یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
کتاب : نسیم غدیر
مؤلف : حسین اثنا عشری
مترجم : عبد القیوم سعیدی مشھد مقدس
کمپوزینگ : عمران حیدر
سپاس نامہ:
یہ چھوٹی سی گرانقدر کتاب اپنے مولا و آقا حضرت صاحب العصر وا لزمان حجۃ بن الحسن العسکری (علیہ السلام) ارواحنا لمقدمہ الفداء کی خدمت میں ھدیہ کے طور پر پیش کرتا ہوں اس امید کے ساتھ کہ حضرت علی (علیہ السلام) و فاطمہ ( سلام اللہ علیھا)کا فرزند گرامی حضرت بقیۃ اللہ عجّل اللہ فرجہ الشریف جس دن ظہور فرمائیں گے اور اپنے دیدار سے شیعوں کی آنکھوں کو ٹھڈک پہنچائیں گے ۔
(حسین اثنا عشری )
مقدمہ کتاب :
بسم الله الرحمٰن الرحیم
الحمد لله ربّ العالمین والصلواة والسلام علیٰ محمد وآله
الطیبین الطاهرین و لعنة الله علیٰ اعداءهم اجمعین
شکر ہے خدائے منان کا کہ جس نے ہم پر منت لگاتے ہوئے ہماری ھدایت فرمائی اور ہمیں حضرت محمد(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم )اور اس کے وصی حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب ( علیہ السلام) اور اس کی پاک و معصوم آل کے دوستوں اور محبوں سے قرار دیا ۔
یہ کتاب جو ابھی آپکے ہاتھوں میں ہے چالیس احادیث پر مشتمل ہے کہ جو مولا وآقا حضرت علی بن ابی طالب (علیہ السلام ) اور ان کے فضائل کے بارے میں ہیں جو حقیقت میں ان کے فضائل کے بحر بے قراں سے چند قطر ے ہیں ۔
اس کتاب کی احادیث علماء شیعہ و علماء اھل سنت کی معتبر کتابوں سے لی گئی ہیں اور اس کو عید سعید غدیر کی مناسبت سے یعنی روز امامت وولایت او ر بڑی و بہترین و پُر عظمت شیعوں کی عید کی مناسبت سے چاپ اور منتشر کیا گیاہے تاکہ آن حضرت کے با فضیلت شیعوں کے آنکھوں کی روشنی قرار پائے اور جو راہ ھدایت و ولایت سے بھٹک چکے ہیں انکے لئے چراغ قرار پائے ۔
( حسین اثنا عشری )
پہلی حدیث
( ۱) عن محمّدبن عمّارة عن ابیه عن الصادق جعفر بن محمّد عن ابیه محمّد بن علیٍّ عن آبائه الصاقین(علیهم السلام )قال ،قال رسول اللّه ( صلّی الله علیه وآله وسلّم ):انّ الله تبارک وتعالیٰ جعل لاخی علی بن ابی طالب فضائلَ لا یحصی عددها غیره فمن ذکره فضیلةً من فضائله مقرّاً بها غفر اللّه له ما تقدّم من ذنبه وما تأخّر ولو وافی القیامة بذنوب الثقلین ومن کتب فضیلةً من فضائل علی بن ابی طالب ( علیه السلام) لم تزل الملائکة تستغفر له ما بقی لتلک الکتابة رسم ومن استمع الیٰ فضیلةٍ من فضائله غفر اللّه له الذنوب الّتی اکتسبها بالاستماع ومن نظر الی کتابةٍ فی فضائله غفر اللّه له الذّنوب الّتی اکتسبها بالنظر ثمّ قال رسول اللّه ( صلّی الله علیه وآله وسلّم ) النّظر الی علیّ بن ابی طالب ( علیه السلام) عبادة و ذکره عبادة ولا یقبل ایمان عبدٍ الاّ بولایةو البراءة من اعدائه و صلّی اللّه علی نبیّنا محمّد و آله اجمعین
ترجمہ:
حضرت رسول گرامی اسلام نے فرمایا خدا نے میرے بھائی علی بن ابی طالب کیلئے بہت فضائل بیان کئے ہیں اور جو بھی حضرت کی ایک فضیلت بیان کریگاجبکہ اپنے مولا کی معرفت رکھتا ہو خدا اس کے گذشتہ اور آئندہ کے گناہ معاف کر دیتا ہے اگرچہ اس کے گناہ تما جنات اور انسانوں کے گناہوں کے برابر ہوں ، او رجو بھی حضر ت علی ( علیہ السلام) کی ایک فضیلت لکھے گا اور جب تک وہ فضیلت لکھی ہوئی باقی رہے گی تو ملائکہ اس کیلئے استغفار کرتے رہیں گے اور جو بھی حضرت علی ( علیہ السلام) کی ایک فضیلت سنے گا خدا اس کے وہ تمام گناہ معاف کر دیگا جو اس نے کانوں کے ذریعے انجام دیئے ہو نگے او ر جو بھی حضرت کی ایک فضیلت کو لکھے گا خدا اس کے آنکھوں کے ذریعے انجام دیئے گئے تمام گناہ معاف کر دیگا اور پھر حضرت رسول گرامی اسلامی نے فرمایا حضرت علی (علیہ السلام ) کی طرف دیکھنا عبادت ہے علی ( علیہ السلام ) کا ذکر کرنا عبادت ہے اور کسی بندے کا ایمان ولایت حضرت علی ( علیہ السلام )اور ان کے دشمنوں بیزاری کے بغیر قبول نہیں کیا جائیگا ۔
درود و سلام ہوں حضرت محمد ( صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ) اور انکی پاک آل پر ۔(۱)
____________________
(۱) (امالی شیخ صدوق مجلس نمبر۲۸ص۱۳۸ح نمبر۹)
دوسری حدیث
( ۲) عن ابن عبّاس قال:((قال رسول اللّه (صلّی الله علیه وآله وسلّم) لعلی(علیه السلام) یا علی شیّعتک هم الفائزون یوم القیامة فمن أهان واحداً منهم اهانک ومن اهانک فقداهاننی ومن أهاننی ادخله اللّه نار جهنّم خالداً فیها و بئس المصیر یا علیّ انت منّی وانا منک روحُک من روحی و طینتُک من طینتی و شیعتک خُلقوا من فضل طینتنا فمن احبّهم فقد احبّنا ومن ابغضهم فقد ابغضنا و من عاداهم فقد عادانا ومن ودّهم فقد ودّنا یا علیّ انّ شیعتک مغفور لهم علیٰ ما کان فیهم من ذنوبٍ و عیوبٍ یا علیّ اناالشفیع لشیعتک غداً اذا قمت المقام المحمود فبشّرهم بذلک یا علیّ شیعتک شیعة اللّه و انصارک انصار اللّه و اولیا ئک اولیاء اللّه و حزبک حزب اللّه یا علیّ سعد من تولاّٰ ک و شقی من عاداک یا علیّ لک کنز فی الجنّة وا نت ذو قرنیها الحمد للّه ربّ العالمین و صلّی اللّه علیٰ خیر خلقه محمّد و اهل بیته الطاهرین الاخیار المنتجبین ))
ترجمہ :
حضرت رسول خدانے علی (علیہ السلام ) سے فرمایا اے علی تیرے شیعہ قیامت کے دن کامیاب ہونگے اور جو بھی کسی ایک تیرے شیعہ کی توہین کرے گا گویا اس نے تیری تو ہین کی او ر جس نے تیری توہین کی اس نے میری توہین کی اور جو میری توہین کرتا ہے خدا اس کو آتش جہنم میں داخل کریگا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ،اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے اے علی ( علیہ السلام ) تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں تیری روح میری روح ہے تیری طینت میری طینت ہے اور تیرے شیعہ ہماری باقی ماندہ طینت سے خلق کئے گئے ہیں اور جو بھی انکو دوست رکھے گا اس نے ہم سے محبت کی اور جو تیرے شیعوں سے دشمنی کرے گا گویا اس نے ہم سے دشمنی کی اور جس نے تیرے شیعوں کو ناراض کیا گویا اس نے ہم کو ناراض کیا اور جو ان سے محبت کرے گا گویا اس نے ہم سے محبت کی ۔
اے علی ( علیہ السلام) ہر گناہ اور بدی جو تیرے شیعوں نے کی ہو گی خدا اس کو معاف کر دے گا اے علی (علیہ السلام ) میں تیرے شیعوں کی قیامت کے دن شفاعت کرنے والاہوں جب خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے اپنے شیعوں کو بشارت دو ۔
اے علی (علیہ السلام) تیرے شیعہ اللہ کے شیعہ ہیں تیری نصرت کرنے والے اللہ کی نصرت کرنے والے ہیں تیرے دوست اللہ کے دوست ہیں تیری فوج اللہ کی فوج ہے اے علی ( علیہ السلام) خوشبخت ہے وہ شخص جس نے تجھ سے محبت کی اور بد بخت ہے وہ شخص جس نے تجھ سے دشمنی کی اے علی ( علیہ السلام) تیرے لئے بہشت میں بہت بڑا خزانہ ہے اور تجھے ہر جگہ غلبہ ہے ،حمد اس خدا کی جو عالمین کا رب ہے درود و سلام ہوں خدا کی بہترین مخلوق محمد اور اس کی پاک آل پر ۔(۱)
____________________
(۱) (امالی شیخ صدوق مجلس نمبر ۴ ص۱۵ح نمبر۸)
تیسری حدیث
( ۳) علیّ بن ابراهیم ، عن ابیه ، عن ابن ابی عمیر، عن عمرو بن ابی المقدام ، قال: سمعت ابا عبد اللّه ( علیه السلام) یقول:خرجت انا و ابی حتّی اذا کنّا بین القبر والمنبر اذا هو بأناس من الشیعةفسلّم علیهم ثمّ قال: انّی واللّه لاُحبّ ریاحکم و ارواحکم فأعینونی علیٰ ذٰ لک بورع و اجتهاد وأعلمواانّ ولایتنا لا تنال الاّ بالورع والاجتهاد و من اِئتمّ منکم بعبدٍفلیعمل بعمله ، انتم شیعة اللّه ، وانتم انصار الله السّابقون الاوّلون والسّابقون الاٰخرون والسابقون فی الدنیا والسّٰابقون فی الاخرة الیٰ الجنّة، قدضمّنّالکم الجنّة بضمٰان اللّه عزّوجلّ وضمٰان رسول اللّه (صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) واللّه ما علیٰ درجة الجنّةاَکثر ارواحاًمنکم فتنٰافسوافی فضائل الدّرجات ، انتم الطیّبون و نساؤُکم الطّیّبٰات کلّ مؤمنةٍحوراءُ عینٰا ءُ وکلّ مؤمن صدّیق ولقد قال امیر المؤمنین( علیهالسلام)لقنبر:
یا قنبرُأبشر و بشّر واستبشرفوالله لقد مات رسول اللّه(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) وهو علیٰ امّته ساخط الاّ الشّیعة
ألاٰ وانّ لکلّ شیءٍ عزّاًوعزّالاسلام الشیعة
ألاٰ وانّ لکلّ شیءٍ دعامةًودعٰا مة الاسلام الشیعة
ألاٰوانّ لکلّ شیءٍ ذروةًوذ روةالاسلام الشیعة
ألاٰوانّ لکلّ شیءٍ شرفاًو شرف الاسلام الشیعة
ألاٰوانّ لکلّ شیءٍ سیّداًو سیّدُ المجٰالس الشیعة
ألاٰوانّ لکلّ شیءٍ امٰاماًو امٰامُ الارض ارض تسکنهاالشیعة
واللّه لولاٰ ما فی الارض منکم مارأیت بعینٍ عشباًأبداًواللّه لولاٰمٰا فی الارض منکم مٰا انعم االلّه علیٰ اهل خلٰافکم ولا اصٰابوا الطّیّبٰات مالهم فی الدّنیا و لالهم فی الاخرة من نصیبٍ، کلُّ ناصبٍ و ان تعبّد واجتهد منسوب الیٰ هذه الایة ((عاملة ناصبة تصلیٰ ناراًحامیة))فکلّ ناصبٍ مجتهدفعمله هبٰاء،شیعتنا ینطقون بنور اللّه عزّوجلّ ومن یخالفهم ینطقون بتفلّتٍ، واللّه ما من عبدٍمن شیعتنا ینام الاّ اصعد اللّه عزّوجلّ روحَه الیٰ السمٰاء فیبٰارکُ علیهافان کان قد أتی علیها اجلُها جعلها فی کنوزرحمته وفی ریاض جنّته و فی ظلّ عرشه وان کان اجلها متاخّراً بعث بها مع امنته من الملاٰئکة لیردّوهٰا الیٰ الجسد الّذی خرجت منه لتسکن فیه ، واللّه انّ حاجّکم وعمّارکم لخاصة اللّه عزّوجلّ وانّ فقرٰاء کم لأَهل الغنی وانّ أغنیاءَ کم لأهل القناعة وانّکم کلّهم لأهل دعوته واهل اجابته
ترجمہ:
عمربن ابی المقدار کہتا ہے :میں نے امام صادق (علیہ السلام ) کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں اور میرے والد بزرگوارگھر سے باہر نکلے جب مسجد نبوی کے اندر قبر اور منبر کے درمیان پہنچے وہاں بعض مولا کے شیعہ بیٹھے تھے میرے والد بزرگوار نے ان پر سلام کیا اور پھر فرمایا میں تمہاری بو اور روح سے محبت کرتا ہوں بس تمہیں چاہئے کہ تقویٰ اور اجتھادیعنی کوشش کے ذریعے میری اس بات پر مدد کریں اور جان لوکہ ہماری محبت تقویٰ و اجتھاد کے علاوہ حاصل نہیں ہوتی اور تم میں سے جو بھی جس کو امام مانتا ہے اس کو چاہئے کہ اپنے امام کی اتباع میں اس جیسا عمل کرے تم خدا کے شیعہ یعنی پیروکار ہو ، تم خدا کے انصار ہواور تم قیامت کے دن سب سے پہلے بہشت میں داخل ہونے والے ہو اور ہم نے تمہاری خداکے ہاں ضمانت لے رکھی ہے اور اس کے رسول سے تمہاری بہشت کی ضمانت لے رکھی ہے اور خداکی قسم بہشت کے درجات کو تم سے زیادہ کوئی حاصل کرنے والانہیں پس جنت کے ان درجات کو حاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے سے سبقت لیں ۔ تم پاک و پاکیزہ ہو تمہاری عورتین پاک ہیں اور ہر مومن عورت خوبصورت آنکھوں والی حور ہے اور ہر مومن صدیق و سچا ہے ۔
حضرت علی ( علیہ السلام ) نے قنبر سے فرمایا:تجھے خوش خبری ہو اور دوسروں کو خوشخبری دے دو اور تجھے خوش رہنا چاہئے کہ خدا کی قسم جب رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم )کا اس دنیا سے انتقال ہوا تو وہ اپنی امت پر ناراض تھے مگر شیعوں پر ناراض نہ تھے ۔
اور جان لو ہر چیز کی عزت ہوتی ہے اور اسلام کی عزت شیعہ ہیں ۔
اور جان لو ہر چیز میں کوئی راز ہوتا ہے اور اسلام کا راز شیعہ ہیں ۔
اورجان لو ہر چیز کا ستون و مرکز ہوتا ہے اور اسلام کا ستون و مرکز شیعہ ہیں ۔
اور جان لو ہر چیز کیلئے شرافت ہوتی ہے اور اسلام کیلئے شرافت شیعہ ہیں ۔
اور جان لو ہر چیز کا کوئی سردار ہوتا ہے اور اس دنیا میں محافل کا سردار شیعوں کی محفلیں ہیں ۔
اور جان لو ہر چیز کا کوئی امام و پیشوا ہوتا ہے اور زمین کا امام وہ زمین ہے کہ جس پر شیعہ رہتے ہوں ۔
خدا کی قسم اگر شیعہ زمین پر نہ ہوتے تو زمین پر سبزہ پیدا نہ ہوتا خداکی قسم اگر تم زمین پر نہ ہوتے تو خدا تمہارے مخالفین کو نعمتیں نہ دیتا اور دنیا میں تمہارے مخالفین کو کوئی خوشی نصیب نہ ہوتی اور آخرت میں ان کا کوئی نصیب نہ ہوتا ہر ناصبی گرچہ وہ عبادت کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے یہ آیت اسی کیلئے نازل ہوئی ہے ((کہ ناصبی کو آگ میں ڈالا جائے گا اور گرم گرم پیپ پئے گا ))(۱)
ہر ناصبی جتنا بھی عمل کرے اس کو کوئی اجر نہیں ملے گا ہمارے شیعہ نور خدا سے بولیں گے اور جو ہمارے شیعوں کے مخالف ہیں بے ہودہ نطق کریں گے خدا کی قسم کوئی بھی ہمارے شیعوں میں سے نہیں کہ جب وہ سوتا ہے تو خدا وند اس کی روح کو آسمانوں کی بلندیوں پر بلا لیتا ہے اور اس کیلئے اس کو مبارک قرار دیتا ہے اور اگر اس کی موت کا وقت پہنچ جائے تو خدا اسکی روح کور حمت کے خزانے میں جگہ عطا کرتا ہے بہشت کے باغوں میں جگہ عطا کرتاہے ۔
اپنے عرش کے نیچے جگہ عطا کرتا ہے اور اگر اس کی موت کا وقت نہ پہنچے تو اپنے امین فرشتوں کے ہمراہ اس کی روح کو واپس لوٹا دیتا ہے تاکہ اس جسد میں واپس آکر اس دنیا میں سکون حاصل کرے خدا کی قسم تمہارے حاجی اور عمرہ کرنے والے خدا کے خا ص بندے ہیں اور تحقیق تمہارے فقراء ہی غنی اور توانگر ہیں اور تمہارے توانگر قناعت کرنے والے ہیں اور تم سب کے سب خدا کی دعوت پر لبیک کہنے والے ہو(۲)
____________________
(۱) غاشیہ آیۃ۳،۴
(۲) (الروضہ فی الکافی ج۲ص۱۳ح۲۵۹)
چوتھی حدیث
( ۴) عن ابن مسعود قال قلت : یا رسول اللّه(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) ما منزلة علیّ منک ؟ قال: منزلتی من اللّه عزّ وجلّ
ترجمہ:
عبد اللہ بن مسعود کہتاہے کہ میں نے رسول خدا ( صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم)سے عرض کی اے اللہ کے رسول علی (علیہ السلام ) کے مقام و منزلت کی نسبت آپ کے ساتھ کیا ہے ؟ تو رسول گرامی اسلام نے فرمایا علی (علیہ السلام ) کا مقام و منزلت میری نسبت ایسا ہے جیسے مجھے خدا سے نسبت ہے ۔(۱)
____________________
(۱) (عقائد الانسان ج۳ص۷۸ ح۲۴)
پانچھویں حدیث
( ۵) عن الصادق جعفر بن محمد (علیه السلام) عن آبائه عن امیرالمؤ منین
(علیه السلام) قال، قال لی رسول اللّه (صلّی اللّه علیه وآله وسلّم)علی منبره یا علیّ انّ اللّه عزّوجلّ وهب لک حبّ المسٰاکین والمستضعفین فی الارض فرضیت بهم اخواناً ورضوا بک امٰاماً فطوبیٰ لمن احبّک وصدّق علیک و ویل لمن ابغضک و کذّب علیک یا علیّ انت العالم ((العلم ))لهذه الامة من احبّک فاز و من ابغضک هلک یا علیّ انا مدینة العلم وانت بابُها وهل تؤ تی المدینة الاّ من بٰابها یا علیّ أهل مودّ تک کلّ اوّابٍ حفیظ وکلّ ذی طمرٍ لو قسم علی اللّه لأبرّ قسمه یا علیّ اخوٰ انک کلّ طاهرٍ زاکٍ ((زکی))مجتهدٍٍ یحبّ فیک و یبغض فیک محتقر عند الخلق عظیم المنزلة عند اللّه عزّو جلّ یا علیّ محبّوک جیٰران اللّه
