت بھی طلب کرو؟تاکہ ''بیعت عمومی'' کے بعد کوئی بھی شکوک و شبہات کا سہارا لیتے ہوئے مسلمانوں کے عقائد کو متزلزل نہ کر سکے۔
چنانچہ یہ سمجھنا اورجاننا ضروری ہے کہ( مٰا انزِلَِلَیْکَ ) کیا ہے ؟جو کچھ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ناز ل ہو چکا تھا وہ کیا تھا ؟ سورۂ مبارکہ مائدہ کی آیت ۶۷ میں موجودہ پیغامات اور مسلسل احتیاط اس حقیقت کو ثابت کرتی ہیں کہ پہلا نظریہ (صرف اعلان ولایت ) صحیح نہیں ہے بلکہ دوسرے نظریے (وسیع اہداف )کو ثابت کررہے ہیں ۔
اس آیہ مبارکہ میں مزید آیا ہے :( وَ اِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمٰا بَلَّغْتَ رِسٰالَتَهُ )
( اگر تم نے یہ کام انجام نہ دیا تو گویا اس کی رسا لت کا کوئی پیغام نہیں پہنچایا۔)( مٰا ُنْزِلَ ) کا متعلق کیا اہم چیز ہے کہ جسکو انجام نہ دیا گیا تو پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رسالت ناقص و نامکمّل رہ جائے گی ؟ ادھررسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم بھی اسکو انجام دینے سے گھبرا رہے ہیں کہ شایداسکو قبول نہ کیا جا ئے اور رخنہ ڈا ل دیا جائے ، اگر صرف '' اعلان ولایت '' تھا تو اس میں کس بات کا ڈر اور ہچکچاہٹ ؟ کیونکہ اس سے پہلے بھی بارہا ، محراب میں ، منبر پر ، مدینہ اور دوسرے شہروں میں ،جنگ کے میدان میں ، اور جنگوں میں کامیابیوں کے بعد حضرت امام علی ـ کی ولایت اور وصایت کا اعلان کر چکے تھے ، لوگوں تک اس بات کو پہنچا چکے تھے ، کسی کا خوف نہ تھا اور کسی سے اس امر کی بجا آوری میں اجازت طلب نہ کی تھی ۔
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جنگ تبوک اور جنگ خیبر کے موقع پر حدیث ''منزلت'' میں حضرت علی ابن ابی طالب ـ کا تعارف بعنوان وزیر اور خلیفہ کروایا اور کسی بھی طاغوتی طاقت اور قدرت کی پروا نہ کی ، غدیر کے دن ایسا کیا ہونے والا تھا جورسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو خوفزدہ کئے ہوئے تھا اور فرشتۂ وحی آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کوتسلّی دیتے ہوئے اس آیت کو لے کر نازل ہوا ( و َﷲ ُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ) (ﷲ تمہیں انسانوں کے شر سے محفوظ رکھے گا ۔)
جملۂ( ما انزِلَ ) کا متعلّق کونسی ایسی اہم چیز ہے کہ جسکے وجود میں آنے کے بعد
اکمال دین :( أَلْیَوْمَ َکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ )
اتمام نعمات الٰہی :( وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتیْ )
بقاء اور جاویدانی اسلام :( وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلٰامَ دِیْناً )
کفّا ر کی ناامیدی :( أَ لْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْ ا )
جیسے اہم فوائد حاصل ہونگے ؟
چنانچہ یقینا پہلا نظریہ صحیح نہیں ہے اور ( مٰا ُنْزِلَ ِلَیْکَ)کا متعلّق '' ولایت امیر المؤمنین ـ کا اعلان'' اور '' مسلمانوں کی عمومی بیعت '' ہونا چاہیے ۔
اے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم ! آج ہم نے جو کچھ تم پر نازل کیاہے لوگوں تک پہنچا دو یعنی امام علی ـ اور انکی اولاد میں سے گیارہ بیٹوں کی ولایت اور امامت کا اعلان کردو اور اسکے بعد حج کی برکت سے ساری دنیا سے آکر اس سر زمین پر جمع ہونے والے مسلمانوں سے بیعت اور اعتراف لے لو ( کہ پھر اتنا بڑا اجتماع وجود میں نہ آئے گا)اور امامت کے مسئلے کو نظریہ اور عقیدہ میں عمومی اعتراف اور عملی طور پر عمومی بیعت کے ذریعہ انجام تک پہنچا دو، اور کیونکہ خدا کے انتخاب اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ابلاغ کے بعد لوگوں کی عمومی بیعت بھی تحقق پذیر ہوئی دین کامل ہو گیا ۔
( امامت راہ رسالت کی بقا اور دوام کا ذریعہ ہے ۔) خدا وند عالم کی نعمتیں انسانوں پر تمام ہوگئیں ، د ین اسلام ہمیشہ کے لئے کامیاب ہو گیا، کفّار ناامید ہو گئے کہ اب ارکان اسلام کو متزلزل نہ کر سکیں گے ،اس مقام پر وحی الٰہی یہ بشارت دے رہی ہے کہ( اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا )
آج ''روز غدیر '' کفّار ناامید ہوگئے ۔
وگرنہ صرف ''اعلان ولایت تو غدیر سے پہلے بھی کئی بار ہو چکا تھا کفّار ناامید نہ ہوئے تھے؛ اور صرف ''اعلان ولایت کے ذریعہ دین کامل نہیں ہوتا کیونکہ ممکن ہے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم امامت کا پیغام پہنچا دیں لیکن لوگ بیعت نہ کریں اور امّت میں اختلاف پیدا ہو جائے، گذشتہ امّتوں کی طرح پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خلاف قیام کیا جائے اور انکو قتل کر دیا جائے، کیا گذشتہ امّت نے پیغمبر خدا حضرت زکر یا ّ ـ کو آرہ سے دو حصّوں میں تقسیم نہیں کیا ؟کیا مخالفوں نے حضرت یحییٰ ـ جیسے پیغمبر کا سر تن سے جدا نہیں کیا اور اس زمانے کے طاغوت کے لئے اس سر کو ہدیے کے طور پر پیش نہیں کیا ؟
کیا حضرت عیسیٰ ـ جیسے پیغمبر کو ایک عرصہ کے لئے ہجرت کرنے اور پوشیدہ رہنے پر مجبور نہیں کیا ؛ اور یہودیوں کے جھوٹے دعوے اور مسیحیت کے جھوٹے عقیدے کو بنیاد بنا کر ان کو سولی پر نہیں لٹکایا ؟ اس مقام پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صرف اعلان ولایت :
۱۔ کشیدگی کا سبب نہیں ہے ۔
۲۔ امّت کے درمیان اختلاف کا خطرہ نہیں ہے ۔
۳۔ مسلّحانہ کار روائیوں کا حامل نہیں ہے ۔
۴۔ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو خوفزدہ نہیں کر سکتا کہ جسکے سبب وہ حضرت جبرئیل ـسے تین بار معذرت چاہیں ۔
یہ سارے وہم اور خوف '' عمومی بیعت کے تحقّق '' کی وجہ سے ہیں،جو کہ موقع کی تلاش میں رہنے والی سیاسی جماعتوں کو خوف و وحشت میں مبتلا کئے ہوئے ہے؛ اور کفّار کی یاس و ناامیدی اسی سبب سے ہے اور حکومت و قدرت کے پیاسوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ ایک مسلّحانہ بغاوت کریں ۔
۲۔ تاریخ غدیر کی صحیح تحقیق :
واقعۂ غدیر کی صحیح شناخت حاصل کرنے کا ایک راستہ اس عظیم واقعہ کی تاریخی حوالے سے صحیح تحقیق ہے، دیکھنا یہ چاہیے کہ غدیر کے دن کونسے واقعات اور حادثات رونما ہوئے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کیا کیا؟ اور دشمنوں اور مخالفوں نے کس قسم کا رویّہ اختیار کیا ؟تا کہ غدیر کی حقیقت واضح اور روشن ہو جائے ،اگر غدیر کا دن صرف اعلان ولایت کے لئے تھا؛ تو پھر رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی گفتگو اور عمل کو بھی اسی حساب سے صرف ابلاغ و پیغام تک محدود ہوناچاہیے تھا ! یعنی رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سب لوگوں کو جمع کرتے اور حضرت علی ـ کی لیاقت اور صلاحیّتوں کے بارے میں لوگوں کو آگاہ فرماتے ؛ پھر کچھ اخلاقی نصیحتوں کے ساتھ لوگوں کے لئے دعا فرماتے اور خدا کی امان میں دے دیتے ، بالکل اس طرح سے جیسے آج سے پہلے بعثت کے آغاز سے لے کر غدیر کے دن تک بارہا آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے دیکھا گیا تھا ۔
اس کے بعد ہر شہر و دیار سے آئے ہوئے مسلمان اپنے اپنے وطن کی طرف لوٹ جاتے ۔ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کام کو مکّہ کے عظیم اجتماع میں حج کے وقت بھی انجام دے سکتے تھے عرفات اور منیٰ کے اجتماعات میں بھی یہ کام کیا جاسکتا تھا ۔
لیکن غدیر کے تاریخی مطالعہ کے بعد یہ بات واضح ہو جائے گی اور یہ نظریہ سامنے آئے گا کہ غدیر کی داستان کچھ اور ہے ؛ اعمال حج اختتام پذیر ہو چکے ہیں؛ اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے آخری حج کے موقع پر شوق دیدار میں ساری دنیا کے اسلامی ممالک سے آئے ہوئے مسلمان اپنے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کوالوداع کر رہے ہیں ؛ یہ عظیم اجتماع موجیں مارتے ہوئے سیلاب کے مانند شہر مکّہ سے خارج ہو تا ہے اور غدیر خم کے مقام پر جہاں ہر شہر اور دیار سے آئے ہوئے مسلمان ایک دوسرے سے جدا ہو کر اپنی اپنی راہ لینا چاہتے ہیں۔
یکایک فرشتۂ وحی آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم پر نازل ہو کر ایک بہت اہم مطلب کی درخواست کرتا ہے ؛ مسئلہ اس قدر اہم ہے کہ رسول گرامی اسلام ا مت میں اختلاف پیدا ہونے سے ڈر رہے ہیں اور جنگ کی حالت پیدا ہو جانے سے گھبرا رہے ہیں ،تین مرتبہ فرشتۂ وحی آتا ہے اور لوٹ جاتا ہے؛ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم پریشان ہیں اور اس کام کے انجام دینے سے اجتناب کر رہے ہیں اور تینوں بار حضرت جبرئیل ـ سے خواہش کرتے ہیں کہ خدا وند عالم انکو اس آخری وظیفہ کو انجام دینے سے معاف رکھے، وحی الٰہی مسلسل آرہی ہے ؛ یہاں تک کہ پیغمبر گرامی اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس بات کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ اگر آج آپ نے اس اہم کام کو انجام نہ دیا تو گویا تم نے اپنی رسالت کاکوئی کام نہیں کیا ! پھر اسکے بعد پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کو تسلّی دی جاتی ہے کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ؛ خدا وند عالم تمہاری او ر تمہارے دین کی حفاظت کرے گا اور کفّار و منافقین کو رسوا کرے گا او ر تمہیں صرف خدا کی پروا کرنی چاہیے ۔
جب رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو خدا وند عالم کی طرف سے یہ تسلی ملی تو آپ نے یہ حکم صادر فرمایا کہ سب لوگ غدیر خم کی سرزمین پر ٹہر جائیں ؛ جو لوگ غدیر کے مقام سے آگے چلے گئے تھے انکو پلٹ آنے کے لئے کہا گیا اور جو لوگ ابھی تک اس مقام تک نہ پہنچے تھے ان کے پہنچ جانے کا انتظار کیا گیا ۔ جب تمام اسلامی ممالک سے آئے ہوئے سارے مسلمان غدیر خم کے میدان میں جمع ہوگئے تو حکم فرمایا کہ اونٹوں کے کجاووں کے ذریعہ ایک بلند جگہ ( منبر) تیّار کیا جائے ، اس بلند مقام پر کھڑے ہو کر پروردگار عالم کی حمد و ثنا کے بعد اہم مسئلہ کو ذکر کیا اور اپنے اور فرشتہ وحی کے درمیان واقع ہونے والے ماجر ے کو لوگوں کے سامنے بیان کیا ، اسکے بعد حضرت امیرالمؤمنین ـ اور انکی اولاد میں سے گیارہ فرزندوں کی تا قیامت قائم رہنے والی امامت اور ولایت کا اعلان فرمایا اور انکا تعارف کروایا ۔
پھر عملی طورپر خود حضرت علی ـ کا ہاتھ پکڑ کر بیعت کی ؛ اسکے بعد بیعت عمومی کا فرمان جاری کیا ؛ جسکی وجہ سے تمام مردوزن دوسرے دن تک اس مقام پر ٹہرے رہے اور حضرت علی ـ کی بیعت کرتے رہے اگر روز غدیر صرف ولایت کا پیغام پہنچانے کے لئے ہوتا تو اتنے سارے انتظامات کیونکر رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم اور مسلمانوں کی عمومی بیعت بھی تشکیل نہ پاتی ، دلچسپ اور جالب توجہ تو یہ ہے کہ مخالفین کے کلمات سے بھی یہ حقیقت واضح اور روشن ہوتی ہے ،خواہ وہ لوگ جو دست بشمشیر تھے یا وہ لوگ جنہوں نے خیمۂ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سامنے کھڑے ہو کر تو ہین آمیز الفاظ استعمال کئے !
