مغز متفکر اسلام(سپرمین ان اسلام ) امام جعفر صادق “
گروہ بندی امام جعفر صادق(علیہ السلام)
مصنف فرانسوی دانشوروں کی ایک جماعت
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


مغز متفکر اسلام

(سپرمین ان اسلام )

امام جعفر صادق

تالیف:

متعدد پروفیسرز

مترجم:

سید کفایت حسین


عرض ناشر

عصر حاضر میں تہذیب کے مسئلہ کی اہمیت نے عالم اسلام کو ایک نازک بلکہ دشوار منزل پر لاکھڑا کیا ہے اور یہ صورت مفکرین اسلام کیلئے ایک بڑا چیلنج بن گئی ۔

ہے بلاشبہ اس سے گریز فطرت انسانی کے منافی ہو گا ۔لہذا دنیا کا کوئی ملک اس چیلنج کو نظر انداز نہیں کر سکتا کیونکہ ترقی اور خوش حال کیلئے ہر دل میں ایک سہانی امید مچلتی ہے تازہ جذبہ ابھرتا ہے اور حوصلہ مندی جنم لیتی ہے ۔

مشاہدہ ہے کہ مغربی تہذیب کی وسعت پزیری نے مشرقی ممالک کو روحانی اعتبار سے کمزور بنا دیا ہے مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ اس یلغار سے اسلام یا اسلامی آثار میں کوئی تبدیلی آگئی ہے ۔

کیونکہ اسلام آج بھی اپنی عالمگیر تعلیمات کا علم بردار ہے ۔ کہ قرآن اور عترت اہل بیت سے تمسک رکھ کر اسلامی آدب کے مطابق معاشرے میں عادلانہ نظام قائم ہو ۔ انسانیت کی خوشحالی کے لیے اقدامات کئے جائیں ۔ مخیر طبقہ میں جذبہ خیر و ایثار پیدا ہو اور باہمی اخوات و رواداری کو فروغ حاصل ہو ۔ اسلامی تعلیمات کو جدید زمانے کے تناظر میں مروجہ و متداول علوم و فنون اور وسائل و ذرائع سے ہم آہنگ کیا جائے ۔

اسی طرح ہماری نئی نسل میں جہاں ایمانی قوت متحرک ہو گی اور خود اعتماد کے ساتھ دین حقہ پر استقامت کا عزم بلند ہو گا وہاں ایجاد و اختراع فکری استقلال اور اولوالعزمی جیسی طاقتیں مجتمع ہو کر پوری ذہانت و مہارت اور جرات و حوصہ کے ساتھ ہمیں مغرب کا مقابلہ کرنے پر آمادہ کریں گی ۔

آج کا دور ہمارے ارباب فکر و دانش اور اہل قلم پر بھاری ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ یہ طبقہ عوام میں ایمانی قوت ‘اسلامی شعور اور اخلاقی حسن کو نکھارنے میں اپنی بھر پور صلاحتیوں کو اعتماد میں لائے تاکہ ہمارے حالات میں بہتری پیدا ہو ہمارے کردار میں متعدد بہ تبدیلی رو نما ہو ۔ مغربی تہذیب سے ہماری طلب کا دائرہ فقط اپنی ثقافت کیلئے مفید طلب اور ہمارے نظریات سے ہم آہنگی کے حصول تک محدود رہے کیونکہ اسی طرح ہم اللہ کی رسی کو مضبوط کے ساتھ تھام کر دین و دنیا کی فلاح سے متمتع ہو سکتے ہیں ۔

اللہ تعالی کے فضل و کرم سے قیام پبلی کیشنز لاہور نے ملت اسلامیہ میں یک جہتی اور یگانت کے فروغ اور تمام عصبیتوں کے خاتمہ کیلئے ایک معقول لائحہ عمل مرتب کیا ہے اور عوام الناس کو ایسا لٹریچر مہیا کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے جس کی برکت سے وہ دنیا کے ہر چیلنج کا مردانہ وار

مقابلہ کرنے کی صلاحتیوں سے مالا مال ہو سکتے ہیں ۔

زیر نظر کتاب ہمارے جدوجہد کی اہم ایک کڑی ہے یہ کتاب اپنے موضوع کے اعتبار سے ممتاز و منفرد ہے کہ اس سے قبل اردو زبان میں ایسی کاوش منظر عام پر نہیں آ سکی ہے ۔

اس کتاب کا اصل مسودہ فرانسیسی زبان میں ہے ۔ اسے پچیس دانشوروں کی ایک جماعت نے مرتب کیا ہے مرتبین کی غالب تعداد مسلمان نہیں ہے لہزا کئی مقامات پر اختلاف کی گنجائش پائی جاتی ہے چونکہ یہ تحریر مذہبی پس منظر نہیں رکھتی ہے اور اسے سائنسی تناظر میں لکھا گیا ہے لہذا اگر کسی جگہ مذہبی جذبات کو ٹھیس محسوس ہو تو اسے رواداری کے جذبے سے نظر انداز کر دینے کا خصوصی التماس ہے اس کا اردو ترجمہ فارسی متن سے کیا گیا ہے مترجم نے صحافتی دیانت کے پیش نظر یہ مناسب خیال نہیں کیا کہ مولف جماعت کے نظریت پر اپنی مبصرانہ رائے مسلط کرے البتہ پیشکار نے جہان ضروری سمجھا ہے معمولی حاشیہ آرائی کر دی ہے واضح ہو کہ ادارہ کا صاحب کتاب جماعت کے تمام نظریات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔

ہم معترف ہیں کہ اس معرکتہ آلارا کتاب مستطاب کو شائع کرکے ہم نے چھوٹے منہ سے بڑی بات کی ہے لہذا اغلب امکان ہے کہ کچھ مقامات پر اغلاط سرزد ہو گئی ہوں اور اس کا واضح سبب ہماری علمی بے بضاعتی ہو گا ایسی صورت میں ہم اپنے معزز قارئین سے بصد معذرت ملجتی ہیں کہ وہ تصحیح سے مطلع فرما کر ہدیہ تشکر کا موقع عنایت کریں ۔ ہم نے کوشش کی ہے کہ کتاب کو اس کے شایان شان شائع کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں اور قاری پر اس کا مالی بوجھ بھی زیادہ نہ ہو تاہم اس کے حسن و قبح کا فیصلہ ذوق ناظرین پر منحصر ہے ہمیں یقین واثق ہے کہ ہمارے کرم فرما ہمیں اپنے قیمتی مشورہ اور اصلاحی آراء سے ضرور آگاہ کریں گے تاکہ ان کی روشنی میں ہم ان کی بہترین سے بہترین خدمت انجام دے سکیں ۔ دعا ہے کہ رب الکریم اہل اسلام کو اس کتاب کے فیوض سے بہرہ مند فرمائے ۔ ماتوفیقی الاباللہ

آپ کے نیاز مند

قیام پبلی کیشنز لاہور

******


مقدمہ فارسی مترجم

اسلامی مسائل سترہویں صدیق عیسوی سے یورپی دانشوروں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے اور امریکہ کی یونیورسٹی میں توسیع کے بعد امریکی اکابرین نے بھی اسلامی تعلیمات پر تحقیق کرنے میں دلچسپی لینا شروع کیا یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اسلامی مسائل اور ہر طبقہ کے مسلم دانشوروں کے متعلق یورپی و امریکی محقیقین نے سترہویں صدی عیسوی کے بعد بہت سی کتب تحریر کی ہیں اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے ان تحقیقات کا گزشتہ پچاس ساٹھ سال کے دوران فارسی میں ترجمہ ہوا ۔ ان میں سے کچھ کے ترجمہ کی سعادت حقیر نے حاصل کی ہے ۔ لیکن اہل یورپ و امریکہ اس صدی کے آغاز خصوصا جنگ عظیم کے شروع میں مسلک شیعہ اثناء عشری اور ان کے اکابرین پر تحقیق کرنے کی جانب مائل ہوئے ۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مطالعاتی مرکز جو اسٹرابرگ فرانس میں واقع ہے نہ صرف اسلامی مسائل پر تحقیق کرتا ہے بلکہ دنیا کے دیگر مذاہب پر بھی ریسرچ کرتا ہے

جو لوگ اس تحقیقاتی مرکز میں خدمات سر انجام دیتے ہیں وہ اسٹراسبرگ کے رہائشی نہیں بلکہ اسٹرابرگ یونیورسٹی کے اساتذہ کے علاوہ ان میں وہ دانشور بھی شامل ہیں جو دوسرے ملکوں میں مذہبیات نے یہ بات اسٹراسبرگ کے ایک استاد سے سنی ہے اور کبھی کبھار یہ محقق دو سال میں ایک مرتبہ اسٹراسبرگ میں جمع ہو کر باہمی تبادلہ خیالات کرتے ہیں ۔

ان محقق کی تحقیقات میں سے ایک تحقیقی پیش خدمت کتاب کی صورت میں شائع ہوئی ہے اس میں ایسے مطالب درج ہیں جو ابھی تک کسی بھی اسلامی ملک میں دوسری کتابوں کی زینت نہیں بنے ۔حالانکہ مجھے یہ کہنے دیجئے کہ امام جعفر صادق علیہ اسلام کا انسانی اور عملی مرتبہ فی الحقیقت اس کتاب کی رسائی سے بہت زیادہ بلند ہے مگر یہ کتاب اس بات کا موجب بن سکتی ہے کہ اہل علم امام جعفر صادق علیہ السلام کے بارے میں اس سے زیادہ جامع اور ضحینم مواد تصنیف و تالیف کریں ۔

جن اسکالرز نے مرکز مطالعات اسلامی اسٹرسبرگ کے اس تحقیقی پروگرام میں حصہ لیا ان کے اسماء کرام مندرجہ ذیل ہیں ۔

مسٹر آرمان بل پروفیسر یونیورسٹی برسلز اینڈگان بلجیئم

مسٹر جان اوبن پروفیسر یونیورسٹی آ گان بلجیئم

مسٹر برونستویک پروفیسر یونیورسٹی آف پیرس فرانس

مسٹر کلائیڈ کاہن پروفیسر یونیورسٹی اف پیرس فرانس

مسٹرانریکو جرالی پروفیسر یونیورسٹی آف اٹلی اٹلی

مسٹر ہنری کوربن پروفیسر یونیورسٹی اینڈ ڈائریکٹر آف

۹; ۹; تھیالوجی اسٹڈیز فرانس

مسٹر توفیق مخل پروفیسر یونیورسٹی آف اسٹراسبرگ فرانس

مسٹر فرانسیکو جبرائیلی پروفیسر یونیورسٹی آف روم اٹلی

مسٹر ریچارڈ گراھم پروفیسر یونیورسٹی جرمنی جرمنی

مس این لمیٹن پروفیسر یونیورسٹی آف لندن برطانیہ

مسٹر جرا رلوکنٹ پروفیسر آف اورینٹل لینگویجز یونیورسٹی آف پیرس فرانس

مسٹر ایون لینن ڈویل قونڈ ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف نالج ریسرچ پیرس فرانس

مسٹر ویلفریڈ مڈلونگ پروفیسر یونیورسٹی آف شکاگو امریکہ

مسٹر ہنری ماسے پروفسیر یونیورسٹی آف پیرس فرانس

مسٹر حسین نصر وائس چانسلر یونیورسٹی اف ٹیکنالوجی تہران ایران

مسٹر شارل پلا پروفیسر یونیورسٹی آفس پیرس فرانس

مسٹر موسی صدر ڈائریکٹر اسلامک اسٹڈیز نالج صدر لبنان لبنان

مسٹر جارج ویزڈا پروفیسر یونیورسٹی آف لیون فرانس

مسٹر آرنلڈ پروفیسر یونیورسٹی آف لیون فرانس

مسٹرالیاش پروفیسر یونیورسٹی اف کیلی فورنیا لاس اینجلس امریکہ

مسز دوران بینچ کلیف پروفیسر یونیورسٹی اف لندن برطانیہ

مسٹر فرتیز میئر پروفیسر یونیورسٹی آف بال پیرس فرانس

مسٹر جوزف مانوز پروفیسر یونیورسٹی اف فری برگ جرمنی

مسٹر ہینس مولر پروفیسر یونیورسٹی آف برگ جرمنی

مسٹر ہینس رومر پروفیسر یونیورسٹی آف برگ جرمنی

میں ایک شیعہ اثناء عشری مسلمان ہوں آج تک نہیں جانتا تھا کہ شیعہ مسلک کو جعفری کیوں کہا جاتا ہے ؟ مجھے امام جعفر صادق علیہ السلام (اپنے چھٹے امام )کے بارے میں اس سے زیادہ معلوم نہ تھا کہ آپ امام محمد باقر علیہ السلام کے فرنزد ارجمند اور امام موسی کاظم علیہ السلام کے والد گرامی قدر ہیں ۔

میں آپ کی سوانح حیات سے مکمل بے بہرہ تھا اور زیادہ سے زیادہ یہی جانتا تھا کہ آپ کی ولادت و شہادت کہاں واقع ہوئیں ۔ مجھے قطعا معلوم نہ تھا کہ امام جعفر صادق نے زندگی کے بارے میں کیا فرمایا اور کیسے کارنامے انجام دیئے ۔ حتی کہ اس بات سے بھی نا بلد تھا کہ شیعہ مسلک کو جعفری کیوں کہا جاتا ہے ؟ کیا ہمارے پہلے امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام نہیں ہیں ؟ پھر شیعہ مسلک کو جعفری کہنے کا کیا سبب ہے ؟ کیا امام حسین علیہ السلام کی قربانی اور ایثار کو مد نظر رکھتے ہوئے مناسب نہیں کہ شیعہ مسلک کو حسینی کا لقب دیا جائے ؟

ان تمام سوالوں کا جواب مجھے اس وقت ملا جب اسلامک اسٹڈیز سنٹر اسٹراسبرگ (فرانس)کا ایک میگزین دربارہ امام جعفر صادق میرے ہاتھ لگا اس رسالے کو پڑھ کر میرے علم میں یہ بات آئی کہ امام جعفرصادق علیہ السلام دیگر آئمہ میں اس قدر ممتاز کیوں ہیں کہ شیعہ مسلک کو ان کے نام نامی سے موسوم کیا گیا ہے ۔

کہا جا سکتا ہے کہ امام جعفر صادق کے متعلق معلومات کا فقدان خود میری اپنی سستی اور کاہلی کی باعث ہوا کیونکہ اگر بحار االانوار تالیف

علامہ مجلسی و فیات الاعیان تالیف ابن خلکان وافی تالیف ملا محسن فیض اور کافی تالیف علامہ کلینی یا ناسخ التواریخ تالیف لسان الملک سپہر جیسی کتابوں کا مطالعہ کر لیتا تو اپنے چھٹے امام کو بخوبی پہچان لیتا ۔

تو میں عرض کروں گا کہ میں نے بعض کتب کو جو امام جعفر صادق کے متعلق لکھی گئی ہیں مطالعہ کیا ہے اور اس بات کا بھی مشاہدہ کیا ہے کہ ان کتابوں میں امام صادق کے معجزات اور مناقب تو کثرت سے ذکر کئے گئے ہیں لیکن اس کا جواب کہیں دستایاب نہیں ہے کہ شیعہ مسلک کو جعفری کس بنا پر کہا جاتا ہے ؟ مگر اس رسالے نے جو اسلامک اسٹڈیز نے چھاپا ہے مجھ پر یہ حقیقت عیان کر دی اور میری نابینا آنکھوں کو بصیرت دے دی چنانچہ میں نے نئی نوجوان نسل کو چھٹے امام کی تاریخی حوالہ جات کی روشنی میں شناخت کروانے کا بیڑہ اٹھایا کیونکہ میرے خیال کے مطابق ماضی کے مذہبی علماء میں عمومی طور پر سے شاید ہی کس نے اس موضوع کا اداراک کیا ہو کہ امام جعفر صادق نے مذہب شیعہ کو زوال سے بچانے کیلئے کیا تدابیر اختیار فرمائیں ۔ اور اگر وہ ایسا نہ کرتے تو لازمی نتیجہ یہ ہوتا کہ آج مسلک شیعہ موجود نہ ہوتا ۔

اس عظیم شخصیت اور نا بغہ دانشور کے حق کو پہچاننے کا تقاضا ہے کہ آپ کا تعارف و شناخت تاریخی علمی اور نظریاتی حوالوں کے ساتھ ان سب لوگوں کو کرایا جائے جو آپ کی ذات بالاصفات کی معرفت نہیں رکھتے ۔

ذبیح اللہ منصوری

*****


پیش لفظ اردو مترجم

بسم الله الرحمن الرحیم

الحمد لله رب العالمین واصلواة و السلام علی محمد و الله الطیبین الطاهرین

پیش نظر کتاب"مغز متفکر اسلام"(سپرمین ان اسلام ) "امام جعفر صادق " کا مسودہ فرانس کے ساحلی شہر اسٹراسبرگ کے اسلامک اسٹڈیز سنٹر نے تیار کیا ۔ اور پھر یہ کتاب جان ذبیح اللہ منصوری مدظلہ نے فارسی کے قالب میں ڈھالی ۔ وہاں سے اسے اسلام کے ادنی خادم نے اردو کا لبادہ اوڑھایا ۔

درد ملت رکھنے والے مسلمان اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اس جیسی کتابوں کو ترجمہ کرکے انہیں ہر زبان کے قاری تک پہنچانا کتنا ضروری ہے ؟

اگر ہم اپنے مذہب کی شاندار ثقافت ‘ روایات اور کم از کم اپنے آباؤ اجداد کے بارے میں کی جانے والی تحقیقات کو بھی محفوظ نہ کریں تو ہمارے لئے نہایت افسوس کا مقام ہے یہ اور بات ہے کہ ہمیں غیروں کے تحقیقاتی مراکز ہمارے اسلاف کے چھپے ہوئے کارناموں کے پتہ دیتے ہیں ۔ کیونکہ اقبال نے کہا ۔

وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ

وہ مسلمان جس نے ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسری میں قرآن لے کر انسان کو عدل و انصاف ‘ صلح و امن اور برابری کا درس دیا ‘ آج غیروں کی چوکھٹ پر جھکا ہوا ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟

کیا اس کی وجہ یہ نہیں کہ آج کا مسلم اپنے مذہب و ثقافت سے ناآشنا ہے اسے مغربی تہذیب نے خیرہ کر دیا ہے کیونکہ اس کی آنکھ میں یثرب اور نجف کا سرمہ نہیں ہے اسے جو چیز مغرب سے ملتی ہے آنکھیں بند کرکے لے لیتا ہے ۔

موجودہ دور کا مسلم اپنی ثقافت کے بارے میں احساس کمتری کا شکار ہے کیونکہ اس کے پاس کتابوں کا وہ ذخائر موجود ہی نہیں جن میں اس کی ہدیات و رہنمائی کا سامنا تھا وہ ذخائر یورپ کے کتاب خانوں کی زینت ہیں ۔ المختصر آج کے دور کا تقاصا یہ ہے کہ اپنی موجودہ اور آئندہ نسلوں کو اسلام کے کارناموں سے زیادہ سے زیادہ روشناس کرایا جائے ۔

لہذا اسی ضرورت کے پیش نظر احباب نے مجھ سے اصرار کیا کہ میں اس کتاب کے ترجمہ کی سعادت حاصل کروں ۔ میں سمجھتا ہوں اس جیسی عظیم کتاب کا ترجمہ میرے لئے بڑے ہی فخر کی بات ہے۔

یہ کتاب تمام مسلمانوں کیلئے نادر تحفے کا درجہ رکھتی ہے کتاب کی اہمیت کے پیش نظر حقیر نے اپنی پوری سعی کی ہے کہ ترجمے کا حق سو فیصد ادا کر سکوں لیکن بہر حال انسان خطا کا پتلا ہے اگر کوئی کوتاہی نظرسے گزرے تونقاد بھائیوں اوربہنوں سے استدعا ہے نشاندہی فرمائیں البتہ کتاب کے متن کو من و عن ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے لہذا اگر کوئی تاریخی غلطی نظر سے گزرے تو اس کیلئے معافی کا خواستگار ہوں ۔ لیکن امید ہے کہ انشاء اللہ تعالی موضوع کے اعتبار سے یہ کتاب پاکستان میں اپنی نوعیت کی بہترین کتابوں میں شمار ہو گی ۔ اور قارئین کرام اس کے مطالعے میں دلچسپی دکھائیں گے ۔

خصوصا ریسرچ کرنے والے لوگوں کیلئے یہ کتاب جس قدر اہمیت رکھتی ہے اس موضوع پر بہت کم کتب اتنی اہمیت کی حامل ہوں گی ۔

جہاں میں نے کوشش کی ہے کہ کتاب کا متن من و عن قارئین کی خدمت میں پیش کیا جائے وہاں اس بات کی طرف بھی دھیان دیا ہے کہ کتاب کا ترجمہ سلیس ترین زبان میں پیش کیا جائے ۔ لیکن چونکہ اردو کا دامن اتنا وسیع نہیں ہے کہ مطالب کے خزانوں کو آسانی سے سمیٹ سکے لہذا ممکن ہے گاہے بگاہے دوسری زبانوں کے الفاظ کی جھلک ملے ۔

علاوہ ازین کتاب میں اکثر و بیشتر ناموں کو اصلی حالت پر رکھا گیا ہے جو شاید قارئین کے مزاج پر گراں گزرے ۔ بہر حال کتاب اپنی موضوعات کے اعتبار سے اس قدر دلچسپی و شیریں ہے کہ ایک غیر جانبدار قاری بھی اس کو پڑھ کر محظوط ہو سکتا ہے ۔

کتاب میں کئی ایک ایسے مسائل ہیں جن کا ہماری روز مرہ زندگی سے گہرا تعلق ہے اور ہم ان سے بے خبر ہیں ۔ لہذا اس اعتبار سے بھی کتاب کی اہمیت کو چار چاند لگے ہیں ۔

آخر میں رقم الحروف جناب ذبیح اللہ منصوری کی تمہید کی تائید کرتے ہوئے یہ کہے گا کہ انہوں نے حقیقی معنوں میں کتاب کی ضرورت اور افادیت کا درک دیا ہے خدا ہمیں توفیق دے کہ اس جیسے موضوعات پر سینکڑوں کتابیں منظر عام پر لا سکیں تاکہ ہمارے موجودہ اور آئندہ نسل اسلاف سے حقیقی معنوں میں آشنا ہو سکیں ۔

اور آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں مزید توفیق دے تاکہ اس کام کو مزید آگے بڑھایا جا سکے ۔

والسلام علی من التبع الھدی

اسلام کا ادنی خادم

مترجم(سید کفایت حسین)

*****


دخل در معقولات

مخلوقات کی ہدایت کا ذمہ خود خالق نے اٹھا رکھا ہے ۔ پوری کائنات میں فطری ہدایت کا مربوط نظام رائج ہے اور ہر شے اپنے مالک کی اطاعت میں مصروف ہے انسان کو خود اس کے رب نے ایک حد تک مختار بنا کر اسے آزمائش میں مبتلا کیا ہے اور دیگر انواع کے برعکس اس کی ہدایت کا مخصوص بندوبست فرمایا ہے آدم علیہ السلام تا خاتم النبین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ایک منظم سلسلہ جاری کیا اور وحی و الہام کے زریعہ انسانیت کو معتدل آئین حیات عطا کیا تاکہ اس کی ارتقاء و نشو ونما اور فلاح و رفاہ انسانی کے جملہ تقاضے پورے ہو جائیں ۔ فطرہ اللہ جو دراصل دین حقیقی ہے کے ضوابط کے تحفے اور اس کے قوانین کے نفاذ کیلئے تکمیل دین کے بعد بارہ ہادی منصوص فرمائے اور انہیں آئین انسانیت قرآن مجید کا وارث و محافظ قرار دیا قرآن میں ہر خشک و تر کا علم نازل فرما کر اس کی تعلیم کیلئے اپنے ان منصوص بندوں کو علم وحی سے نوازا ۔ ہدایت کے ان بارہ کامل نمونوں میں سے گیارہ نے اپنے فرائض منصبی عمدہ حسن کارکردگی کے ساتھ ادا کئے اور بارہویں کے قیام کی زمین کو ہموار کیا تاکہ اظہار دین کی عملی تعبیر ظاہر ہو جائے ۔ قدرت کے یہ شاہکار نمونے دراصل ہدایت کے ایسے آبدار آئینے ہیں جو دیکھنے میں چھوٹے بڑے نظر آتے ہیں لیکن ہر ایک میں دین خدا "اسلام "کی تصویر مکمل نظر آتی ہے ۔

کائنات کے شیش محل میں سجے ہوئے چھٹے آئینہ کی چکا چوند چمک اور دلکشی نے دنیا کو خصوصی طور پر اپنی جانب متوجہ کیا ہے ایک بالغ نظر عربی شاعر نے یہ مفہوم انشا کیا ہے کہ

"جعفر صادق عرش کا ایسا ستارہ تھا جو زمین کی تاریکیاں دور کرنے کیلئے آ گیا تھا "

زیر مطالعہ کتاب میں امام جعفر صادق کی علمی مرکزیت اور آپ کے عظیم کارہائے نمایاں سے متعلقہ عمیق تحقیقی کو ہدیہ ناظرین کرنے کی سعادت حاصل کی گئی ہے یہ ریسرچ ۲۵ مختلف النسل اکابرین کے وسیع مطالعہ کا نچوڑ ہے اس کا اصلی متن فرانسیسی زبان میں ہے جسے جناب ذبیح اللہ منصوری مد ظلہ نے فارسی کا جامہ پہنایا ۔ اور اللہ نے ہمیں توفیق فرمائی کہ اس کے ا ردو متن کو پیش خدمت کر رہے ہیں ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت با سعادت اس سیاسی دور میں ہوئی جب حق و دیانت کے چراغ گل کئے جا رہے تھے اور جزیرہ نما عرب میں طوائف الملوکی کا دور دورہ تھا ۔ جگہ جگہ فتنہ انگیز ‘عناد و فساد اور بے چینی و بد امنی پھیل ہوئی تھی لوگ علم حق اور صداقت کی تلاش کے بجائے جاہ و منصب سیم و زر اور تاج و تخت کی تلاش میں سر گرداں تھے ہر طرف مفاد پرسی کا سکہ چل رہا تھا اور ملوکیت و اقتدار کی قربان گاہ پر دیانت و امانت کو قربان کیا جا رہا تھا ۔ ایسے عہد ظلمت میں نور امامت کا چھٹا ماہتاب اپنی پوری آب و تاب سے چمکا ۔ آپ امام محمد باقر علیہ السلام کے فرزند ارجمند سید الساجدین امام زین العابدین علیہ السلام کے پوتے اور سید الشہداء سیدنا امام حسین علیہ السلام کے پڑپوتے ہیں ۔ آپ اسلام کے نامور عظیم ترین اور سرمایہ فخر و ناز اکابرین میں ممتاز و منفرد مقام و مرتبے کے حامل ہیں آپ نے اپنی ساری زندگی انسانی فلاح و اصلاح کیلئے وقف کر دی آپ کی سیرت اسلامی کردار کی کامل اور بے نظیر تصویر ہے آپ نے ہمیشہ وہی کہا اور وہی کیا جو دین فطرت اسلام کا حقیقی منشاو مقصد تھا اپنی پوری زندگی میں آپ نے ایک لمحہ کیلئے بھی ان ذمہ داریوں اور تقاضوں سے غفلت نہ برتی جو انفرادی اجتماعی خانگی اور عوامی شعبہ ہائے حیات کی طرف سے آپ پر عائد ہو سکتے تھے آپ نے اپنے خطبوں مقالات ارشادات افعال اعمال کردار اور گفتار سے اسلام کی اس مقدس روح کو اجاگر کردیا جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حیات طیبہ کا سب سے بڑا مقصد تھا اپنے اس طرز مخصوص کے سبب آپ انسانی شعور و ادارک میں ایک عظیم ترین تعمیری انقلاب کا سبب بن گئے ۔ آپ نے فکر انسانی کا رخ حقیقت پسندی اور تلاش

حق کی جانب موڑ دیا علمی تحقیقات کیلئے جدید راہیں پیدا کر دیں ۔ اس طرح آپ کی سیرت پاک کی قدریں جدید و قدیم ہر دور کے تقاضوں کو پورا کرتی ہیں ۔

امام جعفر صادق کا تبحر علمی پاکیزہ اسلامی کردار عبادت و تقوی صبرو ا ستقلال اور حسن اخلاقی انسانیت کیلئے ہدایت کا مینار بن گئے ان نظیروں نے انسانی طرز فکر اور بشری تخیل کے لئے ایک خوشگوار ماحول پیدا کر دیا اور لوگ ستاروں پر کمندیں ڈالنے میں مشغول ہو گئے علم دوستی بڑھ گئی ۔

آپ نے نوع انسان کو ایسی ثقافت سے روشناس کرایا جس میں ہر فرد معاشرہ کے ضمیر میں خوف خدا اس طرح پیدا ہو جاتا ہے کہ اسے کسی بیرونی نگرانی کی حاجت باقی نہیں رہتی اور اس کے احساس فرض میں از خود اتنی قوت آ جاتی ہے جس کے بل بوتے پر وہ ہوس پرستیوں اور خود غرضانہ حماقتوں کی طاقتوں کو کچل دینے پر قادر ہو جاتا ہے ۔

امام جعفرصادق نے ہمیشہ یہ سعی مشکور فرمائی کہ بغیر کسی دنیوی لالچ مادی حرس سیاسی دباؤ اور چاپلوسی کے ہر شخص قانون خدا وند ی کے احترام کا عادی ہو جائے اور اس میں فرض شناسی حق گوئی اور صداقت پسندی کے وہ جذبات پیدا ہو جائیں جو کسی بھی استحصالی طاقت سے سرد نہ ہو سکیں اسلام جس اخوت و یگانگت اور اخلاقی برتری کا پیغام لے کر آیا تھا امام جعفر صادق علیہ السلام نے عملا اپنے طرز عمل اور سیرت سے اس کو بڑی عمدگی کے ساتھ واضح اور روشن کر دیا اور اپنے خصائل و شمائل سے ثابت کر دیا کہ حقیقی سر بلندی صرف اس انسان کا مقدر ہے جو متقی اور مطیع پروردگا رہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی نسل قوم اور قبیلے سے ہو ۔ حسب و نسب مال و زر جاہ و منصب کثرت و قلت یا کوئی اور معیار انسانیت نہیں ہے ۔

آپ دنیوی معیار کے اتنے بڑے آدمی ہو کر بھی ایک عام آدمی کی زندگی بسرکرنے پر قناعت فرماتے تھے جھلسا دینے والی گرمی دھوپ کی شدت اور سورج کی تمازت میں پسینے میں شرابور معاشرہ کے عام فرد کا سب کی مانند اپنا آزوقہ حاصل کرنے کو شرف انسانی سمجھتے تھے آپ کی صحبت میں ہر قوم نسل اور طبقہ کے لوگ جمع رہتے تھے جو اس علم کے دریا سے فیض یاب ہوتے تھے اور اپنے روحانی رہنما کے حکیمانہ ارشادات سے سبق حاصل کرتے تھے آپ کا نصب العین اور مقصد حیات اسلامی کردار سازی تھا آپ مسلم معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں شب و روز مشغول رہتے تھے لہذا آپ کو کبھی اس بات کی پرواہ نہ ہوئی کہ آپ کے حلقہ ارادت میں ہمنواؤں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے یا کمی آپ کی کوشش یہ تھی کہ مسلمان نام کا مسلمان نہ ہو بلکہ کام کا مسلم ہو یعنی ایسا مسلم جو ہر خامی نقص اور کجی سے مبرا ہو آپ نے چاہا کہ لوگ فلسفے اور اسلامی نظریات کو صحیح سطح پر سمجھنے کی اہلیت پیدا کریں آپ کے نزدیک چند سچے اور پکے مسلمان جو اللہ اور اس کے دین کی صحیح معرفت رکھتے ہیں اور اس کے دین کی صحیح معرفت رکھتے ہیں ان لا تعداد افراد سے ہر طرح برتر و افضل ہیں جن کی زندگی اسلام کی تعلیم اسلامی شعائر اور اسلامی قدروں سے محروم ہو ۔

جب آپ کی ولادت ہوئی اس وقت اموی حکمران عبدالملک بن مروان کا دور حکومت تھا اس کے بعد دوسرے حاکم آتے رہے حتی کہ ۱۳۲ ہجر میں اموی دور ختم ہو گیا پھر بنو عباس کا دور شروع ہو یہی وہ انتقال و تحویل اقتدار ملوکیت کا محدود اور مختصر سا وقفہ تھا جس میں اس عظیم مصلح اور اسلامی کے جلیل القدر فرزند کو اس بات کا زیادہ موقع مل سکا کہ آپ نے اسلامی علوم اور معارف دین کی ترویج و اشاعت کا

اہم کام سر انجام دیا ۔ آپ نے اس فضائے خوشگوار میں ہر دقیقہ سے فائدہ اٹھانے کی بھر پور کوشش فرمائی ۔ جس میں ان کو خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی ۔

آپ کے سیرت پاک کے دو رخ خصوصی اہمیت کے حامل ہیں اور زمانے کے ہر دور میں ان پر خاصی توجہ کی ضرورت ہے ۔ ایک آپ کی سماجی طرز بود و باش جس میں اسلامی زندگی کی اکملیت نظر آتی ہے اور انسانیت اپنے معراج پر فائز دکھائی دیتی ہے اور دوسرا امام جعفر صادق کی علمی کاوشیں ‘ آپ کی ۶۵ سالہ زندگی میں یہ محدود اور مختصر زمانہ جس میں اموی حکومتوں کا چراغ شمع سحری کی طرح ٹمٹما رہا تھا اور عباسی حکومتی کا زمانہ شروع ہو گیا تھا ابو العباس سفاح کے بعد منصور کا عہد سلطنت گزر رہا تھا علمی خدمات بجا لانے کیلئے سنہری وقت ثابت ہوا تھا ۔

آپ کی عوامی زندگی کا اندازہ اس طرح کیا جا سکتا ہے کہ ابو عمر شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق کو ایک باغ میں یوں دیکھا کہ آپ ہاتھ میں بیلچہ لئے ہوئے پسینے میں شرابور بہ نفس نفیس ایک دیوار کو درست فرما رہے تھے میں اتنی شدید گرمی میں امام کو اس حالت میں مشقت میں دیکھ کر برداشت نہ کر سکا میں نے عرض کیا کہ سرکار یہ بیلچہ مجھے دے دیجئے اس کام کو خادم انجام دے گا لیکن امام نے میری درخواست کو قبول نہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ انسان تلاش معاش میں دھوپ کی تیزی کا مزا چکھے ۔

حسام بن سالم سے مروی ہے کہ امام جعفری صادق علیہ السلام کی عادت تھی کہ رات کے وقت وہ سامان خوراک اور درہموں کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھا کر اپنے آپ کو ظاہر کئے بغیر غرباء و حاجت مندوں میں یہ اشیاء تقسیم کیا کرتے تھے ان ضرورت مندوں کو اپنے محسن عظیم کے بارے میں علم اس وقت ہوا جب آپ اس دنیا سے رخصت ہو گئے بے شک انسان کا صحیح رہنما صرف وہی شخص ہو سکتا ہے جو اپنے عمل سے زندگی کی دشواریوں اور مسائل کا تسلی بخش حل پیش کر سکتا ہو صرف زبانی کلامی ڈینگ نہ مارتا ہو لہذا جناب امام جعفر صادق علیہ السلام محض زبانی رہنمائے انسانیت نہیں بلکہ اسلامی سیرت اور الہی پیغام کا عملی نمونہ ہیں ۔

امام جعفر صادق نے علوم اسلامیہ کے نشرو اشاعت میں جو حصہ لیا اور جس طرح اسلام کی ثقافت کیلئے گرانقدر خدمات انجام دیں اس کی مثال ملنا محال نہ سہی مگر مشکل ضرور ہے اور ان کے طاہر گھرانے کے سوا ان کی نظیر تلاش کرنا ممکن نہیں ہے آپ کا عہد حیات و ہ دور تھا جب فتوحات اور بیرونی دنیا کے اتصال خاص کریونانی اور رومی لٹریچر کی نشرو اشاعت کے باعث عربستان میں مختلف علوم و فنون طرح طرح کے نظریات اور نئے نئے فکر رجحانات داخل ہو رہے تھے اور اندریں صورت اسلام کے خلاف بیرونی محاذوں سے علمی اور ثقافتی یلغار کا سلسلہ زور و شور سے جاری تھا یہ ایک ایسی سرد جنگ نہ تھا کیونکہ عقل و فکر کا مقابلہ علم و دانش ہی سے کیا جا سکتا ہے نسلی تعصب سے فکر و نظریاتی طوفانوں پر بند نہیں باندھے جا سکتے چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس محاذ پر جو کارنامے انجام دیئے ہیں وہ تاریخ اسلام میں حروف زہیہ سے مرقوم ہیں ۔

مسجد نبوی اور مدینہ میں آپ کا گھر حقیقی معنوں میں مدینتہ العلم بن گئے تھے۔ جو وقت کے عالی شان علمی تحقیقاتی مرکز کی حیثیت رکھتے تھے ۔ آپ کا مدرسہ اپنے دور کی بڑی یونیورسٹی کا درجہ رکھتا تھا ۔ جس کا حلقہ تعلیم و تدریس اور تحقیق خاصا وسیع تھا ۔ اس میں بیک وقت کم سے کم چار ہزار دانش جو مختلف علاقوں کے زیر تعلیم ہوا کرتے تھے اس عظیم الشان اسلامی ریسرچ سنٹر اور مسلم دانشگاہ سے بڑے بڑے علماء جید فقہاء اور نامور مفکر فارغ التحصیل ہوئے ۔ اور ان طالب علم نے یہاں سے جو کچھ سیکھا اس علم کی روشنی دنیا کے چپہ چپہ میں پھیلائی ۔

یحیی بن سعید انصاری ‘ سفیان ثوری ‘ سفیان بن عینیہ ‘ امام مالک ‘ امام ابو حنیفہ جیسے اکابرین نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے مرکز تعلیم سے فیض حاصل کیا ۔ لیکن یہ بات بہر حال تاریخی شواہد کے پیش نظر کبھی ضروری نہ رہی کہ استاد اور اس کے شاگردوں کے مسلک اور نظریاتی میں بھی ہم آہنگی رہی ہو جس کی وجوہ سیاسی ‘ نسلی ‘ ماحول کے تاثرات ‘ گردو پیش کے حالات کا دباؤ ‘ ذاتی خواہشات ‘ مخصوص مصلاح ‘ نام و نمود کے مقاصد اور اسی طرح کی دوسری باتیں بھی ہو سکتی ہیں ۔

علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ کہا کرتے تھے کہ

"میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے بڑھ کر علم دین کا عالم کسی دوسرے کو نہیں پایا "

امام مالک کا قول ہے کہ

" میری آنکھوں نے علم و فضل اور تقوی میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے بہتر کسی کو نہیں دیکھا "‘

آپ کے مشہور شاگردوں میں امام الکیمیا جابر بن حیان کوفی بھی تھے ۔ جو عالمی شہرت کے حامل ہیں ۔ جابر بن حیان نے ایک ایسی مفصل کتاب لکھی تھی جس میں امام عالی مقام کے کیمیاء پر پانچ سو رسالوں کو جمع کیا تھا آپ کے شاگردوں کی تصانیف کے علاوہ خود آپ کی تصانیف بھی بہت زیادہ ہیں ۔ کیمیاء ‘ فلسفہ ‘ طبیعات ‘ ہیئت ‘ منطق ‘ طب ‘ تشریح الاجسام ‘ افعال اعضاء اور ما بعد الطیعات و غیرہ وغیرہ پر آپ نے بہت کچھ لکھا ہے ۔

آپ نے ہر شعبہ علم پر قرآن و حدیت کی رو سے ایسی روشنی ڈالی ہے کہ اہل علم حیران رہ گئے ہیں ۔ آپ کے ظاہری و باطنی کمالات و فضائل کے دوست دشمن سب قائل ہیں ۔ امام شافعی تحریر کرتے ہیں کہ

" امام جعفر صادق علیہ السلام سادات و بزرگان اہل بیت میں سے تھے ۔ ہر طرح کے جملہ عبادات مسلسل اور اد اور وظائف اور نمایاں زہد کی حامل تھے ۔ کثرت سے تلاوت فرماتے تھے اور ساتھ ہی آیات قرآں کی تفسیر فرماتے تھے ۔ اور قرآن کے بحر بے کراں سے جواہر نکال کر پیش کرتے اور عجیب و غریب نتائج اخذ فرماتے تھے ۔ آپ کی زیرات آخرت کی یاد دلانے والی ‘ آپ کا کلام سننا اس دنیا میں زہد ‘ اور آپ کی ہدایات پر عمل کرنا حصول جنت کا باعث تھا ۔ آپ کی نورانی شکل گواہی دیتی تھی کہ آپ خاندان نبوت میں سے ہیں اور آپ کی پاکیزگی بتاتی ہے کہ آپ نسل رسول سے ہیں آپ سے امام اور علماء اعلام کی ایک جماعت نے حدیثیں نقل کی ہیں اور علوم حاصل کئے ہیں ۔ جیسے یحیی بن سعید انصاری ‘ ابن صریح ‘ مالک بن انسا ‘ سفیان ثوری ‘ ابن عینیہ ‘ شعبی ابو حنیفہ ‘ ایوب سختیانی وغیر ہم ۔ اور یہ لوگ اس شرف استفادہ اور نسبت فصیلت پر فخر کرتے تھے "

امام جعفر صادق کے خوان علم سے نہ صرف علم کی اشتہا رکھنے والوں کی سیری ہوئی بلکہ جب آپ نے علم الابدان پر درس دیا تو اس تبحر علمی سے دنیا آپ تک محو حیرت ہے کتاب الا ہلیح اور کتاب المفضل اس پر آج تک گواہ ہیں ۔

یہ امام جعفر صادق کے فیوض کا ہی تصدق ہے کہ پروفیسر ہٹی جیسا شخص جابر بن حیان کو ایشیا اور یورپ میں فادر آف کیمسٹری کہہ کر پکارتا ہے ۔

ابن تیمیہ نے خیرہ چشمی اور گستاخی سے کام لیتے ہوئے امام ابو حنیفہ کے امام جعفر صادق کے شاگر ہونے پر اعتراض کیا ہے اور اس

کی وجہ ان دونوں بزرگوں کا ہم عصر ہونا قرار دیا ہے ۔ چنانچہ شمس العلماء مولانا شبلی نے سیرت نعمان میں ابن تیمیہ کا تعاقب کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ

" امام ابو حنیفہ لاکھ مجتہد اور فقیہ ہوں لیکن فضل و کمال میں ان کو حضرت امام جعفر صادق سے کیا نسبت ؟ حدیث و فقہ بلکہ تمام علوم اہل بیت کے گھر سے نکلے ہیں "

شاہ عبدالعیز محدث دہلوی اپنی کتاب تحفہ اثنا عشریہ میں لکھتے ہیں کہ

" امام ابو حنیفہ ہمیشہ حضرت صادق کی محبت و خدمت پر افتخار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ لو لا السنتان لھلک النعمان یعنی اگر یہ دو برس نہ ہوتے (جو خدمت امام جعفر صادق علیہ السلام میں گزارے )تو نعمان ضرور ہلاک ہو جاتا "

(یہاں ہلاکت سے مراد مسائل کے جواب میں غلطیاں کرنا ہے )

امام جعفر صادق علیہ السلام اور دیگر آئمہ اہل بیت سے حضرت ابو حنیفہ کی عقیدت کا یہ عالم تھا کہ مشہور روایت ہے کہ جب کبھی ابو حنیفہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے کلام کرتے تو کہتے جعلت فداک یعنی میں آپ پر قربان ہوں ۔ اور اسی حقیقت سے منصور دو انیقی بھی خوب واقف تھا اور جناب ابو حنیفہ کو منصور کا رعب و دبدبہ بھی اس عقیدت مندی سے باز نہ رکھ سکا چنانچہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی لکھتے ہیں کہ جب محمد نفس ذکیہ نے خروج کیا تو ان دنوں میں منصور عباسی نے حضرت امام ابو حنیفہ سے پوچھا

اے نعمان ! تمہارے علم کے ماخذ کون کون لو گ ہیں ؟

ابو حنیفہ نے جواب دیا کہ

" میں نے علم علی کے اصحاب اور علی سے اور عبداللہ بن عباس کے صحابیوں اور ابن عباس سے لیا ہے "

یہ کس طرح خوبصورتی کے ساتھ امام ابو حنیفہ نے حق گوئی کا اظہار کیا ہے کہ ان کا ماخذ علم صرف بابا مدینتہ العلم علی المرتضی علیہ السلام ہیں ۔ کیونکہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تو مسلمہ طور پر جناب امیر علیہ السلام کے شاگرد تھے ۔

اب ذہن میں ایک سوال کھٹکتا ہے کہ جب امام ابو حنیفہ جناب جعفر صادق کے شاگر تھے اور ان کے عقیدت مند بھی تھے نیز ان کے علم کا ماخذ امیر المومنین علی علیہ السلام اور ان کے شاگرد تھے تو پھر فقہ حنفی اور فقہ جعفری آپس میں مختلف کیوں ہیں ؟

یہ وقت کا اہم ترین مسئلہ ہے اور اتحاد بین المسلمین کیلئے اس سوال کا جواب دینا اشد ضروری ہے ۔

علامہ مناظر احسن گیلانی نے لکھا ہے کہ حجاز سے واپسی کے بعد امام ابو حنیفہ کو تدوین فقہ کا خیال پیدا ہوا غالبا یہ ان دو سالوں کے بعد کا ذکر ہے جو امام صاحب نے جناب جعفر صادق علیہ السلام کی درس گاہ میں گزارے ۔ مولانا شبلی نعمانی تحریر کرتے ہیں کہ

اس کام کیلئے انہوں نے ایک مجلس وضع قوانین مرتب کی جس میں ان کے ( ۴۰) شاگرد شامل تھے ۔ ان میں نمایاں لوگ قاضی ابو یوسف ‘ زفر ‘ داؤد الطلائی اور محمد بن حسن شیبانی تھے ۔ ہر مسئلہ بحث و مباحثہ کے بعد طے کیا جاتا تھا ۔ قلائد و عقود و العقیان کے مصنف نے لکھا ہے کہ امام ابو حنیفہ نے جس قدر مسائل مدون کئے ان کی تعداد بارہ لاکھ نوے ہزار ( ۰۰۰‘۹۰‘۱۲) سے کچھ زیادہ ہے شمس العلماء کردوی نے لکھا ہے کہ یہ مسائل چھ لاکھ تھے ۔ یہ خاص تعداد شاید صحیح نہ ہو ۔ لیکن کچھ شبہ نہیں کہ ان کی تعداد لاکھوں سے کم نہ تھی ۔ امام محمد کی جو

کتابیں آج موجود ہیں ان سے اس کی تصدیق ہو سکتی ہے اگرچہ اس میں شک نہیں کہ امام ابو حنیفہ کی زندگی ہی میں فقہ کے تمام ابواب مرتب ہو گئے تھے رجال و تواریخ کی کتابوں میں اس کا ثبوت ملتا ہے جس کا انکار گویا تواتر کا انکار ہے لیکن افسوس ہے کہ وہ مجموعہ ایک مدت سے ضائع ہو گیا ہے اور دنیا کے کسی کتب خانہ میں اس کا پتہ نہیں چلتا ۔ امام رازی مناقب شافعی میں لکھتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ کی کوئی تصنیف باقی نہیں رہی ۔ لیکن قاضی ابو یوسف اور امام محمد نے انہیں مسائل کو اس توضیح و تفصیل سے لکھا اور ہر مسئلہ پر استدلال اور برہان کے ایسے حاشئے اضافہ کئے کہ ان کو رواج ہو گیا اور اصل ماخذ سے لوگ بے بہرہ ہو گئے (سیرت ا لنعمان علامہ شبلی )

اب غور طلب امر یہ ہے کہ اس اصلی مجموعہ مسائل کو جو خود امام حنیفہ نے مرتب کیا تھا کیا بنا ؟

اس مواد کے جل جانے چوری ہو جانے کسی قدرتی آفت کی نذر ہو جانے یا تاتاریوں کے ہاتھوں تباہ ہونے کا تذکرہ کسی بھی تاریخ کی کتاب میں نہیں ملتا ۔ لہزا اس علمی سرمایہ کا سراغ لگانے کیلئے ہمیں تاریخوں کو زیادہ گہری نظر سے دیکھنا پڑے گا ۔

تاریخ سے اس کی گواہی ملتی ہے کہ ابو جعفر منصور عباسی نے بنو حسن خصوصا محمد نفس زکیہ اور ابراہیم نفس رضیہ کا خاتمہ کرنے کے بعد ان کے حامیوں اور طرفداروں سے انتقام لینے کا آغاز کیا ۔ اس سلسلہ میں منصور کی نظر میں امام ابو حنیفہ کی شخصیت بڑی بااثر اور سیاسی اعتبار سے قد آور تھی ۔ ان پر ہاتھ ڈالنا بھڑوں کے چھتہ پر ہاتھ ڈالنا تھا کیونکہ ایسے اقدام سے سر زمین عراق پر فتنہ بغادت آنا فانا پھیل سکتا تھا جو تخت عباسی کا تختہ کر سکتا تھا ۔ لہزا استحکام حکومت کیلئے ضروری تھا کہ ایسا راستہ اختیار کیا جائے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی سلامت رہے منصور اس بات سے بخوبی آگاہ تھا کہ ابو حنیفہ کا اس حدیث رسول پر پورا یقین ہے کہ

" اہل بیت کو علم نہ سکھانا کیونکہ وہ تم (سب ) سے زیادہ صاحبان علم ہیں "

صواعق محرقہ

چنانچہ منصور نے سب سے پہلے دہن دوزی کا طریقہ اختیار کیا حضرت امام ابو حنیفہ کو سرکاری قاضی بنانا چاہا مگر انہوں نے اس عہدہ کو قبول نہ کیا پھر انہیں مفتی بنانے کی کوشش کی گئی مگر انہوں نے انکار کر دیا اس کے بعد امام صاحب کو قاضی القصاة کے اعلی منصب کی پیش کش ہوئی مگر انہوں نے معذوری کا اظہار کر دیا کیونکہ وہ بالغ نظر تھے اور ان کو معلوم تھا کہ یہ سب کچھ ایک خاص سیاسی مقصد کیلئے کیا جا رہا ہے دراصل حکومت ان کو فریب دے کر اپنے جال میں پھنسانا چاہتی ہے

تاکہ ان کا علم حکومت کی نوک تلوار کا ہم نوا ہو ۔ اور حکام کو اپنے مفاد میں مفید فتوے حاصل کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے ۔

جب منصور کی یہ تدبیریں الٹ ہو گئیں اور ابو حنیفہ رام نہ ہوئے تو اس کی آتش انتقام بھڑک اٹھی اس نے امام صاحب کو قید کر دیا ۔

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے اپنی شیعہ کش کتاب تحفتہ اثناء عشری میں کید ۸۲ کے ذیل میں اپنی تحقیق کے مطابق تحریر کیا ہے کہ

" اس منصور نے امام ابو حنیفہ کو قید کر دیا اور قید خانہ میں زہر دے دیا کیونکہ ان کو اہل بیت رسول سے محبت و اعتقاد بہت تھا "

الغرض ۱۵۰ ہجری میں ابو حنیفہ کی وفات کے بعد ان کے شاگرد امام زفر کو عہدہ قضاپیش کیا گیا مگر انہوں نے انکار کر دیا اور خود روپوش ہو گئے ان کو مجبور کرنے کی غرض سے ان کا گھر مسمار کر دیا گیا لیکن وہ کسی دباؤ تلے نہ آئے ۔ البتہ مالی مشکلات اور دیگر وجودہ کی بنا پر امام ابو حنیفہ کے ایک اور شاگرد قاضی ابو یوسف نے مہدی عباسی کے زمانے میں قاضی اور ہارون کے عہد میں قاضی القضاة بننا قبول کر لیا ۔

مشہور مورخ ابو النصر مصری کا بیان ہے کہ

" عمر ابن عبدالعزیز نے تمام بلاد و امصاری میں نبیذ (قسم شراب )کے حرام ہونے کا حکم بھیج دیا تھا چنانچہ عہد بنی عباس میں فقہ جعفری ‘ فقہ مالکی ‘ فقہ شافعی اور فقہ حنبلی میں تمام نشہ آور نبیذیں حرام قرار دی گئیں لیکن فقہ حنیف میں " خمر " کے لفظ کو لغوی معنی میں لیتے ہوئے اس کا اطلاق صرف انگور کے پکے ہوئے شیرہ پر کیا گیا اور شراب کی بعض قسموں مثلا کھجور جو اور کشمش کی نبیذ کو جائز قرار دیا گیا بشرطیہ اسے بہت ہلکی آگ پر تھوڑی دیر تک پکایا گیا ہو ہارون بھی نبیذ کثرت سے پیا کرتا تھا فقہ حنیف کی اس نرم روی سے لوگوں میں جرات پیدا ہو گئی اور وہ ایسی شراب بھی پینے لگے جس سے نشہ ہو جاتا تھا "

(اردو ترجمہ الہارون )

ظاہر ہے فقہ حنفی میں یہ لچک عہد ہارون میں پیدا کی گئی جب امام ابو یوسف قاضی القضاة تھے اور انہوں نے امام محمد بن حسن ایشبانی کی مدد سے حنفی فقہ کی از سر نو تدوین کی کیونکہ وہ مجموعہ فقہ جو امام ابو حنیفہ نے مدون کیا تھا نا پید ہو چکا تھا حالانکہ وہ باب وار مرتب ہوا تھا لیکن اس میں بادشاہوں کے عیش و لذت کی کوئی راہ ہموار نہ تھی کیونکہ ابو حنیفہ جیسے دور اندیش بزرگ معاشرے کو ایسی رعایتوں کا خوگر بنانے کے برے نتائج پر نظر رکھتے تھے اور وہ اس قومی نقصان سے بے نیاز نہیں ہو سکتے تھے ۔

امام محمد شیبانی کا حکومت سے مسلسل تعلق رہا عہد ہارون میں جب محمد رقہ میں قاضی تھے تو ویلم کی سر زمین سے محمد نفس زکیہ کے بھائی یحیی بن عبداللہ نے خروج کیا ۔ ہارون نے ان کی سر کوبی کیلئے فضل بن یحیی برمکی کو پچاس ہزار فوج دے کر روانہ کیا ۔ فضل کی حکمت عملی سے یحیی ہارون سے ملنے پر آمادہ ہو گئے بشرطیکہ وہ ایک امان نامہ لکھ کر بھجوا دیا ۔ یہیی فضل کے ہمراہ ہارون کے پاس آ گئے کچھ دن ہارون نے ان کو بڑی عزت کے ساتھ رکھا اور اس امان نامہ کے باطل ہونے پر امام محمد قاضی رقہ سے فتوی مانگا ۔

انہوں نے فتوی دینے سے معذوری ظاہر کی ۔ ہارون نے طیش میں آ کر ان کے سر پر دوات کھینچ ماری جس سے ان کا سر پھٹ گیا ۔ ان کو اس وجہ سے اپنے عہدہ قضا سے بر طرف کر دیا گیا اور اسی محفل میں قاضی القضا ة ابو البختری وہب ابن وہب سے امان نامہ کے بے اثر ہونے اور یحیی کے قتل کے جواز کا فتوی لے لیا ۔

کتاب "امام ابو حنیفہ کی سیاسی زندگی " میں منقول واقعات سے ثابت ہے کہ امام ابو حنیفہ نے جو سخت مصائب برداشت کرنے کے باوجود حکومت سے کوئی عہدہ قبول کرنا پسند نہیں کیا اس کا اصلی سبب یہ تھا کہ حکمران فقہ حنفی کو اپنی خواہش کے مطابق مرتب کرانا چاہتا تھا ۔ اور اس میں کسی ایسی چیز کا دخل گوارا کرنے کو تیار نہ تھا جس سے طالین یعنی بنی فاطمہ کی ہمت افزائی ہو یا ان کے فضائل و مناقب پر روشنی پڑے ہم اس بات کی تائید میں دو واقعے بطور مثال نقل کرتے ہیں ۔

ہارون رشید کے متعلق طاش کبری زادہ نے مفتاح السعادة میں یہ روایت نقل کی ہے کہ امام مالک کو بغداد لانے سے مایوس ہونے کے بعد وہ واپسی میں مکہ پہنچا اور اس زمانہ میں مکہ کی علمی امامت و ریاست جس کے ہاتھ میں تھی یعنی سفیان بن عینیہ ان سے ملا ملنے کے بعد حکم دیا کہ جو کتابیں انہوں نے لکھی ہیں وہ میرے ساتھ کر دیں ۔ لیکن سفیان کا علم ہارون اور اس کی حکومت کے کام کا نہ تھا " (امام ابو حنیفہ کی سیاسی زندگی )

" ابن ابی العوام نے پوری سند کے ساتھ سماعہ سے روایت کی ہے کہ یحیی طالبی کے واقعہ کے بعد خلیفہ ہارون رشید نے حکم

دیا کہ امام محمد کی پوری کتابوں کی چھان بین کی جائے اسے یہ خوف تھا کہ کہیں امام صاحب کی کتابوں میں ایسا مواد تو نہیں جو طالبین (یعنی اولاد علی) کی فضیلت پر مشتمل ہو یا ان کو بغاوت پر امادہ کر دے (اردو ترجمہ آثار امام محمد و امام ابو یوسف مولانا زاہد کوثری )

اس طرح امام ابو یوسف اور امام محمد کے منصب پر فائز ہونے کے زمانے میں وہ مجموعہ فقہ جو امام ابو حنیفہ کے زمانے میں مرتب ہوا تھا مفقود ہو گیا اور ان کتابوں کا نام فقہ ابو حنیفہ پڑ گیا جو امام محمد نے مدون کیں اور جن کی چھان بین ہارون نے کروائی ۔ ان سب کتابوں کے نام فہرست ابن ندیم میں درج ہیں ۔

علامہ شبلی نعمانی نے اسی لئے امام محمد کے تذکرے میں لکھا ہے "آج فقہ حنفی کا دار و مدار ان ہی کتب پر ہے "

مرحوم سید حشمت حسین جعفری ایڈووکیٹ اپنے ایک مقالہ میں کہتے ہیں کہ

" میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر فقہ حنفیہ تلف نہ ہو جاتا جو امام ابو حنیفہ کے زمانے میں ان کی زیر نگرانی باب وار مرتب ہو چکا تھا تو دنیا دیکھتی کہ فقہ حنفی اور فقہ جعفری میں کوئی فرق نہیں ہے ۔

چونکہ عباسیوں نے محض اہل بیت کے نام سے پراپیگنڈا کرکے حکومت حاصل کی تھی اس لئے وہی ان کے خیال میں ان کے سب سے بڑے دشمن تھے امام ابو حنیفہ کے چونکہ خاندان اہل بیت سے موروثی عقیدت مندانہ تعلقات تھے اس لئے انہوں نے اپنی فقہ میں بہت کچھ مسائل ان سے لئے تھے یہ چیزیں ہارون کو گوارانہ تھیں ۔ اس لئے ان کا تیار کردہ مواد تلف کرا دیا گیا اور ان کے شاگردوں سے حسب منشاء فقہ مرتب کراکہ اس کا نام فقہ حنفی رکھ دیا گیا جس میں اہل بیت سے شاذ و نادر ہی کوئی مسئلہ لیا گیا اور اسی کو حکومت کی سر پرستی میں رواج دیا گیا "

ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا صرف یہی فریضہ نہیں ہے کہ ہم خود احکام اسلامی کی پابندی کریں بلکہ اللہ کی اس امانت کو نئی نسل اور غیر مسلم اقوام تک پہنچانا بھی ہماری ذمہ داری ہے ۔ عصری تقاضوں کے پیش نظر حالات کی مناسبت سے ہمیں پوری دیانت اور فہم و فراست سے کام لے کر اپنے اس فرض کو انجام دینا چاہیے اور اس اہم ترین فریضہ کی ادائیگی اس وقت تک آسان نہیں جب تک ہم خود اپنا شعور پختہ نہ کر لیں ۔

ویسے تو انسانی معاشرے اکثر خلفشار کاشکار ہوتے رہے ہیں مگر آج کا نام نہاد مہذب اور ترقی یافتہ دور بڑا کربناک ہے سائنسی ترقی ‘ عروج فنون ‘ اور علوم جدیدہ جو دنیا کی خوشحالی کا ویسلہ سمجھے جاتے ہیں انسان کی نظریاتی آویزشوں کی بدولت ساری دنیا کو جہنم بنا دینے کیلئے کام میں لائے جا رہے ہیں اور اس عظیم خطرے سے بچاؤ کی صرف ایک صورت نظر آتی ہے وہ ہے " پر امن بقائے باہمی "

یہی وہ نظریہ ہے جو متعصب لوگوں کو اسلام سکھاتا ہے کہ لا اکراء فی الدین دین میں کوئی زبردستی نہیں لکم دینکم ولی دین تمہارا دین تمہیں مبارک ہمارا دین ہمیں یہ دین اسلام ہی ہے جو ہر مسلم کو حکم دیتا ہے کہ دشمن کے ساتھ بھی عدل و انصاف سے کام لو اسلام ہر کلمہ گو سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ روا داری اور اخوت اسلامی کے سبق کو نہ بھولے ۔خود بھی آزادی سے زندگی بسر کرے اور اپنے دوسرے بھائیوں کو بھی ان کے جائز حقوق زندگی سے محروم نہ کرے ۔ ہمارے پیغمبر تعلیم کتاب و حکمت کیلئے مبعوث ہوئے اور حضور نے عام عبادات سے پہلے ہمیں اخلاقی حسنہ کی تعلیم دی اگر ہم بردباری سے کام لیں اور ایک دوسرے کے احساسات کو ملحوظ رکھتے ہوئے محض جذبات کی رو میں بہہ کر برافروختہ نہ ہوں اور علم و حکمت ‘عمل و عبادات اور اچھے اخلاق کے میدانوں میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش کریں تو اتحاد بین المسلمین کا وہ مقصد حاصل ہو سکتا ہے جس کا ہم نعرہ تو اونچا بلند کرتے ہیں مگر ہمارا عمل اس کے خلاف بلکہ سطح انسانیت سے بھی نیچا ہوتا ہے ۔

جیسا کہ اختلافی مسائل پر گفتگو بہت نازک ہوتی ہے اور امام جعفر صادق علیہ السلام اور دیگر مکاتب فقہ اسلامی کے موضوع پر خامہ فرسائی کرنا اور اس بیان میں منفی انداز سے پرہیز کرکے مثبت طریقہ اختیار کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ جعفریوں نے ایسی صورت میں جس طرح زندگی گزاری وہ درد ناک داستان تاریخ میں موجود ہے ۔ علامہ اقبال کے بقول اس سازش کا سبب " ملوکیت اور ملائیت کا گٹھ جوڑ" ہے ۔

ہم اس کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم جعفری کیوں کہلواتے ہیں حالانکہ متفقہ و مسلمہ عقیدہ یہ ہے کہ ہماری فقہ فقہ محمدی ہے راقم کے دوست سید ضیاء الحسن موسوی نے یوں دیا ہے

" بات یہ ہے کہ مکتب جعفری کا مسلک یہ ہے کہ وہ بنظر احتیاط تفسیر قران مجید اور تفصیل سنت نبوی جن پر اسلام کی بنیاد ہے وہ اس کیلئے فقط ائمہ اثناء عشر علیہم السلام کا ویسلہ اختیار کرتے ہیں ۔ جن کو وہ معصوم سمجھتے ہیں اکثر مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت نے فرمایا ہے کہ میرے اصحاب ستاروں کی طرح ہیں ان میں سے تم جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے تو اگر انہوں نے ان صحابہ میں سے ایک ایسے سابق الاسلام کا وسیلہ اختیار کیا جو اہل بیت رسول میں بھی شامل ہے جو باب مدینہ علم رسول بھی ہے ۔ جس کو انحضرت نے اپنے بعد ہر مومن کا ولی قرار دیا اور اس علاوہ جس طرح حضرت ابو بکر و حضرت عمر نے بھی قضا اور احکام شریعت میں مقدم قرار دیا اور جس کی حیثیت عہد حضرت عمرمیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سی تھی اور جس کے فیصلوں کی وجہ سے حضرت عمر اپنے فیصلے بدل دیتے تھے تو اس میں اعتراض کی کیا بات ہے پھر ان کی اس اولاد سے جو بلندی علم و کردار کے باعث سب مسلمانوں کے نزدیک قابل احترام ہے قران اور سنت کا علم حاصل کیا تو اس اختصاص کو احتیاط کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے آخر حنفی مسلمان امام ابو حنیفہ کے اتباع سے مخصوص ہیں ۔ اور امام مالک ‘ امام شافعی اور امام حنبل کا اتباع نہیں کرتے تو کیا وہ باقی ائمہ فقہ کی توہین کرتے ہیں ؟ پیروان مسلک جعفری کے نزدیک عقل و نقل سے ثابت ہے کہ آخری نبی پر نبوت ختم ہو گئی اس کے بعد حفاظت و تعلیم شرع و دین کیلئے خلفائے رسول کا سلسلہ شروع ہوا یہ خلفاء امام یا اولوالا مر خدا اور رسول کے منتخب کردہ ہیں وہ ذریت رسول سے ضرور ہیں اگر ان کی امامت موروثی ہوتی تو امام حسن علیہ السلام کے بعد ان کی اولاد کے بجائے ان کے چھوٹے بھائی امام نہ ہوتے حضرت علی علیہ السلام کے بعد پانچویں امام تک تو بنی امیہ نے آزادنہ نشر علوم کا موقعہ نہ دیا اور ان سے وابستگان کو ہر طرح تباہ و برباد کرنے کی کوشش کی گئی مگر نشر دین الہی کا سلسلہ جاری رہا ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام کو تاریخ میں وہ دور ملا جب بنی امیہ کی سلطنت کمزور ہو چکی تھی اور نبی عباس نے الرضا من آل محمد کے نام سے جو عوامی تحریک شروع کی تھی اور جس کے موئیدین میں امام ابو حنیفہ بھی تھے اس کی قیادت ہاتھوں میں لے لی اور خود اپنی سلطنت قائم کر لی ۔ جس کا ابتدائی زمانہ بنی امیہ اور اس کے موئیدین سے انتقام میں گزارا تانکہ پہلے خلیفہ بنی عباس کا نام تاریخ نے سفاح یعنی بکثرت خونریزی کرنے والا لکھا اور پھر دوسرا خلیفہ منصور ہوا جس نے اقدار کو مستحکم کرتے ہی مسلمانوں میں فرقہ سازی کے کھیل کا آغاز کیا ۔ یہ وہ درمیانی وقفہ جس میں کچھ حریت اور آزادی کی سانس لینے کا موقع ملا اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے فقہ محمد ی کے ترجمان کی حیثیت سے اس کو منظم اور آزادانہ طریقہ سے پیش کیا اور ساتھ ہی ساتھ فلسفہ یونان و روم و ایران و ہند کے اثرات سے جو لا دینی نظریات مسلمانوں کے ذہنوں کو منتشر کر رہے تھے اس کا علم و عقل کی سطح پر مقابلہ کیا اور علم کلام کی منظم تشکیل فرمائی ۔ چونکہ اس کے بعد رفتہ رفتہ مسلمانوں میں تقریبا ۵۵ فقہی مکاتب قائم ہوئے اس لئے امام جعفر صادق علیہ السلام کے مسلک کا اتباع کرنے والے جعفری کہلائے اور آپ کی بلا آمیزش فقہ کا نام فقہ جعفری مشہور ہوا ۔

علی ہذا القیاس ہم دخل در معقولات کی جسارت سے ہاتھ کھینچتے ہوئے اپنی معروضات کا اختتام مولف کتاب " جعفر ابن محمد " جناب عبدالعزیز سید الاہل کے ان الفاظ پر کرکے التماس دعا کرتے ہیں ۔

" جعفر بن محمد (علیما السلام) مسلمانوں کے وہ قابل فخر امام ہیں جو اب بھی زندہ ہیں اور ہر آنے والے دور میں ان کی ایک نئی آواز گونجتی ہے جس سے اہل زہد و تقوی پرہیز گاری کا اور اہل علم و فضل علم و کمال کا درس لیتے ہیں آپ کی آواز پریشان حال کو سکون کی راہ دکھلاتی ہے مجاہد کو جو ش دلاتی ہے ۔

تاریکیوں میں نورانیت پھیلاتی ہے عدالت کے قصر کی بنیادیں قائم کرتی ہے اور مسلمانوں کو یہ پیام دیتی ہے کہ اب بھی ایک نقطہ پر جمع ہو جاؤ ۔ دیکھوں خدا بھی ایک ہے اور نبی بھی ایک ہے ۔

وما علینا الا البلاغ

عبدالکریم مشتاق

*****


امام جعفرصادق علیہ السلام کی شخصیت کا مختصر جائزہ

اسم گرامی جعفر (علیہ السلام )

والد ماجد اور اجداد محمد الباقر (علیہ السلام ) بن علی زین العابدین (علیہ السلام ) بن امام حسین سید الشہداء (علیہ السلام )بن امیر المومنین علی (علیہ السلام ) بن محسن خاتم النبین ابی طالب علیہ السلام

مشہور القاب صادق ۔ صابر ۔ فاضل ۔ طاہر ۔ مصدق

کنیت ابو اسماعیل ‘ ابو عبداللہ ۰ اصول کافی میں آپ کا ذکر ابو عبداللہ ہی سے فرمایا گیا ہے۔

مادر گرامی محترمہ معظمہ ام فروہ بنت جناب قاسم بن محمد بن ابی بکر

تاریخ ولادت

۱۷ ربیع الاول پر اتفاق کیا گیا ہے مگر سال ولادت میں مورخین کا اختلاف ہے ۔ امام بخاری اور علامہ حسن الامین کے نزدیک سن پیدائش ۸۰ ہجری بمطابق ۲۴ مئی ۶۹۹ ء ہے تہذیب الاسماء میں علامہ نوری نے اور وفیات الاعیان میں ابن خلکان نے اسی تاریخ کو اختیار کیا ہے ۔ نیز العجالی اور الخشاب کے نزدیک بھی یہی زیادہ صحیح ہے ۔ لیکن ثقتہ الاسلام جناب یعقوب کلینی اور شیخ مفید علیما الرحمہ کے مطابق ۱۷ ربیع الاول ۸۳ ء بمطابق ۲۶ اپریل ۷۰۳ ء زیادہ صحیح ہے ۔

تاریخ شہادت

۱۴۸ ھ مطابق ۷۶۵ ء میں کوئی خاص اختلاف نہیں ہے مگر یوم وفات پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے بعض نے ۱۵ رجب اور اکثر نے ۱۵ شوال کو تاریخ شہادت قرار دیا ہے ۔

سبب شہادت عباسی بادشاہ منصور دوانیقی نے عداوت کے باعث انگوروں میں زہر دے کر شہید کیا ۔

مدفن جنت البقیع مدینہ منورہ میں اپنے والد ماجد حضرت امام باقر علیہ السلام اپنے دادا سید سجاد امام زین العابدین علیہ السلام ‘ امام حسن مجتبی علیہ السلام اور اپنی جدہ طاہرہ سیدہ خاتون جنت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے مزارات کے قریب دفن ہوئے مگر عہد سعودیہ میں یہ تمام روضہ ہائے آل رسول منہدم کر دیئے گئے اور آج یہ قبور حسرت و یاس کی تصاویر بنی امت کی غیرت کا منہ دیکھ رہی ہیں ۔

دددھیال و ننھیال یقینا امام جعفر صادق علیہ السلام کے دودھیال بے مثل و بے نظیر تھے ۔ خانوادہ رسالت و امامت کا ثانی کون ہو سکتا ہے مگر ننھیال بھی کم نہ تھے مادر گرامی جناب اما فروہ علمی معدن کا درنایاب تھیں ۔ آپ کے نانا قاسم اسلام کے عظیم فقیہ تھے اور اس فرزند اسلام جناب محمد بن ابی بکر کے نور چشم تھے جن کو باب مدینتہ العلم علی المرتضی کی آغوش تربیت نصیب ہوئی تھی اور علی ان کو اپنا بیٹا کہتے تھے آپ کے ماموں جناب عبدالرحمن بن قاسم کا علمی مرتبہ بھی بہت بلند تھا اور فقہائے مدینہ میں انتہائی ممتاز مقام کے حامل تھے ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام خانوادہ رسالت اور سلسلہ ائمہ اہل بیت رسول ( کے چھٹے امام ہیں ۔ اور وہ سلسلہ امامت حقہ ہے جس کی خلیل خدا جناب ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کیلئے تمنا و آرزو کی تھی اور پروردگار نے لا ینا عہدی الظالمین کی شرط کے ساتھ یہ خواہش پوری کرکے امامت منصوص من اللہ اور عصمت کی طرف بلیغ اشارہ کیا تھا ۔

عہد امامت

فرزند رسول امام جعفر صادق علیہ السلام وہ شخصیت ہیں جن کو امامت حقہ کے دونوں دشمن خاندانوں سے واسطہ پڑا ۔ یعنی بنی امیہ اور بنی عباس سے سابقہ ہوا ۔ آپ نے اموی شوکت و جبروت اور عباسی شہنشاہیت کا قہرو قبلہ دونوں کو دیکھا ۔ اموی خون آشامیوں کو بھی ملاحظہ فرمایا اور عباسی سفاکیوں کا بھی نظاہرہ کیا آپ نے اموی عہد کی آخری ہچکیاں سنیں اور ان کے اقتدار کو دم توڑتے ہوئے دیکھا کہ استبدادی تخت و تاج کسی طرح ٹھوکروں کا کھلونا بن گئے ۴۰ ء سے قائم اموی سلطنت کا چراغ آخر کار گل ہوا اور ظالم حکومت اپنے انجام کو پہنچ گئی جابر حکمران اپنے ظلم و جور اور جبرو استبداد ختم کرکے خود تو زمینی کیڑے مکوڑوں کی خوراک بن گئے مگر اپنی چیرہ دستیوں کے بدلے اپنی نسلوں کو گروی رکھ گئے ۔

کعبة اللہ کی تاراجی ‘ مدینتہ الرسول کی تباہی و بے حرمتی ‘امام حسین مظلوم کا بے خطا قتل ‘ اسلامی آئین کی پامالی اور شرعی قوانین کی توہین وغیرہ ایسی شنیع باتیں تھیں جو ملت مسلمہ کے ضمیر کو لخطہ لخطہ جھنجھوڑ رہی تھیں ۔ جلدی یا دیر سے بہر حال امت کی غیر بیدار ہوئی ۔ مسلمانوں پر اثر ہوا اور بھر پور ہوا کہ مردہ بولے تو کفن پھاڑے ۔ اب امویوں کیلئے کوئی جائے پناہ نہ تھی ۔ سر چھپانے کا ٹھکانا ملنا تو بڑی بات ہے لوگوں نے پرانے مردے اکھاڑنے شروع کئے اور قبروں تک کو کھدوا دیا گیا ۔

بنی عباس جنہوں نے موقع کی نزاکت سے بھر پور فائدہ اٹھایا اور آل رسول کے نام اور ثارات الحسین کے نعرہ پر انقلاب کو ہوا دی اپنے کرتوت میں بنی امیہ سے بھی بازی لے گئے اور اموی و عباسی دونوں کے انداز حکمرانی میں کوئی فرق باقی نہ رہا ۔ جس طرح بنی امیہ کے زمانے میں اہل بیت رسول پر ظلم وتشدد ہوتا رہا اسی طرح بنو عباس کے عہد کی سفاکیاں جاری رہیں ۔ ائمہ اہل بیت پہلے بھی نشانہ ستم بنے رہے اور اب تو جورو جفا میں اور اضافہ ہو گیا دونوں ادوار میں قانون کی بالا دستی نام کی کوئی چیز نہ تھی ۔

حاکم کے منہ سے نکلے ہوئے کلمات گویا حرف آخر ہوتے تھے ۔ مفتیان دین اور قاضیان شرع متین اپنی عزت و ناموس اور جانوں کا تحفظ اس بات میں محسوس کرتے تھے کہ سلطان وقت کے اشارہ ابرو کو سمجھیں اور اس پر بلا حیل و حجت عمل کریں ۔ جابر بادشاہ کے احساسات اور جذبات کے موافق فتوے جاری کریں ۔ ورنہ کوڑے کھانے کیلئے تیار رہیں ۔ کسی صاحب دستار عالم فاضل کے سرکو پھوڑ دینا اور معزز شہری کو بلا قصور قید و بند کی صعبت میں مبتلا کر دینا تو معمولی واقعات تھے ۔

کیا ایسے فتنہ انگیز دور میں رسول صادق صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مسند شریفہ پر بیٹھ کر اسلام کی صحیح ترویج اور دین کے محکم فیصلوں کا صادر کرنا آسان کام تھا ؟یہی وجہ تھی کہ ائمہ اہل بیت کو کام کرنے کا موقع ہاتھ نہ لگ سکا کیونکہ ان کی تو خصوصی طور سے کڑی نگرانی کی جاتی تھی البتہ صرف امام جعفر صادق علیہ السلام کو غنیمت کے طور پر تھوڑا سا وقت مل گیا وہ بھی اس لئے کہ امویوں کو اپنے اقتدار کے جانے کی پڑ گئی اور عباسیوں کو اپنی کرسی بچانے کی ۔ جب دونوں کو اپنی پڑی تو امام برحق کو موقع مل گیا کہ رسول اکرم کے مشن " کتاب و حکمت کی تعلیم کو فروغ اور وسعت دیں ۔

یون تو ہر امام نے اپنے وقت میں اپنے فرائض امامت کما حقہ انجام دیئے ۔ بالخصوص واقعہ کربلا سے امیر المومنین امام علی علیہ السلام اور جوانان جنت کے دونوں سردار حضرات حسنین شریفین علیما السلام کے کار ہائے نمایاں اور مسند علم و فقہ پر متمکن رشد و ہدایت کے فیوض سے کون واقف نہیں ہے ان کا تو ذکر ہی بلند ہے ان سے وابستہ ہو جانے والے غلام و کنیزیں علمی مراتب میں اپنی مثال نہیں رکھتی ہیں ۔ کربلا کے مصائب اور خونچگاں حادثات کو برداشت کرنے کے بعد امام زین العابدین علیہ السلام کا دین اسلام کی خدمت پر کمر بستہ ہو جانا بھی انوکھی نظیر ہے صحفیہ سجادیہ جسے زبور آل محمد کہا گیا ہے حضرت سجاد کے علمی آثار کا ایک ممتاز نمونہ ہے ۔

امام محمد باقر علیہ السلام وہ کوہ علم ہیں جس کی بلندیوں تک انسانی نگاہیں پہنچنے سے قاصر ہیں ۔ وہ ایسی ذی و قار شخصیت ہیں جن کے در پر بڑے بڑے عالم اور نابغہ روزگار جبہ رسائی کئے بغیر اپنے آپ کو نا مکمل اور ادھورا تصور کرتے تھے آپ کا لقب " باقر " اسی لئے ہے آپ بات سے بات پیدا کرتے اور علم کو شگافتہ کرکے اس کی کنہ اور حقیقت سے دنیا کو روشناس کراتے اور ایسے مسائل بیان فرماتے جو وارث قران الحکیم ہی بیان کر سکتا ہے آپ کا شریعت کدہ علم کا مرکز اور حکمت کا عظیم منبع اور سر چشمہ تھا ۔

جس سے ایک عرصہ تک دنیا فیض حاصل کرتی رہی اور امام جعفر صادق نے بھی اپنے والد معظم کے مکتب میں حاضر ی دی جن کو دوسرے اماموں کے مقابلے میں نشر علوم کا زیادہ موافق وقت مل گیا ۔

جسٹس امیر علی اپنی تاریخ عرب میں لکھتے ہیں کہ

" اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اس دور میں علم کا انتشار (پھیلاؤ) اس حد تک ہوا کہ انسانی فکر کا جمود ختم ہو گیا اور فلسفی مسائل ہر محفل میں زیر بحث آنے لگے ۔ لیکن یہ واضح کر دینا ضرور ی ہے کہ اس پوری علمی تحریک کے قائد اکبر علی ابن ابی طالب کے فرزند امام صادق تھے ۔ جن کی فکر وسیع ‘ نظر عمیق اور جنہیں ہر علم میں کامل دستگاہ حاصل تھی حقیقت تو یہ ہے کہ آپ اسلام کے تمام مکاتب فکر کے موسس اور بانی کی حیثیت رکھتے ہیں آپ کی مجلس بحث و درس میں صرف وہی حضرات نہ آتے تھے جو بعد میں امام مذہب بن گئے بلکہ تمام اطراف سے بڑے بڑے فلاسفر استفادہ کرنے کیلئے حاضر ہوتے تھے "

رفیقہ حیات امام جعفر صادق کی صرف ایک زوجہ تھیں جن کا اسم گرامی " فاطمہ " تھا ۔

ایک روایت ہے کہ آپ (فاطمہ ) حضرت حسین بن علی ابن امام حسین علیہ السلام کی صاحبزادی تھیں اور شیخ مفید علیہ الرحمہ کے نزدیک یہی صحیح ہے ۔ بعض کا خیال ہے کہ فاطمہ بنت حسین الاثرم بن حسن تھیں ۔

اولاد آپ کے سب سے بڑے فرزند حضرت اسماعیل تھے ۔ جن کا آپ کی زندگی میں ہی انتقال ہو گیا تھا دوسرے عبداللہ اور بیٹی ام فروہ تیسرے فرزند امام موسی کاظم چوتھے اسحاق پانچویں محمد ۳,۴,۵ کی والدہ حمیدہ خاتون تھیں جو بربریہ تھیں ) ان کے علاوہ عباس علی اسماء فاطمہ مختلف البطن تھیں گویا سات بیٹیا ور تین بیٹیاں ۔

مشہور اصحاب اور شاگر د چار ہزار سے زیادہ عظیم ترین افراد اور ہستیاں آپ کے حلقہ علم و ارادت سے منسلک تھیں ان کی فہرست باقاعدہ موجود ہے اس وقت چند مشہور شخصیتوں کا تزکرہ اور اسماء درج زیل ہے جو علم و فضل میں ممتاز تھے ۔

ابن تغلب اسحاق ابن عمار ابو القاسم برید بن معاویہ عجلی ثابت بن دینار ابو حمزہ ثمالی مالک ابن انس سفیان ثوری ۹; سفیان بن عینیہ فضل بن عیاض شعبہ بن حجاج حاتم بن اسماعیل حفص بن غیاث ۹; ۹; ا براہیم بن محمد ابو المنذر زہیر بن محمد حماد بن زیاد

زرارہ بن اعین شیبانی ابو محمد صفوان بن مہران ہشام بن الحکم معلی بن خنیس مفضل بن عمرو بکر الشیبقی جابر بن حیان امام اعظم ابو حنیفہ وغیر ہم بادشاہان وقت اموی عبدالملک ‘ ولید بن عبدالملک ‘ سلیمان ابن عبدالملک ‘ عمر ابن عبدالعزیز ‘یزید بن عبدالملک ‘ ہشام بن عبدالملک ‘ ولید بن عبدالملک ثانی ‘یزید ناقص ‘ ابراہیم بن ولید ‘ مروان بن محمد ‘ عباسی ابوالعباس السفاح ‘ ابو جعفر منصور

شعراء السید الحمیری ‘الکمیت ‘ابوہریرہ الابار‘ اشجع السلمی البعدی دربان محمد بن سنان ‘ مفضل بن عمرو

تصانیف و تالیفات

رسالہ عبداللہ ابن النجاشی ‘ رسالہ مروی عن الاعمش ‘ توحید مفضل ‘ کتاب ‘ کتاب مصباح ‘ الشریعت مفتاح الحقیقت ‘ رسالہ الی اصحاب ‘ رسالہ الی اصحاب الرائے والقیاس ‘رسالہ بیان غنائم وجوب الخمس ‘ وصیت العبد اللہ ابن جندب ‘ وصیت لابی جعفر بن النعمان الاحول ‘ نثر الدررر ‘ کلام دربیان محبت اہل بیت ‘ توحید ‘ ایمان ‘ اسلام ‘ کفر و فسق ‘ وجوہ معالیش العباد و وجوہ اخراج الاموال ‘ رسالہ فی احتجاج علی الصوفیہ ‘ کلام در خلق و ترکیب انسان ‘ مختلف اقوال حکمت و آداب ‘ نسخہ (اس کاذکر نجاشی نے اپنی کتاب الرجال میں کیا ہے )‘نسخہ (جس کو عبداللہ ابن ابی اولیس بن مالک بن ابی عامر الاصبحی نے بیان کیا ہے ) نسخہ (جو سفیان بن عینیہ سے مروی ہے ) نسخہ (جو ابراہیم بن رجاء الشیبانی سے مروی ہے ) کتاب (جو جعفر بن بشیر البجلی کے پاس تھی ) کتاب رسائل جو آپ کے شاگرد جابر بن حیان الکوفی سے مروی ہے ‘ تقسم الرویاء

(مزید تفصیل کیلئے اعیان الشیعہ کا مطالعہ کیا جائے )

اسلام محوہونے لگا جب دروغ سے

جب گھر کو آگ لگ گئی گھرکے چراغ سے

کب یہ گوارہ کرتا محمد کا ورثہ دار

اٹھا کہ تھا وہ دیں کی حفاظت کا ذمہ دار

کرنے لگا جہاد قلم سے زبان سے

بد اصل فلسفے کے پرخچے اڑا دیئے

جس طرح کربلا میں بچا دین مصطفی

آل نبی کی سعی سے اسلام پھر بچا

جب وار علم جعفر صادق کا چلا گیا

مردود ناصبی کا جنازہ نکل گیا

(عزم جونپوری)

امام جعفر صادق کی ولادت با سعادت

ماہ ربیع الاول کی سترہ تاریخ ۸۲ ھ ق ‘ امام زین العابدین کے گھر میں امام محمد باقر کے صلب مقدس سے مدینہ منورہ میں ایک فرزند ارجمند کی ولادت ہوئی جنکا نام نامی جعفر الصادق ہے ۔جس وقت یہ مولود متولد ہوئے تو دائی نے جو بچے کی پیدائش میں مدد کرنے کے لیے آئی تھی نے دیکھا کہ بچہ چھوٹا اور کمزور ہے اس نے خیال کیا کہ بچہ بچ نہیں سکے گا باوجودیکہ اسے بچے کے زندہ بچے جانے کے بارے میں تردد تھا اس نے اس خوشخبری کے عوض میں تحفہ حاصل کرنے کو فراموش نہ کیا اور بچے کو ماں کے پہلو میں لٹا کر اس کے والد سے اس خبر کے بدلے میں تحفہ وصول کرنے کیلئے کمرے سے باہر چلی گئی ۔

اگر یہ نو مولود لڑکی ہوتا تو دائی ہر گز اس کے والد کو خوشخبری نہ سناتی اور نہ ہی تحفہ طلب کرتی کیونکہ اسے علم تھا کہ کوئی عرب باپ بیٹی کی پیدائش پر تحفہ نہیں دیتا ۔

لیکن ہر باپ اگرچہ وہ کتنا ہی مفلس کیوں نہ ہو بیٹے کی پیدائش پر دائی کو تحفہ ضرور دیتا تھا اور ہجرت کے تراسی ( ۸۳) سال بعد بھی عربوں نے دور جاہلیت کے اس رواج کو ترک نہیں کیا تھا وہ بیٹی کی پیدائش پر خوش نہیں ہوتے تھے جبکہ بیٹے کی پیدائش پر خوش ہوتے تھے ۔

دائی نے نو مولود کے والد کو تلاش بسیار کے باوجود گھر میں نہ پایا ۔ کیونکہ پیدائش کے موقع پر امام محمد باقر گھر میں نہیں تھے پھر دائی کو کسی نے بتایا کہ بچے کے دادا گھر میں موجود ہیں اور وہ انہیں مل سکتی ہے لہذا وہ دائی امام زین العابدین سے اجازت لے کر ان کے قریب گئی اور کہا خداوند تعالی نے آپ کو ایک پوتا عطا کیا ہے زین العابدین نے فرمایا امید ہے کہ اس کے قدم اس گھر کیلئے برکت کا باعث ہوں گے اور اس کے بعد پوچھا کہ یہ خوشخبری اس کے باپ کو دی ہے ؟

دائی نے کہا وہ گھر پر نہیں ہیں ورنہ یہ خوش خبری ان ہی کو دیتی زین العابدین نے فرمایا دل چاہتا ہے اپنے پوتے کو دیکھ لوں لیکن میں نہیں چاہتا کہ اسے اس کی ماں کے کمرے سے باہر لاؤں کیونکہ باہر موسم قدرے ٹھنڈا ہے اور زکام لگنے کا اندیشہ ہے ۔

اس وقت امام زین العابدین نے دائی سے پوچھا کیا میرا پوتا خوبصورت ہے ؟

دائی میں یہ کہنے کی ہمت نہ ہوئی کہ ان کا پوتا کمزور اور ناتواں ہے اس نے کہا اس کی نیلی آنکھیں بہت خوبصورت ہیں ۔

زین العابدین نے فرمایا پس اس طرح تو اس کی آنکھیں میری ماں رحمة اللہ علیھا کی آنکھوں کی مانند ہیں یزد گرد سوم کی صاحبزادی شہر بانو جو امام زین العابدین کی والدہ تھیں ان کی آنکھیں نیلی تھیں ۔ اس طرح جعفر صادق نے مندل کے قانون کے مطابق نیلی آنکھیں اپنی دادی سے ورثہ میں حاصل کیں ۔

ایک مشہور روایت کے مطابق یزد گرد سوم کی دوسری بیٹی کیہان بانو جو اپنی بہن کے ساتھ اسیر کرکے مدائن سے مدینہ لائی گئیں تھیں کی آنکھیں بھی نیلی تھیں اس طرح امام جعفر صادق نے دو ایرانی شہزادیوں سے نیلی آنکھیں ورثہ میں پائی تھیں ۔ کیونکہ کیہان بانو ان کی نانی تھیں ۔ امام علی ابن ابی طالب نے جو مدینہ میں ایرانی حکومت کے خاندان کے قیدیوں کے بہی خواہ تھے شہربانوکو اپنے فرزند حسین کے عقد میں دیا اور کیہان بانو کی حضرت ابوبکر کے بیٹے محمد بن ابو بکر کے ساتھ شادی کی کیونکہ جناب امیر حضرت محمد بن ابوبکر کو اپنے بیٹوں کی مانند چاہتے تھے اور مسند نشیں ہونے کے بعد محمد بن ابوبکر کا رتبہ اتنا بلند کیا کہ انہیں مصر کا گورنر مقرر فرمایا جو بعد میں معاویہ کے حکم پر اسی ملک میں قتل ہوئے ۔

محمد بن ابوبکر اور کیہان بانو کے ہاں ایک بیٹا قاسم پیدا ہوا اور قاسم کے ہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام ام فروہ تھا ان کا نکاح محمد باقر کے ساتھ ہوا ۔ اس طرح مان کی طرف سے بھی امام جعفر صادق کا رستہ نیلی آنکھوں والی ایک ایرانی شہزادی سے جا ملتا ہے ابھی تک مہاجرین مکہ میں نو مولودی کو دودھ پلانے کیلئے اجرت پر رکھنے کا رواج موجود تھا جعفر صادق کی پیدائش کے وقت ہجرت کو تراسی ( ۸۳) سال ہو گئے تھے اور اب مہاجرین مکہ کو مہاجرین کے نام سے نہیں پکارا جاتا تھا اور اسی طرح مدینہ کے قدیم باشندوں کو انصار کے نام سے نہ پکارا جاتا تھا ۔

لیکن دوسرے مہاجر خاندانوں کی طرح امام زین العابدین کے خاندان میں بھی نو مولود کو دائی کے سپرد کرنے کا رواج ابھی تک باقی تھا جعفر صادق کی ولادت پر ان کے والد گرامی بے حد خوش ہوئے اور انہیں دودھ پلانے کیلئے ایک دائی کے بارے میں سوچنے لگے لیکن ام فروہ نے کہا میں اپنے بیٹے کو خود دودھ پلاؤں گی ۔

شاید نومولود کی کمزوری اور ناتوانی کو دیکھ کر ماں کو ایسا خیال آیا ہو اور پریشان ہو گئی ہو کیونکہ دائی جتنی بھی رحمد ل ہو ماں کی طرح نگہداشت نہیں کر سکتی ۔ جعفر صادق کے بچپن کے بارے میں شیعوں کے ہاں کئی روایات پائی جاتی ہیں ان میں سے کچھ روایات بغیر راوی کے مشہور ہیں اور کچھ روایات کے راوی موجود ہیں ۔

بغیر راوی کے روایات میں آیا ہے کہ جعفر صادق ختنہ شدہ اور دانتوں کے ساتھ دنیا میں تشریف لائے ۔ ختنہ شدہ کی روایت کو قبول کیا جا سکتا ہے کیونکہ بعض لڑکے دنیا میں ختنہ شدہ آئے ہیں ۔

لیکن اس روایت کی صحت میں تامل ہے کہ وہ دانتوں کے ساتھ دنیا میں تشریف لائے ۔ کیونکہ ایک تو علم حیاتیات کی رو سے صحیح نہیں اور دوسرا یہ کہ اگر ان کے دانت تھے تو ان کی ماں انہیں دودھ نہیں پلا سکتی تھیں اور تجربہ شاہد ہے کہ جب بچہ دانت نکالتا ہے ماں دودھ دینے میں تکلیف محسوس کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب دانت نکالنا شروع کرتا ہے تو اس کا دودھ چھڑا لیا جاتا ہے ۔

امام جعفر صادق کی ولادت کے متعلق ایک اور روایت یہ ہے کہ جب آپ اس دنیا میں تشریف لائے تو باتیں کرنا شروع کر دیں اسی طرح کی ایک روایت ابو ہریرہ صحابی کے زریعے پیغمبر اکرم سے نقل کی گئی ہے کہ انہوں نے کہا میں پیغمبر اسلام سے سنا ہے کہ ان کی نسل میں ایک ایسا فرزند پیدا ہو گا جس کا نام صادق ہو گا اور کسی دوسرے کا یہ نام نہ ہو گا اور جہاں کہیں بھی صادق کا نام لیں گے سب سمجھ جائیں گے کہ کہنے والوں کا مطلوب وہی ہے ابوہریرہ سے نقل کی گئی کچھ روایات جھوٹ پر مبنی بھی ہیں دن کا کچھ حصہ آپ کے ہمراہ گزارتا تھا بعض جعلی حدیثیں گھڑنے والوں نے بہتری اس میں دیکھی کہ وہ حدیثوں کو ابوہریرہ سے منسوب کریں تاکہ پڑھنے والا اور سننے والا دونوں قبول کریں ۔ اور بعض جعلی حدیثیں گھڑنے والوں نے شاید پشیمانی یا ندامت ضمیر کی وجہ سے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے جعلی حدیثیں گھڑی ہیں ۔

یہ بات واضح ہے کہ اس طرح کی روایات تاریخی لحاظ سے قابل قبول نہیں ہیں اور یہ روایات شعیوں کے اپنے امام کے علم اور قدرت مطلق کے بارے میں اعتقاد کا نتیجہ ہیں چونکہ ان کے ہاں امام منصوص من اللہ اور علم لدنی کا مالک ہوتا ہے کہتے ہیں کہ امام بچپن میں بھی ویسا ہی ہوتا ہے جیسا جوانی اور بڑھاپے میں ‘ لیکن ایک تاریخی محقق جعفر صادق کو پہچاننے کیلئے اہم ترین مسائل کی طرف توجہ دیتا ہے اور ایسی روایات کو خاطر میں نہیں لاتا ۔

بچپن

جعفر صادق کے بچپن کے دوران چار چیزیں ہمیں ایسی ملتی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ قدرت ان کے موافق رہی ہے ۔

پہلی روایت یہ کہ جعفر صادق لاغر اور مریض امراض الاطفال ہونے کے باوجود زندہ رہے اور جو نہی ان کی عمر دو سال ہوئی صحت مند ہو گئے دوسری یہ کہ جعفر صادق نے ایک خوشحال گھرانے میں آنکھ کھولی اور ان کے والد و دادا مدینے کے کھاتے پیتے لوگوں میں شمار کئے جاتے تھے ۔

تیسری یہ کہ ان کی والدہ محترمہ ام فروہ خاندان ابوبکر کی اکثر عورتوں کی مانند پڑھی لکھی تھیں اور ان کے والد گرامی امام محمد باقر دانشمند انسان تھے ۔

چوتھی یہ کہ ماں اور باپ نے جعفر صادق کو دو سال سے ہی تعلیم دینا شروع کر دی تھی اور موجودہ زمانے کی تعلیم و تربیت یہ کہتی ہے کہ ایک بچے میں حافظے کی قوت کا بہترین زمانہ دو سال اور پانچ سال یا چھ سال کے درمیان ہوتا ہے دور حاضر کے ماہرین تعلیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ دو سال سے چھ سال کی عمر تک کے عرصے میں مادری زبان کے علاوہ دو اور غیر ملکی زبانیں بھی بچے کو تعلیم دی جا سکتی ہیں ۔

عموما وہ خاندان جن کے آباؤ اجداد دانشمند ہوتے ہیں ان میں دانشمند بچے پیدا ہونے کے مواقع عام لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں ۔

جعفر صادق کے والد گرامی ایک دانش مند انسان تھے اور ان کے دادا امام زین العابدین کا شمار بھی فاضل لوگوں میں ہوتا تھا انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں جن کا ذکر ابن الندیم صحاف نے اپنی کتاب " الفہرست " میں کیا ہے لیکن افسوس ہے کہ اب یہ کتابیں نا پید ہیں ۔

جعفر صادق والدین کی اکلوتی اولاد نہ تھے بلکہ آپ کے چند بھائی تھے امام محمد باقر اور ان کے والد گرامی امام زین العابدین کو دوسری اولاد کو پڑھانے میں اتنی دلچسپی نہیں تھی جتنی جعفر صادق کو پڑھانے میں تھی کیونکہ جعفر صادق کو دو سال کی عمر میں ہی پڑھانا شروع کر دیا تھا کبھی آپ کے دادا امام زین العابدین آپ کو پڑھاتے تھے ۔

ماں ‘ باپ اور دادا کی طرف سے خصوصی توجہ اس لئے تھی کہ امام جعفر صادق غیر معمولی طور پر ذہین تھے ۔ شیعہ اس ذہانت و فطانت کو امام کی خوبیوں میں سے جانتے ہیں لیکن مشرق و مغرب میں ایسے بچے ہو گزرے ہیں جو غیر معمولی زہین و فطین تھے جبکہ وہ امام نہیں تھے ۔

ابن سینا اور ابوالعلا مصر ‘ مشرق میں اور تاسیت مغرب میں ایسے افراد تھے جنہیں بچپن میں جو کچھ صرف ایک مرتبہ پڑھا دیا جاتا تھا وہ اسے کبھی نہیں بھولتے تھے یہ تین نام نمونے کے طور پر ذکر کئے ہیں ان کے علاوہ بھی بہت سے لوگ ایسے ہو گزرے ہیں جو غیر معمولی طور پر زہین اور فطین شمار کئے جاتے ہیں ۔

مدینہ کی دائی جو پیدائش میں زچہ کی مدد کرتی تھی ایک طرح کی سرجن ہوتی تھی کیونکہ وہی بچے کا ختنہ بھی کرتا تھی ۔ اسی دائی نے جس نے امام صادق کی پیدائش کی خبر ان کے دادا زین العابدین تک پہنچائی ان کے بھائی کا ختنہ بھی کیا اور تین دینار معاوضہ لیا جس دن اس نے جعفر صادق کی پیدائش کی خوش خبر ان کے دادا کو دی اسے پانچ دینار عطا کئے گئے کیونکہ ایک معزز عرب گھرانے میں بچے کی پیدائش ایک غیر معمولی اور پر مسرت واقعہ ہوتا تھا ۔

کہتے ہیں کہ جب جعفر صادق دو سال کے ہوئے ام فروہ نے ان کیلئے یہ اشعار پڑھے اور وہ ایک چھوٹی سی تلوار اور لکڑی لے کر

ایک کھیل جسے تلوار کا رقص کہا جاتا ہے دوسرے بچوں کے ہمراہ کھیلتے اور ان اشعار کو پڑھتے تھے ۔

(البشر و احباحبا ۔ قدہ طال نما ۔ وجہہ بدر السماء ) یعنی تمہیں مبارک ہو کہ اس کا قد بلند ہو رہا ہے ۔

وہ بڑا ہو رہا ہے اور اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی مانند ہے ۔

جعفر صادق کا گھر جس میں ان کے پر دادا حسین بن علی پیدا ہوئے تھے مسجد نبوی کے پہلو میں واقع تھا مسجد کی توسیع کی غرض سے اسے گرا دیا گیا اور جو رقم اس کے بدلے میں بیت المال سے ملی ۔ اس سے انہوں نے ایک جدید روڈ کے کنارے (جس کا نام مسقی تھا ) کچھ زمین خرید کر وہاں ایک گھر بنایا یہ گھر بھی بہت سے دوسرے مدینہ اور مکہ کے گھروں کی مانند ایرانی معماروں نے بنایا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس گھر کا صحن حضرت علی نے بنوایا تھا ۔ جو کافی وسیع تھا اور بچوں کے کھیل کود کیلئے بہترین جگہ تھی جعفر صادق جب بھی سبق سے فارغ ہوتے دوسرے لڑکوں کے ساتھ اس صحن میں کھیل کود میں مشغول ہو جاتے ۔

ان کے والد گرامی امام محمد باقر کے حلقہ درس میں حاضری کے متعلق چند روایات ہیں بعض کہتے ہیں وہ والد کے مدرسہ میں پانچ سال کی عمر میں داخل ہوئے ۔

مغرب کے ایک مسلمان مورخ ابن ابی رندقہ جس کا نام محمد ‘ اور کنیت ابوبکر تھی ۔ ۴۵۱ ھ قمری میں پیدا ہوا اور ۵۲۰ ھ میں فوت ہوا اپنی کتاب میں مختصر نام کے ساتھ کہتا ہے کہ جعفر صادق دس سال کی عمر میں اپنے والد کے درس میں جانے لگے اور یہ روایت عقلی نظر آتی ہے ۔

اس سے پہلے بھی امام محمد باقر اپنے بیٹے کو گھر پر درس دیتے تھے لیکن وہ اس درس میں جس میں چند طلباء ہوتے تھے شریک نہیں ہوتے تھے ۔

"مکتب تشیع کا نجات دہندہ "

باوجودیکہ حضرت علی ابن ابی طالب نے اپنی زندگی کے دوران علم کو پھیلانے کی غرض سے کافی کوششیں کیں لیکن لوگ علم کے حصول کی طرف زیادہ راغب نہیں ہوئے جس کی ایک وجہ خشک طرز تعلیم بھی تھی اس ضمن میں دیکھیں گے کہ مسلمان حصول علم کی طرف اس وقت تک راغب نہیں ہوئے جب تک امام صادق نے طرز تعلیم نہ بدلا ۔

محمد باقر مدینہ کی اسی مسجد میں درس دیتے تھے جسے محمد اور ان کے صحابہ نے ہجرت کے بعد مدینہ میں بنایا تھا اور خلفائے اسلامی کے دور میں اس میں توسیع کی گئی جو کچھ امام محمد باقر کے ہاں پڑھایا جاتا تھا وہ تاریخ کے کچھ حصے علم نحو اور علم رجال یعنی بائیو گرافی کے کچھ حصے اور خصوصا ادب یعنی شعر (جس میں نثر شامل نہ ہوتی تھی ) پر مشتمل ہوتا تھا عربوں کے ادب میں امام جعفر صادق کے زمانے تک نثر کا وجود نہیں تھا ۔ ما سوائے اس کے کہ علی ابن ابی طالب نے اپنی زندگی میں جو کچھ لکھا ۔

جو طلباء امام محمد باقر کے درس میں حاضر ہوتے تھے ان کے پاس کتابیں نہیں ہوتی تھیں اور امام محمد باقر بھی بغیر کتاب کے پڑھاتے تھے ۔

اس مدرسے کے جو طلباء ذہین ہوتے تھے جو کچھ امام باقرء کہتے یاد کر لیتے اور جو ذہین نہیں ہوتے تھے وہ استاد کے درس کو مختصرا تختی پر لکھ لیتے اور پھر گھر جا کر بڑی محنت سے کاغذ پر منتقل کر لیتے وہ تختی اس لئے استعمال کرتے تھے کہ کاغذ ان دنوں بہت مہنگا ہوتا تھا اور

وہ اس قدر کاغذ استعمال نہیں کر سکتے تھے جبکہ تختی پر لکھا ہوا مٹ سکتا تھا اس طرح تختی مکرر استعمال میں لائی جاتی تھی ۔

شاید آج کتاب کے بغیر تعلیم ہمیں عجیب لگے لیکن پہلے زمانے میں مشرق و مغرب میں استاد کتاب کے بغیر تعلیم دیتے تھے اور ان کے شاگرد استاد کے درس کو یاد کر لیتے اور اگر اپنے حافظے پر اعتماد نہ ہوتا تو گھر جا کر لکھ لیتے تھے ۔

آج بھی ایسے استاد موجود ہیں جو کتاب کے بغیر پڑھاتے ہیں جو علوم محمد باقر مسجد مدینہ میں پڑھاتے تھے وسیع نہیں ہوتے تھے صرف ادب وسیع ہوتا تھا ۔ تاریخ کی تعلیم بھی اتنی ہی تھی جتنی قرآن اور تورات میں مذکور ہے اور چونکہ ابھی یونانی کتابوں کا سر یانی سے عربی میں ترجمہ نہیں ہوا تھا اس لئے یورپ کی تاریخ بھی نہیں پڑھائی جاتی تھی ۔

جعفر صادق ایک ذ ہین طالب علم تھے اس لئے آسانی سے والد گرامی کے درس کو یاد کر لیتے تھے ۔

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ محمد باقر اس لئے باقر کہلائے کہ انہوں نے علم کی کھیتی کو چیرا ۔ کیونکہ باقر کے مجازی معنی چیرنے والے اور کھولنے والے کے ہیں ۔

جہاں تک ہمارا خیال ہے یہ لقب یا صفت باقر کو اس وقت ملی جب آپ نے دیگر علوم کے ساتھ ساتھ علم جغرافیہ اور دیگر یورپی علوم کا اضافہ کیا اس وقت جعفر صادق کی عمر انداز پندرہ یا بیس سال تھی ۔

بعض کا خیال ہے کہ علم جغرافیہ سریانی کتابوں سے عرب میں آیا اور جب عرب مصر گئے تو بطلیموس کے جغرافیہ سے واقف ہوئے اور جغرافیہ کی تعلیم کا آغاز جعفر صادق کے در س سے ہوا ۔

بطلیموس نے جغرافیہ کے علاوہ ہیت کے بارے میں بھی بحث کی ہے چونکہ جعفر صادق ستارہ شناسی (علم نجوم ) میں بھی ماہر تھے اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ علم نجوم کو اپنے باپ سے بطلیموس کی کتاب سے پڑھا ہو گا ۔

لیکن آج ہم جانتے ہیں کہ عرب بطلیموس کے جغرافیہ و ہیئت کے جاننے سے پہلے بھی ستاروں کو پہچانتے تھے اور ان کیلئے انہوں نے مخصوص نام بھی گھڑے ہوئے تھے اس بارے میں ہمیں کوئی علم نہیں کہ یہ نام کس موقع پر گھڑے گئے تھے ؟ اور ان کا گھڑنے والا کون تھا ؟لیکن اس میں کوئی تردد نہیں ہے کہ جب کوئی عرب بدو مصر گیا ہو گا ۔ تو قبطیوں سے ملا ہو گا ۔ اور ان کی مدد سے اس نے بطلیموس کی کتاب تک رسائی حاصل کی ہو گی اور وہاں سے اس نے ستاروں کی شناخت کرنے کے بعد ان کے نام بھی رکھے ہوں گے ۔ لہذا بطلیموس کی کتاب نے صرف علم نجوم (جو امام جعرفر صادق اپنے والد سے پڑھتے تھے ) کو سیکھنے میں مدد کی ہو گی نہ یہ کہ انہیں علم نجوم سکھایا ہو گا محمد باقر نے جغرافیہ اور تمام مصری علوم کا مدرسہ کے دوسرے علوم پر اضافہ کیا ۔ اور اس بارے میں ہمارے پاس کوئی تاریخی سند نہیں کہ انہوں نے تمام مغربی علوم کو دوسری علوم کے ساتھ پڑھایا لیکن ہم دو قرینوں کی بناء پر یہ بات کہتے ہیں ۔

پہلا یہ کہ امام محمد باقر نے ضرور علم جغرافیہ اور ہیئت کی تدریس کا مدرسے میں آغاز کیا ہو گا ورنہ ہر گز شیعہ انہیں باقر کا لقب نہ دیتے اور زیادہ احتمال یہ ہے کہ انہوں نے دوسرے مغربی علوم کو بھی مدرسہ میں داخل کیا ہو گا جبھی تو وہ باقر کہلائے ۔

دوسرا قرینہ یہ ہے کہ جس وقت جعفر صادق نے تدریس شرو ع کی تو جغرافیہ اور ہیت فلسفہ اور فکز بھی پڑھاتے تھے جبکہ یہ بات تحقیق شدہ ہے کہ جس وقت جعفر صادق نے پڑھانا شروع کیا تو اس وقت تک مغربی (یونانی ) فلسفہ و فکز ابھی تک سریانی سے عربی میں ترجمہ نہیں ہوئے تھے اور مترجمین نے صرف ترجمہ کرنے کا آغاز ہی کیا تھا اور بعض فلسفی اصطلاحات کو بھی سمجھ نہیں پائے تھے اس بناء پر ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جعفر صادق نے مغربی علوم کو اپنے پدر بزرگوار سے سیکھا اور جب ان علوم میں ملکہ حاصل کیا تو ان میں اضافہ بھی کیا اور جب تک امام جعفر صادق اپنے پدر گرامی سے ان علوم کو جن کا ابھی سریانی سے عربی میں ترجمہ نہیں ہوا تھا ‘ نہ سیکھتے تو نہیں پڑھا سکتے تھے ۔

شیعہ اس بارے میں کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق کا علم لدنی تھا ۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہرایک کا باطنی شعور اس کے ظاہری شعور کے برعکس تمام انسانی ا ور دنیوی علوم کا خزانہ ہے اور آج کے علوم بھی اس نظریہ کو مثبت قرار دیتے ہیں کیونکہ آہستہ آہستہ بیالوجی کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہمارے بدن کے خلیوں کا ہر مجموعہ تمام ان معلومات کو جو اسے تخلیق کے آغاز سے آج تک جاننا چاہیے وہ جانتا ہے شیعوں کے عقیدہ کے مطابق جب ایک انسان پیغمبر یا امام بنا کر بھیجا جاتا ہے تو اس کے ظاہری اور باطنی شعور کے درمیان کے تمام پردے اٹھ جاتے ہیں اور امام یا پیغمبر باطنی شعور کی معلومات کی بناء پر تمام انسانی اور غیر انسانی معلومات سے استفادہ کرتا ہے ۔

شیعہ ‘ محمد بن عبداللہ (ص) کے رسول مبعوث ہونے کی بھی اسی طرح وضاحت کرتے ہیں کہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے اور ان کے پاس علم نہ تھا اور غار حرا میں مبعوث ہونے کی رات کو ‘ جب جبرائیل ان پر نازل ہوئے تو کہا " پڑھو " پیغمبر نے جواب دیا میں نہیں پڑھ سکتا ۔

جبرائیل نے دوبارہ زور دے کر کہا پڑھو اور فورا وہ پردے جو ان کے ظاہری اور باطنی شعور کے درمیان حائل تھے اٹھ گئے اور فقط ایک لمحے میں نہ یہ کہ محمد بن عبداللہ خواندہ ہو گئے بلکہ تمام انسانی علوم سے واقف ہو گئے اور شیعہ باطنی شعور کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر کوئی ایک عام باطنی اور ایک بیکران باطنی شعور کا مالک ہے اور عام افراد سوتے میں عام باطنی شعور سے وابستہ ہوتے ہیں اور جو کچھ وہ خواب میں دیکھتے ہیں وہ انکے اور ان کے عام باطنی شعور کے رابطہ کی نسبت ہوتا ہے اور کبھی عام افراد کا جاگنے کی حالت میں اپنے عام باطنی شعور سے رابطہ قائم ہو جاتا ہے اور جو کچھ وہ دیکھتے ہیں وہ عام باطنی شعور کی وجہ سے دیکھتے ہیں لیکن صرف امام کا بیکراں باطنی شعور جس میں تمام انسانی اور عالمی علوم پوشیدہ ہیں سے رابطہ قائم ہوتا ہے اور بعثت کی رات کو صرف ایک لمحے میں اپنے بیکراں باطنی شعور سے مربوط ہو گئے تھے اور اس عقیدہ کی بنیاد پر علوم جعفر صادق کو علم لدنی مانا جاتا ہے ۔

یعنی وہ علم جو ان کے باطنی شعور بیکراں کے خزانے میں موجود تھا شیعوں کا یہ مذہبی عقیدہ اپنی جگہ قابل احترام ہے لیکن ایک غیر جانبدار مورخ اس عقیدہ پر ایمان نہیں لاتا وہ تاریخی سند مانگتا ہے یا کہا جا سکتا ہے کہ وہ مادی سند تلاش کرتا ہے تاکہ وہ سمجھ سکے کہ کس طرح جعفر صادق جو درس دینے تک عرب سے باہر نہیں گئے تھے (اگرچہ نصف عمر کے بعد کئی مرتبہ باہر دور دراز کے سفر پر گئے ) کس طرح انہوں نے فلسفہ اور مغربی فزکس پڑھائی جبکہ اس وقت تک کسی بھی مشہور عرب استاد نے ان علوم کو نہیں پڑھایا تھا پس ہم انداز یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح علم ہیئت و جغرافیہ قبطیوں کے ذریعہ عربوں تک پہنچا اور محمد باقر کے حلقئہ درس میں پڑھایا گیا اسی طرح فلسفہ اورمغربی فزکس بھی محمد باقر کے حلقہ درس میں شامل ہوئی ا ور بعد میں انہوں نے اپنی ذاتی تحقیق کی بنا پر اس میں خاطر خواہ اضافہ کیا ۔ ۸۶ ھ میں امام جعفر کی عمر صرف تین سال تھی جب عبدالملک بن مروان اموی خلیفہ نے دنیا کو وداع کہا اور اس کا بیٹا ولید بن عبدالملک خلیفہ بنا اس نئے خلیفہ نے اپنے پہلے حکم میں ہشام بن اسماعیل حاکم مدینہ کو معزول کیا اور اس کی جگہ عمر بن عبدالعزیز کو حاکم مدینہ مقرر کیا جو اس وقت چوبیس سالہ خوبصورت نوجوان تھے ۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اموی خلفاء جن کی کرسی خلافت و مشق میں تھی پہلے شامی بادشاہوں کی تقلید کرتے تھے اور انہی کی طرح شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ سے رہتے تھے اور مصر کا حاکم جو اموی خلیفہ کی طرف سے مقرر کیا جاتا تھا ۔ دارالحکومت میں ایک دربار سجاتا اور شان و شوکت سے زندگی گزارتا تھا ۔

ہشام بن اسماعیل (سابق حاکم مدینہ ) اموی خلیفہ کی مانند دمشق میں زندگی گزارتا تھا مگر جب عمر بن عبدالعزیز مدینہ میں آئے تو نہایت انکساری سے مسجد امام محمد باقر کا دیدار کرنے گیاا ور کہا مجھے معلوم تھا کہ آپ درس میں مشغول ہیں اور بہتر یہی ہوتا کہ جب آپ درس سے فراغت پاتے تو میں حاضر خدمت ہوتا مگر شوق زیارت کے باعث صبر نہ کر سکا ۔ بندہ جب تک اس شہر میں مقیم ہے آپ کی خدمت کیلئے حاضر ہے ۔

یہاں اس نکتہ کی وضاحت ضروری ہے کہ علی ابن ابی طالب کی اولاد اموی خلفاء کے زمانے میں مدینے سے باہر کہیں بھی نہیں رہ سکتی تھی اور اگر یہ لوگ کسی اور جگہ زندگی بسر کرنا چاہتے تو نہ صرف یہ کہ اموی حاکم کی سختی کا نشانہ بنتے بلکہ ان کی زندگی بھی خطرے میں ہوتی تھی ۔

امام زین العابدین اسی لئے مدینے میں پڑھاتے تھے کہ کسی دوسرے شہر میں درس کیلئے نہیں جا سکتے تھے چونکہ شہر مدینہ ‘ مدینتہ النبی کے نام سے مشہور تھا اور ان کا گھر بھی وہیں تھا لوگ ان کا احترام کرتے تھے اموی خلفاء میں اتنی جرات نہیں تھی کہ انہیں وہاں تکلیف پہنچائیں یا ان کے درس میں رکاوٹ ڈالیں یہ اس لئے عرض کیا ہے کہ اس بات پر حیرانگی نہ ہو کہ یہ حضرات اموی حاکم ہشام بن اسماعیل کی موجودگی میں کس طرح مدینے میں پڑھا سکتے تھے ۔ ۸۸ ھ میں ولید بن عبدالملک نے خلافت کے تیسرے سال مسجد مدینہ کی توسیع کا ارادہ کیا پیغمبر اسلام ا ور ان کے صحابہ کی طرف سے اس مسجد کو بنانے کی تاریخ مشہور ہے اور یہاں بلڈنگ کی تشریح کا تذکرہ ضروری نہیں ۔

اس مسجد کو اس سے پہلے بھی ایک بار وسعت دی گئی تھی اور پیغمبر اسلام کی تمام ازواج جن کے گھر اسی میں تھے بھی سلامت رکھے گئے ۔ مگر بعض بیبیوں نے آنحضرت کی وفات کے بعد خلفائے اربعہ کی معقول امداد سے حجروں سے باہر گھر لے لئے تھے اور ان حجروں کو خیر باد کہہ کر دوسرے مکانوں میں رہائش پزیر تھیں ۔

ھ میں پیغمبر اسلام کی آخری زوجہ جو مسجد کے احاطے میں قیام پذیر تھیں یا تو وہاں سے چلی گئی تھیں یا اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھیں کیونکہ مسجد کی توسیع میں اور کوئی رکاوٹ نہ تھی اس لئے اموی خلیفہ نے حاکم مدینہ کو حکم دیا کہ پیغمبر کی تمام ازواج کے گھروں کو مسمار کرکے مسجد کو چالیس ہزار مربع گز تک وسعت دی جائے ۔ طویل دو سو گز اور عرض بھی دو سو گز ہو اس ضمن میں ارد گرد کے مکانات بھی خرید لئے جائیں ۔

عمر بن عبدالعیز نے ایرانی معمار کو جو مسجد کی توسیع کا ناظم تھا کہا کہ میں محمد باقر کا جو مسجد میں درس دیتے ہیں بیحد احترام کرتا ہوں اور تمہارے مزدور اس طرح کام کریں کہ ان کے درس میں خلل واقع نہ ہو جب مسجد مدینہ کی نئے سرے سے بنیادیں رکھی جا رہی تھیں ۔ امام جعفر صادق جو پانچ برس کے تھے اور اگر ان کی تاریخ پیدائش کو ۸۰ ھ مان لیا جائے تو اس وقت ان کی عمر آٹھ سال تھی انہوں نے اپنے والد گرامی سے کہا میں اس مسجد کی تعمیر میں شرکت کرنا چاہتا ہوں والد گرامی نے فرمایا تو ابھی چھوٹا ہے تعمیراتی کام میں حصہ نہیں لے سکتا جعفر صادق نے فرمایا میرا جی چاہتا ہے اپنے جد بزرگوار پیغمبر کی طرح اس مسجد کی تعمیر میں حصہ لوں ۔

پس امام محمد باقر بھی راضی ہو گئے کہ ان کا بیٹا مسجد کے کام میں حصہ لے ۔ بعض کہتے ہیں کہ مسجد کی تعمیر میں جعفر صادق کی شرکت یوں تھی جیسے عموما بچے تعمیر مکان کے دوران میں مٹی گارے سے کھیلنے کا شوق رکھتے ہیں لیکن امام جعفر صادق کا مسجد مدینہ کی تعمیر میں حصہ لینا کھیل کود سے قطعی مختلف تھا اور وہ کمزور ناتواں ہونے کے باوجود تعمیر میں مزدوروں کا ہاتھ بٹا رہے تھے اور دیکھا گیا کہ جب لڑکے آ کر ان سے مسقی روڈ پر کھیلنے کو کہتے تو وہ انکار کر دیتے اور کہتے کہ میرا دل چاہتا ہے میں مسجد میں کام کروں البتہ درس پڑھنے اور مسجد میں کرنے کے علاوہ امام جعفر صادق مسقی روڈ پر اپنے ہم عمر لڑکوں سے کھیلتے تھے ۔

لڑکوں کے کھیل دنیا میں تقریبا ایک ہی جیسے ہیں اور شاید ہی کوئی ایسا شہر ہو جہاں لڑکوں کیلئے کوئی مخصوص کھیل ہو ۔ لیکن مدینہ میں لڑکوں کیلئے دو مخصوص کھیل تھے جو دوسرے ممالک میں نا پید تھے اور اگر وہ کسی اسلامی شہر میں کھیلے جاتے ہوں گے تو وہ مدینہ ہی سے لئے گئے ہوں گے ۔

پہلا کھیل جس میں سیکھنے سکھانے کی طرف توجہ دلائی جاتی تھی اس طرح تھا کہ جعفر صادق بیٹھتے تھے اور استاد بن جاتے تھے اور دیگر لڑکے ان کے شاگرد پھر آپ کہتے تھے وہ کون سال پھل ہے جو زمین پر یا درخت پر اگتا ہے اور اسکا رنگ مثال کے طور پر سرخ ہوتا ہے اور اس کا ذائقہ میٹھا یا ترش ہوتا ہے اور اس میوہ کے پکنے کے وقت یہ موسم (یا کوئی دوسرا موسم )ہوتا ہے ۔

یہ مضامین جو ہم یہاں پر تحریر کر رہے ہیں مدینہ کے بچوں کی مقامی زبان اور اصطلاحات کی صورت میں زبان پر لائے جاتے تھے اور وہ بچے جو امام صادق کے شاگرد ہوتے آپ انہیں سوچنے اور فکر کرنے کی طرف مائل کرتے تھے اور اگر ان میں سے کوئی ایسا ہوتا جو اس پھل کا نام بتا دیتا تو وہ شاگردی سے استادی کی جگہ حاصل کر لیتا اور امام جعفر صادق کی جگہ بیٹھ جاتا ۔ اور اس دوران میں جعفر صادق شاگردوں میں بیٹھ جاتے ۔

لیکن دو تین منٹ بعد شاگردوں کے گروہ سے خارج ہو جاتے اور پھراستاد بن جاتے تھے چونکہ ذہین تھے جو نہی استاد پھل کے کوائف بیان کرتا جعفر صادق پھل کا نام بتا دیتے ۔

جعفر صادق کا شمار مدینہ کے اشراف میں ہوتا تھا اور اخلاقی مکتب میں ان کے استاد ان کے دادا امام زین العابدین اور باپ امام محمد باقر اور ماں ( ام فروہ ) تھیں لیکن مسقی روڈ پر رہنے والے سارے لڑکے اشراف خاندانوں کے نہیں تھے ان کا باپ محمد باقر جیسا تھا نہ ماں ام فروہ جیسی اور یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ دو کنبوں کے درمیان اخلاقی ماحول کا فرق اگرچہ ہمسائے ہی کیوں نہ ہوں بچوں کے اخلاق پر زبردست اثر ڈالتا ہے ۔

جعفر صادق کو سچ بولنا وراثت میں بھی ملا تھا اور ان کی تربیت بھی ایسی ہوئی تھی کہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے تھے اگرچہ ان کے فائدے میں ہی کیوں نہ ہو ۔ لیکن ان کے ہمراہ کھیلنے والے بعض لڑکے جعفر صادق کی طرح تربیت یافتہ نہیں تھے اور اخلاقی تزکیہ میں بھی ان کی مانند نہیں تھے وہ جھوٹ بولتے تھے اور جب استاد بن جاتے تو پھل کے اوصاف بیان کرتے اور جعفر اس پھل کا نام لیتے اور استاد اس غرض سے کہ اس کا مرتبہ ہاتھ سے نہ جائے جھوٹ بولتا تھا اور کہتا تھا یہ پھل نہیں ہے اور دوسرا پھل ہے اور جعفر صادق جب یہ جان لیتے کہ وہ لڑکا جھوٹ بول رہا ہے بہت غمگین ہو جاتے ا ور چونکہ جھگڑا کرنا ان کا شیوہ نہیں تھا کبھی کبھار یہ سوچ کر کہ ان کا حق جھوٹ بول کر پامال کیا جا رہا ہے ‘ رونے لگتے اور کھیل چھوڑ کر دور ہٹ جاتے اور لڑکے بظاہر ننھے جعفر کی طرف توجہ کئے بغیر کھیل جاری رکھتے لیکن انہیں جلد ہی معلوم ہو جاتا تھا کہ ان کے کھیل میں مزہ نہیں ہے کیونکہ ان میں کوئی بھی جعفر کی مانند ذہین نہیں تھا کہ کھیل جوش و خروش سے جاری رہتا اور اس طرح وہ جعفر کے پاس جانے پر مجبور ہو جاتے ۔

اور ان سے معافی چاہنے کے ساتھ ساتھ دوبارہ کھیل میں شریک ہونے کی درخواست کرتے تاکہ کھیل میں دلچسپی پیدا ہو اور جعفر کہتے کہ وہ اس شرط پر کھیلنے کو تیار ہیں کہ کوئی بھی جھوٹ نہ بولے ‘ لڑکے اس بات کو مان لیتے ۔

دوسر ا کھیل جو مدینے کے ساتھ مخصوص ہے اور کسی ا ور عرب شہر میں رائج ہو تو بھی مدینے سے وہاں گیا ہے ا س کی ترتیب اس طرح تھی کہ ایک استاد اور چند شاگرد چن لئے جاتے تھے ا ور استاد کوئی کلمہ زبان پر لاتا تھا مثلا وہ کہتا تھا "الشراعیہ " جس کے معنی لمبی گردن والی اونٹنی کے ہیں ۔ شاگرد بھی کلمہ الشراعیہ کو زبان پر لاتا تھا اور اس کے بعد شاگرد اسی کلمہ الشراعیہ کی بغیر رکے ہوئے تکرار کرتا اور استاد اس شاگرد کو غلط فہمی کا شکار کرنے کیلئے مسلسل اسی الشراعیہ کے وزن پر کلمات ادا کرتا مثلا کہتا الدراعیہ ‘ الزراعیہ ‘ العلفاثیہ ‘ الکفاقیہ وغیرہ اس میں ضروری نہیں کہ سارے کلمات با معنی ہوں مہمل الفاظ بھی استعمال ہوتے تھے یہاں شاگرد مجبورا رکے اور غلطی کئے بغیر الشراعیہ کی تکرار کرتا تھا اور اگر ایک بار اس سے غلط ہو جاتی اور کوئی دوسرا کلمہ زبان پر لاتا تو کھیل سے خارج ہو جاتا اور استاد دوسرے شاگردوں کے ساتھ کھیل کا آغاز کرتا ۔

لیکن اب استاد دوسرا کلمہ منتخب کرتا اور پھر اسی ترتیب سے با معنی یا بے معنی الفاظ کی تکرار کرتا تاکہ شاگرد کو غلط فہمی کا شکار کرے ۔ امام جعفر صادق ان دو مخصوص مدنی کھیلوں جن میں بیٹھنا اور بولنا ضروری ہوتا تھا کہ علاوہ تمام ایسے کھیلوں میں بھی جن میں دوڑنا ضروری تھا ‘ شرکت کرتے تھے ۔

۹۰ ھ میں چیچک جیسی متعدی بیماری کی وباء مدینے میں پھوٹ پڑیا ور کچھ بچے اس میں مبتلا ہو گئے ۔

جعفر اس وقت سات سال یا دس سال کے تھے (یعنی اگر ان کی تاریخ ولادت ۸۰ ہجری یا ۸۳ ہجری مان لی جائے ) اور دس یا سات سال کے بچے بڑے لڑکوں سے مقابلتا کم اس بیماری میں مبتلا ہوئے ہیں ام فروہ اپنے سارے بچوں (جعفر سمیت ) کو لیکر مدینے سے چلی گئیں ۔ تاکہ اس متعدی بیماری سے ان کے بیٹے بچ سکیں ۔ اور چونکہ ابھی ان کے کسی بیٹے کو یہ بیماری لا حق نہیں ہوئی تھی اسلئے اب چیچک والے شہر سے دور جانا ضروری تھا تاکہ ان کے بچے اس میں مبتلا نہ ہوں اور وہاں جائیں جہاں یہ بیماری نہ ہو ۔

ام فروہ اپنے بیٹوں کے ہمراہ مدینہ کے ایک تفریحی مقام طنفسہ چلی گئیں ‘ جیسا کہ ہم جانتے ہیں ۔بعض دیہاتوں کے نام ان چیزوں یا پیدوار کے نام پر رکھے ہوتے ہیں جو ان دیہاتوں میں پیدا ہوتی ہے اسی طرح طنفسہ میں بھی ایک پودے کے پتوں سے ایک نہایت عمدہ قسم کی بوریا بنائی جاتی تھی جسے طنفسہ کہا جاتا تھا اور اسی وجہ سے اس گاؤں کا نام طنفسہ پڑ گیا اب بھی اس گاؤں کی جگہ موجود ہے لیکن پہلی اور دوسری صدی ہجری کی مانند آباد نہیں ہے ۔

مدینہ ایک صحرا میں واقع ہے لیکن اس کے اطراف میں صحت افزا مقامات ہیں اور مدینہ کے بڑے لوگ گرمیوں میں وہاں جاتے ہیں ام فروہ جب طنفسہ میں رہ رہی تھیں ۔ تو انہیں اطمینان تھا کہ ان بیٹے اب چیچک میں مبتلا نہیں ہوں گے ۔ لیکن وہ اس سے غافل تھیں کہ چیچک کی خطر ناک بیماری ان پر حملہ آور ہو چکی ہے جب وہ بیمار ہوئیں تو چیچک کے تمام مریضوں کی طرح انہیں بھی علم نہ تھا کہ وہ اس میں مبتلا ہو گئیں ہیں حتی کہ وہ اس مہلک بیماری میں مبتلا ہو گئی ہیں حتی کہ چیچک کا پہلا نشان ان کے جسم پر ظاہر ہوا اور چونکہ وہ ایک پڑھی لکھی خاتون تھیں جب علم ہوا کہ وہ اس بیماری میں مبتلا ہو گئی ہیں تو انہوں نے اپنی فکر کی بجائے بچوں کی فکر کی اور کہا کہ جلد میری بچوں کو طنفسہ سے دور لے جائیں اور ایسی جگہ لے جائیں جہاں چیچک کی بیماری نہ ہو اس طرح جعفر صادق اور دوسرے سارے بیٹوں کو طنفسہ سے دور ایک دوسرے گاؤں لے جایا گیا مدینہ میں جب محمد باقر کو اطلاع ملی کہ ان کی وجہ چیچک میں مبتلا ہو گئی ہیں جو ایک مہلک مرض ہے لہذا محمد باقر نے درس پڑھانا چھوڑ کر پہلے روضہ نبوی پر حاضری دی (جو اسی مسجد مدینہ کے اندر واقع تھا) اور پیغمبر اسلام کی روح سے التجا کی کہ ان کی وجہ کو شفا عنایت فرمائیں ۔

جب ام فروہ نے اپنے شوہر کو دیکھا تو کہا آپ کیوں یہاں آئے ہیں شاید آپ کو نہیں بتایا گیا کہ میں چیچک میں مبتلا ہوں اور چیچک کے مریض کی عیادت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ عیادت کرنے والا بھی اس بیماری میں مبتلا ہو سکتا ہے ۔

محمد باقر نے فرمایا میں نے پیغمبر اسلام کی روح سے درخواست کی ہے کہ آپ کو شفا دے اور چونکہ روح کے اثرات پر میرا ایمان ہے اس لئے مجھے علم ہے کہ تو بھی شفا پائے گی ا ور میں بھی اس بیماری میں مبتلا نہیں ہوں گا ۔

جس طرح محمد باقر نے کہا تھا اسی طرح ام فروہ کو اس بیماری سے نجات مل گئی اور وہ خود بھی اس بیماری میں مبتلا نہ ہوئے اس خاتون کا تندرست ہو جانا معجزے سے کم نہ تھا کیونکہ چیچک کی بیماری پہلے تو بڑے آدمی پر بہت کم حملہ آور ہوتی ہے اور اگر حملہ آور ہو جائے تو مریض کا صحت یاب ہونا بعید ہوتا ہے ۔

شیعوں کا عقیدہ ہے چونکہ امام محمد باقر امام تھے ا ور ہر امام کے پاس لا محدود طاقت اور علم ہوتا ہے اور جب وہ ام فروہ کے سر ہانے پہنچے تو انہوں نے اپنی امامت کے علم اور طاقت کے ساتھ ام فروہ کو شفا دی ۔

لیکن ایک غیر جانبدار مورخ اس بات پر یقین نہیں رکھتا حالانکہ یہ بات صحیح ہے کہ اس وقت کے طبیب چیچک کا علاج کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے اس لحاظ سے ام فروہ کا تندرست ہو جانا ایک منفرد واقعہ شمار کیا جاتا ہے ۔

تندرست ہونے کے بعد ام فروہ مدینے واپس چلی آئیں لیکن چونکہ ابھی تک چیچک کی بیماری مدینہ میں موجود تھی لہذا اس نے بیٹوں کو شہر نہیں بلایا ۔

اسی سال ۹۰ ھ میں اور ایک دوسری روایت کے مطابق ایک سال بعد امام جعفر صادق نے اپنے والد گرامی کے حلقہ درس میں حاضری دینا شروع کیا ۔

اس بات پر تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ جعفر صادق دس سال کی عمر میں اپنے والد کے حقلہ درس میں حاضر ہوئے محمد باقر کا حلقہ درس ایک شاندار مدرسہ تھا اور جو لوگ یہاں سے فارغ ہوتے تھے وہ اس زمانے کے علوم کو سیکھتے تھے لہذا جعفر صادق کی اعلی تعلیم کا آغاز دس سال کی عمر میں ہوا اور یہ بات ایک ذہین لڑکے کے بارے میں حیرت انگیز تھی ۔ مغربی دنیا کی چند ایسی مشہور شخصیتوں کے نام لئے جا سکتے ہیں جنہوں نے دس سال کی عمر میں یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کی ۔

جب امام جعفر صادق اپنے والد گرامی کے حلقہ درس میں شامل ہوئے تو پہلی مرتبہ محمد باقر نے بطلیموس کا جغرافیہ پڑھانا شروع کیا اور پہلے دن جعفر صادق نے بطلیموس کی کتاب المحسبتی کو پڑھا (یاد رہے یہ کتاب علم ہیت اور جغرافیہ کے بارے میں ہے )

آپ نے پہلے ہی دن پہلی مرتبہ اپنے والد سے سنا کہ زمین گول ہے کیونکہ بطلیموس نے جو دوسری صدی عیسوی میں زندہ تھا ‘ اپنی کتاب المحسبتی میں لکھا ہے کہ زمین گول ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ لوگ کو پر نیک ‘ نجومی کے زمانے ہی سے جو ۱۴۷۳ عیسوی میں پیدا ہوا اور ۱۵۴۳ عیسوی میں فوت ہوا زمین کے گول ہونے کے قائل تھے ۔

اس صورت میں جبکہ تمام مصری سائنس دان جانتے تھے کہ زمین گول ہے کو پرنیک جو ابھی جوانی کے مرحلے میں داخل ہوا تھا اور اس نے ابھی زمین کے گول ہونے اور سوج کے گرد چکر لگانے کا نظریہ پیش نہیں کیا تھا کرسٹو فر کولمبس زمین کے کروی ہونے کی سند کے ساتھ مشرق کی جانب جہاں خوردنی دواؤں کے جزیرے تھے چل پڑا تاکہ مغرب کے راستے وہاں تک پہنچے ابھی تک کرسٹو فر کولمبس نے اپنی مشہور کتاب ( جس میں اس نے لکھا ہے کہ زمین اور دوسرے سیارے آفتاب کے گرد گھومتے ہیں ) لا طینی زبان میں شائع نہیں کی تھی کہ مالان ( ایک پرتگالی ) جو سپین کے بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ۔ اس نے اپنی کشتیوں کو سیویل کی بندر گاہ سے سمندری راستے پر ڈال دیا اور اس ساری زمین کا ایک مکمل چکر کاٹا اس کے ساتھی تین سال بعد ہسپانیہ واپس آ گئے جبکہ وہ فلپائن کے جزائر میں وہاں کے مقامی باشندوں کے ہاتھوں قتل ہوا اور پہلی بار زمین کے گول ہونے کو ثابت کیا اس طرح پہلی بار تصدیق ہوئی کہ زمین گول ہے ۔

کو پر نیک سے پہلے زمین کا گول ہونا ثابت تھا لیکن بطلیموس نے المحسبتی میں لکھا کہ زمین دنیا کا مرکز ہے اور سوج ‘ چاند ستاریا ور سیارے سب زمین کے گرد چکر لگاتے ہیں لیکن کوپر نیک نے کہا زمین دنیا کا مرکز نہیں ہے بلکہ سورج دنیا کا مرکز ہے اور زمین اور دوسرے سیارے سورج کے گرد چکر لگا رہے ہیں ۹۱ ھ میں جب جعفر صادق اپنے والد کے حلقہ درس میں شریک تھے تو ان کو دو نئے واقعات پیش آئے جو ان کیلئے خاصی اہمیت کے حامل تھے ۔

پہلا واقعہ یہ تھا کہ امام محمد باقر کے مریدوں اور شاگردوں میں سے ایک جب اپنے وطن مصر سے واپس آیا تو اپنے ساتھ لکڑی اور مٹی سے بنایا ہوا جغرافیائی کرہ لایا کیوں کہ مصر میں مٹی سے بہت سی چیزیں تیار کی جاتی تھیں مثلا مجسمے وغیرہ اور مصر کے باہر رہنے والے لوگ ان اشیاء کو بطور تحفہ لے جاتے تھے یہ خاصی مہنگی فروخت ہوتی تھیں مٹی کا وہ جغرافیائی کرہ جو محمد بن فتی مصر سے محمد باقر کیلئے بطور سوغات لایا تھا ایک ایسے گول ستون کی مانند تھا جس پر کسی کرہ کو رکھتے ہوں گے ۔

یہ گول ستون زمین شمار کی جاتی تھی اور جو کرہ تھا وہ آسمان تھا اور اس کرہ آسمانی پر ستارے اس طرح لگائے گئے تھے جیسے بطلیموس نے دوسری صدی عیسوی میں اظہار خیال کیا تھا ۔ یا اس کا خیال تھا بطلیموس نے آسمانی ستاروں کیلئے جو اس زمانے میں دیکھے جاتے تھے اڑتالیس تصاویر کو مد نظر رکھا جیسا کہ ہم نے کہا ہے یہ تصاویر اس کی اختراع نہیں تھیں بلکہ اس سے پہلے کے نجومیوں نے انہیں ایجاد کیا تھا البتہ بطلیموس نے انہیں ایک مکمل شکل دی ۔ اس کے کہنے کے مطابق دنیا میں ثابت ستاروں کی تعداد اڑ تالیس تھی اور بطلیموس نے اس بڑے آسمانی کرہ پر ہر مجموعہ کی شکل بنائی اور ہر ایک کا نام مصری زبان میں لکھا ۔

اس آسمانی کرہ میں ستاروں کے بارہ مجموعے حمل سے لے کر حوت یعنی برہ سے ماہی تک کمر بند کی مانند اس کرہ کا احاطہ کئے ہوئے تھے اور سورج کو بھی کرہ کے اسی حصہ میں دکھایا گیا تھا تاکہ یہ دکھائیں کہ سورج سال میں ایک مرتبہ آسمان میں اس کمر بندی کے علاقے سے گزرتا ہے ۔ سورج کے علاوہ چاند اور سیارے بھی آسمانی کرہ میں نظر آتے تھے اور سیارے بھی سورج اور چاند کی طرح زمین کے ارد گرد گھومتے تھے ۔

مختصر یہ کہ اس آسمانی کرہ میں دنیا کا مرکز زمین تھا اور سورج چاند اور سیارے زمین کے ارد گرد حرکت کرتے دکھائے گئے تھے یہ پہلا کرہ آسمانی تھا جو آسمان کے متعلق امام صادق نے دیکھا تھا اور ابھی آپکی عمر گیارہ سال سے زیادہ نہیں ( اگر آپ کی تاریخ والدت ۸۰ ھ مان لی جائے ) کہ آپ نے اس کرہ اور بطلیموس کے جغرافیہ کے بارے میں اظہار خیال فرمایا اور کہا سورج سال میں ایک بار کرہ زمین کے ارد گرد چکر لگاتا ہے اور اس کی گردش کا راستہ بارہ برج ہے اور ان میں ہر برج کا تیس رات دن قیام ہے اس طرح تو ہمیں ہر وقت سورج دکھائی دینا چاہیے ۔

گیارہ سالہ بچے کا اظہار خیال نہایت ماہرانہ تھا اور جب آدمی یہ کرہ سوغات لے کر آیا تھا اس نے جوابا کہا بطلیموس کہتا ہے کہ سورج کی حرکات دو قسم کی ہیں ایک حرکت بروج کے احاطے میں ہے اور سورج سال میں ایک بار بارہ برجوں سے گزرتا ہے اور زمین کے ارد گرد چکر لگاتا ہے اور سورج کی دوسری حرکت کرہ زمین کے ارد گرد ہے ہر رات دن ایک دفعہ زمین کے گرد چکر لگاتا ہے اور نتیجہ ہم ہر صبح اسے طلوع ہوتے ہوئے اور ہر شام کو غروب ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں ۔

جعفر صادق نے فرمایا ممکن ہے یہ دونوں حرکات ایک ساتھ ہوں کیونکہ سورج جب بروج کے احاطے میں گردش میں مشغول ہوتا ہے کس طرح سے چھوڑ کر زمین کے اردگرد چکر لگا سکتا ہے ۔

سوغات لانے والے نے کہا سورج رات کو بروج کے احاطے کو ترک کرتا ہے تاکہ زمین کے گرد چکر لگائے اور صبح کے وقت زمین کے مشرق سے طلوع کر سکے جعفر صادق نے فرمایا اس طرح تو سورج صرف دن ہی کو بارہ میں سے کسی ایک برج میں ہوتا ہے اور راتوں کو وہاں نہیں ہوتا کیوں کہ آپ کے بقول رات کو اسے چاہیے کہ وہ جگہ چھوڑ دے اور زمین کے گرد چکر لگائے تاکہ صبح زمین کے مشرق سے طلوع کر سکے اگر ایسا ہے تو رات کو سورج ہمیں کیوں دکھائی نہیں دیتا شاید اپنے چہرے پر پردہ ڈال دیتا ہے تاکہ دکھائی نہ دے ۔

جس وقت جعفر صادق نے اس آسمانی کرہ کو دیکھا تھا ۔ بطلیموس کی موت کو پانچ سو ساٹھ سال ہو گئے تھے اور ابھی تک کسی نے بھی غور نہیں کیا تھا کہ اس آسمانی کرہ کے بارے میں اظہار خیال کرے اور پوچھے کہ کس طرح سورج جو بقول بطلیموس ہر برج میں تیس دن سفر کرتا ہے اور زمین کے گرد بھی چکر کاٹتا ہے ہر روز و شب میں ایک مرتبہ اپنے ٹھکانے اور راستے کو بدلتا ہے تاکہ زمین کے گرد چکر لگائے ان پانچ سو ساٹھ سالوں میں کسی کو یہ خیال نہ آیا کہ بطلیموس کی ہےئت پر تنقید کرے اور کہے کہ سورج کی زمین کے اردگرد گردش جو وہ بروج کے احاطے ہو کر کرے عقلی لحاظ سے قابل قبل نہیں ہے ۔

کسی نے بھی بطلیموس کی کتاب المحسبتی کو پڑھتے ہوئے ان پانچ سو سالوں میں کوشش نہیں کی کہ اپنی عقل کو استعمال کرے ۔ جب کہ علم نجوم کے بارے میں بطلیموس کا نظریہ کوئی بھی نہیں تھا کہ ہم کہیں اسے بلا چوں و چرا قبول کر لیا جانا چاہیے تھا البتہ پہلے زمانے میں دو باتیں سائنس دانوں پر تنقید سے روکتی تھیں پہلی یہ کہ استاد کا احترام ملحوظ خاطر رکھا جاتا تھا کہ جو کچھ استاد نے کہا ہے صحیح ہے اور اس پر تنقید نہیں کی جا سکتی اور دوسری پرانے لوگوں کی سستی ۔ اس سے ہماری مراد عام لوگوں کی ذہنی سستی ہے کیونکہ پرانے وقتوں میں عام لوگوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی تھی کہ وہ علمی مسائل کے بارے میں اپنا اظہار خیال کریں اس کی وجہ ترویج علم کے وسائل کی محدودیت تھی اور صرف وہ لوگ جو مشرق و مغرب کے مدارس میں علم حاصل کرتے تھے انہیں علم سے دلچسپی تھی اور ان علمی مدارس کے باہر سے کوئی آدمی علم کے بارے میں اپنے شوق کا اظہار کرتا تو وہ بھی ان مدارس کے علماء سے رابطے کی وجہ سے علم سے لگاؤ پیدا کر لیتا تھا ۔

اور یہ صورت حال کم و بیش موجود تھی کہ چھپائی کی صنعت ایجاد ہوئی اور مغرب میں علم کو یونیورسٹی کی حدود سے نکال کر عام آدمی کی رسائی تک پہنچا دیا ۔ لیکن مشرق میں اس وقت تک علم مدارس سے باہر نہیں نکلا تھا ۔ بہر حال جس طرح مشرق کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں کسی نے بطلیموس نجومی کے نظریہ پر تنقید کرنے کی طرف توجہ نہیں دی ا سی طرح مغرب کی بڑی بڑی یونیورسٹیاں بھی اس بارے میں لا پرواہ رہی ہیں ۔

وہ پہلا شخص جس نے اس نظریہ کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ وہ جعفر صادق تھے جب وہ اپنے والد کے حلقہ درس میں شریک تھے تو انہوں نے فرمایا کہ بطلیموس نجومی کا نظریہ عقلی لحاظ سے قابل قبول نہیں ہے ۔

اس کے بعد اس ہونہار نے بطلیموس کے نظام نجوم کے بارے میں سوچنا شروع کیا کہ اس نظام میں کون سی خرابی ہے ؟ اور ایسا کیوں ہوتا ہے کہ سورج بارہ برجوں میں زمین کے ارد گرد بھی گھومتا ہے اور اسی طرح ہر روز زمین کے مشرق سے طلوع اور غرب بھی ہوتا ہے ۔

جب جعفر صادق اپنے والد گرامی کے حلقہ درس میں ہر روز حاضر ہوئے تو ان کی نظر کرہ آسمانی پر پڑتی اور وہ بطلیموس نجومی کے نظام میں نقص کے مسئلہ کا اعادہ کرتے لیکن ان کے والد یہ کہہ کر خاموش کرا دیتے کہ بطلیموس نے علطی نہیں کی یہ فطری بات ہے کہ وہ گیارہ سالہ بیٹا باپ کے احترام میں خاموش ہو جاتا اور اپنی تنقید کو مزید آگے نہیں بڑھاتا تھا اور جو لوگ اس حلقہ درس میں حاضر ہوتے تھے ان سے بھی کوئی مدد حاصل نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہ بھی معتقد تھے کہ بطلیموس نے غلطی نہیں کی اور سورج اس کے بتائے ہوئے نظام کے مطابق زمین کے ارد گرد چکر لگاتا ہے ۔

جیسا کہ ہم نے کہا امام محمد باقر کے حلقہ درس میں اس طرح جدت آئی کہ شروع میں وہاں جغرافیہ اور ہیئت ہی پڑھائی جاتی تھی لیکن بعد میں علم ہندسہ کی تعلیم بھی شروع ہوئی ۔ بہر کیف استاد محمد باقر ہی رہے علم ہندسہ بھی جغرافیہ اور ہیئت کی مانند قبطی دانشوروں کے ذریعے مصر کے راستے محمد باقر تک پہنچا اور انہوں نے یونانی اقلیدس (جو تین صدیاں قبل مسیح میں پیدا ہوا تھا ) کے علمی قواعد سے استفادہ کیا خود اقلیدس اور اس سے پہلے بھی لوگوں کا عقیدہ تھا کہ زمین گول ہے اگرچہ وہ ایک عظیم انجینئر تھا لیکن وہ زمین کے طول و عرض کا اندازہ نہیں کر سکا تھا ۔

اس سے پہلے کہ یونان کی تاریخ ترتیب دی جاتی اور ہم جانتے ہیں کہ یونانی لوگوں نے دن و رات کے تبدیل ہونے کے بارے میں کیا نظریہ پیش کیا تھا ؟ یونانی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ یونانی ہزاروں کی تعداد میں سورج کے وجود کے قائل تھے اور ان کا خیال تھا کہ جو سورج صبح طلوع اور شام کو غرب ہوتا ہے وہ ایک ایسی جگہ جاتا یا گرتا ہے جس کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا اور جو سورج دوسرے دن مشرق سے طلوع ہوتا ہے وہ پہلے دن والا سورج نہیں ہے اس طرح قدیم یونانیوں کے عقیدہ کے مطابق ہر دن ایک نیا سورج طلوع ہوتا ہے اور پہلی دن والا سورج نہیں ہوتا ۔

وہ کہتے تھے کہ زؤس (خداؤں کا خدا ) جسے لا طینی میں جوپیٹر ( jupitor )کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اس کے پاس بہت زیادہ آگ یا روشنی کے چراغ ہیں اور ہر صبح اس آگ یا چراغوں میں سے ایک کو آسمان کی طرف بھیجتا ہے تاکہ زمین کو روشن اور گرم رکھے اور جس وقت ختم ہو کر راکھ بن جاتی ہے یا چراغ میں تیل نہیں رہتا تو وہ غرب ہو جاتا ہے اور خاموش چراغ وہاں گرتے ہیں جہاں تک کسی کی رسائی نہیں ۔

کیا زؤس خداؤں کا خدا جو ہر دن ایک سورج کو آسمان پر بھیجتا تھا بجھے ہوئے چراغوں سے استفادہ کرتا تھا اور ان کا تیل بدلتا تھا تاکہ دوبارہ انہیں آسمان پر بھیجے ؟ اس سوال کا جواب مشکوک تھا ۔ اور بعض کا عقیدہ تھا کہ زؤس بجھے ہوئے چراغوں سے استفادہ کرتا ہے اور بعض کا یہ عقیدہ تھا کہ استفادہ نہیں کرتا ۔

قدیم یونانیوں نے ستاروں کے مسائل کو اپنے لئے آسان بنا دیا تھا اور ہر چیز کی وضاحت زؤس کے فیصلوں اور کاموں سے کرتے تھے ۔

پانچویں صدی قبل از مسیح جو یونانی دانشوروں کا عہد ہے اور ان کی علمی تاریخ بھی موجود ہے ۔ یونانی علماء نے اس طرف توجہ کی کہ دن رات کے فرق کی وجہ معلوم کریں جو کوئی قدیم یونان سے واقف ہے وہ اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ قدیم یونانی دانشوروں میں سے بہت کم ایسے تھے جنہوں نے دن و رات کے فرق کی وجہ معلوم کرنے کی طرف توجہ دی ۔

ان دانشوروں میں سے تین مشہور یعنی سقراط ‘ افلاطون اور ارسطوں ہیں یہ دوسرے علوم کے مقابلے میں علم الاجتماع سے زیادہ لگاؤں رکھتے ہیں یہاں تک کہ ارسطو جس نے فزکس اور ہوا کہ بارے میں بھی لکھا ہے وہ بھی علم الاجتماع سے خاص دلچسپی رکھتا تھا اور اس کا مستائی فلسفہ علم الاجتماع سے ملتا جلتا ہے ( مستی کے معنی ہیں راہ چلنا چونکہ ارسطو چلتے ہوئے پڑھاتا تھا ) جن چند لوگوں نے دن و رات کے فرق کی وجہ کو معلوم کرنے کی جانب توجہ کی ان میں سے ایک اقلیدس بھی تھا جس کا شمار نہ تو انجینئرز میں اورنہ نجومیوں (ماہرین فلکیات ) میں ہوتا تھا ۔ مشرق کی طرف سے اقلیدس کا خیال تھا کہ یہ کہانی زؤس ہر دن ایک گولہ آگ یا چراغ آسمان پر بھیجتا ہے ۔

یہ چراغ آسمان کو عبور کرنے کے بعد بجھ جاتا ہے درست نہیں ہو سکتی وہ بطلیموس سے ۴۵۰ سال پہلے اسکندریہ میں رہتا تھا اس نے کہا سورج جو دوسرے دن طلوع ہوتا ہے وہی سورج ہوتا ہے جو پہلے دن طلوع ہوتا ہے اور ایک دن بعد مشرق سے طلوع ہونے کی وجہ یہ ہے کہ تیسری صدق قبل مسیح ایک ایسی صدی تھی جس میں یونان اور اسکندریہ میں علم نے ترقی کی لیکن اس میں اتنی جرات نہیں ہوئی کہ وہ دن و رات کے وجود میں آنے کے سبب کو اپنی زندگی میں بیان کر سکے ۔

وہ ارسطو کے ایک صدی بعد دنیا میں آیا اور اس سے قبل ہی یونانی دانشوروں نے علم کو قبول کرنے کے لئے اذہان کو آمادہ کر لیا تھا اور اسی دور میں جس میں اقلیدس رہتا تھا ۔ پیرون نام کا ایک آدمی جس نے یونان میں نہ صرف یہ کہ ارسطو اور افلاطون کے نظریات کی مخالفت کی بلکہ یونانی خداؤں یعنی یونان کے سرکاری مذہب کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ یونانی خدا محض ایک افسانہ ہیں ۔

لیکن پیرون جو ۲۷۰ قبل مسیح میں فوت ہوا اور اپنے نظریہ کو کھلم کھلا بیان کر سکتا تھا وہ اسکندریہ میں نہیں رہتا تھا بلکہ یونان اور الپز میں رہتا تھا اس زمانے میں یونان الپز یا خود مختار ریاستوں پر مشتمل تھا ۔

اقلیدس اسکندری میں بطالسہ سلسلہ کے پہلے یونانی بادشاہ کے دور میں ہو گزارا ہے اور اسکندریہ مقدونی کے سرداروں میں سے ایک بطلیموس نامی سردار تھا جو کہتا تھا علم ہر محکمہ میں رائج ہو سکتا ہے اور ہونا چاہیے ۔ لیکن وہ خداؤں کے متعلق کوئی بات نہ کہتا تھا اور بطلیموس اول کی علم پروری کا ثبوت یہ ہے کہ اس نے ایک ایسا کتاب خانہ قائم کیا جس نے اسکندریہ میں اس قدر اہمیت اختیار کر لی کہ صدیوں بعد بھی جب مورخین کتب خانہ کا نام لیتے تھے تو ان کی مراد کتاب خانہ اسکندریہ ہوتا تھا ۔


درس باقریہ میں حاضری

بطلیموس اول نے علم کو مذہبی مباحث میں نہیں پڑنے دیا اور جہاں کہیں علم کا مذہبی مباحث کے ساتھ ٹکراؤ ہوتا تھا ہوں رک جانے کا حکم دیتا تھا اور اسی وجہ سے اقلیدس میں اتنی جرات پیدا نہ ہوئی کہ اس نظریہ " زؤس ہر صبح ایک چراغ یا آگ کے بگولے کو آسمان کی طرف بھیجتا ہے " کو غلط قرار دیتا اور صحیح نظریہ بیان کرتا کہ سورج زمین کے گرد چکر لگاتا ہے تاہم اقلیدس نے اس نظریئے کا اظہار کیا اور اس کی موت کے بعد اس کی تحریروں میں یہ نظریہ ملا مگر باور کیا جاتا ہے کہ بطلیموس جغرافیہ دان سلسلہ بطالیہ کے بطلیموس مصری بادشاہوں میں سے تھا ۔

لہذا یہ غلط فہمی پیدا نہیں ہونی چاہیے کہ جو اقلیدس ایک صدی بعد آیا وہ مصری تھا اور علمی کتاب خانہ کے دستر خواں سے فیض یاب ہوتا رہا اس بناء پر ہم یہ قیاس آرائی کر سکتے ہیں کہ اس نے اس نظریئے کو کہ " سورج زمین کے گرد گھومتا ہے " اقلیدس سے لیا ہو گا ۔

پیرون جو یونان میں یونانی خداؤں کو ایک افسانہ سمجھتا تھا اس نے رات و دن کے وجود میں آنے کے سبب کے بارے میں کچھ نہیں کہا البتہ یونان کی علمی تاریخ میں وہ پہلا آدمی ہے جو شکی مشہور ہوا جس نے تمام نظریات کو کھوکھلا کیا اور خود کوئی نظریہ پیش نہیں کیا ۔

پیرون ہر قسم کے عقیدے اور مذہب کیخلاف تھا وہ کہا کرتا تھا " کوئی بھی ایسا نشان یا حتمی ماخذ نہیں ہے جو حقیقت کی پہچان میں ہماری مدد کر سکے ۔ اور اگر ہم ایک موضوع کے متعلق ایک نظریہ پیش کرتے ہیں تو اسی کا مخالف نظریہ بھی پیش کیا جا سکتا ہے " لیکن یاد رہے کہ یہاں پیرون کی مراد فلسفی نظریات ہیں نہ کہ ریاضی کے نظریات کیونکہ ریاضی کے نظریات کی نفی عقلی نقطہ نگاہ سے نا ممکن ہے ۔

ہر سال لاکھوں لوگ پکے ہوئے سیبوں کو زمین پر گرتا دیکھتے ہیں لیکن تاریخ کے آغاز سے ساتویں صدی عیسوی تک صرف ایک آدمی نے اس پر غور کیا کہ سیب زمین پر کیوں گرتا ہے جبکہ چاند و ستارے زمین پر نہیں گرتے اور اس شخص نے اس غورو فکر کے نتیجے میں قوت کشش کا قانون دریافت کیا ۔

ہزاروں سائنس دانوں نے دنیا کے مشرق اور مغرب میں آٹھویں صدی کے آغاز تک بطلیموس کے آفتاب کی زمین کے ارد گرد حرکت کا مطالعہ کیا لیکن کسی نے بھی اپنے آپ سے یہ نہ پوچھا کہ سورج جو بروج کے احاطہ میں واقع ہے اور وہاں سے زمین کے ارد گرد چکر لگاتا ہے آخر وہ کس طرح ہر رات دن میں ایک بار اس احاطے کو چھوڑ کر زمین کے اطراف میں گردش کرنا شروع کر دیتا ہے جس کے نتیجے میں رات دن وجود میں آتے ہیں ۔

اسکندریہ جو مصر میں واقع ہے جب وہاں سلسلہ بطالسیہ کے پہلے بادشاہ نے کتابخانہ بنوایا ۔ اس زمانے سے لیکر کتابخانے کے عربوں کے ہاتھوں جلائے جانے اور ویران کرنے تک یعنی تقریبا نو سو سال تک دنیا کا علمی مرکز تھا ۔ اور جن سائنس دانوں نے اسکندریہ کے علمی مکتب سے کسب فیض کیا بہت مشہور ہو گزرے ہیں اور اس مکتب میں چند فلسفیانہ نظیرئے بھی وجود میں آئے جو کافی شہرت کے حامل ہیں ۔

مگر حیرانگی اس بات پر ہے کہ وہ سائنس دان اور مفکرین جو اسکندریہ کے علمی مکتب سے فیض یاب ہوئے انہیں بھی یہ خیال نہ آیا کہ کس طرح سورج جو بارہ برجوں میں زمین کے اطرفاف میں گردش کرتا ہے کیسے دن رات میں ایک بار وہ جگہ چھوڑ کر زمین کا چکر لگانا شروع کر دیتا ہے ؟ اور ایک چھوٹے سے عرب لڑکے نے ایک چھوٹے سے شہر مدینہ میں آٹھویں صدی عیسوی کے شروع میں جبکہ یہ شہر دارالخلافہ تھا نہ اسے مرکزیت حاصل تھی اس مسئلے پر غور کیا ۔

اس گیارہ سالہ بچے کی عقل کو اس علمی مسئلہ کی مناسبت سے مکتب اسکندریہ کے تمام سائنس دانوں اور ساری دنیا کے علماء کی عقل پر برتری حاصل تھی ۔

جعفر صادق اس وقت کمسنی کے باعث اجتماعی سوچ نہیں رکھتے ہوں گے اور ان پر اقتصادی بوجھ بھی نہ ہو گا کیوں کہ وہ کفالت کی ذمہ داری سے مبرا تھے ۔

لیکن علمی و عقلی لحاظ سے خاصے سمجھدار تھے اور علوم یا علم ہیئت سے ایسے نکات بھی سمجھ سکتے تھے جن کو سمجھنے سے عام انسان قاصر تھا دوسرے لوگوں کی علمی سوچ جعفر صادق کی فکر سے اس قدر پست تھی کہ جب آپ نے کہا کہ زمین کے گرد سوج کی گردش قابل قبول نہیں ہے تو انہوں نے اس پر غور نہ کیا ۔

تمام دانشمند لوگوں کے ساتھ اس طرح ہوتا ہے جس طرح جعفر صادق کے ساتھ ہوا ۔ معاشرے کے دوسرے افراد ان کے عمیق نظریات اور عقلی قوت کو نہ سمجھ سکے ۔

عام لوگ ‘ بلند خیالات اور گہری نظر رکھنے والوں کی مانند اپنے ماحول کا جائزہ نہیں لے سکتے ۔ اور وہ عقل کو صرف ضروریات زندگی کے حصول میں صرف کرتے ہیں اور اسی لئے عقل مند لوگوں کے نظریات انہیں بے وقعت معلوم ہوتے ہیں اور بعض اوقات تو عاقل انسانوں کو دیوانہ خیال کیا جاتا ہے آج نظام شمسی کی جانب انسان کی ساری پروازیں نیوٹن کے کشش ثقل کے قانون کی بنیاد پر ہیں اور تمام وہ انسان جنہوں نے چاند پر قدم رکھا وہ نیوٹن کے احسان مند ہیں جس نے کشش ثقل کا قانون دریافت کیا ۔

لیکن نیوٹن کے دور میں کشش ثقل کے قانون کے دریافت جو بے شک کائنات کے بارے میں بنی نوع انسان کے وضع کئے گئے قوانین میں اب تک سب سے بڑا قانون ہے جبکہ عام آدمی کی نظر میں اس کی ذرہ بھر وقعت نہ تھی ۔

(ڈیلی نیوز لندن ) جو پہلے پہلے انگلستان میں چھپنے والا سب سے پہلا ہفت روزہ تھا نہ صرف یہ کہ اس ہفت روزہ نے قوت تجاذب کے قانون کی خبر نہ چھا پی بلکہ اس کے چند سال بعد تک یہ عظیم علمی ایجاد کسی انگریز اخبار میں نہ چھپی ۔ اور اخبارات کے ایڈیٹر صاحبان کی نظر میں ڈاکہ زنی یا قتل کی خبر اس خبر سے زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی تھی کیوں کہ ڈاکہ زنی یا قتل کی خبر کا تعلق لوگوں کی اور خود ایڈیٹر صاحبان کی روز مرہ زندگی سے ہوتا تھا ۔

صرف چند سائنس دانوں کو علم تھا کہ نیوٹن نے یہ قانون ایجاد کر لیا ہے اور حسد کی وجہ سے انہوں نے نہ چاہا کہ اس قانون کی دریافت کی خبر لوگوں تک پہنچے یہاں تک کہ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے حسد میں کمی آئی اور انہوں نے نیوٹن کی قدردانی کے طور پر اسے "سر " کا خطاب دیا ۔

ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ اگر ساتویں صدی عیسوی میں لوگوں نے نیوٹن جیسے عظیم انسان کی ایجاد کی طرف توجہ نہیں دی ۔ تو اس پر ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے کہ آٹھویں صدی عیسوی کے آغاز میں جعفر صادق کے علمی مطالب کی جانب کیوں توجہ نہیں دی گئی لیکن انگلستان کے کوچہ و بازار کے عام لوگوں اور امام محمد باقر کے حلقہ درس میں حاضر ہونیوالوں میں فرق موجود تھا لندن کے عام لوگوں اور انگلستان کے عام شہریوں کیلئے علمی مسائل بے وقعت تھے وہ لوگ جو محمد باقر کے حلقہ درس میں حاضر ہوتے تھے ۔ ان کا شمار اہل علم حضرات میں ہوتا تھا انہیں جعفر صادق کے مطالب کے بارے میں بے اعتنائی نہیں برتنی چاہیے تھی ۔

اگر اس وقت تک خود انہیں یہ سمجھ نہیں آیا تھا کہ زمین کے اطراف میں سورج کی گردش اس ترتیب سے ناممکن ہے تو جب امام جعفر صادق نے ان کو آگاہ کر دیا تھا کہ اس موجودہ ترتیب کے ساتھ سورج کی زمین کے اطراف میں گردش قابل قبول نہیں ہے تو انہیں امام جعفر صادق کی وضاحت کو قبول کرکے اس نظریہ کو رد کر دینا چاہیے تھا اور دن رات کی تبدیلی کیلئے کوئی اور وجہ تلاش کرنا چاہیے تھی لیکن ان کی علمی سوچ اس قدر محدود تھی کہ انہوں نے ایک گھنٹہ تک بھی امام جعفر صادق کے ساتھ اس مسئلے پر تبادلہ خیال نہ کیا ۔

امام محمد باقر کے تمام شاگردوں میں جعفر صادق کی علمی استعداد بلند ہونے کے باوجود محض کمسن ہونے کے باعث کسی نے ان کی طرف توجہ نہ دی ۔ محمد باقر کے شاگردوں نے اس گیارہ سالہ لڑکے کی گفتگو کو پچپن کی گفتگو کا ایک حصہ سمجھا ۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں بچے جب بچپن کے ابتدائی سال گزار کر ساتویں یا آٹھویں سال میں ہوتے ہیں تو ان کی قوت حس میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہر چیز کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں اور والدین سے ہمیشہ چیزوں کے اسباب اور حالات کے متعلق خصوصی سوالات کرتے رہتے ہیں اور بعض بچے تو اس طرح لگاتار سوال کرتے ہیں کہ ان کے والدین تنگ آ جاتے ہیں عمر کے اس مرحلے میں بچہ چاہتا ہے کہ وہ بالغ لوگوں سے زیادہ ہر چیز کے بارے میں جان لے اور تمام چیزوں اور حالات کے اسباب معلوم کرے اگر والدین نے اس بچے کو مطمئن کر لیا تو وہ خاموش ہو جاتا ہے ا ور مزید سوالات نہیں کرتا ۔

جعفر صادق کے منطقی بیانات ان کے والد گرامی کے شاگردوں کی نظر میں بچگانہ سوالات ہوتے تھے جو وسوسوں کی پیدوار ہیں اور اس کے بعد ہر مرتبہ جعفر صادق جب سورج کی زمین کے گرد عدم گردش کا مسئلہ پیش کرتے تھے تو وہ اپنے والد کے شاگردوں کی عدم توجہی کا شکار ہو جاتے تھے ۔

آپ کہتے اس کرہ آسمانی میں بتایا گیا ہے کہ سورج زمین کے اطراف میں ایک دائرہ میں جس میں بارہ برج ہیں گردش کر رہا ہے اور اگر اس بات کو مان لیں کہ سورج زمین کے ارد گرد دن و رات میں ایک دفعہ چکر لگاتا ہے تو لازمی ہے کہ ایک سال وہ زمین کے اطراف میں بروج کے احاطہ میں گردش نہ کرے اور میں یہ کہتا ہوں کہ ان دو میں سے ایک حرکت عقلی لحاظ سے قابل قبول نہیں ہے ۔

سورج اگر سال میں ایک بار بروج کے احاطہ میں زمین کے ارد گر د چکر لگاتا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ دن و رات میں ایک دفعہ زمین کے ارد گرد چکر نہیں لگا سکتا اور جب کبھی دن و رات میں ایک دفعہ زمین کے اطراف میں چکر لگائے تو لازمی بات ہے کہ ہر سال میں ایک بار بروج کے احاطے میں زمین کے اطراف میں چکر نہیں لگا سکتا ۔

یہ منطقی نظریہ جسے آج ہر خاص و عام قبول کرتے ہیں محمد باقر کے حلقہ درس میں حاضر ہونے والے شاگردوں کیلئے قابل قبول نہ تھا ۔ اور اسے وہ طفلانہ خیال سمجھتے تھے ۔ لیکن اگر کوئی بالغ اور کامل انسان بھی اس نظریہ کو پیش کرتا تو پھر بھی یہ محال تھا کہ وہ اسے قبول کر لیتے ۔ کیونکہ کو پر نیک پولینڈی نے جب سہولویں صدی میں جعفر صادق کے یہی الفاظ دہرائے تو کسی نے اس کے قول کو قبول نہ کیا ۔

اگر کوپر نیک فرانس یا جرمنی یا اسپانیا میں سے ایک ملک میں ہوتا تو ضرور عقیدہ کے بارے میں تفتیش کرنے والی تنظیم کے ہاتھوں گرفتار ہو جاتا اس تنظیم کا سربارہ ایک بے رحم اورمتعصب شخص تھا ۔ جس کا نام نور کماوا تھا ۔ وہ معمولی باتوں پر بھی عیسائیوں کو جیل بھیج دیتا تھا اور انہیں شکنجہ دیتا تھا تاکہ وہ ارتکاب جرم کریں اور اس کے بعد انہیں سزا دیتا تھا ۔

لیکن پولیند کا ملک اس تنظیم کی دسترس سے باہر تھا اسی لئے جب کو پرنیک نے کہا کہ زمین اور دوسرے سیارے سورج کے گرد گردش کرتے ہیں تو اسے کسی نے کچھ نہ کہا ۔

یہ وہی تنظیم ہے جس نے گیلیلیو کو توبہ و استغفار پر مجبور کیا تھا جس نے کہا تھا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ گیلیلیو وہ پہلا انسان ہے جس نے کہا زمین سورج کے اردگرد گھومتی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ کوپرنیک ہے ۔ گیلیلیو نے اپنی ایجاد کرنے کے ساتھ یہ کہا تھا کہ میں کوپر نیک کی تائید کرتا ہوں اور کہا میرے نجومی مشاہدات اور میری ٹیلی سکوپ نے مجھ پر ثابت کر دیا ہے کہ کوپر نیک کا نظریہ درست ہے اور زمین و سیارات سورج کے گرد گھومتے ہیں ۔

لیکن وہ یہ بات بھول گیا تھا کہ وہ ایک ایسے ملک میں رہ رہا ہے جہاں عقیدہ کی تفتیشی تنظیم کا اقتدار ہے اور اگر چند سیاسی لوگ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے اس کی سفارش نہ کرتے تو وہ زندگی آگ میں ڈال دیا جاتا اس کے باوجود کہ سیاسی وڈیروں نے اس کی سفارش بھی کر دی تھی پھر بھی اسے کہا گیا کہ زمین کی گردش کے بارے میں اپنے الفاظ واپس لے ۔

اور گیلیلو کا توبہ نامہ بھی ثابت کرتا ہے کہ اس نے خود یہ نظریہ اختراع نہیں کیا تھا بلکہ کوپر نیک کی نقل کی تھی ۔

امام باقر اور ولید کی ملاقات

اس میں تردید کی کوئی گنجائش نہیں کہ ۹۱ ہجری میں (جب پہلا آسمانی کرہ مصر سے مدینہ لا کر محمد باقر کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا ) اس کیفیت سے زیادہ آزاد علمی حالت قرون وسطی میں یورپی یونیورسٹیوں میں تھی بلکہ قرون اول اور دوم علمی احیاء کے ادوار تھے چونکہ امام جعفر صادق نے اس سال سورج کی زمین کے گرد گردش پر تنقید کی اور کہا جاتا ہے کہ یورپی یونیورسٹیوں کے طلباء علمی احیاء کی پہلی اور دوسری صدی میں سورج کی زمین کے گرد گردش کے نظریئے پر تنقید نہ کر سکے ۔ صحیح نہیں ہے مجموعی طور پر اسلام میں علمی نظریات کے بارے میں یورپ کی نسبت اظہار خیال کی زیادہ آزادی ہے اگر چہ یہ علمی نظریات مذہب سے بھی مربوط ہوتے تھے اور حتی کہ نظریاتی نقطہ نگاہ سے عباسیوں کا دور حکومت ظالم ترین دور شمار ہوتا ہے پھر بھی اس دور میں ایک اسلامی دانشمند یورپ کی نسبت زیادہ آزادی سے اظہار خیال کر سکتا تھا ۔

بعض نظریاتی مباحث کے بارے میں عباسی خلفاء کی سختی مثلا قرآن کے مسئلہ قدمت اور حدوث کے بارے میں اظہار خیال پر ان کی پابندی اس لئے تھی کہ انہیں اپنی حکومت کے کھو جانے کا ڈر ہوتا تھا ۔ مگر ہر اس علمی بحث پر پابندی نہ تھی جس سے وہ نہیں ڈرتے تھے ۔ اور انہیں اندیشہ نہ ہوتا تھا کہ وہ علمی بحث انہیں نقصان پہنچائے گی ۔

اسکے بارے میں انہوں نے علماء کو اظہار خیال کی آزادی دی ہوئی تھی جو کچھ جعفر صادق نے زمین اور سورج کے بارے میں فرمایا تھا (اور علانیہ زبان پر لائے تھے ) اگر یورپ میں زبان پر لاتے تو اس کا فوری نتیجہ یہ ہوتا کہ آپ کو کافر قرار دیکر آپ کا بائیکاٹ کر دیا جاتا اگر کوئی تیرھیوں صدی کے آغاز کے بعد ایسا اظہار خیال کرتا تو کافر قرار دینے کے علاوہ اسے آگ میں بھی ڈالتے تھے اور اگر تیرھیوں صدی سے پہلے اس نظریہ کو یورپ میں پیش کرتا تو مذہبی علماء کی کمٹی ورون کے وضع کردہ قانون کے مطابق جو ۱۱۸۳ ء میں بنایا گیا تھا اس کا سر تن سے جدا کر دیا جاتا تھا ۔عیسائی پوپ جرجیس نہم جس نے ۱۲۳۳ ء میں عقیدے کی چھان بین کی کمیٹی تشکیل دی تھی اور اس کے بعد مرید مصنفین کو جلانے کا کام شروع ہو گیا تھا ۔ اور یہ تنظیم (ایکریسیوں ) خصوصا یونیورسٹیوں میں پوچھ گچھ کرتی تھی اس استاد کی شامت آ جاتی تھی جو کسی جلسے میں ایسا تنقیدی درس پڑھا دیتا جو رواج کے خلاف ہوتا اور اس طالب علم کی بھی شامت آ جاتی جو درس کے دوران رواج کے خلاف تنقیدی سوال اٹھاتا ۔

اور پھر بغیر کسی حیل و حجت کے اسے گرفتار کر لیتے اور اس تنظیم کی کسی ایک جیل میں بھیج دیتے حتی کہ اس کی باری آنے پر اسے سزا دی جاتی یہ تنظیم ۱۸۰۸ ء میں نپولین اول بادشاہ فرانس نے ختم کیا ور جب نپولین کی حکومت ختم ہوئی تو دوبارہ یہ تنظیم ۱۸۱۴ ء میں سپین میں تشکیل دے دی گئی اور ۱۸۳۴ ء تک قائم رہی ۔ لیکن اسکے بعد اس کی تشکیل نہیں ہوئی ۔

یورپ کی علمی جہالت اور اسی زمانے میں اسلامی ممالک کی علمی ترقی کا اصل سبب یہ تھا کہ یورپ میں اہل علم حضرات کو علمی نظریات کے اظہار کی آزادی نہ تھی جبکہ اسلامی ممالک میں علمی نظریات کے اظہار خیال کی مکمل آزادی تھی اس کے باوجود کہ مشرق سے علم کی روشنی یورپ تک پہنچ رہی تھی مگر اتنی نہ تھی کہ ایک مختصر عرصہ تک یورپ کی تاریکی پر غلبہ پا لیتی ۔

یورپ میں اس قدر علمی تاریکی چھائی ہوئی تھی کہ مشرق کی روشنی صرف اس کے کچھ حصے یعنی صرف علم طب کو منور کر سکی اور یورپ میں طب کا ماہر کوئی بھی ایسا شخص نہ تھا جس نے از جوزہ ابن سینا کا نام لاطینی زبان میں نہ سنا ہو لیکن مشرق کی سر زمین سے ادب و ہیت وارد کرنے کی اجازت نہ تھی کیونکہ مشرق کی سر زمین میں مسلمان شعرا ایسے شعر پڑھتے تھے جنہیں عقیدے کے بارے میں تفتیش کرنے والی تنظیم یورپی ممالک میں چھپنے کی اجازت نہیں دے سکتی تھی کیونکہ اس طرح یورپی شعرا بھی ان کی تقلید کرنے لگتے یہ اشعار یورپی قوموں کو بیدار کرتے تھے مشرقی علماء کا وفد بھی یورپ نہ گیا کیوں کہ عقائد کی تفتیش کرنے والی تنظیم چاہتی تھی کہ یورپی یونیورسٹیاں مشرقی علماء کے وفد سے معلومات حاصل کریں ۔

جیسا کہ ہم نے کہا ۹۱ ھ میں جعفر صادق کو دو نئے واقعات پیش آئے پہلا واقعہ یہ تھا کہ ان کے والد گرامی کیلئے آسمانی کرہ لایا گیا اور پہلی مرتبہ جعفر صادق نے ایک آسمانی کرہ دیکھا اور ہم نے دیکھا کہ اس کا نتیجہ کیا نکلا ؟

دوسرا واقعہ یہ تھا کہ ولید بن عبدالملک اموی خلیفہ دارالحکومت دمشق سے چلا اور چند شہروں کا معائنہ کرنے کے بعد مدینہ پہنچا ۔ وہ یورپی شان و شوکت چھوٹے روم ‘ بینرانس کے بادشاہ کی مانند سفر کرتا تھا اور اس کے ہمراہ خلیفہ کے درباری لوگوں کے بھی چند دستے ہوتے تھے تاکہ خلیفہ کے آرام اور خاطر تواضع میں ذرا بھی فرق نہ آئے ۔ عمر بن عبدالعزیز ‘ حاکم مدینہ تقریبا ایک سو اسی کلو میٹر تک اس کے استقبال سے پہلے خلیفہ کے قیام کیلئے ایک بہترین گھر منتخب کیا اور چونکہ اسے علم تھا کہ ایک وفد بھی خلیفہ کے ہمراہ ہو گا تو ان کی مہمان نوازی کیلئے بھی گھروں کا تعین کیا ۔

خلیفہ مدینہ میں داخل ہوا اور اطلاع عام دی گئی کہ کل عام ملاقات کا دن ہے جو کوئی بھی ولید بن عبدالملک سے ملناچاہے گا ۔ بادشاہ اس سے ملاقات کرے گا ۔

عمر بن عبدالعزیز جانتا تھا کہ امام محمد باقر ولید بن عبدالملک کی ملاقات کیلئے نہیں جائیں گے اور ممکن ہے اس وجہ سے محمد باقر زیر عتاب آ جائیں ۔ لہذا وہ محمد باقر کے پاس گیا اور ان سے کہا کیا آپ ولید سے ملنے جائیں گے ؟ محمد باقر نے نفی میں جواب دیا ۔ عمر بن عبد العزیز نے نہ پوچھا کہ کیوں اسے ملنے نہیں جاتے ۔ ؟ کیوں کہ یہ سوال اتنا ضروری نہ تھا اور حاکم مدینہ جانتا تھا کہ محمد باقر ولید کو خلیفہ نہیں سمجھتے کجا یہ کہ وہ اسے ملنے جاتے ۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا اس شہر کی آپ سے اتنی نسبت ہے کہ اسے آپ کا گھر کہا جا سکتا ہے اور گویا ولید بن عبدالملک آپ کے گھر آیا ہے کچھ بھی ہو آخر وہ ایک مسلمان ہے اور اگر فرض کریں ایک کافر آپ کے گھر بطور مہمان آئے تو کیا آپ اس کا احترام نہیں کریں گے ۔

محمد باقر نے فرمایا ایک مہمان کے میرے گھر آنے اور ولید کے آنے میں فرق ہے ولید نے اپنے آپ کو خلیفہ قرار دیا ہے وہ گھر کے مالک کی مانند اس شہر میں آیا ہے ۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا ۔ مجھے علم ہے آپ کیوں اس سے ملنے نہیں جاتے آپ کا خیال ہے کہ جب آپ ولید سے ملنے جائیں گے تو لوگوں کے ذہن میں یہ بات آئے گی کہ آپ نے ولید کی بیعت کر لی ہے ۔

محمد باقر نے حاکم مدینہ کی تصدیق کی عمر بن عبدالعزیز نے کہا آپ کے اجداد میں سے ایک نے ‘ میں یہ نہیں کہتا کہ اپنی رضا مندی سے بلکہ مسلمانوں کی مصلحت کے پیش نظر ایک اموی خلیفہ سے صلح کی اور کسی نے بھی نہ کہا کہ انہوں نے اس خلیفہ کی بیعت کر لی تھی اور آپ بھی ولید سے ملنے جائیں گے تو کوئی یہ نہیں کہے گا کہ آپ نے اس کی بیعت کر لی ہے ۔ محمد باقر نے فرمایا میں اس سے ملنے کیلئے نہ جانے کو ترجیح دیتا ہوں ۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا اگر آپ اسے دیکھنے نہیں جائیں گے تو پتہ ہے میرے لئے کیا مصیبت کھڑی ہوگی ؟

حاکم مدینہ نے کہا ولید کو یہ علم ہے کہ میں آپ اور آپ کے خاندان کا عقیدت مند ہوں اور آپ سے عرض کر دوں کہ ولید کے پاس اطلاعات حاصل کرنے کیلئے ایک خفیہ مشینری ہے یہ مشینری معاویہ کے زمانے سے چلی آ رہی ہے اور جو کوئی بھی اموی خلیفہ آیا اس نے اس مشینری سے فائدہ اٹھایا اس مشینری کے افسروں نے ضرور خلیفہ کو بتایا ہو گا کہ میں آپ کا عقیدت مند ہوں اور اگر آپ ولید سے ملنے نہیں جائیں گے تو وہ مجھ پر غضب ناک ہو گا اور کہے گا اگر تم اس کی عقیدت مندی کا اظہار نہ کرتے تو ہر گز وہ اتنا مغرور نہ ہو تا کہ آج وہ مجھے ملنے بھی نہیں آیا اور اس طرح وہ مجھے مدینہ کی گورنری سے معزول کر دے گا ۔

محمد باقر نے جواب دیا میں مغرور نہیں ہوں صرف جی نہیں چاہتا کہ میں ولید سے ملاقات کرنے جاؤں لیکن تمہاری ان باتوں کے بعد میں راضی ہوں اور کل اس سے مل لوں گا ۔ عمر بن عبدالعزیز خوش ہوا اور کہا کیا میں خلیفہ کو جا کر بتا سکتا ہوں کہ آپ کل اس سے ملنے جائیں گے ؟

محمد باقر نے جواب دیا ہاں ! دوسرے دن محمد باقر ولید سے ملاقات کرنے چلے گئے جس وقت آپ داخل ہوئے ولید اٹھ کھڑا ہوا ۔ اور اپنے برابر بٹھایا عرب ان لوگوں کا بے حد احترام کرتے تھے جو بلا واسطہ کسی بڑے قبیلے کے سربراہ ہوتے تھے اور اسی طرح محمد باقر نہ صرف یہ کہ اپنے قبیلے کے سربراہ تھے بلکہ ولید کی نظروں میں ایک عظیم عالم بھی تھے ۔ اور اموی خلیفہ ان کے علمی مقام کی وجہ سے بھی ان کا احترام کرتا تھا ۔ بنی امیہ کی نسل کے اکثر خلفاء اگرچہ باطن میں علم سے لگاؤں نہیں رکھتے تھے مگر پھر بھی ظاہری طور پر وہ علماء سے اپنی عقیدت مندی کا اظہار کرتے تھے ۔

اس دن امام محمد باقر اور اموی خلیفہ کے درمیان عام مسائل کے علاوہ کسی خاص مسئلہ پر گفتگو نہ ہوئی اور اگر دو آدمیوں کے گفتگو کرنے کیلئے کوئی خاص موضوع نہ ہو یا وہ کسی مصلحت کے تحت آپس میں گفتگو نہ کرنا چاہتے ہوں تو وہ روز مرہ کے عام مسائل کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں اور عموما ان کی گفتگو آب و ہوا اور زرعی پیدوار کے متعلق ہوتی ہے ۔

ولید بن عبدالملک نے چاہا کہ کوئی بات کرے تو اس نے بات کا آغاز مدینہ کی زرعی پیدوار سے کیا چونکہ اس سال بارش بر وقت ہوئی تھی مدینہ کے کسانوں کو علم تھا کہ اچھی پیدوار ہو گی لہذا محمد باقر نے بھی یہی جواب دیا ۔

ولید نے محمد باقر سے ان کی جائیداد کے بارے میں سوال کیا کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ معلوم کرے وہ کتنی جائیداد کے مالک ہیں ۔ انہوں نے جوابا فرمایا ‘ ان کی ملکیت ایک قطعہ اراضی ہے جو محض ان کے کنبہ کی کفالت کرتا ہے اس سے اضافی پیدوار نہیں ہوتی جسے فروخت کیا جا سکے ۔

ولید نے کہا اگر آپ چاہتے ہوں تو جس جگہ بھی آپ کہتے ہیں مدینہ میں یا اس کے باہر آپ کو اتنی جائیداد الاٹ کر دیتا ہوں جو آپ کیلئے بھی کافی ہو اور بعد میں آپ کی آئندہ نسل بھی اس سے مستفید ہو ۔

امام محمد باقر نے فرمایا اگر میرے بیٹے زندہ رہے تو وہ کام کریں گے اور اپنی روزی خود پیدا کریں گے اور میرے خاندان کیلئے یہ قطعہ اراضی کافی ہے اگرچہ اس سے کوئی زیادہ پیدوار نہیں ہوتی مگر میرے زیر کفالت افراد بھوکے نہیں رہتے امام محمد باقر نے اس گفت و شنید کے بعد ولید کو خدا حافظ کہا اور اٹھ کر چلے گئے ۔

اموی خلیفہ کا مدینے آنے کا بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ یہ دیکھے کہ اس کے مدینے کی مسجد میں توسیع کے حکم پر کس طرح عمل ہوا ہے ؟ اس موقع پر محمد باقر روز مرہ کے مطابق مسجد میں درس پڑھانے میں مشغول تھے (کیونکہ صرف جمعہ کے دن تعطیل ہوتی تھی ) اور جعفر صادق بھی اپنے باپ کے حلقہ درس میں حاضر تھے جب خلیفہ مسجد میں داخل ہوا تو اس نے اس کی توسیع پر اطمینان کا اظہار کیا اور پھر مسجد کے اس حصے کی طرف چلا جس پر چھت پڑی ہوئی تھی اور جہاں اس وقت محمد باقر درس پڑھا رہے تھے ۔ سلسلہ درس ولید کے آنے پر منقطع ہو گیا لیکن اس نے محمد باقر سے عرض کی کہ درس پڑھانا جاری رکھیں اتفاق سے اس دن جغرافیا پڑھایا جا رہا تھا اور ولید کو اس علم کے بارے میں مطلق علم نہ تھا وہ استاد کی باتوں کو غور سے سنتا رہا اور آخر کار اپنی حیرت کو نہ چھپا سکا ۔ اس نے امام محمد باقر سے پوچھا یہ علم جو آپ پڑھا رہے ہیں کونسا علم ہے ؟

امام نے فرمایا یہ جغرافیا اور ہیت ہے ولید نے کہا یہ علم کس بارے میں بحث کرتا ہے ؟ محمد باقر نے فرمایا یہ زمین اور آسمانی ستاروں کے بارے میں بحث کرتا ہے ولید جس نے اس وقت تک جعفر صادق کو نہیں دیکھا تھا جس وقت اس کی نظر ان پر پڑی تو حاکم مدینہ سے پوچھا یہ لڑکا یہاں کیا کرتا ہے ؟

عمر بن عبدالعزیز نے کہا وہ محمد باقر کے فرزند ہیں اور دوسرے طالب علموں کی مانند یہاں درس پڑھتے ہیں ولید نے کہا یہ بچہ کس طرح اس حلقہ درس سے استفادہ کرتا ہے ؟ حاکم مدینہ نے کہا ۔ اس لڑکے کی علم حاصل کرنے کی استعداد ان تمام طالب علموں سے زیادہ ہے جو اس حلقہ درس میں شریک ہوتے ہیں ولید نے جعفر صادق کو اپنے پاس بلایا ‘ جب آپ قریب تشریف لائے تو ولید نے انہیں نہایت غور سے دیکھنے کے بعد کہا یہ تو ابھی لڑکا ہے یہ کسی طرح یہاں پڑھتا ہے ؟ عمر بن عبدالعزیز نے کہا بہتر یہ ہے کہ خلیفہ اس کا امتحان لے تاکہ اس کی سمجھ میں یہ بات آئے کہ یہ لڑکا علماء میں سے ہے خلیفہ نے امام سے پوچھا آپ کا نام کیا ہے ؟ آپ نے جواب دیا میرا نام جعفر ہے خلیفہ نے پوچھا ‘ جعفر کیا تم جانتے ہو کہ صاحب المنطق کون تھا ؟ جعفر صادق نے فورا جواب دیا "ارسطو" اور یہ لقب اس کے شاگردوں نے اس کو دیا تھا خلیفہ نے پوچھا کیا تم بتا سکتے ہو کہ صاحب المعز کون تھا ؟ جعفر صادق نے جواب دیا یہ کسی انسان کا نام نہیں بلکہ ستاروں کے ایک گروہ کا نام ہے جو عسک الاعنہ بھی کہلاتا ہے ۔

خلیفہ جو پہلے ہی حیرت زدہ ہو گیا تھا پوچھا کیا تمہیں معلوم ہے صاحب السواک کون تھا ؟ جعفر صادق نے فرمایا صاحب السواک ‘ عبداللہ بن مسعود کو کہا جاتا ہے جس کا کام میرے جد بزرگوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمات کا کچھ حصہ انجام دینا تھا ۔ولید بن عبدالملک نے چند دفعہ مرحبا کہا اور محمد باقر سے مخاطب ہوکر بولا آپ کا یہ لڑکا دنیا کے عظیم ترین دانشمندوں میں سے ایک ہوگا

ولیدبن عبدالملک کا خیال امام جعفر صادق کے بارے میں درست ثابت ہوا اور وہ نہ صرف قابل دانشمند بلکہ اپنے زمانہ کے قابل ترین دانشمند کہلائے اور صاحب بن عباد جو ۳۸۵ ہجری قمر میں " رے " میں فوت ہوا ۔ جسے اصفہان میں دفن کیا گیا ہے نے کہا کہ بعد از رسول اسلام میں جعفر صادق سے بڑا دانشمند کوئی نہیں گزارا اور یہ نظریہ صاحب بن عباد کا ہے جس کے علم و فضل میں کسی کو شک و شبہ نہیں اور یہاں یہ بات اہم ہے کہ ایسا اتفاق کم ہوتا ہے کہ ایک عالم دوسرے عالم کو اپنے آپ سے افضل قرار دے ۔

صاحب بن عباد کے بارے میں دو شبہات پائے جاتے ہیں جن کی درستی ہونی چاہیے پہلی یہ کہ اسے عرب خیال کیا جاتا ہے حالانکہ وہ ایک ایرانی الاصل ہے اور طالقان قزوین میں پیدا ہوا ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی ا ور بعد میں " رے " گیا اور مزید تعلیم جاری رکھی ہمارا مقصد یہاں صاحب بن عبادکی زندگی کے حالات بیان کرنا نہیں ہے کیونکہ وہ ایک مشہور سیاستدان اور دانشمند انسان ہو گزارا ہے بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ اس کے بارے میں دو شبہات کی درستی کی جائے ۔ چونکہ صاحب بن عباد نے اپنی کتابیں عربی میں لکھیں ۔ کیونکہ قدیم زمانے میں ایرانی دانشمند اپنی کتابیں عربی میں لکھتے تھے ۔ صاحب بن عباد فارسی کا ماہر تھا کیونکہ وہ آل بو یہ شہنشاہوں کی وزارت سنبھالنے کے علاوہ شعر بھی کہتا تھا جو کوئی بھی اس کے شعر پڑھے وہ بخوبی اس بات کو درک کر سکتا ہے صاحب بن عباد فارسی زبان پر پوری دسترس رکھا تھا ۔

اس کے متعلق دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ کہا جاتا ہے وہ سنی العقیدہ مسلمان تھا جبکہ وہ یقینا شیعہ تھا اور اس کے شیعہ ہونے کی دلیل علی ابن ابی طالب کے خاندان اور امام موسی کاظم اور علی بن موسی رضا سے اس کی عقیدت تھاا ور ان سب سے زیادہ وہ جعفر صادق سے عقیدت رکھتا تھا اس دلیل کے علاوہ اسکا شیعہ ہونا قرینے سے بھی ثابت ہے حالانکہ دلائل دینے کے بعد قرینے سے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ کسی عنوان کو ثابت کرنے کیلئے دلیل قرینے سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے ۔

جیسا کہ ہم کہتے ہیں قرینے سے پتہ چلتا ہے صاحب بن عباد شیعہ تھا وہ قرینہ یہ ہے کہ وہ آل بویہ بادشاہوں کا وزیر تھا اور آل بویہ سلسلہ کے بادشاہ شیعہ المذہب تھے اور کسی حد تک آل بویہ کے دور میں شیعہ مذہب کے پھیلنے کی وجہ سے صاحب بن عباد کا شیعہ ہونا ہے اور وہ ایرانی محقیقین جنہوں نے صاحب بن عباد کو جعفر صادق کے عقیدت مندوں میں شمار کیا ہے اور شیعہ اثناء عشری سمجھا ہے ان میں سے ان لوگوں کے نام لئے جا سکتے ہیں ۔

محمد بن علی بن حسین بن موسی بن بابویہ قمی جو شیخ صدوق کے لقب سے معروف ہوئے اور جو شیعوں کی چار بڑی ‘ کلاسیکل کتابوں میں سے ایک " من لا یحضرہ الفقیہہ " کے مصنف ہیں اور ان کا نظریہ اس لئے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ وہ موصوف کے ہم عرص تھے انہوں نے موصوف کو بہت قریب سے دیکھا تھا شیخ صدوق مبالغہ گو نہیں تھے اور خصوصا مذہب کے معاملے میں ان جیسا انسان حقیقت کے خلاف نہیں لکھتا ۔

شیخ بھائی عاملی جو صفوی دور کے مایہ ناز عالم تھے انہوں نے واصح طور پر صاحب بن عباد کو شیعہ اثنا عشری کہا ہے ۔

علامہ مجلسی جو صفوی دور کے عالم اور مشہور کتاب بحار الانوار کے مصنف ہیں بھی صاحب بن عباد کے شیعہ ہونے کے قائل ہیں ۔

تینوں اشخاص شیعوں کے نزدیک بہت قابل احترام ہیں اسی لئے ہم نے یہاں ان کا ذکر کیا ہے ورنہ بہت سے مورخین اور محقیقین ایسے ہیں جنہوں نے صاحب بن عباد کو شیعہ گردانا ہے ۔

اور ان اشعار کا ذکر بھی کیا ہے جو اس نے علی بن ابی طالب اور دوسرے ائمہ کی مدح میں کہے ہیں ان اشعار کو پڑھنے والا آسانی سے یہ بات سمجھ لیتا ہے کہ شیعہ کے علاوہ کوئی دوسرا شخص اس قسم کے اشعار نہیں کہہ سکتا ۔

ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے صاحب بن عباد کو سنی العقیدہ کہا ہے اور جس نے زور دے کر یہ کہا وہ ابو حیان توحیدی ہے جو صاحب بن عباد کا ہم عصر تھا اور عربی زبان میں شعر کہتا تھا ایک عرصے تک صاحب بن عباد کے گھر میں بطور مہمان بھی رہا اس کیلئے کتابت کے فرائض انجام دیتا تھا لیکن آل بویہ بادشاہوں کے سینئر وزیر سے دوسرے شعراء کی مانند کوئی بڑا انعام حاصل نہ کر سکا ابو حیان توحیدی کتاب کے ذریعے بغداد میں روزی کماتا تھا پھر اس نے اس جگہ کو چھوڑا اور (رے) چلا گیا تاکہ صاحب بن عباد کے نعمت کدہ سے فائدہ اٹھائے اس سینئر وزیر نے اسے اپنے گھر میں جگہ دی اور ایک کتاب اس کے حوالے کی تاکہ وہ اس سے ایک دوسری کتاب نقل کے ذریعے تیار کرے ۔

دو ہفتے بعد ابو حیان توحیدی نے صاحب بن عباد کو خط لکھا اور کہا اگر میں کتابت ہی کے ذریعے روزی کمانا چاہتا تو مجھے یہاں " رے " آنے کی کیا ضرورت تھی میں تو بغداد میں یہ کام کر رہا تھا میں اس لئے یہاں آیا ہوں کہ تمہارے نعمت کدے سے استفادہ کروں اور کتابت کے ذریعے کمانے پر مجبور نہ ہو جاؤں ۔

صاحب بن عباد خط پا کر ناراض ہو گیا کیونکہ اس نے ابو حیان توحیدی کے خط کو کفران نعمت سمجھا اور اپنے ملازمین کو حکم دیا اس شاعر کو گھر سے نکال دیں جب کہ اوسطا تقریبا پانسو آدمی صاحب بن عباد کے گھر میں کھانا کھاتے تھے اس کے بعد ابو حیان جب تک زندہ رہا صاحب بن عباد کی زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی اس کی برائی بیان کرتا رہا اور اس کی ہجو کہتا رہا لیکن اس شخص کی صاحب بن عباد کے بارے میں یہ ہر زہ سرائی کسی اہمیت کی حامل نہیں البتہ صاحب بن عباد نے جو کچھ جعفر صادق کے بارے میں کہا ہے وہ خاصی اہمیت کا حامل ہے ۔