فی دار الفردوس لا یأسفون علیٰ ما خلقوا من الدّ نیا یا علیّ انا ولیّ لمن والیت وانا عدوّ لمن عادیت یا علیّ من احبّک فقد احبّنی ومن ابغضک فقد ابغضنی یا علیّ اخوانک ذبل الشّفاه تعر ف الرّ هبانیّة فی وجوههم یا علیّ اخوٰانک یفرحون فی ثلٰثه موٰاطن عند خروج أنفسهم وانا شٰاهدهم وانت وعند المسائلة فی قبورهم وعند العرض الاکبر وعند الصراط اذٰا سئل الخلق عن ایمانهم فلم یجیبوا یا علیّ حربک حربی و سلمک سلمی وحربی حرب اللّه ومن سٰالمک فقد سالمنی ومن سٰالمنی فقد سالم اللّه یا علیّ بشّر اخوانک فانّ اللّه عزّوجلّ قد رضی عنهم اذا رضیک لهم قائداً ورضوا بک ولیّاً یا علیّ انت امیر المؤمنین وقائد الغرّ المحجّلین یا علیّ شیعتک المنتجبون ولولاانت وشیعتک ما قام اللّه عزّوجلّ دین ولولا من فی الارض منکم لمٰا انزلت السّماء قطرها یا علیّ لک کنز فی الجنّة وانت ذ و قرنیها و شیعتک تعرف بحزب الله عزّوجلّ
یا علیّ انت و شیعتک القائمون بالقسط وخیرة اللّه من خلقه یا علیّ انا اوّل من ینفض التّراب عن رأسه وانت معی ثمّ سائر الخلق یا علیّ انت و شیعتک علی الحوض تسقون من احببتم وتمنعون من کرهتم وانتم الآمنون یوم الفزع الاکبر فی ظلّ العرش یفزع النّاس ولاٰ تفزعون ویحزن النّاس ولاٰ تحزنون فیکم نزلت هذه الایة انّ الّذین سبقت لهم منّا الحسنیٰ اولءٰک عنها مبعد ون و فیکم نزلت لا یحزنهم الفزع الاکبرو تتلقّاهم الملائکة هذا یومکم الذی کنتم توعدون یاعلیّ انت وشیعتک تطلبون فی الموقف وانتم فی الجنان تتنعّمون یاعلیّ انّ الملٰائکةوالخزّان یشتاقون الیکم وانّ حملة العرش والملٰائکة المقرّبین لیخصّو نکم با لدّعاء و یسألون اللّه لمجیّکم ویفرحون بمن قدم علیهم منکم کما یفرح الاهل بالغائب القادم بعد طول الغیبة یا علیّ شیعتک الّذین یخافون اللّه فی السّر وینصحونه فی العلانیّة یا علیّ شیعتک الّذین یتنافسون فی الدّرجٰات لأنّهم یلقون اللّه عزّوجلّ وما علیهم من ذنب یا علیّ أ عمال شیعتک ستعرض علیّ فی کلّ جُمُعة
فأفرح بصالح مٰا یبلغنی من أعمالهم وأستغفر لسیّأتهم یا علیّ ذکرک فی التورٰیة و ذکر شیعتک قبل ان یخلقوا بکلّ خیرو کذٰلک فی الانجیل فسل اهل الانجیل وأهل الکتاب عن أِلیٰا یخبروک مع علمک بالتّورٰیةوالانجیل ومٰا أ عطاک اللّه عزّوجلّ من علم الکتاب و انّ اهل الانجیل لیتعٰاظمون أِلیٰا ومٰا یعرفونه ومٰا یعرفون شیعته وانّمٰا یعرفوهم بمٰا یجدونهم فی کُتُبهم یا علیّ انّ اصٰحابک ذکرهم فی السّمٰاء أَکبر وأَعظم من ذکر اهل الارض لهم بالخیر فلیفرحوا بذٰلک و لیزدٰادوا اجتهٰاداً یا علیّ انّ اروٰاح شیعتک لتصعد الیٰ السمٰاء فی رقادهم و وفاتهم فتنظر الملائکة الیهٰا کمٰا ینظر النّاس الیٰ الهلال شوقاً الیهم ولمٰا یرون من منزلتهم عند اللّه عزّوجلّ یاعلیّ قل لأصحٰابک العارفین بک ینتزهون عن الأعمال الّتی یفارقهٰا عدوّهم فمٰامن یوم و لیلة الاّ ورحمةً من اللّه تبارک وتعالیٰ تغشٰاهم فلیجتنبواالدّنس یاعلیّ اشتدّ غضب اللّه عزّوجلّ علیٰ من قلاٰهم وبرأمنک ومنهم واستبدل بک وبهم ومٰال الیٰ عدوّک وترکک و شیعتک واختار الضّلاٰل ونصب الحرب لک و لشیعتک
و ابغضنا أهل البیت وابغض من والاٰ ک ونصرک واختارک و بذل مهجته ومٰاله فینٰا یا علیّ اقراٌهم منّی السّلام من لم أرَ منهم ولم یرنی واعلمهم انّهم اخوٰانی الّذین اشتاق الیهم فلیلقوا علمی الیٰ یبلغ القرون من بعدی ولیتمسّکوا بحبل اللّه ولیعتصموا به ولیجتهدوا فی العمل فانّا لاٰ نخرجهم من هدی الی ضلالة واخبرهم أنّ اللّه عزّوجلّ عنهم راضٍ وأنّه یبٰاهی بهم ملائکته وینظر الیهم فی کلّ جمعة برحمته ویأمر الملآئکة ان تستغفر لهم یا علیّ لاٰ ترغب عن نصرة قوم یبلغهم أو یسمعون أنّی اُحبّک فأحبّوک لحبّی ایّاک و دانوا للّه عزّوجلّ بذلک واعطوک صفوالمودّة فی قلوبهم واختاروک علیٰ الاباء والاخوة والاولاٰد وسلکوا طریقک وقد حملوا علی المکاره فینا فأبوا الاّ نصرنا وبذل المهج فینا مع الاذی وسوء القول ومٰا یقٰا سونه من مضٰاضة ذاک فکن بهم رحیماً واقنع بهم فانّ اللّه عزّوجلّ اختارهم بعلمه لنا من بین الخلق و خلقهم من طینتنٰا واستودعهم سرّنٰا والزم قلوبهم معرفة حقّنا وشرح صدورهم وجعلهم مستمسکین بحبلنٰا لا یؤثرون علینا من خٰالفنٰ
مع مٰا یزول من الدنیا عنهم ایّد هم اللّه و سلک بهم طریق الهدیٰ فاعتصموا به فالنّاس فی غمّة الضّلال متحیّرون فی الأهواء عموا عن الحجّة ومٰا جاء من عند اللّه عزّوجلّ فهُم یصبحون ویمسون فی سخط اللّه و شیعتک علی منهاج الحقّ و الاستقامة لاٰ یستأنسون الی من خٰالفهم ولیست الدنیا منهم ولیسوا منها اولٰئک مصابیح الدّجیٰ ، اولٰئک مصابیح الدجیٰ ، اولٰئک مصابیح الدجیٰ
ترجمہ:
حضرت علی (علیہ السلام ) فرماتے ہیں کہ رسول خدا نے ممبر پر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اے علی (علیہ السلام ) خدا نے روئے زمین پر مساکین اور مستضعفین سے محبت کرنا تجھے ھبہ کر دیا اور تو ان کی بھائی چارہ پر راضی ہو جا اور وہ تمہاری امامت پر خوش ہیں اور خوش خبری ہو اس کیلئے جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور تیری تصدیق کرتا ہے اور ویل و بربادی ہے اس کیلئے جو تجھ سے دشمنی کرتاہے او ر تجھے جھٹلاتا ہے اے علی (علیہ السلام )تو اس امت کا عالم ہے اور جو تجھ سے محبت کرنیوالا ہے کامیاب ہے اور تجھ سے دشمنی کرنے والا ھلاک ہو ااے علی (علیہ السلام ) میں علم کا شہر او ر تو اس کا دروازہ ہے اور جو شہر علم میں آنا چاہے اسے چاہیے دروازے سے آئے اے علی (علیہ السلام ) تجھ سے محبت کرنیوالا خدا کی تسبیح کرنے والے اور اس کی حفاظت کرنے والے ہیں اگر وہ قسم اٹھاتے ہیں تو خدا ا نکی قسم کو قبول کرتا ہے اے علی (علیہ السلام ) تجھ سے محبت کرنے والا طاھر و پاک و کوشش کرنے والا ہے تیری خاطر کسی سے محبت کرتا ہے اور تیری ہی خاطر دشمنی کرتا ہے لوگوں میں حقیر اور خدا کے ہاں عظیم مقام رکھتا ہے اے علی (علیہ السلام ) تجھ سے محبت کرنے والے خدا کے پڑوسی ہونگے
(جنت میں)اور دنیا میں جو چھوڑ کے آتے ہیں اس پر انکو افسوس نہیں ہوتا اے علی (علیہ السلام ) میں محبت کرتا ہوں اس سے جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور دشمنی کرتاہوں اس سے جو تجھ سے دشمنی کرتاہے
اے علی (علیہ السلام)جو تجھ سے محبت کرتا ہے وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جو تجھ سے دشمنی کرتا ہے وہ مجھ سے دشمنی کرتا ہے اے علی (علیہ السلام)تجھ سے محبت کرنے والے لب تشنہ ہیں الہی روپ ان کے چہروں سے آشکار ہوتا اے علی (علیہ السلام)تیرے محب تین مقام پر بہت خوش ہوتے ہیں۔
۱ ۔جب انکی روح کو بدن سے قبض کیا جاتا ہے اور میں انکو دیکھ رہا ہوتا ہوں اور تو بھی شاھد ہوتا ہے
۲ ۔جب قبر میں سوال و جوا ب ہوتا ہے اور بہت سخت مقام ہے ۔
۳ ۔پل صراط سے عبور کرتے وقت کہ جب لوگوں سے باز پر س ہو گی ایمان کے متعلق اور لوگ جواب نہیں دے سکیں گے۔
اے علی (علیہ السلام)تجھ سے جنگ کرنے والا مجھ سے جنگ کرنے والا ہے تجھ سے صلح کرنے والا مجھ سے صلح کرنے والا ہے اور مجھ سے جنگ کرنے والا خدا سے جنگ کرنے والا ہے اور تجھ سے صلح کرنے والا مجھ سے صلح کرنے والا ہے اور مجھ سے صلح کرنے والا خدا سے صلح کرنے والا ہے اے علی(علیہ السلام) اپنے شیعوں کو بشارت دو کہ تحقیق خدا ان سے راضی ہے کیونکہ تو نے ان کو اپنا مقتدی بنا لیا اوراپنے آپ کو ان کا امام بنا لیا اے علی(علیہ السلام) تو مومنوں کا امیر ہے اورسفیدپیشانیوں والوں کا قاعد ہے اے علی(علیہ السلام) تیرے شیعہ پاک طینت سے ہیں اے علی(علیہ السلام) اگر تو اور تیرے شیعہ نہ ہوتے تو اللہ کا دین قائم نہ ہوتا اے علی(علیہ السلام) اگر زمین پر تو اور تیرے شیعہ نہ ہوتے تو آسما ن سے کبھی بارش نہ ہوتی اے علی (علیہ السلام)تیرے لئے جنت میں خزانے ہیں اور تیرا اس دنیا اور آخرت پر کنٹرول ہے اور تیرے شیعہ حزب اللہ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں
اے علی(علیہ السلام) تو اور تیرے شیعہ اس امت سے حساب وکتاب لینے والے ہیں۔اور خدا کی بہترین مخلوق تیرے شیعہ ہیں اے علی(علیہ السلام) میں وہ پہلا شخص ہوں جو قبر سے زندہ ہو کر باہر آؤں گا تو میرے ساتھ ہوگا ۔اور پھر دوسرے لوگ زندہ ہوں گے ۔اے علی (علیہ السلام) تو اور تیرے شیعہ حوض کوثر پر ہوں گے اور اپنے محبوں کو پانی پلائیں گے اور اپنے دشمنوں کو پانی سے روک دیں گے اور تم ہی قیامت کے دن عرش الہیٰ کے زیر سایہ امان میں ہو گے اور لوگ خوف کی حالت میں ہوں گے اور تمہیں اور تمہارے شیعوں کو کوئی خوف نہیں ہو گا لوگ غم زدہ ہوں گے اور تمہیں کوئی غم نہ ہوگا اور تمہارے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے ،،تحقیق وہ لوگ جن کو ہماری طرف سے نیکی اور اچھائی پہنچی وہ جہنم سے محفوظ ہونگے ،،انبیاء آیت اور یہ آیت بھی تمہارے بارے میں نازل ہوئی ہے ،،کہ انہیں قیامت کے خوفناک دن میں کوئی حزن وملال نہیں ہوگا اور ملائکہ ان سے ملاقات کریں گے اور کہیں گے کہ یہ دن ہے کہ جس کے بارے تمہیں وعدہ دیا گیااے علی (علیہ السلام)ملائکہ اور خزائن جنت تم سے ملنے کے مشتاق ہو نگے اور وہ فرشتے جو حاملان عرش ہیں اور خدا کے مقرّب فرشتے ہیں تمہارے لئے دعا کرتے ہیں اور تمہارے محبوں کیلئے خدا سے سوال کرتے ہیں اور تمہارے جنت میں داخل ہونے سے خوشحال ہونگے جس طرح جب کوئی لمبے سفر سے واپس اپنے گھر آتا ہے تو گھر والے اس کے آنے سے خوشحال ہوتے ہیں اے علی(علیہ السلام) تیرے شیعہ خلوت میں خدا سے ڈرتے ہیں اور جلوت میں خوش رہتے ہیں اے علی (علیہ السلام) تیرے شیعوں کو خدا تک پہنچنے کیلئے اور درجات حاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے سے سبقت لینی چاہئے کیونکہ جب خدا سے ملاقات کریں گے تو ان کے نامہ اعمال میں کوئی گناہ نہیں ہو گا اے علی شیعوں کے اعمال ہر جمعہ کے دن میرے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔
اور ان کے نیک اعمال دیکھ کر میں خوش ہوتا ہوں اور ان کے برے اعمال دیکھ کر میں ان کے لئے خدا سے استغفار کرتا ہوں۔اے علی(علیہ السلام) تیرا ذکر تورات میں ہے اور تیرے شیعوں کا ذکر ان کے خلق ہونے سے پہلے انجیل میں آیا ہے اھل انجیل اور اھل کتاب تجھے الیا کے نام کے بارے خبر دیتے ہیں جبکہ تو تورات و انجیل کا علم رکھتا ہے ،اور خدانے تجھے کتاب کا علم عطا کیا ہے تحقیق اھل انجیل الیا ء کو عظیم المرتبت سمھتے ہیں لیکن تجھے اور تیرے شیعوں کو پہچانتے نہیں ، اپنی کتابوں میں جب تمہارے اور تمہارے شیعوں کے بارے میں پڑھتے ہیں تو ان کو جانتے ہیں اے علی (علیہ السلام) تیرے شیعوں کا ذکر آسمانوں میں بہت عظیم ہے اس سے کہ ان کو زمین میں اچھائی کے ساتھ یاد کیا جائے اور انہیں چاہئے کہ سدا خوش رہیں اور اس زیادہ ان کو ان مقام کے حصول کیلئے کوشش کرنی چاہئے اے علی(علیہ السلام) تیرے شیعوں کی ارواح خواب میں یا وفات کے وقت آسمان کی طرف اٹھا لی جاتی ہے اور ملائکہ ان کو اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح لوگ عید کے چاند کو دیکھتے ہیں اور بڑے شوق سے ان کو دیکھتے ہیں وہ مقام جو خدا کے ہاں ان کو ملا اور نصیب ہوا اے علی(علیہ السلام) اپنے شیعوں کو جو بامعرفت ہیں کہہ دیجئے کہ برے کاموں سے پرہیز کریں کہ جن سے انکا دشمن بھی پرہیز کرتا ہے کیونکہ دن ورات میں کسی وقت انکو خدا کی رحمت اپنے اندر سمیٹ سکتی ہے انہیں چاہئے کہ گناہوں کی غلاظت سے اپنے آپکو بچائیں اے علی (علیہ السلام) جنہوں نے تیرے شیعوں کے فضائل سے انکار کیا خدا کا غضب بہت سخت ہے جو ان فضائل کا انکار کرتے ہوئے تجھ سے دور ہوگئے اور خدا کا غضب بہت سخت ہے ان کیلئے جنہوں نے تیرے اور تیرے شیعوں کی بجائے تیرے دشمنوں کو پکڑا اور تیرے دشمنوں کی طرف جھک گئے اور رغبت پیداکی اور گمراہی و ضلالت میں پڑ گئے اور تیرے اور تیرے شیعوں سے جنگ کرنے پر تلے رہے۔
اور ہم اہل بیت کو انہوں نے غضبناک کیا تجھ سے دشمنی کرتے ہیں اور تیرے شیعوں سے دشمنی کرتے ہیں ۔ اوران سے دشمنی کرتے ہیں کہ جنہوں نے تیرے لئے اپنی جان ومال کو ہماری راہ میں قربان کیا ان کو میرا سلام پہنچا دو کہ جنہوں نے مجھے نہیں دیکھا اور میں نے انکو نہیں دیکھا اور ان کو بتا دو کہ وہ میرے بھائی ہیں میں ان کے دیدار کا مشتاق ہوں اور میرے بعد آنے والے لوگوں تک میرے علم کو پہنچا دو اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لیں اور اپنے اعمال میں کوشش کرتے رہیں کہ کہیں گمراہی و ضلالت میں نہ پڑ جائیں اور اپنے شیعوں کو بتاد و کہ خدا ان سے راضی ہے اور ملائکہ کے سامنے ان کے سبب خدا فخر و مباحات کرتا ہے اور ہر شب جمعہ خدا رحمت کی نظر کرتا ہے اور ملائکہ کو حکم دیتا ہے کہ ان کیلئے استغفار کرتے رہیں اے علی( علیہ السلام) اس قوم کی نصرت سے رو گردان نہ ہونا کہ جن کو معلوم ہو جائے کہ میں تمہیں دوست رکھتا ہوں تو وہ میری خاطر تجھ سے محبت کرتے ہیں اور اسی وجہ سے خدا کے دین پر ثابت قدم رہتے ہیں اور تمہارے ساتھ دل سے محبت کرنے والے ہیں اور تمیں اپنے اباء واجداد و بہن بھائیوں سے مقدم سمجھتے ہیں اور تیری سیرت پر عمل کرتے ہیں اور ہماری خاطر مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں اور ہماری مدد کرتے ہیں اور اپنی پوری قوت و توانائی سے ہماری راہ میں تحمل کرتے ہیں اذیتوں کو برداشت کرتے ہیں میری باتیں سنتے ہیں اور مصیبتیں جھیلتے ہیں پس ان پرہمیشہ مہربان رہو اور انہیں پر قناعت کرو خدانے ان کو چناہے اپنی مخلوق میں سے اپنے علم کے سبب ہماری فاضل اور باقی ماندہ طینت سے خدانے ان کو خلق کیا اور ہمارے اسرار خدانے ان کے سپرد قلب کئے ہیں اور خدا نے ہمارے حق کی معرفت کو ان کے دلوں میں جگہ دی ہے اور ان کے سینوں کو ہماری معرفت کیلئے گشادہ کر دیا ہے اور خدا نے قرار دیا ہے کہ وہ حبل (ہماری محبت ) سے متمسک رہیں اور ہمارے مخالفین کو ہم سے مقدم نہیں کرتے۔
باوجود اس کے کہ دنیا میں نقصان اٹھاتے ہیں اور خدا نے ان کی تائید کی ہے اور ان کو راہ ھدایت پر قائم رکھا ہے اور انہیں چاہئے کہ اس پر قائم رہیں اور لوگ ضلالت و گمراہی میں سرگردان ہیں ھواء نفس کا شکار ہو چکے ہیں اور جو خدا نے نازل کیا ہے اس سے انکار کرتے ہیں اور خدا کی محبت کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اندھے ہیں صبح و شام خدا کے قہر و غضب کے مستحق ہیں اور تمہارے شیعہ راہ حق پر گامزن ہیں اور اپنے مخالفوں سے نفر ت اور بیزاری کرتے ہیں اور ان کی طرف میل پیدا نہیں کرتے دنیا سے توقع نہیں رکھتے اور نہ دنیا ا ن سے امید رکھتی ہے اور یہ ھدایت کے چراغ ہیں یہ ھدایت کے چراغ ہیں ،یہ ھدایت کے چراغ ہیں ۔(۱)
____________________
(۱) (امالی شیخ صدوق مجلس ۸۳ ج۲)
چھٹی حدیث
( ۶) عن علی بن ابی طالب ( علیه السلام) قال:قال لی رسول اللّه (صلّی اللّه علیه وآله وسلّم)یوم فتحتُ خَیبرَیاعلیّ لولاان تقول فیک طوائف من اُمّتی ما قالت النّصاریٰ فی عیسیٰ بن مریم لقلتُ فیک الیوم مقٰالاً لاٰ تمرُّ بملاءٍ من المسلمین الاّ و أخذُوا تُراب نَعلَیک و فضلَ طهورک یستشفون به ولٰکن حسبُک اَن تکون منّی واَنا منک ترثنی واَرثک وانت منّی بمنزلة هٰارون من موسیٰ الاّ اَنّه لانبیّ بعدی واَنت تُؤَدّی دینی وتقٰاتل علیٰ سنّتی واَنت فی الاخرة اقرب النّاس منّی وانّک غداً علی الحوض خلیفتی تذوذ عنه المنافقین