( کیا تم نے یہ کام جو اپنی رسالت کے اختتام پر کیا ہے خدا وند عالم کے حکم سے کیا ہے ) پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا :
( ہاں خدا وند عالم کے حکم سے انجام دیا ہے ۔)
۳۔ مخالفتوں کی طرف توجّہ :
جو لوگ روز غدیر سے غافل تھے اور ان کی تمام شیطانی آرزوئیں مٹی میں مل ر ہی تھیں تو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے توہین آمیز کلمات استعمال کرتے ہوئے مخاطب ہوئے اور کہا:
تم نے ہم سے کہا: بت پرستی چھوڑ دو ہم نے بتوں کو پوجنا چھوڑ دیا ۔
تم نے کہا :نماز پڑھو ، ہم نے نماز یں پڑھیں ۔
تم نے کہا :روز ے رکھو ، ہم نے روز ے ر کھے۔
تم نے کہا :خمس و زکات دو ، ہم نے ادا کی۔
تم نے کہا: حج پہ جاؤ ، ہم گئے ۔
اب یہ کو ن سا حکم ہے جو تم نے صادر کیا ہے ؟ اب ہم سے کہہ رہے ہو کہہ ہم تمہارے داماد کی بیعت کریں ۔
حضرت زہرا سلام ﷲ ِ عَلیہاوامیر المؤمنین ـ کی ولایت کے اعلان''اور غدیر خم میں عمومی بیعت کے تشکیل پانے کے شروع میں ہی مخالفین کی عہد شکنی اور منافقت سے آگاہ تھیں،
جب حارث بن نعمان نے مخالفت کی اور کہا اے خدا ! اگر یہ حق ہے کہ ولایت علی ـ کا اعلان تیری طرف سے ہوا ہے تو مجھ پر آسمان سے ایک پتھر نازل ہو جو میری زندگی کا خاتمہ کردے ۔ فوراً خدا کا عذاب نازل ہوا ؛ آسمان سے ایک پتھر آیا اور اسے ہلاک کر دیا، حضرت زہرا سلام ﷲ ِ علیہا نے ایک معنی خیز نگاہ سے جناب امیر المؤمنین ـ کی طرف دیکھا اور فرمایا:
'' َتَظُنَّ یٰا اَبَا الْحَسَن ! اَنَّ ه ٰذَا الرَّجُلَ وَحْدَ ه ُ ؟وَﷲ ! مٰا ه ُوا لاَّ طَلِیْعَةَ قَوْمٍ لاَ یَلْبِثُوْنَ ا نْ یُکْشِفُوْا عَنْ وُجُوْ ه ِ ه ِمْ َ قْنَعَتَ ه ٰا عِنْدَ مٰا تَلُوْحُ لَ ه ُمُ الْفُرْصَةُ ''
اے ابو الحسن ـ : آیا آپ یہ گمان کرتے ہیں کہ غدیر کی مخالفت میں یہ آدمی اکیلا ہے،۔ خدا کی قسم ! یہ پیش قدم ہے ایک قوم کا کہ ابھی تک انکے چہروں سے نقابیں نہیں اتری ہیں، اور جس وقت بھی موقع ملا اپنی مخالفت کو ظاہر کردیں گے ۔)( ۱ )
حضرت علی ـ نے جواب میں فرمایا:( میں خدا وندعالم اور اسکے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حکم کو انجام دیتا ہوں اور خد ا پہ توکل کرتا ہوں کہ وہ بہترین مدد گار ہے ۔)
حارث بن نعمان فہری نامی ایک شخص جو امام علی ـ کی دشمنی دل میںلئے ہوئے تھا اُونٹ پر سوار آگے بڑھا اور کہا: ( اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ! تم نے ہمیں ایک خدا کا حکم دیا ، ہم نے قبول کیا اپنی نبوّت کا ذکر کیا ہم نے ، لا لٰہ الّﷲ و مُحَمّد رسول ﷲ کہا ، ہمیں اسلام کی دعوت دی ہم نے قبول کی تم نے کہا پانچ وقت نماز پڑھو ہم نے پڑھی ،زکات ، روزہ ، حج ،جہاد کا حکم دیا ہم نے اطاعت کی ، اب تم اپنے چحا زاد بھا ئی کو ہمارا ا میر بنا رہے ہو ہمیں معلوم نہیں خدا کی طرف سے ہے یا تمہارے اپنے ارادے اور سوچ کی پیدا وار ہے ؟۔ )
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ارشاد فرمایا :
( اس خدا کی قسم کہ جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ، یہ حکم اس خدا ہی کی طرف سے ہے اور میرا کام تو صرف پیغا م پہنچا نا ہے ۔) حارث یہ جواب سن کر غضبناک ہو گیا اور اپنے سر کو آسمان کی طرف اٹھا کر کہنے لگا : ( اے خدا ! اگر جو کچھ محمّدصلىاللهعليهوآلهوسلم نے علی ـ کے بارے میں کہا ہے تیری طرف سے
____________________
( ۱)۔ (الف ) سیرہ ٔ حلبی ، ج ۳ ص ۳۰۸/۳۰۹ :
حلبی شافعی ( متوفّیٰ ۱۰۴۴ ھ )
(ب) نزھة المجالس ، ج ۲ ص ۲۰۹ : ( تفسیر قرطبی سے نقل کیا ہے ) :
علامہ صفوری شافعی ( متوفّیٰ ۸۹۴ ھ)
اور تیرے حکم سے ہے تو آسمان سے ایک پتھر مجھ پر آئے اور مجھے ہلاک کر دے۔) ابھی حارث بن نعمان کی بات ختم بھی نہ ہونے پائی تھی کہ آسمان سے ایک پتھر گرا اور اسکو ہلاک کر دیا۔ اور اس وقت سورہ ٔ مبارکہ معارج کی آیات ۱ اور ۲ نازل ہوئیں۔
( سَاَلَ سٰائل بِعَذ ٰابٍ وٰاقِعٍ لِلکٰافِریْنَ لَیْسَ لَهُ د ٰافِع ) ( ۱ ) ایک مانگنے والے نے کافروں کے لئے ہو کر رہنے والے عذاب کو ما نگا جس کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔
____________________
۱۔ غریب القرآن : ہروی۲۔ شفاء الصّدور : موصلی ۳۔ الکشف والبیان : ثعلبی
۴۔ رعاة الھداة : حسکانی ۵۔ الجامع لاحکام القرآن : قرطبی۶۔ تذکرة الخواص ، ص ۱۹ : سبط بن جوزی
۷۔ الاکتفاء : وصابی شافعی۸۔ فرائد السمطین ، باب ۱۳ : حموینی۹۔ معارج الاصول : زرندی
۱۰۔ نظم دررالسمطین : زرندی۱۱۔ ھداة السّعداء : دولت آبادی۱۲۔ فصول المہمّة ، ص ۴۶ : ابن صباغ
۳ ۱۔ جواہر العقدین : سمہودی۱۴۔ تفسیر ابی السعود ، ج ۸ ،ص ۲۹۲ : عمادی۱۵۔ السراج المنیر ، ج ۴ ، ص ۳۶۴ : شربینی
۱۶۔ الا ربعین فی فضائل امیر المؤمنین ـ / ۷ : جمال الدّین شیرازی۱۷۔ فیض القدیر ، ج ۶ ، ص ۲۱۸ : مناوی
۱۸۔ العقد النّبوی و السّر المصطفوی : عبد روس۱۹۔ وسیلة المآل : باکثیر مکّی۲۰۔ نزہة المجالس ، ج ۲ ،ص ۲۴۲ : صفوری
۲۱۔ السیرة الحلبیّة ، ج ۳ ، ص ۳۰۲ : حلبی ۲۲۔ الصراط السوی فی مناقب النّبی : قاری۲۳۔ معارج العلیٰ فی مناقب المصطفیٰ : صدر عالم
۲۴۔ تفسیر شاہی : محبوب عالم ۲۵۔ ذخیرة المآل : حفظی شافعی ۲۶۔ الرّوضة النذیّة : یمانی
۲۷۔ نور الابصار ، ص ۷۸ : شبلنجی ۲۸۔ تفسیر المنار ، ج ۶ ، ص ۴۶۴ : رشید رضا۲۹ ۔ الغدیر ، ج ۱، ص ۲۳۹ : علّامہ امینی
اور سینکڑوں سنّی، شیعہ کتب تفاسیرکہ جن میں اس حقیقت کا اعتراف کیا گیا ہے ۔
پانچویں فصل
آیا غدیر امام کی ولایت کا دن تھا ؟
پہلی بحث : ایک اور تنگ نظری
دوسری بحث : واقعۂ غدیر میں تحقیق کی ضرورت
تیسری بحث : اہل بیت کی مظلومیت کے اسباب
۱۔ ایک اور تنگ نظری :
واقعہ ٔ غدیر کی جانب بے توجّہی کی ایک اور وجہ، بعض لوگوں کا سطحی عقیدہ ہے جنہوں نے ہمیشہ غدیر کے بارے میں یہ لکھا اور کہا ہے : ( غدیر کا دن حضرت امیر المؤمنین ـ کی ولایت کا دن ہے ) انہوں نے روز غدیر کو صرف حضرت علی ـ کی ولایت کے لئے مخصوص کردیا ہے ؛ اور واقعہ ٔ غدیر کے باقی سارے پہلوؤں پر کچھ بھی بیان نہیں کیا ہے ۔
یہ درست ہے کہ غدیر کے دن حضرت امیر المؤمنین ـ کی ولایت کا پیغام پہنچایا گیا اور ایک لحاظ سے غدیر کا دن امام علی ـ کی ولایت کا دن ہے ؛ روز غدیر امامت کے تعیّن کا دن تھا، لیکن اس واقعہ کے اور بھی بہت سارے اہداف تھے جو اس دن ایک حقیقت کی صورت میں وجود میں آئے کہ جن کے بارے میں بہت ہی کم بیان کیا گیا ہے اور بہت ہی کم توجّہ دی گئی ہے ۔
۲۔ واقعۂ غدیر میں تحقیق کی ضرورت :
واقعۂ غدیر صرف مذکورہ اعتقادات میں محدود نہیں ہوتا اور بیان کی گئی حدود میں منحصر نہیں ہوتا،بلکہ دیکھا یہ جانا چاہیے کہ اس عظیم واقعۂ کے موجد رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس دن کیافرمایا؟ کیا کام انجام دیا ؟اور لوگوں کی عمومی بیعت کو کس حد تک وسعت دی؟
آیا صرف امام علی ـ کا تعارف کروایا؟
آیا صرف امام علی ـ کے لئے بیعت طلب کی ؟
ہم خطبۂ غدیر کا مطالعہ کیوں نہیں کرتے ؟
اور پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اس دن کی تمام گفتگو کو تحقیق کی نگاہ سے کیوں نہیں دیکھتے ؟ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خطبے میں موجود اہم نکات کی جانب ہماری توجہ کیوں نہیں ہے ؟
اگر ہم خطبۂ حجة الوداع کا صحیح طریقے( تحقیقی) سے مطالعہ کریں تو ہمارے درمیان موجود بہت سارے اختلافات برطرف ہو جائیں گے ، اور ہم غدیر کے حقیقی اور واقعی مقام و منزلت سے آگاہ ہو جائیں گے،اگر ہم غدیر کے صحیح مقام و منزلت سے آشنا ہوجائیں اور پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کلام و پیام کی گہرائیوں سے واقف ہو جائیں اور جان لیں کہ غدیر کے دن کونسے عظیم واقعات رونما ہوئے تو ہم واقعات غدیر میں سے بہت سار ے واقعات کو حل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور غدیر کے بارے میں بہت سارے سوالات کا صحیح جواب دے سکیں گے ،مثال کے طور پر : فرشتہ وحی تین بار کیوں نازل ہوا ؟
یہ مسئلہ کتنی اہمیت کا حامل تھا کہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تین بار اس کام کو انجام نہ دئے جانے کی درخواست کی ؟
رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم حکم خدا وندی کی بجا آوری سے کیوں گھبرائے؟ اور انکی یہ گھبراہٹ اور پریشانی کس وجہ سے تھی ؟
وہ دشمن جو آج تک سکوت کئے ہوئے تھے غدیر میں کیوں خشمناک و غضبناک ہوگئے ؟ یہاں تک کہ دست بشمشیر ہوگئے ؟
غدیر کے دن ایسا کیا ہو ا کہ ا ئمّہ معصومین علیہم السّلام ہمیشہ اس روز رونما ہونے والے واقعات کو دلیل کے طور پر بیان کرتے ؟ اور فرماتے ( غدیر کے بعد اب کسی کے پاس کوئی عذر اور بہانہ باقی نہیں رہ گیا ۔)
غدیر کے دن ایسا کیا ہوا کہ منافقوں اور حکومت پسند ا ور قدرت کے خواہاںافراد سینوںکے میں تیر لگے اوران کو ایک ساتھ ایسے مقام پر لاکھڑا کیا کہ جہاں انکے کے لئے کوئی راستہ باقی نہیں رہ گیا ؟
ہم کہہ چکے ہیں کہ غدیر کے دن ولایت امیر المؤمنین ـ جو کہ خدا کی طرف سے معیّن ہوئی اور کئی بار پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے توسّط سے لوگوں تک پہنچائی جا چکی تھی '' لوگوں کی عمومی بیعت '' کے ساتھ مکمل ہو گئی، لیکن منافقوں کی پریشانی کی وجہ صرف یہی نہیں تھی کیونکہ جیسا کہ انہوں نے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رسالت کو تحمّل کیا تھا اور اس بات کا انتظار کیا تھا کہ انکے بعد اپنی کارروائی کا آغاز کریں ؛ بالکل اسی طرح امام علی ـ کی جان کے لئے بھی سازشیں کر رکھی تھیں وہ انکی ولایت کو بھی تحمّل کر سکتے تھے ،یہاں مسئلہ کچھ اور تھا :
غدیر کے دن نہ صرف یہ کہ امامت و ولایت امام علی ـ کا اعلان ہو ابلکہ امت مسلمہ کی تا وقت ظہور حضرت مہدی ـ اور زمانۂ رجعت و قیامت امامت کو ذکر کیا گیا اور لوگوں سے اعتراف اور بیعت طلب کی گئی،جناب رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
(مَعٰاشِرَ النّٰاسِ!اِنَّکُمْ َکْثَرُمِنْ َنْ تُصٰافِقُوْنی بِکَفٍ واحِدٍفی وَقْتٍ وَاحِدٍ قَدْ اَمَرَنِیْ ﷲ عَزَّ وَجَلَّ اَنْ اٰخُذَ مِنْ اَلْسِنَتِکُم الْا ِقْرٰارَ بِمٰا عَقَّدْ تُ لِعَلِیٍّ اَمیْرِالْمُؤْمِنیْنَ وَلِمَن جٰائَ بَعْدَ ه ُ مِنَ الْاَئِمّةِ مِنّیْ وَ مِنْ ه ُ عَلیٰ ماَعلَمْتُکُمْ اَنَّ ذُرِّیَّتیْ مِنْ صُلْبِ ه ، فَقُوْلُوابِاَجْمَعِکُم انّا سٰامِعُونَ مُطِیْعُوْنَ رٰاضُوْنَ مُنْقٰادُوْنَ لِمٰا بَلَّغْتَ عَنْ رَبِّنٰا ، وَرَبِّک فیْ اَمْرِ ِمٰا مِنٰا عَلیٍّ اَمیْرِ الْمُؤْمِنیْنَـ وَمَنْ وُلِدَتْ مِنْ صُلْبِ ه مِن الْاَئِمَّةِ ، نُبٰایِعُکَ عَلیٰ ذٰلِکَ بِقُلُوْبِنا وَانْفُسِنٰاوَاَلْسِنَتِنٰا،وَ اَیْدیْنٰا،عَلیٰ ذٰلِکَ نَحْییٰ،وَعَلَیْ ه ِ نَمُوْتُ،وَعَلَیْ ه ِ نُبْعَثُ،وَلا نُغَیِّرُ،وَلاَ نُبَدِّل ولانَشُکُّ وَلاَنَجْحَدُ وَلاَنَرْتٰاب وَلاَنَرْجِعُ عَن الْعَ ه ْدِ وَلاَ نَنْقُض الْمیْثٰاقَ و َعَظْتَنٰا بِوَعْظِ ﷲ فیْ عَلِیّ ا َمیْرَالْمُؤْمِنیْنَ،وَالْاَئِمَّةِ الَّذیْنَ ذَکَرْت مِنْ ذُرِّیَّتِکَ مِنْ وُلْدِ ه ،بَعْدَ ه ُ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ وَمَنْ نَصَبَ ه ُ ﷲ ُبعْدَ ه ُمٰا فَالْعَ ه ْدُ وَالْمیْثٰاقُ لَ ه ُمْ مَْخُوْذمِنّٰا،مِنْ قُلُوْبِنٰا وَاَنْفُسِنٰا وَاَلْسِنَتِنٰا وضَمٰایِرِنٰا وَا یْدیْنٰا مَنْ اَدْرَکَ ه ٰا بِ ي َدِ ه وَ اِلَّا فَقَدْ اَقَرَّ بِلِسٰانِ ه وَلاَ نَبْتَغی بِذٰلِکَ بَدَلاً وَلاَ یَرَی ﷲ ُمِنْ اَنْفُسِنٰا حِوَلاً،نَحْنُ نُؤَدِّیْ ذٰلِکَ عَنْک الدّٰانیْ وَالْقٰاصی مِنْ اَوْلاَدِنٰا و َاَحٰال ي ْنٰا وَ نُشْ ه َدُ ﷲ بِذٰلِک وَکَفیٰ بِاﷲ ِشَ ه یْداً وَاَنْتَ عَلَیْنٰا بِ ه شَ هي ْد )