کیونکہ وہ ایک فاضل ‘ محقق اور اہل مطالعہ انسان تھا " رے " میں اس کی لائبریری ایک لاکھ سے زیادہ کتابوں پر مشتمل تھی جو خاصی اہم تھی جس زمانے میں صاحب بن عباد وزیر تھا آل بویہ سلاطین کے علاوہ عباسی خلفاء فاطمی خلفاء ‘ ساسانی بادشاہوں ‘ غزنوی بادشاہوں کا دور تھا صاحب بن عباد ان میں کچھ کے دربار سے وابستہ رہا لیکن دوسروں کی سیاست سے بھی آگاہ تھا ۔

اگر ہم یہ کہیں کہ صاحب بن عباد اپنی وزارت اور زندگی کے دوران کتنے ہم عصر بادشاہوں اور خلفاء کے ساتھ رہا اور ان میں سے کتنے افراد کے ساتھ رہا تو ہمیں پچاس سے بھی زیادہ بادشاہوں اور خلفاء کا ذکر کرنا پڑے گا لیکن یہاں ہم صرف ان امراء اور سلاطین کا نام لیتے ہیں جو آل بویہ سلسلہ سے تھے اور صاحب بن عباد ان میں سے بعض کا وزیر رہا ان کے نام یہ ہیں شرف الدولہ ‘ بہاالدولہ ‘ صمصام الدولہ ‘ موید الدولہ ‘ عضد الدولہ ‘ عزالدولہ ‘ معزالدولہ ‘ رکن الدولہ اور عماد الدولہ ۔ ایک انسان جو اتنے زیادہ بادشاہوں اور خلفاء کے ہمراہ رہا ہو یا ان سے وابستہ رہا ہو وہ سیاسی میدان میں کتنا ماہر ہو جاتا ہے اور جو شخص ہر وقت دانشوروں اور ادیبوں کے ساتھ رہا ہو وہ کس قدر علم و فضل میں بلند یہ ہو جاتا ہے اسی طرح صاحب بن عباد بھی تھا ایک ایسے شخص نے جعفر صادق کو پیغمبر اسلام کے بعد اس وقت تک کا سب سے بڑا اسلامی دانشمند کہا ہے ۔

محمد باقر کے حلقہ درس میں علم طب کی تدریس کے بارے میں دو مثبت اور منفی روایات ملتی ہیں بعض کہتے ہیں کہ وہاں علم طب کی تدریس ہوتی تھی اور بعض نے وہاں علم طب پڑھائے جانے کا انکار کیا ہے لیکن تردید کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ جب امام جعفر صادق نے خود درس پڑھانا شروع کیا تو وہ علم طب پڑھاتے تھے ان کے علمی نظریات نے طب پر کافی اثر ڈالا اور دوسری و تیسری صدی ہجری کے اطباء صاحبان نے ان کے علمی طبی نظریات سے استفادہ کیا جعفر صادق کے طبی نظریات میں سے ایک یہ تھا کہ بعض اوقات ظاہری جسمانی علامتوں سے پتہ چلتا ہے کہ بیمار فوت ہو گیا ہے جب کہ وہ زندہ ہوتا ہے اور اگر ذرا سی خراش اس کے جسم پر لگائی جائے تاکہ تھوڑا خون اس کے جسم سے جاری ہو خصوصا اس کے ہاتھ کی دو انگلیوں کے درمیان خراش لگائی جائی تو شاید وہ زندہ ہو جائے یہ نظریہ دوسری صدی ہجری میں مورخین کے نزدیک سچا ثابت ہوا ہے یہ تجربہ خلیفہ عباسی ہارون الرشید کے چجا زاد بھائی پر کیا گیا تھا ہارون الرشید دو پہر کے کھانے پر بیٹھا تھا اسے ا طلاع دی گئی کہ اس کا طبیب فتیشوع آگیا ہے جبرائیل فتیشوع نے کہا میں اس لئے آیا ہوں تاکہ تمہیں اطلاع دوں کہ تمہارے چچا زاد بھائی براہیم بن صالح کی حالت خراب ہے اور آج رات وہ چل بسے گا اور جس وقت میں تمہارے چچا زاد بھائی کے گھر سے نکل رہا تھا تو ابن بہلہ (ہندوستانی طبیب )داخل ہورہا تھا ہارون رشید نے کہا میں نے دو مرتبہ تمہیں بلوایا لیکن تم نہیں تھے کو چچا زاد بھائی کی عیادت کیلئے بھیج دیا ۔

ابن بہلہ ہندوستانی ایک ڈاکٹر تھا اور فتیشوع کا رقیب تھا اس کی خواہش تھی کہ ہارون الرشید کے ہان وہی مقام حاصل کرے جو فتیشوع کا ہے لیکن اسے کامیابی نہیں ہو رہی تھی جب ہارون الرشید نے فتیشوع کی زبانی سنا کہ اس کا چچا زاد آج رات چل بسے گا تو وہ کھانا کھا رہا تھا اس قدر غمگین ہوا کہ مزید روٹی نہ کھا سکا اور حکم دیا کہ دستر خوان اٹھا لیا جائے ایک گھنٹے کے بعد ابن بہلہ ہندوستانی داخل ہوا اور دیکھا کہ خلیفہ بہت پریشان ہے پوچھا پریشانی کا سبب کیا ہے

؟ خلیفہ نے کہا فتیشوع ابھی یہاں آیا تھا اور مجھے کہا گیا ہے کہ تمہارا چچا زاد بھائی آج رات چل بسے گا ابن بہلہ ہندوستانی نے کہا میں نے تمہارے چچا زاد کا نہایت غور سے معائنہ کیا ہے اور تجھے اطمینان دلاتا ہوں کہ وہ نہیں مرے گا ۔

ہارون الرشید نے کہا ۔ اے ابن بہلہ ! فتیشوع ایک ایسا ڈاکٹر ہے جسے ڈاکٹر ی وراثت میں ملی ہے اور علم طب میں عقل مند اور حاذق طبیب ہے کسی بیمار کے بارے میں اس کی رائے آخری ہوتی ہے ابن بہلہ نے کہا اے امیر المومنین مجھے ڈاکٹر ی وراثت میں نہیں ملی لیکن آپ سے یہ کہتا ہوں آپ کا چچا زاد نہیں مرے گا اس کا علاج معالجہ ہو گا ہارون الرشید نے کہا اگر میرا چچا زاد بھائی آج رات مر جائے تو تیرا کیا حشر کروں ابن بہلہ نے کہا اگر آپ کا چچا زاد بھائی آج رات مر جائے تو آپ کو حق حاصل ہے کہ میرا مال اور غلاموں کو ضبط کر لیں اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اپنی تمام بیویوں کو تین طلاق دوں گا کچھ درباری لوگوں نے دیکھا کہ ابن بہلہ کے کہنے نے اچھا اثر کیا اور عباسی خلیفہ جس نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لئے تھے دوبارہ حکم دیا اس کیلئے کھانا لائیں چند لقمے کھانے کے بعد شراب منگوائی اور دو جام پئے کیونکہ وہ چچا زاد کے زندہ بچ جانے کی خبر سے خوش تھا ۔

اچانک ایک قاصد خلیفہ کے محل میں داخل ہوا اور خبر دی کہ ابراہیم بن صالح بادشاہ کا چچا زاد بھائی فوت ہو گیا ہے جس وقت فتیشوع نے خلیفہ سے کہا تھا اس کے تھوڑی دیر بعد وہ اس دنیا سے کوچ کر گیا تھا ۔

جب ہارون الرشید نے اپنے چچا زاد بھائی کی موت کی خبر سنی تو گریبان چاک کرکے کہا افسوس میں نے چچا زاد کی موت کے موقع پر شراب پی اور خوشی منائی ہے ۔

درباریوں نے اسے تسلی دی اور اطمینان دلایا چونکہ اس وقت وہ نشے کی حالت میں تھا اسے جلد ہی نیند آ گئی اور صبح تک سوتا رہا ۔اس دن ہارون الرشید نے ماتمی لباس پہنا اور ابراہیم صالح کے گھر گیا اس زمانے کے رواج کے مطابق مردے کو غسل دینے اور اس کے بدن پر کافور ملنے کے بعد اسے کفن پہنا چکے تھے ابن بہلہ مردے کو غسل دینے کے موقع پر وہیں موجود تھا اور مردے کو نہایت غور سے دیکھ رہا تھا اور جب ہارون الرشید وہاں پہنچا وہ اس کے قریب ہو گیا جو نہی خلیفہ کی نظر اس ڈاکٹر پر پڑی اسے جھڑکا ۔ کیا تجھے یاد ہے کل تو نے کیا عہد کیا تھا ؟

ابن بہلہ نے کہا ہاں اے امیر المومنین لیکن آپ مالک ہیں میرے غلاموں کو مجھ سے نہ چھینئے عباسی خلیفہ نے جوابا کہا مجھے جھوٹے سے نفرت ہے اور میں اسے معاف نہیں کرتا ۔

ابن بہلہ نے کہا اے امیر المومنین میں آپ سے بخشش نہیں چاہتا یہ جو میں نے کہا کہ آپ مالک ہیں آپ میرے غلاموں کو مجھ سے نہ چھینئے اس لئے کہ اگر آپ ایسا کریں گے تو جلد بازی کریں گے کیونکہ آپ کا چچا زاد زندہ ہو گا ۔

خلیفہ نے پوچھا کیا مردہ کبھی زندہ ہوا ہے ؟

ابن بہلہ نے جواب دیا مردہ جو مکمل طور پر نہ مرا ہو زندہ ہوتا ہے اور چونکہ آپ کا چچا زاد مکمل طورپر نہیں مرا اس لئے دوبارہ زندہ ہو گا لیکن اگر وہ کفن میں اپنے آپ کو نیم برہنہ دیکھے گا اور کافور کی بو سونگھے گا تو خوف سے مر جائے گا تم حکم دو کہ کفن کو اس سے دور ہٹائیں اسے غسل دیں اور عام لباس پہنا کر بستر پر لٹائیں تاکہ میں اسے زندہ کروں ہارون الرشید نے حکم دیا کہ اسی ترتیب سے عمل کریں اور ابراہیم بن صالح کو بستر پر لٹا دیں اب ابن بہلہ نے ہاتھ میں تیز دھار والا چاقو لیا اور بائیں ہاتھ کی دو انگلیوں کے درمیان زخم لگایا جس سے خون جاری ہو گیا ہارون الرشید نے جو مردے کے بستر کے پاس ہی کھڑا تھا کہ خون جاری ہونے کے بعد مردے نے حرکت کی اور پھر آنکھ کھول کر ہارون الرشید کو پہچان کر دھیمی آواز میں کہا اے میرے چچا زاد خدا آپ کو اجر عنایت فرمائے کہ آپ میری عبادت کے لئے آئے ہیں ۔

الغرض ہم نے کہا ہمیں اس بارے میں کچھ علم نہیں کہ امام محمد باقر نے علم طب پڑھایا یا نہیں ؟

اور ان کے بیٹے نے ان کے حلقہ درس سے اس علم کو حاصل کیا یا نہیں لیکن اس میں تردید کی گنجائش نہیں ہے کہ خود امام جعفر صادق نے علم طب پڑھایا ہے اور اس علم میں ایسی چیزیں لائے ہیں جن سے پہلے مشرقی ڈاکٹر نا واقف تھے اور ہماری مراد مشرق سے عرب نہیں ہے کیونکہ عرب میں طب نہیں تھی بلکہ یہ اسلام کے بعد دوسری جگہوں سے عرب میں آگیا ۔

اگر ہم یہ بات مان لیں کہ جعفر صادق نے علم طب اپنے والد گرامی کے حضور میں پڑھی تھی تو یہ بات ضروری ہے کہ ان کے والد نے ضرور کسی جگہ سے اس علم کو سیکھا ہو گا اور یہ ہمیں معلوم نہیں کہ انہوں نے کہا سے سیکھا ؟ (عقیدہ علم امام وہبی ہوتا ہے )

کیا جس طرح علم جغرافیہ اور ہندسہ قبطیوں کے ذریعے مصر سے مدینہ آیا یا محمد باقر کے حلقہ درس میں شامل ہوا اسی طرح کہا جا سکتا ہے کہ علم طب بھی آپ کے درس میں شامل ہوا یا جعفر صادق نے علم طب کو ایرانیوں سے لیا ۔ اتفاقا طب جعفری میں بعض چیزیں ایسی ہیں جن میں ایرانی رنگ جھلکتا ہے اس بات سے یہ خیال آتا ہے کہ انہوں نے علم طب کو شاید ایرانیوں سے سیکھا ہے یا اس علم کا کچھ حصہ ایرانیوں سے اور کچھ حصہ قبطیوں سے اخذ کیا ہے جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ قدیم علم طب کسی ایک قوم سے مختص نہیں رہا بلکہ مصری‘ یونانی و ایرانی اس علم کی تکمیل میں شریک رہے ہیں اور وہ قوم جو قدیم علم طب کو حاصل کرتی تھی وہ اس علم میں تمام قوموں کی کاوشوں سے بہرہ مند ہوتی تھی قدیم اقوام میں عرب ایک ایسی قوم تھے جنہوں نے علم طب کی توسیع میں کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دیا تھا اور عربوں میں طب ایک ایسی قوم تھے جنہوں نے علم طب کی توسیع میں کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دیا تھا اور عربوں میں طب عام نہ تھی اور جہاں تک ہمیں علم ہے عرب میں اس علم کو پڑھانے والا کوئی نہ تھا کہ لوگ اس سے فیض یاب ہوتے وہ پہلا انسان جس نے علم طب پڑھانا شروع کیا وہ امام جعفر صادق یا ان کے والد گرامی امام محمد باقر تھے اسلام سے پہلے عرب بیمار ہوتے تو انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دیا جاتا تھا یا تو وہ بچ جاتے یا مر جاتے تھے ۔ (گو با قاعدہ طور پر علم طب کا رواج عربوں میں نہ تھا مگر طلوع اسلام کے ساتھ ہی اس علمی شعبہ کی جانب عہد نبوی میں ہی خصوصی توجہ دی جانے لگی تھی )

بدو عرب کم ہی بیمار ہوتے تھے اور چونکہ ان کی غذا اونٹ کا دودھ ہوتی تھی شاید اس لئے بیمار نہ ہوتے تھے کیونکہ اونٹنی کا دودھ جسم کو ضروری غذائی مواد مہیا کرتا ہے اور اس کے ساتھ نا مناسب غذا سے بدن میں رطوبت بھی نہیں پیدا ہوتی جیسا کہ آج ہمیں معلوم ہے بعض دائمی امراض میں سے کچھ ایسی ہیں جن کی وجہ سے موت واقع ہو جاتی ہے غذائی رطوبت جو بدن میں ہوتی ہے یوریا اور یورک ایسڈ اسی رطوبت کا ایک حصہ ہیں ۔

عرب بدو جس کی غذا اونٹ کا دودھ ہوتی تھی اس کے بدن میں رطوبت پیدا نہیں ہوتی تھی اور تمام عمر وہ مصفی ہوا میں سانس لیتا تھا عرب بدو جن بیماریوں سے بچپن میں مرتے تھے وہ جراثیموں سے پھیلنے والی بیماریاں ہوتی تھیں اور عرب میں بچوں کی بیماریاں کافی زیادہ تھیں جس کی وجہ سے شرح اموات اتنی بلند تھی کہ کرنل لارنس نے اپنی کتاب " عقل کے سات ستون " میں لکھا ہے جزیرةالعرب کی اٹھارویں صدی کے اواخر تک کی آبادی اور اسی علاقے کی صدر اسلام کے زمانے کی آبادی میں کوئی خاص فرق نہیں تھا اس دور میں جب اسلام کافی پھیل چکا تھا جزیر ة العرب کے بعض علاقوں میں آبادی کافی کم ہو چکی تھی ۔

بہر صورت اگر عرب بدو بچپن میں امراض سے بچ جاتا اور نہ مرتا تو بیمار نہ ہوتا تھا اس کی عمر کافی لمبی ہوتی تھی البتہ شہری عرب بیمار ہوتے تھے لیکن وہ ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتے تھے اور آج ہمیں معلوم ہے کہ ان کے بیمار ہونے کی وجہ ایک غذا ہوتی تھی جو بدن میں رطوبت پیدا کرتی تھی ۔

آج یہ بات مسلمہ نہیں ہے کہ کوئی بیمار ہو تو اس کے علاج کیلئے کسی ڈاکٹر کو نہ بلائیں یا اسے طبیب کے پاس نہ لے جائیں ۔

لیکن عرب میں ایسا ہی ہوتا تھا کہ نہ تو بیمار ڈاکٹر کے پاس جاتا نہ ہی کوئی اور اسے ڈاکٹر کے پاس لے جاتا اور نہ ڈاکٹر اس کے معائنہ کیلئے آتا ۔

علم طب کے عام قواعد تک ہر آدمی کی رسائی ہوتی تھی اور جو لوگ اسے سیکھنا یا سکھانا چاہتے تو وہ ایسا کر سکتے تھے ۔

لیکن بعض باتیں جو طب جعفری میں ملتی ہیں وہ اس سے پہلے نہیں تھیں ۔ اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جعفر صادق نے وہ قواعد خود اخذ کئے ہیں ۔

جیسا کہ ہمیں معلوم ہے امام جعفر صادق کا پیشہ طب نہیں تھا کہ ان قواعد کو مطب کے دوران اخذ کرتے لہذا خیال کیا جاتا ہے کہ ان قواعد کو کہیں سے سیکھا ہے اور اگر آپ نے ان قواعد کو والد کے حلقہ درس سے سیکھا ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کے والد نے ان قواعد کو کہاں سے سیکھا ہے ۔جیسا کہ ہم نے کہا جعفری طب میں بعض چیزیں ایسی ملتی ہیں جن سے ایرانی رنگ جھلکتا ہے اور اگر ہم اس بات کو تسلیم نہ کریں کہ امام جعفر صادق نے طب کو ایرانیوں سے سیکھا ہے پھر بھی یہ بات ماننا پڑے گی کہ اس کا کچھ حصہ ایرانیوں سے ان تک پہنچا ہے ۔

ساسانیوں کے دور میں علم طب کے لحاظ سے ایرانی تربیت یافتہ قوموں میں شمار ہوتے تھے اس زمانے میں ہر علم طب کا شوق اور استعداد رکھنے والا آدمی یہ علم نہیں سیکھ سکتا تھا اس لئے کہ ساسانیوں کے دور میں لوگوں کے ہرطبقے کی مخصوص ذمہ داریاں ہوتی تھیں اور ایک طبقہ کے لوگ دوسرے طبقہ کے لوگوں کے فرائض میں مداخلت نہیں کر سکتے تھے اور ایک طبقہ سے دوسرے طبقہ میں جانا اس قدر مشکل ہوتا تھا کہ بعض کیلئے یہ نا ممکن بات ہوتی تھی لیکن مذہبی رہنما اور منشی لوگ ڈاکٹر بن سکتے تھے ۔

ساسانیوں کے دور میں مانی کی تحریک کے اٹھنے کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہی لوگوں کے طبقاتی تقسیم اور ایک طبقہ کو دوسرے طبقے میں جانے کی ممانعت تھی ۔

مانی کا کہنا تھا کہ تمام لوگوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہونی چاہیے ۔ اور ساسانی بادشاہوں کا اس طرح لوگوں کو طبقات میں تقسیم کرکے تعلیم سے محروم رکھنا ظلم کے مترادف ہے اور بعض بادشاہ تو اس قدر ظلم کرتے تھے کہ کوئی دیہاتی طبقے کا آدمی اگر اپنے بیٹے کو تعلیم دلوانے پر توجہ دیتا تو اس کے قتل سے بھی دریغ نہ کیا جاتا تھا ۔

مانی قتل ہو گیا اور اس کے پیروکاروں کو بھی قتل کر دیا گیا اور ان میں سے بعض نے ایران سے چین کی طرف ہجرت کی اور تورخان کے علاقے میں جو چین کے شمال مغرب (ترکستان ) میں واقع ہے سکونت اختیار کر لیا ور ایک پرکشش ایرانی تمدن وجود میں لائے اور مانی کی تعلیمات کے مطابق مرد و عورتیں تعلیم حاصل کرنے لگیں اسی طرح علم طب بھی وہاں سکھایا جانے لگا ۔

تور خان کی طرف ہجرت کے بعد ایرانیوں نے ترکستان کے علاقے میں بھی اپنی زبان اور خط کو محفوظ رکھا اور جو کچھ وہ پڑھتے پڑھاتے وہ فارسی زبان اور خط ہی میں ہوتا تھا یعنی پہلوی سا سانی خط ہوتا تھا ۔

مانی کے پیروکار ایرانی تور خان میں علم طب ایران سے لے کر گئے انہوں نے خود اس علم کو ایجاد نہیں کیا تھا ۔

جو علم طب ایران میں سکھایا جاتا تھا اس کی کوئی کتاب اب باقی نہیں ہے لیکن وہ تاریخی دستاویزات جو تو ر خان سے ملی ہیں ان سے معلوم ہو سکتاہے کہ وہ علم طب جو اس ایرانی معاشرے میں جس میں ایرانی خط اور زبان محفوظ تھی کیسا تھا ؟ ان دستاویزات کی بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ علم طب ساسانیوں کے دور میں ایران میں رائج تھا اور ایرانی معاشرہ جو تور خان میں قائم تھا وہ ایرانی علم طب کو سکھاتا اور سیکھتا تھا ۔

مانی کے دور کی زبان اور خط تورخان کے علاقے میں دونوں محفوظ رہے اور ایرانی وہاں پر اصلی پہلوی خط لکھتے تھے جبکہ ایران میں پہلوی خط ہزاوارش میں تبدیل ہو گیا اور ہزاوارش کو آرامی لکھنے والون نے پہلوی زبان میں تبدیل کر دیا اور ہزاوارش اس طرح تھی کہ آرامی مصنفین آرامی میں کوئی کلمہ لکھتے لیکن پہلوی زبان میں پڑھتے تھے مثال کے طور پر آرامی زبان میں " اس " کو "کتل " کہتے تھے ا ور آرامی کاتب پہلوی ساسانی زبان میں "کتل "لکھتے اور " اس " پڑھتے تھے اس تلظ کی بنا پر پہلوی ساسانی زبان کا کچھ حصہ مستقل طور پر اسی ترتیب میں بند ہو گیا ۔ اور بعد کی نسلیں رسم الخط سے ان کلمات کے معنی سمجھیں ۔

لیکن رسم الخط کا یہ بڑا نقص ان ایرانیوں کے خط میں جو تور خان میں رہتے تھے پیدا نہ ہوا اور وہ آرامی کا تبین کی طرز ٹھونسے جانے سے محفوظ رہے ۔

یہ ہم پر ثابت ہو گیا ہے کہ ایک ایرانی معاشرہ جو تورخان میں وطن سے دور آباد تھا اور اس نے اپنی زبان اور خط کو محفوظ کیا ہوا تھا اور اس کے پاس علم طب کی کتاب بھی تھی ہم اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایران میں بھی طب کی کتابیں ہوں گی ۔

عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کہ گندی شاہ پو ر جتنی وسعت کا حامل علاقہ وہاں تو علم طب پڑھایا جاتا ہو لیکن ایران میں علم طب کی کتابیں نہ پائی جاتی ہوں ۔

جیسا کہ ہم نے کہا امام محمد باقر کے حلقہ درس میں شاگرد اپنی تختیوں پر سبق لکھ لیتے اور اس کے بعد اسے کاغذ پرا تار لیتے تھے اسی طرح بعید نہیں ہے کہ گندی شاہ پور میں بھی جہاں ایک میڈیکل کالج اور ہسپتال بھی تھا اسی طرح کی تدریس ہوتی ہو لیکن جب آپریشنز کئے جاتے تھے تو طالب علم لکھنے سے زیادہ دیکھنے پر توجہ دیتے تھے ۔

یہ بات سب کو معلوم ہے کہ یونانی حکماء کی کتابوں کا ایک حصہ ان کے شاگردوں نے لکھا وہ اس طرح کہ حکماء لیکچرز دیتے اور شاگرد ان کے لیکچرز کو تختی پر لکھ لیتاا ور بعد میں اسے کاغذ پر محفوظ کر لیتے تھے ۔

شاید ساسانیوں کے دور میں بھی طبی کتابیں اسی طرح لکھی جاتی ہوں کیونکہ پرانے دانش مندوں میں جن لوگوں نے ایک یا کئی کتابیں لکھی ہیں بہت کم ہیں ۔

شعراء اس لئے کہ ان کے اشعار عام مقبولیت کا درجہ حاصل کر لیتے تھے ان کا ذوق بڑھتا جاتا تھا اور زیادہ سے زیادہ شعر کہتے تھے انکے اشعار سے ایک دیوان تشکیل پا جاتا تھا لیکن دانشمند اور ان کے شاگر جو ان کے حلقہ درس میں شریک ہوتے تھے ان میں کوئی شوق نہیں پیدا ہوتا تھا ان کی اقتصادی حالت بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتی تھی کہ وہ اپنی عمر کے ایک حصے کو ایک یا کئی کتابیں لکھنے پر صرف کر دیں ۔

دانشمندوں نے اس وقت اپنی عمر کے کچھ حصے کو کتابیں تصنیف کرنے پر صرف کیا جب ان میں شوق کے دو پہلو پیدا ہوئے ایک علم میں توسیع اور نئے مدارس کا وجود میں آنا جس کی وجہ سے دانشمندوں نے پڑھانے پر توجہ دی ا ور ان کا حقیقی کام تدریس قرار پایا اور اسی تدریس کی وجہ سے کسی ایک دانشمند کو فرصت ملی کہ وہ کتابیں لکھنے کیلئے کچھ زیادہ وقت نکال سکے ۔ دوسرا سلاطین اور امراء نے دانشمندوں میں کتابیں لکھنے کا شوق پیدا کیا جس سے کتابیں لکھی جانے لگیں ۔

بہر حال قدیم دانشمندوں کی کتب کا ایک حصہ ان کے شاگردوں کے وہ رشحات ہیں جو انہوں نے اپنے لئے جمع کئے تھے اور ان کی موت کے بعد دوسرے لوگوں نے ان سے فائدہ اٹھایا ۔

کتابیں لکھنے میں سلاطین اور امراء کی سر پرستی کافی موثر رہی ہے اور اگر ساسانی سلسلہ کا بانی ارد شیر اور اس کا بیٹا شاپور اول نہ ہوتا تو "اوستا" ہر گز ساسانیوں کے زمانے میں تدوین نہ ہوتی ۔ تاریخ کہتی ہے کہ اوستا کو "تشنز " دانشمند اور ایرانی موجود نے جمع کی ہے لیکن اگر ارد شیر انہیں شوق نہ دلاتا اور ان کی مالی امداد نہ کرتا تو یہ کتاب جس کا شیرازہ اشکانیوں کے دور حکومت میں بکھر گیا تھا اور اس کا کچھ حصہ مکمل طور پر ختم ہو گیا تھا ہر گز جمع نہ ہو سکتی ۔

اسی طرح جس طرح ہنی منشی سلسلہ کا بادشاہ روایوش اول اگر اسی اوستا کومغربی زبان سے پہلوی ہنی منشی میں ترجمہ کرنے کا شوق نہ دلاتا تو یہ ہر گز ترجمہ نہ ہو سکتی (اگر یہ روایت صحیح ہے کہ اوستا کا پہلا متن مغربی زبان میں تھا )

جو کچھ ہم نے کہا ہے اس کا لب لباب یہ ہے کہ اگر ایک ایرانی مہاجر معاشرہ " تور خان " جیسے دور افتادہ علاقے میں اپنی زبان اور خط کی حفاظت کر سکتا ہے اور علم طب کی تدریس اسی زبان اور خط میں کر سکتا ہے تو پھر بعید ہے کہ خود ایران میں علم طب کی کتابیں نا پید ہوں ۔ اس زمانے میں ایران میں علم طب کی موجودگی پر شک و شبہ نہیں کیا جا سکتا بلکہ شک اس بارے میں تھا کہ کیا طبی کتابیں ایران میں تھیں یا نہیں ۔ احتمال قوی یہ ہے کہ اس زمانے میں ایران میں طبی کتب موجود تھیں جو اب نا پید ہیں ۔

ساسانی پہلوی دور کے متن جو اس وقت چھپے ہیں ان کی تعداد ایک سو پچاس کے قریب ہے ان میں سے بعض کتابیں اور کچھ کتابچے اور چند عد د صرف قطعات میں البتہ علم طب کے بارے میں کچھ بھی نہیں ہے ۔

علم طب کا کتب کی صورت میں وجود نہ پایا جانا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ایران میں سرے سے علمی کتابیں ہی نہیں تھیں کہ جعفر صادق ان سے فائدہ اٹھاتے ۔

پروفیسر ایڈورڈ براؤن ہندوستان کے چند پارسی دانشمندوں کے نظریئے کی بناید پر کہتا ہے عربوں کے ایران پر تسلط کے کچھ عرصہ بعد تک ایرانیوں کی علمی کتب میں سے کچھ جن میں علم طب اور علم نباتات کی کتابیں شامل ہیں باقی تھیں اور ان سے استفادہ کیا جاتا تھا ۔

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ایران علاج معالجہ کے لحاظ سے نباتات کے مراکز میں سے ایک تھا اور طبی جڑی بوٹیوں کا ایک حصہ ایرانیوں نے دنیا کے لوگوں میں متعارف کرایا ۔ اور اور اصولا وہاں ان جڑی بوٹیوں کے بارے میں کتابیں بھی موجود ہوناچاہیں ۔ ہمارا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم کہیں کہ امام جعفر صادق نے ایرانی کتابوں سے استفادہ کیا ہو گا تو یہ بات عقل سے بعید نہیں ہے اور نہ ہی اس میں مبالغہ آمیزی ہے ۔

نظریہ عناصر اربعہ پر تنقید جعفریہ

امام محمد باقر کے حلقہ درس میں جو علوم پڑھائے جاتے تھے ان میں ایک فزکس بھی تھا ۔ اگرچہ جعفر صادق کے طبی علوم کے مبانی کے بارے میں ہمیں تصیلا علم نہیں ہے ۔ لیکن اس کے عوض میں ان کے فزکس کے مبانی یعنی فزکس کے مضمون کے بارے میں انکی معلومات سے نسل در نسل تفصیلا مطلع ہیں ۔

محمد باقر کے درس میں ارسطو کی فزکس پڑھائی جاتی تھی اور کسی پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ ارسطو کی فزکس چند علوم پر مشتمل تھی آج کوئی بھی حیوانات ‘نباتات اور جیالوجی کو فزکس کا حصہ شمار نہیں کرتا کیونکہ ان میں ہر ایک علم جداگانہ ہے لیکن ارسطو کی فزکس میں ان علوم پر بحث کی گئی ہے اسی طرح جس طرح میکینکس بھی ارسطو کی فزکس میں داخل ہے اگر ہم فزکس کو علم الاشیاء سمجھیں تو ارسطو کو یہ حق دیا جانا چاہیے کہ اوپر کی بحث اپنی فزکس میں لائے کیونکہ یہ ساری بحث علم الاشیاء میں شامل ہے اس بات کا قوی احتمال ہے کہ ارسطو کی فزکس بھی اسی راستے سے محمد باقر کے حلقہ درس تک پہنچی جس راستے سے جغرافیہ اور ہندسہ کے علوم ان کے درس میں شامل ہوئے یعنی مصری قبطیوں کے ذریعے محمد باقر کے حلقہ درس میں شامل ہوئے ۔

فرید وجدی دائرة المعارف جیسی مشہور عربی کتاب کا حامل لکھتا ہے کہ علم طب اسکندریہ کے مکتب کے ذریعے جعفر صادق تک پہنچا اور یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ جس وقت امام جعفر صادق علم کے حصول میں مشغول تھے اسکندریہ کا علمی مدرسہ موجود نہیں تھا کہ علم طب آپ تک وہاں سے پہنچتا ۔

اسکندریہ کا علمی مکتب اس کتا خانے سے مربوط تھا جو عربوں کے مصر پر قبضے کے بعد تباہ ہو گیا تھا شاید وہ لوگ جنہوں نے اسکندریہ کے کتاب خانے کی کتابوں سے اپنے لئے نسخے تیار کئے ہوئے تھے ان کے پاس اس کتاب خانے کی کتابوں کے نسخے باقی تھے لیکن اسکندریہ کا علمی مکتب کتاب خانے کے خاتمے کے ساتھ ہی ختم ہو گیا لیکن وہ لوگ جنہوں نے اسکندریہ کے علمی مکتب میں پرورش پائی تھی انہوں نے اس مکتب کے نظریات کو خصوصا اس تھیوری کو جسے جدید افلاطونوں کا فلسفہ کہا جاتا ہے اسے اپنے شاگردوں یا مریدوں کو سکھایا اور ان کے بعد نسل در نسل ہم تک پہنچی ۔

اس بات کا امکان ہے کہ وہ کتاب یا کتابیں جن کی نقول کتابخانہ (اسکندریہ کی کتابوں ) سے تیار کی گئی تھیں مصر سے امام جعفر صادق تک پہنچیں ۔

شاید فرید وجدی کی اسکندریہ کے مکتب سے مراد وہ مرکزی کتابخانہ اسکندریہ نہ ہو بلکہ اس کے کہنے کا مطلب یہ ہو کہ وہ کتاب یا کتابیں جو اسکندریہ کے مکتب کی یاد گار شمار کی جاتی تھیں امام جعفر صادق تک پہنچیں المختصر امام جعفر صادق اپنے والد گرامی کے حلقہ درس میں فزکس سے واقف ہوئے ۔

اور جس طرح علم جغرافیہ میں سورج کے زمین کے گرد چکر لگانے پر تنقید کی اسی طرح ارسطو کی فزکس کے کچھ حصوں پر بھی تنقید کی جب کہ اس وقت آپ کی عمر بارہ سال بھی نہیں تھی ایک دن جب وہ والد گرامی کے درس میں ارسطو کی فزکس پڑھنے کے دوران فزکس کے اس حصے تک پہنچے کہ دنیا چار عناصر پر مشتمل ہے یعنی خاک ‘ پانی ‘ ہوا اور آگ امام جعفر صادق نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ارسطو جیسے انسان نے اس پر غور کیوں نہیں کیا کہ خاک ایک عنصر نہیں ہے بلکہ اس خاک میں متعدد عناصر پائے جاتے ہیں اور زمین میں پائی جانے والی ہر دھات ایک علیحدہ عنصر شمار ہوتی ہے ۔

ارسطو کے زمانے سے جعفر صادق کے زمانے تک تقریبا ہزار سال کی مدت گزری ہو گی اور اس طویل مدت میں جیسا کہ ارسطو نے کہا تھا چار عناصر علم الاشیاء شمار ہوتے تھے اور کوئی ایسا شخص نہیں تھا جس کا یہ عقیدہ نہ ہو اور کسی کو فکر نہیں ہوئی کہ اس کی مخالفت کرے ہزار سال کے بعد ایک ایسا لڑکا پیدا ہو اجو ابھی بارہ سال کا نہیں ہوا تھا کہ اس نے کہا یہ خاک ایک عنصر نہیں ہے بلکہ کئی عناصر کا مجموعہ ہے ۔

جعفر صادق نے یورپ کے اٹھارویں صدی عیسوی کے علماء سے ہزار سال پہلے ہی یہ کہہ دیا تھا کہ ہوا ایک عنصر نہیں ہے بلکہ چند عناصر کا مجموعہ ہے یاد رہے کہ اٹھارویں صدی عیسوی کے سائنس دانوں نے ہوا کے اجزاء کو دریافت کرنے کے بعد علیحدہ علیحدہ کیا ۔

اگر کافی غور و خوض کے بعد سائنس دان اس بات کو قبول کر لیتے ہیں کہ خاک ایک عنصر نہیں ہے بلکہ چند عناصر کا مجموعہ ہے پھر بھی ہوا کے ایک عنصر ہونے پر کسی کو اعتراض نہ ہو تا ارسطو کے بعد قابل ترین فزکس دان بھی نہیں جانتے تھے کہ ہوا ایک عنصر نہیں ہے حتی کہ اٹھارویں صدی عیسوی میں جو علمی لحاظ سے تابناک صدیوں میں سے ایک صدی شمار ہوتی ہے لا دوازیہ کے فرانسیسی سائنس دانوں کے زامنے تک چند علماء ہوا کو ایک بڑا عنصر سمجھتے تھے اور انہوں نے یہ فکر نہیں کی کہ ہوا چند عناصر کا مرکب ہے اور جب بعد میں لا دوازیہ نے آکسیجن کو ہوا میں شامل دوسری گیسوں سے علیحدہ کیا اور بتایا کہ آکسیجن سانس لینے اور جلانے میں کتنی موثر ہے ؟

اس بات کو اکثر علما نے قبول کیا کہ ہوا غیر مرکب یا عنصر نہیں ہے بلکہ چند گیسوں پر مشتمل ہے اور ۱۷۹۲ ء عیسوی میں سر لادوازیہ کا سر سا طور گیوٹین کے ہمراہ تن سے جدا کر دیا گیا اور یہ بابائے جدید کیمیا اگر زندہ رہتا تو شاید مزید دریافتیں کرتا لیکن افسوس اسے دوسرے جہاں بھیج دیا گیا ۔

امام جعفر صادق نے ایک ہزار ایک سو سال پہلے یہ جان لیا تھا کہ ہوا ایک عنصر نہیں شیعوں کا اور تمام گیسیں جو ہوا میں بہت کم مقدار میں پائی جاتی ہیں میں سانس لینے میں مفید ہیں مثال کے طور پر اور زون گیس کو لے لیں جس کی کیمیائی خصوصیات آکسیجن کی مانند ہیں اور اس کا ہر مالیکیول آکسیجن کے تین یٹموں سے مل کر بنا ہے بظاہر وہ عمل تنفس میں اتنی اہم نہیں لیکن جب آکسیجن خون سے ملتی ہے تو اسے اس دوران واپس باہر نہیں نکلنے دیتی یہی وجہ ہے کہ جعفر صادق کا نظریہ کہ "ہو ا کے تمام اجزاء عمل تنفس کیلئے ضروری ہیں " انیسویں صدی کے وسط سے لے کر آج تک تائید کیا گیا ہے ۔

ہوا میں موجود گیسوں کے خواص میں سے یہ بھی ہے کہ وہ آکسیجن کو تہہ میں نہیں بیٹھنے دیتیں اگر اس طرح ہوتا تو آکسیجن ‘ سطح زمین سے ایک بلندی کی حد تک چھائی رہتی ۔

اور دوسری گیسیں جو ہوا میں پائی جاتی ہیں آکسیجن سے اوپر ہوتیں جس کے نتیجے میں تمام جانوروں کا نظام تنفس جل جاتا اور جانداروں کی نسل نابود ہو جاتی دوسرا یہ کہ پودے پیدا نہ ہوتے کیونکہا گرچہ پودے کے زندہ رہنے کیلئے دوسرے جانداروں کی مانند آکسیجن ضروری ہوتی ہے لیکن اسے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور اگر آکسیجن کچھ بلندی تک زمین کو ڈھک لیتی تو کاربن کی سطح زمین تک رسائی نہ ہو سکتی جس کی وجہ سے حیوانی اور جماداتی زندگی باقی ہے ۔

جعفر صادق وہ پہلے انسان ہیں جنہوں نے عناصر اربعہ کے عقیدے کو جو ایک ہزار سال کی مدت تک نا قابل متزلزل سمجھا جاتا تھا قابل اصلاح قرار دیا وہ بھی اس وقت جب وہ نوجوان تھے بلکہ لڑکے شمار ہوتے تھے لیکن ہوا کے بارے میں نظریئے کو وہ اس وقت زبان پر لائے جب وہ بالغ ہو چکے تھے اور انہوں نے درس پڑھانا شروع کر دیا تھا ۔

آج ہمیں یہ عام سا موضوع لگتا ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ہماری آج کی دنیا میں ایک سو دو عناصر دریافت ہو چکے ہیں لیکن ساتویں صدی عیسوی اور پہلی صدی ہجری میں یہ ایک برا انقلابی نظریہ تھا اور اس زمانے میں انسانی عقل قبول نہیں کر سکتی تھی کہ ہوا ایک وسیع عنصر نہیں ہے اور ہم ایک بار پھر اور اس زمانے میں انسانی عقل قبول نہیں کر سکتی تھی کہ ہوا ایک وسیع عنصر نہیں ہے اور ہم ایک بار پھر کہتے کہ اس زمانے میں اور اس کے بعد آنے والے زمانوں میں اٹھارھویں صدی عیسوی تک اس علمی انقلابی عقیدے اور ان دوسری باتوں کو جو جعفر صادق نے فرمائی تھیں ۔ اور ان کا ذکر آگے آئے گا یورپ میں برداشت کرنے کی گنجائش نہ تھی ۔

عقیدہ یہ ہے کہ جعفر صادق نے یہ اور دوسرے علمی حقائق ‘ علم لدنی یعنی علم امامت کے ذریعے استنباط کر لئے تھے مورخ کہتا ہے اگر یہ استنباط اور دوسرے علمی استنباط جعفر صادق کے علم امامت کی وجہ سے تھے تو وہ مادے کے توانائی میں تبدیل ہونے کے قانون کو جسے آئن سٹائن نے اس صدی میں دریافت کیا اسے بھی بیان فرماتے کیونکہ ان کے پاس علم امامت ہے وہ ہر چیز کو جانتے ہیں اور کوئی بھی علمی قانون ان سے پوشیدہ نہیں اور چونکہ علمی قوانین کا ایک حضہ اٹھارویں انیسویں اور بیسویں صدی میں دریافت ہوا جعفر صادق نے ان کے متعلق کچھ نہیں کہا یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے علم بشر کے ذریعے یہ معلوم کیا کہ خاک و ہوا کوئی وسیع و عریض عنصر ہے ۔

جعفر صادق نے فرمایا ہوا میں چند اجزاء ہوتے ہیں سانس لینے کیلئے جن کی موجودگی اشد ضروری ہے جب لادوازیہ نے آکسیجن کو ہوا کی دوسری گیسوں سے جدا کیا اور بتایا کہ جو چیز جانداروں کے زندہ رہنے کیلئے ضروری ہے وہ آکسیجن ہے سائنس دانوں نے ہوا کی دوسری گیسوں کو زندگی کیلئے بے فائدہ جانا اور یہ نظریہ صادق کے خلاف ہے جنہوں نے فرمایا ہوا کے تمام اجزاء سانس لینے کیلئے ضروری ہیں ۔

لیکن انیسویں صدی کے نصف میں سائنس دانوں نے سانس لینے کے لحاظ سے آکسیجن کے بارے میں اپنے نظریئے کی تصحیح کی ۔

کیونکہ یہ تسلیم کر لیا گیا کہ اگرچہ آکسیجن جانداروں کی زندگی کیلئے لازمی ہے اور ہوا کی دوسری تمام گیسوں کے درمیان تنہا گیس ہے جو خون کو بدن میں صاف کرتی ہے لیکن جاندار خالص آکسیجن میں زیادہ عرصہ کیلئے سانس نہیں لے سکتے کیونکہ ان کے نظام تنفس کے خلیات کی آکسیڈیشن شروع ہو جاتی ہے یعنی وہ آکسیجن کے ساتھ مل کر مرکب بنا دیتے ہیں اور سادہ لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ نظام تنفس کے خللیات جلتے ہیں ۔

آکسیجن خود نہیں جلتی بلکہ جلنے میں مدد دیتی ہے اور ایسے جسم کے ساتھ جو جلنے کے قابل ہوتا ہے جب عمل کرتی ہے تو وہ جسم جلنے لگتا ہے اور جب کبھی انسان یا جانوروں کے بھیپھڑوں کے خلیات ایک مدت تک خالص آکسیجن میں سانس لیتے ہیں ۔

چونکہ گیسوں کا ان کے ساتھ ری ایکشن ہوتا ہے اس لئے پھیپھڑوں کے خلیات جلنے لگتے ہیں اور کوئی انسان یا جانور جس کے پھیپھڑے جل جائیں تو وہ مر جاتا ہے اس لئے چاہیے کہ آخسیجن کے ہمراہ دوسری گیسیں بھی انسان یا جانوروں کے پھیپھڑوں میں داخل ہوں تاکہ جانداروں کے پھیپھڑے خالص آکسیجن میں سانس لینے کی وجہ سے نہ جلیں جب علماء نے آکسیجن کے متعلق سانس لینے کے لحاظ سے اپنے نظریہ کی تصحیح کی تو پتہ چلا کہ جعفر صادق کا نظریہ صحیح ہے ۔

لیکن مشرقی ممالک میں حتی کہ پیغمبر اسلام کے شہر مدینہ میں بھی اس طرح کے علمی نظریات کو زبان پر لایا جا سکتا تھا کیونکہ وہاں اس پر کوئی کفر کا فتوی نہ لگاتا تھا ۔

اگر دین اسلام میں کوئی یہ کہتا کہ ہوا وسیع نہیں ہے تو اسے کافی قرار نہیں دیتے تھے لیکن بعض قدیم ادیان میں ایسا کہنا ‘ کہنے والے کے کفر کی دلیل شمار ہوتی تھی کیونکہ ان ادیان کے پروکار ہوا کی طارت کا عقیدہ رکھتے تھے اور اس طہارت کو ہوا کے وسیع ہونے کی وجہ سے سمجھتے تھے جس طرح پانی کا مطہر ہونا بھی ان مذاہب کے پروکاروں کی نظر میں اس کے وسیع ہونے کی بنا پر تھا ۔

جب ہم کیمیا کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ لکھا ہوا پاتے ہیں کہ ایک انگریز جوزف پر یسٹلے نے جو ۱۷۳۳ ء میں پیدا ہوا اور ۱۸۰۴ ء میں فوت ہوا آکسیجن گیس دریافت کی لیکن وہ اس کی خصوصیات کو نہ پہچان سکا اور جس نے اس گیس کے خوص کو پہچانا وہ لوازیہ تھا علم کیمای کی تاریخ میں اس طرح بتایا گیا ہے کہ آکسیجن کا نام بھی پریسٹلی نے رکھا تھا جب کہ آکسیجن کا مفہوم پریسٹلی سیپہلے موجود تھا آکسیجن یونانی کلمہ ہے جو دو اجزاء سے مل کر بنایا گیا ہے دوسرے جزو کے معنی پیدوار کرنے والے اور پہلے جزو کے معنی ترشی کے ہیں اس لئے آکسیجن کو ترشی پیدا کرنے والی گیس کہتے ہیں آکسیجن کا نام شاید انگریز پریسٹلی نے رکھا ہو گا (کیونکہ ہمیں یقین نہیں ہے کہ واقعا اس نے یہ نام رکھا ہے ) لیکن " ترشی پیدا کرنے والا " مفہوم پہلے سے موجود ہے ہمیں پریسٹلے کی خدمات سے سر موانحراف نہیں ہے اور ہماری اس سے مراد یہ نہیں کہ پریسٹلے کو حقیر بنا کر پیش کریں اور اس پادر کو جس نے مذہبی لباس کو اتار کر لیبارٹری میں کام کیا اور آکسیجن کو دریافت کیا اس کے باوجود کہ وہ ایک قابل ترین انسان تھا اس نے کبھی اپنی دریافت پر فخر نہیں کیا ۔

اگر وہ سیاست میں حضہ نہ لیتا تو وہ آکسیجن کے بارے میں اپنی تحقیق کو جاری رکھ سکتا تھا پھر اسے سمجھ آتی کہ اس نے کتنی بڑی دریافت کی ہے لیکن سیاست نے اسے لیبارٹری سے دور کر دیا اور وہ انگلستان میں فرانسیسی انقلابیوں کی حمایت میں اٹھ کھڑا ہوا اور لوگ اس سے اس قدر نفرت کرنے لگے کہ اس کا اپنے ملک میں جینا دوبھر ہو گیا مجبور اس نے امریکہ ہجرت کیا ور وہاں قیام کے دوران آکسیجن کے علاوہ کسی دوسرے موضوع پر چند کتابیں لکھیں ۔

وہ انسان جس نے سب سے پہلے ترشی پیدا کرنے والی آکسیجن کو پہچانا وہ جعفر صادق تھے یہ تصور نہیں کرتے کہ انہوں نے والد گرامی کے حلقہ درس میں اس موضوع کو سمجھا ہو گا کیونکہ ہم نے کہا کہ انہوں نے جب پڑھانا شروع کیا تو کہا کہ ہوا ایک وسیع عنصر نہیں ہے اور قوی احتمال ہے کہ اسی موقع پر انہوں نے اخذ کر لیا کہ آکسیجن ترشی پیدا کرنے والی ہے تاکہ اس کی مماثل چیز پیدا نہ ہو ہمارا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ترشی پیدا کرنے والی کا نام جعفر صادق کے منہ سے نہیں نکلا لیکن انہوں نے اپنے حلقہ درس میں فرمایا ہوا چند اجزا پر مشتمل ہے اور ہوا کے اجزا میں سے یہی وہ جزو ہے جو جلنے والی چیزوں کے جلنے میں مدد دیتا ہے یہ نہ ہو تو ہر گز نہ جلیں اور جعفر صادق نے اس موضوع کی مزید وضاحت کیا ور اپنے درس میں فرمایا ہوا کہ وہ جزو جو اجسام کے جلنے میں مدد دیتا ہے اگر ہوا سے جدا ہو جائے اور خالص حالت میں ہاتھ آئے تو وہ اجسام کو جلانے میں اتنا زبردست ہے کہ اس سے لوہا بھی جلایا جا سکتا ہے ۔

اس بنا پر پریسٹلی اور لادوازیہ سے ہزار سال پہلے ہی آکسیجن کی تعریف کر دی تھی اور صرف اس کا نام آکسیجن یا مولد الموضہ (ترشی پیدا کرنے والی ) نہیں رکھا تھا پریسٹلے نے جب آکسیجن دریافت کی تو اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ لوہے کو جلایا جائے لادوازیہ جس نے اکسیجن کے کچھ خواص لیبارٹری میں جان لئے تھے نہ سمجھ سکا کہ وہ گیس لوہے کو جلانے والی ہے لیکن جعفر صادق ہزار سال پہلے اس بات سے آگاہ تھے ۔

آج ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر لوہے کے ایک ٹکڑے کو اتنا گرم کیا جائے کہ وہ سرخ ہو جائے اور پھر اسے خالص آکسیجن میں ڈبو دیں تو وہ روشن شعلے کے ساتھ جلنے لگتا ہے جس طرح گھی یا تیل کے چراغوں میں ان کے فتیلے کو گھی یا تیل میں بھگو دیتے تھے اور اس کی روشنی میں ساری رات بسر کرتے تھے ایک ایسا چراغ بھی بنایا جا سکتا ہے جس کا فتیلہ لوہے کا ہو اور وہ مائع آکسیجن میں ڈبو دیا جائے اور اگر فتیلے کو اس طرح جلائیں کہ سرخ ہو جائے تو وہ نہایت چمکدار روشنی کے ساتھ رات کو روشن رکھے گا ۔

روایت ہے کہ ایک دن محمد باقر جعفر صادق کے والد گرامی نے اپنے درس میں کہا پانی جو آگ کو بجھا دیتا ہے علم کے ذریعے اس سے آگ بھی جلائی جا سکتی ہے اگرچہ اس بات سے کوئی شاعرانہ تعبیر نہیں لی گئی مگر یہ بات اس وقت بے معنی نظر آئی تھی اور ایک عرصے تک جن لوگوں نے بھی یہ روایت سنی انہوں نے سمجھا کہ محمد باقر کوئی شاعرانہ تعبیر زبان پر لائے ہیں لیکن اٹھارویں صدی کے بعد یہ ثابت ہو گیا کہ علم کی مدد سے پانیس ے بھی آگ جلائی جا سکتی ہے۔

وہ بھی ایک ایسی آگ کہ جو کوئلے یا لکڑی کی آگ سے زیادہ گرم ہو کیونکہ ہائیڈروجن جس کے دو حصے پانی میں ہوتے ہیں آکسیجن کے ساتھ ۶۶۶۴ ڈگری تک پہنچتی ہے اور آکسیجن کے ذریعے ہائیڈروجن کے جلنے کے عمل کو اکسیڈروجن کہتے ہیں اور یہ صنعتوں میں دھاتوں کو پگھلانے یا دھاتوں کے ٹکڑوں میں سوراخ کرنے کے کام آتی ہے ۔

ہمیں معلوم ہے کہ محمد باقر نے فرمایا علم کی مدد سے پانی سے آگ جلائی جا سکتی ہے لیکن انہوں نے ہائیڈروجن کو دریافت نہیں کیا تھا اور ہمارے پاس اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ان کے بیٹے جعفر صادق نے ہائیڈروجن کو خالصتا دریافت کیا اسی طرح جس طرح ہمارے پاس کوئی دستاویزی ثبوت نہیں جس کی بنا پر ہم کہہ سکیں کہ جعفر صادق نے آکسیجن کو دریافت کیا ۔

لیکن بغیر کسی شک و تردد کے ہم کہہ سکتے ہیں کہ امام جعفر صادق نے آکسیجن کو خالصتا دریافت کیا اور ہمارے پاس اس کی دلیل ان کے کیمیائی کارنامے ہیں ۔

جعفر صادق کے کیمیائی کارناموں کا کچھ حصہ آکسیجن کی مدد سے انجام پایا ہے اور اس عنصر کی مداخلت کے بغیر امام جعفر صادق ان کارناموں کو انجام نہیں دے سکتے تھے لہذا انہوں نے آکسیجن کو دریافت کیا لیکن خالصتا نہیں بلکہ دوسرے عناصر کے ساتھ مرکبات شکل میں ملی ہوئی یہاں پر یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ انہوں نے کوئی تھیوری پیش نہیں کی انہوں نے جو نتائج حاصل کئے ان سے دو فارمولے بنائے پہلے یہ کہ ہوا کا ایک جزو ایسا ہے جو دوسرے اجزا کی نسبت زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور یہی جزو زندگی کے لئے نہایت اہم ہے دوسرا یہی وہ جزو ہے جس کی وجہ سے وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ چیزوں کی شکل میں تبدیلی آتی ہے یا وہ باسی ہو جاتی ہیں اس مفہوم کو زیادہ یاد رکھنا چاہیے کیونکہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ امام جعفر صادق نے آکسیجن کو دریافت کرکے کتنی باریک بینی کا ثبوت دیا ۔

جس کے بعد فرانسیسی لاووازیہ نے پریسٹلے انگریز کے بعد آکسیجن کے ابرے میں تحقیق کی اور اس کے تحقیقی کام کا کھوج لگایا ‘ سائنس دان اس بات کے قائل ہو گئے کہ اجسام میں تبدیلی جو وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ آتی ہے آکسیجن کی وجہ سے آتی ہے حتی کہ ایک فرانسیسی " پاستور " نے خلایہ دریافت کیا اور اس نے کہا کہ بعض چیزوں کا باسی ہو جانا آکسیجن کی وجہ سے نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے جراثیموں کی وجہ سے ہے (مثلا غذا وغیرہ جو وقت کے ساتھ ساتھ باسی ہو جاتی ہے ) اور یہ چھوٹے چھوٹے جراثیم مردہ جانداروں کے جسم اور غذا پر حملہ کرکے اسے باری کر دیتے ہیں لیکن پاستور کو غور کرنا چاہیے تھا کہ جو چیز ان جراثیموں کو زندہ رکھنے کا سبب ہے وہ آکسیجن ہے کیونکہ آکسیجن کے بغیر ان کی زندگی نا ممکن ہے لہذا جیسا کہ جعفر صادق نے فرمایا آکسیجن اشیاء میں تبدیلی لانے کا موثر ذریعہ ہے بلکہ بعض اوقات دھاتوں سے براہ راست مل کر ایک مرکب وجود میں لاتی ہے اور اس عمل کو کیمیا کی اصطلاح میں اوکسیڈیشن کہتے ہیں ۔

اتنا گہرا اظہار نظر امام جعفر صادق کی طرف سے بغیر عملی تجربات کے ناممکن تھا ۔ جعفر صادق کا زمانہ ایسا تھا کہ وہ آکسیجن کی پہچان پر مزید تحقیق نہیں کر سکے لیکن انہوں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ ہوا کو وہ جزو جو زندہ رہنے کیلئے اشد ضروری ہے اور چیزوں کی اصلی حالت میں تبدیلی لاتا ہے وہ بھاری بھی ہے اور انسان کو ابھی مزید ایک ہزار سال لاووازیہ کے دنیا میں آنے تک صبر کرنا تھا ۔

جس نے کہا وزن کے لحاظ سے ہر نو کلو گرام پانی میں آٹھ کلو گرام آکسیجن ہوتی ہے لیکن حجم کے لحاظ سے ہائیڈروجن آکسیجن کی نسبت دو گنا زیادہ ہوتی ہے لاووازیہ آکسیجن کو پہچاننے میں اس قدر آگے نکل گیا کہ اس گیس کو مائع میں تبدیل نہ کر سکا وہ اس فکر میں تھا کہ آکسیجن کو مائع میں تبدیل کرے لیکن دو چیزیں اس کے آڑے آئیں ۔

پہلی یہ کہ اس کے دور میں جو اٹھارویں صدی کا آکری دور تھا صنعت اور ٹیکنالوجی نے اس قدر ترقی نہیں کی تھی کہ وہ محقق انسان اپنے مقصد کو حاصل کر سکے ۔ دوسرا یہ کہ اس سے پہلے کہ وہ مزید تحقیق کرتا ۔ اسے مار دیا گیا ۔

اس کے بعد ایک عرصے تک سائنسدان کہتے رہے کہ آکسیجن کو مائع میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا حتی کہ ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کر لی کہ وہ چیزوں کو کافی مقدار میں سرد کرنے میں کامیاب ہو گئے لیکن انیسویں صدی عیسوی تک وہ آکسیجن کو صنعتی استعمال کیلئے بڑے پیمانے پر مائع حالت میں تیار نہیں کر سکے ۔

بیسویں صدی عیسوی میں زیادہ سرد درجہ وجود میں لانے کی ٹیکنیک انیسویں صدی کی نسبت زیادہ کامیاب ہوئی اور صفر سے نیچے ۱۸۴ درجہ تک آکسیجن کو (بغیر زیادہ دباؤ کے ‘ نہیات ہی کم دباؤ کے ذریعے )ٹھنڈا کرنے میں کامیاب ہوئے ۔

آج آکسیجن کو صنعتی پیمانے پر تیار کیا اور استعمال میں لایا جاتا ہے اور ۱۸۳ درجہ صفر کی سردی کو کم سرد نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ صرف ۹۰ درجہ کا یہ مطلق صفر درجہ سے کافی فاصلہ ہے اور یہ مطلق صفر درجہ ۱۶ ء ۲۷۲ ۔( منفی دو سو بہتر عشاریہ ایک چھ درجے ) صفر سے نیچے کا درجہ ہے اور اتنے کم درجہ حرارت پر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مادے کی اندرونی حرکت ساکن ہو جاتی ہے ۔

جعفر صادق کا زمانہ سائنسی نقطہ نگاہ سے ایسا زمانہ نہ تھا کہ جعفر صادق سائنس کے بارے میں مزید پیشرفت کرتے لیکن جہاں تک آکسیجن کی پہچان کا تعلق ہے وہ اس لحاظ سے سب سائنس دانوں پر سبقت لے گئے ۔

اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ فزکس کے اس حصے میں وہ اپنے معاصروں سے ہزار سال آگے تھے ۔

بعض روایات میں ملتا ہے کہ امام جعفر صادق کے شاگردوں نے ان کے بعد کہا کہ ہوا یا آکسیجن کو مائع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے لیکن جو کچھ امام جعفر صادق کے شاگردوں نے کہا وہ ایک عام نظریہ ہے قدیم زمانوں سے حتی کہ ارسطو سے بھی پہلے یہ معلوم کر لیا گیا تھا کہ بخارات کو مائع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے لیکن وہ گیسوں کو مائع میں تبدیل کرنے کا وسیلہ نہ رکھتے تھے ۔ یہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ قدیم زمانے سیآج کے علوم کا کچھ حصہ تھیوری کی شکل میں پیش کیا جا چکا تھا کمی صرف اس بات کی تھی کہ اس زمانے میں وسائل موجود نہیں تھے جس کی وجہ سے ان تیھوریز کو عملی جامہ پہنانا مشکل تھا ۔ یونانی دھو کریت نے عیسی کی ولادت سے پانچ سو سال پہلے ایٹمی نظریئے کو اسی طرح جسطرح آج ہمارے پاس موجود ہے ۔

پیش کیا اور کہا مادہ ایٹموں سے مل کر بنا ہے اور ہر ایٹم کے اندر تیز حرکات پائی جاتی ہیں اگر ہم الیکٹرون ‘ پروٹون اور نیوٹرون اور ایٹم کے دوسرے تمام حصوے کے ناموں کو درمیان میں نہ لائیں کیونکہ ان کا تعلق انیسویں صدی عیسوی سے ہے تو ہمیں یہ معلوم ہو گا کہ دھو کر یت کی ایٹمی تھیوری اور موجودہ ایٹمی تھیوری میں ذرہ برابر فرق نہیں ہے۔

البتہ بنی نو ع انسان نے اس ایٹمی توانائی سے کافی دیر بعد فائدہ اٹھایا اور اگر دوسری جنگ عظیم پیش نہ آتی اور جرمن سائنسدان ایٹمی توانائی سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں غورو فکر نہ کرتے اور امریکہ جرمنی کے ترقی کر جانے کے خوف سے ایٹمی توانائی سے فائدہ نہ اٹھاتا تو شاید اس صدی کے آخر تک بھی ایٹمی توانائی بروئے کار نہ لائی جاتی ۔

اگرچہ جعفر صادق کے شاگردوں نے ہوا یا آکسیجن کو مائع میں تبدیل کرنے کے امکانات کے بارے میں جو کچھ کہا وہ پہلے سے موجود تھا لیکن خود جعفر صادق نے جو کچھ آکسیجن کے متعلق کہا ہے وہ تیھوری کی حدود سے تجاوز کرتا ہے اور اسی سے پتہ چلتا ہے کہ وہ آکسیجن کی پہچان کے بارے میں عملی مرحلہ میں داخل ہو چکے تھے۔


جعفر صادق بانی مکتب عرفان

کچھ مسلمان عرفا اور مورخین کا کہنا ہے کہ امام جعفر صادق نے اپنے والد گرامی محمد باقر کے حلقہ درس میں عرفان کی تعلیم بھی حاصل کی تھی ۔

" تذکرة الاولیا ء " کا مصنف شیخ عطار اسی گرو کے لوگوں سے ہے جب کہ پہلی صدی ہجری میں عرفان کا وجود ہی نہ تھا اور اگر تھا بھی تو اس نے مکتب کی شکل اختیار نہیں کی تھی شاید عرفانی تفکرات اس زمانے میں موجود ہوں اور بعض اسلامی مفکرین اسے زبان پر لائے ہوں ۔

لیکن پہلی صدی ہجری میں کوئی عرفانی مکتب موجود نہ تھا جس میں خاص طور پر عرفان کی قسم پر بحث کی جائے اور ایک پیریا مرشد یا غوث ایسا پایا جاتا ہو جو اپنے مریدوں کو اردگرد جمع کرے اور انہیں عرفان کی تعلیم دے ۔ دوسرا یہ کہ عرفان افکار کی تجلی کی ایک قسم ہے جس میں کلاس کی مانند نہیں پڑھا جاتا ۔ اور مرشد یا قطب اپنے مریدوں کو درس نہیں دیتا بلکہ ان سے عمل چاہتا ہے اور کہتے ہیں کہ درس عشق کو قلم ‘ کاغذ اور نوٹ بک کے ذریعے نہیں سیکھا جا سکتا ۔ (بشوئی اوراق اگر ہمدرس مائی ۔ کہ درس عشق در دفتر نباشد ) عرفان دوسری صدی سے وجود میں آیا یا اس زمانے میں مکتب کی صورت اختیار کر گیا اور اس سے قبل مکتب نہ تھا جیسا کہ ہمیں معلوم ہے تذکرة الاولیا چند مشہور کتابوں میں سے ایک ہے اور بعض فضال کے نزدیک اسلامی دنیا کی معتبر کتابوں میں سے ایک ہے لیکن اس کتاب میں بعض ایسی باتیں بیان کی گئی ہیں جن کے غلط ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ۔

مثلا یہ بات کہ با یزید بسطامی ‘ جو ایک مشہور عارف ہو گزرا ہے اس نے امام جعفر صادق کے حضور میں درس تلمذ تہہ کیا ہے ۔ یعنی ان کا شاگرد ہو گزرا ہے اس نے امام جعفر صادق سے عرفان بھی سیکھا تھا ۔ تذکرة الاولیاء کے مطابق جب وہ علوم حاصل کر چکا اور عرفان میں داخل ہوا تو اس نے عارف کامل بننے کیلئے ضروری سمجھا کہ دنیا کے بڑے عرفا کی خدمت میں پہنچے ۔ لہذا وہ بسطام سے نکل پڑا اور تیس سال تک بھوک کو برداشت کرنے اور دوسری تکالیف اٹھانے کے بعد دنیا کے بڑے عرفا کی خدمت میں حاضر ہوا ۔

اس دوران میں اس نے ایک سو تیرہ عرفا کا قرب حاصل کیا جس میں سب سے آخری جعفر صادق تھے با یزید بسطامی ہر روز جعفر صادق کی خدمت میں حاضر ہوتا اور ان کی باتیں غور سے سنتا ان کے نصائح پلے باندھتا اور پوری دل جمعی کے ساتھ ان کی تعلیم سنتا ۔ ایک دن جعفر صادق نے اسے کہا " اے یزید ‘ وہ کتاب جو تمہارے سر کے اوپر طاق میں ہے مجھے لا کر دو " بایزید نے کہا آپ کس طاق کے بارے میں فرماتے ہیں ۔

جعفر صادق نے فرمایا ایک زمانہ ہو گیا ہے تم یہاں آئے ہو اور ابھی تک تم نے طاق نہیں دیکھا با یزید بسطامی نے کہا میں نے آپ کے علاوہ یہاں کسی کو نہیں دیکھا کیونکہ صرف آپکو دیکھنے کیلئے آتا ہوں جعفر صادق نے یہ بات سن کر فرمایا اے با یزید تمہاری تعلیم کا عرصہ پورا ہو گیا ہے اور اب تم بسطام واپس جا سکتے ہو وہاں جا کر لوگوں کو تعلیم دو ۔ با یزید اپنی جگہ سے اٹھا اور واپس بسطام پہنچ کر لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے میں مشغول ہو گیا شاید تذکرة الاولیاء کے مصنف نے اس روایت کو درست مجھ کر لکھا ہے لیکن بائیو کرونولوجی یعنی واقعہ کا تاریخ کے لحاظ درست ہونا ) کی رو سے صحیح نہیں ہے اور اگر تذکر‘ الاولیا ء کے مصنف نے اسے خود نہیں گھڑا تو صرور یہ کسی دوسرے مصنف کی جعلی روایت ہے جس نے اسے بغیر تحقیقی کے نقل کیا ہے کیونکہ امام جعفر صادق دوسری صدی ہجری کے پہلے نصف حصے میں پڑھاتے تھے اور ان کی تاریخ وفات بھی ۱۴۸ ہجری ہے جبکہ با یزید بسطامی تیسری صدی ہجر میں گزرے ہیں اور ان کی تاریخ وفات ۲۶۱ ہجری لکھی گئی ہے بایزید بسطامی کی تاریخ وفات کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ وہ تیسری صدی ہجری میں ہو گزرے ہیں ۔ اور اسی وجہ سے وہ امام جعفر صادق کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکتے تھے لیکن عرفانی تعلیمات کی امام جعفر صادق کے دروس میں موجودگی سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا ۔

امام جعفر صادق کے دروس میں عرفان کے وجود سے ان کی روحانی شخصیت ہمارے لئے پر کشش بن جاتی ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ ذوق کے لحاظ سے آپ گو نا گوں تجلیات کے مالک تھے جس عرفان کی ۔۔۔۔۔ دوسری صدی ہجری میں مشرق میں ابتداء ہوئیا ور اب تک موجود ہے وہ ایک ایسی چیز ہے جو تخیل فکر اور اپنے آپ میں گم ہونے سے زیادہ آگے نہیں بڑھتا ۔

اگرچہ عرفان کے اثرات عارف پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اسے خوش اخلاقی و مہربان بنا دیتے ہیں لیکن خود عرفان ایک روحانی خلیہ ہے جسکا مادی اور سائنسی علوم سے کوئی تعلق نہیں ہے ایی صورت میں جبکہ امام جعفر صادق ایک سائنس دان تھے اور مسلمانوں میں پہلے انسان تھے جنہوں نے تیھوری کو عملی صورت دی اور کسی بھی فزکس اور کیمیاء کے نظریہ کو جب تک خود پرکھ نہ لیا ۔ قبول نہیں کیا اس طرح انہوں نے ٹیسٹ کے ذریعے کسی بھی نظریئے کے درست ہونے پر یقین کیا آج کے فزکس دان یا کیمیا دن جن میں سے ایک جعفر صادق بھی تھے کو عرفان سے کوئی دلچسپی نہ ہونا چاہیے تھیکیونکہ فزکس اور کیمیا کے تجربات کے ذریعی اسے نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ عرفان اپنے نفس کو کنٹرول کرنے کے بڑی مشق کے بعد حاصل ہوتا ہے جعفر صادق جو مسلمانوں میں پہلے فزکس دان اور کیمیا دان تھے اصولا انہیں عرفان سے رغبت نہیں ہونا چاہیے تھی لیکن وہ اس قدر عرفان سے دل چسپی رکھتے تھے کہ زمحشری جو ایک مشحور عالم تھا اپنی کتاب " ربیع الابرار " میں امام جعفر صادق کے علمی درجے کی غیر معمولی توصیف کرنے کے بعد آپ کو عرفان میں سب سے آگے سمجھتا ہے ۔

تذکرة الاولیاء کا مصنف " عطار " جو خود مشہور عارف ہے جعفر صادق کو عرفان کی ابتداء کرنے والوں میں سے قرار دیتا ہے " تذکرة الاولایاء ‘ ‘کی بعض روایات تاریخی لحاظ سے مرتب نہیں اور کتاب کا مصنف تصنیف کے جذبے سے سر شار اور عرفا کا عاشق تھا لہذا اس نے بعض کے بارے میں نا دانستہ طور پر مبالغے سے کام لیا ہے اگر وہ غور کرتا تو ہر گز مبالغے سے کام نہ لیتا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ مبالغے سے کلام کی وقعت کم ہو جاتی ہے اور اگر تاریخ میں مبالغے سے کام لیا جائے تو اسے تاریخ نہیں کہا جائے گا جو قلم ز محشری کے ہاتھ میں تھا ہم اسے ایک مورخ کا قلم کہہ سکتے ہیں اور جو قلم تذکرة الاولیاء کے مصنف کے ہاتھ میں ہے اسے ایک عاشق کا قلم شمار کر سکتے ہیں ۔

بہر حال اسلامی عرفا اور مورخین میں سے بعض کا عقیدہ ہے کہ جعفر صادق اسلامی دنیا کے پہلے عارف یا پہلے عرفا میں سے ایک ہیں اگر ایسا ہے تو کیا جعفر صادق جیسا عارف ایسے طلباء کو جو مسلمان نہ تھے اپنے درس میں بیٹھنے اور درس حاصل کرنے کی اجازت دے سکتا ہے کیونکہ چند کتابیں اس بات کی گواہ ہیں کہ کچھ ایسے طلباء بھی امام جعفر صادق کے درس میں شریک ہوتے تھے جو صابئی تھے ۔ صابئین ایک ایسی قوم تھے جن کا مذہب یہودی اور عیسائی مذہب کی درمیانی صورت تھی اور توحید پرست شمار ہوتے تھے ۔

کچھ صابئین مشرک بھی تھے اور جب اسلام پھیلا تو وہ گروہ جو مشرک تھا اپنے آپ کو توحید پرست کہلانے لگا تاکہ مسلمانوں کے ہمراہ زندگی گزار سکیں کیونکہ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے مسلمان ان فرقوں کے لوگوں کو جو توحید پرست ہوتے تھے اہل کتاب کہتے تھے ان کو کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچاتے تھے ۔

صابئین کی سکونت صران میں تھی جو جنوبی بین النہرین کے مغرب میں واقع ہے قدیم یورپی تاریخ میں جس کا نام "کارہ " ہے صابئین کا وہ گروہ جو موحد تھا انکے ہاں رواج تھا کہ بچے کو پیدائش کے بعد غسل دیتے اور اس کا نام رکھتیتھے ان کی اصطلاح میں اس عمل کو تعمید کہا جاتا ہے ۔

بعض یورپی محققین جن کا نظریہ دائرةالمعارف الاسلامی کتاب میں منعکس ہوا ہے ان کا کہنا ہے کہ صبائی ‘ صبع سے مشتق ہے (یعنی صاد ۔ با ۔ عین ) جس کے معنی پانی میں غوطہ لگانا یا غسل کرنا ہے کیونکہ صبائی پادری کے پروکار ‘ نومولود کو تعمید کے دوران پانی میں غوطہ دیتے تھے ۔ زمانے کے ساتھ ساتھ لفظ صابئی سے عین گر گیا اور اس کی موجودہ شکل بن گئی ۔

وہی یورپی محققین کہتے ہیں ‘ صبائین ‘ یحیی کو جو معمد (یعنی غسل دینے والا کے نام سے مشہور ہے اپنا پیغمبر جانتے ہیں ۔

تذکرة الاولیاء کا مصنف کہتا ہے کہ تمام فرقے امام جعفر صادق کے در س میں حاضر ہوتے تھے ۔ شیخ ابوالحسن خرقانی کہتا ہے مسلمان اور کافر جعفر صادق کے درس میں حاضر ہوتے تھے ان کے علم و فضل کے دستر خوان سے بہرہ مند ہوتے تھے ۔

ہمیں نہیں معلوم کہ کس طرح جعفر صادق جیسا عارف انسان غیر مسلم طلباء کو اپنے درس میں حاضر ہونے کی اجازت دے سکتا تھا ۔ یا یہ کہ چونکہ وہ ایک وسیع النظر انسان تھے اور علم کو سب کیلئے چاہتے تھے ۔ اس لئے انہوں نے موافقت کی کہ جو کوئی بھی علم دوست ہو ان کے حلقہ درس میں حاضر ہو سکتا تھا اگرچہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو یہ بات تسلیم شدہ ہے جعفر صادق کے شاگردوں میں سے بعض ایسے بھے تھے جو صابئی تھے اور بعض یورپی محققین جن کے نظریات دائرة المعارف الاسلامی میں ثبت ہیں ۔ نے لکھا ہے کہ جابر بن حیان جو جعفر صادق کے مشہور شاگردوں میں سے ایک تھا وہ صابئی قوم سے تعلق رکھتا تھا ۔ صابئی طلباء جو جعفر صادق کے حلقہ درس میں حاضر ہوتے تھے۔ نہایت ذی فہم ہوتے اور تحصیل علم کیلئے کافی تکالیف اٹھاتے تھے انہوں نے علمی میدان میں خاصی پیش رفت کی ‘ گویا جعفر صادق کا حلقہ درس ان کیلئے ایک ایسی یونیورسٹی بن گیا تھا جس نے صابئی لوگوں کے علم و ثقافت کی بنیاد ڈالی ۔

جب ہم صابئی قوم کی جعفر صادق سے پہلے اور بعد کے دور کی تاریخ کا موازنہ کرتے ہیں تو ہم محسوس کرتے ہیں کہ یہ موازنہ گویا ظلمت کے ساتھ نور کا موازنہ ہے ۔

امام جعفر صادق سے پہلے صابئی ایک بدوی اور پسماندہ قوم تھے جن کی معلومات بدوؤں کیمعلومات سے زیادہ نہیں ہوتی تھیں ۔ حتی کہ وہ صابئی جو موحد شمار ہوتے تھے ان کی معلومات بھی صحرانشین قبائل سے زیادہ نہیں ہوتی تھیں ۔ لیکن جعفر صادق کے دور کے بعد صابئی قوم ایک ثقافت کی وارث بن گئی اور اس قوم میں اتنے قابل سائنس دان پیدا ہوئے جنہوں نے طب ‘ فزکس و کیمیاء ‘ انجینئرنگ میں ساری دنیا میں نام پیدا کیا اور آج ہم ان کے نام دائرة المعارف جیسی کتابوں میں پڑھتے ہیں ۔

جعفر صادق کی یونیورسٹی کے سبب صابئی پسماندہ قوم ایک متمدن قوم بن گئی اور اس متمدن معاشرے سے ایسے سائنس دان اور ادیب پیدا ہوئے جن کے کارناموں سے دنیا مستفید ہوئی اس کے ساتھ جعفر صادق کی یونیورسآٹی صابئی قوم کے باقی رہنے کا موجب بنی جو قوم اپنے آپ کو نہیں پہچانتی اور اپنی تاریخ سے مطلع نہیں ہوتی اگرچہ اس قوم میں قابل لوگ ہوں لیکن ان کی اپنی ثقافت نہ ہو تو وہ قوم مٹ جاتی ہے ۔

مگر وہ قوم جو تاریخ رکھتی ہو اور اپنے آپ کو پہچانتی ہو اور اس میں قابل افراد بھی پائے جاتے ہوں اور اس کے ساتھ وہ اپنی ثقافت بھی رکھتی ہو تو وہ قوم نہیں مٹتی جس طرح صابئی نہیں مٹے اور ابھی تک باقی ہیں اگرچہ ان کی تعداد پہلے کی مانند نہیں ہے لیکن ابھی تک ان کا کچھ حصہ اپنے قدیم رہائشی قطعات پر زندگی بسر کر رہا ہے۔

شیخ ابوالحسن خرقانی بھی زمحشری اور عطار نیشا پوری کی مانند جعفر صادق کا بہت احترام کرتا ہے اور انہیں اسلامی دنیا میں عرفا کا پیشوا سمجھتا ہے شیخ ابوالحسن خرقانی کو ایک تاریخی محقق بھی تسلیم کر سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے عرفان کی بجیاد کے بارے میں تحقیق کی اور اس بات کا کھوج لگایا کہ عرفان اسلام سے قبل بھی مشرق میں موجود تھا ۔ لیکن وہ اسلام سے قبل ایران میں عرفان کی جڑوں کو نہیں ڈھونڈ سکے ۔

کیونکہ شیخ ابوالحسن خرقانی نے زرد شتی مذہب کے بارے میں زیادہ تحقیق نہیں کی ۔ انہیں ایران میں عرفان کی بنیادیں تلاش کرنے کیلئے زردشتی مذہب کو مد نظر رکھنا چاہیے تھا ۔

آج ہمیں معلوم ہے کہ عرفان اسلام سے پہلے ایران میں چند بنیادوں پر استوار تھا اور ان میں سے دو بنیادیں دوسروں سے زیادہ اہمیت کی حامل تھیں ایک وہ عرفان جو زردشتی مذہب سے وجود میں آیا اور دوسرا وہ عرفان جو مکتب اسکندریہ سے ایران میں پہنچا ۔

شیخ ابوالحسن خرقانی زردشتی مذہب کی بنیاد کے بارے میں زیادہ تحقیق نہیں کر سکے کیونکہ انہوں نے اس مذہب کو درخوراعتنا نہیں سمجھا جبکہ چوتھی صپدی کے دوسرے نصف حصے اور پانچویں صدی ہجری کے نصف حصے کے دوران جو شیخ خرقانی کی زندگی کا حصہ ہے اب تک ایران کے بعض خطوں کے لوگ پہلوی ساسانی زبان میں گفتگو کرتے تھے لیکن مسلمان تھے اور کچھ لوگ جو پہلوی زبان میں گفتگو کرتے تھے اور شیخ کی پیدائش کی جگہ کے نزدیک رہتے تھے یہ محال ہے کہ شیخ نے انہیں نہ دیکھا ہو اور انکی زبان نہ سنی ہو ۔ وہ یہودیوں اور عیسائیوں کے مذہب کو اچھی طرح جانتا تھا ۔ لیکن زردشتی مذہب کی ماہیت سے مطلع نہیں تھا ۔ بہر حال اسلام سے قبل عرفان کے بارے میں اس کی تحقیق قابل توجہ ہے ۔

فرانسیسی مستشرقین کی وسیع تحقیقات جو سترھویں صدی عیسوی سے لیکر موجودہ دور تک پھیلی ہوئی ہیں ۔ ہندوستان کی قدیم کتابوں کا ترجمہ اور خاص طور پر ادویہ کی کتابیں ثابت کرتی ہیں کہ قدیم ادوار میں ہندوستان اور ایران کے درمیان گہرے فکری اور ثقافتی روابط تھے ۔ اور ہر دو ممالک کی ثقافت پر ان روابط کا گہرا اثر تھا ۔ سترھویں صدی عیسوی کے بعد یورپی مستشرقین نے جان لیا کہ زردشتی مذہب میں ہندی افکار بھی پائے جاتے ہیں اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ زردشتی عرفان نسبتا کچھ زیادہ ہی ہندی افکار سے ملتا جلتا ہے ۔

البتہ زردشتی مذہب اور ہندوؤں کا مذہب دو مختلف چیزیں ہیں ۔زردشتی مذہب میں دو خداؤں اور ہندوؤں میں تین کا وجود ان دو میں فرق ڈالتا ہے زردشت مذہب والوں نے جب ہندوؤں کے افکار کو جانلیا تو وہ جہاں بھی ہوتے ہندوؤں کے تین کے تصور سے پرہیز کرتے ۔ انہوں نے اپنے مذہب کی بنیاد دو کے تصور پر رکھی کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ دنیا کی بنیاد اضداد پر رکھی گئی ہے اور ہر چیز کے دو قطب یعنی منفی اور مثبت ہیں ۔

اگر شیخ ابوالحسن خرقانی اسلام سے قبل کے ادوار کے زردشتی اور مکتب اسکندریہ کے عرفان میں فرق کر سکتے تو وہ آسانی سے سمجھ سکتے تھے کہ زردشتی عرفان تین کے تصور سے وجود میں آیا ہے لیکن وہ عرفان جس کی بنیاد امام جعفر صادق نے رکھی وہ توحیدی عرفان ہے اور اس میں دو یا تین کا ذرا بھی تصور نہیں پایا جتا ‘ اور گہرائی میں جائے بغیر ہی یہ عرفان انسان کو تزکیہ نفس اور روح کی بالیدگی کی جانب لے جاتا ہے یہ اس قدر بلند ہے کہ نہ تو جعفر صادق کے زمانے میں اور نہ از کے بعد عام لوگوں کی اس تک رسائی ہو سکی ہے جبکہ بعد کے ادوار میں عرفان چند مکاتب کا حامل بن گیا لیکن اس کے باوجود بھی جس عرفان کی جعفر صادق نے بنیاد ڈالی تھی وہ عام لوگوں کی دسترس سے باہر رہا ۔

جعفر صادق کا عرفان نہ تو ہندوؤں اور عیسائیوں جیسا تین خدئاوں کا تصور رکھتا ہے نہ ہی زردشتیوں کی مانند دو خداؤں کے تصور پر مبنی ہے اور نہ ہی بعد کے ادوار میں عرفان میں مبالغہ آرائی کی کیفیت سے دو چار ہے۔

بعد میں جب عرفان مکاتب وجود میں آئے تو ان مکاتب کے بعض بانیوں نے عرفانی فکر میں اس قدر مبالغہ سے کام لیا کہ ان پر کفر کے فتوے لگائے گئے اور یہ بھی دیکھا گیا کہ ان کی مبالغہ آرائی کے نتیجے میں ان کے پیروکار تک بھی ان سے منحرف ہو گئے بعض عرفا تو اپنے آپ کو خداوند کے برابر سمجھنے لگے ۔

از زمحشری کی ان سے نفرت بیجا نہیں تھی البتہ زمحشری ‘ امام جعفر صادق اور انکے پیروکاروں کے علاوہ دوسرے عرفاء سیبھی نفرت کرتا تھا ۔ مرتضی فرہنگ جو ایران کے دانشوروں میں سے ایک ہے ۔ کا کہنا ہے کہ بعض کا عرفان میں نے ایک ایسے پتھر سے زیادہ پایا جو کسی کو نقصان نہ پہنچا سکے ۔ لیکن خود مرتضی فرہنگ بھی عرفانی ذوق رکھتا تھا اس نے اپنی بعض تصانیف میں عرفان کا دفاع بھی کیا ہے لیکن جعفر صادق کا عرفان مبالغے سے مبرا تھا نہ صرف یہ کہ شیعہ مذہب کے عرفا نے اس کی پیروی کی بلکہ اہل سنت و جماعت کے عرفا کے ایک گروہ نے جعفر صادق سے عرفان کا درس حاصل کیا حتی کہ جعفر صادق کے دو سو سال گزر جانے کے بعد عباسی خلفاء کے مرکز بغداد میں سنی المذہب جعفر صادق کی پیروی کرتے تھے ۔اسلام میں عرفان کا یہ بانی ایک عباسی خلیفہ کے ہاتھوں قتل ہو گیا تھا ۔

جعفر صادق کا عرفان ‘ خداوند تعالی پر توکل اور اس کے احکامات کی پروی ہے آپ نے اس کے ساتھ ساتھ دنیوی امور میں بھی غفلت نہیں برتی تاکہ زندگی کا نظم و ضبط تعطل کا شکار نہ ہو ۔ " عطار نیشا پوری " تذکرة الاولیاء میں لکھتا ہے کہ با یزید بسطامی تیس سال تک بڑے بڑے عرفا کی حضور میں حاضری کیلئے بیابانوں میں ٹھوکریں کھاتا اور بھوک برداشت کرتا رہا ۔ آخر کار وہ جعفر صادق کے حضور میں حاضر ہوا اسے اس بات کا علم نہیں تھا کہ جعفر صادق با یزید کے ترک دنیا پر اور تیس سال بیابان میں بھوک برداشت کرنے پر خوش نہیں ہیں اگر با یزید بسطامی کی جعفر صادق کے حضور میں حاضر ہونے کی روایت صحیح ہے تو عرفان کے بانی نے اسے ضرور تنبیہہ کی ہو گیاور کہا ہو گا کہ کیوں تیس سال زندگی بیابانوں میں بسر کی اور بیوی فرزندوں کے بارے میں اپنے فرائض سے غافل رہے کیونکہ جعفر صادق عرفان دنیا کے ترک کرنے کے حق میں نہیں اور کہتا ہے کہ ہر ایک کو چاہیے کہ اپنے دنیوی امور کو اخروی امور کے ساتھ منظم کرے ۔

جعفر صادق کے بعد عرفانی مکاتب نے انا للہ و انا الیہ راجعون سے یہ مراد لیا ہے کہ آدمی مرنے کے بعد خدا سے وابستہ ہو جاتا ہیا ور خدا بن جاتا ہے وہ زندگی کے دوران خدا کیوں نہیں بن سکتا مرنے کے بعد آدمی کے خدا بن جانے کے عقیدے سے یہ نظریہ پیدا ہوا کہ چونکہ آدمی خدا بن کر زندہ جاوید اور تمام چیزوں سے آگاہ ہو جاتا ہے لہذا اس دنیا کے حالات کو اچھی طرح دیکھ سکتا ہے وہ اپنے قرابت داروں کو دیکھتا اور انکی مشکلات کو حل کر سکتا ہے ۔ مرنے کے بعد زندگی کا عقیدہ صرف مسلمانوں میں ہی نہیں بلکہ یہ عقیدہ تمام قدیم مذاہب میں پایا جاتا ہے ہم گذشتہ مذاہب میں سے دو مذاہب کے عالوہ کسی تیسری مذہب کو نہیں پاتے جس میں مرنے کے بعد زندگی کا تصور نہ ہو ۔ حتی کہ وہ مذاہب جن میں مردے کو جلاتے اور اس کے باقیات دریا میں بہاد دیتے تھے ۔ ان کا بھی عقیدہ تھا کہ وہ مردہ دوسری دنیا میں زندہ ہے صرف مانوی مذہب اور باطنی فرقہ جو اسماعیلی فرقے کی ایک شاخ ہے ان دو کا عقیدہ تھا کہ مرنے کے بعد آدمی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہو جاتا ہے ان دونوں کے پیروکار آخرت پر بھی ایمان نہیں رکھتے تھے ۔

لیکن حسن بن صباح کے بعد باطنی فرقے کے پیشوا متوجہ ہوئے کہ ان کے پیروکاروں کو مرنے کے بعد معاد کی زندگی جزا اور سزا کا معتقد ہونا چاہیے ۔ تاکہ وہ ان میں سے ہر ایک کے اندر ایک پولیس ہو جو اسے برے کاموں کے ارتکاب سے منع کرے ان دونوں فرقوں کے علاوہ تمام ادیان میں وحدانی یا باطنی پولیس کا وجود موجود تھا اور وہ معاد کے قائل تھے ۔

ان میں سے بعض میں مثلا قدیم مصر میں عقیدہ تھا کہ مرنے کے بعد انسان کے اعمال کی جزاو سزا ملنا شروع ہو جاتی ہے اور بعض میں ان کی زندگی کی موت اور اس دوسری دنیا میں اعمال کی سزا و جزا میں فاصلہ پایا جاتا ہے یہاں تک کہ وحشی قبائل میں بھی مرنے کے بعد کی زندگی کا عقیدہ موجود ہے ۔ اور وہ بھی اس بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں کہ انسان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں ہوتا ۔

ڈاکٹر لای وینک اسٹون جو دریائے نیل کے منابع کا دریافت کرنے والا ہے جس نے انیسویں صدی عیسوی میں اپنے سیاحت نامیا ور انکشافات کے مجموعے کو انگلستان کی شاہی حکومت کی جغرافیہ کی تنظم کو تحفتہ پیش کیا جتنے عرصہ وہ مرکزی افریقہ میں رہا ‘ وہ ہر قبیلہ میں گیا اور اس نے مشاہدہ کیا کہ قبائل کے لوگ اپنے مردہ اجداد کی زندگی کے معتقد ہیں اور ان میں بعض قبیلے امور زندگی میں اپنے مردہ اجداد کے ارادہ کو موثر سمجھتے ہیں ۔ اور افریقہ کے قابل میں سے کچھ لای وینک اسٹون نے مرکزی افریقہ میں دیکھا اور سنا اور اسی طرح دوسری لوگوں نے دوسری علاقوں میں مشاہدہ کیا کہ کوئی قبیلہ جتنا پسماندہ ہو گا اس کا عقیدہ مرنے کے بعد کی زندگی کے بارے میں اتنا ہی پختہ ہو گا اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ جو قومیں ترقی یافتہ اور متمدن ہیں ان میں موت کے بعد کی زندگی کا نظریہ نہیں پایا جاتا بلکہ آج ایک امریکی اور فرانسیسی بھی موت کے بعد زندگی کا قائل ہے لیکن اس کا عقیدہ سیاہ فام سے مختلف ہے ۔

سیام فام اس بات کا قائل ہے کہ موت کے بعد کی زندگی اور اس دنیا کی زندگی میں ذرا بھی فرق نہیں ہو گا جبکہ ایک امریکی یا فرانسیسی یہ گمان کرتا ہے کہ موت کے بعد کی زندگی میں بھی وہ اسی طرح غذا کھائے گا ‘ لباس پہنے گا اور پکچر دیکھنے کیلئے سینما جائے گا اسی لئے بعض مفکرین کہتے ہیں کہ موت کے بعد زندگی کا عقیدہ انسان کے فطری عقائد میں سے ایک ہے اگرچہ بیالوجی کے مظاہر اور اعضائے انسانی کے ٹائم ٹیبل کے نظام سے اس کا کوئی تعلق نہین مثلا جیسا کہ بھوک اور پیاس جانداروں کی زندگی کا خاصہ ہے ۔

بہر کیف چونکہ موت کے بعد زندگی کا عقیدہ قدیم ترین اداوار میں بھی موجود تھا اور شاید یہ عقیدہ اسلام سے نسل در نسل انسانوں تک پہنچتا رہا ہو کہ اتنا پختہ ہو گیا کہ انسانی فطرت کا حصہ بن گیا اور صرف وہ آدمی جو معاشرے میں نہ رہا ہو اور متمدن یا وحشی تہذیب کے عقائد اس تک نہ پہنچے ہوں اس عقیدے سے مبرا ۔۔۔۔ ہو سکتا ہے تمام مذاہب جو موت کے بعد زندگی کے معتقد ہیں ان میں معاد کی بنیاد اسی فطری عقیدے پر رکھی گئی ہے ہر وہ مذہب جس میں معاد پر اعتقاد پایا جاتا ہے اس نے اس فطری عقیدے سے فائدہ اٹھا کر انسانوں میں وجدانی یا باطنی پولیس پیدا کی ہے قدیم مصر میں یہ عقیدہ تھا کہ اگر کوئی شخص دوسرے کا مال چوری کرے گا تو دوسری دنیا (مغربی دنیا ) میں وہ ہمیشہ کیلئے تاریکی میں زندگی بسر کرے گا اور سورج کی روشنی اس تک نہیں پہنچے گی حتی کہ وہ ایک چراغ سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکے گا ۔

&#زرد شتی مذہب میں عقیدہ تھا کہ دوسری دنیا میں چنوند (بروزن در بند ) ایک پل ہے جو گنہگار ہو گا وہ اس پل پر سے نہیں گزر سکے گا اور وہیں گر جائے گا ۔ مشرق کے عرفانی مکتب فکر نے مسلمانوں کے موت کے بعد زندگی کے فطرت اور مذہبی عقیدہ سے فائدہ اٹھایا اور اپنے پیروکاروں کی روح کی پرورش کیلئے راستہ ہموار پایا بس انہیں اس بات کی ضرورت پیش نہ آئی کہ وہ اپنے پیروکاروں کی روح کی پرورش ابتداءسے کریں اور اس ابتداء میں ایک عرصہ صرف کریں پھر کہیں جا کر ان کے پیروکار اس بات کو سمجھیں کہ آدمی موت کے بعد زندہ رہتا ہے اور انہیں ایسے کاموں کی طرف شوق دلائیں جن کی وجہ سے وہ مرنے کے بعد اعلی مقام پر فائز ہو سکیں ۔ یہ کام عرفان کی پہلی سیڑھی تھی لیکن عرفاء دوسری صدی ہجری کے خاتمہ پر اس سے بلند مرتبے تک پہنچ گئے اور عرفان کی بنیاد اس پر رکھی کہ انسان اسی دنیا میں بلند ترین مرتبے تک پہنچ گئے اور عرفان کی بجیاد اس پر رکھی کہ انسان اسی دنیا میں بلند ترین مرتبے تک پہنچ گئے اور عرفان کی بنیاد اس پر رکھی کہ انسان اسی دنیا میں بلند ترین مرتبے تک پہنچ جائے اور جو چیز اس فکر کو وجود میں لائی وہ موت کے بعد زندگی کا عقیدہ تھا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر مسلمان یا دوسری اقوام موت کے بعد زندگی کی معتقد نہ ہوتیں تو عرفان وجود میں نہ آتا اس لئے کہ عرفان کے وجود میں آنے کا کوئی راستہ نہ تھا ۔ عارفوں نے کہاہے یہ انسان جو مرنے کے بعد بدون شک و تردید زندہ رہتا ہے اور موت لباس کی تبدیلی کے علاوہ کچھ بھی نہیں پھر کیوں نہ انسان اسی دنیا میں روح کی تکمیل کے اعلی ترین مرتبے تک نہ پہنچے اور اپنے آپکو ملکوت تک نہ پہنچائے چہ جائیکہ وہ صبر کے تاکہ موت کے بعد کامل انسان کے اعلی مرتبے پر فائز ہو ۔

عرفان کے متعدد مکاتب فکر کا آخری ہدف یہ رہا ہے کہ انسان اسی دنیا کی زندگی میں اپنے آپکو ملکوت تک پہنچائیا ور جب ہم عرفان کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہیں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ عرفان کا مقصد یہ ہے کہ انسان اسی دنیا میں اور موت سے پہلے اپنے آپ کو خدائی مرتبے تک پہنچائے لیکن جعفر صادق کے عرفان میں یہ موضوع نہیں پایا جاتا اور انہوں نے کہا کہ انسان کو اس دنیوی زندگی میں خدائی کے مرحلے تک پہنچ جانا چاہیے ۔ یہ عقیدہ جعفر صادق کے بعد کے عرفانی مکاتب فکر کی پیدوار ہے اور دو چیزیں عرفانی مکاتب فکر میں اس عقیدہ کو وجود میں لائیں ایک یہ کہ آدمی موت کے بعد بھی زندہ رہے گا اور دوسرا وحدت وجود کا نظریہ ۔

وحدت وجود کا نظریہ جو جعفر صادق کے بعد مشرق میں دو بڑے عرفانی مکاتب فکر کی بنیاد بنا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ نظریہ مشرق کی پیدوار ہے اور ہندوستان و ایران سے اٹھا اور پھر مشرق سے یورپ گیا وہاں اس نظریئے کے بہت سے حامی پیدا ہوئے

جعفر صادق وحدت وجود پر یقین نہیں رکھتے تھے اور مخلوق کو خالق سے جدا سمجھتے تھے جو لوگ وحدت وجود کے حامی تھے وہ کہتے تھے کہ خدا اور جو کچھ اس نے خلق کیا ہے ا میں کوئی فرق نہیں مگر یہ کہ صرف حالت کا فرق ہے یعنی شکل و لباس وغیرہ کا تفاوت ہے ۔

عام جامد اشیاء درخت ‘ دوسرے جاندار یہی خدا ہے کیونکہ شروع میں خدا کے علاوہ کچھ نہ تھا اور چونکہ جہان کا آغاز و انجام نہیں ہے یہ چیزیں بھی خدا کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتیں اور چونکہ خدا کے علاوہ کوئی چیز نہ تھی اور نہ ہے ۔ لہذا جمادات درختوں اور جانوروں کا خمیر خدا نے اپنی ذات سے اٹھایا ہے پس اسی لئے خداوند عالم اور جو کچھ اس نے پیدا کیا ہے ماہیت کے لحاظ سے ان دو میں کوئی فرق نہیں ہے ۔

شیعیت کو نابودی سے بچانے کیلئے امام جعفر صادق کا اقدام

عیسائی مذاہب میں تفرقہ اندازی جو ناسوت اور الاھوت کی پیدوار ہے وہ اتوس پہاڑ پر واقع عیسائی راہبوں کی (بلحاظ مذہب ) خانقاہوں کی حالت کشمکش ہے ۔

یونان میں سالونیک نام کی ایک ریاست ہے اور سالونیک کے مشرق میں تین جزیرے ہیں ان میں جو جزیرہ مشرق کی سمت میں ہے اس کا نام کوہ اتوس یا جزیرہ اتوس ہے اس کوہ اتوس پر مختلف مراتب کی خانقاہیں ہیں جن میں پہلے درجے میں بیس ہیں دوسرے میں بارہ ‘ تیسرے میں دو چار اور چوتھے میں دو سو پینسٹھ خانقاہیں ہیں ۔

قدیم زمانوں سے یہ کوہ اتوس ان آرتھوڈ کسی عیسائیوں کی پناہ گاہ رہا ہے جو دنیا ترک کرنا اور ساری عمر عبادت میں مشغول رہنا چاہتے تھے ۔ کوہ اتوس کی تمام خانقاہیں آرتھوڈ کسی مذہب کی ہیں پہلی جنگ عظیم کے بعد جب روس میں بالشویکی حکومت بر سراقتدار آئی تو کوہ آتوس کی خانقاوں کے سارے عطیات کو زبردستی ضبط کر لیا اور مشرقی یورپ کے تمام ممالک میں یہ خانقاہیں عطیات کی حامل تھیں ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد مشرقی حکومتوں میں تبدیلی آئی اور ان ممالک میں کوہ آتوس کے عطیات بھی قومی ملکیت قرار دے دیئے گئے اور آج کوہ اتوس کے عطیات وہی ہیں جو یونان او ترکی کے یورپی حصے میں ہیں پہلے جنگ عظیم کے بعد یہ وقف شدہ املات روس میں بسنے والے راہبوں کے ہاتھوں سے چلی گئی تھیں ۔

پھر بھی ان خانقاہوں کی اتنی آمدن تھی کہ تقریبا پندرہ ہزار راہب اس پر گزر بسر کرتے اور تقریبا پندرہ سو خدمت گزار جو راہبوں کے لباس اور جوتے وغیرہ سیتے ‘ غذا تیار کرتے اور ان کے لباس دھوتے اس آمدن پر گزر بسر کرتے تھے ۔

لیکن آج کوہ اتوس کی یہ خانقاہیں ان وسائل سے محروم ہیں اور راہبوں کی تعداد بھی بہت کم ہے کوہ اتوس کیخواص میں سے ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ عورت کا وہاں پر وجود نہیں ہے اور دراصل عورت کوہ اتوس کی خانقاہوں میں گئی ہی نہیں اور کسی بھی دستاویز کی رو سے عورت ‘ جوان ہو یا بوڑھی ‘ ان خانقاہوں میں نہیں جا سکتی اگر کوئی راہب عالم نزاع میں ہو اور اسکی بوڑھی ماں چاہے کہ آخری لمحات میں اپنے بیٹے کو دیکھے تو اسے بھی ہر گز ان خانقاہوں میں جانے کی اجازت نہیں ملتی اور صرف وہ اپنے بیٹے کا تابوت جس میں اس کا جسد خاکی پڑا ہوتا ہے خانقاہ کے باہر دیکھ سکتی ہے ۔

دوسری جنگ عظیم تک کوہ اتوس کی خانقاہوں کا برقی رو کے ذریعے روشن ہونا تھا مزید لباس کی حالت یا گھریلو اثاثے اور لباس وغیرہ کے لحاظ سے ) پہلی صدی عیسوی کے لوگوں سے ملتا جلتا تھا اور دوسری جنگ عظیم کے بعد راہبوں کی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی وہ تبدیلی ‘ خانقاہوں کا برقی رو کے ذریعے روشن ہونا تھا ۔

مزید لباس کی حالت یا گھریلو اثاثے کے لحاظ سے خانقاہوں میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی اگر ان خانقاہوں کے راہب ‘ باہر کی دنیا سے باخبر ہوتے اور اپنے زمانے کے واقعات کی تاریخ رقم کرتے تو آج سب سے حقیقی تاریخ کوہ اتوس کی خانقاہوں میں ملتی ان خانقاہوں کے قیام کو چودہ صدیاں ہو چکی ہیں لیکن ابھی تک بیرونی دنیا کے بارے میں ایک چھوٹی سی کتاب بھی نہیں ملتی اور آج جبکہ ان خانقاہوں کو بجلی کے نظام سے متصل کر دیا گیا ہے پھر بھی ان تمام خانقاہوں میں سے سترہ خانقاہیں ایک ہی فرقے کی ہیں پھر بھی ایک خانقاہ میں تبدیل نہیں ہو سکیں کیونکہ ناسوت اور لاھوت کے لحاظ سے ان میں اختلاف پایا جاتا ہے کوہ اتوس پر دو یونانی خانقاہیں ایسی نہیں ملتیں جن کے راہب عیسی کی بشری ماہیت اور خدائی ماہیت کے بارے میں آپس میں متفق ہوں ۔

یہ اختلاف جس طرح کوہ اتوس کی درجہ اول کی خانقاہوں میں پایا جاتا ہے اسی طرح اس پہاڑ کے درجہ دوم کی بارہ خانقاہوں میں بھی پایا جاتا ہے چونکہ چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی ان خانقاہوں کا بیرونی دنیا کے ساتھ رابطہ نہیں ہے لہذا فرانسیسی ٹیلیویژن کے ۱۹۶۹ ء کے معلومات عامہ کے مقابلے میں جن دانشوروں نے شرکت کی وہ کوہ اتوس کے درجہ اول کی پانچ خانقاہوں کے نام بھی نہیں بتا سکے ۔ چہ جائیکہ وہ درجہ اول و دوم کی تمام خانقاہوں کے نام بتاتے ۔

کوہ آتوس پر پہلی آرتھوڈ کسی خانقاہ چھٹی صدی عیسوی میں وجود میں آئی یہ ایک یونانی خانقاہ تھی ‘ جن راہبوں نے اسے تعمیر کیا انہوں نے اس خیال سے اس جگہ کو منتخب کیا کہ یہ ایک سنگلاخ پہاڑ تھا جو گہری وادیوں پر مشتمل دریا کے قریب اور آبادیوں سے دور تھا یہ مقام ان لوگوں کے رہنے سہنے کیلئے انتہائی مناسب تھا جو ساری عمر انسانوں سے دور رہنا اور عبادت کے سوا کوئی دوسرا کام نہ کرنا چاہتے ہوں اس کے بعد تمام آرتھوڈ کسی مذاہب کی خانقاہیں اسی کوہ آتوس پر بننی شروع ہوئیں اور درجہ اول کی بیسویں خانقاہ روسی آتھوڈ کسی فرقہ کے راہبوں نے اٹھارہویں صدی عیسوی میں بنائی آج جبکہ پہلی خانقاہ کو تعمیر ہوئے چودہ صدیاں گزر چکی ہیں ان خانقاہوں میں عیسی کی ناسوتیا ور لاہوتی فطرت کے بارے میں اختلاف جوں کا توں ہے ۔

کہا جاتا ہے کہ جس وقت سلطان محمد دوم ملقب بہ فاتح ‘ نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا تو اس شہر کے راہب بجائے اس کے کہ شہر کے دفاع کیلئے اقدامات عمل میں لاتے ‘ عیسی کی ناسوتی اور لاہوتی ماہیت کے بارے میں بحث کر رہے تھے بعض لوگوں نے اس روایت کو مذاق قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کہ قسطنطنیہ کے کلیسا کے راہب شہر پر حملے کے خطرے کو نظر انداز کرکے عیسی کی ناسوتی اور لاہوتی ماہیت کے بارے میں بحث میں مبتلا ہوں لیکن اس روایت کو جھوٹا س لئے قرار نہیں دیا جا سکا کہ آرتھوڈ کسی کلیسا میں عیسی کی لاہوتی اور نا سوتی فطرت کے بارے میں مسلسل بحث ہوتی ہے لہذا یہ بعید نہیں ہے کہ جب سلطان محمد نے چند ماہ کیلئے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا تھا تو شہر کے راہب پھر اسی موضوع پر تبادلہ خیالات کر رہے ہوں گے ۔

جو کچھ ہم نے کوہ آتوس کی خانقاہوں کے بارے میں کہا ‘ اس سے ہمارا مقصد عیسائیت میں عیسی کے ناسوت یا لاھوت ہونے کے بارے میں اختلاف کی تائید کرنے کے علاوہ یہ بھی بیان کرنا ہے کہ شیعہ مذہب کو زوال سے بچانے کیلئے جعفر صادق کون سا قدم اٹھایا ؟ دوسری صدی ہجری کے پہلے پچاس سالون میں مسلمانوں میں رھبانیت کی جانب میلان پیدا ہوا ۔ دوسری صدی ہجری کا پہلا نصف اور دوسرا نصف عرصہ وہ زمانہ ہے جس میں مسلمانوں میں بہت سے فرقوں نے جنم لیا اور تیسری صدی تک یہ عمل جاری رہا ۔ دوسری صدی ہجر کے پہلے اور دوسری نصف عرصے میں جنم لینے والے فرقوں کا ایک گروہ رھبانیت کی طرف مائل تھا ان فرقوں کے بانیوں کا عقیدہ تھا کہ آدمی معمول کی زندگی کو ترک کرکے اپنی تمام عمر گوشہ تنہائی میں گزار دے ۔

انہوں نے انسان کے فرائض کو مختل اقسام کے اعتکاف میں متعین کر دیا تھا ان میں سے بعض کہتے تھے جب انسان اعتکاف میں بیٹھے تو اسے چاہیے کہ تمام اوقات نماز کی ادائیگی میں مشغول رہے کیونکہ اسلام میں نماز سے بڑھ کر کوئی عبادت نہیں ۔

بعض کا عقیدہ تھا کہ روزہ رکھنا نماز سے افضل ہے لہذا جو کوئی اعتکاف میں بیٹھے اسے ساری عمر روزہ سے رہنا چاہیے ۔

ان سے ذرا ماڈرن فرقے کے بعض بانیوں کا کہنا تھا کہ انسان جب معتکف ہو جائے تو اسے صرف خداوند تعالی کے بارے میں غورو خوض کرنا چاہیے کیونکہ سب سے افضل عبادت خداوند تعالی کے بارے میں غورو فکر ہے یہ سب فرقے رھبانیت کا شوق دلاتے تھے بلکہ تاکید بھی کرتے تھے لیکن ان میں سے کوئی بھی اپنے پیروکاروں کے معاش کے بارے میں فکر مند نہ تھا کیونکہ ان کا خیال یہ تھا کہ جو لوگ معتکف ہوں گے ان کی معاش کا بندوبست اوقاف کے ذریعے کیا جائے گا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ عیسائیت کی خانقاہوں کی مثال ان کے مد نظر تھی ۔

جب انہوں نے دیکھ لیا کہ وہ خانقاہیں اوقاف کی حامل ہیں لہذا ہمارے جو لوگ معتکف ہو جائیں گے ان کیلئے بھی اوقاف سے بندوبست ہو جائے گا شیعہ بھی دوسرے اسلامی فرقوں کی مانند رہبانیت کی طرف مائل ہوئے خصوصا وہ لوگ جن کی فطرت میں رہبانیت ہوتی ہے اور وہ زندگی میں کام کرنا نہیں چاہتے ان کیلئے ترک دنیا کا یہی بہانہ کافی تھای ۔

جعفر صادق نے شعیوں اور دوسرے مسلمانوں کی رھبانیت کی شدید مخالفت کی ۔ جعفر صادق علم تھا کہ اگر رھبانیت کا نظریہ شیعہ میں مضبوط ہو گیا تو یہ فرقہ نابود ہو جائے گا خاص طور پر اس زمانے کی بنی امیہ کی حکومتیں بھی شیعوں کی مخالف تھیں اور کبھی تو وہ اپنی مخالفت کا بر ملا اظہار بھی کرتے تھے ایسی صورت میں ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ شیعوں کی غفلت ان کیلئے کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتی تھی ۔

بنی امیہ چاہتے تھے کہ شیعہ ‘ دنیا کو ترک کرکے معتکف ہو جائیں اس طرح وہ بیرونی دنیا سے اپنا رابطہ منقطع کر لیں تاکہ باہر سے کوئی ان سے رابطہ نہ رکھے اور وہ تبلیغ کے ذریعے شیعہ مذہب کو نہ پھیلا سکیں ۔ بنی امیہ جانتے تھے کہ شیعہ جب دنیا سے ہاتھ دھو لیں گے اور تمام عمر ایک عبادت گاہ میں گزاریں گے تو کچھ عرصے بعد خود بخود ختم ہو جائیں گے ۔

چونکہ خانقاہ ‘ کلیسا کی مانند نہیں ہوتی اس میں کلیسا کی مانند مذہبی تبلیغ کے وسائل بھی مہیا نہیں ہوتے ۔

کلیسا مزہبی سرگرمیوں کا مرکز ہوتا ہے اور کلیسا کے نام پر جہاں کہیں کوئی مرکزی مذہبی تنظیم وجود میں آتی ہے تو اس کا واضح مقصد مزہب کا فروغ ہوتا ہے جو افراد کسی مذہب کے مرکزی انسٹیٹیوٹ میں کام کرتے ہیں وہ ان رضا کاروں کی مانند ہوتے ہیں جو مزہب کو تقویت پہنچانے اور اس کے فروغ کیلئے جنگ لڑتے ہیں چونکہ جو شخص کسی مقصد کیلئے جدوجہد کرتا ہے اسے اس کا نتیجہ ملتا ہے لہذا یہ لوگ جو مذہب کیلئے جنگ لڑتے ہیں انہیں بھی ان کے مساعی کا پھل ملتا ہے لیکن جو شخص خانقاہ میں گوشہ نشین ہو جاتا ہے وہ شکست خوردہ ہوتا ہے اور جنگ و جہاد کو ایک طرف رکھ دیتا ہے ۔

خانقاہ میں گوشہ نشینی کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں لیکن یہ بات عیان ہے کہ جو کوئی خانقاہ میں گیا وہ اب مجاہد نہیں رہا وہ جہاد کو ترک کرکے ساری عمر کیلئے ایک ہی ڈھنگ کی زندگی گزارنا چاہتا ہے ۔ خصوصا شیعوں کو بنی امیہ جن کے خون کے پیاسے تھے ۔ جعفر صادق جانتے تھے کہ اگر اس مذہب کے کچھ لوگوں کو کسی خانقاہ میں عبادت کیلئے معتکف کیا جائے تو یہ مذہب کیلئے ہر گز سود مند نہیں ہو گا اس طرح مذہبی اشاعت رک جائے گی ۔

انہیں اس بات کا بخوبی علم تھا کہ اگر شیعوں نے اعتکاف کے مراکز کی جانب رخ کر لیا اور وہاں گوشہ نشین ہو کر اپنی تمام عمر نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے میں صرف کرنے لگے تو شیعہ مذہب جسے بنو امیہ کی دشمنی کا سامنا ہے نابود ہو جائے گا اگر بنو امیہ شیعوں کی مخالفت نہ بھی کرتے اور شیعہ آبادیوں سے دور افتادہ علاقوں میں معتکف ہو جاتے تو چونکہ مذہب کی اشاعت و تبلیغ کیلئے کوئی بھی مجاہد باقی نہ رہتا اس لئے یہ مزہب خود بخود ختم ہو جاتا بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اعتکاف کی فکر اور خانقہ میں بسر کرنے کا رجحان صرف عیسائیوں میں پیدا ہوا ہے ۔

اس سے پہلے دنیا سے ہاتھ دھو کر ساری عمر ایک عبادت گاہ میں گزارنے کا تصور نہیں ملتا ۔ عیسائیت سے پہلے دوسرے مذاہب میں عبادت گاہیں موجود تھیں ۔ اور ان میں سے ہر ایک میں متعلقہ مذہب کے جاننے والے لوگ بھی رہتے تھے ان عبادت گاہوں کے اوقاف بھی ہوتے تھے جس طرح قدیم مصر میں زرعی جائیدادوں کا بڑا حصہ عبادت گاہ کی ملکیت ہوتا تھا ۔

لیکن اس عبادت گاہ میں رہنے والے تارک الدنیا شمار نہیں ہوتے تھے بلکہ انہیں خدام مذہب کہا جاتا تھا اور دیکھا گیا کہ وہ اپنے مذہب کی طرف داری میں جنگ لڑتے اور قتل ہو جاتے تھے اعتکاف میں بیٹھنے اور دنیا سے ہاتھ دھونے کی فکر دراصل ہندوانہ فکر ہے قدیم ہندوستان میں یہ رواج تھا کہ جب کسی کے بیٹے جوان ہو جاتے تو وہ باپ اپنے کنبے کی کفالت سے دستبردار ہوتے ہوئے معاشرے سے الگ تھلگ ہو کر جنگل کی راہ لیتا تھا اور اپنی باقی ماندہ زندگی کو تنہائی میں وہیں گزار کر اس جہاں فانی سے کو کر جاتا تھا ۔

یہی سوچ عیسائیت میں داخل ہوئی اور رومی حکومت کے عیسائیوں پر مظالم شاید اس سوچ کو تقویت دینے کا سبب بنے ‘ اس طرح چند عیسائی گروہوں نے اس دنیا سے ہاتھ دھو کر خانقاہوں میں گزر بسر کرنے کی ٹھانی اور بعض کا خیال ہے کہ عیسی کی تعلیمات کا بھی اس میں اثر ہے کیونکہ ان تعلیمات میں اس دنیا سے زیادہ اخروری دنیا کی جانب توجہ دی گئی ہے ۔ اس زمانے میں یعنی دوسری صدی ہجری کے آغاز میں مسلمانوں نے نہ صر ف رھبانیت کی طرف توجہ دی جس کی جعفر صادق نے سختیس ے مخالفت کی تھی بلکہ عیسائیت کی ایک اور رسم بھی جسے بپتسمہ یا غسل دینا کہا جاتا ہے کی طرف متوجہ ہو گئے ۔

چونکہ مسلمانوں کا اس زمانے میں صرف آرتھوڈ کسی مذہب کے پیروکاروں سے رابطہ تھا جو غسل دینے کی اس رسم کو اس طرح ادا کرتے تھے جس طرح اس مذہب کے پیروکار ادا کرتے تھے یعنی بچے کی پیدائش کی بیسویں اور چالیسویں دن کے درمیانی عرصے میں اسے مسجد لے جا کر ننگا کرکے طشت میں بیٹھا دیتے اور پھر طشت کو پانی سے بھر دیتے تھے ۔

پھر بچے کو اس طرح بٹھاتے تھے کہ اس کا چہرہ مشرق کی طرف ہوتا اور ایک مرد اور ایک عورت بچے کے دونوں جانب دائیں اور بائیں ہو جاتے اور مرد کو سوتیلا باپ اور عورت کو سوتیلی ماں قرار دیا جاتا پھر وہ بچے کا نام تجویز کرنا چاہتے اسے زبان پر لاتے جو آدمی مسجد کا متولی ہوتھا وہ جواب دیتا کیونکہ بچہ بولنے سے قاصر ہوتا وہ جواب میں کہا میں ایمان لایا ہوں ‘ دوسری مرتبہ پھر مسجد کا متولی بچے کا نام زبان پر لاتا اور کہتا کیا تو محمد پر ایمان لایا ہے ؟ اس دفعہ سوتیلی ماں جوابا کہتی میں ایمانی لائی ہوں پھر وہی متولی خوشبودار تیل کے چھوٹے سے برتن سے تیل اپنی انگلی پر لگاتا اور بچے کی پیشانی اور دو رخساروں پر ملتا اسی طرح دوبارہ انگلی کو تیل میں ڈبو کر اس کے سینے اور پیٹھ پر ملتا پھر اپنے دو ہاتھوں سے بچے کو پیٹھ سے پکڑ کر اوپر اٹھانے کے بعد پانی میں ڈبوتا اور فورا باہر نکالتا تاکہ پانی اسے ضرر نہ پہنچائے یہ عمل دو مرتبہ دھراتا اس کے بعد وہ سوتیلا باپ اور ماں بچے کو سفید لباس زیب تن کرواتے اور اس طرح بپتسمہ کی یہ رسومات ختم ہو جاتیں ۔

اس قسم کی رسومات آرتھوڈ کسی مذہب میں رائج تھیں اور کیتھولک ان رسومات کے دوران لاطینی زبان میں دعائیں پڑھتے اور بچے کو صرف سینے تک پانی میں ڈبوتے جبکہ بچے کی گردن اور سر کو پانی سے باہر رکھتے لیکن جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے کہ مسلمانوں کا اس وقت تک کیتھولک فرقے کے ساتھ رابطہ نہ تھا اور صرف آرتھوڈکس سے رابطہ رکھتے تھے اور صاف ظاہر ہے کہ تعمید کی رسومات آرتھوڈکس کی مانند انجام دیتے تھے امام جعفر صادق نے جس طرح رہبانیت کی شدید مخالفت کی اسی طرح بپتسمہ کی بھی مخالفت کی ‘ ہمیں معلوم ہے کہ وہ عیسائیت کی تاریخ سے بخوبی واقف تھے انہیں علم تھا کہ بپتسمہ کی رسم کس طرح عیسائیت میں داخل ہوئی ۔

جعفر صادق مسلمانوں سے فرماتے تھے آج آرتھوڈ کسی عیسائیوں کو بھی علم نہیں کہ بپتسمہ کے دوران میں بچے کا رخ مشرق کی طرف کیوں موڑتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ عیسائی مذہب شروع میں انطاکیہ میں کافی طاقت پکڑ گیا اور عیسی کے پیروکار اس جگہ بپتسمہ کے دوران بچے کا رخ مشرق کی جانب رکھتے تھے کیونکہ بیت المقدس ‘ انطاکیہ کے مشرق میں واقع ہے آج ایران کے عیسائی بھی بچے کا رخ مشرق کی جانب رکھتے ہیں حالانکہ بیت المقدس ایران کے مغرب میں واقع ہے۔ جعفر صادق شیعوں اور دوسرے اسلامی فرقوں سے فرماتے تھے میں نہیں سمجھتا کہ بپتسمہ کے دوران بچے پر تیل ملنے کی رسم جو عیسائیوں میں رائج ہے دوسری قوموں سے عیسائیت میں داخل ہوئی ہے کیونکہ ہم مسلمانوں میں بھی بعض ایسی رسومات ہیں جو دوسری مذاہب سے اسلام میں داخل ہوئی ہیں ۔

لیکن پیغمبر اسلام نے انہیں اسطرح اسلامی قوانین کے مطابق ڈھالا ہے کہ وہ اب غیر اسلامی نہیں رہیں البتہ بپتسمہ کی رسم اپنی اس حالت میں جیسا کہ بعض مسلمان اسے انجام دیتے ہیں عیسائی رسم ہے اور ایک مسلمان کو عیسائی مذہب کے قوانین پر عمل نہیں کرنا چاہیے ۔ اگرچہ قرآن میں عیسی کا کئی مقامات پر احترام کیا گیا ہے لیکن عیسائیت کے قوانین پر عمل کرنا مسلمان کیلئے جائز نہیں ۔

بچے کو نہلانا پاکیزگی کیلئے ضروری ہے لیکن عیسائیوں کے طریقے پر نہیں بلکہ میں تمام مسلمانوں کو ایسا کرنے سے پرہیز کرنے کی تلقین کرتا ہوں اور جو کوئی میرے منع کرنے کے باوجود اس فعل کی تکرار کرے میں اسے حقیقی مسلمان نہیں سمجھوں گا اگرچہ وہ اصول دین سے منحرف نہیں ہوا ۔

لیکن ایک عیسائی رسم کی پیروی سے ظاہر ہے کہ دین اسلام کے بارے میں اس کا عقیدہ پختہ نہیں ہے اور اس کا یہ تکرار مسلمان کے درمیان تفرقہ بازی کا موجب بنے گا جس طرح عیسائیوں کے درمیان تفرقے کا سبب بنا ہے جب امام جعفر صادق سے سوال کیا گیا کہ کیا آج مسلمانوں کے درمیان اختلاف نہیں پایا جاتا ؟ آپ نے فرمایا مسلمانوں کے درمیان پیغمبر اسلام کی ماہیت کے بارے میں اختلاف نہیں پایا جاتا ۔ مسلمانوں کے درمیان پیشوائی کے بارے میں ایک جیسا عقیدہ پایا جاتا ہو ۔ اور عیسائیوں کے بعض فرقے ‘ دوسرے فرقیے کے پیروکاروں کو مرتد اور واجب القتل سمجھتے ہیں جس طرح انطاکیہ کے عیسائی فرقے اور حبشہ کے عیسائی فرقے کا عقیدہ ہے کہ نستوری فرقہ والے مرتد اور واجب القتل ہیں ۔

اجو لوگ امام جعفر صادق کے حضور میں درس پڑھتے تھے وہ نستوری فرقہ کے عقیدہ سے بے خبر تھے اور جعفر صادق نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ ہمارے پیغمبر کی ہجرت سے ایک سو نوے سال پہلیا ور ۴۲۹ عیسوی میں قسطنطنیہ کے عیسائی اسقف نے جس کا نام نستوریس تھا نے کہا کہ عیسی ماہیت اور فطرت کے لحاظ سے ایک انسان ہے اور اس میں خدائی ماہیت کا ذرا بھی اثر نہیں ہے لیکن خدا اس میں اس طرح رہتا ہے جس طرح ایک مسافر کسی سرائے میں ٹھہراتا ہے یا مومن ‘ کلیسا میں ٹھہرتا ہے یہ نظریہ چند ہی روز میں قسطنطنیہ میں عام ہو گیا اور پھر وہاں سے اطراف کے علاقوں میں پھیل گیا ۔

اسکندریہ اور انطاکیہ کے عیسائی فرقے جو عیسی کو انسانی فطرت اور خدائی فطرت کا خمیر سمجھتے تھے نہ صرف یہ کہ انہوں نے نستوریس کے نظریہ کو روکیا بلکہ انہوں نے فتوی دیدیا کہ نستوریس اور اس کے پیروکار مرتد اور واجب القتل ہیں

۹; نستوریس کا نظریہ ‘

جس کے تحت وہ عیسی کو مکمل طور پر انسانی ماہیت اور فطرت کا حامل قرار دیتا ہے البتہ صرف یہ کہتا ہے کہ ان کا جسم خدا کا مکان ہے (یہ نظریہ ) کافی مقبول ہوا اور اج اس فرقے کے پیروکاروں کو نستوری کہہ کر پکارا جاتا ہے اور اس فرقے کے پیروکار ‘ تمام عیسائی فرقوں کی نظر میں (چاہے وہ جو عیسی کو خدا سمجھتے ہیں یا وہ جن کا عقیدہ ہے کہ عیسی کا خمیر دونوں فطرتوں یعنی خدائی اور انسانی فطرت سے ہے ) مرتد ہیں ۔

جعفر صادق نے شاگردوں کے معلومات میں اضافے کیلئے فرمایا کہ حبشہ کے عیسائی خدا اور عیسی کی وحدت کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ اگرچہ عیسی انسانی ڈھانچہ کا حامل ہے لیکن اس کا انسانی ڈھانچہ الوہیت میں فنا ہے اس بات کو ثابت کرنے اور مخاطب کو سمجھانے کیلئے وہ مختلف مثالیں بھی دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عیسی کا انسانی ڈھانچہ ذات باری تعالی کے مقابلے میں ایسا ہے جس طرح موم کا ایک ذرہ بہت وسیع اور پھیلی آگ کے اندر ہو اور موم کا ذرہ اس آگ میں اسی طرح فنا ہو جاتا ہے جس طرح پانی کا قطرہ دریا میں فنا ہو جاتا ہے ۔

ایک تیسری چیز جو دوسری صدی کے پہلے پچاس سالوں کے دوران (یعنی امام جعفر صادق کے تدریس کے زمانے میں ) بعض مسلمانوں کی رسومات میں شامل ہو گئی ۔ وہ تجرد یعنی کنواری زندگی تھی مسلمان مرد عیسائی پادریوں کی تقلید میں شادی نہیں کرتے تھے ۔ اور شادی نہ کرنے کو تزکیہ نفس کا وسیلہ سمجھتے تھے ۔

اس دور سے پہلے مسلمان صرف عیسائی آرتھوڈ کسی فرقوں کو پہچانتے تھے اور عیسائی کیتھو لکی فرقوں سے ان کا رابطہ نہ تھا اس زمانے میں دین اسلام کے پھیلنے کی وجہ سے مسلمانوں کے روابط کیتھولک فرقوں سے بھی پیدا ہوئے انہوں نے دیکھا کہ ان فرقوں میں نہ صرف وہ مرد راہب جو خانقاہوں میں رہ رہے ہیں شادی نہیں کرتے بلکہ وہ پادری جو کلیساؤں میں خدمت میں مشغول ہیں بھی شادی بیاہ کرنے سے اجتناب کرتے ہیں ۔

عیسائی آرتھوڈ کسی فرقے جن سے مسلمانوں کا رابطہ تھا انطاکیہ اور اسکندریہ فرقوں کی مانند پادریوں کی شادی کو جائز سمجھتے تھے ۔

بعض عیسائی آرتھوڈ کسی فرقوں نے پادریوں کیلئے شادی بیاہ ممنوع قرار دے دیا تھا لیکن مسلمانوں ان سے واقف نہ تھے جب اسلام اتنا پھیل چکا ہ مسلمانوں کے روابط عیسائی کیتھو لکی فرقوں یا عیسائی لاطینی فرقے سے برقرار ہوئے تو انہوں نے مشاہدہ کیا کہ کیتھولک عیسائی پادری شادی بیاہ نہیں کرتے اور ساری زندگی مجرد گزار دیتے ہیں اس بات کا ان پر کافی اثر ہو اور بعض مسلمانوں نے کنوارے رہنے کو ترجیح دی خاص طور پر یہ کہ جب وہ کنوارے زندگی بسر کرتے تھے تو خاندان کی معاشی کاکفالت کے فکر سے بھی بچ جاتے تھے حقیقت یہ ہے کہ شادی کیتھولکی پادریوں پر حرام نہیں تھی اس طرح اگر کوئی کیتھلوکی پادری شادی کرتا تو وہ حرام عمل کا مرتکب نہیں ہوتا تھا ۔

کسی دور میں بھی نہ ہی کسی پوپ کی طرف سے ا ور نہ ہی کیتھولکی پادریوں کی کسی عالمی کمیٹی کیطرف سے (کمیٹی جس کے ممبران ‘ عیسائی مذہب کے پیشو ہوتے ہیں اور وہ باہم مل کر فیصلہ کرتے ہیں ) پادریوں پر شادی بیاہ کے حرام ہونے کا فتوی صادر کیا گیا تھا لیکن کیتھلوکی پادری کا کنوارہ رہنا دو دلیلوں کی بنا پر اس کا کمال شمار ہوتا تھا پہلی دلیل یہ کہ لوگ کہتے تھے وہ عیسی کا خدمت گزار ہے اس لیے اس کی روش کی پیروی کرتا ہے کیونکہ عیسی نے شادی نہیں کی تھی ۔

دوسری دلیل یہ کہ وہ کہتے تھے جب پادری فارغ البال ہو گا تو وہ اپنی تمام جسمانی اور روحانی توانائی کو کلیسا کی خدمت کرنے اور کیتھولک مذہب کے فروغ کیلئے وقف کرے گا ۔

کیتھولک پادریوں کی طرف سے شادی کے حرام نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ حالیہ چند سالوں کے دوران چند کیتھولکی پادریوں نے واٹیکن (کیتھولک مذہب کا مرکز)سے شادی کرنے کی اجازت لی تھی اور اگر پادری کیلئے شادی کرنا حرام ہوتا تو واٹیکن ہر گز شادی کرنے کی اجازت نہ دیتا اور کوئی کیتھولک پادری ایک حرام کام کے ارتکاب کیلئے کیتھولک مذہب کے مرکز سے اجازت نہ لیتا کیونکہ اگر اس کی درخواست قبول نہ کی جاتی تو اسے پشیمانی ہوتی ۔

بہر حال بعض مسلمان مرد کیتھولک پادریوں کی تقلید میں شادی بیاہ سے پرہیز کرتے تھے امام جعفر صادق نے اس تقلید کی مخالفت کی اور فرمایا مرد کا شادی بیاہ سے پرہیز اللہ تعالی کے احکام کی خلاف ورزی ہے اور اس سے انسان کو روحانی نقصانات ہوتے ہیں اس کے علاوہ بھی کنوارہ پن مسلمانوں کے معاشرے کیلئے خطرناک ہے کیونکہ اس سے مسلمانوں کی تعداد کم رہ جاتی ہے جب کہ کفار کی تعداد دن بدن بڑھتی ہے جعفر صادق نے مسلمانوں سے کہا اگر کنواری زندگی ضروری ہوتی یا اس کا کچھ فائدہ ہوتا تو پیغمبر اسلام کنوارے ہوتے اور چونکہ پیغمبر اسلام نے شادی کی ہے اس لیے ہر مسلمان مرد کو شادی کرنا چاہیے تاکہ وہ ان معنوی نقصانات سے جو کنوارے پن سے وجود میں آتے ہیں بچ سکے اور افزائش نسل کے ذریعے اسلامیمعاشرے کی خدمت بجا لائے ۔

مردوں کے کنوارے رہنے کی امام جعفر صادق نے اس قدر شدید مخالفت کی کہ کنوارے رہنے کی یہ تحریک (قریب تھا کہ اسلام میں اس کی جڑیں مضبوط ہو جائیں ) اس قدر ضیعف ہوئی کہ تقریبا ختم ہو گئی پھر بھی اس کا بچا کچھ اثر تیسری ‘ چوتھی پانچویں صدی ہجری کے دوران میں دیکھا گیا ہے کہ مردوں کے ایک گروہ نے تمام عمر شادی نہیں کی جن میں سے مشہور افراد کو ہم جانتے ہیں ۔

انیسویں صدی عیسوی تک یہ بات معلوم نہیں ہوئی تھی کہ امام جعفر صادق کی طرف سے کنوارے پن کی مخالفت انسان کی مزاجی اور اعصابی مصلحتوں کی بنا پر تھی قدیم لوگ جانتے تھے کہ کنواری پن معنوی لحاظ سے مرد کیلئے مضر ہے لیکن انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ انسانی بیالوجی اور اعصاب کے لحاظ سے یہ کسی قدر نقصان دہ ہے ۔

دوسرا یہ کہ پرانے واقتوں میں جب کنوارے پن کی بات ہوتی تو صرف مرد کے کنوارے پن کو مد نظر رکھا جاتا عورب کے کنوارے پن کی طرف توجہ نہیں دی جاتی تھی گویا زن کا کنوارہ ہونا کنوارے پن میں شمار نہیں ہوتا تھا جب کہ موجودہ زمانے میں جب ہم کنوارے پن کی بات کرتے ہیں تو ہمارے پیش نظر مرد و زند دونوں کا کنواری پن ہوتا ہے انیسوی صدی عیسوی کے بعد آہستہ آہستہ معلوم ہوا کہ کنوارہ پن مرد اور عورت دونوں میں نہ صرف یہ کہ اعصاب کی شکست و ریخت کا باعث بنتا ہے بلکہ اس سے بدن کے دوسرے فرائض میں بھی خلل واقع ہوتا ہے جس سے اعصاب کے علاوہ جسمانی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔

بابائے دور علم جدیدہ

ہم نے دیکھا کہ جعفر صادق نے اپنے والد گرامی کے حلقہ درس میں سورج کے گرد حرکت پر اس حالت میں جب وہ بارہ برجوں سے عبور کر رہا ہوتا ہے تنقید کی اور کہا کہ اس طرح کی حرکت کو عقل تسلیم نہیں کرتی اور عنقریب آگے آیے گا کہ والد کے بعد جعفر صادق نے اپنا مستقل حلقہ درس قائم کیا علم نجوم کے بارے میں انہوں نے ایسے نظریات پیش کئے کہ اگر انیس تمام جدید علوم کا پیشوا نہ بھی کہا جائے تو بھی کم از کم وہ علم نجوم کے پیشوا ضرور ہیں اور جدید علمی زمانے سے ہماری مراد وہ زمانہ ہے جس میں یورپ میں علمی روشنی پھیلی اس زمانے کا آغاز سلطان محمد فاتح کے ہاتھوں قسطنطنیہ کے سقوط سے شمار کیا جاتا ہے یہ مصدقہ امر ہے کہ اسلامی دنیا جدید علوم کو قبول کرنے کیلئے یورپ کی نسبت زیادہ آمادہ تھی اور اسلام نے اپنی اشاعت کے ابتدائی زمانے میں علمی حقائق کو تسلیم کرایا تھا جب کہ یورپ پندرہویں صدی عیسوی میں جب قسطنطنیہ کا سقوط ہوا اور اس کے بعد سولہویں صدی اور یہاں تک کہ سترہویں صدی عیسوی میں بھی علمی حقائق کو سننے کا متحمل نہیں ہو اتھا وہ علمی حقائق جنہیں یورپ کم و بیش سننے کا متحمل نہیں تھا ان میں سے سب سے زیادہ قابل تحمل نجومی حقائق تھے ۔

اگر یورپ میں کوئی کسی عنصر یعنی آب ‘ خاک یا آگ کے بارے میں ایسی بات کرتا جو رسم و رواج کے خلاف ہوتی تو کہنے والا خطرے سے دور چار نہیں ہوتا تھا لیکن اگر نجوم کے متعلق کوئی ایسی بات کرتا جو رواج کے برعکس ہوتی تو وہ خطرے سے دو چار ہو جاتا اور مرتد ہونے کی وجہ سے یا توقید کر دیا جاتا یا قتل ہو جاتا یونان اور قدیم روم میں نجومی حقائق کے متعلق لوگ کافی حساس تھے قدیم یونان علم کی سر زمین بھی کہلاتی تھی جیسا کہ پلین لکھتا ہے آنا گزاگور اس نے اصرار کیا ہے کہ ایرانی علم نجوم کو یونان میں پڑھائے اسی وجہ سے اس پر یونان سے غداری کرنے کا الزام لگایا اور پھر جلا وطن کر دیا گیا ۔

خیال کیا جاتا ہے کہ قومیں ‘ حتی کہ یونانی قوم بھی علم نجوم کے حقائق جاننے کے بارے میں اس لیے حساس تھیں کہ انہوں نے ستاروں کی حرکات کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور اس میں تردید کی کوئی گنجائش نہ تھی کہ جو کچھ وہ دیکھ رہے ہیں وہ حقیقت پر مبنی ہے۔

چونکہ نجوم کی حرکات کو تمام لوگ محسوس کر سکتے تھے یہی وجہ تھی کہ کسی نے یہ دعوی نہیں کیا تھا کہ ان حرکات میں حقیقت نہیں ہے ۔

کئی دفعہ ایسا ہوا کہ مشرق اور مغرب میں علمی مسائل کے متعلق ایسی باتیں کی گئیں جو اس زمانے کے رسم و رواج کے خلاف تھیں مثلا حرکت کے بارے میں یعنی یہ کہ حرکت پہلے وجود میں آئی یا دنیا؟یا پہلے دنیا وجود میں آئی اور پھر حرکت وجود میں آئی غرضیکہ بہت سی ایسی باتیں کی گئیں جو اس زمانے کے رسم و رواج کے خلاف تھیں اس طرح کبھی روح اور جسم پر بحث کی گئی کہ پہلے روح وجود میں آئی اور بعد میں جسم یا یہ کہ پہلے جسم پیدا کیا گیا اور بعد میں روح پیدا کی گئی اس طرح بہت سی باتیں اس زمانے کے طور طریقے کے خلاف کی گئیں لیکن چونکہ روح یا جسم کے بارے میں لوگوں نے نہ تو کچھ دیکھا تھا اور نہ ہی محسوس کیا تھا ان مسائل پر بحث و مباحثہ کرنے والوں پر کفر اور ارتدادکے فتوے نہیں لگائے جاتے تھے ماسوائے اصول دین مثلا توحید یا نبوت کی مخالفت کرنے والوں کے۔

آنا گزیمن یونانی دانشور اور فلسفی جو ساتویں صدی قبل از مسیح میں ہو گزار ہے ہمیں اس کی زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں اس نے کہا ہے کہ سورج آگ کا بگولا ہے یہ زمین سے بہت بڑا ہے اور اس کے چھوٹا نظر آنے کی وجہ اس کی دور ہے اگر یہ زمین سے بڑا نہ ہوتا اور اس کی حرارت زیادہ نہ ہوتی تو یہ ساری زمین کو روشن نہ کر سکتا اور اس طرح ہم اس کی حرارت سے مستفید نہ ہو سکتے ۔

شیعی ثقافت کی اہمیت اور آزادی

امام جعفر صادق علیہ السلام شیعہ مکتب کیلنے جس ثقافت کو سامنے لانے وہ اس زمانے کی دوسری مذہبی ثقافتوں کی نسبت اس لحاظ سے ممتاز حیثیت کی حامل تھی کہ اس میں بحث کی آزادی تھی اور اسی وجہ سے اس ثقافت میں توسیع ہونی اور اسے فروغ حاصل ہوا ۔

گذشتہ صفحات میں ہم نے ذکر کیا کہ کیتھولک مذہب کی ثقافت تقریبا ایک ہزار سال تک جمود کا شکار ہی آج کے آرتھوڈکس مذہب کی ثقافت اور دوسری صدی عیسوی میں انطاکیہ میں اس مذہب کی ثقافت میں کوئی فرق نہیں ۔

لیکن شیعہ مکتب کو جعفر صادق نے ایسے خطوط پر استوار کیا کہ ابھی دوسری صدی ہجری اختتام کو نہیں پہنچی تھی کہ اس میں توسیع ہو گئی تھی ۔

شیعی ثقافت کا دامن نہ صرف یہ کہ خود وسیع ہوتا گیا بلکہ تمام اسلامی فرقوں کیلئے مباحثات میں کسی حد تک آزادی کے قائل ہونے کیلئے نمونہ ثابت ہوئی ۔

بعض لوگوں نے تصور کیا تھا کہ مذہب کے بارے میں بحث کی آزادی ‘ اسکندریہ کے علمی مکتب میں شروع ہوئی ‘ جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ اسکندریہ کے علمی مکتب میں فلسفہ کے بعد ‘ علم نجوم و فزکس و کیمیاء و طب و فارمیسی اور کسی حد تک میکانکس کے بارے میں توجہ یا رغبت کا اظہار کیا جاتا تھا لیکن مذہب کے بارے میں دلچسپی کا اظہار نہیں کیا جاتا تھا ۔

اسکندریہ کے علمی مکتب کے سائنس دانوں کا ایک گروہ یہودی یا عیسائی تھا لیکن انہوں نے مذہبی مسائل کو کبھی علمی مباحثات میں داخل نہیں کیا ونکہ اسکندریہ کا علمی مکتب ایک لا مذہب مکتب شمار ہوتا تھا ۔ لہذا یہ علمی مکتب مذہبی بحثوں میں نہیں پڑنا چاہتا تھا ۔

ہمیں معلوم ہے کہ اسکندریہ کے علمی مکتب کا آغاز اسکندریہ کی لائبریری سے ہوا اور ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ اسکندریہ کا کتابخانہ بطلیموس اول یعنی مصر کے بادشاہ نے قائم کیا یہ بادشاہ ۲۵۸ قبل مسیح میں فوت ہوا ‘ یہاں اس بات کا تفصیلات ذکر ضروری نہیں ہے کہ سلسلہ بطالیہ کے بادشاہوں نے ۱۵۰ مصر پر حکومت کی ان کا پہلا بادشاہ بطلیموس اول تھا جو یونانی الاصل تھا اور یہ بادشاہ یونان کے خداؤں کی پرستش کرتے تھے ۔

لیکن مصر کے بادشاہ ہونے کے باوجود ان کا مذہبی عقیدہ اسکندریہ کے علمی مکتب کی بحثوں کا موضوع نہ بنا اور وہ پہلا دانشور جو اسکندریہ کے علمی مکتب سے باہر آیا اس کا نام شکاک تھا جو پیرون کے نام سے مشہور ہوا ۔

پیرون مستقل طور پر اسکندریہ کا باسی نہ تھا لیکن اس علمی مکتب کے تربیت یافتہ لوگوں میں سے تھا اور اس مکتب نے اسے متاثر کیا اور شکی المزاج بنا دیا اس نے کہہ دیا کہ سائیاک وجود نیا میں نہیں ہے جسطرح محال ہے کہ ایک نظریہ پیش کیا جائے اور اس کو کسی دوسری نظریہ کے ذریعے مسترد نہ کیا جاسکے ۔

کہا جاتا ہے کہ اسکندریہ کے مکتب نے پیرون کو جس نے ۳۷۰ قبل مسیح نوے سال کی عمر میں اس جہاں فانی کو الوداع کہا ‘ شکی المزاج نہیں بنایا بلکہ شک و شبہ کا مادہ پیرون کے اندر موجود تھا لیکن اسکندریہ کے اس مکتب میں علمی بحث کی آزادی کی وجہ سے اس کے شک و شبہ کو تقویت ملی یہاں تک کہ پیرون مکمل طور پر حقیقت کے وجود کا منکر ہو گیا اور اگر مصر کے سلسلہ بطالیہ کے بادشاہون کا دین اسکندریہ کے مکتب میں داخل ہوتا تو پیرون اتنی دیدہ دلیری سے ہر حقیقت پر شک کا اظہار نہ کر سکتا چونکہ بطالیہ بادشاہوں کے مذہب میں یونانی خداؤں کا وجود ایک ایسے حقیقت تھا جس میں شک و شبے کی گنجائش نہ تھی ۔

یہاں پر پیرون کے فلسفے کے متعلق بحث نہیں کرتے کیونکہ اسطرح ہم اپنے اصلی مقصد سے ہٹ جائیں گے ہمارے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اسکندریہ کے علمی مکتب میں مذہبی بحث ہوتی تھی ۔ کیونکہ وہ مکتب علمی بحثوں کے لحاظ سے لا مذہب تھا ۔

بحث کی آزادی اس وقت شروع ہوئی جب جعفر صادق نے شیعی ثقافت کی مذہبی مسائل میں بنیاد رکھی اس ثقافت میں مذہبی بحثیں ‘ عام علمی مباحث میں داخل ہوئیں اور صدیوں بعد نوبت یہاں تک پہنچی کہ شیعہ مذہب کے دانشور اس مذہب کو علمی قوانین کے ذریعے ثابت کرنے لگے ۔

شیعہ مکتب کی ابتداء کا اثر دوسرے مذاہب پر بھی پڑا اور وہ بھی اپنے مذاہب کو علمی دلائل کے ذریعے ثابت کرنے لگے عیسی اور موسی کے مذاب کی طرح دین اسلام بھی جب آیا تو اس نے کسی دوسری چیز پر تکیہ کئے بغیر علمی دلائل کے ذریعے اپنی حقانیت کو ثابت کرنیکا آغاز کیا ۔

آج جبکہ دین موسی آئے ہوئے تیس صدیاں دین عیسی کو بیس صدیاں اور اسی طرح اسلام کو چودہ سو سال ہو چکے ہیں اہل بصیرت گروہ کا عقیدہ ہے کہ دین کا علمی استدال سے کوئی تعلق نہیں اس کا تعلق قلب و نظر سے ہے نہ کہ علم سے ۔

تمام آرتھوڈ کسی مذہبی پیشوا اس نظریئے کے حامی ہیں اور کیتھولکی مذہبی پیشواؤں کی اکثریت دین کو علم سے جدا کرنے کی قائل ہے ۔ البتہ اس مفہوم میں نہیں کہ دین ایک نظریہ نہیں جسے علم کے ذریعے ثابت نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس مفہوم میں کہ جب کبھی احکام دین عام استدال سے ثابت نہ ہوں تو یہ دین کے ناقص ونے کی دلیل نہیں کیونکہ عیسائی مذہب کا سر چشمہ عشق ہے نہ کہ علم ‘ اور دوسرے الفاظ میں اس مذہب کا سر چشمہ عشق ہے نہ کہ عقل ‘ اسی وجہ سے عیسائی مذہب کے مدارس جنکو آج انگریز زبان میں سیمزی اور فرنسیسی زبان میں سیمینر کہا جاتا ہے ان میں علوم نہیں پڑھائے جاتے تھے کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ دین اک سر چشمہ علم نہیں ہے ۔

&قرون وسطی میں کلاسیکل مذہبی دروس کے علاوہ ‘ عیسائی فقہ کو بھیمذکورہ مدارس کے دروس میں قانون کے نام پر داخل کیا ‘ اور ابھی تک عیسائی مذہب کے مدارس میں خصوصا کیتھولک مذہب کے مدارس میں قانون پڑھایا جاتا ہے ۔

لہذا عیسائی مذہب کے مدارس میں جو اور علم پڑھایا جاتا ہے وہ علم قانون یا قانون مذہبی ہے ۔ قرون وسطی کے دوران فزکس و کیمسٹری و نجوم و حساب و ہندسہ و طب و میکانکس عیسائی مذہب کے مدارس میں نہیں پڑھائے جاتے تھے اور فلسفہ بھی نہیں پڑھایا جاتا تھا ۔ کیونکہ فلسفہ پڑھانے کو عیسائی مذہب کے مدارس میں سود مند نہیں سمجھا جاتا تھا ۔

&شیعہ ثقافت جسے امام جعفر صادق نے رائج کیا پہلا ایسا مکتب ہے جس میں مذکورہ بالا علوم پڑھائے جاتے تھے جعفر صادق خود ان علوم کو پڑھاتے اور فلسفہ کی تدریس سے بھی پہلو تہی نہیں کی جاتی تھی ۔

جس فلسفہ کو جعفر صادق (ع) تدریس کرتے تھے وہ اس کلاسیکل فلسفہ کی اطلاعات پر مشتمل تا جو اس وقت تک مدینہ تک پہنچ چکی تھیں ۔

جس زمانے میں جعفر صادق (ع) فلسفہ پڑھاتے تھے اس زمانے تک یونانی حکماء کی کتابوں کا سوریانی زبان سے عبی زبان میں با محاورہ ترجمہ نہیں ہوا تھا ۔

باور کیا جاتا ہے کہ یونانی حکماء کے فلسفیانہ نظریات بھی مصر کے راستے بعض قبطی دانشورں کے ذریعے جو ابھی تک اسکندریہ کے آزاد بحث والے مکتب کے پیرو تھے ‘ مدینہ تک اور جعفر صادق (ع) تک پہنچے اور اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ وہ (بظاہر ) مکتب اسکندریہ کے آزاد بحث کرنیوالے مکتب کے پیرو کار تھے اسی مذہب کے پیروکار تھے اور اسی مذب کی پیروی کرتے ہوئے فلسفہ کو مضر خیال کرتے تھے ۔ بہر کیف ‘ قبطی علماء کی تعداد جو فلسفے سے دلچسپی رکھتی تھی ‘ کچھ زیادہ نہ تھی اور ان کی توصیف کے ساتھ ہم انداز کہہ سکتے ہیں کہ فلسفہ ان کی وساطت سے مدینے پہنچا ‘ اسلام میں جعفر صادق (ع) سے پہلے کسے استاد نے بھی فلسفے کو اپنے دروس میں (باقاعدہ ) داخل نہیں کیا جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعد میں فلسفہ شیعہ میں اور دوسری اسلامی فرقوں کے مدارس کے دورس کے مواد میں شامل ہو گیا ۔ اور اس کی ابتداء کا سہرا امام جعفر صادق کے سر ہے ۔

جعفر صادق کے دورس کے فلسفیانہ مباحث‘ سقراط افلاطون اور ارسطو کے فلسفیانہ نظریات تھے اور چونکہ جعفر صادق فلسفے کی تدریس کے بانی تھے ‘ لہذا آپ کے بعد آنیوالے ادوار میں شیعہ مدارس میں فلسفے کی تدریس کا رواج پڑ گیا ‘ سارے اسلامی فرقوں میں فلسفہ پڑھایا جاتا تھا لیکن اتنا عام نہیں تھا اور علاوہ دوسری اسلامی فرقوں میں فلسفہ پر توجہ نہیں دی جاتی اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مذہب پر اثر انداز نہیں ہوتا ۔ گذشتہ صفحات میں سے ایک میں ہم نے اشارہ کیا ہے کہ جعفر صادق عرفان بھی پڑھاتے تھے آپ کا عرفان ‘مشرق کے عرفان اور اسکندریہ کے مکتب کے عرفان سے متعلق تھا لیکن آپ ان دونوں مکاتب سے ایک جدید عرفانی مکتب وجود میں لائے جسے آپ کے پیروکار جعفری عرفان کا نام دیتے ہیں جعفر ی عرفان میں اور مشرقی اور مکتب اسکندریہ کے عرفان میں یہ فرق ہے کہ جعفری عرفان میں دنیاوی امور پر بھی ‘ اخلاقی امور پر اور تزکیہ نفس کی مانند توجہ دی جاتی ہے ۔

جعفر صادق نے اپنے عرفان میں صرف اخروری امور پر اکتفا نہیں کیا بلکہ دنیاوی امور اخلاق و تزکیہ نفس کا بھی سہارا لیا ہے گوایا انہوں نے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ جو کوئی دنیوی امور اخلاقی و تزکیہ نفس کے میدان جہاد میں جدوجہد کرے گا اسے آخرت میں اسکی اچھی جزا ملے گیا ور اس دنیا کی زندگی ایک کھیتی کے مانند ہے کہ جو کچھ یہاں بوئیں گے دوسری دنیامیں وہی کاٹیں گے اور جنہوں نے اس دنیا میں اپنے دنیوی و اخلاقی فرائض اادا کئے انہیں دوسری دنیا میں اپنے متعلق خوف و خظر نہیں ہونا چاہیے اور انہیں اس بارے میں فکر نہیں کرنا چاہیے کہ انہوں نے آخرت کیلئے توشہ مہیا نہیں کیا ۔ جعفر عرفان میں دوسرے مکاتب فکر کی مانند مبالغہ آرائی نہیں ہے اور خالق و مخلوق کی وحدت بھی نہیں پائی جاتی۔ آپ کے عرفان میں اگر انسان نیکو کار ہو گا تو خدا کے قریب ہو جائے گا لیکن اس سے ملحق نہیں ہو گا کیونکہ مخلوق خالق سے ملحق نہیں ہو سکتی اس بات کا امکان ہے کہ مخلوق اور خالق کے درمیان فاصلہ کم ہو جائے لیکن یہ فاصلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکتا ۔

جعفر صادق کے حلہ درس میں آزادانہ اظہار خیال کیا جاتا تھا جس میں ہر شاگرد استاد پر اس حد تک تنقید کر سکتا تھا کہ استاد کے نظریئے کو مسترد بھی کر سکتا تھا ۔

جعفرصادق نے اپنا نظریہ شاگردوں پر ٹھونسا نہیں بلکہ انہیں آزادی تھی کہ استاد کے نظریئے کو قبول کریں یا مسترد کر دیں ۔

جعفر صادق کے درس کا اثر تھا کہ شاگرد آپ کے نظریئے کو قبول کر لیتے تھے ۔ جو لوگ جعفر صادق کے حلقہ درس میں حاضر ہوتے تھے انہیں علم تھا کہ مادی لحاظ سے ان کا درس سود مند نہیں ‘ بلکہ شہر مدینہ کے باہر ایک عرصے تک اگر کوئی شخص اپنے آپ کو جعفر صادق کے مریدوں میں سے ظاہر کرتا تو ممکن تھا کہ اس کی جان خطرے میں پڑ جائے کیونکہ اموی حکام جعفر صادق کے مردوں کو دشمن نگاہوں سے دیکھتے تھے ۔اگرچہ انہیں معلوم تھا کہ ان میں اس دور میں دشمنی کرنیکی جرات نہیں لیکن پھر بھی ان کا خیا ل تھا کہ یہ لوگ پہلی فرصت میں اپنی دشمنی کو ظاہر کر دیں ۔

جو لوگ جعفر صادق کے حلقہ درس میں شریک ہوتے تھے انہیں بخوبی علم تھا کہ وہ کسی مقام پر فائز نہیں ہو سکتے کیونکہ جعفر صادق اموی حکام و خلیفہ کی مانند دینوی مصب پر براجمان نہیں تھے کہ اپنے مریدوں اور شاگردوں کو کوئی رتبہ دیتے ۔ وہ لوگ جانتے تھے کہ جب جعفر صادق کے اپنے پاس مال و متاع نہیں ہے تو وہ دوسری کون کیسے نوازیں گے ۔

جو چیز امام جعفر صادق کے شاگردوں کو انکے درس کی طرف کھینچ لاتی تھی وہ آ پ کی قوت کلام اور آپ گفتگو پر ایقان تھا اور چونکہ امام جعفرصادق جو کچھ فرماتے تھے اس پر ان کا ایمان ہوتا تھا ‘ اس لئے آپکے کلمات شاگردوں پر اثر کرتے تھے ۔

جعفر صاد ق جو کچھ کہتی تھے اس پر ان کا ایمان تھا لہذا اپنی زندگی میں سلوہویں صدی عیسوی کے بعد کی صورتحال سے جیسے ایتھوپیا سے موسوم کیاجاتا ہے ‘ میں دخل نہیں دیا ۔

آپ نے اپنے شاگردوں کو ہر گز ایک ایسی آئیڈیل حکومت کے قیام کی جانب راغب نہیں کیا جسے عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکتا تھاجس زمانے میں آپ کے والد گرامی درس دیتے تھے ‘ وہ شاگرد جومحمدد باقر کے حلقہ درس میں حاضر ہوتے تھے وہ دینوی مصب تک پہنچے اور قاضی بننے کے امیدوار ہوتے تھے ۔

چونکہ ولید بن عبالملک اموی خلیفہ نے اس بات سے اتفاق کی اتھا جو لوگ آج کی اصطلاح میں فارغ التحصیل ہوں گے ۔ ان میں سے چند لوگوں کو جج منتخب کیا جائے گا ۔

لیکن جو لوگ جعفر صادق کے حلقہ درس میں شریک ہوتے تھے وہ اس بات کے امیدوار نہیں ہوتے تھے اور صرف معررفت کے حصول کیلئے علم حاصل کرتے تھے ۔

&اعراب کے مصر میں داخل ہونے اور مکتب اسکندریہ کے خاتمے میں سے پہلے مکتب اسکندریہ اور مکتب امام جعفر صادق دونوں میں اظہار خیال کی آزادی ہوتی تھی لیکن ان دونوں مکاتب میں یہ فرق تھا کہ مکتب اسکندریہ میں مذہبی بحث درمیان میں نہیں لائی جا تی تھی جبکہ جعفر صادق کے درس میں مذہب پر بحث ہوتی تھیا ور شاگردوں کو اس بات کی اجازت تھی کہ وہ استاد کے مذہبی نظریات پر بھی تنقید کریں ۔

اسی آزادی بحث کا اثر تھا کہ شیعی ثقافت طاقت ور اور وسیع ہوتی گئی اس لئے کہ اس میں زبردستی نہیں تھی اور جو شخص اسے قبول کرتا وہ صدق دل سے قبول کرتا تھا ‘ چونکہ اس ثقافت میں جبرو کراہ نہیں تھا اسلئے جو کوئی اسے قبول کرتا وہ مادی مفاد یا شان و شوکت کیلئے نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے مذہب شیعہ کا گرویدہ ہونے کے باعث اسے قبول کرتا تھا ۔

مشرقی تاریخ کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ صفویہ دور سے پہلے مشرق میں کوئی شیعہ سلطنت نہیں تھی اور اگرچہ آل بویہ سلاطن نے شیعہ مذہب کو پھیلانے کیلئے اقدامات کئے لیکن انہوں نے جبر و اکراہ سے کام نہیں لیا بلکہ شیعی ثقافت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جس میں کربلا کے اکسٹھ ہجری کے واقعات کا ذکر بھی ہوتا تھا ‘ اس مذہب کی تبلیغ و اشاعت کرتے تھے ۔

آل بویہ کے شیعہ سلاطین کی کوئی مستقل حکومت دیکھنے میں نہیں آئی البتہ اس کے بعد صفویوں نے مضبوط حکومت کی بنیاد ڈالی ۔

بہر کیف شیعہ مذہب ‘ مشرقی ممالک میں ان ادوار کی حکومتوں کی مخالفت کے باوجود ترقی کرتا رہا اگرچہ اس کی ترقی اتنی تیز نہیں تھی پھر بھی چونکہ ایک مضبوط اور وسیع ثقافت کا حامل تھا لہذا سینکڑوں سال تک سلاطین اور حکام کی دشمنی کے مقابلے میں پائیدار رہا حالانکہ حکومت و طاقت نہ ہونے کے علاوہ اس کے پاس مادی وسائل کی بھی کمی تھی ۔بعض اقوام ایسی گزری ہیں جو صدیوں تک بغیر حکومت کے زندہ رہیں حالانکہ ان کے مساتھ مسلسل دشمنی کا برتاؤ کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ قومین مادی وسال رکھتی تھیں مثلا قرون وسطی میں کہ یہودی کہ نہ صرف عام لوگ بلکہ حکام حتی کہ بعض سلطاین بھی ان سے قرض لیتے تھے ۔ اور چونکہ مادی لحاظ سے وہ ان کے محتاج ہو تے تھے لہذا انہیں آزاد نہیں پہنچاتے تھے اور قرون وسطی میں یورپ کے بعض شہریوں کے حملوں میں یہودی الگ زندگی گزارتے تھے ۔

جعفر صادق کے ہزار سال بعد جب خطہ یورپ نے قون وسطی کی تاریکیوں سے نجات پائی اور اس خطے کے لوگوں کے نظریات میں جلائی آئی تو پھر بھی لاطینی یورپ کے ممالک مثلا فرانس ‘ اٹلی و سپین و پرتکال میں یہ حالت تھی کہ جب کوئی شخص کیتھولکی مذہب کی فروعات پر تنقید کرتا تو انتہائی سخت سزا دی جاتی تھی چہ جائیجہ وہ مذہب کے اصوول پر تنقید کرتا ۔

برونو ‘ ایک اٹالین پادری نے کیا کہا تھا جو اسے زندہ جلا ڈالا گیا۔ اس شخص کو ۱۶۰۰ عیسوی میں اس لئے جلا ڈالا گیا کہ یہ اصول و فروع کے لحاظ سے کیتھولکی مذہب سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ برونو نے کہا تھا کہ عقل آ جانے کے بعد دنیا اور زندگی کے بارے میں انسان وہ عقیدہ اپنا لیتاہے جو عقل و فہم کے مطابق ہو ۔

یہی سادہ اور اسان فہم عقیدہ اسے زندہ جلانیکا باعث بنا جس وقت برونو کو جلا گیا اس کی عمر باون سال تھی اور جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا اس وقت سے اسے مرتد قرار دینے اور جیل بھیجنے تک وہ بغیر کسی مبالغے کے محتاجوں کی مدد اور بیواؤں کی دسگیری اور بیماریوں کے علاج معالجے کے طرف توجہ دیتا رہا ۔

جیسا کہ چیونٹی کی سب سے بڑی خوشی اور لذت یہ ہے کہ اپنی غذا کا دوسری کو دے دیتی ہے اور خود بھوکی رہتی ہے ۔

چیور دانو برونو کو بھی اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالنے اور دوسروں کو آرام پہنچانے میں خوشی محسوس ہوتی تھی جس دن سیبرونو ڈومینکی مذہبی فرقے کا روحانی پیشوا بن ااس وقت سے جیل خانے تک ایک دن بھی ایسا نہیں گذرا کہ کوئی حاجت مند اس کے ہاں نہ آیا ہو اور برونو نے اسے نا امید واپس بھیج دیا ہو وہ جہاں رہتا اس کا گھر ہمیشہ کھلا رہتا یہاں تک کہ راتوں کو بھی اس کے گھر کا دروازہ کھلا رہتا اور جب کبھیکوئی حاجت مند رات کو اس کے گھر آتا برونو نیند سی بیدار ہو کر اپنی استطاعت کے مطابق اس کی حاجت روائی کرتا ۔

جو نہی برونو کو لائے اور اپنے تیر کا نشانہبنایا تمام تماشائی دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور جلاد جس کے پاس جلتی ہوئی مشعل تھی اس نے اسے جیل سے لکڑی کے ڈالے ہوئے انبار کے نزدیک کر دیا تاکہ لکڑی کا انبار نورا آگ پکڑ سکے اور وہ شخص جس نے اپنی زندگی محتاجوں اور درد مندوں کی خدمت کے لئے وقف کر دی تھی درناک اھوں اور سسکیوں کے درمیان دم توڑ گیا اور اس کے گوشت کی بو فضا میں پھیل گئی اس کی ساری عمر کی نیکو کاری اسے درد ناک موت سے نہ بچا سکی ۔

آج ہمارے خیال کے مطابق برونو نیجو کچھ کہا وہ منطقی اور قابل قبول ہے ۔

لیکن سولہویں صدی عیسویکے آخر میں عقیدیکی تفتیش کرنے والی تنظیم نے کہا برونو کے اظہار خیال کو عیسی کی ذہانت کی مخالفت قرار دیا اور اس کا فیصلہ اس طرح دیا کہ ہر عیسائی کو بالغ و عاقل ہونے کے بعد دنیاکے متعلق " عہد عتیق اور عہد جدید " (دو کتابیں ) کے مطابق عمل کرنا چاہیے نہ کہ اپنی عقل و فہم کے مطابق اور چونکہ برونو نے کہا ہے کہ آدمی اپنی عقل و فہم کے مطابق دنیاوی فیصلے کرتا ہے لہذا وہ مرتد ہے اورا س کے ارتداد کی وجہ شیطان کا اس کے جسم میں حلول کر جانا ہے پس اسے جلانا چاہیے تاکہ شیطان اس کے جسم سے خارج ہو ۔

لیکن شیعہ ثقافت میں مختلف مسائل کے متعلق اس قدر آزادی سے بحث کی جاتی تھی کہ تیسری صدی ہجری کے پہلے دور میں ابن راوندنی جیسا انسان اسلامی دنیا میں نمودار ہوا ۔

ابن راوندی کا تعارف و کردار

احمد بنی یحیی بن اسحا ق راوندی ‘ راوند جو کاشان و اصفہان کے درمیان قصبہ ہے کا رہنے والا تھا راوند ایک بڑا قصبہ تھا جس میں ایک مدرسہ بھی تھا اور احمد بن یحیی المعروف بہ ابن راوندی نے اسی قصبے میں ابتدائی تعلیم پائی اور مزید تحصیل علم کیلئے رے(شہر ) کا رخ کیااس کا رے کی طرف جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ابھی تک اصفہان جوبعد میں مشرق کے دارالعلوموں میں سے ایک قرار پایا اس وقت علمی حیثیت کا حامل نہیں تھا وگرنہ ابن راوندی اصفہان جاتا جو اس کے زیادہ نزدیک پڑتا تھا اور اس زمانے میں جب کہ موجودہ زمانے کی مانند رابطے کے تیز رفتار ذرائع نہیں تھے ایک طالب علم کیلئے مکتب کا نزدیک ہونا خاصی اہمیت رکھتا تھا ۔

بہر کیف ابن راوندی تحصیل علم کیلئے رے گیا اور وہاں حصول علم میں ایسی کامیابی حاصل کی کہ تمام استادوں کو حیرت میں ڈال دیا اس کے استاد اس کی تعریف کرنے لگے ہمیں افسوس ہے کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس نے رے کے کس مدرسے میں تعلیم حاصل کیاور وہاں اس کے استاد کون تھے اس نے انیس یا بیس سال کی عمر میں اپنے زمانے کے تمام علوم سیکھ لئے اور کوئی ایسا علم باقی نہ رہا جس سیوہ آگاہ نہ ہوتا وہ واجبات دینی پر بھر پور توجہ دیتا تھا اس نے اپنی پہلی کتاب رے میں تعلیم کے دوران " الابتداء والا عانہ "

کے نام سیلکھی اس کتاب میں اور اپنی دوسری کتاب جسے اس نے الا سماء والا حکام کے نام سے موسوم کیا اس نے اپنے کٹر مسلمان ہونے کی نشاندہی کی ہے لیکن ان کے بعد ایسی کتب لکھیں جن میں اس نے نہ صرف فروع دین اسلام کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ اصولو دین پر بھی حملہ کیا ۔

اس نے شروع میں شیعوں کے آئمہ جن میں جعفر صادق بھی ہیں جو اس کی پیدائش سے پچاس سال پہلے اس جہان فانی سے کوچ کر گئے تھے سے بھی عقیدت کا اظہار کیا تھا لیکن نہ صرف اس نے شیعہ کا انکار کیا بلکہ اسلام کے اصولوں کی مخالفت کی بنیاد بھی ڈالی اور یکے بعد دیگرتوحید کی مخالفت میں چند کتابیں لکھیں جن میں اس نے کوشش کی ہے کہ خالق کی وحدت کا اں کار کرے اور توحید کو دین میں متزلزل کر دے اپنی کتابوں میں اس نے اس طرح دکھایا ہے کہ خداوند تعالی کی صفات اس کی ذات سے جدا ہیں ۔

تمام توحید مذاہب جن میں اسلام بھی شامل ہے اس بات کے معتقد ہیں کہ ہر وہ شخص جو مومن ہے خداوند تعالی کی صفات کو اس کی ذات سے جدا نہیں سمجھتا ۔

ہر وہ شخص جو وحدت خداوندی کا قائل ہے اسیخداوند تعالی کی صفات کو اس کی ذات کا جزو جاننا چاہیے یعنی خداوند تعالی کا علم اس کی ذات سے جدا نہیں ہے اور دونوں ایک ساتھ وجود میں آئے ہیں یہ اس صورت میں ہے کہ جب ہم فرض کریں کہ خدوند تعالی وجود میں آیا اور ایک موحد ایسا فرض نہیں کرتا کیونکہ ہر توحید پرست کے عقیدے کے مطابق خداوند تعالی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے ا ۔

توحید پرست سوچ بھی نہیں سکتا کہ خدوند تعالی وجود میں آیا ہے کیونکہ اگر وہ ایسا خیال کرے تو لا محالہ اس کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو گا کہ وہ کب وجود میں آیا ۱ اور کس نے اسے پیداکیا ۱ ایک توحید پر ست خدوندتعالی کے بارے میں اس طرح خیال کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اس کی صفت اس کی ذات سے جدا نہیں ہے یعنی ہر وہ صفت جو خدا میں پائی جاتی ہیوہ اسکے ساتھ ہی وجود میں آئی ہے (ا گر موحد یہ فرض کرے کہ خدا وجود میں آیا ہے )

ابن راوندی نے توحید کو جو دین اسلام کی پہلی اصل ہے ‘ متزلزل کرنے کیلئے کہا خدا جس وقت وجود میں آیا عالم نہیں تھا اور وجود میں آنیکے بعد خدان نے علم کو کو اپنے لئے پیدا کیا ۔

ابن راوندیکا یہ کہنا اس باتکی نشاندہی ہے کہ ابن راوندینے صفات خدا کو اس کی غیر ذات قرار دیا ہے جس کے نتیجہ میں وہ مشرک ہو گیا تھا کیونکہ جو شخص خدا کی صفات کو اس کی ذات سے جدا سمجھے مشرک ہے جیساکہ ہم نے ذکر کی اہے ابن راوندی جعفر صادق کی وفات کے نصف صدی بعد پیدا ہوا اور جعفر صادق موجود نہ تھے جو اسے جواب دیتے البتہ دوسری نسل کے شاگرد جو اس وقت زندہ تھے اور آپ کے حلقہ درس میں حاضر ہو چکے تھے انہوں نے ابن راوندی کو جواب دیا کہ اگر خداوند تعالی دانا نہ ہو تا تو اسے کیس معلوم ہوتا کہ وہ اپنے علم کو وجود میں لائے ۔

کیا یہی بات خدا کی دانائی پر دلالت کیلئے کافی نہیں ہے کہ اس نے درک کر لیا کہ اسے دانا بننا چاہیے ؟

چونکہ ایک نادان وجود کو اس بات کا علم نہیں ہو سکتا کہ اسے دانائی کی ضرورت ہے اور کسی وجود کا دانا بننے کیلئے کوشش کرنا بھی اس کی دانائی کی دلیل ہے ۔

ابن راوندی نے نہ صرف علم کی صفت کو خدا سے جدا جانا بلکہ کہا کہ خدا کی دوسری صفات بھی اس سے جدا ہیں۔

ابن راوندی کے بقول خدا میں وہ تمام صفات جن کو اس سے نسبت دی جاتی ہے موجود نہ تھیں اور بعد میں جب خود وجود میں آیا تو اس نے صفات کو پیدا کیا اگر ابن راوندی قرون وسطی میں یورپ میں یہ بات زبان پرلاتا تو اسے موت کی سزا دی جاتیاور آگ میں جلاتے یا دوسرے طریقے سے ہلاک کر دیا جاتا ۔

لیکن تیسری صدی کے پہلے پچاس سالوں کے دوران کسی نے بھی اس کو اذیت نہیں پہنچائی اس کی کتابوں کو دیابرد کیا نہ ہی انہیں جلایا اور صرف اس کو جواب دیتے رہے۔

جو ثقافت جعفر صادق وجود میں لائے وہ آزاد بحث کی اس قدر شیدائی تھی کہ راوندی کی تکیفر اس نیان سنی کر دیاور اسے فلسفیانہ بحثوں کا حصہ شمار کیا اور کسی نے بھی اس کے مرتد ہونے پر اسے گرفتار نہیں کیا اور نہ اس کی مذمت کرکے اسے کیفر کردار تک پہنچایا ۔

خدائی صفات کو اس کی ذات سے جدا ماننے کے بعد ابن راوندی ایک مرتبہ توحید کا بھی منکر ہوا جب اس شخص نے خداکا انکار کیا اور کہا کہ خدا نہیں ہے تو اسکے کافر اور مرتد ہونے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ رہی اسلام کے مطابق کوئی انسان اگر مرتد ہو جائے تو وہ واجب القتل ہوتا ہے بہر کیف اس کے باوجود بھی کسی نے ابن راوندی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچائی البتہ اس کے سوالوں کے جوابات دیتے رہے ۔

تیسری صدی ہجری کے پہلے پچاس سالوں کے دوران بغداد نسبتا جدید شہر اور اس کی تعمیر کو ایک صدی سے زیادہ عرصہ نہیں گزارا تھا بلکہ وہ عالم اسلام کی ثقافت و علم کا مرکز بنتا جا رہا تھا کوئی ایسا دن نہ گزرتا تھا کہ بغداد میں ایک جدید کتاب مکمل نہ ہوتی ہو یا دوسری جگہوں سے کوئی دانشور آ کر کتاب کی تقریب رونمائی نہ کراتا ہو ۔

لوگوں میں کتب بینی کا اس قدر شوق تھا کہ تقریبا ہزار کاتب بغدا میں کتابیں لکھنے کیلئے بیٹھے ہوئے تھے ۔

لوگوں کو کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق تھا جب کہ کتابوں کے مصنفین اپنی کتابوں کی متعدد کاپیاں لوگوں کے ہاتھوں فروخت کرنے کیلئے تیار کرنے سے قاصر تھے ۔

لہذا اپنی کتابوں کو کاتبوں کے حوالے کر دیتے اور جب ایک کاتب کو کوئی کتاب موصول ہوتی تو چونکہ وہ کم عرصے میں اسے نہ لکھ سکتا تھا لہذا اسے کاتبوں کے گرو میں تقسیم کر دیا ۔

مثال کے طور پر اگر ایک کتاب کے پانچ سو صفحات ہوتے تو اسے پانچ کاتبوں کے درمیان تقسیم کرنے سے ہر ایک کے حصے میں ایک سو صفحا آتے یا اسی دن دس کاتبوں کے درمیان تقسیم کرنے سے ہر ایک کے حصے میں پچاس صفحات لکھنے پڑتے تاکہ جتنا جلدی ممکن ہو کتاب مکمل ہو جائے ۔

اتفاق سے کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ کسی کتاب کی مانگ اس قدر زیادہ ہوتی کہ اس کتاب سے پچاس سو کاپیاں تیار کرنا پڑتیں اس صورت میں پانچ سو صفحات کی ایک کتاب کو سو کاتبوں میں تقسیم کر دیتے اور ہر ایک کے حصے میں پانچ صفحات آتے اس طرح ہر کاتب پچاس یا سو کاپیاں تیار کرتا جو نہی یہ کاپیاں تیار ہوتی جاتیں تو انہیں کاتبوں سے لے کر اکٹھا کرتے اور کتابوں کی شکل دیتے جاتے اور پھر خریداروں کو فروخت کر دیتے یوں ان لکھنے والوں کا طقبہ بغداد میں وجود میں آ گیا تھا اس طبقے کو " صف الورقہ " کہا جاتا تھا چونکہ کاتبوں کو وراق کہا جاتا تھا تیسری صدی ہجری میں بغداد میں وراق کا اطلاق کاتب پرہوا تھا اور چوتھی صدی ہجری میں اس اصطلاح کا اطلاق جلدیں بنانے والوں پر ہونے لگا کیونکہ کتابوں کو لکھنے کے بعد دوبارہ اکٹھا کیا جاتا تھا اور انہیں کتابی شکل دیتے تھے شاید ہمارا خیال ہو کہ یہ لوگ خلفا بنی عباسی کیدارالحکومت میں تنگ دستی کی زندگی بسر کر رہے ہوں گے کیونکہ آج کل کے معاشرے میں کوئی بھی کاتب اگر فقط اس فن پر اکتفا کریگا تو اس کی معاشی حالت اچھی نہیں ہو سکتی فرانسیسی میں ایسے شخص کو طنزا " گرات پاسے " یعنی کاغذ خراش کہا جاتا ہے اور انگریز میں اسکریچ کہا جاتا ہے جس کا مفہوم بھی کاغذ خراش ہے ۔

یورپ میں نویں صدی عیسوی میں ان کاتبوں کے علاوہ ایک اور طبقہ وجود میں آیا جن کا کام موسیقی کی دھنیں لکھنا ہوتا تھا ۔

ژزان ۔ زاک روسو مشہور فرانسیسی مصنف نے ایک عرصے تک اسی کام کو ذریعہ معاش بنائے رکھا اسیہر صفے کے عوض تین شاہی (سکے کا نام ) ملتے تھے جو اس زمانیمیں ایک معقصول رقم ہوتی تھی کتابیں لکھنے والے کاتب روسو کے زمانے میں آسودہ حال نہیں تھیچونکہ چھاپہ خانے قائم تھے اور کاتبوں کرنے کا موقع بہت کم میسر اتا (البتہ صرف وہ کاتب جن کا رسم الخط اچھا ہوتا ) کیونکہ بعض کابتوں کا رسم الخط واجبی سا ہوتا تھا اس کے بعد کچھ عرصے بعد موسیقی کی دھنوں کے کاتب بھی دوسروں کے مانند بد حالی کا شکار ہو گئے کیونکہ اس کے بعد موسیقی کی دھنوں کو بھی چھاپا جانے لگا ۔

موجودہ زمانے میں یورپ اور امریکہ میں کوئی بھی کتب نویسی کو ذریعہ معاش نہیں بنا سکتا چونکہ اب کتابوں اور موسیقی کی دھنوں کی چھپائیہوتی ہے ۔

اور دوسر یہ کہ کاغذ خراش کا جو مفہوم فرانسیسی اور انگریز میں ہے امریکہا ور یورپ میں موجود نہیں ہے لیکن کاغذ خراش کی ایک دوسری قسم جو قدیم زمانے میں ناپید تھی پائی جاتی ہے وہ گاست روبتر ہے یعنی قابل رحم اور نفرت انگیزمصنف گاست روبتر وہ شخص جو کتاب لکھتا ہے اور دوسرای اسے اپنے نام اور پتے کے ساتھ شائع کروات ہے گاست روبرجس کے انگریز ی میں لفظی معنی قابل نفرت اور قابل رحم مصنف ہیں وہ شخص جو کتاب لکھتا اور تکلیف اٹھاتا ہے تاکہ دوسرا اسے اپنے نام سے شائع کروائے تو وہ مصنف انگریز رسم و رواج کے مطابق حیرت انگریز کام کرتا ہے لیکن دوسری طرف وہی شخص قابل رحم بھی ہے کیونکہ اگر وہ تنگدست نہ ہوتا تو ہر گز یہ کام نہ کرتا ۔

فرانسیسی ایسے مصنف کیلئے انگریزوں کی مانند سخت الفاظ اسعمال نہ کرتے بلکہ قدرے ملامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے مصنف کے لئینگر (سقر کے وزن پر ) یعنی سیاہ فام کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔

نگر کی اصطلاح فرانسیی میں سیاہ فام غلاموں اور کنیزوں کیلئے مخصوص ہے چونکہ جو شص اس لئے کتاب لکھے تاکہ دوسری کے نام سے شائع ہو تو وہ ایک طرح اپنی تذلیل کرتا ہے فرانسیسی اسے بھی نگر کہتے ہیں قدیم زمانے میں کوئی بھی اس لیے کتاب نہیں لکھتا تھا کہ دوسرا اسے اپنے نام سے شائع کروائے اور یہ کہ تمام کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتیتھیں بغداد تیسری صدی ہجری کے پہلے نصف عرصے میں علم کا مرکز بن گیا تھا اور جو کاتب کتابیں لکھنے پر مامور ہوتے تھے وہ معاشرے کامحترم طبقہ شمار کئے جاتے تھے جب بغداد میں کہا جاتا کہ فلاں شخص وراق ہے یعنی وہ کتابوں کی کاپیاں تیار کرتا ہے تو لا محالہ ان لوگوں کے ذہن میں ایک شخص کا خیال آتا تھا اور بغداد میں وراقوں کا احترام عربوں کی فطرت صفات میں سے تھا جو وہ ایک لکھنے والے کیلئے بجا لاتے تھے ۔

مکتوب یعنی لکھا ہوا عربوں کی نظر میں نہ صرف محترم ہوتا بلکہ مقدس بھی سمجھا جاتا تھا کہا جاتا ہے کہ مکتوب اس لئے عربوں کے ہاں قابل احترام ہے کہ ان کی مذہبی کتاب قران بھی مکتوب ہے لیکن قبل از اسلام عربوں کے پاس کوئی کتاب نہیں تھی عرب کا ایک بدو بھی مکتوب کا احترام کرتا تھا ۔

عرب کے بدو مکتوب کو اپنے ماحول اور تصورات سے مافوق الفطرت چیز خیال کرتے تھے اور مکتوب کا اس قدر احترام کرتے کہ ان کے خیال میں ان کے خدا بھی مکتوب کے زیر اثر ہیں اور انکے خداؤں ( جن میں سے بعض کے مجسمیکعبہ میں موجود تھے جبکہ بعض کے موجود نہیں تھے ) کی سر نوشت کاتعین بھی المکتوب کرتا جیسا کہ ہمیں معلوم ہے مشہور بدو عربی قبیلے ایک خدا یا چند خداؤں کو جن کے مجسمے کعبے میں لٹکے ہوتے یا مجسمے نہ ہوتے پوجا کرتیتھے اور قبل از اسلام ان قبیلوں کے درمیان جنگ کا اصلی سبب وہ اختلاف ہوتا تھا جو خداؤں کی پرستش کی بنیاد پر پایا جاتا تھا اور یہ جنگیں اس قدر طویل ہوتی تھیں کہ عام قبائل تھک جاتے اسی لئے انہوں نے آپس میں طے کیا کہ سال کے چار مہینوں کا احترام کرتے ہوئے اس دوران جنگ بندی کی جائے تاکہ دوسری کام سر انجام دے سکیں ۔

لیکن اسکے باوجود کہ ہر قبیلہ ایک یا چند خداؤں کی پرستش کرتا تھا جو دوسری قبیلوں کے خدؤں سے مختلف ہوتے تھے پھر بھی عرب کے تمام قبائل المکتوب کے ا حترام کے قائل تھے۔

اسلام کی آمد کے بعد جن لووں نے قرآن کی تفسیر کی انہوں نے المکتوب کااطلاق ان چیزوں پر کیا جو ازلی واہدی لوح پرلکھی ہوئی ہیں ۔

لیکن قبل از اسلام جبکہ ابھی قران نازل نہیں ہواتھ ایک بدو عرب ازلی اور ابدی لوح کا وہ تصور نہیں رکھتا تھا جو قراں کے بعض مفسرین نے بیان کیا ۔ بہر کیف اس کا عقیدہ تھا کہ المکتوب ایک ایسی عظیم چیز ہے کہ خدا بھی اس کے زیر اثر ہیں چونکہ بدو عرب المکتوب کا احترام کرتے تھے۔ بدو عرب ناخواندہ تھے لیکن جب کبھی کاف یا لام کا حرف سنتے تو اسے احترام سے زبان پر لاتے اور قسم کھانا چونکہ ان کا تکیہ کلام ہوتا تھا عربستان کے صحرانشین شاید دن میں دس بار سیزیادہ قسم کھاتے تھے وہ کبھی حروف تہجی کی بھی قسم کھاتے حالانکہ وہ ناخواندہ ہوتے تھے اور کاف یا لام کی شکل کیسیہے ؟ انہیں اس بارے میں کچھ علم نہیں ہوتا تھا ۔ وراق بغداد میں کتابت کے ذریعے اپنی معاش کاسامنا فراہم کرتے تھے وہ عربوں کی المکتوب کے متعلق اس فطری اور اجتماعی روایتی عقیدے سے فائدہ اٹھاتے تھے ۔ وہ خصوصا ایسی کتاب لکھتے جو عربوں کی نظرمیں دوسری تحریروں کی نسبت زیادہ جچتی ۔

آج اس زمانے کو گیارہ صدیاں اور اسلام کو آئے ہوئے چودہ سو سال ہوچکے ہیں عرب ممالک میں خصوصا مصر میں کتابیں اور اخبار کثرت سے چھاپے جاتے ہیں بعض اخبارات ایسے بھی ہیں جنکے ایک شمارے کی جمعہ کے دن کی تعداد پانچ لاکھ کاپی ہے ۔

کتابوں ‘ رسالوں اور اخبارات کی کثرت اشاعت کے سبب عرب ممالک میں المکتوب کا احترام ختم ہو جانا چاہیے تھا لیکن ابھیتک تمام عرب ممالک میں المکتوب محترمہے کیونکہ مذہبی اور علمی کتابیں مکتوب ہی تو ہیں اور دوسرا یہ کہ عرب ممالک میں المکتوب سے مراد لوح ازلی و ابدی پر لکھی ہوئی عبارت ہے اور عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ جو کچھ مکتوب یعنی لکھا ہوا ہے وہ ہو کر رہے گا آدمی اس میں رخنہ اندازی نہیں کر سکتا ۔

تیسری صدی ہجری کے پہلے پچاس سالوں میں وراقوں نے عباس خلفا کی کتابوں کے متعلق توجہ سے بھی فائدہ اٹھایا کوئی ایسا مصنف نہیں ہوتا تھا اگرچہ درمیانے درجے کی کتاب لکھتا اور عباسی خلفاء اسکی قدر دانی نہ کرتیاور ان کی معقول امداد سے بہرہ مند نہ ہوتا جو کوئی خلیفہ کی مدد سے بہرہ مند ہوتا اسے اتنا سرمایہ ہاتھ لگتا تھا کہ ساری عمر آسودہ حالی میں گزار سکتا تھا ۔

ایسے زمانے کو اگر مصنفین اور وراقوں کا سنہری دور کہا جائے تو مبالغہ نہیں ہو گا ‘ ابن راوندی نے بغداد میں قدم رکھا ۔ دو چیزوں نے اس دمی کو بغداد جانے پر مائل کیاایک جیسا کہ ہمنے ذکر کیابغداد علمی مرکز بنتا جا رہا تھاور ابن راوندی جیسے شخص نے محسوس کر لیا تھا کہ اسے بغداد جا کر دانائی کے اس مرکز سے تحصیل کرنا چاہیے دوسرا یہ کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ عباسی خلیفہ کی طرف سے مالی اعانت کی امید میں اس نے بغداد کا رخ کیا ہو گا ۔

ابن راوندی جب بغداد پہنچا تو گمنام نہ تھا بلکہ اس کی دو کتابیں الاتبداء و الاعادہ اور االاسماء والا حکام کے ناموں سے بغداد کے علمی مرکز میں پہلے ہی سے پہنچ چکی تھیں ہم بتا چکے ہیں کہ ان کتابوں میں اس نے اپنے آپکو ایک کٹر مسلمان ظاہر کیا ہے بہر کیف اس کی شہرت بغداد میں اتنی نہیں تھی جتنی اراک (ایران کا ایک شہر) میں تھی ۔ اور خود اسے بھی اس بات کا بخوبی علم تھا ۔

لہذا بغداد کوچ کرنے سے قبل اس نے بغداد کے فضلا میں سیایک شخص عباس صروم کے لئے اپنے ایک جاننے والے کا پیغام بھی پلے باندھ لیا تاکہ جب خلفائیعباسیہ کے دارالحکومت میں داخل ہو تو کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ہو ۔ بغداد میں داخل ہونے کے بعد اسنے مسافر خانے میں قیام کیابغداد جو خلفائے عباسیہ کا دارالحکومت تھا ابھی چوتھی

او رپانچویں صدی ہجری کی مانند پر شکوہ نہیں ہوا تا ابن راوندی کو عباس صروم کے ڈھونڈنے میں چند دن لگے اور اگر وہ چوتھی صدی ہجری کے اواخر میں بغداد آتا تو جب تک اسکے ہمراہ اس کا صحیح پتہ نہ ہوتا تو شائد وہ چند مہینوں میں بھی اس تلاش نہ کر سکتا کیونکہ چوتھی صدی ہجری میں بغداد اتنا پھیل گیا تھا کہ قافلے والے شہرکے طول کا دجلہ کے کسی ایک ساحل کے ساتھ ساتھ ایک دن میں چکر نہیں لگا سکتے تھے۔

جب ابن راوندی عباس صروم سے ملا تو اس نے اپنی کتاب جو الفرند کے نامس یموسوم ہے اسے دکھائی اور کہا میرے پاس اس کتاب کی صرف ایک کاپی ہے اسلئے میں اس کی مزید کاپیاں تیار کروانا چاہتا ہوں ۔ عباس صروم نے کتاب کا ایک حصہ پڑھنے کے بعد حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا اے ابوالحسن (ابن راوندی کنیت) یہ کتاب جو تم نے تحریر کی ہے کیا کسی کی نظروں سے گزری ہے ؟ ابن راوندینے کہا " ایران کے شہر اراک میں اس کتاب کی کئی کاپیاں تیار کی گئیں اور بہت سے لوگ اسے پڑھ چکے ہیں ۔

عباس صروم نے حیران کن لہجے میں کہا نجانے تم آج تک کیسے زندہ ہو ؟

ابن راوندی نے کہا کیا تم اس لئے حیران ہو رہے ہو کہ میں آج تک زندہ ہوں ؟

صروم نے جواب دیا اس لئے کہ تو نے جو کچھ اس کتاب میں لکھا ہے کفر ہے اور جو مسلمان ایسے کلمات لکھے یا زبان پر لائے وہ کافر ہو جاتا ہے۔

ابن راوندی نے کہا یہ کلمات کفرنہیں بلکہ حقائق ہیں ۔ صروم نے اسے تاکید کی کہ ایسی بات زبان پرنہلاؤ تم نے اس کتاب میں دین اسلام کے اصول یعنی توحید نبوت اور معاد کا انکار کیا ہے ابن راوندی نے کہا آپ کا خیال درست نہیں اگر آپ میری کتاب کو غور سے پڑھیں تو سمجھ جائیں گے کہ میں نے توحید کا انکار نہیں کیا۔

میرا مقصد خدا پرستی کو اس خلوص کے ساتھ پہنچانا ہے جس کے وہ لائق ہے‘ اور میں ہر قسم کے خرافات سے ہٹ کر خدا پرستی کا قائل ہوں ۔

اس کے بعد ابن راوندی نے صروم سیایک خوش خط کاتب جس کو وہ جانتا ہو کا اتہ پتہ پوچھا تاکہ وہ اس کتاب کے کاپی تیار کروا کر خلیفہ کی خدمت میں پیش کر سکے۔

صروم نے کہا میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں کہ اس کام کو چھوڑ دو کیونکہ ممکن ہے یہ کام تمہارے لئے خطرناک ثابت ہو ۔ ابن راوندی بولا میں نے سنا ہے خلیفہ روشن خیال انسان ہے اور کتابوں کی قدر و منزلت جانتا ہے جونہی وہ اس کتاب کو دیکھے گا مجھے معقول انعام دے گا اور میں حج کے سفر پر روانہ ہوجاؤنگا ۔ عباس صروم نیکہا میں تجھے مطلب بصری (کاتب )سے ملواتا ہوں پھر تو جان اور تیرا کام ‘ اور جب کتاب تیار ہو جائے تو خود جا کر خلیفہ کے حضور پیش کر دینا اور مجھے درمیان میں نہ لانا ۔ ابن راوندی نے کہا مرد کو بہادر ہونا چاہیے صروم بولا میں بہادر نہیں ہوں ۔ ابن راوندی نے کہا اگر مرد میں بعض اچھی صفات نہ پائی جائیں تو کوئی حرج نہیں لیکن شجاعت کی صفت مرد میں ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ مرد کی ذاتی صفت ہے اور یہ شہد میں مٹھاس کی مانند ہے کیا شہد میں شیرنی نہ پائی جائے تو اسے شہدکہا جا سکتا ہے؟

صروم جو ابن راوندی کی اس بحث و تکرار سے تنگ آ چکا تھا کہنے لگا اگر تو بغداد میں پردیسی نہ ہوتا تو میں تمہیں کہہ دیتا کہ میرے گھر میں قدم نہ رکھنا ۔ ابن راوندی اسکی اس بات پر سخت ناراض ہوا وہ جب صروم کے گھر سے نکلا تو اس نے مصمم اردہ کر لیا کہ پھر کبھی بھی اسکے گھر کا رخ نہیں کریگا حالنکہ پہلے وہ اس سے کچھ رقم عارتیا حاصل کرنے کی آس لگائے ہوئے تھا ۔

اسی دن ابن راوندی نے مطلب بصری کا پتہ ادھر ادھر سے حاصل کیا اور آخر کار اسے ڈھونڈ ھ نکالا اور چونکہ معاش کی فکر کتاب کو خلیفہ کی خدمت میں پیش کرنے سے زیادہ اہم تھی اسلئے مطلب بصری سے درخواست کی کہ وہ اسکے لئے کوئی کام تلاش کرے مطلب بصری نیاسے بٹھایا اور اسکے ہاتھ میں کاغذ کا ٹکڑا پکڑاتے ہوئے کہا لکھو تاکہ میں تمہارا خط دیکھوں ابن راوندی کا خط دکھوں ابن راوندی کا خط مطلب بصری کو پسند نہ آیا اس نے کہا تمہارا خط اچھا نہیں ہے لیکن میرے پاس بعض کتابیں ہیں جنہیں مجھے لکھنے کی فرصت نہیں لہذا میں انہیں تمہارے حوالے کرتا ہوں مگر یہبات یاد رکھنا کہ تمہاری مزدوری ایک خوش خط کاتب کے برابر نہیں ہو گی ۔ ابن راوندی بولا مجھے اتنی ہی مزدوری چاہیے جس میں میرا گزر بسر ہو سکے اس سے زیادہ کی لالچ نہیں ۔

مطلب بصری نے اسیایک کتاب دی تاکہ وہ اس کی نقل اتارے اور اسے کہا کہ تمہیں کتاب کے صفحات کی مناسبت سے معاوضہ دیا جائیگا ۔

تیسری صدی ہجری کے پہلے پچاس سالوں میں جب ابن راوندی بغداد میں وارد ہوا تو اس زمانے میں اسلام میں فلسفہ اجاگر ہو رہا تھا ۔ اور عربی مترجم فلسفے کی کتب کو شریانی زبان سے عربی مین ڈھال رہے تھے ‘ جونہی کوئی کتاب ترجمہ ہو جاتی ‘ کاتبوں کے ہاں پہنچ جاتی تاکہ وہا س کی فروخت کیلئے مزیدکاپیاں تیار کریں ۔ مطلب بصری فن کتابت میں کمال کا ماہر تھا وہ اسطرح کہ مصنف سیکتاب خرید لیتا اور اسے کہتا کہ اسکی کتاب کی دس یا بیس کاپیاں بیچ ڈالے گا اور باقی دس یا بیس کاپیوں پر اس کاکوئی حق نہیں ۔ چونکہ بغداد میں کتابیں زیادہ مقدار میں لکھی جاتی تھیں ایک خواندہ شخص اگر کاتب بننا چاہتا تو وہ اگرچہ ابن راوندی کی مانند پردیسی ہی کیوں نہ ہوتا عباسی خلیفہ کے درالحکومت میں بھوکا نہ رہتا ۔

ابن راوندینے مطلب بصری کو خدا حافظ کہنے سے قبل اس سے کتاب تحریر کرنے کیلئے کچھ کاغذ لئے اس زمانے کا دستور یہ تھا کہ کاغذ کا صاحب کتاب یا وہ کانب جو دوسروں کی نسبت بڑا شمار کیاجاتا تھا کاتب کے حوالے کرتا تاکہ کتاب ایک ہی قسم کے کاغذ پر لکھی جائے اور کتاب کے صفحات بھی ایک ہی سائز کے ہوں ۔

یاد رہیکہ کتاب کوموجودہ شکل میں لکھنے کی ابتداء کتابخانہ اسکندریہ سے ہوئی پھر وہاں سے بغداد منتقل ہوئی اور کتاب کے رواج کا سبب بنی اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ کتاب کو رواج دینے کی ضرورت نے اسکندریہ کے کتابخانے میں کتاب کو وموجدہ شکل میں تبدیل کر دیا وہ گر نہ پہلے کتابیں بحت ضخیم ہوتی تھیں اور جب تک ان کو تقسیم در تقسیم نہ کیا جاتا ان سے کاپیاں بنانا کاتبوں کے بس کا کام نہیں ہوتا تھا ۔

جسطرح کہ ہمیں معلوم نہیں کہ حساب کے چار عملوں کے قواعد کا موجد کون ہے اسیطرح ہمیں اس بار میں کوئی علم نہیں کہ وہ پہلا شخص جسے اسکندریہ کے کتب خانے میں کتاب کو علیحدہ علیحدہ اوراق پرلکھ کر پھر انہیں آپس میں یکجا کرکے کتابی شکل دینے کا خیال آیا کون تھا ؟

جو کوئی تھا گوٹمبر گ سے صدیوں پہلے علیحدہ علیحدہ صفحات پر کتاب لکھنے کے ذریعے کتاب کو رواج دینے کا سبب بنا ‘ اس نے دعویبھی نہیں کیا کیونکہ اگر دعوی کرتا تو شاید اس کا نام باقی رہتا جسطرح گوٹمبر گ نے دعوی کیا کہ اسکی ایجاد سے اسٹراسبرگ میں ناخواندہ کوئی نہ رہے گا ۔

اسٹراسبرگ میں ناخواندہ کوئی نہیں رہیگا اور آج ہم اسے پہچانتے ہیں ‘ ابن راوندی جس مسافر خانے میں قیام پذیر تھا وہی اس کا گھر ٹھکانہ تھا اس نے وہیں پر کتابوں کی کاپیاں یا نسخے تیار کرنے شروع کئے جب کتاب کا مقدمہ لکھنے کیبعد اس نے متن لکھنا شروع کیا تو مئولف کا کہا اسے پسند نہ آیا اور مئولف کی غلطی کو آشکار کرنیکیلئے کتاب کے حاشیے میں مئولف کے نظریئے کو مسترد کرتے ہوئے اپنا نظریہ رقم کر دیا۔

اس دن رات گئے تک ‘ کئی مرتبہ ابن راوندی نے نہایت وضاحت کے ساتھ مئولف کا کہا مسترد کیا اور کتاب کے صفحات کے حاشئے پرنوٹ لکھا ۔

دوسری صبح وہ ان صفحات کو لیکر اجرت طلب کرنیکی غرض سے مطلب بصری کے ہاں پہنچا ۔ مطلب بصری نہایت غور سیان صفحات کو دیکھتا رہا تاکہ یہ جان سکے کہ اس نے صفائی سے لکھا ہے یا نہیں ؟ تو اس نے اس دوران چند صفحات کے حاشیوں میں اصل متن سے اضافی عبارت لکھی ہوئی پائی ۔ وہ اس اضافی عبارت کو دیکھنے پر نہایت متحیرانہ لہجے میں استفسار کرنے لگا میں نے اس عبارت کو اصل کتاب کے صفحات کے حاشیوں میں نہیں پایا ۔