وانّک اوّل مَن یردُ علیَّ الحوض وانّک اوّل داخلٍ یدخلُ الجنّة من امّتی وانّ شیعتک علیٰ منٰابر من نور رواء مرویّین مبیضّة وجوههم حولی اشفعُ لهم فیکونون غداً فی الجنّة جیرانی وانّ عدوّک غداًظماءً مظمَئین مسودّةً وجوههم مقمحین
یا علیّ حربک حربی و سلمک سلمی وعلانیتک علانیتی وسریرة صدرک کسریرة صدری وانت باب علمی وانّ ولدک ولدی ولحمک لحمی ودمُک دمی وانّ الحقّ معک والحقّ علیٰ لسانک مانطقت فهو الحقّ وفی قلبک وبین عینیک والایمان مخٰالط لحمک ودمک کمٰا خٰالط لحمی و دمی
وانّ اللّه عزّوجلّ امرنی ان اُبشّرک :اَنت و عترتک ومحبیک فی الجنّة وانّ عدوّک فی النّار یا علیّ لاٰ یردُ الحوض مبغض لک ولاٰ یغیب عنه محبّ لک قال: قال علیّ (علیه السلام)فخررت ساجداًللّه سبحانه وتعٰالیٰ و حمدته علیٰ ما انعم به علیّ من الاسلام والقران وحبّبنی الی خاتم النبیّین وسیّد المرسلین( صلّی اللّه علیه وآله وسلّم)
ترجمہ:
حضرت علی ( علیہ السلام ) فرماتے ہیں کہ جب میں نے خیبر فتح کیا تو اس دن رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ) نے فرمایا اے علی( علیہ السلام ) اگرمجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ تیرے بارے میں امت میں سے بعض وہی کہیں گے جو نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ بن مریم کے بارے میں کہا تھا توآج میں آپ کے بارے میں کہتااور تو مسلمانوں کے کسی گروہ کے پاس سے نہ گزرتا مگر یہ کہ تیرے قدمو ں کی خاک اور تیرے وضو کے بچے ہوئے پانی کو اٹھا تے اوراسے اپنے لئے شفا سمجھتے لیکن تیرے لئے یہی کافی ہے کہ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں تو مجھ سے ارث لے گا اور میں تجھ سے ارث لونگا اور تجھے مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئیگا تو میرے دین و قرض کو ادا کریگا ۔ اور میری سنت پر جہاد کریگا اور آخرت میں تو سب سے زیاد ہ نزدیک تر ہوگا مجھ سے اور حوض کو ثر پر میرا جانشین ہو گا اور منافقوں کو حوض کوثر سے دور کرے گا اور تو سب سے پہلے حوض کوثر پر میرے پاس آئے گا ۔
اور تو سب سے پہلے حوض کوثر پر میرے پاس آئے گا تو سب سے پہلے میری امت میں بہشت میں داخل ہو گا اور تیرے شیعہ قیامت کے دن نورکے ممبروں پر سیراب ا ورحشاش وبشاش نورانی چہرے کے ساتھ میرے گرد ہونگے میں ان کی شفاعت کرونگا اور جنت میں میرے پڑوسی ہونگے ۔ اور تیرے دشمن قیامت کے دن بھوکے وپیاسے اور تھکے ہوئے سیاہ چہرے کے ساتھ سر جھکائے ہوئے اور گردن میں طوق و زنجیر پہنے ہوئے ہونگے ۔ اے علی (علیہ السلام ) تیرے ساتھ جنگ کر نا میرے ساتھ جنگ کرنا ہے تیرے ساتھ صلح کرنا میرے ساتھ صلح کرنا ہے تیرا ظاہر میرا ظاہر ہے تیرا باطن میرا باطن ہے تو میرے علم کا باب ہے تیرے بیٹے میرے بیٹے ہیں تیرا گوشت میرا گوشت ہے تیرا خون میرا خون ہے حق تیرے ساتھ ہے اور جو بھی تو کہے گا حق ہوگا تیرے د ل میں حق ہے تیری دونوں آنکھوں کے درمیان میں حق ہے اور تیرے گوشت میں ایمان مخلوط ہو چکا ہے تیرے خون میں حق مخلوط ہو چکا ہے جس طرح میرے گوشت و خون میں ایمان مخلوط ہو چکا ہے خدا فرماتا ہے میں تمہیں خوشخبری دوں تو اور تیری رعیت اور تیرے شیعہ جنت میں ہونگے اور تیرے دشمن جہنم میں ہونگے اے علی (علیہ السلام ) جو بھی تجھ سے دشمنی کرتا ہے حوض کوثر پر حاضر ووارد نہیں ہو سکتا اور تیرا محب حوض کوثر سے غایب نہیں ہو سکتا حضرت علی (علیہ السلام ) نے خدا کا شکر کرتے ہوئے سجدہ کیا اور خدا کی حمد بجالائے کیونکہ خداوند عالم نے حضرت علی(علیہ السلام ) پر اسلام اور قرآن سے بہت زیادہ انعامات فرمائے اور مجھے حضرت خاتم النبین اور سیدالمرسلین سے محبت کرنے والا بنایا ہے(۱)
____________________
(۱) (شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۹ ص۱۶۸خطبہ ۱۵۴)
ساتھویں حدیث
( ۷) قال النبی( صلّی اللّه علیه وآله وسلّم)ّ : لواجتمع النّا س علیٰ حبّ علیّ لمٰا خلق اللّه النّار
ترجمہ:حضرت رسول گرامی اسلام نے فرمایا اگر تمام لوگ علی (علیہ السلام ) کی محبت پر جمع ہو جاتے تو خداوند عالم جہنم کو خلق نہ فرماتا ۔(۱)
____________________
(۱) ( احقا الحق سیوطی در ذیل اللئالی ص۶۲ )
آٹھویں حدیث
( ۸) حدّ ثنامحمد بن علیّ مٰا جیلویه ، قال حدّ ثنی عمی عن المعلیٰ بن خنیس قال سمعت ابٰا عبد اللّه (علیه السلام ) یقول: لیس النّاصب من نصب لنا اهل البیت لاَنّک لاٰ تجد احداً یقول انا ابغض محمداً وآل محمدٍ ولٰکن النّاصب من نصب لکم وهو یعلم اَنّکم تتوالونا وتتبرّوءُ ن من اعدائنا و قال (علیه السلام)من اَشبع عدوّاً لنا فقد قتل ولیّاً لنٰا
ترجمہ:
معلی بن خنیس کہتا ہے کہ میں نے امام جعفر الصادق ( علیہ السلام) کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو ہم سے دشمنی رکھتا ہے اس کو ناصبی نہیں کہتے کیونکہ کوئی شخص اپنے آپ کو محمد ( صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ) وآل بیت محمد کا دشمن نہیں کہتا لیکن ناصبی وہ ہے کہ جو تم شیعوں سے دشمنی رکھتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ تم (شیعہ )ہم اھل بیت سے محبت کرتے ہوئے اور ہمارے دشمنوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہو،پھر حضرت نے فرمایا جو بھی کسی ہمارے دشمن کو کھانا کھلائے گا گو یا ہمارے کسی شیعہ کو اس نے قتل کیا ۔(۱)
____________________
(۱) ( صفات شیخ صدوق ص۹ ج۱۷) ترجمہ:
نویں حدیث
( ۹) عدّة من اصحٰابنا ، عن سهل بن زیٰاد ، عن محمّد بن الحسن بن شمّون عن عبد اللّه بن عبد الرّحمٰن ، عن عبد اللّه بن قاسم عن عمرو بن ابی المقدام ، عن ابی عبد اللّه ( علیه السلام) مثله وزٰاد فیه ألاٰ وانّ لکلّ شیءٍ جوهراً و جوهرُ ولدآدم محمد(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) ونحن و شیعتنا بعدنٰا ، حبّذا شیعتنٰا مٰا أقربهم من عرش اللّه عزّوجلّ وأحسن صنع اللّه الیهم یوم القیامة واللّه لولاٰ ان یتعٰاظم النّاس ذٰلک او یدخلهم زهو لسلّمت علیهم الملآئکة قبلاً واللّه مٰا من عبدٍ من شیعتنا یتلو القرآن فی صلاٰ ته الاّ وله بکلّ حرفٍ ماءة حسنة ولا قرأ فی صلاته جٰالساً قائماً الاّ وله بکلّ حرفٍ خمسون حسنة ولاٰ فی غیر صلٰاة الاّ وله بکلّ حرفٍ عشر حسنٰات وانّ للصّامت من شیعتنا لأجر من قرأ القرآن ممّن خٰالفه ، أنتم واللّه علیٰ فرشکم نیٰام ،لکم اجر المجٰاهدین
وانتم واللّه فی صلاٰ تکم لکم اجر الصّافین فی سبیله ، انتم واللّه الّذین قال اللّه عزّوجلّ،
،، ونزعنٰا مٰافی صدورهم من غلٍّ اخواناً علی سُرُرٍمتقٰابلین ،، انّمٰا شیعتنا أصحاب الاربعة الاَعین عینان فی الرّاس و عینان فی القلب اَلاٰ والخلٰائق کلّهم کذٰلک الاّ اأنَّ اللّه عزّوجلّ فتح ابصارکم واعمیٰ أبصٰارهم
ترجمہ:
عمر بن ابی المقداد امام صادق ( علیہ السلام ) سے روایت کرتا ہے کہ امام جعفر صادق( علیہ السلام) نے فرمایا جان کو ہر چیز کیلئے جوھر ہوتا ہے اور حضرت آدم کی اولاد کاگوہر حضرت محمد ہیں اور ان کے بعدہم اھل بیت اور ہمارے شیعہ ہیں اور خوش خبری ہو شیعوں کیلئے کہ کتنا خدا کے عرش کے نزدیک ہیں اور قیامت کے دن خدا ان سے بہت اچھا سلوک کریگا اور اگر ہمارے شیعہ کو تکبّر و فخر اورخود پسندی لاحق ہونے کا خطرہ نہ ہوتا تو خدا کی قسم اللہ کے پاک ملائکہ اس دنیا میں ان کے سامنے آکر سلام کرتے خدا کی قسم جب بھی ہمارے شیعوں میں سے کوئی بھی نماز کی حالت میں قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو خدا ہر حرف کے بدلے اسے ایک سو نیکی عطا فر ماتا ہے اور اگر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو ہر حرف کے بدلے پچاس نیکیا عطا کرتا ہے اور جو بھی نماز کے علاوہ باقی حالات میں قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو خدا ہر حرف کے بدلے اسے دس نیکیاں عطا کرتا ہے اور اگر کوئی خاموش رہتا ہے تو بھی خدا اسے ہمارے مخالف کے قرآن پڑھنے کے برابر نیکیاں و اجر عطا کرتا ہے ، اور خدا کی قسم ہمارے شیعہ اپنے بستر پر سو رہے ہوتے ہیں خدا انکو مجاھدین فی سبیل اللہ کے برابر اجر عطا کرتا ہے۔
اور نماز کی صفوں میں تمہیں راہ خدا میں جہاد کرنے والوں کہ صفوں کے برابر ثواب عطا کرتا ہے تم لوگ خدا کی قسم وہ لوگ ہو کہ خدا تمہارے بارے میں فرماتا ہے
(ہم نے ان کے دلوں سے کینہ و نفرت کو نکا ل لیا ہے اور بھائیوں کی طرح تخت پر ایک دوسرے کے برابر بیٹھے ہیں )(۱)
خداکی قسم ہمارے شیعوں کی چار آنکھیں ہیں دو ظاہر ی آنکھیں ہیں اور دو دل کی آنکھیں ہیں اور جان لو ہمارے شیعہ سب کے سب ایسے ہیں اور خدا نے تمہاری آنکھوں کو دیکھنے والا او ر حق کو قبول کرنے والا بنایا ہے لیکن تمہارے دشمنوں کی آنکھوں کو اندھا کر دیا اور حق کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہیں ۔(۲)
____________________
(۱)حجر آیت ۴۷
(۲) الروضہ من الکافی ج۲ ص ج ۲۶
دسویں حدیث
( ۱۰) عن ابی جعفر محمّد بن علیّ البٰاقر (علیہ السلام)عن ابیہ عن جدّہ (علیھم السلام) قال خرج رسول اللّہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) ذات یوم وھو راکب و خرج علیّ ( علیہ السلام) وھو یمشی فقٰال لہ یٰا ابا الحسن امّاان ترکب واما ان تنصرف، فانّ اللہ عزّوجلّ امرنی اَن ترکب اذٰا رکبت و تمشی اذٰا مشیت و تجلس اذٰا جلست الاّ اَن یکون حد من حدود اللّہ لابدّ لک من القیام والقعود فیہ ومٰا اکرمنی اللّہ بکٰرامۃ الاّ وقد اکرمک بمثلھا و خصّنی بالنّبوّۃ والرّسالۃ و جعلک ولیّ فی ذٰلک تقوم فی حدودہ و فی صعب اأمورہ والّذی بعث محمّداً بالحقّ نبیّاً مٰا آمن بی من انکرک ولاٰ أقرّبی من جحدک ولاٰ آمن باللّہ من کفر بک
وانّ فضلک لمن فضلی وان فضلی لک للفضل اللّہ وھو قول ربّی عزّوجلّ قل بفضل اللّہ وبرحمتہ فبذٰلک فلیفرحوا ھو خیر ممّٰایجمعون ففضل اللّہ نبوّۃنبیّکم ورحمتہ ولایۃ علی بن ابیطالب (علیہ السلام ) فبذٰلک قال بالنّبوّۃِ والولاٰیۃ فلیفرحوا یعنی الشیعۃ ھو خیر ممّٰا یجمعون یعنی مُخٰالفیھم من الا ھل والمٰال ولوالد فی دٰار دنیا واللّہ یا علیّ مٰا خُلقت الاّٰ لیعبد ( لتعبد) ربّک ولیعرف بک معٰالم الدّین ویصلح بک دارس السّبیل ولقد ضلّ من ضلّ عنک ولن یھدی الی اللّہ عزّوجلّ من لم یھتد الیک والیٰ ولاٰیتک وھو قول ربّی عزّوجلّ وانّی لغفّار لمن تاب وآمن وعمل صٰالحاً ثمّ اھتدیٰ یعنی الی ولاٰ یتک ولقد أمرنی ربّی تبٰارک وتعٰالیٰ أن افترض من حقّک مٰا افترضہ من حقّی وانّ حقّک لمفروض علیٰ من آمن و لولاٰک لم یعرف حزب اللّہ وبک یعرف عدوّ اللّہ ومن لم یلقہ بولاٰیتک لم یلقہ بشیءٍ ولقد أنزل اللّہ عزّوجلّ الیّ یا ایّھا الرّسول بلّغ مٰا انزل الیک من ربّک یعنی فی ولاٰیتک یا علیّ و ان لم تفعل فمٰابلّغت رسٰالتہ ولو لم ابلغ مٰا امرت بہ من ولاٰیتک لحبط عملی
ومن لقی اللّہ عزّ وجلّ بغیر ولاٰیتک فقد حبط عملہ وعد ینجز لی ومٰا أقول الاّ قول ربّی تبٰارک و تعالیٰ وانّ الّذی اقول لمن اللہ عزّوجلّ انزلہ فیک ۔
ترجمہ:
ایک دن حضرت رسولخدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم)گھوڑے پر سوار ہو کر گھر سے باہر نکلے اور حضرت علی ان کے ساتھ پیدل چل رہے تھے تو حضرت رسول خدا نے فرمایا اے ابا الحسن یا گھوڑے پر سوار ہو جاؤ یا واپس چلے جاؤ کیونکہ خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ تم گھوڑے پر سوار ہوجب میں سوار ہوں اور آپ پیدل چلیں اگر میں پیدل چلوں اور تم بیٹھوجب میں بیٹھا ہوں مگر یہ کہ خدا نے حدود بیان کی ہیں تو ضروری ہے کہ تمہارے لئے بھی قیام و قعود ہوخدانے مجھے کوئی کرامت نہیں دی مگر یہ کہ ویسی کرامت خدا نے تجھے بھی عطا کی ہے خدا نے مجھے نبی و رسول بنایا ہے اور تجھے میرا ولی بنایا ہے تو خدا کی حدود کو قائم کرے گا اور مشکلات کے وقت قیام کرے گا اور خدا کی قسم جس نے مجھ محمد کو حق کا نبی بنایا ہے کوئی شخص مجھ پر ایمان نہیں رکھتا جبکہ تیرا منکر ہے اور کوئی شخص میرا اقرار نہیں کرتا جبکہ تجھ سے انکار کرتا ہے اور کوئی شخص خدا پر ایمان نہیں رکھتا جبکہ تجھ سے کفر کر تا ہے۔
تیرا فضل میرے فضل سے ہے اور میرا فضل تیرے ساتھ خدا کے فضل سے ہے اور خداوند کا قول ہے
(کہ خدا کے فضل و رحمت سے ہے اور اسی لئے ان کوخوش ہونا چاہئے اور یہ بہتر ہے اس سے کہ جسکو جمع کرتے ہیں ) تمہارے نبی کی نبوت خدا کا فضل ہے اور خدا کی رحمت و ولایت حضرت علی بن ابی طالب (علیہ السلام)ہے اسی لئے رسول(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فرمایامیری نبوت اور علی کی ولایت کی وجہ سے شیعوں کو ہمیشہ خوش رہنا چاہئے اور یہی انکے لئے بہتر ہے اس سے جسکو وہ جمع کرتے ہیں یعنی شیعوں کے مخالف جسکو جمع کرتے ہیں اولاد و مال کو یعنی اپنی آل و اولاد کو اس دنیا میں اکھٹا کرتے ہیں خدا کی قسم اے علی تجھے سوائے اسکے خلق نہیں کیا گیا مگر خدا کی عبادت و پرستش کی جائے اور تمہارے وسیلے سے معالم دین پہنچائے جائیں تاکہ گمراہ راستے سے ھدایت کے راستے کی پہچان ہو سکے تحقیق گمراہ ہوا وہ جس نے تجھے گم کر دیا اور خدا کی طرف ھدا یت نہیں پا سکتا جو تیرے راستے کا انتخاب نہیں کرتا اور تیری ولایت کے دامن سے تمسک نہیں کرتا اور یہی ہے خداوند کا فرما ن کہ میں بخشنے والا ہوں اسکو جو توبہ کرتا ہے اور ایمان لے آتاہے عمل صالح کرتا ہے اور پھر ھدایت پاتا ہے یعنی اے علی تیری ولایت سے ھدایت پاتا ہے اور مجھے خدا نے حکم دیا ہے کہ وہ حق جو خدا نے میرے لئے مقرر کیا ہے وہی تیرے لئے مقرر کروں اور تیرا حق واجب ہے اس پر جو مجھ پر ایمان لاتا ہے اور اگر تو نہ ہوتا تو حذب خداپہچانا نہ جاتا اور تیرے وجود ذی جود سے دشمن خدا کی پہچا ن نہ ہوتی ہے اور جو تیری ولایت و محبت کے بغیر خدا سے ملاقات کرے گا اس کے پاس کچھ نہیں اور خدا نے میری طرف نازل کیا یا ایّھا الرسول بلّغ ما انزل الیک من ربّک یعنی اے علی تیری ولایت وان لم تفعل فما بلّغت رسالتہ اور اگرمیں نہ پہنچاؤں اسکو جو نازل کیا ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے تیری ولایت کے بارے میں تو میرے تمام اعمال ضبط وبرباد ہو جائیں گے
اور جو بھی تیری ولایت و محبت کے بغیر خدا سے ملاقات کرے گا اس کے سب اعمال ضایع و برباد ہو جائیں گے اور یہ وعدہ ہے جو میرے لئے معین کیا گیا ہے میں کچھ نہیں کہتا مگر وہی جو خدا کا فرمان ہے اور جو بھی تیرے بارے میں کہتا ہوں وہ خدا کا فرمان ہے اور میری طرف نازل کیا گیا ہے ۔(۱)
____________________
(۱) (امالی شیخ صدوق مجلس۷۴ص۴۹۴ح۱۶)
گیارہویں حدیث
( ۱۱) قال امیر المومنین (علیہ السلام):نحن شجر ۃ النّبوّۃ ومحطُّ الرّسالۃومختلف الملائکۃ ومعادن العلم وینابیع الحکم ناصرنا و محبّناٰ ینتظر الرّحمۃ و عدُوُّناٰ و مبغضنا ینتظر السّطوۃ ۔
ترجمہ:
حضرت علی ( علیہ السلام ) نے فرمایا کہ ہم شجرہ نبوت اور مقام رسالت اور ملائکہ کے نازل اور آنے جانے کا مرکز اور علم کے خزانے ہیں اور حکمت کے چشمے ہیں ہماری مدد کرنے والا اور ہم سے محبت کرنے والا خدا کی رحمت کا منتظر رہے اور ہمارا دشمن اور ہمسے بغض رکھنے والا خدا کے قہر و عذاب کا منتظر رہے ۔(۱)