( اے مسلمانوں ! تمہاری تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کہ تم لوگ خود اپنے ہاتھوں سے اس تپتے ہوئے صحرا میں میرے ہاتھ پر بیعت کر سکو پس خدا وند عالم کی جانب سے مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تم لوگوں سے ولایت علی ـ اور انکے بعد آنے والے اماموں کی امامت ]جو کہ میری اور علی ـ کی اولاد میں سے ہیں [کے بارے میں اقرار لے لوں اور میں تم لوگوں کو اس بات سے آگاہ کر چکا ہوں میر ے فر زندعلی ـ کے ُصلب سے ہیں،پس تم سب لوگ کہو کہ :
( یارسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم ہم آپکا فرمان سن رہے ہیں اور اسکو تسلیم کرتے ہیں ،اس پر راضی ہیں ، اور آپکے اِس حکم کی اطاعت کرتے ہیں جو کہ خدا وند عالم کی طرف سے آپ نے ہم تک پہنچایا جو ہمارا رب ہے ، ہم اس پیمان پرجو کہ حضرت علی ـ کی ولایت اور ان کے بیٹوں کی ولایت کے سلسلے میں ہے اپنے جان و دل کے ساتھ اپنی زبان اور ہاتھوں کے ذریعہ آپکی بیعت کرتے ہیں اس بیعت پر زندہ رہیں گے ، مر جائیں گے اور اٹھائے جائیں گے اس میں کسی قسم کی تبدیلی و تغییر نہ کریں گے ، اس میں کسی قسم کا شک و تردید نہیں کرتے اور اس سے رو گردانی نہیں کریں گے ، اور اس عہد و پیمان کو نہیں توڑیں گے خدا وند عالم اور آپکی اطاعت کرتے ہیں اور علی امیر المؤمنین ـ اورانکے بیٹوں کی اطاعت کریں گے کیونکہ یہ سب امت کے امام ہیں وہ امام جنکا آپنے تذکرہ کیا ہے آپکی اولاد میں سے ہیں
اور حضر ت علی ـ کے صلب سے امام حسن ـاورامام حسین ـ کے بعد آنے والے ہیں حسن اور حسین علیہما السلام؛ کے اپنے نزدیک مقام کے بارے میں پہلے تمہیں آگاہ کر چکا ہوں ، خدا وند عالم کے نزدیک انکی قدرو منزلت کا تذکرہ کر چکا ہوںاور امانت تم لوگوں کو دے دی یعنی کہہ دیا کہ یہ دو بزرگوار ہستیاں جوانان جنّت کے سردار ہیں اور میرے اور علی ـ کے بعد امّت مسلمہ کے امام ہیں تم سب مل کر کہو : حضرت علی ـ کی( ہم اس حکم میں خدا کی اطاعت کرتے ہیں ؛اور اے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم آپکی ، حسنین علیہما السلام کی اور انکے بعد آنے والے اماموں کی اطاعت کرتے ہیں کہ جن کی امامت کا آپ نے تذکرہ کیا اور ہم سے عہد و پیمان لیا ہمارے دل و جان ، زبان اور ہاتھ سے بیعت لی جو آپکے قریب تھے ؛ یا زبان سے اقرار لیا ، اس عہد و پیمان میں تبدیلی نہ کریں گے اور خدا وند عالم کو اس پر گواہ بناتے ہیں جو گواہی کے لئے کافی ہے
اور اے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم !آپ ہمارے اس پیمان پر گواہ ہیں ، ہر مؤمن ِپیروکار ظاہری یا مخفی ، فرشتگان خدا ، خدا کے بندے اور خدا ان سب لوگوں کا گواہ ہے۔( ۱ )
یعنی روز غدیر سے لے کر دنیا کے اختتام تک غدیر سے لحظۂ قیامت تک امت مسلمہ کی امامت خاندان پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اور علی ـ میں قرار پائی تمام َئمّہ معصومین علیہم السّلام حضرت علی ـکی اولاد میں سے ہیں جنہیں امّت مسلمہ کی امامت و ولایت کوتا قیام قیامت اپنے ہاتھ میں رکھنا ہے ۔
رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جہاں بھی حضرت امیر المؤمنین ـ کی ولایت و امامت کا اعلان کیا دیگر ائمہ اور آخری امام حضرت مہدی ـ کی ولایت کا اعلان بھی اسکے ساتھ کیا، لہٰذا حضرت علی ـ کی ولایت بھی ذکر ہوگئی اور عترت کی ولایت بھی بیان کر دی گئی اور ساتھ ہی حضرت مہدی عجل ﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف کی ولایت بھی معرض عام ہوئی۔
____________________
(۱)۔ غدیر کے دن کارسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے معروف خطبے میں سے کچھ حصّہ :
پھر تمام ائمہ معصومین علیہم السّلام کے لیے'سب لوگوں کے اعتراف ' کے ساتھ ساتھ سب سے بیعت لی گئی غدیر کے دن ولایت کا پیغام بھی تھا اور امامت و ولایت کی تعیین بھی، غدیر کے دن ولایت کا پیغام بھی تھا اور سلسلہ امامت و ولایت کے لئے عمو می بیعت بھی پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعدآنے والی امامت بھی ذکرہوئی اور اس کا تا قیام قیامت تسلسل بھی اب کونسا ابہام باقی رہ گیا تھا جو مسلمانوں کی صفوں میں گھسے ہوئے منافقوں کیلئے شک و شبہ کی گنجائش فراہم کرتا ؟
اب کونسی خالی جگہ باقی تھی کہ حکومت کے پیاسے اپنے قدم رکھنے کی جگہ پاتے ؟ یہی وجہ تھی کہ ان کے سینوں میں بغض و حسد کی آگ بھڑک اٹھی اور دست بشمشیر ہو گئے۔
۳۔ اہلبیت علیھم السلام کی مظلومیت کے اسباب :
اگرچہ مخالفین اورمنافقین رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں باوجود فکری اورسیاسی پروپیگنڈے کر کے مسلمانوں کے درمیان کامیابی حاصل نہ کرسکے تاکہ اپنی سازشوں کو عملی جامہ پہنا سکیں ، لیکن آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات کے بعد جو بھی سازش کر سکتے تھے کی جب جناب زہرا سلام ﷲ علیہا احد میں حضرت حمزہ ـ کے مزار پر عزاداری میں مشغول تھیںتو آپ سے سوال کیا گیا :
( لوگ آپ کے اور علی ـ کے خلاف کیوں ہو گئے ہیں اور آپ کے مسلّم حق کو کیوں غصب کرلیا ہے حضرت زہرا سلام ﷲ علیہا نے جواب دیا :
'' لٰکِنَّ ه ٰا اَحْقٰاد بَدْرِیَّة وتَرات اُحُدِیَّة کٰانَتْ عَلَیْ ه ٰا قُلُوْبُ النِّفٰاق مُکْتَمِنَةً لِاِمْکٰان الْوُشٰاةِ فَلَمّٰا اِسْتَ ه ْدَفَ الَمْرُ اُرْسِلَتْ عَلَیْنٰا شٰابیْبُ الْآثٰارِ .''
(یہ سارا کینہ و حسد جنگ بدر اور جنگ احد کا انتقام ہے جو منافقوں کے دلوں میں پوشیدہ تھا اور جس دن سے انہوں نے حکومت پر غاصبانہ قبضہ کیا ہے اپنے دلوںمیں موجودکینہ اورحسد کی آگ
ہم پر برسانا شروع کردی۔)( ۱ )
انہوں نے اسکے بعد سے َئمّہ معصومین علیہم السّلام کو امامت اور رہبریت کی فرصت مہلت نہ دی، اور حضرت علی ـ کے پانچ سالہ دور حکومت کو تین جنگوں کی تحمیل کے ذریعہ خاک و خون میں ملادیا اور تاریخ کے اوّل مظلوم کے دل کا خون کر دیا ۔
جیسا کہ حضرت امیر المؤمنین ـ نے فرمایا!
'' اَمٰا وَﷲ ا ِنْ کُنْتَ لَفیْ سٰا قَتِ ه ٰاحَتّیٰ تَوَلَّتْ بِحَذَافیْرِ ه ٰا: مٰا عَجَزْتُ وَلا جَبُنْتُ ، وَاِنَّ مَسیْرِیْ ه ٰذَا لِمِثْلِ ه ٰا ؛ فَلَاَنْقُبَنَّ الْبٰاطِلَ حَتّیٰ یَخْرُجَ الْحَقُّ مِنْ جَنْبِ ه ِ مٰا لِیْ وَلِقُرَیْشٍ ! وَﷲ ِ لَقَدْ قٰا تَلْتُ ه ُمْ کٰافِریْنَ ، وَلَاُ قٰا تِلَنَّ ه ُمْ مَفْتُوْنِیْنَ وَاِنِّیْ لَصٰاحِبُ ه ُمْ بِالْاَمْسِ کَمٰا اَنٰا صٰاحِبُ ه ُمُ الْیَوْم وَﷲ ِمٰا تَنْقِمُ مِنّٰا قُرَیْش ِلاَّ َنَّ ﷲ َأخْتٰارَنٰا عَلَیْ ه ِمْ ،فَاَدْخَلْنٰا ه ُمْ فِیْ حَیَّزِنٰا ، فَکٰانُوْ ا کَمٰا قٰالَ الْاَوَّلُ :
اَدَمْتَ لَعَمْرِیْ شُرْبَکَ الْمَحْضَ صَابِحاً
وَ َ کْلَکَ بِالزُّ بْاْدِ ا لْمُقَشَّرَةَ ا لْبُجْرَا
وَ نَحْنُ وَ ه َبْنٰاکَ الْعَلَا ئَ وَ لَمْ تَکُنْ
عَلِیّاً ، وَحُطْنٰا حَوْلَکَ الْجُرْدَ وَالسُّمْرَا
____________________
( ۱)۔ بحار الانوار ، ج ۴۳، ص ۱۵۶ اور مناقب ابن شہرآشوب ، ج ۲ ،ص ۲۰۵
آگاہ ہو جاو! کہ بخدا قسم میں اس صورت حال کا تبدیل کرنے والوں میں شامل تھا یہاں تک کہ حالات مکمل طور پر تبدیل ہوگئے اور میں نہ کمزور ہوا اور نہ خوف زدہ ہوا اور آج بھی میرا یہ سفر ویسے ہی مقاصد کے لئے ہے میں باطل کے شکم کو چاک کر کے ا س کے پہلو سے وہ حق نکال لوں گا جسے اس نے مظالم کی تہوں میں چھپا دیا ہے ،میرا قریش سے کیا تعلق ہے میں نے کل ان سے کفر کی بنا پر جہا د کیا تھا اور آج فتنہ اور گمراہی کی بنا پرجہاد کروں گا میں ان کا پرانا مد مقابل ہوں ، اور آج بھی ان کے مقا بلہ پر تیار ہوں ۔
خدا کی قسم قر یش کو ہم سے کوئی عداوت نہیں مگر یہ کہ پرور دگار نے ہمیں منتخب قرار دیا اور ہم نے ان کو اپنی جماعت میں داخل کرنا چاہا تو وہ ان اشعار کے مصدا ق ہو گئے ۔( ۱ )
ہماری جان کی قسم یہ شرا ب ناب صبا ح یہ چرب چرب غذائیں ہمارا صدقہ ہے
ہمیں نے تم کو یہ سا ری بلندیاں دی ہیں وگرنہ تیغ و سناں بس ہمارا حصہ ہے
اور انکے بعد جلّاد صفت ،حکومت کے طلبگار بنی امیّہ نے پھرانکے بعد بنی عبّاس نے جو بھی ظلم کرنا چاہا کیاتمام ائمہ علیہم السّلام کویا زہر دے کر یا شمشیر کے ذریعہ شہید کر دیا، وہ یہ سمجھتے تھے کہ طاقت و تلوار انکے پاس ہے اس لئے حاکم ہیں ، لیکن یہ انکی خام خیالی تھی اور وہ مسلمانوں کے دلوں کو نہ جیت سکے اس کے اہلبیت ـ کا وجود دنیا میں موجود تھا ۔
اَولادِ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاک و اطہر خون کی برکت سے خدا وند عالم کے دین کامل کو بقا حاصل ہوئی، خون شہیداں رائیگاں نہ جائے گا، جب تک خون باقی ہے اسکی برکت بھی باقی ہے ۔
____________________
(ا)۔سناد و مدارک مندرجہ ذیل ہیں :
۱۔ کتاب ارشاد ، ص ۱۱۷/۱۵۴ : شیخ مفید استاد سیّد رضی ( متوفّیٰ ۴۱۳ ھ )۲۔ کتاب الخصائص ، ص ۷۰ : نسائی ( متوفّیٰ ۳۰۳ ھ )
۳۔ خصائص الائمہ : سیّد رضی ( متوفّیٰ ۴۰۶ ھ )۴۔ شرح قطب راوندی ، ج ۱ ص ،۲۸ : ابن راوندی ( متوفّیٰ ۵۷۳ ھ )
۵۔ نہج البلاغہ ، نسخۂ خطی ، ص ۲۸ : نوشتۂ ابن مؤدّب ( ۴۹۹ ھ )
۶۔ نہج البلاغہ ، نسخۂ خطی ،ص ۳۰ : نوشتۂ ( ۴۲۱ ھ )
۷۔ بحار الانوار ، ج ۳۲ ،ص ۷۶/۱۱۴ : مرحوم علّامہ مجلسی ( متوفّیٰ ۱۱۱۰ ھ )
۸۔ بحار الانوار ، ج ۱۸ ، ص ۲۲۶ : مرحوم علّامہ مجلسی ( متوفّیٰ ۱۱۱۰ ھ )
چھٹی فصل
حجّة الوداع اور غدیر کے موقع پر پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کا خطبہ
۱ ۔ شناخت خدا :
شروع ﷲ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔
تمام تعریفیں اس خدا کے لئے مخصوص ہیں جو اپنی وحدانیت میں بلند، یکتائی میں اکیلا، اپنی سلطنت اور قدرت میں بالا تر ہے ، اسکی قدرت کے ستون محکم اور استوار ہیں ،اسکاعلم ہر چیز کو شامل ہے ، اور ہر جگہ موجود ہے ، اور ہر موجود پر اپنی قدرت اور حجّت کے ساتھ حاوی ہے ،وہ ہمیشہ سے عظیم ہے ،اور ہمیشہ صاحب و لائق تعریف ہے ، وہ بلندیوں کو وجود بخشنے والا ہے ۔
اور زمین کے فرش کو بچھا نے والاہے زمین آسمان کا حاکم پاک ومقدس اور وہی روح او ر فرشتوںکا پروردگار ہے اسکی بخشش اور عطاء ہر موجود کو شامل ہے ، اور سب کے لئے فراوان اور وسیع ہے، تمام دیکھنے والوں کو دیکھتاہے ، اور کوئی آنکھ بھی اسکو نہیں دیکھ سکتی۔
