کتاب کا نام : نبی امی
مصنف کا نام : مرتضی مطہری
تمہید ناخواندہ رسول
آپ کی زندگی مبارک کا یہ پہلو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ آپ نے کبھی نہ تو کسی کتاب کا مطالعہ کیا‘ نہ کسی استاد سے تعلیم حاصل کی اور نہ کسی مدرسے‘ مکتب یا کتاب سے آشنائی تھی۔
مسلم یا غیر مسلم مورخوں میں کسی ایک نے بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ آپ بچپن‘ جوانی یا اس کے بعد عمر کے کسی بھی حصے میں کسی کے پاس پڑھنے‘ لکھنے یا سیکھنے کے لئے گئے ہوں اور اسی طرح کوئی یہ نشاندہی تو کروا دے کہ عہد رسالت سے قبل آپ نے ایک جملہ بھی لکھا یا سیکھا ہو۔
عرب کے تمام لوگ خاص طور پر سرزمین حجاز کے لوگ اس عہد میں مکمل طور پر ان پڑھ تھے ماسوائے چند افراد کے‘ جن کو انگلیوں پر شمار کیا جا سکتا تھا‘پڑھنا‘ لکھنا جانتے ہیں۔ لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ اس ماحول میں کوئی شخص بھی اس فن سے واقف ہو چکا ہو اور پھر بھی لوگوں کے درمیان اس صفت کی وجہ سے مشہور نہ ہوا ہو۔
اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں اور بعدازاں اس موضوع پر بحث بھی کریں گے‘ آپ کے مخالفین تاریخ کے اس حصے میں یہ بہتان تراشی کرتے تھے کہ آپ دوسروں کی سنی سنائی باتیں بیان کرتے ہیں‘ لیکن آپ پر یہ الزام نہیں تھا کہ کیونکہ آپ پڑھنا‘ لکھنا جانتے ہیں‘ آپ کے پاس کتابیں موجود ہیں اور ان سے آپ اپنا مقصد بیان کرتے ہیں‘ کیونکہ اگر آپ کو لکھنے‘ پڑھنے سے معمولی واقفیت بھی ہوتی تو حتمی طور پر آپ پر یہ الزام عائد کیا جاتا۔
دوسروں کے اعتراضات
مشرق شناسوں جو اسلامی تاریخ کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتے ہیں‘ نے بھی آپ کے پہلے سے پڑھنے‘لکھنے کے بارے میں کسی قسم کا کوئی اشارہ نہیں دیا‘ بلکہ اس امر کا اعتراف کیا کہ آپ ان پڑھ تھے اور یہ کہ ایک ان پڑھ قوم کے درمیان ظہور میں آئے تھے۔
انگریز مورخ کارلائل اپنی کتاب ”البطال“ میں لکھتا ہے کہ
”ہمیں اس چیز کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کہ محمد نے کسی استاد سے علم حاصل نہیں کیا۔“
صنعت تحریر عربوں کے درمیان نئی نئی متعارف ہوئی تھی‘ مذکورہ مورخ مزید بیان کرتا ہے کہ
”میرے خیال کے مطابق آپ کو لکھ پڑھنے سے کوئی شناسائی نہ تھی اور ماسوائے صحرائی زندگی کے آپ نے کسی دنیاوی چیز کا علم حاصل نہ کیا تھا۔“
ویل ڈیورنٹ
ویل ڈیورنٹ اپنی کتاب ”تاریخ تمدن“ میں لکھتا ہے کہ
”اس دور میں بظاہر کسی کو اس بات کا خیال نہیں آیا کہ آپ کو لکھنا‘ پڑھنا سکھاتا‘ کیونکہ اس دور میں عربوں کے لئے لکھنے‘ پڑھنے کی کوئی اہمیت نہ تھی‘ اسی بناء پر قبیلہ قریش کے صرف ۱۷ افراد پڑھنا‘لکھنا جانتے تھے اور آپ نے خود کچھ لکھا ہو‘ اس بارے میں بھی کچھ معلوم نہیں اور عہد رسالت میں بھی آپ نے کچھ کاتب مقرر کئے ہوئے تھے‘ اس کے باوجود عربی زبان کی بلیغ ترین کتاب آپ کی زبان مبارک پر جاری ہوئی اور مسائل کی باریکیوں کا تعلیم یافتہ افراد کے بہ نسبت بدرجہا بہتر طور پر ادراک کیا۔“
جان ڈیون پورٹ
جان ڈیون پورٹ اپنی کتاب ”عذر تقصیر بہ پیشگاہِ محمد و قرآن“ میں رقمطراز ہے کہ
”تعلیم و تعلم کے حصول کے بارے میں جیسا کہ دنیا میں رائج ہے‘ سب جانتے ہیں کہ آپ نے تعلیم حاصل نہیں کی اور وہی کچھ سیکھا جو آپ کے قبیلے میں رائج تھا اور اس کے سوا کچھ نہیں سیکھا۔“
کانسٹن ورجل گیورگیو
کانسٹن ورجل گیورگیو اپنی کتاب ”محمد پیغمبری کہ از نو باید شناخت“ محمد وہ نبی جسے ازسرنو پہچاننا چاہئے‘ میں لکھتا ہے کہ
”اُمی ہونے کے باوجود جب قرآن مجید کی ابتدائی آیات آپ پر نازل ہوئیں تو بات کا آغاز علم و قلم سے ہوا‘ یعنی لکھنے‘ پڑھنے اور سکھانے کی ہدایت کی گئی۔ دنیا کے کسی بڑے مذہب میں تعلیم دینے کے بارے میں اس حد تک تعلیم کو اجاگر نہیں کیا گیا اور مزید یہ کہ دنیا کا کوئی اور مذہب ایسا نہیں پایا جاتا جس کے اصول میں علم و معرفت کو اتنی اہمیت دی گئی ہو۔ اگر آپ دانشمند ہوتے تو غارِ حرا میں ان آیات کا نزول ایک حیران کن بات نہ ہوتی‘ کیونکہ دانشمند علم کی قدر و منزلت سے واقف ہوتا ہے‘ لیکن آپ ناخواندہ تھے اور کسی معلم سے تعلیم حاصل نہ کی تھی اور میں مسلمانوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ ان کے دین میں حصول علم و معرفت کو اتنی زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔“
گوسٹاؤلوبون
گوسٹاؤلوبون اپنی مشہور کتاب ”تمدن اسلام و عرب“ میں کہتا ہے کہ
”جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ آپ اُمی تھے جو کہ قیاس آرائی ہی ہے‘ کیونکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر آپ عالم تھے تو قرآن مجید کی آیات اور موضوعات میں ایک بہتر تسلسل ہوتا اور اس کے علاوہ یہ بھی ایک قیاس آرائی ہے کہ اگر آپ اُمی نہ ہوتے تو آپ کسی نئے دین کو متعارف یا رائج نہ کر سکتے تھے‘ کیونکہ ایک ناخواندہ شخص کو جاہل لوگوں کی ضرورتوں کا بہتر ادراک ہوتا ہے اور وہ بہتر طریقے سے ان کو راہ راست کی طرف لا سکتا ہے۔ بہرحال آپ اُمی ہوں یا غیر اُمی اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ فہم و فراست کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز تھے۔“
گوسٹاؤلوبون نے قرآن پاک کے مفاہیم کے بارے میں مکمل آگاہی نہ رکھنے کی بناء پر اور اپنی مادی سوچ کی وجہ سے آیات قرآنی کی بے ترتیبی اور ایک عالم کا جاہلوں کی ضرورتوں سے لاعلم ہونا‘ جیسی احمقانہ باتیں کی ہیں اور قرآن و رسول پاک کی شان میں گستاخی کرنے کے باوجود اس امر کا برملا اعتراف کیا ہے کہ آپ کے پہلے سے پڑھے لکھے ہونے کی کوئی سند یا دلیل موجود نہیں۔
بہرحال ان بیانات سے ہمیں کوئی سروکار نہیں‘ تاریخ اسلام اور مشرق کے بارے میں مسلمان اور مشرقی لوگ زیادہ بہتر رائے قائم کر سکتے ہیں۔ یہاں ان باتوں کو بیان کرنا اس لئے مناسب ہے کہ جو لوگ اس بارے میں ذاتی مطالعہ نہیں رکھتے‘ ان کے لئے معمولی سی بات کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ غیر مسلم مورخین کے تجسس اور تنقیدی نگاہ سے اس ضمن میں معمول سے معمولی بات بھی پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔
ایک موقع پر آپ اپنے چچا حضرت ابوطالب(ع)کے ساتھ شام کے سفر پر روانہ ہوئے۔ دوران سفر ایک مقام پر آرام کی غرض سے رکے تو وہاں پر آپ کا سامنا بحیرہ نامی ایک راہب سے ہوا (معروف اسلام و مشرق شناس پروفیسر ماسینیون اپنی کتاب ”سلمان پاک“ میں ایسے شخض کے وجود کے بارے میں بلکہ حضور پاک کی اس سے ملاقات کے سلسلے میں شک و شبہ کا اظہار کرتا ہے اور اسے افسانوی شخصیت قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ”بحیرہ سرجیوس‘ تمیمداری اور دوسرے جنہوں نے آپ کے بارے میں روایات جمع کی ہیں‘ وہ سب اختراعی و فرضی کردار ہیں‘ جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں)۔
اس ملاقات نے مشرق شناسوں کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرائی کہ آیا آپ نے اس مختصر ملاقات میں اس راہب سے کچھ سیکھا؟ اب جبکہ اتنا معمولی سا واقعہ جدید و قدیم مخالفین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرتا ہے‘ تویہ امر واضح ہے کہ اگر آپ کے پہلے سے پڑھے لکھے ہونے کے بارے میں کسی ادنیٰ سی دلیل کا وجود بھی ہوتا تو ان کی نگاہوں سے کبھی پوشیدہ نہ رہتی اور اس گروہ کی طاقتور خوردبینوں کے نیچے وہ دلیل کئی گنا بڑی نظر آتی۔
اس بات کو مزید واضح کرنے کے لئے ضروری ہے کہ دو ادوار کے بارے میں بحث کی جائے:
۱ ۔ اعلان نبوت سے پہلے کا دور
۲ ۔ اعلان نبوت کا دور
اعلان نبوت کا دور یا دورئہ رسالت کے بارے میں بھی دو موضوعات پر سیر بحث حاصل ہونی چاہئے:
الف) لکھنا
ب) پڑھنا
بعد میں ہم واضح کریں گے کہ مسلم اور غیر مسلم علماء کی بالاتفاق یہ حتمی رائے ہے کہ آپ کو اعلان نبوت سے پہلے اور اعلان نبوت کے بعد پڑھنے‘ لکھنے سے معمولی واقفیت نہ تھی‘ لیکن اعلان نبوت کے بعد اس بات کے مسلم الثبوت ہونے کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا‘ جبکہ عہد رسالت میں بھی جو بات کسی حد تک حتمی ہے وہ آپ کے لکھنا نہ جاننے کے بارے میں کی جا سکتی ہے‘ نہ کہ پڑھنے کی۔
شیعہ مکتب فکر کی بعض روایات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ عہد رسالت میں پڑھنا‘ لکھنا جانتے تھے‘ تاہم اس سلسلے میں شیعہ روایات میں بھی اتفاق رائے نہیں پایا جاتا۔ مجموعی طور پر ان تمام دلائل اور قرائن کو سامنے رکھتے ہوئے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ آپ نے عہد رسالت میں نہ پڑھا اور نہ لکھا۔
عہد رسالت سے پہلے دور کے بارے میں غور و خوض کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ پڑھنے‘لکھنے کے لحاظ سے جزیرئہ عرب کے اس دور کے عام حالات کا جائزہ لیں۔
کتب تواریخ کے مطالعے سے اس ضمن میں یہ پتہ چلتا ہے کہ ظہور اسلام کے ساتھ ساتھ جزیرئہ عرب میں پڑھنے‘ لکھنے والے افراد کی تعداد انتہائی محدود تھی۔
حجاز میں رسم الخط کا رائج ہونا
بلاذری اپنی کتاب ”فتوح البلدان“ میں حجاز کے عرب باشندوں میں رسم الخط کے رائج ہونے کے بارے میں رقمطرز ہے کہ
”پہلی مرتبہ ”طی“ کے قبیلے کے تین افراد نے(جو شام کے نواح میں تھے) عربی رسم الخط کی ترویج کی‘ اسے متعارف کرایا اور عربی حروف تہجی کو سریانی حروف تہجی سے موازنہ کیا۔ ازاں بعد انبار کے کچھ لوگوں نے ان تین افراد سے یہ رسم الخط سیکھا‘ بعد میں حیرہ کے لوگوں نے انبار کے ان تین افراد سے اس رسم الخط کی تعلیم حاصل کی‘ پھر بشر بن عبدالملک جو ”دومة الجندل“ کے عیسائی مسلک امیر اکیور بن عبدالملک کا بھائی تھا‘ ”حیرہ“ میں آمد و رفت کے دوران ”حیرہ“ کے لوگوں سے اس رسم الخط کی تعلیم حاصل کی۔
بشر بن عبدالملک کندی بذات خود اپنے کسی کام سے مکہ مکرمہ گیا تو اسے سفیان بن امیہ (ابوسفیان کا چچا) اور ابوقیس بن عبدالمناف بن زہرہ نے دیکھا کہ وہ کچھ لکھ رہا ہے‘ انہوں نے اس سے کہا کہ انہیں بھی لکھنا سکھا دے اور اس نے انہیں لکھنے کی تعلیم دی۔ اس کے بعد ”بشر“ ان دو افراد کے ہمراہ کاروباری سلسلے میں طائف روانہ ہو گیا‘ اس طرح غیلان بن سلمہ ثقفی نے ان لوگوں سے لکھنا سیکھا‘ اس کے بعد بشر ان دونوں ساتھیوں سے جدا ہو کر مصر چلا گیا۔ عمرو بن زرارہ جو بعد میں عمرو کاتب کے نام سے مشہور ہوا‘ نے بھی اس شخص یعنی بشر سے لکھنے کا فن سیکھا۔ بعد میں بشر شام روانہ ہو گیا اور وہاں پر بے شمار افراد اس کے لکھنے کے فن سے فیضیاب ہوئے۔“
ابن الندیم نے اپنی کتاب ”الفہرست“ میں جو ابتدائی خط کا پہلا مقالہ ہے‘ میں وہ بلاذری کی کتاب کے کچھ حصوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ابن عباس سے روایت کرتا ہے کہ
”پہلا عربی رسم الخط جس نے لکھا وہ قبیلہ بولان کے تین افراد تھے‘ جو کہ انبار میں رہائش پذیر ایک قبیلہ ہے اور حیرہ کے لوگوں نے انبار کے لوگوں سے خط کی تعلیم حاصل کی۔“
ابن خلدون بھی اپنی مشہور کتاب ”فی ان الخط و الکتابة من عداد الصنائع الانسانیة“ میں بلاذری کی کچھ باتوں کی تائید اور ذکر کیا ہے۔ بلاذری اس کی صفت پیش کرتے ہوئے روایت کرتا ہے کہ
”ظہور اسلام کے وقت مکہ مکرمہ میں کچھ افراد تھے جو پڑھے لکھے تھے۔“
اور یہ بھی لکھتا ہے کہ
”جب اسلام کا ظہور ہوا تو قریش کے صرف ۱۷ افراد لکھنا جانتے تھے‘ ان کے نام یہ ہیں:
۱ ۔ عمرؓ بن الخطاب‘ ۲ ۔ علی(ع)بن ابی طالب(ع)‘ ۳ ۔ عثمانؓ بن عفان‘ ۴ ۔ ابوعبیدہ جراح‘ ۵ ۔ طلحہ ۶ ۔ یزید بن ابی سفیان‘ ۷ ۔ ابوحذیقة بن ربیعہ‘ ۸ ۔ حاطب بن عمرو عاری‘ ۹ ۔ ابو سلمہ محذومی‘ ۱۰ ۔ ابان بن سعید اموی‘ ۱۱ ۔ خالد بن سعید اموی‘ ۱۲ ۔ عبداللہ بن سعد بن ابی شرح‘ ۱۳ ۔ حویطب بن عبدالعزیٰ‘ ۱۴ ۔ ابوسفیان بن حرب‘ ۱۵ ۔ معاویہ بن ابی سفیان‘ ۱۶ ۔ جمہیم بن الصلت‘ ۱۱ ۔ علاء بن الحضرمی۔
جن کا قبیلہ قریش کے ساتھ سمجھوتہ طے پایا ہوا تھا‘ مگر خود قبیلہ قریش سے نہ تھے۔“
بلاذری صرف قبیلہ قریش کی ایک عورت کا نام بتالتا ہے جو زمانہ جاہلیت اور ظہور اسلام کے وقت لکھنا جانتی تھی۔ یہ عورت جس کا نام شفا دختر عبداللہ عذوی تھا‘ جو حلقہ بگوش اسلام ہوئیں‘ جس کا پہلی مہاجر عورتوں میں شمار ہوتا ہے۔ بلاذری کہتا ہے کہ یہ عورت وہی ہے جس نے آنحضور کی زوجہ محترمہ ”حفصہ“ کو لکھنا سکھایا اور ایک دن آپ نے اس سے فرمایا:
الا تعلمین حفصه رقیه النمله کما علمتها الکتاب