____________________
(۱) (سید رضی نہج البلا غہ قسمت اوّل ص ۱۶۳ خطبہ ۱۰۹)
بارویں حدیث
( ۱۲) حدّثنا محمّد بن موسیٰ المتوکّل عن الحسن بن علی الخزٰار قال: سمعت(علیہ السلام) یقول:انّ ممّن یتّخذُ مودّتناٰ اھل البیت لمن ھو اشدّ لعنتہ علیٰ شیعتناٰ من الدّجٰال فقلتُ لہ یابن رسول اللّہ بمٰاذا ؟ قال بمُوٰالاٰ ۃ اعدائنٰا ومعٰادٰاۃ اولیٰائنٰا انّہ کان کذٰ لک اختلط الحق بالبٰا طل واشتبہ الامر فلم یعرف مؤ من من منافقٍ۔
ترجمہ :
حسن بن خراز کہتا ہے کہ میں نے امام رضا ( علیہ السلام ) کو فرماتے ہوئے سناکہ جو ہم اھلبیت کی محبت کو شعار بناتا ہے اور اس کی خراب کاری ہمارے شیعوں کیلئے دجا ل سے زیادہ نقصان دہ ہے ، روای کہتاہے کہ میں نے عرض کی اے فرزند رسول خدا اس طرح کیوں ہے ؟ تو امام ( علیہ السلام ) نے فرمایا ہمارے دشمنوں سے محبت اور ہمارے محبوں سے دشمنی کرنے سے اور جو بھی اس طرح کرتا ہے حق و باطل آپس میں مخلوط ہو جاتے ہیں اور پھر معاملہ مشکل ہو جاتا ہے اور مؤ من کی منافق سے پہچان مشکل ہو جاتی ہے(۱)
____________________
(۱) (صفات شیعہ شیخ صدوق ص ۸ ح ۱۴)
تیرویں حدیث
( ۱۳) قال الرّسول ( صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)یا علیّ انت قسیم االجنّۃ والنّار ، تدخُل محبّیک الجنّۃ ومبغضک النّار
ترجمہ :
حضرت رسول گرامی اسلام نے فرمایا اے علی( علیہ السلام) تو جنت و جہنم کا تقسیم کرنے والا ہے اپنے محبوں کو جنت میں اور اپنے دشمنوں کو جہنم میں داخل کریگا ۔(۱)
____________________
(۱) ( احقاق الحق القندوزی الحنفی ینابیع المودّۃ ص۸۵)
چودہویں حدیث
( ۱۴) عن ابن عبّاس قال : قال رسول اللّہ( صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) من سرّہ ان یحیٰ حیٰاتی و یمُوت ممٰاتی و یسکن جنّۃ عدنٍ غرسھٰا ربّی فلیُوال علیّاً من بعدی و لیُوال ولیّہ و لیقتد بالائمّۃ من بعدی فانّھم عترتی خلقوا من طینتی و رزقوا فھماً و علماً ویل للمکذّبین بفضلھم من امّتی القاطعین فیھم صلتی لاٰ انٰا لھم اللّہ شفاعتی۔
ترجمہ:
عبد اللہ بن عبا س کہتا ہے کہ رسو ل خدا ( صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فرمایا جو چاہتا ہے کہ میری طرح زندہ رہے اور میری طرح سے اسے موت آئے اور جنت الفردوس میں اسکو جگہ ملے کہ جس میں باغات خدا نے لگائے ہیں تو اسے چاہئے کہ میرے بعد علی( علیہ السلام) سے محبت کرے اور علی( علیہ السلام) کے محبوں سے محبت کرے اور میرے بعد آنے والے آئمہ کی اقتداء کرے اور وہ میری عترت ہیں میری طینت سے خلق کئے گئے ہیں ان کا رزق علم و دانش ہے اور جہنم ہے ان کیلئے جو اھل بیت کی فضیلت کو جھٹلاتا ہے اور جو مجھ سے محبت رکھتا ہے اور ان سے محبت قطع کرتا ہے خدا میری شفاعت انکو نہیں پہنچنے دیگا ۔(۱)
____________________
(۱) ( شرح نہج البلاغۃ ابن ابی الحدید ج۹ ص ۱۷۰ خطبہ ۱۵۴)
پندرہویں حدیث
( ۱۵) قال علی(علیه السلام) لو ضربت خشیوم المؤمن بسیفی هٰذا علیٰ ان یبغضنی مٰا اابغضنی ولو صببت الدّنیا بجمّا تهٰا علی المنافق علیٰ ان یحبّنی مٰا احبّنی وذٰلک انّه قضی فانقضیٰ علیٰ لسان النبیّ الاُ مّی ( صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) انّه قال :
یا علیّ یبغضک مؤمن ولا یحبّک منافق
ترجمہ:
حضرت ( علیہ السلام) علی فرماتے ہیں کہ اگر میں مؤمن کی ناک پر تلواریں ماروں تاکہ وہ مجھ سے دشمنی کرے تو مجھ سے دشمنی نہیں کرے گا اور اگر منافق کو دنیا وما فیھا دے دوں تا کہ مجھ سے محبت کرے وہ میرا محب نہیں بنے گا کیونکہ خدا کا فیصلہ ہے اور نبی کی زبان سے جاری ہوا ہے کہ پیامبر نے فرمای
اے علی(علیہ السلام) تجھ سے مومن کبھی بغض نہیں رکھے گا اور منافق کبھی محبت نہیں کرے گ(۱)
____________________
(۱) (عقائد الانسان ج۳ ص۲۹۹ح۶)
سولہویں حدیث
(۱۶ ) حدّثنٰا الحسین بن ابراهیم قال حدّثنٰا علیُ بن ابراهیم عن جعفر بن سلمه الاصبهٰا نی عن ابراهیم بن محمّدٍ قال حدّثنٰا القتاد قال حدّثنٰا علیُّ بن هاٰ شم بن البرید عن ابیه قال سُئل زید بن علی(علیه السلام) عن قول رسول اللّه ( صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) من کنت مولاٰه فعلیّ مولاٰه قال نصبه علماً لیعلم به حزب اللّه عند الفرقة
ترجمہ:
امام زین العابدین (علیہ السلام) سے پوچھا گیا رسول خدا کے اس فرمان کے بارے ،،من کنت مولاہ فھذاعلی مولاہ،، تو امام نے فرمایا حضرت رسول نے اس کو ھدایت کا علم قرار دیا تاکہ اختلا ف کے وقت حزب خدا کو پہچانا جائے ۔(۱)
____________________
(۱) (امالی شیخ صدوق مجلس نمبر ۲۶ ص۱۲۳ ج۳)
ستارہویں حدیث
(۱۷ ) محمّد بن یحیٰ عن احمد بن محمّد ، عن ابن محبوبٍ ، عن ابن رئاٰبٍ، عن بکیر بن اعین قال :کان ابو جعفر(علیه السلام) یقول:انّ اللّه اخذ میثاق شیعتنٰا بالولاٰ یة لنا وهم ذرّ، یوم اخذ المیثاق علیٰ الذّ ر، بالاقرار له بالرّبوبیّة ولمحمدٍ ( صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) بالنبوّة وعرض اللّه جلّ وعزّعلیٰ محمد ( صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) امّته فی الطّین وهم أظلّه وخلقهم من الطّینة الّتی خُلق منها آدم وخلق اللّه أرواح شیعتنٰا قبل ابدٰانهم بأ لفی عٰامٍ وعرضهم علیه وعرّفهم رسو ل اللّه ( صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) وعرّفهم علیّاً ونحن نعرفهم فی لحن القول
ترجمہ :
امام محمد باقر (علیہ السلام ) نے فرمایا کہ خدانے عالم ذر میں ہمارے شیعوں سے میثاق و عہد لیا ہماری ولایت کے بارے میں جب عالم ذر میں اپنی ربوبیت اور رسول کی رسالت کے بارے عہد وپیمان لے رہاتھا خدا نے رسول کی امت کو حضرت رسول (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) کے سامنے پیش کیا جبکہ وہ مٹی و طین میں سایہ کی طرح تھے اور خدا نے انکو طینت سے خلق کیا جس طینت سے خدا نے حضرت آدم کو خلق فرمایا تھا اور خدا نے ہمارے شیعوں کی ارواح کو ان کے بدنوں کے خلق کرنے سے دہ ہزار سال قبل خلق فرمایا اور رسول کے سامنے ان کو پیش کیا اور خدا نے رسول کو ان کی پہچان کرائی اور علی(علیہ السلام) نے بھی اپنے شیعوں کو پہچانا اور ہم ان کو ان کی گفتار سے پہچانتے ہیں کہ ہماری محبت کی باتیں کرتے ہیں ۔(۱)
____________________
(۱) ( اصول کافی ج۲ کتاب الحجہ ص۳۲۱ح۹)
آٹھارہویں حدیث
(۱۸ ) قال الرّسول( صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) اللّه: من صافح محباً لعلی غفر الله له الذنوب، واَدخله الجنّة بغیر حساب
ترجمہ:
پیامبر اسلام نے فرمایا کہ جو علی(علیہ السلام ) کے محبوں سے مصافحہ کرتا ہے خدا اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل کریگا ۔(۱)
____________________
(۱) (احقاق الحق ،اخطب خوارزمی درمناقب خوارزمی ص ۲۲۱)
انیسویں حدیث
(۱۹ ) عن ابن عبّاس قال: قال رسول اللّه( صلّی اللّه علیه وآله وسلّم)یا علیّ انا مدینة الحکمة و انت بابُهٰا ولن تؤتی المدینة الاّمن قِبل البٰاب وکذب من زعم انّه یحبّنی وهویبغضک لأنّک منّی وانا منک لحمک من لحمی ودُمک من دمی وروحک من روحی وسریرتک من سریرتی وعلاٰنیتک من علاٰنیتی وانت امام امّتی وخلیفتی علیهٰا بعدی سُعد من اطاعک وشقی من عصٰاک وربح من تولاّک وخسر من عاداک وفاز من لزمک وهلک من فٰارقک، مثلک ومثل الائمّةمن ولدک بعدی مثل سفینةنوحٍ من رکب فیهٰا نجٰا ومن تخلّف عنهٰا غرق ومثلکم مثل النّجوم کلّمٰا غٰاب نجم طلع نجم الیٰ یوم القیامة
ترجمہ :
عبد اللہ بن عبا س کہتا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا کہ اے علی(علیہ السلام) میں حکمت کا شہر ہوں اور آپ اسکا دروازہ ہیں جو بھی شہر میں آنا چاہے دروازے سے آئے اورجھوٹا ہے وہ شخص جو کہے میں رسول سے محبت کرتا ہوں جبکہ تجھ سے دشمنی رکھتا ہو، کیونکہ تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں ، تیرا گوشت میرا گوشت ہے تیرا خون میرا خون ہے ، تیری روح میری روح ہے ، تیرا باطن (یعنی اسرار دل) میرا باطن ہے ، تیرا ظاہر میرا ظاہر ہے ۔تو میری امت کا امام ہے میرے بعد میری امت میں میرا خلیفہ ہے اور جس نے تیری اطاعت کی وہ خوشبخت ہے اور جس نے تجھے ٹھکرا دیا و شقی وبدبخت ہے ، فائدہ اٹھا یا اس نے جس نے تجھ سے محبت کی اور نقصان اٹھایا اس نے جس نے تجھ سے دشمنی کی اور کامیاب ہو ا جس نے تجھے پکڑ لیا یعنی دامن کو پکڑا اور جو تم سے جد اہوا وہ ھلاک ہوا تیری مثال اور تیرے بعد آئمہ کی مثال سفینہ نوح کی مثال ہے ، جو سوار ہوا نجات پا گیا اور جس نے تخلف کیا وہ غرق ہوا اور تمہاری مثال ستاروں کی طرح ہے جب ایک ستارہ غروب کرتا ہے تو دوسرا طلوع کرتا ہے اور قیامت کے دن تک یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔(۱)
____________________
(۱) (عقا ئدالانسان ج۳ ص ۱۲۳ ح۲۳)
بیسویں حدیث
(۲۰ ) عدّة من أصحٰابنٰا، عن أحمد بن محمدبن خٰالدٍ، عن محمّد بن الحسن بن شمّون ،عن عبد اللّه بن عمروبن الاشعث، عن عبد اللّه بن حمّادالانصٰاری، عن عمروبن أبی المقدٰام ، عن أبیه عن أبی جعفر (علیه السلام) قال: قال امیرالمؤمنین(علیه السلام):شیعتناالمتبٰاذلون فی ولایتنٰا، المتحابّون فی مودّ تنٰا ، المتزٰاورون فی اِحیٰاء امرنٰا الّذین ان غضبوا لم یظلموا وان رضوا لم یسرفوا برکة علیٰ من جٰاوروا، سلم لمن خٰالطوا
ترجمہ:
حضرت علی (علیہ السلام ) نے فرمایاہمارے شیعہ وہ ہیں جو ہماری ولایت و محبت کی وجہ سے ایک دوسرے سے درگزر کرتے ہیں ایک دوسرے کو تحائف دیتے ہیں ہماری محبت کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور ہمارے امر کو زندہ کرنے کیلئے ایک دوسرے کی زیارت کو جاتے ہیں ، اگر کسی پر ناراض ہوتے ہیں تو ظلم نہیں کرتے اور اگر راضی ہوں تو اسراف نہیں کرتے اور اپنے پڑوسیوں کیلئے برکت کا باعث ہوتے ہیں اور معاشرے میں سلامتی اور سلوک سے رہتے ہیں ۔(۱)
____________________
(۱) ( اصول کافی ج۳ کتاب الایمان والکفر ص۳۳۳ ح۲۴)
اکیسویں حدیث
(۲۱ ) قال النبیُّ (صلّی اللّه علیه وآله وسلّم): من سرّه ان یجوز علی الصراط کالرّیح العاصف و یلج الجنّة بغیر حساب فلیتولّ ولّی ووصیّ وصٰاحبی وخلیفتی علیٰ أهلی علیّ
ترجمہ:
حضرت رسول گرامی اسلام فرماتے ہیں جو اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ تیز ہوا کی طرح پل صراط سے گزر جائے گا اور بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہو گا اسے چاہئے کہ میرے ولی و وصی و خلیفہ اورمیرے بھائی علی بن ابی طالب ( علیہ السلام) سے محبت کرے ۔(۱)
____________________
(۱) (احقاق الحق الحسکانی شواھد التنزیل ج۱ص۵۸)
بائیسویں حدیث
(۲۲ ) عن علیّ بن ابیطالب ( علیه السلام) قال: قال رسول اللّه (صلّی اللّه علیه وآله وسلّم)لولاٰک مٰا عُرف المؤمنون من بعدی
ترجمہ:
حضرت علی ( علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ) نے مجھ سے فرمایااے علی اگر تو نہ ہوتا تو میرے بعد مومن پہچانے نہ جاتے ۔(۱)
____________________
(۱) ( عقدئد الانسان ص۱۶۷ج۲،ابن المغازلی مناقب میں ص۷۰ح۱۰۱)
تیئسویں حدیث
(۲۳ ) عن ابی ذرّ قال : قال النبیّ(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) : علیّ بابُ علمی و مبیّن لاُمّتی ما ارسلت به من بعدی حبّه ایمٰان و بغضه نفاق والنظر الیه رأفة ومودّته عبادة
ترجمہ:
ابو ذر حضرت پیامبر سے روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا یا علی میرے علم کا دروازہ ہے اور میرے بعد میری امت کیلئے اسکو بیان کریگا جو خدا کی طرف سے میں لایا ہوں ۔
علی (علیہ السلام)سے محبت ایمان اور علی(علیہ السلام) سے دشمنی نفاق ومنافقت ہے علی( علیہ السلام) کی طرف دیکھنا مہر ومحبت ہے اور علی ( علیہ السلام) سے دوستی عبادت ہے(۱)
____________________
(۱) (بوستان معرفت ص۳۳۷کشفی ترمذی درمناقب مرتضوی باب دوّم ص۹۳)
چوبیسویں حدیث
(۲۴ ) قال النبیّ(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) :لا یقبلُ اللّه ایمان عبدٍ الاّ بولاٰیة علیّ والبرء اة من اعدائه
ترجمہ:
حضرت رسول اسلام نے فرمایا خدا کسی بندے کے ایمان کو قبول نہیں کریگا مگر حضرت علی (علیہ السلام) کی محبت اور انکے دشمنوں سے بیزاری ونفرت کا اظہار کرنے سے۔(۱)
____________________
(۱) (احقاق الحق خطب خوارزمی در مناقب خوارزمی ص۲)
پچیسویں حدیث
(۲۵ ) حدّثنا محمد بن الحسن بن الولید عن محمد بن الحسن الصّفار عن محمد بن عیسیٰ بن عبیدٍ عن ابن فضٰال قال سمعتُ الرّضٰا ( علیه السلام) یقول :من وٰاصل لنا قاطعاً او قطع لنا وٰاصلاً او مدح لنا عایباً او اکرم لنا مخٰالفاًفلیس منّٰا ولسنٰا منه
ترجمہ:
ابن فضال کہتا ہے کہ میں نے حضرت رضا ( علیہ السلام ) سے سنا فرما رہے تھے ہمارے نزدیک ہو وہ جو ہم سے دور ہوچکا ہے یا قطع تعلقی کرتا ہے اس سے جو ہم سے محبت کرتا ہے یا مدح و ستائش کرتا ہے اسکی جو ہماری عیب جوئی کرتا ہے یا اکرام و بخشش کرتاہے اسکو جو ہمارا مخالف ہے وہ ہم سے نہیں اور نہ ہم اس سے ہیں ۔(۱)
____________________
(۱) (صفات شیعہ ص۷ ح۱۰)
چھبیسویں حدیث
(۲۶ ) الحسین بن محمد عن معلّی بن محمد عن محمد بن جمهور قال: حدّثنٰا یُونس عن حمّاد بن عثّمٰان عن الفضیل بن یسٰار عن أبی جعفر ( علیه السلام) قال انّ اللّه عزّوجلّ نصب علیا( علیه السلام ) علماً بینه و بین خلقه فمن عرفه کاٰن مؤمناً ومن انکره کاٰن کافراً و من جهله کاٰن ضٰالاً ومن نصب معه شیئاً کا ن مشرکاً و من جٰآء بولاٰ یته دخل الجنّة
ترجمہ:
امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ خدا وند عالم نے حضرت علی (علیہ السلام) کو اپنے اور اپنی مخلوق کے درمیان عَلَم اور علامت قرار دیا ہے جو بھی اس کی معرفت حاصل کریگا وہ مومن ہے اور جو انکار کرے گا وہ کافر ہے اور جو معرفت حاصل نہیں کرے گا وہ گمراہ ہے اور جو کسی دوسرے کو اس کیساتھ ملائے گا وہ مشرک ہے اور جو بھی قیامت کے دن حضر ت ( علیہ السلام) کی ولایت و محبت سے محشرکے میدان میں وارد ہوگا جنت میں داخل ہوجائے گا ۔(۱)
____________________
(۱) ( اصول کافی کتاب حجہ ج۲ص۳۲۰ ح۷)
ستائیسویں حدیث
(۲۷ ) عن سید الاوصیٰاء علی ابن ابی طالب( علیه السلام)قال:قال رسول اللّه (صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) :ستُدفن بضعةمنّی بارض خرٰاسٰان مٰا زٰارهٰا مکروب الاّ نفّس اللّه کربته و لاٰ مذنب الاّ غفر اللّه ذنوبه
ترجمہ:
سید الاوصیاء حضرت علی بن ابی طالب ( علیہ السلام ) فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فرمایا کہ خراسان کی سر زمین پر میرے بدن کا ٹکڑا دفن کیا جائے گا جو بھی پریشان حال اسکی زیار ت کریگا خدا اس کی پریشانی کو دور فرمائے گا ، اور جو بھی گنہگار اسکی زیارت کرے گا خدا اس کے تمام گناہ معاف کر دے گا ۔(۱)
____________________
(۱) ( عقائد الانسان ص۲۲۱ج۲)
آٹھائیسویں حدیث
(۲۸ ) قال النبی(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم)ّ : لو انّ عبداً عبدُاللّه الف عٰامٍ بعد الفَ عٰام بین الرّکن والمقام ثمّ لقی اللّه مبغضاً لعلیّ( علیه السلام) لاکبه اللّه یوم القیامة علیٰ مَنخَریه فی نٰار جهنّم