وہ ایسا بخشنے والا اور غفور ہے جسکی رحمت کا سایہ سب کے سروں پر ہے ، اور جس نے سب پر اپنی عطائے نعمت کے سبب احسان کیا ہے ،گنہگاروں کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا ،اور مستحقین عذاب کو عذاب دینے میں جلدی سے کام نہیں لیتا، خدا ہر شی پر احاطہ کئے ہوئے ہے اور ہر شی پر قدرت رکھتا ہے ، اسکا مثل کوئی نہیں ہے ، اس نے ہر لا وجودشی کو وجود بخشا۔
وہ خدا جسکی حکومت عدالت پر استوار ہے ، اسکے سوا کوئی خدا نہیں وہ صاحب قدرت اور دانا ہے وہ آنکھوں کی بصارت سے بالا تر ہے ، لیکن وہ ہر شی کو دیکھتا ہے ، وہ مہربان ہے او ر ہر چیز سے آگاہ ہے ، کوئی بھی اسکی حقیقی صفات کا مشاہدہ نہیں کر سکتا اور اسکے ظاہر و باطن کے بار ے میں کچھ نہیں جانتا مگر ان چیزوں کے سا تھ جو اس نے اپنی شناخت کے لئے خود بیان فرمائیں ہیں میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ ایسا خدا ہے جسکے نور اور پاکیزگی نے زمانے کو پرُ کیا ،
اور ا س کا نور ہمیشہ سے ہمیشہ تک ہے ، اسکا حکم بغیر کسی مشورے کے جاری ہوتا ہے اورموجودات کی خلقت میںاسکا کوئی شریک نہیں ہے ، اسکی تدبیر میں کوئی تبدیلی نہیں ، ا س نے بغیر کسی نمونے کے اشیا کو صورت بخشی ، اور دوسروں کی مدد کے بغیر خلق کیا ، جس چیز کو بھی ا س نے چاہا خلق کردیا اور ظاہر کردیا۔
وہ ایسا خدا ہے جسکا کوئی ثانی نہیں ہے ، اسکی بنائی ہوئی ہر شی مستحکم ہے ، اور خوبصورتی میں اسکی کوئی مثال نہیں ہے وہ ایسا عادل خدا ہے جو ستم نہیں کرتا ، اور ایسا صاحب کرامت ہے کہ ہر چیز کی بازگشت اسکی جانب ہے ۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہر چیز اس کی قدرت کے سامنے جھکی ہوئی ہے اور اس کے خوف وہیبت سے ہر چیز ہراساں ہے ۔
خدا تمام مملکتوں کا مالک ہے ، اور آسمانوں کو اپنی جگہ ٹہرائے ہوئے ہے ، اور چاند و سورج کو ان کے محور پر چلانے والا ہے اور یہ اپنے معینہ راستے سے ہٹتے نہیں ،رات کو دن میں اور دن کو رات میں پے در پے لانے والا ہے وہ ہر جابر و ظالم کے غرور کو توڑنے والااور ہر غارت گر اور تباہی مچانے والے شیطان کو نابود کرنے والا ہے ۔
خدا کا کوئی دشمن اور شریک نہیں ہے وہ اکیلا ہے اور ہر شی سے نیاز ہے ، نہ ہی وہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ ہی اسکی کوئی اولاد ہے ،اور اسکی ہمسری اور برابری کرنے والی کوئی شی نہیں ہے وہ خدا یگانہ اور بزرگوار ہے ، جس چیز کاارادہ کرے وجود میں آجاتی ہے وہ جاننے والا اور شمار کرنے والا ہے ، اوروہ مارنے اور زندہ کرنے والا ہے ، اور فقر و غنیٰ دینے والا ہے ، وہ ہنساتا اور رُلاتا ہے ، قریب اور دور کرتا ہے ، روکنے اور دینے والا ہے ، وہ لائق بادشاہی ہے ، اور تمام تعریفیں اس ہی کے لئے مخصوص ہیں ، نیکیاں اسکے ہاتھ ہیں اور وہ ہر شی پر قادر ہے رات کو دن ارور دن کو رات میں تبدیل
کرنے والا ہے ، اسکے سوا کوئی خدا نہیں ہے جو صاحب عزّت اور مغفرت کرنے والا ہے ، دعائوں کو برلانے والا ہے جزا دینے والاہے ، سانسوں کا شمارکرنے والا ہے اور جنوںاور انسانوں کا پروردگار ہے اسکے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے رونے والوں کے نالے اسکا کچھ نہیں بگاڑ سکتے،اور گڑگڑانے والوں کا گڑگڑانا اس پر اثر انداز نہیں ہوتا ، وہ نیکی کرنے والوں کا محافظ اور ہدایت یافتہ کو کامیاب کرنے والاہے ، وہ مومنین کا مولا اور دونوں جہان کا رب ہے وہ ایسا خدا ہے جس کا ہر مخلوق شکر ادا کرتی ہے، وہ ہر حال میںخوشی وغمی ، سختی وآسانی میں لائق تعریف ہے ۔
۲ ۔ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ایمان اور خدا کی طرف جھکاؤ :
میں خدا ،فرشتوں، آسمانی کتابوں ، اور اپنے سے پہلے پیغمبروں کی رسالت پر ایمان رکھتا ہوں ،میں خدا کے حکم کومانتا ، اور ہر اس حکم کی اطاعت کرتا ہوں جو اسکی خوشنودی کا باعث ہو ، اس کو بجالانے میں جلدی کرتا ہوں ، اسکی رضا کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہوں ،کیونکہ میں اطاعت کا مشتاق او ر اسکے عذاب سے خو فزدہ ہوں ، اس لئے کہ وہ ایسا خدا ہے جسکے سامنے کسی کا حیلہ کارگر نہیں ،اور سب اسکے ستم سے محفوظ ہیں میں اس کے لائق عبادت ہونے کا اعتراف کرتا ہوں ، اور اسکی ربوبیت وپرورد گاری کا شاہد ہوں اس نے جو مجھ پر وحی بھیجی ہے اس کو انجام دوں گا ، کیونکہ اگر انجام نہ دوں تو اس کے عذاب کا خوف ہے ، اور جس عذاب سے کوئی چھٹکارا دلانے والا نہیں ،چاہے کتنا ہی بڑا مفکّر اوراندیشمند ہی کیوں نہ ہو ۔
۳۔ حضرت علی ـ کی ولایت کا اعلان :
اسکے سوا کوئی خدا نہیں ہے ، اس نے مجھ سے فرمایا ہے کہ جو کچھ ا س نے مجھ پر نازل فرمایا ہے اگر تم لوگوں تک نہ پہنچاؤں تو گویا میں نے وظیفۂ رسالت کو انجام نہیں دیا ، پھر ا س نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ شرّ دشمنان سے مجھے محفوظ رکھے گا ، وہ ہے خدا مہربان کفایت کرنے والا ،تو اس نے مجھ پر یوں وحی نازل فرمائی ہے ۔
خدا کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے ،
اے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم !جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے علی ـ کے بارے میں نازل ہو ا ہے اس کو پہنچا دو، اگر تم نے یہ پیغام نہ پہنچایا تو گویا اس کی رسالت کا کوئی پیغام نہیں پہنچایا اور تم ڈرو نہیں خدا تم کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔
اے لوگو میں نے اب تک جو کچھ مجھ پر نازل ہوا اسکی تبلیغ میں کوتاہی نہیں کی ہے ،اور ابھی جواس آیت کے توسط سے مجھ پر نازل ہوا ہے اس کو تم تک پہنچا نے ولا ہوں جبکہ یہ آیت نازل ہو چکی ہے ایک حقیقت تم لوگوں کے سامنے واضح اور آشکار طور پر کہوںگا۔
حقیقت میں جبرئیل ـ تین بارمجھ پر نازل ہوا اور خدا کا سلام پہنچایا ،اور یہ پیغام لایا کہ اس سر زمین ''غدیر خم '' پر توقّف کروں اور تمہارے سیاہ سفید کو بیان کروں ! حضرت علی ابن ابی طالب ـ میرے بعد میرے وصیّ اور جانشین اور تم لوگوں کے امام ہیں ،اس کی نسبت میرے ساتھ ایسی ہے جیسی ہارون کی موسیٰ پیغمبر کے ساتھ تھی ، فرق صرف یہ ہے کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا ، خدا اور رسول کے بعد علی ـ تمہارے رہبر اور امام ہیں ، اور خدا وندعالم نے اپنی کتاب قرآن مجید میں یہ آیت علی ـ کی ولایت کے بارے میں مجھ پر ناز ل کی ہے
بتحقیق تمہارا رہبر اور سرپرست خدا اور اسکا رسول ،اور وہ مومنین جو پابندی سے نماز ادا کرتے ہین ، اور حالت رکوع میںزکواة دیتے ہیں ۔( سورہ مائدہ ایت ۵۵ )
اور حضرت علی ابن ابی طالب ـ نے نماز قائم کی اور حالت رکوع میں ز کواة دی ، اور خدا بزرگ اور بر تر کا ہر حال میں شکر ادا کیا ۔
۴۔ حضرت علی ـ کے لئے بیعت لینے میں پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی احتیا ط کے اسباب :
میں نے جبرئیل سے اس بات کی درخواست کی کہ خدا سے اس حکم کی بجاآوری کے لئے معافی طلب کرے کیونکہ میں اس بات سے ا چھی طرح واقف ہو ں کہ ! تمہارے درمیان پرہیز گار بہت کم اور منافق بہت زیادہ ہیں ،گنہگار، حیلہ گر اور اسلام کا مذاق اڑانے والے بہت زیادہ ہیں ، وہ لوگ کہ جن کی شناخت قرآن میں خود خدا نے یوں کروا ئی ہے :
( اپنی زبانوں سے وہ جو کچھ کہتے ہیں ا ن کے د ل میں نہیں ہے ، اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ دوغلا پن کوئی بہت سادہ سی بات ہے،حالانکہ پروردگار کے نزدیک بہت بڑی ہے ۔)
اور بہت ساری آزار اور تکلیفیں ہیںمنافقوں کی طرف سے جنہوں نے ہمیشہ مجھے تکلیف پہنچائی ہے ، یہاں تک کہ انہوں نے میرا نام ''گوش '' رکھ دیا ، یہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ دوسرے کہتے ہیں میں سنتا ہوں کیونکہ انہوں نے یہ دیکھا ہے کہ میں ہمیشہ علی ـ کے ساتھ ہوں اور میں انکی اور انکے نظریّات کی طرف توجّہ دیتا ہوں، یہاں تک کہ خدا وند عالم نے انکی اس اہانت کا جواب دینے کے لئے قرآن مجید میں یہ آیت نازل کی ۔ ( سورہ توبہ آیت ۶۱)
ان میںسے بعض نے پیغمبر کو ستایا اور کہا کہ وہ گوش(کان) ہیں ، اے رسول تم کہدو کان تو ہیں مگر تمہاری بھلائی سننے کے کان ہیں اور خدا پر ایمان اور مومنین کی باتوں پر یقین رکھتے ہیں ۔
اگر میں ابھی چاہوں تو منافقوں کا نام و نشان کے ساتھ تعارف کروا دوں ،یا انگلی سے ان کی طرف اشارہ کردوں ،لیکن خدا کی قسم انکے سلسلے میں ،میں بزرگواری سے کام لے رہا ہوں اور ا ن کو رسوا نہیں کرونگا ، ان تمام باتوں کے باوجود خدا وند عالم مجھ سے اس وقت تک خشنود نہیں ہوگا جب تک میںاس کی طرف سے نازل کئے گئے پیغام کو تم تک نہ پہنچادوں ،اس نے فرمایا ہے کہ ( اے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم !جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہو ا ہے اس کو پہنچا دو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو سمجھ لو تم نے اس کا کوئی پیغام نہیں پہنچا یا اور تم ڈرو نہیں ، خدا تمہیں لوگوں کے شر سے محفوظ ر کھے گا ۔)
۵ ۔ ائمہ معصومین (ع) کی اما مت کا تعارف:
اے لوگو ! جان لو کہ خدا وند عالم نے علی ـ کو تمہارا سرپرست،ولی ، پیشوا اور امام مقرّر کر دیا ہے ؛ انکی اطاعت تمام مہاجرین و انصار ، اسلام کے نیک پیرو کاروں،ہر شہری اور دیہاتی ، عرب وعجم ، آزاد و غلام ، چھوٹے بڑے ، کالے گورے ،اور خدا وند عالم کی عبادت کرنے والے تمام لوگوںپر واجب ہے ، اس کا حکم مانا جانا چاہیے، اس کا ہر کلام و سخن مناسب ہے ، اسکے ہر دستو ر کی اطاعت واجب ہے ، جو اسکی مخالفت کرے اس پر لعنت ہے ، اور جو ا س کے فرمان کی اطاعت کرے ا س کی بخشش ہے ، اس کی تصدیق کرنے والا مومن اور تکذ یب کرنے والا کافر ہے ، ہر وہ شخص جو علی ـ کی بات سنے اور ا س کی اطاعت کرے خدا ا س کو بخش دے گا ۔
اے لوگو!یہ وہ آخری مقام ہے کہ جہاں میں تمہارے درمیان کھڑے ہو کر بات کر رہا ہوں، اس لئے میری بات اچھی طرح سن لو اور اس پر عمل کرو،اور اپنے پروردگارکی اطاعت کرو وہی خدا تمہارا پرودگا ر معبود اور سر پرست اور اس کے بعد اس کا نبی میں محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم جو ابھی
تمہارے درمیان کھڑا بات کررہا ہوں تمہارا سر پرست ہوں ، پھر میرے بعد علی ـ خدا کے حکم سے تمہارے سر پرست اور امام ہیں اور پھر انکے بعد امامت میری اولاد میں جو کہ علی ـ سے ہوں گے قیامت تک کے لئے برقرار رہے گی ، یہاں تک کہ تم روز قیامت خدا اور اس کے رسول سے ملاقات کرو ۔
لوگو ! حلال خدا کے علاوہ کچھ بھی حلال نہیں ، اور حرام خدا کے علاوہ کچھ حرام نہیں ، اس نے مجھے حلال و حرام کے بارے میں بتایا ،اور میں نے اس علم ودانش کی بنیاد پر جو میں نے خدا وند عالم سے حاصل کیا ہے ، اسکی کتاب میں سے حلال و حرام کو تمہارے لئے واضح کر دیا ہے ۔
اے لوگو !ایسا کوئی علم نہیں ہے جسے خدا ئے منّا ن نے میرے سینے میں نہ رکھا ہو؛ ا ور میں نے یہ تمام علوم حضرت علی ـ کو تعلیم فرمائے ہیں علی ـ تمہارے امام اور پیشوا ہیں