”جیسا کہ حفصہ کو لکھنا سکھایا‘ کیا اسے ”رقیة النملہ“ کی بھی تعلیم دے سکتی ہو اور اگر اس چیز کی تعلیم دے دو تو بہتر ہو گا۔“
فتوح البلدان مطبوعہ چھاپ خانہ السعادہ‘ مصر ۱۹۵۹ ء میں لفظ ”رقنة النملة“ لکھا گیا ہے جو کہ کتابتی غلطی ہے اور صحیح لفظ وہی ہے جیسا کہ ابن اثیر کی النہایہ میں آیا ہے یعنی ”نمل“ اور صحیح عبارت ”رقیة النملة“۔
رقیہ ان عبارتوں کو کہا جاتا تھا جن کا بلاؤں اور بیماریوں کو دور کرنے کے لئے ورد کرنا مفید سمجھا جاتا تھا۔ ابن اثیر لفظ ”رقی“ کے بارے میں کہتا ہے کہ آنحضور سے منقول بعض فرمودات میں ”رقی“ سے منع کیا گیا ہے اور بعض میں اس کی تجویز دی گئی ہے اور ابن اثیر دعویٰ کرتا ہے کہ جن احادیث میں غیر خدا سے پناہ طلب کی جائے ان سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کا توکل خدا پر نہیں رہتا‘ لہٰذا ایسے تعویزات پر اعتماد نہ کیا جائے‘ جبکہ وہ احادیث جن میں تعویزات کی سفارش کی گئی ان میں اسماء الٰہی اور ان سے اثر حاصل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ابن اثیر لفظ ”نمل“ کے بارے میں کہتا ہے:
”جو کچھ ”رقیة النملة“ میں مشہور ہے درحقیقت وہ ”رقی“ کی شکل نہیں ہے‘ بلکہ ایسی عبارتیں تھیں جو زبان زد خاص و عام تھیں اور سب کو معلوم تھا کہ ان کا نہ کوئی فائدہ ہے اور نہ کوئی نقصان۔ آنحضور نے بطور مزاح اور اشارتاً شفا سے اپنی زوجہ محترمہ حفصہ کو اس عبارت کو سکھانے کی تلقین کی۔ عبارتیں یہ تھیں:
العروس لحصل‘ و تحتضب‘ و تکتمل‘ وکل شئی نضتعل غیران لا تعصی الرجل
دلہن سکھیوں کے درمیان بیٹھی ہے اور سولا سنگھار کرتی ہے‘ کاجل لگاتی ہے‘ غرض کہ ایسے ہی کام کرتی ہے‘ لیکن اپنے شوہر کی نافرمانی نہیں کرتی۔
ان عبارتوں کو”رقیة النملة“ کے نام سے یاد کیا تھا اور بظاہر ان عبارتوں میں طنز و مزاح کے پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے۔“
ابن اثیر کہتا ہے کہ
”آنحضور نے ازراہ مزاح شفا نامی عورت سے فرمایا تھا جیسا کہ تم نے حفصہ کو لکھنا سکھایا‘ تو کتنا اچھا ہوتا کہ تم انہیں رقیة النملة بھی سکھا دیتی۔ یہ بات اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ ہماری زوجہ نے ہماری اطاعت نہیں کی اور اس راز کو جو میں نے اسے بتایا تھا۔“(یہ بات تاریخ میں مشہور ہے اور سورئہ تحریم کی پہلی آیت اس جانب اشارہ کرتی ہے‘ اسے بھی فاش کر دیا)
بلاذری نے پھر چند ایسی مسلم خواتین کے نام بتائے کہ جو اسلامی دور میں بھی پڑھنا لکھنا جانتی تھیں یا صرف پڑھنا جانتی تھیں اور وہ یہ بھی کہتا ہے کہ
”حضرت حفصہ جو کہ رسول خدا کی زوجہ تھیں‘ وہ بھی لکھنا جانتی تھیں‘ ام کلثوم دختر عتبہ بن ابی معیط (اولین مہاجر خواتین) بھی لکھنا جانتی تھیں۔ عائشہ دخترسعد کہتی ہیں میرے والد نے مجھے لکھنا سکھایا‘ اسی طرح کریمہ دختر مقداد بھی لکھنا جانتی تھیں۔ حضرت عائشہ زوجہ رسول پڑھنا جانتی تھیں لیکن لکھنا نہیں اور اسی طرح ام سلمہ بھی۔“
بلاذری بھی ان لوگوں کا نام بتاتا ہے جو مدینہ میں آنحضور کے منشی تھے اور مزید کہتا ہے کہ
ظہور اسلام کے نزدیک ”اوس“ اور ”خزرج“ (مدینے کے دو معروف قبیلے) میں صرف ۱۱ اشخاص لکھنے کے فن کو جانتے تھے(ان کے نام بھی بتاتا ہے)۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فن خط نویسی حجاز کے علاقے میں نیا نیا متعارف ہوا تھا‘ اس زمانے میں حجاز کے حالات اور ماحول کی صورت حال یہ تھی کہ اگر کوئی شخص لکھنا‘ پڑھنا جانتا تھا تو وہ مقبول خاص و عام ہو جاتا تھا۔ وہ افراد جو ظہور اسلام سے کچھ عرصہ قبل اس فن سے واقف تھے‘ چاہے وہ مکہ میں ہوں یا مدینہ میں‘ وہ مشہور اور انگلیوں پر شمار کئے جا سکتے تھے‘ لہٰذا ان کے نام تاریخ میں ثبت ہو گئے اور اگر رسول خدا کا شمار اس زمرہ میں ہوتا تو حتمی طور پر آپ اس صنعت کے حوالے سے پہچانے جاتے اور آپ کا نام اس فہرست میں شامل ہوتا‘ کیونکہ آنحضور کا نام نامی اس زمرہ میں نہیں ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ قطعی طور پر آپ کا پڑھنے‘ لکھنے سے کوئی سروکار نہیں تھا۔“
عہد رسالت خصوصاً مدینے کا دور
گزشتہ بحث سے مجموعی طور پر یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ رسول پاک نے عہد رسالت کے دوران نہ پڑھا‘ نہ لکھا‘ لیکن مسلم علماء چاہے وہ اہل سنت ہوں یا شیعہ‘ اس سلسلے میں ان کا نقطہ نگاہ ایک نہیں ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ وحی نے جو ہر چیز کی تعلیم دیتی تھی‘ انہیں پڑھنا‘ لکھنا نہ سکھایا ہو؟ کچھ شیعہ روایات میں کہا جاتا ہے کہ آپ دوران نبوت پڑھنا جانتے‘ لیکن لکھنا نہ جانتے تھے۔(بحار چاپ جدید‘ ج ۱۶‘ ص ۱۳۵)
اس ضمن میں صدوق نے علل الشرایع میں ایک روایت نقل کی ہے:
”خدا کی رحمت اپنے رسول پر یہ تھی کہ آپ پڑھ سکتے تھے‘ لکھ نہیں سکتے تھے اور جب ابوسفیان نے احد پر چڑھائی کی تو حضرت عباسؓ جو آپ کے چچا تھے‘ نے ایک خط آپ کو لکھا اور جب یہ خط آپ تک پہنچا تو اس وقت آپ مدینے کے نزدیک ایک باغ میں تشریف فرما تھے۔ آپ نے خط پڑھا‘ لیکن اپنے صحابیوں کو اس کے مضمون سے آگاہ نہ کیا۔ آپ نے حکم دیا‘ سب لوگ شہر مدینہ میں چلے جائیں اور جونہی سب لوگ شہر میں داخل ہو گئے تو آپ نے وہ خط پڑھ کر انہیں سنا دیا۔“
لیکن سیرة زبینی دخلان میں حضرت عباسؓ کے خط کے واقعہ کو علل الشرایع کی روایت کے برخلاف بیان کیا گیا ہے‘ اس میں لکھا ہے کہ
”جونہی حضرت عباسؓ کا خط آپ تک پہنچا تو آپ نے اسے کھولا اور ابی بن کعب کو دیا کہ اسے پڑھے۔ ابن کعب نے اسے پڑھا اور آپ نے حکم دیا کہ اس خط کو بند کر دے‘ اس کے بعد آپ سعد بی ربیعہ جو ایک مشہور صحابی تھے‘ ان کے پاس تشریف لائے اور حضرت عباسؓ کے خط کے متعلق بیان کیا اور ان سے درخواست کی کہ فی الحال اس موضوع کو پوشیدہ رکھیں۔“
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آپ نبوت کے دوران لکھتے بھی تھے اور پڑھتے بھی تھے۔ سید مرتضیٰ ”بحارالانوار“ سے نقل کرتے ہیں کہ
”اہل علم کے ایک گروہ کا عقیدہ ہے کہ آپ دنیا سے رحلت فرمانے سے پہلے لکھنا‘ پڑھنا جانتے تھے۔“
معتبر تواریخ اور کتابوں کی رو سے آپ نے وقت رحلت ارشاد فرمایا تھا کہ
”میری قلم اور دوات (یا دوات اور کنگھی) لاؤ تاکہ تمہیں کچھ ہدایات لکھ دوں‘ تاکہ تم میری رحلت کے بعد گمراہ نہ ہو جاؤ۔(بحارچاپ جدید‘ ج ۱۶‘ ص ۱۳۵ ۔ مجمع اللبیان آیت ۲۸‘ سورئہ عنکبوت کے ذیل میں‘ بحار چاپ جدید‘ ج ۱۶‘ ص ۱۳۵)
یہاں پر دوات و قلم کی حدیث پر صحیح استناد نہیں ہے‘ کیونکہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں ملتی کہ آپ اپنے دست مبارک سے لکھنا چاہتے تھے‘ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ آپ مجمع کے درمیان لکھنا چاہتے تھے اور سب پر عیاں کرنا چاہتے تھے اور آپ گواہوں کے طور پر ان سے دستخط لینا چاہتے تھے‘ پھر یہ تعبیر کہ میں تمہارے لئے کچھ لکھنا چاہتا ہوں‘ تاکہ میرے بعد تم بھٹک نہ جاؤ درست ہے۔
آنحضور کے کاتبین
قدیم اسلامی مستند تواریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مدینہ منورہ میں آنحضور کے کچھ معاونین موجود تھے۔ یہ معاونین خدا کی نازل کردہ وحی کے علاوہ آپ کے فرمودات‘ لوگوں کے عقائد‘ مذہبی معاملات‘ آپ کے عہد و پیمان‘ اہل کتاب‘ مشرکین کے نام آپ کے خطوط‘ پیغامات‘ دفتری معاملات‘ صدقات و جزیہ سے مربوط کتابچے‘ خمس و غنیمت سے مربوط کھاتے اور دیگر ضروری امور پر بہت سے خطوط جو آپ کی طرف سے قرب و جوار میں بھیجے گئے۔
اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی کے علاوہ آپ کے زبانی فرامین جو ضبط تحریر میں آ گئے تھے اور ابھی تک باقی ہیں‘ مزید برآں دور نبوت میں آپ نے جتنے بھی معاہدے اور خطوط جو وقتاً فوقتاً لکھوائے وہ بھی تاریخ کے اوراق پر ثبت ہیں۔
محمد بن سعد اپنی کتاب الطبقات الکبیر‘ ج ۲‘ ص ۱۰ تا ۳۸ میں آپ کے ۱۰۰ کے قریب خطوط کا حوالہ اپنے مضامین میں دیتا ہے۔ ان میں سے دعوت اسلام پر مشتمل کچھ خطوط دنیا کے مختلف بادشاہوں‘ حکمرانوں‘ قبائل کے سرداروں‘ دیگر سرکردہ افراد‘ رومی‘ ایرانی‘ خلیج فارس کے عمال اور دیگر اہم شخصیات کو تحریر کئے گئے ہیں‘ ان میں سے کچھ سرکلر‘ فرامین اور بعض دیگر معاملات کے بارے میں ہیں جو اسلام کے فقہی مدارک کے اسناد سمجھے جاتے ہیں۔ زیادہ تر خطوط کا علم ہے کہ وہ کسی کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں‘ کاتب نے خط کے مضمون کے آخر میں اپنا نام ثبت کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کاتب کا نام خط کے آخر میں ثبت کئے جانے کی روایت پہلی بار ابی بن کعب جو معروف صحابی رسول ہیں‘ کے ذریعے رائج ہوئی۔
مذکورہ بالا خطوط‘ معاہدے اور کھاتوں میں سے کوئی بھی آپ کے اپنے دست مبارک کا لکھا ہوا نہیں ہے‘ یعنی کوئی ایک خط بھی ایسا نہیں دیکھنے میں آیا کہ جس کے بارے میں کہا جائے کہ یہ خط رسول خدا نے خود تحریر کیا ہے۔ مزید برآں کہیں بھی یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ آپ نے نزول قرآن کے دوران ایک بھی قرآنی آیت اپنے دست مبارک سے تحریر فرمائی ہو‘ بلکہ کاتبین وحی نے فرداً فرداً قرآن مجید کو تحریر کیا تھا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ رسول خدا لکھنا جانتے ہوئے بھی اپنے دست مبارک سے ایک سورة یا کم از کم ایک آیت بھی نہ لکھتے ہوں۔
تاریخ میں آنحضور کے کاتبین کے نام
کتب تواریخ میں آنحضور کے معاونین کے نام آئے ہیں۔ یعقوبی نے اپنی تاریخ کی دوسری جلد میں رسول خدا کی وحی‘ خطوط اور معاہدے لکھنے والے معاونین کے نام تحریر کئے ہیں:
”علی(ع)ابن ابی طالب(ع)‘ عثمانؓ بن عفان‘ عمرو بن العاص‘ معاویہ بن ابی سفیان‘ شرجیل بن حسنہ‘ عبداللہ بن سعید بن ابی سرح‘ مغیرة بن شعبہ‘ معاذ بن جبل‘ زید بن ثابت‘ حنظلہ بن الربیعہ‘ ابی بن کعب‘ جہیم بن الصلت‘ حضین النمیری۔“(تاریخ یعقوبی‘ ج ۲‘ ص ۶۹)
کاتبین کی فرداً فرداً خصوصی ذمہ داریاں
مسعودی اپنی کتاب ”التنبیہ والاشراف“ میں اس قدر تفصیل سے بیان کرتا ہے کہ یہ معاونین کاتبین اور ان میں سے ہر ایک شخص نے اپنے ذمے کون کون سا کام لیا ہوا تھا اور ان کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ بھی بتاتا ہے کہ ان تمام معاونین کا دائرئہ کار اس مقررہ حد سے بھی زیادہ تھا اور اسی نظم و ضبط کے امور بھی ان کے درمیان تقسیم کر دیئے گئے تھے۔ مسعود مزید کہتا ہے
کہ ”خالد بن سعید بن العاص آنحضور کے دست راست تھے‘ جو مختلف مسائل درپیش ہوتے وہ انہیں تحریر کرتے۔ اسی طرح مغیرہ بن شعبہ‘ حصین بن نمیر‘ عبداللہ بن ارقم اور علاء بن عقبہ لوگوں کے دستاویزات‘ معاہدوں اور دیگر معاملات کے دستاویزات کو ضبط تحریر میں لاتے تھے۔ زبیر بن العوام اور جہیم بن الصلت ٹیکسوں اور صدقات کے گوشواروں کو ضبط تحریر میں لاتے۔ حذیفہ بن الیمان کے سپرد حجاز کے لین دین کے معاملات یا اس سے متعلق امور کا شعبہ تھا۔ معیقب بن ابی فاطمہ کے ذمے اموال غنیمت کے ثبت کرنے کا شعبہ تھا۔ زید بن ثابت انصاری بادشاہوں اور دوسرے اعلیٰ حکام وغیرہ کو خطوط تحریر کرتے تھے‘ آپ آنحضور کے ترجمان بھی تھے اور آپ فارسی‘ رومی‘ قبطی اور حبشی زبانوں کے دستاویزات و خطوط کا ترجمہ بھی کرتے تھے۔ انہوں نے یہ تمام زبانیں اہل مدینہ کے درمیان رہ کر سیکھی تھیں۔ حنظلہ بن ربیع ایک نہایت قیمتی سرمایہ تھے‘ انہوں نے لکھنے کے فن میں بہت شہرت و نیک نامی حاصل کی اور حنظلہ کاتب کے نام سے معروف ہوئے اور جب حضرت عمرؓ کے دور میں اسدلامی فتوحات کے سلسلے کا آغاز ہوا‘ ”رھا“ کے علاقے میں گئے اور اسی مقام پر وفات پا گئے۔ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کچھ عرصہ کتابت اور لکھنے سے منسلک رہے‘ لیکن بعد میں یہ مرتد ہو گیا اور مشرکین کے گروہ میں شامل ہو گیا۔ شرجیل بن حسنہ طایخی نے بھی آپ کے لئے لکھا۔ ایان بن سعید اور علاء بن الحضرمی بھی گاہے بگاہے آپ کے لئے تحریر کرتے رہے۔ معاویہ نے آپ کی رحلت سے صرف چند ماہ قبل آپ کے لئے لکھنے کے فرائض انجام دیئے۔ یہ تمام افراد وہ ہیں جو عمومی طور پر کچھ عرصہ کے لئے لکھنے لکھانے کے سلسلے میں آپ کے محرر رہے‘ لیکن وہ لوگ جو آپ کے لئے ایک یا دو خطوط لکھتے رہے وہ آپ کے معاونین میں شمار نہیں کئے جاتے اور ہم ان کا ذکر بھی نہیں کرتے۔“(التنبیہ والاشراف‘ ص ۲۴۰‘ ۲۸۶)