ابن راوندی بولا ‘ یہ عبارت میں نے لکھی ہے مطلب بصری نے پوچھا تم نے کس لئے لکھی ہے ؟ ابن راوندی نے جواب دیا اس لئے کہ کتاب کے مئولف نے غلطی کی ہے اور میں نے اسکی غلطی کی نشاندہی کرنا ضروری سمجھا ہے اکہ یہ معلوم ہو سکے کہ صحیح نظریہ کونسا ہے؟

کہا جاتا ہے کہ مئولفین کی بد بختی کا آغاز اس دن سے ہوا جب دانشور لوگ مجبورا کاتب بنے اور نسخے یا کاپیاں تیارکرنے لگے ۔ جب تک کاتب اہل دانش نہیں تھے اور وہ کسی کتاب کے بارے میں نہیں جان سکتے تھے کہ اس کے متن میں جو کچھ رقم ہے صحیح ہے یا نہیں ؟ وہ جو کچھ دیکھتے وہی لکھ دیتے اور خود اظہار خیال نہیں کرتے تھی لیکن جس دن سے دانشور کاتب بننے شروع ہوئے اسی دن سے مئولفین کی بد بختی کے دور کا آغاز ہوا کیونکہ وہ مئولفین کے غلط نظریئے کو مسترد کرتے ہوئے کتاب کے حاشیے میں صحیح راستے کی نشاندہی کر دیتے تھے ۔

بغداد میں تیسری صدی ہجری کے دوران اگر کوئی دانشور کاتب بنا ہے تو بھی نہایت محدود عرصے کیلئے اگر کوئی اجنبی دانشور بغداد میں وارد ہوتا اور کسی سے اس کی آشنائی نہ ہوتی یا ابن راوندی کی مانند اس کا میزبان اس کیآؤبھگت نہ کرتا تو مجبورا اسے کتابت کرنا پڑتی ۔

لیکن ایک دانشور کی کتاب کی مدت محدود ہوتی تھی اور جونہی اس کی پہچان ہو جاتی اس کا ذریعہ معاش فراہم ہو جاا تو وہ کتابت کو ترک کر دیتا چونکہ خلیفہ اور بزرگان شہر ‘ علم کی قدرو منزلت سے آگاہ تھے وہ ایک عالم سے نہایت عزت و احترام سے پیش آتے تھے۔

چوتھی صدی ہجری میں اگر بغداد میں ایک عالم کتابت کرنیکا محتاج ہوتا تو ایک طویل مدت تک وہ کتابت نہ کرتا یاخلیفہ اس انعام وغیرہ سے نوازتا اور وہ نہایت آرام سے بغداد ی کسی دوسری جگہ زندگی بسر کرتا ۔ لیکن پانچویں صدی سے خلفائے عباسی کی علم سے بے اعتنائی کے نتیجے میں عالموں کا بازار بے رونق ہوگیا تھا ہم یہ نہیں کہتیکہ ابن راوندی پہلا کاتب ہے جس نے ایسی کاب پر حاشیہ لکھا جو اسے نقل اتارنے کیلئے دی گئی تھی

لیکن مطلب بصری نے پہلی مرتبہ ایک ایسے کاتب کیساتھ کام کیا جس نے کتاب پر حاشیہ رقم کیا ۔ جن کاتبوں کے ساتھ ابھی تک مطلب مصریکا واسطہ پڑ چکا تھا وہ اہل علم نہیں تھے کہ وہ کتاب کے مفاہیم کو مسترد کرتے ہوئے صفحات کے حاشیے میں اپنا نظریہ رقم کرتے ۔

اسی لئے جو کچھ صفحات کے حاشیے میں مطلب مصری کی نظر سے گزار اس پر وہ سخت متعجب ہوا اور ابن راوندینے کہا تو نے اپنا کام خود بڑھا لیا ہیا ور اگر میرے لئے کام کرکے اپنا معاوضہ طلب کرنا چاہتے ہو تو ان صفحات کو حاشیہ لکھے بغیر دوبارہ لکھو اور اسکے بعد بھی اس کتاب کے صفحات میں اور ہرا س کتاب کے صفحات میں جو تمہیں بعد میں دی جائے کچھ بھی نہ لکھو ۔

ابن راوندی جو آج وارق سے کچھ رقم حاصل کرنے کی امید میں آیا تھا ‘ ناچار خالی ہاتھ لوٹا کیونکہ وہ عابس صروم کے ہاں بھی مستعار لینے کیلئے نہیں جا سکتا تھا ۔

اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کہ مزید ایک دن و رات بھوک برداشت کرے اور جہاں تک ہو سکے لکھے تاکہ مطلب بصری سے زیادہ سے زیادہ رقم حاصل کر سکے ۔ اس دن ابن راوندی رات گئے تک لکھتا رہا تایکی چھا جانے کے بعد اس نیمسافر خانیکے مالک سے اس وعدے پر چراغ لیا کہ دوسرے دن وہ تیل کی قیمت ادا کرے گا ۔ چونکہ وہبھوک سے سو نہیں سکتا تھا اس لئے وہ لکھتا رہا حتی کہ چراغ خود بجھ گیا‘

صبح ہوتے ہی وہ اپنے لکھے ہوئے اوراق لئے مطلب بصری کے ہاں پہنچاا ور چند سکے اس سے مزدوری لی اس کے بعد ہر شب و روز وہ کتابت کرتا اور دوسرے دن وراق کی خدمت میں پیش کرکے اپنی مزدوری لیتا ۔

جب ابن راوندی عباس صروم کے گھر سے چلا تھا تو عباس صروم کو یقین ہو چکا تھا کہ وہ اپنی کتاب براہ راست یا بالواسطہ طور پر خلیفہ کی خدمت میں پہنچائے گا ۔

جیسا کہ ہم نے دیکھا ‘ عباس صروم اس کتاب کے مشاہدے سے متنفر ہوا جس کے نتیجے میں ابن راوندی آئندہ کبھی بھی اس کے گھر کا رخ نہیں کرے گا ۔ عباس صروم باطنی طور پر خوش ہوا کہ اسے ایک مرتد کے فتنے سے نجات ملی ‘اور اگر یہ شخص کوئی بڑی مصیبت لایا تو اس پر اس کا اثر نہیں پڑے گا ۔

لیکن ایک دن بعد ‘ اسے دوست کی وصیت یاد آئی ۔ اس وصیت میں کہا گیا تھا کہ عباس صروم سے جہاں تک ہو سکے ابن راوندی کی مدد کریاور اگر وصیت لکھنے والا جان لیتا کہ صروم نے ابن راوندی سے ایسا سلوک کیاتھا کہ وہ شخص غضب کے عالم میں اس کے گھر سے چلا گیا تھا ‘ تو وہ ضرور رنجیدہ ہوتا ۔ اور ضروم سے کہتا تجھے کم از کم اتنا تو شعور تھا کہ ایک ایسے انسان کو جو اجنبی اور بغداد میں حال ہی میں وارد ہوا ہے اور اس شہر میں اس کا آشنا بھی کوئی نہیں ‘ دربدر کی ٹھوکریں کھانے کیلئے چھوڑ دینا شرافت نہیں ۔

اس کے باوجود کہ عباس صروم ابن راوندی سے خفا ہو کر چلے جانے سے سخت پشیمان ہوا اور اسے یہ بھی معلوم تھا کہ ابن راوندی کا ٹھکانہ کون کون سی سرائے میں ہے وہ اسے واپس اپنے گھر لانے کیلئے اس کے کچھ نہیں گیا کیونکہ وہ اس کے کام کے انجام سے خاصا ہراساں تھا اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کا وبال اس کے سر پر نہ آ پڑے ۔

عباس صروم اس بات سے پوری طرح آگاہ تھا کہ اگر ابن راوندی کی کتاب خلیفہ تک پہنچ گئی اور اس نے اس کے کچھ صفحات پڑھے یا کسی سے پڑھوائے تو فورا اس شخص کے قتل کا حکم صادر کرے گا اور اگر وہ اس کا میزبان بنا اور اسکی کتاب کو منظر عام پر لایا تو خلیفہ ضرور اسے بھی سزا کا حقدار ٹھہرائے گا اور اگر قتل نہ بھی کیا تو دوسرے ذرائع سے آزار پہنچائے گا اس کے بعد اسے خیال آیاکہ جونہی یہ کتاب خلیفہ کی ں طروں سے گزرے گی تو وہ اس شخص کی گرفتاری کا حکم دے گا اور قتل کرنے سے قبل اس سے پوچھیں گے کہ دارالحکومت میں وارد ہونے کے بعد اس نے کیا کام کیا ؟ اس کے دوست کون لوگ ہیں ؟ اور وہ یقینا اس کا نام زبان پر لائے گا کیونکہ اس شہر میں وہ کسی دوسرے کو نہیں جانتا تھا پس اسی بنا پر اگر ابن راوندیاس کے گھر میں قدم نہ بھی رکھے تو بھی وہ اس کے کفر کے خطرے سے محفوظ نہیں عباس صروم ‘ المعتصم بااللہ کی خلافت کے زمانے میں خلیفہ کا ہم مشرب تھا اور خلیفہ کے ہم مشرب لوگوں کا انتخاب ان لوگوں سے ہوتا تھا جنکی ظاہری حالت پر کشش ہوتی تھی۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں المعتصم ہارون الرشید کا بیٹا ۲۲۷ ھ میں فوت ہوا اور اکثر عباسی خلفا کی مانند جوانی میں اس دارافانی سے کوچ کر گیا ۔ اور اسی سال الواثق عباسی خلافت کے تخت پر متمکن ہوا اس نے عباس صروم کو خواندہ ہونے کی وجہ سے کاتب کی اسامی پر فائز کیا اور عباس جو اسی دن تک آج کی اصطلاح میں چپراسی تھا ‘ ورکرز کی صفت میں شامل ہو گیا ۔ جب عباس صروم کاتب ہو گیا تو اس نے خلیفہ کے تمام ان درباریوں کی خوشامد شروع کر دی جن کے متعلق اس کا خیال تھا کہ ایک دن بڑے مرتبے پر فائز ہوں گے عباس صروم جن لوگوں کی خوشامد کرتا تھا متوکل بھی ان میں سے ایک تھا ۔ الواثق خلافت کے پانچ سال اور نو ماہ کے بعد ۲۳۶ ھ قمری میں اس جہان فانی سے کوچ کر گیا اور متوکل اس کی جگہ خلیفہ بنا ۔ اس نے عباس ضروم سے آشنائی کی وجہ سے اس کا مرتبہ اس قدر بلند کر دیا کہ اس کا شمار درباری امرا میں ہونے لگا ابن راوندی ۲۳۶ ھ میں المتوکل عباسی کی خلافت کے زمانے میں بغداد میں وارد ہوا ۔

کا سال شیعوں کی عزاداری کا سال ہے اس سال متوکل نے حکم دیا کہ حسین بن علی شیعوں کے تیسرے امام کی قبر مسمار کر دی جائے کیونکہ شیعہ دور داز سے حسین کی قبر کی زیارت کرنے آتے ہیں جس کی وجہ سے متوکل حسد کی آگ میں جلتا تھا ۔

اگرچہ المتوکل فاضل اور ادب پرور خلیفہ ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی معاملوں میں عدل و انصاف کا خیال رکھتا تھا ‘ شیعوں کے ہاں وہ بہت بد نام ہے اور شیعوں کے نزدیک وہ دوسری تمام عباسی خلفا سیزیادہ نا پسندیدہ ہے حالانکہ ن میں سے بعض نے شیعوں کے آئمہ کو بھی شہید کیا ہے شیعوں کا کہنا ہے کہ وہ تمام عباسی خلفا کی نسبت گھٹیا ترین ہو گزر ا ہے چونکہ اس نے ایک مردے پر حملہ کیا اور ایک ایسے انسان کی قبر کو مسمار کیا جو اپنا دفاع نہیں کر سکتا تھا ۔

المتوکل چونکہ امام حسین سے بغض رکھتا تھا ‘ اس لئے وہ شیعوں کا بھی دشمن تھا ۔ خلیفہ کے دارالحکومت میں بسنے والے شیعہ کوشش کرتے تھے کہ اپنے آپ کو شیعہ ظاہر نہ کریں ۔ المتوکل اپنے دو پیش روؤں الواثق اور المعتصم کی مانند بہت شراب پیتا تھا اور عباس صروم نے پیشن گوئی کی تھی کہ اس کی عمر پہلے دو خلفا کی مانند کم ہوگیاس لئے متوکل کیبعد جن لوگوں کے خلفیہ بننے امکان تھا اس نے ان کی خوشامد کرنا شروع کر دیا انہیں تحائف وغیرہ بھیجنے لگا ۔ لیکن جس دن تک المتوکل خلیفہ تھا عباس صروم کو اپنا رتبہ دربار میں محفوظ رکھنا تھا اسلئے وہ ابن راوندی کے کفر سے آلودہ ہو کر اپنے عہدے کو داؤ پر نہیں لگا سکتا تھا ‘ خاص طور پر اس لئے کہ وہ اصفہانی شخص شیعہ بھی شمار ہوتا تھا ۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ ابن راوندینے بظاہر اپنے کتاب میں توحید اور نبوت کانہ صرف انکار کیا ہے بلکہ یہ بھی دکھایا ہے کہ وہ کسی توحیدی مذہب کا قائل نہیں ہے لیکن چونکہ وہ اصفہان سے آیا تھا اور اس کے بعد جب مشہور ہو گیا تو لوگوں نے ا سے شیعہ سمجھلیا ۔ اگر عباس صروم ابن راوندی کے ساتھ اپنے تعلقات کا راز فاش کر دیتا تو وہ خلیفہ کے غیض و غضب کا نشانہبنتا ۔ اور اگر وہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا اور اس کی کوئی مدد نہ کرتا تو بھی اچھی بات نہیں تھی کیونکہ اس کے دوست نے اس کی سر پرستی کی سفارش کی تھی۔

آخر کار اس کے ذہن میں آیا کہ ابن راوندی کو خلیفہ کیہاں مرگی کیمریض کے طور پر متعارف کرایاجائے اور اسیمرگی کا مریض بتانے کے دو فائدے تھے ایک یہ کہ اگر خلیفہ جان لیتا کہ ابن راوندی‘ عباس صروم کے گھر گیا تھا وہ عباس صروم پر غضبناک نہ ہوتا اور عباس کہہ سکتا تھا کہ جونہی اس پر مرگی کا حملہ ہوا اس نے اسے گھر سے نکال باہر کیا تھا اسے مرگی کا مریض ثابت کرنے کا دوسرا فائدہ یہ تھا کہ اگر خلیفہ ابن راوندی کی کتاب دیکھ لیتا تو اس کے قتل کا حکم صاد نہ کرتا کیونکہ اسلامی شریعت میں مرگیکا مریض جو کچھ لکھے یا کہے ا س سیباز پرس نہیں کی جاتی۔ عباس صروم اپنی پہلی فرصت میں ابن راوندی کا نام خلیفہ تک پہنچانا چاہتا تھا کہ وہ مرگی کا مریض ہے لیکن چند دنوں تک اسے فرصت نہ مل سکی ۔

وہ اور خلیفہ کے تمام دربار ی اس بات سے آگاہ تھے کہ صبح کے وقت خلیفہ سے بات چیت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ دن اور رات میں کسی شرابی کیلئے بد ترین لمحات صبح کا وقت ہوتا ہے چونکہ ہر شرابی صبح کے وقت سو کر اٹھنے کے بعد نشے کا احساس کرتا اور اس قدر سستی محسوس کرتا ہے کہ کسی کے ساتھ بات بھی نہیں کر سکتا جبکہ اس کے برعکس جو کوئی شراب کا عادی نہیں ہوتا صبحکا وقت اس کے لئے دن و رات میں سب سے اچھا وقت ہوتا ہے اور چونکہ انسان رات کو آرام کرتا ہے اس لئے صبح اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ کام کا آغاز کرنے کیلئے تیار ہو جاتا ہییہی وجہ تھی کہ صبح کے وقت کوئی بھی المتوکل سے بات چیت نہیں کر تا تھا اور کبھی کبھار وہ شراب کے نشے میں اس قدر مد ہوش ہوتا تھا کہ ظہر سے قبل اس کے لئے شراب کا دستر خوان بچھاتے تھے اسطرح وہ دوبارہ شراب پیکر رات کی شراب کا نشہ کافور کرتا اور ظہر کے بعد سو جاتا تھا اور جب عصر کے وقت سو کر اٹھتا تو کام کرنے کے قابل ہوتا اور اسی وقت وہ مملکت کے امور نمٹاتا یا پھر جن لوگوں سے ملاقات کرنا چاہتا ان سے ملاقات کرتا تھا ۔

علماء کو وہ عصر کے وقت ملتا لیکن شعراء کو رات کے وقت جبکہ المتوکل شراب خوری میں مشغول ہوتا اس کے حضور میں حاضر ہوتے تھے ۔ المتوکل جیسا کہ کہا گیا ہے اہل علم و ادب اور نیک خو انسان تھا لیکن شراب خوری کیوجہ سے اس کی عمر کا ایک حصہ برباد ہو گیا تھا ۔

اس دوران میں جبکہ عباس صروم المتوکل سے ابن راوندی کے متعلق بات کرنے کیلئے کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھا ۔ ابن راوندی جس مسافر خانے میں قیام پذیرتھا وہاں مطلب بصری وراق کیلئے کتاب کے نسخے یا کاپیاں تیار کر رہا تھا اور روزانہ جو کچھ لکھتا وراق کے پاس لے جاتا اور اپنی مزدوری پاتا مزدوری حاصل کرنے کے چند دنوں بعد ابن راوندی کی معاشی حالت اس سے کہیں بہتر ہو گئی جب وہ شروع شروع میں بغداد میں آیا تھا لیکن روحانی طور پر وہ کافی رنجیدہ ہوا کیونکہ اس نے دیکھا کہ اسے جو کتاب دی گئی ہے اس میں غلطیاں ہیں اور وہ ان غلطیوں کی اصلاح نہیں کر سکتا اسے اس بات کی اجازت نہیں کہ اپنا نظریہ کتاب کے حاشے میں لکھے ۔

یہ اصفہانی شخص تیسری صدی ہجری کے پہلے پچاس سالوں کے دوران معروف شخصیت ہو گزرا ہے اگرچہ اس کی عمر زیادہ طولانی نہ تھی اور تقریبا چالیس سال تھی پھر بھی اس نے اپنے پیچھے ایسی یادگاریں باقی چھوڑی ہیں جو اس کے ہم عصر جن کی عمر ستر یا اسی سال تھی نہیں چھوڑ سکے۔

ابن راوندی پہلی صدی ہجری میں کے تمام متاولہ علوم سے واقف تھا چونکہ اس زمانے کے علوم آج کی مانند پھیلے ہوئے نہیں تھے اور ایک شخصاپنے زمانے کے متاولہ علوم کو سیکھ سکتا تھا جبکہ آج کے دور میں انسان صرف ایک ہی علم کااحاطہ کرسکتا ہے ۔

پہلی صدی ہجری کے دوران مشرق میں ایسے انسان پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے زمانے کیتمام علوم زیر کر لئے تھے لیکن ان میں بہت کم ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اپنے معاصرین کے مقابلے میں ما فوق الفطرت استعداد کا مظاہرہ کیا ہے انہوں نے ایسی چیزوں کے متعلق غور و فکر کیاہے جو ان کے ہم عصر لوگوں کی عقل سے باہر تھیں ان میں سے ایک ابن راوندی بھی تھا جسے ریاضی اور طب جیسے علوم پر دسترس حاصل تھی ۔ ابن راوندی وہ پہلا انسان ہے جس نے کہا کہ ہمارا بدن تمام عمر ایسے دشمنوں میں گھرا ہوتا ہے جو ہمیں ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن اس جسم کے اندر ایسی چیزیں پیدا ہو جاتی ہیں جو ان دشمنوں کو دور کرتی ہیں اور انہیں ہم پر قابو پانے نہیں دیتیں یہ نظریہ اس قدر توجہ طلب ہے کہ نہصرف یہ کہ قدیم زمانے میں کسی نے اس کے متعلق نہیں سوچا بلکہ اس بیسویں صدی کے شروع میں بھی ڈاکٹروں نے اس موضوع کے بارے میں غورو فکر نہیں کیا انہیں اس بات کا علم نہ تھا کہ ہمارا جسم خود بخود ایسی چیزیں وجود میں لاتا ہے کہ دشمن جو ہمارے اردگرد موجود ہیں اور مسلسل ہم پر حملے کرتے ہیں یہ چیزیں ان کے خلاف ہمار دفاع کرتی ہیں اس صدی کے آغاز میں ڈاکٹروں نے صرف سفید جسیموں کو جو ہمارے خون میں پائے جاتے ہیں دفاع کا واحد ذریعہ قرار دیا تھا اور جس چیز سے ہمارا بدن دشمنوں کو دور بھگارنے کے لئے اپنا احاطہ کرتا ہے اس کے متعلق انہیں کوئی اطلاع نہ تھی یہاں تک کہ ۱۹۴۰ ھ عیسوی تک بھی ڈاکٹر اس نظرہ سے واقف نہ تھے ۔

لہذا کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ابن راوندی کو مرگی کا مریض قرار دینے کے بعد اس کے اسی نظریئے کو اس کی مرگی کے مریض ہونے کی سند کے طور پر پیش کیا گیا تیسری صدی ہجری کے پہلے پچاس سالوں کے دوران علم طب وہی تھا جو بقراط سے مشرق اور مغرب تک پہنچا ہے اس علم میں علم طب کی اساس آدمی کی چار فطرتوں پر رکھی گئی ہے اور ان چار فطرتوں اک توازن صحت کی ضمانت ہے اور اگر یہ توازن برقرار نہ رہے تو انسان بیمار پڑ جاتا ہے اور اگر اس توازن کا بگاڑ شدت اختیار کر جائیتو انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے ۔

بس اسی لئے ہر قسم کی بیماری خود انسان کے اندر پائی جاتی ہے باہر سے اس کا تعلق نہیں البتہ بعض ایسے محرکات جو بیماری کا باعث بن سکتے ہیں مثلا سردی گرمی اور اس طرح کی دوسر ے ماحول کی تبدیلیاں وغیرہ کوئی بھی عقلمند انسان اس زمانے میں اس بات کو قبول کرنے کیلئے تیار نہ تھا کہ ہمارا جسم ساری عمر دشمنوں کے حملوں کا نشانہ بنا رہتا ہے یہ نظریہ انیسویں صدی میں پاسٹر نے پیش کیا اور جب سفید جسیموں کو دریافت کر لیا گیا تو یہ معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ آیا جس میں مدافعت کرنے والی کوئی اور چیز بھی ہے یا نہیں ۔

۱۹۴۰ عیسوی کے بعد مدافعین کی دریافت آہستہ آہستہ توجہ طلب بنی بہر کیف ڈاکٹروں نے ۱۹۵۰ عیسوی میں ہی یقین کر لیا تھا کہ ہمارے بدن میں جسیموں کے علاوہ بھی مدافعت کرنے والے خلیات ہیں جنہیں انٹی باڈیز ۔

انٹی باڈیز کا نام دیا جاتا ہے یا فرانسیسی میں انٹی کور کہا جاتا ہے اور ان کا کام یہ ہے کہ بیماری کے جراثیم جب ہمارے جسم پر حملہ کرتے ہیں خصوصا کسی دوسرے جسم کے جراثیم تو یہ انہیں ختمکرتے ہیں یہاں اس بات کا ذکر کرنے کیلئے کہ انٹی باڈیز انگریز ی یا انٹی کور فرانسیسی کے وجود کا نظریہ کس قدر جدید ہے یہ بھی بتاتے چلیں کہ ۱۹۵۰ عیسوی کے بعد بھی جب اس دفاعی وسیلہ کے وجود سے انکار نہیں کیا جا سکتا تھا ۔

ڈاکٹر ز علاج معالجے میں اس پر کم توجہ دیتے تھے یہاں تک کہ ڈاکٹر رابرٹالن گود امریکی نے جو سرطان کا سپیشلست تھا‘ نے ثابت کیا کہ اگر ہمارا بدن انٹی باڈیز یا انٹی کور نہ بنائے تو تمام انسان سرطان کا شمار ہو جائیں کیونکہہر مرد و عورت کے جسم میں بچپن سے لیکر زندگی کے آخری دن تک ہر دن دس سے لیکر ایک ہزار تک سرطانی جراثیم پیدا ہوتے ہیں اور اگر دفاعی کا یہ وسیلہ نہ ہو تو سرطانی جراثیم بہت تیزیسے نشو و نما پاتے ہیں اور ان کی تعداد کئی ملین تک پہنچ سکتی ہے۔

لیکن چونکہ یہ دفاعی وسیلہ جسم میں موجود ہے اس لئے جونہی سرطانیخلیہ وجود میں آتا ہے اس دفاعی وسیلے کے ذریعہ وہ ختم ہو جاتا ہے اور اسیدو حصوں میں تقسیم ہونے کی مہلت نہیں ملتی جس سے جراثیموں کی افزائش نسل رک جاتی ہے ڈاکٹر رابرٹ گوڈ کہتا ہے بوڑھوں کا جوانوں کی نسبت سرطان میں زیادہ مبتلا ہونے کا سبب یہ ہے کہ ان

کے جسم میں جوانوں کے مقابلے میں کم انٹی باڈیز پیدا ہوتے ہیں اور یہ دفاعی وسیلہ سرطانی خلیوں کو جسم میں افزائش نسل سے نہیں روک سکتا ۔

ڈاکٹر رابرٹ کے بقول عموما جو کوئی سرطان کی بیماریمیں مبتلا ہوتا ہے اس کے جسم میں انٹی باڈیز کافی مقدار میں نہیں بنتی جو ڈاکٹر سرطان کے بیمار کا علاج کرنا چاہے تو اسے پہلے اس دفاعی وسیلے کو بیماری شخص کے جسم میں پہلے سے زیادہ مقدار میں انٹی باڈیز پیدا کرکے تقویت پہنچانی چاہیے۔

کیا حیرت کی بات نہیں کہ ایک عالم نے ساڑھے گیارہ سو سال پہلے ایک ایسا طبی راز پا لیا تھا کہ بیسویں صدی عیسوی کے ڈاکٹر اس صدی کے پہلے چالیس سالوں کے دوران اس کا مطالعہ کرنے اور اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کیلئے تیار نہ تھے ؟

جو کچھ ابن راوندینے ایک ہزار ایک سو پچاس سال پہلے کہا تمام دنیاکے ڈاکٹر اس پر متفق ہیں اور ہر میڈیکل کالج میں اس نظریہ کو جانا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آدمی ساری عمر خطرناک دشمنوں کے نرغے میں رہتا ہے جنہوں نے اس کو ختم کرنیکی ٹھانی ہوئی ہے ‘ یہ مائیکروب وائس اور سرطانی خلیات کی مانند دوسری خلیات ہیں ۔

ابن راوندی نے طب کے متعلق ایک دوسرا نظریہ بھی پیش کیا جس کے طرفدار آج موجود ہیں وہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی لا علاج بیماریمیں مبتلا ہو اور ڈاکٹر دداؤں سے اس کا علاجنہ کر سکیں تو اسے چاہیے کہ وہ اسے ایک دوسری بیماری میں مبتلا کریتو پہلی بیماری ختم ہو جائیگی ا ورموت کا خطرہ ٹل جائے گا ۔ اور ڈاکٹر جب پہلی بیماری کا علاج کر لے تو پھر وہ دوائی سے دوسری بیماری کا علاج بھی کرسکتا ہے ۔ یہ نظریہ بھی تیسری صدی ہجری کے پہلے پچاس سالوں کے دوران ابن راوندی کی جنونی یادگاروں میں شمار کیا جاتا ہے ‘ ڈاکٹر صاحبان نے صدیوں بعد اس پر غور کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ جو کوئی کسی لا علاج مرض میں مبتلا ہوتا ہے اگر وہ کسی دوسری بیماری میں مبتلا ہوجائے تو اس کی پہلی بیماری آہستہ آہستہ ختم ہو جاتی ہے ۔

کئی تجربات سیابن راوندی کے اس نظریہ کی تصدیقہو چکیہے لیکن یہ تجربات اتفاقا سامنے آتے ہیں مثلا اتفاق سے ایسا ہوا کہ کوئی شخص کسی لا علاج بیماری میں مبتلا تھا تو اسی دوران وہ ایک دوسری بیماری میں مبتلا ہو گیا اور اس طرح موت کا خطرہ ٹل گیا ۔

لیکن ڈاکٹر کسی بیمار کا معالجہ کرنے کیلئے اس میں جدید بیماری نہیں پیدا کر سکے ۔ انیسویں صدی عیسوی میں عملی طور پر اس قسم کا علاج کیا گیا کیونکہ مائیکروب اور ٹاکسین کی دریافت کے بعد ڈاکٹروں نے مائیکروب یا ٹاکیسن کو جسم میں داخل کرنے سے جسم میں بیماری پیدا کی اور انیسویں صدی عیسوی کے آخر میں ایک امریکی ڈاکٹر ویلیم کالی نیجو سرجن بھی تھا سرطانی مریضوں کے علاج کیلئے ابن راوندی کے نظریہ کی پیروی کی جس کے بارے میں ہم نے ذکر کیا کہ صدیوں بعد اس نظریہ کی تائید کی گئی ۔

ویلیم کالی پہلے ٹاکسین کو سرطانی مریضوں کی جسم میں داخل کرکے انہیں بیماری میں مبتلا کرتا اور جب وہ جدید بیماری میں مبتلا ہو جاتے تو سرطان کی علامتیں آہستہ آہستہ ختم ہو نے لگتیں حتی کہ سرطان مکمل طور پر ختم ہو جاتا اس طرح ڈاکٹر و یلیم کالی نے دو سو سے زیادہ سرطانی مریضوں کو موت کے چنگل سے چھڑایا یہ وہ لوگ تھے کہ اگر انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا تو ایک سال کے بعد سرطان کی بیماری سے مر جاتے لیکن ویلیم کالی کے علاج معالجے کی وجہ سے انہوں نے طبعی عمر گزاری انہوں نے زندگی کی اکہتر بہاریں دیکھیں حالنکہ وہ سرطان کی بیماری میں چالیس یا پینتالیس سال کی عمر میں مبتلا ہو چکے تھے ان میں سے جو جلدی فوت ہوئے تھے وہ بھی چار یا پانچ سال تک زندہ رہے تھے ۔

بہر کیف ویلیم کالی کے طرز علاج نے بتا دیا کہ ابن راوندی کا نظریہ معتبرہ ہے اور اگر ایک لا علاج مریض کا علاج نہ کیا جائے اور اسے کسی دوسری بیماریمیں مبتلا کیا جائے تو یہ بات مریض کی طویل عمر کا باعث ہو گی ۔

لیکن ویلیم کالی کے بعد ڈاکٹروں نے اس کی روش کو نہیں اپنایا اس لئے کہ ان کا خیال تھا کہ پہلی بیماری کا دوسری بیماری کو مریض کے جسم میں داخل کرنے کے ذریعے معالجہ کرنا ایک چھوٹی خرابی کا علاج بڑی خرابی کے ذریعے کرنا ہے اور ڈاکٹر صاحبان کا اعتقاد ہے کہ اگر دوسری بیماری معمولی ہو تو وہ پہلی بیماری سے نجات نہیں دلا سکتی ۔

پس مریض کے جسم میں ایک غیر معمولی بیماری پیداکرنا ہو گی تاکہ پہلی بیماری ختم ہو اور اس وقت دوسری بیماری سے مریض کی موت واقع ہو جائے گی۔

مختصر یہ کہ ڈاکٹر ویلیم کالی کے بعد اس کا طریقہ علاج ترک کر دیا گیا اور دوبارہ سرطان کی بیماری ایک لا علاج بیماری بن گئی ۔ حتی کہ ڈاکٹر رابرٹ آلن گوڈ امریکی جو ابھی بقید حیات ہے ‘ آیا اور آج کل وہ سرطانی مریضوں کا علاج ابن راوندی کے نظریہ کی اساس پر کرتا ہیوہ ان مریضوں میں تپ دق کی بیماری پیداکرتا ہے اس کے بقول اس بیماری کو پیدا کرنے کے نتیجے میں انٹی باڈیز جو سرطان کے خلاف جسم کا دفاع کرتی ہیں زیادہ فعال ہو جاتی ہیں ۔

جونہی تپ دق کا مرض اجاگر ہوتا ہے سرطان کی بیماری خلیات بتدریج جسم سے ختم ہوتے جاتے ہیں یہاں تک کہ کروڑوں خلیات میں سے بدن میں پچاس ہزار یا چالیس ہزار خلیات سے زیادہ باقی نہیں رہتے۔

رابرٹ آلن گوڈ کے طرز علاج کو سمجھنے کیلئے ایک میڈیکل کی کتاب لکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ ڈاکٹر جو احتمال ہے کہ مستقبل میں سرطان کے مریضوں کا مکمل طور پر معالجہ کر سکے گا کیسے مریضوں کا علاج کرتا ہے اور سرطانی خلیوں کی تعداد کو کم کرکے پچاس ہزار تک پہنچا دیتا ہے۔

لیکن اس علاج کی بنیاد ابن راوندی کینظریہ پر ہی ہے اور یہ قابل ڈاکٹر اپنے مریضوں کے جسم میں تپ دق پیداکرکے ان کے سرطان کو اس طرح کم کرتا ہے کہ اپنی امید سے زیادہ زندہ رہتا ہے اور اس طرح کا علاج چھوٹی خرابی کو کسی بڑی خرابی کے ذریعے دور کرنا نہیں کیونکہ تپ دق کا مرض آج جکل قابل علاج ہے جبکہ سرطان کی بیماری لا علاج ہے ۔


کیا ابن راوندی کیمیا دان تھا ؟

ابن راوندی ‘ جیسا کہ اس سے پہلے ذکر کیا گیا ہے طب میں معقول نظریات رکھتا تھا چونکہ جعفر صادق کی دوسری یا تیسری نسل کے شاگردوں میں سے تھا اس لئے کیمیا سے بھی واقف تھا اور جیسا کہ کہا جاتا ہے کیمیا دان شمار ہوتا تھا ۔

جب قدیم کیمیا دانوں کی بات ہو رہی ہو تو یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ وہ سونا یا چاندی بنانے کا کامکرتے تھے قدیم کیمیا دان آج کے کیمیا دانوں کی مانند عناصر کی ترکیب اور تجزیہ میں لگے رہتے تھے اور ان میں سے کوئی بھی سونا یا چاندی بنانے کا قصد نہ رکھتا تھا ۔ لیکن ان کے مقلدین اور وہ لوگ جو علم اور معلومات نہ رکھتے تھے جب انہوں نے ایک کیمیان دان کے کاموں کو دیکھا تو انہوں نے گمان کر لیا کہ اس کا کام سونا بنانا ہے اور پھر وہ بھی سونا بنانے کی طرف متوجہ ہو گئے اور ایک مدت گزرنے اور سرمایہ صرف کرنے کے بعد جب وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو انہوں نے ایسا کام شروع کر لیا جس سے ان کی گزر اوقات کا سلسلہ ہونے لگا ۔

کیمیا دانوں نے ایسی چیزیں بنائیں جن کی صنعتی لحاظ سے قدرو قیمت سونے سے بھی زیادہ تھی لیکن کوئی بھی کیمیا دان آج تک سونا نہیں بنا سکا ۔ یورپ کے کیمیا دانوں میں سے ایک کیمیا دان جس کا نام نیکولا فلامل ہے نے قرون وسطی میں کیمیا گری کے متعلق ایک کتاب لکھی ہے۔

یہ شخص جو چودھویں صدی عیسوی کے دوسرے پچاس سالوں کے دوران ہو گزرا ہے اس نے ابن راوندی کے مرنے کے ۶۱۰ سال بعد اس کے بقول سونا بنایا ‘ اپنی کتاب میں یوں رقم طراز ہے (میں نے بتاریخ ۱۷ جنوری ۱۳۸۲ عیسوی کو سفید چونے کو شراب کیجو ہر یعنی الکحل کے ساتھ شیسیکے ایک دیگچے میں دھیمی آنچ پر رکھا اور جب کسی حد تک ابلا تو اس کا رنگ پہلے سیاہ اور پھر برف کی مانند سفید (لیکن دھندلا ) ہو گیا اور اس کے بعد سخت ہو گیا اور زرد رنگ کی صورت اختیار کر گیا مین نے اسے ایک ایسے دیگچے میں جس میں پارہ تھا ‘ ڈال دیا اور جب پارہ گرم ہوا تو جو کچھ میں نے اس میں ڈالا تھا پارہ میں حل ہو ا تو ایک غیر شفاف زرد رنگ کا سنہری سیال وجود میں آیا پھر میں نے اس دیگچے کو چولہے سے اتار لیا تاکہ ٹھنڈا ہو جائے اور اس کے ٹھنڈا ہونے کے بعد اسیایک پیالے میں ڈالا جس میں پارا تھا اور جب دوبارہ گرم کیا تو سب کچھ پارے میں حل ہو گیا پھر اسے جب تھنڈا کرکے میں نے دیکھا تو وہ سب کچھ سونا بن چکا تھا اور سونا بھیایسا کہ عام سونے سے زیادہ نرم اور لچکدار تھا یہ جو کچھ میں نے عرض کیا حقیقت ہے ۔

شاید نیکو لا فلامل نے اس ساریطریقہ کار کی تکمیل کے بعد زرد رنگ کی کوئی چیز حاصل کر لی ہو لیکن جو کچھ اس نے دیگچے میں دیکھا تھا وہ سونا نہیں تھا آج بھی اگر کوئی اس تجربے کی حالتوں کو جانچنا چاہے تو وہ اس نتیجے پر پہنچے گا کہ اس طرح سونا نہیں بنتا کیونکہ پارہ ایک مائع دھات ہے اور آگ پر رکھنے سے یہ جلد ہی بخارت بن کر اڑ جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ابن راوندی کیمیا دان تھا وہ سونا بناتا تھا لیکن جس وقت وہ سنار ہو گا بغداد میں داخل ہونے کے بعد مطلب بصری کتابوں کے نسخے قلیل مزدوری پانے کیلئے تیار نہ کرتا ہو گا ۔

ابن راوندی اصفہانی ‘ جو تیسری صدی ہجری کے پہلے پچاس سالوں میں ہو گزرا ہیکو ہالینڈ کے اراسم یا اراسموس کی شبیہ قرار دیا گیا ہے‘ جو سولہویں صدی عیسوی میں ہو گزرا ہے حالانکہ ان دونوں کو ایک دوسرے کی شبیہ قرار دینا بعیداز قیاس ہے ‘ اراسم یا اراسمو س کو ابن راوندی کی شبیہ نہیں قرار دیاجا سکتا اور نہ ہی ابن راوندیکو اراسموس (ہالینڈی ) کی شبیہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

اراسم یا اراسموس ‘ جسے لوگ "دیوانگی کی مدح " اور امال جیسی کتابوں کے مصنف کے عنوان کے طور پر جانتے ہیں یہ ایک دیندار آدمی تھا جبکہ ابن راوندی نے خود اپنی کتاب الفرند میں اپنے بے دین ہونے کا اعتراف کیاہے ۔

اگرچہ اراسم کو مرتد ٹھہرایا گیا ہے جبکہ عیسائی علمائنے اس الزام کو اس پر لاگو نہیں جانا ہالینڈی اراسم پر تہمت لگانے کی وجہ یہ تھی کہ اس نے عیسائیوں کی مذہبی کتب کو یونانی متن سے براہ رست ترجمہ کیا اور بغیر کسی تبدیلی کے عیسائی مومنین کی خدمت میں عہد قدیم اور عہد جدید سمیت عیسائی مذہب کی کتب پیش کر دیں۔ اراسم سے پہلے عیسائیوں کی مذہبی کتب جن میں عہد قدیم اور عہد جدید شامل تھیں ‘ دولگات کہلاتی تھیں ۔

وولگات ‘ لاطینی زبان میں تھیں ‘ ان میں غلطیوں کے ساتھ ساتھ اضداد بھی پائی جاتی تھیں اراسم نے قدیم عیسائی مذہبی کتابوں کا متن جو قدیم یونانی زبان میں تھا ‘ حاصل کیا اور اسے ترجمہ کیا اور چونکہ گوٹنبرگ نیچھاپہ خانہ ایجاد کر لیا تھا لہذا اراسم نے عتیق عہد اور عہد جدید کو چھپوایا اور جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ عہد جدید میں چار اقسام کی انجیل شامل ہے جب اراسم کا ترجمہ کتابی شکل میں عیسائی مومنین کے ہاتھ لگا تو وہ حیران اور مسرور ہوئے ۔ کیونکہ اس میں اضاداد یا

تناقصات نہیں تھے اور بے مقصد و بے معنی نکات سے بھی مبرا تھی ۔ ان چار اقسام کی انجیل کے سابقہ متن میں مصنفین کی شخصیت کا اچھی طرح احساس نہیں ہوتا تھا جبکہ جدید متن جو اراسم ہالینڈینے ترجمہ کیا ہے میں ان چار انجیلوں کے مصنفین کی شخصیت کا بخوبی احساس ہوتا تھا اور قاری یہ سمجھتا تھا کہ ان چار انجیلوں کے مصنفین میں سیکوئی معلم اور وزارت تعلیم میں مبصر رہا ہو گا اور دوسرا کوئی ماہر قانون دان رہا ہو گا وغیرہ وغیرہ ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اراسم بے معنی اور بے مفہوم عیسائی مذہبی کتب کے مطالب کو واضح نہ کرتا اور اصل یونانی متن کے ترجمے کے ساتھ غلطیوں کی تصیح نہ کرتا تو پروٹسٹنٹ مذہب وجود میں نہ آتا ارسم نے پروٹسٹنٹ مذہب کی ایجاد میں ذرا بھی حصہ نہیں لیا ۔ لیکن اس کا ترجمہ پروٹسٹنٹ مذہب کو وجودمیں لانے کا باعث بنا اراسم کے ترجمے کی تقسیم کے بعد ایک گمنام مذہبی شخص (جسے آج سب لوتر کے نام سے جانتے ہیں )ارسم کا ترجمہ پڑھنے سے قبل اس بات کا خیال نہیں آیا تھا کہ عیسائی مذہب میں ایک جدت وجود میں لائے اسے یہ فکر اراسم کا ترجمہ پڑھنے سے پیدا ہوئی ۔

بہر حال لوتر نے اراسم کو جو خط لکھا ہے اس کیمطابق لوتر نیاراسم کی عیسائی مذہب کو اصلاح کی فکر کو جلا بخشی اور اس طرح پروٹسٹنٹ تحریک وجود میں آئی ۔

جب لوتر نے اراسم کے ترجمے کو مد نظر رکھتے ہوئے چار انجیلوں کا جرمن زبان میں ترجمہ کیا اور تہمت لگائی کہ اس نے عیسائی مومنین کے درمیان تفرقہ ڈالنے کیلئے اپنے علم کو عہد عتیق اور عہد جدید کے ترجمے کیلئے استعمال کیاہے ۔

لیکن روشن خیال مذہبی پیشواؤں نے اس تہمت کو در خور اعتنا نہیں سمجھا اور آورین ششم جو کیتھولک مذہب کا پوپ اور سربراہ تھا نے اراسم کو ایک خط لکھا اور کہا ‘ مجھے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہیکہ تم عہد عتیق اور عہدہ جدید کے ترجمے کے ذریعے عیسائیت کی خدمت کرنا چاہتے تھے لیکن اگر تم چاہتے ہو کہ دوسری بھی تمہاری تہمت پر شبہ نہ کریں تو پروٹسٹنٹ مذہب کے متعلق اپنے نظریات کا علی الاعلان اظہار کر دو ۔

اراسم ‘ لوتر اور جدید مذہب کے دوسرے پیروکاروں سے کشمکش نہیں مول لینا چاہتا تھا لیکن جب اسے پوپ کا خط ملا تو اس نے کتابی صورت میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا " میں عیسائیت کے متعلق لوتر اور اس کے مریدوں کے نظریات کو تسلیم نہیں کرا "

لیکن اس کے باوجود کہ اراسم نے اپنی کتاب میں لوتر اورا س کے مریدوں کے نظریات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اس بیسویں صدی عیسوی میں ابھی تک بعض ایسے لوگ موجود ہیں جن کے بقول اراسم نے پروٹسٹنٹ مذہب کا بیج بویا اور اس کے ترجمے نے لوتر کو پروٹسٹنٹ تحریک وجود میں لانے کی طرف متوجہ کیا ۔

اس ساری بحث سے ہمارا مقصد یہ دکھانا تھا کہ ابن راوندی کو اراسم سے تشبیہ دنا درست اور عہد جدید کا قدیم یونانی متن سے ترجمہ کرنے کا مقصد کیتھولک مذہب میں تفرقہ اندازی تھا ‘ پھر بھی ان دونوں کو ایک دوسرے سے تشبیہ نہیں دی جا سکتی۔

ایک دن ابن راوندی کتاب کے رقم شدہ صفحات کو مطلب بصری کے ہاں لیکرپہنچا تاکہ اس سے اپنا معاوضہ حاصل کرے تو اس نے مطلب بصری کے پاس ایک شخص کو موجودپایا جب اس کتاب کے صفحات مطلب بصری کے ہاتھوں پہنچے تو اس شخص نے ان پر ایک نظر ڈالی تو ایک صفحے کے مطالب اسے جانے پہچانے لگے اس نے وراق سے کہا گویا یہ میری کتاب ہے ۔ مطلب بصری نے کہاہاں آپ ہی کی کتاب ہے ‘ میں نے اس کے نسخے تیار کرنے کیلئے ابوالحسن (ابن راوندی ) کو دی تھیاس شخص نے ابن راوندی پر ایک نگاہ ڈالی اور کہا کہاں کے باسی ہو ؟

ابن راوندی نے اپنا وطن بتایا ‘ اس شخص نے ابن راوندی کے خط پر ایک سرسری نظر دوڑاتے ہوئے کہا تم خوش خط نہیں ہو مطلب بصری نے کتاب کے مولف کو باور کرانے کیلئے کہا ابن راوندی ایک عام سا کاتب ہے کہا کہ یہ اس کتاب کی کاپیاں تیار کر رہا ہی جو تم سی خریدی ہے۔

مولف کتاب نے حقارت میز لہجے میں کہا اگر ایسا ہے تو پھر کوئی حرج نہیں ایک خرب خط آدمی بھی میری کاپیاں تیار کر سکتا ہے جب ابن راوندی نے دیکھا کہ اس کو حقارت کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے تو چونکہ اس نے مولف کا نام کتاب میں دیکھا تھا ۔ پوچھا کیا صمصام کوفی تم ہی ہو؟اس شخص نے کہا جی

ہاں ‘ ابن راوندی بولا ‘ تمہاری کتاب میں غلط ملطہ مطالب کی بھر مار ہے ۔ صمصام کوفی نے پوچھا ‘ تم کون ہوتے ہو جو میری کتاب کے مطالب کے بارے میں اظہار خیال کرو ؟ ابن راوندی نے کہا میں نے خوشخطی سیکھنیکیلئے علم حاصل کیالہذا میں کتاب کے مطالب کے کچھ حصے کی غلطیوں کی شناخت کر سکتا ہوں ۔

صمصام کوفی نے کاہ ‘ ان میں ایک غلط مطلب مجھے بتاؤ ۔ ابن راوندی نے جواب دیا ان میں سے ایک غلطی وہ ہے جو اس حصے میں موجود ہے جس سے میں نے کل دن اور رات میں نسخہ تیار کیا ہے ‘ پھر اسنے وہ صفحات جو مطلب بصری کو دیئے تھے اس سے واسپ لے کر ایک صفحہ صمصام کافی کے ہاتھ میں تھمایا اور کہا پڑھو ۔

صمصام کافی نے اسے پرھا اور کہا یہ مفہوم تمہیں کیوں غلط لگا ؟ ابن راوندی نے کہا ‘ اس لئے کہ تم نے اس صفحے میں لکھا ہے کہ آدمی اپنے کام میں خود مختار نہیں اور اگر آدمی اپنے کام میں خود مختار نہ ہو تو وہ کیسے جزا یا سزا کا مستوجب ہے ؟

صمصام کوفی نے کہا میں تمہارا مطلب نہیں سمجھا کیا کہنا چاہتے ہو ابن راوندی بولا میرا مطلب یہ ہے کہ اگر میں اپنے کام میں خود مختار نہیں ہوں اور جو کچھ میں انجام دوں وہ کسی دوسرے کے اختیار میں ہو تو اسکی سزا یا جزا مجھے کیوں ملتی ہے ؟

اس دوران ایک دوسرا مولف ایا جو نہی وہ صمصام کوفی اور ابن راونی کی بحث میں مطلع ہوا تو اس بحث میں شامل ہو گیا اس طرح یہ بحث و مباحثہ طول کھینچ گیا اس بحث کاموضوع ایک نہ ختم ہونے والا موضوع ہے کیونکہ جس دن سے حکمت وجود میں آئی ہے اس دن سے لیکر آج تک جو لوگ انسان اور جب تک حکمت باقی ہے جبر اور ختیار کے ان طرفداروں کے درمیان شاید یہ بحث جار ی رہے گی۔

اس بنا پر ہم اس مقام پر اس پرانی بحث کو جو ابن راوندی اور اس کے مخالفین کے درمیان ہوئی نہیں دہراتے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ اس بحث کا نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلتا ۔

لیکن اس مباحثے سے جان گئے کہ معلومات کے لحاظ سے ابن راوندی کو دوسروں پر برتری حاصل ہے ہو یونانی حکماء کو جانتا ہے اور جبرو اختیار کے بارے میں ان کے نظریات سے بھی بخوبی آگاہ ہے مطلب بصری‘ اگرچہ ایک وارق تھا لیکن چونکہ اس نے عمر کا کافی حصہ کتابوں کے نسخے تیار کرنے میں گزارا تھا اس بات کو سمجھتا تھا ۔ کہ ابن راوندی ان دو مولفین کے مقابلے میں علم و دانش کے لحاظ سے برتر ہے اور ابن راوندی محض کاتب ہونے کے باوجود دوسرے دو افراد سے بہتر سوجھ بوجھ رکھتا ہے اور نہایت قوی دلائل پیش کرتا ہے وہ اس کے دلائل کو رد نہیں کر سکتے ۔

جس دن مطلب بصری نے دیکھا کہ ابن راوندی نے کتاب پر حاشیہ لکھا اس نے ان حواشی کو پڑھا ہی نہیں تھا کہ وہ اس کی قابلیت کا اندازہ کر سکتا وہ محض حواشی کو دیکھتے ہی آگ بگولا ہو گیا جس کی وجہ سے اس نے غصے میں آ کر کہاکہ ابن راوندی کو اپنے آپ سے کوئی چیز نہیں لکھنا چاہیے ورنہ اسے کتابوں کے نسخے تیار کرنے سے محروم کر دیا جائے گا ۔

لیکن اس دن جب اس نے سنا کہ ابن راوندی کیا کہتا ہے تو اس کی علمی برتری اس پر آشکار ہو گئی کیونکہ جولوگ کتابوں کے نسخے تیار کرنے میں عمر صرف کر دیتے تھے وہ کتاب شناس ہونے کے علاوہ علماء کی وقعت سے بھی آگاہ ہو جاتے تھے آج کتابوں کے نسخے نہیں تیار کرتا کتابیں یا تو چھپتی ہیں یا ان کی فوٹو کاپی کی جاتی ہے بہر کیف آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو کتاب کے ساتھ ایک عمر گزارتے ہیں تو آخر وہ عالم شناس اور کتاب شناس کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں چاہے وہ پرانی کتابیں بیچنے والے ہی کیوں نہ ہوں ۔

اس بحث میں صمصام کوفی ‘ ابن راوندیکے سامنے نہ ٹھہر سکا اور کسی کام کا بہانہ کرکیوہاں سے چلتا بنا ۔ اس طرح دوسرے مولف نے بھی صمصام کوفی کے جانے کے بعد فرار ہی میں اپنی عافیت سمجھی۔ ان دونوں کے جانے کے بعد مطلب بصرینے ابن راوندی سے کہا تم اصفہان میں کیا کرتے تھے ؟

ابن راوندینے کہا میں وہاں مدس تھا مطلب بصرینے کہا میں جانتا ہوں تو ایک عالم ہے اور میں شرط کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جب تیرے حالت سدھر جائی گی تو مجھے فراموش نہیں کرے گا تمہاری مدد کرنے کو تیار ہوں چونکہ میں نے چند ایسے اشخاص کی بغداد میں آنے کے بعد مدد کی جن کا یہاں جاننے والا کوئی نہ تھا لیکن جب وہ اونچے مقامات پر فائز ہوئے تو مجھے بھول گئے جب کبھی میں ان کے ہاں جاتا تھا مجھے درخور اعتنا نہیں گردانتے تھے جب وہ میری کوئی مدد کرنا چاہتے تو صرف مجھے کتاب دے دیتے تاکہ میں اس کی کاپی تیار کروں ابن راوندی نے اپنا اظہار خیال کرتے ہوئے بتایامیں وہ انسان نہیں ہوں کہ کوئی مشکل اوقات میں میری مدد کرے تو جب میرے حالات سدھر جائیں اسے بھول جاؤں ۔

مطلب بصری کہنے لگا سبھی یہ وعدہ کرتیہیں مگر اس پر عمل کم ہی کرتے ہیں اور جونہی تنگدستی فراخ دستی میں جھونپڑی محل اور فقیرانہ لباس شاہانہ لباس میں تبدیل ہوتاہے اس بات کو فراموش کر دیتے ہیں کہ تنگدستی کے وقت ‘ دوسروں کے ساتھ کیا وعدہ کیا تھا ؟ اور اگر سابقہ محسنوں میں سے کوئی اسکے گھر کا رخ کریتو دربان کہتا ہے کہ میرا صاحب تجھے نہیں جانتا اگر وہ گھر کے مالک سے ملنے پر اصرار کرے تو غلام گھر سے باہر آ کر اس کی ایسی مرمت کرتے ہیں کہ اسے چھٹی کا دودھ یاد آ جاتا ہے ۔

ابن راوندی نے کہا اے مطلب بصری اگر کوئی کسی سے نیکی کرنا چاہے تو وہ اس کی اس قدر اتمام حجت نہیں کرتا اسے اطمینان ہو جائے کہ اس کی نیکی کا بدلہ چکا دے گا میں تم سے کوی غیر معمولی مدد نہیں چاہتا اور یہ تمہاری مرضی ہے کہ میری اعانت کر و یا نہ کرو مطلب بصری نے کہا اس کے باوجود کہ مجھے یقین نہیں ہے کہ تم میری نیکی کا صلہ چکا دو گے میں تمہیں ایک عالم سمجھ کر تمہاری مدد کرتا ہوں تم ایک کتاب چاہے وہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہو کسی دلچسپی موضوع پر لکھو بہتر یہ ہے کہ وہ حکمت کے متعلق ہو تاکہ میں اپنے سارے وسائل بروئے کارلاتے ہوئے خلیفہ کی خدمت میں پیش کروں اس طرح خلیفہ تمہاری طرف متوجہ ہو گا اور تمہیں انعام و اکرام سے نوازے گا اس کے ساتھ تمہیں ایسے کام پر لگائے گا کہ پھر تمہیں معاش کے بارے میں کوئی فکر نہ رہے گی لیکن جب تک تم کچھ لکھ کر خلیفہ کی خدمت میں پیش نہیں کرو گے دوبار خدمت میں رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔

ابن راوندی بولا میرے پاس ایک کتاب لکھی ہوئی تیار ہے تم اسے اپنے وسائل کو بروئے کارلا کر خلیفہ کی خدمت میں پیش کر سکتے ہو مطلب بصری نے پوچھا کیا تمہاری کتاب کا موضوع حکمت ہے ابن راوندی نے اثبات میں جواب دیا اپنا معاوضہ حاصل کرکے جانے لگا تو مطلب بصری کو بات یاد آئی اور اس نے پوچھا کیا تمہاری کتاب کی صرف ایک ہی کاپی ہے؟

ابن راوندی نے کہا ہاں ‘ مطلب بصری کہنے لگا اس سے قبل کہ تمہاری کتاب کو خلیفہ تک پہنچاؤں تم اس سے ایک عدد کاپی تیار کر لو کیونکہ جو کاپی تم خلیفہ کی خدمت میں پیش کرو گے وہ اگر اسے پسند آئی تو اس کی لائبریری میں جمع ہو جائے گیاور وہ تمہیں پھر واپس نہیں ملے گی ۔ ابن راوندی نے کہااس بات کو چھوڑیئے کیونکہ اس کتاب کا متن میرے پاس موجود ہے اگر خلیفہ نے میرے کتاب خرید لی تو میں اسے دوسری کاپی تیار کر لو ں گا ۔

ابن راوندی کی کتاب " الفرند" حکمت کے متعلق تھی لیکن ایسی حکمت کے متعلق کہ کتاب کے بعض ابواب میں تریخ اور جغرافیہ سے بھی مدد لی گئی تھی ۔

آج یہ کتاب موجود نہیں ہے لیکن اس کے کچھ اقتباسات مغرب کے مسلمان علمائکی کتابوں میں ہوتے ہیں جن سے اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ یہ خاصی دلچسپ کتاب شمار کی جاتی تھی ۔

دوسرے دن ابن راوندی نے اپنی کتاب مطلب بصری کو دی اور دوسری کتاب کا وہ حصہ جو مزید نسخے تیار کرنے کیلئے اسے ملا تھا اس نے وہ بھی مطلب بصری کی خدمت میں حاضر کرکے اپنا معاوضہ حاصل کیاجیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں جب ابن راوندی نے اپنی کتاب الفرند عباسصروم کی خدمت میں پیش کی تھی تو اس شخص نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کتاب کی تصنیف اور اس کے دوسرے لوگوں تک پہنچنے کے بعد تم کیسے زندہ ہو ؟ عباس صروم کو اس بات کا حق تھا کہ وہ ابن راوندی کیزندہ رہ جانے پر حیرت کا اظہار کرے ۔ چونکہ امام جعفر صادق نے شیعہ مکتب میں آزادی بحث ایجاد کر دی تھیاس لئے ابن راوندی کو اس بات کا احساس نہ تھا کہ شیعی ثقافت کی بنیاد امام جعفر صادق نے رکھی تھیاور اسے وسعت بخشی تھی اس میں کسی شخص کو روایتی طریقوں کے خلاف بات کرنے کے جرم میں واجب القتل قر ار دیا جا سکتا ہے بے شک اس آزادی بحث سے شیعی ثقافت کی جریں مضبوط ہوئیں ۔

ابن راوندی کا عباس صروم سے رجوع کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اسکے ذریعے خلیفہ کے دربار تک رسائی حاصل کرکے خلیفہ سے بہر مند ہوجس وقت عباس صروم نے اسے اپنے ہاں سے نکال دیاتو ابن راوندی نے اسے عباس صروم کے حسد پر معمول کیا ۔ اگر ابن راوندی اس بات کا قائل ہو جاتا کہ واقعی عباس صروم نے اس سے حقیقت بیان کی ہے اور اس کی جان خطرے میں ہے تو وہ اپنی کتاب کو ہر گز خلیفہ تک پہنچانے کیلئے مطلب بصری کے حوالے نہ کرتا ۔

عملی حسد ہر زمانے میں رہا ہے اور بعض ادوار میں اس قدر زیادہ تھا کہ استاد سکھانے میں لیت و لعل سے کام لیتے تھے اور اپنا سار ا علم اپنے شاگروں کو نہیں سکھاتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ وہ علم میں پیشرفت کرکے استاد کی جگہ لے لیں ۔

خاص طور پر جب کوئی عالم خلیفہ یا کسی اور حاکم کے دربار سے وابستہ ہو جاتا تھا ‘ اس کا علمی حسد بہت بڑھ جاتا تھا اور اگر حاسد میں طاقت ہوتی تو وہ محسود کو سرے سے مٹا دیتا تھا تاکہ خلیفہ کے دربار یا کسی دوسرے دربار میں مقبول نہ ہو جائے گذشتہ ادوار میں کوئی بھی استاد یہ تنقید نہیں کرت تھا کہ کیوں اس نے اپنے علم کا فلاں حصہ اپنے شاگردوں کو نہیں سکھایا ۔

اگر کوئی اس کی بھلائی کیلئے زبان کھولتا اور استاد سے اس بارے میں پوچھتا تو وہ اعتراض کرنے والے کو خاموش کرنے کیلئے دو ٹوک الفاظ میں وضاحت کر دیتا اور کہتا کہ میں نے اس لئے نہیں سکھایا کہ میرے شاگرد نا اہل تھے اور میں نہیں چاہتا تھا کہ میرا علم نا اہل ہاتھوں میں پہنچے اس وضاحت کو سب قبول کر لیتے تھے ۔

ابن راوندی کو اس میں کوئی شک نہ تھا کہ عباس صروم کا خلیفہ سے متعارف کرانے کے ضمن میں اسکی مدد سے پہلو تہی کرنے کی واحد وجہ حسد تھی اور چونکہ اس نے مطلب بصری کو حاس د نہیں پایا تھا لہذا اس نے کتاب اسکے حوالے کی تاکہ خلیفہ کی خدمت میں پیش کرے ۔

ہمیں معلوم نہیں کہ مطلب بصری نے کسی ذریعے سے ابن راوندی کی کتاب خلیفہ کی خدمت میں پہنچائی چونکہ تاریخ اس بارے میں خاموش ہے اس زمانے کے تمام دوسرے کتابوں کی مانند مطلب بصری نے بھی ابن راوندی کی کتاب نہ پڑھی اور اگر وہ اسے پڑھتا اور سمجھتا کہ ابن راوندی نے اپنی کتاب میں کیا لکھا ہے ۔ تو وہ اسے عباسی خلیفہ کے دربار میں پہنچانے سے گریز کرتا کیونکہ اس کتاب نے جس طرح ابن راوندی کو مشکل میں ڈالا تھا ممکن تھا کہ مطلب بصری کو بھی مشکل میں پھنساتی ۔

چونکہ مطلب بصری جیسا شخص جو مصروف کاتب تھا اور چند دوسرے کاتب بھی اسکی وساطت سے بادشاہ کے درباری علماء کی کتابوں کے نسخے تیار کرتے تھے لہذا خلیفہ کے دربارے علماء کے ایک گروہ سے اسکی جان پہچان تھی اور زیادہ احتمال یہی ہے کہ اس نے انہی میں سے کسی کی وساطت سے ابن راوندی کی کتاب خلیفہ کی خدمت میں پیش کی ۔

جس وقت یہ کتاب خلیفہ کے ہاتھوں میں پہنچی اس وقت تک عباس کو فرصت مل چکی تھی کہ وہ خلیفہ سے کہے کہ ابن راوندی مرگی کا مریض ہے المتوکل نے ان لوگوں کی مانند کتاب کو درمیان سے کھولا جو کسی کتاب کو پڑھنا نہیں چاہتے بلکہ صرف چند جملے پڑھ کر یہ اندازہ لگانا چاہتے ہیں کہ کتاب میں کیا لکھا ہے ‘ جب وہ کچھ سطریں پڑ چکا تو کتاب میں اسکی دلچسپی بڑھ گئی جس چیز نے خلیفہ کی توجہ کو مرکوز کیا وہ کاشمر میں ایک درخت کا تذکرہ تھا جسے زرد تشی نہایت محترم شمار کرتے تھے اور اس کے بارے میں معتقد تھے کہ اسے زردشت نے کاشت کیا ہے جب المتوکل نے کاشمر کے اس درخت کا تذکرہ آخر تک پڑھ ا تو غضب میں آ گیا ۔

جیسا کہ ہم نے کہا ہے ابن راوندی نے تاریخی اور جغرافیائی مباحث کو اپنی کتاب میں فلسفیانہ نتائج حاصل کرنے کیلئے رقم کیا اور سرو کے اس درخت کے بارے میں بحث سے اس نے یہ نتیجہ نکالا کہ وہ درخت ذات باری تعالی کی طرف متوجہ کرنے کا سبب بنا اور نہ صرف زردشتی اس کی پوجا کرتے تھے بلکہ مسلمان بھی کاشمر کے اس سرو کی پرستش کرتے تھے ۔

جب متوکل کو کاشمر میں سرو کے اس درخت کے متعلق علم ہوا تو غضبناک ہو گیا اور کہنے لگا مجھے ہر گز اس بات کا علم نہ تھا کہ میری قلمروئے خلافت میں کسی درخت کی پوجا ہوتی ہے ۔

میرازدشتیوں سے کوئی تعلق نہیں وہ جسے چاہیں اسکی پوجا کریں لیکن میں ہر گز برداشت نہیں کر سکتا کہ کاشمر کے مسلمان کسی درخت کو اپنا معبود جانیں اور اسکی پوجا کریں اور اگر یہ درخت اس طرح پایا جاتا ہے جس طرح اس کتب میں اس کا تذکرہ ہو اہے تو اسے اکھاڑ پھینکا جائے اور اگر اس بات کا احتمال ہو کہ اسکی جڑیں ہری ہو جائینگی اور ایک مرتبہ پھر یہ درخت بن جائیگا تو اسکی جڑوں کو بھیاکھاڑی پھینکیں تا کہ دوبارہ ہرا نہ ہو سکے اس لحاظ سے ابن راوندی پہلا شخص تھا جس نے متوکل کو یہ درخت اکھاڑنے کی فکر دلائی متوکل نے طاہر بن عبداللہ بن طاہر والئی خراسان کو اس درخت کے متعلق اطلاع دی طاہر بن عبداللہ بن طاہر متوکل کے مقربین میں سے تھا اور متوکل کی زندگی کے آخری ایام تک اس کا وفا دار رہا ۔

اس حاکم خراسان نے عربوں کے تسلط کے بعد پہلی ایرانی بادشاہت قائم کی جو صفاری خاندان کی تھی حالانکہ یہ خود بھی ا س بات سے آگاہ نہ تھا ۔ چونکہ طاہر بن عبداللہ بن طاہر نے خراسان کی حکومت کا کچھ حصہ یعقوب لیث کے حوالے کر دیا تھا اسی کے نتیجہ میں بادشاہت کیلئے راہ ہموار ہوئی البتہ یہ بحث ہمارے موضوع سے میل نہیں کھاتی ۔

جونہی طاہر بن عبداللہ بن طاہر کو خلیفہ کا خط موصول ہوا اس نے درخت کے بارے میں تحقیق کی تو پتہ چلا کہ وہ درخت کا شمر میں موجود ہے اور زردشتی و مسلمان دونوں اس کا احترام کرتے ہیں اس نے خلیفہ کو لکھ بھیجا کہ ایک ایسا درخت موجود ہے جسے لوگ قابل احترام گردانتے ہیں لیکن کوئی بھی اس کی پوجا نہیں کرا خیال کای جاتا ہے کہ حاکم خراسان کی اس درخت کے بارے میں رپورٹ سے بادشاہ مطمئن ہو گیا اور درخت اکھاڑنے سے باز رہا ۔

کیونکہ اگر قزوینی کی تالیف آثار البلاد کو سند مانا جائے تو جس وقت کاشمر سرو کے اس درخت کے ٹکڑے جب خلیفہ کے دارالحکومت میں بھیجے گئے تو متکول اپنے بیٹے المستنصر کے ہاتھوں قتل ہو چکا تھا ۔ اور ابن راوندی ۲۳۶ ہجری میں بغداد میں وارد ہوا جبکہ متوکل اپنے بیٹے کے ہاتھوں ۲۴۷ ہجری قمری میں قتل ہوا اور ان دو تاریخوں کے درمیان گیارہ سال کا عرصہ ہے ابن راوندی کی کتاب قاعدے کی رو سے ۲۳۶ ھ میں یا اس کے ایک سال بعد خلیفہ کیہاتھوں میں پہنچی ہو گی اور کاشمر کے درخت کو ۲۴۷ ھ میں اس سے ایک سال قبل ۲۴۶ ھ میں اکھاڑا گیا ہو گا ۔

تحقیق کی رو سے ہمیں معلوم نہیں کہ کاشمر کا درخت کس تاریخ کو اکھاڑا گیا لیکن اسلامی تواریخ سے پتہ چلتا ہے کہ جس وقت اس درخت کی لڑی دارالحکومت بغداد میں پہنچی متکول زندہ نہ تھا تو اصولا یہ درخت متوکل کے قتل کے سال یا اس سے ایک سال پہلے اکھاڑا گیا ہو گا مسلمان مورخین کے بقول وہ درخت اس قدر بڑا تھا کہ اسکی شاخیں ایک وسیع رقبے کا حاطہ کئے ہوئے تھیں اسکی شاخیں پانچ سو گز لمبی اور اتنی ہی چوڑی تھیں ۔

مسلمان مورخین کے بقول ہزاروں پرندے پورا سال اس درخت پر گھونسلے بنائے رکھتے تھے چونکہ پرندے مخصوص موسم میں گھونسلے بناتے اور انڈے دیتے ہیں لہذا پرندوں کا سارا سال گھونسلے بنائے رکھنے والی روایت صحت کے اعتبار سے مشکوک ہے اور دوسرا زمین کے نصف خشک حصی میں (جس میں کاشمر بھی شامل ہے ) خسکی کے پرندے صرف موسم بہار میں گھونسلے بناتے اور انڈے دیتے ہیں ۔

اگر مسلمان مورخین کسی شہر کے بارے میں ایسی بات کہتے کہ کاشمر میں اتنا بڑا شہر تھا تو بات بنتی تھی لیکن اتنیبڑے درخت کے وجود کو عقل تسلیم نہیں کرتی جیسا کہ بعض مسلمان مورخین نے یہاں تک مبالغے سے کام لیا ہے کہ ایک فوج اس درخت کے سائے میں استراحت کرتی تھی ۔

نا معلوم راویوں کے حوالے سے اس درخت کیمتعلق اور بھی کئی روایات مشہور ہیں ان میں سے ایک روایت یہ ہے کہ جب متوکل نے والئی خراسان کو اس درخت کے اکھاڑنے کا حکم صادر کیا تو اسکے درباری جادو گر نے اسے منع کرتے ہوئے کہا جس دن یہ درخت اکھاڑا جائیگا تمہاری زندگی ختم ہو جائیگی اور ویسا ہی ہوا ۔ یعنیوہ درخت اکھاڑا گیا متوکل اپنے بیٹے کے ہاتھوں قتل ہو گیا اور اسکی عمر نے وفا نہ کی کہ وہ کاشمر کے سرو کے اس درخت کو جسے بغداد لایا گیا تھا دیکھ سکتا یہ روایت قابل قبول نہیں کیونکہ عباسی خلفاء کے ہاں جادوگر نہیں ہوتے تھے اور نہ ہی وہ جادو گری کے معتقد تھے اور اگر جادوگر ہوتے بھی تو ایسی بات منہ سے نہیں نکال سکتے تھے کیونکہ کسی جادو گر کو جرات نہ ہوتی تھی کہ وہ عباسی خلفاء کو جنکی اکثریت شرابی تھی کہہ سکتے کہ تمہاری زندگی کا چراغ گل ہو جائیگا ۔

متوکل وہ خوش قسمت خلیفہ تھا جسکی عمر شرابی ہونے کے باوجود دوسرے عباسی خلفاء سے زیادہ تھی وہ چالیس سال سے زیادہ عرصے تک زندہ رہا اور اگر قتل نہ ہوتا تو شاید پچاس بہاریں دیکھتا ‘ عباسی خلفاء کی اکثریت شراب خوری میں افراط برتنے کی بنا پر جوانی ہی میں موت کے گھاٹ اتری ۔

جادو گری چوتھی صدی ہجری کے بعد عباسیوں کے دربار خلافت میں داخل ہوئی بہرکیف کوئی بھی خلیفہ جادو گری کا معتقد نہ تھا البتہ کبھی کبھی دل بہلانے کیلئے جادو گر سے رجوع کرتے تھے دوسری روایت یہ ہے کہ جس وقت زرد شتی مذہب کے خراسانی پیشوا الحراق نے سنا کہ متوکل نے کاشمر کے سرو کے درخت کو اکھاڑنے کا حکم دیا ہے تو اس نے کہا یہ شخص قتل ہو جائیگا اور اسکی نسل برباد ہو جائیگی ۔

بعید ہے کہ زردشتی مذہب کے پیشوا کا نام الحراق ہو جو ایک عربی نام ہے اور اگرچہ متوکل قتل ہوا لیکن اسکی نسل برباد نہیں ہوئی اور مزید چار سو سال تک عباسیوں کی خلافت قائم رہی ان میں سے بعض روایات مجہول ہیں اور بعض قابل اعتماد نہیں جو بات قابل قبول ہے وہ یہ ہے کہ اگر ابن راوندی کی کتاب متوکل کے ہاتھوں میں نہ پہنچتی تو کاشمر میں سرو کا درخت نہ کاٹا جاتا اس درخت کے محل و قوع کے بارے میں اختلافی روایات ملتی ہیں ۔


المتوکل اور ابن راوندی

جس دنمتوکل نے ابن راوندی کی کتاب کھول کر اس میں کاشمر میں سرو کے درخت کا تذکرہ پڑھا عباس صروم خلیفہ کے حضور میں حاضر تھا بولا اے امیر المومنین ‘ اس کتاب کا مصنف مرگی کا مریض ہے متوکل نے کہا ‘ میں اس کتاب میں اس کے مرگی کا مریض ہونے کیکوئی علامت نہیں پاتا ہوں اور جو کچھ کتاب میں لکھا ہوا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شخص جنرل نالج رکھتا ہے ۔

عباس صروم بولا اگر امیر المومنین کتاب کے دوسرے حصوں کا مطالعہ کریں تو معلوم ہو جائیگا کہ یہ شکص مرگی کا مریض ہے اور اس کے بیانات کو در خور اعتنا نہیں سمجھنا چاہیے لیکن اس دن خلیفہ نے کتا کے کافی حصے کا مطالعہ کر لیا تھا اور وہ مزید اسے پڑھنے کی سکت نہیں رکھتا تھا لہذا اس نے شراب پینے کو ترجیح دی آخر کار عباس صروم نیمتوکل کے ذہن میں یہ بات ڈال دی کہ ابن راوندی مرگی کا مریض ہے تاکہ اگر ابن راوندی (جو بغداد ا چکا تھا ) اس کے دربار سے منسلک ہو جائے تو عباس صروم کو اس سے کوئی خطرہ نہ ہو ۔

جیسا کہ ہمیں معلوم ہے اکثر عباسی خلفاء کی روش ایسی تھی کہ وہ اطرح طرح کے حرام کاموں کا ارتکاب کرتے تھے لیکن اگر کوئی دو سرا ان کاموں کا مرتکب ہوتا تو اسے حد لگاتے یا قتل کر دیتے تھے اور اپنے اعمال سے یہ ظاہر کرتے تھے کہ خلیفہ پر اسلامی تعزیرات لاگو نہیں ہوتیں اور وہ ان تعزیرات سے بے نیاز ہے ۔

عباسی خلفاء نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے میں اس قدر بے باک تھے کہ فسق و فجور میں مبتلا ہونے میں کوئی عار محسوس نہ کرتے تھے اور اپنے اپ کو عوام و خواص سے اس قدر برتر جانتے تھے کہ حرام اعمال کا علی الاعلان ارتکاب کرتے تھے لوگ انہیں دیکھتے رہتے لیکن ان پر اعتراض نہیں کر سکتے تھے ۔ کیونکہ ایک طرف تو لوگ ان سے خوف کھاتے اور دورا وہ اعمال کا اتنی مرتبہ تکرار کرتے کہ لوگ اسے ایک معمولی بات شمار کرتے تھے لوگ نہ تو ان کے ان اعمال سے متحیر ہوتے اور نہ ہی متنفر ہوتے تھے کچھ دنوں بعد خلیفہ کو ابن راوندی کی کتاب کھولنے کا خیال آیا اور ایک ایسی چیز پر اس کی نگاہ پڑی کہ اسے پڑھتے ہی وہ طیش میں آ کر بولا کیا اس کتاب کا مصنف اسی شہر میں ہے ؟

جس شخص کی وساطت سے یہ کتاب خلیفہ تک پہنچی تھی اس نے کہا ہاں ۔

متوکل نے کہا کیا تم اسے جانتے ہو اس شخص نے کہا میں اسے نہیں جانتا خلیفہ نے سوال کیا اگر تم اسے نہیں جانتے تو کیسے اس کتاب کو اس سے لے کر میرے لئے لائے ہو اس شخص نے جواب دیا میں نے یہ کتاب اس شخص سے نہیں لی بلکہ کاتب مطلب بصری سے لی ہے اس نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کتاب کو خلیفہ کی خدمت میں پہنچا دو کیونکہ اس کتاب کا مصنف جو ایک تنگ دست انسان ہے شاید خلیفہ کی توجہ اس کی طرف مبذول ہو جائے اور خلیفہ اس کی کچھ مدد کرے

خلیفہ نے سوال کیا ‘ کیا تو نے یہ کتاب پڑھی ہے ؟ اس شخص نے کہا نہیں اے امیر المومنین ‘ کیونکہ اس کے مصنف سے میریذاتی تعلقات نہ تھے کہ میں اس کی تحریر کو پڑھتا ۔ اور محض مطلب بصری کی درخواست پر اس کتاب کو آپ کے لئے لایا ہوں خلیفہ نے کہا ‘ مطلب بصری کو حاضر کرو ۔

وہ شخص جس وقت مطلب بصری کو لانے کیلئے آیا تو اسے خیال آیا کہ اسے مطلب بصری کو نہیں بتانا چاہیے کہ خلیفہ اس کی کتاب پڑھنے سے غضب ناک ہوا ہے کیونکہ اس صورت میں وہ شہر چھوڑ کر بھاگ نکلے گا ۔

لہذا اس نے مطلب بصری سے کہا ‘ خلیفہ کو تمہاری کتاب پسند ائی ہے اور اس نے تمہیں یاد کیا ہے مطلب بصری خوشی خوشی چل پڑا کیونکہ جب اس نے سنا کہ خلیفہ نے کتاب پسند کی ہے تو اسے یقین ہو گیا کہ اسے انعام و اکرام سے نوازنا چاہتا ہے کاتب کو یہ خیال نہ آیا کہ خلیفہ نے کتاب کے مصنف کو کیوں نہیں بلایا اور اسے کیوں بلایا ہے ؟ چونکہ خلیفہ کا انعام مصنف کو ملنا چاہیے تھا نہ کہ اسے وہ اس بات سے خوش تھا کہ خلیفہ کا انعام اس کے ذریعے ابن راوندی کو ملے گا ایسی صورت میں یہ فطری امر ہے کہ ابن راوندی انعام کا کچھ حصہ قدر دانی کے طور پر اسے دیدے گا کاتب جب خلیفہ کے حضور میں آیا تو خلیفہ نے سوال کیا تو نے یہ کتاب پڑھی تھی یا نہیں ؟ خلیفہ کے سوالیہ لہجے سے مترشح تھا کہ خیر نہیں ‘ کاتب نے صاف کہہ دیا کہ اس نے کتاب نہیں پڑھی ۔ خلیفہ نے پوچھا ‘ تم نے یہ کتاب پڑھے بغیر کیوں بھیجی ہے ؟ اور اس کے بھیجنے میں تمہارا کیا مقصد تھا ؟ مطلب بصری کہنے لگا ‘ اس کتابکا مصنف ایک اصفہانی ہے جو اس شحر میں حال ہی میں وارد ہوا ہے وہ میرے لیے کتابت کرتا ہے چونکہ وہ تنگ دست ہے لہذا اس نے مجھ سے درخواست کی کہ میں اس کی کتاب کو خلیفہ کی خدمت میں پیش کروں کہ شاید امیر المومنین کے بندہ پرور دستر خون سے اس کی مراد بر ائے متوکل نے کہا چونکہ تم ایک کاتب ہو اور تم نے اس کتاب کا مطالعہ نہیں کیا لہذا میں اس شرط پر تمہیں چھوڑتا ہوں کہ کتاب کے مصنف کو میرے حضور میں حاضر کرو ۔

مطلب بصری جب خلیفہ کے دربار سے باہر نکلنے لگا تو جس شخص کو اس نے کتاب دی تھی اسے کہنے لگا تم نے مجھے کیوں نہیں کہا کہ خلیفہ غضب ناک ہوا ہے تم نے مجھے فریب کیوں دیا ؟

مطلب بصری نے اس شخص کے کہنے سے تجربہ حاصل کیا اور جب وہ ابن راوندی کے مسافر خانے کی طرف جا رہا تھا تو اپنے آپ سے کہنے لگا میں اسے یہ نہیں بتاؤں گا خلیفہ ناراض ہوا ہے بلکہ میں اسے خلیفہ کے انعام و اکرام بتلاؤں گا تاکہ وہ آنے پر مائل ہو سکے اور پس و پیش نہ کرے ۔

یہاں پر اس بات کا ذکر زائد از بحث ہے کہ ابن راوندی مسافر خانے میں بیٹھا کتابت میں مشغول تھا جب اسے اطلاع دی گئی کہ بادشاہ نے اس کی کتاب پسند کی ہے اور اسے دربار میں طلب کیا ہے تاکہ انعام و اکرام سے نوازے تو وہ کس قدر خوش ہوا ۔

لیکن جونہی وہ چلنے کیلئے اٹھا پریشانی کے آثار اس کے ماتھے پر نمایاں تھے ۔اس نے ایک سرد اہ بھری ‘ مطلب بصری نے پوچھا تمہیں کیا ہوا ہے ؟ وہ اصفہانی شخص بولا میں اس پرانے لباس اور پھٹے ہوئے جوتوں کے ساتھ کس طرح خلیفہ کی خدمت میں جاؤں ۔ مطلب بصری نے جواب دیا تم خلیفہ کے دربارے میں جانے سے پہلے اپنے جوتے اتار لینا اور پھر کوئی بھی تمہارے پھٹے پرانے جوتے نہیں دیکھ سکے گا ۔

ابن راوندی نے کہا ‘ میں اپنے پرانے لباس کو تو اپنے جسم سے جدا نہیں کر سکتا ۔ خلیفہ اور اس کے حواری اسے ضرور دیکھ لیں گے مطلب بصری کہنے لگا ‘ تمہارا پرانا لباس تمہارے عالم ہونے کی سند ہے کیونکہ حقیقی علماء تنگ دست ہوتے ہیں اس لئے وہ نیا لباس نہیں خرید سکتے

دوسرا یہ کہ اگر میں خلیفہ سے کہتا کہ اصفہان کا امیر ترین میندار آیا ہے اور ا کے حصور میں حاضر ہونا چاہتا ہے تو کیا تمہیں اس بات کا حق تھا کہ اپنے پرانے لباس کا رونا روتے اور نادم ہوتے ؟

لیکن میں نے خلیفہ سے کہا ہے کہ تم ایک تنگ دست انسان ہو اور اسے علم ہے تم سرائے میں رہتے ہو اور کتابوں کے نسخے تیار کرکے گزر بسر کرتے ہو ۔ خلیفہ کے دربار میں کوئی بھی نہ تو تمہارے پرانے لباس پر اظہار تعجب کریگا اور نہ ہی تمہیں حقارت کی نظر سے دیکھے گا اس حوصلہ افزائی کے بعد ابن راوندی ۔ مطلب بصری کے ہمراہ خلیفہ کے محل کی جانب چل پڑا ۔

جیسا کہ ہم نے کہا ‘ خلیفہ رات کو شراب پیتا تھا ‘ اور دوپہر تک شراب میں مد ہوش رہتا تھا وہ شرابی جو پچاس یا ساٹھ سال تک لگا تار راتوں کو شراب پیتے ہیں اکثر دوپہر تک وہ شراب کے نشے میں مخمور رہتے ہیں البتہ اس کا انحصار گذشتہ رات کی مقدار شراب پر ہے اگر وہ کم پئیں گے تو کم خمار آئے گا زیادہ پینے کی صورت میں زیادہ خمار ہو گا ۔

خلیفہ نے اس رات بہت تھوڑی شراب پی تھی لہذا اس دن شراب کا کم نشہ تھا کیونکہ اگر شراب کا خمار زیادہ ہوتا تو وہ ابن راوندی کی کتاب کو ہر گز نہ کھول سکتا ۔ ابن راوندی خلیفہ کے حضور میں آیا اور سلام کے بعد با ادب کھڑا ہو گیا خلیفہ نے سامنے پڑی ہوئی کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس اصفہانی شخص سے پوچھا کیا یہ کتاب تم نے لکھی ہے ابن راوندی بولا ہاں اے امیر المومنین ۔

خلیفہ نے کہا ‘ اگر مجھے یہ نہ بتاتے کہ تم مرگی کے مریض ہو تو میں ابھی جلاد کو بلا کر تمہارا سر تن سے جدا کرا دیتا راوندی کا رنگ اڑ گیا اس کے زانو کانپنے لگے ‘ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر خوف کے عالم میں اس کی زبان گنگ ہو گئی ۔

خلیفہ بولا ‘ تمہاری کتاب تمہارے ہاتھوں میں دیتا ہوں تاکہ تم خود پڑھو اور ساری سنیں کہ تم نے اس کتاب میں کیا لکھا ہے ؟ تاکہ تمہارے واجب االقتل ہونے میں کسی کو شک و شبہ نہ ہو ۔ کتاب ابن راوندی کے ہاتھ میں دی گئی تاکہ اس نے جو کچھ اس صحفہ میں لکھا ہے اسے رھے ۔ ابن راوندی نے جو کچھ لکھا تھا پڑھنے لگا تو حاضر مجلس میں بعض فرط و حشت سے کانپنے لگے کیونکہ ایسے الفاظ بھی تک کسی کی زبان سے ادا نہیں ہوئے تھے ۔

اصفہانی شخص خاموش ہوا تو متوکل بولا دوبارہ پڑھو اس طرح ابن راوندی نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا جو بحث وہ پڑ ھ رہا تھا اسکا تعلق خداوند تعالی سے تھا جب وہ بحث پڑھ چکا تو خلیفہ بولا لوگو تم نے سنا یہ کہتا ہے کہ انسانی زندگی میں سب سے بڑا افسانہ خداوند تعالی کا اعتقاد ہے اور انسان اس افسانے میں مگن ہو گیا ہے انسان اسے نسل در نسل منتقل کرتا چلا ا رہا ہے اس کے بعد خلیفہ نے سوال کیا کیا تمہاری یہ کتاب کسی نے پرھی ہے ابن راوندی نے اثبات میں جواب دیا خلیفہ نے وہی بات کہی جو عباس صروم نے کہی تھیاور تعجب کرنے لگا کہ اس کتاب کو لوگوں نے پڑھا تھا لیکن ابن راوندی کو قتل نہیں کیا عبا صروم کی مانند المتوکل بھی اس بات سے آگاہ نہ تھا کہ امام جعفر صادق کی ایجاد کردہ ثقافت میں ہر طرح کی بحث کی آزادی ہے کسی کو بھی محض اس وجہ سے آزاد نہیں پہنچاتی تھے کہ وہ مخالف مذہبی بحث پیش کرتا ہے ۔

امام جعفر صادق کے ثقافتی مکتب کے پیروکار ابن راوندی کے بغداد سفر کرنے سے پہلے اسے ان باتوں کا جواب دے چکے تھے اور یہ بات بھی خلیفہ پر مخفی تھی اس کا خیال تھا کہ کسی نے بھی ابن راوندی کو جواب نہیں دیا۔

بعض کا خیال ہے کہ کتاب الفرند ( ابن راوندی کی تصنیف ) خلیفہ کے ہاتھوں میں پہنچنے سے قبل عراق اور ایران کے مرکزی علاقوں میں کسی کے ہاتھوں میں نہیں پہنچی تھی ‘ کیونکہ پرانے وقتوں میں دستور تھا کہ جو کوئی اپنی کتاب خلیفہ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا اسے اس کی تازگی کو محفوظ رکھنے کیلئے کسی دوسرے کے ہاتھوں میں نہیں دیتا تھا شاید ایسا ہی ہوا ہو اور کتاب الفرند کو خلیفہ سے قبل کسی نے نہ دیکھا ہو لیکن جو کچھ ابن راوندی نے اس کتاب میں لکھا اس میں کوئی نئی بات نہیں تھی کیونکہ ان مطالب کو وہ دوسری کتابوں میں لکھ چکا تھا اور جعفر صادق کی مذہبی ثقافت کے پیروکار اسے جواب دے چکے تھے بہر حال اس بارے میں تحقیق نہیں ہوئی کہ خلیفہ کے ہاتھوں میں پہنچنے سے پہلے عوام نے یہ کتاب پڑھی تھی یا نہیں ؟

لیکن جو نظریات ابن راوندی نے کتاب ‘ الفرند ‘ میں درج کیے تھے وہ اس کی دوسری کتابوں میں بھی پائے جاتے تھے اور اسے ان کا جواب مل چکا تھا ۔

خلیفہ نے اس کے بعد اس اصفحانی شخص سے پوچھا ( تم خدا کے وجود کے قطعی منکر ہو اور تم نے لکھا ہے کہ خدا پر ایمانی بنینوعی انسان کا سب سے بڑا افسانہ ہے جو ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتا ہے تمہارا کائنات کی خلقت کے بارے میں کیا خیال ہے یہ کائنات کیسے وجود میں آئی ہے ؟ یہ بات کیسے ممکن ہے کہ مخلوق ‘ خالق کے بغیر ہی وجود میں آ جائے ؟

ابن راوندی خاموش ہو گیا اور خلیفہ بولا ‘ میرا جواب دو ‘ تم جو خدا کے وجود کا انکار کرتے ہو ‘ کس چیز کا جواب اثبات میں دیتے ہو ؟ اور کیا کوئی انکار کرے تو اسے اثبات نہیں کرنا چاہیے پھر بھی ابن راوندی خاموش رہا خلیفہ بو لا ‘ اگر میرے سوال کا جواب نہیں دیتے تو میں حکم دونا کہ تمہیں کوڑے لگا کر بات کرنے پر مجبور کیاجائے ۔

ابن راوندی نے کہا اے امیر المومنین میں خدا کا منکر نہیں ہوں ۔

خلیفہ بولا ‘ تم نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انسانی زندگی کا سب سے ۶ را افسانہ مبدا (پروردگار) کے بارے میں ہے تو کیا یہ جملہ جو تمہاری زبان سے ادا ہوا ہے جسے سب نے سنا ہے یہ خدا کا انکار نہیں ؟

ابن راوندی نے کہا ‘ مجھے اس جملے کی اصلاح کرنا چاہیے مجھے لکنا چاہیے کہ نوع بشر کی زندگی کا سب سے برا افسانہ مبدا (باری تعالی کے متعلق تصور ہے ۔

خلیفہ نے پوچھا ‘ تمہارے اس قول کا کیا مطلب ہے ؟ ابن راوندی نے جواب دیا ‘ میرے قول کا مطلب یہ ہے کہ بنینوع انسان نے مبدا (خالق ) کے متعلق جو تصورات قائم کئے ہیں وہ افسانے کی صورت اختیار کر گئے ہیں انسانی زندگی میں یہ سب سے بڑا افسانہ ہے کیونکہ ادمی مبدا (خالق کائنات ) کو پہچان سکتا ہے اور نہ اسکے اوصاف در ک کر سکتا ہے ۔

اس سنے عباس صروم سے مخاطب ہو کر کہا یہ وہ شخص ہے جس کے بارے میں تمہارا کہنا ہے کہ مرگی کا مریض ہے اب مرگی کا مریض اس طرح گفتگو کر سکتا ہے ؟

پھر ابن راوندی سے مخاطب ہو کر کہا میں تمہاری اس بات کو قبول کرتا ہوں ‘ خادم کو حکم دیا کہ قلم اور ساہی لا غرضیکہ قلم اور ساہی لائی گئیاور خلیفہ نے ابن راوندی کو حکم دیا کہ اپنی کتاب کی اصلاح کرے اس شخص نے اپنی تحریر کی اس طرح اصلاح کی انسانی زندگی کا سب سے بڑا افسانہ خالق کائنات سے نسبت کا تصور ہے اور پھر یہ خلیفہ کو دکھایا ۔ خلیفہ بولا ‘ یہ تم اعتراف کرتے ہو کہ خدا پر ایمان ہے اور اسے خالق کائنات اور کائنات کا نظام چلانے والا سمجھتے ہو ۔

ابن راوندی سے کتاب لی اور اس کے دوسرے حصے پر نگا ڈالی جو نبوت کے بارے میں تھا ابن راوندی نے اپنی کتب میں نبوت سے انکار کیا تھا اور جعفری مذہب کے ثقافتی پیروکاروں نے اس حصے کا جواب بھی اسے دے دیا تھا مگر متوکل ان کے جوابات سے آگاہ نہ تھا ۔ عباسی خلیفہ نے نبوت کے متعلق اقتباس بھی مصنف کو پڑھنے کیلئے دیا اس نے اسے اتنی بلند آواز سے پڑھا کہ حاضرین مجلس نے اچھی طرح سن لیا ۔ ابن راوندی نے اپنی بحث سے جو نتیجہ نکالا تھا وہ منفی پہلو کا حامل تھا اس کا کہنا تھا کہ نبوت کا حقیقی اور صحیح معنوں میں کوئی وجود نہیں ہے چونکہ اگر خلاق کائنات خدا ہی ہے جیسا کہ لوگوں کا عقیدہ ہے تو وہ مجبور نہیں ہے کہ لوگوں کی ہدایت کیلئے ایک شخص کا انتخاب کرے اور اسے اپنا رسول بنا کر بھیجے بلکہ جس طرح درخت جانور اور انسان خود بخود ترقی کرتے ہیں اور درخت پھل دیتے ہیں اس طرح انسان بھی خود بخود ہدایت حاصل کرتے ہیں ۔

ابن راوندی نے اپنے لکھے ہوئے مواد کے اثبات کیلئے پودوں اور جانوروں کی مثالیں بھی دی ہوئی تھیں اور لکھا تھا جس طرح گندم کا پودا اور کھجور کا درخت بغیر کسی بنی کے بڑا ہوتا ہے اور پھل دیتا ہے اگر خالق کائنات چاہتا تو انسان کو بھی گندم کے پودے اور کھجور کے درخت کی مانند رشد کرتا اور بغیر کسی بنی کے پھل لاتا ۔

جب وہ سب کچھ پڑ چکا تو متوکل نے کہا ‘ تیری یہ تحریر ثابت کرتیہے کہ تو انبیاء کا منکر ہے کیونکہ تیرا قوال ہے کہ اصلی اور حقیقی معنوں میں انبیاء کا وجود نہیں ہے یعنی خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے نہیں بلکہ انہوں نے خود نبوت کا دعوی کیاہے ۔

ابن راوندی خاموش رہاخلیفہ بولا ‘ بول ‘ ورنہ میں حکم دونگا کہ تمہیں زبردستی بولنے پر مجبور کیا جائے اس سے پہلے کہ ابن راوندی اپنی کتاب خلیفہ کی خدمت میں پیش کرتا ‘ جعفری ثقافت کے پیروکاروں کے ایک گروہ نے نبوت کے متعلق بھی اسے جواب دیدیا تھا ۔

انہوں نے لکھا تھا کہ ابن راوندی نے پودوں ‘ جانوروں اور انسان کی تربیت کو ایک جیسا فرض کیا ۔اور جب دیکھتا ہے کہ پودے اور حیوان خود بخود تربیت پاتے اور پھل لاتے ہیں تو اسے خیال آتا ہے کہ آدمی بھی خود بخود پرورش پاتا اور درجہ کمال تک پہنچتا ہے ۔

نباتات اور حیوانات کی دنیا میں بھی ایسے ہیں جو پرورش کے بغیر پھل نہیں لاتے اور ختم ہوجاتے ہیں اور انسانی دنیا میں تو پرورش واجبات ہی سے ہے بلکہ پیدائش کے دن سے لیکر عمر کے آخری دن تک انسان تربیت کا محتاج ہے ۔

انسانی زندگی ‘ پودوں اور جانوروں کے مقابلے میں اپنی مخصوص نوعیت کی حامل ہے ۔ جس کا تقاضا ہے کہ انسان کی اجتماعی تربیتکی جائے اور انبیاء اس اجتماعی تربیت کے ذمہ دار ہیں انسانی معاشروں میں انبیاء کے بغیر کوئی ایسا اجتماعی ڈسپلن ‘ جس سے تمام انسان بہرہ مند ہوں وجود میں آنا محال ہے اور اگر کوئی ڈسپلن وجود میں آ ہی جائے تو وہ استحصالی ڈسپلن ہو گا اس مین جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون رائج ہو گا ۔ اس صورت میں انسانی معاشرے کی اصلاح کا بیڑا اٹھانے کیلئے انبیاء کا وجود نا گزیر ہے تاکہ انسان کی اجتماعی زندگی میں عدل و انصاف قائم ہو ۔

ابن راوندی نے جعفری ثقافتی مکتب کے علماء کے نظریات ( جو انہوں نے اس کے نظریہ نبوت کی رو میں پیش کئے تھے ) فراموش نہیں کیا تھا اور جب اس نے اپنے آپ کو خطرے میں گھرا ہوا پایا تو اس نے اپنی جان بچانے کیلے ان اقوال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا اے امیر المومنین میں نے جو کچھ نبوت کے متعلق اس کتاب میں درج کیا ہے ‘ وہ تمام موجودات کے متعلق ایک حکم کلی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ متوکل نے پوچھا ‘ تمہارا کیا مطلب ہے ؟

ابن راوندی نے جواب دیا ‘ میرا مطلب یہ ہے کہ خالق کائنات انسان کو بھی پودوں اور جاروں کی مانند خلق کر سکتا تھا تاکہ انہیں تربیت کیلئے انبیاء کی حاجت نہ ہوتی ۔

خلیفہ نے کہا ‘ اے شخص ‘ اگر تیرے کہنے سے مراد یہ تھا تو تم نے نبوت کا انکار کیوں کیا ہے ؟ تم اپنی کتاب میں لکھ سکتے تھے کہ پودوں اور جانوروں کو نبی کی ضرورت نہیں ۔

کیونکہ ان دو طبقات کی زندگی خاص اصول و ضوابط کے تحت رواں دواں ہے جبکہ انسان انبیاء کے بغیر کبھی بھی ہدایت نہیں پا سکتا اور کیا تمہیں اس بات کا اعتراف ہے کہ اپنی کتاب میں تم نے نبوت کا انکار کیا ہے ؟

ابن راوندی نے کہا ‘ میں نے ایک کلی حکم صادر کیا ہے اور نبوت کا انکار کیا ہے ؟

خلیفہ بولا ‘ تم نے نبوت کا انکار کیا ہے اس میں شک و شبہ کوئی گنجائش نہیں کہ دیگر تمام حاضر نے سنا ہے کہ تمہارے کہنے سے مراد نبوت کا انکار ہے تمہاری سزا قتل ہے ‘ اگر تم اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہو تو اپنی عبارت سے توبہ کرو تو تمہاری جان بخشی ہو سکتی ہے ورنہ میں ابھی حکم دیتا ہوں کہ تمہارا سر تن سے جدا کر دیا جائے۔

ابن راوندی اپنی جان بچانے کی خاطر توبہ کرنے پر مجبور ہو گیا اس نے اعتراف کیا کہ نبوت پر اس کا ایمان ہے خلیفہ بولا ‘ اسے دوبارہ قلم اور روشنائی دی جائے تاکہ یہ اپنی کتاب کی اصلاح کرے ‘ ابن رواندی نے لکھا ‘ انسان کو اپنی خاص وضع قطع کی بنا پر پودوں اور جانوروں کے برعکس پیغمبر کی احتیاج ہے اور پیغمبر کے بغیر یہ ہدایت اور سیدھی راہ نہیں پا کستا ۔

جعفری ثقافتی مکتب کے علمائنے توحید اور نبوت کے متعلق ابن راوندی کے نظریات رد کئے تھے لیکن وہ اسے اپنی تحریر کی اصلاح پر مجبور نہیں کر سکے تھے کیونکہ ان کا کام زبردستی قائل کرنا نہ تھا ۔

لیکن متوکل چونکہ طاقتور تھا اس لئے اس نے ابن راوندی کو توحید و نوبت کے بارے میں اپنی عبارت کی اصلاح پر مجبور کیا اس طرح اس کی کتاب ایسی شکل میں وجود میں آئی کہ جو اسے پڑھتا ‘ یہ گمان کرتا تھا کہ مصنف توحید و نبوت کا معتقد ہے ۔

ابن راوندی نے جس طرح اپنی کتاب میں توحید و نبوت کا انکار کیا تھا اسی طرح قیامت کابھی قائل نہ تھا اور اسے ایک افسانہ خیال کرتا تھا خلیفہ بولا ‘ جو کوئی توحید و نبوت پر ایمان لائے اسے آخرت پر بھی ایمان لانا چاہیے کیونکہ خداوند تعالی اور پیغمبروں کا فرمان ہے کہ قیامت ہے ‘ پس تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ اگر تم توحید و نبوت پر ایمان لائیہو تو قیامت کو بھی قبول کرو ۔ بصورت دیگر تمہارا سر قلم کر دیا جائیگا ۔

ابن راوندی خلیفہ کے فرمان کے مطابق اپنی کتاب کی اصلاح کر کر چکا تو اس نے یہ کتاب دوبارہ خلیفہ کی خدمت میں پیش کی اب متوکل نے کتاب کے دوسرے حصے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ‘ تم نے بنی نوعی انسان کے فطری تباہ کار ہونے کے بارے میں جوکچھ کہا ہے اس میں صحت نہیں ہے ابن راوندی نے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ بنی نوع بشر کا ہر فرد اپنی ذات میں تباہ کار یا تخریب کار ہے کیونکہ کوئی بھی ایسا انسان نہیں ملتا جو اپنے دل میں کم از کم ایک ا نسان کی موت کا خواہشمند نہ ہو ۔ اور بعض انسان تو ہزاروں افراد کی موت کے خواہشمند ہوتے ہیں ۔

ابن راوندی نے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ جس کا کوئی دشمن ہو تو وہ اس دشمن کی موت چاہتا ہے اور جو کوئی کسی دوسرے کے ساتھ حسد کرتا ہے اسی طرح وہ بھی اپنے محسود کی موت کا آرزو مند ہوتا ہے اور ہر ملازم شخص باطن میں دوسرے ملازم کی موت کا آرزو مند ہوتا ہے تاکہ اس کے رقیب کی موت سے اس کیلئے راستہ صاف ہو جائے اور ہر جوان بیٹا اپنے باپ کی موت کا خواہشمند ہوتا ہے تاکہ اس کی میراث پر قبضہ جمائے اور ہر نائب اپنے سینئر کی موت چاہتا ہے تاکہ اس کی موت کے بعد وہ اس کی جگہ لے اور ہر مقروض قرض خواہ کی موت کا طالب ہوتا ہے تاکہ وہ قرض دینے سے بچ جائے اس تباہ کارانہ فطرت کے ساتھ ساتھ انسانوں میں شدید خود پرستی بھی پائی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جو کوئی دوسرے کی موت کی خبر سنتا ہے باطن میں خوش ہوتا ہے کہ دوسرا مر گیا اور وہ زندہ ہے اور کوئی بھی ایسا انسان نہیں جو مرنے کیلئے تیار ہو اس کے باوجود کح وہ معاشرے میں دوستوں اور عزیزوں کو یکے بعد دیگرے مرتے دیکھتا ہے اپنے اپ کو موت سے محفوظ خیال کرتا ہے وہ گمان کرتا ہے کہ وہ مرنے سے مستثنی ہے اور عزرائیل ہر گز اس کے گھر میں داخل نہیں ہو گا ۔

متوکل نے ابن راوندی سے کہا تو اس کتاب میں تمام انسانوں کو بلا امتیاز مساوی طور پر فطرتا تباہی پھیلانے والے قرار دیا ہے میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ بعض لوگ اندرونی طور پر دوسروں کی موت کے خواہاں ہوتے ہیں لیکن سب لوگ ایک جیسے نہیں ہیں ‘ ماں اور باپ کا جی نہیں چاہتا کہ ان کا بیٹا مرے اور اگر اتفاقا ایسا ہو جائے تو وہ ساری عمر بیٹے کی موت سے غمگین رہتے ہیں اور تم کس طرح والدین کو دوسرے لوگوں کی مانند فطرت تباہ کار قرار دے سکتے ہو ابن راوندی نے کہا وہی مان باپ جو اپنے بیٹے کی موت کا صدمہ برداشت نہیں کر سکتے اگر ان کا بیٹا مر جائے تو ساری عمر اس کے غم میں ماتم کرتے ہیں لیکن کسی اور شخص کی موت کے خواہشمند ہوتے ہیں اور میں نہایت جرات سے کہتا ہوں کہ خلیفہ کے حضور بیٹھے ہوئے تمام حاضرین دل کی گہرائیوں میں کم از کم ایک شخص کی موت کے خواہشمند ہیں اور ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو اس بات سے مبرا ہو ۔

لیکن محال ہے کہ کوئی ایسا شخص پایا جائے جو اپنی زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ دوسرے کی موت کا خواہاں نہ ہو ا ہو خلیفہ خاموش ہو گیا اور پھر ابن راوندی کے کتاب کے دوسرے حصے کی طرف متوجہ ہو ا جو دھر کے متعلق تھا ‘ اور کہا کہ تم نے اسی کتاب میں لکھا ہے کہ دہر کا وجود نہیں اور ہم ہیں کہ دھر کو اپنے لئے خود وجود میں لاتے ہیں خلیفہ عباسی اور اصفہانی مصنف کی گفتگو کو درک کرنے کے بعد یہاں پر اس بات کی وضاحت کر دینی ضروری ہے کہ قدیم مشرقی مصنفین کی اصطلاح میں سرشت یا فطرت کو دھر کا نام دیا جاتا تھا۔

جیسا آج ہم کہتے کہ بنی انسان سرشت میں زندگی گزار رہاہے اور قدیم مشرق والے کہتے تھے کہ انسان دھر میں زندگی گزار رہا ہے ۔

آج ہم کہتے ہیں کہ فطرت ہمارا احاطہ کئے ہوئے ہے جبکہ قدیم مشرق والے کہتے تھے کہ دھر نوع انسانی کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔

بعض لوگوں کا تصور غلط ہے کہ دھر امان یا مکان کے معنوں میں مستعمل ہے اور نہ ہی یہ جہاں کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جبکہ جہان سرشت یا فطرت ایک ہی چیز کا نام ہے متوکل کہنے لگا ‘ تم اپنی کتاب میں دھر کی مانند واضح اور آشکار ا چیزوں کے منکر ہوئے ہو ۔ تمہارا کہنا ہے کہ دھر کا اپنا کوئی وجود نہیں اور یہ ہم ہیں کہ دھر کو وجود میں لاتے ہیں ۔

جیسا کہ تم نے ایک مرتبہ خود بھی سن لیا مجھے کہا گیا تھا کہ تو مرگی کا مریض ہے لیکن جب میں نے تم سے بات چیت کی تو پتہ چلا کہ تم تو بہت عقلمند انسان ہو لیکن اب جبکہ میں تمہاری کتاب کے دھر کے متعلق باب کو دیکھتا ہوں تو مجھے گمان ہوتا ہے کہ کہیں تمہارے متعلق مرگی کا مریض ہونے کی افواہ درست تو نہیں ؟

میرا خیال ہے کہ یہ افواہ بے بنیاد نہیں ہے کیونکہ تم نے لکھا ہے کہ دھر کا وجود نہیں ہے کیونکہ ایک عاقل انسان جو عالم ہونے کا دعوی بھی کرے دھر جیسی چیز جو خداوند تعالی کے بعد سب سے بڑی چیز ہے کا انکار نہیں کر سکتا ابن راوندی بولا اے امیر المومنین دھر کا وجود ہمارے ذہنی تصور کی اختراع ہے نہ حقیقی صورت میں پایا جاتا ہے خلیفہ نے کہا اپنی بات کی وضاحت کرو وہ اصفہانی شخص بولا میرا مطلب یہ ہے کہ ہامرے پاس دھر کو جس صورت میں درک کرتے ہیں اس کی اصلی صورت نہیں جس طرح ایک مادر زاد نابینا مختلف رنگوں میں امتیاز نہیں کر سکتا اس کے سامنے رنگوں کی کتنی ہی تعریف کیوں نہ کی جائے وہ زرد اور بزر رنگ کی شناخت نہیں کر سکے گا اگر ہم آ دم کے بیٹے اس دنیا میں مادر زاد نابینا اتے اور کوئی چیز دیکھ یا سن نہ سکتے تو دھر کے متعلق ہمارا تصور ہمارے موجودہ تصور سے قطعی مختلف ہوتا میں اپنی کتاب میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ دھر اپنی ذات میں اس صورت میں نہیں جس میں اسے ہم دیکھتے یا اس کی آوازیں ہوا یا دریا کی موجوں یا آسمانی بجلی کی مانند سنتے ہیں یہ ہماری آں کھیں اور کان ہیں جو دھر کو اس موجودہ صورت میں دیکھتے اور سنتے ہیں ۔

میں نے لکھا ہے اور میرا عقیدہ بھی ہے کہ دھر اس صورت میں نہیں ہے جس میں ہم اس کا تصورت کرتے ہیں یہ صرف ہماری اختراع ہے ہماری آنکھ کا ڈھیلا جو محدب ہے اگر مقعد ہوتا تو دھر کو دوسری صورت میں دیکھتا خلیفہ بولا اگر دھر کو دوسری شکل و صورت میں بھی دیکھتے تو بھی اس کے وجود کا انکار نہیں کر سکتے تھے ‘ پس کسی اور شکل و صورت میں بھی اس کا مشاہدہ ناگزیر تھا اگر ہم مادر زاد اندھے بھی ہوتے تو بھی دھر کا احساس کرتے اور ہمار ا یہ احساس اس بات کا ثبوت ہے کہ دھر کا وجود ہے جبکہ تم نے اپنی کتاب میں اس کے وجود کا انکار کیا ہے ابن راوندی نے کہا اے امیر المومنین اگر کوئی شخص میرے دھر کے بارے میں اقتباس کو غور سے پڑھے تو معلوم ہو گا کہ میں نے دھر کا انکار نہیں کیا بلکہ میں نے کہا ہے کہ بنی نوع انسان میں سے ہر ایک نے دھر کا اپنا اپنا تصور رکھا ہے متوکل نے اظہار خیال کای تو نے ابھی مجھے کہا تھا کہ دھر کا کوئی مستقل اور ذاتی وجود نہیں ہے اور اب تم خود اس بات کا انکار کر رہے ہو ۔

ابن راوندی نے اظہار خیال کیا ‘ میں یہ کہتا ہوں کہ دھر کوئی شے نہیں کہ تمام بنی نوع انسان اسے ایک ہی صورت میں دیکھیں اور اس سے ایک ہی آواز سنیں ۔

متوکل نے کہا ‘ اگر اس صفت کے ساتھ ہر شخص دنیا کے آغاز سے اج تک اور آج سے دنیا کے خاتمے تک دھر کو ایک ہی صورت میں دیکھے البتہ جو آواز وہ سنے وہ دوسری آواز سے مختلف ہو تو پھر بھی کوئی چیز موجود ہے وگرنہ لوگ اسے مختلف شکلوں میں نہ دیکھتے ۔

آخر کار خلیفہ نے اس اصفہانی شخص سے اپنی تحری کی اسطرح اصلاح کروائی کہ دھر مستقلا اور فی الذاتہ موجود ہے لیکن اس بات کا امکان ہے کہ ہر شخص اسے منفرد شکل میں دیکھے اس کے بعد خلیفہ نے راوندی کی کتاب کے ایک دوسرے حصے کے بارے میں بحث کی اور کہا مجھے معلوم ہے کہ تو نے موت کے راوندی کی کتاب کے ایک دوسرے حصے کے بارے میں بحث کی اور کہا مجھے معلوم ہے کہ تو نے موت کے متعلق فیثا غورث کے قول کا تکرار کیا ہے اور کہاہے کہ جب میں ہوں تو موت نہیں اور جب موت آئے میں نہیں لہذا میرا موت سے کوئی تعلق نہیں کہ میں اس کا سبب تلاش کروں اور تحقیق کروں کہ موت کیا ہے ؟

ابن راوندی نے محسوس کیا کہ خلیفہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو گیا جو اس کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔ ممکن ہے وہ اسے الٹا لٹکا دے ۔ خلیفہ نے اظہار خیال کہ یہ نظریہ جو تم نے بیان کیا ہے ایک مشرک کا نظریہ ہے اور تمہیں کسی مشرک کے نظریہ کو اپنے نظریہ کی بنیاد نہیں قرار دینا چاہیے مجھے معلوم ہے کہ کچھ عرصے سے یونانیوں کے نظریات ہماری کتابوں میں رقم ہو رہے ہیں لیکن وہ نظریات اقوال کی نقل ہیں انہیں کسی نظریہ یا عقیدہ کی بنیاد قرار نہیں دینا چاہیے البتہ فقط اس صورت میں کہ وہ ہمارے مذہب قونین سے مطابقت رکھتے ہوں ۔

ابن راوندی اسی طرح خاموش رہا ‘ خلیفہ بولا ‘ تم ایک مسلمان ہو تم نے تسلیم کیاہے کہ توحید و نبوت اور معاد کے قائل ہو ۔ تم کیسے کہتے ہو کہ تمہارا موت سے کوئی نہیں اور اس کے بارے میں تحقیق نہیں کرنا چاہیے ؟

شاید تو نہیں جانتا کہ ایک مسلمان اگر موت سے بے تعلق ہو اور اسکے بارے میں تحقیق سے گریز کرے ‘ تو اس کا ایمان سالم نہیں رہتا کیونکہ معاد جو اصول دین میں سے ہے اس کا تعلق موت کے بعد زندگی سے ہے ۔

ابن راوندی نے کہا اے امیر المومنین میں نے اپنی کتاب میں مذہب کی رو سے موت کے متعلق اظہار خیال نہیں کیابلکہ جو کچھ میں نے عرض کیا ہے ایک حکیمانہ نظریہ ہے ۔

خلیفہ بولا‘ فیثا غورث چونکہ مشرک تھا اس لئے اس پر کوئی قد غن نہیں کہ اس نے موت سے لا تعلقی کا اظہار کیوں کیا ؟ لیکن تمہیں ہر گز نہیں لکھنا چاہیے کہ تمہیں موت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ تمہیں تو اس بارے میں تحقیق کرنا چاہیے ابن راوندی نے جواب دیا موت ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں تحقیق نہیں ہو سکتی متوکل کہنے لگا ‘ آخر اسکی وجہ کیا ہے ؟ ابن راوندی نے سوال کیا اے امیر المومنین ایسا کونسا طریقہ ہے جس کے ذریعہ موت کے بارے میں تحقیق ممکن ہے ؟

جس دن سے انسان خلق ہوا ہے اس دن سے لیکر آج تک اس نے کوشش کی ہے کہ موت کا راز جانے لیکن ابھی تک اسے کوئی ایسا ذریعہ ہاتھ نہیں لگا جو موت کا راز جاننے کا سبب بنے متوکل نے کہا موت کا راز اس طرح معلوم کیا جا سکتا ہے کہ وہ کون سا توازن ہے جس کی وجہ سے زندگی رواں دواں رہتی ہے اور کون سا عدم توازن ہے جو موت کاباعث بنتا ہے ابن راوندی خلیفہ کی باتوں سے حیران رہ گیا کیونکہ جوکچھ متوکل نے کہا وہ صرف ایک عالم ہی کہہ سکتا تھا اور ابن راوندی کو خلیفہ کی زبان سے ایسی گفتگو کی توقع نہیں تھی ۔ اس کے بعد ابن راوندی نے کہا کہ اے امیر المومنین اس راستے کو ڈھونڈنا ڈاکٹروں کا کام ہے اور انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جو توازن زندگیکو جاری رکھنے کا ضامن ہے وہ اس قسم کا توازن ہے اور وہ عدم توازن جو موت کا باعث بنتا ہے وہ کون سا عدم توازن ہے متوکل نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ہر عالم اس راستے میں تحقیق کر سکتا ہے اورنہ صرف ڈاکٹروں پر موت کا راز افشاء کرنے کا انحصار ہے بلکہ علمائے دین بھی موت کا راز معلوم کر سکتے ہیں ابن راوندی نے پوچھا کس ذریعے سے ؟

خلیفہ نے جواب دیا قرآنی آیات میں گہرے غور و فکر کے ذریعے سے ابن راوندی نے کہا ۔ اے امیر المومنین قرآنی آیات میں صرف چند مواقع پر موت کے بارے میں ذکر ہوا ہے لیکن وہ بھی اس صورت میں نہیں کہ محض آیات قرآن آیات کی تلاوت سے موت کا راز معلوم کیا جا سکتا ہے بلکہ میرے کہنے کا مقصد یہہے کہ انسانی آیات قرآنی کی گہرائی میں جا کر موت کا راز پا سکتا ہے متوکل کے قول سے پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے کے مسلمان اس بات کے معتقد تھے ۔

کہ آیات قرآنی ظاہری معنوں کے علاوہ باطنی معنوں کی بھی حامل ہیں ۔ اور ہر کوئی ان معنیتک رسائی حاصل کر سکتا ہے ان معنی کو جاننے کیلئے قرانی علم کا سمجھنا ضروری ہے ۔ ایک روایت کے مطابق یہ نظریہ دوسری صدی ہجری کے شروع میں وجود میں آیا اور تیسری و چوتھی اور اس کے بعد آنے والی صدیوں کے دوران اسلامی ممالک میں فروغ پانے کے ساتھ ساتھ مضبوط تر ہوتا چلا گیا اور مسلمانوں کے روحانی علماء نے یقین کر لیا کہ قرآن ظاہری معنوں کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ باطنی معنی بھی رکھتا ہے ۔

قرانی تفاسیر کا سر چشمہ بھی یہی نظریہ ہے لیکن مفسرین قرآن شازو نادر ہی ان آیات کے باطنی معنوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں بعض کا خیال تھاکہ اس بات پر ایمان لانا کہ آیات قرآنی باطنی معنی بھی ہوں گے اس عقیدے کیبنیاد پر یہ نظریہ پایا جاتا ہے کہ جو مسلمان قران آیات کے باطنی معنی جانتا ہو وہ علم و روحانی طاقت کے لحاظ سے پیغمبر اسلام کے برابر ہو گا البتہ چونکہ پیغمبر کے بعد کوئی نبی نہیں ائیگا لہذا وہ نبی نہیں ہو سکتا اور شیعہ معتقد ہیں کہ جو کوئی قرآنی آیات کے باطنی معنی جانتا ہو وہ علم و روحانی طاقت کے لحاظ سے آئمہ کی مانند ہو گا ۔

ذیم قراطیس کے زمانے میں ایٹم ایک نا قابل تقسیم ذرہ تھا لیکن آج وہ تقسیم در تقسیم ہو چکا ہے امام جعفر صادق سے پوچھے جانے والے سوالوں میں سے ایک سوال یہ تھا کہ دانائے مطلق کون ہے اور کس وقت آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ سب کچھ سیکھ چکا ہے ؟

جعفر صادق نے فرمایا اس سول کے دو حصے ہیں ایک یہ کہ کون دانائے مطلق ہے " اس کا جواب یہ ہے کہ خداوند تعالی کی ذات کے علاوہ کوئی بھی دانائے مطلق نہیں کسی انسان کیلئیمحال ہے کہ وہ دانائے مطلق ہو ۔ کیونکہ علم اس قدر وسیع ہے کہ کوئی بھی انسان تمام علوم کو نہیں سیکھ سکتا اگرچہ اس کی عمر ہزاروں سال کیوں نہ ہو اور اگر وہ اس تمام عمر کے دوران تحصیل علم میں مشغو ل رہے تو بھی انسان تمام علوم کا عالم نہیں بن سکتا شاید ہزار ہا سال زندگی کو تحصیل علم کیلئے وقف کرنے کے بعد اس دنیا کے علوم سے آگاہی کر لے لیکن اس دنیا کے علاوہ اور بھی جہان ہیں جہاں اس دنیا کے علوم بے وقعت ہیں اگر کوئی شخص اس دنیا کے علوم سیکھنے کے بعد دوسرے جہانوں میں وارد ہو تو وہ جاہل ہے اسے اس دنیا کے علوم سیکھنے کیلئے شروع سے پڑھنا ہو گا ۔

یہی وجہ ہے کہ خداوند تعالی کی ذات کے علاوہ کوئی بھی دانائے مطلق نہیں کیونکہ انسان تمام حقیقتوں سے آگاہی حاصل نہیں کر سکتا ۔ امام جعفر صادق نے سوال کے دوسرے حصے کے جواب میں فرمایا۔ آ نے یہ پوچھا ہے کہ انسان کس وقت علم سے غنیہو جاتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے پہلے سوال کے جواب میں کہا کہ اگر انسان کی عمر ہزاروں سال ہو اور وہ مسلسل تحصیل علم میں مشغول رہے تو بھی وہ مام علوم پر عبور نہیں حاصل کر سکتا پس اسی بنا پر کوئی شخص یہ احساس نہیں کر سکتا کہ وہ علم سے غنی ہے ہاں البتہ جا ہل یہ احساس کرتے ہیں کہ وہ علم سے غنی ہیں اور اپنے آپ کو علم سے بے نیاز خیال کرتے ہیں جعفر صادق سوچھا گیا کہ دوسری دنیاؤں کے علم سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا یہ جہان جس میں ہم زندگی بسر کرتے ہیں کے علاوہ اور جہان بھی ہیں جن میں سے اکثر ان جہان سے بڑے ہیں اور ان جہانوں میں ایسے علوم ہیں جو اس جہاں کے علوم سے شاید مختلف ہیں جعفر صادق سے پوچھا گیا کہ دوسرے جہاں وں کی تعداد کیا ہے آپ نے جواب دیا خداوند تعالی کے علاوہ کوئی بھی دوسرے جہانوں کی تعداد سے مطلع نہیں ہے آپ سے پوچھا گی کہ دوسرے جہانوں کے علوم اور اس جہانوں کے لعوم میں کیا فرق ہے ؟ کیا وہاں کا علم سیکھا نہیں جا سکتا ؟ اور اگر سیکھا جا سکتا ہے تو کیسے مناسب ہے کہ وہ علوم اس دنیا کے علوم سے مختلف شمارکئے جائیں ؟ جعفر صادق نے فرمایا دوسرے جہانوں میں دو قسم کے علوم ہیں جن میں سے ایک قسم اس دنیاکے علوم کے مشابہ ہے اور اگر کوئی اس جہان سے ان جہانوں میں جائے تو ان علوم کو سیکھ سکتا ہے لیکن شاید یعنی دوسرے جہانوں میں ایسے لعوم پائے جائیں کہ اس دنیا کے لوگ انہیں درک کرنے پر قادر نہ ہوں کیونکہ ان علوم کو اس دنیا کے لوگوں کی عقل نہیں سمجھ سکتی ۔ جعفر صادق کا یہ قول بعد میں آنے والی نسلوں کے علماء کیلئے ایک معمہ بنا رہا بعض نے اسے قابل قبول نہیں سمجھا اور کہا کہ امام جعفر صادق کا یہ کہنا بلاوجہ ہے ان لوگوں میں سے ایک ابن راوندی اصفہانی بھی ہے جس کا ذکر پہلے آ چکا ہے اس سنے کہا انسانی عقل ہر اس چیز کو درک کر سکتی ہے جسے علم کہتے ہیں چاہے اس دنیا کے علوم ہوں یا دوسرے جہانوں کے علوم ہوں لیکن امام جعفر صادق کے شاگردوں نے آپ کے اس قول کو قبول کیا او اس بات کے قائل ہو گئے کہ بعض دوسرے جہانوں میں ایسے علوم ہیں جن کی تحصیل انسانی بس کا روگ نہیں کیونکہ انسانی عقل ان علوم کو درک نہیں کر سکتی لیکن اس صدی میں آئن سٹائن کے نظریہ ‘ نسبتیت نے فزکس میں ایک جدید اور بے مثال باب کا اضافہ کیا اور اسکے بعد یا ضد ماہ کی تھیوری محض تھیوری کی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے علم کے مراحل میں داخل ہوئی اور سائنس دان اس حقیقت سے آشنا ہو گئے کہ ضد مادہ موجود ہے جعفر صادق کا یہ قول ہے کہ بعض دوسرے جہانوں میں شاید ایسے علوم پائے جاتے ہیں جن کو سیکھنا انسانی دسترس سے باہر ہے سمجھ میں آتا ہے کیونکہ ضد مادہ کی دنیا میں ہمارے قوانین فزکس کے علاوہ دوسے قوانین فزکس لاگو ہوتے ہیں اور اس سے بھی بڑ کر یہ کہ منطق اور استدلال کے وہ قوانین جنہیں وضع کرنے پر ہماری عقل قادری ہے دوسرے جہان میں یہ قوانین قابل اجراء نہیں ہیں ضد مادہ ایک ایسی دنیا ہے جس میں الیکٹران پر مثبت اور پروٹان پر منفی چارج ہے جبکہ ہماری دنیا میں ایٹم کے الیکٹران پر منفی اور پروٹان پر مثبت چارج ہے ایک ایسی دنیا جہاں الیکٹرانوں پر مثبت اور پروٹانوں میں منفی چار ج ہو نہ معلوم وہاں کون سے طبیعاتی قوانین کی حکم فرمائی ہو گی ہماری منطق اور استدلال میں کل جزو پر برتر ہے لیکن ممکن ہے کہ اس دنیا میں جزو کو کول پر برتری حاصل ہو اور ہماری سوچ اس موضوع کو سمجھنے اور قبول کرنے سے قاضر ہے ہماری دنیا میں جب ہم کسی بھاری جسم کو پانی میں ڈالتے ہیں تو ارشمیدس کے قانون کے مطابق وہ پانی میں ہلکا ہو جاتا ہے لیکن اس دنیا میں ممکن ہے کوئی جسم اگر پانی یا کسی مائع میں ڈبویا جائے تو بھاری ہو جائے اس دنیا میں پاسکل کے قانون کی رو سے اگر کسی برتن میں پڑے ہوئے مائعکے ایک نقطے پر دباؤ ڈالا جائے تو یہ دباؤ مائع کے تمام نقاط پر بڑے گا اسی قانون کی مدد سے آمد ر رفت کے ذرائع اور خاص طور پر بھاری ذرائع کو روکنے کیلئے بریکوں میں تیل استعمال ہوتا ہے کیونکہ جو بھی ڈرایور اپنا پاؤں بریک کے پیڈل پر رکھتا ہے تو وہ بریک آئل پر تھوڑا دباؤ ڈالتا ہے اس کا یہی دباؤ سارے بریک آئل پر پڑتا ہے پھر یہ دباؤ ہزار گنا زیادہ گاڑی کے پہیوں پر پرٹا ہے جس کی وجہ سے وہ ایک لمحے میں رک جاتی ہے ۔

لیکن ممکن ہے فزکس کا یہ قانون صند مادہ دنیا میں موثر نہ ہو اور جو دباؤ مائع کے ایک نقطے پر ڈالا جائے تو اس بات کا امکان ہے کہ وہ اس جہان کے اجنبی طبعیاتی قوانین سے بتدریج سمجھوتہ کر لے جس طرح چاند پر جانے والے خلا بازوں کویہاں بے وزن زندگی گزارنے کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ جب وہ چاند پر پہنچیں تو بے وزن رہنا ان کی عادت بن چکی ہو ۔ لیکن ضد مادہ دنیا میں جو چیز انسان کے لیے نا قابل قبول ہے وہ منطق اور استدالال کے قوانین کی مخالفت ہے ۔

اگر انسان دوسری دنیا میں جز کی کل پر برتری دیکھے اور مشاہدہ کرے کہ اس دنیا کے لوگ اعداد کی ضرب و تقسیم و تفریق و جعم کے قوانین کا لحاظ نہیں کرتے اور اگر محسوس کرے کہ اس دنیا میں پانی گرم کرنے سے جمتا ہے ‘ سردی ‘ پانی کو بخارات میں تبدیل کرتی ہے جبکہ وہاں خلا بھی نہیں تو وہ انسان ان نئی باتوں کو سمجھنے سے قاصر ہو گا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں جعفر صادق کا اس بات پر مبنی نظریہ کہ بعض ایسے جہان ہیں جن کیعلوم کا حصول انسان کے بس کی بات نہیں قابل قبول دکھائی دیتا ہے ۔

جعفر صادق کے قوال نے یونان میں علم کے متعلق کی گئی قدیم فلسفیانہ بحث کو زندہ کر دیا وہ بحث یہ تھی کہ کیا علم فی نفسہ (یا بذاتہ ) وجود رکھتاہے یا ہم جو کچھ اخذ کرتے ہیں وہی ہے یعنی ایک دوسرے کی پیروی کا نام ہے یونان کے بعض حکیموں کا کہنا ہے کہ اکیلے علم کا وجود نہیں اور علم ایک ایسی چیز ہے جسے ہم اشیاء اور احوال سے درک کرتے اور اس کے قواعد معلوم کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ مادر زاد نابینا رنگوں کے بارے میں کچھ نہیں جان سکتا اور مادر زاد بہرہ علم موسیقی کو درک نہیں کر سکتا ان کا کہنا ہے کہ صرف ایک یا دو حواس ظاہری تمام علوم کے حصول میں حائل نہیں ہو سکتے ۔ بلکہ باطنی حواس میں کمی علوم کے ادراک میں رکاوٹ بنتی ہے اور ایک دیوانہ شخص کسی قسم کا علم حاصل نہیں کر سکتای اگرچہ اس کے ظاہری حواس میں کوئی خرابی نہ ہو ۔ اس گروہ کی مخالفت میں کچھ یونانی حکما نے کہا کہ اکیلا علم بھی موجود ہے چاہے انسان اسے درک کرے یا نہ انہوں نے کہا وہ علم جو دنیا میں چار موسم وجود میں لاتا ہے چاہے انسان ان چار موسموں کو درک کرے یا نہ اور ایسا علم جو سورج چاند کو زمین کے ارد گرد گھماتا ہے مووجد ہے خواہ آدمی آں کھیں رکھتے ہوں یعنی سورج اور چاند کو دیکھ سکیں یا مدر زاد اندھیہوں اور سورج اور چاند کا مشاہدہ نہ کر سکیں ۔ زیم قراطیس جس کا کہنا تھا کہ دنیا ایٹم سیبنی ہے اس کا عقیدہ تھا کہ علم کی دو قسمیں ہیں ایک وہ علوم جنہیں سیکھا جا سکتا ہے اور دوسرے ایسے علوم جن کے قواعد اور تفصیلات کو نہیں سمجھا جا سکتا ۔ ان مجہول علوم میں ایک ایٹم کا علم ہے اور دوسرا خداؤں کے بارے میں ہے ۔ زیم قراطیس کے ایک صدی بعد اس پر تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ تیرا کہنا کہ ایٹموں کا علم مجہول علم ہے اور تو کہتا ہے کہ آدمی اس کی تفصیلات کو نہیں جان سکتا۔ پھر تم کیسے کہتے ہو کہ دنیا ایٹموں سے بنی ہے یہ تو اسے کہنا چاہیے جو ایٹموں کے علم کے قواعد اور تفصیلات سے آگاہ ہو خود زیم قراطیس تو نہ تھا کہ جواب دیتالیکن اسکے پیروکاروں نے کہا کہ اسکی عقل نے سمجھ لیا تھا کہ دنیا ایٹموں سے بنی ہے لیکن زیم قراطیس کے حواص ایٹموں کو نہیں دیکھ سکے اور اگر ان کی آواز ہے تو اسے نہیں سن سکے یہ ایسی چیزیں ہیں جنہیں آدمی اپنی عقل سے ہی سمجھ سکتا ہے نہ کہ حواس خمسہ کی مدد سے ۔

اپنے استاد کے مخالفوں کو خاموش کرنے کیلئے زیم قراطیس کیمریدوں کے پاس ایک موثر ذریعہ بھی تھی انہوں نے کہا کہ خداؤں کو نہ تو ظاہری حواس کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے اور نہ باطنی حواس کے ذریعے ان کا وجود د معلوم کیا جا سکتا ہے جس طرح ہم باطنی حواس کے ذریعے اپنی بیماری کا پتہ لگاتے ہیں جبکہ ہم اسے دیکھتے ہیں اور نہ ہی اس کی آواز سنتے ہیں ۔ زیم قراطیس بھی اپنی عقل کے ذریعے اس تک پہنچا کہ دنیا ایٹموں سے وجود میں آئی ہے اگر وہ ایٹموں کے علم کے قواعد اور تفصیلات کو نہیں سمجھ سکا تو اس پر تنقید نہیں کی جانی چاہیے ہمارے کہنے سے مراد یہ ہیکہ یونانی حکما میں بھی ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے علم کی دو قسمیں بتائیں ایک وہ علوم جنہیں انسان کی عقل درک کر سکتی ہے اور دوسرے وہ جنہیں درک کرنا انسان کی دسترس سے باہر ہے اس ساری بحث سییہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ پہلے جعفر صادق نے فرمایا کہ علم لا محدود ہے ۔ اور دوسرا ان کا عقیدہ تھا کہ وہ علوم جو دوسرے جہانوں میں پائے جاتے ہیں انہیں اس عقل کے ذریعے جس سے وہ اس دنیا کے علوم سے آگاہی حاصل کرتا ہے ۔

ان جہانوں کے علوم کا ادارک نہیں کر سکتا اور اج جب کہ آین سٹائن کے نظریہ نسبت اور ضد مادہ کے نظریئے جس کے بارے میں ہم نے کہا کہ تھیوری سے گزرنے کے بعد عملی مرحلہ میں داخل ہو گیا ان دونوں نظریات کے ذریعے پتہ چلایا جا سکتا ہے کہ ساڑھے بارہ سو سال پہلے جعفر صادق نے کس قدر صحیح نظریہ پیش کیا تھا ۔ عباسی دور کے ایک مشہور مورخ ابن ابی الحدیدہ جس نے جعفر صادق کے بارے میں بحت کچھ رقم کیا اور وہ عباسیوں کی خلافت کے خاتمی کے ایک سال قبل ہلاکو خان کے ہاتھوں ۶۵۵ ہجری قمری میں ستر سال یا اونہتر سال کی عمر میں اس دنیا سے کوچ کر گیا ۔ اس کا نام عزالدین عبدالحمید بن محمد تھا ۔ اس مورخ کا کہنا ہے جعفرصادق کی مت کے بعد ایک عرصے تک یعنی تقریبا ڈیڑھ صدی یا دو صدی بعد تک ربستان بین النہرین ‘ عراق ‘ عجم ‘ خراسان اور فارس میں جتنے استاد بھی پڑھاتے تھے امام جعفر صادق کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے تھے کہ جعفر صادق سے اس طرح حکایت کرتے ہیں پھر یہی مورخ کہتا ہے کہ اہل سنت و الجماعت کے فرقوں کے استاد بھی پڑھانے کے دوران جعفر صادق کا قول نقل کرتے اور کہتے تھے کہ ان سے ان اس طرح مروی ہے ایک دن ابن صلقمی نے ابن الحدید سے پوچھا کہ گذشتہ مسلمانوں میں سب سے قابل علم کون تھا اس نے جواب دیا جعفر صادق چونکہ ج ۳ صادق کو سب سے بڑا مسلمان عالم سمجھا جاتا ہے اس لیے محقق کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی معلومات سے آگہی حاصل کرے ۔ شیعہ مورخین کی کتابوں میں جعفر صادق کے علوم کی تعداد ایک سو سے پانچ سو تک درج ہے اور دوسرا یہ کہ بعض شیعہ مورخین نے جعفر صادق کے معجزات کے ابرے میں شیعہ مورخین کا عقیدہ اس بات کا موجب بنا کہ ان مورخین نے جعفر صادق کی سوانح حیات کو آ کے معجزوں تک ہی محدود رکھا یا پھر بعض شیعہ مورخین نے اپنی کتابوں کے بیشتر صفحات میں ان ہی معجزات کی تشریح کیہے ان معجزات کی تعداد اور شیعہ مورخین کی کتابوں کے حوالے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کوئی ایسا دن نہیں گذرا کہ جعفر صادق سے ایک معجزہ و قوع پذیر نہ ہوا ہو ۔ جعفر صادق کے معجزات کا ایک حصہ دور صفویہ کے مشہور عالم علامہ مجلسی کی کتاب حار الانوار میں درج ہے لیکن جیسا کہ آ پ کو معلوم ہے کہ علامہ مجلسی نے اپنی تحریر کو دوسرے ذرائع سے اقتباس کیا ہے ایک شیعہ مولف جس نے جعفر صادق کے معجزات کی تشریح کی ہے اور اس نے مشہور کتاب من لا یحضر الفقیہ بھی لکھی ہے اور اس کا شمار بزرگ شیعہ علما میں ہوتا ہے ابو جعفر محمد (بابویہ قمی ) ہے ‘ ابن بویہ چوتھی صدی ہجری میں ہو گزارا ہے یعنی زمانے کے لحاظ سے وہ جعفر صادق کے نزدیک تھا ۔ امام جعفر صادق کے معجزات کی شرح لکھنے کے علاوہ ابن باویہ قمی نے عیون الاخبار الرضا ‘ (امام علی رضاء کے معجزات کی شرح ) کے نام سے بھی ایک کتاب لکھی ہے چونکہ شیعہ مورخین جعفر صادق کی امامت کے قائل تھے لہزا انہوں نے اپ کے علوم کی تعداد پانچ سو لکھی ہے حالانکہ انہوں نے ان علوم کا نام نہیں لیا۔

ایک تاریخی محقق کیلئے یہ بات قابل قبول نہیں کہ جعفر صادق پانچ سو علوم پر دسترس رکھتے اور پڑھاتے تھے ۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جعفر صادق کے دور میں علوم کی تعداد آج کے دور سے کہیں کم تھی اور آج کی مانند نہ تو سائنسی ترقی ہوئی تھی اور نہ ہی صنعت و حرفت میں توسیع ہوئی تھی کہ ایک علم سے تھوڑی مدت میں دوسرے علوم جنم لیتے ۔

مثال کے طور پر ایٹم کے بارے میں علم مختصر سی مدت یعنی ۱۹۴۰ ۔ ۱۹۸۰ کے درمیان اس قدر وسیع ہوا ہے کہ آج ایک انسان اپنی ساری عمر بھی صرف کر دے تو ایٹمی مطالعہ میں تھیوری اور پریکٹیکل دونون طرح سے ماہر نہیں ہو سکتا ۔ اگر وہ ایٹمی مطالعے کے نظریاتی پہلو کو لے تو وہ عملی لحاظ سے پیچھے رہ جائیگا اور اگر عملی پہلو لے تو نظریاتی پہلو پر عبور حاصل نہیں کر سکے گا ۔

یہی مثال جنگ کے بارے میں بھی صادر آتی ہے امریکہ میں جنگی ہوائی جہازوں کیبارے میں ایک جدید ٹیکنیک وضع کی گئی ہے جس کے مطابق پائلٹ کے بغیر بھی یہ جہاز اڑ سکیں گے ۔ اس طرح جنگ کی یہ روش فضائی جنگوں کی ٹیکنیک کو تبدیل کر دے گی اور فضائی جنگوں میں ایک نئی ٹیکنیک وجود میں آئے گی لیکن پہلے زمانے میں ایسا ہر گز نہیں ہوتا تھا یعنی علوم و صنعت میں اتنی تیزی سے انقلاب برپا نہ ہوتا تھا آج جب کہ اصولی اور فروعی علوم سمیت علوم کی کل تعداد ایک ہزار سے زیادہ نہیں ہے لیکن ساڑھے بارہ سو سال قبل علوم کی تعداد پانچ سو بھی نہ تھی ۔

مگر شیعہ مورخین نے لکھا ہے کہ جعفر صادق پانچ سو علوم کے ماہر تھے اور یہ سب پڑھاتے تھے بظاہر اس کی دو وجوہات ہیں چونکہ شیعہ مورخین امام جعفر صادق کو اپنا امام سمجھتے ہیں اور شیعہ عقائد کے مطابق انکا ایمان ہے کہ امام اس دنیا میں (نوع انسانی میں ) دانائے مطلق ہے یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ دانائے مطلق پیغمبر اور اس کے بعد امام ہے خداوند تعالی کی دانائی کے بارے میں کسی حد کے قائل نہیں اور خدا وند تعالی کو دانائے مطلق سمجھتے ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ اس کا علم اس کی ذات کی مانند لا محدود ہے اور علم خداوند تعالی کے علم سمیت تمام صفات کو اس کی ذات کا جزو سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خداوند تعالی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اس کا آغاز و انجام نہیں ہے اسی طرح اس کا علم بھی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور وہ ہر گز حدود کا پابند نہیں ۔

موت کا مسئلہ ‘ ابن راوندی کی نظر میں

ابن راوندی اپنی کتاب میں موت کا راز فاش نہ کر سکا اور جیسا کہ ہمارے مطالعے میں یہ بات آئی ہے اس نے عباسی خلیفہ المتوکل سے کہا ‘ موت کا راز کسی راستے سے افشا نہیں ہو سکتا ۔ لیکن اپنی کتاب میں موت کے بارے میں ایسے نظریات پیش کئے جو شاید آج کسی کی نظر میں کسی خاص اہمیت کے حامل نہ ہوں لیکن ساڑھے گیارہ سوسال پہلے پر کشش نظریات تھے ان میں اس نے کہا ہے کہ کوئی بھی یہبات نہیں سمجھ سکتا کہ اسکی موت کیسے واقع ہوتی ہے ۔

جب تک وہ موت کو خود نہ آزمائے اسے درک کرنے پر قادر نہیں ہو سکتا ۔ دوسروں کی موت کے مشاہدے سے انسان اپنی موت کیلئے کچھ نہیں سیکھ سکتا ‘ اور جب تک انسان موت کو اپنے اوپر نہ ازمائے اس وقت تک اسکی سمجھ میں یہ بات نہیں آ سکتی کہ موت کیسی ہوتی ہے ؟ ابن راوندی کا موت کے بارے میں دوسرا نظریہ ہے کہ کوئی بھی اپنے آپ کو مردہ نہیں سمجھ سکتا اور انسان جب تک زندہ ہے اس کیلئے محال ہے کہ وہ اپنے آپ کو مردہ گردانے اسلئے کہ اگر اسے علم ہو کہ مردہ ہے تو یہ بات اسکی دلیل ہے کہ وہ زندہ ہے اگر زندہ نہ ہوتا تو اسے مرنے کا علم کہاں سے ہوتا ؟

موت کے متعلق ابن راوندی کا تیسر نظریہ اس عرصہ کے بارے میں ہے جب انسان مردہ ہوتا ہے اور زندہ نہیں ہوتا ابن راوندی کہتا ہے کہ کسی مردے کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ وہ مردہ ہے اس نظریئے کے متعلق اس نے دیسی ہی دلیل دی ہے جو دوسرے نظریہ کے ضمن میں پیش کی ہے ۔

وہ کہتا ہے اگر مردہ یہ جان لے کہ مردہ ہے تو اس صورت میں وہ مردہ نہیں ہو گا بلکہ زندہ ہو گا ۔ ابن راوندی کہتا ہے مردہ میں اپنے آپ کو پہچاننے کا شعور نہیں ہوتا کیونکہ شعور زندہ لوگوں کی کھلم کھلا صفات میں ہے اور اگر مردہ اپنے آ کو پہچان لے اور اس بات سے اگاہ ہو جائے کہ وہ مردہ ہے تو اس صورت میں وہ زندہ شمار ہو گا نہ کہ مردہ اس وجہ سے عام عقیدہ کے بر خلاف وہ یہ نہیں دیکھ سکتا کہ اس کے رشتہ دار اس کے سرہانے کھڑے رو رہے ہیں کیونکہ اگر انہیں دیکھ لے اور ان کی گریہ و زاری سن لے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ زندہ ہے اور اگر مردہ ہوتا تو ہر گزنہ جان سکتا کہ مردہ ہے وہ نہ ہی اپنے ارد گرد کھڑے لوگوں کو دیکھ سکتا ہے اور نہ ان کے رونے کی آواز سن سکتا ہے ۔

ابن راوندی نے موت کے متعلق چوتھا نظریہ یہ پیش کیا کہ کوئی بھی مردہ اپنے آپ کو مرنے سے پہلے نہیں پہچان سکتا ۔ اس کے بقول ‘ اگر فرض کریں ابوالحسن مر جائے (ابوالحسن ‘ ابن راوندی کی کنیت تھی ) پھر اسے قبر میں رکھ کر دفن کر دیں تو اسے اس بات کا شعور نہیں ہو گا کہ وہ مرنے سے پہلے ابوالحسن تھا ‘ کیونکہ اگر جان لے کہ مرنے سے پہلے ابوالحسن کے نام سے پکارا جاتا تھا ‘ تو ضرور اس کو اپنی شناخت کا شعور ہو گا ۔ اور جو کوئی باشعور ہے مردہ نہیں کہلا سکتا ۔

موت کے بارے میں ابن راوندی کا پانچواں نظریہ یہ ہے کہ مندرجہ بالا چار نظریات اس بات سے اخذ کئے گئے ہیں کہ آدمی اپنے آپ کو اس بات کا قائل نہیں کر سکتا کہ وہ ایک دن مرے گا اور اس دنیا سے اٹھ جائے گا ۔

انسان گمان کرتا ہے کہ وہ ہر گز نہیں مرے گا اور جب اسے قبر میں ڈالیں گے تو زندہ ہو جائے گا البتہ وہاں اس کی زندگی کی کیفیت اس دنیا سے مختلف ہو گی ۔ نیند ان اسباب میں سے ہے جو اس عقیدت کی تقویت کا باعث بنے ہیں ‘ انسان گمان کرتا ہے کہ جس طرح وہ اس نیند سے بیدار ہو جاتا ہے اسی طرح وہ موت کی نیند کے بعد بھی بیدار ہو جائے گا انسان جو مناظر خواب میں دیکھتا ہے وہ اس کے اس عقیدے کو مزید تقویت پہنچاتے ہیں کہ حقیق موت کا وجود نہیں ‘ کتاب الفرند کے مصنف کے بقول انسان خواب میں اپنے آپ کو مردہ دیکھتا ہے تو وہ عین زندہ ہوتا ہے یا اس کے عزیز و اقارب اپنے آپ کو مردہ دیکھتے ہیں تو وہ عین زندہ ہوتے ہیں انسان گمان کرتا ہے کہ موت کے بعد بھی اس طرح کی کیفیت ہو گی جب وہ مر جائے گا تو اپنے آپ کو زندہ دیکھتا ہے خواب میں ان طرح طرح کے مناظر کو دیکھنا انسانی جسم کے اعضاء کی وجہ سے ممکن ہے اگر یہ جسمانی اعضاء نہ ہوں تو انسان سو ہی نہیں سکتا کہ وہ خواب دیکھے ابن راوندی کو علم تھا کہ قدیم مصر میں میتوں کو مومیائی کر دیتے تھے کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ ان کا گمان ہوتا تھا کہ اگر ڈھانچہ باقی رہے تو انسان مرنے کے بعد بھی زندہ رہے گا اور اپنی پہچان کر سکتے گا جس طرح وہ سونے کے دوراب خواب میں اپنی شناخت کر سکتا ہے لیکن ابن راوندی کے بقول مصر والے جس مردے کو مومیائی کرتے تھے وہ دل کے بغیر ہوتا تھا کیونکہ اسے مومیانے سے پہلے بدن کے تمام اندرونی اعضاء باہر نکال کر دور پھینک دیتے تھے پس یہ کیسے قابل قبول ہے کہ جس مردے کا دل نہ ہو ۔ وہ اپنی پہچان کر سکتا ہے کیونکہ ابن راوندی کا خیال تھا انسان جو مناظر خواب میں دیکھتا ہے ان کا تعلق دل سے ہے انسان اپنے آپ کو دل کے احاطے میں دیکھتا اور پہچانتا ہے اور بطور کلی جسطرح یہ قدیم لوگ روحانی احساساتکا سرچشمہ دل کو سمجھتے تھے ۔ ان کا خیال تھا کہ جو مناظر خواب میں نظر اتے ہیں ان کا وجود دل میں ہوتا ہے جیسا کہ ہم نے ملاحظہ کیا موت کے بارے میں ابن راوندی کے نظریات اس کے اپنے زمانے یعنی تیسری صدی کے اوائل میں قابل توجہ تھے ہم نے دیکھا کہ ابن راوندی نے خلیفہ کے حکم سے مجبورہو کر اپنی اس تمام تحریر کی اصلاح کی جس میں اس نے توحید اور نبوت اور قیامت کا انکار کیا تھا گویا اس نے اپنی تحریر واپس لے لی اس کے علاوہ ابن راوندی کی کتاب میں ایک اور عنوان بھی تھا جس کی وجہ سے عباسی خلیفہ کے دارالحکومت میں اس پر کفر کا فتوی لگا عباسی خلیفہ کے دارالحکومت میں کفر کے فتوے کی بات ہم اس لئے کرتے ہیں کہ وہ علاقے جہاں جعفری مذہبی ثقافت رائج تھی کسی نے اس دلیل کی بناء پر اس پر کفر کا فتوی نہیں لگایا بلکہ جن علاقوں میں علماء جعفری مذہبی ثقافت سے روشناس تھے ان کا عقیدہ تھاکہ وہ عنوان دین کی تقویت کا باعث ہے ۔

۹; دین علم سے متصادم نہیں

جو کچھ ابن راوندی نے اپنی کتاب میں لکھا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ دین کو بہانہ بنا کر علمی ترقی میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے اور یہ موضوع اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ اس کی تربیت جعفر صادق کے ثقافتی مکتب میں ہوئی تھی امام جعفر صادق علیہ السلام کے حلقہ درس میں اس زمانے کے تمام علوم پڑھائے جاتے تھے ان میں سے بعض کی تدریس پہلی مرتبہ ایک اسلامی مکتب میں شروع ہوئی تھی چونکہ جعفر صادق کا عقیدہ تھا کہ علوم میں جتنی ترقی ہو گی دین کی تقویت کا باعث ہو گا امام جعفر صادق کے حلقہ درس میں فلسفہ پڑھایا جاتا تھا جبکہ بعض مسلمان اساتذہ فلسفہ کی تدریس سے سخت پرہیز کرتے تھے اور معتقد تھے کہ فلسفہ کی تدریس مومنین کے عقیدہ کو بگاڑنے کا باعث بنتی ہے فلسفہ کے علاوہ جعفر صادق کے حلقہ درس میں فزکس ‘ کیمیاء طب ‘ جغرافیہ ‘ ہیئت ‘ حساب اور جیومیٹری بھی دینی علوم کے علاوہ پڑھائی جاتی تھیں ابن راوندی جس نے اس ثقافتی مرکز میں تربیت پائی تھی لکھا کہ دین علمی ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہوتا ہے اور اس بنا پر وہ عباسی خلیفہ کے ارالحکومت میں خلیفہ کے غضب کا نشانہ بنا اور جب اس نے خلیفہ کی تنقید کو قبول کرکے اپنی کتاب کی درستی کر لی تو متوکل نے اسے اچھے خاصے انعام سے نوازا لیکن عباسیوں کے دارالحکومت کے علماء نے اس کی کتاب کے سارے حصوں کو تنقیدہ کا نشانہ بناتے ہوئے اسے منکر دین قرار دیا انہوں نے کہا جو توحید و نبوت و قیامت کا منکر ہے کس زبان سے کہتا ہے کہ دین کو علوم کی ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہیے یہ بات تو اسے زیب دیتی ہے جو دین دار ہو جدید علوم کی تواریخ میں درج ہے کہ رابرٹہوک وہ پہلا شخص ہے جس نے تین سو سال پہلے لندن کے شاہی علمی اجتماع کے بانیوں میں سے ایک بانی فرد کی حیثیت سے پہلے اجلاس میں اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے مذہب کو علمی تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے لیکن اس موضوع کی بنیاد حضرت جعفر صادق نے دوسری صدی ہجری کے اوائل میں رکھی تھی اور ابن راوندی جو جعفری ثقافتی مکتب کا تربیت یافتہ تھا اس نے تیسری صدی ہجری کے اوائل میں اپنی کتاب میں اسے لکھا جسے عباسیوں کے دارلحکومت میں نا پسند کیا گیا دوسری صدی ہجری کے پہلے پچاس سالوں کے دوران اسلامی ممالک میں یکے بعد دیگرے اسلامی فرقے وجود میں آ رہے تھے جن میں سے اکثر ترک دنیا کی طرف مائل تھی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسا عیسائیوں کی خانقاؤں کے زیر اثر ہو رہا تھا جن میں پادری حضرات زندگی بسر کر رہے تھے لیکن امام جعفر صادق جو ترک دنیا کے مخالف تھے اور کہتے تھے کسی مسلمان کو اپنی زندگی گوشہ تنہائی میں الگ تھلک رہ کر فضول ضائع نہیں کرنی چاہیے ابن راوندی نے جعفری ثقافتی مکتب کا تربیت یافتہ ہونے کی وجہ سے اپنی کتاب میں ان اسلامی فرقوں کو جو گوشہ نشینی و ترک دنیا کی طرف مائل تھے سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ عنوان عباسیوں کے دارالحکومت میں ان مذہبی فرقوں کی نہ صرف ناراضگی کا باعث بنا بلکہ وہ اس پر غضب ناک بھی ہوئے ۔

ان کے غیض و غضب کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ابن راوندی کو کافی و مرتد قرار دیا۔ اور کہا اس جیسے شخص کو کوئیحق نہیں پہنچتا کہ ان کیمذہبی روش کے بارے میں اظہار خیال کرے گوشہ نشینی سے منع کرے اسلامی مذہبی فرقوں میں ایک طرح کا اعتکاف قابل تحسین ہے یہ اعتکاف روح کی پاکیزگی اور عالی مراتب تک پہنچنے کیلئے اماہ کرنے کی خاطر انجام دیا جاتا ہے اس طرح کے اعتکاف کی جعفر صادق نے بھی اجازت دی لیکن اس اعتکاف اور گروہی صورت میں گوشہ نشینی میں امتیاز رکھا ہے مسلمانوں کے ایک گروہ کی طرف سے دنیاوی فائض سے بچنے کی خاطر گوشہ نشینی اختیار کرنا جعفر صادق کے نزدیک قابل عزت نہ تھا کیونکہ جب مسلمان دنیا سے ہاتھ کھینچ لیں گے ایک دوسرے کی تقلید میں کام کاج سے اجتناب برتنے لگیں گے اور اپنی معاشی ضروریات دوسروں کی وساطت سے پوری کرنے لگیں گے تو اسلامی معاشرہ ضعیف اور مفلس ہو جائے گا اس طرح وہ دوسری قوتوں کے زیر نگین ہو جائیں گے ۔

جس اعتکاف کو جعفر صادق نے قابل تحسین قرار دیا وہ اعتکاف پیغمبر اسلام کے غار حرا میں اعتکاف کی مانند تھا ‘ کیونکہ یہ اعتکاف پاکیزگی روح اور عالی مدارج کے حصول کیلئے تھا اس کے ساتھ ساتھ پیغمبر اسلام نے اپنا کام کاج بھی نہیں چھوڑا وہ گوشہ تنہائی میں نہیں بیٹھے اور نہ ہی اپنی معاشی ذمہ داریاں دوسروں کے سپرد کیں ۔ آپ کام کرتے اور صرف ان دنوں میں جن میں ہم آج کی مناسبت سے رخصت کے دن کہہ سکتے ہیں غار حرا میں گزارتے تھے وہاں پر وہ اپنے آپ میں گم ہو جاتے اور کوشش کرتے کہ اپنے آ کو روحانی لحاظ سے مزید بہتر بنائیں اور اپنے اندر نئی نئی نیک خصوصیات پیدا کریں لیکن بعض اسلامی فرقوں نے تنہائی اور دنیا سے ہاتھ دھونے کو اپنا پیشہ بنا لیا‘ جب ان سے کہا جاتا کہ گوشہ نشینی کیوں اختیار کر رہے ہو اور زندگی کے جہاد میں ہمارے ہم قدم بن کر کیوں نہیں چلتے ۔ اس کے جواب میں وہ کہتے تھے کہ پیغمبر اسلام نے بھی گوشہ نشینی اختیار کی تھی ۔ اگر اعتکاف انہیں پسند نہ تھا تو خود غار حرا میں کیوں معتکف ہوتے تھے ؟ یہ لوگ اس بات سے غافل تھیکہ پیغمبر اسلام کے غار حرا میں اعتکاف اور ان بعض اسلامی فرقوں کے اعتکاف میں برا فرق تھا ۔

تیسری صدی ہجری کے پہلے پچاس سالوں کے دوران جب ابن راوندی بغداد میں تھا تقریبا نوے اسلامی فرقے پائے جاتے تھے جن کی اکثریت گوشہ نشینی اور ترک دنیا کو بہت بڑی عبادت خیال کرتی تھی ان کا گمان تھا کہ انسان کو تمام عمر دنیا سے ہاتھ دھو کر کونے میں بیٹھ جانا چاہیے صاف ظاہر ہے اس صورت میں ان کی معاشی ضرویات امیر لوگ پوریکرتے تھے چونکہ یہ امیر لوگ ان میں سے ہر ایک کو فراد فراد ا مالی امداد نہیں پہنچا سکتے تھیلہذا ایسے اداروں کا قیام عمل میں آیا جو خانقاہوں سے مشابہ تھے اور ان اداروں میں سے ہر ایک اس ماہانہ رقم سے چلتا تھا جو اس کے زمانے کے حاکم یا امیر لوگ اس ادارے کو دیتے تھے جبکہ بعض عیسائی خانقاہوں کے رہائشی کھیتی باڑی کا کام بھی کرتے ہیں ۔

یہ ادارے جن میں لوگ زندگی بسر کرتے تھے انہیں اس مقام کی مناسبت سے بیت ‘ خانہ ‘ سرایا ‘ کیہ کہا جاتا تھا کبھی بھی یہ دیکھنے میں نہیں آیا کہ ان اداروں کے مکینوں نے کوئی پیدواری کام کیا ہو حتی کہ انہیں انگور کی بیل کاشت کرتے ہوئے بھی نہیں دیکھا گیا ان اداروں کے بعض مکین زاہد تھے وہ چاہتے تھے کہ زندگی کے ہنگاموں سے دور رہ کر عبادت کی جائے لیکن ان میں زیادہ تعداد بد قماش لوگوں کی تھی کیونکہ ان اداروں میں رہائش اختیار کرنے کیلئے اتنا کہنا کافی ہوتا تھا کہ میں نے دنیا سے ہاتھ دھو لئے ہیں اور گوشہ نشینی اختیار کر لی ہے اس طرح ہر کوئی ان اداروں میں رہ کر اپنی معاشی ضروریات یہاں سے پوری کر سکتا تھا ۔ ان اداروں کے اکثر مکین عام خواندہ لو تھے اور یہ بات بعید نہیں کہ انہی کی وساطت سے ان اداروں میں تالیاں ‘گھنٹیاں اور دوسرے آلات موسیقی بجانے کی راہ ہموار ہوئی ہو ان گھروں کے بعض مکین اپنے مذہبی رسومات کے دوران تالیاں گھنٹیاں اور مسچ (تھالی نما آلہ موسیقی ) بجاتے تھے گھنٹایں بجانے کی رسم یقینا انہوں نے مارونی گرجوں سے لی ہے مارونی عیسائی فرقوں میں سے ایک ہے مارونی عیسائیوں کے گرجے ما سوائے لبنان کے کہیں اور موجود نہیں ہیں اس فرقے کے پیروکار پہلے آرتھوڈکس تھے اس کے بعد روم کے کلیسا سے وابستہ ہو کر کیتھولک قرار پائے لیکن رومی کلیسائی لاطینی زبان ان کے درمیان رائج نہیں بلکہ آرامی زبان ان کی مذہبی زبان کہلاتی ہے جو حضرت عیسی کے زمانے میں مشرق قریب کی بین الاقوامی زبان کا درجہ رکھتی تھی ا کے باوجود کہ مارونیوں کی زبان آرامی ہے انہیں اس زبان پر کاملا عبور نہیں اور ان کی تمام مذہبی کتب عربی میں لکھی جاتی ہیں چونکہ ان کا رسم الخط عربی ہے لہذا دائیں سے بائیں طرف پڑھا اور لکھا جاتا ہے یہ لوگ مذہبی رسومات کے دوران گرجے میں تالیاں موسیقی کے الات اور گھنٹیاں بجاتے ہیں مارونی عیسائیوں نے یہ صرف عبی رسم الخط مسلمانوں سے نقل کیا ہے بلکہ وضو کا طریقہ بھی مسلمانوں سے سیکھا ہے اور مارونی عیسائیوں کے پادری حضرات مذہبی رسومات کا آغاز کرنے سے پہلے وضو کرتے ہیں جب کہ کسی بھی عیسائی فرقے میں مذہبی رسومات سے قبل وضو کرنا رائج نہیں ابن راوندی نے جتنے بھی متنازعہ مطالب اپنی کتاب الفرند میں لکھے ہیں مثلا تصوف اختیار کرنے والے فرقوں کی مخالفت وغیرہ ان میں سے کوئی بھی اس کے دشمن پیدا کرنے کا باعث نہیں تھا ۔

یہاں پر اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ تیسری صدی ہجری کے اوائل میں تمام اسلامی فرقے جو گوشہ نشینی کی ترغیب دیتے تھے اہل تصوف نہ تھے ہم نے ان کا یکجا نام لیتے ہوئے انہیں اہل تصوف کہا ہے یہاں پر ہمارا ارادہ نہیں کہ ہم تصوف کی ماہیت پر غور و فکر کریں اور کہیں کہ کیا تصوف کے مقاصد سے ایک گوشہ نشینی اور ترک دینا بھی ہے یا نہیں ؟

اہل تصوف سے وہ لوگ مراد لئے ہیں جنہوں نے ترک دینا اور گوشہ نشینی اختیار کر لی تھی خواہ ان کے افکار صوفیانہ تھے یا نہ تھے ؟

جیسا کہ ہمنے مشاہدہ کیا ابن راوندی کے توحید و نبوت سے انکار نے خلیفہ کو اس کا دشمن بنا دیا تھا اور اس اصفہانی مصنف نے محض قتل ہونے سے بچنے کیلئے مجبورا اپنی کتاب کے کچھ حصوں میں تبدیلی پیدا کی لیکن عام لوگ توحید و نبوت کے انکار کی بنا پر ابن راوندی کے مخالف نہیں ہوئے اگرچہ اسے کافر سمجھتے تھے مگر اس کے ساتھ خصوصی عداوت نہیں رکھتے تھے جب کہ تصوف کے فرقوں کی مخالفت نے ان فرقوں کی اکثریت کو ابن راوندی کا خونی دشمن بنا دیا تھا کیونکہ ابن راوندی ان کے ذریعہ معاش کو ختم کرنا چاہتا تھا اس نے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ ان فرقوں کے پیروکار بیکار اور تن پرور لوگ ہیں جو کسانوں کی مانند کھیتی باڑی کرنے مزدوروں کی طرح صنعتیکام کرنے اور اس طرح کے دوسرے مشقت طلب کام انجام دینے سے گریزاں ہیں یا علماء کی مانند علم حاصل کرنے اور لوگوں کو اس عالم سے فیضیاب کرنے سے گریز کرنے والے اور مفت خورے ہیں ۔

اس نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ان تمام گھروں کو جن میں ان فرقوں کے لوگ مقیم ہیں خالی کر دینا چاہیے وہ اثاثہ جو ان گھروں کیلئے مختص ہے بیت المال میں منتقل کرکے اس سے تمام مسلمانوں کوفائدہ اٹھانے کا موقع دینا چاہیے ۔

ابن راوندی نے جو کچھ اپنی کتاب میں تصوف کے ان فرقوں کے بارے میں لکھا اس میں ان فرقوں کے پیروکاروں کی بھوک سے مرنے کی مذمت کی گئی تھی تصوف کے ان گھروں میں رہائش پذیر لوگوں کی اکثریت چونکہ ساری عمر یہاں بسر کر چکی تھی لہذا اگر انہیں یہاں سے نکال دیا جاتا تو زندہ رہنے کیلئے بھیک مانگنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ کار نہ تھا ان گھروں میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جو معمر اور متقی ہونے کی بناء پر مسلمانوں میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے فرض کیا ان لوگوں کو ان گھروں سے نکال باہر کیا جاتا اور اس سے منسلک اوقاف کو بیت المال میں منتقل کر دیا جاتا تو بھی لوگ ان افراد کو بے گھر اور بھوکا نہ چھوڑتے ۔

البتہ ان میں سے وہ لوگ جو عالم تھے نہ زاہد لوگ انہیں در خور اعتنا نہیں سمجھتے تھے جبانہوں نے اپنی روزی کو خطرے میں پڑتے دیکھا تو ابن راوندی کو نہ صرف کافر بلکہ مفسد فی الارض کا لقب دیا گیا گویا ابن راوندی پہلا شخص ہے جو مسلمانوں میں اس لقب سے نوازا گیا ۔

تصوف کے ان گھروں میں ایسے پیر بھی تھے جن کے کڑ مرید تھے ان مریدوں نے ابن راوندی کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا جب اس نے اپنی جان خطرے میں دیکھی تو عباس صروم کے ہاں پناہ لے لیجیسا کہ ہم نے ذکر کیا عباس صروم نے جونہی ابن راوندی کی کتاب دیکھی تو ایک کافر سے دوستی کے الزام سے بچنے کی خاطر اسے اپنے گھر سے باہر نکال دیا لیکن جب ابن راوندی اپنی کتاب کی اصلاح کر چکا تو عباس صروم کے اس سے گریز کرنے کا سبب ختم ہو گیا اور چونکہ خلیفہ نے ابن راوندی کو معقول انعام اور معاوضہ عطا کر دیا تھا لہذا عباس صروم کو اسے اپنے گھر میں رکھنے میں کوئی قباحت نہ تھی ابن راوندی عباس صروم کے گھر میں چند دن مقیم رہا جو لوگ اسے قتل کرنا چاہتے تھے جب انہیں پتہ چلا کہ وہ عباس صروم کے گھر میں قیام پذیر ہے تو انہوں نے عباس صروم کو جو اس وقت خلیفہ کے دربار سے واپس گھر آ رہا تھا راستے میں روک کر کہا تم نے ایک کافر ‘ مفسد فی الارض اور واجب القتل شخص کو اپنے گھر میں ٹھہرایا ہوا ہے اور اسے پناہ دی ہے اگر تم اسے گھر سے نہیں نکالو گے تو ہم تمہارے گھر پر دھاوا بول دیں گے عباس صروم بولا ‘ مجھے کل تک کی مہلت دو ۔

جو لوگ ابن راوندی کو قتل کرنا چاہتے تھے کہنے لگے کیوں ابھی اسے گھر سے نہیں نکالتے ؟ عباس صروم نے کہا ‘ اس لئے کہ وہ میرا مہمان ہے اور ابھی دوپہر کے کھانے کا وقت ہے کیا اگر آپ کے کسی مہمان کے سامنے کھانے چنے ہوئیہوں تو اسے دستر خوان سے اٹھا سکتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ نہیں البتہ یہ شخص کافر ‘ مرتد اور واجب القتل ہے لہذا تم ہر گز اسے مہمان تصور نہ کرو اسے ابھی گھر سے نکالو تاکہ ہم اسے تمہارے گھر کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں ۔

جب عباس صروم نے دیکھا کہ وہ سب ابن راوندی کو قتل کرنے پر تلے ہوئے ہیں ان سب کے پاس خنجر اور تلواریں ہیں اس نے ان کا غصہ فرو کرنے کیلئے کہا کہ میرا مہمان ہونے کے علاوہ یہ شخص خلیفہ کا منظور نظر بھی ہے اور اس سے انعام بھی حاصل کر چکا ہے اس کے قتل کے بعد خلیفہ تمہیں سزا دے گا انہوں نے کہا ہم ہر طرح کی سزا کیلئے تیار ہیں ہم نے ارادہ کر لیا ہے کہ اس کافر کو قتل کرکے رہیں گے اگرچہ اس کے بعد خلیفہ ہمارے سر تن سے جدا کر دے ۔

جب عباس صروم نے محسوس کیا کہ وہ خلیفہ کے غضب سے بھی نہیں ڈرتے تو اس نے ان سے کہاکہ براہ مہربانی مجھے کل تک مہلت دیں میں کل اسے اپنے گھر سے نکال دوں گا عباس صروم سے پوچھا گیا کہ کل کس وقت اسے گھر سے نکالے گا ؟ بولا جونہی سورج طلوع ہو گا میں اسے اپنے گھر سے نکل جانے کیلئے کہوں گا انہوں نیپوچھا اگر وہ تمہارے گھر سے نہ نکلنا چاہے تو تم کیا کرو گے ؟

عباس صرومنے کہا میں ملازموں سے کہوں گا کہ اسے زبردستی نکال دیں انہوں نے کہا ہم کل سورج طلوع ہونے کے ساتھ ہی یہاں حاضر ہو جائیں امید ہے تو اپنا وعدہ وفا کرے گا عباس صروم کا ارادہ تھا کہ عصر کے وقت جا کر خلیفہ سے ابن راوندی کی حمایت کیلئے درخواست کرے لیکن عصر کے وقت اسے خلیفہ سے ملنے کا موقع نہ مل سکا جب کہ دوسری صبح اس نے خلیفہ سے دیر سے ملاقات کرنا تھی وہ چاہتا تھا کہ وہ لوگ جو ابھی ابن راوندی کے گھر سے باہر نکلنے کے منتظر ہوں گے تاکہ درندوں کی مانند اپنے شکار پر تلواروں اور خنجروں سے ٹوٹ پڑیں اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں ممکن ہے کہعباس صروم جو خلیفہ کا درباری تھا گھر کی حفاظت کیلئے اپنے گھر کے باہر پہرہ دار مقرر کر سکتا تھا لیکن اس نے ایسا س لئے بھی نہیں کیا کہ وہ جان چکا تھا کہ لوگ ابن راوندی کی موجودگی سے با خبر ہیں لہذا وہ یہ ظاہر نہیں کر نا چاہتا تھا کہ لوگ اسے اس کا کٹر حامی سمجھیں چونکہ عام لوگ ابن راوندی سے سخت متنفر تھے اور اسے مرتد کافر سے بھی برا خیال کرتے تھے کیونکہ وہ تصوف کے فرقہ والوں کو رزق سے محروم کر دینا چاہتا تھا اب اگر عباس صروم واقعی اس کی حمایت کرتا تو نہ صرف اس سے متنفر ہوتے بلکہ قریب تھا اسے قتل بھی کر دیتے عباس صروم کا آبائی شہر بھی دارالحکومت تھا اسے علم تھا کہ اس نے ساری زندگی اسی شہر میں بسر کرنا تھی چونکہ وہ خلیفہ کا درباری تھا لہذا وہ کہیں اور سکونت اختیار کرنے سے معذور تھا ۔

لیکن ابن راوندی ایک اصفہانی شخص تھا جس دن وہ بغداد سے روانہ ہوا تو عباس نے اس لئے سنجیدگی سے اس کی حمایت نہیں کی اگر وہ ایسا کرتا تو شہر کے لوگ اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جاتے جب عباس صروم نے ابن راوندی کے دشمنوں سے ایک رات کی مہلت مانگی تو اس نے سوچا کہ ابن راوندی کو اس رات ایک خادم کی رہنمائی میں شہر سے باہر ایک باغ میں بھیج دے گا لیکن پھر اس نے یہ ارادہ ترک کر لیا چونکہ جو لوگ ابن راوندی کو قتل کرنا چاہتے تھ آخر کار انہیں پتہ چل ہی جاتا کہ عباس صروم نے ابن راوندی کو اپنے باغ میں پناہ دی تھی اس طرح وہ خود اس کے بھی جانی دشمن بن جاتے اس صورت میں وہ اسے قتل یا زخمی کر دیتے ۔

عربی مہمان نوازی کا یہ خاصہ تھا کہ جب عباس صروم نے ابن راوندی کو پناہ دی تھی تو اس کی حمایت کرے اور اسے دشمنوں کے سپرد نہ کرے لیکن جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے عباس صروم ہر گز لوگوں سے دشمنی مول لینا نہیں چاہتا تھا اسے علم تھا کہ اگر وہ سنجیدگی سے ابن راوندی کی مدد کرے گا تو لوگوں کی دشمنی کا موجب ہو گا یہی وجہ تھی کہ اس نے ابن راوندی کو راتوں رات گھر سے نکال دینے کا فیصلہ کیا جب رات کا کھانا کھا چکے تو عباس صروم نے ابن راوندی سے کہا اے ابوالحسن جیسا کہ تمہیں معلوم ہے کہ مجھ سے جہاں تک ہو سکا میں نے اپنے گھر میں گمہاری حفاظت کی ہے اس کے بعد میں تمہارے دشمنوں کے خطرے سے تمہیں نہیں بچا سکوں گا ۔

اگر آج رات تمہارے دشمن تمہیں قتل کرنے کیلئے حملہ نہ کریں تو صبح طلوع آفتا ب کے وقت ضرور حملہ کرکے تمہیں قتل کر دیں گے میں اس سلسلے میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا اگر میں نے مزاحمت کی تو مجھے بھی قتل کر ڈالیں گے ۔

اگر میرے قتل سے تمہاری جان بچ سکے تو میں حاضر ہوں تاکہ تم دشمنوں کے چنگل سے نجات پاؤ لیکن مجھے علم ہے کہ میرے قتل پر ان کی پیاس نہیں بجھے گی بلکہ انکی پیاس تمہارے ہی قتل سے بجھے گی اب تمہاری نجات اسی میں ہے کہ تم اس شہر سے بھاگ جاؤ بصور ت دیگر تمہارا قتل یقینی ہے دیکھو ابھی اٹھو اور اپنی راہ لو جب تم شہر کے مشرق میں واقع صیدلہ گاؤں میں پہنچو گے تو وہاں سے ایک کاروان "رے " کی طرف جاتا ہے اس کاروان میں شامل ہو جانا اگر کل وہ کارون عازم سفر نہ ہوا تو پرسوں تک وہیں انتظار کر لینا ۔

اس زمانے میں عباسی خلیفہ کے دارالحکومت میں مشرق کی جانب سفر کرنے والا ہر کاروان رے کے نام سے پکارا جاتا تھا اگرچہ اس کاروان کی آخری منزل خراسان تھی یہ رے سے گزرتا تھا عباس صروم کو پہلے ہی علم تھا کہ ابن راوندی ضرور اسے کہے گاکہ خلیفہ سے مدد کی درخواست کیوں نہیں کرتے بالکل ایسا ہی ہوا کتاب الفرند کے مصنف نے یہی سوال پوچھا جس کے جواب میں عباس صروم نے کہا تمہارے خلاف خلیفہ کے کان بھرے ہوئے ہیں کیونکہ تم نے صوفی فرقوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے متعلقہ تمام گھروں کو خالی کروانا چاہیے اور اوقاف کا سرمایہ وغیرہ گھروں سے بیت المال میں منتقل کر دینا اور اگر تمہیں علم نہیں تھا تو اب جان لو کہ یہ صوفی فرقے خلیفہ کے منظور نظر ہیں ان میں سے بعض فرقوں کے پیروکاروں کیلئے وہ خود تمہارے قتل کا حکم صادر کریگا ۔

ابن راوندی نے کہاجس وقت خلیفہ نے میری کتاب ملاحظہ کی تھی صوفی فرقوں کے بارے میں میری تحریر پر کوئی قد غن نہیں لگائی تھی اور تمہارے بقول اگر وہ صوفی فرقوں کا طرف دار ہے تو اس نے مجھے اپنی تحریر میں تبدیلی کرنے کیلئے کیوں نہیں کہا ؟

عباس صروم بولا تمہارا کیا خیال ہے کہ خلیفہ نے تمہارے ساری کتاب پڑھی ہے ؟ کیا جب خلیفہ کو کتاب دی جاتیہے تو وہ ساری کتاب پڑھتا ہے وہ ایک ایسا انسان ہے جو مشرقین و مغربین کا نظام چلاتا ہے پس ایسا شخص کیسے ایک کتاب کا ایک ایک صفحہ پڑھ سکتا ہے ؟

عباس صروم نے متوکل کی شرابی نوشی کے بارے میں کچھ نہ کہا ‘ کیوں کہ ایک ایسا شخص جو رات کو شراب پئے وہ کسی طرح صبح شاب کے نشے میں دھت ‘ کتاب پڑھ سکتا ہے اور اس کی ہر ایک بحث پر اظہار خیال کر سکتا ہے متوکل صرف اس وقت کتاب پڑھتا تھا جب وہ کم نشے کی حالت میں ہوتا کیونکہ زیادہ نشہ کتاب پڑھنے میں رکاوٹ بنتا ہے متوکل کی شراب نوشی سے کوئی بھی ایسا با خبر انسان نہ تھا جسے خلیفہ کی شراب خوری کا علم نہ ہوتا لیکن عباس صروم نہیں چاہتا تھا کہ اس موضوع کو ابن راوندی اس کی زبان سے سنے لیکن ایسا نہ ہو کہ وہ ایک دن کہے کہ عباس صروم نے خلیفہ پر شراب نوشی کی تہمت لگائی ہے ۔

اسیلئے اس نے اسلامی ممالک کے امور کے انتظام و انصرام کا مسئلہ پیش کیا اور کہا کہ وہ شخل جو اتنا مصروف ہو کسی کتاب کو صفحہ بہ صفحہ کیسے پڑھ سکتا ہے ؟ اس کے بعد کہنے لگا اگر فرض کیا خلیفہ نے صوفی فرقوں سے متعلق تمہاری کتاب کا اقتباس پڑھ بھی لیا ہے اور اس پر کوئی قد غن نہیں لگائی تو اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ خلیفہ تم پر غضب ناک نہیں ہوا کیونکہ جس وقت تم نے کتاب خلیفہ کے سپرد کی تھی یہاں پر کوئی تمہاری کتاب کے مواد سے مطلع نہ تھا لیکن جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ تم نے صوفی فرقوں کے بارے میں کیسا مواد لکھا ہے تو لوگ مشتعل ہوگئے جو خود بھی صوفی فرقوں کو پسند کرتا ہے ہر گز ان کے مقابلے میں تمہارے حمایت نہیں کرے گا ۔

ابن راوندی نے پوچھا ایک مرتبہ پہلے بھی تم مجھے اپنے گھر سے نکال باہر کر چکے ہو کیا دوبارہ یہی چاہتے ہو اور اس طرح تم مجھے میرے دشمنوں کے حوالے کرنا چاہتے ہو ؟

عباس صروم نے کہا اگر میں تمہیں تمہارے دشمنوں کے حوالے کرنا چاہتا تو تمہیں کہتا کہ یہیں رہو اور جب صبح تمہارے دشمن آتے تو دروازہ کھول دیتا تاکہ وہ تجھے قتل کر ڈالیں ۔

یا یہ کہ نوکروں سے کہتا کہ تجھے زبردستی گھر سے نکال کر تمہارے دشمنوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں وہ آج بھی تمہیں قتل کرنے کیلئے حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن میں نے ان سے کل تک کی مہلت طلب کی ہے یہ مہلت صرف تمہاری نجات کی خاطر مانگی ہے ۔

تمہاری نجات اس میں ہے کہ تم آج رات اس شہر سے باہر نکل جاؤ کل جب تمہارے دشمن آئیں گے تو میں ان سے یہ نہیں کہوں گا کہ تم فلاں طرف گئے ہو ۔

کل صبح تم صیدلہ پہنچ جاؤں گے جونہی وہں پہنچو رے کے قافلے کے ہمراہ وہاں سے چل پڑنا اور اگر قافلہ اس دن نہ جائے تو ایک دن وہیں ٹھہر کر دوسرے دن عازم سفر ہو جانا دیکھو اگر تم صیدلہ میں ایک دن قیام کرو تو اپنا نام کسی پر آشکارا نہ کرنا بلکہ کوئی دوسرا فرضی نام رکھ لینا غور سے سنو اگر وہاں بھی تم پر شک گزرا تو تمہاری خیر نہیں ۔

عباس صروم نے الفرند کے مصنف کو اس قدر تاکید کی کہ وہ اسی رات شہر سے باہر نکلنے پر آمادہ ہو گیا ابن راوندی کو امید تھی کہ عباس اسے شہر سے نکلنے کیلئے اپنا سواری کا جانور دے دے گا لیکن عباس صروم نے صاف انکار کر تے ہوئے کہا اس کے پاس کوئی جانور نہیں اور نہ وہ رات کو کسی دوسرے سے لے کر دے سکتا ہے البتہ وہ شہر سے نکلنے کے بعد دیہاتیوں کے جانور مل جائیں تو انہیں معمولی سا کرایہ دے کر ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔

ابن راوندی نے اپنے ضروری سامان میں سے جس قدر وہ اٹھا سکتا تھا اٹھایا اور شہر سے باہر نکل گیا اور جب کچھ فاصلہ طے کر چکا تو تھکاوٹ محسوس کرنے لگا حالانکہ اس کا سامان اتنا بھاری نہ تھاکیونکہ دارالحکومت میں زندگی بسر کرنے اور خلیفہ کا انعام یافتہ ہونے کی بنا پر وہ سہل پسند ہو گیا تھا ابن راوندی ان مشرقی علماء سے تھا جو کھیتی باڑی بھی کرتے اور علم بھی حاصل کرتے تھے پھر جب وہ عالم بن جاتے تو دوسروں کو پڑھاتے یہ علماء ء پیدل چلنے سے نہیں گھبراتے تھے اور تمام دن کھیتوں میں کام کرتے لیکن ذرا بھی نہیں تھکتے تھے لیکن جب کچھ عرصے کیلئے سخت کام کو ترک کر دیتے خاص طور پر اس وقت جب ان کی مالی حالت بہتر ہو جاتی تو وہ اچھا کھانا کھانے اور زیادہ تر آرام کرتے اس لئے وہ آرام طلب ہو جاتے تھے ۔

اس طرح ابن راوندی جب کچھ دیر پیدل سفر کر چکا تو اس کیلئے مزید چلنا دوبھر ہو گیا وہ اس امید پر راستے کنارے بیٹھ گیا کہ کوئی گدھا گاڑی آئے اور اس کے ذریعے بقیہ فاصلہ طے کرکے صیدلہ پہنچ جائے ۔

جب وہ شہر سے خارج ہوا تو آدھی رات کا وقت تھا ابھی اس نے تھوڑا سفر طے کیا تھا کہ اس پر غنودگی طاری ہونے لگی اس نے اپنا سامان سر کے نیچے رکھا اور پاؤں پھیلاکر سو گیا تھکاوٹ کی وجہ سے اس پر ایسی نیند غالب آئی کہ وہ ان جانوروں کی گھنٹی کی آواز بھی نہ سن سکا جو پھل اور سبزیاں لے کر اس راستے سے دارالحکومت جاتے تھے بغداد کے مشرق میں واقع دیہاتوں کودجلہ سے نکالی گئی دو نہریں سیراب کرتی ہیں ان دیہاتوں کی سبزی اور پھل کافی حد تک بغداد کی ضرورت پوری کرتے ہیں ۔

سورج کی تمازت نے ابن راوندی کو جگا دیا اسے اپنے آپ پر غصہ آنے لگا کہ اس قدر کیوں سویا ہے اسے تو اس وقت صیدلہ میں ہونا چاہیے تھا آخر اپنے آپ کو کوستا ہوا اٹھا سامنا اپنیکندھے پر لادا اور مشرق کی طرف جہاں اس کے خیال کے مطابق صیدلہ واقع تھا چل پڑا سورج کا فی بلندی پر آ گیا تھا لو چل رہی تھی ابن راوندی جو رات کی تھکاوٹ سے نالاں تھا اب سورج کی تمازت سے شاکی تھا لیکن اب پیدل چلنے کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا وہ پسینے میں شرابور چلتا رہا یہاں تک کہ پیچھے جانوروں کی گھنٹیوں کی آواز سنائی دی جس پر وہ رک گیا اس نے دیکھا کہ کچھ دیہاتی گدھوں پر سوار انہیں ہانکتے چلے آ رہے تھے ان میں سے ہر کوئی ایک گدھے پر سوار تھا جونہی انہوں نے ابن راوندی کو دیکھا حیرانگی سے ایک دوسرے کا منہتکنے لگے اس اصفہانی شخص نیکہا آپ لوگ کہاں جا رہے ہیں ابن راوندی نے سوچا کہ شہر کے مضافاتی بستیوں کے مقیم ہوں گے جو شاید شحر چلے گئے تھے اور اب واپس گاؤں آ رہے ہیں ان میں سے ایک بولا ہم صیدلہ کے باسی ہیں اور وہیں جا رہے ہیں ابن راوندی نے کہا اپنا ایک گدھا مجھے کرایہ پر دو میں اس کے بدلے آپ کو کرایہ کے علاوہ دعائے خیر بھی دوں گا دیہاتیوں نے ایک دوسرے سے نظریں ملائیں پھر وہ جس نے کہا تھا کہ ہم صیدلہ کے رہنے والے ہیں اس کی وضع قطع سے اندازہ ہوتا تھا کہ اسے دوسروں پر برتری حاصل ہے اور دوسرے اس کے تابع ہیں وہ گدھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا سوار ہو جاؤ ایک دوسرے دیہاتی سوار نے سوار ہونے اور گدھے پر سامان لادنے میں ابن راوندی کی مدد کی پھر یہ لو گ چل پڑے ابن راوندی خوش تھا کہ اسے سواری میسر آ گئی ہے اور وہ آسانی سے صیدلہ پہنچ جائے گا ۔

راستے میں کافی نشیب و فرار تھے کبھی اوپر چڑھنا ہوتا تو کبھی نیچے اترنا پڑتا راستے میں جونہی چڑھائی آئی تو دیہاتوں میں سے ایک پیچھے مڑ کر دیکھتے ہوئے بولا کچھ سوار اس طرف آ رہے ہیں دیہاتیوں کا سردار اپنا گدھا ابن راوندی کے نزدیک لایا اور ابن راوندی کی سرخ دستار اتار کر ایک تھیلے میں چھپا دی اور اپنی دیہاتی ٹوپی اس کے سر پر رکھ دی ابن راوندی اس کام سے متحیر ہو کر پوچھنے لگا تم نے میرے سر سے میری ٹوپی اتار کر عربی ٹوپی میرے سر پر کیوں رکھ دی ہے ؟ دیہاتی نے جوابا کہا خاموش رہو اور اگر کسی نے کوئی بات پوچھی تو تم نہ بولنا بلکہ میں اسے جواب دوں گا جب سوار نزدیک آئے تو پتہ چلا کہ فوجی نہیں ہیں وہ دیہاتی جو دوسروں سے بلند مرتبہ نظر آ رہا تھا کہنے لگا تمہاری قسمت تمہارا ساتھ دے رہی ہے ابن راوندی بولا وہ کیسے ؟ دیہاتی نے کہا یہ لوگ خلیفہ کے سپاہی نہیں ہیں لہذا نہ تو تجھے یہاں گرفتار کر سکتے ہیں اور نہ ہی قتل کر سکتے ہیں ۔

اصفہانی بولا آخر مجھے کیوں گرفتار یا قتل کریں ؟ دیہاتی کہنے لگا اپنے آ پ کو فریب نہ دو کیا تم وہی اصفہانی نہیں ہو سارا شہر جس کی تلاش میں سر گرداں ہے وہ لوگ تجھے قتل کرنا چاہتے ہیں جب ہم شہر سے آ رہے تھے تو دیکھا کہ سب تمہارے بارے میں محو گفتگو تھے ۔

اس وقت تک ابن راوندی کو گمان نہ تھا کہ دیہاتیوں نے اسے پہچان لیا ہے دیہاتی نے کہا اگر تم زبان نہیں کھول گے تو تمہارے لئے کوئی خطرہ نہیں سوار نزدیک آتے گئے خوف کے مارے ابن راوندی پر کپکپی طاری تھی ۔

دیہاتی نے محسوس کیا کہ ابن راوندی گھبرا رہا ہے تو اس نے کہا چونکہ یہ خلیفہ کے سپاہی نہیں لہذا گھبرانے کیکوئی ضرورت نہیں یہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔

ابن راوندی کانپتے ہوئے بولا مجھے یہاں نقصان نہ پہنچ سکنے کی کیا وجہ ہے ؟

دیہاتی بولا ‘ اس لئے کہ یہ خلیفہ کے سپاہی نہیں اور خلیفہ کے سپاہیوں کے علاوہ کوئی شخص کسی کو شاہراہ عام پر نقصان نہیں پہنچا سکتا اور نہ ہی حملہ کر سکتا ہے اگر ایسا کرے گا تو اس کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے گا اور وہ شاہراہ عام سے باہر لیجا کر بھی ایسا کریگا تو بھی اسے یہی سزا ملے گی ابن راوندی نے کہا میں نے سنا تھا کہ راہزنوں کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹتے ہیں لیکن یہ تو راہزن نہیں ہیں ۔

دیہاتی بولا جو کوئی بھی ہوں چونکہ سرقہ بالجبر کے ملزم ہوں گے لہذا ان پر یہی الزام لگا کر انہیں سزا دی جائے گی اس کی شہادت کیلئے اس کی گواہی کافی ہے جس پر حملہ ہوا ہو بس وہ اتنا کہہ دے کہ یہ لوگ میرے سفر کے مال و متاع کو زبردستی چھیننا چاہتے تھے اگر حملہ آور سو آدمی بھی ہوں تو بھی انہیں دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹنے کی سزا ضرور ملے گی ۔

سوار مزید نزدیک ا گئے ابن راوندی نے دیکھا کہ وہ پانچ آدمی ہیں جس وقت وہ دیہاتیوں کے قریب پہنچے تو ان میں سے ایک نے پوچھا کہ اتم نے سرخ ٹوپی پہنیکسی سوار یا پیدل شخص کو نہیں دیکھا ابلیس ک کفر جس کے چہرے سے آشکارا ہو دیہاتی ہنستے ہوئے بولا ہم نے سرخ دستار دیکھی نہ کفر ابلیس سوار جو رک گئے تھے اپس میں باتیں کرنے لگے ان میں سے ایک بولا وہ کل رات اس شہر سے باہر نکلا ہو گا اس لئے ضرور اب تک صیدلہ پہنچ گیا ہو گا دوسرا بولا ہمیں صیدلہ جانا چاہیے تاکہ وہاں پہنچ کر اسے جہنم رسید کریں اگر اس کافر کو یہاں پاتے تو بھی اسے قتل نہ کر سکتے تھے ۔

سواروں میں سے ایک بولا اگر وہ صیدلہ سے چلا گیا ہو تو پھر کیا کریں گے ؟

دوسرے نے اپنا خیال ظاہر کرتے ہوے کہا صیدلہ پہنچ جانے کے بعد تفتیش کریں گے آیا وہاں ہے یا نہیں ؟ اور اگر وہاں سے کوچ کر گیا ہو تو اس کا پیچھا کریں گے اور آخر کار اسے کسی نہ کسی جگہ جا لیں گے کیونکہ ضرور ہو کھانے پینے اور سونے کیلئے کسی دیہات میں رکا ہو گا ۔

اس گفتگو کے بعد سوار تیزی سے اگے نکل گئے اور دیہاتی نے ابن راوندی سے مخاطب ہو کر کہاں میں یہ گمان نہیں کرتا کہ خلیفہ سے تمہاری عدوات ہو ؟

اصفہانی بولا‘ میرے کیا مجال ہے کہ میں خلیفہ سے جو مشرقین اور مغربین کا حاکم ہے دشمنی کروں دیہاتی کہنے لگا میں نے اس لئے کہا ہے کہ خلیفہ کے سپاہی تمہاری جستجو میں نہیں لگے ہوئے ہیں ۔

پھر کہنے لگا اے عجمی شخص یہ تم نے کونسا کام کیا ہے کہ تمام شہر تمہارے کون کا پیاسا ہے اور اج شہر میں تمہارے علاوہ کوئی دوسرا موضوع گفتگو بھی نہیں یوں لگتا ہے جیسے تم نے ہر شہری کے ماں باپ اور بچوں کو قتل کیا ہے جس کی وجہ سے یہ سب تمہارے خون کے پیاسے ہیں ابن راوندی نے جواب دیا خدا کی قسم میں نے کسی شہری کو تکلیف نہیں پہنچائی دیہاتی نے اظہار خیال کیا اگر ان لوگوں کو تو نے کوئی تکلیف نہیں پہنچائی تو یہ تیرے دشمن کیسے بن گئے ہیں ہم دیہاتیوں کا مقولہ ہے کہ کوئی دشمنی کسی وجہ کے بغیر نہیں ہوتی ابن راوندی نے کہا یہ قول ایک شخص کی دشمنی کے بارے میں ہے نہ کہ ایک گروہ پارٹی کی دشمنی کے متعلق ہے میرے ساتھ لوگوں کی دشمنی بے سبب ہے یہ محض اشتعال انگیزی ہے ۔

ابن راوندی نے کہا صاف ظاہر ہے کہ تم نہیں جانتے کہ جو سوار آ رہے ہیں وہ مجھے لے جائیں دیہاتی بولا آخر کیوں میں نہیں چاہتا کہ جو سوار آ رہے ہیں وہ تجھے نہ پہچانیں ؟

ابن راوندی نے کہا میں جانتا ہوں کہ تم مجھے قتل ہونے سے بچانا چاہتے ہو دیہاتی نے اپنا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کیا تمہارا خیال یہ ہے کہ اگر وہ تجھے قتل کرتے تو مجھے کوئی نقصان اٹھانا پڑتا ؟

ابن راوندی نے منفی جواب دیا دیہاتینے کہا میں نے یہ دستار اس لئے تمہارے سر سے نہیں اتاری کہ تم قتل ہونے سے بچ جاؤ گے بلکہ اس لئے اتاری ہے کہ یہ عربی ٹوپی تمہارے سر پر رکھی ہے کہ اس خدمت کے بدلے میں تجھ سے بدلہ یا پاداش حاصل کروں ابن راوندی نے پوچھا تم مجھ سے کیا پاداش لو گے ؟

دیہاتی نے جواب دیا کچھ نقد رقم لینا چاہتا تھا لیکن جب مجھے پتہ چلا کہ تم نے کتاب لکھی ہے اور مجھے علم ہوا کہ تم پڑھے لکھے بھی ہو اور چونکہ ہم پڑھے لکھے لوگوں کا احترام کرتے ہیں لہذا میں نے اپنا معاوضہ حاصل کرنے کا ارادہ ترک کر دیا تھا لیکن جب تم نے بتایا کہ اپنی کتاب میں صوفی فقوں سے معاندانہ رویہ اپنایاہے تو میرا خیال بدل گیا اب میں تم سے معاوضہ لینا چاہتا ہوں ابن راوندی بولا تم نے میری خدمت کی ہے میں تمہیں معاوضے کی ادائیگی کیلئے رضا مند ہوں دیہاتی کہنے لگا اگر تم صوفی فرقوں کے ساتھ معاندانہ رویہ اختیار نہ کرتے تو میں ہر گز تم سے معاوضہ نہ لیتا لیکن چونکہ تم نے ان فرقوں سے اظہار خصومت کیا ہے لہذا تم سے ضرور معاوضہ لوں گا ابن راوندی نے کہا میں اپنی بساط کے مطابق تمہیں معاوضہ دونگا ۔

دیہاتی نے کہا یہ گھڑ سوار گاؤں میں پہنچنے کے بعد تجھے تلاش کریں گے اور دیہاتیوں سے معلوم کرلینگے کہ انہوں نے تمہیں دیکھا ہے یا نہیں ؟

جب تم پہنچو گے تو لوگ تمہیں پہچان جائیں گے پھر اور ضرور تمہیں ان گھڑ سواروں کے حوالے کر دیں گے پھر تمہیں قتل کر دیں گے چونکہ ہمارے دیہات میں سبحانیہ فرقہ قابل احترام سمجھا جاتا ہے ابن راوندی کہنیلگا اگر تم اور تمہارے ساتھی میرا تعارف نہ کروائیں تو کوئی بھی مجھے نہیں پہچان سکے گا اور میں صیدلہ میں بھی قیام نہیں کرونگا بلکہ کارواں کے ہمراہ چل پڑوں گا ۔

دیہاتی شخص بولا ہم تمہاری نشاندہی نہیں کریں گے لیکن چونکہ ہمارے دیہات میں گھڑ سوار تمہاری تلاش میں ہیں لہذا لوگ تمہیں پہچان لیں گے ابن راوندی کہنے لگا کیا تم اپنے گھر میں مجھے پناہ نہیں دے سکتے تاکہ میں کل صبح صیدلہ کے کاروان کے ہمراہ چل پڑوں ۔

دیہاتی شخص بولا جو کاروان اج حرکت کر چکا ہے تم اس تک نہیں پہنچ سکے لہذا تم کل کے جس کی وجہ سے لوگ مشتعل ہو کر میرے پیچھے پڑ گئے ہیں اور مجھ پر حملہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ایک بے گناہ کو قتل کرنے کے بعد ایک دوسرے سے پوچھیں کہ اس کا قصور کیا تھا ؟

دیہاتی شخصجھاندیدہ تھا کہنے لگا لوگوں کی اشتعال انگیزی بھی کسی وجہ سے ہو گی تم نے ضروری کوئی ایسا قدم اٹھایا ہے جس سے شہری مشتعل ہوئے ہیں جب ابن راوندی جان گیا کہ دیہاتی شخص عقلمند ہے تو کہنے لگا میرا قصور یہ ہے کہ میں نے ایک کتاب لکھی ہے ۔

جب اس دیہاتی نے سنا کہ اس عجمی نے کتاب لکھی ہے تو اسے احترام کی نگاہوں سے دیکھنے لگا جب کہ کتاب لکھنا کسی کے پڑھے لکھے ہونے کی علامت ہوتیہے اور بین الغربین کے شمال اور جزیرہ کے لوگ پڑھے لکھے طبقے کا احترام کرتے تھے ۔

دیہاتی شخص بولا تم پڑھے لکھے انسان ہو اور کتاب بھی لکھ چکے ہو تو پھر لوگ تمہارے دشمن کیوں بن گئے ہیں ؟ابن راوندی نے جواب دیا شہر کے تمام لوگ میرے دشمن نہیں بلکہ ان میں سے ایک طبقہ میرا مخالف ہے ۔

دیہاتی شخص نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ ابن راوندی نے جواب دیا صرف تصوف کے فرقوں کے پیروکار میرے دشمن ہوئے دیہاتی کہنے لگا ان میں سے ایک فرقہ ہمارے گاؤں میں بھی ہے وہ لوگ اس قدر مہربان ہیں کہ کسی چیونٹی کو بھی ضرر نہیں پہنچاتے تم نے اپنی کتاب میں کیا لکھا ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ تیرے جانی دشمن بن گئے ہیں ؟