۶ ۔ حضرت علی ـ کے سلسلے میں لوگوں کی ذمّہ داریاں:
اے لوگو! علی ـ کے سلسلے میں گمراہ نہ ہونا ، اور اس سے دوری اختیا ر نہ کرنا ، اس کی ولایت سے منحرف نہ ہوجانا وہ حق کی ھدایت کرنے والااور حق پر عمل کرنے والا ہے باطل کو نابو دکرنے والا اور باطل سے روکنے والاہے اور خدا کی راہ میں کسی برا بھلا کہنے والے کی کوئی پروا نہیں کرتا،
بتحقیق علی ـ وہ پہلا شخص ہے جو خدا اور اسکے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ایمان لایا ،علی ـ وہ شخص ہے جس نے اپنی جان کو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم پر فدا کردیا ، وہ ہمیشہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ساتھ دیا ، ایک دن ایسا تھا جب علی ـ کے سوا مردوں میںسے کوئی نہ تھا جو میرے ساتھ خدا کی عبادت کرتا ۔
اے لوگو ! علی ـ کودوسروں سے افضل اور بر تر جاننا کیونکہ خدا نے اسکو برتری دی ہے ، اور اسکی امامت و ولایت کو قبول کر نا کیونکہ خدا نے ا س کو تمہارا امام مقرّر کیا ہے ۔
اے لوگو! علی ـ خدا کی طرف سے تمہارا امام ہے اور خدا ا س کی امامت کے منکر وں کی توبہ ہر گز قبول نہیں کرے گا یہ خدا وندعالم کے لئے حتمی ہے کہ وہ منکر ولایت علی ـ کیساتھ ایسا سلوک کرے ؛اور لازمی ہے کہ وہ منکر کو عذاب دے ایسا سخت و دردناک عذاب جوہمیشہ کے لئے ہے لہٰذا ا س کی مخالفت سے بچو کیونکہ مخالفت کی سزا جہنم کی آگ ہے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں ؛ وہ آگ جو کافروں کے لئے آمادہ کی گئی ہے ۔
اے لوگو! خدا کی قسم مجھ سے پہلے آنے والے تمام نبیوں اور رسولوں نے تمیںاس بات کی بشارت دی ہے کہ میںآخری نبی ہوں ؛ میں آسمان و زمین میں موجود ہر مخلوق پر خداکی حجت ہوں لھذا جو بھی میری نبوّت میں شک کرے دوران جاہلیت کے کافروں کی طرح ایک کافر ہے اور جو بھی میرے کلام میں سے بعض میں شک کرے تو گویا اس نے میرے سارے کلام میں شک کیا ، اور میری گفتار میں شک کرنے والا آتش جہنّم میں ڈالا جائے گا۔
اے لوگو ! مجھے یہ فضیلت خدا وند عالم نے عطا کی ہے اور اس لحاظ سے مجھ پر احسان کیا ہے اور تمام تعریفیںاس خدا کے لئے ہیں جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور میں ہر حال میں اس کا شکر گزار ہوں۔
اے لوگو! علی ـ کو دوسروں سے برتر اورافضل جاننا کیونکہ وہ انسانوںمیں خواہ مرد ہو یا عورت میرے بعد سب سے افضل ہے؛ خدا وند عالم ہماری اور ہمارے اہل بیت کی برکت سے اپنے بندوں کو روزی دیتا ہے اور مخلوقات کے سلسلۂ وجود کی ضمانت دیتا ہے۔
ملعون ہے ،ملعون ہے ، مغضوب ہے ،مغضوب ہے وہ شخص جو میرے سخن کا صرف اس وجہ سے انکار کرتا ہے کہ یہ اسکی خواہشات کے منافی ہے ؛ جان لو کہ جبرئیل نے مجھے خدا کی طرف سے خبر دی ہے کہ ! جو شخص علی ـ کو دشمن رکھے ؛ اور اسکی ولا یت کو قبول نہ کرے اس پر میری لعنت
اور غضب ہے چنانچہ ہر کسی کو اس بات کی فکر ہونی چاہیے کہ وہ قیامت کے لئے کیا بھیج رہا ہے؟ لوگو خدا کی مخالفت کرنے سے ڈرو اور ثابت قدمی کے بعد گمراہی میں نہ پڑ جانا،بتحقیق جو کچھ تم کرتے ہو خدا تمہارے ہر فعل سے آگاہ ہے۔
۷۔ فضائل علی ابن ابی طالب ـ :
اے لو گو!حضرت علی ـ وہ ہیں جن کو خدا وندہ عالم نے قر آن مجید میں جنب ﷲ کے نام سے یاد کیا ہے اور فر ما یا ہے( کہ تم میںسے بعض کہنے لگے کہ ہائے ا فسوس میری اس کوتاہی پر جو میں نے خدا کا تقرب حا صل کرنے میں کی )
اے لوگو قر ا ن میں تد بر وتفکر کرو اور اس کی آیات کو سمجھنے کی کوشش کرو، محکما ت پر عمل کرو اور متشابہات کی پیروی نہ کرو، خدا کی قسم میرے بعد تمہارے لئے کوئی قرآن کی تفسیر نہیں کر سکتا مگر وہ کہ جس کا ہاتھ میں نے پکڑ کر بلند کیا ہو ۔ ( حضرت علی ـ کا ہاتھ پکڑ کر بلند کیا )
اور میں آپ کو آگاہ کر رہا ہوں، جس جس کا میں مولا اور سرپرست ہوں میرے بعد حضرت علی ـ اس اس کے مولا اور سرپرست ہیں وہ علی ـ ابو طالب کا بیٹا میرا بھائی اور جا نشین ہے اور اس کی ولایت و امامت کو خدا وند عالم نے مجھ پر نازل فرمایا ہے ۔
اے لوگو یہ علی ـ اور میرے پاک فرزند، ثقل اصغر ہیں اور قرآن مجید ثقل اکبر ہے ،یہ دونوں ایک دوسرے کی خبر دیتے ہیں اور ایک دوسرے کی تائید و تصدلق کرتے ہیں یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ روز قیامت حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں ۔
یہ خد ا وند عالم کی طر ف سے اس کی مخلوق پر امین وحاکم ہیں، آگاہ رہنا جوکچھ لازم تھا اس کی وضاحت کر دی اور اپنے مطلب ومقصد کو بیان کر دیا خدا وند عالم نے یوں بیان فرمایا تھا ، اور میں نے خدا وند عا لم کے پیغام کو تم تک پہنچا دیا ۔
اورآگاہ رہنا کہ میرے بھائی علی ـ کے سوا کو ئی امیرالمومنین نہیں ہے اور میرے بعد علی ـ کے سوا کسی کو مومنین پر حکومت کرنے کا حق نہیں ہے، اور اس وقت حضرت علی ـ کا بازو پکڑ کرآپ کو اتنا بلند کیا کہ آپ کے قدم مبارک حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ز انوں تک آگئے،اور فرمایا :
اے لوگو ! یہ علی ابن ابی طالب ـ میرے بھائی ، وصی، میرے علم کے وارث اور میری امت پر میرے خلیفہ ہیں جو کتاب خدا کی تفسیر کرنے والے اور لوگوں کو قرآن کی طر ف دعوت کرنے والے اور خوشنودی خدا کے لئے عمل کرنے والے ہیںدشمنان قرآن سے جنگ کرنے والے اور قرآن کی اطاعت کرنے والوں کو دوست رکھنے والے اورمعصیت خدا سے روکنے والے ہیں ، حضرت علی ـ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خلیفہ وجانشین مومنوں کے امیر اورہدایت کرنے والے امام ہیں اور خدا وند عالم کے حکم سے ، ناکثین( ۱ ) ، قاسطین(۲) ، ا ور مارقین(۳) ، کو قتل کرنے والے ہیں میںجو کچھ کہہ رہا ہوں یہ میرے پرور دگار کا حکم ہے ۔
اے پرورد گار اس کو دوست رکھ جو علی ـ کو دوست رکھتا ہے اور اس کے ساتھ دشمنی کر جو علی ـ کو دشمن رکھتا ہے اور جو حضرت علی ـ کی امامت کا انکار کرے اسے اپنی رحمت سے دور کر د ے ا ور جو ان کے حق کو چھینیں ان پر غضب ناک ہو جا ۔
پروردگار تو نے یہ فرمان مجھ پر نازل کیا ہے اور امت کی رہبریت کو میرے بعد حضرت علی
____________________
(۱) ۔ ناکثین سے مراد اصحاب جمل ہیں جنہوں نے حضرت علی ـ کی بیعت کرنے کے بعد پیمان شکنی کی ۔
( ۲ ) ۔ قاسطین سے مراد معاویہ اور اس کے طرف دار ہیں جنہوں نے جنگ صفین میں معاویہ کا سا تھ دیا تھا۔
( ۳ ) ۔مارقین سے مراد خوارج جنگ نہروان کا گروہ ہے جو دین خدا سے خارج ہو چکا تھا ۔
اور اولاد علی ـ کے ساتھ مخصوص کر دیا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں ان کی امامت و ولایت کو لوگوں میں بیان کر دوں ، اس لحاظ سے تو نے اپنے بندوں پر دین مکمل کر دیا اور ان پر اپنی نعمتیں تمام کر دیں اور دین اسلام سے راضی ہو گیا ۔
اور فرمایا :( جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کی خواہش کرے تو اس کا وہ دین ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ روز قیامت سخت گھاٹے میں رہے گا ، ) پرور د گار میں تجھ کو گواہ بنا رہا ہوں اور آپ کی گواہی میرے لئے کافی ہے کہ میں نے آپ کا فرمان پہنچا دیا۔
اے لوگو! خدا وند عالم نے تمہارے دین کو حضرت علی ـ کی امامت کے ذریعے کامل کر دیا لھذا جس نے بھی حضرت علی ـ اورآپکے بیٹوں کی امامت کا اعتراف نہ کیاتو ان کے اعمال حبط کئے جائیں گے اور ان کو ہمیشہ کے لئے جھنم میں ڈالاجائے گا اور ان کے عذاب میں کوئی تخفیف نہیں کی جائے گی اور ا ن کو کوئی مہلت دی جائے گی ۔
اے لوگو! یہ حضرت علی ابن ابی طالب ـ ہے جس نے سب سے زیادہ میری مدد کی ہے اور تم سب سے یہ میرے زیادہ نز دیک اور عزیز ہے خدا وند عالم اور اس کا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اس سے راضی و خوشنود ہیں قرآن میں جو آیت بھی خوشنودی خدا پر دلا لت کرتی ہے وہ حضرت علی ـ کی شان میں ہے
اور جہاں بھی خدا وند عالم نے مومنین کو خطاب کیا سب سے پہلے اس کی نظر حضرت علی ـ پر تھی اور قرآن مجید میں جو بھی مدح و ستائش کی گئی وہ حضرت علی ـ کی خا طر ہے اور سورہ ، ھل اتی علی الاانسان ، میں جس بہشت کا ذکر کیا گیا وہ حضرت علی ـ کے لئے ہے ، اور سورہ حضرت علی ـ کے سواکسی کے بارے میں نازل نہیں کی گئی اور اس میں حضرت علی ـ کے علاوہ کسی کی مدح و ثنا نہیں کی گئی ،
اے لو گو ! حضرت علی ـ دین خدا کی مدد کرنے والے اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حمایت کرنے والے ہیں اور وہ پاک وپاکیزہ پرہیز گار وہدایت کرنے والے ہیں تمہارا پیغمبر بہترین پیغمبر ۔ تمہارا امام بہترین امام ، اوراس کے بیٹے بہترین جا نشین الٰہی ہیں ۔
ائے لوگو! تمام پیغمبروں کی ذریت ونسل ان کے صلب سے ہیں لیکن میری ذریت و نسل حضرت علی ـ سے ہو گی ۔
اے لوگو !وہی شیطان جس نے حضرت آدم ـ کو حسد کی و جہ سے جنت سے نکلنے پر مجبور کر دیا، تم حضرت علی ـ سے حسد نہ کرنا گرنہ تمہارے اعمال حبط ہوجائیں گے اور تمہارے قدم ڈ گمگا جائیں گے وہ حضرت آدم ـ جو پیغمبر خدا تھے ایک ترک اولی کی وجہ سے زمین پر اتار دے گئے پس تمہارا کیا حال ہو گا ؟ تمہارے درمیان تو دشمن خدا بھی موجود ہیں ۔
اے لوگو! شقی وبدبخت کے علاوہ کوئی بھی علی ـ سے دشمنی نہیں کرے اور جو پرہیز گار ہو گا وہ علی ـ کو دوست رکھے گا ا و ر مومن مخلص کے علاوہ کوئی علی ـ پر ایمان نہیں لائے گا اور خدا کی قسم ، سورہ و ا لعصر ، حضرت علی ـ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔
خدا کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بڑا مہر بان نہایت رحم کرنے والا ہے زمانہ کی قسم ا نسان گھاٹے میں ہیں ، مگر جو لوگ ایمان لا ئے ا ور اچھے عمل کرتے رہے اور آپس میں حق کا حکم اور صبر کی وصیت کرتے رہے ۔
آگا ہ ہو جائو علی ـ وہ ہیں جو ایمان لائے اور رضایت خدا وندعالم پر راضی رہے اور صبر کیا اے لوگو میں خدا وند عالم کو گو اہ بنا کر یہ کہہ رہا ہوں کہ میں نے اپنی رسالت تم تک پہنچا دی اور رسول خدا کا کام صرف حکم کو پہنچا نا ہے ۔
اے لوگو خدا کا تقویٰ اختیار کرو جیسے تقوی کا حق ہے ، اور جب بھی مرنا تو دین اسلام پر مرنا۔
اے لوگو! خدا اس کے رسول اور وہ نور جو اس کے سا تھ نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان لے آئو قبل اس کے کہ تمہارے چہرے نابو د ہو جائیں یا دین اسلام سے منصرف ہو جا ئو ۔
اے لوگو! خدا وند عالم کی طرف سے میرے اند ر نور موجود ہے جو میرے بعد حضرت علی ـ میں ہو گا اورا ن کے بعد ان کے بیٹو ں میں حضرت مھدی ـ تک موجود رہے گا اور وہ مھدی ـ وہ ہوں گے جو ہمارے اور خد ا وند عا لم کے حق کو دنیا میں نا فذ کریں گے ، اور خدا وند عالم نے ہمیں تمام مقصرین ، دشمنوں ، مخالفوں ، خیانت کاروں ، گناہ کاروں ، اور ظالموں پر قیامت تک کے لئے حجت قرار دیا ہے ۔
۸ ۔ مخالفتوں کا بچائو :