جامع ترمذی میں زید بن ثابت نقل فرماتے ہیں کہ آنحضور نے فرمایا اور میرے لئے ہدایت جاری کہ میں سریانی زبان سیکھوں اور جامع ترمذی میں زید بن ثابت سے یہ منقول ہے کہ رسول اکرم نے مجھے ہدایت فرمائی کہ اب تم یہود کی لغت ”زبان“ بھی سیکھو‘ خدا کی قسم میں اپنے خطوط کے سلسلے میں یہودیوں پر اعتبار نہیں کر سکتا۔ زید بن ثابت کا کہنا ہے کہ میں نے یہ زبان ڈیڑھ ماہ سیکھی‘ اس کے بعد جب بھی آپ قوم یہود کے نام خط لکھواتے تو مجھ سے ہی لکھواتے تھے اور جب بھی یہود سے آپ کے نام خط موصول ہوتا تو میں ہی آپ کے لئے پڑھ کر سناتا تھا۔
فتوح البلدان میں بلاذری نے ص ۴۶۰ پر یہ لکھا ہے کہ زید بن ثابت نے کہا:
”رسول اللہ نے مجھے حکم دیا کہ یہود کی کتاب کو سریانی زبان میں سیکھو اور مجھ سے فرمایا کہ مجھے اپنے کاتبین کے بارے میں یہودیوں سے خدشہ ہے‘ تو ۱۵ دن یا ۶ ماہ میں‘ میں نے سریانی سیکھ لی۔ ازاں بعد میں یہود کے نام آپ کے خطوط کو رشتہ تحریر میں لاتا اور ان سے ”یہود“ سے موصول خطوط کو آپ کو پڑھ کر سناتا۔“
مسعودی نے اس مقام پر کاتبین وحی اور اسی طرح سرکاری معاہدوں کے لکھنے والوں کے نام جیسے علی(ع)بن ابی طالب(ع)‘عبداللہ بن مسعود اور ابی بن ابی کعب وغیرہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ یہاں پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ صرف ان لوگوں کے نام کا تذکرہ کرنا چاہتا ہے جو وحی کی کتابت کے علاوہ دوسری ذمہ داریوں کے حامل تھے۔
اسلامی تواریخ اور احادیث سے واقعات بہت زیادہ سامنے آتے ہیں‘ جن کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضور کے پاس دور دراز علاقوں کے ضرورت مند افراد آیا کرتے تھے اور آپ سے وعظ و نصیحت کرنے کی درخواست کرتے اور آپ اپنی مدبرانہ اور نصیحت آمیز گفتگو سے ان کے سوالوں کے جواب دیتے‘ یہ تمام باتیں اور گفتگو ”فی المجلس“ میں یا بعد میں تحریری شکل میں محفوظ ہو چکے ہیں۔
اس کے باوجود ہماری نظر سے ایسی کوئی تحریر نہیں گزری کہ جس سے ثابت ہو کہ آپ نے کسی فرد کے جواب میں اپنے دست مبارک سے ایک سطر بھی تحریر فرمائی ہو‘ یقینا اگر آپ نے کوئی سطر بھی تحریر کی ہوتی تو مسلمان اس کو بطور تبرک یا نشانی اور اپنے خاندان کے لئے ایک بہت بڑا افتخار سمجھتے ہوئے محفوظ کر لیتے ہیں۔ جس طرح ہم حضرت علی(ع)اور دیگر آئمہ معصومین(ع)کے بارے میں اس قسم کے واقعات سے عموماً ہمارا واسطہ پڑتا ہے کہ ان سے منسوب کچھ تحریریں یا خطوط‘ سالوں اور صدیوں سے ان کی نسلوں میں محفوظ ہیں اور آج بھی ایسے قرآنی نسخ موجود ہیں جو انہیں بزرگ ہستیوں سے منسوب ہیں۔ حضرت زید(ع)بن علی(ع)بن الحسین(ع)اور یحییٰ بن زید اور ان کے ذریعے صحیفہ سجادیہ کی حفاظت کا واقعہ‘ اس سلسلے میں ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔
آنحضور نے درخواست گزاروں کے جواب میں ایک سطر تحریر نہیں فرمائی
ابن الندیم اپنے ”فن اول“ الفہرست کے دوسرے مقالے میں ایک بڑا دلچسپ واقعہ بیان کرتا ہے‘ وہ کہتا ہے:
”محمد بن الحسین نامی کوفہ کا رہنے والا ایک شیعہ جو ابن ابی بعرہ کے نام سے مشہور تھا۔ میری ملاقات ہوئی‘ اس کا ایک کتب خانہ تھا جو اپنی مثال آپ تھا۔ یہ کتاب خانہ اس نے کوفہ کے رہنے والے ایک شیعہ سے حاصل کیا تھا اور بڑی حیران کن بات یہ ہے کہ اس میں موجود ہر کتاب پر اور ہر صفحہ پر تحریر کرنے والے کا نام ثبت تھا اور علماء کی ایک جماعت اور گروہ نے لکھنے والے افراد کے ناموں کی تائید بھی کی ہے۔ اس کتب خانہ میں حسنین علیہا السلام سے منسوب خطوط موجود و محفوظ تھے‘ نیز حضرت علی(ع)کے دست مبارک اور آنحضور کے تمام معاونین و کاتبین‘ سے لکھے ہوئے دستاویزات اور معاہدے موجود تھے اور ان کی مکمل حفاظت و نگہداشت کی جاتی رہی۔“
(الفہرست‘ مطبوعہ مطبعة الاستقامہ‘ قاہرہ‘ ص ۶۸)
جی ہاں! ان نادر نمونوں اور پربرکت تحریروں کی اس حد تک حفاظت کی جاتی رہی‘ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ آنحضور نے ایک بھی سطر تحریر کی ہو اور تحریروں کے سلسلے میں مسلمانوں کی گہری دلچسپی کے معیار‘ خاص طور سے قبروں کی تحریروں کے بارے میں ان کے گہرے عقیدے کے باوجود ان کا نام و نشان نہ ملے؟
شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضور کے لکھنے کا ثبوت‘یہاں تک کہ عہد رسالت میں بھی کوئی بھی سامنے نہیں ہے‘ لیکن عہد رسالت میں آپ کے پڑھنے کے سلسلے میں یہ بات قطعی اور حتمی طور سے نہیں کہی جا سکتی کہ آپ پڑھنا نہیں جانتے تھے اور اس دور نبوت میں آپ کے پڑھنے کے بارے میں بھی ہمارے پاس مکمل دلیلیں نہیں‘ بلکہ زیادہ تر شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ آپ پڑھنا بھی نہیں جانتے تھے۔
حدیبیہ کا واقعہ
آنحضور کی زندگی کی تاریخ میں بے شمار ایسے واقعات پیش آئے ہیں‘ جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مدنی زندگی کے دوران آپ پڑھنا‘ لکھنا نہ جانتے تھے۔ حدیبیہ کا واقعہ اپنی تاریخی اہمیت اور ایک حساس معاملے کی بناء پر بہت مشہور ہوا‘ اگرچہ تاریخ و احادیث کے حوالے سے اس سلسلے میں کافی اختلاف موجود ہے‘ لیکن اس کے باوجود ان حوالوں کی مدد سے اس موضوع پر روشنی ڈالنے میں کافی مدد ملتی ہے۔
سنہ ہجری کے چھٹے سال ماہ ذی القعدہ میں رسول اکرم عمرہ و حج کی غرض سے مدینے سے مکے کی جانب روانہ ہوئے اور حکم دیا کہ قربانی کے اونٹ بھی اپنے ہمراہ لے چلیں‘ لیکن جونہی مکہ سے ۲ فرسخ دور حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو قریش نے راستے کی ناکہ بندی کر دی اور آپ کو اور ساتھی مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا‘ باوجود اس کے ماہ حرام کا مہینہ تھا اور عہد جاہلیت کے قانون کے مطابق قریش کو یہ حق حاصل نہ تھا کہ وہ آپ کے لئے رکاوٹ پیدا کریں۔ آپ نے ان پر واضح کیا کہ میں صرف خانہ کعبہ کی زیارت کی غرض سے آیا ہوں‘ میرا کوئی اور مقصد نہیں‘ مناسک حج کی انجام دہی کے بعد میں واپس چلا جاؤں گا‘ لیکن قریش پھر بھی نہ مانے۔ ادھر دوسری طرف مسلمانوں خا اصرار تھا کہ زبردستی مکہ میں داخل ہو جائیں‘ لیکن آپ اس بات پر راضی نہ ہوئے اور آپ نے اس مہینے کے احترام اور کعبہ کی حرمت کو پامال نہ ہونے دیا اور پھر اتفاق رائے سے قریش اور مسلمانوں کے درمیان صلح کا معاہدہ طے پایا۔
صلح نامہ کی تحریری شکل
آنحضور نے حضرت علی(ع)سے صلح نامہ کو تحریر کروایا۔ آپ نے فرمایا لکھو‘ ”بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم“۔ سہیل بن عمرو جو قریش کا نمائندہ تھا‘ نے اعتراض کیا اور کہنے لگا کہ یہ آپ کا طریقہ کار ہے اور ہمارے لئے مانوس نہیں ہے‘ آپ یہ لکھو کہ ”بسمک اللھم“۔ آپ نے اس کی بات قبول کی اور حضرت علی(ع)سے فرمایا کہ آپ(ع)اسی طرح سے لکھیں‘ بعد میں فرمانے لگے‘ لکھو‘ یہ سمجھوتہ ہے محمد رسول اللہ اور قریش کے درمیان طے پا رہا ہے۔
قریش کے نمائندے نے اعتراض کیا اور کہا کہ ہم آپ کو اللہ کا رسول نہیں مانتے اور صرف آپ کے پیروکار آپ کو خدا کا رسول مانتے ہیں اور اگر ہم آپ کو رسول مانتے تو آپ سے جنگ نہ کرتے اور مکہ مکہ میں داخلے پر بھی پابندی نہ لگاتے‘ آپ اپنا اور اپنے والد کا نام لکھئے۔ آنحضور نے فرمایا‘ تم چاہے مجھے خدا کا رسول مانو چاہے نہ مانو لیکن میں اللہ کا رسول ہوں‘ اس کے بعد آپ نے حضرت علی(ع)کو حکم دیا کہ لکھو‘ یہ عہد نامہ‘ معاہدہ محمد بن عبداللہ اور قریش کے لوگوں کے درمیان طے پا رہا ہے۔ اس موقع پر مسلمانوں نے سخت برہمی کا اظہار کیا‘ ازاں بعد تاریخی حوالوں کے مطابق اس معاہدے کے بعض پہلوؤں پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔
سیرة ابن ہشام اور صحیح بخاری سے ”باب الشروط فی الجہاد و المصالحہ مع اہل الحرب“، ج ۳‘ ص ۲۴۲ میں تحریر ہے کہ
”رسول اللہ کی جگہ محمد بن عبداللہ لکھے جانے کا واقعہ معاہدہ تحریر ہونے کے آغاز ہی میں رونما ہوا‘ لیکن زیادہ تر کتابوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اعتراض اس وقت پیدا ہوا جب یہ لفظ حضرت علی(ع)نے تحریر فرمایا تھا اور رسول اکرم نے حضرت علی(ع)سے درخواست کی کہ اس لفظ کو مٹا دو‘ حضرت علی(ع)نے اس لفظ کو اپنے دست مبارک سے مٹانے سے معذرت چاہی۔ یہاں ایک بار پھر اختلاف پایا جاتا ہے‘ اہل تشیع کی روایات اس بات سے متفق ہیں کہ حضرت علی(ع)کے انکار کرنے پر آپ نے اپنے دست مبارک سے خود اس لفظ کو یعنی محمد رسول اللہ کو مٹا دیا اور اس کی جگہ محمد بن عبداللہ تحریر فرمایا۔“
اور بعض دوسری روایات میں اور اہل سنت کی روایات میں بھی بڑے کھلے الفاظ میں آیا ہے کہ
”آپ نے حضرت علی(ع)سے درخواست کی کہ اس لفظ کو مجھے دکھاؤ اور میرا ہاتھ پکڑ کر اس لفظ کو مٹا دو اور اس کی جگہ محمد بن عبداللہ لکھوں گا۔“
یہاں پر یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ تحریر کرنے والے حضرت علی(ع)تھے‘ آپ نہیں۔ ان شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ اہل تشیع اور اہل سنت دونوں کی رائے سے آپ نہ پڑھنا جانتے تھے اور نہ لکھنا۔
قصص القرآن کی کتاب میں ابوبکر عتیق نیشاپوری سور آبادی کی تفسیر قرآن جو پانچویں صدی میں لکھی گئی ہے اور فارسی زبان میں ہے‘ شائع ہوئی ہے‘ میں بھی حدیبیہ کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ
”جب سہیل بن عمرو جو حدیبیہ کے سمجھوتے میں قریش کا نمائندہ تھا جب لفظ ”رسول اللہ “ پر اعتراض کرتا ہے‘ تو کہتا ہے ”سہیل بن عمرو“ اس طرح لکھو ”ھذا ما صالح علیہ محمد بن عبداللہ سہیل بن عمرو“ یعنی یہ شرائط ہیں جن پر محمد بن عبداللہ نے سہیل بن عمرو سے سمجھوتہ کیا۔ آنحصور نے حضرت علی(ع)سے فرمایا‘ میرا نام یعنی لفظ رسول اللہ کو مٹا دو‘ علی(ع)کا دل اس بات کو نہ مانا تھا کہ لفظ رسول اللہ کو مٹا دیں اور آپ کے بار بار کہنے پر علی(ع)رنجیدہ خاطر ہوئے‘ یہاں تک کہ آنحضور نے فرمایا‘ میری انگلی اس لفظ پر رکھو تاکہ میں اسے مٹا دوں کیونکہ آپ اُمی تھے اور آپ لکھنا نہ جانتے تھے‘ حضرت علی(ع)نے آپ کی انگلی سے اس لفظ کی نشاندہی کروائی اور آپ نے اس لفظ کو مٹا دیا اور اس طرح سہیل بن عمرو نے جو بات کہی پوری کی۔“
یعقوبی اپنی تاریخ میں ”تاریخ یعقوبی“ میں لکھتا ہے کہ
”رسول اللہ نے حضرت علی(ع)کو حکم دیا کہ لفظ ”رسول اللہ “ کاٹ کر عبداللہ لکھیں۔“
صحیح مسلم میں بھی یہ نقل ہوا ہے کہ
”جب علی(ع)لکھے ہوئے لفظ کو مٹانے سے انکار کرتے ہیں “
روایت کچھ اس طرح ہے‘ آپ نے فرمایا:
فارنی مکاتها فاراه مکاتها فمحاها و کتب محمد ابن عبدالله
’ ’آنحضور نے علی(ع)سے فرمایا‘ اس لفظ کی نشاندہی کرو اور علی(ع)نے اس لفظ کی نشاندہی کرائی‘ پس آپ نے اس لفظ کو مٹا دیا اور محمد بن عبداللہ لکھا۔“(صحیح مسلم‘ ج‘ ص ۱۷۴)
اس روایت میں ایک جگہ تو یہ کہا جا رہا ہے کہ آنحضور لفظ مٹانے کے لئے علی(ع)سے لفظ کی نشاندہی کروا رہے ہیں اور دوسری طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ آپ نے اس لفظ کو مٹایا اور دوسرا لفظ ”محمد بن عبداللہ“ لکھا۔
آغاز میں یوں لگتا ہے کہ آپ نے مٹانے کے بعد تحریر فرمایا‘ درحقیقت حدیث کے راوی کا مقصود حتمی طور پر یہ ہے کہ علی(ع)نے لکھا‘ کیونکہ حدیث کے مطابق یہ کہا گیا ہے کہ آنحضور نے علی(ع)سے لفظ مٹانے کے لئے مدد مانگی۔
تاریخ طبری اور تاریخ کامل‘ ابن اثیر اور بخاری کی باب الشروط سے ایک اور روایت کے مطابق واضح طور پر کہا گیا ہے کہ آنحضور نے اپنے دست مبارکس ے لکھا‘ کیونکہ کہا گیا ہے کہ
فاخذه رسول الله و کتب
”آنحضور نے دستاویز لیا اور خود لکھا۔“
طبری اور ابن اثیر کی عبارت میں ایک اور جملے کا اضافہ کیا گیا ہے کہ
فاخذه رسول الله و لیس یحسن ان يکتب فکتب
”آنحضور نے سمجھوتہ کی دستاویز لی‘ جبکہ آپ لکھنا نہیں جانتے تھے اور لکھا۔“
طبری اور ابن اثیر کی روایت اس بات کی تائید کرتی ہے کہ آنحضور لکھنا نہیں جانتے تھے اور واقعہ حدیبیہ کے موقع پر آپ نے استثنائی طور پر لکھا۔
اس روایت سے شاید ان لوگوں کی بات کی تائید ہوتی ہو جو یہ کہتے ہیں کہ اگر آنحضور علم الٰہی کے ذریعے لکھنا چاہتے تو لکھ سکتے تھے‘ لیکن نہیں لکھتے تھے۔ اسی طرح آپ نے کبھی نہ کسی کے شعر پڑھے اور نہ کہے‘ بعض دفعہ اگر آپ کسی سے کوئی شعر پڑھنے کے لئے کہتے تو اس کے مختلف حصوں کی تقدیم و تاخیر کر کے یا اس کے الفاظ میں کمی بیشی کر کے اس کے شعری ہیئت کو تبدیل فرما دیتے‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ شعر و شاعری کو آپ کے مقام و مرتبے کے شایان شان نہ سمجھتا تھا۔
ارشاد خداوندی ہے:
( وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُّبِينٌ ) (یس‘ ۶۹)