ابن راوندی نے اس دیہاتی کے فھم و ادارک کے لحاظ سے اپنی کتابی تحریر کی وضاحت کی دیہاتی بولا اب پتہ چلا کہ شہری لوگ تمہارے دشمن کیوں بن گئے ہیں کیونکہ تمام لوگ تصوف کے کسی فرقے کے پروکار ہیں اور ہم لوگ سبحانیہ فرقے کے پیروکار ہیں یہ ہمارے گاؤں کے علاوہ جزیرہ میں بھی خاصا مقبول ہے اور جب تم اپنی کتاب تصوف کے فرقوں کی نابودی کے بارے میں تحریر کر رہے تھے تو تمہیں پہلے فکر کرنی چاہیے تھی کہ جب یہ فرقے تمہارے دشمن بن جائیں گے تو سارے لوگ تمہارے دشمن بن جائیں گے کیونکہ ہر ایک کسی نہ کسی صوفی فرقے سے وابستہ ہے ابن راوندی نے اعتراف کیا کہ اپنی کتاب لکھنے سے قبل اسے یہ خیال نہیں آیا اور کہنے لگا اس کا خیال یہ نہ تھا کہ زاہد اور متقی اشخاص کو ہدف تنقید بنائے بلکہ اس کی مراد وہ لوگ تھے جو کام کی نسبت اوقاف کے گھروں میں رہنے کو ترجیح دیں حالانکہ وہ زاہد و متقی بھی نہیں ہوتے ۔

دیہاتی شخص کہنے لگا کیا تو جانتا ہے کہ میں نے تمہاری دستار تمہارے سر سے کیوں اتار یہے ؟ اور اپنی عربی تمہارے سر پر کیوں رکھ دی ہے ؟

کاروان کے ہمراہ چلے جانا لیکن میں تمہیں اپنے گھر میں ہر گز نہیں ٹھہرا سکتا کیونکہ اگر میں ایسا کروں گا تو یہ لوگ جو میرے ساتھ ہیں تم سے رقم بٹورنے کے خواہشمندہوں گے اور اگر ان میں سے ہر ایک کو رقم دو گے تو تمہارا خرچ بڑھ جائے گا اور اگر نہیں دو گے تو میں خفا ہو جاؤں گا ۔

اسکے علاوہ چونکہ تم نے صوفی فرقوں سے دشمنی برتی ہے اور میں ایک صوفی فرقے سبحانیہ کا حمائتی ہوں میرا جی نہیں چاہتا کہ تجھے اپنے گھر ٹہراؤں اور یہ خطرہ بھی ہے کہ وہ لوگ تمہاری دشمنی سے باخبر ہو کر تمہیں قتل کر ڈالیں ۔

ابن راوندی نے پوچھا پس میں کیا کرو ؟ اور کیسے رے کے کاروان کے ہمراہ عازم سفر ہو جاؤں ؟ دیہاتی شخص بولا ہمارے دیہاتی میں داخل نہ ہونا اور صیدلہ سے دور نکل کر راستے کے کنارے اج اور کل کادن گزارنا اور کل جونہی رے کا کاروان راستے سے گزرے اس میں شامل ہو جانا ۔

ابن راوندی کہنے لگا چونکہ میرے پاس سامان ہے لہذا میں پیدال سفر نہیں کر سکتا اگر یہ سامان نہ ہوتا تو پیدل چلنے میں کوئی مضائقہ نہ تھا دوسرا یہ کہ راستے میں کوئی کسی کو کرائے پر جانور بھی نہیں دیتا ۔

دیہاتی بولا کیا تم اس گدھے کو خریدنا چاہتے ہو جس پر سوار ہو ۔ ابن راوندی نے کہا اگر مناسب دام لگاؤ تو خرید لوں گا دیہاتی نے سوچا موقعے کو غنیمت سمجھ کر اس سے پورا پورا فائدہ اٹھائے اور اپنے جانور کی زیادہ سے زیادہ قیمت لگائے اس نے اتنی قیمت متعین کی جسے ابن راوندی نے زیادہ گردانا اور کہنے لگا تم نے میری مجبوری سے فائدہ اٹھا کر گدھے کی قیمتی زیادہ لگائی ہے ۔

دیہاتی بولا اچھا ایسا کرتے ہیں صیدلہ پہنچنے سے قبل کسی رھگذر سے اس گدھے کی قیمت متعین کروائیں گے پھر اس نے جتنی کہی تم اس سے دس زیادہ دے دینا ابن راوندی نے اظہار خیال کیا دس زیادہ کیوں ؟ دیہاتی بولا کیونکہ میں نے ایک مرتبہ موت سے نجات دی ہے اور اب دوسری مرتبہ تمہاری جان بچانا چاہتا ہوں اگر تم اس گدھے کو نہیں خریدو گے تو تمہیں راستے میں پڑاؤ ڈالنا پڑے گا یہاں تک کہ رے کا کاروان تمہیں پہنچ آئے لیکن یہ گدھا تمہارے ساتھ ہوا تو کاروان کا انتظار کئے بغیر چل پڑو گے اور رے کا کاروان خود بخود تم سے آ ملے گا۔

ابن راوندی نے کہا ایک رھگذر کسی گدھے کی ظاہر حالت سے قیمت متعین نہیں کر سکتا ۔ اسے گدھے کو ہر لحاظ سے دیکھنا چاہیے اور دوسرا یہ کہ اگر دھے کا خریدار جان لے کہ چوری کا گدھا اس کو بیچا گیا تو وہ تین دن تک سودا منسوخ کر سکتا ہے ؟ دیہاتی کہنے لگا یقین کرو یہ گدھا جس پر تم سوار ہو چوری کا نہیں کیونکہ میں اسے پہلے سے بیچنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا آخر کار ابن راوندی نے مجبور ا گدھا خرید لیا اور جونہی وہ صیدلہ کے نزدیک گیا ان دیہاتیوں سے جدا ہونا چاہتا تھا تو دیہاتی شخص بولا کیا میرا معاوضہ بھول گئے ہو ؟ دے کر جانا ۔

ابن راوندی نے کہا چونکہ میں نے تمہارا گدھا خریدا تھا لہذا میرا خیال تھا کہ تم مزید رقم کا مطالبہ نہیں کرو گے ۔ دیہاتی بولا گدھے کی خریداری کا ارادہ کرنے سے قبل تم نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہیں معاوضہ دوں گا تو اب اپنا وعدہ وفا کرو ابن راوندی نے مجبورا کچھ رقم اس دیہاتی کو دی اور پھر دیہاتیوں سے علیحدہ ہو گیا لیکن دیہاتی نے اسے آواز دی اور کہا میں نے عربی ٹوپی تمہیں واپس کی ہے اس کا معاوضہ تو دینا بھول گئے ہو ابن راوندی نے جو اس شخص کی لالچ سے غصبناک ہو رہا تھا مجبورا وہ معاوضہ بھی ادا کیا ابن راوندی کی سوانح حیات کو اس سے زیادہ بیان نہیں کرتے کہ دیہاتی شخص کے گدھے نے اسے موت سے نجات دلائی چونکہ اس کے پاس گدھا تھا لہذا راستے میں قیام کئے بغیر چلتا رہا یہاں تک کہ کاروان آ کر اس سے مل گیا ‘ اور وہ دشمنوں کے چنگل سے بچ نکلا اس سنے سنا تھا کہ سوار ا س کے پیچھے آ رہے ہیں لہذا اس نے دوسرے راستے سفر اختیار کرکے جان بچائی۔


امام جعفر صادق کے ہاں ادب کی تعریف

ہم نے ابن راوندی کی سوانح حیات کی معمولی سی ایک جھلک دکھائی تاکہ پتہ چلے کہ جس مذہبی ثقافت کی بنیاد امام جعفر صادق نے رکھی تھی اس میں کس قدر بحث کیآزادی تھی اور ہر کسی کو اظہار خیال کی کھلی چھٹی تھی یہی ابن راوندی ایران کے علاقے عراق اور جعفر صادق کے مذہبی ثقافتی مکتب میں جو چاہتا سو لکھتا لیکن عباسی خلیفہ کے دارالحکومت میں اپنی تحریروں کے نتیجہ میں دو مرتبہ موت سے بال بال بچا ایک مرتبہ خلیفہ کے ہاتھوں اور دوسری بار لوگوں کے ہجوم کے قہر و غضب سے بچ نکلا اگر عباس صروم اسکی مدد نہ کرتا تو اس کا قتل یقینی تھا ۔

جعفر صادق کی مذہبی ثقافت کی قوت کا راز اس میں تھا کہ اسکے چار ارکان میں سے صرف ایک رکن مذہبی باقی تین ارکان ادب ‘ علم اور عرفان تھے دنیا کی تاریخ میں یہ کہیں نہیں ملتا کہ کسی مذہب کے مکتب میں علم و ادب کو اتنی اہمیت حاصل ہوئی ہے جتنی جعفر صادق کی مذہبی ثقافت میں ہوئی ۔ جعفر صادق کی مذہبی ثقافت میں علم و ادب کو اس قدر اہمیت حاصل تھی کہ محقق اپنے آپ سے پوچھتا ہیکہ مذہبی ثقافت میں ادب کی اہمیت زیادہ تھی یا مذہب کی اور کیا علم کو زیادہ اہمیت دی جاتی تھی یا مذہب کو ۔ جعفر صادق اس بات سے اگاہ تھے اور کہا کرتے تھے کہ ایک مومن چونکہ متقین کے ایمان کا حامل ہوتا ہے پس اسے علم و ادب سے روشناس ہونا چاہیے آپ کہا کرتے تھے ایک عام شخص کا ایمان سطحی اور بے بنیاد ہے وہ چونکہ ایک عام انسان ہوتا ہے لہذا وہ اس بات سے آگاہ نہیں ہو سکتا کہ کس پر ایمان لایا ہے اور کس کیلئے ایمان لایا ہے اور اسکے ایمان کی بنیاد مضبوط نہیں ہوتی اس لئے اسکے خاتمہ کا امکان ہوتا ہے ۔

لیکن وہ مومن جو علم و ادب سے بہرہ مند ہو گا اس کا ایمان مرتے دم تک متزلزل نہیں ہو گا کیونکہ وہ ان باتوں سے آگاہ ہے کہ کس لئے اور کس پر ایمان لایاہے ؟

جعفر صادق یہ دکھانے کیلئے کہ علم و ادب کس طرح ایمان کی جڑوں کو گہرا اور مضبوط کرتا ہے دوسرے مذاہب کی مثال بھی دیتے تھے اور کہا کرتے تھے جب اسلام پھیل گیا اور جزیرہ العرب سے دوسرے ممالک تک پہنچا تو ان ممالک کے عام لوگوں نے اسلام کو جلدی قبول کر لیا لیکن جو لوگ علم و ادب سے آگاہ تھے انہوں نے اسلام کو جلدی قبول نہیں کیا بلکہ ایک مدت گذر جانے کے بعد جب ان پر ثابت ہو گیا کہ اسلام دنیا اور آخرت کا دین ہے تو پھر انہوں نے اسے قبول کیا۔

جعفر صادق نے ادب کی ایسی تعریف کی ہے جس کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ادب کی اس سے اچھی تعریف کی گئی ہو گی انہوں نے فرمایا ادب ایک لباس سے عبارت ہے جو تحریر یا تقریر کو پہناتے ہیں تاکہ اس میں سننے اور پڑھنے والے کیلئے کشش پیدا ہو یہاں پر توجہ طلب بات یہ ہے کہ جعفر صادق یہ نہیں فرماتے کہ تحریر یا تقریر اس لباس کے بغیر قابل توجہ نہیں اپ اس لباس کے بغیر بھی تقریروں اور تحریروں کو پر کشش سمجھتے ہیں لیکن آپ کے فرمانے کا مقصد یہ ہے کہ ادب کے ذریعے تحریروں اور تقریروں کو مزید پر کشش لباس پہنایا جاتا ہے ۔

کیا امام جعفر صادق کی وفات سے لیکر اب تک اس ساڑھے بارہ سو سال کے عرصے میں اب تک کسی نے ادب کی اتنی مختصر جامع اور منطقی تعریف کی ہے ؟

جعفر صادق کا ادب کے متعلق دوسرا نظریہ یہ کہتا ہے ( ممکن ہے ادب علم نہ ہو لیکن علم کا وجود ادب کے بغیر محال ہے ) علم و ادب کے رابطے کے متعلق یہ بھی ایک جامع اور مختصر تعریف ہے اور جیسا کہ امام جعفر صادق نے فرمایا ہے علم میں ادب ہے لیکن ممکن ہے ہر ادب میں علم نہ ہو ہمیں اس بارے میں کوئی علم نہیں کہ جعفر صادق علم سے زیادہ شغف رکھتے تھے یا ادب سے زیادہ لگاؤ رکھتے ؟ کیا آپ کے خیال میں شعر کی قدر و منزلت زیادہ تھی یا علم طبعیات کی بعض ایسے لوگ ہو گزرے ہیں جو علم و ادب دونوں سے برابر دلچسپی رکھتے تھے لیکن ایسے لوگوں کا شمار صرف انگلیوں پر کیا جا سکتا ہے کیونکہ انسانوں کی اکثریت کی استعداد اتنی ہی ہے کہ یا تو وہ علم سے لگاؤں رکھتے ہونگے یا ان کی دلچسپی ادب سے ہو گی ۔ جو لوگ ادب سے شغف رکھتے ہیں وہ علم کو غم و غصے کا آلہ قرار دیتے ہیں اور مادی مقاصد کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں جس کا مقصد محض ریا کاری اور لہو لعب ہے اور لم کی جانب رجوع کرنے والے کی نسبت اپنے آپ کو زیادہ با ذوق اور خوش مزاج شمار کرتے ہیں ۔

جو لوگ علمی استعداد کے حامل ہوتے ہیں وہ ادب کو بچگانہ کام یا خیالی پلاؤ پکانے والے انسانوں کا خاصہ سمجھتے ہیں اور ان کی نظر میں ادب سے لگاؤ کسی سنجیدہ اور سلجھیہوئے انسان کا کام نہیں کاروباری طقبے کی نظر میں ادب محض زندگی کو فضول بسر کرنے کا نام ہے حتی کہ یہ طبقہ ادیبوں کی عقل سلیم کو بھی شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس کا خیال ہے کہ اگر ادب کے متوالوں میں عقل سلیم ہوتی تو وہ ہر گز ایسے فضول کام میں زندگی نہ گنواتے اس طبقے کو چھوڑئے کیونکہ یہ نہ صرف ادب کے قائل نہیں بلکہ جب علم نے صنعت کو فروغ دیا اور صنعت نے مادی ترقی میں مدد دی تب کہیں جا کر یہ لوگ علم کی اہمیت کے قائل ہوئے یعنی اٹھارویں صدیعیسوی کے آغاز سے اس کی اہمیت اجاگر ہوئی جب کاروباری طبقے نے محسوس کیا کہ صنعتیں مادی ترقی میں ممدو معاون ہیں تو تب انہوں نے صنعتوں کی طرف توجہ دی ۔

لیکن امام جعفر صادق ان نادر روزگار افراد میں سے تھے جو علم و ادب دونوں کے متوالے تھے جعفر صادق کی تدریس کے مقام پر اوپر یہ بیت رقم تھا ۔

لیس الیتیم قلمات والده ان الیتیم یتیم العلم والادب

یعنی یتیم وہ نہیں جس کا باپ فوت ہو گیا ہو بلکہ یتیم وہ ہے جو علم و ادب سے بے بہرہ ہے عربوں میں جعفر صادق کی مذہبی ثقافت کے وجود میں آنے سے پہلے ادب کا اطلاق صرف شعر پر ہوتا تھا جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں دور جاہلیت میں عربوں میں ثری ادب کا وجود نہ تھا اور پہلی صدی ہجری میں عربوں کے نثری ادب کے آثار معدود ہیں ان آثار میں حضرت علی کا تہج البلاغہ خاصی اہمیت کا حامل ہے جعفر صادق کو دوسری صدی ہجری کے پہلے پچاس سالوں کے دوران نثری ادب کا شوق پیدا ہوا جیسا کہ کہاجا سکتا ہے کہ نثری ادب کو وجود میں لانے والے امام جعفر صادق تھے ۔

کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے عرب قوم میں ادبی انعام کا رواج ڈالا اگر ادبی انعام سے مراد یہ ہے کہ شاعر یا مصنف کو کوئی چیز عطا کی جائے تو یہ روایت صحیح نہیں ہے کیونکہ شعراء کو نوازنے کی رسم جزیرة العرب میں زمانے سے جاری تھی اور اسلام کے بعد بھی یہ رسم جاری رہی اور جب کوئی شعر پڑھتا اور اسے اشراف کے پا س لے جاتا تو انعام سے نوازا جاتا تھا لیکن وہ لوگ جو نثری ادب میں اضافہ کرتے تھے انہیں صلہ دینے کا رواج تھا اور نہ ہی عرب قوم نثری عبارات کو ادب کا جزو شمار کرتی تھی چہ جائیکہ نثری عبارت کا صلہ ادیب کو ملتا ایک روایت کے مطابق نثری یاد گار اور انعام و اکرام عطا کرنیکی ابتدا امام جعفر صادق سے ہوئی ۔

اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں تھی کہ جعفر صادق نے ادبی نثر کے انعام کا تعین کیا لیکن البتہ یہ بات مشکوک ہے کہ سب سے پہلے انہوں نے نثری ادیبوں کو انعام عطا کرنیکا رواج شروع کیا یا ان کے والد بزرگوار امام محمد باقر نے اس کام میں سبقت لی شروع شروع میں ادبی انعام دینے کیلئے تین ججوں کی کمیٹی تشکیل دی گئی ایک امامجعفر صادق اور دوسرے ان کے دو شاگرد ۔

اس کے بعد یہ کمیٹی پانچ ممبروں پر مشتمل ہو گئی اور اگر ان میں سے تین افراد ایک مصنف کو انعام کا حقدار قرار دیتے تو پھر مصنف انعام کا حقدار ٹھہرتا تھا ۔ جعفر صادق کی طرف سے جس عامل نے نثری ادب کی توسیع میں مدد دی وہ یہ تھا کہ انہوں نے کسی مصنف کو کسی خاص موضوع پر لکھنے کے لئے مجبور نہیں کیا اور ہر ایک اپنے ذوق کے مطابق لکھنے کیلئے آزاد تھا اور جو کچھ لکھتا بعد میں جعفر صادق کے سپرد کرتا اور آ اسے انعام کیلئے ججوں کے پینل کے سامنے پیش کر دیتے تھے اور اگر ججوں میں سے تین جج ‘ مصنف کو انعام کا حقدار قرار دیتے تو انعام اسکے سپرد کر دیا جاتا تھا جعفر صادق نے کھلے دل سے ہر قسم کی نظم و شعر کو ادب میں شامل کیا جعفر صادق کی نظر میں ادیب فقط وہ نہ ہوتا تھا جو شعر پڑھتا یا فی البدیہہ اشعار کے ذریعے اظہار خیال کرتا یا تقریر لکھتا اور پھر اسے ڑھتا بلکہ ہر وہ شخص جو کسی بھی موضوع پر نظم یا شعر میں اظہار خیال کرتا جو امام جعفر صادق کے نظریئے کے مطابق ادب کی تعریف کے لحاظ سے دلچسپ ہوتا تو اس شخص کو ادیب شمار کیا جاتا تھا اور علم و ادب کو نہ صرف مذہبی ثقافت کے لحاظ سے ضروری گردانتے بلکہ انسانی وقار کی بلندی اور انسانوں میں اچھی صفات کے فروغ کیلئے بھیعلم و ادب کو لازمی خیال کرتے تھے ۔

آپ جانتے تھے کہ ایک ایسا معاشرہ جس کے افراد ادیب و عالم ہوں اس میں دوسروں کے حقوق کی پا مالی کم دیکھنے میں آتی ہے اور اگر سب علم و ادب سے آشنا ہو جائیں تو تمام طبقوں کے باہمی تعلقات خوشگوار ہو جاتے ہیں امام جعفر صادق کی نظر میں مذہبی ثقافت جس کے چار رکن یعنی مذہب ادب علم و عرفان ہیں شیعہ مذہب کی تقویت و بقاء کیلئے بہت مفید اور موثر تھے امام جعفر صادق نے شیعہ مذہب کیلئے سن پیر کی مانند کوی بڑی عمارت تعمیر نہیں کی لیکن جو ثقافت وہ وجود میں لائے ہیں وہ سن پیر سے زیادہ دائمی ہے کیونکہ ایک مذہبی عمارت کو تباہ کیا جا سکتا ہے جیسا کہ سن پیر کے پہلے کلیسا کو تباہ کر دیا گیا تھا لیکن جعفر صادق کی مذہبی ثقافت کو کوئی ختم نہیں کر سکا ۔

سن پیر کا پہلا کلیسا قسطنطین (عیسائی روم کے پہلے بادشاہ) نے ۳۲۶ عیسوی میں بنانا شروع کیا اور چند سالوں کے بعد تکمیل کو پہنچا یہ کلیسا ماڈرن دور تک باقی رہا اس وقت جب ژول دوم عیسائی مذہب کے رہنما کے حکم سے اس کلیسا کو گرا دیا گیا اور جدید کلیسا کی تعمیر سروع کی گئی جو سن پیر کے نام سے روم میں پایا جاتا ہے اگر جعفر صادق مذہب شیعہ کیلئے ایک پر شکوہ عمارت تعمیر کرواتے تو ممکن تھا ایک ایسا آدمی پیدا ہوتا جو اس مذہب سے مخالفت کی بنا پر اس عمارت کو گرا دیتااور اج اس کا نام و نشان نہ ہوتا لیکن امام جعفر صادق نے شیعہ مذہبی ثقافت کی بنیاد کو اس طرح مستحکم اور مضبوط کیا کہ وہ ہمیشہ کے لئے باقی رہے اور اسے کوئی بھی تباہ نہ کر سکے اور نام و نشان نہ مٹا سکے آپ نے ثقافت کے چار ارکان کو جن کا ذکر اوپر آیا ہے تقویت پہنچائی خصوصا تین ارکان مذہب و ادب اور علم کیلئے کافی کوشش کی آ نے اس کیلئے اس قدر جدوجہد کی کہ دوسری صدی ہجری کے پہلے پچاس سالوں میں جو آپ کا تعلیم دینے کا زمانہ تھا اسلامی دنیا میں علم و ادب کی توسیع کا آغاز ہوا اور اگرچہ آپ تنہا علم و ادب کے محرک نہیں بنے لیکن آ نے سب سے پہلے اس راہ میں قدم رکھا اور دوسروں نے اس کی پیروی کی جعفر صادق علم و ادب کی توسیع اور علماء ادیبوں کو شوق دلانے کیلئے قدم آگے نہ بڑھاتے تو دوسری صدی کے دوسرے پچاس سالوں کے دوران اور تیسری صدی جری کے تمام دور اور چوتھی صدی ہجری کے ساری عرصے میں جو بڑی ادبی و علمی تحریک وجود میں آئی ہر گز وجود میں نہ آ سکتی وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ عباسی خلفاء نے علم و ادب کی ترویج میں سبقت حاصل کی وہ غلط فہمی کا شکار ہیں ۔

پہلے عباسی خلفاء کا مقصد اپنی حکومت کی بنیادیں مضبوط کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا اور ان کے بعد جو خلفاء آئے وہ زیادہ تر نفسانی خواہشات کے غلام تھے وہ کسی حد تک ہی علم و ادب کی طرف راغب ہوئے جیسا کہ ہم نے متوکل کے بارے میں مختصرا ذکر کیا ہے ۔

تیسری صدی ہجری اور چوتھی صدی ہجری میں علم و ادب کی جانب عباسی خلفاء کی توجہ کو اس زمانے کے رسم و رواج کی ضرورت سمجھا جا سکتا ہے نہ کہ علم و ادب کی طرف عباسی خلفاء کی خصوصی توجہ ‘ سنتیس ۳۸ عباسی خلفاء جنہوں نے مجموعا پانچ سو سال سے زیادہ عرصہ حکومت کی ان میں سے صرف چند ہی علم و ادب کی طرف مائل ہوئے اور باقی مادی لذتوں کے حصول کی فکر میں لگے رہے ۔

بہر کیف اس بات سے انکار نہیں کرنا چاہیے کہ انہیں چند خلفاء کی علم و ادب سے دلچسپی ‘ علم و ادب کے فروغ کا باعث بنی اگرچہ ہمیں معلوم ہے کہ انہوں نے اس زمانے کی روش کے مطابق علم و ادب سے دلچسپی کا اظہار کیاچونکہ بیت المال ان کے تصرف میں تھا اور اس کے علاوہ وہ قیمتی تحائف بھی وصول کرتے تھے جو لگا تار ان کیلئے عوام بھیجتے تھے وہ شعراء خطیبوں مصنفین اور علماء کو بڑے بڑے انعامات سے نواز سکتے تھے اور یہ انعامات دوسروں کو علم و ادب کی تحصیل کی طرف مائل کرتے تھے تاکہ وہ بھی خلیفہ کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کرا سکیں اور بڑے بڑے انعامات حاصل کریں ۔

یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ شعراء جاہلیت کے زمانے میں عربی بدو قبائل کے سرداروں کی عادت تھی اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس فطرت ثانیا کی ابتدا خود عربوں نے کی تھی انہوں نے کسی اور قوم سے حاصل نہیں کی تھی کبھی کبھار ایسا ہوتا تھا کہ قبیلے کا سردار شاعرانہ ذوق کا حامل نہ ہوتا یا اشعار کا مفہوم نہ سمجھتا ت و بھی رسم و رواج کے مطابق وہ شاعر کے کلام کو ضرور سنتا تھا شو بہناور کے بقول چونکہ عرب بدووں کے قبائل کے سردار جب بیکار اور نکمے پن سے تنگ آ جاتے تھے تو اپنا وقت شاعروں کے نغمے سننے پر صرف کرتے تھے ۔

شو بنہاور ‘ عرب بدو قبائل کے اشعار سننے کو نہ صرف ان کی بیکاری پر محمول کرتا ہے بلکہ اس کے بقول ہر وہ کام جو انسان حصول معاش کے علاوہ انجام دیتا ہے وہ سب بیکاری میں شامل ہیں مثلا کھیلیں ‘تفریحات مہمان نوازیاں وغیرہ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو فضول کاموں میں لگانا چاہتا ہے اس جرمن فلسفی نے اپنے کمرے میں اپنے سر کے اوپر ایک کتبہ نصب کیا ہوا تھا جس پر کندہ تھا کہ وہ انسان جو تمہیں دو پہر یا شام کے کھانے کی دعوت دے تمہارا سب سے برا دشمن ہے کیونکہ وہ تمہیں کام نہیں کرنے دیتا ۔

جب شاعر قبیلے کے سردار کے سمنے اپنے اشاعر پڑھتا تو وہ اسے انعام و اکرام سے نوازتا اور ادب کا تقاضا یہ تھا کہ شاعر اپنے اشعار میں قبیلے کے سردار کی شان میں چند بیت شامل کر دیتا تھا ۔

لیکن اس کی شان کے بیان کی ایک حد معین تھی اور اس طرح دور جاہلیت کے شعراء مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیتے تھے اور اپنے آ کو قبیلہ کے سردار کے مقابلے میں پست ظاہر نہیں کرتے تھے ان کی مدح میں ایسا شکر یہ ہوتا تھا جو ایک مہمان ‘ میزبان کی مہمان نوازی پر ادا کرتا ہے ۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ شعراء جو شاعروں کے اجتماعی میں شعر پڑھتے تھے لوگوں سے رقم بٹورتے تھے جب کہ ایسا ہر گز نہیں ۔

دور جاہلیت میں عربی شعراء اپنی عزت و وقار کا خاص پاس رکھتے تھے وہ قبائل کے سرداروں سے انعام لیتے اسے ایک طرح کی مزدوری سمجھا جاتا تھا اس طرح قبیلے کے رئیس کو صرف اتنا ہی حق پہنچتا تھا جتنا شاعر اپنے شعروں میں ادا کر دیتا تھا شاعر یہ بات کہنے میں حق بجانب ہوتا تھا اس نے قبیلہ کے سردار کی شان میں شعر کہہ کر اس پر احسان کیا ہے لیکن سردار قبیلہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ اس نے شاعر کو نواز کر احسان کیا ہے وہ لوگ جو شاعروں کے اجتماع میں شعر خوانی کرتے ان کا مقصد شہرت اور مقبولیت پانا ہوتا تھا وہ لوگوں سے کسی تحفے وغیرہ کے امیدوار نہیں ہوتے تھے ۔

لیکن امام جعفر صادق کے زمانے تک کسی دور میں ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ جزیرہ عرب میں کسی شاعر نے شاعروں کے اجتماع میں سردار قبیلہ کے سامنے نثر کا کوئی قطعہ پیش کیا ہو وہ مضامین جو شعر کے قالب میں نہیں ڈھلتے عربوں کی نظر میں ادب کا حصہ نہیں تھے ۔

حتی کہ قرآن نازل ہوا اور قرآن کی نثر عرب بدوؤں کا پہلا نثری سرمایہ قرار پائی لیکن عرب قوم چونکہ قرآن کو ایک معجزہ خیال کرتی تھی لہذا وہ اسے ادب سے بالا تر شے خیال کرتی تھی اس کے باوجود کہ قران نے عربوں کو اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ نثر بھی ادبی سرمایہ قرار پا سکتی ہے پہلی صدی ہجری میں ماسوائے حضرت علی اور آ کے پوتے زین العابدین اور پھر محمد باقر کے کسی نے بھی ادبی نثر پر توجہ نہیں دی اور نہ ہی کوئی کتاب لکھی ۔

جعفر صادق کے زمانے تک جو لوگ کتاب لکھنا چاہتے تھے ان کا خیال تھا کہ انہیں اپنے افکار کو شعر ی قالب میں ڈھالنا چاہیے اور چونکہ شعر اوزان و بحروں کا محتاج ہوتا ہے اور شاعر قافیے کی رعایت کرتا تھا لہزا وہ لوگ ازادی سے اپنا مافی الضمیر بیان نہیں کر سکتے تھے ۔

جعفر صادق نے ادبی نثر کی توسیع کی مدد سے ان اسلامی مفکرین کے افکار کو پر عطا کئے جو اس وقت تک شعر کی بحروں میں قید تھے اور اس کے بعد جو کوئی کتاب لکھنا چاہتا نثر سے کام لیتا اور اس کے ساتھ ساتھ اسلامی ادب میں شعر کی اہمیت پر بھی کوئی اثر نہ پڑتا ۔

جعفر صادق کا فرمان جو انہوں نے اپنے بیٹھنے کی جگہ اپنے سر کے اوپر کندہ کروایا ہوا تھا کس قدر شاندار ہے کہ " یتیم وہ نہیں جس کا باپ نہ ہو بلکہ یتیم وہ ہے جو علم و ادب سے بے بہرہ ہو "

"علم " بنظر صادق

ہم نے دیکھا کہ امام جعفر صاد ق نے ادب کی کس طرح تعریف کی اور اب یہ دیکھنا ہے کہ انہوں نے علم کو کس پیرائے میں بیان کیا اور آپ کا عقیدہ تھا کہ احکام دین کے نفاذ کے بعد ایک مسلمان کیلئے علم والوں سے بڑھ کر کوئی چیز ضروری نہیں ہے جعفر صادق کی مذہبی ثقافت میں عرفان چوتھا رکن ہے البتہ آ عرفان کو واجبات میں سے نہیں سمجھتے لیکن علم و ادب کو واجبات کا جزو سمجھتے ہیں اور یہ بات واضح ہے کہ یہ دینی واجبات میں سے نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے واجبات میں شمار ہوتا ہے ۔

جعفر صادق اس بات سے اگاہ تھے کہ علم و ادب نہ صرف یہ کہ شیعہ مذہب کی ثقافت کی تقویت کا باعث بنیں گے بلکہ دوسری قوموں میں مسلمانوں کی تقویت کا باعث بھی ہونگے اور اسلامی دنیا میں علم و ادب نے اس قدر ترقی کی کہ چوتھی صدی ہجری اسلامی دنیا میں علم و ادب کے سنہری دور کہلایا اور یورپ والوں نے اسلامی علم سے کافی فائدہ اٹھایا جعفر صادق سے سوال کیا گیا کہ متعدد علوم میں سے کوسنے علم کو دوسروں پر ترجیح حاصل ہے آپ نے فرمایا کوئی علم دوسرے علوم پر قابل ترجیح نہیں البتہ علوم سے استفادہ کرنے کے موارد میں فرق پایا جاتا ہے جس کے نتجے میں انسان کیلئے لازم ہے کہ بعض علوم کی تحصیل میں جلد کرے اور زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے اور آج کے دور میں (عہد جعفر صادق میں ) دو علوم سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے ایک علم دین اور دوسرا علم طب ‘۔

جعفر صادق کی علم دین سے زیادہ تر فقہ مراد تھی اور اپ کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ آپ کے زمانے میں علم قانون اور طب سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے آپ نے فرمایا ایک دن ایسا آئے گا جب انسان ان علوم سے بھی فائدہ اٹھائے گا جن سے فی الحال عملی طور پر کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہا اور یہ بات محال ہے کہ علم انسان کیلئے سود مند نہ ہو مختصر یہ کہ انسان زمانے کی مناسبت سے علوم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جعفر صادق کا عقیدہ تھا کہ انسان نے دنیا میں اپنی زندگی کے طویل عرصے میں صرف ایک مختصر عرصے کو علم کیلئے مخصوص کیاہے اور زیادہ تر علوم سے دور رہا ہے اور دو چیزوں نے انسان کو علوم سے دور رکھا ہے ۔

پہلی چیز مربی اور استاد کا نہ ہونا جو اسے علوم حاصل کرنے کا شوق دلائے دوسری انسان کی کاہلی چونکہ علم کو سیکھنا تکلیف کے بغیر نا ممکن ہے لہذا انسان فطرتا سہل پسند ہونے کی بنا پر علم سے دور بھاگتا ہے ۔

فرض کیا اس دنیا میں بنی نوع انسان نے دس ہزار سال گزارے ہیں تو انسان نے اس طویل عمر میں صرف ایک سو سال تحصیل علم کی طرف توجہ دی ہے اور اگر اس عرصے سے زیادہ علوم کی تحصیل پر صرف کرتا تو آج کچھ علوم کے عملی فوائد سے بہر مند ہوتا ۔

یہاں اس نکتے کی طرف توجہ بے محل نہیں کہ پہلے زمانے کے سکالرز نے عبرانیوں کے کیلنڈر سے حساب لگا کر اس دنیا کی عمر ۴۸۰۰ سال متعین کی تھی لیکن اب سکالرز نے اپنا خیال تبدیل کر لیا کیونکہ پہلے دنیا وجود میں آئی اور پھر انسان کی خلقت ہوئی ۔

لیکن جب امام جعفر صادق نے اس کی مثال دنیا چاہی تو فرمایا فرض کیا انسان نے اس دنیا میں د س ہزار سال زندگی بسر کی ہے تو اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ دنیا اور نوع بشر کی خلقت کے بارے میں عبرانیوں کے کیلنڈر سے متفق نہیں تھے ۔

اگرچہ ایک مثال ‘ دلیل شمار نہیں کی جا سکتی لیکن مثال دینا اس کے تعین کرنے کے مترادف ہے اور اگرچہ جعفر صادق کا یہ عقیدہ نہ ہوتا کہ بنی نوع انسان کی عمر ۴۸۰۰ سال سے زیادہ ہے تو آپ ہر گز دس ہزار سال عمر کے بارے میں گفتگو نہ کرتے بلکہ اس سے کم عمر کی مثال لاتے تین ہزار سال کی مثال دیتے ہم یقینا کہہ سکتے کہ زمین کی خلقت کے بارے میں جعفر صادق کی معلومات اپنے ہم عصروں سے زیادہ تھیں کیونکہ بعض اوقات ان کی گفتگو سے پتہ چلتا تھا کہ وہ تخلیق کے آغاز کی کیفیت سے مطلع ہیں ایک دفعہ اپنے شاگردوں سے فرمایا یہ بڑے بڑے پتھر جو آ پہاڑوں پر دیکھ رہے ہیں شروع میں مائع حالت میں تھے اور بعد میں یہ مائع ٹھنڈا ہو کر موجودہ صورت اختیار کر گیا ۔

اس نظریئے کی اہمیت کو ثابت کرنے کیلئے ( جو ساڑھے بارہ سو سال پہلے پیش کیا گیا تھا ) اتنا کہنا کافی ہے کہ فرانس کے انقلاب کے آغاز اور اٹھارہویں صدی عیسوی کے اختتام تک یورپ کے سکالرز اس بارے میں تذبذب کا شکار تھے کہ آیا زمین شروع میں ایک مائع سیارہ تھی یا نہیں ؟ اور اس سے ایک صدی پہلے پورے یورپ کا کوئی ایسا سکالر نہ تھا جو یہ کہتا کہ شاید زمین شروع میں ایک مائع سیارہ تھی ۔ اس زمانے میں یہ تصور پایا جاتا تھا کہ زمین اج جس حالت میں دکھائی دیتی ہے پہلے بھی اسی شکل میں موجود تھی ۔

جو کچھ جعفر صادق نے بنی نوعی انسان کی تحصیل علوم کے سلسلہ میں کاموں کا ذکر کیا ہے ۔ حقیقت کے عین مطابق ہے اور آج انسانوں کا مطالعہ کرنے والے سکالرز کا کہناہے کہ جس زمانے سے انسان نے دو پاؤں پر چلنا شروع کیا ہے اسے پانچ ہزار سال یا چار ہزار سال ہوئے ہیں اس سے پہلے ہمیں یہ توقع نہیں کرنی چاہیے انسان نے علوم کی طرف توجہ کی ہو گی کیونکہ چار ہاتھ اور پاؤں سے چلنے والے انسان کیلئے یہ بات محال تھی کہ تحصیل علم کیلئے آلہ تیار کرتا اور پھر صنعت سازی کرتا تاکہ اس راستے وہ علوم تک پہنچتا ۔

لیکن اگر انسان پانچ ہزار سال یا چار ہزار سال بعد بھی جبکہ وہ دو پاؤں پر چلتا رہا تھا اور اسکے دو ہاتھ کام کرنے کیلئے ازاد تھے ‘ آلہ بنا سکتا تھا اور اس کے ایک لاکھ سال بعد جبکہ انسان نے آگے سے استفادہ کرنا شروع کیا اور اگر اسکے بعد کے صرف ایک لاکھ سال کے دوران ہی علوم سے دلچسپی دکھاتا تو اج انسانی زندگی کے تمام مسائل اور شاید موت کا معمہ بھی حل ہو جاتا ۔

لیکن ان لاکھوں سالوں کے دوران مجموعی اعتبار سے انسان نے صرف ایک ہزار پانچ سو سال ہی علوم کی طرف توجہ مبذول کی ہے اور اس مختصر عرصہ میں بھی انسان کی علوم کی طر ف توجہ کبھی کم اور کبھی زیادہ رہی ہے ایک بات جو ہماری نظر میں نا قابل تردید ہے وہ یہ ہے کہ ڈکارٹ جسے فوت ہوئے تین صدیاں بیت گئی ہیں وہ پہلا شخص ہے جس نے علمی تحقیقی کی بنیاد ڈالی اور کہا کہ علمی حقیقت کو جاننے کیلئے جسم کو چھوٹی حصوں میں تقسیم کرنا چاہیے اور اسکے بعد اسے مزید چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے اتنے چھوٹے حصے بنانے چاہیں کہ جو چیز حاصل ہو مزید اس کی تقسیم نہ ہو سکے پھر اس چھوٹے سے جسم کی تحقیق کرنا چاہیے اور اسکی خصوصیات دریافت کرنا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ فزکس اور کیمیاء کے لحاظ سے اسکی حالت کیسی ہے ؟ اور اگر ایک جسم کے چھوٹے سے چھوٹے حصے کے خواص معلوم ہو جائیں تو اس پورے جسم کے خواص معلوم کرنا کوئی مشکل نہیں ۔

عصر حاضر میں علمی ترقی نہ ہوتی ۔

یہاں اس بات سے اگاہی ضروری ہے کہ سترھویں صدی عیسوی کے بعد ٹیکنالوجی اور صنعتوں کی توسیع کی وجہ سے ڈکارٹ کا نظریہ کامیابی کی شاہراہ پر گامزن ہوا ۔ ڈاکرٹ سے ۲۲ صدیاں پہلے یونانی حکیم ذیم قراطیس نے یہ نظریہ پیش کیا لیکن امام جعفر صادق نے ذیم قراطیس کے نظریئے کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اشیاء کے خواص ہم اس وقت معلوم کر سکتے ہیں جب ہم کسی چیز کے چھوٹے سے ٹکڑے پر تحقیق کریں اور اس کے خواص سے ہم پورے جسم کے خواص تک پہنچ سکتے ہیں ۔

جس طرح ہم دنیا کے سمندروں کے پانی پر تحقیق نہیں کر سکتے لیکن اگر ایک سمندر کے پانیکے ایک قطرے پر تحقیق کریں تو ہم اس سارے سمندر کے خواص معلوم کر سکتے ہیں اگر صنعتی ترقی نہ ہوتی اور سائنس دانوں کو اجسام کو چھوٹے سے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کے ذرائع میسر نہ آتے تو ذیم قرطیس اور جعفر صادق کے قول کی مانند ڈکارٹ کا قول بھی تھیوری حد تک محدود رہتا ۔

اگر آج جب ہم سیکنڈ کا کروڑواں حصہ ایک ملی میٹر کا کروڑواں حصہ معلوم کر سکتے ہیں تو یہ صرف صنعتی ترقی کا کمال ہے ۔

تاریخی تنقید پر تبصرہ امام

شیکسپیر کے اشعار جو ادب کا حصہ ہیں جوں کے توں قبول کئے جاتے ہیں اور یہ ایک منقول علم ہے لیکن آج کا مورخ واٹرلو کی جنگ جنگ کیشرح کو علم منقول نہیں سمجھتا کیونکہ اسے سمجھنے کیلئے عقل ‘ استعمال میں لائی تھی لہذا تاریخی تنقید کے لحاظ سے کل اور آج کے مورخ میں کوئی فرق نہیں ہے یونانی مورخ ہر و ڈوٹ نے اپنی ایک تاریخ کے مقدمے میں لکا ہے کہ جو چیز میری سمجھ میں نہیں آتی اسے قبول نہیں کرتا ۔ لیکن پھر بھی ہر وڈوٹ کی تاریخ میں ایسے افسانے ملتے ہیں جو انسانی سمجھ سے باہر ہیں ۔

امام جعفر صادق وہ پہلے مسلمان ہیں جنہوں نے تاریخی روایات پر تنقیدی نگاہ ڈالی اور اس بات کی نشاندہی کی کہ تاریخی روایات کو تنقید اور گہرے غور و فکر کے بغیر قبول نہیں کرنا چاہیے آپ ہی تھے جو تاریخرقم کرنے میں ابن جریر طبری کے استاد اور مربی بنے اور اس بات کا سبب بنے کہ جس وقت ابن جریر طبری نیتاریخ لکھنے کیلے قلم ہاتھ میں لیا تو اس نے صرف وہی باتیں لکھیں جنہیں انسانی عقل قبول کرے اور ایسے افسانے لکھنے سے گریز کی اجو انسان کو سلاتے ہیں ۔

جعفر صادق سے قبل مشرق وسطی میں تاریخ کے کچھ حصے افسانوں پر مشتمل تھے کیونکہ جو لوگ تاریخ پڑھتے یا سنتے تھے اس کے تاریخی افسانوں کو بھی قبول کرتے تھے ۔

احتمال ہے کہ اسلام سے قبل ایران میں تاریخ موجود تھی اور ایسی تاریخی کتابیں پائی جاتی تھیں جن کا آج ایک صفحہ بھی ہاتھ نہیں آتا۔

ساسانیوں اور ہنحامنشیوں کے دور کی کتابوں سے پتہ چَتاہے کہ قدیم ایران میں لوگ اس حقیقت سے اگاہ تھے کہ واقعات لکھنے اور ریکارڈ کرنے کے ضمن میں افسانے کو تاریخ میں داخل کرنا چاہیے ۔

ہنحامنشیوں اور ساسانیوں کے دور سے ملنے والے کتبوں سے پتہ چلتا ہے کہ ان کتبوں میں افسانے کی ایک سطر بھی نہیں پائی جاتی اور واقعات کی نص ان میں درج ہے لیکن ان بادشاہوں کے مذہبی عقیدے کے آثار ان کتبوں میں ملتے ہیں جن کے حکم سے یہ کتبے لکھے گئے اگر افسانے کو تاریخ میں مد غم نہ کرنے کا شعور قدیم ایران میں نہ پایا جا تا تو ہخامنشیوں اور ساسانیوں کے دور کے کسی ایک تاریخی کتبے میں افسانہ ضرور ملتا ۔ یہ کہنا مناسب نہیں کہ چونکہ یہ کتبے مختصر تھے ۔ لہذا افسانوں کو تاریخ میں شامل نہیں کیا گیا کیونکہ کتبہ بے ستون جو پہلے ہخامنشی بادشاہ رار بوش کے حکم سے لکھا گیا اور کتبے نقش ستم جو پہلے سا سانی بادشاہ یعنی شاہ پور کے زمانے میں لکھا گیا ان میں سے ہر ایک چھوٹے کتابچے پر مشتمل ہے اگر افسانے کو ان کتبوں میں شامل کرنا چاہتے تو آسان تھا لیکن تریخ کے سوال کوئی دوسری چیز ان کتبوں میں نہیں لکھی گئی بہر حال قبل از اسلام ایران سے کوئی تاریخی کتابیں نہیں ملتیں جن سے پتہ چلے کہ افسانہ پایا جاتا تھا یا نہیں ؟

دوسری صدی ہجری کے پہلے پچاس سال جو امام جعفر صادق کا زمانہ شمار کیا جاتا ہے اس زمانے میں افسانہ اور اریخ کی آمیزش تھی جس کا تذکرہ ہو چکا ہے دوسری صدی ہجری کے پہلے پچاس سالون کے دورنا اسلام میں کتاب وجود میں آئی یہ وہ زمانہ ہے جب عربوں نے اپنے خیالات رقم کرنے کیلئے نثر کا استعمال کیا ہم یہ نہیں کہتے کہ عرب قوم میں اس تاریخ سے پہلے نثر کا وجود نہ تھا بلکہ ہماری مراد یہ ہے کہ نثر بہت کم تھی اور دوسری صدی ہجریکے پہلے پچاس سالوں میں نثر نے اتنی ترقی کی جس طرح بہار کے موسم میں پودے ایک دم زمین سے اگتے ہیں ان کتابوں میں سے اکثر آج نا پید ہیں ۔ جنگوں زلزلوں سیلابوں وغیرہ کے نتیجہ میں ان کا خاتمہ ہو چکا ہے لیکن ابن الندیم کا تب کی وساطت سے ہمیں ان کے اور ان کے لکھنے والوں کے نام معلوم ہیں ان کتابوں میں تاریخی کتابیں بھی ہیں لیکن یہ تاریخیں افسانے سے مبرا ہیں ۔

جعفر صادق ان میں سے ان تمام کتابوں کی تاریخی اہمیت کے قائل نہ تھے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ ان میں تاریخ کے ساتھ افسانے بھی مدغم ہیں آپ فرماتے تھے کہ افسانہ گمراہ کرنے والا ہے اسے تاریخ میں جگہ نہیں دینی چاہیے ۔

اس لحاظ سے جعفر صادق وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اسلام میں تاریخ پر تنقید کی اور ابن ابی الحدیدہ کے بقول تاریخ کو صحیح معنوں میں تاریخ بنانے کی طرف توجہ دلائی ۔

لفظ تاریخ جسے فرانسیسی میں ہیشوار کہا جاتا ہے پہلے پہل اس کا اطلاق ‘ اس فرانسیسی لفظ ہیشوار پر نہ ہوتا تھا قبل از اسلام عربوں میں کسی کتاب کا وجود نہ تھا کہ وہ اس کی ایک قسم کا نام تاریخ رکھتے عرب تاریخی روایات کو اشعار کے قالب میں ڈھال لیتے پھر شعراء نہیں پڑھ کر سا معین کو محفوظ کرتے تھے ۔ عربوں میں اسلام کے بعد کتاب لکھی گئی ۔ اسی طرح تاریخی کتابیں بھی وجود میں ائیں جن کا عام نام تاریخ نہیں بلکہ روایت رکھا گیا اور کہا جاتا ہے کہ فارسی میں لکھی جانے والی تاریخ جس کا نام دساتیر ہے یہ بھی اسی زمانے میں لکھی گئی یاد رہے کہ یہ کتاب دری فارسی میں لکھی گئی اور کیا دری فارسی اس وقت وسیع زبان تھی کہ دساتیر جیسی ضخیم کتاب اس زبان میں لکھی جاتی ۔ یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ محقیقین کا ایک گروہ دستا تیر کو ایک جعلی تاریخ خیال کرتا ہے یاد رہے کہ یہ تاریخ صفوی دور میں ضبط تحریر میں لائی گئی ہے ۔

امام جعفر صاد ق نے تاریخ اور افسانے کے حوالے سے جو تنقید کی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے اسلام میں اجتماعی طور پر تاریخ کو سو د مند بنا دیا ہے آپ نے فرمایا جب افسانہ تاریخ میں مدغم ہو جاتا ہے تو پھر تاریخ کی وقعت باقی نہیں رہتی ہے تاریخ سے اگاہی اس لئے مفید ہے کہ آئندہ انے نسلیں گزرے ہوئے واقعات سے سبق حاصل کرتی اور ایسے کاموں سے پرہیز کرتی ہیں جو ان کے لئے مضر ہیں ۔

آج تاریخ کا سب سے بڑا فائدہ یہی سمجھا جاتا ہے کہ آائندہ آنے والی نسلیں گذشتہ واقعات سے سبق حاصل کریں اور ایسے اقدامات عمل میں نہ لائیں جو گذشتہ لوگوں کے خسارے کا باعث بنے ہوں اور اس طرح اسلاف کی طرح وہ نقصان اٹھانے سیبچ جائیں ۔

فرائیڈ ‘ مشہور آسٹرین فلسفی جو ماہر نفسیات بھی ہے اس بڑے تاریخی فائدے کو تسلیم کرتا ہے لیکن کہتا ہے کہ انسانی فطرت ‘ تاریخ سے عبرت حاصل کرنے سے مانع ہوتی ہے خصوصا انسان کی خود پسندی اس بات میں حائل ہوتی ہے خود پسندی انسان کو تلقین کرتی ہے کہ جو کچھ اسلاف پر گذر چکی وہ اب اس پر نہیں گزرے گی کیونکہ وہ ایک دوسرے دور میں زندگی گزار رہا ہے اور وہ ان سے زیادہ عقلمند ماہر یا قوی ہے حتی کہ اگر خود پسندی نہ ہوتو بھی فرائیڈ کے بقول کوئی دوسری انسانی فطرت تاریخ سے سبق حاصل کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے بہر کیف جو کچھ امام صادق نے افسانے کو تاریخ سے دور کرنے کیلئے کہا اس کی وجہ سے تاریخی تنقید کی بنیاد پڑی اور علم تاریخ وجود میں آیا ۔

گذشتہ صفحات میں ہم نے دیکھا کہ جعفر صادق نے بعض علوم اپنے والد گرامی کے حلقہ درس میں زانوئے تلمذ طے کرکے حاصل کئے لیکن اکثر علوم جنہیں جعفر صادق پڑھاتے تھے ان کی ذاتی سعی کا ما حصل تھے مثلا اس طرح کے مسائل کہ خاک مرکب نہیں اور ہوا بھی مرکب نہیں ‘ یہ وہ معلومات تھیں جو خود جعفر صادق کی اختراع ہیں ‘ پھر انہیں آپ نے اپنے شاگردوں تک پہنچایا ‘ پھر ہم نے دیکھا کہ آپ اسلام میں وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے فرمایا کہ ہوا میں ایک ایسی چیز ہیجو جلنے میں مدد دیتی ہے اور اسی کی وجہ سے دھاتیں زنگ آلود ہوتی ہیں ۔

ہم نے دیکھا کہ جعفر صادق نے فرمایا دوسرے جہانوں میں دو قسم کے علوم پائے جاتے ہیں ایک وہ علم جسے ہم اپنی عقل کے ذریعے سمجھ سکتے ہیں اور ایک وہ علم جسے شاید اس عقل کے ذریعے سمجھنا نا ممکن ہے یہ آ ہی تھے جنہوں نے فرمایا کہ شاید دوسرے جہانوں کے علماء جنہیں ہم نے پہچان سکتے ہم سے رابطہ قائم کرنے کے خواہش مند ہوں لیکن چونکہ ہم ان کے علم سے واقف نہیں اور ان کی زبان نہیں جانتے لہذا ابھی تک ہمیں معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ ہم سے بات چیت کے خواہشمند ہیں امام جعفر صادق نے دوسرے جہانوں کے جن موجودات کا ذکر کیا ہے وہ حقیقی معنوں میں موجود ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر جنوں کا تذکرہ آیا ہے اور یہاں تک کہا گیا ہے کہ ایک دن بنی نوع انسان اور وہ تمام مخلوقات جو دکھائی نہیں دیتی ایک جگہ اکٹھی ہوں گی اس دن کو قرآن میں حشر کے نام سے یاد کیاگیا ہے ۔

لیکن امام جعفر صادق سے قبل اس دکھائی نہ نہ دینے والی یا دوسری دنیا کی مخلوقات کے علوم کے بارے میں کسی نے توجہ نہیں دی اس بات کا امکان ہے کہ وہ بنی نوع انسان سے رابطہ قائم کرنے کے بارے میں کسی نے توجہ نہیں دی اس بات کا امکان ہے کہ وہ بنی نوع انسان سے رابطہ قائم کرنے کے خواہشمند ہوں لیکن چونکہ انسان ان کی زبان سے نا آشنا ہے لہذا اسی وجہ سے ان کا رابطہ قائم نہ ہو سکا ہو ۔ امام جعفر صادق کے بعد انیسویں صدی عیسوی تک کسی نے اس موضوع کی طرف دھیان نہیں دیا ‘ البتہ انیسویں صدی عیسوی میں ایک فرانسیسی کا میل فلا ریوین نے اس موضوع پر توجہ دی اور دوسرے سیاروں کی مخلوقات سے انسانی رابطے کے بارے میں مشاہدے کے بغیر نظریات پیش کئے کیونکہ ابھی تک سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی تھی کہ کامیل فلاریوین عملی تجربہ کرتا ۔

تجربے کے رو سے پہلی مرتبہ ۱۹۲۰ عیسوی میں معلوم ہوا کہ دوسرے جہانوں کے مخلوقات ہماری زمینی مخلوقات سے رابطہ قائم کرنا چاہتی ہیں اس سال اٹلی کے باشندے مارکونی نے بحریہ کے کمانڈر کینٹ میلو کی سربراہی میں منعقد کئے گئے جلسے میں تقریر کرتے ہوئے دعوی کی کہ میں اپنی کشتی کے وائر لیس سیٹ میں ایسی لہریں پاتا ہوں جن پر مجھے کوئی شک نہیں کہ انہیں عقلمند عالم اور ماہر مخلوق م زمینی مخلوقات سے راابطہ قائم کرنے کیلئے بھیجتی ہوں گی ۔

مارکونی بھی اپنے تجربے کو آگے نہ پڑھا سکا کیونکہ ابھی تک ریڈیو ٹیلی سکوب ایجاد نہیں ہوا تھا اور عام فلکی دور بین میں اتنی طاقت نہ تھی کہ شمسی نظام سے باہر کی دنیا کا مشاہدہ ہو سکتا اور اس پر طرہ یہ کہ عام فلکی دور بین ۱۹۲۰ ء عیسوی تک اتنی طاقت ور نہ تھی اور ابھی تک کوہ پالومر (جو امریکا میں واقع ہے ) پر واقع رصد گاہ میں فلکی دور بین ایکبڑا عدسہ نصب نہیں کیا گیا تھا جس کا قطر ۵ میٹر ہے تاکہ ان کہکشاں کو جو زمین سے دور ہزاروں ملین نوری فاصلے پر واقع ہیں دیکھا جا سکے جس کے بعد اس فلکی دور بین نے کام شروع کیا تو معلوم ہوا کہ اس کے ذریعے دوسرے جہانوں کی مخلوقات سے رابطہ قائم نہیں کیا جا سکتا اگرچہ کوہ پالومر کی رصد گاہ کی یہ فلکی دور بین دو ہزار ملین فاصلے پر واقع کہکشاں کا ایک بڑے نقطے کی شکل میں آسمان پر مشاہدہ کرتی ہے لیکن ان کی وسعت اور عظمت کا کھوج نہیں لگا سکتی ۔

۹; ساخت بدن انسان اور جعفری نظریہ

جعفر صادق نے سارے مسلمانوں کی مانند فرمایا تھا کہ انسان خاک کا پتلا ہے البتہ آپ کے فرمان اور دوسرے مسلمانوں کے اقوال میں یہ فرق تھا کہ آپ نے انسان کی خاک سے پیدائش کے بارے میں ایسی باتیں کہیں جو اس زمانے کے کسی مسلمان کی سمجھ نہ آ سکیں ۔ صدیوں بعد ابھی کوئی مسلمان ایسا نہیں گذرا جس نے انسانی بدن کی عمارت کے بارے میں جعفر صادق کی طرح اظہار خیال کیا ہو اور اگر کسی نے کچھ کہا بھی ہے تو وہ بالواسطہ یا بلاواسطہ آپ کے شاگردوں سے سنا ہے آپ نے فرمایا تمام وہ اشیاء جو مٹی میں پائی جاتی ہیں انسانی بدن میں موجود ہیں البتہ ان کی مقدار ایک جیسی نہیں ان میں سے بعض انسانی بدن میں زیادہ ہیں اوربعض کم ہیں ۔

وہ عناصر جو انسانی جسم میں پائے جاتے ہیں ان میں بھی مساوات نہیں ان میں سے بعض دوسروں کی نسبت بہت کم مقدار میں ہیں آپ نے فرمایا انسانی بدن میں چار چیزیں زیادہ اور آٹھ چیزیں ان سے کم مقدار میں ہیں اور آٹھ عناصر ایسے ہیں جو بہت ہی کم مقدار میں ہیں انسانی جسم کیعمارت کے بارے میں آپ کا یہ اظہار خیال کبھی کبھی انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ جیسا شیعوں کا عقیدہ ہے کہ امام جعفر صادق علم ااممت کے حامل ہیں اور اس نظریئے کو اپنے علم امامت کے ذریعے اخذ کیا ہے نہ کہ علم بشری کے ذریعے کیونکہ ہماری عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کہ ساڑھے بارہ سو سال پہلے ایک عام عالم انسان کے بارے میں اتنی معلومات رکھتا ہو لیکن کیا نابغہ روزگار شخصیات اور عام لوگوں میں یہ فرق نہیں ہے کہ ان کی عقل ایسی چیزیں اخذ کرنے پر قادر ہوتی ہے جن تک دوسرے لوگوں کو دسترس نہیں ہوتی اور ان کی آں کھ اسی علاقے میں ایسی چیزوں کا مشاہدہ کرتی ہے جو دوسروں کیلئے جہالت کی تاریکیاں ہوتی ہیں اگر یہ امتیاز نہ پایا جائے تو پھر بابغہ روزگار افراد اور عام عقل رکھنے والے لوگوں میں کیاتمیز باقی رہ جاتی ہے امام جعفر صادق اس لحاظ سے باغہ روزگار تھے کہ آپ کی عقل نے ان چیزوں کا ادارک کیا جن پر دوسرے لوگ قادر نہ تھے آ کی آں کھ نے ان چیزوں کو دیکھا جنہیں دوسرے لوگ نہ دیکھ سکے بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ تمام معلومات ہر شخص کے باطنی شعور میں موجود ہیں لیکن انسانوں کے ظاہری اور باطنی شعور کے درمیان ایک بڑا پردہ حائل ہے جو انسانوں کو ایک لا محدود عرصے تک ان کے باطنی شعور کا مطالعہ کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے اس طرح انسان باطنی شعور کی معلومات سیفائدہ نہیں اٹھا سکتا باغہ شخصیات اور عام لوگوں میں یہ فرق ہے کہ وہ ایک لا محدود عرصے تک اپنے باطنی شعور سے آگاہی رکھتے ہیں اور ان معلومات سے فائدہ اٹھاتے ہیں برگ سون کا کہنا ہے کہ ایک ایٹم جو کائنات کی تخلیق کے یا کرہ زمین کی تخلیق کے آغاز سے موجود ہے تمام کائنات کی معلومات رکھتا ہے اور اس طرح انسانی جسم سے خلیات اپنی تخلیق کے دن سے آج تک کی معلومات سے آگاہ ہے ایک لا محدود عرصے میں باطنی شعور تک پہنچنے کو برگ سون (فرانسیسی) نے زندگی کے بارے میں کھوج لگانے کا نام دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ بابغہ روزگار شخصیات عام لوگوں کی نسبت زیادہ تیزی سے زندگی کا کھوج لگا لیتے ہیں اور اپنے بدن میں موجود حافظے کے خلیات کی مدد سے معلومات حاصل کر لیتے ہیں ۔

عموما شیعوں کے عقیدے کے مطابق جعفر صادق علم امامت سے بہرور تھے یا عقلاء کے بقول اپنے باطنی شعور سے آگاہ تھے یا برگسن کے نظریئے کی بنا پر اپنی انسان کے بارے میں کھوج لگانے کی قوت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انسانی بدن کی ساخت کے متعلق ایسی باتیں کہی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اپنے زمانے کے لوگوں اور آپ کے بعد آنے والے زمانوں کے لوگوں میں آپ انسانی بدن کے علم میں انفرادی حیثیت کے حامل ہیں کیونکہ آج ساڑھے بارہ سو سال بعد ‘ جعفر صادق کا نظریہ علمی لحاظ سے ثابت ہو چکا ہے جس کی صحت اور درستی میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں صرف یہ کہ آپ نے انسانی جسم کے مواد کا نام نہیں لیا۔

یاد رہے کہ جعفر صادق نے فرمایا جو کچھ زمین میں موجود ہیانسانی جسم میں بھی پایا جاتا ہے اب تک زمین سے ایک سو دو عناصر دریافت ہو چکے ہیں اور یہی عناصر انسانی جسم میں بھی موجود ہیں لیکن جس میں ان میں بعض عناصر کی مقدار اس قدر کم ہے کہ ان تک اس مقدار کا تعین نہیں ہو سکا ۔ جعفر صادق صرف اس قول کہ جو کچھ انسانی جسم میں موجود ہے زمین میں بھی ہے کی بنا پر بابغہ روزگار شخصیت نہیں کہلا سکتے ۔ کیونکہ جس کسی کا یہ عقیدہ ہو کہ انسان خاک سے تخلیق شدہ ہے وہ یہ بات آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ جو کچھ انسانی جسم میں ہے وہ زمین میں بھی ہے ۔

لیکن آپ کے بابغہ ہونے کی دلیل آ کا قول ہے کہ جو کچھ زمین میں ہے وہ انسانی جسم میں بھیہے لیکن ان کا تناسب اس طرح ہے کہ چار حصے زیادہ مقدار میں اور اٹھ حصے ان سے کم مقدار میں اور پھر دوسرے آٹھ حصے پہلے آٹھ حصوں کی نسبت نہایت ہی کم مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔

جیا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ یہ نظریات ثابت ہو چکا ہے ۔

امم جعفر صادق کے بقول آٹھ حصے جو انسانی جسم میں بہت کم مقدار میں ہیں وہ یہ عناصر ہیں مولیبڈن ‘ سیلینیوم ‘ فلورین ‘ کوبالٹ ‘ میگانز‘ تانبا ‘ آیوڈین اور زنک وہ اٹھ عناصر جو انسانی بدن میں پہلے آٹھ عناصر کی نسبت زیادہ پائے جاتے ہیں مندرجہ ذیل ہیں میگنیشیم ‘ سوڈیم ‘ پوٹاشیم ‘ کیلشیم ‘ فاسفورس ‘ کلورین ‘ سلفر اور لوہا وہ چار عناصر جو انسانی بدن میں زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں وہ آکسیجن کاربن ہائیڈروجن اور نائٹروجن انسانی جسم میں ان عناصر کی شناخت کوئی ایک دن یا دو دن کا کام نہ تھا بلکہ اس کام کا آغاز اٹھارویں صدی عیسوی میں پوسٹ مارٹم کے زریعے ہوا اس کام کا سہرا دو قوموں ایک فرانسیسی اور دوسری اسٹرین کے سر ہے دوسرے ممالک میں پوسٹ مارٹم نہیں کیا جاتا تھا مگر شاذ و نادر ‘ مشرقی ممالک میں تو پوسٹ مارٹم کا سرے سے رواج نہ تھا اور یورپین ممالک میں آرتھوڈ کسی کیتھولکی اور پروٹسٹنٹ فرقے ‘ پوسٹ مارٹم کے سخت مخالف تھے ۔

آسٹریا اور فرانس میں کلیسا کے حکم کی پراہ کئے بغیر پوسٹ مارٹم کیا جاتا تھا بہر کیف مارا کے زمانے تک فرانس میں پوسٹ مارٹم کا عام رواج نہ تھا اور تقریبا خفیہ تھا ۔

"مارا" نے چند دوسرے فرانسیسی سائنس دانوں کی مدد سے جن میں لاودازیہ بھی شامل تھا جس کا سر گیوٹین کے ہمراہ ۱۸۹۴ ء میں قلم کر دیا گیا تھا اس نے بدن کے مختلف اعضاء کا تجزیہ کیا تاکہ یہ معلوم کرے کہ انسان کون کون سے عناصر سے مل کر بنا ہے "مارا " کے بعد اس کے شاگردوں نے اس کی تحقیق جاری رکھی اور پوسٹ مارٹم کے زریعے انسانی اعضاء کا تجزیہ کیا یہ تجزیہ پوری انیسویں کے دوران جاری رہا حتی کہ بیسویں صدی تک جاری تھا اس دوران اس تحقیق میں کافی وسعت پیدا ہوئی ۔

چونکہ اٹھارویں صدی عیسوی کے آغاز میں پوسٹ مارٹم صرف فرانس اور آسٹریا تک محدود تھا اس کے بعد دیگر یورپی ممالک اور دوسرے ممالک میں عام ہوا جبکہ اج ما سوائے چند ممالک کے جس میں میڈیکل کالج نہیں ہیں جہاں جہاں پوسٹ مارٹم عام ہے وہاں انسانی جسم جن عناصر سے مل کر بنا ہے ان ک بارے میں تحقیق ہوتی ہے پوسٹ مارٹم سے ویہ بات سامنے ائی ہے کہ دو مختلف مراکز کے پوسٹ مارٹم سے حاصل ہونے والے نتائج آپس میں کچھ زیادہ مختلف نہیں ہوتے بلکہ معمولی فرق کے ساتھ دونوں کے عناصر کی نسبت امام جعفر صادق کے قول کے عین مطابق ہوتی ہے بشرطیکہ دونوں پوسٹ مارٹم صحت مند انسانوں کے ہوں ۔

مثال کے طور پر تمام ممالک میں ہر صحت مند مرد و عورت جس کے جسم کا وزن پینتالیس کلو گرام ہے اس کے وزن میں ایک پاؤں کاربن ہوتی ہے اور جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ کاربن ان چار عناصر میں سے ایک ہے جو ہمارے جسم میں زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں اسی طرح پینتالیس کلو گرام وزن کے آدمی ۴ /۵ کلو گرام ہائیڈروجن ہوتی ہے ۔

لیکن اگر کوئی شخص کسی ایسی دائمی بیماری میں مبتلا ہو جس سے اس کے بدن کے عضلات ٹوٹ رہے ہوں یا بھوک کی وجہ سے اس کے عضلات ٹوٹ پھوٹ ہے ہوں تو اس کے بدن میں ہائیڈروجن کی مقدار کم ہو جاتی ہیبہر کیف تمام نسل انسانی چاہے وہ سفید فام یا سیاہ فام یا ریڈ انڈین یا دوسری مخلوط نسلوں کے انسان ہوں ‘ ان میں آکسیجن ‘ کاربن ‘ ہائیڈروجن اور نائٹروجن کی مقدار دوسرے عناصر سے زیادہ ہوتی ہے ان چار عناصر کے بعد دوسرے آٹھ عناصر جن کا ذکر اوپر آ چکا ہے کی مقدار مذکورہ چار عناصر سے کم ہوتی ہے اس کے علاوہ دوسری آٹھ عناصر کی مقدار بدن میں مزید کم ہوتی ہے یہ تناسب تمام صحت مند انسانوں میں براب ہوتا ہے چاہے وہ قطبی علاقوں کے باسی ہوں یا استوائی علاقوں کے رہنے والے ‘ بشرطیکہ جسم کا وزن اور عمر برابر ہو ۔ ایک سو پچاس سال یا اس سے زیادہ کے تجرابت اور ریسرچ نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ جعفر صادق کے انسانی جسم کو تشکیل دینے والے عناصر کے بارے میں نظریہ کی صحت میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔

ابھی اس تحقیق کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا انسانی بدن کے خلیات (چاہے مردہ ہوں یا زندہ ) میں وہ تمام اجزا پائے اجتے ہیں جو زمین میں موجود ہیں ۔

ابھی تک بعض عناصر عضلات یا ہڈیوں کے خلیات میں نہیں ملے لیکن گمان کیا جاتا ہے کہ یہ عناصر بدن میں موجود ہیں وہ ابھی تک اس لئے دریافت نہیں ہوئے کہ ان کی مقدار کم ہونے کی وجہ سے لیبارٹریز ان کے وجود کا پتہ نہیں لگا سکیں ۔

چونکہ چھوٹے چھوٹے اجسام میں پیشرفت ہو رہی ہے لہذا امید ہے کہ ایک دن ایسا بھی ائے گا کہ انسانی بدن کے تمام عناصر دریافت ہو جائیں گے اور یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ ہر عنصر جسم میں کس مقدار میں موجود ہے اور اس کا کام کیا ہے اور اس کی مقدار میں کمییا زیادتی سے جسم پر کیا اثر پڑتا ہے ؟

جعفر صادق کا شاگر د ابراہیم بن طھمان اور ایک قانونی مسئلہ

امام جعفر صادق کے شاگرد ابراہیم بن طھمان نے ایک نا اہل عباسی خلیفہ کی برطرفی کا تذکرہ کیا ہے ابراہیم کے علاوہ جعفر صادق کے کسی شاگرد نے یہ مسئلہ نہیں اٹھایا ۔

ابراہیم بن طہمان کے بقول ایک دن جعفر صادق کے حضور میں یہ مسئلہ پیش کیا گیا کہ اسلامی فقہ میں کوئی ایسی شق ہے جس کی بنا پر نا اہل خلیفہ کو خلافت سے ہٹایا جا سکتا ہے اور اگر کوئی ایسی شق نہیں تو کیا جعفر صادق کی طرف سے یہ شق اسلامی فقہ میں داخل نہیں کی جانے چاہیے ۔ ابن طہمان کی روایت نقل کرنے سے پہلے ہم یہ بتاتے ہیں کہ شیعہ اثنا عشری فقہ میں امام کو بر طرف کرنے کی شق مووجود نہیں کیونکہ امام کی نا اہلی کا مسئلہ ہر گزپیش نہیں ایا اور نہ آئے گا ۔

شیعوں کے عقیدے کے مطابق امام خداوند تعالی کی طرف سے منتخب ہوتا ہے اور معصوم ہوتا ہے امام کی اہلبیت میں کسی قسم کے شک و شبے کی گنجائش نہیں کیونکہ امام منصوص من اللہ ہوتاہے اور جو شخص منصوص من اللہ ہوتا ہے وہ ہر گز اپنی اہلیت نہیں کھوتا اور خدا کی طرف سے متعین ہونے کی بنا پر معصوم بھی ہے اور ہر گز گناہ کا مرتکب نہیں ہوتا اگرچہ اس کا جسم عام انسانوں کی مانند ہوتا ہے لیکن چونکہ مافوق الفطرت انسانی روح کا حامل ہوتاہے لہذا اس سے گناہ سر زد نہیں ہو سکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ شیعہ اثناء عشری فقہ میں کوئی ایسی شق نہیں جو امام کو بر طرف کرنے کا موجب بنے اس لئے کہ ایسی شق کے صادر کرنے کا موقع ہی نہیں آ سکتا چونکہ شیعہ مذہب میں امام عدل و انصا ف میں غلطی نہیں کرتا لہذا وہ بہترین قاضی ہے ۔

وہ اس لئے غلطی نہیں کرتا کہ عالم ہے اور عام انسانوں کی نسبت علم سے زیادہ اگاہ ہے لہذا جب کوئی شخص امام کے پاس کسی کی شکایت لے کر عدل و انصاف کیلئے حاضر ہوتا ہے اور جب مدعا علیہ کو بھی حاضر کیا جاتا ہے تو امام کو علم امامت سے علم ہوتا ہے کہ شاکی حق پر ہے یا نہیں ؟ کیا امام شکایت کرنے والے سے پہلے اس بات سے اگاہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ ظلم ہوا ہے یا نہیں ؟

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ امام کو اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہوتی کیونکہ امام کو ایسے موضوع کے متعلق کوئی علم نہیں ہوتا جس کے بارے میں وہ خود غورو فکر نہ کرے یا کوئی دوسرا اس کی توجہ اس موضوع کے بارے میں مبذول نہ کروائے ( یہ ایک باریک اور احتیاط طلب نکتہ ہے )

امام غلطی کرتا ہے نہ ہی گناہ اور چونکہ خداوند تعالی کی طرف سے منتخب ہوتا ہے لہذا امامت کیلئے سب سے مناسب انسان ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ شیعہ فقہ میں کوئی ایسی شق موجود نہیں جس میں امام کی امامت سے بر طرفی کا ذک ہو ۔

شیعوں کے نزدیک عباسی خلیفہ خدا کا برگزیدہ نہ تھا اور جیسا کہ ہم نے دیکھا ان خلیفوں میں سے بعض گناہ کے مرکتب ہوتے تھے کہ وہ علانیہ گناہ بھی کرتے تھے جعفر صادق کے شاگرد ابن طہمان کے بقول جعفر صادق کے شاگردوں نے غیر صالح خلیفہ کو برطرف کرنے کے بارے میں سوال اٹھایا اور کہا اگر اسلامی فقہ میں اس کے متعلق بھی درج نہیں تو اب اسے فقہ میں شامل کیا جانا چاہیے ۔ لیکن ابن طہمان کے بقول جعفر صادق نے اپنے ان شاگردوں کا مشورہ نظر انداز کرتے ہوئے غیر صالح خلیفہ کو بر طرف کرنے سے متعلق اسلامی فقہ میں کوئی شق شامل نہیں کی ۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ جعفر صادق نے اپنی بعض شاگردوں کے اس مشورے کو کیوں قبول نہیں کیا ۔ غیر صالح خلیفہ کی معزولی کیلئے اسلامی فقہ میں کوئی شق شامل کرنے پر توجہ کیوں نہیں دی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ نہیں چاہتے تھے کہ عباسی خلفاء کے خلاف اعلان جنگ کا آغاز کریں جس طرح حسن بن علی نے معاویہ کے ساتھ جنگ نہیں کی اور ان کے بعد زین العابدین اور محمد باقر نے اموی اور عباسی خلفاء کے خلاف محاذ جنگ نہیں کھولا ۔ اسی طرح جعفر صادق بھی عباسی خلفاء کے ساتھ جنگ نہیں کرنا چاہتے تھے جوں ہی آپ مذکورہ شق کو فقہ میں داخل کرتے تو آپ اور عباسی خلفاء کے درمیان جنگ شروع ہو جاتی جعفر صادق نہیں چاہتے تھے کہ مسلمانوں کے درمیان برادر کشیکی جنگ لڑی جائے اس بات سے قطع نظر کہ شیعہ امام کو ایک کامل اور معصوم انسان سمجھتے ہیں ۔ جعفر صادق اس شق فقہ میں اس لئے شامل نہیں کرنا چاہتے تھے کہ مسلمانوں کے درمیان برادر کشی کی جنگ کیلئے راہ ہموار نہ ہو جیسا کہ تاریخ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یونان کے سوا کسی دور میں اور کسی ملک کے آئین میں ۱۳۶۸ء تک کوئی ایسی شق موجود نہ تھی جو ایک غیر صالح حکمران کو معزول کرنیکا موجب بن سکتی ۔

قدیم یونان کے بعض شہریوں جن میں سے ایک آزاد ملک تھا قانون کے مطابق ایک غیر صالح حکمران کو جلا وطن کیا جاتا تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ ان ریاستوں میں جمہوری نظام حکومت تھا غیر صالح حکمران کو جلا وطن کرنے کیلئے قانون کی منظوری دینے والی پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت اسے معزول اور جلا وطن کرتی تھی قدیم روم کے قوانین میں جن میں چند مرتبہ تبدیلی وجود میں لائی گئی ہمیں کسی حاکم کو معزول کئے جانے کی سینٹ کی وساطت سے مثال دکھائی نہیں دیتی ۔ بعض اوقات بعض سینیٹر قدیم روم

میں حاکم وقت کی مخالفت کرتے تھے جن میں کاتون اصغر کا نام مشہور ہے جس نے قیصر روم کی سخت مخالفت کی اور آخر کار ۴۶ قبل مسیح میں خود کشی کر گیا لیکن کوئی ایسا مخصوص قانون نہیں بنا تھا جس کی مدد سے سینیٹر حضرات ‘ حاکم کو برطرف کرتے (جیسا کہ آج امریکہ کے ائین میں موجود ہے) عیسائی کیتھولکی کلیسا کے انیس سو سالہ دور میں کوئی ایک پوپ بھی ایسا نہیں گزرا جو کسی ایسے قانون کے ذریعے جو عیسائی کلیسا کی فقہ میں شامل ہو بر طرف کیا گیا ہو اب تک دو سو اسی پوپ کیتھولکی کلیسا کے تخت پر متمکن رہ چکے ہیں اور انیس سو سال کے دوران کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ ان میں سے کوئی ایک بھی عیسائیوں کی طرف سے کسی قانونی اقدام کے ذریعے معزول کیا گیا ہو ۔

اس طرح انہوں نے اوین یون شہر جو فرانس کے ملک میں واقع ہے میں سکونت اختیار کی لیکن ان کی کیتھولکی کلیسا کی سربراہی سے علیحدگی یا آوین یون میں سکونت کی وجہ یورپ کے کیبعض بادشاہوں سیان کی مخالفت تھی او ر کیتھولکی کلیسا کے قانونی اقدام کے نتیجے میں انہوں نے یہ قدم نہیں اٹھایا تھا کیتھولکی عیسائی پوپ کے ابرے میں وہی عقیدہ رکھتے تھے ۔ جو شیعہ اپنے آئمہ کے بارے میں رکھتے ہیں البتہ شیعہ اپنے آئمہ کے بارے میں وسیع تر عقیدہ رکھتے ہیں کیونکہ شیعہ اپنے آئمہ کو انسان سے بلند درجہ اعتقاد کرتے ہیں کیتھولکی عیسائیوں کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ جو کوئی بہتر ( ۷۲) کارڈینالوں کی طرف سے کیتھولکی مذہب کا سربراہ منتخب ہوتا ہے ہر لحاظ سے اس مقام کیلئے موزوں ہوتا ہے اور گناہ کا ارتکاب نہیں کرتا۔

مگریہ کہ ماضی میں شیطان کے دھوکے میں ا کر اس سے کوئی لغزش سر زد ہوئی ہو ۔ کیتھولکی کلیسا کی اصولی فقہ لکھنے والوں نے پوپ کو اپنے منصب سے بر طرف کرنے ولی شق کو نہ صرف یہ کہ اس عظیم مرتبے کی توہین قرار دیا بلکہ اسے عقل کے بھی خلاف شمار کیا ہے چونکہ ان کی عقل کے مطابق پوپ غیر صالح نہیں ہو سکتا کیونکہ بہتر خاص الخاص افراد پوپ کا چناؤ کرتے ہیں یونان اور قدیم روم میں چونکہ آئین ساز پارلیمنٹ کے ممبران لوگوں کی طرف سے منتخب ہوتے ہیں لہذا اس بات کا امکان ہے کہ غیر ائین ساز پارلیمنٹ کے ممبران لوگوں کی طرف سے منتخب ہوتے ہیں لہذا اس بات کا امکان ہے کہ غیر صالح اور عوام کو فریب دینے والے افراد آگے آئیں اور آئین ساز اسمبلی کے ممبر بن جائیں لیکن کارڈ ینال جو پوپ کا چناؤ کرتے ہیں وہ عوام میں سے نہیں ہوتے کہ عوام کو فریب دینے والے افراد کے جال میں پھنسیں ۔ دوسرا یہ کہ ایک پوپ کی موت اور دوسرے پوپ کے انتخاب میں کارڈینالوں کی طرف سے اتنی دیر نہیں کی جاتی کہ وہ کارڈینال جو حقیقی معنوں میں پوپ بننے کا اہل نہیں ہے پراپیگنڈہ کے ذریعے پوپ بن جائے جب کارڈینال جمع ہوتے ہیں تو تین چیزوں کو جدید پوپ کے انتخاب کا معیار قرار دیتے ہیں پہلا تقوی دوسرا علم تیسری جدوجہد پوپ کا مقام ایسا ہے کہ اس مرتبے پر کام کرنے والا شخص مصمم ارادے کا مالک ہوتا ہے کہ اپنے فائض بخوبی انجام دے سکے بعض کارڈنیال ایسے ہوتے تھے جو پوپ کی خصوصیات کے حامل ہوتے تھے لیکن اپنے سست مزاج کی بنا پر خود تقاضا کرتے تھے کہ انہیں کیتھولکیمذہب کی رہبری سے معاف رکھا جائے تجربات سے یہ بات ثابت ہے کہ کیتھولکی قانون سازوں کا یہ نظریہ کہ ایک کلیسا کے قانون میں کوئی ایسی شق نہیں ہونی چاہیے جس کی وجہ سے ایک غیر صالح پوپ کو معزول کیا جا سکے چونکہ ایک محدود دور میں ایک ةکصوص خاندان میں کیتھولکی کلیسا کی رہبری رہی ہے اور مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی غیر صالح پوپنہ تھا بعض پوپ زیادہ مذہبی تعصب رکھتے تھے اور بعض کم مذہبی تعصب رکھتے تھے ان میں سے بعض زیادہ فراخ دل تھے اور بعض کم ۔ پوپ حضرات کا ایک گروہ اول شب عبادت کرنے کو ترجیح دیتا تھا جب کہ ایک دوسرا گروہ آخر شب کو ترجیح دیتا تھا ان میں سے ایکگروہ بیٹھ کر کتاب کا مطالعہ کرنے کو ترجیح دیتا تھا ۔ بعض دوسرے چلتے ہوئے کتاب کا مطالعہ کرنے کو ترجیح دیتے تھے ۔ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے علاوہ خاص طور پر کسی ایک خاندان کے چند پوپ حضرات ( مذہبی رہبروں ) کو ایسا نہیں پا گیا جو کیتھولکی مذہبی کی رہبری کے لائق نہ ہوں کسی مخصوص خاندان کے چند پوپ حضرات کے علاوہ دوسرے پوپوں کی خصوصیات میں سے ایک یہ تھی اور ہے کہ وہ مال جمع کرنے کی فکر نہیں کرتے اور ان میں سے کوئی ایک بھی مادی لالچ نہیں رکھتا تھا جو کوشش و محنت دوسرے لوگ مال جمع کرنے میں کرتے ہیں وہ یہ لوگ کیتھولکی کلیسا کی بنیادیں مضبوط کرنے میں صرف کرتے ہیں انہوں نے کیتھولکی کلیسا کی بنیادیں مضبوط کرنے میں اتنی تگ و دو کی ہے کہ آج کلیسا دنیا کا امیر ترین انسٹی ٹیوٹ بن چکا ہے ۔

اگر یہ پوپ عام لوگوں کی طرح شادی کرنے کے مجاز ہوتے اور پھر ان کی اولاد ہوتی تو وہ اس کے مستقبل کی فکر میں لگ جاتے مگر چونکہ وہ اہل و عیال سے مبرا و منزہ ہوتے ہیں لہذا وہ کلیسا کی خوب خدمت کرتے ہیں ۔

جیسا کہ ہم نے تذکرہ کیا ہے کیتھولکی کلیسا کے رہبران ‘ صرف یورپ کے سلاطین کی ان سے مخالفت کے نتیجے میں ہی معزول ہوتے تھے بلکہ یہاں تک کہ یورپ کے سلاطین بھی انہیں بر طرف کرنے کے مجاز نہ تھے کیونکہ کیتھولکی کلیسا کی فقہ میں کوئی ایسی بات نہ تھی کہ ہو پوپوں کو بر طرف کر سکتے البتہ وہ پوپوں کو روم سے دور کر دیتے تھے ‘ یورپ کے بعض سلاطین کی پوپوں کے ساتھ مخالفت کی دو وجوہات تھیں ایک ان کے اثر و رسوخ کو لوگوں میں پھیلنے سے روکنا اور دوسرا کیتھولکی کلیسا کی دولت کو اپنے ہاتھ میں لینا ‘ کیونکہ قدیم زمانے میں کیتھولکی کلیسا کا شمار دنیاکے امیر ترین انسٹی ٹیوٹ میں ہوتا تھا ۔

قدیم یونان کی بعض جمہوریتوں کو چھوڑ کر ایک غیر صالح حکمران کو برطرف کرنے کا قانون ۱۳۶۸ ء میں انگلستان میں بنایا گیا اور پہلی مرتبہ ایم پیش من کا لفظ قانون میں داخل ہوا ۔ یہ لفظ جیسا کہ ہم جانتے ہیں انگریز زبان میں پہلے سے موجود تھا لیکن جن معنوں میں آج یہ انگلستان اور ریاست ہائے متحدہ امریکا کے آئین میں استعمال ہوتا ہے پہلے نہیں ہوتا تھا جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے کہ ایم پیش من کے معنی کسی پر شدید تنقید کرنے کے ہیں ۔ یہاں تک کہ اسے الزام لگا کر برطرف کر دیا جائے لیکن جو قانون انگلستان میں بن احکمران اس کی زد میں نہیں آتے تھے بلکہ صرف وہ لوگ جو اس کے ہمراہ کام کرتے تھے اور اس کے مشیر ہوتے تھے ‘ جن لوگوں نے قانون وضع کیا ان کا عقیدہ تھا یا انہوں نے یہ ظاہر کیا کہ ان کا عقیدہ ہے کہ حکمران ہر گز ایسا کام نہیں کرتا جو غلط اور قابل مواخزہ ہو اور چونکہ اس حاکم کے رفقا اور مشیر اسے غلط کام انجام دینے پر اکساتے ہیں لہذا انہیں ایم پیش من کی زد میں انا چاہیے ۔

جھلک عقائد شیعہ دربار معجزات جعفر صادق

چونکہ ہم جعفر صادق کی سوانح حیات رقم کر رہے ہیں تو اس ضمن میں ضروری ہے کہ آپکے معجزات کے بارے میں شیعوں کا عقیدہ بھی مختصرا بیان کیا جائے اگرچہ عام تاریخی نقطہ نگاہ سے یہ روایات قابل قبول نہیں لیکن منقول روایات کا جزو ضرور ہیں اور جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ کوئی مورخ اور محقق اگر عقل عام کا مخالف نہ ہو تو وہ منقول روایات کو تسلیم نہیں کرتا ۔

بہر کیف ‘ تحقیق کے حوالے سے ان کے معجزات کا مختصرا ذکر ناگزیر ہے

ہم آپ کے معجزات کا تذکرہ اختصار کے ساتھ درج کر رہے ہیں تاکہ ایک یورپی قاری ایسے بیسیوں غیر معمولی واقعات کو جنہیں عقل تسلیم نہ کرے پڑھے ۔

کیونکہ بہر کیف یورپی قاری چند واقعات کا مطالعہ کر ہی لیتا ہے جیسا کہ عیسی کی سوانح حیات کے ضمن میں ان کے دو یا تین معجزات کو پڑھتا ہے اور اگر عیسائی ہو تو ان معجزات پر یقین بھی کرتا ہے ۔

عیسی کی سوانح حیات کی تخلیق پر کام کرنے والوں میں سے ایک فرانسیکو گا بریلی ہے جو روم کی یونیورسٹی کا پروفیسر اور حضرت محمد کی سوانح حیات کا مصنف ہے یہ شخص کٹر عیسائی ہونے کے ناطے معتقد ہے کہ عیسی نے لازا روس کو اس کی موت کے تین دن بعد زندہ کیا تھا ۔

اسی لئے پیغمبر اسلام کی سوانح حیات کا یہ مصنف شیعوں کے امام جعفر صادق کے معجزات کے بارے میں تنقیدنہیں کرتا تمام قدیم مذاہب میں معجزے کا تصور ابد سے رہا ہے اور اگر کوئی ایسا شخص جو معجزہ نہ دکھا سکتا ہو اسے پیغمبر نہیں سمجھا جاتا تھا یعنی پیغمبر اور معجزے کو لازم و ملزوم خیال کیا جاتا تھا اٹھارویں صدی کے بعد جن لوگوں نے یورپ میں اور خصوصا امریکہ میں پیغمبر ی کا دعوی کیا ان سے کسی نے معجزہ نہیں طلب کیا ۔ اس بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اٹھارہویں صدی کے بعد پیغمبری کا دعوی کرنے والے لوگ گزرے ہوئے انبیاء کی نسبت زیادہ خوش قسمت تھے کیونکہ لوگ ان کی باتیں تو سنتے تھے لیکن ان سے کسی معجزے کی توقع نہیں رکھتے تھے ۔ یہاں اس نکتے کو مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ معجزہ ان مذاہب میں عام ہوا جو مغربی ایشیاء میں ظاہر ہوئے جبکہ مشرقی اور جنوبی ایشیاء میں معجزے نام کی کوئی اور شکل کی چیز موجود نہیں تھی قدیم ہندوستان جاپان اور چین میں نمودار ہونے والے مذاہب میں معجزے کا کوی وجود نہ تھا اور ان ادیان کے پیروکار اپنے پیغمبروں سے معجزے کی توقع نہیں رکھتے تھے یا یہ نہ کتے تھے کہ آپ معجزہ دکھائیں تو ہم اپ پر ایمان لائیں گے ۔ ایک فرانسیسی شخص رینان یورپین مفکرین میں سے وہ پہلا شخص تھا جس نے اس بات کی طرف دھیان دیا کہ مشرق اور جنوبی ایشیا کے مذاہب میں معجزے کا مسئلہ نہیں پایا جاتا جبکہ مغربی ایشیا کے مذاہب میں یہ مسئلہ موجود ہے رینان کا خیال ہے کہ مشرق اور جنوبیایشئا کے مذاہب کے پیروکار کی اپنے پیغمبروں سے معجزہ طلب نہ کرنے اور مغربی ایشیائکے مذہاب کے پیروکاروں کی اپنے پیغمبروں سے معجزہ طلب کرنے کی توجہ معاشروں میں فرق ہے چین جاپان اور ہندوستان میں گھریلو اور قومی سطح پر تربیت ایسی ہوتی تھی کہ یہ لوگ اپنے رہنماؤں اور پیغمبروں کی بات سنتے تھے اور اپنے پیغمبروں کو بر حق تسلیم کرنے کیلئے ان سے معجزے کی توقع نہیں رکھتے تھے ۔

لیکن مغربی ایشیاء کی اقوام کے خاندان یا قومی سطح پر ایسی تربیت نہیں ہوتی تھی اور یہ لوگ اپنے پیغمبروں کے پیغمبری رجحان کا اندازہ لگا کر ہی ان کی پیغمبر ی کو تسلیم کرتے تھے اسی وجہ سے وہ پیغمبر جنہوں نے مغربی ایشیاء میں ظہور کیا وہ معجزہ دکھانے پر بھی مجبورہوتے لیکن جاپان چین اور قدیم ہندوستان میں لوگ صرف پیغمبروں کے کلام اور وعظ و نصیحت سے ہی ان کی طرف کھنچے چلے جاتے تھے اور وہ پیغمبر جو جاپان چین اور ہندوستان میں ظاہر ہوئے تھے اج ان کا کلام ہمیں معمولی نظر آتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ حالیہ زمانوں میں ثقافت کی توسیع کے نتیجے میں ہر جگہ پر لوگوں کی فطری سطح بلند ہو گئی ہے اور لوگوں کی سوچ پہلے سے زیادہ ترقی پا گئیہے ہندو مذہب کی کتاب " رگ وید " کے مطالب آج ہماری نظر میں معمولی ہیں صرف کتاب کا اسلوب سادہ ہے اورآباد اولین کی لکھی ہوئی ہے وگرنہ اس کتاب کا مضمون ہمارے لئے کسی خاص اہمیت کا حامل نہیں لیکن ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ مارکس مولر ( ایک جرمنی ) کے بقول جو اس کتاب کا مترجم ہے سینکڑوں سال پہلے یا شاید اس سے بھی زیادہ یہ کتاب سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی تھی اور قدیم ندوستان کے روحانی پیشوا کتاب کے مضمون کو جو پچاسی ہزار الفاظ پر مشتمل ہے زبانی یا د کرتے تھے اور دوسرے کیلئے بیان کرتے تھے تاکہ وہ بھی حفظ کرے لے ہندوستان کے انسان کی چار ہزار سال پہلے کی معلومات اور سوچ کی سطح کچھ زیادہ بلند نہیں ہوتی تھی ۔ اسی لئے اس کتاب کے مضامین اس پر اثر کرتے تھے ۔ لہذا یہ ضروری تھا ۔

کہ یہ کتاب جس قدر سادہ ہوبہتر ہے تاکہ سنے والوں پر اثر کرے ۔ مثال کے طور پر صبح کے وقت سورج کے طور ع ہونے کی تعریف " رگ وید " میں اس قدر سادہ بیان کی گئی ہے کہ یوں لگتا ہے یہ مضمون پرائمری سکول کے بچوں کی کتابوں سے اقتباس کیا گیا ہے اسی طرح دریا میں پانی کا چلنا اور درختوں کی شاخوں کا ہوا کے چلنے سے حرکت کرنا اس قدر سادگی سے لکھے گئے ہیں کہ یوں لگتا ہے جیسے یہ مضامین کسی ابتدائی سکول کے بچوں کیلئے رقم کئے گئے ہیں اور بے شک اسی سادگی کے نتیجے میں اس کتاب نے کئی ہزار سال پہلے لوگوں کے ذہن پر اثر کیا اور آجہم ان مضامین کو ماکس مولر کے ترجمے کے ساتھ پڑھتے ہیں تو ہمیں اسے سمجھنے میں ذرا بھی دشواری پیش نہیں آتی ۔ رینان کہتا ہے کہ جاپان چین اور ہندوستان کے لوگ اہل مناظر تھے یعنی فطرت کے شاہکاروں پر گہری نظر رکھتے تھے ۔ جبکہ مغربی ایشئا کے لوگ اتنی گہری نظر نہیں رکھتے تھے اور اہل مناظر بھی نہیں تھے کہ نظارے کے ذریعے کوئی چیز کشف کرتے وہ لوگ صرف مادی احساسات کے حامل تھے اس کے علاہ کسی دوسری چیز سے واقف نہ تھے ۔

ایسے تاریخی شواہد موجود ہیں جن کے ذریعے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ عبرانی لوگ جن کے درمیان حضرت موسی پیغمبر نا کر بھیجے گئے اور فلسطینی لوگ جن میں دین عیسی نے ظہور کیا اور اسی طرح جزیرہ عرب کے لوگ جہاں اسلام پھیلا ‘ یہ تمام کے تمام مادی نقطہ نگاہ رکھتے تھے اور مادی جذبات سے بڑھ کر کسی چیز کو خاطر میں نہیں لاتے تھے ۔ ان میں صرف اعراب ایسے تھے جنہیں ادب کے ساتھ لگاؤ تھا اور شعر پسند کرتے تھے اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ روحانی لحاظ سے بہت برتر تھے جبکہ دوسری اقوام کی سوچ کا دائرہ کھانے اور سونے تک محدود تھا ۔ رینا ن کہتا ہے کہ مختلف قرائن جو ہمیں اس بات کی نشاندہی کرواتے ہیں کہ اعراب کی فکری سطح عبرانیوں اور فلسطینیوں سے بلند تھی ان میں سے ایک قرینہ یہ ہے کہ قرآن میں علم کا تذکرہ کیا گیا ہے لیکن تمام عہد نامہ عتیق میں اس کے ضمیموں کے سوا علم کے بارے میں کوئی تذکرہ نہیں ملتا بہر کیف قرآن میں نیکو کاروں کی پاداش کا وعدہ دوسرے جہان میں کیا گیا ہے جس میں انسان کو کھانے پینے کی اشیاء اور دوسری جسمانی لذتیں میسر ائیں گی کیونکہ عربی بدو کسی دوسرے صلے کو سمجھنے سے قاصر تھے جب قومیں اس قدر محدود مادی سوچ و فکر رکھتی ہوں تو ان کیلئے ایسے پیغمبر کا وجود نا گزیر ہے جو معجزہ دکھا سکیں تاکہ لوگ ان کیطرف مائل ہوں لہذا اسی لئے جب موس اور عیسی نے پیغمبری کا دعوی کای تو انہیں اپنی پیغمبری ثابت کرنے کیلئے لوگوں کو معجزات دکھانے پڑے ۔ لیکن پیغمبر اسلام کو اس طرح کی کوئی مجبوری پیش نہیں آئی کیونکہ عربی بدوؤں نے کسی حد تک عالم روحانی سے آشنا ہونے کی وجہ سے محمد سے معجزہ طلب نہیں کیا۔ آج ایک روشن خیال شیعہ امام جعفر صادق سے معجزہ طلب نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ آپ کا سب سے بڑا معجزہ آپ کا علم ہے جو زہد و تقوی سے اراستہ ہے ۔

جیسا کہ ہمیں معلوم ہے رینان ایک عیسائی ہے لہذا ہم عیسی کی دیانت کینسبت اس کے مخلصانہ عقیدے پر کوئی شک نہیں کر سکتے ۔ جس کی دلیل رینان کی وہ کتاب ہے جس میں اس نے عیسی کی سوانح حیات کو مفصل پیرائے میں رقم کیا ہے یہ کتاب اب ویٹیکن میں موجود ہے اور ویٹیکن نے اپنی تمام مذہبی یورنیورسٹیوں کو حکم نامہ جاری کیا کہ اس کتاب کو پڑھا کر اس سے بھر پور فائدہ اٹھایا جائے ۔ عیسائی کیتھولکی کلیسا میں یہ بات کم ہی دیکھنے میں آئی ہے کہ عیسی کی دیانت کے متعلق مذہبی رہنما کے علاوہ کسی اور شخص نے کوئی کتاب لکھی ہو جسے کیتھولکی کلیسا کی تنظیم نے منظوری کے بعد اپنی مذبی درسگاہوں میں اسے پڑھنے کی تاکید کی ہو ۔

لہذا اس بنا پر ہم رینان کو اس بات کا ملزم نہیں ٹھہراسکتے کہ اس نے اپنی مذہبی کتابوں کی اہمیت کو کم کرنے کی کوش کی ہے اگرچہ جو کچھ و کہتا ہے عہد عتیق کے بارے میں ہے اور عہد نامہ عتیق عبرانیوں کی کتاب ہے کہ عیسائیوں کی کتب صرف چار انجیلیں ہیں جن کا مجموعہ عہد نامہ جدید کہلاتا ہے رنان کے بقول جب عبرانی علماء نے اس پر غورکیا کہ عہد عتیق میں کسی قسم کی علمی بحث موجود نہیں لہذا انہوں نے مزید کتابیں لکھنے اور اس کو عہد عتیق میں شامل کرنے کی طرف توجہ کی ۔ تاکہ علمی نقطہ نگاہ سے اس کی اہمیت میں اضافہ ہو یہ کتابیں اصلی عہد عتیق کو جو پانچ کتابوں پر مشتمل ہے کے علاوہ ہیں رینان مشرقی اور جنوبی ایشیا اور اسی علاقے کے مغربی مذاہب میں معجزے کے مسئلے کے بارے میں بحث کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ ایشیا کے مغربی مذاہب معجزے کے بغیر فروغ نہیں پاتے تھے کیونکہ لوگوں کی فکری سطح اس قدر بلند نہ تھی کہ صرف پیغمبر کا کلام سن کر اس کے گرویدہ ہو جاتے اور اس کے دن کو قبول کر لیتے ۔

لیکن رینان اس موضوع کے بارے میں خاموش ہے کہ کیا مغربی ایشیاء کے مذاہب لانے والے پیعمبر جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے معجزہ دکھا سکتے تھے یا نہیں وہ اس پر غور نہیں کرتا کہ اعجاز کا عقلی اور منطقی لحاظ سے تجزیہ کرے وہ اپنی خاموشی سے یہ ظاہر کرتا ہے کہ اعجاز کو بطور عبادت قبول کرنا چاہیے ۔

لیکن قدیم زمانے میں ‘ اسی سبب سے جس کا اوپر ذکر آیا ہے ‘ لوگ امام سے معجزی کی توقع رکھتے تھے اور بعض روایات کے مطابق جعفر صادق نے بھی کئی معجزے دکھائے ہیں ایسی ہی روایات کے ایک راوی ابن عطبہ سے مروی ہے کہ ہم جعفر صادق کے ہمراہ کوہ صفا کے سامنے کھری تھے اور ایک طرف سے خانہ کعبہ دکھائی دیتا تھا ہم میں سے ایک شخص نے جعفر صادق سے مخاطب ہو کر کہا کیا یہ درست ہے کہ آپ نے فرمایا ہے ایک مسلمان مون اس خانہ کعبہ (خانہ کعبہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) سے بہتر ہے امام جعفر صادق نے فرمایا ‘ ہاں یہ بات درست ہے کیونکہ ایک مسلمان مومن کی خداوند تعالی کے نزدیک اتنی قدر و منزلت ہے کہ اگر وہ اس پہاڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئیکہے کہ اے پہاڑ میرے قریب ا تو یہ پہاڑ قریب آ جائے گا ۔ جونہی آپ کے لب مبارک سے یہ الفاظ نکلے ہم نے دیکھا کہ پہاڑے نے حرکت کی اور ہمارے قریب آ گیا ‘ جعفر صادق نے پہاڑ سے مخاطب ہو کر کہا میں نہیں چاہتا تھا کہ تو نزدیک آیے اس پر وہ پہاڑ ایک گرج دار آواز کے ساتھ واپس ہوا اور واپس اپنی جگہ پر کھڑا ہو کر پہلے کی طرحساکن ہو گیا اس سے قبل کہ آپ کے تمام معجزات کا تذکرہ کریں ( جن پر شیعوں کا ایمان ہے ) تاکہ آپ کے معجزات کا شیعوں کی آنکھ کے دریچے سے تحلیل و تجزیہ کر سکیں ‘ یہ بات بتاتے چلیں کہ جعفر صادق مسلمان رہنماؤں میں سے وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو علم کے ذریعے خدا وند تعالی کی معرفت دلانے کی جانبت توجہ مبذول کی ۔

آپ نے لوگوں کو خداوند تعالی کی معرفت دلانے کیلئے نہ صرف احکام دین پر اکتفا کیا بلکہ لوگوں کو علم سے روشناس کرانے کی ہر ممکن سعی کی تاکہ لوگ جس دنیا میں رہ رہے ہیں اس کے متعلق ان کی معلومات میں اضافہ ہو ۔ اور دنیاوی حقائق کو جان کر اس بات کے قائل ہوں کہ کسی دانا نے اس دنیا کو پیدا کیا ہے اور وہی اس دنیا کو مستقل قوانین کے ذریعے چلا رہا ہے آپ جانتے تھے کہ ایک محدود اور نادان سوچ ‘ ایک محدود اور ناداں خدا کی ہی پوجا کر سکتی ہے اور جتنا اس کا ایمان مضبوط ہو گا خدا کے بارے میں اس کا عقیدہ بھی اتنا ہی بلند اور مضبوط ہو گا کیونکہ خدا کے بارے میں ایک دانشمند اور مفکر شخص کا عقیدہ ایک نادان سے کہیں زیادہ بلند اور مضبوط ہوتا ہے ۔

جعفر صادق نے فرمایا وہ لوگ جو خداوند تعالی کا انکار کرتے ہیں یا وہ لوگ جنہیں اس بارے میں شک و شبہ ہے دونوں جا ہل ہیں کیونکہ جو شخص عالم ہو گا محال ہے کہ وہ خداوند تعالی کے وجود کا قائل نہ ہو کیونکہ علم محدود نہیں لہذا جتنا کسی کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے اسے خدا کی پہچان اتنی زیادہ ہونے لگتی ہے ‘ جعفر صادق نے فرمایا خداوند تعالی کو نہ صرف بنی نوع انسان پہچانتے ہیں بلکہ کائنات کی تمام مخلوقات خداوند تعالی کی عبادت کرتی ہے مختصر یہ کہ جس طرح ایک نادان اور دانا کی خدائی شناخت میں فرق ہے اسی طرح کائنات کی مختلف مخلوقات کی بھی خدائی پہچان میں فرق ہے البتہ کائنات کا ہر گروہ خدا و ند تعالی کے بارے میں مساوی معرفت رکھتا ہے

اس نظریہ کی بنیاد پر جانور اور حتی کہ نباتات بھی خدا کی معرفت رکھتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ ان کا معیار معرفت توحید پرست انسانوں جیسا ہو ۔

جعفر صادق نے فرمایا کہ خداوند تعالی کا انکار جہالت کی علامت ہے اور عالم ضرور خداوند تعالی پر ایمان رکھتا ہے اگرچہ وہ خالق کیلئے خدا کے علاوہ اور کسی نام کا انتخاب کر لیتا ہے اسی طرح جس طرح جعفر صادق نے درک کیا ‘ دنیاکی مختلف اقوام نے خدا کیلئے جن ناموں کا انتخاب کیا ہے یا کر رہے ہیں ان میں فرق ہے لیکن انسان ہر گز خداوند تعالی پر ایمان سے بری نہیں ہو سکتا حتی کہ جو خداوند تعالی کے وجود کے منکر بھی کسی دوسری چیز پر ایمان رکھتے ہیں جو ان کی نظر میں خدا ہوتی ہے اگرچہ خود انہیں اس بات کا شعور نہ ہو جو لیس اشترایخر ایک معروف نازی اسبات پر فخر کرتا ہے کہ خداوند تعالی پر ایمان نہیں رکھتا جبکہ وہ اسبات سے غافل ہے کہ وہ خدا کا معتقد ہے اور پرنیپ الاصل (نسل برتر ہونا ) اس کا خدا ہے اور انسان جب پہلی مرتبہ اسمانی بجلی کی آواز سنتا ہے تو کانپتا ہے اور غار کی طرف دوڑتا ہے اور سورج و چاند و ستاروں کی پرستش کرتا ہے جبکہ توحیدپرست مذاہب کے ماننے والے خدائے واحد کی پرستش کرتے ہیں جب سے یہ دنیا وجود میں آئی ہے اسی وقت سے لے کر اج تک مشرق و مغرب کے تمام مذاہب ایک لحاظ سے ایک دوسرے کی شبیہہ تھے اور ہیں اور یہ کہ تمام کے تمام ایک اصل کے معتقد ہیں گزرے ہوئے زمانے ای آج کیدنیا میں خداوند تعالی پر ایمان مادی شکل میں نہیں تھا اور نہ ہی ممکن ہے کہ خداوند تعالی پر عقیدے سے بعض افراد کے مادی مفادات وابستہ ہوں لیکن خود یہ عقیدہ اصل (خالص ) ہے ۔

اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ جس طرح انسان ایک ملین سال پہلے چار ہاتھ اور پاؤں سے چلتا تھا اور اس کی عمر میں وہ مرحلہ ہر گز نہ اتا تھا کہ اس کے دانت خراب ہو جاتے اس وقت بھی اسے خدا پر عقیدے کی ضرورت تھی اور اج کا انسان جو چاند پر پہنچ چکا ہے اسے بھی خدا پر ایمان لانے کی ضرورت ہے ۔

المختصر یہ کہ ہر قوم کیلئے خدا مختلف قسم کا ہے اور بعض قوموں میں لوگوں کے ہر گروہ یا ہر شخص کیلئے خدا کی قسم جداگانہ ہے لیکن کوئی بھی ایسا انسان نہیں جو خدا پر

ایمان نہ رکھتا ہو اگرچہ مادہ پرستوں کی طرح اس کے خدا کی نہ ابتدا ہو اور نہ انتہا ۔ جب قوموں یا افراد کے عقیدے کے مطابق خداوند تعالی کا جدید ترین نام جو اس زمانے میں رکھا گیا ہے گریویڈ ہے یہ لفظ فرانسیسی زبان کے گراوینہ اور انگریز کے لفظ گرویٹی سے لیا گیا ہے یعنی قوت جاذبہ جس طرح الیکتر ان کو برقی توانائی کا ایک ذرہ خیال کیاجاتا ہے اسی طرح گریویٹین ‘ کو بھی کشش کی قوت کا ایک ذرہ مانا جاتا ہے اور جدید مذہبی فرقے (گریویٹی) کے حامیوں کا کہنا ہے کہ دنیا کا خدا جو اس کائنات کو پیدا کرنے والا اور اس کا محافظ ہے وہ گریویٹین ہے کیونکہ کائنات میں گریویٹین سے زیادہ طاقتور اور تیز رفتار کوئی چیز نہیں اور گریویٹین ایک سیکنڈ میں کائنات کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچتا ہے اور پھر واپس آتا ہے جس کا فاصلہ بقول آئن سٹائن تین ہزار ملین نوری سال ہے جبکہ آج معلوم ہو چکا ہے کہ یہ فاصلہ اس سے بھی زیادہ ہے جبکہ برقی مقناطیسی طاقت یعینی ریڈیو و ٹیلی ویژن کی قوت اسی فاصلیکو چھ ہزار ملین نوری سال میں طے کرتیہے ‘ جو لوگ گریویٹی مذہب کے پیروکار ہیں ان کیلئے کائنات کا خالق اور اس کا نظام چلانے والا گریوٹین ہے اور وہ لوگ جو امام جعفر صادق کے زمانے میں دھریئے تھے وہ دھر کو دنیا کا خالق اور نظام چلانے والا سمجھتے تھے خدا کے دین اسلام پر ایمان نہیں لائے تھے کیونکہ اسلام کے اصول دین پر ان کا عقیدہ نہ تھا وہ لوگ جو اج گرویٹی مذہب کے پیرو کار ہیں وہ عیسائی مذہب کے خدا کی عبادت نہیں کرتے کیونکہ وہ تثیث کے مقلد نہیں ہیں لیکن وہ دھریہ خدا پرست تھا جس طرح گریویٹی مذہب کا یہ پیروکار خدا پرست ہے اگر ہم خدا کے لحاظ سے دھریئے کے دھر پر عقیدے کا گریویٹی مذہب کے گریوٹین سے موازنہ کرں تو معلوم ہو گا کہ شناخت کے لحاظ سے گریوٹین کو خدا ماننے والا دھریئے کی نسبت برتر ہے کیونکہ وہ اپنے خدا کو دھریئے کے خدا کی نسبت بہتر سمجھتا ہے جو شخص آج گریویٹین کو خدا سمجھتا ہے اس کا عقیدہ ہے کہ گرویٹین کماز کم اس نظام شمسی میں سب سے طاقتور اور تیز رفتار قوت ہے ( چونکہ اج تک تجربات سے یہ بات ثابت نہیں ہو سکی کہ قوت جاذبہ نظام شمسی سے باہر عمل کرتی یا نہیں یہ قوت ایک لمحے میں نظام شمسی کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جا پہنچتی ہے اور پھر واپس لوٹ آتی ہے اور کوئی چیز اس کا راستہ نہیں روک سکتی ۔ یہ قوت سورج کے سینے کو چیر کر اسی طرح پار چلی جاتی ہے (جس کا درجہ ۲۰ ملین درجے سے بھی زیادہ ہے) جس طرح یہ ستاروں کے درمیانی فاصلوں کو جہاں پر درجہ حرارت مطلق صفر ہوتا ہے عبور کرتی ہے کسی آلے کے ذریعے اس گریوٹین کا استہ تو تبدیل کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈالی جا سکتی ۔ اور گریویٹین جس طرح لوہے کی دیوار سے گزرتی ہے اسی طرح شیشے کی دیوار بھی عبور کر لیتی ہے گریویٹین انسانی خون کے ہر ذرے میں موجود ہے جس طرح سورج اور نظام شمسی کے دوسرے تمام کرہ جات میں موجود ہے اس بات کا وی امکان ہے کہ یہ قوت دوسرے نظام شمسی اور دوسری کہکشاؤں میں بھی پائی جاتی ہو ۔ جو لوگ اس بات کے معتقد ہیں کہ گریوٹین خدا ہے وہ اس بات سے اگاہ ہیں چونکہ گریوٹین نہایت تیز رفتار ہے لہذا یہ ہر وقت دنیا کے ہر کونے میں موجود ہے اور کائنات کی مخلوقات پر اس کی حفاظت کا کم (از کم نظام شمسی پر ) اتنا گہرا اثر ہے کہ اگر قوت جاذبہ ایک لمحے کیلئے معطل ہو جائے تو نہ صرف اجسام کے مالیکیول ایکدوسرے سے جدا ہو جائیں گے بلکہ ہر مالیکیول کے اندر پائے جانے ولے ایٹم بھی ایک دوسرے سے کٹ جائیں گے اور اس طرح الیکٹران بھی اپنی مرکز سے جدا ہو جائیں گے ‘ جس کے نتیجے میں وہ مادہ جو ٹھوس یا مائع یا گیس کی حالت میں موجود ہے فنا ہو جائے گا بلکہ سادہ الاظ میں یوں کہیں کہ یہ دنیا جو موجودہ شکل میں نظر ا رہی ہے کم از کم نظام شمسی میں باقی نہیں رہے گی یہ کام صرف ایک سیکنڈ میں مکمل ہوجائے گا اور کوئی بھی المیہ اس کائنات میں اسے بڑا نہیں کہ قوت تجاذب ایک سیکنڈکیلئے قطع ہو جائے کیونکہ توانائی کی بقا کا انحصار قوت جاذبہ پر ہے جن لوگوں کا گرویٹین کے خدا ہونے پر اعتقاد ہے انہیں اس بات کا علم ہے کہ مادہ قوت جاذبہ کے بغیرہ باقی نہیں ہر سکتا جس طرح توانائی اسکے بغیر باقی رہ سکتی انیں اس بات کا علم نہیں کہ گریویٹین کیاہے ؟ جس طرح انہیں اس بات کا بھی علم نہیں کہ برقی توانائی کیا ہے ؟ لیکن چونکہ برقی قوت سے فائدہ اٹھاتا ہے لہذا اس پر ایمان رکھتا ہے اسی طرح گرویٹین پر بھی ایمان رکھتا ہے جو لوگ گرویوٹین کو خدا مانتے ہیں انہیں تجاذب کے قانون کا علم ہے جبکہ جو لو گ ساڑھے بارہ سو سال پہلے دھر کو خدا سمجھتے تھے وہ دھر کے اصلی قانون سے واقف نہ تھے اور صرف جذبات کی حد تک آگاہی رکھتے تھے مثلا موسموں کی تبدیلی وغیرہ آج جو لوگ گریویٹین کو اس کائنات کا خالق اور نظام چلانے والا خیال کرتے ہیں انہیں اس بات کا بخوبی علم ہیکہ مادے اور توانائی کا راز گرویوٹین میں ہے اور اگر کوئی یہ جاننا چاہے کہ مادہ اور توانائی کیسے وجود میں ائے ہیں تو اسے سب سے پہلے گریویٹین کے بارے میں جاننا چاہے کژہ یہ کیا ہے ؟ اور کیسے وجود میں آیا ہے ؟

اگر یہ راز معلوم ہو جائے تو مادہ اور توانائی کے وہ تمام راز جو پرانے زمانے میں جسم اور روح کہلاتے تھے ظاہر ہو جائیں گے یونانی حکماء نے حرکت پر روح کا اضافہ کیا اس کے بعد مادہ یا جسم کا راز ایک ہی ہو گیا اور روح و حرکت کا راز ایک ہی ہو گیا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ گریوٹی مذہب کے پیروکاروں کے عقیدے کے مطابق گریوٹین خود خداوند ہے یا یہ کہ قوت جاذبہ کائنات کی سب سے بڑی قوت ہے ممکن ہے فزکس کے لحاظ سے ( نہ کہ مذہبی لحاظ سے ) یہ بات حقیقت پر مبنی نہ ہو ۔ سادہ الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ فزکس قوت جاذبہ کو کائنات کی سب سے بڑی قوت سمجھتی ہے لیکن چونکہ بنی نوع انسان نظام شمسی سے باہر فزکس کے قوانین سے اچھی طرح مطلع نہیں ہے لہذا یقین سے یہ بات نہیں کہی جا سکتی کہ قوت جاذبہ کائنات کی سب سے بڑی قوت ہے اور کائنات کو تخلیق کرنے والی واحد قوت شمار کیجاتی ہے اور دوسری تمام قوتیں اس قوت کی پیدوار ہیں شاید ایک دن انسان دوسرے نظام ہائے شمسی کے قوانین فزکس تک رسائی حاصل کرے اور یہ نتیجہ نکالے کہ قوت جازبہ فروعی کائنات کی قوتوں میں سے ایک ہے اور اصلی قوت کوئی اور ہے اور شاید اسی طرح ایک دن ایسا آئے کہ تمام قوانین فزکس بنی نوع انسان کو ایک منفی یا مثبت فلم (پکچر ) نظر انے لگیں جو آج ہمیں نظر نہیں آتا اور فزکس کا ہر قانون مضاعف ہے کہ دو قوانین میں سے ہر ایک دوسرے قانون کا سایہ یا عکس شمار کیا جاتا ہے اور ہم اپنی دنیا میں ان دو میں سے ایک کو دیکھتے ہیں اور دوسرا جو شاید فلم کا اصلی نسخہ ہے وہ نہیں دیکھ پاتے ۔

اس بات کو ذہن میں لانا ضد مادہ کی تلاش ہے اور یہ وہ مادہ ہے جس کے ایٹموں میں الیکٹرانوں پر مثبت چارج اور پروٹانوں پر جو ایٹم کے اندر پائے جاتے ہیں منفی چارج ہے آج تک کسی کو یہ بات معلوم نہیں کہ جو عناصر ضد مادہ سے وجد میں ائے ہیں (اگر وجود میں آئے ہوں ) وہ کون سے ہیں اور ان کے طبعیاتی اور کیمیائی خواص کیا ہیں ۔ چونکہ جب ضد مادہ کے ایٹم پر غور کیا گیا تو یہ سوال اٹھا کہ شاید ایک اور قسم کا ایٹم موجود ہو کہ جس کے ایٹموں کی اقسام پر برقی بار کسی اور شکل میں ہو ۔ اس کے باوجود کہ ہمارے نظام شمسی میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ قوت جاذبہ دوسری قوتوں کی نسبت برتر ہے پھر بھی ہم یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ کیا قوت جاذبہ سب سے بڑی قوت اور اس کائنات کی اصل قوت ہے یا فروعی قوت ہے ؟ گریویٹی مذہب کے پیروکار جو گریوٹن کو اس کائنات کا خدا مانتے ہیں ان کی دانائی خدائی عقیدے کے لحاظ سے ان دھریوں کی نسبت زیادہ ہے جو جعفر صادق کے زمانے میں پائے جاتے تھے اور دھر کو خدا سمجھتے تھے اگر چہ آخر میں معلوم ہوا کہ جو لوگ گریویٹی مذہب کے پیروکار ہیں انہوں نے قدیم دھریوں کی مانند غلطی کی ہے اور خدا نہ تو گریوٹین ہے اور نہ دھر جن لوگوں نے آج گریویٹن کو خدا مانا ہے انہوں نے قدیم دھریوں کی نسبت زیادہ جدوجہد کی ہے شید یہ کہا جائے کہ جو لوگ آج گریویٹی مذہب کے پیرو کار ہیں انہوں نے خدا کی معرفت حاصل کرنے کیلئے خود جدوجہد نہیں کی بلکہ دوسروں کی جدوجہد کی وجہ سے انہوں نے گریویٹن کو پہچانا ہے یعنی اہل علم حضرات نے اس ضمن میں تکلیف اٹھائی ہے اگرچہ وہ خود اس کو خدا نہیں سمجھتے لیکن اس سے گراویٹی مذہب کے پیروکاروں کے عقیدے پر کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ انسان یا تو اپنی جدوجہد سے خد کو پہچانتا ہے یا دوسروں کی کوششوں کو بروئے کار لاتا ہے محقق کا مطمع نظریہ ہے کہ علم حاصل کرنا خدا کی معرفت حاصل کرنے میں مدد کرتا ہے اور آدمی اپنی محنت سے علم حاصل کرتا ہے یا پھر دوسروں سے کسب فیض کرتا ہے اور نوابغ روزگار شخصیتیں جو علم کو کشف کرتی ہیں ان کے علاوہ دورے تمام عام افراد دوسروں سے علم حاصل کرتے ہیں جس طرح جعفر صادق اپنے زمانے میں ایک نابغہ شخصیت تھے اور شیعہ اور دوسرے اسلامی فرقوں کے پیروکار آ سے علم حاصل کرتے تھے جعفر صادق نے شیعہ مذہب کی ثقافت کی بنیاد صرف ایمان پر نہیں رکھی بلکہ علم کو شیعہ مذہب کی ثقافت کا ایک طاقتور رکن قرار دیا ۔ انہوں نے جس طرح شیعہ مذہب کی بقا کی بنیاد رکھی وہ ان کا ایمان تھا اور ان کے ایمان کی دلیل یہ ہے کہ زندگی کے آخری دن تک درس و تدریس میں مشغول رہے اور وہ علوم جنہیں وہ جانتے تھے ۔ بلامعاوضہ دوسروں کو سکھاتے تھے ۔ وہ نہ صرف یہ کہ مفت تعلیم دیتے تھے بلکہ اپنے مال سے ان شاگردوں میں سے ان افراد کی مالی مدد بھی کرتے تھے ۔ جنہیں اس کی ضرورت ہوتی تھی اور کسی شاگرد کو اس بات کا علم بھی نہ ہوتا تھا کہ اپ نے فلاں کی مالی مدد کی ہے آپ اپنی رقم سے کتاب خریدتے تھے اور شاگردوں کے حوالے کر دیتے تھے اگر کتبا کا ایک نسخہ ہوتا اور یہ کتاب تمام شاگردوں نے پڑھنی ہوتی تو آپ چند کا تبوں کو معاوضہ دے کر مزید نسخوں کیصورت میں تیار کر لیتے تھے اور جب ہم نے ابن راوندی کا تذکرہ کیا تو ہم نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ کاتب کس طرح ایک کتاب کے قلیل مدت میں کئی نسخے تیار کر لیتے تھے چونکہ جعفر صادق کے حلقہ درس میں ایسے علوم پڑھائے جاتے تھے جو اس سے پہلے مسلمانوں میں رائج نہ تھے اور دوسری قوموں نے ان علوم پر کتابیں لکھی تھیں اب ضرورت اس بات کی تھی کہ یہ کتابیں عربی میں ترجمہ کی جائیں تاکہ وہ طالب علم جو دوسری زبانوں سے آشنا نہیں ہیں ان کتابوں سے فائدہ اٹھا سکیں ۔ یہ بات بعید نہیں ہے کہ دوسری زبانوں میں لکھی گئی کتابوں کے ترجمے کی عربی زبان میں تحریک دوسری صدی ہجری میں بغداد میں اپنے عروج

کو پہنچی اور عباسی خلفاء کو بھی اس کا شوق پیدا ہوا بعض مترجمین جنہیں نہایت بے دردی سے قتل کیا گیا وہ جعفر صادق کے حلقہ درس سے تعلق رکھتے تھے ۔

جعفر صادق کے حلقہ درس میں علوم کے قوانین کو سمجھنے کیلئے تجربات بھی بروئے کار لائے جاتے تھے ۔ ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اس عظیم سائنس دان کے حلقہ درس میں ج کی بڑی بڑی لیبارٹریز کی مانند کوئی لیبارٹری ہو گی اور وہاں پر فزکس اور کیمیا کے قوانین کو عملا آزمایا جاتا ہو گا جعفر صادق کی لیبارٹری اس زمانے کے لحاظ سے موزوں تھی اور لابتہ اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ اس عظیم سائنس دان نے علوم میں نہ صرف تھیوری پر اکتفا کیا بلکہ حتی الامکان تجربہ بھی کیا ہم نے دیکھا کہ جعفر صادق کو علم تھا کہ ہوا ایک عنصر نہیں ہے اور تجربے کے بغیر یہ بات سمجھنا بعید نظر آتا ہے ۔ شیعہ جعفر صادق کے تمام علوم پر یامان رکھتے ہیں کیونکہ وہ جعفر صادق کو امام مانتے ہیں اور نا کا عقیدہ ہے کہ آپ علم امامت کے ذریعے تمام علوم سے آگاہ تھے اور اسی بنا پر جعفر صادق کا کوئی معجزہ شیعوں کے لئے اجنبی نہیں ہے اور وہ تمام معجزات جو شیعہ مورخین نے جعفر صادق کی نسبت رقم کئے ہیں شیعہ انہیں بغیر کسی حیل و حجت کے قبول کرتے ہیں لیکن ایک غیر جانبدار مورخ ہر علمی نکتے یا معجزے پر اعتراض کرتا ہے اور دلیل و برہان کے بغیر کسی بات کو قبول نہیں کرتا جب ایک غیر جانبدار مورخ سنتا ہے کہ جعفر صادق نے فرمایا ہوا ایک بڑا عنصر نہیں بلکہ یہ چند عناصر پر مشتمل ہے اور ان میں سے ایک عنصر ایسا ہے جس کی وجہ سے اشیا جلتی ہیں اور یہ عنصر بعض چیزوں کو آلودہ بھی کرتا ہے تو لا محالہ اس مورخ کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ آپ نے کس طرح اس بات کو درک کر لیا تھا ۔ جعفر صاد ق کا معجزہ یہ نہ تھا کہ اپ نے پہاڑ کو حرکت دی (کیونکہ عقلی لحاظ سے یہ بات قابل قبول نہیں ) بلکہ ا کا اعجاز یہ ہے کہ آپ نے ساڑھے بارہ سو سال پہلے ہوا میں آکسیجن دریافت کر لی تھی اور یہ بھی معلوم کر لیا تھا کہ پانی میں ایسی چیز ہے جو جلتی ہیاور اسی جہ سے فرمایا کہ پانی اگ میں تبدیل ہو سکتا ہے جن لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک پیغمبر کا سب سے بہتر اعجاز اس کا کلام ہے ان کی یہ باتبے بنیاد نہیں ہے چونکہ آج ہم تاریخ میں پڑھتے ہیں کہ جعفر صادق کو ہ صفا کو حرکت دی اور کوہ صفا آپ کے نزدیک آیا اور پھر دور ہٹ گیا ہم اس روایت پر یقین نہیں کر سکتے کہ جعفر صادق نے یہ معجزہ کیاہو گا لیکن جب ہم سنتے ہیں کہ آپ نے دوسری صدی ہجری کے پہلے پچاس سالوں کے دوران آکسیجن اور ہائیڈروجن کی (پانی میں ) موجودگی کا پتہ چلا لیاتھا تو ہم دلی طور پر اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اعجاز ہے کہا جاتا ہے ‘ کہ جعفر صادق نے اپنے والد کی جو ایک سائنس دان تھے کے ذریعے پانی میں ہائیڈروجن کا پتہ چلا لیا تھا جس کے بعد ا خود بھی اس بات کو سمجھ گئے تھے کہ ہوا میں اکسجن ہے ‘ ہمیں افسوس ہے کہ ہمیں معلوم نہیں کہ وہ آکسیجن اور خالص ہائیڈروجن حاصل کر سکے یا نہیں ؟

بظاہر خالص ہائیڈروجن اور خالص آکسیجن لازم و ملزوم ہیں لیکن خالص ہائیڈروجن کو حاصل کرنا خالص آکسیجن سے کہیں زیادہ مشکل ہے کیونکہ اکسیجن خالص حالت میں فضا میں ملتی ہے لیکن خاصل ہائیڈروجن نہیں پائی جاتی ۔ اسی وجہ سے حالیہ زمانوں میں جب تک پانی کا تجزیہ نہیں کیا جا سکا ۔ خالص ہائیڈروجن ہاتھ نہیں آئی‘ یہاں پر انسان حیران رہ جاتا ہے کہ جعفر صادق نے اپنے والد سے مل کر کیسے ہائیڈروجن گیس کا پتہ چلا لیا جو دنیا میں خالص حالت میں نہیں پائی جاتی اور نہ ہی اس کا رنگ ‘ بو ‘ ذائقہ ہے ۔ جعفر صادق یا آ کے والد گرامی پانی کے علاوہ کسی اور جگہ اسے نہیں پا سکتے تھے اور پانی کا تجزیہ کئے بغیر اسے نہیں پہچان سکتے تھے ۔ پانی کا تجزیہ بھی بجلی سے فائدہ اٹھائے بغیر نا ممکن ہے اور کیا ان دونوں میں سے ایک نے بجلی کو پانی کے تجزیئے کیلئے استعمال کیا تھا ؟ یہ بات بھی قابل قبول نہیں ہے جدید زمانے میں سب سے پہلے ایک انگریز ہنری کا و اندیش نے ہائیڈروجن کو پانی سے جدا کرنے میں کامیابی حاصل کی اس کی وات ۱۸۱۰ عیسوی میں ہوئی اس نے کئی سال پانی کی برقی پاشیدگی کرنے کی کوشش کی اور جب اسے ہائیڈروجن ہاتھ آئی تو اس نے اس کا نام بھڑکنے والی گیس رکھا اور پہلی مرتبہ جب یہ گیس بھڑک اٹھی تو قریب تھا کہ یہ شخص خود اور اس کا گھر دونوں جل جائیں ۔ کاواندیش ۲۷ مئی ۱۷۶۶ عیسوی میں ہائیڈروجن سے بھری ہوئے ایک سلنڈری کے زندیک ایک شعلہ لایا جس کی وجہ سے وہ سلنڈر فورا بھڑک اٹھا اور پھٹ گیا ۔ اور چاروں طرف آگ پھیل گئی اس انگریز سائنس دان کے ہاتھ اور کسی حد تک چہرہ بھی جل گیا اور اگر اس کی آواز پر اس کے گھر والے نہ دوڑتے اور آگ نہ بجھاتے تو گھر اور گھر کا سارا سامان چل جاتا اس انگریس سائنس دان نے دو وجوہات کی بنا پر اس گیس کا نما بھڑکنے والی گیس رکھا ہے ۔

پہلی یہ کہ اسے ایک تلچ تجربے کے ذریعے معلوم ہو گیا تھا کہ یہ گیس بھڑک اٹھتی ہے اور دوسری یہ کہ قدیم لوگوں کا خیال تھا کہ پانی مائع ہوا ہے انہوں نے دیھکا تھا کہ جب پانی کو حرارت ملتی ہے تو بخارات میں تبدیل ہو کر اڑ جاتا ہے انہوں نے یہ بھی دیکھا تھا کہ پانی آسمان سے بارش کی صورت میں برستا ہے لہذا انہوں نے خیال کای کہ پانی ‘ مائع ہوا کے علاوہ کوئی چیز نہیں یہی وجہ تھی کاواندیش نے اس گیس کا نام بھڑک اٹھنے والی ہوا رکھا ۔

لیکن جعفر اصدق کے زمانے میں بجلی سے صرف کھیلنے کی حد تک فائدہ اٹھایا جاسکتا تھا یعنی جس طرح پتھروں کو آس میں رگڑ کر آگ پیدا کی جاتی ہے اور ایک ریشمی کپڑے کو اس کے نزدیک رکھ کر جلایا جاتا ہے ۔

کیا جعفر اصدق یا آپ کے والد گرامی نے ہائیڈروجن کو پانی سے علیحدہ کرنے کیلئے کوئی ایسا ذریعہ ڈھونڈ نکالا تھا جس سے سائنس دان اب تک بے خبر ہیں ؟اور انہوں نے بجلی کے علاوہ کسی اور ذریعے سے ہائیئڈروجن کو پانی سے جدا کر لیا تھا ؟ جب سے کاوندیش نے پہلی مرتبہ ہائیڈروجن کو بجلی کے ذریعے پانیس ے جدا کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے اس دن سے آج تک ہائیڈروجن کو بجلی کے علاوہ کسی اور ذریعے سے پانی سے علیحدہ نہیں کیا جا سکا ۔

حالیہ چند سالوں میں جب کہ زمینی فضا خاصی آَودہ ہے امریکہ میں اس بات پر توجہ دی جا رہی ہے کہ ہائیڈروجن کو توانائی کی کمیدور کرنے کیلئے کام میں لایا جائے لیکن برقی پاشیدگی کے علاوہ کسی اور ذریعے سے اسے حاصل کیا جائے ۔

اسی بنا پر شائد محمد باقر یا ان کے فرزند جعفر صادق نے ہائیڈروجن کے وجود کو برقی پاشیدگی کے ذریعے معلوم کیا ہو اور اس کے ذریعے پانی اک تجزیہ کر لیا ہو یا پھر ایسا طریقہ اختیار کیا ہو جس سے سائنس دان ابھی تک خالص ہائیڈروجن ابھی تک حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے کیونکہ فلسفے کے ذریعے جعفر اصدق یا ان کے والد گرامی ہائیڈروجن کا وجود نہیں معلوم کر سکتے تھے ۔

یونانی اب دمیں اور مسلمان قوموں کے ادب میں نظم و نثر میں " آگ لگانے والا پانی " جیسے مضامین ملتے ہیں لیکن اس معنی میں نہیں کہ پانی اگ کی خاصیت رکھتا ہے بلکہ شراب کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے کیونکہ شراب ‘ شرابی کو گرم کرتی ہے کسی بھی زمانے میں کسی فلسفی سے نہیں سنا گیا کہ اس نے کہا ہو کہ پانی ‘ آگ پیدا کرتا ہے اور صرف جعفر صادق کے بعد ہی یہ مضمون بعض حکماء اور عرفاء سے سنا گیا ہے اور صاف ظاہر ہے کہ انہوں نے یا تو جعفر صادق سے نقل کیا ہے یا ان کے شاگردوں سے ۔

جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ گذشتہ زمانوں میں بعض ایسے افراد ہو گزرے ہیں جنہوں نے اپنی کوشش سے بعض علمی رازوں پر سے پردے اٹھائے لیکن ان کی یہ ایجادات بعد میں آنے والی نسلوں تک نہیں پہنچ سکیں کیونکہ جو کچھ انہوں نے معلوم کیا تھا اسے کتابی صورت میں نہ لکھا تھا کہ بعد میں انے والی نسلوں کیلئے باقی رہ سکتا ان کی موت کے بعد ان کی کاوشوں کا کوئی نتیجہ نہ نکلا ان میں سے بعض نے اپنی ایجادات کو جان بوجھ کر دوسروں تک نہیں پہنچایا کہ کہیں یہ علم غیر صالح افراد کے ہاتھوں تک نہ پہنچ جائے اور ایسا نہ ہو کہ اسے لوگوں کو آزار پہنچانے کیلئے استعمال میں لائین ۔ اموات نامی کتاب میں جو بنی نوع انسان کی قدیم ترین کتابوں میں سے ایک ہے اور مصر میں لکھی گئی ہے یہ ساری کتاب موجود نہیں بلکہ اس کے کچھ حصے باقی ہیں اس میں یہ تاکید کی گئی ہے کہ علم کو غیر صالح افراد کو نہ سکھائیں کیونکہ اس سے وہ خداؤں اور لوگوں کو نقصان پہنچائیں گے مشہور چینی فلسفی کنیفیوش جو ۴۷۶ عیسوی میں ۷۲ سال کی عمر میں فوت ہوا اور جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ وہ سرکاری ملازم اور اخلاقی معلم تھا اور آج بھی اس کی اخلاقی تعلیمات چین میں خاصی اہمیت کی حامل سمجھتی جاتی ہیں اور اس کی کتابیں چھپتی ہیں اس نے تاکید کی ہے ۔

کہ بعض علمی اسرار جن سے لوگوں کونقصان پہنچایا جا سکتا ہے مکار لوگوں کو نہ سکھائیں کیونکہ ممکن ہے وہ اسے لوگوں کو نقصان پہنچانے کیلئے استعمال میں لائیں اس اخلاقی معلوم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دوسرے کے ساتھ اس طرح پیش آئیں جس طرح اپ دوسروں سے اچھا سلوک کرنے کی امید رکھتے ہیں اس عظیم فلسفی کا خیال ہے کہ بعض علمی رازوں کا غیر صالح افراد کے ہاتھوں پہنچنا خطر ناک ہے حتی کہ بعض تصوف و عرفان کے فرقوں میں کچھ ایسی باتوں کو جنہیں راز خیال کیا جاتا تھا بعض مریدوں کو نہیں سکھایا جاتا تھا اور اب جب کہ بحثوں اور عرفان و تصوف کی غور و فکر میں ایسی طبیعاتی قوتیں موجود نہیں جن کی وجہ سے غیر صالح افراد کے ہاتھوں میں پہنچ جائیں اور لوگوں کیلئے خطرے کا باعث بن سکیں بہر کیف مذکورہ فرقوں میں اقطاب کی طرف سے بعض رازوں کو مخفی رکھنا واجبات میں سے تھا تاکہ یہ راز نا اہل ہاتھوں میں نہ پہنچ پائیں تصوف کے بعض فرقوں میں تعلیم و تربیت کے سات مراحل تھے جب کوئی مرید ان سات مراحل سے گزرتا تھا پھر قطب یا سر پرست اسے عبض اسرار و رموز سے آگاہی حاصل کرنے کا اہل سمجھتا یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ یہ راز فزکس ‘ کمیسٹری ‘ یا میکانکس کے قوانین کے راز نہ تھے کہ کوئی معاشرے کو نقصان پہنچانے اور خود فائدہ اٹھانے کیلئے استعمال میں لا سکتا ہے یہ صرف نظریات ہوتے تھے جنہیں مرشد نا اہل افراد تک پہنچنے کو اجتماعی یا اخلاقی لحاظ سے خطرناک سمجھتا تھا ۔

جو کچھ اوپر ذکر کیا گیا ہے کیا س کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جعفر صادق نے بجلی استعمال کئے بعیر پانی سے خالص ہائیڈروجن حاصل کی ہو اور اس راز کو نا اہل ہاتھوں میں پہنچنے سے بچانے کیلئے اس کو فاش نہ کیاہو ؟

عموما مسلمانوں اور خصوصا شیعوں کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ بعض ایسے اسرار و رموز تھے جن سے پیغمبر اسلام اور شیعوں کے بارہ امام آگاہ تھے لیکن انہوں نے ان سے اس لے پردہ نہیں اٹھایا کہ اس سے معاشرے کے نظم و ضبط کا شیرازہ بکھر جائے گا یا یہ کہ یہ اسرار نا اہل افراد کے ہاتھوں میں پہنچ جائیں گے اور وہ اسے لوگوں کو تکلیف پہنچانے اور معاشرے کا نظم و ضبط تہ و بالا کرنے کیلئے بروئے کار لائیں گے ۔

اگر جعفر صادق ہائیڈروجن کے حصول کیلئے پانی کی پاشیدگی یا تجزیئے سے اگاہ تھے اور انہوں نے اس کا اظہار نہیں کای تو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک اچھا کام کیا ہے کیونکہ بجائے اس کے کہ ہائیڈروجن کو پانی سے جدا کرکے انسانی فلاح و بہبود کے کاموں میں لایا جاتا اسے ہائیڈروجن بم بنانے کے لئے استعمال میں لایا جانے لگا ہے اور یہ اسلحہ موت کی مانند بنی نوع انسان کے سر پر لٹک رہا ہے نا معلوم کب یہ پھٹ پڑے اور بنی نوع انسان کو صفحہ ہستی سے مٹا دے اگر ہائیڈروجن دریافت نہ ہوتیتو یہ آفت بنی نوعی انسان کے سر پر نہ لٹکتی ۔

نظریہ روشنی

امام جعفر صادق کے علمی کمالات سے ایک ان کا نظریہ روشنی بھی ہے آپ نے فرمایا ہے کہ روشںی چیز کی طرف سے انسانی آں کھوں میں اتی ہے وہ روشنی جو اشیاء سے ہماری انکھوں کی طرف آتی ہے اس کا صرف کچھ حصہ ہماری آنکھوں میں چمک پیدا کرتا ہے جس کی وجہ سے ہم دور کی اشیاء کو اچھی طرح نہیں دیکھ سکتے اگر وہ تمام روشنی جو ایک دور کی چیز سے ہماری آنکھوں کی طرف آئے اور پتلی تک پہنچ پائے تو ہم دور کی چیز کو نزدیک سے دیکھ سکیں گے اور اگر کوئی ایس آلہ بنایا جائے جو ایک چیز سے خارج ہونے والی تمام روشنی کو آنکھوں کی پتلی تک پہنچا سکے تو ہم نہایت دور سے بھی اس چیز کو باسانی دیکھ سکیں گے ۔

یہ تھیوری جعفر صادق کے شاگردوں کے ذریعے ارد گرد کے علاقوں تک پہنچی ا ور جب صلیبی جنگوں میں مشرق اور یورپ میں رابطہ بڑھا تو یہ تھیوری یورپ منتقل ہو گئی اور یورپ کی یوونیورسٹٹیوں سے پڑھائی جانے لگی انگلستا ن کی آکسفورڈ یونیورسٹی کا مشہور استاد اجر بیکن بھی اس تھیوری وکو پڑھاتا تھا ۔

اس کی روشنی کی تھیوری وہی ہے جو جعفر صادق نے پیش کی تھی اس نے جعفر صادق کی مانند اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم ایساآلہ بنا سکیں جو دور کی تمام اشیاء کی روشنی ہماری آنکھوں تک پہنچا سکے تو ہم ان چیزوں کو پچاس گنا زیادہ قریب دیکھ سکتے ہیں ۔

بعد میں ۱۶۰۸ ء کے دوران ایک فلینڈی لبپرشی نے اس نظریئے کی روشنی میں دنیا کی سب سے پہلی دور بین ایجاد کی پھر اسی دوربین کو دیکھتے ہوئے فلیلیو نے فلیکی دوربین ایجاد کی وہ اپنی فلکی دور بین کو ۱۶۱۰ ء عیسوی میں کام میں لایا اور اس نے اس دور بین سے سات جنوری کی رات کو آسمان پر ستارے کا مشاہدہ کیا جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں فلامنڈی موجود کے دور بین بنانے اور گلیلیو کے دوربین بنانے کے درمیان کل عرصہ تقریبا دو سال ہے اور چونکہ گلیلیو نے اپنی دوربین ۱۶۱۰ کے پہلے مہینے میں استعمال کرنا شروع کی لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ دو سال سے بھی کم عرصہ ہے لہذا یہ بعید نہیں کہ ہر دو موجودوں کو ایک ہی موقع پر فلی دوربین بنانے کا خیال آیا ہو لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ گلیلیو نے فلا منڈی موجود کی تقلید کیا ور جو نقائص اس کی دور بین میں پائے جاتے تھے انہیں اس زمانے کی ٹیکنیک کی حد تک درست کیا اور سات جنوری کی رات کو اس نے اس دوربین کا افتتاح کیا ۔

گلیلیو جو پاڈو یونیورسٹی اکتعلیم یافتہ تھا جو پاٹا دیوم(ملک) میں واقع ہے جو بعد میں وینٹے کے نام سے موسوم ہوا اور اج اس کی کرسی کو وینیز کہا جاتا ہے اور مشرق میں پاٹا دیوم یا وینٹے بندوقیہ کے نام سے مشہور تھا ۔

گلیلیو جو پاڈو جیسی مشہور یونیورسٹی اک تعلیم یافتہ تھا اسی ملک میں ریاضی کا استاد بنا اس نے جب پہلی مرتبہ اپنی دور بین سے چاند کا نظارہ کیا تو یہ دیکھ کر مبہوت رہ گیا کہ چاند میں بھی زمین کی مانند پہاڑوں کے سلسلے ہیں اور اس نے دیکھا کہ چاند ک یہ پہاڑی سلسلے چاند کے صحراؤں پر سایہ ڈالتے ہیں اس سے اسے اندازہ ہواکہ جہاں صرف ہماری زمین ہی نہیں بلکہ چاند بھی ایک جہان ہے ۔

اگر جعفر صادق روشنی کا نظریہ نہ پیش کرتے تو کیا فلا ماند کا باسی لیپرسی اور گلیلیو ‘ لفکی دور بین تیار کر سکتے تھے اور گلیلیو نظام شمسی کے سیاوں کا آسانی سے مشاہدہ کر سکتا ہے اور اپنے مشاہدات کے ذریعے کو پرنیک وکپلرکا مشہور نظرہ کہ نظام شمسی کے سیارے زمین سمیت سورج کے گرد گھوم رہے ہیں کہ تصدیق کر سکتا تھا ؟

گلیلیو کی فلی دور بین نے لوگوں میں اتنا جوش و خروش پیدا کیا کہ وینیز کے سینیٹرز ‘ حتی کہ وہاں کا صدر بھی اس فلکی دور بین سے نظام شمسی کے سیاروں کو دیکھنے کیلئے بے تاب ہو گیا اور گلیلیو اپنی دور بین کو پاڈو سے اٹھا کر وینیز شہر میں لایا اور اسے ایک کلیسا کی چھت پر نصب کیا بوڑھے بوڑھے سینٹرز کو پکڑ کر چھت پر پہنچایا گیا تاکہ رات ہونے پر وہ چاند اور ستاروں کو دیکھ سکیں جب گلیلیو سے سوال کیا جاتا تھا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ اس کی دور بین آسمانی سیاروں کو اتنا قریب کر دیتی ہے کہ اس سے چاند کے پہاڑوں کا نظارہ بھی ہو سکتا ہے تو وہ امام جعفرصادق کی تیھوری کو دہراتے ہوئے کہتا تھا کہ یہ دوربین اس تمام روشنی کو جو آسمانی سیاروں سے ہماری آنکھ تک پہنچتی ہیجمع کرتی ہے جس کے نتیجے میں جو فاصلہ تین ہزار قدم ہوتا ہے وہ گھٹ کر ساٹھ قدم رہ جاتا ہے ۔

جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ گلیلیو کی اس ایجاد کے بعد عطارد ‘ زہرہ اور مشتری کے چاند آنکھ دے دیکھے گئے تو اس کا کوپر نیک اور کپلر کے نظریئے پر کیا اثر پڑا ۔

اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ مشہور حکیم اور مشہور مشائی فلسفے کا عالم ارسطو اور اسکے بعد بطلیموس جو ارسطو کے پانچ سو سال بعد آیا انہوں نے علم نجوم کو اٹھارہ سو سال پیچھے دھکیل دیا یعنی تیسری صدی قبل مسیح سے ندرھویں صدی عیسوی تکاس علم میں کوئی پیشرفت نہ ہوئی ارلیس تا و خوس جیسے جید حکما کا کہنا تھا کہ زمین اپنے محور کے گرد گردش کرتی ہے اور یہ سورج کے ارد گرد بھی گھومتی ہے زمین کی اپنے محور کے گرد گردش سے دن و رات وجود ہی آتے ہیں اور اس کے سورج کے گرد گردش سے ہر سالبھر کے موسم وجود میں آتے ہیں ۔

ارسطو ایک عظیم مفکر اور فلسفی تھا اس کی کتابیں ‘ گانے اور فزکس انسانی ثقافت کی زندہ جاوید کتبایں سمار ہوتی ہیں لیکن بیت کے بارے میں جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے کہ اس شعبے میں انسان کئی صدیوں تک کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نہ دے سکااور ہم نہایت حیرت سے یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ علم ہیت کے اس زوال کا ذمہ دار ارسطو ہے اگر وہ یہ نہ کہتا کہ زمین ساکن ہے اور سورج اور ستارے زمین کے گرد گردش کر رہے ہیں تو وہ عظیم علمی تحریک جو یورپ میں جدید علمی دور میں شروع ہوئی کم از کم پہلی صدی عیسوی سے ہی شروع ہو چکی ہوتی ہمیں یہ بات معلوم ہونا چاہیے کہماڈرن علمی دور کی تحریک جو آج تک جاری ہے اس کا آغاز پولینڈ کے کوپر نیک نے کیا جس نے کہا کہ زمین ‘ سورج کے ارد گرد گھموتی ہے اورا س کے بعد کپلر نے جو جرمن تھا اس علمی تحریک کو زمین سمیت دوسرے سیاروں کی سورج کے گرد حرکت کو بحسن و خوبی ثابت کرکے اس علمی تحریک کو خاصی قوت بخشی اگر یہ تین اشخاص پیدا نہ ہوتے اور چالیس ہزار آٹھ سو سالہ انسان کا زمین کے ساکن ہونے اور سورج کا اس کے گرد گردش کرنے کا نظریہ اس کے دماغ سے نہ نکالتے تو دکارت ہرگز پیدا نہ ہوتا جس نے جدید علمی تحقیقات کی بنیاد ڈالی ۔

وہ بھی دوسرے سائند دانوں کی مانند کو پر نیک کے آنے تک ارسطو کے پیدا کئے ہوئے ظَمت کدے میں رہ رہا تھا جب گلیلیو نے پہلی مرتبہ اپنی فلکی دور بین سے ۱۶۱۰ ء عیسوی میں اسمان کا نظارہ کیا دکارت اس وقت چودہ سالہ لڑکا تھا وہ کو پر نیک کپلر اور گلیلیو کے بغیر اپنے آ کو جہالت کی تاریکی سے نکال کر جدید عصر کی علمی تحقیق کی بنیاد نہ رکھ سکتا تھا جیسا کہ ہمیں معلوم ہے علم زنجیروں کی کڑیوں کی مانند ہے علم کی ایک کڑی دوسری سے ملتی ہے اور اس طرح ایک دوسرا علم وجود میں آتا ہے۔

زمین اور دوسرے سیاروں کا سورج کے گرد حرکت نہ کرنے پر مشتمل انسانی جہالت کا نظریہ جو ارسطو نے پیش کیا اس کی وجہ سے انسان اٹھارہ صدیوں تک علمی فضا میں پرواز کرنے سے رکا رہا اور ارسطو کا اثر و رسوخ بھیا س قدر زیادہ تھا کہ کسی کو اس کے نظریئے کو باطل ثابت کرنے کی جرات بھی نہ ہوئی ۔

ارسطو کے نظریئے کو دو اور محرکات نے بھی تقویت پہنچائی پہلا محرک یہ کہ مشحور مصری جغرافیہ دان بطلیموس جو ارسطو کے پانچ سو سال بعددنیا میں آیا نے اس کے نظریہ پر مہر تصدیق ثبت کیا ور سیاروں کی حرکت کے بارے میں ایک نظریہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیارے ایسی چیزوں کے گرد گردش کرتے ہیں جو متحرک ہیں اور وہ چیزیں زمین کے گرد گھومتی ہیں ہیں لیکن زمین بذات خود ساکن ہے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بطلیموس نے زمین کے ارد گرد سیاروں کی گردش کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور کہا کہ وہ سیارے ایسی چیزوں کیگرد گھومتے ہیں جو باری باری ساکن زمین کے گرد گھومتی ہیں جس محرک نے ارسطو کے نظریئے کو مزید تقویت بخشی وہ یورپ کے کلیسا کی جانب سے ارسطو کے نظریئے کی صحت پر مہر ثبت کرنا تھا اور ارسطو کے نظریئے کی حمایت میں کہا گیا کہ اگر زمین ساکن نہ ہوتی اور کائنات کا مرکز نہ ہوتی تو خدا کا بیٹا حضرت عیسی ہر گز اس میں ظہور نہ کرتا ۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر کو پر نیک ‘ کپلر اور گلیلیو دنیا میں نہ آتے تو بھی دکارٹ جدید علمی تحقیق کی بنیاد رکھ دیتا اور اس کے بعد بھی اتنی علمی ترقی ہوتی کہ علم موجودہ ترقی سے ہم کنار ہو جاتا لیکن موجودہ دور کے سائنس دان اس بات سے متف نہیں ہیں انگلستا ن کا مشہور فزکس دان اونیگٹن جو ۷۵ سال کی عمر میں ۱۹۴۴ میں فوت ہوا جس کسی نے فزکس پر کام کیا ہے وہ اونیگٹن کے نام سے بخوبی آشنا ہے اسے معلوم ہے کہ اونیگٹن نے اس صدی میں فزکس پر نمایا کام کیا ہے کا قول ہے کہ ارسطو کا یہ نظریہ کہ زمین ساکن اور کائنات کا مرکز ہے اور سورج و ستاروں زمین کے گرد گھومتے ہیں سولہویں صدی تک یہ نظریہ ایک بوجھل جسم کی مانند ‘ علم پر پڑا ہوا تھا جس سے علم کیلئے سانس لینا بھی دشوار تھا اور اگر یہ بھار علم کے اوپر سے نہ ہٹتا اور علم کیلئے سانس لینے کا راستہ ہموار نہ ہوتا تو کوئی بھی موجود ہ علمی پیش رفت انسان کو نصیب نہ ہوتی مشرق کے سائنس دانوں اور مصنفین میں سے بعض ایسے ہیں جو یہی نظریہ رکھتے ہیں ان میں سے ایک ہندوستانی چاترجی کا کہنا ہے کہ اگر بنی نوع انسان زمین کی اپنے ارد گرد اور سورج کے ارد گرد حرکت کا پتہ نہ لگاتا تو یہ اسی طرح جہالتمیں گرفتار رہتا اور جدید دور کی علمی کامیابیوں سے ہر گز ہمکنار نہ ہوتا ۔

جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ عیسائی کلیسا نے ارسطو اور بطلیموس کے اس نظریئے کی کہ زمین ساکن اور کائنات کا مرکز ہے تصدیق کی کیونکہ کلیسا کے نظریئے کی بنیاد پر اگر زمین ساکن اور کائنات کا مرکز نہ ہوئی تو خدا کا بیٹا عیسی اس میں ظہور نہ کرتا کیونکہ خدا کا بیٹا اس جگہ ظہور کرتا ہے جو جگہ ساکن اور کائنات کا مرکز ہو اور اگر یہ زمین کائنات کا مرکز اور ساکن نہ ہوتی تو ہر گز اس قابل نہ تھی کہ خداوند کا بیٹا اس پر ظہور کرتا ۔

اگرچہ زمین کے سکن اور مرکز کائنات ہونے کے نظریہ کو عیسائی کلیسا کی پشت پناہی حاصل تھی اور یہ نظریہ عیسائیت میں شامل ہو چکا تھا پھر بھی سائنس دان جب اس نظریئے کی تصدیق کرتے تھے تو کہتے تھے کہ ارسطو نے اس طرح کہا ہے یہ نہیں کہتے تھے کہ دین و عیسائیت اس طرح کہتے ہیں ۔

اگر کوپر نیک ‘ کپلر اور گلیلیو ‘ ارسطو کی اس غلطی کی اصلاح نہ کرتے اور اس نظریئے کے غلط ہونے کو ثابت نہ کرتے تو آج جو کوئی کسی چیز کو ثابت کرنا چاہتا تو اگر اس کے متعلق ارسطو نے کچھ کہا ہوتا تو وہ شخص یہ کہتا کہ ارسطو نے اس طرح کہا ہے ۔

کیونکہ ارسطو کا کہنا حجت ہوتا تھا اور کسی کا بھی یہ خیال نہ تھا کہ ارسطو نے بھی غلط بات کہی ہو گی یہی وجہ تھی کہ یہنظریہ غیر متزلزل نظر آتا تھا انسانی نسل کی زندگی میں غلط علمی نظریات بھی آیے ہیں (حالانکہ کوئی نظریہ اگر غلط ہو تو اسے علمی نہیں کہا جا سکتا اس لئے کہ اس کے علمی ہونے کیلئے اس کی صحت لازمی ہے )اور ممکن ہے آج بھی موجود ہوں لیکن ارسطو کے کائنات میں زمین کی مرکزیت کے متعلق نظریئے کی مانند کسی نظریئے نے عقل اور علمی اارک اپر اس قدر سایہ نہیں ڈالاا ور اس غلط نظریئے نے انسانی عقل اور علمی ادارک کو اٹھارہ صدیوں تک اس قدر مات دی ہے جس قدر کسی اور نظریئے نی نقصان نہیں پہنچایا۔

اس طویل مدت کے دوران جب کہ عیسائی کلیسا نے باقاعدہ طور پر ارسطو کے نظریہ کو قبول کر لیا تھا صرف ایک عیسائی شخص ایسا پیدا ہوا جس نے ارسطو کے نظریہ کی مخالفت کی اور وہ شخص نیکولا دو کوزا ہے جو کیتھولک کلیسا میں کارڈینال کے مرتبے پر فئاز تھا اس شخص کو قدیم یونانی حکما کی کتابوں کا مطالعہ کرنے کا بے حد شوق تھا اور یہی شوق ارسطو کے نظریہ سے اس کی مخالفت کا سبب قرار پایا امریکہ اور یورپی اقوام پر ثقافتی لحاظ سے ویٹیکین کے کافی احسانات ہیں کیونکہ یونان اور قدیم روم کی کتابوں کا ایک بڑا حصہ ویٹیکین کے کتابخانہ کی وساطت سے یورپی اور امریکی قوموں تک پہنچا یورپ میں کتابوں کے چند مراکز اور بھی ایسے ہیں جنہیں یونان اور قدیم رومی کتاب کو یورپی قوموں تک پہنچانے کا فخر حاصل ہے لیکن ان مراکز میں سے کوئی بھی ویٹیکین کے کتابخانے کی برابری نہیں کر سکتا اگر یہ کتابخانہ نہ ہوتا تو ممکن ہے یونان اور قدیم یونان کی بعض کتابیں گم نامی کی حالت میں پڑی رہتیں ۔

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ یورپ میں مسلسل جنگ کا بازار گرم رہا اور وہ لوگ جو لڑ رہے تھے ان کیلئے کتاب بے وقعت چیز تھی اس زمانے میں کتابیں یا تو جل رہی تھیں یا ویرانوں میں پڑی گل سڑ رہی تھیں لیکن جو کتابیں ویٹکین کی طرح کے چند مراکز میں پڑی تھیں دو وجوہات کی بنا پر باقی رہ گئی تھیں پہلی وجہ یہ کہ حملہ آور ویٹیکین اور دوسرے مذہبی مراکز پر حملے نہیں کرتے تھے کیونکہ عیسائی تھے اور ان مراکز کو مقدس سمجھتے تھے دوسری وجہ یہ تھی کہ ان مراکز میں کام کرنے والے کتابوں کے شائقین تھے انہیں کتابوں کی قدر و منزلت کا اندازہ تھا اس لئے انہیں سنبھال کر رکھتے تھے اور کیڑے مکوڑوں ‘ یا گرد و غیرہ سے انہیں حتی الامکان بچاتے تھے ۔

یونان اور قدیم روم کی علمی اور یورپی میراث کو محفوظ کرنیکے لحاظ سے یورپ کی قدیم یونیرسٹیوں مثلا پاڈو یونیورسٹی (اٹلی) اور آکسفورڈ یونیورسٹی (انگلینڈ) اسی طرح سوربون یونیورسٹی (فرانس ) کا پہلا درجہ نہیں تھا چونکہ یہ تمام یونیورسٹیاں دوسری ہزارویں عیسوی صدیمیں جوود میں آئیں جب کہ پہلی ہزارویں عیسوی صدی میں صرف ویٹیکین اور دوسرے مذہبی مراکز تھے جس میں کتبایں محفوظ تھیں یورپ کے روساء اور امراجن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ تقریبا سارے نا خواندہ تھے اہیں کتابوں سے ذرا سا بھی شغف نہ تھا بلکہ بعض زمانوں میں تو سلاطین اور امراء کیلئے پڑھا لکھا ہونا ایک بڑا عیب شمار کیا جاتا تھا اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگر بادشاہ اور امرا ان پڑھ ہوں تو پڑھائی کے معاملے میں عام لوگوں کی کیا دلچسپی ہو گی یورپ میں خواندگی ‘ کتابوں کے مطالعے اور کتابوں کو محفوظ کرنے کے مراکز صرف دینی ادارے ہی تھے اور اگر کتابوں کے یہ قدیم مراکز جن میں یونانی ‘ لاطینی اور سریانی زبانوں میں مترجم کتابیں محفوظ تھیں اگر نہ ہوتے تو یونان اور قدیم روم کی کتابیں آج یورپ کی قوموں تک نہ پہنچتیں ویٹیکین کا کتابخانہ قدیم یونانی اور لاطینی کتابوں کے لحاظ سے دوسرے مذہبی مراکز کی نسبت زیادہ غنی تھا لیکن عام پادری حضرات اس کتابخانہ تک رسائی حاصل نہ کر سکتے تھے جب کہ آج عیسائی مذہب کا ہر روحانی پیشوا اس کتابخانے میں جا سکتا ہے لیکن افسوس ہے کہ قدیم زمانے میں عیسائی مذہبی رہنماؤں میں علمی امتیاز برتا جاتا تھا اور وہ پادر جو ربتے میں کم ہوتے تھے انہیں ویٹیکین کے کتابخانے میں داخل ہونے کی ہر گز اجات نہ تھی بظاہر اس کی وجہ یہ بیان کیجاتی تھی کہ کم علمی درجہ کے حامل پادری اس قدر مذہبی رہنما اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ نچلے درجے کے پادری بھی آ کر ان کے ساتھ کتابخانے میں بیٹھ کرمطالعہ کریں ۔

ویٹیکین کے کتابخانے کی کتابیں کسی کو بھی امانتا گھر می ۷ ں پرھنے کیلئے نہیں دی جاتی تھیں اس کتابخانے کی کتابوں کے اسی کتابخانے تک محدود رہنے کے عوامل میں سے ایک عامل یہ بھی تھا کہ یہ کتابیں کسی کو بھی اس کتابخانے سے باہر لے جا کر مطالعہ کرنے کی اجازت نہ تھی آ ج بھی اس کتابخانے کی کتابیں کسی کو امانتا نہیں دی جاتیں البتہ وہاں سے ان کی فوٹو کاپی نکال کر لائی جا سکتی ہے نیکولا دو کوازا چونکہ کلیسا کے امراء میں سے تھا لہذا اس کتابخانے میں جا کر مطالعہ کر سکتا تھا اور وہ قدیم یونانی زبان بھی جانتا تھا ۔

اس نے اس کتابخانے میں قدیم یونان کے حکما (جس میں اریستار خوس بھی سامل ہے ) زمین کی حرکات کے متعلق معلومات حاصل کیں اسکے بعد وہ ویٹیکین سے جرمنی میں اپنے مذہبی مرکز کی طرف چلا گیا جرمنی میں پہنچ کراس نے زمین کی حرکات پر ایک کتاب لکھی ابھی تک چھاپہ خانے کی صنعت نے اتنی ترقی نہ کی تھی کہ نیکولا دو کوازہ اس کتاب کو چھپوا سکتا لہذا مذکورہ کتاب قدیم طرز پر ہی تیار ہوئی اور جو کوئی اسے حاصل کرنا چاہتا اسکی نقل تیار کر لیتا تھا نیکولا دو کواز نے یہ کتاب ۱۴۶۰ عیسوی میں (کوپرنیک کی پیدائش سے تیرہ سال پہلے تیار کی ) اس نے اس کتاب میں کہا کہ زمین ساکن نہیں اپنے گرد اور سورج کے گرد گھوم رہی ہے پھر زمین کی گردش کے اعلان کا کریڈٹ آخر نیکولا دو کوزا کو کیوں ملا ‘ پولینڈی کوپر نیک کو کیوں نہ ملا ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ نیکولا دو کوازہ ایک مذہبی شخص تھا اسکے پاس بہت کم نجوم اور ریاضی کی معلومات تھیں جبکہ کو پر نیک ایک صاحب بصیرت نجومی اور ریاصے کا ماہر تھا اس نے زمین کی حرکت علم کے ذریعے ثابت کی ۔ جبکہ نیکولا دو کوازہ نے بغیر کسی علمی دلیل کے یونانی حکماء کے نظریہ کو من و عن پیش کر دیا تھا ۔

چونکہ نیکولا دو کوازہ نے اپنی کتاب میں کوئی علمی دلیل نہیں پیش کی تھی لہذا اس کے روحانی مرکز کے باہر اسکی کتاب کی پذیرائی نہ ہوئی اور نہ ہی یہ کتاب ویٹیکین کی توجہ مبذول کر اسکی اس بات کا قوی امکان ہے کہ جن لوگوں نے اس کتاب کو پڑہا ہو گا انہوں نے اس پر یقین نہ کیا ہو گا بلکہ اسے مذاق گردانا ہو گا چونکہ اس میں حقائق کو رد کیا گیا تھا اور ایسے حقائق کا انکار محال ہے جنکی صحت اور وجود میں کوئی شک نہ ہو ۔

بابائے ریاضی یونان فیثا غورث کا کہنا ہے کہ بعض حقائق کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی مثلا دس پانچ سے زیادہ ہے یا پچاس سکے چالیس سکوں سے زیادہ ہیں یہ بات روز روشن کی مانند آشکارا ہے اب ہمیں اسے ثابت کرنے کیلئے کسی قسم کی کوئی دلیل لانے کی ضرورت نہیں ‘ اسی طرح سورج اور سیاروں کی زمین کے ارد گرد حرکت کو ثابت کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی کیونکہ ابتدا سے انسان اپنی دو انکھوں سے مسلسل دیکھتا آیا ہے اور دیکھ رہا ہے کہ سورج اور سیارے زمین کے ارد گرد چکر لگا رہے ہیں زمین کا ساکن اور بے حرکت ہونا بھی ایک دوسری حقیقت تھی کیونکہ اس وقت تک کسی نے نہیں دیکھا تھا کہ زمین متحرک ہے اور جب کبھی ایک مضبوط عمارت تعمیر کرتے تھے تو اس خیال سے کہ یہ عمارت سالہا سال تک باقی رہے گی اگر وہ ویران بھی ہو جاتی تھی تو بارش برف اور سورج کی وجہ سے نہ کہ زمین کی حرکت کی وجہ سے اگر کوئی کسی ٹیلے یا پہاڑ کے پاس سے گزرتا تھا اور پھر طویل عرصے کے بعد اگر اس کا گزر وہاں سے ہوتا تو وہ دیکھتا تھا کہ وہ پہاڑ یا ٹیلہ وہیں پر کھڑا ہیا ور سرک کر کسی دوسرے مقام پر نہیں گیا یہی وجہ تھی کہ اگر کوئی شخص یہ کہتا کہ زمین ساکن نہیں اور متحرک ہے (وہ بھی دو حرکات رکھتی ہے تو اسے یا تو پاگل پن کہا جاتا اور یا پھر مذاق سمجھا جاتا ۔ چونکہ نیکولا دو کوازہ ایک قابل احترام مذہبی رہنما تھا لہذا اسے دیوانہ تو نہیں کہہ سکتے تھے بلکہ یہ کہا گیا کہ وہ مذاق کر رہا ہے نیکولا دو کوزا کی کتاب نے عوام پر اس لئے کچھ اثر نہ کیا کہ اس زمانے میں عوام کتاب وغیرہ کا مطالعہ نہیں کرتے تھے اور خواص پر یہ اثر ہوا انہوں نے کہا کہ یہ شخص مذاق کر رہا ہے کیونکہ واضح حقائق کا انکار مذاق کے مترادف تھا ۔ بہر کیف اگر یہ کتاب نیکولا دو کوزا کی زندگی میں ویٹیکین تک پہنچ جاتی تو مصنف کیلئے کئی مشکلات پیدا ہوجاتیں ۔ ممکن تھا کہ اس کا لباس اور سرخ رنگ والی کارڈینال کی ٹوپی اتار لئے جاتے اور وہ کیتھولکی کلیسا کا دوسرا بڑا رتبہ کھو دیتا یعنی کارڈینل نہ رہتا ۔

جو کچھ کہا گیا ہے اسکی روشنی میں جعفر صادق کی لائٹ تھیوری سے اپ کے صدیوں بعد فلکی دور بین کی ایجاد اور اس سے اجرام فلکی کے مطالعے کا موجب بنیا ور اسطرح جدید علوم کی توسیع میں کافی مدد ملی ۔ جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے جعفر صادق کے زمانے میں صنعت کا وجود نہ تھا اس لئے جعفر صادق نے لائٹ تھیوری اک ذکر تو کیا لیکن خود دور بین نہ بنا سکے تاکہ اس سے اسمانی سیارے اور ستارے دیکھتے ۔ لیکن اسکی دور بین نہ بنا سکنے کی وجہ نے آپ کی تھیوری کی قدر و قیمت پر کوئی اثر نہیں ڈالا ۔

کیا نیوٹن جس نے قوت جاذبہ کا قانون دریافت کیا اس کو جو قوت تجازب کے قانون کی دریافت کا سبب بن اخلا میں بھیج کر زمین کے گرد گھما سکتا تھا ۔ جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ مصنوعی سیارے جو آج زمین یا چاند ‘ مریخ وزہرہ کے گرد چکر لگا رہے ہیں سب کے سب نیوٹن کے عام قوت جتاذب کے قانون کے تحت حرکت کررہے ہیں ۔ لیکن کیا نیوٹن جو اس پر عمل درآمد نہ کر سکا اس کے قوت تجاذب کے قانون کی قدر و قیمت کو گھٹا سکتی ہے ؟

کون یہ کہتا ہے چونکہ نیوٹن خلا میں زمین کے ارد گرد ایک مصنوعی سیارہ بھجنے میں کامیاب نہیں ہو سکا لہذا اس کا اس قانون کو دریافت کرنا بے قدرو قیمت ہے ؟

اگر کوئی یہ بات کہے تو عقل مند لوگ اسے حقیر سمجھیں گے کیونکہ اس کا یہ قول اسکی عقل کی کمزوری سمجھا جائیگا ۔ اگر آچ بھی بنی نوعی انسان نیوٹن کے اس قانون پر عمل در امد نہ کر سکتا تو بھی نیوٹن کے اس علمی انکشاف کی اہمیت پر کوئی اثر نہ پڑتا اس لئے کہ دنیا جانتی تھی اور جانتی ہیکہ نظام شمسی میں جو کچھ ہے وہ عام قوت تجاذب کے قانون کی زد میں ہے ۔ اور شاید نظام شمسی سے باہر بھی سورج اور کہکشائیں قوت تجاذب کے قانون کی پیروی کر رہی ہوں اور اسطرح اس کا وسیع خلا کا سفر جاری و ساری ہو ۔ امید کی جاتی ہے کہ آیندہ جب مزید سیارے نظام شمسی سے باہر بھیجے جائیں گے تو عملی طور پر معلوم ہو جائیگا کہ کیا نظام شمسی کے باہر کائنات کا نظام چلانے کیلئے بھی قوت تجاذب کا قانون کار فرما ہے یا نہیں ؟ اگر چہ آج تک کے تجربات نے یہ بات ثابت کر دی کہ کانات میں استثنی نہیں پاا جاتا اور ہر قانون جو کائنات کے ایک حصے میں کار فرما ہے دوسرے حصوں میں بھی لاگو ہے لیکن جب تک عملی طور پر یہ بات ثابت نہیں ہو جاتی کہ قوت تجاذب کا قانون جسکی وجہ سے ہمارے نظام شمسی میں نظم و نسق قائم ہے نظام شمسی سے باہر بھی یہی نافذ العمل ہے یا نہیں ؟

جعفر صادق کی لائٹ تھیوری میں جو دوسا نکتہ غورطلب ہے وہ یہ ہے کہ اپ نے فرمایا روشنی چیزوں سے انسانی آنکھ کی طرف آتی ہے جبکہ آپ سے پہلے کہا جاتا تھ کہ روشنی آنکھ سے نکل کر اشیاء کی طرف جاتی ہے ۔ جعفر صادق وہ پہلے مسلمان ہیں جنہوں نے ا نظریئے کی نفی کی اور کہا کہ روشنی آنکھ سے نکل کر چیزوں کی طرف نہیں جاتی بلکہ چیزوں سے نکل کر انسانی آنکھ کی طرف آتی ہے اور اسکی دلیل یہ ہے کہ ہم اندھیرے میں کوئی چیز نہیں دیکھ سکتے جبکہ اگر روشنی ہماری آنکھ سے نکل کر چیزوں کی طرف جاتی تو ہم اندھیرے میں تمام چیزوں کو دیکھ سکتے جعفر صادق نے فرمایا کسی روشن چیز کو دیکھنے کیلئے اس کا روشن ہونا ضروری ہے اور اگر وہ خود روشن نہیں ہے تو کسی روشن چیز کی روشنی کا اس پر پڑنا ضروری ہے تاکہ اسے دیکھا جا سکے ۔ جعفر اصدق نے روشنی کی رفتار کے متعلق بھی ایک ایسا نظریہ پیش کیا جو ان کے زمانے کے لحاظ سے توجہ کا طالب ہے آپ نے فرمایا ‘ روشنی نہایت تیزی سے ہماری آں کھوں کی طرف آتی ہے اور یہ متحرک اشیاء میں سے ہے ۔

ایک مرتبہ پھر اس نکتے کا ذکر کرتے ہیں کہ اس زمانے میں اتنے ٹیکنیکی ذرائع نہ تھے کہ جعفر صادق روشنی کی رفتار کو ناپ سکتے ۔ لیکن یہی جو فرمایا کہ روشنی متحرک ہے اور نہایت تیز رفتار ہے یہ نظریہ تقریبا روشنی کے موجودہ نظریہ سے میل کھاتا نظر آتا ہے آ سے ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ اپ نے ایک دن اپنے حلقہ میں فرمایا طاقتور روشنی ‘ بھاری چیزوں کو حرکت میں لا سکتی ہے اور وہ روشنی جو طور سینا پر موسی پر ظاہر ہوئی اگر اللہ تعالی چاہتا تو یہ روشنی اس پہاڑ کو متحرک کر سکتی تھی اس بات کا امکان ہے کہ آ نے اس روایت کے ذریعے شعاعوں کے نظریئے کی بنیاد کے بارے میں پیشگوائی کی

جعفر صادق نے روشنی کی حرکت ‘ رفتار اور یہ کہ روشنی چیزوں سے ہماری آں کھ کی طرف اتی ہے ‘ کے متعلق جو کچھ کہا اسکی اہمیت لیزر شعاعوں کی تھیوری سے زیادہ ہے کیونکہ لیزر شعاعوں کی تھیوری کے بارے میں آپ سے پہلے بھی اظہار خیال ہو چکا تھا لیکن جو کچھ آپ نے روشنی کی رفتار حرکت اور ایک جگہ اکٹھا ہونے کیبارے میں کہا ‘ صرف ا کی ذات سے مخصوص ہے پرانے وقتوں میں مختلف اقوام کے درمیان یہ عقیدہ پایا جاتا تھا کہ روشنی اجسام کو متحرک کر سکتی ہے قدیم حصہ میں یہ عقیدہ پایا جاتا تھا کہ روشنی ہر چیز سے گزر سکتیا ور اجسام کو متحرک کر سکتی ہے یہاں تک کہ پہاڑ بھی اس کی عبورگی میں حائل نہیں ہو سکتا ان لوگوں کے مطابق عام روشنی پہاڑ سے نہیں گزر سکتی اور نہ ہی اسے متحرک کر سکتی ہے لیکن اگر طاقتور روشنی پیدا ہو تو وہ پہاڑ کے درمیان سے گزر کر اسے متحرک کر سکتیہے اور یہ بات طاقتور روشنی کی صوابدید پر ہے کہ وہ پہاڑ کے درمیان سے گزر کر اسے متحرک کر دے ۔

اس نظریہ کی طبعیاتی وجہ کی وضاحت کہیں بھی نہیں کی گئی لیکن تمام قدیم اقوام کے درمیان یہ عقیدہ موجود تھا ‘ اور جن مذاہب کی تاریخ تک آج ہماری رسائی ہے ان کے وجود میں آنے سے پہلے بھی یہ عقیدہ رائج تھا کیونکہ مذاہب پر ایمان لانے سے پہلے انسان جادو گری کا معتقد تھا اور دین اور جادو گری کے درمیان کوئی فرق نہ تھا اور یہ عقیدہ کہ روشنی پردوں سے گزر کر اجسام کو متحرک کر سکتی ہے جادو گری سے لیا گیا ہے ہمیں جادو گری کے اس عقیدے کی ابتدا کے بارے کچھ بھی معلوم نہیں اور جن لوگوں نے اس بارے میں کچھ کہا بھی ہے تو محض فرض کی حد تک مختصر یہ کہ کوئی ایسا ماخذ نہیں ملتا جس سے ہمیں یہ پتہ چل سکے کہ پہلے پہل یہ عقیدہ کس قوم میں وجود میں آیا ۔

اگر ہم روشنی کے توانائی ہونے کے نظریئے کو چھوڑیں تو جو کچھ جعفر صادق کی تھیوری میں روشنی کی رفتار کے بارے میں کہا گیا ہے وہی کچھ ہے جو آج ہم جانتے ہیں روشنی کی رفتار تین لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈ کہی گئی ہے یہ رفتار اتنی تیز نہیں ہے کیونکہ جدید پیمانوں کے مطابق ایک سیکنڈ ایک لمبی مدت ہے اور ستاروں کے فاصلوں کو مد نظر رکھیں تو تین لاکھ کلو میٹر ایک مختصر فاصلہ ہے لیکن قدیم پیمانوں کے لحاظ سے تین لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈ اچھی خاصی تیز رفتار ہے پس روشنی کی رفتار کو اخذ کرنے کے لحاظ سے بھی جعفر صادق نے پہل کی ہے جیسا کہ ہم نے تذکرہ کیا ہے کہ جعفر صادق کی ثقافت چار ارکان پر استوار ہے اور ان ارکان کے نام بھی لئے ہیں اس ثقافت کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ یہ خشک تعصب اور گاڑھے پن سے مبرا ہے اور جعفر صادق کی مذہبی ثقافت کے بنیادی محرکات میں سے ایک یہ ہے کہ آ پ نے خشک تعصب اور گاڑھے پن سے دوری برتی اور شیعہ فرقے کے پیروکاروں کو کوئی ایسا بہانہ یا دستاویز نہیں دی جسکی وجہ سے شیعوں میں تفریق پیدا ہو اور شیعہ فرقہ میں طرح طرح کے فرقے پیدا ہو جائیں ۔

جعفر صادق نے جب بھی پیغمبر اسلام اور یا اپنے آباؤ اجداد میں سے کسی بزرگ کا تعارف کرانا چاہا تو انہیں ایک عام انسان کی مانند پیش کیا اور ان میں کسی کو خدا کی ردیف نہیں جانا اور انہیں عالم بشر سے برتر کوئی مخلوق شمار نہیں کیا اور نہ ہی اس ابت کی نشاندہی کی ہے کہ وہ اللہ اور انسان کے دریان میں کوئی انوکھی مخلوق ہیں ۔ اگر آ ایسا نہ کرتے تو شیعوں میں اختلاف پیدا ہو جاتا کیونکہ اس طرح یہ بحث جاری ہو جاتی کہ اللہ تعالی اور انسان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے اگر خدا تعالی اور انسان کے درمیانی فاصلے کو ۰ ۱۸ درجے فرض کر لیں اور اللہ کا آخری یعنی ۱۸۰ درجہ ہو اور انسان کا پہلا درجہ ہو تو کیا پیغمبر اسلام کا درجہ ۹۰ ہو گا یا ۱۰۰ یا ۱۵۰ کے فاصلے پر ہوں گے شاید یہ کہا جائے کہ اگر جعفر صادق یہ کہتے کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے آباؤ اجداد اللہ تعالی کے اور بنی نوعی انسان کے درمیان ہے تو یہ بحث وجود میں نہ آتی کہ آپ خدا سے نزدیک تر ہیں یا بنی نوع انسان سے ؟ لیکن بعض مذاہب میں ایسی بحثیں وجود میں آ چکی ہیں ۔

پس جعفر صادق پیغمبر اسلام اور ان کے خویش و اقربا عام بشر ہی تھے اور انہوں نے ان کو کبھی بھی لبادہ الوہیت نہیں پہنایا اور یہ ہر گز نہ فرمایا کہ وہ ہستیاں کوئی مافوق البشر مخلوق تھیں نہ ہی کوئی ان کے بارے میں معنوی غلویا مبالغہ آرائی کی ہے ۔

آپ کے بعد تیسری صدی میں شیعہ چند فرقون میں بٹ گئیجو عرفانی فرقے کہلاتے ہیں ان فرقوں میں اس قدر تعصب پیدا ہو گیا کہ گویا ان میں سے ہر ایک جدا مذہب ہے اور ہم نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ جعفری مذہب کی ثقافت کے ارکان سے عرفان ایک اہم رکن تھا لیکن جعفر صادق کا عرفان معتدل تھا آپ عرفان کو شیعہ کی بہتر شناخت کی حد تک مفید خیال کرتے تھے نہ یہ کہ عرفان اس حد سے تجاوز کرکے آیک نئے مذہب کو صورت میں ابھرے لیکن وہ شیعہ عرفانی فرقے ‘ جو تیسری صدی کے بعد وجود میں آئے انہوں نے مبالغہ آرائی کی یہاں تک کہ وہ خالق و مخلوق کے ایک ہی ہونے کے معتقد ہو گئے جب کہ جعفر صادق اسکے صریحا خلاف تھے ۔

ان میں سے بعض نے اس قدر مبالغہ آرائی سے کام لیا کہ خالق و مخلوق میں انسان کو خلاق سے بہتر خیال کرنے لگے ۔ جو شیعہ مذہب کے اصول کے لحاظ سے کفر ہے لیکن ان تمام عرفانی فرقوں نے جعفری مذہب کی ثقافتی آزادی سے فائدہ اٹھایا کیونکہ جس طرح ہم نے عرض کیا ہے کہ اس ثقافت میں کسی کو کوینظریہ پیش کرنے کے جرم میں سزا بھی نہیں دی جاتی تھی لیکن جعفر صادق اور ان کے شاگردوں نے منقد کے قول کو اسی طرح رد کیا جسطرح آ کے شاگردوں نے ابن راوندی کے قول کو رد کیا ۔ جعفر صادق کے بعد وجود میں آنے والے تمام عرفانی فرقوں میں خالق اور مخلوق کی وحدت ( ایک ہونا دیکھتی جاتی ہے ان میں فرق صرف اتنا ہے کہ بعض میں خالق و مخلوق کی وحدت کا تصور بلاواسطہ ہے اور بعض میں بالواسطہ ۔

ان فرقوں میں سے بعض میں یہ تصور ہے کہ آدمی جو بھی ہو خدا اور اسکے درمیان کوئی فرق نہیں ۔

دوسرے فرقوں میں عام افراد کی خداوند تعالی کے ساتھ وحدت کا تصور نہیں بلکہ پیغمبر بارہ امام اور خداوند تعالی مل کر ایک وجود تشکیل دیتے ہیں بعض ایسے فرقے پیدا ہوئے کہ ان میں فرقے کا رہنما ‘ پیر یا قطب یا مرشد یا غوث ‘ خداوند تعالی سے مل کر ایک ہی وجود تشکیل دیتا ہے ۔

ان شیعہ فرقوں کے پیروکار اپنے قطب کا اتنا احترام کرتے تھے کہ اسے آئمہ اور حتی کہ پیغمبر سے بھی زیادہ اہمیت دیتے تھے لیکن ان کی زبان سے کبھینہ سنا گیا کہ قطب ‘ ائمہ یا پیغمبر سے بر تر ہے یا وہ ڈرتے ہوں گے کہ اگر یہ کہیں گے کہ ان کا پیر آئمہ یا پیغمبر سے بر تر ہے تو وہ کافر ہو جائینگے ۔

ان فرقون کا عرفانی عقیدہ قدیم مصر ی لوگوں کے اوزیر لیس سے متعلق عقیدے سے مشابہ ہے یہ لوگ متعدد خداؤں کے قائل تھے ۔ لیکن آمون راکو دوسرے خداؤں سے بر تر خیال کرتے تھے اور مختصرا اسے آمون کہتے تھے مصریوں کے عقیدے کے مطابق آمون خداؤں کا خدا تھا لیکن اوزیریس جو موت کا خدا تھا اسکے باوجود کہ وہ آمون کے ما تحتوں میں سے تھا خداؤں کے خدا کے پاس اتنی طاقت ہونی چاہیے تھی کہ سب اسکے سامنے سر نگوں ہوتے ۔

جعفر صادق شیعہ مذہب میں متعدد فرقے پیدا نہیں کرنا چاہتے تھے اگرچہ آ کے بعد کئی عرفانی فرقے پیدا ہوئے لیکن ان میں سے کسی نے شیعہ مذہب کے اصول کی مخالفت نہیں کی اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ شیعوں کے درمیان پیدا ہونے والے عرفانی فرقے نے شیعہ نہ ہونے کا دعوی کیا ہو یا یہ کہا ہو کہ وہ اس مذہب کے آئمہ کا معتقد نہیں ہے ۔

حتی کہ اسماعیلیہ فرقہ ( یہ ایک مذہبی فرقہ تھا نہ کہ عرفانی ) جو جعفر صادق تک شیعوں کے تمام آئمہ کو برحق سمجھتا ہے اور شروع میں اسماعیلی فرقے کی مذہبی ثقافت کی بنیاد جعفر ی مذہب کی ثقافت پر تھی لیکن بعد میں جب اس فرقے میں توسیع ہوئی تو یہ چند مذہبی ثقافتی مکاتب میں تقسیم ہو گیا اسکے بعد کے ادوار میں حب جاہ و مال کی وجہ سے اسماعیلیوں میں تفرقہ پڑ گیا ۔ یہ تفرقہ اسماعیلیوں میں بدعات رائج ہونے کا سبب بنا ‘ وگرنہ اسماعیلیوں کی پہلی قوت جو بعد میں چند فرقوں میں بٹ گئی اس کا تعلق جعفر صادق کی مذہبی ثقافت سے تھا ۔

فاطمی خلفاء جنہوں نے ۲۶۷ سال حکومت کی ‘ انہوں نے جعفر صادق کی مذہبی ثقافت سے طاقت حاصل کی ‘ پہلی فاطمی خلیفہ عبید اللہ تھا جو شام میں شیعوں کا پیشوا شمار ہوتا تھا اور اس نے تیسری صدی ہجری کے دوسرے پچاس سالوں میں عباسی خلفا کی مانند اپنے آپ کو خلیفہ کہلوایا ۔ اس نے بعد میں لیبیا پر قبضہ کیا اور اسے اپنی خلافت کا مرکز قرار دیا ۔

بعض لوگوں کا خیال تھا کہ فاطمیوں کی خلافت ایک مقامی حکومت تھی جبکہ شیعہ فاطمی ایک شہنشاہیت وجود میں لائے تھے ۔ اور عبیدا للہ کے جانشینوں نے آہستہ آہستہ جنوبی اٹلی میں واقع جزیرہ سیسل اور عربستان کے مغربی حصے ‘ فلسطین شام اور مصر پر قبضہ جما لیا ۔ اسطرح قاہرہ کا شہر فاطمیوں کی شہنشاہیت کا دارالحکومت بن گیا ۔ لیکن فاطمیوں نے بدعت ایجاد کیا ور چھٹا فاطمی خلیفہ الحکیم چوتھی صدی ہجری کے دوسرے پچاس سالوں کے دوران سختی سے عرفان سے مشغول ہو گیا لیکن یہ جعفر صادق کا عرفان نہیں ‘ بلکہ وہ عرفان جس میں وحدت وجود کا عقیدہ تھا ۔

وحدت وجود کے عرفانی عقیدے کا خلاصہ یہ ہے کہ اس مکتب کے پیروکار کو عارف کہتے تھے کہ اگر ہم کہیں کہ خدا نے دنیاکو تخلیق کیا ہے تو لازمی بات ہے کہ کسی نے خدا کو بھی تخلیق کیا ہوگا اور اس طرح وہ بھی دوسری مخلوق شمار ہوتی ہے اور یہچکر اور تسلسل ہر گز ختم نہیں ہوتا اور ہر خالق جس نے کسی چیز کو خلق کای ‘ ضرور اسے بھی کسی دوسرے نے تخلیق کیا ہے ۔

خدا کی شناخت کے معاملے میں یہ مشکل صرف اس صورت میں حل ہوتی ہے کہ خالق و مخلوق کی وحدت کا اقرار کیا جائے اور جب اس بات کے قائل ہو جائیں کہ خدا اور بشمول انسان کے جو کچھ اس نے تخلیق کیا ہے ایک ہی ہے اس صورت میں یہ سوال پیش نہیں آتا کہ خدا کو کس نے خلق کیا ہے چھٹا فاطمی خلیفہ عرفان میں کثرت مبالغہ کی وجہ سے اس فکر میں پڑ گیا کہ اپنے آپ کو خدا کہلوائے اور لوگوں سے کہے کہ وہ خداوند ہے ۔

اس ضمن میں ایک افسانہ بھی ملتا ہے کہ بعض لوگوں نے اس افسانے کو قدیم مصر کے فراعنہ میں سے کسی ایک سے منسوب کیا ہے جبکہ یہ افسانہ الحکیم سے مربطو ہے مختصرا اس طرح ہے کہ جب الحکیم نے خدائی کا دعوی کرنا چاہا تو اس کے وزیر نے اسے ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا کہ لوگ تمہاری ربوبیت کو تسلیم نہیں کریں گے لیکن الحکیم نے کہا کہ وہ اپنے آپ کو خدا سمجھتا ہے اور لوگوں کو بھی اسے خدا کہنا چاہیے ۔ وزیر نے کہا پس تم حکم دو کہ لوگ گندم کی بجائے باقلہ دال کی ایک قسم کا شت کریں گے گندم کا شت نہیں کریں گے سات سال بعد جب وزیر ایک پر پر سے گزر رہا تھا تو اس نے دیکھا کہ ایک بڑے قد والا شخص اور ایک چھوٹے قد والے شخص سے لڑ رہا ہے وزیر ان دونوں کے قریب گیا اور انہیں چھڑا کر جھگڑے کا سبب دریافت کیا چھوٹے قد والے شخص نے کہا اس شخص نے میرے بیٹے کو مار ڈالا ہے وزیر نے بڑے قد والے شخص سے پوچھا کیا واقعی تو نے اس شخص کے بیٹے کو مار ڈالا ہے؟ اس شخص نے ایک نعل اپنی جیب سے نکالا اور کہا کہ میں نے یہ نعل گلی میں سے پایا ہے میرا خیال ہے کہ میں ایک گھوڑا خریدوں گا اور اس نعل کو اسکے سم میں نصب کروں گا اور اس گھوڑے کی باگ کو اسدروازے کی چوکھٹ کے ساتھ باندھو ں گا ۔

چھوٹے قد والے شخص نے کہا یہ دروازہ میرا ہے اور یہاں میرا گھر ہے اور میرا ارادہ ہے کہ شادی کروں گا ‘ پھر میرا بیٹا ہو گا ‘ بیٹا جب کھیلنے کیلئے گلی میں نکلے گا تو اس دروازے سے بندھا اس شخص کا گھوڑا اسے لات مار کر مار دے گا اس طرح اس چھوٹے قد والا شخص دوبارہ بڑے قد والے شخص پر برس پڑا ۔

وزیر نے ان دونوں کو اپنے حال پر چھوڑا اور الحکیم کے پاس جا کر کہا کہ اب تم خدائی کا دعوی کا کر سکتے ہو کیونکہ لوگوں نے سات سال تک گندم نہیں کھائی لہذا اب ان کی عقل زائل ہو گئی ہے جو بات اس روایت کے افسانہ ہونے کی نشاندہی کرتی ہے وہ عقل پر باقلا کا منفی اثر ہے جس میں صحت نہیں ہے کیونکہ باقلا کا زیادہ کھانے سے ممکن ہے صحت پر برا اثر پڑے لیکن اس سے عقل زائل نہیں ہوتی ۔

الحکیم نے خدائی دعوی کای اور اگر اس سے کسی نے دلیل چاہی تو اس نے جواب دیا کہ خداوند کائنات و مخلوق ایک ہی ہیں اور چونکہ میری خالق کے ساتھ وحدت ہے لہذا میں خدا ہوں اور آپ کو میریپرستش کرنا چاہیے کہا جاتا ہے کہ صلاح الدین ایوبی نے فاطمی خلیفہ کو خدائی دعوی کرنے کی پاداش میں قتل کرنے کیلئے مصر پر یلغار کی اور قاہرہ پر قبضہ کر لیا لیکن الحکیم کے خدائی دعوی کرنے کیزمانے اور صلاح الدین ایوبی کے مصر میں داخلیکے زمانے میں ایک سو اکاون سال کا فاصلہ ہے اور صلاح الدین ایوبی الحکیم کے دعوی کرنے کے ایک سو اکاون سال بعد قاہرہ میں وارد ہوا لیکن یہ بات ثابت شدہ ہے کہ فاطمیوں کی خلافت کی مشینری کا صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں صفایا ہوا الحکیم روبیت کا دعوی کرنے کیلئے چندمراحل سے گزرا ۔

پہلے مرحلے میں اس نے وہی کچھ کیا جو اسکے ہم مسلک عرفا کہتے تھے اس نے یہ اظہار کیا کہ خالق و مخلوق ایک ہی ہے اور اس نے اس مرحلے سے تجاوز نہیں کیا اس کے بعد اس نے کہا کہ اس نے محسوس کیا ہے کہ خداوند نے اس کے اندر حلول کیا ہے اور یہ (اسکے بقول) کوئی عجیب بات نہیں کیونکہ خداوند تعالی تمام مخلوقات میں موجود ہے لہذا وہ اس میں بھی ہے ۔

الحکیم نے آج کے شہرت طلب لوگوں کی رسم کے مطابق اپنے آپ کو مشہور کرنے کے پروپیگنڈے کیلئے مصر ‘ شام ‘ فلسطین اور ان تمام ممالک میں جو فاطمیوں کی شہنشاہیت میں آتے تھے ایک گروہ کو مامور کر دیا کہ خدا نے خلیفہ میں حلول کیا ہے یہ مہم چوتھی صدی ہجری کے دوسرے پچاس سالوں کے دوران چلائی گئی یہ وہ زمانہ تھا جب اسلامی ممالک میں تصوف اور عرفان کے مسالک میں مشائخ اور اقطاب سے ہر زمانے سے زیادہ عقیدت پائی جاتی تھی ۔

چوتھی صدی ہجری اسلامی ممالک میں علمی ترقی کی صدی ہے لیکن اس علمی ترقی کے ساتھ ساتھ اقطاب و مشائخ سے عقیدت میں بھی توسیع ہوئی تعلیم یافتہ لوگ بھی تصوف اور عرفان کے فرقوں سے وابستہ ہو تاکہ دوسرے لوگوں سے پسماندہ نہ رہ جائے اس وقت یہ تصور تھا کہ اگر کوئی کسی عرفانی یا تصوف کے فرقے سے وابستہ نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ زمانے کی چال نہیں چلا یعنی بے مرشدا ہے۔

اس کے علاوہ جو باتیں اس زمانے کے لحاظ سے ضروری تھیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ جو کوئی تصوف یا عرفان کے ایک فرقے کی رہبری کا دعوی کرتا اسکے لئے ضروری تھا کہ اسکے پاس کرامت بھی ہوتی اور اسکے پیروکار اس سے غیر معمولی باتیں دیکھیں اور یہ غیر معمولی باتیں تاریخی صورت میں نقل ہوتی تھیں اور اسے مسلسل ایسی باتیں ہوتی رہی تھیں اور کوئی یہ نہ کہتا تھا کہ اس نے ایک پیر یا قطب میں ایک غیر معمولی بات پائیہے بلکہ یہ کہتا تھا کہ اس نے پچھلے زمانے میں اسطرح کیا ہے لیکن چونکہ اکثراقطاب اور مشائخ پرہیز گار اشخاص تھے ۔ جب ان کے پیروکار ان سے منسوب غیر معمولی باتیں سنتے تھے تو اگرچہ وہ اں کھوں سے نہ بھی دیکھتے تو قبول کر لیتے تھے ایک ایسے دور میں جب مختلف فرقوں کے مرشدوں کا کرامات دکھانا ایک عام بات تھی لوگوں نے جب سنا کہ خداوند نے خلیفہ میں حلول کیا ہے تو لوگ زیادہ حیران نہیں ہوئے اسکے بعد فاطمی خلیفہ روبیت کے اخری مرحلہ میں داخل ہوا اور علی الاعلان کہا کہ وہ خدا ہے اور لوگوں کو اسکی پرستش کرنا چاہیے ۔

پہلے اور دوسرے مرحلے میں جو کچھ الحکیم نے کہا وہ اس زمانے کے عارفوں کے نظریات کے مطابق تھا اور اسکی بنیاد وحدت وجود پر تھی لیکن جب الحکیم نے کہا کہ وہ خدا ہے اور لوگوں کو اسکی عبادت کرنا چاہیے تو لوگوں میں حیرت پیدا ہوئی اور نقادوں کی زبان کھل گی جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ الحکیم اور سارے فاطمی خلفا شیعہ تھے اور شیعہ کا عقیدہ یہ ہے کہ خداوند تعالی آٹھ صفات ثبوتیہ رکھتا ہے اور اٹھ منفی صفات رکھتا ہے جنہیں صفات سلسیہ کہا جاتا ہے جنہوں نے خلیفہ پر اعتراض کیا انہوں نے کہا کہ خدا کی صفات ثبوتیہ میں سے ایک یہ ہے کہ وہ حی ہے یعنی کبھی نہیں مرے گا جبکہ خلیفہ حی نہیں ہے اور جب اسکی عمر پوری ہو جائیگی تو اس جہان سے کوچ کر جائے گا جبکہ اس تنقید سے پیچھے نہیں ہٹا اور کہا کہ حی (زندہ ) ہونے سے مقصود ہے کہ خداوند تعالی ہمیشہ سے ہے لیکن اسکے ہونے کی یہ دلیل نہیں ہے کہ اس میں تبدیلی ہی نہیں آئے گی ۔ خداوندتعالی ہمیشہ سے ہے لیکن اسکے ہونے کی یہ دلیل نہیں ہے کہ اس میں تبدیلی ہی نہیں آئیگی خداوند میں تبدیلی آتی ہے اور اس تبدیلی کوہم موت کی صورت میں دیکھتے ہیں لیکن ہماری موت حقیقی موت نہیں ہے بلکہ موت ایک ظاہری تبدیلی ہے اور میں حیہوں اور کبھی نہیں مروں گا جو کچھ آپ کی نظر میں موت ہو گی