اے لوگو! میں تمہیں ہوشیار کرتا ہوں کہ میں خدا کا رسول بنا کر تمہاری جانب بھیجا گیا ہوں اور مجھ سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر آے اگر میں مر جاؤں یا قتل کر دیا جاؤں تو تم زمانۂ جاہلیت کی طرف پلٹ جا ؤ گے؟ اور جو پلٹ جائے تو اس میں خدا کا کو ئی نقصان نہیں ہے خدا شکر گزاروں کو بہت جلد قیامت میں پاداش دے گا آگا ہ رہنا کہ علی ـ صبر و شکر گزاری میں معروف ہے اور ا س کے بعد میرے فرزند (جو علی ـ کے صلب سے ہیں ) بھی ایسے ہی ہو نگے ۔
اے لوگو! اپنے اسلام قبول کرنے کی خاطر خدا پر احسان نہ جتاؤ وہ تم پر غضبناک ہو جائے گا اور تمہیں عذاب سے دچار کر دے گا بتحقیق وہ ہر خطا کا ر کی سزا ہے ۔
اے لوگو! میرے بعد فاسد رہنما آئیں گے جو لوگوں کو جہنم کی طرف لے جائیں گے اور قیامت کے دن کوئی مدد نہیں کریں گے ، اے لوگو! خدا اور اس کا رسول ان سے بیزار ہیں اے لوگو ! وہ فاسد رہنما ، انکے حواری و پیروکار اور انکے مددگار آتش جہنّم میں سب سے
نچلے مقام پر ہیں؛اور متکبّروں کے لئے کتنا برا مقام ہے، آگاہ رہنا ! وہ لوگ ایک دستاویز ( حضرت علی ـ کی امامت کی مخالفت میں ایک تحریر) لکھنے والے ہیں،( ۱ ) لھذا تم سب پر لازم ہے کہ اس شرمناک دستاویز میں غور و فکر سے کام لینا جو کچھ لوگوں کے علاوہ سب کو گمراہی کی طرف لے جائے گی۔
اے لوگو ! علی ـ اور انکے بیٹوں کی امامت کو قیامت تک کی لئے تمہارے درمیان باقی رکھ رہا ہوں ، اور میں جس چیز کے ابلاغ پر م مور تھا تم تک پہنچادی کہ ہر انسان ،حاضر غائب،شاہد اور غیر شاہد ، اور ہر اس پر جو اب تک پیدا ہوا ہے یا پیدا نہیں ہو ا سب پر حجّت تمام ہوگئی ہے ۔
لہٰذا حاضرین غائبین کو ؛ ہر باپ اپنی اولاد کو تا قیامت مسئلۂ امامت علی ـ اور ان کے بیٹوں کی امامت کے بارے میں بیان کرتے رہیں ،کیونکہ بہت جلد ی خلافت الٰہی کو بادشاہی میں تبدیل کرکے غصب کر لیںگے ؛ آگاہ رہنا ! خدا نے ولایت کا غاصبوں اور ان کے طرفداروں پر لعنت کی ہے ؛ وہ جلد ہی جن و انس کا حساب لے گا اور ان میں سے گنہگاروں پر جہنّم کی آگ برسائے گا ،وہاں کوئی ان کی مدد کرنے والا نہیں ہو گا خدا ایسا نہیں کہ برے بھلے کی تمیز کیے بغیر جس حال میں تم ہو اسی حالت پر تمہیں چھوڑ دے اور خدا ایسا بھی نہیں کہ تمیں غیب کی باتیں بتا دے ۔
اے لوگو! جس آبادی اور شھر کے لوگوں نے بھی وعدہ الہی کا انکا ر کیا خدا وند نے انہیں ہلاک کر دیا ۔
____________________
۱۔ ایک دستاویز ہے جسکو ابو سفیان اور مخالفان ولایت کی ایک جماعت نے ابو بکراور ایک گروہ سے دستخط لئے اس تحریر کا محرر سعید بن عاص تھااور انکا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے بعد کوئی خلیفہ اور جانشین مقرّر نہیں کیا۔
اور خدا نابود کردے گا ہر اس شہر اور جمیعت کو کہ جہاں کے رہنے والے ظالم ہوں ؛ جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے ؛ ای لوگو! یہ علی ـ تمہارا امام ،سرپرست اور تمہارے درمیان خدا کا وعدہ ہے؛ اور خدا نے جو وعدہ دیا ہے اسے انجام دے گا ۔
اے لوگو ! بتحقیق بہت سارے انسان ماضی میں گمراہ ہو چکے ہیں اور خدا وند عالم نے گذشتہ گمراہوں کو نابود کر دیا اور آئندہ آنے والے گمراہوں کو بھی نابود کردے گا ؛
جیسا کہ فرمایا! (آیا پہلے کے انسانوں کو ہم نے ہلاک نہیں کر دیا ؟ اور آئندہ آنے والوں کو اس ہی راستے پر نہیں چلاتے ؟ ہم گنہگاروں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں ؛ او ر اس دن جھٹلانے والوں کی مٹی خراب ہے۔
اے لوگو ! خدا وند عالم نے مجھے چند امور کا امر اور چند امور کی نہی فرمائی ہے ؛اور میں نے بھی علی ـ کو اس امر و نہی سے آشنا کردیا ہے ، لھذا علی ـ خدا کی طرف سے اوامر و نواہی کو جانتے ہیں ؛ تو تم لوگ اس کے امر کو سنو تاکہ سعادت مند ہو جاؤ ، اور اسکی پیروی کروتاکہ ہدایت یافتہ ہو، اور ہمیشہ اسکی راہ پر چلو اور تمہیں تمہاری الگ الگ راہیں کہیں علی ـ کی راہ سے جدا نہ کردیں ۔
اے لوگو !میں وہ مستقیم راستہ ہوں جسکی پیروی کاخدا وندعالم نے تمہیں حکم دیا ہے ؛ اور میرے بعد علی ـ اور اسکے بعد میرے بیٹے علی ـ کے صلب سے خدا کا مستقیم راستہ ہیں ؛وہ ایسے امام ہیں جو لوگوں کو حق کی ہد ا یت کرتے ہیں اور حق کے ذریعے عدالت قائم کرتے ہیں ، اسکے بعد ان آیات کی تلاوت فرمائی!
( شروع ﷲ کے نام سے جو بڑا مہربان اور رحم والا ہے ؛ تمام تعریفیں ﷲ کے لئے ہیں ؛جو عالمین کا رب ہے ؛ بخشنے والا اور مہربان ہے ؛ روز قیامت کا مالک ہے ، خدایا ہم تیری ہی عبادت کرتے
ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ؛ ہم کو سید ھی راہ پر ثابت قدم رکھ ان کی راہ جنھیں تو نے اپنی نعمت عطا کی ہے نہ ان کی راہ جن پر تیرا غضب ڈھایا گیا ہے اور نہ گمراہوں کی راہ ۔)
اے لوگو ! یہ سورۂ حمدمیرے ،علی ـ اور ان کے فرزند وں کی شان میں نازل ہوئی ہے اور ان کے ساتھ مخصوص ہے و ہ خدا کے دوست ہیں اور انہیں کسی کا کوئی ڈراور خوف نہیں ہے ۔
۹ ۔ علی ـ کے دوست اور دشمن :
آگاہ رہنا! خدا کی حزب کامیاب ہے آگاہ رہنا ! کہ علی ـ کے دشمن جدائی ، تفرقہ اور نفاق ڈالنے والے ہیں ؛ایک دوسرے کے دشمن ،تجاوز کرنے والے اور شیطان کے دوست ہیں ؛اور آگاہ رہنا ۔ حضرت علی ـ اور ان کے بیٹوں کے دوست وہ لوگ ہیںجن کا ذکر خدا وند نے قرآن میں یوں بیان فرمایا ہے کہ۔
اے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم ! جو لوگ خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں انکو خدا اور اس کے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دشمنوں سے دشمنی کرتے ہوئے نہیںپاؤ گے اگر چہ وہ ا ن کے اجداد ، اولاد بھائی اور خاندان کے لوگ ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ خدا نے ا ن کے دلوں میں ایمان ڈال دیاہے اورخود انکی مدد فرمائی ہے اور ا ن کو جنّت کے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔
وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے خدا ان سے راضی ہے ،اور وہ بھی اپنے خدا سے راضی ہیں وہ خدا کی جماعت (حزب) ہیں ؛ آگاہ رہنا ! خدا کا گروہ کامیاب اور سعادتمند ہے ۔)
( سورہ مجادلہ آیت /۲۲) اے لوگو آگاہ رہنا ! علی ـ اور اولاد علی ـ کے دوست وہ لوگ ہیں کہ جنکی تعریف خدا وند عالم نے کچھ اس طرح سے فرمائی ہے ( جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم وستم سے آلودہ نہیں کیا ؛ وہ خدا کے عذاب سے امان میںہیں اور ہدایت یافتہ ہیں۔( سورۂ انعام آیت/۸۲)
آگاہ ہو جاؤ! علی ـ اور اولاد علی ـ کے دوست وہ لوگ ہیں کہ جن کو خدا وند عالم نے اس طرح سے سراہا ہے کہ! ( جو لوگ جنّت میں داخل کئے جائیں گے اور امان میں ہونگے اور خدا کے فرشتوں سے اس حال میں ملاقات کریں گے کہ وہ انکا خیر مقدم کر رہے ہونگے ، اور ا ن کو ہمیشہ کے لئے جنّت کی بشارت دیں گے )
آگاہ ہو جاؤ! علی ـ اور اولاد علی ـ کے دوست وہ لوگ ہیں جن کے بارے میںخدا وند عالم نے ارشاد فرمایا ( ایسے لوگ بہشت میں د اخل ہوں گے اور وہاں انھیں بہ حساب روزی ملے گی )
آگاہ ہوجاؤ! کہ علی ـ اور اولاد علی ـ کے دشمن وہ لوگ ہیں ( جن کو دوزخ کی آگ میںڈھکیلا جائے گا)
آگاہ ہو جاؤ ! کہ علی ـ اور اولاد علی ـ کے دشمن وہ لوگ ہیں (دوزخ کی آگ کے بھڑکنے کی آوازیں سنتے ہیں ؛ وہ بھسم کرنے والے شعلوں کو دیکھتے ہیں اور دا خل ہونے والا ہر گروہ دوسرے گروہ پر لعنت و ملامت کرتا ہے ۔)
آگاہ ہو جاؤ ! کہ علی ـ اور اولاد علی ـ کے دشمن وہ لوگ ہیں جنکے بارے میں خداوند عالم نے فرمایا! ( جب انہیں دوزخ میں ڈالا جائے گا تو سوال ہوگاکہ کیا تمہارا کوئی پیغمبر نہ تھا ؟ تو جواب دیں گے تھا لیکن ہم نے اسکو جھٹلایااور کہا کہ کچھ بھی تم پر نازل نہیں ہوا ، تو حقیقت میں کافر سخت گمراہی میں پڑے ہیں ۔)
آگاہ ہو جاؤ!کہ علی ـ اور اولاد علی ـ کے دوست و ہ لوگ ہیں جو خلوت و جلوت ہر حال میں خدا سے ڈرتے ہیں اور انکے لئے مغفرت اور خدا کا بہت بڑا انعام ہے ۔
اے لوگو! ہمارے دوست اور ہمارے دشمن ہمیشہ جنّت اور دوزخ کے درمیان ہیں ،
( ہمارا دشمن وہ ہے کہ خد اجسکی سرزنش اور اس پر لعنت کرے ؛( اور ہمارا دوست وہ ہے جسکو خدا نے سراہا اور اسکو دوست رکھتاہے۔)
اے لوگو! میں ڈ را نے والا پیغمبر ہوں اور علی ـ ہدایت کرنے والا ہے ۔
۱۰۔ حضرت مہدی ( عج) کی حکومت کا تعارف :
اے لوگو ! میں پیغمبر ہوں اور علی ـ میرا جانشین ہے ، آگاہ ہو جاؤ ہمارا آخری امام حضرت مہدی قائم ـ ہے۔
آگاہ ہو جاؤ ! کہ تمام ادیان پر حاوی اور کامیاب ہو گا۔
آگاہ ہو جاؤ! وہ ستمگاروں اور ظالموں سے انتقام لے گا ۔
آگاہ ہو جاؤ! وہ شرک و فساد کے مستحکم قلعوں کے بند دروازوں کو کھولے گا اور ان کو نیست و نابود کرد ے گا۔
آگاہ ہو جاؤ !وہ مشرکوں کو چاہے وہ کسی بھی قوم و ملّت سے تعلق رکھتے ہوں نا بود کرنے والا ہے ۔
آگاہ ہو جاؤ !وہ خدا وند عالم کے دوستوں کے خون کا حسا ب لینے والا ہے ۔
آگاہ ہو جاؤ !وہ خدا کے دین کی مدد کرنے والا ہے ۔
آگاہ ہو جاؤ !وہ حقیقت کے پیاسوں کو سیراب کرنے والا ہے ۔
آگاہ ہو جاؤ !وہ ہر عالم کی فضیلت و برتری اور ہر نادان کے جہل و کم عقلی سے واقف ہے ۔
آگاہ ہو جاؤ !وہ خدا کا برگزیدہ اور اسکی طرف سے منتخب امام ہے ۔
آگاہ ہو جاؤ ! وہ ہر علم کا وارث ہے اور ا س کا علم ہر علم سے برتر اور بہتر ہے ۔
آگاہ ہو جاؤوہ خدا وند عالم کا تعارف کروانے والا اور احکام اور راہ ایمان کو روشن کرنے والا ہے۔
آگاہ ہو جاؤ ! وہ شجاع اور صحیح عمل کرنے والا ہے ۔
آگاہ ہو جاؤ ! مخلوقات کے امور ا س کو دے دئے گئے ہیں۔
آگاہ ہو جاؤ ! تمام گذشتہ انبیاء نے ا س کے ظہور کی بشارت دی ہے ۔
آگاہ ہو جاؤ ! وہ آخری حجّت خدا ہے ،اور ا س کے بعد کوئی حجّت نہیں آئے گی اور جہان میں کوئی ایسا حق نہیں جو ا س کے ساتھ نہ ہواو ر کوئی علم نہیں جو ا س کے پاس نہ ہو۔
آگاہ ہو جاؤ !کہ کوئی اس پر غالب نہیں ہو سکتا ،اور اسکے علاوہ کوئی مددگار نہیں ہے ۔
آگاہ ہو جاؤ ! وہ زمین میں خدا کا ولی ہے اور مخلوق کے درمیان اسکا قاضی ہے اور ظاہری اور باطنی اسرار و رموز خدا وند ی کا امین ہے۔
اے لوگو ! میں نے حکم خدا کو تمہارے لئے بیان کر دیا اور تم لوگوںکو سمجھا دیا ؛ اور یہ علی ـ میرے بعد تمہیں حقائق سمجھائیں گے ،۔
آگاہ ہو جاؤ ! میں اپنے خطبہ کے اختتام پر اپنے ساتھ علی ـ کی بیعت کرنے کی دعوت دوں گا اس کی بیعت کا اعتراف کرو ں گا ۔
آگاہ ہو جاؤ ! میں نے خدا کی بیعت کی ہے ،اور علی ـ نے میری بیعت کی ہے ، اور میں خدا وند عالم کی طرف سے علی ـ کے لئے تم لوگوں سے بیعت لو ں گا جو بھی عہد شکنی کرے گویا اسنے اپنے آپ پہ ستم کیا ہے، کیونکہ خد ا وندے عالم فرماتا ہے جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا ہی سے بیعت کرتے ہیں خدا کی قوت و قدرت سب کی قوت پر غالب ہے تو جو عہد کو توڑے گا تو اپنے نقصا ن کے لئے عہد توڑتا ہے اور جس نے اپنے عہد کو پورا کیا تو اس کو عنقریب خداوند عالم اجر عظیم عطا فرمائے گا ۔ (سورۂ فتح آیت/۱۰)
۱۱۔ حج کی اہمیت اور احکام الٰہی :