ترجمہ :
پیامبر گرامی(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) اسلام نے فرمایا اگر کوئی شخص ہزار سال کے بعد ہزار سال کعبہ اور مقام ابراھیم کے درمیان خدا کی عبادت کرے اور اسی حالت میں مر جائے اور اس کے دل میں علی(علیہ السلام) سے بغض ہوتو خداقیامت کے دن منہ کے بل اسے جہنم میں داخل کریگا۔(۱)
____________________
(۱) (احقاق الحق اخطب خوارزمی در مناقب خوارزمی ص۵۲)
انتیسویں حدیث
(۲۹ ) قال النّبی(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم)ّ : مکتوب علیٰ باب الجنّةلا الٰه الاّ اللّه محمد رسول اللّه علیّ ولیُ اللّه اخو رسول اللّه قبل ان یخلق السمٰوات والارض الفی عٰام
ترجمہ:
پیامبر گرامی (صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فرمایا جنت کے دروازے پر دو ہزار سال آسمانوں اور زمین کو خلق کرنے سے پہلے لکھا تھا ، لا الٰہ اللہ محمد رسول اللہ علی ولی اللہ اخورسول اللہ (رسول خدا کا بھائی )۔(۱)
____________________
(۱) (شبہائے پشاور ص۸۱۸ح۳)
تیسویں حدیث
( ۳۰ ) محمد بن یحیٰ ، عن سلمة بن الخطّاب ، عن علی بن سیف عن العبّاس بن عٰامر عن احمد بن رزق الغمشٰانیّ، عن محمد بن عبد الرحمٰن عن ابی عبد الله( علیه السلام) قال: ولاٰیتنا ولاٰیة اللّه الّتی لم یبعث نبیاً قطّ الاّ بهٰا
ترجمہ :
امام صادق ( علیہ السلام) نے فرمایا ہماری ولایت خدا کی ولایت ہے کہ خدا نے اس کے بغیر کسی نبی کو مبعوث نہیں کیا ۔(۱)
____________________
(۱) (کتاب الحجہ اصول کافی ج۲ص۳۱۹ح۳)
اکتیسویں حدیث
(۳۱ ) قال النّبی(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) : من ارٰاد ان ینظر الیٰ نوحٍ فی عزمه والیٰ آدم فی علمه والیٰ ابرٰاهیم فی حلمه والیٰ موسیٰ فی فطنته والیٰ عیسیٰ فی زهده ، فلینظر الیٰ علی بن ابیطالب( علیه السلام)
ترجمہ:
رسول خدا نے فرمایا جو چاہتا ہے کہ دیکھے حضرت نوح کو اپنے عزم وارادہ میں اور آدم کو علم میں اور حضرت ابراھیم کو حلم و بردباری میں اور حضرت موسیٰ کو عقل مندی میں حضرت عیسیٰ کو زھد میں پس اسے چاہئے کہ علی بن ابی طالب (علیہ السلام ) کے چہرے کو دیکھ لے ۔(۱)
____________________
(۱) (بوستان معرفت ص۴۵۰ح۱۰)
پتیسویں حدیث
(۳۲ ) محمدبن یحیٰ ، عن احمد بن محمد بن عیسیٰ ، عن محمد بن اسمٰاعیل بن بزیغ ، عن محمد بن الفضیل ، عن ابی الصّبّاح الکنٰانیّ عن ابی جعفر ( علیه السلام) قال:سمعته یقول :واللّه انّ فی السّمٰاء لسبعین صفّاً من الملائکة ، لو اجتمع اهل الارض کلّهم یحصون عدد کلّ صفّ منهم مٰا احصوهم وانّهم لیدینون بولاٰیتنا
ترجمہ:
امام باقر (علیہ السلام ) فرماتے ہیں خدا کی قسم آسمان میں ملائکہ کی ستر صفیں ہیں اور اگر اھل زمین جمع ہو جائیں اور ملائکہ کی ایک صف کو شمار کرنا چاہیں تو شما ر نہیں کر سکتے او ر وہ سب کے سب فرشتے ہماری ولایت پر اعتقاد رکھتے ہیں ۔(۱)
____________________
(۱) (اصول کافی کتاب الحجہ ص۳۲۰ ح۵)
تینتیسویں حدیث
(۳۳ ) سهل بن زیادٍ عن محمد بن الولید قال سمعت یونسَ بن یعقوب عن سنٰان بن طریفٍ عن ابی عبد اللّه(علیه السلام) یقول: قال انّا اوّلُ اهل بیتٍ نوّه اللّه بأسمٰا ئنٰا انّه لمّا خلق السّمٰاوٰات والارض أمر مُنٰادیاًفنادیٰ أشهدُ أن لاٰ الٰه الاّ اللّه ثلاٰ ثاً اشهدانّ محمّداً رسول اللّه ثلاثاً اشهدُ انّ علیّاً امیر المؤمنین حقاً ثلاثاً
ترجمہ:
امام جعفر صاد ق(علیہ السلام ) فرماتے ہیں کہ ہم اھل بیت رسول، خدا کی وہ پہلی مخلوق ہیں کہ خدا نے ہمارے نام کو بلند کیا جب خدا نے آسمان و زمین کو خلق کیا تو منادی کو حکم دیا اور اس نے ندادی اشھد ان لا الاالّا اللہ تین مرتبہ پھر اشھد انّ محمداً رسول اللہ تین مرتبہ پھر اشھدانّ علیاً امیرالمؤمنین (علیہ السلام ) حقاًتین مرتبہ ۔(۱)
____________________
(۱) (اصول کافی کتاب الحجہ ج۲ص۳۲۷ ح۸)
چونتیسویں حدیث
(۳۴ ) قال ابو حمزة وسمعتُ ابٰا عبد اللّه جعفر بن محمّد(علیه السلام ) یقول:رُفع القلم عن الشیعة بعصمة الله وولایته
ترجمہ:
ابو حمزہ کہتا ہے کہ میں نے امام جعفر صادق (علیہ السلام ) سے سنا کہ انھوں نے فرمایا کہ شیعوں کی خطاؤں اور گناہوں کو لکھا نہیں جاتا کیونکہ خدا ان کی حفاظت کرتا ہے اور خدا کی ولایت و قلعہ میں زندگی کرتے ہیں ۔(۱)
____________________
(۱) (فضائل شیعہ شیخ صدوق ص۱۴ح۱۴)
پینتیسویں حدیث
(۳۵ ) قال النّبیّ (صلّی اللّه علیه وآله وسلّم): من أحبّ علیاً (علیه السلام) اعطاه اللّه بکلّ عرقٍ فی بدنه مدینة فی الجنّة
ترجمہ:
حضرت رسول گرامی اسلام نے فرمایا جو بھی علی سے محبت کرتا ہے خدا تبارک وتعالیٰ اسکو بدن کے اندر جتنی رگیں ہیں ان کے برابر جنت میں شہر عطا کریگا ۔(۱)
____________________
(۱) (احقاق الحق ابن حجر العسقلانی در لسان المیزان ص۶۲)
چھتیسویں حدیث
(۳۶ ) قال رسول اللّه(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم): من انکر حقّ علی(علیه السلام)لعِن وخاب
ترجمہ:
رسول خدا نے فرمایا جو بھی حضرت علی (علیہ السلام ) کے حق سے انکار کرتا ہے وہ ملعون ہے اور اپنے مقصد تک نہیں پہنچ سکے گا ۔(۱)
____________________
(۱) (احقاق الحق اخطب خوارزمی مناقب خوارزمی ص۲۲۷)
سینتیسویں حدیث
(۳۷ ) عدّة من اصحٰابنٰا عن احمد بن محمد، عن ابن فضّالٍ، عن ابن بُکیر، عن فُضیل بن یسٰار ، عن عبد الوٰاحدین المختٰار الاَنصٰاری قال: قال ابو جعفر(علیه السلام) :یٰا عبد الوٰاحد مٰا یضرّ رجلاً اذٰا کان علیٰ ذا الرّای ماقال النّاس له ولو قٰالوا مجنون، ومٰایضرّه ولو کان علی رأس جبلٍ یعبد اللّه حتّیٰ یجیئه الموت
ترجمہ:
عبد الواحد بن مختار کہتا ہے کہ امام باقر (علیہ السلام )نے فرمایا اے عبدا لواحد جو بھی ہماری محبت پر اعتقاد رکھتا ہو اسکو لوگوں کی باتیں کوئی نقصان نہیں پہچا سکتیں اگرچہ لوگ کہیں کہ یہ دیوانہ ہے اور اس کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اگر چہ پہاڑ کی چوٹی پر چلا جائے خدا کی عبادت کرتا ہے یہا ں تک کہ اسے موت آجائے ۔(۱)
____________________
(۱) ( اصول کافی کتاب ایمان و کفر ص۳۴۲ح۱)
آٹھتیسویں حدیث
(۳۸ ) عن عمرو و سلمة قٰالاٰ: سمعنٰارسول اللّه فی حجّة الودٰاع وهو یقول: علیِّ یعسوب المؤمنین والمٰال یعسوب الظّالمین ، علیُّ اخی و مولیٰ المؤ منین من بعدی وهو منّی بمنزلة هٰارون من موسیٰ،
الاّ أنّ اللّه ختم النّبوّة فلٰا نبیّ بعدی وهو الخلیفة فی الأهل و ا لمؤمنین
ترجمہ:
عمرو اور سلمہ کہتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ہم نے رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم)سے سنا کہ فرما رہے تھے کہ علی (علیہ السلام ) مومنوں کا سردار ہے اور مال ظالموں کا سردار ہے علی (علیہ السلام )میرے بعد مومنوں کا ولی ہے اور علی (علیہ السلام )کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی ،
مگر یہ کہ خداوند نے سلسلہ نبوت کو ختم کردیا ہے اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور علی میری آل و خاندان میں اور مومنین میں میری طرف سے خلیفہ ہے ۔(۱)
____________________
(۱) (عقائد الانسانج۳ ص۱۲۴ح۱۸)
انتالیسویں حدیث
(۳۹ ) قال الحسین بن علی ( علیه السلام ) عن ابیه علیّ بن ابی طالبٍ ( علیه السلام) قال ، قال رسول اللّه(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) : یا علیّ انت اخی وانا اخوک یٰا علیّ انت منّی وانا منک یا علیّ انت وصی وخلیفتی وحجّة اللّه علیٰ اُمّتی بعدی لقد سعِد من تولاّٰک و شقی من عٰادٰاک
ترجمہ:
امام حسین (علیہ السلام) اپنے بابا پیامبر سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا اے علی تو میرا بھائی اور میں تیرا بھائی ہو ں اے علی تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں ، اے علی تو میرا خلیفہ اور خدا کی حجت میری امت میں ہو ، خوش بخت ہے و ہ شخص جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور بد بخت ہے وہ شخص جو تجھ سے دشمنی کرتا ہے ۔(۱)
____________________
(۱) (امالی شیخ صدوق ص۳۶۰ح۱۲)
چالیسویں حدیث
(۴۰ ) محمّد بن یحییٰ والحسن بن محمّد جمیعاً، عن جعفر بن محمّد الکوفیّ عن الحسن بن محمّد الصّیرفیّ عن صٰالح بن خٰالدٍ عن یمٰان التّمّٰار قال : کنّٰاعندأبی عبد اللّه ( علیه السلام) جلوساًفقٰال لنا: انّ لصٰاحب هٰذا الامر غیبة ، المتمسّک فیهٰا بدینه کالخٰارط للقتٰادٍ ثمّ قٰال: هٰکذا بیده فاَیُّکم یمسک شوک القتٰاد بیده ؟ثمّ أطرق ملیاً ، ثمّ قٰال: انّ لصٰاحب هٰذا الامر غیبةً، فلیتّق اللّه عبد ولیتمسّک بدینه
ترجمہ:
یمان تمار کہتا ہے کہ امام جعفر صادق ( علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر تھا امام نے مجھ سے فرمایا کہ ہمارے صاحب امر کو غیب ہونا ہے اور جو بھی اس دور میں اپنے ایمان کو محفوظ رکھے گا وہ اس شخص کی طرح ہے جو خار دار درخت کو اپنے ہاتھوں سے تراشتا ہے پھر امام نے فرمایا اسی طرح اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے مجسم کرکے فرما رہے تھے کہ تم میں سے کون ہے جو اس قسم کے درخت کو اپنے ہاتھ سے اٹھائے پھر امام نے اپنا سر تھوڑی دیر کیلئے نیچے کی طرف جھکا لیا اور فرمایا کہ صاحب امر کیلئے غیبت ہے پس لوگوں کو اس دور میں تقویٰ الہیٰ اختیار کرنا چاہئے اور اپنے دین کو محفوظ رکھیں ۔
اکتالیسویں حدیث
(۴۱ ) حدّثنٰا الحسن بن محمّد بن سعید الهٰاشمی قٰال حدِّثنٰا فرٰات بن ابرٰاهیم فرٰات الکوفی قٰال حدّثنٰا محمّد بن ظهیر قٰال حدّثنٰا عبد اللّه بن الفضل الهٰاشمی عن الصّادق جعفر بن محمّد (علیه السلام)عن ابیه عن آبائه (علیهم السلام)قٰال ،قٰال رسول اللّه (صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) یومُ غدیر خم افضلُ اَعیادِامّتی وهو الیومُ الّذی امرنی اللّه تعٰالیٰ ذکره فیه بنصبِ اخی علیّ بن ابی طالبٍ (علیه السلام)علماً لاُمّتی یهتدون من بعدی وهو الیوم الذی اکمل الله فیه الدین واتم علی امتی فیه النِّعمة ورضِیَ لهم الاسلامَ دیناً ثمّ قٰال : ( صلّی اللّه علیه وآله وسلّم)معٰاشر النّاس انّ علیاً منّی وانا من علیٍّ خُلق من طینتی وهو امٰام الخلق بعدی یبیّنُ لهم مَا اختلفوا فیه من سنّتی وهو امیرُالمؤمنین وقٰائد الغرَّ المحجّلین ویعسوب المؤمنین وخیر الوصین وزوج سیّدة نسٰاء العٰالمین واَبوالاَئمّة المهدیین معٰاشر النّاس من احبّ علیاً احببتُه ومن ابغض علیاً ابغضته ومن وصل علیاً وصلته ومن قطع علیاً قطعته ومَن جفٰا علیّاً جفوته ومن وٰالیٰ علیّاً وٰالیتُه ومن عاد علیّاً عٰادیته ، معاشر النّاس أنا مدینةالحکمة وعلیّ بن ابیطالبٍ بٰابهٰا ولن تُؤتی المدینة الاّ من قِبَلِ البٰاب وکذب من زعم انّه یحبّنی ویبغض علیّاً
معٰاشر النّاس والّذی بعثنی بالنّبوّة واصطفانی علیٰ جمیع البریّة مٰا نصبتُ علیّاًعلماً لاُمّتی فی الارض حتّیٰ نوّه اللّه باسمه فی سمٰوٰاته واوجب ولاٰیته علیٰ ملائکته (والحمدُ للّه ربّ العٰالمین والصّلاةعلیٰ خیر خلقه محمّدٍ وآله)
ترجمہ:
رسول گرامی اسلام (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم)نے فرمایا میری امت کی بہترین عیدوں میں سے ایک عید غدیر خم کی عید ہے اور یہ وہ دن ہے کہ جس دن خدا نے مجھے حکم دیا کہ اپنی امت کی امامت کیلئے اپنے بھائی علی ابن ابی طالب (علیہ السلام )کو منصوب کروں تاکہ لوگ میرے بعد اس کی اتباع کریں یہ وہ دن ہے کہ جس دن خدا نے اپنے دین کو مکمل کیا اور میری امت کیلئے اس دن نعمتوں کوتمام کیا اور دین اسلام لوگوں کیلئے انتخاب کر نے پر راضی ہوا اور پھر پیامبر(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فرمایا اے لوگو آگا ہ ہو جاؤ کہ علی (علیہ السلام ) مجھ سے ہے اور میں علی (علیہ السلام ) سے ہوں خدا نے علی (علیہ السلام ) کو میری طینت سے خلق فرمایا اور میرے بعد میری امت کا امام ہے اور جب لوگ میری سنت کے بارے میں اختلاف کریں گے تو ان کیلئے میری سنت کو بیان کرے گا ۔ اور علی(علیہ السلام ) مؤمنوں کا امیر ہے سفید پیشانی والوں کا رہبر ہے اور یعسوب المومنین ہے یعنی مومنوں کا سردار ہے اور خیر الوصیین ہے اور عالمین کی عورتوں کی سردار کا شوہر ہے اور ابولآئمہ ہے یعنی گیارہ اماموں کا باپ ہے اے لوگوں جو علی (علیہ السلام ) سے محبت کرے گا میں اس سے محبت کروں گا اور جو علی (علیہ السلام ) سے بغض رکھے گا میں اس سے ناراض ہونگا اور جو علی (علیہ السلام ) سے دوستی رکھے گا میں اس سے دوستی رکھوں گا اور جو علی (علیہ السلام ) سے قطع تعلقی کرے گا میں اس سے قطع تعلقی کروں گا اور جو علی پر ظلم کرے گا میں اس پر جفا کروں گا اور جو علی (علیہ السلام ) کی ولایت کا اقرار کرے گا میں اس کا ولی ہو نگا جو علی (علیہ السلام ) سے دشمنی کرے گا میں اس سے دشمنی کروں گا اے لوگو آگاہ رہو میں حکمت کا شہر ہوں علی(علیہ السلام ) اس کا دروازہ ہے اور کوئی شہر میں نہیں آسکتا مگر دروازے سے اور جھوٹ بولتا ہے وہ شخص جو کہے کہ میں رسول سے محبت کرتا ہوں جبکہ علی (علیہ السلام ) سے بغض رکھتا ہو۔
اے لوگومجھے قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے نبی بنایا اور تمام لوگوں سے مجھے منتخب کیا میں نے علی(علیہ السلام) کو اس زمین پر اپنی امت کا عَلَم نہیں بنایا یعنی امام نہیں منصوب کیا مگر خدا نے علی (علیہ السلام)کے نام کو آسمانوں پر بلند کیا اور ملائکہ پر علی(علیہ السلام) کی محبت وولایت کو واجب کردیا ہے حمد ہے اس اللہ کیلئے جو عالمین کا رب ہے اور درود وسلام ہوں خدا کی بہترین مخلوق حضرت محمد(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) پر اور اس کی پاک آل پر ۔(۱)
____________________
(۱) ( امالی شیخ صدوق)
بتالیسویں حدیث
( ۴۲) معراج رسول خدا
عن ابی ذرّ الغفاری قال: کنتُ جالساً عند النبیّ(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم)ذات یومٍ فی منزل اُمّ سلمة ورسول اللّه (صلّی اللّه علیه وآله وسلّم)یُحدّثنی وانا اسمعُ،اذدخل علیّ بنُ ابیطالبٍ(علیه السلام)، فاَشرَق وجههُ نوراً فرَحاً باَخیه وابن عمِّه ، ثمّ ضمَّه الیه و قبَّل بین عینه ، ثمّ التفت الیّ فقٰال : یا اباذر اتعرف هٰذا الدّاخل علینا حقّ معرفته؟ قال ابوذرّ: فقلت : یارسول اللّه هٰذا اَخوک وابنُ عمّک وزوج فاطمة البتول وابوالحسن والحسین سیّدی شباب اهل الجنّه فقٰال رسول اللّه(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم)
۱ یا ابٰاذرهٰذا الامٰام الازهر ، ورُمح اللّه الاَطوَل وبٰاب اللّه الاکبر فمن اراد اللّه فلیدخلُ البٰاب
۲ یٰا ابٰا ذرٍّهٰذا القائم بقسط اللّه والذّابّ عن حریم اللّه والنّاصر لدین اللّه وحجّة اللّه علیٰ خلقه انّ اللّه تعٰالیٰ لم یزل یحتجّ به علیٰ خلقه فی الامم کلّ یبعث فیهٰا نبیّاً
۳ یٰا اباذرانّ اللّه تعٰالیٰ جعل علیٰ کلّ رکنٍ من ارکان عرشه سبعین الف ملکٍ لیس لهم تسبیح ولاٰ عبٰادة الاّ الدّعٰاء لعلیٍّ وشیعته والدّعا ءَ علیٰ اعدٰائه