وہ فقط میرے لباس میں تبدیلی ہو گی ‘ مخالفوں نے کہا کہ خداوند تعالی قادر ہے اور جو کچھ چاہے کر سکتا ہے پس خلیفہ کو بھی اس بات کا ثبوت پیش کرنا چاہیے کہ وہ ہر کام کی قدرت رکھتا ہے ۔ خلیفہ نے مخالفوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ خداوند تعالی عالم ہے اور اس نے ہر چیز کی پیشنگوئی کر دی ہے جو کچھ انجام دینا چاہے تھا وہ اس نے انجام دیا ہے اور ابھی کوئی ایسا کام باقی نہیں رہا جسے انجام دینے کی ضرورت ہو لہذا آج اور آیندہ خداوند تعالی سے کوئی جدید کام نہیں دیکھا جائیگا اور یہ کہ خداوند کسی نا ممکن کام کو انجام نہیں دیتا اور کسی کو اس سے نا ممکن کام کی توقع نہیں رکھنی چاہیے خلیفہ سے کہا گیا کہ خداوند کی صفات ثبوتیہ میں سے ایک یہ ہے کہ وہ عالم ہے اور اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں اور اگر خلیفہ خداوند ہے اور عالم بھی تو جو مسائل اس سے پوچھے جائیں ان کا جواب دے اور دوسری اقوام کی زبان میں بھی گفتگو کرے ۔ خلیفہ نے کہا خداوند کے عالم ہونے کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ خدا اس علم سے بھی واقف ہو جس کت ہر ایک کی رسائی ہو ۔

خلیفہ بولا ‘ شرعی اور عرفی مسائل کا جواب دینا ‘ دوسری قوموں کی زبان میں کلام کرنا انسانی علوم کا حصہ ہے ‘ جبکہ خداوند کا اس سے کوئی تعلق نہین ہے ‘ خداوند تعالی اک علم وہ ہے جس سے انسان آگاہ نہیں ‘ اور نہ ہی اگہ ہو سکے گا اور میرا رتبہ اس سے کہیں بلند ہے کہ تمہارے شعری و عرفی مسائل کا جوبا دوں اور دوسری اقوام کی زبان سے گفتگو کروں ۔ کہا گیا کہ خلیفہ خداوند ہے ‘ اور علوم الہی سے آگاہ ‘ پس ان علوم میں سے کچھ ہمارے لے ارشاد کرے تاکہ ہم ان علوم سے بہرہ مند ہو سکیں خلیفہ نے کہا انسانی کان خداوند کے علمی اسرار کو سننے کے لائق نہیں اور انسانی عقل علوم الہی کا ادارک نہیں کر سکتی اور اگر میں اپنے علوم الہی کا ایک ذرہ آپ کے سامنے پرھوں تو آپ سب لوگ ایک لمحے میں مر جائیں ۔ لہذا کبھی اپنی زندگی میں میرے علوم سے مستفید ہونے کی توقع نہ رکھنا ۔

معتزلہ فرقہ کے مشائخ میں سے جس کا نام ابو طالب محمد بن خویر تھا‘ کہا اگر محبوب کی رفاقت میسر ائے تو جان قربان کرنے میں کیا مضائقہ ہے اور اگر خداوند تعالی اپنے علوم الہی میں سے کچھ حصہ مجھے سکھائے اور مجھے اسے آگاہ کرے تو میں خوشی خوشی اپنی جاں اس پر فدا کر دوں گا اور کہا جاتا ہے کہ جو کوئی حقیقت پا لیتا ہے مر جاتا ہے کیونکہ حقیقت اس قدر بڑی ‘ موثر اور روشن ہوتی ہے کہ آدمی حقیقت سے آگاہ ہونے کے بعد زندہ نہیں رہ سکتا ۔

خلیفہ کہنے لگا اے محمد بن خویر ‘ میں تیری درخواست قبول کرتا ہوں اور تجھے اپنے علم کا ایک حصہ لکھواؤں گا لیکن یقین جان کہ تو مر جائے گا۔

محمد بن خویر ہر روز منتظر رہتا تھا کہ خلیفہ اسے بلائے گا اور اپنے الہی علوم سے آگاہ کرے گا لیکن الحکیم نے کبھی اس شخص کو حاضر ہونے کا حکم نہیں دیا ۔ حتی کہ محمد بن خویر کسی ناگہانی بیماری کی وجہ سے انتقال کر گیا ۔ صبح جب خلیفہ کو اس کے مرنے کی اطلاع ملی تو الحکیمنے کہا میں نے اس سے کہا تھا کہ انسان جسم روح علم الہی کو برداشت نہیں کر سکتا اور اگر میں اپنے علم کا تھوڑا سا حصہ اسے سکھاؤں تو وہ مر جائے گا جبکہ اسنے میرے علم الہی سے بہرہ مند ہونے پر مصر رہا اور اسی اصرار کی وجہ سے جان دے دی اس زمانے کے سادہ لوح لوگوں نے خلیفہ کے قول پر یقین کر لیا اس گروہ نے بھی جسے اس بات کا علم تھا کہ خلیفہ خدا نہیں ہے جو علم الہی رکھتا ہو اس زمانے کے تقاضے پیش نظر اسطرح اظہار کیا جیسے انہیں خلیفہ کی باتوں کا یقین ہو ۔ خلیفہ کے خدائی دعوے کے باوجود اسکی سلطنت میں بسنے والے شیعوں میں جعفر صادق کی مذہبی ثقافت کی روح حکم فرما تھی اور ہم نے دیکھا کہ جعفری مذہب کی ثقافت کی خوبیوں میں سے ایک اظہار خیال کی آزادی تھیا ور کسی کو اس بات پر تکلیف نہیں پہنچائی جاتی تھی کہ وہ مذہبی مسائل کے بارے میں اظہار خیال کیوں کرتا ہے ۔

قدرتی بات ہے کہ جو شخص خدائی کا دعوی کرے تو وہ نہیں چاہتا کہ لوگ اس پر تنقید کریں اور اس سے خدائی کی دلیل طلب کریں لیکن چونکہ شیعہ ابھی تک جعفری مذہب کی ثقافتی آزادی سے بہرہ مند تھے لہذا الحکیم لوگوں کو تنقید کرنے سے نہیں روک سکتا تھا چنانچہ سابقہ روایت اسے لوگوں کی تنقید سننے سے مجبور کرتی تھی ۔

محمد بن خویر کی موت کے بعد تنقید ختم نہیں ہوئی اور لوگوں نے الحکیم سے چاہا کہ مردے کو زندہ کرے اور اس سے کہا گیا کہ خداوند اس بات پر قادر ہے کہ مردے کو زندگی بخشے اور خدا کے علاوہ کوئی بھی ایسی قدرت نہیں رکھتا ‘ اور اگر خلیفہ یہ چاہتا ہے کہ ہم اسکی خدائی پر ایمان لائیں تو اسے مردے کو زندہ کرنا ہو گا ۔ جو لوگ خلیفہ کی قدرت کا مظاہر ہ دیکھنے کے خواہشمند تھے انہوں نے الحکیم سے ایک گھاس بیچنے والے کے باپ کو مرے ہوئے تین سال ہو چکے تھے زندہ کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ اس شخص کا باپ چونکہ مرتے وقت لوگوں پرایسا حساب واضح نہیں کر سکا اور اس کی موت کے بعد اسکے بیٹے اور قرض خواہوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا ہے اور اگر خلیفہ اس مردے کو زندہ کر دے تو صرف یہ کہ ہم خلیفہ کی خدائی قدرت کا مشاہدہ کر لیں گے بلکہ مذکورہ اختلاف بھی ختم ہو جائیگا کیونکہ مرنے والا زندہ ہونے کے بعد خود بتا دے گا کہ کس سے اس نے قرض لینا ہے اور کس کو قرض دینا ہے ۔ خلیفہ نے جستجو کی کہ اس گھاس بیچنے والے کی موت کے بعد اس کے بیٹے کیلئے کیا بچا ہے ؟ جب اسے معلوم ہو گیا کہ گھاس بیچنے کی دکان کے علاوہ بیٹے کیلئے کچھ پونجی ‘ شہر میں ایک مکان اور شہر کے باہر ایک باغ باقی بچا ہے تو کہا کہ میں تو مردے زندہ کر سکتا ہوں لیکن اس کا بیٹا اسکے زندہ ہونے پر خوش نہیں ہے کیونکہ اگر باپ زندہ ہو جائے گا تو بیٹا تین سال سے جس میراث پر بیٹھا ہے اسے وہ باپ کو واپس دینا پڑے گی جب گھاس بیچنے والے نے یہ بات سنی تو اس بات سے خوف کھا کر کہ کہیں خلیفہ اسکے باپ کو زندہ نہ کر دے اور وہ حاصل شدہ میراث سے ہاتھ دھو بیٹھے اس نے باپ کے قرض خواہوں سے صلح کر لی۔

لیکن وہ لوگ جو خلیفہ کی قدرت دیکھنا چاہتے تھے انہوں نے خلیفہ سے مردے کو زندہ کرنے پر اصرار کیاجب الحکیم نے اپنے آپ کو دباؤ میں دیکھا تو کلام خدا کی غلط تفسیر بیان کی اور کہاکہ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ خدا نے آسمانی کتاب میں فرمایا ہے کہ وہ زندہ کو مردے سے خارج کرتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے مسلمانوں کے اس عقیدے اور خدا کے قول کے مطابق خداوند تعالی مسلسل زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکال سکتا ہے لیکن الحکیم نے کہا ‘ خداوند کے اس قول کے مطابق کبھی خداوندزندہ کو مردے سے نکالتا ہے اور کبھی مردہ سے زندہ کو اور میں تمہاری تسلی کیلئے مردہ کو زندہ سے نکالتا ہوں ۔ تنقید کرنے والوں نے کہایہ کام تو سارے قصائی روز انجام دیتے ہیں اور مرنے والی بھیڑوں کو زندہ بھیڑوں سے نکال دیتے ہیں اگر خلیفہ حقیقی معنوں میں خداوند ہے تو اسے انسان یا کم از کم کسی حیوان کو بھی مرنے کے بعد زندہ کرنا چاہیے ۔ خلیفہ نے کہا کہ وہ یہ کام کسی خاص وقت پر کرے گا جس کا تعین بھی وہ خود کرے گا ۔ لیکن نقادوں نے اس کا پیچھا نہ چھوڑا اور اسی طرح خلیفہ سے خدائی دعوی ثابت کرنے پر مصر رہے تو الحکیم اس تنقید سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جان چھڑانے کی خاطر جعفری مذہب کی ثقافت میں بد عت وجود میں لایا وہ یہ کہ مذہبی مسائل کے بارے میں آزاد بحث پر پابندی لگا دی ۔

جیسا کہ ہم نے تذکرہ کیا کہ جعفری مذہب میں ہر طرح کی آزادی مذہبی بحث ‘ شیعہ مذہب کا بنیادی رکن اور اسکی تقویت کا باعث تھا جو لوگ اعتراض کرتے تھے انہیں جعفر صادق اور ان کے بعد آپ کے شاگرد اور اسکے بعد ان کے دوسری اور تیسری نسل کے شاگردان لوگوں کو جوا ب دیتے تھے اور تمام شیعہ قلمرو میں کسی ایک با بصیرت انسان کو بھی مذہبی مسئلے پر اعتراض کرنے کی بنا پر تکلیف نہیں پہنچائی جاتی تھی ۔

الحکیم نے یہ آزادی چھین لی اور اس نے اپنے حکم کو شرعی حکم قرار دینے کیلئے کہا جو کوئی خدا کا منکر ہے اور خدا کے کاموں پر اعتراض کرتا ہے وہ مرتد اور واجب القتل ہے اور خداوند تعالی کی ثبوتیہ اور سلسیہ صفات کے بارے میں ہر قسم کی بحث منع ہے ۔

یہ پہلا قدم تھا جو الحکیم نے جعفری مذہب کی ثقافت کی آزادی کو محدود کرنے کیلئے اٹھایا اور اسکے بعد کسی کو جرات نہ ہوئی کہ خدائی دعوی کرنے والے کسی شخص کی صفات ثبوتیہ اور سلیہ کے بارے میں بحث کرے الحکیم کی یہ پابندی ان مسائل میں شامل ہو گئی جو خداوند تعالی کی صفات ثبوتیہ اور سلیہ سے متعلق تھے مختصر یہ کہ جو شیعہ الحکیم کی خلافت کی حدود میں رہ رہے تھے انہیں یہ حق حاصل تھا کہ توحید کے متعلق بحث کریں البتہ صرف اسی صورت میں جب وہ الحکیم کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوں اور اسکے دعوی کی تائید کرتے ہوں ۔

لیکن لوگ مذہب شیعہ کے متعلق تمام مسائل کے بارے میں بحث کرنے کیلئے آزاد تھے اور خلیفہ انہیں ان بحثوں پر آزاد نہیں پہنچاتاتھا ۔ جن لوگوں کا خیال ہے کہ حسن بن صباح نے دعوی کرنے سے پہلے الحکیم سے الہام لیا تھا وہ غلطی پر ہیں کیونکہ الحکیم کے خدای دعوی کرنے اور حسن بن صباح کے تعلیم ہاصل کرنے کیلئے مصر جانے کے درمیان اسی سال کا فاصلہ ہے الحکیمنے چوتھی صدی ہجری کے آخری میں خدائی کا دعوی کیاجبکہ حسن بن صباح پانچویں صدی ہجری کے دوسرے پچاس سالوں کے دوران علم حاصل کرنے کیلئے مصر گیا اور جب الموت میں منتقل ہوا تو خدائی دعوی نہیں کیا اس نے الموت میں منتقل ہونے کے بعد پہلے چند سال مسلسل چلے میں گزارے اور دوسرا یہ کہ جب حسن بن صباح تعلیم حاصل کرنے کیلئے مصر میں منتقل ہوا تو اس نے قدیم ایرانی تاریخ سے آگاہی حاصل کی ۔

شاید قدیم ایرانی تاریخ سے آگاہی اس قدیم اسکندریہ کے علمی مکتب کی باقیات سے حاصل کی ہو یہ مکتب جو کسی تعریف کا محتاج نہیں اس نے قدیم یونان کے علم و ادب سے استفادہ کی یہی وجہ ہے کہ حسن بن صباح نے الموت میں قیام کے بعد جو تحریک شروع کی وہ صرف مذہبی نہ تھی بلکہ اسکا قومی پہلو بھی تھا اس صورت میں جب الحکیم کے خدائی دعوے اور حسن صباح کی تحریک جو بعد میں وجود میں ائی کوئی زیادہ فرق نہیں ہے اور یہ بات قابل قبول نہیں کہ حسن صباح نے الحکیم سے الہام لیا تھا ۔

سویڈن کی لوند یونیورسٹی کے مذہبی تاریخ کے شعبے کا استاد پروفیسر بریم کہتا ہے کہ الموت کے اسماعیلی ایرانی تاریخ سے دلچسپی رکھتے تھے اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی تحریک میں قومیت کا مسئلہ خاصی اہمیت کا حامل تھا ۔

ایک عرصے تک نقادوں کی زبان بند رہی لیکن جونہی خلیفہ نے نرمی اختیار کی ۔ وہ پھر چلانے لگے اور کہا کہ وہ خدا کی صفات ثبوتیہ و سلیہ کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن خلیفہ ان صفات کے مصداق نہیں ہے اور ان کا اعتراض اسی موضوع کے بارے میں ہے نہ کہ توحید کے بارے میں کیونکہ کوئی بھی مسلمان خدا کی واحدانیت پر اعتراض نہیں کرتا جب خلیفہ سمجھ گیا کہ یہ چھوٹے چھوٹے اعتراضات بڑے اعتراضات کیلئے تمہیدبنیں گے تو اس نے پابندی لگائی کہ جو کوئی صفات ثبوتیہ اور سلیہ کی خلیفہ سے مطابقت پر معترض ہو گا وہ مرتد اور واجب القتل ہے اس پر جو زبانیں کھلنے والی تھیں یکسر ساکت ہو گئیں خلیفہ کی خرابی صحت کی بنا پر اس کی تنقید پر نگرانی سست پڑ گئی جو لوگ اعتراض کرنا چاہتے تھے لیکن وہ موت کے ڈر سے زبان کشائی نہیں کر سکتے تھے کہتے تھے کہ خَیفہ تو خدا ہے لہذا اس کابیٹا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ آسمانی کتاب میں نہایت واضح الفاظ میں ارشاد ہوا ہے کہ خدا نہ تو کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس سے پیدا ہو گا اسکے برعکس خلیفہ کے چند بیٹے تھے جس سے وہ انکار نہیں کر سکتا تھا اور جو محبت ہر باپ کو اپنے بیٹوں سے ہوتی ہے وہ اسکے انکار میں حائل تھی چونکہ وہ خدائی دعوے سے دستبردار نہیں ہونا چاہتا تھا اور نہ ہی اپنے بیٹوں کا انکار کر سکتا تھا کہنے لگا اگر خدا کا بیٹا ہو تو کیا حرج ہے کیا عیسی خدا کا بیٹا نہیں تھا اور کیا حدیث میں وارد نہیں ہوا کہ تمام بندے خدا کے بیٹے ہیں جو کچھ الحکیم نے عیسی کے بارے میں کہا اس کا مطلب یہ ہوا کہ عیسائیوں کے عقائد کا ایک حصہ شیعوں کے مذہب میں داخل کر دیا اور جو لوگ اس کے باوجود کہ عیسی کوپیغمبر اور خدا کا بھیجا ہوا مانتے تھے یہ عقیدہ نہیں رکھتے تھے کہ وہ خدا کا بیٹا ہے شیعوں کے علاوہ کوئی دوسرا مسلمان بھی نہیں مانتا تھا کہ خدا کا بیٹا ہو سکتا ہے لیکن فاطمی خلیفہ الحکیم نے محض اس لئے کہ بیٹوں کی موجودگی اس کے خدائی دعوے میں حائل نہ ہو کہا کہ خدا کے بیٹے بھی ہو سکتے ہیں اور چونکہ خدا کی اولاد ہونا جائز ہے لہذا خدا کے بیٹے اس کے بعد خدا بن سکتے ہیں اس لحاظ سے الحکیم کی حب جاہ و بزرگی جعفری ثقافت کو اس کی خلافت میں زبردست ٹھیس پہنچانے کا باعث بنی ۔

لیکن یہ ٹھیس حقیقی اور روحانی پہلو کی حامل نہ تھی ۔ کیونکہ کوئی بھی عقلمند شیعہ اس بات کو تسلیم کرنے کیلئے تیارنہ تھا کہ خلیفہ خدا ہے تمام شیعہ اس بات سے آگاہ تھے کہ اس کا دعوی بے بنیاد ہے لیکن جان بچانے یا روٹی کمانے کیلئییا ان دونوں چیزوں کیلئے وہ خاموشی رہنے پر مجبور تھے الحکیم نے محسوس کر لیا تھا کہ اگر عقلمند طبقے نے اس کے خدائی دعوے پر خاموشی اختیار کی ہے تو اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ انہوں نے اس خدا تسلیم کر لیا ہے بلکہ انہوں نے محض خوف کی وجہ سے ایسی روش اختیار کی ہے پس اس نے اپنے خدائی دعوی کے عقیدہ کو لوگوں کے دلوں میں جا گزیں کرانے کیلئے جعفر صادق کی مانند مذہبی ثقافت وجود میں لانے کی ضرورت محسوس کی۔

یہی وجہ تھی کہ اس نے اہل علم و فضل حضرات کے ایک گروہ کو اپنی لائبریری میں جمع ہونے اور ایک دوسرے کے علم کی مدد سے خلیفہ کے خدائی دعوی کے ثبوت کیلئے ایک کتاب لکھنے پر ممور کیا تاکہ یہ کتاب اسکے پیروکاروں کا مذہبی سہارا قرار پائے بلکہ سادہ الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ الحکیم نے ایک گروہ کو قران کی مانند ایک ایسی کتاب لکھنے پر مامور کیا جو اسکے خدائی دعوی کو ثابت کرے۔

ہمیں اس کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے کہ جن لوگوں کو اس کام پر مامور کیا گیا تھا کیا وہ خود یہ عقیدہ رکھتے تھے یا نہیں ؟

لیکن چونکہ یہ حصرات مسلمان ‘ شیعہ مذہب اور اہل علم تھے تب ہی تو خلیفہ نے انہیں یہ کام سونپا تھا لہذا ہم گمان نہیں کرتے کہ وہ لوگ دل سے اس کی خدائی کے قائل ہونگے ۔ خصوصا اس زمانے میں چونکہ خلیفہ بیمار بھی تھا حالانکہ خدا کو کبھی بیمار نہیں ہونا چاہیے اور تندرستی و بیماری ان مخلوقات کی صفات ہیں جوجسم رکھتی ہیں اور ماحول ان پر اثر انداز ہوتا ہے وہ غذا کھاتے ہیں اور ماحول کے اثرات یا کسی غذا کے ناگوار اثرات انہیں بیمار کرتے ہیں بعض کا قوال ہے کہ الحکیم نے جب تسلیم کر لیا کہ خداوند تعالی اک بیٹا بھی ہو سکتا ہے جسطرح عیسی خدا کا بیٹا تھا تو اس کے بعد اس نے عیسائیوں کیلئے بیت المقدس کی زیاات آزاد کر دیں اس نظریئے کی تصحیح کی ضرورت ہے اور یہ جاننا چاہیے کہ جب فاطمی خلفاء نے شہنشاہیت بنا لی اور فلسطین سمیت چند ممالک بھی ان کے زیر نگین آ گئے تو انہوں نے بیت المقدس کے مقامات مقدسہ کو عیسائیوں کیلئے ازاد کر دیا اور اس سلسلے میں ان سے کوئی معاوضہ وغیرہ بھی طلب نہیں کای جاتا تھا عیسائی زائرین پر بیت المقدس جانے کی پابندی اس وقت عائد ہوئی تھی جب سلجوقیوں نے فلسطین پر تسلط حاصل کر لیا اور جو نہی انہوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تو عیسائی زائرین پر ٹیکس لگا دیا جسکی مقدار اتنی بڑھا دی گئی کہ ایک عیسائی زائر کیلئے اسکی ادائیگی ایک بوجھ بن گیا ۔

۱۰۹۵ ء میں عیسائی کلیسا سے پا پ اور بن دوم نے کیتھولکی مذہب کے ایک بڑے اجلاس میں جو کلر مون شہر میں منعقد ہوا کہا آج ایک فرانسیسی زائر جب زیارت کیلئے جاتا ہے تو اسے آنے اور جانے کا تین گنا زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے اور اگر ٹیکس میں سے ایک پیسہ بھی کم ہو تو اسے زیارت کی اجازت نہیں دی جاتی اور عیسائیوں کو آزادانہ طور پر بیت المقدس آنے جانے کیلئے جنگ کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے پوپ ہی تھا جو پہلی صلیبی جنگ کا باعث بنا ‘ اور اسی سال ۱۰۹۵ ء میں کیتھولکی مذہب کی عظیم کونسل کلر مون میں تشکیل دی گئی تھی ۔ اوربن دوم نے سلجوقیوں کے خلاف جنگ کیلئے ایک فوج بھیجی ۔ اس فوج کے آنے جانے میں ۱۰۹۹ ء تک کا طویل عرصہ لگا ‘ لیکن یہ فوج سلجوقیوں سے بری طرح شکست کھا کر اپنے بچے کچھے اور بے حال افراد کے ساتھ واپس ہو گئی اس جنگ کو یورپ کی تاریخ میں پہلی صلیبی جنگ کا نام دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں شریک تمام عیسائیوں نے اپنے لباس پر کڑے سے صلیب کا نشان سی رکھا تھا اور عیسائیوں نے ا پہلی صلیبی جنگ سے کافی تلخ تجربات حاصل کئے بعض تجربات کی روشنی میں انہوں نے بعدکی صلیبی جنگیں لڑیں ۔ بہر حال فاطمی خلفاء کے زمانے میں جب تک فلسطین پر سلجوقیوں کا قبضہ ہو اتھا کوئی عیسائی زائرین کو بیت المقدس میں داخل ہونے سے منع نہ کرتا تھا اور نہ ہی ان سے ٹیکس طلب کیا جاتا تھا ۔

الحکیم کے متعلق اس ساری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کا خدائی دعوی بھی جعفری مذہب کی ثقافت کو اس قدر متزلزل نہیں کر سکا کہ جعفری مذہب سرے سے نابود ہو جاتا اور اسکی عمر نے بھی اتنی وفا نہ کی کہ وہ اپنے خدائی دعوے کے ثبوت میں اپنی کتاب کی تکمیل کرتا ہمیں معلوم نہیں کہ کتاب کا کچھ حصہ جو الحکیم کی زندگی کے دوران لکھا گیا تھا وہ کیا ہوا ؟ الحکیم کے دور کی ایک اصطلاح قیامتہ القیامہ باقی رہ گئی کہ جب حسن بن صباح نے الموت میں اپنی تحریک کا آغاز کیا تو اس نے اس اصطلاح سے فائدہ اٹھایا ۔

الحکیم کا مقصد یہ تھا کہ جونہی اسکی کتاب اسکی خدائی کی تصدیق کریگی ۔ وہ قیامتہ القیامہ تحریک کا اعلان کر دے گا ۔ وہ اس معنی میں کہ دنیا تبدیل ہو گئی ہے اور کائنات میں ایک نئے دور کا آغاز ہونیوالا ہے اور اس دور میں اسکی خدائی پر مہر تصدیق ثبت ہو چکی ہے اور تمام لوگوں کو اسے خدا تسلیم کرنا چاہیے اسکی کتاب جو اس کی خدائی کی تصدیق کرے گی قرآن کی جگہ لے گی ۔

لیکن الحکیم کی موت کے ساتھ ہی یہ سارا پروگرام چوپٹ ہو گیا اگرچہ الحکیم کی وفات کے بعد فاطمی خلفاء نے اپنی بڑائی میں مبالغے سے کام لیا لیکن ان میں سے کسی نے خدائی دعوی نہیں کیا۔

جب حسن بن صباح نے پانچویں صدی ہجری کے دوسری پچاس سالون کے دوران الموت میں اپنی تحریک کا اغاز کیا تو اس نے قیامتہ القیامہ کا اعلان کرنے پر توجہ دی تاکہ لوگ یہ جانیں کہ کائنات میں ایک جدید دور کا آغاز ہو چکا ہے ۔


جعفری ثقافت میں تصور "زمانہ "

جن مسائل پر جعفری ثقافت میں بحث ہوئی تھی ان میں اایک زمانہ بھی تھا ۔ جعفری صادق جو حکمت کا درس دیتے تھے ‘ زمانے کے بارے میں بھی بہت سے مسائل پر اظہار خیال کرتے تھے جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ فلسفے میں زمانے کے متعلق بحث ‘ قدیم بحثوں میں سے ہے اور قدیم یونان میں یہ موضوع حکیموں کی توجہ کا مرکز بنا رہا ہے اور آج تک اس کے متعلق بحث کا خاتمہ نہیں ہو اقدیم یونان کے فلسفیوں کے ایک گروہ کا عقیدہ تھا کہ زمانہ وجود نہیں رکھتا اور ان میں سے بعض زمانے کے وجود کے قائل تھے ۔

جو لوگ زمانے کے وجود کے منکر تھے ان کے بقول زمانے کا ذاتی وجود نہیں ہے بلکہ دو حرکتوں کے درمیانی فاصلے کا نام ہے اور اگر انسان کی مانند ایک ذی شعوری اور حساس وجود اس فاصلے کا احساس نہیں ہوتا ۔ اور ایک بے حس اور بے شعور وجود کو تو دو حرکتوں کے درمیانی فاصلے کا احساس بھی نہیں ہوتا کیا جانور زمانیکے وجود کا احساس کرتے ہیں ؟ یونانی حکماء کے بقول اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ جانور یا ان کی بعض اقسام زمانے کا احساس کرتی ہیں کیونکہ وہ وقت کی پہچان کر سکتے ہیں اور اگر زمانے کا احساس نہ کریں تو وقت کی پہچان نہیں کر سکتے ان کی وقت کی پہچان شاید بھوک یا دن کے نکلنییا سورج کے غروب ہونے کی بنا پر ہو لیکن بہر حال جانوروں کی بعض اقسام کے بارے میں ہمیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ وہ وقت کی شناخت کر سکتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ وہ زمانے کا احساس کرتے ہیں ۔

یونانی فلسفہ نے زمانے کی بذاتہ عدم موجودگی کو ثابت کرنے کیلئے جو دلائل پیش کئے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جیسا انسان کے ہوش و حواس کھو جاتی ہیں تو وہ زمانے کے گزرنے کا احساس نہیں کرتا اور اگر چند دن و رات تک بے ہوش رہے اور پھر جو وہ ہوش میں آئے تو اسے یہ بات بھی نہیں یاد آ سکتی کہ وہ کتنا عرصہ بے ہوش رہا ۔ اور اگربذاتہ زمانے کا ووجود ہوتا تو جب انسان ہوش و حواس میں آتا ہے تو اسے یہ بھی جاننا چاہیے تھا کہ وہ کتنی مدت بے ہوش رہا اور گہری نیند سو جائے تو بھی جاگنے کیبعد محسوس نہیں کر سکتا کہ وہ کسی قدر سویا ہے ؟ البتہ دن کو سورج اور رات کو ستاروں کو دیکھ کر یہ معلوم کیاجا سکتا ہے کہ کس قدر نیند کی ہے ؟

زمانے کی موجودگی پر دلائل دینے والوں کا کہنا ہے کہ زمانہ بہت چھوٹے چھوٹے ذرات پر مشتمل ہے یہ ذات اس قدر چھوٹے ہیں کہ ہم زمانے کی موجودگی کا احساس بھی نہیں کر سکتے ہمارے حواس خمسہ ان ذرات کا احساس کرنے پر قادر نہیں ہیں ۔

زمانے کے ذرات مسلسل حرکت کر رہے ہیں وہ ایک طرف سے آتے ہیں اور دوسری طرف نکل جاتے ہیں اور ہم اگرچہ ان کے گزرنے کا احساس کرتے ہیں اور اس بات کو اچھی طرح درک کرتے ہیں کہ بچپن سے نوجوانی اور پھر جوانی اور اس کے بعد بڑھاپے میں پہنچ جاتے ہیں اور زمانے کے گزرنے کا احساس ہمیں ہمارے ارد گرد کے جانوروں اور درختوں میں رو نما ہونے والیتبدیلیوں سے بھی ہوتاہے ۔

ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہماری بیٹے جو پہلے دودھ پیتے تھے ‘ بڑے ہو گئے اور انہوں نے اپنا قدم جوانی کے مرحلے میں رکھا ‘ اسی طرح بھیڑی کا بچہ پہلے چھوٹا سا ہوتا ہے ھپر وہ بڑا ہو جات اہے اس ضمن میں درخت کے پودے کی مثال بھی دی جا سکتی کہ وہ پہلے ایک چھوٹا سا پودا ہوتا ہے اور پھر وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑا تن آور درخت بن جاتا ہے مانے کی دوسری قسم وہ ہے جس کے ذرات حرکت نہیں کرتے اور خاکی یا وہ ذرات جو کسی نہر کی تہہ میں پڑے ۔ہوتے ہیں باقی رہتے ہیں ۔اس قسم کا زمانہ متحرک ہی نہیں ہوتا کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جائے اس بے حرکت اور ٹھہرے ہوئے زمانے کو ابدیت کا نام دیا جاتا ہے ۔

قدیم یونانی فلاسفر کے عقیدے کے مطابق ابدیت ‘ خداؤں کا زمانہ ہے اور متحرک زمانہ انسان سمیت تمام موجودات کا زمانہ ہے چونکہ زمانہ خداؤں کیلئے ساکنا ور بے حرکت ہے لہذا ان کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ۔ لیکن درخت ‘ جاندار اور انسان متحرک زمانے میں ہیں لہذا ان میں تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں اور کسی صورت میں بھی ان میں واقع پذیر ہونے والی تبدیلیوں کو روکنا محال ہے اور جب حرکت اور ساکن زمانے سے بہرہ مند ہوں گے کیا یہ ممکن ہے کہ اتفاق سے ایسا واقعہ وقوع پذیر ہو یعنی پودے و جاندار ساکن زمانے سے بہرہ مند ہو جائیں دوسری لفظوں میں پودے اور انسان سمیت تمام جاندار خدا بن جائیں اس بارے میں ۔۔۔

یونانی حکما کا جواب مثبت ہے اور یہ وہی یونانی عرفان ہے جسکے بعض یونانی حکما معتقد تھے وہ اپنے آپ کو خداؤں کے برابر کرنا چاہتے تھے ان میں سے ہر ایک نے اپنے مقصد کے حصول کیلئے ایک راستہ اختیار کیا مثلا مشہور ایوانی فلسفے کی ابتدا کرنے والا زنون ‘ نفس کے کچلنے اور ہھوی اور ہوس کو مارنے کو خداؤں کید رجے تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھتا تھا (اسکے فلسفے کو ایوانی اس لئے کہا جاتاہے کہ وہ ایتھنز میں ایوان میں د رس دیتا تھا )

اس نے کہا تھا ایتھنز جیسے جمہوری ملک میں صرف قانون کی وساطت سے ازادی حاصل نہیں کی جا سکتی اورآزادی تو اس وقت میسر آ سکتی ہے جب لوگ جہاد اکبرکریں ۔ یعنی جہاد بالنفس کریں اور جب نفس کچل دیا جائے اور سر کش لوگوں کی ھوی و ہوس انہیں دوسری لوگوں کے انفرادی اور اجتماعی حقوق پر ڈاکہ نہ ڈلانے دے تو تمام لوگ آزادی سے بہرہ مند ہو سکتے ہیں ۔

اسی طرح ایک دوسرا حکیم جو زنون کے ایک سو پچاس سال پہلے اس دنیامیں آیا ‘ اور اس نے ۲۷۰ قبل مسیح میں اس دنیا سے کوچ کیا اس کے بقول انسان کو تمام لذات سے بہرہ مند ہونا چاہیے لیکن اعتدال میں رہتے ہوئے تب ہی انسان خدئاوں کا رتبہ حاصل کرسکتا ہے۔

اپیکور کا ہم عصر ایک دوسرا فلسفی جس کا نام دیوژن ہے اس کے بقول خداؤں کے ربتے تک رسائی حاصل کرنے کیلئے انسان کو تمام اشیاء سے ہاتھ دھو کر ایک گوشے میں بیٹھ جانا چاہیے تب ہی انسان غیر متحرک زمانے تک رسائی حاصل کرکے خداؤں کا رتبہ پا سکتا ہے ایک دن اس نے ایک لڑکے کو اپنے دو ہاتھوں سے پانی پیتے ہوئے دیکھا تو اس نے اپنا لکڑی کا پیالہ دور پھینک دیا اور کہنے لگا یہ دنیاوی اسباب میں سے ہے لہذا خدؤں سے پیوستگی میں مانع ہے ۔

جو نکتہ یہاں پر سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ یونان اور مشرقی ممالک میں خدئاوں تک رسائی حاصل کرنے میں جس چیز پر زور دیا گیاہے وہ ھوائے نفس سے روکنا ہے اس لحاظ سے قدیم یونانا ور قدیم مشرق میں کوئی فرق نہیں ‘ فرق صرف نفسانی خواہشات کو روکنے کے معیار میں ہے ۔ دیوژن جیسے بعض یونانی عارفوں نے شرمگاہ کو ڈھانپنے والے کپڑے کے علاوہ باقی لباس کو بھی خداؤں سے پیوستگی میں رکاوٹ قرار دیا ہے یہ فکر کیسے وجود میں آئی کہ یونان اور مشرق میں ایک ہی صورت میں ظاہر ہوئی؟ ہمیں معلومہے کہ ہنا منشیوں سے پہلے یونان اور مشرق میں ثقافتی رابطہ نہ تھا اس رابطے کا آغاز ہنامنشی حکمرانو کے دور سے ہو لہذا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ خدا کا درجہ حاصل کرنے کیلئے جہاد بالنفس کی فکر مشرق سے یونان گئی یا یونان سے مشرق میں آئی اس قسم کی سوچ جس میں کنفیوشس ہندوستان میں بدھ ‘ زردشت کی ایران میں تحقیقی تعلیمات میں نہیں پائی جاتی ۔ اور انہوں نے ہر گز یہ نہیں کہا کہ اگر آپ خدائی رتبہ حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں تو اپنے نفس کو کچل ڈالیں بلکہ یہ سوچ یونان اور مشرق کے عرفانی مکاتب میں کسی ثقافتی اور فکر رابطے کے بغیر ہی پیدا ہوئی کیا اس موضوع سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہ عرفانی سوچ تمام مفادات پر ان لوگوں میں پیداء ہوئی جو دنیاوی طاقت کے حامل نہیں تھے ۔ اور اپنے آپ کو ضعیف سمجھتے تھے اور اسی لئے کہتے تھے خداوند سے پیوستہ ہونے کا راستہ نفسانی خواہشات کی نفسی اور جہاد بالنفس ہے اور اگر عرفان کے طالب دنیاوی لحاظ سے طاقت ور ہوتے تو خداوند تعالی سے وابستہ ہونے کیلئے کسی دوسرے راستے کا انتخاب کرتے ۔

لیکن ہمیں اس بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہبعض اہل عرفان دنیاوی طاقت بھی رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ اپنے نفس امارہ پر کنٹرول کرتے تھے لہذا یہ کہنا درست نہیں کہ خداوند تعالیس ے متصل ہونے کیلئیاپنے نفسانی خواہش کو زیر کرنا اور نفس کے خلاف جہاد کرنا صرف مادی لحاظ سے کمزور لوگوں کا خاصہ رہا ہے ۔

بعد میں انے والے ادوار میں حکما زمانے کے وجود کے منکر ہوگے اور انیسویں صدی میں یہ انکار یورپ کے عام سکالرز میں پیدا ہوا اور انہوں نے کہا کہ زمانہ موجود ہی نہیں جو کچھ ہے وہ مکان ہی ہے ۔

ایک گروہ مکان کا منکر ہو گیا اور کہنے لگا ‘ مکان بذاتہ وجود نہیں رکھتا اور اس کا وجود مادی ہے اگر مادہ موجود ہے تو مکان بھی ہے اگر مادہ موجود نہیں تو مکان بھی نہیں ‘ عام لوگوں کی نظر میں یہ نظریہ احساسات کا انکار تھا اور ہے جو شخص کسی ایسی کمریمیں جو چند میٹر لمبا اور چوڑا ہے بیٹھا ہوا ہے اور احساس کر رہا ہے کہ وہ ایک مکان ہے تو وہ اس مکان کی موجودگی کا ہر گز انکار نہیں کر سکتا ۔

جب ایک دانشور سے یہ سوال کیا جائے کہ اگر مکان وجود نہیں رکھتا تو کیسے یہ ہوائی جہاز دنیا کے ایک مقام سے دوسرے مقام تک اتنی تیزی رفتاریس ے ہزاروں کلو میٹر کا فاصلہ طے کرتے ہیں ة اگر مکان نہیں ہے تو یہ کس میں پرواز کرتے ہیں ؟وہ جوابا کہتا ہے کہ وہ مادے میں پرواز کرتے ہیں ۔

عام ذہنوں اور سطحی احساسات کے حامل افرد کو یہ باور کرانا مشکل ہے کہ آج کل جو راکٹ مریخ یا زہرہ کی طرف جاتے ہیں ‘ مادے میں سے پروازکرتے ہیں کیونکہ شاید زمین سے دو ہزار یا تین ہزار کلو میٹر کی بلندی تک تو ہوا کے ذرات موجود ہوں گے لیکن اس کے بعد ہوا کے ذرات نہیں ہیں اور جس فضا میں راکٹ سفر کرتے ہیں وہاں پرخلا ہے اور کوئی چیز نہیں پائی جاتی سوائے شعاعوں کے مثلا روشنی کی برقی اور مقناطیسی اور قوت کشش کی شعاعیں پائی جاتی ہیں وہاں پر مادے کے کوئی آثار نہیں ملتے کہ یہ راکٹ اس میں سے گزریں ۔

لیکن وہ سائنس دان جو مکان کے وجود کے مخلافہیں ان کے بقول یہ خلا جس میں رکٹ پرواز کر رہے ہیں ایٹم کے مرکزی اور الیکٹرانوں کے درمیان فاصلے کی مانند ہے ایٹم اور الیکٹرانوں کے درمیان فاصلے کی لمبائی کو سورج اور سیاروں کے درمیانی فاصلے سے نسبت ہے ۔

اسی طرح جو فصالہ زمینا ور سورج زہرہ اور سوج وغیرہ کے درمیان موجود ہے مادے کا جزو ہے اور اس کے زجو مادہ ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ قوت جاذبہ (قوت کشش) اس سے گزرتی ہے اور قوت جاذبہ مادے سے اور مادہ قوت جاذبہ سے جدا نہیں ہے اس نظریہ میں جیسا کہ ہم مشادہ کرتے ہیں توانائی اور مادے کا درمیانی فرق ختم ہو جاتا ہیا ور ہر دو ایک ہی سمجھے جاتے ہیں کیونکہاس بات کو نہایت صراحت سے یہاں بیانکر دیا گیا ہے کہ قوت جاذبہ مادہ ہے اور مادہ و قوت جاذبہ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اٹھارویں صدی عیسوی سے سائنس دان اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ مادہا ور توانائی ایک ہی چیز کے دو رخ ہیں لیکن مادے کی خصوصیات کو توانائی کی خصوصیات سے مختلف سمجھتے ہیں جدید فزکس میں امدے اور توانائی کی تعریف اس قدر مشکل ہو گئی ہے کہ یہ نہیں کہا جا سکتا مادہ کای ہے اور توانائی کیا ہے ؟

بیسویں صدی کے آغاز تک یہ کہا جاتا رہا کہ مادہ ‘ کثیر مقدار میں جمع شدہ توانائی کا نام ہے اور اسی طرح توانائی امدے کی لہروں کا نام ہے لیکن اج کل ہر تعریف مادے اور توانائی کی وضاحت کرنے کیلئے کافی نہیں ہے کیونکہ جب قوت تجاذب وہی مادہ بن جاتا ہے جو آج تک ایک کثری مقدار میں توانائی اور لہروں کے عالوہ کسی چیز کی حیثیت سے پہچانا چجاتا تھا وہی آج لہروں کی صورت اختیار کرکے لامتناہی بن جاتا ہے اور ہم اس تعریف کے ساتھ نا گزیر قبول کرنے پر مجبور ہیں کہ کائنات میں مادے کے علاوہ کچھ بھی موجود نہیں ہے اور جہاز اور مصنوعی راکٹ مادے میں پرواز کر رہے ہیں لیکن یہ بات ابھی تھیوری کے مراحل میں ہے کہ مکان کا کوئی وجود نہیں اور جو کچھ ہی مادہ ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ قوت جاذبہ کی لہروں کی تیزی میں سیارہ لا متناہی ہو جات اہے اور اس نظرہ کی بنید پر مادہ لا متناہی ہے ۔

جن لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ کائنات میں مکان کا وجود نہیں اور جو کچھ ہے مادہ ہے ان کے اس نظریئے کی وضاحت کیلئے ایک دوسری مثال دیتے ہیں کہا جاتا ہے کہ کائنات میں اندازا ایک لاکھ کہکشائیں موجود ہیں یہ بھی ایک اندازہ ہے ممکن ہے کہکشاؤں کی اصلی تعداد اس سے دو گنا یا تین گنا زیادہ ہو ان کہکشاؤن نے اپنی جسامت کے لحاظ سے کائنات میں جگہ گھیری ہوئی ہوئی ہے اب ہم فرض کرتے ہیں کہ ایک ہزار ملین کہکشائیں اور وجود میں آتی ہیں جبکہ ہامری عقل کہتی ہے کہ اس میں ایک ہزار ملین کہکشاؤں کیلئے مزید جگہ نہیں ہے کیونکہ جس قدر جگہ تھی وہی پہلے سے موجود کہکشاؤں نے پر کر لی ہے اور کائنات کی مثال تماشا خانے کے اس ہال کی ہے جس میں تماشائیوں نے ساری کرسیاں پر کر دی ہیں اور کسی نئے انے والے تماشائی کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے اور کرسیاں بھی کچھ اس طرح ہیں کہ دو تماشائی ایک کرسی پر نہیں بیٹھ سکتے لیکن وہ لوگ جن کے بقول کائنات میں مکان نہیں ہے اور جو ہے وہ مادہ ہیان کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس مسئلے سے کوئی الجھن پیدا نہیں ہوتی کیونکہ جونہی ایک ہزار ملین فالتو کہکشاں وجود میں آئیں گی ان کیلئے مکان بھی وجود میں آ جائے گا اور کہکشاؤں کا مکان وہی مادہ ہے جو انہیں وجود میں لاتا ہے ان فزکس دانوں کے عقیدے کے مطابق لا متناہی کائنات میں مادے کی کچھ مقدار اگر موجودہ مادے پربڑھا دی جائے تو کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا جب ہم کسی ایسے تماشا خانے کے ہال کا تصور کرتے ہیں جن کا طول اور عرض اور بلندی لا محدود ہو اور اس کی کرسیوں کی تعداد بھی لا محدود ہو اگر ایک ملین تماشائی کا موجودہ تماشائیوں پر اضافہ کر دیا جائے تو کوئی خاص مسئلہ پیدا نہیں ہوتا اور ان کے بعد آنے والے ایک ملین یا ایک ہزار ملین مزید تماشائیوں کیلئے جگہ ہے ۔

عام عقل کے حامل لوگوں اور ان لوگں کے درمیان جو یہ کہتے ہیں کہ مکان موجود نہیں ہے اور جو کچھ ہے مادہ ہے ان دو طرح کے لوگوں کی سمجھ میں فرق یہ ہے کہ عام عقل رکھنے والے لوگوں کا خیال ہے کہ پہلے مکان موجود ہوتا کہ اس میں کہکشاں وجود میں آئیا ور جو مکان کی عدم وجود کے حامی ہیں ان کا خیال ہے کہ جو کہکشاں وجود میں آئے گی وہی مکان ہو گیا س پر غور کرنے کے ساتھ ساتھ اگر ہم طول و عرض اور اونچائی (یا ضخامت ) کی گہرائی میں جائیں تو ہم محسوس کریں گے کہاگر ایک شعور طویل کو محسوس کر لیتا ہے تو اس کیلئے عرض کی گہرائی کو درک کرنا محال ہیاور ایک مربع جو طول و عرض پر مشتمل ہے یا ایک دائرہ دونوں آپ کیلئے بے معنی ہیں کیونکہ حقائق کا ادراک مشکل ہے وہ صحیح معنوں میں طول یا عرض کی تعریف نہیں کر سکتا ۔

اگر فرض کریں وہ طول و عرض کو مہسوس کر لیتا ہے اور ایک مربع یا دائرے کو سمجھ سکتا ہے کہ وہ کیسے ہے ؟ لیکن اس کیلئے یہ سمجھنا محال ہو گا کہ ایک آنکھ جو طول اور عرضاور بلندی پر مشتمل ہے ایک کریٹ یا ایک ویگن سے کہاں نسبت رکھتی ہے ؟

اس قیاس کی بنا پر ہم عام انسان جو کسی چیز کو تین اطراف سے ماپ سکتے ہیں جوتھی طرف کو محسوس نہیں کر سکتے جب کہ ریاضی دانوں نے چوتھی طرف کا وجود بھی ثابت کیا ہے چونکہ چوتھی طرف کے وجود کے قائل ہیں لہذا پانچویں اور چھٹی طرف کے بھی قائل ہوں گے لیکن تین اطراف کی کمیت رکھنے والی چیزوں کی مانند ان کے وجود کو سننے والے اور پڑھنے والے کیلے مجسم صورت میں نہیں پیش کر سکتے جب سے انسان عملی طور پر خلا میں گیا ہے مادے کے بارے میں اس کی معلومات میں اضافہ ہوا ان میں سے ایک یہ ہے کہ جتنے اجسام موجود ہیں ان سے مسلسل انفرا ریڈریز خارج ہو رہی ہیں جب کہ اس سے پہلے یہ تصور پایا جاتا تھا کہ مذکورہ شعاعیں صرف گرم چیزوں سے خارج ہور رہی ہیں زمین کے گرد گھومنے والے مصنوعی سیارہ کی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ بحر منجمد شمالی اور بحر منجمد جنوبی سے بھی مسلسل مذکورہ شعاعیں خارج ہو رہی ہیں ۔

سائنسی تحقیقات سے لیبارتریوں میں یہ بات پاہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ اگر کسی چیز کو سرد خانے میں رکھ دیا جائے تو بھی وہ سردی کے مطلق صفر درجہ تک یہ شعاعیں خارج کرتا رہتا ہے لیکن جونہیسردی کا مطلق صفر درجہ پہنچتا ہے یہ شعاعیں خارج ہونا بند ہو جاتی ہیں مطلق صفر وہ درجہ ہے جہاں پر مالیکیول کی حرکت رک جاتی ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ رات کو ان دور بینوں کے ذریعے جو انفرا ریڈ ریز کو دیکھتی ہیں عام چیزیں نظر اتی ہیں اور جن لوگوں کے پاس یہ دور بینہوتیہے ان سے کوئی چیز نہیں چھپ سکتیا ور یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ زندہ جانوروں یا پودوں سے یہ شعاعیں مردہ جانوروں یا پودوں کی نسبت زیادہ خارج ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ جنگ کیمحاذوں پر ٹینک یا توپ یا بکتر بند گاڑیوں کو درختوں یا پودوں کی مدد سے ا س دشمن سے نہیں چھپایا جا سکتا جس کے پاس چیزوں کو ان کی انفر ریڈ ریز کی مدد سے دیکھنے والی دور بین ہو کیونکہ دشمن مذکورہ دور بین سے درختوں کی تمام شاخوں کو انفرا ریڈ ریز خارج کرنے کی بنا پر دیکھ لیت اہے دشمن دیھکتا ہے کہ درختوں کی شاخیں اپنی جروں سے نہیں ملی ہوتیں تو وہ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ یہ شاخیں ضرور کسی ٹینک یا بکتر بند گاری کو چھپانے کیلئے ڈالی گئی ہیں ۔

اسی طرح آج کے دور میں فوجیوں کو بھی میدان جنگ میں مذکورہ دور بین رکھنے والے دشمن کی جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں تمام اجسام سے انفر ریڈ ریز خارج ہوتی ہیں البتہ صرف ان اجسام سے یہ شعاعیں خارج نہیں ہوتیں جن کا جسم مطلق صفر درجے تک ٹھنڈا ہو مطلق صفر درجے تک کی سردی کو ۲۷۳ درجے سینٹی گرید یا ۴۵۹ درجہ فارن ہائیٹ کے مساوی مانا جات اہے اس درجے تک کی سردی کو ابھی تک سائنس دان دباؤ میں اضافہ کرنے کے باوجود وجود میں نہیں لا سکے البتہ لیبارٹریز میں ابھی تک اس پر ریسرچ جاری ہے ۔

اس دنیا کی لیبارٹریز منفی ۲۲۰ ( دو سو بیس درجے ) سینٹی گریڈ تک کی سردی کو حاصل کر سکی ہیں ۔لیکن اس سے زیادہ ٹھنڈک پیدا کرنے میں انہین کافی زیادہ مشکلات کا سامنا ہوتا کیونکہ صرف دس درجے ٹھنڈ حاصل کرنے کیلئے انہیں برے بڑے وسائل سے کام لینا پڑتا ہے تاکہ وہ یہ جانیں کہ مالیکیول کا مکمل طور پر جامد رکھنا اجسام پر کیا اثر ڈالتا ہے ة اور کیا مالیکیولوں کا جامد ہونا ایٹم پر بھی اثر انداز ہوتا ہے ؟ اس بات کے زیر اثر کہ چونکہ مادے کی شناخت ابھی ترقی کے مراحل میں ہے یہ خیال آتا ہے کہ جن لوگوں کا عقیدہ ہے کہ کائنات ایک لا متناہی مادہ کے سوا کچھ نہیں کہ جو کچھ ہمیں خلا نظر آتی ہے وہ مادے کے موجیں مارنے کا زمانہ ہے ‘ ان کا یہ عقیدہ بے بنیاد نہیں اور ان کے قول کے نتیجے میں کہا جا سکتا ہے اور جو کچھ موجود ہے وہ مادہ ہی ہے شاید یہ بات بے بنیاد نہ ہو لیکن جب تک یہ تھیوری علمی قانون کی شکل اختیار نہیں کر لیتی اسے قبول نہیں کیا جا سکتا موجودہ فزکس دانوں میں سے ایک ایزاک آسیموف ہیں جو روس میں پیداہوئے اور بعد میں امریکہ ہجرت کر گئے اور آج کل وہ امریکہ کے شہری ہیں انہوں نے مکان کیبارے میں ایک جدید نظریہ پیش کیا جسے علمی اصطلاحوں اور ریاضی کیفارمولوں کی مدد سے اس طرح سمجھا جا سکتا ہے مکان مادے اور اس کی شاعوں سے عبارت ہیوہ اس ترتیب کے ساتھ کہ مادہ ایٹم کے مرکزے یا مجموعی طور پر ایٹموں کے مرکزوں کا نام ہے اس مرکزے سے مسلسل شعاعیں خارج ہوتی جاتی ہیں جب یہ شعاعیں مرکزے سے قریب ہوتیں ہیں تو ان پر مرکزے کی گرفت سخت ہوتی ہے لیکن جوں جون یہ مرکزے سے دور ہوتی جاتی ہیں تو ان پر مرکزے کی گرفت ڈھیلی پڑتی جاتی ہے البتہ ان کی رفتار کم نہیں ہوتی ہم ایک مرکزے کو چراغ سے تشبیہ دے سکتے ہیں کہ چراغ کے قریب روشنی کافی زیادہ ہوتی ہے لیکن جون جون یہ روشنی چراغ سے دور ہوتی جاتی ہے ماند پڑتی جاتی ہے البتہ اس روشنی کی رفتار پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ جس وقت ہم چراغ سے اتنے دور ہو اجتے ہیں کہ اس کی روشنی ہمیں دکھائی نہیں دیتی تب بھی اس کی روشنی موجود ہوتی ہے اور اسی رفتار (تین لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈ ) سے پھیل رہی ہوتی ہے لیکن ہماری آنکھ تک نہیں پہنچتی ہمارے حواس خمسہ شعاعوں کو ایک حد تک درک کرتے ہیں اگر شعاوں کی حرکت اس حد میں نہ ہو تو نہ ہی ہماری آنکھ روشنی کو دیکھتی ہے اور نہ ہمارے کان آواز کو سنتے ہیں اور نہ ہمارے بدن کی جلد گرمی کا احساس کر سکتی ہے مثلا جب ہم گھر میں روشن چراغ سے دور ہوتے جاتے ہیں تو اس چراغ کی روشنی ماند پرتی نظر آتی ہے حالانکہ اس کی روشنی اسی رفتار سے یعنی تین لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈ کے حساب سے پھیل رہی ہوتیہے پرانے زمانے میں یہ تصور پایا جا تا تھا کہ روشنی خط مستقیم پر چلتی ہے لیکن بعد میں یہ ثابت ہوا کہیہ طاقتور قوت کشش رکھنے والے ستارے کی قربت میں خط محننی راستہ اختیار کر لیتی ہے سورج جس کی قوت جاذبہ بہت زیادہ ہے اور اس کے زیر اثر ہمارے چراع کی روشنی محننی راستہ کر لیتی ہے کیا س سورج کی روشنی اسے اپنی طرف کھنچتی بھی ہے ؟ علم فزکس جواب دیت اہے نہیں ۔

ہم حیران ہوتے ہیں کہ کیسے سورج اپنی مضبوط قوت کشش کے ساتھ ہمارے گھر کے چراغ کی روشنی کو خط محننی پر ڈال دیت اہے لیکن اسے اپنی طرف نہیں کھنچتا ؟

ہر ستارے کی قوت جاذبہ اس کی کمیت کے متناسب ہوتی ہے اور سورج کی کمیت اس لحاظ سے بہت زیادہ ہے اگر سورج کی کمیت کو سو حصوں میں تقسیم کیا جائے اور پھر سو میں سے کسی ایک حصیکو دوبارہ سو حصوں میں تقسیم کیا جائے تو نظام شمسی کے باقی سیاروں کی کل کمیت اس سوویں حصے کے چودہ فیصد کے مساوی ہو گی ۔

یہاں ہمیں اجسام کی کمیت کو ان کا حجم خیال نہیں کرنا چاہیے ایک غبارہ جب اسے بھر دیا جائے تو اس کا حجم بڑھ تو جاتا ہے لیکن اس کی کمیت وہی رہتی ہے ۔

اجسام کی کمیت کا ہم ان کے وزن سے اندازہ لگاتے ہیں جتنا ایک جسم بھاری ہو گا اس کی کمیت بھی اتنی ہی زیادہ ہو گی اور جتنی کسی جسم کی کمیت زیادہ ہو گی اتنی ہی اس کی قوت جاذبہ بھی ہو گی اور چونکہ سور کی کمیت بہت زیادہ ہے لہذا اس کی قوت تجاذب بھی بہت زیادہ ہے بہر کیف سورج اپنی تمام قوت کشش کے ساتھ بھی ہمارے گھر کے چراغ کی ٹمٹماتی ہوئی روشنی کو اپنی طرف نہیں کھنچ سکت لیکن اس کے راستے کو ٹیڑھا کر دیتا ہے سورج کے ہمارے گھر کے چراغ کی روشنی تین سو ہزار کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتے ہوئے سورج کی روشنی کو عبور کرکے اسکے پار پہنچ جاتی ہے اگر آپ کے ذہن میں یہ سوال ابھرے کہ جب ہمارے گھر کے چراغ کی روشنی سورج کو عبور کرتی ہے تو کس طرف جاتی ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روشنی نظام شمسی سے گزرنے کے بعد ایک دوسرے سورج کو عبور کر لیتی ہے البتہاسکا راستہ ٹیڑھا ہو جاتا ہے لیکن یہ روشنی اس سورج سے بھی آگے نکل جاتی ہے ۔

کیا اس بات کا امکان ہے کہکسی سورج کی قوت تجاذب اس قدر زیادہ ہو کہ وہ ہمارے گھر کے چراغ کی روشنی کو جو تین لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتی ہے ‘ اپنے اندر جذب کر لے اور اسے دور نہ جانے دے ؟

ہاں ‘ اس بات کا امکان پایا جاتاہے کہ ا گر ہمارے گھر کے چراغ کی روشنی ایک کو تولہ سے عبور کرے تو اس میں جذب ہو جائے گی نجومیوں نے یہ نام بیسویں صدی کے آغاز میں ان ستاروں کیلئے منتخب کیاہے جن کی کمیت اس قدر زیادہ اور ان کیقوت کشش اتنی اطقتور ہے کہ روشنی ان سے نہیں گزر سکتی اور ان میں جذب ہو جاتی ہے کو تولہ نامی ستاروں کی کمیت اس قدر زیادہ ہے کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے مذکورہ ستاروں کی کمیت اس لے بہت زیادہ ہے کہ ان کے ایٹموں کے الیکٹران نہیں ہوتے اور وہ صرف مرکزے پر مشتمل ہوتے ہیں ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایٹم جو مادے کا چھوٹے سے چھوٹا ذرہ ہے ‘ ہمارے نظام شمسی کی نسبت ایک خالی فضا ہے ۔

ایٹم کا اصلی حصہ اس کا مرکزہ ہے ‘ اور باقی خالی فضا ہے ۔ اور الیکٹران ایٹم کے مرکزے کے ارد گرد اس طرح گھوم رہے ہیں جس طرح سیارے سورج کے گرد گردش کر رہے ہیں ۔ اگر تمام الیکٹرانوں اور مرکزوں کا درمیانی فاصلہ ختم کر دیا جائے تو کرہ ارض کا حجم فٹ بال کی گیند کے برابر ہو گا لیکن اس کا وزن وہی ہو گا جو آج کرہ ارض ہے ۔

کوتولہ نامی ستاروں کے ایمتوں میں خالی فضا نہیں پائی جاتی اور نہ ہی ان کے الیکٹران ہیں ‘ ان میں صرف مرکزے باقی ہیں جو اس میں ملے ہوئے ہیں ان کا وزن اس قدر زیادہ ہے کہ مذکور بالا مثال کے مطابق ان کا فٹ بال جتنی ایک گیند کی کمیت کا وزن آج کرہ ارض کے کل وزن کے برابر ہے چونکہ قوت جاذب کو کمیت سے نسبت ہے لہذا ہمارے چراغ کی روشنی کو تولہ ستاروں سے نہیں گزر سکتی کیونکہ ان کی کمیت اتنی زیادہ ہے کہ یہ روشنی ان میں جذب ہو جاتی ہے یہی وجہہے کہ کوتولہ ستارے تاریک دکھائی دیتے ہیں فرض کیجئے ہم اپنے ساتھ چراغ لے کر کوتولہ ستارے تک پہنچ جاتے ہیں وہاں ہم اندھرے کو دور کرنے کیلئے اپنا چراغ جلاتے ہیں (اگر جل سکے ) تو بھی ہم دیکھیں گے کہ ہمیں کچھ بھی دکھائی نہیں دیگا اس کی وجہ یہ ہے کہ قبل اس کے ہمارے چراغ کی روشنی ارد گرد پھیلنے کیلئے حرکت کرے کوتولہ ستارے میں جذب ہو جائے گی کیونکہ کوتولہ ستاروں کی قوت تجاذب اس قدر زیادہ ہے کہ وہ ہمارے چراغ کی روشنی کو متحرک ہونے اور ارد گرد پھیلنے سے پہلے ہی جذب کر لے گی اور اس طرح ہمارا ماحول تاریکی میں ڈوبا رہے گا ۔

کوتولہ ستاروں کے تاریک ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے قرب و جوار میں روشنی کی شعاعیں نہیں ہوتیں اگر ہوتی بھی ہیں تو ستارے میں جذب ہو جاتی ہیں ۔ اور فلکیات کے ماہرین نے کوتولہ ستاروں کو ان کے اطراف میں پائیجانے والے ستاروں کی مدد سے دیکھ اہے لیکن آچ جبکہ ریڈیو ٹیلی سکوب ایجاد ہو چکا ہے اسکی مدد سے کوتولہ ستاروں کے وجود کا احساس کیا جا سکتا ہے اگر گھروں میں روشن چراغ کی روشنی کسی کو تولہ ستارے میں جذب نہ ہو تو وہ اپنے راستے پر چلتی ہے اس کا راستہ دائیں طرف یا بائیں طرف اور اوپر یا نیچے بھی مڑ سکتا ہے ۔

آیزاک آسیموف کے بقول راستہ یعنی مکان وجود نہیں رکھتا بلکہ روشنی خود اسے وجود میں لاتی ہے اور روشنی کی شعاعیں مکان ہیں اس ماہر طبعیات کے نظر یہ کی بنا پر مکان کا کوئی وجود نہیں ہے جب تک کہ روشنی اس میں سفر نہ کرے بلکہ روشنی اور اس کی شعاعوں نے مکان وجود میں لایا ہے اگر یہ سوال کیا جائے کہ ہمارے گھر کے چراغ کی روشنی کب تک محو سفر رہتی ہے ؟

علم فزکس جواب دیتا ہے کہ ان کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا اور اس وقت تک اپنا سفر جاری رکھتیہے جب تک وہ مادے میں تبدیل نہیں ہو اجتی ہامرے گھر کے چراغ کی روشنی جو توانائی ہے کیسے امدے میں تبدیل ہو جاتی ہے ؟

آج تک علم فزکس اس سوال کا جواب دینے سے عاری ہے اور اگر علم فزکس اس سوال کا جواب ڈھونڈلے تو وہ ایک لاکھ سال کا علمی راستہ ایک سیکنڈ میں طے کر لے گی چونکہ فزکس میں سب سے بڑا راز یہی ہے اور عظیم تخلیق کے راز کا جواب بھی یہی سوال ہے کہ توانائی مادے میں کیسے تبدیل ہوتی ہے مادے کا توانائی میں تبدیل ہونا ہماری نظر میں عام سی بات ہے ہم دنا ور رات کارخانوں ‘ بحری جہازوں ‘ گاڑیوں اور گھروں میں مادیکو توانائی میں تبدیل کرتے ہیں لیکن آج تک ہم توناائی کو مادے میں تبدیل نہیں کر سکے ۔ اور ابھی تک ہمیں معلوم نہیں ہو سکا کہ توانائی مادے میں کیسے تبدیل ہوتی ہے ؟ ہماری آنکھوں کے سامنے تخلیق کا بہترین نمونہ سورج ہے لیکن سورج میں بھی توانائی مادے میں تبدیل ہوتی ہے بلکہ ایک ماد دوسرے مادے میں تبدیل ہوتا ہے وہ اس طرح کہ سورج میں پائی جانے والی ہائیڈروجن کی مقدار ہیلیم میں تبدیل ہوتی ہے جس کے نتیجے میں کافیحرارت وجود میں آتی ہے لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ خود سورج کیسے وجود میں آیاہے ؟ جو کچھ اس بارے میں اب تک کہا گیا ہے وہ سب تھیوری کی حد تک محدود ہے اس کی علمی اہمیت کوئی نہیں ہمیں اس نکتے پر بھی غور کرنا چاہیے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارے گھر کا چراغ جب اک طویل عرصے میں شعاعیں بکھیر لیتا ہے تو مادے میں تبدیل ہو جاتا ہے اس کا مطلب ہے ہم نے ایک اور تھیوری بیان کر دی ہے کیونکہ ہم نے اج تک مشاہدہ نہیں کای کہ توانائی مادے میں تبدیل ہوتی ہواور قطعی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ توانائی مادے میں تبدیل ہوئی ہو گی ۔

لیکن اس اندازے یا فرض کرنے اور یعنی علم کے درمیان زمین وہ آسمان کا فرق ہے ‘ علم میں اندازہ لگانے یا مرضی کرنے کی گنجائش نہیں ۔

مختصر یہ کہ ایزاک آسیموف ‘ موجودہ زمانے کا ایک معروف سائنس دان مکان کے وجود کا منکر ہے اس کے بقول مکان کا کوئی وجود نہیں اور جو کچھ موجود ہے وہ مادہ یا اس کی شعاعیں ہیں اور ہم بنی نوع انسان مکان کو شعاعوں کے ذریعے محسوس کر سکتے ہیں اگر آپ ایک آزاد فضا میں چل پھر رہے ہیں یا کمرے میں بیٹھے ہیں تو آپ کو مکان کا احساس س لئے ہو رہا ہے کہ آپ شعاعوں کے نرغے میں ہیں اور اگر شعاعیں رک جائیں تو پھر یہ احساس ختم ہو جائیگا کہ آ مکان میں ہیں کیا اس بات کا امکان ہے کہ شعاعیں کٹ جائیں ا ور آسیموف کے بقول ہم مکان کا احساس نہ کریں ؟

علم فزکس کہتا ہے نہیں ‘ چونکہ تاریک ترین راتوں میں بھی ہمیں روشنی کی ایسی شعاعوں نے گھر رکھا ہوتا ے جنہیں ہم نہیں دیکھ سکتے ۔ اور خاموش ترین ماحول میں بھی مختلف النوعی آوازوں کی لہریں ‘ جنہیں ہم سننے سے معذور ہیں ہمارے ارد گرد متحرک ہوتی ہیں اور ان میں سے بعض ہمارے جسم کے پار چلی جاتی ہیں لیکن فرض کریں اگر تمام شعاعیں بھی کٹ جائیں تو بھی عام قوت تجاذب کی شعاع نہیں کٹے گی ‘ یعنی کسی حالت میں بھی یہ شعاعی نہیں کٹتی حتی کہ جب خلا باز خلائی جہاز میں بے وزنی کی حالت میں ہوتے ہیں تو اس حالت میں بھی خلائی جہاز کی رفتار اور زمین کی قوت کشش کے درمیان برابری وجود میں آتی ہے جس کی وجہ سے خلا باز (خلائی جہاز سے باہر نکلنے کے بعد )نہیں گرتا ۔

اور یہ تصور صحیح نہیں کہ خلائی جہاز میں یا اس کے باہر خلا باز قوت جتازب کے زیر اثر نہیں ہوتے قوت تجاذب کی مادے سے اس قدر وابستگی ہے کہ علم فزکس کی رو سے اگر قوت تجادب مادے سے چھین لی جائے تو مادہ باقی نہ رہے گا ۔ اور محال ہے کہ قوت جاذب کی شعاعوں کے کٹ جانے کے بعد کوئی جاندار یا بے جان زندہ رہ سکے ۔

یہت ھے ‘ انیسویں صدی اور موجودہ دور کے طبعیات دانوں کے زمان اور مکان کے بارے میں نظریات اب اگر ہمیں اطلاع ملے کہ زمان اورمکان کے بارے میں انہی نظریات کو آج سے ساڑھے بارہ سو سال پہلے ایک شخص نے پیش کیا تھا تو کیا یہ مناسب نہیں کہ ہم اس شخص کو آفرین کہیں اور اس کی عقلمندی کی داد دیں ؟

زمان اور مکان کے باریمیں یہ نظریات دوسری صدی ہجری کے پہلے پچاس سالوں کے دوران امام جعفر صادق نے پیش کئے تھے جو آج کے نظریات سے مطابقت رکھتے ہیں ۔

اس کے باوجود کہ جعفر صادق کے زمان اور مکان کے بارے میں پیش کردہ نظریات میں آج کی اصطلاحات اور فارمولے استعمال نہیں ہوئے پھر بھی آپ کے ان نظریات کو جدید نظریات کے ساتھ تطبیق کیا جا سکتا ہے ۔

جعفر صادق کے بقول زمان فی نفسہ وجود نہیں رکھتا بلکہ ہمارے احساسات کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے اور ہمارے لئے دو واقعات کے درمیانی فاصلے کا نام زمان ہے ۔

مکان کے بارے میں جعفر صادق کا نظریہ یہ تھا کہ مکان تابع ہے اس کا بھی ذاتی وجود نہیں مکان ہمیں ایک ایسی فضا کی صورت میں نظر آتا ہے جس کا طول و عرض و بلندی ہے اور اس کا یہ تابع وجود بھی زندگی کے مختلف مراحل میں مختلف دکھائی دیتا ہے ۔

ایک چھوٹا بچہ جو ایک جھوٹے سے گھر میں رہ رہا ہے اس گھر کے ضہن کو وہ ایک بڑا میدان خیال کرتا ہے لیکن یہی چھوٹا بچہ بیس سال کے بعد اس گھر میں داخلہوتا ہے تو اسے وہ صحن بہت چھوٹا نظر آتا ہے وہ انگشت بد ندان سوچتا ہے کہ یہ صحن جو پہلے بہت وسیع تھا اب اتنا چھوٹا کیون ہو گیا ہے ؟ مختصر یہ کہ جعفر صادق کی نظر میں مکان وجود طبع رکھتا ہے اور آج بھی طبعیات دانوں کا گروہ (جیسا ہم نے ذکر کیا ہے ) اس نظریئے کی حامی ہے۔

جعفر ی نظریہ دربارہ اسباب امراض

جو نظریات امام جعفر صادق کے علمی کمالات کا ثبوت فراہم کرتے ہیں ان میں ایک بیماری کا بعض روشنیوں کے ذریعے منتقل ہونا بھی ہے ۔

جعفر صادق نے فرمایا بعض ایسی شعائیں ہیں جو اگر ایک بیمار شخص سے ایک تندرست شخص پر پڑیں تو ممکن ہے وہ تندرست آدمی کو بیمار کر دیں یہاں پر اس بات کو ملحوظ نظر رکھیں کہ آب و ہوا یا جراثیم کے منتقل ہونے کے بارے میں گفتگو نہیں ہو رہی (کیونکہ دوسری صدیہجری کے اوائل میں لوگ اس سے بے خبر تھے ) بلکہ شعاع کے متعلق بات ہو رہی ہے وہ بھی تمام شعاعوں کے بارے میں نہیں صرف چند اقسام کی شعاعوں کے بارے میں جو اگر ایک بیماری انسان سے ایک تندرست انسان پر پڑیں تو ممکن ہے اسے بیمار کر دیں حیوانیات کے ماہرین اور ڈاکٹر صاحبان نے اس نظریہ کو بیہودہ خیال کیا تھا کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ ایک بیماری انسان سے تندرست انسان تک بیماری منتقل کرنے کا عامل بیکٹریا یا وائرس ہوتاہے خواہ یہ بیماری کیٹروں مکوڑوں یا پانی یا ہوا کے ذریعے متنقل ہو یا دو (بیمار یا تندرست ) انسانوں کے ایک دوسرے سے براہ راست رابطہ کرنے کے ذریعے ۔

بیکٹیریا اور وائرس کے وجود کی شناخت سے قبل یہ خیال تھا کہ بیماریوں کے منتقل ہونے کا سبب بو ہے اور قدیم ادوار میں بیماریوں کو پھیلنے سے روکنے کیلئے تمام اقدامات بو کوروکنے کے ذریعے انجام پاتے تھے ۔ تاکہ ایک بیمار شخص کی بیماری ‘ بو کے ذریعے ایک تندرست شخص تک نہ پہنچ پائے اور اسے بیمار نہ کرے ۔

کسی نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ بعض شعاعیں ایسی ہیں جو اگر بیمار شخص سے تندرست پر پڑیں تو اسے بیمار کر دیتی ہیں ‘ صرف جعفر صادق ہی وہ انسان تھے جنہوں نے یہ فرمایا جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ اس نظریہ کو سائنس دانوں نے بے ہودہ شمار کیا لیکن جدید علمی تحقیقات نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ نظریہ حقیقی ہے اور اگر بعض شعاعیں ایک بیمار شخص سے ایک تندرست انسان تک پہنچیں تو وہ اسے بیمار کر دیتی ہیں روس میں پہلی مرتبہ اس حقیقت کا کھوج لگایا گیا ہے روس کے شہر نوو دو سائیبیرسک میں جو روس کے میڈیکل سائنس ‘ کیمیا اور بیالوجی کے عظیم مراکز میں سے ایک ہے ‘ وہاں یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ پہلے بیمار شخص کے خلیات سے شعاعیں نکلتی ہیں اور پھر جو نہین یہ شعاعیں تندرست انسان کے خلیات پر پڑتی ہے تو اسے بیمار کر دیتی ہے اگرچہ بیماری شخص کے خلیات اور تندرست انسان کے خلیات کے درمیان معمولی سا رابطہ بھی نہ ہو اور نہ ہی بیمار شخص کے خلیات سے بیکٹیریا یا وائرس نکل کر تندرست انسان کے خلیات میں حلول کر گئے ہوں ۔

نوو۔ دو ۔ سائیبیرسک کے سائنس دان جو تحقیق میں مصروف تھے ان کا طریقہ کار یہ تھا کہ انہوں نے ایک ہی زندہ عضو (مثلا دل یا گردے ) سے خلیات کا انتخاب کیا اور انہیں ایک دوسرے سے جدا کرکے دو حصوں میں تقسیم کیا اور دیکھا کہ ان خلیات سے چند اقسام کی فوٹان نکل رہی ہیں (جیسا کہ ہم تذکرہ کر چکے ہیں روشنی کے ایک زرے کو فوٹان کہا جاتا ہے ) اور آج شعاعوں پر تحقیقات اتنی وسیع ہو گئی ہے کہ ایک فوٹان پر بھی تحقیق ہو سکتی ہے سائنس دانوں نے دوسرے حصے کے صحتمند خلیات کو لیکر دو محفوظ بکسوں میں رکھ دیا جن میں سے ایک سیلیکا کا بنا ہوا تھا اور دوسرا شیشے سے تیار کیا ہوا تھا ۔

سلیکا میں یہ خاصیت ہے کہ اس میں سے سوائے الٹرا وائلٹ ریز کے کوئی شعاع نہیں گز سکتیا ور عام شیشے میں یہ خاصیت ہے کہ اس میں سے الٹرا وائلٹ ریز کے علاوہ تمام شعاعیں گزر سکتی ہیں ۔ چند گھنٹوں کیلئے بیمار خلیات کی شعاعیں سلیکا اور شیشے میں محفوظ خلیات پر ڈالی گئیں تو معلوم ہوا کہ سلیکا کے بکس میں محفوظ خلیات بیمار ہو گئے ہیں لیکن وہ صحتمند خلیات جو شیشے کے بکس میں محفوظ تھے ‘ بیمار نہیں ہوئے ۔

چونکہ سلیکا میں سے الٹر اوائلٹ ریز کے علاوہ کوئی شعاع نہیں گزر سکتی لہذا انہی شعاعوں نے صحتمند خلیات تک پہنچ کر انہیں بیمار کیا ہے لیکن شیشے میں سے الٹرا وائلٹ ریز کے علاوہ تمام شعاعیں گزر سکتی ہیں اور چونکہ وہ شعاعیں صحتمند خلیات پر نہیں پڑیں لہذا وہ صحتمند رہے اور بیمار نہیں ہوئے یاد رہے کہ صحتمند خلیات پر پڑنے والی تمام شعاعیں بیمار خلیات سے نکلتی ہیں لیکن چونکہ صحتمند خلیات شیشے میں محفوظ تھے اور بیمار خلیات سے نکلنے والی الٹر ا وائلٹ ریز کی زد میں نہیں آئے ‘ لہذا سالم رہے ۔

یہ تجربہ مختلف بیماریوں اور ایک جیسے یا متفرق خلیات پر بیس سالوں کے دوران پانچ ہزار مرتبہ دہرایا گیا کیونکہ نوو ۔ دو ۔ سائیبیرسک کے تحقیقاتی مرکز کے سائنس دان چاہتے تھے کہ تجربے کے نتیجے میں ذرا بھر شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے ۔

پانچ ہزار مرتبہ انجام پانے والے تجربے کا نتیجہ ایک ہی تھا اور وہ یہ کہ بیمار خلیات الٹرا وائلٹ ریز سمیت تمام شعاعین خارج کرتے ہیں اور دوسرا یہ کہ جب کبھی صحت مند خلیات ‘ بیماری خَیات سے خارج ہونے والی الٹر اوائلٹ ریز ( نہ کہ کوئی دوسری الٹرا وائلٹ ریز ) کی زد میں آتے ہیں بیمار ہو جاتے ہیں اور دوسری یہ کہ ان کو وہی بیمار لاحق ہو جاتی ہے جو اس مریض کے خلیات کی بیمار ہوتی ہے ۔

یہ تجربات جن کو انجام دینے میں بیس سال کا عرصہ لگا ‘ اس دوران صحتمند اور بیماری خلیات کے درمیان کسی قسم کا رابطہ نہ تھا جس سے یہ گمان پیدا ہوتا کہ وائرس یا بیکٹیریا ایک گروہ کے خلیات سے دوسرے گروہ کے خلیات میں نفوذ کرتے ہیں ‘ اور پانچ ہزار تجربات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو گئی کہ صحتمندخلیات میں بیماری پیدا کرنیکا سبب وہ الٹرا وائلٹ ریز ہیں جو بیمار خلیات سے خارج ہوتی اور صحتمند خلیات پر پرٹی ہیں ۔

اگر بیماری انسا ن کے خلیات سے خارج ہونیوالی شعاعوں کو کسی طرح روک دیا جائے تو صحتمند خَیات بیمار نہیں ہوں گے اور اینٹی بائیوٹک ادویات ( جو بیکٹیریا یا وائرس کو مارتی ہیں ) کی خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ بیمار جسم سے خارج ہونے والی الٹر ا وائلٹ ریز کی شدت کو بھی کم کرتی ہیں یہاں تک کہ ان خلیات سے خارج ہونے والی شعاعین اتنی کم اثر ہو جاتی ہیں کہ وہ مزید نقصان دہ نہیں رہتیں۔

روسی سائنس دانوں کے تجربات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہمارے بدن کے خلیات میں سے ہر ایک شعاعیں خارج کرنے والے اور شعاعیں وصول کرنے والا ہے اگر ایک صحتمند خلیہ ایک بیماری خلیے سے خارج ہونے والی الٹرا وائلٹ ریز شعاع کو وصول یا ریکارڈ کرے تو وہ صحتمند خلیہ بھی بیمار ہو جائیگا لیکن اگر الٹرا وائلٹ ریز کو خارج کرنے والا خلیہ بیمار نہ ہوتو اسکی شعاعیں صحتمند خلیوں میں بیماری نہیں پیداکر سکتیں ۔متعدد تجربات کی روشنی میں یہ بات پائیہ ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ اگر کچھ صحتمند خلیات ٹاکسین کے اثر سے بیمار ہو جائیں اور الٹرا وائلٹ ریز خارج کریں تو ان کی شعاعیں ان صحتمند خلیات کو بھی بیمار کر دیتی ہیں جن کا ان سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہوتا ۔ ٹاکسین ایک زہر کا نام ہے جو ہمارے جسم کے بعض اعضا ء پیدا کرتے ہیں اور ان کا خلیات کو بیمار کرنے کا طریقہ بیکٹیریا اور وائرس سے مختلف ہے اور خصوصا نصف عمر کے بعد بدن میں ٹاکسین بنانے کے جو عوامل ہیں ان میں ایک زیادہ اور مقوی غذا کھانا بھی ہے ۔ بہر حال ٹاکسین ایک زہر ہے جو صحتمند خلیات کو بیمار کر دیتی ہے یہ بات تجربے سے ثابت ہے کہ جو خلیات ٹاکسین کی وجہ سے بیمار ہوتے ہیں اور شعاعیں خارج کرتے ہیں وہ الٹرا وائلٹ شعاعوں کے ذریعے صحتمند خلیات کو بھی بیمار کر دیتے ہیں ‘ یعنی اس بات کا انحصار صرف اسی پر نہیں کہ وائر س اور بیکٹریا کے ذریعے ہی بیمار ہونے ولے خلیات صحتمند خلیات کو بیمار کر سکتے ہیں بلکہ ٹاکسین کے ذریعے بیمار ہونے ولے خلیات بھی الٹرا وائلٹ شعاعیں خارج کرکے صحتمند خلیات کو بیمار کر سکتے ہیں ۔

یہاں اس بات کی وضاحت کی ضرورت نہیں کہ علمی حقیقت بیس سال کے عرصے میں پانچ ہزار تجربات کے نتیجے میں پایہ ثبوت کو پہنچی ‘ کوئی جدید نظریہ اسکی برابری نہیں کر سکتا اسکی وجہ سے ڈاکٹروں اور سائنس دانوں کیلئے بیماریوں کا علاج معالجہ کرنے کے سلسلے میں نئی راہیں کھلیں ۔

وہ اس ترتیب کے ساتھ کہ بیماری کے نمودار ہونے کے بعد جسم کے کچھ خلیات بیمار خلیات سے خارج ہو کر صحتمند خلیات کی طرف رخ کر نے والی الٹرا وائلٹ ریز کے راستے میں رکاوٹ بنیں اور اس طرح بیماری کے پھیلنے میں رکاوٹ ثابت ہوئیں ۔

اس کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ خلیات کو بیمار ہی نہ ہونے دیا جائے کہ وہ الٹرا وائلٹ ریز خارج کرکے تندرست خلیات کو بیمار کر دیں ۔ عام قاعدہ یہ ہے کہ کسی زمانے میں اگر علاج معالجہ کی کوئی جدید روش دریافت ہوتی ہے تو اس روش پر انحصار کرتے ہوئے اس سے کافی امیدیں وابستہ ہو جاتی ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ تمام امراض کا اس روش کی ذریعے علاج ہو سکتا ہے ۔

لیکن ہم اس طبی روش کی دریافت کے بارے میں مبالغہ آرائی نہیں کرتے اور یہ نہیں کہتے کہ سرطان سمیت تمام بیماریوں کا علاج اس طریقہ کار سے ہو سکتا ہے خصوصا وہ سائنس دان جنہوں نے یہ روش دریافت کی ہے انہوں نے اس طریقہ کار کی نشان دہی نہیں کی اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ بیمار خلیات سے خارج ہونے والی الٹرا وائلٹ ریز کو کیسے روکا جا سکتا ہے ۔

بہر کیف یہ دریافت علمی نقطہ نگاہ سے قابل توجہ ہے اور اس پر اتنا کاما اور تحقیق ہوئی ہے کہ اب اس کی صحت پر کوئی شک و شبہ نہیں ہو سکتا اور محقق سائنس دانوں نے معلوم کر لیا ہے کہ خلیات کا ایک گروہ اگر چند بیماریوں میں مبتلا ہو جائے تو ان میں سے ہر بیماری ایک مخصوص قسم کی فوٹان خارج کرتی ہے اور یہ سائنس دان اب ان فوٹانوں کے جدول کے اور ان کی اپنی اصلاح میں ان فوٹانوں کے کوڈ کو تیار کرنے میں مشغول ہیں جو بیمار خلیات مختلف قسم کی بیماریوں کی اقسام کی وجہ سے خارج کرتے ہیں اور چونکہ بیکٹیریا یا وائر س اور ٹاکسین کے ذریعے پھیلنے والی بیماریاں کوئی ایک یا دو نہیں لہذا اس جدول کے تیار کرنے میں ایک عرصہ لگے گا البتہ جدول کی تکمیل کے دوران کئی بیماریوں کا علاج ہو سکتا ہے ۔

مثال کے طورپر جب یہ معلوم ہو جائے کہ انفلوائنزا کے وائرس سے بیمار ہونے والے خلیات کونسی شعاع خارج کرتے ہیں اور وہ کتنی ہیں یا ان کی لمبائی وغیرہ کتنی ہے تو انفلوائنز ا کے علاج و معالجے اور صحتمند خلیات کو بیمار ہونے سے روکنے کے سلسلے میں اقدامات کئے جا سکتے ہیں ۔

اس سلسلے میں امریکہ میں بھی تحقیقات ہوئی ہیں اور جو نتائج حاصل ہوئے ہیں وہ روسی سائنس دانوں کے نتائج سے ملتے جلتے ہیں یہ نتائج ۔ امریکہ کے علمی رسالوں میں بھی شائع ہو چکے ہیں ‘ اس موضوع پر ڈاکٹر جوہن اوٹ (ایک محقق ) نے ایک کتاب بھی لکھی ہے ۔

اس ساری بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ دوسری صدی ہجری کے پہلے پچاس سالون کے دوران جعفر صادق کا یہ نظریہ کہ روشنی کی بعض شعاعین بیماریاں پھیلانے کا باعث بنتی ہیں جسے اس زمانے میں اور اس کے بعد بیہودہ خیال کیا جاتا رہا آخر کار حقیقت ثابت ہوا اور آج ہمیں معلوم ہو چکا ہے کہ الٹرا وائلٹ ریز شعاعین جب بیمار اجسام سے خارج ہو کر تندرست اجسام پر پڑتی ہیں تو انہیں بیمار کر دیتی ہیں جبکہ سورج سے خارج ہونے والی الٹرا وائلٹ شعاعیں ہوا کی عدم موجودگی میں جانداروں کے بدن پر پڑیں تو ان کی ہلاکت کا باعث بن سکتی ہیں لیکن یہی شعاعیں چونکہ ہوا کی موجودگی میں زمین پر جانداروں کے اجسام پر پڑتی ہیں تو کسی جاندار کو بیمار نہیں کرتیں ۔ بہر حال بیالوجی اور جدید طبعی تحقیقات نے بارہ سو پچاس سال کے بعد جعفر صادق کے نظریہ کی صحت کا ثبوت فراہم کر دیا ہے ۔

جیسا کہ ہم نے تذکرہ کیا ہے ‘ پرانے زمانے میں بیماری کے منتقل ہونے کا واحد ذریعہ بیماری کی بو کو خیال کیاجاتا تھا ‘ لیکن قدیم مانوں میں انسان اس بات کا کھوج لگا چکا تھا کہ بعض امراض متعددی ہیں اور ایک سے دوسرے تک پہنچتے ہیں ۔

فرانس میں موجود ایک مصری پاپی روس (دستاویز )جس کا تعلق پندرہویں صدی قبل مسیح سے ہے میں تحریر ہے کہ مصری لوگوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے ساحل پر لنگر انداز ہونے والی کشتیوں کے مسافروں کو مصر کے ساحل پر اترنے کی اجازت نہ ہوتی تھی اس دستاویز سے پتہ چلتا ہے کہ پندرھویں صدی ق ۔ م میں کشتیاں مصر کی جانب سفر کرتی تھیں اور وہاں تک مسافر لے جاتی تھیں اور آج سے تین ہزار پانچ سو سال پہلے بھی کم از کم بحیرہ روم اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی عام تھی ‘ اور اس بات کا احتمال ہے کہ سمندری جہاز اس ڈر سے کہ راستہ گم نہ ہو ‘ ساحل کے ساتھ ساتھ چلتے تھے اگر پاپی روس کی دستاویز کے علاوہ کوئی اور دستاویز اس بات کا ثبوت فراہم نہ بھی کرتی کہ آدمی قدیم زمانے سے متعدد امراض سے واقف تھا تو صرف یہی دستاویز یہ بات ثابت کرنے کیلئے کافی تھی کہ آدمی ۳۵ صدیاں پہلے اس بات سے اگاہ تھا کہ بعض امراض ایسے ہیں جو ایک انسان سے دوسروں تک پھیلتے ہیں جیسا کہ آج کے علوم نے جعفر صادق کے اس نظریئے کی تصدیق کر دی ہے کہ روشنی کی بعض اقسام بیماریوں کے پھیلانے کا باعث بنتی ہیں تو کیا اس بنا پر یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ متعددی بیماریاں جو کسی جگہ اچانک نمودار ہوتی ہیں وہ روشنی کی وجہ سے نمودار ہوتی ہیں ؟

کیونکہ الٹرا وائلٹ شعاعیں بیمر خلیات سے خارج ہونے کے بعد ارد گرد پھیل جاتی ہیں ا ور اسی وجہ سے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جہاں متعدی بیماری کے وجود کا شائبہ تک بھی نہیں ہوتا وہاں اچانک ایک آدمی اس وبائی بیماری کا شکار ہو جاتا ہے الٹرا وائلٹ شعاعوں کے ذریعے روس اور امریکہ کے ماہرین جنہیں یقین ہے کہ بیماری ‘ بیمار خلیات سے یو وی آر کی ذریعے صحت مند خلیات تک پہنچتی ہے لیکن ابھی تک وہ اس بات کو نہیں سمجھ سکے کہ بیماری کا نفوذ کیسے ہوتا ہے جب کہ انہیں اس بات کا بھی یقین ہے کہ الٹرا وائلٹ شعاعیں جو بیمار خلیات سے خارج ہو تی ہیں صحتمند خلیات میں بیماری پھیلانے کا سب بنتی ہیں ۔

سائنس دان اس پر غور کر رہے ہیں کہ روشنی کی حرات کیسے صحتمند خلے میں بیماری کو جنم دیتی ہے ؟ کیونکہ جب تک یہ معلوم نہ ہو جائے کہ روشنی کی حرارت صحت مند خلیے میں بیماری کو جنم دیتی ہے ‘ اس وقت تک اس بات کو قبول نہیں کیا جا سکتا کہ کسی علاقے میں نا گہان پھوٹ پڑنے والی متعددی بیمری جہاں اس بیماری کے پھوٹ پڑنے کا کوئی احتمال نہیں ہوتا روشنی کی الٹرا وائلٹ شعاعوں کے ذریعے پھوٹتی ہے ۔

چونکہ ہم الٹرا وائلٹ ریز کے ذریعے بیماری کے پھیلنے کا تذکرہ کر رہے ہیں اور اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ الٹرا وائلٹ ریز جب ایک بیمار خلیے سے تندرست خلیے پر پڑتی ہیں تو اسے کیسے بیمار کر دیتی ہیں ؟ پس ہمیں یہ کہنا پڑت اہے کہ انسانی علم ‘ وائرس کے بیماری پھیلانے کے عمل کے ایک حصے کے متعلق کوئی اطلاع نہیں رکھتا ۔

انسانی علم یہ جانتا ہے کہ وائرس خلیے میں جگہ گھر کر اسے تباہ کرنے پر لگ جاتا ہے اور جب کوئی دوائی مریض کو دی جاتی ہے تو وہ دوائی وائرس کی نابودی میں مدد کرتی ہے بہر کیف اس بارے میں ابھی تک بعض چیزوں سے انسانی علم آگاہ نہیں ہے چونکہ علم نے نہ تو ابھی خلیے کو بخوبی پہچانا ہے اور نہ ہی وائرس کی شناخت کر سکا ہے اگر انسانی علم یہ جان لے کہ بدن کے خلایت کیسے بوڑھے ہوتے ہیں تو ضرور بڑھاپے پر قابو پا لے ۔

امریکی اور روسی سائنس دانوں کی تحقیقات کے نتیجے میں ثابت ہو چکا ہے کہ فوٹان جو روشنی کا ایک ذرہ ہے اگر اس کا شمار الٹرا وائلٹ ریز میں کیا جائے اور یہ ایک بیمار خلیے سے خارج ہو تو صحت مند خلیے کی بیماری کا باعث بنتا ہے ۔

بہر کیف شاید انسانی علم سے اندازہ لگانے سے فوٹان کے ذریعے بیماری کے پیدا ہونے کی حالت اتنی مختلف ہو کہ ہم اس نتیجے پر پہنچیں کہ بیماری کے پیدا ہونے کا سبب اس سے بالکل مختلف ہے جو ہم خیال کرتے تھے فزکس سمیت مختلف علوم کے بارے میں امام جعفر صادق کے نظریات یہاں تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ آپ کے فزکس سمیت دوسرے علوم کے بارے میں ایسے نظریات ہیں جن کی تائید آجکل کے علوم کرتے ہیں امام جعفر صادق کے نظریات میں سے ایک نظریہ یہ ہے کہ خداوند تعالی کے علاوہ جتنے وجود اس کائنات میں پائے جاتے ہیں ان کی صد بھی موجود ہے لیکن ان اضداد میں تصادم نہیں پیدا ہوتا اگر تصادم وجود میں آ جائے تو بعید نہیں کہ یہ کائنات ویران ہو جائے ۔

یہ نظریہ آج کے مادہ اور ضد مادہ کے نظریے سے ملتا جلتا ہے ‘ جس کا ہم مختصرا گذشتہ صفحات میں ذکر کر چکے ہیں اور اب بحث کی مناسبت سے جعفر صادق کے نظریہ کے بارے میں گفتگو کریں گے اور بتائیں گے کہ آپ کا نظریہ تھیوری کے مرحلے سے گزر کر عملی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور بتدریج سائنس دان مختلف ممالک میں عناصر کے ضد مادہ کو دریافت کرنے میں لگے ہوئے ہیں مادہ اور ضید مادہ کے درمیان فرق یہ ہے کہ عام عناصر کے مادہ کے ایٹموں میں الیکٹران پر منفی اور پروٹان پر مثبت برقی بار ہوتا ہے ابھی تک کسی نے تجربہ نہیں کای کہ اگر مادہ کے ایٹم ضد مادہ کے ایٹموں سے متصادم ہو جائیں اور دھماکہ ہو تو کیا ہو گا ؟ اس بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ تھیوری تک محدود ہے اور ایسا ہی ہے جس طرح ۱۹۴۴ ء کی گرمیوں سے پہلے یورنیم کے ایٹموں کے دھماکے کے بارے میں کہا جاتا تھا جب کہ اس وقت تک امریکہ نے اپنے ملک میں ایٹمی تجربہ نہیں کیا تھا اس وقت کہا جاتا تھا کہ ایٹم بم کا تجربہ ممکن ہے ایسا نہیں ہوا اور اس کے بعد آج تک کئی مرتبہ ایٹمی اور ہائیڈروجنی دھماکے ہوئے لیکن کرہ زمین کے عناصر دھماکے کا شکار نہیں ہوئے ایٹم بم کے دھماکے اور مادہ و ضد مادہ کے دھماکے میں فرق پایا جاتا ہے کیونکہ ایٹم بم یا ہائیڈروجن پھٹتا ہے تو مادے کا کچھ حصہ توانائی میں تبدیل ہوتا ہے اور مادے کا زیادہ حصہ بیکار رہ جاتا ہے یعنی وہ توانائی میں تبدیل نہیں ہوتا جیسا کہ ہمیں معلوم ہے توانائی کو مادے مین تبدیل کرنے کا قانون جسے آئن سٹائن نے وضع کیا یہ ہے ۔

E=mc۲

اس قانون کے مطابق جو کچھ ایک ایٹم بم یا ہائیڈروجن بم میں ہے اگر وہ سب کچھ توانائی میں تبدیل ہو جائے تو بہت زیادہ توانائی وجود میں آتی ہے اور انگلستان کے ایک طبعیات دان جول نے جس کے نام پر ایک مقناطیسی پیمانے کا نام رکھا گیا ہے ‘ اور جو انیسویں صدی عیسوی میں ہو گزارا ہے کے بقول ‘ اگر ایک کلو گرام مادہ تمام کا تمام توانائی میں تبدیل ہو جائے اس طرح کہ اس سے دھواں اور راکھ بھی وجود میں نہ آئے تو کائنات محو ہو جائے گی ۔

لیکن ایک اور طبعیات دان ‘ آئن سٹائن نے بیسویں صدی میں مادے کو توانائی میں تبدیل کرنے کے قانون کے ذریعے اسبات کی نشاندہی کی کہ اگر ایک کلو گرام مادہ مکمل طور پر توانائی میں تبدیل ہو جائے تو کائنات فنا نہیں ہو گی ۔ لیکن بنی نوعی انسان آج تک ایٹمی اور ہائیڈروجنی بموں کے ذریعے مادے کو مکمل طور پر توانائی میں تبدیل کرنے کے قابل نہیں ہو سکا ۔

اگست ۱۹۴۵ ء میں ہیرو شیما پر جم بم گرایا گیا تھا اس کی کمیت کے ہزاروں حصوں میں سے انیس حصے توانائی میں تبدیل ہو گئے اور باقی ضائع ہو گئے ہائیڈروجنی بموں میں مادے کے تونائی میں تبدیل ہونے کے اندازے کے بارے میں ہمیں اطلاع نہیں اور وہ حکومتیں جن کے پاس یہ بم ہیں اور انہوں نے ان پر تجربات کئے ہیں ان کے بقول اس راز کو افشا نہیں کیا کہ بم کی کتنی مقدار کمیت توانائی میں تبدیل ہوتی ہے تاکہ ہم یہ جان لیں کہ ان کا کتنا حصہ ضائع ہوتا ہے اس بارے میں ان حکومتوں کی خاموشی کی وجہ دفاعی رازوں کی حفاظت ہے ۔

آئن سٹائن کے ا س قانون کے باوجود کہ اگر ایک کلو گرام مادہ مکمل طور پر توانائی میں تبدیل ہو جائے تو زمین نیست و نابود نہیں ہو گی ‘ لیکن بہر حال جب امریکی سائنس دان ۱۹۴۴ ء میں ایٹمی تجربہ کرنا چاہتے تھے تو اس بلڈنگ میں موجود سائنس دان اس بات سے گھبرا گئے تھے کہ کرہ ارض فنا ہو جائے گا ۔

آج بھی جب فزکس میں مادہ اور ضد مادہ کی بحث سامنے آتی ہے تو طبعیات دان کہتے ہیں کہ مادہ اور ضد مادہ کا ٹکراؤ ‘ دونوں کو مکمل طور پر توانائی میں تبدیل کر دے گا ۔

ان سائنس دانوں کے بقول ایک کول گرام مادے کا ایک کلو گرام ضد مادہ میں تبدیل ہونے سے اس قدر توانای وجود میں آئیگی کہ کرہ ارض تباہ ہو کر گیس میں تبدیل ہو جائے گا اور چونکہ اس گیس کی حرارت بہت زیادہ ہو گی لہذا یہ سورج تک پھیل جائے گی لیکن پروفیسر آلفن ‘ جو سویڈن کی لونڈ یونیورسٹی میں فزکس کے استاد ہیں اس نظریئے کے مخالف ہیں ان کے بقول آئندہ بنی نوعی انسان کی توانائی کا منبع نہ تو یورانیم کا برقی کارخانوں میں استعمال ہے اور نہ دریاؤں اور سمندروں سے ہائیڈروجن حاصل کرکے اس کا استعمال ہے ‘ بلکہ بنی نوعی انسان آئندہ مادہ اور ضد مادہ کے تصادم کے ذریعے توانائی حاصل کر لے گا اور ایک سو کلو گرام مادہ اور ضد مادہ یعنی پچاس کلو گرام مادہ اور پچاس کلو گرام ضد مادہ تمام دنیا میں انسان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ایک سال کیلئے کافی ہو گا ۔

جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے کہ ابھی تک مادہ اور ضد مادہ کو آپس میں ٹکرایا نہیں گیا جس سے یہ معلوم ہو سکتا کہ کیا چیز حاصل ہوتی ہے لیکن پروفیسر آلفن کی تھیوری کے مطابق توانائی کے علاوہ کوئی ایسی چیز وجود میں آئے گی جو ماحول کو آلودہ کرے ۔

پروفیسر آَفن نے اس توانائی کو جو مادہ اور ضد مادہ کے تصادم کے نتیجے میں وجود میں آتی ہے میٹر جی کا نام دیا ہے ‘ جیسا کہ عام توانائی کو انرجی کہا جاتا ہے۔

اس سائنس دان کے نظریئے کے مطابق اگر آدھا کلو گرام مادہ ‘ آدھے کلو گرام ضد مادہ کے ساتھ تصادم کرے تو ایک ارب درجہ حرارت وجود میں آئے گا اور دنیا میں کوئی ایسا منبع یا ذریعہ نہیں ہے جو اتنی حرارت پیدا کر سکے علم نجوم کے ماہرین کے بقول سورج کے مرکز کا درجہ حرارت دس ملین درجے ہے کیا بنی نوعی انسان اتنی زیادہ حرارت کو کنٹرول کرکے اپنے کام میں لا سکتا ہے ؟ پروفیسر آلفن کہتا ہے ہاں مادہ اور ضد مادہ کے نا مکمل دھماکے سے درجہ حرارت میں کمی پیدا کی جا سکتی ہے ‘ نا مکمل دھماکے سے اس کی مراد ایٹمی بموں کا دھماکہ ہے جس میں مادے کا صرف تھوڑا سا حصہ توانائی میں تبدیل ہوتا ہے جب کہ باقی حصہ ضائع ہو جاتا ہے مادہ اور ضد مادہ میں تصادم کے موضوع کو جو چیز تھیوری کی حدود سے اگے نہیں بڑھنے دیتی وہ اس کا اقتصادی پہلو ہے ۔ کیونکہ لونڈ یونیورسٹی کے پروفیسر آلفن کے نظریہ کے مطابق مادہ اور ضد مادہ کے آپس میں ٹکرانے اور توانائی پیدا کرنے پر دس سے پندرہ ارب ڈالر خرچ آتا ہے اور آج کوئی حکومت یا ادارہ دس سے پندرہ ارب ڈالر خرچ کرکے مادہ اور ضد مادہ کے دھماکے کا تجربہ کرنے پر تیار نہیں ہے تاکہ پروفیسر آلفن کی اصطلاح کے مطابق میٹر جی وجود میں آئے ۔ تجربہ بتاتا ہے کہ اگر مادہ اور ضد مادہ کے تصادم کا تجربہ کر لیا جائے تو امدہ اور ضد مادہ کے دھماکے سے میٹر جی کا حصول آسان ہوجائے گا ۔

جس طرح ایٹمی توانائی سے فائدہ اٹھانے کیلئے تمام عناصر میں سے یورانیم کا انتخاب کیا گیا تھا اسی طرح خیال کیا جاتا ہے کہ مادہ اور ضد مادہ کے دھماکے سے توانائی حاصل کرنے کے لیے ہیلیم کے عنصرسے استفادہ کیا جائے گا کیونکہ روسی طبعیات دانوں نے ہیلیم کا ضد مادہ حاصل کیا ہے اور روس میں ہیلیم کے مادہ اور صدمادہ کے دھماکے کیابھی سے تیاریاں ہو رہی ہیں ہمارا خیال ہے کہ اس بارے میں مزید بحث فضول ہے ۔

ستاروں کی روشنی پر گفتگو

جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ علمی بحثوں میں سے کوئی ایسی بحث نہیں ‘ جس کے بارے میں جعفر صادق نے اظہار خیال نہ فرمایا ہو اور آ کے بعض نظریات جو اب تک ہامرے سامنے آئے ہیں آپ کے علمی کمال کی دلیل ہیں ۔

آپ کے منجملہ نظریات میں سے ستاروں کے بارے میں اپ کا ایک نظریہ بھی ہے کہ جو ستارے ہم رات کو آسمان پر دکھتے ہیں ان میں سے ایسے ستارے بھی ہیں جو اس قدر نورانی ہیں کہ سورج کی روشنی ان کے مقابلے میں ہیچ ہے ۔

ستاروں کے متعلق بنی نوعی انسان کی ممدود معلومات امام جعفر صادق اور ان کے بعد آنے ولے دور سے لیکر اب تک اس حقیقت کو سمجھنے میں رکاوٹ بنی رہیں اس زمانے میں انسان کا خیال تھا کہ جو کچھ امام جعفر صادق نے ستاروں کی روشنی کے متعلق کہا ہے وہ عقل سے بعید اور نا قابل قبول ہے اور یہ بات محال نظر آتی ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے نورانی نقطے جنہیں ستاروں کا نام دیا جاتا ہے اس قدر روشن ہوں کہ سورج ان کے سامنے بے نور نظر آئے ۔

آج جبکہ امام جعفر صادق کو گزرے ہوئے ساڑھے بارہ سو سال ہو چکے ہیں یہ ابت پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ جو کچھ اس بزرگ شخص نے کہا صحیح ہے اور دنیا میں ایسے ستارے موجود ہیں جن کی روشنی کے سامنے ہمارا سورج بے نور نظر آتا ہے ۔

یہ روشن ستارے کو ازر کے نام سے موسوم ہیں ان میں سے بعض کا زمین تک فاصلہ نو ہزار ملین (نو ارب ) نوری سال ہے اور آج دن و رات میں ریڈیو ٹیلی سکوب کی اں کز تک پہنچنے والی شعاعین نو ہزار ملین سال کا فاصلہ طیکرنے کے بعد زمین تک پہنچتی ہیں ہم نے یہاں پر دن و رات کیا ہیں اور ممکن ہے کہ یہ خیال کیا جائے کہ ہم نے غلطی کی ہے کیونکہ ستارے تو صرف رات کو نظر آتے ہیں ۔

لیکن اب وہ زمانہ لد گیا جب انسان کے پاس ریڈیو ٹیلی سکوب نہیں تھی جبکہ آج تین سو میٹر قطر کی ٹیلی سکوپ ‘ پورٹوریکو میں موجود ہے اسکی مدد سے دن میں بھی ستاروں کو دیکھا جا سکتا ہے ۔

بعض کو آزر نامی ستاروں کی روشنی ہمارے سورج کی روشنی سے دس ہزار ارب گنا زیادہ ہے یہاں پر ہم نے غلطی کی ہے اور نہ ہی مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے ستاروں کی روشنی ناپنے کے لئے ہمارے پاس پیمائش کی واحد اکائی ہمارے سورج کی روشنی ہے بعض کو آزر ستارے اس قدر روشن ہیں کہ ان کی روشنی ہمارے سورج کی روشنی سے دس ہزار ارب گنا زیادہ ہے لہذا کسی مبالغہ آرائی کے بغیر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا سورج کو آزر ستارے کے مقابلے میں بجھا ہوا ایک چراغ ہے اس کو اچھی طرح تصور میں لانے کیلئے ایک کا ہندسہ ڈالیں اور اسکے دائیں جانب سولہ صفر لگا دیں ۔

یہ ستارے جن میں سے پہلا ستارہ ۱۹۶۳ عیسوی میں دریافت ہوا اور اب تک ان میں سے دو سو سے زیادہ دریافت ہو چکے ہیں اب سائنس دان ایک ایسی ریڈیو ٹیلی سکوپ کیلئے کوئی ایسی دوربین نہیں بنائی جا سکی جس کا عرض تیس کلو میٹر (تیس ہزار میٹر ) ہو ۔

اس عظیم ریڈیو ٹیلی سکوپ کی سائنس دانوں نے منصوبہ بندی اس طرح کی ہے کہ ریڈیو ٹیلی سکوپ کے انٹینا کی کچھ تعداد کو ایک علاقے میں انگریزی کے وائی یا فرانسیسی کے ایگرک کی شکل میں اسطرح لگایا ہے کہ اس وائی یا ایگرک کی تینوں شاخوں میں سے ہر ایک اکیس کلو میٹر ہو اور یہ انٹینا لوہے کی پٹڑی پر رکھے جائیں تاکہ ان کو مرضی سے ادھر ادھر حرکت دے کر معین فاصلے پر کھڑا کیا جا سکے ان انٹینوں کا مجموعی رقبہ جو اکیس کلو میٹر ہو گا اسکی قوت ریڈیو ٹیلی سکوپ کے نظارہ کرنے کی قوت کے مساوی ہو گی پھر اس عظیم ریڈیو ٹیلی سکوپ کو آزر کے دیکھنے کیلئے استعمال کریں گے تاکہ اسکے ذریعے اچھی طرح اس کا مشاہدہ کر سکیں ۔

نجومیون نے اٹھارویں صدی عیسوی کے بعد آہستہ آہستہ عادت بنا لی تھی کہ کائنات میں دریافت ہونیوالے بڑے بڑے اور روشن ستاروں کے بارے میں حیرت کا اظہار نہیں کرتے تھے ۔

پھر بھی جب ۱۹۶۳ عیسوی میں پہلا کو آزر دریافت ہوا تو فلکیات کے ماہرین کی عقل دنگ رہ گئی اور جب انہوں نے دور دراز ایک کو آزر پر تحقیق کرنے کیلئے ٹیلی سکوپ کی آنکھ سے آنکھ لگائی تو انہوں نے اپنے سر کو اپنے دو ہاتھوں سے پکڑ لیا کہ کہیں ایسا نہہو کہ ان کی عقل ان کے سر سے اڑ جائے اور وہ دیوانے ہو جائیں ۔

جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں دور دراز موجود کو آزر زمین سے نو ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ہیں جب کہ آئن سٹائن کا کہنا تھا کہ کائنات کا قطر تین ارب نوری سال سے زیادہ نہیں ہے فضائی وسعت جسے روشنی نو ہزار ملین سال میں طے کرتی ہے اسکے لئے صرف اتنا جاننا کافیہے کہ روشنی ہر سال ۹۵۰۰ ارب کلو میٹر فاصلہ طے کرت ہے اس طرح ہمیں کو آزر اور زمین اک درمیانی فاصلہ معلوم کرنے کیلئے ۹۵۰۰ ارب کلو میٹر کو نو ارب سال سے ضرب دنا چاہیے ۔

اس فاصلہ جس کا انسانی عقل احاطہ نہیں کر سکتی سے بھی زیادہ حیران کن چیز کو آزر کی روشنی ہے جس نے سائنس دانوں کی عقل مبہوت کر دی ہے یہ روشنی جو سورج کی روشنی کے دس ہزار ارب گنا کے برابر ہے اور سائنس دان ابھی تک اس بات کا کھوج نہیں لگا سکے کہ وہ کونسی توانائی ہے جو اس روشنی کو وجود میں لاتی ہے۔

پروفیسر آلفن کا کہنا ہے کہ کائنات میں مادہ اور ضد مادہ کے دھماکوں کے علاوہ کوئی ایسا ذریعہ نہیں جو اس قدر توانائی پیدا کر سکے اور وہ تجربہ جس کی تمہید روس میں باندھی جا رہی ہے اگر عملی صورت میں سامنے آ جائے اور ہیلیم اور ضد ہیلیم کا دھماکہ ہو تو نہ صرف یہ کہ توانائی کا ایک بیش بہا منبع بنی نوع انسان کے ہاتھ لگے گا بلکہ ممکن ہے کہ کوآزر کی توانائی کا منبع بھی معلوم ہو جائے ۔

شاید آپ یہ پوچھیں کہ روس میں عنصر اور ضد عنصر کا دھماکہ نہیں کیا جاتا اور ہیلیم اور ضد ہیلیم کو ہی کیوں اس مقصد کیلئے استعمال کرتے ہیں ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ضد ہیلیم بااسانی دستیاب ہے جبکہ آکسیجن یا ہائیڈروجن کا اینٹی عنصر دستیاب نہیں اور آج جب کہ امریکہ میں پہلے ایٹمی دھماکے کے تجربے کو انتیس سال ہو چکے ہیں ابھی تک یورانیم اور پلاٹینم (جسے یورانیم سے حاصل کرتے ہیں ) اور ہائیڈروجن ہی کو ایٹمی دھماکوں میں استعمال کرتے ہیں اور ہائیڈروجن میں کسی دوسرے عنصر کے ایٹموں کے اوغام کے ذریعے توانائی حاصل کی جاتی ہے نہ کہ یورانیم اور پلاٹینم کی طرح اسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ۔

سب سے زیادہ پائے جانے والے عناصر میں لوہا بھی ہے لیکن ابھی تک لوہیکے ایٹموں کا دھماکہ نہیں کیا جا سکا اور اسکے باوجود کہ تھیوری کے لحاظ سے لوہے اور تابنے وغیرہ کے ایتموں کا دھماکہ بھی ممکن ہے لیکن ابھی تک کسی ایٹمی طاقت نے ان دھاتوں کے ایٹموں کے دھماکے کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا ۔ پس ہیلیم اور ضد ہیلیم کے دھماکے کی وجہ ضد ہیلیم کی فراہمی ہے ریڈیو ٹیلی سکوپ نہ صرف دور دراز کی شعاعوں کو ریکارڈ کرتا ہے بلکہ خلا میں موجود مالیکیولوں تک بھی اسکی رسائی ہوتی ہے اور اب تک اس عظیم کائنات میں تقریبا تیس قسم کے مالیکیول دریافت ہوئے ہیں جن کا کچھ حصہ مشہور تیزابوں اور پروٹین کے خام مال پر مشتمل ہے اور سادہ الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جانداروں کی ساخت میں استعمال ہونے والے خام مال کے خلیات پر مشتمل ہے ۔

ان مالیکیولوں کی ہماری زمین پر موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کہ انسان سمیت تمام جانداروں کی اس روئے زمین پر موجودگی ایک معمولی بات ہے کوئی استشنائی بات نہیں ۔

آج ہم یقین سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ شروع میں زمین میں زندگی کے کوئی آثار نہ تھے کیونکہ زمین ایک انتہائی گرم سیارہ تھا لہذا اس میں کسی زندہ وجود کا پایا جانا محال تھا ۔ لیکن جونہی زمین ٹھنڈی ہوئی اور کائنات میں پائے جانیوالے زندہ جرثومے زمین پر پہنچنے لگے تو وہ نابود نہیں ہوئے اور ان سے جاندار خلیات وجود میں آئے خصوصا پانچ مالیکیول جنکا نام یوراسیل ہے یعنی کو آنین ٹی مین اوہ نین سیٹورین جن سے زمین میں مشہور تیزاب اور پروٹین بنی اور پھر ان سے حیوانوں کے خلیات کیلئے جن میں انسانی خلیات بھی شامل ہیں اور اس علمیدریافت کے ضمن میں ہم ریڈیو ٹیلی سکوپس کے ممنون احسان ہیں فلکی دوربین کے ذریعے انسان آج تک ستاروں کا مشاہدہ کرتا تھا اور ستاروں میں پائے جانے والے عناصر کو دریافت کرتا تھا اس طرح انسان ستارے کے درجہ حرارت کو بھی اخذ کر لیتا تھا۔

لیکن انسان اس بے کراں خلا میں موجود مالیکیولوں کا پتہ نہیں چلا سکتا تھا اور یہ مالیکیول جن کا کچھ حصہ زندگی کی تولید کرنے والے مالیکیولوں پر مشتمل ہے ریڈیو ٹیلی سکوپ کے ذریعے دریافت ہو چکے ہیں کیونکہ آج ہمیں معلوم ہے کہ زندگی زمین پر کوئی کم یاب وجود نہیں لہذا ہم ان دوسرے سیاروں پر بھی زندگی کی موجودگی کے امیدوار ہو سکتے ہیں جن کی کیفیت کرہ ارض جیسی ہے اور شاید وہ معیار زندگی کے لحاظ سے ہزاروں ملین سال ہم پر سبقت رکھتے ہوں اور چونکہ وہ اس کائنات میں ہم سے ہزاروں ملین سال پہلے وجود میں آئے ہیں لہذا انہوں نے وسائل بھی حل کر دیئے ہونگے جنہیں ہم ابھی تک حل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے اگرچہ زیادہ وقت زندہ رہنا ہی زیادہ علم رکھنے کی دلیل نہیں کیونکہ بنی نوعی انسان نے تقریبا اس زمین پر دو ملین سال گزارے ہیں لیکن اس کے علم کا آغاز صرف دس پندرہ ہزار سال پہلے ہوا ہے ۔

بہر کیف آج چونکہ ہمیں معلوم ہے کہ صرف ہم ہی اس کائنات کے شاہد نہیں اور شاید ایسے کئی اربوں دوسرے سیارے موجود ہوں جن میں بے شمار جاندار اور باہوش مخلوقات پائی جاتی ہوں جنکے علوم اور تجربات سے ہم استفادہ کر سکیں اور موجودہ زمانے میں ہمارے پاس ریڈیو ٹیلی سکوپس ہی دوسرے سیاروں کے ساتھ رابطے کا بہترین ذریعہ ہیں ۔

جعفر صادق نے فرمایا بعض ستاروں کی روشنی اتنی زیادہ ہے کہ سورج ان کے سامنے ماند ہے آج ہم آپ کے فرمان کی تائید کرتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا سورج ان ستاروں کے سامنے ایکبجھا ہوا چراغ ہے اور آپ کی سوچ اور فکر میں وسعت اور گہرائی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے دوسری صدی ہجر کے پہلے پچاس سالوں کے دوران میں اس حقیقت کو پا لیا تھا جس سے ہم آج مطلع ہو سکے ہیں یہ کوآزر جن سے بعض زمین سے نو ہزار سال نوری فاصلے پر واقع ہیں کیا یہ کائنات کی ابتدا میں واقع ہیں یا کائنات کے وسط یا آخر میں ؟

ہمارا سورج ان کو آرز کے سامنے ایک بجھے ہوئے چراغ کی مانند ہے جبکہ سورج ہمارے چوبیس گھنٹوں کے دوران زمین اور دوسری سیاروں کو ہرارت اور روشنی پہنچانے کیلئے چار سو ارب ٹن ہائیڈروجن کو ہیلیم میں تبدیل کرتا ہے اور مزید دس ارب سال تک یہ اسی طرح جلتا رہے گا ۔

جب ہمارے سورج کی عمر اتنی لمبی ہے تو ہم اندازا یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک کو آزر کی عمر کتنی ہو گی ہم ایک نہایت ہی سادہ تخمینے سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ کو آرز جو زمین سے نو ہزار ملین نوری سال کے فاصلے پر واقع ہیں ان کی عمر ہزار ارب سال سے زیادہ ہے اور چونکہ اس کائنات میں ہامرے سورج کی مانند ایسے دوسرے سورج بھی موجود ہیں جو دس ارب سال بعد بجھ جائیں گے تو ناگزیر علم و عقل کے حکم کے تحت اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اس کائنات میں صرف ہمارے دنیا ہی نہیں بلکہ دوسری دنیائیں بھی موجود ہیں ۔

اگرچہ ہمارے فلکیات کے ماہرین کی نظر میں بعض ستارے نہیں بجھے اور نہ ہی ناپید ہوئے پھر بھی دو یا دو سے زیادہ سورجوں کے درمیان پائے جانے والے طول کے فرق نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ صرف ایک ہی دنیا نہیں بلکہ ہماری دنیا کے علاوہ بھی دنیائیں موجود ہیں ۔

جعفر صادق نے فرمایا دنیائیں صرف ایک یا دو ہی نہیں بلکہ متعدد دنیائیں موجود ہیں آپ کا یہ فرمان آج نا قابل تردید طور پر ثابت ہو چکا ہے اور ہمارے نظام شمسی کی مانند ہزاروں دنیائیں مٹ جاتی ہیں لیکن کو آزر باقی رہتے ہیں ۔

جعفر صادق کے نظریہ کے مطابق یہ متعدد دنیائیں دو گروہوں میں تقسیم ہو سکتی ہیں ایک کا نام عالم اکبر اور دوسرے کا عالم اصغر ہے ۔

ہمارا خیال ہے چونکہ عوالم اکبر اور عوالم اصغر موجودہوں گے لیکن جعفر صادق نے عوالم اوسط کا نام ہی نہیں لیا بلکہ صرف عوالم اکبر اور عوالم اصغر کا نام لیا ہے کیونکہ دو عوالم میں سے ضرور ایک عالم بڑا اور دوسراچھوٹا ہو گا جب آپ سے عوالم اکبر اور عوالم اصغر کی تعداد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا خداوند تعالی کے علاوہ کوئی بھی ان کی تعداد سے مطلع نہیں ہے اور کسی طرح بھی عوالم کی تعداد کو شمار نہیں کیا جا سکتا ۔ آج کا علم جعفر صادق کے اس فرمان کی تصدیق کرتا ہے ۔

کیونکہ علم فلکیات جب ترقی کرتا جاتا ہے ‘ ماہرین کہکشاؤں اور سورجوں کی تعداد سے زیادہ سے زیادہ آگاہ ہوتے جاتے ہیں وہ اس بات کو جان لیتے ہیں کہ کہکشاؤں اور سورجوں کی تعداد کے بارے میں ان کا پہلا تصور غلط تھا اور کائنات کے سورجوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جو ارشمیدس نے تیسری صدی قبل از مسیح میں ذرات کی تعداد کے بارے میں بتائی تھی ارشمیدس نے کہا تھا کہ اگر ہم دس کے ہندے کو ۶۳ بار اسی دس کے ہندسے سے ضرب دیں تو کائنات میں پائے جانے والے ذرات کی تعداد کا پتہ چل سکتا ہے ارشمیدس کے نظریئے کے مطابق ذرہ مادے کا چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا ہوتا ہے جسے مزید تقسیم نہیں کیا جا سکتا اسیلئے اس ذرے کو نا قابل تقسیم کہا جاتا تھا ۔

اڈیلنگٹن ایک انگریز طبعیات دان جو ۱۹۴۴ میں پیدا ہوااس نے کہا اگر دس کے عدد کو اٹھاسی مرتبہ اسی دس کے ساتھ ضرب دیں تو کائنات میں ایٹموں کی تعداد معلوم کی جا سکتی ہے جس دن اڈیلنگٹن نے کائنات کے ایٹموں کا ریاضی کے اس فارمولے سے حساب لگایا تو فلکیات کے ماہرین معتقد تھے کہ کہکشاں کی تعداد ایک ملین ہے اور اسوقت تک فلکی دوربین جو کوہ پالومر کی رصد گاہ پر نصب ہے اور جس نے دو ہزار ملین نوری فاصلے پر واقع دنیا کو ماہرین فلکیات کی آنکھوں تک پہنچایا ہے ابھی ایجاد نہیں ہوئی تھی اور اسی طرح اس زمانے میں ریڈیو ٹیلی سکوپ بھی ایجاد نہیں ہوا تھا ۔

اگر آج اڈیلنگٹن زندہ ہوتا اور ریڈیو ٹیلی سکوپ کے ذریعے کو آزر کو دیکھنے میں کامیاب ہو جاتا تو اس کائنات میں ایٹموں کی تعداد کو شمار کرنے کیلئے جو فارمولہ دیا تھا اس پر نظر ثانی کرتا ۔ کیونکہ ۱۹۰۰ میں ماہرین فزکس اور فلکیات کا کائنات کے بارے میں جو تصور تھا اگر اس کا موازنہ آج کے تصور سے کیا جائے تو ہم بلا مبالغہ کہہ سکتے ہیں کہ پہلے تصور کو دوسرے تصور سے وہ نسبت ہے جو پانی کی ایک پیالی کو ایک سمندر سے ہے ۔

کوآرز کی دریافت کے بعد فلکیات کے ماہرین کو یہ نظریہ ہاتھ آیا کہ تمام وہ کہکشائیں جنہیں انسان آنکھ دیکھ سکتی ہے وہ جھان کی سرحدوں سے باہر واقع سیارے ہیں اور جہان کی سرحد ان مذکورہ کوآزر سے شروع ہوتی ہے جس میں سے بعض کا زمین سے نو ہزار ملیکن نوری سال فاصلہ ہے بنا براین چونکہ ہماری ریڈیو ٹیلی سکوپ نو ہزار ملین نوری سال سے زیادہ فاصلے تک نہیں دیکھ سکتے اس لئے جو کچھ کوآزر سے آگے یا اوپر واقع ہے ہماری آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی ۔

اس نظریے کے مطابق ایک لاکھ ملین کہکشاں جس میں سے ہر ایک دس ہزار ملین سورج کی حاملہے اور انسانی تیلی سکوپ کی آنکھ اور ریڈیو ٹیلی سکوپ کی ان تک رسائی ہے وہاں تک اصلی دنیا نہیں بلکہ کائنات کی سرحد کے باہر بکھرے ہوئے نہایت ہی قلیل سیارے ہیں اور اصلی کائنات تو کوآزروں سے شروع ہوتی ہے کیونکہ اگر اصل نہہوتی توہر کو آزر کی روشنی ہمارے سورج کی روشنی سے دس ہزار ارب گنا زیادہ نہ ہوتی ۔

ہمارے سورج میں چوبیس گھنٹوں کے دوران جو روشنی پیدا ہوتی ہے وہ چار سو ارب ٹن ہائیڈروجن دھماکوں کے نتیجے میں وجود میں آتی ہے اور ایک کو آزر میں چوبیس گھنٹوں کے دوران سورج کی روشنی کے دس ہزار ارب گنا کے برابر روشنی پیدا کرنے کیلئے کتنی ہائیڈروجن درکار ہوتی ہے (اگر کو آزر کی روشنی مادہ اور ضد مادہ کے دھماکے کے نتیجے میں حاصل نہ ہوتی ہو ) ایک سادہ حساب کے ذریعے ہم چار سو ارب ٹن کو دس ہزار ارب سے ضرب دیں تو ہمیں چار کا ہندسہ اور اسکے دائیں طرف ستایس صفر ملتے ہیں اور یہ عدد اس قدر بڑا ہے کہ ہم اسے زبان پر نہیں لا سکتے ۔

لیکن ہم کہہ سکتے ہیں کہ قاعدے کی رو سے ہر کو آزر میں چوبیس گھنٹوں کے دوران سورج سے دس ہزار ارب گنا زیادہ ایندھن جلتا ہے لہذا اصلی دنیا کو آزر ہے یعنی اصلی دنیا کو آزر سے شروع ہوتی ہے اور چونکہ ریڈیو ٹیلی سکوپس ابھی تک اس پر قادر نہیں ہیں کہ کوآزر سے اگے دیکھ سکیں ۔ لہذا ماہرین فلکیات اور طبعیات دان کو آزر سے شروع ہونیوالی اصلی دنیا کی وسعت کا اندازہ نہیں لگا سکے اور چونکہ جہان کی وسعت کا تخمینا اندازہ لگانا بھی محال ہے اس لئے سورجوں کی تعداد کا اندازہ لگانا بھی ان کیلئے محال ہے چہ جائیکہ وہ ارشمیدس اور اڈیلنگٹن کی تقلید میں جہاں میں موجود ایٹموں کا حساب لگا سکیں ۔

اسی بنا پر بڑی اور چھوٹی دنیاؤں کی تعداد کے بارے میں منطقی ترین نظریہ وہی ہے جس کا جعفر صادق نے اظہار فرمایا اور کہا کہ خداوند تعالی کے سوا کوئی بھی دنیاؤں کی تعداد سے مطلع نہیں ہے اور اس نظریئے کا دوسرا مفہوم یہہے کہ بنی نوعی انسان عوالم کبیر اور صغیر کے احاطہ کرنے پر قادر نہیں اور انہیں شمار نہیں کر سکتا عالم کبیر اور صغیر کے درمیان فرق جعفر صادق کے نزدیک صرف حجم کے لحاظ سے ہے نہ کہ کمیت کے لحاظ سے اور اج علم فزکس اس نظریہ کی بھی تصدیق کرتا ہے ۔

ہم نے گذشتہ صفحات میں ذکر کیا ہے کہا گر الیکٹرانوں اور مرکزے کے درمیان پائے جانے والے خلا کو درمیان سے ہتا دیا جائے تو کرہ ارض فٹ بال کی ایک گند کے برابر ہو جائیگا ۔ لیکن اس فٹ بال کی گیند کا وزن کرہ ارض کے موجودہ وزن کے مساوی ہو گا فٹ بال کی گیند کی مثال ہم نے اسلئے دی کہ اس سے ذہن آشنا ہے ورنہ اگر الیکٹرانوں اور نیو کلیس کا درمیان خلا ختم کر دیا جائے تو کرہ ارض کا حجم فٹ بال کی گیند سے بھی کم ہو جائیگا لیکن اس گیند کا وزن کرہ ارض کے موجودہ وزن کے برابر ہو گا ۔

اس طرف بھی توجہ کرنا لازم ہے کہ خلا میں کرہ ارض بے وزن ہے اور ہم صریحا یہ کہہ سکتے ہیں کہ خلا میں کرہ ارض کا وزن مرغ کے ایک پر جتنا ہے اور زمین پر ہی کیا منحصر ہے تمام سیارے جو سورج کے اردگرد گردش کر رہے ہیں اور بطور کلی تمام اجرام وسیع خلا میں دوسرے اجرما کے گرد گردش کر رہے ہیں بے وزن ہیں اور ان کے اس بے وزن ہونے کی دلیل ان کی حرکت کی رفتار ہے ۔

جعفر صادق کے نظریہ کے مطاقب جو کچھ عالم اصغر میں ہے وہی عالم اکبر میں بھی ہے لیکن جو کجھ عالم اکبر میں ہے اس کا حجم اصغر کے موجودات کے حجم سے زیادہ ہے اور جو خواص عالم اکبر میں پائے جاتے ہیں وہی خواص عالم اصغر میں بھی پائے جاتے ہیں بس فرق صرف اتنا ہے پہلے عالم کا حجم دوسریعالم کے حجم سے زیادہ ہے ۔

اس بنا پر اگر قدرت ہو تو ہر عالم اصغر کو عالماکبر اور ہر عالم اکبر کو عالم اصغر میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جس وقت ہم ان نظریات کو سنتے ہیں تو ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم فزکس کے کسی استاد سے سبق سن رہے ہیں یا یہ کہ فزکس کی کسی جدید کتابکا مطالعہ کر رہے ہیں جبکہ یہ وہ نظریات ہیں جنہیں ساڑھے بارہ سو سال پہلے پیش کیا گیا جعفر صادق سے سوال کیا گیا کہ جہان کب وجود میں آیا ؟

آپ نے جوابا فرمایا جہان شروع سے موجود ہے آپ سے جہان کی تاریخ پیدائش کے بارے میں سوال کیا گیا جعفر صادق نے جواب دیا میں جہان کی تاریخ پیدائش نہیں بتا سکتا چونکہ شیعہ اپنے اماموں کے معجزات کے قائل ہیں لہذا ان کا عقیدہ ہے کہ جعفر صادق بتا سکتے تھے کہ جہاں کب وجود میں آیا ؟ شیعوں کا اپنے آئمہ کے معجزات کے بارے میں جو عقیدہ ہے اس میں ایک علم امامت بھی ہے جو وسیع معنوں میں علم مطلق ہے ۔

مومن شیعہ جو امام کے معجزات کے قائل ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ جعفر صادق دنیا کی تاریخ پیدائشبتانا نہیں چاہتے تھے ورنہ وہ علم امامت کے ذریعے جہان کی تاریخ پیدائش سے آگاہ تھے شیعوں کے عقیدے کے مطابق (جو علم امامت اور امام کے اعجاز کے قائل ہیں )جعفر صادق نے نہ صرف اس موقع پر جواب نہیں دیا بلکہ بہت سے دوسرے مواقع پر بھی سوال کرنے والوں کے جوابات نہیں دیئے کیونکہ آپ نے بنی نوعی انسان کی مصلحت اسی میں سمجھی کہ انسان کچھ اسرار سے نا اگاہ رہے کیونکہ بعض اسرار سے اگاہی انسانی زندگی کا شیرازہ بکھیرنے کا سبب بن جاتی ہے ۔

بعض دوسرے مومن شیعہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں چونکہ جعفر صادق نے تمام علوم عوام کی بارے میں اظہار خیال فرماتے لیکن علم امامت نا ممکنات کا احاطہ نہیں کر سکتا اس لئے امام نا ممکن کام بجا نہیں لا سکتا ۔ شیعوں کے گروہ کا قولا ہے کہ امام تو امام خدا بھی نا ممکنات کو انجام نہیں دے سکتا اس موضوع پر ‘ شیعہ علما میں صدیوں سے فلسفیانہ بحثیں جاری ہیں کہ کیا خداوند تعالی نا ممکن کا کرنے پر قادر رہے انہوں نے یہ اظہار خیال کیا ہے کہ بنی نوعی انسان کی محدود توانائی کی وجہ سے بعض کام اس نا ممکن دکھائی دیتے ہیں ۔

لہذا محال کام بذاتہ نا ممکن نہیں ہے بلکہ بنی نوع انسان کی محدود توانائی کی وجہ سے اسے بعض کام نا ممکن دکھائی دیتے ہیں جس طرح ایک دو سالہ لرکے کیلئے بیس کلو گرام وزن اٹھانا محال ہے لیکن شیعہ علماء کا دوسرا گروہ کہتا ہے کہ بہر کیف ایسے کام ہیں جو محالات کے زمرے میں آتے ہیں مثلا کل کو جزو کے برابر کرنا کیونکہ عقلی لحاظ سے یہ ممکن نہیں ۔

لیکن وہ لوگ جو اس بات کے قائل ہیں کہ خداوند تعالی ہر مہال کام کو انجام دے سکتا ہے ان کا کہنا ہے کل اور جزو ہماری عقل کے لحاظ سے غیر مساوی ہیں ۔ اور ممکن ہے کہ ایک دوسری عقل کل اور جزو کو مساوی خیال کرے ۔ ان لوگوں کو کہنا ہے کہ خدا بکھری ہوئی اور خاک میں ملی ہوئی ہڈیوں کو اکٹھا کرے گا اور انسان کو اپنے اعمال کے حساب کیلئے زندہ کرے گا تاکہ انسان اپنے اعمال کی سزا یا جزا پائے یہ کام محال ہے لیکن بہر کیف خداوند تعالی اس محال کام کو انجام دیتا ہے جو کوئی خداوند تعالی کی طرف سے اس محال کام کی انجام دہی کا منکر ہو وہ مسلمان نہیں کیونکہ معاد دین اسلام کے اصولوں میں سے ہے مختصر یہ کہ مومون شیعہ معتقد ہیں کہ جعفر صادق جہان کی تاریخ پیدائش سے آگاہ تھے لیکن اس کے بارے میں اظہار خیال نہیں کرنا چاہتے تھے تاکہ لوگوں میں پریشانی نہ ہونے پائے ۔ جعفر صادق کا فرمان ہے کہ اگر اج سے لے کر میری زندگی کے آخری مرحلے تک مجھ سے یہ پوچھا جائے کہ جہان سے پہلے کیا چیز موجود تھی تو میں کہوں گا کہ جہان موجود تھا ۔ اس موضوع سے واصح ہوتا ہے جعفر صادق جہان کو ازلی مانتے ہیں جعفر صادق کا جہانوں کیبارے میں ایک دلچسپ نظرہ جہانوں کی وسعت اور سکڑنے کے متعلق ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ جو دنیائیں موجود ہیں ایک حال میں نہیں رہتیں کبھی وہ وسیع ہو جاتی ہیں اور کبھی ان کی وسعت کم ہونے کی وجہ سے وہ سکڑ جاتی ہیں جعفر اصدق کا یہ نظریہ بھی ان کے دوسرے نظریات کی مانند اہل علم حضرات کیلئے بے بنیاد تھا سائنس دانوں نے اس نظریئے کو ایک تخیل سمجھا اور کہا کہ جعفر صادق نے ایک ایسی بات کہی ہے جس کے درست ہونے کے وہ پابند نہیں ہیں جبکہ ایک سائنس دان جب کوئی بات کرتا ہے تو اسکی صحت کا پابندی ہوتا ہے اور ایک دانشمند کیلئے مناسب نہیں ہے کہ کوئی ایسی بات کہے جسے وہ حقیقی اور صحیح نہ سمھجتا ہو ۔

جب اٹھارویں صدی عیسوی کے بعد فلکی دوربینیں زیادہ طاقتور بنا لی گئیں اور ماہرین فلکیات نے ان دوربینوں کے ذریعے نہ صرف نظام شمسی کے سیاروں کا پہلے سے بہتر مشاہدہ کیا بلکہ نظام شمسی سے باہر کی دنیا کا بھی بہتر نظارہ کیا اور انیسویں صدی عیسوی کے نصف میں سیاروں کی روشنی کے ذریعے ان میں موجود بعض عناصر کا بھی پتہ چلا لیا۔

بیسوی صدی عیسوی کے آغاز میں ایک یورپی ماہر فلکیات جس کا نام ایبلیمیٹر ہے ۔ جو مذہبی لباس بھی پہنتا تھا اور بلجیئم کی یونیورسٹی میں پروفیسر بھی تھا ۔ اس نے جدید علم کے ابتدائی مراحل میں جان لیا تھا کہ کہکشاؤں کا ایک گروہ جو ہمارے نظام شمسی سے کافی قریب ہیں اور انہیں آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے وہ بتدریج دور ہوتا اور اطراف میں بکھرتا جا رہا ہے ایبلیمیٹر نے اپنے مشاہدات کی اطلاع رصد گاہ میں موجود دوسرے ماہرین کو دی اور ان سے درخواست کی کہ وہ یہ معلوم کریں کہ اس نے صحیح اخذ کیا ہییا نہیں ؟ ماہرین فلکیات جب فضاء میں کسی ایسی چیز کو دیکھتے ہیں جو پہلے دکھائینہ دی ہو تو وہ اس کی اطلاع دوسروں کو دیتے ہیں تاکہ انہیں یہ پتہ چلے کہ انہوں نے جو استنباط کیاہے وہ صحیح ہے یا غلط ہے ؟ اور اگر دوسرے بھی اس نئی چیز کو دیکھیں یا استنباط کر لیں تو یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ غلطی نہیں ہوئی جو کچھ ایبلیمیٹر نے دیکھا تھا اس کی تصدیق چند یورپی اور امریکی رصد گاہوں نے کی اور معلوم ہوا کہ کہکشاؤں کا ایک گروہ جو نظام شمسی کے قریب تر ہے اور اسے اجھی طرح دیکھا بھی جا سکتا ہے دور ہٹتا جا رہ ہے گویا وہ نظام شمسی سے حالت گریز میں ہیں اور ان کا فاصلہ اس کہکشاں سے جس میں ہمارا نظام شمسی ہیبتدریج بڑھتا جا رہا ہیایبلیمیٹر اور دوسری سائنس دان جو متعدد رصد گاہوں میں آسمانی سیاروں پر تحقیق کر رہے تھے ۔ کہکشاؤں کے ہمارے نظام شمسی کی کہکشاں سے دور ہٹنے کے مسئلے کے بارے میں بھی ایک دوسرے سے رابطہ رکھتے تھے یہاں تک کہ دوسری جنگ عظیم کے شعلے بھڑک اٹھے اور ان میں سے بعض جو اس موضوع سے خصوصا دلچسپی رکھتے تھے مثلا ایبلیمیٹر اور انگلستان کا طبیعات دان اڈیلنگٹن اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے لہذا کہکشاؤں کے دور ہونے کے مسئلے پر تحقیق ۱۹۶۰ ء عیسوی تک کھٹائی میں پڑ گئی کیونکہ دوسرے نہیں چاہتے تھے کہ جس کام کی ابتداء ایبلیمیٹر نے کی تھی اسے اس کے نام سے جاری رکھیں ۔

۱۹۶۰ ء عیسوی کے بعد کہکشاؤں کے ہامرے نظام شمسی کی کہکشاں سے دور ہونے کے مسئلے کے بارے میں تحقیق دوبار ہ شروع ہوئی ۔ دوسری مرتبہ معلوم ہوا کہ جو کہکشائیں ہماری کہکشاں کے نزدیک ہیں اور ماہرین فلکیات انہیں اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں ہماری کہکشاں سے دور ہوتی جا رہی ہیں لہذا ماہرین فلکیات کو اس میں کوئی شک نہیں چ کہ دنیا ہماری کہکشاں کے اردگرد وسیع ہوتی جا رہی ہے کیونکہ ہماری کہکشاں کے تمام اطراف میں کہکشائیں دور ہوتی جا رہی ہیں لیکن سائنس دان نہیں جانتے کہ دوسری جگہوں پر بھی کہکشائیں حالت گریز میں ہیں اور دور ہو رہی ہیں یا نہیں ؟ ان کی اس مسئلے سے بے خبری کی وجہ کائنات کا وسیع ہونا اور اجرام فلکی کا زمین سے دور ہونا ہے ہم نے گذشتہ صفحات میں دیکھا کہ بعض اجرام فلکی جن کا نام کو آزر ہے ہم سے نو ہزار ملین سال نوری فاصلے پر واقع ہیں اگر ان کو آزروں میں سے اچانک آج ایک تباہہو جائے تو ہمارے ماہرین فلکیات نو ہزار ملین سال کے بعد اس کی تباہی سے مطلع ہوں گے لہذا ہمارے ماہرین فلکیات کیلئے یہ جاننا نا ممکن ہے کہ دور دراز واقع اجرام فلکی نزدیک ہو رہے ہیں یا ہم س دور ہو رہے ہیں ؟ جو بات تحقیق سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ وہ کہکشائیں جو ہامری کہکشاں کے نزدیک ہیں اور ماہرین فلکیات انہیں اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں وہ اطراف میں بکھرتی جا رہی ہیں لہذا دنیا کے اس کائنات میں سکڑنے اور پھیلنے کی جعفر صادق کے نظریئے کی ہماری کہکشاں سے تصدیق ہو جاتی ہے اور چونکہ اس علاقے کی تمام کہکشائیں دور ہو رہی ہیں ہماری کہکشاں بھی دور ہو رہی ہے ہمیں معلوم نہیں کہ یہ دور ہونے کا عمل کس زمانے سے شروع ہو اہے ۔ جعفر صادق نے ساڑھے بارہ سو سال پہلے کہا جہان کبھی پھیلتے ہیں اور کبھی سکڑتے ہیں جس جہان میں ہم رہ رہے ہیں اس کا پھیلنا نہ صرف یہ کہ جعفر صادق کے زمانے سے شروع ہوا بلکہ آپ سے ہزاروں یا لاکھوں سال پہلے شروع ہوا ہمیں ان ہزاروں یا لاکھوں سال کے فرق پر حیرانی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہمارے نزدیک واقع کہکشاؤں کے درمیان اتنا زیادہ فاصلہ ہے کہ ہم حساب نہیں لگا سکتے وہ کہکشائیں ہزاروں سال پہلے دور ہٹنی شروع ہوئیں یا لاکھوں سال پہلے ؟ کائنات کے اس حصے میں کہکشاؤں کے دور ہونے کا پیمانہ ہمارے پاس وہ روز افزوں فاصلہہے جو ایبلیمیٹر کے مشاہدے سے لے کر آج تک کرہ زمین اور ان کہکشاؤں میں وجود میں آیا ہے ماہرین فلکیات کائنات کے تمام حصوں سے مطلع نہیں ہیں وہ نہیں جانتے کہ دوسری کہکشائیں بھی حالت گریز میں ہیں یا صرف کائنات کے اس حصے میں ایسا ہو رہا ہے ۔

لیکن ان ستاروں کا وجود جن کا نام کوتولے اور جن کا ذکر گذشتہ صفحات میں ہو چکا ہے ان کا سکڑنا ماہرین فلکیات کے ہاں ثابت ہے ماہرین فلکیات نے مشاہدہ کیا ہے کہ بعض ستارے اس قدر سکڑتے ہیں جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ جیسا کہ ماہرین فلکایت کہکشاؤں کے سکڑنے اور پھیلنے یعنی فاصلوں کی زیادتی اور کمی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے کہ کس وقت یہ عمل شروع ہوا ہے اسی طرح وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ کوتولہ ستارے کس زمانے میں کس قدر سکڑ گئے ہیں خیال کیا جاتا ہے ۔ جس طرح دنیاؤں کا سکڑنا اور پھیلنا تدریجی ہے اسی طرح ان ستاروں کا سکڑنا بھی تدریجیہے اور کوتولہ ستارے قلیل عرصے میں وجود میں نہیں ائے بلکہ ان کے ایٹموں کے الیکٹرانوں کے مفقود ہونے اور ایٹموں کے مرکزوں کو آپس میں پیوست ہونے میں ایک طویل مدت لگی ہے ۔

بنا بریں اس حالت میں کہ کائنات کے ایک حصے میں اجرام فلکی پھیل رہے ہیں اور دوسرے حصوں میں سکڑ رہیہیں یا یہ کہ ان کے سکڑنے کا زمانہ ختم ہو چکا ہے اور وہ ہماری زمین کی مانند زندگی کے کاروبار میں مشغول ہیں حالانکہ ایسا ہونا ہمیں محال نظر آتا ہے مادے کے حقیقی موت کو تولہ ستاروں میں واقع ہوتی ہے کیونکہ ان ستاروں میں مادہ مکمل طور پر ساکن ہوتا ہے ظاہرا مادیکی آخری منزل یہ ہے کہ وہ کوتولہ کی شکل اختیار کر لے اور اس کے الیکٹران ختم ہو جائیں اور صرف ایٹموں کے مرکزے باقی رہ جائیں جو آ  س میں جڑے ہوئے ہوں اور اس طرح ایک ایسی کمیت وجود میں ائے جو ہماری زمین پر پائے جانے والے سب سے زیادہ کمیت والے میٹیریل سے کھربوں گنا زیادہ کمیت کے حامل ہوں ۔ مختصر یہ کہ موجودہ زمانے میں علمنجوم اور فزکس جعفر صادق کے جہانوں کے پھیلنے اور سکڑنے کے نظریہ کی تائید کرتے ہیں ۔

اٹھارویں صدی عیسوی تک یورپ والے ہندوستان کے تمام لوگوں کے دینی فلسفی اعتقادات سے مطلع نہیں تھے اور صرف ہندوستانی مسلمانوں کے عقائد سے آگاہ تھے اٹھارویں اور انیسویں صدی میں یورپ کے کچھ دانشوروں نے ہندوستان کی قدیم فلسفی عقائد کے اصولوں سے اگاہ ہوئے اور انہوں نے جانا کہ ہندوستانیوں کے قدیم عقائد میں سے عقیدہ یہ بھی تھا کہ دنیا بیداری اور جوش و خروش کا مرحلہ ہے اور کاہلی کا دور جو آہستہ آہستہ جمود میں تبدیل ہو جاتا اور اخر کار خوبیدگیپر منتج ہوتا ہے ۔ دنیا کی بیداری کے زمانے میں اس قدر و سعت پیدا ہو گی کہ اس کی ابتدا اور انتہا کے بارے میں بھی ہم نہیں سوچ سکتے اس دوان گو نا گوں اقسام کے بے شمار درخت اور جانور دنیا میں وجود میں آئیں گے ۔اس دنیا کی وسعت کی ابتدا لاکھوں سال پہلے ہو چکی ہے اور مختلف اقسام کا مواد درخت اور جانور ابھی تک وجود میں آ چکے ہیں ایک زمانے کے بعد جس کے وقت کا تعین نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ دنیا سکڑتی اور پھیلتی رک جائے گی اور پھر دنیا میں مختلف اقسام کا مواد ‘ درخت اور جدید قسم کے جانور وجود میں نہیں ائیں گے۔ موجودہ مواد ‘ درخت اور جانور بھی بتدریج ختم ہوتے جائیں گے ۔ دنیا کی وسعت روبہ زوال ہو گی اور دنیا اپنے آپ کو سمیت لے گی اور اپنے مرکز کی طرف رجوع کریگی ۔ اپنے آپ کو سمیٹنے اور اپنیمرکز کی طرف جانے میں بھی لاکھوں سال لگیں گے اور یہ مدت بھی اس قدر طویل ہے کہ ہم اس کو متعین کرنے کیبارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ایک زمانہ آئے گا کہ دنیا بے حرکت ہو کر اپنے اندر ڈوب جائے گی اس طرح کہ کسی قسم کے مواد درخت اور جانور کا نام و نشان نہیں رہے گا اس مرحلیکودنیا کے ڈوبنے یا خوبیدگی کا دوسرا مرحلہ شمار کیاجا سکتا ہے کوئی نہیں جانتا کہ دنیا کتنا عرصہ تک غفلت میں رہے گی یا حالت خواب میں رہے گی شاید یہ مدت ملین ہا سال طویل کھنچے اور اس کے بعد دنیا کو جھٹکا لگے اور دنیا خواب سے بیدار ہو جائے اور دوبارہ وسیع ہو جائے اور جدید مواد درخت اور جاندار وجود میں آئیں اور دنیا کی توسیع میں روز بروز اضافہ ہوتا جائے دنیا کی بیداری کے جدید مرحلے کے دوران وہ مواد درخت اور جاندار وجود میں آئیں گے۔ جو پہلے وجود میں نہیں آئے تھے اور یہ قدرتی امر ہیجو انسان جدید مرحلے میں وجود میں آئے گا وہ پہلے انسان سے مختلف ہو گا یعنی ا س سے برتر ہو گا کیونکہ دنیا جب بیدار ہو گی اور اس میں توسیع پیداہو گی تو وہ اپنی اشیا وجود میں لائے گی جو پہلے سے ترقی یافتہ ہوں گی کیونکہ قدیم ہندوستانیوں کے عقیدے کے مطابق اگر دنیا گھٹیا چیزیں وجود میں لائے گی تو وہ زوال اور فساد کا باعث بنے گی اور نابود ہو جانے کے بعد پھر دوبارہ خواب سے بیدار نہیں ہو گی ۔ بنا بریں جس مرحلے میں دنیا خواب سے بیدا ہو گیا ور انسان سمیت جو کچھ بھی اس میں پیدا ہو گا وہ پہلے سے زیادہ ترقی یافتہ ہو گا اس عقیدے کے مطابق انسان کے مقدر کی ایک خاص حالت تھی ۔ قدیم ہندوستانیوں کے عقیدے کے مطابق انسان دنیا کی خوبیدگی کے دوران میٹرئیل ‘ درختوں اور جانداروں کے برعکس ختم نہیں ہوتا بلکہ مرنے کے بعد انسانی روح دوسرے مراحل طے کرتی ہے اور آخر کار ہمیشہ کی سعادت کے مرحلے تک پہنچتی ہے اور دنیا کی بیداری کے دوسرے مرحلے میں پہلے سے بہتر انسان وجود میں آتے ہیں جو موت کے بعد اپنی روح کے ذریعیباقی رہ جاتے ہیں اور ان کی روح چند مراحل کو طے کرنے کے بعد جنت میں دوسری ارواح سے جا ملتی ہے قدیم ہندوستانیوں کے عقیدے کے مطابق انسانی روح دنیا کے خواب اور بیداری کے قانون کی مطیع نہیں ہے اور جب خوابیدگی کے دوران تمام مواد درخت اور جاندار مر جاتے ہیں تو انسان کی روح باقی رہ جاتی ہے ۔ دنیا کی خوابیدگی کے موقع پر ہر چیز ختم ہو جاتی ہے مگر صرف انسانی روح بہشت ارواح میں باقی رہتی ہے کیا قدیم ہندوستانیوں کے اس عقیدے کو ان کی حب ذات اور خود پرستی کا نتیجہ خیال کیا جا سکتا ہے یا نہیں بظاہر یہ عقیدہ حب ذات اور خود پرستی کا نتیجہ ہے لیکن اگر تھوڑا سا غور کیا جائے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ جن لوگوں کا یہ عقیدہ تھا وہ روح کو مواد ‘ درختوں اور جانداروں کے برعکس ایک ایسی چیز سمجھتے تھے جسے موت نہیں آتی کیونکہ وہ مادی نہیں ہے کہ مر جائے اور اسی وجہ سے موت کے بعد انسان مادی دنیا سے بالاتر دنیا میں رہتا ہے اور جس دن سے تاریخی لکھی گئی ہے ا سے لیکر آج تک جس معاشرے میں آخرت کے بارے میں عقیدہ رہا ہے اس میں روح کی بقا کا عقیدہ بھی موجود رہا ہے اور کوئی ایک معاشرہ بھی ایس انہیں مل سکتا جس میں آخرت کا عقیدہ تو ہو لیکن روح کی بقا کا عقیدہ نہ پایا جاتا ہو ۔

مرکزی افریقہ کے سیاہ فام قبائل سے لیکر توحید ی مذاہب کے پیروکاروں تک سابقہ اور موجودہ تمام معاشرے روح کی بقا کا عقیدہ اس لئے رکھتے تھے اور رکھتے ہیں کہ وہ روح کو مادے سے جدا خیال کرتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ مادیکو موت ا جاتی ہے لیکن انسانی روح نہیں مرتی ‘ جو کچھ ہم نے عرض کیا اس کا ماحصل یہ ہے کہ دنیا کے پھیلنے اور سکڑنے کے بارے میں نظریہ قدیم ہندوستانی عقائد کے رنگ میں رنگ گیا ہے ۔

یہ نظریہ چاہے جعفر صادق نے پیش کیا ہو یا قدیم ہندوستانیوں کا عقیدہ ہو آج کے علم نجوم اور فزکس کے انکشافات اسے ایک علمی حقیقت قرار دیتے ہیں ۔

اگر ساری کائنات سکڑ اور پھیل نہیں رہی تو بھی اس کے کچھ جہاں پھیل اور سکڑ رہے ہیں اور جس مقام پر جہاں سکڑتا ہے وہاں اس کے بعد مادے کا وجود نہیں رہتا کیونکہ مادہ تو کمیت کا نام ہے جو ایٹموں میں موجود ہوتی ہے اور ایٹم جو اس مقام کو چھوڑ گئے اسے مادہ نہیں کہا جا سکتا ۔ کیا یہ مرہ ستارے جن کی کمیت اس قدر زیادہ ہے قدیم ہندوستانیوں کے عقیدے کے مطابق ایک دن زندہ ہونگے کیونکہ ان ستاروں کی حالت ویسی ہے جیسی قدیم ہندوستانیوں نے دنیا کے خواب میں جانے یا سانس روک لینے میں کہی ہے لیکن علم فزکس یہ نہیں بتا تا کہ یہ مردہ ستارے جن کا میزان کمیت اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ ان کے ذرات کے درمیان تھوڑی سی خالی جگہ بھی نہیں ہے وہ کیسے زندہ ہونگے ۔


آلودگی ماحول کی ممانعت

جعفر صادق کے زمانے میں صنعتیں دستی آلات تک محدود تھیں اور آج کے کارخانوں کی مانند ایک کارخانہ بھی موجود نہ تھا دھاتوں کو آگ کی چھوٹی چھوٹی بھٹیوں میں پگھلایا جاتا تھا اور تمام دھاتیں حتی کہ لوہا بھی ‘ لکڑی سے پگھلایا جاتا تھا ‘ لہذا ماحول کی آلودگی وجود میں نہیں آتی تھی ۔ حتی کہ اگر لوہے کو پتھر کے کوئلے کے ساتھ بھی پگھلاتے پھر بھی اتنا کوئلہ نہیں جلایا جاتا تھا کہ ماحول آلودہ ہو جاتا ‘ اٹھارویں صدی عیسوی کے آغاز سے لوہے اور فولاد کی کافی مقدار کو مغربی جرمنی فرانس ‘ انگلستان اور تمام یورپی ممالک میں ماحول کو آلودہ کئے بغیر کام میں لایا جانے لگا اور لوہا پگھلانے والے تمام کارخانے جرمنی فرانس اور انگلستان میں پتھر کا کوئلہ جلاتے تھے اور سال کے آغاز سے اخر تک کارخانوں کی چمنیوں سے دھواں ایک لمحے کیلئے بھی نہیں رکتا تھا پھر بھی پتھر کے کوئلے کے دھوئیں سے ماحول آلودہ نہیں ہوتا تھا جبکہ امام جعفر صادق کے زمانے میں تو آج کے کارخانوں کی مانند ایک کارخانہ بھی نہیں تھا اور نہ ہی کوئی پتھر کا کوئلہ جلاتا تھا ۔ پھر جعفر صادق نے اس طرح تاکید کی جس طرح کوئی آج کے ماحول کو دیکھ کر کرے ۔

فرمایا ‘ آدمی کو اس طرح زندگی گزارنا چاہیے کہ اس کا ماحول آَودہ نہ ہو ۔ کیونکہ اگر اس کا ماحول الودہ ہو گیا تو ایک دن آئیگا کہ اس کیلئے زندگی گزارانا مشکل اور شاید نا ممکن ہو جائے گا ماحول کی آلودگی کا موضع تیس سال پہلے بھی موجود نہ تھا یہ مضوع اس وقت سامنے آیا جب پہلا ایٹم بم پھٹا اور اس نے فضا کو آلودہ کیا اگر صرف وہی پہلا دھماکہ ہوتا اور مزید دھماکے نہ کئے جاتے تو ماحول آلودہ نہ ہوتا لیکن ایٹمی طاقتوں نے بعد میں بھی اس اسلحے پر تجربات جاری رکھے اور ان تجربات کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایٹمی بجلی گھر بھی چلانا شروع کر دیئے اور اس طرح فضا کی آلودگی آہستہ آہستہ بڑھ گئی اسی دوران خصوصا امریکہ اور یورپ میں صنعتوں نے ماحول کو آلودہ کیا اور دریائے رائن جو مغربی یورپ میں واقع ہے کی مانند بعض دریاؤں کا پانی اس قدر آلودہ ہو گیا ہے کہ مچھلیوں کی نسل اس میں ختم ہو گئی ہے اور اسی طرح شمالی امریکہ کے بڑے بڑے دریا جن کا پانی میٹھا ہے میں مچھلی کی نسل تقریبا نا پید ہو چکی ہے اور اس سے بھی خطر ناک آلودگی سمندروں کی آلودگی ہے کیونکہ سمندروں کے پانی کی سطح پر پلانکٹن نامی چند خلیات کے حامل جاندار پائے اجتے ہیں اور کرہ ارض کی نوے فیصد آکسیجن وہ تیار کرتے ہیں وہ اب سمندروں کی آلودگی کے نتیجے میں مر رہے ہیں اور ان کے مرنے کے نتیجے میں آج کرہ ارض پر آکسیجن کی مقدار دس فیصد رہ گئی ہے اور اکسیجن کی یہ مقدار نہ ہی جانوروں کے سانس لینے کیلئے ور نہ انسانوں کیلئے سانس لینے کیلئے کافی ہے اور اس طرح درختوں کے سانس لینے کیلئے بھی نا کافی ہے نتیجہ یہ ہوا کہ درختوں اور جانوروں کی نسلیں کرہ ارض پر سے معدوم ہوتی جا رہی ہیں اور یہ ایک تھیوری نہیں ہے جس کے جھوٹے اور سچے ہونے کا احتمال برابر ہو بلکہ ایک علمی حقیقت ہے آج اس حالت میں جبکہ سمندر آلودہ ہورہے ہیں پلانکٹن کی مقدار سمندروں کی سطح پر آئندہ پچاس سالوں تک نصف ہو جائے گیا ور اسی نسبت سے آکسیجن کی پیدوار کم ہو جائے گی جو بچہ آج پیدا ہوتا ہے اگر آئندہ پچاس سال تکزندہ رہے تو اس وقت تک اس کے سانس لینے کی کیفیت وہ ہو گی جو ایک کوہ پیما کی کوہ ہمالیہ پر بغیر آکسیجن ماسک کے ہوتی ہے یاد رہے کہ سلسلہ کوہ ہمالیہ دنیا میں سب سے بلند سلسلہ کوہ ہے ۔

ائندہ پچاس سالوں تک سمندروں کے پانی کی آلودگی کی وجہس ے انسانوں اور جانداروں کے سانس لینے کی کیفیت ایسی ہو گی جس طرح ایک مضطرب انسان کی ہوتی ہیں ۔ ئندہ پچاس سال تک اگر کوئی دیا سلائی (ماچس ) جلانا چاہے گا تاکہ سیگریٹ سلگائے یا چولھا جلائے تو دیا سلائی نہیں جلے گی کیونکہ ہوا میں اس قدر اکسیجن نہیں ہو گی کہ وہ دیا سلائی جلا سکے ۔ اور یہ قول کوئی علمی افسانہ نہیں بلکہ حقیقت ہے ایزاک آسیموف (شاید اسحاق عظیم اوف )امریکی طبعیات دان کا قوال ہے کہ امریکہ میں ۱۹۵۰ ء سے اب تک سانس لینے میں دشواری کی بیماری میں تین سو فیصد کا اضافہ ہو ا ہے اور یہ اضافہ قوی امکان ہے کہ زمینی فضا میں اکسیجن کی کمی واقع ہونے سے ہوا ہے چونکہ پلانکٹن کی موت کے نتیجے میں فضا میں آکسیجن کی مقدار میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے یہی سائنس دان کہتا ہے کہ اگر یہی حالت جاری رہی تو ایک صدی بعد درختوں اور جانداروں کی موت یقینی ہے اور نہ صرف خشکی میں درخت اور جاندار نابود ہو جائیں گے بلکہ تمام سمندری جانور بھینابود ہو جائیں گے کیونکہ سمندر میں کوئی ایسا جانور نہیں ہے جسے زندہ رہنے کیلئے اکسیجن کی ضرورت نہ ہو اگرچہ وہ جانور دو تین سو میٹر گہرائی میں ہی کیوں نہ رہ رہا ہو ۔

آج جو جہاز افریقہ کیمغرب سے جنوبی امریکہ کی طرف جاتے ہیں سمندر کے کافی بڑے رقبے (ہزار کلو میٹر) میں ‘ لوگوں کی رہائش گاہوں کے کوڑے کرکٹ کے درمیان رہتے ہیں اس رقبے کا زیادہ حصہ پلاسٹک پر مشتمل ہے جو نہ تو مٹی میں حل ہوتی ہے نہ سمندر میں ‘ یہ سمندری موجیں ہیں جو ارد گرد سے خس و خاشاک بہا کر وہاں لے گئی ہیں سمندری خس و خاشاک صرف اسی جگہ تک محدود نہیں ۔ بلکہ گو آؤ جزیرے اور امریکہ کی بری بحری اور فضائی چھاؤنی کے نزدیک ساکن سمندر میں خس و خاشاک سے بنی ہوئی ‘ ایک اور جگہ جس کا طول اور عرض ہزاروں کلو میٹر ہے بھی وجود میں آئی ہے اور اس علاقے میں جتنے پلامکٹن تھے نابود ہو گئے ہیں کیونکہ سمندری ریلے صرف خس و خاشاک کو مخصوص علاقوں میں جعم نہیں کرتے بلکہ مٹی کے تیل کو بھی جو ان علاقوں میں پانی کے اوپر پایا جاتا ہے ان علاقوں میں جع کرتی ہیں ۔ جس کے نتیجے میں چند خلے والے حیوانات جو بڑی سمندروں میں زندگی بسر کرتے ہیں اور آکسیجن پیدا کرتے ہیں بھی معدوم ہو جاتے ہیں بنی نوعی انسان سمندروں کو آلودہ کرکے ایک ایسا خطرہ مول لے رہا ہے جو ایٹمی اسلحے سے بھی زیادہ خطرناک ہیکیونکہ ایٹمی اسلحے کے بارے میں ایک توازن موجود ہے جن لوگوں کے پاس ایٹمی اسلحہ ہے وہ ایک دوسرے کے خوف سے اس کا استعمال کرنے کی جرات نہیں کرتے ۔ امر ممکن ہے یہ توازن برقرار رہے اورمزید ایک زمانے تک ایٹمی اسلحے کو کام میں نہ لایا جائے ۔ جس طرح دوسری جنگ عظیم میں اس کے باوجود کہ مخالف حکومتیں کیمیائی گیس اور گولیاں رکھتی تھیں مگر ایک دوسری کے خوف سے کام میں نہیں لائیں لیکن انسان کی طرف سے سمندروں کی آلودگی مزید ایک صدی تک انسان کی مطلق تباہی کا باعث ہو گی علمی نکتہ نگاہ سے یہ موضوع اس قدر نا قابل تردید ہے کہ اگر یہ حالت جاری رہی اور سمندر اسی طرح آلودہ ہوتے رہے تو انسانوں اور جانوروں کی زندگی آئندہ پچاس سال تک دشوار ہو جائے گی چونکہ آکسیجن کی مقدار خاصیکم ہو جائے گیا ور لوگ اس طرح سانس لیا کریں گے ۔ جس طرح کسی نے ان کے گلے کو دونوں ہاتھوں سے زور سے پکڑا ہوا ہو تاکہ وہ سانس نہ لے سکیں یہ بات واضح ہے کہ جب انسان کے سانس لینے کی یہ حالت ہو تو وہ آج کی مانند کام نہیں کر سکتا اور ہر انسان کی پیدواری صلاحیت چاہے وہ جو کام بھیکرتا ہو کم ہو جائے گی اور انسان کی معلومات کی سطح تیزی سے روبہ زوال ہو گی کیونکہ جب ایک طالب علم کلاس میں بے چینی کی حالت میں ہوتا ہے تو کوئی قابل غور چیز یاد نہیں کر سکتا ۔ اور جب ایک استاد بے چین ہوتا ہے تو وہ بھیکوئی قابل ملاحظہ بات طالب علموں کو نہیں سمجھا سکتا ۔ ایک کسان بھی جو کھیت میں کام کرتا ہے اور مزدور جوکارخانے میں کام کرنے میں مشغول ہے اگر آکسیجن کی کافی مقدار اس کے پھیپھڑوں تک نہیں پہنچتی اور اس کے علاوہ وہ دائمی طور پر بے چینی کا شکار بھی ہے تو اسے یہ محسوس ہو گا کہ اس کے بدن تک نہ پہنچنے کے نتیجے کا امریکہ کی ہارو ڈیونیورسٹی کے بیالوجیکل انسٹی ٹیوٹ میں خرگوش سمیت بعض جانوروں پر تجربہ کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ جب دماغ کے خلیات کو کافی مقدار میں آکسیجن نہیں پہنچتی تو وہ تمام احکامات جو دماغ کی طرف سے تمام بدن کے اعضاء کو صادر کئے جاتے ہیں تاخیر سے پہنچتے ہیں ۔

اگر ہم آکسیجن کے دماغ کے خلیات تک پوری طرح نہ پہنچنے کے اثرات کا جائزہ لیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ آئندہ پچاس سال میں موٹر سازی کے کارخانے میں اگر ایک مزدور ایک چابی کا کام کرنے کیلئے اٹھاتا ہے تو اسے چابی کو اٹھانے پر حائل ہونے اور اس لمحے جس لمحے وہ اٹھائیگا کیلئے چند سیکنڈ درکار ہونگے چونکہ دماغ کے خلیات کو کافی مقدار میں آکسیجن فراہم نہیں ہو گی کہ وہ اپنے متعلقہ اعصاب کو چابی کے فورا اٹھانے کا حکم دے تاکہ اسطرح اسکے ہاتھ اسی لمحے چابی کو اٹھا لیں ۔

اس طرح کی تاخیر تمام انسانی کاموں میں ظاہر ہو گیا ور ایک گاڑی کا ڈرائیور جس وقت اپنے سامنے کسی چیز کو دیکھے گا اور بریک لگانا چاہے گا تو جس لمحے وہ بریک لگانے کا ارادہ کرے گا اس سے لیکر اسکے پاؤں کے بریک کے پیڈل پر دباؤ ڈالنے تک چند سیکنڈوں کے بعد حرکت میں لاتا ہی جسکے نتیجے میں جہاز جس نے تمام راستہ طے کیاہوتا ہے اور حرکت کیلئے مزید جگہ نہیں ہوتی چونکہ جہاز ائر پورٹ کے آخری حصے تک پہنچ چکا ہوتا ہے لہا وہ رکاوٹوں سے ٹکرا کر دھماکے سے اڑ جاتا ہے ‘ جسکے نتیجے میں جہا ز کا پائلٹ اور اس میں سفر کرنیوالے مسافر جل جاتے ہیں ۔

جس طرح جب دماغ کے خلیات کو کافی مقدار میں اکسیجن نہیں ملتی تو وہ متعلقہ اعضاء کو تیزی سے کام کرنے پر مائل نہیں کر سکتے اسی طرح نہایت حساس اعضاء بھی تیزی سے کام انجام دینے سے قاصر ہوتے ہیں مثلا کان اور آنکھ فورا سن اور دیکھ نہیں سکتے اور ناک سونگھنے میں دیر لگاتی ہے اسی طرح قوت حافظ بہت کمزورہو جاتی ہے اور تمام لوگ فراموشی کی بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں ان کی یادداشتیں کھو جاتی ہیں اور اگر وہ چیزوں کو تازہ پڑھ یا سن کر یاد کریں تو انہیں کافی تکلیفمحسوس ہوتی ہے ۔

زندگی کے ماحول کو آلودہ کرنے والی چیزوں میں سے ایک یورانیم یا پلاٹینم کے ایٹموں کی افزودگی بھی ہے جس سے ایسا مواد خارج ہو تا ہے جو ماحول میں پھیل کر آلودگی کا باعث بنتا ہے اور ایٹمی بجلی گھر مسلسل اس مواد کو باہر پھنکتے ہیں جبکہ ایٹمی بجلی گھر خود بھی احتمالا خطر ناک ثابت ہو سکتا ہے ۔

ایٹمی بجلی گھر بناتی وقت غیر معمولی احتیاط سے کام لیا جاتا ہے اور تمام لوازمات کا خیال رکھا جاتا ہے پھر بھی یہ خطرہ موجود رہتا ہے کہ کہیں کسی حادثے کے نتیجے میں سیل دھماکے کا شکار نہ ہو جائے سیل ایک بکس ہے جس میں گریفائیٹ کے ساتھ یورانیم یا پلاٹینیم موجود ہوتا ہے اور حرارت پیدا کرتا ہے بجلی پیدا کرنے والے کارخانے کیلئے حرارت پیدا کرنے کا مرکز توانائی کا منبع کہلاتا ہے اور ایٹمی بجلی کے کارخانے کے تیل جو جنوبی انگلستان میں موجود ہیں اگر ان میں دھماکہ ہو جائے تو اس کے چاروں طرف ایک سو ساٹھ کلو میٹر تک ہر قسم کے جاندار ختمہو جائیں گے اور دھماکے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی حرارت چاروں طرف اسی کلو میٹر تک گھروں کو ویرانوں میں تبدیل کر دے گیا ور جنگلوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے علاوہ دریائے اور سمندروں کو خشک کر دے گی ابھی تک ایسا حادثہ پیش نہیں آیا لیکن ایسے حادثے کیلئے کسیایک سیل میں گریفائیٹ ( جو موجودہ زمانے میں ایٹمی توانائی کو بریک لگانے کیلئے استعمال ہوتا ہے ) کا کسی وجہ سے ختم ہونا یا نکارہ ہو جانا کافی ہے جس کے نتیجے میں دھماکہ وقوع پذیر ہو جائیگا ۔

ہمیں امید ہے کہ کسی ایٹمی بجلی گھر میں جو مختلف ممالک میں واقع ہیں ایسا واقع رونما نہیں ہو گا لیکن افسوس ہے کہ ان ممالک میں ایٹمی بجلی پیدا کرنے والے کارخانے مسلسل شعاعیں خارج کرنے والا مواد باہر پھینکتے ہیں اور ماہرین کو معلوم نہیں کہ اس مواد کو کہاں رکھیں کہ زندگی کا ماحول آلودہ نہ ہو ۔شعاعیں خارج کرنے والے مواد کو رکھنے کیلئے ماہرین کے ذہن میں جو پہلا خیال آیا وہ یہ تھا کہ اس مواد کو بند صندوقوں میں رکھ کر سمندروں کی گہرائی میں غرقاب کر دیں لیکن انہوں نے سوچا کہ ممکن ہے پانی کے دباؤ سے ان صندوقوں میں شگاف پڑ جائیں ۔ یا پانی کا دباؤ انہیں توڑ پھوڑ دے اور شعاعین خارج کرنے والا مواد پانی سے مخلوط ہو کر پلانکٹن سمیت تمام سمندری جانداروں کی حالت کا باعث بنے ۔ دوسرا یہ کہ اگر پانی کا دباؤ صندوقوں کو نہ توڑے تو بھی وققت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ صندوق کھل جائیں گے اور سمند ر کے پانی کو شاعین خارج کرنے والا مواد زہر آَود کریگا اور سمندر کے تمام جانور ہلاک ہو جائیں گے ۔ یہی وجہ تھی کہ وہ شعاعیں خارج کرنے والے مواد کو سمندر میں ڈالنے سے باز رہے اور جب ماہرین چاند پر گئے تو انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ شعاعیں خارج کرنے والے اس مواد کو چاند پر بھیج دیں ۔ لیکن تین وجوہات کی بنا پر یہ کام آج تک انجام نہیں پا سکا پہلی یہ کہ ایٹمی بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں کا پرائیویٹ محکمہ ہے یعنی وہ حکومتی محکموں کے زمرے میں نہیں اتے صرف روس اور دوسرے تمام سوشلسٹ ممالک کے سوا کارخانے دار اتنی استطاعت نہیں رکھتے کہ شاعیں خارج کرنے والے مواد کو مضبوط صندوقوں میں بند کرنے کے بعد راکٹ کے ذریعے زمین کی قوت تجاذب سے نکال کر چاند کی حدود میں پہنچا دیں کیونکہ صرف امیر حکومتیں ہی شعاعیں خارج کرنے والے مواد کے صندوق کو چاند پر بھیجنے کا خرچ برداشت کر سکتی ہیں اور یہ کام کسی ایسے محکمہ کے بس کا روگ نہیں جس کے پا محدود سرمایا ہو ۔

دوسری چیز جو ایسے صندوق کو چاند پر بھیجنے میں رکاوٹ ہے وہ یہ ہے کہ انہیں اطمینان نہیں کہ جس راکٹ کے ذریعے وہ مذخورہ صندوق کو بھیج رہے ہیں وہ کسی حادثے اک شخار نہ ہو گا اور زمین کے محیط سے خارج ہونے سے پہلے گر نہیں جائے گا یا خلا میں پھٹ نہیں جائے گا ایسی صورت میں شعاعین خارج کرے والا مواد زمین میں بکھر کر جانوروں اور درختوں کو مسموم کر دے گا اس راستے میں تیسری رکاوٹ یہ ہے کہ چاند اس مواد سے آلودہ ہو جائے گا اور ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ چاند اقتصادی لحاظ سے بنی نوعی انسان کیلئے فائدہ مند ہے یا نہیں ؟ اگر چاند بنی نوعی انسان کیلئے اقتصادی لحاظ سے مفید ہو تو شعاعیں خارج کرنے والے مواد کے صندوقوں کا وہاں پر ڈھیر لگانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان آئندہ چاند کے ذرائع سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اگرچہ چاند پر ہوا نہیں جو شعاعیں خارج کرنے والے مواد کو منتشر کرے لیکن دن کو چاند پر زمین کی نسبت زیادہ گرمی ہوتی ہے اور چاند کی قوت کشش زمین کی نسبت بہت کم ہے زیادہ گرمی اور کم قوت تجاذب شعاعیں خارج کرنے والے مواد کے پھیلنے کا باعث بنتی ہیں اور اس طرح تمام کرہ چاند آلودہ ہوتا ہے اور پھر انسان وہاں پر کبھیبھی چاند کے معدنی مواد کو نکالنے کیلئے کام نہیں کر سکتا ان تین باتوں کی وجہ سے ابھی تک انسان شعاعیں خارج کرنے والے مواد کو چاند پر بھیجنے سے قاصر رہا ہے ۔

یہ جاننے کیلئے کہ جعفر صادق کی اس وصیت یعنی انسان کو اپنے ماحول کو ودہ نہیں کرنا چاہیے پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے کس طرح ایک دولتمند قوم مشکلات سے دو چار ہو گئی ہے اس کیلئے ہم جاپان کی مثال دیتے ہیں ‘ جس وقت دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی اور جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ جاپان نے اس میں شکست کھائی اس زمانے میں ایک جاپانی کی متوسط آمدنی تیس ڈالر سالانہ تھی جبکہ آج ایک جاپان کی متوسط آمدنی کی حد پانچ ہزار پانچ سو ڈالر ہے جاپان کی تجارت اس قدر عالمگیر ہے کہ امریکہ جیسے صنعتی ملک میں بھی فروخت ہونے والے بیس ہزار موٹر سائیکلوں میں سے اٹھارہ ہزار جاپانی ہیں جیسا کہ ہمیں معلوم ہے مغربی جرمنی ریڈیو اور ٹیلی ویژن بنانے کی صنعت میں بہت گے ہے اور آ مغربی جرمنی میں فروخت ہونیوالے ایک سو دستی ریڈیو میں سے ۹۹ ریڈیو جاپانی ہیں ۔ آج جاپان آٹو موبائیل اور کمپیوٹر اور ریان یعنی درختوں کے مصنوعی ریشوں سے تیار کردہ کپڑوں کی صنعت میں امریکہ کے بعد پہلا ملک ہے اور ریڈیو ٹیلی ویژن ‘ ٹیپ ۴ ریکارڈر کیمرے اور جموٹر سائیکلوں کی صنعت میں دنیا کا پہلا ملک شمار ہوتا ہے ۔

اگر ہم یہ بیان کرنے لگ جائیں کہ جاپان نے کس طرح نہایت مختصر عرصے میں صنعت اور تجارت میں اس قدر ترقی کر لی تو ہم اپنے اصلی موضوع جو زندگی کے امحول کی آلودگی سے متعلق ہے سے ہٹ جائیں گے مختصرا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جاپان کی اس ترقیمیں دو عوامل کار فرما ہیں ایک با صلاحیت قیادت اور دوسری جاپانی مزدور کی اپنے کام میں لگن ۔

لیکن اس دولتمند اور محنتی قوم نے چونکہ اپنے ماحول کو آلودگی سے محفوظ رکھنے کیلئے کوئی خاص انتظام نہیں کیا تھا لہذا آج نہ صرف یہ کہ ایک بڑے مسئلے سے دو چار ہے بلکہ اس کے معاشرے کی صحت بھی خطرے میں پڑ گئی ہے اور ماحول کی آَودگی کی وجہ سے جاپان میں ایسے ایسے امراص نے جنم لیا ہے جن کی علم طب کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی مشہوریونانی طیبیب بقراط سے لیکر آج تک ڈاکٹروں نے اپنی تحقیق سے چالیس ہزار مختلف بیماریوں کے نام درج کئے ہیں اور علامتیں لکھی ہیں جن میں انسان مبتلا ہو سکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں نے ان بیماریوں کیلئے دوائیں بھی تجویز کی ہیں لیکن جن بیماریوں نے جاپاں میں ماحول کی آلودگی کی وجہ سے جنم لیا ہے ان میں کسی بیماری کا بھی علم طب میں ذکر نہیں ہے ان بے مثال بیماریوں میں سے ایک بیماری کا نام جاپانیوں نے ایتائی ۔ ایتائی رکھا ہے چونکہ مریض درد کی شدت کی وجہ سے اس طرح آہ زاری کرتا ہے یہ بیماری کے عنصر کی انسانی بدن میں زیادتی کی وجہ سے ان مقامات پر جنم لیتی ہے جہاں کارخانے آب و ہوا اور کھتیوں کو آَودہ کرتے ہیں ۔

اس بیماری کی پہلی علامت جسم میں ایک شدید اور نا قابل برداشت درد کا احساس ہے اور تھوڑی مدت کے بعد انسانی جسم کی ہڈیاں شیشے کی مانند ٹوٹنا شروع ہو جاتی ہیں اور محض ہاتھ لگانے سی ہی ٹوٹ کر شیشے کی طرح ریزہ ریزہ ہو جاتی ہیں ۔

ہڈیوں کی اس قسم کی بیماری کا تذکرہ علم طب کی کسی بھی کتاب میں نہیں ملتا ‘ ڈاکٹر پرانے زمانوں سے موجودہ زمانے تک کی اقسام (یعنی انسانی جسم کی ہڈیوں کی خرابیوں ) سے آگاہ تھے اور ہیں لیکن اس قسم کی بیماری انہوں نے نہیں دیکھتی تھی جس کے نتجے میں انسان بدن اس قدر کمزور ہو جائے کہ اگر اسے ہاتھ لگایا جائے تو وہ ایک نازک شیشے کی مانند ریزہ ریزہ ہو جائے اسی طرح ایک دوسری بیماری جو جزیرہ کیوشو (جاپان کے چار برے جزیروں میں سے ایک جزیرہ) میں پائی گئی ہے جس سے کچھ انسان ہلاک ہو چکے ہیں اور کچھ ہلاکت کے دھانے پر ہیں اور جو لوگ اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں ان کی بینائی ضائع ہو جاتی ہے اور ان کے عضلات اس طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں کہ ان کی حرکت کی طاقت سلب ہو جاتی ہے اور اگر چند روز تک ان کا علاج معالجہ نہ کیا جائے تو وہ مر جاتے ہیں ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ یہ بیماری پارے کی وجہ سے جنم لیتی ہے جو بعض کارخانوں سے خارج ہو کر آب و ہوا کو آلودہ کرتی ہے اور آب و ہوا کے ذریعے انسانی بدن میں داخل ہو جاتی ہے ڈاکٹر قدیم زمانے سے جانتے ہیں کہ ممکن ہے پارہ انسا نی آنکھ کی بینائی ضائع کر دے۔

سترہویں اور اٹھارویں صدی عیسوی میں یورپی ڈاکٹر سفلیس آتشک کی بیماری کا علاج پارے سے حاصل ہونے والی دواؤں سے کرتے تھے بعد میں جب انہیں علم ہو اکہ پارہ آنکھ کی بینائی کو اس قدر نقصان پہنچا سکتا ہے کہ ممکن ہے بیماری شخل مکمل طور پر نابینا ہو جائے تو اس کے بعد پارے سے علاج کرنے سے اہتراز کرنے لگے اور انہوں نے اپرے کو صرف جلدی بیماریوں اور جلنے کی صورت میں جسم کی اوپر جلد کے علاج تک محدود رکھا ہے اس کے علاوہ دو اور بیماریاں بھی ہیں جن کی مثال اس سے قبل نہیں ملتی سانسن لینے میں دشواری کی بیماری جاپان میں بھی کافی پھیل چکی ہے ۔

جیسا کہ ہم نے گذشتہ صفحات میں تذکرہ کیا ہے ‘ ایزاک آسیموف امریکہ کا ایک طبیعات دان امریکہ میں سانس لینے میں دشواری کی بیماری کی وجہ امریکہ کی ہوا سمیں آکسیجن کی کمی کو خیال کرتا ہے لیکن جاپانی ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ جاپان میں سانس لینے میں دشواری کی بیماری میں توسیع کی وجہ وہاں کے کارخانوں کا دھواں ہے جو فضا میں ملتا ہے اور بعض گیسوں کو ہوا میں شامل کر دیتا ہے یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں کہ جاپانی لوگ اپنے ملک کی خوبصورتی پر ناز کرتے تھے اور اپنے ملک کے قدرتی مناظر کو دنیا کے خوبصورت ترین مناظر خیال کرتے تھے لیکن اب وہ خود کہتے ہیں کہ زندگی کے ماحول کی آلودگی نے جاپان کے قدرتی مناظر کی وقعت کم کر دی ہے اور بعض جگہوں پر آب و ہوا ور زمین کی آلودگی نے خوبصورتی کو ختم کرکے رکھدیا ہے بلا شک و شبہ زندگی کے ماحول کی آلودگی کسی حد تک سمندری جانوروں سے ابھثی انسنوں میں داخل ہوئی ہے اور اس ضمن میں ایک نا قابل تردید دلیل موجود ہے اور وہ ایک انگریز ڈگلس رابرٹسن کے سفر کا حال ہے جو اس کی بیوی اس کے بیٹے اور ایک مسافر نے طے کیاہے یہ گروہ بادبانی کشتی کے ذریعے کرہ ارض کے ارد گرد چکر لگانا چاہتا تھا اس گروہ کے سفر کی دستان طویل ہے اور ہماری بحث سے خارج بھی ہے یہلوگ سفر پر روانہ ہونے کے بعد بحر الکاہل کے علاقے میں پہنچے جہاں سے سال کا فاصلہ چھ ہزار کلومیٹر سے زیادہ تھا وہاں پر ان کی کشتی ٹوٹ گئی جس کے نتیجے میں انہیں اس کشتی کو خیر باد کہہ کر ایک چھو ٹی کشتی میں سوار ہونا پڑا جو اسی کشتی میں موجود تھی ان کے پاس کشتی میں جتنا سامان تھا سب بہہ گیا اور ان کے پاس صرف پلاسٹک کے چند برتن جوپینے کے پانی سے بھرے ہوئے تھے اور وہ انہیں کشتی میں لے آئے تھے تاکہ دوران سفر کام آ سکیں رہ گئے لیکن کھانے پینے کا سامان جو اس زندگی بچانے والی کشتی میں تھا جلدی ختم ہو گیا اور مسافر بھوکے ہو گئے لیکن چونکہ موسم بارانی تھا لہذا جب بارش ہوتی تو وہ اپنے پلاسٹک کے برتنوں میں میٹھا پانی جمع کر لیتے قدرت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ وہ بحرا الکاہل جیسے وسیع سمندر میں تیر رہے تھے اور ان کے ہر طرف پانی تھا لیکن وہ اس پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں پی سکتے تھے اگرچہ بعض کشتیوں میں سمندریپانی کو صاف کرنے کیلئے ایک چھوٹی سی مشینری ہوتی ہے جس کی مدد سے سمندری پانی کو صاف کرکے استعمال میں لایا جا سکتا ہے اس مشینیری سے صاف کیا ہوا پانی اگرچہ کسی حد تک پھیکا ہوتا ہے لیکن بہر حال پینے کے قابل ہوتا ہے اس پانی میں نمک نہیں ہوتا لیکن ڈگلس رابرٹسن اور اس کے ساتھیوں کی زندگی بچانے والی کشتی میں اس قسم کی مشینیری نہ تھی ۔ بہر کیف چونکہ ہر دو یا تین دنمیں ایک مرتبہ بارش ہوتی تھی لہذا اس زندگی بچانے والی کشتی کے مسافر پیاسے نہیں ہوتے تھے لیکن انہیں بھوک ستاتی تھی انہیں معلوم تھا کہ سمندری مسافر پلانکٹن کھا کر نہ صرف یہ کہ کئی کئی دنوں اور ہفتوں بلکہ مہینوں تک اپنے آپ کو زندہ رکھ سکتاہے لیکن جس راستے سے وہ گذر رہے تھے وہاں پلانگٹن کا وجود نہ تھا جس کی وجہ سمندر کی آلودگی تھی (جیسا کہ ہم گذشت صفحات میں ذکر کر چکے ہیں کہ پلانگٹن چند خلیات پر مشتمل جانوروں کو کہا جاتا ہے جو سطح سمندر پر رہتے ہیں ) لیکن دو اقسام کے سمندری جانور زیادہ پائے جاتے تھے ایک ڈیوراڈ نامی مچھلی اور دوسرای سمندری کچھوا وہ ڈیوراڈ مچھلی کو کانٹے کے ذریعے شکار کر رہے تھے جب وہ ایک مچلی کا شکار کر چکے اور دوسری مچھلی کیلئے کانٹا سمندر میں ڈالا تو وہ مچھلی ان کا کانٹا لے کر چلی گئی اس سے وہ ڈیوراڈ کے شکار سے محروم ہو گئے لیکن جونہی کوئی کچھوا ان کی کشتی کے نزدک آتا تھا تو ان میں سے ایک پانی میں چھلانگ لگا کر اس کچھوے کو پکڑ لیتا تھا اور پھر دوسروں کی مدد سے اس جانور کو کشتی میں لے آتا اور ساریا س کا تگوشت کھاتی تھے اڑتیس دن تک ڈگلس رابرٹسن اور اس کے ساتھیوں کی خورک کچھوے کا گوشت رہا ۔ یہاں تک کہ ایک جاپانی ماہی گیر کی کشتی نے انہیں دیکھا اور انہیں نجات دلائی پھر انہیں مرکزی امریکہ میں واقع بال بوا کی بندرگاہ تک پہنچایا جونہی یہ لوگ بندرگاہ پہنچے تو بیمار پڑ گئے ان میں پارے سے جنم لینے والی بیماری کی علامتیں دکھائی دینے لگیں ۔ جب انہوں نے اسی علاقے کے کچھوے کا شکار کیا تو معلوم ہوا کہ یہ جانور پارے سے آلودہ ہے اور جو کوئی اس کا گوشتکھائے پارے کی بیماری میں مبتلا ہو جائے گا اور چونکہ سمندر کے درمیان میں پارے کے وجود میں آنے کی جگہ نہیں ہوتی پس معلوم ہوا کہ یہ جانور کسی دریا کے دو آبے میں انڈے سے باہر اتا ہے جس کے کنارے کافی کارخانے واقع ہیں ۔ اور چونکہ دریا کا پانی پارے سے آلودہ ہوتا ہے لہذا وہ کچھوے میں سرایت کر جاتا ہے اور جب وہ دو آبے سے دور سمندر میں نکل جاتا ہے تو ایک عرصے تک پارہ اس کے بدن میں رہتا ہے اسی لئے اس کا گوشت کھانے سے انسان بیمار پڑ جاتا ہے اور بلا تردید جو مچھلیاں ایسی جگہوں پر رہتی ہیں وہ بھی بیماری کا سبب بنتی ہیں جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس سے معلوم ہوا کہ جاپانی لوگوں نے تیس سال سے بھی کم عرصے میں قدرتی وسائل کے بغیر اتنی ترقی کر لی ہے کہ آج امریکہ اور روس کے بعد تیسرا بڑا امیر ملک کہلاتا ہے اس کے باوجود کہ نہ تو ان کے پاس لوہا اور پتھر کا کوئلہ ہے اور نہ ہی مٹی کا تیل وغیرہ پھر بھی اس کی صنعتوں نے دنیا کی مارکیٹوں کو مسخر کر لیا ہے لیکن جاپانیوں نے اپنے ماحول کو آلودہ کرکے اپنے لئے مشکالت پیدا کر لی ہیں اور اب ا کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنا صنعتی نظام مکمل طور پر تبدیل کریں اور صنعتی یونٹوں کوبڑے بڑے شہروں سے نکال چھوٹے شہروں میں لگائیں اس کیلئے انہیں ایک نقشہ تیار کرنا ہو گا ‘ جس پر اگر وہ اج سے عمل کرنا شروع کریں تو ۲۰۰۰ عیسوی تک اسے مکمل کر سکیں گے ۔اس نقشے کی تفصیلات کی تشریح ان صفحات میں محال ہے بہر حال اس نقشے کا ماحصل یہ ہے کہ بڑے بڑے شہروں مثلا ٹوکیو جو چند سال پہلے تک آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا شہر کہلاتا تھا (جبکہ آج کل شنگھائی آبادی کے لحاظ سے دنیا کابڑا شہر کہلاتا ہے ) کی آ ۶ ادی کم کر دی جائے اور ایسے شہروں کی زیادہ سے زیادہ آبادی صرف دو لاکھ تک محدود کر دی جائے ۔

بڑے بڑے شہر اس لئے وجود میں آئے ہیں کہ کھیتی باڑی ‘ صنعت و حرفت ‘ تجارت ‘ تعلیم و تربیت اور انتظامیہ کے ادارے وغیرہ سب شہر میں اکٹھے ہو گئے ہیں اور ہر سال ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ ایک شہر میں تمام کاموں کا اجتماعی لوگوں کو اپنی طرف زیادہ مائل کرتا ہے اور ان شہروں میں دوسرے علاقوں کی نسبت بے روزگار لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع بھی زیادہ فراہم ہوتے ہیں ۔

لیکن جاپان میں جو نقشہ تیار کیا گیا ہے اس کے مطاقب مختلف محکموں کے مراکز کو صنعتی مراکز سے اور ان مراکز سے تعلیم و تربیت اور کھیتی باڑی کے مراکز کو جدا کیا جائے گا۔ اور تمام صنعتی مراکز جن کے بارے میں خیال ہے کہ ماحول کو آلودہ کرتے ہیں ان میں صفئی کے آلات نصب کئے جائیں گے تاکہ جو چیز بھی کارخانے سے خارج ہو کر فضا یا زمین یا دریا میں شامل ہو پہلے اس کی مکمل طور پر تطہیر ہو جائے ۔ اگر اس طرح کی منصوبہ بندی جاپاں میں کامیاب ہو جائے اور اس کے مثبت نتائج برامد ہوں تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی اس کی تقلید کریں گے بنی نوعی انسان نے زندگی کے ماحول کو آَودہ کرنے والے خطرات خصوصا زمین دریاؤں اور سمندروں کو آلودگی کا باعث بننے والے اسباب پر حال ہی میں توجہ دی ہے ۔

لیکن جعفر صادق کی مانند گذشتہ دانشوروں نے بارہ سو سال پہلے اس بات کی طرف نشاندہی کر دی تھی کہ بنی نوعی انسان کو ایسی زندگی گزارنی چاہیے جس سے اس کا ماحول آلودہ نہ ہو ۔

قدیم آریا زمین اور پانی کو آلودہ کرنے سے پرہیز کرتے تھے جبکہ اس زمانے میں آج کل کی صنعتیں بھی موجود نہ تھیں اور انسان تعجب کرتا ہے کہ وہ کیسے اس موضوع سے آ گاہ تھے کہ زمین اور پانی کو آلودہ نہیں کرنا چاہیے ۔ کیا جس طرح ہمارے بعض دانشوروں نے کہا ہے کہ ہم زندگی میں جو کچھ سیکھتے ہیں اس کا ایک حصہ اس تمدن پر مشتمل ہوتا ہے جو ہمیں اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملتا ہے ‘ یہ الگ بات ہے کہ ہم اس کی طرف توجہ نہیں دیتے ‘ پس ہمارے آباؤ اجداد سے ہمیں جو معلومات اور تجربات ورثے میں ملے ہیں ‘ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان کو اپنا ماحول آلودہ نہیں کرنا چہایے کیونکہ جب ماحول آَودہ ہو گیا تو زندگی مشکل بلکہ نا ممکن ہو جاتی ہے وہ تمام قوتیں جنہیں یورپی مورخیں نے ہندوستانی اوریورپی قوموں کا نام دیا ہے ( اس نام کے رکھنے پر اعتراض کای گیا ہے ) انہوں نے اپنے ماحول کو آلودگی سے بچانے کیلئے بہت محنت کی ہے ان کی یہ کوشش وسوسے کے درجے تک پہنچ گئی تھی ایک فرانسیسی محقق ماریجن موتے جو آج سے چار سال پہلے فوت ہوا اس کے بقول ہندوستان کے شہروں میں گندے پانی کی پہلی نالی اس طرح تعمیر ہوئی کہ ہندوستانی لوگ زمین کو آلودگی سے بچانا چاہتے تھے ۔ لیکن مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اس قوم نے اس طرف توجہ نہیں کی کہ آخر کار آَودگی تو پھیلے گی کیونکہ یہ نالی دریا میں جا کر گرتی تھی ۔ لیکن ایک جرمن نولدکے کا خیال ہے کہ ہندوستانی فالتو پانی کی نالی کو دریا میں اس لئی ڈالتے تھے کہ ان کا عقیدہ تھا ہر پاک چیز گندی چیز کو صاف کرتی ہے اس لئے وہ دریائی پانی میں نہاتے تھے تاکہ اپنے آپ کو صاف کر لیں اور آج جب کہ ابتدای ہندوستانی اور یورپی تمدن جو ہزاروں سال پرانا ہو چکا ہے پھر بھی صفائی کیلئے پانی ہی استعمال کیا جاتا ہے جبکہ صفائی کیلئے مختلف اقسام کے کیمیائی ذرائع اور آکسیجن موجود ہے لیکن صفائی کیلئے لوگ پانی کا استعمال کرتے ہیں ہمیں سابقہ ادوار میں اٹلی کے شاعر اور مصنف داتونزیو جیسا شخص کوئی نہیں ملتا جو اپنی قمیضوں کو آکسیجن سے دھوتا ہو ۔ داتونزیو کا طریقہ کار یہ تھا کہ اپنے لباس کو خالص آکسیجن سے ڈبو دیتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ اکسیجن کے بغیر کوئی چیز بھی لباس کو صاف ستھرا کرنے پر قادر نہیں ۔ اس کی کوشش یہی ہوتی تھی کہ اس کا لباس اچھی طرح دھلا ہو اہو ۔ عمر کے ایک حصے میں اس نے لباس دھونا ترک کر دیا تھا لیکن جو لباس وہ ایک بار پہنتا تھا اسے اتار کر دور پینک دیتا تھا ۔ ہندوستانی اور یورپی اقوام اس کے باوجود کہ آکسجن کو نہیں پہچانتی تھیں اور نہ ہی اس بات سے آاہ تھیں کہ پانی میں آکسیجن پائی جاتی ہے جو کسی چیز کو صافکرنے کی خاصیت رکھتی ہے لیکن یہ قومیں قدیم زمانوں سے پانی کو پاک کرنے کی خاصیت سیآگاہ تھیں اور نولدکے کے بقول ان کا عقیدہ تھا چونکہ پانی پاکیزہ کرنے کی خاصیت رکھتا ہے لہذا جب گندے پانی دریا میں گر کر جاری پانی میں شامل ہو جاتے ہیں تو پانی آلودہ نہیں ہوتا ۔ اس جرمن نولدکے کا نظریہ کسی حد تک صحیح ہے کیونکہ گندے پانی کی نالی جب دریا میں گرتی ہے تو جاری پانی کو آلودہ نہیں کرتی ۔ اس لئے کہ پانی میں پائے جانے والے جراثیم دریا کے پانی میں بکھر جاتے ہیں لیکن اگر ایک دریا میں گندے پانی کی سینکڑوں نالیاں گریں تو اس کے پانی کو آلودہ کر دیتی ہیں کیونکہ پانی میں پائے جانے والے چھوٹے چھوٹ‘ے جراثیم اچھی طرح منتشر نہیں ہوتے ۔ بہر کیف اس زمانے میں کیمیائی مواد جس قدر دریاؤں کے پانی کو آلودہ کرتا ہے اس قدر گندے پانی کی نالی نہیں کر سکتی ۔ کیونکہ کیمیائی مواد پانی میں پائے جانے والے جراثیموں کی مانند تحلیل نہیں ہوتا اور دوسرا یہ کہ کارخانوں سے نکلنے والا کیمیائی مواد چھوٹے چھوٹے جراثیموں کوختم کر دیتا ہے اور اس طرح پانی جانداروں کی صفائی کے عوامل سے محروم ہو جاتا ہے ہندوستانی اور یورپی اقوام کو اپنے ماحول کو آلودگی سے محفوظ کرنیکا اس قدر اندیشہ تھا کہ وہ اپنی میتوں کو زمین میں دفن نہیں کرتے تھے بلکہ انہیں یا زندہ جلا دیتے تھے یا شہر سے دور کسی بلند جگہ کسی پتھر پر رکھ دیتے تھے یہاں تک کہ جب اس کی خشک ہڈیوں کے سوا کچھ بھی باقی نہ رہتا تو وہ پتھر سے ایک قبر بنا کر اسے اس میں رکھ دیتے وہ مردیکو خاک پر اس لئے نہیں پھینکتے تھے کہ ان کا خیال تھا اس طرح زمین آلودہ ہو جائے گی یہاں تک کہ یہ لوگ جنگ کے خاتمے پر مردوں کو دفن نہیں کرتے تھے اور ان کی لاشیں یا تو جلا ڈالتے اور یا پھر کسی بلند جگہ پر گلنے سڑنے کیلئے چھوڑ دیتے تھے اور کبھی ایسا ہوتا تھا کہ زمین ایک سے دوسرے کے ہاتھوں میں چلی اجتی تو وہ لوگ خشک ہڈیوں کوبھی دفن نہیں کر سکتے تھے اور یہ ہڈیاں اسی بلند جگہ پر پڑی رہ جاتی تھیں ۔