”اور ہم نے اس (پیغمبر) کو شعر کی تعلیم دی اور نہ شاعری اس کے شان کے لائق ہے‘ یہ (کتاب) تو بس (نری) نصیحت ہے اور صاف صاف قرآن ہے۔“
اور اسی طرح دیکھنے میں آتا ہے کہ حدیبیہ کے سلسلے میں منقول واقعات میں تسلسل نہیں پایا جاتا‘ اگرچہ بعض منقول واقعات سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ اس واقعہ میں کلمہ ”بن عبداللہ“ جو آنحضور کے دستخط کا حصہ شمار ہوتا‘ آپ نے خود اپنے دست مبارک سے تحریر کیا تھا‘ لیکن انہیں حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اقدام ایک استثنائی اقدام تھا۔
اسدالغابہ میں تمیم بن جراشہ ثقفی کے حالات کے ضمن میں ایک حکایت نقل کی گئی ہے‘ جس سے واشگاف انداز میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ آنحضور عہد رسالت میں بھی نہ پڑھنا جانتے تھے‘ نہ لکھنا۔ یہ واقعہ کچھ یوں ہے:
”میں اور بنی ثقیف کا ایک گروہ آنحضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہوئے‘ پھر ہم نے آپ سے درخواست کی ہمارے ساتھ ایک معاہدہ کریں اور ہماری شرطوں کو تسلیم فرما لیں۔ آنحضور نے فرمایا‘ جو کچھ لکھنا چاہتے ہو لکھو اور مجھے دکھا دو۔ ہم چاہتے تھے کہ ہمارے لئے ریا اور زنا کی اجازت کی شرط کو قبول فرمائیں‘ اب کیونکہ ہم لکھنا نہیں جانتے تھے ہم نے علی(ع)سے رجوع کیا۔ حضرت علی(ع)کو جب ہماری شرطوں کے بارے میں آگاہی ہوئی تو آپ(ع)نے معاہدہ لکھنے سے انکار کر دیا‘ ہم نے ازاں بعد خالد بن سعید بن العاص سے اس سلسلے میں درخواست کی تو علی(ع)نے اس سے کہا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم سے وہ کیا تحریر کرانا چاہتے ہیں؟ اس نے جواب میں کہا‘ اس سے مجھے سروکار نہیں‘ وہ مجھ سے جو بھی تحریر کرنے کے لئے کہیں گے میں تحریر کروں گا۔ جب وہ آنحضور کے پاس جائیں گے تو آپ جو مناسب سمجھیں گے‘ کریں گے۔
چنانچہ خالد نے یہ معاہدہ لکھ دیا اور ہم اسے لے کر آنحضور کی خدمت میں گئے۔ آنحضور نے ایک شخص سے اسے پڑھنے کے لئے حکم دیا‘ دوران قرات جونہی لفظ ”ریا“ آپ نے سنا‘ فرمایا‘ میرا ہاتھ لفظ ”ریا“ پر رکھو‘ اس نے لفظ ”ریا“ پر آپ کا دست مبارک رکھا اور آپ نے اسے مٹا دیا اور اس آیت کی تلاوت فرمائی:
( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ) (بقرہ‘ ۲۷۸)
”اے ایمان والو! خدا سے ڈرو اور جو سود لوگوں کے ذمہ باقی رہ گیا ہے‘ اگر تم سچے مومن ہو تو چھوڑ دو۔“
اس آیت کو سن کر ہماری روح اور ایمان کو اطمینان پہنچا اور ہم نے آپ کی بات مان لی کہ ہم آئندہ ”ریا“ یعنی سود نہیں لیں گے۔ وہ شخص جو اس تحریر کو پڑھ کر سنا رہا تھا‘ جب ”زنا“ کے بارے میں بتایا تو ایک بار پھر آپ نے اپنا دست مبارک اس لفظ ”زنا“ پر رکھا اور یہ آیت پڑھ کر سنائی:
( وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا ) (اسراء‘ ۳۲)
”اور دیکھو سنا کے پاس بھی نہ بھٹکنا کیونکہ بے شک وہ بڑی بے حیائی کا کام ہے۔“(اسدالغابہ‘ ج ۱‘ ص ۲۱۶)
حیرت انگیز بات
چار سال قبل ایرانی اخبارات و رسائل نے ایک حیرت انگیز بات شائع کی کہ ہندوستان کے ایک مسلمان دانشور جس کا نام سید عبداللطیف ہے اور جو دکن حیدر آباد کے رہنے والے ہیں جو مشرق قریب اور ہندوستان کے تہذیبی مطالعاتی ادارے کے سرپرست بھی ہیں‘ نیز دکن حیدر آباد کی اسلامی مطالعاتی اکیڈمی کے بھی سرپرست ہیں‘ نے ہندوستان کی ایک اسلامی کانفرنس میں اس سلسلے میں ایک جامع اور طویل تقریر کی جو انگریزی زبان میں شائع کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ
”آنحضور عہد رسالت سے پہلے بھی پڑھنا‘ لکھنا جانتے تھے!!“(مجلہ روشن فکر‘ شمارہ ہشتم‘ مہرماہ و شمارہ پاتر دہم مہر ماہ ۱۳۴۴ و نشریہ کانون سرد فتزان شمارہ آیان ماہ ۱۳۴۴ نقل از نشریہ آموزشن و پرورشن شمارہ شہروپور ۱۳۴۴)
ڈاکٹر سید عبداللطیف کی اس تقریر کی اشاعت نے اس موضوع پر مطالعہ رکھنے والے ایرانی میں ہلچل اور حیرانگی پیدا کر دی۔ اس بات کے شائع ہونے کے ساتھ ہی اس موضوع میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ میں نے (شہید مطہری) عین اس موقع پر طلباء کے اجتماع سے ایک مختصر تقریر کی۔
اب کیونکہ عوامی سطح پر اس سلسلے میں خاصی دلچسپی نظر آ رہی تھی نیز ہ کہ موصوف کی تقریر میں کچھ ایسی باتیں پائی جاتی ہیں جو کسی دانشور کے لئے شائستہ نہیں ہیں۔ ہم ان کی باتوں کو نقل کرتے ہوئے ان کا ایک تنقیدی جائزہ لے رہے ہیں۔ موصوف کا دعویٰ ہے کہ
۱ ۔ آپ کا پڑھا‘ لکھا نہ ہونے کا سبب یہ بتایا ہے کہ مفسروں نے لفظ اُمی کا غلط ترجمہ اور غلط تفسیر کی ہے۔ یہ لفظ سورئہ اعراف کی آیت ۱۰۶ اور ۱۰۴ آنحضور کے وصف کے ضمن میں آیا ہے۔ آیت ۱۰۶ میں ارشاد خداوندی ہے:
( الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الأُمِّيَّ )
”جو لوگ ہمارے نبی اُمی کے قدم بہ قدم چلتے ہیں۔“
اسی طرح آیت ۱۰۴ میں ارشاد ہوتا ہے:
( فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ )
”پس (لوگو) خدا اور اس کے رسول نبی اُمی پر ایمان لاؤ۔“
موصوف کا کہنا ہے کہ مفسروں نے یہ سمجھا ہے کہ ”اُمی“ کا معنی ناخواندہ ہے‘ حالانکہ ”اُمی“ کا یہ مطلب نہیں ہے۔
۲ ۔ قرآن مجید میں دوسری آیات بھی ہیں جو وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں کہ رسول خدا پڑھنا بھی جانتے تھے اور لکھنا بھی۔
۳ ۔ بعض احادیث اور تاریخی حوالوں سے واشگاف انداز میں پتہ چلتا ہے کہ آنحضور پڑھنا‘ لکھنا جانتے تھے۔
موصوف نے جو دعویٰ کیا ہے اس کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔ اب ہم ترتیب وار ان تینوں نکات پر تنقیدی نگاہ ڈالتے ہوئے ان کے بارے میں تفصیلاً بھی گفتگو کریں گے۔
اُمی کا لغوی مفہوم
کیا آنحضور کے ناخواندہ ہونے کے اعتقاد کی بنیاد لفظ ”اُمی“ کی تفسیر تھی؟
اس دانشمند کا دعویٰ کہ آنحضور کے ناخواندہ ہونے کے اعتقاد کی بنیاد صرف لفظ ”اُمی“ کی تفسیر تھی‘ اس لئے بے بنیاد ہے کیونکہ
۱ ۔ مکہ اور عرب کی تاریخ ظہور اسلام کے وقت اس بات کی قطعی گواہ ہے کہ آپ ناخواندہ تھے۔ جیسا کہ ہم پہلے ہی اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں کہ ظہور اسلام کے وقت حجاز کے ماحول میں پڑھنے‘ لکھنے کا رواج اس قدر محدود تھا کہ اس صنعت سے واقف ایک ایک شخص کا نام اس زمانے میں شہرت کے باعث تواریخ میں ثبت ہے‘ جبکہ کسی نے بھی آنحضور کے نام نامی کو ان کے ناموں کی فہرست میں شامل نہیں کیا ہے۔ فرض کریں اگر قرآن میں اس موضوع کے بارے میں اشارہ یا صراحت نہ ہوتی تو لامحالہ مسلمانوں کو تاریخ کے فیصلے کے مطابق مجبوراً یہ قبول کرنا پڑتا کہ ان کے پیغمبر ناخواندہ تھے۔
۲ ۔ قرآن مجید میں سورئہ اعراف کی ایک اور آیت میں لفظ ”اُمی“ استعمال ہوا ہے جو اپنی جگہ واضح و آشکار ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی مفسرین لفظ ”اُمی“ کے مفہوم کے حوالے جو سورئہ اعراف میں آیا ہے کسی نہ کسی حد تک اختلاف رائے رکھتے ہیں‘ لیکن آپ کے ناخواندہ ہونے کے سلسلے میں مندرجہ ذیل آیت کے مفہوم کے بارے میں ان میں کسی قسم کا اختلاف رائے نہیں پایا جاتا۔ وہ آیت یہ ہے:
( وَمَا كُنتَ تَتْلُو مِن قَبْلِهِ مِن كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ ۖ إِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ ) (عنکبوت‘ ۴۸)
”اور اے رسول! قرآن سے پہلے نہ تو تم کوئی کتاب پڑھتے اور نہ اپنے ہاتھ سے تم لکھا کرتے تھے‘ ایسا ہوتا تو یہ جھوٹے ضرور تمہاری نبوت میں شک کرتے۔“
اس آیت میں واشگاف طور سے بیان کیا گیا ہے کہ آنحضور عہد رسالت سے قبل نہ پڑھنا جانتے تھے اور نہ لکھنا۔ اسلامی مفسرین نے عام طور سے اس آیت کی اسی طرح تفسیر بیان کی ہے‘ لیکن موصوف کا دعویٰ ہے کہ اس آیت کی تفسیر میں بھی غلطی ہوئی ہے۔ موصوف کا دعویٰ ہے کہ اس آیت میں لفظ ”کتاب“ دیگر آسمانی کتابوں یعنی تورات و انجیل کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس آیت میں یہ بات بیان کی جا رہی ہے کہ آپ نزول قرآن سے پہلے کسی آسمانی (مقدس) کتاب سے واقف نہ تھے‘ کیونکہ یہ آسمانی کتابیں عربی زبان میں نہیں تھیں اور اگر آپ ان کتابوں کو جو کہ عربی زبان میں نہ تھیں‘ پڑھ چکے ہوتے تو آپ جھوٹوں اور شک کرنے والے افراد کے الزامات کے ہدف قرار پاتے۔
یہ دعویٰ درست نہیں ہے‘ کیونکہ عربی لغت میں ”کتاب“ کا مطلب وہ نہیں ہے جو فارسی زبان میں عام طور سے مستعمل ہے‘ بلکہ اس لفظ کا اطلاق کسی بھی لکھی ہوئی چیز خواہ وہ خط ہو یا روزنامچہ‘ مقدس و آسمانی ہو یا غیر مقدس اور غیر آسمانی ہو‘ پر ہوتا ہے۔ یہ لفظ قرآن مجید میں متعدد بار استعمال ہوا ہے۔ یہ لفظ کبھی تو دو افراد کے درمیان ہونے والی خط و کتابت کے لئے استعمال ہوا ہے‘ جیسے ملکہ ’سبا‘ کے بارے میں آیا ہے:
( يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ إِنِّي أُلْقِيَ إِلَيَّ كِتَابٌ كَرِيمٌ ﴿﴾ إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ ) (نمل‘ ۲۹)
”اے میرے دربار کے سردارو! یہ ایک واجب الاحترام خط میرے پاس ڈال دیا گیا ہے‘ یہ سلیمان(ع)کی طرف سے ہے۔“
اور کبھی دو اشخاص کے درمیان ایک معاہدہ کے بارے میں استعمال ہوا ہے‘ مثال کے طور پر:
( الَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ ) (نور‘ ۳۳)
”وہ بردہ ”غلام“ جو کسی عہد یا شرط نامہ کے تحت خود کو آزاد کرانا چاہیں تو ان کی درخواست قبول کرو اور ان کے ساتھ شرط نامے کا مبادلہ کرو۔“
اور کبھی لوح محفوظ اور ملکوتی حقائق کے بارے میں جو کائنات کے واقعات سے مربوط ہے‘ استعمال ہوا ہے:
( ولا رطب ولا یا بس الا فی کتاب مبین ) (انعام‘ ۵۹)
”کوئی خشک و تر نہیں‘ مگر یہ کہ لوح محفوظ میں موجود ہے۔“
دراصل قرآن میں صرف جہاں لفظ ”اہل“ اس لفظ کے ساتھ آیا اور ”اہل الکتاب“ کے پیرائے میں آیا ہے تو اس کا مطلب وہ ایک خاص اصطلاح کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
اہل کتاب یعنی کسی بھی آسمانی کتاب کے ماننے والے پیروکار۔
سورئہ نساء کی آیت ۱۵۳ میں ارشاد ہوتا ہے:
( یسئلک اهل الکتاب ان تنزل علیهم کتابا من السماء )
”(اے رسول!) آسمانی کتاب کے پیروکار تم سے درخواست کرتے ہیں کہ ان کے لئے آسمان سے کوئی خط نازل کراؤ۔“
اس آیت میں یہ لفظ دو مرتبہ استعمال ہوا‘ ایک بار لفظ ”اہل“ کے ہمراہ اور دوسری مرتبہ بغیر ”اہل“ کہ جہان پر لفظ ”اہل“ کتاب کے ساتھ آیا ہے وہاں اس کا مطلب آسمانی کتاب اور جہاں لفظ ”کتاب“ مجرد طور پر استعمال ہوا ہے‘ وہاں اس کا مفہوم ایک عام خط ہے۔
اس کے علاوہ عبارت ”ولا تخطہ بیمینک“ بذات خود یہ مقصود بیان کرتی ہے کہ آپ نہ پڑھنا جانتے تھے‘ نہ لکھنا اور اگر پڑھنا‘ لکھنا جانتے تو آپ پر یہ الزام لگاتے کہ دوسری جگہ سے لے کر لکھا ہے‘ لیکن کیونکہ آپ نہ پڑھنا جانتے تھے اور نہ لکھنا تو ایسا الزام لگانے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
جی ہاں! یہاں پر ایک غور طلب نکتہ ہے جو شاید ڈاکٹر عبداللطیف کی رائے کی تائید کرتا ہو‘ گو کہ ان کی خود بھی اس کی جانب توجہ مبذول نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کسی بھی مفسر نے اس کی جانب توجہ کی ہے۔
سورئہ عنکبوت کی آیت ۴۸ میں لفظ ”تتلوا“ کا استعمال ہوا ہے‘ جس کا مصدر ”تلاوت“ ہے۔ تلاوت کا مطلب جیسا کہ مفردات میں راغب نے بیان کیا ہے‘ آیات مقدسہ کی قرات ہے اور یہ لفظ ”قرائت“ کے لفظ سے مختلف ہے‘ کیونکہ ”قرائت“ عمومی مفہوم کا حامل ہے‘ لہٰذا گو کہ لفظ ”کتاب“ کا مقدس اور غیر مقدس کتاب پر اطلاق ہوتا ہے‘ تاہم لفظ ”تتلوا“ صرف مقدس آیات کی قرات کے لئے مخصوص ہے۔ اب چونکہ یہاں پر لفظ ”تتلوا“ استعمال میں لایا گیا ہے تو بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر یہ قرآن مجید سے مربوط ہے‘ تاہمد وسری تمام پڑھنے والی چیزوں کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کہا گیا ہو‘ تم ابھی قرآن کی تلاوت کر رہے ہو‘ لیکن اس سے قبل کسی لکھی ہوئی چیز کو نہیں پڑھتے تھے۔
ایک اور آیت جس سے آپ کے ناخواندہ ہونے کے بارے اشارہ ملتا وہ سورئہ شوریٰ کی آیت ۵۲ ہے:
( وکذلک اوحینا الیک روحا من امرنا ما کنت تدری ما الکتاب ولا الایمان )
”ہم نے قرآن کو جو روح و حیات ہے‘ اپنے امر سے آپ پر وحی کے ذریعے نازل کیا ہے اور اس سے قبل تمہیں (آپ) کو معلوم نہ تھا لکھی ہوئی چیز کیا ہے اور ایمان کیا ہے۔“
یہ آیت بیان کر رہی ہے کہ وحی کے نازل ہونے سے پہلے پڑھائی لکھائی کے بارے میں آپ کو کوئی علم نہ تھا۔