بتحقیق حجّ و عمرہ شعائر خدا وندی میںسے ہیں ،جو بھی حج و عمرہ کا قصد رکھتا ہے، وہ صفا و مروہ کے درمیان طواف کر سکتا ہے جو اعمال صالح انجام دے گا خدا اسکو جزا دینے والا اور اسکے عمل سے آگاہ ہے ۔
اے لوگو! خانۂ کعبہ کی زیارت کے لئے جاؤ جو گھرانا بھی مکّہ میں داخل ہو خدا اسے غنی کر دے گا ، اور جو خاندان مکّہ سے منہ موڑ ے گا وہ فقر میں مبتلا ہو جائے گا ۔
اے لوگو ! جو مومن بھی حج کرے گا ، تو اسکے گذشتہ گناہ بخش دئے جائیں گے ، گویا حج کے بعد نئے سرے سے اس نے اپنی زندگی کا آغاز کیا،
اے لوگو ! حجّاج بیت ﷲ الحرام کی مدد ہوتی ہے ؛ اور انکے سفر میں جو بھی اخراجات ہوتے ہیں وہ انکے لئے آخرت کا ذخیرہ ہے ،خدا وند عالم اعمال صالح انجام دینے والوں کی جزا کو ضایع نہ ہونے دے گا ۔
اے لوگو ! ضروری استطاعت اور کامل دین کے ساتھ حج انجام دو ، اور مراسم حج سے اس وقت تک نہ پلٹنا جب تک تمہارے گناہ معاف نہ ہو جائیں۔
اے لوگو ! نماز قائم کرو ؛ اور ز کوة ادا کرو جس طرح خدا وند عالم نے حکم دیا ہے ؛ اگر کچھ مدّت تمہاری ایسی گزری کہ جس میں تم نے احکامات الٰہی کی بجاآوری نہ کی یا بھول گئے ؛تو علی ـ تمہارے درمیان تمہارا صاحب امر اور احکام خدا و ندی کو تمہارے سامنے بیان کر یں گے ، علی ـ وہ شخص ہیں جس کو خدا نے میرا جانشین مقرّر کیا ہے ،وہ تمہارے سو الات کے جوابات دیں گے ؛اورجو کچھ تم نہیں جانتے وہ سب تمہارے لئے بیان فرمائیں گے ۔
آگاہ ہو جاؤ ! حلال حرام اتنے زیادہ ہیں کہ ایک مجلس میں تمہارے سامنے بیان نہیںکئے
جاسکتے اور ان تمام کا تعارف نہیں کروایا جا سکتا اور ان کے امر و نہی کا حکم نہیں دیا جا سکتا ، پس خدائے صاحب عزّت و جلال کی طرف سے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ علی ـ امیر المؤمنین کے لئے تم لوگوں سے بیعت لوں ؛ اور انکے بعد آنے والے اماموں کی بھی بیعت کرو، وہ امام جو سب مجھ سے او ر علی ـ سے ہیں ؛ اور انکا آخری قائم مہدی ـ ہے جو قیامت تک حق سے فیصلہ کرے گا ۔
اے لوگو! ہر حلال جو تمہیں میں نے بتایا ؛ اور ہر حرام جس سے میں نے تمہیں روکا ہے ،ا س کا حکم ہمیشہ کے لئے ہے نہ میں ان سے پلٹا ہوں اور نہ ہی میں نے ان میں کوئی تبدیلی کی ہے، اس حقیقت کو ہمیشہ یاد رکھنا ، اور محفوظ کر لینا ،اسکی تلقین کرنا اور اس میں کوئی تبدیلی نہ کرنا، بتحقیق میں مکرّر کہہ رہا ہوں ! نماز قائم کرو ،ز کوة ادا کرو ، امر بالمعرو ف ا ور نہی عن ا لمنکرکرتے رہنا ؛ آگاہ ہو جاؤ اصل میں امر بالمعروف اور نہی عن ا لمنکر میرے فرا مین پر عمل کرنے کا نام ہے ، لھذا میری وصیّت سب تک پہنچادو ،اسکو انجام دینے کا حکم دو ،اور اسکی مخالفت سے لوگوں کو ڈراؤ ؛کہ یہ میرے صاحب عزّت و جلال خدا کا حکم ہے ، جان لو کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر امام معصوم ـ کے وجود کے بغیر وجود میں نہیں آسکتے ۔
اے لوگو ! علی ـ کے بعد آنے والے اماموں ( جو سب اسکی اولاد ہیں )کا تعارف قرآن نے کروایا ، اور میں نے بھی تمہارے سامنے تعارف کروا دیا ہے کہ وہ سب مجھ سے اور میں ان سے ہوں ؛ جیسا کہ خدا وند عالم خود قرآن میں ارشاد فرما رہا ہے :
( ہم نے امامت کو ایک ہمیشہ رہنے والی حقیقت کی صورت میں اولا د پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم میں قرا ر دیا ہے ۔) سورہ زخرف آیت۲۸
اور میں بھی کہتا ہوں کہ جب تک تم لوگوں نے قرآن و عترت سے تمسّک کیا ہرگزگمراہ نہ ہو گے ۔
اے لوگو! تقویٰ ؛تقویٰ ، روز قیامت سے ڈرو جیسا کہ خدا وند عالم نے ارشاد فرمایا ہے !
( روز قیامت کا زلزلہ کوئی معمولی نہیں ایک بہت بڑ ی چیز ہے ) موت کو یاد کرو ؛ خدا وند عالم کی بارگاہ میں حساب کتاب ، اپنے اعمال کی ترازو اور محاسبہ کو یاد رکھو ؛جزا و سزا کو یاد رکھو جو بھی اعمال نیک کے ساتھ آیا اسے اسکی جزا ملے گی اور جو بھی برائیّوں کے ساتھ آئے جنّت سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے گا ۔
۱۲۔ علی ـ کی عمومی بیعت کا حکم :
( اے مسلمانوں ! تمہاری تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کہ تم لوگ خود اپنے ہاتھوں سے اس تپتے ہوئے صحرا میں میرے ہاتھ پر بیعت کر سکو لھذا خدا وند عالم کی جانب سے مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تم لوگوں سے ولایت علی ـ اور انکے بعد آنے والے اماموںکی امامت ''جو میری اور علی ـ کی اولاد میں سے ہیں' ' کے بارے میں اقرار لے لوں اور میں تم لوگوں کو اس بات سے آگاہ کر چکا ہوں کہ میر ے فر زندعلی ـ کے ُصلب سے ہیں ۔
لہٰذا تم سب لوگ کہو کہ ( یارسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم ہم آپکا فرمان سن رہے ہیں اور اسکو تسلیم کرتے ہیںاس پر راضی ہیں اورآپکے اِس حکم کی اطاعت کرتے ہیں جو کہ خدا وند عالم کی طرف سے آپ نے ہم تک پہنچایا جو ؛ ہمارا رب ہے ، ہم اس پیمان پرجو کہ حضرت علی ـ کی ولایت اور ان کے بیٹوں کی ولایت کے،سلسلے میں ہے اپنے جان و دل کے ساتھ اپنی زبان اور ہاتھوں کے ذریعہ آپکی بیعت کرتے ہیں، اس بیعت پر زندہ رہیں گے ، مر یں گے اور اٹھائے جائیں گے ؛ اس میں کسی قسم کی تبدیلی اور تغیر نہ کریں گے ، اس میں کسی قسم کا شک و تردید نہیں کرتے ، اور اس سے رو گردانی نہیں کریں گے ، اور اس عہد و پیمان کو نہیں توڑیں گے ؛ خدا وند عالم اور آپ کی اطاعت کرتے ہیں اور علی امیر المؤمنین ـ اورانکے بیٹوں کی اطاعت کریں گے؛ کہ یہ سب؛ امّت کے امام ہیں وہ امام جن کا آ پ نے تذکر ہ کیا ہے آپکی اولاد میں سے
ہیں اور حضر ت علی ـ کے صلب سے امام حسن ـاور امام حسین ـ کے بعد آئینگے ۔) حسن اور حسین علیہما السلام کے میرے نزدیک مقام کے بارے میں پہلے تمہیں آگاہ کر چکا ہوں ، خدا وند عالم کے نزدیک انکی قدرو منزلت کا تذکرہ کر چکا ہوںاورامانت تم لوگوں کو دے دی یعنی کہہ دیا کہ یہ دو بزرگوار ہستیاں جوانان جنّت کی سردار ہیں ؛ اور میرے اور علی ـ کے بعد امّت مسلمہ کے امام ہیں، تم سب مل کر کہو کہ! ہم اس حکم میں خدا کی اطاعت کرتے ہیں ؛اور اے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم آپ کی حضرت علی ـ کی حسنین علیہما السلام کی؛ اور انکے بعد آنے والے اماموں کی اطاعت کرتے ہیں کہ جن کی امامت کا آپ نے تذکرہ کیا اور ہم سے عہد و پیمان لیا ہمارے دل و جان ، زبان اور ہاتھ سے بیعت لی جو آپکے قریب تھے یا زبان سے اقرار لیا ، اس عہد و پیمان میں تبدیلی نہ کریں گے اور خدا وند عالم کو اس پر گواہ بناتے ہیں جو گواہی کے لئے کافی ہے ا ور اے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم آپ ہمارے اس پیمان پر گواہ ہیں ،اور ہر مؤمن پیروکار ظاہری یا مخفی ، فرشتگان خدا ، خدا کے بندے اور خدا ان سب لوگوں کا گواہ ہے۔)
اے لوگو ! کیا کہتے ہو ؟ بتحقیق خدا زبان سے نکلی ہوئی ہر آواز اور دل میں موجود ہر نیّت سے آگاہ ہے ، لھذاجو بھی ہدایت کے راستے پر چلے گا اسنے اپنے ساتھ بھلائی کی ہے ،اور جو گمراہ ہو گیا اس نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دیا اور جو اپنے امام کی بیعت کرے اس نے خدا وند عالم کی بیعت کی کہ جسکی قدرت تمام قدرتوں پر حاوی ہے ۔
اے لوگو! پرہیز گار ہو جاؤ ، علی امیر المؤمنین ـ کی بیعت کرو اور حسن و حُسین علیہما السلام اور انکے بعد آنے والے اماموں کی بیعت کرو ،کہ یہ سب ہمیشہ باقی رہنے والا پاک کلمہ ہیں ، خدا حیلہ باز و دھوکے باز کو ہلاک کر دیتا ہے جو وعدہ وفا کرے اور عہد پر قائم رہے خدا کی رحمت اسے دیکھ رہی ہے ؛ اور جو عہد شکنی کرے ؛ اسنے اپنے خسارے میں عمل کیا ہے ۔
اے لوگو ! جو کچھ میں نے تمہارے لئے کہا ہے اس کا اقرار کرو اور علی ـ کو بعنوان امیر المؤمنین ـ سلام کرو اور کہو! ( ہم نے سن لیا اور اسکی اطاعت کر لی ، خدا یا! ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور تیری طرف ہی پلٹیں گے ۔) اور کہو ( اس خدا کی حمد و ثنا جس نے ولایت علی ـ کی جانب ہماری ہدایت کی ،اور اگر خدا ہماری ہدایت نہ فرماتاتو ہم ہر گزہدایت یافتہ نہ ہوتے ۔)
اے لوگو ! بتحقیق فضائل علی ـ جو خدا وند عالم نے قرآن مجید میں ذکر کیے ہیں بہت زیادہ ہیں اور ان تمام فضائل کو ایک خطبہ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے ، لھذا اگر کوئی تمہارے سامنے حضرت علی ـ کے فضائل بیان کرے تو اس کی تصدیق کرو ۔
اے لوگو ! جس نے بھی خدا اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور حضرت علی ـ اور اسکے بعد آنے والے اماموں کی اطاعت کی جنکا تعارف میں نے کروایا ہے ؛ تو بتحقیق وہ بڑی سعادت پر پہنچ گیا ۔
اے لوگو ، جس نے حضرت علی ـ کی بیعت کرنے میں سبقت کی اور امیرالمومنین کر سلام کیا وہ کامیاب ہوا اور اس کے لئے جنت نعیم ہے۔
اے لوگو ! ایسی بات کہو جس سے خدا خوشنود اور راضی ہو جائے ، پس اگر تم سب کے سب اور سارے اہل زمین کافر ہو جاؤ ، تو اس سے خدا کو کو ئی نقصان نہیں ہو گا ؛ خدایا !تمام مؤمنین اور مؤمنات کی مغفرت فرما ؛ اور کافروں پر اپنا قہر و عذاب نازل فرما ؛ تمام تعریفیں اس خدا کے لئے مخصوص ہیں جو عالمین کا رب ہے ۔
____________________
خطبہ کے اسناد و مدارک مندرجہ ذیل ہیں :
۱۔ احتجاج ، ج ۱، ص ۶۶ : طبرسی ۲۔ اقبال الاعمال ، ص ۴۵۵ : ابن طاؤوس
۳۔ کتاب الیقین ، باب ۱۲۷ : ابن طاؤوس ۴۔ التحصین ، باب ۲۹ : ابن طاؤوس
۵۔ روضة الواعظین ، ص ۸۹ : قتّال نیشابوری۶۔ البرہان ، ج ۱، ص ۴۳۳ : بحرانی
۷۔ اثبات الہداة ، ج ۳ ، ص ۲ : عاملی۸۔ بحارالانوار ، ج ۳۷ ،ص ۲۰۱ : علامہ مجلسی
۹۔ کشف المہم ، ص ۵۱ : بحرانی۱۰۔ تفسیر صافی ، ج ۲ ، ص ۵۳۹ : فیض کاشانی
اور مزید ۳۶ مدارک جو کتاب ( روش مناظرہ حضرت امیر المؤمنین ـ با دوستان و دشمنان ) میں ذکرکئے گئے ہیں
فہرست منابع کتاب
آ
آغانی:------------ابوالفرج اصفہانی
الف
احتجاج------------طبرسی
اثباةالہداة------------حرّ عاملی
اقبال العمال------------ابن طائووس
ارجح المطالب------------..امرتسری
اسباب ا لنّزول ------------..واحد ی
الاتقان------------.سیوطی
ارشادالقلوب------------.دیلمی
الاکتفاء ------------.وصابی شافعی
الاربعین فی فضائل امیر المؤمنین ـ جمال الدین شیرازی
ارشاد------------شیخ مفید
امالی------------ شیخ طوسی
اعیان ------------.ابن عقد ہچ
امالی------------شیخ مفید
احقاق الحق------------..قا ضی شہید نور ﷲ شوشتری
اسنی المطالب ------------ابو الخیر جزری
اعلام النّبوّة------------. ماوردی
اکمال الدّین ------------..شیخ صدوق
اصول کافی------------.مرحوم کلینی
امالی------------..شیخ صدوق
اختصاص------------شیخ مفید
الانصاف فی الامامة------------..ابن قبّہ ٔ رازی
امالی ------------ہلال ابن حفّار
افصاح فی الامامة------------شیخ مفید
الانصاف ------------.ابن کعبی بلخی
ا لا وائل ------------ابن ہلال عسکری
اخبار الطوال------------.دینوری
انساب الاشراف------------.بلاذری
ب
بحار الانوار------------مرحوم علّامہ مجلسی
البدایةوالنہایة------------ابن کثیر
بشارة المصطفیٰ ------------.طبری
دردا لطالع------------.