ہندی اور یورپی اقوام کا جب دوسری اقوام سے میل جول پیدا ہوا تو انہوں نے دوسری اقوام سے مردوں کو دفن کرنا سیکھا ۔ بہر کیف پھربھی وہ مضطرب ہو جاتے تو تب ہی اپنے مردوں کو دفن کرتے تھے ۔ اگر جنگ چھڑ جاتی اور بہت سے مرد اس میں کام ا جاتے تو چونکہ اس صورت میں وہ لاشوں کو کسی اونچے مقام پر لے جا کر نہیں رکھ سکتے تھے لہذا انہیں دفن کر دیتے تھے ۔

جس وقت اسکندر ہندوستان گیا اور وہاں اس نے جنگ کی تو ہند والوں نے اپنے سینئر افسروں کے علاوہ تمام مقتولین کی لاشوں کو جلاد ڈالا ‘ اسکندر کے اسی خط سے پتہ چلا ہے جو اس نے اپنے استاد ارسطو کے نام لکھا ہے ‘ اسکندر نے اپنے اس خط میں لکھا ‘ میں نے ہندیوں سے سوال کیا کہ کیوں ان اجساد کو جلاتے ہو اور دفن نہیں کرتے ؟

انہوں نے جواب دیا اگر ہم ان اجساد کو دفن کر دیں تو زمین آلودہ ہو جائے گی جو ہمارے قانون کے خلاف ہے اگر آپ زمین کو آلودہ نہیں کرنا چاہتے تو آپ نے سپاہیوں کے اجساد کو کیوں دفن کیا ہے ۔

ہندیوں نے جواب دیا سپاہیوں کے اجساد سے زمین زیادہ آَودہ نہیں ہوتی مگر چونکہ یہ افسران بالا ہین لہذا اگر دفن ہوں تو زمین زیادہ الودہ ہو جائے گی بعد میں اسکندر خود کہتا ہے ‘ میرا خیال ہے کہ وہ اس لئے افسران بالا کے اجساد کو دفن نہیں کرتے کہ اس طرح ان افسروں کا احترام مجروح ہو گا اسکندر کے خط نے ارسطو پر کا فی اثر ڈالا اور اس نے اس موضوع کو اپنیکتاب اور گانوں میں جو چھ رسالوں پر مشتمل ہے اور منطق پر لکھی گئی ہے میں رقم کیا ہے اور لکھا ہے کیا یہ بہتر نہیں کہ ہندیوں کی مانند اجساد کو جلا ڈالیں ؟

ہندی اور یورپی اقوام نے اپنے ماحول کو آلودگی سے بچانے کیلئے اس وقت تگ و دو کی جب ماحول کی الودگی بنی نوعی انسان کی زندگی کیلئے مضر نہ تھی کیونکہ اس زمانے میں دنیا کے بڑے سے بڑے شہر کی آبادی شاید ایک لاکھ سے زیادہ نہ ہو گی ۔ ہمیں ہندوستان اور ایرانی شہروں کی قدیم زمانوں میں آبادی کا علم نہیں لیکن قدیم مصر کے دارالحکومت " طبس " کی دو ہزار سال ق م میں آبادی ایک لاکھ بھی نہ تھی جب کہ یہ شہر کم از کم ایک ہزار سال سے دارالحکومت چلا آ رہا تھا ۔

چینیوں کے بقول ‘ دو ہزار سال قبل مسیح میں پیکنگ شہر کی آبادی پانچ لاکھ افراد پر مشتمل تھی ۔لیکن قول محض روایت ہے اور اس کی کوئی تاریخی سند نہیں ملتی ‘ خود چینیوں کی معتبر تاریخ میں اس موضوع کے بارے میں ذکر نہیں ہوا لیکن فرض کریں اگر ایک ہزار سال قبل مسیح میں پیکنگ کی آباد پانچ لاکھ افراد پر مشتمل تھی تو بھی یہ تعداد موجود دور کے بڑے شہروں کی آبادی کے مقابلے میں قابل اعتنا نہیں ہے بہر کیف ہم دیکھتے ہیں کہ کنفیوشس جیسا فلسفی ‘ معلوم اخلاق اور معروف چینی قانون دان بھی لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنے ماحول کو آلودہ نہ کریں ۔

کنفیوشس ۵۵۱ قبل مسیح میں پیدا ہو اور ۴۷۹ قبل مسیح میں اس دنیائے فانی سے رخصت ہوا جس وقت کنفیوشس نے دنیا میں قدم رکھا تو اس وقت تک ہندی اور یورپی اقوام کو ہندوستان میں رہتے ہوئے صدیاں بلکہ شاید ہزاروں صدیاں بیت گئی ہوں گی ہم نے صدیاں یا ہزاروں صدیاں اس لئے کہا ہے کہ ہمیں آریا قوم کی ہجرت کرنے کی صحیح تاریخ معلوم نہیں حتی کہ ہم اس قوم کی ہجرت کی تاریخ کے بارے میں تخمینہ بھی نہیں لگا سکتے ‘ مورخین کے بقول ‘ آریائی اقوام نے تین ہزار سال یا دو ہزار سال قبل مسیح میں ہجرت کی ۔ اسے ہم تخمینی تاریخ شمار نہیں کر سکتے ۔ چونکہ تخمینی تاریخ وہ ہے جس کی دو رقموں میں پچاس سال یا زیادہ سے زیادہ سو سال کا فرق ہو اور اگر یہ فرق ہزار سال تک ہو تو پھر ہم اس تاریخ کو تخمینی تاریخ نہیں کہہ سکتے ۔

قبل از تاریخ کے زمانوں میں اگر دس ملین سال کا فرق بھی ہو تو بھی اسے قابل اعتنا سمجھا جاتا ہے چونکہ حقیقی تاریخ کو اخذ کرنے کا کوئی ماخذ نہیں ہوتا ۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ تاریخ سے قبل بڑے جانوروں کی نسل آج سے ساٹھ ملین سال یا پچاس ملین سال پہلے معدوم ہو گئی اس کے باوجود کہ ان دو رقموں کے درمیان دس ملین سال کا فاصلہ موجود ہے ‘ پھر بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتا ۔ لیکن آریاؤں کی ہجرت قبل از تاریخ کو ایک صدی کے فرق کے ساتھ متعین کرتے ہیں جسے تخمینی تاریخ نہیں کہا جا سکتا بہر حال کنفیوشس ‘ جو ایک بڑا آدمی تھا ‘ جب اس نے اپنا وعظ و نصیحت شروع کیا تو ہندوستان میں زندگی بسر کرتے ہوئے آریائی قوم کو ایک مدت بیت چکی تھی ۔ لہذا بعید نہیں کہ کنفیوشس جس نے دنیا اور انسانوں کی ایک مدت تک سیر کی تھی ۔ اس نے ماحول کو آلودگی سے بچانے کی ضرورت کو اریاؤں سے سیکھا ہو ۔ کیا آریا جو اپنے ماحول کو آلودہ ہونے سے بچاتے تھے انہوں نے یہ سبق کسی دوسری قوم سے سیکھا اج زندگے کے ماحول کو آلودگی سے بچانا ہماری نظر میں عام سی بات ہے چونکہ خاص طور پر دوسری جنگ عظیم کے بعد ہم نے آلودگی کے خطرات کی طرف توجہ مبذول کی ہے ۔

لیکن جس زمانے میں آریاؤں نے ہجرت کی اور ایران و ہندوستان میں سکونت اختیار کر لی ‘ اس زمانے میں دنای کی آبادی اس قدر زیادہ نہ تھی کہ آلودگی کا مسئلہ ایک خطرناک موضوع بن چکا ہوتا دوسری جنگ عظیمس ے پہلے تک کرہ ارض کی آبادی زیادہ تھی اور نیویارک ‘ لندن اور ٹوکیو جیسے شہروں کی آبادی کئی کئی ملین تک پہنچ چکی تھی لیکن بہر کیف آلودگی کا مسئلہ اس وقت تک وجود میں نہیں آیا تھا اور یہ مسئلہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جدید صنعتوں کے وجود میں آنے اور ایٹمی توانائی کو استعمال میں لانے کے بعد پیدا ہوا ۔


نصیحت ‘ عقیدہ اور کردار بروئے تعلیمات جعفریہ

فرض کیا قدیم زمانے میں آبادی زیادہ تھی لیکن آج کی مانند صنعتیں موجود نہ تھیں ‘ کہ آلودگی خطرناک شکل اختیار کر لیتی پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آریائی اقوام نے ماحول کو آلودگی سے بچانے کے لئے اتنی سنجیدگی کیوں دکھائی کہ آلودگی سے احتراز کرنا اپنے مذاہب کے اصول کا جزو بنا لیا اور ہندوستان و ایران غریضہ جہان جہان آریائی اقوام آباد تھیں انہوں نے ماحول کو آلودگی سے بچانے کیلئے اپنی پوری کوشش کی ۔ اور جیسا کہ اس سے پہلے اشارہ کیا جا چکا ہے کہ ان کی یہ کوشش اندیشے کا درجہ اختیار کر گئی ۔

کیا ہم یہ سوچ سکتے ہیں کہ آریاؤں کی ہجرت سے پہلے اس کرہ ارض پر ایک ایسا تمدن موجود تھا جس نے ماحول کو آلودہ کیا اور آلودگی کے نتیجے میں وہ تمدن مٹ گیا یا اسے شید نقصان اٹھانا پڑا ہمارا خیال ہے یہ بات عقلمندوں اوردانشوروں نے گھڑی ہے تاکہ آئندہ آنے والے لوگ زندگی کے ماحول کو آلودہ کرنے سے پرہیز کریں ۔

اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ یہ بات صرف تخیل کی حد تک نہیں بلکہ حقیقت ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ناصحوں نے صرف آریائی اقوام کو دیکھا ہے اور دوسری قوموں کا مشاہدہ نہیں کیا چونکہ ان کی نصیحت صرف آریائی اقوام تک ہی محدود ہے انہوں نے کسی دوسری قوم سے یہ اندیشہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ بھی اپنی زندگی کے ماحول کو آلودہ کر سکتی ہے اگرچہ یہ آلودگی اس درجے تک نہیں پہنچتی تھی کہ لوگوں کے لئے خطرہ پیدا ہوتا جعفر صادق (علیہ السلام ) نہ صرف علمی مسائل میں نابغہ روزگار شمار ہوتے تھے اور آپ نے یہ صرف ایسی باتیں کہیں کہ آج ہم بارہ سو سال بعد بھی ان باتوں کو سن کر حیران ہوتے ہیں بلکہ آپ ایک قابل نظریاتی انسان بھی شمار ہوتے ہیں ۔ اور آئیڈولوجی کے لحاظ سے آپ کے نظریات بارہ سو سال بعد قابل توجہ ہیں اگرچہ سترھویں صدی کے بعد دنیا میں بڑے بڑے نظریاتی لوگ پیدا ہوئے ۔

جعفر صادق (علیہ السلام ) کے نظریات میں سے ایک نظریہ یہ ہے کہ ہر شخص کا عمل اس کے عقیدے کے مطابق ہونا چاہیے اور ہر شخص کے عقیدے کو اس کے افکار کی عکاسی کرنا چاہیے جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا انسان شروع میں صدیق پیدا ہوتا ہے اور اپنے عقیدے کے خلاف کوئی عمل انجام نہیں دیتا لیکن بعد میں بعض اشخاص میں یہ بات نمودار ہوتی ہے کہ ان کا عمل ان کے عقیدے کے برعکس ہوتا ہے اور وہ جھوٹ سے کام لیتے ہیں جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا ‘ چھوٹا بچہ جھوٹ نہیں بولتا اس کا عمل اس کے عقیدے کا عکاس ہوتا ہے اگر اسے کوئی اچھا لگے تو اس کی گود میں چلا جاتا ہے اور اگر اسے کوئی برا لگے تو اس سے منہ پھیر لیتا ہے جس چیز کو پسند کرتا ہے ‘ اس کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے اور جس چیز سے نفرت کرتا ہے اس سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے یہ علامتیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ انسان ابتدا میں صدیق ہوتا ہے اور اس کے اعمال اس کے تصور کے عین مطابق ہوتے ہیں لیکن جب بلوغت کی منزل پر آتا ہے تو بعض لوگوں کا کردار ان کی سوچ کے برعکس ہوتا جاتا ہے اور جھوٹ ‘ سچائی کی جگہ لے لیتا ہے ۔

آج حیوانات اور بشریات کے ماہرین اس بارے میں کہ انسان صدیق پیدا ہوتا اور اس کے اعمال اس کے عقیدے اور تصور سے مطابقت رکھتے ہیں جعفر صادق (علیہ السلام ) سے اگے نکل گئے ہیں ان کے بقول شروع میں انسان جھوٹ نہیں بو ل سکتا تھا اور نہ ہی اپنے عقیدے اور سوچ کے برعکس کوئی کام انجام دے سکتا تھا جو چیز اس کے جھوٹ بولنے اور اپنے عقیدے کے برعکس عمل کرنے کا سبب بنی وہ اس کی گفتگو ہے جس دن تک انسان نے بولنا نہیں سیکھا تھا وہ جس انداز سے سوچتا اسی انداز سے عمل کرتا تھا اور جھوٹ نہیں بول سکتا تھا جو کچھ اس کے باطن میں ہوتا اسے ظاہر کر دیتا ۔

بنی نوعی انسان کی اجتماعی حالت ‘ جانوروں کی اجتماعی حالت جیسی تھی ‘ مثلا جیسا کہ آج ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ جب دو جانور ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو اگر وہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہوں تو آپس میں دوستی گانٹھ لیتے ہیں لیکن اگر ایک دوسرے کو ناپسند کرتے ہوں تو آپس میں لڑنا جھگڑنا شروع کر دیتے ہیں ۔

ہر جانو ر کا دوسرے جانور کے متعلق باطنی احساس ایسا ہے کہ گویا وہ اس جانور کے بدن پر لکھا ہوا ہے اور جو نہی اسے دوسرا جانور دیکھتا ہے تو وہ اس باطنی احساس کو فورا محسوس کر لیتا ہے شروع شروع میں انسان بھی ایسا ہی تھااور یہ ریا کاری سے کام نہیں لے سکتا تھا ‘ جو کچھ اس باطن میں ہوتا فورا اسے ظاہر کر دیتا لیکن جب اس نے بول چال سیکھی اور یہ اپنے مدعا کو اپنے کلام بیان کرنا سیکھا چونکہ کلام کرنے کے نتیجے میں اس نے اپنے تجربات دوسروں تک پہنچائے اور اسی طرح دوسروں کے تجربات سے خود سبق حاصل کیا اور یوں انسان نے اپنی معلومات میں اضافہ کیا لیکن یہی کلام جس کے ذریعے بنی نوع انسان کی ترقی کی راہیں کھلیں بنی نوع انسان کے جھوٹ بولنے ‘ ریا کاری سے کام لینے اور عقیدے اور تخیل کے برعکس کردار سازی (منفافقت )کاباعث بھی بنا ۔

موجودہ زمانے کے مشہور معروف ڈنمارکی محقق اور مصنف پالووان مولہ کے بقول انسان شروع میں اپنی زندگی سے وابستہ دو چیزوں سے مطلع نہیں رہا ۔ ایک جھوٹ اور دوسری موت ۔

اس ڈنمارکی مصنف نے مرگ ہابیل کے نام سے ایک کتاب تحریر کی ہے جسے اہل ادب نے موجودہ زمانے کے اچھے ادبی آثار میں شمار کیا ہے ‘ یہاں اس کتاب کی تفصیل تو نقل نہیں ہو سکتی بہر کیف چند سطور کا ذکر بے محل نہیں ہے ۔

پالووان مولہ اپنے ناول میں لکھتا ہے کہ قابیل اپنے بھائی ہابیل کو قتل کرنے کے بعد رونے لگا اس پر حوا اپنے بیٹے ہابیل کی طرف گئی اور اس کے سر کو زمین سے بلند کرنے کے بعد اسے دلاسا دیا اسے یقین تھا کہ اس کا بیٹا سویا ہوا ہے سورج کے غروب ہونے سے تھوڑی دیر پہلے جب آدم صحرا سے واپس ایا تو حوا نے اسے کہا کہ معلوم نہیں یہ ہابیل نیند سے بیدار کیوں نہیں ہوتا ؟

آدم نے کہا ‘ کس وقت سویا ہے ؟ حوان نے کہا ظہر کے بعد سویا ہے آدم بولا ضرور یہ کافی تھکا ہوا ہے اس لیے اسے سونے دو تاکہ اس کی تھکاوٹ مکمل طور پر دور ہو جائے ‘ اس وقت تک ہابیل خیمہ کے باہر پڑا ہوا تھا پھر وہ اسے اٹھا کر خیمے کے اندر لے گئے اور اس کے بعد آدم اور حوا بھی سو گئے جب یہ دونوں سو کر صبح کے وقت اٹھے تو دیکھا کہ بابیل تو اسی طرح سو رہا ہے آدم نے حوا سے کہا کہ میرا خیال ہے بابیل دوبارہ درخت سے گرا ہے کای تمہیں یاد ہے کہ یہ جب پہلی مرتبہ درخت سے گرا تھا تو ایکژ دن و رات سوتا رہا تھا ‘ حتی کہ اس نے اس دوران آنکھ بھی نہیں کھولی تھی حوا نے شوہر سے کہا سورج نکل آیا ہے لہذا آپ بابیل کو خیمے سے نکال کر دھوپ پر رکھیں تاکہ سورج کی حرارت سے اس کا جسم گرم ہو چونکہ اس کے ہاتھ ٹھنڈے ہیں لہذا شاید سردی نے اس کی یہ حالت بنائی ہے ‘ آدم نے بیٹے کو اٹھایا اور خیمے سے باہر نکال کر دھوپ میں رکھ دیا لیکن ہابیل سورج کی حرارت پئہنچنے پر بھی نیند سے نہیں اٹھا آدم نے بیٹے کو آہستہ سے ہلایا اور کہا ہابیل بیدار ہو جاؤ اور کھانا کھاؤ ۔ تم کل سے سوئے ہوئے ہو اور ابھی تک کھانا نہیں کھایا ‘ کیا تمہیں بھوک نہیں لگ رہی ‘ اٹھو ‘ کھانا کھاؤ ‘ ہابیل نے کوئی جواب نہ دیا اور نہ ہی آنکھیں کھولیں ۔

اس دن ہابیل سورج غروب ہونے تک دھوپ میں پڑا رہا ۔ جب شام کو آدم صحرا سے لوٹ کر گھر آیا تو اپنے بیٹے کی طویل نیند پر حیران ہوا اور حوا سے مخاطب ہو کر کہنے لگا جب پہلی دفعہ درخت سے گرا تھا تو چوبیس گھنٹے گزرنے کے بعد سے جاگ گیا تھا ۔ لیکن مجھے حیرانی ہو رہی ہے کہ اس دفعہ کیوں نہیں اٹھ رہا ۔ جب رات پڑ گئی تو آدم بیٹے کو اٹھا کر خیمے میں لایا اور اسے زمین پر رکھ دیا اس کے بعد آدم اور حوا دونوں سو گئے ‘ جونہی وہ صبح بیدار ہوئے انہیں خیمے سے ناگوار بو آنے لگی ۔

یہ بو ان کیلئے نئی نہ تھی کیونکہ وہ یہ بو کئی مرتبہ صحرا میں جانوروں کی لاشوں سے سونگھ چکے تھے اور ایک مرتبہ آدم نے تین دن مسلسل بارہ سینگا کا شکار کیا اور حوا کیلئے لایا ور چونکہ چند دنوں میں ان سب بارہ سینگوں کا گوشت نہیں کھا سکتے تھے لہذا جو گوشت باقی بچا اس سے بد بو آنے لگی اور اس پر حوا نے اپنے شوہر سے کہا کہ وہ اس فاسد گوشت کو خیمے سے باہر نکال کر پھینک دے اس پر آدم نے گوشت کو خیمے سے باہر نکالا اور دور صحرا میں لے جا کر پھینک دیا ۔

آدم و حوا کو اتنی سمجھ آ گئی تھی کہ جو بد بو وہ خیمے میں سونگھ رہے ہیں وہ کسی جانور کی لاش کی ہے لیکن اس خیمے میں کسی جانور کی لاش کا وجود نہ تھا جسکی بد بو وہ سونگھتے ۔ آخر کار آدم و حوا کی سمجھ میں یہ بات تو آ گئی کہ یہ بد بو ان کے اپنے بیٹے کی ہے لیکن وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ ان کا بیٹا مرد ہے اور آدم نے ایکمرتبہ پھر ہابیل کو اٹھایا اور اسے خیمے سے باہر لے ایا تاکہ اسے دھوپ میں رکھے اور حوا سے مخاطب ہو کر کہنے لگا ہابیل کا بدن بہت ٹھنڈا ہے مجھے امید ہے کہ جب اس کا بدن دھوپ میں گرم ہو جائے گا تو یہ نیند سے بیدار ہو جائے گا ۔ لیکن جب وہ بیٹے کو دھوپ میں لایا تو اس کی شکل و صورت بدل گئی تھی اور اس کا رنگ سیاہ پڑ چکا تھ اآدم نے اپنی بیوی کو آواز دی ‘ جب وہ قریب آ گئی تو اس سے کہنے لگا ‘ ہابیل کا رنگ تو سیاہ پڑ چکا ہے حوا بھی بیٹیکے رنگ میں تبدیلی کی وجہ نہ جان سکی اس دوران جبکہ بیوی خاوند دونوں ہابیل کی سیاہ صورت کا مشاہدہ کر رہے تھے اور اس سے آنے ولی بد بو پر متحیر تھے چند گدھ آسمان پر نمودار ہوئے ۔ جونہی آدم نے صحرا کا رخ کیا اور حوا بھی ذرا سی خیمے سے دور ہوئی ‘ گدھ نہایت تیز سے ہابیل تک پہنچے اور اگر آدم کی آواز پر وہ وحشت زدہ نہ ہو جاتے تو ہابیل کی تکابوٹی کر دیتے ۔

صرف قابیل ایسا سخص تھا جو انہیں یہ بتا سکتا تھا کہ ہابیل کیوں بیدار نہیں ہو رہا اور اس سے بدبو کیوں آ رہی ہے ؟ لیکن جس دن سے ہابیل گہری نیند سویا تھا اس دن سے قابیل کا کچھ اتہ پتہ نہ تھا ماں اور باپ دونوں طویل عرصے تک اس کی عدم موجودگی پر حیران نہ تھے کیونکہ بعض اوقات شکار کے تقاضے ایسے ہوتے تھے کہ اسے صحرا میں رکنا پڑ جاتا تھا اور وہ کئی کئی دن تک خیمے کو واپس نہیں لوٹتا تھا ۔

حوا نے مشاہدہ کیا کہ کچھ گدھ آ کر قریب ہی زمین پر بیٹھ گئے جونہی وہ دونوں ہابیل کو چھوڑ کر اپنے کام کام میں مصروف ہونے کا ارادہ کرتے تو وہ گدھ اڑ کر ہابیل کے قریب آ جاتے اور اس پر جھپٹنا چاہتے لیکن جب وہ دیکھتے کہ وہ دونوں پر خیمے کی طرف لوٹ آئے ہیں تو دور ہٹ جاتے ‘ غرضیکہ یہ آنکھ مچولی جاری رہی ۔

اس کے باوجود کہ ہابیل کی نعش سے بد بو آ رہی تھی پھر بھی آدم و حوا کو اس کی موت کا علم نہ تھا انہوں نے یہ بدبو صحرا میں گلے سڑے ہوئے جانوروں کی لاشوں سے سونگھی تھیا ور اتنا جانتے تھے کہ وہ جانور اب حرکت کر سکتے تھے اور نہ ہی غذا کھا سکتے تھے یعنی پہلی حالت پر کبھی بھی واپس نہیں آ سکتے تھے لیکن انہوں نے کبھی یہ سوچا بھی نہ تھا کہ انسان بھی جانوروں جیسا ہو سکتا ہے اس پر ایسا وقت آ سکتا کہ نہ تو وہ چل پھر سکے اور نہ کھا پی سکے غرضیکہ موت آدم اور حوا کی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی جیسا کہ آج کرہ ارض پر انسان کی پیدائش کے کم از کم چار پانچ ملین سال گزرنے کے بعد بھی موت ہماری سمجھ میں نہیں آتی اور یہاں تک کہ وہ ممالک جہاں تعلیم یافتہ مرد اور عورتوں کی تعداد زیادہ ہے وہ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ آدمی مرتا ہے بلکہ ان کا خیال ہے کہ زندہ جاوید ہے لیکن چونکہ طبعی لحاظ سے موت کے وجود کا انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ موت کے بعد انسان کا جسم گل سڑ جاتا اور ختم ہو جاتا ہییہاں تک کہ کچھ عرصے بعد اس کی ہڈیاں بھی خراب ہو جاتی ہیں پھر بھی آج کا انسان انسان کی زندگی جاوید کا معتقد ہے اور اس کی عقل اس بات کو قبول نہیں کرتی کہ انسان اپنے جسم کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے لہذا انسان کہتا ہے کہ وہ اپنی روح کے ساتھ زندہ جاوید ہے جو لوگ مادہ پرست اور روح کے وجود کے منکر ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ آدمی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اس سے کچھ چیز باقی رہ جاتی ہیں اگرچہ وہ شعاعوں کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو ۔

بیلجیم کا رہنے والا میٹر لینگ جو اس صدی کے فلسفیوں میں سے ہے ‘ اگرچہ ایک مادہ پرست انسان تھا لیکن اس کا کہنا تھا کہ سینکڑوں ملین سال پہلے اگر کسی ستارے کا عکس پانی پر پڑا ہے تو وہ نہیں مٹتا تو پھر انسان کیسے مٹ سکتا ہے اور یہی مادہ پرست انسان ارواح کی حاضری کے جلسوں میں حاضر ہوتا تھا چونکہ یہ اس بات کا معتقد تھا کہ ناگزیر انسان سے کوئی چیز باقی رہ جاتی ہے اور جو چیز انسان سے باقی رہتی ہے شاید اسی کے ذریعے انسان اس جہاں میں اپنے عزیزوں اور دوستوں سے رابطہ قائم کر سکتا ہے ۔

آج سے ایک سو سال پہلے ‘ بھکاری راتوں کو سپین ‘ فرانس اور اٹلی کے گلی کوچوں میں صدا لگایا کرتے تھے کہ اے لوگو ‘ تمہاری میتیں تمہاری منتظر ہیں اور لوگ بھی معتقد تھے کہ میتیں زندہ ہیں اور انہیں غذا وغیرہ کی ضرورت ہے لہذا لوگ انہیں کچھ غذا اور تھوڑی بہت رقم دے دیتے تھے اور بعض رحم دل خواتین تو شراب کا جام بھی پلاتی تھیں کیونکہ انہیں یقین تھا کہ میتیں پیاسی ہیں اور انہیں پینے کی ضرورت ہے آج بھی فرانس ‘ سپین اور اٹلی جیسے ممالک میں لوگ اپنی میتوں کیلئے خیرات دیتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ لوگ میتوں کی زندگی کے معتقد ہیں چونکہ اگر وہ یہ سمجھیں کہ وہ واقعی مردہ ہیں تو ان کیلئے خیرات نہ دیں ۔

اموات کے زندہ ہونے کے بارے میں لوگوں کا عقیدہ اس قدر پختہ ہے کہ آج کے سب سے مہذب ممالک میں بھی لوگ اپنی اموات کو سیر کرنے کیلئے فقرا میں کھانا تقسیم کرتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ اگر بھوکے کو کھانا کھلایا جائے تو ان کی متیں جنہیں غذا کی ضرورت ہے سیر ہو جاتی ہیں لہذا ہمیں اس پر حیران نہیں ہونا چاہیے کہ آدم اور حوا موت سے کویں مطلع نہ تھیں ؟ اس کے باوجود کہ انہوں نے ہابیل کی سیاہ صورت دیکھی تھی اور اس کے جس سیبد بو بھی سونگھی تھی پھر بھی انہیں علم نہ تھا کہ وہ مردہ ہے نہ تو تو آدم صحرا کی طرف جا سکتا تھا اور نہ ہی حوا خیمے کو واپس جا سکتی تھی حتی کہ وہ گھریلو کام کاج کرنے سے بھی عاجز تھے کیونکہ جونہی گدھ دیکھتے کہ یہ دونوں ہابیل سے دور ہو گئے ہیں تو وہ فورا حملے کیلئے چھپٹ پڑتے ‘ یہاں تک کہ حوا نے اپنے شوہر سے کہا کہ یہ بہتر نہیں کہ جیسے ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے گوشت ان جانوروں کے کام آئے اسی طرح ہابیل کو بھی مٹی کے نیچے دفن کر دیں ؟ پہلے اس بات کا تجربہ ہو چکا تھا کہ جب ان کے پاس زیادہ گوشت ہوتا تو وہ اسے محفوظ کرنے کیلئے ایک گڑھا کھود کر گوشت کو اس میں رکھنے کے بعد گوشت پر درختوں کے پتے رکھتے تاکہ گوشت کے ساتھ مٹی نہ لگے اور پھر اوپر مٹی ڈال کر اسے ڈھانپ دیتے تھے اور ایک یا دو دن بعد اسے نکال کر اپنے استعمال میں لاتے تھے ‘ حوا نے مشورہ دیا کہ ہابیل کو گدوں کی دست برو سے بچانے کیلئے اسے مٹی میں دفن کر دیا جائے ۔

آدم پتھر کی خود ساختہ کدال لایا اور زمین کھودنا شروع کر دی جب وہ تھک جاتا تو کدال حوا کو دے دیتا اور پھر وہ زمین کھودنا شروع کر دیتی حتی کہ انہوں نے اتنی کھود ڈالی اور اتنی مٹی باہر نکال دی جو ہابیل کو دفن کرنے کیلئے کافی نظر آنے لگی ۔

جب انہوں نے ہابیل کو ا گڑھے میں ڈالنا چاہا تو اسکی صورت بالکل سیاہ پڑ گئی تھی آدم اپنے بیٹے کا سیاہ چہرہ دیکھ کر سوچ میں پڑ گیا اور بیوی سے کہنے لگا مجھے ایک ایسی بات یاد آ رہی ہے جسکے بارے میں میں نے اب تک نہیں سوچا تھا ۔ حوا نے پوچھا ‘ تجھے کیا چیز یاد ائی ہے ؟

ادم نے کہا مجھے یاد ہے جس وقت ہم بہشت میں تھے خداوند تعالی نے فرمایا تھا کہ فلاں پھل ممنوع ہے اسے نہ کھانا اور کھاؤ گے تو مر جاؤ گے کیا تمہیں بھی یاد ہے ؟

حوا کہنے لگی ‘ میں تو بھول گئی تھی لیکن چونکہ اب تم نے یاد دلایا تو مجھے یادآ گیا کہ خداوند تعالی نے بہشت میں ہم سے یہ بات کہی تھی ۔

آدم کہنے لگا ‘ میرا خیال ہے ہمارا بیٹا جس گہری نیند سے بیدار نہیں ہو رہا وہ وہی ہے جسکے متعلق خداوند تعالی نے بہشت میں ہمیں بتایا ہے ۔ حوا نے خیال ظاہر کیا ‘ لیکن اس وقت تو ہابیل پیدا بھی نہیں ہوا تھا چہ جائیکہ وہ ممنوعی پھل کھاتا اور میں اور تم نے وہ میوہ کھایا ہے لہذا ہمیں موت آنا چاہیے نہ کہ ہابیل کو ‘ آدم بولا ‘ وہ ہمارا بیٹا ہے اور ہمارے عمل کی سزا بھگت رہا ہے حوا بولی میں اس بات کو تسلیم نہیں کرتی ‘ ہابیل نے تو وہ پھل نہیں کھایا کہ اسے موت آ جائے ‘ آؤ دونوں مل کر اسے مٹی تلے دفن کر دیں تا کہ پرندے اس پر حملہ نہ کریں ۔ اور کل اسے مٹے کے نیچے سے نکال لیں گے ‘ شاید اس وقت تک وہ نیند سے بیدار ہو جائیگا ۔ آدم نے بیوی کیبات مان لی جب ہابیل کو گڑے میں رکھا گیا تو اسکے اوپر مٹی ڈال کر بیوی اور خاوند اپنے اپنے کام کاج میں مشغول ہو گئے ‘ جب گدوں نے دیکھا کہ نعش کو مٹی کے نیچے دفن کردیا گیا ہے تو وہ بھی اڑ گئے چونکہ وہ آدم اور حوا سے کئی ملین سال پہلے وجود میں آئے تھے لہذا انہیں علم تھا کہ موت کیا ہے اور نعش جوموت کا پھل تھی اسے کھاتے تھے اور موت کے متعلق کسی شک و شبہ میں نہیں پڑے تھے انہیں علم تھاہابیل نیند سے بیدار نہیں ہو گا اور جونہی انہوں نے ہابیل کی نعش کی بد بو سونگھی وہ سمجھ گئے کہ وہ لڑکا مردہ ہے اورہ وہ اس کا جسد کھا سکتے ہیں دوسرے دن صبح آدم نے پتھر کی کدال سے ہاتھ میں لی اور حوا کے ہمراہ اس گڑھے تک گیا جہاں انہوں نے ہابیل کی نعش رکھی ہوئی تھی آدم نے کدال سے مٹی ہٹا کر ایک طرف کی تاکہ ہابیل کو مٹی کے نیچے سے باہر نکالے ۔

آج ہم حوا اور ادم کی سادگی پر حیران ہوتے ہیں کہ وہ کیوں نہیں سمجھ سکے کہ ان کا بیٹا مردہ ہے جبکہ آج بھی جب ایک آدمی مرتا ہے تو کچھ لوگ اسکے زندہ ہو جانے کے منتظرہوتے ہیں ۔

آج موت کی علامتوں سے سب آگاہ ہیں اور ڈاکٹر ان علامتوں سے دوسروں سے زیادہ آگاہی رکھتے ہیں لیکن پھربھی کبھی کبھار ڈاکٹر ان تمام علائم کا مشاہدہ کرنے کے باوجود سوچتا ہے کہ شاید جس شخص کو وہ مردہ سمجھ رہا ہے وہ نہ مرا ہو ۔

پس ہمیں اس بات پر حیران نہیں ہونا چاہیے کہ کیوں آدم اور حوا ہابیل کے زندہ ہونے کی توقع رکھتے تھے جونہی انہوں نے مٹی ہٹائی اور ان کی نظریں ہابیل پر پڑیں تو انہوں نے اس میں نعش کی علامتیں دیکھیں اب اس نعش سے آنے والی بد بو تیز ہوتی گئی اس وقت حوا نے کہا میرا خیال ہے جو کچھ تم نے کہاہے وہ حقیقت ہے اور ہابیل مر چکا ہے اب ہم اسے مزید چلتا پھرتا ‘ بات چیت کرتا‘ ہنستا اور کھانا کھاتا نہیں دیکھ سکیں گے ۔

یہ اس ناول کا خلاصہ تھا جو ڈنمارکی مصنف پالووان مولہ نے پہلی موت کے بارے میں لکھا ۔ اور جیسا کہ مشاہدہ ہوا جب آدم اور حوا سمجھ گئے کہ ان کا بیٹا مردہ ہے تو وہ نہیں روئے چونکہ ابھی تک ان کے جذبات اپنے ایک عزیز کی موت پر رد عمل ظاہر کرنے کیلئے تیار نہ تھے اور مردے پر رونا انسان نے بعد میں سیکھا ہے وہ بھی تمام مردوں پر نہیں بلکہ صرف ان مردوں پر جو ان کے بہت قریبی عزیز ہوتے ہیں جبکہ بیگانوں کی موت ان کی نظر میں اس قدر اہمیت نہیں رکھتی کہ اس پر آنسو بہائیں بلکہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ اپنے نزدیک ترین عزیزوں کی موت پر بھی آنسو نہیں بہاتے اور میدان جنگ اور ہسپتالوں جیسی جگہیں بھی ہیں جہاں پر کوئی مردے پر آنسو نہیں بہا تا ۔

ہم نے کہا کہ جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو فطرتا صدیق ہوتا ہے اس کا کردار اسکے عقیدے کے مطابق ہوتا ہے اور جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے آدمی جس کی تخلیق کی ابتدا کے بارے میں ابھی تک سائنس دان جاننے میں کامیاب نہیں ہو سکے اس ابتدا میں انسان جھوٹ نہیں بول سکتا تھا ۔ انسان کی پیدائش کے آغاز کے متعلق سائنس دانوں کے درمیان ساٹھ ملین سال کا اختلاف پایا جاتا ہے بعض انسان کی تخلیق کو خیال کرتے ہیں جو آج سے پینسٹھ سال یا ستر سال پہلے کا زمانہ ہے اور یہ زمانہ بڑی جسامت والی چھپکلیوں (ڈانیو سار) کے خاتمے کے فورا بعد کا زمانہ ہے انسانی بدن کا پتھر میں محفوظ ڈھانچہ یا سکیلٹن جو حال ہی میں چین میں دریافت ہوئی ہے اسکے متعلق کہا جاتا ہے کہ آج سے ساٹھ ملین سال پرانی ہے اگر اسکی قدامت اتنی ہی ہے تو جن لوگوں کے بقول انسان تیسرے عہد کے آخر میں وجود میں آیا وہ لوگ صحیح ہیں اور تیسرا عہد کرہ ارض کا وہ دور ہے جس میں زمین کی موجودہ شکل بنائی گئی ہے جس کے بعد نہ تو ہمیشہ بارش برستی اور نہ ہی پہاڑوں میں دراڑیں ڈالنے والے بڑے بڑے دریا وجود میں آئے تھے ‘ اور دریا اور سمندر تقریبا آج جیسی حالت پر تھے ‘ اس مرحلے میں انسان نے اپنے گمنام آباء و اجداد کے بعد دنیا میں قدم رکھا تھا اس زمانے میں انسن چوپایا تھا اسے بات کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا وہ کتوں کی مانند بھوں بھوں کرتا اور چنگھاڑتا تھا اس زمانے میں انسان آسانی سے آدم خور جانوروں کا نوالہ بن جاتا تھا چونکہ اس میں تیزی سے فرار ہونے کی صلاحیت نہ تھی یہاں تک کہ انسان ‘ آدمی خور جانوروں کے مقابلے میں خرگوش کی مانندبھاگنے کی صلاحیت بھی نہ رکھتا تھا ۔ اس کابدن بھیڑوں کی مانند سر سیپاؤں تک اون سے ڈھکا ہوتا تھا تاکہ وہ سردی کا مقابلہ کر سکے لیکن بھیڑ کا بدن تو کیڑوں مکوڑوں کی دسترس سے محفوظ ہے جبکہ انسان کی اون میں بیشمار کیڑے مکوڑے رہا کرتے تھے اور پہلے دور کے انسان کا کام ہی جسم کی خارش کرنا ہوتا تھا جونہی اس کا پیٹ بھرتا اور وہ اس طرف سے مطمئن ہو جاتا تو جسم کی خارش کرنا شروع کر دیتا تھا ۔ پیٹ بھرنا بھی شروع شروع میں انسان کیلئے ایک طویل کام ہوتا تھا کیونکہ انسان گھاس کھاتا تھا اور چونکہ حرارے مہیا کرنے والا گھاس کم میسر آتا لہذا انسان عام گھاس کھانے پر مجبور تھا تاکہ اپنا پیٹ بھرے ۔

اگر ڈارون کا نظریہ صحیح ہے تو انسان اپنی تخلیق کے آغاز میں زمین سے کوئی چیز اٹھا کر اسے منہ تک لے جانے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا تھا کیونکہ انسانی انگلیوں کی شکل آج کی مانند نہ تھی اور انسان اپنا پیٹ بھرنے کیلئے مجبورا بھیڑوں کی مانند چرتا تھا اور کئی ملین سال گزرنے کے بعد آدمی کی انگلیوں کی موجودہ حالت بنی تاکہ انسان کوئی چیز زمین سے اٹھا کر منہ میں ڈال سکے ۔

موجودہ زمانے کے معروف سائنس دان مارشل مائیک لودھن کے بقول انسان کا وحشتکری سے موجودہ دور میں داخل ہونے کا سبب یہی چار ہاتھ اور پاؤں سے چلنا تھا ۔ چونکہ چار ہاتھ اور پاؤں سے چلنا یا دو ہاتھوں اور دو پاؤں کو کام میں لانا انسان کے دماغ میں دو کروں کو کام میں لانے کا سبب بنا جس کے نتیجے میں آدمی کی عقل پختہ ہوئی اور اس میں ذہانت وجود میں آئی اور انسان نے نت نئے کام متمدن دور میں منتقل ہونے کیلئے انجام دیئے ہیں ذہانت اسکے لئے ضروری تھی ۔ مارشل مائیک لودھن کہتا ہے اگر علمی اور ثقافتی میدان جو ہمارے اسلاف سے پہنچتی ہے جنگ یا کسی اور بڑے المیے کے نتیجے میں ختم ہو جائے اور بالغ افراد جو کئی باتوں سے اگاہ ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں اور صرف بچے رہ جائیں اور ان کے سامنے بھی متمدن زندگی کا نمونہ نہ ہو تو انسان ایک وحشی جانور میں تبدیل ہو جائیگا اور اسطرح اپنے کام کے مرحلے تک نہیں پہنچا سکے گا کیونکہ آدمی کے دماغ کا آدھا حصہ اچھی طرح کام کرتا ہے آدھا حصہ ساکن ہے کیونکہ انسان یا تو دائیں ہاتھ سے کام کرتا ہے یا بائیں ہاتھ سے ‘ جو لوگ دائیں ہاتھ سے کام کرتے ہیں نہ صرف ان کا بایاں ہاتھ کام نہیں کرتا بلکہ بایاں ہاتھ بیکار ہوتا ہے اس بات کو وہ اس وقت محسوس کرتے ہیں جس وقت وہ فٹ بال کے گراؤنڈ میں بائیں پاؤں سے گیند کو ٹھوکر مارنا چاہتے ہیں پھر جا کر انہیں علم ہوتا ہے کہ ان کے بائیں پاؤں اور بازو میں کوئی زیادہ فرق نہیں کیونکہ وہ بائیں پاؤں سے گیند کو ٹھوکر لگانے پر قادر نہیں ۔

لیکن سوشیالوجی کے کینڈین ماہر کے بقول چونکہ انسان آغاز میں دو ہاتھ اور دو پاؤں سے چلتا تھ اور دو پاؤں سے درختوں پر چڑھتا تھا اور تمام کاموں کو دو ہاتھوں سے انجام دیتا تھا لہذا اسکے دونوں نصف کرے کام کرتے تھے جس کے نتیجے میں انسان کی ذکاوت اتنی بڑ گئی کہ اس نے اپنے آپ کو وحشی کے مرحلے سے نکال کر تمدن کے مرحلے میں پہنچا دیا بہر حال وحشتگری کے اس دور میں جب انسان گھاس پر چار ہاتھ پاؤں سے چلتا تھا آج کے انسان کی نسبت اخلاقی لحاظ سے برتر تھا ۔ وہ اسطرح کہ نہ تو جھوٹ بول سکتا تھا اور نہ ہی اپنے باطن کو چھپا سکتا تھا ۔ لیکن وہ اخلاقی قاعدے قوانین نہیں رہے اور کوئی ان پر عمل نہیں کرتا ۔ موجودہ دور میں دیکھا گیا ہے کہ جتنا ایک معاشرہ تمدن سے پسماندہ ہو گا اتنای ہی اس میں جھوٹ ریا کاری اور بناوٹ کم ہو گی ۔ وہ اقوام اب بھی نیم وحشی ہیں جو نیو گنی کے مرکز اور سمندر کے بعض جزائر میں زندگی بسر کر رہیہیں جو جھوٹ نہیں بولتے اور دوسروں کی نسبت ریا کار بھی نہیں ہیں مرکزی افریقہ کے سیاہ فام بھی انیسویں صدی کے دوسرے عشرے تک جھوٹے نہیں بولتے تھے یعنی جھوٹ نہیں بول سکتے تھے ۔ جو چیز اس حقیقت کو ثابت کرتی ہے وہ ڈاکٹر لایونک اسٹون کی یادداشتیں ہیں جس نے دریائے نیل کے سرچشموں کو دریافت کیا اور جیسا کہ ہمیں معلوم ہے ان سر چشموں کی دریافت کے بعد اس نے صرف چغرافیائی نقشے اور اپنے مقالات (انگلستان کی جغرافیائی یونین ) کو بھیجے اور خود افریقہ کے مرکز سے باہر نہیں آیا اور جسطرح اس دور میں ڈاکٹر شوایٹ زر نے اپنی زندگی سیاہ فاموں کی خدمت میں صرف کی ڈاکٹر لائیونک اسٹون نے بھی اپنی عمر سیاہ فاموں کی خدمت میں وقف کر دی ‘ اسکے مقاصد میں سے ایک یہ تھا کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ بردہ فروش تاجر جو افریقی عرب تھے ۔ سیاہ فام لوگوں کو مرکزی افریقہ سے اغوا کرکے کسی اور جگہ بیچ ڈالیں ۔

ڈاکٹر لائیونک اسٹون نے افریقہ میں واقع علاقے تانکا نیکا میں سیاہ فاموں کو بردہ فروش تاجر وہاں کے سیاہ تاجر وہاں کے سیاہ فاموں کو انگلستان کے شہر سمجھ کر انہیں بردہ فروشی کیلئے اغوا نہ کریں ۔

ڈاکٹر لائیونک اسٹون کے مخالفین اور انگلستان والوں نے کہا کہ دریائے نیل کے منبعوں کو دریافت کرنے والے کا انگلستان کا پرچم نصب کرنا سیاہ فاموں کو تحفظ فراہم کرنا نہ تھا بلکہ براعظم افریقہ کے مرکز کو انگلستان کے حوالے کرنا تھا بعد میں انگلستان نے تانکا نیکا کو سرکاری طور پر اپنے قبضے میں لیکر اسے برطانیہ کی نو آبادی قرار دیا ۔

دریائے نیل کے سرچشموں کے دریافت کنندہ کا ذکر کرنے سے ہمارا کچھ اور بھی مطلب ہے اور وہ یہ ہے کہ اس نے سیاہ فاموں سے کہا ہوا تھا کہ جہاں کہیں وہ بردہ فروش تاجروں کے ہاتھ چڑھ جائیں اور وہ انہیں اغوا کرنے کی ٹھان لیں اور سیاہ فام اس کی مدد بھی نہ حاصل کر سکیں تو انہیں چاہیے کہ وہ کہیں کہ وہ انگلستان کے شہری ہیں اس طرح بردہ فروش تاجر انہیں اغوا کرنے کی جرات نہیں کر سکیں گے ۔

لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ وہ انگلینڈ کے شہری ہیں جب کہ انہیں علم تھا کہ اگر وہ یہ جھوٹ بولیں گے تو آزادی اور جان کے چھن جانے کے خطرے سے دو چار نہیں ہوں گے ۔

ڈاکٹر لائیونیک اسٹون نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے کہ ایک تانکا نیکا سیاہ فام ہر گز جھوٹ نہیں بول سکتا اگرچہ اپنی جان کے تحفظ کیلئے بھی کیوں نہ بولنا پڑے اور ایک سیاہ فام کو اگر ہاتھ کے دو دانت (جو مرکزی افریقہ کی گراں بہا اجناس میں سے ہے ) دیئے جائیں تو تب بھی وہ جھوٹ بولنے پر آمادہ نہیں ہو گا ۔

اور اس علاقے کے سیاہ فام کی نظر میں جھوٹ بولنا ایک محال کام ہے جس سے وہ عہدہ برآ نہیں ہو سکتا ہم نیو یارک ہیرالڈٹرائبون کے نامہ نگار (وہ بھی دریائے نیل کے سرجشمے دریافت کرنے کیلئے افریقہ گیا تھا ) کی ڈائری میں دیکھتے ہیں کہ وہ لکھتا ہے کہ اگرچہ افریقہ سیاہ فاموں (جو مرکزی افریقہ میں وحشیانہ زندگی گزارتے ہیں نہ کہ وہ جو افریقہ کے سواحل پر آباد متمدن سیاہ فام ہیں ) کی جان پر بن آتی تب بھی وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے ۔

جو لوگ دریائے نیل کے سرچشموں کی دریافت کی تاریخ سے آگاہ ہیں وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ انگریز ڈاکٹر لائیونک اسٹون جب انیسویں صدی میں دوسرے پچاس سالوں کے دوران دریائے نیل کے سرچشموں کی دریافت کیلئے مرکزی افریقہ گیا تو اس نے دس سال تک کوئی خبر بیرونی دنیا کو نہیں بھیجی اور روزنامہ نیویارک ہیرالڈ ٹرائبون کیناشر نے ایک قابل نامہ نگار سٹینلے کو ڈاکٹر لائیونک اسٹون کے ڈھونڈنے کیلئے افریقہ بھیجا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ وہ مردہ ہے یا زندہ ؟ جب یہ نامہ نگار مرکزی افریقہ پہنچا تو اس نے دریائے نیل کے سرچشمے دریافت کرنے والے شخص کو ڈھونڈ نکالا ۔

اس نامہ نگار نے دو مرتبہ افریقہ کا سفر کیا ایک مرتبہ دریائے نیل کے سرچشموں کو دریافت کرنے والے کو ڈھونڈنے کیلئے اور دوسری مرتبہ جغرافیائی معلومات حاصل کرنے کیلئے دوسری مرتبہ وہ ایک آبشار دریافت کرنے میں کامیاب ہوا جس کا نام وکٹوریہ ہے اور جو دریائے نائجیریا میں واقع ہے ۔

دوسرے سفر کے دوران اسٹینلے اپنے قافلے کا قاضی بھی تھا اور فیصلے کرتا تھا اس سنے سیاہ فاموں میں سے ایک کو قتل کرنے اور دوسروں وک دھمکی دینے کے جرم میں پھانسی کی سزا دی اس نے پھانسی کے آخری لمحات میں سیاہ فام سے کہا اگر تم وعدہ کرو کہ اس کے بعد اپنے رفقا کو اذیت نہیں پہنچاؤ گے تو میں تمہیں پھانسی کی سزا نہیں دیتا لیکن اس سیاہ فام شخص نے کہا کہ اگر وہ زندہ رہا تو اپنے رفقا کو قتل کرے گا ۔

یہ شخص جواپنے رفقاء کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا اگر جھوٹ بولتا اور کہہ دیتا کہ میں نے اپنا ارادہ ترک کر دیاہے تو وہ زندہ رہ سکتا تھا لیکن وہ جھوٹ نہیں بول سکا اور اس کی زبان جھوٹ بولنے کے لئینیں کھل سکی مرکزی افریقہ کے یہی سیاہ فام قبائل جو دریائے نیل کے سرچشمے دریافت کرنے والے ڈاکٹر لائیونک اسٹون اور امریکہ نامہ نگار اسٹینلے کیبقول جھوٹ نہیں بول سکتے تھے آج جب متمدن دور میں داخل ہوئے تو انہوں نے جھوٹ بولنا شروع کر دیا ہے ۔

جعفر صادق (علیہ السلام ) جھوٹ اور ریا کاری سے سخت متنفر تھے اور کہا کرتے تھے کہ انسان کے قول اور فعل میں تضاد نہیں ہونا چاہیے اور ہر ایک کا عقیدہ اس کے خیالات کا عکاس ہونا چاہیے یعنی جو کچھ انسان کے باطن میں ہو وہی ظاہر میں ہو ۔

جعفر صادق (علیہ السلام ) ریا کاری یا دکھلاوے سے نفرت کرتے اور اسے کسی صورت بھی تسلیم نہیں کرتے تھے اور چونکہ ریا کار بننا پسند نہیں کرتے تھے اور نہ ہی اپنے عقیدے کو چھپاتے تھے لہذا اسی بنا پر آپ نے اپنے عقیدے پر جان قربان کر دی ۔

علم و فلسفہ کی توضیح

اب ہم اس نابغہ علمی شخصیت کے شاندار نظریات میں سے ایک اور نظریئے کا تذکرہ کرتے ہیں اور وہ ہے آپ کا حکمت اور علم کے درمیان فرق کا نظریہ

جعفر صادق (علیہ السلام ) مذہبی پیشوا ‘ عالم ‘ فلسفی حکیم اور ادیب بھی تھے اور جیس اکہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں آپ ان چاروں علوم کو اپنے حلقہ درس میں پڑھاتے تھے آپ نے حکمت اور علم کے درمیان فرق کے بارے میں ایسا نظریہ پیش کیا ہے کہ ایک ہزار دو سو پچاس سال گزرنے کے بعد اور ہزاروں فلسفیوں کے دنیامیں آنے کے بعد بھی خاص پر کشش ہے جعفر صادق (علیہ السلام ) وہ پہلے شخص ہیں جنہون نے حکمت اور علم میں فرق کی وضاحت کی آپ سے پہلے کسی نے بھی اس جانب توجہ نہیں کی تھی کہ حکمت اور علم کے درمیان فرق پایا جاتا ہے ۔

قدیم یونانی فلسفیوں کی نظر میں جو چیز معلوم ہو جاتی تھی فلسفے میں شمار ہوتی تھی جیسا کہ ہمیں معلوم ہے اسکندریہ کا مکتب جو قدیم زمانے میں دنیا کے بڑے بڑے علمی مکاتب میں شمار ہوتا تھا وہاں پر فلسفے اور علم کے درمیان کسی فرق کی نشاندہی نہیں کی گئی تھی وہ اس طرح کہ تمام علوم کو حکمت میں شمار کیا جاتا تھا ۔یہاں تک کہ علمطب بھی حکمت کا جزو تھا ۔

قدما کی نظر میں فلسفہ وہ منبع تھا جس سے علوم کے سرچشمے پھوٹتے اوروہ علم العلوم شمار کیا جاتا تھا جو فلسفے میں ماہر ہوتا وہ تمام علوم میں ماہر ہوتا تھا لیکن اگر کوی شخص صرف علم طب جانتا تو وہ یہ دعوی نہیں کر سکتا تھا کہ وہ فلسفہ بھی جانتا تھا ایک فرانسیسی فلسفی ژان دو لاکروا جو ابھی زندہ ہے کے بقول قدیم یونان میں شروع شروع میں ادب اور ہنر بھی فلسفہ کا جزو شمار ہوتے تھے اور یونانیوں کا عقیدہ تھا کہ شعر موسیقی مجسمہ سازی اور ثقافتی بھی فلسفہ سے نکلتے ہیں لیکن بعد میں یونانیوں نے ادب اور ہنر کو فلسفہ سے جدا کر لیا چونکہ وہ معتقد تھے کہ تمام علوم فلسفہ سے نکلے لہذا ان کی نظر میں علم کو حکمت سیجد اکرنے ی کوئی وجہنہ تھی ۔

یہ نظریہ اس وقت تک قائم رہا جب تک جعفر صادق (علیہ السلام ) نے علم اور حکمت میں امتیاز کی نشاندہی نہ کر دی آججب کہ علم کی حدود معلوم ہو گئی ہیں ہمیں اس بات پر کوئی حیرت نہیں کہ فلسفہ کو علم سے جدا کیوں سمجھا جاتا ہے جس دن جعفر صادق (علیہ السلام )نے فلسفے کو علم سے جدا کیا ہے اسی وقت سے آپ کا نظرہ ایک انقلابی نظرہ شمار کیاگیا اور ایک حقیقی انقلابی نہ کہ مجازی کیونکہ جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرق کے متعلق ایک ایسی بات کہی جس نے ہر فلسفی کو ہلاکر رکھ دیا جعفر صادق (علیہ السلام ) کا یہ نظریہ دو حصوں پر مشتمل ہے اور وہ اس طرح ہے ۔

علم کسی حتمی نتیجے تک پہنچتا ہے اگرچہ وہ نتیجہ بہت مختصر اور محدود ہی کیوں نہ ہو لیکن فلسفہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچتا ۔ جعفر صادق (علیہ السلام ) کے نظریے کے اس حصے سے ان فلسفیوں کی کاوش باطل ہو جاتی ہے جو ساری عمر لسفے کی گتھیاں سلجھانے میں صرف کر دیتے ہیں ۔

اس ارشاد کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ دنیا کے (فلاسفرو ) جو کچھ تم نے پڑھا اور کسب فیض کیا ہے وہ سب فضول تھا اور فضول ہے اور تم لوگوں نیاپنی زندگیفضول چیزوں میں ضائع کر دی ہے کیونکہ جو چیز تم نے حاصل کی ہے اس کا نہ تمہیں کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی دوسرے لوگ اس سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں جیس اکہ ہمیں معلوم ہے جس زمانے میں کسینے دوسروں کے علم کی قدروقیمت کا انکار کیا وہ تمام لوگ اور ان کے حامی اسکے دشمن بن گے اگر کوئی کسی شخص کے گھر یا کھیتی کی قدرو قیمت کا انکار کرے تو وہ اس شخص سے سخت دشمنی نہیں مول لیتا لیکن اگر کسی شخص کے علم کا انکار کیا جائے تو وہ سخت دشمن بن جاتا ہے چونکہ جن کے پاس علم ہوتا ہے وہ اس پر فخر کرتے ہیں اور وہ ہر گز اپنے علم کی بے قدری برداشت نہیں کر سکتے ۔

یہاں تک کہ عظیم انسان بھی جب سنتے کہ ان کے علم کی قدرو قیمت نہیں ہوئی تو انہیں بے حد رنج ہوتا تھا بزرگان اسلام میں سے مالکی فرقے کے بانی مالک بن انس جو چار مشہور اسلامی فرقوں مالکی شافعی حنفی اور حنبلی میں سے ایک کے بانی ہیں ۔

جب امام جعفر صادق (علیہ السلام ) کا یہ نظریہ کہ حکمت (فلسفہ ) نتیجہ حاصل کرنے کے لحاظ بے فائدہ ہے البتہ ابھی جعفر صادق (علیہ السلام ) کے نظریئے کا صرف پہلا حصہ ہی لوگوں تک پہنچا تھا جونہی اس نظریئے کو مالک بن انس کے ایک قریبی مرید ابراہیم غزی نے مالک بن انس تک پہنچایا اور ان سے کہا کہ جو کچھ آپ نے حکمت سے سیکھا ہے اس کا کوئی فائدہ نہیں روایت ہے کہ وہ نیک سیرت انسان ابراہیم غزی سے اس قدر رنجیدہ خاطر ہوا کہ ابراہیم غزی کے مرنے تک اس سے نالاں رہا ۔

ب جب مالک بن انس جیا انسان اپنے علم کی قدرو قیمت پر اس قدر رنجیدہ ہوتا ہے تو دوسرے لوگوں پر کیا شکوہ مشہور فرانسیسی ہم عصر فلسفی ژزان دو لاکروا ‘ جعفر صادق (علیہ السلام ) کے نظریئے کے پہلے حصے پر اعتراض کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آ کو اپنے نظریئے کے پہلے حصے کو اس طرح بیان کرنا چاہیے تھا کہ آپ کہتے اگر فلسفہ علم کی صورت میں سامنے نہ آئے تو بے سود ہے لیکن جب علم کی صورت میں سامنے آتا ہے تو اس سے مفید نتیجہ حاصل کیا جا سکتا ہے فرانسیسی فلسفی اور محقق کہتا ہے کہ نہ صرف فلسفہ علم کی صورت میں سامنے نہ آنے کی بنا پر بے سود ہے بلکہ ہر وہ علم بھیجو صرف تھیوری کی حد تک محدود ہے یعنی اس کا عملی استعمال نہیں ہے تو وہ بے سود ہے ۔

کبھی کسی علم میں مستقل قوانین دریافت ہوتے ہیں تو جب تک ان قوانین کا عملی اجراء نہ ہو گا وہ بے سود ہیں مشہور ماہر فلکیات کپلر جس نے سورج کے گرد سیاروں کی حرکت کے تین قوانین وضع کئے فلکیات اور فزکس کے ماہرین میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا جو ان قوانین کو شک کی نگاہ سے دیکھتا سائنس دان جانتے تھے کہ یہ قوانین تھیوری نہیں بلکہ علم اور حقیقت ہیں ۔

لیکن نہ ہی کپلر کے قوانین سے کوئی نتیجہ برامد ہوتا ہے اور نہ نیوٹن کے دریافت کردہ قوت تجاذب کے قانون سے ہی کوئی نتیجہ نکلتا ہے ۔

لیکن ۱۹۵۷ ء عیسوی میں جب روس نے اپنا پہلا مصنوعی سیارہ خلاء میں بھیجا تو کپلر کے تین قوانین اور قانون تجازب سے نتیجہ حاصل ہونا شروع ہوا اور تمام سیارچے اور تمام خلای جہاز جو زمین یا دوسرے سیاروں کے گرد گھومتے ہیں ان قوانین کے تابع ہیں اور بنی نوع انسان کو ان قوانین کا عملی نتیجہ یہ ملا ہے کہ آج ایک ٹیلیویژن کے پروگرام کو سیاروں کی مدد سے کرہ ارض کے تمام لوگوں تک پہنچایا جا سکتا ہے اور مصنوعی سیاروں کی مدد سے طوفانوں کے بارے میں مکمل پیشن گوئی کی جا سکتی ہے اور اسی طرح غلط جغرافیائی نقشوں کو بھی درست کیا جا سکتا ہے ۔

جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ جعفر صادق (علیہ السلام ) اپنے حلقہ تدریس میں فلسفہ بھی پڑھاتے تھے لہذا یہاں سے اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ جو شخص کہا ہے کہ فلسفہ حقیقی اور عملی مقام رکھنے کے علاوہ مذہبی پیشوا بھی تھے نے کیوں اپنے شاگردوں کو ایک عرصہ فضولیات میں مشغول رکھا جن کا کوئی عملی فائدہ نہ تھا اس موضوع کے سبب کو سمجھنے کیلئے ہمیں جعفر صادق (علیہ السلام ) کے نظریئے کے دوسرے حصے یعنی فلسفے اور علم کے فرق پر نظر ڈالناہو گی ۔

جب ہم جعفر صادق (علیہ السلام ) کے نظریئے کے دوسرے حصے کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں یہبات مد نظر رکھنا چاہیے کہ آپ فلسفہ و علم کے ضمن میں اس موضوع کو زبان پر لاتے ہیں نہ کہ مذہب کے ضمن میں چونکہ جعفر صادق (علیہ السلام ) ایک مذہبی پیشوا تھے بلا کسی تردید کے حقیقت کو مذہب اور اس کے مبدا جو خا ہے میں سمجھتے تھے ۔

لیکن اپنے نظریئے کے دوسرے حصے کو فلسفہ و علم کے محور پر ذکر کیا ہے اور وہ اس طرح ہے " علم دور کی حقیقت کو مد نظر نہیں رکھ سکتا جب کہ فلسفہ اس حقیقت کو مد نظر رکھتا ہے " اس نظریئے کو سطحی نظر سے نہ دیکھئے اور اس سے تیز سے نہ گزر جائے کیونکہ جب تک انسان اس نظریئے کی گہرائی میں نہ جائے سمجھ نہیں سکتا کہ اس عظیم انسان نے علم اور فلسفہ کا درمیانی فرق کس چیز کو قرار دیا ہے اور اس کے باوجود کہ وہ فلسفے کے عملی فائدے سے انکاری ہے اسے کیوں تدریس کرتا ہے ؟ جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا علم حقائق کا کھوج لگا سکتا ہے چاہے وہ حقائق کتنے ہی معمولی کیوں نہ ہوں ایک ایسا شخص جو کہتا ہے کہ علم دور کی حقیقت کا پتہ نہیں چلا سکتا لیکن فلسفہ ایسا کر سکتا ہے اور کیا دو نظریات جو علم اور فلسفہ کے فرق یعنی ایک موضوع سے متعلق میں ‘ کیا ان میں تصاد نہیں پایا جاتا ؟

جعفر صادق (علیہ السلام ) فرماتے ہیں کہ علم حقائق کا کھوج لگا سکتا ہے اور اگر بڑے حقائق کا کھوج نہ بھی لگا سکے تو چھوٹے حقائق کا پتہ چلا سکتا ہے لیکن اس حقیقت کے وجود میں لانے کا مقصد بیان نہیں کر سکتا شاید اس بات کو اس طرح بھی کیا جا سکتا ہے کہ علم آنکھ کی مانند تمام چیزوں کا مشاہدہ کر سکتا ہے لیکن اپنے آپ کو نہیں دیکھ سکتا اور نہ ہی یہ سمجھ سکتا ہے کہ حقائق کے ادراک سے اس کا کیا مطلب ہے ؟

لیکن فلسفہ جو اس کے باوجود کہ ابھی تک کسی حقیقت تک نہیں پہنچ سکا پھر بھی دور کی حقیقت کو مد نظر رکھتا ہے اور جانتا ہے کہ یہ سمجھنا چاہتا ہے کہ دنیا اور اس میں بنی نوعی انسان کیوں وجود میں آئے اور خالق کون ہے اور دنیا کو خلق کرنے کا کیا مقصد ہے ؟ اور اس دنیا میں بنی نوع انسان کا انجام اور خود دنیا کا انجام کیا ہو گا ۔

اس کلام کو ساڑھے بارہ سو سال گزر چکے ہیں آج بھی ایک ایسا امتیازی نشان ہے جو علم کو فلسفے سے جدا کرتا ہے آج بھی علم نہیں جانتا کہ کس لئے حقائق کی جستجو میں ہے اور کس منزل مقصود تک پہنچنے کا خواہاں ہے اس بات سے بھی آگاہ نہیں کہ کہاں سے ایا اور کہاں جا رہا ہے اور ایک ایسا ترازو ہے جس میں ہر چیز کو اچھی طرح تولا جا سکتا ہے لیکن اگر اس سے پوچھیں کہ اس دوڑ دھوپ اور جستجو سے تیرا مقصد کیا ہے تو جواب دینے سے عاری ہے جب کہ فلسفہ جواب دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ کس لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے اور کس منزل کی جانب رواں دواں ہے اگرچہ فلسفہ کے آغاز سے لے کر آج تک فلسفہ کسی ایک حقیقت کا سراغ بھی نہیں لگا سکا ۔

جو تعریف جعفر صادق (علیہ السلام ) علم فلسفہ کی بیان فرماتے ہیں اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ انسان علم کی نسبت فلسفہ کی قدرو قیمت اک زیادہ قائل رہا ہے کیونکہ آ کے بقول ( علم دور کی حقیقت کو مد نظر نہیں رکھ سکتا جبکہ فلسفہ اس حقیقت کو مد نظر رکھتا ہے )

یہ حقیقت خداوند تعالی کے علاوہ کوئی دوسری چیز نہیں ہے کیونکہ جب تمام فلسفیانہ مراحل طے ہو گئے تو فلسفہ اس مرحلے میں داخل ہوتا ہے جہاں اسکے جاننے کی ضرورت ہے کہ خداوندتعالی کون ہے اور ان کا تخلیق کرنے کا مقصد کیا ہے اور اس خلقت کا آخری نتیجہ کیا ہو گا ؟

پس جیسا کہ ہم آچ فلسفہ کو سمجھتے ہیں وہ یہ ہیکہ فلسفہ جعفر صادق (علیہ السلام ) کی نظر میں ‘ خداوند تعالی کی طرف راہنمائی کرتا ہے جبکہ علم اسطرح کی رہنمائی نہیں کرتا ۔ بس اگر ہم علم کے عمومی معنی ہی مراد لیں یعنی دانائی ‘ تو اس صورت میں علم فلسفہ میں بھی شامل ہو جاتا ہے ۔

یہاں اس نکتے کا ذکر ضروری ہے کہ جعفر صادق (علیہ السلام ) جو توحید پرست اور ایک مذہبی پیشوا تھے ( خداوند تعالی کی معرفت کو مذہب کے ذریعے جائز سمجھتے تھے نہ کہ فلسفہ کے ذریعے ہمیں معلوم ہے کہ پہلی صدی ہجری میں مذہب اسلام میں فلسفے کا وجود نہ تھا ‘ بعد میں آنے والے زمانوں میں بھی فلسفہ ہر گز دین اسلام کے اصول و فروع کا جزو نہیں بنا لیکن علما نے کوشش کی کہ دین اسلام کے فلسفہ اصول و فروغ کو فلسفے کے ساتھ مطابقت دیں اور اس سے دیں کے اصول و فروع کی تعریف کے لئے مدد لیں ۔

یہ اقدام دوسری صدی ہجری کے اوائل سے شروع ہوا اور جن لوگوں کو فلسفے میں دسترس حاصل تھی انہوں نے دین کے اصول و فروع کیتعریف کیلئے فلسفہ سے مدد حاصل کرنے کی جانب توجہ دی اور اس موضوع نے اس بات کی نشاندہی کی کہ مسلمان پہلی صدی ہجری سے زیادہ روشن فکر ہو گئے تھے کیونکہ پہلی صدی ہجری میں کسی نے فلسفے کو دین اسلام کیاصول و فروع پر تطبیق کرنے کی جانب توجہ نہیں دی تھی ‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ عرب مسلمانوں کی دوسری اقوام سے آمیزش نے مسلمانوں کو احکام دین کی فلسفے کے نقطہ نگاہ سے تعریف کرنے کی فکر دلائی ہو ۔

وہ اسلامی دانشور جنہوں نے دوسری صدی ہجری کے آغاز سے فلسفہ کی دین کے ساتھ مطابقت پیدا کرنیکی جانب توجہ دلائی تاکہ وہ فلسفہ سے اسلام کے اصول و فروع کی تعریف و توجہ کیلئے مدد حاصل کریں انہیں متکلمین کے نام سے پکارا گیا اور ان کے علم کو علم الکلام کہا گیا اور علم کلام کے اسلام میں معنی فلسفے کی دین کے ساتھ تطبیق ہے ۔

عیسائیوں نے فلسفے کیدین پر تطبیق مسلمانوں سے سیکھی اور صلیبی جنگیں جو تقریبا دو سو سال جاری رہیں اور مسلمان دانشوروں کی کتابوں کے لاطینی زبان میں تراجم نے یورپی لوگوں کو فلسفے کو عیسائیت کے ساتھ تطبیق کی جانب توجہ دلائی اگر صلیبی جنگیں نہ چھڑتیں تو شائید یورپی سترہویں صدی عیسوی تک مسلمانوں کے علوم سے بے خبر رہتے جسطرح مشرقی سبزیوں اور پھلوں کے وہ اقسام جو اس سے پہلے یورپ میں کاشت نہیں ہوتے تھے ‘ اس براعظم میں کاشت نہ ہوئے ۔

بعض یورپی دانشوروں نے مسلمان دانشوروں کی کتابوں کے تراجم پڑھنے کے بعد بہت کوشش کی ہے کہ فلسفے کو مسیح کی تعلیمات پر تطبیق کریں اور آج ہم بلا شک و شبہ کہ سکتے ہیں کہ عقیدے کے لحاظ سے جسم اور روح کی دوئی مسلمان متکلمین سے لی گئی ہے ۔

جن لوگوں نے فلسفہ کو مذہب پر تطبیق کرنا مسلمانوں سے سیکھا ہے ان میں ایک فرانسیسی مالبرانش بھی ہے جو ۱۶۳۸ عیسوی میں پیدا ہوا ور ۱۷۱۵ ء میں فوت ہوا یہ شخص جس نے مسلمانوں سے رہنمائی لی کارتزیاں کے فلسفے یعنی ڈکارت کے فلسفے کا حامی تھا ۔

ڈکارت کا فلسفہ یورپ میں اتنی تیزی سے پھیلا کہ ۱۶۵۰ عیسوی جو ڈکارت کا وفات سال ہے تک ڈکارت کا فلسفہ تمام یورپی ممالک میں ایک قابل احترام مکتب کی حقیقت اختیار کر گیا تھا ۔

ڈکارت کے فلسفی مکتب کی بنیاد اس پر تھی کہ تمام چیزوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے ۔ ڈکارت کہتا تھا ( کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس میں شک نہیں کیا جا سکتا ‘ اگر کوئی ہے تو ہو خود شک ہے ) ظاہر ہے جو شخص تمام چیزوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہو عیسی کے آئین اور خداوند کے وجد کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتا ہو گا ۔ ہم یہ وضاحت اس لئے کر رہے ہیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ مسلمانوں متکلمین کے نظریات کس قدر موثر تھے کہ مالبرانش جیسا شخص جو ڈکارت کے فلسفی مکتب کا مرید تھا اس سے متاثر تھا ۔

کارتزیان کے فلسفی مکتب کو وجودمیں لانے کے لحاظ سے ڈکارت اتنا مشہور ہے کہ لوگوں کو گمان بھی نہیں کہ وہ ایک فلسفی نہیں تھا بلکہ ریاضی دان اور فوج کا افسر تھا ڈکارت نے ریاضی اور روشنی پر تحقیق کے ابرے میں چند قوانین وضع کئے جن کا نام اسکے نام پرکارتزیان کے قوانین ہے لیکن ماہرین کے علاوہ کسی اور کو ان قوانین کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں اور فلسفے میں ڈکارت کی شہرت اتنی زیادہ ہے کہ علوم ریاضی اور روشنی کا مطالعہ اسکے سامنے ماند پڑ چکا ہے ‘ ڈکارت کی موت کے وقت ‘ اسکے فلسفی مکتب کامرید ‘ مالبرانش بارہ سال کا تھا وہ جو نہی بلوغت کو پہنچا ڈکارت کے فلسفی نظرہ نے اس پر گہرا اثر ڈالا اور اسکی کتابوں میں سیایک جس کا نام "حقیقت کی جستجو ہے " ڈکارت کے فلسفے کی تحقیق کی روشنی سے متعلق لکھی گئی ہے چونکہ مالبرانش ڈکارت کے فلسفی مکتب کا پیروکار تھا ۔ فلسفے کو دین عیسی سے تطبیق کرنا چاہیے تھا لیکن اس کی روش سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ مسلمان متکلمین کے نظریات سے متاثر ہے ۔

مسلمان متکلمین نے فلسفے کیدین اسلام کے اصول اور فروع پر تطبیق کی انہوں نے اسلامی احکام کے مطابق جسم کا پیوند ٹوٹ جاتا ہیجسم ختم ہو جاتا ہے لیکن روح باقی رہتی ہے اور وہ روح ان تمام خصوصیات کی حامل ہوتی ہے جو روح اور جسم دونوں کی وابستگی کے دوراں پائی جاتیہیں اسی بنا پر روح باقی اور جاوید ہے اور ہر حیثیت سے ایک انسان اور انسانی شعور کی حامل ہے اور اکیلی روح کے ادارک اور اس کے اس وقت کے ادراک جب وہ جسم سے وابستہ تھی ‘ میں کوئی فرق نہیں ہے مگر صرف اتنا ہے کہ بعد میں وہ خوراک اور پوشاک کی محتاج نہیں رہتی یہاں توجہ طلب بات یہ ہے کہ مسلمان متکلمین کے درمیان بھی عقیدے کا فرق پایا جاتا ہے اگر یہ فرق نہ ہوتا تو غیر معمولی بات تھی ۔ کیونکہ جب کچھ فلسفی سینکڑوں سال کی طویل مدت کے دوران فلسفے کو دین کیاصول اور فروع پر تطبیق کرتے ہیں تو ان کے درمیان فرق پیدا ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ اپنی سوچ کے مطابق فلسفے کو اسلام کے اصول اور فروع پر تطبیق کرتا ہے لہذا بعض متکلمین کے بقول روح اگرچہ باقی اور جاوید ہے لیکن جس دوران یہ جسم سے وابستہ ہوتی ہے اس دوران اس میں ادارک کی صلاحیت نہیں ہوتی۔

(علیہ السلام ) جن کا کہنا ہے کہ انسان کی موت کے بعد روح انسان کی زندگی کے دور کے اداراکات یا محسوسات کی حامل ہے ان کے بقول اگر روح اس دنیا کے ادراکات کی حامل نہیں ہو گی تو روز جزا کے دن کیسے حساب کیلئے تیار ہو گی لحذا یہ لازمی بات ہے کہ روح موت کے بعد اس دنیا کے اداراکات کی حامل ہو گی تمام مسلمان متکلمین جنہوں نے فلسفے کو دین اسلام پر تطبیق کرنے کیکوشش کی ہے انہوں نے یہ کوشش بھی کی ہے کہ ان کی تطبیق ایسی ہو جس سے دین اسلام کے اصول کا انکار نہ ہواور چونکہ اسلام کے اصول میں سے ایک قیامت بھی ہے لہذا تمام مسلمان متکلمین نے موت کے بعد روح کی بقا کو تسلیم کیاہے کیونکہ فلسفیانہ نقطہ نگاہ سے معاد یا آخرت کو تسلیم کرنیکا ایک ہی راستہ ہے اور وہ روح کی بقا ء ہے ۔

ہم یہاں اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ فلسفیانہ نقطہ نگاہ سے آخرت کو اس وقت تک تسلیم نہیں کیاجا سکتا جب تک روح کی بقاء کو تسلیم نہ کیا جائے ۔ لیکن مذہب اسلام کی رو سے ممکن ہے روح کیبقاء کے بغیر بھی قیامت کا وجود تسلیم کیاجائے ایک مسلمان جو فلسفے سے بے خبر ہے اس کا ایمان ہے کہ اگرچہ انسان مرنے کے بعد فانی ہو جاتا ہے اور اس کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی لیکن خداوند تعالی روز جزا کو موجودہ شکل و صورت میں زندہ ہونے کو تسلیم نہیں کرتا وہ کہتا ہے کہ موت کیبعد انسانی جسم کا ڈھانچہ خراب ہو جاتا ہے اور ہڈیاں ختم ہو جاتی ہیں اور مضبوط سے مضبوط ہڈیاں بھی ایک دن خاک میں مل جاتی ہیں ہوائیں اور سیلاب انسانی جسم کے ذرات کو دنیا کے اطراف میں بکھیر دیتے ہیں فلسفہ اس بات کو قبول نہیں کرتا کہ وہ بکھرے ہوئے ذرات جن کی ماہیت مکمل طور پر تبدیل ہو چکیہو ایک لمحہ میں ایک جگہ اکٹھے ہو کر اسی شکل و صورت کے انسان کا روپ دھار لیں جو اس دنیا میں موجود ہے لیکن فلسفہ روح کی بقا کو تسلیم کر سکتا ہے ۔

اہل کلام مسلمان جو فلسفہ کو دین اسلام پر تطبیق کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جو چیز انسان سے باقی رہتی ہے وہ روح ہے اور معاد روح کی بقا کے ہمراہ ہی ممکن ہے ۔ یعنی چونکہ روح باقی ہے لہذا معاد وقوع پذیر ہو سکتی ہے ۔

اہل کلام حضرات نے فلسفہ کو دین اسلام پر تطبیق کرتے ہوئے اصول دین سے منحرف ہونے سے بچنے کیلئے روح کی بقا کو تسلیم کیاہے تاکہ فلسفیانہ نقطہ نظر ( نہ کہ مذہبی ) سے اخرت یا معاد کا امکان موجود ہو جو اہل کلام فلسفے کو دین اسلام پر اس طرح تطبیق نہیں کر سکے کہ اصول دین باقی رہے تو ان پر مرتد ہونے کا فتوی لگا دیا گیا اور مسلمانوں نے انہیں مرتد کافر سمجھا ۔ یہی وہ ہے کہ جو کوئی متکلم فلسفے کو طلب ہونے کے ساتھ ساتھ قدرے خطرناک بھی ہے مختصر یہ کہ مسلمان اہل کلام حضرات کا عقیدہ تھا آدمی جسم اور روح سے تشکیل پاتا ہے ۔

جو پیوند جسم اور روح کو آپس میں جوڑتا اور پھر دونوں کو کام پر شرکت کیلئے آمادہ کرتا ہے وہ زندگی ہے جب تک وہ پیوند باقیہے آدمی زندہ ہے اور جو نہی مذکورہ پیوند ٹوٹتا ہے انسان مر جاتا ہے موت کے بعد جسم اور روح جدا ہو جاتے ہیں اور ہر ایک آزاد زندگی اختیار کر لیتا ہے لیکن جسم جلد بوسیدہ ہو کر ختم ہو جاتا ہے جبکہ روح باقی رہتی ہے ۔

مسلمان روح کی بقا کا عقیدہ رکھنے کیلئے اپنے آ کو متکلم علما کی مانند فلسفیانہ دلائل سے تھکاتے نہیں اور کہتے ہیں کہ خداوند تعالی نے قرآن میں فرمایا ہے روح مجھ سے مربطو امور میں سے ہے اور چونکہ یہ خدا سے مربوط ہے لہذا یہ باقی اور جاوید ہے اب فلسفے کی عیسی کی تعلیمات پر تطبیق کے بارے میں مالبرانش کے کام پر ایک نظر ڈالتیہیں مالبرانش جو ڈکارت کا مرید تھا ‘ اصولا اسے ہر چیز میں شک کرنا چاہیے تھا لیکن وہ مسلمان متکلم علما کے نظریئے کے مطابق انسانی وجود کو روح اور جسم سے متشکل جانتا ہے ور اس بات کا معتقد ہے کہ جو پیوند جسم اور روح دونوں کے مشترکہ طورپر کام کرنے کا سبب ہے وہ زندگی ہے اور جب جسم اور روح کا پیوند ٹوٹ گیا تو ان دو میں سے ہر ایک آزاد زندگی پا لیتے ہیں حتی کہ جسم مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے ۔

اس ترتیب سے مالبرانسش کی طرف سے عیسوی دین پر فلسفے کی تطبیق کا نتیجہ ‘ مسلمان متکلمین کے فلسفے کی اسلام پر تطبیق کے نتیجے کے مطابق ہے ۔

شک اور یقین بنظر صادق (علیہ السلام )

جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ اس کے باوجود کہ جعفر صادق (علیہ السلام ) فلسفے کو علم سے برتر مانتے ہیں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ علم بعض جگہوں پر یقین تک پہنچاتا ہے لیکن فلسفہ ابھی تک شک سے باہر نہیں نکلا ہے ۔ آپ یہ نہیں فرماتے کہ علم ہمیشہ یقین تک پہنچاتا ہے بلکہ آپ فرماتے ہیں کہ علم بعض مقامات پر یقین تک پہنچاتا ہے لیکن فلسفہ اپنے وجود میں آنے کے دن سے لیکر اب تک شک سے باہر نہیں نکل سکا فلسفے کے بارے میں جعفر صادق (علیہ السلام ) کا فرمان درست ہے بشرطیکہ جو علم فلسفے سے وجود میں آئے اور جن علوم نے انسان کو بعض ایقا ن تک پہنچایا ہے انہیں غلطی سے فلسفہ نہ سمجھا جائے ۔

جس دن سییونان میں فلسفہ وجود میں آیا اس دن سے لے کر آج تک یہ بحث پائی جاتی ہے کہ یقین کیا ہے اور شک کیا ہے ؟ اور کیا بنی نوع انسان ایسے مقام تک پہنچ سکتا ہے کہ شک نہ کرے اور کیا شک اور یقین کے درمیان پایا جانے والیفرق ظاہری فرق نہیں ہے ؟

جعفر صادق (علیہ السلام ) فرماتے ہیں کہ شک جہل سے عبارت ہے اور یہ بات درست ہے ہم ریاض کے کسی قاعدے کے نتیجے کے بارے میں شک نہیں کرتے کیونکہ اس کے بارے میں ہمیں علم الیقین ہوتا ہے البتہ نفسیات کے قاعدے کے نتیجہ کے بارے میں شک کرتے ہیں کیونکہ اس کے متعلق ہمیں علم الیقین نہیں ہوتا ۔

نفسیات کے قاعدے کا نتیجہ ریاضی کے قاعدے کے نتیجے کی مانند نہیں ہے کہ ہم اس کے بارے میں علم الیقین رکھیں ( مثلا دو کو دو سے ضروب دی جائے تو چار ہوتے ہیں )

نفسیات کے قوانین کا مسئلہ اس قدر استثنائیہے کہ یہ کہا جا سکت اہے علم نفسیات حقیقی معنوں میں قوانین نہیں رکھتا ‘ عادات و اطوار طرز فکر اور سلیقے کے لحاظ سیہر انسان انفرادی حیثیت کا حامل ہے اور دو افراد ایسے نہیں مل سکتے جن کی عادات و اطوار طرز فکر اور سلیقہ ایک دوسرے سے ملتا جلتا ہو ‘ لہذا نفسیات کے متعلق ایسے قواعد وضع نہیں ہو سکتے جن کا اطلاق تمام افراد پر ہو سکے ۔

لوگوں میں نسلی اور قومی فرق کے علاوہ ایک معاشرے میں لوگوں کے درمیان عادات و اطوار اورطرز فکر میں بھی بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے اور اگر لوگوں کے ایک گروہ کے درمیان فکر مشابہت مشاہدہ کیجاتی ہے تو وہ اس لئے کہ وہ اشخاصاپنی زندگی کی ضروریات کو پورا کرنا چاہتے ہیں وہ اس طرح کہ وہ ان افراط کی طرز زندگی اختیار کرکے ان کے ساتھ اپنے نظریہ اور سلیقے کی مطابقت پیدا کر لیتے ہیں جن کی پیروی سے ان کی زندگی کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں ۔

ایک خاندان کے قریب ترین ا فراد مثلا باپ ‘ بیٹا ‘ ماں اور بیٹی میں شکل و صورت ‘ طرز فکر اور سلیقے کی شباحت نہیں پائی جاتی۔

بیوی اور خاوند کے درمیان بھی عادات و اطوار اور طرز فکر اور سلیقے کی مشابہت نہیں پائی جاتی حتی کہ عاشق اور معشوق میں بھی عادات و اطوار اور سوچ کے انداز کے لحاظ سے مشابہت نہیں پائی جاتی اور اسی وجہ سے عاشقوں کی آپ بیتی کا آغاز شیریں ہوتا ہے نہ کہ انجام ‘ اگر داستان گو ‘ عاشقوں پر بیتی ہوئی داستان انجام کا ذکر نہ کریں اور صر ف یہی کہیں کہ ا ن کی زندگی میں خوشی ہی خوشی تھی اور ان کے ہاں بہت سے بیٹے پیدا ہوے اور پھر اگر داستان گو ان کے انجام کا بھی تذکرہ کرے تو سامع سمجھتا ہے کہ شروع میں وہ کچھ اور نظر آتے تھے اور آخر میں کچھ اور بن گئے یعنی عاشقوں کے آغاز اور انجام میں زمین اور آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔

بیسویں صدی کے اوائل میں ایک فرانسیسی فلسفی برکسون جو بین الاقوامی شہرت کا حامل ہے کے بقول وحشی اور اور نیم وحشی اقوام پر نفسیات کے قواعد صادق آتے ہیں ۔

برکسون کے بقول ‘ وحشی اقوام میں لوگ ہر چیز کے بارے میں ایک جیسی سوچ رکھتے ہیں یعنی ان کی سوچ میں مشابہت پائی جاتی ہے اور چونکہ ان کی معلومات اور مفادات کی حدود محدود ہوتی ہے لہذا ان کی سوچ مختلف نہیں ہو سکتی لیکن جونہی وہ ترقی کرتے ہیں اور نیم وحشی ہو جاتے ہیں تو ان کی معلومات میں اضافہ ہو جاتا ہے اور انکے مفادات کی حدود میں بھی وسعت آ جاتی ہے ۔

ایک نفسیات دان جب کسی قبیلے کیلئے نفسیات کے قواعد وضع کرتا ہے تو اسے یقین ہو سکتا ہے کہ یہ قواعد قبیلے کے تمام افراد کیلئے ہیں ۔ لیکن ممکن ہے وہ ایک نیم وحشی قبیلے کے تمام افراد کیلئے مشترکہ قواعد وضع نہ کر سکے بہر کیف ہم نفسیات کے سارے قواعد کا انکار نہیں کرتے بشرطیکہ نفسیات دان یہ دعوی نہ کرے کہ جو قواعد وہ وضع کر رہا ہے وہ تمام افراد کیلئے ہیں ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ نفسیات کے قواعد لوگوں کے ایک گروہ پر تو صادق آ سکتے ہیں لیکن نفسیات کا کوئی قاعدہ ایسا نہیں جو تمام انسانوں پر صادق آ سکے ۔

مثال کے طور پر نفسیات کے قواعد میں سے ایک قاعدہ لوگوں میں ترجیح کے نتائج ہیں اس طرح کہ اگر ایک کارخانے میں مزدوروں کا ایک گروہ کام میں مشغول ہے اور ان کا کام کمیت اور کیفیت کے لحاظ سے مساوی ہے لیکن ان میں سے کچھ مزدور دوسروں کی نسبت دو گنا مزدوری پاتے ہیں تو اس ترجیح کی وجہ سے اکثر مزدوروں میں سیکام سے لگن کم ہو جائے گی کیونکہ وہ دیکھیں گے کہ جو مزدوری ان چند مزدوروں کو ملتی ہے اس پر ان کا حق نہیں بنتا ہم تصور کرتے ہیں کہ ترجیح کے اثرات تمام معاشروں میں ایک جیسے ہیں اور یہ نفسیات کا وہ قاعدہ ہے جو ہر جگہ صادق آتا ہے جبکہ ایسے معاشرے ہو گزرے ہیں اور شاید آج بھی موجود ہوں جن پر ترجیح اثر انداز نہ ہوتی ہو ۔

انگریز مصنف ولز جو ۱۹۲۶ عیسوی میں ۷۹ سال کی عمر میں فوت ہوا اور لوگ اسے جہانوں کی جنگ اور زمانے کی مشین کے مصنف کے نام سے پہچانتے ہیں اور اب جبکہ ولز نے تقریبا ایک سو ساٹھ کتابیں مختلف موضوعات کے بارے میں لکھی ہیں اپنی کتاب سیاحت نامے میں لکھتا ہے ہندوستان کے شہر امرتسر میں انگریزوں کی طرف سے ایک کارخانہ چلایا گیا تھا (اس زمانے میں ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت تھی )جس کے کچھ مزدوروں کو دوسرے مزدوروں سے زیادہ اجرت ملتی تھی جبکہ نہ تو ان کے کام کے گھنٹے ان سے زیادہ تھے اور نہ وہ دوسروں سے زیادہ ماہر تھے ‘ ان کا کام کیفیت اور کمیت کے لحاظ سے ا یک جیسا تھا۔

لیکن وہ لوگ جو اضافی تنخواہ سے محروم تھے ۔ وہ اس پر مکمل طور پر راضی تھے اور ان میں زیادہ اجرت پانے والے سے کوئی حسد نہیں پائی جاتی تھی اور وہ کہتے تھے ہر کوئی اپنی قسمت لیتا ہے اور اگر اس کی قسمت میں دوسرے کم حصہ لکھا ہو تو اسے دوسروں سے حسد نہیں کرنا چاہیے ۔

ممکن ہے اس طرح کی سوچ کو کوتاہ اندیشی کا نام دیا جائے لیکن اگر لوگوں کے درمیان عادات و اطوار اور سوچ کا فرق نہ ہو تو ہم کبھی نہیں کہہ سکتے کہ نفسیات کے قواعد تمام لوگوں پر لاگو نہیں ہو سکتے اور یہ عادات و اطوار اور سوچ کا فرق ہے جس کی وجہ سے ہم کہتے ہیں کبھی ہزار افراد کے درمیان بھی نفسیات کا ایک قاعدہ لاگو نہیں ہو سکتا ۔

مثال کے طور پر علم الجمال لاطنی میں جسے اسٹہ ٹیک کہا جاتا ہے ۔

اس علم میں خوبصورتی کی پہچان کیلئے کچھ قواعد وضع کئے گئے ہیں لیکن تمام یورپی اقوام ان قواعد سے متفق نہیں ہیں چہ جائیکہ دوسری قومیں ان سے متفق ہوں ۔ یورپی لوگوں میں کچھ علم الجمال کے ماہر ایسے ہیں جو جنوبی سوڈان میں بسنے والے بلند قامت لوگوں کو دنیا کے خوبصورت ترین لوگ قرار دیتے ہیں۔

ایک امریکی سیاح انتھونی ہل نیوگنی کے قبائل کے بارے میں اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ وہاں پر کومپیانامی ایک قبیلہ ہے جس کے مرد ایک طرح کا رقص کرتے ہوئے ایک اژدھا سے کھیلتے ہیں اور وہ اژدھا رقاص کے سر کو اپنی منہ میں ڈال کر نگلنا چاہتا ہے اور رقاص نے اپنے آپ کو اس کا لقمہ بننے سے بچانا ہوتا ہے اور یہ اژدھا جس کا نام بو آ ہے دنیا کا سب سے لمبا سخت ترین سانپ ہے اگرچہ زہریلا نہیں ہوتا لیکن اگر کمر کے گرد لپٹ جائے تو کمر کے اوپر کی ہڈیوں کو پیس کر رکھ دے رقاص کو جسمانی طور پر طاقتور ہونے کے علاوہ ایک عرصے تک اس قسم کے سانپوں کے ساتھ مشق کرنا ہوتی ہے تاکہ رقص کے دوران اپنے آپ کو اس سانپ سے جس کی بڑی اقسام کا آغاز بو آسانپوں کی چھوٹی اقسام سے کرتے ہیں اور آہستہ آہستہ اپنی مشق کیلئے بڑے سانپوں کا انتخاب ہیں تاکہ قبیلے کے جشن میں برے سانپ کے ساتھ رقص کر سکیں ۔

اس قبیلے کے مرد اور عورتیں اپنے آپ کو دنیا کے خوبصورت ترین افراد خیال کرتیہیں اور یورپی خوبصورت سفید فام لوگوں کو اچھا خیال نہیں کرتے ۔ امریکی سیاح انتھونی ہل کے بقول کومپیا کا یہ عقیدہ کہ وہ دنیا کے خوبصورت ترین لوگ ہیں اس قدر دو ٹوک اور پختہ ہے کہ گمان بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اس زمانے میں کوئی قائل کر سکے کہ دنیا میں ایسی اقوام ہیں جو خوبصورتی میں ان کی برابری کر سکتی ہیں چہ جائیکہ انہیں یہ کہا جائے کہ ان سے زیادہ خوبصورت اقوام موجود ہیں ۔

اگر ایک فرانسیسی سے پوچھا جائے کہ دنیا میں خوبصورت ترین چیز کیا ہے تو وہ بے دھڑک جواب دے گا ایفل ٹاور اور یہی سوال اگر ایک اٹالین سے کریں تو وہ کہے گا کہ اٹلی میں ناپل کی بندرگاہ کا علاقہ جب انسان اور دوسروں جانداروں اور چیزوں کی خوبصورتی کے بارے میں انسان کا نظریہ اتنا مختلف ہو تو علم الجمال کے عام قواعد جو ہر حیثیت سے مکمل ہوں کیسے وضع ہو سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ریاضی کے قواعد اور ہر وہ قاعدہ جو اس زمرے میں آتا ہے پہلے زمانے میں اس پر یقین نہیں کیا جاتا تھا کہ وہ علم الیقین تک پہنچ سکتا ہے جعفر صادق (علیہ السلام ) کی نظر میں جس چیز کے علم الیقین ہونے میں کوئی شک نہیں وہ دین اسلام کے اصول ہیں جو سارے کے سارے خداوند کی طرف سے ہیں ۔

آپ کا عقیدہ ہے کہ خدا ایک اور دنیا کا خالق اور محافظ ہے اور دنیا کو اپنے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق چلا رہا ہے جعفر صادق (علیہ السلام ) فرماتے ہیں جو لوگ خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں نادان ہیں اور ایسے نادان ہیں کہ گویا جاہل مطلق ہیں ۔

جعفر صادق (علیہ السلام ) فرماتے ہیں وہ گونگے اور بہرے ہیں کہ نہ تو کوئی چیز دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی سن سکتے ہیں اور چونکہ دیکھنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم ہیں لہذا نہ خود اپنی عقل کو خالق کے وجود کی معرفت حاصل کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں اور نہ دوسروں کی راہنمائی سے خداوند تعالی کی معروف سے بہر ہ مند ہو سکتے ہیں ان کی زندگی کھانے اور سونے اور دوسری حیوانی خواہشات تک محدود ہوتی ہے ان کی زندگی کا اپنی حیوانی خواہشات کو تسکین پہنچانے کے علاوہ کوئی مقصد نہیں ہوتا اور اسی طرح ان کے دن اور رات گزرتے رہتے ہیں ان کی زندگی میں ہر گز یہ سوچ پیدا نہیں ہوتی کہ وہ کسی چیز کو سمجھیں اور یہی لوگ جس کے ابرے میں خداوند تعالی نے فرمایا ہے کہ وہ حیوان یا ان سے بھی بد تر ہیں وہ خدا کی چاندار اور اپنے سمیت بے جان مخلوق کا مشاہدہ نہیں کرتے تاکہ انہیں پتہ چلے کہ خداوند تعالی نے پھر مخلوق کو ایسی خصوصیات سے نوازا ہے جو صرف اس سے مربوطہے اور یہ خصوصیات اس لئے پیدا کی گئی ہیں کہ وہ مخلوق باقی رہے اور اگر درخت جاندار رہے تو وہ افزائشی نسل کے ذریعے اپنی نسل کو ختم ہونے سے بچاتا ہے خداوند تعالی نے اپنے علم اور طاقت کے ذریعے ایسے جانور پیدا کئے ہیں جو گرمیوں کی گرم ترین حرارت کو گرم علاقوں اور صحراؤں میں برداشت کر لیتے ہیں اور انہیں کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور سرد علاقوں میں رہنے والے ایسے جانور بھی پیدا کئے ہیں جو خداوند تعالی کے علم اور قدرت سے سردیوں کے تمام عرصے کے دوران سو رہتے ہیں اور بھوکے پیاسے بھی نہیں ہوتے اور اس طویل خوابیدگی کے عرصے میں وہ کمزور بھی نہیں ہوتے موسم میں دھڑکتا ہے لیکن یہی جانور جب سردیوں میں چھ سات مہینوں کے لئے سو جاتے ہیں تو ان کا دل ساٹھ ستر مرتبہ فی گھنٹہ سے زیادہ نہیں ڈھڑکتا ۔

یہی جانور موسم گرما میں جب جاگ رہے ہوتے ہیں تو دو ہزار چار سو یا دو ہزار پانچ سو مرتبہ فی گھنٹہ کے حساب سے سانس لیتے ہیں لیکن جب سردیوں کے موسم میں سوتے ہیں تو ان کا سینہ پچیس مرتبہ فی گھنٹہ سے زیادہ نہیں چلتا اگر کوئی ان جانوروں کی خوابیدگی کے موقع پران کے قریب جائے اور انکے جسم پر ہاتھ رکھے تو شدید سردی کا احساس کرتا ہے ان کی سردی برف کی مانند معلوم ہوتی ہے بہر کیف وہ جانور زندہ ہوتے ہیں اور کئی کئی مہینے زندہ رہتے ہیں یہاں تک کہ سردیاں ختم ہو کر بہار شروع ہو جاتی ہے لیکن اگر انسانی جسم کا درجہ حرارت عام درجہ حرارت کا آدھا ہو جائے تو آدمی مر جائے گا ۔

یہ خداوند تعالی ہی ہے جس نے سرد علاقوں میں پائے جانے والے جانوروں کو چھ یا سات ماہ سونے کی صلاحیت بخشی ہے اور ان کے جسم کی سردی برف کی مانند ہو جاتی ہے اور پھر بھی وہ زندہ رہتے ہیں لیکن ایک بے وقوف جاہل مطلق اور بابینا و بہرہ ہے کہ خداوند تعالی کی اس قدرت کا مشاہدہ نہیں کرتا اور چونکہ وہ سننے کی طاقت نہیں رکھتا لہذا وہ دوسروں سے خدا کی ان نشانیوں اور قدرت کیبارے میں نہیں سن سکتا ۔

سرد علاقوں کے ان جانوروں کے مقابلے میں خداوند تعالی نے اونٹ جیسا گرم علاقوں کا جانور پیدا کیا ہے جو بیابانوں میں زندگی گزارتاہے اور اس کی غذا سخت اور خشک کانٹے ہوتے ہیں گھاس کھانے والا جانور ا گر خشک گھاس کھائے اور اسے پینے کیلئے پانی بھی نہ ہو تو وہ ہلاک ہو جائے گا ۔ اونٹ ایک یسا جانور ہے جو بیابان سے خشک کانٹیکھاتا ہے لیکن اسے پیاس نہیں لگتی یہاں تک کہ وہ اپنے سوار کو وہاں تک پہنچا دیتا ہے جہاں پانی ہوتاہے ۔

ایک بے شعور شخص نہیں جانتا کہ خداوند تعالی نیاپنے علم اور قدرت سے اونٹ کو ایسی صلاحیت بخشی ہے کہ وہ گرم بیابانوں میں بھی تھکاوٹ اور پیاس کا احساس نہیں کرتا اگر اونٹ پر سوار شخص بیابان میں راستہ گم کر دے اور وہ بھی کڑکڑی دھوپ اور پیاس کا عالم ہو تو اس صورت میں اگر اونٹ پر سوار شخص مہار ڈھیلی چھوڑ دے اور اونٹ کو دائیں یا بائیں نہ موڑے تو اونٹ اسے پانی تک پہنچا دے گا کیونکہ اونٹ پانی کی نمی کو دور دراز سے محسوس کر لیتا ہے اور سمجھ جاتا ہے کہ پانی کا چشمہ کہاں ہے ؟

اونٹ میں پانی کی نمی کو محسوس کرنے کی صلاحیت اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ وہ بڑے بڑے کنوؤں سے خارج ہونے والی نمی کو دور دراز سے محسوس کر لیتا ہیاور اگر اس کے تھکے ماندے سوار میں صبر ہو تواسے کنوئیں تکپہنچا دیتا ہے لیکن انسان دور سیپانی کی موجودگی کا اس وقت تک پتہ نہیں چلا سکتا جب تک وہ پانی کے چشمے کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لے ۔

یہ توانائی جو انسان میں نہیں لیکن اونٹ میں پائی جاتی ہے خدانے اپنے علم اور قدرت سے اس جانو ر کو ودیعت کی ہے تاکہ جب وہ گرم بیابانوں میں پیاساہو تو اپنے اپ کو پانی تک پہنچا کر سیراب ہو سکے اگر اونٹ کو صحرا میں چرنے کیلئے کھلا چھوڑ دیا جائے تووہ ہرگز پیاسا نہیں ہوتا جو چیز اس کو پیاسا کرتی ہے وہ انسان کا اس پر سامان لادنا یا سوار ہونا اور اسے بیابانوں میں سفر کرانا ہیورنہ آزاد حالتمیں وہ جانتا ہے کہ کون سی جگہ پانی کے نزدیک ہے جہاں اسے چرنا چاہیے اگر وہ اپنے سوار کا فرمان بردار ہو اور اسے سمجھ میں آیے کہ اس نے اپنے سوار کے ساتھ بے آب و گیاہ بیابان میں ایک لمبا سفر کرنا ہے جسمیں ممکن ہے کئی دن و رات تک بغیر پانی پئے سفر کرنا پڑے تو وہ احتیاطا اس قدر پانی پی لیتا ہے جو اس کے کئی دن و رات کیلئے کافی ہو ۔

خداوند عالم نے اونٹ کو یہ استعداد اپنے علم اور قدرت سے عطا کی ہے تاکہ وہ گرم اور خشک صحراؤں میں زندہ رہ سکے اور اس کی نسل پانی کی قلت اور پیاس کی وجہ سے ختم نہ ہو لیکن ایک نادان یہ بات نہیں سمجھ سکتا وہ خیال کرتا ہے کہ اونٹ خود بخود پیدا ہو کر ان صلاحیتوں کا حامل ہو گیا ہے جعفر صادق (علیہ السلام ) کے نظریہ کے مطابق جب تک کوئی جہل مرکب میں گرفتار نہیں ہو گا وہ خداوند تعالی کا انکار نہیں کرے گا اور جو کوئی عقل رکھتا ہے اور دانا ہو جو اگرچہ اس کی دانائی ایک حد تک ہی محدود کیوں نہ ہو وہ سمجھتا جاتا ہے کہ خداوند تعالی کے وجد میں شک جائز نہیں ہے ۔

جعفر صادق (علیہ السلام ) نے ساڑھے بارہ سو سال پہلے دنیا کے نظام کے بارے میں وہ بات کہی ہے جو موجودہ زمانے کے طبعیات دانوں کے نظریئے سے ذرا بھی مختلف نہیں ہے ۔

جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا جب آپ دنیا کے حالات میں بد نظمی پائیں اور مشاہدہ کریں کہ اچانک طوفان آ گیا ہے اور سیلاب آ گیا ہے یا زلزلہ گھروں کو برباد کر رہا ہے تو ان باتوں کو آپ دنیاکی بد نظمی پر محمول نہ کریں اور اس بات سے آگاہ رہیں کہ یہ غیر متوقع واقعات ایک یا کئی مستقل اور نا قابل تغیر قواعد کی اطاعت کا نتیجہ ہیں اور ان قواعد سے ثابت ہے کہ مزکورہ واقعات وقوع پذیر ہوتیہیں اج طبعیات دان (یعنی وہ سائنس دان جو صرف ریاضی کے قواعد کی پیروی کرتے ہیں اور انکے علاوہ دوسرے قواعد کا علم نہیں سمجھتے یہی عقیدہ رکھتے ہیں اور جعفر صادق (علیہ السلام ) اس لحاظ سے قابل احترام ہیں کہ انہوں نے ساڑھے بارہ سوسال پہلے یہ نظریہ پیش کیا تھا ۔

طبیعات دانوں اور جیولوجسٹس کے بقول طوفان زلزلہ اور اتش فشان پہاڑوں کا پھٹنا غیرمعمولی واقعات سے نہیں ہیں بلکہ فطری قوانین کے تابع ہیں اور زلزلہ ہماری نظر میں غیر معمولی اس لئے ہے کہ ہم اس کے قانون سے مطلع نہیں ہیں ۔

بنی نوع انسان کی نظر میں ہزاروں سال کے دوران غیر متوقع واقعات میں ایک واقعہ آب و ہوا کی تبدیلی تھا اور انسان اسے دنیا میں بد نظمی سمجھتا تھا اس کا خیال تھا کہ گرمیوں کے درمیان آب و ہوا فورا تبدیل نہیں ہونی چاہیے لیکن آج آب و ہوا کی تبدیلی انسان کی نظر میں غیر متوقع نہیں ہے اور دنیا کی بد نظمی سے عبارت نہیں ہے چونکہ انسان آب و ہوا کی تبدیلی کے قانون کو سمجھ چکا ہے اور اگرچہ اس قانون کو اچھی طرح نہیں سمجھ سکا لیکن پھر بھی کہ وہ کرہ ارض کے گرد چکر لگانے والے مصنوعی سیاروں کی مدد سے آب و ہوا کی تبدیلی کی پیش گوئی کر لیتا ہے ۔

زلزلے کا وقوع پذیر ہونا اور آتش فشاں کا بھٹنا بھی آب و ہوا کی تبدیلی کی مانند ہے اور جس دن انسان ان دو کے قوانین سے آگاہی حاصل کر لے گاتو وہ یہ پیش گوئی کر سکے گا کہ زلزلہ کس جگہ اور کہاں پر ائے گا اور کونسا آتش فشاں کس وقت لاوا اگلے گا ۔

جعفر صادق (علیہ السلام ) نے اپنے شاگردوں سے فرمایا کہ لوگوں کو دنیا میں بد نظمی نظر اتی ہے وہ دراصل ایک یا چند مستقل اور نا قابل تغیر قواعد کے تحت ہے ۔

دنیا کے قواعد کے مستقل اور نا قابل تغیر ہونے کی تمام فلسفی تائید کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ تبدیلیاں جو انسان کو نظر آتی ہیں وہ صرف اس کی نظر اور عقل کا دھوکہ ہے جب کہ خداوند تعالی کے نزدیک دنیا کی کسی چیز میں کوئی تبدیلی وجود میں نہیں آتی خداوند تعالی دانائے مطلق ہے اور اس نے جو قانون بنایا ہے وہ ابدی ہے خدا کی معرفت رکھنے والے فلاسفر کے نظرییے کی بنا پر تبدیلیاں بشریقوانین میں وجود میں آتی ہیں وہ انسان کی جہالت کی بنا پر وجود میں آتی ہیں کیونکہ آدمی یہ پیش گوی نہیں کر سکتا کہ پچاس سال بعد اس کی اجتماعی یا انفرادی حالت کیا ہو گی ؟ وہ قوانین کو صرف موجودہ زمانے کیلئے بناتا ہے اور جب پچا سال بعد دنیاکے حالات بدلتے ہیں تو انسانبھی قوانین کو تبدیل کر دیتا ہے لیکن خدا وند تعالی نے کائنات کے تمام قوانین کو ایک لمحے میں اور ہمیشہ کیلئے وضع کیا ہے چونکہ وہ دانا ہے لہذا اس نے ابد تک رونما ہونے والے تمام واقعات کی پیش گوئی کی ہے اور وہ ایسے قوانین وضع کرتا ہے جن کو آئندہ پچاس سال کے بعد بھی تبدیل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اسے معلوم ہے کہ پچاس سال بعد کون کون سے واقعات رونما ہوں گے اور خیال ہے کہ اس نے تمام پیغمبروں کو بھیجنے سے قبل پیش گوئی کر لی تھی اور اسے شروع ہی میں معلوم تھا کہ زمانے کے تقاضے کے مطابق کون سے پیغمبر کو کس دور میں بھیجنے نہ صرف خدا کی معرفت رکھنے والے فلاسفر کائنات کے قوانین کو مستقل اور نا قابل تغیر جانتے ہیں بلکہ وہ فلاسفر جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے وہ بھی معتقد ہیں کہ دنیا کے قوانین مستقل ہیں مٹرلینک جوایک لاوین فلسفی تھا اور خدا کا معتقد نہ تھا اس کا کہنا تھا کہ دنیا اگر ایک مرتبہ ویران ہو جائے اور اربوں کہکشائیں جن میں سے ہر ایک اربوں سورج کی حامل ہے بھی تباہ ہو جائیں تو کائنات مین یہ تباہی بھی غیر متوقع نہیں بلکہ ایک خاص قانون کے تحت ہے اور جو کوئی اس قانون سے آگاہ ہو وہ پیش گوئی کر سکتا کہ دنیا کس وقت ویران ہو جائے گی گذشتہ زمانے میں جعفر صادق (علیہ السلام ) کے علاوہ کسی نے بھی غور نہیں کیا کہ دنیا کے قوانین مستقل اور نا قابل تغیر ہیں ۔

گذشتہ لوگوں کا عقیدہ تھا کہ جہان میں موجود ہر قانون تبدیل ہوتا ہے اور جب ارسطو آیا تو اس نے اس گذشتہ عقیدہ کو اپنے فلسفے کے زمرے میں شاکل کرکے فلسفے کے قواعد کا حصہ بنا لیا اور اس کے بعد دنیا کے قواعد میں تبدیل ہر جگہ ایک نا قابل تردید حقیقت قرار پا گئی ۔

ارسطو نے کہا دنیا دو چیزوں سے وجود میں ائی ہے ایک مادہ اور دوسری شکل لیکن یہ دونوں نا قابل تقسیم ہیں اور ایک دوسرے جدا نہیں ہوتے ۔

یہاں تک ارسطو کا نظریہ اس بات کی نشاندہی نہیں کرتا کہ وہ دنیا کے قوانین میں تبدیلی کا معتقد ہے لیکن اس کے بعد ارسطو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ دنیا کے قوانین میں تبدیلی کا معتقد ہے چونکہ اس کے بقول شکل کو مادہ پر تطبیق کرنے کیلئے ضروری ہے کہ شکل حرکت کرتی ہو اور اس میں تبدیلی واقع ہوتی ہو کیونکہ شکل کی حرکت اور تبدیلی کے بغیر اسے امدے پر تطبیق نہیں کیا جا سکتا اور چونکہ یہ حرکت اور تبدیلی موجود ہے لا محالہ دنیا کے قوانین بھی تبدیل ہوتے ہیں ۔

یہ نظریہ ارسطو کے دوسرے نظریات کی مانند سترہویں صدی کے عشرے تک علم کے ارکان میں سے تھا اور کوئی سائنس دان اس کے انکار کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا اور جس شخص سے تھا اور کوئی سائنس دان اس کے انکار کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا اور جس شخص نے ارسطو کے نظریات کو باطل قرار دیا وہ ڈکارت تھا جس کا ذکر پہلے آ چکا ہے اور جو ۱۷۵۰ عیسوی میں فوت ہوا ارسطو کا استاد افلاطون تھا لیکن ہم دنیا کے قوانین کے بارے میں افلاطون کے نظریئے سے صحیح معنوں میں مطلع نہیں ہیں ۔

ہم جانتے ہیں کہ افلاطون کے نظریات آئندہ نسلوں کیلئے مکالے کی صورت میں باقی ہیں اور ان میں دنیا کے قوانین میں تبدیل کے متعلق کوئی اشارہ نہیں ہے اور یہ مضوع افلاطون کی نظریات کے قدرو قیمت کا باعث نہیں بنتا جب تک انسانی تمدن باقی ہے افلاطون کو قدیم زمانے کے عظیم مفکروں میں شمار کیا جائے گا اس کے بیان کے اسلوب کی خوبصورتی جو انسانی تمدن کے وجود تک باقی رہے گی اسے خراج تحسین پیش کرتی رہے گی افلاطون یونان کے اشراف میں سے تھا جب کہ ارسطو کے باقی شاگردوں کا شمار اشرف میں سے ہوتا تھا جس وقت افلاطو کہتا ہے کہ جب ایک قوم خوش بخت ہو جاتی ہے تو اس قوم کی خوشبختی میں اس کا فلسفی پیش پیش ہوتا ہے اس سے اس کی مراد یہ ہے کہ اس کی قوم کو خوشبختی تک پہنچانے میں اس کا بڑا ہاتھ ہے ۔

مختصر یہ کہ ڈکارت کے زمانے تک سائنس دانوں کا عقیدہ یہ تھا کہ دنیا کے قوانین مستقل نہیں ہیں اور یہ تغیر پذیر ہیں عام لوگوں کو اس سے کوئی واسطہ نہ تھا کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کرتے کہدنیا کے قوانین ثابت یا نا قابل تغیر ہیں یا تغیر پذیر ہیں سترھویں صدی عیسوی کے بعد ستاروں کے بارے میں سائنس دانوں کی تحقیقات روز بروز بڑھتی گئیں یاد رہے کہ ان تحقیقات کی ابتدا کرنے والے کوپرنیک اور کپلر تھے ان کے بعد گلیلیو اور نیوٹن نے ان میں خاطر خواہ اضافہ کای فلکیات کے ماہرین رفتہ رفتہ اس نتیجے پر پہنچنے کہ کائنات اس سے کہیں زیادہ بڑی ہے جس قدر قدما کا تصور تھا انیسویں صدی عیسوی میں جب وہ ہماری کہکشاں سے آگے دوسری کہکشاؤں کو دریافت کرنے میں کامیاب ہوئے تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کہکشاؤں میں سے ہر ایک کے کئی کئی سورج ہیں اور انہوں نیکہکشاؤں کو ان کے متعدد سورجوں کے ہمراہ دیکھا تو یہ نتیجہ اخذ کیا گویا یہ کہکشائیں ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنے کیلئے وجود میں آئی ہیں اور کائنات اس قدر بڑی اور مضبوط و مستقل قوانین کی حامل ہے کہ اگر کائنات میں ایک طرف ایک سورج تباہ ہو جائے تو سب سے قریب ترین ستاروں پر بھی اس کا کوئی نا خوشگوار اثر نہیں پڑے گا چہ جائیکہ دور دراز واقع ستاروں پر اثر انداز ہو گویا دنیا پر قوانین مستقل ہیں اور بعض سورجوں کا تباہ ہونا قوانین کے ماتحت ہے ۔

جس وقت زمین کی عمر کے بارے میں بات کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ زمین کی عمر انداز پانچ ارب سال ہے تو ہمیں حیرانی ہوتی ہے اور یہ رقم ہمیں بہت بڑی نظر آتی ہے جب کہ نجومیوں کے حساب کے مطابق ایک کہکشاں کو اپنے مطاف کے ارد گرد ایک جکر پورا کرنے میں ایک سال کا عرصہ لگتا ہے کہاں ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ دنیا کی پیدائش کو دس ہزار سال ہوئے ہیں اور دنیا میں آدم کی پیدائش کو چھ ہزار سال ہو چکے ہیں ۔

کہکشاؤں کی اپنے مدار کے ارد گرد گردش یہ ظاہر کرتی ہے کہ دنیا کی عمر اس سے کہیں زیادہ ہے جو اس صدی کے شروع میں خیال کیجاتی تھی کیونکہ اس صدی کے آغاز میں بھی تک کہکشاؤں کی گردش کی طرف متوجہ ہوئے تھے اور انہیں وسیع خلا میں ثابت ستاری خیال کیا جاتا تھا اب فلکیات کے ماہرین اس بات کے قائل ہو چکے ہیں کہ کہکشائیں اپنی وضع کی مناسب سے متحرک ہیں اور اپنے ارد گرد بھی گردش کر رہی ہیں ۔

کہکشاؤں کی اپنی مطاف کے اردگرد گردش کی مدت کی طوالت فرضی ہے نہ کہ علمی کہکشاں کی اپنے مطاف کے اردگرد گردش کی مدت کا حساب لگانے کیلئے اس کے گھومنے کا مدار دریافت کرنا ہو گا اور یہ جاننا ہو گا کہ جس مدار میں کہکشاں اپنے مدار کے ارد گرد چکر لگاتی ہے وہ کتنا وسیع ہے ۔

اس مدار کی طوالت معلوم کرنے کیلئیمدار سے ایک قوس کھینچی جائے تاکہ جیومیٹر کے قواعد کے مطابق مدار کا قطر معلوم ہو سکے اگر بنی نوعی انسان مزید پانچ سو سال اس دنیا میں رہے تو بھی وہ کہکشاں کے مدار کی ایک قوس ( یعنی دائرے کے قطر کے ایک جزو ) کو حاصل نہیں کر سکتا ۔ چہ جائیکہ کہ وہ اس کے ذریعے تمام مدار کا حساب لگائے دنیا میں اس قدر کہکشائیں ہیں کہ آج تک ان کی تعداد معلوم نہیں ہو سکی اور صرف اندازا کہا جاتا ہے کہ دنیا میں ایک سو ارب کہکشائیں پائی جاتی ہیں اور کوئی نجوم اس اندازے پر اعتماد نہیں کرتا ا اعتماد نہ کرنے کی وجہ کے دو اسباب ہیں ۔

پہلا یہ کہ ابھی تک عام ٹیلی سکوپس اور ریڈیو ٹیلی سکوپس کی دیکھنے کی طاقت اتنی نہیں کہ بنی نوع انسان کا ئنات کی گہرائیوں کا چھی طرح مشاہدہ کر سکے ۔

آج کی دنیا کی سب سے بڑی ریڈیو ٹیلی سکوپ اجرام فلکی کو نو ہزار ملین نوری سال پر فاصلے تک دیکھ سکتی ہے اور اس کے دیکھنے کی طاقت نو ہزار ملین نوری سال سے زیادہ نہیں ہے اور ایک اندازے کے مطابق اگر ایک ایسی ریڈیو ٹیلی سکوپ بنا لی جائے جس کے دیکھنے کی طاقت بیس ارب یا تیس ارب نوری سال ہو تو ایسی کہکشاؤں کا پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ جو ابھی تک دریافت نہیں ہو سکیں دوسرا یہ کہ جو انیسویں صدی کے دوسرے عشرے اور بیسویں صدی کے پہلے عشرے میں بنینوعی انساننے چھوٹی دنیا یعنی ذرے کی دنیا کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور معلوم کیا کہ ذرے کے اندر ایسے قوانین حکم فر ما ہیں کہ جو ہمیشہ لاگو رہتے ہیں ایٹم میں پایا جانیوالا الیکٹران ہر تین کیٹریلین مرتبہ فی سیکنڈ کی رفتار سے ایٹم کے ارد گرد چکر لگاتا ہے اور کوئی واقعہ اس گردش کو نہیں روکتا ۔

لوہے کے ایک ذرے میں الیکتران ہر سیکنڈ میں تین کیڑیلین مرتبہ ایٹم کے مرکزکے گرد چکر لگاتا ہے اگر لوہے کو پگھلایا جائے تو پھر بھی پگھلے ہوئے لوہے کیایٹم کے الیکٹانوں کی گردش تین کیڑیلین مرتبہ فی سیکنڈہو گی ۔

حتی کہ اگر لوہے کو اس قدر گرم کیا جائے کہ وہ گیس میں تبدیل ہو جائی تو پھر بھی الیکٹران کی ایٹم کے مرکز کے ارد گرد رفتار تین کیڑ یلین مرتبہ فی سیکنڈ ہو گی ۔

اس دائمری اور عجیب و غریب حرکت میں خلل ڈالنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ایٹم کی توڑ پھوڑ کی جائے اس صورت میں الیکٹران مرکز سے دور ہٹ جائے گا لیکن اس صورت میں بھی الیکٹران کی حرکت ختم نہیں ہو جائے گی بلکہ الیکٹران ایک دوسرے مرکز کے گرد گھومنا شروع کر دے گا ۔

جس قانون کے تحت الیکٹران تیزی سے ایتم کے مرکزے کے ارد گرد گھومتا ہے اس قانون کیتحت زمین سورج کے ارد گرد چکر لگاتی ہے اور سوج ستاروں کے مجموعہ کے ارد گرد جسے ہر کول کہا جاتا ہے چکر لگاتا ہے اور یہ مجموعہ کہکشاں کے ارد گرد اور کہکشاں کسی دوسرے چیز کے ارد گرد جس سے ہم آگاہ نہیں ہیں لیکن اس میں کوئی شک و شبہ نہیں چکر ضرور لگاتی ہے کیونکہ کہکشاں کی حرکت عملی لحاظ سے ثابت ہو سکتی ہے اور اجرام فلکی کی گردش کی مدت اس قدر طویل ہے کہ ستاروں کے مجموعے کو کہکشاں کے اردگر د ایک چکر کاٹنے کی مدت کو دیکھنے کیلئے ہمارے سورج کی عمر ناکافی ہے ۔

کہا جاتا ہے کہ علم فلکیات کی مانند کوئی ایسا علم نہیں ہے جس سے انسان خداوند تعالی کے وجود اور مستقل اور نا قابل تغیر قوانین کی موجودگی کا قائل ہوتا ہے اور یہ بات صحیح بھی ہے ۔

کہکشائیں جس چیز کے گرد گردش کر رہی ہیں وہبھی کسی چیز کے گرد گھوم رہی ہوگی کیونکہ آج تک سائنس دان نے آسمان پر جو چیز بھی دریافت کی ہے وہ ضرور کسی دوسری چیز کے گرد گھوم رہی ہے لہذا گمان یہ ہے کہ کہکشایں جس چیز کے ارد گرد گردش کر رہی ہیں وہ چیز ضرور کسی دوسری چیز کے ارد گرد گردش کر رہی ہو گی ۔

کہکشائیں اج ہم دیکھتے ہیں شاید دوسری کہکشاؤں کو دیکھنے میں حائل ہوں جو ان کے پیچھے واقع ہیں ۔

جس وقت ضد مادہ کا وجود ثابت ہوا یہ نظریہ ایجاد ہوا کہ یہ جہان جو ایک سو ارب کہکشاؤں پر مشتمل ہے اس کے علاوہ دوسرا جہاں بھی موجود ہے جس کی وسعت اس جہاں کے مساوی ہے یا وہ اس سے بھی زیادہ وسیع ہے کہ جس کی وسعت کا اندازہ اج نہیں لگایا جا سکتا اس ہمزاد کی مانند کہ جس کیبارے میں قدما کا عقیدہ تھا کہ ہر زندہ وجود کا ایک ہمزاد ہوتا ہے لیکن اس ہمزاد کا دیکھنا محال ہے اسی طرح آج ضد مادہ کے حجات کا تصور پیدا ہو گیا ہے لیکن اس جہان کو ابھی تک کسی ذریعے سے محسوس نہیں کیا جا سکا اس طرح ضد مادہ کی دنیا میں لاگو فزکس اور کیمیا کے قوانین کو بھی نہیں سمجھا جا سکتا کہ آیا وہ اس جہاں کے قوانین کی مانند ہیں یا ان کی کوئی اور شکل ہے سائنس دان ان کے متعلق صرف نظریات پیش کرتے ہیں جو علمی افسانوں کے مانند ہیں اگرچہ علمی افسانوں میں مذکور بعض نظریات علمی حقیقت کا روپ دھار گئے ہیں ۔

مثال کے طور پر ایک انگریز مصنف رابرٹ کلارک جو علمی افسانوں کا مصنف تھا اس نے ۱۹۴۸ عیسوی میں ایک علمی افسانہ لکھا جس میں اس نے ایک ایسے سیارے اک ذکرکیا تھا جو لندن کے اوپر چھتیس ہزار کلو میٹر پر واقع تھا چونکہ زمین کے ارد گرد اس سیارے کی حرکت زمین کی چوبیس گھنٹوں کے دوران اپنی حرکت کے مساوی تھی لہزا اس کے باوجود کہ وہ سیارہ زمین کے ارد گرد گردش بھی کر رہا تھا ہمیشہ لندن کے اوپر واقع ہوتا ہے ۔

۱۹۴۸ ء عیسوی میں سیاروں کو زمین کے مدار میں چھوڑنے اور ان سیاروں کی کرہ ارض کیارد گرد حرکت کا خیال صرف علمی افسانوں تک محدود تھا اور کسی حکومت نے سیاروں کو خلا میں زمین کے ارد گرد چکر لگانے کیلئے بھیجنے کے متعلق سوچا بھی نہ تھا ۔

بہر کیف رابرٹ کلارک نے اپنے علمی افسانے میں اس مستقلا زمین کے ارد گرد خلا میں چکر لگانے والے سیارے کا ذکر کرتے ہوئے کہا سیارہ زمین کے اوپر چھبیس ہزار کلو میٹر بلندی پر واقع ہے اس تاریخ کے دس سال بعد روسی حکومت نے جیو فزکس کی سالگرہ ۱۹۵۷ عیسوی کے موقع پر اس سال اکتوبر کے مہینے میں پہلا مصنوعی چاند جس کا وز ن ۸۳ کلو گرام اور چھ سو گرام تھا خلا میں بھیجا اور اس کا نام اسپوت نیک رکھا گیا ۔

ابھی تک سائنس دان بڑے مصنوعی سیارے بنانیکی جانب متوجہ نہیں ہوئے تھے ان کا خیال بھی نہ تھا کہ ایک مصنوعی سیارے کو زمین سے چھتیس ہزار کلو میٹر کی بلند پر خلا میں بھیج کر خلا کے ایک مقام کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ساکت کیا جائے اج دنیا میں تین اقسام کے مصنوعی سیارے پائے جاتے ہیں اور یہ تینوں مسلسل زمین کے ارد گرد گردش کرنے کے علاوہ خلا میں مستقل طور پر ایک ساکن مقام بھی رکھتے ہیں اور انہیں ساکن سیاروں کی وجہ سے ٹیلیویژن کیایک پروگرام کو کرہ ارض کے تمام باشندوں تک پہنچایا جا سکتا ہے اس بڑی ایجاد کی پیش گوئی کو عملی مرحلہ میں داخل ہونے سے پہلے ایک ایسے شخص نے پیش کیا اور اپنے علمی افسانے میں لکھا تھا جو کسی یونیورسٹی کا فارغ التحصیل نہ تھا اس کے پاس صرف کالج کی سند کے علاوہ کچھ نہ تھا ۔

یہاں یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ رابرٹ کلارک نے تاریکی میں تیر پھینکا اور اتفاق سے وہ نشانہ پر جا لگا ۔

چونکہ اس نے چھتیس ہزار کلو میٹر کی رقم کے علاوہ اپنے علمی افسانے میں کچھ دوسری چیزوں کا بھی ذکر کیا ہے جنہیں آج کے ساکن مصنوعی سیاروں میں ٹیلی اسٹار کا نام دیا گیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیلی اسٹارز کے بنانے اور انہیں استعمال میں لانے کیلئے مذکورہ سائنس دانوں نے اس مصنف کے افسانے کو کام میں لایا ہے اور یہی وجہ ہے کہ خصوصا روس میں علمی افسانوں کو جہاں عوام جوش و خروش سے پڑھتے ہیں وہاں سائنس دان بھی ان علمی افسانوں کا مطالعہ پورے انہماک سے کرتے ہیں چونکہ یہ بات تجربے سے ثابت ہو چکی ہے کہ ان میں دلچسپی سے ڑھے جانے والے ایسے افسانے بھی ہو سکتے ہیں جو عملی مرحلے میں داخل ہو سکیں سوویت یونین میں مصنوعی چاند کو خلا میں بھیجنے سے کئی سال پہلے اس کا ذکر علمی افسانوں میں آ چکا تھا اور اس ملک میں آج ایسے علمی افسانوں کے مصنفین کیلئے انعام مخصوص کیا گیا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ جو کچھ علمی افسانوں میں ضد مادہ دنیا کے متعلق لکھا جاتا ہے اے مہمل نہیں سمجھنا چاہیے اور شاید ان افسانوں میں ایسی سوچ پائی جاتی ہو تو جو حقیقت کے مطابق ہو جب کہ ہمیں معلوم ہے کہ جو کچھ مصنفین اپنے علمی افسانوں میں ضد مادہ کے بارے میں لکھتے ہیں وہ ان کی اپنی سوچ ہوتی ہے بعض گذشتہ فلاسفر کہتے تھے کہ انسان کسی ایسی چیز کو اپنے ذہن میں مجسم نہیں کر سکتا جو دنیا میں موجود نہ ہو ۔

مثال کے طور پر اگر انسان اپنے ذہن میں کسی ایسے جانور کو مجسم کرے جس کے ہزاروں سر ہوں تو اس فلسفی نظریہ کے مطابق یہ اس بات کی دلیلہے کہ وہ جانور دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں موجود ہو جب کہ عقل کسی ایسے جانور کے وجود کو بھی تسلیم بھی نہیں کرتی جس کے دو سر ہوں ۔

اس نظریہ کی بنا پر جو کچھ علمی افسانے لکھنے والے مصنفین ضد مادہ دنیا کے بارے میں لکھتے ہیں وہ موجو د ہے اور اگر یہ ضد مادہ اس دنیا میں نہ بھی ہو تو کسی دوسری جگہ ہو گا ۔

فزکس کیمسٹری کے قوانین کے اسی نظرہ کی بنا پر ضد مادہ دنیا علمی افسانوں میں مذکورہ پائی جاتی ہے اور اگرچہ ضد مادہ ہماری دنیا میں نہ سہی کسی دوسری جگہ پائی جاتی ہو گی جو کچھ ہم سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ دنیا اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے جتنی وہ ریڈیو ٹیلی سکوپ کی ایجاد سے پہلے یعنی تیس سل قبل خیال کی جاتی تھی اس باتکی تصدیق کرنا چاہیے کہ امام جعفر صادق (علیہ السلام ) کا یہ فرمان کہدنیا میں مستقل اور نا قابل تغیر قوانین لاگو ہیں درست ہے اور دو علم یعنی فزکس اور فلکیات دوسرے علوم سے زیادہ اس بات کی تائید کرتے ہیں ۔

ہماری عقل کہتی ہے کہ اگر عظیم جہان میں مستقل اور نا قابل تغیر قونین نہ ہوتے اور قوانین لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہوتے رہتے تو دنیا باقی نہ رہتی ۔

بیسوی صدی کی پہلی دھائی کے طبعیات دانوں میں ایک فرانسیسی شہزادہ ڈوبری بھی ہے ۔

اس شخص نے فزکس کے میدان میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں کہ سائنس دانوبں کے لئے اس کا نما کسی تعارف کا محتاج نہیں یہ پہلا شخصہے جس نے اس بات کی نشاندہی کی کہ الیکٹران شعاعوں کا جزو ہیں اور طبعیات میں اسے ۱۹۲۹ عیسوی میں نوبل انعام سے نوازا گیا ۔

شہزاد ڈوبروی فلسفی نہ تھا کہ اپنے عقلی تخیل کی با پر کوئی بات کہتا وہ ایک طبعیات دان شمار ہوتا تھا اور اس طرح کے افراد جب تک کسی چیز کو ثابت نہ کر سکیں اس کے متعلق بات نہیں کرتے اس نے کہا تھا کائنات میں ایک چیز کبھی تبدیل نہیں ہوتی اور وہ ہے قانون ‘ اس کی مراد یہ ہے نہ فقط اس زمین پر اور نہ صرف تمام نظام شمسی میں بلکہ تمام کائنات میں قدرت کے قوانین میں کوئی تبدیل نہیں آتی اسکے بقول اگر ایک دن ایسا آئے کہ بنی نوعی انسان ایک ایسے ریڈیو ‘ ٹیلی ویژن میں کوئی تبدیلنہیں آتی اسکی بقول اگر ایک دن ایسا آئے کہ بنی نوعی انسان ایک ایسے ریڈیو ‘ ٹیلی ویژن سکوپ کو ایجاد کرے جس کے ذریعے وہ سزمین سے ایک سو ارب نوری فاصلے پر واقع اجرام فلکی کا بھی مشاہدہ کر سکے تو وہاں پر بھی فطرت کے قوانین مستقل ہونگے ۔

اس بات کو سب تسلیم کرتی ہیں کہ جس چیز کا وجود نہیں ہے اس کو عقل نہیں مانتی اور جس چیز کو عقل نے تسلیم کر لیا یہ اسکی دلیل ہے کہ وہ موجود ہے ۔

شہزادہ ڈوبروی یہ نہیں کہتا کہ فلاں قانون میں تبدیل نہیں آئی بلکہ اس کے قبول قانون کے علاوہ کائنات میں ہر چیز تبدیل ہوتی ہے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ کئانت نیست و نابود ہو جائے تو کیا اس پر حاکم قوانین باقی رہیں گے ۔

لیکن یہاں یہ سوال اچھی طرح گڑھا ہوا نہیں کیونکہ فزکس کہتی ہے کہ کوئی چیز ختم نہیں ہوتی اور نہ ہی مٹتی ہے بلکہ اس میں صرف تبدیل رونما ہوتی ہے لہذا دنیا ہر گز ختم نہیں ہوتی چہ جائیکہ اس پر حاکم قوانین کا خاتمہ ہو ۔ بلکہ ممکن ہے کائنات میں تبدیلی رونما ہو اور اس صورت میں وہ تبدیل بھی کائنات کے نا قابل تغیر قوانین کے مطابق ہو ۔

اسطرح اس دور کا ایک دوسرا عظیم نوبل انعام یافتہ طبیعات دان امام جعفر صادق (علیہ السلام ) کے اس فرمان کی تصدیق کرتا ہے کہ دنیا کے قواعد ثابت اور مستقل ہیں ۔


"انسان خود اپنی عمر گھٹاتا ہے "

امام جعفرصادق (علیہ السلام ) کے توجہ طلب نظریات میں سے ایک نظریہ انسان عمر کی لمبائی کے متعلق ہے آپ نے فرمایا انسان اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ لمبی عمر گزارے اور وہ خود اپنی عمر کو کم کرتا ہے اگر انسان دین اسلام کے قوانین پر عمل کرے اور ممنوعہ چیزوں سے پرہیز کرے اور کھانے پینے میں قرانی احکامات کے مطابق عمل کرے تو وہ لمبی عمر پائے گا ۔

انسانی عمر کی لمبائی کا مسئلہ دو چیزوں سے وابستہ ہے ایک صحت کا خیال رکھنا اور دوسرا سیر ہو کر کھانے سے پرہیز کرنا ۔

پہلی صدی عیسوی میں رومی شاہنشاہیت کے شہر روم میں لوگوں کیاوسط عمر بائیس سال تھی کیونکہ رومی شہنشاہیت میں صحت کے قوانین کا لحاظ نہیں رکھ اجاتا تھا اور روم کے اشراف اس قدر غذا کھاتے تھے کہ قے کرنے لگتے اور عام لوگ جہاں تک ہو سکتا غذا کھانے میں اشراف کی پیروی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے روم کے اشراف کے محلوں میں ڈایننگ ہال کے ساتھ ایک کمرہ ہوتا تھا جس کا نام ومی ٹوریم یعنی قے کرنے کی جگہ تھا اور اگر غذا کھانے کے بعد قدرتی طور پر قے نہ آئے تو وہ لوگ قے لانے والیدوائی کھاتے تاکہ انہیں قے ائے کیونہ قے نہ آں ے کی وجہ سے ممکن تھا وہ مر جاتے ۔

بیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں انگلستانا ور فرانس جیسے ممالک میں جو بچہ پیدا ہوتا توقع ہوتی تھی کہ وہ اوسطا پچاس سال زندگی بسر کرے گا کیونکہ صحت کی حالت قدیم رومی شہنشاہیت سے بہت بہتر تھی اور لوگ رومی باشندوں کی مانند غذا کھانے میں افراط سے کام نہیں لیتے تھے ۔

آج یورپی ممالک میں صحت میں بہتری کی وجہ سے دنیا میں آنے والے ہر بچے کی اوسط عمر ۶۸ سال ہے اور ہر بچی کی اوسط عمر ۷۸ سال ہے اس طرح عورتوں کی اوسط عمر مردوں کی اوسط عمر سے زیادہ ہے ۔

اگر سرطان کی بیماری قابل علاجقرار دیجائے اور دل یا دماغ کے دورے یا خون کی بیماریوں پر قابو پا لیا جائے تو کیا انسان کی اوسط عمر بہت زیادہ ہوجائے گی ؟

ریکارڈ شدہ اعداد و شمار اس سوال کا منفی جواب دیتے ہیں جب سرطان قابل علاج ہو جائے گی اور دل اور دماغ کی مہلک بیماریوں پر قابو پا لیا جائے گا تو بھی انسان کی اوسط عمر میں صرف دو سال کا اضافہ ہو گا چونکہ جو چیز اوسط عمر کی حد کو بڑھاتی ہیوہ ایک با چند بیماریوں کا علاج نہیں بلکہ کھانے اور پینے کی تمام چیزوں سمیت صحت کے اصولوں کا خیال رکھنا ہے جس دن بنی نوعی انسان تمام بیماریوں کے علاج پر قادر ہو گا تو بھی بڑھاپے سے مر جائے گا موجودہ دور میں سرطان حرکت قلب یا حرکت دماغ کا رک جانا یا ایڈز جیسی بیماریاں مہلک بیماریا کہلاتی ہیں ان کے علاوہ کسی بیماری کو مہلک نہیں کہا جاتا پھر بھی لوگ متعددی بخار جیسی بیماریوں سے بھی مر جاتی ہیں چونکہ بڑھاپا موت کا سبب بنتا ہی اور جب بڑھاپے کے نتیجے میں انسانی اعضاء فرسودہ ہو جاتے ہیں تو قابل علاج بیماریاں موت کا سبب بن جاتی ہیں مگر یہ کہ بڑھاپا جو چند بیالوجسٹوں کے مطابق ایک بیامری ہے اس کا علاج کیاجائیاس زمانے میں پیش آنے والے مسائل میں سے ایک مسئلہ ماحول کی آلودگیہے جو جعفر صادق (علیہ السلام ) کے نظریئے کی تصدیق کرتا ہے یہ آَودگی بعض جگہوں پر کما ور بعض جگہوں پرزیادہ ہوتی ہے اقوام متحدہ کی صحت کی تنظیم نے امریکہ اور میکسیکو کے چند شہروں کی تحقیق کے بعد یہ رپورٹ پیش کیہے کہ امریکہ اور میکسیکو کے بعض شہروں کی آب و ہوا اتنی آلودہ ہے کہ ان شہرون میں زندگی بسر کرنے والے مرد عورتیں اور بیچے اس طرحزندگی گزار رہیہیں کہ ہر چوبیس گھنٹے میں بیس عد د سگریٹ والے دو پیکٹ یعنی چالیس سگریٹ پیتے ہیں ۔

اقوام متحدہ کی مذکورہ تنظیم کی رپورٹ کے مطبق وہی برے اثرات جو دن اور رات میں چالیس سگریٹ پینے والے کے پھیپھڑوں اور دوسرے اعضاء پر پڑتے ہیں اس شہر کی آب و ہوا کے ذریعے اس کے باشندوں پر بھی ڑتے ہیں ۔

لہذا امریکہ اور میکسیکو کے شہروں کی آب و ہوا اس قدر آَودہ ہے کہ وہاں کے لوگ دوسری بیماریوں کے ساتھ ساتھ پھیپھڑوں کے سرطان میں بھی مبتلا ہیں ان کے سرطان میں مبتلا ہونے کے امکانت اس قدر زیادہ ہیں جتنے سگریٹ پینے والے شخص کے ہو سکتے ہیں ۔

جو اعداد و شمار کی رو سے ہزار میں سے سڑھے سات سے آٹھ تک ہیں ‘ ماحول کی آلودگی کے علاوہ جو چیز انسانوں کی عمر کو کم کرنے کا سبب بنتی ہے وہ آواز ہے ۔

اب تک ڈاکٹروں کا یہی خیال تھا کہ صرف زندگی کے ماحول ہی میں آلودگی پیدا ہو سکتی ہے انہیں یہ خیال نہ تھا کہ آواز بھی انسان کی زندگی پر برے اثرات ڈال سکتی ہے ۔

لیکن اب انہوں نے غور کیاہے کہ لگاتار آواز سے انسان کی عمر میں کمی واقعی ہوتی ہے یہ خوش فہمی کہ انسان آواز کا عادی ہو جاتا ہے اور پھر اس سے اسے تکلیف نہیں پہنچتی صحیح نہیں ہے انسان اپنی عمر کے کسی مرحلے میں آواز کا عادی نہیں ہوتا اور آواز کی لہریں بچپن سے لے کر عمر کے آخری دن تک اس کے اعصاب اور جسم کے خلیات کو تکلیف پہنچاتی ہیں مشہور فرانسیسی انجینئر کامی راجرون جو دوسری جنگ عظیم سے قبل فرانس کی نیوی کی بڑی جنگی کشتیاں جن کا نام ریشلیو اور زان بار تھا بنانے کے کارخانے کا انچارج تھا اس کے عقیدہ کیمطابق لگا تار آواز سے جسم کے خلیات پر وہ اثرات پڑتے ہیں جو اثرات آکسیجن لوہے پر ڈلاتی ہے اور جس طرح آکسیجن آہستہ آہستہ لوہے کو زنگ آلود کرکے ختم کر دیتی ہے اسی طرح لگا تار آواز بھی جسم کے خلیات کو فرسودہ کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں انسان کی عمر کم ہو جاتی ہے ۔

یہی انجینئر کہتاہے کہ شہر میں ایک اچھا گھر وہ ہے جس کے در و دیوار ایسے بنائے گئیہوں کہ باہر سیآ نے والی کسی قسم کیآواز گھر کے مکینوں کے آرام میں مخل نہ ہوتی ہو ۔

کامی راجرون کہتا ہے کہ چونکہ آج کی زندگی کی حالت ایسی ہے کہ لگا تار آواز سے پیچھا چھڑانا مشکل ہے لہذا اس کا ایک حل ہے کہ آواز کو روکنے والے مصالح کو درو دیوار میں اتعمال کیا جائیا س طرح کا مصالحہ اب امریکہ کے بازاروں میں دستیاب ہے ۔

اس شخص کے نظریئے کے مطابق اگر سارے مکان میں مذکورہ مصالحہ استعمال نہ کیا جا سکے تو بھی دو تین کمروں میں ایسے مصالحے کا استعمال کیا جائے تاکہ انسان کم ااز کم آرام کے اوقات میں وہاں لگا تا ر اوازوں کے بے ہنگم شور سے محفوظ رہ سکے ۔

اس شخص کے بقول ہمیشہ کیآواز کے اثرات میں سے ایک اثر انسان پر اچانک جنون کی کیفیت ہے ہمیشہ کی آواز سے انسانی اعصاب فرسودہ ہو جاتے ہیں اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ صابر اور نرم دل اشخاص جن کی زندگی کا ایک حصہ صبر اور نرم دلی میں گزارا ہے اچانک جنون کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس کے دو ٹوک اثرات میں سے ایک اثر ہمیشہ کی تھکاوٹ ہے اور یہ تھکاوٹ بے حوصلگی اور خواہ مخواہ لڑائی جھگڑے پر اتر آنے کا باعث بنتی ہے ۔

وہ افراد جن پر یہ اثرات پڑتے ہیں وہ اپنی اس بیماری سے آگاہ نہیں ہوتے اور جب وہ ڈاکٹر سے رجوعی کرتے ہیں اور ڈاکٹر ان کا معائنہ کرتاہے تو ان کے جسم کے حقیقی اعضا میں کوئی خرابی دکھائی نہیں دیتی ۔

کامی راجرون کا کہنا ہے کہ لگا تار آواز آدمی کو تھکا دینے اور بے حوصلہ کرنے کے علاوہ پانچ سے سے دس سال تک (اشخاص میں فرق کے لحاظ سے) انسان کی عمر کو کم کر دیتی ہے اور اگر انسان کے پاس گاڑی ہو تو ان شہروں میں یا وہاں پر جہاں لگا تار آوازیں سنائی دیں رہائش اختیار نہیں کرنا چاہیے ۔

غیر متوازن خوراک جو آج کے مشینی دور کی پیدوار ہے بھی انسانی عمر میں کمی واقع کرے ولے عوامل میں سے ایک ہے اور یہ بات جعفر صادق (علیہ السلام ) کے اس نظریئے کی تائید بھی کرتی ہے کہ آپ نے فرمایا انسان کی عمر طویل ہیبشرطیکہ وہ خود اسے کم نہ کرے یورپی ممالک اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور ہرا س ملک میں جہاں مشینی زندگی کا دور دورہ ہے یہ مشینی زندگی اس بات کا باعث بنی ہے کہ لوگ اپنے آپ کو زیادہ تر مصنوعی غذاؤں کے ذریعے سیر کریں ۔

امریکہ میں لوگوں کا ایک طبقہ ہے جو اچھی غذا کھاتے ‘ مویشی وغیرہ چراتے اور ہر جگہ کوبوائے کے نام سے مشہور ہوئے ہیں ۔

یہ لوگ تازہ دودھ پیتے ‘ دودھ کی ملائی اور کھانا کھاتے اور ہمیشہ شہروں سے دور وسیع و عریض صحراؤں میں زندگی بسر کرتے تھے ان کی اوسطا جوانی کی طاقت اسی سال یا پچاسی سال تک باقی رہتی تھی یہی مضبوط کاؤبوائے جو پچاسی سال تک گھوڑے کی پشست پر سوار تھے اور صحرا میں گائے کے ریوڑوں کے ساتھ سفر کرتے تھے آج جونہی پچاسی سال کی عمر کو پہنچتے ہیں خراب غذا سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں چونکہ وہ مخصوص غذائیں جو بدن میں یوریا اور یورک ایسڈ جیسی رطوبتوں کی زیادتی کاباعث بنتی ہیں انہوں نے کھانا شروع کر دی ہیں جس کے نتیجے میں وہ پٹھوں کی اور ہڈیوں کے شدید درد میں مبتلا ہوئے اور اس کے علاوہ ان میں ایسی بیماریوں نے جنم لیا ہے جو خون کی بد نظمی کی صورت میں لاحق ہوتی ہیں اور یہ بیماریاں بھی ناقص غذاؤں کی وجہ سے جنم لیتی ہیں اور ان لوگوں کوپچاس ال کی عمر میں ہی کام کے قابل نہیں چھوڑتیں جب کہ اس صدی کے شروع میں ایک کاؤ بوائے پچاس سلا کی عمر میں جوانی کی انتہا کو چھو رہا ہوتا تھا۔

الاسکا جو امریکی ریاستوں میں سیایک ہے وہاں اس صدی کے آغاز میں کوئی بیمار نہ ہوتا تھا وہاں کے باشندوں کی بیماری دانتوں کا درد ہوتا تھا وہ درد بھی عمر کے آخری حصے میں ہوتا تھا کیونکہ مرد عورتیں اپنے دانتوں کو ستر ‘ اسی سال تک محفوظ رکھتے تھے چونکہ وہ عام غذا کھاتے اور ہمیشہ کام میں مشغول رہتے تھے۔

الاسکا کے لوگوں کی خوراک دودھ بارہ سنگے کا گوشت اور سفید مچھلی جو دریائے الاسکا سے کافی مقدار میں شکار کی جاتی تھی وہاں کے گڈریوں کے گلوں میں ہزار بارہ سنگے ہوتے تھے لیکن انہیں ان کو گھاس مہیا کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی تھی حتی کہ الاسکا کی سخت سردی میں بھی جب برف ہر جگہ کو ڈھانپ لیتی تھی انہیں اس سلسلہ میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی تھی وہ جانور اپنے دو پاؤں جن کے سم تیز ہوتے ہیں کہ ساتھے برف کو ہٹا کر ایک گہرا گڑھابنا لیتے تھے اور اس ٹھنڈے علاقے کی خاص گھاس جو سرد علاقوں میں گرمیوں میں اگتی اور جلدی خشک ہو جاتی ہے کھاتے تھے امریکی مصنف ایلن رولیس اونس جسکی الاسکا کے لوگوں کی زندگی کی حالت اور خاص طور پر قطبی بارہ سنگھے کے متعلق تحقیقات کو مستند سمجھا جاتا ہے اور وہ ۱۹۶۰ عیسوی میں فوت ہوا کہتا ہے کہ وہ ۱۹۳۵ عیسوی میں خزاں کے موسوم میں بارہ سنگوں کی مسومی ہجرت کا شاہد تھا اور پانچ دن تک وحشی بارہ سنگوں کے ٹکرانے سے بجلی کی سی آواز سنائی دیتی اور یہی بارہ سنگے تھے جنہیں الاسکا والوں نے قابو کیا ہوا تھا اور لوگ اب ان کے دودھ اور گوشت کو استعمال کرتے تھے ۔ یہی مصنف بیان کرتا ہے کہ الاسکا میں کوئی ڈاکٹر نہیں کیونکہ ڈاکٹر کو معلوم ہے وہاں جا کر بیکار پڑے رہیں گے کیونکہ وہاں کوئی بیمار نہیں پڑتا اور صرف چند دانتوں کے ڈاکٹر کام کر رہے ہیں الاسکا میں مردوں کی اوسط عمر نوے سال اور عورتوں کی سو سال ہے ۔

یہ تحریر ۱۹۳۵ عیسوی (یعنی تقریبا آج سے ساٹھ ستر سال قبل ) کی ہے اور بہت پہلے کی نہیں ہے یہاں اس بات کا ذکر بے محل نہیں ہے کہ ڈاکٹر اور ماہرین صحت کے بقول انسان کو لمبی عمر گزارنے اور ہمیشہ صحت مند رہنے کیلئے زیادہ تر نباتاتی غذا کھانا چاہیے اور خصوصا جوانی کے بعد حیوانی چربی اور چربی والے گوشت سے پرہیز کرنا چاہیے اور تیس سال کیعمر کے بعد انسان کیلئے بہترین غذا فروٹ اور سبزی ہے ۔لیکن جیسا کہ ایلن روس نے لکھا ہے الاسکا والے تمام عمر فروٹ اور سبزی کھاتے کیونکہ الاسکا کی ٹھنڈی آب و ہوا میں فروٹ اور سبزی پیدا نہیں ہوتی تھی اور نہیں ہوتی ہے ۔اور سوائے لیشن گھاس کے کسی قسم کی گھاس نہیں اگتی یہ گھاس بیل پر مشتمل ہوتی ہے لیکن اس کا پوداقدرے بڑا ہوتا ہے اور آج تک کوئی بھی الاسکا کی کھلی آب و ہوا میں سبزی کاشت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا چہ جائیکہ فروٹ پیدا ہو صرف حالیہ سالوں کے دوران الاسکا میں گرم خانے بنائے گئے ہیں جن میں سبزی اور پھل پیدا کئے گئے ہیں ۔

الاسکا میں آب و ہوا اس قدر ٹھنڈی ہے کہ گرمیوں کے موسم میں بھی گوشت کو فریج میں رکھنے کی ضرورت نہیں صرف اتنا کافی ہے کہ اسے ایسے کمرے میں رکھ دیا جائے جہاں دھوپ نہ پڑے اور اموات کو دفن کرنے کیلئے قبر کھودنا گرمیوں کے موسم میں بھی مشکل ہے کیونکہ زمین کو جب تھوڑا سا کھودا جاتا ہے تو نیچے برف ملتی ہے اور سردیوں کے مسوم میں توزمین پتھر کی مانند سخت ہو جاتی ہے جسے کھودنا انتہائی دشوار ہوتا ہے۔

مختصر یہ کہ گذشتہ زمانے میں الاسکا کے لوگ ساری عمر نہ پھل کھاتے اور نہ سبزی کھاتے تھے ان کی غذا صرف دودھ بارہ سنگے کا گوشت اور سفید مچھلی ہوتی تھی بہر حال وہ ایک صدی تک زندہ رہتے تھے ۔ اب تک الاسکا کے لوگوں کی طویل عمر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ لوگ جو بارہ سنگے کے گوشت مچھلی اور دود ھ کے علاوہ کچھ بھی نہیں کھاتے ممکن ہے ان کی عمر بھی لمبی ہو اور لمبی عمر کیلئے ضروری نہیں کہ انسان سبزی اور پھل ہی کھائے ۔

لیکن ہمیں آب و ہو کی تاثیر کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے شاید الاسکا کے لوگوں کے طویل عمر کا راز ان کی آب و ہوا کی تاثیر ہو ابھی تک کسی نے اس موضوع پر تحقیق نہیں کی کہ علم کی رو سے پتہ چلے کہ الاسکا کے لوگوں کی طویل عمر وہاں کی آب و ہوا کی وجہ سے ہے یا نہیں ؟ لیکن ہمیں اتنا معلوم ہے کہ الاسکا کے لوگ مسلسل ٹھنڈی آب و ہوا میں رہتے تھے اور گزر اوقات کیلئے کافی تگ و دو کرتے تھے جس کی وجہ سے انہیں کافی مقدارمیں پروٹین کی ضرورت ہوتی تھی تاکہ حرارے حاصل کریں ۔

ماؤں کو حکیمانہ نصیحت

جعفر صادق کی علمی فوقیت کے اظہار ات میں سے ایک یہ تھا کہ آپ نے ماؤں کو وصیت کی کہ اپنے شیر خوار بچوں کو اپنے بائیں طرف سلائیں ۔

صدیوں سے اس تاکید کو بے محل اور فضول کیا جاتا رہا جس کی وجہ یہ تھی کہ کسی نے تاکید پر غور نہیں کیا تھا اور بعضوں نے اس پر عمل کرنے کو خطرناک سمجھا ان کا خیال تھا کہ ار شیر خوار بچے کو ماں کی بائیں جانب سلاد یا جائے تو ممکنہے کہ ماں سوتے میں کروٹ بدلے اور بیٹے کو اپنے جسم کے نیچے کچل دے ۔

محمد بن ادریس شافعی جو ۱۵۰ ہجری میں جعفر صادق (علیہ السلام ) کی پیدائش کے دو سال بعد غزہ میں پیدا ہوئے اور ۹۹ ہجری میں قاہرہ میں فوت ہوئے جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ماں کو اپنے بچے کو بائیں طرف سلانا چاہیے یا دائیں طرف ۔

تو انہوں نے جواب دیا دائیں اور بائیں میں کوئی فرق نہیں ماں اپنے بچے کو جس طرف آسان سمجھے اس طرف سلائے بعض لوگوں نے جعفرصادق (علیہ السلام ) کے فرمان کو عقل سلیم کے خلاف قرار دیا چونکہ ان کے خیال میں دایاں بائیں سے زیادہ محترم ہے ان کا خیال تھا کہ مان اپنے بچے کو دائیں جانب سلائے تاکہ بچہ اس کے دائیں جانب کرامت سے بہرہ مند ہو سکے ۔

جعفر صادق (علیہ السلام ) کی اس وصیت کو نہ تو مشرق میں کوئی اہمیت دی گئی اور نہ ہی مغرب میں کسی نے اس کی قدرو قیمت کو جانا ۔ حتی کہ علمی احیاء کے دور میں جب کہ دانشور ہر علمی موضوع پر اچھی طرح غور کر رہے تھے کسی نے جعفر صادق (علیہ السلام ) کے قول کو خاطر خواہ اہمیت نہ دی اور نہ ہی یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ آپ کا یہ فرمان علمی نقطہ نظر سے سود مند ہے یا نہیں ؟

سولہویں ‘ سترہویں اور اٹھارویں صدی عیسوی کے ادوار جو علمی احیا کے ادوار کہلاتے ہیں گزر چکے تھے اور انیسویں صدی عیسوی پہنچ آئی تھی اور اس صدی کی دوسری دھائی میں امریکہ کی کورنیل یونیورسٹی قائم ہو کر کام کرنا شروع کر چکی تھی عزراکورنیل جو کورنیل یونیورسٹی کا بانی تھا اور جس نے بچپن میں کافی مشکلات جھیلی تھیں نے فیصلہ کیا کہ اس یونیورسٹی میں شیر خوار اور تازہ پیدا ہونے والے بچوں پر تحقیق کیلئے ایک انسٹیٹیوٹ قائم کیا جائے اور اس انسٹیٹیوٹ نے پہلے ہی سال تدریس شروع کر دی اور اسے میڈیکل کالج سے منسلک کر دیا گیا ایک صدی سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے کہ اس یونیورسٹی میں تازہ پیدا ہونے والے اور شیر خوار بچوں پر تحقیق کا کام جاریہے بعید ہے کہ نوازائیدہ اور شیر خوار بچوں کے متعلق کوئی موضوع ایسا ہو جس پر اس انسٹیٹیوٹ میں تحقیق نہ ہوئی ہو دنیا میں کوئی ایسا علمی مرکز نہیں ہے جس میں تازہ پیدا ہونے والے اور شیر خوار بچوں کے بارے میں اس مرکز جتنی معلومات کا ذکیرہ ہو یہاں تک کہ تازہ پیدا ہونے والے اور شیر خوار بچوں کے اشتہارات اور سائن بورڈ پر تک بھی اس انسٹیٹیوٹ میں تحقیق ہوتی تھی ۔

اس بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں اس انسٹیٹیوٹ کے محقیقین نے دنیا کے عجائب گھروں میں پائے جانے والے نو مولود بچوں کے متعلق سائن بورڈوں پر نگاہ ڈالی تو انہیں پتہ چلا کہ ۴۶۶ سئن بورڈوں میں سے اکثریت ایسی ہے جن میں ماؤں نے بچے کو بائیس جانب بغل میں لیا ہوا ہے ان میں سے ۳۷۳ سائن بورڈوں پر ماؤں نے بچے کو بائیں جانب بغل میں لیا ہوا ہے اور صرف ۹۳ سائن بورڈ ایسے ہیں جن میں ماؤں نیبچے کو دائیں طرف بغل میں لیا ہوا ہے ۔

اس بنا پر عجائب گھروں میں پائے جانے والے اسی فیصد سائن بورڈ ایسے تھے جن میں ماؤں نے بچے کو بائیں بغل میں لیا ہوا تھا نیویارک کی ریاست میں کورنیل یونیورسٹی سے منسلک چند زچہ خانے ایسے ہیں جو حقیقی کے مرکز سے وابستہ ہیں اور وہاں پر کام کرنے والے ڈاکٹر صاحبان اپنے معائنے اور تحقیق کی رپورٹیں مذکورہ مرکز کو بھجتے رہتے ہیں ان ڈاکٹروں کی طرف سے ۔

ایک طویل مدت تک بھیجی جانے والی مذکورہ رپورٹوں کے مطابق پیدائش کے بعد پہلے دنوں میں جب نو مولود ماں کی بائیں جانب سوتا ہے تو اسے دائیں جانب سونے کی نسبت زیادہ آرام ملتا ہے اور اگر اسے دائیں طرف سلایا جائے تو جلد ہی جاگ اٹھتا ہے اور رونے لگتا ہے ۔

مذکورہ تحقیقی مرکز کے محقیقین نے اپنی تحقیق کا دائرہ کار صرف سفید فام امریکنوں تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ انہوں نے سیاہ فام اور ریڈ انڈین بچوں پر بھی تحقیق کی ہے اور طویل تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس موضوع کا تعلق رنگ و نسل سے نہیں دنیا کی تمام اقوام کے بچوں میں یہ خاصیت موجود ہے کورنیل یونیورسٹی کے تحقیقی مرکز نے اس موضوعپر مسلسل تحقیق کی تھی اس مرکز کے ڈاکٹروں نے نا معلوم شعاعوں کے ذریعے جنین کا حاملہ عورت کے پیٹ میں معائنہ کیا لیکن ان کی معلومات میں کوئی خاص اضافہ نہ ہوا یہاں تک کہ ہو لو گرافی ایجاد ہو گئی ۔

ہو لو گرافی کی ایجاد کے بعد اس تحقیقی مرکز کے ڈاکٹروں نے ہو لو گرافی کے ذریعے ماں کے پیٹ میں جنین کی تصویر لی ‘ انہوں نے دیکھا کہ ماں کے دل کی دھڑکن کی آوازوں کی لہریں جو تمام بدن میں پھیلتی ہیں جنین کے کانوں تک پہنچتی ہیں ۔

اس مرحلے کے بعد ڈاکٹروں نے یہ معلوم کیا کہ کیا ماں کے دل کی دھڑکنوں کا وقفہ بھی جنین میں رد عمل ظاہر کرتا ہے یا نہیں ؟

چونکہ ڈاکٹر صاحبان مان کے دل کی دھڑکن کو ہلاکت کے اندیشے سے نہیں روک سکتے تھے لہذا نہوں نے اس تحقیق کو ممالین یعنی دودھ دینے والے جانوروں پر جاری رکھا انہوں نے جو نہی ماں کے دل کی دھڑکن رو کی انہوں نے دیکھا کہ جنین میں رد عمل پیدا ہوا ۔

جب انہوں نے یہ تجربات بار بار دھرائے تو انہوں نے یقین کر لیا کہ ممالین جانوروں کے دل کی دھڑکن کو روکنے سے ان کے جنین میں رد عمل ظاہر ہوتا ہے اور ماں کی موت کے بعد جنین بھی ہلاک ہو جاتا ہےکیونکہ ماں کے دل سے نکلنے والی ایک بڑی شریان جنین کو خون پہنچاتی ہے جو اس کی غذا بنتا ہے اور جب دل ساکن ہوجائے گا تو جنین کو غذا نہیں پہنچے گی اور وہ ہلاک ہو جائے گی ۔

کورنیل یونیورسٹی کے تحقیقی مرکز کے سائنس دانوں نے متعدد تجربات سے یہ اخذ کیا ہے کہ بچہ نہ صرف یہ کہ ماں کے پیٹ میں اس کے دل کی دھڑکنوں کو سننے کا عادی ہو جاتی ہے بلکہ ان دھڑکنوں کا اس کی زندگی سے بھی گہرا تعلق ہے اگر یہ دھڑکن رک جائے تو بچہ ماں کے پیٹ میں بھوک سے مر جائے ۔

ماں کے دل کی دھڑکن سننے کی جو عادت بچے کو پیدائش سے پہلے ہوتی ہے وہ اس میں اس قدر نفو کر جاتی ہے کہ بچہ پیدائش کے بعد اگر ان دھڑکنوں کو نہ سنے تو پریشان ہو جاتی ہے بچہ ان دھڑکنوں کی بخوبی پہچان رکھتا ہے جس وقت بچے کو مان کی بائیں جانب سلایا جاتا ہے تو بچہ ان دھڑکنوں کو سن کر پر سکون رہتا ہے لیکن چونکہ دائیں جانب دل کی دھڑکنیں سنائی نہیں دیتیں لہذا بچہ مضطرب ہو جاتا ہے ۔

اگر کورنیل یونیورسٹ کا بانی نو مولود اور شیر خوار بچوں پر تحقیق کا یہ مرکز قائم نہ کرتا تو اس موضوع پر ہر گز تحقیق نہ ہوتی اور یہ معلوم نہ ہو سکتا کہ امام جعفر صادق (علیہ السلام ) نے یہ کیوں فرمایا کہ مائیں اپنے شیر خوار بچوں کو بائیں طرف رکھیں اور سلائیں ؟ اور اس میں کیا مصلحت اور فوائد مضمر ہیں ۔

ان میں جس جس کمرے میں نو مولود لیٹیہوتے ہیں وہاں ایک مشین رکھی ہوتی ہے جس سے ماں کے دل کی دھڑکنوں جیسی آواز سنائی دیتی ہے یہ آواز ایک ریسیور کے ذریعے ہر بچے کے کان تک پہنچائی جاتی ہے بالغ انسان چاہے مرد ہو یا عورت عموما اس کا دل ایک منٹ میں ۷۲ بار دھڑکتا ہے کورنیل یونیورسٹی سے وابستہ تحقیقی انسٹی ٹیوٹ میں قائم شیر خوار بچوں کی پرورش کے مذکورہ مراکز میں اگر ماں کے دل کی مصنوعی دھڑکنیں ایک سو دس سے بیس ہو جائیں تو ایک کمرے میں موجود تمام بچے رونے لگتے ہیں پس سائنس دانوں نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ماں کے دل کی مصنوعی دھڑکنیں ۷۲ دھڑکنیں فی منٹ ہونا چاہیے تاکہ بچے پیرشان نہ ہوں اور رونے نہ لگیں ۔ مذکورہ مراکز میں چند مرتبہ یہ تجربات دھرائے گئے ہیں ۔

کچھ نو مولودوں کو ایک ایسے کمرے میں رکھا گیا جہاں ماں کے دل کی مصنوعی دھڑکنیں ان کے کانوں تک نہیں پہنچتی تھیں اور کچھ نو مولودوں کو ایک دوسرے کمرے میں رکھا گیا جہاں وہ ماں کے دل دل مصنوعی دھڑکنیں سن سکتے تھے اس دوران یہ معلوم ہو اکہ وہ نو مولود جن کے کانوں تک ماں کے دل کی مصنوعی دھڑکنیں پہنچ رہی تھیں حالنکہ دونوں کمروں والے بچوں کی غذا ایک جیسی تھی لیکن وہ کمرہ جہاں ماں کے دل کی مصنوعی دھڑکنیں سنائی دے رہی تھیں اس کے بچے زیادہ بھوک کا اظہار کرتے ہوئے غذا کھاتے تھے اور جب کہ اس کے برعکس دوسرے کمرے والے کم بھوک والے ہوتےتھے ۔

کورنیل یونیورسٹی کے تحقیقی مرکز سے وابستہ شیر خوار بچوں کی پرورش کے مراکز میں ماں کے دل کی مصنوعی دھڑکنوں کی شدت کے لحاظ سے بھی تحقیق کی گئی ہے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگر یہ دھڑکنیں ماں کے دل کی قدرتی دھڑکنوں کی آواز سے زیادہ شدید ہوں تو بچے مضطرب ہو کر رونے لگتے ہیں ۔

کورنیل یونیورسٹی کے تحقیقی مرکز کے ایک ڈاکٹر نے دنیا کے براعظموں کا سفر کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ مختلف ممالک میں مائیں اپنے بیٹوں کو اٹھائے ہوئے کسی طرف گود میں لیتی ہیں ؟

یہ ڈاکٹر جس کا نام ڈاکٹر لی سالک بیان کیا جاتا ہے اور ابھی تک کورنیل یونیورسٹی کے تحقیقی مرکز میں کام میں مشغول ہے اس کے بقول دنیا کے تمام براعظموں میں مائیں اپنے بیٹوں کو بائیں طرف کی بغل میں لیتی ہیں اور وہ خواتین جو اپنے بیٹوں کو دائیں طرف والی بغل میں لیتی ہیں ان میں سے اکثر بائیں ہاتھ سے کام کرنے والی ہیں۔

خصوصا جب وہ ٹوکری اٹھاتی ہیں تو اپنے بچوں کو دائیں طرف والی آغوش میں لیتی ہیں تاکہ وہ بائیں ہاتھ سے ٹوکری اٹھا سکیں ۔

ڈاکٹر لی سالک نے تحقیقی مرکز سے منسلک بچوں کی پرورش گاہ میں زچہ خواتین سے جو پیدائش کے بعد وہاں سے چلی جاتی ہے اور نو مولودوں کو بائیں طرف بغل میں لیتی ہیں سوال کیا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ آ اپنے بچے کو بائیں بغل میں کیوں رکھتی ہیں ؟

لیکن ابھی تک کسی خاتون نے ڈاکٹر لی سالک کو جواب نہیں دیا کہ چونکہ دل سینے کے بائیں حصے میں واقع ہے اور بچوں کیلئے اس کی دھڑکنوں کا آواز سننا مفید ہے مائیں اس بات سے آگاہ نہیں کہ وہ بچے کو بائیں طرف رکھنے کو کیوں ترجیح دیتی ہیں پھر بھی وہ بچے کو بائیں طرف بغل میں رکھتی ہیں ۔

یہاں تک کہ افریقہ کے سیاہ فام قبائل کی عورتیں جب بچے کو پیٹھ پر نہیں اٹھاتیں تو اسے بائیں جانب بغل میں رکھتیہیں اور افریقہ کے تمام سیاہ فام قبائل میں خواتین کو علم ہے کہ بچے کو بائیں طرف سینے پر رکھنے سے اس کی بھوک بڑھتی ہے اور وہ خوب دودھ پیتا ہے جب کہ دائیں طرف کے اثرات اس کے برعکس ہیں ڈاکٹر لی سالک نے ماؤں سے سنا ہے کہ رات کو بچہ جب بھوکا ہوتا ہے تو اندھیرے میں حیران کن تیزی سے مان کے پستان کو تلاش کرکے اس پر منہ رکھ کر دودھ پینا شروع کر دیتا ہے ۔

انہیں تعجب ہے کہ بچہ روشنی کے بغیر ہی ماں کے پستان کو ڈھونڈ کر اس سے دودھ پینا شروع کر دیتا ہے۔

ڈاکٹر لی سالک نے ماؤں کو بتایا کہ رات کی تاریکی میں ماں کے پستان سے دودھ پینے میں ماں کے دل کی دھڑکن بچے کی مدد کرتی ہے اور جب بچہ ماں کے دل کے دھڑکنے کی آواز سنتا ہے تو فورا پستان کو ڈھونڈ کر دودھ پیتا ہے ۔

ہرشے متحرک ہے

امام جعفر صادق (علیہ السلام ) کے اہم نظریات میں ایک اورنظریہ اشیاء کی حرکت کے متعلق ہے آپ نے فرمایا جو کچھ موجود ہے حرکت کر رہا ہے حتی کہ جمادات بھی متحرک ہیں اگرچہ ہماری آں کھیں ان کی حرکات کو نہیں دیکھ سکتیں لیکن کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو متحرک نہ ہو ۔

یہ بات جعفر صادق (علیہ السلام ) کے زمانے میں قابل قبول نہیں نہ آیی تھی جب کہ آج نا قابل تردید حقیقت ہے اور کائنات میں کوئی ایسا جسم نہیں جو متحرک نہ ہو علم اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ کیا حرکت کے بغیر بھی کسی چیز کا وجود ہو سکتا ہے تصور کی بھی کوئی طاقت کسی سکن جسم کا اتہ پتہ نہیں بتا سکتی جو نہی حرکت رکی تصور کی وہ طاقت جسے حرکت کو فرض کرنا تھا ختم ہو گئی چونکہ جس لمحے حرکت رک جاتی ہے انسان مر جاتا ہے ۔

جعفر صادق (علیہ السلام ) نے ساڑھے بارہ سو سال پہلے اس حقیقت کو بیان کیا اور فرمایا تھا کہ جس لمحے حرکت رک جاتی ہے انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے ۔

لیکن موت کے بعد بھی ایک دوسری طرف سے حرکت جاری رہتی ہے ورنہ ادمی کا جسد خراب نہ ہو ہم زمانے میں تبدیلی کو صرف حرکت کے زیر اثر احساس کرتے ہیں اور اگر ہمارے وجود میں دائمی حرکت نہ ہو تو ہم ہرگز لمبائی چوڑائی اور بلندی وغیرہ کو استنباط نہیں کر سکتے تاکہ مکان کا کھوج لگائیں ہر ساکن جسم میں دو قسم کی دائمی حرکت موجود ہوتی ہے پہلی حرکت جو ایٹم کیاندر ہے اور گذشتہ صفحات میں ہم نے ذکر کیا ہے کہ الیکٹران ایٹم کے مرکز کے ارد گرد ایک سیکنڈ میں تین کیٹریلین مرتبہ چکر لگاتا ہے دوسری حرکت مالیکیولوں کی دائمی ارتعاش ہے اور ہر جسم کے مالیکیول سردی ہوچاہے گرمی ہو صفر سے دس کیٹریلین مرتبہ فی سیکنڈحرکت کرتے ہیں ۔

فرانسیسی ڈرامہ نویس مولیر جو فرانسیسی کامیڈی کا بانی ہے اس نے اپنے ایک ڈرامے کے ہیرو کے متعلق کہا کہ وہ زندہ تھا لیکن حرکت نہیں کر رہا تھا ۔

یہاں تک کہ مولیر خود بھی متعجب تھا کہ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک چیز حرکت نہ کرے اور وہ زندہ ہو ۔

آج یہ مذاق قابل قبول نہیں ہے اگر کوئی جسم ساکن ہوتو وہ مردہ ہے اور جعفر صادق (علیہ السلام ) کے بقول موت کے بعد بھی اس کے اندر حرکت جاری رہتی ہے لیکن دوسری شکل میں اور وہ حرکت دنیا کے آخری دن تک باقی رہتی ہے اگرچہ انسانی جسم سے بچنے والے ذات مادہ نہ رہیں اور توانائی میں تبدیل ہو جائیں اس صورت میں وہ توانائی کی شکل میں حرکت جاری رکھیں گے جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا جو کچھ ہے خالق کا گرویدہ ہے یہ نظریہ آج تک عرفانینظریہ سمجھا جاتا رہا نہ کہ علمی نظریہ ۔

جعفر صادق (علیہ السلام ) جن عرفا میں سے تھے ( لیکن آپ کا مخصوص عرفان دین اسلام پر مبنی تھا ) ان کا کہنا تھا کہ آدمی کی تخلیق کا یہ مقصد ہے کہ وہ آخر کار خداوند تعالی سے مل جائے ۔

وقت کے گزرنے کے ساتھ تصوف و عرفان کے گوناں گوں فرقے وجود میں آئیا ور یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس نظریہ کے کچھ پیروکاروں نے بے باکی دکھائی اور خدا تک پہنچنے کے نظریئے کو خدا ہونا بنا لیا اور یہ وہی نظریہ ہے جو مشرق و مغرب کے عرفا میں وحدت وجود کے نام سے پھیل چکا ہے اور حتی کہ اپسی نوزا کی مانند ایک فلسفی بھی وحت وجود کے عرفانی مکتب کا پیرو کار بن گیا اور اس نے اپنے فلسفے کو وحدت وجود کی بنیاد پر لکھا اور چھپوا دیا ۔

عرفا کہتے تھے کہ چونکہ خدا کے علاوہ کوئی چیز موجود نہیں ہے لہذا جو کچھ ہے یعنی جسم اور روح درخت اور حیوانات اور چار عناصر سب خدا ہیں پس انسان بھی خدا ہے لیکن عرفان و تصوف و فلسفے کی تاریخ کے دوران اس نظریہ کا صرف ایک مرتبہ ڈنکا بجا اور وہ بھی ہالینڈ کے اپسی نوزا کی طرف سے سترھویں صدی کے نصف کے دوران میں ۔

اس وقت اپسی نوزا کی کتابوں کو نہیایت تیز ی سے جمع کیا گیا اور کتابیں چھاپنے والوں نے اس کی کتاب چھاپنے سے صاف انکار کر دیا چونکہ انہیں علم تھ اکہ ایسا کرنا ان کیلئے خطرناک ہے ۔

صوفیاء اور عرفان جو وحدت وجود کے قائل تھے نے اس نظریئے کو اصلاحات اور تعبیرات کی گھتی میں اس طرح الجھا دیا کہ ان کے علاوہ کوئی دوسرا اس سے کچھ بھینہیں سمجھ سکتا تھا جعفر صادق (علیہ السلام ) کی مذہبی ثقافت میں توسیع کی بعد مشرقی ممالک میں گوناگوں مسائل پر بحث آزاد ہو گئی تھی لیکن پھر بھی وحدت وجود کے حامیوں کو کھلم کھلا اپنا نظرہ بیان کرنے کی جرات نہیں ہوئی کیونکہ ان کے بعض خلفاء اور حکام متعصب تھے اور اس بات کا امکان تھا کہ وہ وحدت وجود کے نظریہ کے حامیوں کو قتل کر دیتے جو کوئی اس نظریئے کا حامی ہوتا اگر وہ قتل نہ بھی کیا جاتا تو مذہبی علما اس پر کفر کا فتوی ضرور لگاتے اورجس پر یہ فتوی لگ جاتا وہ جذام کے مریض سے بھی بد تر سمجھا جاتا اسے آبادی سے باہر نکال کر دور دراز مقام پر پہنچا دیا جاتا ۔

چونکہ جذام کے مریضوں پر رحم کھایا جاتا تھا انہیں زمین اور کھیتی باڑی کا سازو سامان مہیا کیا جاتا تاکہ وہ خود کاشت کریں اور اپنے لئے غلہ پیدا کریں جس پر ایک دفعہ کفر کا فتوی لگ جاتا تو اس پر کسی قسم کا رحمنہ کھایا جاتا اگر وہ کہیں کام کر رہا ہو تا تو اسے وہاں سے نکژال دیا جاتا اور کوئی اس کو کام نہ دیتا اگر وہ سودا گر ہوتا تو نہ اس سے کوئی سودا سلف کریدتا اور نہ اس کو سودا بیچتا اگر وہ صنعتکار ہوتا تو کوئی اس سے کسی چیز کے بنانے کیلئے رجوع نہ کرتا جب وہ اپنے گھر سے باہر آتا تو لوگ اسے تکلیف پہنچاتے اور اس پر عرصہ حیات اس قدر تنگ کر دیا جاتا کہ اس کیلئے گھر سے نکلنا محال ہو جاتا یہاں تک کہ وہ اپنا گھر چھوڑ کر ہجرت بھی نہ کر سکتا تھا یہی وجہ تھی کہ وحد ت وجود کے نظریے کے پیروکاروں نے اپنے نظریئے کو اصطلاحات اور تعبیرات کے لفافے میں اس طرح بند کیا کہ ان کے سوا کسی دوسرے کوخبر نہ ہوتی تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور مذہبی علماء ان کے اس کہنے کی بنا پر ان پر کفر کا فتوی نہیں لگا سکتے تھے ۔

صوفیا اور عرفا نے اپنی گفتگو کیلئے میکدہ ‘ ساقی ‘ ‘معشوق ‘ مینا ‘ ساغر اور مئے وغیرہ کی اصطلاحات ایجاد کر لیں اور جب فارسی زبان میں عرفانی شاعری کا رواج ہو ا تو ہ اصطلاحیں جوں کی توں شعر کی زبان میں داخل ہو گئیں اب وہ لوگ جو صوفی اور عارف نہیں تھے جو کچھ عارفوں نے شعروں میں کہا وہ ان کی سمجھ میں نہیں آیا اس طرح صوفیا اور عرفا کفر کے فتوی سیبچ گئے جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ تصوف اور عرفانی سوچ نے تیسری صدی سے زور پکڑا اور اس وقت صوفیا اور عرفا نے یہ خیال کیا کہ جعفر صادق (علیہ السلام ) کا یہ عرفان کہ ہر چیز خدا کی طرف لوٹتی ہے وحدت وجود کا عقیدہ ہے اور اپ کا بھی یہی عقیدہ تھا ۔

جب کہ جعفر صاد ق (علیہ السلام ) وحدت وجود کے معتقد نہ تھے اور مخلوق کو خالق سے جداجانتے تھے دین اسلام کے اصول کے مطابق آپ کا عقیدہ تھا کہ کائنات میں جو کچھ ہے خالق کا تخلیق کیا ہوا ہے بعد میں آنے والے زمانوں میں جب علوم کی درجہ بندی اس طرح کی گئی کہ عرفان اور فلسفہ کو علوم سے جدا کیا گیا علماء نے جعفر صادق (علیہ السلام ) کے اس نظریئے کو کہ ہر چیز خدا کی طرف لوٹتی ہے کہ عرفانی نظریہ سمجھا ہے نہ کہ علمی لیکن آج علماء پر علوم کے میدان میں یہ حقیقت واضح ہوئی ہے کہ جو کچھ جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا تھا اس کا تعلق علم سے ہے نہ کہ عرفان سے

ابھی اس بارے میں دو ٹوک الفاظ میں اظہار خیال کرنا قبل از وقت ہے تمام چیزں صرف ایک چیز (جعفر صادق (علیہ السلام ) کے بقول خدا کی طرف پلٹی ہیں ۔

لیکن یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ہر دفعہ جب الیکٹران سے شعاع نکلتیہے تو وہ شعاع ایک طرف کو جاتی ہے اور جب تک اس کے راستے میں مقناطیسی قوت حائل نہ ہو وہ اطراف میں نہیں پھیلتی البتہ وہ اس صورت میں اطراف میں پھیلتی ہے جب برقی اور مقناطیسی لہر کا جزو شمار ہوں کہ اس صورت میں وہ اطراف میں پھیلتی ہیں یہی لہریں ہیں جن سے ٹیلی فون ‘ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کام کرتے ہیں ۔

ہم الیکٹرانوں کی ایک ہی سمت میں حرکت کو قطب نما کی سوئی کے ذریعے محسوس کر سکتے ہیں جو ہمیشہ شمال کی جانب رہتی ہے کہا جاتا ہے کہ کرہ زمین میں قطب نما شمالی قطب کے مقناطیسی میدان کی طرف کھنچا رہتا ہے اور اسی بنا پر قطب نما کی سوئی شمال کی جانب رہتی ہے ۔

قطب نما مسلمانوں کی ایجاد ہے اور جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ اس ایجاد نے سمندری سفر میں کافی مدد کی ہے اگر قطب نما ایجاد نہ ہوتا تو نہ تو پرتگال کا باشندہ واسکوڈے گاما پندرھویں صدی کی دوسری دھائی میں کشتی کے ذریعے جنوبی افریقہ ‘ ہندوستان پہنچ سکتا تھا اور نہ اٹیلی کا کرسٹوفرکولمبس اپنے زمانے میں کشتی کے ذریعے امریکہ دریافت کر سکتا تھا اور نہ پرتگالی ماجیلان اسپین کے بادشاہ کے خرچ پر کشتی کے ذریعے دنیا کے اطراف میں چکر لگا سکتا تھا اس طرحاس نے نا قابل تردید طور پر ثابت کیا ہے کہ زمین گول ہے جیسا کہ ہم مانتے ہیں کہ آج بھی قطب نما جہازرانی کیلئے انتہائی ضرورت ہے اس کے باوجود کہ ہوائی جہاز کا رابطہ ایئر پورٹ کیساتھ مسلسل قائم رہتا ہے اور کنٹرول ٹاور سے اسے ہدایات ملتی رہتی ہیں کوئی ہوائی جہاز قطب نما سے بے نیا زنہیں ۔

جب خلائی جہاز چاند پر پہنچے تو ان کے قطب نما کی سوئی اس طرح شمال کی جانب مڑی رہی اس پر سائنس دانوں نے گمان کیا کہ قطب نما ابھی تک زمینی مقناطیس کے زیر اثر ہے دوسرے ستاروں کی جانب جانے والے خلائی جہازوں میں قطب نما ابھی تک زمینی مقناطیس کے زیر اثر ہے دوسرے ستاروں کی جانب جانے والے خلائی جاہزوں میں قطب نما کچھ عرصہ کیلئے ناکارہ رہنے کے بعد ستاروں کے شمالی علاقے کی نشاندہی کرتا ہے ( اسے زمین کا شمال نہ سمجھا جائے ) اور اس طرح جیسے ہر جگہ شمال کی جانب رخ کرنے والی ایک مقناطیسی سوئی موجود ہے اور دوسرے سیاروں مثلا مریخ زہرہ اور مشتری کی جانب جانے والے خلافئی جہازوں میں کوئی دوسر چیز سامنے آئے جس سے ابھی تک لوگوں کو اطلاع نہیں ہے ۔ البتہ چونکہ آج اٹھارویں اور انیسویں صدی عیسوی کی مانند علمی معلومات رکھنے والے ان معلومات کو مفت لوگوں کے حوالے نہیں کرتے اس دور میں بعض علمی معلومات فوجی رازوں کا حصہ ہیں اور جو حکومتیں اپنے خلائی جہازوں یا مصنوعی سیاروں کی مدد سے یہ معلومات حاصل کر لیتی ہیں وہ انہیں ظاہر نہیں کرتیں ۔

ہمیں معلوم ہے کہ دوسرے سیاروں کی جانب سفر کرنے والے خلائی جہاز جن کو سفر میں کئی ماہ لگتے ہیں قطب نما کے بغیر سفر کرتے ہیں ۔

اس کے باوجود کہ چاند زمین سے نزدیک ہے چاند کی طرف سفر کرنے والے اپالو کو قطب نما کی ضرورت پیش نہیں آئی چونکہ قطب نما جب زمین کے مقناطیسی فیلڈ سے دور ہوتا ہے اس میں گڑ بڑ شروع ہو جاتی ہے اور وہ کسی خاص سمت کی نشاندہی نہیں کرتا ۔

بعض اوقات زمین پر بھی برقی فیلڈ کی موجودگی کی وجہ سے قطب نما فضا میں گڑ بڑ کرنے لگتا ہے اور قطب نما کی سوئی ہر لمحے مختلف سمتوں کی نشاندہی کرتی ہے چونکہ آج تمام بہر جہاز فولاد سے بنائے جاتے ہیں لہذا قطب نما کو ان میں اس طرح فٹ کیا جاتا ہے کہ وہ بحری جہاز کی دھات سے کوئی ربطہ نہ رکھتا ہو ورنہ اس میں خلل پڑ سکتا ہے اور یہاں تک کہ بعض اوقات ستر درجے تک غلطی کر جاتا ہے (قطب نما پر لگے ہوئے کل درجے تین سوساٹھ ہیں )۔

اگر کرسٹو فرکولمبس کے امریکہ کی جانب سفر کرنے والے بحری جہاز لکڑی کے بنے ہوئے نہ ہوتے اور لوہے کے بنے ہوتے تو وہ اٹالین کشتی ران ہر گز امریکہ دریافت نہ کر سکتا قطب نما کی غلطی اسے کسی اور سمت میں لے جاتی۔

موجودہ زمانے کے مشہور طبیعات دانوں میں سے ایک پروفیسر ڈاش ہے جو واشنگٹن یونیورسٹی میں پڑھاتا ہے یہ شخص جو ماہر فلکیات بھی ہے کائنات کے بارے میں ایک ایسا نظریہ رکھتا ہے جس سے جعفر صادق (علیہ السلام ) کے اس نظریئے کی تائید ہوتی ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ ہے اس نے خالق کی طرف لوٹنا ہے ہم سب جانتے ہیں کہ علم نے انیسویں صدی سے لے کرآج تک کائنات کی صورت و حرکت کی وضاحت کرنے پر توجہ دی ہے اور اس ضمن میں تین علماء کی جانب سے متعدد نظریات پیش کئے گئے ہیں لیکن یہ تمام نظریات صرف تھیوری کی حد تک محدود رہے ہیں ۔

علم کائنات میں موجود بعض قوانین مثلا قوت تجاذب کے قانون سورج کے اردگر د سیاروں کے گھومنے کا قانون اور آزاد اجسام کے گرنے کے قانون کی جانب توجہ دی ہے اور یہ تمام قوانین انیسویں صدی عیسوی میں پہلے دریافت ہو چکے تھے ۔

سائنس دانوں نے جو کچھ آج تک کائنات کی شکل و صورت اور حرکات ( محسوس ہونے والی حرکات کے علاوہ ) کے بارے میں کہا ہے اس کا تعلق تھیور ی سے ہے ۔


آئن سٹائن کا نظریہ نسبیت

آئن سٹائن کے حامی کہتے ہیں کہ کائنات کے بارے میں آئن سٹائن کا نظریہ نسبیت ریاضی کے اوزان کی بنیاد پر ہے لیکن ریاضی کا ایک ورق ایک ترازو کی مانند ہے اور جب ترازو کی درمیانی ڈنڈیایک افقی خط پر رک جاتی ہے تو ہم تصدیق کرتے ہیں کہ دونوں پلڑوں میں وزن برابر ہے لیکن ترازو کی درمیانی ڈنڈے کا افقی خط پر ٹھہرنا اور ترازو کے دو پلڑوں کا برابر ہونا دو پلڑوں میں رکھی گئی چیزوں کا تعین نہیں کر سکتا اگر ہمیں یہ علم نہ ہو کہ ترازو کے دو پلڑوں میں گندم ہے یا پتھر کا کوئلہ تو ہم ترازو کی درمیانی ڈنڈی کے افقی خط کو دیکھ کر ہرگز اندازہ نہیں لگا سکتے کہ پلڑوں میں کیاہے ؟ ریاضی کے اوزان جیسا کہ کہاگیا ہے کہ صحیح ہیں اور ریاضی بشری علوم میں سے ہے وہ واحد علم ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا لیکن ریاضی کے اوزان سے صرف اس بات کا علم ہو سکت اہے کہ فلاں چیز جو ہم نے پلڑے میں رکھی ہے وہ اس قدر ہے البتہ اس کا علم نہیں ہو سکت کہ جو چیز پلڑوں میں موجود ہے وہ کیسی ہے لہذا اس کے باوجود کہ ریاضی کے اوزان کے درست ہونے میں کوی شک و شبہ نہیں پھر بھی یہ بات قابل قبول نہیں کہ آئن سٹائن نے اپنے پلڑوں میں جو کچھ رکھا وہ حقیقت ہے ۔

دوسرا یہ کہ آین سٹائن نے اپنے نیست کی تھیوری میں کائنات کے قطر کو تین زہار ملیکن نوری سال لکھا ہے جب کہ آج کل کی ریڈیو ٹیلی اسکوپس کی اطلاع کے مطابق اجرام فلکی کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ان کا زمینس ے فاصلہ نو ہزار ملین نوری سال ہے ۔

سائنس دانوں نے ستایس اینٹینوں (ریڈیو ‘ ٹیلی سکوپ کے انیٹینوں) پر مشتمل ‘ ریڈیو ‘ ٹیلی ویژن سکوپ بنائیہے جو تین شاخوں والے انگریزی کے حرف وائی یا فرانسیسی کے ایگرگ پر رکھی گئی ہے ان تین شاخون کا درمیانی فاصلہ اکیس کلو میٹرہو گا ۔

اس ریڈیو ٹیلی سکوپ کے مجموعہ کی کل طاقت ریڈیوٹیلی سکوپ کے دور بین کے یونٹ کے برابر ہے جس کا قطر تیس کلو میٹر ہے جب ریڈیو ٹیلی سکوپ کے مجموعے نے کام شروع کیا تو ممکن ہے ثابت ہو کہ کائنات کی وسعت جو نو ہزار ملین نوری سال نظر آتی ہے اس سے زیادہ ہو ۔

جو بات مسلم ہے وہ یہ ہے کہ آئن سٹائن کی نیست کی تھیوری کا وہ حصہ جس میں اس نے کہا ہے کہ کائنات کا قطر تین ہزار ملین نوری سال ہے صحیح نہیں ہے ۔

۱۸۱۴ عیسوی میں جب انگریزوں نے امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن پر حملہ کرکے تباہی پھیلائی اس زمانے میں واشنگتن یونیورسٹی کے طبیعات کے استاد نے ایک نظریہ پیش کیا جو یہ ہے جب سے ریڈیو ٹیلی ویژن سکوپس نے انسانی بینائی کے میدان میں وسعت پیدا کی ہے اور انسان ان کی مدد سے دور دراز کے اجرام کو دیکھنے لگا ہے فلکیات کے ماہرین پر ایک نئی بات آشکار ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ کہکشاں کی مانند بعض بڑے اجرام آسمانی تیزی سے حیرت انگیز حرکت کر رہے ہیں اور ایک نقطے کی سمت جا رہے ہیں اور ان کی تیز رفتاری کا حساب لگانے کے بعد پتہ چلا ہے کہ بعض کہکشائیں اس قدر تیزی سے حرکت کر رہی ہیں کہ ان کی رفتار روشنی کی رفتار کے ۹۵ فی صد ہے ۔

یہ اجرام فلکی جو خلا میں جہاں کہیں حرکت کر رہے ہیں ان کی حرکت کا رخ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ایک مرکز کی طرف جا رہے ہیں اور چونکہ ایسا ہے لہذا ضرور اس مرکز تک پہنچتے ہوں گے اور ان کے درمیان ٹکراؤ بھی وقوع پذیر ہوتا ہو گا۔

اس بات کی پیشن گوئی نہیں کی جا سکتی کہ ان بڑے اجرام کے تصادم سے جو ایک مرکز میں ایک دوسرے سے ٹکراتے ہوں گے کس قدر توانائی وجود میں آتی ہے اور دنیا میں اس توانائی کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں کیا کچھ دوسرے قوانین کے ساتھ کوئی اور جہان وجود میں آتا ہے یا یہ کہ شعاعوں کا ایک گرداب پیدا ہوتا ہے اور دنیا کے آخر تک ایسا ہی ہوتا رہے گا ۔

پروفیسر ڈاش ‘ جس نے اس نظریئے کا ذکر کیاہے یہ بات نہیں بتا سکا کہ اجرام فلکی جو دنیا کے ارد گرد نہایت تیزی سے ایک مرکز کی طرف جا رہے ہیں وہ اس مرکز تک کب پہنچیں گے ۔

اجرام فلکی کی گردش کرنے کے راستے کی قوسیں اس قدر وسیع ہیں کہ پروفیسر ڈاش ابھی تک کمپیوٹر کی مدد سے قوسوں کے راستے کو نہیں سمجھ سکا کہ وہا س بات کا تعین کر سکے کہ قوسیں آپس میں کہاں ملتی ہیں اور وہ مرکز ‘ جہاں اجرام فلکی آپس میں ملتے ہیں کس جگہ واقع ہے ؟

کہا جاتا ہے کہ اس نظریئے سے یہ پتہ نہیں چل سکا کہ اجرام فلکی کی گردش کا خط اس لئے محننی ہے کہ اجرام فلکی کی روشنی طاقتور قوت تجاذب کے مراکز میں جذب ہو جاتی ہے اگر اس طرح ہے تو اجرام فلکی جو حیرت انگیز رفتار سے حرکت کر رہے ہیں ان کے قریب طاقتور قوت تجاذب کے مراکز واقع ہونے چاہیں جو ان کی روشنی کو ٹیڑھا کریں اس صورت میں وہ مادہ مراکز ہیں ورنہ اس قدر طاقتور قوت تجاذب نہ رکھتے ۔

اس تھیوری پر ایک بڑا اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ کہکشائیں جومادہ ہیں اس قدر تیز رفتاری سے حرکت نہیں کر سکتیں ۔

ڈاش کہتا ہے اجرام فلکی جو اس قدر تیزی سے حرکت کر رہے ہیں ان کا تعلق چوتھی "پلازما " سے ہے ایک زمانے سے علم نے مادے کی چوتھی قسم ( جو ٹھوس مائع اور گیس کے علاوہ ہے ) کو تسلیم کر لیا ہے اور اس بات کا قائل ہے کہ ممکن ہے مادہ ایک ایسی صورت اختیار کرے جو نہ ٹھوس ہو نہ مائع اور نہ گیس ۔