ڈاکٹر سید عبداللطیف نے اپنی تقریر میں اس آیت کا حوالہ نہیں دیا۔ ممکن ہے وہ یہ کہیں کہ اس آیت میں لفظ ”کتاب“ کا مطلب وہ مقدس متون ہیں جو عربی کے علاوہ دوسری زبانوں میں نازل ہوئے۔ اس کا جواب وہی ہے جو ہم نے گزشتہ آیت میں بیان کیا۔
اسلامی مفسرین اس دلیل کی بناء پر جو کہ ہم پر آشکار نہیں ہے‘ بیان کرتے ہیں کہ لفظ ”کتاب“ کا صرف قرآن مجید پر اطلاق ہوتا ہے‘ لہٰذا اس آیت کی تفسیر سے کوئی استدلال پیش نہیں کیا جا سکتا۔
۳ ۔ اسلامی مفسرین لفظ ”اُمی“ کے مفہوم کے سلسلے میں ہرگز ایک رائے کے حامل نہیں رہے‘ جبکہ آپ کے ناخواندہ ہونے اور عہد رسالت سے پہلے آپ کی پڑھنے‘ لکھنے کے سلسلے میں لاعلمی کے بارے میں نہ صرف تمام مفسرین بلکہ سارے علمائے اسلام میں اشتراک رائے پایا جاتا ہے اور یہ بات بذات خود اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ آنحضور کے ناخواندہ ہونے کے بارے میں مسلمانوں کے اعتقاد کی بنیاد لفظ ”اُمی“ کی تفسیر نہ تھی۔ اب ہم لفظ ”اُمی“ کے مفہوم کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں:
لفظ اُمی اسلامی مفسرین کی نگاہ میں
اسلامی مفسرین نے لفظ ”اُمی“ کی تین طریقوں سے تفسیر و وضاحت کی ہے:
(الف) ناخواندہ ہونا اور لکھائی‘ پڑھائی کے بارے میں لاعلم ہونا‘
مفسرین کی اکثریت اس نظریہ کے حامی ہیں یا کم از کم اس رائے کو فوقیت دیتے ہیں۔ اس نظریے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ لفظ یعنی ”اُمی“ لفظ ”اُم“ سے جس کے معنی ماں ہیں‘ منسوب ہے۔ ”اُمی“ کا یہ مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص لکھتے ہوئے متون اور انسانی معلومات کے لحاظ سے پیدائشی فطرت پر باقی رہا ہو‘ یعنی پڑھنے‘ لکھنے کے بارے میں کسی قسم کی تعلیم حاصل نہ کی ہو یا پھر یہ لفظ ”امت“ سے منسوب ہے یعنی جو لوگوں کی اکثریت کی عادات و اطوار پر باقی ہو‘ کیونکہ عوام کی اکثریت کا لکھنے‘ پڑھنے سے کوئی سروکار نہ تھا اور بہت کم لوگ اس فن سے واقف تھے۔ بعض مفسرین کے نزدیک لفظ ”امت“ میں خلقت کا مفہوم مضمر ہے یعنی جو اپنی ابتدائی خلقت اور حالت کی صفات پر باقی رہا ہو‘ ناخواندگی ہے۔ اس سلسلے میں اعشتی مشہور عرب شاعر کے ایک شعر کو بطور سند پیش کیا گیا ہے۔(مجمع البیان‘ آیت ۷۸‘ سورئہ بقرہ کے ذیل میں)
بہرحال اب یہ لفظ چاہے ”اُم“ سے مشتق ہو‘ چاہے ”امت“ سے اس لفظ کے معنی ناخواندہ ہی ہیں۔
(ب) اُم القریٰ کے لوگ
اس رائے کے حامی اس لفظ ”اُمی“ کو ”اُم القریٰ“ یعنی مکہ سے منسوب کرتے ہیں۔ سورئہ انعام آیت ۹۳ میں مکہ کو ”اُم القریٰ“ سے تعبیر کیا گیا ہے:
”ولتنذر اُم القری و فی حولها
”تاکہ تم (آنحضور) اُم القریٰ (مکہ) اور اس کے گرد و نواح کے لوگوں کو ڈراؤ۔“
غالباً اس امکان کی بھی کتب تفاسیر میں اور متعدد شیعہ احادیث میں تائدی کی گئی ہے۔ جبکہ ان حدیثوں کو معتبر نہیں سمجھا گیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ انہیں یہودیوں نے وضع کیا ہے۔(مجلہ آستان قدس‘ شمارہ ۲)
اس امکان کو مختلف دلائل کی بناء پر رد کیا گیا ہے۔ ایک تویہ کہ لفظ ”اُم القریٰ“ کسی خاص جگہ یا مقام کا نام نہیں اور اس کی ایک عمومی صفت کے لحاظ سے نہ کہ خصوصیت کے ساتھ مکہ پر اطلاق ہوا ہے۔ ”اُم القریٰ“ یعنی ’بستیوں کا مرکز“، اس طرح جو مقام بھی بستیوں کا مرکز یا صدر مقام ہو گا‘ اسے اُم القریٰ کے نام سے پکارا جائے گا۔
سورئہ قصص کی آیت ۵۹ سے یہ نشاندہی ہوتی ہے کہ یہ لفظ صفت کو بیان کرتا ہے‘ نہ کہ اسم کو:
( وما کان ربک مهلک القری حتی یبعث فی امها رسولا )
”اور تمہارا پروردگار بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا‘ جب تک اس کے صدر مقام میں کوئی رسول نہ بھیج دے۔“
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قرآن زبان اور محاورہ میں جو مقام بھی کسی علاقے کا صدر مقام ہو وہ اس علاقے کا ”اُم القریٰ“ کہلائے گا۔
(ایک روایت کے مطابق لفظ اُمی ”اُم القریٰ“ یعنی مکہ سے منسوب ہے‘ اس بات کی بھی تائید کی گئی ہے کہ یہ لفظ عمومی صفت ہے نہ کہ خصوصی‘ اسم کیونکہ روایت کے مطابق کہا گیا ہے:
و انما سمی الامی لانه کان فی اهل مکة و مکة فی امهات القریٰ
”آنحضور کو اس لئے اُمی کہا گیا ہے کیونکہ وہ مکہ کے رہنے والے تھے اور مکہ ”اُم القریٰ“ ہے۔“)
نیز یہ کہ لفظ ”اُمی“ کا ان لوگوں پر اطلاق ہوا ہے جو مکہ کے رہنے والے نہ تھے۔ سورئہ آل عمران کی آیت ۲۰ میں ارشاد ہوتا ہے:
( وقل للذین اوتوا الکتاب و الامیین اأسلمتم )
”اہل کتاب اور اُمیین (غیر یہودی اور عیسائی) عربوں سے کہو کہ کیا تم اسلام لائے ہو۔“
کیونکہ عرب ایک آسمانی کتاب کے پیروکار نہ تھے‘ انہیں اُمیین کہا جاتا تھا‘ اس کے علاوہ اس لفظ کا یہودی عوام الناس جو کہ جاہل‘ ان پڑھ تھے اور اہل کتاب میں ان کا شمار ہوتا تھا‘ پر اطلاق ہوتا تھا۔
جیسا کہ سورئہ بقرہ کی آیت ۷۸ میں ارشاد ہوتا ہے:
( و منهم امیون لا یعلمون الکتاب الا امانی )
”اور کچھ ان میں سے ایسے ان پڑھ ہیں کہ وہ کتاب خدا کو صرف توہمات اور خیالات کی حد تک سمجھتے ہیں۔“
واضح رہے کہ قرآن میں جن یہودیوں کو ”اُمی“ قرار دیا ہے وہ مکہ کے رہنے والے نہ تھے‘ غالباً وہ مدینہ اور اس کے گرد و نواح میں رہائش پذیر تھے۔
تیسری بات یہ ہے کہ اگر کوئی لفظ ”اُم القریٰ“ سے منسوب ہو تو ادبی قاعدہ کے مطابق ”اُمی“ کی جگہ اسے ”قروی“ کہنا چاہئے‘ کیونکہ نحو اور علم و صرف کی نسبت کے باب کے اصول کے مطابق جب مضاف اور مضاف الیہ‘ الیہ سے منسوب کیا جاتا ہے‘ جب کہ مضاف ”اب“ یا ”اُم“ یا ”ابن“ یا ”بنت“ کا لفظ ہو تو لفظ کا مضاف الیہ سے نسبت دی جاتی ہے نہ کہ مضافت سے جیسا کہ ”ابو طالب‘ ابوحنیفہ‘ بنی تمیم سے منسوب کو طالبی‘ حنفی‘ تمیمی کہا جاتا ہے۔
(ج) عرب کے وہ مشرکین جو آسمانی کتاب کے پیروکار نہ تھے
اس نظریے کے بھی مفسرین پرانے ادوار سے حامل رہے ہیں‘ مجمع البیان سورئہ آل عمران کی آیت ۲۱ کے ضمن میں جہاں ”اُمیین“ کو ”اہل کتاب“ کے بالمقابل قرار دیا گیا ہے:
( وقل للذین اوتوا الکتاب والامیین )
”میں اس نظریے کو عبداللہ ابن عباس جو ایک عظیم صحابی اور مفسر تھے‘ سے منسوب کیا جاتا ہے اور سورئہ بقرہ کی آیت ۴۸ میں ابو عبداللہ سے روایت نقل کی گئی ہے‘ جبکہ آل عمران کی آیت ۴۵ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ طبری نے خود بھی اس آیت کے باب میں اس مفہوم کا انتخاب کیا ہے۔ زمخشری نے کشاف میں اس آیت اور آل عمران کی آیت ۴۵ کو اسی نہج پر تفسیر کیا ہے‘ جبکہ فخررازی نے اس امکان کا سورئہ بقرہ کی آیت اور آل عمران کی آیت ۲۰ کے ضمن میں حوالہ دیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مفہوم پہلے مفہوم سے الگ نہیں ہے‘ یعنی ایسا نہیں ہے کہ جو لوگ بھی کسی آسمانی مقدس کتاب کے پیروکار نہ ہوں اور پڑھے‘ لکھے اور تعلیم یافتہ بھی ہوں تو انہیں ”اُمی“ کہا جائے‘ لکہ اس لفظ کا اطلاق اس لئے مشرکین عرب پر اطلاق کیا گیا‘ کیونکہ وہ پڑھے‘ لکھے نہ تھے‘ لہٰذا مشرکین عرب کے سلسلے میں اس لفظ کا استعمال اس لئے کیا گیا کیونکہ لکھنا‘ پڑھنا نہ جانتے تھے‘ کسی آسمانی کتاب کے پیروکار نہ ہونے کے ناطے نہیں‘ لہٰذا جہاں یہ لفظ جمع کی شکل میں آیا ہے
اور عرب مشرکین پر اس کا اطلاق ہوا ہے تو وہاں اس امکان کو سامنے رکھا گیا‘ لیکن جہاں پر اس لفظ کا مفرد صیغہ استعمال میں لایا گیا اور آنحضور پر اس کا اطلاق ہوا تو کسی بھی مفسر نے یہ نہیں کہا کہ اس سے یہ مفہوم سامنے آتا ہے کہ آپ کسی آسمانی کتاب کے پیروکار نہ تھے۔ اس صورت میں صرف دو امکان سامنے آتے ہیں ایک یہ کہ آپ کو لکھائی کے بارے واقفیت نہ تھی اور دوسرے یہ کہ آپ مکہ کے رہنے والے تھے‘ اب کیونکہ دوسرا امکان قطعی دلیلوں کے ذریعے رد ہوا ہے‘ لہٰذا حتمی طور پر آنحضور کو اس لئے ”اُمی“ کے لقب سے پہچانا گیا‘ کیونکہ آپ نے پڑھنے‘ لکھنے کی تعلیم حاصل نہ کی تھی‘ اس لفظ کے مفہوم کے سلسلے میں یہاں پر ایک چوتھا امکان بھی سامنے آتا ہے اور وہ مقدس کتابوں کے مفہوم کے بارے لاعلمی ہے اور یہ وہی امکان ہے جسے ڈاکٹر عبداللطیف کی ذاتی اختراع ہے‘ غالباً انہوں نے اس مفہوم کو جو قدیم مفسرین سے منقول ہے‘ خلط ملط کر دیا ہے۔ موصوف کہتے ہیں کہ ”اُمی“ اور ”اُمیون“ کے الفاظ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر استعمال میں لائے گئے ہیں‘ لیکن ہمیشہ اس کے ایک ہی مفہوم کو سامنے رکھا گیا ہے۔ ”اُمی“ لفظ کے معنی لغت کی رو سے نوزائیدہ بچے کے ہیں‘ جو شکم مادر سے پیدا ہوا ہو‘ جو نہ بول سکتا ہو اور نہ لکھ سکتا ہو اور اس کے ضمن میں ”اُمی“ اسے کہا گیا ہے جو نہ لکھنا جانتا ہو اور نہ پڑھنا۔ ”اُمی“ لفظ کے یہ بھی معنی ہیں جو ”اُم القریٰ“ میں رہائش پذیر ہو۔ ”اُم القریٰ“ یعنی شہروں کی ماں یا صدر مقام اور یہ وہ صفت ہے جو آنحضور کے زمانے کے عرب شہر مکہ کے لئے استعمال کرتے تھے‘ لہٰذا جو مکہ کے رہنے والا تھا‘ اسے ”اُمی“ بھی کہا جاتا تھا۔
قدیم سامی متون کے بارے علم نہ رکھنے والے افراد نہ کہ جنہیں قرآن میں ”اہل الکتاب“ کے نام سے موسوم کیا گیا اور پہچانا گیا‘ جو درحقیقت یہود اور نصاریٹ تھے‘ وہ بھی اُمی کہلاتے تھے۔ نیز یہ کہ اسلام سے قبل ان عربوں کے لئے جو کسی مقدس آسمانی کتاب کے حامل نہ تھے اور تورات و انجیل کے پیروکار بھی نہ تھے‘ ان کے لئے بھی قرآن مجید میں لفظ ”اُمیون“ استعمال میں لایا گیا اور یہ لفظ ”اہل الکتاب“ کے مقابلے میں استعمال ہوا ہے۔
اب جبکہ لفظ ”اُمی“ کے لئے اتنے زیادہ اور مختلف معنی وجود رکھتے ہیں‘ یہ بات واضح نہیں ہے کہ قرآن کے مسلم اور غیر مسلم مفسرین اور مترجمین کیونکر صرف نوزائیدہ بچے کے ہی لئے ”اُمی“ کا استعمال کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ ان پڑھ اور نادان کو ہی کیوں ”اُمی“ کہتے ہیں‘ جس کے نتیجے میں انہوں نے اسلام سے قبل مکہ کے رہنے والوں کو ”اُمیون“ یا ان پڑھ گروہ قرار دیا ہے۔(نشریہ کانون سر دختران‘ شمارہ آیات ماہ ۱۳۴۴‘ ھ۔ش‘ نقل از نشریہ آموزش و پرورش شمارہ‘ شہرپور‘ ۱۳۴۴)
موصوف کی تقریر کا تنقیدی جائزہ
۱ ۔ قدیم زمانے سے اسلامی مفسرین نے لفظ ”اُمی“ اور ”اُمیون“ کا تین طریقوں سے مفہوم بیان کیا ہے‘ یا کم از کم ان الفاظ کے لئے تین امکانات کو سامنے رکھا ہے۔ اسلامی مفسرین نے ڈاکٹر عبداللطیف کے دعویٰ کے برخلاف لفظ کے صرف ایک ہی مفہوم کو بنیاد نہیں بنایا۔
۲ ۔ کسی مفسر نے یہ نہیں کہا ہے کہ لفظ اُمی کے معنی نوزائیدہ بچہ ہے‘ جس کا ضمنی مطلب پڑھنا‘ لکھنا نہ جاننے والا بنتا ہے۔ یہ لفظ بنیادی طور پر نوزائیدہ بچے کے لئے استعمال نہیں ہوتا‘ بلکہ اس عمر رسیدہ شخص کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو لکھنے‘ پڑھنے کے فن کے بارے میں بچے کی مانند ناواقف ہوتا ہے
۳ ۔ موصوف کا یہ بیان کہ قدیم سامی متون سے واقفیت نہ ہونا بھی لفظ ”اُمی“ کے مفاہیم کے زمرے میں آتا ہے‘ درست نہیں ہے‘ بلکہ قدیم مفسرین اور اہل لغت کے اقوال سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس لفظ کا جمع کے صیغہ ”اُمیین“ میں عرب مشرکین پر اطلاق ہوا ہے اور یہ ”اہل کتاب“ کے مقابلے میں استعمال ہوا ہے‘ کیونکہ عرب مشرکین غالباً پڑھنا‘ لکھنا نہیں جانتے تھے اور بظاہر یہودی اور مسیحی لوگوں نے عرب مشرکین کی تحقیر کے لئے اس لفظ سے کام لیا اور ان کے لئے منتخب کیا۔
یہ بات ممکن نہیں کہ کچھ لوگ کسی خاص زبان یا کتاب سے عدم واقفیت کی بناء پر جبکہ اپنی زبان سے اچھی طرح واقف ہوں اور اس میں پڑھنا‘ لکھنا جانتے ہیں‘ ”اُمیین“ کہلائیں‘ کیونکہ اس توجیہہ کے مطابق اس لفظ کی بنیاد ”اُم“ یا ”اُمت“ بھی ہے اور نوزائیدہ بچے کی صفات پر باقی رہنے کے مفاہیم کا بھی حامل ہے۔
اب رہی یہ بات کہ کیونکر اس لفظ کو لفظ ”اُم القریٰ“ کی بنیاد قرار نہیں دیا گیا‘ جبکہ اس امکان کو بھی مسلسل طور سے نظرانداز نہیں کیا گیا؟ تو اس میں کافی موشگافیاں کرنی پڑتی ہیں‘ جو ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں۔ لہٰذا اس ہندوستانی دانشور کی حیرت بے جا ہے‘ جبکہ اس دعوے کی تائید کے سلسلے میں اس لفظ کے بعض دیگر اسعتمال بھی ہیں جو روایات اور تواریخ میں ثبت ہیں‘ جن کے ذریعے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس لفظ کے معنی ناخواندہ کے علاوہ اور دوسرے کوئی اور معنی نہیں ہیں۔
بحارالانوار کی ج ۱۶‘ چاپ جدید‘ ص ۱۱۹ پر بیان ہوا ہے‘ جو آپ سے ہی منقول حدیث ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
نحن امة امیة لا نقرء ولا نکتب
”ہم ”اُمی“ قوم ہیں‘ نہ پڑھنا جانتے ہیں نہ لکھنا۔“