بدیع المعانی------------..
البدء والتاریخ ------------. مقدّسی
البیان------------..جاحظ
ت
تاریخ الخلفائ------------ سیوطی
تذکرة الخواص ------------.ابن الجوزی
تفسیر عیّاشی ------------عیّاشی سمر قندی
تفسیر برہان ------------.بحرانی
التحصین------------بن طاووس
تفسیر صافی------------.. فیض کاشانی
تفسیر شاہی ------------.محبوب العالم
تاریخ دمشق------------.ابن عساکر
تفسیر المنار------------.رشید رضا
تفسیر الدرّ المنثور------------.سیوطی
تفسیر روح المعانی ------------.. آلوسی
تاریخ طبری------------طبری
تاریخ بغداد------------خطیب بغدادی
تفسیر ابن کثیر------------.بن کثیر
تاریخ یعقوبی ------------.یعقوبی
تفسیر ابی السعود------------.عمادی
تفسیر کشّاف ------------. زمخشری
تفسیر فخر رازی ------------.فخر رازی
تفسیر المیزان ------------. علّامہ طبا طبائی
تفسیر الخازن------------.
تیسیر الوصول------------.ابن الدیبع
تاریخ الاسلام ------------.ذہبی
تفسیر فرات کوفی------------فرات کوفی
تظلّم الزّہرا ء ------------.
تحف العقول------------.ابن شعبۂ حرّانی
توحید ------------شیخ صدوق
تجارب الامم ------------.ابن مسکویہ
تہذیب------------.شیخ طوسی
ج
جامع الاحکام القرآن ------------..قرطبی
جاہر العقدین سمہودی
جامع ترمذی ترمذی
جمع بین الصحیحین حمیدی
جامع الاصول ابن َثیر
جامع الصغیر ------------.سیوطی
الجمل------------.شیخ مفید
ح
حبیب السّیر------------.خواند میر
حلیة سمعانی------------.
حیات محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ------------..ڈاکٹر ہیکل
حلیة الاولیاء ------------.ابو نعیم
حاوی للفتا وی ------------.سیوطی
الحکمة والمواعظ ------------ابن شاکر واسطی
خ
خصال ------------.شیخ صدوق
خصائص امیر المؤمنین ـ ------------. نسائی
الخطط------------مقریزی
خصائص الائمة------------.سیّد رضی
د
الدّرایة فی حدیث الولایة ------------..سجستانی
دلائل النّبوّة ------------. بیہقی
دررالسمطین ------------.زرندی
دستور معالم الحکم ------------.قاضی قضاعی
دعائم الاسلام ------------قاضی نعمان
ذ
ذخیرة المال ------------..حفظی شافعی
ذخائر العقبی------------.محب الدّین طبری
ر
روضة الواعظین ------------. قتّال نیشابوری
رعاة الہداة ------------.حسکانی
روضة النّدیّة ------------.یمانی
ربیع الابرار ------------.زمخشری
روضۂ کافی ------------..مرحوم کلینی
رفع اللّبس والشبہات ------------دریسی
ریاض النضرة ------------. طبری
رسائل العشر ------------.شیخ طوسی
س
سیرۂ حلبی ------------حلبی
سیرۂ نبوی ------------..زینی دحلان
سراج المنیر ------------.. شربیتی
سیرۂ ابن ہشام ------------ ابن ہشام
سنن ابن ماجہ ------------ابن ماجہ
السیرة و المغازی ------------ابن یسار
سرّ العالمین ------------غزالی
ش
شواہد التنزیل. ------------..حسکانی
شفاء الصّدور. ------------موصلی
شرح ابن ابی الحدید. ------------..ابن ابی الحدید
شرح الکانی ------------.الکانی
شرح المواہب. ------------زرقانی
شافی ------------سیّد مرتضیٰ
شرح خطبۂ شقشقیّہ. ------------سیّد مرتضیٰ
شرح نہج البلاغہ. ------------.قطب راوندی
ص
صراط السّوی. ------------قاری
صواعق المحرّقہ. ------------ابن حجر
صحیح بخاری. ------------.بخاری
صحیح ابی دائود. ------------ابن داوود
صحیح ترمذی. ------------ترمذی
ض
ضوء اللّامع. ------------..
ط
طرائف. ------------..ابن طاووس
طبقات الکبریٰ ------------ابن سعید
ع
عمدةالقاری. ------------..عینی
عقد النّبوی. ------------.عبد روس
علل الشرایع. ------------..شیخ صدوق
عیون اخبار الرّضا. ------------شیخ صدوق
عمدة. ------------ابن بطریق
عبقات الانوار. ------------سیّد جزائری
علم الکتاب ------------..سیّد خواجہ حنفی
عیون المواعظ و الحکم. ------------واسطی
عقد الفرید. ------------ا بن عبد ربّہ
غ
الغدیر. ------------علّامہ امینی
غرائب القرآن ------------ نیشابوری
غریب الحدیث. ------------ابن سلام
غریب القرآن ------------.ہروی
غارات. ------------. ابن ہلال ثقفی
غریبین ------------ہروی
غرر الحکم. ------------آمدی
ف
فتح القدیر. ------------.شوکانی
فرائدالسمطین. ------------حموینی
فصول المہمّة. ------------ابن صبّاغ
فضائل ------------.سمعانی
فردوس. ------------.ابن شیرویہ
فتح الکبیر. ------------
فصول المہمّة. ------------.شیخ حرّ عاملی
فضائل الخمسہ. ------------فیروز آبادی
فیض القدیر ------------شیخ عبّاس قمّی
فتوحات الاسلامیّہ. ------------
فہرست ------------..نجاشی
فہرست ------------.ابن ندیم
فرقةالنّاجیہ. ------------ ..قطیفی
ک
کشف المہم ------------بحرانی
کشف الغُمّة. ------------..اربلی
الکشف و البیان ------------ثعلبی
کشف الیقین ------------.علّامہ حلّی
کامل ابن َثیر. ------------ابن اثیر
کفایةالطّالب. ------------
کنزالعمّال. ------------.فاضل ہندی
کامل. ------------..مبرّد
م
ما نزل القرآن فی امیر المؤمنین ------------. ابو بکر فارسی
ما نزل القرآن فی علی ـ ------------ابو نعیم
مفاتیح الغیب. ------------ فخر رازی
مطالب السؤول. ------------ابن طلحہ شافعی
مودّة القربیٰ ------------ہمدانی
مناقب ------------ابن مغازلی
مناقب ------------خوارزمی
مقتل الحسین ـ. ------------.خوارزمی
مناقب ------------.عبدﷲ شافی
مسند احمد. ------------احمد بن حنبل
معارج الاصول. ------------. زرندی
معارج العلی. ------------.. صدر عالم
مجمع البیان ------------طبرسی
مشکاة الانوار. ------------طبرسی
مقتل امیر المؤمنین ـ ------------ ابن ابی دنیا
محاسن. ------------.برقی
مسند موصلی. ------------موصلی
معانی الاخبار ------------.شیخ صدوق
مناقب ------------.ابن شہر آشوب
مستدرک حاکم. ------------حاکم نیشاپوری
مستدرک صحیحین ------------.حاکم
من لایحضرہ الفقیہ. ------------ شیخ صدوق
منہاج البراعة. ------------.ابن راوندی
مجالس. ------------..شیخ مفید
مصابیح السنّة ------------.
معجم الکبیر ------------.طبرانی
مشکاةالمصابیح. ------------.
مجمع الزّوائد. ------------ ہیثمی
مفتاح النجاة(نسخۂ خطی). ------------
مطالب السئوول. ------------.ابن طلحہ شافعی
محاسن. ------------..برقی
المغنی. ------------.قاضی عبدالجبّار
المستقصی. ------------..زمخشری
مجمع المثال ------------میدانی
المجلّی. ------------احسائی
مواعظ و زواجر. ------------ابن سعید عسکری
مقاتل الطّالبین ------------ابوالفرج اصفہانی
مروّج الذّہب ------------ مسعودی
ن
النہایة. ------------.ابن اثیر
نظم درر السمطین ------------زرندی
نزہة المجالس ------------ صفوری
نہج البلاغہ. ------------حضرت امیر المؤمنین امام علی ـ
نثرالدرر. ------------وزیر ابو سعید آبی
نزہة الادیب ------------وزیر ابو سعید آبی
و
الولایة فی طریق الغدیر. ------------.طبرسی
وسیلةالمآل. ------------باکثیر مکّی وفاء الوفاء سمہودی
ہ
ہدایة السعدائ. ------------ابن طاووس
ی
ینابیع المودّة. ------------. قندوزی
فہرست
حرف اول ۵
پیش لفظِ مترجِم ۸
ضروری وضاحت: ۱۰
مدینہ سے لے کر مقامِ غدیر تک کے مختصر حالات ( مترجم ) ۱۱
مدینہ سے مکّہ تک : ۱۲
مقدمۂ مو لِّف ۱۵
لمحۂ فکریہ: ۱۶
واقعۂ غدیر میں تحقیق کی ضرورت : ۱۶
پہلی فصل ۱۹
کیا واقعۂ غدیر صرف اعلان ِ دوستی کے لئے تھا؟ ۱۹
۱ ۔ دوستانہ نظریات ۲۰
۲ ۔ حقیقتِ تاریخ کا جواب: ۲۰
۱۔واقعۂ روزِغدیر کی تحقیق: ۲۰
۲۔فرشتۂ وحی کا بار بار نزول: ۲۲
۳۔ پیغمبر اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی پریشانی: ۲۴
۴۔ تکمیلِ دین کا راز : ۲۹
۵۔ آپ صلىاللهعليهوآلهوسلم کے قتل کی نا کام سازش : ۳۱
۶۔ نفرین آمیز طو مار کا انکشاف : ۳۲
عہد نامہ ۳۳
۷۔بعض حاضرین کی علی الاعلان مخالفت : ۳۶
۸۔ناکام سازشیں : ۳۷
سوّم۔رسولِ اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم اور علی ـ کی دوستی ۳۹
۱۔ جنگ اُحُد میں دوستی کا اعلان : ۳۹
۲۔ جنگ خیبر میں دوستی کا اعلان : ۴۰
۳۔امام ـ کے دوستوں کی پہچان : ۴۴
۴۔حضرت علی ـ کی دوستی مؤمن اور منافق کی پہچان کا معیار: ۴۴
۵۔امام ـکی دوستی نہج البلاغہ کی زبانی : ۴۶
چہارم ۔ خطبۂ حجةُ الوداع پر ایک نظر ۴۷
دوسری فصل ۵۰
آیا واقعۂ غدیر ولایت کے اعلان کے لئے تھا؟ ۵۰
۱ سطحی طرز تفکّر اور پیام غدیر: ۵۰
واقعاً کیا غدیر کے دن صرف اعلان ولایت کیا گیا؟ ۵۰
۲۔ ولایت کا اعلان غدیر سے پہلے: ۵۱
۱۔ ولایت ِ علی ـ کا اعلان آغاز بعثت میں: ۵۱
۲۔ جنگ تبوک کے موقع پر اعلان ولایت : (حدیث ِ منزلت ) ۵۵
۳۔ حضرت علی ـکے رہبر ہونے کا اعلان غدیر سے پہلے: ۵۷
۴۔حضرت علی ـ کی امامت کا اعلان : ۵۸
۵ ۔ پرہیزگا روںکے امام حضرت علی ـ : ۵۹
۶۔ علی ـ امیرُالمؤمنین : ۵۹
انس بن مالک : ۵۹
نقل شیخ مفید: ۶۱
نقل ابن ثعلبہ : ۶۱
نقل بریدة بن اسلمی : ۶۱
نقل عیّاشی: ۶۲
۷۔اعلان ولایت بوقت نزول وحی: ۶۳
۸ ۔ حدیث ثقلین : ۶۵
سوّم ۔ اثبات امامت تا رجعت و قیامت ۶۶
(الف) اعلان ولایت ۶۶
(ب ) سلسلہ امامت کا اعلان ۶۷
( ج ) تا قیامت امامت مسلمین ۶۷
( ہ ) خلافت کا دعوے دار غاصب ہے ۶۸
( و ) عام اعلان ( حکم اعتراف) ۶۸
( ز ) پیغمبر اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم اور علی ـ کی بیعت ۷۳
(ح ) مرد و زن کا حضرت علی ـ کی بیعت کرنا ۷۴
تیسری فصل ۷۸
آیا غدیر کا ہدف امام کاتعین تھا ؟ ۷۸
غدیر کے مختلف پہلوؤں پر لوگوںکی جانب سے تنگ نظری : ۷۸
۱۔ پہلے سے تعیین شدہ امامت : ۷۹
۲۔ لوگ اور انتخاب : ۸۳
۳۔ تحقق امامت کے مراحل : ۸۶
اوّل ۔ انتخاب الٰہی : ۸۷
دوّم۔ پیغمبرا ن خدا کا اعلان : ۸۷
سوّم۔لوگوں کی بیعت عام: ۸۹
چوتھی فصل ۹۶
کیا غدیر کا دن صرف پیغام ولایت پہنچانے کے لئے تھا؟ ۹۶
ظو اہر آیات غدیر کی طرف توجّہ : ۹۶
۱۔ آیات غدیر کی صحیح تحقیق : ۹۷
۲۔ تاریخ غدیر کی صحیح تحقیق : ۱۰۰
۳۔ مخالفتوں کی طرف توجّہ : ۱۰۲
پانچویں فصل ۱۰۵
آیا غدیر امام کی ولایت کا دن تھا ؟ ۱۰۵
۱۔ ایک اور تنگ نظری : ۱۰۵
۲۔ واقعۂ غدیر میں تحقیق کی ضرورت : ۱۰۶
۳۔ اہلبیت علیھم السلام کی مظلومیت کے اسباب : ۱۱۰
چھٹی فصل ۱۱۳
حجّة الوداع اور غدیر کے موقع پر پیغمبراسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کا خطبہ ۱۱۳
۱ ۔ شناخت خدا : ۱۱۳
۲ ۔ پیغمبر صلىاللهعليهوآلهوسلم کا ایمان اور خدا کی طرف جھکاؤ : ۱۱۵
۳۔ حضرت علی ـ کی ولایت کا اعلان : ۱۱۶
۴۔ حضرت علی ـ کے لئے بیعت لینے میں پیغمبر صلىاللهعليهوآلهوسلم کی احتیا ط کے اسباب : ۱۱۷
۵ ۔ ائمہ معصومین (ع) کی اما مت کا تعارف: ۱۱۹
۶ ۔ حضرت علی ـ کے سلسلے میں لوگوں کی ذمّہ داریاں: ۱۲۰
۷۔ فضائل علی ابن ابی طالب ـ : ۱۲۲
۸ ۔ مخالفتوں کا بچائو : ۱۲۶
۹ ۔ علی ـ کے دوست اور دشمن : ۱۳۰
۱۰۔ حضرت مہدی ( عج) کی حکومت کا تعارف : ۱۳۲
۱۱۔ حج کی اہمیت اور احکام الٰہی : ۱۳۳
۱۲۔ علی ـ کی عمومی بیعت کا حکم : ۱۳۶
فہرست منابع کتاب ۱۳۹