بہر کیف طبیعات دانوں کے بقول پلازما بھی روشنی کے ۹۵ فی صد کے برابر حرکت نہیں کر سکتا وگرنہ وہ اپنی ماہیت کھو بیٹھے گا اور شعاع میں تبدیل ہو جائے گا لیکن پروفیسر ڈاش اس بات پر ہے کہکشاؤں کے اجرام جو اس قدر تیز سے ایک مرکز کی طرف جا رہے ہیں وہ پلازما ہیں اور اس کے بقول اگر کہکشاؤں میں پلازما کیوجود کو تسلیم نہ کریں تو بھی ان کیتیز رفتاری میں کوئی شک نہیں چونکہ کہکشاؤں کے اجرام کے متعلق نظریہ اگر ایک فرضی نظریہ ہو تو بھی ان کی تیز رفتاری کے بارے میں نظریہ فرضی نہیں بلکہ کمپیوٹر کے ذریعے اسکی پیمائش کی گئی ہے جس کے مطابق ان اجرام کی رفتار ۲۸۵ ہزار کلو میٹر فی سیکنڈ ہے بہر حال اس کے نظریئے کے مطابق دور دراز کے واقع تمام اجرام فلکی نہایت تیزی سے ایک مرکز کی طرف جا رہے ہیں اور اس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ جس کہکشاں میں ہمارا سورج واقع ہے وہ اور دوسری کہکشائیں بھی نہایت سست رفتاری سے اسی مرکز کی طرف رواں دواں ہیں اگر اس نظریئے کی تائید کی جائے تو علمی نظریئے اورجعفر صادق (علیہ السلام ) کے نظریئے میں سواے الفاظ کے ہیر پھر کے کوئی فرق نہیں جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا تمام چیزیں خدا کی طرف ہی پلٹی ہیں اور ڈاش کے بقول تمام چیزیں ایک مرکز کی طرف پلٹی ہیں واشنگٹن یونیورسٹی کے فزکس کا استاد جس کے بارے میں ہم نے ذکر کیا ہے کہ وہ ماہر فلکیات بھی ہے اس کا نظریہ یورپ کے لوودن یونیورسٹی کے استاد ایسے لمڑ کے نظریئے کے بالکل الٹ ہے جس کا نظریہ دنیا کی وسعت کے بارے میں گذشتہ صفحات میں قارئین کی نظر سے گزر چکا ہے اس کا عقیدہ ہے کہ دنیا وسیع ہو رہی ہے اور کہکشائیں کناروں کی جانب بڑھ رہی ہیں لیکن ایبے لمڑ کے زمانے میں کہکشاؤں کو ریڈیو ٹیلیسکوپ کے ذریعے مشاہدہ نہیں کر سکا تھا اور جو حساب کتاب آج کمپیوٹرکی مدد سے ہو رہا ہے اس زمانے میں اس کی کوی مثال نہ تھی صرف یہ ہوتا تھا کہ ریاضی دانوں کے ایک بڑی گروہ کو ستاروں کے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کیلئے کام پر لگا دیا جاتا تھا تاکہ آج کل خلائی جہازوں کی دوسرے سیاروں کی طرفپرواز میں پیش آنے والے مسائل کا حل نکالیں دوسرا یہ کہ تھوڑے تھوڑے فاصلوں سے ایک کہکشاں کی حرکت کا مشاہدہ کرتے ہوئے یہ سمجھ میں نہیں آ سکتا کہ وہ مرکز سے پرے ہٹ رہی ہے یا مرکز کی طرف بڑ رہی ہے اور شاید ریکھنے والے کو یہ دکھائی دے کہ کہکشاں مرکز سے فرار کر رہی ہے حالانکہ کہکشاں مرکز کی جانب گامزن ہے اس کے باوجود کہ آج فلکیات کا حساب و کتاب در حقیقت ایبے لمڑ کے زمانے کی نسبت زیادہ صحیح اور ترقی یافتہ ہے پھر بھی ہم پروفیسر ڈاش کے نظریئے کو مد نظر رکھنے کے بعد ابھی ایبے لمڑ کے نظریئے کو مسترد نہیں کر سکتے کیونکہ ہم ابھی تک اس حقیقت تک رسائی حاصل نہیں کر سکے کہ یہ کہیں کہ ایبے لمڑ کی رائے اور جو کچھ پروفیسر ڈاش کہتا ہے وہ محض تھیوری ہے اور اس کے دو پوانٹس کمزور ہیں پہلا یہ کہ مادہ روشنی کی حرکت کی رفتار کے ۹۵ فی صد کے برابر حرکت نہیں کر سکتا لہذا ماہرین طبیعات کے بقول پلازمابھی نہیں ہیں دوسرا یہ کہ پروفیسر یہ نہیں بتا سکا کہ وہ مرکز جس کی جانب تمام کہکشائیں جارہی ہیں وہ کونسا ہے ؟ اور کہاں واقع ہے ؟ اگر قوت جاذب کا قانون جو ہمارے نظام شمسی میں حکم فرما ہے نظام شمسی سے باہر بھی لاگو ہو تو ظاہر ہے کہ جس مرکز کے گرد کائنات کی تمام کہکشائیں گھوم رہی ہیں وہ ایک مادی مرکز ہے جس کی قوت تجاذب تمام کہکشاؤں کو انہی طرف کھینچ رہی ہے اور ابھی تک ایسا مادی جسم جس کی قوت تجاذبت اس قدر زیادہ ہو ابھی تک دریافت نہیں ہو سکا جس کی جانب تمام کہکشائیں رواں دوں ہوں اور اس نظرہ کا حامل بھی ایسے مرکز کی ہی با حوصلہاستادوں میں سے ایک تھے آپ درس کے پڑھانے کے بعد اپنے علمی مخالفین کیا عترضات کا جواب بھی دیتے تھے کبھی ایسا ہوتا تھا کہ آپ علمی مخالفین کے جواب دینے میں اس قدر مشغول ہو جاتے کہ کھانا کھانے کیلئے گھر بھی نہ جا سکتے تھے اور ایک آدمی کو بازار بھیجتے تاکہ وہ بازار سے ایک روٹے لے ائے اور یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ چھوٹی سی روٹی کو آپ نے مکمل طور پر کھایا ہو چند لقمے کھانے کے بعد باقی روٹی بچ جاتی تھی ا ور جن دنوں میں کھانے کیلئے گھر نہیں جاتے تھے تو اس سوکھی روٹے پر گزارا کر لیتے تھے آپ نے علمی مخالفین سے درخواست کر رکھی تھی کہ جب تک درس ختم نہ کر لیں اس وقت تک کوئی اعتراض نہ کریں اور جب درس ختم ہو جائے تو جو جی میں آئے پوچھیں جعفر صادق (علیہ السلام ) درس ختم کرنے کے بعد اپنے شاگردوں کو چھٹی دے دیتے تھے معمول کے مطابق ایسا ہوتا تھا کہ آپ درس ختم کرنے کے بعد نماز ظہر پڑھتے تھے اور گھر چلے جاتے تھے آپ کے بعض شاگردوں کو جنہیں یہ علم ہوتا کہ ہمارے استاد آج اپنے علمی مخالفین کے سوالوں کے جوابات مرحمت فرمائیں گے وہ اس دن کھانا کھانے کے بعد گھر سے واپس آ جاتے تاکہ جعفر صادق (علیہ السلام ) کے اپنے علمی مخالفن کی بحث مباحثے کے موقع پر موجود رہیں جعفر صادق (علیہ السلام ) کے علمی مخالفین میں سے ایک ابو شاکر نامی بھی تھا وہ شخص ایک دن جب جعفر صادق (علیہ السلام ) نماز سے فارغ ہو چکے تو آپ کے پا س آیا اور بیٹھ کر کہنے لگا کیا مجھے اجازت ہے کہ جو کچھ میں چاہوں اس کے بارے میں اظہار خیال کروں جعفر صادق (علیہ السلام )نے جواب دیا جو چاہتے ہو کہو ابو شاکر نے کہا اپنے شاگردوں اور سامعین کو افسانے کے ذریعے کیوں فریب دیتے ہیں ؟ آپ جو کچھ خدا کے بارے میں کہتے ہیں وہ افسانے سے زیادہ کچھ نہیں اور آپ لوگوں کو اضافہ سرائی کے ذریعے ایسی چیز کو قبول کرنے پر مائل کرتے ہیں جس کا کوئی وجود نہیں اور خدا کی عدم موجودگی کی دلیل یہ ہے کہ ہم اپنے حواس خمسہ کے ذریعے اسے درک نہیں کر سکتے جیسے آپ کہتے ہیں کہ انسان اپنے حواس خمسہ کے ذریعے خدا کو درک نہیں کر سکتا لیکن ممکن ہے کہ انسان اپنے باطنی حواس کے ذریعے خداوند تعالی کی معرفت حاصل کر سکے مگر باطنی حواس سے کام لینے کیلئے ظاہری حواس سے استفادہ کیا جاتا ہے اگر آپ اپنے ذہن میں کسی چیز کا تصور لاتے ہیں تو موجودگی میں اسے اپنے ذہن میں مجسم کرتے ہیں تو اگر آپ کی بینائی کی حس نہ ہو اس کو آپ کا دیکھنا محال ہے اور اگر آپ کی ننے کی حس نہ ہو تو باطن میں آپ اس کی آواز بھی نہیں سن سکتے اور جب آپ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں تو اپنی لمس کرنے کی حسن کو کام میں التے ہیں ورنہ آپ ہر گز باطن میں اس کے ہاتھ کو مس نہیں کر سکتے پس آپ کے تمام باطنی ‘ احساسات آپ کے پانچ ظاہری حواس سے وابستہ ہیں اور اگر آپ کے ظاہری حواس مفتو د ہوں تو آپ ہر گز اپنی کسی باطنی حس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے لہذا اگر آپ کہتے ہیں کہ آپ اپنے باطنی احساسات کے ذریعے خدا کو درک کرتے ہیں تو میں اس بات کو تسلیم نہیں کرتا ممکن ہے آپ کہیں کہ نہ تو آپ خدا کو اپنے باطنی حواس کے ذریعے درک کرتے ہیں اور نہ ہی عقل بھی کسی ظاہری حس کے بغیر کسی چیز کو سمجھنے پر قادر نہیں ہے اور جس چیز کو سمجھنا چاہیے وہ پانچ ظاہری حواس کے ذریعے سمجھی جاتی ہے اگر آپ عقل کی مدد سے ظاہری حواس کو کام میں لائے بغیر کوئی دلیل لائیں اور نتیجہ نکالیں کہ حواس خمسہ میں سے کسی ایک حسن نے بھیا س دلیل یا نتیجے میں مدد نہ کی ہو تو میں تسلیم کر لوں گا کہ پ عقل کے ذریعے خداوند تعالی کے وجود تک پہنچ سکتے ہیں جس خدا کی عبادت کیلئے اپ لوگوں کو دعوت دیتے ہیں وہ آپ کے اپنے تخیل کی اختراع ہی آپ نے اپنے تخیل میں ایسے ایسے وجود کو تصور کر لیا ہے اور متشکل کیا ہے اور جس طرح آپ بات کرتے ہیں غذا کھاتے ہیں اور سوتے ہیں اس طرح آپ کا خیال ہے کہ وہ بھی بات کرتا ہے غزا کھاتا اور سوتا ہے آپ اپنے اثر و رسوخ کو لوگوں میں قائم رکھنے کیلئے اسے کسی کو نہیں دکھاتے اور کہتے ہیں کہ وہ دیکھا نہیں جا سکتا اور نہ ہی دیکھا جا سکے گا اور نہ ہی اس نے کبھی ماں کے پیٹ سے جنم لیا ہے نہ اس کی کوئی اولاد ہے آپ کا خدا ہندؤں کے اس پردہ نشین بت کی مانند ہے جس پر ہندوؤں نے پردہ ڈالا ہو اہے اور کسی نے اس بت کو نہیں دیکھا ۔

مندر کے متولیوں کا کہنا ہے کہ یہ بت اپنے آپ کو ہر گز انسانوں کو نہیں دکھاتا کیونکہ اسے پتہ ہے کہ وہ اسے دیکھیں گے تو مر جائیں گے اور متولیوں کے بقول یہ بت از راہ مہربانی اپنے آپ کو کسی کو نہیں دکھاتا اس طرح آپ کا خدا بھی لوگوں پر ظاہر نہیں ہوتا ہو گا کہ لوگ اس کے دیکھنے سے مر نہ جائیں اور آپ کہتے ہیں کہ اس کائنات کو خدا نے خلق کیا ہے وہ بھی ایسا خدا جس کی نہ تو آواز سنی جا سکتی ہے نہ اہی اسے دیکھا جا سکتا ہے اور صرف ایک آدمی اس کی آواز کو سنتا ہے وہ پیغمبر ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ کائناتکو کسی نے خلق نہیں کیا اور یہ خود بخود وجود میں آئی ہے کیا صحرا کی گھاس کو کوئی پیدا کرتا ہے یا یہ کہ گھاس صحرا میں خود بخود اگتی ہے کیا چیونٹی اور پسو کو کوی خلق کرتا ہے کیا ایسا نہیں ہے کہ یہ مخلوقات خود بخود وجود میں آتی ہیں اے وہ شخص جو عالم ہونے کا دعوی کر رہاہے اور کہت اہے کہ تو مسلمانوں کے پیغمبر کا جانشین ہے میں تجھ سے کہتا ہوں کہ جتنے افسانے لوگوں کے من گھڑت ہیں ان میں سے سب سے گھسا پٹا اور خیالی افسانہ ایک ان دیکھے خدا کی موجودگی کا ہے اگر دوسرے افسانے من گھڑت ہیں تو ان افسانوں میں انسانی زندگی کی شبیہہ ہوتی ہے اور جو کردار ان انسانوں میں ہوتے ہیں اگرچہ ان کا وجود نہیں ہوتا لیکن ان کے اعمال انسانوں کے اعمال کی مانند ہوتے ہیں انسان جو دکھائی دیتے باتیں کرتے ‘ غذا کھاتے ‘ عشق لڑاتے اور سوتے ہیں انسان جس وقت ایک خیالی افسانے کو سنتا ہے تو اگرچہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ افسانہ بے بنیاد ہے لین اسے سنتے ہوئے لذت اٹھاتا ہے کیونکہ وہ افسانے میں اپنے آپ یا اپنی طرح کے مردوں اور عورتوں کو دیکھتا ہے اور جانتا ہے کہ اگرچہ وہ مرد اور عورتیں موجود نہیں لیکن ان کی طرح کے لوگ موجود ہیں جو کوئی کسی افسنے کو سنتا ہے اس پر اسے یقین نہیں آتا لیکن اس کی عقل اسے کہتی ہے کہ ان عورتوں اور مردوں کا وجود جن کا نما افسانے میں لیا گیا ہے ممکن ہے وہ موجود ہوں لیکن انسانی عقل جس کے بارے میں ہم نے کہا کہ پانچ ظاہری حواس سے وابستہ ہے وہ ایسے خدا کو جس کے بارے میں آپ بات کرتے ہیں تسلیم نہیں کرتی چونکہ عقل کسی ایسے وجود کو تسلیم نہیں کر سکتی جو نہ تو دیکھا جا سکے اور نہ اس کی آواز سنائی دے نہ اسے سونگھا جا سکے اور نہ اسے لمس کیا جا سکے اور نہ اسے چکھا جا سکے پیغمبر جو آپ سے پہلے گذر چکے ہیں اور ان کے بعد آپ نے لوگوں کو ایک لا موجود خدا کے بارے میں فریب دیا ہے جس کا وجود اپ کی ذہنی اختراع ہے اور آپ کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا وہ ہر چیز کو دیکھتا ہے لیکن کوئی اسے دیکھ نہیں سکتا آخر ایک ایسا خدا جس کا جسم نہیں ہے کہ اس کی آں کھیں ہوں تاکہ لوگوں کو دیکھے اس کی زبان ہوتا کہ وہ کلام کرے اور وہ جو جسمانی وجود نہیں رکھتا کیسے کسی چیز کو تخلیق کر سکتا ہے ؟ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ آپ سے فریب کھاتے ہیں اور یقین کر لیتے ہیں کہ خدا موجود ہے جو دیکھ نہیں جا سکتا ہیلیکن میں آپ کے فریب میں نہیں آتا اور ایسے افسانے کو جو ایسے خدا کے بارے میں جو دکھائی نہیں دیتا اسے قبول نہیں کرتا میں ایک ایسے خدا کی عبدات کروں گاجس میں اپنی دو آنکھوں سے دیکھ سکوں اور دو کانوں سے سن سکوں اور اگر اس کی آواز نہ ہو تو اسے اپنے دو ہاتھوں سے چھو سکوں ۔

میں ایک ایسے خدا کی جو لکڑی یا پتھر کا بنا ہوا ہو اس کی عبادت کروں گا کیونکہ اس کو میں دیکھ سکتا ہوں اور اپنے دونوں ہاتھوں میں لمس کر سکتا ہوں آپ کہتے ہیں کہ چونکہ خود میں نے لکڑی سے خدا کو تراشا ہے اور اسے وجود میں لانے والا میں ہوں لہذا زیب نہیں دیتا کہ میں اس کی پوجا کروں کیا یہ نہ دکھائی دینے والے خدا آپ جس کی عبادت کیلئے لوگوں کو وصیت کرتے ہیں آپ کی اپنی طرف سے اور اپ کے تخیل کی پیدوار کی بدولت وجود میں نہیں آیا ہے میں اور آپ دونوں اپنے خداؤں کو وجود مین لائے ہوئے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ میرا خدا دیکھا ئی دیت اہے اور اسے لمس کیا جا سکتا ہے جب کہ آپ کا خدا نہ تو دکھای دیتا ہیا ور نہ ہی اسکو لمس کیا جا سکتا ہے چونکہ میں افسانے کی پیروی نہیں کرتا لہذا جب سے میں نے اپنے خدا تیار کیا ہے اس وقت سے میں نے اس کی پوجا شروع کر دی ہے میں یہ نہیں کہتا کہ اس نے اس کائنات کو اور مجھے بنایا ہے لیکن آپ چونکہ ایک موہوم خدا کو وجود میں لائے ہیں اور اس کائنات اور بنی نوع انسان وجود میں نہ آتے جو کچھ ہے وہ خدا کی طرف سے وجودمیں آیا ہے میں چونکہ افسانے کا قائل نہیں ہوں لہذا میں نہیں کہت اکہ جس خدا کو میں نے خود بنایا ہے اس نے کائنات اور بنی نوع انسان کو تخلیق کیا ہے لیکن چونکہ آپ افسانے کے معتقد ہیں لہذا آپ نے اپنے خدا کو بنانے کے بعد یہ کہہ دیا ہے کہ اس نے کئانات اور بنی نوعی انسان کو تخلیق کیا ہے آپ اس افسانے کے ذریعے کیوں لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں لوگوں کو حقیقت نہیں پوچھنے دیتے اس بات ک کی کوئی ضرورت نہیں کہ کئانات اور بنی نوعی انسان خدا کے تخلیق کیئے ہوئے ہیں کائنات اور بنی نوعی انسان خود بخود وجود میں آئے ہیں اور یہ ہم ہیں جو اپنے خد کو وجود میں التے ہیں خالق ہم ہیں نہ خدا میں اپنے خدا کو اپنے ہاتھوں سے تراشتا ہوں اور وجود میں لاتا ہوں جبکہ آپ اپنے خدا کو اپنے وہم و گمان کے ذریعے وجود میں لاتے ہیں اس دوران جبکہ ابو شاکر یہ گفتگو کر رہا تھا ایک بار بھی جعفر صادق (علیہ السلام ) نے اس کی قطع کلامی نہیں کی جو شاگرد اس مجلس میں بیٹھے تھے انہوں نے کچھ کہنا چاہا لیکن جعفر صادق (علیہ السلام ) نے اشارے سے انہیں منع کر دیا جب ابو شاکر کی بات ختم ہو چکی تو اس کے بعد جعفر صادق (علیہ السلام ) نے بات کرنے کیلئے چند سیکنڈوں تک ہونٹ نہیں ہلائے وہ اس بات کے منتظر تھے کہ ابو شاکر بات کرے اس کے بعد آپ نے ابو شاکر سے پوچھا کہ کیا اس کی گفتگو ختم ہو چکی ہے اور تو کچھ نہیں کہنا چاہتا ابو شاکر نے کہا کہ میری آخری بات یہ ہے کہ آ پ نے ان دیکھے خدا کو لوگوں سے اس لیے متعارف کرایا ہے تاکہ آپ اس کے ذریعے اثرو رسوخ پیدا کریں اور دولت مند بنیں اور آپ کی زندگی خوشحال گذرے بس یہ میری آخری بات تھی اس کے بعد میں کچھ نہیں کہتا جعفر صادق (علیہ السلام ) نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ تمہاری گفتگو ختم ہو چکی ہے لہذا میں تمہیں جواب دیتا ہوں اور اس جواب کو تمہاری گفتگو کے آخری حصے سے شروع کرتا ہوں تم نے کہا ہے کہ میں اس لئے لوگوں کو خدا پرستی کی طرف دعوت کرتا ہوں تاکہ انہیں فریب دے کر اثرو رسوخ پیدا کروں اور زندگی کو آرام سے گزاروں اگر میری حالت خلیفہ جیسی ہوتی تو تیری یہ تہمت شاید مناسب نظر آتی۔ لیکن تم نے آج یہاں پر میری روزمرہ کی غذا دیکھی ہے اور مشاہدہ کیا ہے کہ میں کتنے لقمے سوکھی روٹی کھاتا ہوں اور تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ آج رات میرے گھر آؤ اور مشاہدہ کرو کہ میری شام کی غذا کیا ہے اور میرے گھر میں کس قدر سامان ہے ؟ اے ابو شاکر اگر میں دولت جمع کرنے والا ہوتا اور تمہارے بقول زندگی کو آرام سے گزارتا تو ضروری نہ تھا کہ میں خدا پرستی کی تبلیغ کے ذریعے دولت کے حصول کی تگ و دو کرتا اور آرام سے زندگی گزارتا میں کیمیا دانی کے ذریعے دولت مند بن سکتا تھا اور اگر اس ذری ۳ عے دولت حاصل نہ کرنا چاہتو تجارت کیذریعے دولت حاصل کر سکتا تھا کیونکہ دوسرے ممالک کے بارے میں میری معلومات تاجروں سے زیادہ ہیں اور میں جانتا ہوں کہ کون سے ملک میں کس قسم کا سامان تیار ہوتا ہے اور کون سی اقسام کا سامنا دوسرے ممالک لے کے جانا فائدہ مند ہے اس شہر کے تاجروں سے پوچھو کہ اصفہان ترکی اور کیلیکی میں کون سا سامان تیار ہوتا ہے جس کا خریدنا انکے لئے سود مند ہے میرا خیال ہے وہ تمہیں جواب نہیں دے سکتے کیونکہ یہاں کے تاجر صرف شام ‘ مصر ‘ الجزائر اور بین النہرین میں تیار کئے جانے والے سامان سے واقف ہیں اور دوسرے ممالک کے سامان ‘ جسے جزیرہ العرب میں لانا فائدہ مند ہے اس کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں رکھتے لیکن میں جانتا ہوں کہ غیر ممالک میں کون سا سامان موجود ہے جسے لاکر فروخت کیا جائے تو خاطرہ خواہ منافع ہوتا ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ اس سامان کو کس راستے سے لایا جائے کہ سامان لانے کا خرچہ کم سے کم آئے ۔

اے ابو شاکر تو نے کہا ہے کہ میں خدا پرستی کی تبلیغ کے ذریعے لوگوں کو فریب دیکر مال و دولت حاصل کرنا چاہتا ہوں تیرے جواب میں میں کہتا ہوں کہ جب سے میں نے لوگوں کو خدا پرستی کی تبلیغ شروع کی ہے اس دن سے لے کر آج تک میں نے کسی سے چھوٹے چھوٹے تحفوں کے سوا وہ بھی پھل وغیرہ کے علاوہ کوئی چیز حاصل نہیں کی ۔ جیسا خزاں کے موسم میں کھجوریں پکتی ہیں تو میرا ایک دوست اپنے باغ سے کھجوریں چن کر اور ایک کریٹ میں ڈال کر اپنے نو کر کے ذریعے مجھے بھیجتا ہے اور میں یہ تحفہ اس لئے قبول کرتا ہوں کہ میرا دوست خفا نہ ہو ۔ میرا ایک اور دوست جس کا طائف میں اناروں کا باغ ہے جس موسوم خزاں میں انار پکتے ہیں تو ان میں سیکچھ وہ کریٹ میں ڈال کر مدینے آنے والے کارواں کے ذریعے میرے لیے بھیجتا ہے اور میں ان اناروں کو صرف اس لئے قبول کرتا ہوں کہ میرا دوست مجھ سے خفا نہ ہو اور اے ابو شاکر تو اس بات کی تصدیق کرے گا کہ کوئی شخص ایک عرصے تک اس لیے لوگوں کو تبلیغ نہیں کرتا کہ اس کے بدلے میں اسے سال میں ایک دفعہ انار کے چند دانے اور کچھ کھجوریں حاصل ہوں ۔ اے ابو شاکر میں نے سنا ہے تیرا باپ موتیوں کو پہچانتا تھا ۔ اگر تو موتی شناس ہے تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں ہر قسم کے ہیرے اور جواہر کی شناخت رکھتا ہوں کوی ایسا موتی نہیں ہے جسے میں نہیں پہچانتا اوراس کی قیمت نہیں لگا سکتا اگر میں مال و دولت جمع کرنے کا خواہش مند ہوتا تو ضروری نہیں تھا کہ لوگوں کو خدا پرست کے راستے کی طرف دعوت دینے کے ذریعے ہی مال و دولت اکھٹی کرتا ۔ بلکہ میں جواہر کا کاروبار کرکیبھی امیر بن سکتا تھا ۔ اس بات کے پیش نظر کہ تمہارا باپ موتیوں کا تاجر تھا کیا تم جانتے ہو کہ یاقوت کتنی قسم کے ہیں ؟ ابو شاکر نے نفی میں جواب دیا ۔ حضرت جعفر صادق (علیہ السلام ) نے پوچھا کیا تمہیں معلوم ہے کہ الماس کتنی قسم کے ہیں ؟ اور کیا تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ الماس کے کتنے رنگ ہوتے ہیں ؟ ابو شاکر نے جواب دیا کہ مجھے الماس کی قسموں کیبارے میں کوئی علم نہیں جعفر صادق (علیہ السلام ) نے کہا میں الماس کی انواع و اقسام سے واقف ہو اور ہر قسم کی قیمت بھی مجھے معلوم ہے حالانکہ میں نے جواہر کی تجارت نہیں کی اور جواہر کی اقسام کے بارے میں میری معلومات میرے علم کی رو سے ہیں اور موت بیچنے والے مختلف اقسام کے موتی بیچتے ہیں لیکن انہیں یہ معلوم نہیں کہ یہ موتی کہاں سیآئے ہیں ؟ کیا تو جانتا ہے کہ الماس کی چمک کس وجہ سے ہے ؟ ابو شاکر بولا نہ میں الماس کا تاجر تھا اور نہ میرا باپ کہ مجھے الماس کی چمک کے باریمیں علم ہو ۔ جعفر صادق (علیہ السلام ) نے کہا ہیرے کی چمک اس کی تراش خراش کی وجہ سے ہے اور تجھے معلوم ہے کہ ہیرا کیسے حاصل کیا جاتا ہے ؟ ابو شاکر نے نفی میں جواب دیا جعفر صادق (علیہ السلام ) نے کاہ ہیرا دریاؤں اور ندیوں کی تہوں سے حاصل ہوتا ہے اور جب اسے حاصل کرتے ہیں توتراشنے کیلئے ماہرین کے حوالے کر دیتے ہیں جب وہ تراشنیکے بعد تیار ہو جاتا ہے تو اس میں چمک پیدا ہو جاتی ہے اور ہیرا تراشنے والے ماہرین بچپن سیباپ یا بھائی یا اپنے عزیزوں میں سے کسی ایک کے زیر سایہ تربیت حاصل کرتے ہیں اور ہیرا تراشنے کے رازوں سے آگاہی حاصل کرتے ہیں ہیرے کا تراشنا ایک دقت طلب اور دشوار کام ہے اور اسے ہیریکے علاوہ کسی دوسری چیز سے نہیں تراشا جا سکتا یہ باتیں میں نے تمہیں اس لیے بتائی ہیں کہ اگر میں دولت مند بننا چاہتا تو جواہر کا تاجر بن جاتا اور چونکہ مجھے علم کے ذریعے جواہر کی شناخت ہے لہذا نہایت ہی قلیل عرصے میں جواہر فروشی کے ذریعے دولت مند بن جاتا اب میں تمہارے اعتراض کے دوسرے حصے کیطرف آتا ہوں جو تمہارا اصلی اعتراض ہے تو نے کہا ہے کہ میں افسانے سرائی کرتا ہوں اور لوگوں کو ایسے خدا کی عبادت کی طرف دعوت دیتا ہوں جو دکھائی نہیں دیتا ۔ اے ابو شاکر تو جو ان دیکھے خدا کا منکر ہے کیا اپنے اندر دیکھ سکتا ہے ؟ ابو شاکر نے کہا نہیں جعفر صادق (علیہ السلام ) نے اظہار خیال فرمایا کہ جب تو اپنے اندر نہیں دیکھ سکتا تو تجھے یہ نہیں کہنا چاہیے تھا کہ ان دیکھے خدا کی موجودگی ایک افسانے سے زیادہ کچھ نہیں البتہ اگر تو اپنے اندر دیکھ سکتا تو پھر تو ان دیکھے خدا کے وجود کو ایک افسانہ قرار دے سکتا تھا ابو شاکر بولا اپنے اندر دیکھنے کا ایک ایسے غیر موجود خدا کی عبادت سے کیا تعلق ہے ؟جعفر صادق (علیہ السلام ) نے کاہ تو کہتا ہے جو چیز دکھائی نہ دے اور اس کی آوز سنی نہ جا سکے اور اسے چھوا نہ جا سکے یا اسے سونگھا یا چکھا نہ جا سکے تو ایسا وجود عبادت کے لائق نہیں ۔ ابو شاکر نے کہا اسی طرح ہے جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا کیا تو اپنے جس میں کون کی حرکت کی آواز سنتا ہے ؟ ابو شاکر بولا میں اس کی آواز نہیں سنتا کیا جس میں خون حرکت کر رہا ہے ؟ جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا ہاں اور کای تو اپنے جس میں کون کی بو سونگھ سکتا ہے ؟

ابو شاکر نے کہا نہیں ‘ جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا اے ابو شاکر خون تمہارے سارے جسم میں چند منٹوں میں ایک مرتبہ گردش مکمل کر لیتا ہے اور اگر خون کی یہ حرکت جسم میں چند منٹوں کیلئے رک جائے تو تو مر جائے گا اور کیا آج تک تم نے اپنے جسم میں خون کی گردش دیکھی ہے ؟ ابو شاکر نے کہا نہیں اور میں اسے تسلیم نہیں کر سکتا کہ خون جسم میں متحرک ہے ۔ جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا جو چیز تجھے اس بات کو قبول کرنے میں مانع ہے کہ خون انسانی نسوں میں حرکت کر رہا ہے وہ تمہاری جہالت ہے اور یہی جہالت ان دیکھے واحد خدا کو تسلیم میں بھی مانع ہے کیا تو اس مخلوقات سے مطلع ہیجو خدا وند تعالی نے تمہارے جسم میں تخلیق کرکے کام پر لگا دی ہے جس کی وجہ سے تم زندہ ہو؟

ابو شاکر بولا نہیں ‘جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا چونکہ تم اپنے مشاہدات پر تکیہ کرتے ہو اور جو کچھ تمہیں نظر نہیں آتا اسکے بارے میں کہتے ہو کہ اس کا وجود نہیں ہے حالانکہ تم اسے دیکھ نہیں پائے اگر تم اپنے جہالت کو کم کرنے کیلئے علم کی جستجو کرتے تو تمہیں پتہ چلتا کہ تمہارے جسم میں اس قدر زندہ مخلوقات ہیں جن کی تعداد بیابان کی ریت کے ذرات جتنیہے اور وہ تمہارے جسمانی ڈھانچے کے اندر وجود میں آتے اور بڑھتے رہتے ہیں اور ان سے مزید تولید ہوئی ہے اور ایک عرصے کے بعد وہ ختم ہو جاتے ہیں لیکن تم نہ ان کو دیکھ سکتے ہو اور نہ ان کی آواز سن سکتے ہو اور نہ ہی انہیں چھو سکتے ہو اور نہ ان کی بو سونگھ سکتے ہو اور نہ ہی تمہیں اس بات کا علم ہے کہ ان کا ذائقہ کیسا ہے اے ابو شاکر جان لو تمہارے اندر موجود جاندار جو تمہارے ڈھانچے کے اندر زندگی بسر کر رہے ہیں اور پھر مر جاتے ہیں ان کی تعداد اس دنیا کے تمام انسانوں کی تعداد سے زیادہ ہے بلکہ بیابان کی ریت کے ذرات سے بھی زیادہ ہے یہ وجود میں آتے ‘ پھلتے پھولتے اور مر جاتے ہیں تاکہ تم زندہ رہو اور اگر یہ جاندار مخلوق جسے خدا نے تمہارے اندر کام پر لگا رکھا ہے اپنا کام چھوڑ دیں تو تم مر جاؤ گے ۔ لیکن چونکہ تم جاہل ہو لہذا ان کے وجود کا انکار کرتے ہو اور کہتے ہو چونکہ میں انہیں نہیں دیکھتا اور ان کی آواز نہیں سن سکتا لہذا میں یہ تسلیم نہیں کرتا کہ وہ موجود ہیں تمہارا خیال ہے کہ جو چیز تمہیں اپنے ڈھانچے کے اندر موجود اس جاندار مخلوق کا انکار کرنے پر اکساتی ہے وہ تمہاری عقل و فہم و فراست کی قوت ہے جبکہ در حقیقت وہ بے عقلی اور نا سمجھی ہے یہ تمہاری جہالت اور نا فہمی ہے جو تمہیں اپنے جسم میں خون کی حرکت اور تمہارے ڈھانچے کے اندر موجود جانداروں کے انکار پر مائل کرتی ہے اور افسوس کیبات ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ ہیں جنکی آں کھیں ہیں لیکن دیکھتے نہیں اور جنکے کان تو ہیں لیکن سنتے نہیں اور اپنی جہالت کو علم اور بے عقلی کو عقل خیال کرتے ہیں ۔

یہ کیوں کہا گیا ہے کہ جس نے اپنے آپ پو پہچان لیا اس نے خدا کو پہچان لیا۔

اے ابو شاکر اگر تو اپنی آپ کو پہچان لیتا اور جان جاتا کہ تمہارے جسم کے اندر کیا وقوع پذیر ہو رہا ہے اور تمہارے وجود کے اندر کس قدر جاندار مخلوق پیدا ہوتی ‘ بڑھتی اور مر جاتی ہیں تاکہ تم زندہ رہو ‘ تم ہر گز یہ نہ کہتے کہ چونکہ میں خدا کو نہیں دیکھ رہا اسکی آواز نہیں سن رہا اور نہ ہی اسے لمس کر رہا ہوں لہذا میں اسکے وجود کو قبول نہیں کرتا اور خدائے واحد اور ان دیکھے کو افسانہ سمجھتا ہوں ۔

اے ابو شاکر تو اس پتھر کو دیکھ رہا ہے جو اس ایوان کے ستون میں جڑا ہوا ہے تمہارا خیال ہے کہ یہ پتھر ساکن ہے چونکہ تمہاری آنکھ اسکی حرکت کو نہیں دیکھ رہی ‘ اور اگر تمہیں کوئی کہے کہ اپنے اندر سے اس قدر متحرک ہے کہ ہم جو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں ہم اسکی نسبت ساکن ہیں تو تو اسکے کہے کو تسلیم نہیں کرو گے اور کہو گے کہ وہ افسانہ سرائی کر رہا ہے اور اس طرح تم اپنے آپ کو عقل مند شمار کرتے ہو کیونکہ افسایکو تسلیم نہیں کرتے اور اس بات سے غافل ہو کہ تم اپنی نادانی کی وجہ سے اس پتھر کی اندرون حرکت کو نہیں سمجھ سکتے اور شاید وہ دن آیے جب لوگ اپنی عقلمندی کی وجہ سے پتھر کے اندر موجود حرکت کو دیکھ سکیں ۔

ابو شاکر تم نے کہا ہے کہ جو کچھ اس دنیا میں وجود میں آتا ہے خودبخود وجود میں آتا ہی اور اس کا خالق کوئی نہیں تمہارا کہنا ہے کہ گھاس صحرا میں خود بخود سبز ہوتی ہے اور کوئی اسے نہیں اگاتا ۔ لیکن تم نے یہ خیال نہیں کیا کہ جب تک صحرا میں گھاس کا بیج نہ ہو گھاس نہیں اگتی اور جب گھاس کا بیج زمین پر گرے تو جب تک بار ش زمین کو نم نہ کردے وہ نہیں اگے گی اور بارش خود بخود نہیں برستی بلکہ زمین سے اٹھنے والے بخارات جو بادل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور برستے ہیں وہ بھی ہر وقت نہیں بلکہ خاص خاص موسموں میں برستے اور زمین کو نم کرتے ہیں تاکہ گھاس کا بیج نم مٹی میں اگ آئے اور سبز ہو جائے اور پھر اس کی جڑیں نکل آییں جبکہ اسکے برعکس دوسری صورت میں صحرا میں کسی قسم کی گھاس نہیں اگ سکتی تم دس اقسام کے گھاس کا بیج ایک بند برتن میں رکھ دو اور اس برتن میں پانی بھی ڈال دو اور پھر مشاہدہ کرو کہ اسکی جڑیں نکلتی ہیں یا نہیں ؟ کیونکہ صحرا یا دوسری جگہ پر گھاس کو سبزی ہونے کیلئے صرف نمی کافی نہیں ہے بلکہ ہوا کی بھی ضرورت ہے اور ہوا میں ایسا اثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے درخت اگتا اور پھلتا پھولتا ہے ۔

اے ابو شاکر سرد علاقوں میں سردیوں کے موسم کی شدید سردی میں گھاس کو گرم خانوں میں اگایا جا سکتا ہے بشرطیکہ ہوا موجود ہو اور سرد علاقوں میں مختلف اقسام کے پھل پیدا کئے جاتے ہیں لیکن یہ پھل گرم خانوں میں ہوا کے بغیر نہیں حاصل ہو سکتے اور اگر ہوا نہ ہو تو نہ صحرا میں گھاس اگتی ہے اور نہ گرم خانے میں پھل اور نہ ہی انسان اور جانور باقی رہ سکتے ہیں ۔ اے ابو شاکر اس کے باوجود کہ ہوا تمہاری اور انسانوں کی زندگی کا ذریعہ ہے ‘ تم اسے نہیں دیکھ پاتے اور صرف اس وقت جب ہوا چلتی ہے تو تمہیں اس کے وجود کا احساس ہوتا ہے کیا تم ہوا کے وجود کا انکار کر سکتے ہو ؟ کیا تم اس بات کا انکار کر سکتے ہو ؟ کہ صحرا میں گھاس کے اگنے کیلئے خاک ‘ ہوا ‘ بارش اور متعلقہ موسم کا ہونا ضروریہے تاکہ گھاس اگے اور ایک ایس قوت کا ہونا بھی ضروری ہے جو ان تمام عوامل کو باہم یکجا کرے اور وہ قوت خداوند تعالی کی ہے اگر تم اہل علم ہوتے تو تمہیں پتہ چلتا کہ حکمت کسی ایسی چیز کے خود بخود وجود میں آنے کو تسلیم نہیں کرتی اور ہر چیز کے وجود میں آنے کیلئے اس کے خالق کا ہونا ضروری ہے خواہ و جمادات ہوں یا نباتات یا جانور ہوں کہ انسان بھی جانوروں کے زمرے میں شامل ہے اگر تم عالم ہوتے تو تمہیں معلوم ہوتا کہ متعدد مکاتب کے حکما میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں گزرا جو خالق کا معتقد نہ ہو ۔

بعض اوقات یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بعض حکماء خالق کے معتقد بنے تھے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خالق کو اللہ کے نام سے علاوہ کسی اور نام سے پکارتے تھے ورنہ حتیکہ وہ لوگ جو مطلقا خدا کی نفی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ خالق کا وجود نہیں ہے پھربھی وہ اپنی حکمت میں کسی مبداء کے معتقد تھے اور وہ اپنے اس مبدا کے عقیدے سے بے نیاز نہیں ہو سکتے تھے اے ابو شاکر خالق کا انکار کرنا جہالت ہے نہ کہ دانش مندی ایک عقل مند انسان اگر صرف چند منٹوں کیلئے جسم کے نظام پر غور کرے تو وہ سمجھ جاتا ہے کہ اس متوازن اور دائمی نظام کا کوئی ناظم بھی ہے اور جس نے اس دنیا کو خلق کیا ہے وہی اس کا ناظم بھی ہے اور کوئی چیز دنیا کے نظام کو درھم برھم نہیں کر سکتی سوائے دنیا کے ناظم کے اے ابو شاکر تو نے مجھ سے کہا ہے کہ تم اور میں دونوں اپنے خدا کو بناتے ہیں اور تیرے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا خدا خود ہمارے ہاتھوں وجود میں آتا ہے اس فرق کے ساتھ کہ تو اپنے خدا کو ترکھان کے اوزار یا لکڑی یا پتھر توڑنے والے آلے کی مد د سے پتھر تراش کر اور میں اپنے خدا کو اپنے تخیل سے وجودمیں لاتا ہوں ۔ تمہارے خدا اور میرے خدا میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ جب تو ترکھان کے اوزار یا سنگ تراشی کے آلات ہاتھ میں لیتا ہے اور کام شروع کرتا ہے تو اس وقت تمہارا خدا موجود نہیں ہوتا لیکن میرا خدا میرے سوچنے سے بھی موجود ہوتا ہے میں نے اپنے خدا کو خود تیار نہیں کیا اور نہ ہی اسے اپنی سوچ کے کے نتیجے میں وجود میں لایا ہوں تمہارا خدا تمہارے بقول تمہارے ہاتھوں کا بنایا ہوا ہے اور اس کو بنانے کے لئے لکڑی یا پتھر کی ضرورت ہے میرا خدا میرے تخیل کی پیدوار نہیں ہے کیونکہ وہ میرے سوچنے سے پہلے ہی سے موجود تھا جو کچھ میں نے کہا اور کرتا ہوں وہ اپنی سوچ کے ذریعے خدا کی بہتر معرفت حاصل کرنا اور اسکی عظمت پر غور و فکر کرنا ہے۔

(علیہ السلام ) جس وقت تم جنگ کی طرف جاتے ہو اور ایک پہاڑ کو دیکھتے ہو اور اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کرتے ہو تو کیا میں کہہ سکتا ہوں کہ تم نے اسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے یا اپنے غور و فکر سے ایجاد کیا ہے ۔

پہاڑ تم سے پہلے بھی تھا اور تمہارے بعد بھی رہے گا جو کچھ تمہیں کرنا ہے وہ یہ ہے کہ اس کو اچھی طرح پہچانو اور یہ پہچان بھی معرفت کی حد تک محدود ہے تم پہاڑ کو اچھی طرح نہیں پہچان سکتے کیونکہ تمہاری دانائی اتنی نہیں ہے کہ تم پہاڑ کے مبداء کی شناخت کر سکو اور یہ جان سکو کہ پہاڑ کی انتہا کس وقت ہو گی اور یہ کس چیز سے بنا ہے اس کے جوف میں یا س کی گہرائی میں کون کون سی دھاتیں موجود ہیں اور وہ دھاتیں زمین سے نکالی جائیں تو انسان کو کیا کیا فائدے پہنچا سکتی ہیں ۔

تمہیں معلوم نہیں کہ پہاڑ میں موجود پتھر کس وقت اور کیسے وجود میں آئے اگر تم دانا ہوتے تو ہرگز نہ کہتیکہ بت جو تمہارا خدا ہے اسے تم وجود میں لاتے ہو ۔ چونکہوہلکڑی یا پتھر جس سے تم بت بنا رہے ہو یا تراش رہے ہو اسے تم وجود میں نہیں لائے ۔

کیا تم جانتے ہو کہ جس پتھر کو تم تراشے اور بت کی شکل دیتے ہو وہ ہزاروں سال پہلے سے موجود ہے اور تمہارے بعد بھی موجود رہے گا ‘ اور کیا تجھے معلوم ہے کہ جس پتھر سے تم بت تراشتے ہو وہ بہت دور دراز کی دنیا سے آیا ہے کیونکہ زمین کے مختلف حصے مسلسل حرکت کر رہے ہیں لیکن چونکہ ان کی حرکت سست ہے ہم اسے دیکھ نہیں سکتے اور اگر تم ایک عقلمند انسان ہوتے اور خدا کے معتقد ہوتے تو تمہیں پتہ چل جاتا کہ اس دنیا میں کوئی بھی ایسا چیز نہیں جو متحرک نہ ہو یعنی دنیا میں جمودبے معنی ہے اور ہماری زندگی میں بھی جمود بے معنی ہے کیونکہ ہم کسیحال میں بھی ساکن نہیں حتی کہ سوتے ہوئے بھی سوتے میں ہم زمین کی حرکت کے ساتھ حرکت کرتے ہیں اور یہ حرکت ہمارے اندر موجود حرکات کے علاوہ ہے ۔ اے ابو شاکر میں اس سے کہیں چھوٹا ہوں کہ اپنے خدا کو اپنے تخیل میں لا سکوں یہ وہ ہے جو میرے شعور کو وجود میں لایا ہے تاکہ میں اس کی مدد سے اسے اچھی طرح پہچان سکوں ور میرا یہ شعور میرے مرنے کے بعد ختم ہو جائے گا لیکن اس کی ذات باقی رہے گی ۔ اے ابو شاکر جان لو ختم ہونے سے رہے گا کیونکہ صرف خدا کے علاوہ اس دنیا میں موجود تمام چیزوں میں تبدیلی وقوع پذیر ہوتی ہے اے ابو شاکر اگر تو اس پتھر کے ٹکڑے کو جس سے تو بت تراشتا ہے پہچان لے تو اتنی آسانی سے خدا کے وجود کا انکار نہیں کر سکتا اور ہر گز یہ نہ کہتا کہ میرا خدا میرے تخیل کی پیدوار ہے تم چونکہ پتھر کو نہیں پہچانتے لہذا خیال کرتے ہو کہ پتھر تمہارے ہاتھوں کامطلع ہے اورتم اسے جس شکل میں چاہو تراش سکتے ہو ایسا اس لئے ہے کہ جب اس کے مبداء کی شناخت نہ ہو سکتی تھی اس وقت خداوند تعالی پتھر کو ایک مائع سے وجد میں لایا تاکہ تم اسے تراش سکو وگرنہ تمہارے ہاتھوں میں شیشے کی مانند چکنا چور ہو جاتا ۔

ابو شاکر نے پوچھا کیا پتھر کو مائع سے بنایا گیاہے ؟ جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا ہاں ابو شاکر وہ قہقہہ لگا کر ہنسنے لگا اس پر جعفر صادق (علیہ السلام ) کا ایک شاگرد طیش میں آ گیا لیکن جعفر صادق (علیہ السلام ) نے اسے کوئی قدم اٹھانے سے منع کر دیا اور کہا اسے ہنسنے دو ۔

ابو شاکر نے کہا میں اس لئے ہنس رہا ہوں کہ تمہارے بقول اتنا سخت پتھر پانی سے بنایا گیا ہے جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا میں نے یہ نہیں کہا کہ پانی سے بنایا گیا ہے بلکہ میں نے کہا ہے کہ یہ شروع میں مائع حالت میں تھا ابو شاکر بولا ‘ مائع اور پانی ایک ہی تو ہیں جعفر صادق (علیہ السلام ) نے نہایت بردباری سے جواب دیا کہ بعض چیزیں ایسی ہیں جو مائع ہیں لیکن پانی نہیں ہیں یا خالص پانی نہیں ہیں دودھ مائع ہے لیکن پانی نہیں ہے اور سرکہ مائع ہے لیکن کوئی اسے پانی نہیں سمجھتا لیکن ان دونوں میں پانی کی مقدار موجود ہے ۔

پتھر بھی شروع میں مائع تھا لیکن پانی نہیں بلکہ رطوبت کی شکل میں تھا اور سیال تھا اس سے کافی مقدار میں حرارت نکل رہی تھی اور خدا کی قدرت سے اس مائع سے آہستہ آہستہ کافی تعداد میں حرارت خارج ہونے لگی اور اس قدر ٹھنڈا پڑ گیا کہ اس کی شکل جامد بن گئی اور تم آج اس سے بت تراش سکتے ہو لیکن یہی پتھر جو جامد حالت میں ہے اگر اسے زیادہ حرارت پہچائی جائے تو مائع صورت اختیار کر لے گا ۔ابو شاکر بولا میں جونہی گھر جاؤں گا پتھر کو آگ میں ڈال کر دیکھوں گا کہ آپ کا فرمان صحیح ہے اور پتھر مائع شکل اختیار کر لیتا ہے یا نہیں ؟

جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا؟ تمہاری انگیٹھی کی حرارت پتھر کو نہیں پگھلا سکتی کیا تم اپنی انگیھٹی کی حرارت سے لوہے کے ایک ٹکڑیکو پگھلا سکتے ہو ۔ ابو شاکر نے نفی میں جواب دیا جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا پتھر کو پگھلانے کیلئے ایک بھٹی درکار ہے اور اس بھٹی میں کافی مقدار میں ایندھن ایک لمبی مدت تک جلایا جائے تاکہ بھٹی خوب گرم ہو جائے تو اس وقت پتھر مائع حالت میں تبدیل ہو جائے گا میں تم سے یہ کہنا چاہتا تھا کہ تم جب ایک بت کو تراشتے ہو تو خیال کرتے ہو کہ تم نے اسے تراشا ہے حالانکہ خداوند تعالی کا پیدا کیا ہوا ہے یہ اس کی ذات ہے جس نے پتھر کو مائع حالت سے جامد حالت میں تبدیل کر دیاہے کہ تیری تراش سے وہ ریزہ ریزہ نہیں ہوتا اور اگر شیشے کی مانند ہوتا تو ہر گز اس کو تراش کو بت نہ بنا سکتا ۔

یہ خداوند تعالی ہے جس نے تجھے پیدا کیا ور تجھے ہاتھ دیئیاور تمہاری انگلیاں اس طرح بنائیں کہ تم اوزاروں کو اپنے ہاتھ میں پکڑ سکتے ہو اور پھر تمہیں شعور عطا کیا تاکہ تم پتھر سے انسانوں یا جانوروں یا دوسری چیزوں کے مجسمے تراش سکو ۔

میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ پتھر کو تراشنے کے مرحلے میں یہ تم ہو جو اپنے خدا کا وجود میں لاتے ہو ۔ لیکن تم اپنے خدا کو وجود میں لانے کیلئے جتنے وسائل استعمال کرتے ہو وہ سب ان دیکھے اور واحد خدا کی طرف سے وجود میں لائے ہوتے ہیں یہاں تک کہپتھر کو تراشنے کیلئے تمجس شعور سے کام لیتے ہو وہ بھی خداوند تعالی کا عطا کیا ہو اہے ۔

اے ابو شاکر یہ شعور خداوند تعالی نے تمہیں عطا کیا ہے اور تم اس شعور کی مدد سے بت تراشتے ہو تاکہ اس کی پوجا کرو ۔ اگر خداوند تعالی تمہیں یہ شعور عطا نہ کرتا تو تم ہر گز ایک بت تراشنے پر توجہ نہ دے سکتے اور اسے اپنا خدا نہ جان سکتے ۔

اے ابو شاکر میں تم سے ایک سوال کرتا ہوں اور تمہارے جواب کا منتظر ہوں کیا تم جب ایک بت تراشتے ہو اور اسے اپنا خدا سمجھتے ہو تو کیا تمہارا عقیدہ ہے کہ پتھر کا وہ ٹکڑا تمہاری حاجات بر لانے کیلئے توانا ہو جائے گا ؟ اور کیا تمہارا خیال ہے کہ جب تم بیمار ہوتے ہو تو پتھر کا وہ ٹکڑا تمہارا علاج کر سکتا ہے ؟ اور اگر متعدی بیماریکی صورت میں کوئی وبا پھوٹ پڑے گی وہ تمہیں اس سے نجات دلا سکے گا ؟ اور اگر بارش نہ ہو تو پتھر کا وہ ٹکڑا خشکی کو دور کرکے بارش برسا کر خشکی کو دور کر سکے گا اور اگر تم کسی کے قصدار بن جاؤ تو وہ تمہاا قرض اتار دے گا ؟ ابو شاکر بولا میں پتھر سے اس قسم کی امید نہیں رکھتا ۔

جعفر صادق (علیہ السلام )نے کہا‘ تو پھر کس سے اس طرح کی امید رکھتے ہو ؟ ابو شاکر نے کہا ‘ میں صحیح طرح سے نہیں بتا سکتا کہ میری یہ امیدیں کس سے وابستہ ہیں لیکن میں محسوس کرتا ہوں کہ پتھر کے اندر کوئی ایسی چیز ہے جو سب کام کر سکتی ہے ۔ جعفر صادق (علیہ السلام ) نے پوچھا کیا پتھر کے اندر پتھر کی جنس سے کوئی چیز ہے ؟ ابو شاکر نے کہا ۔ اگر پتھر کی جنس سے کوی چیز ہو تو وہ کام نہیں اور تمام کام انجام دے سکتا ہے وہ وہی ان دیکھا اور واحد خدا ہے ۔

ابو شاکر سوچ میں پڑ گیا اور چند لمحوں کو کے بعد پوچھنے لگا کیا دکھائی نہ دینے والا واحد خدا پتھر کے اندر موجود ہے ؟

جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا ہر چیز کے اندر اور ہر جگہ موجود ہے ابو شاکر نے کہا ‘ میری عقل اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتی کہ ایک چیز ہر جگہ موجود ہو لیکن دکھائی نہ دے ۔

جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا کیا تمہاری عقل اس بات کو قبول نہیں کرتی کہ ہوا جو دکھائی نہیں دیتی لیکن پھر ہر جگہ موجود ہے ۔

ابو شاکر نے جواب دیا اگرچہ ہوا دکھائی نہیں دیتی لیکن خود آپ کے بقول جب وہ چلتی ہے تو محسوس کی جا سکتی ہے لیکن آپ کا خدا جو دکھائی نہیں دیتا اسے محسوس نہیں کیا جا سکتا ۔

جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا جب ہوا نہیں چلتی تو کیا تم ہوا کو محسوس کر سکتے ہو ؟ابو شاکر نے نفی میں جواب دیا ۔ جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا کیا تو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جو کچھ تو نہیں دیکھ پاتا اور محسوس نہیں کرتا ہر جگہ موجودہے ؟ابو شاکر نے اثبات میں جواب دیا ۔

جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا خدا بھی دکھائی نہ دینے کے لحاظ سے ہر جگہ موجود ہے مثلا جس طرح ہوا موجود ہے لیکن ہوا چونکہ عنصر اور مخلوق ہے لہذا مخلوق اور خالق کے درمیان ماہیت کے لحاظ سے کوئی شباہت نہیں پائی جاتی ۔

اے ابو شاکر وہ شعور جو تجھے ایک پتھر سے بت تراشنے اور اس کی پرستش کیلئے کہتا ہے تو وہ تیرے اپنے بقول تجھے کہتا ہے کہ اس بت سے تجھے کوئی امید وابستہ نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ وہ کسی کام کے کرنے کیصلاحیت نہیں رکھتا بلکہ اس کے اندر ایسی چیز ہے جو تمہاری حاجات بر لا سکتی ہے یہ شعور جو تجھے بت بنانے پر لگاتا ہے گویا اپنی زبان سے تجھے کہتا ہے کہ تو خداوند تعالی کی پرستش کے بغیر زندگی بسر نہیں کر سکتا اور خدا کی پرستش تمہارے لئے ناگزیر ہے ابو شاکر نے کہا میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ میں بت کی پوجا کے بغیر اپنی زندگی جاری نہیں رکھ سکتا ۔

جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا یہ نہ کہو کہ بت کی پوجا کے بغیر بلکہ یہ کہو کہ اس کی پوجا کیلئے جس کی پوجا کیلئے تم بت تراشتے ہو کیا اگر آج تم کسی وجہ سے اس کی پرستش سے باز آ جاؤ تو کیا تم زندگی جاری رکھ سکتے ہو ؟ ابو شاکر بولا نہ ‘ جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا ‘ ہر انسان کیلئے ناگزیر ہے کہ خدا کی پوجا کرے اور اگر خدا کی پوجا نہیں کرے گا تو نہ تو زندگی میں اسے کوئی راہنما ملیگا اور نہ وہ کسی چیز پر تکیہ کر سکے گا اب اگر کوئی خدا کو نہیں پوجتا اس کی مثال ایسی ہے کہ اس نے ایک لمحی میں حواس خمسہ کو ضائع کر دیا ہے وہ نہیں جانتا کہ کہاں جائے ‘ کیا کرے اور کس کا سہا را لے ۔

خداوند تعالی کی پوجا کا موضوع زندگی میں اس قدر ضروری ہے کہ جانوروں کی زندگی میں بھی موجود ہی اور وہ بھی خداوند تعالی کی پرستش سے بے نیاز نہیں ہیں اور اگر ہم ان کی زبان سے واقف ہوتے اور جو کچھ وہ کہتے ہیں اسے سن سکتے تو ہمیں پتہ چلتا کہ وہ بھی خدا کی پوجا کر رہے ہیں ۔

ہم جانوروں سے گفتگو نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ کیا وہ خداوند کے معتقد ہیں یا نہیں ؟ البتہ عقل کی رو سے ہم خود یہ بات آسانی سے سمجھ کستے ہیں کہ جانور بھی خدا کی عبادت کرتے ہیں اور ان کی زندگی میں پایا جانے والا ڈسپلن اسی باتکی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ خدا کی پرستش کرتے ہیں میں یہ نہیں کہتا کہ جانور پرستش کے لحاظ سے ہماری طرح عقیدہ رکھتے ہیں لیکن اس میں مجھے کوئی شک نہیں کہ وہ ایک مبدا کے قواعد کے مطبع ہیں اور ان قواعد کے سختی سے پابند ہیں کیونکہ اگر اس مبدا کے قواعد کے سختی سے پابند نہ ہوتے تو جو نظر اور ترتیب ان کی زندگی میں نظر آ رہی ہے وہ ہر گز نظر نہ آتی ۔

تجھے معلوم ہے کہ بہار آنے پر (پرندہ) مقررہ ہفتے میں آتا ہے اور گاتا ہے اور ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ بہار کے آنے کی خوشخبری سنا رہا ہے ۔

اس مہاجر پرندے کا آنا اس قدر منظم ہے کہا گر سردیوں کے آخری دنوں کی ہوا ٹھنڈی ہو تو وہ ایک ہفتے سے لے کر دس روز آنے میں لگاتا ہے۔

اور اس سے زیادہ دیر نہیں لگاتا اس کے بعد ابابیل آتا ہے اور شاید وہ ہزاروں میل کا راستہ طے کرتا ہے لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ وہ اسی جگہ گھونسلہ بناتا ہے جہاں اس نے گذشتہ بہار میں بنایا تھا ۔ کیا ایک مبدا کی اطاعت اور اس پر عقیدے کے بغیر یہ چھوٹا سا پرندہ اس قدر منظم زندگی گزار سکتا ہے اور جو کام اس نے انجام دینا ہوتا ہے وہ کسی سستی اور دیر کے بغیر مقررہ تاریخ کو انجام دے دیتا ہے اے ابو شاکر حتی کہ درختوں کا بھی خدا پر ایمان ہے اور اپنے شعور سے خداوند تعالی کی پیروی کرتے ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو ان کی زندگی ہر گز اس قدر منظم نہ ہوتی ۔ خداوند تعالی نے درختوں کے جو ایک سو پچاس طبقات بنائے ہین اور ان میں سے ہر طبقے کی کئی کئی اقسام ہیں تم ان میں سے کوئی ایک درخت بھی ایسا نہیں پاؤ گے جس کی زندگی غیر منظم ہو ۔

اے ابو شاکر ‘ درخت بھی میری اور تمہاری طرح اپنے خدا کو نہیں دیکھتے لیکن اپنے شعور کی وجہ سے اس کی پرستش کرتے ہیں اور درخت کی خدا پرستی کی دلیل یہ ہے کہ وہ بغیر کسی تاخیر اور سستی کے خداوند تعالی کے مقرر کردہ قوانین کی اطاعت کرتے ہیں اور اگر درخت کا خدا نہ ہوتا اور وہ اس کی پرستش نہ کرتا تو اس کی زندگی میں یہ منظم روش نہ دیکھی جاتی مجھے معلوم ہے کہ تو اس چیز کو تسلیم نہیں کرتا جو میں کہتا ہوں اور شاید اسے سمجھ بھی نہیں پاتا کیونکہ بعض مسائل کو سمجھنے کیلئے کم از کم علم کے مقدمات کو طے کرنا ضروری ہے تاکہ آدمی کسی حد تک کچھ سیکھ کر اپنی جہالت دور کرکے بعض مسائل کو سمجھنے کیلئے تیار ہو سکے میں کہتا ہوں کہ نہ صرف جانور اور درخت اپنے حیوانی اور شجری شعور کی مدد سے خداوند تعالی کی پرستش کرتے ہیں بلکہ جمادات بھی اپنے جمادی شعور سے خدا کی پرستش کرتے ہیں اور اگر وہ خدا کی پرستش نہ کرتے تو ان کی جمادی زندگی درہم برہم ہو جاتی اور ان کے ذرات پاش پاش ہو جاتے ۔

اے ابو شاکر تو اس روشنی کو دیکھ رہا ہے جو یہاں چمک رہی ہے ‘ جس کی وجہ سے میں اور تو ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں ۔ یہ روشنی جس کا منبع سورج ہے ‘ یہ بھی خدا کی پرستش کر رہی ہے چونکہ یہ ان قواعد کی پیروی کر رہی ہے جو خداوند تعالی نے اس کیلئے مقرر کر دیئے ہیں اور اس کی اطاعت اس قدر منظم اور صحیح ہے کہ یہ دو متضاد عوامل سے وجود میں آتی ہے اور ان دو عوامل میں سے کسی ایک میں بھی روشنی نہیں ہوتی لیکن جب یہ دونوں آپس میں ملتے ہیں تو روشنی پیدا ہو جاتی ہے وہ دو متضاد عوامل ہیں ان کی اطاعت کرتے ہیں تب ہی روشنی وجود میں آتی ہے ۔

اے ابو شاکر ‘ اگر خداوند تالی موجود نہ ہوتا تو یہ جہاں بھی موجود نہ آتا اور میں اور تو بھی یہ کلام کہ اگر خداوند تعالی موجود نہ ہوتا ‘ صرف بے معنی لفظ ہے کیونکہ یہ محال تھا اور ہے کہ خداوند تعالی موجود نہ ہوتا ۔ دوسرے معنوں میں ‘ خدا واجب الوجود ہے ۔

اگر خداوند تعالی نہ ہوتا اور مجھیا ور تمہیں پیدا نہ کرتا تو یہ بے معنی الفاظ " اگر خداوند تعالی نہ ہوتا " ہرگز ہمارے تخیل میں نہ آتے اور اگر ایک لمحے کیلئے خداوند تعالی کی توجہ اس کائنات کے انتظام سے ہٹ کر کسی اور طرف مائل ہو جائے تو یہ کئانت اور جو کچھ اس میں موجود ہے فنا ہو جائے گا یعنی دوسری جیزوں میں تبدیل ہو جائے گا کیونکہ کوئی چیز ختم ہونے والی نہیں ہے لیکن خدا کی توجہ دنیا کے امور کے انتظام سے ہر گز نہیں ہٹتی کیونکہ دنیا کے امور کا انتظام مستقل اور ہمیشہ کیلئے طے شدہ قواعد کے تحت چل رہا ہے جن میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی کیونکہ خداوند تعالی دانا ہے اور اس کی مطلق دانائی اس بات کا باعث ہے کہ جو قاعدہ اس نے کائنات کے امور کو منظم کرنے کیلئے وضع کیا ہے وہ ہمیشہ کیلئے ہے اس نے تمام چیزوں کی ابد تک کیلئے پیشگوئی کر دی ہے اور اس نے جو تمام قواعد دنیا کیلئے مقرر کر دیئے ہیں ان میں اس کی مصلحت ہے اور کوئی ایسا قاعدہ نہیں جو مصلحت سے خالی ہو ۔

موت ؟

امام جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا ‘ احمق لوگوں کی نظر میں ایک قاعدہ جو مصلحت کے بغیر ادھورا بلکہ مضر ہے وہ موت ہے اور احمق لوگ انسان کی موت کو ایک بڑا ظلم خیال کرتے ہیں جو خداوند تعالی کی طرف سے انسان پر کیا جاتا ہے ۔

لیکن انسان کی موت میں ایک مصلحت ہے اگر یہ موت نہ ہوتی تو بنی نوع انسان ختم ہو گیا ہوتا اور قدیم زمانے کے سائند دان جنہوں نے موت کو ختم کرنے کی کوشش کی وہ سنگین غلطی پر تھے اور میں آئندہ آنے والے سائنس دان کو وصیت کرتا ہوں کہ موت کو ختم کرنے کی طرف توجہ نہ دیں کیونکہ اگر موت ختم ہو گئی تو نسل انسانی تباہ ہو جائے گی ۔

اے ابو شاکر چند لمحوں کیلئے غور کرو کہ اگر موت نہ ہو اور آدمی یہ جان ے کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے زندہ رہے گا ‘ جونہی یہ پتہ چلا کہ آدمی نہیں مرے گا تو ظالم لوگ دوسروں کا مال ہڑپ کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ لا محدود زندگی میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دولت کے مالک بنے رہیں اور چونکہ کمزور لوگ اپنے اموال کے بچاؤ کی خاطر ظالموں کے خلاف متحد ہونگے اور مقابلہ کریں گے ۔ تو توانا غاصب دوسروں کو ختم کر دیں گے کیونکہ فطری موت تو نہیں لیکن قتل کے ذریعے موت موجود ہے لہذا طاقتور غاصب کمزور لوگوں کو قتل کر دیں گے آج جب کہ ہر طاقتور غاصب آدمی کو علم ہے کہ وہ ایک دن مر جائے گا اور اس کی موت زیادہ دور نہیں ہے پھر بھی اس کے باوجود وہ مال و دولت جمع کرنے کی حرص کرتا ہے اور ہمیشہ کیلئے زندہ رہیں گے تو ان کی حرص آج کی نسبت کہیں زیادہ ہوتی پھر طاقتور لوگوں کی آپس میں بھی جنگ و جدل ہوتی اور آخری کار سب سے طاقتور شخص باقی رہ جاتا جس کا مطلہ یہ ہوا کہ نسل انسانی ختم ہو جاتی ۔

اگر موت نہ ہو تو زندگی میں کسی کیلئے لذت نہیں ہے جس طرح کام نہ کرنا ہو تو آرام میں کسی کیلئے لذت نہیں ہے جو چزی لوگوں کی زندگی میں کش کا باعث ہے وہ موت کا خوف ہے اے ابو شاکر آج اگر والدین اپنے بیٹے پر مہربان ہیں تو اس لئے کہ انہیں علم ہے کہ وہ مر جائیں گے اور ان کا بیٹا زندہ رہے گا اور ان کے بعد ان کا بیٹا اس دنیا میں ان کی یادگار ہو گا ۔

اور اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ اپنے والدین کے نام کو بھی اس دنیا میں روشن کرے گا ۔ اے ابو شاکر اگر موت نہ ہوتی تو خدا پرست لوگ خدا سے نہ ڈرتے ۔

آج جبکہ ہر موحد خدا سے ڈرتا اور اس کے احکام بجا لاتا ہے تو اس لئے اسے معلوم ہے اگر خدا کی اطاعت نہیں کرے گا اور اس کے احکام بجا نہیں لائے گا تو موت کے بعد قیامت کے دن سز ا کا مستوجب ہو گا ۔ لیکن اگر موت نہ ہوتی تو چونکہ کوئی نہ مرتا ۔ تو لا محالہ قیامت کا دن بھی نہ ہوتا ‘ کیونکہ قیامت کے دن کیلئے ضروری ہے کہ انسان مرنے کے بعد زندہ ہو اور خداوند تعالی اس دنیا میں کیے گئے اعمال کی اسے جزا یا سزا دے ۔

موت سے خوف توحید پرست لوگوں کو خدا کے احکامات کی بجا آوری کی طرف مائل کرتا اور ظلم سے روکتا ہے‘ ہم یہ نہیں کہتے کہ ظَم وجود میں نہیں آتا کیونکہ موت سے خوف کے باوجود ظلم ختم نہیں ہوا اور وہ لوگ جو خدا کے معتقد نہیں ہیں دوسروں پر ظلم و ستم کرتے ہیں ۔

چونکہ وہ شخص جس کا خدا پر ایمان ہو اور اس کے احکامات کی پیروی کرتی ہو وہ دوسروں پر ستم نہیں کرتا اگر موت موجود نہ ہوتی اور فرض کریں بنی نوع انسان باقی رہتی تو زندگی کی جو حالت ہم آج دیکھ رہے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ بد تر ہوتی ۔

ایسی صورت میں کوئی بھی اپنے آپ کو گرم صحراؤں یا ٹھنڈے علاقوں میں زندگی بسر کرنے کی زحمت نہ دیتا ۔ اور جو علاقے آب و ہوا کے لحاظ سے معتدل ہیں وہ وہاں چلا جاتا اور وہاں کے ساکنوں کو قتل کرکے ان کی اراضی پر قبضہ کرنے کے بعد آرام سے وہاں زندگی گزارنے لگتا اور انسان صرف ایسی صورت میں نقل مکانی کرتا جب وہ مقامی آبادی کو ختم کرکے ان کی جائیداد پر قبضہ نہ جما سکتا ۔

اگر فرض کریں ‘ موت نہ ہونے کی صورت میں بنی نوع انسان ختم نہ ہوتا تو چند صدیوں کے دوران ہی انسانی آبادی اس قدر بڑھ جاتی کہ انسان نہ صرف تمام جانوروں بلکہ بھوک مٹنے کیلئے اپنے ہم جنسوں کو بھی کھا جاتا کیونکہ آ ۶ ادی اس قدر بڑھ جاتی کہ زمین پر کھیتی باڑی کیلئیجگہ نہ ملتی کہ لوگ اس میں ہل چلا کر بیج بوئیں ۔ کھیتی باڑی ختم ہو اجتی اور انسان آہستہ آہستہ پہلے جانوروں کو کھانا شروع کرتے اور جب تمام جانور ختم ہو جاتے تو بھوک مٹانے کیلئے ان کے پاس انسانوں کو کھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوتا ۔ اور یہ موت ہے جس کی وجہ سے انسانی آبادی اس قدر نہیں بڑھتی کہ زمین میں کھیتی باڑی کیلئے کوئی جگہ باقی نہ رہے اور یہ موت ہے جو انسان کو خداوند تعالی کے احکامات کی پیروی پر لگاتی ہے یہ موت ہیجو انسان کے دل میں اپنوں اور غیروں کیلئے رحم کا مادہ پیدا کرتی ہے یہ موت ہے جو غاصبوں کو دوسروں کا مال ظلم سے ہڑپ کر جانے کے راستے میں حائل ہوتی ہے یہ موت ہی ہے جو زندگی انسانوں کیلئے شیرین بناتی ہے خداوند تعالی نے جو چیز بھی پیدا کی ہے اس میں ایک یا ایک سے زیادہ مصلحتیں پوشیدہ ہیں اگرچہ وہ ہماری نظر میں بے سود یا مضر ہی کیوں نہ ہوں ۔

اے ابو شاکر ‘ تم پتھروں سے بھرے ہوئے پہاڑوں کو بے فائدہ خیال کرتے ہو اور اپنے آپ سے پوچھتے ہو کہ پہاڑ کس لئے پیدا ہوئے ہیں ؟

جبکہ خداوند تعالی نے مصلحت کے تحت پہاڑوں کو پیدا کیا ہے ‘ جہاں جہاں پہاڑ ہے ‘ جاری پانی بھی موجود ہے کیونکہ پہاڑ کی بلدیوں پر بارش اور برف پڑتی ہے جس کی وجہ سے چشمے وجود میں آتے اور نہروں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور پہاڑ سے جاری ہونے ولی نہر زرعی زمین کو سیراب کرتی ہے اس لئے لوگ پہاڑ کے دامن میں رہائش اختیار کرتے ہیں تاکہ زراعت کریں کیونکہ پانی میسر ہوتا ہے وہاں گرمیوں میں آب و ہوا ٹھنڈی ہوتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جو لوگ گرم علاقوں میں رہتے ہیں گرمیوں میں اکی کوشش ہوتی ہے کہ پہاڑی علاقوں میں جائیں تاکہ گرمی سے محفوظ رہ سکیں ۔

پہاڑ کے دامن میں واقع شہر ‘ قصبے اور دیہات ‘ پہاڑ کی پیٹھ کی طرف سے آنے والے طوفانوں کا شکار نہیں ہوتے کیونکہ پہاڑ اس طوفان کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہوتا ہے ۔

سر سبز پہاڑ ‘ جانوروں کے چرانے کیلئے مفید ہوتے ہیں اور گرمیوں میں جب دوسری جگہوں پر گھاس نہیں ہوتی تو گڈریئے اپنی بھیڑ بکریوں کو پہاڑ کی طرف لے آتے ہیں اور جاڑے کے آنے تک وہ اپنی بھیڑ بکریوں کو پہاڑ پر چرا سکتے ہیں ۔

ان سر سبزی پہاڑوں میں ایسے چرند و پرند ملتے ہیں جو حلال گوشت ہیں اور وہ دامن کوہ میں سکونت پذیر افراد کیلئے غذا کا سامان بھی ہیں حتی کہ جن پہاڑوں پر سبزہ اور پانی نہیں ‘ وہ بھی مکمل طور پر بے سود نہیں ہیں اور اگر ان میں معدنیات تلاش کی جائیں تو ممکن ہے وہاں معدنیات ملیں جو انسانی زندگی کیلئے مفید ہوں ۔

جب جعفر صادق (علیہ السلام ) کی گفتگو ختم ہوئی تو ابو شاکر سوچ میں پڑ گیا یہ نظر آ رہا تھا کہ آپ کی باتوں کا اس پر گہرا اثر ہوا ہے ۔

جعفر صادق (علیہ السلام ) نے اس سے پوچھا کیا تو اس بات کا قائل ہو اہے کہ ان دیکھا خدا موجود ہے اور کیا اس بات کا قائل ہوا ہے کہ جس چیز کی تم اپنے بت میں پوجا کرتے ہو وہ بت نہیں بلکہ نہ دکھائی دینے والا خدا ہے ۔

ابو شاکر نے جواب دیا ‘ ابھی تک میں قائل نہیں ہوا لیکن شک میں ضرور پڑ گیا ہوں ۔

جعفر صادق (علیہ السلام ) نے اظہار خیال فرمایا بت پرستی کے بارے میں شک ان دیکھے اور واحد خدا کی پرستش کا آغاز ہے ابو شاکر نے کہا ‘ خصوصا موت کے بارے میں آپ کی گفتگو نے مجھ حیران کر دیا ہے جعفر صادق (علیہ السلام ) نے پوچھا ‘ اس کی کونسی چیز تمہاری حیرانی کا باعث بنی ہے ؟

ابو شاکر بولا ‘ آپ کی گفتگو سے میں یہ سمجھا ہوں کہ ہم انسانوں کو جتنا ہو سکے اپنے آپ کو قتل کر دینا چاہیے ‘ کیونکہ آپ کے بقول خدا کی مصلحت اسی میں ہے کہ آدمی مرے ‘ اور چونکہ خدا کی مصلحت اس طرح ہے لہذا جتنا جلدی ہم مر جائیں ‘ بہتر ہے جعفر صادق (علیہ السلام ) نے کہا اے ابو شاکر جو کوئی اپنے آپ کو قتل کرے وہ خداوند تعالی کے قانون سے منہ موڑتا ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کے بندوں کو اپنی جان کی حفاظت کرنا چاہیے اور جان کی حفاظت کا ایک راستہ یہ ہے کہ کھانے پینے میں افراط سے کام نہ لیں ۔

کیونکہ کھانے پینے میں افراط سے آدمی طبعی موت سے پہلے ہی مر جاتا ہے ۔ جان کی حفاظت کیلئے میرے جد نے فرمایا ہے کہ اپنے پیٹ کو جاروں کا قبرستان نہ بناؤ ۔ ابو شاکر بولا اس بات کے کیا معنی ہیں ؟ جعفر صادق (علیہ السلام ) نے جواب دیا یعنی گوشت زیادہ کھانے سے پرہیز کریں ۔ ابو شاکر بولا لیکن میں تو گوشت گھانے میں مذت محسوس کرتا ہوں اور گوشت کھانے سے پرہیز نہیں کر سکتا ۔ امام جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا زیادہ گوشت کھانے سے پرہیز کرو ۔ ابو شاکر نے پوچھا کیوں پرہیز کروں ؟ جعفر صادق (علیہ السلام ) نے جواب دیا کیونکہ زیادہ گوشت کھانے سے بعض لوگوں پر بیماری کا اچانک حملہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے انسانی نا گہانی موت کا شکار ہو کر چل بستا ہے ابو شاکر بولا ‘ میں تو پہلی مرتبہ سن رہا ہوں کہ زیادہ گوشت کھانے سے انسان نا گہانی موت سے دو چار ہو جاتا ہے ۔

جعفر صادق (علیہ السلام ) نے اظہار خیال فرمایا ‘ میں نے یہ نہیں کہا کہ گوشت کھانا نا گہانی موت کا سبب بنتا ہے بلکہ میں نے یہ کہا ہے کہ زیادہ گوشت کھانے سے بعض لوگ اچانک بیمار پڑ جاتے ہیں اور زیادہ گوشت کھانا ‘ اچانک بیماری کا سبب بنتا ہے وہ بھی سب لوگوں میں نہیں بلکہ بعض لوگ ایسے ہیں جو گوشت کھاتے ہیں لیکن نا گہانی موت کا شکار نہیں ہوتے ۔

ابو شاکر نے پوچھا ‘ ناگہانی موت کیا ہے ؟

جعفر صادق (علیہ السلام ) نے جواب دیا یہ غیر متوقع موت ہے اس میں انسان بظاہر تندرت و توانا نظر آتا ہے لیکن اندر سے بیمار ہوتا ہے اور اچانک بے ہوش ہو کر مر جاتا ہے ۔

ابو شاکر نے پوچھا کیا باطنی بیماری بھی ہوتی ہے ؟ جعفر صادق (علیہ السلام ) نے جواب دیا ‘ ہاں اے ابو شاکر بعض لوگ اندرونی طور پر بیمار ہوتے ہیں لیکن انہیں اس بیماری کا احساس نہیں ہوتا اور وہ لوگ جو گوشت اور دوسری مرغن غذائیں کھانے میں اسراف سے کام لیتے ہیں ممکن ہے کہ باطن میں بیمار ہوں اور ان کی بھوک میں کوئیکمی نہ آیے اور وہ درد کا احساس کئے بغیر بے خوابی کا شکار ہو جائیں ۔

ابو شاکر نے کہا ‘ میں اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ آدمی بیمار ہوئے بغیر مر سکتا ہے ۔ آدمی کسی جنگ یا جھگڑے میں تو مر سکتا ہے لیکن بیمار ہوئے بغیر نہیں مر سکتا جعفر صادق (علیہ السلام )نے فرمایا تم ایسے انسان ہو کہ جب تک کسی چیز کو دیکھ نہ لو اس کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے اور چونکہ تم نے آج تک کسی کو نا گہانی موت مرتے نہیں دیکھا لہذا تم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ آدمی ممکن ہے بیماری کے بغیر اچانک اس دنیا سے کوچ کر رجائے ۔ لیکن جان لو کہ نا گہانی اموات کی اقسام ہیں ایک دماغ کو دوسری دل کو اور تیسری خون کو لاحق ہوتی ہے ۔

ابو شاکر بولا ‘ دماغ ‘ دل اور خون ہمیں کیسے اچانک ہلاک کر دیتے ہیں ؟

جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا ہر قسم کی نا گہانی بیماری کا آخری مرحلہ خون کی خرابی ہے اور کون کی خرابی بھی زیادہ گوشت اور تمام مرغن غذاؤں کو افراط سے کھانے سے لاحق ہوتی ہے اور جب خون میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو اچانک حملہ کرنے والی بیماری دل ‘ دماغ یا خون پر حملہ کرکے انسان کو ہلاک کر دیتی ہے ۔ عرب قبائل جو صحرانشین ہیں ان میں یہ نہیں دیکھا گیا کہ کوئی نگ گہانی موت سے مرا ہو ۔ کیونکہ عرب قبائل کے صحرا نشین لوگ گوشت اور تمام مرغن غذائیں کم مقدار میں کھاتے ہیں لیکن سال میں ایک مرتبہ دو گوشت کھانے کیلئے مکہ جاتے ہیں تاکہ حج کے دوران جو جانور وہاں ذبح ہوتے ہیں ان کا گوشت کھائیں ‘ یہ لوگ جب تک کچھ دنوں کیلئے مکہ میں ہوتے ہیں کثرت سے گوشت کھاتے ہیں لیکن چونکہ سال میں صرف وہی چند دن گوشت کھاتے ہیں اور جب گھروں کو واپس لوٹتے ہیں تو ان کی غذا ‘ پہلے کی مانند دودھ ہوتی ہے اور اگر ان کے پاس کھجوریں ہوں تو وہ بھی ہوتی ہیں لیکن اس سے ان کا خون خراب نہیں ہوتا جس سے وہ نا گہانی بیماری کے حملے کا شکار ہوں اور دوسرا یہ بھی کہ عرب صحرا نشینوں کی زندگی مشکل ہے اور وہ کھانے پینے میں افراط نہیں برتتے لہذا وہ کافی لمبی عمریں پاتے ہیں ۔

اے ابو شاکر ‘ تو مدینے میں چند ایسے اشخاص کو پہچانتا ہے جن کی عمر سو سال ہو ؟

ابو شاکر بولا ‘ میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو سو سالہ ہو ‘ جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا ‘ اس شہر میں جب لوگ گوشت اور دوسری مرغن غذائیں کھانے میں افراط سے کام نہیں لیتے تھے سو سال کی مرد اور عورتیں پائی جاتی تھیں اور جس چیز نے اس شہر کے مکینوں کی عمر گھٹا دی ہے وہ مرغن غذاؤں کے کھانے میں افراط ہے لیکن جب کہ اب مدینے میں سو سال کی عورت یا مرد نہیں ہیں اب بھی اگر تم مدینے کی نواحی بستیوں کے صحراؤں کی طرف جاؤ جہاں قبائل سکونت پزیر ہیں تو تم مشاہدہ کرو گے کہ ان کے درمیان سو سال کے مرد اور عورتیں پائی جاتی ہیں اور اس کے باوجود کہ صحرا میں زندگی دشوار ہے ان میں سے بعض بوڑھے افراد اپنے کچھ دانتوں کو سو سال کی عمر تک محفوظ رکھتے ہیں چونکہ زیادہ گوشت اور دوسری مرغن غذاؤں کے کھانے سے ان کے خون میں خرابی بھی پیدا ہوی کہ وہ قبل ازوقت بوڑھے ہو جائیں اور خون کی خرابی جو بعض اشخاص میں نا گہانی بیماری کا باعث بنتی ہے اور پھر اسی کے زیر اثر اکثر اشخاص جلدی بوڑھے ہو جاتے ہیں اور اس سے پہلے کہان کی طبعی عمر پوری ہو وہ مر جاتے ہیں ابو شاکر نے کہا ‘ میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ موت کیا ہے ؟ جعفر صادق (علیہ السلام ) نے جواب دیا موت بدن کے افعال کا رک جانا ہے ۔ خصوصا دل کی دھڑکنوں اور سانس کا رک جانا ابو شاکر نے پوچھا ‘ انسان کیوں مر جاتا ہے ؟ جعفر صادق (علیہ السلام ) نے جواب دیا ‘ انسان دو چیزوں سے مرتا ہے ایک بیماری سے اور جیسا کہ میں نے کہا بعض لوگ نا گہانی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ان کا خیال ہوتا ہے کہ وہصحتمند ہیں لیکن اندرونی طور پر وہ بیمار ہوتے ہیں یہ لوگ بھی بیماری سے مرتے ہیں ۔

موت کا دوسرا سبب انسان کا بڑھاپا ہے اور آدمی اگر صحت مند ہی کیوں نہ ہو آخر اکر بڑھاپے کی وجہ سے مر جائیگا ‘ اور قدیم یونان کے ایک حکیم بقراط نے کہا تھا کہ بڑھاپا بھی بیماری کی ایک قسم ہے اور جن دن اس بیماری کا علاج تلاش کر لیا جائیگا انسان نہیں مرے گا۔

ابو شاکر نے اظہار ‘ خیال کرتے ہوئیکہا لیکن ہمارے ڈاکٹر تو اس بیماری کا علاج نہیں کر سکتے جعفر صادق (علیہ السلام ) بولے ‘ ابو شاکر ‘ مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر ہر گز اس بیماری کا علاج نہیں کر سکیں گے ۔

ابو شاکر بولا ‘ آپ کو کیسے علم ہے کہ ہمارے ڈاکٹر اس بڑھاپے کی بیماری کا علاج کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے تاکہ انسان کو موت سے بچا سکیں ۔ جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا اس لئے کہ موت مشیت الہی ہے اور چونکہ خدا کی قدرت اور مصلحت موت کو وجود میں لاتی ہے ڈاکٹر بڑھاپے کی بیماری کا علاج نہیں کر سکتے (اگر بقول بقراط بڑھاپا بیماری ہو ) کیونکہ جو کچھ خداوند تعالی نے مقرر کر دی اہے نا قابل تغیر ہے مخلوقات میں تبدیلی کا نام ہییہ ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیلی ہے اور کوئی چیز ایک حالت پر باقی نہیں رہتی ۔

حتی کہ اگر خداوند تعالی انسان کیلئے موت مقرر نہ کرتا تو بھی جیسا کہ میں نے کہا اور تم نے سنا کہ بنی نوع انسان کی بہتری اسی میں ہے کہ موت موجود ہو ۔

بنی نوعی انسان کی زندگی کے جریان کیلئے موت اس قدر ضروری ہے کہ اگر موت نہ ہوتی اور انسان باقی رہنا چاہتا تو اسے موت کو وجود میں لانا پڑتا تاکہ انسان مریں اور موت کے نتیجے میں انسان نسل باقی رہے اور برباد نہ ہو ۔

ابو شاکر بولا ‘ بس یہ جو کہا جاتا ہے کہ بعض گذشتہ پیغمبر ہمیشہ کیلئے زندہ ہو گئے اور آج بھی زندہ ہیں ان کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ جعفر صادق (علیہ السلام ) بولے ‘ اس پر یقین نہ کرو کیونکہ ابھی تک اس دنیا میں کوئی ایسا پیدا نہیں ہوا جو مرا نہ ہو ‘ یا اگر اب زندہ ہے تو نہیں مرے گا ۔ اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ بعض گزشتہ انبیاء زندہ جاوید ہو گئے اور نہیں مرے اور ہر گز نہیں مریں گے ‘ افسانے سے زیادہ کچھ نہیں پیغمبروں میں سب سے افضل پیغمبر ہمارے ہیں اور وہ خاتم النبین ہیں جن پر تو ایمان نہیں لایا ‘ وہ بھی اس دنیا سے کوچ کر گئے ۔ ابو شاکر بولا ‘ میرا خیال ہے جب میں ان دیکھے خدا پر ایمان لے آؤں گا تو تمہارے پیغمبر کی نبوت کو بھی تسلیم کر لوں گا لیکن اسکے باوجود کہ میں تمہاری پیغمبر پر ایمان نہیں لایا میں نے قرآن کے کچھ حصے سنے ہیں جنہیں میں بیان کرنا چاہتا ہوں جو کچھ آپ نے گو شت اور مرغن غذائیں کھانے اور خون میں خرابی کے بار ے میں کہا ہے وہ قرآن کے سر ا سر خلاف ہے ‘ اور ظاہر ہے جب آپ مسلمان ہیں تو آپ قران کو مانتے ہیں ۔

جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا قرآن پر عقیدہ ہے کہ وہ کلام خدا ہے ابو شاکر بولا ‘ جب آپ کا عقیدہ ہے کہ قرآن آپ کے خدا کا کلام ہے تو پھر آپ نے اسکے خلاف بات کیوں کی ؟

جعفر صادق (علیہ السلام ) نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا وہ کونسی بات ہے جو میں نے خدا کے کلام کے خلاف کہی ہے ؟ ابو شاکر نے کہا میں نے سنا ہے خدا نے فرمایا ہے ہر شخص اپنے مقررہ وقت پر مرے گا اس کی موت نہ ایک گھنٹہ اس وقت سے پہلے واقع ہو گی اور نہ ایک گھنٹہ بعد ‘ جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا ‘ ہاں یہ کلام خدا ہے اور قرآن میں ہے ۔

ابو شاکر نے اظہار خیال کیا ‘ کیا آپ نے نہیں کہا کہ جو شخص زیادہ گوشت اور مرغن غذائیں کھائے گا وہ قبل از وقت نا گہانی بیماری کے نتیجے میں مر جائیگا ؟

جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا ‘ ہاں یہ بات میں نے کہی ہے ابو شاکر بولا ‘ آپ کے خدا کا کہنا ہے کہ ہر ایک کی موت کا وقت معین ہے اور وہ اس سے نہ ایک گھنٹہ پہلے اور نہ ایک گھنٹہ بعد میں مرے گا لیکن آپ کہتے ہیں کہ جو کوئی گوشت کھائے ‘ جلدی مر جائیگا اور اسطرح آپ نے کلام خدا کی نفی کی ہے ۔ جعفر صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا پہلی بات یہ کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ جو کوئی گوشت اور مرغن غذائیں کھائے ناگہانی بیماری کا شکار ہو جائے گا ‘ بلکہ میں نے یہ کہا ہے کہ ممکن ہے بعض لوگ گوشت اور مرغن غذائیں کھانے کے نتیجے میں نا گہانی بیماری کا شکار ہو جائیں ۔ دوسری بات یہ کہ طبعی عمر اور وہ عمر جسے انسان خود کم کرتا ہے ‘ دونوں میں فرق ہے طبعی عمر وہ ہے جو ایک عام انسان گزارتا ہے اور اس عمر کی ایک مدت معین ہے جیسا کہ خداوند تعالی نے فرمایا ہے جس وقت وہ مدت پوری ہو جاتی ہے آدمی مر جاتا ہے اس وقت میں نہ ایک گھنٹہ کی کمی ہوتی ہے اور نہ بیشی ۔

لیکن موت کی دوسری قسم وہ ہے جسے انسان خود اپنے ہاتھوں سے وجود میں لاتا ہے یہ موت طبعی موت سے مختلف ہے اس کا نام خود کشی ہونا چاہیے جو کوئی شخص خنجر سے اپنی گردن اور شاہ رگ کو کاٹتا اور اپنے آپ کو ہلاک کرتا ہے وہ خدا کے مقررہ وقت پر نہیں مرتا ۔

خداوند تعالی نے اس کے شاید اسی یا نوے یا سو سال کی عمر کا تعین کیاہو جبکہ وہ جوانی میں ہی ایک ہی وار سے اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیتا ہے ۔

جو لوگ گوشت اور دوسری مرغن غذائیں زیادہ کھانے سے اپنے خون کو غلیظ کرتے ہیں وہ اپنی خود کشی کا سامان کرتے ہیں چونکہ خون کی خرابی ناگہانی بیماری کا سبب بنتی ہے اور اگر اس بیماری کا سبب نہ بھی بنے توکسی دوسری بیماری کا سبب بن جاتی ہے ۔

لہذا پیٹ بھر کر کھانا اور خصوصا گوشت و مرغن غذائیں زیادہ کھانا ‘ خود کشی کے مترادف ہے ۔ پس جو کوئی بسیار خوری کے نتیجے میں اپنی طبعی عمر کے تقاضے سے پہلے اس دنیا سے کوچ کر جائے وہ خداوند تعالی کے فرمان میں شامل نہیں ہے اور تو اے ابو شاکر جان لے کہ میں قرآن کو تجھ سے بہتر جانتا ہوں اور اس بات سے اگاہ ہوں کہ خداوند تعالی نے قرآن میں موت کے بارے میں کیا کہا ہے اور کسی نے کبھی بھی میرے منہ سے ایسی بات نہیں سنی ہو گی جو خدا کے فرمان کے خلاف ہو اور نہ ہی اس کے بعد سنے گا ۔


آپ کی جابر بن حیان سے گفتگو

ابو شاکر ایک نا سمجھ شخص تھا ۔ لیکن جعفر صادق کے بعض شاگردوں میں جو سائنسدان شمار ہوتیہیں وہ بھی استاد سے مباحثے کرتے تھے ان میں سے ایک جابر بن حیان بھی تھا ۔

امام جعفر صادق تلامذہ سے اس لئے بحث کرتے تھے تاکہ وہ علوم کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور جعفر صادق اسلامی دنیا میں ایسے پہلے استاد ہیں جنہوں نے استاد اور شاگردوں کے درمیان بحث کی بنیاد رکھی اور یہ موضوع بعد میں آنیوالے زمانوں میں اسلامی مدارس اور خصوصا شیعہ مدارس میں رواج پا گیا ہر درس کے بعد شاگرد ایک دوسرے سے بحث مباحثہ کرتے تھے تاکہ استاد کے درس کو اچھی طرح سمجھ سکیں ایک دن جعفر صادق نے فلسفہ پڑھاتے ہوئے کہا ہر چیز حرکت کر رہی ہے اور اگر حرکت نہ ہو تو چیزوں کا وجود نہ ہو ۔ یعنی اگر وہ اس طرح نہ ہوتیں جس طرح کہ موجو شکل میں نظر آ رہی ہیں اور حرکت کی وجہ سے یہ چیزیں باقی ہیں تو ان میں تبدیلی آ چکی ہوتی ۔

جعفر صادق کے ایک شاگرد جابر بن حیان نے سوال کیا ‘ کیا آپ کو یقین ہے کہ کوئی چیز حرکت سے خالی نہیں جعفر صادق نے جواب دیا اس بارے میں کوئی شک نہیں ۔

جابر نے پوچھا کیا آواز حرکت کرتی ہے ؟ جعفر صادق نے جواب دیا ہاں اے جابر اواز متحرک ہے لیکن اسکی رفتار روشنی کی رفتار سے سست ہے اور جب تو دور سے مشاہدہ کرتا ہے کہ لوہار کی دکان میں ایک شخص لوہے کے ہتھوڑے کو اوزار پر مارتا ہے تو اسکی آواز تھوڑی دیر بعد کانو تک پہنچتی ہے جبکہ تم دیکھتے ہو کہ ہتھوڑے سے وار کرنے والے نے جس لمحے میں وار کیا ہے اور اس کے نتیجے میں جو روشنی نکلتی ہے وہ اسی لمحے تمہاری آں کھوں تک پہنچتی ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ آواز کی رفتار روشنی کی رفتار سے سست ہے اور دیر سے سنائی دیتی ہے جابر نے پوچھا کس قدر دیر سے سنائی دیتی ہے جعفر صادق نے جواب دیا یہ اس جگہا ور تمہارے درمیانی فاصلے پر منحصر ہے اور قریبی مقام سے چند لمحوں کے بعد تم آواز کو سن لو گے لیکن دور کی جگہ سے آواز تمہاریکانوں سے دیر سے ٹکراتی ہے جابر نے پوچھا کیا فاصلوں کی لمبائی معلوم ہے ؟

جعفر صادق نے فرمایا ‘ ایک یونانی حکیم ارشمیدس نے اس فاصلے کو ماپا ہے اور اسکے بقول اگر انسان کا آواز کے منبع سے چار سو گز فاصلہ ہو تو آواز آٹھ سیکنڈ میں سنی جائیگی اور اسی نسبت سے انسان اور آواز کی منبع کا فاصلہ جتنا زیادہ ہو گا آواز اتنی ہی دیر سے سنی جائیگی ۔

جابر نے کہا جو حساب ارشمیدس نے لگایا ہے اس کے مطابق جب کبھی خداوند تعالی اپنے کسی پیغمبر سے بات کرنا چاہتا تو ہزاروں سل لگتے کیونکہ خدا ساتویں آسمان پر ہے اور اس دنیا سے اس دنیا تک کا فاصلہ اتنا زیادہ ہے جس کا انسانی عقل حساب لگانے سے عاجز ہے جعفر صادق نے فرمایا یہ جو کہا گیا ہے کہ خداوند تعالی ساتویں آسمان پر ہے اس لئے کہا گیا ہے تاکہ عام لوگ خداوند تعالی کی عظمت کو درک کر سکیں ورنہ خدا تو ہر جگہ موجود ہے کوئی ایس جگہ نہیں جہاں خدا نہ ہو ۔

لہذا ہر زمانے میں جب کبھی خداوند تعالی اپنے کسی پیغمبر سے خطاب کرنا چاہتا تو اس کے اس قدر نزدیک ہوتا کہ جونہی خداوند تعالی کی آواز بلند ہوتی اس کا پیغمبر اسے سن لیتا ۔

لیکن اگر خداوند تعالی ساتویں آسمان پر بھی ہوتا تو بھی اسکی آواز ایک لمحے میں اس کے پیغمبروں تک جا پہنچتی کیونکہ خداوند تعالی کی آواز ‘ انسان اور دوسرے مخلوقات کی مانند نہیں ہے کہ اسے سنائی دینے میں وقت درکار ہوتا ہو اور وہ فاصلے طے کرتی ہو بلکہ ادھر خدا نے کن کہا ادھر یکون ہو گیا اور یہ کائنات اسی طرح وجود میں آئی ہے خداوند تعالی اپنی آواز کو کائنات کے دور ترین مقام سے ایک لمحے میں اپنے پیغمبر تک پہنچا سکتا ہے جابر نے پوچھا اگر دنیا ایک لمحے میں وجود مین آئی ہے تو یہ کیوں کہا گیا ہے کہ خداوند تعالی نے کائنات کو چھ دنوں میں خلق کیا ہے ؟

جعفر صادق نے جواب دیا ‘ کائنات کی حقیقی بنیاد ایک لمحے میں رکھیگئی اور چھ دن اس میں تبدیلی وقوع پذیر ہونے میں لگے ۔ جس سے کائنات موجودہ شکل میں ظاہر ہوئی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ خلقت کی ابتدا میں کائنات اس شکل میں نہ تھی اور ایک لمبی مدت کی تبدیلی کے بعد دنیا اس حالت میں تبدیل ہوئی اور خدا کے خلام میں جو چھ دن مذکور ہیں وہ اسلئے ہیں کہ عام لوگ اسے سمجھیں اور تم یہ خیال نہ کرو کہ خداوند تعالی کے چھ دن میرے اور تمہارے چھ دنوں کی مانند ہیں لیکن یہ بات ثابت ہے کہ چھ تبدیلیوں کے مراحل کے بعد یہ کائنات موجودہ شکل اختیار کر گئی ۔

جابر نے پوچھا کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ خداوند تعالی کا ایک دن کتنا ہے ؟ جعفر صادق نے فرمایا اے جابر اگر میں تمہیں ایسا جواب دوں جس کے درست ہونے میں مجھے شک ہو تو میں کس لئے اس جواب کو زبان پر لاؤں ؟

اگر میں خداوند تعالی کی ذات کو سمجھ سکتا تو تمہیں بتا سکتا کہ خداوند تعالی کا ایک دن کتنا ہے ؟میں خداوند تعالی کے دن کی مدت کے بارے میں جو کچھ تمہیں کہوں وہ میرے اپنی اختراع ہو جس کا خداوند تعالی کے دن کی مدت سے کوئی تعلق نہیں اور صرف اتنا تمہیں بتا سکتا ہوں کہ بہت لمبا ہے اور ہم اپنے اندازوں سے خداوند تعالی کے دن کو نہیں سمجھ سکتے ۔

جابر نے اپنے استاد سے پوچھا ‘ آپ کہتے ہیں کہ خداوند تعالی ہرجگہ موجود ہے اور کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں خدا نہ ہو ‘ جعفر صادق نے فرمایا ہاں اے جابر میں نے یہ بات کہی ہے اور یہی میرا عقیدہ ہے جابر نے سوال کیا جب آ کہتے ہیں کہ خدا ہر جگہ ہے تو لا محالہ آپ اس بات کی تصدیق کر دیں گے کہ خدا ہر چیز میں بھی ہے جعفر صادق نے مثبت جواب دیا ۔ جابر نے کہا ۔ اس صورت میں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ خالق اور مخلوق ایک ہیہے ان کا قول صحیح ہونا چاہیے چونکہ جب ہم اس بات کے قائل ہیں کہ خدا ہر چیز میں ہے تو ہمیں اس کی بھی تصدیق کرنا چاہیے کہ ہر چیز اگرچہ وہ پتھر ‘ پانی اور درخت ہی کیوں نہ ہو خدا ہے ۔

جعفر صادق نے کہا ایسا نہیں ہے ‘ تم غلطی پر ہو ۔ خدا پتھر ‘ پانی اور درخت میں تو ہے لیکن پتھر پانی اور درخت خدا نہیں ہیں جس طرح تیل چراغ میں ہوتا ہے لیکن چراغ تیل نہیں ہوتا خداوند تعالی ہر چیز میں ہے لیکن اسکے لئے پہلے وہ چیز وجود میں آئے اور دوسرا اپنی جمادی ‘شجری اور حیوانی زندگی کو جاری رکھے اور ختم نہ ہو ۔ چراغ کی روشنجی کا مایہ یعنی اسکی بقاتیل اور فتیلہ ہے لیکن چراغ تیل اور فتیلہ نہیں ہے تیل اور فتیلہ چراغ میں شعلہ پیدا کرتے ہیں اور چراغ یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ چونکہ تیل اور فتیلہ نہیں ہے تیل اور فتیلہ چراغ میں شعلہ پیدا کرتے ہیں اور چراغ یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ چونکہ تیل اور فتیلہ اس میں موجود ہے پس وہ تیل اور فتیلہ ہے اور یہ بات محال ہے کہ مخلوق کی وحدت کا عقیدہ رکھتے تھے وہ اپنے استدلال کی ظاہری شکل سے فریب کھاتے تھے ان کے بقول چونکہ جو کچھ اس کائنات میں موجود ہے اس میں خدا ہے لہذا جو کچھ ہے وہ خدا ہے اگر یہ عقیدہ صحیح ہوتا تو تمام مخلوقات خدائی ظاقت کی حامل ہوتیں کیونکہ وہ خدا ہیں لیکن تمام کائنات میں ایک وجود بھی ایسا نہیں ہے جو خدائی قدرت رکھتا ہو ۔ وہ لوگ جو اس بات کے معتقد تھے کیا ان میں سے کوئی ایک بھی ایک پتھر ہی وجود میں لا سکا ہے ؟ کیونکہ خالق اور مخلوق کی وحدت کا مطلب یہ ہے کہ انسان بھی خدا ہے اور انسان کی خدائی کا لازمہ یہ ہے کہ انسان وہ کام کر سکے جو خدا کرتا ہے ایک لفظ کن سے ساری کائنات کو پیدا کرے اور ایک قطرے سے ایک انسان وجود میں لائے ۔

جو لوگ خالق و مخلوق کیوحدت کے معتقد ہیں اور اس کے نتیجے میں اپنے آپ کو خدا سمجھتے ہیں کیا ان میں سے کسی ایک شخص نے ایسا کام کیا ہے جس سے ظاہر ہو کہ اس میں خدائی صفات ہیں جب انہیں کہا جاتا ہے چونکہ آپ اپنے آ کو خدا سمجھتے ہیں لہذا خدا کا کوئی کام کرکے دکھائیں تاکہ ہمیں یقین ہو جائے کہ آ خدا ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم خدا ہیں لیکن ہمیں خدا ہونے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے اور کیا یہ منطق سے خالی بچوں جیسی بات قابل قبول ہے ؟

کیونکہ اگر کوئی شخص جان لے کہ وہ خدا ہے تو ہ کس طرح کہہ سکتا ہے کہ اسے خدا ہونے کے متعلق کوئی اطلاع نہیں اور اے جابر ‘ تم جان لو کہ اگرچہ خداوند تعالی ہر چیز میں اور ہر جگہ پر ہے لیکن وہ مکان اور اشیا خدا نہیں ہیں اور تمام خدا کی مخلوق ہے ‘ خدا تمام مکانوں اشیاء میں ایک خالق اور محافظ کی مانند ہے اور وہی ہے جس نے حرکات کو پیدا کیا ہے اور انہی حرکات کی وجہ سے جمادات اپنی جمادی زندگی ‘ درخت اپنی شجری زندگی اور جانور اپنی حیوانی زندگی بسر کرتے ہیں اسکے باوجود کہ زندگی حرکت کے بغیر نا ممکن ہے کوئی موحد یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہی حرکت خدا ہے چونکہ حرکت بھی دوسری اشیاء کی مانند خدا کی مخلوقات میں سے ہے بہر حال ایسی مخلوق ہیجو دوسری مخلوقات کی پیدائش کا سبب بنتی ہے اور یونانی حکما جو یہ کہتے تھے کہ حرکت خدا ہے وہ سنگین غلطی پر تھے کیونکہ حرکت اس وقت تک وجود میں نہیں آتی جب تک اس کی قوت وجود میں نہ آئے اور جب وہ قوت ہے حرکت جاری ہے اور جب یہ قوت ختم ہو جائیگی تو حرکت بھی رک جائیگی ۔

چونکہ حرکت توانائی سے وجود میں آتی ہے لہذا مخلوق ہے نہ کہ خالق اور وہ توانائی جو حرکت کو وجود میں لائی وہ خدائی قوت ہے لیکن ایک موحد یہ بات تسلیم کر سکتا ہے کہ حرکت دوسری چیزیں بھی کیلئے ابسبا پیدا کئے ہیں ان میں ایک حقیقی سبب حرکت ہے بعض یونانی فلسفیوں کے بقول حرکت مادہ ہے اور مادہ حرکت ‘ اور مادہ اپنے آخری مرحلے میں حرکت کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور اگر حرکت مادے میں رک جائے تو مادہ ختم ہو جاتا ہے اے جابر ‘ بعض یونانی فلسفیوں نے سوچ اور فکر کو بھی مادے کا جزو شمار کیا ہے اور کہ اہے کہ مادے کے بغیر سوچ اور فکر کا کوئی وجود نہیں جس طرح پھول کے بغیر اسکے عطر کی خوشبو کوئی نہیں سونگھ سکتا اس طرح اگر مادہ ختم ہو جائے تو سوچ اور فکر بھی ختم ہو جاتی ہے ۔

لیکن ان کا مذکورہ نظریہ اسلئے درست نہیں ہے چونکہ فلسفے میں چاہے یونانیوں کا زمانہ ہو یا آج کا دور ‘ حقیقت یہ ہے کہ کوئی چیز فنا نہیں ہوتی بلکہ اپنی حالت تبدیل کرتی ہے پس انسان بھی فنا نہیں ہوتا بلکہ موت کے بعد اپنی حالت تبدیل کرتا ہے اور اسکی طرح اس کی سوچ بھی تبدیل ہوتی ہے اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کسی دوسری صورت میں باقی رہتا ہے اور انسان کی موت کے بعد اسکے باقی رہنے والے عوامل اور روحانی صفات اس کی روح ہے ۔

اے جابر ‘ جب ایک مومن سمجھتا ہے کہ اسکے اصول دین حقیقت اور برحق ہیں تو وہ لذت اٹھاتا ہے اور یہ لذت انسانی فطرت کا جزو ہے انسان ہر منظم اور کامل چیز کو دیکھنے سے لذت اٹھاتا ہے اے جابر کیا تم اس نقش کو دیوار پر دیکھتے ہو اور مشاہدہ کرتے ہو کہ ایک منظم جیومیٹریکل صورت ہے تو تم اس مشاہدے سے لذت اٹھاتے ہو لیکن نہ صرف اس لئے کہ تم جیومیٹری سے واقف ہو اور تمہیں معلوم ہے کہ یہ جیومیٹری کی اشکال میں سے کونسی ایک شکل ہے بلکہ اسلئے کہ اسے منظم دیکھتے ہو اور مشاہدہ کرتے ہو کہ ایک مکمل نقش ہے ۔

وہ لوگ بھی جو جیومیٹری سے مطلع نہیں ہیں اس نقش کو دیکھنے کے بعد لذت اٹھاتے ہیں چونکہ اسے مکمل اور منظم دیکھتے ہیں چھوٹے بچے بھی اس نقش کے مشاہدے سے خوشی محسوس کرتے ہیں کیونکہ اسکی مکمل اور منظم شکل ‘ ان کی روح میں ایک طرح کی تسکین وجود میں لاتی ہے ۔

اگر یہ نقش جسے میں اور تم دیکھ رہے ہیں غیر منظم ہوتا اور اسکی لائنیں بے ترتیب اور بکھری ہوئی ہوتیں اس طرح کہ یہ ایک مکمل جیومیٹریکل شکل اختیار نہ کر گیا ہوتا اور نہ ہی کسی ایسی چیز کی شبیہ ہوتا جسے ہم پہچانتے ہیں تو کیا اس صورت میں بھی ہم اس کے مشاہدے سے محظوظ ہوتے ؟ جابر بولا نہیں ‘امام جعفر صادق نے فرمایا ایک غیر منظم بے ترتیب نقش کے مشاہدے سے نہ صرف محظوظ نہیں ہوتے بلکہ اس سے الٹا ہمیں کوفت ہوتی ہے اور اس کا عیب اور نقص ہماری خفگی کا باعث بھی بنتا ہے گویا جس طرح ہم ایک بد مزہ کھانا کھا رہے ہوں ۔

اسی طرح دینی حقائق پر بھی ہم غور کرتے ہیں تو محظوظ ہوتے ہیں چونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ مکمل اور نقائص سے پاک ہیں اور اگر ایک چیز نقص کے بغیر اور کامل ہو (خواہ مادی یا روحانی ہو ) تو وہ خوبصورت ہوتی ہے اور ہمارے لئے مسرت کا باعث ہوتی ہے اسیطرح دینی حقائق بھی چونکہ نقائص سے پاک ہیں ہوتی ہیں اور ہمارے لئے مسرت کا باعث ہوتی ہے اسیطرح دینی حقائق بھی چونکہ نقائص سے پاک ہیں لہذا وہ بھی ہماری مسرت و شادمانی کا ذریعہ ہیں ۔

جابر بن حیان بولا لیکن یہ دینی حقائق عام لوگوں کو معلوم نہیں لہذا لوگ انہیں سمجھنے سے لطف انداوز نہیں ہو سکتے ۔ جعفر صادق نے فرمایا عام لوگوں کے پاس علم ننیں اسی لئے میں لوگوں کو تاکید کرتا ہوں کہ علم حاصل کریں ۔ جابر بن حیان نے پوچھا دین اسلام کے حقائق اسطرح نازل کیوں نہیں ہوئے کہ تمام لوگ انہیں سمجھ سکتے ؟ جعفر صادق نے اظہار خیال فرمایا ‘ نہ صرف یہ کہ اسلام کے حقائق اس طرح نازل نہیں ہوئے کہ لوگ انہیں سمجھ سکیں بلکہ اسلام سے قبل مذاہب کے حقائق جو خدا کی طرف سے مقرر کئے گئے ہیں اسطرح نازل نہیں ہوئے تھے کہ تمام لوگ انہیں سمجھ کر ان سے محفوظ ہوں ۔

اے جابر جان لو ‘ دین فلسفے سے جدا ہے ۔

فلسفے میں یہ ہے کہ جو کچھ کہا جائے اس کیلئے استدلال کی ضرورت ہے تاکہ سامع کی عقل اسے تسلیم کرے اور جب ایک سامع ایک فلسفیانہ مسئلہ سنتا ہے تو جب تک بولنے والا شخص دلیل کے ساتھ اسکی صحت کا ثبوت فراہم نہ کر دے اس وقت تک سامع اس مسئلے کو تسلیم نہیں کرتا ۔ کیونکہ سامع بھی بولنے والے کی مانند فلسفی ہے اور اگر فلسفی نہ ہو تو بھی اسے فلسفہ سے شغف ضرور ہے ورنہ وہ ہر گز فلسفیانہ بحث کو سننے اور سمجھنے کی طرف راغبنہیں ہو سکتا ۔

فلسفے سے متعلق ہر قسم کا مسئلہ چونکہ فلاسفہ یا فلسفے سے ذوق رکھنے والوں کیلئے بیان کیا جاتا ہے اور یہ کہ وہ مدلل ہو اور اسے ثابت کیا گیا ہو تاکہ فلاسفہ اسے قبول کریں ۔ لہذا ہر فلسفیانہ مسئلے میں دلیل یا دلائل کا ہونا ضروری ہے اور ہر فلسفیانہ مسئلہ انسانی عقل سے سروکار رکھتا ہے اور جب تکا سے عقل تسلیم نہ کرے اس مسئلے کی صحت ثابت نہیں ہوتی ۔

جب ایک فلسفی کسی نظریئے کو پیش کرتا ہے تو اسے عام لوگوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا وہ نہیں چاہتا کہ عام لوگ اس کے فلسفیانہ نظریئے کو سمجھیں یعنی جانتا ہے کہ عام لوگ اسکے فلسفیانہ نظریئے کو سمجھنے پر قادر نہیں ہیں اور جو کچھ کہتا ہے فلسفیوں یا ان لوگوں کیلئے کہتا ہے جو فلسفیانہ ذوق رکھتے ہیں وہ جو کچھ کہتا ہے ان کی عقل سے مخاطب ہو کر کہتا ہے ۔ لیکن دین فلسفیانہ نظریئے سے جدا ہے ہمارے پیغمبر دین اسلام کو خداوند تعالی کی طرف تمام انسانوں کیلئے لیکر ائے نہ کہ صرف ان لوگوں کیلئے جن کی عقل دوسرے لوگوں سے برتر ہے اور وہ ہر چیز کو تسلیم کرنے کیلئے دلیل مانگتے ہیں دوسرے پیغمبر بھی جو ہامرے پیغمبر سے قبل مبعوث ہوئے وہ دین کو تمام لوگوں کیلئے لائے نہ صرف ایک مخصوص گروہ کیلئے جو عقلی لحاظ سے دوسروں سے برتر ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر کیلئے دینی حقائق کو سادہ ترین شکل میں لوگوں کیلئے پیش کرنا ناگزیر تھا اور ہر حقیقت کے ثبوت کیلئے دلیل پیش نہیں کی چونکہ عام لوگ ہر دینی حقیقت کی مصلحت کو نہیں سمجھ سکتے تھے اور آج بھی تمام دینی حقائق کی مصلحتوں کو نہیں سمجھ سکتے ۔

حتی کہ اگر ایک شخص نہایت سادہ ترینطریقے سے حقائق دینی کو دلائلکے ساتھ لوگوں کے سامنے ثابت کرے تو بھی بعض لوگ ان میں سی بعض کی مصلحتوں کو نہیں سمجھ پاتے اسکی وجہ یہ ہے کہ احکام دین لوگوں کے عقیدے کیلئے نازل ہوئے ہیں نہ انکی عقل کیلئے سوائے ان لوگوں کے جو عقلی لحاظ سے دوسروں سے طاقتور ہیں ۔

فلسفے کے مسائل انسانی عقل سے سروکار رکھتے ہیں اور دینی مسائل لوگون کے ایمان سے اور مومنین کے درمیان وہ لوگ جو علم حاصل کرتے ہیں وہ اپنی عقلی ترقی کے نتیجے میں جو علم کے ذریعے حاصل ہوتی ہے دین اسلام کے حقائق کی مصلحت کو سمجھ سکتے ہیں اور وہ لوگ جو علم نہیں حاصل کر سکتے اور اپنی عقل کو قوی نہیں کر سکتے اور دین اسلام کے حقائق کی مصلحت کو نہیں سمجھ سکتی ان کیلئے وہی ایمان کافی ہے ۔

دین اسلام کے حقائق کی مصلحت کے بارے میں جو وضاحت عوام کیلئے پیش کی جائے بے فائدہ ہے کیونکہ ایک عام آدمی کو کسی موضوع کے علمی لحاظ سے سمجھنے کیلئے علم کے مقدمات کا جاننا ضروری ہے وگرنہ وہ کوئی چیز نہیں سمجھ پاتا دین اسلام کے حقائق کو عوام کیلئے دلیل سے بیان کرنے کیلئیان کے ساتھ علمی وضاحت پیش کرنا ضروری ہے اور اس علمی وضاحت کو صرف وہ لوگ درک کر سکتے ہیں جو اگر عالم نہ ہوں تو کم از کم علم کے مقدامت طے کر چکے ہوں ۔

علم حاصل کرنا ‘ ارادے کا محتاج ہے اور علم حاصل کرنے کا ارادہ ایک شخص میں اس قدر ہونا چاہیے کہ وہ علم حاصل کرنے پر آمادہ ہو جائے اور یہ ارادہ عوام میں نہیں ہے جسکی وجہ یہ ہے کہ ایک عام آدمی جانتا ہے کہا گر علم حاصل کرنا شروع کر دے تو کئی سالوں تک وہ مادی فوائد سے محروم رہے گا لیکن اسکے بجائے اگروہ کھیتی باڑی کرے یا بھیڑ بکریاں یا اونٹ پالے تو اسے خاطر خواہ فائدہ ہو گا البتہ وہ روحانی نتائج جو انسان علم کے ذریعے حاصل کرتا ہے ان کا امکان نہیں ہوتا پس عام لوگوں کیلئے یہی بہتر ہے کہ وہ صرف ایمان رکھتے ہوں اور اصول اور فروع دین اسلام سے وہی کچھ اخذ کریں جو اسکے ظاہر میں ہے ۔

اے جابر ‘ تو ایک عالم شخص ہے تجھے معلوم ہے کہ کلام خدا میں جنت اور دوزخ کا ذکر آیا ہیاس سے کیا مراد ہے ؟

تجھ پر پوشیدہ نہیں ہے کہ جنت اور دوزخ کا اصلی مفہوم کچھ اور ہے لیکن کیا تو اس مفہوم کو ایک عام آدمی کے ذہن میں بٹھا سکتا ہے ؟ صرف ایک صورت میں ایک عام آدمی جنت اور جہنم کے مفہوم کو سمجھ سکتا ہے وہ یہ ہے کہ علم حاصل کرے اور جب عالم ہو جائے تو جنت اور دوزخ کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ اگر وہ خود بہشت اور دوزخ کے حقیقی مفہوم کو نہ سمجھ سکے تو چونکہ وہ عالم ہے لہذا اسکے سامنے جب ان دو کی تشریح بیان کی جائے گی تو وہ اس سے سمجھ جائے گا لیکن اگر تو آج جنت کا ایمان متزلزل ہو جائیگا اور وہ شخص جو ایمان تیری وضاحت سے پہلے رکھتا تھا اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا اسی لئے کہا گیا ہے کہ لوگوں سے ان کی عقل کے مطابق گفتگو کرو اور ہر ایک سے اس زبان میں بات کی جائے جو اس کی عقل اور فہم کے مطابق ہو چونکہ دین کے مخاطب تمام بنی نوعی انسان ہیں لہذا کلام خدا نہایت سادہ اسلوب میں نازال ہوا ہے اور عام لوگ بھی کلام خدا کے ظاہری معنوں کو سمجھ سکتے ہیں اور اس سلسلے میں کسی کی وضاحت کرنے ضرورت نہیں ۔

صرف ایک صورت میں ممکن تھا کہ لوگ کلام خدا کے مفہوم کو کسی دوسرے معنوں میں لیتے اور وہ یہ کہ کلام خدا کا پڑھنے والا ‘ حروف کے اعراب میں غلطی کو دور کرنے کیلئے علم نحو کو وضع کیا تاکہ لوگ قرآن کو غلط نہ پڑھیں اس طرح یہ خطرہ ٹل گیا کہ لوگ قرآن کو غلط پڑھے جانے کیوجہ سے کسی غلط فہمی کا شکار ہوں ۔

جابر نے کہا ‘ مجھے افسوس ہے کہ لوگ دین مبین سے احکامات کی مصلحت اور کلام خدا کے وسیع مفہوم کو سمجھنے کی جانب توجہ نہیں کرتے۔ اور میرا خیال ہے کہ اگر لوگ ان نکات کی طرف توجہ دیں تو دین خدا آج سے زیادہ وسیع ہو جائیگا ۔

جعفر صادق نے جواب دیا ‘ سابقہ تمام ادیان میں لوگوں کی ایک اقلیت ہمیشہ ایسی رہی ہے جو احکام دین کو خوب سمجھتے تھے اور دین کے قوانین سے واقف ہونے کی بنا پر دینی لحاظ سے لوگوں کے مذہبی رہنما ہوتے تھے ۔

دین اسلام میں بھی ایسا ہی ہے اور اسی طرح آج بھی ایک اقلیت دینی لحاظ سے لوگوں کی رہبری کر رہی ہے اور آئندہ بھی مسلمانوں کی ایک اقلیت عالم بن کر لوگوں کی دینی رہبری کا فریضہ انجام دے گی اور مجھے یقین ہے کہ یہ کیفیت اس وقت تک باقی رہیگی جب تک علم سب کیلئے عام نہیں ہو جاتا ۔

جابر نے پوچھا کیا ممکن ہے ایسا دن آئے کہ علم تمام لوگوں کیلئے عام ہو جائے ۔

جعفر صادق نے فرمایا ایسا دن آئیگا کہ انسان سمجھے گا کہ تمام انسانوں کو عالم بننا چاہیے اور انسان اسکے لئے تمام وسائل بروئے کار لا کر تمام انسانوں کو علم حاصل کرنے کی طرف راغب کرے گا۔

جابر بولا ‘ لامحالہ اس دن تمام انسان عالم بن جائیں گے ۔

جعفر صادق نے جواب دیا ‘ نہین اے جابر ‘ حتی کہ اس دن بھی تمام بنی نوعانسان عالم نہیں بن جائیں گے کیونکہ لوگوں میں تحصیل علم کیا ستعداد میں فرق ہو گا اگرچہ علم حاصل کرنے کے فوائد سب کیلئے فراہم ہونگے لیکن چونکہ لوگوں میں استعداد یکساں نہیں ہو گی کہ سب عالم بن جائیں لہذا بعض تو عالمبن جائیں گے اور بعض جو علم حاصل کرنیکی طرف راغب نہیں ہونگے تحصیل علم کو ترک کرکے کوئی اور پیشہ اختیار کرلیں گے لہذا کسی دور میں ایسی حالت پیدا نہیں ہو گی کہ تمام بنی نوعی انسان عالم بن جائیں ۔

لیکن اسکے باوجود کہ اس وقت تمام لوگ عالم نہیں بن سکیں گے ‘ عوام کی موجودہ حالت نہیں ہو گی کیونکہ ہر کوئی کچھ نہ کچھ علم حاصل کر چکا ہو گا اور کم از کم خواندہ ہو گا لہذا اس دن علماء دین حقائق کو لوگوں کو سمجھا سکیں گے اور اگر کوئی دیوانہ نہ ہو تو چونکہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے لہذا دینی حقائق کو سمجھ سکتا ہے اور مجھے امید ہے کہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ اگر تمام لوگ دینی حقائق سے واقف نہ بھی ہو سکے تو بھی لوگوں کی اکثریت ان حقائق کو درک کر لیگی جابر نے پوچھا ‘ انسان کے تفکرات اور ارادوں میں سے کونسا سب سے زیادہ مضبوط ہے ؟

جعفر صادق نے جواب دیا ‘ زندگی کی حفاظت اور زندہ رہنے کا ارادہ جابر نے سوال کیا کیا اس مضبوط ارادے کا سرچشمہ علم ہے ؟

جعفر صادق نے فرمایا اس ارادے کو زندگی کے سر چشمے سے تقویت ملتی ہے اور ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں خود علم نہیں کہ زندہ رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن ان میں بھی یہ ارادہ دوسرے لوگوں کی مانند قوی ترین ارادے کی حیثیت سے موجود ہے اور اس دنیا میں بنی نوعی انسان کی زندگی میں تم جو کچھ دیکھ رہے ہو اس ارادے کی حیثیت سے موجود ہے اور دنیا میں بنی نوع انسان کی زندگی میں تم جو کچھ دیکھ رہے ہو اس ارادے سے وجود میں آیا ہے جابر نے پوچھا ‘ کیا انسانی زندگی میں یہ ارادہ زیادہ موثر ہے ‘ یا حرکت ؟ جعفر صادق نے فرمایا ان دونوں کا موازانہ نہیں ہو سکتا کیونکہ حرکت ایک مادی چیزہے اور زندہ رہنے کا ارادہ ایک روحانی شے ہے ۔

زندہ رہنے کا ارادہ انسان میں حرکت سے وجد میں آتا ہے اور یہ ارادہ خود حرکات کا سبب بنتا ہے اے جابر کوئی ایسا زندہ وجود نہیں ہے جو زند رہنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو اور یہی وجہ ہے کہ جب کوئی زندہ وجود نہیں ہے جو زندہ رہنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو اور جیسا کہ جب کوئی اپنے آپ کو موت کے خطرے میں پاتا ہے تو اگر اس سے ہو سکے تو دفاع کرتا ہے اگر دفاع کرنے پر قادر نہ ہو تو جان بچانے کیلئے پیچھے ہٹ جاتا ہے اگر حرکت ختم ہو جائے تو آدمی مر جائے اور اگر زندہ رہنے کا ارادہ ختم ہو جاے تو وقتی طور پر انسان زندہ رہتا ہے ۔

وقتی طور پر ہم اسلئے کہتے ہیں کہ زندہ رہنے کے ارادہ کے ختم ہو جانے کے بعد زیادہ دیر نہیں گزرے گی کہ آدمی مر جائے گا ۔

جو چیز انسان کو غذا کھانے اور پانی پینے پر مائل کرتی ہے وہ انسان کا زندہ رہنے کا ارادہ ہے ممکن ہے ‘ اے جابر تو کہے کہ غذا کھانے اور پانی پینے کی طرف مائل ہونا انسانی ضرورت ہے اور جب انسان بھوکا ہوتا ہے تو اگر اسکے پاس غذا ہو تو وہ غذا کھاتا ہے اور پیاس کے وقت پانی پیتا ہے اور میں تجھ سے کہتا ہوں کہ پیاس اور بھوک کیطلب انسان میں السئے وجود میں آتی ہے کہ ان دونوں سے زیادہ قوی تر طلب وہی زندہ رہنے کا ارادہ ہے اورجونہی انسان بیمار ہوتا ہے اس میں بھوک یعنیبھوک کا احساس ختم ہو جاتا ہے بہر حال جب انسان میں زندہ رہنے کا ارادہ باقی نہیں رہتا تو آدمی کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے اور اپنی گزر اوقات کیلئے کام نہیں کرتا اور نہ ہی صفائی کا خیال رکھتا ہے اور نہ اپنے بیوی اور بچوں کے سر چھپانے کیلئے گھر بناتا ہے ۔

لیکن انسان میں زندہ رہنے کا ارادہ اس قدر قوی ہوتا ہے کہ وہ ہر گز ختم نہیں ہوتا سوائے ان لوگوں کے جو خود کشی کا ارادہ کر لیتے ہیں ۔

جابر نے پوچھا ‘ میں نے سنا ہے عبقری اور مجنون کو ایک دوسرے کی شبیہ سمجھا جاتا ہے کیا یہ نظریہ صحیح ہے ؟ جعفر صادق نے فرمایا افلاطون وہ پہلا شخص ہے جس نے یہ نظرہ پیش کیا افلاطون نے بھی عبقری اور مجنون کی شباہت کے بارے میں گفتگو نہیں کی ‘ بلکہ کہا کہ جب تک انسان تھوڑا بہت جنون نہ رکھتا ہو شعر نہیں کہتا انسانی زندگی کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آتی اور نہ ہی نقصان ہوتا ہے اور نہ ہی خود شاعر کیلئے سود مند ہے لہذا یہ کسی عاقل شخص کا کام نہیں پس افلاطون کے نظریئے کی بنا پر ہر شاعر کم و بیش دیوانہ ہے ۔

لیکن قدیم یونان میں ایسے شاعر تھے جو شعر پڑھنے کے لحاظ سے خاصی استعداد کے مالک تھے اور ان میں سے بعض کی استعداد اس قدر زیادہ تھی کہ یونانی لوگ انہیں عبقری کہا کرتے تھے اور چونکہ افلاطون نے کہا تھا کہ شاعر دیوانہ ہوتا ہے لہذا افلاطون کے بعد بعض صاحب نظر لوگوں نے کہا کہ اگر عبقری دیوانہ نہہو تو عبقری اور مجنوں ہونے کے درمیان کافی مشابہت پائی جاتی ہے ۔ یہ نظریہ صحیح نہیں ہے عبقری کو دیوانے سے کوئی شباہت نہیں ہے دیوانہ وہ ہے جو اپنے اعمال میں عقل سلیم کا تابع نہ ہو اور ایسے کام کرے جنہیں عقل تسلیم نہ کرے ۔

لیکن دیوانہ اپنے آپ کو عاقتل سمجھتا ہے اور اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے عقل کی رو سے کر رہا ہے لیکن ایک عبقری عقل سلیم رکھتا ہے اور جو کچھ کرتا ہے دوسروں کی عقل اسکی داد دیتی ہے ۔اتفاق سے خود افلاطون جس نے پہلی بار کہا کہ شاعر دیوانہ ہوتا ہے نے اسی موضوع کے بارے میں مثال پیش کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے اگرچہ یہ مثال اس نے کسی دوسرے موقع محل کی نسبت سے کہی ہے لیکن میں تمہارے موضوع کو کھولنے کیلئے اس سے استفادہ کرتا ہوں ۔

افلاطون کہتا ہے فرض کریں کہ ایک گروہ ایک ایسی جگہ رہتا ہے جہاں سورج کی روشنی نہیں پڑتیا ور اس جگہ کو سورج کی منعکس شدہ روشنی روشن کرتی ہے اور فرض کرتے ہیں کہ اس گروہ کی زندگی کے وسائل اس غار میں میسر ہیں اور ان لوگوں کو باہرآنے کی قطعی ضرورت نہیں وہ کبھی باہر نہیں آئے انہوں نے دن کو سورج کی دھوپ دیکھی اور نہ ہی رات چاند اور ستاروں کی روشنی دیکھی۔

ان کی کل کائناتیہی غار اور اس کی چار دیواریں ہیں اب ہم فرض کرتے ہیں کہ عام لوگوں کا ایک گروہ جو باہر رہ رہے تھے اس میں داخل ہوئے وہ سورج کے طلوع و غروب کو دن میں اور چاند ستاروں کو رات کو دیکھتے تھے اور انہیں اس بات کا علم تھا کہ کائنات میں وسیع و عریض صحرا بلند و بالا پہاڑ گہرے سمندر ‘ چرند ‘ پرند ‘ مچھلیاں اور بہت سے دوسرے جانور موجود ہوں گے تو چونکہ وہ پہلی مرتبہ روشنی سے تاریکی میں داخل ہوئے ہیں لہذا انہیں کچھ بھی نظر نہیں آئے گا ۔ انہیں اپنی آں کھوں کو تاریکی کا عادی بنانے کیلئے ایک عرصہ درکار ہے لیکن تاریکی کے عادی لوگ جو وہاں رہ رہے ہیں ان داخل ہونے والوں کو دیکھ رہے ہیں اور ان کے اندھے پن سے لطف اٹھاتے اور ان کا تمسخر اڑاتے ہیں ایک عرصہ گزر جانے کے بعد چونکہ یہ نئے داخل ہوے والے تاریکیکے عادی ہو جاتے ہیں اور وہاں رہائش پذیر افراد کو دیکھ سکتی اور ان کیلئے باہر کی حالت بیان کر سکتے ہیں وہ انہیں بتاتے ہیں کہ باہر روشن سورج سر سبز درخت و جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں پرندے پرواز کرتے ہیں اور گھاس کھانے والے جانور گھاس کھاتے ہیں ‘ ہوا چلتی ہے لیکن وہ لوگ جو ہمیشہ سے غار میں رہتے ہیں پھر ان نئے آنے والوں کا تمسخر اڑاتے ہیں چونکہ ان کی سوچ اس بات کو نہیں سمجھ سکتی جو کچھ نئے آنے والے کہہ رہے ہیں اور نہ ہی سمجھ سکتے ہیں کہ سورج ‘ جانور ‘ درخت اور ہوا کیا ہے ؟

غار میں ان کی سوچ سب سے پست ترین مرحلے میں ہے یہاں تک کہ ان کی سوچ جانوروں کے اس گروہ سے بھی پست ہے جو دن و رات کی پہچان کر سکتے ہیں ۔اس غار میں قیام پذیر لوگوں کی سوچ محدود اور پست ہونیکی وجہ سے ان کی نظر سے تمام وہ لوگ جو اس غار میں باہر سے داخل ہوتے ہیں ‘ دیوانے ہیں لیکن ہمیں معلوم ہے کہ وہ عاقل ہیں مگر چونکہ اس غار میں قیام پذیر لوگ باہر سے آنے والے لوگوں کی سوچ کا ادراک نہیں کر سکتے لہذا انہیں دیوانے سمجھتے ہیں خاص طور پر یہ کہ وہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ نئے آنے والے ان کی عام زندگی کی طرف ذرا بھر توجہ نہیں کرتے اور ان کی مانند لباس پہننا ‘ غذا کھانا ور سونا نہیں چاہتے ۔ یہ بات وہاں مستقل رہائش پذیر لوگوں پر ثابت کرتی ہے کہ وہ دیوانے ہیں چونکہ اگر وہ دیوانے نہ ہوتے تو ان کی روز مرہ کی زندگی کے قوانین کا ضرور خیال رکھتے ۔

عبقری بھی عام لوگوں کی نسبت خصوصا عوام کی نسبت تقریبا ان لوگوں جیسے ہیں جو باہر سے غار میں وار د ہوئے ہیں اور بعض عبقری لوگوں کی عام زندگی کی رسومات اور وظائف سے مبرا ہیں ۔

لا محالہ وہ عام لوگوں اور خصوصا عوام کی نظر میں دیوانے نظر آتے ہیں اور اے جابر تو جان لے کہ عبقری اور مجنوں کے درمیان شباہت موجود ہونے کا نظریہ صحیح نہیں ہے افلاطون کا یہ نظریہ کہ شاعر مجنوں ہوتا ہے ‘ صحیح نہیں ہے کیونکہ اس کا خیال ہے کہ انسان جو سوچ بھی پیش کرے اس کیلئے اسے یا کسی اور کو مادی نتیجہ ملنا چاہے اور اسکے باوجود کہ وہ ایک فلسفی تھا لیکن اس نے اس پر غور نہیں کیا کہ بعض سوچ و ۶ چار ایسی ہوتی ہے جس کی مادی قدرو قیمت نہیں ہوتی لیکن وہ روحانی قدروقیمت کی حامل ضرور ہوتی ہے ۔ ان سوچ وبچار یا تفکرات میں سے بعض ایسے ہیں جو اشعار میں سما جاتے ہیں اور اگر شاعر با کمال اور با ذوق ہو تو شعر پرکھنے والا یا سننے والا وجد میں آ جاتا ہے اور وہ محسوس کرتا ہے کہ اسے روحانی سرور مل رہا ہے ۔

کیا خود افلاطون کی زندگی میں ایسی چیزیں نہیں تھیں جو ذوق سے وجد میں آئی ہوں تو وہ کیوں شعر کو با بھلا کہتا ہے ؟ کیا جو کچھ پڑھاتا تھا اس کا ایک حصہ ذوق کے پہلو کا حامل نہ تھا اور فلسفے کے ذوق کے علاوہ کسیا ور ذوق سے محظوظ نہیں ہوتا تھا کیا وہ چیزیں جو روح کو تازگی بخشتی ہیں ان میں ایک خداوند تعالی کے کائنات میں پیدا کردہ حسن و جمال میں سے کسی حسن کی تعریف کرنا نہیں ہے اور اس حسن و جمال کی تعریف کرنے کیلئے کیا شاعری کی زبان زیادہ برترو موثر ہے یا فلسفے کی ؟

ہر چیز اپنی جگہ خوبصورت لگتی ہے ‘ شعر کی زبان کا استعمال اپنی جگہ پر اور فلسفے کی زبان کا استعمال اپنے مقام پر مناسب لگا ہے میں یہ نہیں کہتا کہ فلسفیکو شعر کی زبان میں بیاں نہیں کیا جا سکتا اور وہ اشعار جو میرے دادا علی نے پڑھے ہیں ان کا ایک حصہ فلسفے‘ نصیحت اور علم اخلاق پر مشتمل ہے لیکن ایک مقام ایسا ہوتا ہے جہاں شعر کام میں لایا جاتا ہے فلسفہ اس چیز کو بیان نہیں کر سکتا جس چیز کو شعر بیان کر سکتا ہے شعر کی زبان کا ایک موقع و محل رجز ہے اور کیا اے جابر ‘ تو نے سنا ہے کہ کسی نے رجز کو فلسفے کی زبان میں بیان کیا ہو ؟

میری مراد یہ نہیں کہ میں جنگ اور خونریزی کو جائز جانتا ہوں بلکہ میرا مقصد یہ ہے کہ فلسفے کی زبان جس قدر بھی دلیل و برھان پر تکیہ کرے اس سے رجز نہیں پڑھا جا سکتا اور نہ ہی اس سے شعر کی زبان کی مانند پھولوں کی خوبصورتی کی تعریب بیان کی جا سکتی ہے چونکہ فلسفے کی زبان دلائل کی محتاج ہے اور شعر کی زبان انسانی حواس کی ‘ ان دو زبانوں کے فرق کو ایک مثال سے وضح کیا جا سکتا ہے یہ کہا جا سکتا ہے کہ فلسفے کی زبان ایک فولادی شیشے کی مانند ہے جو بڑھئی کے ہاتھوں میں ہو تو وہ لکڑی کو چیر کر اس سے انسانی ضروریات کی اشیا تیار کرتا ہے ۔

لیکن شعر کی زبان پروں سے تیار شدہ پنکھے کی مانند ہے جو جب ہلایا جاتا ہے تو انسان کو ٹھنڈی ہوا دیت اہے جب کبھی اس کے پر جسم سے ٹکرائیں تو تکلیف نہیں پہنچاتے اور میں تعجب کرتا ہوں کہ افلاطون جیسے انسان نے جو فلسفی تھا اور اس کی عاقلانہ باتیں آج بھی مشحور ہیں کیسے کہہ دیا کہ شاعر دیوانہ ہے کیونکہ وہ ایسے خیالات کو زبان پر لاتا اور لکھتا ہے جن سے نہ خود شاعر کو کوئی فائدہ پہنچا اور نہ دوسرے لوگوں کو ۔

جابر بن حیان بولا ‘ جو کچھ افلاطون نے شاعروں کے بارے میں کہا وہ عقل سلیم سے دور ہے ۔

اس کے بعد جابر بن حیان نے پوچھا انسان اور بے جان چیزوں (جمادات) میں اتنا فرق کیوں ہے ؟ اور انسان اپنے آپ کو جمادات کی نسبت پودوں کے زیادہ قریب کیوں پاتا ہے ؟ جعفر صادق نے جوابا فرمایا ‘ انسان اور جماد کے درمیان فرق اس لئے پایا جاتا ہے کہ جمادات اپنی جمادی زندگی میں مستقل اور نا قابل تغیر قوانین کی پیروی کرتے ہیں جبکہ انسان اپنی زندگی میں مستقل اور نا قابل تغیر قوانین کی پیروی نہیں کرتا ۔

مستقل اور نا قابل تغیر قوانین جو جمادات کی زندگی پر حکومت کرتے ہیں وہ اس بات کا سبب بنتے ہیں کہ جمادات ہر جگہ اور ہر وقت ایک دوسرے کی شبیہ ہوتے ہیں لیکن وہ قواعد جو انسان پر حکومت کرتے ہیں ( میری مراد وہ قواعد ہیں جن کا سر چشمہ فکر ہے )ہر انسان میں دوسروں سے مختلف ہوتے ہیں انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو آرزو ‘ سلیقہ ‘ ذوق اور تمام ان چیزوں کے لحاظ سے جن کا سرچشمہ فکر ہے دوسرے انسانوں سے مختلف ہوتا ہے اور لوگوں کی زندگی میں جو چیزیں امتیاز پیدا کرتی ہیں ان میں ایک ہوس ہے کوئی مرد اور عورت ایسی نہیں جو ہو س نہ رکھتی ہو اگرچہ وہ کوئی پھل یا غذا کھانے کی حد تک ہی کیوں محدود نہ ہو ۔

چونکہ جمادات اپنی جمادی زندگی میں نا قابل تغیر قوانین کی پیروی کرتے ہیں لہذا جمادات کے مستقبل کے واقعات کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا مشکل ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ حتی کہ مثال کے طور پر دو سگے بھائی بھی یہ نہیں بتا سکتے کہ ان میں سے ہر ایک کا آئندہ سال کیا ارادہ ہو گا ؟ لیکن جمادی زندگی میں جامد اجسام ایک جیسے مستل قوانین کی پیروی کرتے ہیں جو کچھ ایک جامد جسم انجام دیتا ہے وہی دوسرا جسم بھی انجام دیتا ہے انسان ‘ پودوں سے اس لئے نزدیک ہے کہ پودے بھی بظاہر مستقل قوانین کی پیروی نہیں کرتے اگرچہ آخری مرحلے میں پودوں کی زندگی کے قواعد مستقل نہیں جس طرح آخری مرحلے میں انسانی زندگی کے قواعد بھی مستقل ہوتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں ہماری ابتدا ماں کا شکم اور ہماری انتہا قبر ہے ۔ چونکہ پودوں کی زندگی بھی بظاہر ہماری طرح مستقل نہیں ہے لہذا ہم اپنے آپ کو جمادات کی نسبت پودوں کے زیادہ قریب پاتے ہیں ۔

میں نے کہا کہ انسان کے فیصلہ کرنیکے اسباب اس قدر مختلف ہیں کہ کسی انسان کے آئندہ کے ارادوں کے بارے میں کوی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی کچھ حیوانی خصلیتیں تمام انسانوں میں مشابہ ہیں اور وہ کھانے پینے سونے اور اپنے جوڑے کا انتخاب کرنے سے عبارت ہیں اس کے باوجود کہ یہ خصلتیں تمام انسانوں میں موجود ہیں پھر بھی ہر کوئی اپنے سلیقے اور طبعیت کے مطابق ان میں سیہر ایک حاجت کو سر انجام دیتا ہے اسباب کا اختلاف جو افراد کو فیصلے کرنے پر مائل کرتا ہے لوگوں یا گروھوں کے درمیان دشمنی وجود میں لاتا ہے جس کاحتمی نتیجہ جنگ یا کشت و خون ہوتا ہے ۔

پیغمبر جو خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں انہوں نے احکام دینی اور قواعد کو لانے کے ساتھ ساتھ کوشش کی کہ لوگ ارادہ کرنے کے لحاظ سے ایک جیسی روش اختیار کر لیں اور انہیں متشابہ قواعد کی پیروی کرنے پر مائل کریں اور تو اس بات کی تصدیق کرے گا کہ دین لوگوں کے ارادوں میں یگانگت پیدا کرنے میں موثر واقع ہوا ہے اگر تو دیکھتا ہے جو کہ مسلمان اپنی اجتماعی زندگی سے ارادوں کے لحاظ سے یگانگت کے حامل نہیں ہیں تو وہ اس لئے ہے کہ ان میں سے ایک گروہ صمیم قلب سے ایمان نہیں لایا اور جب کبھی تمام مسلمان صمیم قلب سے ایمان لائیں گے ان کی اجتماعی زندگی کے بارے میں ان کے ارادوں میں بھی یگانگت آ جائے گی ۔ اس کے باوجود کہ تمام مسلمانوں کا ایمان محکم نہیں ہے کیونکہ جب تک ان کی حرص ‘ حسد اور نکتہ چینی اور کینہ ختم نہیں ہو جاتا ۔ ایسا نہیں ہو سکتا ‘ لیکن پھر بھی دینی قواعد نے مسلمانوں کے مجموعی ارادوں کو مشابہ کر دیا ہے اور وہ ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں ایک ہی قبلے کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے اور دن و رات میں نماز کے اوقات ایک ہی ہیں اور سب ایک ہی مہینے میں روزہ رکھتے ہیں ۔

تحویل قبلہ کا عقدہ

جابر نے کہا چونکہ آپ نے قبلے کا نام لیا ہے لہذا عقدہ کھلوانے کیلئے آپ سے ایک سوال کرتا ہوں ۔ جعفر صادق نے کہا جو کچھ پوچھنا چاہتے ہو پوچھو جابر نے اظہار خیال میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ پیغمبر نے مسلمانوں کے قبلے کو کیوں تبدیل کیا اور ان سے کہا کعبے کی طرف نماز پڑھیں جبکہ اس سے پہلے وہ ایک دوسری طرف نماز پڑھتے تھے ۔ جعفر صادق نے جواب دیا کہ پیغمبر نے خداوند کے حکم سے مسلمانوں کا قبلہ تبدیل کیا ۔ جابر نے پوچھا خداوند تعالی نے مسلمانوں کا قبلہ کیوں تبدیل کیا ؟ کیا خداوند تعالی دانائے مطلق نہیں ہے ؟ جعفر صادق نے فرمایا وہ دانائے مطلق ہے جابر نے کہا وہ دانائے مطلق ہے اور آئندہ پیش آنے والی ہر چیز سے آگاہ ہے تو اسے پہلے ارادہ کو تبدیلنہیں کرنا چاہیے کیونکہ ہم انسان اپنی نادانی کی وجہ سے اپنی زندگی میں ارادہ تبدیل کرتے ہیں آج ہم ارادہ کرتے ہیں اور پھر اس پر عمل کرتے ہیں اور چند مہینوں یا چند سالوں کے بعد تجربہ حاصل کرتے اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے غلطی کی ہے پھر ہم اپنے ارادے میں تبدیلی لاتے ہیں اور ایک دوسرا کام انجام دیتے ہیں لیکن خدا جو دانائے مطلق ہے غلطی نہیں کرتا اور ہم انسانوں کی طرح تجربے کا محتاج نہیں وہ مستقبل میں پیش آنے والے تمام واقعات سے آگاہ ہے اس کا ارادہ مستقل اور ابدی ہے پھر اس نے ارادہ کیوں تبدیل کیا؟ اور پیغمبر کے ذریعہ مسلمانوں کو کیوں کہا کہ بیت المقدس سے ہٹ کر کعبے کی طرف نماز پڑھیں جبکہ پہلی دفعہ مسلمانوں سے کہا گیا تھا کہ بیت المقدس کی طرف نما ز پڑھیں ۔

آپ نے فرمایا‘ اے جابر تیرے استدلال کا ایک پلڑا درست ہے لیکن دوسرا پلڑا درست نہیں اور اس سے بھی بڑ کر یہ کہ تم نے دوسرے پلڑے کو ذرا مد نظر نہیں رکھا جابر نے پوچھا دوسرا پلڑا کونسا ہے ؟

جعفر صادق نے جواب دیا ۔ دوسرا پلڑا لوگ یعنی بنی نو ع انسان ہیں تم نے غور نہیں کیا کہ خداوند تعالی احکامات بنی نوع انسان کیلئے صادر فرماتا ہے نہ اس مخلوقات کیلئے جن کی زندگی میں کوئی تبدیل نہین آتی یعنی جمادات ‘ یہی وجہ ہے کہ موسی کے ذریعے بنی نوع انسان کیلئے صادر کئے گئے احکامات ہمارے پیغمبر کے ذریعے صادر کئے جانے والیاحکامات سے مختلف تھے ۔

خداوند تعالی کو از سے معلوم تھا کہ وہ ایک دن مسلمانوں سے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم دے گا اور خداوند تعالی یہ بھی جانتا تھا کہ کچھ عرصہ بعد وہ ان سے کعبے کو قبلہ بنانیکا کہے گا خد کے احکامات میں ‘ میں اور تم آج جو تبدیلی مشاہدہ کرتے ہیں وہ خدا کے نزدیک مستقل قوانین ہیں کیونکہ خداوند تعالی نے ازل سے ان کی پیشگوئی کی ہوئی ہے مگر ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ خدائی احکامات میں تبدیلی آئی ہے لیکن خدا جانتا ہے کہ اس کے احکامات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ہے ۔

اس کی میں دو مثالیں دیتا ہوں تاکہ تم اسے مزید بہتر طریقے سے سمجھ سکو وہ شہد کی مکھی جو بہار کے نصف ماہ کے دوران پیدا ہوتی ہے گر سردیوں کے مہینے تک زندہ رہے اور سردیوں کے سرد موسم کو دیکھ تو خیال کرے گی کہ دنیا کے قواعد تبدیل ہو گئے ہیں لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے اور تمہارے لئے بھی دنیا کے قواعد تبدیل ہو چکے ہونگے ؟

جابر بولا نہیں ‘ جعفر صادق نے فرمایا ‘ میں اور تم نے پیش گوی کی تھی کہ گرمیوں کے بعد سردیاں آئیں گی اور ہماری نظر میں دنیا کے احکام میں کوئی تبدیلی وجود میں نہیں آئی ۔ ایک دوسری مثال دیتا ہوں فرض کیا آپ کے پاس کچھ زمین ہے اور آج اس میں کسی مزارع کو کام کرنے کیلئے منتخب کرتے ہیں اور آپ کا ارادہ یہ ہے کہ وہ شخص صرف ایک سال تک آ کا مزارع رہے ایک سال کے بعد آپ اسے کام سے نکال کر کسی دوسرے کو اس کی جگہ رکھ لیتے ہیں جب ایک سال ہوتا ہے تو آپ اس شخص کو اطلع دیتے ہیں کہ اس کی خدمات کی آپ کو مزید ضرورت نہیں ہے وہ شخص آپ کے ارادے سے متعجب ہو گا اور اسے آپ کے پہلے ارادے کے خلاف خیال کرے گا لیکن کیا آپ نے اس مزارع کو نکالکر کسی دوسر کو ملازم رکھ کر اپنے ارادے میں کوئی تبدیلی پیدا کی ہے ؟ ہر گز نہیں ‘ کیوں کہ آپ نے پہلے دن سے ارادہ کیا ہوا تھا کہ ایک سال بعد اسے نکال کر اس کی جگہ ایک دوسرے شخص کو رکھیں گے خداوند تعالی کے احکامات بھی جو ہماری نظر میں الٹ یا متضاد ہوتے ہیں اسی طرح ہیں اور خداوند تعالی نے جتنے قوانین صادر کرنے تھے ازل سے ان کی پیش گوئی کر دی ہے اور اس کیلئے متضاد ارادے کوئی معنی نہیں رکھتے ۔ جابر بن حیان نے کہا ‘ میرا عقدہ کھل گیا کیونکہ مسلمانوں کے قبلے کی تبدیلی کا مسئلہ میرے ذہن پر بوجھ بنا ہوا تھا اور اس کے باوجود کہ اس لحاظ سے میرے پاس کوئی سوال نہیں ہے پھربھی اس موضوعکے بارے میں سوال کرتا ہوں ۔ جعفر صادق نے فرمایا پوچھو ۔

جابر نے پوچھا ‘ اس میں کیا مصلحت تھی کہ خداوند تعالی نے پیغمبر کو حکم دیا کہ اس کے بعد کعبے کیطرف منہ کرکے نماز پڑھیں جعفر صادق نے فرمایا ‘ جب پیغمبر نے رسالت ‘ پہچانا شروع کی مسلمان تھوڑے اور کمزور تھے ‘ جبکہ یہودی اور عیسائی اکثرت میں طاقتور تھے اور مسلمانوں کو ختم کر سکتے تھے لہذا اس زمانے میں خداوند تعالی نے مسلمانوں کو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم دیا کیونکہ یہودی اور عیسائی دونوں بیت المقدس کے احترام کے قائل تھے اور اس طرح وہ مسلمانوں کو دشمنی کی نظر سے نہ دیکھیں اور انہیں دشمن خیال نہ کرکے انہیں مٹانے سے باز رہیں ۔

بیت المقدس کی جانب منہ کرکے نماز پڑھنے کا مقصد یہودیوں اور عیسائیوں سے نرمی سے پیش آنا تھا ور یہ سلوک کافی موثر واقع ہوا کیونکہ جب یہودیوں اور عیسائیوں نے مسلمانوں میں دشمنی کے کوئی آثار نہ دیکھے تو انہیں تکلیف پہچانے سے باز رہے لیکن اس کے بعد جیسا کہ تم جانتے ہو مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان تنازعہ شروع ہو گیا ۔

جابربن حیان نے کہا جیسا آپ فرما رہے ہیں اسی طرح ہوا ہوگا ور مسلمانوں کے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے سے یہودی اور عیسائی مطمئن ہونگے لیکن خداوند تعالی کے اس حکم میں کیا مصلحت تھی کہ مسلمان کعبہ کی طرف نماز پڑھیں کیا یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ خداوند تعالی کسی دوسری جگہ کو مسلمانوں کا قبلہ قرار دے دیتا ؟

جعفر صادق نے فرمایا ‘ تجھے معلوم ہے کہ پیغمبر کے مدینے سے آکر مکہ فتے کرنے سے پہلے کعبے کی کیا حالت تھی ؟ جابر نے کہا ‘ مجھے معلوم ہے ‘ بت خانہ بنا ہوا تھا جعفر صادق نے فرمایا ان بتوں کی کون پوجا کرتا تھا ؟ جابر نے کہا ‘ جزیرہ عرب کے لوگ جعفر صادق نے پوچھا ‘ جزیرہ عرب میں کون لوگ بت پرست نہ تھے ؟

جابر نے کہا ‘ یہودیوں اور کچھ عیسائیوں کے علاوہ کوئی ایسا شخص نہ تھا جو بت پرست نہ ہوتا جعفر صادق نے فرمایا کعبے مین تمام جزیرہ عرب کے قبائل کے بت رکھے ہوئے تھے اور اسی بنا پر کعبہ تمام عربوں کیلئے محترم تھا اور جب پیغمبر نے مسلمانوں سے کہا کہ کعبے کی طرف منہ کرکے نما ز پڑھیں تو نہ صرف یہ کہ حیران نہیں ہوئے بلکہ میں کہہ سکتا ہوں کہ کعبے کی طرف نماز پڑھنا ان کیلئے بیت المقدس کی طرف نماز پرھنے سے کہیں آسان تھا کیوں کہ جب سے ہوش سنبھالے تھے کعبے کا احترام کرتے تھے اور اسی لئے قبلہ کی تبدیلی کو جزیرہ عرب کے مسلمانوں نے راضی خوشی قبول کر لیا جابر نے کہا ‘ لیکن اسلام جزیرہ عرب تک محدود نہیں رہا بلکہ مزید پھیلا اور مشرق و مغرب تک چھا گیا جعفر صادق نے فرمایا اسی طرح ہے ۔

جابر نے اظہار خیال کیا ‘ کعبہ ان لوگوں کیلئے محترم نہ تھا جو عرب نہ تھے ۔ جعفر صادق نے فرمایا چونکہ پیغمبر نے خداوند تعالی کے حکم کے مطابق کعبے کو مسلمانوں کا قبلہ بنایا تھا ‘ لہذا وہ قومیں جو عرب نہ تھیں جب مسلمان ہوئیں تو ان میں کعبے کیلئے احساس اہترام پیدا ہوااور تمام دنیا کے مسلمانوں کے کعبے کی طرف نماز پڑھنے سے مسلمانوں کو ایک روحانی مرکز ملا جس کی مثال کسی بھی گذشتہ مذہب میں نہیں ملتی اور آج مشرق میں رہنے والا مسلمان ‘ مغرب میں قیام پذیر مسلمان کی طرح کعبے کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتا ہے ۔ جابر نے سوال کیا ‘ کیا یہ مرکزیت زیادہ اہمیت کی حامل ہے یا مسلمانوں کا حج کیلئے مکے جانا اور وہاں اجتماع کی صورت اختیار کرنا ۔

جعفر صادق نے جواب دیا ‘ یہ مرکزیت حج کیلئے مکے جانے سے زیادہ اہمیت اور روحانی مفاد کی حامل ہے کیونکہ بہت سے مسلمان ایسے ہیں جو مادی استطاعت نہ ہونے یا راہزنوں کے خلاف کی وجہ سے زندگی میں ایک مرتبہ بھی حج پر نہیں جا سکتے ‘ لیکن دنیا کے ہر کونے میں رہنے والا مسلمان رات دن پانچ دفعہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتا ہے اور کہا جا سکتا ہے کہ ہر شب و روز تمام مسلمانوں کی نگاہیں پانچ مرتبہ کعبے میں پہنچتی ہیں گویا دنیا کے تمام مسلمان شب و روز پانچ مرتبہ ایک دوسرے کی آنکھوں سے آنکھیں ملاتے ہیں اسی طرح دنیا کے تمام مسلمانوں کا کام اسی وجہ سے کہ تمام مسلمان کعبے کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں گویا وہاں پہنچتا ہے اور دنیا کے مشرق و مغرب میں کروڑوں مسلمانوں کی تکبیر کعبے میں ی جاتی ہے اور یہ مرکزیت کسی سابقہ مذہب میں موجود نہیں اور نہ ہی آندہ موجود ہو گی کیونکہ دین اسلام وہ اخری دین ہے جو خداوند تعالی نے انسان کیلئے مقرر کیا ہے اور اسلام کے بعد کوئی دوسرا آسمانی مذہب نہیں آئے گا اور جو کوئی اسلام کے بعد پیغمبری کا دعو کرے جھوٹا پیغمبر ہے اور خداوند تعالی کی کی طرف سے مبعوث نہیں ہوا بلکہ جعلی ہے ۔

جابر نے پوچھا ‘ بعض لوگ خود کشی پر کیوں مائل ہوتے ہیں ؟ جعفر صادق نے جواب دیا خود کشی کرنے والے لوگ مذہبی ایمان نہیں رکھتے جو کوئی مذہبی ایمان رکھتا ہو وہ اپنے آپ کو قتل نہیں کرتا مجھے یقن ہے کہ تو نے آج تک کوئی ایماندار شخص خود کشی کرتے نہیں دیکھا ہو گا مسلمان جہاد کرتا ہے اور قتل ہو جاتا ہے لیکن اپنے خون سے اپنے ہاتھ رنگین نہیں کرتا ۔

مذہبی ایمان نہ رکھنے کے علاوہ جو چیز کسی انسان کو خود کشی کرنے پر مائل کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس میں زندہ رہنے کا ارادہ سست پڑ جاتا ہے میں نے کہا کہ ہر زندہ وجود میں سب سے مضطوب ارادہ زندہ رہنے کی طرف مائل ہوتا ہے یہ تمایل انسان کوکام پر لگاتا ہے اور اسے شادی کرنے اور اپنی اور بیوی بچوں کی رہائش کیلئے گھر بنانے پر مائل کرتا ہے بعض لوگ جو مذہبی ایمان سے محروم ہوتے ہیں ان میں زندہ رہنے کا ارادہ سست پڑ جاتا ہے ۔

ارادے کے سست پڑ جانے کی بھی چند وجوہات ہیں ان میں ایک وجہ کاہلی ہے اور وہ انسان اس قدر سست ہو جاتا ہے کہ کوئی کام نہیں کر سکتا اور اس میں بہت زیادہ سستی وجود میں آ جاتی ہے جس سے نا امیدی جنم لیتی ہے اور اسی نا امید کے نتیجے میں انسان اپنے ہاتھ اپنے خون سے رنگین کر لیتا ہے زندگی کی ارادے کے سست پڑ جانے کی ایک دوسری وجہ جو ا بازی ہے جو ہمارے مذہب میں سختی سے منع ہے جوئے میں انسان اپنا تمام مال و متاع نہایت مختصر مدت میں کھو دیتا ہے اور جب سوچتا ہے کہ اس نے اپنے کئی سالوں کی کمائی تھوڑی دیر میں لٹا دی ہے تو نا امیدی اس پر غالب آ کر اسے خود کشی پر مائل کر دیتی ہے ۔

زندگی کے ارادہ کے سست پڑ جانے کی ایک اور وجہ جنون ہے جو زیادہ تر موروثی ہوتا ہے اور آباؤ اجداد کے شراب پینے کی وجہ سے جنم لیتی ہییہی وجہ ہے کہ اس طرح کا جنون مسلمانوں میں نہیں ہے کیونکہ مسلمان شراب نہیں پیتے جس کی وجہ سے ان کی اولاد جنون کا شکار نہیں ہوتی ۔لیکن وہ قومیں جو شراب پیتی ہیں ان میں دو بیماریوں کے وجود میں آنے کا خطرہ موجود رہتا ہے ایک دماغ کا خبط اور دوسری لقوہ ۔

موروثی جنون جو آباؤ و اجداد کے بہت زیادہ شراب پینے کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے ممکن ہے زندہ رہنے کے عزم کو بغیر کسی وجہ کے ختم کر دے اور جو کوئی اس طرح کے جنون میں مبتلا ہوتا ہے اپنے خلاف بہانے تراشتا اور اپنے کینے کو اپنے خلاف ابھارتا ہے ہر شخص اپنے خلاف بغض و کینے میں اس اس قدر اگے بڑھ جاتا ہے کہ اپنے آپ کو مارا ڈالنے کا سزا وار قرار دے کر موت سے ہم کنار کر دیتا ہے ۔

دوسری وجہ جو بعض افراد میں زند رہنے کے عزم کو ختم کر دیتی ہے وہ جوا ہارے بغیر ہمت ھار بیٹھتا ہے ۔ اگر ایک مومن مسلمان ہمت ھار بیٹھے تو چونکہ وہ خداوند تعالی پر توکل کرتا ہے لہذا خود کشی کے بارے میں نہیں سوچتا لیکن وہ لوگ جو مذہبی ایمان سے محروم ہیں جون نہی وہ ہمت ہار بیٹھتے ہیں ممکن ہے کہ زندہ رہنے کے عزم کو ہاتھ سے دے بیٹھیں اور اپنی جان کے خلاف برا ارادہ کر لیں ۔

جو اسباب انسان کے زندہ رہنے کے عزم کو ختم کر دیتے ہیں ان میں سستی بہت عام ہے اکثرلوگ جو خود کشی کرتے ہیں وہ سست ہوتے ہیں اور اگر کوئی ان کے مافی الضمیر میں جھانک سکے تو وہ محسوس کرے گا کہ ان کی خود کشی کرنے کی اپصل وجہ ان میں پائی جانے والی سستی ہے اور دین اسلام کے احکام کا ایک مقصد انسان کو سستی اور کاہلی سے دور رکھنا ہے ۔

جابر ‘ آدمی فطرتا آرام پسند ہے اور بذاتہ کام کرنے کا رجحان نہیں رکھتا ہر آدمی صبح کے وقت سونا چاہتا ہے کیونکہ صبح کی نیند تمام اوقات سے زیادہ موثر ہوتی ہے لیکن دین اسلام انسان کو سورج کے طلوع ہونے سے پہلے نماز پڑھنے کا حکم دیتا ہے اور یہ فریضہ مسلمانوں میں سستی دور کرنے میں بہت موثر ہے ایک مسلمان شخص جب صبح کی نماز بڑھ لیتا ہے تو وہ روز مرہ کے کاموں کیلئے تیار ہو جاتا ہے اس طرح دوسری چارنمازیں بھیا سی لئے واجب قرار دی گئی ہیں تکاہ مسلمان سستی سے پرہیز کریں ۔جابر نے کہا میں نے ہندوستانی تاجروں سے جو جدہ آتے ہیں سن رکھا ہے کہ ہندوستانیوں کے تین خدا ہیں کیا آپ کو ان تین خداؤں کے نام معلوم ہیں ؟ جعفر صادق نے فرمایا ان تین خدئاون کے نام ہندی زبان میں براما (یا برھما ) وشنو اور شیوا ہیں ۔

جابر نے کہا مجھے تعجب ہے کہ وہ لوگ توحید کے بجائے تین خداون کی پوجا کیون کرتے ہیں ؟ جعفر صادق نے جواب دیا چونکہ یہ لوگ واحد اور حقیقتی خدا کے کلام کو تسلیم نہیں کرنا چاہتے تھے لہذا انہوں نے اپنے تخیل سے تین خدا وجود میں لا کر ان کی پرستش شروع کر دی ‘ ان کا عقیدہ ہے کہ براما یا برھما وہ خدا ہے جس نے کائنات کو خلق کیا ہے اور براما کے کائنات کو وجود میں لانے کے متعلق وضاحت بھی کرتے ہیں جس کا خلاصہ ہے کہ براما نے اپنی پھونک یا سانس سے کائنات کو خلق کیا ہے اور جب کائنات وجود میں آ گئی تو ایک دوسرا خد ا جس کا نام ویشنون تھا ‘ کائنات کا محافظ بن گیا اور ہندو عقیدے کائنات وجود میں آ گئی تو ایک دوسرا خدا جس کا نما ویشنوتھا ‘ کائنات کا محافظ بن گیا اور ہندو عقیدے کے مطابق تیسرا خد ا جس کا نام شیوا ہے موت یا ہلاکت کا خدا ہے جو کچھ پہلے خدا (براما ) نے خلق کیا اور کرتا ہے اسے تیسرا خدا ہلاک اور نیست و نابود کرتا ہے اور اس کے باوجود کہ دوسرا خدا کائنات کا محافظ ہے تیسرے خداکے کام میں رخنہ نہیں ڈال سکتا اور موت و نیست و نابودی کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا جابر نے پوچھا پھر ہندوؤں کو اپنے تخیل سے ویشنو کو وجود میں لانے کی کیا ضرورت تھی کیا اس خدا کا وجود اس لئے ضروری تھا تاکہ یہ کائنات کی حفظت کر سکتا اور جب کائنات کی حفاظت پر قادر نہیں اور شیوا ہر ایک کو ہلاک اور نیست و نابود کرتا ہے تو کیا عقل کی رو سے یہی بہتر نہ تھا کہ ہندوؤں کے دو خدا ہوتے ایک براما اور دوسرا شیوا ۔

جعفر صادق نے جواب دیا جس سوچ کی وجہ سے ہندو ویشنو کے معتقد ہوئے اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک ایسا خدا ہونا چاہیے جو کائنات کو موجودہ زمانے میں محفوظ رکھے اور اے جابر تجھے معلوم ہے کہ ہندوؤں کا تین خداؤں پر ایمان لانا اس بات کا باعث ہوا کہ وہ تنوں جنگ کی حالت میں ہوں اور جو کچھ براما یا برھما وجود میں لائے اسے شیوا منہدم کر دے اور اگر وہ جاندار ہے تو اسے ہلاک کر دے اور یہ بھی کہ ویشنون کو ہمیشہ شیوا سے بر سرپیکار رہنا چاہیے کیونکہ شیوا چاہتا ہیجو کچھ پہلے خدا نے خلق کیا ہے اسے ہلاک یا منہدم کرے لیکن ویشنو کو شش کرتا ہے کہ شیوا کو اپنے کام میں کامیاب نہ ہونے دے لیکنوہ اپنی اس کوشش میں ہمیشہ ناکام رہتا ہے اور دو جخھ شیوا چاہتا ہے وہی کرتا ہے ۔

ایسا نظر آتا ہے کہ تیسرے خدا کو کائنات کی حفاظت کیلئے وجود میں لانے کی سوچ اس سے بھی عبارت ہے کہ خلق کرنے اور ہلاک کرنے والے خدا کے درمیان کوئی واسطہ ہونا چاہیے تاکہ زندگی اور موت کے خداؤں کا براہ راست رابطہ نہ ہو کیونکہ اگر ان کا رابطہ براہ راست ہو گا تو نہ کوئی چیز خلق ہو گیا ور نہ مرے گی۔

جابر بن حیان نے کہا میں جب یہ خیال کرتا ہوں کہ میں موحد ہوں تو میں اپنے آپ پر فخر کرتا ہوں کیونکہ میرے تو حیدی مذہب میں اس طرح کا کوئی مسئلہ یا مشکل موجود نہیں ۔

جعفر صادق نے فرمایا توحید مذاہب میں خالق اور محافظ ایک ہی ہے اور وہی ہے جو مارتا ہے کیونکہ یہ بات درست نہیں کہ معدوم کرتا ہے بلکہ صورت تبدیل کرتا ہے اور دین اسلام میں موت کے بعد قیامت موجود ہے جو اصول دین میں سے ہے جس کے مطابق انسا دوبارہ زندہ ہوں گے اور اپنی زندگی کا دوبار آغاز کریں گے ۔

یونانی فلاسفر۱

جابر بن حیان نے پوچھا کیا افلاطون اور اس کا شاگرد ارسطو موت کو برحق خیال کرتے تھے ؟ جعفر صادق نے فرمایا یہ دو شخص یونانی تھے اور قدیم یونانیون کا موت کے بارے میں یہ عقیدہ نہ تھا کہ انسانی زندگی مکمل طور پر ختم ہو جاتیہے وہ موت کو بنی نوعی انسان کی طویل عمر کا ایک مرحلہ سمجھتے تھے اسی وجہ سے جب وہ مردے کیلئے تابوت تیار کرتے تو وہ تابوت پر اپنے ذوق کے مطابق رنگ برنگی تصوریں بناتے تھے ان تصوریوں میں مرد و عورت کے ملاپ کا منظر ‘ رقص کا منظر اور شکار وغیرہ کے منظر نقش ہوتے تھے ان تصوریوں کے بنانے سے ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ وہ تابوت میں موجود جسد کو مردہ نہیں بلکہ زندہ خیال کرتے تھے لیکن اس کے باوجود کہ یونانیوں کا موت پر ایمان نہ تھا ‘ پھر بھی ان کے فلاسفہ موت کے بارے میں سوچ و بچار سے غافل نہ تھے ۔

یونانی ماہرفلکیات ارسطو خوس فلسفے میں بھی صاحببصیرت تشمار ہوتا تھا اس نے موت کے بارے میں کافی غور و خوض کرنے کے بعد کہا میں اس سوچ سے پیچھا نہیں چھڑا سکتا کہ وہ لاکھوں مرد اور عورتیں جو مجھ سے قبل زندہ تھے وہ کہاں گئے اور ان میں سے کوئی دکھائی کیون نہیں دیتا اور کسی کی آواز کیوں نہیں سنائی دیتی اور مجھے یہ سعادت کیوں نصیب ہوئی ہے کہ میں ان لاکھوں مردوں ‘ عورتوں کے درمیان جو مر گئے ہیں اور کوئی بھی ان میں سے واپس نہیں آیا زندہ ہوں اور زندگی کی خوشیوں سے بہرہ مند ہوں اور کیا میں بھی ایک دن ان ہی کی طرح مر جاؤں گا یا یہ کہ میں جو آج زندگی کی خوشیوں سے ہم کنار ہوں‘ نہیں مروں گا ۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ جو لاکھوں مرد اور عورتیں مر چکے ہیں میں اور مجھ میں فرق ہے چونکہ مجھے زندگی سے پیار ہیاور وہ لوگ جو مر چکے ہیں اس لئے مرے ہیں کہ انہیں زندگی سے پیار نہ تھا اور وہ زندگی کی خوشیوں سے بہرہ مند نہیں ہونا چاہتے تھے اس کے باوجود کہ میں اپنے آپ کو مستثنی خیال کرتا ہوں اور مجھے ہمیشہ زندہرہنے کی امید ہے کبھی کبھار اپنے آپ سے کہتا ہوں اگر میں مر گیا تو کیا ہو جائے گا کیا موت کے بعد میں زندگی کی موجودہ خوشیوں سے بہرہ مند ہو سکوں گا ؟ کیا موت کے بعد لذیذ غذا کھناے کی لذت اٹھا سکوں گا اور کیا موسیقی کی آواز آج کی مانند مجھے لطف پہنچائے گی ؟۔۔۔۔۔ یا یہ کہ میں بھی موت کے بعد ان جانورون کی مانند ہو جاؤں گا جو مر جاتے ہیں اور کیا وہ مرغ جس کا گوشت کل تک میری غذا تھی موت کے بعد زندہ ہو گا ؟ اور وہ بکرا جسے ہم نے ایک دن بعد ذبح کیا اور اس کے گوشت سے غذا پکای اور میرے کئی عزیزوں اور دوستوں نے وہ غذا کھائی کیا موت کے بعد اسکے زندہ ہونے کی امید کی جا سکتی ہے ؟

لیکنبعد میں خیال کرتاہوں کہ مجھ میں اور بکرے میں بہت فرقہے چونکہ میں انسان ہوں اور وہ بکرا حیوان ہے انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مرنے کے بعدزندہ رہے چونکہ انسان کے پاس عقل و علم ہے اور بکرا تو علم و عقل سے محروم ہے اور اگر مرنے کے بعد میں زندہ نہ رہوں تو آج مجھے یہ خیال نہیں آ سکتا کہ موت کے بعد زندہ رہوں گا اور اپنے آپ کو بھی پہچانوں گا ۔

میں موت کے بعد نہیں چاہتا کہ اپنے آپ کو نہ پہچانوں کیونکہ اگر میں موت کے بعد اپنے آپ کو نہ پہچان سکا تو جو خوشیاں موت کے بعد میرے نصیب میں ہوں گی میں ان سے محظوظ نہیں ہو سکوں گا اور مجھے موت کے بعد اپنے آپ کو پہچاننا چاہیے تاکہ مجھے علم ہو سکے کہ یہ میں ہوں جو خوشیوں کی لذت اٹھا رہا ہوں نہ کہ کوئی دوسرا اس کے بعد ارسطو خوس کہتا ہے ۔

کیا یہ بات ممکن ہے کہ میں بھی لاکھوں زرد پتوں کی مانند ہوں جو خزاں کے موسم میں درختوں سے گرتے اور جلد ہی ختم ہو جاتے ہیں کبھی میں خیال کرتا ہوں کہ میں بھی انہی زردیوں کی مانند عنار بن کر ختم ہو جاؤں گا لیکن میرے ضمیر کی گہرائی میں کوئی مجھے کہتا ہے کہ اسطرح نہیں ‘ مجھ میں اور خزاں کے موسم میں درختوں سے گرنیوالے زرد پتوں میں فرق ہے اور میں ذبح ہونے اور پھر غذا میں استعمال ہونے والے بکرے سے برتر ہوں میرا خیال ہے مجھ میں اور بکرے کی نسبت اور موسم خزاں میں درختوں کے زرد پتوں کی نسبت بدرجہ اولی یہ برتری پائی جاتی ہے کہ میں زمانے کے گزرنے کا احساس کرتا ہوں اور وہ زمانے کے گزرنے کا احساس نہیں کرتے ۔

کئی دفعہ میں نے سوچا کہ زمانے کا گزرنا کیا ہے اور اب سوچتا ہوں کہ زمانہ بہتے ہوئے دریا کی مانند ہے اور میں اس دریا میں پتھر کے تختے کی مانند ہوں جسے جب پانی پہنچتا ہے تووہ کھڑا نہیں رہتا بلکہ حرکت کرتا ہے اور اس کے کچھ حصے سے ٹکرا کر آواز پیدا کرتے ہوئے گزر جاتا ہے اور میری زندگی موجود زمانہ ہے دریا کا بالائی حصہ جہاں سے پانی آتا ہے گذشتہ زمانہ ہے اور دریا کا ڈھلوانی حصہ جس کی طرف پانی آتا ہے‘ آئند زمانہ ہے اور میں جو ایک لمحے کیلئیپانی روکتا ہوں لہذا میں زمانہ حالہوں اور چونکہ دریا کا پانی مجھسے ٹکراتا ہے لہذا وہ زمانہ حال میں تبدیل ہو اجتا ہے ۔

مجھے گزشتہ زمانے سے کوی دلچسپی نہیں چونکہ گزرے ہوئے زمانے کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور میں اس سے بہرہ مند نہیں ہو سکتا میری زندگی زمانہ حال ہے اور ہمیشہ زمانہ حال میں زندہ ہوں اور وہ لمحہ جس میں میں یہ خیال کرتا ہوں کہ میں زندہ ہوں وہ لمحہ زمانہ حال ہے نہ گذشتہ زمانہ اور نہ آئندہ زمانہ مجھے معلوم ہے کہ میرے لئے زمانہ حال میں میری حقیقی زندگی ہے اور جس کے ذریعے میں اپنی عمر کو پہچان سکتا ہوں وہ صرف زمانہ حال ہے میری گزری ہوئی عمر ایک ایسے پرندے کی مانند ہے جو پنجرے سے آزاد ہو کر اڑ چکا ہے اور اب اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور آئندہ کی عمر ایک ایسے پرندے کی مانند ہے جو فضا میں اڑ رہا ہے اور ابھی تک میں نے اسے پکڑ کر پنجرے میں قید نہیں کیا صرف زمانہ حال ہے جو وہ مکمل طورپر میرے اختیار میں ہے اور میں اس کا مالک ہوں جس طرح چاہوں اس سے فائدہ اٹھاؤں یہ زمانہ حال میرے زندہ رہنے تک باقی ہیاور وہ ہر لمحہ جس میں میں احساس کرتا ہوں کہ میں زندہ ہوں وہ لمحہ میرے لئے زمانہ ہے مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ بعض لوگ گزرے ہوئے زمانے کو اپنی عمر خیال کرتے ہیں وہ اس پر غور نہیں کرتے کہ جو زمانہ ان پر بیت گیا وہ اب ان کا نہیں رہا ۔

میں حیران ہوتاہوں کہ کیسے بعض لوگ آئندہ آنے والے دور کو اپنی عمر خیال کرتے ہیں اور اس پر غور نہیں کرتے کہ جو زمانہ ابھی تک نہیں آیا وہ ایسی دولت کی مانند ہے جو ابھی تک حاصل نہیں ہوئی اور اسے اپنی خیال نہیں کیا جا سکتا ۔

مجھے تعجب ہے کہ کیوں بعض لوگ اس روشن حقیقت کو نہیں دیکھتے اور تسلیم نہیں کرتے کہ زندگی زمانہ حال کے علاوہ کچھ نہیں اور اگر کوئی اس سے فائدہ اٹھانا چاہے تو اسے زمانہ حال سے فائدہ اٹھانا چاہیے میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ کہتے ہیں آج اس خوشی کا وقت نہیں اسے کل پر رکھ چھوڑنا چاہیے وہ اس بات سے غافل ہیں کہ کل ان کا نہیں کیونکہ ابھی تک وہ اسکے مالک نہیں بنے آدمی کی عمر زمانہ حال ہے اور یہ زمانہ عمر کے خاتمے کے آخری لمحات تک جاری رہتا ہے اور انسان کیلئے ہر گز کوئی ایسا لمحہ نہیں آتا جو زمانہ حال نہ ہو ۔ گذشتہ کل مکالمے میں بامغنی ہے لیکن فی نفسہ بے معنی ہے کیونکہ گذشتہ کل موجود نہیں اور جو چیز موجود نہ ہو کیسے ممکن ہے وہ مفہوم رکھتی ہے آنے والا کل بامعنی ہے لیکن بذاتہ ہی موجود نہیں ہے کیونکہ جو چیز ابھی تک وجود میں نہیں آئی کیسے ممکن ہے مفہوم رکھتی ہو ؟ لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ کل بھی (اگر پہنچے ) تو زمانہ حال ہے میں اگر کل ظہر کے وقت پہنچوں تو ظہر کے وقت کو زمانہ حال ہی پاؤں گا نہ کہ دوسرا دن ‘ میری اور دوسرے انسانوں کیزندگی میں گذشتہ اور آئندہ کل صرف مکالمے کی حد تک محدود ہے اور بذاتہ بے معنی اور بے مفہوم ہے ۔

میرے لئے جب تک میں زندہ ہوں کوئی ایسا لمحہ پیش نہیں آئے گا جو زمانہ حال نہ ہو اور میں کسی لمحے بھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ لمحہ گذشتہ کل یا آئندہ کل ہے ۔ میرا باپ بھی جب تک زندہ تھا یہ نہیں کہہ سکا کہ یہ لمحہ گذشتہ کل یا آئندہ کل ہے میرا بیٹا بھی جو جوان آدمی ہے یہ بات نہیں کہہ سکتا یعنی اس کیلئے عمر کا ہر لمحہ زمانہ حال ہے ۔ جس وقت میں جوان تھا میں ذیمقراطیس کی اس بات کو نہیں سمجھ سکا کہ اس نے کہا میں اور میرا باپ اور میرا بیٹا یک ہی لمحے پیدا ہوئے اس سے اسکی کیا مرا د ہے ؟

آج ذی مقراطیس کے ا س قول کی صحت پر مجھے کوئی شک نہیں اور میں اس بات کا قائل ہوں کہ نہ صرف ایک باپ اور بیٹا بلکہ تمام بنی نوعی انسان ایک لمحے یعنی زمانہ حال میں پیدا ہوئے اور ایک لمحے میں جو پھر زمانہ حال ہے اس میں مر جاتے ہیں ۔

میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ زمانہ حال جو میری حقیقی عمر ہے کہیں میرے ہاتھ سے چلا نہ جائے کبھی میں خیال کرتا ہوں کہ کیا عمر کا خاتمہ سونے کی مانند نہیں ؟ اور میں سونے سے کیوں نہیں ڈرتا مرنے سے ڈرتا ہوں ؟ جب میں سوتا ہوں تو اپنے آپ سے بے خبر ہو جاتا ہوں اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ جو شکص سویا ہوا ہے کیا وہ میں ہی ہوں اور سونے کے دوران میں اپنی موت کو فراموش کر دیتا ہوں ۔

پس موت جو ایک دوسری طرح سونے کا نام ہے اس سے کیوں ڈروں ۔ لیکن یہ لداری مجھے تسلی نہیں دیتیا ور میرا موت سے ڈر دور نہیں ہوتا ۔ چونکہ سونے سے پہلے مجھے علم ہوتا ہے کہ سونے کے بعد جا گ اٹھوں گا لیکن موت سے بیدار نہیں ہوں گا اگر آدمی موت کے بعد سو کر بیدار ہو جاتا تو صرف یونان میں مجھے سے پہلے گزرے ہوئے لاکھوں لوگ بیدار ہو جاتے اور مجھ سے موت کے بعد کی آپ بیتی بیان کرتے ۔ لیکن موت تو ایسا سونا ہے جسکے بعد بیداری نہیں ہے اور میں امید نہیں رکھتا کہ بیدار ہو جاؤں گا ۔

چونکہ مجھے معلوم ہے کہ بیدار ہونے کیلئے میرے جسمانی ڈھانچے کا وجود ضروری ہے جو موت کے بعد ختم ہو جائیگا نہ صرف میرا گوشت پوست اور خون ختم ہو جائے گا بلکہ میری ہڈیاں بھی غبار میں تبدیل ہو جائیں گی چونکہ اس کے بعد میرا ڈھانچہ باقی نہیں رہے گا تو ظاہر ہے کہ میں بیدار نہیں ہوں گا اور یہی وہ بات ہے جو مجھے موت سے ڈراتی ہے اگر مجھے علم ہوتا کہ میری موت کے بعد میرا ڈھانچہ باقی رہے گا تو میں موت سے ہر گز نہ ڈرتا چونکہ ایک دن بیدار ہونے کا امیدوار ہوتا اسکی وجہ یہ ہے کہ جب تک بیداری کے عوامل موجود ہوں انسان بیداری کا امیدوار رہتا ہے ۔ میں نے سنا ہے کہ مصری مو کے بعد انسانی جسدکی ایسی صورت بنا دیتے ہیں جو ہر گز ختم نہیں ہوتی اور اس کام کیلئے مخصوص انسٹی ٹیوٹ قائم ہیں ۔

لیکن یہاں پر کوئی بھی جس دکو موت کے بعد محفوظ بنانے کے کام سے آگاہ نہیں اور اگر آگاہ ہو تو بھی وہ مردے کے جسد کو محفوظ بنانے کی اجازت نہیں دے گا چونکہ یونانیوں کا عقیدہ ہے کہ یونانی خدا اس روش کو پسند نہیں کرتے کیونکہ یہ ایسی روش ہے جو غیر خدا نے بنائی ہے اور غیر خداؤں کیروش یونان میں رائج نہیں ہونی چاہیے ۔ کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ بڑھاپے کے آخری سالوں میں مصر جاؤں اور وہیں مروں تاکہ میرے جس کد موت کے بعد ایسی شکل دے دیں کہ وہ ختم نہ ہو اور مجھے امید ہو کہ میں موت کی نیند سے بیدار ہو جاؤں گا۔

لیکن جلدی ہی میں اس سوچ کو ترک کر دیتا ہوں کینکہ میں اپنے آپ کو قائل نہیں کر سکتا یونان کی خاک کے علاوہ کوئی خاک میرے جسم پر لپیٹی جا سکتی ہے اور میں اپنے آپ کو اس سوچ پر قائم نہیں رکھ سکتا کہ یونانی خداؤں کی رائج کردہ روش کے علاوہ کسی دوسری روش سے مجھے دفن کرنا درست ہے کیونکہ میں یونان میں رائج روش کے علاوہ اگر کسی دوسری روش کے مطابق دفن کیا جاؤں تو میں نے اپنے وطن سے غذا کی ہے ۔

کبھی میں اپنے آپ سے کہتا ہوں کیا یہ بہتر نہیں کہ میں اپنے وطن میں مروں اس شرط پر کہ میرے جسد خاکی کو میری موت کے بعد محفوظ رکھیں اور اگر ہو سکے تو مجھے مصری روش کے مطابق دفن کیا جائے لیکن پھر میں اس سوچ کو جھٹک دیتا ہوں کیونکہ یونانی خداؤں کی روش کے علاوہ کسی دوسری روش کو قبول کرنا وطن سے غذاری کے مترادف ہے کیا یہ ممکن ہے کہ خدا مجھے امید دلائیں کہ موت کے بعد میں اپنے آپ کو پہچان سکوں گا ؟ اور یہ جان سکوں گا کہ میں وہی رہوں گا جو آج ہوں اور میں نے عمر کا ایک حصہ ستاروں کو پہچاننے میں گزارا ہے ؟

اور ان کی حرکات کے قوانین معلوم کئے اگر خدا مجھے یہ امید دلائیں تو میں اس قدر خوش ہوں گا کہ اگر میرے پاؤں ہوتے تو میں رقص کرتے ہوئے قبر کی طرف بڑھتا مجھے اگر یقین ہو کہ موت کے بعد اپنے آپ کو پہچان سکوں گا تو میں کھانے پینے کی لذت کو نظر انداز کر دیتا اور دوسری دنیا میں بھوک اور پیاس مٹاتا (اگر اس دنیا میں کھانے اور پینے کا امکان موجود ہوتا ) کھانا ‘ پینا اور سونا مجھے اس دنیا میں اس لئے لذت دیتاہے کہ میں اپنی عمر کو کم دیکھتا ہوں اور اگر مجھے ہمیشہ کی عمر ملے تو مجھے کھانے پینیا ور سونے کی لذت سے کیا حاجت ہے کیونکہ سب سے بڑی لذت عمر جاوید ان سے محظوظ ہونا ہے اور جب کبھی موت کے بعد اپنے آپ کو پہچانوں گا تو تمام چیزیں میری اپنی ہو جائیں گی اور پھر چھوٹی چھوٹی لذتیں میرے لئے بے معنی ہو جائیں گی لیکن اگر موت کے بعد اپنے آپ کو پہچانوں تو عمر جاوید ان کی میری نظر میں کوئی قدرو قیمت نہیں ہو گی کیونکہ وہ کسی دوسرے کی عمر جاوید ان ہو گی نہ کہ میری مجھے معلوم ہے کہ کوہ المپک جس میں خدا رہتے ہیں عمر جاوید ان کا مالک ہے لیکن کیا وہ ہمیشہ کی عمر میرے لئے کوئی معنی رکھتی ہے ؟ بالکل نہیں م کیونکہ نہ وہ کسی دوسرے کی ہمیشہ کی عمر ہو گی اور نہ میری م ممکن ہے میں سوچوں کہ اگرچہ موت کے بعد میں اپنے آپ کو نہیں پہچان سکوں گا لیکن چونکہ عمر جاوید اں رکھتا ہوں لہذا دنیا کی عمر کا شریک ہو جاؤں گا اور اس طرح کوہ اولمپ کی عمر کا بھی شریک ہو جاؤں گا لیکن اگر اس طرح بھی ہو ۔ پھر بھی میں راضی نہیں ہوں گا کیونکہ جو کیچھ زندگی کے لحاظ سے میری نظر میں اہمیت رکھتا ہے وہ میں ہوں اور اگر میں نہیں ہوں تو ہمیشہ کی زندگی کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں جس طرح آج کوہ اولمپ کی ابدی زندگی کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ۔

اے جابر میں نے تیرے سامنے ارسطو خوس کا قول بیان کیا ہے تاکہ تجھے علم ہو سکے کہ یونان میں ایسے لوگ موجود تھے جو موت کے بارے میں عورو فکر کرتے تھے اور مجموعا موت کا موضوع کئی مرتبہ گزریہوئے زمانے میں لوگوں کے ایک گروہ کی سوچ کا ہدف بنتا رہا ہے جابر نے پوچھا کہ ارسطو خوس اور دوسروں نے ان نظریات سے کیا نتیجہ اخذ کیا ہے ؟جعفر صادق نے فرمایا چونکہ وہ موحد نہیں تھے اور ہم مسلمانوں کی مانند قیامت پر یقین نہیں رکھتے تھے لہذا موت سے بہت ڈرتے تھے اور جن لوگوں نے بھی ارسطو خوس کی مانند موت کے بارے میں سوچ و بچار کی ہے ان میں اکثر اس بات سے ڈرتے رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ موت کے بعد زندہ رہیں لیکن جسم کھو دینے کے نتیجے میں اپنے آپ کو نہ پہچان سکیں ۔

لیکن ایک مسلمان وہ بھی مومن ‘ موت کے بعد اپنی عاقبت کے بارے میں مطمئن ہے اور اسے معلوم ہے کہ موت کے بعد خداوند تعالی نے جو وقت اسکے لئے معین فرمایا ہے اس وقت زندہ ہو گا اور اس وقت زندہ ہو کر نہ صرف اپنے آپ کو یہ جانے گا بلکہ اعمال کا حساب بھی دے گا وہ اپنے وجود کو اس قدر ممکن طور پر محسوس کرے گا کہ اپنے اس جہاں کے اعمال کا حساب دے سکے گا اور اگر نیکو کار ہوا تو جنت میں جائے گا وگر نہ اسے اسکے کردار کی سزا ملے گی ۔

جابر نے کہا ‘ مسلمانوں کا مذہبی عقیدہ کتنا اچھا ہے کہ موت کے بعد انہیں ان کی حالت کا علم ہے اور کیا گذشتہ مذاہب میں بھی مومنوں کو موت کے بعد کی حالت کا علم ہوتا تھا ؟ جعفر صادق نے فرمایا اسلام سے قبل آنے والے تمام آسمانی مذاہب میں مومنین سے کہا گیا ہے کہ موت کے بعد پاداش اور کیفر ہے لیکن ان میں سے کسی میں بھی موت کے بعد پاداش اور کیفر کے مسئلے کو دین اسلام کی طرح وضاحت سیا ور دو ٹوک الفاظ میں بیان نہیں کیا گیا اور بعض گذشتہ مذاہب میں اس کے بارے میں کسی حد تک ابہام پایا جاتا ہے ۔

جابر نے پوچھا ‘ کیا دین اسلام میں پاداش کی بنیاد موت سے ڈرنے پر رکھی گئی ہے ؟ جعفر صادق نے فرمایا ‘ موت سے ڈرنے کی بنیاد پر نہیں بلکہ موت کیبعد پاداش سے خوف کی بنیاد پر ہے مومن مسلمان موت سے نہیں ڈرتے بلکہ اسے موت کے بعد سزا کا ڈر ہوتا ہے وہ موت کے بعد سزا سے بچنے کیلئے ساری عمر جن باتوں سے منع کیا جاتا ہے ان سے پرہیز کرتے ہیں ۔

اور ایک مومن مسلمان جو ساری عمر گناہ کا ارتکاب نہیں کرتا ‘ میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ موت کے بعد دعوت کو لبیک کہتا ہے اسکی روح آسانیس ے اسکے جسم سے پرواز کر جاتی ہے ۔

اے جابر ‘ دین اسلام میں پاداش کی بنیاد موت پر نہیں ہے بلکہ موت کے بعد پاداش سے ڈر کی بنیاد پر ہے اور اگر موت سے ڈرنے والا مسلمان ہوتو وہ موت سے نہیں ڈرتا بلکہ موت کے بعد پاداش سے ڈرتا ہے جابر نے کہا ‘ بہر کیف موت سے ڈر موجود ہے ؟

جعفر صادق نے فرمایا لوگوں میں موت سے ڈر وہ خوف نہیں ہے جو ضرب الاجل کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے مثلا اگر کوئی قتل کا مرتکب ہوتا ہے تو شریعت کی رو سے اسے قتل ہونا چاہیے اور اسکے قتل کا حکما گر جج نے صادر کر دیا ہے اور اسے علم ہو جاتا ہے کہ کل اسے پھانسی ہو جانا تو وہ شخص موت سے بہت ڈرتا ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ اس کی موت ضرب الاجل کی حامل ہے اور معین وقت میں پہنچنے والی ہے ۔

لیکن عام لوگوں میں موت ضرب الاجل کی حامل نہیں ہے ‘ خداوند تعالی نے فرمایا ہے ہر کسی کی موت ‘ کا وقت معین ہے اور اس سے ایک لمحہ ادھر ادھر نہیں ہو گا لیکن اس معین وقت کا تعین خداوند تعالی کرتاہے نہ وہ شخص جو مرتا ہے تمام بنی نوعی انسان موت کا عقیدہ رکھنے کے بارے میں ان قرض داروں کی مانند ہیں جنہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ ان کے قرض کی ادائیگی کا وقت کونسا ہے ؟

اور یہ احساس کرتے ہیں کہ اسکی ادایگی بہت دور ہے اور اسی وجہ سے عام زندگی میں کوئی بھی موت سے نہیں ڈرتا ۔ یہ بھی خداوند تعالی کی حکمت ہے کہ اس نے موت کو ہر زند چیز کیلئے مقرر کیا ہے لیکن اس کا وقت ہر ایک سے پوشیدہ رکھا ہے اسی لئے عام زندگی میں موت سے کوئی نہیں ڈرتا موت سے یہ لاپرواہی بعض لوگوں میں اس قدر مضبوط ہوتی ہے کہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ زندہ جاوید رہیں گے اور اسی لئے وہ مال جمع کرنے میں بہت دوڑ دھوپ دکھاتے ہیں ان پر حرص کا اتنا غلبہ ہوتا ہے کہ گویا وہ ہزاروں سال زندہ رہیں گے ۔

اگر انسانیزندگی میں خدوند تعالی کی طرف سے یہ حکمت قرار نہ ہوتی توہر کوئی زندگی میں ایک ایسے محکوم کی مانند زندگی گزارتا جسے علم ہوتا کہ دوسرے دن یا دوسرے گھنٹے میں زندگیکو وداع کہنا ہے اور جب لوگوں میں یہ طرز فکر پیدا ہو جاتی ہو تو لوگ اس قدر مضطرب ہوتے کہ نہ تو حصول معاش کے لئے کام کر سکتے اور نہ ہی اجتماعی زندگی وجود میں آتی اور اسطرح بنی نوعی انسان مایوسی کے عالم میں اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ۔ جابر نے کہا ‘ خداوند تعالی جو انسان کو خلق کرتا ہے اور اسے جان دیتا ہے اسے مارتا اور ناوبود کیوں کرتا ہے ؟

جعفر صادق نے فرمایا ‘ اے جابر میں نے کہا ہے کہ موت جس طرح عام لوگ تصور کرتے ہیں ‘ وجود نہیں رکھتی بلکہ ایک حالتکی تبدیلی ہے اور میں یہ بات دہراتا ہوں کہ ایک مومن مسلمان اگر عالم ہے تو اس حالت کی تبدیلی سے نہیں ڈرتا ۔ کیونکہ اسے علم ہے کہ موت کے بعد زندہ ہو گا ۔

لیکن میں فرض کرتا ہوں کہ اس وقت ایک ایسے شخص سے بات کر رہاوں جو مسلمان نہیں ہے اور مجھ سے سوال کرتا ہے کہ خداوند تعالی جس نے انسان کو خلق کیا ہے اور اسے جان عطا کی ہے اسے کس لئے مارتا ہے ؟ تو میں اسکے جواب میں کہوں گا کہ موت ایک ایسا دریچہ ہے جس سے انسان دوسری زندگی میں وارد ہوتا ہے اور وہ دوسری زندگی میں بھی دوبارہ زندہ ہو گا۔

اے جابر ‘ کیا تو اپنی ماں کے پیٹ میں زندہ تھا یا نہیں جابر نے کہا ‘ ہاں میں زندہ تھا جعفر صادق نے پوچھا ‘ کیا تو ماں کے پیٹ میں غذا کھاتا تھا یا نہیں ؟ جابر نے مثبت جواب دیا ۔ جعفر صادق نے فرمایا کیا تو ماں کے پیٹ میں ایک مکمل لیکن جھوٹ انسان شمار ہوتا تھا یا نہیں ؟ جابر نے کہا میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ ایک مکمل انسان تھا ۔ جعفر صادق نے پوچھا کیا تجھے یاد ہے کہ تو نے ماں کے پیٹ میں موت کے بارے میں فکر کی ہے یا نہیں ؟ ۔

جابر نے جواب دیا ‘ مجھے یاد نہیں کہ ماں کے پیٹ میں موت کے بارے میں غورو فکر کرتا تھا یا نہیں ۔ جعفر صادق نے پوچھا ‘ موت کے موضوع کو چھوڑو چلو یہ بتاؤ کہ ماں کے پیٹ میں تمہاری کیا غذائیں تھیں ؟

جابر نے کہا ‘ ماں کے پیٹ میں اپنی زندگی کی حالت کے بارے میں مجھے کچھ بھی یاد نہیں ہے۔

جعفر صادق نے فرمایا اسکے باوجود کہ تمہیں ماں کے پیٹ میں اپنی زندگی کی حالت کے بارے میں کچھ بھی یاد نہیں کیا اپنی زندگی کو اس جہاں میں اچھا سمجھتے ہو یا ماں کے پیٹ میں ؟جابر نے کہا ‘ ماں کے پیٹ میں میری زندگی بہت مختصر تھی یعنی تقریبا نو ماہ تھی ۔

جعفر صادق نے کہا وہ نو ماہ کی مدت جو تم نے ماں کے پیٹ میں گزارے ہیں شاید وہ نو ماہ کی مدت نہیں اس دنیاکی اسی یا نوے سال کی عمر سے جو تم اس دنیا میں گزارو گے تمہیں زیادہ نظر آئے کیونکہ زمانہ ہر قسم کے حالات میں تمام لوگوں کیلئے ایک جیسا نہیں ہے اور ہر کوئی تھوڑے بہت غور کے بعد اپنی زندگی میں اس موضوع کا ادراک کر سکتا ہے مجھے یقین ہے کہ کبھی چند گھنٹے تم نے ایسے گزارے ہوں گے کہ تم نے سمجھا ہو گا کہ ایک گھنٹہ گزار ہے اور کبھی تمہارے لئے ایک گھنٹہ اس قدر لمبا ہو گیا ہو گا کہ تمہارا خیال ہو گا کہ تم نے چند گھنٹے گزارے ہیں اسی لئے میں کہتا ہوں کہ جو نو ماہ کی مدت م نے ماں کے پیٹ میں گزاری ہے شاید وہ تمہیں اس موجودہ دنیا کی عمر سے بھی طویل محسوس ہوئی ہو گی ۔