۴یا ابٰا ذر لولاٰ علیّ مٰا بٰان الحقّ من الباطل ولاٰ مؤمن من الکافر و لاٰ عبد اللّه ، لأنّه ضَرَبَ رؤُس المشرکین حتّیٰ اسلموا وعبدواللّه ، ولولاٰ ذٰلک لم یکن ثواب ولاٰ عقٰاب ولاٰ یستره من اللّه ستر ولاٰ یحجبه من اللّه حجٰاب وهوالحجٰابُ والسّترُ ثمّ قراءَ رسول اللّه (صلّی اللّه علیه وآله وسلّم ):شرع لکم من الدّین مٰا وصّیٰ به نوحاً والذّی اوحینٰا الیک ومٰا وصّینٰا به ابراهیم وموسیٰ وعیسیٰ ان اقیموا الدّین ولاٰ تتفرّقوا فیه کبُر علی المشرکین مٰا تدعوهم الیه اللّه یجتبی الیه من یشٰاءُ و یهدی الیه مَن ینیب
۵یٰا ابٰا ذرٍّ انّ اللّه تبارک وتعٰالیٰ تفرّد بمُلکه ووحدانیّته ، فعرّف عبٰادَه المخلصین لنفسه ، وابٰا ح لهم الجنّة ، فمن ارٰاد ان یهدیه عرّفه ولاٰ یته ومن ارٰاد ان یطمس علیٰ قلبه اَمسک عنه معرفته
۶یٰا ابٰاذرٍّ هٰذا رٰایة الهدیٰ ، وکلمة التّقویٰ ، والعروة الوثقیٰ ، وامٰامُ اولیٰائی ، ونور من اطٰا عنی، وهو الکلمة الّتی الزمها اللّه المتّقین فمن احبّه کان مؤمناً، ومن ابغضه کٰان کافراً ومن ترک ولاٰیته کٰان ضٰالاً مضلاًّ ، ومن جحد ولاٰیته کاٰن مشرکاً
۷یٰا ابٰاذرٍّ یؤ تیٰ بجٰاحد ولٰایة علیٍّ یوم القیامة اصمّ واعمیٰ وابکم فَیُکَبکَبُ فی ظلمٰات القیٰامة یُنٰادی یٰا حسرتٰا علیٰ مٰافرّطتُ فی جنبٍ اللّه وفی عنقه طوق من النّار ، لذٰلک الطّوق ثلاٰ ثُماءة شعبَةٍ علیٰ کلّ شعبة منهٰاشیطٰان یتفلُ فی وجهه ویکلح من جوف قبره الیٰ النّار ، قٰال ابوذر : فقلتُ : فداک ابی وامّی یٰا رسول اللّه ملأت قلبی فرحاً وسروراً فزدنی فقٰال: نعم انّه لمّا عرج بی الیٰ السّمٰاء الدّنیا اذّن ملک من الملائکة واقام الصلاة، فاخذ بیدی جبرائیل (علیه السلام) فقدّ منی ،
فقٰال لی : یٰا محمّد(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم ) صلّ بالملائکةفقد طٰال شوقهم الیک ،فصلّیت بسبعین صفّاًمن الملائکة ، الصّفّ مٰا بین المشرق والمغرب لاٰ یعلم عددهم الاّ الذی خلقهم ، فلمّا قضیت الصّلاة اقبل الیّ شر ذمة من الملائکة یسلّمون علیَّ یقولون : لنٰا الیک حٰاجة ، فظننت انّهم یساَلوننی الشّفاعة لاَنّ اللّه عزّوجلّ فضّلنی بالحوض والشّفاعة علیٰ جمیع الانبیاء فقلتُ : مٰا حٰا جتکم ملائکة ربّی ؟ قالوا : اذٰا رجعتََ الی الارض فاقرأ علیّاًمنّا السّلام واَعلمه باِنّا قد طٰال شوقنٰا الیه ، فقلتُ : ملائکة ربّی! تعرفوننٰا حقّ معرفتنٰا ؟ فقٰالوا:یا رسول الله لا نعرفکم انتم اول خلق خلقه الله خلق کم الله اشباح نورٍفی نورٍ من نور اللّه وجعل لکم مقاعدَ فی ملکوته بتسبیح وتقدیسٍ وتکبیرٍ له ثمّ خلق الملائکة ممّا اراد من انواٰر شتّیٰ ، کنّٰا نَمُرُّ بکم وانتم تسبّحون اللّه وتقدّسون وتکبّرون وتحمدون وتهلّلون ، فنسبِّحُ و نقدّس و نحمدُ ونهلّل ونکبّر بتسبیحکم وتقدیسکم وتحمیدکم وتهلیلکم وتکبیرکم فمٰا نزل من اللّه تعٰالیٰ فالیکم ومٰا صعد الیٰ اللّه تعٰالیٰ من عند کم ، فلم لاٰ نعرفکم ؟
ثمّ عُرجَ بی الیٰ السّمٰاء الثّانیة ، فقٰالت الملائکة مثل مقٰالة اصحٰابهم فقلتُ: ملائکة ربّی؟ هل تعرفوننٰا حقَّ معرفتنٰا ، قٰالوا: ولم لاٰ نعرفکم وانتم صفوة اللّه من خلقه وخزّان علمه والعروة الوثقیٰ ، والحجّة العظمیٰ ، وانتم الجنب والجٰانب وانتم الکَراسیّ واصول العلم ؟فاقرأ علیاً منّا السّلام
ثمّ عرج بی الیٰ السمآء الثالثة فقٰالت لی الملائکة مثل مقٰالة اصحابهم فقلت : ملاٰئکة ربّی ! تعرفوننٰا حقّ معرفتنٰا ؟ قٰالوا: ولِمَ لاٰ نعرفکم وانتم بٰاب المقٰام وحجّة الخصٰام وعلیّ دٰابّة الارض وفٰاصل القضٰاء وصٰاحب العصٰا، قسیم النّار غداً وسفینة النّجاة مَن رکبها نجیٰ ومَن تخلّف عنها فی النّار تردّیٰ یوم القیامة انتم الدّ عائم ونجوم الاقطار فلِمَ لا نعرفکم فاقرأ علیّاً منّا السّلاٰم
ثمّ عرج بی الیٰ السّماء الرّابعة ، فقٰالت لی الملائکة مثل مقٰالة اصحٰابهم فقلتُ: ملاٰ ئکه ربّی ! تعرفوننٰا حقّ معرفتنٰا ؟ فقالوا: ولِمَ لاٰ نعرفکم وانتم شجرة النّبوّة ، وبیت الرّحمة ومعدن الرّسالة ومختلف الملاٰئکة وعلیکم ینزل جبرٰائیل بالوحی من السماء ، فاقرأ علیاً منّا السّلام
ثمّ عرج بی الی السماء الخامسة ، فقٰالت لی الملائکة مثل مقٰالة اصحابهم فقلتُ : ملائکة ربّی! تعرفوننا حقّ معرفتنٰا؟ قالوا: ولِمَ لا نعرفکم ونحن نمرّ علیکم بالغدٰاة والعشیّ بالعرش ، علیه مکتوب ،،لاٰ اله الاّ الله محمد رسول الله وایّده بعلیّ بن ابی طالبٍ علیه السلام،، فعلمنٰا عند ذٰلک انّ علیاًولیّ من اولیاء الله تعالیٰ فاقرأ علیاً منّا السّلام
ثمّ عرج بی الی السماء السّٰادسة ، فقٰالت الملائکة مثل مقٰالة اصحابهم ، فقلت : ملائکة ربّی ! تعرفوننٰا حقّ معرفتنا؟ قالوا ولِمَ لاٰ نعرفکم وقد خلق الله جنّة الفردوس وعلیٰ بٰابِهٰا شجرة ولیس فیهٰا ورقة الاّ وعلیها حرف مکتوب بالنّور ،، لا اله الاّ الله ومحمد رسول الله وعلیّ بن ابی طالبٍ عروة الوثقیٰ وحبل المتین وعینه علیٰ الخلاٰئق اجمعین،،فاقرأ علیاً منّا السّلام
ثمّ عرج بی الی السّماء السّٰابعة ، فسمعت الملائکة یقولون : الحمد لله الذی صدقنٰا وعده ، فقلتُ : بمٰاذا وعدکم؟ قالوا: یا رسول الله لمّا خلقکم اشباح نورٍ فی نورٍ من نور الله تعالیٰ عرضت ولاٰیتکم علینافقبلنٰاها وشکونا مَحَبّتکُم الی الله تعالیٰ فامّا انت فوَعَدَنٰا باَن یرینٰاک معنٰا فی السّماء وقد فعل ،
وامّا علیّ علیه السلام فشکونٰا محبّته الی الله تعالیٰ فخلق لنا فی صورته ملکاً واقعده عن یمین عرشه علیٰ سریر من ذهبٍ مرصّع بالدّرٍّو الجوهر علیه قبّة من لؤلؤةٍ بیضٰاءَ ، یُریٰ بٰاطنها من ظاهرهاو ظاهرها من باطنهٰا ، بلاٰ دعٰامة من تحتها ولاٰ علاٰقة من فوقهٰا ، قٰال لهٰا صاحبُ العرش قومی بقدرتی فقٰالت ، فکلّمٰا اشتقنٰا الیٰ رؤیة علیٍّ نظرنٰا الیٰ ،، ذٰلک الملک فی السّمٰاء فاقرأ علیاً منّا السّلام
ترجمہ:
ابو ذر غفاری کہتے ہیں ایک دن میں ام سلمہ کے گھر رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم)کے پاس بیٹھا تھا رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم)میرے لئے حدیث بیان کر رہے تھے اور میں سن رہا تھا کہ اتنے میں حضرت علی(علیہ السلام) تشریف لاتے ہیں جب رسول کی نظر حضرت علی(علیہ السلام) پر پڑی تو پیامبر کے چہرے پر نور چمکا خوشحال اور مسرور ہوئے کہ پیامبر نے اپنے بھائی اور چچا زاد کاد یدار کیا رسول(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے علی(علیہ السلام) کو اپنے سینے سے لگا یا اور رسول نے علی(علیہ السلام) کا ماتھا(پیشانی) کا بوسہ دیا اور مجھے دیکھ کر پیامبر نے فرمایا اے ابوذر یہ جو ہمارے پاس آیا ہے اسکو جس طرح پہچاننے کا حق ہے پہچانتا ہے ؟ ابو ذر نے عرض کی اے اللہ کے رسول وہ آپکا بھائی اور آپکے چچے کا بیٹا اور فاطمہ کا شوہر حسن(علیہ السلام) و حسین (علیہ السلام)جنت کے جوانوں کے سردار کا باپ ہے پھر رسول نے فرمایا :
( ۱ )اے ابوذر یہ نورانی امام ہے خدا کا بلند بالا نیزہ ہے یہ خداوند تبارک وتعالیٰ کا دروازہ ہے اور جو بھی خدا تک پہچنے کا ارادہ رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اس دروازے سے داخل ہو۔
( ۲ ) اے ابوذریہ خدا کے عدل پر قیام کرنے والا ہے اور خدا کے حرم کا دفاع کرنے والا ہے
دین خدا کی مدد کرنے والا ہے اور خدا کی مخلوق پر خدا کی حجت ہے اور خدا نے جس قوم میں بھی کوئی نبی بھیجا ہے اس امت کے درمیان خدا نے علی(علیہ السلام) کے وسیلے سے حجت تمام کی ۔
۳ ۔ اے ابوذر خدا کی قسم خدا نے اپنے عرش کے ہر ستون پر ستر ہزار فرشتے مقرر کیئے ہیں اسکی تسبیح و عبادت سوائے اس کے نہیں کہ وہ علی(علیہ السلام) اور اسکے شیعوں کیلئے دعا کرتے ہیں ۔ اور انکے دشمنوں پر لعنت کرتے ہیں ۔
۴ ۔ اے ابوذر اگر علی (علیہ السلام) نہ ہوتے تو حق باطل سے روشن نہ ہوتا مومن کافر سے پہچانا نہ جاتا اور خدا کی عبادت نہ ہوتی کیونکہ اس نے مشرکوں کے سروں کوکا ٹا تاکہ اسلام لے آئیں اور خدا کی عبادت کریں اگر علی (علیہ السلام) نہ ہوتے تو نہ ثواب ہوتا نہ عقاب ہوتا، علی(علیہ السلام) اور خدا کے درمیان نہ کوئی پردہ ہے اور نہ کوئی حجاب بلکہ علی (علیہ السلام) ہی پردہ ہے اور حجاب ہے پھر رسول نے اس آیت کی تلاوت فرمائی ،،شرع لکم من الدین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،خدا نے تمہارے لئے دین سے اس چیز کو مقررکیا کہ جسکی نوح(علیہ السلام) کو خدا نے وصیت کی اور وہ جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی ہے اور جسکی سفارش کی ہم نے ابراھیم (علیہ السلام) و موسیٰ (علیہ السلام) و عیسیٰ(علیہ السلام) کو کہ دین کو قائم کریں اور متفرق نہ ہو ں مشرکوں کیلئے بہت ہی سخت تھا جو تم انکوخدا کی دعوت دیتے ہو اور خدا جسکو چاہتا ہے اپنے لئے چن لیتا ہے اور اپنی طرف اسکی ھدایت کرتا ہے جسکو اپنا نائب بناتا ہے
۵ ۔ اے ابوذر خدا اپنی مملکت ووحدانیت میں یکتا ہے اور اپنے مخلص بندوں کو اپنی معرفت عطا کرتا ہے اور جنت کو ان کیلئے خلق فرمایا ہے اور جس کی ھدایت کا خدا ارادہ کرتا ہے اسکو ولایت علی(علیہ السلام) کی معرفت عطا کرتا ہے اور جس کے گمراہ ہونے کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے معرفت وولایت حضرت علی(علیہ السلام) کو سلب کر لیتا ہے ۔
( لیکن یاد رہے کہ خدا کا جس کے متعلق ارادہ ہوتا ہے اس چیز کی لیاقت ذاتی کے مطابق ہوتا ہے )
۶ ۔ اے ابوذر یہ ھدایت کا پرچم ہے حضرت علی (علیہ السلام)کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پیامبر نے ارشاد فرمایا یہ کلمہ تقویٰ ہے یہ عروۃ الوثقیٰ اور میرے اولیاء کا امام ہے اور جو بھی میری ا طاعت کریگا اس کا نور ہے یہ وہ کلمہ ہے کہ جس سے خدا نے متقین کو متمسک رہنے کا حکم دیا ہے پس جو بھی علی (علیہ السلام)سے محبت کرے گا وہ مومن ہے اور جو بھی علی(علیہ السلام) سے دشمنی کرے گا وہ کافر ہے اور جو بھی علی (علیہ السلام)کی ولایت کو ترک کرے گا وہ گمراہ ہے اور گمراہ کرنے والا ہے اور جو بھی اس کے حق سے انکار کرے گا وہ مشرک ہے ۔
۷ ۔ اے ابوذر علی(علیہ السلام)کی ولایت کا انکار کرنے والا قیامت کے دن بہرا اندھا اور گونگا محشور ہو گا اور قیامت کی ظلمت میں الٹا چلے گا اور فریاد کرے گا کہ ھائے افسوس کہ میں نے خدا کے حق میں کوتا ہی کی اور اس کی گردن میں آگ سے بنا ہوا طوق ہوگا کہ جس کے تین سو کنڈے ہونگے او ر ہر کنڈے پر شیطان مسلط ہے اور اس شخص کے منہ میں اپنے دھان سے آب دھان یعنی تھوکتا ہے جب قبر سے نکل کر جہنم کی آگ میں جاتا ہے تو اس کا چہرہ قبیح اور زشت ہو چکا ہوتا ہے ابوذر نے عرض کی یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں آپ نے میرے دل کو بہت خوش کیا اور بھی ارشاد فرمائیں تو پیامبر گرامی اسلام نے اپنے واقع معراج کو ایک آسمان سے ساتویں تک کو بیان کیا کہ سات آسمانوں کے ملائکہ نے حضرت علی (علیہ السلام)کے دیدار کے شوق کا اظہار کیا ،
پہلا آسمان :
رسول (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے ارشاد فرمایا جب مجھے دنیا کے آسمان پر لے جایا گیا ایک فرشتے نے اذان و اقامت کہی اور پھر جبرائیل نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آگے کردیا ۔
اور کہا کہ ملائکہ کو نماز پڑھاؤ کہ کافی عرصے سے تمہارے دیدار کے مشتاق ہیں ۔
میں نے نماز پڑھائی جبکہ ملائکہ کی سترصفیں تھیں ایک صف کی لمبائی مشرق سے مغرب تک تھی اور انکی تعداد کو کوئی نہیں جانتا سوائے خالق اکبر کے کہ جس نے ان کو خلق کیا جب ہم نماز پڑھ چکے اور تسبیح اور تقدیس میں مشغول تھے کہ ملائکہ کا ایک گروہ میرے پاس آیااور مجھ پر سلام کیا اور کہنے لگے اے محمد(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کیا ہماری حاجت کو پوراکرو گے ؟ رسول(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) فرماتے ہیں کہ مجھے گمان ہوا کہ ملائکہ خدا سے شفاعت چاہتے ہیں کیونکہ خدا نے مجھے بوسیلہ حوض کوثر اورشفاعت، تمام انبیاء پر فضیلت برتری دی ہے میں نے کہا اے خدا کے فرشتے اپنی حاجت بیان کریں،تو ملائکہ کہنے لگے جب زمین پر واپس جائیں تو حضرت علی (علیہ السلام)کو ہماری طرف سے سلام پہنچا دینا اور ساتھ یہ کہنا کہ ہم تیرے دیدار کے بہت مشتاق ہیں تو میں نے کہا اے خدا کے ملائکہ کیا تمہیں جس طرح ہماری معرفت رکھنی چاہئے معرفت حاصل ہے؟کہنے لگے اے رسو ل خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) کس طرح تمہیں نہ پہچانیں جبکہ آپ خدا کی پہلی مخلوق ہیں خدا نے تمہیں نور کی شکل میں نور کے پردوں میں خلق کیا اورتمہیں اپنے عرش کے پاس جگہ عطا کی تاکہ خدا کی تسبیح وتقدیس و تکبیر بیان کرتے رہیں اور پھر خدا نے ملائکہ کو جس سے ارادہ کیا خلق کیا یعنی مختلف انوار سے خلق کیا اور ہم آپکے پاس سے گزرتے تو آپ کی تسبیح و تقدیس و تکبیر و تہلیل کی آواز سنتے تھے تو ہم نے بھی آپکی طرح خدا کی تسبیح و تقدیس و تکبیر بیان کی پس جو بھی خدا کی طرف سے نازل ہوتا ہے وہ آپکی طرف نازل ہوتا اور جو بھی خدا کی طر ف زمین سے بلند ہوتا ہے وہ بھی آپکی طرف سے ہوتا ہے پس کیسے ہم آپکو نہ پہچانیں؟
دوسرا آسمان:
رسول فرماتے ہیں پھر مجھے دوسرے آسمان پر لے جایا گیا تو وہاں کے رہنے والوں
فرشتوں نے بھی پہلے آسمان پر رہنے والے فرشتوں کی طرح سوال کئے میں نے کہا اے خدا کے ملائکہ کیا جس طرح ہماری معرفت کا حق ہے ہماری معرفت رکھتے ہو تو ملائکہ نے جواب دیا ہم کیسے آپ کو نہ پہچانیں جبکہ خدا نے اپنی مخلوق سے آپکو منتخب کیا اور آپ خدا کے علم و معرفت کا خزانہ و منبع ہیں وعروۃ الوثقیٰ ہیں یعنی اللہ کی مضبوط رسی ہیں اور خدا کی عظیم حجت ہیں آپکا مقام خدا کے ساتھ ملا ہوا ہے اور آپ علم کا تخت اور مخزن ہیں اور جب زمین پر جائیں تو علی کو ہمارا سلام پہنچا دینا ۔
تیسرا آسمان:
پھر مجھے تیسرے آسمان پر لے جایا گیا وہاں پر رہنے والے ملائکہ نے بھی مجھ سے پہلے کی طرح سوال کیا میں نے جواب دیا کہ جس طرح ہماری معرفت رکھنے کا حق ہے معرفت رکھتے ہیں؟ کہنے لگے کیوں نہ ہم آپ کی معرفت رکھتے ہوں جبکہ آپ کا مقام بلند دشمنوں پر حجت ہیں ۔ اور علی دابۃ الارض ہے قضا کو جدا کرنے والا اور صاحب عصا ہے قیامت کے دن جہنم کو تقسیم کرنے والاہے ۔اور نجات کی کشتی ہے جو سوار ہوا نجات پا گیا اور جس نے تخلف کیا اور روگردان ہوا روز قیامت جہنم میں داخل ہو گاتم دین کے ستون ہو زمین پر روشن ستا رے ہوہم کیسے تمہیں نہ پہچانیں علی کو ہمارے سلام پہنچا دینا ۔
چوتھا آسمان:
پھر چوتھے آسمان پر رہنے والے ملائکہ نے اسی طرح سوال کیا میں نے جواب دیا کیا ہماری معرفت جس طرح معرفت رکھنے کا حق ہے رکھتے ہو؟تو ملائکہ نے ایک زبان ہو کر کہا ہم کیسے تمہیں نہ پہچانیں جبکہ تم نبوت کا شجرہ ہو اور رحمت کا گھر ہو اور رسالت کا خزانہ ہو اور ملائکہ کے آنے و جانے کا مقا م ہو اور تم پر جبرائیل آسمان سے وحی لیکر نازل ہوتا ہے علی کو ہمارا سلام پہنچا دینا ۔