ابن خلکان اپنی تاریخ کی جلد چہارم میں محمد بن عبدالملک جو ”ابن الزیات“ کے نام سے مشہور ہے اور معتصم و متوکل (سلسلہ عباسیہ کے خلفاء) کے حالات کے ضمن میں لکھتا ہے کہ
”وہ اس سے قبل خلیفہ عباسی معتصم کے معاونین میں شاسمل تھا‘ جبکہ احمد بن شاذی وزیر کے عہدہ پر فائز تھا۔ ایک دن معتصم کے نام ایک خط موصول ہوا‘ وزیر نے اس خط کو معتصم کو پڑھ کر سنایا‘ اس خط میں لفظ ”کلاء“ کا استعمال ہوا تھا۔ معتصم جو معلومات نہ رکھتا تھا‘ اپنے وزیر سے دریافت کرتا ہے کہ ”کلاء“ کے کیا معنی ہیں؟ وزیر بھی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا‘ اس موقع پر معتصم نے ایک جملہ کہا ”خلیفة اُمی و وزیر عامی“ یعنی خلیفہ ناخواندہ ہے اور وزیر جاہل۔
بعد میں معتصم نے کہا کہ کسی معاون یا کاتب کو بلایا جائے‘ اس موقع پر ”ابن الزیات“ دربار میں موجود تھا‘ وہ دربار میں حاضر ہوا اور اس نے اس لفظ کی متعدد قریب المعنی الفاظ کی مدد سے وضاحت کی اور ان کے درمیان فرق کو بھی ظاہر کیا۔ یہی وہ بات تھی جس کے نتیجے میں ابن الزیات کے لئے وزارت کی راہ ہموار ہوئی۔ معتصم جو کہ عوام الناس کی زبان میں گفتگو کرتا تھا‘ لفظ ”اُمی“ سے اس کی ناخواندہ مراد تھی۔“
یہاں پر ایک ایرانی شاعر نظامی کہتا ہے:
احمد مرسل کہ خرد خاک اوست
”احمد مرسل جن کے ہاں عقل گھر کی لونڈی ہے۔“
ھر دو جہان بستہ فتراک اوست
”دونوں جہانوں پر ان کی نگاہوں کا احاطہ ہے۔“
اُمی گو پا بہ زبان فصیح
”اُمی ہے لیکن جب کلام فرماتے ہیں تو فصیح و بلیغ ہوتا۔“
از الف آدم و سبع مسیح
”اور آدم کے الف سے سبع مسیح تک سب کچھ ان کے سامنے ہے۔“
ھمچو الف راست بہ عہد وفا
”آپ الف کے مانند عہد و وفا میں استقامت کے حامل ہیں۔“
اول و آخر شدہ بر انبیاء
”آپ انبیاء میں اول بھی آخر بھی ہیں۔“
کیا قرآن میں آنحضور کے پڑھنے اور لکھنے کے دلائل ہیں؟
عبداللطیف صاحب کا دعویٰ ہے کہ بعض قرآنی آیات سے واضح طور پر یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ آنحصور پڑھنا‘ لکھنا جانتے تھے۔ سورئہ آل عمران کی آیت ۱۶۳ پر اس طرف اشارہ ملتا ہے:
( لقد من الله علی المومنین اذ بعث فبصع رسولا من انفسهم یتلوا علیهم آیاته ویزکیهم و لعلمهم الکتاب و الحکمة و ان کانوا من قبل لفی ضلال مبین )
”خدا نے یقینا ایمانداروں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا‘ جو انہیں خدا کی آیات پڑھ پڑھ کر سناتا‘ ان کی پاکیزہ اور ان کا تزکیہ کرتا ہے‘ انہیں (کتاب خدا) اور عقل کی باتیں سکھاتا ہے‘ اگرچہ یہ لوگ (آپ کی بعثت) سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں گھرے ہوئے تھے۔“
وہ فرماتے ہیں کہ
”قرآن پاک نے واشگاف الفاظ میں بیان کیا ہے کہ فریضہ یہ تھا کہ آپ اپنے پیروکاروں کو قرآن پاک کی تعلیم دیں اور یہ بات عیاں ہے کہ کسی شخص کی کم از کم استعداد و لیاقت جو کتاب یا اس میں شامل موضوعات و دانشمندانہ باتیں دوسروں کو تعلیم دے‘ جو بجائے خود قرآنی تعلیمات کا حصہ ہے‘ یہ ہے کہ قلم کا استعمال کر سکے یا کم از کم قلم سے لکھے ہوئے مواد کو پڑھ سکے۔“
یہ استدلال بھی حیرت انگیز ہے کیونکہ
۱ ۔ تمام مسلمان جس بات پر اتفاق رائے رکھتے ہیں‘ جسے موصوف غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں‘ وہ یہ ہے کہ آنحضور نبوت سے پہلے نہ پڑھنا جانتے تھے‘ نہ لکھنا۔ اس استدلال کی صداقت صرف اس حد تک ہے کہ آپ نبوت کے دوران سید مرتضیٰ‘ شعبی اور ایک اور گروہ عقیدہ کے مطابق پڑھنا‘ لکھنا جانتے تھے‘ لہٰذا ڈاکٹر عبداللطیف کا درست نہیں ہے۔
۲ ۔ جہاں تک نبوت کے عہد کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں بھی یہ استدلال مکمل نہیں ہے۔
البتہ بعض تعلیمات کے بارے میں جہاں پر ایک نئے متعلم کو پڑھنے‘ لکھنے کی تعلیم دی جاتی ہے یا یہ کہ ریاضی وغیرہ کی تعلیم ہو تو اس میں تعلیم حاصل کرنے والے کو قلم‘ کاغذ اور تختہ سیاہ وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے اور معلم کو عملاً اقدام کرنا چاہئے تاکہ متعلم تعلیم حاصل کر سکے‘ لیکن حکمت‘ اخلاق‘ حلال اور حرام جو پیغمبروں کے فرائض میں شامل ہے‘ تو اس کے لئے قلم‘ کاغذ‘ تختہ سیاہ وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
حکماء کا وہ گروہ جو ”مشائین“ کے نام سے معروف ہے‘ انہیں اس لئے مشائین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے‘ کیونکہ وہ راہ چلتے اپنے شاگردوں اور طالب علموں کو تعلیم دیتے تھے‘ لیکن وہ شاگرد جو ان تعلیمات کو ضبط تحریر میں لانا چاہتے تھے‘ تاکہ بھول جانے کی صورت میں انہیں دوبارہ یاد کر سکیں‘ ان کے لئے ضروری تھا کہ وہ ان تعلیمات کو تحریر کریں‘ لہٰذا آنحضور ہمیشہ ہدایت فرماتے تھے کہ ان کی باتوں کو تحریری شکل دیں۔ آپ فرماتے تھے:
قیدوا العلم
”علم کو ثبت کیا کرو۔“
وہ دریافت کرتے کہ ہماری جانیں آپ پر قربان یہ کیونکر ممکن ہے؟ آپ جواب میں فرماتے:
”اسے تحریر و ثبت کیا کرو۔“(بحار‘ چاپ جدید‘ ج ۲‘ ص ۱۵۱)
آپ نے مزید فرمایا:
نضر الله عبدا سمع مقالتی فوعاها و بلغها من لم یسمعها (کافی‘ ج ۱‘ ص ۴۰۳)
”خدا اس بندہ کو خوش و خرم رکھے‘ جس نے میری بات سنی‘ ازبر کی اور بعد میں اس تک پہنچائی جس نے نہ سنی ہو۔“
حدیث میں وارد ہے کہ آنحضور نے مسلسل تین بار فرمایا:
”خداوندا! میرے جانشینوں پر رحم فرما۔“
اصحاب نے فرمایا:
”یا رسول اللہ! آپ کے جانشین کون ہیں؟“
آپ نے فرمایا:
”میرے جانشین وہ ہیں جو میرے بعد میری احادیث و سنت پر عمل کریں گے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیں گے۔“
(بحار‘ چاپ جدید‘ ج ۲‘ ص ۱۴۴)
نیز آنحضور نے فرمایا:
من حق الولد علی الوالد ان یحسن اسمه و ان یعلمه الکتابة و ان یزوجه اذا بلغ (وسائل الشیعہ‘ ج ۳‘ ص ۱۳۴)
”باپ پر بیٹے کا یہ بھی حق ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے‘ اس کو پڑھنا‘ لکھنا سکھائے اور جب وہ بالغ ہو جائے تو اس کی شادی کر دے۔“
قرآن پاک میں واشگاف انداز میں ارشاد ہوتا ہے:
( یا ایها الذین آمنوا اذا توا ینقم بدین الی اجل مسمی فاکتبوه و لیکتب بینکم کاتب بالعدل ) (بقرہ‘ ۲۸۲)
”اے اہل ایمان جب ایک میعاد مقرر تک کے لئے آپس میں قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو اور لکھنے والے کو چاہئے کہ تمہارے درمیان ہونے والے قول و رار کو انصاف سے ٹھیک ٹھیک لکھے۔“
لہٰذا خدا اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اپنے دینی ورثے کی حفاظت کے لئے‘ نیز اپنی اولاد کے حقوق کی ادائیگی کے لئے اور دنیاوی امور کے انتظام و انصرام کے لئے لکھنے اور پڑھنے کی مقدس صنعت کے لئے کمر ہمت باندھیں۔ اس بناء پر ”تحریک قلم“ وجود میں آئی‘ یہ اسی تحریک کا نام ہے جس میں ہاتھ کی انگلیوں پر شمار کئے جانے والے افراد شاسمل تھے‘ ان افراد نے علم و دانش اور پڑھنے‘ لکھنے کے فن کے حصول کے لئے انتھک کوشش کی اور جنہوں نے مدینے کی کئی زبانیں سیکھیں‘ جس کے نتیجے میں وہ ان تعلیمات کے ذریعے اسلام کے پیغام کو متعدد زبانوں میں ھھھ پوری دنیا میں پھیلا دیا۔
ہم تواریخ میں پڑھتے چلے آئے ہیں کہ آنحضور نے اسیران بدر کو فدیہ لے کر آزاد کر دیا۔ ان میں سے بعض اسیر مفلس و نادار تھے‘ ان سے فدیہ لئے بغیر آزاد کر دیا گیا‘ جبکہ جو اسیر لکھنے کے فن سے واقف تھے‘ ان کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا کہ ہر ایک مدینے کے دس بچوں کو لکھنے کی تعلیم دے کر آزادی حاصل کرے۔
(تاریخ الخمیس دیار بکری‘ ج ۱‘ ص ۳۹۰‘ السیرہ الحلیبہ‘ ج ۲‘ ص ۲۰۴)
لکھنے کی صنعت کی ترویج کے سلسلے میں آنحضور کو اس حد تک اصرار تھا تاکہ مسلمان تعلیم و تعلم کی جانب راغب ہو سکیں‘ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود یہ استدلال پیش نہیں کیا جا سکتا کہ آپ کے لئے لوگوں کو تعلیم و تعلم کے زیور سے آراستہ کرنے اور پھر ترویج و تبلیغ دین اسلام کے بارے میں پڑھنے‘ لکھنے کا جاننا ضروری تھا۔
موصوف کا کہنا ہے کہ
”خدا نے سورئہ قلم کے آغاز میں قلم اور لکھنے کے بارے میں بتایا ہے۔ کیا یہ واضح صریح آیات اس امر کی دلیل نہیں کہ آنحضور پڑھنا‘ لکھنا جانتے تھے اور کتاب و قلم سے واسطہ تھا؟ یہ کیونکر ممکن ہے کہ آپ لوگوں کو حصول علم اور پڑھنا‘ لکھنا سیکھنے کی ترغیب دیں اور آپ ذاتی طور پڑھنے لکھنے کے لئے اہمیت کے قائل نہ ہوں؟ جبکہ یہ بات مسلم الثبوت ہے کہ آپ تمام احکامات میں دوسروں سے پیش پیش ہوتے تھے۔“(مجلہ روشن فکر)
یہ استدلال بھی حیرت انگیز ہے‘ لیکن یہ آیات اس امر کی دلیل ہیں کہ خدا نے یہ آیات ایک انسان پر نازل فرمائیں تاکہ وہ خدا کے بندوں کو صحیح راستہ دکھلائے‘ نیز یہ کہ آنحضور بھی جن کے قلب مقدس پر یہ آیات نازل ہوئیں‘ بنی نوع بشر کے لئے پڑھنے‘ لکھنے کی اہمیت کو جانتے تھے‘ لیکن یہ آیات کسی بھی پہلو سے اس امر کی دلیل نہیں ہیں کہ خدا اور اس کے رسول کو پڑھنے‘ لکھنے اور قلم و کاغذ سے کوئی سروکار ہے۔
موصوف کا کہنا ہے کہ
”آنحضور تمام احکامات کے سلسلے میں پیش پیش ہوتے تھے‘ لہٰذا کیونکر یہ ممکن ہے کہ پڑھنے‘ لکھنے کی ضرورت کا حکم دیا ہو اور بذات خود اس پر عمل نہ کیا ہو؟ یہ بات ایسی ہی ہے کہ ایک ڈاکٹر جو کسی بیمار کے لئے کوئی نسخہ تجویز کرتا ہے‘ تو اسے چاہئے کہ اس نسخے کو پہلے خود استعمال میں لائے۔ فطری طور پر اگر ڈاکٹر بیمار ہوتا ہے تو اسے بھی دوسرے بیماروں کی طرح دوا استعمال کرنی پڑے گی‘ یعنی دوسروں کے علاج سے قبل پہلے وہ اپنا علاج کرے گا‘ لیکن اگر بیمار نہ ہوا ہو اور اسے دوا کی ضرورت ہوئی ہو تو پھر کیا ہو گا؟“
ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا دوسروں کی طرح آنحضور کو بھی پڑھنے‘ لکھنے کی صنعت ضرورت ہوتی ہے کہ عام لوگوں کے لئے کمال و بلندی کی علامت بنتا ہے اور اس صنعت کا ان میں نہ ہونا نقص سمجھ جاتا ہے یا یہ کہ آنحضور ایک خصوصی کیفیت کے حامل تھے کہ ان کے لئے یہ صنعت جاننا ضروری نہیں تھا۔ آپ عبادت‘ جانثاری‘ تقویٰ‘ سچائی‘ صداقت‘ حسن خلق‘ جمہوریت پسندی‘ انکساری و عاجزی اور دیگر تمام آداب و صفات حسنہ میں سب کے لئے اسوہ تھے‘ کیونکہ آپ کے لئے ان تمام تر صفات کا ہونا باعث کمال اور ان فقدان کا ایک نقص سمجھا جاتا‘ جبکہ عرف عام میں پڑھا‘ لکھا ہونا وہ آپ کے لئے ضروری نہیں تھا۔
دراصل بنی نوع انسان کے لئے تعلیم یافتہ ہونا اس لئے ضروری ہے کیونکہ یہ وہ ذریعہ ہے کہ جس کی مدد انسان ایک دوسرے کی معلومات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں‘ چنانچہ حروف ان کی شکل وہیات اور صنعت خط وہ علامات ہیں کہ انسانوں نے ایک دوسرے کے افکار و مقاصد کو سمجھنے کے لئے وضع کی ہیں۔ صنعت خط کے سیکھنے سے ایک فرد دوسرے فرد کو اور ایک قوم کسی دوسری قوم کو اپنی معلومات منتقل کرتی ہے۔ اسی طرح معلومات کا سلسلہ نسل در نسل منتقل ہوتا چلا جاتا ہے‘ لہٰذا بنی نوع انسان اس ذریعے سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی معلومات کو نابودی و بربادی اور فراموشی سے بچاتے ہوئے محفوظ کرتا ہے۔ چنانچہ اس لحاظ سے تعلیم یافتہ ہونا کسی بھی زبان سے واقفیت رکھنے کے مترادف ہے‘ لہٰذا جو فرد زیادہ تعداد میں زبانیں جانتا ہو گا‘ وہ دوسروں سے معلومات حاصل کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہو گا۔
زبان دانی اور پڑھا‘ لکھا ہونا بذات خود حقیقی ”علم“ نہیں ہے‘ تاہم حقیقی علم کے کسب کے لئے ایک ذریعہ ہے اور کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔
علم یہ ہے کہ انسان کو ایک حقیقت اور ایک قانون یا ضابطے تک رسائی حاصل ہو جو وجود و ہستی کے لحاظ سے ایک اٹل سچائی ہو۔ طبیعیات‘ منطق‘ ریاضی علوم علم کے زمرے میں آتے ہیں‘ کیونکہ انسان ان علوم کے ذریعے مختلف مظاہر اور ذہنی کیفیات کے درمیان ایک حقیقی و تکوینی اور علّی و معلولی رابطے کو منکشف کرتا ہے‘ لیکن کسی زبان کا جاننا اور نحو و صرف دانی وغیرہ بذات خود علم نہیں کہلاتا‘ کیونکہ مختلف اشیاء کے درمیان رابطے اور رشتے کے بارے میں آگاہ نہیں کرتا‘ بلکہ صرف اور صرف وضع کئے گئے اصولوں اور فرضیوں کے ایک سلسلے کے بارے میں آگاہی دیتا ہے‘ لہٰذا اس قسم کے امور و مسائل کا جاننا یا ان کے بارے میں واقفیت کا حصول حقیقی ”علم“ تک رسائی کی ایک کنجی ہے اور بذات خود اسیر ”علم“ کے حقیقی مفہوم کا اطلاق نہیں ہوتا۔