اے جابر ‘ تو ماں کے پیٹ میں ایک مکمل اور زندہ انسان شمار ہوتا تھا اور با شعور بھی تھا ۔ با شعور ہونے کی نسبت سے شاید تمہاری کچھ آرزوئیں بھی ہونگی اور اب جب کہ تم اس دنیا میں زندگی بسر کر رہے ہو تمہیں ماں کے پیٹ کے زمانے کیمعمولی سی باتبھی یاد نہیں کیا تم جو ایک فاضل انسان ہو یہ گمان نہیں کرتے کہ تمہارا ماں کے پیٹ سے باہر نکلنا اور اس دنیامیں وارد ہونا شاید ایک طرح کی موت تھی کیا تم یہ خیال نہیں کرتے کہ جب تم ماں کے پیٹ میں تھے تو تم چاہتے تھے کہ تم وہیں رہو اور ہر گز وہاں سے باہر نہ نکلو تمہارا خیال تھا کہ ماں کے پیٹ سے بہتر اور آرام وہ جہان موجود نہیں اور جب تم ماں کے پیٹ سینکالے گئے ( جس کے بار ے میں نے کہا ہے کہ شاید وہ موت کی ہی ایک قسم ہے ) اور اس جہان میں پہنچے تو تم نے رونا دھونا شروع کر دیا لیکن کیا آج تم اس بات کی تصدیق کرتے ہو کہ جس دنیا میں تم زندگی گزار رہے ہو وہ ماں کے پیٹ کی دنیا سے کہیں بہتر ہے ؟

جابر نے کہا ‘ اس کے باوجود کہ مجھے ماں کے پیٹ میں اپنی زندگی کی کیفیت کے بارے میں کچھ علم نہیں میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ میری موجودہ زندگی ‘ ماں کے شکم کی زندگی سے بہتر ہے ۔

جعفر صادق نے فرمایا ‘ کیا اس موضوع کا قرینہ نہیں بتاتا کہ موت کے بعد ہماری زندگی اس دنیا کی زندگی سے بہتر ہو گی ۔ جابر نے کہا ‘ اگر اس دنیا سے بد تر ہو تو پھر ؟

جعفر صادق نے فرمایا ‘ جو لوگ اس دنیا میں خداوند تعالی کے احکامات پر عمل کرتے ہیں ان کی دوسرے جہان کی زندگی اس موجودہ جہاں کی زندگی سے بہتر ہو گی اور اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے چونکہ علاوہ ازیں خداوند تعالی نے اس موضوع کے بارے میں اپنے بندوں سے واضح وعدہ کیا ہے عقلی لحاظ سے بھی یہی بات درست ہے ۔

خداوند تعالی دانا ‘ توانا اور عادل ہے وہ حاسد نہیں کہ اپنے بندوں کو اچھے جہاں سے برے جہاں کی طرف لے جائے اگر ہم اس بات کے قائل ہیں کہ انسانی تخلیق کا مقصد اسے کمال تک پہنچانا ہے تو ہمیں یہ بات قبول کرنا چاہیے کہ انسان کی زندگی کا ہر لمحہ اسکے کمال میں اضافہ کرتا ہے حتی کہ اگر خدا نے صریحا اور کسی ابہام کے بغیر اپنے بندوں کو موت کے بعد ان کے اچھے اعمال کا اجر دینے کا وعدہ بھی نہ کیا ہوتا اور یہ نہ کہا ہوتا کہ وہ ابدی سعادت سے بہرہ مند ہوں گے پھر بھی ہماری عقل یہ سمجھتی کیونکہ انسان کی تخلیق کا مقصد اسے کامل انسان بنانا ہے لہذا اس جہان میں انسان کی زندگی کی حالت اس زندگی کی حالت سے بہتر ہو گی ۔

جابر نے پوچھا ‘ ہمیں اس بات میں کوی تردید نہیں کہ موت کے بعد ہم اپنے آپ کو پہچانیں گے اور اپنی اصلیت کو نہیں کھوئیں گے ۔ جعفر صادق نے جواب دیا اس بات میں کوئی شک نہیں ‘ اور ہر مومن مسلمان جانتا ہے کہ موت کے بعد خاوند تعالی کی طرف سے مقرر کردہ وقت پر دوبارہ زندہ ہو گا اور اپنے آپ کو پہچان لے گا اسلام نے موت کے بعد دوبارہ زندگی کے بارے میں انسانوں کو گزشتہ مذاہب کی نسبت زیادہ یقین دلایا ہے ۔

مجھے مشرکین سے کوئی غرض نہیں جن کے اس دنیا کے بعد کی زندگی کے بارے میں خوف کے متعلق مثال میں نے تمہیں ارسطو خوس کی زبانی دی ہے لیکن حتی کہ بعض گزشتہ توحید مذاہب میں لوگ موت کے بعد زندگی پر مکمل ایمان نہیں رکھتے تھے ان کا خوف تقریبا ارسطو خوس کے خوف کی مانند تھا ان کا خیال تھا کہ موت کے بعد زندہ تو ہوں گے لیکن اس دوسری زندگی میں اپنے آپ کو نہیں پہچان سکیں گے اور یہ بھی نہیں جان سکیں گے کہ وہی ہیں جو اس دنیا میں کھاتے ‘ پیتے اور سوتے تھے ۔

ان کے مذاہب میں جو باتیں دوسرے جہان میں انسانی زندگی کے بارے میں موجود تھیں وہ ان سے قائل نہیں ہوئے تھے کہ وہ دوسرے جہان میں اپنیحقیقی وجدان کو محفوظ رکھ سکیں گے اور اپنی اس زندگی کی تمام خصوصیات کو یاد رکھ سکیں گے ۔

دنیا اسلام نے اس تشویش کو مومنین کے دلوں سے مکمل طور پر محو کر دیا اور صریحا کسی استثناء کے بعیر کہ اکہ انسان موت کے بعد جس دن خداوند تعالی کے حکم سے زندہ ہو گا اپنے آپ کو اچھی طرح پہچان لے گا اور اس دنیا کی اپنی تمام انسانی خصوصیات کو یاد رکھے گا او اس دنیا کی مانند کھانے اور پینے سے لذت اٹھائے گا ۔

خداوند تعالی کے بقول ‘ نہ صرف نیک بندے موت کے بعد اپنے آپ کو پہچانتے ہیں بلکہ گناہگار بندے بھی اپنی اصلیت سے آگاہ ہوتے ہیں اور اگر وہ اپنی اصلیت پر نہ ہوں تو وہ کیسے اپنی اس دنیا کے اعمال کا حساب دے سکتے ہیں جابر بن حیان نے پوچھا ‘ کیا آپ نے ابھی نہیں کہا کہ ماں کے شکم سے بچے کا باہر نکلنا بھی موت ہے ؟ جعفر صادق نے جواب دیا ‘ میں نے قطعا نہیں کہا کہ بچے کا نکلنا موت ہے بلکہ کہا ہے کہ ماں کے شکم سے بچے کا نکلنا شاید موت کی ایک قسم ہے ۔

جابر بن حیان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا درست ہے آپ نے کہا ہیکہ شاید موت کی ایک قسم ہے لیکن میرا مقصد کچھ اور ہے ۔ جعفر صادق نے پوچھا بولو تم کیا کہنا چاہتے ہو ؟ جابر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ‘ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اسکے باوجود کہ میں آپ کے بقول ماں کے شکم میں ایک طویل مدت تک رہا ہوں اور میرا ماں کے شکم میں نو ماہ تک رہنا شاید اس دنیا کے ایک آدمی کی عمر کے برابر ہو ‘ اب مجھے اس نو ماہ یا زیادہ کی زندگی سے کوئی چیز یاد نہیں ۔ کیا ماں کے شکم میں میری زندگی کی حالت سے بے خبری اس باتکی دلیل نہیں ہے کہ میں مرنے اور اس جہاں سے چلے جانے کے بعد دوسری دنیا میں اپنے آپ کو نہیں پہچان سکوں گا اور نہیں جان سکوں گا کہ میں وہی ہوں جو آج کی مانند ایک دن آپ سے بات چیت کر رہا تھا اسکے بعد جابر نے اس طرح وضاحت کی ‘ چونکہ میں مسلمان ہوں لہذا خداوند تعالی کے فرمان کے مطابق میرا ایمان ہے کہ میں دوسری دنیا میں اپنے آپ کو پہچان لوں گا ۔

لیکن میرا مطلب یہ ہے کہ اس موضوع پر فلسفے کے نقطہ نگاہ سے روشنی ڈالی جائے اور میں جو ماں کے پیٹ میں اپنی زندگی کی کیفیت سے بے خبر ہوں کیسے یقین کروں کہ موت کے بعد دوسری دنیا میں اس دنیا کو یاد رکھ سکوں گا اور اپنے آپ کو پہچان لوں گا ۔

جعفر صادق نے جواب دیا اس سے قبل کہ میں تمہارے سوال کے جواب کی ماہیت سے تمہیں آگاہ کروں تم سے کہتا ہوں کہ قرینے کو دلیل میں گڈمڈ نہ کرو کیونکہ دلیل اور قرینے میں فرق ہے اس طرح کہنا چاہیے کہ چونکہ میں ماں کے شکم میں اپنی زندگی کی حالت سے بے خبر ہوں لہذا یہ موضوع اس بات کا قرینہ ہے کہ موت کے بعد بھی اس دنیا کی زندگی کی حالت سے کوئی چیز مجھے یاد نہیں ہو گی اور میں اپنے آپ کو نہیں پہچان سکوں گا ۔ کیونکہ ماں کے شکم میں گزری ہوئی زندگی سے کسی چیز کا یاد نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ اس دنیا کی حالت بھی یاد نہ ہو لیکن قرینہ ہے ۔ جابر بولا ‘ میرا خیال ہے میں اس قرینے کی رو سے موت کے بعد کی دنیا میں اپنے آپ کو نہیں پہچان سکوں گا اور اس دنیا کی زندگی کی خصوصیات کو یاد نہیں کر سکوں گا ۔

جعفر صادق نے فرمایا ‘ یہ جان لو کہ کافر اس نسبت سے کہ معاد کا منکر ہے یا یہ کہ ایک مسلمان کی مانند معاد کا معتقد نہیں ہے موت سے ڈرتا ہے جبکہ موت کے بارے میں اسے کوئی اطلاع نہیں اور چونکہ وہ موت سے مطلع نہیں لہذا اسے موت سے نہیں ڈرنا چاہیے ۔ کیونکہ جب انسان ایک چیز کے بارے میں اطلاع نہ رکھتا ہو تو اس کا اس چیز سے ڈرنا عقل سے بعید ہے ۔

جابر نے کہا کیا آپ یہ نہیں سوچتے کہ کافر اسلئے موت سے درتا ہے کہ اس کا خیال ہوتا ہے کہ وہ اس دنیا کی خوشیوں کو کھود ے گا ؟

جعفر صادق نے فرمایا میں یہی کہنا چاہتا تھا کہ کافر کو ڈر ہوتا ہے کہ موت کے نتیجے میں وہ اس جہاں کی خوشیوں سے محروم ہو جائیگا لیکن مسلمان اس وجہ سے نہیں ڈرتا چونکہ اسے علم ہوتا ہے کہ اس جہان کی خوشیوں سے کہیں زیادہ خوشیاں دوسے جہاں میں اسکی منتظر ہیں اور اس دنیا میں اسکی خوشیوں کے مراحل محدود ہیں جبکہ دوسرے جہاں میں لا محدود ہیں اور عقلی لحاظ سے کافر کو موت سے نہیں ڈرنا چاہیے کیونکہ اس پر موت کے بعد کی زندگی مجہول ہے ۔ لیکن وہ اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتا اور اپنا تصور جو وہ خود پیدا کرنے کیلئے استعمال میں لاتا ہے اس سے وہ موت کے بعد کی زندگی کو بھی سمجھنے میں مدد لے سکتا ہے ۔

مذکورہ تصور کافر کی نگاہ میں مجہولات کو ایک خوفناک صورت میں پیش کرتا ہے اور اسکے باوجود کہ کافر جانتا ہے کہ شروع میں اس دنیا میں نہ تھا اور ماں کے شکم سے اس دنیا میں آیا ہے اور اگر اس جہاں سے جائیگا تو شاید اس طرح ہو کہ وہ کسی دوسری ماں کے شکم میں جائے گا پھر بھی وہ موت سے ڈرتا ہے ۔یہ باتین جو میں کر رہا ہوں وہ موت کو ایک کافر کی نگاہوں کے دریچے سے دیکھنا ہے نہ کہ ایک مسلمان کی نگاہوں سے جو معاد پر ایمان رکھتا اور موت کیلئے تیار رہتاہے ۔

مثال دینے میں کوئی حرج نہیں ‘ اور میں مثال دیتا ہوں کہ اگر کافر کو علم ہوتا کہ اسکی زندگی موت سے شروع ہوتی ہے اور ماں کے پیٹ کی طرف جا رہا ہے اور اس کا مستقبل یہ ہے کہ عمر کے خاتمے کے بعد ماں کے شکم میں جائے گا تو وہ ماں کے شکم میں د وبارہ جانے سے ڈرے گا جس طرح آج موت سے ڈرتا ہے اور ماں کے شکم میں زندگی کے مجمولات اسے خوف سے لاحق کر دیں گے ۔

لیکن تمہار سول کا جواب یہ ہے کیا کبھی اتفاقیہ ایسا ہوا ہے کہ تم بے ہوش ہو گئے ہو ؟ جابر نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا میرے ساتھ کبھی نہیں ہوا ۔ جعفر صادق نے سوال کیا ‘ کیا تم خواب دیکھتے ہو ؟ جابر نے جواب دیا بہت سے خواب دیکھتا ہوں جعفر صادق نے اظہار خیال کیا کیا خواب کے دوران ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہو ؟ جابر نے کہا کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے جعفر صادق نے پوچھا ‘ کس کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہو کیونکہ تمہیں علم ہے کہ خواب میں تم راستہ نہیں چلتے ‘ جابر نے کہا ‘ میں اپنی روح کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہوں جعفر صادق نے پوچھا کیا تمہارا ایمان ہے کہ یہ تمہاری اپنی روح ہے کسی دوسرے کینہیں ؟ جابر نے کہا اس لحاظ سے مجھے کوئی شک نہیں جعفرصادق نے پوچھ کیا یہ روح جو نقل مکانی کرتی ہے تجھ سے جدا ہوتی ہے یا نہیں ؟

جابر نے جواب دیا مجھ سے جدا ہوتی ہے چونکہ اگر مجھ سے جدا نہ ہوتی تو ہر گز نقل مکانی نہ کر سکتی جعفرصادق نے پوچھا کیا تمہاری روح جو تم سے جدا ہوتی ہے اور نقل مکانی کرتی ہے غذا کھاتی ہے ؟ جابر نے مثبت جواب دیا ۔ جعفر صادق نے پوچھا کیا پانی پیتی ہے ؟ اور جابر نے پھر مثبت جواب دیا جعفر صادق نے فرمایا کیا جس وقت ہماری روح کھانے اور پینے میں مشغول ہوتی ہے تو تمہارے منہ سے کھاتی ہو گی جابر بولا نہیں چونکہ میرا منہ خواب میں متحرک نہیں ہوتا ۔ جعفر صادق نے پوچھا کیا تمہاری روح کھانے پینے کیلئے اپنا منہ استعمال کرتی ہے ؟ جابر نے جواب د یا نہیں جعفر صادق نے فرمایا ‘ اسکے باوجود کہ اس کا منہ نہیں ہے تم سوتے ہوئے خواب میں غذا کی لذت اور پانی کا مزہ محسوس کرتے ہو ؟ جابر نے مثبت جواب دیا ۔ جعفر صادق نے فرمایا ‘ جب تم خواب دیکھتے ہو تو تمہاری روح اسکے باوجود کہ اسکے پاؤں نہیں ہیں وہ چلی ہے اور ایک مقام سے دوسرے مقام تک جا پہنچتی ہے اور آنکھ نہیں رکھتی لیکن دیکھتی ہے اسکے کان نہیں لیکن سنتی ہے ‘ اس کا منہ نہیں لیکن وہ غذا کھاتی اور پانی پیتی ہے لہذا تمہاری روح ‘ ایک آزادزندگی کی حامل ہے اور خواب دیکھنے کے دوران تمہاری روح کو زندگی گزارنے کیلئے تمہارے جسم کی کوئی ضرورت نہیں جابر نے کہا لیکن اگر میرا جسم نہ ہو تو میں ہر گز خواب نہیں دیکھ سکتا جعفر صادق نے فرمایا ‘ خواب نہیں دیکھ سکتے مگر تمہاری روح تمہارے جسم کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے یاد رکھو میں نے کہا ہے کہ میں فرض کر رہا ہوں تم مسلمان نہیں ہو اور میں ایک ایسے شخص سے ةکاطب ہوں جو اپنے آپ کو دوسری دنیا میں لے جاتا ہے تم نے کہا ہے کہ اگر تمہارا جسم نہ ہو تو تم خواب نہیں دیکھو گے اور میں نے تمہارے قول کی تصدیق کی ہے اب تم سے پوچھتا ہوں کہ کیا خواب دیکھنے کے دوران تمہاری روح ایک آزاد زندگی کی حامل ہو جاتی ہے اور جہاں جانا چاہے جاتی ہے اور جو کرنا چاہے کرتی ہے کیا وجود رکھتی ہے یا نہیں ؟ جابر نے کہا ہاں ۔

جعفر صادق نے پوچھا کیا روح کے خواب دیکھنے کے دوران موجود ہونے اور اسکی آزادنہ زندگی میں تمہیں کوئی شک ہے یا نہیں ؟ جابر نے جواب دیا کوئی شک نہیں جعفر صادق نے فرمایا کیا تم فلسفے کے اس اصول کو تسلیم کرتے ہو کہ جو چیز وجود میں آ تی ہے ‘ ختم نہیں ہوتی ؟

جابر نے جواب دیا ‘ کوئی شک نہیں جعفر صادق نے فرمایا کیا تم فلسفے کے اس اصول کو تسلیم کرتے ہو کہ جو چیز وجود میں آتی ہے ‘ ختم نہیں ہوتی ؟

جابر نے کہا ہاں میں اس اصول کو تسلیم کرتا ہوں ۔ جعفر صادق نے فرمایا پس تمہاری روح جو خلق ہوئی ہے اور اسکے وجود سے تمہیں انکار نہیں تمہاری موت کے بعد ختم نہیں ہو گیا ور جو کچھ تم جانتے ہو وہی تمہاری روح ہے لہذا تم بھی باقی رہو گے اور موت کے بعد اپنے آپ کو پہچانوں گے جابر نے کہا مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ میری روح خواب دیکھنے کے دوران موجود ہوتی ہے لیکن روح کا وجود تابع ہے ‘ انفرادی اور آزادی نہیں ‘ چونکہ اگر میرا جسم نہ ہو تو میں خواب نہیں دیکھ سکتا اور اگر خواب نہ دیکھو تو میری روح جو مجرد اور آزاد زندگی کی حامل ہے میں اسے مشاہدہ نہیں کر سکتا جعفر صادق نے فرمایا جب سورج کی دھوپ تمہارے جسم کی حامل ہے اور تمہارا سایہ زمین پر پڑتا ہے تو کیا یہ سایہ مرہون منت ہے یا نہیں ؟ جابر نے کہا بے شک مرہین منت ہے ۔

جعفر صاد ق نے پوچھا ‘ کس چیز کا مرحون منت ہے جابر نے جواب دیا دو چیزوں کا پہلی سورج کی روشنی اور دوسری خود میرا وجود اور ان دو کے بغیر سایہ وجود میں نہیں آتا ۔ جعفر صادق نے فرمایا فلسفہ کے اصول کے مطابق تمہارا سایہ بھی جو زمین پر پڑتا ہے اور سورج کے غروبہونے کے بعد بظاہر ختم ہو جاتا ہے وہ بھی ختم نہیں ہوتا تو پھر تمہاری روح کیسے ختم ہو گی اگرچہ وہ مرہون منت ہی کیوں نہ ہو اور انحصاری زندگی کی حامل ہی کیوں نہ ہو ۔

جابر نے پوچھا ‘ خداوند تعالی نے کس لئے مقرر کیا کہ ہم ایک مدت تک ماں کے شکم میں زندگی گزاریں اور پھر ایک عرصے تک اس جہاں میں زندگی گزارنے کے بعد مر جائیں تاکہ ہمیں ایک بہتر زندگی کی جانب منتقل کیا جائے اور جس طرح آپ نے کہا ہے کہ خداوند تعالی کو کسی سے کینہ اور حسد نہیں جو وہ ہمیں برے جہاں کی طرف منتقل کرے ۔

اس سوال کے پوچھنے سے میرا مقصد یہ ہے کہ کیا یہ زیادہ آسان اور بہتر نہ تھا کہ خدا شروع ہی سے ہمیں بہتر دنیا میں یعنی وہ دنیا جس میں ہم موت کے بعد پہنچیں گے ‘ اسی میں خلق کر دیتا اور ہم اس دنیا میں زندگی کے مراحل طے نہ کرتے ؟ جعفر صاد ق نے فرمایا ایک مسلمان کیلئے یہ مسئلہ حل شدہ ہے چونکہ ایک مسلمان جانتا ہے کہ آدم کا مکان بہشت میں تھا اور انہیں بظاہر ہوس کی پیروی کی وجہ سے جنت سے نکالا گیا اور اسے زمینی زندگی کے تقاضے پورے کرنے پڑے ۔ ماں کے شکم میں زندگی گزارنے کے مراحل اور اس دنیا میں زندگی اور موت کے مراحل کو اسے طے کرنا چاہیے تاکہ اگر نیکو کار ہو تو پہلی جگہ واپس چلا جائے گا یعنی بہشت میں اپنا مقام بنا لے اور اگر گناہگار ہو تو ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد اپنی سزا پائے ۔

لیکن اگر میں ایک ایسے انسان سے بات کروں جو مسلمان نہیں ہے تو وہاں پر مجھے اس کا مذہب جاننا چاہیے ؟ اگر یہودی یا نصرانی ہو تو اس کا بھی عقیدہ ہے کہ آدمی شروع میں بہشت میں تھا اور وہاں سے نکالا گیا اور جو مراحل اس جہان میں طے کر رہا ہے وہ اسکے پاک و طاہر ہونے کیلئے ہیں تاکہ وہ اس قابل ہو سکے کہ بہشت میں قدیم رکھ سکے ۔

اگر مجھ سے مخاطب شخص کسی ایک توحید مذہب پر ایمان نہ رکھتا ہو تو میں اسے کہوں گا کہ اگر وہ میرے خدا پر ایمان رکھتا ہے تو یہ سوال مجھ سے کرے اور اگر ایمان نہیں رکھتا تو کس لئے پوچھتا ہے کہ کیوں خداوند تعالی نے شروع میں انسان کو بہتر دنیا میں جگہ نہ دی اور چند مراحل طے کرنے پر لگادیا تاکہ وہ ان مراحل کو طے کرنے کے بعد بہتر دنیا تک پہنچے اگر مجھ سے سوال کرنے والا شخص لادین اور مجھ سے خداوند تعالی کی حکمت کو سننا چاہے تو میں اسے کہوں گا کہ خداوند تعالی کا انسان کو مختلف مراحل سے گزارنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان ہر مرحلے میں پہلے مرحلے سے زیادہ پاک و طاہر ہو کہ کامل بن جائے یہاں تک کہ وہ ہمیشہ کی نیک بخت دنیا میں داخل ہونے کے قابل ہو جائے اور اسے یہ بھی کہوں گا کہ خدائے دانا اور وانا اس سے کہیں بڑاہے کہ آدمی کو گوناں گوں مراحل سے اسلئے گارے تاکہ آدمی پہلے سے بھی زیادہ بد بخت بن جائے لہذا دانا و توانا کا حتمی مقصد یہ ہے کہ انسان نیک بختی حاصل کر لے جابر نے کہا ‘ میرا ایک اور سوال ہے اور وہ یہ ہے کہ خداوند تعالی کو انسان کو خلق کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ اور کیا س بات کا امکان نہ تھا کہ خداوند تعالی انسان کو خلق کرنے سے اہتراز کرتا ۔ جعفر صادق نے جواب دیا ایک مسلمان جانتا ہے کہ خداوند تعالی نے انسان کو اسلئے پیدا کیاہے کہ اس سے خود اس کو متعارف کرائے یعنی انسان اپنے وجود کی شناخت کرے اور ایک مسلمان کا عقیدہ یہ ہے کہ خداوند تعالی نے انسان کو جو سب سے بڑی نعمت عطا کی ہے وہ اس کا خلق کرنا ہے جابر نے کہ فرض کیا آپ ایک ایسے شخص سے گفتگو کر رہے ہیں جو مسلمان نہیں ہے تو پھر آپ انسان کو خداوند تعالی کی طرف سے خلق کرنے کی کیسے توجیہ کریں گے ؟

جعفر صادق نے فرمایا میرا اپنا ایمان ہے کہ خداوند تعالی کی طرف سے انسان کی تخلیق اور مجموعی طور پر جو کچھ وجود میں آیا ہے اس کا وجود میں آنا خداوند تعالی کے کرم کی بنا پر ہے اور خداوند تعالی نے اس دنیا کی مخلوقات کو اسلئے خلق کیا کہ وہ چاہتا ہے تمام مخلوقات اپنے آپ کو پہچانے اور میں صاحب امان ہوں ‘ مجھے یقین ہے کہ کوئی ایسی مخلوق نہیں جو اپنے آپ کو نہ پہچانتی ہو خواہ وہ جمادات میں ہی کیوں شمار نہ ہوتی ہو ۔

میری نظر میں اس جہاں کی تخلیق کا سبب خداوند تعالی کے کرم کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے چونکہ بے نیاز خدا نہ مادیا ور نہ ہی روحانی لحاظ سے دنیا کو وجود میں لانے کا محتاج تھا قدیم یونانی کہتے تھے کہ چونکہ خدا تنہائی کا احساس کرتے تھے لہذا انہوں نے کائنات کو تخلیق کیا تاکہ اکیلے نہ ہوں لیکن یونانی خدا ‘ خدا نہ تھے اور اگر خدا ہوتے تو انہیں تنہائی کا احساس نہ ہوتا کہ انہیں کائنات کو خلق کرنے کی ضرورت پڑتی کیونکہ جو ضرورت کا احساس کرے وہ خدا نہیں ہے ۔ جابر نے پوچھا اگر آپ کسی ایسے شخص سے گفتگو کر رہے ہوں جو یہ بات تسلیم نہ کرے کہ خداوند تعالی نے انسان اور مجموعی طور پر دنیا کو اپنے کرمس ے خلق کیا ہے تاکہ مخلوقات اپنے آپ کو پہچانے تو کائنات کے وجود میں آنے کی آپ کیا توجیہ بیان کریں گے ؟

جعفر صادق نے فرمایا اگر اس نے میری بات تسلیم نہ کی تو میں دنیا کے وجود میں آنے کو کسی دوسری طرح توجیہ نہیں کروں گا اور اسے کہوں گا کہ میرا نظریہ یہی ہے وہ اسے مانے یا نہ مانے ۔

جابر نے پوچھا ‘ آپ جو فرماتے ہیں کہ خداوند تعالی نے اپنے کرمس ے جہاں کو جس میں انسان شامل ہے ‘ تخلیق کیا ہے کیا آپ یہ بات مذہبی عقیدت کی رو سے کہتے ہیں یا یہ کہ اسے ایک حقیقت سمجھتے ہیں ؟ جعفر صادق نے فرمایا جابر کیا تو مجھے ایسا انسان خیال کرتا ہے کہ اگر میں کسی چیز کو حقیقت نہ سمجھوں تو اس پر ایمان لے آؤں گا ؟ جابر نے کہا میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کیا یہ آپ کا عقیدہ ہے کہ خداوند تعالی نے اپنے کرم سے جہاں کو خلق کیا ہے یا حقیقت بھی یہی ہے ۔ دنیا کی تخلیق میں خدا کی مشیت ہے اور خدا کی مشیت کے بارے میں ہم اسکے بندے شاید اور نظریہ رکھتے ہوں اور کود خداوند تعالی کا دوسرا نظریہ ہو ۔ ہم اپنے بشری عقل کے دریچے سے خدا کی مشیتوں کے سبب کے متعلق اظہار خیال کرتے ہیں اور ہماری کدائی مشنری تک کوئی رسائی نہیں کہ ہمیں علم ہو سکے کہ جو کچھ ہماری عقل کہتی ہے وہ خدائی مشینیری کی عقل کے مطابق ہے یا نہیں ؟

جعفر صادق نے فرمایا میں جانتا ہوں ‘ تم کیا کہنا چاہتے ہوں تم کہتے ہو کہ میرا عقیدہ ہے کہ خداوند تعالی نے اپنے کرم سے جہاں کو خلق کیا اور یہ بات میں انے ایمان سے کہتا ہوں ممکن ہے کائنات کی تخلیق کی وجہ خداوند تعالی کی مشینیری میں کوئی اور ہو ؟ جابر نے کہا ‘ میرا مقصد یہی ہے ‘ جعفر صادق نے فرمایا ‘ اس ضمن میں میں تمہیں یا کسی اور کو کوئی چیز نہیں بتا سکتا کیونکہ میں ایک انسان ہوں اور انسان کو تخلیق کے اسباب کے سبب سے واقف ہونے کے لحاظ سے خداوند تعالی کی مشینری تک رسائی نہیں ‘ جابر نے پوچھا کیا آپ نے خلقت کے بارے میں جس نظرئے کا اظہار کیا ہے اسکے علاوہ کوئی دوسرا نظریہ پیش کر سکتے ہیں ؟ جعفر صادق نے منفی جواب دیا اور کہا میں جس چیز پر ایمان رکھتا ہوں اس سے انکار نہیں کر سکتا ۔

یہ میرا ایمان ہے اور اس میں مجھے کوئی شک و شبہ نہیں اور اگر تمہارے بقول کائنات اور انسان کی تخلیق کا سبب اسکے علاوہ کچھ ہو تو چونکہ وہ اسرار الہی سے ہے لہذا مجھے اس کی کوئی اطلاع نہیں جابر نے پوچھا ۔ موت کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے ؟ جعفر صادق نے فرمایا موت کا مفہوم بالکل ختم ہو جانا نہیں بلکہ اس کا مفہوم ایک حالت کی تبدیلی ہے جابر نے پوچھا کیا آپ موت کو تکلیف دہ سمجھتے ہیں ؟ جعفر صادق نے جواب دیا نہیں اے جابر ‘ موت تکلیف دہ نہیں ہے ‘ جابر نے پوچھا ‘ پس انسان کیوں بیماری وغیرہ کے درد سے تکلیف اٹھاتا ہے اور چوٹیں و زخم درد کا سبب کیوں بنتے ہیں ؟

جعفر صادق نے فرمایا یہ تمام درد زندگی سے متعلق ہیں اور آدمی جس وقت تک زندہ ہے بیماری یا چوٹ وغیرہ کے نتیجے میں تکالیف اٹھاتا ہے اور جس لمحے روح جسم سے جدا ہوتی ہے اور موت آ پہنچتی ہے تو انسان موت کا درد محسوس نہیں کرتا ۔


ستاروں کے بارے میں جابر کے استفسارات

جابر نے جعفر صادق سے پوچھا ‘ یہ روشن ستارے جو مسلسل متحرک ہیں اور ان میں بعض کو ہم معین فاصلوں تک دیکھتے ہیں یہ کیا ہیں ؟ اور کیوں حتی کہ ایک دن کیلئے ہی سہی رکتے نہیں ؟ جعفر صادق نے فرمایا آسمان کا ہر ستارہ ایک دنیا ہے اور ان سب ستاروں کے مجموعے سے ایک بڑا جہاں تشکیل پاتا ہے ۔ ستاروں کی دائمی حرکت اسلئے ہے تاکہ یہ سقوط نہ کریں اور گر نہ پڑیں اور دنیا کا ڈسپلن ختم نہ ہو جائے اور یہ حرکت وہی حرکت ہے جس سے زندگی وجود میں آتی ہے ‘ یا یہ کہ خود حرکت زندگی ہے اور جب حرکت رک جاتی ہے تو زندگی ختم ہو جاتی ہے لیکن خداوند تعالی نے اس طرح ترتیب دیا ہے کہ حرکت کسی وقت بھی نہیں رکتی یہ ہمیشہ زندہ رہتی ہے اور زندگی کی بقا بھی مخلوقات کے فائدے میں ہے کداوند تعالی کے کرم ہی سے جاری و ساری رہتی ہے ۔

خداوند تعالی بے نیاز ہے اسے اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ کائنات میں مسلسل حرکت ہوتی رہے اور اسکے نتیجے میں زندگی موجود رہے حرکت اور اسکے نتیجے میں زندگی ایک نعمت ہے جو خدا وند تعالی کی طرف سے مخلوقات کو عطا کی گئی ہے اور جب تک خداوند تعالی نے مقرر کر دیا ہے حرکت اور زندگی جاری رہے گی جابر نے پوچھا ‘ خلا میں ستاروں کی شکل کیسی ہے ؟

جعفر صادق نے جواب دیا ‘ آسمان کے بعض ستارے جامد اجرام ہیں اور بعض دوسرے مایع اجرام ہیں اور آسمانی ستاروں کا ایک حصہ بخارات سے وجود میں آیا ہے ۔

جابر بن حیان نے تعجب سے پوچھا یہ بات کس طرح قبول کی جا سکتی ہے کہ آسمان کے ستارے بخارات سے وجود میں آئے ہوں کیا یہ بات ممکن ہے کہ بخارات اس قدر چمکیلے ہوں جس طرح رات کو یہ ستارے چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں جعفر صادق نے فرمایا ‘ تمام ستارے بخارات سے تشکیل نہیں پاتے لیکن وہ ستارے جو بخارات سے تشکیل پاتے ہیں گرم ہیں اور ان کی زیادہ گرمی ان کی چمک کا سبب ہے اور میرا خیال ہے کہ سورج بھی بخارات سے بنا ہے ۔

جابر نے پوچھا ‘ ستاروں کی حرکت کیسے ان کے سقوط میں مانع ہے جعفر صادق نے جواب دیا ‘ کیا تم نے ایک چرخی کو جس میں پتھر ہو کبھی گھمایاہے ؟ جابر نے مثبت جواب دیا ‘ جعفر صادق نے اظہار خیال کیا‘ کیا چرخی کو گھمانے کے دوران اچانک ساکن کیا ہے ؟

جابر نے جواب دیا ‘ میں نے سکان نہیں کیا۔ جعفر صادق نے فرمایا اگر پھر کبھی چرخی کو گھماؤ تو ایک مرتبہ اسے روکنا تاکہ پتہ چل سکے کہ کای ہوتا ہے اور چرخی کے رکنے کے بعد وہ گر پڑتی ہے جو تپھر اس میں لگا ہوتا ہے وہ زمین پر گر پڑتا ہے ور یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ اگر سیارے مسلسل حرکت نہ کر رہیہوں تو سقطو کر جائیں ۔

جابر نے کہا ‘ آ نے فرمایا ہے کہ تاروں میں سے ہر ایک ایک دنیا ہے ۔

جعفر صادق نے تصدیق فرمائی ‘ جابر نے پوچھا ‘ کیا انسان ان جہانوں میں ہمارے جان کی امند موجود ہے ؟جعفر صاد ق نے فرمایا ‘ انسان کیبارے میں ‘ میں تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اس دنیا کے علاوہ دوسرے جہانوں میں بھی موجود ہے یا نہیں ؟ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسرے سیاروں میں مخلوقات موجودہیں ور ان ستاروں کے دور ہونیکی وجہ سے ہم ان مخلوقات کو نہیں دیکھ پائے ۔

جابر نے پوچھا ‘ آپ کے پاس کی دلیل ہے کہ دوسری سیاروں میں مخلوق موجود ہے ؟ جعفر صادق نے فرمایا اللہ تعالی کے بقول ‘ کیونکہ اللہ تعالی نے اپنے کلام میں انسان کے ذکر کے ساتھ جن کا ذکر بھی کیا ہے اور جن ایسی مخلوق ہے جو دیکھی نہیں جا سکتی۔ یعنی ہم انہیں نہیں دیکھ پاتے وگرنہ خداوند تعالی سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں وہ تمام مخلوقات کو دیکھتا ہے اور جن جو شاید دوسرے جہانوں میں رہے رہے ہیں ہم انسانوں کی مانند ہیں یا ہم سے برتر انسانوں جیسے ہیں جابر نے پوچھا ہم سے برتر انسانوں سے آپ کی مراد کیا ہے؟ جعفر صادق نے فرمایا ‘ شاید وہ ایسے انسان ہیں جو ہامرے جیسی دنیا میں زندگی گزاریں گے جنہیں ہم راتوں کو دیکھتے ہیں ۔

جعفر صادق نے فرمایا ‘ میں تمہیں نہیں بتا سکتا کہ موت کی نیند سے بیدار ہونے کے بعد ہماری جگہ کہاں ہو گی اور شاید ہماری جگہ اسی دنیامیں ہو جس میں ہم رہ رہے ہیں اور خدا کیلئے کچھ مشکل نہیں ہے کہ وہ اسی دنیا میں اپنے نیکو کار بندوں کیلئے جنت اور گنہاگاروں کیلئے دوذخ وجود میں لائے یا یہ کہ اسنان کے موت سے بیدار ہونے کے بعد اسے دوسرے جہاں میں جگہ دے ۔

جابر نے کہا کیا خداوند تعالی کو علم ہے کہ موت سے بیدار ہونے کے بعد آئندہ ہمارا ٹھکانا کہاں ہے ؟ یا یہ کہ ہمیں زندہ کرنے کے بعد فیصلہ کرے گا کہ کونسی جگہ میں نیکوکاروں کو رکھے اور کونسی جگہ گنہگاروں کیلئے مخصوص کرے ۔

جعفر صادق نے جواب دیا ‘ خداوند تعالی از اور ابدی ہے ( یعنی نہ تو وجود میں آیا ور نہ اس کی انتہا ہے ) وہ دانا اور توانائے مطلق ہے اس کیلئے ماضی اور مستقل نہیں ہے جو کجھ گزر چکا اور جو کچھ ہونا ہے اس پر واضح ہے ۔

کائنات میں کوئی ایسا واقعہ نہیں جس سے خداوند تعالی پہلے سے مطلع نہ ہو اور اس کا حکم صادر نہ کر چکا ہو کہ وہ واقعہ فلاں معین وقت میں وقوع پذیر ہو گا ۔ اگر ایسا ہوتا کہ کائنات میں دور مستقبل میں ایک ایسا واقعہ رونما ہونا ہوتا جس کے انعقاد کا خداوند تعالی کو علم نہ ہوتا اور وہ پھر خدا نہ کہلاتا بلکہ وہ واقعہ جو خداوند تعالی کی پیش گوئی اور اسکے عرفان کے بغیر وقوع پذیر ہوتا وہ خدا کہلاتا چونکہ اس واقعے نے اپنے آپ کو خدا کے علم اور توانائی کے تسلط سے نجات دلائی ہے تو لا محالہ وہ خداوند تعالی سے زیادہ علام اور توانا ہے لہذا وہ خدا کہلانے کی صلاحیت رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ خداوند تعالی انسان کی موت سے پہلے ہی آگاہ ہے کہ وہ جب انسان کو دوابرہ زندہ کرے گا تو اس کو کہاں ٹھکانہ مہیا کرے گا بلکہ پہلے لمحے ہی جب اس نے آدم کو خلق کیا تھا تو وہ اس بات سے واقف تھا جابر نے کہا یہ جو آپ فرما رہے ہیں اس نے مجھے ورطئہ حیرت میں ڈال دیا ہے ۔

جعفر صادق نے فرمایا کس بات نے ؟ جابر نے کہا اپ فرماتے ہیں کہ خداوند تعالی نے پہلے ہی لمحے تمام چیزوں کی پیشگوی کر دی ہے اور جو اقعات کائنات میں رونما ہونا تھے ان کے واقع پذیر ہونے کا زمانہ معین کر دیا ہے جعفر صادق نے فرمایا ‘ ازلی اور ابدی ہونے کے معنی بھی یہی ہیں اور داناو توانا ہونے کا مطلب بھی یہی ہے ۔

جابر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس وجہ سے خداوند تعالی نے تمام چیزوں کی پیشگوئی کر دی ہے اور جو حکم صادر کرنا تھا ‘ صادر کر دیا ہے تو اس طرح اس نے ہر قسم کے فیصلے اقدام اور جدید ارادے کو اپنے آپ سے چھین لیا ہے اور جب تک وہ ہے ہاتھ پرہاتھ دھرا بیٹھا رہے گا چونکہ اس کا کوئی کام نہیں جو کچھ اس نے کرنا تھا ‘ کر دیا ہے اور جو پیش گوئی اس نے کرنا تھی کر دی ہے جعفر صادق نے فرمایا ‘ اے جابر تم نے مجھ سے ایسا سوال کر دیا ہے جو انسانی فہم کے ادراک سے باہر ہی چونکہ انسان خداوند تعالی کے ازلی ‘ ابدی اور دانائی اور توانائی مطلق کے پہلو کو سمجھنے سے قاصر ہے اور ان حقائق سے آگاہ نہیں لہذا وہ اس وسوسے کا شکار ہو جاتا ہے کہ چونکہ خداوند تعالی نے تمام چیزوں کی پیش گوئی کر دی اور جو کچھ انجام دینا تھا انجام دے دیا ہے ‘ اس بنا پر لا محدود وسعت اور ابدی موجودگی کے باوجود اسکے پاس کرنے کیلئے کوئی کام نہیں اے جابر کیا تم سوچ سکتے ہو کہ خداوند تعالی کے ازلی اور ابدی ہونے کی مدت کتنی ہے ؟ جابر نے کہا ‘ کیا دس ہزار سال سے زیادہ ہے جعفر صادق نے جواب دیا ہاں اے جابر ‘ جابر نے پوچھا کیا پچاس ہزار سال سے زیادہ ہے ؟

جعفر صادق نے فرمایا ‘ ہاں اے جابر ‘ جابر نے پوچھا کیا ایک لاکھ پچاس ہزار سال سے زیادہ ہے ؟ جعفر صادق نے مثبت جواب دیا ۔ جابر نے کہا ‘ میری سوچ اس سے زیادہ آگے نہیں جاتی ۔ جعفر صادق نے فرمایا اے جابر تو ایک لاکھ پچاس ہزار سال سے بھی بڑی رقم بول سکتا ہے تو ازل اور ابد کے درمیانی فاصلے کا اپنی فکری قوت سے اندازہ لگا سکتا ہے لیکن میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ جب ازلی اور ابدی کی گفتگو ہوتی ہے تو انسانی سوچ اس بات کو درک نہیں کر سکتی کہ ازل کب سے شروع ہو اہے اور ابد کب تک جاری رہے گا از ل کی ابتدا اور ابد کی انتہا کے درمیانی فاصلے کا حساب لگانا انسانی فکر اور حساب کی قوت کے بس کا روگ نہیں ۔

میں تمہیں اتنا ہی بتاتا ہوں کہ اگر میں اور تم مزید ایک سو سال تک زندہ رہتے اور اس تمام عرصے میں ہر لمحے سالوں کی تعداد کو دو گنا بڑھاتے جاتے پھر بھی ایک سو سال بعد جو عدد ہمیں میسر آتا وہ ازل کے آغاز اور ابد کی انتہا کے درمیانی فاصلے سے کم ہوتا ۔

جابر نے کہا ‘ کیا اس تمام عصرے میں خداوندتعالی جس نے تمام کامون کو انجام دے دیا ہے اس کا کوی کام نہیں اور اس نے اپنے آپ کو بیکاری کا شکار بنا لیا ہے ؟ جعفر صادق نے فرمایا ‘ اے جابر ‘ میں نے جو تم سے کہا ہے کہ ازل اور ابد کے درمیانی فاصلے کو اپنی قوت فکر سے ناپو ‘ اور اپنی قوت فکر سے اس کا تعین کرو اس سے میری مراد کچھ اور تھی ۔ جابر نے پوچھا ‘ کیا کہنا چاہتے تھے ؟ جعفر صادق نے فرمایا ‘ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ طویل عرصہ جو ازل کے آغاز اور ابد کی انتہا کے درمیانی موجودہے اور ایک سو سال کے حساب کرنے اور اعداد کو بڑھاتے جانے سے بھی ہم اس عرصے کا تعین نہیں کر سکتے ۔ حالانکہ یہ خداوند تعالی کیلئے ایک لمحہ ہے ۔جابر اس بات سے حیران ہو گیا جعفر صادق نے فرمایا ‘ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ طویل عرصہ جو از ل کے آغاز اور ابد کی انتہا کے درمیان موجود ہے اور ایک سو سال کے حساب کرنے اور اعداد کو بڑھاتے جانے سے بھی ہم اس عرصی کا تعین نہیں کر سکتے ۔ حالانکہ یہ خداوند تعالی کے لئے ایک لمحہ ہے ۔

جابر اس بات سے حیران ہو گیا ۔ جعفر صادق نے پوچھا ‘ کیا جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اسے سمجھ رہے ہو ؟ جابر نے کہا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جو فاصلہ ازل اور ابد کے درمیان سے خداوند تعالی کے لئے ایک لمحہ ہے جعفر صادق نے فرمایا ہاں میں یہی کہنا چاہتا ہوں اور یہ اس لئے خدوند تعالی کیلئے ایک لمحہ ہے کہ وہ زمانے کے گزرنے کا تابع نہیں اور چونکہ ہم بھی موت کی بعد زمانے کے گزرنے کے تابع نہیں ہوں گے لہذا زمانے کے گزرنے کا احساس نہیں کریں گے ۔ اور اگر خداوند تعالی ہزار سال یا دس ہزار سال بعد ہمیں زندہ کرے تو ہم نیند سے بیدار ہونے کے بعد یہی خیال کریں گے کہ ہم ایک لمحہ سوئے رہے کیونکہ موت کی حالت میں زمانے کے گزرنے کا احساس نہیں کریں گے ۔

اس بان پر تمہارا یہ اععتراض درستہے جو اس امر پر مبنی ہے کہ چونکہ خداوند تعالی نے جو کام کرنا تھا کر دیا ہے تو جب تک موجود رہے گا اس نے اپنے آپ کو بیکاری میں مبتلا کر دیا ہے اور جو کچھ تمہارای اور میری نظر میں لاکھون سال کا زمانہ ہے (یہ میں اسلئے کہتا ہوں کہ عدد کا ذکر ضروری ہے وگر نہ از اور ابد کے درمیانی فاصلے کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ) خداوند تعالی کیلئے ایک لمحہ ہے اور اس لمحے میں بھی کام میں مشغول اور تازہ ہے ایک ایسا وجود جو ازلی اور ابدی ہے اسکے لئے کام کا مسئلہ کام کی مانند ہمارے لئے واضح نہیں ہیہماری زندگی میں کام کا مسئلہ روحانی یا مادی ضرورت کے پیش نظر ہے ۔

بنی نوع انسان کو اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے کام کرنا پڑتا ہے ور اگر اس لحاظ سے اسے کام کرنے کی ضرورت نہ ہو تو روحانی ضرورت کے تحت اسے علم حاصل کرنے کیلئے کام کرنا پرتا ہیا ور اس بات سے آگاہ ہے کہ اگر مکمل طور پر بیکار ہو جائے تو اس قدر تنگ آ جائیگا کہ اسکے لئے زندگی گزارنا مشکل ہو جائیگا یہی اندیشہ ہے جو امراء کو شکار کرنے پر مجبور کرتا ہے کیونکہ ان کی بیکاری انہیں زندگی سے اس قدر بیزار کر سکتی ہے کہ وہ زندگی سے سیر ہو جائیں ۔ لیکن وہ لوگ جو تلاش معاش کیلئے سر گرم رہتے ہیں یا تحصیل علم میں مشعول رہتے ہیں ہر گز بیکاری کا شکار نہیں ہوتے ۔

خالق کائنات ازلی اور ابدی ‘ دانا اور توانائے مطلق ہونے کے لحاظ سے اس طرح کی کسی ضرورت کا محتاج نہیں ہے اگر کوی کہے کہ خداوند تعالی کو کسی چیز کی ضرورت ہے تو یہ کفر ہے اور اگر کبھی العیاذ باللہ خدا کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو وہ خدا نہیں ہے پھر جس چیز کی اسے ضرورت ہو گی وہ اسکی جگہ لیکر خد ہو جائے گی ۔ پس اے جابر ‘ جب ہم خداوند تعالی کے کام کرنے کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہم اسے اپنی عقل کی حدود میں محدود کر دیتے ہیں اور اپنی عقل کی جانب سے اسکے بارے میں اظہار خیال کرتے ہیں ۔ خداوند تعالی کا کام کرنا ‘ ہمارے کام کرنے کی مانند نہیں ہے وہ جو دانا و توانائے مطلق اور ازلی و ابدی ہے اس کا کام کرنا ہمارے کام کرنے کی مانند ہے نہیں کیونکہ ہمارے تمام کام جس صورت میں بھی ہوں ضرورت کے تحت ہیں ہمارا ایسا کوئی کام نہیں جو مادی یا روحانی ضرورت کے پیش نظر نہ ہو ۔

چونکہ ہماری عقل اس بات کو نہیں سمجھ سکتی کہ خداوند تعالی کے کام کس نوعیت کے ہیں تو ناگزیر اسکے کاموں کو انسانی کام کی مانند خیال کرتے ہیں اور چونکہ آدمی کام ختم ہونے کے بعد اگر ایک لمبی مدت بیکار پڑا رہے تو بیمار پڑ جاتا ہے اور تمہارا خیال ہے چونکہ خداوند تعالی نے تمام کام انجام دے دئے ہیں لہذا اب وہ بیکار رہ رہ کر بیمار پڑ جائیگا ۔

جابر نے کہا ‘ ہم موت کے بعد خداوند تعالی کو آج سے بہتر طور پر پہچان سکیں گے ؟

جعفر صادق نے فرمایا ‘ مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ موت کے بعد انسان جب زندہ ہو گا تو آج سے بہتر کامل انسان بن چکا ہو گا کیونکہ جیسا کہ ہم نے کہا کہ خداوند جو بڑی عظمت و کرم کژا مالک ہے بنی نوع انسان کو اسلئے نہیں مارتا کہ اسکی زندگی کو بد تر بنائے بلکہ موت بنی نوعی انسان کی تکمیل کے مراحل میں سے ایک اور اونچے مرحلے تک پہنچنے کا ذریعہ ہے ۔ جابر نے پوچھا کیا موت کے بعد ہم خدا کو دیکھ سکیں گے ؟ مجھے معلوم ہے کہ موسی نے کوہ طور پر خداوند تعالی سے چاہا کہ اسے دیکھے اور خدا نے اسکے جواب میں فرمایا ‘ اے موسی تم مجھے نہیں دیکھ سکو گے ۔ لیکن ہم مسلمان ہیں اور ہمیں دوسری قوموں پر فضیلت حاصل ہے کیا اس فضیلت کے باوجود خداوند تعالی کو نہیں دیکھ سکیں گے ؟

جعفر صادق نے فرمایا نہیں اے جابر ‘ موت کے بعد اسکے باوجود کہ ہم مسلمان ہیں خد کو نہیں دیکھ سکیں گے کیونکہ خدا کا جسم نہیں کہ ہم اسے دیکھ سکیں ہماری آنکھیں ایسی چیز کو نہیں دیکھ سکتیں جس کا جسم نہ ہو اور جس پر روشنی نہ پرتی ہو ۔

ہماری آنکھیں حتی کہ تاریکی میں بھی چیزوں کو دیکھنے پر قادر نہیں تو تم کس طرح اس بات کے امیدوار ہو کہ انہی آنکھوں سے خدا وند تعالی کو دیکھ سکو گے جس کا جسم نہیں ہے ۔ لیکن اگر خداوند تعالی کو دیکھنے سے مراد اسے دل کی انکھوں سے دیکھنا ہے یعنی خدا کی معرفت ‘ تو اس طرح تم موت سے قبل بھی اس کو اس دنیا میں دیکھ سکتے ہو ۔

جابر نے کہا ‘ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ خداوند تعالی خود کو کس لئے مخلوقات کو نہیں دکھانا چاہتا ۔

جعفر صادق نے فرمایا ‘ یہ اسکی اپنی مشیت ہے اور ہم اس ضمن میں اظہار خیال نہیں کر سکتے اور نہ ہی یہ کہہ سکتے ہیں کہ خداوند تعالی کیوں اپنے آپ کو مخلوقات کو نہیں دکھاتا ۔ لیکن چونکہ ہم خدا کو نہیں دیکھتے لہذا اسکو دیکھنے کی بڑی تڑپ رکھتے ہیں ۔جابر نے پوچھا میں آپ کی بات کو نہیں سمجھ سکا ‘ خداکو نہ دیکھ سکنا کیسے اس بات کا سبب ہے کہ ہم اسکے دیکھنے کی تڑپ رکھتے ہیں جعفر صادق نے وضاحت فرمائی اگر ہم خدا کو دیکھ سکتے تو چونکہ ہم اسے محدود کرتے اور اس کی ہستی تک پہنچ جاتی تو اس سے مایوس ہو جاتے ۔ جابر نے سوال کیا ‘ اگر اسے دیکھتے تو محدود کر دیتے ۔

جعفرصادق نے مثبت جواب دیا ور فرمایا اجسام کو دیکھنا انہیں محدود کر دنا ہے اور اگر انہیں محدود نہ کریں تو انہیں چاروں اطراف سے نہیں دیکھ سکتے ۔

حتی کہ اگر خدا کی ہستی کی معرفت حاصل نہ بھی کر سکیں تو بھی جتنا اسے دیکھ لیں گے اتنا ہی اس سے مایوس ہو جائیں گے کیونکہ اسے محدود کر دیں گے اور چونکہ وہ ہماری طرف سے محدود ہو جائے گا اور ہم مزید اسے لا محدود نہیں سمجھیں گے اس طرح ہم آخری نجات کے لحاظ سے اس سے مایوسی کا شکار ہو جائیں گے اگرچہ اس وقت تک اس کی ہستی کی معرفت حاصل نہیں کر سکیں گے ۔ چونکہ ہم سوچیں گے کہ خدا خود محدود ہے اور اس نے ہمیں بھی محدود خلق کیا ہے اور ہم ہمیشہ کی ژندگی اور سرمدی نجات کے امیدار نہیں ہو سکیں گے ۔ اور سوچیں گے کہ جو خدا محدود ہے ہمیں کیسے لا محدود پیدا کر سکتا ہے کیونکہ محدود خالق لا محدود مخلوق کو خلق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ اگر خدا کو دیکھنے کے بعد اس کی ہستی کی معرفت حاصل کریں تو زیادہ مایوس ہو جائیں گے جابر نے پوچھا ہمیں کونسی چیزخداکی ہستی کی معرفت حاصل کرنے کے بعد زیادہ مایوس کرے گی ؟

جعفر صادق نے فرمایا جب ہم اس کی ہستی کی معرفت حاصل کر لیں گے اور جیسا وہ ہے ویسے اسے پہچان لیں گے تو وہ ہماری نظر میں چھوٹا ہو جائے گا ۔ چونکہ ہم ان دکھے اور واحد خدا کے بارے میں بلند تفکرات رکھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ وہ اس قدر بڑا ہے کہ اگر ہماری موجود عقل کئی گناہ زیادہ طاقتور بھی ہو جائے تو پھربھی ہم اس کی معرفت حاصل نہیں کر سکتے ۔ یہ موضوع ہمیں امیدوار اور متلاشی رکھتا ہے اور ہمیں امید بندھی رہتی ہے کہ خداوند تعالی جو لا محدود اور بے پایاں ہے اس نے ہمیں ہمیشہ کی زندگی کیلئے پیدا کیا ہے اور چونکہ توانا اور بے نیاز ہے اسے مخلوق سے کوئی حاجت نہیں ا ور ہمیں صرف اپنے کرم کی رو سے پیدا کی اہے لہذا ہمیں ہمیشہ کی سعادت عطا فرمائے گا ۔ لیکن جب ہم خدا کی ہستی کی معرفت حاصل کر لیں گے تو اپنے آپ سے کہیں گے کہ خدا اتنا چھوٹا ہے کہ ہماری چھوٹی سی اورمحدود عقل میں سما گیا ہے ۔

یہ باتں جو میں تمہیں بت رہا ہوں ‘ اصول دین کی رو سے نہیں بلکہ فلسفے کی رو سے بتا رہا ہو ں ۔ میرا مطلب یہ ہے کہ اگر تم مسلمان نہ ہو تو اس بات کو نہیں سمجھ سکتے کہ ہمارا خداوند تعالی کو نہ دیکھنا اسے دیکھنے سے بہتر ہے کیونکہ اگر اسے دیکھ کر فضا میں محدود کر لیں گے تو وہ روحانی لحاظ سے بھی ہماری نظر میں محدود ہو جائے گا پس بہتر یہی ہے کہ ہم اسے نہ دیکھیں ۔

جابر نے کہا ‘ میں آپ کے اس فرمان سے متفق نہیں ہوں اور میرا خیال ہے جب ہم خدا کی ہستی کا کھوج لگا لیں گے تو وہ روحانی لحاظ سے ہماری نظر میں بڑا ہو جائے گا اور میرے اس قول کی میرے پاس دلیل بھی ہے میری دلیل یہ ہے کہ جس وقت میں شہر کی بازار میں ایک شخص کو گزرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو وہ میری نظر میں دوسرے راہ گزر لوگوں سے مختلف نہیں ہوتا ‘ ممکن ہے وہ اپنے دائیں یا بائیں طرف سے گزرنے والے لوگوں سے زیادہ بلند قامت اور موٹا ہو لیکن میری نظر میں روحانی لحاظ سے وہ دوسرے لوگوں سے مختلف نہیں ہے ۔

لیکن اگر میں اس شخص کو کسی محفل میں دیکھتا ہوں اور مجھے پتہ چلتاہے کہ وہ فقیہ ہے تو میں ا سکے قریب جا کر اس سے فقہ کا مسئلہ دریافت کروں گا ‘ یوں جب میں نے اس کی گفتگو سنی اور میں سمجھ گیا کہ وہ شخص عالم ہے تو میں اس کی شخصیت تک رسائی حاصل کروں گا تو پھر وہ شخص میری نظر میں پہلے سے کہیں عظیم ہو جائے گا ۔

ب کبھی میں تیسرے ‘ چوتھے ‘ پانچویں اور چھٹے دن اس کے ہاں جاؤں گا اور ہر دن اس سے مسئلہ دریافت کروں گا اور وہ مجھے جواب دے گا تو میں اس کا زیادہ احترام کرنے لگے جاؤں گا کیونکہ میں سمجھ جاؤں گا کہ وہ شخص عالم ہے ۔ اس بنا پر اگر ہم خدا کی ہستی کی کما حقہ معرفت حاصل کر لیں تو ہماری نظر میں اس کے احترام کا احساس زیادہ بڑھ جائے گا ۔

جعفر صادق نے فرمایا ‘ وہ شخص جس کے پاس تم ہر روز جا کر اس سے مسئلہ دریافت کرو گے وہ تمہارے جیسا انسان ہو گا اگرچہ اس کی فہم و فراست تمہاری فہم و فراست سے زیادہ ہو گی لیکن اس کی فہم و عقل ایک انسان کی فہم و عقل سے زیادہ نہیں ہو گی اور تمہارے مسائل کا جواب دینا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ دوسرے تمام انسانوں سے برتر ہے اور سب کچھ جانتا ہے اسی شخص کو اگر تم تالا ساز کے پاس لے جاؤں اور تالا بنانے کے اوزار اس کے ہاتھ میں دی دو اور اسے کہو کہ تمہارے لئے ایک تالا بنا دے تو وہ یہ کام نہیں کر سکے گا چونکہ جو کچھ اس نے سیکھا ہے اس کا تعلق فقہ سے ہے تالا سازی سے نہیں ہے اس شخص کو تم تالا سازی کی دکان سے پنیرو دودھ و غیرہ بیچنے والے کی دکان پر لے جاؤ اور اس سے کہو کہ پنیر بیچے تو تم دیکھو گے کہ وہ پنیر بیچنے کے کام سے عہدہ برآ نہیں ہو سکے گا کیونکہ اس نے ہر گز ایسے کام نہیں کئے اور فقہ کے علاوہ کوئی چیز نہیں سیکھی ۔

تم اس کے احترام کے قائل اس لئے ہوئے کہ اس کے علم کو سمجھ سکتے ہو جبکہ تمہاری فہم اور علم کا میزان محدود ہے لیکن اس قدر وسیع اور توانا ہے کہ تم ایک فقیہ کے علم تک رسائی حاصل کر سکتیہو جابر نے کہا ‘ بہر حال جب میں اس کی ہستی سے متعارف ہو جاؤں گا تو وہ میرے نزدیک زیادہ محترم ہو جائے گا اور جتنا زیادہ میں اس کی ہستی کی معرفت حاصل کروں گا اتنا ہی زیادہ اس کا احترام کروں گا جعفر صادق نے فرمایا ‘ بنی نوع انسان کے باہمی روابط کے لحاظ سے یہ موضوع حقیقت پر مبنی ہے لیکن انسان اور خدا کے درمیان اس موضوع کی کوئی حقیقت نہیں اور اگر بنی نوعی انسان خدا کی ہستی تک رسای حاصل کر لے تو وہ مزید خدا کا احترام نہیں کرے گا کیونکہ وہ اس کی نظروں میں چھوٹا نظر ائے گا وہ اپنے آپ سے کہے گا کہ اس کے باوجود کہ میں محدود فہم و عقل رکھتا ہوں تب بھی میں نے خدا تک رسائی حاصل کر لی ہے تو لا محالہ خدا محدود ہے وگرنہ میں اس محدود عقل و فہم کے ساتھ ہر گز خداوند تعالی کی ہستی تک رسائی حاصل نہ کرسکتا ۔

یہ بات میں دلیل کے طور پر کہتا ہوں وگرنہ بنی نوع انسان خداوند تعالی کی ہستی تک رسای حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ ایک ایسی ہستی جو ازلی ابدی اور لا محدود ہے اس کی معرفت حاصل کرنا ممکن نہیں ۔ لیکن اگر بفرض محال ‘ ایک دن بنی نوعی انسان خدا کی ہستی تک رسای حاصل کر لے تو خدا اس کی نظر میں اتنا چھوٹا ہو جائے گا کہ اسے عام انسانوں میں شمار کر لیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ میں کہتا ہوں خدا کو نہ دیکھ سکنا ایک ایسا موثر عامل ہے جسکی وجہ سے ہم خدا کی معرفت سے ابدی نجات کے امیدوار ہوتے ہیں وگرنہ اگر ہم اس کی حدود تک رسائی حاصل کرکے اس کی ہستی کو پالیں تو وہ ہماری نظر میں محدود ہو جائے گا اور اس طرح ہم اسے عام انسانوں کی صفت میں لے آئیں گے اور یہ بات میں فلسفے کی رو سے کہتا ہوں نہ اصول دین کے مطابق چونکہ مسلمانوں کو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیشہ کی نجات حاصل ہو کر رہی گی ۔ جابر نے کہا ‘ کیا اس تمام عصرے میں خداوندتعالی جس نے تمام کامون کو انجام دے دیا ہے اس کا کوی کام نہیں اور اس نے اپنے آپ کو بیکاری کا شکار بنا لیا ہے ؟ جعفر صادق نے فرمایا ‘ اے جابر ‘ میں نے جو تم سے کہا ہے کہ ازل اور ابد کے درمیانی فاصلے کو اپنی قوت فکر سے ناپو ‘ اور اپنی قوت فکر سے اس کا تعین کرو اس سے میری مراد کچھ اور تھی ۔ جابر نے پوچھا ‘ کیا کہنا چاہتے تھے ؟ جعفر صادق نے فرمایا ‘ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ طویل عرصہ جو ازل کے آغاز اور ابد کی انتہا کے درمیانی موجودہے اور ایک سو سال کے حساب کرنے اور اعداد کو بڑھاتے جانے سے بھی ہم اس عرصے کا تعین نہیں کر سکتے ۔ حالانکہ یہ خداوند تعالی کیلئے ایک لمحہ ہے ۔جابر اس بات سے حیران ہو گیا جعفر صادق نے فرمایا ‘ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ طویل عرصہ جو از ل کے آغاز اور ابد کی انتہا کے درمیان موجود ہے اور ایک سو سال کے حساب کرنے اور اعداد کو بڑھاتے جانے سے بھی ہم اس عرصی کا تعین نہیں کر سکتے ۔ حالانکہ یہ خداوند تعالی کے لئے ایک لمحہ ہے ۔

جابر اس بات سے حیران ہو گیا ۔ جعفر صادق نے پوچھا ‘ کیا جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اسے سمجھ رہے ہو ؟ جابر نے کہا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جو فاصلہ ازل اور ابد کے درمیان سے خداوند تعالی کے لئے ایک لمحہ ہے جعفر صادق نے فرمایا ہاں میں یہی کہنا چاہتا ہوں اور یہ اس لئے خدوند تعالی کیلئے ایک لمحہ ہے کہ وہ زمانے کے گزرنے کا تابع نہیں اور چونکہ ہم بھی موت کی بعد زمانے کے گزرنے کے تابع نہیں ہوں گے لہذا زمانے کے گزرنے کا احساس نہیں کریں گے ۔ اور اگر خداوند تعالی ہزار سال یا دس ہزار سال بعد ہمیں زندہ کرے تو ہم نیند سے بیدار ہونے کے بعد یہی خیال کریں گے کہ ہم ایک لمحہ سوئے رہے کیونکہ موت کی حالت میں زمانے کے گزرنے کا احساس نہیں کریں گے ۔

اس بان پر تمہارا یہ اععتراض درستہے جو اس امر پر مبنی ہے کہ چونکہ خداوند تعالی نے جو کام کرنا تھا کر دیا ہے تو جب تک موجود رہے گا اس نے اپنے آپ کو بیکاری میں مبتلا کر دیا ہے اور جو کچھ تمہارای اور میری نظر میں لاکھون سال کا زمانہ ہے (یہ میں اسلئے کہتا ہوں کہ عدد کا ذکر ضروری ہے وگر نہ از اور ابد کے درمیانی فاصلے کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ) خداوند تعالی کیلئے ایک لمحہ ہے اور اس لمحے میں بھی کام میں مشغول اور تازہ ہے ایک ایسا وجود جو ازلی اور ابدی ہے اسکے لئے کام کا مسئلہ کام کی مانند ہمارے لئے واضح نہیں ہیہماری زندگی میں کام کا مسئلہ روحانی یا مادی ضرورت کے پیش نظر ہے ۔

بنی نوع انسان کو اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے کام کرنا پڑتا ہے ور اگر اس لحاظ سے اسے کام کرنے کی ضرورت نہ ہو تو روحانی ضرورت کے تحت اسے علم حاصل کرنے کیلئے کام کرنا پرتا ہیا ور اس بات سے آگاہ ہے کہ اگر مکمل طور پر بیکار ہو جائے تو اس قدر تنگ آ جائیگا کہ اسکے لئے زندگی گزارنا مشکل ہو جائیگا یہی اندیشہ ہے جو امراء کو شکار کرنے پر مجبور کرتا ہے کیونکہ ان کی بیکاری انہیں زندگی سے اس قدر بیزار کر سکتی ہے کہ وہ زندگی سے سیر ہو جائیں ۔ لیکن وہ لوگ جو تلاش معاش کیلئے سر گرم رہتے ہیں یا تحصیل علم میں مشعول رہتے ہیں ہر گز بیکاری کا شکار نہیں ہوتے ۔

خالق کائنات ازلی اور ابدی ‘ دانا اور توانائے مطلق ہونے کے لحاظ سے اس طرح کی کسی ضرورت کا محتاج نہیں ہے اگر کوی کہے کہ خداوند تعالی کو کسی چیز کی ضرورت ہے تو یہ کفر ہے اور اگر کبھی العیاذ باللہ خدا کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو وہ خدا نہیں ہے پھر جس چیز کی اسے ضرورت ہو گی وہ اسکی جگہ لیکر خد ہو جائے گی ۔ پس اے جابر ‘ جب ہم خداوند تعالی کے کام کرنے کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہم اسے اپنی عقل کی حدود میں محدود کر دیتے ہیں اور اپنی عقل کی جانب سے اسکے بارے میں اظہار خیال کرتے ہیں ۔ خداوند تعالی کا کام کرنا ‘ ہمارے کام کرنے کی مانند نہیں ہے وہ جو دانا و توانائے مطلق اور ازلی و ابدی ہے اس کا کام کرنا ہمارے کام کرنے کی مانند ہے نہیں کیونکہ ہمارے تمام کام جس صورت میں بھی ہوں ضرورت کے تحت ہیں ہمارا ایسا کوئی کام نہیں جو مادی یا روحانی ضرورت کے پیش نظر نہ ہو ۔

چونکہ ہماری عقل اس بات کو نہیں سمجھ سکتی کہ خداوند تعالی کے کام کس نوعیت کے ہیں تو ناگزیر اسکے کاموں کو انسانی کام کی مانند خیال کرتے ہیں اور چونکہ آدمی کام ختم ہونے کے بعد اگر ایک لمبی مدت بیکار پڑا رہے تو بیمار پڑ جاتا ہے اور تمہارا خیال ہے چونکہ خداوند تعالی نے تمام کام انجام دے دئے ہیں لہذا اب وہ بیکار رہ رہ کر بیمار پڑ جائیگا ۔

جابر نے کہا ‘ ہم موت کے بعد خداوند تعالی کو آج سے بہتر طور پر پہچان سکیں گے ؟

جعفر صادق نے فرمایا ‘ مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ موت کے بعد انسان جب زندہ ہو گا تو آج سے بہتر کامل انسان بن چکا ہو گا کیونکہ جیسا کہ ہم نے کہا کہ خداوند جو بڑی عظمت و کرم کژا مالک ہے بنی نوع انسان کو اسلئے نہیں مارتا کہ اسکی زندگی کو بد تر بنائے بلکہ موت بنی نوعی انسان کی تکمیل کے مراحل میں سے ایک اور اونچے مرحلے تک پہنچنے کا ذریعہ ہے ۔ جابر نے پوچھا کیا موت کے بعد ہم خدا کو دیکھ سکیں گے ؟ مجھے معلوم ہے کہ موسی نے کوہ طور پر خداوند تعالی سے چاہا کہ اسے دیکھے اور خدا نے اسکے جواب میں فرمایا ‘ اے موسی تم مجھے نہیں دیکھ سکو گے ۔ لیکن ہم مسلمان ہیں اور ہمیں دوسری قوموں پر فضیلت حاصل ہے کیا اس فضیلت کے باوجود خداوند تعالی کو نہیں دیکھ سکیں گے ؟

جعفر صادق نے فرمایا نہیں اے جابر ‘ موت کے بعد اسکے باوجود کہ ہم مسلمان ہیں خد کو نہیں دیکھ سکیں گے کیونکہ خدا کا جسم نہیں کہ ہم اسے دیکھ سکیں ہماری آنکھیں ایسی چیز کو نہیں دیکھ سکتیں جس کا جسم نہ ہو اور جس پر روشنی نہ پرتی ہو ۔

ہماری آنکھیں حتی کہ تاریکی میں بھی چیزوں کو دیکھنے پر قادر نہیں تو تم کس طرح اس بات کے امیدوار ہو کہ انہی آنکھوں سے خدا وند تعالی کو دیکھ سکو گے جس کا جسم نہیں ہے ۔ لیکن اگر خداوند تعالی کو دیکھنے سے مراد اسے دل کی انکھوں سے دیکھنا ہے یعنی خدا کی معرفت ‘ تو اس طرح تم موت سے قبل بھی اس کو اس دنیا میں دیکھ سکتے ہو ۔

جابر نے کہا ‘ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ خداوند تعالی خود کو کس لئے مخلوقات کو نہیں دکھانا چاہتا ۔

جعفر صادق نے فرمایا ‘ یہ اسکی اپنی مشیت ہے اور ہم اس ضمن میں اظہار خیال نہیں کر سکتے اور نہ ہی یہ کہہ سکتے ہیں کہ خداوند تعالی کیوں اپنے آپ کو مخلوقات کو نہیں دکھاتا ۔ لیکن چونکہ ہم خدا کو نہیں دیکھتے لہذا اسکو دیکھنے کی بڑی تڑپ رکھتے ہیں ۔جابر نے پوچھا میں آپ کی بات کو نہیں سمجھ سکا ‘ خداکو نہ دیکھ سکنا کیسے اس بات کا سبب ہے کہ ہم اسکے دیکھنے کی تڑپ رکھتے ہیں جعفر صادق نے وضاحت فرمائی اگر ہم خدا کو دیکھ سکتے تو چونکہ ہم اسے محدود کرتے اور اس کی ہستی تک پہنچ جاتی تو اس سے مایوس ہو جاتے ۔ جابر نے سوال کیا ‘ اگر اسے دیکھتے تو محدود کر دیتے ۔

جعفرصادق نے مثبت جواب دیا ور فرمایا اجسام کو دیکھنا انہیں محدود کر دنا ہے اور اگر انہیں محدود نہ کریں تو انہیں چاروں اطراف سے نہیں دیکھ سکتے ۔

حتی کہ اگر خدا کی ہستی کی معرفت حاصل نہ بھی کر سکیں تو بھی جتنا اسے دیکھ لیں گے اتنا ہی اس سے مایوس ہو جائیں گے کیونکہ اسے محدود کر دیں گے اور چونکہ وہ ہماری طرف سے محدود ہو جائے گا اور ہم مزید اسے لا محدود نہیں سمجھیں گے اس طرح ہم آخری نجات کے لحاظ سے اس سے مایوسی کا شکار ہو جائیں گے اگرچہ اس وقت تک اس کی ہستی کی معرفت حاصل نہیں کر سکیں گے ۔ چونکہ ہم سوچیں گے کہ خدا خود محدود ہے اور اس نے ہمیں بھی محدود خلق کیا ہے اور ہم ہمیشہ کی ژندگی اور سرمدی نجات کے امیدار نہیں ہو سکیں گے ۔ اور سوچیں گے کہ جو خدا محدود ہے ہمیں کیسے لا محدود پیدا کر سکتا ہے کیونکہ محدود خالق لا محدود مخلوق کو خلق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ اگر خدا کو دیکھنے کے بعد اس کی ہستی کی معرفت حاصل کریں تو زیادہ مایوس ہو جائیں گے جابر نے پوچھا ہمیں کونسی چیزخداکی ہستی کی معرفت حاصل کرنے کے بعد زیادہ مایوس کرے گی ؟

جعفر صادق نے فرمایا جب ہم اس کی ہستی کی معرفت حاصل کر لیں گے اور جیسا وہ ہے ویسے اسے پہچان لیں گے تو وہ ہماری نظر میں چھوٹا ہو جائے گا ۔ چونکہ ہم ان دکھے اور واحد خدا کے بارے میں بلند تفکرات رکھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ وہ اس قدر بڑا ہے کہ اگر ہماری موجود عقل کئی گناہ زیادہ طاقتور بھی ہو جائے تو پھربھی ہم اس کی معرفت حاصل نہیں کر سکتے ۔ یہ موضوع ہمیں امیدوار اور متلاشی رکھتا ہے اور ہمیں امید بندھی رہتی ہے کہ خداوند تعالی جو لا محدود اور بے پایاں ہے اس نے ہمیں ہمیشہ کی زندگی کیلئے پیدا کیا ہے اور چونکہ توانا اور بے نیاز ہے اسے مخلوق سے کوئی حاجت نہیں ا ور ہمیں صرف اپنے کرم کی رو سے پیدا کی اہے لہذا ہمیں ہمیشہ کی سعادت عطا فرمائے گا ۔ لیکن جب ہم خدا کی ہستی کی معرفت حاصل کر لیں گے تو اپنے آپ سے کہیں گے کہ خدا اتنا چھوٹا ہے کہ ہماری چھوٹی سی اورمحدود عقل میں سما گیا ہے ۔

یہ باتں جو میں تمہیں بت رہا ہوں ‘ اصول دین کی رو سے نہیں بلکہ فلسفے کی رو سے بتا رہا ہو ں ۔ میرا مطلب یہ ہے کہ اگر تم مسلمان نہ ہو تو اس بات کو نہیں سمجھ سکتے کہ ہمارا خداوند تعالی کو نہ دیکھنا اسے دیکھنے سے بہتر ہے کیونکہ اگر اسے دیکھ کر فضا میں محدود کر لیں گے تو وہ روحانی لحاظ سے بھی ہماری نظر میں محدود ہو جائے گا پس بہتر یہی ہے کہ ہم اسے نہ دیکھیں ۔

جابر نے کہا ‘ میں آپ کے اس فرمان سے متفق نہیں ہوں اور میرا خیال ہے جب ہم خدا کی ہستی کا کھوج لگا لیں گے تو وہ روحانی لحاظ سے ہماری نظر میں بڑا ہو جائے گا اور میرے اس قول کی میرے پاس دلیل بھی ہے میری دلیل یہ ہے کہ جس وقت میں شہر کی بازار میں ایک شخص کو گزرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو وہ میری نظر میں دوسرے راہ گزر لوگوں سے مختلف نہیں ہوتا ‘ ممکن ہے وہ اپنے دائیں یا بائیں طرف سے گزرنے والے لوگوں سے زیادہ بلند قامت اور موٹا ہو لیکن میری نظر میں روحانی لحاظ سے وہ دوسرے لوگوں سے مختلف نہیں ہے ۔

لیکن اگر میں اس شخص کو کسی محفل میں دیکھتا ہوں اور مجھے پتہ چلتاہے کہ وہ فقیہ ہے تو میں ا سکے قریب جا کر اس سے فقہ کا مسئلہ دریافت کروں گا ‘ یوں جب میں نے اس کی گفتگو سنی اور میں سمجھ گیا کہ وہ شخص عالم ہے تو میں اس کی شخصیت تک رسائی حاصل کروں گا تو پھر وہ شخص میری نظر میں پہلے سے کہیں عظیم ہو جائے گا ۔

ب کبھی میں تیسرے ‘ چوتھے ‘ پانچویں اور چھٹے دن اس کے ہاں جاؤں گا اور ہر دن اس سے مسئلہ دریافت کروں گا اور وہ مجھے جواب دے گا تو میں اس کا زیادہ احترام کرنے لگے جاؤں گا کیونکہ میں سمجھ جاؤں گا کہ وہ شخص عالم ہے ۔ اس بنا پر اگر ہم خدا کی ہستی کی کما حقہ معرفت حاصل کر لیں تو ہماری نظر میں اس کے احترام کا احساس زیادہ بڑھ جائے گا ۔

جعفر صادق نے فرمایا ‘ وہ شخص جس کے پاس تم ہر روز جا کر اس سے مسئلہ دریافت کرو گے وہ تمہارے جیسا انسان ہو گا اگرچہ اس کی فہم و فراست تمہاری فہم و فراست سے زیادہ ہو گی لیکن اس کی فہم و عقل ایک انسان کی فہم و عقل سے زیادہ نہیں ہو گی اور تمہارے مسائل کا جواب دینا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ دوسرے تمام انسانوں سے برتر ہے اور سب کچھ جانتا ہے اسی شخص کو اگر تم تالا ساز کے پاس لے جاؤں اور تالا بنانے کے اوزار اس کے ہاتھ میں دی دو اور اسے کہو کہ تمہارے لئے ایک تالا بنا دے تو وہ یہ کام نہیں کر سکے گا چونکہ جو کچھ اس نے سیکھا ہے اس کا تعلق فقہ سے ہے تالا سازی سے نہیں ہے اس شخص کو تم تالا سازی کی دکان سے پنیرو دودھ و غیرہ بیچنے والے کی دکان پر لے جاؤ اور اس سے کہو کہ پنیر بیچے تو تم دیکھو گے کہ وہ پنیر بیچنے کے کام سے عہدہ برآ نہیں ہو سکے گا کیونکہ اس نے ہر گز ایسے کام نہیں کئے اور فقہ کے علاوہ کوئی چیز نہیں سیکھی ۔

تم اس کے احترام کے قائل اس لئے ہوئے کہ اس کے علم کو سمجھ سکتے ہو جبکہ تمہاری فہم اور علم کا میزان محدود ہے لیکن اس قدر وسیع اور توانا ہے کہ تم ایک فقیہ کے علم تک رسائی حاصل کر سکتیہو جابر نے کہا ‘ بہر حال جب میں اس کی ہستی سے متعارف ہو جاؤں گا تو وہ میرے نزدیک زیادہ محترم ہو جائے گا اور جتنا زیادہ میں اس کی ہستی کی معرفت حاصل کروں گا اتنا ہی زیادہ اس کا احترام کروں گا جعفر صادق نے فرمایا ‘ بنی نوع انسان کے باہمی روابط کے لحاظ سے یہ موضوع حقیقت پر مبنی ہے لیکن انسان اور خدا کے درمیان اس موضوع کی کوئی حقیقت نہیں اور اگر بنی نوعی انسان خدا کی ہستی تک رسای حاصل کر لے تو وہ مزید خدا کا احترام نہیں کرے گا کیونکہ وہ اس کی نظروں میں چھوٹا نظر ائے گا وہ اپنے آپ سے کہے گا کہ اس کے باوجود کہ میں محدود فہم و عقل رکھتا ہوں تب بھی میں نے خدا تک رسائی حاصل کر لی ہے تو لا محالہ خدا محدود ہے وگرنہ میں اس محدود عقل و فہم کے ساتھ ہر گز خداوند تعالی کی ہستی تک رسائی حاصل نہ کرسکتا ۔

یہ بات میں دلیل کے طور پر کہتا ہوں وگرنہ بنی نوع انسان خداوند تعالی کی ہستی تک رسای حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ ایک ایسی ہستی جو ازلی ابدی اور لا محدود ہے اس کی معرفت حاصل کرنا ممکن نہیں ۔ لیکن اگر بفرض محال ‘ ایک دن بنی نوعی انسان خدا کی ہستی تک رسای حاصل کر لے تو خدا اس کی نظر میں اتنا چھوٹا ہو جائے گا کہ اسے عام انسانوں میں شمار کر لیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ میں کہتا ہوں خدا کو نہ دیکھ سکنا ایک ایسا موثر عامل ہے جسکی وجہ سے ہم خدا کی معرفت سے ابدی نجات کے امیدوار ہوتے ہیں وگرنہ اگر ہم اس کی حدود تک رسائی حاصل کرکے اس کی ہستی کو پالیں تو وہ ہماری نظر میں محدود ہو جائے گا اور اس طرح ہم اسے عام انسانوں کی صفت میں لے آئیں گے اور یہ بات میں فلسفے کی رو سے کہتا ہوں نہ اصول دین کے مطابق چونکہ مسلمانوں کو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیشہ کی نجات حاصل ہو کر رہی گی ۔

عہد پیری کا سوال

جابر نے پوچھا ‘ آدمیبوڑھا ہونے کے بعد منکسر المزاج کیوں ہو جاتا ہے ؟

جعفر صادق نے فرمایا یہ کوئی کلی قاعدہ نہیں ہے ‘ ہر بوڑھا ہو جانے والا شخص منکسر المزاج نہیں ہوتا کچھ لوگ ایسے بھیہوتے ہیں جو جوانی میں منکسر المزاج ہوتے ہیں لیکن ان کی جوانی کی نشاط اور طراوت ان کے انکسار کو اچھی طرح دوسروں کی نظر تک پہچانے میں رکاوٹ ہوتے ہیں یہی لوگ بڑھاپے میں منکسر المزاج دکھائی دیتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی جوانی کی نشاط اور طراوت مزید ان کے انکسار کو نہیں چھپا سکتے ۔

لیکن جو مرد یا عورت جوانی میں عاقل مطلع اور پرہیز گار ہوتے ہیں ‘ بڑھاپے میں بھی وہ مرد یا عورت عاقل ‘ مطلع اور پرہیز گار ہوتے ہیں ‘ مطلب یہ ہے کہ جسمانیطاقت کے لحاظ سے جوانی ‘ بڑھاپے کی مانند نہیں ہے بڑھاپے میں علما کا طبقہ جوانی کے زمانے کی نسبت زیادہ عاقل ‘ مطلع اور عقلمند دکھائی دیتا ہے چونکہ جو توشہ وہ جوانی میں حاصل کرتے ہیں کم ہوتا ہے اور جوں جوں ان کی عمربڑھتی جاتی ہے اس توشے میں بھی اضافہ ہو تا جاتا ہے اور ان کی عقل مزید طاقتور ہوتی جاتی ہے اور وہ بے لوث ہو کر عدل قائم کرتے ہیں انہیں اس بات کا علم ہوتا ہے کہ انہیں ہمیشہ حقیقت کا حامی ہونا چاہیے ۔

جابر نے کہا ‘ میں نے سنا ہے کہ بڑھاپا نسیان پیدا کرتا ہے اور کیا یہ موضوع ایک کلی قاعدہ ہے جعفر صادق نے فرمایا نہ اے جابر ‘ جو چیز نسیان وجود میں لاتی ہے وہ حافظے کی طاقت کا عدم استعمال ہے حافظے کی قوت کی دوسری انسانی قوتوں کی مانند کام میں لاتے رہنا چاہیے تاکہ زائل نہ ہو ۔ اگر ایک جوان بھی اپنی قوت حافظہ کو کام میں نہ لائے تو وہ بھی نسیان کا شکار ہو جائے گا لیکن بعض عمر رسیدہ اشخاص اس لئے فراموشی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ جسمانی طاقت کی کمزوری کے نتیجے میں ان کی توجہ ان کے ماحول کی نسبت جس میں وہ زندگی گزار رہیہوتے ہیں کم ہو جاتی ہے اور حتی کہ ان کی توہ ان کے نواسوں و پوتوں وغیرہ کی نسبت بھی کم ہوجاتی ہے اور جب ان کے نواسے و پوتے وغیرہ برے ہو جاتے ہیں تو انہیں بھی نہیں پہچانتے جسمانی قوت جتنی کمزور ہو گی ان کی اپنے ماحول جس میں وہ رہ رہے ہوتے ہیں کی جانب توجہ زیادہ کم ہو جائے گی پھر وہ گھر سے باہر نکلنا پسند نہیں کرتے اور سفر نہیں کرنا چاہتے حتی کہ بڑے اور نا گہانی واقعات کی طرف بھی وہ متوجہ نہیں ہوتے ۔

اسی لئے ان کا حافظہ مزید استعمال نہیں ہوتا ‘ اور جمود کا شکار ہو جاتا ہے اور یہ جمود اس بات کا باعث بنتا ہے کہ پہلے تو ان کے حافظہ میں کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوتا اور دوسرا ان کے حافظے کے ذخائر کا تمام یا کچھ حصہ فراموشی کے سپرد ہو جاتا ہے ۔

جس کے نتیجے میں عمر رسیدہ مرد یا عورت نہ صرف یہ کہ جو کچھ اس کے زمانے میں وقوع پذیر ہوتا ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا بلکہ جو کچھ وہ جانتا ہے اور اس کے حافظے میں ذخیرہ ہوتا ہے وہ بھی اسے بھول جاتا ہے لوگ جب ایک یا دو یا تین عمر ریسدہ آدمیوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ اپنا حافظہ کھو چکے ہیں تو اسے ایک کلی قاعدہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں جو کوئی بوڑھا ہو جائے ‘ فراموشی کا شکار ہو جاتا ہے لیکن ایسے بوڑھے افراد جو جسمانی قوت کی کمزوری کے نتیجے میں اپنے حافظے کو جمود کا شکار نہیں ہونے دیتے ان کا حافظہ بڑھاپے میں ان کی جوانی کے دور سے زیادہ طاقتورہوتا ہے کیونکہ ان کا حافظہ تمام عمر کام میں مشغول رہتا ہے اور عمر کی آخری سالوں میں اپنی قوت کے جوبن پر ہوتا ہے ۔

جابر نے کہا میں نے کچھ عرصہ پہلیایک ایسے شخص سے گفتگو کی جو اپنے آپ کو با خبر سمجھتا تھا کہنے لگا آدم کے تمام فرزند اپنے جد کا کیفر دیکھتے ہیں ۔

میں نے اس سے پوچھا کہ اس بات کی کیا دلیل ہے کہ آدم کے فرزند اپنے جد کا کیفر دیکھتے ہیں اس نے اس کے جواب میں کہا کہ خداوند تعالی کیلئے ماضی اور مستقبل ایک ہی ہے اور جو کچھ ہے اس کیلئے زمانہ حال ہے چونکہ خداوند تعالی کی نظر میں ابھی تک وہی دور ہے جب آدمی وجود میں آئے تھے لہذا آدم اور فرزند یعنی ہم کو وہ آدم و حوا کے گناہ کی پاداش میں سزا دیتا ہے ۔

جعفر صادق نے جواب دیا ‘ اس شخص نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ خدوند تعالی کیلئے زمانے کا وجود معنی نہیں رکھتا تاکہ وہ مشمول زمانہ ہو اگرچہ وہ زمانہ ہی کیوں نہ ہو اور شمول زمانہ ہونا مخلوق کی خصوصیات میں سے ہے نہ کہ خالق کی خصوصیات میں سے اگر یہ شخص مسلمان ہوتا تو میں اسے کہتا کہ خداوند تعالی نے اپنے احکام میں نہایت صراحت سے بیان فرما دیا ہے کہ نیکو کاروں کو بہشت لے جائے گا اور گنا ہگاروں کو دوزخ میں جگہ دے گا لیکن چونکہ مسلمان نہیں ہے ؟ وگرنہ ایسی بات تم سے نہ کہتا ’ اس لئے اس کا جواب فلسفے کی رو سے دینا چاہیے ۔ یہ شخص ایک لحاظ سے صحیح سمجھا ہے اور وہ یہ ہے کہ خداوند تعالی کیلئے ماضی اور مستقبل دونوں طرف نہیں ‘ لیکن یہ بات نہیں کہ اس کیلئے ماضی اور مستقبل کا وجود نہیں ہے یعنی وہ ماضی اور مستقبل کا استنباط نہیں کر سکتا ماضی اور مستقبل کا مشمول نہ ہونے اور ماضی و مستقبل کو نہ سمجھ سکنے میں فرق ہے ۔

میں مطلب کو مزید بہتر انداز میں سمجھانے کی خاطر مثال دیتا ہوں ۔

کہ اگر زمین میں ہل چلاتے ہو اور زمین میں گندم کا شت کرتے ہو تو تمہیں معلوم ہوتا کہ اس گندم کے مستقبل کیا ہو گا لیکن تم خود اس غللے کے مشمول نہیں ہوگے گندم کے وہ دانے جنہیں تم زمین میں کاشت کرتے ہو تمہیں معلوم نہیں ہے کہ ان کا مستقبل کیا ہو گے گندم کے وہ دانے جنہیں تم زمین میں کاشت کرتے ہو تمہیں معلوم نہیں ہے کہ ان کا مستقبل کیا ہو گا ۔ لیکن گندم کے ان دانوں کے مستقبل کے متعلق تم ہفتہ بہ ہفتہ مطلع ہو اور تمہیں معلوم ہے ہر ہفتے گندم کی کیفیت کیا ہو گی اور کس حد تک بڑھے گیا ور کس وقت فصل کاٹنے کا وقت آ پہنچے گا ہمارے استنباط کے مطابق خود گندم اپنے ماضی اور مستقبل سے آگاہ نہیں ہے ہم کہتے ہیں ؟ہمارے استنباط کی بنا پر ’ چونکہ گندم با شعور ہے لیکن ہم اس کے کتنے اور کیسے ہونے سے مطلع نہیں ہیں اور اس طرح سوچتے ہیں کہ گندم اپنے ماضیا ور مستقبل سے بے خبر ہے لیکن تم تو اس گندم کے کاشتکار ہو ‘ اس کے ماضی اور مستقبل سے بخوبی مطلع ہو اور اس کے ماضیا ور مستقبل کے مشمول نہیں ہو خداوند تعالی بھی ہمارے ماضی اور مستقبل کا مشمول نہیں ہے وہ اس کائنات کے ماضی اور مستقبل کا بھی مشمول نہیں ہے لیکن اس کائنات اور تمام مخلوقات کے ماضی و مستقبل سے مطلع ہے جس کسی نے تمہیں کہا ہے کہ خداوند تعالی صرف زمانہ حال کو دیکھ رہا ہے اس نے غلطی کی ہے اور اس نے کدا کو زمانہ حال میں محدود کر دیا ہے یعنی اسے زمانہ حال کا مشمول سمجھا ہے جبکہ خداوند تعالی اس قدر بڑا ہے کہ زمانہ حال کا مشول ہونے سے مبرا ہے ۔

اگر ہم کہیں کہ خداوند تعالی زمانہ حال کا مشمول ہے یعنی زمانہ حال کے علاوہ اس کیلئے کوئی زمانہ نہیں ہے تو دین اسلام کی نظر میں یہ کلمہ کفر ہے اس شخص سے کہو کہ اگرچہ خداوند تعالی ماضی اور مستقبل کا مشمول نہیں ہے لیکن ماضی اور مستقبل سے مطلع ہے اسے معلوم ہے کہ آدمی ماضی میں تھا اور گناہ کا مرکتب ہوا ہے تو وہ کیفر کردار تک پہنچا ہے اور اس کی سزا یہ تھی کہ اسے بہشت سے نکال دیا گیا لیکن ہم آدم اور حوا کے فرزند اس کی نسبت سے مستقبل کا جز ہیں اور خداوند تعالی ہمیں اپنے پہلے باپ کے جرم میں سزا نہیں دے گا ۔

اس شخص سے کہو یہ اصل کہ خدا ماضی اور مستقبل کا مشمول نہیں ہے اور یہ اصل کہ خداوند تعالی ماضی اور مستقبل کی تشخیص نہیں دیتا ان دونوں میں غلط فہمی کا شکار نہ ہو ۔ اور خداوند تعالی ہر گز ایک بیٹے کو باپ یا مان کے گناہ کے جرم میں سزا نہیں دیتا اور اس کے بعد بھی کسی بیٹے کو اس کے والدین یا دونوں میں کسی ایک کے گناہ میں سزا نہیں دے گا جابر نے پوچھا ‘ پس یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ بیٹے اپنے والدین کے نا پسندیدہ اعمال کی سزا کا سامنا کرتے ہیں ۔

جعفر صادق نے جواب دیا اس موضوع اور خداوند تعالی کی طرف سے سزا دینے میں فرق ہے جب ماں یا باپ ایسے اعمال کے مرکتب ہوتے ہیں جن کے ارتکاب کی ممانعت ہے ‘ تو یہ اعمال ان کے بیٹوں کی آئندہ زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں مثال کے طور سے شراب پینے کی ممانعت ہے اور جب باپ شراب نوشی کا عادی ہو تو جو بیٹے اس سے پیدا ہوں گے ممکن ہے وہ ناقص العقل ہوں ایک شرابی شخص کے بیٹوں کا احتمالا ناقص العقل ہونا خدائی سزا نہیں ہے بلکہ باپ کے عمل کا نتیجہ ہے جو شاید بیٹوں کو وراثت میں ملے اور انہیں ناقص العقل بنا دے یا یہ کہ ایک باپ ظلم کرے اور کچھ بے گناہ لوگوں کو قت کر دے تو جب وہ فوت ہو گا تو مقتولین کی اولاد قاتل کی اولاد سے قدرتی طور پر نفرت کرے گیا ور اس دوستانہ نگاہوں سے نہیں دیکھیں گے اس بات میں کسی بحث یا دلیل کی ضرورت نہیں ۔

کیا مقتولین کے بیٹوں کا اس شخص کے بیٹوں سے اچھے تعلقات استوار نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ خداوند تعالی نے ظالم شخص کے بیٹوں کو سزا دی ہے ؟ ہر گز نہیں یہ باپ کے عمل کا نتیجہ ہے جو بیٹوں تک پہنچا ہے اور خداوند تعالی نہیں چاہتا تھا کہ ظالم شخص کے بیٹوں کو ایسے حالات پیش آئیں بلکہ خود اس نے اپنے بیٹوں کیلئے ایسے حالات پیدا کئے ہیں جابر نے پوچھا اس طرح تو خداوند تعالی کسی شخص کو اس کے والدین کے گناہوں کی پاداش میں سزا نہیں دے گا ۔

جعفر صادق نے فرمایا ‘ نہیں اے جابر ‘

خداوند تعالی اس سے کہیں زیادہ بڑاہے کہ اس طرح کے نا معقول عمل کا مرتکب ہو اور بیٹوں کو ان کے ماں باپ کے گناہوں کے جرم میں سزا دے ۔ جابر نے پوچھا ‘ مجھے معلوم ہے کہ کن فیکون کے معنی کیا ہیں اور چونکہ مسلمان ہوں اس لئے میرا عقیدہ ہے کہ جونہی خدا وند تعالی نے چاہا یہ کائنات وجود میں آ گئی لیکن میں چاہتا ہوں کہ فلسفے کے لحاظ سے کن فیکون کے معنی سمجھوں تاکہ اگر اس موضوع کے بارے میں کسی غیر مسلم شخص سے گفتگو کروں تو اسے قائل کر سکوں ۔

جعفر صادق نے فرمایا تجھے فلسفے کیر و سے جواب دینے کیلئے ارادے کے بارے میں بات چیت کرنا ہے ارادہ ایسی چیزہے جس کا وجود ہے اگر ایک توحید پرست سامع میرا مخاطب ہو تو اسے کہوں گا کہ ارادہ خداوند تعالی کی صفات ثبوتیہ کا جزو ہی اسے کہوں گا کہ ارادہ خدا کی ذات کا جزو ہے کیونکہ خداوند تعالی کی صفات اس کی ذات سیجدا نہیں ہیں جبکہ انسان میں اس کی صفات ‘ ذات سے جدا ہیں اس طرح دنیا میں آنے والا بچہ دانا نہیں ہوتا اور دانائی اس کی ذات میں وجود نہیں رکھتی اسے دانا بننے کیلئے ایک لمبیمدت تک علم حاصل کرنا پڑتا ہے پھر کہیں جا کر دانائی جو اس کی ذات میں موجود نہیں ہوتیا س کی ذات سے ملحق ہو جاتی ہے ۔

کوئی صنعتکار پیدا ہوتے ہی صنعتکار نہیں ہوتا اور صنعت اس کی ذات میں موجود نہیں ہوتی اسے صنعت سیکھنے کیلئے ایک مدت تک استاد کے ہاں کام کرنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر وہ صنعت سیکھتا ہے اور اس وقت صنعت اس کی ذات کا جزو بن جاتی ہے ۔

لیکن خداوند تعالی میں جتنی صفات موجود ہیں اس کی ذات کا جزو ہیں وہ پہلے ہی لمحے ؟اگر خداوند تعالی کے متعلق پہلے اور آخری لمحے کی گفتگو کی جا سکے ’ دانا اور توانا تھا اور جو کچھ جانتا تھا س کی ذات کا جزو شمار ہوتا تھا اور اس پرہگز کسی چیز کا اضافہ نہیں ہو گا اور کسی وقت اس سے کوئی چیز کم نہیں ہو گی ۔علم اور طاقت جو علم سے عبارت ہے خدا کی ذات کا جزو ہے لیکن جو شخص توحید پرست نہیں ہے وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرتا اور مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ بت پرستی کا معتقد ہے اور ایک بت کی قدرت کا قائل ہے لیکن خدائے واحد کے علم اور قدرت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں البتہ یہ ہے کہ جیسا کہ تم جانتے ہو بت پرست بھی آخری مرحلے میں ایسی چیز کی پوجا کرتا ہے جو بت نہیں ہوتی چونکہ اسے معلوم ہے کہ اس کا بنایا ہوا یہ بت قدرت کا حامل نہیں ہے ۔ میں ایک ایسے شخص سے جو موحد نہیں ہے اور خدائے واحد کا معتقد نہیں ‘ کہتا ہوں کہ ارادہ بذاتہ موجود ہے اگر وہ اعتراض کرے اور کہے کہ ارادہ بذاتہ وجود نہیں رکھتا بلکہ اس کا وجود ہم سے وابستہ ہے اور اگر ہم نہ ہوں تو ارادہ بھی نہیں تو میں اس سے کہتا ہوں کہ ارادہ ہمارے وجود کے بغیر وجود رکھتا ہے ۔ چونکہ فلسفے کا ایک اصول جسے تمام فلسفی تسلیم کرتے ہیں یہ ہے کہ جو چیز وجود رکھتی ہے فنا نہیں ہوتی لیکن ممکن ہے اس کی صورت تبدیل ہو جائے اگر وہ کہے کہ ہماری موت کے بعد ارادہ ختم ہو جاتا ہے تو میں اس کیلئے ‘مثال پیش کروں گا اور کہوں گا کہ ایک بڑا مخزن یا ایک نہر موجود ہے جس سے پانی مٹی کی نالی کے ذریعے گھر تک پہنچتا ہے اگر مٹی کی نالی کایہ جوڑ کاٹ دیا جائے تو پانی ہمارے گھر میں نہیں پہنچے گا ۔ لیکن کیا مٹی کی نالی کے جوڑ کا کٹ جانا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ مخزن یا نہر جس کے ذریعے پانی ہماری گھر تک آتا ہے سرے سے موجود ہی نہیں ؟

صاف ظاہر ہے ایسا نہیں ا ور وہ نہر یا مخزن اپنی جگہ موجود ہے ہمارا وجود بھی ارادے کے لحاظ سے اس مٹی کی نالی کے جوڑ سے مشابہ ہے ‘ اور ہماری موت کے بعد ارادہ فنا نہیں ہوتا اور صرف مٹی کی نالی کا جوڑ کٹ گیا یا ختم ہو گای ارادہ توباقی ہے میں اس غیر موحد شخص سے کہتا ہوں کہ ارادہ کائنات کا جوہر ہے اور کائنات ایک ایسا ارادہ ہے جو مشہود ‘ محسوس اور ملموس صورت میں سامنے آیا ہے جس لمحے ارادہ نے محسوس صورت میں سامنے آنا چاہا اس صورت میں سامنے آ گیا ارادہ ایک تخلیق جس سے محسوس و ملموس کائنات وجود میں آئی آپس میں اس قدر نزدیک ہیں کہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں ۔

اس میں کوئی حرج نہیں کہ اگر ارادے کا نام روح رکھ دیا جائے کیونکہ ارادے کی وضاحت اور محسوس و ملموس کائنات کی صورت میں اس سے جو تخلیق وجود میں آئی ہے اس کی روح اور جسم میں کوی فرق نہیں لیکن جو شخص موحد نہیں وہ ارادہ اور اس سے وجود میں آں ے والی تخلیق کو قبول کرنے کی نسبت روح اور جسم کے قبول کرنے سے زیادہ آمادگی رکھتا ہے یہ ارادہ اور اس سے وجود میں آنے والی محسوس و ملموس صورت میں تخلیق ہم میں بھی ہے اور ہمارا وہ ارادہ زندہ رہنے کیلئے اور وہ محسوس اور ملموس وجود یعنی ہمارا جسم ہے اور جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ آدمی کے وجود میں زندہ رہنے کی طرف مائل ہونے سے زیادہ مضبوط ارادہ موجود نہیں ہے میں اس شخص سے جو موحد نہیں کہتا ہوں کہ ارادے نے چاہا کہ اپنا محسوس وجود پیدا کرے اور وہ محسوس وجود یہی کائنات ہے جسے ہم دیکھتے ہیں اور ہم اس کا جزو ہیں ۔

فلسفے کے مطابقیہ ہیں کن فیکون کے معنی ‘ اور جو ارادے نے چاہا سو وہ ہو گیا اور محسوس کائنات وجود میں آئی کائنات و ارادے میں اس سے زیادہ فرق نہیں ہے کہ انسان ارادے کو نہیں دیکھ سکتا اور نہ ہی لمس کر سکتا ہے جبکہ جہاں کو وہ مشاہدہ کر سکتا ہے اور لمس بھی کرتا ہے جابر نے کہا اسطرح تو ہماری موت کے بعد ارادہ فنا نہیں ہوتا ۔

جعفر صادق نے فرمایا ‘ نہیں اور موت محسوس ہونے والے ارادے کے جسم کا جزو ہے میں تم سے کہت اہوں کہ یہ جہان جسے ارادہ وجود میں لایا ہے زندگی ہے اور تجھے معلوم ہے کہ کائنات میں ایسی کوئی چیز نہیں جو زندہ نہ ہو اور جامد پتھر بھی زندہ ہیں چہ جائیکہ درخت حیوان ‘ انسان ‘ دریاؤں اور سمندروں کا پانی ۔ جب ارادے نے کن کہا ‘ تو فیکون ؟یعنی ہو گیا ’ زندگی وجود میں آ گئی اور زندگی میں موت کے معنی فنا ہونا نہیں اور صرف زندگی کے ایک حصے کی ایک صورت کی تبدیلی ہے ولادت اور موت دونوں زندگی ہیں اور ہمیں موت کو منحوس اور ولادت کو مبارک نہیں سمجھنا چاہیے چونکہ دونوں زندگی کے دو رخ ہیں پانی اور برف کی ماند جو پانی کی دو حالتیں ہیں جبکہ ماہیت کے لحاظ سے پانی اور برف میں کوئی تفاوت نہیں ۔

ہماری زندگی اور رہائش بھی اسی طرح ہے یہ زندگی کے دو رخ ہیں ‘ جس طرح ولادت موت کو ختم نہیں کرتی اسی طرح موت ‘ ولادت کو ختم نہیں کرتی ۔ اگر ہم ولادت اور موت کو ایک لکڑی کے دوسرے فرض کریں ‘ تو یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ وہ لکڑی زندگی ہے جس کا ایک سرایا قطب ولادت ہے اور دوسرا سریا قطب موت ہے ایک موحد موت سے نہیں ڈرتا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ موت کے بعد باقی رہے گا اگر ایک غیر موحد شخص بھی جان لے کہ موت زندگی کا دوسرا رخ ہے تو وہ ہر گز موت سے نہیں ڈرے گا اور یہ شخص جو خدا پر ایمان نہیں لایا اسے سمجھانا پڑے گا کہ موت کے بعد فنا نہیں ہو گا جابر نے کہا اگر وہ شخص مجھ سے پوچھے کہ ارادہ کن لوازمات اور اوزاروں کے ذریعے زندگی کو وجود میں لایا ہے تو میں اسے کیا جواب دوں ؟

جعفر صادق نے فرمایا اسے کہو کہ ہماری عقل اور حواس اس بات کو سمجھنے سے قاصرہیں کہ ارادہ کن اوزاروں کے ساتھ کائنات کو وجود میں لایا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کن لوازامات کے ذریعے وجود میں آئی ہے اور جن لوازمات کے ساتھ کائنات وجود میں لائی گئی وہ بھی آج ہمار نظروں کے سامنے ہیں اسی بات کو سمجھنے کیلئے کہ ارادے نے کن اوزاروں کے ذریعے اس کائنات یا زندگی کو پیدا کیا ہے اس کیلئے عقل کو آج سے زیادہ طاقتور ہونا چاہیے اور آج جو حواس موجودہیں ان سے زیادہ حواس موجود ہونا چاہیں تجھے معلوم ہے کہ آج بنی نوعی انسان میں ایسے بھی موجود ہیں جو کسی قسم کی خوشبو یا بد بو کو نہیں سونگھ سکتے کیونکہ ان میں اس حس کی کمی ہوتی ہے جس سے بو سونگھی جاتی ہے تجھے معلوم ہے کہ ہم جیسے انسانوں میں ایسے بھی ہیں جو کچھ نہیں دیکھ پاتے کیونکہ ان میں اس حس کی کمی ہوتی ہے جس سے اشیاء اور اشخاص کو دیکھا جا سکتا ہے ۔

اس موضوع کو سمجھنے کیلئے کہ ارادہ کن اوزاروں کے ساتھ کائنات کو وجود میں لایا ہماری مثال ان لوگوں جیسی ہے جن میں بعض حواس مفقود ہوتے ہیں لہذا وہ بو کو نہیں سونگھ سکتے یا چیزوں کو نہیں دیکھ پاتے ہمیں اس موضوع کو سمجھنے کیلئے موجودہ عقل سے زیادہ طاقتور عقل اور موجودہ حواس سے زیادہ طاقتور حواس درکار ہیں جابر نے پوچھا کیا ممکن ہے کہ ایک دن ایسا آئے کہ ہم سمجھیں کہ کائنات یا زندگی کس اوزار سے بنائی گئی ہے ؟ جعفر صادق نے فرمیا ہاں اے جابر کیونکہ آج تک کے تجربات سے ثابت ہو چکا ہے کہ علم جمود اور حرکت کے مراحل سے گزرتا رہا ہے اور ممکن ہے کہ آئندہ علمی حرکت کے ادوار آئیں اور ان ادوار میں بنی نوع انسان سمجھے کہ کائنات کن اوزاروں کے ساتھ بنائی گہی ہے ۔ جابر نے سوال کیا بڑھاپا کس سے وجد میں آتا ہے جعفر صادق نے جواب دیا انسانی مزاج پر مسلط ہونے والی بیماریوں کی دو اقسام ہیں امین سے ایک قسم تیز کہلاتی ہے اور ایک قسم کند کہلاتی ہے تیز بیماریوں کی اقسام اچانک مزاج پر مسلط ہو جاتی ہیں اور تیزی سے افاقہ ہو جاتا ہے یا پھر ہلاکت کا سبب بنتی ہیں ۔ بیماریوں کی دوسری قسم کند کہلاتی ہے جن کا سفر لمبا اور بتدریج ہے اور یہ بیماریاں ایک مدت تک مزاج میں رہتی ہیں اور علاج کار گر ثابت نہیں ہوتا یہاں تک کہ انسان ہلاک ہو جاتا ہے اور بڑھاپا کند بیماریوں کی ایک قسم ہے ۔

جابر نے کہا پہلی مرتبہ میں سن رہا ہوں کہ بڑھاپا ایک بیماری ہے جعفر صادق نے فرمایا ہے یہ بیماری بعض لوگوں میں جلدی سرایت کر جاتی ہے اور بعض میں دیر سے جو لوگ خداوند تعالی کے احکامات کی پیروی نہیں کرتے اور منکرات سے اجتناب نہیں کرتے وہ نسبتا جلدی بوڑھے ہو جاتے ہیں لیکن وہ لوگ جو خداوند تعالی کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں دیر سے بوڑھے ہوتے ہیں ۔

جابر نے کہا میرا ایک اور سوال ہے اور وہ یہ ہے کہ خداوند تعالی نے جب انسان کو مارنا ہی ہوتا ہے تو اسے اس جھان میں کیوں لاتاہے اور کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ اسے اس دنیا میں مارنے کیلئے نہ لائے ۔

جعفر صادق نے فرمایا میں نے تجھے کہا ہے کہ موت کا کوئی وجود نہیں ہے اور جو کچھ میری اور تمہاری نظروں میں موت کی صور ت جلوہ گر ہوتی ہے وہ دوسری زندگی کی ابتدا ہے اور خداوند تعالی انسان کوا س جھان میں اس لئے لاتا ہے تاکہ انسانیت کاملہ کا ایک مرحلہ یہاں پر طے کر لے اس مرحلے کے بعد انسان گذشتہ مرحلے سے زیادہ کامل انسان کی صورت میں دوسرے جھان میں جاتا ہے اور اس جھان میں بھی کامل انسان کا ایک مرحلہ طے کرتا ہے ۔ جابر نے پوچھا تخلیق کا حتمی سبب کیا ہے ؟ جعفر صادق نے فرمایا تخلیق کا حتمی سبب خداوند تعالی کی طرف سے تمام مخلوقات حتی کہ جمادات کیلئے اس کے لطف و کرم سے عبارت ہے جابر نے پوچھا ‘ خداوند تعالی نے کیوں لطف و کرم کیا ؟ جعفر صادق نے پوچھا کیا تم ایک کریم کے مقصد کو نہیں سمجھ سکتے ۔

جابر نے کہا ابن آدم میں ایسا کم اتفاق ہوا ہے کہ کوئی بغیر کسی مقصد کے کریم ہو جائے اور انسانوں سے محظوظ نہ ہو سکتے ۔ اسی طرح ہم پانی پیتے ہوئے لذت محسوس کرتے ہیں کیونکہ ہماری جسم کو پانی کی ضرورت ہے اور اگر جسم نہ ہو تو ہمیں پیاس کا احساس نہ ہو تاکہ ہم پانی پیئں ۔

ہم باغ کا تماشا کرنے سے لذت اٹھاتے ہیں اور اس کے باوجود کہ یہ ایک روحانی لذت ہے پھر بھی ہمارے جسم سے وابستہ ہے چونکہ اگر ہم اپنے جسم میں آنکھیں نہ رکھتے تو باغ کو نہ دیکھ سکتے تاکہ اس کے مشاہدے سے لذت اٹھائیں ایک لذت ایسی ہے جس کے بارے میں پہلی نظر میں یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایک روحانی لذت ہے اور جسم کی اس میں کوئی مداخلت نہیں ہے وہ علم کو رک کرنیکی لذت ہے ۔

بہر کیف یہ لذت بھی جسم کے رابطے کے بغیر محال ہے چونکہ اگر ہمارا جسم نہ ہوتا تو ہم کتاب نہ پڑھ سکتے اور نتیجتا علم نہ سیکھ سکتے اور اگر کان نہ ہوتے تو علما کی باتیں نہ سن سکتے تاکہ انہیں یاد کر لیں نہیں علم کے ادارک کی لذت بھی ہمارے جسم کے اعضا سے وابستہ ہے اور جسم سے وابستہ ہے جبکہ خداوند تعالی کا جسم ہی نہیں کہ وہ کسی قسم کی مسرت یا لذت کا محتاج ہو ۔

جابر نے کہا پس خداوند تعالی کسی لذت کو درک کرنے پر قادر نہیں ؟

جعفر صادق نے جواب دیا تم اپنے سوال کو صحیح طریقے سے زبان پر نہیں لائے تم نے کہا ہے کہ خداوند تعالی قادر نہیں ہے جبکہ خداوند تعالی ہر کام کرنے پر قادر ہے اور کوئی ایسا کام نہیں جسے وہ انجام نہ دے سکتا ہو ۔ یہ لذت جو ہمیں بھوک کے وقت کھانے سے اور پیاس کے وقت مشروب سے محسوس ہوتی ہے در اصل یہ اس نے ہمارے وجود میں رکھی ہے اور یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وہ کسی قسم کی لذت کو درک کرنے پر قادر نہیں ؟

ہم میں کوئی چیز ایسی نہیں جس کو درک کرنے پر خداوند تعالی قادر نہ ہو چونکہ وہ خالق اور ہم مخلوق ہیں اور کوئی عاقل شخص یہ بات تسلیم نہیں کر سکتا کہ خالق ‘ مخلوق کے حواس خمسہ سے آگاہ نہ ہو سکے مختصر یہ کہ اسے اس بات کی ضرورت نہیں کہ ہماری طر اپنے لئے لذتیں وجود میں لائے کیونکہ اس کا جسم نہیں ہے ہماری زندگی میں جو چیز ہمیں لذت پہنچاتی ہے اور جو چیز ہمارے کام آتی ہے وہ ضرورت کی پیدوار ہے اور ضرورتوں کو بھی ہمارا جسم وجود میں لاتاہے اور خدا جس کا کوئی جسم نہیں لذتوں سے بے نیاز ہے ۔ ایک گروہ ایسا ہے جو شہرت اور ناموری کیلئے سخاوت کرتا ہے اور لوگوں سے چاہتا ہے انہیں کریم کہا جائے ۔

جعفر صادق نے فرمایا لیکن خداوند تعالی ایک ریکار کریم نہیں ہے اور اس لئے نہیں بخشتا کہ نام پیدا کرے وہ ریا کاری کے بغیر کریم ہے اور اس نے مخلوقات کو اس لئے خلق کیا ہے تاکہ وہ فیض پائیں لیکن اگر تو یہ پوچھے کہ اس مخلوقات کی تخلیق میں خداوند تعالی کے فضل و کرم کے علاوہ کوی اور سبب کار فرما ہے یا نہیں ؟ تو میں تم سے یہ کہوں گا کہ یہ سوال نہ کرو کیونکہ ایک موحد کو یہ سوال نہیں کرنا چاہیے جابر نے کہا یہ بات واضح ہے کہ میں یہ سوال اس لئے پوچھتا ہوں تاکہ اگر میرا کسی غیر موحد سے پالاپڑے تو اسے جواب دے سکوں ۔

جعفر صادق نے فرمایا اے جابر فلسفہ کی رو سے کائنات کو وجود میں لانے کا سبب خداوند تعالی کے فضل و کرم کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا چونکہ اگر کائنات کو تخلیق کرنے کا کوئی اور سبب ہوتا اور وہ سبب خدا کو کائنات کی تخلیق پر لگاتا تو وہی سبب خدا کی جگہ لے لیتا اور پھر خداوند تعالی خدائی نہ کر سکتا اسی بنا پر فلسفے کی رو سے کائنات کو وجود میں لانے کا کوئی سبب نہ تھا کیونکہ اگر کوئی سبب موجود ہوتا تو وہ سبب خدا کی جگہ لے لیتا اس لئے کہ وہ سبب خدا کو کائنات کی تخلیق پر مجبور کر دیتا اور ایک مجبور خدا کو خدا تسلیم نہیں کیا جا سکتا ۔

جابر نے پوچھا ‘ کیا یہ بات ممکنہے کہ کائنات کو تخلیق کرنے کا کوئی سبب ہو جس کی بنا پر خدا نے کائنات کو تخلیق کای ہو ‘ قطع نظر اس کے کہ اس سبب نے خدا کو کائنات تخلیق کرنے پر مجبور کیا ہو ؟ فرض کرتے ہیں کہ خداوند تعالی کائنات کی تخلیق کی طرف اس لئے متوجہ ہوا ہو تاکہ اپنی تخلیق کا تماشہ کرے یا س لئے کائنات تخلیق کی ہو کہ اپنی خلقت سے لذت اٹھائے ۔

جعفر صادق نے جواب دیا اے جابر کسی کام کو انجام دے کر اس سے لذت اٹھانا یا اس کا تماشا کرنا ہم انسانوں کی طبعیت کا خاصہ ہے اور یہ دونوں باتیں ضرورت کی پیدوار ہیں ہم اپنی روح کو خوش کرنے کیلئے تماشا کرنے جاتے ہیں چونکہ ہمیں لذت اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے لہذا جب ہم کوئی کام انجام دیتے ہیں تو وہ ہماری نظر میں لذت بخش دکھائی دیتا ہے ۔ لیکن خداوند تعالی جو بے نیاز ہے اسے تماشا کی کوی ضرورت نہیں اور نہ کسی چیز سے لذت اٹھانے کا محتاج ہے اے جابر تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ ہماری لذتوں کا زیادہ حصہ بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ہمارے جسم کی پیدوار ہے ہم بھوک کے وقت غذا کھاتے ہوئے لذت محسوس کرتے ہیں کیونکہ ہماری بدن کو غذا کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر ہمارے منہ میں زبان یا چکھنے کی حس نہ ہوتی تو شاید ہم غذا کھاتے اس موضوع سے قطع نظر ‘ کائنات کی ایجاد کا سبب جو کچھ بھی ہو اس سے خدائی قدرت کو سلب کر لیتا ہے اور کوئی موحد اس بات کا قائل نہیں ہو سکتا کہ کائنات کی پیدائش کا کوئی سبب تھا اور خداوند تعالی نے اسی سبب کی بنا پر اس کائنات کو خلق کیا ہے ہاں مگر یہ کہ خداوند تعالی نے اپنے فیض و کرم سے اس کائنات کی تخلیق کی تاکہ مخلوقات زندگی کی نعمت سے بہرہ مند ہو اور اس کے علاوہ جو کچھ بھی کہا جائے وہ توحید کے خلاف ہے ۔

جابر نے کہا ‘ کیا خداوند تعالی کا کرم جو کائنات کی تخلیق کا سبب ہوا ہے اس تخلیق کی وجہ نہیں ہے اور کیا جب ہم یہ کہتے ہیں کہ خدوند تعالی نے اپنے کرم کی رو سے مخلوقات کو خلق یا ہے ایک سبب کا ذکر نہیں کرتے ۔ جعفر صادق نے فرمایا ایک لازمی سبب نہیں ہے ‘ یعنی ایک ایسا سبب نہیں جس کی وجہ سے خدا کائنات کو تخلیق کرنے پر مجبور ہوا ہو اور چونکہ لازمی سبب نہیں لہذا جب موحد کہتا ہے کہ خداوند تعالی نے اپنے کرم کی رو سے کائنات کو تخلیق کیا ہے تو اس کا یہ قول توحید کے خلاف نہیں جابر نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ یہ سبب بھی لازمی ہے جعفر صادق نے وضاحت چاہی اور جابر نے کہا خداوند تعالی جس نے اپنے کرم کی رو سے کائنات کو خلق کیا ہے کائنات کی تخلیق سے صرف نظر بھی کر سکتا تھا جعفر صادق نے فرمایا ظاہر ہے ۔ جابر نے کہا لیکن اس نے کائنات کی تخلیق سے صرف نظر نہیں کیا اور اسے اپنے کرم کی رو سے خلق کیا اور کیا یہ موضوع ہمیں اس بات تک نہیں پہنچاتا کہ خداوند تعالی اپنے فیض و کرم سے پہلو تہی نہیں کر سکتا تھا جعفر صادق نے فرمایا یہ جو کجھ تم کہہ رہے ہو گجھگڑا ہے نہ کہ مباحثہ جب تم ایک شخص کا احترام کرتے ہو تو کیا تم اس کا احترام کرنے پر مجبور ہوتے ہو ۔ غور کرو کہ میں احترام کے بارے میں اس کے اصلی معنوں سے بحث کر رہا ہوں نہ کہ وہ احترام جسے انسان اپنے فرض کے طور پر نبھاتا ہے اور جو مسلط کیا جاتا ہے مثال کے طور پر تمہارا کوئی عزیز غریب ہے اور تم ایک معین عرصے میں لگا تار اس کی مدد کرتے رہتے ہو اور جانتے ہو کہ اگر تم اس کی مدد نہیں کرو ے تو اس کا جینا محال ہو جائے گا اس کے باوجود کہ تم اس پر رحم کھا کر اس کی مدد کرتے ہو لیکن تمہارا یہ عمل کرم نہیں بلکہ تمہاری ڈیوٹی ہے اور تم اپنی ڈیوٹی یہ سمجھتے ہو کہ معین وقت میں بغیر کسی لالچ کے آپ اس کی مدد کرتے رہو اور تم سے مدد حاصل کرنے کے لحاظ سے تقریبا وہ تمہارا قرض دار ہو جائے گا ۔

لیکن میں اس اکرام کے بارے میں گفتگو کر رہا ہوں جو حقیقی معنوں میں کرم ہے ایک شخص تمہاری توجہ کا مرکز ہے اور تم اس کی مدد کرنا چاہتے ہو اور وہ پیش گوئی نہیں کرتا تو اسکی مدد کرے گا اور حتی کہ ایک دفعہ بھی اس کے ذہن میں یہ بات نہیں آئی کہ تم سے کوی چیز وصول کرے گا تم بھی اس کی مدد کرنے میں مکمل طور پر خود مختار ہو اور کوئی مادی یا روحانی محرک تمہیں اس کی مدد پر مجبور نہیں کرتا ان نکات کو مد نظر رکھت ہوئے اگر تم اس شخص پر کرم کرتے ہو تو کیا تم مجبور تھے ؟ جابر نے کہا نہیں ‘

جعفر صادق نے فرمایا خدا نے بھی بغیر کسی دباؤ کے اپنے حقیقی کرم کی رو سے کائنات کو تخلیق کیا ہے تاکہ زندگی کی یہ نعمت مخلوقات کو عنایت فرمائے بہر حال میں جو ایک موحد ہوں اپنی عقل کے مطابق کائنات اور جو کچھ اس میں ہے اس کی ایجاد کیلئے خدا کے کرم کے علاوہ کسی سبب کو مد نظر نہیں رکھتا ۔

میں اپنی عقل کا سہارا لیتا ہوں ‘ اور میری عقل انسانی ہے جبکہ خداوند تعالی دانا اور توانائے مطلق ہے اس کی عقل ‘عقل الہی ہے عقل الہی انسانی عقل سے اس قدر بڑی اور طاقتورہے کہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے کوئی نسبت نہیں ان کا موازانہ کسی صورت ممکن نہیں ہم جس قدر کہیں کہ عقل الہی انسانی عقل سے برتر اور زیادہ طاقتور ہے پھر بھی خداوند تعالی کے عقل کو انسانی عقل سے کوئی نسبت نہیں دے سکتے کیونکہ خداوند تعالی کی عقل اس کی تمام صفات کی مانند لا محدود ازلی اور ابدی ہے اس کو کسی پیمانے یا میزان سے ناپا یا تولا نہیں جا سکتا اور ایسا کوئی عدد نہیں جو اس کی برتری کی نشاندہی کر سکے چونکہ جونہی زبان پر کوئی عدد لایا جاتا ہے یا کاغذ پر لکھا جاتا ہے تووہ ایک محدود عدد ہو جاتا ہے اور ایک محدود چیز کا لا محدود ازلی اور ابدی چیز سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا ۔

آپ سے کیے جانے والے دوسرے سوالات

جابر نے پوچھا ‘ بشری عقل کے الہی عقل سے موازنے سے آپ کی کیا مراد ہے ؟

جعفر صادق نے جواب دیا ‘ میں بشری عقل کا الہی عقل سے موازنہ نہیں کر سکتا اور کوئی انسان اس موازنے پر قادر نہیں ‘ صرف یہ کہنا چاہتا تھا کہ الہی عقل بشری عقلسے اس قدر برتر ہے جس کا قیاس کرنا ممکن نہیں اور اس کی برتری وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتی یہ بات میں نے اس لئے کہی کہ بتاؤں میں اپنی عقل کے مطابق کائنات کے وجود میں آنے کے سبب کو مد نظر رکھتا ہوں نہ کہ ایسی عقل کے مطابق جس سے میں بے خبر ہوں ۔ جابر نے اظہار خیال کای میں آپ کا مقصد نہیں سمجھا جعفر صادق نے فرمایا میرا مطلب یہ ہے کہ میری عقل یہ کہتی ہے کہہر چیز کی تخلیق کا کوئی سبب موجود ہوتا ہے اور میری عقل کسی ایسے معلول ؟ جس کا سبب یا علت بیان کی گئی ہو ’ کو تسلیم نہیں کرتی جس کی علت موجود نہ ہو کیونکہ بشری عقل ہے اور شاید عقل الہی کے وسیع احاطے میں علت کا مسئلہ سر ے سے موجود نہ ہو اور خالق کی عقل ضروری نہ سمجھتی ہو کہ ایک ایسی علت وجود میں آئے جس سے کوئی معلول نمودار ہو اور اس طرح کیا حادثہ وجود میں آئے ۔

ہماری عقل علت و معلول کے رابطے کو اس قدر ضروری خیال کرتی ہے کہ اس رابطے کے باہر مخلوقات کی پیدائش کو سمجھنے سے قاصر ہے اور جو نہی کسی تخلیق کو دیکھتی ہے فورا اس کی علت تک پہچنے کی کوشش کرتی ہے اور شاید خداوند تعالی کی مشینری میں جو خداوند تعالی کے ارادے کی مطیع ہے تخلیقات بغیر کسی علت کے وجود میں آتی ہوں اور کسی علت کے موجود ہونے کی ضرور تنہ ہو تاکہ کوئی مخلوق وجود میں آئے اور لہذا شاید یہ کائنات کسی علت کے بغیر وجود میں آئی ہے ۔

جابر نے اظہار خیال کای ‘ آپ نے جو کجھ کہا ہے میں اچھی طرح سمجھ گیا ہوں لیکن اس کے باوجود کہ ہماری عقل ‘ عقل بشری ہے اور عقل الہی کا ہماری عقل سے کسی طور موازانہ ممکن نہیں ہمارے پاس اس عقل کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ خداوند تعالی کے بارے میں غور و فکر کیلئے کوئی دوسرا ذریعہ استعمال کریں ۔ اور خصوصا کائنات کی تخلیق کے سبب کے بارے میں فکر کریں میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ خداوند تعالی نے ہمیں زیادہ طاقتور عقل کیوں نہ دی تاکہ اسے اچھی طرح ہم پہچان سکیں چونکہ جیسا کہ آپ نے کہا خدا کی مشینری تک رسائی نہیں ہے اور اس سلسلے میں ہمیں چون و چرا کا بھی حق حاصل نہیں یہ ہماری عقل جو خداوند تعالی کی معرفت کیلئے ہمار ا واحد وسیلہ ہے ہمیں کہتی ہے کہ کائنات اور جو کچھ اس میں ہے کسی علت کے بغیر وجود میں نہیں آیا اور ہم اس علت کیجستجو میں ہیں ۔

جعفر صادق نے اظہار خیال فرمایا ہماری عقل کے مطابق وہ علت خداوند تعالی کے کرمس ے عبارت ہے تاکہ مخلوقات ایجاد ہوں اور زندگی کی نعمت سے بہرہ مند ہوں اور اگر اس کے لاوہ کوئی علت موجود ہو تو وہ خدا ہی جانتا ہے اور بس ۔

جابر نے کہا ‘ جو کچھ آ اپ نے فرمایا ہے اس سے میں یہی سمجھا ہوں کہ خداوند تعالی ازلی و ابدی ہے اس کا کوئی مبدا اور منتہی نہیں ہے کائنات کو مستقل قوانین کے تحت چلا رہا ہے جعفر صادق نے فرمایا ہاں اے جابر ۔

جابر نے پوچھا ‘ اس طرح تو کائنات کی انتہا تک دنیا میں کوئی نیا واقعہ رونما نہیں ہو گا ؟ جعفر صادق نے جواب دیا ہاں اے جابر ‘ خدا کیلئے کوئی نیا واقعہ رونما نہیں ہوتا اور اس کی مثال میں نے گندم کاشت کرنے والے دھقان کی مثال سے دی ہے لیکن کائنات کی مخلوقات جس میں انسان بھی شامل ہیں ان کیلئے ہر رونما ہونے والا واقعہ نیا ہوت اہے حتی کہ موسموں کی تبدیلی بھی ان کیلئے نئی ہوتی ہے کیونکہ انہیں دو بہاریں ہر لحاظ سے مختلف دکھائی دیتی ہیں جابر نے پوچھا کیا یہ ممکن ہے کہ کائنات کی مخلوقات میں کوئی اس دنیا کیلئے خداوند تعالی کے وضع کردہ قوانین کی پیروی نہ کرے اور نا فرمانی کر بیٹھے ۔

جعفر صادق نے جواب دیا ‘ نہیں اے جابر ‘ کائنات کی مخلوق میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جو اس کائنات کیلئے خداوند تعالی کے وضع کردہ قوانین کی نا فرمانی کرے اگرچہ وہ ایک چیونٹی کیوں نہ ہو ای اس سے بھی کوئی چھوٹا ذرہ ہو وہ مخلوقات بھی خدا کی تسبیح کرتی ہیں جو ہماری نظر میں بے جان ہیں لیکن ان کی زندگی میں پایا جانے والا جوش و خروش ہماری زندگی سے کہیں زیادہ ہے یہ سب مخلوقات خد اکے وضع کردہ قوانین کی پیروی کرتی ہیں ۔

جابر نے سوال کیا ‘ بیمار ی کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے ؟ کیا بیماری کو خداوند تعالی انسان پر نازل کرتا ہے یا یہ کہ کسی حادثے کے نتیجے میں رونما ہوتی ہے ۔

جعفر صادق نے فرمایا ‘ بیماریوں کی تین اقسام ہیں بیماریوں کی ایک قسم وہ ہے جو مشیت الہی سے رونما ہوتی ہے ان میں بڑھاپا بھی شامل ہے کوئی بھی اس بیماری سے بچ نہیں سکتا یہ ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے بیماریوں کی دوسری قسم وہ ہے جو آدمی کی جہالت یا ہوس کے نتیجے میں رونما ہوتی ہے جبکہ خداوند تعالی فرماتا ہے کہ کھانے اور پینے میں اسراف سے کام نہ لو اگر آدمی کھانے پینے میں اسراف نہ کرے اور چند لقمے کم کھائے اور چند گھونٹ کم پیئے توبیماری کا شکار نہیں ہو گا بیماریوں کی تیسری قسم وہ ہے جو جسم کے دشمنوں سے عارض ہوتی ہیں اور وہ انسانی بدن پر حملہ کرتے ہیں لیکن جسم اپنے پورے وسائل کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتا اور اگر جسمانی قوت ان دشمنوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے تو انسان بیمار پڑ جاتا ہے لیکن جب انسان بیمار پڑ جاتا ہے پھر بھی بدن مقابلہ کرتا ہے اور بدن کے اس مقابلے کے نتیجے میں بیماری ختم ہو جاتی ہے اور بیماری شفایاب ہو جاتا ہے ۔

جابر نے پوچھا جسم کے دشمن کون ہیں جعفر صادق نے جواب دیا جسم کے دشمن اتنی چھوتی مخلوق ہے جو بہت زیادہ چھوٹی ہونے کی وجہ سے دیکھائی نہیں دیتی یہ مخلوق جسم پر حملہ کرتی ہے اور جسم میں بھی ایسی چھوٹی مخلوق موجود ہے جو بہت زیادہ چھوٹی ہونے کی وجہ سے نظر نہیں آتی اور جسم کے دشمنوں کے خلاف اس کا دفاع کرتی ہے جابرنے پوچھا بیماری پیدا کرنے والے جسم کے دشمن کون سے ہیں جعفر صادق نے جواب دیا ان کی اقسام کی تعداد بہت زیادہ ہے اس طرح بدن کا دفاع کرنے والے بھی مختلف اقسام کے ہیں لیکن جو چیز انہیں تشکیل دیتی ہے وہ محدود ہے جابر نے کہا آپ کی بات میری سمجھ میں نہیں آئی ان کی اقسام کیسے زیادہ ہیں اور جو چیز انہیں تکیل دیتی ہے وہ محدود ہے جعفر صادق نے فرمایا جوکتاب تم پڑھ رہے ہو وہ ہزاروں کلمات کی حامل ہے اور اس کتاب میں ہر کلمہ حروف سے لکھا گیا ہے لیکن جو چیز کلمات کو تشکیل دیتی ہے وہ حروف تجہی کے محدود حروف ہیں اور حروف تہجی کے چند گنے چنے حروف کے ساتھ ہزارون کلمات لکھے جا سکتے ہیں جن میں سے ہر ایک یا ان کلمات کا ہر دستہ مخصوص معنوں کا حامل ہے ۔

ہمارے جسم کے دشمن اور ان دشمنوں کے خلاف دفاع کرنی والے تمہاری کتاب کے ہزاروں کلمات کی مانند ہیں لیکن سب محدود ہیں جو چند گروہوں سے تشکیل پاتے ہیں( جس طرح حروف تہجی سے کلمات تشکیل پاتے ہیں)جابر نے کہا اب میں سمجھا کہ آپ کا کیا مطلب ہے جعفر صادق نے فرمایا میں تمہیں اچھی طرح سمجھانے کیلئے ایک اور مثال دیتا ہوں جانوروں میں زیادہ تر ایسے ہیں جن کی ہڈیاں گوشت اور خون ہے اور ہر طبقے کے جس جانور کا تم مشاہدہ کرو گے تو دیکھو گے کہ وہ ہڈیاں گوشت اور خون رکھتا ہے لیکن کیا ان تین مادوں سے تشکیل پانے والے تمام جانور ایک دوسرے سے مشابہ ہیں اونٹ کی ہڈیاں گوشت اور خون ہے اور بلی بھی ہڈیوں گوشت اور خون کی حامل ہے لیکن اونٹ اور بلی کے درمیان کوئی شباہت نہیں ہے ان میں سے ایک گھاس کھانے والا ہے اور دوسرا گوشت خور ہے جبکہ ان کے بدن کو تشکیل دینے والے مواد کی جنس بنیاد ی طور پر ایک ہی ہے میں نے بنیادی طور پر اس لئے کہا کہ بلی کے گوشت کی جنس اونٹ کے گوشت کی جنس سے مختلف ہے لیکن بنیادی طور پر دونوں گوشت ہی ہیں ہمارے جسم کے دشمن اور وہ جو ہمارے جسم کے دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہیں بنیادی لحاظ سے تھوڑے سے مواد سے تشکیل پاتے ہیں لیکن ان کی اقسام زیادہ ہیں ۔

جابر نے پوچھا دنیا کب وجود میں آئی ؟ جعفر صادق نے جواب دیا یہ خدا جانتا ہے جابر نے اظہار خیال کیا لیکن یہودیوں کے بقول اب اسکی پیدائش ۴۷۶۲ واں سال گزر رہا ہے جعفر صادق نے فرمایا خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ دنیا کب معرض وجود میں آئی اور عقل کہتی ہے کہ جہاں یہودیوں کی اس روایت سے کہ دنیا کا ۴۷۶۲ واں سال ہے کہیں زیادہ پرانی ہے جابر نے پوچھا کیا ان کے پیغمبر نے نہیں کہا کہ کائنات آج سے ۴۷۶۲ سال پہلے وجود میں آئی ؟ جعفر صادق نے فرمایا نہیں اے جابر اور یہ قول یہودی راویوں کا ہے نہ ان کے پیغمبر کا اور اگر کوئی عالم انسان صحراؤں پہاڑوں دریاؤں اور سمندروں پر نظر ڈالے تو اسے اندازہ ہو گا کہ کائنات کی عمر ۴۷۶۲ سال سے کہیں زیادہ ہے جابر نے پوچھا اگرچہ انداز ہی سہی لیکن کیا آپ کائنات کی عمر بتا سکتے ہیں جعفر صادق نے جواب دیا نہیں اے جابر میں انداز بھی نہیں بتا سکتا کہ کائنات کو وجودمیں آئے کتنا عرصہ ہو چکا ہے صرف خدا ہی جانتا ہے کہ کائنات کب وجود میں آئی دنیا کی بعض اقوام دنیا کو یہودیوں کی اس روایت کے برعکس کہیں زیادہ پرانی سمجھتی ہیں ہندوستان والوں کے بقول دنیا کی عمر کے بیس ہزار سال گزر چکے ہیں چینی دنیا کو اس سے کہیں زیادہ قدیم سمجھتے ہیں ان کے بقول دنیا کی عمر ایک لاکھ سال ہے یعنی یہودی راویوں کی روایت سے بیس گنا سے بھی زیادہ ۔

مصر میں ایک عمارت ہے جس کے بارے میں مصریوں کا کہنا ہے کہ آج سے چھ ہزار سال پہلے بنائی گئی اور اگر مصریوں نے درست اخذ کیا ہو تو وہ عمارت اس وقت بنائی گئی جب دنیا کے آغاز کو تقریبا ایک ہزار تین سو سال رہتے تھے اس طرح قدیم مصریوں نے ایک ایسی دنیا میں عمارت بنائی جو ابھی تک وجود میں نہیں آئی تھی اور یہ بات قابل قبول نہیں ہے ۔

جابر نے پوچھا اس دنیا کا خاتمہ کب ہو گا؟ کہ اس کے بعد جہان باقی نہیں رہے گا جعفر صادق نے جواب دیا ایسا زمانہ ہر گز نہیں آئے گا کہ جہاں موجود نہ ہو کیونکہ جو چیز ایک دفعہ وجود میں آ جاتی ہے فنا نہیں ہوتی صرف اس کی شکل تبدیل ہوتی ہے جابر نے پوچھا کہا جاتا ہے کہ دنیا کے اختتام پر سورج اور چاند کی روشنی ختم ہو جائے گی کیا یہ حقیقت ہے ؟ جعفر صادق نے فرمایا ممکن ہے ایسا زمانہ آئے کہ سورج ماند پڑ جائے اس صورت میں چاند بھی ماند پڑ جائے گا اور جاند سورج سے روشنی نہیں حاصل کر سکے گا تو وہ دنیا کا خاتمہ نہ ہو گا بلکہ دنیا کے ایک اور دور کا آغاز ہو گا جابر نے پوچھا ‘ کیا ممکن ہے بنی نوعی انسان کی زندگی میں ایسی رات آئے جس کے بعد سورج طلوع نہ ہو جعفر صادق نے فرمایا نہیں اے جابر کیوں کہ خداوند تعالی دنیا کو مستقل قوانین کے تحت چلا رہا ہے اور ان قوانین کے تحت سورج کو ہر روز طلوع ہونا چاہیے ۔

لیکن اگر ایسا دن آئے کہ سورج ماند پڑ جائے کہ وہ بھی خداوند تعالی کے اس کائنات کو چلانے کیلئے وضع کردہ قوانین کے مطابق ہے تو پھر طلوع نہیں ہو گا جابر نے پوچھا آپ سورج کے ماند پڑنے کے وقت کی قیاس آرائی کر سکتے ہیں ؟ جعفر صادق نے فرمایا صرف خداوند تعالی بتا سکتا ہے کہ سورج کب ماند پڑے گا ؟ لیکن میرا نظریہ یہ ہے کہ یہ واقعہ اتنا جلدی وقوع پذیر نہیں ہو گا اور شاید بیابان کی ریت کے ذرات کی تعداد کیبرابر سال گذر جائیں تب کہیں جا کر سورج ماند پڑے اور اس وقت کائنات کی زندگی میں نئے دور کا آغاز ہو گا جابر نے پوچھا جو لوگ دنیا کے مال و متاع کو سمیٹنے میں حرص سے کام لیتے ہیں دوسرے جہان میں ان کی کیا حالت ہو گی ؟ کیا وہ جنت میں جائیں گے ؟

جعفر صادق نے جواب دیا زندگی گزارنے اور کاندان کی کفالت کیلئے جدوجہد ضروری ہے اور وہ لوگ جو اپنی زندگی کے وسائل مہیا کرنے کیلئے کام کرتے ہیں خدا کی اچھی مخلوق ہیں اور ایسا کم ہوا ہے کہ ان لوگوں میں حرص پائی جائے چونکہ یہ لوگ زحمت کش ہوتے ہیں اپنی اور اپنے خاندان کی روزی کے حصول میں کوشاں رہتے ہیں لہذا ان کے پاس حریص بننے کا کوئی وسیلہ نہیں ہوتا ۔

جن لوگوں کو مال جمع کرنے کی حرص ہوتی ہے وہ دوسرے طبقے کے لوگ ہیں اور جو چیز انہیں حریص بناتی ہے وہ کم مدت میں زیادہ مال و دولت کا میسر آنا ہے اور چونکہ صرف تکلیف اٹھا کر اور حلال روزی کما کر تھوڑی مدت میں زیادہ مال و دولت اکٹھی نہیں کی جا سکتی لہذا اس قسم کے لوگ ناجائز ذرائع استعمال کرکے نہایت ہی کم مدت میں زیادہ مال کما لیتے ہیں ایسے لوگ جب ایک مرتبہ تجربہ کر لیتے ہیں کہ نہایت ہی قلیل مدت میں بہت سا مال جمع کیا جا سکتا ہے تو وہ بار بار یہ عمل دھراتے ہیں اور آکر کار ان میں مال جمع کرنے کی اتنی حرص پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ زندگی کے آخری حصے تک اسی کام میں لگے رہتے ہیں ان کا بہترین مشغلہ مال جمع کرنا ہوتا ہے یہی لوگ ہیں جن کے بارے خداوند تعالی نے فرمایا ہے کہ "الذی جمع مال و عددہ " ان کی زندگی کی سب سے بری لذت مال جمع کرنا اور زرو جواہر کو گننا ہے مال جمع کرنے کیلئے حریص ہونے کا ایک خاصہ یہ ہے کہ حریص انسان اپنے مال کا کچھ حصہ محتاجوں کی فلاح و بہبود کے کاموں پر خرچ نہیں کر سکتا اور نہ صرف یہ کہ محتاجوں کیلئے مال خرچ نہیں کر سکتا بلکہ محتاجوں اور مسکینوں کو ان کی موجودہ زندگی کا مستوجب سمجھتا ہے اس کے ضمیر میں یہ بات جاگزین ہو جاتی ہے کہ اگر خدا کسی کو محتاج نہ بنانا چاہے تو ہو محتاج نہیں ہوتا پس اسے کسی محتاج کی مدد کیلئے ہاتھ نہیں بڑھانا چاہیے کیونکہ حریص شخص کے نظریئے کے مطابق کسی محتاج کی مدد مشیت الہی کیبر خلاف ہے ۔

دنیا میں اس طرح کے لوگ کسی چیز سے اتنی لذت نہیں اٹھاتے جتنی وہ سیم و زر کو گننے میں اٹھاتے ہیں یا اس میں کہ ان کے پاس وسیع و عریض اراضی ہو ۔

دوسرے جہان میں ان کی حالت وہی ہو گی جو کلام خدا میں بیان کی گئی ہے لیکن وہ لوگ جو روزی کمانے کیلئے مشقت کرتے ہیں اور اپنی حلال کمائی سے کچھ رقم جمع کرتے ہیں تاکہ بوقت ضرورت کام آ سکے تو ایسے لوگ ہر گز حریص نہیں کہلاتے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قناعت پسند ہوتے ہیں اور انہیں اپنے پسماندگان کے مستقبل کی فکر ہوتی ہے وہ یہ سوچتے ہیں کہ اگر وہ چلے جائیں اور اپنے پسماندگان کیلئے کوئی چیز چھوڑ کر نہیں جائیں گے تو ان کے پسماندگان فقرو فاقے کا شکار ہو جائیں گے ۔ اس قسم کے افراد جو اپنے برھاپے کی فکر کریں یا اس خیال سے کہ ان کی موت کے بعد ان کی بیوی بچے فقرو فاقے کا شکار نہ ہوں ایسے لوگوں کو خدا وند تعالی اجر عنایت فرمائے گا اور اگر ان سے کوئی ایسا عمل سر زد نہ ہوا ہو جسکی وجہ سے وہ سزا کے مستحق ہوں تو وہ موت کے بعد جنت میں جائیں گے ۔

زندگی میں قدم قدیم پر یہی لوگ کام انجام دیتے ہیں یہی لوگ زراعت کرتے ہیں یہی لوگ بھیڑ بکریاں پالتے ہیں پھل دار درختوں کی پرورش کرتے ہیں اور گھر بناتے ہیں اور اپنی قوم کی صنعتی ضروریات پوری کرتے ہیں اگر مسلمان ہوں تو جہاد کے موقع پر مجاہد فی سبیل اللہ بن جاتے ہیں اور میدان جنگ میں جا کر قتل ہو جاتے ہیں ۔ لیکن وہ لوگ جو حریص ہیں اور تما م عمر مال جمع کرنے کے علاوہ کوئی کام اور آرزو نہیں رکھتے وہ اپنی قوم کیلئے کوئی مفید کام نہیں کرتے اگر جہاد پیش آئے تو میدان جنگ میں نہیں جاتے کیونکہ اپنی وسیع و عریض اراضی غلے سے بھرے ہوئے گوداموں کو اور بے تحاشا مال و دولت کو چ ۹ وڑ کر میدان جنگ میں نہیں جا سکتے چونکہ انہیں معلوم ہے کہ وہاں قتل ہونے کا خطرہ ہے اسی لئے خداوند تعالی نے اپنے کلام میں فرمایا ہے کہ وہ حریص کو پسند نہیں کرتا ۔

حتی کہ اگر ایک حریص موت سے پہلے اپنا تمام مال و متاع اپنے پسماندگان کی ضرورت کے علاوہ محتاجوں میں تقسیم کر دے تو بھی بعید ہے کہ خداوند تعالی اسے جنت میں بھیج دے چونکہ جیسا کہ تجربہ کیا گیا ہے مال جمع کرنے کی حرص وہاں سے شروع ہوتی ہے کہ جہاں شروع ہی سے انسان نہایت کم مدت میں ناجائز طریقے سے بہت زیادہ مال اکٹھا کرنا شروع کرتا ہے اور یہ بات انسان کو بار بار اسی طریقے سے اتنا ایا اس سے زیادہ حاصل کرنے کا شوق دلاتی ہے لہذا چونکہ مال ناجائز طریقے سے اکٹھا ہوتا رہا تو یہ گناہ خدا کی قربتکی خاطر مال خرچ کرنے سے دور نہیں ہو گا کیونکہ اس سے لوگوں کے صرف ایک گروہ کو فائدہ پہنچے گا ۔

جابر نے پوچھا ‘ کیا جانوروں کا خدا پر ایمان ہے ؟ جعفر صادق نے فمایا کسی شک و شبہ کے بغیر جانور خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور اگر خدا پر ایمان نہ رکھتے ہوں تو ان کی زندگی منظمنہ ہو جاتی کہا جتا ہے کہ فطرت جانوروں کی زندگ کو منظم کرتی ہے اور یہ نہیں بتایا جاتا کہ اس خو کو کون جانوروں کی فطرت میں شامل کرتا ہے اگر جانور خالق پر ایمان نہ رکھتے تو کیا یہ ممکن تھا کہ جانوروں کی بعض انواع جن کی منظم اجتماعی زندگی سے تم مطلع ہو ایسی منظم زندگی کی حامل ہوتیں ؟ کیا خداوند تعالی کے علاوہ کوئی خالق ہے جو جانوروں کی بعض انواع کی اجتماعی زندگی کو اس قدر منظم کرے کہ ان میں سے ہزاروں ایک لمحے میں ایک مخصوص کام کریں اور ساری زندگی ان سے ذرا سی کوتاہی سرزد نہ ہو ؟

کیا خالق کے ایمان کے بغیر جانوروں کی بعض اقسام جن سے تو مطلع ہے ایسی منظم و مرتب اجتماعی زندگی بسر کر سکتے ہیں ؟ جبکہ ان کا کوئی سردار کمانڈر نہیں ہوتا اور ان میں مرتبے کے لحاظ سے کوئی بھی دوسرے پر فوقیت نہیں رکھتا ۔ اجتماعی زندگی گزارنے والے جانوروں کی بعض اقسام اپنے فرائض انجام دینے میں اس قدر کوشاں ہوتی ہیں کہ وہ جانور جو جوانی ہی میں مر جاتے ہیں اور اگر وہ کم دوڑ دھوپ کریں تو وہ اپنی حیوانی زندگی کی نسبت سے طویل عمر گزاریں گے ۔ میں تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جو جانور سماجی زندگی بسر کرتے ہیں اور انسان جو دائمی لگاتار محنت کے نتجے میں جوانی میں ہی فوت ہو جاتے ہیں وہ اس محنت سے خود فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ جس معاشرے میں وہ زندگ بسر کرتے ہیں وہ معاشرہ ان کی محنت سے فائدہ اٹھاتا ہے ۔

کیاممکن ہے کہ ایک خالق پر ایمان لائے بغیر اور اس خالق کو اپنی تقدیر میں موثر جانے بغیر اس معاشرے کے راستے میں جس میں وہ زندگی گزار رہے ہیں اس قدر فدا کاری کریں ۔ اے جابر جان لو کہ یہ بات محال ہے کہ ایک چیز موجود ہو لیکن وہ ایک خالق کی اطاعت نہ کرے اور اس خالق کی اطاعت اس پر ایمان کی دلیل ہے ۔

نہ فقط انسان جانورون اور درخت خالق کی فرمانبرداری کرتے ہیں بلکہ جمادات بھی خالق کے فرمانبردار ہیں اور اگر فرمانبردار نہ ہوتے تو باقی رہنے کیلئے وجود میں نہ آتے جابر نے پوچھا انہوں نے خداوند تعالی کی صفات تک رسائی کہاں سے حاصل کی ؟ جعفر صادق نے فرمایا ‘ انہوں نے قرآن سے خداوند تعالی کی کی صفات تک رسائی حاصل کی جابر نے اظہار خیال کیا ‘ میرا مقصد وہ قرآن نہیں جس پر میرا عقیدہ ہے بلکہ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اسلام سے قبل خداوند تعالی کی صفات تک کیسے رسائی حاصل کی ؟ جعفر صادق نے فرمایا خدا کی وہ صفات بتاؤ جن کی انہوں نے معرفت حاصل کی ہے وہ کون کونسی ہیں ؟ جابر نے کہا ‘ اسلام سے قبل توحید پرست اقوام کو معلوم تھا کہ خداوند تعالی کا جسم نہیں ہے اور وہ کسی چیز سے وجود میں نہیں آیا اور دیکھا نہیں جاتا اور لا مکان ہے یا کسی مکان میں نہیں سماتا واحد ہے اور لا شریک ہے اسکی صفات اسکی ذات پر زائد نہیں بلکہ اسکی ہر صفت اسکی ذات کا جزو ہے وہ دانا اور توانا ہے وغیرہ وغیرہ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیسے ان لوگوں نے خداوند تعالی کی صفات کی معرفت حاصل کی ؟ جعفر صادق نے فرمایا ‘ ان میں سے بعض صفات جن کا تم نے ذکر کیا ‘ قرآن میں آئی ہیں اور میں قرآن کے حوالے سے تصدیق کرتا ہوں کہ وہ خداوند تعالی کی صفات میں سے ہیں لیکن اگر کوئی صفت خداوند تعالی سے منسوب کی جائے اور وہ قرآن میں ذکر نہ کی گئی ہو تو میں اسکی تصدیق نہیں کرتا ۔

جابر نے کہا کیا اپ کی عقل تسلیم کرتی کہ وہ صفات خداوند تعالی کی صفات ہیں ؟ جعفر صادق نے فرمایا میری عقل ایک انسانی عقل ہے وہ خدا کی صفات کو درک نہیں کر سکتی اور وہ لوگ جنہوں نے قرآن سے قبل خدا کی صفات کا تذکرہ کرتے ہوئے خدا کی بعض صفات کو مثبت اور بعض کو منفی قرار دیا انہوں نے خود بخود قیاس کیا ہے ۔ جابر نے کہا میں آپ کا مقصد نہیں سمجھا ؟

جعفر صادق نے فرمایا میں مثال دیتا ہوں تاکہ تم میرا مطلب سمجھ جاؤ اسلام سے قبل ایک شخص خداوند تعالی کی صفات معلوم کرنا چاہتا تھا ‘ اس کا خیال تھا کہ خداوند تعالی پرندوں کی مانند پرواز کر سکتا ہے اور اسکی پرواز کو وہ اسکی مثبت صفات میں شمار کرتا تھا ۔ وہ شخص پرواز کرنے کو کیوں خدا وند تعالی کی مثبت صفات میں شمار کرتا تھا ؟ اس کا جواب یہ ہے چونکہ خود وہ پرواز نہیں کر سکتا تھا لہذا اس کا خیال تھا کہ خداوند تعالی پرواز کرنے پر قادر ہے یا یہ کہ ایک شخص کا خیال تھا کہ خداوند تعالی پانی کی مچھلی کی طرح پانی میں زندہ رہنے پر قادر ہے اور خداوند تعالی کے پانی میں زندگی بسر کرنے کو وہ خدا کی مثبت صفات میں سے خیال کرتا تھا اور جو چیز اسے اس فکر میں لگائے رکھتی تھی وہ یہ تھی کہ وہ خود مچھلی کی مانند پانی میں زندگی بسر نہیں کر سکتا تھا تیسرے کا خیال تھا کہ خداوند تعالی کا جسم نہیں ہے اور جو چیز اسے اس فکر میں لگائے رکھتی تھی وہ یہ تھی کہ وہ خود جسم رکھتا تھا لہذا وہ جسم نہ رکھنے کو خداوند تعالی کی صفات (منفی صفات ) میں سے جانتا تھا ایک دوسرے کا خیال تھا کہ خداوند تعالی لا مکان ہے چونکہ خود وہ لا مکان نہیں بن سکتا تھا اور ہر حالت میں کسی مکان میں سمایا ہوتا تھا ۔ لہذا مکان نہ ہونے کو یہ خداوند تعالی کی منفی صفات میں سے شمار کرتا تھا ایک شخص جھوٹا تھا اس کا خیال تھا کہ خداوند تعالی سچ بولنے والا ہے کیونکہ خود وہ سچ نہیں بولا سکتا تھا لہذا وہ سچ بولنے کو خداوند تعالی کی مثبت صفات میں سے شمار کرتا تھا خلاصہ یہ کہ تمام وہ لوگ جنہوں نے خدا کی مثبت یا منفی صفات کو مد نظر رکھا انہوں نے وہ صفات جو خود ان میں موجود نہیں تھیں یا ان تک وہ رسائی حاصل نہیں کر سکتے تھے انہیں انہوں نے خدا کی صفات کا جزو سمجھا اور یہی وجہ ہے کہ اسلام سے قبل جتنی صفات بھی خداوند تعالی کی توصیف میں بیان کی گئی ہیں عام طور پر مثبت یا منفی صفات ہیں انہیں میں خداوند تعالی کی صفات کا جزو خیال نہیں کرتا ہوں مگر یہ کہ ان کا ذکر قرآن میں آیا ہے ہو کیونکہ انسانی عقل خداوند تعالی کی صفات اور خصوصیات کو درک کرنے پر قادر نہیں ۔

جابر نے کہا اس طرح تو جو کجھ قبل از اسلام خدا کی صفات کے متعلق کہا گیا بے بنیاد ہے ۔ جعفر صادق نے فرمایا ‘ وہ صفات مستثنی ہیں جنکی اسلام نے تصدیق کی ہے باقی تمام صفات اسی دلیل کی بنا پر بے بنیاد ہیں جابر نے کہا جو کچھ آپ نے بیان فرمایا میں اچھی طرح سمجھ گیا ہوں لیکن کیا ہم خداوند تعالی کی صفات کو درک کرنے کیلئے عقل کے علاوہ کوئی حربہ استعمال کر سکتے ہیں ۔

یہی عقل جسکی وجہ سے ہم خداوند تعالی کے وجود کے قائل ہیں اور اسے اس جہان کا اور اپنا خالق سمجھتے ہیں اسی عقل کی وساطت سے ہمیں خداوند تعالی کی صفات تک رسائی حاصل کرنا چاہیے ہمارے پاس کوئی دوسرا وسیلہ نہیں ہے جس کے ذریعے ہم جان سکیں کہ وہ کن صفات کا مالک ہے جعفر صادق نے فرمایا کیا تم نے پالتو بھیڑ دیکھی ہے ؟ جابر نے کہا خود میرے پاس ایک پالتو بھیڑ تھی جعفر صادق نے فرمایا ۔

چونکہ تم نے خود ایک بھیڑ کو پالا ہے لہذا تمہیں معلوم ہے کہ وہ تمہیں پہچانتی ہے اور جب تم اسے اشارہ کرتے ہو تو وہ تمہاری طرف آتی ہے اور تمہارے ہاتھ سے گھاس اور دوسری چیزیں جو اس کی پسند اور ذائقے کے مطابق ہوتی ہیں انہیں کھا جاتی ہے وہ تمہارے اور دوسرے لوگوں میں فرق کرتی ہے جب تم اسے اشارے سے بلاتے ہو تو وہ دوڑے ہوئے آتی ہے اور تمہارے ہاتھ سے گھاس اور دوسری چیزیں جو اسکی طبیعت اور ذائقے کے مطابق ہوتی ہیں کھاتی ہے وہ تمہیں خوب پہچانتی ہے اور اگر کوئی دوسرا اسے بلائے تو اسکی طرف نہیں جاتی جونہی تم اسے اشارہ کرتے ہو وہ دوڑ کر تم تک پہنچتی ہے چونکہ وہ تمہیں پہچانتی ہے اور اسے معلوم ہے کہ تم دوسرے سے مختلف ہو ۔

جابر نے جعفر صادق کی گفتگو کی تصدیق کی جعفر صادق نے فرمایا کہ وہ بھیڑ جو تمہیں پہچانتی ہے اور تمہارے حکم کی تعمیل کرتی ہے کیا تمہارے صفات کو درک کرتی ہے ؟ کیا اس جانور کیلئے یہ بات جاننے کا امکان ہے کہ اس کے بارے میں تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ وہ تمہیں پہچانتی ہے اور تمہارے حکم کی تعمیل کرتی ہے اسے جو شعور عطا ہوا ہے اسکے ذریعے وہ تمہاری شناخت کرنے پر قادر ہے لیکن اس بات پر قادر نہیں کہ تمہاری صفات اور ارادوں حتی کہ خود اس کے بارے میں تمہارے ارادوں سے مطلع ہو سکے اس مثال سے تم یہ سمجھ سکتے ہو کہ خدا کی پہچان کے لحاظ سے ہماری عقل کی حدود کہاں تک ہیں ۔ ہم خدا کو پہچانتے ہیں اسے اپنا خالق سمجھتے ہیں اور اسکے فرمان کی اطاعت کرتے ہیں لیکن اسکی صفات تک رسای حاصل نہیں کر سکتے ہماری عقل اسی قدر محدود ہے کہ اسے پہچانیں اور اسکے حکم کی تعمیل کریں لیکن اس بات پر قادر نہیں ہیں کہ یہ جان سکیں وہ کون ہے ؟ اور اس نے اس جہان کو کیوں خلق کیا ہے اور اس دنیا کا خاتمہ کیا ہو گا اس کی نسبت ہماری عقل کی کیفیت پالتو بھیر کی مانند ہے جو تم سے مانوس ہے ۔ کیا تمہاری بھیڑ جانتی ہے کہ تم کب پیدا ہوئے ؟ کیا وہ گھر جس میں بھیڑ رہتی ہے اسے معلوم ہے کہ تم نے کب بنایا تھا ؟ کیا اسے معلوم ہے کہ وہ گھر کب تک باقی رہے گا کیا اسکے لئے یہ بات جاننا ممکن ہے کہ تم نے اس گھر کی بناوٹ میں کیسا میٹیریل استعمال کیا ہے؟ اور اسے بنانے والے کون تھے ؟

اسکے باوجود کہ وہ تمہیں پہچانتی اور تمہارے حکم کی تعمیل کرتی ہے ان میں سے کسی مسئلے سے آگاہ نہیں ‘ ہم بھی جو انسانی عقل کے ذریعے خداوند تعالی کی پرستش کرتے ہیں ان میں سے کسی مسئلے سے آگاہ نہیں ہیں مگر صرف اس حد تک کہ جہاں تک قرآن ہماری راہنمائی کرتا ہے جابر نے کہا میں جو اپنی انسانی عقل کے ذریعے اپنے خدا کی عبادت کرتا ہوں مجھ میں اور اس بھیڑ میں ایک فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ میری صفات جاننے کیلئے تڑپ نہیں رکھتی جبکہ میں اپنے خداکی صفات جاننے کا متلاشی ہوں ۔

جعفر صادق نے فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہے کہ تمہاری پالتو بھیڑ تمہاری صفات سے اگاہی حاصل کرنے کی متلاشی نہیں ؟ تمہیں کہاں سے معلوم ہے کہ وہ جانور جب تم گھر میں نہیں ہوتے ہو تو تمہاری فکر نہیں کرتا اور تمہیں اچھی طرح پہچاننے کی سعی نہیں کرتا ؟ تمہیں کیسے یقین ہے کہ تمہاری ہاتھ پال بھیڑ تمہاری شناخت کی متلاشی نہیں ہے ؟ لیکن کا حیوانی شعور ایسا ہے کہ وہ تمہاری صفات تک رسائی حاصل نہیں کر سکتیا ور تمہاری زبان کو نہیں سمجھ سکتی لیکن صرف ایک حد تک ‘ تجھے یہ سب معلوم ہے اور اسی وجہ سے جب کبھی اپنی پالتو بھیڑ سے بات چیت کرنا چاہتے ہو تو اس سے ایسی زبان میں بات کرتے ہو کہ وہ تمہارا مدعا سمجھ سکے اور حقیقت میں اے جابر تم اس سے خود اسکی زبان میں مخاطب ہوتے ہو کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ اگر تم اس سے کسی دوسری زبان میں بات کرو گے تو وہ نہیں سمجھ سکے گی کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو ؟

اے جابر ‘ یہ تصور نہ کرو کہ چونکہ خداوند تعالی عربی میں کلام کرتا ہے لہذا اسنے قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے خداو ند تعالی دانا و توانائے مطلق ہے تمام زبانوں سے آگاہ ہے اور اس سیبر کر یہ کہ اسے اپنا مطلب سمجھانے کیلئے زبان کی احتیاج نہیں ہے۔

یہ ہم ہیں کہ جنہیں اپنے جیسے انسانوں کو مدعا سمجھنے کیلئے زبان کی ضرورت ہوتی ہے اور خداوند تعالی نے قرآن کو عربی میں اسلئے نازل کیا ہے کہ اس کا پیغمبر عرب تھا اور عرب قوم میں زندگی بسر کر رہا تھا لہذا قرآن کو ایک ایسی زبان میں نازل کیا کہ اس ک پیعمبر اور وہ قوم جس میں وہ رہ رہا ہے اسے سمجھیں اور اسی لئے قران بنی نوعی انسان کی فہم و فراستکی حدود میں نازل ہوا اور جس طرح تم اپنی پالتو بھیڑ سے اسکی زبان میں گفتگو کرتے ہو خداوند تعالی نے بھی بنی نوع انسان کی زبان میں ہم سے کلام کیا نہ کہ اپنی فہم و فراست کے مطابق چونکہ اگر خالق اپنے فہم و ادارک کے مطابق ہم سے کلام کرتا تو ہم اسکے کلام سے کچھ بھی سمجھ نہ پاتے جس طرح اگر تم اپنے فہم و ادارک کے مطابق اپنی بھیڑ سے گفتگو کرو تو وہ تمہارے کلام کو سمجھنے سے قاصر رہے گی ۔

جابر نے کہا میری مشکل یہ ہے کہ خداوند تعالی نے اپنی زبان جیسی زبان مجھے کیوں نہیں دی ؟ تاکہ میں اسکی زبان سے خداوند تعالی سے کلام کروں ؟ اور اسکے کلام کو مکمل طور پر یعنی اسکے فہم و ادارک کے مطابق سمجھ سکوں اور مجھے کیوں ایسی عقل نہیں دی کہ میں خداوند تعالی کی صفات کی معرفت حاصل کر سکوں اور یہ جانوں کہ ماضی میں اسکے کیا کام تھے اور آئندہ کیاہوں گے تاکہ میری اس سے نسبت بھیڑ کے مالک کی نسبت کی مانند نہ ہو ؟


نیک و نحس گھڑیوں کے متعلق مفضل بن عمر کے استفسارات

امام جعفر صادق کا ایک شاگرد مفضل بن عمر ہے جس کی باقیات میں جعفر صادق کے دورس کے آثار ملتے ہیں ایک دن مفضل بن عمر نے اپنے استاد سے پوچھا ‘ سعد و نحس اوقات جن کا تعین قسمت دیکھنے والے اور نجومی کرتے ہیں کی کیا حقیقت ہیں ؟

جعفر صادق نے فرمایا ‘ جادوگری کو باطل قرار دے کر اس کی مذمت کی گئی ہے اور خداوند تعالی نے جادو کو منع کیا ہے مفضل بن عمر نے کہا ‘ سعد و نحس اوقات کو اکثر نجومی متعین کرتے ہیں اور وہ جادوگر نہیں ہیں جعفر صادق نے اظہار فرمایا وہ نجومی جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ سعدو نحس اوقات کا تعین کرتے ہیں وہ جادوگر ہیں اور دوسرے جادوگروں کی مانند انہیں بھی باطل قرار دیکر ان کی مذمت کی گئی ہے اور خداوندتعالی نے ہر قسم کی جادوگری سے منع فرمایا ہے ۔مفضل بن عمر نے پوچھا پس وہ تمام لوگ جو قدیم زمانے سے آج تک سعد و نحس اوقات کے معتقد رہے ہیں کیا ان کا عقیدہ باطل تھا ؟

جعفر صادق نے جواب دیا ہاں اے مفضل ‘ لیکن انسان کی زندگی میں موافق و ناموافق اوقات ہیں مفضل بن عمر نے اظہار خیال کیا اگر ایساہے تو نجومیوں کے معین کرد سعد و نحسن اوقات میں اور ان میں کیا فرق ہے ؟ جعفر صادق نے جواب دیا نجومیوں کے متعین کردہ سعد و نحسن اوقات جادو گری کے ذریعے معین کئے جاتے ہیں لیکن موافق و نا موافق اوقات کا تعلق انسان کے مزاج سے ہے اس کا جادوگری سے کوئی تعلق نہیں ہر کسی کو چند دنوں میں ایک مرتبہ یا کبھی ایک رات دن میں مزاج کے لحاظ سے موافق اور ناموافق حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسکی وجہ یہ ہیکہ انسان میں خون و بلغم و سودا و صغرا ہمیشہ ایک حال میں نہیں ہوتا دن و رات کے اوقات میں ان کی مقدار میں فرق پڑتا ہے اسی طرح انسانی جسم کے بعض اندرونی اعضا دن و رات کے اوقات میں ایسے کام انجام دیتے ہیں جو متشابہ نہیں ہوتے قدیم زمانے میں لوگوں کی اس موضوع سے واقفیت تھی جن میں سے ایک حکیم بقراط بھی ہے جس نے کہا کہ جگر انسانی جسم میں چند کاموں کو انجام دیتا ہے لیکن ان کاموں کو ایک لمحے میں انجام نہیں دیتا بلکہ جگر کی طر ف سے ہر کام کو انجام دینے میں وق لگتا ہے وہ اس طرح کہ جگر کی طرف سے وہ کام ترتیب دے دیئے جاتے ہیں لیکن ہمارے مزاج کے حالات پر وہ چند دنوں یا کبھی ایک رات و دن میں موثر واقع ہوتے ہیں تمہیں بتانے کیلئے کہ کس طرح سعد و نحس اوقات ہمارے وجود میں ہیں نہ کہ اس صورت میں جس طرح جادوگر کہتے ہیں تمہیں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ دن و رات میں خون کا گاڑھا ہونا ممکن ہے پانچویں حصے یا حتی کہ چوتھائی حصے تک ہی ہو ۔

ان معنوں میں کہ ہمارے خون کا گاڑھا پن صبح سو کر نماز کیلئے اٹھنے پر اس وقت سے پانچواں یا چوتھا حصہ کم ہو جس میں ہم روز مرہ کے کاموں سے تھک کر سونے کا ارادہ کرتے ہیں یہ موضوع ہماری حالت پر موثر واقع ہوتاہے اور کبھی ہمیں بے نشاط اور کبھی کم نشاط کر دیتا ہے جسکے نتیجے میں رات و دن میں خون کے گاڑھے پن کی کمی کے موقع پر ممکن ہے ہم خوش و خرم ہوں اور اسی طرح خون کے گاڑھے پن کی زیادتی کی وجہ سے بے نشاط ہو جائیں جو لوگ سانس کی تنگی کا شکار ہیں اگر سانس کی تنگی کی دوائی آدھی رات کو کھائیں تو یہ دوائی دن کی نسبت زیادہ موثر ثابت ہو گی کیونکہ رات کو ان میں ایسی کیفیت وجود میں آتی ہے جو دوائی کے اثر کو دوگنا کر دیتی ہے اس قسم کے لوگوں کیلئے دوائی کھانے کیلئے آدھی رات ایک سعد گھڑی ہے چونکہ یہ گھڑی سانس کی تنگی کو دور کرنے میں موثر مدد کرتی ہے اور اگرچہ ایک دوائی کھانے سے آدھی رات کو سانس کی تنگی کا علاج نہیں ہوتا لیکن رات کی تکلیف رفع ہو جاتی ہے اور جو شخص سانس کی تنگی میں گرفتار ہے سو سکتا ہے ۔

بعض غذائیں جو ہم کھاتے ہیں ہمارے لئے سعد ہیں اور بعض نحس وہ غذائیں جنکے کھانے سے جسم بیمار نہیں ہوتے یا ہم اپنے آپ کو بوجھل محسوس نہیں کرتے اور ہمارے کام میں مانع نہیں ہوتیں اور ان کے کھانے سے ہم طاقت محسوس کرتے ہیں اور ہلکے بھی رہتے ہیں ایسی غذاؤں کو سعد کہا جا سکتا ہے لیکن وہ غذائیں جنکے کھانے کے بعد ہم بھاری پن اور بوجھ محسوس کرتے ہیں اس طرح کہ ہم کام نہیں کر سکتے ایسی غذائیں نحس ہیں چونکہ انہوں نے ہم پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں ۔ اے مفضل سعد و نحس کا مسئلہ ہمری زندگی میں اس طرح ہے اور ہمارے مزاج سے وابستہ مسائل کے حدود سے باہر سعد و نحسن کا وجود نہیں مفضل نے پوچھا کیا یہ ممکن ہے کہ آپ ستاروں کی تعداد بتا سکیں ؟ جعفر صادق نے جواب دیا‘ خداوند تعالی کے علاوہ کوئی بھی ستاروں کی تعداد سے آگاہ نہیں ؟مفضل نے پوچھا کیا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا کہ ستاروں کی تعداد کتنی ہے ؟

جعفر صادق نے جواب دیا انداز ا بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ستاروں کی تعداد کتنی ہے مفضل نے پوچھا آسمان کا روشن ترین ستارہ کونسا ہے ؟ جعفر صادق نے فرمایا ‘ کیا تیرا مطلب آسمان کے ستارون کی حقیقی روشنی ہے یا وہ روشنی جو ہم تک پہنچتی ہے ؟

مفضل نے کہا میں سوال نہیں سمجھا ‘ جعفر صاد ق نے اظہار خیال فرمایا ‘ میرا مطلب یہ ہے کہ ہم سیاروں کو ستارون سے زیادہ چمک دار اور روشن دیکھتے ہیں چونکہ وہ ہمارے زیادہ نزدیک ہیں لیکن ستاروں کی روشنی سیاروں سے کہیں زیادہ ہے مفضل نے پوچھا ‘ سیاروں میں کونسا سب سے زیادہ روشن ہے ؟

جعفر صادق نے فرمایا ‘ سیاروں میں سب سے زیادہ روشن زہرہہے اور تم سال کے بعض مہینوں میں اسے اس قدر روشن دیکھو گے کہ تم محسوس کرو گے کہ یہ دوسرا چاند ہے جبکہ زہرہ بھی چاند کی مانند سورج سے روشنی حاصل کرتا ہے ‘ اسکی اپنی روشنی نہیں ہوتی ۔ لیکن چاند کی روشنی زہرہ کی روشنی جتنی نہیں ہے جسکی وجہ یہ ہے کہ خداوند تعالی نے زہرہ کی زمین کو ایسے مادے یا مواد سے بنایا ہے جو روشنی کو آینے کی مانند منعکس کرتی ہے اورجس مواد یا مادے سے چاند بنایا گیا ہے وہ زہرہ کی مانند منعکس کرنے کی استعداد نہیں رکھتا ۔ مفضل نے پوچھا ‘ زہرہ کے بعد سبے روشن سیارہ کونسا ہے ؟

جعفر صادق نے جواب دیا ‘ اسکے بعد مشتری تمام سیاروں سی زیادہ روشن ہے اور بعض لوگ اسے غلطی سے زہرہ خیال کرتے ہیں ۔ مفضل نے پوچھا ‘ ستاروں میں کونسا ستارہ زیادہ روشن ہے ؟ جعفر صادق مسکرا کر کہنے لگے اے مفضل ہمارے اباء و اجداد جو صحراؤن میں زندگی بسر کرتے تھے وہ آسمان کے روشن ستاروں کو بخوبی پہچانتے تھے اور راتوں کو راستے طے کرنے دوران بیابان میں ستارں کی مدد سے راستہ معلوم کرتے تھے لیکن چونکہ ہم اپنے آباؤ اجداد کی مانند صحراؤں میں زندگی بسر نہیں کرتے لہذا ہمیں ستاروں کی شناخت نہیں اور جان لو کہ آسمان پر سب سے درخشندہ ستارہ شعر اے یمانی ہے اور یہ ستارہ ہمارے صحرائی زندگی بسر کرے والے آباؤ اجداد کے نزدیک مشہور تھا انہیں معلوم تھا کہ یہ ستارہ سال کے کس ماہ میں آسمان کے کونسے مقام سے طلوع کرتا ہے اور اس کا نام بھی انہوں نے ہی رکھا ہے شعرائے یمانی کے بعد آسمان کا سب سے زیادہ روشن ستارہ سماک رامع ہے اور اس ستارے کو بھی ہمارے صحراؤں میں زندگی بسر کرنے والے آ ۶ اء و اجداد بخوبی پہچانتے تے اس ستارہ کے نام کا انتخاب بھیانہوں نے ہی کیا تھا اگر تجھے آسمان کے تمام ستاروں کو درخشندگی کے مرتبے کے لحاظ سے پہچاننے میں دلچسپی ہے تو میں بطلیموس کی فراہم کردہ ستاروں کی اس تصوریر کو تمہارے اختیار میں دونگا جس میں نہ صرف یہ کہ ستاروں کے ناما ور ان کی تصاویر ہیں بلکہ آسمان پر ان کا مقام اور ہر شکل کے تمام کوائف اور ان کا ایک جدول بھی اس میں موجود ے اور اس میں آسمان کے درخشندہ ترین ستاروں کا ذکر بھی ان کی درخشندگی کے لحاظ سے درج ہے مفضل نے کہا اگر یہ مجموعہ آپ مجھے عنایت فرمائیں تو آپ کی بڑی مہربانی ہو گی جعفر صادق نے مدرسے کے خادم کو کہا جاؤ اور اس کتاب کو لے آؤ اتنے میں وہ گیا اور کتاب لیکر آ گیا اور جب جعفر صادق کو اطمینان ہو گیا کہ یہ وہی کتاب ہے تو انہوں نے اسے مفضل کو دے دیا ۔

مفضل نے کتاب لے لی اور جعفر صادق نے کہا بطلیموس نے اس پر غور نہیں کیا کہ ستاروں میں سے ہر ایک ستارہ روشن ہے اور بعض تو ان میں سے اتنے روشن ہیں کہ ان کی روشنی سورج سے زیادہ ہے اور اس موضوع سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا حجم اور مادہ سورج سے کہیں زیادہ ہے۔ شعرائے یمانی اور سماک رامع ان میں سے ہر دو سورج سے کہیں زیادہ بڑے ہیں لیکن چونکہ یہ دونوں بہت زیادہ دور ہیں لہذا ہم ان کی روشنی کو اچھی طرح سے نہیں دیکھ پاتے اور اگر سورج بھی اس طرح دور ہوتا تو اسے بھی ہم آسمان کے کسی ساکن ستارے کی مانند دیکھتے مفضل کو جب کتاب ملی اور اس نے کتاب کے صفحات پر نگاہ ڈالی تو کہا کتاب کے بارے میں فرمایئے جعفر صادق نے فرمایا کتاب کے متعلق بحث ایک طویل بحث ہے چونکہ یہ کتاب قدیم زمانے میں وجود میں ائی اور حتی کہ اس موجودہ شکل میں یہاں تک پہنچی اور گذشتہ زمانے میں پہلے تو خط بھی نہ تھا کہ کتاب ہو سکتی اور دوسرا یہ کہ کاغذ نہ تھا جس پر لکھا جاتا اور اس سے بھی بڑ ھ کر یہ کہ بنی نوعی انسانی نہیں جانتا تھا کہ کوئی قابل ملاحظہ بات لکھے اور کتابی شکل میں لائے ۔

پہلی کتاب پیغمبروں نے لکھی اور یہ فطری بات ہے کہ انہوں نے اس زمانے میں کتاب لکھنے کی ابتدا کی جب آدمی نے تحریر کیلئے خط ایجاد کر لیا تھا جب خط ایجاد ہوا تو مصریوں کی مانند بعض اقوام نے خط کو درخت کے پتوں پر لکھا وہ اس طرح کہ کسی مخصوص درخت کے پتے جو مصر میں اگتا ہے انہیں لیکر آپس میں جوڑ لیا جاتا تھا اور پھر ان پر لکھا جاتا تھا اور جب ان کی سیاہی خشک ہو جاتی تو انہیں نلکی کی مانند لپیٹ لیا جاتا اور پھر کتاب کی شکل میں لے آتے تھے قدیم مصر میں جن کتابوں پر لکھا جاتا ہے ان میں بعض کی لمبائی چالیس کنال تک بھی تھی ۔

چونکہ بعض اقوام مصریوں کی مانند اس درخت کے پتوں تک رسائی نہیں رکھتی تھں تو وہ لکھنے کیلئے جانوروں کے چمڑے اور خصوصا بکری اور بھیڑ کے چمڑے کا انتخاب کرکے اس پر لکھتے تھے اور جب اپنے لکھے ہوئے کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے باقی رکھنا چاہتے تو پتھر پر کندہ تھے تاکہ وہ آب و ہوا کے زیر اثر مٹ نہ جائے ۔ مفضل نے پوچھا ‘ تحریر کیلئے کاغذ کیسے ایجاد ہوا ؟

جعفر صادق نے فرمایا کاغذ چینیوں کی ایجاد ہے ان لوگوں نے ریشم سے کاغذبنایا اسکے ایک عرصے بعد ہم عربوں سمیت دوسریا قوام نے چینیوں سے کاغذ تیار کرنا سیکھا لیکن ابھی تک ہمیں یہ معلوم نہیں کہ ریشم سے کاغذ کیسے بنایا جاتا ہے اسی وجہ سے اب بھی اعلی کوالٹی کا کاغذ چین سے برامد کیا جاتا ہے اور ہمارے تاجر یہ کاغذ کشتیوں کے ذریعے چین سے لا کر اس شہر اور دوسرے شہروں میں بیچتے ہیں اور چونکہ یہ کاغذ یہاں تک پہنچتے پہنچتے کافی مہنگا پڑ جاتا ہے لہذا درس کے موقع پر ہم حتی الامکان تختی سے استفادہ کرتے ہیں ۔ مفضل نے پوچھا ‘ یہاں پر ریشم سے کاغذ کیوں نہیں بنایا جا سکتا ؟

جعفر صادق نے جواب دیا ‘ کیونکہ ریشم سے کاغذ بنانے کیلئے ریشم کے کیڑے پالنے پڑتے ہیں اور یہاں پر اس جانب اتنی توجہ نہیں دی جاتی کیونکہ شہتوت جسکے پتے ریشم کے کیڑوں کی خوراک ہیں یہاں بہت کم پائے جاتے ہیں ریشم کے کیڑے پالنے کے بعد ریشم سے کاغذ بنانے کا طریقہ بھی جاننا چاہئے تاکہ ریشم کا غذ تیار ہو سکے اور چین میں ریشم سے کاغذ بنانے کی روش کو غیروں سے پوشیدہ رکھا جاتا ہے غیروں کو ہر گز ریشم سے کاغذ بنانے کی جگہوں پر ملازم نہیں رکھا جاتا تاکہ غیر لوگ ریشم سے کاغذ بنانے کا طریقہ معلوم نہ کر لیں جس طرح چینیوں نے چینی کے برتن بنانے اور ان پر بیل بوٹے ڈالنے کے سارے مراحل اغیار سے چھپا رکھیہیں اسکے باوجود کہ سب جانتے ہیں چینی کے برتن ایک قسم کی مٹی سے تیار ہوتے ہیں جو بھٹی میں پکائی جاتی ہے لیکن ابھی تک اغیار کو یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان برتنوں کی مٹی کہاں سے حاصل کی جاتی ہے اور کیسے پکائی جاتی ہے اور ان برتنوں پر نقش و نگار کیسے بنائے جاتے ہیں اور کس مواد سے بنائے جاتے ہیں ؟ کہ جب وہ برتن بھٹی میں ڈالیجاتے ہیں تو ان کے رنگ کی جلا باقی رہتی ہے اور نہایت گرم آگ جو مٹی کو پکا کر ایک مضبوط برتن کی شکل دے دیتی ہے چینی کے ان برتنوں کے نقش و نگار کی جلا کو ختم نہیں کر سکتی اور جس طرح چینی اغیار کے مزدوروں کو اپنے ریشم سے کاغذ بنانے والی جگہوں میں کامکرنے کی اجازت نہیں دیتے اسی طرح اغیار کو چینی کے برتن بنانے کی جگہوں پر بھی کام نہیں کرنے دیتے اور میں نے سنا ہے کہ اس قسم کے برتن بنانے کے کارخانے والدین سے اولاد کو وراثت میں ملتے ہیں اور ان میں کام کرنے والے تمام مزدور یا ان کے دوست ہوتے ہیں یا عزیز وغیرہ ان پر اس کارخانے کے مالک کو پورا اعتماد ہوتا ہے کہ وہ چینی کے برتنوں کی ساخت کے رازوں سے پردہ نہیں اٹھائیں گے ۔

کرامات امام جعفر صادق علیہ السلام

علامہ عبدالرحمن ملا جامی رحمت اللہ علیہ نے اپنی مشہور کتاب " شواہد النبوت " میں آئمہ طاہرین علیہما السلام کی اکثر کرامات کا ذکر کیا ہیملا جامی ایسے عاشق رسول اور حب دار آل رسول تھے کہ مروی ہے کہ آپ جب بارگاہ رسالت میں حاضر ہونے کیلئے آئے تو حضور اکرم نے والی مدینہ کو خواب میں حکم دیا کہ

" میرے عاشق کو شہر کے باہر روک لیا جائے ورنہ جس جذب وکیف میں وہ آ رہا ہے مجھے اس کی دل دہی کیلئے گنبد خضری سے باہر آنا پڑے گا "

اس واقعہ سے علامہ جامی کی عظمت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ملا جامی نے امام جعفر صادق کی کرامات بھی بیان کی ہیں ان میں چند کو بحوالہ کتاب " ذکر اہل بیت " مولفہ محمد رفیق بٹ صاحب اس کتاب کی زینت نانے کا شرف حاصل کیا جاتا ہے ۔

کرامت نمبر ۱

ایک دن منصور نے اپنے دربان کو ہدایت کی کہ حضرت امام جعفر صادق کو میری پاس پہنچنے سے پہلی شہید کر دینا اسی دن حضرت جعفر صادق تشریف لائے اور منصور عباسی کے پاس آ کر بیٹھ گئے منصور نے دربان کو بلا اس نے دیکھا کہ حضرت جعفر صادق تشریف فرما ہیں جب آپ واپس تشریف لے گئے تو منصور نے دربان کو بلا کر کہا میں نے تجھے کس بات کا حکم دیا تھا دربا ن بولا خدا کی قسم میں نے حضرت جعفر صادق کو آپ کے پاس آتے دیکھا ہے نہ جاتے بس اتنا نظر آیا کہ وہ آپ کے پاس بیٹھ گئے تھے ۔

کرامت نمبر ۲

منصور کے ایک دربان کا بیان ہے کہ میں نے ایک روز اسے غمگین و پریشان دیکھا تو کہا اے بادشاہ ‘ آپ متفکر کیوں ہیں بولا میں نے علویوں کے ایک بڑے گروہ کو مروا دیا ہے لیکن ان کے سردار کو چھوڑ دیا ہے میں نے کہا وہ کون ہے ؟ کہنے لگا وہ جعفر بن محمد ہے میں نے کہا وہ تو ایسی ہستی ہے جو اللہ تعالی کی عبادت میں محو رہتی ہے اسے دنیا کا کوئی لالچ نہیں خلیفہ بولا مجھے معلوم ہے تم اس سے کچھ ارادت و عقیدت رکھتے ہو میں نے قسم کھا لی ہے کہ جب تک میں اس کا کام تمام نہ کر لوں آرام سے نہیں بیٹھوں گا چنانچہ اس نے جلاد کو حکم دیا کہ جونہی جعفر بن محمد آئے میں اپنے ہاتھ اپنے سر پر رکھ لوں گا تم اسے شہید کر دینا ۔ پھر حضرت جعفر صادق کو بلایا میں آپ کے ساتھ ساتھ ہو لیا میں نے دیکھا کہ آپ زیر لب کچھ پڑ ھ رہے تھے جس کا مجھے پتہ نہ چلا لیکن میں نے اس چیز کا مشاہدہ ضرور کیا کہ منصور کے محلوں میں ارتعاش پیدا ہو گیا وہ ان سے اس طرح باہر نکلا جیسے ایک کشتی سمندر کی تندو تیز لہروں سے باہر آتی ہے اس کا عجیب حلیہ تھا وہ لرزہ براندام برہنہ سر اور برہنہ پاؤ حضرت جعفر صادق کے استقبال کیلئے آیا اور اپ کے بازو پکڑ کر اپنے ساتھ تکیہ پر بٹھایا اور کہنے لگا اے ابن رسول اللہ آپ کیسے تشریف لائے ہیں ؟ آپ نے فرمایا تو نے بلایا ر میں آ گیا پھر کہنے لگا کسی چیز کی ضرور ہو تو فرمائیں آپ نے فرمایا مجھے بجز اس اس کے کسی چیز کی ضرورت نہیں کہ تم مجھے یہاں بلایا نہ کرو میں جس وقت خود چاہوں آ جایا کروں گا آپ اٹھ کر باہر تشریف لے گئے تو منصور نے اسی وقت جامہائے خواب (رات کو سونے کا لباس ) طلب کئے اور رات گئے تک سوتا رہا یہاں تک کہ اس کی نما قضا ہو گئی بیدار ہوا تو نماز ادا کرکے مجھے بلایا اور کہا جس وقت میں نے جعفر بن محمد علیہ السلام کو بلایا تو میں نے ایک اژدھا دیکھا جس کے منہ کا ایک حصہ زمین پر تھا اور دوسرا حصہ میرے محل پر وہ مجھے فصیح و بلیغ زبان میں کہہ رہا تھا مجھے اللہ تعالی نے بھیجا ہے اگر تم سے حضرت جعفر صادق کو کوئی گزند پہنچی تو تجھے تیرے محل سمیت فنا کر دوں گا اس پر میری طبعیت غیر ہو گئی جو تم نے دیکھ ہی لی ہے میں نے کہا یہ جادو یاسخر نہیں ہے یہ تو اسم اعظم (قرآن کریم ) کی خاصیت ہے جو حضور نبی کریم پر نازل ہو اتھا چنانچہ آپ نے جو چاہا وہی ہوتا رہا ۔

کرامت نمبر ۳

ایک راوی کا بیان ہے کہ ہم حضرت جعفر صادق کے ساتھ حج کیلئے جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کھجور کے سوکھے درختوں کے پاس ٹھہرنا پڑا حضرت جعفر صادق نے زیر لب کچھ پڑھنا شروع کر دیا جس کی مجھے کچھ سمجھ نہ آئی اچانک آپ نے سوکھے درختوں کی طرف منہ کرکے فرمایا اللہ نے تمہیں ہمارے لئے جو رزق و دیعت کیا ہے اس سے ہماری ضیافت کرو میں نے دیکھا کہ وہ جنگلی کھجوریں آپ کی طرف جھک رہی تھیں جن پر ترخوشے لٹک رہے تھے آپ نے فرمایا آؤ اور بسم اللہ کر کے کھاؤ میں نے آپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کھجوریں کھا لیں ایسی شیریں کھجوریں ہم نے پہلے کبھی نہ کھائی تھیں اس جگہ ایک اعرابی موجود تھا اس نے کہا آپ جیسا جادوگر میں نے کبھی نہیں دیکھا امام جعفر صادق نے فرمایا ہم پیعمبروں کے وارث ہیں ہم ساحرو کاہن نہیں ہوتے ہم تو دعا کرتے ہیں جو اللہ تعالی قبول فرما لیتا ہے اگر تم چاہو تو ہماری دعا سے تمہاری شکل بدل جائے اور تم ایک کتے میں متشکل ہو جاؤ اعرابی چونکہ جاہل تھا اس لئے کہنے لگا ہاں ابھی دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو وہ کتا بن گیا اور اپنے گھر کی طرف بھاگ گیا حضرت جعفر صادق نے مجھے فرمایا اس کا تعاقب کرو میں اس کے پیچھے گیا تو وہ اپنے گھر میں جا کر بچوں اور گھر والوں کے سامنے اپنی دم ہلانے لگا انہوں نے اسے ڈنڈا مار کر بھگا دیا واپس آیا تو تمام حال کہہ سنایا اتنے میں وہ بھی آگیا اور حضرت امام جعفر صادق کے سامنے زمین پر لوٹنے لگ ااس کی آنکھوں سے پانی ٹپکنے لگا حضرت جعفر صادق نے اس پر رحم کھا کر دعا فرمائی تو وہ شکل انسانی میں آ گیا پھر آپ نے فرمایا اے اعرابی میں نے جو کچھ کہا تھا اس پر یقین ہے کہ نہیں ؟ کہنے لگا ہاں جناب ایک بار نہیں اس پر ہزار بار ایمان و یقین رکھتا ہوں ان کے جد مصطفے کو بھی لوگ جادو گر کہا کرتے تھے (معاذ اللہ) اور ان کی آل پاک کے بارے میں بھی یہی خیال کرنے لگے فرق صرف یہ تھا کہ وہ کافروں میں سے ہوتے تھے اور یہ منکرین میں سے تھا اس پر بھی خوشی ہے کہ کتابننے کے بعد راہ راست پر تو آ گیا ۔

کرامت نمبر ۴

ایک آدمی آپ کے پاس دس ہزار دینا لے کر آیا اور کہا میں حج کیلئے جا رہا ہوں آپ میرے لئے اس پیسے کوئی سرائے خرید لیں تاکہ میں حج سے واپسی پر اپنے اہل و عیال سمیت اس میں رہائش اختیا ر کوں حج سے واپسی پر وہ حضرت امام جعفر صادق کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا میں نے تمہارے لئے بہشت میں سرائے خرید لی ہے جس کی پہلی حد حضور پر دوسری حضرت علی پر تیسری حضرت حسن پر اور چوتھی حضرت حسین پر ختم ہوتی ہے اور یہ لو میں نے پروانہ لکھا دیا اس نے یہ بات سنی تو کہا میں اس پر خوش ہوں چنانچہ وہ پروانہ لے کر اپنے گھر چلا گیا گھر جاتے ہی بیمار ہو گیا اور وصیت کی اس پروانے کو میری وفات کے بعد قبر میں رکھ دینا لواحقین نے تدفین کے وقت اس پروانے کو بھی قبر میں رکھ دیا دوسرے دن دیکھا کہ وہی پروانہ قبر پر پڑا ہوا تھا اور اس کی پشت پر یہ مرقوم تھا کہ امام جعفر صادق نے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا ہو گیا ۔

کرامت نمبر ۵

ابن جوزی نے کتاب " صفتہ الصفوہ " میں لیث بن سعد سے بہ اسناد خود روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں موسم حج میں مکہ معظمہ نماز عصر ادا کر ہا تھا فراغت کے بعد میں کوہ ابوقبیس کی چوٹیپر چڑ ھ گیا کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں ایک شخص بیٹھا ہوا ہے اور دعا مانگ رہا ہے ابھی اس کی دعا ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ میں نے وہاں ایک گچا انگوروں کا اور نئی چادریں پری ہوئی دیکھیں اس وقت انگور کہیں بھی دستیاب نہ تھے جب صفا و مروہ پر پہنچے تو اسے ایک شخص ملا جس نے کہا اے ابن رسول میرا تن ڈھاپنئے اللہ تعالی آپ کا تن ڈھانپے گا انہوں نے دونوں چادریں اسے دے دیں میں نے پوچھا یہ چادریں دینے والے کون ہیں ؟ تو اس نے کہا یہ جعفر بن محمد ہیں ۔

امام جعفر صادق نے فرمایا اللہ کے قول " وکان ابوھما صالحا " کے مطابق ہمارا اسی طرح پاس لحاظ رکھو جیسے ان دو یتیموں کا پاس لحاظ حضرت خضر نے کیا تھا کیونکہ ان کا باپ صالح تھا ۔


فہرست

عرض ناشر ۴

مقدمہ فارسی مترجم ۶

پیش لفظ اردو مترجم ۱۰

دخل در معقولات ۱۳

صواعق محرقہ ۲۰

امام جعفرصادق علیہ السلام کی شخصیت کا مختصر جائزہ ۲۷

اسم گرامی جعفر (علیہ السلام ) ۲۷

تاریخ ولادت ۲۷

تاریخ شہادت ۲۷

عہد امامت ۲۸

تصانیف و تالیفات ۳۱

امام جعفر صادق کی ولادت با سعادت ۳۲

بچپن ۳۵

"مکتب تشیع کا نجات دہندہ " ۳۷

درس باقریہ میں حاضری ۵۲

امام باقر اور ولید کی ملاقات ۵۶

نظریہ عناصر اربعہ پر تنقید جعفریہ ۷۲

جعفر صادق بانی مکتب عرفان ۸۱

شیعیت کو نابودی سے بچانے کیلئے امام جعفر صادق کا اقدام ۹۰

۹; نستوریس کا نظریہ ‘ ۹۷


بابائے دور علم جدیدہ ۱۰۰

شیعی ثقافت کی اہمیت اور آزادی ۱۰۱

ابن راوندی کا تعارف و کردار ۱۰۸

کیا ابن راوندی کیمیا دان تھا ؟ ۱۲۸

المتوکل اور ابن راوندی ۱۳۹

موت کا مسئلہ ‘ ابن راوندی کی نظر میں ۱۵۷

۹; دین علم سے متصادم نہیں ۱۵۹

امام جعفر صادق کے ہاں ادب کی تعریف ۱۷۵

"علم " بنظر صادق ۱۸۱

تاریخی تنقید پر تبصرہ امام ۱۸۴

۹; ساخت بدن انسان اور جعفری نظریہ ۱۸۸

جعفر صادق کا شاگر د ابراہیم بن طھمان اور ایک قانونی مسئلہ ۱۹۲

جھلک عقائد شیعہ دربار معجزات جعفر صادق ۱۹۶

نظریہ روشنی ۲۰۹

جعفری ثقافت میں تصور "زمانہ " ۲۳۲

جعفر ی نظریہ دربارہ اسباب امراض ۲۴۴

ستاروں کی روشنی پر گفتگو ۲۵۲

آلودگی ماحول کی ممانعت ۲۶۶

نصیحت ‘ عقیدہ اور کردار بروئے تعلیمات جعفریہ ۲۷۹

علم و فلسفہ کی توضیح ۲۹۰

شک اور یقین بنظر صادق (علیہ السلام ) ۲۹۸


"انسان خود اپنی عمر گھٹاتا ہے " ۳۱۳

ماؤں کو حکیمانہ نصیحت ۳۱۸

آئن سٹائن کا نظریہ نسبیت ۳۲۸

موت ؟ ۳۴۶

آپ کی جابر بن حیان سے گفتگو ۳۵۴

تحویل قبلہ کا عقدہ ۳۶۷

یونانی فلاسفر۱ ۳۷۴

ستاروں کے بارے میں جابر کے استفسارات ۳۹۱

عہد پیری کا سوال ۴۰۴

آپ سے کیے جانے والے دوسرے سوالات ۴۱۵

نیک و نحس گھڑیوں کے متعلق مفضل بن عمر کے استفسارات ۴۲۶

کرامات امام جعفر صادق علیہ السلام ۴۳۰

کرامت نمبر ۱ ۴۳۰

کرامت نمبر ۲ ۴۳۱

کرامت نمبر ۳ ۴۳۲

کرامت نمبر ۴ ۴۳۲

کرامت نمبر ۵ ۴۳۳