پانچواں آسمان :
پھر مجھے پانچویں آسمان پر لے جایا گیا وہاں پر بھی ملائکہ نے مجھ سے وہی سوال کیا میں نے انکو کہا کہ جس طرح انکو پہچاننے کا حق ہے پہچانتے ہو تو کہنے لگے کیسے آپ کو نہ پہچانیں جبکہ صبح وشام عرش پر تمہارے پاس سے گزرتے ہیں اور وہاں پر لکھا ہوا ہے لا الہ الاّ اللہ محمد الرسول اللہ اور خدا نے اپنے رسول کی علی بن ابی طالب کے ذریعے تائید کی ہے اس وقت ہم نے پہچانا کہ علی ولی خدا ہے علی کو ہماری طرف سے سلا م پہنچا دینا ۔
چھٹا آسمان:
پھر مجھے چھٹے آسمان پر لایا گیا پھر ملائکہ نے مجھ سے وہی سوال کیا میں نے ملائکہ سے کہا کیا تم ہماری معرفت رکھتے ہو جس طرح رکھنے کا حق ہے تو کہنے لگے ہم کیسے تمہاری معرفت نہ رکھتے ہوں تحقیق خدا نے جب جنّت الفردوس کو خلق کیا اور اس کے دروازے پر ایک شجرہے اور اس کے تمام پتوں پر نور سے لکھا ہوا ہے ،،لا الہ الاّ اللہ و محمد رسول اللہ و علی بن ابی طالب عروۃ اللہ وحبل اللہ المتین وعینہ علی الخلائق اجمعین ،،علی عروۃ الوثقیٰ ہے علی خدا کی مضبوط رسی ہے علی خدا کی مخلوق پر خدا کی آنکھ ہیں علی کو ہماری طرف سے سلام پہنچا دینا ۔
ساتواں آسمان:
پھر مجھے ساتویں آسمان پر لے گئے میں نے سنا ملائکہ کہہ رہے تھے کہ حمداس اللہ کی جس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا میں نے ان کو کہا کس چیز کا خد ا نے تم سے وعدہ کیا تھا تو سب نے کہا اے رسول خدا جب خدا نے آپ کونور کی اشباء میں اور اپنے نور سے خلق کیا تو خدا نے تمہاری ولایت کو ہمارے سامنے پیش کیا ہم نے تمہاری ولایت کو قبول کیاا ور شدت محبت کی وجہ سے ہم نے تمہاری جدائی کے بارے خدا سے شکایت کی تو خدا نے تمہارے بارے ہم سے وعدہ کیا کہ ایک دن میں تمہیں دکھاؤں گا اور آج ہم آسمان پر آپ کی زیارت کر رہے ہیں اور خدا نے اپنے وعدہ کو پورا کیا ہے۔
اور ہم نے علی کے بارے میں بھی خدا سے شکایت کی تو خدا نے ایک فرشتے کو علی کی شکل میں خلق کیا اور اپنے عرش کے دائیں طرف سونے کے تخت پر جو لا ل و جواہر سے مزیّن ہے پر بٹھایا اور اس تخت پر سفید موتیوں سے ایک قبّہ ہے کہ جس کے اندر باہر دونوں طرف سے دیکھا جا سکتاہے اور اس قبہ کا کوئی ستون نہیں اور نہ اوپر سے کوئی سہارا دیا گیا ہے خدا نے اس کو حکم دیا اور وہ خدا کے حکم سے قائم ہے اور جب ہمیں علی کی محبت کی شدت ہوتی ہے تو ہم آسمان پر اس فرشتے کی زیارت کرتے ہیں جو علی کی شکل میں ہے اور جب زمین پر تشریف لے جائیں تو علی کو ہماری طرف سے سلام پہنچا دینا ۔(۱)
____________________
(۱) ( بحار الانوار ج۴۰ ص۵۵تا ۵۸ح۹۰ تفسیر فرات کوفی ص۳۷۰تا ۳۷۴کمی اختلاف علی والمناقب ج ۳ ص۹۴ تا )
تینتالیسویں حدیث
(۴۳ ) عن علیٍّ علیه السلام: امّا کاٰن الیوم الرّابع من عرسنٰا جٰاء نا رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) و امرنی با لخروج من البیت وخلا بابنته وقٰال : کیف انتِ یا بنیّة یٰا فاطمة وکیف رایتِ زوجکِ؟قٰالت :یٰا ابه خیر زوجٍ ، الاّ اَنّه دخل علیّ نسٰاء من قریش وقلنَ لی زوّجک رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) من رجلٍ فقیر لا مالَ له
فقال لهٰا رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) مٰا ابوک بفقیرٍ ولاٰ بعلک بفقیرٍ ، ولقد عرضت علیّ خزائن الارض من الذّهب والفضّة فاخترت ما عند ربّی عزّوجلّ ، یٰابنیّة لو تعلمین ما یعلمُ ابوکِ لسمجتِ الدّنیٰا فی عینک ، والله یا بنیّة ما الوتکِ نصحاً ان زوّجتکِ اقدمهم سلماً واکثرهم علماً و اعظمهم حلماً ، یٰا بنیّة انّ الله عزّ وجلّ اطّلع الی الارض اطّلاٰعة فاختٰار من اهلهٰا رجلین فجعل احدهماابٰاک والاخر بعلکِ ، یٰا بنیّة نعم الزّوج زوجکِ لاٰ تعصی له أمراً
ثمّ صٰاح بی رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) فقلتُ : لبّیک یٰا رسول الله ، قال: ادخل بیتک والطف بزوجک وارفق بهٰا فانّ فٰاطمة بضعةمنّی یؤلمنی مٰا یؤلمهٰا ویسُرُّنی مٰا یسرُّهٰا استودعکما الله واستخلفه علیکمٰا
قال علیّ علیه السلام فوا لله مٰا اغضبتهٰا ولاٰ اکرهتُهٰا بعد ذٰلک علیٰ امرٍ حتّیٰ قبضهٰا الله عزّوجلّ الیه ، ولاٰ اغضبتنی ولاٰ عصت لی امراً ، ولقد کنت انظر الیها فتنجلی عنّی الغموم والاحزٰان بنظرتی الیهٰا
قال علی علیه السلام : ثمّ قال رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) لینصرف فقٰالت له فاطمة: یٰاابه لاٰ طاقة لی بخدمة البیت فاخدمنی خٰادماً یخدمنی ویعینُنی علیٰ امرِالبیت ، فقٰال لهٰا رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) : یا فاطمة ایّمٰا احبّ الیکِ خٰادم او خیر من الخادم ،فقال علی علیه السلام فقلت قولی خیر من الخادم فقالت بابة خیر من الخادم ، فقٰال لهٰا رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) :
تکبّرین الله فی کلّ یومٍ اربعاً و ثلاثین تکبیرة ، وتحمّدینه ثلاثاً وثلاثین مرّة وتسبحینه ثلاث وثلاثین مرّة فتلک ماء ة با للّسان والف فی المیزان ، یٰافاطمة ان قلتها فی صبیحة کلّ یومٍ کفٰاک الله مٰا اهمّکِ من امر الدنیا والاخرة
ترجمہ:
علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ جب جناب زہراء سے میری شادی ہوئی تو چوتھے دن رسولخدا ہمارے گھر تشریف لائے اور رسول نے مجھے گھر سے باہر جانے کو کہا اور جناب فاطمہ کے پاس بیٹھے اور حضرت فاطمۃ سے احوال پوچھنے لگے اور سوال کرتے ہیں آپ نے اپنے شوہر کو کسطرح پایا جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا نے کہا بہترین شوہر ہے لیکن بعض قریش کی عورتوں نے میرے پا س آکر کہا ہے کہ رسول خدا نے تیری شادی ایک فقیر شخص سے کی ہے تو رسول خدا نے فرمایا نہ تیرا باپ فقیر ہے اور نہ تیرا شوہر فقیر ہے خدا نے زمین وآسمان کے خزانے میرے سامنے پیش کئے ہیں لیکن میں نے اس چیز کو اختیار کیا ہے جو خدا کے پاس ہے اور دنیا کے مال کی میں نے پروا نہیں کی اے بیٹی اگر تو جان لے جو تیرا والد جانتا ہے تو دنیا تیرے سامنے بے ارزش ہو جائے گی اے بیٹی میں نے تیری خیر خواھی میں کوتاہی نہیں کی میں نے تیری شادی ایسے مرد سے کی ہے جو ایمان لانے میں سب سے سبقت لینے والا ہے اور علم میں سب سے آگے ہے اور حلم وبردباری میں سب سے زیادہ ہے اے بیٹی خدا نے زمین کی طرف دیکھا اور اھل زمین سے دو مردوں کاخدا نے انتخاب کیا ایک کو خدا نے تیرا باپ قرار دیا اور دوسرے کو تیرا شوہر بنایا تیرا شوہر بہترین شوہر ہے اور اسکی کسی چیز میں مخالفت نہ کرنا پھر رسو ل خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے (علی علیہ السلام سے فرماتے ہیں )مجھے آواز دی میں نے لبیک کہتے ہوئے رسول کو جواب دیا لبیک یا رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) اپنے گھر میں داخل ہو اور اپنی بیوی سے مہربانی سے پیش آنا اور اچھا سلوک کرنا کیونکہ فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے اس کو اذیت پہنچائی اس سے مجھے اذیت ہوتی ہے اور خو ش کیا اس نے مجھے جس نے فاطمہ کو خوش کیا میں تمہیں خدا کے حوالے کرتا ہوں اور خدا تمہارا محافظ ہے ۔
علی علیہ السلام نے کہا میں نے کبھی فاطمہ کو ناراض نہیں کیا ہے ااور نہ ہی کسی کام کیلئے مجبور کیا ہے اور اس نے بھی کبھی مجھے ناراض نہیں کیا اور کسی کام میں اس نے میری مخالفت نہیں کی یہاں تک کہ خدا نے فاطمہ کو مجھ سے جدا کر دیا خدا کی قسم میں جب بھی فاطمہ کو دیکھتا میرے سب کے سب غم و حزن فاطمہ کو دیکھنے سے دو ر ہو جاتے علی علیہ السلام کہتے ہیں جب رسول خدا نے چاہا کہ جائیں تو فاطمہ عرض کی، اے بابا جان میں گھر کے کام نہیں کر سکتی مجھ میں اتنی طاقت نہیں میرے لئے ایک خادمہ معین کریں جومیری گھر کے کاموں میں مدد کرے تو پیغمبر نے فرمایا کس کو پسند کرتی ہو خادمہ کو یا خادمہ سے بہتر کو علی علیہ السلام کہتے ہیں کہ میں نے زہراء سے کہا کہ اپنے بابا سے کہو خادمہ سے بہتر کو پسند کرتی ہوں تو فاطمہ نے کہا خادمہ سے بہتر کو پسند کرتی ہوں تو پیغمبر نے فرمایا روزانہ ۳۴ مرتبہ اللہ اکبر ۳۳ مرتبہ الحمد اللہ اور ۳۳ مرتبہ سبحان اللہ یہ سوکلمے ہیں زبان پر سو ہیں اور عمل میں ہزار کلمے ہیں اے فاطمۃ اگر روزانہ صبح کے وقت یہ پڑھیں گی تو خدا دنیا کے اور آخرت کے تمام مہم کاموں کیلئے کافی رہے گا ۔(۱)
____________________
(۱) ( سبط ابن الجوزی تذکرۃ الخواص ب۱۱ ص۳۰۸ ، لمناقب خوارزمی فصل ۲۰ ، ص۲۵۶ ، عقائد الانسان ج۴، ص۱۵۸ ، ح۸ )
چونتالیسویں حدیث
(۴۴ ) عن ابی الجارود رفعه الی النبیّ (صلّی الله علیه وآله وسلّم) قال: حلقة بٰاب الجنة من یاقوته حمراء علیٰ صفائح الذّهب ، فا ذا دقّت الحلقة علیٰ الصّفحة طنّت و قٰالت : یا علیّ
ترجمہ:
ابی جارود کسی واسطے سے رسولخدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) سے نقل کرتا ہے کہ آنحضرت نے فرمایا جنت کے دروازے پر سرخ یاقوت سے ایک حلقہ ہے سونے کی تختی پرجب اس حلقہ کو ا مارا جاتا ہے تو آواز آتی ہے اور کہتی ہے یا علی یا علی یا علی یا علی ۔(۱)
____________________
(۱) (مدینۃ المعاجز،ج۲،ص۳۶۴،ح۶۰۶۔علی والمناقب ،ص۲۱۶ )
پینتالیسویں حدیث
(۴۵ ) عن امّ سلمة ( زوج النبیّ ) و اسماء بنت عمیس و جٰابر بن عبد الله وابی سعید الخدریّ فی جمٰاعة من الصحابة انّ النبیّ (صلّی الله علیه وآله وسلّم) کان ذات یوم فی منزله و علیّ بین یدیه اذجاء جبرئیل یناجیه عن الله عزّوجلّ ، فلمّا تغشّاه الوحی توسّد فخذ امیر المومنین علیه السلام فلم یرفع رأسه ( عنه) حتّیٰ غٰابت الشّمس ، وصلّیٰ صلٰاة العصر جٰالساًبالایمٰاء
فلمّا افٰاق النبیّ (صلّی الله علیه وآله وسلّم) قال له : ادع الله لیردّ علیک الشّمس فانّ الله یجیبک لطاعتک الله ورسوله ، فسأل الله عزّوجلّ امیر المومنین فی ردّ الشّمس ، فردّت علیه حتّٰی صارت فی موضعها من السماء وقت العصرفصلّی امیر المومنین الصلاة فی وقتها ، ثمّ غربت،وقالت اسماء بنت عمیس : امٰا والله سمعنٰا لهٰا عند غروبهٰا ( صریراً) کصریر المنشار فی الخشب
ترجمہ:
ام سلمہ ، اسماء بنت عمیس ، جابر بن عبد اللہ انصاری ، ابوسعید خدری او ر باقی بعض صحابہ سے نقل ہوا ہے ایک دن رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) علی علیہ السلام کے گھر میں تشریف فرما تھے اور علی علیہ السلام رسول خد اکے سامنے بیٹھے تھے کہ جبرائیل رسول (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) پر نازل ہوا اور خدا کی طرف سے رسول کیساتھ مناجات کرنے لگا جب وحی کی حالت پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) پر عارض ہوئی تو رسول نے علی کے زانو پراپنا سر رکھا اور پھر رسول نے اپنا سر نہ اٹھایا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور علی نے نماز عصر بیٹھ کر اشارہ سے پڑی جب رسول خدا بیدا ر ہوئے تو علی علیہ السلام سے فرمایا دعا کریں تاکہ خدا سورج کو پلٹا دے اور خدا تیری دعا کو اس لئے قبول کرے گا کہ تو نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہے پس علی نے خد ا سے سورج پلٹنے کی دعا کی یہاں تک کہ سورج اپنے عصر کے مقام تک پلٹ آیا امیرالمومنین نے نماز عصر ادا کی اپنے وقت پر اور پھر سورج غروب ہوگیا اور اسماء بنت عمیس کہتی ہیں کہ خدا کی قسم ہم نے سورج کے غروب ہونے کی آواز سنی کہ جس طرح آراہ چلتا ہے اور لکڑی کٹتی ہے ۔(۱)
____________________
(۱) (مدینۃ المعاجز ،ج۱،ص۲۰۵،ح۱۲۵ )
چھتالیسویں حدیث
(۴۶ ) رویٰ انّه جاء فی الخبر انّ الامٰام علیّ بن ابی طالب علیه السلام کٰان ذات یوم هو و زوجته فاطمة علیها السلام یأ کلان تمراً فی الصحراء اذ تدٰاعیٰا بینهما بالکلا م فقٰال علیه السلام یٰافاطمة انّ النبیّ (صلّی الله علیه وآله وسلّم) یحبّنی اکثر منک فقٰالت وٰاعجبٰاه بحبّک اکثر منّی وانا ثمرة فُواده وعضو من اعضٰائه ولیس له ولدغیری
فقٰال لهٰا علیّ علیه السلام یٰا فاطمة ان لم تصدّ قینی فامضی بنٰا الیٰ ابیک محمّد (صلّی الله علیه وآله وسلّم) قال فمضیٰا الیٰ حضرته (صلّی الله علیه وآله وسلّم) فتقدّمت وقالت یٰا رسول الله ایّمٰا احبّ الیک انا ام علیّ قٰال النبیّ (صلّی الله علیه وآله وسلّم) انت احبّ و علیّ اعزّ علیّ منک فعندها قٰال سیّدنٰا ومولینٰا الامام علیّ بن ابیطالب علیه السلام الم اقل لک انّی ولد فاطمة ذات التّقیٰ قالت فاطمة وانا بنت خدیجة الکبریٰ
قال علیّ علیه السلام
قالت فاطمة علیها السلام
وانا ابن الصّفٰا وانا ابنة سدرة المنتهٰی وانا فخر اللّویٰ وانا ابنة من دنیٰ فتدلّیٰ وکان من ربّه کقٰاب قوسین او ادنیٰ وانا ولد المحصنات وانا ابنة الصالحات والمومنات انا خٰادمی جبرئیل وانا خاطبنی فی السّماء رٰاحیل وخدمتنی الملائکة جیلاً بعد جیلٍ وانا ولدت فی المحلّ البعید المرتقیٰ وانا زوّجت فی الرّفیع الاعلیٰ وکان ملاٰکی فی السّمٰاء
انا حٰامل اللّواء
وانا ابنة من عرج به الی السّمٰاء
انا صاٰلح المومنین
انا ابنة خٰاتم النبیّین
انا الضّارب علی التنزیل
انا جنّة التّأویل
وانا شجرة تخرج من طور سینین
وانا الشجرة الّتی تؤتی اکلهٰا کلّ حینٍ
وانا مکلّم الثعبٰان
وانا الشّجرة الّتی تخرج اکلهٰا یعنی الحسن والحسین علیهما السلام
وانا المثانی والقران العظیم
وانا ابنة الصّٰادق الامین
انا النّبأ العظیم
وانا ابنة النّبی الکریم
وانا الحبل المتین
وانا ابنة خیر الخلق اجمعین
وانا لیث الحروب
وانا ابنة من یغفر الله به الذنوب
وانا المتصدّق بالخٰاتم
وانا ابنة سیّد العٰالم
واناسیّد بنی هاشم
انا ابنة محمد (صلّی الله علیه وآله وسلّم) المصطفیٰ
انا الامام المرتضیٰ
انا ابنة سیّد المرسلین
انا سیّد الوصیّین
انا ابنة النّبی العربی
وانا الشّجاع المکّی
وانا ابنة احمد النّبی
انا البطل الاروع
انا ابنة الشّفیع المشفّع
انا قسیم الجنّة والنّار
انا ابنة محمّد المختار
انا قاتل الجانّ
انا ابنة رسول الملک الدّیّان
انا خیرة الرّحمٰن
وانا خیرة النّسوان
وانا مکلّم اصحٰاب الرّقیم
وانا ابنة من ارسل رحمةً للمومنین وبهم رؤف رحیم
وانا الّذی جعل الله نفسی نفس محمّد حیث یقول فی کتابه العزیز انفسنا وانفسکم
ونسٰائنٰا ونسٰائکم
انا علّمت شیعتی القرآن
وانا الّذی یعتق الله من احبّنی من النّیران
انا من شیعتی من علمی یسطرون
وانا بحر علمی یعترفون
انا اشتقّ الله تعالیٰ اسمی من اسمه فهوالعٰالی وانا علیّ
وانا کذٰلک فهو الفٰاطر وانا فاطمة
انا حیوة العٰارفین
انا ملک النّجٰاة الرّاغبین
انا الحوامیم
انا ابنة الطّواسین
وانا کنز الغنیٰ
وانا کلمة الحسنیٰ
انا بی تٰاب الله علیٰ اٰدم فی خطیئته
وانا بی قبل الله توبته
انا کسفینة نوحٍ من رکبها نجیٰ
وانا اشٰارکه فی دعوته
وانا طوفٰانه
وانا سورته
وانا النّسیم الی حفظه
وانا مسنّی انهٰار المٰاء واللّبن والخمر والعسل فی الجنٰان
وانا الطّور
وانا الکتاب المسطور
وانا الرّق المنشور
وانا البیت المعمور
وانا السّقف المرفوع
وانا البحر المسجور
انا علمی علم النّبیّین
وانا ابنة سیّد المرسلین الاوّلین والآخرین
انا الأروالقصر المشید
انا منّی شبر و شبیر
وانا بعد الرّسول خیر البریة