اس طرح سے انہیں وضع شدہ امور اور قواعد و ضوابط بعض حقیقی واقعات رونما ہوتے ہیں‘ مثلاً زبانوں اور ان کی تراکیب کا ارتقاء کہ بجائے خود افکار کے ارتقاء کا ایک ضمنی ن تیجہ ہوتا ہے اور ایک فطری قانون کے موافق وقوع پذیر ہوتے ہیں‘ یقینا ان طبیعی اور فطری قوانین کے بارے میں آگاہی علم و فلسفہ کا حصہ ہے۔ اس طرح سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ تعلیم یافتہ ہونا اس لحاظ سے اہم ہے کہ انسان کو دوسروں کے علم و دانش کی کنجی مل جاتی ہے۔
اب ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا حصول علم اور اس استفادہ کرنے کا دوسروں کے علم‘ عقل و دانش کی کنجی ہاتھ میں ہونے پر انحصار ہے؟ کیا پیغمبر (ع)ؑکو عالم بشریت کے دوسرے افراد کے دانش اور علم سے استفادہ کرنا چاہئے؟ اگر یہ بات درست ہے تو فہم و فراست اور تخلیقی صلاحیتوں کا کیا بنے گا؟ الہام کسی زمرہ میں ہوگا‘ عالم طبیعت سے بلاواسطہ علم و دانش کا حصول کا کیا بنے گا؟
اتفاق کی بات ہے کہ علم کا بدترین درجہ دوسرے کی تحریروں اور تقریروں سے حاصل ہوتا ہے‘ جبکہ طالب علم کی ذاتی شخصیت اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا اور یہ بھی یاد رہے کہ انسانی تحریروں میں توہم پرستی اور حقائق خلط ملط ہوئے ہوتے ہیں۔
مشہور فرانسیسی دانشور اور فلسفی ڈیکارٹ نے اپنے مضامین کے ایک مجموعہ کی اشاعت کے بعد ہر طرف شہرت حاصل کی اور اس کی تازہ تقاریر کو تمام لوگوں میں پذیرائی ملی اور مقبولیت حاصل ہوئی۔
ڈیکارٹ کے مضامین کا ایک پرستار جس فکری رسائی اور سوچ کا انداز ڈاکٹر عبداللطیف کی مانند تھا‘ یہ سمجھا کہ ڈیکارٹ کو کتابوں کا ایک خزانہ مل گیا ہے اور انہیں کتابوں سے استفادہ کرتے ہوئے تازہ افکار پر مبنی مضامین شائع کر رہا ہے۔ یہ شخص ڈیکارٹ سے ملاقات کے لئے گیا اور اس سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اسے اپنا کتبہ خانہ دکھائیں۔ ڈیکارٹ اس شخص کو ایک چار دیواری میں لے گیا‘ جہاں پر تشریح (پوسٹ مارٹم) شدہ بچھڑے کی لاش دکھائی اور اس شخص سے کہا‘ یہ ہے میرا کتب خانہ! میں نے ان کتابوں سے معلومات حاصل کی ہیں۔
مرحوم سید جمال الدین اسدآبادی کہا کرتے تھے:
”یہ ایک عجیب بات ہے کہ بعض لوگ اپنی ساری عمر چراغ کی روشنی میں اپنے جیسے انسانوں کی لکھی ہوئی کتابوں اور تحریروں کے مطالعے میں صرف کر دیتے ہیں‘ لیکن ایک رات بھی اس چراغ کے بارے میں غور و فکر نہیں کرتے‘ اگر کسی رات میں کتاب کو ایک طرف رکھ دیں اور چراغ کے بارے میں غور و فکر کریں‘ زیادہ اور وسیع معلومات ان کو حاصل ہوں۔“
کوئی بھی پیدائشی طور پر عالم نہیں ہوتا‘ سارے لوگ ابتداء میں ان پڑھ و نادان ہوتے ہیں‘ بعد میں کم و بیش عالم بن جاتے ہیں۔
زیادہ واضح الفاظ میں یہ کہ ذات الٰہی کے سوا ہر شخص جاہل ہے اور مختلف توانائیوں و دیگر علل و اسباب کے ذریعے عالم بن جاتا ہے‘ لہٰذا ہر شخص کو معلم کی ضرورت ہے‘ یعنی اسے ایک طاقت و توانائی کی ضرورت ہو جو الہامی طور پر دونوں راہیں دکھلائے۔
آنحضور کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے:
( الم یجدک یتیما فآوی ووجدل ضالا فهدی ووجدل عائداً فا غنی ) (ضحی‘ ۸)
”کیا اس (خدا) نے تمہیں یتیم پا کر پناہ نہ دی اور تم کو (اپنی قوم) میں غیر معروف پایا تو (تمہاری معرفت کی طرف سب کی) رہبری نہ کی اور تم کو تنگ دست دیکھ کر مستغنی نہ کیا؟“
لیکن اس بات کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ معلم کے بارے میں بتایا جائے کہ وہ کیا اور کون ہونا چاہئے؟ کیا انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی دوسرے انسان ہی سے علم حاصل کرے؟ لہٰذا اس بات کی روشنی میں ایسے معلم کے پاس دوسرے انسانوں کے دانش کی کنجی جو پڑھے لکھے ہونے کا دوسرا نام ہے‘ ہونی چاہئے؟ کیا انسان وہ ستون اور بنیاد نہیں ہے کہ وہ تخلیق کار ہو؟ کیا انسان دوسرے انسانوں سے بے نیاز ہو کر کتاب طبیعی امور اور خلقت کا مطالعہ کرے؟ کیا انسان کا وہ مقام اور درجہ نہیں ہے کہ وہ عالم غیب اور ملکوت تک رسائی حاصل کرے اور خدا اس کا براہ راست معلم و رہنما ہے؟ قرآن مجید آنحضور کے بارے میں فرماتا ہے:
( وما ینطق عن الهوی ان هو الا وحی یوحی علمه شدید القوی ) (نجم‘ ۳-۵)
”اور وہ تو اپنی نفسانی خواہش سے کچھ بولتے ہی نہیں‘ یہ بس وحی ہے جو بھیجی جاتی ہے ان کو نہایت طاقتور نے تعلیم دی ہے۔“
اور حضرت علی(ع)آپ کی ذات مبارک کے بارے میں فرماتے ہیں:
ولقد قرن الله به منز کان فطیما اعظم ملک من ملائکته یسلک به طریق المکارم و محاسن اخلاق العالم
(نہج البلاغہ‘ خطبہ ۱۹۰)
ان طرف کہ عشق می افزود درد
بو حنیفہ و شافعی درسی نکرد
عاشقان راشد مدرس حسن دوست
دفتر و درس و سبقشان روی اوست
خامش اند و نعرئہ تکرا و شان
می روود تا عرش و تخت یار شان
درسشان آشوب و چرخ و لولہ
نی زیارات است و باب و سلسلہ
سلسلہ این قوم جعد مشکبار
مسالہ دور است اما دور یار
ہرکہ در خلوت بہ بنیش یافت راہ
او زدا نشہا بخوید دستگاہ
(زیارات‘ باب اور سلسلہ اس زمانے کی تین کتابوں کے نام ہیں)۔
عارف از پرتو می راز معانی دانست
گوہر ہر کسی از ایں لعل توانی دانست
شرح مجموعہ گل مرغ سحر دانہ و بس
کہ نہ ہر کو ورقی خواند معانی دانست
ای کہ از دفتر عقل آیت عشق آموزی
ترسم این نکتہ بہ تحقیق نشانی دانست
(ثنوی دفر سوم)
ابن خلدون اپنی مشہور کتاب مقدمہ کے”فی ان الخط و الکتابة من عدار الصنائع الاستاینة“ کے باب کے ضمن میں ایک طویل بحث کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ
”تحریر ایک بے مثال چیز ہے اور انسانی سماج کی سرمایہ حیات ہے اور سماج کے افراد معلومات کے حصول کے سلسلے میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔“
ازاں بعد وہ مختلف تہذیبوں میں فن تحریر کے ارتقائی عمل کے بارے میں گفتگو کرتا ہے‘ اس طرح وہ سرزمین حجاز کے ماحول میں فن تحریر کے وجود میں آنے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتا ہے:
”صدر اسلام میں تحریر فنی حوالے سے اپنے ابتدائی مراحل طے کر رہا تھا اور صحابہ کی تحریریں رسم الخط کے لہاظ سے عیوب و نقائص سے مبرا نہیں تھیں‘ لیکن تابعین تبع تابعین نے اس رسم الخط کو قرآن پاک کی کتابت میں تبرکاً پاسداری کی اور اسی میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کی‘ جبکہ ان رسوم الخط میں سے بعض قاعدہ اور اصول کے مطابق نہ تھے‘ لہٰذا قرآن پاک کے بعض الفاظ آج بھی خاص قسم کے رسم الخط میں محفوظ ہیں۔“
وہ مزید کہتا ہے:
”کم فنی اور عملی کمالات جو رسم الخط کے سلسلے میں بھی پائے جاتے ہیں‘ زندگی کے اسباب و وسائل پر منحصر ہیں اور ان کا مطلق کمالات سے کسی حد تک تعلق ہے‘ ان کمالات کا فقدان دراصل انسان کی انسانیت میں نقص کا نتیجہ ہے جو بجائے خود ایک حقیقی نقص ہے اور اس سلسلے میں غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔“
ابن خلدون اس کے بعد آنحضور کے اُمی ہونے کے مسئلے کو پیش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ
”آنحضور اُمی تھے اور اُمی ہونا ان کے لئے کمال محسوب ہوتا ہے‘ کیونکہ آپ نے اپنے علم کو عالم بالا سے حاصل کیا تھا‘ جبکہ اُمی ہونا ہمارے لئے نقص محسوب ہوتا ہے‘ کیونکہ ہمارا اُمی ہونا جاہل اور بے خبر ہونے کے مترادف ہے۔“
ایک اور آیت جس کا موصوف نے سہارا لیا ہے اور اس کو بطور سند پیش کرتا ہے‘ وہ ورئہ ”لم یکن“ کی وہ ھھھ بیان کرتا ہے کہ
”بڑی حیرت کی بات ہے کہ قرآن پاک کے مترجمین اور مفسرین نے اس آیت کی جانب‘ جس میں آنحضور کی تعریف کی گئی ہے‘ توجہ نہیں کی ہے کہ اس آیت میں ارشاد ہوا ہے:
( رسول من الله یتلوا صحفا مطهرة ) (بینہ‘ ۲)
آپ جو اللہ کے رسول ہیں اور مقدس و پاک صحیفوں کی قرات کرتے ہیں۔“
یہاں پر ہمیں اس بات پر متوجہ ہونا چاہئے کہ ان آیات میں یہ نہیں کہا گیا کہ آپ ان پاک مقدس صحیفوں کو اپنے پاس سے لائے ہیں ا ور خود ساختہ و پرداختہ ہیں‘ لکہ اس کی وضاحت ہو چکی ہے کہ آپ ان صحیفوں کی قرات کرتے ہیں اور دیکھ کر پڑھتے ہیں۔“
اس استدلال کا جواب اس طرح واضح ہوتا ہے‘ جب مذکورہ آیت کے دو الفاظ یعنی ”صحیفہ“ ”یتلوا“ کی وضاحت کی جاتی ہے‘ صحیفہ کا مطلب ”کاغذ“ ہے اور لفظ ”صحف“، لفظ ”صحیفہ“ کا جمع کا صیغہ ہے۔ اس آیت کا مفہوم بعد میں آنے والی آیات کی رو سے جہاں ارشاد ہوتا ہے:
( فیها کتب قیمة )
”آنحضور پاک و مقدس اوراق جن پر سچ اور پائیدار تحریریں ثبت ہیں‘ لوگوں کے سامنے پڑھتے ہیں۔“
ان اوراق کا مقصود یہ ہے کہ یہ وہی چیزیں ہیں جن پر قرآنی آیات کو تحریر کیا جاتا تھا‘ لہٰذا اس کا مطلب یہ ہوا کہ آنحضور قرآن پاک کی لوگوں کے سامنے تلاوت فرماتے تھے۔
لفظ ”یتلو“ کا مصدر ”تلاوت“ ہے۔ ہم نے کہیں پر یہ نہیں دیکھا کہ تلاوت کا مطلب دیکھ کر پڑھنا ہو اور لفظ قرات اور ”تلاوت“ سے جو مجموعی طور سے مفہوم سامنے آیا ہے‘ یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہر کی جانے والی بات تلاوت نہیں ہوت۔ قرات اور تلاوت اس بیان کے بارے میں ہے جسے پڑھا جائے اور ایک ہی متن سے مربوط ہو‘ نیز یہ کہ جو متن دیکھ کر پڑھا جائے یا ازبر یاد ہو اور پڑھا جائے‘ مثال کے طور پر قرآن پاک کا پڑھنا‘ قرات اور تلاوت چاہے ناظرہ پڑھا جائے یا حفظ ہو اور پڑھا جائے‘ ان دونوں لفظوں میں تلاوت‘ قرات ایک فرق کو سامنے رکھتے ہوئے‘ تلاوت صرف اور صرف اس متن کے پڑھنے کے لئے مخصوص ہے جو مقدس ہو جبکہ لفظ قرات مقدس آیات اور غیر مقدس تحریروں کے لئے مستعمل ہے۔ مثال کے طور پر یہ بات درست ہے کہ یہ کہا جائے کہ میں ”گلستان سعدی کی قرات کی“ لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ ”میں نے گلستان سعدی کی تلاوت کی“ بہرحال اگر وہ متن ازبر پڑھا جائے یا دیکھ کر (ناظرہ) تو اس کا نہ تو قرات کے مفہوم میں عمل دخل ہے اور نہ ہی تلاوت کے مفہوم میں‘ لہٰذا مذکورہ آیت صرف یہ بیان کر رہی ہے کہ آنحضور قرآنی آیات کو جو صفحات پر لکھی ہوئی ہیں‘ لوگوں کو پڑھ کر سناتے ہیں۔
بنیادی طور پر آنحضور کو اس بات کی کیونکر ضرورت ہو کہ آپ قرآنی آیات دیکھ کر پڑھیں؟ قرآن پاک کو سینکڑوں مسلمانوں نے حفظ کیا ہوا تھا‘ کیا آنحضور بذات خود حافظ نہ تھے اور کیا انہیں اس امر کی ضرورت تھی کہ دیکھ کر پڑھیں؟ خدا نے آپ کے لئے حفظ کی ضمانت دی ہوئی تھی:
( سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسَىٰ ) (اعلی‘ ۷)
”ہم تمہیں (ایسا) پڑھا دیں گے کہ کبھی بھولو ہی نہیں۔“
مجموعی طور پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قرآنی آیات سے کسی صورت میں یہ استدلال پیش نہیں کیا جا سکتا کہ آنحضور پڑھنا‘ لکھنا جانتے تھے‘ بلکہ اس بات کے برعکس استدلال کیا جا سکتا ہے اور بفرض محال اگر یہ کہا جائے کہ آنحضور پڑھنا‘ لکھنا جانتے تھے تو یہ بات تو عہد رسالت سے مربوط ہے‘ جبکہ موصوف کا دعویٰ تو یہ ہے کہ آپ عہد رسالت سے قبل پڑھنا‘ لکھنا جانتے تھے۔
احادیث و تواریخ
ڈاکٹر عبداللطیف کا دعویٰ ہے کہ احادیث و تواریخ سے بھی آپ کے لکھنے‘ پڑھنے کے بارے استدلال پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں وہ دو واقعات کا حوالہ دیتا ہے:
پہلا واقعہ
وہ کہتا ہے:
”بخاری کتاب ”العلم“ میں ثبت شدہ روایات و احادیث کے ضمن میں نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ آنحضور نے اپنے داماد علی(ع)کو ایک خفیہ خط دیا اور خصوصیت کے ساتھ ان سے فرمایا کہ اس خط کو نہ کھولیں اور جس کے نام یہ خط عنوان کیا گیا ہے‘ اس کا نام اچھی طرح ذہن نشین فرما لیں۔ اب جبکہ آنحضور کے خفیہ خط کو ان کے داماد اور معتمد خاص علی(ع)کو بھی کھولنے کی اجازت نہ تھی تو اس خط کو لکھنے والے سوائے آنحضور کے اور کون ہو سکتا ہے؟“(ج ۱‘ ص ۲۰)
افسوس ہے یہ روایت جو صحیح بخاری میں ہے اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس خط حامل علی(ع)تھے‘ جبکہ موصوف اس بات سے کہ آنحضور خط کے نفس مضمون سے علی(ع)کو بھی بے خبر رکھیں‘ یہ دلیل پیش کرنا چاہتا ہے کہ اس خط کو آنحضور نے بذات خود تحریر فرمایا تھا۔
صحیح بخاری کے باب ”العلم“ سے منقول ہے کہ آنحضور نے ایک گروہ کو روانہ فرمایا اور ان کے امیر کو ایک خط دیا اور فرمایا کہ فلاں علاقے میں پہنچنے سے قبل خط کو نہ کھولنا۔ یہاں پر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ ان کا امیر علی(ع)تھا اور روایت کے نفس مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ خط کے حامل کو ہی خط کو کھولنا ہے‘ نہ کہ کسی تیسرے شخص نے۔ جیسا کہ ڈاکٹر عبداللطیف کی سوچ ہے!
بخاری نے جو واقعہ اس ضمن میں بیان کیا ہے‘ واقعہ ” ۱ بطن نخلہ“ کے بارے میں ہے اور یہو اقعہ سیر و تواریخ کی کتابوں میں رقم ہے۔
سیرئہ ابن ہشام ج ۱‘ ص ۶۰۱ میں ”سرتة عبداللہ بن جحش“کے عنوان سے اور بحارلانوار میں بھی اسی کی مانند روایت نقل کی گئی کہ خط کا حامل عبداللہ بن جحش تھا۔ کہا جاتا ہے کہ آنحضور نے اس سے کہا کہ دو دن کی مسافت طے کرنے کے بعد خط کو کھولنا اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اس کے مطابق عمل کرنا۔ عبداللہ بن جحش نے دو دن کی مسافت طے کرنے کے بعد خط کو کھولا اور آپ کے حکم کی تعمیل کی۔
مغازی و اقدی واضح طور سے اور واشگاف الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ خط لکھنے والے آنحضور نہ تھے‘ بلکہ ابی بن ابی کعب تھا‘ وہ کہتا ہے کہ
”عبداللہ بن جحش سے منقول ہے کہ ایک رات نماز عشاء کے بعد آنحضور نے مجھ سے فرمایا‘ صبح سویرے تیار اور ہتھیاروں سے سمیت میرے پاس آنا‘ تمہیں ایک مہم پہ روانہ کرنا ہے۔ فجر کی نماز کے بعد جو آنحضور کی امامت میں مسجد میں ادا کی گئی‘ میں آنحضور سے قبل ہتھیاروں سے لیس مکمل طور پر آپ کے دولت خانے پر آمادہ تھا‘ کچھ اور لوگ بھی میری طرح آماد تھے۔ آنحضور نے ابی بن ابی کعب کو بلوایا اور اسے حکم دیا کہ ایک خط تحریر کرے۔ آنحضور نے وہ خفیہ طور مجھے دیا اور فرمایا‘ میں نے تمہیں اس لشکر کا امیر بنایا اور دو ر اتوں کی مسافت جو فلاں راستے سے گزرتے ہوئے طے ہونے کے بعد میرے اس خط کو کھولنا اور جو کچھ اس میں تحریر ہے اس پر عمل کرنا۔ میں نے دو روز کی مسافت طے کرنے کے بعد خط کو کھولا تو اس میں آپ کا یہ حکم تھا کہ قریش کے کارواں سے جدا ہو کر ضروری اطلاعات کے حصول کے لئے ”بطن مکہ“ (مکہ اور طائف کے درمیان واقع ایک مقام) کی جانب روانہ ہو جاؤ اور اس میں یہ بھی ہدایت تھی کہ اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی اپنے ہمراہ جانے پر مجبور نہ کرنا‘ بلکہ جو چاہے تمہارے ہمراہ جائے اور جو نہ چاہے واپس لوٹ جائے۔ یہ ایک خطرناک مہم تھی‘ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا جو بھی جام شہادت نوش کرنے کے لئے تیار ہے‘ میرے ہمراہ چلے اور جو آمادہ نہیں اسے لوٹ جانے کا اختیار ہے۔ سب نے ایک آواز میں کہا:
نحن سامعون و مطیعون للہ و رسولہ ولک
”ہم خدا اور اس کے رسول اور تمہارے حکم کے لئے ہمہ تن گوش ہیں۔“
لہٰذا جس بات کو ڈاکٹر سید عبداللطیف سند بنا رہے ہیں‘ مکمل طور سے بے بنیاد ہے۔
دوسرا واقعہ
جسے موصوف بطور سند پیش کرتے ہیں‘ حدیبیہ کا واقعہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جیسا کہ بخاری اور ابن ہشام نے نقل کیا ہے:
”آنحضور نے معاہدہ لے کر اسے اپنے دست مبارک سے تحریر فرمایا۔“
”اس سلسلے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اولاً بخاری نے ایک روایت میں مذکورہ بات نقل کی ہے اور ایک دوسری روایت میں اس بات کی مخالفت کی ہے۔ علمائے اہل سنت کا قریب قریب اس بات پر اجماع ہے کہ اگرچہ عبارت کا ظاہری مفہوم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آنحضور نے بذات خود معاہدے کو تحریر فرمایا ہے‘ لیکن روایت کرنے والے کا مقصود یہ نہ تھا۔“(سیرئہ حلبی‘ مغازی و اقدی‘ ج ۱‘ ص ۱۳‘ ۱۴)
مذکورہ واقعہ کو انہیں الفاظ میں بیان کرتے ہوئے مزید وضاحت کرتا ہے کہ
”آنحضور نے لفظ رسول اللہ (ع)ؑکو مٹانے کے لئے حضرت علی(ع)کی مدد حاصل کی۔“
اور بخاری کی روایت کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے کہ
”بعض نے دعویٰ کیا ہے کہ آنحضور کا یہ ایک معجزہ تھا جو ظہور پذیر ہوا۔“
لیکن آگے چل کر کہتا ہے کہ
”یہ روایت اس شکل میں اہل علم کے نزدیک معتبر نہیں ہے‘ یعنی آنحضور نے تحریر کرنے کا حکم دیا نہ کہ خود تحریر فرمایا۔“
وہ کہتا ہے:
”ابوالولید یا جی مالکی اندلسی جو بخاری کی عبارت کے ظاہری مفہوم سے استفادہ کرنا چاہتا تھا‘ اسے علمائے اندلس کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔“(السیرہ الحلبیہ‘ ج ۳‘ ص ۲۴)
جبکہ سیرئہ ابن ہشام میں اس قسم کی کوئی بات موجود نہیں ہے اور معلوم نہیں کہ ڈاکٹر سید عبداللطیف ایسی بات کیوں ابن ہشام سے منسوب کرتا ہے؟
ہم پہلے ہی عرض کر چکے ہیں کہ تاریخی نکتہ نگاہ کے مطابق‘ بیشتر منقول روایتوں سے یہ اخذ کیا جاتا ہے کہ جو کچھ بھی تحریر کیا گیا وہ کام حضرت علی(ع)کے ذریعے انجام پایا اور صرف ابن اثیر اور طبری کی روایت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ باوجود اس کے آنحضور لکھنا نہ جانتے تھے‘ قلم دست مبارک میں لیا اور تحریر فرمایا۔
اگر یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے تو آنحضور نے عہد رسالت میں صرف ایک یا چند بار لکھا ہے‘ جبکہ بحث کا موضوع عہد رسالت سے قبل آپ کے لکھنے‘ پڑھنے سے متعلق ہے۔
مخالفین کا الزام
اس مقالہ کے آغاز میں ہم کہہ چکے ہیں کہ تاریخ کے اس حصے میں آنحضور اور اسلام مخالفین نے آپ پر یہ الزام عائد کیا کہ آپ دوسروں سے سنی ہوئی باتیں نقل فرماتے ہیں (اس الزام کی قرآن پاک کی بعض آیات آئینہ دار ہیں)‘ لیکن آپ پر اس پہلو سے الزام عائد نہ کیا کیونکہ آنحضور پڑھے‘ لکھے ہیں‘ تو شاید آپ کے پاس کتابیں موجود ہیں اور جو باتیں بیان فرماتے ہیں‘ دراصل انہیں کتابوں سے مآخوذ مواد پر مبنی ہیں۔
یہ عین ممکن ہے کہ آنحضور پر اس لحاظ سے بھی الزام لگایا گیا ہو‘ جس کا قرآن میں بھی ذکر ہے اور سورئہ فرقان کی آیت ۵ اس کی آئینہ دار ہے:
وقالوا اساطیر الاولین اکتتبھا فہی تملی علیہ بکرة و عشیا
”انہوں نے کہا کہ جو آپ بیان فرماتے ہیں‘ اگلے لوگوں کے افسانے ہیں جسے اس نے (آپ نے) کسی سے لکھوا لئے ہیں‘ پس وہی صبح و شام اس کے سامنے القاء و املاء ہوتے ہیں۔“
اس استدلال کا یہ جواب ہے کہ اس بات سے قطع نظر کہ آنحضور کے دشمنوں اور مخالفین کے الزام اس حد تک تعصب آمیز اور احساس کمتری کے آئینہ در ہیں کہ قرآنی تعبیر کے مطابق اس قسم کے الزام کو صرف اور صرف ظلم و زبرستی کا ہی مصداق قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ آیت اس امر کی وضاحت نہیں کرتی کہ ان کا یہ دعویٰ تھا کہ حضور پاک خود تحریر فرماتے تھ۔ لفظ ”اکتتاب“ کا مفہوم لکھنا بھی ہے اور ”استکتاب“ بھی ‘ دوسرے لفظوں میں یہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے لکھوائے۔
آیت کا آخری حصہ دوسرے مفہوم کا مصداق ہے‘ کیونکہ آیت کا نفس مضمون یہ ہے کہ
”انہوں نے کہا کہ اگلے لوگوں کے افسانے ڈھکوسلے ہیں کہ جنہیں کسی سے لکھوا لئے ہیں‘ پس صبح و شام وہی اس کے سامنے القاء ہوتے ہیں۔“
اس ضمن میں لفظ ”اکتتاب“ کو ماضی کے صیغے میں اور ”املاء“ کو جاری اور صیغہ استمراری میں ذکر کیا گیا ہے‘ یعنی وہ چیزیں جو پہلے اس نے لکھوائی ہیں اور دوسرے لوگ جو پڑھنا جانتے ہیں‘ صبح و شام آتے ہیں اور اس کو سناتے ہیں اور وہ انہیں ازبر یاد کر لیتا ہے۔ اگر آنحضور بذات خود پڑھنا جانتے تو اس کی ضرورت ہی نہ تھی کہ وہ یہ کہیں دوسرے صبح و شام اس کے پاس آتے ہیں اور اسے لکھواتے ہیں‘ لکہ اتنا ہی کہنا کافی تھ اکہ آپ خود ان کے پاس جاتے ہیں اور ازبر یاد کر لیتے ہیں۔
ان باتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دھونس جمانے والے اور الزام لگانے والوں کافر بھی جو آپ پر ہر قسم کا الزام عائد کرتے‘ یعنی کبھی آپ کو دیوانہ قرار دیتے‘ کبھی جادوگر کہتے اور کبھی آپ کو جھوٹا کہتے اور اس بات کا بھی آپ پر الزام لگاتے کہ آپ دوسروں سے سنی ہوئی باتیں نقل فرماتے ہیں۔ لیکن یہ دعویٰ نہ کر سکے کہ کیونکہ پڑھنا‘ لکھنا جانتے ہیں‘ تو دوسری کتابوں کے مواد سے اپنے سے منسوب کرنے کے بعد ہمارے سامنے پڑھتے ہیں۔
بحث کا حاصل
مجموعی طور پر جو کچھ بیان کیا گیا ہے‘ اس سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ تاریخ کے قطعی فیصلے کے مطابق اور قرآن کی گواہی اور اسلامی تاریخ کے بے شمار دلائل کی روشنی میں آپ کا لوح ضمیر کسی بشر یا انسان سے تعلم سے مبرا و منزہ تھا۔ آپ وہ انسان ہیں جنہون نے کسی بھی مدرسے سے تعلیم حاصل نہ کی‘ بلکہ صرف اور صرف مکتب الٰہی سے ہی اپنے لوح دل کو علمس ے منور فرمایا۔ آپ وہ پھول ہیں جن کے پروان میں سوائے باغبان ازل کے کسی کے ہاتھ نے چھوا نہیں‘ آپ کو باوجود اس کے کہ قلم‘ کاغذ‘ دوات اور پڑھنے‘ لکھنے سے آشنائی نہ تھی‘ لیکن خدا نے اپنی مقدس کتاب میں قلم اور اس کی تحریروں کا ایک مقدس امر کی حی ثی ت سے قسم کھائی:
( ن و القلم وما یسطرون ) (قلم‘ ۱)
”قسم ہے ن و قلم کی اور اس چیز کی جسے لکھتے ہیں۔“
اس طرح سے خدا نے اپنے پہلے آسمانی پیغام میں پڑھنے کا اور حصول علم و دانش اور قلم کے استعمال کا حکم دیا اور پیدائش کی عظیم ترین نعمت کے ذکر کے بعد سب سے بڑی نعمت کا جس سے عالم بشریت کو نوازا گیا ہے‘ ذکر فرمایا:
( اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴿١﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ﴿٢﴾ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ﴿٣﴾ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ﴿٤﴾ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ )
”اے رسول! اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے ہر چیز کو پ یدا کیا‘ اسی نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے‘ جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی‘ اس نے انسان کو وہ باتیں بتائیں جن کو وہ کچھ جانتا ہی نہیں تھا۔“
وہ جس نے کبھی قلم کو ہاتھ نہ لگایا تھا‘ مدینے میں داخل ہوتے ہی معمولی وسائل کے ساتھ تحریک قلم کی داغ بیل ڈادلی اور اس سے قطع نظر کہ آپ نے کسی دنیاوی معلم کے آگے زانوں تلمذ اور کسی دارالعلوم یا یونیورسٹی کے مراحل طے نہ کئے ہوئے تھے‘ بذات خود معلم بشر اور یونیورسٹیوں کے وجود میں آنے کے سبب بن گئے۔
ستارئہ ای بدرخشید و ماہ مجلس شد دل رمیدئہ مارا انیس و مونس سدا
نگار من کہ بہ مکتب نرفت و خط ننوشت بہ غمزہ مسالہ آموز حد مدرس شد
کرشمہ تو شرابی بہ عاشقاف پچود کہ علم بی خیر افتاد و عقل بی حس شد
”ایک ستارہ چمکا اور محفل کے لئے بدر منبر بن گیا اور ہمارے غمگین دل کا مونس و غمخوار ہو گیا۔ میرے آقا و سردار جو مدرسہ نہ گئے اور لکھنا نہ سیکھا‘ صرف ایک غمزہ کے نتیجے میں سو معلم کے لئے مشکل باتوں کی موشگافی کرنے لگا۔“
حضرت امام رض (ع)نے مختلف مذاہب و ادیان کے بزرگ علماء سے ایک مناظراتی بحث میں جو کہ ”راس الجالوت“ میں نقل کی گئی ہے‘ فرماتے ہیں:
”آنحضور کی سچائی کے دلائل میں سے ایک یہ بھی دلیل ہے کہ آپ یتیم‘ نادار‘ چرواہے‘ محنت کش اور آپ نے کوئی کتاب نہ پڑھی تھی اور کسی استاد و معلم کے سامنے زانوے تلمذ طے نہ کئے تھے اور اپنے ہمراہ ایک ایسی کتاب لائے جس میں پیغمبروں‘ گزشتہ اور آنے والوں کے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔“(عیون اخبار الرضا‘ چاپ سنگی‘ ص ۹۴)
جو بات قرآن پاک کی عظمت اور بلندی میں بے پناہ اضافہ کرتی ہے اور اس نورانی کتاب کے آسمانی ہونے کے بارے میں ایک محکم دلیل ہے‘ وہ یہ ہے کہ یہ عظیم آسمانی کتاب جس میں یہ آغاز تخلیق‘ قیامت‘ انسان‘ اخلاق‘ قانون‘ سچی کہانیاں‘ عبرت کے معارف و مواعظ کے ساتھ ساتھ تمام تر فصاحت و بلاغت کی حامل ہے‘ اس کے باوجود ایسے شخص کی زبان پر جاری ہوئی کہ جو بذات خود اُمی تھا۔ آپ نے نہ صرف اپنی تمام عمر میں کسی مدرسہ یا یونیورسٹی سے تعلیم حاصل نہ کی اور دنیا کے کسی دانشور سے علم و دانش کسب نہ کیا‘ بلکہ آپ نے حتیٰ کہ اپنے زمانے کی ایک معمولی کتاب کو بھی نہ پڑھا تھا۔ یہ آسمانی معجزہ جس کو خدا نے اپنے رسول کو دیا‘ وہ کتاب کی شکل میں ہے‘ اس میں بیان ہیں‘ اس فکر ہے اور احساس ہے‘ اسے عقل و فکر یا دل و ضمیر سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ یہ وہ کتاب ہے کہ صدیوں سے اپنی معجزانہ روحانی طاقت کو ثابت کرتی چلی آ رہی ہے اور زمانے کے نشیب و فراز اسے کبھی پرانا اور متروک نہیں کر سکتے۔ کروڑوں افراد کے دلوں کو اپنی جانب کھینچتی چلی آ رہی ہے‘ اس میں قوت حیات موج زن ہے‘ اس کتاب نے کتنے فرزانہ عقول کو تدبر و تفکر کرنے پر مجبور کیا اور کتنے دلوں کو روحانی ایمان‘ ذوق و اشتیاق سے لبریز کیا اور کتنے سحر خیزوں اور تہجد گزاروں کی روح کی غذا بنا اور کتنے آنسوؤں کو عشق الٰہی اور خوف الٰہی سے آدھی راتوں میں گالوں کو تر کیا اور زنجیروں میں جکڑی ہوئی کتنی اقوام کو ظلم و آمریت کے نرغے سے آزاد کرا ئی
نقش قرآن چونکہ بر عالم نشست نقش ھای پاپ و کاھن را شکست
فانہ گویم آنچہ در دل مضمر است این کتابی نیست چیز دیگر است
چونکہ در جان رفت جان دیگر شود جان چو دیگر شد جہان دیگر شود
ھمچو حق پیدا و پنھان است این زندہ و پایندہ و گو پاست این
”جب قرآن پاک کا نقش دنیا پر ثبت ہوا‘ پادریوں اور کاہنوں کے منصوبوں کو ناکام کر دیا‘ جو کچھ دل میں ہے میں اسے آشکارا کہتا ہوں‘ یہ کتاب نہیں ہے بلکہ کوئی اور چیز ہے۔ جب یہ جسم و جان میں سرایت کرتی ہے تو جسم جان کی کچھ اور شان ہو جاتی ہے اور جب جام و جسم کی شان ب دلتی ہے تو کوئی اور جہان بن جاتی ہے۔ یہ کتاب اللہ تبارک و تعالیٰ کی مانند ظاہر بھی ہے اور باطن بھی۔ یہ زندہ ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے اور ہمکلام ہوتی ہے۔“
یقینا حالت کائنات کی یہ ازل سے عنایت ہے کہ اس کتاب کی روشن دلیل اور وحی الٰہی کا کلام ثابت کرنے کے لئے اسے اپنے اس بندہ پر نازل فرمایا‘ جو یتیم‘ فقیر‘ چرواہا‘ بادیہ نشین اور پڑھنا‘ لکھنا نہ جاننے والا اور کسی مکتب میں تعلیم حاصل نہ کرنے والا تھا:
ذلک فضل الله یوتیه من یشاء و الله ذوالفضل العظیم
فہرست
تمہید ناخواندہ رسول ۳
دوسروں کے اعتراضات ۴
ویل ڈیورنٹ ۴
جان ڈیون پورٹ ۵
کانسٹن ورجل گیورگیو ۵
گوسٹاؤلوبون ۶
حجاز میں رسم الخط کا رائج ہونا ۸
عہد رسالت خصوصاً مدینے کا دور ۱۲
آنحضور کے کاتبین ۱۴
تاریخ میں آنحضور کے کاتبین کے نام ۱۵
کاتبین کی فرداً فرداً خصوصی ذمہ داریاں ۱۵
حدیبیہ کا واقعہ ۱۹
صلح نامہ کی تحریری شکل ۲۰
حیرت انگیز بات ۲۵
اُمی کا لغوی مفہوم ۲۷
لفظ اُمی اسلامی مفسرین کی نگاہ میں ۳۱
(الف) ناخواندہ ہونا اور لکھائی‘ پڑھائی کے بارے میں لاعلم ہونا‘ ۳۱
(ب) اُم القریٰ کے لوگ ۳۲
(ج) عرب کے وہ مشرکین جو آسمانی کتاب کے پیروکار نہ تھے ۳۴
موصوف کی تقریر کا تنقیدی جائزہ ۳۶
کیا قرآن میں آنحضور کے پڑھنے اور لکھنے کے دلائل ہیں؟ ۳۹
احادیث و تواریخ ۵۱
پہلا واقعہ ۵۱
دوسرا واقعہ ۵۳
مخالفین کا الزام ۵۴
بحث کا حاصل ۵۶