انا البرّة الزّکیّة
فعندهٰا قال النّبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) لاٰ تکلّمی علیّاً فانّه ذوالبرهٰان ، قٰالت فاطمة انا ابنة من انزل علیه القرآن
قال علیّ علیه السلام انا الامین الاصلع
قالت فاطمة علیها السلام انا الکواکب الّذی یلمع ، قال النّبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) فهو الشّفاعة یوم القیٰامة
قالت فاطمة : وانا خٰاتون یوم القیٰامة ، فعند ذلک قالت فاطمة لرسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) یاٰ رسول الله لا تحٰام ابن عمّک ودعنی وایّاه
قال علی علیه السلام
قالت فاطمة علیها السلام
انا من محمدٍ عصبه ونجبه
وانا لحمه ودمه
فانا الصّحف
وانا الشّرف
وانا ولیّ زلفیٰ
وانا الخصماء الحسنٰاء
وانا نور الوریٰ
وانا فاطمة الزّهراء
فعند هٰا قال النّبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) یٰا فاطمة قومی وقبّلی رأس ابن عمّی فهٰذا لفٰاطمة جبرئیل واسرافیل وعزرائیل مع اربعة اٰ لافٍ من الملائکة یحامون مع علیّ علیه السلام وهٰذا اخی رٰاحیل و روائیل مع اربعة اٰلافٍ من الملائکة ینظرون باعینهم قٰال فقٰامت فٰاطمة الزّهراء فقبّلت رأس الامٰام علیّ بن ابی طالب علیه السلام بین یدی النّبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) وقالت یٰا ابا الحسن بحقّ رسول الله معذرة الی الله عزّوجلّ والیک والی ابن عمّک ،قال : فوهبهٰا الامام علیه السلام بید ابیها علیه وعلیهم السّلام
ترجمہ:
روایت میں آیا ہے کہ ایک دن حضرت علی علیہ السلام حضر ت فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیھا کے ساتھ صحراء میں کھجور کھار ہے تھے کہ وہاں پر حضرت علی اور جناب فاطمہ کے درمیان مذاکرہ ہوتا ہے حضرت علی فرماتے ہیں اے فاطمہ پیامبر آپ کی نسبت مجھ سے زیادہ محبت کرتے ہیں حضرت زہراء سلام اللہ علیھا نے فرمایا مجھے تعجب ہے کہ پیامبر مجھ سے زیادہ آپکو دوست رکھتے ہیں جبکہ میں پیامبر کے دل کا میوہ اور پیامبر کا ٹکڑ ا ہوں اور میرے علاوہ پیامبر کی کوئی اولاد نہیں ہے ۔
علی علیہ السلام نے فرمایا اے فاطمہ سلام اللہ علیھا اگر تو میری بات کو نہیں مانتی تو آئیں رسول خدا کے پاس چلتے ہیں دونوں رسول کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت فاطمہ علیھا السلام نے عرض کی اے رسول خدا ہم میں سے کس کو سب سے زیادہ دوست رکھتے ہو مجھے یا علی کو تو پیامبر نے فرمایا اے فاطمہ تو اس لائق ہے کہ تجھ سے دوستی کی جائے لیکن علی علیہ السلام تجھ سے زیادہ عزیز ہیں اس وقت علی علیہ السلام نے کہا میں نے تجھے نہیں کہا تھا میں اس فاطمہ کا بیٹا ہوں جو صاحب تقویٰ اور پرہیز گار تھیں جناب فاطمہ نے کہا میں خدیجۃ الکبریٰ کی بیٹی ہوں
علی علیہ السلام نے کہ میں صفا کا بیٹا ہوں
فاطمہ سلام اللہ علیھا نے کہا میں سدرۃ المنتھیٰ کی بیٹی ہوں
میں پرچم اسلام کا فخر ہوں
میں اس کی بیٹی ہوں جو خدا کی بہت نزدیک گیا اور اسنے خدا کے کلام کو سنا اور اتنا خدا کے نزدیک ہوا کہ دوکمانوں کا فاصلہ بلکہ اس سے بھی کمتر فاصلہ تھ
میں پاک و پاکیزہ عورت کا بیٹا ہوں
میں صالحہ اور مومنہ عورت کی بیٹی ہوں
جبرائیل میرا نوکر ہے میرا خادم ہے
آسمان پر راحیل نے مجھ سے کلام کیا اور ملائکہ دستہ دستہ ہو کر میری خدمت کیلئے آتے تھے
میں بڑی عزت والی جگہ پر پیدا ہو
میرا عقد و نکاح آسمان کی بلندیوں پر ہوا اور آسمان میری حکومت ہے
میں لواء حمد کا اٹھانے والا ہوں
میں اسکی بیٹی ہوں جسکو آسمانوں پر معراج نصبیب ہوئی
میں مومنوں کا صالح ہوں اصلاح کرنے والا ہوں
میںآخری پیغمبر کی بیٹی ہوں
میں قرآن کے حکم پر تلوار چلانے والا ہوں
میں جنت تأویل ہوں
میں درخت ہوں کہ طور سینا سے خارج ہوتا ہوں
میں وہ درخت ہوں جو ہر زمانے میں پھل دیتا ہے
میں اژدھا سے بات کرنے والا ہوں
میں درخت ہوں جس سے میوہ حاصل ہوتا ہے یعنی امام حسن اور امام حسین علیھما السلام
میں مثانی و قرآن عظیم ہوں
میں صادق وامین کی بیٹی ہوں
میں نباء عظیم ہوں
میں نبی کریم کی بیٹی ہوں
میں خدا کی محکم رسی ہوں
میں خیر الخلق اجمعین کی بیٹی ہوں
میں جنگوں کا شیر ہوں
میں اس کی بیٹی ہوں جس کے وسیلے سے خدا گناہوں کا معاف کرتا ہے
میں وہ ہوں کہ جس نے انگوٹھی صدقہ میں دی
میں عالمین کے سردار کی بیٹی ہوں
میں بنی ھاشم کا سردار ہوں
میں محمد مصطفی کی بیٹی ہوں
میں امام مرتضٰی ہوں
میں سید المرسلین کی بیٹی ہوں
میں سید الوصیّن ہوں
میں نبی عربی کی بیٹی ہوں
میں مکہ کا شجاع شخص ہوں
میں احمد پیامبر کی بیٹی ہوں
میں ایسا شجاع ہوں کہ بڑے بڑے بہادر دنگ رہ جاتے ہیں
میں شفاعت کرنے والے کی بیٹی ہوں
میں قسیم النار والجنت ہوں
میں نبی مختا ر کی بیٹی ہوں
میں جنوں کو قتل کرنے والا ہوں
میں قضاوت کرنے والے بادشاہ کے رسول کی بیٹی ہوں
میں رحمٰن کا منتخب شدہ ہوں
میں خیر النساء ہوں یعنی دنیا کی بہترین عورت ہوں
میں اصحاب کہف سے کلام کرنے والاہوں
میں اس کی بیٹی ہوں جسکو مومنوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا گیا اور وہ رؤف ورحیم ہے
میں وہ ہوں کہ جس کے نفس کو خدا نے نفس رسول کہا ہے کہ قرآن میں خدا فرماتا ہے انفسناوانفسکم نساء اس آیۃ مباھلہ میں مجھے کہا گی
میں نے شیعوں کو قرآن پڑھای
میں وہ ہوں کہ جو بھی مجھے دوست رکھے گا خدا اس پر جہنم کی آگ حرام کر دیگ
میں وہ ہوں کہ شیعہ جس سے علم حا صل کر تے اورلکھتے ہیں
میں علم کا سمندر ہوں
میں وہ کہ خدا نے میرے نام کو اپنے نام سے مشتق کی
میں بھی اسی طرح ہوں کہ وہ فاطر ہے اور میں فاطمہ ہوں
میں حیاۃ عارفین ہوں
میں نجات راغبین کا فرشتہ ہوں
میں ھٰمیم قرآن ہوں
میں طٰحٰہ یٰسین کی بیٹی ہوں
میں بے نیاز کرنے والا خزانہ ہوں
میں وہ جس کے وسیلے سے آدم کی توبہ قبول ہوئی
میں سفینۃ نوح کی طرح ہوں جو سوار ہوا نجات پا گی
میں وہ ہوں جو نوح کی دعوت میں شریک تھی
میں طوفان نوح ہوں
میں طوفان کی شدت ہوں
میں بار نسیم ہوں کہ جس نے اسکی حفاظت کی ( یعنی نوح کی کشتی کی )
میں جنت میں پانی ، دودھ ، شراب و شہد کی نہریں جاری کرنے والی ہوں
میں کوہ طور ہوں
میں کتاب مسطور ہوں
میں رق منشور ہوں
میں بیت معمور ہوں
میں سقف مرفوع ہوں
میں دریا ئے لبریز ہوں
میں وہ ہوں کہ جس کا علم نبی کا علم ہے
میں اوّلین و آخرین کی بیٹی سید المرسلین کی بیٹی ہوں
میں چاہ اور قصر رفیعی ہوں
میں وہ ہوں کہ شبّر و شبّیر مجھ سے ہیں
میں رسول کے بعد خیر البریّۃ ہوں
میں نیکو کار زکیّہ ہوں
اس وقت پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فرمایا اے بیٹی علی علیہ السلام سے مذاکرہ نہ کرو کیونکہ صاحب برہان ہے جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا نے کہا میں اس کی بیٹی ہوں کہ قرآن جس پر نازل ہو
علی علیہ السلام نے کہا میں امین اصلح ہوں
فاطمہ سلام اللہ علیھا نے کہا میں چمکنے والا ستا رہ ہوں
پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے کہا اے فاطمہ ،علی قیامت کے دن شفاعت کرنے والا ہے
فاطمہ سلام اللہ علیھا نے کہا میں خاتون یوم القیامۃ ہوں
اس وقت جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا نے رسول سے عرض کی یار سول اللہ اپنے چچا کے بیٹے کی حمایت نہ کریں مجھے اور اسکو اپنے حال پر چھوڑ دیں
تو علی علیہ السلام نے کہا میں رسول کے بدن کی رگیں اور چربی ہوں
فاطمہ سلام اللہ علیھا نے کہا میں رسول کا گوشت و خون ہوں
علی علیہ السلام نے کہا میں آسمانی کتاب ہوں
فاطمہ سلام اللہ علیھا نے کہا میں شرافت ہوں
علی علیہ السلام نے کہا میں صاحب مقام اور تقرب الھیٰ ہوں
فاطمہ سلام اللہ علیھا نے کہا میں نیک سیرت و صورت عورت ہوں
علی علیہ السلام نے کہا میں نور الہدیٰ ہوں
فاطمہ سلام اللہ علیھا نے کہا میں فاطمہ زہراء ہوں
اس وقت رسول (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فرمایا اے بیٹی اٹھو میرے چچا زاد کے سر کا بوسہ دو کیونکہ جبرائیل و اسرافیل اور عزرائیل چار ہزار فرشتوں کے ساتھ علی علیہ السلام کی حمایت کرتے ہیں اور راحیل اور روائیل چار ہزار فرشتوں کیساتھ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں پس حضرت فاطمہ الزھراء سلام اللہ علیھا اٹھی اور اپنے امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کا سر رسول کے سامنے چوما اور کہنے لگی اے ابو الحسن رسول خدا کے صدقے خداوند سے اور تم سے اور تمہاے چچا زاد بھائی سے عذر
طلب کرتی ہوں اور حضرت علی علیہ السلام نے رسول خدا کے حکم کے مطابق بخش دیا ۔(۱)
____________________
(۱)( مناقب ص۱۰۵۔۱۰۹،،علی والمناقب،ص۱۹۰۔۱۹۷ )
سینتالیسویں حدیث
(۴۷ ) عن ابی ذرّ الغفّاری قال : قال رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) لعلی علیه السلام اذٰا کان غداًوقت طلوع الشّمس سر الی جبّانة البقیع وقف علیٰ نشزٍمن الارض فاذا بزغت الشّمس سلّم علیها فانّ الله تعالیٰ امرها ان تجیبک بمٰا فیک فلمّا کٰان من الغد خرج امیر المومنین علیه السلام ومعه ابوبکر وعمر وجمٰاعة من المهٰاجرین والانصار حتّٰی اتی البقیع ووقف علیٰ نشزٍ من الارض ،
فلمّا طلعت الشّمس قال صلوٰات الله علیه وآله ، السّلام علیک یا خلق الله الجدید المطیع له فسمع دویّا من السّماء قائلاً یقول و علیک السّلام یٰا اوّل یٰا اٰخر یا ظاهر یا باطن یا من هو بکلّ شیءٍ علیم فسمع الاثنٰان الاوّل والثّانی والمهٰاجرون والانصار کلاٰم الشّمس فصعقو
ثمّ افٰاقوا بعد سٰاعةٍ وقد انصرف امیر المومنین علیه السلام عن ذلک المکٰان فقٰاموا واتوا الی رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) مع الجماعة فقالوا : یا رسول الله انّا نقول انّ علیّاًبشر مثلنا والشّمس خٰاطبته بمٰا یخٰاطب به البٰاری نفسه
فقال النّبی (صلّی الله علیه وآله وسلّم) فمٰا سمعتوه قالوا : سمعنٰا الشّمس تقول السّلام علیک یٰا اوّل فقٰال قالت الصّدق هو اوّل من اٰمن بی ، فقال : الشّمس تقول:
یٰا اٰ خر ، فقال : قالت الصّدق هو اٰخر النّاس عهداً بی یغسّلنی و یکفّننی ویدخلنی قبری ،فقالوا سمعناها تقول یا ظاهر فقال قالت الصدق هو الذی اظهر علمی، فقٰالوا سمعناها تقول یا باطن ، قال صدقت بطن سرّی کلّه ، قٰالوا سمعنٰاها تقول یٰامن هو بکلّ شیءٍ علیم ، فقال قالت الصّدق هو اعلم بالحلٰال والحرام والسّنن والفرائض ومٰا یشٰاکل ذلک فقٰامو وقالوا لقد اوقعنٰا محمّد فی طخیٍ وخرجوا من بٰاب المسجد
ترجمہ:
ابو ذر سے روایت ہے کہ رسول خدا نے علی علیہ السلام کو فرمایا کل صبح جب سورج کے طلوع ہونے کا وقت ہو بقیع کے صحراء میں چلے جانا اور بلند جگہ پر کھڑے ہو جانا جب سورج طلوع کرے تو سورج پر سلام کرنا خدا نے سورج کو حکم دیا ہے کہ تیرا جواب اور جو کچھ تجھ میں ہے تمہیں بتائے دوسرے دن سورج کے طلوع ہونے سے پہلے حضرت علی علیہ السلام ابوبکر اور عمر اور بعض اصحاب جو
مہاجرین و انصار تھے کو اپنے ساتھ لیا اور بقیع میں تشریف لائے اور حضرت بلند مقام پر کھڑے ہو گئے جب سورج طلوع ہونے لگا تو حضرت نے کہا السلام علیک اے خدا کی جدید مخلوق اور فرمانبردار خدا پس آسمان سے ایک آواز سنی گئی کہنے والے نے کہا سلام تجھ پر ہو اے اوّل و آخر اے ظاہر وباطن اے وہ جو سب چیزوں کو جانتا ہے اس وقت ابوبکر و عمر اور مہاجرین نے سورج کی آواز کو سنا اور بے ہوش ہو گئے
تھوڑی دیر کے بعد ہوش میں آئے جب کہ حضرت علی علیہ السلام وہاں سے واپس آ چکے تھے وہ بھی اٹھے اور رسول کے پاس آئے اور کہنے لگے اے رسول خدا ہم علی علیہ السلام کے بارے
میں کہتے ہیں کہ ہماری طرح انسان ہے لیکن سورج نے اس سے خطاب کیا جس طرح کہ خدا نے علی سے کلام کیا رسول نے پوچھا کیا سنا تم نے سورج سے ؟
کہنے لگے ہم نے سنا کہ سورج کہ رہاتھا کہ میرا سلام ہو تم پر اے اوّل رسول نے فرمایا سورج نے سچ کہا کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جو مجھ پر ایمان لایا تو کہنے لگے سورج نے کہا اے آخر رسول نے فرمایا سچ کہا سورج نے وہ آخری شخص ہے جو میرے امر کو انجام دے گا مجھے غسل دے گا مجھے کفن دے گا اور مجھے قبر کے اندر دفن کریگا کہنے لگے ہم نے سنا کہ سورج کہہ رہا تھا اے ظاہر رسول نے فرمایا سچ کہا سور ج نے وہ ایسا شخص ہے جو میرے علم کو ظاہر کریگا کہنے لگے ہم نے سنا سورج کہہ رہا تھا اے باطن رسول نے فرمایا سچ کہا سورج نے اس لئے کہ میرے تمام اسرار مخفی رکھے گا ، کہنے لگے ہم نے سنا کہ سورج کہہ رہا تھا اے وہ جو تمام چیزوں کے بارے آگاہی رکھتا ہے رسول نے کہا سچ کہا سورج نے کہ وہ ایسا شخص ہے جو خدا کی حلال وحرام ، سنت وواجبات اور جو ان سے مشابہ ہیں انکو جانتا ہے اٹھے اور کہنے لگے محمد (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے ہمیں تاریکی میں چھوڑدیا مسجد کے دروازے سے نکلے اور چلے گئے۔(۱)
____________________
(۱) (مناقب بن شاذان،ص۹۱،۹۲،مدینۃ المعاجز،ج۳،ص۸۱۴،علی والمناقب دکتر عبد العلی،ص۱۰۸)
آٹھتالیسویں حدیث
(۴۸ ) قال الامام جعفر الصادق علیه السلام : قال رسول الله (صلّی الله علیه وآله وسلّم) : الائمة بعدی اثنا عشر ، اوّ لهم علیّ بن ابی طالب وآخر هم القائم ، هم خلفائی و اوصیائی و حجج الله تعالیٰ علیٰ امّتی ، المقرّ بهم مومن والمنکر لهم کافر
ترجمہ:
۴۸ ۔حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں رسول خدا نے فرمایا میرے بعد بار ہ امام ہو نگے
پہلا ان میں سے علی بن ابی طالب علیہ السلام اور آخری ان میں سے امام قائم عج ہیں یہ میرے خلیفہ ہیں میرے اوصیاء ہیں میری امت پر خدا کی حجت ہیں اور جو انکا اقرار کرے گا وہ مومن ہے اور جو انکار کرے گا وہ کافر ہے ۔(۱)
اختتام ترجمہ
۲ ذالحجہ ۱۴۲۷ ھ مشھد مقدس ایران
بمطابق ۳ جنوری ۲۰۰۶ عیسوی مدرسہ آیت اللہ الخوئی
عبد القیوم سعیدی وقت ۴ بجے شام
____________________
(۱) (کشفی ترمذی در مناقب مرتضوی ص۳۳،عقائد الانسان ج۴، ص۱۲۶)
فہرست
سپاس نامہ: ۴
مقدمہ کتاب : ۵
پہلی حدیث ۶
دوسری حدیث ۷
چوتھی حدیث ۱۲
پانچھویں حدیث ۱۳
چھٹی حدیث ۱۸
ساتھویں حدیث ۲۰
آٹھویں حدیث ۲۱
نویں حدیث ۲۲
دسویں حدیث ۲۴
گیارہویں حدیث ۲۶
بارویں حدیث ۲۷
تیرویں حدیث ۲۸
پندرہویں حدیث ۳۰
سولہویں حدیث ۳۱
ستارہویں حدیث ۳۲
آٹھارہویں حدیث ۳۳
انیسویں حدیث ۳۴
بیسویں حدیث ۳۵
اکیسویں حدیث ۳۶
بائیسویں حدیث ۳۷
تیئسویں حدیث ۳۸
چوبیسویں حدیث ۳۹
پچیسویں حدیث ۴۰
چھبیسویں حدیث ۴۱
ستائیسویں حدیث ۴۲
آٹھائیسویں حدیث ۴۳
انتیسویں حدیث ۴۴
تیسویں حدیث ۴۵
اکتیسویں حدیث ۴۶
پتیسویں حدیث ۴۷
تینتیسویں حدیث ۴۸
چونتیسویں حدیث ۴۹
پینتیسویں حدیث ۵۰
چھتیسویں حدیث ۵۱
سینتیسویں حدیث ۵۲
آٹھتیسویں حدیث ۵۳
انتالیسویں حدیث ۵۴
چالیسویں حدیث ۵۵
اکتالیسویں حدیث ۵۶
بتالیسویں حدیث ۵۸
( ۴۲) معراج رسول خدا ۵۸
پہلا آسمان : ۶۲
دوسرا آسمان: ۶۳
تیسرا آسمان: ۶۳
چوتھا آسمان: ۶۳
پانچواں آسمان : ۶۳
چھٹا آسمان: ۶۴
ساتواں آسمان: ۶۴
تینتالیسویں حدیث ۶۵
چونتالیسویں حدیث ۶۷
پینتالیسویں حدیث ۶۸
چھتالیسویں حدیث ۶۹
سینتالیسویں حدیث ۷۸
آٹھتالیسویں حدیث ۸۰